تحریک ختم نبوت (1992ء تا 1997ء) جلد 6 · مولانا اللہ وسایا
Tahreek Khatm-e-Nubuwwat · Vol. 6 · Moulana Allaha Vasaya
PDF 1

تحریکِ ختمِ نبوّت

1992ء تا 1997ء

۶

ترتیب و تحقیق

شاہینِ ختمِ نبوّت حضرت مولانا اللہ وسایا مدظلہ

عالمی مجلسِ تحفظِ ختمِ نبوّت

PDF 2

تحریکِ ختمِ نبوّت

1992ء تا 1997ء

۶

ترتیب و تحقیق

شاہینِ ختمِ نبوت حضرت مولانا اللہ وسایا مدظلہ

عالمی مجلس تحفظِ ختمِ نبوت

صفحہ ۱

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۲ء تا ۱۹۹۷ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

تحریک ختم نبوت

(۱۹۹۲ء تا ۱۹۹۷ء)

(۶)

ترتیب و تحقیق:

مولانا اللہ وسایا

عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت

حضوری باغ روڈ ملتان فون نمبر: 4783486 (061)

صفحہ ۲

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۲ء تا ۱۹۹۷ء

ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

نام کتاب : تحریک ختم نبوت (۱۹۹۲ء تا ۱۹۹۷ء) (جلد ششم)

ترتیب و تحقیق : مولانا اللہ وسایا

صفحات : ۵۸۰

قیمت : ۳۰۰ روپے

اشاعت اوّل : جنوری ۲۰۲۰ء

مطبع : شمشاد پرنٹنگ پریس لاہور

ناشر : عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت حضوری باغ روڈ ملتان

جلد اوّل ۱۹۳۴ء تا ۱۹۵۳ء

جلد دوم ۱۹۵۴ء تا ابتداء ۱۹۷۴ء

جلد سوم ۲۹ مئی ۱۹۷۴ء تا ۷ ستمبر ۱۹۷۴ء

جلد چہارم ۸ ستمبر ۱۹۷۴ء تا ۳۱ دسمبر ۱۹۸۵ء

جلد پنجم ۱۹۸۶ء تا ۱۹۹۱ء

جلد ششم ۱۹۹۲ء تا ۱۹۹۷ء

جلد ہفتم ۱۹۹۸ء تا ۲۰۰۳ء

جلد ہشتم ۲۰۰۴ء تا ۲۰۱۰ء

جلد نہم ۲۰۱۱ء تا ۲۰۱۶ء

جلد دہم ۲۰۱۷ء تا ۲۰۱۹ء

Ph: 061-4783486

صفحہ ۳

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۲ء تا ۱۹۹۷ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

فہرست

تحریک ختم نبوت کے سلسلہ میں ۱۹۹۲ء کے حالات و واقعات ۱۵ سیاسی مرزائیت (عطاء الحق قاسمی کا کالم) ۱۶ جرمن میں قادیانیوں کی آمد اور جعل سازیاں، جرمن حکومت کی پریشانی ۱۷ پاکستان کے نامور سائنسدان ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے خلاف بھارتی وقادیانی پروپیگنڈہ ۲۰ عیسائی، قادیانی اور دوسری اقلیتوں کو اپنی حدود میں رہنا چاہئے ۲۲ جمعیۃ علماء اسلام اور ذکری گروہ ۲۴ ختم نبوت کانفرنس تربت کوئٹہ کی ڈائری ۲۵ جامع مسجد باب الرحمت کراچی (ٹرسٹ) اور دفتر ختم نبوت کی تعمیر جدید کا افتتاح ۲۷ کہوٹہ کے ایٹمی پلانٹ کی بعد از تحقیق تطہیر ضروری ہے ۲۹ غدار پاکستان کی وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف سے ملاقات ۳۰ وزیر اعظم پاکستان میاں محمد نواز شریف کے نام کھلا خط ۳۳ جناب میاں محمد نواز شریف صاحب وزیر اعظم پاکستان سے دردمندانہ اپیل ۳۶ شناختی کارڈ میں مذہب کا خانہ ختم کرنے کے نتائج خطرناک ہوں گے، تذبذب کی کیفیت ختم کی جائے ۳۷ شناختی کارڈ میں مذہب کا خانہ ۳۸ آل پارٹیز مجلس عمل تحفظ ختم نبوت کا اجلاس بسلسلہ مسئلہ شناختی کارڈ میں خانہ مذہب ۶۲ پشاور میں شیعہ سنی تصادم ۶۵ چانسلر انجینئرنگ یونیورسٹی کے نام کھلا خط ۶۵ قادیانیوں کی دہشت گردیاں (جناب ساجد اعوان) ۶۶ ربوہ کے قادیانی دہشت گرد ۷۸ پاکستان قادیانیت کے نرغہ میں کیوں؟ حکومت سے عوام پوچھتے ہیں ۸۰ مولانا عزیز الرحمن جالندھری کا صدر مملکت غلام اسحاق خان کے نام مکتوب ۸۱ صدر مملکت کے نام حضرت مولانا خواجہ خان محمد صاحب کا کھلا خط ۸۲ چیف آف آرمی اسٹاف کے نام مولانا عزیز الرحمن جالندھری کا کھلا خط ۸۳ ازبکستان میں مجلس تحفظ ختم نبوت کی خدمات وفد کا دورہ ۸۴ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے رہنماؤں کا تاشقند، سمرقند اور بخارا کا تاریخی سفر ۸۶

صفحہ ۴

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۲ء تا ۱۹۹۷ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

بابری مسجد کی شہادت پر ربوہ اور قادیانیوں میں خوشی کی لہر، ربوہ کے مرزائیوں نے ہڑتال اور احتجاج میں حصہ نہیں لیا ۱۰۵ قادیانی اور ایل۔ کے ایڈوانی گٹھ جوڑ ۱۰۵ پاکستانی شمسی توانائی کا نظام تباہ کر دیا گیا ۱۰۷ بھارت میں قادیانی سالانہ جلسہ ۱۱۰ مدراس جنوبی ہندوستان میں فتنہ قادیانیت کا تعاقب ۱۱۱ شادی لارج میں ایک قادیانی کا قبول اسلام ۱۱۷ قادیانیت سے تائب ۱۱۷ ختم نبوت کانفرنس شیخوپورہ ۱۱۷ شہدائے ختم نبوت کانفرنس لاہور ۱۱۸ امیر مرکزیہ حضرت مولانا خواجہ خان محمد صاحب مدظلہ کا ایک ہفتہ بلوچستان کا تفصیلی دورہ ۱۱۹ عظیم الشان چھٹی سالانہ ختم نبوت کانفرنس ہری پور ۱۲۰ ایبٹ آباد میں فقید المثال ختم نبوت کانفرنس ۱۲۱ ننکانہ میں ”انعام گھر“ پروگرام ۱۲۲ ساتویں سالانہ عالمی ختم نبوت کانفرنس انگلینڈ ۱۲۲ ساتویں عالمی ختم نبوت کانفرنس برمنگھم میں اکابر علماء کرام کی تقریریں اور قراردادیں ۱۲۳ گیارھویں سالانہ ختم نبوت کانفرنس چناب نگر کے انتظامات ۱۲۹ لاہور کی عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس میں عالمی مجلس کے رہنماؤں کی تقریریں ۱۳۲ ختم نبوت کانفرنس اوکاڑہ ۱۳۳ شیخ المشائخ حضرت مولانا خواجہ خان محمد صاحب دامت برکاتہم کا دورہ بنگلہ دیش ۱۳۴ بارھویں سالانہ ختم نبوت کانفرنس گوجرہ ۱۳۷ ٹنڈو آدم میں عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس ۱۴۱ شناختی کارڈ میں خانہ مذہب کے اضافہ کا متفقہ مطالبہ ۱۴۴ تحریک ختم نبوت کے سلسلہ میں ۱۹۹۳ء کے حالات و واقعات ۱۴۵ قادیانی مردہ اور مسلم قبرستان ۱۴۶ قادیانی امت مسلمہ میں سے نہیں (ابن الفضل ایم.اے ریاض، سعودی عرب) ۱۴۸ فوجی اجلاس میں قادیانی کی شرکت ۱۴۹ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت اور فرقہ واریت ...... حکیم عبدالرحمٰن آزاد کا خط اور وفاقی وزیر داخلہ کا جواب ۱۵۲ جسٹس سعد سعود جان، جسٹس سپریم کورٹ آف پاکستان کے نام کھلا خط ۱۵۲

صفحہ ۵

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۲ء تا ۱۹۹۷ء

ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

صدر مملکت کا دوسرا شکار......نواز شریف کی غلطیاں ۱۵۵

جاپان میں متعین پاکستان کے قادیانی سفیر نے اپنے ملک کے وزیراعظم کے حکم کو جوتے کی نوک پر رکھ دیا ۱۵۶

مرزائی کہنے پر نواز شریف برافروختہ ہوگئے ۱۵۷

کسٹمز نے اڑھائی ٹن قادیانی لٹریچر اسمگل کرنے کی کوشش ناکام بنادی ۱۵۸

قادیانیت سے توبہ کرنے کے بعد صالح محمود عودہ کا قادیانیوں کے بھگوڑے پیشوا مرزا طاہر کو مناظرے کا چیلنج ۱۵۸

اسلامی وزرائے خارجہ کانفرنس کراچی کے موقع پر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی خدمات، دنیا بھر کی مسلم حکومتوں کی خدمت میں ایک ضروری دینی عرضداشت ۱۶۰

شعائر اسلام استعمال کرنے پر قادیانیوں کے خلاف سپریم کورٹ آف پاکستان کا تاریخ ساز فیصلہ ۱۶۲

نگران وزیراعظم معین قریشی کی تقرری ایم. ایم احمد قادیانی کی سفارش پر ہوئی ۲۱۲

مسلمان، قادیانی سرگرمیوں اور سازشوں سے ہوشیار رہیں، رابطہ عالم اسلامی مکہ مکرمہ ۲۱۲

ایبٹ آباد میں مرزائیوں کی غنڈہ گردی، انتظامیہ اور حکومت فوری نوٹس لے ۲۱۵

ایم. ایم احمد سے ایم. ایم وٹو تک، سیاسی بحران یا مرزائیت پلان؟ ۲۱۶

الحمدللہ! بخارا میں قادیانیوں کی عبادت گاہ بنانے کی سازش ناکام ۲۲۰

وسطی ایشیاء کی مسلم ریاستوں میں ۵ لاکھ قرآن مجید کی فراہمی کا منصوبہ ۲۲۲

عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی طرف سے اشاعت قرآن کے سلسلے میں ازبکستان جانے والے وفود ۲۲۹

کھوسکی شادی لارج میں قادیانی عبادت خانہ یا فحاشی کا اڈہ ۲۳۰

قادیانی گروپ میں شورش، مرزا رفیع نے علم بغاوت بلند کر دیا ۲۳۱

عالمی مجلس کا ملک کی الیکشن، سیاست اور مروجہ پارلیمانی انتخابات سے کوئی تعلق نہیں، حضرت امیر مرکزیہ ۲۳۲

قادیانی اقلیت کی آئین و قانون سے کھلی بغاوت، انسانی حقوق کمیشن نوٹس لے ۲۳۲

قادیانی اسرائیل تعلقات ۲۳۴

علماء کرام کے نام امیر مرکزیہ کا کھلا خط ۲۳۶

عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کراچی کے دفتر پر حملہ، مسلمانوں کو لڑانے کی قادیانی سازش ۲۳۷

نگران حکومت کی قادیانیت نوازی، عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کا شدید ردعمل (مقالہ نگار: مولانا مفتی محمد جمیل خان) ۲۳۸

الیکشن کمیشن فوری نوٹس لے......معین قریشی غور فرمائیں ۲۴۰

فیروز آباد یو. پی میں مجلس تحفظ ختم نبوت کا قیام ۲۴۱

عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی مرکزی مجلس عاملہ کا اجلاس ۲۴۲

عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی مبلغین کے اجلاس کی مختصر رپورٹ ۲۴۳

میں نے قادیانیت سے بغاوت کر دی تھی (زیڈ. اے سلہری) ۲۴۳

دلاور خاں ایڈووکیٹ کی مرزائیت سے توبہ ۲۴۵

راولپنڈی میں قادیانی نوجوان کا قبول اسلام ۲۴۶

صفحہ ۶

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۲ء تا ۱۹۹۷ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

انجینئرنگ یونیورسٹی لاہور میں ختم نبوت کانفرنس ۲۴۶ ختم نبوت کنونشن قصور ۲۴۶ کراؤلے میں ختم نبوت کانفرنس ۲۴۷ ضلع رحیم یار خان میں منعقدہ چھ کانفرنسوں کی رپورٹ ۲۴۷ لودھراں بستی رسول پور شکرانی احمد پور شرقیہ اور منڈی یزمان میں ختم نبوت کانفرنسیں ۲۴۸ حیدر آباد میں عظیم الشان علماء کنونشن ۲۴۹ سیالکوٹ میں عظیم الشان ختم نبوت کنونشن ۲۵۰ آٹھویں سالانہ ختم نبوت کانفرنس برطانیہ میں علماء کرام کی تقریریں ۲۵۱ روزنامہ جنگ لندن میں شائع ہونے والی رپورٹ ۲۵۹ قادیانی اپنے بارے میں ملت اسلامیہ کے اجتماعی فیصلہ کو قبول کرلیں (مولانا سعید احمد پالن پوری) ۲۶۱ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی اپیل پر یوم ختم نبوت منایا گیا ۲۶۱ ختم نبوت کانفرنس اوچ شریف ۲۶۲ ختم نبوت سیمینار لاہور ۲۶۲ ختم نبوت کانفرنس قصور ۲۶۴ سالانہ ختم نبوت کانفرنس بہاول پور ۲۶۵ مرکزی مبلغین مولانا خدا بخش شجاع آبادی اور مولانا نذیر احمد تونسوی نے ضلع اٹک کا ہفت روزہ تبلیغی دورہ کیا ۲۶۵ اٹک میں عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس ۲۶۶ بھاگلپور انڈیا میں ختم نبوت کانفرنس و تربیتی کیمپ ۲۶۶ اندرون سندھ سولہ ختم نبوت کانفرنسیں ۲۶۷ اجلاس برائے انتظامات بارھویں سالانہ ختم نبوت کانفرنس چناب نگر ۲۶۸ ۱۲ویں آل پاکستان ختم نبوت کانفرنس چناب نگر ۲۶۸ بارھویں سالانہ ختم نبوت کانفرنس کی جھلکیاں ۲۷۳ چیلے والا جھنگ میں ختم نبوت کانفرنس ۲۷۶ موضع مونگ کے قادیانی محمد اسلم کو قادیانیت کی تبلیغ پر گرفتار کر لیا گیا ۲۷۸ ختم نبوت کانفرنس پتوکی ۲۷۹ ختم نبوت کانفرنس غازی ۲۷۹ ختم نبوت کانفرنس قصور ۲۷۹ ڈھاکہ میں تاریخ ساز ختم نبوت کانفرنس ...... بارہ سے پندرہ لاکھ کا اجتماع ۲۸۰ قادیانیوں کو پاکستان پر مسلط کرنے کی بین الاقوامی سازش ۲۸۲

صفحہ ۷

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۴ء تا ۱۹۹۷ء

ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

تحریک ختم نبوت کے سلسلہ میں ۱۹۹۴ء کے حالات و واقعات ۲۸۳

توہین رسالت کے بعد توہین عدالت ۲۸۴

جامعہ ازہر کی مسلمانوں سے، قادیانیوں کا مقابلہ کرنے کی اپیل ۲۸۵

کیا جسٹس سعد سعود جان قادیانی ہیں؟ ۲۸۵

کارکنان ختم نبوت ایبٹ آباد کی ایک اور کامیابی ۲۸۶

چیف جسٹس آف پاکستان کا تقرر ۲۸۷

مبلغین ختم نبوت کا اجلاس ۲۸۹

مخدوم العلماء حضرت خواجہ خان محمد مدظلہ کی مانسہرہ آمد ۲۹۰

کل ہند مجلس تحفظ ختم نبوت کی سرگرمیاں ۲۹۱

عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی مجلس عمومی کا اجلاس ۲۹۷

آزادی کشمیر کے خلاف قادیانیوں کی سازشیں (حامد میر کا کالم) ۲۹۹

آزاد کشمیر میں قادیانیت کا تعاقب ، عالمی مجلس کے رہنماؤں کا تبلیغی سفر ۳۰۱

قادیانی نوجوان کا قبول اسلام ۳۰۵

منڈی بہاؤالدین میں قبول اسلام ۳۰۶

قادیانیت سے توبہ اور قبول اسلام منڈی بہاؤالدین ۳۰۶

دو قادیانی عورتوں کا قبول اسلام ۳۰۷

داتہ ضلع مانسہرہ میں قادیانی خاندان کا قبول اسلام ۳۰۷

دس افراد پر مشتمل قادیانی گھرانے نے قادیانیت سے تائب ہو کر اسلام قبول کر لیا ۳۰۸

قبول اسلام ۳۰۸

قبول اسلام ۳۰۹

قادیانی شخص نے اہل خانہ سمیت اسلا قبول کر لیا ۳۰۹

منڈی بہاؤالدین میں گیارہ قادیانیوں نے اسلام قبول کر لیا ۳۰۹

ہڑوہ منڈی میں قبول اسلام ۳۰۹

سالانہ رد قادیانیت کورس ملتان ۳۱۰

شہدائے ختم نبوت کانفرنس شکر گڑھ ۳۱۳

تحفظ ختم نبوت کانفرنس ایبٹ آباد ۳۱۴

ختم نبوت کانفرنس سیاں ضلع سیالکوٹ ۳۱۴

عالمی ختم نبوت کانفرنس برمنگھم ۳۱۵

امام مسجد نبوی کا فرمان جو عالمی ختم نبوت کانفرنس کے موقعہ پر ختم نبوت سینٹر لندن کے دورے پر دیا ۳۱۶

صفحہ ۸

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۲ء تا ۱۹۹۷ء

ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

بدین اور وارہ لاڑکانہ سندھ میں عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس ۳۱۶

وارہ ضلع لاڑکانہ میں ختم نبوت کانفرنس ۳۲۰

ختم نبوت کانفرنس لاہور ۳۲۲

ختم نبوت کانفرنس ٹنڈو آدم ۳۲۳

ختم نبوت کانفرنس مٹھی ۳۲۴

ختم نبوت کانفرنس لالولاشاری (حیدرآباد) ۳۲۵

برسلز (بلجیم) میں عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس ۳۲۵

تیرہویں سالانہ ختم نبوت کانفرنس چناب نگر ۳۲۶

آل پاکستان تیرہویں سالانہ ختم نبوت کانفرنس کی رپورٹ ۳۲۷

ختم نبوت کانفرنس گلشن حدید کراچی ۳۳۳

فیروزوالا میں ختم نبوت کانفرنس ۳۳۴

چیچہ وطنی، ساہیوال میں عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس ۳۳۴

تحریک ختم نبوت کے سلسلہ میں ۱۹۹۵ء کے حالات و واقعات ۳۳۵

قادیانی منصوبہ اور اس کا توڑ ۳۳۶

تحفظ ناموس رسالت کے قانون میں ترمیم ۳۳۷

ہڑتال نہیں ریفرنڈم ۳۳۸

قادیانی جماعت تیرا شکریہ ۳۳۹

تحفظ ناموس رسالت کی خاطر راولپنڈی، اسلام آباد ۲۷ مئی کو مکمل طور پر بند رہا ۳۳۹

قادیانی جاسوسوں کی گرفتاری ۳۴۰

قادیانی ملزم کو شعائر اسلامی کی توہین پر ۶ سال قید بامشقت اور ایک ہزار روپے جرمانہ ۳۴۲

جناب ایس۔ این خاور ایڈووکیٹ کے اعزاز میں استقبالیہ ۳۴۳

سلانوالی میں قادیانیوں کے ساتھ ایک اور مناظرہ قادیانیوں کو دوبارہ شکست کا سامنا کرنا پڑا، قادیانی مبلغین مناظرہ کا وقت دے کر نہ پہنچ سکے ۳۴۳

راولپنڈی میں قادیانی و مسلم سوال و جواب ۳۴۴

مولانا زاہد الراشدی کا قادیانی گروہ کے سربراہ مرزا طاہر احمد کے نام کھلا خط ۳۴۵

وزیر داخلہ نصیر اللہ بابر کا قادیانیوں سے تعلق ۳۴۸

دولت خان کا مرزائیت سے اظہار نفرت ۳۴۹

پہلا سالانہ ختم نبوت کورس چناب نگر ۳۵۰

سالانہ رد قادیانیت کورس ربوہ ۳۵۱

کارروائی اجلاس مبلغین عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ۳۵۷

صفحہ ۹

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۲ء تا ۱۹۹۷ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مبلغین کے تبلیغی دورے، خوشاب، روڈہ، خانقاہ ڈوگراں ۳۵۹ ختم نبوت کانفرنس حویلی لکھا ۳۶۰ کارروائی سہ ماہی اجلاس مبلغین عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ۳۶۰ تحفظ ناموس رسالت و ختم نبوت کانفرنسیں ۳۶۲ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت لاہور کی میٹنگ ۳۶۲ صوبہ سندھ میں تربیتی پروگرام ۳۶۲ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت قصور کا اجلاس ۳۶۲ سہ روزہ رد قادیانیت کورس لاہور ۳۶۵ دسویں سالانہ ختم نبوت کانفرنس برمنگھم ۳۶۶ چودھویں سالانہ ختم نبوت کانفرنس کے انتظامات کے لئے اجلاس ۳۶۶ چودھویں سالانہ آل پاکستان تحفظ ختم نبوت کانفرنس چناب نگر ۳۶۸ دوروزہ رد قادیانیت پروگرام دوالمیال ۳۶۹ گوجر خان میں ختم نبوت کانفرنس ۳۷۱ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے تحت انعامی مقابلہ ۳۷۲ تحریک ختم نبوت کے سلسلہ میں ۱۹۹۶ء کے حالات و واقعات ۳۷۳ جنوبی افریقہ کی سپریم کورٹ نے بھی قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دے دیا ۳۷۴ نیشن آف اسلام، امریکہ میں مسلمان کہلوانے والے منکرین ختم نبوت کا گروہ ۳۷۸ قادیانیوں کی حمایت سے شفیع محمدی ملازمت بچانا چاہتے ہیں؟ ۳۸۱ قادیانیوں کے تعلیمی اداروں کی واپسی...... قابل مذمت اقدام، اس فیصلے کی مزاحمت کی جائے گی ۳۸۲ چناب نگر کے تعلیمی اداروں کی واپسی، صدر پاکستان سردار فاروق احمد خان لغاری کے نام کھلا خط ۳۸۶ قادیانی کو مسلمانوں کے قبرستان میں دفن ہونے سے روک دیا گیا ۳۸۸ کوئٹہ میں قادیانیوں کی شرانگیزی.......... عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت نے ناکام بنادی ۳۸۸ ختم نبوت کانفرنس کراچی....... ایک سنگ میل ۳۸۹ وزیر اعلیٰ کی ہٹ دھرمی...... قادیانی وزیر کی برطرفی کے لئے تاریخی ہڑتال ۳۸۹ صدر پاکستان سے مرکزی مجلس عمل کے وفد کی ملاقات ۳۹۲ علماء کرام کی احتجاجی ریلی...... قادیانیوں کے ارتداد کی سزا کا فیصلہ مفتیان کرام کے ذمہ ۳۹۳ جناب نگران وزیر اعلیٰ صاحب، صوبہ سندھ پاکستان ۳۹۵ غوثیہ کالونی سائیٹ ایریا کوٹری میں قادیانی کا قبول اسلام ۳۹۷ قادیانی گھرانے کا قبول اسلام ۳۹۸

صفحہ ۱۰

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۲ء تا ۱۹۹۷ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

عبدالسمیع نے اسلام قبول کر لیا، کارکنان ختم نبوت نے عبدالسمیع کو عدالت میں سینے سے لگا لیا ۳۹۸

نام شرکاء، دوسرا سالانہ رد قادیانیت وعیسائیت کورس ۳۹۹

قصور میں عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس ۴۰۱

دوالمیال میں قادیانی شرارتیں ۴۰۲

پریس کانفرنس حضرت مولانا خواجہ خان محمد صاحب صدر آل پارٹیز مجلس عمل تحفظ ختم نبوت پاکستان ۴۰۴

قومی ختم نبوت کنونشن لاہور ۴۰۵

مانگا ضلع سیالکوٹ میں ختم نبوت کانفرنس ۴۰۷

گوجرانوالہ میں ختم نبوت کانفرنس ۴۰۷

کل جماعتی ختم نبوت کانفرنس سکھر ۴۰۸

میر پور آزاد کشمیر میں ختم نبوت کانفرنس ۴۱۰

ختم نبوت کانفرنس ٹنڈو آدم ۴۱۰

ختم نبوت کانفرنس حیدر آباد ۴۱۱

مبلغین ختم نبوت کا دورہ بلوچستان ۴۱۲

جامع مسجد توحید آفن باخ جرمنی میں دوسری ختم نبوت کانفرنس ۴۱۳

گیارھویں سالانہ عالمی ختم نبوت کانفرنس برمنگھم (برطانیہ) ۴۱۵

جامع مسجد باب الرحمت میں علماء کرام کا اجتماع ۴۱۸

ختم نبوت کانفرنس گھارو ضلع ٹھٹھہ ۴۲۳

جانشین شیخ الاسلام مولانا محمد اسعد مدنی سے اظہار تشکر ۴۲۳

پندرھویں سالانہ ختم نبوت کانفرنس چناب نگر (ربوہ) ۴۲۴

حضرت مولانا سید اسعد مدنی کی دفتر مرکزیہ ملتان تشریف آوری ۴۲۷

آل پاکستان ختم نبوت کانفرنس کراچی ۴۲۷

عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس کراچی ۴۲۸

ختم نبوت کانفرنس کوئٹہ ۴۳۲

ختم نبوت کانفرنس حویلی لکھا ۴۳۶

ختم نبوت کانفرنس چیچہ وطنی ۴۳۶

ضلع جھنگ میں ختم نبوت کے اجتماعات ۴۳۷

ختم نبوت کانفرنس کوٹ بہادر ۴۳۷

ختم نبوت کانفرنس واصو آستانہ ۴۳۷

وادی سون سکیسر کا تبلیغی دورہ ۴۳۸

صفحہ ۱۱

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۲ء تا ۱۹۹۷ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

ختم نبوت کانفرنس جابہ ۴۳۸ ختم نبوت کانفرنس بدین ۴۳۸ مجلس عمل تحفظ ختم نبوت سندھ کا اجلاس ۴۳۸ شیخوپورہ میں ختم نبوت کانفرنس ۴۳۹ شاہ کوٹ میں ختم نبوت کانفرنس ۴۳۹ سانگلہ ہل میں ختم نبوت کانفرنس ۴۴۰ مولانا امام الدین قریشی کا دورہ بھکر ۴۴۰ تیسرا سالانہ رد قادیانیت و عیسائیت کورس ۴۴۰ تحریک ختم نبوت کے سلسلہ میں ۱۹۹۷ء کے حالات و واقعات ۴۴۳ اسلام دشمن عناصر کی طرف سے آٹھویں ترمیم کو ختم کرنے کی سازش ۴۴۴ آئین کی واضح خلاف ورزیوں کے باوجود حکمرانوں کی مجرمانہ غفلت ۴۴۴ نگران حکومت کی ایک اور بڑی حماقت ۴۴۶ نگران وزیراعلیٰ کا آبائی گاؤں میں تعاقب ممتاز بھٹو...... نام یا گالی؟ ۴۴۷ قادیانیوں کے ایک سو خاندانوں کو گیمبیا سے نکال دیا گیا ۴۴۸ ایک فیصلہ کن مناظرہ اور قادیانیت کا فرار ۴۴۸ امیر مرکزیہ کی علماء دیوبند کو یکجا کرنے کی کوشش ۴۵۱ سفر نو اور عزم نو ۴۵۲ ایک ضروری اعلان و خوشخبری ماہنامہ لولاک کا مرکزی دفتر ملتان سے اجراء ۴۵۳ پی۔آئی۔اے میں قادیانیوں کی شر انگیزیاں ۴۵۴ ایوان صدر میں قادیانی ۴۵۶ قادیانی ججوں کی تقرری کے بارے میں چیف جسٹس کے ریمارکس ۴۵۷ کیا قادیانی کو جج بنایا جاسکتا ہے؟ ۴۵۸ جمعیت علماء ہند کی طرف سے قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کا مطالبہ ۴۶۰ پتوکی میں قادیانیوں کی سازش ناکام ۴۶۲ الطاف حسین، قادیانی اور شیعہ سنی لڑائی ۴۶۲ متحدہ قومی موومنٹ کے سربراہ کے نام کھلا خط...... قائد متحدہ قومی موومنٹ پاکستان ۴۶۳ وفاقی شرعی عدالت کے جج عبدالوحید کے متعلق علمائے بلوچستان کا چیف جسٹس سپریم کورٹ کے نام کھلا خط ۴۶۶ قادیانی کنور ادریس کو یو۔بی۔ایل کا ڈائریکٹر بنادیا گیا، وفاقی وزیر خزانہ سرتاج عزیز کیا کر رہے ہیں ۴۶۷ حکومت اور عدلیہ کی جنگ، قادیانی جج نکالئے ۴۶۷

صفحہ ۱۲

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۲ء تا ۱۹۹۷ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

وفاقی وزیر قانون پر الزام ۴۷۰ قبول اسلام ۴۷۱ صوبہ کیرالہ کے گیارہ قادیانیوں کا قبول اسلام ۴۷۱ قادیانی خاتون کا قبول اسلام ۴۷۲ پسرور میں ایک مرزائی نوجوان کا قبول اسلام ۴۷۲ آٹھ قادیانی افراد کا قبول اسلام ۴۷۳ کوئٹہ میں تین قادیانیوں کا قبول اسلام ۴۷۳ میں نے مرزائیت کیوں چھوڑی (احمد ہاریادی، انڈونیشیاء) ۴۷۳ سہنہ میں ختم نبوت کانفرنس ۴۸۱ قصور میں ختم نبوت کانفرنس ۴۸۱ چوتھی سیرت خاتم الانبیاء کانفرنس شادی لارج بدین ۴۸۲ سہ ماہی اجلاس مبلغین کرام ۴۸۲ ختم نبوت کانفرنس فیروزہ ۴۸۵ ختم نبوت کانفرنس لیاقت پور ۴۸۵ ختم نبوت کانفرنس ظاہر پیر ۴۸۶ ختم نبوت کانفرنس خان پور ۴۸۶ ختم نبوت کانفرنس رحیم یار خان ۴۸۶ ختم نبوت کانفرنس صادق آباد ۴۸۷ نیشنل ہوٹل ایبٹ روڈ لاہور میں ختم نبوت کانفرنس ۴۸۷ ختم نبوت کانفرنس بدین ۴۸۸ قادیانی آئین پاکستان کے تحت اپنا غیر مسلم ہونا تسلیم کرلیں ۴۸۸ ختم نبوت کانفرنسوں اور کنونشنوں کی رپورٹ ۴۸۹ ختم نبوت کنونشن میر پور خاص ۴۸۹ ختم نبوت کانفرنس عمر کوٹ ۴۹۰ ختم نبوت کنونشن ٹنڈو آدم ۴۹۱ ختم نبوت کانفرنس بدین ۴۹۱ ختم نبوت کنونشن سجاول ۴۹۲ ختم نبوت کانفرنس حیدرآباد ۴۹۲ ختم نبوت کنونشن نواب شاہ ۴۹۳

صفحہ ۱۳

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۲ء تا ۱۹۹۷ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

ختم نبوت کانفرنس نوشہرو فیروز ۴۹۳ ختم نبوت کنونشن خیر پور میرس ۴۹۳ تعزیت وعیادت ۴۹۴ ختم نبوت کانفرنس پنوعاقل ۴۹۴ ختم نبوت کانفرنس کندھ کوٹ ۴۹۴ ختم نبوت کنونشن جیکب آباد ۴۹۴ ضلع شکار پور کے علماء کا خصوصی اجتماع ۴۹۵ ختم نبوت کانفرنس شکار پور ۴۹۵ ختم نبوت کنونشن دادو ۴۹۵ ختم نبوت کانفرنس لاڑکانہ ۴۹۶ وفد کی پیر شریف حاضری ۴۹۶ ختم نبوت کانفرنس دہلی (۱۴/ جون ۱۹۹۷ء جامع مسجد شاہجہانی دہلی کے اردو پارک میں عظیم الشان تاریخ ساز ختم نبوت کانفرنس) ۴۹۶ ختم نبوت کانفرنس کھرپہ ضلع سیالکوٹ ۵۰۳ ختم نبوت کانفرنس پنڈی بھاگو ضلع سیالکوٹ ۵۰۳ ختم نبوت کانفرنس وزیر آباد ضلع گوجرانوالہ ۵۰۴ خطبہ صدارت، تحفظ ختم نبوت کانفرنس اردو پارک جامع مسجد دہلی ۵۰۴ مرزا غلام احمد قادیانی کی نبوت ایک برطانوی سکیم ۵۰۶ ختم نبوت کانفرنس بلجیم ۵۱۰ ختم نبوت کانفرنس جرمنی ۵۱۰ بارہویں سالانہ ختم نبوت کانفرنس برمنگھم ۵۱۱ ختم نبوت کانفرنس کوئٹہ ۵۱۲ ختم نبوت کانفرنس ایبٹ آباد ۵۱۳ ضلع مانسہرہ کا تبلیغی دورہ ۵۱۵ نوکوٹ ختم نبوت کانفرنس ۵۱۵ مرکزی جامع مسجد مانسہرہ میں ختم نبوت کانفرنس ۵۱۶ ختم نبوت کانفرنس داتہ ۵۱۶ مانسہرہ میں انعام گھر ۵۱۷ ختم نبوت کانفرنس ڈھوڈیال ۵۱۸ ختم نبوت کانفرنس جبوڑی ۵۱۸

صفحہ ۱۴

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۲ء تا ۱۹۹۷ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

بفہ میں مولانا غلام غوث ہزاروی کانفرنس ۵۱۸ شہدائے بالاکوٹ کانفرنس ۵۱۸ سولہویں سالانہ ختم نبوت کانفرنس چناب نگر (ربوہ) ۵۱۹ نیپال کی راجدھانی کھٹمنڈو میں عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس ۵۲۴ ختم نبوت کانفرنس جنڈانوالہ بھکر ۵۲۷ عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس سیال موڑ سرگودھا ۵۲۷ ختم نبوت کانفرنس گوجر خان ۵۲۸ ختم نبوت کے شہر چیچہ وطنی میں چوتھی سالانہ کانفرنس ۵۳۰ ٹنڈو آدم میں عظیم الشان ختم نبوت کنونشن ۵۳۱ مدرسہ عربیہ دارالہدیٰ پرمٹ کا سالانہ جلسہ ۵۳۲ کندھ کوٹ سندھ میں رد قادیانیت کورس ۵۳۳ چوتھا سالانہ رد قادیانیت و عیسائیت کورس چناب نگر (ربوہ) ۵۳۳ برلن (جرمنی) میں پہلی دو روزہ عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس (منعقدہ ۲۵، ۲۶؍ دسمبر ۱۹۹۷ء) ۵۳۷ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی مرکزی شوریٰ کے اجلاسوں کی کارروائیاں ۵۳۹ عالمی مجلس کی مرکزی مجلس شوریٰ اور مجلس عمومی کے اجلاسات ۵۴۰ (۶۷ واں) اجلاس مجلس عاملہ ۵۴۰ (۶۸ واں) اجلاس مجلس عاملہ ۵۴۳ (۶۹ واں) اجلاس شوریٰ ۵۴۵ (۷۰ واں) اجلاس مجلس عاملہ ۵۵۰ (۷۱ واں) اجلاس شوریٰ ۵۵۱ (۷۲ واں) اجلاس عمومی ۵۵۵ (۷۳ واں) اجلاس شوریٰ ۵۶۱ (۷۴ واں) اجلاس شوریٰ ۵۶۶ (۷۵ واں) اجلاس مجلس منتظمہ ۵۷۱ (۷۶ واں) اجلاس مجلس منتظمہ ۵۷۱ (۷۷ واں) اجلاس مجلس منتظمہ ۵۷۲ (۷۸ واں) اجلاس مجلس شوریٰ ۵۷۳ (۷۹ واں) اجلاس مجلس عمومی ۵۷۶

صفحہ ۱۵

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۲ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

تحریک ختم نبوت

کے سلسلہ میں

۱۹۹۲ء

کے

حالات و واقعات

صفحہ ۱۶

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۲ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

سیاسی مرزائیت (عطاء الحق قاسمی کا کالم)

احمدیوں اور مسلمانوں میں جو چیز وجہ نزاع بنی، وہ مرزا غلام احمد قادیانی کی جعلی ”نبوت“ کے علاوہ اس نومولود مذہب کی طرف سے مسلمانوں کی اس تمام ٹرمنالوجی پر قبضہ تھا جو بزرگان دین اور مقامات مقدسہ کے لئے مخصوص تھی۔ اپنے اصل مقاصد پر پردہ ڈالنے کے لئے مرزا غلام احمد قادیانی نے خود کو ایسا ”نبی“ قرار دیا جو اپنی شریعت نہیں لایا تھا بلکہ حضور ﷺ ہی کی شریعت کو نافذ کرنے کا دعویدار تھا۔ چنانچہ موصوف نے ظلی، بروزی کی بحث بھی چھیڑی، خود کو احمد (ﷺ) کا غلام ہی قرار دیا لیکن ان کے ”صحابی“ اس قسم کے شعر بھی کہتے رہے ؎

محمد پھر اتر آئے ہیں ہم میں اور آگے سے ہیں بڑھ کر اپنی شان میں
محمد دیکھنے ہوں جس نے اکمل غلام احمد کو دیکھے قادیاں میں

اسی طرح ”جنت البقیع“ کے مقابلے میں ”جنت البقیع“ ہی کے نام سے ایک قبرستان ”آباد“ کیا گیا۔ ”مسجد اقصیٰ“ تعمیر کی گئی۔ مرزا قادیانی کے جانشینوں کو خلیفہ اوّل اور خلیفہ دوم وغیرہ کے نام دیئے گئے۔ مرزا قادیانی کی بیگمات کو ”امہات المؤمنین“ قرار دیا گیا۔ مرزا قادیانی کے حواریوں کو ”صحابی“ کہا گیا۔ غرضیکہ مسلمانوں کے ساتھ ہم آہنگی کا مظاہرہ کیا گیا۔ چنانچہ میرے نزدیک یہ بہت بڑا مغالطہ ہے کہ مسلمانوں نے احمدیوں کو غیر مسلم قرار دیا بلکہ حقیقت یہ ہے کہ غیر مسلم قرار دیئے جانے سے بہت عرصہ قبل ”احمدی“ مسلمانوں کو غیر مسلم قرار دے چکے تھے۔ ثبوت کے طور پر صرف دو مثالیں ملاحظہ فرمائیں۔ مرزا بشیر الدین محمود سے ان کے ایک مرید نے سوال کیا کہ کسی غیر احمدی کا اگر کوئی بچہ انتقال کر جائے تو کیا اس کی نماز جنازہ پڑھنا جائز ہے؟ اس کے جواب میں مرزا بشیر الدین نے کہا: ”میں آپ سے پوچھتا ہوں کہ اگر کسی عیسائی یا ہندو کا بچہ فوت ہو جائے تو کیا آپ اس کی نماز جنازہ پڑھیں گے؟“ اس ضمن میں دوسری مثال پاکستان کے سابق وزیر خارجہ سر ظفر اللہ خاں کی ہے۔ جب حضرت قائد اعظم کی نماز جنازہ پڑھی جا رہی تھی۔ سر ظفر اللہ خاں ایک کونے میں الگ ٹانگیں پسارے بیٹھے رہے۔ کسی صحافی نے ان سے پوچھا کہ آپ نماز جنازہ میں شریک کیوں نہیں ہوئے، سر ظفر اللہ خاں نے جواب دیا: ”آپ مجھے ایک مسلم ریاست کا غیر مسلم شہری یا ایک غیر مسلم ریاست کا مسلم شہری سمجھ لیں۔“

قارئین حیران ہو رہے ہوں گے کہ میں آج کس چکر میں پڑ گیا ہوں کہ بقول اکبر الہ آبادی ؎

مذہبی بحث میں نے کی ہی نہیں فالتو عقل مجھ میں تھی ہی نہیں

چنانچہ ان کی ”نسل“ کے لئے عرض ہے کہ یہ تمہید بے مقصد نہیں ہے۔ کہنا میں یہ چاہتا ہوں کہ جب کسی قوم کو اس کے مرکز سے ہٹانا مقصود ہو تو نبی ﷺ کے مقابلے میں ڈمی کھڑی کر دی جاتی ہے۔ مکے اور مدینے کے مقابلے میں قادیان اور ربوہ تعمیر کئے جاتے ہیں اور صدیق اکبر ؓ کے مقابلے میں حکیم نور الدین کو آگے لایا جاتا ہے، جس کے نتیجے میں خود کو خادم قرار دینے والے رفتہ رفتہ سردار کے بہروپ میں سامنے آنے کی کوشش کرتے ہیں اور یوں اس مذہب کے ماننے والے اصلی مرکزی شخصیت اور اس مرکزی شخصیت سے وابستہ علامتوں سے کٹ کر رہ جاتے ہیں۔

قیام پاکستان کے بعد سے اب تک ہماری بعض سیاسی جماعتوں نے قوم کو قومی شخصیتوں اور ان سے وابستہ علامتوں سے ہٹانے کے لئے اسی نسخے پر عمل کیا ہے۔ شیخ مجیب الرحمٰن کے جلسوں میں قائد اعظم کی تصویر کی بجائے موصوف کی اپنی تصویریں نمایاں ہوتی تھیں،

صفحہ ۱۷

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۲ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

پاکستان کے جھنڈوں کی بجائے عوامی لیگ کے جھنڈے لہرائے جاتے تھے اور اقبال کی جگہ ٹیگور اور نذرل کو آگے لایا جاتا تھا۔ مغربی پاکستان میں ذوالفقار علی بھٹو، قائد اعظم کی تصویر کی بجائے اپنی تصویر اور پاکستان کے جھنڈے کے مقابلے میں پیپلز پارٹی کے جھنڈے کو ترجیح دیتے تھے۔ بلکہ موصوف نے تو قومی لباس کے مقابلے میں بینڈ ماسٹروں والی وردی بھی ”ایجاد“ کی تھی۔ چنانچہ اس ”ادھر تم ادھر ہم“ کے نتیجے میں پاکستان دو ٹکڑے ہو گیا۔ ان کی صاحبزادی محترمہ بے نظیر بھٹو نے اس روایت کو آگے بڑھایا۔ چنانچہ بطور وزیر اعظم اپنی پہلی نشری تقریر کے وقت قائد اعظم کی تصویر ہٹا کر اس کی جگہ بھٹو صاحب کی تصویر لگائی گئی اور آج بھی پیپلز پارٹی کے جلسوں میں ہزاروں کی تعداد میں پارٹی کے جھنڈے لہرا رہے ہوتے ہیں اور ”نظربٹو“ کے طور پر پاکستان کا ایک آدھ جھنڈا کہیں نظر آجاتا ہے۔ یہی سلوک قائد اعظم کی تصویر کے ساتھ کیا جاتا ہے۔ اس کی جگہ بھٹو اور بے نظیر بھٹو کی تصویریں نمایاں کی جاتی ہیں۔ بے نظیر بھٹو کے بیس ماہ کے اقتدار کے دوران عوامی لیگ کی ”سنت“ پر عمل کرتے ہوئے ایک اور قومی علامت یعنی اقبال کو فیض صاحب سے بدلنے کی کوشش کی گئی۔ کچھ اسی قسم کا وطیرہ لسانی تنظیموں نے سندھ میں اپنایا۔ پاکستان کی بجائے ان کا اپنا تنظیمی جھنڈا، قائد اعظم کی بجائے اپنے رہنماؤں کی تصاویر اور اقبال پر سب شتم اب ”نظریہ ضرورت“ کے تحت کہیں کہیں ”سیٹ“ میں کچھ تبدیلی بھی کر دی جاتی ہے۔ یہ سب جماعتیں قائد اعظم اور پاکستان سے اپنی وفاداری کا اعلان کرتی ہیں۔ بالکل اسی طرح جس طرح غلام احمد خود کو احمد کا غلام بھی کہتے جاتے تھے اور محمد ﷺ سے بڑھ کر اپنی شان میں (نعوذ باللہ) کا تاثر بھی مسلسل دیا جاتا تھا اور تو اور کبھی کبھی قائد اعظم کی اپنی جماعت مسلم لیگ سے بھی قائد اعظم کو خارج کرنے کی اس طرح کوشش کی جاتی ہے کہ وہ آٹے میں نمک کے برابر رہ جائیں۔ بالفاظ دیگر ہماری اس قومی جماعت کو بھی ”لاہوری“ بنانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ میں ان قومی جماعتوں کے بارے میں کسی بدگمانی کا اظہار نہیں کرنا چاہتا لیکن اتنا ضرور کہوں گا کہ قوم کو قومی شخصیتوں اور قومی علامتوں سے ہٹا کر ڈمی شخصیتوں اور علامتوں کے گرد جمع کرنا ایک خطرناک طرز عمل ہے اور میں اسے ”سیاسی مرزائیت“ کے سوا کوئی دوسرا نام نہیں دے سکتا۔

(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ص ۱۵، مورخہ ۱۰ تا ۱۶ / جنوری ۱۹۹۲ء)

جرمن میں قادیانیوں کی آمد اور جعل سازیاں، جرمن حکومت کی پریشانی

۷؍ستمبر ۱۹۷۴ء کے آئین میں قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا گیا تو انہوں نے اس سے صریح بغاوت کا اعلان کر دیا اور انہوں نے اشتعال انگیز کارروائیاں شروع کر دیں۔ جس کی وجہ سے ۱۹۸۴ء میں پھر قادیانیوں کے خلاف تحریک چلی۔ جس کے نتیجہ میں امتناع قادیانیت آرڈیننس جاری ہوا۔ لیکن قادیانی جن کی شرائط بیعت میں بقول آنجہانی مرزا محمود یہ شرط شامل ہے۔

”اس عام اصلاح کے علاوہ بھی ایک خاص امر کو اس جگہ بیان کر دینا چاہتا ہوں اور وہ حضرت مسیح موعود کا اپنی بیعت کی شرائط میں وفاداری حکومت کا شامل کرنا ہے۔ آپ نے قریباً اپنی کل کتب میں اپنی جماعت کو نصیحت فرمائی ہے کہ وہ جس گورنمنٹ کے ماتحت رہیں اس کی پورے طور پر فرمانبرداری کریں اور یہاں تک لکھا کہ جو شخص اپنی گورنمنٹ کی فرمانبرداری نہیں کرتا اور کسی طرح بھی اپنے حکام کے خلاف شورش کرتا اور ان کے احکام کے نفاذ میں روڑے اٹکاتا ہے وہ میری جماعت میں سے نہیں ہے۔“

(تحفۃ الملوک ص ۱۲۲)

لیکن اس کے باوجود قادیانی، حکومت کے جاری کردہ آرڈیننس کی نہ صرف خلاف ورزی پر اتر آئے بلکہ عمداً انہوں نے غیر مسلم اقلیت ہونے کے باوجود شعائر اللہ کا بڑے زور وشور کے ساتھ استعمال شروع کر دیا۔ ان پر تبلیغ کرنے کی بھی پابندی تھی۔ انہوں نے تبلیغ بھی شروع کر دی جب اہل اسلام انہیں روکتے تو انہیں مشتعل کر دیتے۔ ساہیوال، سکھر، کھاریاں میں کئی مسلمانوں کو شہید کر دیا۔ جڑانوالہ کے

صفحہ ۱۸

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۲ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

نزدیک چک میں تو یہاں تک جسارت کی کہ اللہ رب العزت کی کتاب مقدس قرآن کریم کو جلایا گیا۔ لیکن اس صورتحال کے باوجود مسلمانوں نے صبر کا دامن ہاتھ سے نہ چھوٹنے دیا۔ اشتعال انگیز، دل آزار اور قتل وغارت گری کے باوجود بھی قادیانی اپنے رسائل وجرائد میں مسلمانوں اور حکومت کو ہی بدنام کرتے رہے۔

پھر اسی کو بنیاد بنا کر قادیان کی رائل فیملی سمیت قادیانیوں نے جعلی پاسپورٹوں اور ویزوں کا دھندہ شروع کر دیا اور وہ بیرون ملک خصوصاً جرمنی جانے لگے۔ جہاں انہوں نے پاکستان کے خلاف پروپیگنڈہ شروع کر دیا کہ وہاں انسانی حقوق پامال ہورہے ہیں اور (نام نہاد) احمدیوں پر عرصۂ حیات تنگ کر دیا گیا ہے۔ ان کی املاک لوٹی اور جلائی جارہی ہیں۔ سندھ میں ڈاکوؤں کے ہاتھوں جو مرزائی قتل ہوئے وہ بھی حکومت اور اہل اسلام کے سر منڈھ دیئے گئے۔ اس طرح انہوں نے پاکستان کے خلاف جھوٹا اور بے بنیاد پروپیگنڈہ کر کے سیاسی پناہ بھی حاصل کرنا شروع کر دی اور ملازمتیں بھی حاصل کرنے لگے۔ جب قادیانیوں نے دیکھا کہ پاکستان میں تبلیغ پر پابندی ہے تو انہوں نے سادہ لوح مسلمانوں خصوصاً نوجوان مسلمانوں کو مرتد بنانے کے لئے یہ بھونڈا انداز اختیار کیا کہ انہیں ملازمتوں کا جھانسہ دے کر ان کی جیب کاٹتے پاسپورٹ اور ویزا دلوا کر جرمنی لے جاتے۔ جہاں ان کے پاسپورٹ قبضہ کر کے انہیں بے یارومددگار چھوڑ دیتے۔ جب وہ کہتے کہ تم ہم سے پیسہ لے کر یہاں اس وعدے پر لائے ہو کہ یہاں ملازمت دلوائیں گے تو اب ملازمت دلواؤ تو وہ یہ کہتے ہیں کہ یہاں کی حکومت کو یہ درخواست لکھ کر دینا پڑے گی کہ ہم ”احمدی“ ہیں۔ ہمارے ساتھ :

جاتا ہے۔

اس سلسلہ میں تمہیں احمدی ہونے کا فارم پر کرنا ہوگا اور درخواست کے ساتھ اس فارم کی نقل لگانا ہوگی۔ اس کے بعد تمہیں ملازمت بھی مل جائے گی اور یہاں سیاسی پناہ بھی مل جائے گی۔ ملازمت مل جانے کے بعد تمہیں اپنی کل تنخواہ کا دسواں حصہ جماعت کے فنڈ میں جمع کرانا ہوگا۔ الغرض وہ مجبور جو اپنا گھر کا تمام اثاثہ بیچ باچ کر کے قادیانی دھوکے میں آکر ان کے ساتھ چلے گئے قادیانیوں کے رحم وکرم پر زندگی گزارنے پر مجبور ہو جاتے ہیں اور یا پھر قادیانی بن جاتے ہیں۔ اس وقت ہزاروں افراد جرمنی جاچکے ہیں۔ اس سلسلہ میں قادیانیوں کی پشاور، لاہور، ربوہ، کراچی اور دوسرے بڑے شہروں میں باقاعدہ ایجنسیاں قائم ہیں۔ بعض قادیانی انفرادی طور پر جعلی پاسپورٹ اور جعلی مہروں اور جعلی دستخطوں سے بھی یہ کاروبار شروع کئے ہوئے ہیں۔ بہت سے قادیانی گرفتار ہوچکے ہیں۔ ابھی پچھلے دنوں ختم نبوت میں یہ خبر شائع ہوچکی ہے کہ سات آدمی جعلی پاسپورٹوں پر ماسکو جانے کے جرم میں گرفتار ہوئے۔ ان کا سرغنہ قادیانی تھا۔ زیادہ تر قادیانی جرمن بھیجتے ہیں۔ کیونکہ وہاں کے قوانین باہر سے آنے والوں کے لئے زیادہ نرم ہیں۔ لیکن اب جرمن حکومت بھی قادیانیوں کی دھڑا دھڑ آمد سے پریشان نظر آتی ہے اور وہ جرمنی میں قادیانیوں کے غیر قانونی داخلے روکنے کے لئے کچھ اقدامات کرنا چاہتی ہے۔ اس

صفحہ ۱۹

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۲ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

سلسلہ میں جرمن امیگریشن اور پولیس حکام پر مشتمل ایک ٹیم کراچی آئی جس نے اس صورتحال کا جائزہ لیا۔ تفصیل خبر ملاحظہ فرمائیے۔

”وفاقی جمہوریہ جرمنی کے امیگریشن اور پولیس حکام پر مشتمل دورکنی ٹیم پاکستان میں امیگریشن کے ضابطوں اور طریقہ کار پر عملدرآمد اور بین الاقوامی ہوائی اڈوں پر سیکورٹی کے انتظامات کا جائزہ لینے کے لئے کراچی پہنچ گئی۔ ٹیم فرینکفرٹ ایئر پورٹ کے ڈائریکٹر امیگریشن کرنل کاؤس سیبورن اور بارڈر پولیس کے سینئر کمشنر مسٹر پیٹر مالزیم پرمشتمل ہے۔ یہ ٹیم پی آئی اے کی دعوت پر یہاں آئی ہے تا کہ پاکستان سے غیر قانونی طور پر بیرون ملک جانے والوں کی روک تھام کے لئے امیگریشن کے طریقہ کار کا مشاہدہ کر سکے۔ ٹیم کے ہمراہ پی آئی اے کے اسٹیشن منیجر فرینکفرٹ مسٹر فیاض ناروی بھی آئے ہیں۔ جرمنی کو ان دنوں غیر قانونی تارکین وطن کی آمد کے مسائل کا سامنا ہے جو وہاں غیر قانونی طور پر داخلے کے بعد ’سیاسی پناہ‘ کی درخواست کرتے ہیں۔ جرمنی میں ’احمدی‘ ہونے کا دعویٰ کر کے سیاسی پناہ کے حصول کی درخواست کرتے ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ گزشتہ سال ایک اندازے کے مطابق پانچ ہزار پاکستانی سیاسی پناہ کے لئے جرمنی گئے تھے۔ سال رواں میں ان کی تعداد نصف رہ گئی ہے کیونکہ غیر قانونی مسافروں کو لانے پر ایئر لائن کو دوہزار سے دس ہزار مارک فی مسافر جرمانہ ہوتا ہے۔ جس کی وجہ سے پی آئی اے اور امیگریشن نے یہاں مسافروں کے سفری دستاویزات کی جانچ پڑتال سخت کردی ہے۔ جرمنی کی امیگریشن اور سیکورٹی ٹیم نے پی آئی اے کے ڈپٹی منیجنگ ڈائریکٹر مسٹر خورشید انور اور ڈائریکٹر ایئر پورٹ سروسز مسٹر مستجاب حیدر سے ملاقات کی۔ اس موقع پر جرمن حکام کو بتایا گیا کہ پی آئی اے غیر قانونی مسافروں کو سفری سہولت فراہم کر کے بزنس کے حصول پر یقین نہیں رکھتی۔ وہ صاف ستھرا بزنس دوسری ایئر لائن سے مسابقت کے ذریعہ کر رہی ہے۔ بعض مسافروں کا یہ ذاتی فعل ہوتا ہے جو سفر کے حقیقی دستاویزات پھاڑ کر سیاسی پناہ کی درخواست دیتے ہیں۔ جرمنی کی سیکورٹی اور امیگریشن حکام نے ایف آئی اے امیگریشن کے ڈپٹی ڈائریکٹر، اسسٹنٹ ڈائریکٹر سے پاکستان میں امیگریشن کے قوانین پر عملدرآمد اور اس کی راہ میں مشکلات پر تبادلہ خیال کیا۔ انہوں نے اے ایس ایف کے فورس کمانڈر، ڈپٹی فورس کمانڈر اور کراچی ایئر پورٹ کے چیف سیکورٹی افسر سے بھی ملاقات کی اور کراچی کے بین الاقوامی ہوائی اڈے سیکورٹی کے انتظامات سے تفصیلی آگاہی حاصل کی۔ ٹیم لاہور، پشاور اور راولپنڈی بھی گئی۔“

(جنگ لندن مؤرخہ ۵ / دسمبر ۱۹۹۱ء)

جرمن ٹیم نے یہاں کراچی آکر پی آئی اے کے جن حکام سے ملاقات کی ہے۔ ان میں مسٹر خورشید انور مرزا بھی شامل ہیں جو ڈپٹی منیجنگ ڈائریکٹر کے عہدے پر فائز ہیں۔ جن کی پوزیشن مشکوک ہے۔ اس لئے ان سے یہ توقع نہیں کی جاسکتی کہ جرمن ٹیم کے سامنے صحیح صورتحال واضح کریں گے۔ کیونکہ پی آئی اے قادیانیوں کو جتنی مراعات دے رہی ہے وہ حج پر جانے والے مسلمانوں کو بھی نہیں دیتی۔ پچھلے دنوں یہاں سے کثیر تعداد میں قادیانی اپنے سالانہ جلسہ (جسے وہ حج سمجھتے ہیں) میں شرکت کے لئے لندن گئے تو انہیں رعایتی ٹکٹ فراہم کیا گیا اور لاہور کی ایک ٹریول ایجنسی کا اشتہار قادیانی اخبار الفضل میں شائع ہوا جس میں لندن جانے والوں سے رعایتی ٹکٹوں کے لئے درخواستیں طلب کی گئیں۔ اس بنیاد پر ہم یہ کہنے میں حق بجانب ہیں کہ امیگریشن اور پولیس حکام پر مشتمل جرمنی کی جو ٹیم جرمن میں غیر قانونی داخلے کو روکنے کے سلسلے میں تفتیش کرنے کی غرض سے آئی ہے۔ اس کی صحیح راہنمائی نہیں کی ہوگی۔ اب اگرچہ وہ ٹیم واپس جا چکی ہوگی لیکن حکومت کو اس مسئلہ پر نہایت سنجیدگی سے غور کرنا چاہئے اور یہاں سے جو قادیانی جرمنی جا کر حکومت پاکستان کو بدنام کر کے سیاسی پناہ حاصل کرتے ہیں وہ پاکستان کی بدنامی کا باعث بنتے ہیں۔ اس لئے حکومت ان کی سختی سے نگرانی کرے اور جو ایجنسیاں اور جو قادیانی اس دھندے میں مصروف ہیں ان میں کافی گرفتار بھی ہو چکے ہیں۔ انہیں سخت ترین سزا دے تا کہ آئندہ کوئی ایسا دھندہ کرنے کی جرأت نہ کر

صفحہ ۲۰

تحریک ختم نبوت جلد (۲) ۱۹۹۲ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

سکے۔ نیز پی آئی اے میں قادیانیوں کو جلسہ میں شرکت کے لئے جو رعایتی ٹکٹیں دی گئی ہیں ان کی بھی انکوائری کی جائے کہ اس میں پی آئی اے کے کون سے حکام شامل ہیں۔

(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ص ۵، ۶، مورخہ ۱۰ تا ۱۶؍جنوری ۱۹۹۲ء)

پاکستان کے نامور سائنسدان ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے خلاف بھارتی وقادیانی پروپیگنڈہ

ڈاکٹر عبدالقدیر خان پاکستان کے نامور سپوت اور مایہ ناز سائنسدان ہیں۔ انہوں نے پاکستان میں سائنسی ترقی خصوصاً کہوٹہ کے ایٹمی پلانٹ کی ترقی کے لئے خصوصی دلچسپی لی اور اب بھی دلچسپی لے رہے ہیں۔ لیکن جو لوگ یا گروہ پاکستان کا دشمن ہے یا جنہیں پاکستان کی ترقی ایک آنکھ نہیں بھاتی اور ڈاکٹر صاحب موصوف کے خلاف ہاتھ دھو کر پیچھے پڑے ہوئے ہیں۔ بھارت جس نے پاکستان پر کئی مرتبہ حملہ کیا اور پاکستان کو دو نیم کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ وہ اب بھی پاکستان کی ایٹمی ترقی کے بہانے اس کا تیا پانچہ کرنے کی سوچ میں ہے۔ اس سلسلہ میں جس چیز کا سب سے زیادہ واویلا کیا جارہا ہے۔ وہ کہوٹہ کا ایٹمی پلانٹ اور ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی ذات ہے۔

پاکستان کے موقر اخبار جنگ نے ڈاکٹر صاحب موصوف کے خلاف بھارتی ذرائع ابلاغ کے پروپیگنڈہ کا سختی کے ساتھ نوٹس لیتے ہوئے ۲۸؍جنوری ۱۹۹۲ء کو لکھا تھا۔ مغربی اور بھارتی ذرائع ابلاغ پاکستان کی ایٹمی ٹیکنالوجی کے خلاف زہریلے پروپیگنڈے میں مصروف ہیں۔ بھارتی ریڈیو نے یہ بے پر کی اڑائی ہے کہ پاکستان کے ممتاز سائنسدان ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے وسط ایشیاء کی مسلم ریاستوں کا خفیہ دورہ کیا ہے چونکہ پاکستان ان مسلمان ریاستوں سے اپنے روابط بڑھا رہا ہے۔ ان ریاستوں میں بڑی تعداد میں ایٹمی تنصیبات بھی ہیں جو آزادی کے بعد ان کے حصے میں آئی ہیں۔ امریکہ بھی پاکستان اور وسط ایشیاء کی مسلم ریاستوں کے درمیان تعلقات کے قیام سے خائف ہے۔ اس لئے مغربی اور بھارتی ذرائع ابلاغ کی ملی بھگت سے ایسا بے بنیاد پروپیگنڈہ کیا جارہا ہے کہ پاکستان کی ایٹمی پالیسی کو دنیا کی نگاہوں میں خطرناک ثابت کیا جاسکے۔ اس قسم کے پروپیگنڈے کا منہ توڑ جواب دیا جانا ضروری ہے اور اس کے ساتھ ساتھ حکومت کو وسط ایشیاء کی مسلم ریاستوں سے تعلقات کے قیام میں ہرگز تاخیر نہیں کرنی چاہئے۔ کیونکہ بھارت چاہتا یہی ہے کہ وہ اس تاخیر سے فائدہ اٹھا کر وہاں اپنا اثر و رسوخ قائم کرلے۔ دراصل یہ پروپیگنڈہ بھارتی ذرائع ابلاغ کا ڈاکٹر عبدالقدیر فوبیا میں مبتلا ہو جانے کا منہ بولتا ثبوت ہے جو ان کے اعصاب کو شل کر رہا ہے۔

ڈاکٹر عبدالقدیر خان پاکستان میں جس قسم کی ایٹمی ترقی چاہتے ہیں۔ وہ کسی ملک کے خلاف نہیں ہے لیکن بھارت پھر بھی اس سے حد درجہ خائف ہے۔ یہاں تک کہ وہ ڈاکٹر قدیر فوبیا میں مبتلا ہو گیا ہے۔ جہاں تک بھارتی پروپیگنڈے کے جواب کا تعلق ہے تو اس کی ذمہ داری حکومت پر عائد ہوتی ہے۔ ہمارے ذرائع ابلاغ کو اس سلسلہ میں مؤثر کردار ادا کرنا چاہئے۔ نیز جو مسلم ریاستیں آنجہانی سوویت یونین کے تسلط سے آزاد ہوئی ہیں ان سے اسی لئے خائف ہیں کہ وہ مسلمان ہونے کے ساتھ مادی اور معدنی دولت سے مالا مال ہیں۔ جس سے بھارتی حکومت لرزہ براندام ہے۔

اس بارے میں صحیح صورتحال تو حکومت ہی واضح کر سکتی ہے کہ ڈاکٹر عبدالقدیر صاحب نے ان مسلم آزاد ریاستوں کا دورہ کیا یا نہیں؟ اگر کیا تو ہمارے نزدیک یہ دورہ ضرور ہونا چاہئے تھا۔ اگر نہیں کیا تو اب کرنا چاہئے۔ روزنامہ جنگ نے جس خبر کی بنیاد پر شذرہ تحریر کیا تھا۔ اس خبر میں کہا گیا ہے کہ آل انڈیا ریڈیو نے اپنے خبروں پر تبصرہ کے پروگرام میں فرضی رپورٹوں کا حوالہ دیا اور یہ بھی کہا کہ انہوں نے

صفحہ ۲۱

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۲ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

وسطی ایشیائی ریاستوں کا دورہ فرضی نام سے کیا تا کہ ان جمہوریوں کے ایٹمی سائنسدانوں سے خفیہ رابطوں کے قیام کے امکانات کا جائزہ لیا جاسکے۔ ہمارے خیال میں اس پروپیگنڈے کے پس پردہ قادیانی لابی کی سازش کار فرما ہے۔ کیونکہ کہوٹہ کے ایٹمی پلانٹ سے جب یہودی انعام یافتہ قادیانی ڈاکٹر عبدالسلام کو لاتعلق کیا گیا اور وہاں پر موجود قادیانیوں کو علیحدہ کیا گیا تو وہ ہر ممکن طریقے سے ڈاکٹر عبدالقدیر کو بدنام کرنے پر اپنا پورا زور صرف کر رہے ہیں۔ چونکہ اب بھی وہاں قادیانی موجود ہیں اس لئے ڈاکٹر عبدالقدیر صاحب کے خلاف پروپیگنڈے میں انہیں کا ہاتھ ہے۔ ہم ایک عرصہ سے یہ مطالبہ کر رہے ہیں کہ کہوٹہ کا ایٹمی پلانٹ انتہائی حساس اہمیت کا حامل ہے۔ اس کی نگہداشت اور وہاں ہونے والے کام کو راز داری میں رکھنے کی ضرورت ہے۔ وہاں اگر ایک بھی قادیانی موجود رہے گا تو وہاں کا کوئی راز ، راز رہ ہی نہیں سکتا۔ اس لئے سب سے پہلے وہاں سے مکمل طور پر قادیانیوں کا انخلاء بہت ضروری ہے۔

ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے خلاف پروپیگنڈے کے بارے میں مسلم لیگ کے سینیٹر طارق چوہدری کا بیان بھی کافی غور طلب ہے جو جنگ لاہور ۲۲؍جنوری ۱۹۹۲ء میں شائع ہو چکا ہے۔ ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا : ’’اسلام آباد (نمائندہ خصوصی) پاکستان مسلم لیگ کے رہنما سینیٹر محمد طارق چوہدری نے عالمی شہرت یافتہ پاکستانی سائنسدان ڈاکٹر اے ۔ کیو خان کی کردار کشی کی شدید مذمت کی ہے اور الزام لگایا ہے کہ یہ مہم قادیانی چلا رہے ہیں ۔ کردار کشی کی مہم کے لئے ۱۵؍ لاکھ روپے تقسیم کئے گئے ہیں ۔ منگل کو ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ گنتی کے چند لوگ پاکستان کے ایٹمی پروگرام کو روکنے اور بدنام کرنے کی جو مہم چلائے ہوئے ہیں ۔ ڈاکٹر خان کے خلاف مہم بھی اسی کا حصہ ہے۔ اس حوالے سے کبھی صدر اسحق کو ٹارگٹ بنایا جاتا ہے ۔ وینا حیات کے کیس کے حوالے سے صدر اسحق کو اسی لئے بدنام کرنے کی کوشش کی گئی تھی۔ انہوں نے کہا کہ یہ بات اب کسی سے پوشیدہ نہیں رہی کہ وینا حیات کیس کو اچھالنے کے لئے ایک ایجنسی نے ڈیڑھ کروڑ روپیہ خرچ کیا تھا اور ایک دن میں چالیس چالیس خبریں چھپوائی گئی تھیں ۔ اب اسی طرح سے بنی گالا میں ایک مکان کے حوالے سے ڈاکٹر خان کو نشانہ بنایا جا رہا ہے اور دسمبر سے اب تک کوئی ایسا دن نہیں جس روز ان کے خلاف کوئی مضمون شائع نہ کرایا گیا ہو۔ انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر خان پر نکتہ چینی کرنے والوں کو صرف ایک مکان دکھائی دیتا ہے جس سے ماحول آلودہ ہونے کا خدشہ ہے ۔ انہیں چیئرمین سینٹ ، پیر پگاڑا ، سرتاج عزیز ، فاروق لغاری ، اعتزاز احسن ، لیفٹیننٹ جنرل تنویر نقوی ، ایڈمرل سعید ، کرنل محمود اور طارق احسن پر کوئی اعتراض نہیں جن کی زمینیں بھی بنی گالا میں ہیں ۔‘‘

جناب طارق چوہدری صاحب کے بیان سے بھی اس بات کی تصدیق ہو گئی کہ واقعی قادیانی ڈاکٹر صاحب کے خلاف پروپیگنڈہ کر رہے ہیں ۔ لیکن سوال یہ ہے کہ چوہدری صاحب موصوف حکومت کے ایک رکن ہیں جب انہیں اس بات کا علم ہو چکا ہے کہ قادیانی لابی ڈاکٹر عبدالقدیر خان صاحب کے خلاف پروپیگنڈہ کر رہی ہے تو وہ حکومت کے ایک ذمہ دار رکن ہونے کی حیثیت سے قادیانیوں کے خلاف نوٹس کیوں نہیں لیتے یا حکومت کو مجبور کیوں نہیں کرتے کہ وہ قادیانیوں کا سختی کے ساتھ نوٹس لے۔

ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے خلاف بھارتی اور قادیانی پروپیگنڈہ ایک ساتھ ہی شروع ہوا ہے اور اس کی ابتداء قادیان بھارت میں ہونے والے قادیانیوں کے صد سالہ جشن سے ہوئی ہے جو پچھلے ماہ منعقد ہوا تھا جس میں قادیانی لیڈر مرزا طاہر بھی پہنچا تھا جسے وہی پروٹوکول دیئے گئے جو کسی ملک کی اہم ترین شخصیت کو دیئے جاتے ہیں ۔ آل انڈیا ریڈیو قادیانیت کی تبلیغ و تشہیر کرتا رہا اور انہیں مسلمان قرار دیتا رہا۔ مرزا طاہر کے بارے میں اس نے کہا کہ : ’’وہ خدا سے باتیں کرتا ہے ۔‘‘ ایک طرف قادیانیت کی تشہیر وتبلیغ اور دوسری طرف ڈاکٹر عبدالقدیر

صفحہ ۲۲

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۲ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

کے خلاف پروپیگنڈا یہ بھارتی حکام اور قادیانی لیڈروں کی ملی بھگت سے ہی شروع ہوا اور ابھی تو ابتداء ہے، آگے چل کر قادیانی اور بھی بہت کچھ کر سکتے ہیں۔ اس لئے ضرورت ہے کہ حکومت اب قادیانیوں کے بارے میں دوٹوک اور واضح پالیسی اختیار کرے۔ قادیانی سانپ ہیں اور سانپ کو پالنا دانشمندی نہیں حماقت ہے۔ اس لئے حکومت کو چاہئے کہ وہ ان سانپوں کا سر کچل دے قبل اس کے کہ وہ ملک اور قوم کو کوئی گزند پہنچائیں۔

(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ص ۵، ۶، مورخہ ۶ تا ۱۲؍مارچ ۱۹۹۲ء)

عیسائی، قادیانی اور دوسری اقلیتوں کو اپنی حدود میں رہنا چاہئے

عیسائی بھی اب مطالبہ کرنے لگ گئے ہیں کہ پاکستان میں اقلیتوں کے لئے کوٹہ مقرر کیا جائے۔ اقلیتی امور کے سابق وفاقی وزیر اور اقلیتوں کے رہنما مسٹر ایم. پی بھنڈارا کا ایک بیان ہماری نظر سے گزرا جو انہوں نے لندن میں دیا ہے۔ اس بیان میں انہوں نے جو مسائل اٹھائے ہیں وہ یہ ہیں:

پندرہ فیصد تعداد ہندو طلباء پر مشتمل ہے۔

جاتی ہے۔ انہیں ایسے اقدام نہیں کرنے چاہئیں۔ جس سے دوسروں کی دل آزاری ہو، اس کے علاوہ قادیانی فوراً مرنے مارنے کے لئے تیار ہو جاتے ہیں یہ اپنے اداروں میں غیر قادیانیوں کو جگہ نہیں دیتے۔‘‘

بلکہ مسلم ہیں وہ تینوں بھائی ہیں۔

ہم اس بات کے مخالف نہیں ہیں کہ اقلیتوں کو ان کے حقوق نہ دیئے جائیں یا انہیں ملازمتوں میں نہ لیا جائے۔ اس وقت جتنی بھی اقلیتیں یہاں موجود ہیں جن میں عیسائی بھی شامل ہیں۔ ملازمتوں میں اپنے حق سے زیادہ حصہ لئے ہوئے ہیں لیکن پھر بھی یہ شکایت یا گلہ ہے کہ ان کو ملازمتوں میں جائز حصہ نہیں دیا جا رہا اور ساتھ ہی یہ مطالبہ بھی ہے کہ میرٹ کے علاوہ ان کے لئے کوٹہ بھی مقرر کیا جائے۔ ہمارے خیال میں یہ مطالبہ تو صحیح ہے کہ اقلیتوں کے لئے کوٹہ مقرر کیا جائے اس کوٹہ میں میرٹ کو اولیت دی جائے تو شاید اس پر کسی کو اعتراض نہ ہوگا۔

اس کے ساتھ ساتھ یہ بات بھی مدنظر رکھنا ہوگی کہ پاکستان ایک مسلم مملکت ہے۔ مسلمان اقلیتوں کو وہ تمام حقوق دینے کے لئے تیار ہیں جو اسلام نے انہیں دیئے لیکن اگر وہ یہ کہیں کہ انہیں کلیدی عہدے دیئے جائیں یا مسلح افواج کے کیڈر افسروں میں انہیں نمائندگی دی جائے تو یہ مطالبہ ان کا قطعی طور پر ناقابل تسلیم ہے۔ جیسا کہ ہم پہلے کہہ چکے ہیں۔ یہ ملک مسلمانوں کا ہے۔ مسلمانوں نے اس کی آزادی کے لئے بیش بہا قربانیاں دی ہیں۔ یہاں کی اکثریت مسلمان ہے اس لئے اقلیتوں کا اکثریت والے حقوق طلب کرنا یا حکومت کی طرف سے انہیں زیادہ حقوق دینا اکثریت کے حقوق تلف کرنے کے مترادف ہے۔

صفحہ ۲۳

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۲ء ۲۳ ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

پہلی مسلمہ تعلیمی اداروں خصوصاً میڈیکل کالجوں کا ہے۔ اگر ان کے خیال کے مطابق وہاں ہندو پندرہ فیصد ہیں تو وہ حکومت سے یہ مطالبہ کرنے کا حق رکھتے ہیں کہ ہندوؤں کو اس کثرت سے نہ نوازا جائے اور دوسری اقلیتوں کو بھی ان کا حق دیا جائے۔ ہمارے خیال میں ہندو ایک سرمایہ دار قوم ہے۔ جو اپنے سرمائے کے بل بوتے پر پندرہ فیصد نشستیں حاصل کرنے میں کامیاب ہوئی ہے جنہوں نے دوسری اقلیتوں کے حقوق پر اپنی دولت کی بناء پر شب خون مارا ہے۔ اس لئے عیسائیوں اور دوسری اقلیتوں کو اس مسئلہ پر مؤثر آواز اٹھانی چاہئے۔ ویسے بھی ہندو قادیانیوں کی طرح ملک کے وفادار نہیں ہیں۔ مشرقی پاکستان ہندوؤں اور قادیانی سازشوں کی وجہ سے الگ ہوا اور اب یہ دونوں اقلیتیں سندھ میں وہی کھیل کھیلنا چاہتی ہیں جو قبل ازیں مشرقی پاکستان میں کھیل چکی ہیں۔ بھارتی صوبہ راجستھان سے ملحق ہماری سرحدوں پر زیادہ تر ہندو اور قادیانی آباد ہیں۔ جن کی بھارت میں نہ صرف غیر قانونی آمدورفت ہے بلکہ اسمگلنگ بھی زوروں پر ہے۔ علاوہ ازیں بھارت تخریب کاری کے لئے ہندو اور قادیانیوں کو استعمال کر رہا ہے۔

کنری ضلع تھر پارکر کا علاقہ قادیانیوں اور ہندوؤں کا گڑھ ہے۔ وہاں بڑی بڑی قادیانی سٹیٹس (States) ہیں۔ جہاں مبینہ طور پر بھارت سے اسلحہ پہنچ رہا ہے اور وہ اسلحہ قتل و غارت گری، اغواء برائے تاوان اور ڈکیتی کی وارداتوں کے لئے سندھ میں سرگرم عمل ڈاکوؤں کے گروہوں کے پاس پہنچ جاتا ہے۔ اس لئے نہ تو پاکستان میں بسنے والے ہندو محب وطن ہیں اور نہ قادیانی۔ اگر حکومت سندھ کے حالات کو بہتر بنانے میں مخلص ہے تو پھر ان دونوں گروہوں پر نہ صرف نظر رکھنا ہوگی بلکہ حکومت کی طرف سے ان پر نوازشات کا جو سلسلہ جاری ہے جس سے دوسری اقلیتوں کے حقوق سلب ہو رہے ہیں اسے بھی ختم کرنا ہوگا۔

مسٹر ایم . پی بھنڈارا نے قادیانیوں کا شکوہ کرتے ہوئے کہا کہ ان میں بہت کم فراخ دلی ہے۔ وہ دوسروں کی دل آزاری کرنے اور پھر مرنے مارنے کے لئے تیار ہو جاتے ہیں اور اپنے اداروں میں غیر قادیانیوں کو جگہ نہیں دیتے۔ انہوں نے پارلیمنٹ میں جانے والے قادیانیوں کو بھی مسلمان قرار دیا۔ بھنڈارا صاحب نے قادیانیوں کے بارے میں جو کچھ کہا ہے وہ واقعی درست ہے۔ ان کے بارے میں جتنا کچھ بھی کہا جائے وہ صحیح ہوگا، غلط نہیں ہوگا۔ ان کی دل آزار اور اشتعال انگیز حرکتوں کے بے شمار واقعات ہیں جن کی ہم وقتاً فوقتاً ان کالموں میں نشاندہی کرتے رہتے ہیں لیکن بھنڈارا صاحب سے ہم صرف اتنا عرض کرنا چاہتے ہیں کہ قادیانیت کا شجر خبیث آپ ہی کے ہم مذہب انگریزوں کا لگایا ہوا ہے۔ انہوں نے ہی اس کی آبیاری کی اور آج بھی وہ اس اپنے خود کاشتہ پودے کی سرپرستی کر رہے ہیں۔ ہمیں افسوس اس بات کا ہے کہ یہاں بیرونی ملکوں سے عیسائی مشن آتے ہیں۔ خود پاکستانی عیسائیوں کے مشن بھی موجود ہیں لیکن ان کی ساری توجہ مسلمانوں کو مرتد بنانے پر مرکوز ہے۔ وہ مسلمانوں کو گمراہ کرتے ہیں جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو خدا کے برگزیدہ رسول ہونے کی حیثیت سے بے حد احترام کرتے ہیں اور ان کی شان میں کسی قسم کی گستاخی کو کفر سمجھتے ہیں۔ جب کہ قادیانیوں کے پیشوا مرزا قادیانی نے نہ صرف یہ کہ خود مسیح ہونے کا دعویٰ کیا بلکہ ان کی شان میں گستاخیاں بھی کیں۔ ننگی گالیاں بھی دیں اور ان کے معجزات کا انکار بھی کیا۔ لیکن بھنڈارا صاحب یا ان کی برادری (عیسائیوں) نے کبھی اپنے ہم مذہب انگریزوں کو اس بات پر مجبور نہیں کیا کہ وہ اس قادیانی شجر خبیث کی آبیاری کرنا چھوڑ دیں۔ اس لئے بھنڈارا صاحب نے قادیانیوں کے بارے میں جو کچھ کہا ہے وہ ہے تو صحیح لیکن اس میں منافقت غالب ہے۔ اگر ہماری بات غلط ہے تو پھر تمام عیسائی مشنوں کو قادیانی نقلی مسیح کے خلاف کھل کر میدان میں آنا چاہئے۔

جہاں تک بھنڈارا صاحب کی اس بات کا تعلق ہے کہ قومی اسمبلی، پنجاب اسمبلی اور سرحد اسمبلی میں جو قادیانی ممبر گئے ہیں وہ قادیانی نہیں مسلمان ہیں۔ سراسر غلط ہے۔ اس لئے کہ جن لوگوں نے قادیانیوں میں سے امیدوار کی حیثیت سے حصہ لیا تھا، ان کے بارے

صفحہ ۲۴

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۲ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

میں قادیانی اخبار الفضل نے جماعت سے اخراج کا اعلان کیا تھا۔ اگر وہ قادیانی نہ ہوتے مسلمان ہوتے تو پھر واضح طور پر اعلان ہو جاتا کہ یہ قادیانی (یا بقول ان کے احمدی) نہیں ہیں۔ انہیں خواہ مخواہ ”قادیانی“ یا ”احمدی“ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ یہ اعلان بھی محض دکھاوے کے لئے تھا۔ اندر سے وہ سب ایک ہیں اور قادیانی ان ممبران اسمبلی سے خوب فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ آخر میں ہم بھنڈارا صاحب اور ان کی عیسائی برادری سمیت تمام اقلیتوں سے یہی کہیں گے کہ وہ حدود کے اندر رہ کر اپنا حق مانگیں۔ حدود سے تجاوز نہ کریں۔ کیونکہ یہ ملک مسلمانوں کا ہے اور یہاں کی اکثریت مسلمان ہے۔

(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ص ۵، ۶، مورخہ ۲۰ تا ۲۶ / مارچ ۱۹۹۲ء)

جمعیتہ علماء اسلام اور ذکری گروہ

جمعیتہ علمائے اسلام نے ۲۱ سے ۲۷ / رمضان المبارک تک احتجاجی مظاہرے کرنے کا اعلان کیا ہے۔ پارٹی کے صوبائی امیر اور قومی اسمبلی کے رکن مولانا محمد خان شیرانی نے کوئٹہ میں ایک پریس کانفرنس کے دوران یہ اعلان کرتے ہوئے کہا کہ ”ذکری“ ہر سال ۲۷ / رمضان المبارک کو مکران کے ڈویژنل صدر مقام ”تربت“ میں ایک مخصوص مقام پر مصنوعی حج کرتے ہیں جس پر پابندی لگنی چاہئے۔ اگر یہ پابندی نہ لگائی گئی تو جمعیتہ علماء اسلام اپنے احتجاجی پروگرام کے تحت جلسے منعقد کرے گی اور جلوس نکالے گی۔ جمعیتہ علماء اسلام، جماعت اسلامی اور بعض دوسری مذہبی وسیاسی جماعتوں کی جانب سے کافی عرصہ سے یہ مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ ذکری فرقہ کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا جائے۔ ان کا کہنا ہے کہ تربت کے قریب کوہ مراد پر ہر سال ذکری مصنوعی حج کرتے ہیں۔ وہاں انہوں نے خود ساختہ آب زمزم بھی بنا رکھا ہے۔ ذکری نماز نہیں پڑھتے۔ صرف ذکر کرتے ہیں۔ اس نسبت سے انہیں ذکری کہا جاتا ہے۔ اس کی اپنی عبادت گاہیں ہیں۔ ان کے روزے بھی اپنی نوعیت کے ہوتے ہیں اور زکوٰۃ کا طریقہ بھی مسلمانوں سے مختلف ہے۔ اس طرح اسلام کے پانچوں ارکان کے سلسلے میں ذکری مسلمانوں سے مختلف طریقہ اختیار کرتے ہیں۔ مکران ڈویژن کے علاوہ کراچی اور سندھ کے بعض دوسرے علاقوں میں بھی ذکری بڑی تعداد میں پائے جاتے ہیں۔ ذکریوں میں دو حصے ہیں۔ ایک وہ جو جونپوری کو مانتے ہیں اور دوسرے وہ جو ملاّ اٹکی کے ماننے والے ہیں، ویسے ان دونوں میں کوئی خاص فرق نہیں ہے۔ اپنے عقیدے کے اعتبار سے ذکری مہدوی تحریک کے قریب ہیں۔

ساحل مکران پر ماہی گیروں کی اکثریت ذکری فرقہ سے تعلق رکھتی ہے۔ مختلف کتابوں کے مطالعہ سے پتہ چلتا ہے کہ مہدوی تحریک پندرہویں صدی میں عروج پر تھی۔ ۱۴۲۸ء میں اس تحریک کا نام آخری بار سنا گیا۔ مہدوی فرقہ کا بانی محمد جونپوری ۱۴۴۳ء میں دانا پور ضلع جونپور (اتر پردیش بھارت) میں پیدا ہوا۔ بلوک کی کتاب ”الفضل“ کی سوانح عمری کے مطابق محمد جونپوری کے باپ کا نام سید محمد بدھا اویسی تھا۔ محمد جونپوری کی اپنے علاقے میں مخالفت ہوئی تو وہ جونپور سے گجرات (بھارت) اور وہاں سے ایران چلا گیا۔ جب کہ بعض جگہ پر لکھا گیا ہے کہ وہ اپنے علاقے سے حیدرآباد دکن چلا گیا تھا۔ وہاں بھی اس کی مخالفت ہوئی تو اس نے قندھار (افغانستان) کا رخ کیا۔ جہاں شاہ بیگ ارغون نے اس کے ہاتھ پر بیعت کر لی۔ وہاں بھی لوگ مخالف ہوئے تو وہ ہلمند کے قریب فرا (افغانستان) چلا گیا۔ ”تردید مہدویت“ میں لکھا گیا ہے کہ محمد جونپوری نے فرا میں ہی وفات پائی۔ شہنشاہ اکبر کے ایک رکن اور آئین اکبری کے مصنف ابوالفضل کے والد شیخ مبارک بھی مہدوی فرقہ سے تعلق رکھتے تھے۔ محمد جونپوری کے شاگردوں میں عبداللہ نیازی، اٹکی، جنوبی اور نمانسٹر شامل تھے۔ محمد جونپوری یا اٹکی کا ایک مرید مراد تھا جس کا تعلق مکران سے تھا۔ اس نے مکران میں ذکری فرقہ کو فروغ دیا۔ کوہ مراد بھی اسی کے نام سے موسوم ہے۔ مکران پر ذکری فرقے سے تعلق رکھنے والے گچکی قبیلے کی بعض بااثر شخصیات کی حکمرانی بھی رہی ہے۔ خان آف قلات میر نصیر خان نوری

صفحہ ۲۵

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۲ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

مرحوم نے ایک بار مکران پر چڑھائی کر کے ذکریوں کا تقریباً خاتمہ کر دیا تھا۔ لیکن بچے کچھے ذکریوں نے پھر اپنے آپ کو منظم کر لیا۔ ذکریوں کے بارے میں کتابوں کے حوالے سے جو معلومات حاصل ہو سکیں۔ ان کا مختصر ذکر کیا جا چکا ہے۔ ان میں سے کون سی بات کس قدر سچ یا جھوٹ ہے۔ اس کے لئے تحقیق کی گنجائش بھی ہے اور ایسا کرنا ضروری بھی ہے۔ بہر حال کسی کتاب سے یہ پتہ نہیں چلتا کہ محمد جونپوری خود مکران میں آیا ہو۔ اس طرح یہ بات مسلمہ سمجھی جاتی ہے کہ وہ خود مکران میں نہیں آیا بلکہ اس کے کسی شاگرد نے اس کے عقائد کو مکران میں پہنچایا اور پھیلایا تھا۔ کتابوں کے حوالے سے کوئی ایسی شہادت بھی نہیں ملتی جس سے یہ ثابت ہو سکے کہ ملا اٹکی مکران میں آیا تھا۔

تقریباً ہر سال رمضان المبارک کے آخری ہفتے میں ذکریوں کے حوالے سے مکران ڈویژن اور خاص طور پر تربت میں کشیدگی یا تصادم کی صورت پیدا ہوتی ہے۔ ماضی میں بعض جانیں بھی ضائع ہو چکی ہیں۔ اس سال بھی ایسی صورت پیدا ہو رہی ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ کوئی متوقع ناخوشگوار واقعہ پیش آنے سے قبل ہی امن وامان قائم رکھنے کے لئے ضروری انتظامات اور اقدامات کر لئے جائیں۔ مکران ڈویژن میں ذکریوں کی پہچان کے لئے ذکری اور نمازی کی اصطلاحات استعمال ہوتی ہیں۔ جس سے پتہ چلتا ہے کہ ذکری نماز نہیں پڑھتے۔ خود ذکریوں کا کہنا ہے کہ وہ مسلمان ہیں ان پر غلط الزامات لگا کر پروپیگنڈہ کیا جاتا ہے۔ ان کا دعویٰ کہاں تک درست ہے؟ اس بحث میں پڑے بغیر جمعیتہ علمائے اسلام اور اس کی ہم خیال پارٹیوں کو چاہئے کہ وہ اپنے مؤقف کی بنیاد پر ذکریوں کو غیر مسلم قرار دینے کے لئے قانونی اور آئینی راستہ اختیار کریں۔ قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کیلئے قومی اسمبلی نے بحث مباحثہ اور فریقین کے دلائل سننے کے بعد قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا تھا۔ جہاں تک امن وامان قائم رکھنے کا تعلق ہے۔ اس سلسلے میں حکومت کے علاوہ عوام کے تمام طبقوں اور پارٹیوں کو بھی بھر پور تعاون کرنا چاہئے۔ کیونکہ امن سب کا سانجھا ہوا کرتا ہے۔ ذکری اور نمازی کے حوالے سے اگر آئندہ تصادم کی کوئی صورت بنی تو اس سے دونوں کو ہی نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہے۔

(ہفت روزہ لولاک ص ۲۰، ۲۱، مورخہ ۲۰/ مارچ ۱۹۹۲ء)

ختم نبوت کانفرنس تربت کوئٹہ کی ڈائری

کوئٹہ : مارچ ۱۹۹۲ء، عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام کل تربت میں دو روزہ ختم نبوت کانفرنس شروع ہو گئی۔ جس میں ملک کے مختلف علاقوں سے لوگوں کی ایک بڑی تعداد شرکت کر رہی ہے۔ مجلس کے ایک بیان کے مطابق تربت انتظامیہ نے جمعرات کو تربت شہر جانے والے تمام راستوں کی ناکہ بندی کر کے کانفرنس میں شرکت کے لئے آنے والوں کو روک دیا۔ سو سے زیادہ کارکنوں کو گرفتار کر لیا۔ جن میں تحفظ ختم نبوت کے مرکزی ڈپٹی جنرل سیکرٹری مفتی احتشام الحق آسیا آبادی اور جامع مسجد خضدار کے خطیب مولانا قمر الدین بھی شامل ہیں۔ بیان کے مطابق خضدار، بلیدہ، عمران، گوادر، پسنی اور جیوانی سے ختم نبوت کانفرنس میں شرکت کے لئے آنے والوں کو بھی روک دیا تھا اور ان پر آنسو گیس پھینکی گئی اور لاٹھی چارج کیا گیا۔ دریں اثناء ڈپٹی کمشنر تربت قاضی سراج نے کہا ہے کہ انتظامیہ نے کسی شخص کو گرفتار نہیں کیا ہے۔ نمائندہ پاکستان سے فون پر باتیں کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ تربت میں دفعہ ۱۴۴ نافذ ہے جو بھی قانون ہاتھ میں لینے کی کوشش کرے گا۔ اس سے سختی نمٹا جائے گا۔ انہوں نے بتایا کہ علاقہ میں امن وامان کی صورتحال تسلی بخش ہے اور سماج دشمن عناصر سے نمٹنے کے لئے تمام اقدامات کئے گئے ہیں۔ دریں اثناء جمعیتہ علمائے اسلام کے صوبائی پارلیمانی لیڈر مولانا عبد الغفور حیدری نے کہا ہے کہ جو لوگ ختم نبوت سے غداری کرتے ہیں۔ وہ کہیں کے نہیں رہتے۔ ہمارے ہزاروں کارکنوں کو تربت کے اجتماع میں شرکت کرنے سے روک دیا گیا ہے۔ صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ چیف سیکرٹری اور داخلہ سیکرٹری نے ہمیں یقین دہانی کرائی تھی کہ ہمارے

صفحہ ۲۶

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۲ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

کارکنوں کو روکا نہ جائے گا۔ مگر اس کے باوجود تربت انتظامیہ نے ہمارے کارکنوں کو روک دیا ہے۔ وزیر داخلہ اور سیکرٹری داخلہ نمک حلالی کرتے ہوئے ذکری فرقہ کو تحفظ دے رہے ہیں۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ بلوچستان اسمبلی کے سپیکر ملک سکندر خان ایڈووکیٹ کی سربراہی میں ایک وفد اس سلسلے میں جلد ہی وزیراعظم سے ملاقات کرے گا اور انہیں صورتحال سے آگاہ کرے گا۔ مولانا حیدری نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ جو بھی ذکریوں کا ساتھ دے رہے ہیں اور قوم پرستوں کے ساتھ مل کر جمعیت علمائے اسلام کے خلاف سازشیں کر رہے ہیں۔ علاوہ ازیں جمعیت علمائے اسلام کے صوبائی نائب امیر مولانا نور محمد نے ایک جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ذکری فرقے کو کافر قرار دیا جائے اور تربت میں ان کے جعلی حج پر فوری پابندی عائد کر دی جائے۔ انہوں نے کہا کہ اگر صدر اور وزیراعظم نے اس مسئلہ کی طرف توجہ نہیں دی تو وہ بھی عذاب الہٰی سے نہیں بچ سکیں گے۔

(روزنامہ پاکستان مورخہ ۲۷ / مارچ ۱۹۹۲ء)

کوئٹہ : جمعیت علمائے اسلام کے صوبائی نائب امیر مولانا نور محمد نے کہا ہے کہ حکومت غیر مسلم اقلیت ذکری فرقہ کی سرپرستی کر رہی ہے اور تربت میں مسلمانوں کے داخلے پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ وہ یہاں باچا خان چوک پر ایک احتجاجی جلسہ عام سے خطاب کر رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ بعض قوم پرست عناصر ذکریوں کے خلاف تحریک کو بلوچوں کے خلاف سازش قرار دیتے ہیں۔ قوم پرست یہ کہتے ہیں کہ بلوچ کافر نہیں ہو سکتے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ اگر مکہ کے رہنے والے ابو جہل اور ابولہب کافر ہو سکتے ہیں تو بلوچستان میں کیوں کافر پیدا نہیں ہو سکتے۔ جلسہ عام سے صوبائی وزیر مولانا نیاز ، مولانا عبداللہ اخوندزادہ، مولانا غلام سرور اور مولانا دوست محمد قریشی نے بھی خطاب کیا۔ اس سے قبل جمعیت علمائے اسلام کے زیر اہتمام ایک جلوس نکالا گیا جس کے شرکاء نے حکومت کے خلاف نعرے لگائے اور ذکریوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کا مطالبہ کیا۔

(روزنامہ پاکستان لاہور ایڈیشن مارچ ۱۹۹۲ء)

کوئٹہ : عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت نے فیصلہ کیا ہے کہ ۲۷ / رمضان المبارک کو ذکریوں کے مصنوعی حج کے خلاف تربت کے ختم نبوت چوک سے ہزاروں مسلمان کوہ مراد کی طرف لانگ مارچ کریں گے۔ اس بات کا اعلان حاجی محمد الیاس نے تربت میں ختم نبوت کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ لانگ مارچ کے راستے میں کوئی رکاوٹ برداشت نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ ذکری فرقہ اسلام کے تمام بنیادی ارکان سے منکر ہے۔ اس فرقہ کے غیر مسلم ہونے کے خلاف متعدد تاریخی اور عدالتی شواہد موجود ہیں جن کی روشنی میں مسلمانوں نے ان دین دشمنوں کے خلاف کئی جنگیں لڑی ہیں۔ ریاست قلات کے حکمران نصیر خان نوری نے بھی ان کے خلاف جہاد کا اعلان کیا اور ذکریوں کے حکمران ملک دینار خان گچکی کو گرفتار کر کے ہلاک کر دیا۔ کانفرنس سے مفتی احتشام الحق آسیا آبادی، قاری فضل الرحمٰن، عنایت اللہ رودینی اور مولانا عبد الرزاق نے بھی خطاب کیا۔ کانفرنس میں قراردادوں کے ذریعے مطالبہ کیا گیا کہ ذکری فرقے کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا جائے۔ ان کے مصنوعی حج پر پابندی عائد کی جائے۔ کوہ مراد کے ارد گرد سینکڑوں ایکڑ اراضی جس پر ذکریوں نے قبضہ کر رکھا ہے اسے تربت کے غریب عوام میں تقسیم کیا جائے۔

دریں اثناء یہاں جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ختم نبوت کی اپیل پر جمعہ کو تربت میں مکمل ہڑتال ہوئی۔ تمام دکانیں بند رہیں۔ بیان میں تربت انتظامیہ کے رویہ کی بھی مذمت کی گئی ہے اور کہا گیا ہے کہ ختم نبوت کانفرنس میں شرکت کے لئے آنے والے چار سو افراد اور علمائے کرام کو گرفتار کیا گیا۔ بیان میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ گرفتار شدہ علماء اور دیگر کارکنوں کو فوری طور پر رہا کیا جائے۔ دریں اثناء ڈپٹی کمشنر تربت نے ٹیلی فون پر نمائندہ روزنامہ پاکستان سے بات چیت کرتے ہوئے کہا ہے کہ کسی بھی شخص یا جماعت کو اس بات کی ہرگز اجازت نہیں دی جائے گی کہ وہ کسی کی عبادت گاہ کو نقصان پہنچائے اور قانون کو اپنے ہاتھ میں لے۔ انہوں نے کہا کہ شہر میں سخت

صفحہ ۲۷

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۲ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

حفاظتی انتظامات کئے گئے ہیں۔ امن وامان کی صورتحال تسلی بخش ہے اور کسی قسم کا ناخوشگوار واقعہ پیش نہیں آیا۔ انہوں نے اس بات کی تردید کی کہ تربت میں کسی قسم کی ہڑتال ہوئی ہے یا علماء اور سیاسی کارکنوں کو گرفتار کیا گیا ہے۔

(روزنامہ پاکستان لاہور ایڈیشن مارچ ۱۹۹۲ء)

کوئٹہ : ذکری قبیلے نے جمعرات کے روز اپنی سالانہ روایتی تقریبات منعقد کرنا شروع کر دی ہیں جو ایک ہفتہ تک جاری رہیں گی۔ حالانکہ جمعیۃ علمائے اسلام کی جانب سے ان تقریبات کی مخالفت ہورہی ہے۔ جمعیۃ علمائے اسلام کے راہنماء اور صوبائی وزیر عبدالغفور حیدر بلوچ نے ایک پریس کانفرنس میں کہا ہے کہ پولیس نے ان تقریبات کی مخالفت کرنے کے لئے تربت جانے والے ان کی پارٹی کے ۱۲؍ افراد کو گرفتار کرلیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ جمعیۃ کے اعلیٰ راہنما جن میں بلوچستان اسمبلی کے سپیکر ملک سکندر خان بھی شامل ہیں۔ صدر غلام اسحق خان سے ملاقات کریں گے تاکہ ذکری فرقہ کی تقریبات پر پابندی لگوائی جاسکے۔ انہوں نے کہا کہ ذکری فرقہ کے لوگ اسلام کے بنیادی عقائد کے خلاف یقین رکھتے ہیں اور وہ ۲۷؍ رمضان المبارک کو تربت میں اس طرح کی تقریبات منعقد کرتے ہیں جو حج سے مشابہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان کی جماعت کا مطالبہ ہے کہ ذکری فرقہ کو غیر مسلم قرار دیا جائے۔ جس طرح ۱۹۷۴ء میں پاکستان کی قومی اسمبلی نے قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دیا تھا۔ ادھر پی.این.پی نے انتباہ کیا ہے کہ اگر ذکریوں کے خلاف کوئی قدم اٹھایا گیا تو وہ اس کی مخالفت کرے گی۔ پولیس نے سخت حفاظتی اقدامات کرلئے ہیں اور غیر ذکری افراد کے اپریل تک تربت جانے پر پابندی لگا دی ہے۔

(روزنامہ نوائے وقت لاہور ایڈیشن مارچ ۱۹۹۲ء، ہفت روزہ لولاک فیصل آباد ص۱۹، ۲۰، مورخہ ۱۷؍ اپریل ۱۹۹۲ء)

جامع مسجد باب الرحمت کراچی (ٹرسٹ) اور دفتر ختم نبوت کی تعمیر جدید کا افتتاح

مرکز ختم نبوت مسجد باب الرحمت کی توسیع و تعمیر جدید کے سلسلے میں خواجہ خواجگان حضرت مولانا خان محمد صاحب مدفیوضہم کی زیر صدارت مسجد باب الرحمت میں چھ سو سے زائد علماء، خطباء کرام، ائمہ مساجد اور دینی تنظیموں کے نمائندہ افراد کی ایک تقریب سعید منعقد ہوئی۔ مقررین میں حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی، حضرت مولانا محمد رفیع عثمانی، مولانا اسفندیار خان، مولانا احمد میاں حمادی، مولانا فداء الرحمن درخواستی، مفتی نظام الدین شامزئی، مولانا محمد یوسف کاشمیری، مولانا قاضی محمد بقاء، الحاج عبدالرحمن یعقوب باوا، مولانا اللہ وسایا، مولانا محمد انور فاروقی ناظم اعلیٰ عالمی مجلس کراچی، حضرت مولانا امجد تھانوی اور دیگر حضرات شامل تھے۔ اسٹیج سیکرٹری مولانا محمد جمیل صاحب کی دعوت خطاب پر ناظم اعلیٰ ختم نبوت کراچی مولانا محمد انور فاروقی صاحب نے تقریب کے انعقاد کی غرض وغایت (مسجد باب الرحمت کی تعمیر جدید اور شناختی کارڈ کے مسئلہ) پر روشنی ڈالی۔ مولانا احمد میاں حمادی امیر و کنوینر ختم نبوت صوبہ سندھ نے مسئلہ ختم نبوت پر مدلل انداز سے گفتگو فرماتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ اسلام کے ہر دور میں یہ متفقہ اور حساس مسئلہ رہا ہے۔ خود آنحضرت ﷺ نے اس سلسلے میں کسی لچک اور نرمی کو روا نہیں رکھا۔

مولانا فداء الرحمن صاحب درخواستی نے قادیانیوں کی خباثتوں اور ملک دشمن عزائم کا پردہ چاک کرتے ہوئے فرمایا کہ قادیانیوں کے عزائم میں یہ بات شامل ہے کہ ملک کے اہم ترین شعبہ افواج پاکستان میں کلیدی عہدوں تک رسائی حاصل کی جائے اور اگر وہ اس پلید منصوبہ میں کامیاب ہوتے ہیں تو گویا ہر وقت پاکستان کی شہ رگ پر ان کا ہاتھ ہوگا۔ مملکت خداداد پاکستان کے ناخداؤں کو اس طرف توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے یہ چونکا دینے والی خبر بھی دی کہ اس وقت فوج کے اہم عہدہ کے بعد تیسرے چوتھے عہدہ تک ان کی رسائی ہوگئی اور اگر یہ سلسلہ رہا تو کسی دن پاکستان کا جرنیل کوئی قادیانی بھی بن سکتا ہے۔ قاری رفیق الخلیل صاحب، انجمن اشاعت التوحید والسنۃ

صفحہ ۲۸

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۲ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

کے قاضی محمد بقاء اور جناب حاجی محمد زمان خان اچکزئی سابق وزیر بلدیات و سابق امیر جمعیۃ علماء اسلام صوبہ بلوچستان نے ذکری فرقے کے کوہ مراد پر مصنوعی حج اور مصنوعی صفا و مروہ اور جملہ احکام اسلام کی منسوخی اور چند خود ساختہ شعائر کو عبادت قرار دینے کو ذکر کرتے ہوئے ان کے تعاقب کی درخواست کی کہ اسے صرف بلوچستان کا اندرونی معاملہ نہ سمجھا جائے بلکہ ساری امت کا مسئلہ سمجھا جائے۔ انہوں نے اس تلخ حقیقت کو بھی حاضرین کے سامنے رکھا کہ علماء اور صوبہ بلوچستان کے غیور اہل سنت عوام نے جب اس مسئلہ کی حساسیت کو محسوس کرتے ہوئے ردعمل کا اظہار کیا تو اسے بلوچ پشتون لسانی مسئلہ بنایا گیا۔ کیونکہ ذکریوں کو غیر مسلم قرار دیئے جانے کی صورت میں بعض سیاستدانوں کو ان کی سیٹیں متاثر ہونے کا بے بنیاد اندیشہ ہے۔ انہوں نے ایسے نام نہاد سیاستدانوں کے حق میں دعائے خیر کی کہ وہ اپنے ایمان کو اسمبلیوں کی چند عارضی سیٹوں کی بھینٹ نہ چڑھائیں۔

جمعیۃ علماء اسلام آزاد کشمیر کے رہنماء اور ممتاز عالم دین، مولانا محمد یوسف کشمیری نے حاضرین مجلس کے سامنے یہ نکتہ بیان فرمایا کہ عرب میں آنحضرت ﷺ کے مبعوث ہونے کے تکوینی اسباب میں سے محققین نے ایک سبب عرب کی سخاوت وفیاضی کو بتایا ہے کہ کسی عقیدہ کی ترویج اور قبولیت عامہ کے لئے مال کی قربانی بڑی اہمیت رکھتی ہے۔ اسی وجہ سے آنحضرت ﷺ عرب میں مبعوث ہوئے۔ چنانچہ تاریخ شاہد ہے کہ آپ ﷺ کے صحابہ نے ہر قسم کی جانی قربانی کے ساتھ ساتھ مالی قربانی بھی ایک دوسرے سے بڑھ چڑھ کر دی۔ لہٰذا اگر ہم عقیدۂ ختم نبوت کو عام کرنا چاہتے ہیں تو اس کی اشاعت وترویج کے لئے سخاوت اختیار کرتے ہوئے اس کے لٹریچر کو عام کر کے اور دینی مراکز کے بہتر سے بہتر انداز میں قیام کی ضرورت ہوگی۔

مولانا امجد تھانوی نے فرمایا کہ مسئلہ ختم نبوت اس قدر ظاہر و باہر ہے کہ ہمیں کھل کر واضح انداز سے بلا خوف ہر پلیٹ فارم سے ٹھوس انداز میں بغیر مدافعانہ انداز کے گفتگو کرنی چاہئے۔ حضرت مولانا مفتی ڈاکٹر نظام الدین صاحب شامزئی و مفتی احمد الرحمٰن کے جانشین مسند نے فرمایا کہ قادیانی مسئلہ ہنوز حل طلب ہے۔ جس کے لئے جہد مسلسل کی ضرورت ہے۔ نیز آپ نے اس بات پر بھی زور دیا کہ جہاں علمائے اسلام کا فریضہ اسلام کی ترویج ہے وہاں ان کا اہم فریضہ ابطال باطل بھی ہے۔ لہٰذا ایک ہی باطل کی سرکوبی کو اپنی کامیابی نہ سمجھی جائے بلکہ سارے باطل فتنوں کا سر کچلنا چاہئے اور علماء وائمہ حضرات کا یہ فریضہ بنتا ہے کہ وہ سب فتنوں کی نشاندہی کریں تاکہ عوام الناس اہل دجل کے جال میں نہ پھنسیں۔ مرکزی ناظم اعلیٰ سوادِ اعظم اہل سنت پاکستان نے منتظمین مجلس کو مبارک باد دی اور حضرت مفتی احمد الرحمٰن کے رفع درجات کے لئے خصوصی دعاؤں کا کہا۔

مرکزی خازن ختم نبوت مولانا اللہ وسایا نے تحریک ختم نبوت کے مختلف مراحل پر روشنی ڈالتے ہوئے فرمایا کہ مرزا قادیانی نے ۱۹۰۱ء میں دعوائے نبوت کیا۔ علماء نے مسلسل اس کا تعاقب کیا۔ ۱۹۷۴ء میں کسی قدر کامیابی ہوئی کہ دستور پاکستان میں قادیانی غیر مسلم قرار دیئے گئے لیکن قادیانی جو امت مسلمہ اور مملکت پاکستان کو زک پہنچانے کا کوئی موقعہ ہاتھ سے جانے نہیں دیتے ، اس آرڈیننس کی دھجیاں بکھیرتے ہوئے کلمہ طیبہ کے بیج سینے پر سجانے شروع کئے۔ جس کے بعد علماء کی قیادت میں مسلمانوں کی مسلسل جدوجہد کے نتیجے میں ان پر شعائر اسلام کو استعمال کرنے کی پابندی لگائی گئی۔ مرکز ختم نبوت مسجد باب الرحمت کی تعمیر وتوسیع اور تاریخ کو بیان کرتے ہوئے جناب الحاج عبد الرحمٰن یعقوب باوا نے فرمایا کہ مسجد باب الرحمت کے سنگ بنیاد کی سعادت پاکستان کے پہلے وزیر اعظم اور شہید ملت لیاقت علی خان صاحب کی قسمت میں لکھی گئی تھی۔ لہٰذا اولین بنیاد انہوں نے ۱۹۷۴ء میں رکھی۔ پاکستان کے ابتدائی دنوں یہاں قریب ہی حاجی کیمپ تھا۔ اس سارے تاریخی ثبوت کے باوجود قائد اعظم مینجمنٹ بورڈ اس مسجد کو غیر قانونی قرار دے کر جہاں گناہِ عظیم کا مرتکب ہو رہا ہے وہاں

صفحہ ۲۹

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۲ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

یقیناً قائد ملت کی روح کو بھی اذیت پہنچا رہے ہوں گے۔ انہوں نے فرمایا کہ قدم قدم پر قائد مینجمنٹ بورڈ اللہ کے اس گھر کی تعمیر میں روڑے اٹکاتے رہے اور نوٹس پر نوٹس جاری کرتے رہے۔ حالانکہ ۱۹۸۰ء سے یہ مسجد مفتی احمد الرحمن صاحب مرحوم کے نام پر قانونی تقاضے پورے کرتے ہوئے رجسٹرڈ کرائی گئی۔ جنرل ضیاء الحق شہید نے بھی تعمیر مسجد کی اجازت دی تھی اور پھر سابق وفاقی وزیر ماحولیات جناب سردار یعقوب علی ناصر صاحب نے بھی اجازت مرحمت فرمائی۔ لیکن اس سب کے باوجود قائد مینجمنٹ بورڈ کے عارف صاحب کی آنکھوں میں خانہ خداوندی کا وجود شہتیر بن کے کھٹک رہا ہے۔ جس کی وجہ سے از خود انہوں نے اپنی بے سکونی کا سبب پیدا کر لیا ہے۔ جب کہ مسجد تعمیر ہو چکی ہے۔ بدقسمتی کی انتہاء دیکھئے کہ مسجد تعمیر ہو چکنے کے بعد منظور شدہ گیٹ کے نصب کرنے پر بھی ان کے پیٹ میں مروڑ اٹھتے ہیں۔ چنانچہ اسٹیج سیکرٹری مولانا مفتی جمیل خان صاحب نے اسٹیج پر آ کر اجلاس میں موجود علماء، خطباء اور حاضرین کے جذبات کی ترجمانی کرتے ہوئے ان کی طرف سے ایک قرار داد پیش کی کہ قائد مینجمنٹ بورڈ کے بعض افراد خانہ خدا کو زک پہنچانے کا رویہ ترک کر دیں اور حکومت ایسے افراد کو لگام دے کہ جو عوام الناس میں حکومت کی بدنامی کا باعث بنتے ہیں۔

جامعہ دارالعلوم کراچی کے مہتمم (اور جانشین مفتی اعظم پاکستان مولانا محمد شفیع صاحب) جناب مولانا مفتی رفیع صاحب عثمانی مدفیوضہم نے مسجد باب الرحمت کی توسیع اور تعمیر جدید کے افتتاحی اجلاس میں شرکت کو باعث شرف گردانتے ہوئے حکومت کو مخلصانہ اور ہمدردانہ مشورہ دیا کہ وہ قادیانیوں کے عزائم پر کڑی نگاہ رکھے اور مسجد باب الرحمت کے سلسلے میں بعض حکومتی کارندوں کے غلط طرز عمل پر مسلمانوں کی تشویش کو محسوس کرے اور کوئی بھی ایسا قدم اٹھانے سے گریز کرے کہ جو حکومت کی روسیاہی کا باعث بنے۔ جامع سلوک و ارشاد و شیخ الحدیث مولانا محمد یوسف لدھیانوی مدظلہ نے کمی وقت کا ذکر کرتے ہوئے حاضرین کی شرکت کا شکریہ ادا کیا اور فرمایا کہ جس طرح اہل جنت کے دل ایک ہوں گے اور ایک ساتھ دھڑکتے ہوں گے اسی طرح اہل حق بھی ایک ہیں اور مختلف دینی جماعتیں ایک اکائی ہے اور سب کے دل کی دھڑکن ایک ہے اور وہ غلبۂ حق و اسلام ہے۔ فوج کی مختلف شاخیں اور مختلف رینک ہوتے ہیں۔ لیکن ان میں سے ہر ایک ملک کا سپاہی اور ملک کی حفاظت کے جذبہ سے سرشار ہوتا ہے۔ بالکل اسی طرح ساری دینی تنظیموں اور ان سے وابستہ افراد اسلام کے سپاہی ہیں اور ان سب کا مقصد دین کی حفاظت و سربلندی ہے۔ آخر میں خواجہ خواجگان حضرت مولانا خان محمد صاحب دامت برکاتہم العالیہ کی رقت آمیز دعا کے نتیجے میں بارگاہ رب ذوالجلال میں حاضرین کی اشک بار آنکھوں سے یہ پروقار تقریب اختتام پذیر ہوئی اور ہر شخص کے دل میں ایک نیا جذبہ ولولہ اور شوق غلبہ دین کی بنیاد ڈالی گئی۔

(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ص ۱۶ تا ۱۸، مورخہ ۸ تا ۱۴؍ مئی ۱۹۹۲ء)

کہوٹہ کے ایٹمی پلانٹ کی بعد از تحقیق تطہیر ضروری ہے

ہم نے قبل ازیں پاکستان کے مایہ ناز اور ممتاز سائنسدان ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے بارے میں انہیں کالموں میں ان کے خلاف چلنے والی مہم کا تذکرہ کیا تھا اور بتایا تھا کہ اس کے پس پردہ قادیانی یہودی اور بھارتی لابی کا ہاتھ کارفرما ہے۔ اس بارے میں اخبارات میں مختلف لیڈروں کے بیانات کا حوالہ بھی دیا تھا۔ جس سے ہمارے اس دعوے کی تصدیق ہو جاتی ہے کہ واقعی یہ مہم قادیانی چلا رہے ہیں۔ ڈاکٹر صاحب پر جو فرد جرم عائد کی جاتی ہے وہ ایک قطعہ اراضی ہے جو انہوں نے خرید کیا ہے اور جس پر وہ مکان تعمیر کر رہے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ ان کے مکان سے اتنی گندگی خارج ہو گی جس سے راول جھیل کا پانی گندہ ہو جائے گا اور وہ گندا پانی اہل اسلام آباد پیئیں گے۔ ڈاکٹر صاحب کے خلاف یہ مہم امریکہ کے دو بڑوں کی آمد کے بعد شروع ہوئی۔ جس سے یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ یہ سب امریکی روپیہ اور امریکی دولت

صفحہ ۳۰

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۲ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

کی کارفرمائیاں ہیں۔ جب سے یہودی نوبل انعام یافتہ قادیانی ڈاکٹر عبدالسلام کو کہوٹہ کے ایٹمی پلانٹ سے بے دخل کیا گیا ہے اس وقت سے قادیانی ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی جان کے دشمن بنے ہوئے ہیں۔ امریکہ جو نہ صرف پاکستان بلکہ ہر مسلم ملک کی ترقی کا دشمن ہے۔ قادیانیوں کو اس کی سرپرستی حاصل ہے۔ اس لئے وہ مزید دلیر ہو گئے ہیں اور ڈاکٹر صاحب کے خلاف مہم چلا رہے ہیں۔

جس جگہ ڈاکٹر صاحب اپنا مکان تعمیر کر رہے ہیں وہاں سینیٹ کے چیئرمین جناب وسیم سجاد، پیر صاحب پگاڑا، اعتزاز احسن اور متعدد دوسرے سینیٹر حضرات نے بھی زمینیں خریدی ہیں لیکن کوئی ان کے خلاف مہم نہیں چلاتا نہ کسی کو ان کے اراضی خریدنے پر اعتراض ہے۔ اگر اعتراض ہے تو صرف ڈاکٹر صاحب پر۔ اس پر تبصرہ کرتے ہوئے روزنامہ جنگ کے مشہور کالم نگار جناب عبدالقادر حسن اپنے کالم ’’غیر سیاسی باتیں‘‘ میں تحریر فرماتے ہیں: ’’بات اصل میں یہ ہے کہ پاکستانی ایٹمی توانائی کے خلاف اور ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو پریشان کرنے کے لئے امریکی سازشوں نے یہ حربہ شروع کیا ہے۔ لیکن ڈاکٹر صاحب کے خلاف سازش کا بھانڈا یوں پھوٹ گیا کہ دوسرے سب لوگوں کو چھوڑ کر صرف ڈاکٹر صاحب کو نشانہ بنا لیا گیا جو لوگ کبھی اپنے نام سے اور کبھی دوسرے جعلی ناموں سے ڈاکٹر صاحب کے خلاف لکھ رہے ہیں، یہ سب انگریزی زبان کے صحافی ہیں۔ ان میں سے اکثر لوگ نام نہاد ترقی پسند ہیں اور زیادہ ایک مذہبی فرقے سے تعلق رکھتے ہیں جو پاکستان میں اقلیت قرار پانے کے بعد اس ملک کی دشمنی میں سب سے آگے ہیں۔‘‘

(روزنامہ جنگ لاہور مورخہ ۶؍مارچ ۱۹۹۲ء)

جناب عبدالقادر حسن صاحب نے جس مذہبی فرقے کی طرف اشارہ کیا ہے وہ قادیانی ہے۔ (جسے فرقہ کہنا درست نہیں۔ وہ ایک الگ جعلی مذہب ہے ) اور قادیانی پاکستان کے آج مخالف نہیں ہوئے بلکہ قیام پاکستان سے پہلے بھی مخالف تھے۔ ان کے دوسرے روحانی پیشوا آنجہانی مرزا محمود نے یہ پیش گوئی کر رکھی ہے کہ اوّل تو ملک تقسیم نہیں ہوگا۔ اگر ہو گیا تو ہم کوشش کریں گے کہ دوبارہ اکھنڈ بھارت بن جائے۔ ’’کوشش کریں گے‘‘ کا معنی یہی ہو سکتا ہے بلکہ یہی ہے کہ ہم ہر وہ حربہ استعمال کریں گے جس سے پاکستان کی سالمیت کو نقصان پہنچے۔ اس پیش گوئی پر ہر قادیانی کا ایمان ہے۔ چونکہ کہوٹہ کے ایٹمی پلانٹ سے جس کے نگران ڈاکٹر عبدالقدیر صاحب ہیں، پاکستان کی ترقی و استحکام کو فائدہ پہنچتا ہے۔ اس لئے قادیانی ڈاکٹر عبدالقدیر کے ہی دشمن نہیں اس پلانٹ کو بھی تباہ کرنے پر تلے ہوئے ہیں اور اس کے بھی دشمن ہیں۔ ایک مرتبہ اس پلانٹ کے بارے میں آنجہانی مرزا ناصر نے کہا تھا کہ وہاں میرے جانشین شاگرد ہیں۔ اگر یہ بات درست ہے تو پھر کہوٹہ ایٹمی پلانٹ کو تباہی سے کوئی نہیں بچا سکتا اور نہ ہی ڈاکٹر عبدالقدیر صاحب کی زندگی کی ضمانت دی جا سکتی ہے۔ اس صورتحال کو دیکھتے ہوئے ضروری ہو جاتا ہے کہ حکومت پاکستان کہوٹہ ایٹمی پلانٹ میں کام کرنے والے عملے کی ہر طرح سے چھان بین کرے۔ وہاں کوئی کھلا قادیانی ہے تو اسے رکھنے کا کوئی جواز ہی نہیں۔ لیکن اگر کوئی مشکوک بھی ہے تو اسے بھی وہاں سے نکال باہر کیا جانا چاہئے۔

(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ص ۵، مورخہ ۷؍مئی ۱۹۹۲ء)

غدار پاکستان کی وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف سے ملاقات

اس میں کسی شک و شبہ کی گنجائش نہیں کہ فتنہ قادیانیت انگریز کا خودکاشتہ پودا ہے۔ انگریز نے یہ پودا لگایا۔ اسی نے اس پودے کی آبیاری کی اور آج تک یہ سلسلہ جاری ہے۔ پہلے مرزا قادیانی کو ’’نبوت کا انعام‘‘ دیا اور اب اس کے پیروکار ڈاکٹر عبدالسلام کو ’’نوبل انعام‘‘ دیا گیا۔ یہ انعام انہی لوگوں کو دیا جاتا ہے جو انگریز اور یہودیوں کے پیروکار اور ایجنٹ ہونے کے ساتھ ساتھ مسلمان اور عالم اسلام کی جاسوسی کرتے ہیں۔ ڈاکٹر عبدالسلام کے بارے میں ہم پورے یقین کے ساتھ کہتے ہیں کہ یہ انگریز و یہود اور ہنود تینوں کا بیک وقت

صفحہ ۳۱

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۲ء ترتیب تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

ایجنٹ ہے۔ اس لئے ان کی طرف سے اس پر نوازشات کی اتنی بارش کی گئی ہے جو خود قادیانیوں میں بھی کسی اور پر نہیں کی گئی۔ ڈاکٹر مذکور کو جو نوبل انعام دیا گیا وہ محض نظریات اور یہود و ہنود اور انگریز کا ایجنٹ ہونے کی بناء پر دیا گیا ہے بلکہ اب تک جن افراد کو اس انعام سے نوازا گیا ان میں سرفہرست یہی نظریہ کارفرما تھا۔ چنانچہ پاکستان کے مشہور سائنسدان ڈاکٹر عبدالقدیر صاحب ایک انٹرویو میں فرماتے ہیں ان سے سوال کیا گیا کہ: ”ڈاکٹر عبدالسلام (قادیانی) کو جو انعام ملا ہے اس کے بارے میں آپ کی رائے؟“

ڈاکٹر صاحب مذکور نے جواب دیا: ”وہ (انعام) بھی نظریات کی بنیاد پر دیا گیا۔ عبدالسلام ۱۹۵۷ء سے کوشش میں تھے کہ انہیں نوبل انعام ملے آخر کار آئن سٹائن کی صد سالہ یوم وفات پر ان کا مطلوبہ انعام دے دیا گیا۔ دراصل قادیانیوں کا اسرائیل میں باقاعدہ مشن ہے جو ایک عرصہ سے کام کر رہا ہے۔ یہودی چاہتے تھے کہ آئن سٹائن کی برسی پر اپنے ہم خیال لوگوں کو خوش کر دیا جائے۔ سو ڈاکٹر عبدالسلام کو بھی انعام سے نوازا گیا۔“

(چٹان لاہور مورخہ ۶؍ فروری ۱۹۸۶ء)

چنانچہ یہ انعام یہودیوں نے اپنے چہیتے اور لاڈلے ایجنٹ ڈاکٹر عبدالسلام کے علاوہ دو دیگر افراد کو بھی دیا۔ یہ انعام سود کی رقم سے دیا جاتا ہے۔ جب کہ سود اسلام میں قطعی حرام ہے جو ڈاکٹر مذکور بغیر ڈکارے ہضم کر رہا ہے۔ کیوں نہیں! جب قادیانیوں کا خود ساختہ امام، پیشوا اور نبی کنجری کی ناجائز کمائی کا حرام مال بغیر ڈکار لئے ہضم کر سکتا ہے تو اس کے پیرو کار کیوں ایسا نہیں کر سکتے؟

بہر حال ڈاکٹر مذکور نے اس سودی نوبل انعام سے خوب فائدہ اٹھانے کی کوشش کی اور خوب پروپیگنڈہ کیا۔ قادیانی تو قادیانی مغربی اور یہودی لابی نے بھی اسے بانس پر چڑھایا تا کہ پاکستان اور پاکستانی مسلمانوں پر اس کا اثر اچھا پڑے۔ حالانکہ یہ وہی شخص ہے کہ جب جناب ذوالفقار علی بھٹو مرحوم نے ۱۹۷۴ء میں ایک عظیم الشان تحریک ختم نبوت کے بعد قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا تو اسی دور میں ایک سائنسی کانفرنس ہو رہی تھی۔ صدر کے سائنسی مشیر کی حیثیت سے ڈاکٹر عبدالسلام کو بھٹو صاحب نے دعوت نامہ بھیجا۔ یہ دعوت نامہ جب ڈاکٹر مذکور کو ملا تو اس نے ذیل کے ریمارکس کے ساتھ دعوت نامہ واپس بھیج دیا۔ ”میں اس لعنتی ملک پر قدم نہیں رکھنا چاہتا۔ جب تک آئین میں (قادیانیوں سے متعلق) کی گئی ترمیم واپس نہ لی جائے۔“

(چٹان لاہور مورخہ ۲۲؍ جون ۱۹۸۶ء)

جناب بھٹو صاحب نے ڈاکٹر مذکور کے یہ ریمارکس پڑھے تو: ”ان کا چہرہ سرخ ہو گیا انہوں نے اشتعال میں آ کر اسی وقت اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کے سیکرٹری وقار احمد کو لکھا کہ ڈاکٹر سلام کو فوراً برطرف کر دیا جائے اور بلا تاخیر نوٹیفکیشن جاری کر دیا جائے۔ وقار احمد نے یہ دستاویز ریکارڈ میں فائل کرنے کے بجائے اپنی ذاتی تحویل میں لے لی تا کہ اس کے آثار مٹ جائیں۔ وقار احمد بھی قادیانی تھے۔ یہ کس طرح ممکن تھا کہ اتنی اہم دستاویز فائلوں میں محفوظ رہتی۔“

(حوالہ مذکورہ بالا)

یہ ڈاکٹر مذکور کے غدار پاکستان ہونے کا بہت بڑا ثبوت ہے۔ لیکن اسے کیا کہا جائے کہ جو شخص پاکستان کو لعنتی ملک کہہ کر یہاں سے بھاگ گیا تھا۔ سودی نوبل انعام ملنے کے بعد اسے ہی یہاں پذیرائی بخشی گئی۔ انعام ملنے پر اسے خراج تحسین پیش کیا گیا اور شہر شہر کی یونیورسٹیوں میں اسے گھمانے کی کوشش کی گئی۔ جس پر طلباء نے مظاہرے کر کے یونیورسٹی اور کالجوں میں اس کا داخلہ بند کیا لیکن صدر ضیاء الحق مرحوم نے ۱۸؍ دسمبر ۱۹۷۹ء کو اس قومی اسمبلی میں جہاں قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا گیا تھا۔ قائد اعظم یونیورسٹی کی طرف سے ایک تقریب منعقد کی اور ڈاکٹریٹ کی سند دی۔ اس تقریب میں صدر ضیاء الحق اور دوسرے مسلمانوں کی موجودگی میں مرتد و زندیق ڈاکٹر عبدالسلام نے تقریر کرتے ہوئے کہا: ”میں پہلا مسلمان سائنسدان ہوں، جسے یہ انعام ملا ہے۔“

صفحہ ۳۲

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۲ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

صدر ضیاء الحق صاحب کی اس پذیرائی اور اپنے کو مسلمان ظاہر کرنے پر خاموشی سے قادیانیوں نے خوب فائدہ اٹھایا۔ حتیٰ کہ بعض عرب ممالک کے سربراہ بھی اس کے فریب میں آ گئے۔ خلاصہ یہ کہ:

چوہڑے چماروں کی صف میں شامل کر دیا تھا۔

کیوں آتا؟ اس لئے کہ اس کے نزدیک یہ سرزمین لعنتی ہے۔

الغرض ایسے بہت سے شواہد ہیں جن سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ یہ شخص غدار پاکستان ہے۔ جب یہ غدار پاکستان ہے تو:

مکار شخص ہے۔ کسی بھی وقت دھوکہ دے سکتا ہے۔

اس لمبی چوڑی تمہید کا مقصد یہ ہے کہ اس ملعون اور غدار پاکستان نے حال ہی میں وزیر اعظم پاکستان محترم میاں نواز شریف سے ملاقات کی ہے۔ اخبار میں شائع ہونے والی خبر کا تراشہ ملاحظہ فرمائیے: ’’نوبل انعام یافتہ ممتاز پاکستانی سائنسدان ڈاکٹر عبدالسلام جو ان دنوں بغرض علاج لندن میں مقیم ہیں۔ منگل کو انہوں نے وزیر اعظم پاکستان محمد نواز شریف سے ملاقات کے لئے ان کے ہوٹل آئے تھے۔‘‘

(روزنامہ جنگ کراچی، مورخہ ۱۷؍جون ۱۹۹۲ء)

’’ڈاکٹر عبدالسلام ان دنوں علیل ہیں اور چلنے پھرنے سے معذور ہیں۔ وہ دو پہیوں والی کرسی پر بیٹھ کر وزیر اعظم سے ملنے آئے تھے۔ ڈاکٹر عبدالسلام پاکستان اور برطانیہ کی دوہری شہریت کے حامل ہیں۔‘‘

(روزنامہ جسارت مورخہ ۱۷؍جون ۱۹۹۲ء)

امت مسلمہ نہ صرف ڈاکٹر مذکور کو بلکہ تمام قادیانیوں کو کافر، مرتد اور زندیق سمجھتی ہے۔ اس لئے وزیر اعظم کا کسی بھی اہم قادیانی کو ملاقات کا موقع فراہم کرنا عامۃ المسلمین میں شکوک و شبہات کو جنم دے گا۔ سابق صدر ضیاء الحق مرحوم، ظفر اللہ قادیانی کی عیادت کرنے کے لئے اس کے گھر گئے تو اس پر کافی لے دے ہوئی۔ حتیٰ کہ انہیں قادیانی تک کہا گیا۔ ڈاکٹر سلام کی اس ملاقات کا واقعہ بھی اس سے ملتا جلتا ہے۔ یہ ملاقات کتنی دیر رہی اور کن کن موضوعات پر گفتگو ہوئی۔ اس کا تذکرہ اخبارات میں نہیں ہے لیکن ہمارا خیال ہے کہ ڈاکٹر مذکور سائنس کے نام پر کوئی پھندا ڈالنا چاہتا ہوگا۔

اخبارات میں یہ بھی مذکور ہے کہ ڈاکٹر مذکور دوہری شہریت کا حامل ہے۔ یعنی پاکستان کا بھی شہری ہے اور برطانیہ کا بھی۔ اصولاً

صفحہ ۳۳

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۲ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

جب وہ پاکستان کو لعنتی سرزمین کہہ چکا ہے تو اسے پاکستان شہریت خود بخود ختم کر دینی چاہئے تھی لیکن معلوم ایسا ہوتا ہے کہ وہ دوہرا فائدہ اٹھانا چاہتا ہے۔ برطانیہ کا شہری ہونا اس کے لئے نوبل انعام سے کم نہیں۔ اس لئے کہ یہی وہ سرزمین ہے جس نے قادیان کی ملعون بستی کے ایک بھڑ بھونجے، بدشکل اور بدخصلت مرزا قادیانی کے سر پر نبوت و مہدویت وغیرہ کا تاج سجایا۔ ڈاکٹر مذکور اسی کا پیروکار ہے۔ ہم بات کو طول دینا نہیں چاہتے۔ ہماری وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف سے یہی درخواست ہے کہ ڈاکٹر سلام جیسے غدار پاکستان اور مار آستین سے ملک کو بھی اور خود کو بھی بچائیں۔

(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ص ۵، ۶، مورخہ ۲۴ تا ۳۰ /جولائی ۱۹۹۲ء)

وزیر اعظم پاکستان میاں محمد نواز شریف کے نام کھلا خط

بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ بخدمت عالی جناب الحاج میاں نواز شریف صاحب، وزیر اعظم پاکستان

میں ایک دینی اور قومی مسئلہ کی طرف آنجناب کی توجہ مبذول کرانا چاہتا ہوں۔

ملت اسلامیہ کی طویل اور صبر آزما جدوجہد کے بعد قادیانیوں کو آئین وقانون میں غیرمسلم اقلیت قرار دیا گیا۔ ملت اسلامیہ کے دینی تشخص کے تحفظ کے لئے جداگانہ طرز انتخاب کی بنیاد رکھی گئی۔ ووٹر لسٹوں میں غیرمسلم اقلیتوں کے لئے علیحدہ رنگ رکھے گئے۔ پاسپورٹ میں مذہب کا خانہ موجود ہے اور شناختی کارڈ فارموں میں بھی حلف نامہ کی بنیاد پر مسلم و غیرمسلم کی تمیز کے لئے مذہب کا خانہ موجود ہے۔ پاکستان کے جھنڈے کے رنگ بھی مسلم و غیرمسلم کی رعایت سے تجویز کئے گئے۔

ان تاریخی فیصلوں کا تقاضا تھا کہ ”دو قومی نظریہ“ کی بنیاد پر معرض وجود میں آنے والی مملکت خداداد پاکستان کے باسیوں کے شناختی کارڈوں میں مذہب کا خانہ ہو اور اقلیتوں کے شناختی کارڈ کا رنگ علیحدہ تجویز کیا جاتا تا کہ آئینی وقانونی تقاضوں کی تکمیل میں کوئی اشتباہ نہ ہوتا اور یہ کہ عرب ممالک میں تلاش روزگار کے لئے جانے والے پاکستانیوں کی مذہبی حیثیت کے بارے میں کوئی الجھن باقی نہ رہتی۔ آل پارٹیز مرکزی مجلس عمل تحفظ ختم نبوت ایک عرصہ سے شناختی کارڈ میں مذہب کے خانہ کے اضافہ کا مطالبہ کرتی چلی آرہی ہے۔ اس پلیٹ فارم کو یہ شرف حاصل ہے کہ یہ تمام مکاتب فکر کا مشترکہ پلیٹ فارم ہے۔ جناب بھٹو صاحب کے زمانہ میں مولانا مفتی محمود اور مولانا شاہ احمد نورانی نے یہ مطالبہ رکھا۔ مگر ان کا کہنا تھا کہ ملک میں شناختی کارڈ نئے سرے سے بنائے گئے تو قومی خزانہ پر ناروا بوجھ ہوگا۔ آپ کے سیاسی مرشد جناب جنرل محمد ضیاء الحق صاحب سے مطالبہ کیا گیا۔ انہوں نے بھی عذر کیا مگر انہوں نے پاسپورٹ میں مذہب کے خانہ کا اضافہ کر دیا۔ پاسپورٹ، شناختی کارڈ کی بنیاد پر بنتا ہے۔ اس لئے قادیانی شناختی کارڈ میں مذہب کی صراحت کے نہ ہونے سے غلط فائدہ اٹھا کر عرب ممالک میں جانے کے لئے خود کو مسلمان اور مسلمانوں کو مغربی جرمنی وغیرہ لے جانے کے لئے پاسپورٹ میں قادیانی لکھوا لیتے ہیں۔ اس سے ہزاروں افراد ارتداد کے مرتکب ہوئے۔ کیوں؟ اس کی بنیادی وجہ شناختی کارڈ میں مذہب کا خانہ نہ ہونا ہے۔

جناب محمد خان جونیجو اور محترمہ بے نظیر بھٹو صاحبہ کے دور اقتدار میں نئے شناختی کارڈ کمپیوٹر سسٹم پر بنائے جانے کی تجویز آئی تو تمام مکاتب فکر نے اس مطالبہ کو دہرایا۔ اس وقت ڈائریکٹر جنرل رجسٹریشن اور وفاقی سیکرٹری داخلہ نے ڈیزائننگ میں مذہب کا خانہ رکھا۔ مگر وہ وفاقی کابینہ میں نہ جاسکا اور ان کی حکومتیں ختم ہوگئیں۔

اب آنجناب کے عہد اقتدار میں شناختی کارڈ نئے سرے سے کمپیوٹر لانے کا مرحلہ آیا تو سب سے پہلے آنجناب اور وزیر داخلہ سے مولانا فضل الرحمن نے بات کی۔ مولانا حافظ حسین احمد سینیٹر ، راجہ ظفر الحق اور قومی اسمبلی کے چند دوسرے ممبران ۱۸/فروری ۱۹۹۲ء کو صدر

صفحہ ۳۶

ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۲ء

مملکت جناب غلام اسحق خان سے ملے۔ اخبارات گواہ ہیں کہ صدر مملکت نے اصولی طور پر اس مطالبہ سے نہ صرف اتفاق کیا بلکہ اسے تسلیم کر کے ہدایات جاری کرنے کا اعلان فرمایا۔ تمام مکاتب فکر نے ہزاروں تار اور خطوط کے ذریعہ صدر مملکت ، آنجناب، وزیر داخلہ ،سیکرٹری داخلہ ، وفاقی وزیر مذہبی امور اور ڈائریکٹر جنرل رجسٹریشن سے اس سلسلہ میں گزارش کی۔ ہزاروں کی تعداد میں اشتہار ملک بھر میں تقسیم ہوئے۔ ۲۴/ فروری کو ملک بھر میں یوم احتجاج منایا گیا ۔ ۱۹/ مئی کو جناب لیاقت بلوچ ایم.این.اے اور ۲۱/مئی کو جناب قاضی حسین احمد نے صدر مملکت سے ملاقات میں اس مسئلہ کو رکھا۔ انہوں نے پھر حسب سابق وعدہ فرمایا۔ (اخبارات اس کے گواہ ہیں) ۱۸/ مئی کو آنجناب سے حضرت مولانا سمیع الحق صاحب نے ملاقات کی اور آپ کو تحریری درخواست دی۔ آپ نے وعدہ فرمایا : ۲۱/ مئی کو ملک کی مقتدر شخصیات نے قومی کنونشن منعقدہ اسلام آباد میں اس مطالبہ کو دہرایا۔

۲۹/ مئی کو ملک بھر میں پھر یوم احتجاج منایا گیا ۔ آنجناب نے از راہ کرم گستری نئے شناختی کارڈوں کا اجراء روک دیا اور مذہب کے خانہ کا اضافہ کا حکم فرمایا۔ مگر پھر نہ معلوم وجوہات کی بنیاد پر بغیر مذہب کے خانہ کے اضافہ کے نئے شناختی کارڈوں کا اجراء شروع ہو گیا اور اب دھڑا دھڑ کمپیوٹر چل رہے ہیں اور مسلمانوں کے متفقہ جائز آئینی و دینی مطالبہ کا قتل عام ہورہا ہے۔

ہاں ! حضور والا شان ، جب صدر مملکت نے وعدہ فرمایا اور ہزاروں احتجاجی خطوط و تار آنجناب تک پہنچے تو سیکرٹری داخلہ نے ایک میٹنگ طلب کی اور فیصلہ کیا کہ چاروں صوبائی حکومتوں سے رائے طلب کی جائے۔ جناب عالی ! خالصتاً ایک وفاقی مسئلہ کو صوبائی حکومتوں کی رٹ میں پھینکنا اور پھر ان کی رائے آجانے سے پیشتر ہی ۴/ مئی کو صدر مملکت سے اس کا افتتاح کرالینا ، کیا یہ سمجھنے کے لئے کافی نہیں کہ : ”پانی کہاں مذکور رہا ہے“ قومی اسمبلی میں جناب اقبال چیمہ ایم.این.اے نے سوال اٹھایا تو قومی اسمبلی کا ریکارڈ گواہ ہے کہ جواب دیا گیا کہ صوبائی حکومتوں سے رپورٹ طلب کی ہے۔ آپ کی طبع نازک پر خدا کرے کہ یہ امور گراں نہ گزریں کہ:

(اخبارات مؤرخہ ۲۲/ مئی ۱۹۹۲ء)

رپورٹ کر دی ہے۔

ہے۔ ”شناختی کارڈوں پر دین کا اندراج“ ”اسلامی کونسل نے سفارش کی کہ شناختی کارڈوں پر دین کا خانہ بڑھایا جائے۔ یہ اضافہ اس لئے تجویز ہوا کہ بعض موجودہ اور مجوزہ قوانین کے نفاذ کے لئے شہریوں کے دین کا جاننا بھی ضروری ہے۔ مثلاً زکوٰۃ اور عشر کی وصول یابی ، حدود کا نفاذ وغیرہ۔“

(۳) جمعیۃ اہل حدیث ، (۴) اتحاد العلماء (۵) متحدہ علماء کونسل ، (۶) حزب الجہاد، (۷) تنظیم اہل سنت ، (۸) عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ، (۹) ادارہ منہاج القرآن ، (۱۰) تنظیم المشائخ ، (۱۱) ...... ، (۱۲) مجلس احرار اسلام ، (۱۳) اشاعۃ التوحید والسنۃ ، (۱۴) تنظیم اسلامی ، (۱۵) مجلس حقوق اہل سنت پاکستان، (۱۶) جماعت اسلامی ، (۱۷) انجمن خدام الدین نے آنجناب سے یہ مطالبہ کیا۔

صفحہ ۳۵

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۲ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

سفارش)، جناب قاضی حسین احمد، جناب لیاقت بلوچ، جناب مولانا حافظ حسین احمد دیگر قومی رہنماؤں نے آنجناب یا صدر مملکت سے بالمشافہ یہ مطالبہ کیا اور مولانا محمد خان شیرانی نے قومی اسمبلی کو تحریک التواء بھجوائی۔

اس کے باوجود بھی آنجناب اسے درخور اعتناء نہیں سمجھتے تو اب صرف دو شخصیات ہی باقی ہیں، ایک حضرت جبرائیل علیہ السلام، مگر ان کا آنا بوجہ ختم نبوت کے ممکن نہیں۔ دوسرے سیدنا عزرائیل علیہ السلام وہ اپنے وقت مقررہ پر ہر کسی کے پاس تشریف لاتے ہیں۔ اب فرمائیں کہ کون سا راستہ اختیار کیا جائے؟ دینی وقومی جرائد: روزنامہ جنگ، خدام الدین، ختم نبوت، لولاک، مناقب، الخیر، الشریعۃ، ترجمان اہل حدیث نے اس پر اداریے تحریر کئے جو جناب کی انفارمیشن وضروری کارروائی کے لئے بھجوائے گئے۔ روزنامہ جنگ، کراچی، کوئٹہ، لاہور، راولپنڈی میں مورخہ ۳/ فروری ۱۹۹۲ء کو اشتہار شائع ہوا۔ اس کے باوجود بھی آنجناب توجہ نہیں فرماتے تو اللہ رب العزت آنجناب سے اپنے رحم کا معاملہ فرمائیں۔

عقیدۂ ختم نبوت کے ساتھ آنجناب کا یہ معاملہ اور ادھر دوسری طرف:

جذبات کا خون ناحق کیا ہے۔ اے کاش! آنجناب نے وہاں جبہ فرسائی سے قبل سوچا ہوتا کہ اس عبدالسلام بدبخت نے پاکستان کے قانون میں قادیانیوں کے متعلق ترمیم پر پاکستان کی مقدس سرزمین کو لعنتی کہہ کر یہاں سے خود ساختہ جلاوطنی اختیار کر لی تھی۔ آنجناب کا ایک باغی ملک واسلام دشمن سے ملنا ممکن ہے کہ آپ کے ضمیر پر بوجھ نہ ہو۔ مگر مسلمانوں کے لئے سخت کرب واضطراب کا باعث ہے۔

ڈپٹی سیکرٹری قادیانی ہے۔ ۱۹۵۳ء کی مقدس تحریک ختم نبوت ایک قادیانی وزیر خارجہ آنجہانی ظفر اللہ قادیانی مرتد کی اشتعال انگیزیوں کے باعث چلی۔

دیکھئے تاریخ اپنے آپ کو دہرا رہی ہے۔ اس وقت مسلم لیگ کی حکومت تھی۔ اس وقت مسلم لیگ کی حکومت ہے۔ اس وقت الحاج ناظم الدین وزیراعظم تھے۔ اب الحاج میاں نواز شریف وزیراعظم ہیں۔ اس وقت کی لیگی حکومت نے بدتر مرزائیت نوازی کا ثبوت دیا۔ اب بدترین مرزائیت نوازی کا ثبوت دیا جارہا ہے۔ اس وقت کی لیگی حکومت نے ہزاروں مسلمانوں کو خاک وخون میں تڑپایا۔ اب کی لیگی حکومت لاکھوں مسلمانوں کے جذبات کا قتل عام کر رہی ہے۔

جناب میاں نواز شریف صاحب! رہی پہلی حکومتیں بھی نہیں، رہنا آپ نے بھی نہیں۔ اس لئے کہ دوام صرف اللہ رب العزت کی ذات کو ہے۔ کسی نے کیا خوب کہا ہے ؎

تندئی بادِ مخالف کے باوصف دین حق کا چراغ جلتا رہتا ہے
وزارتوں کے مقدر پر ناچنے والو وزارتوں کا مقدر بدلتا رہتا ہے

اللہ رب العزت آپ کو توفیق بخشیں کہ آپ ان الفاظ کی تلخ نوائی پر جانے کی بجائے اپنے طرز عمل پر غور فرمائیں کہ قادیانیت

صفحہ ۳۶

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۲ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

ایسی نبوت دشمن جماعت کی اتنی دلداری کیوں؟ اور آخر کیوں؟ اس جائز دینی مطالبہ کی فوری نوعیت کا احساس فرمائیں۔ نوٹیفکیشن آپ کے دفتر میں کسمپرسی کا شکار ہے۔ آپ کی ایک جنبش قلم سے معاملہ سدھر سکتا ہے۔ ہم لوگ اس مطالبہ سے دستبردار قطعاً نہ ہوں گے۔ اللہ رب العزت کی ذات، نبی اکرم ﷺ کی حقانیت، روز جزا و سزا کا یقین جس طرح ہمارے ایمان کا حصہ ہے اسی طرح شناختی کارڈ میں مذہب کا خانہ کا اضافہ کے مطالبہ کی حقانیت ومعقولیت، دینی و آئینی اعتبار سے یہ بھی ہمارے ایمان کا حصہ ہے۔ اس کے لئے کاوش باعث سعادت اور اس کا انکار والتواء دین و دنیا کی محرومی کا باعث سمجھتے ہیں۔ ہمیں دار پر کھنچوا دیا جائے یہ تو آپ کے لئے ممکن ہے۔ ہم اس سے دستبردار ہو جائیں اس کا تصور بھی ناممکن ہے۔ کل مؤرخہ ۲۴؍ جون ۱۹۹۲ء کو حضرت مولانا فضل الرحمن، محض دینی تڑپ سے فون پر سارا دن جناب سے رابطہ کرتے رہے۔ آپ سے بات نہ ہوسکی۔ مولانا سے ملاقات کے لئے تشریف لانے والے آپ کے ایک وزیر کو مولانا نے پیغام نوٹ کرا دیا۔ اس سے صرف یہ عرض کرنا مقصود ہے کہ تمام دینی قیادت اس صورتحال اور حکومتی گومگو کی پالیسی پر پریشان ہے۔ یہ عریضہ یقیناً آپ کی بیوروکریسی آپ تک نہیں پہنچائے گی۔ پہنچ بھی پایا تو آپ اسے پڑھیں گے نہیں۔ پڑھ بھی لیا تو نہ معلوم عمل کی توفیق ہوتی ہے یا نہیں۔ تاہم اتنا نوٹ فرما لیجئے کہ آج سے ٹھیک تین دن بعد اسے قومی اخبارات وجرائد میں شائع کرنے پر ہم مجبور ہوں گے۔ اس لئے کہ مرزائیت ترقی کرے اور ہم مصلحت کا شکار ہوں اسے اپنے دین وایمان کے منافی سمجھتے ہیں۔ حق تعالیٰ شانہ آپ کو صحیح فیصلہ کرنے کی توفیق بخشیں۔ آمین!

والسلام! فقیر اللہ وسایا

مؤرخہ ۲۵؍ جون ۱۹۹۲ء رابطہ سیکرٹری آل پارٹیز مرکزی مجلس عمل تحفظ ختم نبوت پاکستان (ملتان)

(ہفت روزہ لولاک فیصل آباد ص۱۷ تا ۱۹، مؤرخہ ۱۰؍ جولائی ۱۹۹۲ء)

جناب میاں محمد نواز شریف صاحب وزیر اعظم پاکستان سے دردمندانہ اپیل

۱۹۷۴ء میں قادیانی غیر مسلم اقلیت کی قرارداد کے پاس ہونے پر پاکستان کی سرزمین کو لعنتی قرار دے کر پاکستان کی ملازمت و رہائش ختم کر دی تھی۔ ایسے باغی سے آپ کا ملن اسلامیان عالم سے ناروا زیادتی ہے۔

کے خانے کے اضافے کی سفارش کر چکی ہے۔

صفحہ ۳۷

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۲ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

دہانیاں اور صریح وعدے فرمائے۔

درج کرنے سے گریزاں ہے۔

آخر کیوں؟ حق تعالیٰ آپ کو امت مسلمہ کے جذبات کے احترام کی توفیق بخشیں۔ آمین!

آل پارٹیز مرکزی مجلس عمل تحفظ ختم نبوت پاکستان

(ہفت روزہ لولاک فیصل آباد ص ۲۳، مؤرخہ ۱۰؍جولائی ۱۹۹۲ء)

شناختی کارڈ میں مذہب کا خانہ ختم کرنے کے نتائج خطرناک ہوں گے، تذبذب کی کیفیت ختم کی جائے

۲۵؍دسمبر ۱۹۹۲ء کے اخبارات میں جلی سرخی کے ساتھ صفحہ اوّل پر یہ خبر شائع ہوئی ہے کہ: ”حکومت نے شناختی کارڈ میں مذہب کا خانہ کے فیصلے کو فی الحال واپس لے لیا ہے اور شناختی کارڈ کے ڈائریکٹر کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ شناختی کارڈ پرانے طریقے سے ہی جاری کرتے رہیں ۔ اس خبر کے اگلے روز وفاقی وزیر مذہبی امور مولانا عبدالستار خان نیازی کا بیان شائع ہوا ہے۔ جس کے مطابق انہوں نے کہا ہے کہ وفاقی حکومت نے ابھی تک شناختی کارڈ میں مذہب کے اندراج کے بارے میں حتمی فیصلہ نہیں کیا۔ یہ فیصلہ آئندہ ایک دو روز میں عیسائیوں کے ایک اعلیٰ وفد کی وفاقی وزیر داخلہ چوہدری شجاعت حسین سے ملاقات کے بعد کیا جائے گا۔ لہٰذا یہ بات غلط ہے کہ حکومت نے مذہب کا خانہ شناختی کارڈ میں ختم کر دیا ہے۔ مولانا عبدالستار خان نیازی نے مزید کہا ہے کہ شناختی کارڈ میں مذہب کے خانہ کے اندراج کا مقصد صرف اور صرف قادیانیوں کو غیر مسلم ظاہر کرنا ہے۔ یہ عیسائیوں یا دیگر اقلیتوں کے خلاف نہیں اور نہ ہی اس کا مقصد اقلیتوں کو دوسرے درجے کا شہری ظاہر کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جو لوگ شناختی کارڈ میں مذہب کے خانہ کی مخالفت کرتے ہیں۔ وہ جاہل اور پلید ہیں اور ملک وقوم کے وقار کو خاک میں ملانا چاہتے ہیں۔“

حکومت کے اس مذکورہ فیصلے پر شدید غم وغصہ کا اظہار کرتے ہوئے جمعیۃ علماء اسلام پاکستان کے مرکزی امیر حافظ الحدیث والقرآن حضرت مولانا محمد عبداللہ درخواستی مدظلہ، سیکرٹری جنرل مولانا فضل الرحمن مدظلہ، حضرت مولانا محمد اجمل خان مدظلہ، حضرت مولانا محمد اجمل قادری مدظلہ، سینیٹر حافظ حسین احمد اور مولانا فداء الرحمن درخواستی مدظلہ نے کہا ہے کہ حکومت نے مذہبی جماعتوں کے ساتھ طے شدہ فارمولے سے انحراف کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے مذہبی جماعتوں کی جانب سے ملک گیر تحریک چلائے جانے کے اعلان سے گھبرا کر وقتی فیصلہ کیا تھا۔ لیکن حکومت کو اس بات کا علم ہونا چاہئے کہ اب بھی مذہبی جماعتیں اس فیصلے سے انحراف کے خلاف بھر پور اور ملک گیر تحریک چلائیں گی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے ”کرسمس“ کے موقع پر امریکہ اور یورپ کو خوش کرنے اور ان سے چند ٹکڑوں کی بھیک کی خاطر طے شدہ فیصلے سے انحراف کیا ہے اور بنیاد پرستی سے مکمل بے زاری کا اعلان کیا ہے لیکن یہ اعلان حکومت کو مہنگا پڑے گا۔

جہاں تک شناختی کارڈ میں مذہب کے خانہ کا تعلق ہے۔ اس بارے میں ہم خدام الدین کے ادارتی کالموں میں تفصیل سے لکھ چکے ہیں۔ ان کالموں میں ہم نے پہلے بھی یہ حقیقت بیان کی تھی کہ شناختی کارڈ میں مذہب کے خانہ کی تکلیف سوائے قادیانیوں کے کسی دوسری اقلیت کو نہیں لیکن قادیانی خود سامنے آنے کی بجائے بعض اقلیتوں کو استعمال کر رہے ہیں۔ کیونکہ قادیانیوں نے پاکستان کی قومی اسمبلی کے

صفحہ ۳۸

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۲ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

فیصلے کو ابھی تک عملاً تسلیم نہیں کیا اور وہ دھوکہ دے کر اپنے آپ کو مسلمان ظاہر کرتے ہیں۔ اس طرح بہت سے قادیانی اسلامی ممالک میں پہنچ چکے ہیں۔ جن میں کئی ایک پکڑے بھی گئے تھے اور حکومت سعودیہ نے باقاعدہ اس پر احتجاج بھی کیا تھا۔ حکومت پاکستان نے مسلمانوں کے اس جائز مطالبہ کو بروقت تسلیم کر لیا تھا اور وفاقی وزیر داخلہ چوہدری شجاعت حسین نے گزشتہ دنوں دوٹوک الفاظ میں اعلان کیا تھا کہ شناختی کارڈ میں مذہب کے خانہ کا فیصلہ ہو چکا ہے اور اسے کسی قیمت پر واپس نہیں لیا جائے گا۔ لیکن حکومت کے حالیہ اعلان سے مذہبی حلقوں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔ ایسے معلوم ہوتا ہے کہ ایوان اقتدار میں بعض ایسے عاقبت نا اندیش حضرات موجود ہیں۔ جو حکومت کو آزمائش میں ڈالنا چاہتے ہیں۔ ہم ان کالموں کے ذریعہ دوٹوک اور واضح طور پر یہ کہہ دینا چاہتے ہیں کہ شناختی کارڈ میں مذہب کا خانہ ختم کرنے کے نتائج انتہائی خطرناک ہوں گے۔ اس سلسلہ میں مولانا عبدالستار خان نیازی کی وضاحت بھی ناکافی معلوم ہوتی ہے اور ان کا یہ کہنا کہ حکومت نے شناختی کارڈ میں مذہب کے خانہ کا ابھی کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا۔ دال میں کچھ کالا ضرور ہے۔ جب حکومت ایک دفعہ مذہبی جماعتوں کے نمائندوں کے ساتھ واضح فارمولا طے کر چکی ہے تو حکومت کو اپنے کئے کا پاس کرنا چاہئے۔ دوٹوک اعلان کرنا چاہئے کہ حکومت اس معاملہ میں کیا کرنا چاہتی ہے؟ تذبذب کی کیفیت کو جتنی جلدی ختم کیا جائے۔ حکومت کے لئے بہتر ہوگا۔ بصورت دیگر یہ سودا مہنگا ثابت ہو سکتا ہے۔ مسلمانان وطن جنہوں نے مرزائیوں کو مسلم اقلیت قرار دلوانے کے لئے بیش بہا قربانیاں دی تھیں۔ وہ اس فیصلے کو عملی جامہ پہنانے کے لئے مزید قربانی بھی دے سکتے ہیں۔ حکومت کو اس سلسلہ میں ہوش کے ناخن لینا چاہئیں۔ اس معاملہ میں ذرا سی کوتاہی اور سستی خطرناک نتائج پیدا کر سکتی ہے۔ وما علینا الا البلاغ!

(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ص ۲۴، مورخہ ۱۹ تا ۲۵؍ فروری ۱۹۹۲ء، بشکریہ ہفت روزہ خدام الدین)

شناختی کارڈ میں مذہب کا خانہ

”شناختی کارڈ میں مذہب کا خانہ“ کے حوالہ سے نومبر تک کی تمام خبریں صاحبزادہ طارق محمود کے رسالہ میں آگئی ہیں جو کہ احتساب قادیانیت ج ۳۳ میں شامل ہے۔ ملاحظہ فرمائیں:

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

۷؍ ستمبر ۱۹۷۴ء کو قادیانی غیر مسلم اقلیت قرار پائے۔ آئین کی دفعہ ۲۰۸، ۲۶۰ میں ترمیم ہوئی۔ چونکہ قادیانیوں نے خود کو غیر مسلم تسلیم کرنے سے عملاً انکار کر دیا تھا۔ اس لئے بھٹو صاحب کے ہی دور حکومت میں رجسٹریشن ایکٹ میں ترمیم کر کے شناختی کارڈ کے فارموں میں خانہ مذہب کا اضافہ کیا گیا۔ ہر وہ شخص جو اپنا مذہب اسلام لکھے، اس کے لئے شناختی کارڈ کے فارم میں ایک حلف نامہ شامل کیا گیا۔ یہ بھٹو صاحب کے دور حکومت میں ہوا۔ اس وقت کی مجلس عمل تحفظ ختم نبوت پاکستان کے ذمہ دار رہنماؤں مولانا محمد یوسف بنوری، مولانا مفتی محمود، پروفیسر غفور احمد، مولانا شاہ احمد نورانی، چوہدری ظہور الٰہی، مولانا عبدالحق، مولانا تاج محمود، مولانا عبیداللہ انور، نوابزادہ نصر اللہ خان، مولانا عبدالستار خان نیازی وغیرہم نے بھٹو حکومت سے مطالبہ کیا کہ شناختی کارڈ کے فارم تو رجسٹریشن دفاتر میں رہ جائیں گے۔ ضروری ہے کہ شناختی کارڈ میں خانہ مذہب کا اضافہ کیا جائے۔ بھٹو صاحب نے فرمایا کہ پورے ملک کے شناختی کارڈ نئے سرے سے بنانے پر قومی خزانہ پر ناروا بوجھ ہوگا۔ تاہم آپ کا مطالبہ معقول ہے۔ مناسب وقت پر اس پر عمل درآمد کر لیا جائے۔ قادیانی سازش سے بھٹو صاحب اور مجلس عمل کے درمیان کشیدگی پیدا کر دی گئی۔ جس کے نتیجہ میں اس ترمیم پر قانون سازی نہ ہو سکی۔ اس کے بعد جنرل محمد ضیاء الحق نے ایک آرڈیننس کے ذریعہ اس خلاء کو پر کیا اور پھر پاسپورٹ میں خانہ مذہب کا اضافہ کر دیا گیا۔ پاسپورٹ چونکہ شناختی کارڈ کی بنیاد پر بنتا ہے۔ اس لئے ایسے ممالک جہاں پر قادیانیوں کا داخلہ ممنوع ہے یا حرمین شریفین، وہاں جانے کے لئے قادیانیوں نے خود کو مسلمان لکھوالیا، یا مغربی جرمنی

صفحہ ۳۹

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۲ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

سیاسی پناہ کے لئے لے جانے کا چکمہ دے کر مسلمانوں کو قادیانی لکھوایا جاتا رہا۔ اس قسم کے بیسیوں کیس ملک میں پکڑے گئے کہ قادیانی ایجنٹ مسلمانوں کو قادیانی ظاہر کر کے مغربی جرمنی اور کینیڈا وغیرہ لے جا رہے تھے۔ اس سے ہزاروں مسلمانوں کو ارتداد کی بھینٹ چڑھایا گیا۔ یہ وہ امور ہیں جن کے باعث جب پاکستان کی وزارت داخلہ نے نئے سرے سے شناختی کارڈ کمپیوٹر پر لانے کا فیصلہ کیا تو تمام مسلمانوں کی طرف سے مطالبہ کیا گیا کہ شناختی کارڈ میں خانہ مذہب کا اضافہ کیا جائے۔ بالخصوص حضرت مولانا خواجہ خان محمد صاحب ، مولانا فضل الرحمن، مولانا سمیع الحق ، مولانا شاہ احمد نورانی، جنرل محمد حسین انصاری، قاضی حسین احمد، پروفیسر ساجد میر، مولانا علی غضنفر کراروی اور دوسرے قومی راہنماؤں کی طرف سے شدت سے یہ مطالبہ کیا گیا۔ اس سلسلہ میں متعدد بار صدر مملکت، وزیر اعظم، وزیر داخلہ اور دوسرے ذمہ دار حضرات سے مختلف وفود نے ملاقاتیں کیں۔ سیمینار منعقد کئے، اشتہارات شائع ہوئے، اخبارات میں مطالبہ کیا گیا۔ حکومت نے چاروں صوبائی حکومتوں سے رپورٹیں منگوائیں جو مطالبہ کے حق میں آئیں اور بالآخر ۱۳/اکتوبر ۱۹۹۲ء کو وزارت مذہبی امور اور وزارت داخلہ نے دیوبندی، بریلوی، اہل حدیث اور شیعہ مکاتب فکر کے رہنماؤں کا اجلاس بلا کر فیصلہ کا اعلان کر دیا کہ شناختی کارڈ میں مذہب کے خانہ کا اضافہ ہوگا۔ فیصلہ کا اعلان ہوتے ہی مختلف طبقات نے اس پر اعتراضات شروع کر دیئے۔

پی ڈی اے، جو دراصل پیپلز پارٹی کا دوسرا نام ہے۔ اس کی مخالفت میں پیش پیش ہے اور وہ اسے فرقہ واریت کا باعث قرار دے رہے ہیں۔ حالانکہ بھٹو صاحب کے دور میں ہی قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دیا گیا تھا اور جب مرزائیوں نے اس ترمیم کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا تو بھٹو صاحب نے ہی رجسٹریشن ایکٹ میں ترمیم کے ذریعہ شناختی کارڈ کے فارموں میں مذہب کے خانہ اور حلف نامہ کے اضافہ کا فیصلہ کیا۔ اگر یہ فرقہ واریت کا باعث ہے تو اس کی ذمہ داری ان کے بانی رہنما پر عائد ہوتی ہے۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ اگر قادیانی غیر مسلم اقلیت نے اس آئینی ترمیم کو تسلیم کر لیا ہوتا تو یہ مسائل پیدا نہ ہوتے۔ قادیانیوں کی آئین سے بغاوت ہی ان مسائل کے جنم لینے کا باعث بن رہی ہے۔ شناختی کارڈ پر مذہب کے اندراج کا فیصلہ ایک مثبت، اصولی اور حقیقت پسندانہ فیصلہ ہے۔ بعض اقلیتوں کی انگیخت، اپنے تجدد ولادینیت کے اظہار اور ”ملا“ کی مخالفت کی آڑ میں اسلام سے دشمنی رکھنے والی آوارہ اور بازاری عورتوں کے مظاہرے قرآن وسنت اور اجماع امت کے یکسر خلاف اور کروڑہا مسلمانان پاکستان کے دینی عقائد اور مذہبی جذبات کے سراسر منافی ہیں۔

اسلام ایک دین فطرت اور آخری آسمانی ہدایت ہے۔ جس کی اپنی ایک مستقل شناخت اور ضروری تقاضے ہیں۔ اسلام حق و باطل، ہدایت وضلالت، خیروشر، معروف ومنکر ، حلال و حرام، ایمان و کفر، اطاعت ومعصیت ، طیب وخبیث اور خدا سے محبت وعداوت کے التباس اور وصل و ملاپ کی ہرگز اجازت نہیں دیتا۔ اس کے اپنے امتیازات ہیں۔ جن کے ختم ہونے یا مٹا دینے سے اسلامی حدود منہدم ہو جاتی ہیں۔ اولیاء رحمٰن اور اولیاء شیطان کے درمیان کھینچے ہوئے خط فاصل کو مٹانا اسلام سے ناواقفیت، جہالت بلکہ بغاوت ہے۔ پوری دنیا کو دعوت اتحاد دینے کے باوجود قرآن کریم نے اپنا تعارف فرقان اور قول فصل کے الفاظ سے بھی کروایا ہے۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ وہ حق وباطل میں فرق کرنے والا اور کفر و اسلام کے لحاظ سے انسانوں کو الگ الگ دائروں میں رکھنے کا قائل ہے۔

اسی قرآن کریم نے ”نجعل المسلمین کالمجرمین (القلم: ۳۵)“ ﴿ کیا ہم ماننے والوں اور نہ ماننے والوں کو یکساں کر دیں گے۔ ﴿ فرما کر ہمیشہ ہمیشہ کے لئے مؤمن و کافر کی راہیں جدا کر دی ہیں۔ نہ صرف یہ بلکہ اس فطری تقسیم و تفریق کے مٹانے والوں کو ”مالکم کیف تحکمون (القلم: ۳۶)“ ﴿ تمہاری عقلوں کو کیا ہو گیا کہ ایمان و کفر کو ایک بنانے لگے ہو۔ ﴿ فرما کر اس حماقت و بے عقلی پر زور دار تنبیہ فرمائی ہے۔

صفحہ ۴۰

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۲ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

قرآن کریم نے یہ بھی بتایا ہے کہ نیک و بد کی یہ تفریق صرف آخرت میں ’فریق فی الجنة وفریق فی السعیر (الشوریٰ:۷،۸)‘ ﴿ایک جماعت جنت میں ہوگی اور ایک انبوہ دوزخ میں ہوگا۔﴾ ہی کی صورت میں نہ ہوگی بلکہ دنیا بھی ماننے والوں کی زندگی، نہ ماننے والوں سے الگ ہی ہونی چاہئے۔

ارشاد ربانی ہے: ”ام حسب الذین اجترحوا السیات ان نجعلهم كالذین امنوا وعملوا الصلحت سواء محياهم ومماتهم ساء ما یحکمون (الجاثیہ:۲۱)“ ﴿یہ لوگ جو برے برے کام کرتے ہیں۔ کیا یہ خیال کرتے ہیں کہ ہم ان کو ان لوگوں کے برابر رکھیں گے۔ جنہوں نے ایمان اور عمل صالح اختیار کیا۔ کیا ان سب کا جینا اور مرنا یکساں ہے؟ یہ برا حکم لگاتے ہیں۔﴾ قرآن کریم کی نظر میں نیک کردار و بدکردار میں ایسے ہی امتیاز و فرق ہے جیسے اندھے اور بینا میں۔

ارشاد باری ہے: ”وما یستوی الاعمی والبصیر والذین امنوا وعملوا الصلحت ولا المسئ قلیلا ما تتذکرون (المؤمن:۵۸)“ ﴿اور بینا اور نابینا اور وہ لوگ جو ایمان لائے اور انہوں نے اچھے کام کئے اور بدکار، باہم برابر نہیں ہو سکتے۔ تم لوگ بہت ہی کم سمجھتے ہو۔﴾

قرآن کریم کی ان تصریحات سے واضح ہے کہ قرآن کریم داعی اتحاد ہونے کے باوجود ادیان اور اہل ادیان میں تفریق و امتیاز ہی کا حامی ہے۔ واضح رہے کہ ہر صداقت کے مٹنے کا پہلا قدم یہی رفع امتیاز اور برائی کے ساتھ التباس واختلاط ہی ہوتا ہے۔ جو حضرات (اور خواتین) صرف شناختی کارڈ پر مسلم و غیر مسلم کی تفریق و امتیاز پر چیں بجبیں ہیں۔ انہیں قرآن کریم کے ان واضح ارشادات و ہدایات پر غور کرنا چاہئے کہ مسلم و غیر مسلم میں یہ امتیاز احکم الحاکمین کا ہے۔ یا ملا کی خود ساختہ بات ہے؟...... اسلام جس طرح خدا کے ماننے والوں کو خدا کے دشمنوں کے ساتھ التباس و اختلاط سے منع کرتا ہے۔ بعینہ اسی طرح وہ تحفظ حدود و مراتب کے لئے اسلامی سلطنت میں رہنے والے غیر مسلموں کو بھی اس بات کا پابند کرتا ہے کہ وہ بحالت کفر مسلمانوں کی صورت و ہیئت اختیار نہ کریں۔ تاکہ ہر قوم کی اپنی اپنی خصوصیات نمایاں رہیں۔ اس سلسلہ میں ہمارے لئے حضرت فاروق اعظمؓ کے اس حکم نامہ سے یہ واضح ہوتا ہے کہ کافر اور مسلمان میں با اعتبار مذہب و معاشرت کھلا امتیاز ہونا چاہئے۔ عہد فاروق میں ہر ذمی کافر سے جو عہد لیا جاتا تھا وہ درج ہے۔ (طوالت سے بچنے کے لئے اس فاروقی حکم نامہ کا ترجمہ پیش خدمت ہے)

”ہم مسلمانوں کی توقیر کریں گے، ہم اپنی مجلسوں سے کھڑے ہو جائیں گے۔ اگر وہ بیٹھنے کا ارادہ کریں گے۔ ہم ان کے ساتھ لباس کی کسی چیز میں مشابہت نہیں کریں گے۔ ٹوپی یا عمامہ، جوتے ہوں یا سر کی مانگ، ہم ان کا سا کلام نہ کریں گے۔ ہم ان کی سی کنیتیں نہ رکھیں گے۔ ہم زین پر گھوڑے کی سواری نہ کریں گے۔ تلوار نہ لٹکائیں گے۔ کوئی ہتھیار نہ رکھیں گے۔ ہم اپنی مہروں کے نقش عربی میں کندہ نہ کرائیں گے۔ شراب کا بیوپار نہ کریں گے۔ ہم طرہ (سر کے اگلے حصہ کے وہ بال جو بطور فخر و تزئین کے رکھے جاتے ہیں) کٹوا دیں گے۔ (جیسا کہ آج بھی انگریزی بالوں کے نام سے یہ طرہ مشہور ہے) ہم جہاں رہیں گے اپنی ہی وضع پر رہیں گے۔ ہم اپنے گرجوں میں صلیب کو بلند نہ کریں گے۔ مسلمانوں کے راستوں اور بازاروں میں اپنی کتابوں اور صلیب کو بلند نہ کریں گے۔ ہم اپنے گرجوں میں ناقوس نہایت ہلکی آواز میں بجائیں گے۔ نہ ہم دعائے استسقاء کے لئے ہجوم لے جائیں گے۔ نہ ہم اتوار کی عید اور اس کا جشن منائیں گے۔ ہم اپنے مردے مسلمانوں کے قبرستان میں دفن بھی نہ کریں گے۔“

(اقتضاء الصراط المستقيم لابن تیمیہ)

اس فاروقی حکم نامہ کے ایک ایک لفظ سے یہ عیاں ہو رہا ہے کہ جس طرح مسلمانوں پر یہ لازم ہے کہ وہ کفار سے ظاہراً وباطناً کوئی

صفحہ ۴۱

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۲ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

مشابہت اختیار نہ کریں۔ اسی طرح اسلامی حکومت کفار کو بھی مجبور کرے گی کہ وہ کفر پر رہتے ہوئے ایسی وضع اختیار نہ کریں۔ جس سے کافر ومسلم کا امتیاز مٹ جائے۔

شناختی کارڈ تو مسلم و غیر مسلم کے امتیاز کو باقی رکھنے کا بالکل ابتدائی قدم ہے۔ اسلام تو زندگی کے تمام مراحل میں اس امتیاز کو پوری قوت کے ساتھ قائم کرنے کا حکم دیتا ہے۔ جس شخص کو مسلمان کہلاتے ہوئے بھی اسلام کا یہ حکم ناپسند ہے۔ وہ اپنے لئے غیر مسلموں کے شناختی کارڈ کے اجراء کی درخواست دے سکتا ہے۔ ہم اس پر انا للہ پڑھنے کے سوا اور کیا کر سکتے ہیں؟

یہاں ہم پاکستان کے غیر مسلم باشندوں کی خدمت میں یہ ضرور عرض کریں گے کہ اسلام میں اس فرق مراتب کا منشاء ان کے ساتھ ظلم و بے انصافی نہیں۔ آپ کے جائز حقوق جو بحیثیت رعایا آپ کو ملنے چاہئیں ان کی ادائیگی پر سب سے زیادہ زور اسلام ہی دیتا ہے۔ آپ کے جانی و مالی حقوق مسلمانوں کے برابر ہیں۔ کسی مسلمان کو آپ کے جان و مال پر ہاتھ اٹھانے کی اجازت نہیں اور کسی مسلمان حاکم کے لئے یہ جائز نہیں کہ وہ آپ کے نزاعات میں صحیح و منصفانہ فیصلہ نہ کرے۔ عدل و انصاف اور انسانی ہمدردی بلا استثناء سب کے لئے ہے اور عزت وعظمت صرف اللہ اور اہل اللہ کے لئے ہے۔ ’’ولله العزة ولرسوله وللمؤمنين ولكن المنفقين لا يعلمون (المنافقون:۸)‘‘

اب دیکھنا یہ ہے کہ حکومتی ارکان، دانشوروں، علماء، مشائخ، سیاستدانوں، قانون دانوں اور خود بحیثیت مسیحی حضرات کی اس بارے میں کیا رائے ہے؟

قائد اعظم بانی پاکستان: قائد اعظم محمد علی جناح جداگانہ طرز انتخاب کے داعی اور عمل کرانے والے تھے۔

علامہ اقبال: علامہ اقبال دو قومی نظریہ کے خالق تھے۔

جناب غلام اسحاق خان صدر مملکت پاکستان: ’’صدر مملکت جناب غلام اسحق خان نے ایک وفد سے فرمایا کہ شناختی کارڈ میں قومی تشخص کے ساتھ اسلامی تشخص کا اپنانا بھی آئینی ضرورت ہے۔ کیونکہ پاکستان ایک نظریاتی ملک ہے۔ وفد کی قیادت جے ۔ یو ۔ آئی کے سیکرٹری جنرل سینیٹر حافظ حسین احمد کر رہے تھے۔ جب کہ مولانا علی اکبر ایم این اے، سینیٹر راجہ ظفر الحق، مولانا محمد امین ایم ۔ این ۔ اے، مولانا حسن جان ایم ۔ این ۔ اے، میاں عطاء محمد قریشی ایم ۔ این ۔ اے اور مجلس کے مرکزی رہنما مولانا اللہ وسایا، مفتی احتشام الحق بلوچستانی، قاضی احسان الحق اور قاری منور حسین وفد میں شامل تھے۔‘‘

(قومی اخبارات، مؤرخہ ۱۹/فروری ۱۹۹۲ء)

’’شناختی کارڈ میں خانہ مذہب کا اضافہ معقول مطالبہ ہے۔ اس سے مجھے اتفاق ہے۔ اس کے ماننے میں کوئی رکاوٹ نہیں ہونی چاہئے اور نہ ہی کسی کو اپنے مذہب کے اظہار پر شرمانا چاہئے۔‘‘ (قاضی حسین احمد سے ملاقات کے دوران صدر مملکت کا فرمان)

(نوائے وقت راولپنڈی، مؤرخہ ۲۲/مئی ۱۹۹۲ء)

’’پاکستان میں مسلمان، عیسائی اور دیگر غیر مسلم رہتے ہیں۔ ان کی الگ شناخت ہونی چاہئے۔‘‘

(روزنامہ خبریں لاہور، مؤرخہ ۲۳/اکتوبر ۱۹۹۲ء)

سابق صدر مملکت و وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو: بھٹو صاحب نے ۱۹۷۴ء میں نہ صرف قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا بلکہ رجسٹریشن ایکٹ میں ترمیم کر کے شناختی کارڈ کے فارموں میں خانہ مذہب کا اضافہ کیا۔

صدر مملکت جنرل محمد ضیاء الحق: جنرل ضیاء الحق نے جداگانہ طرز انتخاب رائج کیا۔ مسلم و غیر مسلم ووٹر لسٹوں کی علیحدہ رنگت تجویز کی اور پاسپورٹ میں خانہ مذہب کا اضافہ کیا۔

صفحہ ۴۴

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۲ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

اسلامی نظریاتی کونسل: گورنمنٹ پاکستان کے ادارہ ”اسلامی نظریاتی کونسل“ نے اپنی ۷۸، ۱۹۷۷ء کی ایک رپورٹ شائع کی ہے۔ اس وقت کونسل کے چیئرمین جناب محمد افضل چیمہ ریٹائرڈ جج سپریم کورٹ آف پاکستان تھے۔ ریٹائرڈ جسٹس صلاح الدین، جناب اے. کے بروہی، جناب خالد اسحاق ایڈووکیٹ، حضرت مولانا محمد یوسف بنوری، حضرت خواجہ قمر الدین سیالوی، حضرت مفتی سیاح الدین، حضرت مفتی محمد حسین نعیمی، مولانا ظفر احمد انصاری، مولانا محمد تقی عثمانی (موجودہ جج شریعت سپریم کورٹ اپیل بنچ) حضرت مفتی جعفر حسین مجتہد، مولانا محمد حنیف ندوی، ڈاکٹر ضیاء الدین احمد، جناب تجمل حسین ہاشمی، حضرت مولانا شمس الحق افغانی، علامہ سید محمد رضی، جناب ایس. ایم. اے اشرف، محترمہ ڈاکٹر مسز خاور خان چشتی، ایسے نابغۂ روزگار، اس ادارہ کے اس زمانہ میں ارکان تھے۔ اسلامی نظریاتی کونسل نے جو سفارش کی وہ یہ ہے۔

شناختی کارڈوں پر دین کا اندراج: ”اسلامی نظریاتی کونسل نے سفارش کی کہ شناختی کارڈوں پر دین کا خانہ بڑھایا جائے۔ یہ اضافہ اس لئے تجویز ہوا کہ بعض موجودہ اور مجوزہ قوانین کے نفاذ کے لئے شہریوں کے دین کا جاننا بھی ضروری ہے۔ مثلاً زکوٰۃ اور عشر کی وصول یابی، حدود کا نفاذ وغیرہ۔“

(اسلامی نظریاتی کونسل کی سالانہ رپورٹ ۷۸، ۱۹۷۷ء ص ۱۵۳)

قومی اسمبلی کے ۲۷ ممبران: مولانا محمد خان شیرانی پارلیمانی لیڈر جمعیت العلمائے اسلام، مولانا معین الدین لکھوی پارلیمانی لیڈر جمعیت اہل حدیث، جناب لیاقت بلوچ پارلیمانی لیڈر جماعت اسلامی، صاحبزادہ مولانا حامد سعید کاظمی پارلیمانی لیڈر جمعیتہ علمائے پاکستان، جناب غلام مصطفیٰ جتوئی پارلیمانی لیڈر این. پی. پی، مولانا محمد صدیق شاہ ایم. این. اے، مولانا علی اکبر ایم. این. اے، مولانا محمد امین ایم. این. اے، جناب عالم زیب ایم. این. اے، مولانا حسن جان ایم. این. اے، جناب خالق داد ایم. این. اے، جناب انوار الحق رامے ایم. این. اے، جناب نذیر احمد ورک ایم. این. اے، راجہ محمد ظہیر ایم. این. اے، جناب میاں محمد عثمان ایم. این. اے، جناب عزیز احمد ایم. این. اے، جناب ظفر اللہ دھاندلہ ایم. این. اے، جناب گل حمید روکڑی ایم. این. اے، جناب شاہد خاقان عباسی ایم. این. اے، جناب غلام ربانی کھر ایم. این. اے، جناب عطا محمد قریشی ایم. این. اے، جناب سردار عبد القیوم خان ایم. این. اے، جناب محمد اکرم انصاری ایم. این. اے، مولانا محمد اعظم طارق ایم. این. اے، مولانا رحمت اللہ ایم. این. اے، سردار محمد یوسف ایم. این. اے، جناب چوہدری نذیر احمد ایم. این. اے نے وزیر اعظم پاکستان کے نام عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی ایک عرضداشت پر دستخط کر کے دیئے۔ وزیر اعظم سے عرضداشت میں کہا گیا کہ ”دوقومی نظریہ جداگانہ طرز انتخاب اسلامی نظریاتی کونسل کی سفارش چاروں صوبوں کی سفارشات، وزارت داخلہ، وزارت قانون، وزارت مذہبی امور کی سفارشات کی روشنی میں یہ امر تقاضا کرتا ہے کہ شناختی کارڈ میں مذہب کے خانہ کا اندراج کیا جائے۔ یہ ضروری امر ہے کہ عالمی مجلس نے صرف ۲۷ ممبران اسمبلی کے دستخطوں پر صرف اس لئے اکتفا کیا کہ ۱۹۷۴ء کی اسمبلی میں قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کی قرارداد پر بھی اتنے ہی ممبروں کے ابتدائی دستخط تھے۔ بھٹو صاحب نے اسے تسلیم کر لیا۔ خدا کرے کہ جناب میاں محمد نواز شریف صاحب بھی اس وعدے کو پورا کریں۔“

(عرضداشت پر دستخطوں کی کاپی مجلس کے مرکزی دفتر میں موجود ہے)

حکومت پاکستان کا فیصلہ: مؤرخہ ۱۳؍ اکتوبر ۱۹۹۲ء وفاقی وزیر مذہبی امور مولانا عبد الستار خان نیازی کی صدارت میں ساڑھے تین بجے پاکستان سیکرٹریٹ آر بلاک اسلام آباد میں اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں مندرجہ ذیل حضرات نے شرکت کی۔

صفحہ ۴۳

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۲ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

بالاتفاق مندرجہ ذیل فیصلہ کا اعلان قومی نشریاتی اداروں اور قومی اخبارات کو جاری کیا گیا۔ ”آئینی تقاضے کے مطابق قومی شناختی کارڈ میں مذہب کے خانہ کا اندراج کیا جائے گا اور اس خانے میں ہر شخص کا مذہب یعنی اسلام، عیسائیت، بدھ مت، ہندومت، سکھ مت، پارسی، قادیانی (لاہوری)، بہائی کا اندراج ہوگا۔ جو شناختی کارڈ جاری ہوئے ہیں۔ ان میں بھی ترمیم کی جائے گی۔“

پاکستان میں چونکہ جداگانہ طریق انتخاب جاری ہے اور اس سلسلے میں مذہب کا اندراج ان کی شناخت کو آسان بنادے گا۔ مزید یہ کہ زکوٰۃ اور حدود جیسے شرعی قوانین میں غیر مسلم اقلیتوں کو جو استثنائیات حاصل ہیں۔ اس میں ان کی شناخت آسان ہوگی۔“ (کارروائی اجلاس)

جناب میاں محمد نواز شریف وزیر اعظم پاکستان: ”شناختی کارڈ میں مذہب کے اندراج کا فیصلہ حتمی ہے۔ اس بارے میں کسی کو ابہام نہیں رہنا چاہئے۔ اس پر عمل درآمد کے انتظامی اقدامات کئے جارہے ہیں۔ فیصلہ سوچ سمجھ کر کیا ہے۔ کوئی تبدیلی نہیں ہوگی۔“

(روزنامہ نوائے وقت راولپنڈی، مورخہ ۲۹؍اکتوبر ۱۹۹۲ء)

چاروں صوبائی حکومتوں کی رپورٹ: ”وزیر داخلہ چوہدری شجاعت حسین نے کہا کہ ایک گشتی مراسلہ میں چاروں صوبوں کے چیف سیکرٹریوں نے وفاقی حکومت کو مطلع کیا ہے کہ صوبائی حکومتوں کو قومی شناختی کارڈ میں مذہب کا کالم کے اندراج پر کوئی اعتراض نہیں۔ وہ آج یہاں قومی اسمبلی میں وقفہ سوالات کے دوران حاجی محمد جاوید چیمہ کے سوال کا جواب دے رہے تھے۔“

(روزنامہ نوائے وقت راولپنڈی مورخہ ۷؍اگست ۱۹۹۲ء)

چوہدری شجاعت حسین وفاقی وزیر داخلہ: ”شناختی کارڈ میں مذہب کا خانہ ختم نہیں ہوگا۔ حکومت فیصلہ واپس لینے پر غور نہیں

صفحہ ۴۴

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۲ء

ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

کر رہی بلکہ خانہ کا اندراج آئین کے تحت مسلمان کی تعریف کے مطابق کیا جائے گا۔‘‘

(روزنامہ پاکستان مؤرخہ ۲؍نومبر ۱۹۹۲ء)

’’پورے ملک میں جعل سازی اور غلط کارڈوں کے استعمال کو روکنے کے لئے کمپیوٹر سسٹم پر شناختی کارڈ بنائے جارہے ہیں تاکہ تخریب کاری کو روکا جاسکے۔ اس میں مذہب کے خانہ کا اضافہ اصولی اور آئینی فیصلہ ہے۔ فیصلہ واپس نہیں ہوگا۔ اب آئین کے مطابق اس کو نافذ کرنا ہے۔‘‘

(روزنامہ جنگ لاہور، مؤرخہ ۷؍نومبر ۱۹۹۲ء)

چوہدری عبد الغفور وفاقی وزیر قانون: ’’سندھ اسمبلی وفاقی حکومت پر اپنا فیصلہ لاگو نہیں کر سکتی۔ قرار داد سے کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ شناختی کارڈ میں خانہ مذہب کے اندراج سے کسی کی حق تلفی نہیں ہوگی۔ بعض لوگ اسے سیاسی رنگ دے رہے ہیں۔‘‘

(روزنامہ پاکستان، مؤرخہ ۷؍نومبر ۱۹۹۲ء)

’’شناختی کارڈ کے فارم میں تو مذہب کا خانہ موجود ہے۔ ہمارے ہاں اقلیتی نمائندوں کے انتخاب کا طریقہ بھی جداگانہ ہے۔ عیسائیوں، ہندوؤں اور بدھ مذہب وغیرہ کے لوگوں کو علیحدہ علیحدہ نشستوں پر منتخب کیا جاتا ہے۔ اگر شناختی کارڈ میں ایسا خانہ ہو تو شناخت بہتر طور پر ہو جائے گی۔‘‘

(روزنامہ جنگ، مؤرخہ ۲۳؍اکتوبر ۱۹۹۲ء)

مولانا شاہ احمد نورانی صدر جمعیۃ علمائے پاکستان: ’’یہود اور عیسائی ہمیشہ مسلمانوں کو ختم کرنے پر متفق ہیں۔ شناختی کارڈ میں خانہ مذہب بے حد ضروری اور لازمی ہے۔ آئین کے آرٹیکل ۲ میں واضح طور پر یہ موجود ہے کہ سٹیٹ کا مذہب اسلام ہوگا۔ پھر اس بات کا اظہار شناختی کارڈ میں نہ ہونے کی کوئی وجہ نہیں۔ مخالفین کل کو یہ بھی مطالبہ کر سکتے ہیں کہ پاکستان کے ساتھ اسلامی جمہوریہ کا لفظ نہیں ہونا چاہئے۔ جدا گانہ طرز انتخاب کی بنیاد پر ملک معرض وجود میں آیا تھا۔ اس سے انحراف کیوں؟‘‘

(روزنامہ نوائے وقت ملتان، مؤرخہ ۸؍نومبر ۱۹۹۲ء)

’’پاسپورٹ میں مذہب کا خانہ موجود ہے تو شناختی کارڈ میں اندراج پر اعتراض کیوں؟‘‘

(روزنامہ جنگ لاہور، مؤرخہ ۸؍نومبر ۱۹۹۲ء)

’’جو لوگ شناختی کارڈ میں مذہب کے خانہ کے اندراج کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں، وہ ایسا بیرونی طاقتوں کے اشاروں پر کر رہے ہیں۔ مذہبی خانہ کے اضافہ سے اقلیتوں کو دوسرے درجہ کے شہری بنانے کی باتیں بھی حقائق کے منافی ہیں۔‘‘

(روزنامہ جسارت، مؤرخہ ۸؍نومبر ۱۹۹۲ء)

شیخ الحدیث مولانا محمد عبداللہ درخواستی، مولانا محمد اجمل خان، مولانا فضل الرحمن، حافظ حسین احمد، مولانا محمد اجمل قادری: ’’شناختی کارڈ میں خانہ مذہب کا اضافہ پاکستان میں دینی قوتوں کی فتح ہے۔ حکومت نے اس سے پہلے بہت سے وعدے کئے ہیں۔ لیکن ابھی تک پورے نہیں ہوئے۔ اس وعدے کو پورا کرنے کے لئے تمام مذہبی قوتوں کو ایک پلیٹ فارم پر جدوجہد جاری رکھنی چاہئے۔ اگر حکومت نے اب پھر ہیر پھیر کی کوشش کی تو تمام مذہبی قوتیں اپنے مطالبہ کو منظور کرانے کے لئے میدان عمل میں ہوں گی۔‘‘

(روزنامہ جنگ لاہور، مؤرخہ ۲۵؍اکتوبر ۱۹۹۲ء)

مولانا فضل الرحمن جنرل سیکرٹری جمعیت علمائے اسلام: ’’۱۹۷۳ء کے آئین میں مسلم وغیر مسلم کی واضح تمیز موجود ہے جو ایک متفقہ آئین ہے۔ خانہ مذہب کے اندراج سے قادیانیوں کی شناخت کو واضح کرنا ہے۔ اس لئے اس سے صرف قادیانیوں کو پریشان ہونا چاہئے۔ کسی دوسری غیر مسلم اقلیت کو پریشان ہونے کی ضرورت نہیں۔ بے دین شرارتی لوگ اس کی مخالفت کر رہے ہیں۔ وہ ایک طے شدہ مسئلہ کو ابھار رہے ہیں۔ ہم نہیں چاہتے کہ عوام کو سڑکوں پر لایا جائے اور اگر ایسا ہوا تو اس فیصلہ کی مخالفت کرنے والے اپنے گھروں میں چھپ کر بھی پناہ حاصل نہیں کر سکیں گے۔‘‘

(روزنامہ جنگ لاہور، مؤرخہ ۷؍نومبر ۱۹۹۲ء)

صفحہ ۴۵

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۲ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

”اگر حکومت نے شناختی کارڈ میں مذہب کا خانہ شامل کرنے کے فیصلے پر جلد از جلد عملدرآمد نہ کیا تو اس کو زبردست مزاحمت کا سامنا کرنا پڑے گا اور ایسا زبردست احتجاج کیا جائے گا کہ کسی رکن اسمبلی کو اسمبلی تک نہیں پہنچنے دیا جائے گا۔ سندھ اسمبلی نے شناختی کارڈ میں مذہب کے خانے کو نہ شامل کرنے کے بارے میں جو قرارداد منظور کی ہے۔ ہم اس کو مسترد کرتے ہیں۔ سندھ اسمبلی نے یہ قرارداد منظور کر کے خود کو ایک بے دین ادارہ ثابت کیا ہے اور ہم سندھ اسمبلی کے قرارداد منظور کرنے کے اس اقدام پر لعنت بھیجتے ہیں۔“

(روزنامہ نوائے وقت ملتان، مورخہ ۹؍ نومبر ۱۹۹۲ء)

قاضی حسین احمد: امیر جماعت اسلامی قاضی حسین احمد نے ۲۱؍ مئی ۱۹۹۲ء کے ختم نبوت کنونشن میں شرکت کی اور اسی روز صدر مملکت سے ملاقات کے دوران ان سے اس مسئلہ پر بات کی۔ ۱۴؍ اکتوبر ۱۹۹۲ء کے جلسہ عام اسلام آباد میں شرکت کی اور شناختی کارڈ میں خانہ مذہب کے اضافہ کے اصولی موقف کے لئے اپنی جماعت، پارلیمانی گروپ کو وقف کر کے امت مسلمہ کی رہنمائی کی۔

مولانا عبدالستار خان نیازیؒ وفاقی وزیر مذہبی امور: ”شناختی کارڈ میں مذہب کا کالم ناگزیر ہے۔ یہ مطالبہ تسلیم نہ کرنا ختم نبوت کے عملاً انکار کے مترادف ہے۔“

(روزنامہ جنگ راولپنڈی، مورخہ ۱۲؍ مئی ۱۹۹۲ء)

”سندھ اسمبلی بھان متی کا کنبہ ہے۔ قرارداد فیصلے کو متاثر نہیں کر سکتی۔ ان سیاسی نابالغوں کو سمجھانے کی کوشش کریں گے۔ خانہ مذہب کے اضافہ سے نہ صرف اقلیتوں کے حقوق کا تحفظ ہو گا بلکہ ان کی اسمبلیوں میں نمائندگی بھی یقینی ہو جائے گی۔ پاکستان مسلمانوں کی جدوجہد سے قائم ہوا۔ مسلمان غیر مسلموں کے کہنے پر اپنی شناخت تبدیل نہیں کر سکتے۔ حکومت نے سوچ سمجھ کر اسلامی نقطۂ نظر اور آئین کے تقاضوں کے مطابق فیصلہ کیا ہے۔ اس کے تبدیل کرنے کا امکان ہی نہیں ہے۔ جداگانہ طرز انتخاب کے باعث ملک بنا تھا۔ اس کی بنیادوں کی مخالفت کرنے والے اس کے دشمن ہیں۔“

(روزنامہ پاکستان، مورخہ ۵؍ نومبر ۱۹۹۲ء)

”ہمارا تشخص شریعت محمدی ﷺ ہے۔ مسلمان کو مسلمان اور عیسائی کو عیسائی لکھوانے پر شرم محسوس نہیں کرنی چاہئے۔ یہ محض پروپیگنڈہ ہے۔ یہ الزام سراسر غلط ہے کہ شناختی کارڈ میں خانہ مذہب کے بعد اقلیتیں خود کو دوسرے درجہ کا شہری سمجھیں گی۔ اگر مخلوط طریقہ انتخاب اپنایا جائے تو اقلیتوں کو ایک سیٹ بھی نہیں ملے گی۔ اب انہیں مرکز میں دس اور صوبوں میں تیس نشستیں ملی ہیں۔ اس لئے وہ اوّل درجہ کے شہری ہیں۔ وہ قادیانیوں کے لادین عناصر کے پروپیگنڈہ کا شکار نہ ہوں۔“

(روزنامہ جنگ، مورخہ ۶؍ نومبر ۱۹۹۲ء)

”شناختی کارڈ میں مذہب کا خانہ درج کرنے کا فیصلہ برقرار رہے گا اور اس سلسلہ میں کسی بھی مخالفت کی پرواہ نہیں کی جائے گی۔ اس فیصلہ پر عملدرآمد آئندہ ماہ سے شروع ہو جائے گا۔ وزیر اعظم نواز شریف پہلے ہی واضح کر چکے ہیں کہ حکومت کسی قسم کے دباؤ میں نہیں آئے گی۔ اس سلسلہ میں صوبائی اسمبلیوں کی منظوری کی کوئی ضرورت نہیں۔ کیونکہ رجسٹریشن وفاقی حکومت کا محکمہ ہے اور اس حوالے سے سندھ اسمبلی نے جو بحث کی ہے وہ قطعی بلا جواز ہے۔ جب کوئی شخص مسلمان، عیسائی، ہندو، قادیانی یا کسی اور مذہب سے وابستہ ہے تو اسے یہ کہلانے یا شناختی کارڈ میں اس کا اندراج کرنے میں شرم کیسی۔ جب پاکستان میں جداگانہ انتخابات کا نظام رائج ہو چکا ہے اور ووٹ ڈالتے وقت شناختی کارڈ دکھانا ضروری قرار دیا جا چکا ہے تو اس سے واضح ہو جائے گا کہ ووٹر کا تعلق کس مذہب سے ہے۔ مغربی ملکوں کو یہ بھی پیش نظر رکھنا چاہئے کہ ان کے ہاں مسلمانوں کے ساتھ کیا ہو رہا ہے اور ان کے حقوق کس طرح سلب کئے جا رہے ہیں۔ جب کہ پاکستان نے تو قومی وصوبائی اسمبلیوں میں اقلیتوں کی نشستیں مخصوص کی ہوئی ہیں۔“

(روزنامہ جنگ لاہور، مورخہ ۱۱؍ نومبر ۱۹۹۲ء)

”شناختی کارڈ میں مذہب کے خانہ کے فیصلہ پر اپوزیشن، اقلیتوں کو بھڑکا رہی ہے۔ کیونکہ بے نظیر خود بھی دین سے بے خبر اور

صفحہ ۴۶

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۲ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

لادین عناصر سے متاثر ہے۔ شناختی کارڈ میں مذہب کے خانہ کا فیصلہ واپس لینا خودکشی ہو گی۔ کیونکہ پاکستان اسلام کی بنیاد پر قائم کیا گیا تھا۔ آج عیسائی میرے پتلے جلا رہے ہیں۔ کتے کے گلے میں میری تصویر ڈال کر جلوس نکال رہے ہیں۔ یہ سب ان کی گندی ذہنیت ہے۔ مذہب کے خانہ کا فیصلہ واپس نہیں لیا جائے گا۔ چاہے زمین و آسمان بدل جائے۔ ہم اس فیصلے پر ڈٹے ہوئے ہیں اور کوئی بھی مائی کا لال ہمیں اس فیصلہ سے دستبردار نہیں کر سکتا۔ ہم اسلام کے خلاف کسی کو بھونکنے نہیں دیں گے۔ عیسائیوں کو قادیانی بھڑکا رہے ہیں۔‘‘

(روزنامہ پاکستان، مورخہ ۱۱/نومبر ۱۹۹۲ء)

پروفیسر ساجد میر قائد جمعیت اہل حدیث: ’’مرزائی خود کو مسلمان ظاہر کر کے آئین سے بغاوت کے مرتکب ہورہے ہیں۔ ان کی سازشی سرگرمیوں کی روک تھام کے لئے آئین کے مطابق شناختی کارڈ میں خانہ مذہب کا اضافہ ضروری آئینی تقاضا ہے۔‘‘

(روزنامہ جنگ لاہور، مورخہ یکم/مارچ ۱۹۹۲ء)

سردار آصف احمد علی وفاقی وزیر مملکت اقتصادی امور: ’’شناختی کارڈ میں مذہب کے خانہ کے اضافہ کا فیصلہ انتظامی مسئلہ ہے۔ اگر کسی کو اختلاف ہے تو اعلیٰ عدالتوں سے رجوع کرسکتا ہے۔‘‘

(روزنامہ پاکستان، مورخہ ۲۳/اکتوبر ۱۹۹۲ء)

چوہدری احسان منیر بانی و چیئرمین مسلم فرنٹ پاکستان: ’’شناختی کارڈ میں خانہ مذہب کا اضافہ کا فیصلہ مستحسن اقدام ہے۔ جو لوگ مذہب کے اندراج کو بہانہ بنا کر اس کی مخالفت اور اپنے سیاسی قد میں اضافہ کرنا چاہتے ہیں وہ ناعاقبت اندیش ہیں۔ اس میں حقوق انسانی کی کسی خلاف ورزی کا کوئی پہلو نہیں نکلتا۔‘‘

(روزنامہ خبریں لاہور، مورخہ ۲۳/اکتوبر ۱۹۹۲ء)

میجر ریٹائرڈ محمد امین منہاس اسلام آباد: ’’وزیر اعظم صاحب! آپ نے شناختی کارڈ میں مذہب کے اندراج کے ۱۳/اکتوبر ۱۹۹۲ء کے حکومت کے اعلامیہ، جو تمام مکاتب فکر کے علماء و مشائخ سے وفاقی وزیر داخلہ اور وزیر مذہبی امور کے مذاکرات کے بعد جاری کیا گیا تھا کی دوٹوک توثیق فرما کر ایک عظیم فریضہ ادا کیا ہے۔ ہر کلمہ گو اللہ کے حضور سرخرو ہے۔ دعا گو ہے اور آپ کی جراتوں کو ایک بار پھر سلام کرتا ہے۔‘‘

(اشتہار، اخبار جنگ، نوائے وقت راولپنڈی، مورخہ ۳۰/اکتوبر ۱۹۹۲ء)

ڈاکٹر اسرار احمد امیر تنظیم اسلامی: ’’مذہب کے خانہ کے اضافہ پر احتجاج اسلامی نظام اور سیکولر ازم کی کشمکش کا مظہر ہے۔ جو پاکستان میں اسلامی نظام حیات اور سیکولر ازم کے مابین جاری ہے۔ ہر شخص کو اپنے مذہب سے اتنا تعلق تو ضرور ہونا چاہئے کہ اس کے اظہار میں اسے کوئی سبکی محسوس نہ ہو۔ مذہب ایک شہری کی شناخت کا حصہ ہے۔ شناختی کارڈ میں اس کا ضرور ذکر ہونا چاہئے۔‘‘

(روزنامہ نوائے وقت راولپنڈی، مورخہ ۳/اکتوبر ۱۹۹۲ء)

سابق وفاقی وزیر سینیٹر راجہ ظفر الحق سیکرٹری جنرل رابطہ عالم اسلامی: ’’اس وقت دنیا بھر میں مسلمانوں میں ایک طرف اپنے وجود کا احساس بڑھ رہا ہے۔ دوسری طرف ان کو کمزور کرنے والی لادین قوتیں سرگرم عمل ہیں اور اس خطے کو لادین بنانے کے لئے امریکہ سے ہر قسم کے تعاون کو تیار ہیں۔ اسلام میں سیاست کو جدا نہیں کیا جاسکتا۔ پڑھے لکھے لوگ خانہ مذہب کی مخالفت کر رہے ہیں۔ یہ بات اسلام اور علامہ اقبال کی فکر کے منافی ہے۔ مسلم و غیر مسلم کا تشخص ضروری ہے۔ ہمیں مسلمان ہونے پر فخر ہے۔‘‘

(روزنامہ نوائے وقت ملتان، مورخہ ۱۱/نومبر ۱۹۹۲ء)

’’شناختی کارڈ میں مذہبی خانہ ضرور ہونا چاہئے۔ اس سلسلہ میں حکومت کو تنقید کی پروا نہیں کرنی چاہئے۔ کیونکہ مذہب ایک ایسی شناخت ہے جس پر ہم بجا طور پر فخر کر سکتے ہیں۔ بے دین لوگ کل کو یہ بھی کہیں گے کہ اذان ہونے پر محفل سے اٹھ کر نماز پڑھنا آداب محفل

صفحہ ۴۷

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۲ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

کے خلاف ہے تو کیا ہم نماز پڑھنا چھوڑ دیں گے؟ جو قوم ایسے مسائل پر سمجھوتے کرنے لگے اس کا وجود باقی نہیں رہتا۔‘‘

(روزنامہ پاکستان، مورخہ ۱۱؍ نومبر ۱۹۹۲ء)

مولانا ضیاء الرحمن فاروقی: ’’پاکستان ایسی اسلامی نظریاتی مملکت میں قادیانی فتنہ کی سازشی سرگرمیوں کی روک تھام کے لئے انتہائی ضروری ہے کہ شناختی کارڈ میں خانہ مذہب کا اضافہ کیا جائے۔ یہ دو قومی نظریہ کی تکمیل ہوگی۔‘‘

(روزنامہ پاکستان، مورخہ ۲۹؍ مارچ ۱۹۹۲ء)

’’شناختی کارڈ میں مذہب کا خانہ شامل نہ کیا گیا تو دو قومی نظریہ اپنی موت آپ مرجائے گا۔ اگر دو فیصد اقلیت اپنی بات احتجاج اور ہڑتالوں سے منوا سکتی ہے تو ۹۸ فیصد عوام بھی ایسا کر سکتے ہیں۔‘‘

(روزنامہ خبریں، مورخہ ۱۳؍ نومبر ۱۹۹۲ء)

مولانا ضیاء القاسمی: ’’شناختی کارڈ میں مذہب کے خانہ کی مخالفت قادیانیوں کے اشارے پر ہورہی ہے۔ پیپلز پارٹی اور مسیحیوں کو اپنے طرز عمل پر غور کرنا چاہئے کہ وہ قادیانیوں کو کیوں خوش کر رہے ہیں۔ یورپی ممالک میں کہیں اقلیتوں کو اتنے حقوق حاصل نہیں جتنے پاکستان میں اقلیتوں کو حاصل ہیں۔ اب وہ اس کی نظریاتی سرحدوں کو پاش پاش کرنے کی پالیسی پر عمل پیرا نہ ہوں۔‘‘

(روزنامہ جنگ لاہور، مورخہ ۴؍ نومبر ۱۹۹۲ء)

مطیع رسول سعیدی، انجمن سپاہ مصطفیٰ پاکستان: ’’حکومت اقلیتوں کے بلا جواز واویلا سے متاثر ہونے یا دباؤ میں آنے کی بجائے اس فیصلہ پر عملدرآمد میں تاخیر نہ کرے۔‘‘

(روزنامہ نوائے وقت ملتان، مورخہ ۴؍ نومبر ۱۹۹۲ء)

تحریک نفاذ فقہ جعفریہ: ’’عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے ایک وفد سے ملاقات کے دوران تحریک نفاذ فقہ جعفریہ کے رہنما علامہ سید افتخار حسین نقوی نے کہا کہ شناختی کارڈ میں خانہ مذہب کے اندراج پر قانون کے مطابق عمل ہونا چاہئے۔ اس پر ہمیں اتفاق ہے۔ تحریک نفاذ فقہ جعفریہ کے رہنما مولانا مرزا یوسف حسین اور مولانا سجاد حیدر بھی اس موقعہ پر موجود تھے۔‘‘

(روزنامہ نوائے وقت راولپنڈی، مورخہ ۲۹؍ اکتوبر ۱۹۹۲ء)

پیر مفتی عبدالرزاق قدوسی قائد عالمی تحریک دعوت اخلاق پاکستان: ’’مذہب کے خانہ کے اندراج سے اقلیتوں کو فائدہ ہوگا۔ ان کے مفادات کا تحفظ ہوگا۔ نظریہ پاکستان کی تکمیل ہوگی۔ اسلامی تشخص ہماری پہچان ہے۔ اسے کبھی فراموش نہ کرنا چاہئے۔‘‘

(روزنامہ نوائے وقت ملتان، مورخہ ۳۰؍ اکتوبر ۱۹۹۲ء)

جسٹس گل محمد خان: ’’نفاذ شریعت کمیٹی کا اجلاس مولانا عبدالستار خان نیازی کی صدارت میں اسلام آباد منعقد ہوا۔ ریٹائرڈ جسٹس گل محمد خان سمیت تمام مکاتب فکر کے رہنماؤں نے شرکت کی۔ اجلاس نے سندھ اسمبلی کی قرارداد کو غلط فہمی کا نتیجہ قرار دیتے ہوئے اسے مسترد کر دیا اور شناختی کارڈ میں خانہ مذہب کو ضروری قرار دیا۔‘‘

(روزنامہ جنگ لاہور، مورخہ یکم نومبر ۱۹۹۲ء)

سینیٹر پروفیسر خورشید احمد، سینیٹر سعید قادر: ’’پروفیسر خورشید احمد سینیٹر، سینیٹر سعید قادر نے سینٹ آف پاکستان کے اجلاس میں مطالبہ کیا کہ شناختی کارڈ میں خانہ مذہب کا اندراج کیا جائے۔ جب پاسپورٹ میں خانہ مذہب موجود ہے اور شناختی کارڈ کے فارموں میں بھی مذہب کا کالم موجود ہے تو کارڈ میں اندراج سے ہچکچاہٹ کیوں؟‘‘

(روزنامہ نوائے وقت راولپنڈی، مورخہ ۷؍ جولائی ۱۹۹۲ء)

میاں احمد قادری، سماجی راہنما: ’’محترمہ بے نظیر کا اس معقول امر سے انحراف اسلام سے بے خبری کی علامت ہے۔ محترمہ کو معلوم ہونا چاہئے کہ یہ فیصلہ ان کے باپ کے دور میں قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دینے کے فیصلہ کی تکمیل اور ضرورت ہے۔ ان کی چند ماہ سے منفی سیاست کا مقصد آصف زرداری کے بدعنوانیوں پر پردہ ڈالنا ہے۔‘‘

(روزنامہ جرأت راولپنڈی، مورخہ ۲۳؍ اکتوبر ۱۹۹۲ء)

صفحہ ۴۸

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۲ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

تحریک تحفظ حرمین شریفین پاکستان: ”تحریک تحفظ حرمین شریفین پاکستان کے امیر نے کہا کہ اس فیصلہ پر عمل درآمد سے تخریب کاری اور جاسوسی جیسے خطرناک جرائم کی زبردست حوصلہ شکنی ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ ہر شخص میں اپنے مذہب کے اظہار کی جرأت ہونی چاہئے۔ مذہب کو چھپانے والے منافق ہوتے ہیں۔“

(جنگ لاہور، مورخہ ۲۵؍ اکتوبر ۱۹۹۲ء)

مولانا سید امیر حسین گیلانی امیر جمعیت العلمائے اسلام پنجاب: ”شناختی کارڈ میں خانہ مذہب کے اضافہ سے قادیانی لابی متاثر ہوگی۔ باقی اقلیتیں ان کے بہکاوے میں نہ آئیں۔ تمام اقلیتیں اپنا تشخص اور شناخت رکھتی ہیں۔ اس سے ان کی دلآزاری نہ ہوگی۔ بلکہ ان کے حقوق کا تحفظ ہوگا۔ اس پر احتجاج قادیانی سازش ہے۔“

(روزنامہ جنگ لاہور، مورخہ ۴؍ نومبر ۱۹۹۲ء)

مولانا زاہد الراشدی: ”قادیانیوں نے خود کو غیر مسلم اقلیت قرار دیئے جانے کا فیصلہ تسلیم کرنے سے انکار کر رکھا ہے اور ہر سطح پر اپنے آپ کو مسلمان کے روپ میں پیش کرنے کی روش پر قائم ہیں۔ اس لئے یہ ناگزیر ہو گیا کہ ان کی جدا گانہ حیثیت کا قانونی اظہار کیا جائے۔ اسی وجہ سے شناختی کارڈ کے فارم میں عقیدہ ختم نبوت پر مشتمل حلف نامہ شامل کیا گیا۔ تا کہ کوئی قادیانی خود کو بطور مسلمان رجسٹرڈ نہ کرا سکے۔ لیکن قادیانیوں کی طرف سے اپنے آپ کو مسلمان ظاہر کرنے کی ضد قائم رہی۔ حتیٰ کہ جدا گانہ بنیادوں پر الیکشن کرانے اور مسلمانوں اور غیر مسلموں کے ووٹ الگ الگ درج کرنے کا فیصلہ ہوا تو قادیانیوں نے بطور غیر مسلم اپنے ووٹ درج کرانے سے انکار کر دیا اور اس انکار پر آج بھی وہ قائم ہیں۔ اب صورتحال یہ ہے کہ قادیانی خود کو مسلمان کہتے ہیں اور ہر ممکن طریقہ سے ظاہر کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ان کی اس روش کے باعث بہت سے قانونی تقاضوں کے لئے قادیانیوں کی مذہبی حیثیت کا تعین نہیں ہوتا۔ جس کا اس کے سوا کوئی حل نہیں ہے کہ شناختی کارڈ میں مذہب کے خانہ کا اضافہ کر کے شناختی کارڈ فارم میں موجود حلف نامہ کی بنیاد پر ہر شہری کی مذہبی حیثیت کا اظہار کر دیا جائے تا کہ کوئی شخص اس بارہ میں اشتباہ و دھوکہ میں کامیاب نہ ہو سکے۔“

(روزنامہ نوائے وقت راولپنڈی، مورخہ ۲۸؍ جنوری ۱۹۹۲ء)

مسٹر حمزہ ممبر قومی اسمبلی و چیئرمین پبلک اکاؤنٹس کمیٹی: ”شناختی کارڈ میں مذہبی خانہ کے خلاف مسیحی اقلیت کا احتجاج بلا جواز ہے۔ قومی شناختی کارڈ میں مذہب کا خانہ قادیانیوں کی بیرون ملک سازشوں کے پیش نظر رکھا گیا ہے۔ بے نظیر بھٹو کس منہ سے قادیانیوں کی حمایت کر رہی ہیں۔ جب کہ اس کے باپ نے ۱۹۷۴ء میں خود قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا تھا۔“

(روزنامہ پاکستان، مورخہ ۲۳؍ اکتوبر ۱۹۹۲ء)

شہباز شریف ممبر قومی اسمبلی: ”شناختی کارڈ میں مذہب کے خانہ کا فیصلہ ہو چکا ہے۔ اسے کسی صورت میں واپس نہیں لیا جائے گا۔“

(روزنامہ جنگ، مورخہ ۲۳؍ اکتوبر ۱۹۹۲ء)

حافظ زبیر احمد ظہیر، سیکرٹری جنرل مرکزی جماعت اہل حدیث: ”شناختی کارڈ میں مذہب کا خانہ تحفظ ختم نبوت اور تحفظ حرمین شریفین کا لازمی تقاضا اور دو قومی نظریہ کی تکمیل ہے۔ اگر شناختی کارڈ میں یہ خانہ موجود نہ ہو تو قادیانیوں کے حرمین شریف جانے میں کوئی قانونی رکاوٹ نہیں۔“

(روزنامہ پاکستان، مورخہ ۹؍ نومبر ۱۹۹۲ء)

ڈاکٹر افضل اعزاز ایم پی اے (پارلیمانی لیڈر جماعت اسلامی، پنجاب اسمبلی): ”شناختی کارڈ میں مذہب کے خانے کے اندراج کا ایک فائدہ تو یہ ہوگا کہ اس سے بیرون ملک یا حج پر جانے والے پاکستانیوں میں مسلم اور غیر مسلم کا فرق واضح ہو جائے گا۔ دوسرے چونکہ ہمارے ہاں زندگی کے سارے امور شناختی کارڈ سے ہی طے ہوتے ہیں۔ پاسپورٹ، ڈومیسائل سمیت تمام دستاویزات کی تیاری میں شناختی کارڈ کو بنیاد بنایا جاتا ہے۔ شناختی کارڈ پر جہاں نام، ولدیت، عمر، تعلیم اور پتے کا اندراج ہوتا ہے۔ وہاں مذہب کے

صفحہ ۴۹

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۲ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

اندراج سے کیا قیامت آجائے گی؟ مذہب کو چھپانے کی کوئی وجہ تو ہے۔ آخر ......؟ مذہب کو تو اعتماد سے ڈیکلیئر کرنا چاہئے۔ مذہب چھپانے والوں کا یہ عمل ظاہر کرتا ہے کہ انہیں اپنے مذہب پر کامل یقین اور اعتماد نہیں ہے۔‘‘

(روزنامہ جسارت، مؤرخہ ۲۱/نومبر ۱۹۹۲ء)

نذیر احمد غازی اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل پنجاب: ’’شناختی کارڈ میں مذہب کے خانے میں اضافے کا فیصلہ شرعی اور آئینی طور پر بالکل درست ہے۔ یہ جمہوریت اور انسانی حقوق کی راہ میں اچھی پیش رفت ہے۔ مختلف آزاد خیال دانشوروں اور اقلیتی رہنماؤں کی طرف سے کئے گئے اعتراضات بالکل بے بنیاد اور کم علمی کا نتیجہ ہیں۔ انہیں قادیانیوں کے ہاتھوں میں کھلونا نہیں بننا چاہئے۔‘‘

(راقم کے نام جناب نذیر احمد غازی صاحب کے تاثرات)

احمد علی قصوری مرکزی رہنما پاکستان عوامی تحریک: ’’مذہب کو چھپانا منافقت ہے اور ہمیں اپنا مذہب ظاہر کرتے ہوئے کوئی ہچکچاہٹ محسوس نہیں کرنی چاہئے۔ مسلمان جن ملکوں میں اقلیت میں ہیں۔ وہاں بھی اپنے مذہب کو نہیں چھپاتے۔ شناختی کارڈ میں مذہب کا خانہ قادیانیوں کو بے نقاب کرنے کے لئے ہے۔‘‘

(روزنامہ پاکستان، مؤرخہ ۱۱/نومبر ۱۹۹۲ء)

حاجی عبدالمجید رحمانی جوائنٹ سیکرٹری تحریک تکمیل پاکستان: ’’جن لوگوں کو اپنا مذہب بتاتے ہوئے شرم آتی ہے وہ اپنا مذہب تبدیل کر لیں۔ شناختی کارڈ میں خانہ مذہب مستحسن فیصلہ ہے۔‘‘

جاوید احمد غامدی: ’’مذہب انسان کی سب سے بڑی شناخت ہے اور میں سمجھتا ہوں کہ کسی کو اپنے عقیدے کے بارے میں بتاتے ہوئے شرمانا نہیں چاہئے۔ ہر مسلمان اور غیر مسلمان کے لئے اس کا مذہب، اگر وہ اس پر ایمان رکھتا ہے تو باعث شرف ہے۔ یوں شناختی کارڈ میں مذہب کا اندراج لوگوں کے لئے باعث شرف ہے اور یہ بالکل صحیح اقدام ہے۔ لوگوں کو اس پر ہنگامہ نہیں کرنا چاہئے اور جو لوگ ایسا کر رہے ہیں وہ فساد پھیلانا چاہتے ہیں۔‘‘

(ہفت روزہ زندگی، مؤرخہ ۷/نومبر ۱۹۹۲ء)

سابق جسٹس گل محمد خان: یہ ایک مستحسن قدم ہے کہ حکومت نے شناختی کارڈ میں مذہب کے خانے کا اضافہ کر دیا ہے۔ یہ اقدام نہ صرف نہایت عاقلانہ ہے۔ بلکہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کے دستور کے عین مطابق بھی ہے۔ کچھ آزاد خیال لوگوں نے اخبارات میں اس اقدام کو ہدف تنقید بنایا ہے۔ جو افسوس ناک بات ہے۔

کیا یہ فخر کی بات ہے یا شرمندگی کی کہ آدمی کا مذہب اس کے شناختی کارڈ میں لکھا ہوا ہو اور وہ ان تمام حقوق کے لئے چارہ جوئی کر سکتا ہو۔ جو دستور میں اسے دیئے گئے ہیں۔ میں یہ بات بالکل نہیں سمجھ سکا کہ شناختی کارڈ میں مذہبی خانے کے اضافے سے کوئی آدمی دوسرے یا تیسرے درجے کا شہری قرار پاسکتا ہے۔ کیا مذہب کسی آدمی کے لئے ندامت کی بات ہے۔ بہر حال اگر کوئی آدمی اپنے مذہب پر شرمندگی محسوس کرتا ہے تو دعا ہی کی جاسکتی ہے کہ خدا اس پر رحم فرمائے۔

سب کو معلوم ہے کہ اب پاسپورٹ، صرف شناختی کارڈ کی بناء پر جاری کئے جاتے ہیں۔ یہی پاسپورٹ مکہ مکرمہ حج پر جانے کے لئے استعمال کئے جاتے ہیں۔ سورہ التوبہ آیت نمبر ۲۸ میں کہا گیا ہے ۔ ’’اے ایمان والو! بت پرست ناپاک ہیں۔ اس سال کے ختم ہونے کے بعد، ان کو مسجد حرام کے پاس نہ جانے دینا، اگر تمہیں غربت کا خطرہ ہے تو اللہ اگر چاہے گا تو اپنی کرم نوازی سے تمہیں مالا مال کر دے گا۔‘‘

اس حکم کی تعمیل میں مکہ کے قریب ایک چیک پوسٹ بنائی گئی ہے۔ جہاں سعودی حکومت خیال رکھتی ہے کہ کوئی غیر مسلم اس مقدس شہر میں داخل نہ ہونے پائے۔ اگر شناختی کارڈ میں مذہب کا اندراج نہ ہوگا تو یہ عین ممکن ہے کہ غیر مسلم، مسلمانوں کے سے نام رکھ کر پاسپورٹ بنوا لیں اور اس مقدس شہر میں داخل ہونے میں کامیاب ہو جائیں۔ اس لئے تمام مسلمان ممالک کی ذمہ داری ہے کہ وہ ایسے

صفحہ ۵۰

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۲ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

شناختی کارڈ بنائیں جن میں مذہب کا اندراج ہو تا کہ اس خدائی حکم کی خلاف ورزی نہ ہو سکے۔

(ہفت روزہ زندگی، مورخہ ۷؍ نومبر ۱۹۹۲ء)

انجمن طالبات اسلام: ”اسلام مذہبی امتیاز کی اجازت دیتا ہے۔ حکومت نے مذہبی خانہ کا اندراج کر کے پاکستان کو قادیانی سٹیٹ بننے سے بچا لیا ہے۔ شناختی کارڈ میں مذہبی خانہ کے اندراج کی مخالفت کرنے والے قادیانی ایجنٹ ہیں۔ جن سے پوری قوم کو ہوشیار رہنا چاہئے۔ احتجاجی تحریکوں کی دھمکیاں دینے والے اسلام دشمن ہیں۔ ویمن ایکشن فورم نے کسی قسم کا احتجاج کیا تو انجمن طالبات اسلام قادیانی نواز خواتین کا مقابلہ کرے گی۔“

(روزنامہ جنگ، مورخہ ۲۹؍اکتوبر ۱۹۹۲ء)

”جمعیت طلباء اسلام صوبہ سندھ کے صدر عبدالرزاق کھوکھر، نائب صدر گل انقلابی، ڈاکٹر سکندر سومرو، انیق احمد سومرو، یونس سولنگی نے مشترکہ بیان میں شناختی کارڈ میں خانہ مذہب کے اندراج کی حمایت کی۔“

(جنگ کراچی، مورخہ یکم؍فروری ۱۹۹۲ء)

”گوجرانوالہ کے مختلف مکاتب فکر کے علماء کرام حکیم عبدالرحمن، حافظ محمد یوسف، حافظ محمد ثاقب، علامہ محمد احمد، ڈاکٹر غلام محمد، علامہ خالد حسین مجددی، مولانا فقیر الاسلام، صاحبزادہ محمد اشفاق نے کہا کہ شناختی کارڈ میں مذہب کا خانہ قانونی تقاضوں سمیت اقلیتوں کا تحفظ فراہم کرتا ہے۔ اس کے خلاف بیان بازی اسلام دشمنوں کا شاخسانہ ہے اور قادیانی سازش ہے۔ شناختی کارڈ فارموں، پاسپورٹ، ووٹر لسٹوں میں خانہ مذہب موجود ہے۔ اس سے اقلیتوں کے حقوق متاثر نہیں ہوئے تو شناختی کارڈ میں خانہ مذہب کے اندراج سے کیسے متاثر ہوں گے؟

(روزنامہ جنگ لاہور، مورخہ ۲۱؍اکتوبر ۱۹۹۲ء)

پیپلز پارٹی، مسلم لیگ، جمعیت علماء اسلام، جمعیت اہل حدیث، سپاہ صحابہ، سپاہ مصطفیٰ، ادارہ منہاج القرآن کے رہنماؤں نے مولانا نذیر احمد کی صدارت میں ربوہ میں خطاب کرتے ہوئے حکومت کے فیصلہ پر خوشی کا اظہار کیا اور اس کی مخالفت کرنے والے کو قادیانی اشارہ پر کام کرنے والوں کا شاخسانہ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ مسیحی اور دیگر اقلیتوں کو خوش ہونا چاہئے کہ وہ آئندہ اپنے ووٹ کا صحیح استعمال کر کے اپنے عقیدہ کے نمائندہ ممبران کو اسمبلی میں بھجوا سکیں گے۔

(روزنامہ جنگ لاہور، مورخہ ۲۸؍اکتوبر ۱۹۹۲ء)

”علمائے ملتان نے مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے، وفاق المدارس کے ناظم قاری محمد حنیف جالندھری، مولانا عزیز الرحمن جالندھری، قاری نور الحق ایڈووکیٹ، مفتی عبدالقوی، مولانا عبدالمجید ندیم، جمعیت علماء اسلام کے شیخ محمد یعقوب نے کہا کہ قادیانی آئینی طور پر غیر مسلم ہیں۔ لیکن اس کے باوجود خود کو غیر قانونی طور پر مسلمان ظاہر کر کے آئین سے بغاوت کے مرتکب ہو رہے ہیں۔ اس لئے شناختی کارڈ میں مسلم و غیر مسلم کی تمیز کی جائے۔“

(روزنامہ نوائے وقت ملتان، مورخہ ۱۴؍فروری ۱۹۹۲ء)

”مجلس احرار اسلام کے مولانا سید عطاء المحسن شاہ نے کہا کہ شناختی کارڈ میں خانہ مذہب آئینی تقاضا ہے۔“

(روزنامہ نوائے وقت ملتان، مورخہ ۱۵؍فروری ۱۹۹۲ء)

مرکزی انجمن غلامان مصطفیٰ پاکستان: ”شناختی کارڈ میں خانہ مذہب کا اندراج مستحسن فیصلہ ہے۔ اسے ابتداء سے نافذ ہونا چاہئے تھا۔ مگر دیر آید درست آید۔ اب اس پر تاخیر نہ کریں۔ اس کی مخالفت برائے مخالفت کرنے والے قادیانی ایجنٹ ہیں۔“

(روزنامہ نوائے وقت ملتان، مورخہ یکم؍نومبر ۱۹۹۲ء)

جمعیت علماء اسلام پاکستان: ”جمعیت علماء اسلام پاکستان نے اپنے پارلیمانی اور مجلس عاملہ کے مشترکہ اجلاس میں قرارداد منظور کی کہ شناختی کارڈ میں خانہ مذہب درج کیا جائے۔“

(روزنامہ نوائے وقت لاہور، مورخہ ۱۰؍جنوری ۱۹۹۲ء)

دینی جماعتوں کا مشترکہ اجلاس: ”اسلام آباد میں جماعت اسلامی کے امیر مولانا قاضی حسین احمد کی دعوت پر ان کی

صفحہ ۵۱

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۲ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

صدارت میں دینی جماعتوں کا اجلاس ہوا۔ جس میں جماعت اسلامی کے لیاقت بلوچ، مولانا گوہر الرحمٰن، اتحاد العلماء کے مولانا فتح محمد، مولانا عبد المالک خان، جمعیت علماء پاکستان کے سینیٹر پیر برکات احمد، انجینئر سلیم اللہ خان، جمعیت علماء اسلام (س) کے مولانا قاضی اسرار الحق، صاحبزادہ عبدالرحمٰن اشرفی نے متفقہ طور پر قرارداد منظور کی کہ شناختی کارڈ میں مسلم وغیر مسلم کے تشخص کے لئے ضروری ہے کہ مذہب کا خانہ درج کیا جائے۔‘‘

(روزنامہ نوائے وقت راولپنڈی، مورخہ ۱۲؍ جنوری ۱۹۹۲ء)

عالمی متحدہ مجلس خلافت: ’’تیرہ مختلف دینی وسیاسی جماعتوں کے مشترکہ الائنس عالمی متحدہ خلافت کے رہنماؤں، سابق وفاقی وزیر مظہر ندوی، مفتی غلام سرور قادری، پیر سیف اللہ خالد، ڈاکٹر جہانگیر شجاع، میجر رشید، میاں عبدالرحمٰن، مولانا عبدالرحمٰن مدنی، علامہ ایاز ظہیر کاشمیری، رحمت علی چوہدری، خورشید احمد گنگوہی نے مشترکہ بیان میں نئے شناختی کارڈ پر مذہب کے خانہ کا اضافہ کرنے پر حکومتی فیصلہ کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ یہ انتہائی درست اور مستحسن اقدام ہے۔ انہوں نے کہا کہ شناختی کارڈ کے فارموں پر مذہب کا خانہ موجود ہے تو شناختی کارڈ میں بھی مذہب کے اندراج سے اقلیتوں کے حقوق متأثر ہونے کا پروپیگنڈہ، قادیانی لابی کی شرارت ہے۔‘‘

(روزنامہ جنگ لاہور، مورخہ ۳۰؍ اکتوبر ۱۹۹۲ء)

۱۳؍ دینی جماعتوں کا اجلاس: ’’شیرانوالہ لاہور میں منعقد ہوا۔ جس میں جمعیت علماء پاکستان، جمعیت علماء اسلام، جماعت اسلامی، تنظیم اسلامی، پاکستان عوامی تحریک، جمعیت اہل حدیث، خاکسار تحریک، جمعیت اشاعت التوحید، عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے نمائندگان، جنرل ایم ایچ انصاری، چوہدری اسلام سلیمی، حافظ محمد ادریس، مولانا فتح محمد، سید امیر حسین گیلانی، صاحبزادہ امجد خان، حافظ زبیر احمد زبیر، پروفیسر ساجد میر، عبدالقدیر خاموش، مولانا اللہ وسایا، مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی سمیت ایک سو نمائندگان نے شرکت کی۔ میاں محمد اجمل قادری نے فیصلوں کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ ہم اقلیتی نمائندوں کو ملیں گے۔ مگر وہ بھی حقائق کا سامنا کریں کہ آخر کسی کو اپنے مذہب کے اظہار پر تأمل کیوں ہے؟ حکومت نے فیصلہ بدلا تو ہم سٹریٹ پاور استعمال کریں گے۔‘‘

(روزنامہ جنگ لاہور، مورخہ ۲۷؍ اکتوبر ۱۹۹۲ء)

آل پارٹیز مرکزی مجلس عمل تحفظ ختم نبوت: ۱۸؍ دینی وسیاسی جماعتوں کا مشترکہ پلیٹ فارم ہے۔ جس نے ۱۹۵۳ء، ۱۹۷۴ء اور ۱۹۸۴ء کی تحریک ہائے ختم نبوت کی قیادت کی۔ اس وقت اس کے سربراہ مخدوم المشائخ مولانا خواجہ خان محمد صاحب دامت برکاتہم ہیں۔ یہ پلیٹ فارم شناختی کارڈ میں خانہ مذہب کی ایزاد کا داعی تھا۔ اس کی کاوشیں ملاحظہ ہوں:

محمد صاحب دامت برکاتہم، مولانا عبدالقادر روپڑی، ڈاکٹر اسرار احمد، میاں محمد احمد قادری، جنرل محمد حسین انصاری، زاہد الراشدی، مولانا عزیز الرحمٰن جالندھری، حاجی بلند اختر، صاحبزادہ طارق محمود، مولانا محمد اسماعیل، مولانا امجد خان، مولانا فتح محمد، مولانا عبد المالک، ملک عبدالرؤف، علامہ علی غضنفر کراروی، ڈاکٹر علامہ خالد محمود، مولانا عبدالرحمٰن اشرفی، صاحبزادہ فیض القادری نے شرکت کی اور شناختی کارڈ میں خانہ مذہب کے اضافہ کے لئے ۱۴؍ فروری کو ملک بھر میں یومِ مطالبات منانے کا فیصلہ کیا۔‘‘

(روزنامہ جنگ لاہور، مورخہ ۱۵؍ فروری ۱۹۹۲ء)

صفحہ ۵۲

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۲ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

خان محمد صاحب دامت برکاتہم العالیہ نے کی۔ قائد جمعیت علماء اسلام مولانا فضل الرحمن، جماعت اسلامی کے امیر قاضی حسین احمد، جمعیت علماء اسلام کے سیکرٹری جنرل مولانا سمیع الحق، قومی اسمبلی کے ارکان نذیر احمد ورک، جناب گل حمید روکھڑی، سینیٹر جہانگیر شاہ، مولانا زاہد الراشدی، سابق ایم۔ این۔اے مولانا عبدالحق، ملک محمد اسلم کچھیلا ، مولانا محمد اجمل قادری، صاحبزادہ طارق محمود، مولانا عزیز الرحمن جالندھری، مولانا محمد اسحاق نظیری، قاضی اسرار الحق، مولانا عبدالعزیز حنیف، مولانا زبیر احمد ظہیر، مولانا عبدالمالک خان، میجر محمد امین منہاس اور دیگر مقررین نے شناختی کارڈ میں مذہب کے خانہ کے اضافہ کے مطالبہ کی حمایت کی اور اس بات پر زور دیا کہ وہ انگریزوں کے پیدا کردہ فتنہ قادیانیت کو تحفظ دینے کے بجائے انہیں آئین کا پابند بنایا جائے۔‘‘

(روزنامہ نوائے وقت راولپنڈی ،مؤرخہ ۲۲؍مئی ۱۹۹۲ء)

اضافہ کے لئے یوم مطالبات منایا گیا۔‘‘

ہوا۔ اس کا مشترکہ اعلامیہ جاری کیا گیا۔ جس میں شناختی کارڈ میں خانہ مذہب کے خانہ کو دو قومی نظریہ کا ناگزیر تقاضا اور قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کی منطقی ضرورت قرار دیا گیا اور ۱۴؍اکتوبر کو اسلام آباد میں مظاہرہ کا اعلان کیا۔‘‘

(روزنامہ پاکستان ،مؤرخہ ۸؍ستمبر ۱۹۹۲ء)

میں منعقد ہوئی۔ صدارت امیر مجلس تحفظ ختم نبوت حضرت مولانا خواجہ خان محمد صاحب دامت برکاتہم نے کی۔ جب کہ مقررین میں مولانا فضل الرحمن، قاضی حسین احمد، پروفیسر ساجد میر، مولانا اسحاق، مولانا سمیع الحق، مولانا اعظم طارق، مولانا چراغ الدین شاہ، صاحبزادہ طارق محمود، مولانا عبدالمالک، مولانا منظور چنیوٹی، مولانا نذیر احمد فاروقی، قاری محمد اسد اللہ عباسی، مولانا عبدالرؤف الازہری، مقصود حسین شاہ گردیزی اور دیگر علماء کرام شامل تھے۔ کانفرنس میں متفقہ طور پر قرارداد پاس کی گئی جس میں حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ اپنے فیصلہ پر عمل درآمد کرنے میں کسی بھی قسم کا تساہل یا تاخیری حربہ استعمال کر کے اس کو متنازعہ بنانے کی کوشش نہ کرے۔ یہ آئینی، قومی، متفقہ مسئلہ ہے۔ اسے عملی جامہ پہنانا حکومت کا اولین فرض ہے۔‘‘

(روزنامہ جنگ لاہور ،مؤرخہ ۱۶؍اکتوبر ۱۹۹۲ء)

جناب ارشاد احمد عارف معروف صحافی: ’’ملک میں اس وقت بہت کم ایسے لوگ ہوں گے جن کی تعداد انگلیوں پر گنی جاسکتی ہے۔ جو اپنے آپ کو لا دین یا لا مذہب کہلانا پسند کریں۔ جو معدودے چند سر پھرے ایسی جرأت کر بھی لیتے ہیں وہ شادی بیاہ اور دیگر قانونی و سماجی تقاضوں کی تکمیل کے وقت اپنے اس شوق سے باز آجاتے ہیں اور کسی نہ کسی مذہب یا مسلک سے وابستہ ہونے کو ترجیح دیتے ہیں۔ ایسے میں کسی بھی معقول شخص کو اگر وہ منافق یا مفاد پرست نہیں، اپنا مذہب بتاتے ہوئے اور اپنے قومی شناختی کارڈ میں اس کا اندراج کرتے ہوئے شرم محسوس نہیں ہونی چاہئے۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ ملک میں ملازمت کا حصول ہو یا تعلیمی اداروں میں داخلے کا مسئلہ، مذہب یا عقیدے کی بناء پر کسی کے ساتھ امتیازی سلوک نہیں برتا جاتا۔ ملک کے وزیر اعظم اور صدر کے علاوہ ہر عہدے اور منصب پر ہر شہری خواہ اس کا تعلق کسی بھی عقیدے اور مذہب سے ہو فائز ہو سکتا ہے۔ بشرطیکہ وہ اس عہدے کی شرائط از قسم تعلیم، تجربہ اور اہلیت پوری

صفحہ ۵۳

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۲ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

کرتا ہو۔ پاکستان کے چیف جسٹس کے عہدے پر جناب اے آر کارنیلس ایسے فاضل شخص فائز رہ چکے ہیں جو غیر مسلم تھے۔ ایک غیر مسلم فضائیہ کے سربراہ بھی رہے ہیں۔ وزارتوں، مشاورتوں اور انتظامی عہدوں پر فائز رہنے والے افراد کی تعداد تو اتنی زیادہ ہے کہ یہ مضمون اعداد وشمار کے اندراج کا متحمل نہیں ہو سکتا۔

دنیا کے ہر مہذب، معقول اور قاعدے قانون کے پابند معاشرے میں اقلیتوں کو اکثریت کے عقائد وافکار، رسوم ورواج اور جذبات واحساسات کا احترام کرنا پڑتا ہے اور اکثریت کا یہ فرض ہوتا ہے کہ وہ اقلیت کے آئینی، قانونی اور انسانی حقوق کی حفاظت کا ذمہ لے۔ ہٹ دھرمی اور غلط مبحث کی بات اور ہے۔ ورنہ کوئی بھی ملک، کسی بھی اقلیت کو یہ حق نہیں دے سکتا کہ وہ اکثریت کے جذبات واحساسات کو مجروح کرنے کی پالیسی پر مستقلاً اور اصرار کے ساتھ عمل پیرا رہے اور اس کا ہر قدم اکثریت کے عقائد وافکار کی تغلیط اور مذہبی شعائر کی توہین کا آئینہ دار ہو۔ ملک میں شناختی کارڈ کے اجراء کا فیصلہ سابق وزیر اعظم مرحوم ذوالفقار علی بھٹو نے کیا تھا۔ اس وقت کے اخبارات کا مطالعہ کیا جائے تو موجودہ دور میں جو لوگ قومی شناختی کارڈ میں مذہب کے خانے کے اندراج کی مخالفت کر رہے ہیں۔ وہ اس وقت سرے سے شناختی کارڈ کے اجراء کے خلاف تھے اور اسے بنیادی حقوق کی منافی قرار دیتے نہیں تھکتے تھے۔ جناب ولی خان اور اس وقت حزب مخالف کے دیگر سیاستدانوں کے بیانات اخبارات کی فائلوں میں محفوظ ہیں۔ ویسے بھی ملک میں ایسا قانون ابھی تک نہیں بنا۔ جس کی سیاستدانوں، وکلاء، دانشوروں اور دیگر طبقات کی طرف سے مخالفت نہ کی گئی ہو۔ جن لوگوں کے پاس دو قومی نظریہ، پاکستان اور قائداعظم کی مخالفت کا جواز موجود تھا۔ ان سے یہ توقع رکھنا کہ وہ شناختی کارڈ میں مذہب کے خانے کو خوش دلی سے برداشت کر لیں گے اور حکومت کے اقدام کی خواہ وہ کتنی بھی نیک نیتی سے کیوں نہ کیا گیا ہو مخالفت نہیں کریں گے۔ محض خام خیالی ہے۔

عامۃ المسلمین کی طرف سے اس کا مطالبہ ایک خاص پس منظر میں کیا جا رہا تھا۔ پاکستان میں قادیانی واحد اقلیت ہے جس نے آج تک اپنے آپ کو اقلیت تسلیم نہیں کیا اور وہ اسلام کے بنیادی عقیدہ ختم نبوت سے صریح انحراف کے باوجود ان تمام حقوق ومراعات سے مستفید ہونا چاہتے ہیں۔ جو ایک مسلمان کا حق ہیں۔ مسلمانوں کو قادیانیوں کے دوسری اقلیتوں کی طرح ملک میں رہنے، شرعی حقوق سے مستفید ہونے اور اپنی صلاحیتوں کے مطابق ملک وقوم کی خدمت کرنے پر کوئی اعتراض نہیں۔ انہیں اپنے حلقے میں اپنی رسومات ادا کرنے اور اپنے عقائد کا پرچار کرنے کی بھی آزادی ہے۔ مگر کوئی بھی شخص یہ منطق تسلیم نہیں کر سکتا کہ وہ مسلم امہ کے اجتماعی اور قومی پارلیمنٹ کے متفقہ فیصلے کو رد کر کے اپنے آپ کو اقلیت ماننے سے انکار کر دیں۔ اسلام کے بنیادی عقیدہ ختم نبوت سے انحراف کریں اور اقلیت ہونے کے باوجود اکثریت کی دل آزاری کا سبب بنیں۔ کیونکہ اگر اس امر کی اجازت دے دی جائے تو مسلمانوں کو سیاسی اور سماجی طور پر جو نقصانات برداشت کرنے ہوں گے اس سے بھی قطع نظر، اصل مسئلہ بقول حکیم الامت حضرت علامہ اقبال یہ ہے کہ جب اسلام اکناف واطراف میں پھیلے گا اور نئے غیر مسلم مسلمان ہوں گے تو یہ تمیز کرنا مشکل ہو جائے گا کہ اصل اسلام کیا ہے۔ کیونکہ جو شخص کسی قادیانی کے ہاتھ پر ”اسلام“ قبول کرے گا وہ خود تو اپنے آپ کو ”مسلمان“ ہی کہے گا اور مرزا غلام احمد قادیانی کو بھی نبی یا مصلح مانے گا۔ اس طرح عقیدہ ختم نبوت مسلمانوں کی اجتماعی زندگی سے آہستہ آہستہ خارج ہو جائے گا اور اسلام کے ساتھ اس سے بڑی دشمنی اور کوئی نہیں ہو سکتی۔ اس بناء پر حضرت علامہ نے جواہر لال نہرو کے ساتھ اپنی مشہور زمانہ خط و کتابت میں قادیانیوں کے ”گردن زدنی“ غیر مسلم ہونے پر اصرار کیا تھا۔ حالانکہ حضرت علامہ نہ تو کٹھ ملا تھے اور نہ تنگ نظر دقیانوسی مسلمان۔ بلکہ ایک روشن خیال فلاسفر اور مسلمان تھے۔ لیکن عشق رسول ﷺ کی دولت اور خداداد بصیرت کی وجہ سے ان تمام فتنوں کا ادراک رکھتے تھے۔ جو عقیدہ ختم نبوت کمزور ہونے کی صورت میں مسلمانوں اور اسلام کا گھیرا تنگ کر سکتے تھے۔

صفحہ ۵۴

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۲ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

عام انتخابات میں شناختی کارڈ دکھانے کی پابندی، شناختی کارڈ بنوانے کے لئے مطلوبہ فارموں میں حلفی بیان اور پاسپورٹ اور دیگر دستاویزات کی تیاری میں شناختی کارڈ کی ضرورت کے پیش نظر یہ ایک قانونی تقاضہ ہے کہ شناختی کارڈ میں مذہب کے خانے کا اندراج ہو، تاکہ بعد میں کسی مرحلے پر بھی گڑبڑ کا امکان نہ رہے۔ جب پاکستان بننے سے اب تک پاسپورٹ میں مذہب کا اندراج ہو رہا ہے۔ حالانکہ وہ بھی کسی شہری کی شناختی دستاویز ہے اور اس پر اب تک کسی نے اعتراض نہیں کیا۔ اسی طرح آئین میں ۱۹۷۴ء میں کی جانے والی ترمیم کے تحت شناختی کارڈ بنوانے کے لئے مطلوبہ فارموں میں یہ بیان حلفی موجود ہے اور ہر شہری کو یہ بیان حلفی داخل کرنا پڑتا ہے کہ اگر وہ مسلمان ہے تو ختم نبوت کے عقیدے کا اقرار کرے اور مرزا غلام احمد قادیانی کو کافر اور کاذب سمجھتے ہوئے مصلح یا نبی کے طور پر نہ ماننے کا اعلان کرے تو اس بیان حلفی کی بناء پر تیار ہونے والے کارڈ میں اپنے مذہب کا اعلان کرنے میں کیا قباحت ہے؟ کسی مسیحی، پارسی یا زرتشتی کو اپنے مذہب کا اعلان کرنے میں کیا امر مانع ہے۔ جب کہ بنیادی شہری حقوق کے ضمن میں اس کا مذہب کہیں بھی آڑے نہیں آتا۔ سیاست، قانون اور صحافت کے شعبے میں موجود قادیانی حضرات کا یہ کمال ہے کہ انہوں نے ترقی پسند حضرات اور بعض اقلیتی رہنماؤں کو چکر دے کر شناختی کارڈ میں مذہب کے اندراج کو ایک مسئلہ بنا دیا ہے۔ حالانکہ سرے سے یہ کوئی مسئلہ ہے ہی نہیں۔ اب تک کسی بھی حلقے کی طرف سے متعین انداز میں یہ نہیں بتایا گیا کہ شناختی کارڈ میں مذہب کے اندراج سے کسی شہری کے کون سے حقوق غصب ہوں گے یا کسی اقلیت کو کیا نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے؟ ملک میں کوئی پارسی ، ہندو، مسیحی یا زرتشتی اپنا مذہب چھپانا پسند نہیں کرتا۔‘‘

(روزنامہ نوائے وقت لاہور، مؤرخہ ۲۸؍اکتوبر ۱۹۹۲ء)

سید ضمیر حسین جعفری کالم نگار روزنامہ خبریں: ’’شناختی کارڈ سے مذہب کا خانہ حذف کر دیا جائے تو اس سے دو قومی نظریہ پر زد پڑے گی۔ جو مطالبہ پاکستان کی بنیاد تھا اور بھارت کے سیکولر تصور کو تقویت ملے گی۔ جو مطالبہ پاکستان کی نفی کرتا ہے۔‘‘

(روزنامہ خبریں اسلام آباد، مؤرخہ ۳۰؍اکتوبر ۱۹۹۲ء)

ارشاد احمد حقانی معروف صحافی: ’’شناختی کارڈ میں مذہب کا خانہ رکھنے کی کوشش اصلاً اس لئے کی جا رہی ہے کہ قادیانیوں کے شناختی کارڈ میں انہیں غیر مسلم ظاہر کیا جاسکے ، حرفِ تمنا۔‘‘

(روزنامہ جنگ لاہور، مؤرخہ ۵؍نومبر ۱۹۹۲ء)

جناب مجیب الرحمٰن شامی: ’’شناختی کارڈ میں مذہب کے خانے کے اضافہ کا جو مطالبہ مذہبی حلقوں کی طرف سے کیا جا رہا ہے۔ اس کا پس منظر یہی ہے کہ وہ قادیانی اقلیت کا نقاب اتارنے کے لئے درپے ہیں۔ اس پر عیسائی بھائیوں کی چیخ و پکار سمجھ سے بالاتر ہے۔‘‘

(مطبوعہ روزنامہ جنگ لاہور، مؤرخہ ۳۰؍اکتوبر ۱۹۹۲ء)

پاکستان نیشنل کرسچن لیگ کے رہنماء: ’’پاکستان نیشنل کرسچن لیگ کے صدر جیمز صوبے خان، سینئر نائب صدر سیموئیل، نائب صدر چوہدری عمانوائیل گل اور لاہور کے صدر امین مسیح سوہنی نے شناختی کارڈ میں مذہب کے خانہ کو خوش آئند اقدام قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے مردم شماری میں بڑی مدد ملے گی۔ کیونکہ مسیحی عوام پاکستان میں سب سے بڑی اقلیت ہے۔ جس کی آج تک صحیح مردم شماری نہیں ہوسکی۔ ان رہنماؤں نے حلقہ لاہور کے بشپ الیگزینڈر ملک اور ریٹائرڈ کرنل کے ایم رائے سیموئیل گل کی شناختی کارڈ میں مذہب کے خانہ کی مخالفت میں کی گئی پریس کانفرنس کی مذمت کی ہے۔‘‘

(روزنامہ جنگ لاہور، مؤرخہ ۲۲؍اکتوبر ۱۹۹۲ء)

بشپ انوسنٹ رندھاوا: ’’قومی شناختی کارڈ میں مذہب کے خانہ کا اضافہ حکومت کی انصاف پسندی ہے اور اس ضمن میں بشپ الیگزینڈر جان کا بیان حقیقت پسندی سے انحراف ہے۔ پاکستان کے مسیحی اپنا مذہب بتانے میں فخر محسوس کرتے ہیں۔‘‘

(روزنامہ وفاق راولپنڈی، مؤرخہ ۲۲؍اکتوبر ۱۹۹۲ء)

صفحہ ۵۵

تحریک ختم نبوت جلد(۶) ۱۹۹۲ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

جے سالک: ”اقلیتی نمائندہ قومی اسمبلی جے سالک نے اخبارات میں اشتہار شائع کیا۔ اس کے مونوگرام میں مسلم وغیر مسلم کی تمیز تشخص موجود ہے۔ اشتہار کی سرخی ہے کہ علماء ومشائخ معاشرے میں روشنی کا مینار ہیں۔“

(روزنامہ جنگ لاہور،مؤرخہ۷/نومبر۱۹۹۲ء)

دیگر مسیحی راہنما: ”گرجا گھر گوجرانوالہ کے مسیحی مذہبی راہنماؤں اور سرگودھا کے دیگر مسیحی راہنماؤں نے شناختی کارڈ میں خانہ مذہب کے اضافہ کو اقلیتوں کے حقوق کی نگہداشت قرار دیا اور اس کی مخالفت کرنے والوں کو قادیانیوں کا ایجنٹ ٹھہرایا۔“

(قومی ومقامی اخبارات)

مستان سنگھ، سکھ یاتری لیڈر: ”پاکستان میں شناختی کارڈ میں مذہب کے خانہ کا اضافہ نہایت مستحسن قدم ہے۔ اس سے صرف ملک دشمن عناصر کو خطرہ ہے۔ ہمیں اس پر فخر ہے کہ سکھ مذہب سے تعلق اور یقین رکھتے ہوئے اپنے شناختی کارڈ میں بھی (پاکستانی) سکھ لکھیں۔ ہمیں پہلے ہی پاکستان میں بطور اقلیت برابر کے حقوق اور تحفظ حاصل ہے۔ اس سے مزید تقویت ہوگی اور مذہبی شناخت میں آسانی ہوگی۔ کوئی پاکستانی کسی بھی مذہب سے تعلق رکھتا ہو۔ اگر وہ خلوص اور یقین سے مذہب پر قائم ہے تو اسے اپنے مذہب کے اظہار پر کیا اعتراض ہوسکتا ہے؟ خدشہ تو صرف ان ملک دشمن عناصر مثلاً جاسوس، تخریب کار یا روپ بہروپ کا لبادہ اوڑھے ہوئے افراد کا ہے۔ جو اس ملک میں قوم سے مخلص نہیں ہیں اور اپنی شناخت آسانی سے نہیں چاہتے۔“

(روزنامہ جسارت،مؤرخہ۲۱/نومبر۱۹۹۲ء)

قومی اخبارات وجرائد کے اداریے! شناختی کارڈ میں مذہب کے خانے کا اضافہ: ”صدر غلام اسحاق خان نے جے یو آئی کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل سینیٹر حافظ حسین احمد کی قیادت میں ملاقات کرنے والے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے وفد سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ قومی تشخص کے ساتھ اسلامی تشخص کو اپنانا آئین کی رو سے لازمی ہے اور جلد ہی وہ شناختی کارڈ میں مذہب کا خانہ رکھنے کے لئے حکومت کو ہدایات جاری کریں گے۔ پاکستان ایک نظریاتی مملکت ہے اور کسی بھی نظریاتی ملک میں اس کو وجود میں لانے والی آئیڈیالوجی کا تحفظ اس کی جغرافیائی سرحدوں کی مانند ہی اہم سمجھا جاتا ہے۔ اس پس منظر میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے وفد نے صدر مملکت کی خدمت میں عوام کا یہ مطالبہ پیش کیا تھا کہ قومی تشخص کے ساتھ ساتھ مسلم تشخص کی حفاظت وصیانت کے لئے شناختی کارڈوں کے کمپیوٹر کے ذریعے اجراء کے نئے مرحلے پر ان میں مذہب کے ایک الگ خانے کا اضافہ کیا جائے۔ جداگانہ انتخابات کے ذریعے غیر مسلموں کی علیحدہ نمائندگی کا حق تسلیم کئے جانے کے بعد شناختی کارڈ میں مذہب کا اندراج اس کا ایک لازمی تقاضا ہے۔ اس سے مختلف اسلامی ممالک میں جانے والے پاکستانیوں کی مذہبی حیثیت کے بارے میں کوئی الجھن پیدا نہیں ہوگی اور اس سلسلہ میں پیدا ہونے والی بہت سی قباحتوں سے بچا جاسکے گا۔ توقع کی جانی چاہئے کہ صدر کی ہدایت کے بعد اس سمت میں تیزی سے پیش رفت کا آغاز ہوجائے گا۔“

(روزنامہ جنگ لاہور،مؤرخہ۲۰/فروری۱۹۹۲ء)

قومی شناختی کارڈ....... مذہب کے خانے کا اضافہ: ”مذہبی امور کے وفاقی وزیر مولانا عبدالستار خان نیازی کی صدارت میں ہونے والے ایک حالیہ اجلاس میں قومی شناختی کارڈ میں مذہب کے ایک خانے کا اضافہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ جس کے تحت ہر شناختی کارڈ میں درخواست دہندہ کو اپنے مذہب کا اندراج کرنا پڑے گا اور اس سے پیشتر جس قدر شناختی کارڈ جاری ہوچکے ہیں۔ ان کی جگہ نئے شناختی کارڈ جاری کئے جائیں گے۔ یہ فیصلہ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت اور دیگر متعدد دینی جماعتوں اور تنظیموں کی جانب سے عرصہ سے کئے جانے والے مسلسل مطالبے کے بعد صوبائی حکومتوں، وزارت مذہبی امور، اسلامی نظریاتی کونسل کی سفارشات کی روشنی میں کیا گیا ہے اور اس کی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ چونکہ مسلم اور غیر مسلم ووٹروں کی فہرستیں الگ الگ ہوتی ہیں۔ اس لئے قومی شناختی کارڈ میں بھی اس کی

صفحہ ۵۶

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۲ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

وضاحت ناگزیر تھی۔ صدر مملکت غلام اسحق خان نے کچھ عرصہ پیشتر علماء کے ایک وفد کو قومی شناختی کارڈ میں مذہب کے خانے کا اضافہ کرنے کی یقین دہانی کروادی تھی۔ لیکن مغربی ذہن کی بیوروکریسی اس معاملہ کو خواہ مخواہ طول دیتی گئی اور بعض غیر مسلم اقلیتوں نے بھی اس خدشہ کا اظہار کرنا شروع کر دیا کہ اس طرح قومی شناخت کا ذریعہ بننے والا یہ کارڈ ایک مذہبی کارڈ بن کر رہ جائے گا۔ ان حالات میں یہ معاملہ طویل تر ہوتا گیا۔ لیکن اب جب کہ یہ فیصلہ کر لیا گیا ہے تو حکومت کو اس کے نفاذ اور نئے شناختی کارڈوں کے اجراء کے طریق کار کو آسان تر بنانے کی جدوجہد کرنی چاہئے اور غیر مسلم اقلیتوں کو اس امر کی یقین دہانی کروانی چاہئے کہ اس سے ان کی بنیادی حقوق پر کوئی زد نہیں پڑے گی اور وہ بدستور ان تمام سہولتوں اور آزادیوں سے متمتع ہوتے رہیں گے جو ملکی آئین نے ان کو دی ہیں۔ اس بات کا امکان بھی موجود ہے کہ بعض مخصوص حلقے اس فیصلہ کے خلاف مغربی ممالک اور حقوق انسانی کی تنظیموں کو اکسانے کی کوشش کریں۔ اس لئے حکومت کو ایسی کسی سعی کو ناکام بنانے کے لئے بھی ابھی سے تیاری کر لینی چاہئے۔‘‘

(روزنامہ جنگ لاہور، مؤرخہ ۱۵؍ اکتوبر ۱۹۹۲ء)

شناختی کارڈ...... مذہب کے خانے کا مسئلہ: ”جمعیت علماء اسلام کے جنرل سیکرٹری مولانا فضل الرحمٰن نے کہا ہے کہ اگر قومی شناختی کارڈ میں مذہبی خانہ نہ بنا تو ایسی تحریک چلائینگے کہ کوئی رکن، اسمبلی تک نہیں جاسکے گا۔ قومی شناختی کارڈ میں مذہب کے خانے کا اضافہ محض ایک شناخت کی حیثیت رکھتا ہے۔ جس سے ملک میں موجود مختلف اقلیتوں اور مسلمانوں کی صحیح صحیح تعداد کے معلوم کرنے میں مدد مل سکتی ہے اور یوں مردم شماری کے ایک نہایت اہم جزو کی تکمیل پوری صحت کے ساتھ ہو سکتی ہے۔ لیکن بعض سیاسی جماعتوں اور اقلیتی حلقوں نے اس پر جو طوفان کھڑا کرنے کی نیو ڈالی ہے۔ اس کا سرے سے کوئی جواز موجود نہیں ہے۔ کیونکہ اگر پاسپورٹ میں مذہب کے اندراج سے بنیادی انسانی حقوق پر کوئی زد نہیں پڑتی تو قومی شناختی کارڈ میں اس خانے کے اضافے سے کون سی آفت آجائے گی۔ مشرقی ممالک میں بالعموم آبادی کی اکثریت کسی نہ کسی مذہب سے وابستگی رکھتی ہے اور اپنے اس تعلق پر یہ لوگ فخر کرتے ہیں اور کبھی اسے چھپانے کی کوشش نہیں کرتے اور اگر اس بات کا اظہار و اعلان انہیں شناختی کارڈ میں بھی کرنا پڑے تو اس میں کوئی چوں چرا نہیں کریں گے اور شاید یہی وجہ ہے کہ بعض مذہبی و سیاسی رہنماؤں نے الزام لگایا ہے کہ اس مسئلہ پر جو احتجاج و ہنگامہ خیزی کی جارہی ہے اس کے پس پردہ ایک ایسی غیر مسلم اقلیت کا ہاتھ کام کر رہا ہے جو اپنے مخصوص مقاصد کے لئے اس تنازعہ کو ہوا دے رہی ہے۔ بہر حال معاملہ خواہ کچھ بھی ہو یہ کوئی ایسا مسئلہ نہیں ہے کہ اسے بنیادی انسانی حقوق کے اتلاف سے تعبیر کیا جاسکے۔ اس لئے تمام مذہبی اقلیتوں کو اس پر نہایت ٹھنڈے دل سے غور کرنا چاہئے۔‘‘

(روزنامہ جنگ لاہور، مؤرخہ ۱۱؍ نومبر ۱۹۹۲ء)

شناختی کارڈ میں مذہب کا خانہ: ”حکومت نے قومی شناختی کارڈ میں مذہب کا خانہ بڑھانے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس فیصلے کے تحت ہر شناختی کارڈ میں درخواست دہندہ کا اپنے مذہب کا اندراج کرنا پڑے گا۔ مذہبی حلقوں کی طرف سے شناختی کارڈ میں مذہب کا خانہ بڑھانے کا مطالبہ ایک عرصے سے کیا جا رہا تھا۔ اس ضمن میں قادیانیوں کے بارے میں آئینی ترمیم اور ملک میں جداگانہ انتخابات کے طریق کار کا حوالہ دیا جاتا تھا۔ جس کے منطقی نتیجے اور تقاضے کے طور پر شناختی کارڈ کے خانے میں مذہب کا اندراج ضروری ہو جاتا ہے۔ اس حوالے سے حکومت کا فیصلہ کوئی اچنبھے کی بات نہیں۔ البتہ ان حلقوں کی طرف سے اس فیصلے پر تنقید ہو گی جو جداگانہ انتخاب اور قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دیئے جانے کی آئینی ترمیم کے حق میں نہیں تھے۔ تاہم ملک میں شناختی کارڈ جس آسانی سے بن جاتے ہیں اور لاکھوں کی تعداد میں بھارتی اور بنگلہ دیشی باشندے یہ شناختی کارڈ بنوا کر ملک کے مختلف حصوں بالخصوص کراچی میں مقیم ہیں۔ اس کے پیش نظر اس فیصلے کی افادیت مشکوک ہو جاتی ہے۔ انتخابات میں شناختی کارڈ دکھانے کی پابندی بھی اکثر اوقات اٹھالی جاتی ہے۔ اس لئے اس فیصلے کو منطقی انجام

صفحہ ۵۷

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۲ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

تک پہنچانے کے لئے ضروری ہے کہ ایک تو عام انتخابات میں ہر ووٹر کے لئے شناختی کارڈ دکھانا لازمی قرار دیا جائے۔ دوسرے جعلی شناختی کارڈوں کا سدباب کیا جائے۔ یہ پہلو بھی قابل غور ہے کہ اگر کوئی قادیانی مذہب کے خانے میں اپنے آپ کو مسلمان ظاہر کرے تو اس کے لئے کیا سزا ہوگی؟‘‘

(روزنامہ نوائے وقت لاہور،مؤرخہ ۱۶؍اکتوبر۱۹۹۲ء)

پاسپورٹ میں بھی مذہب کا خانہ موجود ہے۔شناختی کارڈ پر اعتراض کیوں؟:

’’ملک میں بعض عناصر قومی شناختی کارڈ میں مذہب کے خانے کے اضافہ پر احتجاج واعتراض کر رہے ہیں۔ جب کہ پاسپورٹ جو قومی کارڈ کی طرح بیرون ملک کسی پاکستانی کی قومی شناخت کی دستاویز کی حیثیت رکھتا ہے۔اس میں مذہب کا خانہ موجود ہے اور ہر شخص کو پاسپورٹ حاصل کرنے کے لئے اپنے ’’مذہب‘‘ کا اعلان کرنا پڑتا ہے۔عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ جب پاسپورٹ پر مذہب کا خانہ موجود ہے اور یہ کوئی آج کی بات نہیں بلکہ جب سے ملک بنا ہے اس وقت سے یہ خانہ موجود ہے اور ہر اس شخص کو جو ملک سے باہر جانا چاہتا ہے۔ اسے پاسپورٹ میں اپنے مذہب کا اندراج کرنا پڑتا ہے۔ لیکن اس پر کسی بھی جانب سے اعتراض نہیں کیا گیا۔ جب کہ پاسپورٹ بھی بیرون ملک قومی شناخت کا ذریعہ ہے۔ اس سے ہر شخص کی شہریت اور مذہب کی شناخت کی جاتی ہے اور اس کے ساتھ اب جب قومی شناختی کارڈ میں مذہب کے خانے کا اضافہ کیا گیا تو اس اعتراض کا کوئی اخلاقی قانونی اور دینی جواز نہیں ہے۔ یہ صرف بعض عناصر کے مفادات کے لئے کیا جا رہا ہے۔عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ بعض عناصر اس مسئلہ کو سیاسی بنا کر اس سے فائدہ اٹھانا چاہتے ہیں۔کیونکہ کسی بھی شخص کی جانب سے اپنے دین کے اعلان پر کوئی اعتراض نہیں ہو سکتا۔بلکہ افراد کو تو یہ فخر ہے کہ وہ اس بات کا اعلان کرے کہ اس کا تعلق فلاں مذہب سے ہے اور وہ مذہب ہی اس کی شناخت ہے۔ اس کے اظہار سے انکار نا قابل فہم بھی ہے۔عوامی حلقوں نے مسیحیوں کی بعض تنظیموں کی جانب سے قومی شناختی کارڈ میں مذہب کے خانے کے اضافہ پر اعتراض اور احتجاج کو بلا جواز قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ یہ سب کچھ ایک اقلیتی فرقہ کے ایماء پر کیا جا رہا ہے۔ جو برملا اپنے مذہب کا اظہار اعلان کرنا نہیں چاہتے۔ یہ اس اقلیتی فرقے کے با اثر لوگوں کی سازش ہے کہ انہوں نے کچھ لوگوں کو ورغلا کر آگے کر دیا ہے۔عوامی حلقوں نے سندھ اسمبلی کی قرارداد اور پیپلز پارٹی کی شریک چیئر پرسن بیگم بے نظیر بھٹو کی جانب سے اس بیان پر کہ قومی اسمبلی میں بھی قومی شناختی کارڈ میں اس اضافہ کی ترمیم کو مسترد کر دیا جائے گا،تعجب کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ یہ بات انہیں زیب نہیں دیتی ہے۔ انہیں اصولوں کو پامال کر کے سیاست نہیں کرنی چاہئے۔ یہ کوئی سیاسی مسئلہ نہیں ہے۔ یہ فرد کی شناخت کی بات ہے اور کوئی شخص ایسا نہیں ہوگا جو اپنی شناخت کا بر ملا اظہار کرنے سے انکار کرے۔عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ ملک میں ایک ایسا اقلیتی فرقہ موجود ہے جو برملا اپنی شناخت کا اظہار نہیں کرتا اور اسے خوف ہے کہ شناختی کارڈ میں اس خانے کے اضافے کے بعد وہ معاشرہ میں اپنے مذہب کے بارے میں بے نقاب ہو جائیں گے۔عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ قوم نے متحد ہو کر اس فرقے کو غیر مسلم اقلیت قرار دلوایا تھا۔اب بھی قوم کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ متحد ہو کر ان کی اس سازش کا مقابلہ کریں اور قومی شناختی کارڈ میں مذہب کے خانے کے اضافے کے خلاف احتجاجی جلسے، جلوس،بھوک ہڑتالوں کا ناکام بنا دیں ۔‘‘

(روزنامہ نوائے وقت،مؤرخہ۹؍نومبر۱۹۹۲ء)

رامے صاحب اور مخلوط طرز انتخاب: ’’سابق وزیر اعلیٰ اور پیپلز پارٹی کے رہنما حنیف رامے نے اقلیتی ممبر قومی اسمبلی جے

صفحہ ۵۸

تحریک ختم نبوت جلد(۶) ۱۹۹۲ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

سالک کے منعقد کردہ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کے استحکام کے لئے ضروری ہے کہ مخلوط طرز انتخاب اپنایا جائے اور رنگ نسل یا مذہب کی بنیاد پر کسی کو دوسرے پر فوقیت نہ دی جائے۔ رامے صاحب کی سیاست کی طرح ان کا علم و دانش بھی ان کے لئے ؎

اے روشنی طبع تو برمن بلا شدی

کا منظر پیش کرتا رہا ہے۔ یہی وجہ ہے وہ مختلف فلسفے اور افکار و نظریات کی مدافعت کرتے ہیں۔ اب چونکہ پیپلز پارٹی میں ہیں۔ اس لئے حکومت اور موجودہ نظام کی مخالفت ان کی مجبوری ہے۔ لیکن ایک دانشور کے طور پر انہیں بہر حال کوئی ایسی بات کہنے سے گریز ہی کرنا چاہئے جو غیر منطقی اور خلاف واقعہ ہو۔ موصوف اچھی طرح جانتے ہیں کہ ۱۹۷۰ء کے انتخابات مخلوط بنیادوں پر منعقد ہوئے تھے اور مشرقی پاکستان کی ایک اقلیت نے عوامی لیگ کی کامیابی میں اہم ترین کردار ادا کیا تھا۔ جس کے بعد ملک ٹوٹ گیا۔ اس بدیہی حقیقت کی روشنی میں رامے صاحب کا یہ کہنا کس قدر زیادتی ہے کہ مخلوط طرز انتخاب اپنا کر ملک ٹوٹنے سے بچایا جا سکتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ جس مخلوط طرز انتخاب کا مزہ ہم ۱۹۷۱ء میں چکھ چکے ہیں۔ اسے دوبارہ اپنانا دانشمندی ہوگا؟ رہا مسئلہ شناختی کارڈ میں مذہب کے اندراج کا تو رامے صاحب بھی جانتے ہیں کہ اس سے کسی اقلیت کے حقوق سلب ہونے کا نہ تو اندیشہ ہے اور نہ پاکستان کی کسی حکومت یا عوام نے اس کے بارے میں سوچا ہے۔ البتہ اقلیتوں کو یہ حقیقت ضرور پیش نظر رکھنی چاہئے کہ اکثریت کے جذبات کا احترام بھی ان کی ذمہ داری ہے۔ مذہب ویسے بھی فخر کرنے والی چیز ہے۔ کسی شخص کو اپنے مذہب کا اقرار کرتے ہوئے شرمندہ ہونے کی ضرورت نہیں۔ رامے صاحب کی پارٹی کی یہ مجبوری اپنی جگہ کہ وہ اس طرح نواز شریف حکومت کے لئے مشکلات پیدا کرسکتی ہے۔ مگر وہ اس سے انکار نہیں کرسکتی کہ کل تک یہ پارٹی قادیانیوں کو اقلیت قرار دلانے کا کریڈٹ لیتی رہی ہے۔ البتہ رامے صاحب بوجوہ ۱۹۷۴ء میں بھی تحریک ختم نبوت کے خلاف تھے اور اب بھی شاید اس ترمیم کے حق میں نہ ہوں۔ جو بھٹو صاحب نے اس وقت کی قومی اسمبلی سے آئین میں متفقہ طور پر کرائی تھی اور ملک کے سواد اعظم کے جذبات کی ترجمانی کی تھی۔“

(روزنامہ نوائے وقت، مورخہ ۱۲؍نومبر ۱۹۹۲ء)

”سر راہے“ (روزنامہ نوائے وقت): ”شناختی کارڈ میں مذہب کا خانہ شروع کرنے کے خلاف سندھ اسمبلی نے جو قرار داد منظور کی ہے۔ اس پر بابائے سوشلزم شیخ محمد رشید نے سندھ اسمبلی کو مبارک باد دی ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ سندھ اسمبلی کی یہ قرارداد قائد اعظم کی تعلیمات کے عین مطابق ہے۔ کیونکہ وہ تھیوکریسی کے سخت مخالف تھے اور ریاست کے معاملات میں مذہب کی مداخلت پسند نہیں کرتے تھے۔ ہمیں خوشی ہے کہ سوشلزم اگرچہ مرچکا ہے۔ لیکن لینن کے فضل سے بابائے سوشلزم ابھی زندہ ہیں۔ اس لئے گاہے بگاہے وہ سوشلسٹ نظریات کا دفاع کرتے رہتے ہیں۔ بابائے سوشلزم شناختی کارڈ میں مذہب کے خانے کی بے شک مخالفت کرتے رہیں۔ لیکن وہ قائد اعظم پر یہ الزام تو نہ لگائیں کہ وہ سیاست میں مذہب کے عمل دخل کے خلاف تھے۔ کیونکہ قائد اعظم کا تو نعرہ ہی یہ تھا کہ مسلمان اپنے مذہب کی بنیاد پر غیر مسلموں سے علیحدہ ایک قوم ہیں۔ ہندو انہیں اس لئے فرقہ پرست قرار دیتے تھے کہ وہ سیاست میں مذہب کا نام لیتے تھے۔ ہندوؤں کا دعویٰ تھا کہ برصغیر میں رہنے والے تمام لوگ بلا لحاظ مذہب و ملت ایک ہی قوم ہیں۔ جب کہ قائد اعظم مسلمانوں کے الگ تشخص کی بات کرتے تھے۔ ہندوؤں کو بالآخر یہ تسلیم کرنا پڑا کہ مسلمان واقعی ایک الگ قوم ہیں۔ اب اگر کچھ لوگ مسلمانوں کو دوبارہ ”متحدہ قومیت“ بننے کا درس دے رہے ہیں تو پھر پاکستان بنانے کی ضرورت ہی کیا تھی۔ عین ممکن ہے کہ پاکستان میں متحدہ قومیت کی تشکیل کے بعد یہ عناصر واہگہ بارڈر ختم کرنے کا علم بلند کر دیں تاکہ ۱۹۴۷ء میں قائد اعظم نے جو ”غلطی“ کی تھی اس کا ازالہ ہو سکے۔“

(روزنامہ نوائے وقت، مورخہ ۱۱؍نومبر ۱۹۹۲ء)

صفحہ ۵۹

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۲ء ۵۹ ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

...... ۞ ”شناختی کارڈ کسی فرد کی پہچان میں مدد دیتا ہے۔ لہٰذا اس میں وہ تمام باتیں درج ہونی چاہئیں جن سے اس شخص کی شناخت ہو سکے۔ اگر کسی شخص کی جنم بھومی، اس کی تاریخ پیدائش اور اس کا شناختی نشان لکھنے سے اس کی توہین نہیں ہوتی تو صرف مذہب لکھ دینے سے اس کا استحقاق کیسے مجروح ہوتا ہے؟ ہم حیران ہیں کہ اس چھوٹی سی بات پر اتنا شور کیوں مچایا جارہا ہے۔ البتہ جو لوگ اپنے لئے ہر راستہ کھلا رکھنا چاہتے ہیں۔ ان کے لئے تو مذہب ہی کیا دیگر چیزوں کا اندراج بھی مشکلات کا باعث ہے۔ شاید اس لئے وہ ابتداء مذہب اندراج کی مخالفت سے کرنا چاہتے ہوں۔“

(اداریہ روزنامہ نوائے وقت راولپنڈی، مورخہ ۲/اکتوبر ۱۹۹۲ء)

شناختی کارڈ میں مذہبی خانہ: ”وطن عزیز میں شناختی کارڈ میں مذہب کا خانہ شروع کرنے پر بعض لوگوں کی طرف سے جو ایجی ٹیشن جاری ہے وہ اب تخریبی رنگ اختیار کرتا دکھائی دیتا ہے۔ مذہبی خانہ کے اجراء سے مسیحیوں کو کوئی فرق نہیں پڑتا۔ کیونکہ ان کے نام پہلے ہی مسلمانوں سے مختلف ہوتے ہیں۔ اس لئے ان کی طرف سے مذہبی خانے کے اجراء کی مخالفت قابل فہم بات نہیں ہے۔ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ اس ایجی ٹیشن کے پیچھے قادیانیوں کا ہاتھ ہے۔ کیونکہ ان کے نام مسلمانوں سے ملتے جلتے ہیں اور مذہبی خانے کے اجراء سے ان کا تشخص واضح ہو جائے گا۔ اس ایجی ٹیشن میں سراسر جذبات سے کام لیا جارہا ہے۔ حالانکہ مذہبی تشخص واضح ہونے پر اقلیتوں کے حقوق پہلے سے زیادہ محفوظ ہو جائیں گے۔ پاکستان میں پہلے ہی جداگانہ طرز انتخاب رائج ہے۔ لیکن شناختی کارڈ میں مذہب کا اندراج نہ ہونے کے باعث ووٹر کی چیکنگ نہیں ہو سکتی۔ جس کے نتیجے میں بوگس ووٹ بھی پڑ جاتے ہیں۔ اگر شناختی کارڈ میں مذہب کا خانہ شروع ہو گیا تو بوگس ووٹوں کا انسداد ہو سکتا ہے۔ ویسے بھی چوتھی آئینی ترمیم جس کے تحت قادیانیوں کو اقلیت قرار دیا گیا ہے۔ اس کا تقاضا ہے کہ قادیانیوں کا تشخص واضح کیا جائے۔ اس آئینی تقاضے کو پورا کرنے کے لئے شناختی کارڈ میں مذہبی خانے کا اجراء ناگزیر ہے۔ خود محترمہ بے نظیر نے بھی اپنے زمانہ وزارت عظمیٰ میں ایسا شناختی کارڈ جاری کرنے کی حامی بھری تھی۔ اب بعض عاقبت نا اندیش لوگ حکومت کو جداگانہ انتخاب ختم کر کے مخلوط انتخاب شروع کرنے کا مشورہ دے رہے ہیں۔ حالانکہ اسی مخلوط انتخاب کے نتیجے میں ہم پہلے آدھا پاکستان گنوا چکے ہیں۔ ہمیں افسوس ہے کہ موجودہ ایجی ٹیشن کے جواب میں حکومت خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے اور مذہبی امور کے وزیر مولانا عبدالستار خان نیازی کے سوا کوئی دوسرا وزیر حکومتی پالیسی کے دفاع میں سرگرم عمل نہیں ہے۔ ہم وزیر اعظم نواز شریف سے امید رکھتے ہیں کہ وہ آئین، قانون اور عوامی خواہشات کے مطابق اس فیصلے پر ثابت قدم رہیں گے اور کسی قسم کے دباؤ میں نہیں آئیں گے۔“

(روزنامہ نوائے وقت، مورخہ ۱۴ نومبر ۱۹۹۲ء)

شناختی کارڈ میں مذہب کا اندراج: ”وفاقی وزیر مذہبی امور عبدالستار خان نیازی نے سندھ اسمبلی کی اس قرارداد پر شدید ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ جس میں قومی شناختی کارڈ میں مذہب کا اندراج نہ کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ انہوں نے اس قرارداد کی منظوری کو آئین کے خلاف بغاوت اور غداری قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ شناختی کارڈ میں مذہب کے خانے کے اضافے کی منظوری وزیر اعظم نے دی ہے۔ لہٰذا سندھ یا کسی صوبائی حکومت کو اس پر اعتراض کا حق نہیں رہا۔

شناختی کارڈ میں مذہب کے اندراج کے حق میں اور اس کے خلاف دلائل موجود ہیں۔ لیکن ابھی تک اندراج کا مخالف فریق یہ ثابت نہیں کر سکا کہ یہ اندراج کر لینے سے شناختی کارڈ کے حامل کو کیا نقصان پہنچے گا۔ کیونکہ کارڈ میں اگر کسی فرد کے بارے میں لکھ دیا جائے کہ وہ مسلمان ہے یا مسیحی ہے تو اس میں کیا قباحت ہے اور اس سے کیا خرابیاں پیدا ہونے کا اندیشہ ہے؟ اگر پاکستان سیکولر یا لادین ملک ہوتا تو شناختی کارڈ میں مذہب کا اندراج غیر ضروری ہوتا۔ لیکن جب ملک کو اسلامی جمہوریہ قرار دیا جا چکا ہے تو مذہب کے اندراج کو بھی قبول کر لینا

صفحہ ۶۰

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۲ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

چاہئے ۔ مذہب کے اندراج کی نفی صرف ان لوگوں کے لئے فائدہ مند ہو سکتی ہے جو اجنبی حلقوں کو فریب دینا چاہتے ہوں ۔ کیونکہ آج کل نام رکھنے کا جو رجحان چلا ہے ۔ اس سے غلط فہمی پیدا ہو جانے کا احتمال نظر انداز نہیں کیا جا سکتا ۔ رہا مسلک کا معاملہ تو اسے مذہب کے برابر اہمیت حاصل نہیں ہے اور اس میں وقتاً فوقتاً تبدیلی کا امکان ہو سکتا ہے ۔ اس لئے کارڈ میں مسلک کے اندراج کا کوئی سوال پیدا نہیں ہوتا ۔

ہمارے خیال میں شناختی کارڈ میں مذہب کے اندراج کو مسئلہ نہیں بنانا چاہئے اور جب وزیر اعظم نے اس اندراج کی منظوری دے دی تو کسی وزیر اعلیٰ کو اس سے اختلاف نہیں کرنا چاہئے ۔ جہاں تک ہماری معلومات کا تعلق ہے ۔ آبادی کی اکثریت شناختی کارڈ میں مذہب کے اندراج کے حق میں ہے ۔ اس لئے اس کی رائے کا احترام کیا جانا چاہئے ۔ کیونکہ جمہوریت میں فیصلے کثرت رائے ہی کے ذریعے ہوتے ہیں ۔‘‘

(روزنامہ خبریں، مؤرخہ ۶؍ نومبر ۱۹۹۲ء)

شناختی کارڈ میں مذہب کا اندراج: ’’مذہب ...... نام ، ولدیت اور جائے پیدائش وغیرہ کی طرح کسی بھی شخص کی شناخت کا ایک ایسا اہم جزو ہے ۔ جسے چھپانے کی بجائے بالعموم ہر شخص فخر اور اطمینان کے ساتھ اس کا اظہار کرتا ہے ۔ وہ اپنے مذہب کو برحق اور درست سمجھتا ہے ۔ تب ہی تو اسے اختیار کرتا ہے ۔ اس لئے وہ اسے پوشیدہ رکھنے کی بھی کوئی ضرورت محسوس نہیں کرتا ۔ آخر جس مذہب پر وہ ایمان رکھتا ہے ۔ جس کی تبلیغ کرتا ہے ۔ اس کے اظہار میں اسے کوئی ندامت و شرمندگی کیوں محسوس ہو؟ پھر بجائے خود لوگوں کے نام ، عبادت کے طریقے ، رسوم و رواج ، رہن سہن اور زندگی کے دوسرے بہت سے پہلو یہ واضح کر دیتے ہیں کہ کس کا مذہب کیا ہے؟ اس لئے یہ خدشہ کہ شناختی کارڈ میں شہری کا مذہب درج کر دینے کا نتیجہ اقلیتوں کے امتیازی سلوک کا نشانہ بنائے جانے کی صورت میں نکلے گا ۔ جو سراسر بے بنیاد ہے ۔ اگر پاکستان میں اقلیتوں کے ساتھ کوئی بدسلوکی روا رکھی جانی ہوتی تو اس کے لئے ان کی شناخت کوئی مسئلہ نہیں تھی ۔ لیکن نہ صرف پاکستان کے ۴۵ سال بلکہ مسلمانوں کی ڈیڑھ ہزار سالہ تاریخ گواہ ہے کہ انہوں نے اپنی ریاستوں میں اقلیتوں کے ساتھ ہر طرح کے تعصب سے پاک ، بہترین برتاؤ کی شاندار مثالیں قائم کی ہیں ۔ ان کے حقوق کا پورا پورا تحفظ کیا ہے ۔ انہیں اپنی اہلیت کے مطابق آگے بڑھنے ، ترقی کرنے اور بلند مناصب تک پہنچنے کے تمام مواقع فراہم کئے ہیں ۔

اس مسئلے کے تمام پہلوؤں کو سامنے رکھ کر غور کیا جائے تو یہ بات انتہائی قرین قیاس نظر آتی ہے کہ بظاہر جن اندیشوں کی بنیاد پر شناختی کارڈ میں مذہب کے خانے کے اضافے کی مخالفت کی جا رہی ہے ۔ حقیقتاً اس رویے کا یہ سبب اندیشے نہیں بلکہ کچھ اور عوامل ہیں اور یہ عوامل بھی کچھ ایسے ڈھکے چھپے نہیں ۔ پی ڈی اے نے ۳۰؍ اکتوبر ۱۹۹۲ء کو اپنے اعلان اسلام آباد میں ان پر سے پردہ اٹھا دیا ہے ۔ دوسری باتوں کے علاوہ اس اعلان میں جداگانہ طریق انتخاب کو ختم کر کے مخلوط طریق انتخاب رائج کرنے کے عزم کا اظہار بھی کیا گیا ہے ۔ اس پس منظر میں شناختی کارڈ میں مذہب کے خانے کے اضافہ کی مخالفت کا اصل سبب مخلوط طریق انتخاب کے لئے راہ ہموار کرنا نظر آتا ہے اور طریق انتخاب کی تبدیلی کی آڑ میں پاکستان کی اسلامی نظریاتی ریاست کے کردار کو سیکولر اسٹیٹ سے بدل دینے کا جو ارادہ کارفرما ہے عام سیاسی شعور اور بصیرت رکھنے والا ہر شخص با آسانی اس تک پہنچ سکتا ہے ۔

اپنے ان تمام اہل وطن سے جو اقلیتی آبادی سے تعلق رکھتے ہیں ۔ ہماری گذارش ہے کہ وہ ٹھنڈے دل و دماغ سے غور کریں ۔ ہمیں امید ہے کہ وہ بھی اسی نتیجے پر پہنچیں گے کہ جداگانہ انتخابات ان کے مفادات کے تحفظ کا یقینی ذریعہ ہیں اور شناختی کارڈ پر مذہب کا اندراج ان کے لئے کسی بھی نقصان دہ نہیں بلکہ اس طرح انتخابی عمل کی دھاندلی کے امکانات سے پاک ہو جانے کے سبب انہیں ان کے حقوق کی بہتر ضمانت فراہم ہو سکے گی ۔‘‘

(ہفت روزہ تکبیر، مؤرخہ ۱۲؍ نومبر ۱۹۹۲ء)

صفحہ ٦١

تحریک ختم نبوت جلد (٦) ١٩٩٢ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

شناختی کارڈ اور مذہب: ”پاکستان کے بعض نام نہاد دانشوروں کو آج کل ایک اور شوشہ ہاتھ آگیا ہے۔ شناختی کارڈ میں مذہبی خانے کے اضافے کے فیصلے پر لے دے کی جارہی ہے اور وہ وہ نکتے پیدا کئے جارہے ہیں کہ اللہ دے اور بندہ لے۔ اسے اقلیتوں کے خلاف سازش قرار دے ڈالا گیا ہے۔ کئی حضرات دیکھا دیکھی اس بھنگڑے میں شریک ہو گئے ہیں۔ عیسائیوں کو عیسائی، پارسیوں کو پارسی اور ہندوؤں کو ہندو کہنا یا لکھنا اگر ظلم ہے تو پھر ڈکشنری میں ظلم کی تعریف اور ظلم کے معانی بدلنا پڑیں گے۔ غیر مسلموں کے مسلمان وکیلوں کو خدا معلوم فیس کس نے ادا کی ہے کہ بے چارے ان کو ان کے مذہب سے محروم کرنے کا نام روشن خیالی رکھ رہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان ”اہلِ فکر ونظر“ کو فکر اور نظر کے صرف نقطے ہی عطاء کر دے تو انہیں اپنے خیالات پڑھ کر اور سن کر شرم آجائے گی۔“

(ہفت روزہ زندگی، مورخہ ۷/نومبر ۱۹۹۲ء)

شناختی کارڈ میں مذہب کا خانہ...... مزید تاخیر ناقابل برداشت ہوگی!: ”سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات میں قادیانیوں کا داخلہ ممنوع ہے۔ بے شمار قادیانیوں کی نشاندہی ہونے پر وہاں سے نکالا گیا ہے۔ جو حکومت پاکستان کے لئے بدنامی کا باعث بنا۔ چنانچہ قادیانیوں نے اس فیصلہ کے خلاف بڑی مؤثر پلاننگ کی ہے اور خود کو سامنے کرنے کی بجائے نام نہاد غیر مسلم تنظیموں سے مال روڈ پر احتجاجی مظاہرے کروا کر حکومت کو ڈرانے اور دھمکانے کا سلسلہ شروع کیا ہوا ہے اور اس سلسلہ میں ملک کی ان آوارہ اور بد معاش بازاری عورتوں کا سہارا لیا ہے جو فی الواقع اسلامیہ جمہوریہ پاکستان کے ماتھے پر کلنک کا ٹیکہ ہیں۔ لیکن حیرانگی اس بات پر ہے کہ حکومت ان بازاری عورتوں اور نام نہاد غیر مسلم خصوصاً عیسائی تنظیموں سے اس قدر مرعوب ہوتی نظر آ رہی ہے کہ حکومت کے کئی ایک ذمہ دار وزراء کی طرف سے یہ بیان جاری کیا گیا ہے کہ شناختی کارڈ میں مذہب کا علیحدہ خانہ کا جو فیصلہ کیا گیا ہے۔ اس پر نظرثانی کی جارہی ہے۔ حکومت کے اندر قادیانیوں کی ایک اہم لابی موجود ہے۔ جو اپنے مقاصد کی تکمیل کے لئے ہمہ وقت مصروف ہے۔ حالانکہ سرسری نظر سے بھی دیکھا جائے تو عیسائیوں یا دوسری غیر مسلم اقلیتوں کو اس فیصلہ سے کیا خطرہ لاحق ہے؟ وہ تو پہلے ہی غیر مسلم اقلیت ہیں اور اپنے آپ کو غیر مسلم تسلیم کرتے ہیں۔ کیا ایک عیسائی اور ہندو یا سکھ اور یہودی اپنے آپ کو عیسائی، ہندو یا سکھ اور یہودی کہلوانا پسند نہیں کرتا؟ بلکہ شناختی کارڈ میں مذہب کے خانہ کے اضافہ سے اقلیتوں کے حقوق اور زیادہ محفوظ ہو گئے ہیں۔ تکلیف صرف قادیانیوں کو ہے۔ جنہوں نے پاکستان کی قومی اسمبلی کے فیصلہ کو ابھی تک تسلیم نہیں کیا اور وہ ابھی تک اس آئین اور قانون کا منہ چڑا رہے ہیں۔ جس کی نمائندگی ملک کی ۹۸ فیصد سے زائد آبادی کرتی ہے۔“

(ہفت روزہ خدام الدین، مورخہ ۶/نومبر ۱۹۹۲ء)

شناختی کارڈ میں مذہب کا اندراج: ”عوام کے مسلسل مطالبے پر حکومت پاکستان نے شناختی کارڈ میں مذہب کے خانے کا اضافہ کر دیا ہے۔ جس پر لادین حلقوں نے ایک طوفان اٹھا رکھا ہے۔ لاہور کے بشپ صاحب نے تو یہ بھی ارشاد فرما دیا ہے کہ عیسائی، سکھوں کی طرح اپنا لائحہ عمل بنا سکتے ہیں۔ اس نوع کے شدید ردعمل کا محرک تو سمجھ میں آتا ہے۔ مگر اس کے پیچھے کوئی دلیل نظر نہیں آتی۔ پاکستان ایک نظریاتی ملک ہے۔ وہ جداگانہ طریق انتخاب کی بنیاد پر مسلمانوں کے ووٹوں سے وجود میں آیا۔ آئین میں اسلام کو ریاست کا مذہب قرار دے رکھا ہے اور جداگانہ طریق انتخاب کو آئینی تحفظ حاصل ہے۔ ان تاریخی حقائق اور آئینی مندرجات کا تقاضا ہے کہ شناختی کارڈ میں مذہب کا خانہ ہونا چاہئے تاکہ ریاست اقلیتوں کے حقوق اور مراعات کا بطور خاص اہتمام کر سکے اور انتخابات کے انعقاد اور ووٹروں کے اندراج میں آسانی ہو۔

ہندوؤں، عیسائیوں اور پارسیوں کے نام تو مسلمانوں سے اتنے مختلف ہوتے ہیں کہ انہیں پہچان لینے میں کوئی دشواری نہیں

صفحہ ۶۲

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۲ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

ہوتی۔ لیکن قادیانیوں اور لاہوریوں کے نام بالکل مسلمانوں جیسے ہیں اور انہیں پاکستان کے دستور نے غیر مسلم اقلیت قرار دے دیا ہے۔ در اصل اس غیر مسلم اقلیت اور مسلمان اکثریت کے درمیان تمیز قائم کرنے کے لئے شناختی کارڈ میں مذہب کے خانے کا اضافہ کیا گیا ہے۔ اب قادیانی حضرات عوام اور دستور کے فیصلے کے خلاف سازشوں میں مصروف ہیں۔ کبھی یورپ اور امریکہ میں زہریلا پروپیگنڈہ کرتے ہیں کہ پاکستان میں ان پر بے پناہ ظلم توڑے جارہے ہیں اور کبھی پاکستان میں بسنے والے عیسائیوں کو ورغلاتے ہیں اور کبھی لادین عناصر کو حکومت پر حملہ آور ہونے کے لئے شہ دیتے ہیں۔ جرمنی کے وزیر خارجہ نے قادیانیوں کے حوالے سے پاکستان کے ارباب حکومت کے ساتھ جس لب ولہجے میں گفتگو کی وہ قادیانیوں کی شرانگیز مہم ہی کا ردعمل تھا۔ امریکہ بھی قادیانیوں کا مسئلہ بار بار اٹھا چکا ہے۔ اس پس منظر میں تمام محب وطن قوتوں کو یکجا ہو کر بڑی حکمت سے اس فتنے کا مقابلہ کرنا ہوگا۔ ایک طرف حکومت کے ہاتھ مضبوط کرنے ہوں گے اور دوسری طرف اپنی اقلیتوں کے ساتھ نہایت عمدہ برتاؤ کی روایت کا تحفظ کرنا ہوگا۔‘‘

(اردو ڈائجسٹ ایڈیٹر الطاف حسین قریشی نومبر ۱۹۹۲ء)

مسیحی بھائیوں کا احتجاج: ’’شناختی کارڈ میں مذہب کے خانے میں اضافے سے خائف مسیحی بھائی احتجاج میں مصروف ہیں۔ کئی پادری صاحبان بھی احتجاجی سیاست میں الجھ رہے ہیں۔ وہ دلیل کی زبان سمجھنے پر آمادہ نہیں۔ عقل حیران ہے کہ کسی بھی مسیحی کو مسیحی کہلانے پر اعتراض کیوں ہے؟ مذہب ہر شخص کے لئے فخر کا باعث ہے۔ ہر شخص اپنے مذہب کے لئے جان تک قربان کر دینے کو عین سعادت سمجھتا ہے۔ مسیحی بھائیوں سے اگر یہ مطالبہ کیا جاتا کہ وہ ’’مسلمانوں جیسے‘‘ بن جائیں تو احتجاج درست ہوتا۔ دنیا کی تاریخ کا یہ انوکھا احتجاج ہے کہ ایک مذہب کے نام لیوا، اس مذہب کے حوالے سے اپنے تفاخر اور شناخت پر احتجاج کر رہے ہیں۔‘‘

(ہفت روزہ زندگی، مورخہ ۱۵؍نومبر ۱۹۹۲ء)

سرسری جائزہ: ’’کل چار گھنٹوں کی محنت سے یہ سرسری جائزہ مرتب کر کے آپ کی خدمت میں پیش کیا ہے۔ مجھے اعتراف ہے کہ پورے ملک کے قومی اخبارات کا مزید مطالعہ کیا جاتا تو اس سے کئی گنا زیادہ رپورٹ تیار ہو جاتی۔ تاہم اتنی عرض ہے کہ یہ مطالبہ اسلامیان پاکستان کا متفقہ مطالبہ ہے۔ اس کی مخالفت کرنے والے محض سیکولر اور قادیانی لابی کی سازشوں کا شکار ہیں۔ امید ہے کہ حکومت دوست دشمن کی پہچان کرے گی۔‘‘

طالب دعا: صاحبزادہ طارق محمود خادم ختم نبوت فیصل آباد

(احتساب قادیانیت ج۳۳ ص ۲۵۲ تا ۲۹۲)

آل پارٹیز مجلس عمل تحفظ ختم نبوت کا اجلاس بسلسلہ مسئلہ شناختی کارڈ میں خانہ مذہب

آل پارٹیز مجلس عمل تحفظ ختم نبوت نے اپنے اجلاس میں جو گزشتہ دنوں لاہور میں منعقد ہوا جس میں تمام مکاتب فکر کے رہنما شریک ہوئے۔ شناختی کارڈ میں خانہ مذہب کا فیصلہ واپس لینے کے مسئلہ پر سخت احتجاج کیا اور حکومت کی مذہب سے بے اعتنائی، بے توجہی اور قادیانیت نوازی کے خلاف تحریک چلانے کا اعلان کیا۔ یہ فیصلہ اس وجہ سے کیا گیا کہ گزشتہ ۱۳؍اکتوبر ۱۹۹۲ء کو آل پارٹیز مجلس عمل نے وفاقی دارالحکومت میں احتجاجی پروگرام بنایا تھا، جس میں جلسہ جلوس اور مظاہرہ کر کے حکومت کو یہ بتانا تھا کہ شناختی کارڈ میں مذہب کے خانہ کے اندراج پر پاکستان کے تمام مکاتب فکر متفق ہیں۔ اس لئے یہ اضافہ فوری طور پر کیا جائے۔ چنانچہ جس دن احتجاجی پروگرام ہوا یعنی ۱۴؍اکتوبر ۱۹۹۲ء کو اس سے ایک دن قبل وفاقی وزیر داخلہ جناب چوہدری شجاعت حسین نے مجلس عمل کے مرکزی قائدین سے رابطہ قائم کیا اور یہ باور کرایا کہ حکومت شناختی کارڈ میں مذہب کا خانہ درج کرنے پر تیار ہے۔ مجلس عمل کے رہنماؤں نے چوہدری صاحب سے ملاقات کی

صفحہ ۶۳

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۲ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

اور متفقہ فیصلہ ہو گیا۔ اس خوشی میں ۱۴ /اکتوبر ۱۹۹۲ء کو مرکزی جامع مسجد اسلام آباد میں عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس ہوئی۔ کانفرنس کے مقررین اور عوام نے حکومت کے اس فیصلہ کو سراہا اور مبارک باد پیش کی ۔

اس فیصلہ کا اثر ملک کی کسی اقلیت پر نہیں پڑتا سوائے قادیانیوں کے۔ اگر پڑتا ہوتا تو بھٹو دور حکومت میں ہی یہ مطالبہ شروع ہو جاتا کہ عیسائیوں اور دوسری اقلیتوں کے لئے الگ رنگ کے شناختی کارڈ بنائے جائیں۔ چونکہ ایسا نہیں تھا۔ اس لئے یہ مطالبہ نہیں اٹھایا گیا۔ اس مطالبہ کی اصل وجہ یہی ہے کہ قادیانیوں کو جب سے غیر مسلم اقلیت قرار دیا گیا۔ انہوں نے اس آئینی اور قانونی فیصلے کو تسلیم نہیں کیا اور وہ اس بہانے مسلم ممالک میں جاکر ان کے خلاف جاسوسی کرتے ہیں اور وہاں کے خفیہ راز اسرائیل اور امریکن سی آئی اے کو پہنچاتے ہیں۔ حرم شریف مسلمانوں کا مقدس ترین مقام ہے۔ اس کے بعد مسجد نبوی ﷺ ہے اور روضہ پاک تو انہیں وہاں کوئی داخل نہیں ہونے دے گا۔ اس لئے یہ دھوکہ سے اپنے کو مسلمان ظاہر کر کے ہی وہاں داخل ہو سکتے ہیں۔ حرم شریف میں کسی بھی قسم کے کافر کا داخلہ ممنوع ہے۔ جب وہاں کوئی کافر داخل نہیں ہو سکتا تو قادیانی نہ صرف یہ کہ کافر ہیں بلکہ مرتد اور زندیق بھی ہیں جن کے وہاں داخلے کو روکنا ازحد ضروری ہے۔

پاسپورٹ کے ساتھ جو فارم داخل کرنا پڑتا ہے اس پر مذہب کا خانہ موجود ہے لیکن وہ فارم وزارت داخلہ میں رہ جاتا ہے جب کہ پاسپورٹ سے کسی کے مسلمان یا غیر مسلمان ہونے کا کوئی پتہ نہیں چلتا۔ البتہ چونکہ شناختی کارڈ ہر شخص کے پاس ہوتا ہے اور وہ دیکھا بھی جاتا ہے۔ اس لئے اس کارڈ میں مذہب کے خانہ کا اندراج ضروری ہے۔ اگر شناختی کارڈ میں مذہب کا خانہ ہو تو سعودی عرب میں داخل ہونے والے ہر پاکستانی کی بہ آسانی شناخت ہو سکتی ہے کہ یہ مسلمان ہے یا قادیانی ۔ حرمین شریفین کے تقدس کا خیال کرنا، اس کی دیکھ بھال اور ہر طرح کی حفاظت کرنا اور کافروں، مشرکوں ، مرتدوں اور زندیقوں سے اس کے تقدس کو پامال ہونے سے بچانا صرف سعودی حکومت ہی کی ذمہ داری نہیں، ہر مسلمان خصوصاً حکومت پاکستان کی بھی ذمہ داری ہے۔ شاعر مشرق علامہ اقبال نے فرمایا ہے ؎

دنیا کے بت کدوں میں پہلا وہ گھر خدا کا ہم اس کے پاسباں ہیں وہ پاسباں ہمارا

یہ شعر قرآن کریم کی اس آیت کریمہ: ’’ان اول بیت وضع للناس للذی ببکہ مبارکا وھدی للعلمین‘‘ کا مفہوم ہے۔ اس آیت کریمہ میں فرمایا گیا ہے: بے شک سب سے پہلا گھر جو مقرر ہوا لوگوں کے واسطے یہی ہے جو مکہ میں ہے۔ برکت والا اور ہدایت جہاں کے لوگوں کو۔ اللہ تعالیٰ کا یہ مقدس گھر سب سے پہلے بنا۔ حتی کہ بیت المقدس سے بھی پہلے۔ اسی لئے اسے جہان والوں کے لئے برکت و ہدایت کا مرکز قرار دیا گیا ہے۔ علامہ اقبال کا یہ کہنا کہ: ”ہم اس کے پاسباں ہیں ۔“ اس سے ظاہری صفائی مراد ہے اور پھر ان کا یہ کہنا کہ: ”وہ پاسباں ہمارا“ اس سے باطنی صفائی مراد ہے، جس کا صاف مطلب یہ ہے کہ وہاں ہدایت ہی ہدایت ہے کفر نہیں۔ وہ ہمارے لئے مشعل نور ہے۔ وہاں کا امام، وہاں کا خطیب، وہاں کا مؤذن ، وہاں پر متعین عملہ ہدایت یافتہ ہی ہوگا۔ کافر و مشرک نہیں ہوگا۔ تو علامہ یہ فرمارہے ہیں کہ ہم اس کی ظاہری صفائی کرتے ہیں۔ اس کی چوکیداری یا نگہبانی کرتے ہیں (اور یہ فریضہ وہاں کی حکومت انجام دے رہی ہے) اس کے بالمقابل ”ھدی للعلمین“ ہونے کی وجہ سے وہ چونکہ مرکز ہدایت ہے۔ اس لئے ہر وہ شخص جسے کوئی گمراہ کر دے یا وہ گمراہ ہو چکا ہو اور یہ کہتا ہو کہ میرا ہی مذہب ، میرا ہی فرقہ سچا ہے تو اسے چاہئے کہ وہ یہ دیکھے کہ ”کعبۃ اللہ “ پر سوائے اہل سنت و جماعت کے کس کا کنٹرول ہے۔ اس لحاظ سے ہم کہہ سکتے ہیں کہ ”کعبۃ اللہ “ ہمارے ایمان کا پاسبان ہے۔

جب پاسبانی کی ذمہ داری ہماری بھی ہے اور کعبہ کی بھی ہے تو اللہ تعالیٰ تو ”کعبۃ اللہ “ کے ذریعہ ہمارے ایمان کی پاسبانی کر رہا ہے۔ ہم اس کی پاسبانی کیوں نہیں کرتے۔ کافروں، مشرکوں ، مرتدوں اور زندیقوں سے اس مرکز ہدایت کو بچانا یہ ہمارے فرائض میں

صفحہ ۶۴

تحریک ختم نبوت جلد(۶) ۱۹۹۲ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

شامل ہے۔ لیکن افسوس کا مقام ہے کہ پاکستان کے عوام تو یہ چاہتے ہیں کہ خدا تعالیٰ ہمیں اس کے چوکیداروں میں شامل کر لے حکومت نہیں چاہتی۔ اسی وجہ سے وہ شناختی کارڈ میں مذہب کا خانہ رکھنے سے گریزاں ہے۔ باوجودیکہ فیصلہ ہو چکا ہے۔ اس فیصلہ کے بعد قادیانی مرزائی خود تو میدان میں آ نہیں سکتے تھے انہوں نے بھنگیوں کو استعمال کرنا شروع کر دیا۔ جلسے جلوس نکلنے لگے۔ علماء کے خلاف بدزبانی کرائی گئی، وفاقی وزیر مذہبی امور مولانا عبدالستار خان نیازی کے پتلے جلائے گئے۔ گویا شناختی کارڈ میں مذہب کے اندراج کے فیصلے کے خلاف تحریک کی قیادت بھنگیوں کو دے دی اور قادیانی مرزائی بھنگیوں کی قیادت میں جلسے جلوسوں اور مظاہروں کی رونقیں بڑھانے لگے۔ قادیانی مرزائی پیسے نے رنگ دکھایا۔ حکومت مرعوب ہوگئی اور فیصلہ واپس لے لیا گیا۔ اب اس نئے فیصلہ کے بعد پاکستان تو مسلم ملک ہوگا لیکن یہاں کے باشندوں کا شناختی کارڈ مسلمان نہیں ہوگا۔ کوئی بھی غیر مسلم شناختی کارڈ دکھا کر اپنے کو مسلمان ظاہر کر سکتا ہے۔ حتیٰ کہ وہ حرم شریف میں بھی داخل ہو سکتا ہے۔ اسی صورتحال کی بناء پر آل پارٹیز مرکزی مجلس عمل کا اجلاس لاہور میں منعقد ہوا جس میں تمام مکاتب فکر کے رہنماؤں نے شرکت کی۔ ہمیں اجلاس کے اصل فیصلہ کی رپورٹ نہیں ملی۔ اخباری اطلاعات کے مطابق اجلاس میں مندرجہ ذیل جماعتوں اور ان کے رہنماؤں نے شرکت کی۔

ان کے علاوہ متعدد دینی وسیاسی شخصیات نے شرکت کی۔ اجلاس میں شریک تمام علماء نے متفقہ طور پر فیصلہ کیا کہ اگر شناختی کارڈ میں خانہ مذہب کے اندراج کا فیصلہ واپس لیا گیا تو حکومت کے خلاف بھر پور تحریک چلائی جائے گی۔ جس میں پارلیمنٹ کا گھیراؤ بھی شامل ہے۔ یہ اجلاس عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی امیر حضرت مولانا خان محمد صاحب دامت برکاتہم کی زیر صدارت ہوا۔

ہماری تجویز ہے کہ چونکہ ماہ رمضان المبارک قریب ہے جس میں عام طور پر ہر قسم کی سرگرمیاں بند ہو جاتی ہیں۔ اس لئے حکومت کو عید تک مہلت دے دی جائے۔ اگر حکومت اس عرصہ میں مطالبہ تسلیم نہیں کرتی تو عید کے بعد کراچی سے لے کر خیبر تک ختم نبوت کانفرنسیں منعقد کی جائیں اور سب سے آخر میں اسلام آباد میں کانفرنس اور مظاہرے کا پروگرام رکھا جائے۔ ہمیں قوی امید ہے کہ اس عرصہ میں حکومت کی عقل بھی ٹھکانے آجائے گی اور شناختی کارڈ کے مسئلہ پر دوٹوک اور واضح اعلان کر دے گی۔

(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ص ۵، ۶، مورخہ ۵ تا ۱۱؍ مارچ ۱۹۹۳ء)

صفحہ ٦٥

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۲ء

ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

پشاور میں شیعہ سنی تصادم

پشاور میں عاشورہ محرم کے روز کوہاٹی گیٹ کے علاقہ میں نامعلوم افراد کی فائرنگ اور جوابی فائرنگ کے نتیجہ میں دس افراد ہلاک اور پچاس زخمی ہو گئے۔ تفصیلات کے مطابق ذوالجناح اور علم کے جلوس پر بعض نامعلوم افراد نے فائرنگ کی۔ بھگدڑ مچنے سے دس افراد ہلاک ہو گئے۔ اہل تشیع کے مشتعل ہجوم نے قریبی مسجد پر مسلح حملہ کر کے مسجد کو نقصان پہنچایا۔ خانہ خدا میں توڑ پھوڑ کے علاوہ قرآن مجید کے نسخوں اور دیگر دینی کتابوں کو نذر آتش کر کے شہید کر دیا گیا۔ مسجد ابوبکر کی بے حرمتی اور شیعہ فرقہ کی جارحیت کے خلاف اگلے روز پشاور میں احتجاجی ہڑتال کر کے شدید غم و غصے کا اظہار کیا گیا۔ یہ افسوس ناک خبر پورے ملک میں کرب و دکھ اور غم و اندوہ کے ساتھ سنی جائے گی۔ پورے ملک میں دو چار مقامات کے علاوہ کہیں بھی ایسا المناک واقعہ رونما نہیں ہوا۔ جیسا کہ پشاور میں رونما ہوا ہے۔ سخت حفاظتی اقدامات اور فوج کی موجودگی میں دس قیمتی جانوں کا ضیاع انتہائی دلخراش سانحہ ہے۔ ہمیں امید ہے کہ پشاور کی ضلعی انتظامیہ صوبائی حکومت فوری طور پر اس حادثے کی عدالتی تحقیقات کا حکم دے گی تاکہ اصل حقائق سامنے آسکیں اور قوم کو یہ معلوم ہوسکے کہ فریقین میں قصور وار کون ہے؟ اگر فریقین میں سے کوئی قصور وار نہیں تو شیعہ سنی تصادم کے پس منظر میں کوئی تیسری طاقت تو ملوث نہیں؟ بھارتی ایجنسی ”را“ کے بارے میں حالیہ انکشافات اگر درست ہیں تو ہماری حکومت کو یہ فراموش نہیں کرنا چاہئے کہ محرم الحرام کے موقع سے بھر پور فائدہ وطن کے اندرونی اور نظریاتی دشمنوں سے لیا جاسکتا ہے۔ اگر ہماری حکومت اس نقطۂ نظر سے غور و فکر کرے تو وہ بلا شبہ اس نتیجے پر پہنچے گی کہ شیعہ سنی تصادم اور کشیدگی کی اصل ذمہ دار قادیانی جماعت ہے۔ جو پس پردہ گل کھلا رہی ہے۔ قادیانی جماعت کے کروڑوں روپے کے بجٹ کا آخر مصرف کیا ہے؟ اور وہ کہاں خرچ ہوتا ہے۔ حکومت اپنی متعلقہ ایجنسیوں سے معلومات حاصل کرے تو اسے یقیناً فائدہ ہوگا۔

معاصر روزنامہ جنگ لاہور ۱۴ جولائی ۱۹۹۲ء صفحہ اوّل کی خبر بھی اس بات کی تائید کرتی ہے کہ پشاور کے فرقہ وارانہ فسادات میں خفیہ ہاتھ کے ملوث ہونے کے امکان کو رد نہیں کیا جاسکتا۔ ”پشاور (نمائندہ جنگ) باخبر ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ صوبائی حکومت نے اتوار کے روز پشاور میں یوم عاشورہ کے موقع پر دو مذہبی گروہوں کے درمیان ہونے والے مسلح تصادم کی تحقیقات کا حکم دے دیا ہے۔ ذرائع کے مطابق اس بات کا بھی خدشہ ہے کہ پشاور میں پہلی بار افسوس ناک فرقہ وارانہ فسادات میں بعض خفیہ ہاتھ کے ملوث ہونے کا بھی امکان ہو سکتا ہے۔“

(ہفت روزہ لولاک ص۴، مؤرخہ ۱۷ جولائی ۱۹۹۲ء)

چانسلر انجینئرنگ یونیورسٹی کے نام کھلا خط

بخدمت جناب میاں محمد اظہر صاحب گورنر پنجاب، چانسلر انجینئرنگ یونیورسٹی لاہور

جناب عالی!

گزارش ہے کہ محمود حسین چیئر مین آرکیٹکچر ڈیپارٹمنٹ انجینئرنگ یونیورسٹی لاہور قادیانی ہے۔

صفحہ ٦٦

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۲ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

آئین پاکستان کی دفعہ ۲۹۸-سی کی صراحتاً خلاف ورزی ہے اور اس سے طلباء میں شدید غم وغصہ پایا جاتا ہے۔

چیئرمین بنادیا گیا ہے۔

میلہ“ یونیورسٹی میں منعقد کرواچکا ہے۔ یہ کتاب میلہ ڈیپارٹمنٹ کے باہر لائبریری چوک میں ہوا اور قادیانی مذکور کی سرپرستی اور مالی مدد سے منعقد ہوتا ہے۔

مذکورہ بالا حقائق آپ کے نوٹس میں اس لئے لائے جارہے ہیں...... تاکہ بحیثیت سنڈیکیٹ ممبر آپ کا فرض بنتا ہے کہ آپ یونیورسٹی کے تعلیمی و انتظامی ماحول کو برقرار رکھتے ہوئے کسی اور سینئر استاذ کو بطور چیئرمین متعین کریں اور محمود حسین قادیانی مذکور کو آئندہ چیئرمین شپ کے لئے ایکسٹینشن نہ دی جائے۔

والسلام! محمد اسماعیل شجاع آبادی ڈپٹی سیکرٹری عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان (لاہور) (ہفت روزہ لولاک فیصل آباد ص۲۳، مؤرخہ۱۴؍ اگست ۱۹۹۲ء)

قادیانیوں کی دہشت گردیاں (جناب ساجد اعوان)

ارشاد باری تعالیٰ ہے: ”واللہ لا یحب الفساد (البقرۃ: ۲۰۵)“ ﴿اور اللہ نہیں دوست رکھتا فساد کرنا۔﴾

گزشتہ ایک صدی پر اگر ایک نگاہ دوڑائی جائے تو جہاں فرنگی سامراج نے اہل حق پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑے، وہاں انگریز کے اشاروں پر ناچنے والا ایک ٹولہ بھی ایک مدت تک مسلمانوں کو مار آستین بن کر ڈستا رہا۔ اگرچہ آج اس کے دانت اور زہر میں وہ قوت نہیں رکھتے۔ تاہم اس کی فطرت نہیں بدلی۔ میری مراد قادیانیت سے ہے۔ جس طرح عین نصف النہار میں چمکتے ہوئے سورج کی روشنی سے انکار ممکن نہیں بعینہٖ قادیانیت کی دہشت گردی بھی مسلمہ ہے۔ اس باطل فتنے کی بنیاد ہی مسلمانانِ عالم میں انتشار وافتراق ڈالنے کے لئے رکھی گئی تھی اور یہ بھی ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ بنیاد کی پہلی اینٹ ہی اگر کج رکھی جائے تو عمارت چاہے آسمان تک ہی کیوں نہ بلند کر دی جائے ٹیڑھی ہی جائے گی۔ میں نے یہ بات محض کسی گمان کی بناء پر نہیں لکھی بلکہ قادیانیت کی سیاہ تاریخ کے مدنظر ان کے قلبی عزائم اور مذموم ذہنیت کی پردہ دری کرتے ہوئے لکھنا اپنا مذہبی فریضہ سمجھا ہے۔ آپ شاید نہیں جانتے کہ قادیانی خلیفہ ثانی مرزا بشیر الدین محمود کا ایک بیان جو ۲۵؍اپریل ۱۹۳۰ء کے اخبار الفضل میں شائع ہوچکا ہے جو قادیانی ذریت کی تخریب کارانہ ذہنیت کا عکاس ہے۔ ہماری بھلائی کی ایک ہی صورت ہے وہ یہ کہ تمام دنیا کو اپنا دشمن سمجھیں تاکہ ان پر غالب آنے کی کوشش میں مصروف رہیں۔ کیونکہ جب تک مخالفت نہ بڑھے گی ہمیں ترقی نہیں ہوسکتی۔ خلیفہ کا ۳؍جون ۱۹۳۲ء کا خطبہ مندرجہ الفضل ان کے ناپاک عزائم کھلے الفاظ میں یوں پیش کر رہا ہے۔ ”حکومت ہمارے پاس نہیں کہ ہم جبر کے ساتھ ان کی اصلاح کریں اور ہٹلر اور میسولینی کی طرح جو شخص ہماری حکومت کی تعمیل نہ

صفحہ 67

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۲ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

کرے اسے ملک سے نکال دیں اور جو ہماری بات نہ سنے اور اس پر عمل کرنے کو تیار نہ ہو اسے عبرت ناک سزا دیں۔ اگر حکومت ہمارے پاس ہو تو یہ نتائج ایک دن میں حاصل ہو سکتے ہیں۔‘‘

قیام پاکستان کی مخالفت: میں آگے چل کر اس کی وضاحت کرنا ضروری سمجھتا ہوں کہ قادیانیوں نے حصول اقتدار اور پاکستان بننے کی راہ میں کتنے روڑے اٹکائے اور جب پاکستان دنیا کے نقشے پر ایک حقیقت بن کر چمکنے لگا تو قادیانی غداروں نے اسے ٹوٹے ٹوٹے کرنے میں کیا کیا جتن کئے۔ سردست ۴؍ مئی ۱۹۴۷ء کو ان کی منعقدہ مجلس عرفان کے موقع پر خلیفہ قادیان کی تقریر کا ایک اقتباس نقل کرتا ہوں۔ ’’اللہ کی مشیت ہندوستان کو اکٹھا رکھنا چاہتی ہے۔ ہندوستان کی تقسیم پر اگر ہم راضی ہوئے تو خوشی سے نہیں بلکہ مجبوری ہے۔ پھر یہ کوشش کریں گے کہ جلد سے جلد متحد ہو جائیں۔‘‘ اور ۳؍ جون ۱۹۴۷ء کو مسلم لیگ کونسل تقسیم ہند کا فیصلہ کر رہی تھی۔ اسی روز قادیانی خلیفہ کی طرف سے یہ ٹریکٹ بعنوان ’’سکھ قوم کے نام ہمدردانہ اپیل‘‘ تقسیم ہو رہے تھے جس کا خلاصہ یہ تھا: ’’اے میرے رب اوّل تو ملک بٹے نہیں اور بٹے تو اس طرح کہ پھر مل جانے کے راستے کھلے رہیں۔‘‘ دراصل قادیانیوں کو مسلمانوں کی کامیابی ایک آنکھ نہ بھاتی تھی اور جب پاکستان کے آثار نمایاں ہوئے تو قادیانیوں کے سینوں پر سانپ لوٹنے لگے۔ وہ تو پرانی اسلامی حکومتوں کی شکست و ریخت پر شادیانے بجاتے اور چراغاں کرتے تھے وہ کیسے برداشت کر سکتے تھے کہ ایک نئی مسلم مملکت قائم ہو جائے۔ وہ سارے ہندوستان پر قادیانی راج قائم کرنے کا خواب دیکھا کرتے تھے۔ منیر انکوائری کے صفحہ نمبر ۱۹۴ پر اس کا ثبوت موجود ہے۔ ’’۱۹۲۵ء سے اوائل ۱۹۴۷ء تک قادیانیوں کی تحریروں سے یہ بات عیاں ہوتی ہے کہ قادیانی پرامید تھے کہ حکومت برطانیہ کے وہ جانشین بنیں گے۔‘‘

اے بسا آرزو کہ خاک شدہ

اقتدار حاصل کر کے ہٹلر اور میسولینی کی طرز حکومت قائم کرنا قادیانیوں کا شروع دن ہی سے مطمح نظر تھا۔ جب ہی تو مرزا بشیر الدین اپنی ذہنیت اور خبث باطنی کا اظہار ان الفاظ میں کیا کرتا تھا۔ ’’جب تک تمہاری بادشاہت قائم نہ ہو جائے یہ راستے کے کانٹے دور نہیں ہو سکتے۔‘‘ مندرجہ الفضل ۱۲؍ مارچ ۱۹۳۲ء قادیانی اپنے زہریلے مفادات کے لئے آخری دم تک ایڑی چوٹی کا زور لگاتے رہے کہ پاکستان معرض وجود نہ آئے اور اگر بن گیا تو قائم رہنے نہیں دیں گے۔ اس کی تصدیق بھی منیر انکوائری کمیشن کے سامنے ہوئی۔ رپورٹ کے ص ۱۹۳ پر درج ہے۔ ’’جب افق عالم پر پاکستان کے آثار ہویدا ہوئے تو قادیانیوں نے بیڑا اٹھایا کہ پاکستان بننے نہیں دیں گے اور بن گیا تو قائم رہنے نہیں دیں گے۔‘‘

پاکستان سے کھلم کھلا عداوت: افسوس! پاکستان میں پناہ گزیں ہو کر بھی عداوت کا سودا قادیانیوں کے دماغ سے نہیں نکلا، بلکہ رگ عداوت تیز تر ہو گئی۔ خلاف توقع مسلمانوں کی رواداری سے سمجھے کہ شکار ہاتھ لگ گیا جو مقاصد اپنے آقا انگریز سے حاصل نہ کر سکے تھے۔ ان کے حصول کے لئے سر بکف کوشاں اور سرگرداں ہو گئے۔ ربوہ ریاست کی داغ بیل ڈالی۔ جسے آج فلسطین کی ریاست اسرائیلی مملکت سے تشبیہ دی جائے تو بے جا نہ ہوگا۔ حکومت کی طرز پر شعبہ جات امور خارجہ داخلہ مالیہ قائم کئے گئے۔ بیرون ملک کرنسی کا انتظام ہوا۔ فرقان بٹالین موجودہ خدام الاحمدیہ کی تشکیل کی گئی۔ جاسوسی کا آشیانہ ففتھ کالم کا گڑھ بنا۔ وزیر خارجہ سر ظفر اللہ خان کا تقرر ان کے حق میں ریڑھ کی ہڈی ثابت ہوا۔ جو عقیدتاً مسلمانوں کو کافر سمجھتا تھا اور عملاً دشمنوں کا حلیف اور مسلمانوں کا حریف تھا۔ جہاں قادیانی شر پسندوں نے پاکستان کے قیام کی بھرپور مخالفت کی تھی وہاں پاکستان بننے کے بعد بھی ملکی امور میں دخل اندازی شروع کر دی۔ ملک عزیز کے حصے بخرے کر کے پاکستان کو قادیانی ریاست بنانے کی سرتوڑ کوششیں کی گئیں۔ برسر اقتدار آنے کی ترکیبیں سوچنا شروع ہو گئیں اور اولین کمند صوبہ

صفحہ ۶۸

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۲ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

بلوچستان پر ڈالنے کی ٹھانی۔ ریاست قلات کا ہنوز الحاق نہیں ہوا تھا۔ آخری ایجنٹ مسٹر جیمز کی معرفت قادیانیوں نے اپنے داتا انگریز سے معاملہ طے کیا اور دن رات اسی کوشش میں مصروف عمل ہو گئے اور صوبہ بلوچستان کو احمدی صوبہ بنانے تک کا اعلان کر دیا۔ منیر تحقیقاتی کمیشن کے اجلاس نے جب خلیفہ سے پوچھا کہ آپ نے صوبہ بلوچستان کو احمدی صوبہ بنانے کا اعلان کیا تھا تو خلیفہ نے اعتراف کیا ، جی ہاں ! ایسا کہنے کے دو سبب ہیں:

سامراجی امداد کے بھروسہ پر قادیانی اس قدر پر امید ہو گئے تھے کہ خلیفہ نے یہاں تک اظہار کر دیا تھا۔ صوبہ بلوچستان ہمارے ہاتھوں سے نہیں نکل سکتا۔ یہ ہماری شکار گاہ ہوگا۔ ساری دنیا کی قومیں مل کر بھی ہم سے یہ علاقہ نہیں چھین سکتیں۔ ۲۹/ جولائی ۱۹۵۲ء کے الفضل میں تو یہ عبارت تک درج ہے: ”اپنا بیگانہ کوئی اعتراض کرے، کوئی پرواہ نہیں ہونا وہی ہے جو میں نے کہہ دیا ہے اور ایک دن ہم یہ کر کے رہیں گے۔“

خلیفہ صاحب کو یقین ہو گیا تھا کہ پاکستان میں ان کے اقتدار کا راستہ صاف ہو گیا ہے۔ ادھر چوہدری ظفر اللہ خان نے پاکستان کا پہلا وزیر خارجہ بننے کے بعد اپنے عہدے سے ناجائز فائدہ اٹھا کر دفتر خارجہ اور سفارت خانے قادیانیوں سے بھر دیئے جہاں سے کھلم کھلا قادیانیت کی تبلیغ اور مسلم ممالک کی جاسوسی ہونے لگی۔ ظفر اللہ خان خود جہاں قادیانیت کا ستون تھا وہاں سامراجی مفادات کا ضامن اور علم بردار بھی تھا۔ قائد اعظم کی وفات اور قائد ملت لیاقت علی خان کو شہید کر دینے کے بعد قادیانی تو پاکستان کی سیاست پر چھا گئے۔ اس دور میں قادیانی پاکستان کے طول عرض میں اپنے خونخوار پنجے گاڑ چکے تھے۔

قائداعظم اور قادیانیت: ”قائداعظم محمد علی جناح کی دوربین نگاہیں شروع دنوں ہی میں ان کے جارحانہ عزائم بھانپ چکیں تھیں۔ قائداعظم نے ۱۹۴۸ء میں راجہ صاحب آف محمود آباد کی کراچی آمد کے موقع پر ان کو آگاہ کیا تھا کہ قادیانی وزیر خارجہ سر ظفر اللہ خان کی وفاداریاں مشکوک ہیں۔ میں ان پر کڑی نظر رکھے ہوئے ہوں اور عملی اقدامات اٹھانے کے لئے مجھے مناسب وقت کا انتظار ہے۔“ (ہفت روزہ ختم نبوت انٹرنیشنل کراچی ۱۲/ فروری ۱۹۸۹ء) شومی قسمت کہ زندگی نے وفا نہ کی۔ ورنہ اس خطرے کا حل شروع ہی میں تلاش کر لیا جاتا اور پاکستان کے مستقبل کے حکمران اور عوام قادیانیوں کی شاطرانہ چالوں اور بربریت کا نشانہ بننے سے محفوظ رہتے۔ قادیانی دہشت کا سب سے پہلا نشانہ شہید ملت لیاقت علی خان ہی بنے۔

لیاقت علی خان اور قادیانیت: پاکستان کے پہلے وزیراعظم لیاقت علی خان کے قادیانی قاتل کا ذکر کرنے سے پہلے اس قتل کی وجہ بیان کر دینا زیادہ ضروری سمجھتا ہوں۔ حضرت امیر شریعت السید عطاء اللہ شاہ بخاری نے خطیب پاکستان قاضی احسان احمد شجاع آبادی کو حکم دیا کہ وزیراعظم پاکستان لیاقت علی خان سے ملاقات کر کے انہیں قادیانیوں کی خرمستیوں اور سیاسی قلابازیوں سے آگاہ کریں۔ لہٰذا ملاقات کے لئے صرف پانچ منٹ کا وقت دیا گیا۔ لیکن جب قاضی صاحب نے قادیانیت کے سربستہ رازوں کی گرہیں کھولیں تو لیاقت علی خان ششدر رہ گئے اور یہ پانچ منٹ کی ملاقات ڈھائی گھنٹے میں بدل گئی اور پھر لیاقت علی خان نے بھرائی ہوئی آواز میں کہا۔ اب یہ بوجھ میرے کندھوں پر آن پڑا ہے۔

سیالکوٹ میں قاضی صاحب کی لیاقت علی خان سے آخری ملاقات ہوئی اور اس بارے میں ایک روایت یہ بھی ہے کہ لیاقت علی

صفحہ ٦٩

تحریک ختم نبوت جلد (٦) ١٩٩٢ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

خان نے ظفر اللہ کو وزارت خارجہ کے عہدے سے الگ کرنے کا فیصلہ بھی کر لیا تھا اور راولپنڈی کے ایک جلسۂ عام میں وہ اس کا اعلان کرنے والے تھے۔ ادھر تمام قادیانی تخریب کار اذہان اکٹھے ہوئے اور لیاقت علی خان کے قتل کا گھناؤنا منصوبہ تیار کر لیا گیا۔ اس ڈرامے کا مرکزی کردار ظفر اللہ خان ہی نے ادا کیا اور میدانِ عمل میں کودنے کے لئے اس کی نظر اپنے لے پالک جیمز کنزے پر ٹھہری۔ ١٩٨٦ء میں قومی اخبارات اور کراچی سے شائع ہونے والے ایک ہفت روزہ جریدے تکبیر بابت ٨؍ مارچ ١٩٨٦ء میں پاکستان کے مشہور سراغ رساں جیمز سالومن ڈسٹنٹ کی یادوں کے حوالے سے ایک چونکا دینے والا انکشاف شائع ہو چکا ہے۔ جس پر ملک بھر کے حلقے حیرت زدہ رہ گئے۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ پاکستان کے پہلے وزیر اعظم لیاقت علی خان کو سید اکبر نے نہیں بلکہ ایک جرمن قادیانی جیمز کنزے نے قتل کیا۔ جیمز سالومن کے بقول کنزے جلسۂ عام میں بالکل سٹیج کے قریب ہی بیٹھا ہوا تھا۔ اس نے پٹھانوں والا لباس پہن رکھا تھا جونہی شہید ملت لیاقت علی خان سٹیج پر تشریف لائے۔ کنزے نے فائرنگ کر کے انہیں شہید کر دیا اور شور و غل میں سید اکبر کو قاتل مشہور کر دیا گیا اور پھر ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت اسے بھی قتل کروا دیا گیا۔ اس واقعہ سے یہ بات بھی ثابت ہوتی ہے کہ قادیانیوں کے نزدیک ادنیٰ سے اعلیٰ تک تمام مسلمان ان کے دشمن اور حریف ہیں اور پھر مرزا بشیر الدین کے وہ الفاظ جو ابتداء ہی میں میں عرض کر چکا ہوں۔ وہ یہ کہ تمام دنیا کو اپنا دشمن سمجھیں۔ یہ واقعہ اس قول کا عملی نمونہ تھا۔ کنزے راولپنڈی سے فرار ہو کر ربوہ پہنچا۔ اس کے بعد وہ مغربی جرمنی فرار ہو گیا اور پھر ہمیشہ کے لئے مغربی جرمنی کے شہر برلن میں مقیم ہو گیا۔

ظفر اللہ قادیانی پاکستان کا وفادار یا قادیانیت کا نمک خوار: ظفر اللہ کی رہنمائی میں اسی دور میں قادیانیوں کو اسلامی جمہوریہ پاکستان میں پاؤں پھیلانے کا پورا پورا موقع فراہم کیا گیا۔ شہر بہ شہر، قریہ بہ قریہ قادیانیوں کے کھلم کھلا جلسے جلوس اور دہشت گردی اپنے عروج کو چھونے لگی۔ ان جلسے اور جلوسوں کی قیادت پاکستان کے اعلیٰ عہدوں پر فائز قادیانی افسران ہی کیا کرتے تھے۔ یہ کھلے بندوں تبلیغ ہی نہیں بلکہ علماء کرام اور مسلمان اکابرین کو گولیوں سے بھی نوازنے لگے۔ قادیانیوں کی چیرہ دستیوں سے ہل چل مچی اور بالآخر مسلمانوں کو تحفظ ناموس رسالت کے لئے یکجا ہو کر میدانِ عمل میں اترنا پڑا۔ اس پر قادیانی خلیفہ اس قدر آپے سے باہر ہوا کہ تقریروں اور تحریروں میں اس نوعیت کے اعلانات ہونے لگے گویا مسلم قوم اس کی غلام اور زر خرید ہے۔

وقت آنے والا ہے جب یہ لوگ مجرموں کی حیثیت سے میرے سامنے پیش ہوں گے۔ ہم فتح یاب ہوں گے۔ ضرور تم مجرموں کی طرح ہمارے سامنے پیش ہوگے۔ اس وقت تمہارا حشر وہی ہوگا جو فتح مکہ کے دن ابو جہل اور اس کی پارٹی کا ہوا تھا۔

(الفضل مورخہ ٣؍ جنوری ١٩٥٣ء)

تحریک ختم نبوت ١٩٥٣ء: آخر مسلمان کب تک خاموش رہتے پانی جب سر سے گزرنے لگا تو مسلمان عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ کے لئے مقابلے پر اتر آئے اور کفر کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر جواب دینا شروع کیا۔ نتیجے میں کوئٹہ میں ایک گستاخ کرنل اور اوکاڑہ میں ایک قادیانی مدرس قتل ہوئے تو خلیفہ نے اعلان کر دیا۔ ”سید عطاء اللہ شاہ بخاری، ملا احتشام الحق تھانوی، ملا مودودی، ملا عبد الحامد بدایونی اور ملا محمد شفیع دیوبندی سے خون کا بدلہ لیا جائے گا۔“

(الفضل مورخہ ١٥؍ جنوری ١٩٥٣ء)

انتقام کی آگ گویا ان کی رگ عداوت میں بھڑک اٹھی تھی۔ قادیانیوں کی شر انگیزیاں جب اپنے شباب کو پہنچیں اور معاملہ جب حد سے گزرا تو مسلمان اپنے تمام فروعی اختلافات بھلا کر ناموس رسالت ﷺ کے تحفظ کے لئے یکجا ہو گئے اور حکومت کے سامنے متفقہ طور پر یہ مطالبات رکھ دیئے۔

صفحہ ۷۰

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۲ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

افسوس صد افسوس! کہ کوئی شنوائی نہ ہوئی۔ مجبوراً راست اقدام کے نام سے تحریک کا آغاز ہوا۔ ارباب اقتدار نے جن کی اکثریت کی فطرت برطانوی استعمار کے سانچے میں ڈھلی ہوئی تھی اور غلامی کا خمار ہنوز باقی تھا۔ نہ مطالبات منظور کئے، نہ اس کے مضمرات پر غور کیا اور نہ ہی افہام و تفہیم کا دروازہ کھولا بلکہ مسئلہ کو ذاتی توہین بنا کر تحریک کے زعماء کو جیلوں میں ڈالنا شروع کر دیا۔ جس کے نتیجے میں غم وغصہ کی لہر اٹھی۔ فسادات رونما ہوئے اور سارا پنجاب قادیانیوں کی بھڑکائی ہوئی اس آگ میں جلنے لگا۔ پھر کیا تھا مارشل لاء لگا دیا گیا۔ اپنے بھائیوں کو اپنے ہی بھائیوں سے لقمہ اجل بنوایا گیا۔ سکندر مرزا جو اس وقت ڈیفنس سیکرٹری تھا۔ حکم پہ حکم صادر کر رہا تھا کہ شمع رسالت کے پروانوں کو بھون ڈالو۔ دل کھول کر ان کے خون سے ہولی کھیلو۔ اس تحریک میں مرزائی اوباشوں نے بارہ ہزار سے زائد عاشقان مصطفیٰؐ کو خاک و خون میں تڑپا دیا۔ ایک لاکھ مسلمان اس تحریک میں گرفتار ہوئے۔ دس لاکھ مسلمان متاثر ہوئے۔ مرزائی بدمعاشوں نے فوجی گاڑیوں اور فوجی وردیوں میں مسلمانوں کے خون ناحق سے لاہور میں جو ہولی کھیلی اس سے کائنات کا ذرہ ذرہ کانپ اٹھا۔ لیکن قادیانیت نوازی جاری رہی۔ شہداء ختم نبوت کی مقدس لاشوں کو کمیٹی کے کوڑا کرکٹ اٹھانے والے ٹرکوں میں لاد لاد کر دریا برد کیا جاتا رہا۔ راوی خون کے آنسو رو رہا تھا۔ لیکن ابلیس کی ذریت اپنی فتح پر خوشی کے شادیانے بجا رہی تھی۔

نور خدا ہے کفر کی حرکت پہ خندہ زن پھونکوں سے یہ چراغ بجھایا نہ جائے گا

اسباب تحریک ختم نبوت ۱۹۵۳ء: ۱۹۵۳ء کی تحریک ختم نبوت کے سلسلہ میں منیر انکوائری کمیٹی کے جج صاحبان کا تجزیہ پیش کرنا ضروری سمجھتا ہوں جو باوجود چشم پوشی اور رو رعایت کے یہ تسلیم کئے بغیر نہ رہ سکے کہ قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے اور چوہدری ظفر اللہ کو برطرف کرنے کے مطالبات اور محرکات قادیانیوں کی شر انگیز سرگرمیاں ہی تھیں۔ جن کی وجہ سے مسلمانوں کی جملہ مذہبی سیاسی انجمنیں اور عوام یک زبان ہو گئے تھے۔

رپورٹ کے صفحات ۲۶۲/۲۶۱ پر بڑے محتاط انداز میں یہ الفاظ موجود ہیں۔ ’’مطالبہ کے محرکات قادیانیوں کے مختلف عقائد اور مسلمانوں کے خلاف ان کی جارحانہ کارروائیاں تھیں۔ برطانیہ کی سرپرستی میں ان کی کھلی چھٹی تھی لیکن قادیانیوں نے تقسیم کے بعد بدلے ہوئے حالات میں بھی اپنی حماقتوں سے مسلمانوں کے خلاف ریشہ دوانیاں جاری رکھیں۔ عامۃ المسلمین سے چھیڑ چھاڑ مسلم علاقوں میں مرزائی مبلغین کا جانا اور سرکاری شعبوں میں جو قادیانی افسروں کے ماتحت تھے، میں قادیانیت پھیلانے کی مہم تیز تر کر دی۔ برملا مرزا غلام احمد قادیانی کے نہ ماننے والوں کو دشمنوں اور مجرم جیسے القابات سے مخاطب کرنے لگے۔ قادیانی افسران کھلے عام تبلیغی جلسوں کی صدارت اور شرکت کر کے قادیانیت کا پروپیگنڈہ کرتے مرزا بشیر الدین قادیانی خلیفہ کی وہ تقریر جو اس نے کوئٹہ میں کی تھی، شر انگیز اور نا عاقبت اندیشانہ تھی۔ قادیانیت کے خلاف ملک میں جو ہمہ گیر تحریک اٹھی اس میں عوام کے قادیانیوں کے مخالف طرز عمل کا بڑا دخل تھا۔‘‘

اس اقتباس کو اگر آسان الفاظ میں لکھا جائے تو میں یوں لکھوں گا کہ ۱۹۵۳ء کی تحریک ختم نبوت میں جام شہادت نوش کرنے والے بارہ ہزار عاشقان مصطفیٰؐ کے قاتل قادیانی غنڈے ہیں۔ قادیانی ارباب اختیار جہاں کبھی حکومتی اقتدار حاصل کر کے ہٹلر اور میسولینی کی

صفحہ ۷۱

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۲ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

یاد تازہ کرنے کے خواب دیکھا کرتے تھے ۱۹۵۳ء میں اقتدار حاصل کئے بغیر وہ فعل شنیعہ کر گزرے کہ ہلاکو خان اور چنگیز خان شرما گئے۔

اے رب اب دنیا میں شیطان کی ضرورت نہیں رہی بربادی انسان کے لئے انسان ہی بہت ہے

مشرقی پاکستان کی علیحدگی اور قادیانیت کی چال: میں عرض کر چکا ہوں کہ حصول اقتدار قادیانیوں کا سب سے بڑا مقصد اور ہدف تھا۔ کبھی ان کی بچھونما زبان بلوچستان کی سلامتی کے خلاف زہر اگلتی رہی تھی لیکن اس وقت منہ کی کھائی تا کہ قادیانیت کا یہ زہر مشرقی پاکستان کی علیحدگی کا سبب بن گیا اور ہم سے ہمارا ایک بازو کاٹ دیا گیا۔ جب مشرقی پاکستان علیحدہ ہوا تو ہر پاکستانی خون کے آنسو رو رہا تھا لیکن قادیانی فخر سے گردن اکڑا کر چلتے تھے۔ ابھی تک ہزاروں گواہ موجود ہیں جنہوں نے دیکھا کہ بنگلہ دیش بن گیا تو ربوہ اور لاہور میں مرزائیوں نے خوشی کا اظہار کیا اور مٹھائی تقسیم کی اور اپنے مکانوں پر جشن چراغاں کیا اور قادیانی غنڈے شب بھر سڑکوں پر رقص کر کے محبّ وطن پاکستانیوں کے زخموں پر نمک چھڑکتے رہے۔ راؤ فرمان علی جو مشرقی پاکستان میں گورنر کے مشیر تھے۔ انہوں نے ایک بیان میں کہا تھا کہ ”مشرقی پاکستان کی علیحدگی کی سب سے بڑی وجہ عظیم قادیانی ریاست کے قیام کا نظریہ تھا۔ بنگالیوں کی علیحدگی کے کئی عوامل تھے جن میں غربت محرومی عدم مساوات پسماندگی اور ذرائع مواصلات کا فقدان شامل تھے۔ ان تمام عوامل کے پیدا کرنے میں قادیانی امت کے فرزند ایم. ایم احمد قادیانی کے کمالات پوشیدہ تھے۔

ایم. ایم احمد نے منصوبہ بندی کمیشن کے ڈپٹی چیئرمین کی حیثیت سے مشرقی پاکستان کے لئے ایسی حکمت عملی وضع کی کہ جس سے بنگالی اپنی معاشی زندگی کے ہاتھوں بیزار ہو کر ہمارے دشمن ہونے لگے۔ اس نے مشرقی پاکستان کے سیلاب زدگان اور مصیبت زدگان کو سرکاری امداد سے محروم رکھا اور مغربی پاکستان کے خلاف پروپیگنڈہ کے بہترین مواقع فراہم کئے۔ اس طرح قادیانی امت کے اس ناسور نے نہایت فنکاری اور عیاری سے مشرقی پاکستان کی علیحدگی کی بنیاد رکھ دی۔ عوامی لیگ کے رہنما شیخ مجیب الرحمٰن مرحوم نے ۱۹۷۰ء میں اپنی انتخابی مہم سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ میں اگر برسر اقتدار آ گیا تو ڈپٹی چیئرمین پلاننگ ایم. ایم احمد قادیانی کو مشرقی پاکستان کے ساتھ معاشی ناانصافیوں کے الزام میں سرنگاپٹم کے سٹیڈیم میں الٹا لٹکا کر پھانسی دوں گا۔

(ترجمان: اہل سنت ختم نبوت نمبر کراچی)

۱۹۶۵ء کی جنگ اور قادیانیت کی غداری: جہاں تک قادیانیوں کا ہاتھ پہنچا ہے مرزائی روایات کو ملحوظ رکھتے ہوئے مسلمانوں کو زک پہنچانا انہوں نے اپنا نصب العین سمجھا ہے اور سچ تو یہ ہے کہ یہ جہاں جائیں بچھو کی طرح ڈنگ مارنا ان کی جبلت میں داخل ہے۔ ۱۹۶۵ء کی جنگ ہی کو لے لیجئے۔ یہ بھی قادیانیوں کی ایک گہری سازش کا نتیجہ تھا۔ جس میں بے گناہ مسلمان بھارتی جارحیت کا نشانہ بنے اور اسلام کے کئی فرزندوں نے جام شہادت نوش کیا اور پھر اس پر طرہ یہ کہ جنگ کے دوران سارے ملک میں بلیک آؤٹ رہتا تھا لیکن ربوہ ایک ایسی جگہ تھی۔ جہاں بلیک آؤٹ کی صریحاً خلاف ورزی کی جاتی رہی۔ ربوہ میں بلیک آؤٹ کی خلاف ورزی اس بات کا بیّن ثبوت تھا کہ ربوہ کی روشنیاں بھارتی طیاروں کو سرگودھا کے ہوائی اڈے کا محل وقوع بتانے کے لئے تھیں اور پس منظر اکھنڈ بھارت کا نظریہ تھا۔ سرگودھا اندھیروں میں بھی دشمن کے نشانوں کا شکار ہوتا رہا۔ جب کہ ربوہ فضاء میں بکھری ہوئی روشنیوں کے باوجود محفوظ رہا۔

قادیانیت حکومت وقت کے لئے چیلنج: ایئر فورس پر یلغار پاکستان فضائیہ کے سابق سربراہ ایئر مارشل ظفر چوہدری ایک تنگ نظر اور متعصب قادیانی کے توسط سے کی گئی اور محکمہ دفاع کے بعض اہم اور نازک عہدوں پر براجمان ہوئے۔ کہوٹہ پلان کے راز کا افشاء بری فوج کے کلیدی عہدوں پر اکھنڈ بھارت کے نظریے کے باوجود اور مرزا غلام احمد قادیانی کے الہامی حکم جہاد کی تنسیخ کی گرفت کے ساتھ یہ سب

صفحہ ۷۲

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۲ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

کچھ اور بہت اس کے علاوہ کیا ۔ یہ ملک دشمنی نہیں ہے۔ قادیانیوں کی سو سالہ غداری اور دہشت گردی کی داستان کس سے پوشیدہ ہے؟ ایسے کھلے دشمنوں پر بھروسہ کرنا اور دوست سمجھنا کہاں کی دانشمندی ہے؟

ارباب اقتدار عقل کے ناخن لیں

قرآن کریم میں ارشاد باری تعالیٰ ہے۔ اے ایمان والو! مت بھیدی بناؤ۔ اپنے غیروں میں سے وہ کمی نہیں کرتے ہیں۔ تمہاری خرابی میں سے ان کو خوشی ہے۔ تم جس قدر تکلیف پاؤ۔ نکل پڑتی ہے۔ دشمنی ان کی زبان سے اور جو ان کے دلوں میں ہے وہ اس سے بھی سوا ہے۔

(سورة آل عمران: ۱۱۸)

راولپنڈی، اسلام آباد ایمونیشن ڈپو (سانحہ اوجڑی کیمپ) میں جب خوفناک دھماکہ ہوا جس میں ہزاروں پاکستانیوں کی ہلاکت اور اربوں روپوں کا اسلحہ تباہ ہوا جو ایک ناقابل فراموش المیہ تھا۔ جس پر ہر آنکھ نم تھی لیکن قادیانیوں نے ملتان میں اپنی عبادت گاہ میں جلسہ کیا اور اس واقعہ پر باقاعدہ نماز شکرانہ کا بھی اہتمام کیا۔ ایک روایت کے مطابق اس روز راولپنڈی اسلام آباد میں کوئی قادیانی موجود نہیں تھا اور اگر یہ سچ ہے تو اس میں بھی شبہ نہیں ہو سکتا کہ اس عظیم سانحہ میں بھی قادیانی تخریب کاری اور دہشت گردی پوشیدہ ہے۔ (واللہ اعلم) قادیانیوں کی دہشت گردی اور جارحیت کا ایک رخ تو یہ تھا دوسرا رخ اس سے بھی زیادہ خطرناک اور بھیانک ہے۔

تحریک ختم نبوت ۱۹۷۴ء کے اسباب: ۲۹ مئی ۱۹۷۴ء کا دن اس کا واضح ثبوت ہے۔ ۲۲ مئی ۱۹۷۴ء کا دن تھا جب نشتر میڈیکل کالج ملتان کے طلباء صوبہ سرحد کے مطالعاتی دورہ پر روانہ ہوئے۔ جب گاڑی ربوہ (چناب نگر) ریلوے اسٹیشن پر رکی تو وہاں قادیانیوں نے رسالہ الفضل کے پرچے تقسیم کرنا شروع کر دیئے۔ اس پر شمع ختم نبوت کے پروانوں کا خون کھول اٹھا اور انہوں نے اس منحوس رسالے کے پرچے پھاڑ دیئے اور تاج و تخت ختم نبوت زندہ باد کے نعرے لگائے اور عشق نبی کا عملاً اظہار کیا۔ تھوڑی دیر بعد گاڑی چل پڑی لیکن اس واقعہ نے قادیانیوں کے جذبہ انتقام کو بھڑکا دیا اور انہوں نے طے کر لیا کہ واپسی پر ختم نبوت کے پروانوں کو اس کی سزا ضرور دی جائے گی۔

۲۹ مئی کو جب چناب ایکسپریس کی بوگی کہ جس کے ذریعہ طلباء واپس ملتان جا رہے تھے، گاڑی جب سرگودھا اسٹیشن پر رکی تو وہاں سے پچاس ساٹھ قادیانی شرپسند مکمل تیاری کے ساتھ گاڑی میں سوار ہو گئے۔ گاڑی ربوہ اسٹیشن پہنچی تو وہاں ایک منظم پروگرام کے ساتھ مرزا طاہر کی قیادت میں دو ہزار قادیانی غنڈے پہلے سے موجود تھے۔ جنہوں نے گاڑی رکتے ہی احمدیت زندہ باد کا نعرہ لگایا اور نہتے طلباء پر ٹوٹ پڑے اور طلباء کو آہنی سلاخوں، مکوں، ہاکیوں اور ڈنڈوں سے شدید زدوکوب کیا۔ ان کے منہ میں پیشاب کیا۔ اس تشدد میں بہت سے طلباء شدید زخمی ہوئے۔

تحریک ختم نبوت ۱۹۷۴ء کے شاندار نتائج: کفر آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر ضد پر اتر آیا تھا اور جب کفر ضد پر اتر آئے تو پھر بدر ہے، خندق ہے، احد ہے اور حکم ہے یہودیت اور نصرانیت جزیرہ عرب سے نکل جائے۔ (فاروق اعظم ؓ) اسی سیرت کی پیروی میں ایک بار پھر تحریک ختم نبوت چلی۔ بالآخر ۷ ستمبر ۱۹۷۴ء کو پاکستان کی قومی اسمبلی نے ایک ترمیمی بل کے ذریعے مرزائیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا۔

ذوالفقار علی بھٹو اور قادیانیت: مرزائیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیتے وقت سابق وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو نے کہا تھا کہ میں آج اپنی موت کے پروانے پر دستخط کر رہا ہوں اور پھر زمانے نے دیکھا کہ نواب محمد احمد خان کے مقدمہ قتل میں جناب ذوالفقار علی بھٹو پر محمود

صفحہ ۷۳

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۲ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

قادیانی وعدہ معاف گواہ بنا اور یہ بھی ایک واضح حقیقت ہے کہ بھٹو کے زوال میں اس کے خفیہ ہاتھوں کا گہرا تعلق تھا۔ اس کی وجہ سے ہی سزائے موت ہوئی۔ اس موقع پر ظفر اللہ خان نے اپنی ننگ فطرت اور خبث باطنی کا اظہار کرتے ہوئے ایک محفل میں کہا کہ بھٹو کا باون سال کی عمر میں مرنا مرزا غلام احمد قادیانی کی صداقت کی دلیل ہے کیونکہ مرزا قادیانی نے کہا تھا کہ باون سال کی عمر میں ایک کتا، کتے کی موت مرے گا۔

(ہفت روزہ ختم نبوت انٹرنیشنل کراچی مؤرخہ ۲۶؍ جون تا ۲؍ جولائی ۱۹۸۰ء)

(کتا، کتے کی موت مرے گا۔ لاہوری مرزائیوں نے مرزا کی یہ پیش گوئی مرزا محمود پر فٹ کی باون سال کی عمر میں تو لوگ مرتے ہیں ۔ یہ باون سالہ زندگی خصوصی باون سالہ زندگی ہے اور یہ مرزا محمود کی نام نہاد باون سالہ خلافت کی زندگی مراد ہے۔ لہٰذا مرزا باون سالہ خلافت کی عمر میں مر کر کتا کتے کی موت مر گیا۔ مرزا محمود کتا تھا۔ وہ بھونک بھونک کر مر گیا۔ یہ لاہوری مرزائیوں نے کہا: کاش قادیانی قیادت بھٹو صاحب پر یہ فٹ کرنے کی بجائے اپنے گھر کے کتے کی موت مرنے کی خبر لیتے)

حالانکہ سابق وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو نے قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دے کر وہ تاریخی کارنامہ سرانجام دیا تھا کہ رہتی دنیا تک یاد رکھا جائے گا اور ان کی یہ شاندار خدمت تاریخ اسلام میں سنہری حروف میں لکھے جانے کے قابل ہے۔

تحریک ختم نبوت ۱۹۸۴ء: قادیانیوں کو کافر قرار دیئے جانے کے بعد صدر پاکستان جنرل محمد ضیاء الحق نے ۲۶؍ اپریل ۱۹۸۴ء کو امتناع قادیانیت آرڈیننس جاری کر کے قادیانیوں کی بولتی بند کر دی۔ تب سے قادیانی جنرل ضیاء کے بھی دشمن ہو گئے۔ امتناع قادیانیت آرڈیننس اس کے نفاذ کا سبب تحریک ختم نبوت ۱۹۸۴ء بنی ۱۷؍ فروری ۱۹۸۴ء کو سیالکوٹ سے معراج کے خطبہ جمعہ کے لئے جاتے ہوئے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت سیالکوٹ کے مبلغ مولانا محمد اسلم قریشی کو قادیانیوں نے اغواء کر لیا۔ مقامی پولیس نے قادیانیت نوازی کے باعث عملاً ان کے اغواء کی رپورٹ درج کرنے میں تاخیر کی۔

رپورٹ میں قادیانی مجرموں کے نام حکومتی قادیانی نواز ارکان نے نہ آنے دیئے۔ ان کے اغواء کے واقعہ کا عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت نے سنجیدگی سے نوٹس لیا۔ امت کے تمام طبقات کو آل پارٹیز مرکزی مجلس عمل تحفظ ختم نبوت کے پلیٹ فارم پر حضرت اقدس خواجہ خان محمد صاحب مدظلہ کی سربراہی میں متحد کیا گیا۔ کراچی سے خیبر تک رائے عامہ بیدار ہوئی اور زبردست جلسے اور کانفرنسیں منعقد کی گئیں۔ اس دوران مرزائیوں کا گرو گھنٹال مرزا طاہر خفیہ طریقے سے ملک سے بھاگ گیا اور اس وجہ سے بھاگا کہ اس واقعہ میں ملوث ہونے کے جرم میں گرفتاری کا خطرہ لاحق ہو چکا تھا۔ بقول شاعر ختم نبوت سید امین گیلانی ؎

چھوڑ کے سارے سانپ سپیرا بھاگ گیا

ان سانپوں کا زہر ربوہ جو قادیانی سٹیٹ ہے وہاں ایک مسلم امام مسجد کے مار مار کر دانت توڑنے کے باعث بنا۔ قادیانی مسلم کالونی میں طلباء اور اساتذہ پر کلہاڑیاں لے کر حملہ آور ہوئے اور فحش گالیاں بکیں۔ قادیانی غنڈوں نے مولانا اللہ یار ارشد کے ساتھ بدسلوکی کی۔ جب کہ قتل کا عملی مظاہرہ یوں ہوا کہ چیچہ وطنی میں ایک، ساہیوال میں دو، پنو عاقل سکھر میں دو، میر پور خاص اور قاضی احمد نواب شاہ میں ایک ایک مسلمان کو شہید کیا گیا۔ پنو عاقل سکھر کے واقعہ میں مرزائی قاتلوں کے خلاف عدالت نے سزائے موت کا فیصلہ بھی دیا۔

جنرل ضیاء الحق اور قادیانیت: عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان کے ترجمان (ہفت روزہ ختم نبوت انٹرنیشنل کراچی ج ۷ ش ۸، بابت ۱۵؍ تا ۲۱؍ جولائی ۱۹۸۸ء) نے اپنے پرچے میں جنرل محمد ضیاء الحق کی وفات سے قبل انہیں خبردار کرتے ہوئے ایک یادگار اور قادیانیت کی

صفحہ ۷۴

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۲ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

تخریب کارانہ روایات کے پیش نظر ایک اداریہ لکھا جو مباہلہ کا چیلنج نہیں صدر ضیاء کے لئے خطرے کی گھنٹی کے نام سے معنون تھا۔ جس کا مضمون کچھ یوں تھا۔

مرزا طاہر نے تمام مخالفین کو مباہلے کا چیلنج دے دیا اور بطور خاص صدر پاکستان جنرل محمد ضیاء الحق کا نام لیا۔ دراصل مرزا طاہر نے جو مباہلہ کا چیلنج دیا ہے۔ اس کا ایک پس منظر ہے اور وہ یہ کہ اس چیلنج میں بطور خاص مرزا طاہر نے صدر جنرل محمد ضیاء الحق کا نام لیا ہے۔ مرزا طاہر کے ذہن میں یہ بات ہے کہ صدر پاکستان کو کرسی صدارت سنبھالے ۔ تقریباً بارہ سال ہو چکے ہیں۔ ملک کے اندرونی حالات درست نہیں۔ امن وامان کی صورتحال نا گفتہ بہ ہے۔ سیاسی جماعتیں صدر ضیاء سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کر رہی ہیں۔ ایسے میں (مرزا طاہر کے خیال کے مطابق) صدر ضیاء کا اقتدار اب چند روز کا مہمان ہے لہٰذا اس مباہلہ کا پس منظر یہ ہوا۔

اقتدار انہی کے پیشوا کی بددعا کا نتیجہ ہے اور یہ ایک نشان ہے جو ان کے خیال کے مطابق خدا کی طرف سے ظاہر ہوگا۔

منصوبہ بنایا ہوا ہو اور مرزا طاہر نے اسی بنیاد پر یہ چیلنج دیا ہو۔ بہرحال یہ بات طے شدہ ہے کہ کوئی شخص ہمیشہ کے لئے اپنے نام اقتدار الاٹ کروا کر نہیں آتا جو آیا ہے اسے بہرحال جانا ہے۔ صدر ضیاء کا اقتدار ایک نہ ایک روز ضرور ختم ہونا ہے لیکن مرزائی آفیسر صدر ضیاء کے اقتدار کے خلاف مرزا طاہر کی ہدایت پر منصوبہ بنا چکے ہیں اور صدر ضیاء مرزائیوں کے نرغے میں ہیں کسی بھی وقت کوئی حادثہ رونما ہو سکتا ہے۔ اس لئے صدر ضیاء الحق کو چاہئے کہ وہ مباہلہ پر نہیں بلکہ اس کے پس منظر پر غور کریں۔

سانحہ سی ۱۳۰ / قادیانیت اور رائے عامہ : اس تاریخی اداریہ کے تقریباً ایک ماہ بعد ۱۷/اگست ۱۹۸۸ء کو جنرل محمد ضیاء الحق طیارے کے ایک حادثہ میں شہید کر دیئے گئے اور پھر اس المناک حادثہ کے دو دن بعد ۱۹/اگست ۱۹۸۸ء کو قادیانی جماعت کے سربراہ مرزا طاہر نے قادیانیوں کی مرکزی عبادت گاہ واقع لندن میں خطبہ جمعہ میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ صدر جنرل محمد ضیاء الحق کی موت ہمارے مباہلہ کے نتیجہ میں آئی ہے اور یہ ہماری احمدیت (نام نہاد) کی صداقت کا نشان ہے۔

روزنامہ جسارت کراچی کی اطلاع کے مطابق قادیانی جماعت کے سربراہ مرزا طاہر احمد نے صدر ضیاء الحق کے طیارے کو کریش کرنے کی ذمہ داری قبول کرنے کا اعلان کیا ہے۔ جمعہ ۱۳/اگست ۱۹۸۸ء کے خطبہ میں مرزا طاہر نے واضح طور پر کہا تھا کہ اگر ضیاء الحق نے احمدیوں پر ظلم وتشدد بند نہ کیا اور زیادتیاں کرنے سے باز نہ آیا تو خدا اسے پکڑے گا اور وہ خدائی عذاب سے نہ بچ سکے گا۔ اللہ تعالیٰ اسے لازماً سزا دے گا۔

سانحہ بہاول پور کہ جس میں صدر پاکستان سمیت ۲۵ سے زائد اعلیٰ فوجی افسران تخریب کاری کا نشانہ بنے اس سانحہ کے بارے میں چند ذمہ دار شخصیات جن میں صدر پاکستان غلام اسحاق خان، جنرل مرزا اسلم بیگ، سابق وفاقی وزیر محمد اسلم خٹک تحریک استقلال کے چیئرمین اور فضائی امور کے ماہر ریٹائرڈ ایئر مارشل اصغر خان، جہاد افغانستان کے راہنما گل بدین حکمت یار اور سابق وزیر داخلہ نسیم احمد آہیر کے علاوہ پاکستان سینٹ کے ایک اجلاس میں ۲۴ مقررین نے اس عظیم سانحہ کو کھلی ہوئی دہشت گردی اور تخریب کاری قرار دیا۔ برطانیہ کے مشہور جریدہ اکانومسٹ کے تجزیہ نگار نے سی ۱۳۰ کی تباہی کو تخریب کاری کا نتیجہ قرار دیتے ہوئے لکھا ہے کہ ایسا محفوظ طیارہ کسی فنی خرابی کی وجہ سے تباہ نہیں ہو سکتا۔ یوں تو یہ اتفاقی حادثہ نہیں بلکہ سوچی سمجھی سازش اور تخریب کاری ہے۔ نیوز ویک کے تجزیہ نگار نے لکھا ہے پاکستان

صفحہ ۷۵

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۲ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

میں ان کے سیاسی اور مذہبی مخالفین بھی اس تخریب کاری کے ذمہ دار ہو سکتے ہیں۔ ماہ نامہ اردو ڈائجسٹ کے ضیاء الحق شہید نمبر میں ملک کے معروف محقق ادیب ستار طاہر نے اپنے تجزیہ میں لکھا ہے کہ پاکستان میں ضیاء دشمن عناصر کو بھی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ ممکن ہے ایسے ہی کسی ملک دشمن گروہ یا کسی غیر ملک سے گٹھ جوڑ اس خوفناک سازش کا باعث بنا ہو۔ جناب ادیب جاودانی نے اس سانحہ پر تبصرہ کرتے ہوئے اپنے ماہنامہ میں یوں لکھا ہے تمام قرائن و شواہد اس امر کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ طیارہ باہر سے نہیں اندر سے تباہ ہوا ہے اور ایک بڑا امکان جسے نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ یہ ہے کہ جہاز تباہ کرنے والا شخص طیارے کے اندر موجود تھا اور اس نے اپنے نصب العین کے لئے طیارے کو تباہ کر دیا اور اس حقیقت سے کسی کو انکار نہیں کہ بریگیڈیئر لطیف قادیانی اس پرواز پر جنرل ضیاء الحق کے ساتھ سوار تھا اور پھر اس میں بھی شک نہیں ہونا چاہئے کہ اس نے اپنے روحانی پیشوا مرزا طاہر احمد کی پیش گوئی کو سچا ثابت کرنے اور قادیانیوں کی اسلام دشمن سرگرمیوں کو پٹہ ڈالنے والے صدر کو ختم کرنے کے لئے قربانی دی ہو۔ بریگیڈیئر لطیف قادیانی کی قبر آج لاہور میں واقع قادیانی قبرستان میں موجود ہے۔

قادیانیت کا بے نظیر بھٹو کو انتباہ: ذوالفقار علی بھٹو اور جنرل محمد ضیاء الحق سے قادیانی دشمنی روزنامہ نوائے وقت لاہور کے ۱۱؍ جولائی ۱۹۹۰ء کے اخبار میں چھپنے والی اس خبر سے مزید عیاں ہو جاتی ہے۔ وزیر اعظم بے نظیر بھٹو کی حکومت پاکستان میں مرزائیوں کے خلاف سخت اقدامات کرنے والی ہیں۔ اس امر کا انکشاف کینیڈا سے شائع ہونے والے اخبار نیوکینیڈا نے اپنے ایک اداریئے میں کیا ہے۔ یہ اخبار امریکہ اور کینیڈا میں قادیانیوں کے ہیڈ کوارٹر کا ترجمان ہے۔ اخبار نے اپنے اداریئے میں لکھا ہے کہ بے نظیر نے ملائیشیاء کے ایک اخبار میں انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ وہ قادیانیوں وغیرہ سے جلد جان چھڑا لیں گی۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ ان کے خلاف سخت ترین اقدامات کرنے والی ہیں۔ نیوکینیڈا نے خبردار کیا ہے کہ بے نظیر حکومت نے اگر ایسی کوئی کارروائی کرنے کی کوشش کی تو یہ بے نظیر کا اپنی موت کے پروانے پر دستخط کرنے کے مترادف ہوگا۔ اخبار نے واضح کیا ہے کہ ان کے والد ذوالفقار علی بھٹو اور جنرل ضیاء الحق دونوں نے قادیانیوں کے خلاف جو اقدامات کئے۔ ان کی سزا وہ بھگت چکے ہیں اور بے نظیر کو اس سے سبق سیکھنا چاہئے۔

قادیانیت، علامہ اقبال کی نظر میں: اس خبر میں قادیانیوں کی روایتی تخریب کارانہ ذہنیت کے ساتھ اقبال جرم بھی موجود ہے۔ ان کا یہ انداز تشدد جرائم وسیع پیمانے پر دہشت گردی خوف و ہراس اور تخریب کاری آخر کس کی شہ پر ہے اور یہ طریقہ واردات آخر کہاں سے اڈاپٹ کیا گیا ہے۔ اس کا اگر جائزہ لیا جائے تو نگاہیں بے ساختہ اسرائیل کی طرف اٹھتی ہیں۔ اسرائیل سے قادیانیوں کا گٹھ جوڑ اور یہودیوں سے مل کر محمد عربی پر تنقید زن ہونا اور ان کی پاکستان دشمنی قطعی و دلائل سے ثابت کرنا چند سطور تک اپنے اوپر قرض سمجھتا ہوں۔ وہاں حکیم الامت حضرت اقبال کا قول پیش کر کے یہودی قادیانیت متحد مفادات پر مہر تصدیق ثبت کرنا بھی اپنا فرض سمجھتا ہوں۔ ”قادیانیت ظاہری طور پر اسلام کی چند صورتوں کو تو قائم رکھتی ہے۔ مگر باطنی طور پر اسلام کی روح اور مقاصد کے لئے انتہائی مہلک ہے۔ یہ اپنے اندر یہودیت کے اتنے عناصر رکھتی ہے۔ گویا تحریک یہودیت کی طرف رجوع کرتی ہے۔“

قادیانیت اور یہودیت: جس طرح قادیانیت کا ملت اسلامیہ اور ان کی سلطنتوں سے بیر کا باعث ان کا رسول محمد عربی پر بلا شرکت غیرے ایمان ہونا اور ملت کے ایک کھلے کذاب مرزا سے بیعت نہ کرنا ہے۔ اسی طرح یہودی بھی نبی کریم ﷺ سے ربط و الفت کے باعث مسلمانوں کے دشمن ہیں جس کا اظہار یہودی زعماء کے قول و عمل سے ہوتا رہتا ہے۔ مثال کے طور پر پروفیسر ہرٹز ایک یہودی فوجی ماہر نے لکھا ہے۔ پاکستانی فوج اپنے رسول محمد سے غیر معمولی عشق رکھتی ہے۔ یہی بنیاد ہے جس نے پاکستانی اور عربوں کے رشتے مستحکم کر رکھے ہیں۔ لہٰذا یہودیوں کو چاہئے کہ وہ ہر ممکن طریقے سے پاکستانیوں کے اندر سے رسول (ﷺ) کی محبت کا خاتمہ کریں۔ نوائے وقت

صفحہ ۷۶

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۲ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

۲۲؍ مئی ۱۹۷۲ء بحوالہ جیوش کرانیکل یہ فوجی ماہر کے خیالات تھے۔ اب ڈیوڈ گوریال اسرائیل کے سابق صدر کی تقریر پڑھئے۔ ”پاکستان کا فکری سرمایہ (اسلام) اور جنگی قوت ہمارے لئے آگے چل کر سخت مصیبت کا باعث بن سکتا ہے۔ لہٰذا ہندوستان سے گہری دوستی ضروری ہے بلکہ ہمیں اسی تاریخی عناد و نفرت سے بین الاقوامی دائروں کے ذریعے اور بڑی طاقتوں میں اپنے نفوذ سے کام لے کر ہندوستان کی مدد اور پاکستان پر بھر پور ضرب لگانے کا انتظام کرنا چاہئے۔ یہ کام نہایت راز داری کے ساتھ اور خفیہ منصوبوں کے تحت انجام دینا چاہئے۔ مندرجہ نوائے وقت ۳؍ ستمبر ۱۹۷۴ء، تقریر کا ایک ایک لفظ دعوت فکر دے رہا ہے۔ کیا یہ اکھنڈ بھارت اور انکار ختم نبوت کے نظریات نہیں ہیں۔ کیا مرزائی اب بھی مسلمان اور محب وطن اپنے آپ کو تصور کرنے کے حقدار ہیں؟

قادیانیت اور اسرائیل گٹھ جوڑ: یہودیوں سے ساز باز پر قادیانی کتابچہ ”آور فارن مشن“ کی یہ عبارت مزید روشنی ڈالتی ہے۔ ”۱۹۵۶ء میں ہمارے مبلغ چوہدری محمد شریف جماعت کے ہیڈ کوارٹر (ربوہ) آ رہے تھے کہ اسرائیل کے صدر نے انہیں پیغام بھیجا کہ جانے سے قبل مجھ سے ملاقات کر لیجئے گا۔“ ظاہر ہے کوئی خاص ہدایات ملی ہوں گی۔ آپ یہ پڑھ کر بھی حیران ہوں گے کہ ۱۹۷۲ء کی قومی اسمبلی میں مولانا ظفر احمد انصاری نے پارلیمنٹ کو یہ بتا کر حیران کر دیا تھا کہ: ”جہاں ننگ انسانیت یہودی درندے فلسطین اور دیگر عرب ممالک کے مسلمانوں کے مقدس خون سے ہولی کھیل رہے ہیں۔ وہاں چھ سو قادیانی فوج اسرائیلی فوج میں باقاعدہ بھرتی ہیں اور اس چنگیزی فعل میں یہودی درندوں سے بھی دو ہاتھ آگے ہیں۔“

اس سے ثابت ہوتا ہے کہ قادیانیوں کی تخریب کاری نے ساری دنیا کو اپنے جال میں پھانس رکھا ہے۔ نائیجیریا کے مشہور اسکالر اور ماڈرن ہسٹری کے پروفیسر ڈاکٹر ابراہیم طوما کا قادیانیوں کے حق میں جنوبی افریقہ کے یہودی جج کے فیصلے پر جسے اسرائیلی نشریات اور اخبارات نے خوب اچھالا تھا، تبصرہ کرتے ہوئے ایک خصوصی انٹرویو دیا جو بڑی اہمیت کا حامل ہے۔ اس کا خلاصہ درج ذیل ہے۔ ”مسلمانوں سے قادیانیوں کی دشمنی تو خمیر میں داخل ہے۔ پاکستان کا خصوصی ہدف ہے۔ انہوں نے کہا کہ نائیجیریا اور برطانیہ میں بعض نو مسلم حضرات نے قادیانیوں کے تازہ ترین فیصلوں سے باخبر کیا ہے کہ قادیانیوں نے پاکستان میں دہشت گردی باہمی نزاع فرقہ وارانہ و صوبائی و لسانی اختلافات کو ہوا دینے اور بے اطمینانی پھیلانے میں سرگرم عمل ہیں۔ پروفیسر صاحب نے بڑے درد اور نہایت تشویش کے ساتھ قادیانیوں کی اینٹی اسلام مہم کا ذکر کرتے ہوئے پاکستان کے علماء اور سربراہوں کو انتباہ کیا ہے کہ وہ فوری طور پر ان کی سرگرمیوں کا سنجیدگی سے جائزہ لیں۔ وہ کوشاں ہیں کہ پاکستان کی بیخ کنی کے لئے مشرقی پاکستان کے طرز پر تحریک چلائیں۔ انہوں نے یہ بھی بتایا ہے کہ نائیجیریا کے جھگڑے میں مسلمانوں کا جتنا خون بہا ہے اس میں اسرائیلی کارکنوں اور قادیانیوں کا برابر کا ہاتھ ہے۔ نائیجیریا کے ایک نو مسلم نے قادیانیت سے توبہ کی تو اسے قتل کر دیا گیا۔“

(مندرجہ روز نامہ نوائے وقت مورخہ ۱۸؍ ستمبر ۱۹۸۵ء)

جیسا کہ اس انٹرویو میں پروفیسر ڈاکٹر ابراہیم طوما صاحب نے جس تشویش کا اظہار کیا ہے کہ قادیانی پاکستان میں دہشت گردی باہمی نزاع فرقہ واریت صوبائی اور لسانی اختلافات کو ہوا دینے میں سرگرم عمل ہیں تو ڈاکٹر صاحب کی یہ تشویش ایک تسلیم شدہ حقیقت ہے کہ ملک عزیز خصوصاً سندھ پنجاب میں قادیانیوں کی تخریب کاری اور دہشت گردی کسی سے ڈھکی چھپی بات نہیں رہی۔ فرقہ وارانہ فسادات کو ہوا دینے کے لئے انہوں نے شیعوں کے علامہ عارف الحسینی کو قتل کر کے شیعہ سنی فسادات کی بنیاد رکھی۔ اسلامی انقلابی محاذ کے سربراہ ملک رب نواز ایڈووکیٹ نے کہا ہے کہ: ”مجھے آج قادیانی جماعت کی طرف سے ایک خط موصول ہوا ہے جس میں مرزائیوں نے صدر ضیاء الحق اور سید عارف الحسینی کے قتل کو اپنا کارنامہ بتایا ہے اور دھمکی دی ہے کہ ان کے انجام سے عبرت پکڑو۔“ (مندرجہ ضیاء الحق کو کس نے قتل کیا ص ۲۱، ۲۲)

صفحہ ۷۷

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۲ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

سندھ میں فسادات اور قادیانیت: صوبہ سندھ میں خصوصاً حیدرآباد اور کراچی میں ہونے والے خونی فسادات نے بھارت میں ہونے والے مسلم کش فسادات کو بھی مات کر دیا۔ پل کے پل میں بیسیوں بے قصوروں کو خاک و خون میں تڑپا دینا قادیانیت کی شیطنت وحشت و بربریت کا نقطہ عروج سمجھا جائے تو بے جا نہ ہوگا۔ آن واحد میں لاشوں کے ڈھیر لگا دینا قادیانیت کی تاریخ میں ایک بھیانک باب کا اضافہ کرتی ہے۔ کراچی اور حیدرآباد میں بوڑھے اور جوان ہی نہیں، عورتیں اور ننھے منے معصوم بچے بھی قادیانی تخریب کاروں کے ظلم و ستم کا نشانہ بنے ہر گھر ماتم کدہ بنا دیا گیا۔ یہ سب کیوں ہوا اور میں قادیانیت ہی کو کیوں الزام دیئے ہوئے ہوں؟ حقائق کی عدالت میں آئیے۔ مرزا طاہر جس نے ۲۹؍ مئی کو طلباء پر حملہ کرایا تھا اپنے بھائی مرزا ناصر احمد کی ہلاکت کے بعد قادیانی جماعت کا پیشوا بن گیا۔ مرزا طاہر علم سے تہی دامن اور فطرتاً غنڈہ ہے۔ اس نے اقتدار سنبھالتے ہی اپنے آنجہانی باپ مرزا محمود کے نقش قدم پر چلنا شروع کر دیا اور اکھنڈ بھارت کے خواب یا الہام کی تکمیل کے لئے فرقان بٹالین جسے اب خدام الاحمدیہ کا نام دے دیا گیا ہے کے رضا کاروں کو لگا دیا۔ اندرون سندھ اور کراچی ، حیدرآباد میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ سب فرقان بٹالین کے کارندوں کی کارستانی ہے۔ قادیانی پیشوا مرزا طاہر کے فرار کے بعد ہی سندھ کے حالات خراب ہوئے ہیں۔ ورنہ اس سے پہلے حیدرآباد کراچی اور اندرون سندھ میں اس قسم کے فسادات نہ ہونے کے برابر رونما ہوتے رہے۔ یہ فسادات اس وقت شروع ہوئے جب مرزا طاہر نے کہا:

(فرقان بٹالین کے نام پیغام کا خلاصہ، سووینئر ۱۹۸۸ء ص۳۴) توجہ کی آپ نے: فرقان بٹالین کو ہدایات دی جا رہی ہیں کہ پورے کا پورا نظام بدل کر رکھ دیں اور بلند ترین برجوں پر احمدیت (قادیانیت) کے جھنڈے گاڑ دیں۔

مرزا طاہر کا یہ بیان بالکل اسی طرح ہے جیسے کسی فوج کا کمانڈر حالت جنگ میں ہدایات دیتا ہے۔ اس لئے یہ راستے قائم کرنے میں دورائے رکھنا حماقت کے سوا کچھ نہیں کہ سندھ میں جو کچھ ہوا وہ سب قادیانیت کی کارستانی ہے۔ آگے چلنے سے پہلے (ہفت روزہ ختم نبوت انٹرنیشنل کراچی کے ش۳ ج ۸، بابت ۱۰ تا ۱۶؍ جون ۱۹۸۹ء) کے پرچے میں مندرج اداریہ کی طرف آپ کی توجہ مبذول کروانا نہایت ضروری تصور کرتا ہوں ۔ ”ہم نے کنور ادریس کی تقرری پر جن خدشات کا اظہار کیا تھا وہ حالات و واقعات نے درست ثابت کر دیئے۔ پہلے اگر کراچی، حیدرآباد میں بدامنی تھی ، کنور ادریس (قادیانی) کے آنے کے بعد اس نے پورے سندھ کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔ نواب شاہ، لاڑکانہ، میر پور خاص، پڈعیدن اور سکھر میں جو واقعات ہوئے وہ حکمرانوں کی آنکھیں کھولنے کے لئے کافی ہیں۔ پڈعیدن میں عید کے روز مشہور عالم دین ممتاز سیاسی رہنما تحریک ختم نبوت کے مجاہد ایک ہفتہ وار رسالہ کے ایڈیٹر مولانا تاج الدین بمبل کی شہادت کا واقعہ، کنور ادریس ہی کے دور کا ہے بلکہ اگر ہم یہ کہیں کہ اس کا ذمہ دار کنور ادریس ہے تو شاید یہ غلط نہ ہوگا۔ اس میں شک وشبہ کی گنجائش نہیں کہ اندرون سندھ جن علاقوں میں فسادات ہوئے وہاں پنجابی قادیانی اور سندھی قادیانی کثیر تعداد میں آباد ہیں۔ وہاں ریلوے لائن اکھاڑ دی گئی۔ اسٹیشن جلائے گئے۔ لوٹ مار اور قتل و غارت گری کے واقعات ہوئے ، ہفت روزہ ختم نبوت کے ۲۰ تا ۲۶؍ اپریل ۱۹۹۰ء کے شمارے میں یہ ثبوت بھی موجود ہیں ۔ ہم پہلے بھی یہ بتا چکے ہیں اور اب پھر حکومت پر واضح کر دینا چاہتے ہیں کہ یہ دہشت گرد اور تخریب کار صرف اور صرف قادیانی ہیں جو

صفحہ ۷۸

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۲ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

اپنے پیشوا مرزا طاہر کی ہدایت کے مطابق کراچی، حیدرآباد اور سندھ میں قتل وغارت گری کا بازار گرم کئے ہوئے ہیں۔ آج سے کچھ عرصہ قبل لیاقت آباد کے علاقہ میں بذریعہ کار ایسا ہی ایک گروہ آیا لیکن وہاں کے باشندوں کے بروقت ہوشیار ہو جانے پر بھاگ کھڑا ہوا۔ اسی گروہ کے ایک فرد سے بھاگتے ہوئے شناختی کارڈ کے فارم زمین پر گر گئے، جن پر نام پتے کے علاوہ مذہب کے خانے میں احمدی لکھا ہوا تھا۔ ابھی حال ہی میں دو مسلح شخص گرفتار ہوئے جن کا تعلق ربوہ سے تھا۔ (روزنامہ نوائے وقت کراچی ۲۹ / مارچ ۱۹۹۰ء ص ۱) پر شائع ہونے والی خبر کا متن ملاحظہ ہو۔

ربوہ کے قادیانی دہشت گرد

”کراچی ۲۸ / مارچ (وقائع نگار خصوصی ) ناظم آباد پولیس نے ڈکیتی کی نیت سے ہادی مارکیٹ کے قریب واقع فلور ملز کے پاس مشتبہ حالت میں کھڑے ہوئے دو افراد محمد احمد اور محمد احسن کو گرفتار کرلیا اور ان کے قبضے سے ریوالور اور دس کارتوس برآمد کر لئے ۔ دونوں ربوہ پنجاب سے آئے تھے۔ وہ اس سے پہلے بھی کئی وارداتوں میں ملوث بتائے جاتے ہیں۔ اب تک ہم ان کالموں میں کراچی ، حیدر آباد اور سندھ کے حالات میں کچھ لکھتے رہے۔ اس خبر نے ہمارے خیالات کی تصدیق کر دی اور اس خبر سے ثابت ہو گیا ہے کہ کراچی ، حیدر آباد میں ہونے والے دہشت گردی کے واقعات میں قادیانیوں کا ہی ہاتھ ہے اور ڈاکوؤں کے ایک گروہ کا سرغنہ بھی قادیانی ہے جس کا تعلق سرگودھا کے کسی چک سے ہے۔

(ایضاً)

تحریک انسداد قادیانیت کے خفیہ کارکنان کی اطلاع کے مطابق پیپلز پارٹی اور اپوزیشن کے تنازعہ کا فائدہ اٹھا کر کراچی اور سندھ کے دوسرے شہروں میں قادیانیوں کے مسلح افراد نے ایسے مسلمان نوجوان اور پڑھے لکھے باشعور افراد کو اغواء کر لیا ہے اور انہیں افغانیوں کے روپ میں قادیانی کمانڈوز کی بستی میں رکھا گیا ہے اور کئی گاڑیاں اور سکوٹر بھی چھینے گئے ہیں تا کہ ان لوگوں پر تشدد کر کے ہاتھ پاؤں توڑ کر یا زندہ جلا کر گاڑیوں کے ذریعے شاہراہوں پر ڈالا جائے اور اس طرح مہاجر ، پنجابی فساد ، مہاجر بلوچ فساد، مہاجر پختون فساد اور مہاجر سندھی فساد کرایا جائے۔ اس دوران شہر کے مختلف علاقوں میں قادیانی گزشتہ پانچ سالوں سے کثرت سے آباد ہو گئے ہیں۔ قادیانیوں نے ”خاد“ اور ”را“ کے ایجنٹ طلب کئے ہیں تا کہ کشمیر کے مسئلہ پر قوم کو انتشار میں مبتلا کر کے سندھودیش کے قیام کی راہ نکالی جائے اور احمدیوں، قادیانیوں کے اس عقیدے کو قائم رکھا جائے کہ کشمیر مرزا قادیانی کی امت ( ذریت) برسر اقتدار آکر فتح کرے گی ۔

(ایضاً)

بہر حال ان دو قادیانی تخریب کاروں کی گرفتاری سے یہ بات قطعی طور پر ثابت ہو چکی ہے کہ کراچی ، حیدر آباد اور اندرون سندھ میں قتل وغارت گری ، تشدد، بدامنی اور تخریب کاری میں قادیانی سازش براہ راست ملوث اور کار فرما ہے۔ سندھ کے بعد پنجاب میں بھی قادیانی فتنہ اپنے شیطانی کرتوتوں میں مکمل ابلیسیت کے ساتھ اپنی غنڈہ گردی اور بے حیائی سے مصروف عمل ہے۔ (ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ۱۸ تا ۲۴ اگست ۱۹۸۹ء ) کے اداریہ سے مختلف جگہوں سے اقتباسات نقل کرتا ہوں جو پنجاب میں قادیانیوں کی دہشت گردی کی بالکل واضح تصویر ہے۔ ملاحظہ فرمائیے : صوبہ پنجاب میں آج کل مرزائیت کی اشتعال انگیزی جنون کی حد تک پہنچ گئی ہے۔ جب سے حکومت پنجاب نے ان کے صد سالہ جشن کی تقریب پر پابندی عائد کی ہے۔ یہ حکومت پنجاب کو ناکام بنانے پر تلے ہوئے ہیں ۔ رمضان شریف کے اوائل میں چک نمبر ۵۶۲ جڑانوالہ میں سرعام انہوں نے قرآن مجید کے ۹ نسخوں کو نذر آتش ( شہید ) کیا۔ مسلمانوں نے احتجاج کیا تو ان پر گولیوں کی بوچھاڑ کر دی دو مسلمان زخمی ہوئے مسلمان انہیں جان بلب لے کر جڑانوالہ آئے تو پیچھے مرزائیوں نے باقی ماندہ مسلمانوں کو گاؤں میں ہراساں اور پریشان کیا اور اشتعال انگیزی کی حد کر دی۔

صفحہ ۷۹

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۲ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

عید کے دن سرگودھا کے چک ۹۸ شمالی میں مرزائیوں نے ضلع کونسل سرگودھا کے رکن چوہدری امانت اور ان کے ساتھیوں پر قاتلانہ حملہ کیا۔ مبینہ طور پر اس کی پلاننگ کی گئی ۔ اس میں ایف ۔ آئی ۔ اے کا ایس ۔ پی طاہر نامی مرزائی بھی شریک تھا۔ سوچے سمجھے منصوبے سے فیصل آباد ڈویژن کے بعد سرگودھا ڈویژن میں اشتعال انگیزی کی کوشش کی کچھ دنوں بعد پھر اسی گاڑی میں مسلمانوں پر حملہ کیا۔ مسلمانوں نے دیواریں پھاند کر جانیں بچائیں ۔ خدا کا شکر ہے کہ کوئی بڑا حادثہ نہ ہوا۔

فیصل آباد سرگودھا کے بعد اب مرزائی سازش نے لاہور کا رخ اختیار کیا ۔ مغل پورہ لاہور میں منصوبہ بندی سے قادیانی آبادی کو مرزائی قیادت نے اکسایا ہے ۔ وہاں پر انہوں نے مسلمانوں میں بھی لٹریچر تقسیم کرنا شروع کر دیا ۔ مسلمانوں میں اشتعال پھیلا یا ۔ انتظامیہ نے منہ میں گھنگھنیاں ڈال لیں ۔ ۲۱ / جون کو تمام مکاتب فکر کی طرف سے مشترکہ ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی ۔ جو رات کے ایک بجے خیر و خوبی سے انجام پذیر ہوئی ۔ کانفرنس کی انتظامیہ سامان سمیٹنے میں مصروف تھی کہ مرزائیوں نے ان پر پتھراؤ کیا ۔ ہوائی فائرنگ کی پتھراؤ سے کئی مسلمان زخمی ہوئے ۔ مگر انتظامیہ کی بے حسی کہ کسی مرزائی کو گرفتار نہ کیا ۔ مرزائیوں کا حوصلہ بلند ہوا۔ مرزائی دوسرے دن ایک طالب علم کو پکڑ کر اپنی عبادت گاہ میں لے گئے اور اسے بندوق کے بٹ مار مار کر ادھموا کر دیا ۔ علاقہ کے مسلمان جمع ہوئے ۔ ان پر بھی مرزائیوں نے پتھراؤ کیا۔ پولیس نے مسلمان کو منتشر کیا ۔ پولیس کے آنے پر مغل پورہ کے ایس ایچ او کی موجودگی میں مرزائیوں نے چھاپے کے ڈر سے اپنی عبادت گاہ سے اسلحہ کئی کاروں کی ڈگی میں بند کر کے دوسری جگہ منتقل کر دیا اور اس کام کی ایک فوجی مرزائی نے نگرانی کی ، جون کے وسط میں مرزائیوں نے بہاول نگر کے ضلع کو اپنی سازش کا ٹارگٹ قرار دیا ۔ مرزائیوں کی ایک بس میں مرزائی کنڈیکٹر نے مسلمان طالبات کو چھیڑا بس میں سوار عالم دین نے احتجاج کیا تو مرزائیوں نے انہیں باہر سڑک پر لا کر مارا پیٹا اور ان کی داڑھی نوچی ۔ اس کے بعد سیالکوٹ کے معروف قصبہ چونڈہ میں مرزائی ایک مسلمان کو پکڑ کر اپنے مکان میں لے گئے ۔ اسے مارا پیٹا ۔ زخمی کیا خون میں لت پت ہو کر مسلمان باہر آیا۔ شہر کے معززین کے ہمراہ عوام تھانے کی طرف جا رہے تھے کہ مرزائیوں نے ان پر پتھراؤ کیا ۔ جس سے ایک اور مسلمان زخمی ہو گیا ۔ مسجد کے میناروں کو مرزائیوں کی فائرنگ سے نقصان پہنچا۔ یاد رہے مروٹ ضلع بہاول نگر، چونڈہ ، سیالکوٹ کے دونوں قصبات ہندوستان کے بارڈر پر واقع ہیں۔ مرزائیوں نے جان بوجھ کر ان علاقوں کا فسادات کے لئے انتخاب کیا۔

اسی طرح روزنامہ جنگ راولپنڈی ۱۷ / جولائی ۱۹۸۹ء کی یہ خبر قادیانیوں کی دہشت گردی پر مزید دلالت کرتی ہے ۔ ملاحظہ فرمائیے۔ ”تفصیلات کے مطابق صبح گیارہ بجے انجمن تحفظ ختم نبوت (چک سکندر کھاریاں) کے راہنماء مولا نا محمد امیر قربانی کی کھالوں سے جمع شدہ رقم غرباء میں تقسیم کرنے کے بعد اپنے ساتھیوں کے ہمراہ اپنے اپنے گھروں کو جا رہے تھے کہ عبداللہ نامی ایک شخص کے خالی گھر سے ان پر فائرنگ کی گئی ۔ جس کے نتیجے میں احمد خان جاں بحق ہو گیا اور اصغر شدید زخمی ہو گیا۔ اصغر کو فوری طور پر تحصیل ہیڈ کوارٹر کھاریاں پہنچا دیا گیا اور جب احمد خان کی ہلاکت کی خبر گاؤں میں پھیلی تو کہرام مچ گیا۔

یونہی عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ضلع ایبٹ آباد کے امیر مولا نا حبیب الرحمن بھی اس زد میں آ چکے ہیں ۔ روزنامہ مستقبل ایبٹ آباد اتوار ۱۴ / مئی ۱۹۸۹ء نے اس واقعہ کو ان الفاظ میں شائع کیا ۔ ” ۱۳ / جولائی (اسٹاف رپورٹر ) جامع مسجد منڈیاں کے خطیب مولانا حبیب الرحمن پر چار افراد کا حملہ ۔ مولانا کو مرزائیت کے خلاف آواز اٹھانے پر حملے کا نشانہ بننا پڑا ۔ مرزائیت کے خلاف بولتے رہو گے تو قتل کر دیئے جاؤ گے ۔ ملزموں کی طرف سے مولانا حبیب الرحمن کو دھمکی ۔“

صفحہ 80

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۲ء

ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

پنجاب میں مذکورہ واقعات کے علاوہ جو واقعات رونما ہوئے ان کی تفصیل مختصراً پیش خدمت ہے۔

(مندرجہ ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ج ۸ص ۱۰)

متفرق وارداتیں اور قادیانیت: یہ تمام واقعات ثابت کرتے ہیں کہ قادیانی جماعت کے پاس بھی بڑی تعداد میں جدید اسلحہ پہنچ چکا ہے۔ وہ ایک تشدد پسند دہشت گرد تنظیم بن چکی ہے جو ملک وملت کے لئے انتہائی خطرناک ہے۔ سابق صدر جنرل ضیاء الحق مرحوم نے سیالکوٹ میں ایک سیرت کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ ایک سپر طاقت تخریب کاری کے لئے افغان مہاجرین کے بھیس میں کرائے کے ایجنٹ پاکستان میں بھیج رہی ہے۔

(ہفت روزہ ختم نبوت ج ۵ش ۳۱)

مدیر اردو ڈائجسٹ نے اپنے ماہنامہ اکتوبر ۱۹۸۲ء کے شمارہ میں انکشاف کرتے ہوئے لکھا تھا کہ کابل میں تخریب کاروں کے جتھے تیار کرنے والا قلندر مہمند نامی شخص قادیانی ہے۔ ان کڑیوں کو اگر ملایا جائے تو ایک قابل یقین صورت سامنے آتی ہے جو قادیانیوں کی دہشت گردی پر ہی منتج ہوتی ہے۔ گویا ملک عزیز میں جو سینکڑوں قیامت خیز دھماکے ہوئے ہیں اور ان تخریب کارانہ وارداتوں میں جو ہزاروں افراد لقمہ اجل بنے ان کی موت کے ذمہ دار بھی قادیانی دہشت گرد ہی ہیں۔ ثبوت ملاحظہ کیجئے: رمضان المبارک میں نماز فجر کے بعد سکھر (سندھ) قادیانیوں کا ایک مسجد پر بموں سے حملہ کرنا اور جہاز کو آگ لگانے کا واقعہ، خادم حرمین شریفین شاہ فیصل کی شہادت پر قادیانیوں کی لن ترانیاں، کہوٹہ پلانٹ کے راز کا افشاء کرنا، جڑانوالہ میں مرزائیوں کا پولیس پر پتھراؤ، قادیان میں مرزائیوں کا غیر احمدیوں (مسلمانوں) سے بائیکاٹ ان پر ظلم وستم کی داستان جو خواجہ عبدالحمید بٹ صاحب نے اپنی کتاب فرقہ احمدیہ کا ماضی اور مستقبل میں لکھا ہے۔ یہ اور بہت اس کے علاوہ ہے جسے قلمبند کرنے کے لئے ایک دفتر درکار ہے اور پھر بھی قادیانیت کی دہشت گردی کی مکمل طور پر نوک قلم تک نہیں لایا جاسکتا۔ بلاشبہ قادیانیت ہر خیر کو شر سے بدلنے اور منافقت کی تاریخ ہے۔ ”و بئس للظالمین بدلاً“ (القرآن) ﴿اور برا ہے واسطے ظالموں کے ٹھکانہ۔﴾

(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ص ۱۷تا ۲۵،مورخہ ۲۸ /اگست تا ۳/ ستمبر ۱۹۹۲ء)

پاکستان قادیانیت کے نرغہ میں کیوں؟ حکومت سے عوام پوچھتے ہیں

صفحہ ۸۱

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۲ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

منجانب: آل پارٹیز مرکزی مجلس عمل تحفظ ختم نبوت پاکستان

(ہفت روزہ لولاک فیصل آباد ص ۲، مورخہ ۲۵ / ستمبر ۱۹۹۲ء)

مولانا عزیز الرحمن جالندھری کا صدر مملکت غلام اسحق خان کے نام مکتوب

بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

بخدمت عالی جناب خان غلام اسحق خان صاحب صدر مملکت اسلامیہ جمہوریہ پاکستان السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ مزاج شریف !

آپ کی توجہ ایک اہم حساس قومی مسئلہ کی طرف مبذول کرانا چاہتا ہوں جس کی نوعیت اس بات کی متقاضی ہے کہ آنجناب پہلی فرصت میں اس کی طرف توجہ فرمائیں۔

صفحہ ۸۲

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۲ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

وقف رہا اور اب پھر مرزا طاہر دسمبر میں بھارت جارہا ہے اور پاکستان سے آنجناب کی حکومت قادیانیوں کو بھیجنے کا حسب سابق اہتمام کرے گی۔

قادیانی جو اللے تللے کر رہے ہیں، وہ آپ سے پوشیدہ نہ ہوں گے۔

کو نقصان پہنچایا وہ آنجناب کے علم میں ہوگا۔ (اخبار کی کٹنگ لف ہذا ہے)

باسط قادیانی پر نظر انتخاب پڑی۔

مرزائیت کو لئے گاؤں گاؤں تبلیغ کر رہا ہے۔

مذہب کی ایزادی کے آپ نے افتتاح فرمایا:

جن پر دل خون کے آنسو روتا ہے۔

دینی جماعتوں میں شدید اضطراب پایا جاتا ہے اس کے لئے تمام دینی جماعتوں کا ۷؍ ستمبر ۱۹۹۲ء لاہور میں اجلاس تھا۔ جس میں ۱۴؍ اکتوبر کو اسلام آباد میں احتجاجی مظاہرہ کرنے کا فیصلہ ہوا۔ اخبارات کے تراشے لف ہیں۔ آنجناب سے توقع گزار ہوں کہ ان مسائل کے حل کے لئے توجہ فرمائیں گے۔

(ہفت روزہ لولاک فیصل آباد ص۲۰، مؤرخہ۲؍ اکتوبر ۱۹۹۲ء)

صدر مملکت کے نام حضرت مولانا خواجہ خان محمد صاحب کا کھلا خط

مندرجہ بالا مکتوب جو مولانا عزیز الرحمٰن صاحب کی طرف سے صدر مملکت غلام اسحاق کو بھجوایا گیا، یہی خط حضرت الامیر مولانا خواجہ خان محمد صاحب کی طرف سے بھی صدر مملکت کو بھجوایا گیا۔

صفحہ ۸۳

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۲ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

چیف آف آرمی اسٹاف کے نام مولانا عزیز الرحمن جالندھری کا کھلا خط

بخدمت عالی جناب جنرل آصف نواز صاحب چیف آف آرمی اسٹاف

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ مزاج شریف!

آپ کی توجہ ایک ایسے حساس مسئلہ کی طرف مبذول کرانا چاہتا ہوں جس کا تعلق مملکت خداداد پاکستان کی نظریاتی اور جغرافیائی سرحدات سے ہے۔ کرم ہوگا کہ اسے فوری وقت دے کر ممنون احسان فرمائیں :

پر نظر بد رکھے ہوئے ہیں۔

اچھالا اور پاکستان سے جانے والے قادیانیوں کی وہاں ذہن سازی کی گئی۔

مشکلات سے دوچار کرنے کے درپے ہے۔

کے چیئرمین ہوتے ہوئے پاک فوج کو جو فنڈز کے چرکے لگائے۔ اس سے کون واقف نہیں۔ ان شواہدات کے ہوتے ہوئے :

جنونی قادیانی ہے جو اپنے قیام گوجرانوالہ چھاؤنی کے دوران ۱۹۷۴ء کی تحریک میں گوجرانوالہ میں کرفیو لگا کر تحریک کو کچلنے کے لئے ماہی بے آب کی طرح بے تاب تھا۔ اس پر مختلف مکاتب فکر کے جلیل القدر علماء کی شہادتیں پیش کی جاسکتی ہیں۔ اس نے اپنے قیام مری کے دوران میں قادیانی عبادت گاہ بنوائی۔ اس پر جھگڑا ہوا اور اس کے اس اقدام سے پاک فوج کی بدنامی ہوئی۔ اسے ترقی دے کر اب آرڈیننس کور کا سربراہ بنا دیا گیا ہے۔ خدا گواہ ہے کہ اس کے تصور سے بھی روح کانپتی ہے کہ تینوں افواج کے لئے اسلحہ کی خریداری و ذمہ داری ایک قادیانی میجر جنرل کے سپرد ہے۔

دے رکھی ہے۔ حالانکہ اس سے اعلیٰ تعلیم یافتہ تجربہ کار پروفیسروں کی مسلمانوں میں کمی نہیں ہے۔ مگر اس کے باوجود ایک قادیانی

صفحہ ۸۴

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۲ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

کو آرمی کالج سے بلاوجہ نتھی کیا ہوا ہے اور اسے موقع فراہم کرنا کہ وہ قادیانیت کی ترویج کے لئے فوج کے دوائر میں سازشوں کے جال پھیلائے۔

جیسے شکاری شکار کو دبوچ کر اسے اس طرح نوچ رہے ہیں۔ جیسے گدھیں مردار کو، قادیانی ریٹائرڈ جنرل محمود الحسن کو ایجوکیشن کی اعلیٰ کمیشن کا سربراہ بنا رکھا ہے۔ میجر جنرل نسیم قادیانی جو ملٹری ہسپتال راولپنڈی میں آئی سپیشلسٹ ہے۔ وہ الشفاء کی ایک کمیٹی کا ممبر ہے۔ بھرتی وغیرہ اور انتظامیہ کے اختیارات کرنل منیر احمد قادیانی کے سپرد ہیں۔ میجر جنرل نسیم قادیانی کے ذریعہ کروڑوں کا مال منگوایا گیا۔ اس میں قادیانیوں نے کیا گل کھلائے ہوں گے۔ وہ آسانی سے سمجھ میں آسکتے ہیں اور اب رشید احمد قادیانی کا بھائی پی.آر.او بنا ہوا ہے اور اس رشید قادیانی کے بھانجے کو چشموں کا ٹھیکہ دیا گیا ہے۔ نیز یہ کہ شعبہ تعلقات عامہ کا انچارج بھی قادیانی ہے۔

(خدا کرے کہ یہ غلط ہوں) کے پیش نظر آپ سے استدعا ہے کہ خدارا قادیانیوں کی اندھیر نگری کو روکئے۔ اگر یہ اس طرح آگے بڑھتے رہے تو پاکستان کو مار آستین کی طرح ایسا مزید ڈنگ ماریں گے کہ اس کی زہرناکیوں سے پوری قوم بلبلا اٹھے گی۔ ان کی آپ روک تھام کر سکتے ہیں۔ ان قادیانیوں کو جو عقیدۂ جہاد کے منکر ہیں۔ پاک فوج کے اعلیٰ عہدوں پر براجمان نہ ہونے دینا (جیسا کہ پہلے ایسے تھا) آنجناب کے لئے ضروری ہے خدا نہ کرے اگر فروری، مارچ کی ترقیوں میں کسی قادیانی میجر جنرل کو لیفٹیننٹ جنرل بنا دیا جاتا ہے اور پھر آئندہ چل کر وہ جنرل بنتا ہے تو فرمائیے کہ پھر پاک فوج پر قادیانیوں کے قابض ہونے میں کیا کسر رہ جائے گی؟ یہ وہ روح فرسا حالات و واقعات ہیں جو بلاکم و کاست آپ کی خدمت میں عرض کر دیئے ہیں۔ ان کی طرف توجہ فرمانا ضروری ہے۔

ہم لوگ ختم نبوت کے مقدس کاز پر کام کرتے ہیں۔ ہمارے لئے سوائے اس کے اور کوئی چارہ کار نہیں رہا کہ آپ ایسے ملک عزیز کے اہم ترین شخصیات اور ہر درد دل رکھنے والے محبّ وطن باسی کو یہ بتائیں کہ قادیانی کیا کر رہے ہیں۔ اے چارہ گرو اس کا بھی کچھ علاج ہے۔

آپ کا مخلص: عزیز الرحمٰن جالندھری ناظم اعلیٰ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان ملتان

(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ص۹،۱۰، مورخہ ۹تا ۱۵؍اکتوبر ۱۹۹۲ء)

ازبکستان میں مجلس تحفظ ختم نبوت کے وفد کا دورہ

وسطی ایشیاء کی ایک مسلم ریاست ازبکستان کا دورہ کرنے والا عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کا وفد کامیاب گیارہ روزہ دورے کے بعد گزشتہ روز وطن واپس پہنچ گیا۔ اس وفد کی قیادت عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے نائب امیر مرکزی حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی نے کی تھی۔ وفد میں دارالعلوم کورنگی کراچی کے مہتمم و مفتی اعظم پاکستان حضرت مولانا مفتی رفیع عثمانی، مولانا محمد تقی عثمانی، جامعۃ العلوم الاسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن کے حضرت مولانا ڈاکٹر عبدالرزاق اسکندر، ایڈیٹر ہفت روزہ ختم نبوت جناب عبدالرحمٰن یعقوب باوا، راولپنڈی جامعہ اسلامیہ کے مہتمم مولانا قاری سعید الرحمٰن، اقراء کے مولانا مفتی محمد جمیل خان، بحرین سے مولانا احمد خان، مولانا محمد مسعود شامل تھے۔ جناب

صفحہ ۸۵

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۲ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

عبدالرحمن باوا نے دفتر ختم نبوت کراچی میں ایک اجتماع سے اپنے دورے کے تاثرات بیان کرتے ہوئے بتایا کہ ہم نے ازبکستان کا تفصیلی دورہ کیا۔ ازبکستان کے دارالحکومت تاشقند کے علاوہ تاریخی شہر سمرقند و بخارا بھی جانا ہوا۔ ہم جہاں بھی گئے وہاں کے مسلمانوں نے ہمارا پر تپاک استقبال کیا۔ انہوں نے مزید تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ تاشقند پہنچنے کے دوسرے روز اتفاق سے ازبکستان کے مفتی اعظم مفتی محمد صادق کے ادارہ دینیہ کے زیر اہتمام ازبکستان کے ممتاز علماء کرام کا ایک اہم اجلاس ہو رہا تھا۔ جب مولانا ڈاکٹر عبدالرزاق اسکندر نے ان سے رابطہ قائم کیا تو انہوں نے اجلاس سے خطاب کرنے کی دعوت دی۔ چنانچہ ہم نے اس اجلاس میں شرکت کی اور اجلاس سے مولانا محمد تقی عثمانی اور مولانا ڈاکٹر عبدالرزاق اسکندر نے خطاب کیا۔ اپنے خطاب میں انہوں نے ازبکستان کے مسلمانوں کو روس سے آزادی حاصل کرنے کی مبارک باد دی اور انہیں خبردار کرتے ہوئے بتایا کہ ہمارے علم میں یہ بات آئی ہے کہ کچھ قادیانی مسلمانوں کے بھیس میں ازبکستان آئے اور اپنی ارتدادی سرگرمیاں شروع کرنے کی کوشش کیں۔ لہٰذا ہمارا یہ فریضہ تھا کہ ہم یہاں آکر آپ حضرات کو ان کے کفریہ عقائد وعزائم سے آگاہ کرتے۔ چنانچہ اسی فریضہ کی ادائیگی کے سلسلہ میں ہم یہاں حاضر ہوئے ہیں۔ اس کے علاوہ ان کو پیشکش کی گئی۔ ہمارے ذمہ جو دینی کام لگائیں گے۔ ہم ان شاء اللہ! آپ کی خدمت کے لئے تیار ہیں۔

جناب عبدالرحمن باوا نے اپنے دورے کی تفصیلات بتاتے ہوئے مزید بتایا کہ تاشقند کے علاوہ سمرقند و بخارا میں ہر جگہ ہم نے علماء کرام سے ملاقاتیں کیں اور خصوصی اجتماعات سے خطاب کا موقع ملا۔ جمعہ کے دن سمرقند کی تاریخی اور قدیم جامع مسجد میں نماز ادا کی اور خطبہ جمعہ سے قبل مولانا ڈاکٹر عبدالرزاق اسکندر نے خطاب کیا۔

بخارا میں بخارا سنی کونسل کے ڈپٹی چیئرمین سے ملاقات کی اور انہیں قادیانیوں کے خطرناک ارادوں سے آگاہ کیا اور بتایا کہ قادیانی اپنا قدم جمانے کے لئے سر توڑ کوشش کر رہے ہیں۔ ان سے ہوشیار رہیں۔ بخارا سنی کونسل کے ڈپٹی چیئرمین سے ملاقات کا پس منظر بیان کرتے ہوئے جناب عبدالرحمن باوا نے بتایا کہ دراصل قادیانی سالانہ جلسہ یوکے منعقدہ جولائی ۱۹۹۱ء میں ہماری معلومات کے مطابق بخارا سنی کونسل کے چیئرمین نے شرکت کی تھی اور قادیانیوں کی طرف سے یہ کہا گیا تھا کہ بخارا سنی کونسل کے چیئرمین نے قادیانیوں کو پیشکش کی کہ ان کو بخارا میں ایک پرانی مسجد کی چابی دی جائے گی تاکہ اپنا مرکز وہاں قائم کر کے کام شروع کرسکیں۔ اس سلسلے میں وفد نے بخارا سنی کونسل کے ڈپٹی چیئرمین سے اپنی تشویش کا اظہار کیا۔ ڈپٹی چیئرمین نے بتایا کہ دراصل ہمارے چیئرمین ان دنوں لندن سیاحت کے لئے گئے ہوئے تھے کہ قادیانی کسی بہانے ان سے ملاقات کرنے میں کامیاب ہوگئے اور ان کو قادیانی جلسہ میں شرکت کی دعوت دی۔ بخارا سنی کونسل کے چیئرمین کو قادیانیت کی حقیقت کا قطعاً علم نہیں تھا۔ اس لئے انہوں نے جلسہ میں شرکت کی اور مختصر خطاب کیا۔ ڈپٹی چیئرمین نے وفد کو مزید بتایا کہ کچھ عرصے کے بعد قادیانی مسجد کی چابی لینے آگئے تھے۔ لیکن ہم نے انہیں انکار کر دیا۔ جب ڈپٹی چیئرمین کو قادیانیت کے مفصل حالات بتائے گئے تو انہوں نے کہا کہ آئندہ ہم ایسے فتنوں سے ہوشیار رہیں گے اور ادارہ دینیہ کے مفتی محمد صادق سے اس سلسلے میں رہنمائی حاصل کرتے رہیں گے۔ آخر میں وفد نے امام بخاری کے مزار پر بھی حاضری دی اور مدرسہ میں ایک رات قیام کی سعادت بھی حاصل ہوئی۔

جناب باوا صاحب نے مزید بتایا کہ قادیانیوں کی خطرناک سرگرمیوں پر نظر رکھنے کے لئے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت نے ایک مستقل مبلغ کا تقرر کر دیا ہے۔ ان شاء اللہ! اس کے اچھے اثرات مرتب ہوں گے۔

(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی اندرون ٹائٹل ،مورخہ ۲۷؍نومبر تا ۳؍دسمبر ۱۹۹۲ء)

صفحہ ۸۶

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۲ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے رہنماؤں کا تاشقند، سمر قند اور بخارا کا تاریخی سفر

(رپورٹ از مولانا مسعود اظہر )

عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت نے ان مسلم ریاستوں کو قادیانیت کے غلیظ اور خبیث جراثیم سے بچانے کے لئے فوری اقدام کا فیصلہ کیا۔ الحمد للہ! آج پورے ازبکستان کے مقتدر چیدہ چیدہ اہل علم سے اکٹھے ملاقات کرنے اور انہیں اپنا مؤقف سمجھانے کا موقع میسر آ گیا۔ مؤرخہ ۳۱؍اکتوبر ۱۹۹۲ء بروز ہفتہ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کا ایک وفد کراچی انٹر نیشنل ایئر پورٹ سے تاشقند کے لئے روانہ ہوا۔ وفد کی قیادت عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی نائب امیر حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی صاحب فرما رہے تھے جب کہ باقی شرکاء میں حضرت مولانا مفتی محمد رفیع عثمانی، حضرت مولانا مفتی محمد تقی عثمانی، حضرت مولانا ڈاکٹر عبد الرزاق اسکندر، حضرت مولانا قاری سعید الرحمن، حضرت مولانا محمد جمیل خان، مولانا محمد احمد خان، جناب عبدالرحمن یعقوب باوا، جناب نجیب الحق، جناب ممتاز بیگ، جناب کلیم احمد اور راقم الحروف ( مولانا مسعود اظہر ) قابل ذکر ہیں۔

کراچی سے روانگی اور اس کے اسباب: سوویت یونین کی تباہی کے بعد جن مسلم ریاستوں کو آزادی ملی۔ وہاں کے دین سے نابلد اور لاعلم سیدھے سادھے مسلمانوں کو گمراہ کرنے کے لئے اور انہیں اسلام سے ہٹا کر ارتداد کے راستے پر چلانے کے لئے قادیانیوں نے محنت شروع کر دی ہے۔ یہ اطلاع عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے رہنماؤں اور ہر درد دل رکھنے والے مسلمان کے لئے سخت تشویش کا باعث بنی اور اس تشویش میں اس وقت اضافہ ہوا۔ جب قادیانیوں کے سالانہ اجتماع میں جمہوریہ ازبکستان کے مشہور تاریخی شہر بخارا کے میئر نے شرکت کی اور قادیانیوں نے دنیا بھر میں باور کرایا کہ ہماری خصوصی دعوت پر چیئر مین بلدیہ بخارا نے ہمارے اجتماع میں شرکت کی ہے اور یہ اعلان کیا ہے کہ عنقریب بخارا کی ایک تاریخی مسجد کی چابیاں قادیانیوں کے حوالے کی جائیں گی۔

عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت نے فوری طور پر ان مسلم ریاستوں کو قادیانیت کے غلیظ اور خبیث جراثیم سے بچانے کے لئے فوری اقدام کا فیصلہ کیا اور ایک اعلیٰ سطحی وفد ان علاقوں میں بھیجنے کا ارادہ کیا۔ کراچی سے وفد کی روانگی حسب معمول ہوئی، مگر ازبکستان ایئر لائن کا جہاز اپنے مقررہ وقت صبح دس بجے روانہ ہونے کے بجائے شام کو سات بج کر بیس منٹ پر روانہ ہوا اور اڑھائی گھنٹے کا سفر طے کر کے تاشقند ایئر پورٹ پر اتر گیا۔ تاشقند ایئر پورٹ کی پرانی اور بوسیدہ عمارت کو دیکھ کر روسی کمیونزم اور اس کی ترقی کا پہلا آنکھوں دیکھا نظارہ کیا۔ امیگریشن اور کسٹم کے ناقص انتظامات اور ایئر پورٹ ہال کی تنگی اور عملے کی کمی کی وجہ سے وفد کے ارکان کو کئی گھنٹوں تک ایئر پورٹ کی بوسیدہ عمارت میں رہنا پڑا۔ مگر سب نے عقیدۂ ختم نبوت کے تحفظ کی چاشنی سے یہ سب کچھ بڑی خندہ پیشانی سے برداشت کر لیا۔ کیونکہ یہ وفد جس عظیم مقصد کی خاطر اس سرزمین پر آیا تھا، اس مقصد، عظمت اور اہمیت کے سامنے یہ سب تکلیفیں آسان معلوم ہوتی ہیں۔ البتہ ہر دل سے یہ دعا نکل رہی تھی کہ یا اللہ! اس اجنبیت کے ماحول میں خصوصی نصرت فرما اور مقصد میں کامیابی عطا فرما اور قادیانیوں کی شر انگیزیوں سے اس خطہ کو محفوظ فرما۔ رات کو ساڑھے تین بجے ایئر پورٹ سے فارغ ہو کر اپنے پاکستانی رہبر کی رہنمائی میں تاشقند کے مشہور اور بڑے ہوٹل ’’تاشقند ہوٹل‘‘ میں پہنچے جہاں وفد کے چودہ ارکان کو سات کمرے دیئے گئے۔ ہر ایک کمرے میں دو افراد کے رہنے کی سہولت اور گنجائش موجود تھی۔

صفحہ ۸۷

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۲ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

تاشقند میں پہلا دن: چوبیس گھنٹوں کی مشقت سے بھر پور سفر کی وجہ سے وفد کے ارکان نے آج کے دن آرام کیا۔ مگر جناب عبدالرحمن یعقوب باوا، مولانا محمد جمیل خان اور راقم الحروف تاشقند شہر کی طرف نکل گئے۔ تاکہ بعض افراد کو تلاش کر کے آئندہ کی ترتیب بناسکیں۔ اس دوران حضرت مولانا ڈاکٹر عبدالرزاق اسکندر اور دیگر حضرات ہوٹل میں اپنے کمروں سے مختلف افراد سے ٹیلیفون پر رابطہ فرماتے رہے۔ ہم ایک ٹیکسی پر سوار ہوکر چار سو نامی ایک علاقے میں پہنچے۔ جہاں ایک طرف تاشقند کا بہت بڑا ہوٹل ”چارسو ہوٹل“ ہے اور سامنے ایک بہت بڑی عمارت، مسجد اور مدرسہ ہے۔ یہ مدرسہ ”کوکل تاش“ کے نام سے مشہور ہے اور قدیم دور کے اکابر کی علمی و تاریخی نشانی ہے۔ کافی حصہ منہدم ہوچکا تھا، اب دوبارہ تعمیر ہو رہا ہے۔ کچھ حصہ اب بھی حکومت کی تحویل میں ہے جو اہل مدرسہ کو نہیں دیا گیا۔ اس مدرسے میں اڑھائی ہزار کے قریب طلباء اور طالبات دینی تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ جن میں سے ڈیڑھ سو طلباء اور تقریباً اتنی ہی تعداد میں طالبات مستقل تعلیم حاصل کرتے ہیں۔ جب کہ باقی طلباء اور طالبات ہفتے کے مختلف دنوں میں شفٹوں میں پڑھتے ہیں۔ اس مدرسے میں باپردہ اور باحیا مسلمان بچیوں کو دیکھ کر ازحد خوشی ہوئی۔ ابھی ہم مسجد کی سیڑھیوں پر چڑھ رہے تھے کہ جبہ اور پگڑی سجائے ایک باشرع نوجوان نے ہمارا پر تپاک استقبال کیا۔ عربی زبان میں اس نوجوان سے تعارف ہوا۔ وہ مسجد کے امام جناب قاسم صاحب تھے۔ ہم نے ان سے پوچھا کہ یہاں ایک قاری صاحب ہیں جن کا نام قاری محمد امین ہے۔ انہوں نے فرمایا کہ ہاں وہ اوپر مدرسے میں مل جائیں گے۔ ہم سیڑھیاں چڑھ کر بڑے گیٹ سے اندر داخل ہوئے۔ جہاں ایک چینی عالم دین سے ملاقات ہوئی۔ یہ اس مدرسے کے استاد قاری محمد علی صاحب تھے جو جامعہ اشرفیہ لاہور میں زیر تعلیم رہ چکے ہیں اور بہت اچھی اردو بولتے ہیں۔ ان کا تعلق چین سے ہے۔ انہوں نے ہمیں مدرسے میں بٹھایا جہاں پر موجودہ لوگوں نے بہت گرم جوشی سے استقبال کیا اور چائے وغیرہ سے تواضع کی۔ تھوڑی دیر کے بعد قاری محمد امین صاحب بھی تشریف لے آئے۔ قاری محمد امین کا تعلق چین کے زیر تسلط ترکستان سے ہے۔ کافی عرصہ تک پاکستان میں جامعۃ العلوم الاسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن میں زیر تعلیم رہے۔ پھر ایک دو سال اسلام آباد جامعہ فریدیہ میں پڑھتے رہے۔ اس سال حج کی سعادت حاصل کر کے ازبکستان تشریف لائے اور کوکل تاش کے مدرسے میں بطور مدرس کے خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔ مقامی زبان کے علاوہ عربی اور اردو بھی روانی کے ساتھ بول لیتے ہیں۔ ہمیں دیکھ کر بہت خوش ہوئے۔ ہم نے ان کو آنے کا مقصد بیان کیا اور ضروری امور پر مشورہ کر کے ان سے رخصت چاہی اور واپس ہوٹل تاشقند آ گئے۔ چونکہ بازار میں اشیاء کی قلت ہے اور خصوصی طور پر حلال چیزوں کا ملنا کچھ دشوار ہے۔ اس لئے ہم نے ان سے درخواست کی کہ وہ حلال گوشت سبزی وغیرہ پکا کر ہمیں ہوٹل تاشقند پہنچا دیں۔

تاشقند میں دوسرا دن: آج کا دن بہت ہی اہمیت کا حامل تھا۔ اللہ رب العزت کی خصوصی نصرت سے ہمیں پورے ازبکستان کے مقتدر چیدہ چیدہ اہل علم سے اکٹھے ملاقات کرنے اور انہیں اپنا مؤقف سمجھانے کا موقع میسر آ گیا۔ ہوا یوں کہ حضرت مولانا ڈاکٹر عبدالرزاق اسکندر نے مفتی ازبکستان جناب مفتی محمد صادق صاحب سے رابطہ کیا اور انہیں وفد کے ارکان کا تعارف اور ان کی آمد کے اغراض و مقاصد سے آگاہ کیا۔ انہوں نے بڑی خوشی سے بتایا کہ ہم نے چند اہم اور ضروری مسائل پر غور کرنے کے لئے ملک بھر کے علماء کو جمع کیا ہوا ہے۔ تاشقند، بخارا، سمرقند، ترمذ، نسف، فرغانہ اور دیگر صوبوں کے مقتدر اور جید علماء کرام اور معروف خطبائے عظام جمع ہو رہے ہیں۔ آپ حضرات تشریف لے آئیں اور ہماری اس نمائندہ مجلس میں شریک ہوں۔ وفد کے لئے یہ موقع ایک نعمت غیر مترقبہ تھی۔ سب اللہ رب العزت کی اس عظیم نصرت پر شکر بجا لائے۔

صفحہ ۸۸

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۲ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

صبح ساڑھے دس بجے جناب مفتی محمد صادق صاحب نے دو گاڑیاں اور ایک عربی بول چال میں ماہر رہبر بھیج دیا۔ بڑی گاڑی میں دس اور چھوٹی گاڑی میں چار افراد بیٹھ گئے۔ اب ہم اپنے رہبر کی رہنمائی میں ماوراء النہر اور ازبکستان کے مسلمانوں کی دینی خدمات کے لئے سرگرم تنظیم ادارہ دینیہ کے مرکزی دفتر پہنچے۔ جہاں اس دفتر کے ڈائریکٹر صاحب اور دیگر علماء جو دروازے پر منتظر تھے نے پرجوش استقبال کیا۔ ہمارے رہبر جناب محمد کامل نے راستے میں کافی معلومات افزاء گفتگو فرمائی۔ انہوں نے ایک خوبصورت گراؤنڈ میں لگے ہوئے دنیا کے نقشے کی طرف اشارہ کر کے فرمایا کہ پہلے یہاں پر لینن کا مجسمہ تھا اب ہم نے یہاں پر دنیا کے نقشے کا یہ خوبصورت ماڈل بنا دیا ہے۔ اسی طرح سڑکوں اور علاقوں کے نام بھی تبدیل کر دیئے ہیں۔ مثلاً پہلے ایک بڑے ہوٹل کا نام ماسکو ہوٹل تھا۔ اب اسے تبدیل کر کے چار سو ہوٹل رکھ دیا گیا ہے۔ اسی طرح سڑکوں اور اسٹیشنوں کے نام بھی بابر، ترمذی اور البیرونی کے ناموں پر رکھ دیئے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ ۱۹۸۹ء میں پورے روس سے صرف چوبیس آدمیوں نے حج ادا کیا تھا۔ جب کہ اس سال یعنی ۱۹۹۲ء میں چار ہزار خوش قسمت مسلمانوں نے حج کی سعادت حاصل کی ہے۔ روس کے زمانے میں مدرسہ میر عرب بخارا میں صرف چالیس طالب علم رکھنے کی اجازت تھی۔ جب کہ اب اس مدرسے میں الحمدللہ ! پانچ سو سے زائد طالب علم دینی تعلیم کے زیور سے آراستہ ہو رہے ہیں۔ اس ترجمان سے جب وفد کے بعض حضرات نے پوچھا کہ آپ نے عربی کہاں سے سیکھی تو انہوں نے بڑے عجیب حالات سنائے کہ انہوں نے کس طرح خفیہ طریقے سے مشائخ اور علماء کے پاس راتوں کو جا کر دینی تعلیم حاصل کی اور وہ اس راستے میں ان کو کس طرح ستاتے تھے۔

ان کی ایمان افروز باتوں کو سنتے سنتے ہم ادارہ دینیہ جا پہنچے جہاں پر ادارہ کے ڈائریکٹر نے استقبال کیا۔ وفد کے ارکان ڈائریکٹر صاحب کی رہنمائی میں اس ہال میں پہنچے، جہاں ازبکستان کے علماء کا ایک اعلیٰ سطحی نمائندہ اجلاس ہو رہا تھا۔ اس اجلاس کی صدارت مفتی محمد صادق صاحب کر رہے تھے۔ انہوں نے اور دیگر تمام شرکاء نے احتراماً کھڑے ہو کر وفد کا استقبال کیا۔ حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی اور حضرت مولانا ڈاکٹر عبدالرزاق اسکندر اور حضرت مولانا مفتی محمد رفیع عثمانی اور حضرت مولانا جسٹس مفتی محمد تقی عثمانی کو اسٹیج پر لے جایا گیا جب کہ باقی اراکین وفد خالی کرسیوں پر بیٹھ گئے۔ مفتی محمد صادق صاحب نے بڑے عمدہ الفاظ میں وفد کو خوش آمدید کہتے ہوئے فرمایا کہ ہم اپنے دلوں کی گہرائی سے آپ حضرات کا استقبال کرتے ہیں اور آپ کو خوش آمدید کہتے ہیں۔ پھر انہوں نے حضرت مولانا ڈاکٹر عبدالرزاق صاحب سے درخواست کی کہ وہ اپنے رفقاء وفد کا تعارف کرائیں۔ حضرت مولانا ڈاکٹر عبدالرزاق صاحب نے وفد کے ایک ایک رکن کا علیحدہ علیحدہ تعارف کرایا اور بتایا کہ پاکستان کے مقتدر اور جید علماء کا یہ وفد آپ حضرات کی زیارت کے لئے آیا ہے۔ اس تعارف کے دوران حضرت ڈاکٹر صاحب دامت برکاتہم نے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت اور فتنہ قادیانیت کا سرسری ذکر بھی فرمایا جس پر مفتی محمد صادق صاحب نے فرمایا کہ فتنہ قادیانیت ایک بڑا ہی خطرناک اور گمراہ کن فتنہ ہے اور یہ لوگ احمدیہ کے نام سے اپنا تعارف کراتے ہیں۔ حضرت مفتی صاحب نے فرمایا کہ میرے خیال میں اس اہم وفد کی آمد کا ایک مقصد قادیانیت کا تعاقب بھی ہے۔ اس لئے میں شرکاء وفد سے درخواست کروں گا کہ آپ میں سے کوئی ایک کھڑے ہو کر ہمارے علماء و خطباء حضرات کو اس فتنے کے متعلق مختصر طور پر کچھ بتائیں۔ حضرت مفتی صاحب کی اس فرمائش کے جواب میں حضرت اقدس مولانا جسٹس مفتی محمد تقی عثمانی کھڑے ہوئے اور انہوں نے اپنے فصیح اور مختصر مگر جامع خطاب میں فرمایا: ”ہماری قدیم اور قلبی تمنا تھی کہ ہم ان علاقوں کو دیکھیں جو علمی دنیا کا حقیقی دارالخلافہ ہیں۔ ان علاقوں میں تفسیر حدیث اور لغت کے ائمہ پیدا ہوئے اور ہم تک علوم دینی انہی علاقوں سے پہنچے اور اسی علاقے میں پیدا ہونے والے افراد واکابر کی کتابوں کو ہم آج

صفحہ ۸۹

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۲ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

تک پڑھتے ہیں اور علم حاصل کرتے ہیں۔ اس لئے ہم سب کی یہ خواہش تھی کہ ہم ان علاقوں اور ان آثار کی زیارت کریں۔ ہمارے اس وفد کی آمد کے کئی اہم مقاصد ہیں۔‘‘

پہلا مقصد ! تو یہی ہے جو میں نے عرض کیا کہ ان علاقوں کو دیکھنا اور یہاں کے مسلمانوں کے حالات کا مشاہدہ کرنا یہ ہماری آمد کا سب سے اولین اور اہم مقصد ہے۔ ہماری آمد کا دوسرا مقصد ! یہ ہے کہ ہم اپنی خدمات آپ کو پیش کریں کہ ہم ان علاقوں کے مسلمانوں کے لئے اور اہل علم کے لئے کیا کر سکتے ہیں۔ کیا ہمارے لئے ممکن ہے کہ آپ کی دینی خدمات میں آپ کے ساتھ حصہ ڈال سکیں۔ تیسرا مقصد ! یہ ہے کہ ان علاقوں کی دینی تعمیر کی ذمہ داری یہاں کے علماء کے کندھوں پر ہے۔ یہ علاقے دین اور علم کے گہوارے تھے۔ اب جب کہ حالات دوبارہ درست ہو رہے ہیں۔ اس دینی نشاط اور ترقی کا اعادہ علماء کی ذمہ داری ہے۔ ہم اس لئے آئے ہیں کہ علماء کو اس طرف متوجہ کریں اور ان کو اپنے تعاون کا یقین دلائیں۔ چوتھا مقصد! یہ کہ ہم نے دین اور فقہ آپ ہی سے سیکھی ہے اور ہم چاہتے ہیں کہ علمی اور دینی قیادت ان مرکزوں کو دوبارہ مل جائے۔ اب اہل دین کی طرح باطل فرقے بھی ان علاقوں کا رخ کر رہے ہیں اور وہ چاہتے ہیں کہ یہاں کے سیدھے سادھے مسلمانوں کو گمراہ کریں اور ان فتنوں میں سب سے بڑا خطرناک اور گمراہ کن فتنہ، فتنہ قادیانیت ہے۔

اس کے بعد حضرت مفتی صاحب نے فتنہ قادیانیت کی تاریخ اور گمراہیوں سے آگاہ کیا آپ نے جب مرزا قادیانی کے بعض غلیظ نظریات سے پردہ اٹھایا تو ازبکستان کے علماء نے بلند آواز میں استغفار اور انا للہ کی آوازیں بلند کر کے اس فتنے سے نفرت کا اظہار فرمایا۔ حضرت مفتی محمد تقی عثمانی کے خطاب کے بعد حضرت مولانا ڈاکٹر عبدالرزاق اسکندر نے خطاب فرمایا۔ آپ پر اپنے خطاب کی ابتداء ہی میں رقت طاری ہو گئی اور یہ رقت سامعین میں بھی منتقل ہو گئی۔ حضرت ڈاکٹر صاحب نے فرمایا کہ ہم کبھی یہ تصور بھی نہیں کر سکتے تھے کہ اپنی زندگیوں میں ہمیں یہ سعادت نصیب ہوگی کہ ہم ان عظیم علمی و تاریخی شہروں کو دیکھ سکیں گے اور اپنے بھائیوں سے مل سکیں گے۔ حضرت ڈاکٹر صاحب نے اس مسئلے پر زور دیا کہ جناب نبی اقدس ﷺ نے اپنے صحابہ کرام ؓ کو کلمہ پڑھانے کے بعد ایسے ہی نہیں چھوڑ دیا بلکہ ان کی تربیت فرمائی اور انہیں علم سکھایا۔ ان میں سے کوئی چھوٹا تھا یا بڑا، عورت تھی یا مرد، آنحضرت ﷺ نے ان سب کو تعلیم دی۔ اس لئے آپ حضرات کو چاہئے کہ اس آزادی کی نعمت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے آپ مسلمانوں کے لئے تعلیم و تربیت کا معقول انتظام فرمائیں۔ ڈاکٹر صاحب نے وفاق المدارس العربیہ پاکستان کا تعارف کراتے ہوئے فرمایا کہ ہمارے اس وفاق میں ایک ہزار سے زائد مدرسے ہیں اور ہم آپ کو دعوت دیتے ہیں کہ آپ اپنے طالب علموں کو ہمارے پاس بھیجیں تاکہ وہ ہمارے مدارس میں تعلیم حاصل کر سکیں۔ ہم آپ کے بچوں کو وہی کچھ سکھائیں گے جو ہم نے آپ سے سیکھا ہے۔ یہاں تک کہ آپ کہہ سکیں کہ یہ ہمارا ہی سرمایہ ہے اور ہماری ہی پونجی ہے جو ہمیں لوٹائی گئی ہے۔

حضرت ڈاکٹر صاحب نے فتنہ قادیانیت پر گفتگو کرتے ہوئے فرمایا کہ آپ لوگ ابھی سے مکمل طور پر محتاط ہو جائیں۔ اس لئے کہ قادیانیت ایک ایسا فتنہ ہے جو دجالی روپ میں آتا ہے اور قادیانیوں اور دوسرے فتنوں میں یہ فرق ہے کہ دوسرے فتنے ہمارے کھلے دشمن ہیں جنہیں ہم پہچانتے ہیں کہ یہ یہودی ہے اور یہ نصرانی، مگر قادیانی خود کو مسلمان ظاہر کرتے ہیں اور بظاہر اسلامی شعائر پر عمل کرتے ہیں۔ ہماری طرح نماز وغیرہ ادا کرتے ہیں۔ اس لئے قادیانیوں کی مثال اس دھوکہ باز شخص کی ہے جو کسی بوتل میں شراب بیچ رہا ہو اور اس نے بوتل پر زم زم کا لیبل چپکا رکھا ہو اور لوگوں سے یہی کہہ رہا ہو کہ اس میں زم زم ہے تو ایسے آدمی کے مکر سے بچنا بہت مشکل ہوگا۔ بخلاف اس شخص کے جو شراب بیچ رہا ہو اور اس نے لیبل بھی شراب کا لگا رکھا ہو، اس شخص سے جو بچنا چاہے گا اس کے لئے بچنا آسان ہوگا۔ حضرت

صفحہ ۹۰

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۲ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

ڈاکٹر صاحب کے فصیح وبلیغ عربی خطاب کے بعد مفتی محمد صادق صاحب نے ایک مرتبہ پھر مہمانوں کا شکریہ ادا کیا اور اس مجلس میں شریک ازبکستان کے علماء کا تعارف کرایا۔ ذیل میں ان علماء وخطباء میں سے چند کے اسماء گرامی پیش خدمت ہیں۔

مذکورہ بالا حضرات کے علاوہ اور بہت سارے مقامی اور بیرونی علماء اس مجلس میں شریک ہوئے اور ترکی سے بھی بعض اکابر علماء تشریف لائے ہوئے تھے۔ آخر میں ان تمام حضرات کو امیر وفد حضرت اقدس مولانا محمد یوسف لدھیانوی مدظلہ العالی کا عربی خط دیا گیا اور بعض ہدایا ( تسبیح ، عطر وغیرہ ) بھی تقسیم کئے گئے اور ختم نبوت کے موضوع پر لٹریچر بھی تقسیم کیا گیا۔ اس کے بعد مفتی محمد صادق نے فرمایا کہ آپ حضرات ہمارے ادارے اور دیگر اہم مقامات دیکھیں۔ ہم اپنے اجلاس کی کارروائی جاری رکھیں گے۔ چنانچہ وفد کے ارکان نے شرکاء مجلس سے الوداعی مصافحہ کیا اور باہر آگئے ۔ ادارہ دینیہ کے بعض سرکردہ رہنما بھی الوداع کہنے کے لئے باہر تک آئے ۔ اس کے بعد وفد نے ترجمان محمد کامل کی رہنمائی میں مسجد طلا شیخ دیکھی ۔ اس مسجد کی دیوار پر جلی حروف میں تحریر تھا۔

”بیوک محدث امام ابوعیسی ترمذی فخصتکم بالذکری. ۱۲۰۰ سنه لميلاد المحدث الكبير. الامام عيسى الترمذى.“

اس بات سے معلوم ہوتا تھا کہ یہ تحریر امام ترمذی کے جشن ولادت کے بارہ سو سال پورے ہونے پر بطور یادگار کے لکھی گئی ہے۔ آنجہانی سوویت یونین نے اپنے آخری دنوں میں دنیا کو یہ باور کرانے کے لئے کہ ہمارے ہاں اسلام اور مسلمانوں کو مکمل آزادی ہے۔ بعض مشاہیر امت کے دن منانے کی تقریبات کا سرکاری طور پر اہتمام کیا تھا اور اس قسم کی تقریبات میں دنیا بھر سے مدعوین شرکت کیا کرتے تھے اور پھر روس میں اسلامی آزادی کے گن گاتے تھے۔ ان حضرات کی آمدورفت کا انتظام عام طور پر روسی سفارت خانے کے ذمہ ہوتا تھا اور بعد میں روس کی تعریف میں مضمون لکھ کر وہ اس احسان کا بدلہ چکاتے تھے۔ ہم مسجد کی عمارت میں داخل ہوئے تو اس عمارت میں مسجد کے علاوہ ایک تاریخی کتاب گھر بھی تھا۔ جس میں مختلف کتابوں کے قلمی نسخے بڑی حفاظت اور ترتیب سے رکھے ہوئے تھے۔ مسند ابی عوانہ، سنن ابی داؤد اور صحیح مسلم کے نسخوں کے علاوہ قرآن مجید کے کئی نسخے بھی موجود تھے۔ اس عمارت کے ایک اندرونی کمرے میں ”مصحف عثمانی“ بھی تھا۔ لیکن اس وقت اس کی زیارت نہ ہوسکی۔ معہد علمی تاشقند دیکھنے کے بعد پھر اس عمارت میں آکر مصحف عثمانی کی زیارت نصیب ہوئی۔ جس کی تفصیلات قارئین اگلے صفحات پر ملاحظہ فرمائیں گے۔ اس کے بعد ادارہ دینیہ کے زیر اہتمام چلنے والے مدرسہ معہد عالی تاشقند باسم الامام البخاری دیکھنے کے لئے جانا ہوا۔ مدرسے میں داخل ہوتے ہی الٹے ہاتھ کی جانب دیوار پر جلی حروف میں لکھا ہوا تھا۔

”الادارة الدينيه لمسلمى اسيا الوسطى وقازقستان“ آگے پودوں کے درمیان قرینے سے تختیاں لگائی گئی تھیں۔

صفحہ ۹۱

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۲ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

جن پر قرآنی آیات اور احادیث درج تھیں۔ وفد کے ارکان کو مدرسے کے دفتر لے جایا گیا۔ جہاں پر مدرسہ کے نائب مدیر جناب منصور جان صاحب نے وفد کا استقبال کیا اور مدرسے کے متعلق تفصیلات بتائیں جب کہ اس مدرسہ کے مدیر بہادر مرتضیٰ صاحب اجلاس میں شریک تھے۔ تھوڑی دیر بعد پہنچنے والے تھے۔ اس مدرسے میں چار سو طلباء اور پانچ سو طالبات زیر تعلیم ہیں۔ طلباء کی تعلیم ظہر سے پہلے اور طالبات کی تعلیم ظہر کے بعد ہوتی ہے۔ اس مدرسے کے جملہ مصارف، ادارہ دینیہ برداشت کرتا ہے۔ طلباء کو مفت تعلیم کے ساتھ ساتھ ماہانہ وظائف بھی دیئے جاتے ہیں۔ مدرسہ کی بنیاد ۱۹۷۱ء میں پڑی، روس کے آخری زمانے میں اس میں صرف چالیس طلباء رکھنے کی اجازت تھی۔ جب کہ روس سے علیحدگی کے بعد یہاں طلباء کی تعداد میں قابل قدر اضافہ ہوا ہے۔ یہ پورے سوویت یونین کا سب سے بڑا عالی مدرسہ ہے۔ یہاں طلباء کو پانچ سال کا کورس کرایا جاتا ہے اور ان طلباء کو لیا جاتا ہے جو مدرسہ میر عرب بخارا میں ابتدائی تعلیم حاصل کر چکے ہوں۔ مدرسے کے پہلے مدیر جناب مفتی ضیاء الدین بابا خانوف تھے۔ ان کے انتقال کے بعد مفتی شمس الدین مدرسے کے مدیر اور مفتی رہے۔ چھ سال تک انہوں نے یہ خدمت انجام دی۔ اب وہ معہد الاستشراق میں خدمات انجام دے رہے ہیں۔ ۱۹۸۹ء میں مفتی محمد صادق کو ازبکستان کے مسلمانوں کی خواہش پر مفتی بنایا گیا جو تا حال اس منصب پر فائز ہیں۔ (نوٹ: حکومت نے اختلاف کی بناء پر اب مئی ۱۹۹۳ء میں ان کو اس عہدے سے سبکدوش کر کے نائب مفتی بنادیا۔ ان کی جگہ مفتی مختار صاحب کو مفتی ماوراء النہر بنایا ہے) مدرسہ میں دوسو کے قریب رہائشی طلباء بھی ہیں۔ جن میں سے بعض مدرسے میں اور بعض مسجد طلا شیخ میں رہتے ہیں۔ ان کے قیام وطعام کے تمام مصارف مدرسہ برداشت کرتا ہے۔

مدرسے کے تفصیلی معائنے کے بعد مدرسے کے بالکل سامنے امام ابو بکر قفال شاشی کے مزار پر حاضری دی اور پھر ادارہ دینیہ کے شعبہ نشر و اشاعت کو دیکھنے کے لئے مزار کے قریب والی عمارت میں گئے۔ جہاں ادارہ نشریات کے ناظم سیف اللہ سے ملاقات ہوئی۔ جو عربی کے چند گنے چنے الفاظ جانتے تھے اور یہ الفاظ انہوں نے حج کے دوران سیکھے تھے۔ یہ ادارہ اب تک کئی کتب شائع کر چکا ہے۔ نور اسلام کے نام سے ایک پندرہ روزہ مجلہ بھی نکالتا ہے اور بعض اہم کتابوں کا ازبک زبان میں ترجمہ بھی شائع کر چکا ہے۔ ان کتابوں میں شمائل، ترمذی کا ازبکی ترجمہ خاص طور پر قابل ذکر ہے۔

مصحف عثمانی: ادارہ نشر و اشاعت دیکھنے کے بعد پھر مسجد طلا شیخ کی عمارت میں داخل ہوئے اور ایک بڑے ہال نما کمرے سے جس میں کتابوں کے قلمی نسخے رکھے تھے۔ گزر کر ایک خوبصورت چھوٹے کمرے میں داخل ہوئے۔ اس کمرے میں قرآن مجید کا وہ نسخہ موجود تھا۔ جس پر سیدنا حضرت عثمان غنیؓ بوقت شہادت تلاوت فرمارہے تھے اور آپ کا پاکیزہ خون اس مصحف پر گرا تھا۔ قرآن مجید کا اصلی نسخہ جو کہ ہرن کی کھال پر لکھا گیا تھا۔ ایک شیشے میں محفوظ تھا اور اندر کے بعض صفحات پر خون کا نشان بھی نظر آ رہا تھا جب کہ اس نسخے کا ایک فوٹو باہر میز پر رکھا گیا ہے۔ اس کا جو صفحہ کھلا ہوا ہے۔ اس پر پہلے پارے کی آیات : ”واذ قال ربک للملئکۃ انی جاعل فی الارض خلیفہ الخ“ تحریر ہیں۔

اس مصحف کی دیکھ بھال وحفاظت پر مامور نوجوان عالم دین کا نام برہان الدین سمر قندی ہے۔ ان سے جب پوچھا گیا کہ کیا اس کے شواہد موجود ہیں کہ یہ وہی مصحف ہے جس پر حضرت عثمان غنیؓ تلاوت فرمارہے تھے تو انہوں نے فرمایا کہ ہمارے پاس اس مصحف کی مکمل تاریخ موجود ہے اور بے شمار شواہد سے یہی معلوم ہوتا ہے کہ یہ مصحف عثمانی ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں نے خود اس قرآن مجید کی آیات کریمہ ”فیسکفیکھم اللہ“ پر خون کے دھبے دیکھے ہیں اور وہ خون تاحال موجود ہے۔ انہوں نے اس مصحف کی جو مختصر تاریخ بتائی وہ ذیل میں ہدیہ قارئین ہے۔

صفحہ ۹۲

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۲ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

سیدنا حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کے زمانے میں اس مصحف کو مدینہ منورہ سے کوفہ منتقل کیا گیا۔ جب تیمور لنگ نے بغداد کو فتح کیا تو اس نے یہ مصحف سمرقند بھیجا۔ طویل عرصے تک یہ مصحف سمرقند میں رہا۔ دو سو سال قبل جب روسیوں نے ان علاقوں کو فتح کیا تو لینن گراڈ کے عجائب خانہ میں بھیج دیا۔ پھر تاتاریوں نے یہ قرآن مجید اوفا میں پہنچایا تو یہاں کے بہت سارے علماء کرام اسٹالن کے پاس گئے اور اس سے کہا کہ وہ کسی طرح یہ مصحف لائے۔ اسٹالن جو کہ بڑا ظالم اور بد دین تھا۔ اس مسئلے میں علماء کے سامنے مجبور ہو گیا اور تاتاریوں سے واپس یہاں لے آیا۔ جس کے بعد یہ قرآن مجید حکومت ازبکستان کی تحویل میں تھا۔ چار سال قبل ادارہ دینیہ نے حکومت سے مطالبہ کر کے یہ مصحف لے لیا۔ اب چار سال سے یہ مصحف ادارہ دینیہ کے پاس ہے اور ادارہ دینیہ نے اس کی حفاظت کے لئے اعلیٰ انتظامات کئے ہوئے ہیں۔ موسم کے اثرات سے محفوظ رکھنے کے لئے ہوا بند شیشے کا انتظام ہے اور آئندہ کے لئے مزید انتظامات کرنے کا ارادہ ہے۔

اراکین وفد نے بہت ذوق وشوق کے ساتھ اس مصحف کو دیکھا۔ بعض کی آنکھیں پرنم ہوگئیں اور اس یقین میں اور اضافہ ہوا کہ پوری دنیا مل کر بھی شہید کے خون کو نہیں مٹا سکتی۔ چنانچہ شہید مظلوم حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کا خون آج بھی چمک رہا ہے اور اللہ کے مبارک کلام پر موجود ہے۔ جب کہ قاتلین عثمان مٹ چکے ہیں۔ فنا ہو چکے ہیں۔ ان کا نام بدنامی کا نشان بن چکا ہے۔ جب کہ شہید زندہ ہے۔ اس کا نام تابندہ ہے اور اس کا مشن پائندہ ہے اور اس کا خون چمک رہا ہے۔ اس خون پر مٹی ڈالنے والے مٹی ہو چکے ہیں اور آج ہمیں شہدائے افغانستان کے مبارک سرخ خون کی بدولت خلیفہ ثالث سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے پاک خون کو دیکھنے کا موقع ملا۔ آفرین اے شہدائے افغانستان ۔ مصحف عثمانی کی زیارت کے بعد پھر مدرسہ میں آنا ہوا۔ جہاں مفتی محمد صادق کی اقتداء میں ظہر کی نماز باجماعت ادا کی اور پھر ادارہ دینیہ کی طرف سے اجلاس میں شریک علماء کرام اور اراکین وفد کے اعزاز میں پر تکلف ظہرانہ دیا گیا۔ ظہرانے سے فارغ ہو کر اراکین وفد ادارہ دینیہ کی گاڑیوں پر ترجمان کی رہنمائی میں مدرسہ کوکل تاش دیکھنے کے لئے گئے۔ مدرسہ کوکل تاش کے اساتذہ اور منتظمین بڑی شدت سے وفد کے منتظر تھے۔ جب کہ مدرسہ کے طلباء وفد کا طویل انتظار کر کے گھروں میں جا چکے تھے۔ ظہر کی نماز کے بعد یہاں طلباء سے خطاب کا پروگرام تھا مگر ادارہ دینیہ کے پروگرام کے طویل ہو جانے کی وجہ سے یہاں بھی بروقت نہ پہنچ سکے جس کا سب کو شدید افسوس ہوا۔ اہل مدرسہ نے پھلوں اور چائے سے تواضع کی اور کھانا بھی پیش کیا۔ اراکین وفد نے کھانے سے معذرت کی مگر تاشقند کے مہمان نواز علماء کہاں مانتے تھے۔ انہوں نے با اصرار کچھ نہ کچھ سب کو کھلایا۔ اراکین وفد مدرسے کی تاریخی عمارت کو دیکھ کر بہت خوش ہوئے اور سب نے دل سے دعائیں دیں۔

عصر کے بعد وفد دوبارہ ہوٹل تاشقند پہنچ گیا۔ مغرب کی نماز ہوٹل میں اذان اور جماعت کے ساتھ ادا کی۔ الحمد للہ ! جتنے دن تک وفد تاشقند ہوٹل میں رہا۔ وہاں پر اذان کی آواز مسلسل گونجتی رہی۔ باجماعت نماز ہوتی رہی۔ یہ اذان و جماعت خود ایک دعوت تھی جس کے اثرات الحمد للہ! واضح طور پر محسوس ہورہے تھے۔ مغرب کی نماز کے بعد ازبکستان کی مشہور دینی تنظیم اسلام اولغانش حزبی یعنی حزب نہضہ اسلامیہ کی ازبکستان برانچ کے امیر عبداللہ حاجی اوتا ترمذی اپنے رفقاء کے ساتھ تشریف لے آئے اور وفد کو اپنے عالی شان گھر میں لے گئے۔ جہاں اس تنظیم کے ترجمان عبداللہ یوسف سے تفصیلی گفتگو ہوئی۔ انہوں نے بتایا کہ حزب نہضہ اسلامیہ تقریباً اڑھائی سال میں وجود میں آئی ہے اور اکثر دیندار نوجوان اس حزب میں شامل ہوگئے ہیں۔ اس تنظیم کے اہم مقاصد اعلاء کلمۃ اللہ ، الدعوۃ الی اللہ اور نوجوانوں کی دینی تربیت ہے۔ اس تنظیم نے اپنے ان اہم دینی مقاصد کی تکمیل کے لئے ایک رسالہ الدعوۃ کے نام سے نکالا مگر حکومت نے پابندی لگا دی۔ اس تنظیم کے نوجوانوں نے تاجکستان میں اسلامی انقلاب کی داغ بیل ڈالی ہوئی ہے۔ تاجکستان میں تنظیم کی قیادت جناب محمد شریف

صفحہ ۹۳

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۲ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

صاحب کر رہے ہیں۔ تاجکستان میں تنظیم کی انقلابی سرگرمیوں کا اثر ازبکستان میں پڑا ہے۔ جس کی وجہ سے یہ تنظیم حکومت ازبکستان کی نظروں میں کھٹک رہی ہے۔ اس تنظیم نے اسی سال کچھ طلباء کو جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ تعلیم کے لئے بھیجا ہے اور ہمارے وفد کی بھر پور دعوت پر لبیک کہتے ہوئے اس سال ان شاء اللہ پچاس طلباء کو پاکستان کے مختلف دینی مدارس میں بھیجے گی۔ اس سلسلے میں وفد کے اور تنظیم کے کئی گھنٹوں تک تفصیلی مذاکرات ہوئے اور ازبکی طلباء کو پاکستان بھیجنے کے لئے غور وخوض ہوا۔

مہمان نواز قوم کے ان سپوتوں نے ہمارے آنے سے پہلے ہی دسترخوان کو پھلوں اور میووں سے بھر دیا تھا۔ ازبکستان کے قومی رواج کے مطابق ہم نے بھی خلاف عادت پھلوں سے کھانے کی ابتداء کی اور آخر میں سالن لایا گیا۔ پانی کے بجائے یہاں چائے استعمال ہوتی ہے۔ کھانے کے دوران اگر ان سے پانی مانگا جائے تو حیران ہو کر پانی پیش کرتے ہیں کہ پھیکی چائے کی موجودگی میں پانی کی کیا ضرورت پیش آ گئی۔ ابھی عبداللہ حاجی اوتا کے گھر بیٹھے تھے کہ حضرت مولانا مفتی محمد رفیع صاحب عثمانی نے ان سے مسجد تختہ بائی کے امام عابد قادری کے متعلق استفسار کیا۔ شیخ عبداللہ اوتا نے ٹیلیفون کر کے عابد قادری کو وہیں بلوالیا۔ تھوڑی دیر بعد ایک خوش شکل باشرع سنجیدہ نوجوان وہاں پہنچ گئے۔ معلوم ہوا کہ یہی عابد قادری ہیں جن کی مسجد میں جمعہ کا مثالی اجتماع ہوتا ہے اور نوجوان ان کے گرد جمع رہتے ہیں۔ کافی دیر تک ان سے گفتگو ہوتی رہی۔ رات ساڑھے دس گیارہ بجے کے قریب اراکین وفد زمین دوز ریل (میٹرو) کے ذریعے سے ابوریحان بیرونی اسٹیشن سے سوار ہو کر تاشقند ہوٹل کے اسٹاپ پر اترے اور سیڑھیوں کے ذریعے اس خوبصورت تہہ خانے سے نکل کر اپنے ہوٹل آ پہنچے۔ بعض جہاندیدہ حضرات نے یہ بتایا کہ یہاں کی زمین دوز ریل کا نظام برطانیہ اور امریکہ کی زمین دوز ریلوں سے زیادہ آرام دہ اور بہتر ہے۔

۳؍نومبر ۱۹۹۲ء بروز منگل سمرقند روانگی: دوپہر پونے بارہ بجے دو گاڑیوں میں قافلہ سمرقند روانہ ہوا۔ دوپہر کا کھانا اور ظہر وعصر کی نماز راستے میں ہوئی۔ پہلے میدانی اور پھر پہاڑی راستہ عبور کر کے آرام دہ سڑک کا سفر بالآخر اختتام پذیر ہوا اور ہم مغرب کے وقت ہی علم وعرفان کے عظیم مرکز سمرقند کی جامع مسجد خواجہ زود مراد پہنچ گئے۔ مغرب کی نماز مسجد میں ادا کی۔ جہاں جماعت ہو چکی تھی۔ نماز کے بعد مسجد کے امام جناب محترم مصطفیٰ قل صاحب سے پھلوں اور میووں سے سجے سجائے دسترخوان پر ملاقات ہوئی۔ انہوں نے سمرقند کی مختصر مگر دلچسپ تاریخ سنائی۔ انہوں نے بتایا کہ سمرقند آتش پرستوں کا شہر تھا اور یہاں کے آتش پرستوں نے بخارا میں موجود اسلامی فوج پر حملہ بھی کیا مگر یہاں کے عوام آتش پرستوں کی بعض منحوس رسومات سے شدید پریشان تھے۔ مثلاً ان کی ایک رسم یہ تھی کہ جب کسی کا انتقال ہو جاتا تو اسے شہر سے باہر کتوں کے سامنے ڈال دیا جاتا اور کتے اس کے گوشت کو نوچتے۔ چند دن کے بعد یہ دیکھا جاتا کہ جسم پر گوشت باقی ہے یا نہیں ۔ اگر گوشت باقی نہ ہوتا تو کہتے کہ یہ آدمی گناہوں سے پاک صاف ہے اور اگر گوشت باقی رہ جاتا تو کہتے کہ یہ گناہگار ہے۔ اسی طرح ان کے مذہب میں بیوی خاوند کے بھائیوں میں مشترک ہوتی تھی۔ بہر حال آتش پرستوں کی ان وحشیانہ اور غلیظ رسومات کی وجہ سے لوگ پہلے سے تنگ تھے۔ جب انہوں نے اسلام کو دیکھا اور سنا تو اس کا استقبال کیا۔ سب سے پہلے ۴۵ ہجری میں حضرت معاویہؓ کے ابتدائی دور میں حضرت سعید بن عثمانؓ اور حضرت قثم ابن عباسؓ یہاں تشریف لائے۔ حضرت سعید بن عثمانؓ نے شہر سے باہر حوضہ نامی جگہ پر قیام فرمایا جب کہ قثم ابن عباسؓ شہر میں تشریف لائے اور تیرہ سال تک یہاں مقیم رہے۔ اس کے بعد شہید کر دیئے گئے۔ جب کہ حضرت سعید بن عثمانؓ نے کافی عرصہ تک قیام فرمایا اور ان کا شہر سے باہر ہی انتقال ہوا۔

انہوں نے بتایا کہ سمرقند میں مندرجہ ذیل مشاہیر کے مزارات ہیں۔ (۱) امام ابو منصور ماتریدی۔ (۲) امام بخاری۔ (۳) فقیہ

صفحہ ۹۴

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۲ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

ابواللیث سمرقندی۔ (۴) خواجہ عبیداللہ احرار نقشبندی۔ (۵) صاحب ہدایہ برہان الدین مرغیلانی۔ (۶) امام دارمی۔ (۷) امام دیلمی۔ وفد کے ارکان نے جب امام صاحب مصطفیٰ قل سے ان کا مکمل تعارف اور روسی انقلاب کے دنوں میں دین پر ان کی استقامت کے سلسلے میں سوال کیا تو انہوں نے بڑے پرعزم لہجے میں فرمایا کہ ہمیں موجود اور پہلے والے حالات میں اس اعتبار سے کوئی فرق معلوم نہیں ہوتا کہ ہم نے اس وقت بھی دین کی حفاظت کی اور اب بھی کر رہے ہیں۔ البتہ پابندی کے دنوں میں ہمارے دشمن راتوں کو سوتے تھے اور ہم جاگ جاگ کر علم حاصل کرتے تھے۔ ہم نے اپنے دین کو زیر زمین سیکھا۔ حجروں میں چھپ کر سیکھا۔ انہوں نے فرمایا کہ ہمارے والد محترم ہم لوگوں سے ہمیشہ فرمایا کرتے تھے کہ بیٹا! دین اسلام پر قائم رہنا، اپنے ہاتھ پر جلتا ہوا انگارہ رکھنا ہے۔ چنانچہ ہم نے اسی اصول کو مدنظر رکھتے ہوئے خود کو ہمیشہ ہر قسم کے حالات کے لئے تیار رکھا اور ہر مشکل سے مشکل حالات کا مقابلہ کرنے کے لئے ہمیشہ مستعد رہے۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ میرے والد گھر میں چھپ کر نماز پڑھتے تھے اور میں دروازے پر پہرہ دیا کرتا تھا۔ کیونکہ جاسوس ہمیشہ تاک میں رہتے تھے اور انہیں جو نماز پڑھتا ہوا مل جاتا اسے سائبیریا کے یخ بستہ عقوبت خانوں میں بھیج دیا کرتے تھے۔ میرے والد گھر میں بھی چھپ کر اس وقت نماز پڑھتے جب میری والدہ چائے تیار کرتی تھیں کہ اگر اچانک چھاپہ پڑ جائے تو کہہ سکیں کہ چائے پی رہے تھے۔ اس دوران میں دروازے پر پہرہ دیا کرتا تھا۔ بعض مرتبہ حکومت کے جاسوس مجھے اخروٹ، بادام وغیرہ دے کر جھانسہ دینے کی کوشش کرتے اور پوچھتے کہ بتاؤ تمہارے والد نماز پڑھتے ہیں یا نہیں۔ میں جواب دیتا نہیں پڑھتے تو وہ مجھے مزید لالچ دے کر یہ راز اگلوانے کی کوشش کرتے۔ انہوں نے یہ خوشخبری بھی سنائی کہ اس سال سمرقند میں ایک لاکھ مسلمانوں نے عید کی نماز ادا کی۔ الحمد للہ ! آزادی کے بعد سمرقند شہر میں اڑھائی سو سے زائد مسجدیں کھل چکی ہیں اور تین مدرسے کام کر رہے ہیں۔ انہوں نے یہ بات بتا کر اہل وفد کے دلوں کو خوش کر دیا کہ اب ان علاقوں میں اسلام تیزی سے پھیل رہا ہے اور اس کے اثرات ماسکو تک پہنچ رہے ہیں اور ماسکو میں بیس لاکھ مسلمان ہیں۔ اس لئے وہ وقت دور نہیں کہ جب ماضی کی طرح یہاں پھر اسلام کی بالادستی قائم ہوگی اور اسلامی نظام رائج ہوگا۔

جب اہل وفد نے ان سے باطل فرقوں کی جدوجہد اور ان علاقوں میں ان کے ممکنہ خطرات کے موضوع پر گفتگو کی تو امام صاحب نے فرمایا۔ ہمارے علاقوں میں آزادی کے بعد باطل فرقے کوشش کر رہے ہیں کہ یہاں اپنے پاؤں جمائیں اور خود کو مضبوط کریں مگر ہم نے الحمد للہ ! ان باطل فرقوں پر کڑی نظر رکھی ہوئی ہے۔ چند دن قبل بہائی فرقے کے کچھ لوگ یہاں آئے تھے تو میں نے ان کو بلا کر کہا کہ اگر آپ نے یہاں اپنے مذہب کی دعوت دی تو پھر معاملہ بگڑ سکتا ہے۔ اس پر انہوں نے کہا کہ ہمارے مذہب میں دعوت کا نظام ہی نہیں ہے بہرحال ہم نے ان کو متنبہ کر دیا۔ اسی طرح ان شاء اللہ قادیانیوں کو بھی یہاں آنے اور فتنے برپا کرنے اور مسلمانوں کو دین حق سے ہٹانے کی اجازت نہیں دیں گے۔ انہوں نے فرمایا کہ ہمیں اہل ایران کے مذہب اور عقیدے سے بھی بہت خوف ہے اور نفرت بھی اور ہم نہیں چاہتے کہ ہمارے ان علاقوں میں ایران کے اثرات پھیلیں۔ ہم نے یہ بات دنیا کے مختلف صحافیوں کو بھی کہہ دی ہے۔ جب ان صحافیوں نے ہم سے سوال کیا کہ کیا آپ لوگوں کو ایران سے امداد ملتی ہے تو ہم نے یہ جواب دیا کہ امداد تو ہمیں کسی بھی اسلامی ملک سے نہیں ملتی۔ مگر ہم ایران کے اثرات سے بچنا چاہتے ہیں۔ کافی دیر تک امام صاحب اس موضوع پر گفتگو کرتے رہے۔ اس دوران عشاء کی اذان ہوئی۔ اہل وفد نے اپنے دورۂ ازبکستان میں پہلی مرتبہ لاؤڈ اسپیکر پر اذان سنی۔ اذان کو سن کر چہرے خوشی سے تمتمانے لگے۔ آنکھیں پرنم ہوگئیں۔ زبانیں اذان کو دہرانے لگیں۔

صفحہ ۹۵

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۲ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

ہاں ! یہی وہ اذان تھی جسے بند کرنے کے لئے لینن اور مارکس نے نہ معلوم کیا کیا ہتھکنڈے استعمال کئے۔ پانچ کروڑ انسانوں کا قتل عام کیا۔ ظلم وستم کے وہ طریقے آزمائے جنہیں سن کر رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں۔ مگر بالآخر لینن خود مٹ گیا۔ مارکس کا نام گالی بن گیا۔ لینن کے نظام کو دھکے دے کر خود اس کی سر زمین سے نکال دیا گیا اور اذان پھر سے گونجنے لگی۔ پہلے سے زیادہ بلند اور پہلے سے زیادہ پرسوز، سب لوگ مسجد میں جمع ہوگئے۔ امام صاحب کی اقتداء میں عشاء کی نماز ادا کی گئی۔ نماز کے بعد حضرت مولانا قاری سعید الرحمٰن صاحب نے اپنی پرسوز آواز میں ایسی تلاوت کی کہ آنسوؤں کے بندھن ٹوٹ گئے۔ ہچکیوں کی آواز سے مسجد گونجنے لگی۔ قاری صاحب بلند آواز سے پڑھ رہے ہیں۔

”ھو الذی ارسل رسولہ بالھدی ودین الحق لیظہرہ علی الدین کلہ ولو کرہ الکافرون“ قاری صاحب نے قرآن مجید کے اس خدائی چیلنج کو دہرایا۔ ”یریدون لیطفئوا نور اللہ بافواہہم واللہ متم نورہ ولو کرہ المشرکون“ اس تلاوت نے ماحول پر عجیب کیفیت طاری کردی۔ پاکستان سے آنے والے اکابر اور ازبکستان کے مسلمان مل کر قرآن مجید سن رہے تھے اور رورہے تھے۔ تلاوت کے بعد حضرت مولانا ڈاکٹر عبدالرزاق صاحب اسکندر نے خطاب فرمایا۔ جس کا ترجمہ ازبک کی زبان میں امام صاحب کرتے رہے۔ ڈاکٹر صاحب نے سمرقند کے مسلمان کو اسلامی آزادی پر مبارک بادی اور پاکستانی مسلمانوں کا سلام ان کو پہنچایا اور انہیں دین کا علم سیکھنے اور علماء سے تعلق رکھنے کی ترغیب دی اور اس کے ساتھ ساتھ آئندہ سامنے آنے والے فتنوں خصوصاً فتنہ قادیانیت کی حقیقت سے آگاہ کیا اور ان فتنوں سے بچنے کی بھر پور تلقین کی۔ حضرت ڈاکٹر صاحب کا پر اثر خطاب تقریباً پونے گھنٹے تک جاری رہا۔

۴؍نومبر ۱۹۹۲ء بروز بدھ سمرقند شہر میں: رات کا قیام جامع مسجد زود قراد کے ملحق کمروں میں ہوا۔ جس کا اہتمام جناب مصطفیٰ تل صاحب نے فرمایا تھا۔ اگلے دن فجر کی نماز حضرت مولانا قاری سعید الرحمٰن صاحب نے پڑھائی۔ فجر کے بعد سمر قندی طرز کے ناشتے کا اہتمام کیا گیا۔ جس میں دیگر چیزوں کے علاوہ سمرقندی پھل پوری آب و تاب کے ساتھ موجود تھے۔ ناشتے کے بعد جناب مصطفیٰ تل صاحب تشریف لے آئے۔ انہوں نے آج کا دن وفد کے لئے فارغ کیا تھا۔ چنانچہ وفد کے ارکان ان کے ہمراہ سمرقند کے عظیم تاریخی مقامات دیکھنے کے لئے تشریف لے گئے۔ جناب مصطفیٰ تل صاحب نے سمرقند کی اہمیت بتاتے ہوئے ارشاد فرمایا۔ پہلے سمرقند ہی ازبکستان کا دارالخلافہ تھا۔ لیکن پھر تاشقند کو دارالخلافہ بنایا گیا۔ وفد نے آج کے دن درج ذیل مقامات کی زیارت کی۔

مسجد بی بی خانم: تیمور لنگ کی بیوی بی بی خانم کی طرف منسوب چھ سو سالہ پرانی یہ عظیم مسجد فن تعمیر کا عجیب مرقع ہے۔ ۵۵ میٹر بلند محراب اور ۷۶ میٹر بلند مینار والی یہ مسجد تقریباً منہدم ہوچکی ہے۔ اب دوبارہ اس کی تعمیر شروع ہوچکی ہے۔ اس مسجد میں دو بڑے مدرسے تھے۔ اسی مدرسے میں نحو کے مشہور امام شیخ عبد القاہر جرجانی کسی زمانے میں درس دیتے رہے ہیں۔

مزار شیریں بیگ بنت تراغی بہادر: سمرقند کے قدیم اور مقامی قبرستان میں داخل ہوئے تو وہاں کچھ باشرع مسلمان موجود تھے اور گیٹ کے ایک پہلو میں مسجد تھی۔ معلوم ہوا کہ پہلے یہاں ایک عجائب گھر اور کلب اور شراب کی دوکان تھی۔ اب یہاں مسجد بنادی گئی ہے۔ قبرستان میں اونچی سیڑھیاں چڑھ کر سیدھے ہاتھ پر ایک عمارت میں تیمور لنگ کی بہن شیریں بیگ کا مزار اس دور کے فن تعمیر کے ذوق کا ایک جیتا جاگتا نمونہ ہے۔ قبرستان میں سے گزر رہے تھے کہ راستے میں کسی دینی مدرسے کے چھوٹے چھوٹے معصوم بچوں کے ایک گروپ نے ارکان وفد کو بلند آواز سے سلام کیا۔ اس سلام کو سن کر بہت ہی زیادہ مسرت اور خوشی ہوئی۔ ازبکستان کی نوجوان نسل کی بے راہ روی اور دین سے دوری دیکھ کر دل میں جو پریشانی تھی۔ اس کا کچھ ازالہ ان بچوں کو دیکھ کر ہوا اور دل میں یہ یقین ابھرا کہ ان شاء اللہ ! یہ نسل پھر ان

صفحہ ۹۶

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۲ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

علاقوں کو دین کا گہوارہ بنادے گی۔ کاش! پوری دنیا کے مسلمان حتیٰ الوسع اپنے وسائل استعمال کر کے ان بچوں کے مستقبل کا فیصلہ ان کے ماضی کو دیکھ کر کریں اور ان کی دینی تربیت و تعلیم کا بندوبست کریں۔

یا اللہ امت مسلمہ کے باصلاحیت افراد کو اپنی صلاحیتیں اور اسباب کے حاملین افراد کو اپنے اسباب ان علاقوں کی دینی نشاۃ ثانیہ کے لئے استعمال کرنے کی توفیق عطاء فرما۔ (آمین)

مزار حضرت قثم بن عباس رضی اللہ عنہما: قبرستان کے آخری حصہ میں ایک بلند و بالا عمارت میں حضور ﷺ کے چچا زاد بھائی حضرت قثم بن عباس رضی اللہ عنہما کا مزار ہے۔ مزار کے دروازے پر ان الفاظ میں یہ حدیث لکھی ہوئی ہے۔ واللہ اعلم!

”قال النبی العربی الهاشمی القرشی المکی المدنی علیه السلام لقثم ابن عباس اشبه الناس بی خلقا (او کما قال)“ نبی اکرم ﷺ جو عربی ہاشمی قریشی مکی اور مدنی تھے نے حضرت قثم عباس کے بارے میں فرمایا کہ وہ اخلاق کے اعتبار سے تمام انسانوں میں مجھ سے زیادہ قریب ہیں۔ اس مزار میں سات سو سالہ مینار کا ٹکڑا بھی دیکھا۔ تیرہ سو سال قبل کوفی زبان کے الفاظ ایک دیوار پر لکھے ہوئے ہیں۔ مزار پر تاریخ شہادت ۵۷ ہجری لکھا ہے۔ عیدالاضحیٰ کی نماز پڑھانے کے بعد شہید ہوئے۔ مزار سے ملحق مسجد ہے اور تین کمرے ہیں۔ اس مسجد کی دیواروں پر جہاد اور شہادت کے فضائل کے متعلق قرآنی آیات کندہ ہیں۔ اس مسجد میں وفد کے بعض ارکان نے دو رکعت نماز بھی ادا کی۔ اس مزار کے دروازے سے باہر نکل کر اوپر کی طرف ایک مزار ہے جس کے بارے میں بتایا گیا کہ یہ مزار شیخ محدث امام دیلمی کا ہے۔

میدان ریگستان: یہ میدان تین عظیم عمارتوں پر مشتمل ہے اور سمرقند کے مسلمان عید کی نماز اس میں ادا کرتے ہیں۔ یہ عمارت فن تعمیر کا شاہکار ہے۔ اس عمارت میں تین مدرسے تھے۔ ایک مدرسہ اولغ بیگ کے نام سے مشہور تھا۔ دوسرا مدرسہ شیر دار کے نام سے مشہور تھا اور تیسرا مسجد طلا قاری۔ وفد کے ارکان نے تفصیل کے ساتھ اس جگہ کی زیارت کی۔ پہلی عمارت کے باہر ایک قبر بھی ہے جس کے بارے میں یہ بتایا گیا ہے کہ اس عمارت کی تعمیر کے دوران محمود جزار نامی ایک شخص سترہ سال تک مزدوروں کو روزانہ گوشت کھلاتا رہا۔ عمارت کی تکمیل کے بعد بادشاہ نے اسے طلب کیا اور اس سے اس خدمت کی اجرت پوچھی تو اس نے کہا کہ میری اجرت صرف یہی ہے کہ مجھے انتقال کے بعد اس عمارت کے باہر دفن کر دیا جائے تاکہ مدرسہ کے جوار میں رہ سکوں۔ چنانچہ اس کی یہ تمنا پوری ہوئی۔ دوسری عمارت میں ایک مسجد ہے جس میں صرف عیدین کے دن خطبہ اور نماز ہوتی ہے۔ جناب مصطفیٰ تل صاحب یہ خدمت سرانجام دیتے ہیں۔ ریڈیو اور ٹیلی ویژن کے ذریعے سے یہ خطبہ اور نماز ازبکستان کے دیگر علاقوں میں بھی نشر کئے جاتے ہیں۔ مسجد کے پہلو میں آثار قدیمہ کا ایک عجائب گھر بنایا گیا ہے۔ جہاں پر اکثر سیاحوں اور زائرین کا اژدہام رہتا ہے۔

مسجد و مزار خواجہ عبید اللہ احرار: اس کے بعد ایک مدرسے میں لے جایا گیا۔ یہ مدرسہ محترم جناب مصطفیٰ تل کے زیر اہتمام چل رہا ہے۔ مدرسہ میں نوے طلباء پڑھتے ہیں دارالاقامۃ بھی ہے۔ ہر کمرے میں چار طلباء کے رہنے کا معقول انتظام ہے۔ ادارہ دینیہ کے طرز اور اسی کے انتظام کے باعث اس مدرسہ کو چلایا جا رہا ہے۔ اس مدرسے کے ناظم دارالاقامۃ کا نام حبیب ہے۔ مدرسے میں پانچ سالہ کورس پڑھایا جاتا ہے۔ مدرسہ سے ملحق مسجد ہے۔ یہ مسجد خواجہ عبید اللہ احرار کے نام نامی کی طرف منسوب ہے۔ مسجد کے امام صاحب سے ملاقات ہوئی۔ ان کا نام رجب علی ہے۔ مسجد میں یہ دو جملے لکھے ہوئے ہیں۔

”مثل المؤمن فی المسجد کاالسمک فی الماء ومثل المنافق کاالطیر فی القفس“ مسلمان کی مثال مسجد

صفحہ ۹۷

ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا ۹۷ تحریک ختم نبوت جلد(۶) ۱۹۹۲ء

میں ایسی ہے جیسے مچھلی پانی میں اور منافق کی مثال جیسے پرندہ پنجرے میں۔ مسجد کے سامنے تالاب اور اس کے پہلو میں چند قبریں ہیں، جن میں حضرت خواجہ عبید اللہ احرار نقشبندی کا مزار بھی ہے۔ مزار کی تختی پر تاریخ ۸۹۵ ہجری شب شنبہ درج ہے۔

امام صاحب نے عجیب واقعہ سنایا کہ دو کمیونسٹوں نے روسی دور حکومت میں اس مزار کو کھودنے کی کوشش کی مگر ناکام رہے۔ پھر وہ دونوں شراب کی بوتلیں لے کر تالاب میں پاؤں ڈال کر شراب پینے لگے۔ ان میں سے ایک تو فوراً مر گیا جب کہ دوسرا ٹانگوں سے معذور ہو گیا اور پندرہ سال تک بیہوش رہا پھر مر گیا۔ حضرت خواجہ صاحب نور اللہ مرقدہ کے مزار کے قریب افغانستان کے ایک بادشاہ امیر محمد اسحاق کا مزار ہے۔ انہوں نے وصیت کی کہ مجھے حضرت خواجہ صاحب کے جوار میں دفن کیا جائے۔ چنانچہ اس وصیت پر عمل کیا گیا۔ حضرت خواجہ عبد اللہ احرار کی ولادت با سعادت تو تاشقند میں ہوئی مگر آپ نے اپنی زندگی کا بیشتر حصہ سمرقند میں گزارا۔ آپ کے شیخ کا نام شیخ یعقوب چرخی ہے جو حضرت عباد الدین نقشبندی کے تلمیذ خاص اور خلیفہ تھے۔ سمرقند کے ان اہم مقامات کی زیارت کر کے اور باقی مقامات دیکھنے کی نیت دل میں رکھے۔ ہم جناب مصطفیٰ تل صاحب کے ساتھ واپس خواجہ مسجد زور مراد آگئے۔ محترم جناب مصطفیٰ تل صاحب نے راستے میں سمرقند کی تعریف میں یہ شعر سنائے جن کا لکھنا مناسب معلوم ہوتا ہے۔

سمرقند صیقل روے زمین است بخارہ قوت اسلام و دین است
مشہد را گنبد سبزش نہ باشد خرابہ خانہ روے زمین است

انہوں نے سمرقند کی تعریف میں یعقوب حمدی کا یہ قول بھی نقل کیا۔ ”سمرقند سرۃ العالم“ ہم چاہتے ہیں کہ قارئین کو بخارا لے جانے سے قبل سمرقند کی سیر مکمل کرا دی جائے تاکہ اس کی تشنگی نہ رہے۔ اگرچہ ہمارے سفر کی ترتیب کے یہ خلاف ہے۔

مزار سیدنا سعید بن عثمان ؓ : محترم جناب مصطفیٰ تل کے ہمراہ حضرت سیدنا سعید بن عثمان ؓ کے مزار پر جانا ہوا جو شہر سے کچھ باہر ایک بڑی مسجد کے پہلو میں بالکل الگ تھلگ آرام فرما رہے ہیں۔ بتایا گیا کہ یہ خلیفہ ثالث سیدنا حضرت عثمان ؓ کے صاحبزادے تھے۔ ۲۵ ہجری میں انہوں نے سمرقند و بخارا کی سر زمین کو اسلامی سلطنت میں داخل کیا۔ حضرت سعید بن عثمان ؓ کا خاندان یہیں آباد ہوا۔ ان کے خاندان کے ایک پوتے حضرت خواجہ معز الدین عبدہ جنہوں نے ۱۲۰ سال کی عمر پائی تھی۔ وہ بھی سمرقند ہی میں مدفون ہیں اور ان کی بڑی دینی خدمات ہیں۔ بعد میں ان کے مزار پر بھی جانا ہوا۔

مقبرہ تیمور لنگ : مشہور زمانہ فاتح تیمور لنگ کا مقبرہ بھی دیکھنے کے لئے گئے۔ یہ مقبرہ تیمور لنگ کی زندگی ہی میں بن گیا تھا اور تیمور لنگ جب چین فتح کرنے کے لئے جا رہا تھا تو راستے میں اس کا انتقال ہو گیا۔ اسے یہاں لا کر دفن کیا گیا۔ اس مقبرے میں تیمور لنگ کے علاوہ اس کے شہرۂ آفاق ماہر فلکیات پوتے اولغ بیگ کا مزار ہے۔ جب کہ تیمور لنگ کے بیٹے شہزادہ محمد سلطان اور مہران شاہ اور شاہ رخ مرزا کی قبریں بھی ہیں اور ایک صوفی بزرگ شیر عمر کا بھی مزار ہے۔ اوپر کی طرف صرف قبروں کے نشانات ہیں۔ عام لوگ وہیں تک جا سکتے ہیں۔ اصل قبریں نیچے ہیں۔ ہمیں ان قبروں پر بھی لے جایا گیا۔ ۱۹۴۱ء میں روسی حکومت نے ان قبروں کو کھودا تھا اور ڈھانچوں اور کھوپڑیوں کی تصویریں بھی نکالی تھیں۔ بعد میں ہم نے یہ تصویریں اولغ بیگ کی رصد گاہ میں دیکھیں۔

مزار فقیہ ابولیث سمرقندی : مسجد خواجہ زور مراد سے نکل کر تنگ گلیوں سے گزرتے ہوئے ہم فقہ اور حدیث کے مشہور امام فقیہ ابو اللیث سمرقندی کے مزار پر حاضر ہوئے۔ مزار کی تختی پر ازبکستان کے مشہور زمانہ شاعر علی شیر نوائی کے اشعار درج تھے۔

خواجہ جلال الدین فضل اللہ ابواللیثی سمرقند یک اعلم العلماء ہستی
صفحہ ۹۸

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۲ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

محترم جناب مصطفیٰ تل صاحب نے یہ بتایا کہ صاحب ہدایہ الشیخ برہان الدین کا مزار بھی قریب میں ہے۔ مگر وہ جس گھر میں ہے وہ ایک یہودی خاندان کی ملکیت ہے۔ اب سمرقند کے مسلمان کوشش کر رہے ہیں کہ اس مکان کو خرید لیں۔

مزار الامام الشیخ ابومنصور ماتریدی: فقیہ ابواللیث سمرقندی کے مزار پر فاتحہ پڑھ کر ہم گاڑیوں میں سوار ہوکر میدان ریگستان کے سامنے سے گزر کر شہر کے زیریں حصے کی طرف آئے۔ اب ہم علم کلام کے کوہ ہمالیہ کے مزار پر جارہے تھے۔ بازار سے ہٹ کر ایک محلے میں بڑی چاردیواری کے قریب پہنچ کر ہم رک گئے۔ یہاں ایک عمومی قبرستان تھا۔ جس میں مغرب کی طرف ایک نو فٹ لمبی قبر پر پہنچ کر ہمیں بتایا گیا کہ الشیخ ابو منصور ماتریدی کا مرقد ہے۔ علم وعرفان کا یہ عظیم آسمان، زمین کے ایک حصے میں محو آرام تھے۔ سب نے اپنے امام کی قبر پر مسنون طریقے سے فاتحہ پڑھی اور موت کو یاد کرتے ہوئے قبرستان سے باہر آگئے۔

زمین کھا گئی آسمان کیسے کیسے

رصدگاہ اولغ بیگ: اس کے بعد ماہر زمانہ شہرۂ آفاق ماہر فلکیات اولغ بیگ کی تاریخی رصدگاہ دیکھنے کے لئے جانا ہوا۔ رصدگاہ کے گیٹ پر اولغ بیگ کا مجسمہ نصب ہے۔ جس پر تاریخ لکھی ہوئی ہے۔ ۱۳۹۴ تا ۱۴۴۹۔

ٹکٹ لے کر اس عجیب و غریب رصدگاہ میں داخل ہوئے۔ یہاں پر آلات موجود تھے، جن کے ذریعے اولغ بیگ زمین و آسمان اور فلک کے سلسلے میں سائنسی معلومات حاصل کیا کرتے تھے۔ اصل آلات اور اوزار لندن اور فرانس منتقل کر دیئے گئے ہیں۔ یہاں ان کے ماڈل موجود تھے، جنہیں دیکھ کر عقل حیرت کے سمندر میں غوطہ زن تھی۔ بادشاہ بابر کے زمانے میں اولغ بیگ کا یہ عظیم سرمایہ افغانستان لے جایا گیا۔ پھر وہاں سے برطانیہ اور فرانس منتقل کر دیا گیا۔ اس عجائب گھر میں غیاث الدین کاشانی کی کتاب زیج خاقانی کا فوٹو اور مصنف کا نقشہ بھی موجود تھا۔ اولغ بیگ کے شاگرد علاؤ الدین علی قوشجی کی خیالی تصویر بھی بنائی گئی تھی۔ اولغ بیگ کی سائنسی زاویوں پر بنائی گئی عمارت کی تصویریں موجود تھیں۔ وہ زیر زمین بیٹھ کر اس عمارت کے ذریعے سے زمین و آسمان کی حرکات کو ناپتا تولا کرتا تھا اور سیاروں کے باہمی فاصلے اور رفتار کا صحیح اندازہ لگاتا تھا۔

یہاں پر سدس فخری اور مثلث فخری نامی اولغ بیگ کے اسطرلاب بھی موجود تھے۔ اولغ بیگ کا ایک آلہ کیمبرج یونیورسٹی میں ہے اور اولغ بیگ کے بعض تحقیقی نتائج نقشوں میں درج تھے اور یہ تحقیقی نتائج امریکہ کی تازہ ترین سائنسی تحقیقات کے عین مطابق ہیں۔ کہیں کہیں صرف دو چار زاویوں کا فرق ہے۔ عجائب گھر کی دیوار پر اولغ بیگ کے قتل کی فرضی تصویر بھی موجود ہے۔ اولغ بیگ چالیس سال تک ماوراء النہر کا بادشاہ رہا۔ اولغ بیگ اپنے بیٹے عبداللطیف کو بادشاہ بنا کر حج پر جارہا تھا کہ اس کے بیٹے کے حکم سے عباسی نامی شخص نے راستے میں اس کو قتل کر دیا۔ چھ ماہ کے بعد اپنے باپ کے قاتل بیٹے عبد اللطیف کو بھی قتل کر دیا گیا۔ ہمارے رہنما نے اس موقع پر یہ شعر سنایا۔

پدر کش را بادشاھے نه شاھد
اگر شاھد بجز شش ماه نه باید

۱۹۴۱ء میں روسیوں نے تیمور لنگ اور اولغ بیگ کی قبروں کو کھودا۔ اس عجائب گھر میں اس کی تصاویر موجود تھیں۔ اولغ بیگ کے خون آلود کپڑے بھی اس کی قبر سے نکلے جو اس عجائب گھر میں موجود ہیں۔ عجائب گھر کے باہر ایک کافر روسی کی قبر بھی ہے۔ جس نے پہلی مرتبہ ان آثار کو کھودا۔ ویسے ۱۹۰۸ء میں ابو سعید مخدوم نے اس جگہ کو دریافت کیا۔ اس وقت یہ عمارت بہت وسیع تھی۔ ہمارے مقامی گائیڈ نے بتایا کہ امریکیوں نے اس کا اقرار کیا ہے کہ اصل ماہر فلکیات اولغ بیگ تھا۔

۵/ نومبر ۱۹۹۲ء بروز بدھ بخارا روانگی: ابھی سمرقند سے جی نہیں بھرا تھا کہ بخارا روانگی کا وقت آ گیا۔ ایک طرف بخارا کی

صفحہ ٩٩

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۲ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

کشش اور دوسری طرف سمرقند کی تشنگی ۔ فیصلہ یہ ہوا کہ بخارا چلے چلتے ہیں۔ واپسی پر سمرقند میں دو روز اور قیام کرلیں گے ۔ دوپہر کو ساڑھے بارہ بجے دو گاڑیوں پر یہ قافلہ سمرقند سے بخارا کے لئے روانہ ہوا۔ راستے میں ظہر اور عصر کی نمازیں باجماعت ادا کیں۔ ایک ہوٹل تلاش کر کے کھانا بھی کھایا۔ چونکہ عام طور پر ہوٹلوں میں پاکیزہ حلال کھانا نہیں ملتا۔ اس لئے بڑی مشکل سے ایک ہوٹل ملا۔ مغرب کی نماز بخارا کے مضافات میں بخارا کی ٹھنڈی فضاؤں میں کانپتے کانپتے پڑھی۔ بالآخر عشاء کی نماز سے قبل منزل مقصود پر پہنچ گئے ۔ پہلے مدرسہ عرب کے ایک استاد کے گھر اترے ۔ پھر وہاں سے ہمیں مدرسہ میر عرب کے ناظم مالیات جناب عزت اللہ صاحب کے شاندار مکان پر لے جایا گیا ۔ جہاں دستر خوان پھلوں اور میووں سے سجا ہوا ہمارا منتظر تھا۔ بخاری میزبان نے ہمارے پہنچتے ہی کھانا تیار کرنا شروع کر دیا اور تھوڑی ہی دیر میں اس نے اپنے آباؤ اجداد کی مشہور مہمان نوازی کا عملی نمونہ پیش کیا۔ کھانے سے فارغ ہوکر اسی بڑے گرم کمرے میں ڈبل بستر بچھوا دیئے گئے ۔ اس سفر میں بخارا میں یہی ہماری پہلی اور آخری رات تھی جو نہایت راحت اور سکون کے ساتھ بسر ہوئی۔

فجر کی نماز میزبان کے گھر پر ہی جماعت کے ساتھ ادا کی۔ ناشتے پر بخارا کے خطیب اور قاضی جناب عبدالغفور صاحب بھی تشریف لے آئے ۔ ان سے بخارا کے سلسلے میں کافی معلومات حاصل ہوئیں ۔ اہل وفد نے ان کو بتایا کہ ہمارے یہاں آنے کا ایک اہم ترین مقصد بخارا کے میئر سے ملنا ہے ۔ کیونکہ بخارا کے میئر نے اس سال لندن میں قادیانیوں کے ایک اجتماع میں شرکت کی ہے اور قادیانیوں کے پروپیگنڈے کے مطابق اس نے قادیانیوں کو بخارا کی ایک مسجد کی چابی دینے کا اعلان بھی کیا ہے۔ اس لئے ہم بخارا کے میئر سے خصوصی طور پر ملنا چاہتے ہیں ۔

قاضی عبدالغفور صاحب نے بتایا کہ قادیانیوں کا ایک نمائندہ چند روز قبل یہاں آیا تھا اور اس نے مجھ سے ملاقات کی۔ جب میں نے دلائل کے اعتبار سے اسے زیر کر لیا تو اس نے مجھے کہا کہ آپ استخارہ کریں تو میں نے اسے جواب دیا کہ اس مسئلے پر استخارے کی ضرورت نہیں۔ یہ تو روز روشن کی طرح واضح مسئلہ ہے۔ قاضی عبدالغفور صاحب نے کہا کہ ان شاء اللہ قادیانی اس مبارک سرزمین پر قدم نہیں جما سکتے ۔ انہوں نے جناب عزت اللہ کے گھر ہی سے ٹیلی فون کر کے میئر بخارا سے ملاقات طے کر لی ۔ نو بجے کے قریب وفد کے ارکان گاڑیوں پر سوار ہو کر بخارا شہر نکل گئے ۔ جناب قاضی عبدالغفور صاحب رہنمائی فرما رہے تھے ۔ گاڑیاں بخارا کی بلند و بالا عمارتوں کے سامنے رکیں ۔ معلوم ہوا کہ میئر بخارا تو یہاں نہیں ہیں ۔ البتہ ان کے نائب وفد کے منتظر ہیں ۔ وفد میں سے جناب مولانا محمد یوسف لدھیانوی، جناب جسٹس مولانا مفتی محمد تقی عثمانی ، جناب مولانا ڈاکٹر عبدالرزاق اسکندر ، جناب مولانا قاری سعیدالرحمن صاحب اور جناب الحاج یعقوب باوا ، قاضی عبدالغفور صاحب کے ساتھ نائب رئیس بلدیہ بخارا سے ملنے کے لئے تشریف لے گئے ۔

یہ ملاقات پونے گھنٹے تک جاری رہی ۔ مذکورہ بالا حضرات نے اس ملاقات کے جملہ احوال بتلائے ۔ انہوں نے قادیانیوں کے عالمی پروپیگنڈے کے تار و پود بکھیر کر رکھ دیئے ۔ قادیانیوں نے پہلا جھوٹ تو یہ بولا تھا کہ بخارا کے میئر جناب محمود کریموف صاحب اپنی بیوی کے ساتھ لندن کی سیر کرنے کے لئے گئے ہوئے تھے کہ وہاں قادیانیوں کے ہاتھ آ گئے اور وہ انہیں اپنے اجتماع میں لے گئے۔ حالانکہ محمود کریموف صاحب کو قادیانیوں کے متعلق معلومات بھی نہیں تھیں ۔ دوسرا جھوٹ قادیانیوں نے یہ بولا کہ محمود کریموف نے قادیانیوں کو ایک مسجد کی چابیاں دینے کا اعلان کیا ہے ۔ حالانکہ اصل میں یوں ہوا کہ قادیانیوں نے ان سے بخارا میں ایک مسجد کا مطالبہ کیا جس پر محمود کریموف نے انہیں مسلمان سمجھ کر حامی بھر لی ۔ بعد میں اپنے وطن آکر جب ادارہ دینیہ سے مشورہ کیا تو انہوں نے قادیانیوں کی حقیقت بتائی ۔ جس پر انہوں نے مسجد دینے سے انکار کر دیا۔

صفحہ 100

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۲ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

بخارا کے نائب رئیس جناب عبداللہ نرزیف نے وفد کو بتایا کہ ہم اب تک روس کی غلامی میں جکڑے ہوئے تھے۔ جس کی وجہ سے ہمارے تعلقات مسلمان ممالک سے نہیں تھے۔ اب جب کہ ہم آزاد ہو چکے ہیں ہم اپنے ملک میں دینی تعلیم کو رواج دے رہے ہیں اور مسلمانوں سے ہمارے تعلقات بڑھ رہے ہیں۔ گزشتہ سال ہمارے صدر نے حج بھی ادا کیا۔ عبداللہ نرزیف صاحب نے وفد سے کہا کہ آپ کے ہاں سے بعض لوگ آکر ہماری مساجد میں ٹھہرتے ہیں۔ یہ درست نہیں، تو وفد نے انہیں بتایا کہ یہ اہل حق کی دینی جماعت تبلیغی جماعت کے لوگ ہیں جو اللہ رب العزت کی رضامندی کے لئے اور مسلمانوں کی اصلاح کی محنت کر رہے ہیں۔ آپ ان لوگوں کو اجازت دے دیا کریں اور ان سے ہرممکن تعاون فرمائیں۔ اس پر نائب رئیس عباداللہ نرزیف نے کہا کہ آپ ان لوگوں سے یہ کہیں کہ یہ ادارہ دینیہ سے اجازت لے لیا کریں۔ پھر ہمیں کوئی اعتراض نہیں ہوگا۔ چنانچہ وفد کے ارکان نے واپس تاشقند پہنچ کر ادارہ دینیہ کے امیر جناب مفتی صادق صاحب سے درخواست کی کہ وہ تبلیغی جماعت کے لئے یہاں کے راستے کھلے رکھیں۔

نائب رئیس بخارا جناب عباداللہ نرزیف کو ارکان وفد نے یقین دہانی کرائی کہ ہم دینی تعلیم وتربیت کے سلسلے میں آپ کے ساتھ ہرممکنہ تعاون کریں گے۔ مذکورہ بالا پانچوں اکابر، نائب رئیس بخارا سے یہ مفید اور مؤثر ملاقات کر کے واپس آگئے۔ جہاں وفد کے باقی ارکان ان کا بے تابی سے انتظار کر رہے تھے۔ اس کے بعد جملہ اراکین وفد قاضی عبدالغفور صاحب کی رہنمائی میں بخارا کے تاریخی مقامات دیکھنے کے لئے روانہ ہوئے۔ آج کے مختصر وقت میں اراکین وفد نے مندرجہ ذیل مقامات کی زیارت کا شرف حاصل کیا۔ یہاں ہم قارئین کو یہ بتاتے چلیں کہ ہمارے رہبر جناب قاضی عبدالغفور صاحب نے بتایا کہ چھ سو سال پہلے بخارا شہر کے بارہ دروازے تھے۔ اب بھی ان تمام دروازوں کے نام تو باقی ہیں مگر دروازے صرف دو رہ گئے ہیں۔ ایک باب نماز گاہ اور دوسرا باب قراقل۔ ہمارا قافلہ باب قراقل کے راستے شہر میں داخل ہوا۔ بخارا کے درج ذیل تاریخی مقامات کی ہم نے جلدی جلدی زیارت کی۔

چشمہ ایوب ومقبرہ شیخ احمد اسکاف البخاری: یہ تاریخی عمارت امیر تیمور لنگ نے تعمیر کرائی۔ اس عمارت میں چار قبریں ہیں۔ جن میں الشیخ احمد اسکاف البخاری، الشیخ محمد بن اسلام اسکندری، الشیخ محمد بن عبداللہ المسندی مدفون ہیں۔ عمارت میں ایک کنواں بھی ہے جس کے معدنیاتی پانی میں مختلف بیماریوں کے لئے شفاء بتلائی جاتی ہے۔ عمارت میں ایک کمرہ بطور عجائب گھر کے بھی ہے جس میں کچھ پرانے ماڈل اور نقشے رکھے ہوئے ہیں۔ دو چھوٹی سی دوکانیں ہیں جن میں ایک دوکان میں تو بخارا کے تاریخی مقامات کی تصاویر اور کتابچے بکتے ہیں۔ جب کہ دوسری دوکان پبلک کال آفس کے طور پر زیر استعمال ہیں۔ دونوں دوکانوں کو ان علاقوں کے موجودہ مروجہ حالات کے مطابق خواتین چلا رہی ہیں۔ قاضی عبدالغفور صاحب نے بتایا کہ انہیں مزارات کے ساتھ صاحب شرح وقایہ وتوضیح الشیخ عبیداللہ بن مسعود کا بھی مزار تھا۔ جس کے نشانات اب معدوم ہو چکے ہیں اور اصل جگہ کا علم کسی کو نہیں ہے۔ اسی عمارت کے قریب ایک مدرسہ اور مسجد بھی تھی اور اس میں امام ابوحفص صغیر کا مزار تھا۔ جب ۱۹۲۱ء میں یہ مدرسہ اور مسجد گرائی گئی تو امام ابوحفص کے جسم کو جو بالکل صحیح سالم تھا یہاں سے دوسری جگہ منتقل کر دیا گیا۔ راستے میں ایک اور جگہ پر قاضی صاحب نے بتایا کہ یہاں بھی ایک بڑی مسجد تھی جو منہدم کر دی گئی۔ اب ہمارا قافلہ ٹل ابی حفص کی طرف رواں دواں تھا۔ راستے میں ایک ٹیلہ قلعہ دیکھا جس کے متعلق ہمارے رہبر نے فرمایا کہ یہ پانچ ہزار سالہ پرانا تاریخی قلعہ ہے۔

مزار شیخ ابوحفص: ایک عمومی قبرستان سے گزر کر سیڑھیاں عبور کر کے ایک عمارت میں داخل ہوئے۔ یہ عمارت جس ٹیلے پر بنی ہوئی ہے اسے ٹل ابی حفص کہتے ہیں۔ اس عمارت میں تین قبریں ہیں۔ ایک قبر میں الشیخ ابوحفص کبیر، دوسری میں ان کے صاحبزادے اور

صفحہ ۱۰۱

تحریک ختم نبوت جلد(۶) ۱۹۹۲ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

تیسری قبر میں ان کے پوتے شیخ ابوحفص صغیر آرام فرما ہیں۔ اس عمارت میں مقبرہ کے ساتھ ایک چھوٹی سی مسجد بھی ہے۔

مسجد بالا حوض : مدرسہ میر عرب جاتے ہوئے راستے میں مسجد بالا حوض سے گزر ہوا۔ والحمدللہ! یہ تاریخی مسجد بھی سات ماہ قبل کھل چکی ہے اور اب اس میں باقاعدہ اذان اور جماعت ہورہی ہے۔

مدرسہ و مسجد میر عرب : اب ہم دیو ہیکل عظیم الشان تاریخی عمارت میں پہنچ چکے تھے۔ یہ عمارت مدرسہ میر عرب اور مسجد کی ہے۔ اس مدرسے میں اب ماشاء اللہ پانچ سو سے زائد طلباء زیر تعلیم ہیں۔ اس مدرسے کی نسبت الشیخ عبداللہ یمنی کی طرف ہے جو شیخ الاقطاب کے لقب اور میر عرب کے نام سے مشہور تھے۔ الشیخ عبداللہ یمنی کا تعلق یمن کے مشہور علاقے حضر موت سے تھا۔ آپ ماوراء النہر کے مشائخ سے کسب فیض کے لئے یہاں تشریف لائے اور پھر یہیں کے ہو کر رہ گئے۔ مدرسے کے پہلو میں میر عرب الشیخ عبداللہ یمنی کی قبر ہے اور ان کے قدموں میں ان کے معتقد و مرید اور امیر بخارا امیر عبداللہ خان کی قبر ہے۔ امیر عبداللہ خان نے وصیت کی تھی کہ انہیں ان کے شیخ میر عرب کے قدموں میں دفن کیا جائے۔ مدرسے کی ابتداء ۹۳۷ھ میں ہوئی اور تکمیل ۹۴۲ھ میں ہوئی۔ پندرہ سال قبل بخارا میں شدید زلزلہ آیا جس کی وجہ سے عمارت کو بھی نقصان پہنچا۔

مدرسہ کے چاروں طرف محرابوں میں دیواروں میں مختلف احادیث لکھی ہوئی ہیں۔ خاص طور پر حدیث شریف ’العلماء ورثة الانبیاء‘ جا بجا لکھی ہوئی ہے۔ مدرسے کے باہر الٹے ہاتھ پر ایک بہت بڑا مینارہ ہے۔ قاضی صاحب نے بتایا کہ اس جگہ صدر الشہید عبدالعزیز بن مازہ بخاری کو شمس الملک نے شہید کیا اور بعد میں اس جگہ اس نے مینارہ تعمیر کرایا۔ مدرسے کے سامنے مسجد ہے جو قتیبہ بن مسلم باہلی کے دور میں ۹۵ھ میں تعمیر ہوئی تھی۔ اس عمارت کے بیچ میں ایک قبہ ہے بتایا جاتا ہے کہ چنگیز خان نے مسلمان بچے بچیوں کو اس جگہ جمع کر کے گھوڑوں کے نیچے روند ڈالا تھا۔ اس کے بعد اس جگہ سے سفید پھول کھلتے ہیں۔ پھر افغانستان کے بادشاہ امیر عالم خان نے اس جگہ قبہ بنا دیا۔ قبے کے آگے مسجد کا منبر اور محراب ہے۔ قاضی عبدالغفور صاحب نے بتایا کہ اسی مسجد میں شمس الائمہ حلوانی کو شہید کیا گیا۔ آپ اس مسجد کے منبر پر بیٹھے تھے کہ چنگیز خان آیا۔ اس نے آپ کو اپنی طرف توجہ کرنے کی کوشش کی۔ اس میں ناکامی کے بعد ان کے چہرے کو تلوار سے اوپر کیا تو شمس الائمہ حلوانی نے اس کے چہرے پر تھوک دیا۔ چنگیز خان نے طیش میں آکر آپ کو شہید کر ڈالا۔ ان کا مزار محراب کے ساتھ کسی جگہ ہے۔ یہ مسجد بھی دیگر مساجد کی طرح بند تھی۔ اب تین سال سے کھل چکی ہے۔ مگر ابھی بھی پانچ وقتہ نماز شروع نہیں ہوئی۔ مسجد کے اردگرد تعمیرات ہو رہی ہیں کچھ کمرے بن چکے ہیں جن میں اب ایک دینی مدرسہ بھی چل رہا ہے۔

اس عمارت میں کنویں کے ساتھ ایک بڑا دیگ نما پیالہ بھی دیکھا جسے وہاں کے لوگ پیالہ رستم کہتے ہیں۔ مدرسہ میر عرب اور قدیم تاریخی مسجد دیکھنے کے بعد قاضی عبدالغفور صاحب نے بہت گرم جوشی کے ساتھ قافلے کو الوداع کہا اور قافلہ بخارا کے بہت سے تاریخی مقامات کی زیارت سے تشنہ و گرسنہ واپس سمرقند کی طرف روانہ ہوا۔ ان تاریخی مقامات کی زیارت سے محرومی کا قلق خصوصی طور پر خواجہ بہاء الدین نقشبند کے مزار پر حاضری نہ دینے کا قلق ابھی تک محسوس ہو رہا ہے۔ لیکن اللہ رب العزت سے امید ہے کہ وہ ہمیں پھر اس مبارک سرزمین کی زیارت کا موقع عطاء فرمائے گا۔ آمین!

خرتنگ میں امیر المؤمنین فی الحدیث امام محمد بن اسماعیل بخاری کے مزار پر : ہم نے سمرقند کے اکثر تاریخی مقامات بھی دیکھ لئے اور بخارا سے بھی ہو آئے۔ مگر ابھی تک امام بخاری کے مزار پر حاضری کی سعادت باقی تھی۔ شاید اس میں یہ حکمت پوشیدہ ہو کہ جس طرح ہمارے درس نظامی کا اختتام اور تکمیل صحیح بخاری پر ہوتی ہے تو ہمارے اس سفر کی زیارت کا اختتام صاحب صحیح امام بخاری کے مزار پر

صفحہ ۱۰۲

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۲ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

ہو۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا۔ بخارا سے سمرقند پہنچنے کے بعد مورخہ ۶؍نومبر ۱۹۹۲ء بروز جمعہ، جمعتہ المبارک کی نماز جامع مسجد خواجہ زور مزار سمرقند میں ادا کی۔ مسجد میں جمعے کا مثالی اجتماع تھا۔ لوگوں نے ساڑھے دس گیارہ بجے سے آنا شروع کر دیا تھا۔ بارہ بجے تک مسجد اندر اور باہر سے بھر گئی تھی۔ اب لوگوں نے اپنے ساتھ لائے ہوئے کپڑے بچھا بچھا کر مسجد کے باہر بیٹھنا شروع کر دیا تھا۔ تقریباً پونے ایک بجے کے قریب حضرت مولانا قاری سعید الرحمن نے اپنی پرسوز آواز میں تلاوت فرمائی۔ تلاوت کے بعد حضرت مولانا ڈاکٹر عبدالرزاق صاحب نے خطاب فرمایا۔ جس کا ترجمہ ازبکی زبان میں جناب مصطفیٰ قل صاحب بڑی شگفتگی اور روانگی سے فرماتے رہے۔ ڈاکٹر صاحب کے خطاب کے بعد پہلی اذان ہوئی تمام حاضرین نے سنتیں ادا کیں۔ پھر دوسری اذان ہوئی۔ امام صاحب نے انتہائی مختصر دو خطبے بزبان عربی ارشاد فرمائے اور نماز پڑھائی۔ جمعے کی نماز کے بعد جنازے کی نماز ہوئی۔ امام صاحب نے لوگوں کو صفوں میں کھڑا کر کے پہلے خطاب فرمایا۔ پھر نماز جنازہ ادا کی گئی وفد کے چند بزرگ اکابر نے جنازے کو کاندھا دینے کی سعادت بھی حاصل کی۔

نماز جنازہ کے بعد ہمارا دو گاڑیوں پر مشتمل قافلہ رہبر محمد کامل کی رہنمائی میں خرتنگ نامی بستی کی طرف روانہ ہوا۔ جہاں پر امام بخاری کا مرقد ہے۔ ہمیں بتایا گیا کہ امام بخاری جب بخارا سے نکالے گئے تو سمرقند کی طرف روانہ ہوئے۔ سمرقند سے پچیس کلومیٹر پہلے ایک بستی میں پہنچ کر بیمار ہوئے اور اپنے بعض رشتے داروں کے ہاں قیام فرمایا۔ اس مختصر قیام کے دوران اس بستی میں درس وتدریس کا سلسلہ جاری رکھا۔ آپ کی علمی محفل کے دوران بستی کے گدھوں نے اپنی مکروہ اور کرخت آوازیں نکالیں۔ تو آپ نے فرمایا کہ ”خرتنگ کرد“ گدھوں نے تنگ کر دیا۔ اس وقت سے اس بستی کا نام خرتنگ پڑ گیا۔ ایک روایت میں اس طرح ہے کہ جب امام بخاری کا انتقال ہو گیا تو چاروں طرف سے علماء کرام، مشائخ عظام اور معتقدین حضرات جنازہ میں شرکت کے لئے آئے۔ اس زمانہ میں سفر گدھوں پر بیٹھ کر کیا جاتا تھا۔ لاکھوں افراد گدھوں پر سوار ہو کر جنازہ میں شرکت کے لئے آئے تو گدھوں کی اتنی زیادہ تعداد کے لئے جگہ تنگ ہو گئی۔ اس لئے اس بستی کا نام خرتنگ ہو گیا۔ امام بخاری نے چند روز تک اس بستی میں قیام فرمایا اور اسی قیام کے دوران فرشتہ اجل نامہ وصال لے کر حاضر ہوا اور امام بخاری اس دار فانی سے کوچ کر گئے۔

ہمیں سمرقند سے نکلے ہوئے کافی دیر ہو چکی تھی۔ ہم تقریباً ۴۵ کلومیٹر کا فاصلہ طے کر چکے تھے۔ مگر امام بخاری کی بستی کا کہیں نام ونشان نظر نہیں آ رہا تھا۔ جس سڑک پر ہم چل رہے تھے اسے دیکھ کر یوں اندازہ ہوتا تھا کہ اگر دو گھنٹے تک مزید اس سڑک پر دوڑتے رہیں تب بھی کسی آبادی کا نام ونشان ملنا مشکل ہے۔ بالآخر ڈرائیور کو غلطی کا احساس ہو گیا اور اس نے گاڑی روک کر ایک راہگیر سے راستہ معلوم کیا۔ اب گاڑیاں پھر سمرقند کی طرف دوڑنے لگیں۔ ہماری خواہش تھی کہ ہم سورج غروب ہونے سے پہلے علم وعرفان کے سورج تک پہنچ جائیں گے مگر ایک وقت میں دو سورج ہماری نگاہوں میں سما نہیں سکتے تھے۔ سارا دن ہمارا ساتھ دینے والا آسمانی سورج پھیکی پھیکی نگاہوں اور اترے ہوئے اداس زرد چہرے کے ساتھ ہمیں الوداع کہہ رہا تھا۔ اس کی زرد کرنیں ماحول کو اس وقتی جدائی پر افسردہ کر رہی تھیں۔ جدائی کے غم میں یہ چمکتا دمکتا سورج اپنی تابانی کھو بیٹھا۔ معلوم نہیں اس دن کیا حالت ہو گی۔ جس دن علم حدیث کا سورج امام محمد بن اسماعیل بخاری کی شکل میں غروب ہوا ہوگا۔ گاڑیاں بائیں ہاتھ مڑیں۔ سڑک پر ایک بڑا منقش دروازہ نظر آیا جس پر لکھا ہوا تھا: ”ادخلوها بسلام امنین“ ہم سمجھ گئے کہ امام بخاری کی آرام گاہ قریب ہے۔ یہ خوشخبری اور بشارت کے الفاظ اسی کی طرف اشارہ کر رہے ہیں۔ دروازے سے گزر کر ہم ایک پختہ عمارتوں پر مشتمل بستی میں پہنچ گئے۔ گاڑیاں پھر بائیں ہاتھ ایک گلی میں مڑیں اور سامنے ایک مسجد آگئی۔ جس کے دروازے پر لکھا ہوا تھا: ”هذا المسجد فی جوار الامام البخاری“ یہ مسجد امام بخاری کے پڑوس میں ہے۔

صفحہ ۱۰۳

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۲ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

مسجد میں مغرب کی نماز ہو چکی تھی۔ وفد کے اراکین نے مسجد کے بیرونی حصے میں اپنی جماعت کرائی۔ مغرب کی نماز سے فارغ ہو کر امام بخاری کے دربار میں حاضری ہوئی۔ یہ عجیب رقت آمیز منظر تھا۔ امام بخاری کے وطن کی آزادی کا جذبہ جو سالہا سال سے ہمارے قلوب میں موجزن تھا اور امام بخاری کے وطن اور مرقد میں کافروں کے قبضے کا وہ غم جو ہم سے چھپائے نہ چھپتا تھا۔ آج آنکھوں سے چھلک پڑا۔ چار سال قبل ہم نے ایک مجاہد کی زبان سے جب جملہ سنا تو تڑپ اٹھے تھے۔ اس نے کہا بھی بڑے درد سے تھا: ”اے طالب علمو! اے دین کے وارثو! تم نے امام بخاری کی کتاب کو تو بغل میں لیا ہوا ہے مگر امام بخاری کے وطن اور ان کی قبر کو ملحد کمیونسٹوں کے قبضے میں دے دیا ہے۔“

آج امام بخاری سے ان کے وطن کی آزادی کے بعد یہ ملاقات بہت عجیب تھی۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ امام بخاری کا وطن ابھی مکمل آزاد نہیں ہوا۔ امام بخاری کے وطن میں ابھی وہ نظام نافذ نہیں ہوا جس کا تحفظ امام بخاری کرتے رہے تھے اور اس کا بھی اعتراف ہے کہ امام بخاری کی پوری قوم کو ظلم و ستم کی چکیوں میں پیس کر اسلام سے جدا کر دیا گیا ہے۔ آج بخارا کی ہم قوم اولاد کی عورتیں بے پردہ سڑکوں پر روٹیاں کماتی پھر رہی ہیں۔ کمیونسٹوں نے عورت کو بے آبرو کر کے کام کی مشین بنا دیا۔ یہ عورت اب ان کی غلیظ خواہشات بھی پوری کرتی ہے اور دن بھر کھیتوں اور بازاروں میں جانوروں کی طرح کام بھی کرتی ہے۔ ان ظالموں نے امام بخاری کی روحانیت پسند اولاد کو مادہ پرست جانور بنا دیا۔ لیکن ہمارا عزم ہے کہ جس طرح ہمارے بھائیوں اور دوستوں نے اپنے سرخ لہو کے سیلاب بہا کر امام بخاری کا وطن آزاد کرایا۔ ہم ان شاء اللہ امام بخاری کے وطن کو دین اور علم کا گہوارہ بنائیں گے اور ظلم و جبر کے ذریعے سے جس عظیم قوم کو دین سے بے بہرہ کر دیا گیا ہے۔ اس کو پھر دین کا شیدائی بنانے کے لئے تن، من، دھن کی قربانی دیں گے۔ پھر ان شاء اللہ! ماوراء النہر کی زرخیزی سے امام بخاری، امام ترمذی، فقیہ ابواللیث سمرقندی اور شیخ ابو منصور ماتریدی اور امام شامل جیسے لوگ پیدا ہوں گے۔

امام بخاری کے مزار پر فاتحہ پڑھ کر مزار کے عقب میں واقع کتب خانے میں جانا ہوا۔ جہاں پر محدود مقدار میں دینی کتب صحیح بخاری اور الادب المفرد کے نسخے اور دنیا بھر کے مختلف ممالک کی طرف سے ہدیے میں آئے ہوئے قرآن مجید کے نسخے موجود ہیں۔ کتب خانے میں پہنچ کر وفد کے اہل دل حضرات نے آپس میں مشورہ کیا اور یہ طے پایا کہ امام بخاری کے مزار پر بخاری شریف کی ابتدائی اور آخری حدیث پڑھ کر فیض حاصل کیا جائے۔ ایسا لگتا تھا کہ یہ خیال الہامی طور پر ان اللہ والوں اور حدیث نبوی شریف کے خادموں کے قلب پر وارد ہوا ہے۔ صحیح بخاری کے نسخے لے کر حضرت امام بخاری کے مزار پر دوبارہ حاضری دی اور وفد میں شریک علماء کرام نے صحیح بخاری کی پہلی اور آخری حدیث کو سوز کے ساتھ پڑھا۔ پھر آخر میں قبلہ رخ ہو کر سب نے خوب دعائیں کیں۔ اس الہامی عمل کے بعد ہر کوئی دل میں ایک انجانی خوشی اور عجیب کیفیت محسوس کر رہا تھا۔ بے شک یہ بڑی سعادت اور عظیم نعمت تھی۔ عشاء کی نماز کے بعد مدرسے کے خوبصورت مہمان خانے میں کھانے کا انتظام تھا۔ کھانے کے بعد حضرت مولانا ڈاکٹر عبدالرزاق نے کھانے کی میز پر ہی اپنے میزبان جناب عثمان خان صاحب کا شکریہ ادا کیا اور امام بخاری کے مزار پر حاضری پر اپنے تاثرات بیان کئے۔

بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

حضرت مولانا ڈاکٹر عبدالرزاق صاحب نے فرمایا: ہم آپ حضرات کا خصوصی طور پر جناب عثمان خان کا تہہ دل سے شکریہ ادا کرتے ہیں جنہوں نے میزبانی کا حق ادا کر دیا۔ ہم آج امام بخاری کے مزار پر حاضری سے قلبی خوشی محسوس کر رہے ہیں۔ امام بخاری مسلمانوں کے دلوں میں بستے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ ہمیں ان لوگوں سے مل کر بھی خوشی ہوئی ہے جو امام بخاری کے جوار میں رہتے ہیں۔ ہم طویل عرصہ تک اپنے اکابر کے آثار دیکھنے سے محروم رہے لیکن اب رب العزت نے ہمیں یہ نعمت میسر فرمائی ہے۔

صفحہ ١٠٤

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۲ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

حضرت ڈاکٹر صاحب نے انتہائی والہانہ انداز میں بار بار میزبانوں کا شکریہ ادا کیا اور مدرسے کی خدمات کو بھی سراہا۔ حضرت ڈاکٹر صاحب کے خطاب کے بعد مسجد امام بخاری کے امام اور ہمارے میزبان جناب عثمان خان صاحب کھڑے ہوئے اور انہوں نے ازبکی زبان میں خطاب فرمایا جس کا ترجمہ عربی میں ہمارے رفیق محمد کامل صاحب فرماتے رہے۔ جناب عثمان خان صاحب نے فرمایا۔ ہم آپ حضرات علماء واکابرین اور مشائخ کی آمد پر بہت خوش ہیں اور دل کی گہرائیوں سے آپ کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔ ہمارا یہ مدرسہ اور مسجد آپ کا اپنا مدرسہ اور مسجد ہے جیسا کہ آپ حضرات بخوبی جانتے ہیں کہ امام بخاری اسلامی دنیا کے علمی شہسوار ہیں۔ جن کی زیارت کے لئے دنیا بھر کے مسلمان یہاں آ رہے ہیں۔ ان میں آپ جیسے پاکستان کے مسلمان بھی آئے ہیں اور دنیا کے کئی حکمران امام بخاری کی مرقد پر حاضری دے چکے ہیں۔ سوڈان کے صدر صادق مہدی کے علاوہ ملائیشیاء اور انڈونیشیاء کے حکمران بھی آ چکے ہیں۔ جس مہمان خانے میں آپ حضرات تشریف فرما ہیں۔ اس کا افتتاح چند ماہ قبل افغانستان کے صدر جناب پروفیسر برہان الدین ربانی نے کیا ہے۔ تین ماہ قبل پاکستان کے وزیر اعظم بھی یہاں آ چکے ہیں اور انہوں نے یہاں توسیع کے لئے پچاس ہزار ڈالر کی رقم دینے کا وعدہ بھی کیا۔

امام بخاری کے مزار کے ساتھ ہم نے مدرسہ بنایا ہوا ہے۔ اس مدرسے میں دو سو طلباء اور پچاس طالبات دینی تعلیم حاصل کر رہی ہیں۔ پاکستان کے ایک مسلمان نے مدرسے کی عمارت کی تعمیر کے لئے رقم دی ہے اور اپنا نام تک نہیں بتایا بلکہ نام بتانے سے منع کیا۔ اس رقم سے ہم نے تعمیر کا کام شروع کر دیا ہے۔ آئندہ یہاں چار سو طلباء کے لئے انتظام کیا جا رہا ہے۔ سعودی عرب کے کچھ مخیر عرب دوستوں نے بھی مدرسے کے لئے تعاون کیا ہے۔ آپ حضرات اکابر کا یہاں آنا ہمارے لئے باعث شرف ہے۔ آپ کے سامنے میں نے مدرسے کی بات اس لئے رکھی کہ تاریخ میں پہلی مرتبہ امام بخاری کی مرقد کے گرد مدرسہ بن رہا ہے۔ اسی گفتگو کے دوران عشاء کی اذان ہو گئی۔ سب لوگ مسجد میں حاضر ہوئے۔ حضرت مولانا قاری سعید الرحمن صاحب نے میزبانوں کی خواہش پر اپنی پرسوز آواز میں عشاء کی نماز دو رکعت قصر پڑھائی۔ تمام طلباء نے کھڑے ہو کر اپنی نماز مکمل کی۔ نماز کے بعد محترم جناب عثمان خان صاحب کے تقاضے پر حضرت مولانا مفتی محمد تقی عثمانی نے طلباء سے مختصر مگر جامع خطاب فرمایا۔ آپ نے فرمایا کہ میری یہ سعادت ہے کہ اس عظیم رات، جس میں اللہ رب العزت نے امام بخاری جیسے قدوۃ کی زیارت کا شرف بخشا۔ آپ حضرات سے چند باتیں کر رہا ہوں۔ میں مختصر طور پر دو باتیں عرض کروں گا جو ہمارے وفد کے بنیادی مقاصد میں سے ہیں۔

پہلی بات یہ کہ ہم نے ایک ہفتہ اس مبارک ملک میں گزارا جس کی فضاؤں میں محدثین اور فقہاء ومشائخ کے انفاس قدسیہ کی خوشبو آتی ہے۔ میں آپ کو مبارک باد پیش کرتا ہوں کہ آپ ان لوگوں کی اولاد ہیں جن کے علم وفضل کے سامنے ساری دنیا سرنگوں ہے اور میں امید رکھتا ہوں کہ آپ ان اکابر کے صحیح جانشین بنیں گے۔ جملہ دینی علوم ہم تک اس زمین کے فرزندوں کے واسطے سے پہنچے ہیں۔ یہاں کے ہر ہر خطے میں ہر ہر مینار و گنبد سے کچھ نہ کچھ تاریخ و معانی وابستہ ہیں۔ امید ہے کہ آپ اس سے فائدہ اٹھائیں گے۔ دوسری بات یہ کہ آپ حضرات نے کبھی غور فرمایا کہ وہ کون سی چیز تھی جس نے بخارا میں پیدا ہونے والے شخص کو حجازی عربوں کا امام بنا دیا۔ وہ چیز جس نے امام بخاری کو یہ اعلیٰ و ارفع مقام دیا وہ ہے امام بخاری کا حدیث رسول سے محبت وشغف اور اس کا اہتمام ۔ اس لئے آپ بھی امام بخاری کے مدرسے کے نام کی لاج رکھیں اور اس محنت اور توجہ کو اختیار کریں جس نے امام بخاری کو امت کا امام بنا دیا اور اپنے تمام اعمال میں اتباع سنت کا دھیان رکھیں۔ اپنے قول وفعل کو سنت نبوی کے مطابق بنائیں تاکہ آپ امام بخاری کے صحیح جانشین بن سکیں۔ رات کا قیام اسی مہمان

صفحہ ۱۰۵

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۲ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

خانے میں رہا۔ فجر کی نماز باجماعت ادا کر کے پھر امام بخاری کے مزار پر حاضری ہوئی اور اس کے بعد یہ قافلہ سمرقند کی طرف روانہ ہوا۔

(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ص ۱۲ تا ۲۲، مؤرخہ ۶ تا ۱۲؍ اگست ۱۹۹۳ء)

بابری مسجد کی شہادت پر ربوہ اور قادیانیوں میں خوشی کی لہر، ربوہ کے مرزائیوں نے ہڑتال اور احتجاج میں حصہ نہیں لیا

جہاں بابری مسجد کی شہادت اور بھارت میں مسلمانوں کے قتل عام پر پورا پاکستان سراپا احتجاج بنا ہوا تھا اور اپنے جذبات کا اظہار کرنے کے لئے پاکستان کے مسلم عوام نے پورے ملک میں ہڑتال کی، وہاں پاکستان میں موجود ایک گروہ ایسا بھی ہے جنہوں نے خوشی کا اظہار کیا اور ہڑتال میں حصہ نہیں لیا۔ ربوہ میں قادیانی اکثریت میں ہیں۔ وہاں کی تجارت اور بازاروں پر قادیانیوں کا کنٹرول ہے۔ لیکن اس کے باوجود انہوں نے ہڑتال نہیں کی۔ البتہ وہاں پر موجود مسلمانوں نے جلوس نکالا تو قادیانی اپنی دوکانیں بند کر کے گھروں کو بھاگ گئے۔ کیونکہ مظاہرین ہڑتال نہ کرنے کی وجہ سے سخت مشتعل تھے۔ جلوس میں جہاں بھارتی حکمرانوں اور ہندوؤں کے خلاف نعرے لگائے گئے، وہاں قادیانیوں کو ہندوؤں کا ایجنٹ اور جاسوس کہا گیا۔ مقررین نے اپنی تقریروں میں بتایا کہ لندن میں اس سال قادیانیوں کا جو جلسہ ہوا تھا اس میں بھارتی سفیر کو مدعو کیا گیا تھا اور بھارت کی ”جے“ کے (نعرے) بلند کئے گئے تھے جو گروہ اپنے جلسے میں جسے وہ حج کا درجہ دیتے ہیں، ایک ہندو کو بلا سکتا ہے اور بھارت زندہ باد کے نعرے لگا سکتا ہے، وہ مسلمانوں کا خیر خواہ نہیں، دشمن ہے۔ ربوہ کے مرزائیوں کا ہڑتال نہ کرنا اور بابری مسجد کی شہادت پر خوشی منانا یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ قادیانی ہندوؤں کے ایجنٹ ہیں۔“

(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ص۶، مؤرخہ ۲۵ تا ۳۱؍ دسمبر ۱۹۹۲ء)

قادیانی اور ایل۔ کے ایڈوانی گٹھ جوڑ

ہفت روزہ ختم نبوت کے گزشتہ شمارہ میں آپ یہ خبر پڑھ چکے ہیں کہ قادیانیوں نے بابری مسجد کی شہادت پر مسرت کا اظہار کیا۔ اس سانحہ پر ہر مسلمان کی آنکھیں اشکبار تھیں۔ وہ سراپا احتجاج بنے ہوئے تھے۔ احتجاج ہو رہا تھا۔ جلوس نکالے جا رہے تھے۔ حتیٰ کہ پہیہ جام ہڑتال تک کی گئی لیکن قادیانیوں کے مرکز ربوہ کے قادیانیوں نے جلسہ جلوس تو کجا، ہڑتال تک میں حصہ نہیں لیا۔ پہلے ربوہ ایک قادیانی ریاست کی حیثیت رکھتا تھا نہ تو مسلمانوں کو وہاں رہائش کرنے کی اجازت تھی اور نہ ہی کسی مسلمان کو وہاں داخل ہونے کی۔ اگر کوئی مسلمان داخل ہو بھی گیا تو اس کا سراغ تک نہ مل سکا اور اس کا نام و نشان تک مٹا دیا گیا۔

۱۹۷۴ء میں قادیانیوں کی اپنی غلطی سے (جو انہوں نے ۲۹؍ مئی کو چناب ایکسپریس میں سفر کرنے والے ملتان نشتر میڈیکل کالج کے طلباء پر مسلح حملے کی صورت میں کی) پورے ملک میں ختم نبوت کی زبردست تحریک چلی جس نے حکومت کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دیا اور قومی اسمبلی کے ذریعے قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دے دیا گیا۔ اسی تحریک کے نتیجے میں ربوہ پر قادیانیوں کی اجارہ داری ختم ہوئی اور ربوہ کھلا شہر قرار پایا۔ جہاں اب بھاری تعداد میں مسلمان رہائش پذیر ہیں۔ الحمد للہ! وہاں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے دو مراکز ہیں۔ ایک ربوہ ریلوے اسٹیشن پر جہاں قادیانیوں نے طلباء پر حملہ کیا تھا اور دوسرا مسلم کالونی میں ان مراکز میں سینکڑوں مقامی و بیرونی طلباء زیر تعلیم ہیں۔ عالمی مجلس کی طرف سے وقفے وقفے سے جلسے بھی ہوتے رہتے ہیں اور ایک آل پاکستان بلکہ عالمی سطح کی عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس بھی منعقد ہوتی ہے۔

بابری مسجد کی شہادت پر جہاں پورے ملک میں غم وغصے کی لہر دوڑ گئی۔ وہاں ربوہ کے مسلمانوں پر بھی اس کا اثر ہوا۔ قادیانیوں

صفحہ ١٠٦

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۲ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

نے چونکہ ہڑتال میں حصہ نہیں لیا بلکہ الٹا خوشی کا اظہار کیا اور ایک دوسرے کو مبارک باد دی جس سے وہاں رہائش پذیر مسلمانوں میں اشتعال پھیل گیا۔ وہ سراپا احتجاج بن کر گھروں سے نکل کھڑے ہوئے۔ زبردست جلوس نکالا گیا۔ جب جلوس شہر کی طرف روانہ ہوا تو قادیانی خوفزدہ ہو گئے اور دوکانیں بند کر کے اپنے اپنے گھروں کو دوڑ گئے۔ جلوس کے مقررین کی تقریروں کا نشانہ ہندو اور ہندوستان کی حکومت تو تھی ہی قادیانی بھی بن گئے۔ اس لئے بھی بن گئے کہ امسال لندن میں قادیانیوں کی جو کانفرنس ہوئی اس کے مہمان خصوصی بھارتی سفیر تھے۔ کانفرنس میں ہندوستان زندہ باد کے نعرے بھی لگے۔ جلوس کے مقررین نے قادیانی کانفرنس میں ہندوستان زندہ باد کے نعرے اور سفیر کی شرکت سے یہ ثابت کیا کہ قادیانی یہود ونصاریٰ کے تو ایجنٹ تھے ہی اب ان کا ہندو ایجنٹ ہونا بھی واضح ہو گیا۔

بابری مسجد کی شہادت پر قادیانیوں نے صرف ربوہ میں ہی خوشی کا اظہار نہیں کیا بلکہ یہاں کراچی کی اطلاع بھی یہی ہے۔ سمن آباد کراچی میں ایک قادیانی نے بابری مسجد کی شہادت کی خبر سن کر نہ صرف مٹھائی تقسیم کی بلکہ خوشی سے ٹیپ ریکارڈ پر گانے لگا دیئے جب کچھ مسلمانوں نے اسے منع کیا کہ اس وقت پورے ملک کی فضا سوگوار ہے۔ احتجاج ہو رہا ہے۔ جلوس نکالے جا رہے ہیں اور پورے ملک میں پہیہ جام ہڑتال ہے اس لئے گانے بند کرو تو اس نے گانے بند کرنے کی بجائے آواز کو مزید بلند کر دیا۔ (اس قادیانی کا پتہ ہمارے دفتر میں موجود ہے) اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ بابری مسجد کی شہادت پر اگر کسی کو خوشی ہوئی ہے تو وہ قادیانی جماعت ہے۔

قادیانی جماعت کا ہندو ایجنٹ ہونا کوئی نئی اور عجیب بات نہیں۔ اس جماعت کی بنیاد ہی اسلام اور مسلم دشمنی پر رکھی گئی ہے۔ جس کا تذکرہ ہم ان صفحات میں کرتے رہتے ہیں۔ لیکن اب یہ دشمنی کھل کر سامنے آ چکی ہے۔ پچھلے دنوں قادیان میں انہوں نے جشن صد سالہ منایا اس موقعہ پر کانفرنس بھی ہوئی۔ جس میں قادیانی پیشوا مرزا طاہر نے بھی شرکت کی جب وہ لندن سے بھارت گیا تو اس کا اسی طرح خیر مقدم کیا گیا۔ جس طرح کسی غیر ملکی سرکاری مہمان کا کیا جاتا ہے۔ اسے فوج اور پولیس کی بھاری نفری کی حفاظت میں قادیان پہنچایا گیا۔ قادیان کے ہندوؤں نے اس کی مہمان نوازی بھی کی اور خفیہ ملاقاتیں بھی ہوئیں۔

قادیانی مرزا طاہر نے پچھلے دنوں یہ بیان دیا تھا کہ بنگلہ دیش، ہندوستان اور پاکستان کو ایک ہو جانا چاہئے جب مرزا طاہر نے یہ بیان دیا۔ ہم نے اس وقت اظہار خیال کرتے ہوئے کہا تھا کہ مرزا طاہر نے کوئی نئی بات نہیں کی۔ اس کا باپ آنجہانی مرزا محمود قادیانی اکھنڈ بھارت کی ”پیشین گوئی“ کر چکا ہے اور یہ بھی کہہ چکا ہے کہ اوّل تو ملک تقسیم ہو گا نہیں۔ اگر ہو گیا تو ہم دوبارہ متحد کرنے کی کوشش کریں گے۔ وہ کوششیں جاری ہیں۔ پہلے ۱۹۶۵ء کی جنگ مسلط کر کے کیں۔ جس کا مین کردار جنرل اختر حسین قادیانی تھا۔ اس سازش میں ناکامی ہوئی تو ۱۹۷۱ء میں کی جس کے دو کردار مسٹر ایم۔ ایم احمد اور جنرل حمید قادیانی تھے۔ ان کی سازش کامیاب ہو گئی اور مشرقی پاکستان ہمارے ہاتھ سے نکل گیا۔ ایم۔ ایم احمد پاکستانی قوم کے عتاب سے بچنے کے لئے پاکستان سے جا چکا ہے اور وہ یہاں آنے کا نام نہیں لیتا۔ اب مرزا محمود کی پیشین گوئی کو پورا کرنے کے لئے قادیانی لابی پوری طرح سرگرم ہے۔ مرزا طاہر کا مذکورہ بیان بھی اسی سلسلہ کی ایک کڑی ہے۔ اکھنڈ بھارت کے لئے جہاں اندرون ملک تخریب کاری اور دہشت گردی کی صورت میں قادیانی سرگرمیاں جاری ہیں۔ وہاں بھارتیہ جنتا پارٹی جو انتہاء پسند متعصب اور مسلم دشمن تنظیم ہے۔ اس سے بھی مبینہ طور پر قادیانی جماعت کا گٹھ جوڑ ہو چکا ہے۔

چنانچہ جو بیان اکھنڈ بھارت کے بارے میں مرزا طاہر نے دیا تھا۔ بعینہ اسی طرح کا بیان بھارتیہ جنتا پارٹی کے سربراہ ایل۔ کے ایڈوانی نے دیا۔ ایڈوانی نے دہلی میں سو کے قریب افراد کے ایک اجتماع میں تقریر کرتے ہوئے کہا تھا کہ اگر دیوارِ برلن گرا کے جرمنی متحد ہو سکتا ہے تو پاکستان بنگلہ دیش کے درمیان کوئی دیوارِ برلن حائل نہیں ہے۔ انہیں بھی متحد ہو جانا چاہئے۔ یہی ایل۔ کے ایڈوانی ہے جو بابری

صفحہ ۱۰۷

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۲ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

مسجد کی شہادت کا اصل کردار ہے۔ مرزا طاہر اور ایل۔ کے ایڈوانی کے بیانات میں ہم آہنگی اور مطابقت دونوں میں خفیہ گٹھ جوڑ کی واضح چغلی کھا رہی ہے۔ چونکہ بابری مسجد کی شہادت کا اصل کردار ایل۔ کے ایڈوانی ہے۔ اسی لئے قادیانی بابری مسجد کی شہادت پر فتح کا جشن منا رہے ہیں۔ کیونکہ یہ ان کے اتحادی لیڈر اور اتحادی جماعت کی فتح ہے۔

(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ص ۴، ۵، مؤرخہ یکم تا ۷؍ جنوری ۱۹۹۳ء)

پاکستانی شمسی توانائی کا نظام تباہ کر دیا گیا

اس کے پیچھے کون سا ہاتھ کارفرما ہے، قادیانی، یہودی یا کوئی دوسری انسان دشمن طاقت؟ اس کی ذمہ دار ڈاکٹر لبنیٰ اعجاز امریکی سی آئی اے اور اسرائیلی موساد کی تنخواہ دار ایجنٹ ہے۔

”مجھے خاموش رہنے دیجئے“ یہ کہتے ہوئے محبّ وطن ڈاکٹر عتیق مفتی کے آنسو چھلک پڑے۔

اسلام آباد (ضیاء اقبال شاہد خبر نگار خصوصی) حد درجہ ذمہ دار ذرائع نے پاکستان میں شمسی توانائی کے منصوبوں کا ناکام بنانے کی ایک سازش کا انکشاف کیا ہے اور دعویٰ کیا ہے کہ اس سازش میں کئی ملکی اور غیر ملکی شامل ہیں۔ معلوم ہوا ہے کہ حکومت پاکستان سارے معاملات کا جائزہ لے رہی ہے اور عنقریب ہی سنسنی خیز انکشافات کی توقع ہے۔ ذرائع کے مطابق اس سازش میں مرکزی کردار ایک ہندو تاجر اور ایک خاتون سائنسدان نے ادا کیا ہے۔ پاکستان کے خلاف اس عالمی سازش کا ابتدائی انکشاف اسلام آباد میں پاکستان ایٹمی توانائی کمیشن کے سائنسدانوں کے ایک اجتماع میں اس وقت ہوا جب ایک وزیر مملکت کی موجودگی میں پاکستان کے ایک ممتاز سائنسدان نے اس اسکینڈل کا ایک واضح اشارہ دیا۔ اسلام آباد میں وزیر مملکت سردار آصف احمد علی کی صدارت میں پاکستان نیوکلیئر سوسائٹی کا اجلاس جاری تھا کہ ممتاز سائنسدان ڈاکٹر عتیق مفتی اپنی نشست پر کھڑے ہو گئے اور انہوں نے بڑے جذباتی لہجے میں کہا کہ ۸۴ کروڑ ڈالر کی اس سازش پر بھی غور کیا جائے جو سی آئی اے کے ایک لیٹر پر ایکفیک کمپنی کو توانائی کے شعبہ میں ایک ٹھیکہ دینے سے شروع ہوئی اور یہ سازش بھی ایک ہندو نے ترتیب دی تھی۔

وفاقی وزارت سائنس و ٹیکنالوجی کے سب سے سینئر سائنسدان ڈاکٹر عتیق مفتی کے اس سوال پر اجلاس میں سناٹا چھا گیا۔ تاہم کسی نے ان کے سوال کا جواب نہیں دیا۔ بعد ازاں نمائندہ جنگ نے اس اہم سائنسدان سے رابطہ قائم کیا تو انہوں نے کہا کہ بہتر ہے کہ اس معاملے پر میری زبان نہ کھلوائیے۔ میں نے ایک لفظ بھی آپ کو بتایا تو وہ مجھے قتل کر دیں گے۔ مجھے منظر سے ہٹانے کے لئے مجھ پر پہلے ہی دو حملے کئے جا چکے ہیں۔ مجھے ابھی خاموش رہنے دیجئے۔ ان الفاظ کے ساتھ سابق ڈائریکٹر جنرل نیشنل انسٹیٹیوٹ آف سلیکون ٹیکنالوجی اور موجودہ ممبر پاکستان سائنس فاؤنڈیشن ڈاکٹر عتیق مفتی کی آنکھوں سے آنسو چھلک گئے اور وہ اچانک کانفرنس ہال سے غائب ہو گئے۔ عالمی شہرت یافتہ سائنسدان اور حکومت پاکستان کے گریڈ ۲۱ کے یہ افسر پاکستان کے ساتھ ہونے والی اس واردات کی مزید تفصیلات بتانے سے انکاری ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میں بہت جلد صدر غلام اسحاق خان کو ایک تفصیلی خط میں توانائی کے شعبہ میں پاکستان کے خلاف ہونے والی اس سازش سے پردہ اٹھاؤں گا۔ اس اہم قومی معاملے پر جنگ کی آزادانہ تحقیق کے نتیجہ میں سنسنی خیز انکشافات ہوئے ہیں۔ حد درجہ ذمہ دار ذرائع نے بتایا ہے کہ نیشنل انسٹیٹیوٹ آف سلیکون ٹیکنالوجی این آئی ایس ٹی کے ذریعہ پاکستان سولر سیلون اور فوٹو وولٹک سیلون میں تجارتی پیمانے پر تیاری کو روکنے کی جس سازش کا ڈراپ سین اب سامنے آیا ہے اس کا آغاز ایک عشرہ پہلے ایک عالمی اجارہ دار ملک کی طرف سے کیا گیا تھا۔ اب ان عالمی اجارہ داروں کے مقاصد پورے ہو گئے ہیں اور پاکستان شمسی توانائی کی ٹیکنالوجی سے محروم ہو گیا ہے۔

صفحہ ۱۰۸

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۲ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

ذرائع نے بتایا ہے کہ ۱۹۹۳ء میں اقوام متحدہ کے فنڈز کے ذریعہ سلیکون ٹیکنالوجی کے لئے تعمیر ہونے والی ایک عظیم الشان بلڈنگ کا افتتاح اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے کرنا تھا مگر مبینہ طور پر وزارت سائنس کے اعلیٰ افسروں نے ڈیڑھ کروڑ روپے خورد برد کر لئے اور اس متعلقہ سائنسدان پر دباؤ ڈالا گیا کہ وہ نامکمل بلڈنگ کو مکمل قرار دینے کا سرٹیفکیٹ جاری کریں۔ سائنسدان کے انکار پر اسے مختلف نوعیت کی انتظامیہ کی طرف سے اذیتیں پہنچائی گئیں۔ تاہم پاکستانی سائنسدانوں نے سلیکون ٹیکنالوجی سے متعلق اقوام متحدہ کے مالی تعاون سے کام جاری رکھا اور سولر سیل بنانے کے پیچیدہ طریقہ کار کو دس سے بارہ گنا آسان بناتے ہوئے پاکستان میں عالمی منڈی کے مقابلے میں تیس فیصدی کم اخراجات سے سولر سیل بنا کر دکھا دیئے۔ یہ سائنسدان نیشنل انسٹیٹیوٹ آف سلیکون ٹیکنالوجی قائم کرنے کے لئے اقوام متحدہ کی امداد سے پہلے اپنے گھروں سے میز کرسیاں اٹھا لائے اور مانگ تانگ کر لیبارٹری قائم کی۔ مگر پاکستانی سائنسدانوں کی ان کوششوں کو ناکام بنانے کے لئے سابق صدر ضیاء الحق کے دور کے آخری دنوں سے ملک کے اندر اور باہر سازشوں پر عمل درآمد شروع کر دیا گیا جو اب بھی جاری ہے۔ امریکہ میں مقیم ایک خاتون ڈاکٹر لبنیٰ اعجاز نے اعلیٰ ترین پاکستانی حکام کے ساتھ رابطہ قائم کیا۔ اس خاتون کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اس کا تعلق قادیانی گروہ سے ہے۔ امریکہ میں ورجینا پولی ٹیکنیک انسٹیٹیوٹ کی سربراہ اس خاتون نے پاکستانی حکام کے سامنے ایک اسلامی یونیورسٹی کے قیام کا ارادہ ظاہر کیا اور بتایا کہ وہ پاکستان میں سلیکون ٹیکنالوجی کے فروغ کے لئے کروڑوں ڈالر کی سرمایہ کاری لائے گی۔ ذمہ دار ذرائع نے بتایا کہ ڈاکٹر لبنیٰ اعجاز کو پاکستان میں پہلی مرتبہ نتھیا گلی میں ہونے والی ایک پاکستان سائنس کانفرنس میں ممتاز سائنسدان پروفیسر ڈاکٹر عبدالسلام اور ایٹمی توانائی کمیشن کے سابق چیئرمین منیر احمد نے پاکستانی سائنسدانوں سے متعارف کرایا تھا۔

ڈاکٹر لبنیٰ اعجاز نے پاکستان آتے ہی سیاستدانوں اور اعلیٰ افسروں میں اپنے منصوبے کا جال پھیلا دیا۔ یہ خاتون سلیکون ٹیکنالوجی کے ممتاز ماہر ڈاکٹر عتیق مفتی کے گھر بھی گئیں اور ان کی اہلیہ کو ایک لاکھ روپے ماہانہ کے عوض اپنے ادارے کے بورڈ آف گورنرز میں خدمات سر انجام دینے کی پیشکش کی۔ ذرائع نے بتایا کہ ڈاکٹر لبنیٰ اعجاز اپنے ساتھ دو امریکی ماہرین کو بھی پاکستان لے آئی۔ یہ خاتون حکومت پاکستان کے ساتھ ۷۶ کروڑ روپے کے ایک ایسے منصوبے کو حتمی شکل دینے لگی جس پر عملدرآمد کے بعد حکومت پاکستان سلیکون ٹیکنالوجی یا دیگر متعلقہ شعبہ میں پاکستان میں ڈاکٹر لبنیٰ اعجاز کے گروپ کے علاوہ کسی دوسرے کو کام نہیں کرنے دے گی۔ ذمہ دار ذرائع نے بتایا کہ اس خاتون کے ایماء پر پاکستان میں بینکرز کنسورشیم قائم کر دیا گیا۔ اس خاتون نے حکومت پاکستان کو یہ یقین دہانی بھی کرائی کہ وہ پاکستان میں تجارتی پیمانے پر سولر سیل بنائے گی اور سرکاری سطح پر سولر سیل کی تیاری کا کام ختم کر دیا جائے۔ ذمہ دار ذرائع نے بتایا کہ پاکستان کے تین اہم سائنسدانوں نے اس خاتون کے منصوبے کی مخالفت کی اور یہ مؤقف اختیار کیا کہ اس طرح پاکستان میں مقامی سطح پر سائنس وٹیکنالوجی کا عمل رک جائے گا۔ مگر کسی نے ایک نہ سنی۔ جب اس خاتون نے پاکستان میں سائنس وٹیکنالوجی کے فروغ کا سرکاری عمل رکوا دیا تو امریکہ میں اس خاتون کو ایک فراڈ کے کیس میں گرفتار کر لیا گیا۔ تاہم اس وقت تک پاکستان کے سرکاری اداروں میں اس سلسلے میں سائنسی تحقیق کا عمل رک کر رہ گیا تھا۔ ذمہ دار ذرائع نے بتایا کہ مقامی سطح پر سولر سیلوں کی تیاری کے منصوبے کو سبوتاژ کرنے کے سلسلے میں ایک اہم کارروائی سابق وزیر اعظم کے دور میں بھی ہوئی جب کہ کمار نامی ایک ہندو ایک عرب شہزادے کا منیجر بن کر پاکستان آیا اور اس نے اعلیٰ ترین پاکستانی حکام کو سولر سیل کے سلسلے میں یہ تجویز پیش کی کہ وہ ۳۰۰ میگاواٹ کے سولر درآمد کر کے پاکستان لائے گا۔ اس مقصد کے لئے

صفحہ ۱۰۹

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۲ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

ایٹماک نامی ایک کمپنی کو متعارف کرایا گیا اور اس کمپنی نے بہت سے پاکستانی افسروں کے بیرون ملک دورے کرائے اور سولر سیل درآمد کرنے کے لئے لیٹر آف انٹینٹ کے حصول کے لئے راہ ہموار کر لی۔ یہ فرم پاکستان ایٹمی توانائی کمیشن کے ایک سابق ملازم کو بھی بطور معاون اپنے ساتھ لائی تھی۔ کمپنی نے حکومت پاکستان کے ساتھ کاغذوں پر یہ معاملہ کیا کہ چھ سال کے لئے ۸۴۰ ملین ڈالر کا قرضہ اس کمپنی کو عالمی ذرائع سے دلایا جائے گا۔ اس کمپنی نے پاکستان میں سولر سیل بنانے کی ایک فیکٹری قائم کرنے کا ارادہ بھی ظاہر کیا۔ ذمہ دار ذرائع نے بتایا کہ اس پیشکش کے بعد مقامی سطح پر سولر سیل بنانے کے لئے کوشش کرنے والے پاکستانی سائنسدانوں کے ساتھ زیادتیاں شروع ہو گئیں۔

نیشنل انسٹیٹیوٹ آف سلیکون ٹیکنالوجی کے اس وقت کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر عتیق مفتی کو کھلے الفاظ میں کہا گیا کہ اگر آپ نے سولر سیل بنانے کی کوشش کی تو ہم آپ کو دنیا کے لئے عبرتناک مثال بنا دیں گے۔ ذمہ دار ذرائع نے بتایا کہ کمار نامی ہندو سعودی شہزادے سلیکون کے منیجر کے طور پر حکومت پاکستان کے افسروں کو سولر سیل کی فیکٹری کے قیام کا جھانسہ دیتے رہے اور بعد ازاں جب اس کمپنی کو ۱۰ میگاواٹ کے سولر سیل بنانے کی فیزیبلٹی رپورٹ پیش کرنے کو کہا گیا تو وہ کمپنی انکار کر کے واپس چلی گئی۔ ذرائع نے بتایا کہ عالمی اجارہ دار ایک ہندو کے ذریعہ پاکستان میں سولر سیل کے منصوبوں کو سبوتاژ کرنا چاہتے تھے۔ وہ اپنا کام سرانجام دے کر چلے گئے۔ ذمہ دار ذرائع نے بتایا کہ پاکستان میں سلیکون ٹیکنالوجی کے ماہر ڈاکٹر عتیق مفتی ان دنوں اسلام آباد کی پاکستان سائنس فاؤنڈیشن کے ایک گوشے میں بیٹھے ہیں۔ سائنسدانوں کی برادری میں انہیں شہید سائنسدان قرار دیا جاتا ہے۔ ڈاکٹر صاحب کو درجنوں عالمی فورموں میں شرکت کے دعوت نامے ملتے ہیں لیکن کہا جاتا ہے کہ انہیں عالمی کانفرنسوں میں شرکت سے روکنے کی تدابیر کی جاتی ہیں۔ پاکستان میں شمسی توانائی کے منصوبوں کو سبوتاژ کرنے کے سلسلے میں ہونے والی عالمی سازشوں سے متعلق مزید سنسنی خیز انکشافات کی توقع ہے۔

(بشکریہ روزنامہ جنگ لاہور،مؤرخہ ۱۱؍ستمبر ۱۹۹۲ء)

اسرائیل کے بانی بن گوریان کی تقریر: امریکہ اور دیگر سامراجیوں کی کوششوں سے عربوں کے قلب میں جو ناسور کاشت کیا گیا ہے یہ عالم اسلام کے لئے عموماً اور عربوں کے لئے خصوصاً المناک چیلنج ہے۔ پاکستان کی بنیاد ہی مذہب اسلام پر ہے اور یہی اس کی ترجیحات ہیں جو اسرائیل کے لئے سخت پریشانی کا باعث ہے۔ پیرس میں سوربون یونیورسٹی کی تقریر میں بانی اسرائیل ڈیوڈ بن گوریان نے کہا کہ: ’’پاکستان دراصل ہمارا آئیڈیالوجیکل چیلنج ہے۔ بین الاقوامی صیہونی تحریک کو کسی طرح بھی پاکستان کے بارے میں غلط فہمی کا شکار نہیں رہنا چاہئے۔ نہ ہی پاکستان کے خطرہ سے غفلت کرنی چاہئے۔ لہٰذا ہمیں پاکستان کے خلاف جلد سے جلد قدم اٹھانا چاہئے۔ پاکستان کا فکری سرمایہ اور جنگی قوت ہمارے لئے مصیبت کا باعث بن سکتا ہے۔ لہٰذا ہندوستان سے گہری دوستی ضروری ہے۔ ہمیں اس نفرت وعناد سے فائدہ اٹھانا چاہئے جو ہندوستان پاکستان کے خلاف رکھتا ہے۔ بڑی طاقتوں سے مدد لے کر ہندوستان کی مدد کرنا چاہئے۔ یہاں سے پاکستان پر بھر پور ضرب لگانے کا انتظام کرنا چاہئے‘‘۔

(صیہونی تنظیموں کا آرگن مؤرخہ ۱۹؍اگست ۱۹۶۷ء)

اسرائیلی قادیانی گٹھ جوڑ: احمدیہ فارن مشن کی رپورٹ...... اسرائیل حیفہ میں احمدیہ مشن کا کام کر رہا ہے۔ ہماری ایک مسجد، ایک مشن ہاؤس، ایک لائبریری، ایک بک ڈپو اور ایک اسکول موجود ہے۔ ایک ماہانہ عربی رسالہ ’’البشریٰ‘‘ نکلتا ہے۔ ہمارا مشن وہاں اچھا کامیاب ہے۔ کچھ عرصہ قبل ہمارے مشنری کے لوگوں کی اپیل پر حیفہ کے میئر ہماری مشنری میں تشریف لائے۔ ہم نے انہیں استقبالیہ دیا اور سپاسنامہ پیش کیا۔ انہوں نے اپنے تاثرات ہمارے رجسٹر میں درج کئے۔ ایک (مزید) اسکول کی اجازت دی۔ ہمارا مبلغ چوہدری محمد شریف پاکستان آنے سے پہلے صدر اسرائیل کو ملا، قرآن پاک کا تحفہ دیا جو صدر نے دلی خلوص سے قبول کیا۔ ہمارے مبلغ اور صدر اسرائیل کا

صفحہ ۱۱۰

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۲ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

انٹرویو ریڈیو اسرائیل پر نشر کیا گیا اور اخبارات نے جلی سرخیوں سے اسے شائع کیا۔ احمدیہ فارمیشن کی رپورٹ۔ (مرتبہ: حکیم عبدالرحمٰن آزاد)

(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ص ۲۳ تا ۲۵، مؤرخہ یکم تا ۷؍ جنوری ۱۹۹۳ء)

بھارت میں قادیانی سالانہ جلسہ

اخباری اطلاعات کے مطابق قادیانیوں کا ۱۰۱رواں تین روزہ سالانہ اجتماع ۲۸؍ دسمبر ۱۹۹۲ء بروز پیر کو بھارتی پنجاب ضلع گورداسپور قادیان میں ختم ہو گیا۔

(روزنامہ جنگ مؤرخہ ۲۷؍ دسمبر ۱۹۹۲ء)

قادیانی جماعت کے بھگوڑے سربراہ مرزا طاہر احمد کے خطاب کی پوری تفصیل تو اخبارات میں نہیں آئی۔ تاہم ان کی تقریر کے کچھ اقتباسات حسب ذیل ہیں:

معاصر روزنامہ پاکستان کی رپورٹنگ کے مطابق خبر حسب ذیل ہے: ’’ربوہ (نامہ نگار) لوگ انسانیت کے ناطے سے بھائی بھائی ہیں۔ ہم کسی کو اس لئے برا نہیں سمجھتے کہ وہ کسی اور مذہب سے تعلق رکھتا ہو۔ وہ ہمارا بھائی ہے۔ ان خیالات کا اظہار قادیانی جماعت کے راہنما مرزا طاہر احمد نے بین المذاہب کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ ہندوؤں کی مذہبی کتاب بھی ایک خدائی صحیفہ ہے۔ سکھ مذہب اصل میں اسلام کا ہی ایک فرقہ ہے۔ انہوں نے کہا احمدیوں کے نزدیک ہر انسان کو مذہبی آزادی ہونی چاہئے۔ ہمارے نزدیک مذہب کی بجائے وطن پرستی پر ایمان ہونا چاہئے۔ انہوں نے کہا اگر مذہب کی آزادی نہیں ہوگی تو اقلیت کا اکثریت سے اعتماد اٹھ جائے گا اور یہی کسی ملک کے زوال کا سبب بنتا ہے۔ ہر ایک آدمی کو اپنے مذہبی اقدار نبھانے کا حق ہونا چاہئے۔ ہر احمدی کا خواہ وہ جس ملک کا باشندہ ہے وہ اپنے ملک کا وفادار ہے۔ ہم پاکستان کے وفادار ہیں اور وفادار رہیں گے۔ پاکستانی ملاّں ہمارا راستہ نہیں روک سکتے۔ انہوں نے کہا میں تمام اقوام عالم کا خلیفہ ہوں۔ یہ تقریر ڈش انٹینا کے ذریعے دکھائی گئی اور ایک وقت میں چار براعظموں میں دکھائی گئی۔‘‘

(روزنامہ پاکستان لاہور، مؤرخہ ۲۹؍ دسمبر ۱۹۹۲ء)

قادیانی جماعت کے سربراہ مرزا طاہر احمد ۱۹۸۴ء سے بیرون ملک مقیم ہیں۔ ان کا فرار امتناع قادیانیت آرڈیننس کا نتیجہ تھا۔ تب سے قادیانی سربراہ مسلسل حکومت، علماء اور مسلم رہنماؤں کے خلاف مذموم پروپیگنڈہ کرنے میں مصروف ہیں۔ بھارت کے ضلع گورداسپور میں قادیانیوں کا آبائی مرکز قادیان واقع ہے جو تقسیم کے بعد بھارت میں رہ گیا تھا۔ قادیانی اپنے سالانہ جلسے کو حج کا درجہ دیتے

صفحہ ۱۱۱

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۲ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

ہیں اور اسے مکہ ومدینہ سے زیادہ متبرک سمجھتے ہیں۔ چونکہ ان کا مرکز بھارت میں واقع ہے۔ اس لئے بھارتی سرکار سے خصوصی نیاز مندی قادیانیوں کی کمزوری ہے۔ بھارت پاکستان کا ازلی وابدی دشمن ہے۔ یہی وجہ ہے کہ گزشتہ کئی برس سے قادیان کے سالانہ جلسہ کے اہتمام میں بھارتی سرکار بڑی متحرک نظر آتی ہے۔ گزشتہ برس نہ صرف قادیانیوں کو ٹرانسپورٹ مہیا کی گئی بلکہ خصوصی ریل گاڑیوں کا انتظام بھی کیا گیا۔ اس سال بھی یقیناً بھارت کی حکومت نے ایسا اہتمام وانتظام کیا ہوگا۔

بھارتی ٹیلی ویژن دور درشن سے براہ راست قادیانی جلسہ کی کارروائی ٹیلی کاسٹ ہوتی رہی۔ وسائل کی فراوانی کے باعث اب تو قادیانی سربراہ کی تقریر چار براعظموں تک بآسانی پہنچادی گئی۔ مرزا طاہر احمد نے یہ محسوس کرتے ہوئے کہ پوری دنیا ان کی تصویر اور تقریر دیکھ اور سن رہی ہے۔ ترنگ میں آکر دعویٰ کر ڈالا کہ وہ اقوام عالم کے خلیفہ ہیں۔ ہمارے نزدیک ایسا دعویٰ انتہائی مضحکہ خیز ہے اور اس کی کوئی اہمیت نہیں۔ قادیانی فتنہ کی بنیاد ہی بے بنیاد، لغو اور لایعنی دعاویٰ پر رکھی گئی ہے۔ دینی حلقوں کو بلاشبہ قادیانی سربراہ کے دعویٰ سے تکلیف پہنچی ہوگی۔ لیکن قادیانی مذہب کے بانی اور ان کے پیشرو رہنماؤں کا کردار دیکھا جائے تو ایسے سینکڑوں دعوے پڑھنے کو ملتے ہیں۔ مرزا طاہر احمد کا حالیہ دعویٰ مجذوب کی بڑ ہے اور اس کے سوا کچھ نہیں کہا جاسکتا۔

ناطقہ سر بگریباں ہے اسے کیا کہئے

قادیانی جماعت کے سربراہ مرزا طاہر کی مکمل تقریر کی تفصیل اگرچہ ہمارے سامنے نہیں۔ تاہم جتنے اقتباسات اخبارات کے ذریعے سامنے آئے ہیں انہیں پڑھ کر ہمیں تعجب اس لئے بھی نہیں ہوتا کیونکہ جھوٹ بولنا ان کے آباؤ اجداد کا تاریخی ورثہ اور روایت ہے۔ مرزا طاہر احمد کا یہ ارشاد کہ ہندوؤں کی گیتا خدائی صحیفہ ہے اور سکھ اسلام کا فرقہ ہے۔ ہمارے لئے باعث تعجب اور افسوس نہیں کیونکہ ہم سمجھتے ہیں کہ یہ باتیں بھارت میں ہندوؤں اور سکھوں کو خوش کرنے کے لئے کہی گئی ہیں۔ ہندو ہمارا ازلی وابدی دشمن ہے۔ جب کہ قادیانی پاکستان کے نظریاتی دشمن ہیں۔ اکھنڈ بھارت ان کا الہامی عقیدہ ہے۔ ان کے نزدیک تقسیم عارضی ہے اور وہ ہر قیمت پر اپنے آبائی مرکز قادیان میں جانا چاہتے ہیں۔ اسی بناء پر وہ پاکستان کی بجائے بھارت کی سرزمین سے محبت کرتے ہیں۔ اگر قادیانی پاکستان کے وفادار ہوتے اور اس ملک کی مٹی سے انہیں پیار ہوتا تو وہ ربوہ کے نام نہاد بہشتی قبرستان میں اپنے مردے امانتاً دفن نہ کرتے۔ کیا قادیانی جماعت کے رہنما اس کا جواب دینا پسند کریں گے کہ ان کے مردے یہاں امانتاً کیوں دفن ہیں؟ مرزا بشیر الدین محمود کی مرگھٹ کے کتبہ پر کیا وصیت نامہ درج تھا؟ بھارتی سرکار اگر قادیانیوں کی سرپرستی کرتی ہے تو بلا وجہ نہیں؟ بلاشبہ دونوں کے مفادات ایک دوسرے سے وابستہ ہیں۔ قادیان کے جلسہ میں سکھ رہنماؤں کی شرکت بھی مخصوص پس منظر کی حامل ہے۔ قادیانی ایک مدت سے سکھوں کے ساتھ مل کر احمدی ریاست کا خواب دیکھ رہے ہیں۔ کیونکہ قادیانیوں کا مقدس مرکز مشرقی پنجاب میں اور سکھوں کا متبرک مرکز مغربی پنجاب میں واقع ہے۔ دونوں اقلیتیں اپنے آبائی مراکز کو ہر قیمت پر حاصل کرنا چاہتی ہیں۔ یہ پاکستان کی شکست و ریخت کے بعد ہی ممکن ہے۔ قادیانی اکھنڈ بھارت کے اپنے الہامی عقیدہ کی بناء پر پاکستان کو ٹکڑے ٹکڑے دیکھنا چاہتے ہیں۔ کیونکہ ان کا مقصد تب ہی حل ہوسکتا ہے۔ اس موضوع پر ہم ان شاء اللہ آئندہ کسی اشاعت میں قلم اٹھائیں گے۔

(ہفت روزہ لولاک فیصل آباد ص۴، ۵، مورخہ ۸؍جنوری ۱۹۹۳ء)

مدراس جنوبی ہندوستان میں فتنہ قادیانیت کا تعاقب

قادیانی آج کل سادہ لوح مسلمانوں کو اپنے دام تزویر میں پھنسانے کی جدوجہد کر رہے ہیں۔

صفحہ ۱۱۴

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۲ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

۱۴۰۶ھ میں ایک عالمی اجلاس تحفظ ختم نبوت کے عنوان پر دارالعلوم دیوبند میں منعقد ہوا تھا۔ جس سے ہندوستان کے مسلمانوں کو قادیانی فتنہ کی ان ریشہ دوانیوں کا علم ہوا جو انہوں نے دوبارہ ہندوستان میں شروع کر دی ہیں۔ چنانچہ شرکاء اجلاس اس عزم مصمم کے ساتھ واپس لوٹے کہ اپنے علاقوں میں قادیانی سرگرمیوں پر کڑی نگاہ رکھیں گے اور ان کی ارتدادی تحریک کا پوری قوت کے ساتھ مقابلہ کریں گے۔ اس پروگرام کے مطابق جب یہ محسوس کیا گیا کہ صوبہ تامل ناڈو میں بھی قادیانی فتنہ عرصہ دراز سے پایا جاتا ہے اور قادیانی لوگ آج کل سادہ لوح مسلمانوں کو اپنے دام تزویر میں پھنسانے کے لئے جدوجہد تیز کر رہے ہیں تو صوبہ کے علماء کرام اور ذمہ داران نے مسلمانوں کو قادیانیوں کی ارتدادی تحریک کے زہریلے اثرات سے محفوظ رکھنے کے لئے ۱۴۰۷ھ میں مجلس نے مسلمانوں کے دین وایمان کی حفاظت کے لئے اور قادیانیوں کے دجل ومکر وفریب سے ان کو آگاہ کرنے کے لئے مختلف طریقے اپنائے جن میں حضرات علماء کرام کی تقریروں کے پروگرام اور بعض کتب رد قادیانیت کا تامل زبان میں ترجمہ کر کے شائع کرنا بھی شامل ہے۔

کیمپ کی ضرورت : گزشتہ چند مہینوں سے ارکان مجلس شدت کے ساتھ اس امر کی ضرورت محسوس کر رہے تھے کہ مجلس کے دائرہ کار کو وسیع کرنے کے موضوع پر ایک روزہ تربیتی کیمپ منعقد کیا جائے۔ کیمپ کی افادیت کو عام کرنے کے لئے تامل ناڈو کے علاوہ آندھرا پردیش، کرناٹک، کیرالا اور اڑیسہ سے بھی کچھ منتخب حضرات کو دعوت دی جائے۔

حصول اجازت : تربیتی کیمپ کے بارے میں مشورہ اور اجازت حاصل کرنے کے لئے مرکزی دفتر سے شعبان ۱۴۱۱ھ میں رابطہ قائم کیا گیا۔ آخر کار رمضان المبارک میں صدر کل ہند مجلس تحفظ ختم نبوت حضرت مولانا مرغوب الرحمن صاحب دامت برکاتہم مہتمم دارالعلوم دیوبند کا گرامی نامہ موصول ہوا۔ جس میں کہا کہ رمضان المبارک کے بعد مناسب تاریخوں میں تربیتی کیمپ کا پروگرام رکھ لیا جائے۔

کیمپ کی تیاری : چنانچہ شوال ۱۴۱۲ھ کے وسط میں شہر مدراس میں مجلس تحفظ ختم نبوت دارالعلوم دیوبند کیمپ بمقام جامع مسجد پرس واکم میں لگایا جائے۔ اس تجویز کی روشنی میں حضرت مولانا مرغوب الرحمن صاحب دامت برکاتہم کی خدمت میں عریضہ ارسال کیا گیا۔ جن میں موصوف سے درخواست کی گئی کہ رد قادیانیت کے مختلف موضوعات پر تربیتی انداز میں رہنمائی کے لئے دارالعلوم اساتذہ کرام ومبلغین حضرات کے اسماء گرامی تجویز فرمادیں۔ موصوف نے ہماری درخواست کو شرف قبولیت سے نوازا اور درج ذیل حضرات کے اسماء گرامی مدراس کے تربیتی کیمپ میں تشریف لے جانے کے لئے تجویز فرمادیئے۔

ان تمام حضرات کو مدراس سے باقاعدہ الگ الگ دعوت نامے ارسال کئے گئے۔ علاوہ ازیں ماحی قادیانیت حضرت مولانا سید محمد اسماعیل صاحب کٹکی مہتمم مدرسہ اسلامیہ سونگڑہ اور جناب مولانا عبدالعلیم فاروقی، مہتمم دارالمبلغین لکھنؤ کو بھی دعوت دی گئی۔ خوش قسمتی سے امیر الہند حضرت مولانا سید اسعد مدنی دامت برکاتہم نے بھی تاریخیں عنایت فرمادیں۔ ان سب حضرات نے از اوّل تا آخر تربیتی کیمپ

صفحہ ۱۱۳

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۲ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

میں شرکت فرمائی اور شرکاء کو قادیانیت کے مختلف پہلوؤں پر وافر معلومات بہم پہنچائیں۔ جس سے شرکاء کو بے حد فائدہ ہوا۔ تربیتی کیمپ کے تمام پروگرام انتہائی حسن و خوبی کے ساتھ بفضلہ تعالیٰ چلتے رہے اور کل آٹھ نشستیں منعقد ہوئیں۔ اب ڈیڑھ سو کے قریب نمائندگان مدارس عربیہ و دیگر علماء شریک ہوئے۔ مجلس کی جانب سے مندوبین حضرات کی خدمت میں رد قادیانیت کی گیارہ عدد کتابوں کا ایک قیمتی سیٹ ہدیہ پیش کیا گیا۔ کیمپ کے موقع پر تامل زبان میں دو کتابیں ”قادیانی چہرہ“ اور ”مرزا طاہر پر آخری اتمام حجت“ طبع کرا کر کثیر تعداد تقسیم کی گئیں۔ جب کہ اس سے پہلے ”قادیانیت پر غور کرنے کا سیدھا راستہ“ تامل زبان میں شائع کیا جا چکا ہے۔

کیمپ کی منظور شدہ تجاویز: کیمپ کے اختتامی اجلاس میں متعدد اہم تجاویز منظور کی گئیں، جو درج ذیل ہیں:

نبوت کا عقیدہ بنیادی عقیدہ ہے۔

مجلس تحفظ ختم نبوت تامل ناڈو سے ملحق کر لیا جائے۔

بیانات میں اس موضوع پر روشنی ڈالتے رہیں۔

وقت اس فتنہ کی سرکوبی کے لئے مجلس کے پروگرام کے تحت عنایت فرمائیں گے۔

بھیجتا رہے۔

صفحہ ۱۱۴

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۲ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

شرکاء کیمپ میں چونکہ ایک بڑی تعداد اردو زبان سے واقف نہیں تھی۔ اس لئے کیمپ کے دوران کی جانے والی اردو تقریروں کے تامل زبان میں ترجمہ کا بھی اہتمام کیا جس سے افادیت میں اضافہ ہو گیا۔ اللہ تعالیٰ کے فضل وکرم سے کیمپ کے تمام پروگرام منظم طور پر پایہ تکمیل کو پہنچے اور شرکاء نے تاثراتی مجلس میں نیز اپنے مقامات پر واپس لوٹنے کے بعد خطوط کے ذریعہ اس پروگرام پر خوشی اور اطمینان کا اظہار فرمایا ہے اور اس کو وقت کی اہم ضرورت قرار دیا ہے۔ جس کی بروقت تکمیل کی گئی ۔ کیمپ کے اختتام پر تمام مندوبین کو امیر الہند مدظلہ نے اپنے دست مبارک سے سند شرکت بھی کل ہند مجلس تحفظ ختم نبوت کی جانب سے عطاء فرمائی ۔ خداوند کریم کیمپ کے اثرات کو دیر پا رکھے اور اس سے جو بیداری پیدا ہوئی ہے۔ اس سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھانے کی اور مذکورہ بالا تجاویز پر استقلال کے ساتھ عمل پیرا ہونے کی توفیق عطاء فرمائے ۔ آمین!

تربیتی کیمپ مدراس کی تربیتی نشستوں کی تفصیل، پہلی نشست (افتتاحی اجلاس): صبح سات بجے سے افتتاح اجلاس جامع مسجد پرس واکم میں زیر صدارت حضرت مولانا مفتی عثمان صاحب مفتی مدرسہ باقیات الصالحات ویلور منعقد ہوا۔ جس کا آغاز جناب مولانا قاری محمد قاسم صاحب (ڈائریکٹر پروگرام) کی تلاوت کلام پاک سے ہوا۔ تلاوت کلام پاک کے بعد قاری صاحب موصوف نے خطبہ استقبالیہ پیش کیا۔ جس کے دوران موصوف نے قرآن وحدیث کی روشنی میں انتہائی جامعیت کے ساتھ عقیدہ ختم نبوت کی اور اس کے حفاظت و ضمانت کے سلسلہ میں علماء حق کی مسلسل کاوشوں کا تذکرہ فرمایا جن میں علماء دیو بند ہمیشہ پیش پیش رہے۔

کلیدی خطاب: اس کے بعد مولانا مفتی سعید احمد صاحب پالن پوری ناظم اعلیٰ کل ہند مجلس تحفظ ختم نبوت نے کلیدی خطاب فرمایا اور حضور ﷺ کی شان خاتمیت کی تشریح کے دوران فرمایا کہ ختم اصل میں عربی کا لفظ ہے۔ اگر چہ اردو میں بھی بولا جاتا ہے لیکن معنی الگ الگ ہیں ۔ اردو میں کسی چیز کے ختم ہو جانے کے معنی اس کے فنا اور معدوم ہو جانے کے ہیں ۔ اس معنی کی رو سے قادیانی دھوکہ دیتے ہیں کہ جب نبوت ختم یعنی معدوم ہو گئی تو اس کی حفاظت کے لئے مجلس ختم نبوت قائم کرنے کی کیا ضرورت ہے؟ در حقیقت ختم نبوت میں لفظ ختم کے عربی والے معنی مراد ہیں۔ یعنی کسی چیز کا پایہ تکمیل تک پہنچ جانا لہٰذا ختم نبوت کا مطلب ہے کہ سلسلہ نبوت جو حضرت آدم علیہ السلام سے شروع ہوا تھا وہ حضرت محمد ﷺ پر ختم یعنی مکمل ہو گیا اور ختم نبوت کے تحفظ کا مطلب یہ ہے کہ جو شخص نبوت کا جھوٹا دعویٰ کرے اس سلسلہ میں داخل ہونے کی کوشش کرے۔ اس کے جھوٹ کا پول کھولا جائے تاکہ امت مسلمہ کا ایک فرد بھی اس کے ارتدادی فتنہ میں مبتلا نہ ہو۔ موصوف نے گرانقدر خطاب میں نبی کریم ﷺ کے اس مبارک خواب کا بھی تذکرہ کیا جس میں آپ نے اپنے دونوں ہاتھوں میں سونے کے کنگن دیکھے تھے ۔ جس سے آپ کو ناگواری ہوئی تھی۔ پھر باذن الٰہی آپ کے کچھ پھونک مارنے سے دونوں کنگن اڑ گئے تھے اور جناب نبی کریم ﷺ نے اس کی تعبیر میں اپنے زمانہ کے دو جھوٹے مدعیان نبوت ( اسود عنسی اور مسیلمہ کذاب ) کو ان کنگنوں کا مصداق قرار دیا تھا۔

(بخاری ج ۲ ص ۱۰۵۱)

یہ خواب ذکر فرما کر موصوف سامعین کرام کی توجہ خاص طور پر دو چیزوں کی طرف مبذول کرائی ۔

بوتے پر پھیلے گا ۔ جیسا کہ قادیانی مشنری کے حالات سے روز روشن کی طرح عیاں ہے۔

نبی کریم ﷺ نے پھونک مار کر کنگنوں کو اڑایا۔

صفحہ ۱۱۵

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۲ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

رسم اجرائے کتابچہ: اس کے بعد حضرت مولانا سید محمد اسماعیل صاحب کٹکی نائب صدر کل ہند مجلس تحفظ ختم نبوت کے مبارک ہاتھوں سے ”مرزا طاہر پر آخری اتمام حجت“ نامی کتابچہ مصنفہ حضرت مولانا مفتی محمد یوسف لدھیانوی کی رسم اجراء عمل میں آئی جو تامل زبان میں مجلس تحفظ ختم نبوت مدراس نے شائع کیا ہے۔ رسم اجراء کے بعد موصوف نے مختصراً گفتگو فرمائی۔ آخر میں صدر اجلاس کے کلمات طیبات اور دعا پر افتتاحی نشست کا پروگرام ایک بجے بخیر خوبی مکمل ہوا۔

دوسری نشست: ۹؍ بجے کے بعد دوسری نشست کا پروگرام شروع ہوا جس کی صدارت جناب مولانا قاضی سید عبدالغنی صاحب ترپچی نے فرمائی اور مترجم کے فرائض جناب مولانا علاؤ الدین صاحب نے انجام دیئے۔

تقریر حضرت مولانا محمد اسماعیل صاحب: اس نشست میں حضرت مولانا محمد اسماعیل کٹکی مدظلہ نے قادیانیت کی حقیقت کو واضح فرماتے ہوئے اس کے مختلف پہلوؤں پر مفصل کلام فرمایا جس کے دوران یہ نکتہ ثابت فرمایا کہ قادیانی لوگ مرزا کی ذات کو تو مانتے۔ مثلاً وہ کہتا ہے کہ میری وحی قرآن کے برابر ہے۔ ایک جگہ انتہائی زور و شور سے دعویٰ کرتا ہے کہ ؎

آنچہ من بشنوم زوحی خدا بخدا پاک دانمش از خطاء
ہمچو قرآں منزہ اش دانم از خطا ہمین است ایمانم
بخدا ہست ایں کلام مجید از دہان خدائے پاک وحید

(نزول مسیح ص ۹۹، خزائن ج ۱۸ ص ۴۷۷)

ترجمہ: جو کچھ خدا کی وحی سے سنتا ہوں، خدا کی قسم اسے ہر قسم کی خطاء سے پاک سمجھتا ہوں، قرآن کی طرح میری وحی خطاؤں سے پاک ہے۔ یہ میرا ایمان ہے، خدا کی قسم یہ کلام مجید ہے، خدائے پاک وحید کے منہ سے۔

مگر قادیانی لوگ اس کے دعوے کی تاویلات کرتے پھرتے ہیں اور مسلمانوں کو دھوکہ دیتے ہیں۔ اسی طرح موصوف نے مرزا غلام احمد کے عین محمد ہونے کے دعوؤں کو اس کی عبارتوں سے ثابت فرما کر اس کی تردید فرمائی اور بتایا کہ وہ تو شریف انسان کہلانے کے بھی قابل نہیں۔ نعوذ باللہ! نبی یا عین محمد ہونے کا تو کیا سوال پیدا ہوتا ہے۔ موصوف کی تقریر دو گھنٹے کے قریب جاری رہی اور شرکاء کیمپ کو قادیانیت کے بارے میں بڑی بصیرت حاصل ہوئی اور مرزائیوں کے تعاقب کے طریقے معلوم ہوئے۔ ایک بجے دوپہر کے قریب حضرت مولانا سید عبدالغنی صاحب کی صدارتی تقریر و دعاء پر یہ نشست پایہ تکمیل کو پہنچی۔

تیسری نشست: بعد نماز مغرب زیر صدارت حضرت مولانا منیر ربانی صاحب (دارالعلوم سبیل الرشاد بنگلور) منعقد ہوئی اور جناب مولانا محمد ابراہیم صاحب نے ترجمہ کے فرائض انجام دیئے۔ تلاوت کلام پاک کے بعد حضرت مولانا قاری محمد عثمان صاحب منصور پوری نے علم کلام کی روشنی میں ایمان و کفر کے حدود متعلقین کے لئے جمیع ما جاء بہ الرسول پر ایمان لانا ضروری ہے جب کہ کفر کی تحقیق کے واسطے ان میں سے کسی ایک چیز کا انکار بھی کافی ہے۔ اس معیار کی روشنی میں قادیانیوں کے کفر و ارتداد کو سمجھنا آسان ہے۔ کیونکہ وہ متعدد ضروریات دین کا انکار کرتے ہیں اور جب کہ ضروریات دین میں تاویل بھی بالاجماع انکار کے برابر ہے۔

مولانا معصوم صاحب کی تقریر: موصوف کی تقریر کے بعد جناب مولانا سید معصوم ثاقب صاحب فیض آبادی نے قادیانیوں کے تین گروہ مرزائی، لاہوری، اروپی کا تاریخی تعاقب ان کے عقائد کی روشنی میں حوالوں کے ساتھ پیش فرمایا اور دلائل سے ثابت کیا کہ ان

صفحہ ۱۱۶

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۲ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

میں سے ہر گروہ دائرہ اسلام سے خارج ہے۔ اخیر میں صدارتی خطبہ ارشاد فرمایا۔ ساڑھے نو بجے کے قریب موصوف کی دعا پر یہ نشست اختتام پذیر ہوئی۔

چوتھی نشست: بروز یک شنبہ ساڑھے آٹھ بجے تا بارہ بجے زیر صدارت جناب مولانا قاری عبید اللہ صاحب (مہتمم جامعہ انوار العلوم ترچی ) منعقد ہوئی اور انتظامات کے فرائض مفتی روح الحق نے انجام دیا۔

تقریر مولانا عبد العلیم صاحب: تلاوت کلام پاک کے بعد دار المبلغین لکھنو کے مہتمم جناب مولانا عبد العلیم فاروقی زید مجدہم نے اپنے مخصوص عالمانہ و خطیبانہ انداز میں عقیدہ ختم نبوت کی اہمیت سمجھاتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ نبی کے ذمہ دو کام ہوتے ہیں۔ ایک اخذ احکام، دوم تنفیذ احکام۔ اخذ احکام کے لئے عصمت درکار ہے۔ اس لئے حضور ﷺ کے بعد اخذ احکام کا سلسلہ بند ہو گیا۔ اب صرف اور صرف تنفیذ احکام کا کام ہو سکتا ہے۔ اس کو حضرات صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اور تمام علماء حق انجام دیتے چلے آ رہے ہیں۔ موصوف نے شرکاء کیمپ کو تاریخ اسلامی کے حوالے سے حضرات صحابہ رضی اللہ عنہم کی ان بیش بہا قربانیوں سے روشناس کرایا۔ جو ان حضرات نے مسیلمہ کذاب، اسود عنسی طلیحہ و دیگر جھوٹے مدعیان نبوت کے فتنوں کو مٹانے کے لئے انجام دیں اور فرمایا کہ اس طرح کی قربانی کا مطالبہ آج کل کی قادیانی سرگرمیاں علماء حق سے کر رہی ہیں۔ ہم سب کو عہد کرنا ہے کہ آخری سانس تک قادیانیت کی بیخ کنی کے لئے سنت صدیقی پر عمل پیرا رہیں گے۔

تقریر جناب مولانا مفتی محمود حسن صاحب: موصوف کے بعد جناب مولانا محمود حسن بلند شہری استاذ دارالعلوم دیوبند نے خطاب فرمایا۔ جس میں عقیدہ حیات مسیح کی اہمیت سمجھائی اور شرکاء کیمپ کی توجہ اس جانب مبذول کرائی کہ ان قادیانیوں سے اس مسئلہ پر بحث کی نوبت آجائے تو موضوع رفع ونزول عیسیٰ علیہ السلام ہونا چاہئے۔ کیونکہ ہمارا اور مرزائیوں کا اصل اختلاف حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی حیات و وفات میں نہیں بلکہ ان کے زندہ آسمان پر اٹھائے جانے اور قیامت کے قریب دوبارہ نازل ہونے میں ہے۔

تقریر جناب مولانا شاہ عالم صاحب: اس کے بعد جناب مولانا شاہ عالم صاحب گورکھپوری مبلغ مجلس تحفظ ختم نبوت دارالعلوم دیوبند نے اپنی گفتگو میں اس مسئلہ کی تحقیق فرمائی کہ نبوت وہبی چیز ہے۔ لہذا مرزا غلام احمد قادیانی کا یہ دعویٰ باطل ہے کہ حضور ﷺ کے کمال کی متابعت سے اس کو نبوت مل گئی ہے۔ ساتھ ہی مرزائیوں کے اس فریب کا پردہ چاک کیا گیا۔ وہ دعویٰ تو کرتے ہیں نبوت کی خاص قسم (یعنی ظلی و بروزی) کے جاری ہونے کا مگر اپنے خاص دعویٰ کی خاص دلیل پیش نہیں کرتے۔ اپنے زعم باطل کے مطابق وہ آیات پیش کرتے ہیں جن سے بفرض محال اجرائے نبوت کا ثبوت مان بھی لیا جائے تو ہر قسم کی نبوت کو جاری ماننا پڑے گا۔ جب کہ خود قادیانی نبوت کی دو قسموں تشریعی نبوت اور مستقل نبوت کے جاری رہنے کے قائل نہیں ہیں۔ اس لئے ان سے خاص دلیل کا مطالبہ کرنا چاہئے جو وہ قیامت تک پیش نہیں کر سکتے۔ ایک بجے کے قریب نشست صدر اجلاس کی تقریر و دعا پر بحسن و خوبی مکمل ہوئی۔

پانچویں نشست: بعد نماز مغرب تا عشاء زیر صدارت جناب مولانا خلیل الرحمن صاحب اعظمی ناظم جامعہ دارالسلام عمر آباد منعقد ہوا۔ مترجم کے فرائض جناب مولانا محمد الیاس صاحب نے انجام دیئے۔

تقریر جناب مولانا سراج الساجدین صاحب: تلاوت کلام پاک کے بعد جناب مولانا سید سراج الساجدین صاحب کٹکی نائب مہتمم مدرسہ اسلامیہ سونگڑہ کٹک نے اپنے مخصوص خطیبانہ انداز میں انبیاء کرام علیہم السلام کے بلند کردار کے اعلیٰ درجے کے نمونے اختصار جامعیت کے ساتھ پیش فرما کر مسیلمہ پنجاب مرزا غلام احمد قادیانی کے قابل نفریں کریکٹر کے چند مظاہرے بیان فرمائے۔ جس سے اس کے

صفحہ ۱۱۷

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۲ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

دعویٰ نبوت کی پول کھل گئی اور ثابت ہو گیا کہ اس طرح کے کریکٹر کا آدمی انسان بھی نہیں ہو سکتا۔ چہ جائیکہ نبی ہو۔ ۴ بجے کے وقت صدر اجلاس کی تقریر و دعائیہ کلمات پر یہ نشست مکمل ہوئی۔

(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ص ۲۲ تا ۲۴، مؤرخہ ۸ تا ۱۴/ جنوری ۱۹۹۳ء)

شادی لارج میں ایک قادیانی کا قبول اسلام

گزشتہ دنوں نبی سر روڈ کے نزدیک شادی لارج ضلع تھرپارکر میں ایک قادیانی نے اسلام قبول کر لیا اور مندرجہ ذیل بیان دیا:

میں مسمی محمد عباس ولد غلام محمد اپنے سالم دماغ اور بغیر کسی دباؤ کے جامع مسجد شادی لارج میں مندرجہ ذیل گواہوں کے سامنے اقرار کرتا ہوں کہ میں کچھ مرزائیوں کے بہکانے پر مرزائی ہوا تھا، لیکن اب مجھے صحیح پتہ چلنے کے بعد میں مرزائی قادیانی مذہب سے توبہ کرتا ہوں اور نبی اکرم ﷺ کی ختم نبوت پر ایمان لاتا ہوں اور حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کو آخری نبی مانتا ہوں اور میرا یہ بھی ایمان ہے کہ قیامت تک حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا اور میں یہ بھی اقرار کرتا ہوں کہ مرزا غلام احمد قادیانی جھوٹا ہے، کافر ہے، کذاب ہے اور میں اس پر لعنت بھیجتا ہوں اور مرزا غلام احمد کو نبی ماننے والوں کو بھی کافر سمجھتا ہوں۔ میں اپنے تمام مسلمان بھائیوں سے اس کی معافی چاہتا ہوں اور دعا کرتا ہوں کہ خدا مجھے اور سب مسلمانوں کو قادیانی مرتدوں سے بچائے۔ دستخط محمد عباس، دستخط گواہاں، حافظ عبد الخالق، گل داد، راز محمد، صوفی محمد منظور۔

(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ص ۲۶، مؤرخہ ۲۹/مئی تا ۴/ جون ۱۹۹۲ء)

قادیانیت سے تائب

منظور احمد سکنہ موضع سسی والا عرصہ دراز سے قادیانیت کے چنگل میں پھنسا ہوا تھا اور اپنے بیوی بچوں اور رشتہ داروں کو قادیانی ہو جانے کی دعوت دیتا رہا۔ جب اہل بستی کو پتہ چلا تو انہوں نے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ربوہ کے مرکزی مبلغ مولانا غلام مصطفیٰ کو اپنی بستی میں دعوت دی تو انہوں نے قادیانیت اور اسلام کا فرق واشگاف الفاظ میں بیان کیا۔ اس دعوت میں دیئے گئے بیان کے بعد منظور احمد نے قادیانیت سے توبہ کر لی۔

(ہفت روزہ لولاک فیصل آباد ص ۲۲، مؤرخہ ۲۸/اگست ۱۹۹۲ء)

ختم نبوت کانفرنس شیخوپورہ

۲۱/ فروری ۱۹۹۲ء بروز جمعۃ المبارک جامع توحیدیہ شیخوپورہ میں ایک روزہ ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی۔ اس کا اہتمام مجلس تحفظ ختم نبوت نے کیا۔ جمعۃ المبارک کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے مولانا اللہ وسایا نے قادیانی مذہب کا پوسٹ مارٹم کیا۔ انہوں نے کہا عقیدۂ ختم نبوت اسلام کا بنیادی اور اساسی عقیدہ ہے۔ مولانا اللہ وسایا نے مختلف حوالہ جات سے ثابت کیا کہ مرزا غلام احمد قادیانی جھوٹا مدعی نبوت تھا۔ اس نے زندگی میں جتنے دعوے کئے وہ باطل ثابت ہوئے۔ مولانا اللہ وسایا نے دو گھنٹے تفصیلاً نزول عیسیٰ پر براہین و دلائل کی روشنی میں ثابت کیا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام قرب قیامت تشریف لائیں گے۔ کانفرنس کا دوسرا اجلاس بعد نماز عشاء منعقد ہوا۔ جس میں جمعیۃ علمائے اسلام کے جنرل سیکرٹری حضرت مولانا فضل الرحمن نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ فرنگی سامراج کے نظام کی بیشتر یادگاریں ابھی تک موجود ہیں۔ ہم نام کے آزاد ہیں۔ مگر ابھی تک غلامی کا طوق ہمارے گلے سے اترا نہیں۔ مولانا فضل الرحمن نے کہا قادیانی فتنہ فرنگی سامراج کی یادگار ہے۔ جسے انگریز نے اپنے مخصوص مفادات کے لئے پیدا کیا تھا۔ انگریز تو یہاں سے چلا گیا لیکن اس کا خود کاشتہ فتنہ ابھی تک موجود ہے۔ مولانا نے زور دے کر کہا کہ ساری خرابی نظام کی ہے۔ اس کی وجہ سے ملک کا سارا سیاسی اور معاشی ڈھانچہ متزلزل ہے۔ انہوں نے موجودہ حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اسلام کا نعرہ لگانے والی حکومت کے دور میں اسلام دور بین سے بھی نظر نہیں آتا۔ مولانا

صفحہ ۱۱۸

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۲ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

فضل الرحمن نے کہا نواز شریف اعتراف کرتے ہیں کہ وہ بنیاد پرست نہیں۔ ان سے پہلے بیگم بے نظیر بھٹو صاحبہ بھی کہتی تھیں کہ وہ بنیاد پرست نہیں تو پھر ان میں فرق کیا ہے۔ مولانا فضل الرحمن نے کہا موجودہ حکومت نے جو دعوے کئے تھے وہ ان سے انحراف کر رہی ہے۔ انہوں نے حکومت کی پالیسیوں پر کڑی نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا کہ حکومت بری طرح ناکام ہو چکی ہے۔

جمعیتہ علماء اسلام کے رہنما امیر حسین گیلانی نے کہا مسلم لیگ کی حکومت سے یہ توقع نہیں رکھی جاسکتی کہ وہ ملک میں اسلام نافذ کرے گی۔ انہوں نے کہا مسلم لیگ نے ۱۹۵۳ء کی تحریک ختم نبوت میں دس ہزار مسلمانوں کو شہید کیا۔ اسی جماعت نے ملک کو سیاسی اور معاشی طور پر تباہ و برباد کیا۔ امیر حسین گیلانی نے زور دے کر کہا موجودہ حکومت صرف اپنے اقتدار کو مستحکم کرنے پر زور لگا رہی ہے۔ مولانا نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ قومی شناختی کارڈ میں مذہب کے خانے میں اضافہ کیا جائے۔

مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی رہنما صاحبزادہ طارق محمود نے اپنی پرجوش تقریر میں کہا کہ موجودہ حکومت مسلم وغیر مسلم کا فرق واضح کرنے سے گریز کر کے اسلام دوستی کی بجائے اسلام دشمنی کا ثبوت دے رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت اور آئی جے آئی کے مختلف رہنماؤں نے مالیاتی اداروں سے ۱۲۹ ارب روپے قرض لئے ہیں، جن کا کروڑوں روپے سود بنتا ہے۔ صاحبزادہ طارق محمود نے کہا سودی کاروبار سے آئی جے آئی کے بعض رہنما راکھ سے لاکھ بن گئے ہیں۔ انہوں نے کہا افسوس ہے کہ پہلے ہمیں چوروں سے واسطہ پڑا تھا اب ڈاکوؤں سے پالا پڑ گیا ہے۔ صاحبزادہ طارق محمود نے وزیراعظم پاکستان سے مطالبہ کیا کہ وہ وزیر مملکت برائے اقتصادی امور کو لگام دیں جو علمائے کرام کو تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا سود کی حرمت کے خلاف وفاقی شرعی عدالت کا فیصلہ تسلیم کریں یا جرأت کر کے اپیلیٹ کورٹ سے رجوع کریں۔ خواہ مخواہ علماء کے خلاف غصہ نکالنے سے کچھ حاصل نہ ہوگا۔ انہوں نے کہا دس سال قبل نظریاتی کونسل سود کے متبادل نظام کا خاکہ پیش کر چکی ہے۔ وزیر صاحب اس کا مطالعہ فرمائیں اور پھر علماء کو للکاریں۔ صاحبزادہ طارق محمود نے کہا کمپیوٹر سسٹم کے تحت نئے بننے والے قومی شناختی کارڈ میں مذہب کے خانے کا اضافہ کرنے سے حکومت کے خلاف کوئی قیامت نہیں ٹوٹ پڑے گی۔ انہوں نے کہا یہ ایک آئینی اور مثبت مطالبہ ہے۔ جب پاسپورٹ اور پاسپورٹ فارم کے علاوہ شناختی کارڈ کے فارم میں مذہب کا خانہ بن سکتا ہے تو شناختی کارڈ میں مذہب کے خانے کا اضافہ کیوں نہیں ہو سکتا۔

جامع توحیدیہ میں منعقد ہونے والی ختم نبوت کانفرنس سے مولانا غلام ربانی، مولانا محمد حنیف، مجلس تحفظ ختم نبوت کے مبلغ مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی نے بھی خطاب کیا۔ جب کہ سید امین گیلانی، جناب سلمان گیلانی نے خوب زور دار نظمیں پڑھیں۔ کانفرنس کی صدارت حضرت الامیر خواجہ خان محمد صاحب نے فرمائی۔ کانفرنس کا اختتام حضرت اقدس کی پر سوز دعا سے ہوا۔

(ہفت روزہ لولاک فیصل آباد ص۱۹، ۲۰،مؤرخہ ۱۳؍ مارچ ۱۹۹۲ء)

شہدائے ختم نبوت کانفرنس لاہور

عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیراہتمام ۲۷؍فروری ۱۹۹۲ء کو جناح ہال لاہور میں شہدائے ختم نبوت کانفرنس زیر صدارت حضرت مولانا خواجہ خان محمد صاحب منعقد ہوئی۔ کانفرنس میں تلاوت مولانا حافظ عبدالخالق جالندھری، سٹیج سیکرٹری مولانا محمد اسماعیل، مہمان خصوصی الحاج بلند اختر نظامی تھے۔ مولانا حفیظ الرحمن، حضرت علامہ خالد محمود، حضرت مولانا عزیز الرحمن جالندھری، مولانا حافظ عبدالقادر روپڑی، جناب محمد اسماعیل قریشی، جناب ڈاکٹر اسرار احمد، مولانا سید امیر حسین گیلانی، معروف صحافی جناب حمید اصغر نجیب، صاحبزادہ طارق محمود،

صفحہ ۱۱۹

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۲ء ۱۱۹ ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

مولانا محمد اجمل خان، مولانا عبد الحفیظ مکی، مولانا اللہ وسایا، قائد جمعیۃ حضرت مولانا فضل الرحمن نے خطاب فرمایا۔ مغرب سے لے کر رات بارہ بجے تک تسلسل کے ساتھ یہ کانفرنس منعقد ہوئی۔

امیر مرکزیہ حضرت مولانا خواجہ خان محمد صاحب مدظلہ کا ایک ہفتہ بلوچستان کا تفصیلی دورہ

حضرت مولانا خواجہ خان محمد صاحب مدظلہ ۲۶/ اپریل ۱۹۹۲ء کو ملتان سے بذریعہ طیارہ ژوب پہنچے۔ ژوب ائیر پورٹ پر حضرت کا اہلیان ژوب اور عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے پروانوں نے عظیم الشان استقبال کیا۔ ائیر پورٹ سے جلوس کی صورت میں حضرت کو خادم ختم نبوت حاجی محمد اکبر صاحب کے گھر لایا گیا۔ دوپہر کا کھانا حاجی محمد اکبر صاحب کے گھر تناول فرمایا۔ پھر ژوب مرکزی جامع مسجد کے خطیب حضرت مولانا اللہ داد صاحب کے ہاں تشریف لائے۔ اس کے بعد مدرسہ شمس العلوم کے مہتمم مولانا قاسم شاہ صاحب نے بھی ظہرانہ دیا۔ قبل از نماز عصر مرکزی جامع مسجد ژوب میں حضرت کی زیر صدارت ایک عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی۔ جس میں ختم نبوت سندھ کے مبلغ مولانا جمال اللہ الحسینی صاحب مجلس تحفظ ختم نبوت بلوچستان کے نائب امیر مولانا عبد الواحد صاحب نے خطاب کیا اور آخر میں حضرت نے اجتماعی دعا فرمائی۔ ژوب عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے امیر حاجی غلام حیدر صاحب نے حضرت کو عشائیہ دیا۔ صبح کا ناشتہ حاجی محمد یونس خواجہ خیل کے گھر تھا۔

۲۷/ اپریل ۱۹۹۲ء کو صبح ۸/ بجے ژوب سے بذریعہ روڈ براستہ مرغہ کزئی لورالائی روانہ ہوئے۔ راستہ میں سردار فیض اللہ نے چائے کا اہتمام کیا۔ اس کے بعد دعوت طعام حاجی عطاء خان نے کی ۔ پھر سردار بہار خان سکنہ سیلان نے حضرت کا کلاشنکوفوں سے شاندار استقبال کیا اور ظہرانہ دیا۔ لورالائی پہنچنے پر حضرت کا شاندار استقبال کیا۔ استقبال میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت لورالائی کے کارکنان اور اہلیان لورالائی اور جمعیۃ علماء اسلام کے کارکنوں نے شرکت کی ۔ پھر جلوس کی صورت میں حضرت کو مجاہد ختم نبوت مولانا گل حبیب صاحب کے گھر لایا گیا اور مولانا گل حبیب صاحب نے حضرت کے اعزاز میں عشائیہ کا اہتمام کیا۔ ۲۸/ اپریل ۱۹۹۲ء کو مدرسہ دارالعلوم لورالائی کے سالانہ جلسہ دستار بندی میں حضرت مولانا خواجہ خان محمد صاحب تشریف لائے۔ اس جلسہ دستار بندی میں مجلس تحفظ ختم نبوت بلوچستان کے نائب امیر مولانا عبد الواحد صاحب نے خطاب فرمایا۔ اس کے بعد ختم نبوت سندھ کے مبلغ مولانا جمال اللہ الحسینی صاحب نے خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ قادیانیوں کی دھوکہ دہی کا سد باب کیا جائے ۔ کیونکہ قادیانیت ایک دہشت گرد تنظیم ہے۔ سندھ میں تخریب کاری کی متعدد وارداتوں میں قادیانی نوجوان گرفتار ہوئے ۔

مولانا نے فرمایا کہ آپ کے صوبہ بلوچستان میں ذکری فرقہ بھی قادیانیوں کی طرح غیر مسلم ہے۔ کیونکہ ذکری ختم نبوت اور اسلام کے تمام ضروری احکامات کے منکر ہیں۔ انہوں نے فرمایا کہ ذکریوں نے اپنا نقلی حج بنایا۔ بلوچستان جیسے مذہبی صوبہ میں ذکریوں کا نقلی حج ہونا بلوچستان کے عوام کے لئے کھلا چیلنج ہے۔ اسی موقع پر بلوچستان کے وزیر اعلیٰ میر تاج محمد جمالی صاحب بھی موجود تھے ۔ مولانا جمال اللہ صاحب نے اپنے جوشیلے انداز میں عوام سے فرمایا کہ اب آپ فیصلہ کریں آپ کی حکومت بھی آپ کے سامنے موجود ہے ۔ کیا آپ جیسے جیالے اور بہادر لوگ مذہب اسلام پر قربان ہونے والے ذکریوں کے نقلی حج کو برداشت کرتے ہو؟ تو لوگوں نے کھڑے ہو کر وعدہ دیا کہ ہرگز نہیں اس وقت چاروں طرف سے نعرہ تکبیر کی آوازیں بلند ہوئیں اور ختم نبوت زندہ باد کی آوازیں گونج اٹھیں۔ پھر بلوچستان کے وزیر اعلیٰ میر تاج محمد جمالی صاحب نے کھڑے ہو کر یقین دہانی کرائی کہ ذکریوں کے نقلی حج کو ان شاء اللہ ختم کریں گے۔

صفحہ ۱۲۰

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۲ء ۱۲۰ ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

پھر حضرت مولانا خواجہ خان محمد صاحب مدظلہ نے فارغ التحصیل طلباء کی دستار بندی فرمائی اور آخر میں عالم اسلام کے اتحاد واتفاق کے لئے دعا فرمائی۔ پھر دوپہر کا طعام تحفظ ختم نبوت لورالائی کے سرپرست مدرسہ دارالعلوم کے مہتمم مولانا آغا محمد صاحب کے گھر تناول فرمایا۔ بعد ازاں مجلس تحفظ ختم نبوت لورالائی کے نائب امیر حاجی محمد اشرف خواجہ خیل نے دفتر مجلس تحفظ ختم نبوت میں حضرت کو عشائیہ دیا۔ دفتر پہنچنے پر حضرت خواجہ خان محمد صاحب کا عظیم الشان استقبال کیا گیا۔ عشائیہ کے بعد حضرت نے نماز عشاء وہاں ادا کی بعد نماز عشاء ختم نبوت لورالائی کے نائب امیر حاجی محمد اشرف خواجہ خیل کے فرزند مولانا محمد نیاز کا نکاح پڑھایا۔ آخر میں دعا فرمائی۔

۲۹؍اپریل ۱۹۹۲ء صبح کا ناشتہ مجلس تحفظ ختم نبوت لورالائی کے ضلعی امیر و مدرسہ دینیہ عربیہ نعمانیہ کے مہتمم شیخ الحدیث مفتی عبیداللہ عرف گل خان صاحب کے ہاں فرمایا اور مختلف مقامات پر دعوت چائے کے لئے تشریف لے گئے۔ اس کے بعد حضرت مولانا عبدالرحیم صاحب کے مدرسہ نور بستی شاکریز لورالائی میں مدرسہ کا افتتاح فرمایا اور عشائیہ کا اہتمام ڈاکٹر شیر زمان صاحب نے کلی زنگی وال میں کیا۔

۳۰؍اپریل ۱۹۹۲ء کو حضرت مولانا خواجہ خان محمد صاحب ۸؍بجے لورالائی سے کوئٹہ بذریعہ روڈ روانہ ہو گئے۔ کوئٹہ پہنچنے پر حضرت کا شان وشوکت سے استقبال کیا اور بلیلی کسٹم سے جلوس کی صورت میں حضرت کو عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے صوبائی دفتر لایا گیا۔ حضرت کو دفتر ختم نبوت کوئٹہ میں استقبالیہ پیش کیا گیا۔ استقبالیہ میں علمائے کرام و معززین شہر نے بھاری تعداد میں شرکت کی۔ یکم مئی ۱۹۹۲ء کو عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے امیر مرکزیہ حضرت مولانا خواجہ خان محمد مدظلہ کی صدارت میں جامع مسجد مرکزی کوئٹہ میں ختم نبوت کانفرنس کے اجلاس سے ختم نبوت کے مبلغ مولانا جمال اللہ الحسینی نے قادیانی اور ذکریوں کے عقائد بیان فرمائے اور حکومت پاکستان سے مطالبہ کیا کہ قادیانیوں کی ملک دشمن سرگرمیوں کا نوٹس لیا جائے۔ جامع مسجد مرکزی کے خطیب مولانا انوار الحق نے کہا کہ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے امیر مرکزیہ خواجہ خان محمد صاحب کی قیادت میں قادیانیت کے خلاف پوری دنیا میں منظم طریقے سے کام ہورہا ہے اور عالمی مجلس نے قادیانیوں کی سرگرمیوں کے سدباب اور ان کے خطرناک عزائم اور کفریہ عقائد سے اہل اسلام کو بچانے کے لئے پوری دنیا میں دفاتر کا جال بچھا دیا ہے۔ انہوں نے کہا جب تک یہ فتنہ دنیا میں موجود ہے۔ ختم نبوت کے پروانے کبھی بھی چین سے نہیں بیٹھ سکتے۔

پھر دوپہر کا طعام حاجی شہاب الدین صاحب مندوخیل کے ہاں حضرت صاحب نے تناول فرمایا۔ سہ پہر چار بج کر بیس منٹ پر حضرت خواجہ خان محمد صاحب کوئٹہ ایئرپورٹ سے بذریعہ جہاز پنجاب روانہ ہو گئے۔ ختم نبوت کے کارکنوں اور معززین شہر نے آپ کو الوداع کیا۔

(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ص۱۱، ۱۲،مؤرخہ ۱۲ تا ۱۸؍جون ۱۹۹۲ء)

عظیم الشان چھٹی سالانہ ختم نبوت کانفرنس ہری پور

سالانہ فقید المثال عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس مؤرخہ ۶؍مئی ۱۹۹۲ء کو چمن پارک ہری پور میں زیر صدارت پیر طریقت امیر مرکزیہ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت حضرت اقدس مولانا خواجہ خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ کندیاں شریف منعقد ہوئی۔ جلسہ گاہ کے چاروں طرف مجلس کے بینرز لگے ہوئے تھے۔ اسٹیج کو بڑے خوبصورت انداز میں سجایا گیا تھا۔ اس کانفرنس میں ہزاروں شمع ختم نبوت کے پروانوں نے شرکت کی۔ جب کہ سینکڑوں علمائے کرام نے سرپرستی فرمائی۔ کانفرنس کا آغاز قاری شفیق الرحمٰن (سینئر نائب صدر) کی تلاوت قرآن مجید سے ہوا۔ جب کہ دربار رسالت ﷺ میں ہدیہ نعت پیش کرنے کی سعادت جناب نبیل احمد عباسی شاعر اسلام جناب مطیع الرحمٰن اطہر نے حاصل کی۔ جب معزز مہمانان گرامی قدر جلسہ گاہ میں تشریف لائے تو ہزاروں مسلمانوں نے کھڑے ہوکر فلک شگاف نعروں

صفحہ ۱۲۱

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۲ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

سے اپنے محبوب قائدین کا استقبال کیا۔ کانفرنس سے مقامی علماء کرام کے علاوہ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت سرگودھا کے مبلغ حضرت مولانا محمد اکرم طوفانی نے اپنے طوفانی انداز میں کہا کہ آج کا مسلمان عزت نبوی ﷺ کے تحفظ کی خاطر کچھ بھی نہیں کرتا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ مسلمانوں کے دلوں سے غیرت صدیقی ، جرأت فاروقی ، نکل چکی ہے۔ انہوں نے تمام مسلمانوں سے جھولی پھیلا کے درخواست کی کہ خدارا اپنے تمام تر اختلافات کو بھلا کر ایک پلیٹ فارم پر جمع ہو جائیں۔

ان کے بعد مولانا اللہ وسایا مائک پر تشریف لائے تو حاضرین جلسہ نے فلک شگاف نعروں سے ان کا استقبال کیا۔ انہوں نے اپنے خطاب کا آغاز کرتے ہوئے فرمایا کہ موجودہ حکومت اسلام ، اسلام کی رٹ لگا کر برسراقتدار آئی ہے لیکن اب منافقت کر کے قادیانیت نوازی کا مظاہرہ کرنے میں تمام سابقہ ریکارڈ توڑ چکی ہے۔ صدر پاکستان بابا غلام اسحق خان سے جب ۱۸؍ فروری ۱۹۹۲ء کو آل پارٹیز مجلس عمل تحفظ ختم نبوت کے وفد نے ملاقات کی تو انہوں نے وعدہ کیا تھا کہ نئے شناختی کارڈوں میں مذہب کے خانہ کا اضافہ کیا جائے گا۔ قائد جمعیۃ مولانا فضل الرحمٰن نے وزیراعظم نواز شریف سے اس مسئلے پر بات چیت کی تو اس نے بھی مکمل تعاون کا یقین دلایا۔ پورے ملک سے لاکھوں کی تعداد میں یادداشتیں اور ہزاروں کی تعداد میں ٹیلی گرام مرکزی حکومت کو ارسال کئے گئے۔ پورے ملک میں احتجاجی مظاہرے کئے ۔ یوم احتجاج منایا اور احتجاجی جلسے منعقد کئے۔ لیکن ابھی چند دن پہلے بابا اسحق نے نئے شناختی کارڈوں کا افتتاح کیا اور اس میں مذہب کا خانہ ندارد۔ جب وزیر اعظم کو مطلع کیا گیا کہ جناب نئے بننے والے شناختی کارڈوں میں سے آپ کی حکومت نے مذہب کا خانہ اڑا دیا ہے تو انہوں نے لاعلمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مجھے اس سلسلہ میں کچھ معلوم نہیں۔ مولانا اللہ وسایا نے فرمایا کہ میاں جی ! اگر آپ کو علم نہیں ہوا تو یہ آپ کی نالائقی ہے اور اگر علم تھا تو پھر آپ جھوٹ بولنے کی پاداش میں جھوٹے ہیں اور یوں آپ ان دونوں صورتوں میں حکمران بننے کے اہل نہیں ہیں۔

ان کے بعد مہمان محقق دوراں، فقیہ امت، امام ملت، شیخ الحدیث نائب امیر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی نے اپنے فقیہانہ، محققانہ، مفکرانہ اور مدبرانہ خطاب کا آغاز کرتے ہوئے فرمایا کہ قادیانیوں کو صرف آئین میں کافر قرار دیا گیا تھا جو مسلمانوں میں پائی جانے والی بے چینی کا حل ثابت نہیں ہوا۔ انہوں نے اس خدشہ کا اظہار کیا کہ یہ غیر مسلم عناصر اس وقت بعض حساس محکموں کے کلیدی عہدوں پر فائز ہیں جس سے ملکی راز راز نہیں رہ سکتے اور اس سے ملکی وحدت کو ہر وقت خطرہ لاحق ہے اور اس بارے میں حکومت پوری طرح آگاہ ہونے کے باوجود خاموش ہے۔ یہ عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس امیر مرکزیہ حضرت مولانا خان محمد صاحب کی پرسوز دعا کے ساتھ اختتام پذیر ہوئی۔

(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ص ۲۱،۲۲ ، مؤرخہ ۱۲ تا ۱۸؍ جون ۱۹۹۲ء)

ایبٹ آباد میں فقید المثال ختم نبوت کانفرنس

ایبٹ آباد (پ۔ر) تحفظ ختم نبوت یوتھ فورس ضلع ایبٹ آباد کے زیر اہتمام ۷؍ مئی ۱۹۹۲ء بروز جمعرات ایک عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس جامع مسجد کچہری ایبٹ آباد زیر صدارت حضرت اقدس مولانا خواجہ خان محمد صاحب انتہائی عقیدت واحترام سے منعقد کی گئی۔ کانفرنس سے حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی صاحب نے خطاب کرتے ہوئے کہا۔ عقیدہ ختم نبوت کا تحفظ اور مرزائیت کا استیصال آج وقت کا سب سے بڑا جہاد ہے اور جو سعید روحیں اس مشن میں سر بکف عمل پیرا ہیں۔ وہ بلاشبہ سیدنا صدیق اکبر ؓ کی فوج کے سپاہی ہیں اور صدیق اکبر ؓ کی طرح محبان خدا ہیں۔ انہوں نے کہا یہ اعزاز ’’ایں سعادت بزور بازو نیست‘‘ کا مصداق ہے۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان اور اس کے زیر سایہ تحفظ ختم نبوت یوتھ فورس اور دیگر جماعتیں محبان خدا کی جماعتیں ہیں۔ مولانا محمد یوسف لدھیانوی

صفحہ ۱۲۲

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۲ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

صاحب نے کہا مرزائیت امت مسلمہ میں کپاس کے ڈھیر میں چنگاری کا وجود ہے۔ اس لئے امت پر فرض ہے کہ فتنہ قادیانیت کی سازشوں سے باخبر رہیں اور ان کے خلاف عملاً اظہار کریں۔ دوسری نشست میں مولانا اللہ وسایا صاحب اور مولانا محمد اکرم طوفانی صاحب کے بیانات ہوئے۔ شاہین ختم نبوت مولانا اللہ وسایا صاحب نے موجودہ حکومت کی قادیانیت نواز پالیسی کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ وفاقی کابینہ کے ممبران اسلام کے نام پر ووٹ لے کر آئے۔ لیکن آج رنگ رلیوں میں مصروف ہیں اور اسلام اور ختم نبوت سے مکمل غداری کا عملی نمونہ پیش کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا حکومت کو چاہئے کہ عقل کے ناخن لیں۔ ورنہ نہ حکومت رہے گی اور نہ حکومت والے۔

مولانا محمد اکرم طوفانی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ شناختی کارڈ میں مذہب کے خانہ کا اندراج اب ناگزیر ہو گیا ہے۔ حکومت ہمارے اس جائز مطالبے کی حقانیت کو تسلیم کرتے ہوئے عمل کرنے سے گریزاں ہے۔ اس کا واحد حل جذبۂ صدیقی ہے۔ عوام نے نعرہ ہائے تکبیر سے اس کی تائید کی اور حضور ﷺ کی ختم نبوت کے تقدس کے لئے ہر جانی، مالی قربانی دینے کے لئے عہد کیا۔ مولانا سید افسر علی شاہ صاحب، مولانا امیر زمان صاحب نے بھی ختم نبوت کانفرنس سے خطاب کیا۔ ان کے علاوہ علماء کرام کی بڑی تعداد اس فقید المثال ختم نبوت کانفرنس میں شریک تھی۔ جن میں مولانا قاضی محمد نواز خان صاحب، مولانا شفیق الرحمٰن صاحب، مولانا حبیب الرحمٰن صاحب، مولانا الطاف الرحمٰن صاحب، مولانا سید اکبر شاہ صاحب، مولانا سعید الرحمٰن قریشی اور مولانا مغفور الرحمٰن سرفہرست ہیں۔ حضرت مولانا خواجہ خان محمد صاحب کے دعائیہ کلمات پر کانفرنس کا اختتام ہوا۔

(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ص۲۴،مؤرخہ ۱۲ تا ۱۸/جون ۱۹۹۲ء)

ننکانہ میں ”انعام گھر“ پروگرام

سیرت النبی ﷺ، عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ اور فتنہ قادیانیت کی سرکوبی کے موضوعات پر مبنی ”نیلام گھر“ کی طرز پر دلچسپ اور معلوماتی پروگرام ”انعام گھر“ گزشتہ روز یہاں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام منعقد ہوا۔ ممتاز مذہبی سماجی رہنما اور عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ننکانہ صاحب کے امیر حاجی عبدالحمید رحمانی نے صدارت کی جب کہ سابق ڈی۔ایس۔پی خان اسلم خان لودھی پروگرام کے مہمان خصوصی تھے۔ پاکستان ٹیلیویژن کے پروگرام ”نیلام گھر“ کے نامور کمپیئر طارق عزیز طے شدہ پروگرام کے باوجود علالت کی وجہ سے ”انعام گھر“ میں شرکت نہ کر سکے۔ پروگرام کے کمپیئر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ننکانہ کے صدر محمد متین خالد تھے۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی راہنما مولانا اللہ وسایا اور ہفت روزہ ”لولاک“ کے مدیر صاحبزادہ طارق محمود سمیت تمام مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے افراد اور طلباء نے ہزاروں کی تعداد میں پروگرام میں شرکت کی۔

اس موقع پر متذکرہ بالا موضوعات پر مبنی آسان سوالات پر واشنگ مشین، ایئر کولر، پنکھے، سلائی مشین، وال کلاک سمیت بے شمار قیمتی اور نقد انعامات حاضرین کو دیئے گئے۔ جب کہ پروگرام کے بڑے انعام عمرہ کے ٹکٹ کے لئے کوالیفائی کرنے والے دو امیدواروں اسلام آباد کے سید شبیر حسین شاہ اور ننکانہ صاحب کے مرزا آصف رسول کے مابین سخت مقابلہ ہوا۔ تاہم دونوں امیدوار معمولی فرق کے ساتھ انعام حاصل نہ کر سکے۔ واضح رہے کہ ننکانہ صاحب میں منعقد ہونے والے اپنی نوعیت کے اس منفرد پروگرام میں ملک بھر سے امیدواروں نے شرکت کی اور انعامات حاصل کئے۔

(ہفت روزہ لولاک فیصل آباد ص۲۲،مؤرخہ ۳/جولائی ۱۹۹۲ء)

ساتویں سالانہ عالمی ختم نبوت کانفرنس انگلینڈ

عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام ساتویں سالانہ عالمی ختم نبوت کانفرنس ۱۶/اگست ۱۹۹۲ء کو برمنگھم کی مرکزی جامع مسجد میں

صفحہ ۱۲۳

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۲ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

روایتی جوش وخروش کے ساتھ منعقد ہوئی جس میں برطانیہ کے مختلف شہروں سے چار ہزار سے زائد مسلمانوں نے شرکت کی۔ کانفرنس کی صدارت عالمی مجلس کے امیر مولانا خواجہ خان محمد سجادہ نشین کندیاں شریف نے کی۔ جب کہ اس میں پاکستان کے ممتاز علمائے کرام مولانا محمد یوسف لدھیانوی، مولانا مفتی محمد رفیع عثمانی، مولانا زاہد الراشدی، مولانا محمد اجمل قادری اور بوسنیا کے مفتی اعظم جناب مصطفیٰ سیرک نے بطور مہمان خصوصی شرکت کی۔ کانفرنس صبح ۱۰ بجے شروع ہو کر شام ساڑھے چھ بجے تک جاری رہی اور اس سے متعدد علمائے کرام اور سرکردہ رہنماؤں نے خطاب کیا۔ جن میں مذکورہ بالا رہنماؤں کے علاوہ مولانا محمد ولی رازی، مولانا قاری عبدالحی عابد، مولانا قاری حماد اللہ شفیق، مولانا محمد موسیٰ قاسمی، مولانا عبدالرشید ربانی، مولانا محمد اکرم طوفانی، مولانا منظور احمد الحسینی، جناب عبدالرحمٰن باوا، جناب حسن محمود عودہ، جناب خرم بشیر، مولانا محمد سعید خان، مولانا شمس الدین آف بنگلہ دیش اور حکومت پنجاب کے ڈپٹی ایڈووکیٹ جنرل جناب نذیر احمد غازی نے خطاب کیا۔ مقررین نے برطانیہ میں مقیم مسلمانوں پر زور دیا کہ وہ عقیدۂ ختم نبوت کی اہمیت کے بارے میں معلومات حاصل کریں اور نئی نسل کا ایمان بچانے کے ساتھ ساتھ داعی اور مبلغ کی حیثیت سے قادیانیوں کو بھی قبول اسلام کی دعوت دیں۔ انہوں نے کہا کہ عام قادیانیوں کو صحیح اسلامی عقائد سے آگاہ کرنا اور انہیں اسلام کے اصل عقائد کی طرف واپسی کی دعوت دینا ہماری دینی ذمہ داری ہے اور مسلم نوجوانوں کو بالخصوص اس ذمہ داری کی طرف خصوصی توجہ دینی چاہئے۔ مقررین نے حال ہی میں لندن میں منعقد ہونے والے قادیانیوں کے سالانہ اجتماع میں بھارتی ہائی کمشنر کی شرکت اور اپنے خطاب میں انسانی حقوق کے حوالہ سے قادیانیوں کی مظلومیت کے پرچار کا بطور خاص نوٹس لیا اور کہا کہ بھارت کس منہ سے انسانی حقوق کی بات کر رہا ہے۔ جب کہ وہ کشمیر کے نہتے مسلمانوں پر وحشیانہ مظالم ڈھا رہا ہے اور بھارتی مسلمانوں کے خون سے اس کے ہاتھ رنگین ہیں۔ مقررین نے کہا کہ اس سے بھارتی حکومت کے ساتھ قادیانی گروہ کا گٹھ جوڑ بھی بے نقاب ہو گیا ہے۔ مقررین نے کہا کہ مغربی لابیاں انسانی حقوق اور بنیاد پرستی کے حوالے سے اسلامی قوانین کے خلاف اور قادیانیوں کے حق میں جو مسلسل پراپیگنڈہ کر رہی ہیں مغرب میں مقیم مسلمانوں کو اس کا سنجیدگی سے نوٹس لینا چاہئے۔ مقررین نے پاکستان کی امداد کے لئے امریکی شرائط کو بطور خاص ہدف تنقید بنایا اور کہا کہ ان شرائط میں اسلامی قوانین نافذ نہ کرنے اور قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دینے کا فیصلہ واپس لینے کی ضمانت بھی طلب کی گئی ہے جو دینی معاملات میں کھلی مداخلت ہے۔ کانفرنس میں بوسنیا کے مظلوم مسلمانوں کے ساتھ گرم جوشی اور ہمدردی کا مظاہرہ کیا گیا اور بوسنیا کے امدادی فنڈ میں کانفرنس کے شرکاء سے ہزاروں پونڈ کا چندہ دیا۔ کانفرنس میں کئی قراردادیں منظور کی گئیں۔

(ہفت روزہ لولاک فیصل آباد ص ۱۶، ۱۷، مورخہ ۱۸؍ستمبر ۱۹۹۲ء)

ساتویں عالمی ختم نبوت کانفرنس برمنگھم میں اکابر علماء کرام کی تقریریں اور قراردادیں

کفر و گمراہی کی سرزمین انگلستان ظلم و جبر کی سرزمین انگلستان جس کے حکمرانوں نے برصغیر کے مسلمانوں پر دو سو سال تک حکمرانی کر کے ان کو اقتصادی، معاشرتی، معاشی، روحانی، اخلاقی، ایمانی طور پر کمزور کرنے ان کو اسلام کے نور سے دور کر کے کفر کے اندھیروں میں ڈالنے کی کوئی کوشش نہیں چھوڑی۔ پادریوں کے غول ٹڈی دل کی طرح برصغیر میں پھیل کر مسلمانوں کو کفر میں دھکیلنے کے لئے ہر حربہ اختیار کیا۔ ترغیب اور ترہیب، لالچ اور دھونس غرض کوئی کسر نہ چھوڑی۔ جب تمام حربے ناکام ہو گئے تو مسلمانوں میں انتشار اور افتراق کے بیج بونے کے لئے طرح طرح کے فتنے اور فرقے بنانے کی جدوجہد شروع کی۔ جب محسوس کیا کہ تفرقہ کے باوجود اسلام کے نام پر تمام مکاتب فکر اور مسالک امت متحد ہو جاتے ہیں، تو سرزمین انگلستان کے حکمرانوں کی آشیرباد سے مسلمانوں کے بنیادی عقیدہ ختم نبوت پر ضرب لگائی

صفحہ ۱۲۴

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۲ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

گئی تاکہ مسلمانوں کی مرکزیت کو ختم کر دیا جائے۔ اس کے لئے غلام احمد نامی شخص کا قادیان میں انتخاب کیا گیا۔ اس نے امت مسلمہ کے ایمان پر ضرب کاری لگانے کے لئے نبوت کا اعلان کر دیا۔ اس طرح نبی اکرم ﷺ کی پیش گوئی کے مطابق امت میں ایک کذاب، دجال، جھوٹے نبی کا اضافہ ہوا۔ مسلمانان برصغیر نے اس فتنے کی سرکوبی کے لئے مناظروں، مباہلوں، مباحثوں اور تحریکات کے ذریعہ ہر ممکن کوشش کی۔ کیونکہ اسلامی مملکت نہ ہونے کی بناء پر اس کے خلاف باقاعدہ جہاد ممکن نہیں تھا۔ انگریز حکمرانوں کی سرپرستی ہونے کی بناء پر جھوٹے نبی اور اس کی امت کو ہر قسم کا تحفظ حاصل تھا۔ جب کہ مقابلے میں مسلمانوں کے لئے ہر قسم کی پابندی تھی۔ امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاری، قاضی احسان احمد شجاع آبادی، مولانا محمد علی جالندھری کی عمر کا اکثر حصہ اس لئے جیل میں گزرا کہ وہ مجلس احرار اسلام کے پلیٹ فارم سے جھوٹے نبی کے خلاف تقریریں کرتے تھے۔ پاکستان قائم ہونے کے بعد بھی انگریز آقاؤں کی بدولت یہ سلسلہ اسی طرح جاری رہا اور مسلمان حکومت میں جھوٹے نبی کی اسی طرح تبلیغ جاری رہی اور سرکاری تحفظ کی بناء پر وہ اپنی من مانی کرتے رہے۔

پاکستان بننے کے بعد مجلس تحفظ ختم نبوت تشکیل پائی اور پورے ملک میں اس فتنے کے خلاف تحریک کا آغاز ہوا۔ تمام جیلیں علماء کرام اور عاشقین ختم نبوت سے بھر گئیں۔ قربانیوں کا ایسا سلسلہ شروع ہوا کہ صرف لاہور میں دس ہزار نوجوانوں نے جام شہادت نوش کیا۔ پاکستان حکومت نے اپنے سابق آقاؤں کے اشارے پر اس تحریک کو کچل دیا۔ لیکن ان قربانیوں کے اثرات ۱۹۷۴ء میں اس وقت ظاہر ہوئے۔ جب مجلس عمل تحفظ ختم نبوت کے پلیٹ فارم سے جو تمام سیاسی اور مذہبی جماعتوں پر مشتمل تھا اور جس کی قیادت حضرت علامہ محمد انور شاہ کشمیری کے شاگرد رشید محدث العصر مولانا سید محمد یوسف بنوری کر رہے تھے۔ ایک عظیم تحریک کے نتیجے میں بے شمار قربانیوں کے بعد آخر کار قومی اسمبلی نے ایک آئینی ترمیم کے ذریعہ ملت مسلمہ کے اس ناسور کو اپنے سے الگ کیا اور قانونی طور پر منکرین ختم نبوت اور جھوٹے نبی کے پیروکاروں کو غیر مسلم اقلیت کے زمرے میں شامل کر دیا۔ آئینی طور پر غیر مسلم قرار پانے کے بعد قادیانی جماعت کے سربراہ نے مغربی طاقتوں کی ہمدردیاں حاصل کرنے کے لئے اپنے سابق آقا انگلستان کی سرزمین کو اپنے لئے جائے پناہ بنانے کا ارادہ کیا اور پاکستان کو اپنی مرضی سے چھوڑ کر اپنا ہیڈ کوارٹر لندن میں منتقل کر دیا اور پاکستان، اسلام، علماء کرام، مشائخ عظام کے خلاف جھوٹا پروپیگنڈہ شروع کر دیا۔ ظلم وستم اور پاکستان میں قادیانیوں پر زندگی دوبھر کرنے کے جھوٹے الزامات عائد کر کے انگلینڈ، یورپ، مغربی جرمنی وغیرہ میں سیاسی پناہ لینی شروع کر دی اور اپنی تبلیغی سرگرمیوں کا مرکز افریقہ کے سادہ مسلمانوں کو گمراہ کرنے پر لگا دیا۔ مجلس تحفظ ختم نبوت کے رہنماؤں نے اس صورتحال کو دیکھ کر فیصلہ کیا کہ چونکہ اس جماعت کا مقصد عقیدۂ ختم نبوت کا تحفظ اور نوجوان نسل کو قادیانیت سے بچا کر ان کے ایمان کی حفاظت کرنی ہے۔ اس لئے اس جماعت نے بھی اپنا دائرہ کار وسیع کر کے عالمی سطح پر کام شروع کیا اور لندن میں ایک گرجا گھر خرید کر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کا یورپی مرکز قائم کیا اور ۱۹۸۵ء میں پہلی عالمی ختم نبوت کانفرنس سے اپنے مشن کا آغاز کیا۔ جس کا تسلسل اب تک جاری ہے۔ اس دوران مجلس تحفظ ختم نبوت کی کوششوں سے افریقہ کے کئی شہروں میں قادیانی ہونے والے مسلمانوں کو دوبارہ دائرہ اسلام میں داخل کیا گیا۔ صرف مالی میں ایک وقت میں پچاس ہزار مسلمانوں نے قادیانیت سے توبہ کی۔

ساتویں ختم نبوت کانفرنس کے لئے جب ۱۴؍اگست ۱۹۹۲ء بروز اتوار کی تاریخ اور برمنگھم کی مرکزی جامع مسجد کا اعلان ہوا تو پورے انگلینڈ میں اس کی تیاریاں شروع ہوگئیں۔ اسی انگلینڈ میں جس نے برصغیر میں اسلام کو مٹانے کی کوشش کی۔ اس کے شہر اور قریوں اور چھوٹے چھوٹے گاؤں میں اسلام اور عقیدۂ ختم نبوت کے نعرے بلند ہونے لگے۔ مولانا منظور احمد چنیوٹی اور حاجی عبدالرحمن یعقوب باوا نے پورے انگلینڈ کا دورہ کیا۔ تمام انگلینڈ والوں کا مطالبہ تھا کہ ایک کاروان ختم نبوت تشکیل دے کر پورے انگلینڈ کے مختلف مقامات پر چھوٹی

صفحہ ۱۲۵

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۲ء ترتیب تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

چھوٹی کانفرنسوں کا ایک ایسا سلسلہ شروع کیا جائے جو کانفرنس کی تاریخ تک جاری رہے۔ اس طرح ۲۱؍ جولائی ۱۹۹۲ء سے کاروان ختم نبوت نے جس میں امیر مرکزیہ مولانا شیخ المشائخ مولانا خواجہ خان محمد صاحب سجادہ نشین کندیاں شریف، نائب امیر مرکزیہ مولانا محمد یوسف لدھیانوی، مفتی اعظم پاکستان مولانا محمد رفیع عثمانی، جمعیۃ علماء اسلام کے سیکرٹری اطلاعات مولانا زاہد الراشدی، سرگودھا کے مبلغ مولانا محمد اکرم طوفانی، جسٹس مولانا محمد تقی عثمانی، مولانا منظور احمد الحسینی شامل تھے نے لندن سے کاروان ختم نبوت کا آغاز کیا۔ جس نے ایک ایک شہر میں دورہ کر کے ساتویں عالمی ختم نبوت کانفرنس کی تیاریاں مکمل کیں۔

۱۲؍ اگست ۱۹۹۲ء کا دن برمنگھم کی تاریخ کا عجیب دن تھا۔ فجر کے بعد ہی فضاء ختم نبوت زندہ باد کی مہک سے رچی ہوئی تھی۔ ہر سو ایک نور کی سی کیفیت تھی۔ اسلام کی روحانی فضاء نے اطراف کو معطر کیا ہوا تھا۔ ایسا محسوس ہوتا تھا کہ پورا شہر مسلمانوں کا شہر ہو۔ کفر کی ظلمت اور اندھیریاں چھٹتی ہی محسوس ہو رہی تھیں۔ دن کی روشنی پھوٹتے ہی ختم نبوت کے پروانے اطراف انگلینڈ سے برمنگھم کی طرف آنا شروع ہو گئے۔ لندن کارڈف، برسٹل، بریڈفورڈ، مانچسٹر، بولٹن، بری، برنلے، بلیک برن، باٹلے، کوونٹری، پرسٹن، راچڈیل، ریڈھل، ساؤتھ ہمپٹن، سوینڈن، اسٹرلنگ، ہڈرسفیلڈ، ہیزلنگسٹن، لیڈز، لسٹر، لوٹن، اولڈھم، آکسفورڈ، شیفیلڈ، وال سال، ایڈمبرا، ریڈنگ، سوانزئی، ووکنگ، رگبی، گلاسگو، نوٹنگھم، ولورہمپٹن، نارتھ ہمپٹن، آسٹن، سلور جلنگھم، سینٹ البانس مورچول، مڈل برو، نیو کاسل، ڈاسٹن، ہیلی فوکس، سٹو، ڈنڈی، ڈنکاسٹر، کراؤلے چارلے، ڈیوز بری سے قافلوں کی شکل میں ہزاروں افراد اور برمنگھم سے افرادی طور پر ہزاروں افراد شریک ہوئے۔ کانفرنس کی صدارت امیر مرکزیہ حضرت مولانا خواجہ خان محمد صاحب مدظلہ نے فرمائی۔ جب کہ مفتی اعظم پاکستان مولانا مفتی رفیع عثمانی، ممتاز محقق و مصنف مولانا محمد یوسف لدھیانوی، مولانا زاہد الراشدی اور بوسنیا کے مفتی اعظم مولانا مصطفیٰ سیرک اور مولانا شمس الدین آف ڈھا کہ مہمان خصوصی کے طور پر شریک ہوئے۔

مولانا محمد یوسف لدھیانوی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ساتویں عالمی ختم نبوت کانفرنس کا مقصد آپ کو عقیدہ ختم نبوت سے روشناس کرانا اور جھوٹے مدعیان نبوت کے عزائم اور سرگرمیوں سے آگاہ کرنا ہے۔ نبوت کا ایک معیار ہے۔ نبی اکرم ﷺ نے جب نبوت کا دعویٰ کیا تو وہ انسانیت کے اعلیٰ معیار پر قائم تھے اور آپ نے دنیا کے سامنے اپنے آپ ﷺ کو اس طرح پیش کیا کہ دشمن تک آپ ﷺ کے اخلاق و کردار کے معترف ہو گئے۔ آپ ﷺ کی ذات ہی آپ کی پہچان کی اعلیٰ دلیل ہے۔ قطع نظر اس کے کہ کسی مدعی نبوت سے نبوت کی دلیل طلب کرنا بھی کفر ہے۔ ہم جب مرزا غلام احمد قادیانی کے حالات کا جائزہ لیتے ہیں تو وہ نبوت و مسیحیت تو درکنار شرافت کے معیار پر بھی پورے نہیں اترتے۔ جو شخص اپنے دعاوی میں جھوٹا ثابت ہو چکا ہو، جس نے مناظروں میں پے در پے شکست کھائی ہو۔ جو مباہلوں میں ہارا ہو۔ جس کا کردار انسانیت کے لئے ننگ عار ہو۔ جو اپنی پیشین گوئیوں میں بار بار غلط ثابت ہو چکا ہو۔ جس کی بددعائیں مخالفین کے بجائے اپنے اوپر لگی ہو۔ اس شخص کو کیسے نبی تسلیم کیا جا سکتا ہے۔ میں نے اپنی کتاب ”قادیانی فیصلہ“ میں ان تمام امور کو جمع کر دیا ہے۔ جس میں مرزا غلام احمد قادیانی کی اپنی عبارتوں سے اس کا جھوٹا ہونا ثابت ہوتا ہے۔ قومی اسمبلی سے قادیانیوں کے لئے غیر مسلم اقلیت کی ترمیم منظور ہونے کے بعد اب قادیانیوں سے صرف یہی جھگڑا ہے کہ وہ اپنے آپ کو مسلمان کہلانا چھوڑ دیں۔ مسلمانوں کے شعائر کا استعمال ترک کر دیں۔ اپنی عبادت گاہوں کو مساجد کی طرز پر نہ بنائیں۔ پاکستان میں ان کو مسلمانوں سے زیادہ حقوق و رعایتیں حاصل ہیں۔ ہم قادیانیوں کو سچے نبی حضور ﷺ کے دامن سایہ میں آنے کی دعوت دیتے ہیں۔ کیونکہ دنیا و آخرت کی نجات صرف اسی میں ہے۔ باقی تمام مذاہب باطل ہیں۔ میں تمام نوجوانوں اور مسلمانوں سے بھی اپیل کرتا ہوں کہ وہ اپنے آپ کو اسلام کا اور عقیدہ ختم نبوت کا داعی اور مبلغ بنائیں۔ عالمی

صفحہ ۱۲۶

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۲ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

مجلس تحفظ ختم نبوت ان تمام نوجوانوں کو عقیدہ ختم نبوت سے متعلق مختصر نصاب کے ذریعہ تربیت دے گی۔ پھر تمام نوجوان اور مسلمان مل کر اپنے اپنے علاقوں میں قادیانیوں کو اسلام کی دعوت دیں۔ ان کو سچے نبی ﷺ کے حالات سے آگاہ کریں۔ جھوٹی نبوت کے دعوے کے برے اثرات سے آگاہ کریں۔ ان کی ہدایت کے لئے دعا کریں۔ ہم دعا کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ مرزا طاہر اور ان کے حوارین کو اسلام کی ہدایت دے ۔ اگر ہدایت ان کے مقدر میں نہ ہو تو اللہ تعالیٰ اس فتنہ کو دنیا سے ختم کر دے۔

مفتی اعظم پاکستان مولانا محمد رفیع عثمانی صاحب نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت پوری دنیا میں عقیدۂ ختم نبوت کا تحفظ اور قادیانیوں کی سرگرمیوں کا تعاقب کر رہی ہے۔ اس جماعت نے مرزا غلام احمد قادیانی کے دعویٰ نبوت سے لے کر آج تک مسلمانوں کو قادیانی جماعت کی گمراہی سے محفوظ رکھا ہے۔ ۱۹۵۳ء اور ۱۹۷۴ء کی تحریک ختم نبوت کے نتیجے میں آخر کار یہ مسئلہ حل ہوا اور قادیانی غیر مسلم اقلیت قرار پائے۔ اب قادیانیوں نے اپنا رخ یورپ اور افریقی ممالک کی طرف پھیر لیا ہے اور وہ پاکستان، مسلمانان پاکستان اور علماء کرام کے خلاف مذموم اور جھوٹے پروپیگنڈوں میں مصروف ہیں۔ انسانی حقوق کی آڑ میں وہ غلط بیانیاں کر کے مغربی ممالک اور امریکہ کی حمایت حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور سیاسی پناہ حاصل کرتے ہیں۔ حالانکہ ان کو پاکستان میں تمام تر رعایتیں حاصل ہیں۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ان کے ان مذموم پروپیگنڈوں کے اثرات ختم کرنے کے لئے ہر ممکن کوشش کر رہی ہے۔ حکومت پاکستان کو چاہئے کہ وہ اقوام متحدہ اور دیگر اداروں میں اس کے جھوٹے الزامات کا جواب دیں۔ تمام سفارت خانوں کو ہدایت جاری کریں کہ وہ قادیانیوں کی سرگرمیوں کا نوٹس لیں اور ان کے غلط پروپیگنڈوں کا بھر پور جواب دیں۔

مولانا محمد ولی رازی مصنف ہادی عالم نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ قادیانی جماعت دنیا کے ایک ارب سے زائد مسلمانوں کو کافر قرار دیتے ہیں۔ وہ پاکستان کے آئین سے غداری کے مرتکب اور مسلمانوں کو ہر آن نقصان پہنچانے اور ان کے ایمان پر ڈاکہ ڈالنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس صورت میں کس طرح یہ بات زیبا ہے کہ مسلمان ان کے ساتھ تعلقات رکھیں اور ان سے معاملہ کریں۔ قادیانی جماعت کے ساتھ سماجی اور اقتصادی تعلقات رکھنا دینی حمیت کے خلاف ہے۔ جمعیۃ علماء اسلام پاکستان کے سیکرٹری اطلاعات مولانا زاہد الراشدی نے کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انسانی حقوق کے حوالہ سے قادیانیوں کی مظلومیت کے پراپیگنڈہ کا جائزہ لیا اور کہا کہ پاکستان میں قادیانیوں کے شہری حقوق کی پامالی کا الزام قطعی طور پر بے بنیاد ہے۔ کیونکہ ۱۹۸۴ء کے صدارتی آرڈیننس میں قادیانیوں کو صرف اسلام کا نام استعمال کرنے، مسجد کے نام پر عبادت گاہ بنانے اور مسلمانوں کی مخصوص مذہبی اصطلاحات استعمال کرنے سے روکا گیا ہے اور یہ مسلمانوں کی مذہبی شناخت کے تحفظ کے لئے ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ قادیانیوں نے ۱۹۴۷ء میں برصغیر کی تقسیم کے وقت ریڈ کلف کمیشن میں اپنا کیس مسلمانوں سے الگ پیش کر کے گورداسپور کا ضلع بھارت کے حوالے کرنے کی راہ ہموار کی۔ جس سے بھارت کو کشمیر کے لئے راستہ ملا اور مسئلہ کشمیر پیدا ہو گیا۔ پھر قائد اعظم محمد علی جناح کے جنازہ میں اس وقت کے وزیر خارجہ ظفر اللہ خان نے شرکت نہ کی اور وجہ یہ بیان کی کہ مجھے مسلمان حکومت کا کافر وزیر خارجہ یا کافر حکومت کا مسلمان وزیر خارجہ تصور کیا جائے اور ۱۹۷۴ء میں پارلیمنٹ کے فلور پر قادیانی سربراہ مرزا ناصر احمد نے دنیا بھر کے مسلمانوں کو کافر قرار دے کر قادیانی مذہب کو مسلمانوں کے مذہب سے الگ ایک نیا مذہب تسلیم کیا۔ ان واضح اعلانات کے بعد یہ ضروری بات تھی کہ قادیانیوں کا مذہبی نام اور پہچان کو مسلمانوں سے الگ کیا جائے اور ۱۹۸۴ء کا صدارتی آرڈیننس اسی ضرورت کو پورا کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر انسانی حقوق کے حوالہ سے دیکھا جائے تو انسانی حقوق قادیانیوں کے نہیں بلکہ ان کے ہاتھوں مسلمانوں کے حقوق پامال ہو رہے ہیں۔ کیونکہ اپنی مذہبی شناخت کا تحفظ مسلمانوں کا حق ہے اور قادیانی گروہ

صفحہ ۱۲۷

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۲ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

اس بنیادی حق کو پامال کرنے پر بضد ہے۔ انہوں نے برطانیہ میں مقیم مسلمانوں پر زور دیا کہ وہ قادیانیوں کے طریق واردات کو سمجھیں اور اس سے مسلمانوں کو بچانے کے لئے سنجیدہ کوشش کریں۔ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے حکومت پنجاب کے ڈپٹی ایڈووکیٹ جنرل جناب نذیر غازی نے کہا کہ قادیانی پاکستان کے آئین کو پامال کر رہے ہیں اور پارلیمنٹ کے متفقہ فیصلہ سے انحراف کر کے ملک سے غداری کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ قادیانی گروہ کے غیر مسلم ہونے پر پوری دنیا کی ملت اسلامیہ متفق ہے اور اس فیصلہ کو تسلیم نہ کرنے کا کوئی جواز نہیں۔ قادیانیوں کے لئے ایک ہی راستہ ہے کہ وہ گمراہ کن عقائد سے توبہ کر کے ملت اسلامیہ کے اجتماعی دھارے میں شامل ہو جائیں اور اگر وہ اس کے لئے تیار نہیں ہیں تو انہیں اپنے بارے میں ملت اسلامیہ کا اجتماعی فیصلہ بہر حال تسلیم کرنا ہوگا۔

کانفرنس میں بوسنیا کے مفتی اعظم جناب مصطفیٰ میرک بھی شریک ہوئے۔ جب کہ کانفرنس کے شرکاء نے بوسنیا کے مظلوم مسلمانوں کے ساتھ پرجوش حمایت و یکجہتی کا اظہار کیا اور امدادی فنڈ میں ہزاروں پونڈ کا چندہ دیا۔ مفتی اعظم بوسنیا نے کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اس مظلوم خطہ کے مسلمانوں پر ڈھائے جانے والے مظالم کی تفصیلات سے کانفرنس کے شرکاء کو آگاہ کیا اور کہا کہ بوسنیا کے عوام کو صرف اس لئے وحشیانہ مظالم کا نشانہ بنایا جا رہا ہے کہ وہ مسلمان ہیں۔ انہوں نے عالم اسلام سے اپیل کی کہ بوسنیا کے مظلوم مسلمانوں کی بھر پور مدد کی جائے۔ کانفرنس سے بنگلہ دیش کے مولانا شمس الدین، جمعیۃ علماء برطانیہ کے مولانا عبدالرشید ربانی، مرکزی جمعیۃ علماء برطانیہ کے مولانا موسیٰ قاسمی اور پاکستان سے مولانا میاں محمد اجمل قادری، مولانا محمد اکرم طوفانی، مولانا حماد اللہ شفیق، مولانا منظور احمد الحسینی، مولانا سعید خان، الشیخ حسن عودہ، مولانا قاری عبدالحئی عابد، مولانا ولی رازی اور دیگر رہنماؤں نے خطاب کیا۔

درج ذیل قراردادیں کانفرنس میں منظور کی گئیں:

نہتے شہریوں کے قتل عام کی شدید مذمت کرتا ہے اور اس سلسلہ میں نام نہاد بڑی طاقتوں اور مسلمان حکمرانوں کی سردمہری کو انتہائی افسوس ناک قرار دیتے ہوئے بوسنیا کے مسلمانوں کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتا ہے۔ یہ اجتماع مطالبہ کرتا ہے کہ اس سلسلہ میں عالم اسلام کی ذمہ داری اور کردار کے تعین کے لئے فوری طور پر مسلم سربراہ کانفرنس طلب کی جائے اور مسلم حکومتیں احتجاجی مراسلوں اور بیانات پر وقت ضائع کرنے کے بجائے بوسنیا کے مسلمانوں کو مکمل طور پر ذبح ہونے سے بچانے کے لئے ہنگامی عملی اقدامات کریں۔ یہ اجتماع بوسنیا کے مسلمانوں کی امداد کے لئے سعودی حکومت کے اقدامات کی تحسین کرتا ہے۔ مگر انہیں ناکافی اور وقتی قرار دیتے ہوئے بوسنیا کی آزادی، خود مختاری اور اسلامی حیثیت کے تحفظ کے لئے تمام مسلم حکومتوں کے مشترکہ جراتمندانہ موقف اور کردار کو انتہائی ناگزیر تصور کرتا ہے۔

ہے اور اس حقیقت کی نشاندہی ضروری سمجھتا ہے کہ اسلام اور پاکستان کے خلاف مغربی لابیوں، اسرائیل اور بھارت کی معاندانہ مہم میں شریک کار بن کر قادیانی امت کے سربراہ مرزا طاہر احمد نے اپنی وطن دشمنی کو ایک بار پھر آشکارا کر دیا ہے۔ ماہ رواں کے آغاز میں ٹل فورڈ لندن میں قادیانیوں کے سالانہ اجتماع میں بھارتی ہائی کمشنر کی شمولیت اور ان کے خطاب میں قادیانیوں کی نام نہاد مظلومیت، انسانی حقوق اور پاکستان سے قادیانیوں کی مبینہ جلاوطنی کا تذکرہ اس حقیقت کو واضح کرنے کے لئے کافی ہے کہ مرزا طاہر احمد کا بھارتی حکومت کے ساتھ گٹھ جوڑ موجود ہے۔ یہ اجتماع حکومت پاکستان سے مطالبہ کرتا ہے کہ اس صورتحال کا سنجیدگی کے ساتھ جائزہ لیا جائے اور وہ تمام اقدامات بلا تاخیر کئے جائیں جو قادیانی گروہ کی وطن دشمن سرگرمیوں کی روک تھام کے لئے ضروری ہیں۔

صفحہ ۱۲۸

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۲ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

عملی اور مکمل نفاذ کے لئے گومگو کی پالیسی ترک کر کے فوری اور عملی اقدامات کئے جائیں اور قرآن وسنت کی غیر مشروط بالا دستی کی آئینی ترمیم بلا تاخیر پارلیمنٹ سے منظور کرا کے غیر اسلامی قوانین اور نظام کے خاتمہ کی راہ ہموار کی جائے۔ نیز یہ اجتماع حکومت پاکستان سے مطالبہ کرتا ہے کہ آل پارٹیز مرکزی مجلس عمل تحفظ ختم نبوت پاکستان کے تمام مطالبات کو منظور کیا جائے اور اس سلسلہ میں اسلامی نظریاتی کونسل کی سفارشات کو قومی اسمبلی میں پیش کر کے انہیں قانونی شکل دی جائے۔ علاوہ ازیں یہ اجتماع مطالبہ کرتا ہے کہ امتناع قادیانیت کے صدارتی آرڈیننس اور دیگر نافذ شدہ اسلامی قوانین پر موثر عملدرآمد کا اہتمام کیا جائے اور اس سلسلہ میں پائی جانے والی بے یقینی کو ختم کرنے کے لئے عملی اور موثر اقدامات کئے جائیں۔

وقانونی فیصلوں پر عمل درآمد کے لئے ضروری سمجھتا ہے کہ پاکستان کے قومی شناختی کارڈ میں مذہب کے خانہ کا اضافہ کر کے ہر شہری کی مذہبی حیثیت کا تعین کر دیا جائے اور اب جب کہ ملک بھر میں تمام شہریوں کو کمپیوٹر سسٹم پر از سر نو شناختی کارڈ جاری کئے جارہے ہیں، حکومت پاکستان سے مطالبہ کرتا ہے کہ اس موقع کو ضائع نہ کیا جائے اور حکومت کے ذمہ دار حضرات کے وعدوں اور اعلانات کے مطابق شناختی کارڈ میں مذہب کا خانہ فی الفور بڑھا کر اس دیرینہ مسئلہ کو حل کیا جائے۔

پناہی اور اسلامی قوانین واحکام کے خلاف نفرت انگیز پراپیگنڈہ پر انتہائی تشویش کا اظہار کرتا ہے اور مغربی ممالک میں مقیم مسلمانوں بالخصوص علماء اور دانشوروں سے اپیل کرتا ہے کہ وہ اس سلسلہ میں اپنی ذمہ داریوں کا احساس کریں اور مغرب کی رائے عامہ کو حقائق سے آگاہ کرنے، اسلام دشمن لابیوں کے پراپیگنڈہ کے اثرات کو زائل کرنے اور اسلام کے عادلانہ نظام وقوانین کو صحیح طور پر سامنے لانے کے لئے موثر اور سائنٹفک انداز میں اپنی کوششوں کو منظم کریں۔

گروہ اپنی شناخت کو مسلمانوں سے الگ کر کے اشتباہ اور فریب کی فضاء کو ختم نہیں کرتا مسلمان عوام قادیانیوں کے ساتھ تعلقات اور معاملات کی ہر ایسی صورت سے مکمل طور پر گریز کریں جو اشتباہ کو قائم رکھنے کے قادیانی طرز عمل کی تقویت کا باعث بن سکتی ہو اور نئی نسل کو اس گمراہ کن اشتباہ سے بچانے کے لئے قادیانیوں کے ساتھ لین دین اور تعلقات میں مکمل احتیاط سے کام لیں۔

اور حکومت پاکستان سے مطالبہ کرتا ہے کہ اس صورتحال کا نوٹس لیا جائے اور جہاد کو حرام سمجھنے کا عقیدہ رکھنے والے قادیانی گروہ کے افراد کی پاک فوج میں بھرتی کے جواز کا از سر نو جائزہ لے کر مسلح افواج کو قادیانیوں سے پاک کرنے کے اقدامات کئے جائیں۔

ہے اور فلسطینی عوام کی مسلسل قربانیوں پر خراج تحسین پیش کرتے ہوئے اس یقین کا اظہار کرتا ہے کہ فلسطینی حریت پسندوں کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی اور وہ بالآخر اپنے وطن کی آزادی کا ہدف حاصل کر کے رہیں گے۔

صفحہ ۱۲۹

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۲ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

کہ برما کی حکومت اور اسلام دشمن قوتوں کو مسلمانوں کے خلاف درندگی کے اظہار سے روکنے کے لئے دباؤ ڈالا جائے اور مسلمانوں کے وہاں وقار اور تحفظ کے ساتھ رہنے کے حالات پیدا کئے جائیں۔

نگاہ سے دیکھتا ہے کہ پون صدی کے جبری خلاء کے بعد ان ریاستوں میں عیسائیت، قادیانیت اور دیگر باطل مذاہب کی وسیع تبلیغی اور اشاعتی سرگرمیاں اس خطہ کے مسلمانوں کو گمراہی کی ایک نئی دلدل کی طرف دھکیلنے کا باعث بن سکتی ہیں۔ یہ اجتماع مسلمان حکومتوں اور اداروں سے اپیل کرتا ہے کہ وہ وسطی ایشیاء کے مسلمانوں کو نئی گمراہیوں سے بچانے اور ان تک صحیح اسلامی تعلیمات پہنچانے کے لئے اپنی ذمہ داریوں کو پورا کریں۔

حکومت سے احتجاج کرتا ہے اور اسے مسلمانوں کے ان جذبات سے آگاہ کرنا ضروری سمجھتا ہے کہ قادیانیوں کے اجتماع میں سیرالیون کے وزیر صحت کی شمولیت اور خطاب سے مسلمانوں کے جذبات کو ٹھیس پہنچی ہے اور خود سیرالیون کی حکومت کے بارے میں شکوک وشبہات کی فضاء نے جنم لیا ہے۔ اس لئے ضروری ہے کہ سیرالیون کی حکومت اس سلسلہ میں مسلمانوں کو مطمئن کرے۔

تشویش کا اظہار کرتا ہے اور ملک کے تمام باشندوں سے اپیل کرتا ہے کہ وہ نسلی، لسانی، فرقہ وارانہ اور علاقائی عصبیتوں سے بالاتر ہو کر قومی وحدت کی بحالی کے لئے مخلصانہ کوشش کریں اور ملکی سالمیت کو پارہ پارہ کرنے کی بیرونی سازشوں کو متحد ہو کر ناکام بنادیں۔ نیز یہ اجتماع کراچی اور اندرون سندھ میں حالیہ بارشوں سے متاثر ہونے والے شہریوں کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے مرحومین کے لئے مغفرت کی دعا کرتا ہے۔

(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ص ۱۹ تا ۲۳، مورخہ ۱۸ تا ۲۴ ستمبر ۱۹۹۲ء)

گیارھویں سالانہ ختم نبوت کانفرنس چناب نگر کے انتظامات

گیارھویں سالانہ ختم نبوت کانفرنس مورخہ ۸، ۹ / اکتوبر ۱۹۹۲ء کے انتظامات کے لئے مسلم کالونی میں بتاریخ ۲۲ ستمبر ۱۹۹۲ء بروز منگل پونے دس بجے دن اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس کی صدارت حضرت مولانا عزیز الرحمن جالندھری نے فرمائی۔ اجلاس کے شرکاء میں حضرت مولانا محمد اکرم طوفانی، حضرت مولانا خدا بخش، حضرت مولانا حافظ احمد بخش، حضرت مولانا نذیر احمد تونسوی، حضرت مولانا عبید اللہ میانوی، حضرت عبدالواحد، حضرت مولانا غلام مصطفیٰ، حضرت حافظ محمد یوسف، حضرت مولانا اللہ وسایا اور حضرت مولانا محمد اسحاق ساقی شامل تھے۔ تلاوت کلام حضرت مولانا محمد اکرم طوفانی نے فرمائی۔

ڈویژن لاہور، حضرت مولانا محمد اسماعیل (قصور، اوکاڑہ، ساہیوال، شیخوپورہ) اسلام آباد، سرحد، راولپنڈی وغیرہ کے لئے مولانا عبدالرؤف، مولانا بشیر احمد، مولانا محمد علی صدیقی، مولانا نذیر احمد تونسوی مظاہرہ اور ۸، ۹ / اکتوبر ختم نبوت کانفرنس کے لئے کام کریں۔ آج شام مولانا نذیر احمد تونسوی سفر کرلیں۔ ۱۴/ اکتوبر اٹک کا جلسہ بھگتائیں اور شناختی کارڈ کے مظاہرہ کے لئے رفقاء کو لے کر کام پر نکل کھڑے ہوں۔

صفحہ ۱۳۰

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۲ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

راولپنڈی ، اسلام آباد، مری، ٹیکسلا ، واہ ، حسن ابدال ، اٹک، حضرو، ویسہ، حاجی شاہ ، شکر درہ ، پنڈی گھیپ ، ایبٹ آباد ، ہری پور، مانسہرہ ، مردان ، اکوڑہ خٹک دارالعلوم ، نوشہرہ ، پشاور ، مردان ، جنڈ ، گجر خان ، لنبہ ، شنکیاری ، داتہ ، حویلیاں وغیرہ ۔

مولانا بشیر احمد صاحب وہیں رہیں۔ میٹنگیں ، احتجاج ، قراردادیں ، رفقاء سے وعدے غرضیکہ جیسے بھی ممکن ہو رفقاء کو تیار کریں۔

مولانا احمد بخش ، مولانا محمد اسحاق ساقی : چنیوٹ ، پنڈی بھٹیاں ، حافظ آباد ، سکھیکی ، سانگلہ ، جہمبرہ ، شاہ کوٹ ، کھرڑیانوالہ ، رشیدہ ، جامعہ آباد، بھوانہ وغیرہ۔

مولانا خدا بخش ، مولانا عبدالواحد: فیصل آباد ، جڑانوالہ ، تاندلیانوالہ ، سمندری ، ماموں کانجن ، گوجرہ ، ٹوبہ ٹیک سنگھ ، کمالیہ ، شورکوٹ ، جھنگ وغیرہ۔

مولانا غلام مصطفیٰ : احمد نگر ، مخدوماں ، رجی ، ڈاور ، یکے کی ، کھدر کی ، ستے والی ، کانڈیوال ، ہلال پور ، تخت ہزارہ ، ولہ ، ونوکا ، ترکھاناں والا ، سرووالا ، تارو ، بڑھانہ ، لالیاں ۔

مولانا محمد اسماعیل عاصم ، قاضی عبیداللہ : چک نمبر ۱۴۶ اڈہ ، چک نمبر ۴۶ ، چک ۲۵ ، چک ۳۲ ، چک ۱۰۸ ، ۱۲۷ جنوبی ، سلانوالی ، چک نمبر اے ، بھلوال ، سہاگہ ، شاہ نکڈر ، شاہ جیونہ ، فاروکہ ، چک نمبر ۶۲ ، خوشاب ، کوٹ مومن ، مٹھ ٹوانہ ، ہڈالی ، چک نمبر ۹ ، روڈہ ، گروٹ ، جوہر آباد، نلی، شاہ پور، چک نمبر ۲۲ نزد شاہین احمد آباد وغیرہ۔

گیارھویں سالانہ ختم نبوت کانفرنس مسلم کالونی صدیق آباد (چناب نگر):

۸، ۹؍ اکتوبر ۱۹۹۲ء بروز جمعرات ، جمعہ منعقد ہوئی۔ جس کی صدارت شیخ المشائخ مولانا خواجہ خان محمد صاحب دامت برکاتہم نے کی۔ حافظ لدھیانوی ، سید امین گیلانی اور طاہر جھنگوی برادران نے نعتیں پیش کیں ۔ مقررین میں فقیہ العصر حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی مدظلہ ، علامہ ڈاکٹر خالد محمود ، مولانا میاں محمد اجمل قادری ، مولانا عبدالحمید لنڈ ، مولانا محمد لقمان علی پوری ، مولانا منظور احمد ، مولانا اللہ وسایا ، مولانا عزیز الرحمن جالندھری ، صاحبزادہ طارق محمود ، مولانا امجد خان اور مولانا محمد امین صفدر اوکاڑوی شامل تھے ۔

(ماہنامہ لولاک ملتان، بابت ماہ جمادی الثانی ۱۴۱۹ھ )

قراردادیں......سالانہ ختم نبوت کانفرنس ۸ ، ۹ ؍ اکتوبر ۱۹۹۲ء منعقدہ چناب نگر:

نہاد بڑی طاقتوں اور مسلم حکمرانوں کی سردمہری کو انتہائی افسوس ناک قرار دیتے ہوئے بوسنیا کے مسلمانوں کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتا ہے ۔ یہ اجتماع مطالبہ کرتا ہے کہ اس سلسلہ میں عالم اسلام کی ذمہ داری اور کردار کے تعین کے لئے فوری طور پر مسلم حکومتیں احتجاجی مراسلوں اور بیانات پر وقت ضائع کرنے کی بجائے بوسنیا کے مسلمانوں کو مکمل طور پر ذبح ہونے سے بچانے کے لئے ہنگامی و عملی اقدامات کریں ۔ یہ اجتماع بوسنیا کے مسلمانوں کی آزادی ، خود مختاری اور اسلامی حیثیت کے تحفظ کے لئے تمام مسلم حکومتوں کے مشترکہ جرأت مندانہ مؤقف اور کردار کو انتہائی ناگزیر تصور کرتا ہے ۔

اجتماع مظلوم و محکوم کشمیری اور فلسطینی حریت پسندوں کی تحریک جدوجہد کی مکمل حمایت کا اعلان کرتا ہے اور ان کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتا ہے ۔ یہ اجتماع حکومت پاکستان سے مطالبہ کرتا ہے کہ کشمیریوں کی آزادی کے لئے جہاد کا فی الفور اعلان کیا جائے ۔ یہ

صفحہ ۱۳۱

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۲ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

اجتماع افغانستان میں خانہ جنگی کی موجودہ صورتحال کو افسوس ناک قرار دیتا ہے اور افغان مجاہدین کی تمام جماعتوں کے قائدین سے اپیل کرتا ہے کہ وہ افغانستان کے تیرہ سالہ جہاد کے اثرات وثمرات کو اپنے ہی ہاتھوں سے ضائع نہ کریں بلکہ باہمی اتحاد واتفاق کے ساتھ خانہ جنگی کو بلا تاخیر ختم کر کے مستحکم افغانستان کے لئے مصروف عمل ہو جائیں۔

نشاندہی ضروری سمجھتا ہے کہ اسلام اور پاکستان کے خلاف مغربی لابیوں، اسرائیل اور بھارت کے معاندانہ مہم میں شریک کار بن کر قادیانی امت کے سربراہ مرزا طاہر احمد نے اپنی وطن دشمنی کو ایک بار پھر آشکار کر دیا ہے۔ ٹلفورڈ لندن حال ہی میں قادیانیوں کے سالانہ اجتماع میں بھارتی ہائی کمشنر کی شمولیت اور ان کے خطاب میں قادیانیوں کی نام نہاد مظلومیت، انسانی حقوق اور پاکستان سے قادیانیوں کی مبینہ جلاوطنی کا تذکرہ اس حقیقت کو واضح کرنے کے لئے کافی ہے کہ مرزا طاہر احمد کا بھارتی حکومت کے ساتھ گٹھ جوڑ موجود ہے۔ یہ اجتماع حکومت سے مطالبہ کرتا ہے کہ اس صورتحال کا سنجیدگی کے ساتھ نوٹس لیا جائے اور قادیانی جماعت کی اسلام اور پاکستان دشمن سرگرمیوں کی روک تھام کے لئے اقدامات کئے جائیں۔

کی پالیسی ترک کر کے فوری اور عملی اقدامات کئے جائیں اور قرآن وسنت کی غیر مشروط بالادستی کی آئینی ترمیم بلا تاخیر پارلیمنٹ سے منظور کروا کے غیر اسلامی قوانین اور نظام کے خاتمہ کی راہ ہموار کی جائے۔ یہ اجتماع مطالبہ کرتا ہے کہ سالہا سال سے اسلامی نظریاتی کونسل کی مرتب کردہ سفارشات کو قومی اسمبلی میں پیش کر کے اس پر قانون سازی کی جائے اور ملک میں ارتداد کی شرعی سزا نافذ کی جائے تا کہ قادیانی فتنہ کی تشہیر واشاعت اور تبلیغ کا مؤثر تدارک ہو سکے۔

سمجھتا ہے کہ ملک میں کمپیوٹر سسٹم کے تحت بننے والے قومی شناختی کارڈ میں قومی پاسپورٹ کی طرح مذہب کے خانے کا اضافہ کیا جائے۔ کیونکہ قومی پاسپورٹ میں فارم میں درج حلف نامے کی بنیاد پر مذہب کا خانہ موجود ہے جب کہ شناختی کارڈ کے فارم میں حلف نامہ تو موجود ہے لیکن شناختی کارڈ میں مذہب کا خانہ موجود نہیں۔ جس کی وجہ سے مسلم اور غیر مسلم کی تمیز ختم ہو کر رہ گئی ہے۔ یہ اجتماع مطالبہ کرتا ہے کہ قومی پرچم کے دو رنگوں سبز اور سفید کی طرح شناختی کارڈ میں سبز رنگ مسلمانوں کے لئے اور سفید رنگ غیر مسلم اقلیتوں کے لئے مخصوص کیا جائے۔

کے سپرد کئے جانے کی شدید مذمت کرتا ہے۔ نیز کنور ادریس باجوہ سابق چیف سیکرٹری سندھ کو وفاقی سیکرٹری پٹرولیم مقرر کرنے اور میجر جنرل نصیر قادیانی کو اسلحہ کور کا سربراہ بنانے پر شدید غم وغصے کا اظہار کرتا ہے۔ یہ اجتماع حکومت سے مطالبہ کرتا ہے کہ کلیدی عہدوں پر فائز قادیانیوں کو فی الفور ان کے عہدوں سے ہٹایا جائے۔ خاص طور پر پاکستان کی مسلح افواج کی کلیدی پوسٹوں پر قابض قادیانی افسران کو نکالا جائے۔ کیونکہ قادیانیوں کا الہامی عقیدہ ہے کہ جہاد حرام ہے۔ ایک نظریاتی مملکت میں نظریاتی دشمنوں کا حساس عہدوں پر موجود ہونا ملک وملت کے منافی ہے۔ لہٰذا سول، پاک فوج اور دیگر سرکاری اداروں سے قادیانی افسروں کو نکالا جائے۔

صفحہ ۱۳۲

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۲ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

(ہفت روزہ لولاک فیصل آباد ص ۱۹ تا ۲۱ ،مورخہ ۲۳؍اکتوبر ۱۹۹۲ء)

لاہور کی عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس میں عالمی مجلس کے رہنماؤں کی تقریریں

عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت قلعہ محمدی راوی روڈ لاہور کے زیر اہتمام ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی جس کی صدارت حضرت مولانا مفتی مبشر احمد نے کی۔ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ہفت روزہ لولاک فیصل آباد کے چیف ایڈیٹر صاحبزادہ طارق محمود نے کہا کہ ارباب اقتدار تمام اخلاقی دینی سیاسی قدریں بھلا کر قادیانیت نوازی میں لگے ہوئے ہیں ۔ انہوں نے وزیر اعظم پاکستان میاں نواز شریف کی مشہور

صفحہ ۱۳۳

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۲ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

قادیانی سائنسدان ڈاکٹر عبدالسلام کے آستانہ پر حاضری اور اس غدار ملک وملت کی عیادت پر کڑی تنقید کی۔ انہوں نے کہا کہ ۱۹۷۴ء میں ڈاکٹر عبدالسلام نے پاکستان کو لعنتی ملک قرار دے کر خودساختہ جلاوطنی اختیار کر لی تھی۔ اس وقت سے لے کر اب تک ڈاکٹر عبدالسلام کی سرگرمیاں پاکستان کے مفادات کے خلاف ہیں۔ ایسے ملک وملت کے غدار کی عیادت حمیت دینی کے خلاف ہے۔ مولانا اللہ وسایا نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ شناختی کارڈ میں مذہب کا خانہ ملت اسلامیہ پاکستان کا متفقہ مطالبہ ہے۔ جس کی چاروں صوبائی حکومتیں اسلام نظریاتی کونسل صدر مملکت پاکستان وفاقی وزارت مذہبی امور بھر پور تائید کر چکے ہیں۔ مولانا محمد اکرم طوفانی نے نوجوانوں سے اپیل کی کہ وہ مرزائیت کے مقابلہ کرنے کے لئے تیار ہو جائیں اور اپنی جوانی کی بہار سے کچھ وقت حضور سرور کائنات کے لئے وقف کر دیں۔ مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی نے کہا کہ حکومت نے اسلامیان پاکستان کی جاپان، الجیریا، ترکی اور صومالیہ میں نمائندگی کے لئے قادیانیوں کو سفیر بنا کر ۱۲کروڑ مسلمانان پاکستان کے جذبات واحساسات کو مجروح کیا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ مذکورہ بالا ممالک سے قادیانیوں کو واپس بلا کر مسلمانوں کو سفیر مقرر کیا جائے۔ نقابت کے فرائض حفیظ الرحمن نے انجام دیئے۔

(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ص ۲۲، مورخہ ۲۰ تا ۲۶ نومبر ۱۹۹۲ء)

ختم نبوت کانفرنس اوکاڑہ

اوکاڑہ (نمائندہ لولاک) عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت اوکاڑہ کے زیر اہتمام عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس مورخہ ۱۸ نومبر ۱۹۹۲ء بروز بدھ کو پل والی مسجد میں بڑے تزک و احتشام سے منعقد ہوئی۔ اس فقید المثال کانفرنس کی صدارت نواب خان صاحب نے فرمائی۔ کانفرنس کا آغاز تلاوت کلام مجید سے ہوا۔ بعد ازاں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت لاہور کے مبلغ مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی نے بڑی گھن گرج کے ساتھ اپنے خطاب کا آغاز فرمایا۔ انہوں نے اپنے خطاب میں عقیدۂ ختم نبوت کی اہمیت وافادیت بیان کی اور بڑی دل سوزی سے تحریک ہائے ختم نبوت میں غیور مسلمانوں کی قربانیوں کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ مسلمان سب کچھ برداشت کر سکتا ہے اپنے نبی اکرم ﷺ کی توہین قطعاً برداشت نہیں کر سکتا۔ ان کے خطاب کے بعد پرجوش نعروں کی گونج میں خطیب ختم نبوت صاحبزادہ طارق محمود منبر پر جلوہ افروز ہوئے۔ انہوں نے فرمایا کہ عیسائی شناختی کارڈ میں مذہب کے خانہ کی مخالفت نہیں کر رہے بلکہ جے سالک کے بقول مسیحی اقلیت کے احتجاج کا اصل ٹارگٹ مذہب کا خانہ نہیں بلکہ نواز شریف کی حکومت ہے۔ لہٰذا حکومت کو ابھی سے ہوش کے ناخن لینے چاہئیں۔ عیسائیوں کی ”کام چھوڑ ہڑتال“ پر تبصرہ کرتے ہوئے انہوں نے فرمایا کہ عیسائیوں کا اب آسان علاج یہ ہے کہ غیر قانونی ہڑتال کرنے والے تمام عیسائیوں کو ملازمتوں سے نکال باہر کیا جائے اور اس جگہ دوسرے غریب عوام کو بھرتی کیا جائے۔

صاحبزادہ طارق محمود کے خطاب کے بعد کانفرنس کے مہمان خصوصی مولانا اللہ وسایا مائک پر تشریف لائے اور اپنے عالمانہ خطاب میں عیسائیوں کی تحریک کا پس منظر بتاتے ہوئے فرمایا کہ اس تحریک کو قادیانی جماعت کی خطیر رقم اور پیپلز پارٹی کی تھپکی چلا رہی ہے۔ انہوں نے عیسائیوں سے مخاطب ہوتے ہوئے فرمایا کہ تمہیں تو ہمارا ساتھ دینا چاہئے تھا کہ عیسیٰ علیہ السلام کی ماں پہ جب بہتان لگا تو صفائی کی گواہی ہمارے قرآن مقدس نے دی۔ تم اہل کتاب ہو، نبی برحق کو ماننے والے ہو اور دوسری طرف مرزا قادیانی کی نہ شکل تھی نہ عقل اور جس نے عیسائیت دشمنی کی انتہاء کر دی۔ سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کو اپنے طعن و تشنیع کا نشانہ بنایا۔ تم ان قادیانیوں کے ایماء پر ہماری مخالفت کرتے ہو۔ خدارا ہوش کرو اور دوست، دشمن کی پہچان پیدا کرو۔ مقررین حضرات کے خطابات کے دوران حاضرین جلسہ کا جوش وجذبہ اور ولولہ

صفحہ ۱۳۴

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۲ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

قابل دید تھا۔ نعرہ ہائے تکبیر و تاجدار ختم نبوت زندہ باد کے فلک شگاف نعروں سے اوکاڑہ کے درو دیوار گونج اٹھے۔ یہ عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس حضرت مولانا عبدالرؤف چشتی کی پرسوز دعا کے ساتھ اختتام پذیر ہوئی۔

(ہفت روزہ لولاک فیصل آباد ص ۱۹، مورخہ ۱۱/دسمبر ۱۹۹۲ء)

شیخ المشائخ حضرت مولانا خواجہ خان محمد صاحب دامت برکاتہم کا دورۂ بنگلہ دیش

کراچی سے روانگی: ۱۸/ دسمبر ۱۹۹۲ء کو دو بجے بنگلہ دیش ایئر لائن سے حضرت اقدس مولانا خواجہ خان محمد صاحب دامت برکاتہم امیر مرکزیہ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ڈھاکہ کے لئے روانہ ہوئے۔ کراچی ایئر پورٹ پر آپ کو جماعتی رفقاء وخدام اور متوسلین ومتعلقین نے چشم پرنم سے الوداع کہا۔ صاحبزادہ مولانا عزیز احمد صاحب، صاحبزادہ مولانا حافظ محمد عابد صاحب، جناب محمد خان خاکوانی صاحب اور فقیر راقم الحروف (مولانا اللہ وسایا) کو بھی آپ کی ہمراہی کا شرف حاصل تھا۔ ساڑھے تین گھنٹے کی مسلسل پرواز کے بعد ضیاء انٹرنیشنل ایئر پورٹ ڈھاکہ پر آپ اترے۔ جہاز کی سیڑھیوں پر ہی انجمن دین حنیف ڈھاکہ کے ڈائریکٹر صاحبان نے اپنے چیئرمین جناب شمس الضحیٰ صاحب کی قیادت میں آپ کا خیر مقدم کیا۔ آپ کو وی آئی پی لاؤنج لایا گیا۔ تعارف و دعاء کے بعد آپ انجمن دین حنیف ڈھاکہ کے مرکزی دفتر خانقاہ سراجیہ بنانی ڈھاکہ کے لئے روانہ ہوئے۔ وہاں پر خانقاہ سراجیہ کے نگران اور انجمن دین حنیف ڈھاکہ کے سرپرست جناب بھائی حنان صاحب کی سربراہی میں سینکڑوں حضرات کے خدام متعلقین ومتوسلین اور جماعتی رفقاء نے آپ کا خیر مقدم کیا۔ یہاں پہنچنے تک چونکہ مغرب کا وقت ہوگیا تھا، حضرت اقدس دامت برکاتہم کی امامت میں حاضرین نے نماز ادا کی۔ سنن ونوافل اور دعاء کے بعد فقیر راقم الحروف کا مختصر بیان ہوا۔ جس میں دورہ کے اغراض ومقاصد اور اس وقت کو زیادہ سے زیادہ کام میں لانے کی ضرورت اور عقیدۂ ختم نبوت کی اہمیت پر چند گزارشات کی گئیں۔

ڈھاکہ میں مصروفیات: جناب ڈاکٹر محمد علی صاحب مرحوم ڈھاکہ حضرت امیر معرفت حضرت ثانی مولانا محمد عبداللہ سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ اور حضرت اقدس خواجہ خان محمد صاحب دامت برکاتہم کے متعلقین ومتوسلین اور خدام میں سے تھے۔ آپ نے ڈھاکہ میں ”ذکر وفکر“ کے لئے خانقاہ سراجیہ قائم کی۔ آج کل اس کے نگران بھائی حنان صاحب ہیں جو سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر صرف اور صرف اپنے مربی ڈاکٹر مرحوم صاحب کے حکم کی تعمیل میں خانقاہ شریف میں مقیم ہیں۔ انجمن دین حنیف خانقاہ سراجیہ کے نظم کو چلانے کے لئے انجمن دین حنیف ڈھاکہ کے نام سے ایک انجمن قائم کی گئی ہے۔ جس کے اعلیٰ تعلیم یافتہ چار ڈائریکٹر ہیں۔ اس کے چیئرمین جناب شمس الضحیٰ صاحب ہیں۔ اس انجمن کی بنگلہ دیش میں چوالیس کے قریب باضابطہ شاخیں قائم ہوچکی ہیں۔ انجمن کے اغراض ومقاصد میں تبلیغ اسلام اور ترویج قرآن کا مسئلہ سب سے اوّل ہے۔ اس انجمن نے منشی نگر میں ۲۷/ ایکڑ اراضی لے کر صدیق اکبر فاؤنڈیشن کے نام سے ایک بہت بڑے پراجیکٹ پر کام شروع کیا ہے۔ اس نو آباد بستی کا نام امیر معرفت حضرت ثانی مولانا محمد عبداللہ کی نسبت سے امیر نگر تجویز کیا ہے۔ خانقاہ سراجیہ کندیاں (میانوالی پاکستان) کی جامع مسجد کی طرز ونقشہ پر یہاں امیر نگر میں جامع مسجد کندیاں کی بنیاد رکھی گئی ہے۔ پچھلے سفر پر حضرت اقدس خواجہ خان محمد صاحب دامت برکاتہم نے اس کی بنیاد رکھی تھی۔ آج وہاں پر وسیع وعریض جامع مسجد کے پلر کھڑے ہو چکے ہیں۔ ڈیمپ تک مسجد کی بنیادوں کا کام ہو چکا ہے۔ یہ مسجد اتنی وسیع وعریض ہے کہ اس میں پندرہ ہزار نمازیوں کی بیک وقت نماز پڑھنے کی گنجائش ہوگی۔ اس پراجیکٹ میں یتیم خانہ قائم کیا گیا ہے۔ اس میں یتیم بچوں کو داخل کیا جاتا ہے۔ ان کی رہائش خوراک، تعلیم وتربیت سمیت تمام مصارف کی ذمہ دار انجمن دین حنیف ہے۔ اس میں بچوں کا ایک ہی لباس دیکھ کر اس ماحول پر رشک آتا ہے۔ قرآن مجید حفظ وناظرہ کا فی الحال اہتمام کیا گیا ہے۔

صفحہ ۱۳۵

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۲ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

دو قاری حافظ مدرسین یہ کام سنبھالے ہوئے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی علاقہ کے غریب و نادار طلباء کے لئے ٹیکنیکل ٹریننگ سینٹر کا اہتمام کیا گیا ہے جس میں داخلہ لینے والے طلباء کو ٹیکنیکل کورس کرایا جاتا ہے۔ سند دی جاتی ہے اور ان کو ملازمت دلائی جاتی ہے۔ اس طرح انجمن دین حنیف اپنے ملک کی روحانی تعلیمی اور معاشی میدان میں بہت بڑی خدمت کر رہی ہے۔ انجمن دین حنیف کے زیر اہتمام بنگلہ زبان میں ماہانہ میگزین شائع ہوتا ہے۔ انجمن کا تمام تر کام شورائی نظام کے تحت چل رہا ہے اور اپنے حدود و دائرہ میں رہ کر ادنیٰ سے اعلیٰ تک ہر شخص و کارکن ایسی شاندار خدمات سرانجام دے رہا ہے جو قابل ستائش اور قابل تقلید ہیں۔ انجمن دین حنیف میں دو علماء کرام حضرت مولانا عبدالقادر صاحب اور حضرت مولانا عبدالرحمن صاحب بطور مبلغ کام کر رہے ہیں۔ انجمن کے چیئر مین جناب شمس الضحیٰ صاحب عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت بنگلہ دیش کے وائس چیئر مین بھی ہیں۔ انجمن دین حنیف کا ہر کارکن ختم نبوت کا چلتا پھرتا مبلغ ہے۔ انجمن کی کوششوں سے بنگلہ دیش میں ہزاروں افراد قرآن مجید کی تعلیم حاصل کر چکے ہیں۔ نماز، روزہ، دین کے بنیادی مسائل سے بہرہ ور کرانے کی کاوشیں ایک مربوط نظام کے تحت کی جا رہی ہیں۔ ذیل میں دی گئی تفصیلات کے مطابق ختم نبوت اور رد قادیانیت پر فقید المثال بیانات ہوئے جن کی تفصیل یہ ہے۔

۱۵؍ دسمبر ۱۹۹۲ء بروز منگل بعد از نماز مغرب خانقاہ سراجیہ، ۱۶؍ دسمبر ۱۹۹۲ء بروز بدھ علماء کرام کا اجتماع، بعد مغرب جامعہ عربیہ فرید آباد ڈھاکہ داعی جناب مولانا عبدالجبار صاحب ۔ ۱۷؍ دسمبر ۱۹۹۲ء بروز جمعرات علماء کرام کا اجتماع بعد نماز مغرب جامعہ عربیہ فرید آباد ڈھاکہ مہتمم جناب مولانا عطاء الرحمن خان صاحب۔ ۱۷؍ دسمبر ۱۹۹۲ء بعد نماز عصر جامعہ دینیہ پیر جھنگی مزار ڈھاکہ مہتمم مبشر احمد صاحب ۔ ۱۸؍ دسمبر ۱۹۹۲ء بروز جمعتہ المبارک صبح ۸؍ بجے بشندرہ اسلامی سینٹر ڈھاکہ مہتمم مفتی عبدالرحمن صاحب ۔ ۱۸؍ دسمبر ۱۹۹۲ء بعد نماز مغرب بیان انجمن دین حنیف صدر شمس الضحیٰ خان صاحب ۔ ۱۹؍ دسمبر ۱۹۹۲ء سنیچر صبح آٹھ بجے جامعہ قرآنیہ البلاغ ڈھاکہ مہتمم مفتی فضل الحق امینی صاحب ۔ ۱۹؍ دسمبر ۱۹۹۲ء شام تین بجے جامعہ محمدیہ محمد پور ڈھاکہ مہتمم مولانا ابوالکلام صاحب ۔ ۱۹؍ دسمبر ۱۹۹۲ء بعد نماز عصر ۴؍ بجے جامعہ رحمانیہ محمد پور ڈھاکہ مہتمم حضرت مولانا عزیز الحق صاحب ۔ ۱۹؍ دسمبر ۱۹۹۲ء بعد نماز مغرب جامعہ اسلامیہ المائیہ محمد پور ڈھاکہ مہتمم جناب مولانا عبدالرؤف صاحب ۔ ۱۹؍ دسمبر بعد نماز عشاء جامعہ مدنیہ باری وارہ ڈھاکہ مہتمم مولانا نور حسین قاسمی صاحب۔ ۲۰؍ دسمبر ۱۹۹۲ء بروز اتوار صبح آٹھ بجے امیر نگر منشی گنج ۔ ۲۰؍ دسمبر ۱۹۹۲ء بعد نماز مغرب جامعہ اسلامیہ اسلام پور ڈھاکہ مہتمم جناب مولانا عبدالغفور صاحب ۔ ۲۰؍ دسمبر ۱۹۹۲ء بعد نماز عشاء جامعہ دارالقرآن شمس العلوم چودھری پاڑہ خیل گاؤں مہتمم مولانا اسحاق صاحب ۔ ۲۱؍ دسمبر ۱۹۹۲ء بروز سوموار قبل از ظہر جامعہ حسینیہ عرض آباد میر پور ڈھاکہ مہتمم حضرت مولانا شمس الدین قاسمی صاحب ۔ ۲۱؍ دسمبر ۱۹۹۲ء بروز سوموار بعد نماز عصر دارالعلوم میر پور ڈھاکہ مہتمم مولانا عبدالرحمن رحمت پوری ۔ ۲۱؍ دسمبر ۱۹۹۲ء بروز سوموار بعد نماز مغرب دارالرشاد میر پور گیارہ نمبر مولانا سلمان صاحب ۔ ۲۱؍ دسمبر ۱۹۹۲ء بروز سوموار بعد نماز عشاء جامع مسجد میر پور امام خطیب مولانا امیر حسین صاحب ۔ ۲۲؍ دسمبر ۱۹۹۲ء بروز منگل صبح گیارہ بجے جامعہ اعزازیہ جیسور مہتمم حضرت مولانا ابوالحسن صاحب ۔ ۲۳؍ دسمبر ۱۹۹۲ء بروز جمعرات صبح نو بجے دارالعلوم کھلنا مہتمم محمود الرحمن صاحب ۔ ۲۴؍ دسمبر ۱۹۹۲ء بروز جمعرات صبح نو بجے جامعہ اشرفیہ رحمت اللہ املا پارہ نرائن گنج مہتمم مولانا حسین احمد صاحب ۔ ۲۵؍ دسمبر ۱۹۹۲ء بروز جمعہ ادائیگی جامع مسجد چاٹگام خطیب مولانا عبدالاحد المدنی صاحب ۔ ۲۵؍ دسمبر ۱۹۹۲ء بروز جمعہ بعد نماز مغرب خانقاہ سراجیہ چاٹگام ۔ ۲۶؍ دسمبر ۱۹۹۲ء بروز ہفتہ صبح دس بجے دارالعلوم معین اسلام ہاٹ ہزاری چاٹگام مہتمم مولانا احمد شفیع صاحب ۔ ۲۷؍ دسمبر ۱۹۹۲ء بروز اتوار درسگاہ تحفظ ختم نبوت دفتر انجمن دین حنیف بنانی ڈھاکہ بعد نماز ظہر مدرسہ کاشف العلوم چاٹگام مولانا محمد اسماعیل حسین صاحب ۔ ۲۸؍ دسمبر ۱۹۹۲ء بروز سوموار علماء کا اجتماع صبح نو بجے جامعہ عربیہ قرآنیہ البلاغ ڈھاکہ مولانا عبدالحق خطیب بیت المکرم ۔

صفحہ ۱۳۶

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۲ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

۲۸/ دسمبر بروز سوموار بعد نماز مغرب جامعہ حسینیہ عرض آباد میر پور ڈھا کہ داعی مولانا شمس الدین قاسمی ۔ ۲۹/ دسمبر ۱۹۹۲ء بروز منگل واپسی کراچی کے لئے۔

دورہ کی عمومی رپورٹ:

حضرت اقدس خواجہ خان محمد سجادہ نشین خانقاہ سراجیہ وامیر مرکزی عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت سے بیعت کی اور یہ سلسلہ آخری دن تک جاری رہا۔ ہزار ہا مرد خواتین نے بیعت کی۔ بسا اوقات بیعت کرنے والوں کی تعداد اتنی زیادہ ہوتی کہ لائنیں بنا کر کپڑا پھیلا کر بیعت کی جاتی ۔ جب حضرت اقدس بیعت کے کلمات ارشاد فرماتے تو ہال گونج اٹھتا۔

ادارہ میں بیان ہوتا۔ علماء و طلباء صف بستہ حضرت امیر مرکز یہ دامت برکاتہم کا استقبال کر کے اپنے دلی جذبات کا اظہار کرتے۔

حدیث نہ ہو، صرف ڈھا کہ شہر میں تیس سے زائد مدارس عربیہ میں دورۂ حدیث کی تعلیم ہورہی ہے۔ اکثر دینی مدارس میں دورۂ حدیث کے طلباء کی تعداد سینکڑوں میں ہے۔ مثلاً ہاٹ ہزاری کے مدرسہ معین الاسلام میں طلباء کی تعداد چار ہزار سے بھی متجاوز ہے اور اس میں شریک دورہ حدیث کے طلباء کی تعداد ساڑھے پانچ سو ہے۔

دروازوں اور باہر برآمدہ میں بھی طلباء کھڑے ہو کر یکسوئی سے ختم نبوت کے بیانات سنتے اور موقع بہ موقع پر جوش نعروں سے اپنے دلی جذبات کا اظہار کرتے۔

رکھنے والے ہیں۔

ان حضرات کی وابستگی قابل فخر امر ہے۔

(جب کہ ہمارے ہاں اس کا الٹ ہے ) عمارات سادہ ( مگر پروقار ، سادگی ومسکنت کا نمونہ ہیں ) بانس کی چھتیں ناریل کے پتے ڈال کر بنائی گئی ہیں ۔ مگر ”قال اللہ قال الرسول“ کی صداؤں سے بنگلہ دیش کی فضاؤں کو منور کئے ہوئے ہیں ۔

کفریہ عقائد ایک نظر میں ، مرتبہ حضرت مولانا عزیز الرحمن جالندھری (۳) اسلام اور مرزائیت ، مولانا محمد ادریس کاندھلوی ۔ (۴) قادیانی جھوٹا مدعی نبوت اپنی تحریرات کے شکنجہ میں ، مرتبہ مولانا عزیز الحق شیخ الحدیث ۔ (۵) اسلام کے نام پر نیا مذہب مرتبہ مولانا محمد یعقوب ۔ (۶) انگریزی نبی ، ترجمہ مولانا رشید الاسلام ومولانا عبدالحئی ۔ (۷) شفیع حق کا ختم نبوت نمبر ایڈیٹر مولانا

صفحہ ۱۳۷

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۲ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

شمس الدین قاسمی۔ (۸) القادیانیہ، مولانا شمس الدین قاسمی۔ (۹) قادیانی محرف تفسیر کا تقابل کیجئے، از مولانا شمس الدین قاسمی۔ (۱۰) آخری نبی، از اختر عالم صاحب سابق ایڈیٹر روزنامہ اتفاق وسفیر بنگلہ دیش متعینہ بحرین۔

یہ تمام کتب ورسائل بنگلہ دیشی زبان میں شائع ہوکر تقسیم ہو چکے ہیں۔ مجھے صرف یہی میسر آئے ورنہ بنگلہ زبان میں کہیں زیادہ اشاعتی کام ہوا ہے۔ ان میں کئی کتب کی ضخامت سینکڑوں صفحات پر مشتمل ہے۔ مثلاً نمبر ۸، نمبر ۱۰ تین تین سو صفحات پر مشتمل ہیں۔ ماہنامہ دین حنیف ڈھاکہ ختم نبوت کا ماہنامہ میگزین ہے جو ہزاروں کی تعداد میں تسلسل کے ساتھ بنگلہ زبان میں شائع ہو رہا ہے۔

ہے۔ یہ سلسلہ جاری ہے اور دوررس نتائج کا حامل ہے۔

ڈھاکہ تک کے قادیانی بلبلا اٹھے ہیں۔

(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ص ۱۳، ۱۴، مورخہ ۱۲ تا ۱۸؍ فروری ۱۹۹۳ء)

بارھویں سالانہ ختم نبوت کانفرنس گوجرہ

عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان گوجرہ کے زیر اہتمام بارھویں سالانہ دو روزہ ختم نبوت کانفرنس مرکزی مسجد گوجرہ صرافہ بازار میں ۲۶ اور ۲۷؍نومبر ۱۹۹۲ء کو منعقد ہوئی۔ کانفرنس کے تین اجلاس منعقد ہوئے۔ تمام اجلاسوں میں امیر مرکزیہ خواجہ خان محمد صاحب موجود رہے۔

کانفرنس کا پہلا اجلاس: بروز جمعرات بعد نماز عشاء امیر مرکزیہ کی صدارت میں منعقد ہوا۔ جس سے مولانا اعظم طارق ایم.این.اے، حافظ محمد زبیر ظہیر (جمعیۃ اہل حدیث)، خالد عمران فیصل آباد، مولانا ضیاء الدین آزاد اور مولانا محمد عثمان زاہد نے خطاب کیا۔ تلاوت قاری عبدالرؤف نے کی۔

کانفرنس کا دوسرا اجلاس: بروز جمعہ قبل از جمعہ لائبریری گراؤنڈ میں منعقد ہوا۔ جہاں مجلس تحفظ ختم نبوت کے نائب امیر مولانا محمد یوسف لدھیانوی نے خطبہ جمعہ ارشاد فرمایا۔

کانفرنس کا تیسرا اور آخری اجلاس: رات بعد از نماز عشاء قاری خلیل الرحمن کی تلاوت سے شروع ہوا۔ اسٹیج سیکرٹری حافظ عبدالحئی تھے۔ اس اجلاس سے مولانا محمد لقمان علی پوری، صاحبزادہ طارق محمود، مولانا اللہ وسایا، مولانا خادم حسین، مولانا قاسم سعیدی شاگرد رشید علامہ احمد سعید کاظمی، مولانا حق نواز خالد اور مولانا محمد یحییٰ نے خطاب کیا۔

مولانا محمد یوسف لدھیانوی: عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے نائب امیر مولانا محمد یوسف لدھیانوی نے کانفرنس کے دوسرے اجلاس سے جمعۃ المبارک کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ آنحضرت ﷺ کے تشریف لانے کے بعد کسی نبی کی ضرورت باقی نہیں رہی۔ کیونکہ آپ زمین وزمان کے نبی ﷺ ہیں۔ قیامت تک آپ ﷺ کی نبوت کا سکہ جاری ہے۔ آفتاب نبوت ﷺ کے طلوع ہونے کے بعد قیامت تک کسی موم بتی کی ضرورت نہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ صرف میرا اور آپ کا ہی عقیدہ نہیں بلکہ ازل سے تمام انبیاء کرام علیہم السلام کا یہ عقیدہ رہا ہے کہ آنحضرت ﷺ آخری نبی ہیں۔ انہوں نے فرمایا کہ چاروں اماموں کے نزدیک مرتد واجب القتل ہے۔ حکومت کا فرض بنتا ہے کہ وہ مرتد کی سزا نافذ کرے اور کم از کم اس پر عمل درآمد نئے قادیانی ہونے والے افراد سے کرے۔ انہوں نے کہا کہ مرزائیوں نے کوئی الگ ملت نہیں بنائی۔ کسی ہندو کو تو مرزائی نہیں بنایا بلکہ مرزائیوں نے مسلمانوں سے ہی لوگوں کو نوچ نوچ

صفحہ ۱۳۸

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۲ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

کر قادیانیت کے چنگل میں پھنسایا ہے۔ مرزائیوں نے جن لوگوں کا رشتہ حضرت محمد ﷺ سے کاٹ کر مرزا قادیانی لعنتی سے جوڑ دیا ہے۔ وہ از روئے اسلام جہنم میں جائیں گے۔ انہوں نے فرمایا کہ قادیانی ملت کی مثال بھیڑیئے کی سی ہے جو ایک ایک بکری کو ریوڑ میں پکڑ کر لئے جارہا ہے۔ کیونکہ چرواہا سو رہا ہے۔

انہوں نے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی خدمات کا ذکر کرتے فرمایا کہ امت کی راہنمائی اور دین کی پاسبانی کرنا علماء کا فرض ہے۔ الحمد للہ! عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت یہ کام کر رہی ہے اور بوقت ضرورت متحدہ مجلس عمل بنا کر اس فرض کی ادائیگی کرتی ہے۔ انہوں نے فرمایا کہ میں امید رکھتا ہوں کہ جو لوگ ختم نبوت کا کام کریں گے رسول اللہ ﷺ قیامت کے دن ان کی شفاعت فرمائیں گے۔ انہوں نے عوام الناس کو قادیانیوں کے اقتصادی بائیکاٹ کی ترغیب دیتے ہوئے کہا کہ ہر مہینے دس قادیانیوں سے ملو اور انہیں عقیدۂ ختم نبوت سے اچھی طرح روشناس کراؤ اور قادیانی مصنوعات کا بائیکاٹ کرو۔ انہوں نے کہا کہ کوئی وقت تھا کہ دنیا کا امیر ترین آدمی پہلے آغا خان تھا۔ اب مرزا طاہر ہے۔ کیونکہ مرزائیوں کی آمدن کا دس فیصد حصہ ربوہ کو جاتا ہے۔ انہوں نے فرمایا کہ پاکستان کے آئین کے مطابق قادیانیوں کی حیثیت عیسائیوں سے بھی کمتر ہے۔ کیونکہ قادیانی چوہڑے چماروں سے بھی بدتر ہیں۔ تم چوہڑے چماروں کے ساتھ شادی بیاہ اور دیگر تقریبات میں کھانا کھا کر قیامت کے دن رسول اللہ ﷺ کے سامنے کس طرح جواب دہ ہو گے۔

اعظم طارق (ایم. این. اے): مولانا محمد اعظم طارق (ایم. این. اے) نے اپنی تقریر میں کہا کہ ختم نبوت کے بغیر اسلام کا تصور نامکمل ہے۔ اسلام کی عمارت عقیدۂ ختم نبوت پر قائم ہے۔ سوا لاکھ انبیاء کرام علیہم السلام کی نبوتیں زمان ومکان کی حدود میں مقید تھیں لیکن حضرت محمد ﷺ کی بعثت کے ساتھ ہی زمان ومکان کی تمام پابندیاں اٹھا لی گئیں اور ارشاد ہوا کہ: ”وما ارسلنک الا کافۃ للناس. وما ارسلنک الا رحمۃ اللعلمین“ انہوں نے کہا کہ جس طرح آپ ﷺ کی شخصیت کامل ہے، آپ کی صفات کامل ہیں اور آپ ﷺ پر اترنے والی کتاب بھی کامل ہے۔ اسی طرح آپ ﷺ کی جماعت بھی کامل واکمل ہے۔ عقیدۂ ختم نبوت کی ایک دلیل یہ بھی ہے کہ آپ ﷺ کو ملنے والی جماعت کے کامل واکمل ہونے کا اعلان اللہ کریم نے اپنی آخری کتاب قرآن حکیم میں کیا ہے۔

انہوں نے قومی شناختی کارڈ میں مذہب کے خانہ اور اس کے خلاف عیسائیوں کی احتجاجی تحریک کا تجزیہ کرتے ہوئے کہا کہ عیسائیوں کو اپنا مذہب ظاہر کرنے میں شرم محسوس نہیں کرنی چاہئے۔ کیونکہ پاکستان جداگانہ طرز انتخاب کی بنیاد پر ہی معرض وجود میں آیا تھا اور اسی طرز انتخاب کی بدولت ہی عیسائی اسمبلیوں میں پہنچتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مذہب کے خانہ کی مخالفت کر کے عیسائی راہنماؤں سے غلطی ہوئی ہے۔ وہ اس کی تلافی کریں۔ کیونکہ اس کی زد صرف قادیانیوں پر پڑے گی۔

صاحبزادہ طارق محمود: عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات ونشریات صاحبزادہ طارق محمود نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ قومی شناختی کارڈ میں مذہب کے خانہ کے اندراج کے خلاف عیسائیوں کی احتجاجی تحریک بلا جواز ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ عیسائی اقلیت کے بعض راہنماؤں نے قادیانیوں کی مالی امداد کے ذریعے احتجاجی تحریک شروع کی۔ صاحبزادہ طارق محمود نے کہا کہ مسیحی لیڈر اپنی سادہ لوح قوم کو ورغلا کر سڑکوں پر لا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عیسائیوں کے راہنماؤں کا کردار یہ ہے کہ وہ اسٹیج پر کچھ کہتے ہیں جب کہ نجی ملاقاتوں میں واضح طور پر اس امر کا اعتراف کرتے ہیں کہ وہ قومی شناختی کارڈ میں مذہب کے خانہ کے خلاف نہیں۔ صاحبزادہ طارق محمود نے کہا کہ قومی شناختی کارڈ میں مذہب کے کالم کے اندراج پر اسے مذہبی کارڈ یا شرارتی کارڈ قرار دینے والوں کو یہ نہیں بھولنا چاہئے کہ قومی پاسپورٹ میں مذہب کا خانہ موجود ہے۔ لیکن اس کے باوجود وہ مذہبی پاسپورٹ نہیں بلکہ قومی پاسپورٹ ہی کہلاتا ہے۔

صفحہ ۱۳۹

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۲ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

انہوں نے کہا قومی شناختی کارڈ میں مذہب کے خانہ کو روکنے یا ختم کرنے والوں کا خانہ خراب ہو۔ صاحبزادہ طارق محمود نے کہا کہ موجودہ حکومت کے دور میں مختلف ملکوں میں پاکستان کی نمائندگی کرنے والے چار سفیر قادیانی ہیں۔ انہوں نے کہا مسلح افواج اور سول سروسز میں قادیانی کلیدی آسامیوں پر فائز ہیں۔ صاحبزادہ طارق محمود نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ قومی شناختی کارڈ میں مذہب کے کالم کے بڑھائے جانے کے فیصلہ پر فوری عملدرآمد کرایا جائے۔

انہوں نے کہا عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ایک غیر سیاسی اور مسلمانوں کی نمائندہ دینی جماعت ہے۔ حکومت نے فرقہ وارانہ جماعتوں میں اس کو شمار کر کے پابندی لگانے کا جو منصوبہ بنایا ہے وہ کبھی کامیاب نہیں ہوگا۔ ہماری جماعت کے سربراہ خواجہ خان محمد صاحب وہ ولی ہیں کہ جس کو دعا دیں وہ کامیاب ہو جائے اور جس کو بد دعا دیں اس کا خانہ خراب ہو جائے۔ انہوں نے بے نظیر بھٹو کے لانگ مارچ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ برصغیر کی تاریخ میں آج تک وہ تحریک کبھی کامیاب نہیں ہوئی ، جس میں علماء کا کردار نہ ہو اور وہ تحریک یقیناً کامیابی سے ہمکنار ہوتی ہے جس کی قیادت علماء کرام کر رہے ہوں۔ حکومت بے نظیر کے قافلہ کو اسلام آباد میں داخل ہونے سے روک سکتی ہے لیکن اگر شمع رسالت کے پروانے خواجہ خان محمد صاحب کی قیادت میں مذہب کے خانہ کا نوٹیفکیشن جاری کرانے کے لئے لانگ مارچ کر کے اسلام آباد گئے تو حکومت ان کو روک نہیں سکے گی۔ انہوں نے بے نظیر بھٹو کے ساتھیوں غلام مصطفی کھر ، غلام مصطفی جتوئی اور کوثر نیازی کے کردار کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ غلام مصطفی جتوئی نے اسلام آباد میں مذہب کے خانہ کے متعلق کی جانے والی پریس کانفرنس میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے رہنماؤں کی موجودگی میں مذہب کے خانہ کی حمایت کی تھی اور چند روز بعد لاہور آ کر عیسائیوں کے جلوس میں شریک لیڈروں کو ہار پہنا رہے تھے اور کوثر نیازی بھول گئے کہ یہ محترمہ بے نظیر بھٹو وہی ہیں جن کے دور حکومت میں سلمان رشدی کی کتاب کے خلاف احتجاجی جلوس کے شرکاء پر جس کی قیادت کوثر نیازی کر رہے تھے گولی چلائی گئی اور چھ افراد شہید ہو گئے۔ غلام مصطفی کھر کے مکروہ کردار سے کون واقف نہیں ہے؟ انہوں نے عیسائی رہنما جے سالک ایم ۔ این ۔ اے سے اپنی رہائش گاہ پر ہونے والی ملاقات کی تفصیلات پہلی بار منظر عام پر لاتے ہوئے کہا کہ جے سالک کے بقول شناختی کارڈ میں مذہب کے خانہ سے عیسائیوں کو تین تکالیف ہیں۔

کارڈ میں مذہب کا خانہ درج ہو گیا تو آئندہ ہمارے لئے (اپنے حقوق سے زائد) ملازمتیں حاصل کرنا مشکل ہو جائے گا۔

صاحبزادہ طارق محمود نے اس کے جواب میں کہا کہ ہمارے مسلمان عیسائیوں سے نفرت ان کے پیشہ کے اعتبار سے کرتے ہیں۔ مذہب کے اعتبار سے نہیں اور عیسائی عورتیں اسلام میں داخل ہو کر مسلمان مردوں سے نکاح کر لیتی ہیں تو یہ رعایت انہیں مذہب اسلام نے دے رکھی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اصل بات یہ ہے کہ عیسائی قادیانیوں کے پیسہ پر احتجاجی تحریک چلا رہے ہیں۔ وہ جس کا کھا رہے ہیں اسی کا گا رہے ہیں۔ انہیں خطرہ ہے کہ مذہب کے خانہ کے اندراج سے وہ اپنے آئینی حقوق تک محدود ہو کر رہ جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ مذہب کے خانہ کے اندراج سے غیر مسلم اقلیتیں مسلمانوں کے حقوق سلب نہیں کر سکیں گے اور مسلمانوں کے حقوق بھی محفوظ ہو جائیں گے۔

حافظ زبیر احمد ظہیر: جمعیۃ اہل حدیث کے حافظ زبیر احمد ظہیر نے کہا کہ میں اہل گوجرہ کے پاس مولانا عبدالقادر روپڑی کی

صفحہ ۱۴۰

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۲ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

نمائندگی کرنے کے لئے حاضر ہوا ہوں۔ کیونکہ وہ علیل تھے۔ انہوں نے کہا کہ اللہ کے سارے نبیوں نے دین کی دعوت دی اور اپنا اپنا مشن مکمل کیا۔ لیکن کسی پیغمبر کو یہ نہیں فرمایا کہ میں نے آپ پر دین مکمل کر دیا اور اپنی نعمت تمام کر دی۔ یہ اعزاز و شرف اور کمال و شان آمنہ کے لال حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کو ملا کہ آپ ﷺ پر یہ آیت اتری: ”الیوم اکملت لکم دینکم.........“ انہوں نے کہا صحابہ کرام ؓ کا اس بات پر اجماع ہے کہ حضور اکرم ﷺ کے بعد دعویٰ نبوت کرنے والا یا اس کو ماننے والا خارج از اسلام اور واجب القتل ہے۔ انہوں نے حضرت ابوبکر صدیق ؓ کی فراست و استقامت اور فضائل کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ جب حضرت ابوبکر صدیق ؓ نے منکرین زکوٰۃ کے خلاف جہاد کا اعلان کیا تو بعض صحابہ ؓ نے اختلاف رائے کیا لیکن مسیلمہ کذاب کے بارے میں حضرت ابوبکر صدیق ؓ کے فیصلے سے کسی صحابی نے بھی اختلاف نہ کیا۔ حالانکہ آج کے قادیانیوں کی طرح مسیلمہ کذاب بھی نماز، روزہ، حج، زکوٰۃ وغیرہ کا قائل تھا۔ انہوں نے کہا کہ یہ بات بالکل واضح ہے کہ ختم نبوت کا منکر دائرہ اسلام سے خارج ہے۔ انہوں نے قادیانیوں کی کلمہ مہم کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ قادیانی عبادت گاہیں پاک جگہ نہیں۔ اس لئے وہاں کلمہ نہیں لکھا جاسکتا۔ انہوں نے اکابرین مجلس تحفظ ختم نبوت کو بھی ان کی خدمات پر شاندار خراج تحسین پیش کیا۔

مولانا محمد یحییٰ: مولانا محمد یحییٰ نے شناختی کارڈ میں مذہب کے خانہ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ قیام پاکستان کے وقت یہ نعرہ لگایا گیا کہ پاکستان کا مطلب کیا؟ ”لا الہ الا اللہ“ انہوں نے کہا کہ اگر قیام پاکستان کے وقت ”لا الہ الا اللہ“ کے ساتھ ”محمد رسول اللہ“ کا اضافہ کرایا جاتا تو آج پاکستان کے قومی شناختی کارڈ میں مذہب کے اضافہ کی ضرورت باقی نہ رہتی اور اگر محمد رسول اللہ کا اضافہ کر دیا جاتا تو عیسائی مرزائی مسلمانوں سے الگ ہو جاتے۔ کیونکہ ”لا الہ الا اللہ“ کی حد تک تو عیسائی بھی اس کے قائل ہیں اور مرزائی بھی۔ مذہب کی شناخت تو کلمہ کے دوسرے جزو محمد رسول اللہ سے ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر واضح کر دیا جاتا کہ یہ محمدیوں کا ملک ہے تو آج عیسائی مرزائی مذہب کے خانہ سے اختلاف نہ کرتے جو یہ جسارت کرتا اس سے کہہ دیا جاتا کہ ہم نے یہ ملک محمد رسول اللہ ﷺ کی بنیاد پر حاصل کیا ہے۔

مولانا اللہ وسایا: مولانا اللہ وسایا نے اپنے خطاب میں اتحاد ملت پر زور دیتے ہوئے فرمایا کہ نبی ﷺ کی عزت محفوظ تو صحابہ ؓ کی عزت بھی محفوظ اگر نبی ﷺ کی عزت محفوظ نہیں تو صحابہ ؓ کی عظمت کو کون پوچھے گا۔ لہٰذا ہمیں اپنی توانائیاں ادھر ادھر ضائع کرنے کی بجائے متحد ہو کر نبی اکرم ﷺ کی عزت و ناموس کا تحفظ کرنا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ ہم ہر ایک کو سینے سے لگانے کے لئے تیار ہیں مگر نبی اکرم ﷺ کے دشمن کو ہم قطعاً برداشت نہیں کر سکتے۔

محمد عثمان زاہد: خطیب اہل حدیث گوجرہ نے آیت مبارکہ: ”ماکان محمد ابا احد.......“ کا شان نزول بیان کرتے ہوئے کہا کہ جس دین برحق کا آغاز اللہ رب العزت نے حضرت آدم علیہ السلام سے کیا اس کی تکمیل سید المرسلین آنحضرت محمد ﷺ پر ہوئی ہے اور ختم نبوت کا تاج انبیائے کرام میں سے صرف آنحضرت ﷺ کے سر پر رکھا۔ انہوں نے سیرت نبوی کے چند واقعات سے سامعین کے قلوب و اذہان کو ایمان کی روشنی سے منور کیا۔

خالد عمران: فیصل آباد کے نوجوان رہنما خالد عمران نے کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ ملک الگ ”تشخص“ کی بنیاد پر حاصل کیا گیا تھا تا کہ یہاں اسلامی نظام نافذ کیا جائے۔ اب اسی ”تشخص“ کو واضح کرنے کے لئے قومی شناختی کارڈ میں مذہب کا

صفحہ ۱۴۱

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۲ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

خانہ رکھا گیا ہے۔ اس کی مخالفت بلا جواز ہے۔ کیونکہ فارموں میں یہ خانہ موجود ہے۔ مذہبی خانہ کی مخالفت کرنے والے لا دین عناصر ہیں۔ مذہب کے خانہ کی مخالفت وہ لوگ کر رہے ہیں جنہیں نظر آ رہا ہے کہ مستقبل میں یہ خانہ ہمارے خلاف استعمال ہوگا۔ وہ مذہب ہی کیا جس پر تمہیں فخر نہیں۔ انہوں نے کہا کہ جب تک میں اپنے مذہب پر فخر نہ کرلوں اس وقت تک میرا ایمان مکمل نہیں ہوتا۔ انہوں نے کہا کہ ہماری جماعت عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی قیادت میں مذہب کے خانہ کا نوٹیفکیشن جاری کرنے کی جدوجہد میں شریک ہے۔ اگر مجلس تحفظ ختم نبوت نے نوٹیفکیشن کے لئے اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ کا فیصلہ کیا تو قائدین مجلس عمل ہمیں مارچ کے لئے تیار پائیں گے۔ انہوں نے توقع ظاہر کی کہ مولانا عبدالستار خان نیازی، جن کا ماضی تحریک ختم نبوت سے وابستہ ہے وہ اس ضمن میں اپنا وعدہ ضرور نبھائیں گے۔

مولانا ضیاء الدین آزاد: ختم نبوت کانفرنس کے افتتاحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے مولانا ضیاء الدین آزاد نے کہا کہ اس ملک میں خدا اور رسول کے قانون کو کوئی تحفظ نہیں۔ جب کہ انگریز کے قانون کو تحفظ حاصل ہے۔ ۴۷ سال سے اسلام کے ساتھ مذاق کیا جا رہا ہے۔ پرچار تو دو قومی نظریہ کا کیا جاتا ہے لیکن عمل اس کے خلاف ہے۔ مسلم لیگ کی حکومت کل بھی منافقت پر مبنی تھی اور آج بھی۔ انہوں نے کہا کہ دو قومی نظریہ ملک کی آزادی کا بنیادی نقطہ اور اساس ہے اور اسلام پاکستان کا سرکاری مذہب ہے۔ جس کی مخالفت کرنے والا ملک و دین کا غدار ہے۔ انہوں نے وفاقی وزیر مذہبی امور مولانا عبدالستار خان نیازی کی طرف سے قومی شناختی کارڈ میں مذہب کے خانہ کے فیصلہ کے حق میں اور عیسائیوں کی احتجاجی تحریک کے خلاف دیئے جانے والے دلیرانہ بیانات کی تحسین کی۔ انہوں نے کہا کہ مرزائی غیر ممالک میں خود کو مسلمان ظاہر کر کے جاتے ہیں۔ جرمنی کی حکومت پاکستان سے قادیانیوں کی دھڑا دھڑ آمد پر تشویش میں مبتلا ہے۔ قادیانی پاکستانی پاسپورٹ کے ذریعے خود کو مسلمان ظاہر کر کے مکہ و مدینہ میں گھسنے کی کوشش کرتے ہیں۔ جب کہ حرمین شریفین میں غیر مسلموں کا داخلہ ممنوع ہے۔ قادیانیوں کی اس دھوکہ دہی کے سدباب کے لئے مذہب کے خانہ کا اضافہ کر دیا گیا ہے۔ لیکن ابھی تک حکومت نے نوٹیفکیشن جاری نہیں کیا۔ جس کی وجہ سے عوام میں شکوک و شبہات پیدا ہو رہے ہیں۔ انہوں نے عیسائیوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اگر تمہیں مذہب کا خانہ پسند نہیں تو پھر وہ انڈیا، امریکہ یا برطانیہ چلے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ عیسائی قادیانیوں کے حاشیہ بردار بننے سے گریز کریں۔ کیونکہ عیسائیوں کے خلاف کبھی کوئی تحریک محض ان کے عیسائی ہونے کی بناء پر نہیں چلی۔ انہیں ہر طرح کی آزادی حاصل ہے۔ انہوں نے عیسائی اقلیت سے سوال کیا کہ آپ لوگ راشن کارڈ، پاسپورٹ کے فارم اور ملازمت کے حصول کے لئے خود کو مسیحی لکھوا لیتے ہیں تو شناختی کارڈ میں اپنا مذہب ظاہر کرنے میں ہچکچاہٹ کیوں محسوس ہوتی ہے؟

(ہفت روزہ لولاک فیصل آباد ص ۱۴ تا ۱۶، مورخہ ۱۸؍دسمبر ۱۹۹۲ء)

ٹنڈوآدم میں عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس

آج مورخہ ۵؍دسمبر ۱۹۹۲ء بروز ہفتہ ختم نبوت کے پروانوں کے جذبات قابل دید ہیں۔ ہر ایک کے دل میں ایک نیا جذبہ، نیا عزم موجود ہے۔ کیونکہ آج ٹنڈوآدم میں ختم نبوت کی کانفرنس ہے۔ سورج طلوع ہوتے ہی مجاہدین نے تیاریاں شروع کر دیں۔ صبح ہی سے شہر بھر میں کانفرنس کا اعلان تانگہ پر کیا جا رہا ہے اور مسجد میں مجاہدین کی ایک کمیٹی بینرز وغیرہ لگانے میں مصروف ہے اور ایک کمیٹی مہمانوں کے لئے کھانا تیار کر رہی تھی اور پھر تقریباً سوا بارہ بجے سے عالمی مجلس کے قائد حضرت الامیر خان محمد مدظلہ، سمیت دیگر قائدین اترے اور ان کا گرم جوشی سے استقبال کیا گیا اور پھر تقریباً اڑھائی بجے عالمی مجلس کے نائب امیر حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی صاحب کراچی سے تشریف لائے۔

صفحہ ۱۴۴

ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۲ء

پہلی نشست: ظہر کی نماز کے فوراً بعد جلسہ کی کارروائی شروع کی گئی۔ اسٹیج سیکرٹری کے فرائض راشد مدنی نے انجام دیئے اور تلاوت قرآن مدرسہ ندوۃ العلوم ختم نبوت ٹنڈوآدم کے مدرس قاری محمد موسیٰ انصاری نے کی۔ تلاوت کے بعد نوجوان مقرر ظاہر حسین ڈوگر نے اپنی تقریر میں کہا کہ ہمارے خون کا آخری قطرہ بھی نبی اکرم ﷺ کی عزت وناموس کی خاطر بہے گا۔ اس کے بعد مولانا قاری خلیل الرحمن صاحب مبلغ عالمی مجلس جیکب آباد نے تقریر کی۔ مولانا نے اپنی تقریر میں کہا کہ جس طرح آسمان وزمین میں خدا کی خدائی کا کوئی شریک نہیں اسی طرح آسمان وزمین پر محمد ﷺ کی نبوت کا بھی کوئی شریک نہیں۔ انہوں نے اپنی تقریر میں شناختی کارڈ میں مذہب کے خانہ کے اندراج کے خلاف ہندو، عیسائیوں اور پیپلز پارٹی کے احتجاج کے بارے میں کہا کہ یہ سب کچھ قادیانیوں کے ایماء پر اور فنڈ پر کیا جارہا ہے۔ مولانا نے کہ کہ بے نظیر بھٹو صاحب نے مذہب کے خانے کی مخالفت کر کے اپنے والد بھٹو مرحوم کے کارناموں پر پانی پھیر دیا۔

مدرسہ مدینۃ العلوم کے طالب علم مولوی محمد اکرم نے اپنی تقریر میں کہا کہ مرزا غلام احمد قادیانی نے پورے دین کو تبدیل کر کے رکھ دیا ہے۔ ان کی تقریر کے دوران جب حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی صاحب مسجد میں داخل ہوئے تو ان کا پرجوش نعروں سے استقبال کیا گیا اور مسجد ختم نبوت زندہ باد کے نعروں سے گونج اٹھی اور جب حضرت لدھیانوی صاحب نے اپنی تقریر شروع کی تو تمام مجمع پر سکینہ طاری ہو گیا اور مولانا کا بیان بے مثال تھا۔ مولانا نے اپنی تقریر میں اس بات پر زور دیا کہ قادیانی ہمارے مسلمانوں کو لالچ دے کر مرتد بنا رہے ہیں۔ اب ہمیں بھی چاہئے کہ ہم بھی قادیانیوں کو اسلام کی دعوت دیں۔ مولانا کا بیان مغرب تک جاری رہا۔ درمیان میں عصر کی نماز کا وقفہ دیا گیا۔ مغرب کے وقت مولانا کی دعا پر پہلی نشست کا اختتام ہوا۔

کانفرنس کی دوسری نشست: نماز عشاء کے بعد ”چھتری چوک“ میں منعقد ہوئی۔ کانفرنس کا آغاز قاری محمد موسیٰ کی تلاوت سے ہوا۔ تلاوت کے بعد سانگھڑ کے سندھی نعت خوان جناب علی عابد نے سندھی میں نعت رسول ﷺ سنائی۔ ان کے بعد نوجوان نعت خواں جناب محمد حسن انصاری نے اردو نعت سنائی۔ مولانا محمد راشد مدنی نے اپنی تقریر میں کہا کہ عیسائیوں کو چاہئے کہ وہ قادیانیت نوازی چھوڑ دیں۔ مولانا عبدالقیوم عباسی مبلغ حیدرآباد نے اپنی تقریر میں سندھ اسمبلی کی بھیانک حرکت کو آئین پاکستان سے غداری کے مترادف کہا۔

دارالعلوم الحسینیہ شہداد پور کے مہتمم مولانا محمد یوسف بہاول پوری نے اپنی تقریر میں فرمایا کہ مرزا قادیانی دھوکہ باز اور فریبی ، حرام خور ، بے ایمان ، منافق تھا۔ کیونکہ اس نے وعدہ کیا کہ میں اسلام کی حقانیت پر پچاس جلدوں میں کتاب لکھوں گا لیکن اس نے اپنی جھوٹی بکواسات پر مشتمل پانچ جلدیں لکھنے کے بعد کہا کہ کیونکہ پچاس اور پانچ میں صرف صفر اور ایک نقطے کا فرق ہے۔ لہٰذا میرا پچاس کا وعدہ پانچ سے پورا ہو گیا۔ مولانا نے کہا کہ رقم پچاس کتابوں کی لی اور کتابیں پانچ لکھیں۔ بقیہ پینتالیس کی رقم مرزا ہڑپ کر گیا۔ جھوٹ بولا ، دھوکہ دیا اور حرام کھایا۔

مولانا جمال الحسینی نے کانفرنس کی قراردادیں منظور کرائیں۔ عوام نے قراردادوں کی ہاتھ اٹھا کر تائید کی۔ علامہ احمد میاں حمادی نے اپنی تقریر میں کہا کہ حکمرانو! خدا کے قہر سے ڈرو تم نے قادیانیت کو نواز کر رسول اللہ ﷺ کا دل دکھایا ہے اور قہر خداوند کو دعوت دی ہے۔ اگر تم نے قادیانیت نوازی کو ترک نہ کیا تو تمہارا حشر غدار ختم نبوت سکندر مرزا اور غلام محمد (جس کی قبر گوروں کے قبرستان میں ہے) سے بھی بدترین ہوگا۔ مولانا محمد یوسف لدھیانوی صاحب نے اپنی تقریر میں کہا کہ ہم مرزا کو شیطان کہہ کر اس کی شان میں اضافہ کرتے ہیں۔ کیونکہ مرزا تو اپنے قول کے مطابق ہر شیطان سے بڑا شیطان اور بدتر سے بڑا بدتر ہے۔ مولانا نے مرزائیوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ مرزائیو!

صفحہ ۱۴۳

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۲ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

لوگ ہمیشہ کسی کو اپنا پیشوا، لیڈر مانتے ہیں۔ تین چیزوں کی وجہ سے مال، جمال، کمال تم بتاؤ تمہیں مرزا میں کیا نظر آیا ہے؟ جو اس کے پیچھے لگ گئے ہو اس میں نہ تو جمال ہے۔ نہ کمال اور نہ ہی مال تمام عمر انگریز کی غلامی کرتا رہا۔ خیر پور کے شیخ الحدیث مولانا میر محمد میرک نے خوبصورت انداز میں قرآن کی تلاوت اور سندھی میں تقریر کی اور سیرت طیبہ پر روشنی ڈالی اور فتنہ قادیانیت کے خلاف متحد ہو کر جہاد کرنے کی اپیل کی۔

شیخ الحدیث جامعہ حمادیہ منزل گاہ حضرت محمد مراد صاحب نے اپنی تقریر میں کہا کہ اب قادیانیت کا ایک ہی علاج ہے کہ ارتداد کی شرعی سزا نافذ کی جائے۔ انہوں نے علمی دلائل کی روشنی میں مسئلہ ختم نبوت پر روشنی ڈالی اور ارتداد کی شرعی سزا کے نفاذ کے بارے میں دلائل دیئے۔ کانفرنس میں آخری مقرر شاہین ختم نبوت حضرت مولانا اللہ وسایا صاحب تھے۔ آخر میں علامہ حمادی صاحب کی دعا پر کانفرنس کی دوسری اور آخری نشست کا اختتام ہوا۔

کانفرنس کی جھلکیاں:

گرم جوشی سے استقبال کیا گیا۔

قائدین کو دل کی گہرائیوں سے خوش آمدید کہتے ہیں۔

زندہ باد ”مرزائیت مردہ باد“ کے نعروں سے گونج اٹھی۔

سے ان کا استقبال کیا۔ استقبالیہ نعرے یہ ہیں۔ نعرۂ تکبیر، اللہ اکبر، آ گیا بھئی آ گیا کندیاں والا آ گیا، چھا گیا بھئی چھا گیا کندیاں والا چھا گیا، یہ قائد ہمارا کندیاں والا، پیر ہمارا کندیاں والا، شیر ہمارا کندیاں والا، دل سے پیارا کندیاں والا، نعرۂ تکبیر اللہ اکبر، ختم نبوت زندہ باد۔ ان نعروں سے شہر ٹنڈو آدم گونج اٹھا۔

نبوت کو خوش آمدید کہتے ہیں۔

کانفرنس کی قراردادیں:

شناختی کارڈ مذہب کے خانے کے ساتھ جاری کئے جائیں۔

صفحہ ۱۴۴

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۲ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

علیحدہ کیا جائے۔

(ہفت روزہ لولاک فیصل آباد ص ۱۶ تا ۱۸، مورخہ ۸؍جنوری ۱۹۹۳ء)

شناختی کارڈ میں خانہ مذہب کے اضافہ کا متفقہ مطالبہ

حکومت تاخیری حربوں سے اسے متنازعہ بنارہی ہے۔

قومی شناختی کارڈ میں خانہ مذہب کا اضافہ تمام دینی جماعتوں اور تمام مکاتب فکر کا دیرینہ متفقہ دینی قومی اور آئینی مطالبہ ہے۔

ہیں جو نہ صرف قرآن وسنت کے خلاف بلکہ مقامات مقدسہ کی توہین اور آئین پاکستان کی کھلی خلاف ورزی ہے۔

لے جانے کے بہانے ارتداد پھیلا رہے ہیں۔

کے مسلمان لکھوانے پر بضد ہے اور یوں وہ آئین پاکستان کی بغاوت پر کمر بستہ ہے۔

مخالفت کر رہے ہیں۔ حالانکہ یہ دو قومی نظریہ کا منطقی تقاضا ہے۔

پاسپورٹ، داخلہ فارم وغیرہ میں خانہ مذہب کے موجود ہونے سے فرقہ واریت نہیں پھیلی تو شناختی کارڈ میں خانہ مذہب کے اضافہ سے کیونکر پھیلے گی۔

قادیانیت نوازی کی اور کوئی مثال پیش نہیں کی جاسکتی۔

کے مفاد کا تقاضا ہے کہ اس مطالبہ کو فوری پورا کریں۔

آل پارٹیز مرکزی مجلس عمل تحفظ ختم نبوت ملتان، پاکستان

(ہفت روزہ لولاک فیصل آباد ص ۲۳، مورخہ ۲۵؍ستمبر ۱۹۹۲ء)

صفحہ ۱۴۵

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

تحریک ختم نبوت

کے سلسلہ میں

۱۹۹۳ء

کے

حالات و واقعات

صفحہ ۱۴۶

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

قادیانی مردہ اور مسلم قبرستان

گوجرہ : قادیانی آئے روز اپنے مردے مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کرتے رہتے ہیں ۔ ان کا ایسا کرنا محض شرارت اور اشتعال انگیزی ہے ۔ قادیانی غیر مسلم ہیں ۔ کسی غیر مسلم کو مسلمانوں کے قبرستان میں دفن ہونے کی اجازت نہیں ۔ اگر کہیں قادیانی ایسی شرارت کریں تو انہیں مسلمانوں کی طرف سے کامیاب مزاحمت کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔ پچھلے دنوں چک نمبر ۹۴ ج ۔ ب پکا انا تحصیل گوجرہ میں مسلمانوں کے قبرستان میں قادیانیوں نے ایک قادیانی مردہ دفن کرنے کی کوشش کی ۔ جسے چک ۹۴ ج ۔ ب کے امام مسجد حضرت مولانا قاری نذیر احمد اور چوہدری محمد حسین نمبردار نے جرات مندی اور غیرت ایمانی اور دینی حمیت کا مظاہرہ کرتے ہوئے اہل گاؤں کے زبردست تعاون سے ناکام بنا دیا ۔ اس طرح ان حضرات کی بروقت مداخلت اور مزاحمت سے قادیانی مردہ مسلم قبرستان میں داخل نہ ہو سکا ۔

(ہفت روزہ لولاک فیصل آباد ص ۲۰ ، مؤرخہ ۱۲/ مارچ ۱۹۹۳ء)

Questions of Faith

Qadianis are not from this Ummah

As happened on a number of previous occasions we were contacted by pilgrims who ask us about the aqidah of Qadiyyanis, of Ahmadiyyas. We received a cal from a group of pilgrims who informed Saudi Gazette of a Muslim who defended the Qadiyyanis in a discussion in Makkah. The danger involved, in terms of diluting our Belief when defending the indefensibe, particularly when we do so through sheer ignorance, is frightening and Muslims should refrain of any fefence of these people.

The person mentioned by this group of pilgrims asserts that we have no right to call them non-Muslims for they utter the Kalimah shahadah, as we do. If she fails to accept them as non-Muslims, she herself falls under that category. It is appropriate that we mention here that the Visa regulations of the Kingdom of Saudi Arabia do not allow. Qadianis to enter the Kingdom. Should it be proven that a particular person is a Qadiani, such person shall be deported.

A parrot can also be taught to say any word. However, the Qadiani pretender, Mirza Ghulam Ahmad, claimed prophethood and thus anyone believing in him in whatever from prophet, messiah or reformer is equally quilty of disbelief. The falsehood of

صفحہ ۱۴۷

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۳ء

ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

the liar, Mirza Ghulam Ahmad, will fill volumes. We will relate only one further case of his "prophesies" which backfired on him. A Muslaim doctor, Abdul Hakim, once entered into a discussion with the false "Prophet" and challenged him to an open debate calling him a liar. Instead of replying to this challenge, Ghulam Ahmad threatened him with "God's chastisement and punishment, extreme grief and perdition."

As was his vain habit, he announced: "Abdul Hakim will die in my lifetime as he insults and disgraces me. In this manner he shall not live."

Dr. Abdul Hakim was a man of different metal. He too replied with an announcement: "The Qadiani pretender will die within fifteen months."

This was on the 4th May 1907. In response, Ghulam Ahmad wrote in "Chashma -E- Marfat" on the 20th May 1908: "Another enemy has appeared now Dr. Abdul Hakim of Patiala. He claims that I shall die in his lifetime, before 4th August 1908. God has informed me, however, as opposed to this, that he will be afflicted with torturous punishment and God will perish him. I shall, on the other hand, remain safe from his mischief. This is a matter control over which is with God. Undoubtedly God will help one who is truthful in His view."

He also wrote: "Enemies wish for my death and prophecy about it. God has, however, given me the good news that I shall live for eighty years or more."

He further more said in Aina -i- Kamalat -i- Islam: "For ascertainment of my truthfulness or my falsehood there is no better thing than my prophecies."

Bashir Ahmad, son of Ghulam Ahmad, wrote: "The promised Messiah was hail and hearty till 25th may 1908. But after deep evening he took us aback by his mortal illness and deid on 26th May 1908."

In this manner, Ghulam Ahmad was falsified in three of his prophecies at one stroke.

Firstly, he died within the time limit fixed by Dr. Abdul Hakim. Thereby he himself proved that Abdul Hakim was truthful and he himself was a liar, for, he had said: "God helps one who is truthful in His view."

صفحہ ۱۴۸

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۳ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

Secondly, Abdul Hakim did not die during his lifetime much against the Prophecy. He remained alive even after this and lived to grow old. We therefore repeat after him: "The non-fulfilment of prophecy of a claimant to prophethood is the greatest let down and biggest disgrace for him."

As long as we hold on to the rope of Allah, we shall never go wrong or be misled by disciples of deceipt such as Mirza Ghulam Ahmad, may God's curse be upon him.

(Saudi Gazette, Friday 16th April 1993)

قادیانی امت مسلمہ میں سے نہیں (ابن الفضل ایم۔ اے ریاض، سعودی عرب)

جدہ سے شائع ہونے والے مشہور انگریزی روزنامہ ”سعودی گزٹ“ نے اپنی اشاعت جمعہ ۱۶؍ اپریل ۱۹۹۳ء کے دینی صفحہ ”دی میسج“ میں بنیادی عقائد سے متعلق سوالات کے جواب میں واشگاف الفاظ میں تحریر کیا ہے کہ قادیانیوں کا مسلم امت سے قطعاً کوئی تعلق نہیں۔

اخبار مذکورہ کے دینی صفحہ کا انچارج ایڈیٹر تحریر کرتا ہے کہ گزشتہ برسوں میں متعدد مواقع پر حجاج کرام نے ہم سے قادیانیوں کے عقائد کے بارے میں دریافت کیا ہے اور حال ہی میں حاجیوں کے ایک گروپ کی طرف سے ایک ایسے شخص کی بابت اطلاع دی ہے جو مکہ شریف میں قادیانیوں کی حمایت میں بحث کرتے پایا گیا ہے۔ اخبار مذکورہ کے ایڈیٹر نے وضاحت کرتے ہوئے تحریر کیا کہ جب تک مسلمان اپنے بنیادی عقائد میں پختہ نہ ہوں گے، غلط عقائد کے لوگ اسلام کے بنیادی عقائد میں نقب لگانے کی غرض سے بحث ومباحثہ کریں گے اور مسلمانوں کو کفر کے راستہ پر لے جانے کی کوشش کرتے رہیں گے اور خبردار کیا کہ جس شخص کا یہ کہنا ہو کہ ہم (مسلمان) قادیانیوں کو کافر کہنے کا کوئی حق نہیں رکھتے۔ کیونکہ وہ (قادیانی) کلمہ شہادت وغیرہ پڑھتے ہیں تو وہ شخص (چاہے وہ کوئی بھی ہو) بذات خود ان قادیانیوں میں سے ہے۔ کیونکہ وہ قادیانیوں کو غیر مسلم نہیں سمجھتا۔

ایڈیٹر مذکور نے مزید وضاحت کرتے ہوئے تحریر کیا کہ ویزہ قوانین کے تحت کسی بھی قادیانی شخص کو سعودی عرب میں داخلہ کی قطعاً اجازت نہیں ہے اور اگر یہ ثابت ہو جائے کہ کوئی شخص دھوکہ دہی کے ذریعہ سے سعودی عرب میں داخل ہو گیا ہے تو ایسے شخص کو فوری طور پر سزا دی جاتی ہے اور ملک بدر کر دیا جاتا ہے۔

ایڈیٹر مذکور نے مرزا غلام احمد قادیانی اور اس کی ذریت کے بارے میں ایک دلچسپ انکشاف کیا ہے کہ یہ لوگ طوطے کی طرح رٹے ہوئے جملے دہراتے رہتے ہیں، خود کو مسلمان اور باقی سب لوگوں کو کافر قرار دیتے رہتے ہیں۔ مرزا غلام احمد قادیانی انگریزوں کا طوطا تھا اور اس کے سوا کچھ نہ تھا اور اس لعنتی اور جھوٹے شخص کے پول کھولنے میں سینکڑوں کتابیں تحریر کی جاسکتی ہیں۔ مگر فی الحال ہم یہاں اس کی پیشین گوئیوں میں سے صرف ایک ہی پیشین گوئی کا تجزیہ کرتے ہیں جو اس کی جھوٹی زبان سے ادا ہوئی اور اسی پر بجلی بن کر گری جس کی مختصر تفصیل یوں ہے کہ ۴؍ مئی ۱۹۰۷ء کو پٹیالہ (ہندوستان) کے ایک ڈاکٹر عبدالحکیم کی جھوٹے نبی (مرزا قادیانی) سے بحث شروع ہو گئی اور اس نے مرزا قادیانی کو کھلے عام مذاکرہ کی دعوت دے دی مگر مرزا قادیانی نے اس کی بجائے ڈاکٹر عبدالحکیم کو خدا کا مغضوب قرار دے دیا اور جیسا کہ اس (مرزا قادیانی) کی عادت بد تھی۔ اس نے ڈاکٹر عبدالحکیم کے بارے میں فوری طور پر پیشین گوئی کر دی کہ جو اس (مرزا) کی

صفحہ ۱۴۹

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۳ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

توہین کرے گا۔ وہ مرزا کی زندگی ہی میں مرجائے گا اور چونکہ ڈاکٹر عبدالحکیم نے مرزا کی توہین کی تھی۔ لہٰذا ڈاکٹر عبدالحکیم، مرزا قادیانی کی زندگی میں فوت ہو جائے گا۔ مگر ڈاکٹر عبدالحکیم بھی ایک مختلف قسم کی دھات کے آدمی تھے۔ انہوں نے بھی مرزا قادیانی کے جواب میں مرزا قادیانی کے بارے میں پیشین گوئی کر دی کہ مرزا قادیانی پندرہ ماہ کے اندر اندر مرجائے گا۔ اس طرح یہ بحث مباحثہ اور جواب درجواب کا سلسلہ تقریباً سال بھر چلتا رہا اور ۲۰؍ مئی ۱۹۰۸ء کو مرزا قادیانی نے اپنی کتاب ”چشمہ معرفت“ (ص۳۲۲، خزائن ج۲۳ ص۳۳۷) میں یوں تحریر کیا کہ: ”میرا ایک اور دشمن واضح اور ظاہر ہو گیا ہے جس نے اپنی زندگی میں میری (مرزا کی) موت کا دعویٰ کیا ہے کہ میں (مرزا) ۴؍ اگست ۱۹۰۸ء سے قبل مرجاؤں گا جب کہ مجھے (مرزا کو) خدا نے مطلع کیا ہے کہ ڈاکٹر عبدالحکیم خود میری زندگی کے دوران ذلیل و خوار ہوکر مرے گا اور میں (مرزا) بالکل محفوظ و مامون رہوں گا اور یہ کہ یہ معاملہ خدا کے ہاتھ میں ہے اور اس میں کوئی شک نہیں کہ خدا ہم دونوں میں سے جس کو حق پر سمجھتا ہے اس کی مدد کرے گا۔“ اس نے مزید ”مواہب الرحمٰن“ (ص۲۱، خزائن ج۱۹ ص۲۳۹) تحریر کیا کہ: ”لوگ میری (مرزا کی) موت کی خواہش کرتے ہیں لیکن خدا نے مجھے یہ خوشخبری سنائی ہے کہ میں اسی (۸۰) سال یا اس سے بھی زیادہ عمر تک زندہ رہوں گا۔“ اس سے آگے مرزا قادیانی نے اپنی کتاب ”آئینہ کمالات اسلام“ (ص۲۸۸، خزائن ج۵ ص۲۸۸) میں کہا کہ: ”میرے سچے یا جھوٹے ہونے کا دارومدار میری پیشین گوئیوں پر ہے۔“

مرزا قادیانی کی موت کی تفصیلات بیان کرتے ہوئے ایڈیٹر مذکور تحریر کرتا ہے کہ مرزا قادیانی کے بیٹے مرزا بشیر احمد نے تحریری طور پر بیان کیا ہے کہ مرزا قادیانی کی صحت ۲۵؍ مئی ۱۹۰۸ء کو بالکل ٹھیک تھی اور کسی قسم کی بیماری کے کوئی آثار نہ تھے۔ لیکن اس روز شام گہری ہوتے ہی مرزا قادیانی نے اپنی یکدم بگڑتی صحت کے بارے میں بتایا اور اگلے روز ۲۶؍ مئی ۱۹۰۸ء کو مرزا قادیانی کی وفات ہوگئی۔ ایڈیٹر مذکور نے مرزا کی پیشین گوئی اور جھوٹی نبوت کے ثبوت میں درج بالا تین ٹھوس دلائل کے ساتھ وضاحت کی ہے۔

فوجی اجلاس میں قادیانی کی شرکت

روزنامہ جنگ کراچی کی ایک اہم خبر ملاحظہ فرمائیں:

”کراچی (پی۔ پی۔ آئی) ملکی سرحدوں پر مجموعی صورتحال کا جائزہ لینے کے لئے تینوں مسلح افواج کے سربراہوں کا ایک اجلاس جمعرات کو جوائنٹ چیف آف سٹاف کمیٹی کے چیئرمین جنرل شمیم عالم خان کی زیر صدارت منعقد ہوا۔ باخبر ذرائع نے بتایا ہے کہ اجلاس میں بری، بحری اور فضائی افواج کی پیشہ وارانہ امور سے متعلق معاملات پر غور وخوض کے علاوہ زیر تکمیل منصوبوں پر کام کی رفتار کا جائزہ لیا گیا۔ ذرائع نے وضاحت کی کہ یہ معمول کا اجلاس تھا اور کھلے سمندر میں پاک بحریہ کے جہاز پی۔ این۔ ایس نصر پر منعقد ہوا۔ اجلاس میں شرکت کے لئے جوائنٹ چیف آف سٹاف کمیٹی کے چیئرمین جنرل شمیم عالم خان، بری فوج کے سربراہ عبدالوحید، بحریہ کے سربراہ ایڈمرل سعید ایم خان، ایئر چیف مارشل فاروق فیروز اور دیگر شرکاء پی۔ این۔ ایس مہران سے بذریعہ ہیلی کاپٹر پی۔ این۔ ایس نصر پہنچے۔ اجلاس تقریباً تین گھنٹے تک جاری رہا۔ اجلاس کے دیگر شرکاء میں وفاقی سیکرٹری دفاع سلیم عباس جیلانی، وفاقی سیکرٹری برائے پیٹرولیم اور قدرتی وسائل کنور ادریس تینوں مسلح افواج کی آپریشنل برانچز کے افسران اور جوائنٹ اسٹاف ہیڈ کوارٹر کے سینئر افسران نے شرکت کی۔“

(روزنامہ جنگ کراچی، مورخہ ۲؍ اپریل ۱۹۹۳ء)

مسلح افواج کے سربراہوں کے حالیہ اجلاس کے اہم پہلو حسب ذیل ہیں:

صفحہ ۱۵۰

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۳ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

کیا گیا۔

مسلح افواج کے سربراہوں کے حالیہ کراچی کے اجلاس کے بارے میں اخبارات نے اپنے ذرائع کے مطابق اسے معمول کا اجلاس قرار دیا ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر یہ اجلاس معمول کا تھا تو فوج کے شعبہ اطلاعات کی طرف سے کوئی پریس نوٹ کیوں جاری نہیں کیا گیا۔ وہ اجلاس جس میں مسلح افواج کے تینوں چیف کے علاوہ آپریشنز برانچز کے افسران اور جوائنٹ اسٹاف ہیڈکوارٹرز کے سینئر افسران شریک ہوں۔ سرحدوں کی صورتحال پر غور و خوض کیا جائے۔ فوجی معاملات پر تبادلۂ خیالات کیا جائے۔ وہ اجلاس کس طرح معمول کی نوعیت کا ہو سکتا ہے؟ بین الاقوامی حالات، جغرافیائی محل وقوع علاقے کے تغیر پذیر حالات اور مقبوضہ کشمیر کی سنگین صورتحال کے پیش نظر اور فوجی نقطۂ نظر سے پاک مسلح افواج کے سربراہوں کا کوئی سا اجلاس بھی غیر معمولی اہمیت کا حامل ہے۔ مسلح افواج کے سربراہوں کے کراچی کے اجلاس کی خبر میں ایک چونکا دینے والا نام وفاقی سیکرٹری پیٹرولیم و قدرتی وسائل کنور ادریس کا ہے جو سکہ بند اور متعصب قادیانی ہے۔ یہ صاحب پہلے سندھ کے چیف سیکرٹری تھے۔ ان کے خلاف دینی حلقوں نے آواز اٹھائی۔ جب مسلمانوں میں پھیلی ہوئی بے چینی نے احتجاج کا رنگ اختیار کیا اور احتجاج تحریک کی شکل میں تبدیل ہونے لگا تو موصوف کو اس عہدہ سے ہٹا لیا گیا۔ لیکن ان کے ساتھ عتاب کی بجائے عنایت کا ایسا معاملہ کیا گیا کہ انہیں پیٹرولیم و قدرتی وسائل کا وفاقی سیکرٹری تعینات کر دیا گیا۔

اس سارے احتجاج کا مقصد یہ تھا کہ قادیانی اقلیت کی اسلام دشمنی، ملک و ملت سے غداری ڈھکی چھپی نہیں۔ قادیانی ناقابل اعتماد ہیں۔ ایسی اقلیت کے کسی فرد کو کلیدی عہدہ پر بٹھانا کسی طور پر بھی مناسب نہیں تھا۔ ماضی بعید اور ماضی قریب میں قادیانی جماعت سے تعلق رکھنے والے جن حضرات کو اہم مناصب اور کلیدی عہدوں پر فائز کیا گیا اس کا خمیازہ ملک اور قوم اب تک بھگت رہی ہے۔ ماضی میں چوہدری سر ظفر اللہ خان کو وزیر خارجہ بنایا گیا جس نے پاکستان کو عالم اسلام خصوصاً عربوں سے کاٹ کر یورپی برادری کی جھولی میں ڈال دیا۔ پاکستان کو چین اور روس سے دور کر کے امریکہ کے چنگل میں ایسا پھنسا دیا کہ ہم آج تک نہ تو امریکہ کے اقتصادی چنگل سے نکل سکے اور نہ ہی قرضوں کے بوجھ کے نیچے سے نکل پائے۔ ایم۔ ایم۔ احمد قادیانی نے مشرقی پاکستان مرحوم کو مغربی پاکستان سے علیحدہ کرنے میں پس پردہ جو کردار ادا کیا وہ کسی سے مخفی نہیں۔ ڈاکٹر عبدالسلام قادیانی کو ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت نوبل پرائز دے کر ابھارا گیا۔ اس نے پاکستان کی ایٹمی قوت کو نقصان پہنچانے اور عربوں کے ساتھ فریب کاری میں کیا کیا گل کھلائے؟ قادیانیوں کے بارے میں مسلمانوں کے تمام مکاتب فکر کی ایک ہی رائے ہے۔ اس پر کسی کا اختلاف نہیں۔

اسلام سے خارج ہیں اور غیر مسلم اقلیت ہیں۔

صفحہ ۱۵۱

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔

عقیدہ ہے۔

بھارت میں ہونے والے قادیانیوں کے سالانہ جلسہ کو کامیاب بنانے کے لئے بھارتی ٹیلی ویژن دور درشن براہ راست کارروائی ٹیلی کاسٹ کرتا ہے اور جلسہ کے جملہ انتظامات میں بھارتی حکومت پوری دلچسپی لیتی ہے۔

کا مقصد یہ ہے کہ پاکستان کو اقتصادی طور پر اپاہج کر دیا جائے۔

رکھا ہے۔ قادیانیوں نے بطور پالیسی اپنے آپ کو قادیانی ظاہر کرنا چھوڑ دیا ہے۔

مسلمانوں کو آپس میں لڑانے کے لئے قادیانی جماعت کے بجٹ کا یہ حصہ بروئے کار لایا جاتا ہے۔

اندرون ملک وہ اپنے آپ کو غیر مسلم اقلیت ہی تسلیم نہیں کرتے۔ جب کہ بیرون ملک وہ اقلیت بن کر بنیادی حقوق کا رونا روتے ہیں۔ یہ ڈرامہ فقط قادیانی اپنے آپ کو معاشرتی طور پر مستحکم کرنے اور روزگار حاصل کرنے کے لئے کرتے ہیں۔ ہم نے اسلام اور وطن دشمن جماعت کا کچا چٹھہ اس لئے بیان کر دیا ہے کہ حقائق و شواہد کو سامنے رکھ کر اس حقیقت کو فراموش نہ کیا جائے کہ قادیانی ناقابل اعتماد اقلیت اور پاکستان کے ازلی، ابدی دشمن ہیں۔ ان سے تعمیر وطن یا دفاع وطن کے ضمن میں کوئی سی توقع رکھنی ہی گناہ ہے۔

ہم وزارت دفاع سے یہ پوچھنے کی جسارت کریں گے کہ پاکستان کی تینوں مسلح افواج کے سربراہی اجلاس میں وفاقی سیکرٹری پیٹرولیم جیسے سویلین آدمی کا کیا کام تھا؟ خانہ ساز نبوت کے اہم مہرے کو فوجی اجلاس میں کس نے مدعو کیا؟ وزارت دفاع اس امر کا سختی سے نوٹس لے۔

ہم اپنی بہادر، غیور، اسلام دوست اور محب وطن مسلح افواج پاکستان کے تینوں چیفس کے علم میں یہ بات لانا اپنا فرض منصبی سمجھتے ہیں کہ قادیانیوں کی اسلام اور پاکستان دشمن، بھارت نوازی، اسرائیل دوستی اور آئین و قانون سے سرکشی میں کوئی شک و شبہ نہیں۔ ہم سورج کو دیکھ کر دن کا انکار تو کر سکتے ہیں، لیکن قادیانیوں کی وفاداری کا اعتبار نہیں کر سکتے۔ جو جناب رسالت مآب فداہ ابی و امی ﷺ کے وفادار نہیں۔ وہ پاکستان اور پاکستان کی مسلح افواج کے وفادار کیونکر ہو سکتے ہیں؟ مسلح افواج کے تینوں سربراہ یاد رکھیں۔ قادیانی اسرائیل کے تربیت یافتہ ہیں اور فن جاسوسی کے امام ہیں۔ خانہ ساز نبوت کے امتی کی موجودگی میں کوئی راز راز نہیں۔ ان سے بچئے اور ہوشیار رہئے۔

(ہفت روزہ لولاک فیصل آباد ص ۴ تا ۶، مؤرخہ ۱۶؍ اپریل ۱۹۹۳ء)

صفحہ ۱۵۲

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۳ء ترتیب وتحقیق : حضرت مولانا اللہ وسایا

عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت اور فرقہ واریت ...... حکیم عبدالرحمن آزاد کا خط اور وفاقی وزیر داخلہ کا جواب

گزشتہ دنوں آپ نے یہ خبر پڑھی ہوگی جس میں کہا گیا تھا کہ عنقریب فرقہ وارانہ تنظیموں پر پابندی عائد کر دی جائے گی۔ جب فرقہ وارانہ تنظیموں کا نام دیکھا تو ان میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کا نام بھی شامل تھا۔ اس پر عوام اور شمع ختم نبوت کے پروانوں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی۔ یہ خبر عین ان دنوں آئی جب حکومت نے شناختی کارڈ میں مذہب کے خانہ کے اضافہ کا مطالبہ تسلیم کر لیا۔ حکومت کے اس فیصلہ سے قادیانیوں کو سخت دھچکا لگا اور وہ اپنے سرپرستوں (عیسائیوں) کے پاس جا کر روئے دھوئے۔ یقیناً انہوں نے یہ بھی کہا ہوگا ۔

اے باد صبا ایں ہمہ آوردہ تست

یعنی قادیانیت کا پودا تمہارے بڑوں یعنی انگریزوں نے لگایا ہے وہ بڑے جس طرح پاکستان میں تمہاری سرپرستی کر رہے ہیں اسی طرح ان کا دست شفقت ہمارے سروں پر بھی ہے۔ ہم ان کا احسان کبھی نہیں بھول سکتے۔ لیکن اب شناختی کارڈ میں مذہب کا خانہ رکھنے سے ہماری حق تلفی ہو رہی ہے۔ جب ہم، میں اور آپ میں کوئی دوری نہیں ہے تو آپ حضرات اس انداز سے مذہبی خانے کے خلاف آواز بلند کریں کہ ہمارا نام نہ آئے۔ رہا جلسے جلوسوں میں حاضری کا مسئلہ تو جب ہمارے تمہارے درمیان کوئی دوری نہیں بلکہ مرزا جی کو ’’مسیح موعود‘‘ ماننے کی وجہ سے ہم بھی مسیحی ہیں تو حاضری کی کسر ہم پوری کریں گے۔ رہا تخریب کاری اور گھیراؤ جلاؤ کا مسئلہ تو اس کی ہمیں پہلے ہی تربیت حاصل ہے۔ اس کے بعد عیسائی اپنے بڑوں کے لگائے ہوئے پودے قادیانی کی حمایت کے لئے سڑکوں پر آگئے۔

یہ خبر جس کا اوپر ذکر کیا گیا انہی دنوں کی ہے اور یہ قادیانی یا قادیانی نواز صحافیوں کی شرارت ہے جس کا مقصد حکومت کو لائن دینا تھا۔ اسی لئے اس میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کو شامل کیا گیا ہے۔ حالانکہ مجلس فرقہ واریت اور سیاست دونوں سے دور رہتی ہے۔ یہی وجہ ہے اس کے اسٹیج پر تمام مکاتب فکر کے علماء اور راہنما جمع ہوتے ہیں۔ ملک میں دوسری کوئی ایسی جماعت نہیں جس کے اسٹیج پر بیک وقت تمام مکاتب فکر جمع ہوتے ہوں۔ عالمی مجلس کو فرقہ وارانہ جماعت قرار دینا ایسا ہی ہے جیسا پچھلے دنوں یہ خبر آئی تھی کہ امریکہ پاکستان کو دہشت گرد ملک قرار دے گا۔ جس طرح پاکستان کو دہشت گرد قرار دینا صحیح نہیں اسی طرح عالمی مجلس کو فرقہ وارانہ جماعت قرار دینا بھی صحیح نہیں ہے۔

بہر حال جب یہ خبر آئی تو عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت گوجرانوالہ کے امیر اور مرکزی مجلس شوریٰ کے رکن مولانا حکیم عبدالرحمن آزاد نے وفاقی وزیر داخلہ کے نام خط لکھا۔ وزیر داخلہ کے نام اس لئے کہ مذکورہ خبر وزارت داخلہ کی طرف منسوب کی گئی تھی۔ حکیم صاحب نے جو خط لکھا وہ یہ ہے۔

وفاقی وزیر داخلہ کے نام حکیم عبدالرحمن آزاد کا خط :

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

جناب وفاقی وزیر داخلہ چودھری شجاعت حسین صاحب

السلام علیکم ! خیریت مطلوب، جناب کا ایک بیان فرقہ وارانہ تنظیموں کے خلاف کارروائی کرنے کا اخبارات میں پڑھا۔ بلاشبہ فرقہ واریت کو ختم کرنا وقت کا اہم تقاضا ہے لیکن جن تنظیموں کی فہرست دی گئی ہے۔ اس میں مجلس تحفظ ختم نبوت کا بھی نام ہے۔ یہ نام یا غلطی سے دیا گیا یا دفتری لوگوں کی عمداً کارروائی ہے۔ جس سے آپ کی شہرت بری طرح متاثر ہوئی ہے۔ پھر ایسے وقت میں یہ بیان جب شناختی کارڈوں میں غیر مسلم اقلیت کے خانے کا حکومت قانونی فیصلہ کر کے اقلیت کا تحفظ اور قانونی سقم کو دور کر چکی ہے اور اپوزیشن موجودہ حکومت

صفحہ ۱۵۳

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

کے اس کریڈٹ کو ناکام بنانے اور قوم کی طرف سے مبارکوں کو نفرت میں بدلنے کے لئے عیسائیوں کو اکسا رہی ہے اور خود بیان بازی کا طریق اختیار کر چکی ہے۔ دوسری طرف مرزائیوں نے لاکھوں کا روپیہ خرچ کر کے عیسائیوں سے احتجاجی تحریکیں شروع کرا دیں۔ اس سلسلہ میں یہودیوں اور امریکہ کی انہیں آشیر باد حاصل ہے کہ وہ احتجاج کرنے اور جل مرنے کی دھمکیاں دے رہے ہیں۔ آپ کا دفتر بھی اس بیان سے معلوم ہوتا ہے۔ مرزائیوں کے اس منصوبہ میں ملوث ہے۔ پہلے دفتر کے بارے میں شبہات تھے لیکن اس بیان سے اس یقین کو تقویت ملتی ہے۔ پاکستان میں روز اوّل سے پاسپورٹوں پر مذہب کا خانہ موجود ہے۔ اسکول میں داخلہ فارم پر شناختی کارڈوں کے فارموں میں مذہب کی وضاحت لازمی ہے اور اپنا مذہب ظاہر کرنے پر ہر شخص فخر محسوس کرتا ہے۔ سوائے مرزائیوں کے کہ ان کے وہ منصوبے ناکام ہو جاتے ہیں جو پاکستان اور عالم اسلام کے خلاف سامراجیوں نے ان سے وابستہ کر رکھے ہیں۔ پاکستان کی ۲۵ سالہ اور عالم اسلام کی ۱۹۱۴ء سے ان کی تاریخ کھلی کتاب ہے۔ جس کی تائید پاکستان سینٹرل اسمبلی ۱۹۷۴ء اور تحقیقاتی عدالت کی رپورٹ ۱۹۵۴ء، حمود الرحمن کمیشن کی رپورٹ ۱۹۷۴ء کر چکی ہے۔ آپ کے والد چودھری ظہور الٰہی شہید ۱۹۷۴ء میں میری صدارت میں تحفظ ختم نبوت کی کانفرنسوں میں خطاب کرتے رہے ہیں۔ آپ کے دفتر کی یہ کارروائی ناقابل فہم ہے۔ حال ہی میں ڈاکٹر عبدالسلام مرزائی اور ڈاکٹر لبنیٰ اعجاز مرزائی کی ملی بھگت سے پاکستان کو ۸۴ کروڑ ڈالر کا نقصان پہنچایا اور شمسی توانائی کا نظام بھی تباہ کر دیا گیا اور یہ کارروائی وزیر مملکت سردار آصف احمد علی کی صدارت میں پیش کی گئی اور بیان کرنے والے عالمی شہرت کے سائنسدان ڈاکٹر جناب عتیق مفتی کے دلی دکھ کا آنکھوں کے آنسوؤں نے اظہار کر دیا کہ وہ سنبھل نہ سکے۔ تفصیل کے لئے مطبوعہ سرورق حاضر خدمت ہیں۔ ان ملک دشمن لوگوں کی حمایت میں اپوزیشن بیان دے رہی ہے۔ ان کی حمایت میں عیسائی جل مرنا چاہتے ہیں اور ان ہی کی حمایت میں جناب کا دفتر سرگرم عمل ہے جو ختم نبوت تنظیم کا نام فرقہ واریت تنظیموں میں دے کر مرزائیوں کی حوصلہ افزائی کر رہا ہے۔ معذرت سے عرض گزار ہوں کہ مجھے ارکان دفتر سے یہ توقع ہے کہ میرا خط آپ تک نہ پہنچے گا۔ لہٰذا میں اس کی کاپیاں وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف، صدر مملکت جناب غلام اسحاق خان، وزیر خارجہ پاکستان، وزیر مذہبی امور اور دیگر وزراء اور کار پردازان حکومت کو ارسال کر رہا ہوں۔ والسلام!

بندہ جمعیتہ اہل حدیث پاکستان کا ناظم سیاسیات اور عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی مرکزی مجلس عاملہ کا رکن ہے۔

جواب کے لئے: حکیم عبدالرحمن آزاد امیر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت گوجرانوالہ

اس خط کا محترم وزیر داخلہ چوہدری شجاعت حسین نے مندرجہ ذیل جواب حکیم صاحب کو بھیجا۔

وفاقی وزیر داخلہ کا جواب:

مکرمی آزاد صاحب السلام علیکم! آپ کا مکتوب ملا جس میں آپ نے فرقہ وارانہ تنظیموں کے خلاف کارروائی کے ضمن میں میرے اخباری بیان کا حوالہ دیا ہے اور ان تنظیموں میں مجلس تحفظ ختم نبوت کا نام شامل ہونے پر اپنی تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ملک میں امن و سکون کے لئے فرقہ واریت کا خاتمہ انتہائی ضروری ہے اور حکومت اس معاملے پر غور کر رہی ہے۔ مگر ابھی تک کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا۔ جہاں تک تنظیموں کے ناموں کا سوال ہے۔ یہ محض اخباری قیاس آرائیاں ہیں۔ میری وزارت نے ایسی کوئی فہرست نہیں بنائی۔ آپ بلا وجہ تشویش میں مبتلا نہ ہوں۔ اپنے شہید والد چوہدری ظہور الٰہی کی طرح میں بھی ختم نبوت پر پختہ ایمان رکھتا ہوں۔ والسلام! (چوہدری شجاعت حسین)

ایسا ہی خط وفاقی وزیر داخلہ کی طرف سے ہمارے نام بھی آیا ہے۔ جس سے واضح ہوتا ہے کہ مذکورہ خبر محض افواہ تھی۔ تاہم

صفحہ ۱۵۴

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

وزیر اعظم کی طرف سے فرقہ واریت کے خلاف بیانات آتے رہتے ہیں۔ ان ہی بیانات کی بنیاد پر قادیانی یا قادیانی نواز صحافیوں نے یہ ٹیبل خبر تیار کر کے اخبار میں شائع کی اور اس میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کا نام شامل کر کے حکومت کو یہ لائن دی تاکہ حکومت مجلس کو بھی فرقہ وارانہ تنظیموں میں شامل کر لے۔ بہرحال چوہدری شجاعت حسین کے خط سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ حکومت کی نظر میں ایسا کوئی پروگرام نہیں ہے۔ چوہدری صاحب، بڑے باپ کے بڑے بیٹے ہیں۔ ان کے والد چوہدری ظہور الٰہی شہید ہر دلعزیز، غریب پرور، انسان دوست، علماء کرام اور دینی حلقوں و تنظیموں کے قدردان ہونے کے علاوہ ختم نبوت پر پختہ ایمان رکھتے تھے۔ اگر وہ زندہ ہوتے اور اقتدار بھی ان کے ہاتھ میں ہوتا تو وہ ختم نبوت کے لئے بہت کچھ کر گزرتے۔ اب چوہدری صاحب شہید کے بیٹے چوہدری شجاعت حسین صاحب ان کے جانشین ہیں۔ انہیں چاہئے کہ چوہدری صاحب کی شہادت سے جو خلاء پیدا ہوا ہے وہ اس کو پر کرنے اور اپنے آپ کو ان کا صحیح جانشین ثابت کرنے کی کوشش کریں۔

(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ص ۵، ۶، مورخہ ۸؍ اپریل ۱۹۹۳ء)

جسٹس سعد سعود جان، جسٹس سپریم کورٹ آف پاکستان کے نام کھلا خط

بخدمت جناب جسٹس سعد سعود جان صاحب، جسٹس سپریم کورٹ آف پاکستان

جناب عالی! آپ کا وضاحتی بیان روزنامہ ”نوائے وقت“ لاہور کی اشاعت ۲۰؍ مارچ ۱۹۹۳ء کا فقیر کے سامنے ہے جس میں آپ نے اپنے قادیانی ہونے کی تردید کی ہے۔ آنجناب کے متعلق عدالتی حلقوں سے لے کر عام مذہبی حلقوں تک میں یہی تاثر ہے کہ آپ قادیانی ہیں۔ ان میں فقیر راقم الحروف بھی شامل ہے۔ دیگر شواہدات کے علاوہ آنجناب نے جب ”جہانگیر جوئیہ کیس“ میں قادیانی مؤقف کی حمایت کر کے، ان کی خواہش کے عین مطابق یکسر جانبدارانہ طور پر انتہائی غلط طریقہ سے ایک قادیانی کتاب ”کلمۃ الفصل“ کا حوالہ فیصلہ سے حذف کر دیا۔ حالانکہ قادیانی کتاب میں پہلے کی طرح آپ کے فیصلہ کے بعد آج بھی وہ حوالہ موجود ہے تو ہمارے اس شبہ کو تقویت ملی کہ جناب خالصتاً قادیانی مفادات کے عقیدت مند ہیں۔ خدا کرے آپ قادیانی نہ ہوں۔ کسی کو قادیانی کہنا دراصل کافر قرار دینا ہے اور کسی کو ناحق کافر کہنا دنیا و آخرت کی تباہی ہے۔ مگر اس امر کا کیا کیا جائے کہ جناب نے جو وضاحت فرمائی ہے وہ ناکافی ہے کہ: ”میں ختم نبوت کو مانتا ہوں، میں قادیانی یا لاہوری مرزائی نہیں ۔“ یہ تو تمام قادیانی کہتے ہیں: ہمیں خوشی تب ہو گی کہ آپ مرزا غلام احمد قادیانی اور اس کے ماننے والوں کے متعلق اعلان کر دیں کہ آپ ان کو کیا سمجھتے ہیں؟ آیا آپ مرزا غلام احمد قادیانی اور اس کے ماننے والوں، جو اسے نبی یا مجدد یا مصلح یا مسیح موعود مانتے ہیں۔ کیا آپ ان کو امت مسلمہ کے عقیدہ اور پاکستان کے آئین کے مطابق غیر مسلم تسلیم کرتے ہیں۔ یہ وہ وضاحت ہو گی جو ان تمام حضرات نے کی۔ جن پر قادیانی ہونے کا الزام لگا۔ جب تک یہ وضاحت نہ ہو۔ آپ کی پہلی وضاحت ناکافی ہے اور یہ یقین فرمائیے کہ آپ کی موجودہ وضاحت، وہ وضاحت ہے جو ہر قادیانی دھوکہ دینے یا مسلمانوں کا اعتماد حاصل کرنے کے لئے کرتا ہے۔ آپ کی وضاحت نے معاملہ کو الجھا دیا ہے۔ ہمیں معلوم ہے کہ آنجناب ۱۹؍ اپریل ۱۹۹۳ء کو سپریم کورٹ آف پاکستان کے چیف جسٹس کا عہدہ حاصل کرنے کے لئے یہ ڈرامہ رچا رہے ہیں۔ آپ اسے اپنی عزت نفس کا مسئلہ نہ بنائیں۔ جس جذبہ سے یہ عریضہ لکھا ہے، اسی نظر سے آپ اسے دیکھیں۔ براہ کرم اپنی وضاحت میں اس مسئلہ کو واضح کریں۔ ورنہ ہمارا آپ کے قادیانی ہونے کے متعلق جو تاثر تھا کہ جناب قادیانی ہیں اسے اور تقویت ملے گی۔ امید ہے کہ اس کی فوری زحمت فرمائیں گے۔

آپ کا خیر خواہ: فقیر اللہ وسایا دفتر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت حضوری باغ روڈ ملتان

(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی اندرون ٹائٹل، مورخہ ۱۶ تا ۲۹؍ اپریل ۱۹۹۳ء)

صفحہ ۱۵۵

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۳ء

ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

صدر مملکت کا دوسرا شکار ...... نواز شریف کی غلطیاں

۱۷، ۱۸؍اپریل ۱۹۹۳ء کی درمیانی شب صدر مملکت غلام اسحاق خان نے آٹھویں ترمیم کے خنجر کا وار کر کے نواز شریف حکومت کو گھائل کر دیا۔ اس سے قبل صدر مملکت نے بیگم بے نظیر بھٹو صاحبہ کی حکومت کو بھی اسی آٹھویں ترمیم کی چھری سے ذبح کیا تھا۔ دو منتخب شدہ عوامی اسمبلیوں کو ڈکار مارے بغیر ہضم کرنے والے بزرگ صدر نے جن الزامات کے تحت نواز شریف حکومت کو برطرف کیا۔ اسی قسم کی چارج شیٹ بیگم بے نظیر بھٹو صاحبہ کی حکومت پر بھی عائد کی گئی تھی۔ صدر مملکت کے حالیہ اقدام کے خلاف مختلف شہروں میں ردّعمل کا مظاہرہ کیا گیا ہے۔ جب کہ بعض سیاسی حلقوں کی جانب سے خوشی اور مسرت کا اظہار بھی کیا گیا ہے۔ یہ مکافات عمل ہے کہ جب بیگم بے نظیر بھٹو کی حکومت کو کالعدم قرار دیا گیا تو مسلم لیگ اور آئی جے آئی والوں نے پھل جھڑیاں اڑائیں۔ اس کے برعکس جب نواز شریف کی باری آئی تو پیپلز پارٹی اور بعض دوسرے سیاسی مخالفین نے خوشی میں گولے برسائے۔ یہ تو آنے والا وقت ہی فیصلہ کرے گا کہ صدر مملکت کا حالیہ اقدام صحیح تھا یا غلط۔ تاہم اس سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ صدر مملکت غلام اسحاق خان نے ملک کو ایک نئے سیاسی بحران اور معاشی امتحان میں مبتلا کر دیا ہے۔ قارئین کو یاد ہو گا کہ جب بیگم بے نظیر بھٹو کے دور میں اسمبلیاں توڑی گئی تھیں تو ہم نے انہی صفحات میں یہ لکھا تھا کہ جمہوری ادارے مٹی کے کھلونے نہیں ہوتے۔ انہیں کام کرنے کا موقع دیا جانا چاہئے تھا۔ اگرچہ ہمیں پیپلز پارٹی سے اختلاف رہا ہے۔ محترمہ کے ڈیڑھ برس اور نواز شریف کے اڑھائی برس کے بعد ہم ایک مرتبہ پھر وہیں کھڑے ہیں۔ جہاں سے ہم چلے تھے یہ ہمارا قومی المیہ رہا ہے کہ ہم آگے کم اور پیچھے زیادہ جاتے ہیں۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ہمارے ہاں اصولی سیاست کا فقدان ہے۔ ہمارے سیاست دانوں کا مطمح نظر جمہوریت کا فروغ اور جمہوری اداروں کا استحکام نہیں بلکہ ان کا ٹارگٹ کرسی اور اقتدار ہے۔ ذرا اسی امر سے اندازہ لگائیے کہ ”گو بابا گو“ کا نعرہ لگانے والی جماعت کی قائد جو کل تک صدر مملکت کا چہرہ نہیں دیکھنا چاہتی تھیں۔ اسمبلیاں ٹوٹنے سے چند گھنٹے قبل ایوان صدر میں بہ نفس نفیس پہنچیں۔ پارٹی کے ایک اہم راہنما کو ”سیاسی ہدیہ“ کے طور پر صدر بابا کی جھولی میں ڈال دیا۔ بزرگ صدر مملکت نے قواعد وضوابط، آئین وقانون کے برعکس اپنے قول و فعل سے ثابت کر دکھایا کہ وہ ہماری روایتی سیاست کا حصہ ہیں۔ صدر صاحب نے نگران وزیر اعظم کی کابینہ میں پیپلز پارٹی کو وزارت خزانہ جیسی اہم وزارت دیتے ہوئے یہ بھی نہ سوچا کہ اس پارٹی کے خلاف چارج شیٹ کی سیاہی بھی ابھی خشک نہیں ہوئی اور ابھی تک اس پارٹی کے رہنماؤں کے خلاف ریفرنسز کی صدائے بازگشت بھی سنائی دے رہی ہے۔

عوامی تائید وحمایت کی دعویدار جماعت کے قائد کا معمر صدر کے ہاتھوں پٹخنی کھا کر اس طرح اقتدار میں آنا نہ صرف ان کی انا کی توہین ہے بلکہ اس اقدام سے ان کی اصول پرستی اور جمہوریت پسندی کی قلعی بھی کھل گئی ہے۔ اپوزیشن لیڈر صاحبہ کی ملاقات کے بعد اسمبلیوں کا ٹوٹنا اس بات کا ثبوت ہے کہ صدر صاحب اسی گرین سگنل کے انتظار میں تھے۔ شاید اسی مقصد کے لئے محترمہ کو لندن تا اسلام آباد کا ہنگامی سفر کرنا پڑا۔ بزرگ صدر مملکت سے ملاقات کا فائدہ یہ ہوا کہ مدت کی رقابت جلد ہی رفاقت میں بدل گئی ؎

دل سے تری نگاہ جگر تک اتر گئی
دونوں کو ایک نظر میں رضا مند کر گئی

ہمیں نواز شریف کے جانے کا افسوس نہیں اور نہ ہی نواز شریف نے سدا اقتدار پر رہنا تھا۔ دیکھنا یہ ہے کہ آیا ان حالات میں اسمبلیوں کا توڑنا ملک و قوم کے لئے مفید تھا؟ صدر مملکت غلام اسحاق خان نے قومی اسمبلی توڑ کر نگران حکومت کا اعلان کیا ہے۔ انہوں نے بلخ

صفحہ ۱۵۶

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

شیر باز مزاری کو نگران وزیراعظم مقرر کیا ہے۔ اخبارات کی خبروں سے اندازہ ہوتا ہے کہ اندر کھاتے قومی حکومت بنانے کی کھچڑی پکائی جارہی ہے۔ اگر صدر صاحب کی نگاہ میں منتخب شدہ عوامی حکومت ان کے معیار پر پوری نہیں اتری تو قومی حکومت کی کامیابی کی کیا ضمانت ہو سکتی ہے؟ جو چوں چوں کا مربہ ہوگی۔ صدر مملکت جناب غلام اسحاق خان کے گرد جن سیاست دانوں کا گھیرا ہے۔ وہ سیاسی طور پر یتیم ہیں۔ سیاست ان کا مشغلہ (Hobby) ہے اور اقتدار ان کی کمزوری ...... ان کا عوام میں کوئی اثر نہیں۔ وہ شکست خوردہ ہیں۔ بہتر ہوگا کہ جناب صدر ایسے سیاسی مچندروں کے چنگل سے نکل آئیں۔ کہیں ایسا نہ ہو ان کی وجہ سے صدر مملکت کی عاقبت خراب ہو جائے۔

طاقت اور اقتدار سے محروم ہونے والا مظلوم ہوتا ہے چونکہ نواز شریف زخم خوردہ ہیں۔ ہم نمک پاشی نہیں کرنا چاہتے لیکن کیا حقیقت نہیں کہ:

انہوں نے ان جماعتوں سے آنکھیں پھیر لیں؟

کیڑے نکالے اور اپنا شریعت بل پیش کیا۔

عمل درآمد روک دیا۔

گئے بیانات کو حکومتی پالیسی کا حصہ قرار دیا۔

کے علاوہ فلم انڈسٹریز کو خوب پذیرائی بخشی۔

یہ چارج شیٹ نہیں وہ حقائق ہیں، جنہیں جھٹلایا نہیں جاسکتا۔ عقیدہ ختم نبوت سے قلبی وابستگی کی بناء پر درد دل کی یہ باتیں اس لئے لکھ دی ہیں تا کہ سند رہے اور اگر آئندہ میاں صاحب کو اقتدار مل جائے تو وہ یہ غلطیاں نہ دہرائیں؟

(ہفت روزہ لولاک فیصل آباد ص ۴، ۵، مورخہ ۲۳؍ اپریل ۱۹۹۳ء)

جاپان میں متعین پاکستان کے قادیانی سفیر نے اپنے ملک کے وزیراعظم کے حکم کو جوتے کی نوک پر رکھ دیا

جاپان میں اس وقت جو پاکستانی سفیر متعین ہے، وہ مرزائی ہے۔ شواہد بھی ایسے موجود ہیں جن کی وجہ سے پاکستانی سفیر کے

صفحہ ۱۵۷

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

مرزائی ہونے میں کسی شک وشبہ کی گنجائش باقی نہیں رہ جاتی اور وہ ہے اس کی مسلم و اسلام دشمنی۔ جاپان حکومت عیسائی ہے یوں تو کوئی بھی کافر مسلمانوں کا خیر خواہ نہیں ہے لیکن عیسائی مسلم و اسلام دشمنی میں سب سے بڑھے ہوئے ہیں جب کہ مسلمانوں کے خلاف جاسوسی اور مخبری کا فریضہ عیسائیوں کے خودکاشتہ پودے مرزائی انجام دے رہے ہیں۔ جاپان میں مرزائیوں کو مشن چلانے اور عبادت گاہیں بنانے کی آزادی ہے جب کہ وہاں کی حکومت اس وقت تک کسی کو کوئی رعایت نہیں دیتی جب تک اس ملک کا سفیر سفارش نہ کر دے۔ جاپان کے شہر میں مسلمانوں کے لئے ایک مسئلہ درپیش ہے اور وہ ہے مسجد کے لئے جگہ کا حصول۔ اب تک وہاں کے مسلمان انفرادی نمازیں تو اپنے گھروں یا جہاں وہ کام کرتے ہیں وہیں ادا کرتے ہیں لیکن جمعہ کی نماز ادا کرنے کے لئے انہیں سعودی سفارت خانے جانا پڑتا ہے۔ لیکن سعودی سفارت خانے صرف وہی مسلمان جا سکتے ہیں جن کے وسائل ہیں جن بے چاروں کے وسائل نہیں ہیں وہ جمعہ سے محروم رہ جاتے ہیں اور نماز ظہر ادا کرتے ہیں۔

مرزائی کہنے پر نواز شریف برافروختہ ہو گئے

گزشتہ دنوں وزیراعظم جناب میاں محمد نواز شریف صاحب جاپان کے دورے پر گئے تو وہاں کے مسلمانوں کے ایک نمائندہ وفد نے ان سے ملاقات کی اور ان سے گزارش کی کہ یہاں مسلمانوں کی کوئی مسجد نہیں ہے۔ انہیں انتہائی دشواری کا سامنا ہے۔ یہاں کی حکومت نے یہ شرط عائد کی ہے کہ اگر پاکستانی سفیر سفارش کر دے تو حکومت مسلمانوں کو مسجد کے لئے جگہ مہیا کر سکتی ہے۔ ہم نے کئی مرتبہ پاکستانی سفیر سے رابطہ قائم کیا لیکن وہ اس اہم ترین مسئلہ پر کوئی توجہ نہیں دیتے۔ اس سلسلہ میں جناب وزیراعظم صاحب نے پاکستانی سفیر کو خصوصی ہدایت دی لیکن ”ڈھاک کے وہی تین پات چوتھے کی آس نہیں“ کے مصداق پاکستانی سفیر نے اپنے ملک کے وزیراعظم کے حکم کو بھی جوتے کی نوک پر رکھ دیا۔ ابھی تقریباً دو ماہ قبل ایک قادیانی لڑکی مبینہ طور پر اغواء ہوگئی۔ اس کے باپ نے عارف والا ضلع ساہیوال جاکر وزیراعظم سے شکایت کی۔ وزیراعظم نے علاقہ کے تھانیدار سے باز پرس کی تو اس نے دورانِ گفتگو لڑکی کے باپ کو مرزائی کہہ دیا جس پر جناب وزیراعظم صاحب طیش میں آ گئے۔ صرف اس بات پر کہ اسے مرزائی کیوں کہہ دیا۔ حالانکہ جب وہ مرزائی ہے تو اس کے مرزائی کہہ دینے سے کوئی پہاڑ نہیں گر جاتا اور نہ ہی کوئی آفت ٹوٹ پڑتی۔ اس وقت ہم نے لکھا تھا کہ اگر واقعی ایسا واقعہ ہوا ہے اور اندر خانہ لڑکی اور اغواء کنندگان کے درمیان کوئی ملی بھگت نہیں تو ہم اس واقعہ کی پرزور مذمت کرتے ہیں۔

بہر حال یہ ضمنی بات تھی ہمارا کہنے کا مقصد یہ ہے کہ جناب وزیراعظم کو مرزائیوں کے بارے میں اتنا احساس ہے کہ انہوں نے انہیں خوش کرنے کے لئے ایک ہفتہ کے اندر اندر مرزائی لڑکی کو بازیاب کرنے کا حکم دیا۔ لیکن اس کے برخلاف مرزائی وزیراعظم کو جو عوامی نمائندوں کے ووٹوں سے یعنی کثرتِ رائے سے وزیراعظم منتخب ہوئے ہیں۔ انہیں وزیراعظم سمجھتے ہی نہیں اور ان کی ہدایت و احکامات کو جوتے کی نوک پر رکھتے ہیں۔ جیسا کہ جاپان میں متعین قادیانی سفیر نے کیا۔ اس وقت بیرون ملک ہزاروں مسلمان پاکستانی گئے ہوئے ہیں جن کی حیثیت پاکستانی سفیر کی ہے وہ پاکستان کا نام روشن کرنے کے علاوہ کروڑوں روپے کا زرمبادلہ مہیا کر کے ملک کی معیشت کو مضبوط مستحکم کر رہے ہیں۔ جب کہ قادیانی بھی گئے ہوئے ہیں لیکن چونکہ وہ شروع دن سے اکھنڈ بھارت کے حامی اور قیام پاکستان کے دشمن ہیں۔ اس لئے وہ پاکستان کو بدنام بھی کرتے ہیں اور انہیں جو آمدنی ہوتی ہے اسے روک لیتے ہیں یا بھارت بھجوا دیتے ہیں یا بھارتی بینکوں میں جمع کرا دیتے ہیں۔ ایسے میں کیا پاکستانی حکومت کا فرض نہیں کہ وہ یہاں سے جانے والے مسلمانوں کا ہر طرح سے خیال رکھے اور بیرون ملکوں

صفحہ ۱۵۸

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۳ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

میں ایسے سفیر بھیجے جو مسلمانوں کے آرام و آسائش کا خیال رکھے اور انہیں وہاں قیام کے دوران جو مشکلات درپیش ہوں ان کا ازالہ کرے۔ ہمارے حکمران عام طور پر یہ کہہ دیتے ہیں کہ سفیر بنانے کے لئے قابلیت کو دیکھا جاتا ہے۔ یہ انتہائی نامعقول بات ہے اور یہاں کے کروڑوں مسلمانوں کی توہین بھی کہ ان میں حکمرانوں کو کوئی قابل نظر نہیں آتا اور قابل بھی نظر آیا تو مرزائیوں میں جو مذہب وملت اور ملک تینوں کے دشمن ہیں حکمرانوں کا تو فرض بنتا ہے کہ وہ قابلیت ضرور دیکھے۔ لیکن اس کے لئے محبّ وطن اور مسلمان ہونا بھی لازمی شرط ہونی چاہئے ۔ ہمارے خیال میں تقرریاں سفارشوں کی بنیاد پر ہو رہی ہیں ۔ جاپان میں جس قادیانی کو سفیر بنا کر بھیجا ہوا ہے اسے اعلیٰ عہدوں پر فائز مرزائی افسروں کی سازشوں اور رپورٹوں کی بنیاد پر بھیجا گیا ہے۔ کیونکہ ٹیکنالوجی کی دوڑ میں سب کو پیچھے چھوڑ گیا ہے۔ وہاں کمائی اور ٹیکنالوجی کی تعلیم کے حصول میں جانے والے خوب فائدہ اٹھاتے ہیں ۔ مسلمان سفیر تو پھر بھی سب کا یکساں خیال رکھتے ہیں۔ لیکن مرزائی سفیر پاکستان کے قانون ، حکمران اور رعایا کسی کا خیال نہیں کرے گا بلکہ وہ مرزائیوں کا خیال کرے گا۔ کیونکہ وہ اپنے پیشوا کی ہدایت کو پاکستان کے حکمرانوں اور قانون سے زیادہ اہمیت دیتا ہے ۔ ہماری حکمرانوں سے دردمندانہ اپیل ہے کہ وہ جاپان میں حصول روزگار کے لئے جانے والے مسلمانوں کے آرام و آسائش کا ہر طرح خیال رکھے اور مسجد نہ ہونے کی وجہ سے جمعہ اور نمازوں کی ادائیگی میں جن مشکلات کا سامنا ہے، انہیں دور کیا جائے اور یہ اسی صورت میں ممکن ہوسکتا ہے جبکہ قادیانی سفیر کو ہٹا کر پاکستانی اور مسلمان سفیر کو وہاں لگایا جائے ۔

(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ص ۵ ،مؤرخہ ۱۶ تا ۲۹؍ اپریل ۱۹۹۳ء)

کسٹمز نے اڑھائی ٹن قادیانی لٹریچر اسمگل کرنے کی کوشش ناکام بنادی

کراچی ( کامرس رپورٹر ) پاکستان کسٹمز اپریزمنٹ نے بدھ کو بہت بڑی تعداد میں قادیانی لٹریچر سمندری راستے سے اسمگل کرنے کی کوشش ناکام بنادی ہے ۔ اس کے ساتھ ساتھ لاکھوں روپے مالیت کے ٹی وی ، ریڈیو، ویڈیو کیسٹ کے آلات اور پرزہ جات، ویڈیو کیمرے اور ٹرکوں کے مخصوص پرزہ جات بھی برآمد کر کے ایک شخص شیخ اقبال کو گرفتار کرلیا ہے۔ یہ تمام سامان جس کا وزن چالیس ٹن بنتا ہے جعلی ناموں سے اسمگل کرنے کی کوشش کی جارہی تھی۔ اپریزمنٹ انٹیلی جنس برانچ کو اس کی اطلاع ملی تھی کہ دوسرے کنٹینرز کریٹس کی تبدیلی کے ذریعے اسمگل کرنے کی کوشش کی جائے گی ۔ یہ سامان کے پی ٹی کی حدود میں ٹرکوں پر لادا جاچکا تھا اور بندرگاہ کے علاقے سے نکلنے والا تھا کہ برانچ کی ایک ٹیم نے ٹرکوں کو روکا اور جب کریٹس کو کھولا گیا تو اطلاع کے مطابق بل آف انٹری میں درج دوسرے سامان کے بجائے قادیانی لٹریچر اور دوسری قیمتی اشیاء نکلیں ۔ قادیانی لٹریچر کا وزن اڑھائی ٹن بنتا ہے۔ یہ لٹریچر ملک دشمن سیاسی تحریروں کے علاوہ مسلمانوں کے مذہبی نظریات کے منافی ہے۔

(روزنامہ جنگ کراچی مؤرخہ ۱۵؍ اپریل ۱۹۹۳ء، ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ص ۲۱،مؤرخہ ۳۰؍ اپریل تا ۶؍مئی ۱۹۹۳ء)

قادیانیت سے توبہ کرنے کے بعد صالح محمود عودہ کا قادیانیوں کے بھگوڑے پیشوا مرزا طاہر کو مناظرے کا چیلنج

مرزا طاہر کو سانپ سونگھ گیا۔ دو فیکس کئے لیکن جواب نہیں دیا ۔

لندن : پچھلے دنوں جناب حسن محمود عودہ صاحب جو قادیانیت سے جولائی ۱۹۸۹ء میں تائب ہوئے تھے ۔ وہ قادیانی مرکز ٹل فورڈ انگلینڈ میں عربی سیکشن کے انچارج تھے ۔ ان کے بھائی جناب صالح محمود عودہ جو فلسطین حیفا میں رہتے ہیں، یہ بھی بحمدہ تعالیٰ جنوری ۱۹۹۰ء سے مسلمان ہو چکے ہیں ۔ جناب صالح محمود عودہ پہلی مرتبہ برطانیہ لندن میں تشریف لائے ۔ ان کا قیام یہاں اپنے بھائی حسن محمود عودہ کے

صفحہ ۱۵۹

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

ہاں رہا۔ انہوں نے یہاں اپنے قیام کے دوران فیکس کے ذریعے دو مرتبہ مرزا غلام احمد قادیانی کے جھوٹے ہونے کے بارے میں مرزا طاہر کو مناظرے کا چیلنج دیا۔ مگر مرزا طاہر نے اس مناظرے کے چیلنج کا کوئی جواب نہ دیا اور یوں مرزا طاہر نے اپنی شکست کا اعتراف کر لیا۔ جناب صالح محمود عودہ نے دو فیکس کئے۔

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ الی المیرزا طاہر احمد رئیس الطائفہ القادیانیہ السلام علی من اتبع الھدی لقد حضرت الی لندن قبل یومین وأود لقاءکم لمناقشتکم شخصیا حول حقیقۃ ادعاء جدکم مؤسس الطائفۃ القادیانیۃ، اننی انتظر ردکم الذی تحددون فیہ موعد ومکان اللقاء معی. فاکس رقم: ۰۷۵۳۶۹۲۸۶۶ والسلام علی من اتبع الھدی صالح محمود عودہ لندن. ۲۷/مارچ۱۹۹۳ء

پہلا فیکس:

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ مرزا طاہر کے نام، جو قادیانی ٹولے کا سربراہ ہے السلام علی من اتبع الھدی میں دو دن پہلے لندن پہنچا ہوں۔ میں آپ سے ملاقات کرنا چاہتا ہوں۔ جس میں آپ کے دادا مرزا غلام احمد قادیانی کے بارے میں مناظرہ ہوگا۔ میں آپ کے جواب کا منتظر رہوں گا۔ آپ وقت مقرر کریں اور مجھے اس فیکس پر جواب دیں۔ والسلام علی من اتبع الھدی ۲۷/مارچ۱۹۹۳ء صالح محمود عودہ

جب ایک ہفتہ گزر گیا اور قادیان کی فیملی کے سربراہ مرزا طاہر کی طرف سے کوئی جواب نہ آیا تو جناب صالح محمود صاحب نے یاددہانی کرانے کے لئے دوبارہ فیکس روانہ کیا۔ اس میں لکھا:

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ الی المیرزا طاہر احمد رئیس الطائفہ القادیانیہ السلام علی من اتبع الھدی وبعد! لقد مضی علی رسالتی الاولی الیک خلال زیارتی الحالیۃ للندن، اکثر من اسبوع وقد تاکدت من وصولہا بالفاکس رقم ۰۸۱۸۷۰۱۰۹۵ حال ارسالہا، ولم یرد من طرفک ای رد. ان فی عدم ردک علی رسالتی، اعتراف من طرفک باکاذیب جدک واضالیلہ التی بینت فی رسالتی

صفحہ ۱۶۰

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۳ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

الیک بعید ان تبرأت من ضلالة القاديانية، واعتراف بجبنک الموروث ابا عن جد ولم يبق الا أن تصدع بذلك وتتوب ومن معک. وكفى صالح محمود عودہ لندن. ۵/ اپریل ۱۹۹۳ء

دوسرا فیکس:

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ قادیانی جماعت کے سربراہ مرزا طاہر کے نام السلام علی من اتبع الهدیٰ

لندن کے حالیہ قیام کے دوران میں نے آپ کی خدمت میں جو چیلنج بذریعہ فیکس ارسال کیا تھا اس کو ایک ہفتہ سے زائد گزر چکا ہے اور یہ بات یقینی ہے کہ آپ کو وہ فیکس پہنچ چکا ہے۔ مذکورہ فیکس قادیانی مرکز ۰۸۱-۸۱۰۱۰۹۵ پر ارسال کیا تھا۔ مگر آپ کی طرف سے ابھی تک اس کا کوئی جواب نہیں ملا۔

آپ کی طرف سے جواب نہ آنا اس امر کا آپ کی طرف سے اقرار ہے کہ آپ کا دادا جھوٹا تھا اور وہ ایسی گمراہیوں میں مبتلا تھا جن میں سے بعض باتیں میں نے اس خط میں ذکر کر دی تھیں جو میں نے آپ کی طرف، قادیانیت سے برأت کے تھوڑی مدت بعد ارسال کیا تھا۔ میرے فیکس کے جواب میں راہ فرار اختیار کرنا آپ کی بزدلی کا صریح اعتراف ہے جو آپ کو وراثت میں باپ دادا سے ملی ہے۔ اس کے علاوہ آپ کے لئے کوئی راستہ نہیں کہ آپ یا تو اعتراف شکست کا اعلان کریں یا اپنے قادیانیوں سمیت توبہ کا اعلان کریں اور اتنا کافی ہے۔ صالح محمود عودہ از لندن ۵/ اپریل ۱۹۹۳ء

(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ص ۲۰،۱۹، مورخہ ۱۴ تا ۲۰ مئی ۱۹۹۳ء)

اسلامی وزرائے خارجہ کانفرنس کراچی کے موقع پر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی خدمات

دنیا بھر کی مسلم حکومتوں کی خدمت میں ایک ضروری دینی عرضداشت

عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی مرکزی شوریٰ کے اجلاس منعقدہ دفتر مرکزیہ ملتان مورخہ ۴ / اپریل ۱۹۹۳ء کے فیصلہ کے مطابق اسلامی وزرائے خارجہ کانفرنس ۲۵ / اپریل تا ۲۹ / اپریل ۱۹۹۳ء کے موقع پر تمام شرکاء کو عربی، انگلش میں مختلف ذرائع سے عرضداشت پیش کی گئی۔ یہ عرضداشت عربی میں عالمی مجلس کی مجلس شوریٰ کے رکن حضرت مولانا ڈاکٹر عبدالرزاق صاحب نے مرتب فرمائی اور انگلش میں اس کی تیاری کا اہتمام عالمی مجلس کے نائب امیر اوّل حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی نے کیا۔ انگلش میں عرضداشت نمایاں طور پر ۲۷ / اپریل ۱۹۹۳ء کو کراچی کے معروف انگلش اخبار ”دی نیوز“ کراچی میں شائع ہوئی اور ۲۸ / اپریل کو روزنامہ ”جنگ“ نے نمایاں طور پر اس کا اردو ترجمہ شائع کیا۔

عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ہمیشہ بین الاقوامی اجتماعات کے موقع پر اپنی آواز شرکاء تک پہنچانے کی سعادت حاصل کرتی ہے۔ جناب ذوالفقار علی بھٹو صاحب کی سربراہی میں جب لاہور میں اسلامی ممالک کی سربراہی کانفرنس منعقد ہوئی تھی تو اس موقع پر بھی جماعت کا

صفحہ ۱۶۱

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۳ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

پیغام عربی، انگلش میں شائع کر کے شرکاء کانفرنس تک پہنچایا گیا تھا۔ حق تعالیٰ شانہ عالمی مجلس کی ان خدمات کو بار آور فرمائے اور خدا کرے قادیانیت کا فتنہ ہمیشہ کے لئے ختم ہو۔ آمین !

نوٹ: اس عرضداشت کے ساتھ علماء اسلام کے فتاویٰ اور دوسری اہم دستاویزات بھی منسلک تھیں۔ ہم یہاں صرف عرضداشت کا ترجمہ پیش کر رہے ہیں۔

الحمد للہ رب العالمین وصلوٰۃ والسلام علیٰ سید المرسلین وعلیٰ الہ واصحابہ اجمعین

جناب رسالت مآب ﷺ نے ایک ارشاد گرامی میں دین کو نصیحت سے تعبیر فرمایا اور امت مسلمہ کے حکمرانوں کے لئے نصیحت کو بھی دین کے تقاضوں میں شامل کیا ہے۔ چنانچہ اس جذبہ خیر خواہی کے تحت عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت دنیا بھر کی مسلم حکومتوں کو ایک اہم ملی ودینی مسئلہ کی طرف توجہ دلانا ضروری سمجھتی ہے اور وہ ہے قادیانی مسئلہ۔

قادیانی گروہ (جو اپنے آپ کو ’’احمدی‘‘ یا ’’جماعت احمدیہ‘‘ کہتے ہیں) ہندوستان کے صوبہ پنجاب ضلع گورداسپور قصبہ قادیان کے ایک شخص مرزا غلام احمد قادیانی سے منسوب ہے۔ اس شخص نے پہلے پہل غیر مذاہب سے مباحثے شروع کئے۔ جب مسلمانوں کی توجہ اور عقیدت کو اپنی طرف منعطف دیکھا تو تدریجاً دعوؤں کا سلسلہ شروع کیا۔ چنانچہ ۱۸۸۲ء میں دعویٰ کیا کہ وہ چودھویں صدی کا مجدد ہے۔ ۱۸۹۱ء میں دعویٰ کیا کہ مجھے الہام ہوا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام فوت ہو گئے ہیں اور یہ کہ تو وہی مسیح موعود ہے جس کی خبر قرآن وحدیث میں دی گئی ہے۔ ۱۸۹۲ء میں دعویٰ کیا کہ مسیح اور مہدی ایک ہی شخصیت کے نام ہیں۔ لہٰذا میں مسیح موعود اور مہدی معہود ہوں۔ ۱۹۰۱ء میں دعویٰ کیا کہ چونکہ آنے والے عیسیٰ کو صحیح مسلم کی حدیث میں نبی کہا گیا ہے۔ لہٰذا میں نبی ہوں اور اپنے ایک اشتہار (رسالہ) ’’ایک غلطی کا ازالہ‘‘ میں دعویٰ کیا کہ میں بعینہ ’’محمد رسول اللہ‘‘ ہوں۔ (نعوذ باللہ) الغرض تدریجاً اس شخص نے خود کو محمد رسول اللہ کی دوبارہ آمد اور نئی نبوت کا مصداق قرار دیا۔ اس ضمن میں اس نے اپنی امت کو درج ذیل عقائد کی تعلیم دی۔

اس لئے آیت شریفہ ’’محمد رسول اللہ والذین معہ‘‘ میں محمد رسول اللہ سے مراد غلام احمد قادیانی ہے۔

(ایک غلطی کا ازالہ ص ۱، خزائن ج ۱۸ ص ۲۰۸)

آنحضرت ﷺ کا تھا۔

(اخبار الفضل مؤرخہ ۱۶؍ ستمبر ۱۹۲۵ء، قادیانی مذہب ص ۲۷۵)

لانا اسی طرح فرض ہے۔ جس طرح کہ آنحضرت ﷺ پر ایمان لانا فرض ہے۔

(تذکرہ ص ۲۶۰)

(الفضل مؤرخہ ۲۶؍ ستمبر ۱۹۱۵ء)

(حقیقت الوحی ص ۸۹، خزائن ج ۲۲ ص ۹۲)

احمد کے زمانہ کا اسلام چودھویں رات کے چاند کی طرح تاباں و درخشاں ہے۔ -(خطبہ الہامیہ ص ۱۸۲، خزائن ج ۱۶ ص ۲۷۲)

صفحہ ۱۶۲

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

(خطبہ الہامیہ ص ۱۸۱، خزائن ج ۱۶ ص ۲۷۱)

پیروی ہے۔

(اربعین نمبر ۴ ص ۶، خزائن ج ۱۷ ص ۴۳۵ حاشیہ)

(اشتہار معیار الاخبار مورخہ ۲۵ مئی ۱۹۰۰ء)

اور دائرہ اسلام سے خارج ہیں۔

(آئینہ صداقت ص ۳۵)

قادیانیوں کے سینکڑوں گمراہ کن اور کفریہ عقائد میں سے یہ چند نمونے ہیں جو اوپر درج کئے گئے۔ انہی کفریہ عقائد کی بناء پر مشرق و مغرب کے تمام علمائے کرام، مرزا قادیانی کے زمانے سے آج تک متفقہ فتویٰ دیتے چلے آئے کہ مرزا غلام احمد قادیانی اور اس کے پیروکار کافر، مرتد و زندیق ہیں۔ اس کے علاوہ عالم اسلام کی سب سے بڑی دینی تنظیم رابطہ عالم اسلامی نے اپنے ایک اجلاس منعقدہ مکہ مکرمہ مؤرخہ ربیع الاوّل ۱۳۹۴ھ، بمطابق اپریل ۱۹۷۴ء میں تمام اسلامی ممالک پر زور دیا ہے کہ قادیانیوں کی سرگرمیوں پر اپنے اپنے ممالک میں پابندی لگائیں اور ان کی کڑی نگرانی کریں اور مجمع الفقہ الاسلامی نے بھی (اپنے ایک اجلاس منعقدہ ۲۲ تا ۲۸ دسمبر ۱۹۸۵ء جدہ) قادیانیت کو کفر و زندقہ قرار دیا اور پہلی ایشیائی اسلامی سربراہی کانفرنس جو ۶ تا ۸ جولائی ۱۹۷۸ء کو کراچی میں منعقد ہوئی تھی۔ اس میں بھی قادیانیوں کے خلاف قرارداد منظور کی گئی۔

مرزا غلام احمد قادیانی نے خود بھی یہ اعتراف کیا تھا کہ تمام علمائے اسلام قادیانیوں کو مرتد اور واجب القتل سمجھتے ہیں۔ چنانچہ اپنے ایک اشتہار میں مرزا غلام احمد قادیانی اپنی امت کو خطاب کرتے ہوئے لکھتا ہے: ”کیا تم یہ خیال کر سکتے ہو کہ تم سلطان روم کی عملداری میں رہ کر یا مکہ اور مدینہ ہی میں اپنا گھر بنا کر شریر لوگوں کے حملوں سے بچ سکتے ہو۔ نہیں ہرگز نہیں بلکہ ایک ہفتہ میں ہی تم تلوار سے ٹکڑے ٹکڑے کئے جاؤ گے تم سن چکے ہو کہ کس طرح صاحبزادہ مولوی عبداللطیف جو ریاست کابل کے ایک معزز اور بزرگوار اور نامور رئیس تھے۔ جن کے مرید پچاس ہزار کے قریب تھے۔ وہ جب میری جماعت میں داخل ہوئے تو محض اسی قصور سے کہ میری تعلیم کے موافق جہاد کے مخالف ہو گئے تھے۔ امیر حبیب اللہ خان نے نہایت بے رحمی سے ان کو سنگسار کرا دیا پس کیا تمہیں کچھ توقع ہے کہ تمہیں اسلامی ممالک کے مخالف علماء کے فتوؤں کی رو سے واجب القتل ٹھہر چکے ہو۔ مسلمان لوگ جو اس فرقہ احمدیہ کے مخالف ہیں۔ تم ان کے علماء کے فتوے سن چکے ہو یعنی یہ کہ تم ان کے نزدیک واجب القتل ہو اور ان کی آنکھ میں ایک کتا بھی رحم کے لائق ہے مگر تم نہیں ہو۔ تمام پنجاب اور ہندوستان کے فتوے بلکہ تمام ممالک اسلامیہ کے فتوے تمہاری نسبت یہ ہیں کہ تم واجب القتل ہو اور تمہیں قتل کرنا اور تمہارا مال لوٹ لینا اور تمہاری بیویوں پر جبر کر کے اپنے نکاح میں لے آنا اور تمہاری میت کی توہین کرنا اور مسلمانوں کے قبرستان میں دفن نہ ہونے دینا نہ صرف جائز بلکہ بڑا ثواب کا کام ہے۔“

(مجموعہ اشتہارات ج ۳ ص ۵۸۲، ۵۸۳)

علمائے اسلام کے فتاویٰ اور مرزا غلام احمد قادیانی کی درج بالا تحریروں سے واضح ہوتا ہے کہ قادیانی ایک الگ امت اور گروہ ہے

صفحہ ۱۶۳

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

جس کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں۔ قیام پاکستان کے بعد قادیانیوں کی بڑی تعداد اور خود قادیانی گروہ کے لیڈران قادیان (بھارت) سے پاکستان منتقل ہو گئے اور انہوں نے پاکستان صوبہ پنجاب میں خفیہ طریقہ سے ایک ہزار ایکڑ سے زائد زمین حکومت سے لے کر ”ربوہ“ کے نام سے ایک خالص قادیانی شہر آباد کیا اور اس کو اپنا مرکز بنا کر گویا عملاً ربوہ میں قادیانیوں نے اپنی ایک متوازی حکومت قائم کر لی۔ پھر ایک سازش کے تحت قادیانیوں نے پاکستان کے بڑے بڑے کلیدی عہدوں پر قبضہ کر لیا۔ ان دنوں چوہدری ظفر اللہ خان قادیانی پاکستان کی وزارت خارجہ کے منصب پر فائز تھا۔ اس نے اپنے عہدے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے قادیانیت کی ارتدادی تبلیغ شروع کی اور پاکستان کے تمام سفارت خانوں کو قادیانیوں سے بھر دیا۔ اس طرح اندرون و بیرون ملک اہم مناصب پر قبضہ کر کے قادیانیوں نے پاکستان کے مسلمانوں کو مرتد بنانے کا منصوبہ بنایا۔ علمائے کرام نے اپنی ذمہ داریوں کو محسوس کرتے ہوئے مسلمانوں کو قادیانیوں کی ارتدادی سرگرمیوں سے آگاہ کیا اور ۱۹۵۳ء میں مسلمانوں نے قادیانیوں کے خلاف تحریک چلائی اور حکومت پاکستان سے مطالبہ کیا کہ قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دیا جائے۔ مگر اس وقت افسران نے اس تحریک کو کچل ڈالا۔ دس ہزار مسلمانوں کو خاک و خون میں تڑپا دیا لیکن مسلمانوں نے قادیانیوں کے خلاف اپنے شدید ردّعمل کا اظہار جاری رکھا تا آنکہ ۱۹۷۴ء میں پاکستان کی حکومت ان کو غیر مسلم قرار دینے پر مجبور ہو گئی اور پاکستان پارلیمنٹ نے ۷ ستمبر ۱۹۷۴ء کو ایک آئینی ترمیم کے ذریعے مرزا غلام احمد قادیانی اور ان کے پیروکاروں کو غیر مسلم قرار دینے کا فیصلہ کر دیا۔

قادیانی گروہ چونکہ تمام امت کو کافر قرار دے کر خود کو مسلمان ظاہر کرتا ہے اور اپنے باطل نظریات وعقائد کی تبلیغ اور اشاعت کے لئے اسلام کا نام مسلسل استعمال کر رہا ہے۔ اس لئے پارلیمنٹ کی طرف سے اس گروہ کو غیر مسلم قرار دیئے جانے کے باوجود اس امر کی ضرورت باقی تھی کہ قادیانیوں کو اسلام کا نام اور مسلمانوں کے مذہبی شعائر کے استعمال سے روکا جائے۔ لہٰذا مسلمانوں کی مسلسل جدوجہد کے نتیجے میں ۱۹۸۴ء میں سابق صدر پاکستان جنرل محمد ضیاء الحق نے ایک صدارتی حکم کے ذریعہ قادیانیوں پر یہ قانونی پابندی عائد کر دی کہ وہ خود کو مسلمان ظاہر نہ کریں۔ اپنے مذہب کی تبلیغ اسلام کے نام پر نہ کریں اور مسلمانوں کے مذہبی شعائر کو استعمال نہ کریں۔ یہ ایک منطقی اور بدیہی بات تھی جو مسلمانوں کی مذہبی شناخت کے تحفظ اور اس سلسلے میں قادیانی گروہ کے پیدا کردہ اشتباہ کو ختم کرنے کے لئے ضروری تھی۔ لیکن قادیانی گروہ کے سربراہ مرزا طاہر قادیانی نے اس کے بعد لندن کے قریب ”اسلام آباد“ کے نام سے ایک ہیڈ کوارٹر قائم کر کے پاکستان کے خلاف منفی پروپیگنڈہ کی ایک منظم مہم کا آغاز کر دیا کہ پاکستان میں قادیانیوں کی مذہبی آزادی ختم کر دی گئی ہے اور ان کے انسانی حقوق کو پامال کر دیا گیا ہے۔ چنانچہ مغربی میڈیا اور اسلام دشمن لابیاں اس بنیاد پر پاکستان کے خلاف پروپیگنڈہ کرنے اور حکومت پاکستان کو بدنام کرنے میں مصروف ہیں۔ حالانکہ یہ ایک خلاف حقیقت بات ہے کہ قادیانی گروہ ایک نئے نبی اور نئی وحی کے اقرار کے ساتھ مسلمانوں سے الگ ایک جداگانہ مذہب کا حامل ہے اور مرزا غلام احمد قادیانی پر ایمان نہ لانے والے دنیا بھر کے تمام مسلمانوں کو کافر قرار دیتا ہے تو اسے اپنے نئے مذہب کے لئے اسلام کا نام اور مسلمانوں کے خصوصی مذہبی شعائر کے استعمال کا کوئی حق نہیں ہے۔ کیونکہ اس سے اشتباہ پیدا ہوتا ہے اور مسلمانوں کی مذہبی شناخت مجروح ہوتی ہے۔

ان گزارشات کے ساتھ قادیانی گروہ کی ان سرگرمیوں کا ذکر بھی مناسب معلوم ہوتا ہے جن کا تمام مسلم حکومتوں کے نوٹس میں لایا جانا ضروری ہے۔

کو مغربی میڈیا اور لابیوں کی پشت پناہی حاصل ہے۔

صفحہ ۱۶۴

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۳ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

کا سلسلہ شروع کر دیا ہے۔ جس سے دینی معلومات سے بیگانہ مسلم نوجوانوں میں وسیع پیمانے پر گمراہی پھیلنے کا خدشہ ہے۔

کانفرنس کے انعقاد کی کوشش میں مصروف ہے جس کا مقصد عالم اسلام کی سائنسی سرگرمیوں پر گرفت قائم کرنا اور پاکستان کے ایٹمی پروگرام تک رسائی حاصل کرنے کے سوا کچھ نہیں۔

اور تراجم چونکہ اسلام کے نام پر پیش کئے جارہے ہیں۔ اس لئے حقیقت حال سے بے خبر مسلمانوں کو گمراہی اور ارتداد سے بچانے کے لئے اپنے اپنے ماحول اور ضروریات کے مطابق عملی اقدامات کریں۔ مثلاً مندرجہ ذیل اقدامات فوری طور پر ضروری ہیں۔

(۱) تمام مسلمان حکومتیں نہ صرف قادیانیوں کے غیر مسلم ہونے کا فوری طور پر اعلان کریں بلکہ تمام اسلامی ممالک میں ان کی تنظیم کو خلاف قانون قرار دے کر اس پر پابندی عائد کریں۔ (۲) قادیانیوں کے اسرائیل اور دیگر اسلام دشمن طاقتوں کے ساتھ دوستانہ مراسم ہیں اور قادیانی تنظیم کے افراد مسلمانوں کی جاسوسی کرتے ہیں۔ اسلامی ممالک کے خفیہ راز اسلام دشمن طاقتوں کو پہنچاتے ہیں۔ اس لئے تمام مسلمان حکمرانوں کا فرض ہے کہ قادیانیوں سے چوکنا اور ہوشیار رہیں۔ (۳) ڈاکٹر عبدالسلام جلا بھنا قادیانی ہے وہ مسلمان حکمرانوں کو دھوکہ دے کر ان کو اسلامی سائنس کانفرنس میں پھنسانا اور مسلمانوں کی سائنسی قوت کو پامال کرنا چاہتا ہے۔ اس لئے تمام مسلمان حکمرانوں کا فرض ہے کہ ڈاکٹر عبدالسلام کی سرگرمیوں سے قطع تعلق اور اس کو مسلمانوں کے کسی مشورہ میں شریک نہ کریں۔ (۴) تمام اسلامی ممالک کا فرض ہے کہ وہ بین الاقوامی اداروں کو واضح طور پر آگاہ کریں کہ قادیانیوں کا مسلمانوں سے کوئی تعلق نہیں اور یہ کہ کسی بھی مسلمان ملک میں قادیانیوں کو مسلمان کی حیثیت سے قبول نہیں کیا جاسکتا۔ لہذا بین الاقوامی اداروں کا فرض ہے کہ وہ قادیانیوں کو اسلامی لیبل چپکانے کی اجازت نہ دیں۔ (۵) تمام عالم اسلام کے علمائے کرام اور اہل دانش کا فرض ہے کہ امت مسلمہ کو قادیانی ارتداد سے بچانے کے لئے مسلمانوں کو گمراہ کن عقائد سے آگاہ کریں۔

(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ص ۱۶ تا ۱۸، مورخہ ۲۸ /مئی تا ۳ /جون ۱۹۹۳ء)

شعائر اسلام استعمال کرنے پر قادیانیوں کے خلاف سپریم کورٹ آف پاکستان کا تاریخ ساز فیصلہ

تعارف:

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ الحمد للہ وحدہ والصلوٰۃ والسلام علیٰ من لا نبی بعدہ. اما بعد!

آنحضرت ﷺ کا ارشاد گرامی ہے: ’’انا حظكم من الانبياء وانتم حظى من الامم. او كما قال‘‘ نبیوں میں سے، میں (آنحضرت ﷺ) تمہارا حصہ ہوں اور امتوں میں سے، تم (امت محمدیہ علیٰ صاحبہا الصلوٰۃ والسلام) میرا حصہ ہو۔ رحمت عالم ﷺ نے اپنے اس ارشاد گرامی میں امت محمدیہ علیٰ صاحبہا الصلوٰۃ والسلام کو کتنے بڑے اعزاز سے نوازا ہے۔ یہ وہ اعزاز ہے جس کے حصول کی گزشتہ انبیاء علیہم السلام تمنائیں کیا کرتے تھے۔ کتنے ہی دکھ، افسوس، صدمہ اور شرم کی بات ہے ان لوگوں کے لئے جو آنحضرت ﷺ کے حصہ سے نکل کر کسی اور شخص کے حصہ میں داخل ہونے کی مردود کوشش کرتے ہیں۔ قادیانی طبقہ ایسا محروم القسمت طبقہ ہے، جو

صفحہ ۱۶۵

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

آنحضرت ﷺ کی امت میں شامل ہونے کی بجائے مردود ازلی مرزا غلام احمد قادیانی کی نام نہاد امت میں شامل ہونا چاہتا ہے۔

مرزا قادیانی نے ۲۳/مارچ ۱۸۸۹ء کو دعویٰ ماموریت کیا اور لدھیانہ میں بیعت لی۔ بعد میں دعویٰ مسیحیت و نبوت اور نہ معلوم کیا کیا گل کھلائے۔ مرزا کے الحاد وزندقہ کے خلاف علمائے لدھیانہ نے پہلا فتویٰ جاری کیا۔ بعد میں متحدہ ہندوستان کے تمام مکاتب فکر، درسگاہوں کے شیوخ اور خانقاہوں کے سجادہ نشین حضرات نے متفقہ فتویٰ کی رو سے اسے اور اس کے ماننے والوں کو دائرہ اسلام سے خارج قرار دیا۔ ۱۹۳۵ء میں بہاول پور کی عدالت نے اور بعد میں دوسری عدالتوں نے قادیانیت کے کفر کو طشت از بام کیا۔ ۱۹۷۳ء میں آزاد کشمیر اسمبلی نے ریٹائرڈ میجر محمد ایوب صاحب کی پیش کردہ قرارداد کو متفقہ طور پر منظور کر کے قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا۔ جب کہ اس سے قبل عرب ممالک، شام، مصر وغیرہ میں قادیانیت کے کفر پر سرکاری مہر لگ چکی تھی۔ ۶ سے ۱۰/ اپریل ۱۹۷۴ء تک رابطہ عالم اسلامی کے منعقدہ اجلاس مکہ مکرمہ مرکز اسلام میں، دنیائے اسلام کی ۱۴۴ تنظیموں کے نمائندگان نے ان کے کفر کا اعلان کیا۔

۷/ ستمبر ۱۹۷۴ء کو پاکستان کی منتخب پارلیمنٹ نے متفقہ طور پر انہیں غیر مسلم اقلیت قرار دیا۔ جناب ذوالفقار علی بھٹو، ان دنوں پاکستان کے وزیر اعظم تھے۔ مارشل لاء دور حکومت میں جناب جنرل محمد ضیاء الحق صاحب نے ۲۶/ اپریل ۱۹۸۴ء کو امتناع قادیانیت آرڈیننس جاری کیا۔ قادیانیوں نے صریحاً قانون کی خلاف ورزی کی اور آئین شکنی پر اتر آئے۔ سول عدالتوں سے معاملہ ہائیکورٹ تک پہنچا۔ قادیانیوں کے کفر پر ہائیکورٹ نے بھی مہر تصدیق ثبت کی۔ قادیانیوں نے ہائیکورٹ کے ان فیصلوں کے خلاف سپریم کورٹ آف پاکستان میں اپیلیں دائر کیں۔ جوں جوں فیصلے ان کے خلاف ہوتے گئے۔ وہ سپریم کورٹ سے رجوع کرتے رہے۔ ۱۹۸۸ء سے ۱۹۹۲ء تک کل اپیلوں یا رٹ پٹیشنز کی تعداد آٹھ ہو گئی۔

آج سے سالہا سال قبل کراچی میں سپریم کورٹ میں سماعت شروع ہوئی تو قادیانیوں نے آئیں بائیں شائیں کی۔ سپریم کورٹ کے بنچ کے معزز جج صاحبان نے مقدمات، چیف جسٹس صاحب کو بھجوا دیئے کہ ان کی سماعت کے لئے بڑا بنچ تشکیل دیا جائے۔ ان دنوں چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس محمد افضل ظلہ تھے۔ انہوں نے ان کیسوں کی سماعت کے لئے پانچ رکنی بنچ تشکیل دیا۔ ۱۹۹۱ء کے اواخر میں ان کیسوں کی سماعت کے لئے تاریخ مقرر ہوئی۔ قادیانیوں نے سماعت کے روز، وکیل کی مصروفیت کا عذر داغ دیا۔ سماعت ملتوی ہو گئی۔ جسٹس محمد افضل ظلہ صاحب ۱۹۹۲ء میں کئی ماہ کے لئے امریکہ و برطانیہ کے دورہ پر گئے تو ربوہ میں یہ صدا گونجنے لگی کہ قادیانی لیڈران اور تحفظ حقوق انسانی کمیشن کے ارکان کی چیف جسٹس صاحب سے قادیانی مقصد براری کے لئے ملاقاتوں کا اہتمام کیا جا رہا ہے۔ قادیانی اس قسم کے مذموم پروپیگنڈے سے جو مقصد حاصل کرنا چاہتے تھے۔ ہم اس سے بے خبر نہ تھے۔ چیف جسٹس صاحب واپس تشریف لائے۔ بنچ تشکیل دیا جو جسٹس شفیع الرحمن، جسٹس عبدالقدیر چوہدری، جسٹس محمد افضل لون، جسٹس ولی محمد اور جسٹس سلیم اختر پر مشتمل تھا۔ مقدم الذکر اس بنچ کے سربراہ مقرر ہوئے۔ تاریخ مقرر ہوئی۔ سماعت کے روز عدالت میں مسلمانوں کے آنے سے قبل قادیانی بمع اپنے وکیلوں کے براجمان تھے۔ ہمارا ماتھا ٹھنکا کہ اس دفعہ یہ پھرتیاں کیوں؟ ربوہ میں ہونے والا پروپیگنڈہ بھی ہمارے سامنے تھا۔ قادیانیوں نے اس بار مسٹر فخر الدین جی ابراہیم بوہری کو بھی وکیل کیا ہوا تھا۔ خود بھی ان کی ٹیم بڑے غرور و تکبر سے جمع تھی۔

پاکستان گورنمنٹ کی طرف سے اٹارنی جنرل مسٹر عزیز اے منشی کے علاوہ چاروں صوبوں کے ایڈووکیٹ جنرل اور وزارت مذہبی امور کی طرف سے ماہر قانون دان جناب سید ریاض الحسن گیلانی پیش ہوئے۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی طرف سے مکرم محترم جناب راجہ حق

صفحہ 166

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۳ء ۱۶۶ ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

نواز صاحب وائس چیئرمین پاکستان بار کونسل اور فدائے ختم نبوت، محافظ ناموس مصطفیٰ جناب محمد اسماعیل قریشی ایڈووکیٹ سپریم کورٹ پیش ہوئے۔ قادیانی اپنے اثر و رسوخ ، مال و دولت پر نازاں تھے اور مسلمان محمد عربی ﷺ کے امتی ہونے کے ناتے رب کریم کے حضور اس کی رحمت کے طلبگار تھے۔ حق و باطل کا معرکہ ہوا۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ، ان تمام کیسوں میں فریق رہی ہے۔ حتیٰ کہ بلوچستان ہائیکورٹ کے فیصلوں میں تو ، مدعی بھی، عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مجاہد مبلغ مولانا نذیر احمد تونسوی تھے۔ سپریم کورٹ میں سماعت کی تاریخ کا اعلان ہوتے ہی عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے بزرگ رہنما مولانا احمد میاں حمادی اور مولانا اللہ وسایا راولپنڈی پہنچ گئے۔ ان کی معاونت کے لئے مولانا محمد عبداللہ ، قاری محمد امین ، حکیم قاری محمد یونس ، اراکین شوریٰ ، مجاہد مبلغ مولانا عبدالرؤف الازہری اور مولانا محمد علی صدیقی مبلغ راولپنڈی کمر بستہ ہو گئے ۔ مولانا قاری احسان الحق ، مولانا محمد شریف ہزاروی ، شیخ الحدیث مولانا عبدالرؤف ، مولانا نذیر احمد فاروقی ، اسلام آباد کے جناب کے . ایم سلیم ، مولانا قاری زرین احمد اور دوسرے حضرات راولپنڈی سے ( جن حضرات کے نام یاد نہیں ان سے معذرت ) اپنے رفقاء سمیت ہر روز عدالت عظمیٰ میں تشریف لاتے۔ مسلمانوں کی طرح قادیانیوں نے بھی اس میں گہری دلچسپی لی۔ کارروائی کے آغاز سے عدالت کا ہال اپنی تمام تر وسعتوں کے باوجود ناکافی ہوتا۔ قائد جمعیۃ مولانا فضل الرحمٰن صاحب بھی سماعت کے دوران اسلام آباد تشریف لائے اور مولانا اللہ وسایا صاحب سے نہ صرف کیس کی تفصیلات دریافت فرمائیں ۔ بلکہ ہر قسم کی سرپرستی و اعانت سے نوازا ۔ ۳۰؍ جنوری ۱۹۹۳ء سے ۳؍ فروری ۱۹۹۳ء تک مسلسل پانچ روز سماعت ہوئی ۔ میجر ریٹائرڈ میر افضل اور میجر ریٹائرڈ محمد امین منہاس نے بھی مسلمانوں کی طرف سے اپنا بیان ریکارڈ کرایا۔

قادیانیوں کی بحث ہوگئی تو جناب ریاض الحسن گیلانی کا بیان ہوا ۔ بڑا معتدل ، واضح اور ایمان پرور بیان تھا۔ جناب محمد اسماعیل قریشی نے اپنی ایمانی جرأت سے عدالت عظمیٰ کے در و دیوار کو مسحور کیا ۔ ان کے بیان کا ہر ہر لفظ اہل اسلام کی روح کی بالیدگی اور قادیانیوں کی رگ جان کے لئے نشتر ثابت ہو رہا تھا۔ جناب عزیز اے منشی اٹارنی جنرل آف پاکستان نے متعدد سپریم کورٹوں کے فیصلہ جات ، امریکہ، بھارت ، آسٹریلیا ، فرانس کی عدالتوں کے حوالہ جات دے کر قانونی لحاظ سے جنگ جیت لی ۔ آخری دن پھر قادیانی جماعت کے وکیل فخر الدین جی ابراہیم بوہری نے بحث کو سمیٹا...... عدالت عظمیٰ نے اعلان کیا کہ کوئی شخص اگر عدالت کی معاونت کے لئے اپنا تحریری بیان داخل کرانا چاہئے تو اجازت ہے ۔ عزت مآب جناب راجہ حق نواز صاحب پہلے ہی عدالت سے درخواست کر چکے تھے کہ وہ تحریری بیان داخل کرائیں گے ، چنانچہ راجہ صاحب اور عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے نائب امیر اوّل ، مفکر ختم نبوت، حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی نے علیحدہ علیحدہ اپنے تحریری بیانات عدالت کو بھجوائے ۔ حضرت المخدوم مولانا محمد یوسف لدھیانوی کا بیان ’’عدالت عظمیٰ کی خدمت میں‘‘ کے نام سے عالمی مجلس کے مرکزی دفتر نے شائع کر کے ہزاروں کی تعداد میں شائع کیا ۔ راجہ صاحب نے قانونی طور پر اور حضرت لدھیانوی نے شرعی اور عقلی دلائل سے جہاں اہل اسلام کی بھر پور وکالت فرمائی ۔ وہاں عدالت عظمیٰ کے لئے بھی یہ دونوں بیانات بڑی ہی وقعت رکھتے ہیں ۔

۳؍ فروری ۱۹۹۳ء کو مقدمہ کی سماعت مکمل ہو کر فیصلہ محفوظ ہوا ۔ اس کے ٹھیک دوسرے دن ۵؍ فروری ۱۹۹۳ء کو قادیانی جماعت کے بھگوڑے سر براہ مرزا طاہر نے لندن میں تقریر کرتے ہوئے کہا:

ان مقدمات کو سننے کی طاقت نہیں رکھتی تھی۔ ( یہ سفید جھوٹ ہے۔ حالانکہ خود قادیانی سماعت کی تاخیر کا باعث بنے)

صفحہ ۱۶۷

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

(ماہنامہ بینات کراچی ص۴۰، ۴۱، بابت ماہ اگست ۱۹۹۳ء)

اس اقتباس کے ایک ایک لفظ میں ہزارہا قادیانی سازشوں کا تانا بانا ٹپک رہا ہے۔ اہل اسلام فکر مند تھے۔ اس لئے کہ اگر فیصلہ دلائل کی بنیاد پر ہوتا ہے تو اہل حق کی فتح ظاہر و بین تھی اور اگر ”پالیسی“ کی بنیاد پر ہوتا ہے تو ہزاروں خدشات موجود تھے۔ اللہ رب العزت کا کرم ہوا۔ عدالت عظمیٰ کا وقار بڑھا، قدرت نے دست گیری فرمائی۔ رحمت حق سایہ فگن ہوئی۔ آنحضرت ﷺ کی امت پر شفقتوں و رحمتوں کے نزول میں موسلا دھار بارش کی طرح اضافہ ہوا۔ ورنہ مندرجہ بالا اقتباس کے باعث قادیانی سازش عیاں تھی۔ ماہنامہ ”بینات“ سے ذیل کے اقتباس سے امت محمدیہ کی پریشانی کا آپ اندازہ کر سکتے ہیں۔

”ہم اپنی معزز عدالت سے درخواست کریں گے کہ غلامان محمد عربی ﷺ ، ایک عجمی سازش کے ہاتھوں نہایت ہی مظلوم ہیں۔ خداوند کریم کے احکامات، محمد عربی ﷺ کے فرامین، شریعت محمدیہ، امت مسلمہ کے اجماع، پاکستان و اسلامی ممالک کے فیصلوں، وفاقی شرعی عدالت کے فیصلہ، اپیل بنچ کے فیصلہ، ہائیکورٹ کے فیصلوں کی موجودگی میں ان کے خلاف یہ قادیانی سربراہ کیا بک رہا ہے؟ وہ کیا تاثر دینا چاہتا ہے؟ یہ توہین عدالت کے زمرے میں آتا ہے۔ یہ آپ کی توجہ عالیہ کا مستحق ہے۔ ہر چند کہ بعض ضروری فوری مقدمات کی سماعت کے باعث فیصلہ سنانے میں تاخیر ہوئی۔ مگر اب تاخیر نہیں ہونی چاہئے۔ اسلامیان پاکستان آپ کے فیصلہ کو سننے کے لئے بے تاب ہیں...... عدالت عالیہ میں محفوظ فیصلہ پر رائے زنی کرنا، قادیانی سرشت ہے۔ ہم اس پر قطعاً ایک لفظ قبل از وقت نہ کہتے۔ لیکن قادیانیت کی ہر سازش کا پول کھولنا، قادیانیوں کے سربراہ کے ایک ایک لفظ و حرکت پر نظر رکھنا، اس کا احتساب کرنا ہمارے فرائض میں شامل ہے۔“

(ص۴۹ بالا)

غرضیکہ کفر و اسلام کی اس جنگ میں فریقین نبرد آزما تھے۔ فیصلہ کے صادر ہونے میں جتنی تاخیر ہوتی گئی، اتنے ہی قادیانی پراپیگنڈہ سے مسلمانوں کے کان پک گئے۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے سربراہ حضرت مخدوم المشائخ مولانا خواجہ خان محمد صاحب عمرہ کے لئے حجاز مقدس کے سفر پر تھے۔ وہ سماعت کی کارروائی سے آگاہی حاصل کرنے کے لئے فون کرتے رہے۔ حضرت لدھیانوی کے حکم پر ملک بھر کے دینی مدارس کے تحفیظ القرآن کے مدارس کو اجتماعی دعاؤں کے لئے متوجہ کیا گیا۔ رحمت حق جوش میں آئی اور ۳/جولائی ۱۹۹۳ء کو سپریم کورٹ آف پاکستان نے اکثریت کی بنیاد پر فیصلہ دیا۔ جس کی رو سے تمام قادیانی درخواستیں، اپیلیں، رٹیں خارج کر دی گئیں۔ سپریم کورٹ نے بھی قادیانیوں کے کفر پر مہر لگا دی۔ قادیانیت رسوا ہوئی، اسلام اور مسلمان جیت گئے۔ مرزا طاہر کی نور کی شعاعیں قادیانیت کے لئے ایک بار پھر گھٹا ٹوپ اندھیرا ثابت ہوئیں۔ فالحمدللّٰہ! حمداً کثیراً طیباً مبارکاً فیہ!

صفحہ 168

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

پانچ جج حضرات میں سے چار جج حضرات نے متفقہ فیصلہ سے قادیانی مؤقف کو مسترد کیا اور عزت مآب جسٹس عبدالقدیر چوہدری کے مبارک ہاتھوں سے لکھے ہوئے فیصلہ سے اتفاق کیا۔ ایک جج ، جو خیر سے بینچ کے سربراہ بھی تھے، شفیع الرحمٰن صاحب، انہوں نے جزوی طور پر امتناع قادیانیت آرڈیننس کی بعض شقوں کو آئین سے متصادم قرار دیا۔ گویا انہوں نے بھی اس آرڈیننس کو اسلامی احکامات کے خلاف قرار نہیں دیا، بلکہ پیراگراف نمبر ۴۳ میں واضح طور پر لکھا کہ : ’’جہاں تک دفعہ ۲۹۸۔سی کی شق کا تعلق ہے، اس کی رو سے کسی خاص گروہ یا عام لوگوں کے مذہبی جذبات کو مجروح کرنا قابل تعزیر ٹھہرایا گیا ہے۔ وہ مذہبی آزادی یا آزادی تقریر کے منافی نہیں ہے۔ کسی شخص کو یہ بنیادی حق حاصل نہیں، نہ ہی ایسا حق دیا جاسکتا ہے کہ وہ اپنے مذہب یا عقیدہ کی تبلیغ کرتے وقت دوسروں کے مذہبی جذبات کو مشتعل کرے۔ پس دفعہ ۲۹۸۔سی کی شق (الف) و (ہ) دستور کا آرٹیکل ۱۹، ۲۰ اور ۲۶ (۳) میں شامل احکام کے عین مطابق ہے۔‘‘

دنیا جانتی ہے کہ ہمارا قادیانیوں سے یہی جھگڑا ہے کہ وہ قادیانیت کو جب عین اسلام قرار دے کر پیش کرتے ہیں تو اس سے نہ صرف یہ کہ اسلام کی توہین ہوتی ہے، بلکہ مسلمانوں کا تشخص اور دل بھی مجروح ہوتا ہے۔

البتہ جسٹس موصوف نے تحریر کیا کہ: ’’کسی احمدی کا ایسا بیج لگانا، جس پر کلمہ طیبہ لکھا ہوا ہو، نہ تو مسلمانوں کے جذبات مشتعل کرنے کا مترادف ہے، نہ ہی خود کو مسلمان ظاہر کرنے کے برابر۔‘‘

(ملاحظہ ہو پیراگراف نمبر ۲۲)

اس سلسلہ میں عرض ہے کہ جسٹس خلیل الرحمٰن صاحب اپنے فیصلہ میں قرار دے چکے ہیں کہ قادیانی جب ’’محمد رسول اللہ‘‘ کہتے ہیں تو اس سے ان کی مراد مرزا غلام احمد قادیانی ہوتا ہے۔ جیسا کہ ان کے لٹریچر سے ثابت ہے۔ نیز ایک شخص شراب کی بوتل پر آب زم زم کا بورڈ لگا دے یا بکرے کے گوشت کا بورڈ لگا کر خنزیر کا گوشت فروخت کرے تو کیا یہ قابل اعتراض و قابل گرفت ہے یا نہیں؟ کفر کے سینہ پر کلمہ طیبہ کا بورڈ لگا دینا بھی اسی طرح ہی ہے۔ نہ معلوم اتنی عام فہم بات ہمارے جج صاحب کی سمجھ میں کیوں نہیں آئی۔ جسٹس شفیع الرحمٰن صاحب سے درخواست ہے کہ یہ آپ کا پہلا اعتراض نہیں، آپ سے پہلے آپ کے پیشہ سے تعلق رکھنے والے جسٹس منیر صاحب یہ سوال کر چکے ہیں اور اس کا امت محمدیہ ﷺ کی طرف سے جواب بھی دیا جاچکا ہے۔ اسلامی شعائر و مخصوص اصطلاحات قادیانی استعمال کریں تو کیوں نا قابل برداشت ہے؟ سوال و جواب ملاحظہ ہو:

قاضی احسان احمد شجاع آبادی مرحوم امیر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت نے فرمایا کہ : ’’تحقیقاتی عدالت میں یہ بات بھی سامنے آئی تھی کہ مسلمان لوگ مرزائیوں کی تقریروں اور تحریروں سے اس لئے بھی مشتعل ہوتے ہیں کہ یہ لوگ مسلمانوں کی مخصوص اصطلاحات کو استعمال کرتے ہیں۔ مثلاً یہ لوگ مرزا قادیانی کی بیوی کو سیدۃ النساء کہتے ہیں۔ اس پر مسٹر منیر نے مرزائی وکیل سے سوال کیا تو اس نے جواب دیا کہ سیدۃ النساء کا معنی ہے : ’’عورتوں کی سردار‘‘ اس لئے ہم کہتے ہیں کہ ہمارے مرزا قادیانی کی بیوی صاحبہ اپنے فرقہ کی عورتوں کی سردار تھیں۔ اس پر مسٹر منیر نے میری طرف دیکھا تو میں نے کھڑے ہو کر کہا : جناب اگر چماروں کی کوئی پنچائت ہو اور ان کا سرپنچ کسی معاملہ کا فیصلہ کرے اور پھر ان چماروں میں سے کوئی آدمی سرپنچ کی جگہ چیف جسٹس کا لفظ بولے اور یوں کہے کہ ہمارے چیف جسٹس نے یوں فیصلہ دیا ہے تو کیا اس طرح کہنا جائز ہوگا؟ مسٹر منیر نے کہا : ”Never“ یعنی ہرگز نہیں۔ قانوناً اس طرح کہنا جائز نہ ہوگا کیونکہ یہ لفظ عدالت عالیہ کے ججوں کے لئے مخصوص ہے۔ اس پر میں نے کہا کہ یہ لوگ ہم مسلمانوں کی اصطلاحیں استعمال کرتے ہیں اور مرزا قادیانی کی بیوی کو سیدۃ النساء کہتے ہیں۔ حالانکہ یہ لفظ کسی نبی کی بیوی کے لئے نہیں بولا گیا۔ خود حضور نبی اکرم ﷺ کی بیویوں کے لئے نہیں بولا گیا بلکہ حضور ﷺ کی

صفحہ ۱۶۹

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۳ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

تین بیٹیوں کے لئے بھی نہیں بولا گیا۔ یہ لفظ صرف حضور ﷺ کی چوتھی بیٹی حضرت فاطمۃ الزہراء رضی اللہ عنہا کے لئے مخصوص ہے، جس کو اب یہ لوگ بلا تکلف استعمال کرتے ہیں اور مسلمانوں کا دل دکھاتے ہیں، چنانچہ میں نے اخبار ”الفضل“ نکال کر دکھایا جس میں مرزا قادیانی کی بیوی کے انتقال کے موقع پر پہلے صفحہ پر جلی حروف میں یہ سرخی دی گئی تھی ”سیدۃ النساء کا انتقال“ اس پر ججوں نے کہا تھا کہ اس پر مسلمانوں کا مشتعل ہونا حق بجانب ہے۔“

(تذکرہ مجاہدین ختم نبوت ص ۱۸۳، ۱۸۴)

جسٹس منیر ایسا قادیانی نواز شخص تو اس جواب پر مطمئن ہو گیا تھا، نہ معلوم جسٹس شفیع صاحب مطمئن ہوئے یا نہیں، تاہم یہ ان کا معاملہ ہے لیکن اتنی درخواست ضرور ہے کہ وہ جسٹس منیر کے انجام کو ضرور سامنے رکھیں کہ آج بھی پارلیمنٹ سے لے کر عدالت تک ہر شخص اس پر پھٹکار بھیجتا ہے۔ ”فاعتبروا یا اولی الابصار“ قدرت حق کا کرشمہ دیکھئے کہ بنچ کے سربراہ کے فیصلہ کے خلاف چاروں معزز اراکین بنچ کا متفق ہو جانا ، ہمارے خیال میں ...... اتنا ہی کافی ہے۔ (اس سے بڑھ کر حق کی اور کیا فتح ہو سکتی ہے)

جناب جسٹس شفیع الرحمن صاحب کے تمام خدشات مزعومہ کا عزت مآب جسٹس عبد القدیر چودھری صاحب کے گرانقدر قیمتی وسنہری حروف سے لکھے جانے کے لائق تاریخی فیصلہ میں، جواب آ گیا ہے۔ لہٰذا محض طوالت سے بچنے کی غرض سے اس پر مزید تبصرہ کی چنداں ضرورت نہیں۔

اس تاریخی فیصلہ کا ہمارے قابل احترام جناب نواب کے. ایم سلیم صاحب راولپنڈی نے ترجمہ کیا مگر قانونی اصطلاحات کے استعمال کی ترجمانی کے لئے اس پر خود مطمئن نہ تھے۔ عالمی مجلس کے قانونی مشیر اور کرم فرما شیخ جہانگیر ایڈووکیٹ سرگودھا نے بھی اس کا ترجمہ کیا۔ اتنے میں جناب مجاہد لاہوری کا ترجمہ شدہ فیصلہ ہفت روزہ ”زندگی“ لاہور میں شائع ہو گیا۔ ترجمہ میں بعض حوالہ جات کے صفحات، نیز فیصلہ میں حوالہ دی گئی۔ کتب کے ایڈیشن تبدیل ہو جانے کے باعث صفحات کے ردو بدل کے خدشہ کے پیش نظر ہم نے بین القوسین مرزا قادیانی کی کتب کے سیٹ ”روحانی خزائن“ طبع جدید کے حوالہ جات دے دیئے ہیں تاکہ قارئین کو کتابوں کے حوالہ جات میں وقت نہ ہو۔ بین القوسین اس لئے کہ وہ فیصلہ کا حصہ بھی شمار نہ ہوں۔ ان معروضات کے بعد اب فیصلہ پڑھئے۔ جس طرح اہل اسلام کے مؤقف کی عدالت عظمیٰ سے قدرت نے تصدیق کرا دی ہے۔ خدا کرے اسی طرح یہ اہل اسلام کے ایمان کی زیادتی اور قادیانیوں کی ہدایت ایمانی کا باعث ثابت ہو۔ امین بحرمۃ النبی الامی الکریم!

اسلام زندہ باد، ختم نبوت زندہ باد۔ قادیانیت مردہ باد۔ قادیانی نواز مردہ باد۔

دعاگو: عزیز الرحمن جالندھری ۲/نومبر ۱۹۹۳ء خادم عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت صدر دفتر ملتان، پاکستان

بحضور سپریم کورٹ آف پاکستان (بصیغہ اپیل):

سماعت کنندہ بنچ:

۞....... جسٹس شفیع الرحمن ....... ۞....... جسٹس عبد القدیر چودھری ....... ۞....... جسٹس محمد افضل لون ۞....... جسٹس ولی محمد خان ....... ۞....... جسٹس سلیم اختر

فوجداری اپیل نمبر ۳۱ / کے تا ۳۵ / کے لغایت ۱۹۸۸ء:

(بلوچستان ہائیکورٹ کوئٹہ کے فیصلہ مؤرخہ ۲۲؍دسمبر ۱۹۸۷ء کے خلاف اپیل جو کہ فوجداری (نظر ثانی کی) درخواست ہائے

صفحہ ۱۷۰

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۳ء

ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

نمبر ۳۸/۸۷ تا ۴۲/۸۷ میں سنایا گیا تھا)

فوجداری اپیل نمبر ۳۱ کے ۱۹۸۸ء:

ظہیر الدین ...... اپیلانٹ

سرکار ...... مسئول الیہ

فوجداری اپیل نمبر ۳۲ کے ۱۹۸۸ء:

رفیع احمد ...... اپیلانٹ

بنام

سرکار ...... مسئول الیہ

فوجداری اپیل نمبر ۳۳ کے ۱۹۸۸ء:

عبدالمجید ...... اپیل کنندہ

بنام

سرکار ...... مسئول الیہ

فوجداری اپیل نمبر ۳۴ کے ۱۹۸۸ء:

عبدالرحمن خاں ...... اپیل کنندہ

بنام

سرکار ...... مسئول الیہ

فوجداری اپیل نمبر ۳۵ کے ۱۹۸۸ء:

چوہدری محمد حیات ...... اپیلانٹ

بنام

سرکار ...... مسئول الیہ

فوجداری اپیل نمبر ۱۴۹، ۱۵۰ بابت ۱۹۸۹ء:

(لاہور ہائیکورٹ کے فیصلہ مؤرخہ ۲۵ ستمبر ۱۹۸۴ء کے خلاف اپیل جو بین العدالت اپیل نمبر ۱۱۵۸/۸۴ اور نمبر ۱۶۰/۸۴ میں سنایا گیا تھا)

فوجداری اپیل نمبر ۱۴۹/۸۹:

مجیب الرحمن درد ...... اپیلانٹ

بنام

پاکستان بذریعہ سیکرٹری وزارت قانون و پارلیمانی امور اسلام آباد ...... مسئول الیہ

دیوانی اپیل نمبر ۱۵۰/۸۹:

......۱ شیخ محمد اسلم

صفحہ ۱۷۱

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

بنام

دیوانی اپیل نمبر ۴۱۲، لغایت ۱۹۹۲ء :

(لاہور ہائیکورٹ کے فیصلہ مؤرخہ ۱۷/ ستمبر ۱۹۹۱ء کے خلاف اپیل جو رٹ پٹیشن نمبر ۸۹/ ۲۰۸۹ میں سنایا گیا تھا)

بنام

پیروی:

فوجداری اپیل نمبر ۳۱ تا ۳۵ لغایت ۱۹۸۸ء میں اپیل کنندگان کی طرف سے فخر الدین جی ابراہیم سینئر ایڈووکیٹ ، مجیب الرحمٰن ، مرزا عبد الرشید اور ایس علی احمد طارق ایڈووکیٹ پیش ہوئے جب کہ سرکار کی پیروی اعجاز یوسف ، ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل بلوچستان نے کی ۔

فوجداری اپیل نمبر ۳۱ / ۸۸ میں مستغیث کی پیروی راجہ حق نواز ایڈووکیٹ اور ایم ۔ اے ۔ آئی قرنی ایڈووکیٹ آن ریکارڈ (غیر حاضر ) نے کی ۔

دیوانی اپیل نمبر ۱۴۹ ، نمبر ۱۵۰ / ۸۸ میں اپیل کنندگان کی طرف سے فخر الدین جی ابراہیم سینئر ایڈووکیٹ ، عزیز احمد باجوہ ، چوہدری اے وحید سلیم سینئر ایڈووکیٹ ، مجیب الرحمٰن اور حمید اسلم قریشی ایڈووکیٹ آن ریکارڈ پیش ہوئے ۔

دیوانی اپیل نمبر ۴۱۲ / ۹۲ میں اپیل کنندگان کی پیروی چوہدری عزیز احمد باجوہ ، سی ۔ اے رحمان اور حمید اسلم قریشی ایڈووکیٹ آن ریکارڈ نے کی ۔

دیوانی اپیل نمبر ۱۴۹ ، ۱۵۰ لغایت ۱۹۸۹ء اور ۴۱۲ / ۹۲ میں وفاقی حکومت کی طرف سے ڈاکٹر ریاض الحسن گیلانی (صرف یکم/ فروری ۱۹۹۳ء اور ۲/ فروری ۱۹۹۳ء کو ) سید عنایت حسین ایڈووکیٹ آن ریکارڈ (صرف ۳/ فروری ۱۹۹۳ء کو ) گلزار حسین ایڈووکیٹ آن ریکارڈ (غیر حاضر ) اور چوہدری اختر علی ایڈووکیٹ آن ریکارڈ پیش ہوئے ۔

صفحہ ۱۷۲

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۳ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

دیوانی اپیل نمبر ۴۱۲/۹۲ میں مسئول الیہ نمبر ۱ کی پیروی مقبول الہی ملک ایڈووکیٹ جنرل پنجاب، ایم. ایم سعید بیگ، راؤ محمد یوسف خان ایڈووکیٹ آن ریکارڈ نے کی۔

دیوانی اپیل نمبر ۴۱۲/۹۲ میں مسئول الیہ نمبر ۴ کی طرف سے ایم. اسماعیل قریشی سینئر ایڈووکیٹ اور سید عبد العاصم جعفری ایڈووکیٹ آن ریکارڈ پیش ہوئے۔

عدالت کے نوٹس پر مسٹر عزیز اے منشی اٹارنی جنرل، ممتاز علی مرزا ڈپٹی اٹارنی جنرل، اعجاز یوسف ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل بلوچستان، ایم سردار خان ایڈووکیٹ جنرل صوبہ سرحد، مقبول الہی ملک ایڈووکیٹ جنرل پنجاب، غفور منگی ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل سندھ پیش ہوئے۔ جب کہ عام لوگوں کی نمائندگی میجر (ریٹائرڈ) امیر فضل خان اور میجر (ریٹائرڈ) امین منہاس نے کی۔

تاریخ ہائے سماعت: ۳۰، ۳۱/جنوری، یکم، ۲، ۳/فروری ۱۹۹۳ء بمقام راولپنڈی

فیصلہ کی تاریخ: ۳/جولائی ۱۹۹۳ء

فیصلہ

جسٹس شفیع الرحمٰن

سرگرمیوں (ممانعت اور سزا) کا آرڈیننس نمبر ۲۰ مجریہ ۱۹۸۴ء جسے مختصراً امتناع قادیانیت آرڈیننس کہا جاتا ہے، آئین کے دائرہ سے خارج ہے؟ اگر ایسا نہیں ہے تو کیا زیر غور پانچوں فوجداری اپیلوں میں دی گئی سزائیں مذکورہ بالا آرڈیننس کی دفعہ ۵ کے مطابق ہیں؟

پہلے دائر کی گئی تھی۔ یہ اپیل آرڈیننس کے نفاذ کی تاریخ (۲۶/ اپریل ۱۹۸۴ء) کے صرف ڈیڑھ ماہ بعد یعنی ۳۰/ مئی ۱۹۸۴ء کو دائر کی گئی۔ جس میں حسب ذیل دادرسی کی التجاء کی گئی تھی۔

یہ آئینی درخواست ۱۲/ جون ۱۹۸۴ء کو ابتدائی سماعت کے دوران ہی اس بناء پر خارج کر دی گئی کہ آرٹیکل ۲۰۳-ڈی اس کی راہ میں مانع ہے۔ ایک بین العدالتی اپیل بھی ۲۵/ ستمبر ۱۹۸۴ء کو اس میں مذکور وجوہات پر غور کرتے ہوئے ابتدائی سماعت کے دوران خارج کر دی گئی۔ بہر حال ۲۸/ فروری ۱۹۸۹ء کو سپریم کورٹ میں اپیل دائر کرنے کی اجازت دے دی گئی تاکہ متنازع آرڈیننس نمبر ۲۰ مجریہ ۱۹۸۴ء کا، بنیادی حقوق (آرٹیکل ۱۹) اظہار خیال کی آزادی آرٹیکل ۲۰، مذہبی آزادی، آرٹیکل ۲۵ شہریوں کی قانون کی نظر میں برابری کی کسوٹی پر جائزہ لیا جا سکے۔

ہمارے سامنے ہے۔ اس اپیل میں ۶/ جون ۱۹۸۴ء کو بعض تبدیلیاں کی گئیں۔ اس درخواست میں حسب ذیل درخواست کی گئی تھی۔

صفحہ ۱۷۳

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

یہ درخواست بھی ۱۲؍ جون ۱۹۸۲ء کو ابتدائی سماعت کے دوران اس بناء پر خارج کر دی گئی کہ آرٹیکل ۲۰۳۔ڈی اس کی سماعت میں مانع ہے۔ بین العدالتی اپیل بھی ۲۵؍ ستمبر ۱۹۸۴ء کو تمام وجوہات پر بحث کرنے کے بعد اور آرٹیکل ۲۰۳۔ڈی کو قابلِ تائید قرار دیئے بغیر خارج کر دی گئی۔ جہاں تک بنیادی حقوق کی خلاف ورزی کا تعلق ہے، اس کے بارے میں اپیل بنچ نے حسب ذیل رائے کا اظہار کیا۔

’’اگر ۱۹۷۳ء کا دستور مکمل حالت میں نافذ ہوتا تو درخواست گزار کی دلیل پر غور کیا جا سکتا تھا۔ لیکن ایسا نہیں ہے۔ کیونکہ جولائی ۱۹۷۷ء سے اب تک تین ماورائے آئین دستاویزات نے اس کی آب و تاب چھین لی ہے اور وہ اس پر سایہ فگن ہو گئی ہیں۔ ان میں سے پہلی دستاویز مارشل لاء کے نفاذ کا صدارتی فرمان ہے۔ جو ۵؍ جولائی ۱۹۷۷ء سے نافذ پذیر ہوا اور اس کی رو سے آئین کو معطل کر دیا گیا۔ دوسرا چیف مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر کا حکم مجریہ ۱۹۷۷ء ہے جو قوانین کے تسلسل کا حکم مجریہ ۱۹۷۷ء بھی کہلاتا ہے۔ اگرچہ اس حکم کی دفعہ ۲(i) میں منجملہ دیگر باتوں کے، یہ کہا گیا تھا کہ پاکستان پر جہاں تک ممکن ہوگا، دستور کے مطابق حکومت کی جائے گی۔ لیکن اسی دفعہ کی شق (iii) نے تمام بنیادی حقوق کو معطل کر دیا۔ تیسری دستاویز عبوری دستور کا حکم مجریہ ۱۹۸۱ء ہے جو ۲۴؍ مارچ ۱۹۸۱ء سے نافذ العمل ہوا۔ اس حکم کی دفعہ ۲ میں ۱۹۷۳ء کے دستور کے متعدد احکام کو اپنا لیا گیا۔ یہ بات قابل غور ہے کہ اختیار کردہ احکام میں آرٹیکل ۲۰ (مذہب کی پیروی اور اس پر عمل کرنے کا حق) سمیت کوئی بنیادی حق شامل نہیں ہے۔ اپیل کنندگان کا تمام تر انحصار آرٹیکل ۲۰ پر ہے، جو کہ دیگر تمام بنیادی حقوق کی طرح سردست قابل نفاذ نہیں ہے۔ لہٰذا یہ اپیل گزاروں کے اس دعویٰ کے بارے میں خاموش ہے کہ محولہ بالا آرٹیکل آرڈیننس پر حاوی ہے اور صدر کے اختیار کا حصہ ہے۔ پس ہم اپیل کنندگان کے اس مؤقف کو مسترد کرتے ہیں کہ موجودہ آئینی پوزیشن کے تحت بھی آرڈیننس جاری کرتے وقت صدر پر ان پابندیوں کا اطلاق ہوتا ہے جو بنیادی حقوق میں مذکور ہیں۔‘‘

۲۸؍ فروری ۱۹۸۹ء کو اپیل کی اجازت دے دی گئی۔ جس کے نتیجہ میں دیوانی اپیل نمبر ۴۹ بابت ۱۹۸۹ء دائر کی گئی۔

صفحہ ۱۷۴

ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۳ء

۵...... نذیر احمد تونسوی نے ایسی ہی دو اور رپورٹیں مؤرخہ ۲۷ / مارچ ۱۹۸۵ء کو درج کرائیں ۔ ابتدائی رپورٹ نمبر ۴۹ لغایت ۱۹۸۵ء میں ظہیر الدین کے خلاف ( جو کہ فوجداری اپیل نمبر ۳۱ کے لغایت ۱۹۸۸ء میں مدعی ہے ) جو شکایت کی گئی ، اس میں کہا گیا ہے کہ ظہیر الدین کے ساتھ ایک بجے دوپہر بازار میں مڈھ بھیڑ ہوئی تو وہ کلمہ طیبہ کا بیج لگائے ہوئے خود کو مسلمان ظاہر کر رہا تھا۔ اس کے خلاف زیردفعہ ۲۹۸-سی (ت.پ) کارروائی کی گئی اور ایک سال قید با مشقت نیز ایک ہزار روپے جرمانہ کی سزا دی گئی ۔ عدم ادائیگی جرمانہ کی صورت میں اسے ایک مہینے کی قید بامشقت بھگتنا پڑی ۔ سزا یابی اور قید کے خلاف اس کی اپیل نیز نظر ثانی کی درخواست خارج کر دی گئی ۔ دوسری ابتدائی رپورٹ نمبر ۵۰ لغایت ۱۹۸۵ء ایسے ہی حقائق پر مبنی عبدالرحمن نامی شخص کے خلاف درج کرائی گئی جو کہ فوجداری اپیل نمبر ۳۴ کے لغایت ۱۹۸۸ء میں درخواست گزار ہے ۔ وہ نذیر احمد تونسوی کو تین بج کر تیس منٹ پر بازار میں ملا تھا ۔ اسے بھی قصور وار قرار دے کر ایک سال قید با مشقت ، ایک ہزار روپیہ عدم ادائیگی کی صورت میں ایک ماہ قید با مشقت کی سزا دی گئی ۔ اس کی اپیل اور نظر ثانی کی درخواست بھی مسترد کر دی گئی تھی ۔ ان دونوں مقدموں میں سپریم کورٹ میں اپیل دائر کرنے کی اجازت دے دی گئی جیسا کہ فوجداری اپیل نمبر ۳۵ کے ۱۹۸۸ء میں کیا گیا تھا ۔

۶...... مؤرخہ ۱۱/ اپریل ۱۹۸۵ء کو ایک دوکاندار حاجی باز محمد نے رپورٹ درج کرائی (ایف.آئی.آر نمبر ۵۹/۸۵ سٹی پولیس اسٹیشن کوئٹہ ) جس میں شکایت کی گئی تھی کہ اس کی دوکان پر کلمہ طیبہ کا بیج لگائے ہوئے ایک گاہک آیا۔ جس نے اپنا نام مجید بتایا ۔ ( جو فوجداری اپیل نمبر ۳۳ کے ۱۹۸۸ء میں مدعی ہے ) اور قادیانی ہونے کا دعویٰ کیا ۔ اس کے خلاف زیردفعہ ۲۹۸-سی تعزیرات پاکستان مقدمہ چلایا گیا اور ایک سال قید با مشقت کے ساتھ ایک ہزار روپیہ جرمانہ ( عدم ادائیگی کی صورت میں ایک مہینہ قید با مشقت ) کی سزا دی گئی ۔ اس کی اپیل اور نظر ثانی کی درخواست ناکام ہوگئی ۔ سپریم کورٹ نے اسے اپیل کی اجازت دی ، جس پر فوجداری اپیل نمبر ۳۵ کے لغایت ۱۹۸۸ء دائر کی گئی ۔

۷...... مؤرخہ ۸ / مئی ۱۹۸۵ء کو ایک اور دوکاندار محمد عظیم نے سٹی پولیس اسٹیشن کوئٹہ میں رپورٹ درج کرائی (ابتدائی رپورٹ نمبر ۷۴/۸۵) اس میں شکایت کی گئی تھی کہ رفیع احمد ( فوجداری اپیل نمبر ۳۲ کے ۱۹۸۸ء میں اپیل گزار ) کلمہ طیبہ کا بیج لگا کر اس کی دوکان پر آیا۔ حالانکہ وہ قادیانی تھا۔ اسے زیردفعہ ۲۹۸-سی تعزیرات پاکستان ایک برس کی قید با مشقت اور ایک ہزار روپیہ ( عدم ادائیگی کی صورت میں ایک مہینے کی قید ) کی سزا دی گئی ۔ اپیل اور نظر ثانی کی درخواست نامنظور ہونے پر اس نے سپریم کورٹ میں فوجداری اپیل نمبر ۳۵ کے ۱۹۸۸ء دائر کی ۔

۸...... مؤرخہ ۱۲/اپریل ۱۹۸۹ء کو آئینی درخواست (نمبر ۲۰۸۹/۸۹) دائر کی گئی جس میں حکومت پنجاب کے صادر کردہ مؤرخہ ۲۰/مارچ ۱۹۸۹ء کے فیصلہ اور اس پر عملدرآمد کے لئے ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ جھنگ کے حکم ۲۱/مارچ ۱۹۸۹ء نیز ریذیڈنٹ مجسٹریٹ ربوہ کے حکم مجریہ ۲۵/مارچ ۱۹۸۹ء کو جس کی رو سے تاحکم ثانی اس میں توسیع کی گئی تھی، چیلنج کیا گیا تھا ان فیصلوں اور احکام کے نتیجہ میں ضلع جھنگ کے قادیانیوں کو درج ذیل سرگرمیوں میں ملوث ہونے سے منع کیا گیا تھا ۔

صفحہ ۱۷۵

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۳ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

ہائیکورٹ نے ایک جامع فیصلہ کے ذریعے اس پٹیشن کو خارج کر دیا۔ بعد ازاں سپریم کورٹ میں دیوانی اپیل نمبر ۴۱۲/۹۲ دائر کی گئی۔

قادیانیوں کے خلاف مقدمات :

۱۹۸۴ء کے امتناع قادیانیت آرڈیننس نمبر ۲۰ کی آئینی حیثیت کو زیادہ نشانہ تنقید بنایا ہے۔ ان کے نزدیک یہ آرڈیننس غیر معقول حد تک نامنصفانہ ، قابل نفرت انداز میں مبہم و بے معنی ، انصاف کی راہ سے بھٹکا ہوا ، امتیاز برتنے والا ، متعصب ذہن کی پیداوار ، بدنیتی پر مبنی اور سراسر غیر آئینی ہے۔ جس سے دستور کے آرٹیکل ۱۹، ۲۰ اور ۲۵ کی خلاف ورزی ہوئی ہے۔ فاضل وکیل کے مطابق دستور میں دوسری ترمیم کی رو سے قادیانیوں اور احمدیوں کو غیر مسلم قرار دیا جا چکا ہے۔ آرٹیکل ۲۶۰ کی شق (۳) کے تحت قادیانیوں اور احمدیوں کو غیر مسلموں سے ممیز کرتے ہوئے ان کے مذہبی معمولات ، تقاریر اور عقائد پر امتناع پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔ ۱۹۹۲ء تک اس خاص اقلیت کے خلاف ۳۱۲۰ فوجداری مقدمات قائم ہوئے ۔ ۱۰۸۴ مقدمات ( صدارتی آرڈیننس کی خلاف ورزی ...... مترجم ) پنج وقتہ نماز کی ادائیگی کے سلسلہ میں ۶۹۱ مقدمات ،کلمہ طیبہ کے استعمال پر ۳۶ مقدمات اذان دینے کی بابت ۲۵۱ قادیانیت کی تبلیغ کے بارے میں ، ۲۷۶ خود کو مسلمان ظاہر کرنے کے خلاف اور ۵۲ عربی جملے السلام علیکم ،نصر من اللہ اور میلاد النبی وغیرہ کے استعمال کے حوالہ سے درج ہو چکے ہیں جو کہ ان کے اظہار خیال کی آزادی اور مذہب کی پیروی نیز اس پر عمل کرنے کے حق پر سنگین حملہ کے مترادف ہیں۔ اس سے ان کے ساتھ روا رکھا گیا امتیازی سلوک ظاہر ہوتا ہے۔ وہ معمولات جن کی ادائیگی پر ان کے خلاف مقدمے درج کئے گئے ہیں ، از روئے آئین اقلیت کے مذہبی معمولات قرار دیئے جاچکے ہیں۔ جیسا کہ عبد الرحمن مبشر ۳ دیگران بنام سید امیر علی شاہ بخاری و۴ دیگران (پی .ایل .ڈی ۱۹۷۸ء لاہور ۱۱۳) ، مجیب الرحمن ، ۳ دیگران بنام وفاقی حکومت پاکستان ، دیگر (پی .ایل .ڈی ۱۹۸۵ء ، ایف .ایس .سی ۸) (دیکھئے ص ۸۹، ۹۳) مزید برآں نفاذ شریعت ایکٹ ۱۹۹۱ء بھی غیر مسلموں کو اپنے مذہب پر عمل کا حق دیتا ہے۔ انہوں نے ہماری توجہ دستور کے آرٹیکل ۲۰ کی طرف مبذول کراتے ہوئے زور دے کر یہ بات کہی کہ آرٹیکل ۲۰ دستور کی ان دفعات میں سے ہے ، جنہیں ہنگامی حالت کے دوران بھی معطل نہیں کیا جا سکتا۔ اس سوال پر کہ مذہب سے کیا مراد ہے؟ فاضل وکیل نے درج ذیل مقدمات کا حوالہ دیا:

Lakshmindra Thirtha Swamiar of Sri Shirur Mutt (AIR. 1954 S.C. 388)

(AIR. 1954 S.C. 388)

صفحہ ۱۷۶

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۳ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

3- Ramanasramam by its Secretary G. Sambasiva Rao and others vs. The Commissioner for Hindu Religious and Charitiable Endowments Madras (AIR. 1961 Madras. 265)

انہوں نے شریف الدین پیرزادہ کی تصنیف Fundamental Right & Constitutional Remedies in Pakistan. (Page:319) کا بھی حوالہ دیا جس کا تعلق دستور کے سابقہ آرٹیکل ۱۰ (مذہب کی پیروی اور مذہبی اداروں کے انتظام کے حق) سے ہے۔ نیز آرٹیکل ۲۰ کے بارے میں جسٹس تنزیل الرحمٰن کے مؤقف کا بھی ذکر کیا جو Constitution & the" "Freedom of Religion کے زیر عنوان ”پی۔ایل۔ڈی ۱۹۸۹ء جرنل ۱۷ میں شائع ہوچکا ہے۔ انہوں نے ہماری توجہ اے۔کے بروہی کی کتاب "(Fundamental Law of Pakistan (P:317" اور جسٹس ڈاکٹر نسیم حسن شاہ کے مضمون "Quaid-e-Azam's Contribution to the Cause of Human Rights (PLD. 1977, Journal 13, Paras 617)" کی طرف بھی مبذول کرائی، جن میں دستور کے آرٹیکل ۲۰ کے دائرہ میں آنے والے بنیادی حقوق سے بحث کی گئی ہے۔

فاضل وکیل نے ان محدود معانی کی وضاحت بھی کی جو آرٹیکل ۲۰ میں استعمال کی گئی ترکیب "Subject to Law" (قانون کے تابع رہتے ہوئے) کو سپریم کورٹ نے درج ذیل مقدمات میں پہنائے ہیں۔

(پی۔ایل۔ڈی ۱۹۵۷ء ایس سی ۹ ص ۴۱)

(پی۔ایل۔ڈی ۱۹۵۷ء ایس سی ۹ ص ۴۱)

(پی۔ایل۔ڈی ۱۹۸۳ء ایس سی ۲۷۱)

قانونی ابہام اور مخصوص معانی جو ترکیب ”خود کو مسلمان ظاہر کرنا“ کو پہنائے جاسکتے ہیں، کے سوال پر فاضل وکیل نے کرافورڈ کی تالیف "(Statutory Construction- Inerpretation of Statutes. (P:339" نیز حاجی غلام ضامن و دیگر بنام اے. بی خوند کر و دیگران (پی.ایل.ڈی ۱۹۶۵ء ڈھاکہ ۱۵۶ ص ۱۸۰) کے . اے عباس بنام یونین آف انڈیا و دیگر (اے.آئی.آر ۱۹۷۱ء ایس.سی ۴۸۱ ص ۴۷۹) اور اسٹیٹ آف مدھیہ پردیش و دیگر بنام بلد یو پرشاد (اے.آئی.آر ۱۹۶۱ء ایس.سی ۲۹۳) کا حوالہ دیا۔

آخر میں فاضل وکیل نے اس رائے کا حوالہ دیا جو اس قانون کے بارے میں بین الاقوامی برادری نے رپورٹوں کی صورت میں قائم کی ہے اور ماہرین قانون کی بین الاقوامی کمیٹی نے ایسی رپورٹیں ۱۹۸۷ء میں جب کہ ایمنسٹی انٹرنیشنل نے ۱۹۹۱ء میں پیش کی تھیں۔

اپیلانٹ کا مؤقف :

وتشریح اس غرض سے کی ہے کہ ان فوجداری مقدمات کو جو کلمہ طیبہ کے بیج پہننے پر درج کئے گئے تھے، اس آرڈیننس کے دائرہ اثر سے خارج کیا جائے۔ ان کا استدلال یہ تھا کہ یہ قانون لاہور ہائیکورٹ کے فیصلہ کے پس منظر میں نافذ کیا گیا جو اس نے عبدالرحمٰن مبشر کے مقدمہ (پی.ایل.ڈی ۱۹۷۸ء لاہور ۱۱۳) میں سنایا تھا۔ کلمہ طیبہ پڑھنے یا اس غرض سے کلمہ طیبہ والا بیج لگانے کو قادیانیوں کے جائز معمولات میں سے

صفحہ ۱۷۷

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

ایک سمجھا گیا اور اسے زیر بحث قانون میں واضح طور پر خارج نہیں کیا گیا۔ انہوں نے اس اصول کا سہارا لیا کہ بعض فوجداری قوانین میں بعض معمولات کو جرم قرار دینے کی غرض سے ان کا صریح ذکر اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ دیگر تمام معمولات اس سے خارج ہیں، جن کا صراحت کے ساتھ ذکر نہیں کیا گیا۔ اس اصول کی تائید میں انہوں نے "Maxwell on the Interpretation of Statutes by P.St. J.Langan (12th Edition p:293)"

کرافورڈز کی کتاب "Statutory Construction (p:334)" کا حوالہ دیا۔ دوسرا اصول جس پر انہوں نے انحصار کیا، یہ ہے کہ یہ آرڈیننس ایک تعزیری قانون ہے۔ اس لئے اس کی تعبیر احتیاط سے کرنی چاہئے اور اسے دیگر قوانین پر سبقت نہیں دینی چاہئے۔ اس غرض کے لئے انہوں نے رحمت اسلم بنام دی کراؤن (پی ایل ڈی ۱۹۵۲ء لاہور ۵۷۸) مظہر علی خاں ، پرنٹر و پبلشر روزنامہ ”امروز“ بنام گورنر پنجاب (پی ایل ڈی ۱۹۵۴ء لاہور ۱۴) خضر حیات و پانچ دیگران بنام کمشنر سرگودھا ڈویژن اور ڈپٹی کمشنر سرگودھا (پی ایل ڈی ۱۹۶۵ء لاہور ۳۴۹) قاسو و دو دیگران بنام سرکار (پی ایل ڈی ۱۹۲۹ء لاہور ۲۸) میسرز ہرجینا اینڈ کمپنی (پاکستان) لمیٹڈ ، کراچی بنام کمشنر سیلز ٹیکس سنٹرل، کراچی (۱۹۷۱ء ایس سی ایم آر ۱۲۸) اور محمد علی بنام سٹیٹ بینک آف پاکستان ، کراچی و دیگر (۱۹۷۳ء ایس سی ایم آر ۱۲۰) پر انحصار کیا۔

فاضل وکیل مسٹر مجیب الرحمن نے یہ دلیل بھی پیش کی کہ لفظ "Oath" (حلف) کو اس کے سیاق و سباق میں لینا چاہئے اور یہ اصول پیش نظر رکھنا چاہئے کہ کسی لفظ کے معنی اس کے ساتھ آنے والے الفاظ کی مدد سے معلوم کئے جاتے ہیں۔ اس وسعت کو کوئی ایسی چیز شامل کر کے جس کا ذکر اس میں موجود نہ ہو، پھیلایا نہیں جا سکتا۔ انہوں نے اس کی تشریح کی اور Ejusdem Generis کے اصول (جس سے مراد یہ ہے کہ قوانین کی تشریح کرتے وقت جہاں افراد یا اشیاء کی گنتی میں عام الفاظ آتے ہوں تو خصوصی الفاظ کے ذریعے ان عام الفاظ کا وسیع تر مفہوم مراد نہ لیا جائے) کا اطلاق کر کے قانون کے دائرہ عمل کو اس چیز تک محدود کر دیا ہے۔ جس کا ذکر صراحت کے ساتھ کیا گیا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ لفظ "Or" کے بعد جو کچھ مذکور ہے، وہ گنتی کرنے والا ، وضاحت کرنے والا ، صراحت کنندہ اور جامع ہے۔ ان کے استدلال کی رو سے اس واقعاتی پوزیشن کو تسلیم کرنے کے باوجود کہ وہ قادیانی تھے اور کلمہ طیبہ کے بیج لگائے ہوئے تھے، کسی جرم کے مرتکب نہیں ہوئے۔

۱۱...... دیوانی اپیل نمبر ۴۱۲/۹۲ میں اپیل کنندگان کی پیروی کرتے ہوئے مسٹر عزیز احمد باجوہ نے اپنے کیس کی تائید میں دلائل کو عبوری آئین کے حکم مجریہ ۱۹۸۱ء کی دفعات تک محدود رکھا تا کہ مس بے نظیر بھٹو بنام وفاق پاکستان و دیگر (پی ایل ڈی ۱۹۸۸ء ایس سی ۴۱۶) کے حوالہ سے یہ ثابت کر سکیں کہ ۱۹۸۴ء کے آرڈیننس کے اثرات کو چیلنج کرنے کے لئے بنیادی حقوق کا سہارا نہیں لیا جا سکتا۔ کیونکہ یہ دستور کے آرٹیکل ۲۰ کے خلاف نہیں ہوئے ، جسے عارضی طور پر معطل کر دیا گیا تھا۔ سپریم کورٹ نے مس عاصمہ جیلانی بنام حکومت پنجاب و دیگر (پی ایل ڈی ۱۹۷۲ء ایس سی ۱۳۹) میں چیف مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر کا محدود حق تسلیم کرتے ہوئے اسے ایسا قانون بنانے کی اجازت نہیں دی تھی۔ اس کے علاوہ یہ دستور کے آرٹیکل ۲۶۰ کی کلاز (۳) کے تحت قادیانیوں کے احوال شخصیہ کے خلاف ہے۔ فاضل وکیل کے مطابق متنازعہ آرڈیننس عداوت و کینہ پر مبنی ہونے کے باعث پاکستان معرفت سیکرٹری کیبنٹ ڈویژن، اسلام آباد و دیگران بنام نوابزادہ محمد عمر خان (مرحوم) جن کی نمائندگی خواجہ محمد خاں آف ہوتی و دیگر نے کی (ایس سی ایم آر ۱۹۹۲ء صفحہ ۲۴۵۰) میں عدالت ہذا کے صادر کردہ فیصلہ کے پیش نظر بھی درست قانون نہیں ہے۔

صفحہ ۱۷۸

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

اور عدالت ہذا کے شریعت اپیلٹ بنچ کے صادر کردہ فیصلوں یعنی مجیب الرحمٰن و تین دیگران بنام وفاقی حکومت پاکستان و دیگر (پی۔ایل۔ڈی ۱۹۸۵ء ایف۔ایس۔سی ۸) اور کیپٹن (ریٹائرڈ) عبدالواجد و چار دیگران بنام وفاقی حکومت پاکستان (پی۔ایل۔ڈی ۱۹۸۸ء ایس۔سی ۱۶۷) پر تھی۔ ان کے نزدیک متنازعہ آرڈیننس کو اس بناء پر براہ راست وفاقی شرعی عدالت میں چیلنج کیا گیا تھا کہ یہ اسلامی احکام سے متصادم اور بنیادی حقوق کے منافی ہے۔ شرعی عدالت نے اس مؤقف کو رد کر دیا۔ البتہ سپریم کورٹ کے اپیلٹ بنچ نے اپیل کو واپس لینے کی اجازت دیتے ہوئے قرار دیا کہ وفاقی شرعی عدالت کا فیصلہ برقرار رہے گا۔ سپریم کورٹ نے مسماۃ عزیز بیگم و دیگران بنام وفاق پاکستان و دیگران (پی۔ایل۔ڈی ۱۹۹۰ء ایس۔سی ۸۹۹) نامی مقدمہ میں جو فیصلہ سنایا، اس کے پیش نظر شریعت اپیلٹ بنچ کا فیصلہ برقرار ہے اور سپریم کورٹ اس کا ازسرنو جائزہ یا اس پر نظر ثانی نہیں کر سکتی۔ اپیل کنندگان کے لئے واحد راستہ یہ رہ گیا تھا کہ شریعت بنچ جس سوال کا فیصلہ کر چکا تھا، اسے ازسرنو اٹھانے کی بجائے اس پر نظر ثانی کی درخواست کرے۔

وفاقی حکومت کے فاضل وکیل نے ہماری توجہ سید عبدالواحد کی ایڈٹ کردہ کتاب "Thoughts and Reflections of Iqbal" کی طرف مبذول کرائی تاکہ یہ حقیقت اجاگر کر سکیں کہ توحید اور ختم نبوت اسلام کے دو بنیادی عقیدے ہیں۔ ان میں سے کسی ایک کا انکار اس بات کو جائز ٹھہراتا ہے کہ نفی کرنے والے کو اسلامی برادری سے خارج کر دیا جائے۔ اس چیز نے دستور کے آرٹیکل ۲۶۰ کی کلاز (۳) میں اتفاق رائے سے ہونے والی ترمیم کو جواز فراہم کر دیا۔ اسی اصول پر ۱۹۸۴ء کے متنازعہ آرڈیننس کے ذریعے حفاظتی اقدامات آئینی ترمیم کا قانونی نتیجہ سمجھا جاتا ہے۔ اگر وہ ترمیم باقی ہے تو اس کے نتیجہ میں کئے جانے والے جملہ اقدامات بھی بشمول زیر بحث آرڈیننس کی دفعات قائم و برقرار رہیں گے۔

بحث جاری رکھتے ہوئے فاضل وکیل نے کہا کہ دستور کے آرٹیکل ۲۰ میں استعمال کردہ ترکیب ”قانون کے تابع رہتے ہوئے“ کا اطلاق اسلامی احکام پر لازماً ہوتا ہے۔ اس آرٹیکل میں درج بنیادی حقوق کی نگرانی اور ان کا احاطہ اسلامی احکام سے کیا جائے گا۔ مذہب کے ان پہلوؤں کی بابت احکام کا، دستور کے آرٹیکل ۲۶۰ (۳) میں صراحتاً ذکر کیا گیا ہے اور انہیں مذکورہ آرٹیکل میں شامل کر لیا گیا ہے۔ اپیل کنندگان جس حق کا مطالبہ کر رہے ہیں، اسے اعلانیہ استعمال کرنے کی کسی کو اجازت نہیں دی جا سکتی۔ کیونکہ ایسا کرنا اسلامی عقیدہ کے لئے ضرر رساں اور تباہ کن ہوتا۔ مزید برآں آرٹیکل ۲۰ میں جس چیز کی ضمانت دی گئی، وہ آدمی کے اپنے مذہب کی تبلیغ و تشہیر ہے۔ کسی دوسرے کے مذہب کی تباہی اور اتلاف کی اجازت نہیں۔ اپیل کنندگان اپنے معمولات کے ذریعے، جن پر وہ اب بھی عمل پیرا ہیں اور ایسا کرنا اپنا حق समझते ہیں۔ پاکستان میں بسنے والے دوسرے لوگوں کے مذہب کو خراب کر رہے ہیں اور اسے نقصان پہنچا رہے ہیں۔ حقیقتاً یہ لوگ اپنے مذہب کی پیروی نہیں کرتے۔ فاضل وکیل کے نزدیک آرٹیکل ۳۱ کے تحت حکومت کا فرض ہے کہ دیگر تمام نظریات کے مقابلہ میں اسلامی نظریہ کے تحفظ اور استحکام کا اہتمام کرے۔

انہوں نے مزید دلیل پیش کی کہ مذہب کے معاملہ میں نظریات کے ٹکراؤ کو روکنے کے لئے ریاستی قوت کو استعمال کیا جا سکتا ہے اور ریاست ایسے لوگوں کو باز رکھنے کے لئے طاقت سے کام لے سکتی ہے جو اس معاملہ میں ناجائز مداخلت کریں۔ ان معمولات کے بعض حصوں پر، جن سے امن وامان کا مسئلہ پیدا ہونے کا خدشہ ہو، پابندی لگا سکتی ہے۔ وفاقی حکومت کے فاضل وکیل نے آخر میں واضح کیا کہ

صفحہ ۱۷۹

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

متنازعہ آرڈیننس رسول اکرم ﷺ کی رسالت کے متعلق عقیدہ کا اثبات کرتا اور اسے تقویت پہنچاتا ہے۔ یہ نمازوں اور مسجدوں کی حفاظت کرتا ہے۔ یہ الحاد یا مذہب سے انحراف کی روک تھام کرتا ہے اور ان لوگوں کے مذہبی جذبات کو مجروح ہونے سے بچاتا ہے جو اکثریت میں ہیں۔ یہ سب ایسے قابل تحسین مقاصد ہیں جو اسلامی احکام کی رو سے مسلم ہیں اور اسلامی ریاست کے آئینی احکام میں انہیں جائز ٹھہرایا گیا ہے۔ اس پس منظر میں آئینی لحاظ سے نیز امن عامہ اور اخلاقی نقطۂ نظر سے متنازعہ آرڈیننس کے احکام اپیل کنندگان کے حقوق کے خلاف نہیں ہیں۔ انہوں نے مذکورہ آرڈیننس کے نمایاں خدوخال اور آرٹیکل ۲۰ پر بھی روشنی ڈالی تا کہ یہ ثابت کیا جاسکے کہ افراد کی طرف سے مذہبی رسوم کی تعمیل اور مذہبی اداروں کا تحفظ دونوں آرٹیکل ۲۰ کے دائرہ اثر میں آتے ہیں۔ متنازعہ آرڈیننس نے اس تحفظ کو بعض تصریحات، بیانات اور ترتیب اور شمار کر کے واضح کر دیا ہے۔ اس کی صراحت کی ہے اور اسے یقینی بنایا ہے۔

سے قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دیا گیا ہے اور ان کی طرف سے خود کو مسلمان ظاہر کرنے کی ہر کوشش آئین کے خلاف ہے اور یہی وہ عملی فریب کاری یا تلبیس ہے، جس کا تدارک کرنے کی غرض سے ۱۹۸۴ء کا مذکورہ بالا آرڈیننس نافذ کیا گیا۔ آرٹیکل ۲۰ مذہب کی پیروی کا مطلق اور لا محدود حق نہیں دیتا بلکہ حق کا یہ استعمال دوسرے احکام اور اخلاق عامہ کے تقاضوں کے تابع ہونا چاہئے۔ اس پس منظر میں دیکھا جائے تو متنازعہ آرڈیننس اس چیز کو آگے بڑھاتا ہے جس کا اہتمام دستور کے آرٹیکل ۲۶۰ کی شق (۳) میں کیا گیا ہے اور اکثریت غیر اعلان کردہ اقلیت دونوں کے مذہب کو تسلیم اور ان کا تحفظ کرتا ہے۔ اس سیاق و سباق میں مجموعہ تعزیرات پاکستان کی دفعہ ۱۴۴ کے تحت کی گئی کارروائی درست اور قانون کے مطابق تھی۔ علاوہ ازیں زیر دفعہ ۱۴۴ت. پ جاری کردہ حکم ، ایک ہفتہ سے بھی کم عرصہ کی مدت کے لئے تھا اور اس پر انحصار کر کے کوئی اعتراض نہیں کیا جا سکتا۔

زیر غور موجود دیوانی اپیل ۲۱۲/۹۲) دیگر تمام مقدمات میں جن کا تعلق ۱۹۸۴ء اور اوائل ۱۹۸۵ء میں رونما ہونے والے واقعات سے ہے، اس وقت کسی کارروائی کو چیلنج کرنے کے لئے بنیادی حقوق کا سہارا نہیں لیا جا سکتا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ سب سے پہلے مقدمہ (دیوانی اپیل نمبر ۱۴۹/۸۹ میں متنازعہ آرڈیننس کو چیلنج کرنے کے لئے عبوری دستور کے حکم مجریہ ۱۹۸۱ء کا سہارا لیا گیا۔ بہر حال فوجداری مقدمات میں سزائیں جولائی ۱۹۸۶ء میں دی جا چکی تھیں ، اس وقت بنیادی حقوق پورے طور پر نافذ ہو چکے تھے اور اس امر کے باوجود کہ واقعات کا تعلق ایسے دور سے تھا ، جب بنیادی حقوق نافذ نہیں تھے ، ان سے مدد لی جاسکتی تھی۔ بہر صورت ان معاملات کا جائزہ لینے کی ضرورت ہے اور انہیں ان احکام کی کسوٹی پر پرکھنا ضروری ہے جو بحال شدہ دستور میں شامل ہیں۔ نیز ان بنیادی حقوق سے مدد لینی چاہئے جو آئین میں درج ہیں۔

عبوری معاملہ یعنی مؤرخہ ۲۱ / مارچ ۱۹۸۹ء کو زیر دفعہ ۱۴۴ت. پ صادر کردہ حکم کے بارے میں ہے جسے مؤرخہ ۲۵/ مارچ ۱۹۸۹ء تک مؤثر رہنا تھا۔ اس کے علاوہ ریذیڈنٹ مجسٹریٹ کے حکم مجریہ ۲۵/ مارچ ۱۹۸۹ء کو چیلنج کیا گیا ہے جس کے تحت اسسٹنٹ کمشنر چنیوٹ کی ہدایت پر ۲۱/ مارچ ۱۹۸۹ء کے حکم میں تا حکم ثانی توسیع کی گئی تھی۔ ان دونوں احکام اور انہیں چیلنج کرنے کا ذکر مرزا خورشید احمد و دیگر بنام حکومت پنجاب و دیگر (پی. ایل. ڈی ۱۹۹۲ء لاہور ۱ ) میں موجود ہے۔ مؤرخہ ۲۱/ مارچ ۱۹۸۹ء کو جاری کئے گئے حکم کو زیر غور لانے کے بعد اس کے

صفحہ ۱۸۰

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

جواز کو بحال رکھا گیا۔ جہاں تک ریذیڈنٹ مجسٹریٹ کے حکم کا تعلق ہے، اسے اس توجہ کا مستحق نہیں گردانا گیا، جو از روئے قانون اس پر دی جانی چاہئے تھی۔ اسسٹنٹ کمشنر ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ، ریذیڈنٹ مجسٹریٹ یا ہوم ڈیپارٹمنٹ حکومت پنجاب کو زیر دفعہ ۱۴۴ ت۔پ صادر شدہ حکم میں تا حکم ثانی توسیع کرنے کا کوئی اختیار نہیں تھا۔ حکم کا وہ حصہ جسے ریذیڈنٹ مجسٹریٹ نے اسسٹنٹ کمشنر کے ایک حکم کا حوالہ دے کر قلمبند کیا تھا، اس لائق تھا کہ اسے قانونی اختیار کے بغیر اور از روئے قانون غیر مؤثر قرار دے دیا جاتا۔ سماعت کے دوران پیش ہونے والے وکلاء میں سے کسی ایک حتیٰ کہ ایڈووکیٹ جنرل نے بھی اس حکم کا دفاع نہیں کیا، اس لئے زیر نظر اپیل (دیوانی اپیل ۴۱۲/۹۲) اس حد تک منظور کی جاتی ہے اور اخراجات کے بارے میں کوئی حکم نہیں دیا جا رہا۔

۱۶...... اب ان آئینی دفعات کو لیتے ہیں جو زیر غور موضوع سے متعلقہ ہیں۔ دستور کے آرٹیکل ۲۶۰ کی شق (۳) خاص اہمیت کی حامل ہے۔ وہ پوری کی پوری ذیل میں نقل کی جاتی ہے۔

”۲۶۰۔ تعریفات“:

منافی نہ ہو۔

غیر مشروط ختم نبوت پر ایمان رکھتا ہو اور پیغمبر یا مذہبی مصلح کی حیثیت میں کسی ایسے شخص پر ایمان نہ رکھتا ہو نہ اسے مانتا ہو، جس نے حضرت محمد (ﷺ) کے بعد اس لفظ کے کسی بھی مفہوم یا تشریح کے لحاظ سے پیغمبر ہونے کا دعویٰ کیا ہو یا جو نبی ہونے کا مدعی ہو۔

کوئی شخص، قادیانی گروپ یا لاہوری گروپ کا کوئی فرد، جو خود کو احمدی یا کسی اور نام سے موسوم کرتا ہو یا کوئی بہائی اور شیڈولڈ ذاتوں میں سے کسی ذات سے تعلق رکھنے والا شخص شامل ہے۔

آرٹیکل ۲۰ بھی جو کہ بنیادی حقوق کا ایک جزو اور خصوصی توجہ کا مستحق ہے، ذیل میں نقل کیا جاتا ہے۔

۲۰۔ مذہب کی پیروی اور مذہبی اداروں کے انتظام کی آزادی:

قانون، امن عامہ اور اخلاق کے تابع رہتے ہوئے۔

آرٹیکل ۱۹ اور ۲۵، جن کا حوالہ آرٹیکل ۲۰ میں شامل بنیادی حق کے مفہوم اور اثر کو تقویت پہنچانے کے لئے دیا گیا ہے۔ اظہار خیال کی آزادی وغیرہ (آرٹیکل ۱۹) اور قانون کی نظر میں شہریوں کی مساوات (آرٹیکل ۲۵) سے تعلق رکھتے ہیں۔

صفحہ ۱۸۱

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

پڑھنا، ان کی تعبیر وتوضیح کرنا اور اطلاق کرنا چاہئے۔ گویا وہ ضمنی طور پر اسلامی احکام کے تابع ہیں اور اسلامی احکام انہیں کنٹرول کرتے ہیں۔ حتیٰ کہ بنیادی حقوق کی بھی، جن کا ان اپیلوں میں سہارا لیا گیا ہے اور دوسرے جو زیر بحث نہیں ہیں، تعبیر وتوضیح اس طرح کرنی چاہئے، جیسے وہ اسلامی احکام کے تابع ہیں۔ مزید یہ دلیل دی گئی کہ مجیب الرحمٰن وتین دیگر بنام وفاقی حکومت پاکستان ودیگر (پی.ایل.ڈی ۱۹۸۵ء ایف.ایس.سی ۸ ) نامی مقدمہ میں وفاقی شرعی عدالت قرار دے چکی ہے کہ اسلامی احکام ان معمولات کی واضح طور پر ممانعت کرتے ہیں، جنہیں مبینہ طور پر اپیل گزاران مذہبی رسم یا معمول کے طور پر مناتے ہیں یا ادا کرتے ہیں۔ اس دلیل سے دعویداروں کے بقول یہ نتیجہ حاصل ہوتا ہے کہ متنازعہ فیہ قانون نہ تو کسی آئینی حکم کے منافی ہے نہ ہی ان بنیادی حقوق کے خلاف ہے، جن پر ان مقدمات میں انحصار کیا گیا ہے۔

معرفت سیکرٹری داخلہ ودیگران (پی.ایل.ڈی ۱۹۹۲ء ایس.سی ۵۹۵ ) نامی مقدمہ میں بڑی تفصیل سے بحث ہوچکی ہے۔ دستور کی دیگر دفعات پر اس کے اثر اور کنٹرول ونگرانی کرنے والی دفعہ کے طور پر اس کی حیثیت کا جائزہ لیتے ہوئے ڈاکٹر نسیم حسن شاہ (اس وقت چیف جسٹس ) نے کہا تھا: ’’تعبیر کے اس اصول نے بظاہر ہائیکورٹ کے فیصلہ میں پائے جانے والے اس نقطۂ نظر کو قطعاً متاثر نہیں کیا کہ آرٹیکل ۲(اے) دستور سے بالاتر ہے۔ اگر آرٹیکل اس صحیح مقام ومرتبہ کا حامل ہوتا تو اوپر نقل کردہ شق تقاضا کرتی کہ ایک بالکل نیا دستور مرتب کیا جائے اور اگر آرٹیکل ۲(اے) کا واقعی یہ مفہوم ہوتا کہ آئین میں شامل ہونے کے بعد وہ دستور کی دیگر دفعات کے تابع ہو جائے گی تو موجودہ دستور کے اکثر آرٹیکل اس بناء پر قابل چیلنج ٹھہرتے کہ وہ قرارداد مقاصد کے مندرجات سے مطابقت نہیں رکھتے۔ پس ۱۹۷۳ء کے دستور کو زیادہ کارآمد بنانے کی بجائے آرٹیکل ۲(اے) کی ایسی تعبیر کرنا کہ دستور کی جملہ دفعات کے تابع ہے، اس کی جڑ کاٹنے کے مترادف ہے جو انجام کار اس کی تباہی کی راہ ہموار کرے گی یا کم از کم اسے موجودہ شکل میں برقرار رکھنے کا سبب بنے گی۔ میری ناچیز رائے کے مطابق قرارداد مقاصد کا کردار آرٹیکل ۲(اے) کو آئین کا مستقل حصہ بنانے کے باوجود بنیادی طور پر اس کردار میں نہیں ڈھالا گیا جو ابتداء میں اس کے لئے رکھا گیا تھا۔ یعنی یہ کہ اسے وہ دستور وضع کرنے والوں کے لئے مشعل راہ کا کام دے گی اور دستور کی ایسی دفعات وضع کرنے میں ان کی راہنمائی کرے گی جو دستور میں درج تصورات اور مقاصد کی مظہر ہوں۔ بدلے ہوئے سیاق وسباق میں اس سے عملاً یہی مفہوم نکلتا ہے کہ دستور کی متنازعہ دفعات میں اسی طریقہ سے ترمیم کرکے اس کی تصحیح کی جائے گی جیسا کہ خود دستور میں ترمیم کا طریق کار درج ہے۔‘‘

جہاں تک جسٹس شفیع الرحمٰن کا تعلق ہے انہوں نے اس بارے میں ذیل کی رائے ظاہر کی تھی: ’’آرٹیکل ۲(اے) کے احکام کا ہرگز منشاء نہیں تھا کہ وہ کسی مرحلے پر نافذ بالذات (جسے نافذ کرنے کے لئے کسی قانون سازی کی ضرورت نہ ہو ) ہوں گے یا انہیں مخالفت یا مخالف کے ٹیسٹ کے لئے استعمال کیا جائے گا۔ یہ عدالت کے دائرہ اختیار سے باہر تھی کہ دستور کی کسی دوسری دفعہ کو کالعدم قرار دینے کے لئے آرٹیکل ۲(اے) کا سہارا لے کر مخالفت وتضاد کے ٹیسٹ کا اطلاق کرتی۔‘‘

ہوئے بجائے خود حاصل ہو جاتا ہے اور ۱۹۸۴ء کا آرڈیننس آرٹیکل ۲۰ کی اغراض کے لئے قانون ہونے کی شرائط پوری کرتا ہے۔ (متعلقہ

صفحہ ۱۸۲

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

قانون ہے) اس لئے اس کی متنازعہ فیہ دفعات آرٹیکل ۲ (اے) احکام کے ساتھ بظاہر بڑے اختلاف کے باوجود مؤثر ہیں۔ اس دلیل یا اسی طرح کی دلیل پر سپریم کورٹ نے بہت پہلے یعنی جنوری ۱۹۵۶ء میں جیندرا کشور اچاریہ چودھری و ۵۸ دیگران بنام صوبہ مشرقی پاکستان اور سیکرٹری محکمہ فنانس و ریونیو، حکومت مشرقی پاکستان (پی۔ایل۔ڈی ۱۹۵۷ء ایس۔سی ۹ ص ۴۱) نامی مقدمہ میں بڑی شرح وبسط سے غور کر کے ذیل کی رائے ظاہر کی تھی۔

’’اس میں کوئی شک نہیں کہ ایکٹ کے یہ انتہاء پسندانہ احکام مذہبی اداروں کی جڑوں پر ضرب لگاتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ آیا یہ احکام اپنا اثر رکھتے ہوئے اس بنیادی حق میں رکاوٹ بنتے ہیں، جس کی ضمانت دستور کے آرٹیکل ۱۸ میں دی گئی ہے؟ ہائیکورٹ نے مسٹر بروہی کے اس جرات مندانہ اور دو ٹوک اعلان کو درست قرار دیا کہ آرٹیکل ۱۸ میں، جن حقوق کا حوالہ دیا گیا ہے۔ وہ ’’قانون کے تابع‘‘ ہیں، اس لئے انہیں بذریعہ قانون واپس لیا جاسکتا ہے۔ اسی دعویٰ کو ہمارے سامنے دہرایا گیا ہے لیکن اسے مسترد کرنے میں مجھے ذرہ بھی تامل نہیں۔ بنیادی حق کا تصور ہی یہ ہے کہ اس کی ضمانت دستور میں دی جاتی ہے، اس لئے اسے قانون کے ذریعے چھینا نہیں جاسکتا اور یہ بات نہ صرف ٹیکنیکل لحاظ سے اصول فن کے خلاف ہے بلکہ یہ کہنا دستور وضع کرنے والوں کی طرف سے شہریوں کے ساتھ روا رکھا گیا۔ بہت بڑا فریب ہو گا کہ فلاں حق بنیادی تو ہے تاہم اسے قانون کے ذریعے واپس لیا جاسکتا ہے۔ میں قانون وضع کرنے والوں کے ساتھ ایسی کوئی نیت منسوب کرنے سے قاصر ہوں۔ مسلمانان پاکستان کی زندگیاں قرآن وسنت کے مطابق ڈھالنے کی تگ و دو میں وہ ممکنہ طور پر مجلس قانون ساز کو یہ اختیار دینے کا ارادہ نہیں رکھتے تھے کہ وہ مسلمانوں سے اپنے مذہب کی پیروی، اس پر عمل اور اس کی تبلیغ کرنے نیز دینی اداروں کے قیام، دیکھ بھال اور انتظام وانصرام کا حق چھین لے۔ جب کہ انہوں نے ایک آزاد، معتدل اور جمہوری معاشرہ کے مثالی تصور کے تحت ریاست کے غیر مسلم شہریوں کو، ایسے ہی حق سے محروم نہیں کیا۔ اگر مسٹر بروہی کی دلیل ٹھوس اور مضبوط ہے تو اس سے یہ نتیجہ نکلتا ہے اور انہوں نے اعتراف کیا کہ واقعی یہی نتیجہ نکلتا ہے کہ آج پارلیمنٹ اس پوزیشن میں ہے کہ شہریوں کی طرف سے اسلام کی پیروی پر پابندی لگا دے۔ کیونکہ آرٹیکل کے تحت مذہب کی پیروی، اس پر عمل اور اس کی تبلیغ کرنے کا حق اسی طرح قانون کے تابع ہے۔ جیسے مذہبی ادارے قائم کرنے، ان کی دیکھ بھال اور انتظام کرنے کا حق۔ میں زیر بحث آرٹیکل سے ایسا ضابطہ پرستانہ، فنی اور تنگ و محدود مفہوم مراد لینے سے انکار کرتا ہوں۔ کیونکہ میرے خیال میں کسی قانون کی تعبیر کا بنیادی اصول یہ ہے کہ دستوری تعبیر فراخ دلی سے شہری کے حق میں کرنی چاہئے۔ خصوصاً ان احکام کے سلسلے میں جو ضمیر اور مذہب کی آزادی کے تحفظ سے تعلق رکھتے ہوں، استعمال کردہ زبان کی مطابقت میں دستوری ہدایت کی تعبیر، قانون کے مقابلہ میں اور بھی زیادہ وسیع اور فراخ دلانہ کرنی چاہئے کیونکہ اوّل الذکر صورت میں جس اختیار پر بحث کی گئی ہو، فطری اور لامحدود ہے اور آخر الذکر صورت میں وہ محدود ہے اور آئینی حقوق کو محض مکارانہ زبانی تنقید کے بل پر اس دستاویز اور اصولوں کی بنیادی غرض وغایت کو پیش نظر رکھے بغیر جس پر اس کی اساس ہو، سلب کرنے یا ان سے پہلو تہی کرنے کی اجازت نہیں ہونی چاہئے۔ اگر اس کی زبان صاف وسادہ نہ ہو یا اس میں شک و شبہ کی گنجائش ہو تو فرض کر لینا چاہئے کہ وہ دفعہ انصاف و حرمت کے مسلمہ اصولوں کے مطابق بنانے کی نیت تھی۔ چنانچہ مشکوک صورتوں میں اس خاص تعبیر کو ترجیح دینی چاہئے جو ان اصولوں کی خلاف ورزی نہ کرتی ہو۔ آئینی دستاویزات کی تعبیر وتوضیح کے ان قواعد کی روشنی میں مجھے ایسا لگتا ہے کہ آرٹیکل ۱۸ کا مفہوم ومنشاء یہ ہے کہ ہر شہری کو اپنے مذہب کی پیروی کرنے، اس پر عمل پیرا ہونے اور اس کی تبلیغ کرنے کا حق حاصل ہے اور ہر مذہبی گروہ یا فرقہ کو اپنے

صفحہ ۱۸۳

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

مذہبی ادارے قائم کرنے اور اس کی دیکھ بھال کرنے اور انتظام کرنے کا حق ہے۔ البتہ قانون اس طریق کار کا تعین کر سکتا ہے کہ مذہب کی پیروی، اس پر عمل اور اس کی تبلیغ کیسے کی جائے گی اور مذہبی ادارے کس طرح قائم کئے جائیں گے۔ ان کی دیکھ بھال کیسے کی جائے گی اور انتظام کیسے چلایا جائے گا۔ الفاظ ”مذہبی اداروں کا قیام قانون کے تابع ہوگا“ کا یہ مطلب نہیں ہو سکتا۔ نہ ہی ہے کہ ایسے اداروں کو قانون کی مدد سے یکسر ختم کیا جا سکتا ہے۔“

۲۰...... ۱۹۸۴ء کا امتناع قادیانیت آرڈیننس جس کا جائزہ لیا جارہا ہے، صدر نے ۲۶؍اپریل ۱۹۸۴ء کو نافذ کیا تھا۔ اس آرڈیننس کو وضع اور نافذ کرنے میں اس وقت کے صدر کو بنیادی حقوق یا دوسری دفعات کے باعث کسی آئینی رکاوٹ کا سامنا نہیں کرنا پڑا تھا۔ اس کی اپنی مرضی سب سے بالا (سپریم) تھی۔ اس کارروائی میں پورے آرڈیننس کو چھان بین کا ہدف نہیں بنایا گیا۔ جن اجزاء کو توجہ کا مرکز بنایا گیا اور قابل چیلنج سمجھا گیا، وہ دفعہ ۳ سے تعلق رکھتے ہیں۔ جس کے ذریعے مجموعہ تعزیرات پاکستان میں نئی دفعات ۲۹۸-بی اور ۲۹۸-سی کا اضافہ کیا گیا ہے۔ جنہیں یہاں نقل کیا جاتا ہے۔

”۲۹۸-ب“، القاب، حرکات اور خطاب وغیرہ کا غلط استعمال:

کے ذریعے یا بیان کے ذریعے۔

اللہ کہہ کر حوالہ دے گا یا خطاب کرے گا۔

لئے سزائے قید دی جائے گی، جس کی میعاد تین برس تک ہو سکتی ہے اور وہ جرمانہ کا مستوجب بھی ہوگا۔

الفاظ کے ذریعے یا ظاہری حرکات سے اپنے عقیدہ کے مطابق عبادت کی غرض سے بلانے کے لئے کسی طریقہ یا شکل کو بطور اذان کے حوالہ دے یا اسی طرح اذان دے جیسے مسلمان دیتے ہیں تو اسے کسی ایک قسم کی سزائے قید اتنی مدت کے لئے دی جائے گی جس کی میعاد تین برس تک ہو سکتی ہے۔ نیز وہ جرمانہ کا مستوجب بھی ہوگا۔

”۲۹۸-سی“، قادیانی گروپ کے لوگوں کا خود کو مسلمان کہلانا یا اپنے عقیدہ کی تبلیغ و اشاعت کرنا:

قادیانی یا لاہوری گروپ کا کوئی شخص (جو خود کو احمدی یا کسی دوسرے نام سے موسوم کرتے ہیں) بالواسطہ یا بلا واسطہ طور پر خود کو مسلمان ظاہر کرے یا اپنے عقیدہ کا بطور اسلام حوالہ دے یا موسوم کرے یا اپنے عقیدہ کی تبلیغ و اشاعت کرے یا دوسرے لوگوں کو اپنا عقیدہ قبول کرنے کی دعوت دے۔ الفاظ کے ذریعے خواہ وہ زبانی ہوں یا تحریری، یا ظاہری حرکات سے یا کسی اور طریقہ سے خواہ وہ کچھ ہی کیوں نہ ہو، مسلمانوں کے مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچائے تو اسے کسی ایک قسم کی سزائے قید اتنی مدت کے لئے دی جائے گی جس کی میعاد تین برس تک ہو سکتی ہے، نیز وہ سزائے جرمانہ کا مستوجب بھی ہوگا۔

صفحہ ۱۸۴

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

دفعہ ۲۹۸۔سی کو توڑ کر شقوں میں تقسیم کر دیا گیا ہے تاکہ اس کا اثر، جائزہ اور جانچ پڑتال آسان تر ہو جائے۔

۲۱...... زیر نظر آرڈیننس کی دفعہ ۲ میں کہا گیا ہے کہ: ”اس آرڈیننس کے احکام کسی عدالت کے حکم یا فیصلہ کے باوجود مؤثر ہوں گے ۔“ اس دفعہ کا پس منظر اور حوالہ عبدالرحمن مبشر و تین دیگران بنام سید امیر علی شاہ بخاری و چار دیگران (پی۔ایل۔ڈی ۱۹۷۸ء لاہور ۱۱۳) نامی مقدمہ سے وابستہ ہے جس میں قادیانی یا احمدی مذہب کے احکام کا بڑی تفصیل سے جائزہ لیا گیا تھا تاکہ اس بات کا یقین کیا جا سکے کہ دوسروں کو اس بارے میں کیا حقوق حاصل ہیں کہ وہ احمدیوں کو ان کے حقوق سے باز رکھ سکیں، روک سکیں اور منع کر سکیں ۔ تاہم کیونکہ آرڈیننس ان پر سبقت لے گیا اور اس کا ٹیسٹ بنیادی حق یعنی آئینی دفعہ سے لیا جاسکتا ہے۔ کسی دیوانی حق سے نہیں، جو اس مقدمہ میں متنازعہ فیہ معاملہ تھا۔ بایں ہمہ یہ ضرور عرض کروں گا کہ اپنے موضوع پر، یہ ایک بہت ہی جامع اور بصیرت افروز فیصلہ ہے۔

۲۲...... اپیل کنندگان کے فاضل وکیل نے آرڈیننس کی رو سے مجموعہ تعزیرات پاکستان میں شامل کی گئی دفعہ ۲۹۸-ب کی ذیلی دفعہ (۲) اور شق (ڈی) پر اعتراض کیا ہے، جس کا تعلق احمدیوں کی طرف سے ان کی عبادت گاہ کا نام ”مسجد“ رکھنے اور ”اذان“ دینے سے ہے۔ تاریخی لحاظ سے لاہور ہائیکورٹ کے فیصلہ میں، اسے احمدیوں کے عقیدہ یا عمل کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔ جس کا آغاز حالیہ برسوں میں نہیں ہوا۔ نہ ہی اس عمل کو غیر احمدیوں کے احساسات و جذبات کو مشتعل کرنے کی نیت سے اختیار کیا گیا ہے۔ یہ ان کے عقیدہ کا ایک لازمی جزو ہے۔ جس کا مقصد ان دونوں چیزوں کے استعمال پر لگائی گئی پابندی پر حملہ کرنا نہیں، عائد کردہ پابندی کے مطابق ان دونوں باتوں کو قابل گرفت قرار دیا گیا ہے، جس پر تین برس تک قید اور جرمانہ کی سزا ہو سکتی ہے جو کہ مذہب کی پیروی کرنے، اس پر عمل کرنے اور اس کی تبلیغ کرنے کے بنیادی حق کی خلاف ورزی کے مترادف ہے اور احمدیوں کی حد تک اس سے قانون کی نظر میں شہریوں کی مساوات سے بنیادی حق سے بھی متصادم ہے۔ کیونکہ ان کے علاوہ کسی دوسری اقلیت پر ایسی پابندیاں نہیں لگائی گئیں۔ ”اذان“ دینے یا عبادت گاہ کا نام ”مسجد“ رکھنے کو از روئے قانون جرم قرار نہیں دیا گیا بلکہ قادیانیوں کی طرف سے ان افعال کے ارتکاب کو قابل اعتراض ٹھہرایا گیا ہے۔

۲۳...... انہوں نے مجموعہ تعزیرات پاکستان کی دفعہ ۲۹۸۔سی کی شق (الف) پر زبردست گرفت کرتے ہوئے کہا کہ لفظ "Posing" (ظاہر کرنا، پیش کرنا) نفرت انگیز طور پر مبہم اور غیر واضح ہے اور عدالت کی طرف سے نفاذ کے لائق نہیں۔ ہمیں ان کی دلیل سے اتفاق نہیں کیونکہ قانون کی زبان میں پہلے سے "Misrepresentation", "Deception", "Fraud", "Cheating" اور "Personation" جیسے الفاظ موجود ہیں جو وسیع اور غیر معین مفہوم رکھتے ہیں اور "Posing" کے معنی میں استعمال ہوتے ہیں۔ اپنے پس منظر میں یہ آئینی فیصلہ رکھتے ہوئے کہ قانون و آئین کی اغراض کے لئے احمدی غیر مسلم شمار ہوں گے۔ وہ خود کو مسلمان ظاہر نہیں کر سکتے۔ یہ دفعہ محولہ بالا آئینی فیصلہ کو آگے بڑھانے کے لئے رکھی گئی ہے۔ اس کی تنقیص کرنے یا قدر گھٹانے کے لئے نہیں۔ پس اگر کوئی احمدی یا قادیانی خود کو مسلمان ظاہر کرتا ہے یا اعلامیہ مسلمان ہونے کا دعویٰ کرتا ہے تو وہ دستور کے آرٹیکل ۲۶۰ (۳) کے آئینی حکم کی خلاف ورزی کرتا ہے۔ اس فعل کو دستور اور بنیادی حقوق کے فریم ورک کے اندر یقیناً جرم قرار دیا جا سکتا ہے۔ اس دلیل کا اطلاق تعزیرات پاکستان کی دفعہ ۲۹۸۔سی کی شق (ب) پر اسی طرح ہوتا ہے۔

۲۴...... جہاں تک دفعہ ۲۹۸۔سی کی شق (سی) کا تعلق ہے اس کی زد سے کسی خاص گروہ یا عام لوگوں کے مذہبی جذبات کو مجروح کرنا قابل تعزیر ٹھہرایا گیا ہے۔ وہ مذہبی آزادی یا آزادی تقریر کے بنیادی حق کے منافی نہیں ہے۔ کسی شخص کو یہ بنیادی حق حاصل نہیں، نہ ہی ایسا

صفحہ ۱۸۵

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

حق دیا جاسکتا ہے کہ وہ اپنے مذہب یا عقیدہ کی تبلیغ کرتے وقت دوسروں کے مذہبی جذبات کو مشتعل کرے، پس دفعہ ۲۹۸-سی ت.پ کی شق (الف) (ب) اور (ہ) دستور کے آرٹیکلز ۱۹، ۲۰ اور ۲۶۰ (۳) میں شامل احکام کے عین مطابق ہیں۔

۲۵...... اس استدلال کی بنیاد پر جو دستور کے ان متعلقہ آرٹیکلز کی تشریح و توضیح کرتے وقت اختیار کیا گیا ہے۔ دفعہ ۲۹۸-سی ت.پ کی شق ہائے (ج)، (د) جیسا کہ انہیں پیچھے نقل کیا گیا۔ جداگانہ حیثیت میں یا دونوں مل کر اس حد تک مذہبی آزادی، آزادی تقریر اور قانون کی نظر میں برابری کے حق کے منافی ہوں گی کہ وہ صرف احمدیوں اور قادیانیوں کو تحریری یا زبانی الفاظ یا نظر آنے والی حرکات کے ذریعے اپنے مذہب کی تبلیغ و تشہیر کرنے سے روکتی ہیں۔ کسی کو اپنے عقیدہ کی دعوت دینا جب کہ اس کے ساتھ کوئی قابل اعتراض فعل وابستہ نہ ہو، لائق مذمت نہیں ہو سکتا۔ بہرحال اگر شق (ج)، (د) میں مذکورہ افعال کے ساتھ شق (ہ) میں درج فعل کا ارتکاب کیا جائے یا اس سے شق (الف)، (ب) کا نتیجہ حاصل ہو تو وہ فعل ان متعلقہ شقوں کے تحت قابل تعزیر ہوگا۔ شق (ج) اور (د) کے تحت نہیں۔ دفعہ ۲۹۸-سی ت.پ کی شق ہائے (ج)، (د) اس حد تک دستور سے ماورا سمجھی جائیں گی۔

۲۶...... جہاں تک فوجداری اپیل ہائے نمبر ۳۱ کے تا نمبر ۳۵ کے سے پیدا ہونے والی پانچ اپیلوں کا تعلق ہے۔ ہم دیکھتے ہیں کہ ان میں سے تین کی ابتداء نذیر احمد تونسوی کے استغاثہ سے ہوئی، جس کا تعلق براہ راست تحریک ختم نبوت سے ہے، جس نے اس امر کی شکایت کی کہ بعض افراد اپنی چھاتی پر کلمہ طیبہ کے بیج لگا کر بازار میں گھوم رہے تھے۔ ان کے بارے میں معلوم تھا کہ وہ قادیانی تھے۔ لیکن جب ان سے دریافت کیا گیا تو انہوں نے خود کو مسلمان ظاہر کیا۔ ان کی طرف سے کلمہ طیبہ کے بیج لگانے کا فعل خود کو مسلمان ظاہر کرنے کے مترادف سمجھا گیا۔ یہ اثبات جرم ناقص ہے کیونکہ ان مباحث اور اخذ کردہ نتائج کی روشنی میں جو پہلے ہی قلمبند کئے جاچکے ہیں۔ کسی احمدی کا ایسا بیج لگانا، جس پر کلمہ طیبہ لکھا ہوا ہو، نہ تو مسلمانوں کے جذبات مشتعل کرنے کے مترادف ہے، نہ ہی خود کو مسلمان ظاہر کرنے کے برابر۔ یہ تسلیم کیا گیا اور عام طور سے معلوم ہے کہ مسلمان لوگ اپنا مذہب ثابت کرنے کے لئے کلمہ طیبہ والے بیج نہیں لگاتے، ایسا وہ لوگ کرتے ہیں، جنہیں آئینی لحاظ سے غیر مسلم قرار دے دیا گیا ہے۔ اس لئے موجودہ صورتحال میں غیر مسلموں کا کلمہ طیبہ والے بیج لگانا خود کو مسلمان ظاہر کرنے یا مسلمان کے طور پر پیش کرنے کے مترادف نہیں۔

۲۷...... جہاں تک اس الزام کا تعلق ہے کہ سوال کرنے اور پوچھنے پر انہوں نے خود کو مسلمان بتایا۔ جب کہ حقیقتاً وہ قادیانی تھے، وہ بھی قانون کی نظر میں جرم نہیں ہے۔ ظاہر کرنے میں اپنی مرضی سے پیش کرنا شامل ہوتا ہے۔ کسی سوال کا جواب دیتے وقت آدمی اپنی مرضی سے جواب نہیں دے رہا ہوتا، بلکہ جیسا کہ ان مقدمات کے حالات سے ظاہر ہوگا۔ دھمکی یا دباؤ کے تحت ایسا کرتا ہے۔ آدمی عام لوگوں سے اپنا مذہب پوشیدہ رکھ سکتا ہے تا کہ فوجداری مقدمہ بازی کی کمتر برائی قبول کرتے ہوئے جسمانی لحاظ سے خود کو محفوظ رکھ سکے یا وہ سوال سے پہلو تہی کرتے ہوئے گول مول جواب دے سکتا ہے۔ ایسا رویہ قابل ملامت نہیں خصوصاً جب سوال کرنے والے شخص کو قانون کے تحت ایسا سوال پوچھنے یا صحیح جواب اگلوانے کا کوئی اختیار نہ ہو۔ نہ ہی وہ بیان اقرار صالح کے ساتھ دیا جارہا ہو۔

۲۸...... دوسری دو فوجداری اپیلوں (نمبر ۳۲ کے اور نمبر ۳۳ کے لغایت ۸۸) کا تعلق ان رپورٹوں سے ہے جو کسی مذہبی تنظیم سے ناوابستہ افراد نے درج کرائیں۔ وہ محض اس بات پر خفاء ہوئے اور انہوں نے اپنی توہین محسوس کی کہ کلمہ طیبہ والے بیج ایسے لوگوں نے لگا رکھے تھے جو احمدی یا قادیانی کے طور پر جانے پہچانے جاتے تھے۔ کلمہ طیبہ کے بیج لگانے والے افراد نے منہ سے الفاظ ادا کر کے یا بصورت دیگر یہ نہیں کہا کہ وہ مسلمان ہیں، قادیانی یا احمدی نہیں ہیں۔

صفحہ ۱۸۶

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

کلمہ طیبہ کی نمائش یا استعمال کو جب کہ اسے صحیح طریقے سے پیش کیا جائے اور ٹھیک طرح نیز احترام کے ساتھ اس کی نمائش کی جائے تو استعمال کنندگان کے خلاف کارروائی کی بنیاد نہیں بنایا جاسکتا۔ اگر اس کے مخصوص مفہوم اور نتیجہ کی تصدیق کی غرض سے آدمی کو اس شخص کے ذہن کے اندرونی حصوں میں جھانکنا پڑے جو کلمہ طیبہ کا بیج لگائے ہوئے ہو یا اسے استعمال کرتا ہو اور عقیدہ کے مطابق اسے جرم قرار دینا چاہتا ہو، ایسی صورت میں اس شخص کے لئے عقیدہ کے بارے میں دریافت اور اس کے معانی نیز کلمہ طیبہ کے استعمال اور نمائش کا مقصد قانون کی حدود سے باہر ہوگا اور وہ براہ راست اس مذہبی آزادی میں مداخلت متصور ہوگی، جس کی ضمانت از روئے قانون ہر شخص کو دی گئی ہے۔ جہاں محض عقیدہ پر مبنی ناقابل اعتراض رویہ کے باعث گرفت نہ کی گئی ہو، اعتراض نہیں کیا جاسکتا۔

۲۹...... ان اپیلوں کو نمٹانے میں ہمارے لئے یہ دقت رہی کہ مسئول الیہان نے بڑی حد تک معاملہ پر اس طرح اعتراض کئے گویا متنازعہ آرڈیننس کے احکام کو اسلامی احکام کے ساتھ ان کی عدم موافقت سے زیادہ بنیادی حقوق کے ساتھ عدم مطابقت کے لئے مطعون کیا جا رہا ہو، اس چیز نے علمائے کرام کو عدالت کی رضا کارانہ مدد کرنے پر ابھارا جس سے بحث کے دوران اور بحث کے مابعد مرحلہ پر خاصی گرما گرمی دیکھنے میں آئی۔

۳۰...... گزشتہ بحث کا حاصل یہ ہے کہ فوجداری اپیلیں (نمبر ۳۱ کے تا نمبر ۳۵ کے ) قبول کی جاتی ہیں۔ اپیل کنندگان کو دی گئی سزائیں ختم کی جاتی ہیں۔ مزید برآں دفعہ ۲۹۸-بی (ت.پ) کی شق (د) اور ذیلی دفعہ (۲) کے احکام کو پیرا نمبر ۲۰ میں نقل کئے گئے بنیادی حقوق ۲۰ اور ۲۵ کے خلاف قرار دیا جاتا ہے۔

۳۱...... دیوانی اپیل نمبر ۱۴۹/۸۹ اور ۱۵۰/۸۹ بھی جزوی طور پر اس حد تک منظور کی جاتی ہے کہ ۱۹۸۴ء کے ۲۰ ویں آرڈیننس کے بعض حصوں کو بنیادی حقوق ۱۹، ۲۰ اور ۲۵ کے منافی قرار دیا جاتا ہے۔ مقدمہ بازی کے اخراجات کی بابت کوئی حکم نہیں دیا گیا۔

دستخط: (جسٹس شفیع الرحمن)

جسٹس عبدالقدیر چودھری

۱...... میں نے اپنے فاضل بھائی جسٹس شفیع الرحمن کے اس فیصلہ کا مسودہ پڑھا ہے جو وہ صادر کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں، تاہم میں پورے احترام سے عرض کروں گا کہ مجھے ان کی رائے سے اتفاق نہیں ہے۔

۲...... ان اپیلوں کے حقائق، مجوزہ فیصلے میں بڑی تفصیل سے بیان کر دیئے گئے ہیں، اس لئے میں انہیں دہرانے کی ضرورت محسوس نہیں کرتا۔ جہاں تک موجودہ اپیل کا تعلق ہے، وہ حقائق جو اس کارروائی کا سبب بنے، اس طرح ہیں کہ اپیل کنندگان احمدیہ برادری سے تعلق رکھتے ہیں۔ (جنہیں قادیانی بھی کہا جاتا ہے ) جو کہ ایک غیر مسلم مذہبی فرقہ ہے۔ احمدیوں نے ۲۳؍ مارچ ۱۹۸۹ء کو دنیا بھر میں شایان شان طریقہ سے اپنے مذہب کی ۱۰۰ سالہ سالگرہ منانے کا فیصلہ کیا تھا۔ ان تقریبات کا آغاز ۲۳؍ مارچ ۱۹۸۹ء سے ہونا تھا۔

۳...... ۲۰؍ مارچ ۱۹۸۹ء کو ہوم سیکرٹری حکومت پنجاب نے دفعہ ۱۴۴ ضابطہ فوجداری کے تحت ایک حکم نافذ کیا، جس کی رو سے صوبہ پنجاب میں قادیانیوں کے جشن منانے پر پابندی لگادی گئی۔ ۲۱؍ مارچ ۱۹۸۹ء کو ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ جھنگ نے بھی ایک حکم کے ذریعے ضلع بھر کے قادیانیوں کو درج ذیل سرگرمیوں سے باز رہنے کی ہدایت کی۔

صفحہ ۱۸۷

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

ردعمل کو مدنظر رکھ کر ایسا کیا گیا تا کہ امن عامہ میں نقص نہ پڑے اور امن وامان برقرار رہے۔

امر کو یقینی بنائیں کہ دیواروں پر مزید اشتہار نہیں لکھے جائیں گے۔ اس نے مزید مطلع کیا کہ ۲۱/مارچ کے حکم نامہ میں شامل پابندیوں میں تا حکم ثانی توسیع کر دی گئی ہے۔

انہیں اپنی برادری کے گزشتہ ۱۰۰ برسوں کے اہم واقعات کی یاد تازہ کرنے اور شایان شان طریقہ سے صد سالہ جشن منانے کے حق سے محروم نہیں کیا جاسکتا۔ رٹ میں کہا گیا کہ انہوں نے ایسی تقریبات منانے کے لئے نئے لباس پہننے، اظہار تشکر کے لئے نوافل دوگانہ ادا کرنے، بچوں میں شیرینی اور غرباء و مساکین میں کھانا تقسیم کرنے، جلسے کرنے اور گزشتہ ۱۰۰ سالوں میں ہونے والی عنایات پر خداوند تعالیٰ کا شکر ادا کرنے کا پروگرام بنایا تھا۔ دعویٰ کیا گیا کہ یہ تمام سرگرمیاں ایسی تھیں، جن کی ۱۹۷۳ء کے دستور میں ضمانت دی گئی ہے اور آرٹیکل ۲۰ میں شامل بنیادی حق کے تحت تحفظ فراہم کیا گیا ہے۔ اس لئے متنازعہ حکم غیر قانونی ہے۔ مزید کہا گیا کہ متنازعہ حکم جاری کرنے کے لئے دفعہ ۱۴۴ کے اجزائے ترکیبی میں سے کوئی بھی موجود نہیں تھا۔ اپیل کنندگان میں سے ایک نے، جسے کلمہ طیبہ کا بیج لگانے اور اذانیں دینے پر زیر دفعہ ۲۹۸-سی سزا دی گئی تھی، علیحدہ رٹ دائر کی تھی۔ تعزیرات پاکستان میں ۲۹۸-بی اور ۲۹۸-سی کا اضافہ ۱۹۸۴ء کے امتناع قادیانیت آرڈیننس کے تحت کیا گیا ہے۔

و دستوری سوالوں کا پوری طرح جائزہ لیا اور انتہائی متوازن فیصلہ سنایا۔ ہم اس بات کی دل سے قدر کرتے ہیں کہ فاضل جج نے اس معاملے میں ان ججوں کے صادر کردہ فیصلوں پر انحصار کیا جو یا تو سیکولر ہیں یا انسانی حقوق کے چمپئن ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں۔ عدالت میں لایا گیا یہ معاملہ بلاشبہ بہت ہی حساس نوعیت کا ہے۔ جس کا تعلق انسان کے مذہب اور عقیدہ سے ہے اور اس کی بابت بڑے غیر جانبدارانہ اور محتاط انداز فکر اپنانے کی ضرورت ہے تا کہ لوگوں کے اعتماد کو تقویت ملے اور اس کے فیصلہ کو ضروری آزادی میسر آسکے۔

(آرٹیکل ۲۰) کے منافی ہے، جو ۱۹۷۳ء کے دستور کی رو سے ہر شہری کو حاصل ہے؟

صفحہ ۱۸۸

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۳ء

ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

صفحہ ۱۸۹

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۳ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

ناپسندیدہ ہو یا اس نام کی کوئی کمپنی پہلے سے رجسٹر کی جاچکی ہو۔ بھارت دستور میں اسی طرح کے بنیادی حقوق دیئے گئے ہیں، جیسے ہمارے آئین میں درج ہیں۔ لیکن ہم نے کسی عدالت کا ایک بھی فیصلہ ایسا نہیں دیکھا جس میں ایسی پابندی کو ان حقوق کے منافی قرار دیا گیا ہو۔

ہے کہ کسی فرم یا کمپنی کا کوئی رجسٹرڈ تجارتی نام یا نشان دوسرا ادارہ استعمال نہیں کرسکتا اور اس کی خلاف ورزی پر نہ صرف تجارتی نشان کا مالک خلاف ورزی کرنے والے سے ہرجانہ وصول کرسکتا ہے بلکہ یہ قانون کی نظر میں بھی جرم ہے۔

Ltd. 1959, 3.W.L.R, 966" میں قرار دیا گیا تھا کہ: ”مسئول الیہ کو ایسا عمل جاری رکھنے سے روکنے کے لئے حکم امتناعی حاصل کیا جاسکتا تھا، جسے دھوکہ دہی سمجھا گیا ہو، اگرچہ دھوکہ دینے کی نیت کا کوئی ثبوت موجود نہیں تھا۔“

طور پر، استعمال یا جعلی تجارت نشانات، تجارتی علامات یا ایسے مال کی فروخت پر، جس پر جعلی تجارتی نشان یا علامت لگائی ہو، سزاؤں کا اہتمام کیا گیا ہے۔

وکاروباری نشانات میں جعل سازی سے کام لیا جائے، مجموعہ تعزیرات ہند کی دفعہ ۴۸۱ میں کہا گیا ہے۔ ”جو کوئی کسی منقولہ جائیداد، مال یا کسی پیکیج، دیگر سامان پر جو منقولہ جائیداد یا مال پر مشتمل ہو، ایسا نشان لگائے یا کسی صندوق، پیکیج، یا دیگر سامان کو جس پر کوئی تجارتی نشان لگا ہو، ایسے طریقہ سے استعمال کرے کہ معقول طور پر اس کی بابت یہ سمجھا جائے کہ اس کا مقصد یہ باور کرانا ہے کہ نشان رکھنے والی جائیداد یا مال یا کوئی دوسری جائیداد یا مال جو نشان رکھنے والے کسی سامان میں رکھا ہوا ہو، کسی شخص کی ملکیت ہے جب کہ حقیقت میں وہ اس کی ملکیت نہ ہو، تو کہا جائے گا کہ جعلی نشان ملکیت استعمال کیا گیا ہے۔“ یہ جرم فریب کاری ہے اور اس کے ارتکاب پر کسی ایک قسم کی سزا اتنی مدت کے لئے دی جاسکتی ہے، جو ایک برس تک ہوسکتی ہے یا اسے جرمانہ کیا جائے گا یا وہ دونوں سزاؤں کا مستوجب ہوگا۔“

دفعہ ۶۹ کا حوالہ دے سکتے ہیں، جس کا اطلاق پورے برصغیر میں ہوتا رہا۔ اس کی ترمیم شدہ صورت جو اس وقت پاکستان میں نافذ العمل ہے، ذیل میں نقل کی جاتی ہے۔

”۶۹۔ شاہی نشانات اور سرکاری علامات کے استعمال کی ممانعت، اگر کوئی شخص جائز اختیار کے بغیر کسی تجارت، کاروبار، کسب یا پیشہ کے متعلق:

قیاس کیا جائے کہ ان کا مقصد دھوکہ دینا ہے) اس طرح استعمال کرے کہ ان کی بابت قیاس کیا جائے کہ ان سے یہ باور کروانا مقصود ہے کہ وہ شاہی نشانات یا حکومتی علامات کو استعمال کرنے کا قانوناً مجاز ہے۔

عنوان ایسے طریقہ سے استعمال کرے کہ اس کی بابت قیاس کیا جائے کہ اس کی منشاء یہ باور کرانا ہے کہ وہ ہزمیجسٹی کی

صفحہ ۱۹۰

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

حکومت، یا وفاقی حکومت یا کسی صوبائی حکومت یا ایسی حکومت کے کسی محکمہ میں ملازم ہے، اسے مال فراہم کرتا ہے یا اس سے تعلق رکھتا ہے۔

طریقہ سے استعمال کرے، جس سے یہ باور کرانا مقصود ہو کہ اسے اقوام متحدہ کی صورت میں سیکرٹری جنرل نے یا عالمی ادارہ صحت کی صورت میں اس کے ڈائریکٹر جنرل نے وہ نشان ، مہر یا نام استعمال کرنے کا قانوناً اختیار دیا ہے۔

اسے کسی ایسے شخص کی طرف سے استغاثہ دائر کرنے پر جسے ایسے نشانات، آلات، علامات خطاب استعمال کرنے کا اختیار ہو یا رجسٹرار کی طرف سے مقدمہ دائر کرنے پر حکماً اس نام کا استعمال جاری رکھنے سے روک دیا جائے گا۔ تاہم شرط یہ ہے کہ اس دفعہ میں شامل کسی چیز سے یہ مراد نہیں لی جائے گی کہ اس سے کسی تجارتی نشان کے مالک کا حق اگر کوئی ہو، متأثر ہو رہا ہے۔ جس کے استعمال کو جاری رکھنے کا وہ قانوناً مجاز ہو۔“

۱۸...... پس واضح ہوا کہ دوسروں کے تجارتی ناموں ، تجارتی نشانوں، ملکیتی نشانات یا علامتوں کو اس نیت سے استعمال کرنا جس کا مقصد دوسروں کو یہ باور کرانا ہو کہ وہ استعمال کنندہ کی ملکیت ہیں، ایک جرم کے مترادف ہے۔ اس کے مرتکب کو نہ صرف قید اور جرمانہ کی سزا دی جاسکتی ہے بلکہ اس سے ہرجانہ بھی وصول کیا جاسکتا ہے اور اسے باز رکھنے کے لئے امتناعی حکم جاری کیا جاسکتا ہے۔ یہ معمولی مالیت کے مال کے بارے میں واقعی سچ ہے۔ مثال کے طور پر کوکا کولا کمپنی کسی کو یہ اجازت نہیں دے گی کہ اس کی مصنوعات کے چند اونس بھی اس کی اپنی بوتلوں یا دوسرے ظروف میں، جن پر کوکا کولا کا نشان لگا ہوا ہو، فروخت کرے خواہ اس کی قیمت چند سینٹ ہی کیوں نہ ہو۔ مزید برآں یہ ایک فوجداری جرم ہے جس پر قید و جرمانہ کی سزا دی جاسکتی ہے۔ اس سے یہ اصول وابستہ ہیں کہ دھوکہ نہ دو اور دوسروں کے حقوق ملکیت پامال نہ کرو۔

۱۹...... سادہ الفاظ میں جو لوگ دوسروں کو دھوکہ دیتے ہیں، ان کی حوصلہ شکنی کی جارہی ہے۔ خواہ ان کی حرکت سے پہنچنے والے نقصان کی مالیت چند کوڑیوں کے برابر ہو۔ ہمارے ہاں قائد اعظم اور اس کے مماثل لقب کی حفاظت کے لئے قانون وضع کیا گیا ہے جسے کسی حلقے نے چیلنج نہیں کیا۔ بہر حال پاکستان جیسی نظریاتی ریاست میں اپیل کنندگان جو کہ غیر مسلم ہیں، اپنے عقیدہ کو اسلام کے طور پر پیش کر کے دھوکہ دینا چاہتے ہیں؟ یہ بات خوش آئند اور لائق تحسین ہے کہ دنیا کے اس خطے میں عقیدہ آج بھی مسلمان کے لئے سب سے قیمتی متاع ہے، وہ ایسی حکومت کو ہرگز برداشت نہیں کرے گا، جو اسے ایسی جعل سازیوں اور دسیسہ کاریوں سے تحفظ فراہم کرنے کو تیار نہ ہو۔

۲۰...... دوسری طرف اپیل کنندگان اصرار کر رہے ہیں کہ انہیں نہ صرف اپنے مذہب کو اسلام کے طور پر پیش کرنے کا لائسنس دیا جائے بلکہ وہ یہ بھی چاہتے ہیں کہ انتہائی محترم ومقدس شخصیات کے ساتھ استعمال ہونے والے القابات اور خطابات وغیرہ کو ان گستاخ غیر مسلموں کے ناموں کے ساتھ چسپاں کیا جائے، جو مسلم شخصیات کی جوتی کے برابر بھی نہیں۔ حقیقتاً مسلمان اس اقدام کو اپنی عظیم ہستیوں کی بے حرمتی اور توہین وتنقیص پر محمول کرتے ہیں۔ پس اپیل کنندگان اور ان کی برادری کی طرف سے ممنوعہ القابات اور شعائر اسلام کے استعمال پر اصرار اس بارے میں کوئی شک و شبہ باقی نہیں رہنے دیتا کہ وہ قصداً ایسا کرنا چاہتے ہیں، جو نہ صرف ان مقدس ہستیوں کی بے حرمتی کرنے بلکہ دوسروں کو دھوکا دینے کے مترادف بھی ہے۔ اگر کوئی مذہبی گروہ دھوکہ دہی و فریب کاری کو اپنا بنیادی حق سمجھ کر اس پر اصرار کرے اور اس سلسلے میں عدالتوں سے مدد کا طلبگار ہو تو اس کا خدا ہی حافظ ہے۔ امریکہ کی سپریم کورٹ "Cantwell vs Connecticut (310 US 296 at

صفحہ ۱۹۱

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

"(306 نامی مقدمہ میں قرار دے چکی ہے کہ: ”مذہب یا مذہبی عقیدہ کا لبادہ کسی شخص کو، عام لوگوں کو فریب دینے پر تحفظ فراہم نہیں کرتا۔“

وضع نہیں کر لیتے؟ کیا انہیں اس بات کا احساس نہیں کہ دوسرے مذاہب کے شعائر ، مخصوص نشانات، علامات اور اعمال پر انحصار کر کے، وہ خود اپنے مذہب کی ریا کاری کا پردہ چاک کریں گے۔ اس صورت میں اس کے معنی یہ بھی ہو سکتے ہیں کہ ان کا نیا مذہب، اپنی طاقت، میرٹ اور صلاحیت کے بل پر ترقی نہیں کر سکتا یا فروغ نہیں پا سکتا۔ بلکہ اسے جعل سازی و فریب پر انحصار کرنا پڑ رہا ہے؟ آخر کار دنیا میں اور بہت سے مذاہب ہیں۔ انہوں نے مسلمانوں یا دوسرے لوگوں کے القابات وغیرہ پر کبھی غاصبانہ قبضہ نہیں کیا، بلکہ وہ اپنے عقائد کی پیروی اور اس کی تبلیغ بڑے فخر سے کرتے ہیں اور اپنے ہیروز کی اپنے طریقہ سے مدح وستائش کرتے ہیں۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ پاکستان میں ایسا کوئی قانون نافذ نہیں جو احمدیوں کو ان کے اپنے القابات تخلیق کرنے اور انہیں مخصوص افراد کے ساتھ استعمال کرنے سے روکتا ہو، نیز ان کے مذہب پر کسی قسم کی دوسری پابندیاں عائد نہیں ہیں۔

کی حد تک قانونی لحاظ سے درست نہیں ہے۔

اور وفاقی شرعی عدالت، مجیب الرحمٰن بنام وفاقی حکومت پاکستان و دیگر (پی.ایل.ڈی ۱۹۸۵ء ایف.ایس.سی ۸) نامی مقدمہ میں اس بناء پر اس فیصلہ کی تصدیق و توثیق کر چکی ہے کہ قادیانی رسول اکرم ﷺ کی ختم نبوت پر ایمان نہیں رکھتے اور قرآن حکیم کی ایک واضح اور صاف آیت کی تاویل کے ذریعے اس کی تکذیب کرتے ہیں اور اسلام میں ظل، بروز اور حلول جیسے مکاری پر مبنی تصورات کو فروغ دیتے ہیں۔ اس لئے انہیں حکم دیا گیا کہ وہ براہ راست یا بالواسطہ طور پر خود کو بطور مسلمان پیش کرنے سے باز رہیں اور مسلمانوں کے قانونی حقوق کا مطالبہ کرنے سے باز آجائیں۔

استعمال کرتے ہیں۔ جو سب کے سب بہترین مسلمان تھے۔ اس لئے رسول اکرم ﷺ کے ساتھیوں، ازواج النبیؐ رضوان اللہ علیہم اجمعین اور ان کے افراد خاندان کے لئے مخصوص القابات کا مرزائیوں کی طرف سے مرزا قادیانی کے ساتھیوں، اس کی بیویوں اور گھر والوں کے لئے استعمال، ان (صحابہؓ و اہل بیتؓ) کی بے حرمتی کے مترادف ہے۔ جس سے مسلمان یہ دھوکا کھا سکتے ہیں کہ ایسے القابات کے حامل افراد بہتر مسلمان ہیں۔ مزید عرض کیا گیا کہ اذان دینا اور اپنی عبادت گاہ کو مسجد کہنا اس کی یقینی علامت ہے کہ اذان دینے اور مسجد میں نماز پڑھنے والے افراد مسلمان ہیں۔ اس لئے قرار دیا گیا کہ ان القابات واصطلاحات کے استعمال کی ممانعت اور اس نوع کی پابندیاں عائد کرنے والے آرڈیننس کے احکام کہ قادیانی خود کو بطور مسلمان پیش نہیں کر سکتے۔ آئین کے مقاصد پر عمل درآمد کے لئے نافذ کئے گئے ہیں۔

اگر کوئی اسلامی حکومت برسراقتدار ہونے کے باوجود کسی غیر مسلم کو اسلام قبول کئے بغیر ، ان کے استعمال کی اجازت دیتی ہے تو وہ اپنے فرائض کی ادائیگی میں ناکام رہتی ہے۔ سیکولر ریاست کی طرح ایک اسلامی ریاست بھی قانون بنانے، غیر مسلموں کو اسلامی شعائر کے استعمال اور

صفحہ ۱۹۲

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۳ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

اپنے مذہب کی تبلیغ سے باز رکھنے کا اختیار رکھتی ہے۔ جیسا کہ پہلے عرض کیا گیا ایسی پابندی کا مطلب بے ایمان اور دھوکہ باز غیر مسلموں کو اسلام کی مخصوص و نمایاں صفات کے استعمال سے باز رکھنا ہے تاکہ وہ دوسرے غیر مسلموں کو اسلام کی طرف راغب نہ کر سکیں بلکہ اپنے مذہب کی آغوش میں لانے کی کوشش کریں۔ مزید قرار دیا گیا کہ اس دعویٰ پر بنیادی حقوق کی آڑ میں زور دینے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔

میں آرٹیکل ۲۰۳- ایف کے تحت چیلنج کیا تھا (دیکھئے پی. ایل. ڈی ۱۹۸۸ء ایس سی (شریعت اپیلیٹ بنچ) ۱۶۷) لیکن بعد میں نامعلوم وجوہات کی بناء پر اپیل واپس لے لی گئی۔ اس اپیل میں عدالت ہذا نے قرار دیا تھا کہ: ”وفاقی شرعی عدالت کا فیصلہ برقرار رہے گا۔“

پھر موجودہ اپیل دائر کی گئی جس کی سماعت دستور کے آرٹیکل ۱۸۵ کے تحت بصیغہ عمومی کی گئی۔

ہیں۔ آرٹیکل ۲۰۳- ایف، میں کہا گیا ہے کہ دستور میں شامل کسی امر کے باوجود اس باب کے احکام کے سوا کوئی عدالت عظمیٰ و عدالت عالیہ کسی ایسے معاملہ کی نسبت کسی کارروائی پر غور نہیں کرے گی یا کسی اختیار یا اختیار سماعت کا استعمال نہیں کرے گی جو عدالت کے اختیار یا اختیار سماعت کے دائرہ میں آتا ہو۔

سپریم کورٹ کے شریعت اپیلیٹ بنچ میں اپیل نہ کی جائے یا اپیل کرنے کی صورت میں فیصلہ کو بحال رکھا جائے، سپریم کورٹ کے لئے بھی واجب التعمیل ہوگا۔ جس کا نتیجہ یہ ہے کہ وفاقی شرعی عدالت کے محولہ بالا فیصلہ کو عدالت ہذا بھی نظر انداز نہیں کر سکتی۔

کرتا ہے، جس کی ضمانت پاکستان کے احمدی شہریوں کو دستور کے آرٹیکل ۲۰ میں دی گئی ہے؟ اس دعویٰ پر مزید غور کرنے سے پہلے ضروری ہے کہ متعلقہ قانون اور حقائق کا مطالعہ کر لیا جائے ، جن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ ان قوانین نے اپیل کنندگان کو ان کی مذہبی آزادی سے محروم کر دیا ہے۔

تعزیرات پاکستان کی دفعہ ۲۹۸- ب کی عبارت جو کہ اس مقدمہ سے متعلق ہے، درج ذیل ہے۔

”۲۹۸- ب“ ، القابات، اصطلاحات اور خطابات کا غلط استعمال:

زبانی الفاظ یا ظاہری حرکات کے ذریعے۔

دے یا خطاب کرے۔

اسے کسی ایک قسم کی سزائے قید اتنی مدت کے لئے دی جائے گی جو تین برس تک ہو سکتی ہے اور وہ جرمانہ کا مستوجب بھی ہوگا۔

صفحہ ۱۹۳

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

ظاہری حرکات کے ذریعے اپنے مذہب میں مروج عبادت کے لئے بلانے کے طریقہ یا صورت کا بطور ”اذان“ حوالہ دے یا اسی طرح سے اذان دے جیسے مسلمان اذان دیتے ہیں تو اسے کسی ایک قسم کی سزائے قید اتنی مدت کے لئے دی جائے گی جو تین برس تک ہو سکتی ہے نیز وہ جرمانہ کا مستوجب بھی ہوگا۔

دفعہ ۲۹۸۔ج کی عبارت اس طرح ہے:

”۲۹۸۔ج“، قادیانیوں کا خود کو مسلمان کہلوانا یا قادیانیت کی تبلیغ کرنا:

قادیانی گروپ یا لاہوری گروپ (جو خود کو احمدی یا کسی اور نام سے موسوم کرتے ہیں) کا کوئی فرد جو براہ راست یا بالواسطہ طور پر خود کو مسلمان ظاہر کرے، حوالہ دے یا موسوم کرے، یا اپنے عقیدہ کو اسلام کہے یا حوالہ دے یا اپنے عقیدہ کی تبلیغ اور اشاعت کرے یا دوسروں کو اپنا مذہب قبول کرنے کی دعوت دے، خواہ وہ تحریری و زبانی الفاظ یا ظاہری حرکات یا کسی اور طریقہ سے ایسا کام کرے، جس سے مسلمانوں کے مذہبی جذبات مشتعل ہوں۔ اسے کسی ایک قسم کی سزائے قید اتنی مدت کے لئے دی جائے گی جو تین برس تک ہو سکتی ہے۔ نیز وہ جرمانہ کا مستوجب بھی ہوگا۔

اصطلاحات اور خطابات وغیرہ کے استعمال سے، جن کا ذکر ان احکام میں موجود ہے، منع کرتے ہیں۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ اپیل کنندگان کے فاضل وکیل مسٹر فخر الدین جی ابراہیم نے دفعہ ۲۹۸ کی ذیلی دفعہ (الف) کو چیلنج نہیں کیا۔ ہوم سیکرٹری، ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ اور ریذیڈنٹ مجسٹریٹ کے احکام کی رو سے جن کا حوالہ درخواست کی ابتداء میں دیا جا چکا ہے، ان کی سالگرہ کی تقریبات پر صوبہ پنجاب میں پابندی لگا دی گئی تھی اور پیرا نمبر ۳ میں درج سرگرمیوں کی ممانعت کر دی گئی تھی۔ اس حکم کی غرض و غایت، اس آخری ہدایت سے بھی ظاہر ہے جس میں کہا گیا تھا کہ قادیانی کسی ایسی سرگرمی میں ملوث نہیں ہوں گے، جس سے براہ راست یا بالواسطہ طور پر مسلمانوں کے مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچے۔ محولہ بالا پابندیوں سے واضح طور پر ایسی سرگرمیاں مراد ہیں، جنہیں سرعام انجام دیا جانا تھا، نجی طور پر نہیں۔ اس کارروائی کو ایک رٹ پٹیشن کے ذریعے جس میں بنیادی حقوق کی پامالی کو بنیاد بنایا گیا تھا۔ ہائیکورٹ میں چیلنج کر دیا گیا۔ اس لئے ان حقائق کو جو خود اپیل کنندگان کی طرف سے بیان کئے گئے اور جن کی بنیاد پر احکام جاری کئے گئے، غیر متنازعہ سمجھا جائے گا۔

دستور کے آرٹیکل ۲۰ کی عبارت اس طرح ہے۔

”۲۰، مذہب کی پیروی اور مذہبی اداروں کے انتظام کی آزادی“:

قانون، امن عامہ اور اخلاق کے تابع رہتے ہوئے:

دوسرے ممالک کی عدالتوں نے جہاں اسی طرح کے بنیادی حقوق دیئے ہیں، قرار دیا ہے کہ یہ حق دو تصورات پر مبنی ہے۔ ایک عقیدہ کی

صفحہ ۱۹۴

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

آزادی اور دوسرے عمل کی آزادی، ان میں سے بعض نے اوّل الذکر آزادی کو مطلق، لامحدود اور غیر مشروط قرار دیا ہے جب کہ بعض دوسروں کے خیال میں، وہ بھی قانون وغیرہ کے تابع ہے۔ بہرحال اس بات پر سب متفق ہیں کہ آخر الذکر آزادی، اپنی نوعیت کے لحاظ سے مطلق اور لامحدود نہیں ہے، ان کے بقول افراد کا رویّہ قواعد و ضوابط کے تابع رکھا جاتا ہے تاکہ معاشرہ کی حفاظت کی جاسکے۔ پس اس تحفظ کو یقینی بنانے کے لئے آزادی عمل کی تعریف کرنا لازمی ہے۔ اس کے برعکس ترکیب ”قانون کے تابع رہتے ہوئے“ نہ تو مقنّنہ کو یہ لامحدود اختیار دیتی ہے کہ وہ دستور میں دیئے گئے بنیادی حقوق پر ناروا پابندیاں لگائے یا انہیں سلب کرلے، نہ ہی انہیں معدوم سمجھ کر نظر انداز یا ترک کیا جاسکتا ہے۔ ان دونوں کے مابین ہر معاملہ کے خصوصی حالات کو پیش نظر رکھتے ہوئے معنوی تعبیر کا سہارا لے کر توازن قائم رکھنا ضروری ہے، دیکھئے:

نیز

1968 Kar, 703 (F.B)

امریکہ کی سپریم کورٹ نے مقدمہ زیر عنوان: Reynolds Vs United States (98. U.S. 145) میں قرار دیا تھا کہ: ”کانگریس کو محض رائے کی بنیاد پر قانون سازی کے پورے اختیار سے محروم کر دیا گیا، تاہم کارروائی کرنے کے لئے کھلا چھوڑ دیا گیا جو معاشرتی فرائض کی خلاف ورزی اور اچھے امن و امان میں خرابی پیدا کرنے کے سلسلہ میں درکار ہوتی۔ قوانین، حکومت کے لئے کارروائی کرنے کی غرض سے وضع کئے جاتے ہیں اور جہاں وہ محض مذہبی عقائد اور آراء میں مداخلت نہیں کرسکتے، اعمال میں یقیناً کرسکتے ہیں۔“

مذکورہ بالا نقطہٴ نظر اپنانے کے بعد سپریم کورٹ نے نارمنوں کے فرقہ میں مروج تعدد ازدواج پر اس بناء پر پابندی لگانے کو حق بجانب سمجھا کہ ان پر یہ فرض، مذہب کی طرف سے عائد ہوتا تھا، وہ کوئی مذہبی عقیدہ یا رائے نہیں تھی۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ مذکورہ بالا پیرا کے آخری حصہ میں ظاہر کی گئی رائے امریکیوں سے مخصوص ہے جہاں مقتدر اعلیٰ عوام ہیں، اللہ تعالیٰ نہیں۔

میں مذکورہ بالا نقطہٴ نظر سے ملتے جلتے موقف کو قبول کرلیا جیسا کہ آسٹریلیا کے چیف جسٹس لیتھم نے ایک فیصلہ میں کہا تھا: ”مذہب کی حفاظت کے لئے بنایا گیا حکم ایسا نہیں تھا کہ اس کی تعبیر میں اسے مطلق حفاظت سمجھا جاتا اور دستور کی دیگر دفعات سے الگ کرکے جداگانہ طور پر اس کا اطلاق کیا جاتا۔ ان مراعات کا ریاست کے اس اختیار سے سمجھوتہ ہونا چاہئے کہ وہ امن، سلامتی اور منظم بود و ماند کو یقینی بنانے کے لئے قوت فرمانروائی کو استعمال کرسکے۔ جس کے بغیر شہری آزادیوں کی دستوری ضمانت ایک مذاق بن کے رہ جائے گی۔“

تک یہ قرار دے کر حل کردیا گیا کہ مذہب کی حفاظت کے لئے بنائی گئی دفعہ مطلق نہیں ہے، جس کی تعبیر اور اطلاق کو دستور کی دوسری دفعات سے الگ تھلگ کیا جاسکے۔“ سپریم کورٹ نے تقریر کی آزادی، پریس کی آزادی اور مذہبی آزادی کے متعلق دستور میں دی گئی ضمانت کے حوالہ سے Jones Vs. Opelika (1942) 316 U.S. 584 میں کہا تھا: ”یہ حقوق مطلق نہیں ہیں، جن کو ان دوسری پسندیدہ

صفحہ ۱۹۵

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

مراعات سے جدا کر کے استعمال کیا جاسکے، جن کی حفاظت کا اہتمام اسی دستاویز میں کیا گیا ہے۔‘‘ مزید قرار دیا گیا کہ: ’’ان مراعات کو ریاست کے اس حق سے سمجھوتہ کر لینا چاہئے کہ وہ منظم معاشرت کو یقینی بنانے کے لئے اقتدار اعلیٰ کو استعمال کر سکتی ہے، جس کے بغیر شہری آزادیوں کی دستوری ضمانت ایک مذاق بن کے رہ جائے گی۔‘‘

صفحہ ۱۳۰ پر مزید کہا گیا تھا کہ : ’’اس ریاست میں آنے کے بعد ہمیشہ کے لئے تمام انسانوں کو کسی امتیاز یا ترجیح کے بغیر مذہب کی پیروی اور عبادت کرنے کی آزادی حاصل ہوگی۔ تاہم شرط یہ ہے کہ بذریعہ ہذا ضمیر کی جو آزادی عطاء کی گئی ہے، اس سے یہ مفہوم مراد نہیں لیا جائے گا کہ اسے عیاشی پر مبنی افعال کا بہانہ بنالیا جائے یا ایسے کاموں کا جواز بنالیا جائے جو ریاست کے امن یا سلامتی سے مطابقت نہ رکھتے ہوں۔‘‘

اس سے آگے صفحہ ۱۳۱ پر کہا گیا ہے : ’’جان سٹورٹ مل نے اپنی کتاب "Essay on Liberty" میں آزادی سے متعلق افکار و نظریات کا تنقیدی جائزہ لیا ہے اور اس موضوع پر اس کی بحث کو، اصول کے وقیع اور وزن رکھنے والے اظہار کے طور پر بڑے پیمانہ پر تسلیم کیا جاتا ہے۔ مصنف کو وہ امتیاز کرنا پڑا جو "Liberty" اور "Licence" کے الفاظ کے مابین اکثر کیا جاتا ہے، لیکن عملی طور پر اس کا اطلاق کرنا بڑا مشکل ہوتا ہے۔ اس نے اعتراف کیا کہ آزادی سے یہ مراد نہیں کہ خود کو ہر وہ کام کرنے کی کھلی چھٹی ہے جو اس کے دل میں آئے۔ کیونکہ ایسی آزادی کے معنی ہوں گے کہ امن و امان غارت ہو جائے گا اور آخر کار خود آزادی کا نام و نشان مٹ جائے گا۔ اس نے آزادی کی حدود کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کرتے ہوئے کہا۔ وہ واحد غرض، جس کے لئے انسانوں کو انفرادی طور پر یا اجتماعی طور پر اپنا حق استعمال کرتے ہوئے کسی فرد کے عمل کی آزادی میں مداخلت کرنے کی اجازت دی گئی ہے، وہ ذاتی تحفظ ہے۔‘‘

اسی صفحہ پر مزید کہا گیا ہے کہ : ’’ایسے معمولات اور طرز عمل پر پابندی لگانا ریاست کی طرف سے مذہبی آزادی قائم رکھنے کے عین مطابق ہے جو سول حکومت کے قیام سے مطابقت نہ رکھتے ہوں یا معاشرہ کے مسلسل وجود کے لئے ضرر رساں ہوں۔‘‘

ہائے آسٹریلیا کی مشترکہ حکومت) کسی مذہب کو سرکاری طور پر منوانے یا کسی مذہبی رسم کو نافذ کرنے یا کسی مذہب پر آزادی سے عمل کی ممانعت کرنے کے لئے کوئی قانون نہیں بنائے گی اور حکومت کے تحت کسی عہدہ یا عوامی ٹرسٹ کے لئے کوئی مذہبی ٹیسٹ نہیں لیا جائے گا جو صلاحیت کے طور پر مطلوب ہو۔‘‘

خود معاشرہ کے لئے تباہ کن ہوں، جس کا نتیجہ یہ ہے کہ دستور میں جس مذہبی آزادی و حریت کی ضمانت دی گئی ہے اور تحفظ کا اہتمام کیا گیا ہے، وہ بعض پابندیوں کے تابع ہے، جس کی تشریح کرنا عدالت ہائے قانون کا کام اور فرض ہے اور وہ پابندیاں ایسی ہوتی ہیں جو معاشرہ کے تحفظ کے لئے ضروری اور معاشرتی امن کے مفاد میں ہوں۔‘‘

مذہب کی تعریف:

ہے۔ اہل علم نے اس لفظ کے مختلف مشتقات اور مآخذ بتائے ہیں۔ مذہب نظریات، اعمال اور اداروں کا مرکب و مجموعہ ہوتا ہے، مذہب خدا پر، عالم روحانیت پر اور ایسی دنیا یا دنیاؤں پر، ایمان کے اظہار و اعلان سے عبارت ہے جو ہماری دنیا سے ماورا ہے۔ آسان مفہوم میں

صفحہ ۱۹۶

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۳ء

ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

مذہب کا لفظ کسی کے عقیدہ کے بارے میں بولا جاتا ہے، جیسے عیسائیوں کا مذہب عیسائیت، مسلمانوں کا مذہب اسلام، یہودیوں کا مذہب یہودیت اور کیتھولک کا مذہب وغیرہ۔ امریکی سپریم کورٹ نے Davis Vs. Beason 1890 (133) U.S 333 نامی مقدمہ میں مذہب کی حسب ذیل تعریف کی ہے۔ ”مذہب کی اصطلاح کسی آدمی کے اپنے خالق کے بارے میں نظریات اور اس کی ذات کے احترام وعقیدت اور اس کی مرضی و منشاء کی اطاعت اور کردار کے حوالہ سے عائد ہونے والے فرائض سے تعلق رکھتی ہے۔ اسے اکثر کسی خاص فرقہ کے مسلک یا عبادت کے طریقہ سے گڈمڈ کردیا جاتا ہے۔ تاہم یہ آخر الذکر سے مختلف چیز ہے۔“

اور (ب) میں ”مسلم“ اور ”غیر مسلم“ کی جو تعریف کی گئی ہے، اس سے مذہب کے معانی اخذ کئے جاسکتے ہیں۔ مذکورہ بالا آرٹیکل کی متعلقہ شقیں اس طرح ہیں۔

مسلم اور غیر مسلم کی تعریف:

”۲۶۰۔ تعریفات“

منافی نہ ہو۔

ختم نبوت پر ایمان رکھتا ہو اور پیغمبر یا مذہبی مصلح کے طور پر کسی ایسے شخص پر ایمان نہ رکھتا ہو، نہ اسے مانتا ہو، جس نے حضرت محمد (ﷺ) کے بعد نبی کے کسی بھی مفہوم یا تشریح کی رو سے پیغمبر ہونے کا دعویٰ کیا ہو یا جو دعویٰ کرے، اور

والا کوئی شخص، قادیانی یا لاہوری گروپ (جو خود کو احمدی یا کسی اور نام سے موسوم کرتے ہیں) کا کوئی فرد یا کوئی بہائی اور شیڈولڈ کاسٹس میں سے کسی ذات سے تعلق رکھنے والا کوئی شخص شامل ہے۔

کورٹ نے مقدمہ زیر عنوان Commissioner H.R.E. Vs. Lakshmindra Swamiar (AIR 1954, S.C 282) میں اس اصطلاح کی تشریح یوں کی ہے۔

”مذہب افراد یا برادریوں کے عقیدہ سے تعلق رکھنے والا معاملہ ہے، اس کا خدا پرستی سے متعلق ہونا ضروری نہیں۔ ہندوستان میں ایسے معروف مذاہب موجود ہیں مثلاً بدھ مت اور جین مت، جو خدا پر ایمان نہیں رکھتے۔ مذہب کی بنیاد بلاشبہ عقائد یا نظریات کے نظام پر ہوتی ہے۔ جنہیں اس مذہب کے ماننے والے اپنی روحانی اصطلاح میں ممد و معاون سمجھتے ہیں۔ تاہم یہ کہنا درست نہیں ہوگا کہ مذہب کی حقیقت، عقیدہ کے بارے میں نظریہ کے علاوہ کچھ نہیں۔ کوئی مذہب اپنے پیروکاروں کے لئے نہ صرف ضابطۂ اخلاق طے کرسکتا ہے بلکہ یہ ایسی رسوم و رواج تقاریب اور عبادت و پرستش کے طریقوں کا تعین بھی کرسکتا ہے جنہیں مذہب کے لازمی اجزاء سمجھا جاتا ہے۔ یہ رسوم اور صورتیں بڑھ کر خوراک اور لباس سے متعلق معاملات کا بھی احاطہ کرسکتی ہیں۔“

صفحہ ۱۹۷

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

۴۰....... سپریم کورٹ نے فیصلہ کے پیرا نمبر ۱۹ میں کہا: ”پہلی بات یہ ہے کہ کسی مذہب کے لازمی ارکان کیا ہوتے ہیں، اس کا تعین بنیادی طور پر خود اس مذہب کے نظریات کے حوالہ سے کیا جاتا ہے، اگر ہندو مذہب کے کسی فرقہ کے احکام میں کہا گیا ہو کہ بت کے سامنے خوراک کا نذرانہ دن کے فلاں اوقات میں پیش کیا جائے گا، ایسی وقفہ داری رسوم ایک خاص طریقہ سے اور سال کے ایک خاص دن منانی چاہئیں، یا یہ کہ مقدس کتابوں کو ہر روز پڑھنا چاہئے یا مقدس آگ کو چڑھاوا پیش کرنا، ان تمام معمولات کو مذہب کا جزو سمجھا جائے گا اور محض یہ حقیقت کہ ان پر رقم خرچ ہوتی ہے، ان کو لادینیت پر مبنی نہیں بنا سکتی۔“

۴۱....... عدالت نے اس بات کا تذکرہ کرنے کے بعد کہ امریکہ اور آسٹریلیا کی عدالتیں کسی بھی قسم کی پابندی سے پاک، غیر مبہم الفاظ میں مذہب کی آزادی کا اعلان کر چکی ہیں۔ درج ذیل رائے کا اظہار کیا: ”آرٹیکل ۲۵ اور ۲۶ کی زبان بڑی حد تک صاف ہے، جس سے ہم غیر ملکی اسناد کی مدد کے بغیر یہ طے کر سکتے ہیں کہ کون سے امور مذہب کے دائرہ اثر میں آتے ہیں اور کون سے نہیں۔ جیسا کہ ہم پہلے کہہ چکے ہیں، ہمارے دستور میں مذہب کی آزادی محض مذہبی عقائد تک محدود نہیں، بلکہ یہ مذہبی معمولات پر بھی ان پابندیوں کے تابع رہتے ہوئے جو خود دستور نے عائد کی ہیں، حاوی ہے۔“

۴۲....... اس کے بعد عدالت نے اس سوال کو لیا کہ آیا بعض معاملات مذہب سے تعلق رکھتے ہیں اور اس سلسلے میں اس نتیجہ پر پہنچی۔ ”یہ معاملات یقیناً مذہب سے متعلق نہیں ہیں اور ان احکام کے جواز کی بابت کیا گیا اعتراض سراسر بے بنیاد لگتا ہے۔“ اسی عدالت نے درگاہ کمیٹی بنام حسین علی (اے. آئی. آر ۱۹۶۱ء ایس. سی ۱۴۰۲) میں جو فیصلہ صادر کیا، نمبر ۳۳ میں جسٹس گجندر گادکر نے خبردار کرتے ہوئے لکھا: ”اس نکتہ پر بحث کرتے ہوئے ایک انتباہی نوٹ لکھنا اور یہ کہنا بے محل نہ ہوگا کہ زیر بحث معمولات کو مذہب کا ایک جزو قرار دینے کے لئے یہ ضروری ہے کہ مذکورہ مذہب میں انہیں اس مذہب کے لازمی ارکان اور اجزائے تکمیلی سمجھا جاتا ہو، ورنہ لادینی معمولات کو بھی، جو کہ مذہب کا لازمی اور تکمیلی جزو نہیں، مذہبی روپ دیا جا سکتا ہے اور یہ دعویٰ کیا جا سکتا ہے کہ انہیں مذہبی معمولات سمجھا جائے۔ اسی طرح ایسے معمولات بھی ہیں چاہے وہ مذہبی ہوں، جو محض وہمی عقائد کی بنیاد پر وجود میں آئے ہیں اور اس مفہوم میں وہ غیر متعلقہ اور غیر ضروری ہیں۔ تا وقتیکہ ایسے معمولات کسی مذہب کا لازمی اور تکمیلی جزو ثابت نہ کئے جائیں۔ ان کے تحفظ کے بارے میں دعویٰ کا احتیاط سے جائزہ لینا ہوگا۔ بالفاظ دیگر یہ تحفظ ایسے مذہبی معمولات تک محدود ہونا چاہئے جو اسی مذہب کے لازمی اور تکمیلی اجزاء ہوں، دوسروں کے لئے نہیں۔“

۴۳....... اسی عدالت نے جگدیش آنند بنام پولیس کمشنر کلکتہ (اے. آئی. آر ۱۹۸۴ء ایس. سی ۵۱) میں قرار دیا ہے: ”عدالتوں کو یہ طے کرنے کا اختیار حاصل ہے کہ آیا کسی خاص رسم یا رواج کو کسی مخصوص مذہب کے احکام کی رو سے اس کا لازمی جزو سمجھا جاتا ہے یا نہیں۔“

جیسا کہ ہم غیر ملکوں کی لادینی عدالتوں کے فیصلوں میں دیکھ چکے ہیں کہ اگرچہ مذہبی معمولات کو ”مذہبی آزادی“ کے پردے میں تحفظ فراہم کیا جاتا ہے تاہم اس کے تحت صرف ایسے معمولات آتے ہیں جو مذہب کے لازمی اور تکمیلی ارکان ہوں۔ مزید قرار دیا گیا ہے کہ اس امر کا تعین کرنا عدالتوں کا کام ہے کہ آیا کوئی خاص عمل مذہب کا لازمی اور تکمیلی جزو ہے یا نہیں؟ معاملہ کی اس نوعیت کے پیش نظر ان معمولات کو اس طرح عدالت کے اطمینان کے لئے مستند مذہبی حوالوں سے اسی طرح بیان کرنا اور ثابت کرنا ہوگا۔

۴۴....... اس لئے اپیل کنندگان کو پہلے ان معمولات کی تفصیل بتانی چاہئے تھی جو وہ صد سالہ جشن کے موقع پر ادا کرنا چاہتے تھے، پھر یہ ثابت کرنا چاہئے تھا کہ وہ معمولات ان کے مذہب کے ناگزیر اور تکمیلی اجزاء ہیں۔ اس کے بعد ہی عدالت ایسا اعلان کر سکتی تھی کہ ان

صفحہ ۱۹۸

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۳ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

معمولات کی ادائیگی میں متنازعہ حکم یا انتظامی احکام کے تحت غیر قانونی رکاوٹ ڈالی گئی تھی۔ اپیل کنندگان کو یہ وضاحت کرنی چاہئے تھی کہ القابات وغیرہ اور مختلف تقریبات جو وہ منانا چاہتے تھے ان کے مذہب کا جزو لاینفک ہیں اور یہ کہ انہیں صرف اعلانیہ یا لوگوں کی نظروں کے سامنے سڑکوں اور گلیوں میں عام مقامات پر ہی منایا جا سکتا ہے۔

۴۵...... یہ بات بھی قابل غور ہے کہ اگر متنازعہ قانون، قانون سازی کا جائز جزو ہے اور مسئول الیہان نے متنازعہ کارروائی امن وامان کے مفاد میں کی تھی، تو جب تک یہ ثابت نہ کیا جائے کہ وہ اقدامات بدنیتی سے کئے گئے یا حقیقی جواز کے بغیر تھے، بنیادی حقوق کی پامالی کا سوال پیدا نہیں ہوسکتا۔ اس نکتے پر لاگو ہونے والے قانون کی عدالتوں میں خاصی تشریح ہو چکی ہے۔ اس لئے ان کا حوالہ دینا فائدہ سے خالی نہیں ہوگا۔

۴۶...... چیف جسٹس لاٹہم (Latham) نے جیہوواہ (Jehovah) کے گواہوں سے متعلق مقدمہ بعنوان "Adelaide vs. "Commonwealth. میں جس کا حوالہ پہلے دیا جاچکا ہے، آسٹریلوی دستور کی دفعہ ۱۱۶ کے مندرجات کو زیر بحث لاتے ہوئے، جو دیگر باتوں کے علاوہ حکومت کو ’کسی مذہب پر آزادانہ عمل کرنے‘ سے روکنے کی ممانعت کرتے ہیں، درج ذیل رائے کا اظہار کیا تھا۔

درست ہے کہ اس بات کا تعین کرتے وقت کہ مذہب کیا ہے اور کیا نہیں ہے، لفظ مذہب پر لازماً غور کرنا چاہئے۔

ایک خاص سیاق وسباق میں پرکھا جاسکتا ہے۔ مثال کے طور پر آزادانہ تقریر کے یہ معنی نہیں کہ پرہجوم جگہ پر ”آگ آگ“ کا شور مچا کر لوگوں میں اضطراب پھیلا دیا جائے۔ اسی طرح جیسا کہ مختلف امریکی مقدمات سے ظاہر ہے مذہب پر آزادانہ عمل افراد کو ان کے مذہبی عقائد کی بناء پر اختیار نہیں دیتا کہ وہ ملکی قانون کی دھجیاں بکھیر دیں۔

پر خلل ڈالتا ہے۔ اس طرح مذہب کی حفاظت کے لئے معاشرہ کو انتشار میں مبتلا کئے بغیر عملی اقدام کی منظوری دینا ممکن ہوجاتا ہے۔

۴۷...... اس لئے عدالت نے قرار دیا کہ جیہوواہ کے گواہوں نے فوجی ذمہ داری کے معنوں میں حکومت سے عدم تعاون کے لئے جو اصول بیان کیا، وہ معاشرہ کے دفاع کے لئے ضرر رساں تھا اور دفعہ ۱۱۶ نے اسے تحفظ فراہم نہیں کیا، پس وہاں جو اصول وضع کیا گیا وہ یہ ہے کہ: ”سول فرائض عائد کرنے والے قانون کو مذہبی آزادی میں خلل ڈالنے والا قانون نہیں کہا جاسکتا۔“

۴۸...... جسٹس ہگس (Hughes) نے بھی مقدمہ بعنوان Willis Cox Vs. New Hampshire (1941-312 U.S 569) میں اس اصول کو اس طرح بیان کیا ہے۔ ”کوئی قانون جو عام گلیوں کو پریڈ یا جلوس کے لئے استعمال کرنے والے افراد سے تقاضا کرتا ہو کہ اس کے لئے خصوصی اجازت حاصل کریں، کسی مذہبی عبادت یا مذہب پر عمل میں کوئی خلاف دستور مداخلت تصور نہیں ہوگا۔ جب اس کا اطلاق ایسے گروہ پر کیا جائے جو مذہبی عقائد پر مشتمل پلے کارڈز اور نشانات اٹھائے ایک قطار میں فٹ پاتھ پر مارچ کر رہا ہو۔“

صفحہ ۱۹۹

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

۴۹...... ہم نے مذکورہ بالا نقطۂ نظر کی حمایت میں ایسے ممالک کا حوالہ دیا جو لادین اور معتدل مزاج ہونے کے مدعی ہیں، مذہبی یا کٹر مذہب پرست نہیں ہیں۔ بھارت کی سپریم کورٹ نے محمد حنیف قریشی و دیگران بنام ریاست بہار (اے. آئی. آر ۱۹۵۸ء ایس سی ۷۳۱) نامی مقدمہ میں انہی اصولوں کا اطلاق کرتے ہوئے قرار دیا کہ بعض قوانین سے جن کے تحت بعض جانوروں کے ذبیحہ پر پابندی لگائی گئی ہے، مسلمانوں کو آرٹیکل ۲۵ کے تحت حاصل بنیادی حقوق کی خلاف ورزی نہیں ہوتی۔ کیونکہ اس دعویٰ کی تائید میں کوئی مواد موجود نہیں کہ بقرعید کے روز مسلمانوں کے لئے گائے کی قربانی کرنا لازمی ہے یا مسلمانوں کے لئے اپنے عقیدہ و نظریہ حیات کے اظہار کے لئے ایسا کرنا اسلام کی رو سے کوئی پسندیدہ بات ہے۔

۵۰...... اسی عدالت نے مقدمہ زیر عنوان Acharya Jagdishwaranandavadhutta etc. Vs Commissioner of Police, Calcutta. (AIR 1984 S.C. 51) Avadhutta میں قرار دیا تھا کہ: ”اگر اس بات کو درست تسلیم کر لیا جائے کہ ”تنداوا“ (Tandava) رقص کو آنند مارگ کے ہر پیروکار کے لئے مذہبی حق کے طور پر مقرر کیا گیا ہے، تب بھی اس کا یہ لازمی نتیجہ نہیں نکلتا کہ تنداوا رقص کو عام پبلک میں پیش کرنا مذہبی رسم کا حصہ ہے، پس یہ دعویٰ کہ درخواست گزار کو دستور کے آرٹیکل ۲۵ یا ۲۶ کے مفہوم میں عام گلیوں اور عام مقامات پر ایسا رقص کرنے کا بنیادی حق حاصل ہے، قابل استرداد ہے۔“

۵۱...... امریکی عدالتوں نے اسی طرح کی صورتوں کی بابت قرار دیا کہ اس سے مذہب پر عمل کرنے کی آزادی کے آئینی حق کی خلاف ورزی نہیں ہوتی۔ جناب شریف الدین پیرزادہ نے اپنی تصنیف "Fundamental Rights and Constitutional Remedies in Pakistan" (Edition 1966) پر لکھا ہے:

(245 U.S. 293, 1934) میں طلباء نے سپریم کورٹ سے اپیل کی تھی کہ یونیورسٹی کی طرف سے لازمی فوجی تربیت کے بارے میں بنایا گیا قانون، ان کے مذہبی عقیدہ کے منافی ہے، تو عدالت نے ان کے دعویٰ کو یہ کہتے ہوئے مسترد کر دیا کہ حکومت پر عوام کی طرف سے یہ فرض عائد ہوتا ہے کہ وہ اپنے اختیارات کے اندر رہتے ہوئے امن و امان قائم رکھنے اور قانون کے نفاذ کو یقینی بنانے کی غرض سے اپنے لئے معقول قوت بہم پہنچائے۔ اسی طرح ہر شہری پر اس کی صلاحیت کے مطابق یہ فرض عائد ہوتا ہے کہ وہ تمام دشمنوں کے مقابلوں میں حکومت کی مدد اور اس کا دفاع کرے۔“

375) میں مساچوسٹیس کی سپریم کورٹ نے ایسے معاملہ میں مسترد کر دیا تھا جس میں گلیوں کو مذہبی اجتماعات کے لئے استعمال کرنے یا ڈرم بجانے پر قانوناً پابندی تھی، حالانکہ وہ بعض تنظیموں مثلاً مکتی فوج کی مذہبی رسم کا ایک حصہ ہوتا ہے۔

سے مطابقت نہ رکھتا ہو، تب بھی اس پر عمل کرنا ہوگا۔

حیثیت کا خیال رکھنا لازمی ہوگا۔ دیکھئے: ("The United Kingdom" by G.W.Keeton and D. Lloyd, pp. 67-68)

صفحہ ۲۰۰

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۳ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

سلامتی میں مداخلت کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ یہ مؤقف اس اصول پر مبنی ہے کہ ریاست کسی کو اپنے حقوق سے استفادہ کرتے وقت دوسروں کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی یا سلب کرنے کی اجازت نہیں دے گی اور یہ کہ کسی کو اس امر کی چھٹی نہیں دی جاسکتی کہ کسی دوسرے طبقہ کے مذہب کی توہین کرے، نقصان پہنچائے یا بے حرمتی کرے یا ان کے مذہبی احساسات کو مشتعل کرے، یہاں تک کہ امن وامان کا مسئلہ پیدا ہو جائے۔ اس لئے جب کہیں اور جہاں کہیں ریاست یہ باور کرنے کی وجوہ رکھتی ہو کہ امن وامان خراب ہو جائے گا یا دوسروں کے مذہبی جذبات مجروح ہوں گے ۔ جس سے امن وامان کا مسئلہ پیدا ہو سکتا ہے، تو وہ مجاز ہے کہ ایسے کم سے کم انسدادی اقدامات بروئے کار لائے جو قیام امن وامان کے لئے ضروری ہوں۔

سنگین اور منظم حملہ ہے، وہ اس تنظیم کو اپنی سلامتی و یکجہتی کے لئے ایک مستقل خطرہ سمجھتے ہیں۔ کیونکہ مسلم معاشرہ کی سماجی و سیاسی تنظیم کی بنیاد اس کے مذہب پر ہے۔ ایسی صورتحال میں احمدیوں کی طرف سے مذکورہ بالا القابات و اصطلاحات کا ایسے طریقہ سے استعمال جسے مسلمان اپنی مقدس ہستیوں کی توہین اور بے حرمتی پر محمول کرتے ہیں، وہ امت کے اتحاد و یکجہتی اور قومی امن و سلامتی کے لئے خطرہ ہے جو امن وامان کی صورتحال کا سبب بھی بن سکتا ہے جیسا کہ ماضی میں بار ہا ہو چکا ہے۔

احمدیت اقبال کی نظر میں:

نئی نبوت کا دعویٰ جو بانی اسلام کی نبوت سے بھی بڑھ کر ہے۔ قطعی طور پر پیش کیا گیا اور مسلم دنیا کو ”کافر“ قرار دیا گیا۔ بعد ازاں میرا شک اس وقت عملی بغاوت میں بدل گیا، جب میں نے خود اپنے کانوں سے تحریک کے ایک پیروکار کو پیغمبر اسلام کا ذکر توہین آمیز لہجے میں کرتے سنا۔“ دیکھئے:

(Thoughts and Reflection of Iqal p:297 Edition 1973)

اصل امت مسلمہ سے، اس بناء پر الگ کر لیا ہے اور مسلمانوں کی تکفیر کرتے ہیں کہ مسلمان، مرزا قادیانی، بانی جماعت احمدیہ کو پیغمبر اور مسیح موعود کیوں نہیں مانتے۔ یہ عقیدہ خود مرزا قادیانی کی ہدایات کے تحت اپنایا گیا ہے، جو برملا کہتا تھا کہ:

ہے اور میرے دعویٰ کی تصدیق کرتا ہے۔ مگر رنڈیوں (بدکار عورتوں) کی اولاد جن کے دلوں پر مہر لگا دی گئی ہے وہ مجھے نہیں مانتے۔“

(آئینہ کمالات اسلام ص ۵۴۷، ۵۴۸، خزائن ج ۵ ص ۵۴۷، ۵۴۸)

ایک ”نبی“ نے جو زبان استعمال کی ہے اور مخاطبوں پر اس کا جو اثر ہو سکتا ہے، وہ قابل غور ہے۔

پر اکتفاء کرتے ہیں ۔ ”دشمن ہمارے بیابانوں کے خنزیر ہو گئے اور ان کی عورتیں کتیوں سے بڑھ گئی ہیں۔“

(نجم الہدیٰ ص ۱۰، خزائن ج ۱۴ ص ۵۳)

صفحہ ۲۰۱

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۳ء

ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

(اشتہار معیار الاخیار ص۸، مندرجہ مجموعہ اشتہارات ج۳ ص۲۷۵)

(اربعین نمبر۳ ص۲۸ حاشیہ، خزائن ج۱۷ ص۴۱۷)

(انجام آتھم ص۶۲، خزائن ج۱۱ ص۶۲)

(حقیقت الوحی ص۱۶۳، ۱۶۴، خزائن ج۲۲ ص۱۶۸)

(مرزا قادیانی کا خط ڈاکٹر عبدالحکیم خان پٹیالوی کے نام، حقیقت الوحی ص۱۶۳، خزائن ج۲۲ ص۱۶۷)

صفحہ ۲۰۲

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

(ک) ”اب جو شخص اس صاف فیصلہ کے برخلاف شرارت اور عناد کی راہ سے بکواس کرے گا اور اپنی شرارت سے بار بار کہے گا کہ عیسائیوں کی فتح ہوئی اور کچھ شرم اور حیاء کو کام نہیں لائے گا اور بغیر اس کے جو ہمارے اس فیصلہ کا انصاف کی رو سے جواب دے سکے۔ انکار اور زبان درازی سے باز نہیں آئے گا اور ہماری فتح کا قائل نہیں ہو گا تو صاف سمجھا جائے گا کہ اس کو ولد الحرام بننے کا شوق ہے اور حلال زادہ نہیں۔“

(انوار الاسلام ص ۳۰، خزائن ج ۹ ص ۳۱)

۵۶...... اسی طرح کی دیگر تحریریں ڈھیروں کی صورت میں موجود ہیں جو نہ صرف مرزا قادیانی کے اپنے قلم سے ہیں بلکہ اس کے نام نہاد خلفاء اور پیروکاروں نے بھی لکھی ہیں جو کسی شک و شبہ کے بغیر ثابت کرتی ہیں کہ وہ مذہبی لحاظ سے اور معاشرتی طور پر مسلمانوں سے ایک الگ اور مختلف برادری ہیں۔

ظفر اللہ خاں کا قائد اعظم کے جنازہ میں شرکت سے انکار:

۵۷...... سر محمد ظفر اللہ خاں قادیانی نے پاکستان کا وزیر خارجہ ہوتے ہوئے بابائے قوم قائد اعظم کی نماز جنازہ میں شامل ہونے اور انہیں آخری خراج عقیدت پیش کرنے سے یہ کہہ کر انکار کر دیا تھا کہ اسے غیر مسلم ریاست کا مسلمان وزیر خارجہ یا مسلم ریاست کا غیر مسلم وزیر خارجہ سمجھ لیا جائے۔

(روزنامہ زمیندار لاہور مؤرخہ ۸؍فروری ۱۹۵۰ء)

۵۸...... مرزا قادیانی نے اپنے ماننے والوں کو غیر احمدیوں کے ساتھ اپنی بچیوں کے نکاح کرنے اور ان کے ساتھ نماز پڑھنے سے منع کر دیا تھا۔ اس کے بقول مسلمانوں کی بڑی جماعت کو زیادہ سے زیادہ نصاریٰ کی طرح سمجھا جا سکتا ہے۔

۵۹...... مرزا بشیر الدین محمود، مرزا قادیانی کے فرزند اور ”خلیفہ ثانی“ سے منسوب یہ بیان بھی قابل غور ہے: ”یہ کہ ایک سفارتکار کی معرفت میں نے انگریز افسر سے درخواست کی کہ پارسیوں اور عیسائیوں کی طرح ہمارے جدا گانہ حقوق کا تعین کیا جائے۔ افسر نے جواب دیا کہ وہ اقلیتیں ہیں جب کہ تم ایک مذہبی فرقہ ہو، اس پر میں نے کہا کہ پارسی اور عیسائی مذہبی برادریاں ہیں، اگر انہیں جدا گانہ حقوق دیئے جا سکتے ہیں تو ہمیں کیوں نہیں۔“

(روزنامہ الفضل قادیان ج ۳۴ نمبر ۲۶۴، مؤرخہ ۱۳؍نومبر ۱۹۴۶ء)

اسلام اور احمدیت میں بعد:

۶۰...... پس یہ ظاہر ہے کہ خود احمدیوں کے نزدیک دونوں فرقے یعنی احمدی اور بڑی جماعت بیک وقت مسلمان نہیں ہو سکتے۔ اگر ایک فرقہ مسلمان ہے تو دوسرا یقیناً اسلام سے خارج ہے۔ مزید برآں احمدیوں نے ہمیشہ یہ چاہا کہ انہیں جدا گانہ وجود سمجھا جائے اور وہ دوسروں سے علیحدہ اور مختلف حیثیت رکھنے کا دعویٰ کرتے آئے ہیں۔ مسلمانوں کی بڑی جماعت نے کبھی احمدیوں کے شانہ بشانہ کھڑا ہونا پسند نہیں کیا۔ جیسا کہ پہلے نقل کیا گیا ، احمدی علیحدہ اور جدا گانہ حقوق کے ساتھ اقلیت شمار ہونے کو بھی تیار تھے۔ ایک مذہبی برادری کے طور پر وہ یا تو مسلمانوں کے مخالف ہیں اور ہمیشہ کوشاں رہے ہیں کہ مسلمانوں کے ساتھ خلط ملط نہ ہوں یا حقیقت یہ ہے کہ انہوں نے پوری امت مسلمہ کو کافر قرار دیا تاہم ایک اقلیت ہونے کی بناء پر وہ اپنی مرضی مسلط نہیں کر سکے۔ دوسری طرف مسلمانوں کی بڑی جماعت نے جو مرزائیوں کے مذہب کے خلاف اس کے آغاز ہی سے مہم چلا رہی تھی۔ ستمبر ۱۹۷۴ء میں ایک فیصلہ کیا اور انہیں آئین کے تحت غیر مسلم اقلیت قرار دے دیا۔ یہ کوئی اچانک اور نیا غیر مطلوب فیصلہ نہیں تھا بلکہ ان کی خواہش کے مطابق اقدام تھا۔ صرف سمتیں بدل گئی تھیں۔ اس لئے احمدی قانون اور دستوری رو سے غیر مسلم ہیں اور ان کی پسند کے مطابق مسلمانوں کے برعکس اقلیت ہیں۔ لہٰذا انہیں ایسے القابات واصطلاحات اور شعائر اسلام کو استعمال کرنے کا کوئی حق نہیں جو مسلمانوں کے لئے مخصوص ہیں اور انہیں بجا طور پر ان کے استعمال سے روکا گیا ہے۔

صفحہ ۲۰۳

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

پیرا نمبر ۴۱: یہ کہ کسی برادری سے اس کے کسی رکن کا اخراج بلاشبہ اس کے بہت سے شہری حقوق پر اثر انداز ہوتا ہے۔ اس مخصوص مذہبی گروہ کے قبضہ میں بہت سی جائیداد واملاک ہیں اور انہیں خارج کرنے کا لازمی نتیجہ یہ نکلے گا کہ برادری سے خارج کیا گیا شخص ایسی جائیداد کے حقوق ملکیت سے محروم ہو جائے گا۔ شاید ایسا سوچنا کسی کو اچھا نہ لگے کہ کمیونٹی کے سربراہ کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ اس طریقہ سے کسی رکن کے شہری حقوق چھین لے۔ تاہم آرٹیکل ۲۶ (ب) کے تحت دیا گیا حق شہری حقوق کی حفاظت کے تابع نہیں ہے۔ آرٹیکل ۲۶ میں لگائی گئی صریح پابندی یہ ہے کہ یہ حق آرٹیکل کی متعدد شقوں کی رو سے قانون عامہ اخلاق اور صحت کے تابع رہتے ہوئے قائم رہے گا۔ عدالت ہٰذا نے 1958 S.C.M.R 895 (اے آئی آر ۱۹۵۸ء ایس سی ۲۵۵) میں قرار دیا تھا کہ آرٹیکل ۲۶ (ب) کے تحت دیا گیا حق آرٹیکل ۲۵ کی شق ۲ کے بھی تابع ہے۔

”اگلا سوال یہ ہے کہ آیا داعی مطلق کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ کسی کو مرتد قرار دے کر اپنے فرقہ میں سے خارج کردے۔ بلاشبہ محمد ﷺ اور اماموں نے ایسا کیا تھا۔ ایسے اختیار کے استعمال کی وجوہات اور اس کے اثرات پر بعد میں غور کیا جائے گا۔ سردست اتنا کہنا ضروری ہے کہ اس برادری میں وقتاً فوقتاً داعی کی طرف سے اس اختیار کے استعمال کی مثالیں موجود ہیں۔“

صفحہ ۲۰۴

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۳ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

ساتھ لگائے رکھنا چاہتے تھے۔ پس انہیں شکوہ ہے کہ انہیں ملت اسلامیہ سے غیر منصفانہ طور پر خارج کیا گیا اور غیر مسلم قرار دیا گیا ہے۔ ان کی برہمی اور آزردگی کی وجہ یہ لگتی ہے کہ اب وہ اسلام سے بے خبر اور غیر مسلموں کو اپنے مذہب میں شامل کرنے کی سکیم پر کامیابی سے عمل نہیں کر سکتے۔ شاید یہی وجہ ہو کہ وہ اسلامی القابات واصطلاحات کو غصب کرنا چاہتے ہیں، کلمہ کا اظہار کر کے اور اذان دے کر خود کو مسلمان ظاہر کرنا چاہتے ہیں اور اسلام کے پردہ میں قادیانیت کی تبلیغ واشاعت کرنے کے خواہش مند ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ غیر مسلم کا لیبل ان کے عزائم کی راہ میں رکاوٹ بن گیا ہے۔

۶۴....... احمدیوں کی اس خواہش نے کہ مسلمانوں کی جملہ قابل احترام شعائر پر کسی نہ کسی طرح قبضہ کر لیا جائے ، اس لئے جنم لیا کہ وہ اپنے مذہب کو مشکوک انداز اور پیغام کی صورت میں اسلام کے طور پر پھیلانا چاہتے تھے، اس مقصد کے لئے ان کی طرف سے امتناع قادیانیت آرڈیننس کی مخالفت ومزاحمت بالکل قابل فہم بات ہے، بہر حال آئین بھی ان کے راستہ میں حائل ہے کیونکہ آرڈیننس تو محض دستور کے منشاء اور مقصد کو پورا کرتا ہے۔ اندریں حالات کسی قادیانی کے بارے میں پہلے اس کے عقیدہ کی ملامت کئے بغیر یہ دعویٰ کرنا، اسے غور وخوض کے لئے پیش کرنا، ظاہر یا قرار دینا کہ وہ مسلمان ہے نہ صرف آرڈیننس کی صریح خلاف ورزی ہے بلکہ دستور کے بھی منافی ہے۔ اس طرح کے واقعات ماضی میں رونما ہوچکے ہیں اور آئندہ بھی ہو سکتے ہیں اور وہ ماضی کی طرح امن وامان کی سنگین صورتحال پیدا کرنے کا موجب بن سکتے ہیں۔

۶۵....... یہ دلیل کہ متنازعہ آرڈیننس مبہم اور غیر منصفانہ حد تک سخت ہے، خود اپیل کنندگان نے اس کی تائید نہیں کی۔ یہاں پر محل حوالہ کے لئے تعزیرات پاکستان کی دفعہ ۲۹۸-سی کو ایک بار پھر نقل کرنا یقیناً کارآمد ہوگا جو کہ اس طرح ہے۔

’’۲۹۸-سی‘‘، قادیانی جماعت کے افراد کا خود کو مسلمان کہنا یا اپنے عقیدہ کی تبلیغ واشاعت کرنا:

قادیانی یا لاہوری گروپ (جو خود کو احمدی یا کسی اور نام سے موسوم کرتے ہیں) کا کوئی شخص جو بلا واسطہ یا بالواسطہ طور پر خود کو مسلمان ظاہر کرے، یا اپنے عقیدہ کا بطور اسلام حوالہ دے یا موسوم کرے یا اپنے عقیدہ کی تبلیغ واشاعت کرے یا دوسرے لوگوں کو اپنا عقیدہ قبول کرنے کی دعوت دے۔ تحریری یا زبانی الفاظ ، ظاہری حرکات یا کسی اور طریقہ سے، خواہ وہ کوئی بھی ہو، مسلمانوں کے مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچائے تو اسے کسی ایک قسم کی سزائے قید اتنی مدت کے لئے دی جائے گی جو تین برس تک ہو سکتی ہے، نیز وہ سزائے جرمانہ کا مستوجب بھی ہوگا۔

۶۶....... اعتراض بطور خاص اس جملے پر کیا گیا ہے: ’’خود کو مسلمان ظاہر کرے اور اپنے عقیدہ کو اسلام کے طور پر پیش کرے ۔‘‘ بلیک کی قانونی لغت Black's Law Dictionary کے مطابق لفظ "Vague" کے معنی ہیں: ’’غیر واضح، غیر یقینی، سمجھ میں نہ آنے والا، مبہم‘‘ اس اصول کے مطابق کوئی قانون جو کسی شخص کو واضح طور سے یہ نہیں بتاتا کہ کس چیز کا حکم دیا گیا ہے اور کس بات سے منع کیا گیا ہے۔ وہ دستور کے خلاف اور ’’مناسب طریق عمل‘‘ کے منافی ہے۔ اپیل کنندگان نے بھارتی عدالتوں کے صادر کردہ نیز غلام ضمیر بنام اے۔ بی خوندکر (پی.ایل.ڈی ۱۹۶۵ء ایس سی ۱۵۶) میں عدالت ہذا کے جس فیصلہ کا حوالہ دیا ہے، وہ اس معاملہ میں متعلقہ نہیں ہے، دلیل دی گئی کہ جملہ ’’جو بالواسطہ یا بلاواسطہ طور پر خود کو مسلمان ظاہر کرے، موسوم کرے یا اپنے عقیدہ کا بطور اسلام حوالہ دے‘‘ بہت ہی وسیع اور پھیلا ہوا ہے۔ انتہائی غیر واضح اور سیماب وش ہے، بہت ہی غیر معین اور غیر یقینی ہے، جسے ہر کوئی سمجھ نہیں سکتا اور پہلے سے یہ پیش بینی نہیں کر سکتا کہ متقننہ نے کون سے کاموں سے منع کیا ہے۔ اس لئے اسے قانون نہیں کہا جاسکتا۔ پس اسے منسوخ کیا جائے۔

صفحہ ۲۰۵

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

۶۷...... اس عملی مقولہ کے بارے میں کوئی اختلاف رائے نہیں ہے کہ اگر کوئی قانون مقننہ کے لئے مقرر کردہ حدود سے تجاوز کر جائے یا کوئی قانون کسی بنیادی حق میں مداخلت کرے، یا کوئی قانون خصوصاً فوجداری قانون، مبہم، غیر یقینی یا بہت وسیع ہو، تو اسے اعتراض کی حد تک باطل قرار دے کر منسوخ کر دینا چاہئے۔ بہرحال اپیل کنندگان نے یہ ظاہر یا واضح نہیں کیا کہ ابہام کہاں ہے۔ اپنے مقصد میں کامیابی حاصل کرنے کے لئے یہ ظاہر کرنا، ان پر لازم تھا کہ جرم کے اجزائے ترکیبی، جیسا کہ وہ قانون میں درج ہیں، اس قدر غیر واضح ہیں کہ معصومانہ اور مجرمانہ طرز عمل کے مابین کوئی خط امتیاز نہیں کھینچا جاسکتا یا اس قانون کی من مانی اور امتیازی تنقید کے نمایاں خطرات موجود ہیں، یا یہ کہ وہ حقیقت میں اتنا مبہم ہے کہ عام آدمی اس کے مفہوم کے بارے میں تو قیاس آرائی کر سکتا ہے، اس کے اطلاق کی بابت اختلاف رائے ظاہر کئے بغیر نہیں رہ سکتا۔

۶۸...... ڈکشنری کے مطابق "Pose" کے معنی ہیں ”دعویٰ کرنا“ یا کوئی تجویز غور وخوض کے لئے پیش کرنا، موجودہ معاملہ میں قانون کے مخاطب قادیانی یا لاہوری گروپ کے ارکان ہیں۔ وہ عقائد کے حوالہ سے امت مسلمہ کے بڑے حصہ کے ساتھ سنگین اختلافات و تنازعات کا طویل پس منظر رکھتے ہیں۔ ان متنازعہ عقائد پر ہم آگے چل کر بحث کریں گے۔ مجیب الرحمٰن بنام وفاقی حکومت پاکستان و دیگران (پی ایل ڈی ۱۹۸۵ء ایف ایس سی ۸) نامی مقدمہ اور قادیانیوں کے صد سالہ جشن پر پابندی سے متعلق لاہور ہائیکورٹ کے فیصلہ میں کسی قدر تفصیل سے بحث ہو چکی ہے۔ احمدیوں کا دعویٰ ہے کہ مرزا قادیانی خود نبی تھے اور جو ان کی نبوت پر ایمان نہیں رکھتے وہ کافر ہیں۔ احمدی، مرزا قادیانی کے متعلقین کے لئے مذکورہ بالا اسماء والقابات وغیرہ استعمال کا حق محض اس تعلق کی بناء پر جتاتے ہیں اور اسے اسی روشنی میں دیکھنا چاہئے۔ پس یہ شہادتوں کے ذریعے ثابت کیا جانے والا سوال ہے کہ ملزمان نے فی الواقع ایسے القابات واصطلاحات کا استعمال کیا، یا اس کا رویہ اور طرز عمل اس کے مترادف تھا، جو کچھ قانون کا منشاء ہے، اپیل کنندگان بلاشبہ احمدی ہیں اور از روئے آئین غیر مسلم ہیں۔ پس ان کی طرف سے شعائر اسلامی کا استعمال یا تو خود کو مسلمان ظاہر کرنے یا دوسروں کو دھوکہ دینے کے مترادف ہے یا توہین و تضحیک کرنے کے برابر.......بہر صورت اس حقیقت کو واضح طور پر ثابت کیا جاسکتا ہے کہ وہ خود کو اسی طرح پیش کر رہے تھے۔ پس انہوں نے اس مسئلہ کو نہیں لیا، محض ایسے تنازعہ کو اٹھا رہے ہیں جو ٹھوس بنیاد نہیں رکھتا۔ یہ بات بلاشک و شبہ کہی جاسکتی ہے کہ قانون میں سرے سے کوئی ابہام نہیں ہے۔

۶۹...... مجموعہ تعزیرات پاکستان جو کہ بڑی حد تک تعزیرات ہند سے ملتا جلتا ہے، کی دفعات ۱۴۰، ۱۷۰، ۱۷۱، ۱۷۱ ڈی، ۲۰۵، ۲۲۹ اور ۴۱۶ میں جرم تلبیس شخصی (Personation) کا ذکر ہے۔ یہ جرم کسی قدر زیر بحث جرم کے مماثل ہوتا ہے اور اس کی عبارت پر اس مقدمہ میں اٹھائے گئے اعتراض کو پرکھنے کے لئے غور کیا جاسکتا ہے۔ دفعہ ۱۴۰ میں کہا گیا ہے: ”جو کوئی حکومت پاکستان کی بری، بحری یا فضائی فوج میں سپاہی، ملاح یا ہوا باز نہ ہو، ایسا لباس پہنے یا ایسا نشان لٹکائے پھرے جسے کوئی سپاہی، ملاح یا ہوا باز پہنتا ہو یا لگاتا ہو تو اسے.......سزا دی جائے گی۔ اسی طرح دفعہ ۱۷۱ میں ایسا لباس پہنے یا نشان لئے پھرنے کو جرم قرار دیا گیا جسے سرکاری ملازمین کا کوئی طبقہ پہنتا یا لگاتا ہو، دفعہ ۱۷۱(ڈی) کے تحت رائے دہی کے لئے پرچی مانگنے یا کسی دوسرے زندہ یا مردہ شخص کے نام پر ووٹ ڈالنے کو بھی جرم ٹھہرایا گیا ہے۔ ایسی صورت میں محض اس طرز عمل کو شہادت مانا جائے گا۔ دفعہ ۲۰۵ یکسر مختلف معاملہ سے بحث کرتی ہے، اس میں کہا گیا ہے: ”جو کوئی جھوٹ موٹ کسی اور شخص کا روپ دھار کر اس اختیار کردہ کردار میں کوئی اقبال کرے یا بیان دے اسے کوئی ایک سزا دی جائے گی۔ دفعہ ۲۲۹ میں جیوری کے کسی رکن یا اسیسر کی تلبیس شخصی کرنے کو جرم بتایا گیا ہے۔ سب سے آخر میں دفعہ ۴۱۶ آتی ہے، جس کا تعلق تلبیس شخصی کے ذریعے دغا دینے سے ہے، اس میں کسی اور شخص کا روپ دھار کر یا اپنے آپ کو کسی دوسرے کا قائم مقام یا اس جیسا ظاہر کر کے دھوکہ دینا شامل ہے۔“

صفحہ ۲۰۶

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

۷۰...... تعزیرات ہند کے نفاذ ۱۸۶۰ء سے لے کر اب تک کسی نے مذکورہ بالا دفعات میں سے کسی کے خلاف اس طرح کا اعتراض نہیں کیا، جیسا کہ اپیل کنندگان نے کیا ہے، اگرچہ یہ دفعات اسی طرح کے موضوع سے معاملہ کرتی ہیں، تاہم ایسی درستی کا دعویٰ نہیں کر سکتیں۔ جیسا کہ اپیل کنندگان مطالبہ کر رہے ہیں۔ حتیٰ کہ کسی عدالت نے بھی کبھی کسی ابہام یا نقص کی نشاندہی نہیں کی جس سے ان کے انتظام میں کوئی خلل پڑتا ہو، پس مذکورہ بالا جملہ میں ایسی کوئی خامی نہیں ہے۔

۷۱...... اس کے برعکس متنازعہ آرڈیننس میں وہ اصل القاب، خطابات اور اصطلاحیں دی گئی ہیں۔ جن کا تحفظ کرنا مقصود ہے۔ نیز اس سلسلے میں عائد کردہ پابندیاں بیان کی گئی ہیں۔ آرڈیننس میں یہ صراحت بھی کر دی گئی ہے کہ انہیں صرف ایسے افراد یا مواقع کے لئے استعمال کیا جاسکتا ہے، جن کے لئے وہ مقرر ومخصوص ہیں، کسی اور کے لئے نہیں۔ احمدی ان شعائر کی بے حرمتی کرتے رہے ہیں اور اپنے قائدین و معمولات پر ان کا اطلاق کرتے رہتے ہیں تاکہ لوگوں کو یہ دھوکا دے سکیں کہ وہ بھی اسی مقام و مرتبہ اور صلاحیت کے حامل ہیں۔ احمدیوں کے اس عمل نے نہ صرف معصوم، سادہ اور بے خبر لوگوں کو گمراہ کیا بلکہ پوری مدت کے دوران امن وامان کا مسئلہ پیدا کرتے رہے۔ اس لئے قانون سازی ضروری تھی جو کسی بھی لحاظ سے احمدیوں کی مذہبی آزادی میں دخل نہیں دیتی۔ یہ قانون محض انہیں ایسے القابات و خطابات استعمال کرنے سے روکتا ہے جن پر ان کا کسی قسم کا حق نہیں۔ از روئے قانون ان پر نئے القابات و اصطلاحات وضع کرنے کی کوئی پابندی نہیں ہے۔

۷۲...... ہم اس اعتراض کو بعض غیر ملکی فیصلوں کی روشنی میں بھی پرکھ سکتے ہیں۔ امریکی سپریم کورٹ نے مقدمہ زیر عنوان Lanzetta) (1939 ,451 vs. New Jersey 306. U.S میں قرار دیا تھا کہ ابہام ایک آئینی خرابی ہے جو تصوراتی طور پر ضرورت سے زیادہ طویل اور مختلف ہے یہ کہ ضرورت سے زیادہ وسیع قانون میں نہ تو وضاحت کی کمی ہوتی ہے نہ ہی درستی کی اور مبہم قانون کو اس سرگرمی تک پہنچنے کی ضرورت نہیں، جسے پہلی ترمیم کے ذریعے تحفظ فراہم کیا گیا ہے، صحیح راہِ عمل کے لحاظ سے اگر کوئی قانون اس قدر مبہم اور غیر واضح ہو کہ: ”عام سمجھ بوجھ کے حامل افراد اس کے مفہوم ومعانی کے بارے میں تو قیاس آرائی کر سکیں۔ لیکن اس کے اطلاق کی بابت متفق نہ ہوں تو وہ قانون باطل اور بے اثر ہے۔“ دیکھئے

(Connally vs. General Construction Co. (1926) 269, U.S 385-391)

۷۳...... ایسا ابہام اس وقت واقع ہوتا ہے جب کوئی مقننہ قانون سے تحفظ کے اخراج کو ایسے غیر واضح الفاظ میں بیان کرتی ہے کہ گناہ سے پاک اور گناہ آلود طرز عمل کے مابین خطِ امتیاز کھینچنا قیاس واندازہ کا کام بن جاتا ہے اور یہ کہ قانون نافذ کرنے والے حکام کی صوابدید کو اس سے وابستہ من مانے اور امتیازی نفاذ کے خطرات کو صریح قانونی معیار کے ذریعے محدود کیا جائے، اس دلیل کو مذکورہ بالا مقدمہ سے کوئی مدد نہیں ملتی۔ کیونکہ اس قانون کے مندرجات آئین اور شعائر اسلام کی روشنی میں بالکل واضح اور صاف لگتے ہیں۔ یہ قانون کسی بھی قانونی مفہوم میں مبہم نہیں ہے۔ اس چیز پر پہلے تفصیل سے بحث ہو چکی ہے کہ امن وامان کو تحفظ فراہم کرنے والے قانون کو دنیا کے کسی ملک میں ظالمانہ نہیں سمجھا گیا۔ مزید برآں دنیا کا کوئی قانون نظام کسی کمیونٹی کو خواہ وہ کسی قدر بولنے والی، منظم خوشحال یا اثر ورسوخ کی مالک کیوں نہ ہو، دوسروں کو ان کے مذہب یا حقوق کے بارے میں دغا دینے، ان کے ورثہ کو ہتھیانے اور قصداً و عمداً ایسے کام کرنے یا تدابیر اختیار کرنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔ جن سے امن وامان کی صورتحال پیدا ہونے کا اندیشہ ہو۔

۷۴...... اپیل کنندگان کی دوسری گزارش کہ آرٹیکل ۲۰ میں استعمال کردہ ترکیب "Subject to Law" میں لفظ "Law" سے مثبت قانون مراد ہے، اسلامی قانون نہیں۔ اس سلسلے میں درج ذیل مقدمات پر انحصار کیا گیا ہے جن کی سماعت عدالت ہذا نے کی تھی۔

صفحہ ۲۰۷

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۳ء ۲۰۷ ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

بہر حال ہمیں اس اعتراض نے قطعاً متاثر نہیں کیا۔

۷۵...... اصطلاح "Positive Law" سے بلیک کی قانونی لغت کے مطابق وہ قانون مراد ہے جو اصلاً نافذ کیا گیا ہو یا کسی مجاز حاکم نے منظم قانونی معاشرہ کی حکومت کے لئے اختیار کیا ہو۔ پس یہ اصطلاح نہ صرف وضع کردہ قانون پر حاوی ہے بلکہ اختیار کردہ قانون پر بھی، یہ بات قابل غور ہے کہ اوپر جن مقدمات کا حوالہ دیا گیا ہے، ان کے فیصلے آرٹیکل ۲ (ایف) کے آئین کا جزو بننے سے پہلے صادر کئے گئے تھے۔ آرٹیکل ۲ (ایف) کی عبارت اس طرح ہے: ”۲ (ایف) قرار داد مقاصد مستقل احکام کا حصہ ہوگی۔ ضمیمہ میں نقل کردہ قرار داد مقاصد میں بیان کئے گئے اصول اور احکام کو بذریعہ ہذا دستور کا مستقل حصہ قرار دیا جاتا ہے اور وہ بجنسہ مؤثر ہوں گے۔“

۷۶...... پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار یہ ہوا کہ قرار داد مقاصد کو جو اس سے پہلے ابتدائیہ کے طور پر ہر دستور کا جزو رہی تھی، ۱۹۸۵ء میں آئین کا مؤثر حصہ قرار دے کر، اس میں شامل کر لی گئی۔ یہ کسی قانون کے متن کو بذریعہ حوالہ اپنانے کا عمل تھا، جس سے وکلاء بے خبر نہیں۔ ایسا عموماً اس وقت کیا جاتا ہے جب کسی نئے قانونی نظام کی تنفیذ عمل میں آتی ہے لیکن ہمارے ملک میں ہر مارشل لاء کے نفاذ یا دستوری نظام کی بحالی کے موقع پر ایسا کیا گیا۔ مقننہ نے انگریزی راج کے دوران بھی بعض اسلامی اور دیگر مذہبی رسم و رواج پر مبنی قوانین کو اسی طریقے سے اپنا لیا تھا اور انہیں مثبت قوانین سمجھا گیا تھا۔

۷۷...... یہی وہ مرحلہ تھا جب عوام کے منتخب نمائندوں نے پہلی بار اللہ تعالیٰ کے اقتدار اعلیٰ کو دستور کے مستقل و مؤثر حصہ اور ان کے لئے واجب التعمیل کے طور پر قبول کر لیا اور یہ عہد کیا کہ وہ محض تفویض کردہ اختیارات کو اللہ کی مقرر کردہ حدود میں رہتے ہوئے استعمال کریں گے۔ اعلیٰ عدالتوں کے عدالتی نظر ثانی کے اختیار میں بھی توسیع کر دی گئی۔

۷۸...... سپریم کورٹ نے مذکورہ بالا تبدیلی کا مؤثر ہونا تسلیم اور قبول کر لیا ہے، جسٹس نسیم حسن شاہ (موجودہ چیف جسٹس) نے پاکستان بنام عوام الناس (پی ایل ڈی ۱۹۸۷ء ایس سی ۳۰۴ کے صفحہ ۳۵۶ پر) عوامی نمائندوں کے بدلے ہوئے اختیار پر بحث کرتے ہوئے حسب ذیل رائے کا اظہار کیا تھا۔

”چنانچہ جب تک قطعی طور پر یہ ثابت نہ کر دیا جائے کہ مقننہ میں بیٹھنے والی مسلمانوں کی جماعت نے کوئی ایسا قانون نافذ کیا ہے، جس کی اللہ تعالیٰ نے قرآن میں یا سنت نبوی ﷺ یا کسی اصول کی رو سے، جو ان کے لازمی مفہوم سے ماخوذ ہو، ممانعت کی گئی ہو، تو کوئی عدالت ایسے قانون کو غیر اسلامی قرار نہیں دے سکتی۔“

۷۹...... جسٹس شفیع الرحمن نے اس مقدمہ میں اپنا فیصلہ قلمبند کرتے ہوئے آرٹیکل ۲ (اے) (قرار داد مقاصد) کی روشنی میں ص ۳۶۱، ۳۶۲ پر درج ذیل رائے کا اظہار کیا تھا: ”تفویض کردہ اختیار کو مقدس امانت کے طور پر قبول کرنے کے تصور کو، جو کہ سورۃ النساء کی آیت نمبر ۵۸ میں بیان ہوا ہے، غیر متبدل انداز میں اور تضاد کے بغیر وسیع مفہوم دے دیا گیا ہے۔ علاوہ ازیں چونکہ تمام اختیار واقتدار تفویض

صفحہ ۲۰۸

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۳ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

کردہ ہے اور اس غرض کے لئے ایک مقدس امانت کی حیثیت رکھتا ہے، اس کے استعمال کی حدود لازماً متعین ومقرر ہونی چاہئیں۔ قرآن حکیم میں بھی اور مغربی ومشرقی دونوں اصول فقہ میں تفویض کردہ اختیار سے حسب ذیل خصوصیات وابستہ کی گئی ہیں۔

ایسے استعمال کرنا چاہئے کہ اس سے امانت کے اغراض ومقاصد کی حفاظت ہو سکے۔ اسے تباہی سے بچایا جاسکے، پایہ تکمیل تک پہنچایا جاسکے اور فروغ دیا جاسکے۔

بالآخر وہ اختیار عطاء کرنے والے کو لوٹ جاتا ہے اور دوسری طرف امانت سے استفادہ کرنے والے دونوں تک اس کا فائدہ پہنچتا ہے۔

دیانتداری بھی ملحوظ خاطر رکھنی چاہئے۔

میں ص ۱۱۷۵ پر اس طرح کھول کر بیان کیا ہے: ”قرار دیا جاتا ہے اور ہدایت کی جاتی ہے کہ اگر مطلوبہ قانون ۱۲؍ ربیع الاوّل ۱۴۱۱ھ تک وضع یا نافذ نہیں کیا جاتا تو مذکورہ بالا حکم ۱۲؍ ربیع الاوّل کو غیر مؤثر ہو جائے گا۔ خلاء کی اس حالت کے مقابلہ میں اس موضوع پر وضع کردہ قانون، عام اسلامی قانون، قتل وجرح کے جرائم سے تعلق رکھنے والے اسلامی احکام جیسا کہ وہ قرآن وسنت میں درج ہیں، کے بارے میں سمجھا جائے گا کہ وہ اس موضوع پر متعلقہ قانون ہیں۔ پھر مجموعہ تعزیرات پاکستان اور مجموعہ ضابطہ فوجداری کا ضروری تبدیلیوں کے ساتھ صرف اس طرح اطلاق کیا جائے گا، جیسا کہ پہلے کیا گیا ہے۔“

ہے، معاملہ کی اس صورت میں اسلامی احکام ہی جیسا کہ وہ قرآن وسنت میں درج ہیں، اب حقیقی قانون کا درجہ رکھتے ہیں۔ آرٹیکل ۲ (اے) نے اللہ تعالیٰ کے اقتدار اعلیٰ کو مؤثر اور واجب التعمیل بنادیا ہے۔ اسی آرٹیکل کی بدولت قرارداد مقاصد میں درج قانونی احکام اور قانون کے اصول مؤثر اور آئین کا مستقل حصہ بن گئے ہیں۔ اس لئے انسان کا بنایا ہوا ہر قانون احکام اسلام کے جیسا کہ وہ قرآن وسنت میں مذکور ہیں، مطابق ہونا چاہئے اور آئین میں دیئے گئے بنیادی حقوق بھی اسلامی نظریاتی وتعلیمات کے منافی نہیں ہونے چاہئیں۔

بنیادی حقوق کے بارے میں فائدہ نہیں اٹھایا جاسکتا۔ آرٹیکل ۱۹ جس میں تقریر اور اظہار خیال اور پریس کی آزادی کی ضمانت دی گئی ہے، انہیں معقول پابندیوں کے تابع بناتا ہے جو عظمت اسلام، تہذیب وشائستگی یا اخلاق کے مفاد میں از روئے قانون عائد کی گئی ہیں۔ وہاں جو پابندیاں لگائی گئی ہیں، انہیں کسی دوسرے بنیادی حق پر لاگو نہیں کیا جاسکتا۔ اس لئے کسی بنیادی حق میں شامل کوئی چیز جس سے احکام اسلام کی خلاف ورزی ہوتی ہو، لازماً اس کے منافی ہونی چاہئے۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ اسلامی احکام، جیسا کہ وہ قرآن وسنت میں منضبط ہیں، اقلیتوں کے حقوق کی بھی ایسے تسلی بخش طریقہ سے ضمانت دیتے ہیں کہ کوئی نظام قانون اس کے برابر کوئی چیز پیش نہیں کرتا۔ مزید یہ کہ کوئی قانون ان میں زبردستی مداخلت نہیں کرسکتا۔

صفحہ ۲۰۹

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۳ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

دفعہ (۲) کلیتاً اس کے لئے وقف کی گئی ہے۔ آرڈیننس کی روشنی میں احمدیوں کی طرف سے کلمہ کے استعمال کے متعلق دفعہ ۲۹۸ (ج) سے رجوع کیا جاسکتا ہے، کلمہ ایک اقرار نامہ ہے جسے پڑھ کر غیر مسلم اسلام کے دائرہ میں داخل ہوتا ہے، یہ عربی زبان میں ہے اور مسلمانوں کے لئے خاص ہے۔ جو اسے نہ صرف اپنے عقیدہ کے اظہار کے لئے پڑھتے ہیں بلکہ روحانی ترقی کے لئے بھی اکثر اس کا ورد کرتے ہیں۔ کلمہ طیبہ کے معنی ہیں۔ ”خدا کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں اور محمد (ﷺ) اس کے رسول ہیں۔“ اس کے برعکس قادیانیوں کا عقیدہ یہ ہے کہ مرزا قادیانی (نعوذ باللہ ) حضرت محمد ﷺ کا بروز ہے۔ مرزا قادیانی نے اپنی کتاب (ایک غلطی کا ازالہ ص ۴، اشاعت سوم ربوہ ) میں لکھا ہے :

(مندرجہ روحانی خزائن ج ۱۸ ص ۲۰۷)

Religions" کی ایک نظم شائع ہوئی تھی، جس کے ایک بند کا مفہوم اس طرح ہے : ”محمد پہلے سے زیادہ شان کے ساتھ ہم میں دوبارہ آ گئے ہیں جو کوئی محمد ﷺ کو ان کی مکمل شان کے ساتھ دیکھنے کا متمنی ہو، اسے چاہئے کہ وہ قادیان جائے۔“

محمد پھر اتر آئے ہیں ہم میں اور آگے سے بڑھ کر ہیں اپنی شان میں
محمد دیکھنے ہوں جس نے اکمل غلام احمد کو دیکھے قادیان میں

یہ نظم مرزا قادیانی کو سنائی گئی تو اس نے اس پر مسرت کا اظہار کیا۔ (روزنامہ الفضل قادیان مورخہ ۲۲/اگست ۱۹۴۴ء)

”سورج کی کرنوں کی اب برداشت نہیں، اب چاند کی ٹھنڈی روشنی کی ضرورت ہے اور وہ احمد کے رنگ میں ہو کر میں ہوں۔“

(اربعین نمبر ۴ ص ۱۷، خزائن ج ۱۷ ص ۴۴۵، ۴۴۶)

تو مجھے دیکھا ہے نہ جانا ہے۔“

مرزا قادیانی نے مزید دعویٰ کیا ہے :

(حاشیہ حقیقت الوحی ص ۷۲، خزائن ج ۲۲ ص ۷۶)

میں سے اٹھایا جو انہیں ، اس کی آیات سناتا ہے۔ ان کی زندگی سنوارتا ہے اور ان کو کتاب وحکمت کی تعلیم دیتا ہے ) میں ہی آخری نبی اور اس کا بروز ہوں اور خدا نے براہین احمدیہ میں میرا نام محمد اور احمد رکھا اور مجھے محمد کی تجسیم بنایا۔

(ایک غلطی کا ازالہ ص ۱۰، ۱۱، خزائن ج ۱۸ ص ۲۱۲)

(ایک غلطی کا ازالہ ص ۵، خزائن ج ۱۸ ص ۲۱۲)

اس کا اظہار کرتا ہے تو وہ اس بات کا اعلان کرتا ہے کہ مرزا قادیانی ایسا نبی ہے، جس کی اطاعت واجب ہے اور جو ایسا نہیں کرتا، وہ بے دین

صفحہ ۲۱۰

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۳ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

ہے۔ بصورت دیگر وہ خود کو مسلمان کے طور پر پیش کر کے لوگوں کو دھوکا دیتے ہیں۔ آخری بات یہ ہے کہ یا تو وہ مسلمانوں کی تضحیک کرتے ہیں یا اس بات سے انکار کرتے ہیں کہ رسول اکرم ﷺ کی تعلیمات، صورتحال کی راہنمائی نہیں کرتیں۔ اس لئے جیسی بھی صورتحال ہو، ارتکاب جرم کو ایک نہ ایک طریقہ سے ثابت کیا جاسکتا ہے۔

۸۵...... مرزا قادیانی نے نہ صرف یہ کہ اپنی تحریروں میں رسول اکرم ﷺ کی عظمت وشان کو گھٹانے کی کوشش کی بلکہ بعض مواقع پر ان کا مذاق بھی اڑایا۔ (تحفہ گولڑویہ حاشیہ ص ۱۶۵، خزائن ج ۱۷ ص ۲۶۳) میں مرزا قادیانی نے لکھا کہ:

ایک اور کتاب میں کہتا ہے:

(ازالہ اوہام ص ۶۷۳، خزائن ج ۳ ص ۴۷۳، ۴۷۴)

اس نے مزید دعویٰ کیا:

(تحفہ گولڑویہ ص ۶۷، خزائن ج ۱۷ ص ۱۵۳)

(براہین احمدیہ ج ۵ ص ۵۶، خزائن ج ۲۱ ص ۷۲)

(براہین احمدیہ ج ۵ ص ۵۰، خزائن ج ۲۱ ص ۶۳)

مزید یہ کہ:

(الفضل قادیان مورخہ ۲۲؍فروری ۱۹۲۴ء)

کمالات کو حاصل کر لیا اور اس قابل ہو گیا کہ ظلی نبی کہلائے، پس ظلی نبوت نے مسیح موعود کے قدم کو پیچھے نہیں ہٹایا بلکہ آگے بڑھایا اور اس قدر آگے بڑھایا کہ نبی کریم ﷺ کے پہلو بہ پہلو لا کھڑا کیا۔“

اس طرح کی اور بہت سی تحریریں موجود ہیں لیکن ہم اس ریکارڈ کو مزید گراں بار نہیں کرنا چاہتے۔

۸۶...... ہر مسلمان کا بنیادی عقیدہ ہے کہ وہ ہر نبی کو مانتا اور اس کا احترام کرتا ہے، اس لئے اگر نبی کی شان کے خلاف کچھ کہا جائے تو اس سے مسلمان کے جذبات کو ٹھیس پہنچے گی، جس سے وہ قانون شکنی پر آمادہ ہو سکتا ہے۔ اس کا انحصار جذبات پر ہونے والے حملے کی سنگینی پر ہے۔ ہائیکورٹ کے فاضل جج نے مرزائیوں کی کتابوں سے بہت سے حوالے نقل کر کے ثابت کیا ہے کہ مرزا قادیانی نے دوسرے انبیاء کرام خصوصاً حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کی بھی بڑی توہین کی اور ان کی شان گھٹائی، حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی جگہ وہ خود لینا چاہتا تھا۔ ہم اس سارے مواد کو نقل کرنا ضروری نہیں سمجھتے۔ صرف دو مثالوں پر اکتفاء کرتے ہیں۔ مرزا قادیانی ایک جگہ رقم طراز ہے: ”جو معجزات دوسرے نبیوں کو انفرادی طور پر دیئے گئے تھے۔ وہ سب رسول اکرم ﷺ کو عطاء کئے گئے، پھر وہ سارے معجزے مجھے بخشے گئے۔ کیونکہ میں ان کا بروز ہوں یہی وجہ ہے کہ میرے نام آدم، ابراہیم، موسیٰ، نوح، داؤد، یوسف، یونس، سلیمان اور عیسیٰ مسیح ہیں۔“ (ملفوظات ج ۳ ص ۲۷۰، شائع شدہ ربوہ)

صفحہ ۲۱۱

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں لکھتا ہے:

سے آپ کا وجود ظہور پذیر ہوا۔“

(ضمیمہ انجام آتھم حاشیہ ص ۷، خزائن ج ۱۱ ص ۲۹۱)

آل عمران (۳) کی آیات: ۳۳ تا ۳۷، ۴۵ تا ۴۷، سورۂ مریم (۱۹) کی آیات: ۱۶ تا ۳۲ کیا کوئی مسلمان قرآن کے خلاف کچھ کہنے کی جسارت کر سکتا ہے اور جو ایسی حماقت کرے، کیا وہ مسلمان ہونے کا دعویٰ کر سکتا ہے؟ ایسی صورت میں مرزا قادیانی اور اس کے پیروکار کیسے مسلمان ہونے کا دعویٰ کر سکتے ہیں؟ یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ مرزا قادیانی پر اسی کی مذکورہ بالا تحریروں کی بناء پر توہین مذہب ایکٹ مجریہ ۱۹۲۷ء کے تحت عیسائیت کی توہین کے جرم میں کسی انگریزی عدالت میں ملزم قرار دے کر سزا دی جا سکتی تھی، مگر ایسا نہیں کیا گیا۔

ہو، لازم ہے کہ وہ رسول اکرم ﷺ کے ساتھ اپنے بچوں، خاندان، والدین اور دنیا کی ہر محبوب ترین شئے سے بڑھ کر پیار کرے۔“

(صحیح بخاری کتاب الایمان، باب حب الرسول من الایمان)

کیا ایسی صورت میں کوئی کسی مسلمان کو مورد الزام ٹھہرا سکتا ہے اگر وہ ایسا توہین آمیز مواد جیسا کہ مرزا قادیانی نے تخلیق کیا ہے، سننے، پڑھنے یا دیکھنے کے بعد اپنے آپ پر قابو نہ رکھ سکے؟

ردِعمل کے بارے میں سوچنا چاہئے۔ جس کا اظہار مسلمانوں کی طرف سے ہو سکتا تھا۔ اس لئے اگر کسی احمدی کو انتظامیہ کی طرف سے یا قانوناً شعائرِ اسلام کا اعلانیہ اظہار کرنے یا انہیں پڑھنے کی اجازت دے دی جائے تو یہ اقدام اس کی شکل میں ایک اور رشدی تخلیق کرنے کے مترادف ہوگا۔ کیا اس صورت میں انتظامیہ اس کی جان، مال اور آزادی کے تحفظ کی ضمانت دے سکتی ہے اور اگر دے سکتی ہے تو کس قیمت پر؟ مزید برآں اگر قادیانیوں کو گلیوں یا جائے عام پر جلوس نکالنے یا جلسہ کرنے کی اجازت دی جائے تو یہ خانہ جنگی کی اجازت دینے کے برابر ہے۔ یہ محض قیاس آرائی نہیں، حقیقتاً ماضی میں بارہا ایسا ہو چکا ہے اور بھاری جانی و مالی نقصان کے بعد اس پر قابو پایا گیا۔ (تفصیلات کے لئے منیر رپورٹ دیکھی جا سکتی ہے) ردِعمل یہ ہوتا ہے کہ جب کوئی احمدی یا قادیانی سرِعام کسی پلے کارڈ، بیج یا پوسٹر پر کلمہ کی نمائش کرتا ہے۔ یا دیوار یا نمائشی دروازوں یا جھنڈیوں پر لکھتا ہے یا دوسرے شعائرِ اسلامی کا استعمال کرتا یا انہیں پڑھتا ہے تو یہ اعلانیہ رسول اکرم ﷺ کے نامِ نامی کی بے حرمتی اور دوسرے انبیائے کرام کے اسمائے گرامی کی توہین کے ساتھ ساتھ مرزا قادیانی کا مرتبہ اونچا کرنے کے مترادف ہے جس سے مسلمانوں کا مشتعل ہونا اور طیش میں آنا ایک فطری بات ہے اور یہ چیز امنِ عامہ کو خراب کرنے کا موجب بن سکتی ہے، جس کے نتیجہ میں جان و مال کا نقصان ہو سکتا ہے۔ ایسی صورتحال میں احتیاطی تدابیر بروئے کار لانا لازمی ہے تاکہ امن و امان برقرار رکھا جا سکے اور جان و مال خصوصاً احمدیوں کے نقصان سے بچا جا سکے۔ اس صورتحال میں مقامی انتظامیہ نے جو فیصلے کئے، یہ عدالت انہیں کالعدم نہیں کر سکتی۔ وہ اس معاملے میں بہترین جج ہیں۔ تاوقتیکہ قانون یا حقیقت کے ذریعے اس کے برعکس ثابت نہ کیا جائے۔

صفحہ ۲۱۲

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۳ء

ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

فوجداری کا جاری کردہ حکم ہے۔ ریذیڈنٹ مجسٹریٹ نے احمدیہ جماعت کو، جو ربوہ کی آبادی میں نمایاں حیثیت رکھتے ہیں۔ ان کے عہدیداروں کے توسط سے ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کے حکم سے مطلع کیا اور انہیں حکم دیا کہ وہ آرائشی دروازے، بینرز اور لائٹنگ کا سامان ہٹالیں اور اس امر کو یقینی بنائیں کہ آئندہ دیواروں پر اشتہار نہیں لکھے جائیں گے۔ اپیل کنندگان یہ بات ثابت نہیں کر سکے کہ مذکورہ بالا معمولات اور کام ان کے مذہب کے لازمی تکمیلی ارکان ہیں۔ حتیٰ کہ صدسالہ تقریبات کے گلیوں اور سڑکوں پر انعقاد کے بارے میں بھی ثابت نہیں کیا جا سکا کہ وہ ان کے مذہب کا لازمی اور ناگزیر جزو تھیں۔

۹۱...... اس سوال پر کہ آیا ایسا تقاضا مذہبی آزادی کا حصہ ہے یا نہیں جب کہ وہ عام لوگوں کی سلامتی، قانون اور امن عامہ کے تابع ہو، آسٹریلیا اور امریکہ جیسے ملکوں میں جہاں بنیادی حقوق کو سب سے مقدم سمجھا جاتا ہے۔ صادر کئے گئے فیصلوں کی روشنی میں پہلے ہی تفصیلی بحث ہوچکی ہے۔ ہم نے بھارت میں ہونے والے فیصلوں کا حوالہ بھی دیا ہے۔ کہیں بھی ایسے معمولات کو جو نہ تو مذہب کا لازمی جزو ہیں نہ تکمیلی حصہ، لوگوں کی سلامتی اور امن وامان پر سبقت نہیں دی جاتی، بلکہ مذہب سے متعلق اساسی و بنیادی معمولات کو لوگوں کی سلامتی اور امن وآشتی کی قربان گاہ پر قربان کردیا گیا۔

۹۲...... اپیل کنندگان کی طرف سے کہا گیا ہے کہ وہ احمدیہ تحریک کی صد سالہ سالگرہ کی تقریبات میں دوسری باتوں کے علاوہ شکرانہ کی خصوصی نمازیں ادا کرکے، بچوں میں مٹھائیاں بانٹ کر اور غرباء و مساکین میں کھانا تقسیم کرکے پرامن اور بے ضرر طریقے سے منانا چاہتے تھے۔ ہمارے سامنے ایسی سرگرمیوں کو نجی طور پر انجام دینے سے روکنے والا کوئی حکم پیش نہیں کیا گیا۔ احمدی دوسری اقلیتوں کی طرح اپنے مذہب پر عمل کرنے میں آزاد ہیں اور ان کے اس حق کو قانون یا انتظامی احکام کے ذریعے کوئی نہیں چھین سکتا۔ بہر حال ان پر لازم ہے کہ وہ آئین و قانون کا احترام کریں اور انہیں اسلام سمیت کسی دوسرے مذہب کی مقدس ہستیوں کی بے حرمتی یا توہین نہیں کرنی چاہئے، نہ ہی ان کے مخصوص خطابات، القابات واصطلاحات استعمال کرنے چاہئیں۔ نیز مخصوص نام مثلاً مسجد اور مذہبی عمل مثلاً اذان وغیرہ کے استعمال سے اجتناب کرنا چاہئے تا کہ مسلمانوں کے جذبات کو ٹھیس نہ پہنچے اور لوگوں کو عقیدہ کے بارے میں گمراہ نہ کیا جائے یا دھوکہ نہ دیا جائے۔

۹۳...... ہم یہ بھی نہیں سمجھتے کہ احمدیوں کو اپنی شخصیات، مقامات اور معمولات کے لئے نئے خطاب، القاب یا نام وضع کرنے میں کسی دشواری کا سامنا کرنا پڑے گا۔ آخر کار ہندوؤں، عیسائیوں، سکھوں اور دیگر برادریوں نے بھی اپنے بزرگوں کے لئے القاب و خطاب بنارکھے ہیں اور وہ اپنے تہوار، امن وامان کا کوئی مسئلہ یا الجھن پیدا کئے بغیر پرامن طور پر مناتے ہیں۔ انتظامیہ جو امن وامان قائم رکھنے اور شہریوں کے جان و مال نیز عزت و آبرو کا تحفظ کرنے کی ذمہ دار ہے، بہرحال مذکورہ بالا اقدار میں سے کسی کو خطرہ لاحق ہونے کی صورت میں مداخلت کرے گی۔

۹۴...... یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ فاضل سنگل بنچ نے ایک تفصیلی اور بڑا معقول حکم جاری کیا ہے اور بڑی دانائی اور دیانتداری کے ساتھ متعدد غیرملکی فیصلوں سے مثالیں دی ہیں۔ جس سے اس انتہائی حساس غیرمسلم اقلیت (احمدیہ جماعت) میں اعتماد پیدا ہوگا۔ اس لئے ہم ریکارڈ کو مزید وزنی کئے بغیر ان کے استدلال کو بھی قبول کرتے ہیں۔ پس آرڈیننس کے بارے میں قرار دیا جاتا ہے کہ وہ آئین سے ماورا نہیں ہے جس کے نتیجہ میں ہم دیکھتے ہیں کہ نہ تو مقدمہ کے حقائق میں دستور کے آرٹیکل ۲۰ کا سہارا لیا گیا ہے، نہ ہی اس اپیل کا کوئی میرٹ بنتا ہے۔ پس یہ اپیل خارج کی جاتی ہے۔

صفحہ ۲۱۳

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۳ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

مذکورہ بالا بحث کے نتیجہ میں اس سے متعلقہ اپیلیں بھی نامنظور کی جاتی ہیں۔ دستخط: جسٹس عبدالقدیر چودھری جسٹس محمد افضل لون، جسٹس ولی محمد خان

جسٹس سلیم اختر

اقلیت ہیں۔ وہ دستور کے معنوں میں خود کو ایک اقلیت اور مسلمانوں سے الگ برادری تسلیم کرتے ہیں۔ ان کا دعویٰ یہ ہے کہ ان کے ساتھ قانون کے تحت ان دوسری اقلیتوں کے مساوی سلوک ہونا چاہئے۔ جنہیں تقریر اور اظہار خیال کی آزادی حاصل ہے اور انہیں ان کے مذہب پر عمل، اس کی پیروی اور تبلیغ واشاعت کرنے کی اجازت ہونی چاہئے۔ ان کا پہلا دعویٰ آرٹیکل ۱۹، ۲۵ کے دائرہ میں آتا ہے جب کہ دوسرے دعویٰ کی بنیاد آرٹیکل ۲۰ پر ہے۔

بنیادوں پر استوار ہونا ضروری ہے۔ اس سلسلے میں، حکومت بلوچستان بنام عزیز اللہ میمن (پی ایل ڈی ۱۹۹۳ء ایس سی ۳۱۴) کا حوالہ دیا جاسکتا ہے۔ قادیانی اپنے عقیدہ اور مذہب کی بنیاد پر جیسا کہ میرے فاضل بھائی جسٹس عبدالقدیر نے تفصیل سے بیان کیا ہے، دیگر اقلیتوں کے مقابلہ میں مختلف پوزیشن رکھتے ہیں۔ اس لئے ان حقائق کو زیر غور لاتے ہوئے اور امن عامہ کو برقرار رکھنے کی غرض سے ضروری سمجھا گیا کہ ان کی درجہ بندی مختلف طریقہ سے کی جائے اور صورتحال سے نمٹنے کے لئے قانون نافذ کیا جائے۔ چونکہ یہ درجہ بندی جائز اور معقول ہے۔ اس لئے متنازعہ قانون آرٹیکل ۱۹، اور ۲۵ سے متصادم نہیں ہے۔

کردہ مؤقف کی تائید کرتا ہوں۔

شامل ہے۔ آرٹیکل ۲۰ میں اس آزادی کو کنٹرول کرنے والی جو حد مقرر کی گئی ہے، اس کے مطابق یہ آزادی قانون، امن عامہ اور اخلاق کے تابع ہے۔ قانون آرٹیکل ۲۰ پر سبقت نہیں لے جاسکتا۔ تاہم یہ مذہبی آزادی کا اس طرح تحفظ کرتا ہے کہ اخلاق اور امن عامہ کی حدود کی خلاف ورزی نہ ہو۔ اپیل کنندگان کی طرف سے مذہب کی تبلیغ واشاعت پر جو کہ دوسری اقلیتوں سے مختلف ہیں اور اپنا مختلف پس منظر اور تاریخ رکھتے ہیں۔ امن عامہ برقرار رکھنے اور اخلاق کے تحفظ کی غرض سے پابندی لگائی جاسکتی ہے۔ پس مذہب کی پیروی کرنے، اس پر عمل کرنے اور اس کی تبلیغ کرنے کے حق پر پابندی نہیں لگائی جاسکتی۔ بشرطیکہ وہ ان معمولات کو شعائر اسلام کو اختیار کئے بغیر ایسے طریقہ سے انجام دیں کہ اس سے مسلمانوں کے جذبات مجروح نہ ہوں۔

(ب) اور (ہ) دستور کے آرٹیکل ۱۹، ۲۰ اور ۲۶ (۳) سے متصادم نہیں ہیں۔

بشرطیکہ قادیانی، احمدی ان شعائر اپنائے بغیر عمل کریں۔

صفحہ ۲۱۴

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

لغایت ۱۹۸۸ء کے بارے میں ماتحت عدالت کو ہدایت کرتا ہوں کہ ان کی از سر نو سماعت کی جائے۔

کے لئے حکم نافذ کرنے کا کوئی اختیار نہیں تھا۔ اس لئے یہ اپیل جزوی طور پر اس حد تک منظور کی جاتی ہے۔ دستخط: جسٹس سلیم اختر

عدالت کا حکم: عدالت نے کثرت رائے سے قرار دیا ہے کہ مذکورہ بالا تمام اپیلیں خارج کئے جانے کے لائق ہیں اور بذریعہ ہذا خارج کی جاتی ہیں۔

فوجداری اپیل نمبر ۳۱- کے تا ۳۵- کے لغایت ۸۹ کے سزا یافتگان جو اس وقت ضمانت پر ہیں، فوراً حراست میں لے لئے جائیں گے اور انہیں عدالت کی طرف سے دی گئی باقی ماندہ سزا بھگتنی ہوگی۔ دستخط: جسٹس شفیع الرحمن جسٹس عبدالقدیر چودھری جسٹس محمد افضل لون جسٹس سلیم اختر جسٹس ولی خان

اس فیصلہ کا اعلان مورخہ ۳/ جولائی ۱۹۹۳ء کو بمقام اسلام آباد فاضل جج کے چیمبر میں کیا گیا۔ دستخط: جسٹس شفیع الرحمن

(1993 SCMR 1718)

نگران وزیر اعظم معین قریشی کی تقرری ایم۔ ایم احمد قادیانی کی سفارش پر ہوئی

”روزنامہ پاکستان مورخہ ۲۷/ جولائی ۱۹۹۳ء کی اطلاع کے مطابق نگران وزیر اعظم معین قریشی کا نام مشہور قادیانی ایم۔ ایم احمد نے پیش کیا تھا۔ اخبار مذکورہ لکھتا ہے کہ ملک کے سیاسی حلقوں میں آج کل یہ سوال گردش کر رہا ہے کہ نگران وزیر اعظم معین قریشی کو کس وجہ سے نگران وزیر اعظم بنایا گیا ہے۔ چونکہ معین قریشی گزشتہ ۳۵ سالوں سے امریکہ میں مقیم ہیں اور اہل وطن میں ان کا نام چنداں شناسا نہیں ہے۔ اندرونی ذرائع کے مطابق معین قریشی کا نام سابق صدر اسحاق کے سامنے پیش کرنے والی شخصیت ایم۔ ایم احمد کی ہے جو پاکستان پلاننگ کمیشن کے چیئرمین رہ چکے ہیں اور ایوب خان کے دور میں وزیر بھی رہے۔ ایم۔ ایم احمد اور معین قریشی ورلڈ بینک میں ساتھ ساتھ کام کرتے رہے اور دونوں میں دوستی ہے۔ امریکی حکومت کے نقطۂ نظر سے بھی معین قریشی اس کے لئے قابل قبول شخصیت ہیں اور امریکی سفیر مونجو بھی ان کے سیاسی اور اقتصادی نظریات سے متفق ہیں۔“

(روزنامہ پاکستان مورخہ ۲۷/ جولائی ۱۹۹۳ء)

مسلمان، قادیانی سرگرمیوں اور سازشوں سے ہوشیار رہیں، رابطہ عالم اسلامی مکہ مکرمہ

رابطہ عالم اسلامی مکہ مکرمہ نے قادیانی ٹولے کی سرگرمیوں کے بارے میں مسلمانوں کو خبردار کیا ہے۔ رابطہ نے کہا ہے کہ قادیانی عقائد سراپا باطل ہیں، جن کی بنیاد سراسر کفر پر ہے۔ لہٰذا مسلمانوں پر لازم ہے کہ وہ اپنے ایمان کی حفاظت کریں، قادیانی سرگرمیوں کو روکیں اور مسلمانوں کو ارتداد سے بچائیں۔ رابطہ کی مجلس تاسیسی نے اپنے تیسویں اجلاس میں قادیانیت کے خلاف کئی فتوے اور قراردادیں جاری کی ہیں جو دنیا کی مختلف لغات میں ہیں۔ رابطہ کی اس مجلس تاسیسی نے تمام دنیا کی اسلامی حکومتوں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اپنے اپنے ملکوں

صفحہ ۲۱۵

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

میں قادیانیوں کو کافر قرار دیں اور ان کی اسلام دشمن سرگرمیوں پر پابندی لگائیں۔ نیز عالم اسلامی نے دنیا بھر میں پھیلی ہوئی مسلم تنظیموں اور اداروں سے اپیل کی ہے کہ وہ سب قادیانی مسئلے کی سنگینی کے پیش نظر قادیانی فتنے کے مقابلے میں کھڑے ہو جائیں۔ لٹریچر، ویڈیو، آڈیو اور دیگر تمام تر وسائل کو بروئے کار لاتے ہوئے قادیانی کفریہ عقائد کا رد کریں۔

(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ص ۱۷، مؤرخہ ۲۳ تا ۲۹؍ جولائی ۱۹۹۳ء)

ایبٹ آباد میں مرزائیوں کی غنڈہ گردی، انتظامیہ اور حکومت فوری نوٹس لے

ایبٹ آباد سے آمدہ اطلاعات کے مطابق گزشتہ ہفتے قادیانیوں نے ختم نبوت یوتھ فورس کے نوجوانوں پر فائرنگ کر کے انہیں شدید زخمی کر دیا۔ تفصیلات کے مطابق یکم؍ اگست ۱۹۹۳ء کو قادیانی بشیر شاہ بگلہ حال مقیم ربوہ کی ضمانت کی تاریخ تھی۔ مقامی جماعت کی اطلاع کے مطابق اس موقع پر قادیانی سرگودھا اور جھنگ کے علاقوں سے بطور خاص آئے تھے۔ واقعہ کی تفصیلات جماعتی رپورٹ میں شائع کر دی گئی ہیں۔ جس کے مطابق:

ہماری معلومات کے مطابق کچھ عرصہ سے قادیانی خاصے سرگرم عمل ہیں۔ ملک کے مختلف حصوں سے ان کی اشتعال انگیز کارروائیوں کی اطلاعات مل رہی ہیں۔ ایبٹ آباد شہر میں قادیانیوں نے عملاً اس کا مظاہرہ کر کے دکھا دیا ہے۔ ہم اچھی طرح جانتے ہیں کہ قادیانیوں میں یکا یک ایسی قوت کہاں سے آگئی ہے کہ وہ اب مسلمان نوجوانوں کو اپنی گولیوں کا نشانہ بنانے پر تیار ہو گئے ہیں۔ انتخابات کے حوالے سے ملک میں سیاسی تبدیلی کے بعد قادیانی مطمئن اور پر جوش نظر آتے ہیں۔ ان کی ڈھارس اور امید ایک مرتبہ پھر بندھ گئی ہے کہ پاکستان میں قادیانیت کو تحفظ حاصل ہونے کا امکان پیدا ہو گیا ہے۔ قادیانی اس بات پر خوش ہیں کہ جناب معین قریشی کو ایم ایم احمد کی سفارش پر نگران وزیر اعظم بنایا گیا ہے اور موصوف بذات خود اور ان کی ساری کابینہ امریکہ نواز ہے۔ ہماری نگاہ حالات پر ہے اور وقت کی نبض پر ہمارا ہاتھ ہے۔ یہ بات بھی ہمارے علم میں ہے کہ نگران حکومت کے آتے ہی حکومت اور انتظامی مشینری میں غیر معمولی رد و بدل اور تبادلوں کے نتیجہ میں قادیانی، قادیانی نواز اور قادیانیوں کے لئے نرم گوشہ رکھنے والے افسران کو اوپر لایا جا رہا ہے۔ قادیانی جماعت امریکہ کی پروردہ اور نمک خوردہ ہے۔ قادیانی پاکستان کی اندرونی تبدیلی پر خوش ہی نہیں بلکہ حوصلہ مند بھی ہیں۔ لیکن انہیں یہ نہیں بھولنا چاہئے کہ:

ہم صوبہ سرحد کی حکومت اور ضلع ایبٹ آباد کی انتظامیہ کے نوٹس میں یہ بات لانا چاہتے ہیں کہ قادیانیوں نے طے شدہ پلان کے مطابق ایبٹ آباد کا انتخاب کیا ہے۔ انہیں یاد رکھنا چاہئے کہ گرمائی ربوہ کے لئے قادیانیوں نے اسی شہر کا انتخاب کیا تھا۔ مسلمانوں کے جوابی اقدام سے قادیانی دم دبا کر بھاگ کھڑے ہوئے تھے۔ عرصہ دراز کے بعد قادیانیوں نے ایک بار پھر اسی شہر کا رخ کر کے ملک بھر اور بالخصوص صوبہ سرحد میں لاء اینڈ آرڈر کا مسئلہ کھڑا کرنا چاہا ہے۔ ہماری بات ریکارڈ رہے کہ قادیانی ۶؍ اکتوبر ۱۹۹۳ء کو ہونے والے انتخابات کو سبوتاژ کرنا چاہتے ہیں۔ مرزائی پلان کے مطابق ان کی کوشش اور خواہش ہے کہ انتخابات ملتوی یا منسوخ ہو جائیں تا کہ نگران

صفحہ ۲۱۶

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

حکومت کے زیر سایہ اور امریکہ نواز حکومت کی وساطت سے وہ اپنے مہروں کو مستحکم کرسکیں اور ان کے قدم مضبوط ہوسکیں۔ لیکن قادیانی جماعت کے مفرور رہنما مرزا طاہر کی سازش کبھی کامیاب نہ ہوگی۔ مرزا قادیانی نوٹ کریں، وجود ہوگا تو قدم ہوں گے۔ جب خانہ ساز نبوت ہی بے جان ہے تو قدموں میں جان کہاں سے آئے گی۔

نہ خنجر اٹھے گا نہ تلوار ان سے یہ بازو میرے آزمائے ہوئے ہیں

(ہفت روزہ لولاک فیصل آباد ص ۴، ۵، مورخہ ۲۰؍ اگست ۱۹۹۳ء)

ایم۔ ایم احمد سے ایم۔ ایم وٹو تک، سیاسی بحران یا مرزائیت پلان؟

ملک کے سیاسی بحران سے جنم لینے والے میاں منظور احمد وٹو غبار کی طرح اٹھے اور گرد کی طرح بیٹھ گئے۔ موصوف ۸۵ دن برسراقتدار رہے۔ ان کا اقتدار لطافت کی داد پا نہ سکا۔ وٹو صاحب پوری طرح گھل سکے نہ کھل سکے۔ میاں صاحب چور دروازے سے آئے اور اصل دروازے سے نکل گئے۔ پنجاب کی وزارت اعلیٰ کے منصب تک انہیں کون لایا اور وہ کیسے پہنچے۔ یہ سب کچھ اب راز نہیں، حقیقت ہے۔ ہم نے ۸۵ دن ضبط سے کام لیا اور قلم کے جوش کو روکے رکھا۔ کسی خوف سے نہیں، مصلحت سے نہیں بلکہ اس دبی ہوئی تحریر کی وجہ سے جس کی پاس داری ہمارا اخلاقی فرض تھا لیکن وٹو نے اپنے قول وفعل سے ’’لی ہوئی تحریر‘‘ کا بھرم اپنے خبث باطن کے ذریعہ کھول دیا۔

۱۸؍ اپریل ۱۹۹۳ء کے بعد جب ملک کی سب سے بڑی عدالت نے قومی اسمبلی اور نواز شریف حکومت کی بحالی کا فیصلہ سنایا تو اس کے نتیجہ میں میاں نواز شریف دوبارہ برسراقتدار آئے لیکن بعد کے حالات نے یہ ثابت کر دیا کہ صدر غلام اسحاق خان نے عدالت عالیہ کے فیصلہ کو زبانی تو تسلیم کرنے کا اعلان کیا لیکن ذہنی و قلبی طور پر اس فیصلہ کو تسلیم نہیں کیا۔ جب کہ ’’کسی‘‘ طے شدہ پلان کے مطابق اسے عملی جامہ پہنانے میں مصروف و مشغول رہے۔ پنجاب نواز شریف کی سیاسی قوت کا قلعہ تھا۔ اس قلعہ کی دیواروں میں دراڑیں ڈالنے کے لئے میاں منظور احمد وٹو کو نگران وزیر اعلیٰ بنایا گیا۔ جب کہ چوہدری الطاف حسین سابق ایم۔ این۔ اے کو گورنر پنجاب مقرر کیا گیا۔ میاں منظور احمد وٹو کے نگران وزیر اعلیٰ بنتے ہی یہ چہ مگوئیاں شروع ہوگئیں کہ منظور وٹو قادیانی ہیں۔ معاصر ہفت روزہ چٹان اور ہفت روزہ خدام الدین لاہور نے اپنے اداریوں میں ان کے قادیانی ہونے کا الزام دہرایا۔ اس نازک موقع پر لولاک کے صفحات گواہ ہیں کہ ہم نے خاموشی اختیار کئے رکھی تا کہ سیاسی گرد بیٹھ جانے کے بعد جب فضاء صاف ہو جائے تو ہم کسی منطقی نتیجہ تک پہنچ سکیں کہ میاں منظور احمد وٹو کیا تھے اور کیا ہیں؟

میاں منظور احمد وٹو ۱۹۸۵ء میں جب پنجاب اسمبلی کے سپیکر منتخب ہوئے تو اس وقت ان کے متعلق انکشاف ہوا تھا کہ وہ وساویوالہ ضلع اوکاڑہ کے ایک کٹر قادیانی خاندان کے فرد ہیں۔ یہ بھی سنا گیا کہ ان کے والد، والدہ، بھائی اور دیگر رشتے دار بھی مرزائی ہیں۔ انہی دنوں مولانا منظور احمد چنیوٹی ایم۔ پی۔ اے نے ایک تحریک التواء پنجاب اسمبلی میں پیش کی کہ منظور احمد وٹو وضاحت کریں کہ وہ مسلمان ہیں یا قادیانی؟ کیونکہ ان کا خاندان اور رشتہ دار کٹر مرزائی ہیں۔ میاں منظور احمد وٹو معروف روحانی مرکز شیرانوالہ گیٹ پہنچے اور اس امر کا اعتراف کیا کہ ان کے والد ضرور قادیانی ہیں لیکن وہ خود قادیانی نہیں بلکہ مسلمان ہیں۔ طے یہ ہوا کہ میاں صاحب اس بات کی تحریر دیں کہ وہ قادیانی نہیں اور وہ ہر جھوٹے مدعی نبوت بشمول مرزا غلام احمد قادیانی کو کافر، کاذب اور دائرہ اسلام سے خارج سمجھتے ہیں اور یہ تحریر مجلس تحفظ ختم نبوت کے امیر حضرت خواجہ خان محمد صاحب کو پیش کر کے ان سے تصدیق کروائی جائے۔ چنانچہ حضرت الامیر نے اس تحریر کو قبول کر لیا۔ کیونکہ جب کوئی شخص تردید مرزائیت کے ضمن میں ایسا انداز اختیار کرے تو پھر شرعاً اور اخلاقاً اسے مرزائی کہنے کا جواز باقی نہیں رہ جاتا۔ لیکن

صفحہ ۲۱۷

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۳ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

ہم یہاں اس بات کی وضاحت کرنا ضروری سمجھیں گے کہ مولانا منظور احمد نے جس مسئلہ کو اسمبلی میں اٹھایا تھا اس مسئلہ کو اسمبلی کے اندر ہی حل ہونا چاہئے تھا۔ راقم کو اچھی طرح یاد ہے کہ وٹو کی اس تحریر کے بعد جب مولانا چنیوٹی کو پریشانی لاحق ہوئی تو راقم نے انہیں رائے دی تھی کہ آپ پیش کردہ تحریک التواء واپس نہ لیں بلکہ آپ وٹو کو مجبور کریں کہ جو حلف نامہ انہوں نے حضرت الامیر کو پیش کیا ہے۔ آپ وہ حلف نامہ اسمبلی میں پڑھ کر سنا دیں تو میں اپنی تحریک التواء واپس لے لوں گا۔ وٹو کی پریشانی اور اضطراب سے محسوس ہوتا تھا کہ وہ اس مسئلہ کو باہر ہی حل کرنا چاہتے تھے اور اسمبلی کے فلور پر لانے سے گریز کرتے ہیں۔ چنانچہ ایسے ہی ہوا کہ اس مسئلہ کو اسمبلی سے باہر گفت و شنید سے حل کر لیا گیا اور مولانا چنیوٹی نے بیچاری تحریک التواء واپس لے لی۔

حالیہ تبدیلی کے بعد جب میاں منظور احمد وٹو کو پنجاب کا نگران وزیر اعلیٰ بنایا گیا تو انہیں خود سپیکر منتخب کرنے والوں نے ان کے بارے میں یہ پروپیگنڈا کیا کہ وہ مرزائی ہیں۔ یہ سوچ اور فکر انہیں اس وقت لاحق نہ ہوئی جب مولانا چنیوٹی ان پر قادیانی ہونے کا الزام ریکارڈ پر لا رہے تھے تو یہی لوگ اسمبلی میں مولانا کا مذاق اڑا رہے تھے۔ چونکہ اس موضوع پر ہم پہلی بار قلم اٹھا رہے ہیں اس لئے ہم یہ بات بھی ریکارڈ پر لانا چاہتے ہیں کہ لاہور میں ہزاروں کی تعداد میں مجلس تحفظ ختم نبوت کی جانب سے اشتہارات دیواروں پر چسپاں کئے گئے۔ جس میں وٹو کو قادیانی لکھا گیا۔ جماعت کا اس اشتہار سے دور کا واسطہ بھی نہ تھا۔ کیونکہ مجلس تحفظ ختم نبوت کی ہمیشہ پالیسی رہی ہے کہ وہ اقتدار کی جنگ میں غیر جانبدار رہتی ہے۔ ہماری اطلاعات کے مطابق وٹو کی سرکشی اور بغاوت کے بعد بھی وٹو سے سیاسی سودا بازی ہوتی رہی۔ کیا اس وقت تک موصوف مرزائی نہ تھے۔

اب جب کہ سیاسی غبار چھٹ چکا ہے اور مطلع صاف ہو چکا ہے۔ وٹو نے پنجاب کی سیاست میں جو کردار ادا کیا اس کا تجزیہ کرنے کے بعد یہ محسوس ہوتا ہے کہ ملک کے اندر یہ آئینی اور سیاسی بحران ”مرزائی پلان“ کا نتیجہ تھا۔ قومی اسمبلی کے ٹوٹنے سے ایک ہفتہ پہلے ایم۔ ایم احمد کا پراسرار دورہ پاکستان اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ اپنی جماعت کے مفرور قائد مرزا طاہر کی خصوصی ہدایات پر پاکستان آئے۔ ایوان صدر، ربوہ اور لاہور قادیانی سازش کی مثلث تھے۔ ہم یاد دلانا چاہتے ہیں کہ ایم۔ ایم احمد مرزا غلام احمد قادیانی کا پوتا مرزا بشیر الدین محمود کا بیٹا اور سابق چیئرمین پلاننگ اور یحییٰ خان کے دور میں خصوصی اقتصادی مشیر تھا۔ مشرقی پاکستان کی علیحدگی میں اس کا کردار ڈھکا چھپا نہیں اور نہ ہی ۱۹۶۵ء کی جنگ میں اس شخص کے مکروہ و مذموم کردار کو بھلایا جا سکتا ہے۔ ایم۔ ایم احمد کے ایوان صدر کے دورے، خفیہ ملاقاتیں، ربوہ اور لاہور کی ملاقاتیں اس بات کی غمازی کرتی ہیں کہ انہوں نے صدر غلام اسحاق اور وٹو کے درمیان کمیشن ایجنٹ کا کردار ادا کیا۔

اپنی جماعت کا با اعتماد نمائندہ پاکستان بھیجنے سے پہلے ۵/ فروری ۱۹۹۳ء کو ہی لندن میں تقریر کرتے ہوئے مرزا طاہر کے منہ سے یہ الفاظ نکل گئے کہ: ”پاکستان میں فضاء بدلنے والی ہے۔“ یہ تمام باتیں اس بات کی غمازی کرتی ہیں کہ قادیانی ہماری ملکی سیاست کے پس منظر میں سرگرم عمل ہو کر امریکہ کے حکم پر سیاسی اور آئینی بحران پیدا کرنا چاہتے تھے تاکہ اقتصادی شاہراہ گامزن پاکستان کو آگے نہ چلنے دیا جائے۔ ۱۸/ اپریل ۱۹۹۳ء کو صدر اسحاق کی طرف سے اسمبلی توڑنے کے بعد اور ۱۸/ جولائی ۱۹۹۳ء کو نواز شریف کی طرف سے اسمبلی توڑے جانے تک کے تمام عمل میں قادیانی جماعت نے کیا کردار ادا کیا اس کا اندازہ اخبارات کی اس چونکا دینے والی خبر سے لگایا جا سکتا ہے۔ جس میں انکشاف کیا گیا ہے کہ قادیانی جماعت کے سربراہ نے بیرون ملک سے دس کروڑ روپیہ وٹو کو بھیجا اس خبر کی تفصیل ملاحظہ فرمائیں: ”لاہور (نامہ نگار خصوصی) جمعیت علماء پاکستان کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل پیر سید محمد بن یامین رضوی نے الزام عائد کیا ہے کہ پنجاب میں حکومت مرزا طاہر قادیانی جماعت کے سربراہ کی ہدایات پر چل رہی ہے اور وہ اپنے مفادات کے لئے پنجاب میں افراتفری اور امن

صفحہ ۲۱۸

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

وامان کا مسئلہ پیدا کر کے حالات کو اپنے حق میں ہموار کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اور ان مقاصد کے لئے ملک اور بالخصوص صوبہ پنجاب میں گڑبڑ پیدا کی جائے۔ انہوں نے مبینہ طور پر پنجاب کے وزیر اعلیٰ کو دس کروڑ روپیہ فراہم کیا ہے اور دس کروڑ کی یہ خطیر رقم کراچی کے معروف تاجر انوار احمد مرزا نے چند روز قبل لاہور میں وزیر اعلیٰ کی ذاتی کوٹھی پر ماڈل ٹاؤن میں ایک طویل میٹنگ کے بعد فراہم کی ہے۔ انوار احمد مرزا معروف قادیانی تاجر ہیں۔ پیر سید محمد بن یامین رضوی نے کہا ہے کہ دس کروڑ روپیہ میں ایک کروڑ نقد پاکستانی کرنسی ہے اور باقی رقم ڈالروں اور پونڈز میں چیکس میں دی گئی ہے اور اس رقم کو ضلع کونسل اوکاڑہ کے چیئرمین احمد شجاع کے ذاتی اکاؤنٹ میں ۵؍ جولائی ۱۹۹۳ء کو جمع کرایا گیا ہے۔ مرزا طاہر احمد کے اس خطرناک پر اسرار منصوبہ کا پہلا مرحلہ محرم الحرام میں فرقہ وارانہ فسادات سے اپنی مہم شروع کرنا تھا جس پر صرف تین چار اضلاع میں ان کو کامیابی حاصل ہوسکی۔ جس میں شادی وال (گجرات) میں شیعہ، سنی فسادات مری (راولپنڈی) جھنگ، بہاول پور۔ ان فسادات میں تقریباً ۹؍ افراد جاں بحق ہوئے تھے۔ اس کے بعد انہوں نے اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ کا اعلان کروا کے ملکی سلامتی کو نقصان پہنچانے کا منصوبہ بنایا ہے۔ صاحبزادہ پیر سید محمد بن یامین نے کہا کہ مبینہ طور پر پنجاب کا آئی جی پولیس کا تعلق بھی قادیانی فرقہ سے ہے اور پنجاب کے دیگر اہم عہدوں پر بھی خاموش قادیانی سرکاری افسروں کی پوسٹنگ بھی اسی سلسلہ کی کڑی ہے جو بظاہر اپنے آپ کو قادیانی نہیں کہتے مگر پکے قادیانی ہیں۔‘‘

(روزنامہ جنگ لاہور، مؤرخہ ۱۰؍ جولائی ۱۹۹۳ء)

ایم. ایم احمد نے منظور وٹو اور صدر غلام اسحاق کے درمیان کمیشن ایجنٹ کا کردار ادا کیا: اس دس کروڑ روپیہ کی رقم کا مصرف کیا تھا اور مرزا قادیانی نے کس ’نیک‘ مقصد کے لئے وٹو صاحب کو بھیجے تھے۔ اخباری اطلاعات کے مطابق نواز شریف حکومت کو ختم کرنے کے لئے لانگ مارچ کا تخمینہ بھی دس کروڑ ہی بتایا گیا تھا۔ خبر ملاحظہ فرمائیں: ’’لاہور (این. این. آئی) آل پارٹیز کے اعلان کردہ ۱۶؍ جولائی ۱۹۹۳ء کے لانگ مارچ کے انتظامات پر اٹھنے والے اخراجات کا اندازہ دس کروڑ روپے لگایا گیا ہے اور اے. پی. سی کے سربراہی اجلاس میں ان اخراجات کا بندوبست کرنے کی ذمہ داری پنجاب کے وزیر اعلیٰ میاں منظور وٹو اور سرحد کے وزیر اعلیٰ میر افضل خان پر ڈالی گئی ہے۔ ان اخراجات میں اشتہارات، پوسٹر، پمفلٹ، ٹرانسپورٹ کا کرایہ اور کارکنوں کا قیام وطعام شامل ہیں۔ پیپلز پارٹی نے لانگ مارچ کے اخراجات کے سلسلہ میں معذوری ظاہر کی ہے کہ وہ صرف کارکنوں کی روانگی اور لانگ مارچ کی انتظامی ذمہ داری قبول کرے گی۔‘‘

(روزنامہ خبریں مؤرخہ ۱۳؍ جولائی ۱۹۹۳ء)

یہ خبر اس دس کروڑ روپے کی خبر کی تائید کرتی ہے جو مرزا طاہر نے لندن سے وٹو کے لئے بھیجا ہے۔ گویا یہ دس کروڑ روپیہ لانگ مارچ کو کامیاب بنانے کے لئے استعمال کیا جانا تھا تا کہ پنجاب کو وفاق سے باقاعدہ متصادم کیا جاسکے۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اتنی بڑی رقم مرزا طاہر نے ملک کے باقی صوبوں کے وزرائے اعلیٰ کو چھوڑ کر صرف وٹو کو ہی کیوں بھیجی؟ اس کا جواب واضح ہے کہ اتنی بڑی رقم قابل اعتماد آدمی کے سپرد ہی کی جاسکتی ہے۔ قادیانیوں کی طرف سے وٹو حکومت کو دس کروڑ روپے کی فراہمی پر حضرت مولانا خواجہ خان محمد صاحب نے تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ خبر ملاحظہ ہو: ’’فیصل آباد (نمائندہ خصوصی) عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی امیر حضرت مولانا خواجہ خان محمد صاحب نے مرزا غلام احمد قادیانی کے پوتے مرزا ایم. ایم احمد قادیانی غیر مسلم کے خفیہ دورۂ پاکستان اور صدر غلام اسحاق خان سے ایوان صدر میں ملاقاتوں پر سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اس کی شدید مذمت کی ہے۔ کیونکہ ایم. ایم احمد قادیانی سے پاکستان کا بچہ بچہ واقف ہے اور جانتا ہے کہ یہ شخص سقوطِ مشرقی پاکستان کا مرکزی کردار تھا۔ جب تک یہاں رہا یحییٰ خان کی مونچھ کا بال بنا رہا۔ جس نے کمال ہوشیاری سے یحییٰ خان کو شیشے میں اتارا اور پھر اس سے وہ کام لیا جو قادیانی جماعت کا اصل مقصد تھا۔ یعنی پاکستان کو توڑنا اور پھر سے اکھنڈ

صفحہ 219

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

بھارت بنانا ہے۔ اب پھر وہی ایم . ایم احمد قادیانی پاکستان کے خلاف اپنی قابلیت کے جوہر دکھانے پاکستان پہنچ چکا ہے اور صدر سے خفیہ ملاقاتوں کے بعد پاکستان شدید بحران کا شکار ہے۔ مرزا طاہر کا حالیہ خطبہ لندن کہ : ”اب پاکستان میں فضا بدلی ہوئی دکھاتی ہے۔“ خطرناک اشارے ہیں جس کا اداروں کو فوری نوٹس لینا چاہئے۔ جب کہ قادیانیوں کے سالانہ جلسہ لندن میں بھارتی ہائی کمشنر نے شرکت کی ۔ مولانا خان محمد نے مطالبہ کیا کہ جمعیۃ علماء پاکستان کے ڈپٹی جنرل سیکرٹری پیر سید محمد بن یامین رضوی کی طرف سے لگائے گئے الزام کی تحقیقات کرائی جائے کہ مرزا طاہر احمد نے صوبہ پنجاب میں گڑ بڑ پیدا کرنے کے لئے وزیراعلیٰ پنجاب کو دس کروڑ روپے کی رقم فراہم کی ہے۔ اس خطرناک خبر کا فوری نوٹس لیا جائے۔“

(روزنامہ نوائے وقت لاہور ، مورخہ ۱۵؍ جولائی ۱۹۹۳ء)

قارئین کی خدمت میں ہم ایک اور تشویشناک خبر بھی پیش کرنا چاہتے ہیں جس میں پنجاب اسمبلی کے دس اراکین نے ایک مشترکہ بیان میں الزام عائد کیا کہ وٹو حکومت قادیانی فرقے کے لوگوں کو کلیدی آسامیوں پر تعینات کر رہی ہے اور قادیانیوں کو نوازا جا رہا ہے۔

”اسلام آباد (پ . ر) پنجاب اسمبلی کے دس اراکین سے ایک مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ منظور وٹو اور ان کے حواریوں نے ایک مخصوص اقلیتی فرقے کے ساتھ وابستگی اور رابطوں کی وجہ سے پنجاب کی غیر قانونی انتظامیہ نے سرکاری خزانوں کے منہ اس فرقے کے لئے کھول دیئے ہیں اور اس فرقے کے افراد کو صوبے کے اہم حساس اداروں ، ایل . ڈی . اے اور پولیس کا کنٹرول دیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ اقلیتی فرقہ ، وطن عزیز کی جڑوں کو کھوکھلا کرنے کی ہر سازش میں بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وٹو اور ان کے حواریوں کی ان ملک دشمن سازشوں کے باعث زندگی کے تمام طبقوں میں بے چینی پائی جاتی ہے۔ خصوصاً علماء کرام اس مخصوص سازشی ٹولے اور اقلیتی فرقے کے اچانک سرگرم عمل ہونے پر انتہائی تشویش کا شکار ہیں۔ مشترکہ بیان میں پنجاب کے اراکین اسمبلی نے کہا کہ پنجاب کے عوام کو یرغمال بنانے والے اب نوشتہ دیوار پڑھیں۔ کیونکہ عوام کے احتساب کا گھیرا اب ان کے گرد تنگ ہوتا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اب کوئی ”ربوہ پلان“ انہیں عوام کے غیض وغضب سے بچا نہیں سکتا۔ انہوں نے کہا کہ تخریبی قوتوں کا سہارا لے کر اپنی سیاسی دوکانداری چمکانے والے اب اپنی خیر منائیں اور جمعۃ المبارک کے مقدس دن ہٹلر بازی اور ہنگامہ آرائی کر کے مسلمانوں کے ملک میں مسلمانوں کو عبادت سے روکنے کی کوشش نہ کریں۔“

(روزنامہ نوائے وقت مورخہ ۱۴؍ جولائی ۱۹۹۳ء)

مولانا منظور احمد چنیوٹی نے تحریک التواء واپس لے کر غلطی کی تھی : ”لاہور (این . این . آئی) جمعیۃ علماء پاکستان (نیازی گروپ) کے مرکزی چیف آرگنائزر صاحبزادہ سلطان ریاض الحسن اور پنجاب کے چیف آرگنائزر میاں خالد حبیب نے قادیانی رہنما مرزا غلام احمد کے پوتے ایم . ایم احمد کی صدر اسحاق سے ملاقاتیں اس بین الاقوامی سازش کا حصہ ہیں ، جس کے تحت قادیانیوں کو اہم عہدوں پر فائز کیا گیا ہے۔ اخبار نویسوں کے ایک گروپ سے باتیں کرتے ہوئے انہوں نے لانگ مارچ کو قادیانی سازش قرار دیا اور کہا کہ یہ شکست خوردہ سیاستدان ملک میں قادیانی کھیل کھیل رہے ہیں اور آئین کو منسوخ کرانا چاہتے ہیں۔ جے . یو . پی کے رہنماؤں نے کہا کہ ایم . ایم احمد کی سفارش پر منظور وٹو کو پنجاب میں وزیراعلیٰ بنایا گیا تھا۔ انہوں نے مولانا نورانی اور فضل الرحمن سے اپیل کی کہ وہ اپوزیشن کی آڑ میں قادیانی سازش کا شکار نہ ہوں۔ دریں اثناء مجلس عمل تحفظ ختم نبوت کے مرکزی قائدین مولانا خان محمد ، مولانا عزیز الرحمن جالندھری ، مولانا اجمل خان قادری ، مولانا عبدالمالک ، مولانا امجد خان ، مولانا عبدالقادر روپڑی اور مولانا اللہ وسایا نے اس خدشے کا اظہار کیا ہے کہ وٹو حکومت کی طرف سے سٹار ٹی . وی کے وقت کی خریداری کے پس پردہ پاکستان میں مرزا طاہر احمد کے خطبہ جمعہ کو عام کرنا ہے۔ مجلس عمل تحفظ ختم نبوت کے ان رہنماؤں نے کہا ہے کہ منظور وٹو فوری طور پر اس بات کی وضاحت کریں کہ سٹار ٹی . وی کے ذریعے قادیانیوں کو تبلیغ کا کھلا

صفحہ ۲۲۰

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۳ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

موقع فراہم تو نہیں کیا جائے گا۔ ان رہنماؤں نے اس بات پر بھی حیرت کا اظہار کیا کہ مرزا ایم ایم احمد کے صدر مملکت سے ملاقاتوں کی خبروں پر ایوان صدر نے آخر خاموشی کیوں اختیار کی ہے۔‘‘

(روزنامہ خبریں مؤرخہ ۱۵؍جولائی ۱۹۹۳ء لاہور)

ان حقائق اور شواہد کے بعد وٹو کے بارے میں کوئی حتمی رائے قائم کرنا کوئی مشکل بات نہیں ہے۔ ایک طرف ان کی وہ تحریر ہے جو انہوں نے حضرت الامیر کو لکھ کر دی اور دوسری طرف ان کا یہ کردار ہے کہ انہوں نے نہ صرف قادیانیوں کے لئے وزیر اعلیٰ ہاؤس کے دروازے کھول دیئے بلکہ ہماری معلومات کے مطابق ان پر نوازشات کی بارش کر دی۔ کیا مرزا طاہر کو یہ پیشگی علم کیسے ہو گیا کہ پاکستان میں تبدیلی آنے والی ہے۔ ان کی جماعت کے لئے اس سے بڑھ کر خوشی کا مقام اور کیا ہو سکتا تھا کہ پنجاب کی وزارت اعلیٰ جب ان کے اپنے نمائندے کے ہاتھ میں آئی تو مرزا طاہر نے اپنی جماعت کے خزانوں کے منہ ان کے لئے کھول دیئے اور ۱۶؍جولائی ۱۹۹۳ء کا لانگ مارچ دراصل قادیانی لانگ مارچ تھا۔ یہ مارچ قادیانی جماعت کا وفاق پاکستان کے خلاف کھلی بغاوت تھا۔ اس لانگ مارچ کا مقصد ملک کے ٹکڑے ٹکڑے کرنا اور اکھنڈ بھارت بنانا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ قادیانی لانگ مارچ کو روکنے کے لئے فوج کے سربراہ نے مداخلت کی۔ کیونکہ اس لانگ مارچ میں پیپلز پارٹی کا محض نام استعمال کیا جانا تھا۔ اصل میں پی پی کے کارکنوں کی آڑ میں ربوہ کی ساری خدام الاحمدیہ نے مسلح طور پر شرکت کرنا تھی اور پھر پنجاب حکومت کی حفاظت اور نگرانی میں اسلام آباد میں پہنچ کر دارالحکومت کی اینٹ سے اینٹ بجا دینی تھی۔ یہی وجہ ہے کہ چیف آف دی آرمی اسٹاف جنرل وحید نے فوری مداخلت کر کے لانگ مارچ رکوایا۔ پہلے لانگ مارچ کا پروگرام جب بے نظیر نے بنایا تھا اس کا مقابلہ وفاقی حکومت نے کامیابی سے کیا تھا۔

دوسرا لانگ مارچ ہرگز پرامن نہ تھا۔ یہ قادیانی دہشت گردوں، تخریب کاروں کا مسلح لانگ مارچ تھا۔ جس کی سرپرستی اور معاونت و قیادت پنجاب کی وہ حکومت کر رہی تھی جس کا وزیر اعلیٰ مسلمانوں کے نزدیک مشکوک اور قادیانیوں کے نزدیک محبوب شخص تھا۔ یہ قادیانی لانگ مارچ تھا اس میں قادیانیوں نے شرکت کر کے امتناع قادیانیت آرڈیننس کی اجتماعی طور پر سرعام خلاف ورزی کرنا تھی۔ شاید اسی لئے اس لانگ مارچ میں کلمہ اور اذانیں بلند کرنے کا اعلان کیا گیا تھا۔ ورنہ اگر کلمہ کا ورد اور اذانیں مارچ کو کامیاب بنانے کے لئے ضروری تھا تو اس کا اہتمام ۱۸؍نومبر کے لانگ مارچ میں کیوں نہ کیا گیا۔

(مقالہ خصوصی صاحبزادہ طارق محمود ایڈیٹر ہفت روزہ لولاک فیصل آباد ص ۷ تا ۱۰،مؤرخہ ۶؍اگست ۱۹۹۳ء)

الحمد للہ! بخارا میں قادیانیوں کی عبادت گاہ بنانے کی سازش ناکام

وسطی ایشیاء کی مسلم ریاستوں میں قرآن مجید کی تقسیم کا آغاز ..... افریقہ، بحرین، کراچی اور دیگر ممالک کے اہل خیر سے اظہار تشکر

عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کا اصل دائرہ کار عقیدہ ختم نبوت کا تحفظ اور مرزا غلام احمد قادیانی اور اس کی ذریت کے باطل عقائد سے مسلمانوں کو آگاہ کرنا اور ارتداد سے بچانا ہے۔ اس سلسلے میں جہاں اور جب ضرورت پڑی اکابرین مجلس تحفظ ختم نبوت اور اس کے کارکنان اور متعلقین نے کسی قسم کی قربانی سے دریغ نہیں کیا۔ امیر شریعت حضرت مولانا عطاء اللہ شاہ بخاری، حضرت مولانا محمد علی جالندھری، حضرت مولانا قاضی احسان احمد، حضرت مولانا لال حسین اختر، حضرت مولانا سید محمد یوسف بنوری، حضرت مولانا خواجہ خان محمد صاحب کی قیادت میں یہ جماعت محدث العصر حضرت مولانا انور شاہ کشمیری کی وصیت کے مطابق قادیانیت کے آغاز سے اس فتنہ کی سرکوبی میں مصروف ہے۔ الحمد للہ! عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی ان قربانیوں کو اللہ تعالیٰ نے شرف قبولیت بخشا اور ۷؍ستمبر ۱۹۷۴ء کے تاریخی دن ایک عظیم الشان تحریک کے

صفحہ ۲۲۱

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

بعد مولانا سید محمد یوسف بنوری کی قیادت میں ۹۰ سالہ یہ پرانا انگریز کا کاشت کیا ہوا پودا جسد مسلمہ سے علیحدہ ہوا اور پاکستان کے آئین میں ایک ترمیم کے ذریعہ قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دے کر انہیں ہندوؤں، عیسائیوں، یہودیوں اور سکھوں کی فہرست میں شامل کر دیا گیا۔

آئینی ترمیم کے بعد عام تأثر یہ تھا کہ اب یہ مسئلہ حل ہو گیا لیکن قادیانیوں نے اس فیصلہ کو تسلیم نہیں کیا جس کی وجہ سے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کو اپنی تحریک اسی زوروشور سے جاری رکھنی پڑی۔ بالآخر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی اس تحریک کے نتیجے میں ۱۹۸۴ء میں صدر پاکستان جنرل محمد ضیاء الحق نے امتناع قادیانیت آرڈیننس جاری کیا جس کی رو سے قادیانیوں کے لئے اپنے آپ کو مسلمان کہنا، کہلوانا، اذان، کلمہ، مساجد کا قیام اور شعائر اسلام کا استعمال کرنا ممنوع قرار دیا گیا۔ قادیانی سربراہ مرزا طاہر نے اس آرڈیننس کے بعد محسوس کر لیا کہ اب پاکستان کی زمین قادیانی جماعت کے لئے امت مسلمہ کے تعاقب کی بناء پر تنگ ہوتی جا رہی ہے اور انگریزوں کی سرپرستی کے باوجود پاکستان کی سرزمین میں کام کرنا بہت کٹھن اور مشکل مرحلہ ہے۔ اس لئے مرزا طاہر نے اپنے آقا کے وطن لندن کا رخ کیا۔ ربوہ سے مرکز کفر لندن کے مضافات میں منتقل ہو گیا۔ لندن منتقل ہو کر قادیانی گروہ نے اپنا ہدف افریقی ممالک اور یورپی ممالک کو بنا لیا اور پاکستان اور مسلمانان پاکستان خصوصاً علماء عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے خلاف پروپیگنڈہ شروع کر دیا۔ مظالم کی جھوٹی داستانیں سنا کر مظلومیت کا ڈھونگ رچایا تا کہ بعض مغربی ممالک کے سادہ لوح لوگوں کی حمایت حاصل کر سکیں۔ افریقی ممالک میں اپنے آپ کو مسلمان ظاہر کر کے ان لوگوں سے بیعت لی۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت نے اس صورتحال کے پیش نظر فیصلہ کیا کہ مجلس تحفظ ختم نبوت کا دائرہ کار بھی بڑھا کر پوری دنیا میں قادیانیوں کا تعاقب کیا جائے۔ حضرت مولانا خواجہ خان محمد صاحب، حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی، حضرت مولانا مفتی احمد الرحمٰن اور دیگر اکابر مجلس تحفظ ختم نبوت کے مشورہ کے بعد لندن میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کا دفتر قائم کیا گیا۔ الحاج عبد الرحمٰن یعقوب باوا اور مولانا منظور احمد الحسینی کو بیرون ملک قادیانیوں کے تعاقب اور عقیدہ ختم نبوت کے مشن کی ذمہ داری سونپی گئی اور ہر سال انگلینڈ میں ایک بین الاقوامی ختم نبوت کانفرنس کا آغاز کیا گیا۔ (ان شاء اللہ! اس سلسلے کی آٹھویں ختم نبوت کانفرنس یکم اگست کو برمنگھم میں منعقد ہو گی)

امریکہ، افریقہ اور دیگر ممالک کے دورے کئے۔ افریقہ میں چالیس ہزار افراد کو قادیانیوں نے ورغلایا تھا۔ الحاج عبدالرحمٰن یعقوب باوا اور مولانا منظور احمد الحسینی پر مشتمل مجلس تحفظ ختم نبوت کے ایک وفد نے ان کو قادیانیوں کے عقائد سے آگاہ کیا۔ جس پر وہ تمام افراد تائب ہو گئے۔ افغان جہاد کی برکت سے جب اللہ تعالیٰ نے روس جیسی سپر طاقت کے غرور کا سر نیچا کیا اور اس کی تمام ریاستوں نے آزادی کا اعلان کیا تو دنیا اس وقت حیرت زدہ ہو گئی۔ جب سات ریاستیں، مسلم ریاست کی حیثیت سے دنیا کے نقشے پر ابھریں۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت نے ان ریاستوں کی آزادی کے بعد اپنے دائرہ کار میں ان مسلم ریاستوں کو بھی شامل کر لیا اور اس بات پر نظر رکھنی شروع کی کہ کہیں ان ریاستوں کو تر نوالہ سمجھ کر قادیانی ہڑپ کرنے کی کوشش نہ کریں۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کا یہ اندازہ درست ثابت ہوا اور مجلس کے ذمہ داران کو معلوم ہوا کہ بخارا کے ایک وفد نے لندن میں قادیانیوں کے اجلاس میں شرکت کی اور مرزا طاہر کی درخواست پر بخارا میں ایک قدیم مسجد دینے کا اعلان کیا۔ اس اطلاع پر خود عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کا ایک وفد نائب امیر مرکزیہ حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی کی قیادت میں روانہ ہوا۔ الحمد للہ! وفد کی کوششوں سے قادیانیوں کی یہ سازش ناکام ہوئی اور علماء ازبکستان اور حکام پر واضح کر دیا کہ قادیانی کافر گروہ ہے جو مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی سازش میں سرگرداں ہے۔ دورۂ کے دوران وفد نے محسوس کیا کہ ازبکستان اور مسلم ریاستوں میں قرآن مجید کی اشاعت اور گھر گھر قرآن پہنچانا اور ان کو علوم دین سے آراستہ کرنا بہت ضروری ہے۔ چونکہ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے منشور میں اشاعت قرآن اور علوم دین کی ترویج بھی شامل ہے۔ اس لئے حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی صاحب کی تجویز پر عالمی مجلس تحفظ ختم

صفحہ ۲۲۲

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۳ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

نبوت کے اجلاس نے اس کی منظوری دی کہ فوری طور پر پہلے مرحلہ میں لاکھوں قرآن طبع کرا کے ان مسلم ریاستوں میں تقسیم کئے جائیں۔ اس کے لئے میں کراچی کو اس مہم کا مرکز بنایا گیا اور اس سلسلے میں مولانا محمد یوسف لدھیانوی صاحب نائب امیر مرکزیہ نے حسب ذیل خط کے ذریعہ مسلمانان پاکستان سے دردمندانہ اپیل کی۔

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

مکرم و محترم زید مجدکم ................................... السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

وسطی ایشیاء کا علاقہ کسی زمانے میں اسلامی علوم وفنون کا مرکز رہا ہے۔ امام بخاری ، امام مسلم ، امام ترمذی ، امام برہان الدین فرغانی صاحب ہدایہ، امام ابو حفص کبیر ، امام ابواللیث سمرقندی اور امام ابو منصور ماتریدی اسی سرزمین سے اٹھے۔ جن کے علمی فیضان سے پورا عالم اسلام مستفید ہوا۔ لیکن ان مسلم ریاستوں پر روس کے ظالمانہ و جابرانہ تسلط نے عالم اسلام کے ان مایہ ناز خطوں کو بنجر بنا کر رکھ دیا۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت نے ان ریاستوں کے حالات کا جائزہ لینے اور یہاں کے مسلمانوں کو ضرورت کا جائزہ لینے کے لئے ایک اعلیٰ سطحی وفد بھیجنے کا فیصلہ کیا۔ چنانچہ مفتی اعظم پاکستان جناب مولانا رفیع عثمانی ، جناب مولانا جسٹس مفتی محمد تقی عثمانی ، جناب مولانا ڈاکٹر عبد الرزاق اسکندر، جناب مولانا احمد خان ، جناب مولانا محمد جمیل خان ، جناب عبد الرحمن یعقوب باوا اور جناب مولانا مسعود صاحب اور راقم الحروف پر مشتمل ایک وفد نے تاشقند اور سمرقند و بخارا کا دورہ کیا۔ وہاں کے اہل علم اور ذمہ دار حضرات سے ملاقاتیں کیں اور ان علاقوں میں اسلام کی نشاۃ ثانیہ کے عمل کا مختلف پہلوؤں سے جائزہ لیا۔ وفد کی سفارشات پر چند اہم اقدامات کا فیصلہ کیا گیا۔ ان میں سے ایک اہم ترین اقدام یہ کہ وہاں قرآن کریم کے نسخے وافر مقدار میں بھیجے جائیں تاکہ وہاں کے کروڑوں مسلمانوں میں سے ہر فرد تک قرآن کریم پہنچ سکے۔

بحمد اللہ ! عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت نے اشاعت قرآن کریم کی بابرکت ، با سعادت اور لذیذ خدمت توکلاً علی اللہ اپنے ناتواں کندھوں پر اٹھالی ہے۔ فی الحال دس لاکھ نسخوں کی اشاعت کا منصوبہ ہے۔ جس کی طباعت کے انتظامات مکمل ہو چکے ہیں۔ ایک نسخہ کا ہدیہ پندرہ روپے پاکستانی ہے۔ مجلس نے اس سعادت میں مسلمان بھائیوں کو شریک کرنے کے لئے مندرجہ ذیل پانچ قسم کی رسیدیں شائع کی ہیں۔

تمام مسلمان بھائیوں سے گزارش ہے کہ اس سعادت وبرکت میں زیادہ حصہ لگانے کی کوشش کریں اور اپنے احباب اور حلقہ تعارف میں بھی اس کے لئے تحریک کریں۔ مسلمانوں کے ایک فرد کو بھی اس سعادت سے محروم نہیں رہنا چاہئے۔ اللہ تعالیٰ اس خدمت عظیم کا بہترین بدلہ عطاء فرمائے ۔ آمین !

الحمد للہ ! اہل کراچی نے حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی صاحب کی اپیل پر فوراً لبیک کہا اور بہت ہی جوش وجذبہ کے ساتھ اس کام میں حصہ لیا۔ اہل خیر نے بہت زیادہ سرگرمی دکھائی۔ کراچی کے اہل خیر نے دس دن میں ابتدائی طور پر دیتے ہوئے ۷۵ ہزار کی رقم جمع

صفحہ ۲۲۳

ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۳ء

کردی۔ اس طرح اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم اور کراچی کے اہل خیر اور اہل درد مسلمانوں کے تعاون سے پانچ لاکھ قرآن عظیم کی طباعت کے منصوبہ کا آغاز ہوا۔ (تفصیلات رپورٹ میں ملاحظہ فرمالیں)

پانچ لاکھ قرآن مجید کا ہدیہ اڑھائی لاکھ ڈالر طے پایا تھا اور یہ بہت رقم تھی جو پاکستانی حساب سے یہ ساڑھے اکہتر لاکھ کے قریب بنتی تھی۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے وسائل محدود لیکن بتوکل خداوندی یہ عظیم بیڑا اٹھایا تھا سو امید تھی کہ اللہ رب العزت غیب سے اسباب مہیا فرمائیں۔ اللہ رب العزت کا عظیم شکر اور احسان ہے کہ اس نے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے علماء کرام اور اکابرین کی لاج رکھی اور اہل کراچی کے دل میں ایسا جذبہ پیدا فرمایا کہ انہوں نے ایک منصوبہ کے ایک معتدبہ حصے کی رقم پوری کی۔ اس پیشکش کے ساتھ کہ آئندہ بھی جب ضرورت محسوس ہوئی، اہل کراچی کسی سے پیچھے نہیں رہیں گے۔ بحرین سے مولانا محمد احمد خان نے اس مہم میں بھرپور دلچسپی لی اور پندرہ ہزار ڈالر سے زائد رقم جمع کی۔ رمضان المبارک میں حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی سے جمعیۃ علماء افریقہ کے مولانا ظہیر احمد راگی اور مولانا محمد ابراہیم نانا بھائی نے ملاقات کی۔ حضرت اقدس نے ان کو قرآن مجید کی اس مہم سے آگاہ کیا۔ جس پر ان حضرات نے افریقہ میں ہی مہم شروع کی اور تقریباً ایک لاکھ پچھتر ہزار (۷۵ لاکھ رینڈ) جمع کئے اور گزشتہ دنوں ان کی طرف سے ایک وفد جس میں مولانا ابراہیم نانا بھائی، مولانا ظہیر احمد راگی، مولانا ابوبکر بامجی کراچی آیا اور حضرت مولانا لدھیانوی صاحب کی خدمت میں پیش ہو کر یہ رقم پیش کی۔

اللہ تعالیٰ کا فضل و کرم اور احسان ہے کہ اس نے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کو یہ عظیم سعادت نصیب فرمائی۔ اس پر مجلس ختم نبوت کے اکابرین اور علماء کرام اور متعلقین سب سے پہلے اپنے اللہ تعالیٰ کے حضور سربسجود ہو کر شکر گزار ہیں اور ”من لم یشکر الناس لم یشکر اللہ“ کے مطابق عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے امیر مرکزیہ حضرت مولانا خواجہ خان محمد صاحب، نائب امیر مرکزیہ حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی صاحب، جنرل سیکرٹری حضرت مولانا عزیز الرحمن جالندھری اور جماعت کے تمام اکابرین ان تمام حضرات اور معاونین کے شکر گزار ہیں جنہوں نے اشاعت قرآن کی اس مہم میں کسی بھی انداز میں حصہ لیا۔ اللہ تعالیٰ ان تمام حضرات کو اپنی طرف سے بے پایاں بدلہ عطاء فرمائے۔ انہیں دنیا کی راحتیں و عافیتیں نصیب فرمائے اور عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے ساتھ تعاون کرنے کی بناء پر خاتم النبیین شفیع الامم ﷺ کی شفاعت نصیب فرمائے۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ان علماء کرام کی بھی شکر گزار ہے جنہوں نے مجلس کی درخواست پر مختلف اوقات میں ان علاقوں کا دورہ کیا اور اس مہم کو کامیاب بنانے کی جدوجہد کی۔ اللہ تعالیٰ ان کو جزائے خیر عطاء فرمائے۔

قرآن مجید کی یہ مہم آغاز ہے اس منصوبہ کا، جس پر عمل پیرا ہو کر اس مقدس خطہ کو دوبارہ مرکز علم بنانا ہے اور اس کے لئے ضروری ہے کہ ان علاقوں کے طلباء کو علوم دینیہ سے سرفراز کرے۔ علماء راسخین بنائے۔ اس کے لئے طلباء کے لئے پاکستان میں بھی تعلیم کا بندوبست کرنا ہو گا اور ان علاقوں میں مدارس اور مساجد قائم کرنی ہوں گی۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت اپنے تمام متعلقین اور معاونین سے درخواست کرتی ہے کہ جس طرح انہوں نے قرآن مجید کی مہم کے مرحلے میں تعاون کیا اس طرح وہ آئندہ بھی اشاعت قرآن، طلباء کو علوم دین سے مزین کرنے، مدارس اور مساجد کے قیام اور دیگر دینی کاموں میں ہروقت تعاون کریں گے۔ اللہ تعالیٰ عالم اسلام کو قادیانیوں اور غیر مسلموں کی شرارتوں سے محفوظ رکھے اور عالم اسلام کو ایک لڑی میں پرو دے تا کہ عالم اسلام ایک ایسی سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن جائے جس کے کسی ایک فرد پر بھی کفار کو ہاتھ اٹھانے کی جرأت نہ ہو۔ آخر میں ایک مرتبہ پھر اپنے رب العزت کے ہم شکر گزار ہیں کہ قرآن مجید کی خدمت کی اس عظیم سعادت سے مالا مال کیا۔

(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ص ۴ تا ۶، مورخہ ۶ تا ۱۲؍ اگست ۱۹۹۳ء)

صفحہ ۲۲۴

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

وسطی ایشیاء کی مسلم ریاستوں میں ۵ لاکھ قرآن مجید کی فراہمی کا منصوبہ

ایک لاکھ پچاس ہزار قرآن مجید کی تقسیم سے اس عظیم منصوبہ کا آغاز۔ اس منصوبے کو اس وقت تک جاری رکھا جائے گا جب تک ان مسلم ریاستوں کے تمام مسلم گھرانوں کو قرآن مجید فراہم نہ ہو جائے۔

حضرت اقدس مولانا محمد یوسف لدھیانوی صاحب سمرقند و بخارا اور تاشقند کے دورے سے تشریف لائے تو آپ کی طبیعت پر ایک اضطرابی کیفیت تھی۔ محدثین کی سرزمین کے لوگوں کی دینی انحطاط اور اقدار کی تبدیلی نے آپ کی طبیعت پر بہت اثر ڈالا تھا۔ آپ ہمہ وقت اس سوچ میں مستغرق رہتے کہ اس سرزمین کی امانت دوبارہ کس طرح ان کو لوٹائیں۔ سرزمین سمرقند و بخارا کو اس کا اقدار اور اس کی روایات کس طرح واپس دلائیں۔ سمرقند و بخارا کے لوگوں کا عقیدت و محبت سے قرآن مجید طلب کرنا، تسبیح، جائے نماز اور نماز کی کتابوں کے لئے دیوانہ وار دوڑ لگانا ہر وقت آپ کی نگاہوں میں گھومتا تھا۔ آپ بارہا فرماتے تھے کہ مسلمان گھرانوں کو قرآن مجید سے محروم کر دیا۔ بخاری شریف، مسلم شریف اور صحاح ستہ کے مصنفین کی جگہ اب ان کتابوں کے ناموں تک سے واقف نہیں۔ ہم سے قیامت کے دن اگر سوال ہوا کہ اس سرزمین والوں کے لئے تم نے کیا کیا؟ تو ہم کیا جواب دیں گے۔ اضطراب اور بے چینی کی ایک عجیب کیفیت تھی۔ دوسری طرف ان ملکوں کے حالات سے مایوسی ہوتی تھی کہ آزادی تو حاصل ہو گئی لیکن آزادی کے ثمرات کے لئے ابھی تک کوئی فکر نہیں، کوئی احساس نہیں۔ کام کی خواہش تھی لیکن کام کا طریقہ کار سمجھ میں نہیں آتا تھا۔ آخر کار حضرت اقدس مولانا لدھیانوی صاحب کا یہ اضطراب اور سحر کی دعائیں رنگ لائیں اور حضرت اقدس نے ڈاکٹر عبدالرزاق اسکندر، مولانا مفتی نظام الدین، مولانا سعید احمد جلال پوری اور راقم الحروف کو طلب کیا اور مسلم وسطی ایشیاء کے مسلمانوں کی حالت زار کو سامنے رکھ کر کچھ تجاویز سامنے رکھیں۔

تجاویز تو بہت اچھی تھیں لیکن کام کا طریقہ کار کیا ہو۔ حضرت اقدس نے تجویز فرمایا کہ قرآن مجید کی طباعت اور کتابوں کی فراہمی کا کام عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت اپنی ذمہ داری پر کرے گی۔ جب کہ طلباء کی تعلیم اور مدارس کے قیام کے لئے دینی مدارس کے سرکردہ افراد اور وفاق المدارس العربیہ پاکستان کے ذمہ لگایا جائے گا اور اہل خیر سے درخواست کی جائے گی کہ وہ ایک ایک طالب علم کا خرچہ برداشت کریں۔ حضرت اقدس کے اس فیصلے کے بعد یہ تجویز ہوا کہ ایک نمائندہ وفد فوری طور پر ازبکستان جائے اور وہاں قرآن مجید کی طباعت کی صورت پیدا کی جائے۔ کیونکہ پاکستان میں ایک قرآن مجید کی طباعت پر لاگت بھی زیادہ آتی ہے اور پھر ان مسلم ریاستوں میں ان قرآن مجید کے پہنچانے کے اخراجات حد سے زائد ہوتے ہیں اور پھر مسلم ریاستوں میں موجود کمیونسٹ عناصر رکاوٹ کھڑی کریں گے۔ نومبر کے آخری عشرہ میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کا وفد مولانا منظور احمد الحسینی، قاری فیض اللہ چترالی، عبدالمطلب ماریشیشی اور راقم الحروف (مولانا مفتی محمد جمیل خان) پر مشتمل تاشقند پہنچا۔ طباعت کے متعلق مختلف حضرات سے بات چیت ہوئی اور آخر کار جناب محترم الہام جان (جو کہ ادارہ دینیہ اور تاشقند یونیورسٹی میں تدریس کے فرائض انجام دیتے ہیں اور جامع مسجد امام بخاری تاشقند کے موسس و خطیب ہیں) جناب

صفحہ ۲۲۵

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

محترم الشیخ ذاکر جان (جو کہ ادارہ دینیہ کے نائب رئیس اور ماوراء النہر مسلم وسطی ریاستوں کے نائب مفتی بھی ہیں) کی وساطت سے تاشقند پرائیویٹ انٹر پرائزز کے جناب ”اراکین“ صاحب سے پانچ لاکھ قرآن مجید کی طباعت کا معاہدہ طے پایا۔ معاہدہ میں ایک ڈالر دو قرآن مجید کی لاگت طے ہوئی۔ اس طرح پانچ لاکھ قرآن مجید کی کل رقم اڑھائی لاکھ ڈالر ہوئی۔ قیمت کی کمی و بیشی سے بچانے کے لئے تاشقند انٹر پرائزز کی درخواست پر طے پایا کہ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کاغذ کی خریداری کے لئے یکمشت رقم ادا کرے گی۔ بقایا رقم چار قسطوں میں قرآن مجید کی وصول یابی کی صورت میں ادا کی جائے گی۔

دوسرے مرحلہ پر ڈیڑھ لاکھ قرآن مجید وصول کر کے ۶۲ ہزار ڈالر ادا کئے جائیں گے۔ تیسرے مرحلے میں بقایا ڈیڑھ لاکھ قرآن مجید وصول کر کے ۵۵ ہزار ڈالر اور چوتھے اور آخری مرحلے میں دو لاکھ قرآن مجید وصول کر کے بقایا تمام رقم ادا کی جائے گی۔ وفد نے مشورہ اور استخارے کے بعد اس معاہدہ کو حضرت اقدس مولانا لدھیانوی صاحب دامت برکاتہم کی دعاؤں کا ثمرہ محسوس کیا اور ایک ابتدائی تحریر مرتب کر لی۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی طرف سے راقم الحروف (مولانا مفتی محمد جمیل خان) نے بحیثیت نمائندہ اور تاشقند انٹر پرائزز کی طرف سے جناب اراکین صاحب نے معاہدہ پر دستخط کئے جب کہ جناب الہام جان، جناب شیخ ذاکر جان، مولانا منظور احمد الحسینی، قاری فیض اللہ چترالی نے گواہوں کی حیثیت سے اس معاہدہ کی توثیق کی۔ وفد نے اس کے علاوہ ”اقراء روضۃ الاطفال“ قائم کرنے کے لئے تاشقند میں جناب الہام جان کی وساطت سے ایک قطعہ اراضی بھی منتخب کیا اور اس میں دو سو طلباء کے رہائش اور پانچ سو طلباء کی تعلیم کے لئے ایک کمپنی سے ابتدائی معاہدہ کی بات چیت کی۔ ابتدائی طور پر اس کی تعمیر پر ایک لاکھ پانچ ہزار ڈالر کا کمپنی نے تخمیناً خرچہ بتایا۔ طے یہ پایا کہ اقراء روضۃ الاطفال کی اس شاخ کو شیخ الحدیث و فقہ حضرت امام ترمذی کے نام سے منسوب کیا جائے اور ابتدائی کام اس میں بھی شروع کیا جائے۔ باقاعدہ معاہدہ اگلے سفر میں کیا جائے۔ ایک ہفتہ قیام کے بعد وفد نے واپس آکر حضرت اقدس مولانا محمد یوسف لدھیانوی، ڈاکٹر عبدالرزاق اسکندر کو رپورٹ پیش کی۔ حضرت اقدس نے اس معاہدہ کی توثیق فرمائی اور عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے امیر مرکزیہ حضرت مولانا خواجہ خان محمد صاحب زید مجدہم، ناظم اعلیٰ مولانا عزیز الرحمن جالندھری اور اراکین مجلس شوریٰ کے سامنے یہ معاہدہ پیش کیا۔ تمام اکابر، علماء کرام نے اس کی توثیق فرمائی اور فیصلہ کیا کہ قرآن کریم فنڈ قائم کر کے بھر پور مہم کا آغاز کیا جائے اور ابتدائی طور پر کئے گئے اس پانچ لاکھ کے منصوبے کو اس وقت تک جاری رکھا جائے جب تک مسلم وسطی ایشیاء کی تمام مسلم ریاستوں کے مسلم گھرانوں کو قرآن مجید نہ فراہم ہو جائے۔ دس قرآن مجید، پچاس قرآن مجید، ایک سو قرآن مجید، پانچ سو قرآن مجید کی رسیدیں چھپوائی گئیں اور حضرت اقدس مولانا لدھیانوی صاحب کی دعا اور مسجد سے اس مہم کا آغاز ہوا۔

اہل کراچی نے جو ہر دینی کام میں سبقت لے جانا اپنا مذہبی فریضہ سمجھتے ہیں، حضرت اقدس کی آواز پر لبیک کہا اور چند ہی دن میں ابتدائی طور پر دی جانے والی خطیر رقم ۷۶ ہزار ڈالر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے قرآن مجید فنڈ میں جمع کرا دی گئی۔ حضرت اقدس کے حکم پر دسمبر ۱۹۹۲ء کے آخری عشرہ میں مولانا منظور احمد الحسینی، جناب رانا محمد انور، مفتی خالد محمود (نائب مدیر اقراء روضۃ الاطفال)، محمد وسیم غزالی منتظم اقراء ڈائجسٹ، جناب فضل ربی ندوی مجلس نشریات اسلام پر مشتمل وفد تاشقند روانہ کیا۔ اس وفد نے پریس والوں کے ساتھ جناب الہام جان اور شیخ ذاکر جان کی وساطت سے تفصیلی معاملات طے کئے اور کاغذ کی خریداری اور ابتدائی اخراجات کے لئے ۷۶ ہزار ڈالر کی رقم ادا کی۔ طے یہ پایا کہ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی طرف سے فراہم کردہ قرآن مجید شائع کیا جائے گا۔ پہلے دس کاپیاں نمونہ کے طور پر شائع کی جائیں گی تاکہ اس قرآن مجید کی طباعت اور کتابت وغیرہ کی مکمل تصحیح کر لی جائے تاکہ کسی قسم کی غلطی کا امکان نہ رہے۔ ان قرآن مجید پر

صفحہ ۲۲۶

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

تحریر کیا جائے گا کہ طباعت وغیرہ صحیح ہے تو اس کے بعد قرآن مجید کی طباعت شروع ہو جائے گی۔ اس سفر میں وفد کے ارکان نے محسوس کیا کہ سمرقند میں بھی دینی ماحول اور روحانی اثرات زیادہ ہیں۔ اس علاقے کے لوگوں میں دین کی رغبت و محبت بھی زیادہ ہے۔ اس علاقے میں کام کی زیادہ ضرورت ہے۔ اس لئے اس خطہ میں مدرسہ کے لئے زمین حاصل کی جائے۔ اس تجویز کو تمام ساتھیوں نے سراہا اور سمرقند کے مفتی اور ادارہ دینیہ کے سربراہ مولانا مصطفیٰ (جو کہ جامع مسجد زرمراد کے خطیب ہیں اور جو پہلے بڑے وفد کے میزبان اور رہبر تھے) سے بات چیت کی۔ انہوں نے دو تین زمینوں کی نشاندہی کی۔ ان سے درخواست کی گئی کہ ایک ایسا قطعہ اراضی وہ حاصل کریں جس میں ایک ہزار کے قریب بچوں کے لئے حفظ قرآن کریم کی تعلیم کا بندوبست کیا جاسکے اور وہ زمین کسی ادارہ کے ماتحت نہ ہو بلکہ اقراء روضۃ الاطفال کے نام پر ہی حاصل کی جائے۔ انہوں نے اس سلسلے میں وعدہ کیا کہ اس شاخ کے نام کو ساتھیوں کی رائے سے امیر المؤمنین فی الحدیث حضرت امام بخاری کے اسم مبارک کی طرف سے منسوب کیا جائے گا۔ کیونکہ آپ کا مزار مبارک سمرقند سے بہت قریب ہے۔ وفد ان معاہدات کی تکمیل کے بعد واپس ہوا۔

رمضان المبارک سے چند دن قبل تاشقند سے ٹیلیفون پر بتایا گیا کہ قرآن مجید کے نسخے تیار ہو گئے ہیں۔ آپ آ کر معائنہ کرلیں۔ حضرت اقدس کے حکم پر قاری فیض اللہ چترالی مہتمم مدرسہ امام محمد اور مولانا سعید احمد جلال پوری نائب معاون مدیر ماہنامہ بینات تاشقند گئے اور ایک ہفتہ تک پوری قرآن مجید کی بہت باریک بینی سے تصحیح کی۔ ایک دو جگہ پیسٹنگ کی غلطی تھی اور دو چار جگہ طباعت میں بعض نقطے وغیرہ مٹے ہوئے تھے۔ اس کے بعد ان کو لکھ کر دے دیا کہ اس تصحیح شدہ قرآن مجید کی طباعت کا کام شروع کر دیا جائے۔ اس وفد سے معلوم ہوا کہ تاجکستان میں حالات کی خرابی کے پیش نظر حکومت ازبکستان کی طرف سے بھی اہل دین خصوصاً علماء کرام کی نگرانی کا کام شروع ہو گیا ہے۔ خود قاری فیض اللہ صاحب، سعید احمد صاحب کو کئی گھنٹہ ائیرپورٹ پر روکے رکھا اور دھمکی دی کہ ان کو گرفتار کر کے دوسری فلائٹ سے پاکستان واپس بھیج دیا جائے گا۔ ان حضرات نے ان پر واضح کر دیا کہ ہماری واپسی ازبکستان کی حکومت کے لئے نقصان دہ ہوگی۔ ہم لوگ حکومت پاکستان سے شکایت کریں گے، اس پر بڑی مشکل سے ان کو ویزہ دیا گیا۔ دورہ کے دوران بھی ان پر اور ان سے ملنے والے احباب پر سی۔آئی۔ڈی کڑی نگرانی کر رہی تھی۔ وفد نے واپسی پر یہ رپورٹ دی کہ ایک طرف تو خوشی کی بات یہ ہے کہ ابتدائی طباعت کا کام شروع ہو گیا ہے اور جلد ہی قرآن مجید کی تقسیم شروع ہو جائے گی۔ جب کہ دوسری طرف پریشان کن خبر یہ ہے کہ کہیں حکومت اس طباعت کے کام میں رکاوٹ نہ ڈالے۔ اسی طرح تقسیم میں بھی رکاوٹ نہ ڈالے۔ ابھی تشویش ہی تھی کہ تاشقند میں اہل دین اور علماء کرام کے کاموں میں رخنہ اندازی شروع کر دی ہے۔ اس لئے تاشقند میں طباعت میں خطرات ہیں۔ اجازت ہو تو ماسکو میں قرآن مجید چھپوائے جائیں۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کا مقصود تو قرآن مجید کی طباعت اور تقسیم تھی۔ اس لئے حضرت اقدس مولانا لدھیانوی صاحب سے مشورہ کے بعد ان کو اجازت دے دی کہ وہ ماسکو میں چھاپ لیں۔ اس اجازت کے بعد انہوں نے قرآن مجید کی طباعت کا کام ماسکو منتقل کر دیا۔ حج سے ایک ماہ قبل تاشقند پریس والوں کی طرف سے اطلاع ملی کہ ایک لاکھ سے زائد قرآن مجید چھپ گئے ہیں۔ مجلس تحفظ ختم نبوت والے قرآن مجید وصول کر کے دوسری قسط ادا کریں تا کہ اگلے مرحلہ کی طباعت کا کام شروع کیا جاسکے۔

اس وقت حضرت اقدس اور دیگر تمام حضرات حج کی تیاری میں مصروف تھے۔ اس لئے ان کو بتا دیا گیا کہ حج سے پہلے کرنا ممکن نہیں۔ البتہ حج کے فوراً بعد مجلس کا ایک نمائندہ وفد آ کر قرآن مجید کی تقسیم کا عمل شروع کریں گے۔ ان شاء اللہ ! رقم بھی ادا کر دی جائے گی۔ بدقسمتی سے اس سال حج کی سعادت سے محرومی ہو گئی۔ اس لئے عیدالاضحیٰ کے فوراً بعد ایک وفد تشکیل پایا۔ جس میں حضرت ڈاکٹر مولانا

صفحہ ۲۲۷

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۳ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

عبدالرزاق اسکندر، مولانا زاہد الراشدی، مولانا فدا الرحمن درخواستی، مفتی ڈاکٹر نظام الدین شامزئی، مولانا محمد عاصم ذکی، قاری عتیق الرحمن، مولانا محمد انور زیب اور راقم الحروف (مفتی محمد جمیل خان) شامل تھے۔ وفد تاشقند جون ۱۹۹۳ء کو کراچی سے تاشقند روانہ ہوا۔ تاشقند اور سمرقند کے مقدس مقامات کی زیارات کے بعد جناب الہام جان، شیخ ذاکر جان اور تاشقند انٹر پرائزز کے جناب اراکین اور عبدالرؤف سے تفصیلی مذاکرات ہوئے۔ وفد کو پہلے مرحلہ میں تاشقند میں دو لاکھ قرآن مجید کی طباعت کا جو کام شروع کیا گیا تھا اس کی تفصیلات بتائی گئیں۔ تاشقند پریس کا معائنہ ہوا۔ از سر نو قرآن مجید کی کاپیاں پیسٹ کر کے اس کا نمونہ شائع کرتے اور پھر اس میں جو کمی بیشی یا کوئی داغ دھبہ ہو اس کو دور کیا جاتا۔ نیلے اور سفید کاغذ دو رنگ میں بہت خوبصورت طباعت شروع کی گئی ہے۔ بتایا گیا کہ جو دو لاکھ قرآن مجید تاشقند میں چھپیں گے وہ ہر ماہ پندرہ سے بیس ہزار قرآن فراہم کئے جائیں گے۔ پریس میں بہت نفیس اور اچھے انداز میں کام دیکھ کر ایک گونہ اطمینان اور خوشی ہوئی۔ خدا کرے کہ یہ پریس اسی طرح خوبصورت قرآن چھپوا کر تمام ریاستوں میں پھیلا دیں۔

اس کے بعد ماسکو میں طبع شدہ قرآن مجید کی تفصیلات بتائی گئیں۔ جناب الہام جان اور جناب ذاکر جان نے حضرت ڈاکٹر عبدالرزاق اسکندر کو بتایا کہ تاجکستان میں ہنگاموں کے بعد ازبکستان حکومت بھی مذہبی رجحانات سے خوفزدہ ہو گئی ہے۔ اس لئے ہم پر ان کی نگاہیں ہیں۔ اس لئے اگر ماسکو میں چھپنے والے قرآن مجید کو تاشقند لانے کے بجائے اگر آپ ماسکو سے ہی مختلف ریاستوں کی طرف روانہ کر دیں تو زیادہ مناسب ہوگا۔ ایک لاکھ سے زائد قرآن مجید ماسکو سے پہنچے تو حکومتی حلقوں میں تہلکہ مچ جائے گا۔ ڈاکٹر صاحب نے اس رائے سے اتفاق کیا۔ لیکن اس شرط کے ساتھ کہ وفد خود ماسکو جائے گا اور تقسیم کا نظام خود مرتب کرے گا تاکہ اطمینان ہو اور پاکستان میں جا کر بتا سکیں کہ قرآن چھاپ کر تقسیم کیا ہے۔ ان حضرات نے بھی اس رائے کو پسند کیا اور طے پایا کہ تمام افراد کا تو ماسکو جانا ذرا مشکل ہوگا۔ اس لئے وفد میں سے منتخب افراد ماسکو جائیں۔ مولانا زاہد الراشدی صاحب اپنے پروگرام کے مطابق پہلے ہی لندن کی سیٹ بک کرا چکے تھے۔ مولانا فدا الرحمن درخواستی، مفتی نظام الدین شامزئی اور مولانا انور زیب صاحب نے کراچی میں تدریسی مشغولیت کی بناء پر ماسکو جانے کا ارادہ از خود ملتوی کر دیا اور یہ حضرات تاشقند ہی سے واپس ہو گئے۔ بقایا چار افراد ہفتہ کے دن ماسکو کے لئے بذریعہ ریل گاڑی روانہ ہوئے۔ کیونکہ ماسکو کا ویزہ نہیں تھا۔ ہفتہ کے دن صبح پونے چھ بجے تاشقند سے ریل گاڑی روانہ ہوئی۔ ساٹھ گھنٹے کے طویل عرصہ میں ازبکستان، قازقستان اور روس کی سرزمین کا سینہ چیرتے ہوئے آخر کار پیر کے دن شام پانچ بجے ماسکو پہنچے۔ اسٹیشن پر پریس والے حضرات آئے ہوئے تھے۔ ان کی معیت میں ایک ہوٹل میں قیام ہوا۔ ماسکو جس کی دہشت اور دبدبہ سے اسی (۸۰) سال تک دنیا خاص طور پر مسلمان کانپتے تھے آج عبرت اور غربت کی تصویر بنا ہوا ہے۔ چھوٹے چھوٹے مکانات، زندگی سے بیزار چہرے، دکانیں اور بازار اشیاء سے خالی، دودھ اور روٹی کے لئے لمبی لمبی قطاریں، بسیں اور ٹرامیں اور انڈر گراؤنڈ ٹرینیں آدمیوں سے بھری ہوئی، راحت اور اطمینان کی کوئی چیز نظر نہیں آتی۔ ماسکو جہاں خدا اور رسول کا نام لینا جرم تھا، الحمدللہ! آج پانچ لاکھ مسلمان اپنی مرضی سے زندگی گزار رہے ہیں۔ دو بڑی مسجدیں قائم ہو گئی ہیں۔ ہزاروں افراد ان میں جمعہ اور عیدین کی نمازیں ادا کرتے ہیں۔ حلال گوشت کا خصوصی اہتمام ہونے لگا ہے۔ مسلمان بانگ دہل مسجدوں میں نکاحوں کی تقریب منعقد کرنے لگے ہیں اور یہ سب اس ملک میں ہو رہا ہے جس کا بانی خدا کے وجود ہی سے منکر تھا۔

دوسری طرف اللہ تعالیٰ نے لینن کو عبرت کا مرکز بنایا ہوا ہے۔ اس کریملن (صدارتی محل) جس سے لینن اور اسٹالن نے پوری وسطی ایشیاء میں حکومت کی، آج اس کی حکومت روس تک محدود ہو گئی ہے اور اس میں بھی لینن کے مجسموں کو برداشت کرنے کے لئے بہت

صفحہ ۲۲۸

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

سے لوگ تیار نہیں۔ لینن اور اسٹالن پچاس فیصد لوگوں کے نزدیک ایک گالی ہے۔ آج اس کی حنوط شدہ لاش لوگوں کے لئے مرقع عبرت ہے اور لوگ جوق در جوق اس کا تماشہ دیکھتے ہیں۔ کالے سنگ مرمر کے پتھروں کے ایک کمرے میں جو زمین دوز بنا ہوا ہے ایک تاریک کمرے میں اس کی لاش اپنے نظریات پر قائم حکومت کو خود منہدم ہوتا دیکھ رہی ہے اور قرآن مجید کے الفاظ میں ”فاعتبروا یا اولی الابصار“ کا منظر پیش کر رہی ہے۔ اللہ تعالیٰ حفاظت فرمائے۔ ماسکو کے قیام کا اصل مقصد قرآن مجید کو مختلف ریاستوں میں تقسیم کرانا تھا۔ اس سلسلہ میں سب سے پہلے مختلف ریاستوں کے ذمہ دار حضرات سے ٹیلیفون پر بات چیت ہوئی اور ان سے قرآن مجید کی تقسیم کے منصوبے کی جزئیات طے ہوئیں۔ بعض ریاستوں نے اپنے نمائندے بھیجنے کا وعدہ کیا اور بعض ریاستوں نے اپنے سفارت خانوں کے ذریعہ بھیجنے کا وعدہ کیا۔ جب کہ بعض ریاستوں نے جامع مسجد ماسکو کے خطیب کو اپنا وکیل مقرر کیا۔

جامع مسجد ماسکو کے خطیب شیخ راوی عین الدین، نائب خطیب شیخ رمبل علاؤ الدین، امور خارجہ کے نگران طلعت منصور، تاریخی مسجد کے خطیب شیخ محمود اور پریس والوں کے درمیان بات چیت کے ذریعہ یہ طے کیا کہ درج ذیل طریقہ کے مطابق درج ذیل اداروں کو قرآن مجید پہنچائے جائیں گے اور جب ان قرآن مجید پہنچنے کی رسیدیں اور اطلاعات موصول ہو جائیں گی تو عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ان قرآن مجید کی رقوم کی ادائیگی کرے گی۔ نقشہ تقسیم ملاحظہ کریں:

نقشہ تقسیم قرآن مجید مع علاقہ جات

نام ریاست ادارہ تعداد قرآن مجید قازقستان دارالحکومت المہ (مفتی راتبیک پنسان بائی) ۲۰۰۰۰ نسخے ترکمانستان تاشاوز ایلیا لین سک (قاضی عباد اللہ یوسف / نصر اللہ) ۲۰۰۰۰ نسخے تاتارستان، بشکرستان اوفہ توقہ یوفہ (مفتی طلعت تاج الدین) ۲۰۰۰۰ نسخے داغستان ماہا چکالہ عزیز علی یوفا (مفتی بہاء الدین عیسیٰ یوسف، مفتی سعید احمد درویش حاجیف) ۱۵۰۰۰ نسخے کرغزستان بیشکیک کوکول (قاضی عبدالرحمن اوف کیسام بائی، حسیب اللہ نائب) ۲۰۰۰۰ نسخے آذربائیجان باکو مرزا فاتالی (شیخ الاسلام اللہ شکر پاشا زادہ، نائب مفتی سلمان) ۵۰۰۰ نسخے ماسکو دورانا پیر و پوک دیپالذوفا (امام و خطیب شیخ محمود ولی دوف، اخوہ علی) ۵۰۰۰ نسخے لینن گراڈ امام و خطیب جعفر پانچاپوف ۵۰۰ نسخے ماسکو مسجد ماسکو مرکز الاسلامی (شیخ راوی عین الدین) ۱۰۰۰۰ نسخے جارجیا، یوکرین ۱۰۰۰۰ نسخے

اشاعت قرآن مہم جس کا آغاز حضرت اقدس نے فرمایا تھا، اس کی تقسیم کے پہلے مرحلے کا آغاز ہو گیا۔ دوسرا مرحلہ تاشقند کی طباعت سے شروع ہو گا۔ جب کہ ہر ماہ پندرہ سے بیس ہزار قرآن مجید وصول ہوں گے۔ دورۂ سمرقند و بخارا، ترمذ، نیشا پور اور ازبکستان کے دیگر علاقوں میں تقسیم ہوگی۔ تیسرے مرحلے کا آغاز ماسکو کے آخری ڈیڑھ لاکھ کی طباعت کے بعد شروع ہوگا۔ ان قرآن مجید کو ان ریاستوں کے قصبات اور اہم مقامات پر ان شاء اللہ تقسیم کیا جائے گا۔ پانچ لاکھ کے منصوبے کی تکمیل کے بعد ان شاء اللہ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے پلیٹ فارم سے اشاعت قرآن کا سلسلہ اس وقت تک جاری رہے گا جب تک ان مسلم ریاستوں کے ایک ایک گھر میں قرآن مجید نہیں پہنچ

صفحہ ۲۲۹

ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۳ء

جاتے اللہ تعالیٰ امیر مرکزیہ حضرت خواجہ خان محمد صاحب اور نائب امیر مرکزیہ حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی صاحب کی قیادت میں اراکین اور متعلقین کے تعاون سے اس منصوبہ کو کامیابی سے ہمکنار فرمائے۔ (ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ص ۲۵ تا ۲۸، مورخہ ۶ تا ۱۲؍ اگست ۱۹۹۳ء)

عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی طرف سے اشاعت قرآن کے سلسلے میں ازبکستان جانے والے وفود

اکتوبر ۱۹۹۲ء کے آخری عشرہ میں اعلیٰ سطحی وفد : حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی صاحب نائب امیر مرکزیہ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت (قائد وفد)، مفتی اعظم پاکستان مفتی محمد رفیع عثمانی صاحب صدر دارالعلوم کراچی، جسٹس مولانا محمد تقی عثمانی صاحب نائب صدر دارالعلوم کراچی، ڈاکٹر مولانا عبدالرزاق اسکندر صاحب رکن مجلس شوریٰ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت، قاری سعید الرحمٰن سابق وزیر مذہبی امور صوبہ پنجاب و مہتمم جامعہ اسلامیہ راولپنڈی، مولانا محمد احمد خاں صاحب مرکز الدعوۃ والارشاد بحرین، مولانا محمد مسعود اظہر مدیر ماہنامہ صدائے مجاہد حرکتہ المجاہدین پاکستان، حاجی عبدالرحمٰن یعقوب باوا انچارج لندن دفتر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت، مولانا محمد جمیل خان مدیر اقراء روضۃ الاطفال انچارج اسلامی صفحہ اقراء جنگ کراچی، جناب نجیب الحق صاحب مسجد بیت المکرم گلشن اقبال کراچی، جناب ممتاز بیگ صاحب سابق ڈپٹی کمشنر کراچی، جناب کلیم احمد صاحب دارالعلوم کراچی، عزیزم عبداللہ صاحبزادہ نجیب الحق۔

آخری عشرہ نومبر ۱۹۹۳ء: مولانا منظور احمد الحسینی مبلغ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان، قاری فیض اللہ چترالی مہتمم مدرسہ امام محمد کراچی نگران مدارس چترال، مولانا عبدالمطلب نائب مدیر مدرسہ امام ابی حنیفہ ماریشس، مولانا محمد جمیل خان مدیر اقراء روضۃ الاطفال کراچی۔

اس وفد نے پانچ لاکھ قرآن مجید کی طباعت کا معاہدہ کیا۔

دسمبر ۱۹۹۳ء کے آخری عشرہ میں: مولانا منظور احمد الحسینی مبلغ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت، مفتی خالد محمود نائب مدیر اقراء روضۃ الاطفال واستاذ الحدیث، جناب رانا محمد انور ناظم دفتر کراچی عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت وسرکولیشن منیجر ہفت روزہ ختم نبوت، جناب فضل ربی ندوی ناظم مجلس نشریات العلوم پاکستان، محمد وسیم غزالی منتظم اقراء ڈائجسٹ کراچی، مولانا محمد جمیل خان نائب مدیر اقراء روضۃ الاطفال کراچی۔

فروری ۱۹۹۳ء کے آخری عشرہ میں: قاری فیض اللہ چترالی مدیر مدرسہ امام ابی حنیفہ، مولانا سعید احمد جلال پوری نائب مدیر ماہنامہ بینات کراچی۔

اس وفد نے قرآن مجید کے پروف کی تصحیح کی تا کہ غلطی کا حتی الوسع امکان باقی نہ رہے۔

۹؍ جون تا ۲۲؍ جون ۱۹۹۳ء: حضرت ڈاکٹر عبدالرزاق اسکندر رکن شوریٰ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت، حضرت مولانا فداء الرحمٰن درخواستی نائب امیر جمعیۃ علماء اسلام پاکستان، حضرت مولانا زاہد الراشدی چیئرمین ورلڈ اسلامک فورم، حضرت مفتی نظام الدین شامزئی استاذ حدیث جامعۃ العلوم الاسلامیہ بنوری ٹاؤن، مولانا محمد عاصم زکی ایجوکیشنل پریس، قاری عتیق الرحمٰن جامعہ اسلامیہ راولپنڈی، مولانا محمد انور زیب مدرس جامعہ امام ابو حنیفہ کراچی، مولانا محمد جمیل خان نائب مدیر اقراء روضۃ الاطفال کراچی۔

اس وفد نے ماسکو کا بھی دورہ کیا اور طبع شدہ قرآن مجید کی تقسیم کا ابتدائی خاکہ تیار کیا۔

۱۴؍ جولائی ۱۹۹۳ء تا ۱۸؍ جولائی ۱۹۹۳ء: مولانا ظہیر احمد راگی جنرل سیکرٹری جمعیۃ علماء ساؤتھ افریقہ (قائد وفد)، مولانا محمد ابراہیم نانا بھائی پرنسپل لینیئزیا مسلم ایسوسی ایشن ساؤتھ افریقہ، مولانا ابوبکر بامجّی خطیب جامع مسجد مڈل برگ، مولانا محمد فاروق کشمیری نائب امیر حرکتہ المجاہدین پاکستان، جناب ابراہیم پٹیل ایڈیٹر الرشید افریقہ، جناب یوسف دادا بھائی پرنسپل مسلم اسکول آزاد ویل، جناب احد وید، جناب غلام حسین کاکا، احمد بامجّی، نذیر احمد بھواڈنیا، ہاشم ہاشم، مولانا محمد جمیل خان نائب مدیر اقراء روضۃ الاطفال۔

صفحہ ۲۳۰

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۳ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

کھوسکی شادی لارج میں قادیانی عبادت خانہ یا فحاشی کا اڈہ

سندھ کی سول انتظامیہ کی سرپرستی میں قادیانیوں کو تبلیغ کی چھوٹ۔

قادیانیوں کی حیثیت نہ صرف اندرون ملک بلکہ بیرون ملک بھی اتنی نہیں ہے، جتنی آٹے میں نمک کی ہوتی ہے۔ لیکن زبان کس کی روکی جاسکتی ہے۔ قادیانی اپنی تعداد بڑھا چڑھا کر پیش کرتے ہیں۔ جھوٹ بولنے کی یہ عادت انہیں وراثت میں ملی ہے۔ جب مرزا قادیانی ان کا گرو گھنٹال جھوٹ بکتا تھا تو اس کے پیرو کار کب پیچھے رہ سکتے ہیں۔ قادیانی اپنی تعداد افسروں اور انتظامیہ کے سامنے زیادہ بتاتے ہیں۔ اس کے ساتھ یہودی اور عیسائی سرمائے کی جھنکار بھی ہوتی ہے۔ ہمارے افسروں خصوصاً سندھ میں متعین افسروں کی جو اکثریت رشوت خوروں کی ہے جب وہ مرزائیوں کے ہاتھ میں یہودی، عیسائی سرمائے کی جھنکار سنتے ہیں تو ان کے منہ سے رال ٹپکنے لگتی ہے اور مرزائی جو کام بھی انہیں کہیں وہ کر گزرتے ہیں۔ تبلیغ کریں تو وہ انہیں روکتے نہیں، مسلمان انہیں روکیں یا وہ مسلمانوں سے لڑائی جھگڑا کریں تو انہیں پکڑتے نہیں۔ اس طرح سندھ میں قادیانیوں کو انتظامیہ اور افسر شاہی کی سرپرستی کی وجہ سے خوب آزادی ملی ہوئی ہے اور وہ اپنے جھوٹے مذہب کی تبلیغ انتہائی جارحانہ انداز میں کرتے ہیں۔ تبلیغ کے ساتھ اپنے مراکز و اڈے (ڈش انٹینا کے ذریعے) انہوں نے فحاشی اور عیاشی کے اڈے بنائے ہوئے ہیں۔ واقعات کے مطابق کھوسکی شادی لارج کے عبادت خانے میں قادیانیوں نے ڈش انٹینا لگایا ہوا ہے، جس میں بعض اضافی آلات بھی لگائے گئے جو پی ٹی وی کے پروگرام جام کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ مرزا طاہر کے پروگرام کے بعد فحش فلمیں شروع کر دی جاتی ہیں، جس سے نوجوانوں کے اخلاق پر برے اثرات پڑ رہے ہیں۔ مرزائی نہ صرف نوجوان لڑکوں کو فحش فلموں کے نظارے کراتے ہیں بلکہ وہ اپنے ساتھ اپنی لڑکیوں کو بھی لے جاتے اور پھر نوجوانوں کو شادی کا لالچ دے کر انہیں راہ ہدایت سے بھٹکانے کی کوشش کرتے ہیں۔ گویا مرزائی مذہب کا خلاصہ یہ ہے کہ لڑکی لو اور مرزائی بنو۔

قادیانی اس علاقے میں انتظامیہ کی سرپرستی اور دولت کی ریل پیل کی وجہ سے بااثر بھی ہیں، جب انہوں نے اپنے عبادت خانے میں منی سینما گھر قائم کیا، مسلمان آڑے آئے تو وہ کھلی دہشت گردی پر اتر آئے۔ جن اخباروں میں قادیانیوں کے فحاشی کے اڈے کے خلاف خبریں شائع ہوئیں، ان کے نامہ نگاروں کو دھمکیاں دی گئیں۔ ایک غیرت مند مسلمان ٹھیکیدار امیر بخش راحموں کو مبینہ طور پر تین افراد نے اغواء کرنے کی بھی کوشش کی جسے اہل محلہ نے ناکام بنا دیا۔ یہ صرف کھوسکی ہی کا مسئلہ نہیں بلکہ قادیانی جماعت کے ہر عبادت خانے کو جن پر بیوت الذکر اور بیوت الحمد حتیٰ کہ کلمہ طیبہ بھی لکھا ہوا ہے، منی سینما گھروں میں تبدیل کر رکھا ہے۔ علاوہ ازیں ان منی سینما گھروں میں باہر سے جانے والے لڑکے اور مرزائی لڑکیوں کے درمیان اکھ مٹکا ہوتا ہے اور مبینہ طور پر ایسے واقعات بھی ہوتے ہیں جن پر شاعر کا شعر صادق آتا ہے ؎

منظور ہے کہ سیم تنوں کا وصال ہو مذہب وہ چاہئے کہ زنا بھی حلال ہو

ہم یہ الزام نہیں لگا رہے ایسی کتابیں شائع شدہ موجود ہیں جن میں مرزائیت کی تصویر کا یہ رخ نہایت تفصیل کے ساتھ پیش کیا گیا ہے۔ خود مرزا قادیانی کے بارے میں اس کے بیٹے آنجہانی مرزا محمود نے جمعہ کے اجتماع میں ایک خط پڑھ کر سنایا تھا۔ وہ شخص مرزا قادیانی کا پیروکار تھا، لیکن مرزا محمود کا اس کی بدکرداریوں کی وجہ سے مخالف تھا۔ اس خط میں اس نے لکھا کہ ہمیں اعتراض مرزا صاحب (مرزا قادیانی) کی ذات پر نہیں کیونکہ وہ ولی اللہ تھے اور ولی اللہ کبھی کبھی زنا کر لیا کرتے ہیں۔ ہمیں اعتراض مرزا محمود پر ہے جو ہر وقت زنا میں دھت رہتا

صفحہ ۲۳۱

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

ہے۔ اس لئے ہم یہ کہنے میں حق بجانب ہیں کہ قادیانیوں کے ”بیوت الذکر“ عبادت خانے نہیں بلکہ بیوت المذکر والمؤنث ہیں، انہیں منی سینما گھروں اور فحاشی و عیاشی کے اڈوں کا نام دینا زیادہ مناسب ہے۔ حکومت کو چاہئے کہ ان منی سینما گھروں اور فحاشی و عیاشی کے اڈوں کو فوراً ختم کرے۔ علاوہ ازیں ان کا حلیہ مساجد سے ملتا جلتا ہے، جن پر کلمہ طیبہ بھی لکھا ہوا ہے۔ سادہ لوح مسلمان ان سے دھوکا کھا جاتے ہیں۔ پھر کلمہ طیبہ لکھ کر وہاں جو کرتوت ہوتے ہیں، ان سے کلمہ طیبہ کی توہین ہوتی ہے جو مسلمانوں کے لئے ناقابل برداشت ہے۔ اس لئے بھی فحاشی کے ان قادیانی اڈوں کا نوٹس لینا ضروری ہے۔

(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ص ۴، مورخہ ۲۰ تا ۲۶ اگست ۱۹۹۳ء)

قادیانی گروپ میں شورش، مرزا رفیع نے علم بغاوت بلند کر دیا

۶۷۰ ایکڑ اراضی پر ربوہ کے مقابلے میں نئی کالونی بسانے کا پروگرام، قادیانیوں کی اکثریت مرزا طاہر احمد کی مفاد پرستی سے بیزار ہو چکی ہے۔

”ربوہ (این۔ این۔ آئی) مرزا طاہر نے اپنے بھائی مرزا رفیع احمد کو معاملہ فہمی اور سمجھوتے کے لئے لندن طلب کر لیا۔ باخبر حلقوں کے مطابق مرزا غلام احمد قادیانی کے پوتے مرزا رفیع احمد نے اٹھارہ ہزاری کے علاقے میں ۶۷۰ ایکڑ اراضی ۹۷ لاکھ روپے میں خرید کر نئی کالونی بسانے کا پروگرام بنایا۔ جس سے ان کے بھائی مرزا طاہر احمد، ہیڈ آف دی احمدیہ موومنٹ نے لندن میں اپنے خطبہ جمعہ کے دوران اس امر پر اظہار ناراضگی کیا جب کہ مرزا رفیع احمد پر نماز پڑھانے اور اپنے گرد لوگوں کو جمع کرنے کی پابندیاں تاحال برقرار ہیں۔ جن کو توڑ کر انہوں نے اپنی نئی خرید کردہ زمین پر وہاں اکٹھے ہونے والے قادیانیوں کی نماز میں امامت کا فریضہ ادا کیا۔ معتبر ذرائع کا کہنا ہے کہ ربوہ کی قبضہ گروپ کی قیادت کی مفاد پرستی اور شہریوں کے مسائل سے غفلت برتنے اور ناعاقبت اندیشانہ پالیسیوں سے نئی نسل ان سے نالاں اور بیزار ہو چکی ہے جو غریب احمدیوں کی فلاح و بہبود کے نام پر مختلف اقسام کے سالانہ کروڑوں روپے کے چندے جمع کر کے ہضم کر جاتی ہے اور ضرورت مند در در کی ٹھوکریں کھاتا رہ جاتا ہے۔ جس کی وجہ سے لوگ تبدیلی کے خواہش مند ہیں اور وہ مرزا رفیع احمد کو اپنا ہمدرد اور نجات دہندہ سمجھتے ہیں۔“

(روزنامہ مشرق مورخہ ۲۴ جولائی ۱۹۹۳ء)

قادیانیوں کی نئی نسل نے بغاوت کر دی، ”خلیفہ“ سے فنڈز کا حساب مانگ لیا: ٹیکسوں کی طرح چندے وصول کر کے

جائیدادیں اور بینک بیلنس بڑھائے جا رہے ہیں جب کہ بدحالی عام ہے۔ ”دارالقضاۃ“ تنسیخ نکاح کے فیصلے کر کے گھر اجاڑ رہا ہے۔ اس

غیر قانونی ادارہ کو بند ہونا چاہئے ۔ ”الاقراء“

ربوہ (این۔ این۔ آئی) قادیانیوں کی نئی نسل نے مرزا غلام احمد قادیانی کے خاندان کی اجارہ داری کے خلاف بغاوت کر دی ہے اور چندوں کی آڑ میں اکٹھے کئے جانے والے کروڑوں روپے کے فنڈز کا حساب طلب کر لیا۔ گزشتہ روز ”قصر خلافت“ کے نواح میں خفیہ مقام پر ایک اجلاس میں ”الاقراء“ تنظیم بنانے کا فیصلہ کیا گیا۔ اجلاس میں بتایا گیا کہ دنیا میں ”جماعت احمدیہ“ واحد مذہبی جماعت ہے جو ”اشاعت اسلام“ کے نام پر مختلف چندوں کی مد میں ٹیکس وصول کر کے اپنی جائیدادیں اور بینک بیلنس بڑھاتی ہے۔ مرزا غلام احمد قادیانی نے چند ایکڑ اراضی چھوڑی تھی۔ لیکن آج اس کے پڑپوتوں اور پوتیوں کے پاس ہزاروں ایکڑ اراضی، کروڑوں روپے کے بینک بیلنس اور جائیدادیں ہیں۔ مرزا طاہر احمد نے مردوں پر بھی چندہ عائد کر دیا ہے۔ اجلاس میں موجود اہم نقاب پوش ارکان نے بتایا کہ چندوں کے نیٹ ورک میں نومولود بچوں سے لے کر مرنے والے تک کو عام چندہ کے علاوہ تحریک جدید، وقف جدید، جلسہ سالانہ، دارالضیافت، ہسپتال، ہر

صفحہ ۲۳۲

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

تنظیم کے لئے علیحدہ علیحدہ چندے اور مرزا طاہر احمد کی طرف سے نئی اسکیموں مثلاً صد سالہ جوبلی اسکیم، بیوت الحمد، ناداروں کی امداد، یتیموں کی امداد اور ہر نئی عمارت کی تعمیر اور اخراجات کے نام پر چندے وصول کئے جاتے ہیں۔ لیکن اس کے باوجود ربوہ میں کئی گھرانے بدحال ہیں۔ اجلاس ”خلیفہ گر“ میں برادران مرزا غلام احمد قادیانی ناظر اعلیٰ، مرزا خورشید احمد اور ربوہ کی قیادت کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔ ارکان نے کہا کہ یہ لوگ ۵۰؍ کروڑ روپے کے صد سالہ جوبلی فنڈ اور کروڑوں روپے کی بیوت الحمد فنڈز کا حساب نہیں دے سکتے۔ اجلاس میں ۱۹۸۴ء سے پاکستان میں سالانہ جلسہ نہیں ہو رہا۔ لیکن اس سلسلے میں کروڑوں روپے چندہ لیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ جماعت احمدیہ میں حقوق العباد اور اخلاق نام کی کوئی شے نہیں۔ اجلاس میں دارالقضاۃ کو بھی شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا کہ یہ ادارہ غیر قانونی طور پر ۹۹؍ فیصد تنسیخ نکاح کے فیصلے کر کے ہر سال سینکڑوں لوگوں کے گھر اجاڑنے کا ذمہ دار ہے۔ اجلاس میں قانون ساز اداروں سے مطالبہ کیا گیا کہ دارالقضاۃ کو فوری طور پر بند کر دیا جائے۔

(روزنامہ جنگ لاہور، مؤرخہ ۹؍اگست ۱۹۹۳ء، ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ص ۱۸، مؤرخہ ۲۷؍اگست تا ۲؍ستمبر ۱۹۹۳ء)

عالمی مجلس کا ملکی الیکشن، سیاست اور مروجہ پارلیمانی انتخابات سے کوئی تعلق نہیں، حضرت امیر مرکزیہ

لاہور: عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی امیر قائد تحریک ختم نبوت حضرت مولانا خان محمد کندیاں شریف نے ایک اخباری بیان میں کہا ہے کہ مجلس تحفظ ختم نبوت، جس کے بانی امیر شریعت حضرت مولانا سید عطاء اللہ شاہ بخاری تھے۔ اپنے یوم تاسیس سے لے کر اب تک عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ اور فتنہ قادیانیت کے تعاقب میں مصروف چلی آرہی ہے۔ جس کا الیکشن، سیاسیات اور مروجہ پارلیمانی انتخابات سے کوئی تعلق نہیں اور نہ ہی مجلس تحفظ ختم نبوت کسی سیاسی اتحاد کا حصہ ہے اور نہ ہی اپنے ممبران سے انتخابات کے لئے درخواستیں طلب کی ہیں۔ قائد تحریک ختم نبوت نے بعض قومی اخبارات میں شائع ہونے والی اس خبر کی پرزور تردید کی۔ اگر کہیں کوئی قادیانی الیکشن میں حصہ لے رہا ہو تو بھرپور جدوجہد اور محنت کر کے اسے اسمبلی میں نہ جانے دیا جائے۔ یہ بیان انہوں نے آٹھویں سالانہ عالمی ختم نبوت کانفرنس انگلینڈ سے واپسی کے بعد عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے ڈپٹی سیکرٹری مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی سے گفتگو کرتے ہوئے دیا۔ نیز مولانا خان محمد نے کہا کہ اگر کوئی امیدوار تحریک ختم نبوت کے نام سے الیکشن میں حصہ لیتا ہے تو جماعت کے کارکن عدالت سے رجوع کر کے اسے ختم نبوت کے نام سے الیکشن میں حصہ لینے سے روک سکتے ہیں۔

(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ص ۱۳، مؤرخہ ۳ تا ۹؍ستمبر ۱۹۹۳ء)

قادیانی اقلیت کی آئین و قانون سے کھلی بغاوت، انسانی حقوق کمیشن نوٹس لے

اس اعلان کے ذریعے ۱۹۹۳ء کے انتخابات میں اقلیتوں کے انتخاب کے سلسلے میں احمدیہ جماعت کی پوزیشن واضح کی گئی ہے۔ صدر انجمن احمدیہ پاکستان ربوہ کے ناظر امور عامہ ملک خالد مسعود نے کہا ہے کہ ۱۹۹۳ء کے انتخاب برائے قومی و صوبہ جاتی اسمبلیاں جس میں نان مسلم ریزرو نشستوں کا بھی ذکر ہے کا اعلان کر دیا گیا ہے اور اسے قومی پریس میں شائع کر دیا گیا ہے۔ یہ بات اچھی طرح جانی جاتی ہے اور یہ حقیقت ریکارڈ پر لائی جاچکی ہے کہ احمدیہ جماعت نان مسلم سیٹوں پر جو احمدیوں کے لئے ریزرو کی گئی ہیں۔ استفادہ کرنا اپنے ضمیر اور عقیدے کے خلاف سمجھتی ہے۔ احمدیہ عقیدے کے مطابق اگر کوئی شخص اپنے آپ کو رسول کریم ﷺ سے الگ کر لے تو وہ ایسا کرنے کی وجہ سے احمدی نہیں رہتا۔ اسی وجہ سے احمدی جماعت نے ہمیشہ ان سیٹوں سے استفادہ کرنا اپنے عقیدے اور ضمیر کے خلاف سمجھا ہے۔ احمدیہ جماعت کے افراد ضمیر کے Objectors ہیں۔ اس لئے انہوں نے ہمیشہ اس بات سے گریز کیا کہ وہ اپنے آپ کو بطور ووٹر درج کروائیں۔ چونکہ احمدیوں نے اپنے آپ کو ووٹوں کی فہرست میں درج نہیں کروایا۔ اس لئے احمدیہ کانسٹیٹیونسی کا کوئی وجود نہیں ہے

صفحہ ۲۳۳

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

اور کوئی شخص ان کا نمائندہ بن کر ان کی نمائندگی نہیں کر سکتا۔ اس سے پہلے ہونے والے تمام انتخابات میں یہ حقیقت ریکارڈ پر آ چکی ہے اور بار بار آ چکی ہے کہ احمدی ان سیٹوں سے استفادہ نہیں کرنا چاہئے۔ چیف الیکشن کمشنر کو ان حالات سے ذاتی طور پر ایک وفد کے ذریعے اور تحریری طور پر بھی آگاہ کر دیا گیا ہے۔ اس طرح یہ حقیقت بار بار ریکارڈ پر آ چکی ہے کہ احمدیہ جماعت کے افراد ان سیٹوں سے استفادہ نہیں کرنا چاہتے۔ ان سیٹوں پر انتخاب کی نمائندگی کے اصول کی نفی ہے۔ کانسٹیٹیوشن کی روح کی خلاف ورزی ہے اور انصاف فیئر پلے اور بنیادی انسانی حقوق کے بھی خلاف ہے۔

کوئی احمدی جو ان سیٹوں پر انتخاب لڑے گا وہ احمدیوں کی نمائندگی نہیں کر سکتا اور احمدی بھی اسے اپنا نمائندہ نہیں مانیں گے اور اسے ان کے نمائندے کے طور پر پیش نہیں کیا جانا چاہئے۔

(روزنامہ ڈان کراچی، مورخہ ۴؍ ستمبر ۱۹۹۳ء)

ELECTION 93

AHMADIYYA POSITION ON MINORITIES ELECTION

The schedule for election 1993, for National and Provincial Assemblies, including non-Muslims reserved seats has been notified and published in the National Press. It is a well known and recorded fact that the Ahmadiyya community considers it against their reserved for Ahmadis According to the Ahmadiyya belief and person who disassociates himself from the Holy Prophet Hazrat Mohammed (peace be upon him) ceases to be an Ahmadi upon such disassociation. It is for this reason that Jammat Ahmadiyya has throughout considered it against their faith and concience to avail these seats. The members of Jammat Ahmadiyya as Conscientious objectors have, therefore persistently declined to enlist themselves as voters, Since Ahmadis have not enlisted themselves as voters, there is no Ahmadiyya constituency and there cannot be any representative to represent them. During all previous elections thes fact has beed recorded time and that Ahmadis do no wish to avail these seats.

The Chief election Commissioner was apprised of this situation personally by a delegation and through written representation. The fact has thus been recorded time and again that Ahmadis do not wish to avail these seats. Election of these seats is a negation of the very principle of representation, a violence to spirit of the consitution and an outrage to justice, fairplay and fundamental human rights.

Any person constestion on any of these seats as Ahmadi canno represent the Ahmadis nor can Ahmadis accept him as their representative nor should he be declared

صفحہ ۲۳۴

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

as such. Malik Khalid Masood (Nazir Umoor-e-Aama) Sadar Anjunam Ahmadiyya Pakistan, Rabwah

(روزنامہ الفضل ربوہ ص اوّل، دوم، مورخہ ۸؍ستمبر ۱۹۹۳ء)

قادیانی اسرائیل تعلقات

Mr. Salam - Profile of a scientist

There are some disturbing news about the health of the great Pakistani physicist being published in the Press these davs. Let us a pray that he recovers from the disease for which he has bedn hospitalised. This short presentation is the hompage of non scientist to an eminent scientist who had almost bagged a double laureate. I think that full justice has not been done to the genius of the great Pakistani physicist and some of his most outstanding and internationally reorgnised work has not been adequately brought out besides his great human pualities.

Being a rural buff- I am neither a scientist- not I have had the good fortune of meeting the cele-hrated physicist. I have not had even an opportunity to listen to him. So this very sort presentation is fused on what i Have recently and occasionally) read about Dr. salam from various sources. I an --- afraid to admit that there may bed wide gaps in my knowledge about the Doctor's works.

His foremost contribution perhaps is his work in connection with the realisation of Emstein's dream of a unified field theory- a task which Emstein could not complete in his life time. According to British science writer Nigel calder writing some years back: "--- the Emstein honoured in later generation expired in 1919." This is true to some extent although the work by physicists Steven Wemberg of Harvard and Abdus Salam of (then) London Imperial College of Science and Technology suggested that emtein's dream could in fact be realised. This provides a measure of the scientific greatnes of Dr. Salam and his work.

Here is yet another measure of the accomplishment of Dr. Salam: "Many theretical physicists have sutdied non- Abelian gauge theries. In 1967 Steven wemberg,

صفحہ ۲۳۵

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

now at the University of Texas at Austin, Abdus Salam of the International Center for Theoretical Physics in Treste and Jhon C Ward, now at Macquaire University in Hew South Wales. applied several important contrivutions by peter Higgs of the Univwrsity of Deinburg, Sheldon Lee Glasgow of Harvard University and others to show that a non- Abelian gauge theory could unity the electromagnetic force and the weak nuclea force. Some prediction of the theory which is called the electroweak theory, were confirmed experimentally in the early 1970's, but the most spectacular evidence was foundat CERN, the European laboratory for particle physics. In that year three praticles, the W,W and Z vector bosons, were discovered having exactly the masses predicted by electroweak theory."

In and excellent new book Fearful Symmetry- The Search for Beauty in Modern Physics by Anthony Zee- Dr. Salam's work in search of universal symmetry has been very clearly brought out. i.e, how exact symmetries may connect that basic forces and the particle (in spite of their seeming differences). This concept led directly to the current frenzy of activity aimed at ultimately, unifying all the fundamental forces. Steven Veingerg, Abdus Salam and Sheldon Glashow won in 1979 Nobel Prize in Physics for their first step in this process." The present day quest for "Super unified theories" may perhaps be the second step.

Some scientists (Physicists) rather hopefully think that "we are on the threshold of really knowing His thoughts." Dr. Salam has spent his life in scarch of this eternal beauty. Of course there are always scepties- and even amongst men of science about the "super unified theories." Some of them concede that much of the optimism about achieving a super unified theory of the forces of nature may be wishful thinking. "Almost every praticeing physicist has been aporoached by eager cranks with unified theories, sweaty would be Emstein with equations of the world that sew up all loose ends... Even if such a theory can be written it might prove to be impossible to verify experimentally, since it would describe conditions that existed only in the fiery heat of the Big Bang that many scientists believe created the universe..."

صفحہ ۲۳۶

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

In sum for all the imperfection of the nuified theories- Dr. Salam's work is of cardinal value for the understanding of nature. Physicists have spoken of four interactions: gravitation, electromagnetism and the weak and strong forces. "Each was described by a separate body of theory expressed in distinct mathematical language; passing from one to another was like shutting a book of Balinese folk talks and picking up a juridicl code in the Medieval French." Dr. Salam's work provieds a unification of these four fundamental forces\ interactions.

Finally a very shord note about Dr. Salam's presonality and his great qualities as a Man. Here is just one example of his greatness and his tremendous devotion to science. The scene is Imperial College in London 1958. One Yuval Ne'eman now a respected physicist turned up unannounced (at the college) on leave from Israeli army. He wanted to study unified field theory and was directed to see Abdus Salam the most eminent physicist from the Islamic world. Dr. Salam looked up to behold a young stranger in an Israeli colonel's uniform who, when asked for a recommendation produced a letter signed by General Moshe Dayan. Salam laughed: Ne'eman soon became his doctoral candidate.

(روزنامہ پاکستان ٹائمز مورخہ ۸؍اگست ۱۹۹۳ء ہفت روزہ لولاک فیصل آباد ص ۱۶ تا ۱۸،مورخہ ۱۷؍ستمبر ۱۹۹۳ء)

علماء کرام کے نام امیر مرکزیہ کا کھلا خط

موجودہ حکومت کی قادیانیت نوازی

بخدمت عالی جناب مکرم و محترم ............................................... زیدمجدکم السلام علیکم ورحمة الله مزاج گرامی!

موجودہ حکمران اس وقت جس طرح قادیانیت نوازی کا مظاہرہ کر رہے ہیں، اس کی چند ایک مثالیں ملاحظہ ہوں:

صفحہ 237

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۳ء

ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

کمیشن (تحفظ حقوق انسانی کمیشن) کو قانونی تحفظ دے کر وزارت داخلہ کے ماتحت کر دیا ہے اور ظلم یہ کہ عاصمہ جہانگیر اور خالد احمد ایسے قادیانی بھی اس کے رکن ہیں۔ گویا قادیانی مفادات کے تحفظ اور بیرونی دنیا سے پاکستان پر دباؤ ڈلوانے کے لئے خود حکومت پاکستان نے قادیانیوں کو ایک ادارہ قائم کر دیا ہے۔

رپورٹ پر اقلیتوں سے متعلق قوانین کو بدل دیا جائے گا۔ اقلیتوں کے ساتھ کیا امتیازی سلوک ہو رہا ہے؟ سوائے قادیانیوں کے کوئی اقلیت موجودہ قوانین پر غیر مطمئن نہیں۔ صرف قادیانیوں کو اپنے غیر مسلم اقلیت قرار دیئے جانے پر عدم اطمینان ہے جس کے لئے اندرونی و بیرونی طور پر وہ پاکستان کے خلاف پروپیگنڈہ کرتے رہے۔ ان کے اس عدم اطمینان کو ختم کرنے کے لئے حکومت نے کمیشن مقرر کیا ہے کہ اس کمیشن کی رپورٹ پر قوانین میں حکومت ترمیم کرے گی۔

کو لایا گیا۔ دنیا جانتی ہے کہ موصوف کا خاندان معروف قادیانی ظفر اللہ خان کے زیر اثر تھا اور خود سلام صاحب کی تعلیم و تربیت بھی چوہدری ظفر اللہ قادیانی کی رہین منت ہے۔ سلام صاحب نے اپنے فیصلوں میں جس طرح قادیانیوں کو تحفظ دیا، وہ سب باتیں ریکارڈ پر ہیں۔ یہ وہ خطرات ہیں جن سے آپ کو باخبر کرنا ضروری تھا۔ وزیر اعظم و وزیر قانون کی یہ مرزائیت نوازی پاکستان کے لئے سنگین خطرہ کا باعث اور اسلامیان پاکستان کے لئے کڑی آزمائش ہے۔

۷؍ ستمبر ۱۹۷۴ء میں قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا گیا تھا۔ اب موجودہ حکومت امت مسلمہ کی سو سالہ محنت پر پانی پھیرنا چاہتی ہے۔ اس سلسلہ میں ۱۰؍ ستمبر ۱۹۹۳ء کو پورے ملک کے خطیب حضرات جمعہ کے خطبات میں اظہار خیال فرمائیں گے۔ آپ سے بھی استدعا ہے کہ اپنی ذمہ داریوں کو پورا فرمائیں۔ حق تعالیٰ شانہ آپ کے حامی و ناصر ہوں۔

والسلام!

دعا گو: ابو الخلیل خان محمد عفی عنہ (امیر مرکزیہ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت)

محمد یوسف لدھیانوی (نائب امیر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت)

(ہفت روزہ لولاک فیصل آباد ص ۶ ، مورخہ ۱۰؍ ستمبر ۱۹۹۳ء)

عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کراچی کے دفتر پر حملہ ، مسلمانوں کو لڑانے کی قادیانی سازش

۱۲؍ ربیع الاول ۱۴۱۴ھ کے مقدس دن عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کراچی دفتر اور ہفت روزہ ختم نبوت کے مرکزی دفتر اور جامع مسجد باب الرحمت میں پچاس کے قریب افراد نے جو سبز پگڑیاں باندھے ہوئے تھے، اچانک حملہ کر دیا۔ مسجد کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی۔ شعبہ کتابت کا دروازہ توڑ کر پورے شعبہ کتابت کو تباہ کر دیا۔ شعبہ ڈاک اور لٹریچر کا دروازہ توڑ کر تمام الماریاں الٹ پلٹ دیں۔ لٹریچر اٹھا کر لے گئے۔ فریج کو توڑ دیا۔ مرکزی دفتر پر کھڑی ہوئی جماعت کی گاڑی ہائی روف CA-5320 مکمل تباہ کر کے چکنا چور کر دی۔ مرکزی دفتر کا دروازہ توڑ دیا تھا لیکن پولیس کی آمد کی بناء پر وہ اس کو تباہ کرنے میں کامیاب نہ ہو سکے۔ اگر خدانخواستہ اس دفتر کو تباہ کر دیتے تو اتنا نقصان ہوتا جس کا تصور تک نہیں کیا جا سکتا۔ تقریباً ۵۰ سالہ ریکارڈ بالکل تلف ہو جاتا۔ اب بھی کچھ مسودات ضائع ہو گئے۔ اس کی کوئی قیمت نہیں لگائی جا سکتی۔ امام مسجد نے ایک کمرے میں بند ہو کر اور خادم مسجد نے پولیس چوکی کی طرف بھاگ کر اپنی جان بچائی ورنہ یہ جنونی لوگ جو پتہ

صفحہ ۲۴۸

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۳ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

نہیں کس عقیدے سے تعلق رکھتے تھے ان دونوں کو شہید کر دیئے۔ ابتدائی تخمینہ کے مطابق دو لاکھ روپے کے قریب نقصان ہوا جب کہ حکومت نے نقصان کا اندازہ ۵۱ ہزار لگایا ہے۔

عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے دفتر میں ۱۲ ربیع الاول کی بناء پر چھٹی تھی اور دفتر کا کوئی ذمہ دار فرد دفتر میں نہیں تھا۔ دفتر کے تمام دروازوں پر تالا تھا۔ جنونی دہشت گردوں نے تمام تالے بیلچوں اور سریوں اور لاٹھیوں سے توڑ ڈالے۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ایک مقدس تنظیم ہے جس سے تمام مکاتب فکر کے افراد علماء کرام وابستہ ہیں۔ اس لئے یہ تصور کرنا کہ یہ حملہ کسی مسلمان نے کیا ہو گا تصور میں نہیں آسکتا۔ بقول حضرت مولانا شاہ احمد نورانی دفتر ختم نبوت پر کوئی یہودی یا قادیانی ہی حملہ کر سکتا ہے۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت پر اس حملہ کی دیوبندی مکتبہ فکر، بریلوی مکتبہ فکر، اہل حدیث مکتبہ فکر کے مسلمانوں اور علماء کرام نے پرزور مذمت کی اور ایک احتجاجی جلسے میں مذمت کی قراردادیں منظور کی گئیں۔ نائب امیر مرکزیہ حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی نے اس حملہ کی ذمہ داری حکومت پر ڈالی۔ مگر وزیر اعلیٰ سندھ نے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے وفد کو یقین دلایا کہ حکومت کا اس میں کوئی ہاتھ نہیں اور انہوں نے واضح کیا کہ دفتر ختم نبوت پر حملہ کرنے والوں کو معاف نہیں کیا جائے گا۔ مولانا لدھیانوی نے مزید کہا کہ ہم محسوس کرتے ہیں کہ دفتر پر حملہ کرنے والے قادیانی تھے جو بھیس بدل کر آئے تھے اور ان کا تعلق قادیانیوں سے ہے۔ اس لئے ہمارا مطالبہ یہ ہے کہ حکومت کے ذمہ دار اہلکاروں اور ذمہ دار قادیانیوں کو گرفتار کر کے قرار واقعی سزا دی جائے۔ حضرت مولانا لدھیانوی صاحب نے تمام مسلمانوں سے کہا کہ دفتر ختم نبوت پر حملہ کرنے کا مقصد مسلمانوں کو آپس میں لڑانے کی سازش ہے۔ اس لئے تمام مسلمان اس سازش کو ناکام بنادیں اور دشمنوں کو خوش ہونے کا موقع فراہم نہ کریں۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت اس سلسلے میں قانونی راستہ اختیار کر رہی ہے تاکہ کسی کے ساتھ زیادتی کا شبہ نہ ہو۔

(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ص۵، مورخہ ۱۷ تا ۲۳ ستمبر ۱۹۹۳ء)

نگران حکومت کی قادیانیت نوازی، عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کا شدید ردِ عمل (مقالہ نگار: مولانا مفتی محمد جمیل خان)

۷ ستمبر وہ تاریخی دن ہے جس دن پاکستان کی قومی اسمبلی نے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے نمائندے قائد حزب اختلاف مولانا مفتی محمود اور ان کے رفقاء شاہ احمد نورانی، پروفیسر غفور، مولانا عبدالحق، مولانا غلام غوث ہزاروی اور حکومت کے وزیر قانون عبدالحفیظ پیرزادہ کی طرف سے پیش کی گئی قرار داد منظور کرتے ہوئے قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا اور ان کو غیر مسلم اقلیتوں ہندو، عیسائی، سکھ وغیرہ کی فہرست میں شامل کر دیا۔ اس طرح عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زعماء نے جس تحریک کا آغاز مرزا غلام احمد قادیانی کی طرف سے جھوٹی نبوت کے دعویٰ کے بعد کیا تھا اور جس کے لئے ۹۰ سال میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت نے ہزاروں جانوں کا نذرانہ پیش کیا تھا اور جس کے لئے کئی سال علماء کرام نے قید و بند کی طویل صعوبتیں برداشت کی تھیں۔ جس کام کے بارے میں محدث العصر حضرت مولانا انور شاہ کشمیری فرمایا کرتے تھے، میں ضمانت دیتا ہوں کہ جو اس عظیم کام میں حصہ لے گا اس کی نجات یقینی ہے۔ وہ تحریک الحمد للہ! ۷؍ ستمبر ۱۹۷۴ء کو کامیابی سے ہمکنار ہوئی۔ محدث العصر حضرت مولانا سید محمد یوسف بنوری کے بقول کہ یہ تحریک خالص اللہ رب العزت کے فضل و کرم اور ہم مظلومین پر احسان سے کامیاب ہوئی۔ ورنہ ۶؍ ستمبر کو ہم لوگ ذہنی طور پر اس بات کے لئے تیار ہو چکے تھے کہ جناب ذوالفقار علی بھٹو اس تحریک کو کچلنے کے لئے سب رہنمایان قوم کو گرفتار کر لیں گے یا ان کی شہادت کا بندوبست کر دیں گے۔ لیکن اللہ تعالیٰ مصرف القلوب ہیں۔ راتوں رات یکا یک حالات تبدیل ہوئے۔ خدا تعالیٰ نے دلوں کو پھیرا اور آئین میں ترمیم کا فیصلہ ہو گیا۔ نبی آخر الزمان ﷺ کے دین کا

صفحہ ۲۴۹

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

حق ہونا ظاہر ہوا اور باطل کے ناسور کو ملت اسلامیہ کے جسد سے جدا کر دیا گیا۔ یہ ترمیم اگرچہ صرف قانون کی حد تک تھی۔ لیکن مسلمانوں کی کامیابی کے لئے ایک بنیاد اور خشت اول کی حیثیت رکھتی تھی۔ بالآخر اسی بنیادی ترمیم کی بدولت ۱۹۸۴ء میں امتناع قادیانیت آرڈیننس کا اجراء عمل میں آیا۔ اسی ترمیم کی بدولت جولائی ۱۹۹۳ء میں سپریم کورٹ نے تاریخی فیصلہ دیا کہ قادیانیوں کے خلاف ترامیم اور آرڈیننس اور اس کی جزئیات کو حقوق انسانی کے مطابق قرار دیتے ہوئے قادیانیوں کی تمام اپیلیں مسترد کر دیں اور قادیانیوں کو تلقین کی کہ وہ مسلمانوں کے شعائر استعمال کرنے کے بجائے اپنے لئے الگ شعائر اور طریقہ عبادت وضع کریں اور لوگوں کو مسلمان کہہ کر دھوکہ نہ دیں۔

۷؍ ستمبر کے اس یادگار اور مبارک دن کے دو دن بعد ۹؍ ستمبر ۱۹۹۳ء کو عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے امیر مرکزیہ حضرت مولانا خواجہ خان محمد صاحب زید مجدہم کو پورے ملک میں یوم احتجاج منانے کی ضرورت کیوں محسوس ہوئی؟ یہ وہ اہم سوال ہے جو ختم نبوت کی عظمت کے قائل اور عقیدت رکھنے والے ہر شخص کے ذہن میں ابھر رہا ہے۔ ہر شخص یہ سوچ رہا ہے کہ نگران حکومت جو کہ صرف چند ماہ کے لئے (یعنی اکتوبر تک) تشکیل پائی ہے اس کے خلاف یوم احتجاج سے کیا حاصل کرنا مقصد ہے۔ اس سلسلے میں وضاحت ضروری ہے۔

عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کا ماضی گواہ ہے کہ اس نے ہمیشہ پرامن اور تشدد سے پاک جدوجہد کی ہے۔ امن وامان کو تہہ و بالا کرنا اس کا مقصد نہیں رہا۔ تحریک ختم نبوت ۱۹۷۴ء جب کہ پوری قوم ربوہ اور قادیانی املاک کو ایک لمحہ میں تہہ و بالا کرنے کے لئے تیار اور قادیانیوں کا نام ونشان مٹانے کے درپے تھی، عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے امیر محدث العصر حضرت مولانا محمد یوسف بنوری اور دیگر رہنماؤں نے ایسی کوئی صورت پیدا ہونے نہیں دی بلکہ محدث العصر حضرت بنوری ہمیشہ فرماتے تھے کہ مظلوم بن کر ہم اللہ تعالیٰ کی امداد اپنی طرف متوجہ کر سکتے ہیں۔ یہی اصول عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت نے ہمیشہ اپنایا۔ اس لئے آپ تاریخ ختم نبوت کا مطالعہ کریں گے تو اکثریت کے باوجود ہمیشہ اس کی قسمت میں جیل، صعوبتیں، شہادت ہی رہی ہیں اور یہی اس کا طرہ امتیاز ہے۔

نگران حکومت ایک منتخب اور مستحکم حکومت سے زبردستی استعفیٰ کے بعد تشکیل پائی۔ موجودہ نگران وزیراعظم (معین قریشی) پاکستانیوں کے لئے ایک اجنبی شخصیت ہیں۔ حلف برداری سے قبل چند افراد ہی ان کی شخصیت سے واقف ہوں گے۔ اس لئے ان کی پاکستان تشریف آوری کے ساتھ ہی افواہوں کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ ان کی زندگی کے اوراق قومی اخبارات میں منظر عام پر آنے لگے۔ زندگی کا اکثر حصہ پاکستان سے باہر گزارنے اور عالمی بینک میں بڑے عہدے پر فائز رہنے سے اس بات کی وضاحت ہوگئی تھی کہ موصوف کا تعلق امریکی لابی سے ہے۔ اس حد تک بات بھی قابل برداشت تھی لیکن جب اخبار میں یہ خبر شائع ہوئی کہ نگران وزیراعظم کا تعلق ورلڈ بینک میں ایم۔ ایم احمد پنجابی گروپ سے تھا تو عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے رہنماؤں کو تشویش ہوئی اور انہوں نے عالمی ختم نبوت کانفرنس برمنگھم میں ایک قرارداد کے ذریعہ مطالبہ کیا کہ نگران وزیراعظم اس سلسلے میں وضاحت کریں لیکن نگران وزیراعظم کی طرف سے وضاحت کے بجائے قادیانیت نوازی کا آغاز ہوا اور درج ذیل غلط اقدامات کئے گئے۔

اس صورتحال کے پیش نظر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت اور مجلس عمل ختم نبوت کے رہنماؤں کے اجلاس منعقدہ راولپنڈی میں ۹؍ ستمبر

صفحہ ۲۴۰

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

۱۹۹۳ء کو یوم احتجاج منانے کا فیصلہ کیا گیا تا کہ نگران حکومت کو واضح کیا جاسکے کہ اس کے یہ اقدامات غلط اور قادیانیت نوازی ہیں اور عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کسی صورت میں ان اقدامات کو برداشت نہیں کرے گی۔ امیر مرکزیہ حضرت مولانا خواجہ خان محمد صاحب اور مولانا محمد یوسف لدھیانوی صاحب کی اس اپیل پر پورے پاکستان کے علماء کرام نے لبیک کہتے ہوئے جمعہ کے خطبات میں قراردادیں منظور کیں۔ کراچی سے خیبر تک، بولان سے لسبیلہ اور گوادر تک کے تمام علماء کرام، خطباء عظام اور تمام دینی ومذہبی جماعتوں کے رہنماؤں نے نگران حکومت کے مندرجہ بالا امور کی مذمت کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ وہ ان اقدامات کو واپس لیں۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے رہنما ان قراردادوں کی روشنی میں نگران حکومت سے مطالبہ کرنے میں حق بجانب ہیں کہ وہ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مطالبات کو فوراً تسلیم کرے۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے رہنما واضح کر دینا ضروری سمجھتے ہیں کہ پاکستان کے مسلمانوں کی جانیں تو قربان ہو سکتی ہیں لیکن وہ کسی کو اس بات کی اجازت نہیں دے سکتے کہ پاکستان کو قادیانی اسٹیٹ یا قادیانی نواز حکومت بنانے کی اجازت دیں۔ نگران حکومت کا کام انتخابات کرانا ہے، وہ یہاں تک محدود رہے اور قادیانیت کے سلسلے میں آئینی ترامیم، امتناع قادیانیت آرڈیننس، سپریم کورٹ کے فیصلے کا احترام کرتے ہوئے قادیانیوں کو آئین اور پاکستان کا پابند بنائے۔ نبی آخر الزمان ﷺ کے غدار اور جھوٹے نبی کے پیروکار پاکستان اور اسلام کے وفادار نہیں ہو سکتے۔ اللہ تعالیٰ پاکستان کی حفاظت فرمائے۔

(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ص ۵، ۶، مورخہ ۲۴ تا ۳۰ ستمبر ۱۹۹۳ء)

الیکشن کمیشن فوری نوٹس لے ...... معین قریشی غور فرمائیں

جماعت احمدیہ ربوہ نے اپنے ان افراد کو جو قومی وصوبائی اسمبلیوں کی اقلیتی نشستوں پر عام انتخابات ۱۹۹۳ء میں حصہ لے رہے ہیں جماعت سے خارج کر دیا ہے۔ ان کا قصور یہ ہے کہ انہوں نے ۱۹۷۴ء کی اس آئینی ترمیم کو تسلیم کیا جس میں قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دے کر انہیں پاکستان کے شہری ہونے کی حیثیت سے اقلیتی نشستوں پر انتخابات میں حصہ لینے کا حق دیا تھا۔ قادیانیوں کے تحفظ اور ان کے نام نہاد دکھ درد کو محسوس کرنے والے نگران حکومت کے قائم کردہ حقوق انسانی کمیشن کے لئے جماعت احمدیہ کا حالیہ اقدام لمحہ فکریہ ہے۔ جب ایک اقلیت اپنے بنیادی حقوق خود ہی حاصل نہیں کرنا چاہتی تو ان کے لئے نرم گوشہ رکھنے اور ان کے تحفظ اور حقوق کے لئے کمیشن مقرر کرنے کا کیا فائدہ ہے؟

روزنامہ خبریں لاہور، مورخہ یکم اکتوبر کی خبر ملاحظہ فرمائیں۔

قادیانی اقلیتی نشستوں کے ۴۶ امیدواروں کو جماعت احمدیہ سے خارج کر دیا گیا: ”ربوہ (این این آئی) قادیانی اقلیتی نشستوں کے تمام امیدواروں ملک بشیر الدین، نعیم الدین، ثمینہ کوثر، معظم اقبال اور نوید نذیر سمیت لاہور، سیالکوٹ، گوجرانوالہ، حافظ آباد، کوہاٹ اور چنیوٹ کے ۴۶ افراد کو بھی جماعت احمدیہ سے خارج کر دیا گیا ہے۔ ان میں سے ۲۶ افراد تجویز کنندہ اور تائید کنندگان ہیں۔ جب کہ دو روز قبل ربوہ کے دو احمدی امیدواروں مانگٹ جٹ برادران کو ان کے ۱۵ افراد خاندان کے ساتھ جماعت سے خارج کر دیا گیا تھا۔ ربوہ کی احمدی انتظامیہ نے پاکستان کے تمام شہروں میں بسنے والے احمدیوں کو ہدایات جاری کر دی ہیں کہ ان افراد سے تعلق رکھنے والوں کو بھی جماعت سے خارج کر دیا جائے۔ عبدالرحمن مانگٹ اور اس کے بھائی ڈاکٹر خالق نے ہائیکورٹ کے وکلاء سے صلاح مشورے شروع کر دیئے ہیں تاکہ وہ جماعت احمدیہ کی کارروائی کے خلاف عدالت عالیہ سے رجوع کر سکیں۔“

(روزنامہ خبریں لاہور مورخہ یکم ؍ اکتوبر ۱۹۹۳ء، ہفت روزہ لولاک فیصل آباد ص ۶، مورخہ ۸ ؍ اکتوبر ۱۹۹۳ء)

صفحہ ۲۴۱

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

فیروز آباد یو۔ پی میں مجلس تحفظ ختم نبوت کا قیام

کئی سالوں سے مرکزی دفتر فیروز آباد میں قادیان گروہ کی سرگرمیوں پر نظر رکھے ہوئے ہے اور حق الامکان بروقت ان کی روک تھام کی مناسب تدابیر اختیار کرتا رہتا ہے۔ چنانچہ ماہ ربیع الاوّل ۱۴ھ میں مرکزی دفتر کل ہند مجلس تحفظ ختم نبوت دارالعلوم کی جانب سے دو گراں قدر مبلغین جناب مولانا محمد یامین صاحب مظفر نگری اور جناب مولانا محمد عرفان صاحب بہرائچی نے فیروز آباد کا دورہ فرمایا تا کہ وہاں مجلس تحفظ ختم نبوت کے قیام کے بعد سے قادیانی تحریکات کے تازہ احوال معلوم ہو سکیں۔ دونوں حضرات کو مقامی ذمہ داران نے ملاقات کے دوران بتایا کہ اس وقت یہاں ان کی ریشہ دوانیاں بند ہیں اور ہم ان کا نوٹس لیتے رہتے ہیں۔ ویسے کافی عرصے سے یہاں کی نئی آبادی میں ان کے دس بارہ گھر ہیں۔ اس مجلس کا قیام ۳۱؍ اکتوبر و یکم نومبر ۱۹۹۳ء کو جمعیۃ علماء فیروز آباد کے زیر اہتمام منعقد کئے عظیم اجلاس سیرۃ النبی و تحفظ ختم نبوت کے موقع پر عمل میں آیا تھا۔ لیکن اس پورے پروگرام کا مفصل رپورٹ تاخیر سے وصول ہوئی تھی اور پھر مختلف وجوہ سے اس کی اشاعت کی باری نہ آسکی۔ بہر حال عام اطلاع اور ریکارڈ کے لئے اس کو حالیہ شمارہ میں شائع کیا جا رہا ہے۔ مولانا محمد عثمان ناظم مرکزی دفتر کل ہند مجلس تحفظ ختم نبوت دارالعلوم دیوبند۔

دس اراکین ضلعی و شہری جمعیۃ علماء فیروز آباد کی جانب سے سالہائے گزشتہ کی طرح امسال بھی دو روزہ جلسہ سیرۃ و تحفظ ختم نبوت کا اہتمام کیا گیا جس میں بیرونی و مقامی علماء کرام کے علاوہ معززین شہر نے بڑی تعدد میں شرکت کی۔ ۳۱؍ اکتوبر کی صبح آٹھ بجے ایک خصوصی پروگرام، تحفظ ختم نبوت کے عنوام پر مسجد میوہ فروشان میں منعقد ہوا۔ جس میں مولانا شاہ عالم نے قادیانی فتنہ کی نشاندہی فرمائی۔ ان کے بعد جناب مولانا قاری عثمان صاحب ناظم کل ہند مجلس تحفظ ختم نبوت دارالعلوم دیوبند نے اپنی تقریر میں رد قادیانیت پر روشنی ڈالی اور قادیانیوں کے فتنے سے ہوشیار کرایا۔ بعدہ جناب مولانا سید ارشد مدنی صاحب استاذ دارالعلوم دیوبند نے فتنہ قادیانیت کے ہر ہر گوشے پر بہترین تقریر فرمائی۔ قادیانیوں سے اپنے نوجوانوں کو بچانے کے لئے اصلاحی کمیٹیاں قائم کرنے کی تجویز پیش کی۔ آخر میں قاری محمد عثمان صاحب نے فیروز آباد میں مجلس تحفظ ختم نبوت کی شاخ قائم کرنے کی تجویز پیش کی جس کی تائید سب ہی سامعین نے کی اور آپ کی تجویز پر فوری طور پر مندرجہ ذیل حضرات پر مشتمل مجلس تحفظ ختم نبوت کا انتخاب عمل میں آیا۔

سرپرست: جناب مولانا فراست حسین صاحب مسجد آغا بزرگ حاجی پورہ، جناب مولانا عبدالعلیم صاحب عیسیٰ جامع مسجد فیروز آباد۔ صدر: مولانا محمد شفیع صاحب قاسمی مہتمم مدرسہ مفتاح العلوم، ناظم عمومی: جناب مولانا محمد عرفان صاحب مہتمم مدرسہ وصیۃ العلوم، ناظم نشر و اشاعت: مولانا محمد یوسف قاسمی، خازن: جناب حاجی پٹیل صاحب، ممبران: حاجی رحمت حسین صاحب، منشی محمد انور خان صاحب، منشی ابوالکلام صاحب، حاجی نثار علی صاحب، حاجی عید محمد صاحب، حاجی اوصاف علی صاحب۔

انتخاب کے بعد مولانا ارشد مدنی صاحب کی دعا کے بعد صبح کا پروگرام ختم ہو گیا اور بیرونی مہمانوں کے قیام و طعام کا انتظام جمعیۃ العلماء فیروز آباد کے خازن جناب حاجی رحمت حسین صاحب کے دولت کدے پر ہوا۔ ۳۱؍ اکتوبر ۱۹۹۳ء بعد نماز عشاء جلسہ سیرت نبوی ﷺ کا انعقاد ہوا، جس کا آغاز حافظ محمد شکیل صاحب کی تلاوت کلام پاک سے ہوا۔ جلسے کی صدارت کے فرائض معمر بزرگ حاجی عید محمد صاحب صدر جمعیۃ علماء فیروز آباد نے ادا کی اور نظامت کی ذمہ داری جناب مولانا محمد اشتیاق صاحب نائب صدر جمعیۃ علماء فیروز آباد نے سنبھالی۔ سب سے پہلے دارالعلوم دیوبند کے مبلغ مولانا محمد عرفان صاحب نے قادیانی فتنے پر کھل کر روشنی ڈالی۔ پھر جناب مولانا قاری محمد

صفحہ ۲۴۴

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

عثمان صاحب نے سیرت پاک پر عمدہ تقریر فرمائی۔ آخر میں صاحبزادہ شیخ الاسلام حضرت مولانا سید ارشد مدنی صاحب نے اپنے مخصوص انداز میں سیرت پاک کی روشنی میں مسلمانوں کو اتحاد و اتفاق کی بڑے عالمانہ وحکیمانہ طور پر تلقین فرمائی۔ بعد میں حضرت امیر الہند حضرت مولانا سید اسعد مدنی صدر جمعیۃ علماء ہند نے سامعین کو سیرت نبوی کی روشنی میں معاشرے کی اصلاح پر کافی زور دیا اور فرمایا کہ اہل ایمان کی ترقی کا مدار آنحضرت ﷺ کے حکموں کی تابعداری میں ہے۔

جلسہ کافی رات تک پر رونق رہا اور آخر میں صدر محترم کی دعا پر پہلے دن کے جلسے کا اختتام ہوا۔ دوسرے دن یکم/ نومبر ۱۹۹۲ء بعد نماز عشاء ۸/ بجے شب سے پروگرام شروع ہوا جس کا آغاز جناب قاری قمر الدین صاحب کی تلاوت قرآن پاک و ہدیہ نعت شریف سے ہوا۔ جلسے کی صدارت حاجی عید محمد صاحب نے ہی فرمائی اور نظامت کے فرائض منشی محمد انور خان صاحب ناظم جمعیۃ علماء فیروز آباد نے انجام دیئے۔ آج کی نشست میں اولاً دارالعلوم دیوبند کے استاذ مولانا خورشید انور نے سیرت پاک پر بہترین مقالہ پیش فرمایا۔ بعدہ مولانا محمد شفیع صاحب قاسمی ومولانا محمد اشتیاق صاحب نے اپنی اپنی تقریر میں اصلاح معاشرے پر خصوصی طور پر روشنی ڈالی۔ آخر میں جمعیۃ علماء فیروز آباد کے ناظم جناب منشی ابوالکلام صاحب نے مقامی وبیرونی علماء کرام ومعزز سامعین کا شکریہ ادا کیا اور ان تمام بہی خواہان ملت جنہوں نے دامے، درمے، سخنے اراکین جمعیۃ علماء کی حوصلہ افزائی کی اور تعاون فرمایا کا بھی شکریہ ادا کیا اور مدرسہ مفتاح العلوم کے طلباء عزیز جنہوں نے دونوں دن پورے انتظامات میں اپنا تعاون پیش کیا کا بھی شکریہ ادا کیا۔ اس دو روزہ اجلاس میں اراکین جمعیۃ علماء نے پوری مستعدی اور ذمہ داری سے جلسے کی کارروائی کو پورا کیا۔ جن میں جناب رفیع الدین صاحب عبدالرشید صاحب محمد اشرف علی صاحب، حاجی نثار علی صاحب، حاجی محمد سلیم، حافظ شمس الدین ونیاز حسین، حافظ انوار حسین کے نام قابل ذکر ہیں۔ ان حضرات نے پوری تندہی سے اپنی ذمہ داریوں کو پورا کیا۔ دوسرے دن بیرون مہمانوں کی ضیافت کا انتظام جمعیۃ کے ایک رکن جناب عبدالرشید صاحب نے کیا۔

(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ص ۲۵، مورخہ ۴ تا ۱۰/ مارچ ۱۹۹۴ء)

عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی مرکزی مجلس عاملہ کا اجلاس

ملتان (نمائندہ خصوصی) عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی مرکزی مجلس عاملہ کا اجلاس ۲۴/ جمادی الثانی مطابق ۹/ دسمبر ۱۹۹۳ء گیارہ بجے صبح دفتر مرکزیہ میں منعقد ہوا۔ جس کی صدارت امیر مرکزیہ حضرت مولانا خان محمد صاحب دامت برکاتہم نے فرمائی۔ اجلاس میں امیر مرکزیہ کے علاوہ نائب امیر مرکزیہ مولانا محمد یوسف لدھیانوی مدظلہ، مولانا عزیز الرحمن جالندھری، مولانا بشیر احمد، مولانا اللہ وسایا اور مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی نے شرکت کی۔ اجلاس میں ملک بھر سے مسیحیوں کے تحت حضور سرور کائنات ﷺ کی شان اقدس میں دریدہ دہنی اور گستاخی پر تشویش کا اظہار کیا گیا۔ نیز حکومت کی طرف سے گستاخان رسالت کی سرپرستی اور انہیں تحفظ دینے پر زبردست احتجاج کیا گیا۔ نیز فیصلہ کیا گیا کہ جہاں کہیں دفعہ ۲۹۵-سی کے تحت کیس چل رہے ہیں۔ ان کی بھر پور پیروی کی جائے گی اور مجلس اپنی منصبی ذمہ داری پوری کرے گی۔ مجلس کے شعبہ تبلیغ کو مزید فعال کرنے کے لئے کئی ایک تجاویز اور فیصلے کئے گئے۔ روس سے آزاد ہونے والی ریاستوں میں قرآن پاک کی اشاعت اور تقسیم پر اطمینان کا اظہار کیا گیا اور طے کیا گیا کہ جب تک آزاد ریاستوں میں گھر گھر قرآن پاک تقسیم نہیں ہو جاتا، اس وقت تک نشر و اشاعت کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا۔ نیز طے کیا گیا کہ مرکزی مجلس شوریٰ کا اجلاس ۱۰، ۱۱، ۱۲/ شوال کو ملتان میں منعقد ہوگا۔ جس میں مجلس کی سال بھر کی کارکردگی اور آئندہ کے لائحہ عمل پر غور کیا جائے گا۔ ڈش انٹینا پر قادیانیت کی تبلیغ اور سندھ میں

صفحہ ۲۴۳

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

قادیانیوں کی سرگرمیوں پر تشویش کا اظہار کیا گیا۔ صوبہ سندھ کے مولانا احمد میاں حمادی، مولانا جمال اللہ حسینی پر مشتمل ایک کمیٹی تشکیل دی گئی جو سندھی زبان بولنے والے علماء کرام کو مرکزی دفتر ملتان میں ٹریننگ کے لئے تیار کرے گی۔ ٹریننگ کے بعد متأثرہ علاقوں میں مبلغ کی حیثیت سے ان کی تقرری عمل میں لائی جائے گی۔ نیز صوبہ سندھ کی حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ صوبہ سندھ کے علاقوں گلارچی اور تھرپارکر کے علاقوں میں طاقتور ڈش انٹینا کے ذریعہ پاکستان ٹیلی ویژن کی نشریات جام کرنے پر فوری ایکشن لیا جائے اور مرزائی جماعت کے مقامی لیڈروں کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے۔

(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ص ۲۵، مؤرخہ ۷ تا ۱۳/ جنوری ۱۹۹۴ء)

عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی مبلغین کے اجلاس کی مختصر رپورٹ

ملتان (نمائندہ خصوصی) عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی مبلغین کا اجلاس ۲۳/ جمادی الثانی بمطابق ۸/ دسمبر ۱۹۹۳ء دفتر مرکزیہ ملتان میں منعقد ہوا۔ اس کی صدارت مولانا عزیز الرحمن جالندھری اور مولانا بشیر احمد نے کی۔ اجلاس کی دو نشستیں ہوئیں۔ اجلاس میں مولانا اللہ وسایا ، مولانا عبدالرؤف ، مولانا محمد علی صدیقی ، مولانا فقیر اللہ اختر ، مولانا محمد اسماعیل عاصم ، مولانا احمد بخش ، مولانا محمد اکرم طوفانی ، مولانا غلام مصطفیٰ ، مولانا بشیر احمد ، مولانا جمال اللہ حسینی نے شرکت کی۔ اجلاس میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مبلغ مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی کے عزیز حاجی کریم بخش ، حاجی محمد بخش ، مولانا نذیر احمد چنیوٹی ، چوہدری محمد خلیل گجراتی کی وفات پر دلی دکھ اور صدمہ کا اظہار کیا گیا۔ مرحومین کے ایصال ثواب کے لئے فاتحہ خوانی کی ۔ نیز دعا کی گئی کہ خداوند قدوس مرحومین کو جنت الفردوس میں جگہ نصیب فرمائے ۔ نیز پسماندگان کے لئے صبر جمیل کی دعا کی گئی۔ مبلغین کرام نے اپنے اپنے تبلیغی پروگراموں اور دورہ جات کی رپورٹ پیش کی اور آئندہ کے لئے پروگرام تشکیل دیئے گئے۔ ناظم اعلیٰ صاحب نے مبلغین کو ہدایت کی کہ وہ تبلیغ پروگراموں کی اہمیت کو محسوس کرتے ہوئے جہاں وعدہ کریں بر وقت تشریف لے جائیں ۔ جہاں جہاں پروگرام ہوں ، داعی کا نام اور مکمل پتہ تحریر کریں تا کہ انہیں لٹریچر وغیرہ ارسال کیا جاسکے ۔ نیز اپنے پروگراموں کو حتمی شکل دیں اور ماہانہ کارکردگی کی رپورٹ دفتر مرکزیہ کو ارسال فرمائیں۔ سالانہ تردید قادیانیت کورس کو کامیاب بنانے کے لئے مدارس عربیہ کے فضلاء کرام اور محنتی طلباء ، کالجوں ، یونیورسٹیوں کے طلباء کو زیادہ سے زیادہ تعداد میں شرکت کے لئے آمادہ کریں۔

واضح رہے کہ سالانہ رد قادیانیت کورس ۱۵ تا ۳۰/ شعبان المعظم تک دفتر مرکزیہ ملتان میں منعقد ہوتا ہے۔ امسال بھی حسب سابق منعقد ہوگا۔ کورس میں مفکر ختم نبوت مولانا محمد یوسف لدھیانوی ، مولانا اللہ وسایا ، مولانا محمد امین صفدر اوکاڑوی ، مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی ، مولانا خدا بخش ، مولانا جمال اللہ حسینی ، مولانا فیض احمد ، حاجی اشتیاق احمد جھنگوی ، مولانا عبداللطیف ڈسکوی ، عقیدۂ ختم نبوت کی اہمیت ، رفع ونزول عیسیٰ علیہ السلام ، مسئلہ جہاد ، تعاقب قادیانیت ، حجیت حدیث اور تقابل ادیان کے عنوانات پر لیکچر دیں گے ۔ رمضان المبارک تک مختلف علاقوں میں کانفرنسوں ، دروس قرآن وحدیث اور لیکچرز کے پروگرام مرتب کئے گئے۔

(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ص ۲۵، مؤرخہ ۷ تا ۱۳/ جنوری ۱۹۹۴ء)

میں نے قادیانیت سے بغاوت کر دی تھی (زیڈ۔ اے سلہری)

پچھلے دنوں ملک کے معروف صحافی جناب زیڈ۔ اے سلہری کا انٹرویو فیملی میگزین میں شائع ہوا۔ جس میں انہوں نے بتایا کہ ان

صفحہ ۲۴۴

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۳ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

کے والدین قادیانی تھے۔ لیکن انہوں نے مرزائی مذہب پر غور و فکر کرنے کے بعد اس مذہب کے خلاف بغاوت کر دی تھی۔ قارئین لولاک کی دلچسپی کے لئے ان کے انٹرویو کا متعلقہ حصہ پیش خدمت ہے۔ (ادارہ)

س...... آپ کی شخصیت پر والد اور والدہ میں سے کس کا زیادہ اثر ہے؟

ج...... میرے والد کا...... میں ان کا بہت چہیتا تھا۔ وہ ہم سے الگ رہا کرتے تھے۔ میں جب بہت چھوٹا تھا تو انہوں نے مجھے حیدر آباد دکن بلایا تھا۔ میری بھی والد کی طرح سیلانی طبیعت ہے۔ مجھے بچپن سے ہی پڑھنے لکھنے کا شوق تھا اور حصول علم کے لئے بہت تگ ودو کی ہے۔

س...... آپ نے والد صاحب سے کبھی شکایت نہیں کی کہ آپ الگ کیوں رہتے تھے؟

ج...... نہیں...... ویسے وہ آتے جاتے ہی رہتے تھے۔ آخر میں وہ قادیان منتقل ہو گئے تھے۔ ان دنوں ہم قادیان میں ہی رہتے تھے۔ جب میں میٹرک کا امتحان دے رہا تھا تو وہ فوت ہو گئے تھے۔

س...... کیا والد کی وفات کے بعد بھی قادیان میں ہی رہتے تھے؟

ج...... میں نے چھوڑ دیا تھا۔

س...... اس کی وجہ کیا تھی؟

ج...... میں اس علاقے کے ماحول سے اکتا گیا تھا۔ علاقے کو خیر باد کہتے ہوئے قادیانیت بھی چھوڑ دی تھی۔

س...... کیا آپ قادیانی تھے؟

ج...... ہاں! میرے والدین قادیانی ہو گئے تھے۔ میرے والد نے حج بھی کیا تھا۔ لیکن بعد میں قادیانی مذہب کو اپنا لیا تھا۔ ان کے ساتھ سارا گھرانہ شامل تھا۔ مجھے جب شعور آیا اور خصوصاً میٹرک کرنے کے بعد جب دہلی اپنی خالہ کے ہاں گیا تو اس مذہب کے خلاف میں نے اپنے خاندان سے بغاوت کر دی۔

س...... اس بغاوت کا محرک کیا تھا؟

ج...... میں شروع سے ہی سیاست پڑھ رہا تھا۔ جب میں نویں جماعت میں تھا تو انگریزی کا اخبار پائینر خرید کر پڑھتا تھا۔ اس سے مجھے مسلمانوں کے نقطہ نظر کا علم ہوتا رہتا تھا۔ میں نے غور و فکر کیا کہ قادیانی خود کو مسلمان کہلاتے ہیں۔ مگر مسلمان سے الگ رویہ اور موقف رکھتے ہیں۔ انہوں نے الگ سے اپنی ڈیڑھ اینٹ کی مسجد بنائی تھی۔ جس پر مجھے اچنبھا ہوتا تھا۔ میں نے سوچا کہ آخر وہ ایسا کیوں کرتے ہیں؟ جب میں میٹرک کے بعد دہلی اپنے خالو خالہ کے پاس گیا تو اس سوال نے مجھے مجبور کیا کہ ان کے عقائد کا جائزہ لوں۔ میں علامہ اقبال اور دوسرے مشاہیر کی کتب پڑھنے کے بعد اس نتیجے پر پہنچا کہ یہ جماعت بنیادی طور پر مسلمانوں سے الگ عقائد رکھتی ہے۔ اس کی اصل وجہ ختم نبوت سے انکار تھا۔ ان کے موقف کے مطابق اگر ختم نبوت کا دروازہ بند نہیں ہوا تو اس کا مطلب ہے کہ مسلمانوں پر انتشار کا دروازہ کھل گیا ہے۔ قرآن میں آیا ہے کہ اور ایک دن اسلام تمام دنیا پر چھا جائے گا۔ اگر امت مسلمہ ہی متحد نہ رہی اور نبیوں کا سلسلہ شروع ہو گیا تو پھر اس امت کے اتحاد کا کوئی امکان نہیں۔ پھر جب قادیانیوں سے پوچھا جاتا کہ اگر نبوت کا دروازہ کھل گیا ہے تو کیا اور نبی بھی آئیں گے؟ تو وہ اس سے انکار کرتے۔ جس کا مطلب یہ تھا کہ نعوذ باللہ! نبی پاک ﷺ کی نبوت ان کو منتقل ہو گئی ہے۔ پھر میں نے قادیانیت کے محرکات کو سمجھنا شروع کیا۔ قادیانیت جن حالات میں پیدا کی

صفحہ ۲۴۵

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

گئی وہ وقت انگریزوں پر وبال جان بنا ہوا تھا۔ مسلمان انگریزوں کے خلاف تھے۔ انگریزوں نے ہر طرح سے مسلمانوں کو دبانا چاہا تھا۔ مگر وہ ناکام رہے تھے۔ انگریز اسلام کو دارالحرب کہا کرتے تھے۔ انہوں نے سوچا کہ کیوں نہ مسلمانوں کے اندر سے ایک مذہبی جماعت پیدا کی جائے جو اسلام میں انتشار پھیلانے کا باعث بنے۔ انگریزوں نے اس مقصد کے حصول کی خاطر کئی ملاؤں سے فتوے بھی جاری کروائے۔ مگر وہ پھر ناکام رہے تھے۔ جہاد اسلام کا بنیادی رکن ہے۔ انگریزوں نے مسلمانوں کو تباہی سے دور کرنا چاہا اور اس کے اسلامی فلسفہ کو غلط رنگ دینے کی سازش تیار کی۔ انہوں نے مرزا غلام احمد قادیانی کی خدمات لیں۔ مرزا غلام احمد قادیانی نے قادیانیت کی بنیاد رکھی اور عقیدۂ جہاد کو چھوڑنے کا کہا۔ انگریزوں نے مرزا غلام احمد قادیانی کو نبوت کے مقام پر لا کھڑا کیا کہ مسلمان غیر مسلم حکومت کے محکوم اور ماتحت رہ چکے ہیں۔ جہاد و قتال امن پسند قوموں کا عقیدہ نہیں ہوتا۔ ہمارے مخالفین جہاد سے خوفزدہ رہتے تھے اور اس کے لئے مرزا غلام احمد قادیانی نے ایک عقیدہ پیش کر دیا تھا۔ انگریزوں کی حکمت عملی کا نتیجہ یہ ہوا کہ مسلمانوں میں سے ایک جماعت نے الگ مذہب تشکیل دے لیا جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ اس میں انگریزوں کی سازش نہیں تھی۔ آپ خود دیکھ لیں کہ اگر کسی کو امریکہ جانا ہے تو قادیانی بن کر آسانی سے چلا جاتا ہے اور یہ فرقہ عالم اسلام کے خلاف یہودی لابی کا ساتھ دیتا ہے۔ ہندوؤں کو مسلمانوں میں سے لیڈر شپ یا اعلیٰ عہدے کے لئے آدمی چاہئے تو وہ قادیانی کو ترجیح دیتے ہیں۔ عام مسلمان کو اہمیت نہیں دیتے۔ اسی سوچ بچار کے بعد میں نے قادیانیت سے بغاوت کر دی تھی۔

س ...... اس پر گھر والوں نے آپ کے ساتھ کیا سلوک کیا تھا؟ ج ...... خاندان میں ایک طوفان برپا ہو گیا تھا اور پھر ایسے وقت میں جب میں معاشی مسائل سے دوچار تھا، اس وقت میری خالہ اور خالو نے بڑی مدد کی تھی۔ خالہ نے گھر والوں سے کہا تھا کہ اسے اس کے حال پر چھوڑ دو۔ یہ اپنا اچھا برا خوب سمجھتا ہے۔ س ...... گھر میں آپ کو کس نام سے پکارا جاتا ہے؟ (میں نے گفتگو بدلتے ہوئے سلہری صاحب سے پوچھا) ج ...... مجھے ضیاء کہا جاتا تھا۔ میرا اصل نام تو ضیاء الدین احمد ہے۔

(بشکریہ ہفت روزہ فیملی میگزین ص ۷، مورخہ ۲۷ جولائی تا ۲/ اگست ۱۹۹۳ء)

دلاور خاں ایڈووکیٹ کی مرزائیت سے توبہ

میں ہفت روزہ ”ختم نبوت“ کا سالانہ خریدار ہوں۔ خریداری نمبر ۱۰۴۴ ہے۔ ہمارا ایک دوست پڑھا لکھا سابق مرزائی، اللہ کے فضل سے جامع مسجد محمدی اہل حدیث چکوال میں مولانا محمود الحسن غضنفر کے ہاتھ پر بروز جمعۃ المبارک مشرف بہ اسلام ہوا ہے۔ جس کا نام دلاور خان ایڈووکیٹ ہے۔ فرانس میں اس نے انٹرنیشنل لاء میں ڈگری حاصل کی ہے۔ وہاں اس نے اس تنظیم کا تفصیلی مطالعہ کیا اور مرزا طاہر احمد سے مناظرہ کیا تو وہ لوگ سمجھ گئے کہ اس نے ہمیں پا لیا ہے۔ وہ تسلی بخش جوابات نہ دے سکے۔ انہوں نے اس کے خلاف محاذ بنایا لیکن اس نے بھی خوب ان کا مقابلہ شروع کر دیا۔ ۱۹۸۷ء تک دس فیصد کے حساب سے جو چندہ اس نے اس تنظیم کو دیا تھا اس کا نوٹس دیا۔ نوٹس میں مسلمانوں اور پاکستان کے خلاف یہ تنظیم جو سازشیں کر رہی ہے، ان پر سے نقاب اس نے اٹھایا ہے۔ جس کی فوٹو کاپی آپ کو ارسال کی جا رہی ہے۔ آپ بغور اس کو پڑھ لیں۔ اس نو مسلم نوجوان کے لئے جملہ اہل اسلام سے دعا کے لئے گزارش ہے مزید آپ کی طرف سے اس نوجوان کے لئے تحفظ اور دیگر مفید آراء کے منتظر رہیں گے۔ طالب دعا: ظاہر منیر (چکوال)

(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ص ۲۳، مورخہ ۲۲ تا ۲۸ / اکتوبر ۱۹۹۳ء)

صفحہ ۲۴۶

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

راولپنڈی میں قادیانی نوجوان کا قبول اسلام

راولپنڈی (قاری محمد یونس) گزشتہ دنوں ایک نوجوان الیاس حسین ولد سردار محمد نے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مبلغ مولانا محمد علی صدیقی اور قاری محمد ابراہیم کے ہاتھ پر اسلام قبول کیا اور قادیانیت سے تائب ہوا۔ الیاس حسین نے اسلام قبول کرتے ہوئے اس بات کا اقرار کیا کہ نبی کریم حضرت محمد ﷺ آخری نبی ہیں۔ آپ ﷺ کے بعد کوئی بھی نبی نہیں ہے۔ ظلی طور پر اور بروزی طور پر اور اگر کوئی آپ ﷺ کے بعد نبوت کا اعلان کرتا ہے تو وہ کذاب اور دجال ہے۔ انہوں نے مرزا غلام احمد قادیانی پر بھی لعنت بھیجی۔ اسے کافر، کاذب اور مرتد قرار دیا۔

(ہفت روزہ لولاک فیصل آباد ص ۲۳،مؤرخہ ۱۰/دسمبر ۱۹۹۳ء)

انجینئرنگ یونیورسٹی لاہور میں ختم نبوت کانفرنس

لاہور: عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی راہنما مولانا اللہ وسایا نے کہا کہ مرزائیت کا کیس جھوٹے مدعی نبوت مسیلمہ کذاب سے زیادہ خطرناک ہے۔ وہ یہاں انجینئرنگ یونیورسٹی کے لیاقت ہال کے ٹی.وی روم میں طلباء کے پرہجوم اجتماع سے خطاب کر رہے تھے۔ جس کا اہتمام تحریک طلباء تحفظ ختم نبوت اور اسلامی جمعیۃ طلباء نے کیا۔ اجتماع کی صدارت جمعیۃ کے ناظم نصیر اقبال نے کی۔ مولانا اللہ وسایا نے کہا کہ مسیلمہ کذاب نے صرف نبوت کا دعویٰ کیا۔ جب کہ مرزا غلام احمد قادیانی نے نبوت کے علاوہ خدا، خدا کا بیٹا، خدا کی بیوی، خدا کا باپ (نعوذ باللہ) ہونے کے دوسو کے قریب دعوے کئے۔ انہوں نے کہا کہ مرزائی، مرزا قادیانی کو حضور نبی اکرم ﷺ کے مقابلہ میں نبی، امہات المؤمنین کے مقابلے میں مرزا قادیانی کی بیوی کو ام المؤمنین، اس کے ساتھیوں کو صحابی اور رضی اللہ عنہ، مکہ اور مدینہ کے مقابلہ میں قادیان اور ربوہ، اہل بیت کے مقابلے میں اہل بیت، غرضیکہ تمام شعائر اسلامی کو مرزا کے خاندان کے لئے استعمال کر کے مسلمانوں کے جذبات و احساسات کو مجروح کرتے ہیں جو ناقابل برداشت ہے۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت لاہور کے انچارج مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی نے کہا کہ قادیانیوں کی حیثیت اسلام کے باغی کی سی ہے۔ انہوں نے طلباء اور نوجوانوں سے اپیل کی کہ تعلیمی اداروں میں قادیانیوں کی سرگرمیوں پر کڑی نظر رکھیں تاکہ وہ مسلمان طلباء کے حقوق کا استحصال نہ کر سکیں۔ اجتماع میں اعجاز احمد، نصیر اقبال، حبیب احمد کے علاوہ دوصد کے قریب طلباء نے شرکت کی۔

(ہفت روزہ لولاک فیصل آباد ص ۲۱، مؤرخہ ۱۹/مارچ ۱۹۹۳ء)

ختم نبوت کنونشن قصور

قصور (نمائندہ خصوصی) عالمی مجلس ختم نبوت کے زیر اہتمام جامعہ اسلامیہ میں عظیم الشان ”ختم نبوت کنونشن“ منعقد ہوا۔ جس میں پورے ضلع سے تمام مکاتب فکر کے علماء کرام اور جماعتی کارکنوں نے شرکت کی۔ کنونشن کی صدارت چوہدری فضل حسین امیر مجلس نے کی۔ کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی راہنما مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی نے کہا کہ عقیدۂ ختم نبوت امت مسلمہ کا متفقہ عقیدہ ہے۔ جمعیۃ اہل حدیث کے ممتاز راہنما مولانا حکیم محی الدین سلفی نے کہا کہ سپریم کورٹ کا جج اور چیف جسٹس کسی قادیانی کو نہ بنایا جائے اور نہ ہی کسی مشکوک آدمی کو یہ منصب سپرد کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ قادیانیوں کی ہمدردیاں اسلام دشمن قوتوں کے ساتھ ہیں۔ مرزائی اجتماع میں بھارت زندہ باد کا نعرہ اس کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

قصور کے معروف وکیل اور عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت قصور کے جنرل سیکرٹری جناب محمد حنیف ظفر نے کہا کہ تحریک ختم نبوت کے مطالبات کو گلی گلی، کوچہ کوچہ میں متعارف کرایا جائے گا اور بلدیہ کے حلقوں کے مطابق یونٹ تشکیل دیئے جائیں گے۔ ایک قرارداد کے

صفحہ ۲۴۷

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

ذریعے امریکی دباؤ کی پرزور مذمت کی گئی اور حکومت پاکستان سے اساسی عقائد کے خلاف مشروط کسی قسم کی امریکی امداد کو ٹھکرا دیا جائے نیز عبدالسلام قادیانی سائنسدان کو پاکستان میں ”سائنس کانفرنس“ کے نام سے کسی بھی پروگرام کی اجازت نہ دی جائے۔ کیونکہ یہ کانفرنس پاکستان کے پرامن ایٹمی پروگرام کو سبوتاژ کرنے کے مترادف ہے۔

ایک اور قرارداد کے ذریعے قادیانیوں کی بڑھتی ہوئی ریشہ دوانیوں اور ڈش انٹینا کے ذریعے مسلمان نوجوان کو گمراہ کرنے پر گہری تشویش کا اظہار کیا گیا اور حکومت کو متنبہ کیا گیا کہ وہ ڈش انٹینا پر پابندی عائد کرے۔

(ہفت روزہ لولاک فیصل آباد ص ۲۲، مورخہ ۳۰؍ اپریل ۱۹۹۳ء)

کراؤلے میں ختم نبوت کانفرنس

کراؤلے، لندن سے موصول ہونے والی ایک اطلاع کے مطابق لندن سے تقریباً ۳۰ میل جنوب میں واقع شہر کراؤلے میں ۸؍ مئی ۱۹۹۳ء کو ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی جو شام ۷؍ بجے سے رات ۱۱؍ بجے تک جاری رہی۔ کانفرنس سے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے رہنماؤں عبدالرحمن باوا و مولانا منظور احمد الحسینی کے علاوہ لیسٹر کے مولانا محمد سلیم دھورات نے خطاب کیا۔ کانفرنس سوک ہال میں منعقد ہوئی۔ یہ وہی ہال ہے جس میں قادیانیوں نے ۲۱؍ فروری ۱۹۹۳ء کو جلسہ پیشوایان مذاہب کے نام سے ایک ناکام جلسہ منعقد کیا تھا۔ کراؤلے کے تمام مسلمانوں نے اس کا بائیکاٹ کیا تھا۔ کانفرنس کی غرض وغایت بیان کرتے ہوئے مسجد براڈ فیلڈ کے امام مولانا محمد ایوب نے کہا کہ قادیانی، یہاں کراؤلے کے امن وسکون کو تباہ کرنے پر تلے ہوئے ہیں اور یہاں قادیانیت کی ارتدادی تبلیغ سے مسلمانوں کو اپنے جال میں پھانسنا چاہتے ہیں جو ہرگز کامیاب نہیں ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ نوجوان نسل کو قادیانیت کی حقیقت سے آگاہ کرنے کے لئے ختم نبوت کی ایک مقامی یونٹ قائم کی جائے گی۔ عبدالرحمن باوا نے شرکاء کانفرنس کے سوالوں کے جواب دیتے ہوئے کہا کہ یہ کہنا غلط ہے کہ قادیانی مرزا غلام احمد قادیانی کو صرف بزرگ مانتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ قادیانیوں کا عقیدہ ہے کہ مرزا قادیانی نہ صرف نبی ہے بلکہ نعوذ باللہ خود محمد رسول اللہ ہے جو دنیا میں دوبارہ اشاعت اسلام کے لئے آیا ہے۔ مرزا قادیانی کا بشکل محمد رسول اللہ کے دوبارہ آنا پہلی بعثت سے اقویٰ، اکمل، اشد ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ سراسر رسول اللہ ﷺ کی توہین ہے اور مسلمان اس توہین کو ہرگز برداشت نہیں کر سکتے۔ مولانا منظور احمد الحسینی نے قادیانیوں کے وجوہات کفر کو تفصیل سے بیان کیا اور بتایا کہ قادیانیت کا اسلام سے دور کا بھی واسطہ نہیں۔ مولانا محمد سلیم دھورات نے اپنے خطاب میں کہا کہ حضور ﷺ سے محبت شرط ایمان ہے۔ لہٰذا ہر مسلمان کو چاہئے کہ وہ عقیدہ ختم نبوت اور ناموس رسالت کا تحفظ کر کے اپنی ذمہ داری کو پورا کرے۔ شرکاء جلسہ نے آخر میں عہد کیا کہ کراؤلے میں ہم قادیانیت کو پنپنے کا موقع نہیں دیں گے۔

(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ص ۱۶، مورخہ ۲۳ تا ۲۹؍ جولائی ۱۹۹۳ء)

ضلع رحیم یار خان میں منعقدہ چھ کانفرنسوں کی رپورٹ

عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ضلع رحیم یار خان کے زیر اہتمام ۱۶؍ مئی تا ۱۹؍ مئی ۱۹۹۳ء بمقام لیاقت پور، چنی گوٹھ، ترنڈہ محمد پناہ، ظاہر پیر، صادق آباد ہیڈ گڈو میں عظیم الشان کانفرنسیں منعقد ہوئیں۔ جس میں مناظر اسلام مولانا اللہ وسایا نے خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ پاکستان اسلام کے نام پر حاصل کیا گیا لیکن افسوس آج تک اسلام کا نام لینے والے تو آئے لیکن اسلام نافذ نہ کر سکے۔ اسلام دشمن قادیانیوں کو امریکی اشارے پر مکمل آزادی حاصل ہے۔ انہیں اعلیٰ عہدوں پر فائز کیا جا رہا ہے۔ بہترین مراعات دی جا رہی ہیں۔ انہوں

صفحہ ۲۴۸

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

نے کہا کہ قادیانی اس وقت ڈش انٹینا کے ذریعے اپنے گمراہ کن عقائد کی تبلیغ کر رہے ہیں اور ہمارے حکمران خاموش ہیں۔ فاتح ربوہ مولانا خدا بخش نے کہا کہ نبی کریم ﷺ قیامت تک کے لئے نبی مبعوث ہوئے ہیں۔ آپ کی نبوت عالمگیر ہے۔ آپ کے بعد جو نبوت کا دعویٰ کرتا ہے وہ دائرہ اسلام سے خارج ہے۔ کسی شخص کا ایمان اس وقت تک کامل نہیں ہوسکتا جب تک وہ عقیدۂ ختم نبوت پر ایمان نہ رکھتا ہو۔ انہوں نے کہا کہ قادیانی فتنہ انگریز کے اشارے پر مسلمانوں میں انتشار پیدا کر رہا ہے اور بیرون ملک اپنے آپ کو مسلمان ظاہر کر کے پاکستان کو بدنام کر رہا ہے۔ ہمارے حکمران قادیانیوں کو مکمل آزادی دے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم مسلمان ختم نبوت کے لئے جان تو دے سکتے ہیں مگر قادیانیوں کو عقیدہ ختم نبوت کے خلاف کرنے کی اجازت نہیں دے سکتے۔ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے خطیب وادیب مولانا عبدالکریم ندیم نے کہا کہ جس طرح خدا تعالیٰ اپنی وحدانیت میں یکتا ہے اسی طرح نبی کریم ﷺ بھی ختم نبوت میں یکتا ہیں۔ کروڑوں قیامت برپا ہو جائیں مگر اب قیامت تک کوئی نبی نہیں آ سکتا۔ انہوں نے کہا کہ جب وزیر اعظم کے خلاف کچھ کہا جائے تو ایکشن لیا جاتا ہے۔ جب قائد اعظم کے متعلق کچھ کہا جائے تو ایکشن لیا جاتا ہے۔ لیکن جب کوئی مرزائی، نبی کریم ﷺ، صحابہ کرام ؓ کے خلاف زہر اگلے تو کوئی ایکشن نہیں لیا جاتا۔ انہوں نے کہا کہ یہ زبان کٹ تو سکتی ہے مگر شان رسالت اور عظمت صحابہ کے خلاف بولنے والوں کے سامنے خاموش نہیں رہ سکتی۔ شیخ التفسیر مولانا نور محمد تونسوی صاحب نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حضرت ابو بکر صدیق ؓ نے مسیلمہ کذاب کو قتل کر کے ثابت کر دیا کہ نبوت پر ڈاکہ ڈالنے والوں کی سزا صرف موت ہے۔ لہٰذا قادیانی بھی شرعاً واجب القتل ہیں۔ لیکن ہمارے حکمران اسلام سے مخلص نہیں۔ انہوں نے تو قادیانیوں کو مکمل آزادی دے دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جو حکمران ایک کاغذ کے ٹکڑے پر اسلام کا لفظ نہیں لکھ سکتا وہ پورے ملک میں اسلام کیا نافذ کرے گا۔

قاری حماد اللہ شفیق نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ قادیانی مسلح افواج میں ہونے کی وجہ سے اہم ملکی راز اسرائیل اور امریکہ کو پہنچا رہے ہیں۔ جس کی وجہ سے وہ ہمارے ملک کو دفاعی لحاظ سے کمزور کر رہے ہیں۔ لہٰذا حکومت کو ان کی کڑی نگرانی کرنی چاہئے اور ان پر اپنے عقائد کی تبلیغ کی پابندی عائد کرے۔ استاذ العلماء مولانا منظور احمد نعمانی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ میں اور میرے طلباء ختم نبوت کے تحفظ کے لئے جان دینے سے کبھی گریز نہیں کریں گے۔ ختم نبوت کوئی معمولی مسئلہ نہیں کہ اس کو نظر انداز کیا جاسکے۔ یہ ہمارے نبی کریم ﷺ کی عزت و ناموس کا مسئلہ ہے اور جو اس کی طرف میلی آنکھ سے دیکھے گا اس کی آنکھ نکال دی جائے گی۔ مولانا احمد بخش شجاع آبادی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پہلے انبیاء کرام ؑ کی نبوت علاقائی تھی۔ مگر نبوت محمدی ﷺ تمام کائنات کے لئے ہے۔ ان علماء کرام کے علاوہ مولانا مشتاق احمد، مولانا محمد علی صاحب، مولانا سیف الرحمٰن، مولانا محمد اسلم اور قاضی شفیق الرحمٰن نے بھی خطاب کیا۔ ان کانفرنسوں میں حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ قادیانی حضرات پر اپنے عقائد کی تبلیغ پر پابندی عائد کی جائے۔ قادیانی سفیروں کو فوری برطرف کیا جائے۔ ناموس صحابہ بل منظور کیا جائے۔ قادیانیوں کے لئے ڈش انٹینا کی پابندی عائد کی جائے۔ شناختی کارڈ میں مذہب کے خانہ کا اضافہ کیا جائے۔

لودھراں، بستی رسول پور شکرانی احمد پور شرقیہ اور منڈی یزمان میں ختم نبوت کانفرنسیں

عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام چار روزہ ختم نبوت کانفرنسیں منعقد ہوئیں۔

معروف صحافی عبدالمجید ندیم نے خطاب کیا۔ ان کے بعد حضرت مولانا احمد بخش مبلغ ختم نبوت رحیم یار خان نے فرمایا کہ مسئلہ ختم

صفحہ ۲۴۹

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

نبوت دین کی بنیاد ہے اور اس پر ہی انسان کی زندگی کی بنیاد ہے۔ جب تک یہ عقیدہ نہیں ہوگا اس وقت تک زندگی بیکار ہے۔ مولانا خدا بخش مرکزی مبلغ نے فرمایا کہ میں نے ربوہ میں ۱۹۷۵ء میں کام شروع کیا۔ ایک مجسٹریٹ کی عدالت کے چھوٹے سے کمرے میں جمعہ شروع کیا اور اب بزرگوں کی محنت سے ختم نبوت کے دو مرکز موجود ہیں اور فرمایا کہ جس طرح قادیانی دوسرے شہروں میں اعلانیہ عبادت نہیں کر سکتے اسی طریقہ پر ربوہ میں بھی عبادت اعلانیہ نہیں کر سکتے۔ ان کے بعد مولانا محمد اسحاق ساقی مبلغ ختم نبوت بہاول پور مولانا غلام مصطفیٰ نے دعائیہ کلمات کہے۔ دنیا پور جماعت کے امیر صوفی عنایت علی نے بھی مسئلہ ختم نبوت پر خطاب فرمایا۔

انتظامی امور شیر محمد قریشی نے انجام دیئے۔ اس میں مولانا خدا بخش نے اور مولانا غلام مصطفیٰ اور مولانا احمد بخش صاحب نے مسئلہ ختم نبوت پر ٹھوس دلائل کے ساتھ بیان کیا اور مولانا محمد اسحاق ساقی نے مسئلہ شناختی کارڈ میں مذہب کے خانہ پر روشنی ڈالی۔

کانفرنس شام تک جاری رہی۔

(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ص ۱۸، ۱۹، مؤرخہ ۲۳ تا ۲۹؍ جولائی ۱۹۹۳ء)

حیدرآباد میں عظیم الشان علماء کنونشن

عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام دینی جماعتوں کا مشترکہ ڈویژنل علماء کنونشن مفتاح العلوم حیدرآباد میں شیخ الحدیث مولانا عبدالرؤف صاحب کی زیر صدارت منعقد ہوا اور مرکزی نائب امیر مولانا محمد یوسف لدھیانوی صاحب مہمان خصوصی کی حیثیت سے تشریف لائے۔ کنونشن میں حیدرآباد ڈویژن کے مختلف شہروں سے تعلق رکھنے والے جید علماء کرام کثیر تعداد میں موجود تھے مولانا احمد میاں حمادی، مولانا جمال اللہ حسینی، مولانا محمد ایوب، مولانا سیف الرحمٰن آرائیں، مولانا تاج محمد ناہیوں، مولانا حفیظ الرحمٰن رحمانی، مولانا محمد یوسف، مولانا عبدالمجید، مولانا شبیر احمد، مولانا غلام محمد، مفتی خالد محمود، عبدالقیوم عباسی، مولانا عبدالستار چاوٹرا، حافظ محمد اکبر راشد، حافظ محمد شریف، محمد زمان خان اور دیگر علماء نے کنونشن سے خطاب کیا۔ مقررین نے اپنے خطاب میں کہا کہ ایک دفعہ پھر قادیانی سرگرمیاں تیزی سے بڑھ رہی ہیں۔ انگلینڈ میں سیٹلائٹ چینل کرایہ پر لے کر الیکٹرانک میڈیا کے ذریعہ قادیانیت کی تبلیغ کے ذریعے پورے عالم میں سادہ لوح مسلمانوں کو ارتداد کی طرف راغب کیا جا رہا ہے۔ وسط ایشیاء کی اسلامی ریاستوں میں ان کی مقامی زبانوں میں کثیر تعداد میں لٹریچر چھپوا کر بھیجا جا رہا ہے۔ اسی طرح دنیا کے دیگر ممالک بالخصوص غریب اور پسماندہ علاقوں میں قادیانیوں کے مشنری ادارے مسلمانوں کو مرتد بنانے میں سرگرم ہیں۔ پاکستان میں کلیدی آسامیوں پر فائز قادیانی افسران، مرزائیت کی تبلیغ میں فعال کردار ادا کر رہے ہیں۔ اسی طرح کئی قادیانی پاکستانی سفارت کار کی حیثیت سے مختلف ممالک میں مرزائیت کے فروغ میں مصروف ہیں۔ ان حالات میں ضروری ہے کہ تمام دینی قوتیں متحد ہو کر قادیانی سرگرمیوں کا تعاقب کریں اور پورے عالم کے مسلمانوں کے ایمان کی حفاظت کریں۔ اس وقت اگر اس فریضہ سے غفلت برتی گئی تو تمام حلقے اس اجتماعی جرم کے ذمہ دار ہوں گے۔ کنونشن کے آخر میں مہمان خصوصی مولانا محمد یوسف لدھیانوی نے

صفحہ ۲۵۰

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

مسلمانوں کے درمیان باہمی اعتماد، اتحاد واتفاق کی ضرورت اور قادیانیوں کی خطرناک چالوں، ارتدادی سرگرمیوں اور ان کے سیاسی عزائم پر تفصیل سے روشنی ڈالی اور فیصلہ کیا گیا کہ مرکزی مجلس عمل کے فیصلہ کے مطابق صوبائی، ڈویژنل، ضلعی سطح پر علماء کنونشن منعقد کئے جائیں گے اور رائے عامہ کو بیدار کرنے کے لئے عام جلسوں کا انعقاد کیا جائے گا۔ اجلاس میں چند قراردادیں منظور کی گئیں۔

(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ص۱۷، مؤرخہ ۲۳ تا ۲۹؍جولائی ۱۹۹۳ء)

سیالکوٹ میں عظیم الشان ختم نبوت کنونشن

سیالکوٹ: مجلس عمل تحفظ ختم نبوت کی دعوت پر مختلف مکاتب فکر کے علماء کرام اور مشائخ عظام کا کنونشن جامعہ فاروقیہ چوک امام صاحب میں منعقد ہوا۔ جس کی صدارت تحریک ختم نبوت کے عالمی قائد مولانا خان محمد مدظلہ نے کی۔ کنونشن ۱۰؍بجے سے ظہر کی نماز تک جاری رہا۔ کنونشن کے انتظامات کے لئے پیر بشیر احمد شاہ گیلانی، مولانا انذر قاسمی، مولانا حامد عثمان عبیدی، قاری محمد اسحاق نعمانی نے شب و روز محنت کی۔ کنونشن کی غرض وغایت بیان کرتے ہوئے مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی نے کہا کہ قادیانی ایک مرتبہ پھر مسلمانان پاکستان کی غیرت کو للکار رہے ہیں۔ مختلف علاقوں میں نوجوانوں کو نوکری اور چھوکری کے لالچ میں قادیانی بننے کی ترغیب وتحریص دے رہے ہیں۔ جب کہ مسلمان خواب غفلت کا شکار ہو چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ قادیانی، امریکہ، اسرائیل، انڈیا سمیت تمام مسلم دشمن ممالک کے ایجنٹ ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ امریکہ نے پاکستان کی اقتصادی امداد کی بحالی کے لئے قادیانیوں کے خلاف کئے گئے قانونی اقدامات واپس لینے کی شرط عائد کی ہے۔ کئی ایک ممالک کے سفیر قادیانی بنائے جاچکے ہیں۔ شناختی کارڈ میں مذہب کے خانہ کے اضافہ کے واضح اعلان کے بعد

صفحہ ۲۵۱

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

اس سے انحراف کیا جاچکا ہے۔ ان حالات میں آپ حضرات سے درخواست ہے کہ تحریک ختم نبوت کی رہنمائی وسرپرستی فرمائیں تاکہ ان معاملات سے باآسانی نمٹا جاسکے۔ جماعت اہل سنت کے رہنما شجاعت علی مجاہد نے کہا کہ عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ کے لئے میں خدمات حضرت الامیر کو پیش کرتا ہوں۔ جماعت اسلامی سیالکوٹ کے امیر عبدالقدیر راہی نے کہا کہ مسئلہ ختم نبوت کے لئے ہماری تحریری وعملی خدمات حاضر ہیں۔ جماعت اہل حدیث کے رہنما مولانا محمد صدیق اختر نے کہا کہ تحریک ختم نبوت کی کامیابیاں تمام مکاتب فکر کے اتحاد سے ہوئی ہیں۔ آج بھی متحد ہو کر ہم تمام مسائل حل کر سکتے ہیں۔ ختم نبوت کے لئے جماعت اہل حدیث کے کارکن سپاہی بن کر قربانیاں پیش کریں گے۔ بریلوی مکتب فکر کے ممتاز عالم دین حافظ محمد عالم مجددی نے اتحاد بین المسلمین پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اس محاذ پر بریلوی علماء کرام اور عوام آپ حضرات کے شانہ بشانہ ہوں گے۔ ڈاکٹر غلام محمد گوجرانوالہ نے کہا کہ ختم نبوت کے تحفظ کے لئے تن، من، دھن قربان کر دیں گے۔ علامہ خالد حسن مجددی نے کہا کہ ہماری عدالت عظمیٰ مدینہ والی سرکار میں جو پہلے فیصلہ دے چکی ہے۔ ”لا نبی بعدی“ اس عظیم الشان فیصلہ کے خلاف کوئی فیصلہ کسی صورت میں قبول نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے نگران حکومت سے مطالبہ کیا کہ مرزائیت نوازی کے بجائے محمدیت نوازی کرتے ہوئے شناختی کارڈ میں مذہب کا خانہ بڑھایا جائے۔ مولانا محمد اکرم طوفانی نے کہا کہ ہندو اپنی جنم بھومی کے لئے عدالت عظمیٰ کے فیصلہ کو ٹھکرا سکتا ہے تو مسلمان بھی حضور ﷺ کی عزت و ناموس کے تحفظ کے لئے کسی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے۔ انٹرنیشنل اسلامک فورم کے چیئرمین مولانا زاہد الراشدی نے کہا کہ مرزائیت برطانوی سامراج کا پیدا کردہ فتنہ ہے۔ جس کے خلاف ہم نے گلی، کوچوں، مساجد، مدارس اور ہر محاذ پر جنگ لڑی ہے اور اسے برصغیر سے جانے پر مجبور کردیا۔ کنونشن سے مولانا عبداللطیف مسعود، حافظ محمد اختر ڈسکہ نے بھی خطاب کیا۔

(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ص ۱۶، مورخہ ۱۳ تا ۱۹/ اگست ۱۹۹۳ء)

آٹھویں سالانہ ختم نبوت کانفرنس برطانیہ میں علماء کرام کی تقریریں

آٹھویں عالمی ختم نبوت کانفرنس اس سلسلے کی ایک کڑی ہے جس کا آغاز عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان نے عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ اور یورپ، امریکہ اور افریقی ممالک میں قادیانی گروہ کی مشنری سرگرمیوں اور مسلمانوں کو مرتد اور گمراہ بنانے کی سازشوں کو روکنے کے لئے ۵/ اگست ۱۹۸۵ء میں ویمبلے ہال لندن میں ”ختم نبوت کانفرنس“ سے شروع کیا تھا۔ دوسری عالمی ختم نبوت کانفرنس ۲۷/ جولائی ۱۹۸۶ء، تیسری ختم نبوت کانفرنس ۲۰/ ستمبر ۱۹۸۷ء، چوتھی ختم نبوت کانفرنس، ۱۶/ اگست ۱۹۸۸ء، پانچویں ختم نبوت کانفرنس یکم/ اکتوبر ۱۹۸۹ء، چھٹی ختم نبوت کانفرنس ۱۲/ اگست ۱۹۹۰ء، ساتویں ختم نبوت کانفرنس ۱۶/ اگست ۱۹۹۲ء اور آٹھویں عالمی ختم نبوت کانفرنس حسب سابق بہت تزک واحتشام کے ساتھ برمنگھم کی وسیع وعریض خوبصورت وکشادہ جامع مسجد کے بڑے ہال میں یکم/ اگست ۱۹۹۳ء کو صبح دس بجے تا شام چھ بجے تک منعقد ہوئی۔ کانفرنس کی اہمیت اور دوررس نتائج کی بناء پر اگرچہ اس کی تیاری سال بھر جاری رہتی ہے اور لوگوں کو ایک کانفرنس کے بعد دوسری کانفرنس کا انتظار رہتا ہے لیکن دو ماہ قبل اس کانفرنس کی تیاری کا تیز ترین مرحلہ شروع ہوجاتا ہے اور انگلینڈ بھر میں چھوٹے چھوٹے جلسوں کے پروگرام ترتیب دیئے جاتے ہیں تاکہ کانفرنس کا اہم مقصد کہ پورے یورپ کے مسلمانوں کے دلوں میں عقیدہ ختم نبوت کی اہمیت اجاگر کی جائے، حاصل ہوجائے۔ یہ بات یقینی ہے کہ کانفرنس میں تمام یورپ کے مسلمان شریک نہیں ہوسکتے۔ ہر علاقے اور شہر کے نمائندہ افراد شریک ہوتے ہیں۔ اس نظریہ کے پیش نظر کہ عقیدہ ختم نبوت ایک ایک مسلمان کے دل اور دماغ تک پہنچانا ہے۔ دو ماہ قبل ہی انگلینڈ کے مختلف شہروں کی تمام مساجد میں ختم نبوت کے پروگرام شروع ہوجاتے ہیں۔ اس سال پہلے مرحلے میں مولانا منظور احمد

صفحہ ۲۵۲

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

الحسینی، جناب عبدالرحمن یعقوب باوا، مولانا محمد سلیم دھرات، مولانا محمد اکرم طوفانی، ورلڈ مسلم فورم کے مولانا زاہد الراشدی نے مختلف شہروں میں جلسوں سے خطاب کیا۔ دوسرے مرحلے میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے امیر مرکزیہ حضرت مولانا خواجہ خان محمد صاحب، مناظر ختم نبوت مولانا اللہ وسایا، حافظ محمد عابد اور کل ہند مجلس تحفظ ختم نبوت کے سیکرٹری جنرل اور دارالعلوم دیوبند کے استاد حدیث مولانا سعید احمد پالن پوری اور تیسرے مرحلے میں نائب امیر مرکزیہ مولانا محمد یوسف لدھیانوی، ممتاز مذہبی اسکالر ڈاکٹر عبدالرزاق اسکندر، اقراء ڈائجسٹ کے مدیر مفتی محمد جمیل خان، پنجاب کے سابق وزیر امور مذہبی قاری سعید الرحمن نے بڑے بڑے شہروں میں ختم نبوت کانفرنسوں اور ختم نبوت سیمیناروں سے خطاب کر کے مسلمانوں سے اپیل کی کہ وہ کانفرنس میں بھر پور شرکت کریں۔ اس سال عدالت عالیہ پاکستان نے جولائی ۱۹۹۳ء میں قادیانیوں کے خلاف تاریخی فیصلہ دے کر مرزا طاہر کی تمام پیش گوئیوں کو جھوٹا ثابت کر دیا اور علماء اسلام اور عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مؤقف کو صحیح ثابت کیا۔ اس فیصلے پر عدالت عالیہ کو خراج تحسین پیش کرنے اور اللہ تعالیٰ کے حضور شکرانہ ادا کرنے کے لئے ۳۰ / جولائی ۱۹۹۳ء بروز جمعہ کو عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی اپیل پر پورے انگلینڈ میں یوم ختم نبوت منایا گیا، جس میں انگلینڈ کی تقریباً تمام مساجد میں عقیدۂ ختم نبوت اور عدالت عالیہ پاکستان کے فیصلے کی روشنی میں مسلمانوں کو اس عقیدے کی اہمیت اور عظمت سے آگاہ کیا گیا۔

یوم ختم نبوت کی بناء پر پورے انگلینڈ میں اس عقیدے سے بھی مسلمانوں کو واقفیت ہوئی اور آٹھویں عالمی ختم نبوت کانفرنس میں شرکت کی بھی ترغیب ہوئی اور نوجوانوں کو قادیانیت کی مکروہ سازش کے بارے میں بھی پتہ چلا۔ اس دن بہت سے علاقوں میں نوجوانوں نے اس بات کا عزم کیا کہ وہ اپنے اپنے علاقوں میں عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ کے لئے بھر پور کام کریں گے اور قادیانیت کی گمراہ کن سرگرمیوں کو روکنے کی ہر ممکن جدوجہد کریں گے۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے ان وفود کے علاوہ جمعیۃ علماء برطانیہ، مرکزی جمعیۃ علماء برطانیہ، جمعیۃ علماء آزاد جموں و کشمیر، دارالعلوم بری، جامعہ اسلامیہ نوٹنگھم، مساجد کی کمیٹیاں اور برطانیہ کی مختلف مذہبی و سیاسی تنظیمیں بھی اس کانفرنس کی کامیابی کے لئے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے ساتھ ساتھ شانہ بشانہ شریک تھیں۔

کانفرنس کا آغاز دس بجے ہونا تھا لیکن لوگوں کے شوق و ذوق کا یہ عالم تھا کہ فجر کی نماز ہی سے لوگ پہنچنا شروع ہو گئے تھے۔ آٹھ بجے کے بعد تو ایسا محسوس ہورہا تھا کہ ہر کوچ جامع مسجد برمنگھم کی طرف رواں دواں ہے۔ بچے، بوڑھے اور نوجوان عقیدہ ختم نبوت کے جذبات سے منور چہرے اور حضور نبی اکرم ﷺ کی محبت سے سرشار شاداں و فرحاں جامع مسجد کی طرف چلے آ رہے تھے۔ دس بجے تک جامع مسجد کا ہال بھر چکا تھا۔ تل دھرنے کی جگہ نہیں تھی۔ لوگ ہال کے باہر برآمدوں اور مسجد کے باہر کاریڈور اور پارکنگ کے حصہ میں بھی کھڑے تھے۔ حرم مسجد نبوی ﷺ کے مشہور امام شیخ عبدالرحمن الحذیفی (جن کی قرأت اور تلاوت کلام پاک دنیا بھر میں مشہور ہے) کی آمد کی بناء پر لوگوں کا شوق زیادہ ہو گیا۔ اس لئے اس کانفرنس میں حاضری گزشتہ سال کے مقابلے میں زیادہ تھی۔ محتاط اندازے کے مطابق تقریباً بیس ہزار افراد نے کانفرنس میں شرکت کی۔ آٹھویں عالمی ختم نبوت کانفرنس کے منتظم اعلیٰ الحاج عبدالرحمن یعقوب باوا نے امیر مرکزیہ شیخ المشائخ مولانا خواجہ خان محمد صاحب کی اجازت سے کانفرنس کی پہلی نشست کا آغاز کیا۔ اس نشست کی صدارت ہندوستان کی مشہور روحانی شخصیت مولانا سید محمد اسعد مدنی نے کی۔ دارالعلوم بولٹن کے قاری محمد یعقوب نے جب قرآن مجید کی تلاوت اور عقیدہ ختم نبوت سے متعلق قرآن مجید کی آیات سنائیں تو کانفرنس میں عجیب روحانی سماں بندھ گیا۔ تلاوت کے بعد الحاج عبدالرحمن یعقوب باوا نے آٹھویں عالمی ختم نبوت کانفرنس کے اغراض و مقاصد بیان کئے۔ اس کے بعد مولانا منظور احمد الحسینی نے پروگرام کی تفصیل بیان کی۔

صفحہ ۲۵۳

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

سب سے پہلے افتتاحی خطاب امام مسجد نبوی ﷺ شیخ علی عبدالرحمن حذیفی نے کرتے ہوئے کہا کہ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت نے جب خادم الحرمین الشریفین کے توسط سے مجھے آٹھویں عالمی ختم نبوت کانفرنس میں شرکت کی دعوت دی تو میں نے اور سعودی حکام نے اس کو اپنے لئے ایک بڑا اعزاز تصور کیا۔ موضوع کی اہمیت کے پیش نظر خادم الحرمین الشریفین جو نیک کاموں میں سبقت کرنے والے، مساجد اور مدارس قائم کرنے اور دنیا بھر کے دینی اداروں کا تعاون کرنے والے ہیں، نے مجھے حکم دیا کہ میں اس عظیم الشان کانفرنس میں شرکت کروں اور خادم الحرمین الشریفین ملک فہد اور سعودی عرب کے علماء کرام کی طرف سے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے امیر مرکزیہ مولانا خواجہ خان محمد، نائب امیر مرکزیہ مولانا محمد یوسف لدھیانوی اور یورپ کے تمام مسلمانوں کو اپنے ہر ممکن تعاون کا یقین دلاؤں۔ ہم سب مسلمان بھائی بھائی ہیں اور ایک دوسرے کے ساتھ دین کے معاملات میں تعاون کرنا ہمارا دینی فریضہ ہے۔ اسلام کلمہ شہادت پر ایمان کا نام ہے۔ جس کا پہلا جزو اللہ تعالیٰ کی وحدانیت پر ایمان لانا اور ہر معاملے میں اس سے مدد حاصل کرنا اور اس پر توکل کرنا ہے۔ دوسرا جزو نبی خاتم الانبیاء ﷺ کی رسالت اور نبوت پر ایمان لانا ہے۔ نبی اکرم ﷺ کو اللہ تعالیٰ نے معجزات اور دلائل اور روشن چہرے کے ساتھ اس امت کی رہنمائی کے لئے مبعوث فرمایا۔ آپ ﷺ کا چہرہ دیکھ کر لوگ ایمان قبول کرتے تھے۔ آپ ﷺ نے فرمایا میرے بعد کوئی نبوت کا دعویٰ کرے وہ جھوٹا اور کذاب ہوگا۔ میں اور قیامت ساتھ ساتھ بھیجے گئے ہیں۔ میرے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا۔ اللہ تعالیٰ نے تمام انبیاء کرام سے وعدہ لیا کہ اگر تم محمد رسول اللہ ﷺ کے دور میں ہو تو محمد رسول اللہ ﷺ کی اتباع تمہارے لئے ضروری ہوگی۔ سچے نبی کی نشانی یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کو اپنی نصرت اور فتح عطا فرماتا ہے۔ نبی اکرم ﷺ کے زمانہ میں مسیلمہ کذاب نے نبوت کا دعویٰ کیا۔ آپ ﷺ نے اس کے خلاف جہاد کا حکم دیا۔ اسود عنسی نے دعویٰ کیا۔ اس کے خلاف مسلمانوں نے جہاد کیا۔ ایسے لوگ خدا کی رحمت سے محروم ہوتے ہیں اور اللہ تعالیٰ ان کو دنیا میں ذلیل کرتا ہے تاکہ دوسرے لوگوں کو عبرت ہو۔

آج کے دور میں بھی مرزا غلام احمد قادیانی نے جھوٹی نبوت کا دعویٰ کیا جو سراسر اسلام اور دین کے خلاف ہے۔ اللہ تعالیٰ کی لعنت ہو اس پر، وہ جھوٹا نبی ہے، وہ کذاب ہے، وہ دجال ہے، وہ ذلیل ہے، وہ کافر ہے۔ اس نے اس دعویٰ سے دین اسلام پر ضرب لگانے کی کوشش کی ہے۔ اس وقت ان لوگوں کی تمام تر توجہ یورپ کے مسلمانوں کو گمراہ کرنے پر لگی ہوئی ہے۔ اے امت مسلمہ! اے یورپ کے مسلمانو! حدیث شریف میں نبی اکرم ﷺ ارشاد فرماتے ہیں۔ تم میں سے ہر شخص ذمہ دار ہے۔ اس سے اس کے اہل و عیال کے بارے میں سوال ہوگا۔ اس لئے مسلمانان یورپ! تم اپنے اہل و عیال اور نئی نسل کی فکر کرو، ان کے دین کی حفاظت کرو۔ ان کو ان فتنوں سے بچاؤ۔ خصوصاً قادیانی فتنے سے۔ یہ تمہارے ایمان اور دین کے لئے ڈاکو ہیں۔ ان سے اپنی حفاظت ضروری ہے۔ توحید اور عقیدہ ختم نبوت کی رسی کو مضبوطی کے ساتھ تھام لو۔ قادیانی گروہ تم میں افتراق اور انتشار پیدا کرنے کی کوشش کرے گا۔ تم اسلام کی رسی کو مضبوطی کے ساتھ تھامے رکھو اور انتشار اور افتراق سے بچو۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی کوششیں قابل ستائش ہیں۔ میں اس جماعت کا شکر گزار ہوں کہ اس نے مجھے یورپ کے مرکزی مقام جامع مسجد برمنگھم میں عظیم الشان عالمی ختم نبوت کانفرنس کے ذریعہ ہزاروں مسلمانوں سے خطاب کرنے کا موقع فراہم کیا۔ میں آپ کو دوبارہ اس بات کی نصیحت کرتا ہوں کہ تقویٰ اختیار کرو۔ سنت نبوی ﷺ کو اپنی زندگی کا دستور عمل بنالو۔ عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ کے لئے ہمہ وقت مشغول رہو اور ہر کام میں اپنے رب سے امداد اور تعاون طلب کرو۔ اللہ تعالیٰ تمہاری خدمات جلیلہ کو قبول فرمائے۔ امام مسجد نبوی کے بعد ممتاز مذہبی اسکالر ڈاکٹر عبدالرزاق اسکندر نے عربی زبان میں خطبہ استقبالیہ اور امام مسجد نبوی کو سپاسنامہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے امیر مولانا خواجہ خان محمد اور نائب امیر مولانا محمد یوسف لدھیانوی اور ان بیس ہزار

صفحہ ۲۵۴

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

مسلمانوں اور عقیدۂ ختم نبوت کے جذبہ سے سرشار مسلمانوں کی طرف سے مسلمانوں کی سب سے مقدس اور بڑی مسجد و مرکز حرم نبوی ﷺ کے معزز اور محترم امام شیخ علی عبدالرحمن الحذیفی کو یورپ میں پہلی مرتبہ آمد پر خوش آمدید کہتا ہوں۔ عقیدہ ختم نبوت کی مناسبت سے امام مسجد نبوی ﷺ کا آٹھویں ختم نبوت کانفرنس میں آنا اہل یورپ کے لئے نیک فال اور عظیم سعادت و برکت ہے۔ ان شاء اللہ! ان کی آمد ہی قادیانی گروہ کے لئے موت اور اس فتنہ کی سرکوبی کے لئے کافی ہوگی اور ان شاء اللہ! یہ فتنہ اپنا نام ونشان اور وجود کھو بیٹھے گا۔ عالمی تحفظ ختم نبوت کی تحریک ختم نبوت کا سلسلہ اور کڑی خلیفہ اوّل سیدنا حضرت ابوبکر کے اس جہاد سے جاملتی ہے جو سیدنا صدیق اکبرؓ نے پہلے جھوٹے دعویدار نبوت مسیلمہ کذاب کے خلاف شروع کیا تھا۔ جب آج سے سو سال قبل مرزا غلام احمد قادیانی نے دماغ کے فتور کی وجہ سے جھوٹا دعویٰ نبوت کیا تو حضرت حاجی امداد اللہ مہاجر مکی نے علماء کرام کو سب سے پہلے اس فتنہ کی طرف متوجہ کیا اور حضرت پیر مہر علی شاہ گولڑوی کو حکم دیا۔ جاؤ تم کو عنقریب پنجاب میں ایک عظیم فتنے کا مقابلہ کرنا ہے۔ بعد ازاں حضرت مولانا رشید احمد گنگوہی نے علماء لدھیانہ کی درخواست پر منکرین ختم نبوت قادیانی گروہ کے خلاف کفر کا فتویٰ جاری کیا۔ حضرت مولانا انور شاہ کشمیری نے سید عطاء اللہ شاہ بخاری کی سرکردگی میں مجلس تحفظ ختم نبوت قائم کرائی اور اس جماعت کی مسلسل اور انتھک محنت اور مشن کے ساتھ اخلاص کی برکت سے محدث کبیر حضرت مولانا محمد یوسف بنوری کی قیادت میں ۱۹۷۴ء میں قومی اسمبلی میں قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دیا گیا۔ بعد ازاں مولانا خواجہ خان محمد کی قیادت میں تحریک ۱۹۸۴ء میں امتناع قادیانیت آرڈیننس جاری ہوا۔ جولائی ۱۹۹۳ء میں بفضل خدا عدالت عظمیٰ پاکستان نے قادیانیوں کے خلاف واضح فیصلہ دیا کہ وہ اپنے آپ کو مسلمان ظاہر کرنا اور مسلمانوں کی طرز زندگی اور طرز عبادت کا اظہار چھوڑ دیں اور اپنے آپ کو غیر مسلم اقلیت کے طور پر دنیا کے سامنے پیش کریں۔ یہ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی عظیم کامیابیاں ہیں۔

ورلڈ اسلامک فورم کے سربراہ مولانا زاہد الراشدی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ قادیانی گروہ تمام فورموں اور پلیٹ فارموں میں نا کام ہونے کے بعد اب مغرب کے طریقہ کے مطابق میڈیا کے ذریعہ مسلمانوں کو گمراہ کرنے کے درپے ہے۔ ڈش انٹینا، اخبارات، وی سی آر، ٹیلی ویژن میں جھوٹے پروپیگنڈے کر کے اسلام، پاکستان، علماء پاکستان، اہل دین کو بدنام کر کے بنیادی حقوق کی آڑ میں غیر مسلم ممالک کی ہمدردیاں حاصل کی جارہی ہیں۔ امریکہ بہادر کی سرپرستی سے قادیانیوں کی تبلیغی سرگرمیاں عروج پر ہیں۔ لیکن ان شاء اللہ! جس طرح قومی اسمبلی، عدالت عالیہ، محراب ومنبر میں ظاہر ہوا۔ میڈیا میں بھی ان شاء اللہ! حق ظاہر ہوگا اور پاکستانی اخبارات خصوصاً روزنامہ جنگ قادیانیوں کے اس منصوبہ کو ناکام بنادے گا۔ جمعیۃ علماء ہند کے امیر ممتاز روحانی پیشوا مولانا سید محمد اسعد مدنی نے صدارتی خطبہ دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی قومی اسمبلی سے غیر مسلم اقلیت قرار پانے اور امتناع قادیانیت آرڈیننس ۱۹۸۴ء کے اجراء کے بعد قادیانیوں نے ہندوستان میں پر پرزے نکالنے شروع کئے۔ لیکن جمعیۃ علماء ہند نے ان کی سازشوں کو ناکام بنایا اور عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے تعاون سے کل ہند مجلس تحفظ ختم نبوت قائم کی۔ کانفرنسوں کا انعقاد کیا۔ لٹریچر شائع کیا۔ اب جہاں ضرورت محسوس ہوتی ہے، کل ہند ختم نبوت قادیانیوں کا تعاقب کرتی ہے۔ جس کی وجہ سے ہندوستان میں الحمد للہ! یہ فتنہ اپنی موت آپ مر رہا ہے۔ اب اس کی تمام تر توجہ یورپ کی طرف ہے۔ مسلمانان یورپ کو اس کام پر بھر پور توجہ دینی چاہئے۔

کانفرنس کی دوسری نشست کا آغاز تلاوت کلام پاک سے ہوا۔ اس نشست کی صدارت کشمیر ریلیف کمیٹی مکہ مکرمہ کے سربراہ اور مدرسہ صولتیہ مکہ مکرمہ کے استاد حدیث مولانا ملک عبدالحفیظ نے کی۔ جمعیۃ علماء افریقہ کے سیکرٹری جنرل مولانا ظہیر قاسمی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ نبی اکرم ﷺ کو جب اللہ تعالیٰ نے ختم نبوت عطاء کی تو اب دنیا میں ایسے اسباب پیدا فرمادیئے کہ آئندہ نبوت کی ضرورت باقی

صفحہ ۲۵۵

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

نہ رہے۔ اس لئے آپ ﷺ نے واضح اعلان فرما دیا کہ جو نبی بنے وہ جھوٹا اور کذاب ہے۔ اس کے خلاف جہاد کرنا ضروری اور فرض ہے۔ ایسا شخص اور اس کے پیروکار واجب القتل ہیں۔

کل ہند مجلس تحفظ ختم نبوت کے سیکرٹری جنرل اور دارالعلوم دیوبند کے استاد حدیث مولانا سعید احمد پالن پوری نے عقیدۂ ختم نبوت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ عقیدۂ ختم نبوت بنیادی اور اہم عقیدہ ہے۔ اس لئے امت نے اس عقیدہ میں کبھی لچک برداشت نہیں کی۔ جب بھی کسی نے اس عقیدہ پر زد لگانے کی کوشش کی، اس کے خلاف جہاد کیا گیا۔ فقہاء کرام نے اس بات کی تصریح کی ہے کہ جھوٹے مدعی نبوت سے دلیل طلب کرنا بھی کفر ہے۔ مرزا غلام احمد قادیانی اور اس کی جماعت کے کفریہ عقائد کی بناء پر دنیا بھر کے تمام علماء کرام، مفتیان عظام، مشائخ وقت نے فیصلہ دیا کہ وہ کافر ہیں۔ دائرہ اسلام سے خارج ہیں۔ ان کو مسلمان سمجھنے والے بھی کافر ہیں۔ اس وقت اس گروہ نے اپنی ۹۵ فیصد توانائیاں یورپ کے مسلمانوں کو گمراہ کرنے پر لگائی ہوئی ہیں۔ اس لئے یورپ میں اس کا سدباب بہت ضروری ہے۔

عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے نائب امیر ”تحفہ قادیانیت“، ”آپ کے مسائل اور ان کا حل“ کے مؤلف مولانا محمد یوسف لدھیانوی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آپ نے اخبارات میں مرزا طاہر کا جھوٹ پڑھا ہوگا کہ قادیانیت کا اثر و نفوذ پاکستان، بنگلہ دیش اور گھانا میں بڑھ رہا ہے اور مرزا غلام احمد قادیانی کی پیش گوئی گیارہ سال بعد میرے ذریعہ پوری ہو رہی ہے۔ اس سے قبل مرزا طاہر پیش گوئی فرما چکے تھے کہ عدالت عالیہ پاکستان، قادیانیوں کے حق میں فیصلہ دے گی اور عنقریب پاکستان میں حق لوٹا دیا جائے گا۔ یہ کوئی نئی بات نہیں۔ اس سے قبل مرزا غلام احمد قادیانی نے جس طرح نبوت کا جھوٹا دعویٰ کیا، اسی طرح بے شمار جھوٹے دعوے کئے اور ان جھوٹے دعوؤں کو نبوت کی حقانیت کے لئے دلیل کے طور پر پیش کیا۔ اللہ رب العزت نے جھوٹے دعویٰ نبوت کی طرح اس کے ایک ایک دعویٰ، ایک ایک پیشین گوئی کو جھوٹا کیا۔ اس کے کذب اور دجل کو دنیا کے سامنے ظاہر کیا۔ میری کتاب ”مرزا کے جھوٹے دعوے“ میں اس کی تمام تفصیلات موجود ہیں۔ آج اس کے خلیفہ مرزا طاہر صاحب بھی جھوٹے دعوؤں اور فیصلوں کے ساتھ اپنے دادا مرزا غلام احمد قادیانی کے نقش قدم پر چل رہے ہیں۔ لیکن ان کے تمام دعوے جھوٹے ثابت ہوئے اور آئندہ بھی ہوں گے۔ خدا کا دین حق ہے اور حق ظاہر ہونے کے لئے ہے۔ قادیانیت باطل ہے اور باطل مٹنے کے لئے ہے۔ ان شاء اللہ! قادیانیت مٹ کر رہے گی۔ میڈیا اور جھوٹے پروپیگنڈوں کا زور عیسائیوں اور یہودیوں نے بھی لگایا۔ دنیا کے تمام ٹیلی ویژن اسٹیشنوں پر مغرب کا قبضہ ہے۔ اس کے باوجود وہ مسلمانوں کے دلوں سے ایمان نہ نکال سکے۔ روس اسی سالہ ظلم سے اسلام کو نہ مٹا سکا۔ خود مٹ گیا۔ بوسنیا میں یورپ اسلام کو نہ مٹا سکا۔ صومالیہ میں اسلام نہ مٹ سکا۔ کشمیر میں ہندو اسلام نہ ختم کر سکا۔ فلسطین میں یہود اسلام کا کچھ نہ بگاڑ سکا تو قادیانی گروہ کے سربراہ مرزا طاہر کا ڈش انٹینا اسلام کا کیا بگاڑ لے گا۔ قادیانیت کی جس طرح قومی اسمبلی میں مرزا ناصر نے اپنے جھوٹ کی قلعی کھولی تھی۔ مرزا طاہر ڈش انٹینا کے ذریعہ مرزائیت اور قادیانیت کا فریب خود چاک کرے گا۔ آج عدالت عظمیٰ نے فیصلہ دیا کہ کل کا بچہ بچہ اور نوجوان صاف اعلان کرے گا کہ قادیانیت کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں۔ حق بلند ہو کر رہے گا۔ قادیانیت ختم ہو کر رہے گی۔

مولانا اللہ وسایا مرکزی خازن نے کہا کہ قادیانیت اور اسلام کی جنگ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت گزشتہ ایک صدی سے لڑ رہی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ہر میدان میں فتح دی۔ منبر و محراب سے علماء کرام نے اس جہاد اور تحریک کا آغاز کیا۔ مناظروں اور مباہلوں میں مرزا غلام احمد قادیانی ناکام ہوا۔ کئی دفعہ میدان چھوڑ کر بھاگا۔ تحریری میدان میں راہ فرار اختیار کی۔ بہاول پور کی عدالت سے پہلی عدالتی جنگ شروع ہوئی۔ پاکستان کی تمام ہائی کورٹس، سپریم کورٹ، افریقہ کی عدالتوں میں مسلمانوں کو فتح نصیب ہوئی اور حق ظاہر ہوا۔ قومی اسمبلی کے محاذ پر

صفحہ ۲۵۶

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

مسلمانوں کو فتح ہوئی۔ اب اتمام حجت پوری ہوگئی۔ کوئی دلیل باقی نہیں۔ قادیانیوں کے لئے اب اس کے سوا کوئی چارہ نہیں کہ وہ توبہ کریں یا اپنے آپ کو کافر تسلیم کریں۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ان شاء اللہ ! یورپ میں بھی اس کا تعاقب جاری رکھے گی اور ہر محاذ پر ڈٹ کر مقابلہ کرے گی۔ علامہ خالد محمود نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مرزا غلام احمد قادیانی انگریز کا کاسہ لیس تھا اور کوئی بھی نبی کسی ریاست یا حکومت کا کاسہ لیس نہیں ہو سکتا۔ مجلس تحفظ ختم نبوت کے وکیل اور ڈپٹی اٹارنی جنرل پنجاب نذیر غازی نے خطاب کرتے ہوئے مقدمات کی تفصیل بیان کیں اور کہا کہ میرے نزدیک مرزا غلام احمد قادیانی کو جھوٹا نبی کہنا بھی درست نہیں۔ حدیث شریف اور قانون کے مطابق یہ کذاب اور دجال ہے۔ قادیانی جھوٹا پروپیگنڈا کر کے عیسائیوں کو اپنا ہمنوا بنانے کی کوشش کرتے ہیں۔ مسلمانوں کے نزدیک ہر نبی کی توہین کرنے والا واجب القتل ہے۔ اس لئے کسی عیسائی کے لئے اس کے مذہب کے مطابق اس بات کی اجازت نہیں کہ وہ ایسے شخص کی حمایت کریں جو ان کے پیغمبر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی توہین کرتا ہو۔

قاری سعید الرحمن سابق وزیر مذہبی امور پنجاب نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جب بھی ایم ایم احمد پاکستان آیا قادیانیوں نے پاکستان کو تباہ کرنے اور بحران میں ڈالنے کی کوشش کی۔ مشرقی پاکستان کی علیحدگی اور بنگلہ دیش کے قیام میں بھی اس کا ہاتھ تھا۔ اب موجودہ بحران میں بھی اس کا ہاتھ ہے۔ نگران وزیر اعظم کی ذات کو مشکوک کیا جارہا ہے۔ اس لئے نگران وزیر اعظم واضح اعلان کریں کہ ان کا قادیانیت سے کوئی تعلق نہیں۔ مکہ مکرمہ کے مولانا سعید احمد عنایت اللہ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت متحد ہو کر قادیانیت کے فتنہ کے خلاف مشترکہ جدوجہد کرنی چاہئے۔ مولانا محمد اکرم طوفانی نے کہا کہ یورپ کے نوجوان عقیدۂ ختم نبوت کے تحفظ کے لئے متحد ہوچکے ہیں۔ کشمیر ریلیف کمیٹی مکہ مکرمہ کے سربراہ مولانا ملک عبدالحفیظ نے صدارتی خطبہ دیتے ہوئے مسلمانانِ برطانیہ کو تلقین کی کہ وہ عقیدۂ ختم نبوت کے تحفظ کے لئے اپنی زندگیوں کو وقف کردیں۔ کانفرنس کے اختتام پر امام حرم مسجد نبوی شیخ علی عبدالرحمن الحذیفی، امیر مرکزیہ مولانا خواجہ خان محمد، شیخ الحدیث مولانا محمد زکریا کے خلف الرشید مولانا محمد طلحہ نے دعا کرائی اور امام حرم مسجد نبوی نے عصر کی نماز پڑھائی۔ کانفرنس میں جمعیۃ علماء برطانیہ، مرکزی جمعیۃ علماء برطانیہ، جمعیۃ علماء اسلام فضل الرحمن گروپ، جمعیۃ علماء اسلام سمیع الحق گروپ، ورلڈ اسلامک فورم، جمعیۃ علماء افریقہ، جمعیۃ اہل حدیث، انجمن حق باہو ٹرسٹ، دارالعلوم بری، جامعہ اسلامیہ نوٹنگھم، کشمیر ریلیف کمیٹی، انٹرنیشنل ماسک کونسل، دارالعلوم بولٹن، جامعہ اسلامیہ لندن، سواد اعظم اہل سنت، سنی مجلس عمل، تمام مساجد کمیٹیوں نے بھر پور تعاون کیا اور انگلینڈ کے پانچ سو سے زائد علماء کرام اپنی اپنی جماعت کے ارکان اور مقتدیوں کے ساتھ قافلوں کی شکل میں شریک ہوئے۔

کانفرنس میں روزنامہ جنگ لندن کے ایڈیٹر انچیف میر شکیل الرحمن، ایڈیٹر ظہور نیازی، ادارتی عملہ قیصر امام، قیصر افتخار اور نمائندگان کا شکریہ ادا کیا گیا کہ انہوں نے کانفرنس کی تیاری اور اس کی کوریج میں بھر پور تعاون کیا اور اخبار جنگ کی عقیدۂ ختم نبوت سے وابستگی پر ادارہ جنگ کی انتظامیہ اور ادارتی ارکان کو خراج تحسین پیش کیا گیا۔

آٹھویں عالمی ختم نبوت کانفرنس قراردادیں اور مطالبات

اور اسلامیان برطانیہ کا یہ عظیم الشان اجتماع عالم اسلام میں فکری انتشار، مایوسی اور استعماری قوتوں کے آگے بے بسی کی موجودہ صورتحال پر اپنے قلبی دکھ اور اضطراب کے اظہار کو ضروری سمجھتا ہے اور اسے استعماری قوتوں کی مسلسل ریشہ دوانیوں اور عالم اسلام کی موجودہ قیادت کی نااہلی کا نتیجہ قرار دیتے ہوئے اس یقین کے اظہار کو اپنی ذمہ داری خیال کرتا ہے کہ استعماری قوتوں

صفحہ ۲۵۷

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۳ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

کی فکری، تہذیبی، سیاسی اور معاشی بالادستی سے نجات اور اسلام کے عادلانہ نظام کی طرف ملت اسلامیہ کی اجتماعی اور عملی واپسی کے بغیر عالم اسلام کی موجودہ اذیت ناک صورتحال میں تبدیلی کا کوئی امکان نہیں ہے۔ یہ اجتماع عالم اسلام میں دینی بیداری کی تمام تحریکات اور علمی و نظریاتی حلقوں سے اپیل کرتا ہے کہ وہ اس کٹھن مگر ناگزیر منزل کے حصول کے لئے باہمی یکجہتی، اشتراک عمل اور مفاہمت کے ساتھ امت مسلمہ کی اجتماعی قیادت کریں تا کہ ملت اسلامیہ استعماری سازشوں سے گلو خلاصی کے ساتھ عالمی منظر پر اپنا صحیح مقام دوبارہ حاصل کر سکے۔

دماغ کی کارستانی قرار دیتا ہے جس کے تحت کمیونزم کی پسپائی کے بعد اسلام کو اپنا دشمن قرار دے کر تمام ممالک اسلامیہ میں اسلامی تحریکات کو دبائے رکھنے اور کسی بھی مسلم ملک میں اسلام کے عملی نفاذ کو ہر قیمت پر روکنے کے لئے امریکہ اور دوسرے مغربی ممالک اپنی تمام تر توجہ اور قوت صرف کر رہے ہیں اور مغربی ذرائع ابلاغ کی طرف سے اسلام کے بارے میں منفی پروپیگنڈہ کی مسلسل مہم کے علاوہ مسلم ممالک میں مغرب کی حواری حکومتوں کے ذریعہ نظریاتی اور دینی کارکنوں کے خلاف ریاستی جبر و تشدد کے ایک نئے سلسلہ کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ یہ اجتماع سمجھتا ہے کہ اسلام اور مسلمانوں کے بارے میں مغرب کا یہ معاندانہ طرز عمل یہود کی روایتی اسلام دشمنی کا کرشمہ اور اسلام کے بارے میں انہی کے پیش کردہ تصور پر یقین کر لینے کا منطقی نتیجہ ہے اور اس پس منظر میں عالمی ختم نبوت کانفرنس دنیا کی تمام اقوام سے اپیل کرتی ہے کہ وہ یہود کی فراہم کردہ عینک کو اتار کر اسلام کے عادلانہ نظام کا براہ راست اور حقیقت پسندانہ مطالعہ کریں جو انسانی عزت و وقار اور حریت و حقوق کا نہ صرف داعی ہے بلکہ انسانی معاشرہ کو جبر و استحصال سے نجات دلا کر آزادی و وقار کی شاہراہ پر گامزن کرنے کا تاریخی کردار بھی اپنے دامن میں رکھتا ہے۔ اس اجتماع کو یقین ہے کہ دنیا کے کسی بھی ملک و قوم کے دانشور اور اہل علم اگر تعصب سے نجات حاصل کر کے اسلام کا براہ راست مطالعہ کریں گے تو انہیں اس متوازن اور باوقار عالمی نظام کی طرف ضرور راہنمائی ملے گی جس کی آج کی مضطرب اور بے چین انسانیت کو تلاش ہے۔

مسلمانوں پر وحشیانہ تشدد کی شدید مذمت کرتا ہے اور اس پر اقوام متحدہ کی مجرمانہ بے حسی اور مغربی ممالک کے منافقانہ طرز عمل کو انتہائی تکلیف دہ قرار دیتے ہوئے تمام مسلم حکومتوں سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ اقوام متحدہ سے اگر اپنے مظلوم مسلمانوں کے قتل عام کو رکوانے کا مقصد بھی حاصل نہیں کر سکتے تو اس نام نہاد عالمی ادارے کے ساتھ اپنی وابستگی پر نظر ثانی کریں اور اس کی سرگرمیوں کا بائیکاٹ کر کے اقوام متحدہ کی قیادت کو یہ احساس دلائیں کہ اگر وہ مسلمانوں کے بارے میں اپنے منافقانہ طرز عمل اور دوہرے معیار کو ترک کرنے کے لئے تیار نہیں ہے تو عالمی نقشے پر اس کے وجود کو برقرار رکھنے کا کوئی جواز نہیں۔ بوسنیا، صومالیہ، کشمیر، فلسطین اور بھارت کے مسلمانوں کے ساتھ مکمل یکجہتی اور ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے دنیا بھر کی تمام مسلم حکومتوں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس بارے میں ٹھوس اور سنجیدہ لائحہ عمل اختیار کریں۔

فیصلہ کو ملت اسلامیہ کے اجتماعی فیصلوں کے تسلسل کا ایک حصہ قرار دیتے ہوئے اس کا خیر مقدم کرتا ہے اور قادیانیوں پر یہ بات

صفحہ ۲۵۸

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

واضح کر دینا چاہتا ہے کہ تمام مکاتب فکر کے علمی و دینی اداروں، پارلیمنٹ اور سپریم کورٹ کی طرف سے قادیانیوں کو ملت اسلامیہ سے قطعی الگ ایک غیر مسلم گروہ قرار دیئے جانے کے واضح اور دو ٹوک فیصلوں کے بعد بھی اگر وہ اپنی اس حیثیت کو تسلیم کرنے کے لئے تیار نہیں ہیں تو اس کا مطلب اس کے سوا کچھ نہیں ہے کہ وہ اپنے خلاف کشیدگی اور اشتعال کی فضاء کو نہ صرف عمداً قائم رکھنا چاہتے ہیں بلکہ اپنے طرز عمل کے ساتھ اس میں مسلسل اضافہ بھی کر رہے ہیں۔ یہ اجتماع قادیانی گروہ کو ہمدردانہ مشورہ دیتا ہے کہ وہ اپنے بارے میں ملت اسلامیہ کے اجتماعی فیصلہ کو قبول کرتے ہوئے اپنے نئے اور خود ساختہ عقائد سے توبہ کر کے ملت اسلامیہ میں واپس آجائے ۔ ورنہ غیر مسلم گروہ کی حیثیت کو قبول کر کے دیگر غیر مسلم اقلیتوں کی طرح اپنے مسلّمہ اور جائز حقوق حاصل کرے، جن کے حصول میں قطعاً کوئی رکاوٹ نہیں ہے۔

نگاہ سے دیکھتا ہے جو آٹھویں ترمیم کے خاتمہ اور دیگر آئینی مباحث کے حوالہ سے دستور پاکستان کی اسلامی دفعات کے خاتمہ اور قادیانیت کے بارے میں پارلیمنٹ کے فیصلہ کو غیر مؤثر بنانے کے لئے سامنے آرہی ہیں۔ یہ اجتماع پاکستان کی دینی قوتوں سے اپیل کرتا ہے کہ وہ اس صورتحال کا سنجیدگی کے ساتھ جائزہ لیں اور پاکستان کی نظریاتی، آئینی حیثیت اور قادیانیت کے بارے میں آئینی فیصلہ سمیت پاکستان کی تمام اسلامی دفعات کے تحفظ کے لئے مکمل اتحاد اور یکجہتی کا مظاہرہ کریں۔ نیز یہ اجتماع پاکستان کی مذہبی قوتوں پر واضح کر دینا چاہتا ہے کہ لوگوں کے باہمی انتشار اور غیر سنجیدہ طرز عمل کے باعث آئین کی اسلامی دفعات کو کوئی نقصان پہنچا تو اس کی ذمہ داری صرف ان پر ہوگی اور تاریخ انہیں معاف نہیں کرے گی۔

موجودہ نگران وزیر اعظم معین قریشی کا تعلق ورلڈ بینک میں قادیانی لیڈر ایم ایم احمد کے گروپ سے ہے اور وزارت عظمیٰ کے لئے ان کا نام بھی ایم ایم احمد کی طرف سے تجویز کیا گیا ہے۔ بالخصوص اس پس منظر میں کہ قادیانی گروہ کے سربراہ مرزا طاہر احمد کی جانب سے اپنے خطابات میں قادیانیت کے حوالے سے پاکستان کے حالات کی تبدیلی اور بقول ان کے قادیانی لیڈرشپ کی باوقار وطن واپسی کی پیشین گوئیوں کا سلسلہ کئی ماہ سے جاری ہے۔ یہ اجتماع جناب معین قریشی سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ اس حوالہ سے اپنی پوزیشن واضح کریں ورنہ ان کی خاموشی ان اخباری اطلاعات کی تصدیق کے مترادف سمجھی جائے گی اور یہ صورتحال پاکستان میں تحریک ختم نبوت کو انہی خطوط پر دوبارہ منظم کئے جانے کا باعث بن سکتی ہے۔ جن پر ۱۹۵۳ء، ۱۹۷۴ء اور ۱۹۸۴ء میں تحریک ختم نبوت مختلف مراحل سے گزر چکی ہے۔

فیصلہ اور امتناع قادیانیت آرڈینینس پر عملدرآمد کے لئے کل جماعتی مجلس تحفظ ختم نبوت کے تمام مطالبات بالخصوص قومی شناختی کارڈ میں مذہب کے خانہ کے اضافہ کے مطالبہ کو بلا تاخیر منظور کیا جائے جو آنے والے انتخابات میں جداگانہ الیکشن کے عملی تقاضوں کو پورا کرنے کے لئے ناگزیر ہے۔ یہ اجتماع پاکستان کی دینی و سیاسی جماعتوں سے اپیل کرتا ہے کہ وہ انتخابات سے قبل اس جائز اور منطقی مطالبہ کو منظور کرانے کے لئے اپنا اثر و رسوخ بھر پور طریقہ سے استعمال کریں۔

صفحہ ۲۵۹

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

روزنامہ جنگ لندن میں شائع ہونے والی رپورٹ

نگران وزیر اعظم اور پاکستانی حکام قادیانیت کی کھلی تبلیغی سرگرمیوں کا نوٹس لیں۔

مرزا غلام احمد قادیانی کے پیروکار آئین پاکستان اور عدالت عالیہ پاکستان کے احکامات کی کھلی خلاف ورزی کر رہے ہیں اور ببانگ دہل اعلان کر رہے ہیں کہ وہ آئین اور پاکستان کے خلاف اپنی سرگرمیاں جاری رکھیں گے۔ اس لئے ان کے خلاف کھلی عدالت میں آئین سے بغاوت کے الزام میں مقدمہ قائم کیا جائے اور پاکستان میں قادیانیوں کی کھلے عام تبلیغ پر پابندی عائد کی جائے۔ قادیانیوں کے ڈش انٹینا کے پروگراموں کو پاکستان میں ممنوع قرار دیا جائے۔ تمام مسلمان ممالک کی حکومتوں اور غیر مسلم حکومتوں سے مطالبہ کیا جائے کہ وہ قادیانیوں کے ساتھ غیر مسلموں کا معاملہ کریں اور پاکستانی آئین اور عدالت عالیہ پاکستان کے فیصلوں کا احترام کریں۔ مرزا طاہر کے سالانہ اجتماع میں بیان کیا کہ پاکستان، بنگلہ دیش، گھانا میں قادیانیت کے اثرات بڑھ رہے ہیں، کا نوٹس لیا جائے۔ کلیدی عہدوں پر فائز قادیانی افسران کی ملک دشمن سرگرمیوں کا سختی سے نوٹس لیتے ہوئے نگران وزیر اعظم کے بارے میں قادیانی غلط قسم کے پروپیگنڈے کر رہے ہیں۔ اس سلسلے میں نگران وزیر اعظم اپنا مؤقف واضح کریں تاکہ قادیانیوں کا پروپیگنڈہ غیر مؤثر ہو جائے۔ بوسنیا، فلسطین، صومالیہ، کشمیر کے مسلمانوں پر جو مظالم ڈھائے جا رہے ہیں، وہ قابل مذمت ہیں۔ اس لئے عالم اسلام خصوصاً پاکستان اور سعودی عرب سے اپیل ہے کہ وہ ان ممالک کی فوجی امداد کرے اور ہندوستان اور صومالیہ اور سرب حکومت پر دباؤ ڈالے کہ وہ ان مظالم کی روک تھام کریں۔ ان خیالات کا اظہار امام حرم نبوی الشیخ علی عبدالرحمن الحذیفی اور پاکستان، افریقہ، ہندوستان، ازبکستان، سعودی عرب، بوسنیا، صومالیہ، کشمیر اور دیگر ممالک کے علمائے کرام نے آٹھویں عالمی ختم نبوت کانفرنس سے برمنگھم کی جامع مسجد میں خطاب کرتے ہوئے کیا۔ تلاوت کے بعد کانفرنس کے اغراض و مقاصد بیان کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت قادیانی گروہ پوری طرح سرگرم عمل ہے۔ مسلمانوں کو عقیدہ ختم نبوت کی اہمیت کا احساس کرانا چاہئے۔ امام مسجد نبوی شیخ علی عبدالرحمن الحذیفی نے عالمی ختم نبوت کے امیر مرکزیہ مولانا خواجہ خان محمد کی درخواست پر کانفرنس کا افتتاح کرتے ہوئے کہا کہ مسلمانوں کو گمراہی سے بچانا اور دین اور عقائد خصوصاً عقیدہ ختم نبوت پر مضبوط اور مستحکم رکھنا بہت ضروری ہے۔ قادیانی، عقیدہ ختم نبوت پر ضرب لگا رہا ہے اور سادہ لوح مسلمانوں کو مرتد بنانے کے درپے ہے۔ دنیا کے تمام مسلمانوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس کی سرکوبی کے لئے جدوجہد کریں۔ میں خادم الحرمین الشریفین شاہ فہد اور علمائے سعودی عرب کی طرف سے اس جدوجہد میں آپ کو سلام عقیدت پیش کرتا ہوں اور ان کی طرف سے ہر ممکن تعاون کا یقین دلاتا ہوں۔ جمعیت علمائے افریقہ کے سیکرٹری جنرل مولانا ظہیر احمد بگوی نے کہا کہ افریقی ممالک کے سادہ لوح مسلمانوں کو مرتد بنانے کی بھرپور جدوجہد کی جارہی ہے۔ عالمی ختم نبوت کانفرنس کو ان علاقوں کی طرف توجہ دینی چاہئے۔ ورلڈ اسلامک فورم کے سربراہ مولانا زاہد الراشدی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ قادیانی بنیادی حقوق کا نعرہ لگا کر غیر مسلم حکومتوں کو گمراہ کر کے ہمدردی حاصل کر رہے تھے۔ ان کے سالانہ اجتماع میں ہندوستان اور پاکستان دشمن ممالک کے سرکاری عہدیداروں کی شرکت سے واضح ہو جاتا ہے کہ قادیانی گروہ پاکستان اور اسلام دشمن ہے۔ عدالت عظمیٰ نے بنیادی حقوق سے متعلق قادیانیوں کی اپیلوں پر فیصلہ دے کر کہ ان کو غیر مسلم کہنا بنیادی حقوق کے خلاف نہیں، علمائے کرام کے مؤقف کو ثابت کر دیا ہے۔ مولانا محمد یوسف لدھیانوی نائب امیر مرکزیہ نے کہا کہ اخبارات میں پڑھ لیا ہوگا کہ قادیانی سربراہ کس طرح امت مسلمہ کو گمراہ کرنے کی کوشش میں مصروف ہیں۔ ہمارا قادیانی جماعت سے ایک ہی جھگڑا ہے۔ وہ یا تو جھوٹی نبوت کا دعویٰ اور اس کی پیروی چھوڑ دیں اور تائب ہو کر دائرہ اسلام میں داخل

صفحہ ۲۶۰

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۳ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

ہو جائیں یا اپنے آپ کو مسلمان کہلانا چھوڑ دیں۔ عقیدہ ختم نبوت امت کا متفقہ عقیدہ ہے۔ اس کا انکار یا جھوٹی نبوت کا دعویٰ کفر ہے۔ آئین پاکستان، قانون پاکستان، پاکستان کی عدالتیں فیصلہ کر چکی ہیں کہ قادیانی غیر مسلم ہیں۔ اب قادیانی گروہ اپنے آپ کو مسلمان کہنے پر کیوں مصر ہے۔ ہم پاکستان سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ فوراً قادیانی گروہ کی تبلیغ کو ممنوع قرار دے ورنہ ہم ان کا خود راستہ روکیں گے۔ ڈاکٹر عبدالرزاق سکندر نے کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کتنے افسوس کی بات ہے کہ امت مسلمہ میں انتشار پیدا کرنے کے لئے ہر ممکن حربے اختیار کئے جارہے ہیں اور ایسی جماعتوں کی تمام غیر مسلم حکومتیں پشت پناہی کرتی ہیں جو مسلمانوں میں افتراق پیدا کریں۔ اس جماعت میں اس وقت سب سے بڑی جماعت قادیانی جماعت ہے۔ جس نے ملت کو انتشار میں مبتلا کر دیا ہے۔ وہ مسلمانوں کو دین اور اسلام اور پاکستان کے خلاف ابھارتے ہیں۔ اس لئے اس وقت ضرورت ہے کہ اس جماعت کی سرگرمیوں کو روکا جائے۔ کشمیر ریلیف کمیٹی سعودی عرب کے سربراہ الشیخ عبدالحفیظ مکی نے کہا کہ کشمیر کے مظلوم مسلمان اپنی آزادی کے لئے جو جنگ لڑ رہے ہیں وہ یقیناً کامیابی حاصل کرے گی اور کشمیر آزاد ہوگا۔ سابق وزیر مذہبی امور قاری سعیدالرحمن نے کہا کہ اس وقت جب کہ بوسنیا، صومالیہ، کشمیر فلسطین میں مسلمانوں پر مظالم کے پہاڑ ڈھائے جارہے ہیں۔ عالم اسلام کو متحد ہو کر ان ملکوں کی فوجی امداد کرنی چاہئے۔ لیکن اس وقت قادیانی گروہ مسلمانوں میں انتشار پیدا کرنے کی جدوجہد میں مصروف ہے لیکن عالمی ختم نبوت قادیانیوں کے اس حربے کو ناکام بنانے کی ہر ممکن جدوجہد اللہ تعالیٰ کے فضل وکرم سے جاری رکھے گی۔ مدرسہ صولتیہ کے استاد حدیث مولانا سعید عنایت اللہ نے کہا کہ امت کے متواتر عمل اور قرآن مجید اور احادیث نبویہ ﷺ سے ثابت ہے کہ عقیدہ ختم نبوت ایسا عقیدہ ہے جس کا منکر دائرہ اسلام سے خارج ہے اور جھوٹے نبی اور اس کے پیروکاروں کی سزا سوائے موت کے اور کچھ نہیں۔ کل ہند مجلس تحفظ ختم نبوت کے سیکرٹری جنرل اور استاد حدیث دارالعلوم دیوبند مولانا سعید احمد پالن پوری نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں غیر مسلم اقلیت قرار پانے کے بعد قادیانی گروہ نے اپنا رخ ہندوستان اور یورپ کی طرف موڑ لیا ہے۔ اس لئے اس وقت ضرورت ہے کہ یورپ میں اس فتنہ کی سرکوبی تمام مسلمان خصوصاً نوجوان متحد ہو کر کریں۔ جمعیۃ علمائے ہند کے امیر مولانا محمد اسعد مدنی کے صدارتی خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جھوٹے مدعی نبوت کو احادیث نبوی ﷺ میں کذاب اور دجال کہا گیا ہے اور اسلام میں کذاب اور دجال کی کوئی گنجائش نہیں۔ اس لئے مسلمان چاہے ہند کا ہو، پاکستان، یورپ یا امریکہ کا ہو اس کا یہ فریضہ ہے کہ وہ کذاب اور دجال کے خلاف جہاد کرے اور عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت مشترکہ طور پر اس جدوجہد میں مصروف ہے اور الحمد للہ ! ان کی کوشش سے لوگ مرتد ہونے سے بچ رہے ہیں۔ تمام نوجوانوں کو چاہئے کہ وہ اس عقیدہ کے تحفظ کے لئے ہر ممکن جدوجہد کریں۔

عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے ناظم نشریات مولانا اللہ وسایا نے تمام مہمانان گرامی اور مسلمانوں کا شکریہ ادا کیا جن کی انتھک محنت سے یہ کانفرنس کامیاب ہوئی۔ خصوصاً امام مسجد نبوی شیخ حذیفی نے کہا کہ ان کی پہلی دفعہ یورپ میں آمد عقیدہ ختم نبوت کی وجہ سے ہوئی۔ اس لئے ان کی اور دیگر علماء کرام مشائخ عظام کی آمد یورپ کے مسلمانوں کے لئے نیک فال ہوگی اور پاکستان کی طرح یورپ اور دیگر ممالک کے قادیانیوں کی تبلیغی سرگرمیوں کا سدباب ہوگا۔ کانفرنس میں درج ذیل علماء نے خصوصی طور پر شرکت کی۔ مولانا عبدالرشید ربانی، مولانا منظور احمد الحسینی، مولانا محمد عیسیٰ منصوری، مولانا قاضی محمد اویس خان ایوبی، مولانا حافظ محمد اقبال رنگونی، مولانا محمد سلیم دھورات، مولانا امداد الحسن نعمانی، مولانا عبدالحئی عابد، مولانا امداد اللہ قاسمی، مولانا حماد اللہ شفیق، مولانا حبیب الرحمٰن درخواستی، مولانا محمد اکرم طوفانی، مولانا حکیم عبدالواحد سیالکوٹی، مولانا عبد الہادی العمری، مولانا محمد موسیٰ قاسمی، صاحبزادہ سلطان فیاض الحسن قادری سرپرست اعلیٰ سلطان باہو ٹرسٹ،

صفحہ ۲۶۱

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۳ء

ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

مولانا محمد یوسف متالا، مولانا اقبال اللہ، مولانا قاری عبدالرشید رحمانی، مولانا محمد ابراہیم سیالکوٹی، مولانا خورشید احمد، مولانا منظور الحق، مولانا محمد فاروق، مولانا قاری محمد عمران جہانگیری، مولانا علی بھائی، مفتی شبیر احمد۔ انگلینڈ کے تمام شہروں سے کوچوں، ویگنوں اور گاڑیوں سے لوگ کانفرنس میں شرکت کے لئے آئے۔

(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ص ۱۴ تا ۲۲، مؤرخہ ۳ تا ۹؍ستمبر ۱۹۹۳ء)

قادیانی اپنے بارے میں ملت اسلامیہ کے اجتماعی فیصلہ کو قبول کرلیں (مولانا سعید احمد پالن پوری)

لندن (پ۔ر) آل انڈیا مجلس تحفظ ختم نبوت کے سیکرٹری جنرل اور دارالعلوم دیوبند کے استاد حدیث مولانا سعید احمد پالن پوری نے کہا ہے کہ پاکستان میں امتناع قادیانیت کا صدارتی آرڈیننس نافذ ہونے کے بعد منکرین ختم نبوت نے بھارت کا رخ کیا تھا۔ لیکن علماء ہند کی بیداری اور بر وقت جدوجہد نے اس یلغار کو روک دیا ہے اور بھارت کے مسلمانوں کو دام فریب میں پھنسانے کا قادیانی منصوبہ ناکام ہو گیا ہے۔ وہ پلیشٹ گرو ایسٹ ہیم کی جامع مسجد میں ایک اجتماع سے خطاب کر رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ ۱۹۸۶ء میں دیوبند میں پورے بھارت کے علماء کا اجتماع منعقد کر کے مجلس تحفظ ختم نبوت قائم کر دی گئی تھی جو اب تک ختم نبوت کے محاذ پر سرگرم عمل ہے اور بھارت کے مسلمانوں کے عقیدہ و ایمان کی حفاظت کے لئے جدوجہد جاری ہے۔ انہوں نے یورپ میں رہنے والے مسلمانوں سے اپیل کی کہ وہ بھی اپنی نئی نسل کے ایمان کی حفاظت کے لئے بیداری کا مظاہرہ کریں۔ ختم نبوت سینٹر لندن کے رہنما مولانا منظور احمد الحسینی نے خطاب کرتے ہوئے تحریک ختم نبوت میں علماء اور کارکنوں کی قربانیوں کا ذکر کیا اور کہا کہ ان قربانیوں کے تسلسل کو قائم رکھنا ضروری ہے۔ کیونکہ فتنے دن بدن بڑھتے جارہے ہیں اور ان فتنوں سے بچنے کے لئے ایثار اور قربانی کی ضرورت ہے۔ دریں اثناء ورلڈ اسلامک فورم کے چیئرمین مولانا زاہد الراشدی نے کرائیڈن کی جامع مسجد میں اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ قادیانی مسلم تنازعہ کا ایک ہی قابل عمل حل ہے کہ قادیانی گروہ اپنے بارے میں ملت اسلامیہ کے اجتماعی فیصلہ کو قبول کرتے ہوئے بھائیوں کی طرح مسلمان سے اپنا تشخص الگ کرلیں۔ اس کے بغیر اشتباہ ختم نہیں ہوگا اور کشمکش میں اضافہ ہوتا رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ بہائی گروہ بھی ایک نئے مدعی نبوت کا پیروکار ہے اور اسے بھی ہم قادیانیوں کی طرح کافر سمجھتے ہیں۔ لیکن اس کے ساتھ قادیانیوں کی طرز کا تنازعہ نہیں ہے۔ اس لئے کہ بہائیوں نے اسلام کا نام اور مسلمانوں کے مخصوص مذہبی شعائر استعمال کرنے کی بجائے اپنے لئے الگ نام اور تشخص کی علامات اختیار کر لی ہیں۔ اگر قادیانی بھی ایسا کر لیں تو کشمکش کی موجودہ فضاء ختم ہو سکتی ہے۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی رہنما مولانا اللہ وسایا نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی عدالت عظمیٰ کے حالیہ فیصلے نے ملت اسلامیہ کے اس مؤقف کی توثیق کر دی ہے کہ قادیانی جماعت کا اسلام کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے۔ اب قادیانیوں کو بھی چاہئے کہ وہ ہٹ دھرمی چھوڑ دیں اور پوری ملت اسلامیہ کے خلاف محاذ آرائی کا راستہ ترک کر دیں۔ انہوں نے کہا کہ قادیانیوں کے لئے بہتر راستہ یہی ہے کہ وہ توبہ کر کے ملت اسلامیہ کے اجتماعی دھارے میں واپس آجائیں ورنہ اپنے بارے میں ملت اسلامیہ کے فیصلے کو تسلیم کر کے جدا گانہ تشخص اختیار کر لیں۔

(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ص ۲۰، مؤرخہ ۳ تا ۹؍ستمبر ۱۹۹۳ء)

عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی اپیل پر یوم ختم نبوت منایا گیا

لندن (پ۔ر) عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے رہنماؤں مولانا خواجہ خان محمد، مولانا محمد یوسف لدھیانوی، مولانا ڈاکٹر عبدالرزاق اسکندر، مولانا اللہ وسایا، قاری سعید الرحمن، مولانا زاہد الراشدی، مولانا محمد اکرم طوفانی، مولانا منظور احمد الحسینی، مولانا ظہیر احمد راگی، مولانا سعید احمد پالن پوری، مولانا ملک عبدالحفیظ، مفتی محمد جمیل خان، الحاج عبدالرحمٰن یعقوب باوا، مفتی منیر احمد کی اپیل پر پورے برطانیہ میں

صفحہ ۲۶۲

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۳ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

مسلمانوں نے یوم ختم نبوت مناتے ہوئے اس بات کا عزم کیا کہ عقیدۂ ختم نبوت کے تحفظ کے لئے وہ کسی قسم کی قربانیوں سے دریغ نہیں کریں گے اور قادیانیوں کی طرف سے مسلمانوں کو گمراہ کرنے اور عقیدۂ ختم نبوت کے بارے میں شکوک وشبہات پیدا کرنے اور جھوٹے نبی کے عقیدہ کی تبلیغ کرنے کی مکروہ سازشیں ہورہی ہیں۔ ان کو روکنے کی بھرپور جدوجہد کریں گے۔ یوم ختم نبوت کے موضوع پر تمام ائمہ کرام اور علماء کرام نے جمعہ کے خطبات اور مختلف نشستوں میں روشنی ڈالتے ہوئے واضح کیا کہ خلیفہ اول سیدنا حضرت ابوبکر صدیقؓ سے لے کر آج تک امت مسلمہ کا یہ دستور رہا ہے کہ نبوت کا جھوٹا دعویٰ کرنے والے کے خلاف جہاد کرے۔ اسی اصول کے پیش نظر مرزا غلام احمد قادیانی نے نبوت کا دعویٰ کیا تو تمام مسلمانوں نے علماء کرام کے فتویٰ کی روشنی میں اس کے خلاف جہاد کا اعلان کیا۔ دریں اثناء پاک وہند سے ختم نبوت کانفرنس میں شرکت کے لئے آئے ہوئے علماء کرام مولانا محمد یوسف لدھیانوی نے گلاسگو سینٹرل مسجد میں، مولانا ڈاکٹر عبدالرزاق اسکندر نے ایڈنبرا رکسبرو مسجد میں، مولانا سعید احمد پالن پوری نے ڈنڈی اسلامک سینٹر میں، جناب عبدالرحمٰن یعقوب باوا نے ماورویل جامع مسجد میں، مولانا اکرم طوفانی نے وڈاسٹاک برمنگھم میں جمعہ کے اجتماعات سے خطاب کیا۔ انہوں نے اپنے بیانات میں عقیدۂ ختم نبوت کے مختلف گوشوں میں روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ جب مسیلمہ کذاب نے نبوت کا دعویٰ کیا اور اسلام کے بنیادی عقیدہ کو گزند پہنچانے کی ناپاک کوشش کی تو حضرت ابوبکر صدیقؓ نے اس کاذب مفتری سے کسی قسم کا مناظرہ کرکے دعویٰ نبوت کے جواب میں دلیل طلب نہیں کی بلکہ آپ نے مسیلمہ کذاب کے خلاف جہاد کا اعلان کر کے مسلمانوں کی متاع دین وایمان کو ایک عیار اور مکار کے دست برد سے بچالیا۔ انہوں نے کہا کہ اسی مسئلہ ختم نبوت پر ۱۹۵۳ء میں پاکستان میں تحریک چلی تو ہزاروں مسلمانوں نے جانوں کے نذرانے دے کر ثابت کیا کہ یہ مسئلہ مسلمانوں کے لئے کس قدر اہم ہے۔ علماء کرام نے ۱۹۵۳ء کے شہدائے ختم نبوت کو خراج عقیدت پیش کیا۔

(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ص۲۱، مورخہ ۳ تا ۹ ستمبر ۱۹۹۳ء)

ختم نبوت کانفرنس اوچ شریف

رسول پورہ شکرانی اوچ شریف میں ۲؍اگست ۱۹۹۳ء کو ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی۔ مولانا محمد اسحق ساقی، مولانا سید عطاء الحسن بخاری، مولانا رشید احمد عباسی، مولانا اللہ بخش مدرسہ قدوسیہ بہاول پور، مولانا یار محمد عابد، مولانا قادری صاحب بریلوی ملتان نے خطاب فرمایا۔

ختم نبوت سیمینار لاہور

عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت لاہور کے زیر اہتمام ۷؍ستمبر ۱۹۷۴ء کے عظیم الشان فیصلہ جس میں مرزائیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا گیا تھا، کی یاد میں ۷؍ستمبر ۱۹۹۳ء کو جناح ہال مال روڈ لاہور میں مغرب کی نماز کے بعد ختم نبوت سیمینار منعقد ہوا۔ جس کی صدارت قائد تحریک ختم نبوت حضرت مولانا خان محمد صاحب مدظلہ نے کی۔ کانفرنس سے مختلف دینی جماعتوں کے رہنماؤں، وکلاء اور علماء کرام نے خطاب کیا۔ فرینڈز آف بوسنیا کے جنرل سیکرٹری محمد حسن الملک نے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے بوسنیا اور جہاد بوسنیا کے مسلمانان بوسنیا کی جدوجہد اور مساعی سے سامعین کو آگاہ کیا۔ سرزمین بوسنیا سے تعلق رکھنے والے مجاہد استاذ نور الدین نے کہا کہ میں پہلی دفعہ اپنے دوست ملک پاکستان میں آیا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ بوسنیا میں دو لاکھ مسلمان شہید اور پچیس ہزار کو زخمی کردیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پانی، بجلی اور کھانے کی اشیاء کی قلت کے باوجود ہم عیسائی جارحیت کا مقابلہ کر رہے ہیں۔

جناب رشید مرتضیٰ قریشی: لاہور ہائیکورٹ کے وکیل جناب رشید مرتضیٰ قریشی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ قادیانی امریکہ،

صفحہ ۲۶۳

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

برطانیہ اور روس جیسی اسلام دشمن طاقتوں کے آلہ کار ہیں۔ وقت آگیا ہے کہ ہم قادیانیوں کے خلاف اپنی جدوجہد کو تیز کر دیں۔ اس سلسلہ میں مسیحیوں کو ہمارے ساتھ تعاون کرنا چاہئے۔ کیونکہ مرزا قادیانی نے جہاں حضور ﷺ کی اہانت کی ہے وہاں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی بھی توہین کا ارتکاب کیا ہے۔

بشپ ویلتھ : مسیحی راہنما بشپ ویلتھ نے خطاب کرتے ہوئے بوسنیا کے مظلوم عوام پر سربوں کے بدترین ظلم و تشدد کی پرزور مذمت کی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں مکمل اسلامی نظام نافذ کر دیا جائے تو ہمیں کوئی اعتراض نہیں ہوگا۔ بائبل اور قرآن پاک دونوں الہامی کتابیں ہیں۔ دونوں کی متعدد تعلیمات وقوانین میں یکسانیت ہے۔ یہاں مسیحیوں کو پرسنل لاء کی آڑ میں غلط کاموں کی چھوٹ دی گئی ہے۔ میں اس کی بھرپور مذمت کرتا ہوں۔ شراب اور زنا عیسائی مذہب میں بھی حرام ہے۔ عیسائی شراب کے پرمٹ لے کر اس کا غلط استعمال کرتے ہیں۔ پاکستان ایک اسلامی ملک ہے۔ اس میں شراب پر مکمل پابندی عائد کی جائے۔ جس نے شراب پینی ہے وہ پاکستان سے باہر چلا جائے۔ انہوں نے کہا کہ شناختی کارڈ میں مذہب کا خانہ اس وقت کی اہم دینی و قومی ضرورت ہے۔ انہوں نے سابق ایم. این. اے جے سالک کے متعلق کہا کہ وہ انسان کم اور بہروپیا زیادہ ہے۔ غیر ملکی ایجنسیوں سے پیسے لے کر اہم قومی وملی مسائل کے خلاف احتجاج کرتا ہے۔ جب کہ ہمارے مذہب میں بھوک ہڑتال حرام ہے۔ شناختی کارڈ میں مذہب کے خانہ کے سلسلہ میں مسیحی لیڈروں کے اشکالات وخدشات بے بنیاد ہیں۔ پاسپورٹ میں عیسائی لکھوانے پر اس لئے اعتراض نہیں کیا جاتا کہ اس سے ویزا جلدی مل جاتا ہے۔ شراب کا پرمٹ حاصل کرنے کے لئے خود کو عیسائی ظاہر کرنا برا نہیں سمجھا جاتا۔ تو شناختی کارڈ میں مذہب کے خانہ کے اضافہ میں کیا حرج ہے؟

اسماعیل قریشی ایڈووکیٹ سپریم کورٹ : جناب اسماعیل قریشی سینئر ایڈووکیٹ سپریم کورٹ آف پاکستان نے کہا کہ قادیانیت اس صدی کا سب سے بڑا فتنہ اور فراڈ ہے۔ سید عطاء اللہ شاہ بخاری سے لے کر مولانا خان محمد صاحب تک تمام راہنمایان ختم نبوت نے ان کا بھرپور تعاقب کیا اور اس جہد مسلسل کی بناء پر قادیانی ہر جگہ ذلیل ورسواء ہورہے ہیں۔ سپریم کورٹ میں حالیہ عظیم الشان کامیابی مجلس تحفظ ختم نبوت کی مرہون منت ہے اور مجھے یہ اعزاز حاصل ہے کہ میں نے سپریم کورٹ میں عالمی مجلس تحفظ کی وکالت کی۔ میں نے سپریم کورٹ میں اپنے دلائل میں کہا کہ ایک شخص سپریم کورٹ کے جج کا عہدہ اور نام استعمال نہیں کر سکتا۔ جعلی کرنسی نہیں چل سکتی تو جعلی نبوت کیسے چل سکتی ہے۔ سپریم کورٹ کے فیصلہ سے قادیانیوں کی کمر ٹوٹ چکی ہے۔

جناب صاحبزادہ طارق محمود : عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے سیکرٹری اطلاعات صاحبزادہ طارق محمود فیصل آباد سے خصوصی طور پر تشریف لائے تھے۔ ان کے ہمراہ مدیر لولاک محمد ندیم بھی تھے۔ انہوں نے ختم نبوت سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ نگران وزیر اعظم ایم. ایم احمد قادیانی کی دریافت ہیں۔ ایم. ایم احمد مرزا قادیانی کا پوتا ہے۔ وہ پاکستان آیا تو اسے سرکاری پروٹوکول دیا گیا۔ اس نے کئی مرتبہ سابق صدر غلام اسحاق خاں سے خفیہ ملاقاتیں کیں۔ ان ملاقاتوں کے بعد معین قریشی کو پاکستان پر مسلط کیا گیا۔ معین قریشی کی بیوی جرمن نژاد ہے اور اس کی بیٹی بھی ایک غیر مسلم سے بیاہی ہوئی ہے۔ حکومت کی طرف سے کسی کو غدار اور کافر کہنے پر پابندی کے آرڈیننس کے ذریعے اگر قادیانیوں کو تحفظ دینے کی کوشش کی گئی تو اس کی بھرپور مزاحمت کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اطلاعات کا بیان اخبارات میں چھپا کہ ہمارے اقتصادی پیکج سمیت تمام اقدامات ایک معاہدہ کے تحت عمل میں لائے جارہے ہیں۔ یہ معاہدہ نواز شریف اور بے نظیر کی رضامندی سے معرض وجود میں آیا۔ پاکستان میں اقتدار پر کسی غدار یا حضور ﷺ کے باغی کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ اگر حکمرانوں نے قادیانیت نوازی نہ چھوڑی تو ۱۹۹۴ء میں چلنے والی تحریک قادیانیت کو خس و خاشاک کی طرح بہا کر لے جائے گی۔

صفحہ ۲۶۴

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

مولانا امجد خان: جمعیۃ علماء اسلام کے راہنما مولانا امجد خان نے کہا کہ آج کا دن ایک تاریخی دن ہے۔ جس میں پاکستان قومی اسمبلی نے ۱۹۷۴ء میں متفقہ طور پر قادیانیوں اور لاہوری مرزائیوں کو غیر مسلم قرار دیا تھا۔ قادیانی ۱۹۷۳ء کا آئین منسوخ کرانا چاہتے ہیں جو کسی صورت میں برداشت نہیں کیا جائے گا۔

شاہین ختم نبوت مولانا اللہ وسایا: عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی راہنما مولانا اللہ وسایا نے کہا کہ آج کا دن حکمرانوں سے مطالبہ کرتا ہے کہ ۱۹۷۴ء کی آئینی ترمیم کے تقاضے پورے کئے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ ۷؍ ستمبر ۱۹۷۴ء کو مرزائیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا گیا۔ ۲۶؍ اپریل ۱۹۸۴ء کو امتناع قادیانیت آرڈیننس آیا۔ اس آرڈیننس کے خلاف قادیانی وفاقی شرعی عدالت، شرعی اپیلنٹ بنچ اور سپریم کورٹ میں گئے۔ جہاں انہیں ذلت و رسوائی کا سامنا کرنا پڑا۔ سپریم کورٹ میں سماعت کے دوران مرزا طاہر نے اپنے گماشتوں کے ذریعہ اس کیس پر اثر انداز ہونے کی کوشش کی اور کہا کہ پاکستان میں اندھیرا چھٹ رہا ہے۔ روشنی پھیل رہی ہے۔ الحمدللہ! سپریم کورٹ کے چار ججوں نے پاکستان کے آئین، امت مسلمہ کے چودہ سو سالہ متفقہ عقائد اور قرآن و سنت کے مطابق فیصلہ دے کر پاکستان کے کروڑوں مسلم عوام کے دل جیت لئے ہیں۔ انہوں نے حکومت کو متنبہ کیا مذہبی معاملات میں مداخلت برداشت نہیں کی جائے گی۔ جناب اسماعیل قریشی نے عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ کے لئے پیشکش کی کہ قادیانیوں کے خلاف جب بھی اور جہاں بھی میری ضرورت ہو تو میری خدمات حاضر ہیں۔

مولانا قاضی محمد یونس انور: شہداء مسجد لاہور کے خطیب اور شبان پاکستان کے سرپرست اعلیٰ مولانا قاضی محمد یونس انور نے سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کلمہ کے نام پر معرض وجود میں آیا۔ لیکن یہ اس ملک کی بدقسمتی ہے کہ اس کا پہلا وزیر خارجہ ایک قادیانی مرتد آنجہانی ظفر اللہ خاں کو بنایا گیا۔ افغانستان سے ہمارے تعلقات کے بگاڑ کا سبب قادیانی مذکور ہی تھا۔ پاکستان کا پہلا چیف جسٹس ایک عیسائی کارنیلس کو بنایا گیا۔ ہم نے روز اوّل ہی سے اللہ تعالیٰ کے ساتھ کئے ہوئے وعدہ سے غداری کی اور کرتے ہی چلے گئے۔ ہر حکومت نے اس میں اپنا کچھ نہ کچھ حصہ ضرور ملایا اور ہر آنے والی حکومت قادیانیت کو کھلا چھوڑتی چلی گئی اور تحریک ختم نبوت کے شیدائیوں پر پابندی عائد کرتی گئی۔ بڑی قربانیوں کے بعد ۱۹۷۴ء میں انہیں غیر مسلم اقلیت قرار دیا گیا اور ۱۹۸۴ء میں امتناع قادیانیت کے نام سے ایک آرڈیننس آیا۔ حضرت الامیر کے حکم پر پیر طریقت حضرت مولانا سید نفیس شاہ صاحب کی دعا سے گیارہ بجے رات پروگرام اختتام پذیر ہوا۔

(ہفت روزہ لولاک فیصل آباد ص ۱۵، مؤرخہ ۸؍ اکتوبر ۱۹۹۳ء)

ختم نبوت کانفرنس قصور

قصور: مؤرخہ ۸؍ ستمبر ۱۹۹۳ء۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت قصور کے زیر اہتمام مکی جامع مسجد میں سالانہ ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی۔ مجلس تحفظ ختم نبوت کے ضلعی امیر چوہدری فضل حسین نے صدارت کی۔ خانقاہ سراجیہ نقشبندیہ کندیاں کے سجادہ نشین اور جماعت کے امیر مرکزیہ حضرت مولانا خان محمد صاحب اور قصور کے مشہور عالم دین حضرت مولانا سید محمد طیب ہمدانی مہمان خصوصی تھے۔ مقررین نے مسئلہ ختم نبوت اور قادیانیت پر گفتگو کی۔ مجلس کے راہنما، مولانا اللہ وسایا نے نگران حکومت کے اس اقدام کی مذمت کی جس کے تحت حکومت نے نام نہاد انسانی حقوق کی تنظیم، جس کی پشت پناہی قادیانی کر رہے ہیں۔ جس کی سربراہ عاصمہ جہانگیر ایڈووکیٹ اور مجیب الرحمٰن ایڈووکیٹ ہیں، کو قانونی حیثیت دے کر وزارت داخلہ کا ایک ذیلی شعبہ بنا دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم پاکستان کے تمام مسلمان، انسانی

صفحہ ۲۶۵

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

حقوق کے حامی ہیں اور کسی بھی غیر مسلم کی زندگی کے دشمن نہیں ہیں۔ لیکن اگر انسانی حقوق کا معنی یہ کیا جائے کہ پاکستان میں تمام اہم کلیدی آسامیوں پر قادیانیوں کو بٹھا دیا جائے اور انہیں ملک میں مرزا قادیانی کی جعلی نبوت کا پرچار کرنے کی کھلی چھٹی دے دی جائے تو ہم ایسا ہرگز نہیں ہونے دیں گے اور ملک عزیز کی سلامتی کے لئے اور آقائے دو جہاںﷺ کی ختم نبوت کے تحفظ کے لئے سر دھڑ کی بازی لگا دیں گے۔ حاضرین نے ہاتھ اٹھا کر مولانا کی تائید کی۔ انہوں نے کہا کہ نگران حکومت میں دو قادیانی وزیر شامل ہیں اور یہ حکومت قادیانیوں کی سرپرستی کر رہی ہے۔ حکومت کے حالیہ اقدامات سے خدشہ ہے کہ وہ قادیانیوں کے بارے میں ۱۹۷۴ء کی آئینی ترمیم اور ۱۹۸۴ء کے صدارتی آرڈیننس کو منسوخ کرنے کی کوشش کرے گی۔ مقررین نے جن میں ہفت روزہ لولاک فیصل آباد کے ایڈیٹر صاحبزادہ طارق محمود بھی شامل تھے۔ حکومت کو متنبہ کیا کہ قادیانیوں کی حمایت میں کسی آئینی ترمیم و تنسیخ کے چکر میں نہ پڑے۔ ورنہ حکومت کے خلاف ۱۹۵۳ء اور ۱۹۷۴ء سے بھی بڑی تحریک اٹھ کھڑی ہوگی۔ جس کا مقابلہ موجودہ در آمد شدہ وزیر اعظم کی حکومت نہیں کر سکے گی۔ اس کانفرنس میں مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی مبلغ لاہور ڈویژن اور مولانا محمد اکرم طوفانی مبلغ سرگودھا نے بھی خطاب کیا۔

(ہفت روزہ لولاک فیصل آباد ص۱۶، مورخہ ۲۲؍ستمبر ۱۹۹۳ء)

سالانہ ختم نبوت کانفرنس بہاول پور

۱۰؍ستمبر ۱۹۹۳ء کو جامع مسجد الصادق بہاول پور میں ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی۔ صدارت: حضرت الامیر مولانا خواجہ خان محمد صاحب، تلاوت: قاری محمد شریف صاحب، نعت: قاری مشتاق احمد صاحب، تقریر: مولانا امام الدین قریشی (مظفر گڑھ)، مولانا اللہ وسایا (ملتان)، مولانا غلام مصطفیٰ (بہاول پور)، مولانا عزیز الرحمن جالندھری (ملتان)، حضرت مولانا عبدالمجید لدھیانوی (کہروڑ پکا)، حضرت مولانا محمد لقمان علی پوری، سٹیج سیکرٹری: مولانا محمد اسحق ساقی تھے۔ جلسہ میں متعدد قراردادیں منظور کی گئیں۔ حضرت امیر مرکزیہ نے مدرسہ تعلیم القرآن ختم نبوت کے طلباء کی دستار بندی کرائی اور آپ ہی کی دعا پر جلسہ اختتام پذیر ہوا۔

مرکزی مبلغین مولانا خدا بخش شجاع آبادی اور مولانا نذیر احمد تونسوی نے ضلع اٹک کا ہفت روزہ تبلیغی دورہ کیا

گزشتہ دنوں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی رہنماؤں مولانا خدا بخش شجاع آبادی اور مولانا نذیر احمد تونسوی نے ضلع اٹک کا تفصیلی دورہ کر کے مختلف اجتماعات اور ختم نبوت کانفرنسوں سے خطاب کیا۔ مجلس کے مبلغین کے اٹک آنے پر اٹک شہر کے جماعتی احباب نے جناب فخر الاسلام، جناب عتیق الرحمن اور محمد شریف کی قیادت میں مبلغین کا پرجوش استقبال کیا اور ختم نبوت ضلع اٹک کے زیر اہتمام درج ذیل مقامات پر مختلف اوقات میں پروگرام ہوئے۔ (۱) ڈھوک فتح، (۲) شکر درہ، (۳) حاجی شاہ، (۴) تاجے کے، (۵) چک لنگو، (۶) فتح جنگ اور (۷) اٹک شہر کی مختلف مساجد میں مسئلہ ختم نبوت کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے مولانا خدا بخش اور مولانا نذیر احمد تونسوی نے کہا کہ ختم نبوت کا عقیدہ مسلمانان عالم کا بنیادی عقیدہ ہے اور ملت اسلامیہ نے اس عقیدہ کے تحفظ کے لئے بے پناہ قربانیاں پیش کی ہیں اور چودہ سو سالہ اسلامی تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ ملت اسلامیہ نے کبھی بھی آنحضرتﷺ کے بعد کسی مدعی نبوت کو برداشت نہیں کیا اور نہ قیامت تک کیا جائے گا۔ کیونکہ رحمت للعالمینﷺ کی ذات گرامی پر نبوت و رسالت کا سلسلہ ختم ہو چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ برصغیر میں انگریز نے اپنے سیاسی مقاصد کے حصول اور اہل اسلام کے دلوں سے جذبہ جہاد ختم کرنے کے لئے مرزا غلام احمد کو استعمال کر کے اس سے نبوت کا دعویٰ کرایا۔ امت مسلمہ نے انگریز کے اس پیش کردہ نبی کو ذلت آمیز شکست دے کر عقیدۂ ختم نبوت کا تحفظ کیا اور مرزائیت کا کفر عالم اسلام پر واضح کیا۔ آج عالمی سطح پر مرزائیت کے کفر کا پردہ چاک ہو چکا ہے اور عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ایک منظم طریقے سے

صفحہ ۲۶۶

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۳ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

پوری دنیا میں مرزائیت کے ناپاک عزائم کو خاک میں ملانے کے لئے مصروف عمل ہے۔ انہوں نے کہا کہ دنیا کا کوئی خطہ ایسا نہیں ہے جہاں پر عالمی مجلس کے رضا کار ختم نبوت کا پیغام لے کر نہ گئے ہوں۔ مولانا شجاع آبادی اور مولانا تونسوی نے کہا کہ آٹھویں ترمیم پر سیاستدانوں میں آج کل جو کشمکش جاری ہے۔ اگر اس سیاسی کشمکش کی آڑ میں آٹھویں ترمیم سے اسلامی دفعات خصوصاً امتناع قادیانیت آرڈیننس کو ختم کرنے کی کوشش کی گئی تو اہل پاکستان اور ختم نبوت کے پروانے ۱۹۵۳ء کی یاد تازہ کرنے پر مجبور ہوں گے۔

اٹک میں عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس

۲۴؍ ستمبر ۱۹۹۳ء بروز ہفتہ بعد نماز عشاء اٹک شہر میں ختم نبوت یوتھ فورس کے زیر اہتمام ایک عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی جس کی صدارت عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے رکن شوریٰ مولانا نور الحق نور صاحب پشاور والوں نے کی۔ کانفرنس سے خطاب عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مبلغین مولانا اللہ وسایا، مولانا خدا بخش شجاع آبادی، مولانا نذیر احمد تونسوی، مولانا عبد الرحمن ہزاروی کے علاوہ خطیب العصر حضرت مولانا سید عبد المجید ندیم صاحب نے خطاب فرمایا۔

بھاگلپور انڈیا میں ختم نبوت کانفرنس و تربیتی کیمپ

مجلس تحفظ ختم نبوت ضلع بھاگلپور اور مسلم ایسوسی ایشن برہ پورہ شہر بھاگلپور کے زیر اہتمام ۱۵ تا ۱۷؍ اکتوبر ۱۹۹۳ء سہ روزہ تحفظ ختم نبوت کانفرنس و تربیتی کیمپ لگایا گیا۔ جامع مسجد برہ پورہ میں تربیتی کیمپ کے پروگراموں کی روزانہ دو نشستیں ہوتی تھیں۔ جن میں تین سو کے قریب علماء، دانشور اور نوجوان مسلمان پابندی سے شریک ہوتے تھے اور خصوصی تربیت دہندگان حضرت مولانا سید محمد اسماعیل صاحب کٹکی دامت برکاتہم اور حضرت مولانا سعید احمد صاحب پالن پوری زید مجدہم سے عقیدۂ ختم نبوت رفع ونزول عیسیٰ کی صحیح اسلامی تشریح مکمل تحقیق وبسط کے ساتھ سمجھی اور قادیانی گروہ کے پیدا کردہ شکوک وشبہات کا ازالہ کیا تاکہ اپنے اپنے علاقہ میں جا کر تحفظ ختم نبوت کا فریضہ انجام دے سکیں۔ اسی مقصد کے لئے وہاں کی مجلس استقبالیہ نے ہر مندوب کیمپ کو کتب رد قادیانیت کا ایک وقیع و قیمتی سیٹ ہدیہ کیا۔ جو ۲۸ کتابوں پر مشتمل تھا۔ تربیتی کیمپ کے خصوصی پروگراموں کے علاوہ عید گاہ برہ پورہ میں بنائے گئے۔ ایک وسیع وعریض شاندار پنڈال میں روزانہ رات میں عام اجلاس ہوتے رہے۔ جب کہ اسی پنڈال میں ایک عام اجلاس بروز اتوار ۱۷؍ اکتوبر کی صبح کو دن میں منعقد ہوا۔ یوں تو روزانہ ہی عام اجلاس میں شرکاء کی تعداد بے حد وحساب رہتی تھی لیکن آخری اجلاس میں شرکاء کی تعداد نے پچھلے سارے ریکارڈ توڑ دیئے۔ محتاط اندازوں کے مطابق پچاس ہزار سے زیادہ مسلمانوں نے شرکت کی جن میں تقریباً دس ہزار عورتیں تھیں اور ان کے لئے پردہ کا معقول انتظام تھا۔ قرب وجوار کے محلوں میں اونچی جگہوں پر ہارن لگائے گئے تھے۔ محلوں کے مسلمان بھی اپنی جگہ رہتے ہوئے اجلاس عام کی تقریریں سن رہے تھے۔ اس طرح کل سامعین کی تعداد کا اندازہ لگانا مشکل ہے۔ یہ آخری اجلاس عام ۱۷؍ اکتوبر کی شب میں ساڑھے سات بجے شروع ہو کر ساڑھے چار بجے فجر کی اذان پر بخیر و خوبی اختتام پذیر ہوا۔ اس طویل ترین نشست میں حیرت انگیز طور پر پورا مجمع مکمل بیداری اور انتہائی توجہ اور سکون کے ساتھ علماء اسلام سے رد قادیانیت کے موضوع پر علمی و تحقیقی مضامین سنتا رہا۔ سہ روزہ اجلاس عام کی چار نشستوں میں مندرجہ ذیل حضرات نے مختلف عنوانات پر ٹھوس با حوالہ تحقیقی مواد پیش فرمایا۔ حضرت مولانا سید محمد اسماعیل صاحب کٹکی امیر شریعت اڑیسہ ورکن مجلس شوریٰ دارالعلوم دیوبند، حضرت مولانا مفتی سعید احمد صاحب پالن پوری استاذ حدیث و ناظم اعلیٰ کل ہند مجلس تحفظ ختم نبوت دارالعلوم دیوبند۔ راقم الحروف محمد عثمان منصور پوری استاد و ناظم کل ہند مجلس تحفظ ختم نبوت دارالعلوم دیوبند، حضرت مولانا مفتی محمود حسن

صفحہ ۲۶۷

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

صاحب بلند شہری مفتی دارالعلوم دیوبند، حضرت مولانا محمد یامین صاحب مظفر نگری مبلغ دارالعلوم دیوبند، حضرت مولانا محمد عرفان صاحب بہرائچی مبلغ دارالعلوم دیوبند، حضرت مولانا محمد یوسف امروہی استاذ جامعہ اسلامیہ جامع مسجد امروہہ، حضرت مولانا طاہر حسن صاحب ہرسولوی استاذ دارالعلوم حسینیہ تاؤلی، حضرت مولانا شاہ عالم صاحب گورکھپوری استاذ دارالعلوم اسلامیہ بستی (یو۔پی) ان حضرات کے مسلسل علمی و روحانی بیانات سے قادیانی گروہ کی فریب کاریوں کا پردہ فاش ہو گیا۔ جو مدعی نبوت ملعون کذاب دجال مرزا غلام احمد قادیانی کی پیروی کر کے اپنے لئے ہاویہ جہنم میں گرنے کا سامان کر رہا ہے۔ ساتھ ہی بڑی ڈھٹائی اور بے شرمی کے ساتھ اس ملعون و کذاب کو نہ ماننے کے جرم میں دنیا بھر کے دو ارب کے قریب سچے مسلمانوں کو دائرہ اسلام سے خارج قرار دیتا ہے اور اس کے برخلاف اپنے کفریات کو حقیقی اسلام کا نام دے کر ناواقف مسلمانوں کو دام فریب میں مبتلا کرتا ہے۔ علماء ربانی کے بیانات سے بفضلہ تعالیٰ یہ حقیقت ہر مسلمان پر عیاں ہوگئی۔ جس کے نتیجہ میں ہر ایک نے یہ تہیہ کر لیا کہ ہر جگہ قادیانی گروہ کا مکمل بائیکاٹ کیا جائے گا اور اس کی ریشہ دوانیوں پر کڑی نظر رکھی جائے گی اور ان کو ہرگز اس کی اجازت نہیں دی جائے گی کہ وہ اپنی عبادت گاہ کو مسجد کہیں اور اپنی مذہبی رسومات کو اسلامی نام سے پکار کر مسلمانوں کو دھوکا دیں۔ ذات باری تعالیٰ سے قوی امید ہے کہ اس کانفرنس کے مفید اثرات پورے ملک پر پڑیں گے۔

(بشکریہ ہفت روزہ الجمعیۃ دہلی مورخہ ۵ تا ۱۱ / نومبر ۱۹۹۳ء)

اندرون سندھ سولہ ختم نبوت کانفرنسیں

ملک میں ڈش انٹینا کے ذریعہ اور تعلیمی اداروں میں گھسے ہوئے قادیانیوں کے ذریعے تبلیغی سرگرمیوں پر نظر رکھتے ہوئے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت نے فیصلہ کیا کہ عوام سے رابطہ کے سلسلہ میں مختلف علاقہ جات میں وفود بھیجے جائیں۔ جماعت کے مبلغین کا ایک وفد حضرت مولانا احمد میاں حمادی، حضرت مولانا خدا بخش شجاع آبادی، حضرت مولانا جمال اللہ الحسینی اور حضرت مولانا حفیظ الرحمن رحمانی پر مشتمل وفد نے اندرون سندھ دورہ کیا۔ (۱) کرونڈی، (۲) بھریا روڈ، (۳) نواب شاہ، (۴) سانگھڑ، (۵) پیرومل، کھپرو، (۶) میر پور خاص، (۷) جیمس آباد، (۸) کنری، (۹) عمر کوٹ، (۱۰) نوکوٹ، (۱۱) مٹھی، (۱۲) ڈگری، (۱۳) ٹنڈو غلام علی، (۱۴) کوٹری، (۱۵) حیدر آباد، (۱۶) گولارچی میں جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے علماء نے مختلف انداز میں مسئلہ ختم نبوت اور فتنہ قادیانیت کے ہر پہلو پر روشنی ڈالی۔ وفد کے قائد علامہ احمد میاں حمادی نے اپنے خطاب میں مرزا قادیانی کی مغلظات اور اس فتنہ کی سنگینی بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ ہر قادیانی مرتد، زندیق، ملحد، گستاخ رسول ہے۔ ان میں سے ہر ایک جرم مستقل واجب القتل ہونے کے لئے کافی ہے۔ ۱۹۷۴ء میں قادیانیوں کو اقلیت قرار دیا گیا۔ ۱۹۸۴ء میں قادیانیوں کی تبلیغ اور دیگر اسلامی اصطلاحات استعمال کرنے پر پابندی لگائی گئی۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی مبلغ فاتح ربوہ حضرت مولانا خدا بخش شجاع آبادی نے اپنے خطابات میں قادیانیوں کے خلاف قانونی کارروائی کرنے پر زور دیتے ہوئے فرمایا کہ ربوہ قادیانیوں کا شہر تھا۔ عدالتیں ان کی طرف سے بنائی گئی تھیں اور یہ تصور میں بھی نہ تھا کہ ربوہ میں مسلمان مجسٹریٹ اور مسلمان تھانیدار، مسلمان تحصیلدار ہوں گے اور یہ تصور بھی نہ تھا کہ ان کی بنی ہوئی عدالتوں میں وہ خود مجرموں کی طرح پیش ہوں گے۔ آج اللہ کے فضل سے ان کی اپنی بنائی ہوئی عدالتوں میں وہ مجرموں کی طرح کھڑے ہوتے ہیں۔ یہ سب قانون کی وجہ سے ہوا۔ اس لئے ہر علاقہ میں قادیانیوں کے خلاف قانونی کارروائی کرنے کے لئے جماعتی احباب سے تعاون کریں۔

عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی مبلغ فاتح کنری حضرت مولانا جمال اللہ الحسینی نے اپنے خطابات میں فرمایا کہ قادیانیت کا

صفحہ ۲۶۸

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

اصل علاج وہ ہے جو صدیق اکبر ؓ نے مسیلمہ کذاب اور اس کے پیروکاروں کا کیا اور جو علاج خود خاتم الانبیاء ﷺ نے اسود عنسی کا حضرت فیروز دیلمی ؓ کے ذریعہ سے کروایا۔ یہ علاج خود گورنمنٹ کرے۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی مبلغ حضرت مولانا حفیظ الرحمٰن رحمانی نے کہا کہ قادیانیوں کی طرف سے مسلمانوں کو گمراہ کرنے کے لئے مختلف قسم کے حربے استعمال کئے جا رہے ہیں اور عجیب بات یہ ہے کہ دنیا کے اندر ہر مذہب والا اپنے مذہب کو فخر سے بیان کرتا ہے۔ لیکن قادیانی الگ مذہب رکھنے کے باوجود اپنا مذہب بیان کرتے ہوئے شرماتے ہیں۔ مسلمانوں کو دھوکہ دینے کے لئے کہتے ہیں کہ استخارہ کرو کہ غلام قادیانی سچا تھا یا جھوٹا حالانکہ استخارہ دو مباح چیزوں میں کیا جاتا ہے۔ استخارہ کرنے سے کہ غلام قادیانی سچا تھا یا جھوٹا تھا۔ ان الفاظ سے آدمی کافر بن جاتا ہے۔ لہٰذا قادیانیت پر استخارہ کفر ہے۔ نواب شاہ میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے نائب امیر جناب عبدالغفار سموں کی خدمات کو خراج تحسین پیش کیا گیا اور ان کی وفات کی وجہ سے نائب امیر مولانا محمد ابراہیم صاحب کو منتخب کیا گیا۔ سانگھڑ میں ہسپتال، مسجد میں جلسہ عام منعقد کیا گیا۔ جس کا اہتمام عالمی مجلس کے مقامی راہنما مولانا عبدالغفور، کیپٹن حاجی نور محمد صاحب، حافظ محمد زمان صاحب، محمد اقبال صاحب نے کیا تھا۔ کھپرو میں جامع مسجد میں رات کو بعد نماز عشاء جلسہ ہوا۔ صبح کو جامع مسجد میں مولانا حفیظ الرحمٰن کا درس ہوا اور بلال مسجد میں حضرت مولانا جمال اللہ حسینی کا بیان ہوا۔ جب کہ بعد نماز عشاء حضرت مولانا خدا بخش صاحب کا مفصل خطاب ہوا۔

(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ص۱۱، مؤرخہ ۱۷ تا ۲۳؍دسمبر ۱۹۹۳ء)

اجلاس برائے انتظامات بارھویں سالانہ ختم نبوت کانفرنس چناب نگر

عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مبلغین اور کارکنوں کا اجلاس آج مؤرخہ ۲۳؍ربیع الثانی ۱۴۱۴ھ، مطابق ۱۱؍اکتوبر ۱۹۹۳ء بروز پیر ۱۱ بجے صبح جامع مسجد ختم نبوت مسلم کالونی صدیق آباد (ربوہ) میں منعقد ہوا۔ جس کی صدارت حضرت مولانا عزیز الرحمٰن صاحب جالندھری نے کی۔ اجلاس میں مندرجہ ذیل حضرات نے شرکت کی۔ مولانا محمد اکرم طوفانی (سرگودھا)، مولانا عبدالرؤف الازہری (اسلام آباد)، مولانا امام الدین (مظفرگڑھ)، مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی (لاہور)، مولانا غلام حسین (جھنگ)، میاں غلام رسول (مسلم کالونی، ربوہ)، مولانا احمد بخش (رحیم یارخان)، مولانا عبداللطیف ایثار (لاہور)، مولانا محمد اسحاق ساقی (بہاول پور)، مولانا محمد یعقوب برہانی (چنیوٹ)، مولانا محمد علی صدیقی (راولپنڈی)، مولانا محمد افضل (چنیوٹ)، مولانا عزیز الرحمٰن جالندھری (ملتان)، مولانا فقیر اللہ اختر (گوجرانوالہ)، شیخ منظور احمد (ربوہ)، مولانا غلام مصطفیٰ (ربوہ) نے شرکت کی۔ اجلاس میں کانفرنس کے انتظامات پر تفصیلی غور و خوض کے بعد کمیٹیوں کی تشکیل کی گئی۔

۱۲ویں آل پاکستان ختم نبوت کانفرنس چناب نگر

بارھویں سالانہ آل پاکستان ختم نبوت کانفرنس ۲۱؍اکتوبر ۱۹۹۳ء صبح ۱۰؍بجے شروع ہوئی۔ پہلی نشست کی صدارت قائد تحریک ختم نبوت مولانا خان محمد صاحب نے کی۔ کانفرنس کا آغاز قاری عبدالرحمٰن کی تلاوت کلام پاک سے ہوا۔ جب کہ صوفی غلام نبی نے ہدیہ نعت شریف پیش کیا۔ کانفرنس کی پہلی تقریر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت سرگودھا کے روح رواں اور تحریک ختم نبوت کے پرجوش مبلغ مولانا محمد اکرم طوفانی کی تھی۔ آپ نوجوانوں کو سرور کائنات ﷺ کی عزت و ناموس کے تحفظ کی دعوت دے رہے تھے۔ موصوف سینے میں دردمند دل رکھتے ہیں اور یہ درد نوجوانوں کے دلوں میں منتقل کرتے رہتے ہیں۔ مولانا طوفانی اسم بامسمیٰ ہیں۔ انہوں نے تقریر کیا کی طوفان برپا کر دیا۔ دوسری تقریر مولانا امام الدین قریشی کی تھی۔ مولانا قریشی نے اپنی شیریں آواز سے مولانا قاری عبدالکریم شاہ صاحب (ڈیرہ غازی خان)

صفحہ ۲۶۹

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

کی یاد تازہ کر دی۔ مولانا قریشی شاہ نامہ اسلام کے حافظ ہیں۔ آیات قرآنی، احادیث نبویہ اور شاہ نامہ اسلام کے اشعار سے مجمع کو مسحور کر دیا۔ مولانا قریشی ضلع مظفر گڑھ لیہ میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مبلغ اور سرائیکی کے بہترین مبلغ و خطیب ہیں۔ دوسری نشست ظہر کے بعد شروع ہوئی۔ جس کا آغاز قاری نصیر احمد چنیوٹ کی تلاوت کلام پاک سے ہوا اور صدارت متحدہ دینی محاذ بلوچستان کے صدر مولانا اللہ داد کاکڑ نے کی۔ جب کہ پہلی تقریر مولانا عزیز الرحمن جالندھری مرکزی ناظم اعلیٰ مجلس تحفظ ختم نبوت کی تھی۔ آپ نے اپنے متکلمانہ خطاب سے مولانا محمد علی جالندھری کی یاد تازہ کر دی۔ موصوف نے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی تحریک، قائدین کی خدمات، آئندہ کے لائحہ عمل پر تفصیل سے روشنی ڈالی اور اعلان کیا کہ مرزائیت کے خاتمہ تک ہماری تحریک جاری رہے گی۔ مولانا محمد حسین چنیوٹی نے خطاب کرتے ہوئے ناموس رسالت کے تحفظ کے لئے قربانی دینے کے عزم کا اظہار کیا۔

مولانا عبد الکریم ندیم نے کہا کہ عقیدۂ ختم نبوت کے تحفظ کے لئے مجلس علماء اہل سنت کے مبلغین اور کارکن عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے شانہ بشانہ ہوں گے۔ مولانا امجد خان نے کہا کہ امتناع قادیانیت آرڈیننس کو ختم کرنے کی کوشش کی گئی تو جمعیتہ علماء اسلام، حضرت الامیر مدظلہ کی قیادت میں بھر پور تحریک چلائے گی۔

جماعت اسلامی کے امیر قاضی حسین احمد نے اپنے خطاب میں اپنی شکست کے اسباب پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ دینی جماعتوں کی شکست ان کے باہمی افتراق و انتشار کی وجہ سے ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ قوم نے اسلام کو مسترد نہیں کیا بلکہ دونوں بڑی جماعتوں کو ووٹ ”بنام مصطفیٰ“ بنام خدیجہ رضی اللہ عنہا و فاطمہ رضی اللہ عنہا دیئے۔ انہوں نے کہا کہ عقیدۂ ختم نبوت مسلمانوں کا بنیادی عقیدہ ہے۔ اس وقت جب کہ دنیا سمٹ کر ایک کنبہ کی صورت اختیار کرتی جا رہی ہے اس عقیدہ کی اہمیت دوچند ہوگئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں سمجھتا ہوں کہ اس وقت مسلمان تو کیا انسانیت کو کوئی متحد کر سکتا ہے تو وہ عقیدۂ ختم نبوت ہے۔ قادیانی گروہ پاکستان کا نہیں امریکہ، برطانیہ اور اسرائیل کا وفادار گروہ ہے۔ ہم واضح کرنا ضروری سمجھتے ہیں کہ اس وقت امریکہ کا نیو ورلڈ آرڈر دنیا کو سکون نہیں پہنچا سکتا۔ کیونکہ یہ فساد ہے۔ دنیا کو صرف حضور ﷺ کا نظام متحد اور انصاف فراہم کر سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں قادیانی امریکہ اور کفار کے جاسوس ہیں۔ ان کی وفاداری امریکہ اور استعمار کے ساتھ ہے۔ ہم قادیانیوں کی سرگرمیوں کو روکنے کے لئے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے ہر پروگرام میں اس کے شانہ بشانہ ہوں گے۔

مولانا مفتی نظام الدین شامزئی نے خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ آٹھویں ترمیم جو بہت سے قوانین کا مجموعہ ہے جس میں اسلامائزیشن سے متعلق کئی ایک قوانین موجود ہیں۔ بالخصوص امتناع قادیانیت آرڈیننس موجود ہے۔ برسر اقتدار طبقہ نے آتے ہی آٹھویں ترمیم ختم کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اگر یہ ترمیم یکسر ختم کر دی جاتی ہے تو ہماری ایک صدی کی محنت پر پانی پھرتا ہے۔ اس سلسلہ میں ہمیں لائحہ عمل تیار کرنا چاہئے۔ قادیانی جس طرح مالی قربانی پیش کرتے ہیں ہمیں بھی پیش کرنی چاہئے۔

مولانا احمد میاں حمادی نے کہا کہ ۷؍ستمبر ۱۹۷۴ء کو متفقہ طور پر پاکستان قومی اسمبلی نے انہیں غیر مسلم اقلیت قرار دیا۔ ۱۹۸۴ء میں امتناع قادیانیت آرڈیننس نافذ ہوا۔ مرزائی اس کے خلاف وفاقی شرعی عدالت میں گئے۔ وفاقی شرعی عدالت نے ان کی اپیل مسترد کر دی۔ وہ اس کے خلاف سپریم کورٹ میں گئے۔ سپریم کورٹ نے ان کے تابوت میں ایک زبردست کیل ٹھونکی۔

عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے نائب امیر مرکزیہ مولانا محمد یوسف لدھیانوی نے فرمایا کہ معین قریشی کو قادیانی سازش کے تحت سنگاپور سے برآمد کیا گیا۔ معین قریشی نے آتے ہی تحفظ حقوق انسانی کے نام سے قادیانیوں کی بنائی ہوئی تنظیم جس میں دراب پٹیل پارسی، عاصمہ جیلانی قادیانی شامل ہیں، کو حکومت کے ماتحت کر دیا تاکہ وہ کمیٹی رپورٹ پیش کرے کہ کیا کیا اور کہاں کہاں اقلیتوں پر ظلم ہو رہا ہے۔

صفحہ ۲۷۰

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

حکومت اس کی سفارشات پر عمل کرنے کی پابند ہے۔ اقلیتوں سے مراد بالخصوص قادیانی ہیں۔ کفر کی حمایت کے لئے کمیٹی بنائی گئی۔ لیکن اسلام کی تحقیقات کے لئے کوئی کمیٹی نہیں بنائی جاتی۔ انگریزی اخبارات بالخصوص ”ڈان“ آئے روز اسلام کے خلاف آرٹیکل لکھتا ہے لیکن کوئی پوچھنے والا نہیں۔ اکثر انگریزی اخبارات اسلام کی قطعیات کا مذاق اڑاتے ہیں۔ معلوم ہوتا ہے کہ حکمرانوں کو اسلام کی بہ نسبت کفر زیادہ عزیز ہے۔ مولانا نے کہا کہ مرزا طاہر نے اعلان کیا ہے کہ پندرھویں صدی مسیح موعود کی صدی ہے۔ مرزائی تحریک اگر خیر کی تحریک ہے تو اس کی پہلی نسل خیر ، دوسری کچھ کم اور تیسری نسل میں خال خال جیسا کہ اسلام کی تاریخ بتلاتی ہے ۔ یہ فرق ہر آنکھوں والے آدمی کو صاف نظر آتا ہے۔ قادیانیت اب مر چکی ہے۔ اسے زندہ نہیں کیا جا سکتا۔ کیونکہ قادیانیت میں دم خم نہیں رہا۔ اگر شر ہے اور یقیناً شر ہے تو مجھے میرے اللہ سے امید ہے کہ یہ صدی قادیانیت کی موت کی صدی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اب یہ گروہ انسانی حقوق کی آڑ میں اسلام اور پاکستان کے خلاف جھوٹے پروپیگنڈہ میں مصروف ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر قادیانیوں نے آئین پاکستان کو تسلیم نہ کیا تو ہم ارتداد کی شرعی سزا کے نفاذ کے لئے حق بجانب ہوں گے۔

مولانا عبدالواحد کوئٹہ نے کہا کہ جو محمد رسول اللہ ﷺ کی شان میں گستاخی کرے گا۔ اسے مٹا دیا جائے گا۔ جو بھی ناموس رسالت کی شان میں دریدہ دہنی کرے گا۔ غازی علم الدین شہید کا کارنامہ دہرایا جائے گا۔

مولانا منظور احمد چنیوٹی نے کہا کہ پیپلز پارٹی اور قادیانی ہر الیکشن میں ایک دوسرے کے شانہ بشانہ ہوتے ہیں۔ وہ قدم جو ختم نبوت کے محاذ پر آگے بڑھ چکا ہے۔ اسے ایک قدم بھی واپس نہیں لایا جا سکتا۔ وہ دن حکومت کے خاتمہ کا دن ہوگا جس میں گستاخ رسول کی سزا، سزائے موت ختم کی جائے گی۔ جس دن بے نظیر قادیانیوں کی حمایت کرے گی۔ اسی دن اس کا تختہ الٹ دیا جائے گا۔ ان شاء اللہ العزیز! حضرت اقدس دامت برکاتہم کی قیادت میں ارتداد کی شرعی سزا، سزائے موت منوا کر دم لیں گے۔

مولانا اسعد تھانوی نے فرمایا کہ کائنات انسانی کے ہدایت و راہنمائی کے لئے انبیاء کرام کی بعثت کا سلسلہ شروع ہوا۔ جس کا آغاز حضرت آدم علیہ السلام سے ہوا اور تکمیل حضور نبی کریم ﷺ کی ذات گرامی پر ہوئی۔ مولانا نے متکلمانہ انداز میں مسئلہ ختم نبوت کی اہمیت پر سیر حاصل بحث کی۔

تحریک کشمیر کی نمائندگی کرتے ہوئے مولانا محمد ابوبکر نے کہا کہ قادیانیت کا علاج جہاد ہے۔ جس طرح سوویت یونین کا نام صفحہ ہستی سے مٹ چکا ہے ، اسی طرح امریکہ اور انڈیا کا نام بھی مٹا کر رہیں گے۔ صاحبزادہ طارق محمود نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت پنجاب کی وزارت اعلیٰ ایک مرزائی النسل منظور احمد وٹو کے ہاتھ میں ہے۔

ورلڈ اسلامک فورم کے چیئرمین مولانا زاہد الراشدی نے کہا کہ حالات جس قدر پریشان کن ہوں عزم اتنا ہی بلند ہو، ہمیں اپنی تاریخ از سر نو مرتب کرنا ہوگی۔ ایک نئی جنگ شروع ہو چکی ہے۔ ایک طرف امریکہ ہے اور یہ کہہ کر جنگ کا آغاز کر چکا ہے کہ روس کی شکست کے بعد طاقت کا توازن امریکہ کے ہاتھ میں ہے کہ عالم اسلام کے وہ حلقے جو دین، جہاد ، خلافت کی بات کرتے ہیں وہ بنیاد پرست ہیں۔ الجزائر میں ۸۵ فیصد ووٹ اسلامک سالویشن فرنٹ نے حاصل کئے۔ لیکن حکومت ان کی نہیں بلکہ ان کے مقدر میں جیلیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ چاہتا ہے کہ عالم اسلام کی دینی تحریکات کو منافق حکومتوں کے ذریعہ کچل دیا جائے۔ شام میں دس ہزار علماء کرام شہید کئے جاچکے ہیں۔ تیونس ، مراکش، مصر میں علماء کرام اور دینی کارکنوں کو کچل رہے ہیں۔ معین قریشی تمام خفیہ معلومات لے کر امریکہ روانہ ہوچکا ہے۔ کشمیر کا سودا ہوچکا ہے تاکہ امریکہ کشمیر میں بیٹھ کر چاروں طرف کنٹرول کر سکے۔ بے نظیر بھٹو نے نیو سوشل کنٹریکٹ دیا کہ علماء اور مشائخ اپنے

صفحہ ۲۷۱

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

آپ کو سیاست سے علیحدہ کرلیں ۔ بے نظیر حکومت کا مقصد علماء کرام ، مشائخ ، دینی کارکنوں کو کچلنا ہے۔ میں امریکہ اور بے نظیر دونوں کو کہتا ہوں کہ پاکستان کو مصر پر قیاس نہ کیا جائے ۔ مولوی صرف اسمبلی میں بیٹھنا نہیں جانتا بلکہ تختہ دار پر لٹکنا بھی جانتا ہے۔ کیونکہ یہ شاہ ولی اللہ محدث دہلوی ، شاہ عبد العزیز محدث دہلوی ، شاہ اسماعیل شہید کی جرات کا وارث ہے۔

مولانا محمد اکرم طوفانی نے کہا کہ فادر روفن ، طارق سی قیصر کے اخبارات میں بیان آچکے ہیں کہ گستاخ رسول کی سزا منسوخ کراکے دم لیں گے۔ یعنی گستاخی رسول کی کھلم کھلا اجازت دی جائے ۔ بے نظیر بھی وعدہ کر چکی ہے لیکن وہ دن اس کی حکومت کا آخری دن ہو گا۔ اگر یہ قانون منسوخ کیا گیا تو طارق سی قیصر کو صفحہ ہستی سے مٹا دیا جائے گا۔

مولانا محمد اعظم طارق نے نعروں کی گونج میں عقیدہ ختم نبوت کی عظمت ، اہمیت پر پر جوش خطاب فرمایا۔ مولانا اعظم طارق نے کہا کہ ہمیں ایک لسٹ ملی جو ربوہ سے شائع ہوئی۔ جس میں مالی تعاون کرنے والوں کے نام تھے۔ ان میں ایک نام منظور احمد وٹو وزیر اعلیٰ پنجاب کا نام بھی مرزائی معاونین میں شامل تھا۔ ہم نے اعلان کیا کہ منظور احمد وٹو قادیانی ہے۔ اسے وزیر اعلیٰ نہیں بننے دیا جائے گا۔ بعد ازاں منظور وٹو چل کر ہمارے پاس آئے اور ایک تحریری بیان دیا کہ میں مدعی نبوت مرزا غلام احمد قادیانی کو دجال و مرتد سمجھتا ہوں۔ ہم نے اس کے بیان کو قبول کرتے ہوئے اسے مسلمان ہونے کا سرٹیفکیٹ دیا۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے بے نظیر کو شیعہ اور خاتون ہونے کی وجہ سے ووٹ نہیں دیا اور نواز شریف کو اس لئے ووٹ نہیں دیا کہ اس نے سود کے حق میں سپریم کورٹ میں اپیل دائر کی۔ شناختی کارڈ میں مذہب کے خانہ کا اضافہ کا اعلان کرنے کے بعد انحراف کیا اور اسلام کے نفاذ سے پہلو تہی کی۔

مولانا ضیاء الرحمن فاروقی نے کہا کہ ختم نبوت کی پہلی جنگ سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے لڑی جو پوری سنی قوم کا امام ہے۔ ختم نبوت کا اعلان صحابہ رضی اللہ عنہم نے کیا ۔ جنگ صحابہ رضی اللہ عنہم نے لڑی۔ صحابہ رضی اللہ عنہم ختم نبوت کے چوکیدار تھے ۔ ہم صحابہ رضی اللہ عنہم کے چوکیدار ہیں۔ میں حضرت امیر شریعت ، قاضی احسان احمد ، مولانا جالندھری ، مولانا لال حسین اختر ، مولانا محمد حیات ، شیخ حسام الدین ، تحریک ختم نبوت کے قائدین کی عظمت کو سلام کرتا ہوں ۔ ہم نے بی بی کے بابا کو بھی دیکھا ، بی بی کو بھی دیکھیں گے ۔ اگر بے نظیر نے قادیانیوں کو تحفظ دینے کی کوشش کی تو بھر پور مزاحمت کریں گے۔ مولانا مفتی محمد نعیم کراچی نے کہا کہ قادیانیوں کی سرگرمیوں کو روکنا ہر مسلمان کا فرض ہے۔ ہم مطالبہ کرنے میں حق بجانب ہیں کہ مرزائیوں کی سرگرمیوں پر مکمل پابندی عائد کی جائے۔

مولانا غلام حسین جھنگوی نے کہا کہ قادیانی جہاں کہیں جائیں گے ، ان کا تعاقب کرتے رہیں گے۔ انہوں نے کہا کہ چنیے والا اٹھارہ ہزاری میں قادیانی سینکڑوں کنال زمین خرید کر ارتدادی مرکز تعمیر کرنے کا پروگرام بنا چکے ہیں۔ ان شاء اللہ العزیز ! ۵ نومبر کو چنیے والا میں کانفرنس کر کے تعاقب کی تحریک شروع کریں گے۔

مولانا خدا بخش شجاع آبادی نے کہا کہ مسئلہ ختم نبوت کا تحفظ اور قادیانیت کا تعاقب جاری رکھیں گے اور ان کے ساتھ وہی سلوک کریں گے جو سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے مسیلمہ کذاب اور اس کی امت کے ساتھ کیا۔ مولانا محمد عبداللہ ٹنڈو آدم نے کہا کہ محبت نبوی کا تقاضا مرزائیت کا مکمل تعاقب و بائیکاٹ ہے۔ مولانا محمد علی صدیقی راولپنڈی اور مولانا احمد بخش رحیم یار خان نے کہا کہ حضور سرور کائنات ﷺ کے بعد کسی قسم کی ظلی ، بروزی ، غیر تشریعی ، تشریعی کسی قسم کا تصور کفر اور عقیدۂ نبوت کے منافی ہے۔ مولانا عبدالرؤف الازہری نے کہا کہ ارتداد کی شرعی سزا نافذ کروا کر دم لیں گے۔ مولانا پروفیسر غازی احمد بھونچال کلاں ( سابق کرشن لال ) نے اپنے اسلام کی داستان بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ میرا اسلام قبول کرنا سرور کائنات ﷺ کی ختم نبوت کا اعجاز ہے۔ حضور ﷺ نے خواب میں مجھے کلمہ طیبہ تلقین فرما کر ختم نبوت کا

صفحہ ۲۷۲

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۳ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

مسئلہ سمجھا دیا۔ اگر حضور ﷺ کے بعد کوئی نبی ہوتا تو آپ ﷺ مجھے ضرور بتلاتے کہ اب نجات اس کی اتباع میں مضمر ہے۔

متحدہ دینی محاذ صوبہ بلوچستان کے صدر اللہ داد کاکڑ نے بلوچستان میں تعاقب قادیانیت کی تاریخ پر تفصیلی روشنی ڈالی اور کہا کہ پنجاب میں صرف فتنہ قادیانیت ہے لیکن بلوچستان میں قادیانیوں کے ساتھ ساتھ ذکری فتنہ بھی سوہان روح بنا ہوا ہے۔ ان شاء اللہ العزیز ! ہماری تحریک دونوں کے خلاف جاری رہے گی۔

مولانا غلام مصطفیٰ بہاول پوری نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مسلم لیگ ہو یا پیپلز پارٹی دونوں نظریہ پاکستان کے دشمن اور امریکہ اور قادیانیوں کے ایجنٹ ہیں۔ اسی لئے برسر اقتدار آتے ہی مرزائیت نوازی شروع کر دیتے ہیں۔ جب کہ مرزائی، قائد اعظم سے لے کر ذوالفقار علی بھٹو اور جنرل ضیاء الحق تک تمام مسلم قائدین کے دشمن اور گستاخ ہیں۔ لہٰذا دونوں پارٹیاں قادیانیوں سے محتاط رہیں۔

مولانا قاضی عبداللطیف اختر شجاع آبادی نے خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ تحریک ختم نبوت کے لئے بے شمار قربانیاں دیں، جو رنگ لائیں۔ ان شاء اللہ العزیز ! وہ دن دور نہیں جب پوری دنیا سے مرزائیت کا نام و نشان مٹ جائے گا۔

مولانا عنایت اللہ چلاس نے کہا کہ شمالی علاقہ جات میں معین قریشی کی اصلاحات، شمالی علاقہ جات کو کشمیر سے الگ کرنے کی امریکی منصوبہ پر عملدرآمد کرنے کا آغاز ہے کہ کشمیر کو تقسیم کر دیا جائے۔ آزاد کشمیر پاکستان کو دے دیا جائے۔ جموں و کشمیر ہندوستان کے حصہ میں آجائے اور شمالی علاقہ جات امریکہ کی چھاؤنی بن جائیں۔ ہم اس شیطانی منصوبہ کو کسی صورت میں کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔

مولانا غلام مصطفیٰ منچن آبادی نے ربوہ میں قادیانیوں کی سرگرمیوں کا پردہ چاک کیا۔

مولانا محمد لقمان علی پوری نے کہا کہ بے نظیر کی آمد کا باعث نواز شریف ہیں۔ اگر نواز شریف اپنے دور اقتدار میں ”عورت کی حکمرانی“ کے خلاف قانون بنا دیتے تو آج بے نظیر حکمران نہ ہوتیں۔ ہم پاکستان میں نظام اسلام کا نفاذ چاہتے ہیں، نہ نواز شریف اور بے نظیر۔ مولانا نے اپنے مخصوص انداز میں سیرت طیبہ اور مسئلہ ختم نبوت پر روشنی ڈالی۔ مولانا فضل الرحمٰن خلیل نے خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ بوسنیا میں دو لاکھ سے زائد مسلمان شہید ہو چکے ہیں۔ صومالیہ میں امریکی مسلمانوں کو قتل کر رہے ہیں۔ کشمیر کی وادی جو جنت نظیر کہلاتی تھی، آج وہ جنت نظیر جہنم میں تبدیل ہو چکا ہے۔ مسلمانوں کی حیثیت دنیا بھر میں مچھر کی بھی نہیں رہی۔ یہ اسباب ہم نے خود پیدا کئے ہیں اور جہاد کو ترک کر دیا ہے۔ تمام دنیا کے کفر کا علاج جہاد میں مضمر ہے۔ انہوں نے کہا کہ علماء حق سے تعلق رکھنے والی جہادی قوتیں حرکت الانصار کے نام سے متحد ہو چکی ہیں اور پوری جرأت و ہمت کے ساتھ دنیا بھر کے مجاہدین کے ساتھ تعاون میں مصروف ہیں۔

مولانا محمد عبداللہ بھکر نے فرمایا کہ کشمیر میں مجاہد لڑ رہے ہیں۔ اس یقین سے لڑ رہے ہیں کہ مارے جائیں تو شہید، بچ جائیں تو غازی کہلائیں گے۔ امریکہ اگر کسی سے خائف ہے تو وہ صرف مسلمان مجاہد ہیں۔ آٹھویں ترمیم ختم کرنے کے مقاصد کبھی پورے نہیں ہو سکتے۔

قائد جمعیت مولانا فضل الرحمٰن نے فرمایا کہ حضرت امیر مرکزیہ اور مجلس کے رفقاء کا تہہ دل سے شکریہ ادا کرتا ہوں کہ مجھے اس عظیم کانفرنس میں شرکت کی سعادت بخشی۔ قادیانی فتنہ کی اصل روح کو جب دور حاضر کے تناظر میں دیکھتے ہیں تو یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ قادیانیت محض ایک عقیدہ نہیں بلکہ اسلام کے خلاف ایک بھر پور منظم اور عالمی سازش ہے۔ قادیانیت کا تمام تر فلسفہ اسی ایک نکتہ پر مرکوز ہے کہ جہاد کے تصور کو ختم کر دیا جائے۔ کیونکہ جہاد ہی اسلام کا محافظ ہے اور قیامت تک کے لئے اس امت پر جہاد کو اس لئے فرض قرار دیا گیا کہ حق و باطل کا جھگڑا قیامت تک رہے گا۔ اگر باطل بالکل ختم ہو جائے تو جہاد کس کے خلاف۔ باطل کو مغلوب اور حق کو غالب کرنا اصل مقصود

صفحہ ۲۷۳

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

ہے۔ اسی لئے جہاد فرض ہے۔ اس فتنہ کی سرپرستی مغربی دنیا کر رہی ہے۔ امریکہ اور اس کے حواری، برطانیہ اور یورپ اس کی پشت پر ہے۔ آج جب جہاد کا تصور پیش کیا جاتا ہے تو پوری دنیا کا میڈیا اسے دہشت گردی قرار دیتا ہے۔ جب اسلام کو بحیثیت نظام کے نفاذ کی بات کی جاتی ہے تو اس جدوجہد کو دہشت گردی اور بنیاد پرستی سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ اگر اسے دہشت گردی تسلیم کیا جائے تو ہمیں مرعوب نہیں ہونا چاہئے۔ اگر جہاد دہشت گردی ہے تو اس کا حکم اللہ تعالیٰ دیتا ہے۔ ”واِعدوا لھم من استطعتم من قوة“ اگر امریکہ، صیہونیت، یہودیت، ہندوؤں، قادیانیوں کو مرعوب کرنا دہشت گردی ہے تو ہم سب سے بڑے دہشت گرد ہیں۔ ہماری آپ سے کھلی جنگ ہے۔ اس لڑائی میں نواز شریف اور بے نظیر پسپا ہو سکتے ہیں۔ لیکن ہم نہیں ہو سکتے۔ افغانستان کی کمیونسٹ حکومت مجاہدین کو اشرار کہتی تھی۔ ہمارے ہاں دہشت گرد کہتے ہیں جب کہ عرب میں ارہاب کہتے ہیں۔ آٹھویں ترمیم آئین کا حصہ ہے جو ختم نہیں ہوگی۔ ایک نئی ترمیم آئے گی۔ آٹھویں ترمیم یہ ایک پیکیج ہے جو بہت سی اسلامی دفعات بھی اپنے ضمن میں لئے ہوئے ہے۔ ہم تمام جزئیات کے حوالے سے دیکھیں گے۔ شرعی امور سے متعلق دفعات میں انہیں برقرار رکھا جائے گا۔ اگر سازش کے ذریعہ ہمیں پارلیمنٹ سے باہر رکھا جائے گا تو ہم جہاد کا راستہ اختیار کریں گے۔ مولانا فضل الرحمن کا جاندار اور جرأت مندانہ خطاب عصر کی نماز تک جاری رہا۔ جب کہ دعا شیخ الحدیث مولانا محمد زکریا مہاجر مدنی کے خلیفہ مجاز مولانا عبدالحفیظ مکی نے فرمائی۔

(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ص ۱۸ تا ۲۱، مورخہ ۵ تا ۱۱ /نومبر ۱۹۹۳ء)

بارھویں سالانہ ختم نبوت کانفرنس کی جھلکیاں

سے ہوا۔ جس میں انہوں نے اندرون و بیرون ملک جماعت کی سال بھر کی کارگزاری بیان کی۔ رد قادیانیت اور تحفظ ختم نبوت کے مشن کو جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا۔ کانفرنس کے انعقاد کے مقصد کو بیان کرتے ہوئے قادیانیوں کو دعوت اسلام دی اور اکابرین تحفظ ختم نبوت کو خراج تحسین پیش کیا۔

محمد علی صدیقی، مولانا خدا بخش شجاع آبادی، مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی، مولانا ممتاز الحسن شاہ گیلانی، مولانا فقیر اللہ اختر اور دیگر مبلغین تقریباً ایک ہفتہ قبل مسلم کالونی ربوہ پہنچ گئے تھے۔ جنہوں نے شب و روز محنت کر کے شرکائے کانفرنس کے لئے انتظامات کو زیادہ سے زیادہ بہتر بنایا۔

احادیث نبوی پر مشتمل بینرز لگائے گئے۔ ایک بڑی تعداد ایسے بینروں کی تھی جن پر قادیانیوں کے متعلق مسلمانوں کے مطالبات درج تھے۔ یہ بینرز فیصل آباد، سرگودھا، راولپنڈی، سندھ، گوجرانوالہ اور مرکزی جماعت کی جانب سے لگائے گئے تھے۔

کے کمروں کو علماء کرام اور مہمانان خصوصی کی رہائش کے لئے مخصوص کر دیا گیا تھا۔

کے لئے لگایا گیا تھا۔ جس کی سرپرستی فیصل آباد کے مشہور ڈاکٹر و قاری محمد صولت نواز آف نواز میڈی کیئر ماڈل ٹاؤن فیصل آباد

صفحہ ۲۷۴

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۳ء

ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

کر رہے تھے۔ وہ اکثر وقت خود میڈیکل کیمپ میں موجود رہے اور مریضوں کے لئے ادویات تجویز کرتے رہے۔ جب کہ ان کی معاونت جناب ڈاکٹر خالد محمود اور ان کے اسسٹنٹ عبدالحمید صاحب نے کی۔ ڈسپنسری کی طرف سے دو روز کے دوران سینکڑوں مریضوں کو فری چیک اپ اور ادویات کی سہولت بہم پہنچائی۔

مالکان نے دینی کتب ورسائل وجرائد کے سٹال لگا رکھے تھے۔ جب کہ مین گیٹ کے بالکل سامنے سڑک کے پار ایک طویل قطار چائے، مٹھائی، فروٹ اور کھانے پینے کی اشیاء کی دوکانوں کی تھی۔ جس کا اہتمام جماعت کی اجازت سے ربوہ، چنیوٹ اور فیصل آباد وغیرہ کے دوکانداروں نے خود کیا تھا۔

نصب کئے گئے تھے اور گرد و غبار کو اڑنے سے روکنے کے لئے وقفہ وقفہ سے پانی کے چھڑکاؤ کا انتظام تھا۔

جناب قاری محمد ابراہیم صاحب فیصل آبادی کے سپرد تھا۔ جب کہ جماعت کے مبلغین حضرات ان کی معاونت کر رہے تھے۔ مولانا عزیز الرحمن جالندھری اور مولانا اللہ وسایا بھی وقفہ وقفہ سے جائزہ لیتے رہے۔

فیصل آباد کی راہنمائی و معاونت سے کانفرنس میں پہنچا۔

شرکت کی۔

کارواں مولانا محمد علی صدیقی کی سرکردگی میں جمعرات کی صبح یکے بعد دیگرے مسلم کالونی میں داخل ہوا۔ جس کا استقبال شاہین ختم نبوت مولانا اللہ وسایا نے فرمایا۔

ان سے دعائیں لیتے رہے۔

صفحہ ۲۷۵

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

چمن، شمالی علاقہ جات، چکوال، گجرات، ٹنڈو آدم، سکھر، کراچی، پنوں عاقل، میانوالی، سرگودھا وغیرہ سے بھی احباب جماعت نے قافلوں کی شکل میں کانفرنس میں شرکت فرمائی۔

اس نشست کا آغاز قاری محمد یوسف عثمان گوجرانوالہ کی تلاوت سے ہوا۔ اس نشست میں مفتی نظام الدین، احمد میاں حمادی آف سندھ، مولانا محمد یوسف لدھیانوی، مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی، مولانا منظور احمد چنیوٹی، مولانا محمد اسعد تھانوی، مولانا محمد ابوبکر نمائندہ مجاہدین کشمیر، مولانا اللہ وسایا، مولانا اعظم طارق (ایم . این . اے) اور مولانا ضیاء الرحمٰن فاروقی نے خطاب کیا۔

ایک کارکن نے نعرہ لگا دیا کہ ظالمو! قاضی آ رہا ہے۔ جسے قاضی صاحب نے بھی سنا، مگر مسکرا کر آگے چل دیئے۔

موعود کی آمد، علامات و نشانات اور اس مسئلہ پر مرزائیوں کے اعتراضات و اشکالات کا علمی، عقلی اور نقلی دلائل سے بھر پور جواب دیتے ہوئے قادیانیوں کو دعوت اسلام دی۔ مولانا کا درس صبح پونے آٹھ بجے ختم ہوا۔

ہزاروی، مولانا غلام حسین مبلغ جھنگ، مولانا عبدالرؤف ازہری اسلام آباد والے، مولانا ضیاء الدین آزاد، مولانا سید ممتاز الحسن شاہ گیلانی، مولانا خدا بخش شجاع آبادی، مولانا فاروق پنوں عاقل، مولانا عبداللہ، مولانا انذر قاسمی سیالکوٹ، عبدالحق مجاہد، مولانا اللہ داد کاکڑ (سندھ) انجینئرنگ یونیورسٹی شبان ختم نبوت کے طالب علم بدر عالم، مولانا غلام مصطفیٰ بہاول پور، شمالی علاقہ جات سے آئے ہوئے عنایت اللہ خان نے خطاب کیا۔

کے وقت جامع مسجد ختم نبوت کا ہال، برآمدہ، گیلری، چھت، صحن کے علاوہ مدرسہ اور مسجد کی درمیانی جگہ بھی نمازیوں سے بھر گئی تھی۔ سب سے زیادہ حاضری بھی اسی نشست میں تھی۔

الرحمٰن (ایم . این . اے) نے خطاب کیا۔ یوں یہ دو روزہ کانفرنس جمعتہ المبارک کے روز سہ پہر سوا چار بجے مکہ مکرمہ سے آئے ہوئے ممتاز مذہبی رہنما مولانا عبدالحفیظ مکی کی دعا سے اختتام پذیر ہوئی۔

مرزا طاہر کے خطبات ڈش انٹینا پر دکھانے، معین قریشی کو پاکستان میں لانے، شناختی کارڈ میں مذہب کے خانہ سے نواز شریف

صفحہ ۲۷۶

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

حکومت کا انحراف، پاکستان میں امریکی اثر و نفوذ اور بے جا عمل دخل، امریکی نیو ورلڈ آرڈر، مرتد کی شرعی سزا کے نفاذ، جہاد کشمیر اور مرزائیوں کی ہدف تنقید بنایا اور سب سے زیادہ مقررین نے انہی موضوعات پر گفتگو کی۔

قائدین سے بھی ملاقاتیں اور موقع پر خود رپورٹنگ کرتے رہے۔

لگایا گیا جہاں شرکائے کانفرنس کو انتہائی ارزاں نرخوں پر جماعت کا لٹریچر اور کتب و پمفلٹ وغیرہ فراہم کئے۔ ننکانہ کے قدیر شہزاد میگا فون پر مجلس کی نئی کتب کی خصوصیات کا اعلان کرتے رہے۔

پنڈال میں داخل ہوتے تو مولانا اللہ وسایا ان کے جذبات کی ترجمانی کرتے اور انہیں خاموشی سے پنڈال میں تشریف رکھنے کی تلقین فرماتے۔

(ہفت روزہ لولاک فیصل آباد ص ۱۷ تا ۱۹، مورخہ ۵؍نومبر ۱۹۹۳ء)

چیلے والا جھنگ میں ختم نبوت کانفرنس

مرزا رفیع احمد برادر مرزا طاہر نے سینکڑوں کنال رقبہ چیلے والا تھانہ اٹھارہ ہزاری ضلع جھنگ خرید کیا اور ۲۶۰۰؍ کنال رقبہ کی رجسٹری رقبہ مرزا محمد احمد، مرزا عبد الصمد، مرزا طیب احمد پسران مرزا رفیع احمد اور لڑکیوں کے نام کرا دی ہے۔ تفصیل کے لئے رقبہ مذکورہ ۲۸؍ فروری ۱۹۹۳ء کو کچہری جھنگ میں ہوئی۔ سودا ۳۵۰۰ کنال کا ہے۔ بقایا زمین ابھی رجسٹری ہونی ہے۔ مجلس تحفظ ختم نبوت کو ان کی کارروائی کا پتہ چلا تو مرکزی دفتر میں تمام ساتھیوں کے مشورہ سے اس علاقہ میں کانفرنس منعقد کرنے کا پروگرام طے ہوا۔ کیونکہ قادیانی یہ زمین خرید کر اپنا نیا مرکز بنا کر علاقہ کے مسلمانوں کو گمراہ کرنا چاہتے ہیں۔ یہ علاقہ ضلع بھکر، لیہ، خوشاب، احمد پور سیال، ڈیرہ غازی خان، ڈیرہ اسماعیل خان اور ملک بھر میں جہاں بھی جانا چاہیں رابطہ کے لئے نہایت موزوں ہے۔ جماعت ختم نبوت نے فیصلہ کیا کہ علاقہ کے ان پڑھ اور دین سے ناواقف لوگوں کو قادیانی مرتد بنانے کے لئے ہتھکنڈے استعمال کرنے شروع بھی کر دیئے۔ دوکانداروں سے رابطہ لالچ، علاقہ کے زمینداروں سے رابطے، چنانچہ جماعت کے فیصلہ کے مطابق جب علاقہ میں کام شروع ہوا تو دوکانداروں اور علاقہ کے لوگوں نے قادیانیوں سے بائیکاٹ کر دیا۔ جماعت نے فیصلہ کیا کہ چیلے والا کے مقام پر جہاں تقریباً چار پانچ سو گھرانے آباد ہیں ختم نبوت کانفرنس منعقد کی جائے اور اجتماعی طور پر لوگوں کو قادیانیوں کے عقائد و عزائم سے آگاہ کیا جائے۔ چنانچہ کانفرنس کے انعقاد کے لئے سب سے پہلے اہل علاقہ چیلے والا کے مسلمانوں کی بیعت کا سلسلہ مرشد آباد شریف تھل ضلع بھکر کے گدی نشین جناب صاحبزادہ عبدالمعید سبحانی کے ساتھ تھا۔ راقم الحروف ان کی خدمت میں حاضر ہوا۔ تمام حالات ان کی خدمت میں پیش کئے۔ تمام حالات سننے کے بعد انہوں نے قادیانیوں کی سرگرمیوں پر سخت تشویش کا اظہار کیا اور کانفرنس کی تیاری اور کانفرنس میں تعاون کے لئے چیلے والا کے مریدوں کے نام خط تحریر کیا۔

کانفرنس ۵؍ نومبر ۱۹۹۳ء بروز جمعہ تجویز ہوئی۔ چنانچہ کانفرنس سے ایک ہفتہ قبل ۲۸؍ اکتوبر بروز جمعرات مبلغین عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی ایک جماعت مولانا خدا بخش کی سرپرستی میں علاقہ میں پہنچ گئی۔ مختلف مقامات پر مبلغین کی جماعت جن میں مولانا غلام مصطفیٰ

صفحہ ۲۷۷

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۳ء ترتیب وتحقیق : حضرت مولانا اللہ وسایا

مبلغ صدیق آباد ربوہ ،مولانا امام الدین، مولانا فقیر اللہ، مولانا محمد اسحاق صاحبان شامل تھے۔ علاقہ میں کانفرنس کے انعقاد کے اغراض ومقاصد اور مرزائیت کے ہتھکنڈوں سے آگاہ کرنے کے لئے احمد پور سیال ، سمند وآنہ، پیر عبدالرحمن، گڑھ مہاراجہ، حسو بلیل روڈ وسلطان لاشاری، اٹھارہ ہزاری، واصو، ڈالاں والا موڑ ، منڈے سید، ماچھی وال، شاکر کوٹ، حویلی بہادر شاہ، رستم، سرگانہ، وریام والا، شورکوٹ روڈ، شورکوٹ شہر، میرک، سیال اور مختلف مقامات پر دورے کر کے عوام کو آگاہ کیا۔ اشتہار بھی شائع کیا گیا۔ جس میں علاقہ کے ایم۔ پی۔ اے میاں محمد اکرم چیلہ کی صدارت تھی۔ چنانچہ کانفرنس ٹھیک دس بجے چیلے والا شروع ہو گئی۔ جمعہ سے قبل کی نشست کی صدارت چیلے والا کے خطیب مولانا امام بخش نے کی۔ راقم الحروف نے اس علاقہ میں کانفرنس کرنے کے اغراض و مقاصد اور مرزائیت کے ہتھکنڈوں سے عوام کو آگاہ کیا۔ بعد ازاں مولانا محمد صدیق مدرس جامعہ محمودیہ، مولانا محمد سرور خطیب جھنگ صدر، مولانا ضیاء الدین آزاد، مولانا خدا بخش ملتان، مولانا محمد عبد اللہ آف منکیرہ اور دوسرے مقررین نے خطاب فرمایا اور مرزائیوں کے عقائد پر سیر حاصل بحث فرمائی۔ جمعہ سے قبل خواجہ خواجگان امیر مرکزیہ جناب حضرت مولانا خواجہ خان محمد تشریف لے آئے۔ جمعہ کی اذان کے بعد مقرر بے بدل جناب قاری محمد حیات صاحب نے نماز جمعہ تک خطاب فرمایا۔ نماز جمعہ سے فارغ ہو کر حضرت قبلہ خواجہ صاحب کی سرپرستی اور محمد اکرم چیلہ کی صدارت میں دوسری نشست شروع ہوئی جس میں مولانا محمد اکرم طوفانی، مولانا محمد عبد اللہ بھکر، چوہدری شہباز گجر، مولانا حکیم عبداللطیف اور مولانا اللہ وسایا نے مفصل خطاب فرمایا۔ اہل علاقہ جو کہ کانفرنس کے شروع ہونے سے پہلے ہی ویگنوں، ٹرالیوں اور بسوں میں قافلوں کی شکل میں تشریف لائے۔ علاقہ کے خطباء حضرات نے اپنے اپنے علاقہ کی سرپرستی کی تھی۔ اپنے جمعہ کے انتظام کر کے خود چیلے والا تشریف لائے تھے۔ احمد پور سیال کے قافلہ کی سرپرستی حضرت مولانا سید کوثر حسین شاہ، مولانا سید احمد شاہ صاحب نے فرمائی۔ اسی طرح مختلف علاقہ جات کے علماء نے بڑی محنت کر کے کانفرنس کو کامیاب کیا۔ علماء کرام کے خطاب کے دوران پنڈال میں لوگوں نے بھر پور طریقہ سے یقین دہانی کرائی کہ ہم قادیانیوں سے مکمل بائیکاٹ کر کے یہاں سے بھاگنے پر مجبور کر دیں گے۔ کانفرنس کے دوسرے دن دوبارہ راقم الحروف کا اس علاقہ میں جانا ہوا تو چیلے والا کی قریبی بستی عبد اللہ پور کے ذمہ دار جناب حاجی علی محمد نے بتلایا کہ کانفرنس سے واپسی پر میں نے اپنی بستی کے تمام لوگوں کو بلا کر کہا کہ تم بیل گاڑی پر محنت مزدوری کرتے ہو۔ اگر کسی شخص نے اپنی بیل گاڑی پر قادیانیوں کا سامان لادا یا اور اگر کسی نے ان کی فصل وغیرہ کاٹی تو اس سے بستی کے تمام لوگ مکمل بائیکاٹ کریں گے۔ اسی طرح علاقہ کے لوگوں میں قادیانیوں کے خلاف سخت نفرت کا اظہار پایا جاتا ہے۔ مولانا اعظم طارق کی تقریر کے بعد علاقہ کے ایم۔ پی۔ اے جناب میاں محمد اکرم چیلہ نے تقریر کرتے ہوئے کہا کہ میرے مرشد پیر مہر علی شاہ گولڑوی نے مرزا غلام احمد قادیانی کو ناکوں چنے چبوائے تھے۔ ان شاء اللہ ! میرا مال میری جان سب کچھ ختم نبوت کی خدمت کے لئے حاضر ہے۔ نعتیہ کلام جناب حافظ فلک شیر، محمد بخش پردیسی اور طاہر برادران نے پیش کئے۔ جب کہ بریلوی مکتب فکر کے ممتاز عالم دین جناب نصرت، مولانا قاری محمد رفیق صاحب نے نمائندگی فرمائی۔ صاحبزادہ عبدالمعید صاحب طبیعت کی ناسازی کی وجہ سے تشریف نہ لا سکے۔ ان کا خط پڑھ کر سنایا گیا۔ شام پانچ بجے کانفرنس اختتام پذیر ہوئی۔ جب کہ خان محمد اصغر خان پٹھان نے عوام و خواص کے لئے کھانے کا مکمل انتظام فرمایا تھا۔ ماسٹر محمد اقبال، میاں حبیب چیلہ، میاں محبوب چیلہ، میاں محمد افضل چیلہ، میاں محمد اعظم چیلہ، حکیم سید منیر حسین، شاہ ملک آصف الرحمن، مولانا محمد یار خطیب اٹھارہ ہزاری نے کانفرنس کی کامیابی میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ اللہ پاک قبول فرمائے اور نجات کا ذریعہ بنائے اور اس کانفرنس کو علاقہ کی ہدایت کا ذریعہ بنائے۔ قادیانیوں نے جو زمین انتقال کرائی ، یہ ہے :

زمین کی خریداری وانتقال کی تفصیل حسب ذیل ہے :

صفحہ ۲۷۸

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

ملک مبشر احمد مجوکہ ولد ملک بشیر محمد ۴۰۰ رکنال مسماۃ سارہ امت الحفیظ دختر مرزا رفیع احمد ۴۰ رکنال مسماۃ حمیرا امت الحمید دختر مرزا رفیع احمد ۲۰۰ رکنال مسماۃ شبّرہ امت اللطیف دختر مرزا رفیع احمد ۲۰۰ رکنال مسماۃ وردہ امت الملک دختر مرزا رفیع احمد ۲۰۰ رکنال مرزا محمد احمد ولد مرزا رفیع احمد ۶۰۰ رکنال مرزا عبدالصمد ولد مرزا رفیع احمد ۲۸۰ رکنال مرزا طیب احمد ولد مرزا رفیع احمد ۴۰۰ رکنال مرزا رفیع احمد ولد مرزا محمود ۲۸۰ رکنال اقوام مغل ساکنان محلہ دارالصّدر تحصیل چنیوٹ ضلع جھنگ۔ کل ٹوٹل ...... ۲۶۰۰ رکنال

موضع مونگ کے قادیانی محمد اسلم کو قادیانیت کی تبلیغ پر گرفتار کر لیا گیا

منڈی بہاؤالدین : گزشتہ روز موضع مونگ میں معروف قادیانی محمد اسلم ولد خوشی محمد کو مونگ ہی کے حکیم محمد حاکم خان کو قادیانیت کی تبلیغ اور اپنے کو مسلمان ظاہر کرنے پر حکیم محمد حاکم خان کی درخواست پر ڈی۔ایس۔پی منڈی بہاؤالدین راجہ محمد فاروق ساجد نے قادیانی محمد اسلم کی فوراً گرفتاری کا حکم دیا اور پولیس نے موضع مونگ میں رات کو چھاپہ مار کر گرفتار کر لیا اور چالان کر کے ڈسٹرکٹ جیل منڈی بہاؤالدین بھیج دیا۔ ملزم کی طرف سے علاقہ مجسٹریٹ جناب محمد زمان خان کی عدالت میں ضمانت کی درخواست دی۔ قادیانی ملزم کے وکیل چوہدری شیر محمد نے اور عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے معروف وکیل محمد اکرم گکھڑ ایڈووکیٹ اور لیگل انسپکٹر نے بحث میں حصہ لیا۔ عدالت نے قادیانی ملزم کی ضمانت کی درخواست خارج کر دی۔ اس کے بعد ملزم کی طرف سے ضمانت کی درخواست ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج حافظ محمد اکرم چغتائی منڈی بہاؤالدین کی عدالت میں دائر کی۔ ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج کی عدالت میں قادیانی ملزم کے وکیل چوہدری شیر محمد ایڈووکیٹ اور چوہدری عیسیٰ خان ایڈووکیٹ اور عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے قانونی مشیران راجہ محمد اکرم گکھڑ ایڈووکیٹ ، محمد عارف سیال ایڈووکیٹ ، بابو محمد یامین ایڈووکیٹ ، چوہدری احمد مونس ایڈووکیٹ اور ہائیکورٹ کے معروف قانون دان حاجی میراں ملک ایڈووکیٹ نے وکالت نامہ داخل کیا۔ بحث میں قادیانی وکیل نے کہا کہ یہ کیس ذاتی عناصر پر مبنی ہے اور ملزم نے قادیانیت کی تبلیغ نہیں کی۔ ختم نبوت کے مشیر حاجی میراں ملک نے بحث کرتے ہوئے کہا کہ ملزم نے عوام میں قادیانیت کی تبلیغ کر کے زہر پھیلانے کی کوشش کی اور اپنے کفریہ عقائد کی تبلیغ کر رہا تھا۔ جس سے علاقہ بھر کا امن خراب ہو رہا تھا۔ کچہری میں دو سو علماء کرام، مشائخ عظام، معززین شہر کی ایک بہت بڑی تعداد بھی موجود تھی۔ اس کیس کو انتہائی حساس موقع پر درج کیا گیا۔ اس کی وجہ سے شہر اور علاقہ بھر کا امن تباہ ہو سکتا تھا۔ عدالت نے بحث سننے کے بعد تاریخ ڈال دی۔ اگلی پیشی پر عدالت سیشن جج نے ملزم قادیانی کی ضمانت درخواست خارج کر دی۔ عدالت کے باہر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے رہنما مولانا صوفی غلام نور، الحاج جاوید اقبال چغتائی، ملک محمد یامین قادری، محمد ایوب مجاہد، حاجی محمد یحییٰ قریشی، مولانا علی شیر حیدری، ختم نبوت یوتھ فورس کے رہنما میاں محمد فاروق، ملک محمد اشتیاق، جمعیۃ علماء اسلام کے امیر مولانا قاری خلیل احمد آزاد، مولانا عبدالقادر افغانی،

صفحہ ۲۷۹

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

جمعیتہ اشاعت التوحید وسنت کے رہنما مولانا قاری محمد اشرف قریشی، مولانا قاری عبدالشکور جامع مسجد ختم نبوت کے خطیب مولانا اکرام اللہ خان، نوجوان محمد صادق، متحدہ دینی محاذ کے رہنما ملک محمد افضال موجود تھے۔ عدالت مسلمانوں سے بھری ہوئی تھی۔

(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ص ۱۹ تا ۲۱، مورخہ ۳ تا ۹ / دسمبر ۱۹۹۳ء)

ختم نبوت کانفرنس پتوکی

مؤرخہ ۷/ نومبر ۱۹۹۳ء جامع مسجد فاروق اعظم پتوکی میں مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی۔ مولانا خدا بخش شجاع آبادی مولانا محمد اسماعیل، قاری نور محمد شاکر، اقبال ضیاء، محمد عامر اسحق، قاری محمد ابراہیم، مولانا ہارون رشید رشیدی نے خطاب کیا۔

(ہفت روزہ لولاک فیصل آباد ص ۲۲، مؤرخہ ۱۰/ دسمبر ۱۹۹۳ء)

ختم نبوت کانفرنس غازی

ایبٹ آباد (ایچ ساجد اعوان) تحفظ ختم نبوت یوتھ فورس تحصیل غازی ضلع ہری پور کے زیر اہتمام مؤرخہ ۱۷/ نومبر ۱۹۹۳ء کو ہملٹ میں عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس زیر صدارت مولانا نور الہدیٰ بعد از نماز عشاء جامع مسجد موہٹ سیکٹر ہملٹ میں انتہائی عقیدت واحترام سے منعقد کی گئی۔ ختم نبوت کانفرنس سے توقیر الاسلام صدر تحفظ ختم نبوت یوتھ فورس گورنمنٹ پوسٹ گریجویٹ کالج ایبٹ آباد نے خطاب کرتے ہوئے مرزا غلام احمد قادیانی کی نبوت کو دلائل سے جھوٹا ثابت کیا اور عظمت رسول اللہ ﷺ کے تحفظ پر زور دیا۔ ہری پور کے محمد اورنگزیب اعوان، صابر غفور علوی نے خطاب کرتے ہوئے اس عزم کا اظہار کیا کہ ہم ناموس رسالت مآب ﷺ کے تحفظ کے لئے ہر قسم کی قربانی دیں گے۔ ایچ ساجد اعوان نے خطاب کرتے ہوئے قرآن کی رو سے گستاخ رسول کی سزا، سزائے موت ثابت کرتے ہوئے کہا کہ فرش زمین پر آج قادیانیوں سے بڑا گستاخ رسول کوئی نہیں۔ اس لئے قادیانیت کا تعاقب وقت کا اہم ترین فریضہ ہے۔ جو ہم سب مسلمانوں پر لازم ہے اور عشق رسول ﷺ ہی ہماری متاع ایمان ہے۔

عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت اسلام آباد کے مبلغ مولانا عبدالرؤف الازہری کے بعد شاہین ختم نبوت فاتح ربوہ حضرت مولانا اللہ وسایا نے ایک گھنٹہ کے خطاب میں کہا کہ تحریک ختم نبوت امت کی اجتماعی تحریک ہے۔ اس میں دیوبندی، بریلوی، اہل حدیث، شیعہ کی کوئی تفریق نہیں۔ انہوں نے کہا کہ لاکھوں دیوبند اور بریلوی، لاکھوں لکھنؤ اور دہلی قربان گنبد خضراء کی ایک اینٹ مبارک پر، گنبد خضراء کی عزت محفوظ ہو تو سب کی عزت محفوظ ہے۔ ورنہ میرے دیو بند تیرے بریلی اس کے لکھنؤ اور اس کے دہلی کو کون پوچھے گا؟ انہوں نے کہا کہ مسلمانو! ناموس مصطفی ﷺ کے تحفظ کے لئے سیسہ پلائی دیوار بن جاؤ۔ آخر میں محفل سوال و جواب ہوئی۔ سٹیج سیکرٹری کے فرائض محمد نثار عاصم نے کمال مہارت سے ادا کر کے سامعین سے خوب داد حاصل کی۔ قاری اجمل عمر اور قاری جمیل اختر نے شب و روز محنت کر کے کانفرنس کو کامیاب کروایا۔

(ہفت روزہ لولاک فیصل آباد ص ۲۱، مؤرخہ ۱۰/ دسمبر ۱۹۹۳ء)

ختم نبوت کانفرنس قصور

مؤرخہ ۱۸/نومبر ۱۹۹۳ء بروز جمعرات بعد نماز عشاء اڈہ نور پور ضلع قصور جامع مسجد اہل سنت میں سالانہ ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی۔ جس کی صدارت سردار محمد اکبر ڈوگر نے کی۔ سٹیج سیکرٹری کے فرائض کانفرنس کے منتظم اللہ دتہ مجاہد قصوری نے انجام دیئے۔ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مبلغ مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی نے عقیدہ ختم نبوت کی اہمیت بیان کی اور پر زور انداز

صفحہ ۲۸۰

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۳ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

میں قادیانیت کے خلاف دلائل دیئے۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے راہنما مولانا اللہ وسایا نے کانفرنس میں طویل خطاب فرمایا اور حیات مسیح، رفع ونزول مسیح، ختم نبوت، صدق وکذب مرزا جیسے اہم موضوعات پر تفصیل سے روشنی ڈالی اور ہر اعتبار سے حاضرین کی تسلی فرمائی۔ واضح رہے کہ اڈہ نور پور نہر پر قادیانی جاگیردار ایک بڑی مارکیٹ کے مالک ہیں اور آس پاس کے دیہات میں ان کی وسیع جائیدادیں موجود ہیں۔ قادیانی علاقہ میں زمیندار اور بعض دوسری وجوہات سے اثر رکھتے ہیں۔ انتخابات اور دوسرے مواقع سے بھر پور فائدہ اٹھاتے ہیں۔ سیاسی کارکنوں اور انتخابی امیدواروں کو ووٹ اور نوٹ کی سپورٹ بہم پہنچا کر اپنے زیر احسان رکھتے ہیں۔ یہی عوامل تھے جن کی بناء پر مرزائیوں نے اندرون خانہ سازشیں کر کے گزشتہ سال ختم نبوت کانفرنس رکوا دی تھی۔ وہ اس مرتبہ بھی اسے رکوانے کے لئے پورا زور لگا چکے تھے، لیکن اللہ نے مجاہد ختم نبوت اللہ دتہ مجاہد کے عزم صمیم کی لاج رکھ لی۔ اس کی دعاؤں کو قبول کر لیا اور علاقہ کی ایک معتبر شخصیت حاجی سردار محمد اکبر ڈوگر کے دل میں عشق رسول کی جوت جگا دی۔ موصوف نے سارے اہل اقتدار اور صاحبان اثر ورسوخ کی مخالفت کے باوجود اعلانیہ کہہ دیا کہ یہ کانفرنس ہر حال میں منعقد ہوگی اور جو کوئی اس کی راہ میں رکاوٹ ڈالے گا وہ میں اس سے نمٹ لوں گا۔ چنانچہ انہوں نے اپنی صدارت میں شاندار اور بھر پور کانفرنس منعقد کروا کر اپنے قول کی سچائی اور مضبوطی ثابت کر دی۔ اللہ دتہ مجاہد اور اصغر علی الیکٹریشن اور مجلس تحفظ ختم نبوت کے دیگر کارکنوں نے سردار محمد ڈوگر کو اس تعاون پر زبردست خراج تحسین پیش کیا اور ان کے لئے استقامت کی دعا کی ہے۔ مجلس تحفظ ختم نبوت قصور نے ساری ڈوگر برادری، بالخصوص سردار محمد اکبر اور سردار مستا ڈوگر صاحبان کا شکریہ ادا کیا۔ نیز جامع مسجد اہل سنت کے خطیب مولانا محمد یاسین کے تعاون اور نور پور کے تمام اہل اسلام کا شکریہ ادا کیا ہے۔ کانفرنس سے مولانا محمد رشید اصغر اور مولانا محمود احمد علوی نے بھی خطاب کیا اور اپنی اپنی تقاریر میں علاقہ کے تمام مسلمانوں سے متحد ہو کر قادیانیت کا مقابلہ کرنے پر زور دیا۔

(ہفت روزہ لولاک فیصل آباد ص۱۹، مورخہ۳؍دسمبر ۱۹۹۳ء)

ڈھاکہ میں تاریخ ساز ختم نبوت کانفرنس...... بارہ سے پندرہ لاکھ کا اجتماع

قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا جائے اور ان کی سرگرمیوں پر پابندی عائد کی جائے۔

ڈھاکہ (پ.ر) قادیانی گروہ، ملت اسلامیہ کا وہ ناسور ہے جس نے پوری دنیا میں مسلمانوں کو گمراہ کرنے اور نبی کریم ﷺ کی امت سے نکالنے کا بیڑہ اٹھایا ہے۔ یہ گروہ اپنے آپ کو مسلمان ظاہر کر کے سادہ لوح مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ اس لئے ضروری ہے کہ مسلمان حکومتیں اس گروہ کو غیر مسلم اقلیت کے زمرے میں شامل کریں۔ بنگلہ دیش ایک اسلامی مملکت ہے۔ اس کی اکثریت سنی العقیدہ مسلمان کی ہے۔ اس لئے بنگلہ دیش کو بھی سعودی عرب اور دیگر مسلم ممالک کی طرح ان کو غیر مسلم اقلیت قرار دے کر ان کی تبلیغی اور رفاہی اور تعلیمی سرگرمیوں پر پابندی عائد کرنی چاہئے اور آئین میں ان کو غیر مسلم اقلیت میں شامل کیا جائے۔ ان کو مساجد کی شکل میں عبادت گاہ بنانے سے روکا جائے۔ ان کو شعائر اسلام استعمال کرنے کی اجازت نہیں دینا چاہئے۔ یہ مطالبات عالمی ختم نبوت کانفرنس میں سعودی عرب، بنگلہ دیش، پاکستان اور دیگر مسلم ممالک کے علماء کرام نے بارہ لاکھ فرزندان توحید کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کئے۔ کانفرنس کا آغاز نماز جمعہ سے ہوا۔ سعودی عرب کے ممتاز عالم دین مدرسہ صولتیہ مکہ مکرمہ کے استاذ الحدیث مولانا سعید عنایت اللہ نے نماز جمعہ کی خطابت و امامت سے کانفرنس کا آغاز کیا۔ کانفرنس کا باقاعدہ آغاز نماز جمعہ کے بعد ہوا۔ اس نشست کی صدارت عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت بنگلہ دیش کے امیر مولانا عبید الحق نے کی۔ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے دارالعلوم دیوبند کے شیخ الحدیث مولانا سعید احمد پالن پوری نے کہا کہ قادیانی گروہ امریکہ اور لادین طاقتوں کی سرپرستی میں مسلمانوں میں انتشار وافتراق کے درپے ہیں۔ افریقی ممالک اور ہندوستان،

صفحہ ۲۸۱

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

بنگلہ دیش میں اس ناسور نے اپنے پاؤں تیزی سے پھیلانے شروع کر دیئے ہیں۔ تعاون اور امداد کے نام پر یہ تبلیغ قادیانیت کا دھندہ ادا کرتے ہیں۔ تبلیغی سرگرمیوں کے ذریعہ امت کو گمراہ کرنے کے درپے ہیں۔ مسلمانوں کو چاہئے کہ وہ اس فتنہ کی سرکوبی کے لئے بھر پور جدوجہد کریں اور اس وقت تک چین سے نہ بیٹھیں جب تک اس فتنہ کی مکمل سرکوبی نہیں کر لیتے۔

دارالعلوم دیوبند کے استاذ الحدیث مولانا انظر شاہ کشمیری نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ محدث العصر مولانا سید انور شاہ کشمیری نے اس فتنہ کے آغاز سے ہی علماء کرام کو اس فتنہ کی طرف متوجہ کر دیا تھا اور امیر شریعت مولانا سید عطاء اللہ شاہ بخاری، عاشق رسول مولانا سید محمد یوسف بنوری کو وصیت کی تھی کہ وہ اس فتنہ کا بھر پور تعاقب کریں۔ ان بزرگ ہستیوں نے مجلس احرار اسلام اور مجلس تحفظ ختم نبوت کے پلیٹ فارم سے اس باطل فتنہ کے خلاف بھر پور کام کیا۔ اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو فتح دی اور سعودی عرب اور پاکستان اور دیگر چالیس ملکوں نے ان کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا۔ اب بنگلہ دیش حکومت کو چاہئے کہ وہ فوری طور پر قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دے تاکہ بنگلہ دیش میں فتنہ جڑ نہ پکڑ سکے۔

مولانا محمد یوسف لدھیانوی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ قادیانی گروہ مسلمانوں کی آڑ لے کر کلیدی مناصب پر فائز ہو جاتا ہے اور پھر وہ ان مناصب کو گمراہی کی تبلیغ اور سرگرمیوں کے لئے استعمال کرتا ہے۔ امریکہ اور لادین ممالک کے یہ آلہ کار ہیں۔ اسرائیل اور بھارت سے ان کا رابطہ ہے۔ انہوں نے کشمیر کو ہندوستان کے حوالے کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ اب یہ بنگلہ دیش کو سازشوں کا مرکز بنانا چاہتے ہیں۔ حکومت بنگلہ دیش سے ہماری اپیل ہے کہ یہ مسئلہ پاکستانی مسلمانوں کے علماء کرام کا نہیں بلکہ بنگلہ دیش کے مسلمانوں کے دین کا ہے۔ بنگلہ کے حکمران راسخ العقیدہ مسلمان ہیں۔ اگر انہوں نے اس خطرہ کو محسوس نہ کیا تو مسلمانان بنگلہ دیش کے ایمان پر ڈاکہ ڈالنے کی کوشش ہوگی۔ اس کا ایک ہی علاج ہے کہ اس فتنہ کو جسد اسلامیہ سے الگ کرنے کے لئے غیر مسلم اقلیت قرار دیا جائے۔

مولانا سعید عنایت اللہ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کانفرنس کی عظمت کا اس سے احساس کیا جا سکتا ہے کہ یہ حضور ﷺ کی ختم نبوت سے منسوب ہے۔ خادم الحرمین الشریفین نے اس کانفرنس کی اہمیت کے پیش نظر امام الحرم شیخ عبداللہ بن سبیل اور شیخ طہٰ اور کشمیر ریلیف کمیٹی سعودی عرب کے مولانا ملک عبدالحفیظ مکی کو خصوصی طیارہ سے روانہ کرنے کا حکم دیا تھا۔ لیکن بنگلہ دیش حکومت کی طرف سے کانفرنس کے التواء کی بناء پر ایئر پورٹ سے واپس ہو گیا۔ جس کا نہ صرف بنگلہ دیش کے علماء کرام بلکہ سعودی عرب کے حکام کو بھی بہت افسوس ہے۔ خادم الحرمین الشریفین کی یہ خواہش ہے کہ بنگلہ دیشی حکومت علماء کرام کے مطالبہ کی حمایت کر کے فوری طور پر قادیانیوں کو بنگلہ دیش میں غیر مسلم اقلیت قرار دے اور ان کی تبلیغی سرگرمیوں پر پابندی عائد کرے۔ کانفرنس سے مولانا عبید الحق، مولانا حبیب الرحمٰن، مولانا محمد ہارون، مولانا عزیز الحق، مولانا اللہ وسایا، ڈاکٹر عبدالرزاق اسکندر، مفتی منیر احمد، مولانا شہید الاسلام، مولانا روح الامین، مولانا شمس الدین، جناب شمس الضحیٰ، مولانا نور الاسلام، مولانا صلاح الدین اور دیگر علماء کرام نے خطاب کیا۔ آخر میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے امیر شیخ المشائخ مولانا خواجہ خان محمد آف کندیاں شریف نے دعا کرائی۔

قبل ازیں حکومت بنگلہ دیش نے ساف گیمز کی بناء پر تین روز قبل اچانک اطلاع دی کہ کانفرنس منعقد کرنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔ اگر کانفرنس منعقد کی گئی تو طاقت کے ذریعہ روکا جائے گا اور پھر ریڈیو، ٹی وی اور اخبارات کے ذریعہ اعلان کیا گیا کہ کانفرنس ملتوی کر دی گئی ہے۔ پاکستانی حکومت اور سعودی حکومت کو مطلع کر دیا گیا کہ کانفرنس ملتوی کر دی گئی ہے، جس کی بناء پر سعودی عرب سے امام حرم

صفحہ ۲۸۲

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۳ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

اور خادم الحرمین الشریفین کی نمائندگی کرنے والا وفد ایئرپورٹ سے واپس ہو گیا۔ پاکستان سے مولانا سرفراز خان صفدر، مفتی اعظم پاکستان مفتی محمد رفیع عثمانی، ورلڈ اسلامک فورم کے سربراہ مولانا زاہد الراشدی، مولانا حبیب اللہ مختار، مولانا سید محمد بنوری، مولانا سعید احمد جلالپوری، مولانا فضل الرحیم، مولانا محمد اکرم زاہد پر مشتمل وفد کراچی ایئرپورٹ، جمعیۃ علماء افریقہ کے مولانا عباس جناح اور مولانا نظیر احمد ایئرپورٹ سے واپس ہو گئے۔ بنگلہ دیش میں یہ خبر پھیلتے ہی احتجاج کا سلسلہ شروع ہو گیا اور جمعرات کا ڈھاکہ میں ایک لاکھ سے زائد افراد نے مظاہرہ کیا۔ ڈھاکہ کی سڑکوں پر جلوس نکالا گیا۔ اس دباؤ کے پیش نظر جمعرات کو رات گئے وزارت داخلہ بنگلہ دیش نے عالمی تحفظ ختم نبوت کے رہنماؤں کو بلا کر کانفرنس منعقد کرنے کی اجازت دی۔

(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ص۲۲، مورخہ ۷ تا ۱۳؍ جنوری ۱۹۹۴ء)

قادیانیوں کو پاکستان پر مسلط کرنے کی بین الاقوامی سازش

اٹھو وگرنہ حشر نہیں ہو گا پھر کبھی دوڑو زمانہ چال قیامت کی چل گیا

کیا حکومت پاکستان بھی اس سازش میں شریک ہے؟ ایک لمحہ فکریہ!

نعرے لگوائے۔

کانفرنس منعقد کرنے کا اعلان کر دیا۔

ختم کرانے کے لئے متحرک ہو گئیں۔

ان حالات میں آپ کی ذمہ داری کیا ہے؟

اسلامیہ کی ایک صدی پر محیط طویل جدوجہد اور غیر مسلمانوں کی بے پناہ قربانیوں پر بھی ایک نظر ڈال لیجئے۔

ایسا نہ ہو کہ میدان حشر میں جناب ختم المرسلین ﷺ کی بارگاہ میں شرمساری اور رسوائی کے سوا کچھ حاصل نہ ہو۔

خدا نہ کرے ...... خدا نہ کرے ...... خدا نہ کرے

منجانب: کل جماعتی مرکزی مجلس عمل تحفظ ختم نبوت پاکستان حضوری باغ روڈ ملتان ...... فون: ۴۰۹۷۸

(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ص اندرون ٹائٹل ، مورخہ ۷ تا ۱۳؍ مئی ۱۹۹۳ء)

صفحہ ۲۸۳

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

تحریک ختم نبوت

کے سلسلہ میں

۱۹۹۴ء

کے

حالات و واقعات

صفحہ ۲۸۴

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۲ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

توہین رسالت کے بعد توہین عدالت

قادیانی جماعت کے سربراہ مرزا طاہر احمد نے ۷؍فروری ۱۹۹۴ء کو لندن میں تقریر کرتے ہوئے اپنی اقلیت کے افراد کو ایک بار پھر یہ خوشخبری سنائی ہے کہ فتح ان کی ہوگی اور وہ لازماً جیتیں گے۔ قادیانی جماعت کے مفرور راہنما نے پاکستان میں رونما ہونے والے دو واقعات پر تبصرہ کرتے ہوئے نہ صرف شدید غم وغصہ کا اظہار کیا بلکہ پاکستان کی اعلیٰ عدالتوں کو بھی رگیدا ہے۔ قادیانی آرگن اخبار الفضل سے مرزا صاحب کی تقریر کا اقتباس ملاحظہ فرمائیں:

”یہ جو رو چلی ہے اس میں اوپر کی سطح کا عمل دخل ضرور ہے۔ عدالتوں نے احمدیوں کے خلاف جو فیصلے کئے ہیں، ان کے بعد احمدیوں کے خلاف ہر سطح پر اقدامات ہو رہے ہیں۔ ایک طرف عوام نے مولویوں کو رد کیا ہے تو دوسری طرف ان کی دلداری کے لئے ان کو احمدیوں کا خون پیش کیا جارہا ہے۔ ایک طرف فتح کے شادیانے بجائے جارہے ہیں کہ مولویوں کو ہرا دیا ہے اور دوسری طرف احمدیوں کے خون کے لقمے ان کے منہ میں ڈالے جارہے ہیں۔ لو اب اتنے بھی ناراض نہ ہو......

اس لئے میں اہل پاکستان کو خدا تعالیٰ کی پکڑ سے ڈراتا ہوں۔ احمدی ظلموں پر صبر کر رہے ہیں۔ اگر ان کا صبر آپ پر ٹوٹ پڑا تو آپ کو کہیں کا نہیں چھوڑے گا۔ لیکن میری دعا پھر بھی یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ آپ کو ہدایت دے۔ احمدیوں کا صبر ٹوٹنے سے پہلے اللہ سے استغفار کریں۔ ورنہ میں اس ملک کے لئے بہت ہی برے دن دیکھ رہا ہوں۔ آخری قدم اٹھانے سے پہلے باز رہیں ورنہ اس کے بعد پھر واپسی کی کوئی راہ نہیں رہے گی۔“

(روزنامہ الفضل ربوہ ص۲، مورخہ ۹؍فروری ۱۹۹۴ء)

تشدد کی نہ تو حمایت کی جاسکتی ہے اور نہ ہم اس کے قائل ہیں۔ تاریخ شاہد ہے کہ ہمارے اکابرین عدم تشدد کے قائل تھے اور ہیں۔ مرزا طاہر احمد بیرون ملک شیشے کے محل میں بیٹھ کر اسلام اور پاکستان کے خلاف جس انداز میں سنگ باری میں مصروف ہے۔ اس کا خمیازہ آخر کن کو بھگتنا پڑے گا؟ مرزا طاہر احمد نے جن دو واقعات کا بطور خاص ذکر کیا ہے۔ خود قادیانی جماعت کی قیادت کو سوچنا چاہئے کہ ایسے واقعات کی نوبت کیوں آئی؟ مرزا طاہر احمد نشریاتی اداروں کے ذریعے ہوا کے گھوڑے پر سوار ہو کر اپنی اقلیت کو آگ میں جھونک رہے ہیں۔ ہمارا دعویٰ ہے کہ قادیانی حضرات اپنی قیادت کی پالیسیوں سے نالاں اور دل برداشتہ ہیں۔ وہ بخوبی جانتے ہیں کہ ان کے چندوں پر بیرون ملک احمدیہ لمیٹڈ کمپنی کے ڈائریکٹرز کن عیاشیوں میں مصروف ہیں۔ جماعتی ضابطہ کی بجائے نشریاتی رابطہ قادیانی اقلیت کا کب تک دل بہلائے گا؟

مرزا طاہر احمد نے قادیانیوں پر ہونے والے ظلم وستم کے سلسلہ میں اعلیٰ عدالتوں کو اس کا ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے اپنی تقریر میں الزام لگایا ہے کہ عدالتوں نے احمدیوں کے خلاف جو فیصلے کئے ہیں۔ ان کے بعد ہر سطح پر قادیانیوں کے خلاف اقدامات ہو رہے ہیں۔ علاوہ ازیں مرزا قادیانی نے موجودہ حکومت کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا اور حکومت کے خلاف یہاں تک ہرزہ سرائی کی کہ موجودہ حکومت ہارے ہوئے مولویوں کو خوش کرنے کے لئے ان کے منہ میں احمدیوں کے خون کے لقمے ڈال رہی ہے۔ ہم نہیں سمجھتے مرزا طاہر قادیانی موجودہ حکومت سے کیوں گلہ شکوہ کر رہے ہیں۔ حالانکہ قادیانی جماعت نے انتخابات کے ہر موقع پر پیپلز پارٹی کی حمایت کی ہے۔ مرزا طاہر کیوں بھول گئے کہ اس جماعت کی کامیابی و کامرانی کے لئے ۱۹۷۰ء میں قادیانی جماعت نے ”نصرت جہاں فنڈ“ قائم کیا تھا اور خدام الاحمدیہ کے نوجوان

صفحہ ۲۸۵

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۴ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

انتخابی مہموں میں باقاعدہ فرائض سرانجام دیتے رہے۔ کیا یہ حقیقت نہیں کہ قادیانی جماعت جن پتوں پر تکیہ کرتی ہے وہی ہوا دینے لگتے ہیں۔ قادیانی جماعت کے سربراہ جن اعلیٰ ملکی عدالتوں کے بارے میں غصہ کی جھاگ بہا رہے ہیں، کبھی انہی عدالتوں سے انہیں انصاف کی مہک آئی تھی اور مرزا طاہر قادیانی نے ترنگ میں آکر ڈینگ بھی ماردی تھی۔ ہماری عدالتیں قادیانیوں کے بارے میں جو فیصلے کرتی ہیں وہ آئین اور قانون کو مدنظر رکھ کر کرتی ہیں۔ گزشتہ برس سپریم کورٹ کے تاریخ ساز فیصلہ نے قادیانیت کا جنازہ نکال دیا تھا۔ مرزا قادیانی عدالتوں کو مطعون کرنے کی بجائے اپنے نصیبوں کا ماتم کریں۔ ہمارا مخلصانہ مشورہ ہے کہ مرزا طاہر اپنی اقلیت کو نہ بھڑکائیں...... اور نہ اکسائیں۔ بہتر ہوگا کہ وہ عدلیہ کا احترام کریں اور ان کے فیصلوں کو تہہ دل سے تسلیم کرلیں۔ ملک کے آئین وقانون سے کوئی چیز بالاتر نہیں۔ قادیانی جماعت کے سربراہ بیرون ملک بیٹھ کر یہ پروپیگنڈہ کرنے سے نہیں تھکتے کہ ان کی اقلیت پر پاکستان میں بہت ظلم وستم ہو رہا ہے۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا انہوں نے اپنے آپ کو غیرمسلم اقلیت بھی تسلیم کیا ہے؟ ابھی تک قادیانیوں کو یہی کہا جا رہا ہے کہ یہ فیصلہ ان کے عقیدہ اور ضمیر کے خلاف ہے۔ لہٰذا وہ اس فیصلہ کو تسلیم نہیں کرتے۔ قادیانی اقلیت کے لوگ اپنی قیادت سے بیزاری کا اظہار کریں۔ ان کا تحفظ اور بہتری اسی میں ہے کہ وہ ہوا کے دوش پر سوار ہو کر مرزا طاہر کی بشارتوں، نویدوں اور عذاب کی وعیدوں کی بجائے ملک کے آئین وقانون کا احترام کریں اور دیگر اقلیتوں کی طرح وہ تمام حقوق حاصل کریں جو انہیں حاصل ہیں۔ مرزا طاہر احمد نے ہماری عدالتوں کے بارے میں جو ریمارکس دیئے ہیں یہ صریحاً توہین عدالت کے زمرے میں آتے ہیں۔

(ہفت روزہ لولاک فیصل آباد ص ۴، ۳، مؤرخہ ۲۵؍ مارچ ۱۹۹۴ء)

جامعہ ازہر کی مسلمانوں سے، قادیانیوں کا مقابلہ کرنے کی اپیل

ادارہ تحقیق اسلامی جامعہ ازہر نے مسلمانوں سے پرزور اپیل کی ہے کہ وہ اپنی تمام تر قوتوں اور وسائل کو ملحد بابیوں اور قادیانیوں کی ناشائستہ ومفسدانہ سرگرمیوں سے مقابلہ کے لئے حرکت میں لائیں۔ ان فتنوں کو کافرانہ اور ملحدانہ نظریات کی تشہیر کے اہم ذرائع گردانتے ہوئے اکادیمی نے کہا کہ یہ فتنے اللہ تعالیٰ کے دین سے منحرف اور تارکین ہیں۔ لہٰذا مسلمانوں پر لازم ہے کہ ان بدباطن فرقوں کی کینہ پرور سازشوں اور ریشہ دوانیوں کا بہرصورت مقابلہ کریں۔ اکادیمی کے ایک تحقیقی مطالعہ کی رو سے جس کی جامعہ ازہر کے صدر (مدیر اعلیٰ) نے تصدیق بھی کردی تھی۔ شیخ جاد الحق علی نے ان ملحد فتنوں کے رونما ہونے اور پروان چڑھنے کے تاریخی پس منظر پر بھی روشنی ڈالی۔ ان توجیہات سے انکشاف ہوتا ہے کہ یہ فتنے انسان کے اختراع کردہ فلسفہ اور نظریات کا مجموعہ ہیں۔ ان کے پاس اسلام کے لئے کوئی نئی چیز پیش کرنے کی نہیں۔ اس مطالعہ سے معلوم ہوا کہ یہ ملحد فتنے صہیونیت اور شہنشاہیت کی توسیع پسندی کی پیداوار ہیں تاکہ ان کے ذریعہ اپنے مقاصد حاصل کرسکیں۔ امت مسلمہ کو ان سے شدید نقصان پہنچا ہے۔ کیونکہ یہ ہمیشہ اسلام دشمن زیر زمین سرگرمیوں کے ذریعہ اسلام سے برسرپیکار رہے ہیں۔ اس لئے تمام مسلمانوں پر لازم ہے کہ متحد ہوکر دین اسلام کے ان دشمن عناصر سے بھرپور عقلی اور مادی وسائل سے جہاد کریں۔

(Minaret Oct, Nov. 1989) (ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ص ۱۲، مؤرخہ ۱۱ تا ۱۷؍ مارچ ۱۹۹۴ء)

کیا جسٹس سعد سعود جان قادیانی ہیں؟

سپریم کورٹ کے چیف جسٹس جناب جسٹس نسیم حسن شاہ یکم ؍اپریل ۱۹۹۴ء کو اپنے عہدہ سے ریٹائر ہو گئے ہیں۔ ان کی جگہ سینئر جج جناب جسٹس سعد سعود جان کو قائم مقام چیف جسٹس بنایا گیا ہے۔ قواعد وضوابط کے مطابق اگر چیف جسٹس کی ریٹائرمنٹ پر حکومت کی طرف سے کسی جج کی بطور چیف جسٹس تقرری کا نوٹیفکیشن جاری نہ کیا جائے تو سینئر جج کو سپریم کورٹ کا قائم مقام چیف جسٹس مقرر کیا ہے۔ چیف جسٹس مقرر کیا مقر

صفحہ ۲۸۶

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۲ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

جناب جسٹس سعد سعود جان قبل ازیں لاہور ہائیکورٹ کے سینئر جج رہ چکے ہیں۔ جب انہیں ہائیکورٹ کا چیف جسٹس مقرر کیا جانے لگا تو دینی حلقوں کی جانب سے احتجاج کیا گیا کہ ان کا تعلق قادیانی جماعت سے تعلق ہے لہٰذا انہیں ہائیکورٹ کا چیف جسٹس مقرر نہ کیا جائے۔ علماء کرام کے احتجاج پر ان کی تقرری روک دی گئی۔ بعدازاں انہیں سپریم کورٹ کا جج بنا دیا گیا۔ جناب جسٹس سعد سعود جان کے بارے میں شکوک و شبہات پائے جاتے تھے کہ موصوف قادیانی ہیں لیکن ان شکوک و شبہات کو اس وقت تقویت ملی جب جہانگیر جوئیہ کیس میں جناب جسٹس سعد سعود جان نے نہ صرف جانبداری کا مظاہرہ کرتے ہوئے قادیانیوں کو خوش کیا بلکہ انصاف اور قانون کے تقاضوں کو پامال کرتے ہوئے قادیانی کتاب کلمتہ الفصل کا اصل حوالہ ہی فیصلہ سے حذف کر دیا۔ حالانکہ اس کتاب کا وہ حوالہ آج بھی موجود ہے۔ اس حوالہ سے چونکہ قادیانیت پر براہ راست ضرب پڑتی ہے۔ کسی کو بلاوجہ قادیانی قرار دینا شرعاً، اخلاقاً جائز نہیں۔ خدا کرے کہ جناب جسٹس سعد سعود جان قادیانی نہ ہوں۔ ۲۰؍ مارچ ۱۹۹۳ء کو معاصر نوائے وقت میں جناب جسٹس سعد سعود جان نے اپنے قادیانی ہونے کی تردید ضرور فرمائی تھی لیکن مرزا غلام احمد قادیانی کی ذات کے حوالے سے جسٹس سعد سعود جان نے ایک لفظ تک نہ کہا۔ موصوف کو جماعت کے سرکردہ رہنما مولانا اللہ وسایا نے ایک کھلے خط کے ذریعے توجہ دلائی تھی کہ ان کی تردید ناکافی ہے اور وہ مرزا غلام احمد قادیانی اور ان کے ماننے والوں کے متعلق اعلان فرمائیں کہ وہ ان کو کیا سمجھتے ہیں۔ یہ خط جناب جسٹس سعد سعود جان کو بھیجا گیا۔ رسائل میں بھی شائع ہوا۔ لیکن موصوف جسٹس صاحب نے مسلسل خاموشی اختیار کئے رکھی۔ ہمیں معلوم نہیں کہ حکومت نے ان سے ان کے مذہبی عقائد کے بارے میں وضاحت طلب کی ہے یا نہیں۔ اس وقت جب کہ جسٹس سعد سعود جان چیف جسٹس کے منصب کے خواہش مند ہیں اور وہ یقیناً اس عہدہ کو حاصل کرنے کے لئے ہاتھ پاؤں بھی مار رہے ہوں گے۔ کیا مسلسل خاموشی کے بعد ان کی وضاحتی تردید قابل قبول ہوگی؟ ماضی قریب میں اکثر قادیانیوں نے اہم کلیدی عہدوں کے حصول کے لئے مرزائیت سے بیزاری کا اظہار کیا اور وضاحتی تحریریں بھی دیں۔ لیکن وہ قادیانی کے قادیانی رہے۔

ہم مرکزی حکومت سے استدعا کریں گے کہ وہ مسٹر سعد سعود جان کے مذہبی عقائد کی اچھی طرح چھان پھٹک کرے کہ قبل ازیں ان کا کس مذہبی گروہ سے تعلق تھا۔ حکومت کی مختلف ایجنسیاں ان کے بارے میں یقیناً معلومات رکھتی ہوں گی۔ اگر جسٹس سعد سعود جان قادیانی ہیں تو پھر وہ قطعی طور پر اس منصب کے نہ لائق ہیں اور نہ ہی مستحق۔ کیونکہ قادیانیوں کا کلیدی آسامیوں پر فائز ہونا ملک اور قوم کے وسیع تر مفاد کے خلاف ہے۔ پاکستان ایک نظریاتی ملک ہے۔ قادیانی اقلیت کی اسلام اور وطن دشمن سرگرمیاں مخفی نہیں۔ ایسی غیر محب وطن اقلیت کے افراد کو ملک کے اہم مناصب پر بٹھانا اس ملک کی نظریاتی اساس پر کلہاڑا چلانے کے مترادف ہے۔ مجلس تحفظ ختم نبوت کے رہنماؤں نے اپنے حالیہ بیانات میں وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ سعد سعود جان کو سپریم کورٹ کا چیف جسٹس نہ بنایا جائے۔ کیونکہ موصوف کے بارے میں بالخصوص قانونی حلقوں میں یہی تاثر پایا جاتا ہے کہ جسٹس سعد سعود جان مرزائی ہیں۔ مجلس تحفظ ختم نبوت عقیدۂ ختم نبوت کی داعی اور علمبردار ہے۔ لہٰذا اگر حکومت نے انہیں سپریم کورٹ کے عہدے پر برقرار رکھا تو حکومت کے اس اقدام کے خلاف تحریک بھی چل سکتی ہے۔ ہم توقع رکھتے ہیں کہ وفاقی حکومت بالخصوص صدر مملکت اس نازک مسئلہ پر دینی غیرت کا مظاہرہ کریں گے۔

(ہفت روزہ لولاک فیصل آباد ص ۵، مورخہ ۲۲؍ اپریل ۱۹۹۴ء)

کارکنان ختم نبوت ایبٹ آباد کی ایک اور کامیابی

جھوٹے نبی کے جھوٹے پیروکاروں کے منہ پر زبردست قانونی طمانچہ:

ایبٹ آباد (ایچ ساجد اعوان) تفصیلات کے مطابق ۱۳؍ جنوری ۱۹۹۰ء کو مرزائیوں نے موضع حب پل مانسہرہ روڈ ضلع ایبٹ آباد

صفحہ ۲۸۷

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

میں ایک اجتماع کیا تھا جس میں اسلام اور ملکی قوانین کا مذاق اڑایا گیا تھا اور امتناع قادیانیت آرڈیننس کی سرعام دھجیاں اڑائی تھیں۔ تحفظ ختم نبوت یوتھ فورس ضلع ایبٹ آباد کے کارکنوں نے موقع پر پہنچ کر قانونی مدد حاصل کی اور رپورٹ پر تھانہ میر پور نے ایف۔آئی۔آر درج کر لی۔ متعدد قادیانیوں کو گرفتار کرلیا گیا۔ تین ماہ تک جیل میں رکھنے کے بعد ہائیکورٹ نے ضمانت لی۔ بعدازاں مرزائیوں نے رٹ دائر کردی کہ یہ مقدمہ ۲۹۸۔ سی بدنیتی کی بنیاد پر درج کیا گیا ہے۔ جس میں ہزارہ پولیس اور کارکنان ختم نبوت شامل ہیں۔ لہٰذا مقدمہ خارج کیا جائے۔ اپریل ۱۹۹۴ء کے اواخر میں ہائیکورٹ ایبٹ آباد کے ڈبل بینچ جو جناب جسٹس میاں محمد اجمل خان اور جناب جسٹس سلیم دل پر مشتمل تھا۔ دونوں طرف سے دلائل سننے کے بعد تاریخ ساز فیصلے کے ذریعے مرزائیوں کی طرف سے دائر کردہ رٹ خارج کر دی اور یوں قادیانیت کے بوسیدہ تابوت میں ایک اور کیل ٹھونک دی گئی۔ تحفظ ختم نبوت یوتھ فورس ضلع ایبٹ آباد کی طرف سے جناب الحاج سردار معظم خان ایڈووکیٹ جناب سلطان احمد جمشید ایڈووکیٹ اور جناب سید فرزند حسین شاہ ایڈووکیٹ اس مقدمہ میں پیش ہوئے۔

اس کامیابی پر کارکنان ختم نبوت نے ایچ ساجد اعوان کی قیادت میں اس امر کا اعادہ کیا ہے کہ مرزائیت کو اس کے منطقی انجام تک پہنچا کر دم لیا جائے گا۔

(ہفت روزہ لولاک فیصل آباد ص ۲۰،مؤرخہ ۱۳؍مئی ۱۹۹۴ء)

چیف جسٹس آف پاکستان کا تقرر

حال ہی میں صدر پاکستان جناب فاروق احمد خان لغاری نے مسٹر جسٹس سجاد علی شاہ کو سپریم کورٹ آف پاکستان کا چیف جسٹس مقرر کیا ہے۔ قبل ازیں مسٹر جسٹس سعد سعود جان قائم مقام چیف جسٹس کے فرائض سرانجام دے رہے تھے۔ سپریم کورٹ کے سابق چیف جسٹس نسیم حسن شاہ مورخہ ۱۴؍ اپریل ۱۹۹۴ء کو اپنے عہدے سے ریٹائر ہوئے تھے۔ ان کی ریٹائرمنٹ کے بعد حکومت نے کسی جج کو بطور چیف جسٹس مقرر کرنے کا نوٹیفکیشن جاری نہیں کیا تھا۔ تب قواعد کی رو سے مسٹر سعد سعود جان کو سنیارٹی کی بنیاد پر سپریم کورٹ آف پاکستان کا قائم مقام چیف جسٹس مقرر کیا گیا۔ وہ قریباً سات ہفتے اس عہدے پر فائز رہے۔ مسٹر جسٹس سعد سعود جان کے بارے میں ان کے قریبی حلقوں میں یہ تاثر پایا جاتا ہے کہ موصوف قادیانی مذہب سے تعلق رکھتے ہیں۔

مسٹر جسٹس سعد سعود جان لاہور ہائیکورٹ کے جج رہ چکے ہیں۔ جب انہیں پنجاب ہائیکورٹ کا چیف جسٹس بنایا جانے لگا تو دینی حلقوں خصوصاً عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی طرف سے احتجاج اور مطالبہ کیا گیا کہ مسٹر جسٹس سعد سعود جان کو ہائیکورٹ کا چیف جسٹس مقرر نہ کیا جائے۔ چنانچہ دینی جماعتوں کے مسلسل احتجاج کے نتیجہ میں ان کی تقرری روک دی گئی۔ البتہ انہیں سپریم کورٹ کا جج بنادیا گیا۔ جسٹس نسیم حسن شاہ کی ریٹائرمنٹ کے بعد سنیارٹی کی بنیاد پر ان کے چیف جسٹس بننے کے امکانات نمایاں تھے۔ اس لئے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت نے انہیں چیف جسٹس بنائے جانے سے قبل ایک پمفلٹ شائع کیا جس میں ان کے تردید مرزائیت کے وضاحتی بیان کو اس بنیاد پر تنقید کا نشانہ بنایا گیا کہ انہوں نے اپنے عقائد کی وضاحت میں مرزا غلام احمد قادیانی کی ذات کے بارے میں کھل کر کوئی اعلان نہیں کیا۔ اس کے باوجود مسٹر جسٹس سعد سعود جان نے خاموشی اختیار کئے رکھی۔ موجودہ حکومت نے جب انہیں قائم مقام چیف جسٹس مقرر کیا تو ان کے بارے میں قادیانی ہونے کی صدائے گشت ایک بار پھر سنائی دی۔ دینی حلقوں نے احتجاج کا سلسلہ دوبارہ شروع کردیا کہ قادیانیوں کو کلیدی عہدوں پر فائز نہ کیا جائے اور سپریم کورٹ کا چیف جسٹس کسی غیر قادیانی کو مقرر کیا جائے۔ دلوں کے بھید اللہ جانتا ہے۔ اگر حکومت نے مسٹر جسٹس سعد سعود جان کی بجائے مسٹر جسٹس سجاد علی شاہ کا تقرر دینی غیرت اور حمیت کی بناء پر کیا ہے تو حکومت اور بالخصوص صدر مملکت کا دینی غیرت کا یہ جذبہ قابل صد تحسین ہے۔ اگر حکومت کا یہ اقدام اس کی سیاسی مصلحتوں اور اپنے مفادات کی بنیاد پر ہے تو

صفحہ ۲۸۸

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۴ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

بھی یہ بات مستحسن ہے کہ حکومت کی اپنی ضرورت کے پیش نظر چیف جسٹس کے عہدہ پر ایک قادیانی فائز نہیں ہوسکا۔ مسٹر جسٹس سجاد علی شاہ کو چیف جسٹس بنانے کا فیصلہ بالکل آخری وقت میں کیا گیا جب کہ تقریب حلف وفاداری کا پروگرام بن چکا تھا۔ یہاں تک کہ جسٹس سعد سعود جان کو اس امر کی اطلاع بھی دی جاچکی تھی اور انہوں نے حلف برداری کی تقریب میں اپنے اہل خانہ کی شمولیت کے لئے لاہور سے اسلام آباد کے لئے ہوائی جہاز کی سیٹیں بھی محفوظ کرالی تھیں کہ تقریب حلف وفاداری سے چند گھنٹے قبل سعد سعود جان کو اطلاع دی گئی تھی کہ چیف جسٹس سجاد علی شاہ کو بنایا جارہا ہے۔ یہ خبر سنتے ہی سعد سعود جان لاہور پہنچ گئے اور اکتوبر تک کے لئے رخصت پر چلے گئے ۔مسٹر جسٹس سجاد علی شاہ پہلے سندھی جسٹس ہیں۔ جنہیں چیف جسٹس آف پاکستان بنایا گیا ہے۔ یادرہے کہ یہ وہی جج ہیں جنہوں نے نواز شریف کیس میں اختلافی نوٹ لکھ کر شہرت حاصل کی تھی۔ سیاسی حلقوں نے الزام لگایا ہے کہ انہیں اسی اختلافی نوٹ کے صلہ میں چیف جسٹس مقرر کیا گیا ہے۔ ہم اس بحث میں نہیں پڑنا چاہتے کیونکہ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی دلچسپی صرف اس حد تک تھی اور ہے کہ کسی قادیانی کو چیف جسٹس آف پاکستان کے عہدہ پر تعینات نہ کیا جائے۔ کیونکہ قادیانیوں کا کلیدی آسامیوں پر فائز ہونا ملک وقوم کے وسیع تر مفاد کے قطعی خلاف ہے۔ پاکستان ایک نظریاتی ملک ہے۔ قادیانی اقلیت کی اسلام اور ملک دشمن سرگرمیاں کسی سے مخفی نہیں۔ اسی غیر محب وطن اور غدار اسلام اقلیت کے افراد کو ملک کے اہم مناصب پر بٹھانا اس ملک کی نظریاتی اساس پر کلہاڑا چلانے کے مترادف ہے۔

مسٹر جسٹس سعد سعود جان کا چیف جسٹس آف پاکستان نہ بننا یقیناً قادیانی جماعت کے لئے ایک دھچکا ہے۔ کیونکہ قادیانیت قانون کے ایوانوں میں بری طرح پٹ چکی ہے۔ جولائی ۱۹۹۳ء کے سپریم کورٹ کے فیصلہ کے خلاف قادیانی جماعت نے رٹ اپیل دائر کر رکھی ہے۔ قادیانی جماعت کی یہ کوشش اور خواہش تھی کہ سپریم کورٹ میں ان کی مرضی کا چیف جسٹس بنے تاکہ پھر وہ اپنی پسند کا بنچ تشکیل دلوا کر سپریم کورٹ کے فیصلہ کو سبوتاژ کرواسکیں۔ قادیانی جماعت کا اصل ٹارگٹ ۱۹۷۴ء کی قومی اسمبلی کا وہ فیصلہ ہے جس میں انہیں غیر مسلم قرار دیا گیا تھا۔ قادیانی جماعت چاہتی ہے کہ کسی نہ کسی طرح وہ فیصلہ قانونی طور پر کالعدم قرار پائے تاکہ قادیانیوں کی سابقہ حیثیت بحال ہوسکے ۔مرزا طاہر کو قوی امید تھی کہ جولائی ۱۹۹۳ء والا سپریم کورٹ کا فیصلہ ہمارے حق میں آئے گا۔ وہ پوری دنیا کو بشارتیں دے رہے تھے۔ لیکن اللہ رب العزت نے مشائخ امت، زعمائے ملت اور کارکنان تحفظ ختم نبوت کی التجاؤں، نیم شبانہ دعاؤں اور حضرت امیر مرکزیہ حضرت مولانا خواجہ خان محمد صاحب مدظلہ کی فکر کے صدقہ سپریم کورٹ کے ججوں کے دل پھیر دیئے۔ انہوں نے وہ تاریخ ساز فیصلہ دیا کہ قادیانی اقلیت پٹ کر رہ گئی۔ اس فیصلہ نے ۱۹۷۴ء کی قادیانیوں کے متعلق آئینی ترمیم، امتناع قادیانیت آرڈیننس، مرزا قادیانی کے کفر اور قادیانی جشن صد سالہ پر پابندی کے فیصلہ پر مہر تصدیق ثبت کردی۔ مرزا طاہر کسی خوش فہمی میں نہ رہیں۔ ۱۹۷۴ء میں قادیانیوں کے خلاف سرکاری و آئینی سطح پر جو ”فضاء“ قائم ہوئی تھی، ان شاء اللہ! وہ قیامت تک برقرار رہے گی۔ دنیا کی کوئی طاقت اب اس فضاء کو بدل نہیں سکے گی۔ ان شاء اللہ!

مرزا طاہر احمد کی ۵؍فروری ۱۹۹۳ء کی تقریر دور رس نتائج واثرات کی حامل تھی۔ وہ وسیع تر مستقبل کا احاطہ کئے ہوئے تھی۔ مسٹر جسٹس سعد سعود جان کی حالیہ شکست کی صورت میں قادیانی جماعت کو جس افسردگی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ اس نے مرزا طاہر کی پیش گوئیوں کے کذب کو مزید واضح کردیا ہے۔ جب مسٹر جسٹس سعد سعود جان کو قائم مقام چیف جسٹس بنایا جانے لگا تو ہفت روزہ لولاک نے اپنے ۲۲؍اپریل ۱۹۹۴ء کے شمارہ میں ”کیا جسٹس سعد سعود جان قادیانی ہیں؟“ کے عنوان سے شذرہ تحریر کیا تھا۔ جس میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ انہیں سپریم کورٹ کا چیف جسٹس مقرر نہ کیا جائے۔ نئے چیف جسٹس کے تقرر پر قادیانی لابی یقیناً اعتراض کرے گی اور قانونی موشگافیوں کا

صفحہ ۲۸۹

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

اظہار کرے گی کہ تین سینئر ججوں کو چھوڑ کر کیوں ایک جونیئر جج کو سپریم کورٹ کا چیف جسٹس بنایا گیا ہے لیکن صدر کو آئینی طور پر یہ حق حاصل ہے کہ وہ کسی بھی جج کو چیف جسٹس مقرر کر سکتے ہیں۔ اس لحاظ سے سجاد علی شاہ کا تقرر غیر آئینی اقدام نہیں۔ ہمارے نزدیک اصل سنیارٹی آقا ومولیٰ ﷺ کی غلامی ہے۔ جسٹس سعد سعود جان جس خانہ ساز نبوت کے قبیلے سے تعلق رکھتے ہیں۔ وہ اسلام اور پاکستان دشمن جماعت کا ٹولہ ہے۔ ایسا شخص جو ختم نبوت کا منکر ہو اور مرزا قادیانی کا پیروکار ہو یا انہیں کسی طور پر بھی اپنا رہبر یا مصلح سمجھتا ہو وہ سپریم کورٹ تو درکنار ملک کی کسی چھوٹی عدالت کے منصب پر بیٹھنے کا بھی اہل نہیں کیونکہ جو شخص سرکار دوعالم فداہ ابی وامی کی ذات اقدس سے انصاف نہیں کر سکتا۔ وہ دوسروں کو کیا انصاف بہم پہنچائے گا؟ اس لحاظ سے سابق قائم مقام چیف جسٹس مسٹر سعد سعود جان کی چھٹی عقیدۂ ختم نبوت سے وابستگی رکھنے والوں کے لئے ایک خوش آئند اقدام ہے۔ ہماری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ قانون کے ایوانوں کو قادیانیوں کی مکروہ سازشوں سے محفوظ فرمائے۔ جس طرح بے سرو سامانی کے عالم میں اللہ رب العزت نے مرزائیت کو عدالت کے کٹہروں میں ذلیل و رسوا کیا ہے۔ اللہ کرے یہ فضاء قائم رہے اور قادیانی جماعت کے راہنماء کا خواب کبھی شرمندہ تعبیر نہ ہو، نہ ہو، نہ ہو، نہ ہو۔

(ہفت روزہ لولاک فیصل آباد ص ۳ تا ۵، مورخہ ۱۷ جون ۱۹۹۴ء)

مبلغین ختم نبوت کا اجلاس

عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مبلغین کا اجلاس مورخہ ۴، ۵؍ جون ۱۹۹۴ء کو ملتان دفتر میں مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی ناظم اعلیٰ مولانا عزیز الرحمٰن جالندھری کی صدارت میں منعقد ہوا۔

شرکائے اجلاس: جس میں مولانا نذیر احمد تونسوی، حافظ محمد ثاقب (گوجرانوالہ)، مولانا غلام مصطفیٰ (ربوہ)، مولانا عبدالخالق، مولانا فقیر اللہ اختر (گوجرانوالہ)، مولانا راشد مدنی (ٹنڈو آدم)، مولانا جمال اللہ الحسینی (پنوں عاقل)، مولانا احمد بخش (رحیم یار خان)، حکیم محمد اسماعیل عاصم (بہاول نگر)، مولانا اللہ وسایا (ملتان)، مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی (لاہور)، مولانا حفیظ الرحمٰن رحمانی (ٹنڈو آدم)، مولانا محمد علی صدیقی (راولپنڈی)، مولانا غلام حسین (جھنگ)، مولانا محمد اکرم طوفانی (سرگودھا)، مولانا بشیر احمد (سکھر) اور حافظ محمد حیات (جابہ) نے شرکت کی۔

مولانا عزیز الرحمٰن جالندھری کا خطاب: مبلغین ختم نبوت کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے مرکزی ناظم اعلیٰ حضرت مولانا عزیز الرحمٰن جالندھری مدظلہ نے فرمایا کہ آپ لوگ حضرت امیر شریعت، قاضی احسان احمد شجاع آبادی، مولانا لال حسین اختر اور اکابرین مجلس کے جانشین خدام اور ان کے مشن کے وارث ہیں۔ آپ حضرات کو اسی جوش جذبہ اور ولولہ سے سرگرم عمل ہونا چاہئے۔ مجلس کی ممبر سازی میں زیادہ سے زیادہ حضرات کو شامل کریں۔ ملک بھر میں ممبر سازی کو تحریک کی شکل دے کر بھر پور کوشش فرمائیں۔ آئندہ سہ ماہی میٹنگ ۱۰؍ ستمبر ۳ ربیع الثانی کو ہوگی جس میں انتخابات مکمل کر کے رپورٹ پیش کی جائے گی۔ مختلف علاقوں میں ”یوتھ کنونشن“ کے عنوان سے نوجوانوں کے اجتماعات منعقد کئے جائیں اور زیادہ سے زیادہ نوجوانوں کو قادیانیوں کے شر و فتن سے آگاہ فرمائیں۔

مجلس کے شعبہ تبلیغ میں نئے مبلغین کی بھرتی:

دن پاکپتن اور پانچ دن راجن پور میں خدمات سرانجام دیں گے۔

صفحہ ۲۹۰

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۲ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

سرانجام دیں گے۔

مبلغین ختم نبوت کے نئے مقامات کار:

رہے ہیں۔

ضلع خانیوال میں خدمات سرانجام دیں گے۔

بقیہ ایام پنڈی بھٹیاں اور سکھیکی سمیت دیگر مضافات میں کام کریں گے۔

(ہفت روزہ لولاک فیصل آباد ص ۱۵، ۱۶، مورخہ یکم جولائی ۱۹۹۲ء)

مخدوم العلماء حضرت خواجہ خان محمد مدظلہ کی مانسہرہ آمد

ہر سال کی طرح عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے امیر حضرت خواجہ خان محمد مدظلہ مانسہرہ تشریف لائے۔ مورخہ ۲۴ / جون ۱۹۹۲ء کو مرکزی جامع مسجد مانسہرہ میں آپ نے نماز جمعہ پڑھائی۔ حضرت کے حکم سے خطبہ جمعہ خطیب مرکزی جامع مسجد حضرت مفتی وقار الحق عثمان نے دیا۔ نماز سے قبل حضرت مولانا عزیز الرحمن جالندھری مدظلہ کا علمی خطاب ہوا۔ جس میں آپ نے فرمایا : مرزائیت ایک ناسور ہے، جس کو ختم کرنا ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ مسئلہ ختم نبوت ایمان کا جزو ہے۔ وہی شخص مسلمان ہوسکتا ہے جو اس بات پر یقین رکھتا ہو کہ حضرت محمد ﷺ اللہ تعالیٰ کے آخری رسول ﷺ ہیں۔ جس طرح اس بات کا یقین کرنا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں۔ ایمان کے لئے ضروری ہے۔ اسی طرح اس بات کا یقین اور اقرار کرنا بھی ضروری ہے کہ نبی کریم ﷺ اللہ تعالیٰ کے آخری سچے رسول ہیں۔ نماز کے بعد دوسری نشست ہوئی جس سے مولانا اللہ وسایا نے خطاب فرمایا۔ انہوں نے کہا کہ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت نے اللہ کے فضل وکرم سے اتنا کام کیا ہے کہ اس وقت مرزائیت ایک گالی بن چکی ہے اور لوگ ان سے نفرت کرتے ہیں۔ ان شاء اللہ العزیز ! ایک وقت آئے گا کہ مرزائیت کا باطل وجود بھی

صفحہ ۲۹۱

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

ختم ہو جائے گا۔ اسی دن نماز عشاء مرکزی جامع مسجد داتہ میں حضرت خواجہ خان محمد صاحب کی صدارت میں ایک عظیم الشان جلسہ ہوا۔ جس سے مولانا عزیز الرحمن جالندھری اور مولانا اللہ وسایا اور دیگر علماء نے خطاب کیا۔ جس میں مرزائیت کی تردید اور مسئلہ ختم نبوت پر روشنی ڈالی گئی اور داتہ کے مسلمانوں کو مبارک باد دی کہ آپ حضرات نے عشق رسول ﷺ کا ثبوت دیتے ہوئے مرزائیوں کا بائیکاٹ کیا۔ عشق رسول ﷺ کی پہلی نشانی اور کرن یہ ہے کہ مرزائیوں سے مکمل بائیکاٹ کیا جائے اور ان سے ہر قسم کے تعلقات کو توڑا جائے۔ ۲۵؍ جون ۱۹۹۴ء بعد نماز ظہر سگدھار میں ایک عظیم الشان جلسہ ہوا۔ جس کی صدارت مخدوم العلماء حضرت مولانا خواجہ خان محمد صاحب نے کی۔ یاد رہے کہ چند دن پہلے اس جگہ بہت سے مرزائی مسلمان ہوئے تھے اور رات کو جامع مسجد پھگلہ میں زیر صدارت حضرت مولانا سید غلام نبی شاہ صاحب ایک جلسہ ہوا۔ جس سے اکابرین نے خطاب فرمایا۔ ان جلسوں کا انعقاد ختم نبوت یوتھ فورس ضلع مانسہرہ نے کیا۔ ختم نبوت یوتھ فورس کے اراکین جناب عبدالرؤف روفی، بابو فضل الرحمن، جناب سردار محمد اقبال کلوروی اور دیگر کارکنوں کو ہم دلی مبارک باد پیش کرتے ہیں اور دعا گو ہیں کہ اللہ تعالیٰ ان نوجوانوں کو مزید دین کا کام کرنے کی توفیق عطاء فرمائے۔ (آمین)

(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ج۱۳ ش۱۲ ص۲۳، مورخہ ۱۹ تا ۲۵؍ اگست ۱۹۹۴ء)

کل ہند مجلس تحفظ ختم نبوت کی سرگرمیاں

کرناٹک، تامل ناڈ، کیرالہ اور آندھرا پردیش۔

بنگلور کا پروگرام : ۲ تا ۴؍ ستمبر ۱۹۹۴ء ۔ بنگلور (کرناٹک) میں سہ روزہ تربیتی کیمپ اور عظیم الشان اجلاس عام منعقد ہوا۔ جن کی قدرے تفصیل اسی شمارہ میں دوسرے صفحہ پر ملاحظہ فرمائیں۔

ٹمکور کا پروگرام : ۵، ۶؍ ستمبر ۱۹۹۴ء ۔ ٹمکور (کرناٹک) میں مجلس تحفظ ختم نبوت ٹمکور کے ارکان کے تعاون سے جناب مولانا مفتی محمد قربان صاحب اسعدی سہارنپوری ناظم جامعہ حسینیہ محلہ پور ٹمکور نے ضلع اور شہر میں رد قادیانیت کے پروگرام منعقد کئے، جن میں موصوف کی دعوت پر مندرجہ ذیل حضرات نے شرکت فرمائی۔

۵؍ ستمبر ۱۹۹۴ء کی شام کو بعد مغرب شہر کی جامع مسجد میں الگ الگ بیانات ہوئے اور دو تحصیلوں میں پھر ۶؍ ستمبر کو مسجد اقصیٰ (ٹمکور) میں اجلاس عام منعقد ہوا۔ جو ۷؍ بجے شام سے ساڑھے گیارہ بجے رات تک جاری رہا اور مذکورہ بالا حضرات نے رد قادیانیت کے مختلف عنوانات پر تقریریں فرمائیں، جنہیں سامعین نے پورے سکون و دلچسپی کے ساتھ سماعت فرمایا اور قادیانی ٹولہ کی فریب کاریوں سے واقفیت حاصل کی اور چند اہم تجاویز منظور کیں۔

صفحہ ۲۹۲

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۴ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

رائے چوٹی کا پروگرام : جناب مولانا سید محمد معصوم ثاقب صاحب واحباب رائے چوٹی کی دعوت پر ۳۱/ اگست ۱۹۹۴ء کو دارالعلوم امدادیہ رائے چوٹی (آندھرا پردیش) اجلاس عام میں شرکت ہوئی۔ جس میں مندرجہ ذیل حضرات نے رد قادیانیت پر تقریریں فرمائیں : (۱) حضرت مولانا سید محمد اسماعیل کٹکی ، (۲) جناب مولانا مفتی محمود حسن صاحب بلند شہری ، مفتی واستاذ دارالعلوم دیوبند، (۳) جناب مولانا محمد یوسف صاحب امروہوی، (۴) جناب مولانا عبدالعلیم صاحب فاروقی ، (۵) جناب مولانا محمد یامین صاحب مظفرنگری ، (۶) جناب مولانا محمد عرفان صاحب بہرائچی مبلغین دارالعلوم دیوبند، (۷) جناب مفتی محمد اسرار صاحب سہارنپوری استاذ مظاہر العلوم دار جدید سہارنپور ، (۸) راقم الحروف محمد عثمان منصور پوری ۔

سکندر آباد و حیدر آباد کا پروگرام : جناب مفتی محمود حسن صاحب بلند شہری استاذ دارالعلوم نے ۶، ۷/ ستمبر ۱۹۹۴ء کو سکندر آباد وحیدر آباد کے متعدد مدارس کا دورہ کیا اور ذمہ داران سے اس علاقہ میں قادیانی سرگرمیوں کا حال معلوم کر کے ان کے تعاقب کی تدابیر پر تبادلہ خیال فرمایا اور ۷/ ستمبر کی صبح کو بعد نماز فجر سکندر آباد کی مسجد میں رد قادیانیت پر عمومی بیان فرمایا۔

پرنام بٹ کا پروگرام : حضرت مولانا عبدالعلیم صاحب فاروقی اور جناب مولانا محمد یامین صاحب، جناب مولانا محمد عرفان صاحب مبلغین دارالعلوم دیوبند نے ۶/ ستمبر کو پرنام بٹ میں رد قادیانیت پر تقریریں فرمائیں ۔

مدراس کا پروگرام : ۷/ ستمبر ۱۹۹۴ء کی شام کو بعد نماز مغرب جناب مولانا محمد یامین صاحب نے پری میٹ مدراس کی مسجد میں رد قادیانیت میں تقریر فرمائی ۔

کیرالہ کا پروگرام : ۵/ ستمبر ۱۹۹۴ء کو جامعہ کوثریہ الواتی (کیرالہ) میں رد قادیانیت کے موضوع پر علماء کرام کا ایک روزہ اجتماع طے تھا۔ اس میں شرکت کے لئے حضرت مولانا مفتی سعید احمد صاحب پالن پوری استاذ حدیث دارالعلوم دیوبند وناظم عمومی کل ہند مجلس تحفظ ختم نبوت دارالعلوم دیوبند اور حضرت مولانا سید ارشد صاحب مدنی استاذ حدیث دارالعلوم دیوبند تشریف لے گئے اور شرکاء کو قادیانی فتنہ کی حقیقت شرح وبسط کے ساتھ سمجھائی اور اس کی سرکوبی کے سلسلہ میں ضروری ہدایات ومشورے دیئے، جن کی روشنی میں مقامی ذمہ داران نے آئندہ کے لائحہ عمل کا خاکہ مرتب فرمایا اور حضرت مولانا مرغوب الرحمن صاحب مہتمم دارالعلوم دیوبند کے نام تحریر ارسال فرمائی ہے۔ کیرالہ کے سفر میں حضرت مولانا محمد یعقوب صاحب رکن مجلس شوریٰ دارالعلوم وصدر مجلس تحفظ ختم نبوت تامل ناڈ اور جناب پروفیسر نصر اللہ صاحب جنرل سیکرٹری مجلس تحفظ ختم نبوت تامل ناڈ شریک رہے ۔

بنگلور میں سہ روزہ تربیتی کیمپ وعظیم الشان اجلاس عام : ریاست کرناٹک کے شہر بنگلور وغیرہ میں قادیانی گروہ کی سرگرمیاں چند سالوں سے تشویش ناک حد تک بڑھتی جارہی تھیں ۔ مقامی علمائے کرام وعمائدین ان کی روک تھام کے لئے فکر مند تھے اور مناسب حال تدابیر اختیار فرماتے رہتے تھے ۔ تاہم وہ حضرات قادیانی فتنہ کے خلاف عام بیداری پیدا کرنے کے لئے ایک سہ روزہ تربیتی کیمپ اور اجلاس عام کی ضرورت شدت سے محسوس فرمارہے تھے اور کل ہند مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی دفتر سے زبانی وتحریری طور پر تقاضا فرماتے رہے تھے کہ مذکورہ پروگراموں کی اجازت دے کر تاریخوں کا تعین کر دیا جائے ۔ آخر کار ماہ جولائی ۱۹۹۴ء میں حضرت مولانا مرغوب الرحمن صاحب مہتمم دارالعلوم دیوبند وصدر کل ہند مجلس تحفظ ختم نبوت وحضرت مولانا مفتی سعید احمد صاحب پالن پوری ناظم عمومی کل ہند مجلس تحفظ ختم نبوت واستاذ حدیث دارالعلوم دیوبند کے مشورہ سے ۲۵ تا ۲۷/ ربیع الاول ۱۴۱۵ھ مطابق ۲ تا ۴/ ستمبر ۱۹۹۴ء جمعہ، ہفتہ، اتوار کی تاریخیں طے کر کے بنگلور کے ذمہ داران کو اطلاع دی گئی ۔ جس کے بعد ان حضرات نے بھر پور تیاری شروع فرمادی اور مرکزی دفتر

صفحہ ۲۹۳

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۴ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

سے ضروری راہنمائی حاصل کرتے رہے۔ مذکورہ پروگراموں میں شرکت کے لئے دارالعلوم دیوبند کے مندرجہ ذیل حضرات کے سفر کا پروگرام طے ہوا۔ (۱) حضرت مولانا مفتی سعید احمد صاحب پالن پوری، (۲) حضرت مولانا سید ارشد صاحب مدنی استاذ حدیث دارالعلوم دیوبند، (۳) جناب مولانا مفتی محمود حسن صاحب بلند شہری استاذ و مفتی دارالعلوم دیوبند، (۴) جناب مولانا محمد یامین صاحب مبلغ دارالعلوم دیوبند، (۵) جناب مولانا محمد عرفان صاحب مبلغ دارالعلوم، (۶) راقم الحروف محمد عثمان منصور پوری۔

بنگلور کے حضرات نے ملک کے دیگر مدارس کے علماء کرام کو بھی دعوت دی جو قادیانیت اور اس کی تردید پر خاص مطالعہ رکھتے ہیں اور کام کرتے رہتے ہیں اور مرکزی دفتر سے درخواست کی کہ ان حضرات سے ہماری دعوت قبول کرنے کی سفارش کر دی جائے۔ چنانچہ مندرجہ ذیل حضرات کو دفتر سے بھی خطوط روانہ کئے گئے۔ بفضلہ تعالیٰ وہ سب بنگلور تشریف لائے۔ (۱) حضرت مولانا سید محمد اسماعیل صاحب کٹکی رکن مجلس شوریٰ دارالعلوم دیوبند و امیر شریعت اڑیسہ۔ (۲) حضرت مولانا عبدالعلیم صاحب فاروقی مہتمم دارالمبلغین لکھنؤ، (۳) جناب مولانا سید سراج الساجدین صاحب نائب مہتمم مرکز العلوم سونگڑہ اڑیسہ، (۴) جناب مولانا محمد علی صاحب کٹکی استاذ مرکز العلوم سونگڑہ اڑیسہ، (۵) جناب مولانا محمد یوسف صاحب امروہوی استاذ جامعہ اسلامیہ جامع مسجد امروہہ، (۶) جناب مولانا شاہ عالم صاحب گورکھپوری استاذ دارالعلوم اسلامیہ بستی، (۷) جناب مولانا مفتی محمد اسرار صاحب سہارنپوری استاذ مظاہر علوم دار جدید سہارنپور۔

تربیتی کیمپ کا نظام: مقررہ پروگرام کے مطابق ۲؍ ستمبر ۱۹۹۴ء بروز جمعہ ۸؍ بجے صبح سے تربیتی کیمپ کی افتتاحی نشست مسجد جھیل مدرسہ شاہ ولی اللہ میں زیرصدارت حضرت مولانا شاہ ابوالسعود صاحب مہتمم مدرسہ سبیل الرشاد بنگلور منعقد ہوئی۔ جس میں عمائدین شہر کے علاوہ پورے صوبہ کے تقریباً چھ سو علمائے کرام نے شرکت فرمائی۔ اولاً جناب مولانا سید معصوم ثاقب صاحب فیض آبادی کنوینیئر تربیتی کیمپ نے خطبہ استقبالیہ پیش فرمایا۔ پھر مندرجہ ذیل حضرات نے افتتاحی تقریریں فرمائیں۔ حضرت مولانا عبدالعلیم صاحب فاروقی، حضرت مولانا سید محمد اسماعیل صاحب کٹکی، حضرت مولانا مفتی سعید احمد صاحب پالن پوری اور راقم الحروف محمد عثمان منصور پوری ۱۲؍ بجے کے قریب صدر محترم کے مختصر خطاب اور دعائیہ کلمات پر یہ نشست بخیر وخوبی مکمل ہوئی۔ تربیتی کیمپ کی دوسری نشست اسی روز عصر کے بعد سے عشاء تک منعقد ہوئی۔ ۳؍ ستمبر کو بھی اسی طرح دو نشستیں ہوئیں۔ ۴؍ ستمبر ۱۹۹۴ء کو پہلی نشست حسب معمول ۸؍ بجے سے ایک بجے تک اور دوسری نشست بعد ظہر تا عصر منعقد ہوئی۔ بہر حال تربیتی کیمپ کی کل چھ طویل نشستیں اسی مسجد میں ہوئیں جن میں خصوصی مربی کے فرائض حضرت مولانا سید محمد اسماعیل صاحب کٹکی اور حضرت مولانا مفتی سعید احمد صاحب پالن پوری نے انجام دیئے۔ ہر دو حضرات نے مسئلہ ختم نبوت، رفع ونزول عیسیٰ علیہ السلام و دیگر متعلقہ مباحث پر مفصل روشنی ڈالی اور تحقیقی مسائل پر شرکاء کے علمی اشکالات حل فرمائے اور قادیانیت کی تردید کے لئے ان کو قیمتی مواد فراہم فرمایا۔ ۴؍ ستمبر کی پہلی نشست میں حضرت مولانا سید ارشد صاحب مدنی نے بھی تربیتی کیمپ میں خصوصی خطاب فرمایا اور قادیانی فتنہ کی حقیقت سمجھنے اور اس کے تعاقب کے لئے تربیتی کیمپ کی ضرورت واہمیت کو واضح فرمایا۔ تربیتی کیمپ کی آخری نشست میں حضرت مولانا سید محمد اسماعیل صاحب کٹکی کے دست مبارک سے جملہ شرکاء کو اسناد شرکت عطاء کی گئیں۔ علاوہ ازیں جملہ مندوبین کو رد قادیانیت کا وقیع لٹریچر (اردو، انگلش) ہدیہ کیا گیا۔

بڑی بڑی مساجد میں رد قادیانیت پر علماء کے بیانات: منتظمین نے بنگلور کے عام مسلمانوں کے استفادہ کے لئے یکم ستمبر سے ہی شہر کی بڑی بڑی مساجد میں دارالعلوم دیوبند اور دیگر مدارس کے مدعو علماء کرام کی تقریروں کے پروگرام بھی رکھ دیئے تھے۔ جن کی اشاعت بذریعہ اخبارات و پوسٹر کی گئی تھی۔ بفضلہ تعالیٰ یہ پروگرام بھی بے حد کامیابی کے ساتھ جاری رہے۔ جن میں ہزاروں کا مجمع ہوتا

صفحہ ۲۹۴

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۴ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

تھا۔ ان تقریروں سے قادیانیت کا مکروہ چہرہ بے نقاب ہو کر عام مسلمانوں کے سامنے آ گیا۔ جس کے بعد امید ہے کہ وہ قادیانی مکر و فریب سے محفوظ رہیں گے۔

اجلاس عام : ایک کھلے اسٹیڈیم میں منعقد ہوا۔ جو چھوٹے میدان کے نام سے مشہور ہے۔ وہاں ٹین کے شیلڈ کا وسیع و عریض پنڈال بنایا گیا۔ اجلاس عام کی کارروائی عصر کی نماز کے بعد سے شروع ہو کر رات کے ساڑھے دس بجے تک جاری رہی۔ عصر کے بعد ہی پورا پنڈال سامعین سے بھر گیا تھا۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ سامعین کی تعداد بڑھتی چلی گئی۔ بنگلور کی تاریخ میں یہ اجلاس عدیم المثال تھا۔ ایک محتاط انداز کے مطابق تیس ہزار سے زائد فرزندان توحید شریک اجلاس ہوئے اور پورے اطمینان و سکون و دل جمعی کے ساتھ اخیر تک اجلاس کی کارروائی سماعت کرتے رہے۔ اجلاس کی صدارت حضرت مولانا ریاض احمد فیض آبادی مہتمم مدرسہ ریاض العلوم ہبلی وصدر جمعیۃ علمائے کرناٹک نے فرمائی اور مندرجہ ذیل حضرات نے اپنے اپنے انداز سے رد قادیانیت پر بصیرت افروز تقریریں فرمائیں۔

اخیر میں حضرت مولانا ریاض احمد صاحب کے مختصر صدارتی کلمات اور دعاء پر اجلاس اختتام پذیر ہوا۔ اجلاس میں کیمپ میں منظور شدہ مندرجہ ذیل اہم تجاویز پڑھ کر سنائی گئیں۔ جن کی تائید تمام حاضرین نے کی۔

نبوت کا عقیدہ بنیادی عقیدہ ہے۔

میں ہونی چاہئیں۔

صفحہ ۲۹۵

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۴ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

میں اس موضوع پر روشنی ڈالتے رہیں اور ائمہ مساجد عوام کو قادیانیوں کی ریشہ دوانیوں سے باخبر کریں۔

کتنا وقت اس فتنہ کی سرکوبی کے لئے مجلس کے پروگرام کے تحت عنایت کریں گے۔

رہے اور اس کی ایک کاپی مقامی دفتر میں رکھی جائے۔

ہونے سے روکا جائے۔

قادیانی گروہ کی سازش اور ناکامی: منتظمین کی بھر پور تیاری اور قادیانی فریب کو بے نقاب ہوتا دیکھ کر بنگلور کے قادیانی گروہ نے پولیس کمشنر کے سامنے نقص امن کا ہوا کھڑا کر کے چھوٹے میدان کے اجلاس عام کی اجازت دو روز قبل منسوخ کرادی۔ مگر مطمئن ہو کر مقامی انتظامیہ نے اسی روز دوبارہ نہ صرف یہ کہ اجلاس عام کی اجازت دی بلکہ اس بات کی بھی ذمہ داری لی کہ قادیانی لوگ اجلاس کے پروگرام میں کسی قسم کی رخنہ اندازی نہیں کر سکیں گے۔ چنانچہ اجلاس کے جملہ پروگرام انتہائی پرسکون اور سنجیدگی کے ماحول میں پایۂ تکمیل کو پہنچے۔ فَلِلّٰهِ الحمد والمنة!

ارکان مجلس تحفظ ختم نبوت و جمعیۃ علماء کرناٹک و مجلس استقبالیہ و دیگر احباب نے بنگلور کے تربیتی کیمپ و اجلاس عام اور مساجد کے پروگراموں کو کامیاب کرنے اور مہمانوں کی خاطر خواہ ضیافت و راحت رسانی میں شب و روز جو انتھک جدوجہد فرمائی۔ وہ قابل رشک اور قابل تقلید ہے۔ فجزاہم اللہ تعالیٰ! بنگلور کے اخبارات پاسبان و سالار وغیرہ نے مذکورہ پروگراموں کی خبریں اور مضامین تفصیل کے ساتھ شائع کئے۔ خداوند کریم ان تمام حضرات کی مساعی جمیلہ کو قبول فرمائے اور ہر مسلمان کو قادیانی فتنہ کے شر سے محفوظ رکھے۔ آمین!

نعرۂ ختم نبوت کی گونج: مرکزی دفتر کل ہند مجلس تحفظ ختم نبوت دارالعلوم دیوبند اور جمعیۃ علماء بنگلور کی طرف سے موصول شدہ رپورٹوں کے مطابق اوائل ستمبر ۱۹۹۴ء میں بنگلور میں منعقد ہونے والے زبردست ردقادیانیت تربیتی کیمپ اور اجلاس عام سے پورے جنوبی ہند میں قادیانی مشنری پر سکتہ کا عالم طاری ہوگیا ہے۔ واضح رہے کہ یہ شاندار کیمپ مدرسہ شاہ ولی اللہ ٹینری روڈ بنگلور میں ۲ سے ۴؍ستمبر ۱۹۹۴ء تک جاری رہا۔ جس میں علاقہ کے چھ سو سے زائد علماء نے ذوق و شوق کے ساتھ حصہ لیا اور ردقادیانیت کے لئے قیمتی معلومات حاصل کیں۔ آخری دن ۴؍ستمبر کو شہر کے مشہور چھوٹا میدان میں شام ۴؍ بجے سے رات ساڑھے دس بجے تک عدیم المثال تاریخی اجلاس عام ہوا۔ جس میں ایک محتاط اندازے کے مطابق ۳۰؍ ہزار سے زائد فرزندان توحید نے شرکت کی سعادت حاصل کی۔ اطلاع کے مطابق تین دن تک شہر بنگلور کی گلی گلی میں نعرۂ ختم نبوت گونجتا رہا۔ جمعہ کے دن شہر کی بڑی بڑی مسجدوں میں نماز جمعہ سے قبل عقیدۂ ختم نبوت کی اہمیت پر

صفحہ ۲۹۶

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۴ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

علماء کرام کی پرمغز تقاریر سے اہل ایمان کے جوش و خروش میں اور اضافہ ہو گیا۔ سنیچر کے روز شہر کی وسیع جامع مسجد میں شاندار اجلاس عام بھی ہوا۔ اس حیرت انگیز دلچسپی کو دیکھ کر قادیانی مشنری کے لوگ بوکھلا اٹھے اور انہوں نے نقص امن کا ہوا کھڑا کر کے آخری اجلاس کی اجازت انتظامیہ سے منسوخ کرادی۔ لیکن منتظمین کی بروقت مساعی سے مقامی انتظامیہ دوبارہ اجازت دینے پر مجبور ہوئی اور مکمل حفاظتی انتظامات کے ساتھ بغیر کسی رخنہ کے اجلاس کی کارروائی مکمل ہوئی۔ پروگرام کے دوران شہر کے اردو اور انگریزی کے اخبارات نے خاص ضمیمے رد قادیانیت پر شائع کئے اور عوام کو قادیانی دجل وفریب سے آگاہ کیا اور ایک عجیب بات یہ دیکھنے میں آئی کہ ہر مکتب فکر اور ہر جماعت کے لوگوں نے پورے خلوص کے ساتھ اس تحریک کا ساتھ دیا۔ سنی جمعیۃ علماء کرناٹک نے باقاعدہ اخباری بیان جاری کر کے مجلس تحفظ ختم نبوت اور جمعیۃ علماء کی تائید کی۔ اسی طرح جماعت اہل حدیث، دارالعلوم سبیل الرشاد اور جماعت اسلامی کے افراد بھی پروگرام میں شرکت کرتے رہے۔

یاد رہے کہ اس کیمپ کا انتظام مجلس تحفظ ختم نبوت کرناٹک اور جمعیۃ علماء کرناٹک نے کیا تھا۔ جب کہ اس کی مکمل نگرانی کل ہند مجلس ختم نبوت دارالعلوم دیوبند نے کی۔ کافی عرصہ سے بنگلور میں قادیانی ریشہ دوانیاں سنگین حد تک بڑھ گئی تھیں، جس کی بناء پر دردمندان ملت نے تحفظ ختم نبوت کے لئے رائے عامہ بیدار کرنے کی شدت سے ضرورت محسوس کی اور اس عظیم کام کا بیڑا اٹھایا۔ کیمپ کے کنونیر مولانا مفتی محمد معصوم صاحب ثاقب تھے جو دارالعلوم دیوبند کے ہونہار فاضل اور دارالعلوم امدادیہ رائے چوٹی کے نائب مہتمم ہیں، کیمپ کے پہلے اجلاس کی صدارت مولانا ابوالسعود صاحب مہتمم دارالعلوم سبیل الرشاد بنگلور نے فرمائی اور خصوصی مربی کے فرائض حضرت مولانا سید محمد اسماعیل صاحب کٹکی اور حضرت مولانا مفتی سعید احمد صاحب پالن پوری استاذ حدیث دارالعلوم دیوبند نے انجام دیئے اور مسئلہ کی مکمل تنقیح فرمائی۔ حضرت مولانا سید ارشد صاحب مدنی استاذ حدیث دارالعلوم دیوبند، حضرت مولانا قاری سید محمد عثمان صاحب منصور پوری استاذ و ناظم کل ہند مجلس تحفظ ختم نبوت دارالعلوم دیوبند اور حضرت مولانا عبدالعلیم صاحب فاروقی مہتمم دارالمبلغین لکھنؤ نے بھی کیمپ کی بعض نشستوں سے خطاب فرمایا۔ آخری نشست میں شرکاء کو اسناد شرکت پیش کی گئیں۔ اسی طرح ابتداء ہی میں منتظمین کی طرف سے سبھی مندوبین کو رد قادیانیت کا وقعی لٹریچر (اردو، انگلش) بھی ہدیہ کیا گیا۔

۱۴؍ ستمبر ۱۹۹۴ء کا اجلاس عام حضرت مولانا ریاض احمد صاحب فیض آبادی مہتمم مدرسہ ریاض العلوم ہبلی وصدر جمعیۃ علماء کرناٹک کے زیر صدارت منعقد ہوا۔ جس میں درج ذیل علماء کی بصیرت افروز تقریریں ہوئیں۔ (۱) حضرت مولانا سید محمد اسماعیل صاحب کٹکی، (۲) حضرت مولانا مفتی سعید احمد صاحب پالن پوری، (۳) حضرت مولانا سید ارشد صاحب مدنی، (۴) حضرت مولانا قاری سید محمد عثمان صاحب منصور پوری، (۵) حضرت مولانا عبدالعلیم صاحب فاروقی، (۶) جناب مولانا محمد طاہر حسن صاحب گیاوی، (۷) جناب مولانا عبدالمتین میمن جونا گڑھی امیر جماعت اہل حدیث کرناٹک، (۸) جناب مولانا عبدالحفیظ جنیدی امام مسجد شکر بنگلور، (۹) جناب مولانا قدیر احمد صاحب خطیب مسجد محمودیہ بنگلور، (۱۰) اور جناب مولانا احمد اللہ خان صاحب مظہر صدیقی ناظم اعلیٰ سنی جمعیۃ علماء بنگلور،۔

ان پروگراموں میں منتظمین کی دعوت پر ملک کے ان مخصوص علماء نے بھی شرکت کی جو قادیانیت کی تردید میں تخصص کا درجہ رکھتے ہیں یا اس سلسلے میں اپنی اپنی جگہ کام کر رہے ہیں۔ مثلاً : جناب مولانا مفتی محمود حسن صاحب بلند شہری دارالعلوم دیوبند، جناب مولانا محمد یامین صاحب مبلغ دارالعلوم دیوبند، جناب مولانا محمد عرفان صاحب مبلغ دارالعلوم دیوبند، جناب مولانا محمد یوسف صاحب استاذ جامعہ اسلامیہ جامع مسجد امروہہ، جناب مولانا شاہ عالم صاحب استاد دارالعلوم بستی، جناب مولانا سید سراج الساجدین صاحب نائب مہتمم مرکز العلوم سونگڑہ اور جناب مولانا مفتی محمد اسرار صاحب مدرسہ مظاہر علوم وقف سہارنپور۔

صفحہ ۲۹۷

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۴ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

رائے چوٹی میں اجلاس عام : بنگلور کے پروگرام سے پہلے ۳۱؍اگست ۱۹۹۴ء کی شب میں دارالعلوم امدادیہ رائے چوٹی میں تحفظ ختم نبوت کے موضوع پر عظیم اجلاس منعقد ہوا۔ جس میں حضرت مولانا سید محمد اسماعیل صاحب کٹکی، حضرت مولانا قاری سید محمد عثمان صاحب سمیت آٹھ علماء نے خطابات فرمائے۔

کاروان ختم نبوت تمکور میں : ۵، ۶؍ستمبر ۱۹۹۴ء کو ضلع وشہر تمکور میں مولانا مفتی محمد قربان صاحب اسعدی ناظم جامعہ حسینیہ محلہ پور تمکور نے مجلس تحفظ ختم نبوت ضلع تمکور کے تعاون سے بڑے بڑے اجلاس منعقد کئے ، جس میں مذکورہ الصدر اکثر علماء نے شرکت فرمائی۔

پرنام بٹ ( تامل ناڈو) : حضرت مولانا عبدالعلیم صاحب فاروقی اپنے رفقاء کے ساتھ پرنام بٹ تشریف لے گئے۔ جہاں رد قادیانیت پر اجلاس عام سے خطاب فرمایا۔

(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ص ۱۱ تا ۱۳، مورخہ ۱۷ تا ۲۳؍دسمبر ۱۹۹۴ء)

عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی مجلس عمومی کا اجلاس

تیرھویں سالانہ ختم نبوت کانفرنس چناب نگر کے موقع پر جامع مسجد ختم نبوت مسلم کالونی میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی مجلس عمومی کا اجلاس ۱۴؍اکتوبر ۱۹۹۴ء بروز جمعہ ساڑھے نو بجے صبح منعقد ہوا۔ اجلاس کی صدارت مخدوم المشائخ حضرت مولانا خواجہ خان محمد صاحب دامت برکاتہم نے کی۔ اجلاس میں ملک بھر سے ایک سو پچاسی منتخب اراکین مجلس عمومی نے شرکت کی۔ تلاوت کلام پاک کے بعد گزشتہ اجلاس کی کارروائی پڑھ کر سنائی گئی اور صدر اجلاس نے اس پر توثیقی دستخط فرمائے۔ مولانا اللہ وسایا نے گزشتہ سہ سال کی عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی کارکردگی کی رپورٹ پیش کی۔ اجلاس سے حضرت مولانا عزیز الرحمن جالندھری نے خطاب کرتے ہوئے اجلاس کی غرض وغایت اور جماعت کی پالیسی و ذمہ داری بیان فرمائی۔

مولانا نے فرمایا کہ آج ہم ربوہ کی زمین پر محمد عربی ﷺ کی عزت و ناموس کے تحفظ کے لئے کام کرنے والی جماعت کے آئندہ تین سالوں کے امیر مرکزیہ و نائب امیر کا انتخاب کرنے کے لئے جمع ہیں۔ اس موقع پر میں یہ کہنا چاہوں گا کہ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ایک مذہبی تنظیم ہے۔ اس کا ملکی مروجہ سیاست سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ یوم تاسیس سے آج تک یہ وہ بنیادی اصول ہے جس کی پابندی ہمارے ذمہ لازم ہے۔ ہمارے بزرگوں نے کبھی عہدوں کی تمنا و آرزو نہیں کی۔ وہ ان چیزوں سے بلند و بالا شخصیات تھے جب رفقاء نے ان کے سروں پر قیادت کا بوجھ رکھ دیا تو انہوں نے اس ذمہ داری کو دین اور مسلمانوں کی ضرورت سمجھ کر نبھایا۔ حضرت امیر شریعت مولانا سید عطاء اللہ شاہ بخاری چھ سال تک عالمی مجلس کے امیر رہے۔ ان کی وفات کے بعد حضرت قاضی احسان احمد شجاع آبادی ، حضرت مولانا جالندھری کو اور حضرت جالندھری حضرت قاضی صاحب کو امیر بنانا چاہتے تھے۔ چھ سے نو ماہ تک برابر ہر دو حضرات ایک دوسرے کو قائل کرتے رہے۔ بالآخر حضرت جالندھری نے حضرت قاضی صاحب کو ایک رقت آمیز خط تحریر کیا۔ جس پر حضرت قاضی صاحب امارت کے لئے آمادہ ہوئے۔ یہ دلیل ہے اس بات کی کہ ہمارے بزرگ عہدوں کی تمنا نہ رکھتے تھے بلکہ وہ اپنے پر دوسرے کو ترجیح دیتے تھے۔ حضرت قاضی احسان احمد شجاع آبادی تین سال آٹھ ماہ ستائیس دن عالمی مجلس کے امیر رہے۔ ان کے وصال کے بعد حضرت مولانا محمد علی جالندھری نے مفتی اعظم پاکستان مولانا مفتی محمد شفیع، شیخ الاسلام مولانا سید محمد یوسف بنوری، مفکر اسلام مولانا شمس الحق افغانی، حضرت خواجہ خان محمد صاحب کو امارت کے لئے آمادہ کرنے کی بھرپور محنت کی۔ مگر ان تمام بزرگوں نے اس کام کے لئے حضرت مولانا محمد علی جالندھری کو موزوں قرار دے کر ان کو امیر بنایا۔ آپ چار سال نو ماہ انتیس دن عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے امیر رہے۔ آپ کے وصال کے بعد مناظر اسلام

صفحہ ۲۹۸

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۲ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

مولانا لال حسین اختر دو سال ایک ماہ بیس دن امیر رہے۔ مناظر اسلام کی وفات کے بعد حضرت فاتح قادیان مولانا محمد حیات صاحب عرصہ چھ ماہ کے لئے عارضی امیر رہے۔ اسی دوران میں شیخ الاسلام حضرت مولانا سید محمد یوسف بنوری سے امارت قبول کرنے کے لئے درخواست کی گئی۔ آپ نے اس شرط پر امارت قبول فرمائی کہ حضرت مولانا خواجہ خان محمد صاحب جماعت کے نائب امیر ہوں گے۔

حضرت بنوری کی رحلت کے بعد حضرت اقدس خواجہ خان محمد صاحب دامت برکاتہم عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے امیر بنے اور آج کے دن (۱۴؍اکتوبر ۱۹۹۲ء) دو دن کم سترہ سال سے وہ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے امیر چلے آ رہے ہیں۔ ہر تین سال بعد جماعت کا نیا انتخاب ہوتا ہے۔ دراصل یہ تجدید عہد ہوتا ہے۔ ورنہ جو شخص ایک دفعہ امیر بن جائے وہ شرعاً امیر ہوتا ہے۔ ہماری جماعت کے تمام امراء تادم زیست عالمی مجلس کے امیر رہے۔ آج ہم سب شرکاء مل کر حضرت اقدس مولانا خواجہ خان محمد صاحب کو امیر مرکزیہ اور حضرت اقدس مولانا محمد یوسف لدھیانوی کو نائب امارت کے مناصب قبول فرمانے کے لئے درخواست کرتے ہیں۔ تا کہ مجلس کی روایت زندہ رہے اور تمام رفقاء کی طرف سے تجدید عہد ہو جائے۔ اس پر سب نے بالاتفاق ہر دو بزرگوں سے مندرجہ بالا درخواست کی، جسے دونوں بزرگوں نے شرف قبولیت سے نوازا اور یوں عالمی مجلس کا آئندہ سہ سال کے لئے امیر مرکزیہ اور نائب امیر اوّل کا انتخاب مکمل ہوا۔ انتخابی عمل مکمل ہونے کے بعد حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی نے حاضرین سے خطاب فرمایا۔

حضرت لدھیانوی کا خطاب: حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی مدظلہم نے فرمایا کہ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت اپنے یوم تاسیس سے اب تک قادیانیت کا تعاقب کرتی چلی آ رہی ہے۔ قادیانیت کا فتنہ اتنا سنگین ہے کہ شاید اس سے بڑا فتنہ سوائے مسیح دجال کے اور کوئی نہ ہو۔ چونکہ یہ فتنہ بڑا سنگین تھا۔ اس کے مقابلہ میں اللہ پاک نے اکابر امت کے دل میں القاء فرمایا۔ انجمن خدام الدین کے جلسہ میں حضرت امام العصر مولانا سید محمد انور شاہ کشمیری نے مولانا سید عطاء اللہ شاہ بخاری کو امیر شریعت قرار دے کر انہیں اس محاذ پر لگایا اور علامہ کشمیری نے شاہ جی کے ہاتھ پر بیعت کی۔ شاہ جی تھر تھر کانپ رہے تھے اور فرمایا کہ میں یہ سمجھتا ہوں کہ آپ نے مجھے اپنی غلامی اور بیعت میں لے لیا ہے۔ شاہ جی پاکستان سے پہلے سیاسی اور مذہبی کام کرتے رہے۔ شاہ جی نے مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان بنائی اور تازیست امیر مرکزیہ رہے۔ انہوں نے فرمایا کہ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت مسلسل بالاقطاب ہے۔ تمام اکابر کی توجہات مجلس کی طرف مبذول رہی ہیں۔ جہاں شاہ جی، قاضی صاحب، مولانا جالندھری، مولانا لال حسین اختر، مولانا محمد حیات، مولانا محمد یوسف بنوری مجلس کے امیر رہے ہیں، جو اپنے زمانہ کے قطب تھے۔ حضرت اقدس دامت برکاتہم سترہ سال سے مجلس کے امیر چلے آ رہے ہیں۔ وہاں حضرت رائے پوری، حضرت لاہوری، حضرت درخواستی تازیست مجلس کی سرپرستی فرماتے رہے۔ آج بھی ہمیں اپنے بزرگوں کی دعاؤں کے سہاروں کے ذریعہ کام کرنا ہے۔

مجلس عمومی کے دیگر فیصلے:

امیر مرکزیہ اور نائب امیر پر مشتمل کمیٹی بنائی گئی۔ وہ جو مناسب ترمیم فرمائیں گے۔ وہ مجلس عمومی کی طرف سے منظور شدہ متصور ہوں گی۔

ہوتا ہے، اس سال وہ صدیق آباد (ربوہ) میں منعقد ہوگا۔ اس کے لئے تمام مقامی جماعتیں بھر پور کوشش کریں گی۔

حضرت امیر مرکزیہ دامت برکاتہم کی ہدایات ودعا پر اجلاس اختتام پذیر ہوا۔

(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ص۲۷، مورخہ ۱۹ تا ۲۵؍نومبر ۱۹۹۲ء)

صفحہ ۲۹۹

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

آزادی کشمیر کے خلاف قادیانیوں کی سازشیں (حامد میر کا کالم)

بہت کم لوگ یہ جانتے ہیں کہ وادی کشمیر میں صرف ہندوؤں کو نہیں بلکہ یہودیوں اور قادیانیوں کو بھی گہری دلچسپی ہے۔ گزشتہ ۶۳ سال سے یہودی اور قادیانی مل کر وادی کشمیر میں اپنا اثر و رسوخ قائم کرنے کی کوشش میں مصروف ہیں۔ یہودیوں اور قادیانیوں نے عالمی سطح پر مسئلہ کشمیر کے سلسلے میں ہمیشہ ہندوستان کی مدد کی ہے۔ چند روز قبل اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں کشمیر قرارداد کو پیش ہونے سے روکنے میں بھی یہودیوں اور قادیانیوں نے ہندوستان کی بھر پور مدد کی اور بعض اسلامی ممالک کے وزرائے خارجہ کو قرارداد پیش کرنے سے روکنے میں اہم کردار ادا کیا۔ میں مذہب کی بنیاد پر تعصب اور الزام بازی کو برا سمجھتا ہوں۔ لیکن جس طرح علامہ اقبال جیسا روشن خیال اور آزاد منش شخص بھی یہ کہنے پر مجبور ہو گیا تھا کہ قادیانیت دراصل یہودیت کا چربہ ہے اور جس طرح ذوالفقار علی بھٹو جیسا سیکولر شخص بھی قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دینے پر مجبور ہو گیا۔ اسی طرح آج میں بھی اللہ تعالیٰ کی رضا اور وسیع تر ملکی مفاد میں یہودیوں اور قادیانیوں کے بارے میں سچ بولنے پر مجبور ہوں تاہم میں تمام یہودیوں اور تمام قادیانیوں کو برا نہیں سمجھتا۔ میں ان کے عقیدے کو اچھا یا برا نہیں کہوں گا بلکہ یہودیوں اور قادیانیوں میں شامل انتہاء پسندوں کی سرگرمیوں کا ذکر کروں گا جو اپنے مذموم مقاصد کی تکمیل کے لئے نہ صرف کشمیر پر اپنا غلبہ قائم کرنے کی کوشش میں مصروف ہیں بلکہ پاکستان کو بھی اندر ہی اندر سے کمزور کر رہے ہیں۔ کسی بھی مذہب فرقے یا نظریئے کو ماننے والوں میں انتہاء پسند ہمیشہ اقلیت میں ہوتے ہیں لیکن ان کی سرگرمیوں سے اکثریت بھی متاثر ہوتی ہے۔ اس لئے اکثریت کو اقلیت کے متعلق کڑوے سچ پر ٹھنڈے دل سے غور کرنا ہوگا۔

۱۸۹۰ء کے اواخر میں قادیانیت کے بانی مرزا غلام احمد قادیانی نے دعویٰ کیا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نہ صلیب پر فوت ہوئے نہ آسمان کی طرف اٹھائے گئے بلکہ جب وہ صلیب پر زخمی ہوئے تو ان کے شاگردوں نے انہیں مجروح حالت میں صلیب سے اتار لیا، ان کا علاج کیا جس کے بعد حضرت عیسیٰ علیہ السلام کشمیر چلے گئے اور وہیں ان کی طبعی موت واقع ہوئی۔ مرزا غلام احمد قادیانی نے اس عقیدے کو غلط قرار دیا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام قیامت سے پہلے اپنے اصلی جسم عنصری کے ساتھ دوبارہ ظاہر ہوں گے۔ مرزا غلام احمد قادیانی نے دعویٰ کیا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے دوبارہ ظہور کا مطلب دراصل یہ ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی صفات رکھنے والا ایک شخص امت محمدیہ میں پیدا ہوگا اور وہ شخص میں ہوں۔ مرزا غلام احمد قادیانی نے ۱۹۰۱ء میں جماعت احمدیہ قائم کی۔ ۱۹۰۸ء میں مرزا غلام احمد قادیانی کا انتقال ہو گیا تو مولوی نور الدین جماعت احمدیہ کے خلیفہ اوّل مقرر ہوئے۔ ۱۹۱۴ء میں مولوی نور الدین کے انتقال کے بعد مرزا غلام احمد قادیانی کے بیٹے مرزا بشیر الدین محمود قادیانی خلیفہ ثانی بنائے گئے۔ مرزا بشیر الدین نے بڑی خاموشی کے ساتھ دنیا بھر میں قادیانیوں کو منظم کرنا شروع کیا اور وادی کشمیر پر خصوصی توجہ دی۔ ۳۱؍ جولائی ۱۹۳۱ء کو سری نگر جیل کے باہر مسلمانوں پر وحشیانہ فائرنگ کے بعد شملہ میں نواب ذوالفقار علی کی کوٹھی پر ایک اجلاس ہوا۔ اس اجلاس میں مرزا بشیر الدین کے علاوہ علامہ اقبال، خواجہ حسن نظامی، مولانا اسماعیل غزنوی، مولانا نور الحق، سید حبیب شاہ اور مولانا عبدالرحیم درد سمیت متعدد اہم شخصیات نے شرکت کی۔ اجلاس میں آل انڈیا کشمیر کمیٹی تشکیل دی گئی۔ مرزا بشیر الدین نے کمیٹی کے انتظامات چلانے کی پیشکش کی۔ چنانچہ انہیں کمیٹی کا صدر اور ایک قادیانی مولانا عبدالرحیم درد کو سیکرٹری بنا دیا گیا۔ لیکن تھوڑے ہی عرصے میں مسلمان عمائدین کو پتہ چل گیا کہ مرزا بشیر الدین وادی کشمیر میں فلاحی کاموں کے نام پر اپنے ساتھیوں کی مدد کر رہے ہیں اور انہیں منظم کر رہے ہیں۔ سید عطاء اللہ شاہ بخاری مجلس احرار کو قادیانیوں کے خلاف میدان میں لے آئے۔ عطاء اللہ شاہ

صفحہ ۳۰۰

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۲ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

بخاری نے جگہ جگہ جلسے کئے اور سوال کیا کہ سیاسی سرگرمیوں سے ہمیشہ دور رہنے والے قادیانیوں کو اچانک کیا سوجھی کہ وہ کشمیر کمیٹی کے سب کچھ بن کر بیٹھ گئے ۔ انہوں نے الزام لگایا کہ مرزا بشیر الدین محمود قادیانی کا یہودیوں سے رابطہ ہے ۔ یہودی فلسطین پر اور قادیانی کشمیر پر قبضہ چاہتے ہیں ۔ آہستہ آہستہ علامہ اقبال بھی مرزا بشیر الدین محمود قادیانی کے خلاف ہو گئے اور انہوں نے مرزا محمود قادیانی کو کشمیر کمیٹی سے الگ کروا دیا ۔ اس دوران جماعت احمدیہ بھی دو گروپوں میں تقسیم ہو گئی ۔ خواجہ کمال الدین اور مولوی محمد علی نے مرزا بشیر الدین محمود قادیانی کے مقابلے میں لاہوری جماعت قائم کر لی اور مؤقف اختیار کیا کہ مرزا غلام احمد قادیانی نبی نہیں بلکہ مجدد اور محدث تھا ۔ اس گروپ بندی کے باعث مرزا بشیر الدین محمود نے سیاسی سرگرمیاں ترک کر دیں اور خاموشی سے اپنی جماعت کو منظم کرتا رہا ۔ مشہور کمیونسٹ دانشور عبداللہ ملک نے اپنی کتاب ”پنجاب کی سیاسی تحریکیں“ میں لکھا ہے کہ : ”سامراجیوں کی سازشوں پر نگاہ رکھنے کے لئے قادیانیوں پر نگاہ رکھنی ضروری ہے ۔“ ہندوستان کے مسلمانوں میں قادیانیوں کے متعلق بڑھتے ہوئے شعور کا نتیجہ تھا کہ قادیانیوں نے اپنا ہیڈ کوارٹر برطانیہ منتقل کر دیا ۔ قیام پاکستان کے بعد قادیانیوں نے برطانیہ میں بیٹھ کر وادی کشمیر میں جڑیں مضبوط کرنے کی کوشش کی جب کہ دوسری طرف اسرائیل سے یہودیوں کے مختلف وفود نے بھارت آنا شروع کر دیا ۔ جن میں سے اکثر وفود کشمیر کا دورہ ضرور کرتے تھے ۔

۱۹۷۷ء میں اے فیئر قیصر کی انگریزی تصنیف : ”حضرت عیسیٰ علیہ السلام کشمیر میں فوت ہوئے“ لندن سے شائع ہوئی ۔ اس کتاب میں مرزا غلام احمد قادیانی کے اس دعوے کو سچا ثابت کیا گیا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کشمیر میں فوت ہوئے اور یہ بھی لکھا کہ سری نگر میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا مزار ہے ۔ جسے ”روضہ بل“ کہا جاتا ہے ۔ کتاب میں دعویٰ کیا گیا کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کا مزار بھی کشمیر کی ایک پہاڑی ”نیل ٹوب“ پر واقع ہے ۔ جس کے بعد یہودیوں کی کشمیر میں دلچسپی واضح ہو گئی ۔ کیونکہ یہودی حضرت موسیٰ علیہ السلام کو اپنا نبی مانتے ہیں ۔ اے فیئر قیصر کو یہ کتاب لکھنے کے لئے سری نگر کے ایک قادیانی صاحبزادہ بشارت سلیم ، بمبئی کے ایم عبدالرزاق ، سوئٹزر لینڈ کے یہودی ایرک وان ڈینی کن ، نیویارک کے یہودی میگزین ، اسلام آباد پاکستان کے الحاج ایم۔ایم۔اے فاروقی اور دیگر افراد نے مدد اور مشاورت فراہم کی ۔ اس کتاب سے یہودیوں اور قادیانیوں کی کشمیر میں دلچسپی کی تمام وجوہات سامنے آتی ہیں ۔ بعض حلقے یہ بھی جانتے ہیں کہ یورپی ممالک اور امریکہ میں آباد قادیانی اسرائیل کے ساتھ تجارت کرتے ہیں اور اسرائیل قادیانیوں کو پیسہ بھی فراہم کرتا ہے ۔ اسرائیل کی کوشش ہے کہ امریکی سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ اور اقوام متحدہ میں موجود یہودی لابی اور قادیانیوں کی مدد سے وادی کشمیر میں اپنا اثر و رسوخ قائم کیا جائے ۔ اس سلسلے میں امریکی یہودی سٹیفن سولارز نے چند سال قبل وادی کشمیر کو خود مختار ریاست میں تبدیل کرنے ، جموں اور لداخ کو بھارت کے حوالے اور آزاد کشمیر کو پاکستان کے حوالے کرنے کا منصوبہ پیش کیا تھا لیکن اس فارمولے کو تمام کشمیری تنظیموں نے مسترد کر دیا ۔

حال ہی میں یہودیوں اور قادیانیوں کے انٹرنیشنل نیٹ ورک نے بعض ایسے ممالک کو بھی جنرل اسمبلی میں کشمیر قرارداد کے خلاف استعمال کیا ہے جہاں مسلمانوں کے مقامات مقدسہ موجود ہیں جب کہ ترک وزیر اعظم تانسو چیلر نے چند روز قبل اسرائیل کے دورے میں اسحاق شامیر کو یقین دلا دیا تھا کہ ترکی قرارداد کی حمایت نہیں کرے گا ۔ اسی انٹرنیشنل نیٹ ورک میں پاکستان کے کچھ ریٹائرڈ اور حاضر سروس بیورو کریٹ بھی شامل ہیں جو مسئلہ کشمیر کے حوالے سے خارجہ پالیسی پر اثر انداز ہوتے رہے ہیں اور ہو رہے ہیں ۔ اس انٹرنیشنل نیٹ ورک میں کچھ سیاسی شخصیات بھی شامل ہیں جن پر گہری نظر رکھنے کی ضرورت ہے ۔ قومی سلامتی کے ذمہ دار ادارے اس پہلو پر بھی غور کریں کہ پاکستان میں بڑھتی ہوئی لسانی اور فرقہ وارانہ کشیدگی کے پیچھے کون ہو سکتا ہے ؟ کیا کوئی شیعہ کسی مسجد یا کوئی سنی کسی امام باڑے پر حملہ کر سکتا ہے ؟ نہیں ! یہ کام کسی تیسرے کا ہے جو دونوں کو لڑا کر اپنے کام میں مصروف ہے ۔ میں قادیانیوں کے خلاف بلا جواز انتقامی کارروائیوں کی

صفحہ ۳۰۱

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۲ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

نہیں بیوروکریسی اور سیاست میں موجود ان کے اہم کل پرزوں پر نظر رکھنے کی بات کر رہا ہوں ۔ قیام پاکستان سے قبل نوابزادہ نصر اللہ خان کا تعلق مجلس احرار سے تھا جس نے یہودیوں اور قادیانیوں کی سازشوں کو بے نقاب کیا ۔ آج وہ وقت پھر آ گیا ہے کہ نوابزادہ نصر اللہ خان ”احراری انداز“ میں مسئلہ کشمیر اور پاکستان کی سلامتی کے حوالے سے یہودیوں اور قادیانیوں کی سازشیں بے نقاب کریں ۔ کیونکہ نوابزادہ صاحب کو بہت کچھ معلوم ہے ۔

(بشکریہ روزنامہ پاکستان لاہور، ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ص۶، مورخہ ۱۷؍ تا ۲۳؍ دسمبر ۱۹۹۲ء)

آزاد کشمیر میں قادیانیت کا تعاقب، عالمی مجلس کے رہنماؤں کا تبلیغی سفر

کوٹلی (خصوصی رپورٹ) پاکستان کے آئین سے آٹھویں ترمیم کے خاتمے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ قادیانیوں کے ارتداد پر اجماع امت ہو چکا ہے۔ قادیانی اسلامی اصطلاحات استعمال کر کے اور مسلمانوں کے جذبات کو مجروح کر کے انسانی حقوق کی مسلسل خلاف ورزیاں کر رہے ہیں۔ حساس اداروں، سرحدی علاقوں اور کلیدی عہدوں پر قادیانیوں کی موجودگی ملکی سلامتی کے لئے خطرناک ہے۔ آزاد کشمیر میں نفاذ اسلام کے سلسلہ میں اب تک کئے گئے اقدامات کی بھرپور تائید کرتے ہیں اور مکمل اسلامی نظام کے نفاذ کا مطالبہ کرتے ہیں۔ مقبوضہ کشمیر کی جنگ آزادی خالصتاً شرعی جہاد ہے۔ علماء و عوام کامل اتحاد و یکجہتی کا مظاہرہ کرتے ہوئے امت کو درپیش چیلنجوں کا مقابلہ کرنے کے لئے اپنی ذمہ داریاں نبھائیں۔ ان خیالات کا اظہار عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان کے مرکزی رہنماؤں مولانا اللہ وسایا اور اورنگزیب نے گزشتہ روز یہاں مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر جماعت اہل سنت کے رہنما اور مجلس کے ضلعی امیر مولانا محمد اسلم نقشبندی، مولانا مفتی عبدالشکور، مولانا جمیل احمد مغل اور دیگر رہنماء بھی موجود تھے۔ کوٹلی کے تفصیلی دورے پر آئے ہوئے مجلس کے مرکزی رہنماؤں نے کہا کہ پاکستان کے صدر اور وزیر اعظم کے اختیارات میں توازن پیدا کرنے کے لئے آٹھویں ترمیم میں اسی مقصد کی حد تک ردو بدل تو کیا جا سکتا ہے۔ البتہ کسی بھی دور میں آٹھویں ترمیم کے خاتمے کے لئے کوئی قدم اٹھانے کی کوشش کی گئی تو اسلامیان پاکستان اس کی قطعاً اجازت نہیں دیں گے۔ کیونکہ امتناع قادیانیت آرڈیننس اور دیگر اہم اسلامی امور کو اسی ترمیم کے تحت آئینی تحفظ حاصل ہے۔ انہوں نے کہا کہ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت اور قادیانیوں کے مابین محاذ آرائی فرقہ واریت کے زمرے میں ہرگز نہیں آتی بلکہ یہ اسلام اور کفر کی جنگ ہے۔ کیونکہ قادیانی صرف پاکستان کے آئین کے تحت ہی کافر نہیں بلکہ ان کے کفر پر عالم اسلام کی ایک سو بیالیس دینی تنظیموں کا اجماع واقع ہو چکا ہے۔ یہاں تک کہ ساؤتھ افریقہ کی ایک غیر مسلم عدالت قادیانیوں کے ہی ایک مقدمے میں انہیں غیر مسلم قرار دے چکی ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان میں مروج قانون کے مطابق قادیانی اسلامی اصطلاحات استعمال نہیں کر سکتے اور نہ ہی اپنے عقائد پر اسلام کا لیبل لگا سکتے ہیں۔ ہماری جدوجہد کا مقصد عامۃ المسلمین کو ان کے دجل و فریب سے آگاہ کرنے کے علاوہ ان کے بارے میں موجود قانون پر عملدرآمد کروانا ہے۔ اگر وہ دیگر غیر اسلامی مذاہب کے پیروکاروں کی طرح اپنا سلسلہ جدا گانہ انداز میں قائم کر لیں اور اسلام کا نام استعمال نہ کریں تو کسی بھی مسلمان کو ان کے خلاف آواز بلند کرنے کی ضرورت نہیں رہے گی۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ قادیانی کمال عیاری سے ”انسانی حقوق“ کا حوالہ اپنے حق میں استعمال کر رہے ہیں۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ قادیانی اسلامی اصطلاحات استعمال کر کے اور مسلمانان عالم کے جذبات مجروح کر کے مسلمانوں کے حقوق کی خلاف ورزیاں کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ قادیانی اسلام، عالم اسلام اور پاکستان کے خلاف گھناؤنی سازشوں میں مصروف ہیں۔ چنانچہ کلیدی عہدوں، حساس اداروں اور سرحدی علاقوں میں مختلف سرکاری محکمہ جات میں ان کی موجودگی امت کے مفادات اور قومی و ملکی سلامتی کے لئے خطرناک ثابت ہوگی۔ ایک اور

صفحہ ۳۰۴

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۲ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ آزاد کشمیر میں اسلامی نظام کے سلسلہ میں ہونے والے اقدامات اطمینان بخش وحوصلہ افزاء ہیں۔ تاہم ہمارا مطالبہ ہے کہ یہاں جس قدر جلد ممکن ہوسکے مکمل اسلامی نظام نافذ کیا جائے۔ رہنماؤں نے تحریک آزادی کشمیر کو خالصتاً شرعی جہاد قرار دیتے ہوئے آزاد کشمیر کے علماء سے اپیل کی کہ وہ جہاد کشمیر کو شرعی خطوط پر استوار کرنے اور مجاہدین کی سرپرستی وعملی قیادت کے لئے آگے بڑھیں۔ انہوں نے اعلان کیا کہ پاکستان کے علماء کرام اور دینی حلقے مجاہدین کشمیر کے ساتھ ہیں اور ان کی ہر طرح کی سرپرستی ومدد کو اپنا فرض سمجھتے ہیں۔

عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان کے مرکزی ناظم اعلیٰ حضرت مولانا عزیز الرحمن جالندھری کے حکم پر قادیانی سرگرمیوں کا جائزہ لینے کے لئے ایک نمائندہ وفد نے آزاد کشمیر کا دورہ کیا۔ وفد میں حضرت مولانا اللہ وسایا، محمد اورنگزیب اعوان اور حافظ محمود الحسن شامل تھے۔ ۲۰ نومبر ۱۹۹۲ء کو شام ۶ بجے یہ وفد کوٹلی شہر پہنچا۔ جہاں مفتی عبد الشکور خان، جمیل احمد مغل، سید ذاکر شاہ اور شہاب الدین نے وفد کا استقبال کیا۔ آزاد کشمیر میں ہر ضلعی ہیڈ کوارٹر میں پیر کے دن امر بالمعروف کے نام سے پوری ضلعی انتظامیہ کا اکٹھ ہوتا ہے۔ جس میں ضلع کے مفتی حضرات وعظ کرتے ہیں۔ چنانچہ ۲۱ نومبر کو ضلع کوٹلی کے امر بالمعروف پروگرام میں مولانا اللہ وسایا مدظلہ کا بیان ہوا۔ جس میں مولانا نے پوری تفصیل کے ساتھ عقیدۂ ختم نبوت کی اہمیت وافادیت بیان فرمائی۔ مولانا نے فرمایا کہ ختم نبوت کا عقیدہ دین اسلام کا اساسی عقیدہ ہے اور ملت اسلامیہ نے اس عقیدہ کے تحفظ کے لئے بے پناہ قربانیاں پیش کی ہیں۔ چودہ سو سالہ اسلامی تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ ملت اسلامیہ نے کبھی بھی آنحضرت ﷺ کے بعد کسی جھوٹے مدعی نبوت کو برداشت نہیں کیا۔ کیونکہ رحمت للعالمین ﷺ پر نبوت ورسالت کا سلسلہ ختم ہوچکا ہے۔ برصغیر میں انگریزی حکومت قائم ہوئی تو اس نے اپنے سیاسی مقاصد کے حصول اور اہل اسلام کے دلوں سے جذبہ جہاد ختم کرنے کے لئے مرزا غلام احمد قادیانی سے جھوٹی نبوت کا دعویٰ کروایا۔ امت مسلمہ نے انگریز کے بناسپتی نبی کو ذلت آمیز شکست دے کر عقیدۂ ختم نبوت کا تحفظ کیا اور مرزائیت کے کفر کو عالم اسلام پہ واضح کیا۔ لہٰذا اب آپ کا اور میرا فرض بنتا ہے کہ سچے نبی کے سچے امتی ہونے کی حیثیت سے ہم نبی کریم ﷺ کی عزت وناموس کا تحفظ اپنا فرض اولین سمجھ کر کریں۔

امر بالمعروف کے پروگرام سے فارغ ہونے کے بعد محمد اورنگزیب اعوان اور حافظ محمود الحسن نے ایڈووکیٹ جنرل آزاد کشمیر، ہائیکورٹ کے ججز و دیگر وکلاء سے ملاقاتیں کیں اور انہیں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی کتابوں کے سیٹ پیش کئے۔ سب نے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی خدمات کو سراہا اور آزاد کشمیر میں ہرممکن تعاون کی یقین دہانی کرائی۔ تحریک ختم نبوت کوٹلی کے امیر مولانا محمد اسلم نقشبندی کی شاہی مسجد میں بعد نماز عشاء ختم نبوت کانفرنس کا انعقاد کیا گیا۔ کانفرنس میں کوٹلی شہر کے تمام مکاتب فکر کے علماء اور عوام نے بڑے ذوق وشوق سے شرکت کی۔ کوٹلی کی شاہی مسجد مسلمانان کوٹلی سے کھچا کھچ بھری ہوئی تھی۔ اس کانفرنس سے مولانا عبدالرزاق چشتی، محمد اورنگزیب اعوان نے بھی خطاب کیا۔ مولانا اللہ وسایا نے خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ نبی کریم ﷺ نے قرب قیامت میں تین اشخاص کے آنے کی خبر دی ہے۔ جن میں دو اللہ تعالیٰ کے ہاں انتہائی محبوب اور ایک انتہائی مبغوض ہے جو انتہائی محبوب ہیں۔ ان میں سے ایک حضرت امام مہدی اور ایک سیدنا عیسیٰ علیہ السلام ہیں جب کہ انتہائی مبغوض دجال ہے۔ نبی ﷺ نے تینوں کے لئے علیحدہ علیحدہ الفاظ ارشاد فرمائے۔ حضرت امام مہدی علیہ الرضوان سے متعلق فرمایا کہ ان کا ظہور ہوگا۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نزول ہوگا جب کہ دجال کا خروج ہوگا۔ مولانا اللہ وسایا نے پوری تفصیل کے ساتھ ظہور امام مہدی اور نزول عیسیٰ علیہ السلام کا مسئلہ بیان فرمایا۔ مولانا نے کہا کہ امام مہدی اور سیدنا عیسیٰ علیہ السلام دو جدا جدا شخصیتیں ہیں۔ جب کہ مرزائیوں کا کہنا ہے کہ دونوں ایک ہیں اور وہ ایک مرزا غلام احمد قادیانی ہے۔ اب مولانا کا روئے سخن مرزائیت کی طرف ہوگیا۔

صفحہ ۳۰۳

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۴ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

مولانا نے مرزائیت کی اصل حقیقت بڑی وضاحت کے ساتھ کھول کر رکھی تو سامعین انگشت بدنداں رہ گئے اور مرزائیت کے خلاف فلک شگاف نعرے لگا کر مرزائیت سے اپنی نفرت کا اظہار کیا۔

۲۲؍نومبر ۱۹۹۴ء کو ڈسٹرکٹ ہال کوٹلی میں ایک جلسہ کا انعقاد کیا گیا۔ اس جلسہ کی صدارت مولانا محمد اسلم صاحب نقشبندی نے فرمائی۔ جلسہ سے محمد اورنگزیب اعوان، مفتی محمد عارف نے بھی خطاب کیا۔ جب کہ جلسہ کے مہمان خصوصی حضرت مولانا اللہ وسایا نے خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ ایک دور وہ تھا جب منبر و محراب پر مرزائیت کا کفر بیان کرنے پر پابندی عائد تھی اور اللہ تعالیٰ نے فضل فرمایا کہ آج ملک عزیز کی لوئر کورٹ سے لے کر سپریم کورٹ تک نے یہ اعلان کیا کہ مرزا قادیانی اور اس کے ماننے والے کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہیں۔ یہ سب شہدائے ختم نبوت کے خون کا صدقہ ہے۔ بعد میں مولانا اللہ وسایا صاحب نے پر ہجوم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا: بارڈر لائن کے قریب تمام تر آبادی قادیانیوں کی ہے۔ لہٰذا ان علاقوں کو حساس علاقہ قرار دے کر قادیانیوں کی سرگرمیوں پر کڑی نگاہ رکھی جائے۔ کوٹلی میں قادیانی انتہائی اہم اور حساس عہدوں پر فائز ہیں۔ یہ جہاد کے منکر ہیں۔ لہٰذا حساس اداروں کے کلیدی عہدوں سے انہیں فی الفور برطرف کیا جائے۔ مولانا نے فرمایا کہ مقبوضہ کشمیر میں جاری جہاد شرعی جہاد ہے۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کشمیر کے مسلمانوں کے اس جہاد میں ہر طرح کی اخلاقی مدد میں شریک ہے اور عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت آزاد کشمیر کے علماء کرام سے یہ مطالبہ کرتی ہے کہ وہ تحریک آزادی کشمیر کو جہاد کے شرعی خطوط پر استوار کرنے کے لئے مجاہدین کی عملی قیادت کے لئے آگے بڑھیں۔ پاکستان کے علماء کرام اور مذہبی قوتیں علماء کشمیر کے شانہ بشانہ اس جہاد میں شامل ہوں گی۔

۲۳؍ نومبر ۱۹۹۴ء کو صبح بیان سے فارغ ہونے کے بعد تحصیل مفتی کوٹلی محمد عارف کی قیادت میں جراہی کا سفر ہوا۔ جراہی میں حاجی محمد شفیق صاحب نے وفد کا خیرمقدم کیا۔ بعد ازاں جامع مسجد میں مولانا نے خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ آنحضرت ﷺ کی سیرت طیبہ پوری انسانیت کے لئے مشعل راہ ہے اور بالآخر انسانی معاشرہ حضرت خاتم الانبیاء ﷺ کی تعلیمات پر عمل پیرا ہو کر امن وفلاح کی منزل حاصل کر سکے گا۔ انہوں نے کہا کہ محبت رسول ﷺ ہر مسلمان کے ایمان کی بنیاد ہے جس کے بغیر کوئی شخص مؤمن کہلانے کا حق دار نہیں ہو سکتا لیکن محبت رسول ﷺ کی بنیاد آپ ﷺ کی اتباع اور اطاعت ہے۔ کیونکہ محبوب کے احکام کی تعمیل کے بغیر دنیا میں محبت کا کوئی دعویٰ قابل قبول نہیں ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ حضرت محمد ﷺ اللہ کے آخری نبی ہیں اور یہ عقیدہ ایسا مسلم ہے جس میں شک وشبہ کی کوئی گنجائش نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ آپ ﷺ کی رحلت کے بعد صحابہ کرام ؓ نے نبوت کے جھوٹے دعویدار مسیلمہ کذاب کے خلاف جنگ کر کے یہ ثابت کر دیا کہ مسلمان نبوت کی مسند پر کسی اور کو قطعاً برداشت نہیں کر سکتے۔

جراہی کے بعد یہ وفد دولیاہ جٹاں پہنچا جہاں مولانا شاہ ولی اللہ نے وفد کو خوش آمدید کہا۔ دولیاہ جٹاں کی مرکزی جامع مسجد میں مولانا اللہ وسایا نے خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ ہمارا قادیانیوں سے کوئی ذاتی جھگڑا نہیں۔ ہم تو حضور ﷺ کے غلام ہیں اور کسی صورت میں ہم یہ برداشت نہیں کر سکتے کہ حضور ﷺ کی ذات اقدس پر کوئی انگلی اٹھائے، کوئی حرف زنی کرے، مرزا غلام احمد قادیانی نے عقیدۂ ختم نبوت پر ڈاکہ ڈالنے کی کوشش کی ۔ اس نے حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر نبی آخر الزمان ﷺ کی ذات اقدس تک تمام انبیاء کرام علیہم السلام پر الزامات لگائے ، تہمتیں باندھیں ، ہم مسلمان ہو کر یہ سب کچھ کیسے برداشت کر سکتے ہیں ۔ لہٰذا آپ اپنے تمام تر اختلافات کو پس پشت ڈال کر نبی کریم ﷺ کی عزت وناموس کے تحفظ کے لئے ایک ہو کر کام کریں ۔ ( دولیاہ جٹاں میں پوری ایک آبادی قادیانیوں کی ہے وہاں انہوں نے اپنی ایک عبادت گاہ بھی بنائی ہوئی ہے، قادیانیوں کے خلاف مسلمانوں کا جذبہ عشق مصطفیٰ ﷺ بھی قابل قدر ہے )

صفحہ ۳۰۴

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۲ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

رات کوٹلی شہر کی جامع مسجد خلفائے راشدین میں ختم نبوت کانفرنس تھی۔ اس کانفرنس کی صدارت مولانا محمد طاہر فیاض نے کی جب کہ کانفرنس کی تیاری کے لئے مسجد ہذا کے خطیب حافظ عبدالرشید نے بڑی تگ و دو فرمائی۔ بعد نماز عشاء منعقد ہونے والی اس کانفرنس میں کوٹلی کے عوام اور علماء نے بڑے جوش و جذبہ سے شرکت کی۔ اس کانفرنس سے مولانا محمد یونس جلالی، مولانا عبدالرزاق چشتی اور محمد اورنگزیب اعوان نے بھی خطاب کیا۔ مہمان خصوصی حضرت مولانا اللہ وسایا نے خطاب کرتے ہوئے فرمایا۔ عقیدۂ ختم نبوت دین اسلام کی اساس ہے۔ اس عقیدہ کے تحفظ کی خاطر امت مسلمہ نے چودہ سو سالہ دور میں بیش بہا قربانیاں دے کر عقیدۂ ختم نبوت کا دفاع کیا ہے اور آئندہ بھی امت مسلمہ اس عقیدہ کے تحفظ کے لئے کسی قسم کی جانی و مالی قربانی سے دریغ نہیں کرے گی۔ ہر ایک سے نرمی برتی جاسکتی ہے۔ لیکن نبی کریم ﷺ کے گستاخ کے ساتھ کسی قسم کی رواداری دینی غیرت کے خلاف ہے۔ تمام مسلمانوں کو چاہئے کہ وہ ناموس رسالت کے تحفظ کے لئے ایک ہوجائیں۔ کیونکہ اس میں ہم سب کی فلاح کا راز مضمر ہے۔ ۲۴ نومبر ۱۹۹۲ء کو تتہ پانی کی مرکزی جامع مسجد میں بعد نماز ظہر ختم نبوت کانفرنس کا انعقاد کیا گیا۔ مرکزی جامع مسجد سامعین سے کھچا کھچ بھری ہوئی تھی۔ اس کانفرنس سے مفتی محمد عارف اور محمد اورنگزیب اعوان نے بھی خطاب کیا۔ کانفرنس کے مہمان خصوصی حضرت مولانا اللہ وسایا نے خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ ساری کائنات کے ولی، قطب، ابدال اور صحابہ بھی مل کے نبوت کے مقام تک نہیں پہنچ سکتے۔ نبی تو وہ ہوتا ہے جو ہاتھ کا اشارہ کرے۔ چاند دو ٹکڑے ہوجاتے، ہاتھ اٹھائے عمر ماہ نبوت کے قدموں میں آگرے، نبی مسکرائے تو جنت میں بہار آجائے۔ جب کہ قادیانی جس کو نبی مانتے ہیں اس کی نہ شکل تھی، نہ عقل۔ بلکہ وہ مجسمہ کذب تھا۔ مولانا اللہ وسایا نے تفصیل کے ساتھ قادیانیوں کی سرگرمیوں سے پردہ اٹھایا اور عوام کو فتنہ قادیانیت کی خرمستیوں سے روشناس کرایا۔

۲۵؍ نومبر ۱۹۹۲ء کو گوئی میں عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس تھی۔ ضلع کوٹلی بلکہ آزاد کشمیر میں گوئی کی حیثیت ایسے ہے جیسے پاکستان میں ربوہ۔ گوئی اور اس کے مضافات اندھیری و چہ ناڑی میں قادیانیوں کے بڑے بڑے مراکز قائم ہیں اور یہ سارا علاقہ بارڈر لائن کے ساتھ ساتھ ہے۔ ۲۵؍ نومبر ۱۹۹۲ء کو صبح سویرے ہی سے گرد ونواح کے علاقوں سے مسلمان قافلوں کی صورت میں آنا شروع ہوگئے اور گوئی کا میدان مسلمانوں سے کھچا کھچ بھر گیا۔ کوٹلی سے مولانا اللہ وسایا، مفتی عبدالشکور خان، مفتی محمد عارف، مولانا محمد طاہر فیاض، کمانڈر ظہیر یوسف، جناب جمیل احمد مغل، حافظ محمود الحسن، سید ذاکر شاہ، حکیم محمد عارف کی قیادت میں ایک عظیم الشان قافلہ میدان گوئی میں پہنچا تو اہلیان گوئی نے معزز مہمانوں کا شاندار خیرمقدم کیا اور گوئی کے پہاڑ فلک شگاف نعروں سے گونج اٹھے جب کہ سندھارا گلی سے دو قافلے حافظ لال حسین اور مولانا عبدالرزاق چشتی کی قیادت میں گوئی میدان پہنچے۔ پھلاہ گلی سے قافلہ مولانا محمد اسلم اور دھنواں سے قافلہ مولانا عبدالخالق کی قیادت میں گوئی میدان میں پہنچا۔ گوئی میدان میں منعقدہ کانفرنس سے ڈاکٹر عبدالرشید، مفتی محمد عارف، مولانا عبدالرزاق چشتی نے خطاب کیا۔ مہمان خصوصی حضرت مولانا اللہ وسایا پر زور نعروں کی گونج میں مائک پر تشریف لائے۔ انہوں نے فرمایا مرزا غلام احمد قادیانی کی کتابیں جھوٹ اور تضاد بیانی سے بھری ہوئی ہیں۔ ایسا شخص مسلمان تو کجا انسان ہونے کے قابل نہیں بلکہ مرزا قادیانی نے خود اپنی کتاب میں لکھا ہے کہ ؎

کرم خاکی ہوں میرے پیارے نہ آدم زاد ہوں بشر کی جائے نفرت اور انسانوں کی عار

انہوں نے فرمایا کہ میں صدق دل سے قادیانیوں کو دعوت دیتا ہوں کہ وہ جھوٹے نبی کے شکنجے سے نکل کر رحمت للعالمین ﷺ کے دامن رحمت میں آجائیں۔ وگرنہ دنیا و آخرت کا عذاب ان کا مقدر بن جائے گا۔ مولانا اللہ وسایا کا خطاب بڑا شاندار اور جاندار تھا۔ فتنہ

صفحہ ۳۰۵

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

قادیانیت کا شاید ہی کوئی پہلو ایسا ہو جو مولانا نے بیان نہ کیا ہو۔ مولانا نے پوری تفصیل کے ساتھ قادیانی فتنہ کی ضلالت بیان کی اور فرمایا کہ قادیانیت کسی مذہب کا نہیں بلکہ گمراہی کا دوسرا نام ہے۔ پنڈال کے چاروں طرف قادیانی کثیر تعداد میں موجود تھے اور جلسہ گاہ میں بھی ۵۰/۶۰ قادیانی موجود تھے۔

گوئی سے فارغ ہو کے ۲۶/ نومبر کو مفتی عبد الشکور خان کی قیادت میں یہ وفد پلندری کے شیخ الحدیث اور اسلامی نظریاتی کونسل کے ممبر مولانا محمد یوسف خان کی خدمت میں حاضر ہوا۔ دورۂ کوٹلی کی تفصیلات اور قادیانی سرگرمیوں سے آگاہ کیا۔ چنانچہ شیخ الحدیث صاحب نے ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کرائی۔ پلندری سے یہ وفد منگ پہنچا، منگ کی مرکزی جامع مسجد کے خطیب سے وفد نے ملاقات کی۔ آزاد کشمیر میں قادیانی سرگرمیوں سے آگاہ کیا۔ وہاں سے یہ وفد باغ پہنچا۔ دارالعلوم باغ کے اساتذہ نے اس وفد کا خیر مقدم کیا۔ رات میجر محمد ایوب صاحب سے ملاقات ہوئی۔ میجر محمد ایوب وہ خوش قسمت انسان ہیں جنہوں نے سب سے پہلے آزاد کشمیر اسمبلی میں ۱۹۷۳ء میں قادیانیوں کے غیر مسلم اقلیت ہونے کی قرارداد پیش کی۔ میجر محمد ایوب صاحب کی توجہ بھی اس جانب مبذول کرائی گئی کہ امتناع قادیانیت آرڈیننس کا نوٹیفکیشن ابھی تک آزاد کشمیر میں نافذ العمل نہیں ہوا۔ انہوں نے بھی ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کرائی۔ صبح کی نماز کے بعد دارالعلوم باغ کی مسجد میں مولانا اللہ وسایا کا بیان ہوا۔ بعد ازاں ہمارا وفد آزاد کشمیر کے دارالحکومت مظفر آباد پہنچا۔ وہاں مفتی زین العابدین، پیر محمد کرم شاہ الازہری، مولانا محمد یونس اثری، مولانا محمد فاروق، مولانا زاہد الراشدی، مفتی محمد اویس خان، مولانا محمود الحسن اشرف سے ملاقاتیں ہوئیں۔ یہ سب حضرات مظفر آباد میں منعقدہ سیرت النبی ﷺ کانفرنس میں شرکت کے لئے تشریف لائے ہوئے تھے۔ ان سب حضرات کے سامنے ضلع کوٹلی میں قادیانی سرگرمیاں ذکر کی گئیں اور آرڈیننس کے نوٹیفکیشن کے لئے اپنے اپنے تعلقات استعمال کرنے کی درخواست کی گئی۔ سب نے ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کرائی۔

۲۷/ نومبر کو ہمارا وفد آزاد کشمیر کے کامیاب تبلیغی دورہ سے واپس اسلام آباد پہنچا۔ اسلام آباد کشمیر کونسل کے ممبر سردار محمد عتیق اور مؤتمر عالم اسلامی کے جنرل سیکرٹری راجہ محمد ظفر الحق سے مولانا اللہ وسایا نے ملاقات کی اور آزاد کشمیر میں قادیانی سرگرمیوں سے آگاہ کیا اور مطالبہ کیا کہ جلد از جلد آزاد کشمیر میں امتناع قادیانیت آرڈیننس کا نوٹیفکیشن جاری کیا جائے۔ ہر دو حضرات نے قادیانیوں کی سرگرمیوں پر تشویش کا اظہار کیا اور یقین دہانی کرائی کہ عنقریب ان شاء اللہ آزاد کشمیر میں قادیانی سرگرمیوں پر پابندی عائد کرنے کے لئے امتناع قادیانیت آرڈیننس کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا جائے گا۔

(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ص ۸ تا ۱۰، مورخہ ۱۴ تا ۲۰/ جنوری ۱۹۹۵ء)

قادیانی نوجوان کا قبول اسلام

لاہور (پ۔ر) عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی راہنما مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی کے دست راست پر ایک قادیانی نوجوان مسمی اللہ دتہ ولد سردار علی سکنہ ہنجروال ملتان روڈ لاہور نے قادیانیت سے تائب ہو کر اسلام قبول کر لیا ہے۔ اس نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ میں سرور کائنات حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کو غیر مشروط طور پر خاتم النبیین مانتے ہوئے اقرار کرتا ہوں کہ مرزا غلام احمد قادیانی ولد مرزا غلام مرتضیٰ سکنہ قادیان کو دجال، کذاب، مرتد، دائرہ اسلام سے خارج سمجھتا ہوں۔ نیز قادیانی کو نبی اور مذہبی مصلح ماننے والے قادیانی اور لاہوری گروپوں کو دائرہ اسلام سے خارج سمجھتا ہوں۔ نو مسلم کی استقامت کے لئے پیر عارف حسین شاہ ایم۔ پی۔ اے حافظ آباد نے دعا کرائی۔ اس موقع پر مولانا زاہد الراشدی، مولانا خورشید احمد گنگوہی، مولانا ظفر اللہ شفیق، مولانا حسین احمد اعوان، قاری عبدالحمید، مولانا خلیل الرحمٰن حقانی اور مولانا عبد المالک خان بھی موجود تھے۔

(ہفت روزہ لولاک فیصل آباد ص ۱۹، مورخہ ۱۳/ مئی ۱۹۹۴ء)

صفحہ ۳۰۶

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۲ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

منڈی بہاؤالدین میں قبول اسلام

منڈی بہاؤالدین (نمائندہ ختم نبوت) منڈی بہاؤالدین کے قریبی گاؤں موضع مونگ کا ایک قادیانی خاندان جس کا سربراہ الہ بخش ولد خدا بخش قوم راجپوت کھوکھر نے جامع مسجد چن مونگ کے خطیب حضرت مولانا بشیر احمد ولد مرادعلی کے ہاتھ پر قادیانیت سے تائب ہو کر اسلام قبول کر لیا۔ تمام نمازیوں کی موجودگی میں اعلان کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایک عرصہ سے مذہب اسلام کی تحقیق کر رہے تھے اور اپنی ذاتی کاوشوں اور تحقیق کے بعد اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ اسلام اوّل و آخر اس عقیدے پر ہے کہ نبی کریم ﷺ آخری نبی ہیں۔ اس کے بعد جو نبوت کا دعویٰ کرے وہ مرتد اور کافر ہے۔ مرزا غلام احمد قادیانی مرتد تھا۔ میں اس پر لعنت کرتا ہوں۔ مرزا قادیانی کے پیروکار بھی دائرہ اسلام سے خارج ہیں۔ میں اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتا ہوں کہ مجھے ہدایت دی ہے اور مجھے نبی آخر الزمان کی ختم نبوت پر غیر مشروط ایمان لانے کی توفیق عطاء فرمائی۔ ان کے ساتھ خاندان میں بیوی، ایک پوتی اور بہو بھی دائرہ اسلام میں داخل ہو گئے ہیں۔ اس خاندان کے مسلمان ہونے پر علاقہ بھر کے مسلمانوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے رہنما ملک محمد یامین قادری، حضرت مولانا صفی غلام نور مظہری، الحاج جاوید اقبال چغتائی، چوہدری احمد مونس ایڈووکیٹ، مولانا اکرام اللہ خان، حضرت مولانا قاضی منظور الحق ایم۔اے خطیب شہر، جمعیۃ علماء اسلام کے ڈسٹرکٹ امیر حضرت مولانا قاری محمد خلیل آزاد نے الہ بخش کو اپنے خاندان کے ساتھ مسلمان ہونے پر مبارک باد دی ہے اور کہا کہ اس خاندان کے مسلمان ہونے سے مرزائیت کو بہت دھچکا لگا ہے۔ ہم اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے ہیں کہ ایمان پر استقامت دے۔ مرزائیت انگریز کا خود کاشتہ پودا ہے۔ اس نے برصغیر میں مرزا غلام احمد قادیانی کو دعویٰ نبوت کرا کے اپنے مفادات کا تحفظ کرنا چاہا۔ مرزا طاہر قادیانی پیشوا نے لندن میں ہر جمعہ کو ڈش انٹینا پر کفریہ عقائد اور قادیانیت کی تبلیغ کرتا ہے۔ جس سے پاکستان کے آئین وقانون کے ساتھ مذاق بنا ہوا ہے۔ موجودہ حکومت نے قادیانیوں کے خلاف مقدمات واپس لئے تو یاد رکھے کہ حکومت کا وہ آخری دن ہوگا اور عاشقان رسول ﷺ سروں پر کفن پہن کر سراپا احتجاج بن جائیں گے۔

(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ص ۲۲، مورخہ ۲۲ تا ۲۸؍جولائی ۱۹۹۴ء)

قادیانیت سے توبہ اور قبول اسلام منڈی بہاؤالدین

منڈی بہاؤالدین (نمائندہ ختم نبوت) گزشتہ روز منڈی بہاؤالدین کے قریبی گاؤں مونگ میں سید سلامت علی شاہ ولد اکبر علی شاہ نے جامع مسجد جھمٹاں کے خطیب مولانا محمد اسلم نقشبندی جلالی کے ہاتھ پر قادیانیت چھوڑ کر اسلام قبول کر لیا ہے۔ جمعۃ المبارک کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اسلام سچا مذہب ہے۔ نبی کریم ﷺ آخری نبی ہیں۔ مرزا غلام احمد قادیانی جھوٹا اور مرتد تھا اس کو ماننے والے کافر ہیں۔ میں بچپن سے ہی قادیانیت سے نفرت کرتا تھا۔ میرے سے پہلے بڑا بھائی سید اقبال حسین شاہ ولد اکبر علی شاہ نے بھی مرزائیت چھوڑ کر مولانا حافظ محمد اسلم نقشبندی جلالی کے ہاتھ اسلام قبول کیا ہے۔ موضع مونگ پہلے بھی ایک خاندان کے ۷۴ افراد پر مشتمل الہ بخش نے قادیانیت چھوڑ کر اسلام قبول کر لیا ہے۔ منڈی بہاؤالدین میں چند سال قبل ایک خاندان کے گیارہ افراد قادیانیت چھوڑ کر مسلمان ہو گئے ہیں۔ قادیانی خاندانوں میں نوجوان مرزائیت سے سخت نفرت کر رہے ہیں۔ نوجوان کا کہنا ہے کہ مرزا طاہر احمد لندن میں عیاشی کر رہا ہے اور ہم قانون کی گرفت میں ہیں۔ وہ دن دور نہیں جب قادیانیت سے باغی ہو کر اسلام میں داخل ہو جائیں گے۔ باخبر ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ مرزا طاہر نے ڈسٹرکٹ منڈی بہاؤالدین کی جماعت قادیانیت کو حکم دیا ہے کہ وہ نوجوانوں کو مرزائیت سے باغی اور مسلمان ہونے پر سخت نوٹس لے۔ مرزا طاہر کے حکم کے بعد بااثر قادیانی منظم ہو کر نوجوان کو مسلمان ہونے سے روک رہے ہیں۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت

صفحہ ۳۰۷

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

کے رہنما الحاج جاوید اقبال چغتائی، الحاج ایم رشید خواجہ ، مولانا صوفی غلام نور مظہری ، مولانا خان اکرام اللہ ، محمد صادق حسین ، علمائے کرام مشائخ عظام نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ قادیانیوں کو اس سے باز رکھا جائے کہ وہ مسلمان ہونے سے روک رہے ہیں۔ اس سے اشتعال پیدا ہو رہا ہے۔

دو قادیانی عورتوں کا قبول اسلام

گزشتہ دنوں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مبلغ مولانا غلام مصطفیٰ نے سرگودھا کی تمام مرکزی مساجد میں لٹریچر تقسیم کیا اور درس دیئے اور علماء کرام کو قادیانیوں کی شرانگیزیوں سے آگاہ کیا اور کہا کہ ہر جمعہ خطبہ کے دوران قادیانیوں کی گھناؤنی سازشوں سے آگاہ کیا جائے۔ مولانا غلام مصطفیٰ نے جن مساجد میں درس دیا، مسلمانوں کو ڈش انٹینا پر مرزا طاہر کا خطبہ نہ سننا اور لوگوں کو اس بات سے آگاہ کرنا ہے۔ مولانا نے مرکزی جامع مسجد سیٹلائٹ ٹاؤن، جامع مسجد محمدی کلب روڈ، جامع مسجد بلاک نمبر ۱، جامع مسجد غلہ منڈی ، جامع مسجد گول چوک ، جامع مسجد رحمانیہ ، جامع مسجد خلفاء راشدین میں درس دیئے اور لٹریچر تقسیم کیا۔ اس کے بعد کوٹ خدایار جامع محمدی شریف اور لالیاں میں بھی علماء حضرات سے ملاقات کی۔ قادیانیوں کی تبلیغی سرگرمیاں ڈش انٹینا اتارنے کے بارے میں گفتگو کی اور خطبہ جمعہ میں حکومت سے مطالبہ کیا کہ ڈش انٹینا پر فوری طور پر پابندی لگائی جائے۔ اس سے ملک میں فحاشی، عریانی، بے حیائی عام ہو رہی ہے۔ انگریزوں، یہودیوں کی سازش سے اس کے ذریعے ملک کو تباہ کیا جائے اور مسلمانوں میں جذبہ جہاد ختم کیا جائے۔ یہ قادیانیوں کی سوچی سمجھی اسکیم کے تحت یہ سب کچھ کیا جا رہا ہے۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مبلغ مولانا غلام مصطفیٰ خطیب ربوہ کے ہاتھ پر دو قادیانی عورتوں نے قادیانیت سے تائب ہو کر اسلام قبول کر لیا۔ مولانا غلام مصطفیٰ نے ان دونوں عورتوں کا مسلمان مردوں سے نکاح کر دیا۔ قادیانیوں نے ان کے خلاف تھانہ میں کیس کرنے کی کوشش کی۔ لیکن تھانہ میں ان عورتوں نے عدالت میں جو بیان دیا تھا ان کی کاپیاں تھانہ میں پہنچ چکی تھیں۔ مسلمانوں نے یہ بات سن کر دو قادیانی عورتوں نے اسلام قبول کر لیا ہے، بہت خوشی منائی اور مٹھائیاں تقسیم کیں اور اللہ کے حضور میں خصوصی دعائیں کیں۔ اللہ تعالیٰ ان عورتوں کو استقامت عطاء فرمائے۔ مولانا غلام مصطفیٰ نے جب خطبہ جمعۃ المبارک کے دوران ان کے اسلام قبول کرنے کا اعلان کیا اور باقی قادیانیوں کو بھی اسلام قبول کرنے کی دعوت دی۔ اس اعلان کے بعد تیسرے دن دو نوجوان قادیانی لڑکوں نے اور ایک قادیانی فرد نے بھی مسجد میں آ کر مولانا غلام مصطفیٰ کے ہاتھ پر اسلام قبول کیا۔ مولانا غلام مصطفیٰ نے اسلام قبول کرنے والے تینوں آدمیوں کو مسئلہ ختم نبوت کی اہمیت اور نزول عیسیٰ علیہ السلام، ظہور امام مہدی علیہ الرضوان اور کذبات مرزا قادیانی پر تفصیلی گفتگو کی اور بعد میں مٹھائی تقسیم کی گئی۔

(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ص ۱۸، مورخہ ۱۱ تا ۱۸ اگست ۱۹۹۴ء)

داتہ ضلع مانسہرہ میں قادیانی خاندان کا قبول اسلام

مانسہرہ ( ظہور عثمانی ) داتہ ضلع مانسہرہ میں ایک قادیانی خاندان جو سات افراد پر مشتمل تھا، اس نے مانسہرہ مرکزی جامع مسجد کے خطیب مولانا مفتی وقار الحق عثمانی کے ہاتھ پر اسلام قبول کر لیا۔ دریں اثناء اللہ یار صاحب جس کا پورا خاندان قادیانی تھا گزشتہ دنوں مرزا غلام احمد قادیانی پر لعنت بھیجتے ہوئے نبی کریم ﷺ کے دامن سے وابستہ ہو گیا۔ اسی طرح گزشتہ دنوں ختم نبوت یوتھ فورس مانسہرہ کی محنت سے ایک نوجوان کلیم الدین بھی مسلمان ہوا، یوں داتہ ضلع مانسہرہ میں آٹھ افراد نے قادیانیت سے تائب ہو کر اسلام قبول کیا ہے۔ نیز مانسہرہ کے ایک گاؤں کا نوجوان محمد ظفر خان جو کہ آج کل ایبٹ آباد میں مقیم تھا، اس نے بھی مرکزی جامع مسجد میں بعد نماز عصر تقریباً چار سو

صفحہ ۳۰۸

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۲ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

آدمیوں کے سامنے مفتی وقار الحق عثمانی کے ہاتھ پر اسلام قبول کیا اور قادیانیت سے تائب ہوا۔ تمام افراد جو قادیانیت سے تائب ہو کر اسلام میں داخل ہوئے۔ انہوں نے واضح طور پر کہا کہ ہم نبی کریم ﷺ کو آخری نبی مانتے ہیں۔ آپ ﷺ کے بعد کوئی نیا نبی نہیں ہو گا نہ ظلی طور پر نہ بروزی نہ شرعی نہ غیر شرعی اور قیامت کے نزدیک حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے آسمانوں سے نازل ہونا ہے۔ یادرہے کہ داتہ وہ مقام ہے جس کو ربوہ ثانی کہا جاتا ہے۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت اور ختم نبوت یوتھ فورس مانسہرہ کی مسلسل جدوجہد کے بعد کارکنان ختم نبوت نے یہ علاقہ فتح کیا اور قادیانیت کا خوب بائیکاٹ کرایا جو تاحال جاری ہے۔

(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ص ۲۱، مورخہ ۹ تا ۱۵؍ ستمبر ۱۹۹۴ء)

دس افراد پر مشتمل قادیانی گھرانے نے قادیانیت سے تائب ہو کر اسلام قبول کر لیا

گزشتہ دنوں مرکزی جامع مسجد ختم نبوت مسلم کالونی ربوہ میں محلہ دارالنصر کے دس مرد اور عورتوں نے مولانا غلام مصطفیٰ خطیب ربوہ مبلغ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے ہاتھ پر قادیانیت چھوڑ کر اسلام قبول کر لیا۔ اسلام قبول کرنے والوں نے مسجد میں آکر خطبہ جمعہ کے موقع پر مسلمان ہونے کا بہت بڑے مجمع کے سامنے اعلان کیا کہ ہم مرزا غلام احمد قادیانی کو نہ ظلی، نہ بروزی، نہ تشریعی، نہ غیر تشریعی نبی سمجھتے ہیں، نہ مسیح موعود، نہ مصلح موعود، نہ مہدی موعود، نہ مجدد، نہ امام، نہ خلیفہ اور نہ مسلمان سمجھتے ہیں بلکہ وہ کافر، مرتد، دائرہ اسلام سے خارج اور جہنمی ہے۔ جو مرزا غلام احمد قادیانی کو مسلمان سمجھتا ہے وہ بھی کافر ہے۔ اس محفل کو لوگ دور دراز سے دیکھنے آئے اور جامع مسجد میں اتنا مجمع تھا کہ مسجد مسلمانوں سے بھری ہوئی تھی۔ مسلمانوں نے اس خوشی کو دیکھ کر نعرے لگائے اور مسلمان ہونے والوں کو مبارک باد دی اور گلے لگا کر ملے۔ مولانا غلام مصطفیٰ نے باقی قادیانیوں کو بھی اسلام قبول کرنے کی دعوت دی۔ یہ بات سن کر پورے ربوہ میں قادیانیوں نے شور شرابا شروع کر دیا اور مسلمان ہونے والوں کو ہر قسم کا لالچ دیا۔ وہ لالچ میں نہ آئے تو قادیانیوں نے ان کو ڈرانے دھمکانے کا حربہ استعمال کیا لیکن وہ اس بات پر پکے ہیں کہ ہمیں قتل بھی کر دیا جائے۔ ہم کسی قیمت پر دوبارہ ان کے کفر اور دجل میں نہیں آئیں گے۔ مسلمان دور دراز سے انہیں مبارک باد دینے آ رہے ہیں۔ اس بات کے بعد ربوہ کے قادیانیوں پہ عجیب کیفیت طاری ہے۔ ضلع سرگودھا میں ایک قادیانی نے اسلام قبول کر لیا۔ ضلع وہاڑی میں ایک کالج کے نوجوان نے مرزائیت چھوڑ کر اسلام قبول کر لیا۔ ہر دو نومسلموں نے خطیب ربوہ مولانا غلام مصطفیٰ کے ہاتھ پر بیعت کی اسلام قبول کرنے والوں کے نام یہ ہیں: (۱)مصطفیٰ ولد عنایت اللہ دارالنصر شرقی ربوہ، (۲)اقبال بیگم، (۳)تنزیلہ، (۴)شریفاں بی بی زوجہ احمد دین، (۵)شہناز بیگم زوجہ محمد اشرف، (۶)شکیل احمد، (۷)محمد اشرف ولد قدیر احمد، (۸)وسیم آصف، (۹)تسلیم آصف، (۱۰)بلال آصف۔ ان دس افراد نے مرزائیت سے تائب ہو کر اسلام قبول کیا۔

(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ص ۲۱، مورخہ ۹ تا ۱۵؍ ستمبر ۱۹۹۴ء)

قبول اسلام

بہاول پور: مولانا محمد اسحاق ساقی کی مساعی جمیلہ سے ایک نوجوان نے قادیانیت ترک کر کے اسلام قبول کر لیا ہے۔ یہ واقعہ چک نمبر ایک میں پیش آیا ان کے ہمراہ مولانا عبدالحمید اور حافظ محمد الیاس بھی تھے۔ نوجوان نے مسجد میں آکر اپنے قبول اسلام کا اعلان کیا۔ جس سے نمازیوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی۔ مولانا محمد اسحاق ساقی مبلغ ختم نبوت بہاول پور نے ان کے لئے استقامت کی دعا کی۔ نیز جامع مسجد الصادق میں ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی۔ جس سے مولانا محمد امین اوکاڑوی، مولانا اللہ وسایا، مولانا عبدالکریم ندیم، مولانا شفیق الرحمن، مولانا محمد اسحاق ساقی مبلغ ختم نبوت بہاول پور نے خطاب فرمایا۔ قاری مشتاق احمد اور قاری محمد شریف نے تلاوت کی۔ پانچ بچوں کی دستار

صفحہ ۳۰۹

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۲ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

بندی کی گئی۔ کانفرنس کے انتظامات میں پروفیسر علیم صاحب، حاجی سیف الرحمٰن، مولانا خدا بخش اور مولانا امام دین قریشی نے خصوصی خدمات سرانجام دیں۔

(ہفت روزہ لولاک فیصل آباد ص ۱۹، مورخہ ۳۰؍ستمبر ۱۹۹۴ء)

قبول اسلام

گزشتہ دنوں ایک قادیانی نوجوان نے دفتر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت جامع مسجد باب الرحمن پرانی نمائش کراچی آ کر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے نائب امیر حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی مدظلہ کے ہاتھ پر برضا ورغبت اسلام قبول کیا اور قادیانی مذہب چھوڑا۔ مولانا محمد یوسف لدھیانوی مدظلہ نے اس نوجوان کو جس کا نام ریاض احمد تھا، کلمہ پڑھایا۔ اس نوجوان نے برملا اعلان کیا کہ میں نبی کریم ﷺ کو آخری نبی مانتا ہوں۔ آپ ﷺ کے بعد کوئی نیا نبی نہیں آ سکتا۔ کیونکہ نبوت کا دروازہ آنحضرت ﷺ پر بند ہو گیا۔ قیامت کے نزدیک حضرت عیسیٰ علیہ السلام آسمانوں سے نازل ہوں گے۔ مرزا غلام احمد قادیانی نہ نبی ہے، نہ مہدی ہے، نہ مسیح موعود ہے۔ آخر میں حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی مدظلہ نے اس نوجوان کی استقامت کے لئے دعا کی۔

(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ص۱۲، مورخہ ۱۰ تا ۱۶؍دسمبر ۱۹۹۴ء)

قادیانی شخص نے اہل خانہ سمیت اسلام قبول کر لیا

کوٹ مؤمن: کوٹ مؤمن کے ایک شخص نعیم احمد نے اپنے اہل خانہ سمیت قادیانیت سے توبہ کر کے اسلام قبول کر لیا ہے۔ نعیم احمد کے دادا دوست محمد نے قادیانیت قبول کی تھی۔ مگر اب چند افراد کے سوا ان کے تمام افراد مسلمان ہو چکے ہیں۔ تفصیلات کے مطابق کوٹ مؤمن کے رہائشی نعیم احمد جو روزگار کے سلسلے میں فیصل آباد منتقل ہو چکا ہے۔ اپنے رشتہ داروں کے اصرار کے بعد گزشتہ روز قادیانیت سے توبہ کر کے دائرہ اسلام میں داخل ہو گیا۔ بعد ازاں اس کے اہل وعیال نے بھی مسلمان ہونے کا اعلان کر دیا۔ نعیم احمد کے تین چھوٹے بھائی وسیم احمد، محمد شعیب اور تنویر احمد پہلے ہی مسلمان ہو چکے ہیں۔

منڈی بہاؤالدین میں گیارہ قادیانیوں نے اسلام قبول کر لیا

منڈی بہاؤالدین : منڈی بہاؤالدین میں گیارہ افراد مرزائیت سے تائب ہو کر دائرہ اسلام میں داخل ہو گئے۔ تفصیلات کے مطابق علاقہ ”مرالہ“ میں اسحاق احمد، شبیر احمد، شبیر احمد کی بیوی امتہ الحفیظ اس کے تین بیٹوں نذیر احمد، شکور احمد، شبیر احمد کی پانچ بیٹیوں نے مرزائیت سے تائب ہو کر میاں غلام محمد کی تبلیغ پر اسلام قبول کر لیا ہے۔

ہڑوہ منڈی میں قبول اسلام

پسرور: تحصیل پسرور کے نواحی گاؤں ہڑوہ منڈی میں ایک شخص نے اسلام قبول کر لیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق ہڑوہ منڈی کے محلّہ اسلام کے رہائشی امان اللہ ولد مبارک احمد نے مرزائیت چھوڑ کر مذہب اسلام قبول کر لیا۔ انہوں نے سینکڑوں افراد کی موجودگی میں ہڑوہ منڈی کی جامع مسجد کے خطیب مولانا محمد حسین چشتی کے ہاتھوں اسلام قبول کیا۔

لالہ موسیٰ کے نواحی گاؤں گنجیال نہال کے ایک خاندان نے قادیانیت سے تائب ہو کر اسلام قبول کر لیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق موضع گنجیال نہال کی بشیراں بی بی زوجہ غلام رسول نے اپنے دو بیٹوں اور بچیوں کے ہمراہ حاجی سردار خان، خادم حسین، حاجی محمد رفیق، حاجی محمد یونس و سابق کونسلر چوہدری محمد فاروق کی کوشش سے اسلام قبول کر لیا ہے۔ باقاعدہ اس سلسلہ میں تقریب منعقد ہوئی جس میں بشیراں بی بی نے کہا کہ کیونکہ میں مسلمان ہو گئی ہوں اور میرا خاوند قادیانی ہے۔ لہٰذا اگر وہ مسلمان ہو جائے تو ٹھیک ورنہ میرا اور اس کا رشتہ

صفحہ ۳۱۰

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۲ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

ختم ہو گیا۔ سابق ممبر پنجاب اسمبلی چوہدری محمد اسلم کائرہ نے اسلام قبول کرنے پر اس خاندان کو مبارک باد پیش کی ہے۔

(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ص ۱۹، مورخہ ۱۷ تا ۲۳/ دسمبر ۱۹۹۲ء)

سالانہ ردقادیانیت کورس ملتان

مجلس تحفظ ختم نبوت کے قیام کے بعد ملتان مسجد سراجاں حسین آگاہی میں ۱۹۴۹ء میں پہلا کورس ہوا۔ جس میں مولانا عبدالرحیم اشعر، مولانا محمد لقمان علی پوری و دیگر حضرات شریک درس ہوئے۔ ان کا تذکرہ پہلے کی کسی جلد میں گزر چکا ہے۔ ۱۹۹۴ء کا یہ کورس ملتان دفتر مرکزیہ کا آخری کورس تھا۔ ۱۹۹۵ء سے یہ کورس چناب نگر منتقل کر دیا گیا۔ ذیل میں آخری سالانہ کورس ملتان کی کارروائی ملاحظہ فرمائیں۔ اس کے بعد سال بہ سال چناب نگر کورس ۱۹۹۵ء سے آخر تک کی کارروائی آپ کے ملاحظہ میں آتی چلی جائے گی۔

ملتان میں پندرہ روزہ سالانہ ردقادیانیت کورس

۱۶/ شعبان تا ۳۰/ شعبان ۱۴۱۴ھ بمطابق ۲۹/ جنوری تا ۱۲/ فروری ۱۹۹۴ء

سے منعقد ہو رہا ہے۔

اشتہار شائع کردہ: شعبہ نشر و اشاعت دفتر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت حضوری باغ روڈ ملتان پاکستان

پندرہ روزہ ردقادیانیت کورس ۱۵/ شعبان ۱۴۱۲ھ تا ۲۸/ شعبان ۱۴۱۲ھ مرکزی دفتر ۲۹/ جنوری ۱۹۹۲ء تا ۱۲/ فروری ۱۹۹۲ء کو عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت حضوری باغ روڈ ملتان میں منعقد ہوا۔ اس میں شرکاء حضرات کے اسماء گرامی کی تفصیل یہ ہے:

نمبر شمار نام تعلیم ایڈریس ......۱ محمد ناصر محمود شہادۃ العالیہ محلہ چاہ فتح خان مکان نمبر ۹۱۶ تحصیل وضلع بہاول پور ......۲ محمد صدیق مدنی درجہ خامسہ محلہ طارق آباد، پولیس لائن نمبر ۱ مکان نمبر ۱۷۷۵/۲۱۰ کچہری روڈ ملتان ......۳ عبدالقیوم قریشی فرسٹ ایئر جوہر آباد مکان نمبر ۵۹۳ تحصیل ٹنڈو آدم ضلع سانگھڑ (سندھ) ......۴ عبید الرحمن نہم نذر اینڈ سنز ریلوے روڈ دنیا پور ضلع لودھراں ......۵ سیف اللہ سادسہ، میٹرک محلہ قادر آباد علاقہ خان گڑھ تحصیل وضلع مظفر گڑھ ......۶ مولوی محمد سلیمان فاروقی فارغ التحصیل ایف۔ اے ٹھیکریاں مونیاں تحصیل کھاریاں ضلع گجرات ......۷ خلیل الرحمن قاضی ایف۔ اے جامعہ قادریہ جامع مسجد ضلع رحیم یار خان ......۸ محمد اجود درجہ خامسہ اسعد نیوز ایجنسی مقام علی پور تحصیل علی پور ضلع مظفر گڑھ

صفحہ ۳۱۱

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۲ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا ......۹ محمد مشتاق بہاول پوری درجہ ثالثہ موضع ساہلاں بستی حاجیاں مقام کوٹ نوری تحصیل وضلع بہاول پور ......۱۰ عبدالباسط موقوف علیہ، میٹرک چھپر ہرو تحصیل حسن ابدال ضلع اٹک ......۱۱ نیاز اللہ درجہ اولیٰ، مڈل بمقام جامع مسجد اویس قرنی بھنگوارہ کالونی تحصیل وضلع نواب شاہ ......۱۲ محمد عارف ہفتم بمقام جامع مسجد اویس قرنی بھنگوارہ کالونی تحصیل وضلع نواب شاہ ......۱۳ شعیب ثانیہ، ایف. ایس. سی نزد جامع مسجد محلہ موسیٰ زئی نواں شہر ضلع ایبٹ آباد ......۱۴ حافظ عبیدالرحمٰن حفظ القرآن، ایف. اے مکان نمبر ۱۰۹۲ محلہ شعیب زئی نواں شہر ضلع ایبٹ آباد ......۱۵ محمد ہارون ایف. اے مکان نمبر ۵۱۹ محلہ محمد زئی نواں شہر ضلع ایبٹ آباد ......۱۶ ایچ ساجد اعوان ایف. اے دفتر ختم نبوت سکول روڈ نواں شہر ضلع ایبٹ آباد ......۱۷ عبدالرؤف روفی بی. اے پاک ملک شیک ایبٹ آباد روڈ مانسہرہ ......۱۸ فضل الرحمٰن اعوان میٹرک آزاد سویٹ ہاؤس ایبٹ آباد روڈ مانسہرہ ......۱۹ اکرام اللہ میٹرک شاہ تاج شوگر ملز کوٹ نواب شاہ تحصیل وضلع منڈی بہاؤالدین ......۲۰ طارق اقبال ایف. اے محلہ راجپوتاں ڈسکہ ضلع سیالکوٹ ......۲۱ محمد نصیب میٹرک محلہ راجپوتاں ڈسکہ ضلع سیالکوٹ ......۲۲ حافظ خدا بخش فاضل خیر المدارس حافظ کتاب گھر خیر پور ٹامیوالی ضلع بہاول پور ......۲۳ حافظ محمد یوسف عثمانی دورۂ حدیث شریف مکان نمبر ۲۶۰۔ ایچ محلہ سلطانیہ کھیوڑہ تحصیل پنڈ دادن خان ضلع جہلم ......۲۴ اللہ دتہ مجاہد پرائمری کوٹ عثمان خان قصور ......۲۵ محمد ذاکر موقوف علیہ ڈیرہ محمدی تحصیل وضلع ملتان ......۲۶ عبدالوہاب صدیقی فارغ التحصیل مسجد جنرل بس اسٹینڈ ضلع رحیم یار خان ......۲۷ عبدالرحمٰن میٹرک مکان نمبر ۸ علی سٹریٹ اتفاق کالونی ساندہ خورد لاہور ......۲۸ محمد کفیل خان دورۂ حدیث شریف مکان نمبر ۶ گلی نمبر ۴ قذافی اسٹریٹ نزد انار کلی لاہور ......۲۹ عمران ساجد درجہ ثانیہ سرکلر روڈ بالمقابل پرانا گرڈ اسٹیشن ڈسکہ سیالکوٹ ......۳۰ محمد منصور ایف. اے ۱۰۹ صدر بازار کینٹ ایریا گوجرانوالہ ......۳۱ غلام مصطفیٰ فاضل حجرہ شاہ مقیم دیپالپور ضلع اوکاڑہ ......۳۲ گلزار احمد ساجد فاضل معرفت حق برادرز بک ڈپو حاصل پور منڈی حاصل پور بہاول پور ......۳۳ حافظ غلام سرور میٹرک، پی. ٹی. سی بستی شورکوٹ موضع مظفر آباد ملتان ......۳۴ محمد راشد حمادی فاضل ٹنڈو آدم ضلع سانگھڑ ......۳۵ عبدالمالک درس نظامی ظریف شہید شجاع آباد ضلع ملتان ......۳۶ قاری غلام مصطفیٰ حفظ القرآن چتوڑ گڑھ قدیم کبیر والا ضلع خانیوال

صفحہ ۳۱۶

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۲ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

۳۷...... عبدالشکور کشمیری ثالثہ، ششم مکان نمبر ۹۰ بلال سٹریٹ علامہ اقبال ٹاؤن لاہور

۳۸...... قاضی احسان احمد خامسہ ۳۰ / اقبال نگر ٹوبہ ٹیک سنگھ

۳۹...... محمد ایوب طاہر فاضل ملتان دولم کاہواں کلاچی ڈیرہ اسماعیل خان

۴۰...... محمد گلزار خان موقوف علیہ چور ہواں کلاچی ڈیرہ اسماعیل خان

۴۱...... ریحان اللہ پرائمری مکان نمبر ۵۷۹-ڈی گلی نمبر ۲۵-جی ۶/۲، اسلام آباد

۴۲...... حسین احمد پرائمری چودھواں کلاچی ڈیرہ اسماعیل خان

۴۳...... فلک شیر صدیق طالب علم ٹانک ڈاکخانہ شیرہ کہنہ ڈیرہ اسماعیل خان

۴۴...... محمد صابر موقوف علیہ تہکاں ڈیرہ اسماعیل خان

۴۵...... قاری نذیر احمد عثمانی حفظ القرآن راجپور ڈاکخانہ اڈہ علی خان کھاریاں ضلع گجرات

۴۶...... حافظ عبدالرحمن اعوان درجہ عالیہ چکڑالہ ڈھوک جھکہ فیصل کالونی میانوالی

۴۷...... حافظ محمد اسماعیل درجہ عالیہ مدرسہ جامعہ قادریہ رحیم یار خان

۴۸...... عبدالغفور حیات دورۂ حدیث شریف مکان نمبر ۲۱۸-اے وارڈ نمبر ۳ محلہ بھوالپورہ تلہ گنگ شہر ضلع چکوال

۴۹...... حافظ محمد زاہد حفظ القرآن ڈیرانوالہ نارووال

۵۰...... نذیر حسین ہاشمی ثانیہ، میٹرک ڈھولن چک نمبر ۷ چونیاں ضلع قصور

۵۱...... محمد سلیم درس نظامی مڈل جلہ ارائیں دنیا پور ضلع لودھراں

۵۲...... قاری عبدالغفور فاروقی فاضل جامعہ اشرفیہ لاہور ڈاکخانہ چاچڑاں شریف مدنی مسجد دین پور شریف خان پور

۵۳...... ولی اللہ فاضل قاسم العلوم میاں پور تحصیل دنیا پور ضلع لودھراں

۵۴...... محمد اصغر ایم ۔ اے مکان نمبر ۲۴۱ محلہ کھاتی والا سمبڑیال روڈ ڈسکہ سیالکوٹ

۵۵...... عبدالحمید میٹرک قصبہ بدھ تحصیل کوٹ ادو ڈاکخانہ پیر برخودار ضلع مظفر گڑھ

۵۶...... عبدالرحیم درس نظامی ڈاکخانہ جلہ ارائیں تحصیل دنیا پور

۵۷...... محمد عارف درس نظامی موضع باقر شاہ شمالی تحصیل علی پور ضلع مظفر گڑھ

۵۸...... محمد سعد حفظ القرآن مکان نمبر ۹۱۶ ،م - بی محلہ چاہ فتح خان بہاول پور

۵۹...... حبیب اللہ صدیقی بی ۔ اے نزد مدرسہ ختم نبوت حضوری باغ روڈ ملتان

۶۰...... غلام ربانی دورۂ حدیث شریف مکان نمبر ۶ محلہ ترکھاناں اندرون فرید گیٹ شاہی بازار بہاول پور

۶۱...... عبدالرزاق درس نظامی چاہ گولے والا موضع رکن ہٹی شجاع آباد ملتان

۶۲...... عبدالقادر درس نظامی موضع ماندہل ڈاکخانہ چک لوہاراں بستی گلشن امیر معاویہ احمد پور شرقیہ

صفحہ 313

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۲ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

۶۳...... عبدالستار حیدری درس نظامی موضع نند پورہ ڈاکخانہ واہی جوگیاں احمد پور شرقیہ ضلع بہاول پور ۶۴...... غلام مرتضیٰ چک ایچ .آر ۲۲۲ ڈاکخانہ مروٹ فورٹ عباس بہاول نگر ۶۵...... کبیر احمد موضع درہنوز ڈاکخانہ خیر پور ڈاہا احمد پور شرقیہ بہاول پور ۶۶...... شبیر احمد بی۔ایس سی نزد مسلم کمرشل بینک بنگلہ منٹھار رحیم یار خان ۶۷...... سید ظفر عباس شاہ ایف۔ایس سی مسلم کالونی (ربوہ) چناب نگر ضلع جھنگ ۶۸...... سجاد حسین شاہ ایف۔اے مسلم کالونی (ربوہ) چناب نگر ضلع جھنگ ۶۹...... محمد نواز بی۔ایس سی مسلم کالونی (ربوہ) چناب نگر ضلع جھنگ ۷۰...... ظفر عباس بی۔اے مسلم کالونی (ربوہ) چناب نگر ضلع جھنگ ۷۱...... وحید اختر ایف۔اے مسلم کالونی (ربوہ) چناب نگر ضلع جھنگ ۷۲...... ممتاز علی خان ایف۔اے مسلم کالونی (ربوہ) چناب نگر ضلع جھنگ ۷۳...... حافظ محمد اقبال ضیاء درجہ ثالثہ بمقام گہبی ڈاکخانہ ہلہ تحصیل پتوکی ضلع قصور ۷۴...... محمد یعقوب شاہین درجہ رابعہ موضع اسماعیل پور بستی ملکان ڈاکخانہ ہتھیجی احمد پور شرقیہ ۷۵...... غلام مصطفیٰ سادسہ چک نمبر ۱۳-بی. ڈبلیو ضلع وہاڑی ۷۶...... محمد رمضان فاروقی ثالثہ بستی پیٹڑ ڈاکخانہ ریتڑہ تحصیل تونسہ شریف ڈیرہ غازی خان ۷۷...... سید العباد علی وفاق المدارس بخاری دواخانہ جامع مسجد روڈ نزد تھانہ ملتان ۷۸...... قاری اللہ داد خطیب مکی مسجد پرانا لاری اڈا وہاڑی ۷۹...... حافظ محمود احمد اولیٰ مچھلی بازار محلہ سادات گلی نمبر ۲ مکان نمبر ۲۸۶۲ بہاول پور

نوٹ: ۱۴۱۴ھ میں سال کے دوران ان حضرات نے تربیت حاصل کی اور شعبہ تبلیغ سے وابستہ ہوئے۔ (فقیر)

۱...... حضرت مولانا عبدالخالق رحمانی مبلغ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت راجن پور ۲...... حضرت مولانا عبدالستار حیدری مبلغ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت بہاول پور ۳...... حضرت مولانا عبدالرزاق مجاہد مبلغ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت اوکاڑہ ۴...... مولانا مسعود الرحمن مبلغ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت سرگودھا ۵...... مولانا حافظ عبدالرؤف مبلغ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت سرگودھا ۶...... حضرت مولانا عبدالعزیز جتوئی مبلغ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ملتان

شہدائے ختم نبوت کانفرنس شکر گڑھ

صدارت: مولانا طالب حسین فاضل دیوبند، تلاوت: قاری محمد رمضان، قاری محمد ایوب، نعتیہ کلام: حافظ سیف اللہ، محمد فاروق، محمد انور کشمیری، عبدالباسط، تقاریر: مولانا محمد اجمل قادری، مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی، مولانا خدا بخش، مولانا فقیر اللہ اختر، مولانا یوسف، مولانا شیر محمد، قاری عبدالمتین، مولانا امجد خان۔

(ہفت روزہ لولاک فیصل آباد ص ۱۸، مورخہ ۱۳ مئی ۱۹۹۷ء)

صفحہ ۳۱۴

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۲ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

تحفظ ختم نبوت کانفرنس ایبٹ آباد

ایبٹ آباد : تحفظ ختم نبوت یوتھ فورس ضلع ایبٹ آباد کے زیر اہتمام سالانہ ”ختم نبوت کانفرنس“ ۲۷/جون ۱۹۹۲ء بروز سوموار جلال بابا آڈیٹوریم ایبٹ آباد میں منعقد کی گئی۔ کانفرنس کی صدارت ملت اسلامیہ کے عظیم روحانی پیشوا حضرت اقدس مولانا خواجہ خان محمد امیر مرکزیہ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان نے کی۔ مقررین میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان کے مرکزی ناظم اعلیٰ مولانا عزیز الرحمن جالندھری ، شاہین ختم نبوت مولانا اللہ وسایا اور عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان کے مرکزی سیکرٹری نشر و اشاعت مولانا صاحبزادہ طارق محمود شامل تھے۔ جب کہ ضلع بھر کے مقامی علماء کرام نے آڈیٹوریم کے وسیع وعریض اسٹیج کو خوب رونق بخشی۔ مقامی علماء کرام میں مولانا حبیب الرحمن، مولانا شفیق الرحمن، مولانا محمد ایوب الہاشمی ، مولانا قاضی محمد نواز خان ، مولانا الطاف الرحمن ، مولانا پروفیسر سید افسر علی شاہ، مولانا مفتی محمد نعیم ، مولانا سید اکبر علی شاہ، مولانا بشیر حسین، مولانا فیض رسول کے علاوہ متعدد دینی جماعتوں کے سرکردہ رہنماؤں نے نمائندگی کی ، جن میں جمعیۃ علماء اسلام ، جمعیۃ علماء پاکستان، اشاعۃ التوحید والسنہ ، منہاج القرآن ، منہاج القرآن یوتھ لیگ، پاکستان عوامی تحریک، حلقہ ذکر حبیب، جماعت اسلامی، مسلم اسٹوڈنٹس فیڈریشن ، جمعیۃ طلباء اسلام، اسلامی جمعیت طلباء ، انجمن طلباء اسلام اور دیگر دینی وسیاسی جماعتوں کے نمائندوں نے بھر پور شرکت کی۔ شرکاء کانفرنس میں کالجز کے پروفیسرز صاحبان ، وکلاء حضرات اور انتظامیہ کے اعلیٰ افسران کی بڑی تعداد شامل تھی۔ آڈیٹوریم کھچا کھچ بھرا ہوا تھا۔ حافظ شاہ نواز کی تلاوت قرآن پاک سے کانفرنس کا باقاعدہ آغاز ہوا جب کہ بارگاہ رسالت ﷺ میں ہدیہ نعت قاری مشتاق احمد اور نبیل عباس نے پیش کی۔ اسٹیج سیکرٹری کے فرائض ساجد اعوان نے ادا کئے۔ مولانا عزیز الرحمن نے قرآن وحدیث سے مسئلہ ختم نبوت کی وضاحت کرتے ہوئے امت پر زور دیا کہ فتنہ مرزائیت کی بیخ کنی کے لئے پہلے سے زیادہ محنت اور جرأت سے کام کیا جائے تا کہ مرزائیت جلد از جلد اپنے منطقی انجام کو پہنچ سکے۔ مولانا اللہ وسایا نے مرزائیت کے کفر پر عدالتی مہر تصدیق کے اثبات کے مختلف مراحل بیان کرتے ہوئے کہا کہ دنیا کی تمام اعلیٰ عدالتوں میں مرزائیت کے کفر پر مہر تصدیق ثبت ہو جانے کے بعد ان بھولے بھالے مرزائیوں کے لئے ہدایت کی دعا ہی کی جاسکتی ہے جو ابھی تک مرزائیت کو اسلام سمجھ کر اپنی دنیا و آخرت تباہ کئے ہوئے ہیں۔ مولانا صاحبزادہ طارق محمود نے قادیانیت کا سیاسی تجزیہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ صحیح ہے کہ اگر مرزائیت مذہب کا لبادہ نہ اوڑھتی تو اب تک صفحہ ہستی سے اس کا وجود مٹ چکا ہوتا۔ انہوں نے کہا کہ مذہبی نکتہ نظر سے ”مولوی“ نے مرزائیت کو گالی بنا کر رکھ دیا ہے۔ اب ملک عزیز کے سیاسی ٹھیکیدار مرزائیت کی سیاسی قلابازیوں سے باخبر رہیں اور اس کا توڑ کریں۔ انہوں نے کہا کہ ماضی قریب میں مرزائی لابی معین قریشی کو برسر اقتدار لا کر حالات کا جائزہ لے چکی ہے۔ اب بھی اگر سیاستدان ہوشیار نہ ہوئے تو وزیر اعظم اور صدر کی کرسی پر ان کی جگہ مرزائیت کا راج ہوگا۔

(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ص۲۴، مورخہ ۲۶ اگست تا یکم ستمبر ۱۹۹۴ء)

ختم نبوت کانفرنس سیاں ضلع سیالکوٹ

گوجرانوالہ : عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت سیاں کے زیر اہتمام ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی جس کی صدارت شیخ الحدیث مولانا محمد فیروز خان نے کی۔ کانفرنس سے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی مبلغین مولانا خدا بخش، مولانا فقیر اللہ اختر، حافظ محمد ثاقب، مولانا عبد اللطیف مسعود، قاری دین محمد ثاقب ، جمعیۃ علماء اسلام کے ڈپٹی سیکرٹری ڈاکٹر غلام محمد، مولانا گل محمد توحیدی اور ممتاز عالم دین مولانا حافظ بشیر احمد نے خطاب کیا۔ جب کہ محمد حنیف شاہد نے اسٹیج سیکرٹری کے فرائض ادا کئے۔

(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ص ۲۱، مورخہ ۹ تا ۱۵ ستمبر ۱۹۹۴ء)

صفحہ ۳۱۵

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

عالمی ختم نبوت کانفرنس برمنگھم

لندن (ابوشاہد) عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام برطانیہ کے دوسرے بڑے شہر برمنگھم میں یوم پاکستان کے موقع پر حضرت مولانا خان محمد صاحب سجادہ نشین کی سرپرستی میں نویں سالانہ ختم نبوت کانفرنس ۱۴؍ اگست ۱۹۹۴ء کو منعقد ہوئی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے اس عزم کا اظہار کیا کہ قادیانی فتنہ کا پوری دنیا میں تعاقب کیا جائے گا اور قادیانیوں کے مکروہ عقائد ناپاک عزائم اور اسلام دشمن سرگرمیوں کو بے نقاب کیا جائے گا۔ ختم نبوت کانفرنس میں مطالبہ کیا گیا کہ اسلام، عقیدہ ختم نبوت اور پاکستان کے خلاف مسلسل زہریلا پراپیگنڈہ کر کے پاکستان دشمن لابیوں کو تقویت پہنچانے کی پاداش میں قادیانیوں کے خلاف سپریم کورٹ میں غداری کا ریفرنس دائر کیا جائے تا کہ پاکستانی عوام اور امت مسلمہ کے سامنے قادیانیوں کی اسلام اور پاکستان دشمنی واضح ہو جائے۔ قادیانیوں کی اسلام دشمن سرگرمیوں پر پابندی عائد کی جائے انہیں عالم اسلام پاکستان میں اسلام اور مسلمانوں کے نام پر دھوکہ دے کر تبلیغ کرنے کی بناء پر ان کے خلاف مقدمات قائم کر کے سزا دی جائے۔ ختم نبوت کانفرنس میں اعلان کیا گیا کہ تحفظ ناموس رسالت ایکٹ اور قادیانیوں سے متعلق آئینی ترمیم میں کسی قسم کی تبدیلی یا ترمیم برداشت نہیں کی جائے گی۔

پروفیسر محمود غازی: کانفرنس کے مہمان خصوصی شاہ فیصل مسجد کے خطیب اور دعوہ اکیڈمی کے ڈائریکٹر پروفیسر محمود غازی نے خطاب کرتے ہوئے کہا قادیانیوں کا اسلام سے دور کا واسطہ بھی نہیں۔ انہوں نے محض دھوکہ دینے کے لئے اسلام کا لیبل اختیار کر رکھا ہے۔ انہوں نے کہا قادیانی الگ امت اور قوم ہیں جو مرزا غلام احمد قادیانی کو نبی مانتے ہیں محمود غازی نے کہا عالم اسلام کے تمام ممالک کے مسلمانوں کا متفقہ فیصلہ اور اعلان ہے کہ مرزا قادیانی جھوٹا مدعی نبوت تھا۔ انہوں نے امت کے رہنماؤں اور علماء سے اپیل کی کہ وہ سب مل کر اس فتنہ کی سرکوبی کے لئے کوشاں ہوں۔ کیونکہ قادیانیت اسلام اور مسلمانوں کے لئے ایک مستقل خطرہ ہے۔

مولانا محمد یوسف لدھیانوی: مجلس تحفظ ختم نبوت کے نائب صدر مولانا محمد یوسف لدھیانوی نے کہا جس طرح پولیس اور فوجی کی وردی اور کوئی استعمال نہیں کر سکتا۔ اسی طرح اسلام کی مقدس شخصیات کے لئے مخصوص اصطلاحات بھی استعمال نہیں کی جاسکتیں۔ انہوں نے کہا قومی یا سیاسی لیڈر کی توہین سرکار کی توہین ہے۔ اسی طرح اسلامی اصطلاحات کا ناجائز استعمال سرکار دو عالم ﷺ اور آپ کے دین کی توہین ہے۔

ابن سید سلیمان ندوی: مولانا سید سلیمان ندوی کے فرزند اور ڈربن یونیورسٹی میں شعبہ اسلامیات کے سربراہ سید سلمان ندوی نے تقریر کرتے ہوئے کہا مسلمانوں اور قادیانیوں کی نظریہ کی جنگ ہے۔ انہوں نے کہا مسلم دانشوروں کو جدید تقاضوں کے مطابق قادیانی فتنہ کا مقابلہ کرنا چاہئے۔ انہوں نے کہا نوجوانوں کو عقیدۂ ختم نبوت اور قادیانی فتنہ کے مضمرات سے آگاہ کرنے کے لئے تربیتی کورس کا پروگرام شروع کرنا چاہئے۔

مولانا محمد اجمل خان: جمعیۃ علمائے اسلام کے قائم مقام امیر مولانا قاری محمد اجمل خان نے کہا ختم نبوت کا عقیدہ ہمارے ایمان اور یقین کا عقیدہ ہے۔ اس کا اعلان کرنے کے لئے سر دار بھی جانے سے گریز نہیں کیا جائے گا۔

مولانا زاہد الراشدی: ورلڈ اسلامک فورم کے چیئرمین مولانا زاہد الراشدی نے کہا کہ ناموس رسالت یا قادیانیوں کی آئینی ترمیم میں کوئی ترمیم یا تبدیلی برداشت نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے وفاقی وزیر قانون کے معذرت خواہانہ بیانات نا قابل برداشت ہیں۔

صفحہ ۳۱۶

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

مولانا منظور احمد چنیوٹی: مولانا منظور احمد چنیوٹی نے کہا کہ قادیانی پاکستان کے غدار ہیں۔ انہوں نے مرزا محمود کی قبر پر وصیت کی شکل میں کتبہ لگا رکھا ہے کہ میری لاش کو پاکستان کی سر زمین سے نکال کر قادیان بھارت منتقل کر دیا جائے۔ حقوق اہل سنت کے رہنما سید عبدالمجید ندیم نے کہا کہ چوزے جب خطرہ محسوس کرتے ہیں تو وہ سب مرغی کے پروں میں چھپ جاتے ہیں۔ اسی طرح قادیانیوں نے جونہی خطرہ محسوس کیا۔ برطانیہ جو ان کی مادر ملکہ ہے، کے پروں کے نیچے آچھپتے ہیں۔ انہوں نے کہا قادیانی فتنہ اپنے منطقی انجام کو پہنچ کر رہے گا۔ صاحبزادہ طارق محمود: عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی رہنما اور ایڈیٹر لولاک صاحبزادہ طارق محمود نے کہا برطانیہ میں صرف قادیانی فتنہ کا خاتمہ ہی نہیں ہوگا۔ اسلام کا بول بالا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ قرائن بتاتے ہیں کہ جنہوں نے ہم پر حکومت کی تھی۔ ہم ان پر حکومت کریں گے۔ صاحبزادہ طارق محمود نے اپنی پرجوش تقریر میں اعلان کیا کہ ہم نے قادیان اور ربوہ میں جس طرح خانہ ساز نبوت کا بیڑا غرق کیا۔ اسی طرح انگلستان کو مرزائیت کا قبرستان بنا کر چھوڑیں گے۔ مولانا ضیاء الرحمن فاروقی نے کہا جب باطل پیدا ہو۔ حق بھی سامنے آتا ہے انہوں نے کہا مولانا انور شاہ کشمیری کے مشن کو جاری رکھا جائے گا۔ مجلس تحفظ ختم نبوت کے مبلغ مولانا محمد اکرم طوفانی نے کہا مرزائیت کے خلاف ہمیں دینی غیرت کا مظاہرہ کرنا چاہئے۔ انہوں نے کہا حضور ﷺ کی نبوت پر ڈاکہ ڈالنے والوں کو قطعی برداشت نہیں کیا جائے گا۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے ناظم اعلیٰ مولانا عزیز الرحمن جالندھری نے کہا کہ قادیانیت کے خلاف جہاد ہمارے بزرگوں کا مشن ہے۔ یہ امانت ہے ہم اس سے غافل نہیں ہو سکتے۔ مولانا اللہ وسایا نے کہا دنیا کا کوئی براعظم ایسا نہیں جہاں حضور ﷺ کا پیغام نہ پہنچا ہو۔ پاکستان کی ہر عدالت نے قادیانیوں کے کفر پر مہر لگا دی ہے۔ کانفرنس کے آخری مقرر مولانا محمد مکی حجازی تھے۔

(ہفت روزہ لولاک فیصل آباد ص ۲، ۲۴، مؤرخہ ۱۹؍ اگست ۱۹۹۴ء)

امام مسجد نبوی کا فرمان جو عالمی ختم نبوت کانفرنس کے موقعہ پر ختم نبوت سینٹر لندن کے دورے پر دیا

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

الحمدلله رب العالمين. والصلوٰة والسلام على سيد المرسلين وعلىٰ آله وصحبه اجمعين وبعد فقد أ راد الله لى زيارة الاخوان من الاساتذه النبلاء فى لندن بمجلس ختم النبوة واطلعت على جهودهم فى محاربة فرقة القاديانية الضالة الكافرة وسرنى ما رأيت منهم ولديهم مشروع بناء مسجد لنشر التعليم المثمر ويستحقون المساعدة والنفقة لهٰذا المسجد من ذوى المال والله الموفق. كتبه: على بن عبدالرحمٰن الحذيفى

امام مسجد نبوی انٹرنیشنل ختم نبوت کانفرنس برمنگھم میں شرکت کے بعد ختم نبوت سینٹر لندن تشریف لائے۔ آپ نے سینٹر کی کارکردگی دیکھ کر بے حد مسرت کا اظہار کیا۔ آپ نے سینٹر کی کارکردگی سراہتے ہوئے لاگ بک پر حسب ذیل رائے کا اظہار فرمایا۔ ”تمام تعریفیں خدائے لم یزل کے لئے ہیں اور درود پاک خدا کے آخری پیغمبر اور اس کی آل واصحاب پر، خداوند کریم کی توفیق سے کہ مجھے ختم نبوت سینٹر لندن کے دورے کا موقعہ ملا۔ قادیانیوں کے خلاف مجلس ختم نبوت کی رات دن مسلسل جدوجہد دیکھ کر دل سے دعائیں نکلتی ہیں۔ سینٹر کے ذمہ داران نے بتایا کہ یہاں ایک مسجد کی تعمیر کا منصوبہ بھی ہے۔ میں اہل خیر سے درخواست کرتا ہوں کہ وہ اس منصوبے میں مجلس کی بھر پور مدد کریں۔

(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ص ۱۷، مؤرخہ ۱۸ تا ۲۴؍ فروری ۱۹۹۴ء)

بدین اور وارہ لاڑکانہ سندھ میں عظیم الشان ختم نبوت کانفرنسیں

بدین شہر اور اس کے قرب و جوار اور بدین ضلع کے دیگر شہروں اور قصبوں میں مثلاً کھوسکی، شادی لارج اور گولارچی وغیرہ میں

صفحہ ۳۱۷

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۲ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا قادیانیوں کی حال ہی میں تیزی سے ارتدادی سرگرمیوں کے پیش نظر بروقت بدین کے مقامی علماء کرام اور جے یو آئی صوبہ سندھ کے نائب امیر شیخ الحدیث حضرت مولانا عبدالغفور قاسمی صاحب نے بدین شہر میں ختم نبوت کانفرنس کی اشد ضرورت محسوس کی تاکہ اس کانفرنس کے ذریعہ بدین کے پسماندہ علاقہ کے سیدھے سادے مسلمانوں کو قادیانیوں کی گمراہ کن اور ملحدانہ سرگرمیوں سے آگاہ کیا جاسکے۔ بالآخر یکم ستمبر ۱۹۹۲ء بروز جمعرات بعد نماز عشاء ختم نبوت کانفرنس کی تاریخ طے ہوئی۔ جلسہ کی کارروائی چونکہ عشاء کی نماز کے بعد رکھی گئی تھی۔ اس لئے جوں جوں جلسہ کا وقت قریب آتا رہا لوگوں کا ہجوم بھی بڑھتا گیا۔ بدین شہر کے چاروں اطراف سے لوگ بسوں، ویگنوں، وینوں اور ڈاٹسنوں، سوزوکیوں میں آنا شروع ہوگئے۔ ہر چھوٹے بڑے کی زبان پر نعرۂ تکبیر اللہ اکبر، تاج وتخت ختم نبوت زندہ باد، قادیانیت مردہ باد کے نعرے جاری تھے۔ حالانکہ موسم بھی خوشگوار نہیں تھا۔ گرج چمک اور برق و باراں آب و تاب سے جاری تھے۔ جس طرح ملک بھر میں ریکارڈ توڑ مسلسل بارشوں کے باعث نقصانات ہوئے ہیں۔ اسی طرح بدین ضلع کے بھی حالات نا گفتہ بہ ہیں۔ چاروں جانب سے آنے والے راستے ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں۔ گاڑیاں تو کجا آدمی پیادہ پا بھی نہیں چل سکتا۔ مگر ان تمام دشواریوں کے باوجود ناموس رسالت کی خاطر شیدائیان رسول ﷺ تمام خار دار گھاٹیاں اور وادیاں عبور کر کے جلسہ گاہ میں پہنچ گئے اور نعرۂ تکبیر اللہ اکبر تاج وتخت ختم نبوت کے فلک شگاف نعروں سے بدین کی فضاء گونج اٹھی، عشاء کی نماز تک لوگوں کا اتنا بڑا ہجوم ہوگیا کہ دیکھ کر یوں محسوس ہورہا تھا کہ گویا بدین میں لوگوں کا ایک سمندر امنڈ پڑا ہے۔ ساڑھے آٹھ بجے عشاء کی نماز پڑھی گئی اور نماز کے بعد فوراً جلسہ کی کارروائی شروع ہوگئی۔ اسٹیج سیکرٹری کے فرائض حافظ محمد سلیم عاطف نے سرانجام دیئے اور جلسہ کی سرپرستی کے لئے شیخ طریقت بقیۃ الاسلاف حضرت مولانا عبدالکریم بیر شریف کا نام لیا گیا۔ جب کہ صدارت محقق العصر مدیر بینات حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی صاحب نے کی۔ جلسہ کی کارروائی کا آغاز حافظ ثناء اللہ شاہ نے تلاوت کلام پاک سے کیا بعد میں جناب صفی اللہ دھاریجو نے شان رسالت میں ختم نبوت پر مشتمل ہدیہ نعت پیش کیا۔ اس کے بعد سب سے پہلے مجلس تحفظ ختم نبوت سندھ کے مبلغ مولانا حفیظ الرحمٰن انڈھڑ صاحب کو دعوت دی گئی۔ مولانا انڈھڑ صاحب نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اس قسم کی باتیں قادیانی مسلمانوں کے نوجوانوں کے ذہنوں میں ڈال کر یہ باور کراتے ہیں کہ ہم مظلوم ہیں۔ ہمیں جینے کا حق نہیں دیا جارہا ہے۔ ہمارا جینا دوبھر کردیا گیا۔ مولانا انڈھڑ صاحب نے کہا کہ قادیانی اس قسم کے غلط پروپیگنڈہ سے اپنی مظلومیت ثابت نہیں کرسکتے ہیں اور نہ ہی فرزندان اسلام کو اس طرح سے اپنے شکنجے میں پھنسا سکتے ہیں۔ مولانا انڈھڑ صاحب نے قادیانیوں کے اس گمراہ کن پروپیگنڈہ کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ دوسرے جتنے بھی غیر مسلم ہیں۔ وہ ہمارے مذہب اسلام میں کسی قسم کی دست درازی اور مداخلت نہیں کرتے اور نہ ہی ہمارے دین اسلام کے کسی شعائر کو اختیار کرتے ہیں۔ جب کہ قادیانی اس کے برعکس ایک طرف تو ملعون غلام احمد قادیانی کے نبی ہونے کا عقیدہ رکھتے ہیں۔ جب کہ جمیع امت مسلمہ کا یہ اجماعی اور اتفاقی فیصلہ اور عقیدہ ہے کہ جناب سید المرسلین ﷺ کے بعد کوئی نیا نبی آنا نہیں ہے۔ لہٰذا قادیانی اپنے اس بے بنیاد عقیدہ کے باعث مرتد اور کافر ہیں۔ اب ان قادیانیوں کو کلمہ طیبہ اور مساجد جیسی عبادت گاہیں بنانے اور اختیار کرنے کی قطعاً اجازت نہیں دی جائے گی۔ بعدازاں مدرسہ دارالعلوم بدین کے مہتمم حضرت مولانا عبدالستار چاوڑو صاحب کو دعوت خطاب دی گئی۔ مولانا چاوڑو صاحب نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ میں سب سے پہلے تمام علماء کرام اور مہمانان گرامی قدر اور عوام الناس کا بے حد مشکور و ممنون ہوں کہ جنہوں نے ہماری دعوت پر لبیک کہتے ہوئے ہمارے جلسہ میں آکر ہماری ہمت افزائی کی ہے۔ مولانا چاوڑو صاحب نے کہا کہ اس بدین ضلع میں کچھ عرصہ سے قادیانیوں کی ارتدادی سرگرمیاں تیزی سے بڑھنا شروع ہوگئی تھیں۔ جن کو یہاں کے وڈیروں اور جاگیرداروں کی پشت پناہی حاصل تھی اور خصوصیت کے ساتھ سب سے زیادہ پیش پیش اس معاملہ میں یہاں

صفحہ ۳۱۸

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۲ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

بدین آرمی چھاؤنی کے ایک اعلیٰ اور ذمہ دار فوجی افسر تھے جو کہ کٹر قادیانی تھے۔ یہ قادیانی افسر ایک حساس سرکاری ادارے کے ذمہ دار افسر ہونے کے باوجود بدین ضلع کے قریب علاقوں میں جاکر قادیانیوں کے جلسوں کی صدارت کرتا تھا۔ جس کے سبب قادیانیوں کے حوصلے بلند ہوئے اور ان کی تبلیغی سرگرمیوں نے زور پکڑا۔ اس لئے ہم نے یہ ختم نبوت کانفرنس رکھی تا کہ بدین کے مسلمانوں کو قادیانیوں کی ان شاطرانہ سازشوں سے آگاہ کیا جاسکے۔ مولانا چاوڑہ صاحب نے کہا کہ جب میں نے جلسہ کی اجازت حاصل کرنے کے لئے بدین ضلع کی ڈپٹی کمشنر سے رابطہ کیا تو ڈی سی صاحب نے قلابازیاں کھانا شروع کر دی تھیں اور ٹال مٹول سے کام لینا شروع کیا تھا۔ جب بھی میں جاتا تھا تو چھپنا شروع کر دیتے تھے۔ مولانا چاوڑہ صاحب نے کہا کہ میں اس ڈی سی صاحب کو اگر بارش نہیں ہوتی تو یہ جلسہ بجائے مسجد کے بازار میں کروا کے دکھا دیتا اور بتا دیتا کہ بدین کے غیور مسلمان عقیدۂ ختم نبوت کی خاطر ناموس رسالت کی خاطر اپنی گردن کٹا تو سکتے ہیں مگر قادیانیوں کی سرگرمیوں کو کسی بھی صورت میں برداشت کرنے کے لئے تیار نہیں ہیں۔ مولانا چاوڑہ صاحب نے کہا کہ آج یہ سرفروشاں اسلام اور غیور مسلمانوں کا بھر پور اجتماع اخباری رپورٹ کے مطابق دس ہزار سے زائد افراد کا مجمع تھا، جو کہ قادیانیوں کے لئے موت ثابت ہوگا۔

بعد میں بدین کے بے باک اور نڈر خطیب مولانا محمد قاسم جمالی صاحب کو دعوت خطاب دی گئی۔ مولانا جمالی صاحب نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کچھ ہماری اپنی سستی اور غفلت کی وجہ سے قادیانیوں کو ایک بار پھر گردن اٹھانے کی جرأت ہوئی ہے۔ لیکن آج ہم اس بھرے جلسہ میں عزم بالجزم کرتے ہیں کہ اب ہم نئے جذبے اور ولولے سے ختم نبوت کا کام کریں گے اور مجلس تحفظ ختم نبوت کے بزرگوں سے یہ درخواست ہے کہ آپ ہماری رہنمائی اور تربیت فرمائیں تو پھر ان شاء اللہ ہم قادیانیوں کو بدین ضلع میں جڑ سے اکھاڑ دیں گے۔ ٹنڈو باگو کے شعلہ بیان خطیب مولانا عیسیٰ صاحب سموں نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ دور دلائل کا نہیں بلکہ یہ دور عملی جہاد کا دور ہے۔ مولانا سموں صاحب نے کہا کہ ملعون قادیانیوں کے سامنے قرآن وحدیث کے دلائل دینے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ مولانا سموں صاحب نے کہا کہ میں بھی مولانا چاوڑہ صاحب اور مولانا جمالی صاحب کو یقین دلاتا ہوں کہ میں بھی آپ کی جدوجہد صاحب کو یقین دلاتا ہوں کہ میں بھی آپ کی جدوجہد میں قادیانیوں کے خلاف برابر کا شریک ہوں اور آپ کے شانہ بشانہ ان کے خلاف لڑتا رہوں گا۔

مولانا حسینی صاحب کی تقریر کے دوران پیر طریقت شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی صاحب جلسہ گاہ میں پہنچ گئے۔ جن کو دیکھ کر حاضرین جلسہ نے فلک شگاف نعرے لگائے اور مولانا حسینی صاحب نے اپنی تقریر ختم کر دی۔ اس کے بعد مولانا لدھیانوی صاحب نے خطاب کرتے ہوئے سامعین حضرات کو کہا کہ مجھے یہاں پر آکر اور آپ کے جوش وخروش کو دیکھ کر بے انتہاء مسرت اور خوشی ہوئی ہے کہ آپ حضرات بارش اور کیچڑ کے باوجود اتنی بڑی تعداد میں یہاں پر جمع ہوئے ہیں اور بجلی کے بار بار چلے جانے کے بعد بھی پسینہ سے شرابور ہو کر گرمی کی شدت میں بھی دلجمعی کے ساتھ تشریف رکھے ہوئے ہیں۔ مولانا لدھیانوی صاحب نے کہا کہ یقیناً یہ آپ کی غیرت ایمانی کی واضح دلیل اور بین ثبوت ہے۔ مولانا لدھیانوی صاحب نے کہا کہ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ بدین کے مسلمانوں کا اسلام اور اہل اسلام کے ساتھ گہرا تعلق ہے۔ مولانا لدھیانوی صاحب نے کہا کہ اللہ تعالیٰ آپ کو آپ کی اس والہانہ عقیدت اور محبت کو دوام اور استقامت نصیب فرمائے اور آپ کو یہاں پر اکٹھا ہونا مقبول ومنظور فرمائے۔ اسی دوران پھر سے مجمع نے بیک زبان ہو کر کہا: آمین ! ان دعائیہ کلمات کے بعد جب مولانا لدھیانوی صاحب اپنے اصل موضوع پر آئے اور قرآن وحدیث کی روشنی میں اور فقہ کے حوالہ جات سے جب تقریر شروع کی تو پورے مجمع پر سکوت طاری ہو گیا۔ مولانا لدھیانوی صاحب کی تقریر ایک علمی تقریر تھی جو کہ قرآن وحدیث

صفحہ ۳۱۹

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۴ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

اور فقہ کے دلائل سے پڑھی۔ مولانا لدھیانوی صاحب نے کہا کہ عقیدۂ ختم نبوت امت مسلمہ کے نزدیک اجماعی اور اتفاقی عقیدہ ہے۔ جس پر تمام مکاتب فکر کے علماء ومشائخ متحدہ ومتفق ہیں۔ مولانا لدھیانوی صاحب نے حدیث کے حوالہ سے بتایا کہ اگر اس وقت حضرت موسیٰ علیہ السلام بھی آجائیں تو رسالت مآب ﷺ نے فرمایا کہ ان کی نجات بھی میری تابعداری کے بغیر نہیں ہو سکتی۔ مولانا لدھیانوی صاحب نے فقہ اکبر کے حوالے سے امام اعظم امام ابو حنیفہ کا فتویٰ نقل کرتے ہوئے بتایا کہ امام ابو حنیفہ فرماتے ہیں کہ حضور انور ﷺ کے بعد اگر کوئی نبوت کی دعوت کر دے پھر اس سے کوئی اگر معجزے اور دلیل کا مطالبہ کرے تو یہ دلیل کا مطالبہ کرنے والا بھی کافر ہے اور مرتد ہے۔ کیونکہ آپ ﷺ کی ختم نبوت بالکل اظہر من الشمس ہے۔ اس کے بعد اسٹیج سیکرٹری نے یہ شعر پڑھا ؎

محمد مصطفیٰ کے واسطے کیا کیا سعادت ہے نبوت ہے، رسالت ہے، قیادت ہے، امانت ہے
محمد ہی کے دم سے افتخار آدمیت ہے محمد آن ملت، جان ملت، شان ملت ہے

بعد میں مجلس تحفظ ختم نبوت کے بزرگ رہنما مولانا احمد میاں حمادی صاحب کو دعوت خطاب دی گئی۔ بعد میں مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی خطیب سیف بے نیام مولانا اللہ وسایا کو دعوت خطاب دی گئی۔ آپ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج کا یہ جلسہ مولانا عبد الغفور قاسمی کی کاوشوں اور قربانیوں کا نتیجہ ہے۔ خطیب صاحب نے کہا کہ میں نے سنا ہے کہ ابھی انگلینڈ میں جو تازہ بین الاقوامی ختم نبوت کانفرنس ہو چکی۔ اس میں سب سے مولانا قاسمی صاحب کی تقریر اچھی رہی۔ خطیب صاحب نے کہا کہ قادیانی کائنات کا بدترین کافر ہے۔ اس کے کفر پر تمام مکاتب فکر کے علماء ومشائخ متفق ومتحد ہیں۔ لیکن آج تک انہوں نے کسی کے بھی فیصلے کو تسلیم نہیں کیا ہے۔ خطیب صاحب نے کہا کہ بالآخر اللہ تعالیٰ کے فضل وکرم سے علماء کی جدوجہد اور عوام کی قربانیوں سے ۱۹۷۴ء میں بھٹو مرحوم کے دور حکومت میں یہ مسئلہ پاکستان کی پارلیمنٹ میں پہنچا اور اس وقت قومی اسمبلی کے اندر علماء کی قیادت کے ساتھ مولانا عبد الحق اکوڑہ خٹک والے اور مولانا غلام غوث ہزاروی، مولانا عبد الحکیم وغیرہ وغیرہ تھے۔ قادیانیوں کے اس وقت کے سربراہ مرزا ناصر کے ساتھ تقریباً پندرہ روز تک اسمبلی میں بحث مباحثہ چلتا رہا۔ خطیب صاحب نے کہا کہ بھٹو صاحب نے ایک عجیب اور دلچسپ بات مفتی صاحب کو کہی کہ مفتی صاحب آخر کیوں ایسے قادیانی کافر کا نام پاکستان کے آئین میں داخل کر کے آئین کو پلید کیا جائے۔ لیکن حضرت مفتی صاحب مرحوم کی بصیرت کو سلام ہو کہ حضرت مفتی صاحب مرحوم نے بھٹو صاحب کو برجستہ جواب دیا کہ قرآن پاک کے اندر شیطان اور فرعون کا بھی ذکر ہے۔ اگر قرآن پاک شیطان اور فرعون کے نام سے پلید نہیں ہو سکتا تو قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے سے پاکستان کا بھی آئین پلید نہیں ہوگا۔ بالآخر پاکستان کی پارلیمنٹ نے قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا۔ حزب اختلاف نے بھی کہا کہ قادیانی کافر ہیں، حزب اقتدار نے بھی کہا کہ قادیانی کافر ہیں۔ پیپلز پارٹی نے بھی کہا کہ قادیانی کافر ہیں، مسلم لیگ نے بھی کہا کہ قادیانی کافر ہیں۔ خطیب صاحب نے کہا کہ موجودہ وزیر اعظم بے نظیر بھٹو کے والد صاحب نے تو قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا تھا لیکن اس کی بیٹی قادیانیوں کے متعلق نرم گوشہ رکھتی ہے۔ خطیب صاحب نے کہا کہ سابقہ وزیر اعظم نواز شریف نے بھی قادیانیوں کے متعلق نرم گوشہ رکھا تھا۔ جس کے نتیجہ میں اس کی حکومت اپنی آئینی مدت پوری نہیں کر سکی۔ اس لئے ہم محترمہ بے نظیر بھٹو کو بھی بتا دینا چاہتے ہیں کہ آپ کی خیر خواہی بھی اس میں ہے کہ قادیانی نواز پالیسی چھوڑ دو ورنہ آپ کا بھی حشر سابقہ حکومت سے کچھ مختلف نہیں ہوگا۔

اس کے بعد مدرسہ دارالفیوض ہاشمیہ سجاول کے شیخ الحدیث حضرت مولانا عبد الغفور قاسمی صاحب کو دعوت خطاب دی گئی۔ مولانا قاسمی صاحب نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ابھی تھوڑے ہی عرصہ میں بدین ضلع میں قادیانیوں کی تبلیغی سرگرمیوں میں اضافہ ہو گیا تھا اور ہم

صفحہ ۳۲۰

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۲ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

نے ختم نبوت کانفرنس کو وقت کی اہم ضرورت سمجھا، جس کی وجہ سے آج ہم اور آپ یہاں پر جمع ہیں۔ مولانا قاسمی صاحب نے کہا کہ دنیا کا کوئی بھی مذہب اپنا وجود قائم نہیں رکھ سکتا۔ جب تک اس میں دو خوبیاں نہ ہوں۔ ایک یہ کہ وہ کامل اور مکمل ہو دوسرا یہ کہ اس مذہب کی مذہبی کتاب محفوظ ہو۔ مولانا قاسمی صاحب نے کہا کہ مذہب اسلام کے علاوہ دنیا کے دیگر تمام مذاہب ان دو خوبیوں سے محروم ہیں۔ مولانا قاسمی صاحب نے کہا کہ یہی وجہ ہے کہ دین اسلام کے علاوہ اور تمام مذاہب اپنی اصلیت کھو چکے ہیں۔ مولانا قاسمی صاحب نے کہا کہ ان دو خوبیوں کا حامل اگر کوئی مذہب ہے تو وہ صرف یہی مذہب اسلام ہے۔ مولانا قاسمی صاحب نے کہا کہ اللہ تعالیٰ کی ذات بابرکات رب العالمین ہے اور ہمیں جو پیغمبر عطاء کیا وہ رحمت للعالمین ہے اور ہمارے آقا ﷺ کو جو کتاب عطاء کی وہ کتاب ذکر للعالمین ہے اور جو کعبہ عطاء کیا وہ ہدی للعالمین ہے تو چونکہ اللہ تعالیٰ کو آپ ﷺ پر نبوت کو ختم کرنا تھا۔ اس لئے آنجناب ﷺ کو عالمگیر پیغمبر بنایا اور کعبہ بھی عالمگیر عطاء کیا اور قرآن مجید جیسی کتاب بھی عالمگیر عطاء کی۔ اس لئے اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید کی حفاظت کا ذمہ بھی خود اٹھایا۔ آج چودہ سو برس سے زائد گزر چکے ہیں لیکن قرآن مجید کے زیر زبر میں بھی فرق نہیں آیا ہے۔ وہی قرآن مجید جو کہ مسجد نبوی ﷺ اور مسجد حرام میں پڑھایا جا رہا ہے۔ وہی قرآن مجید پوری دنیا کی مساجد میں پڑھایا جا رہا ہے۔ مولانا قاسمی صاحب نے کہا کہ امریکہ کے بموں نے ہیروشیما اور ویت نام کو تو تباہ کر دیا ہے، لیکن قرآن مجید کے زیر زبر میں فرق نہ کر سکا۔ مولانا قاسمی صاحب نے کہا کہ اسلام کے اور شارع اسلام کے نمبر ون دشمن اہل یورپ ہیں۔ ان کو ہر وہ آدمی محبوب ہے جو کہ اسلام اور اہل اسلام پر حملہ کرے اور تاجدار ختم نبوت کی دستار پر دست درازی کرے۔ مولانا قاسمی صاحب نے کہا کہ یہی وجہ ہے کہ ملعون مرزا طاہر کو، بدنام زمانہ سلمان رشدی کو، مغرب کی لونڈی تسلیمہ نسرین کو اگر کہیں پناہ ملی ہے تو وہ اہل یورپ نے ہی دی ہے۔ مولانا قاسمی نے کہا کہ ہمارا آج کا یہ جلسہ قادیانیوں کے تابوت میں آخری کیل ثابت ہوگا۔ مولانا نے کہا کہ ہاتھ اٹھا کر میرے ساتھ یہ وعدہ کرو کہ آپ قادیانیوں کا سوشل بائیکاٹ کرو گے، نہ ان ملعونوں کو سلام کرو گے اور نہ ہی ان کے سلام کا جواب دو گے اور نہ ہی ان کے ہاں کھیتی باڑی اور مزدوری کرو گے اور نہ ہی ان کو اپنی دکانوں سے کسی بھی قسم کی چیز فروخت کرو گے اور نہ ہی ان سے خریدو گے۔ تمام حاضرین اجلاس نے ہاتھ اٹھا کر نعروں کی گونج میں مولانا قاسمی کے ساتھ عہد کیا۔ بعد میں مولانا قاسمی کی دعاء خیر سے جلسہ رات ساڑھے تین بجے اختتام پذیر ہوا۔

وارہ ضلع لاڑکانہ میں ختم نبوت کانفرنس

لاڑکانہ تحصیل قمبر علی خان کے ایک شہر وارہ کے قریب ایک قصبہ انور آباد ہے جو قادیانی اسٹیٹ ہے۔ ربوہ کے بعد اس کو مرکز کہا جائے تو کوئی مبالغہ نہ ہوگا۔ قادیانیوں کا تیسرا گرو مرزا ناصر قادیانی انور آباد میں آیا تو قادیانیوں نے تین دن کا جلسہ کا پروگرام رکھا۔ پورے سندھ کے قادیانی جمع ہوئے لیکن حضرت مولانا میر حسن بروہی کو علم ہوا تو اپنی قوم اور تمام غیور مسلمانوں کے ساتھ انتظامیہ سے کہا کہ مرزا ناصر کو کہو کہ فوری چلا جائے۔ جلسہ ختم کرو پانچ منٹ میں، شامیانے، قناتیں وغیرہ نہ ہوں۔ چنانچہ انتظامیہ نے عوام کا جوش و جذبہ دیکھ کر قادیانیوں کو کہا کہ اگر مرزا ناصر کا تحفظ چاہتے ہو تو فوراً اس کو نکالو۔ جلسہ ختم کرو۔ چنانچہ پانچ منٹ کے اندر اندر سب کچھ ختم ہو گیا اور مرزا ناصر کسی بڑے راستے کے بجائے کھیتوں سے فرار ہو گیا۔ کچھ عرصہ قبل اسی علاقہ کے قادیانیوں نے مسجد میں گھس کر مسلمانوں پر حملہ کر کے زخمی کیا اور قادیانیوں نے پھر سے تبلیغ شروع کی۔ حالات کی نزاکت کو دیکھ کر حضرت لدھیانوی دامت برکاتہم نے ضلع لاڑکانہ کا کنونیئر ڈاکٹر خالد محمود سومرو صاحب کو مقرر فرمایا۔ ڈاکٹر صاحب نے ۲؍ستمبر کو وارہ میں کانفرنس رکھی، جس کا انتظام حضرت مولانا میر حسن اور ان کے رفقاء نے کیا۔ بدین کانفرنس کے ختم ہوتے ہی حضرت مولانا اللہ وسایا، حضرت مولانا جمال اللہ الحسینی، حضرت مولانا حفظ الرحمٰن رحمانی کا

صفحہ ۳۲۱

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

قافلہ لاڑکانہ کے لئے روانہ ہوا۔ کیونکہ ان حضرات کو لاڑکانہ میں مختلف اجتماعات جمعہ سے خطاب کرنا تھا۔ چنانچہ تقریباً ایک بجے یہ قافلہ لاڑکانہ پہنچا۔ ڈاکٹر خالد محمود صاحب نے مختلف مساجد میں انتظام کیا ہوا تھا۔ حضرت مولانا اللہ وسایا نے مدرسہ عربیہ اشاعت القرآن مسجد لاڑکانہ میں خطاب کیا۔ حضرت مولانا جمال اللہ الحسینی نے چانڈکا میڈیکل کالج کی مسجد اور حضرت مولانا مفتی حفیظ الرحمٰن نے سفید مسجد میں خطاب کیا۔ بعد نماز جمعہ سے فارغ ہو کر جماعت کے ان رفقاء سمیت حضرت مولانا علی محمد صاحب حقانی ، ڈاکٹر خالد محمود سومرو و دیگر رفقاء سمیت یہ قافلہ موہن جو ڈارو ایئر پورٹ پر حضرت مولانا لدھیانوی کے استقبال کے لئے پہنچا۔ طیارہ سوا چھ کے بجائے پونے سات بجے پہنچا۔ حضرت لدھیانوی صاحب اور حضرت مولانا مفتی محمد سعید صاحب تشریف لائے۔ حضرت کی اقتداء میں نماز مغرب ایئر پورٹ کی مسجد میں ادا کرنے کے بعد یہ قافلہ حضرت لدھیانوی کی قیادت میں حضرت مولانا میر حسن صاحب کے ساتھ وارہ روانہ ہوئے۔ بعد نماز عشاء کانفرنس شروع ہوئی۔ تلاوت قرآن پاک اور نعت شریف کے بعد مقامی علماء نے خطاب فرمایا۔ جے ٹی آئی لاڑکانہ کے صدر اور جے ٹی آئی کے صوبائی صدر جناب عابد لاکھو نے خطاب کیا اور ختم نبوت پر اپنی جان قربان کرنے کے عزم کا اظہار کیا۔

مقامی علماء کے بعد جماعت ختم نبوت کے مبلغ حضرت مولانا مفتی حفیظ الرحمٰن نے خطاب کیا۔ حضرت مولانا جمال اللہ الحسینی مرکزی مبلغ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت سندھ نے فرمایا کہ ہر مسلمان کو قادیانیت کے خلاف بھر پور جہاد کی ضرورت ہے۔ مرزا قادیانی نہ مہدی ہے ، نہ مسیح ، نہ نبی ہے نہ امام بلکہ ایک مکار ، فریبی ، دغاباز ، خائن تھا۔ حضرت مولانا علامہ احمد میاں حمادی نے فرمایا کہ ختم نبوت ایک ایسا مسئلہ ہے جس میں ایک شخص نے بھی اختلاف نہیں کیا۔ ہر دور میں یہ متفق علیہ مسئلہ رہا ہے۔ حضرت مولانا اللہ وسایا مرکزی مبلغ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ، عالمی مجلس کے رہنما اور حضرت پیر شریف والوں کے بقول مسلمانوں کے وکیل ختم نبوت مولانا اللہ وسایا نے اپنے خطاب میں مرزائیت کا پوسٹ مارٹم کیا اور قادیانیت کو للکارتے ہوئے فرمایا کہ آئین کو تسلیم کرو۔ عدالتوں کے فیصلہ جات کو تسلیم کرو۔ قانون کی پاسداری کرو، اسی میں تمہاری عافیت ہے۔

حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی دامت برکاتہم مرکزی نائب امیر اوّل عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت نے اپنے مدلل اور فصیحانہ بلیغانہ خطاب میں فرمایا مسلمان ہر چیز برداشت کر سکتا ہے۔ لیکن نبی کی عزت اور عظمت پر سودا برداشت نہیں کر سکتا۔ اب وہ وقت آ گیا ہے کہ ہر تقریر کے ساتھ تشکیل ہو اور مسلمانوں کو میدانِ عمل میں نکالا جائے۔ آخر میں حضرت مولانا عبدالرزاق میکھو سندھ کے مشہور مقرر ہیں ، نے خطاب فرمایا۔ اس کانفرنس میں ڈاکٹر خالد محمود سومرو، مولانا علی محمد حقانی ، حضرت مولانا عطاء اللہ قمبر ، قاری محمد عالم قمبر ، صاحبزادہ عبدالعزیز قریشی اور کافی علماء نے اور اکابرین نے شرکت فرما کر ہمت افزائی جب کہ اس کانفرنس کو مشہور نعت خواں جناب قادر بخش پیرائی نے گرمایا۔

کانفرنس ختم ہونے کے بعد حضرت لدھیانوی اور رفقاء نے حضرت مولانا میر حسن امیر مجلس وارہ کے مدرسہ میں قیام فرمایا۔ صبح کی نماز حضرت لدھیانوی صاحب دامت برکاتہم کی اقتداء میں ادا کر کے حضرت والا کی قیادت میں یہ قافلہ پیر شریف پہنچا۔ حضرت پیر والے دامت برکاتہم کو جماعتی کارگزاری سے حضرت لدھیانوی دامت برکاتہم نے آگاہ کیا۔ حضرت مولانا عبد الکریم قریشی صاحب دامت برکاتہم نے کھجور اور چائے سے اکرام فرمایا۔ دو بزرگوں کی ملاقات کا عجیب منظر تھا۔ تمام معتقدین و مریدین حضرت پیر شریف جمع ہو گئے۔ حضرات کی گفتگو سے مستفیض ہوتے رہے۔ حضرت پیر والے نے دعاؤں کے ساتھ رخصت کیا۔ یہ قافلہ لاڑکانہ پہنچا۔ لاڑکانہ میں ڈاکٹر خالد محمود نے حضرت لدھیانوی کو اپنی لائبریری دکھائی۔ حضرت نے لائبریری دیکھ کر انتہائی مسرت کا اظہار فرمایا اور دعائیں دیں۔ ناشتہ

صفحہ ۳۲۴

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

کے بعد حضرت مولانا اللہ وسایا ملتان ، حضرت مولانا جمال اللہ حسینی پنوں عاقل ، حضرت مولانا حمادی اور حضرت مولانا مفتی حفیظ الرحمن ٹنڈو آدم کے لئے روانہ ہو گئے۔ جب کہ حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی اور ان کے رفیق حضرت مولانا محمد سعید ، سکھر کے لئے جہاں سے ان کو بذریعہ طیارہ کراچی روانہ ہونا تھا ، روانہ ہو گئے۔

(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ص ۲۳ تا ۲۶ ، مؤرخہ ۷ تا ۱۳؍اکتوبر ۱۹۹۴ء)

ختم نبوت کانفرنس لاہور

عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت لاہور کے زیر اہتمام دوسری سالانہ ختم نبوت کانفرنس ۷؍ ستمبر ۱۹۹۴ء کو جناح ہال لاہور میں منعقد ہوئی۔ یہ کانفرنس آج سے بیس سال پہلے ۷؍ ستمبر ۱۹۷۴ء کو پاکستان قومی اسمبلی کے تاریخ ساز فیصلہ کی یاد میں منعقد ہوئی۔ جس میں قادیانیوں کے دونوں گروپوں کو صفائی کا مکمل موقع فراہم کرتے ہوئے غیر مسلم اقلیت قرار دیا گیا۔ یہ فیصلہ پاکستان میں انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ کانفرنس مغرب کی نماز کے فوراً بعد شروع ہو کر رات ساڑھے بارہ بجے تک جاری رہی۔ کانفرنس کی صدارت قائد تحریک ختم نبوت حضرت مولانا خواجہ خان محمد صاحب دامت برکاتہم نے کی۔ کانفرنس سے تمام مکاتب فکر اور دینی و سیاسی جماعتوں کے مرکزی رہنماؤں نے خطاب کیا۔

مولانا عبد المالک: جمیعۃ اتحاد العلماء پاکستان کے مرکزی صدر مولانا عبد المالک خان منصورہ نے خطاب کرتے ہوئے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ اور قادیانیت کے تعاقب کے محاذ پر عظیم الشان خدمات کو خراج تحسین پیش کیا اور اپنی جماعت کی طرف سے مکمل تعاون کا یقین دلایا۔

سید منور حسن: جماعت اسلامی پاکستان کے مرکزی جنرل سیکرٹری سید منور حسن نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ قادیانی عالمی استعمار کے ایجنٹ ہیں جو پاکستان میں نفاذ اسلام کے راستہ میں زبردست رکاوٹ ہیں۔ اس رکاوٹ کو ہٹائے بغیر پاکستان میں نفاذ شریعت کا خواب شرمندۂ تعبیر نہیں ہو سکتا۔

صاحبزادہ امجد خان: جمیعۃ علماء اسلام کے رہنماء صاحبزادہ امجد خان نے کہا کہ ۷؍ ۱۹۷۴ء کا فیصلہ پاکستان کی تاریخ میں سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔ اسے چھیڑا گیا تو بھر پور مزاحمت ہوگی۔

چوہدری ثناء اللہ بھٹہ: مجلس احرار اسلام کے مرکزی راہنما چوہدری ثناء اللہ بھٹہ نے کہا کہ قادیانیت کے خلاف عدالتوں کے فیصلہ کا کریڈٹ ۱۹۵۳ء کی تحریک کے شہداء کو جاتا ہے۔ جن کی قربانیاں رنگ لائیں اور قادیانی غیر مسلم اقلیت قرار پائے۔

محمد اسماعیل قریشی: سپریم کورٹ پاکستان کے سینئر وکیل جناب محمد اسماعیل قریشی نے کہا کہ ناموس رسالت اور عقیدۂ ختم نبوت کے تحفظ کے لئے میری جان قربان ہو جائے تو یہ میرے لئے سعادت ہے۔ عدالتوں میں قادیانیوں کے خلاف اپنی تمام تر صلاحیتیں وقف کر رکھی ہیں۔ ان شاء اللہ! قادیانیت کے تابوت کو دلائل و براہین کی تلوار سے چھلنی کرتا رہوں گا۔

مولانا اللہ وسایا: شاہین ختم نبوت حضرت مولانا اللہ وسایا نے اپنے خطاب میں قادیانیت کے خلاف عدالتی احتساب کی روداد بیان کرتے ہوئے کہا کہ ۱۸۸۹ء میں مرزا قادیانی نے اپنی جماعت کی بنیاد رکھی۔ سب سے پہلے علماء لدھیانہ نے مرزائیت کے کفر پر فتویٰ صادر کیا۔ ۱۹۲۶ء میں ماریشس کی عدالت میں قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت تسلیم کیا گیا۔ ۱۹۳۶ء میں بہاول پور کے ڈسٹرکٹ جج نے مرزائیوں کو مرتد قرار دیتے ہوئے قادیانی مرد کے ساتھ مسلمان عورت کا نکاح فسخ کیا۔ ۱۹۷۳ء میں آزاد کشمیر قومی اسمبلی میں میجر محمد ایوب نے قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کی قرارداد پیش کی جو متفقہ طور پر منظور کر لی گئی۔ اپریل ۱۹۷۴ء میں رابطہ عالم اسلامی کے زیر اہتمام ۱۴۲ اسلامی تنظیموں نے قادیانیوں کے کفر کی قرارداد منظور کی۔ ۷؍ ستمبر ۱۹۷۴ء کو پاکستان کی قومی اسمبلی نے متفقہ طور پر قادیانیوں کو

صفحہ ۳۲۳

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

غیر مسلم اقلیت قرار دیا۔ ۲۶؍اپریل ۱۹۸۴ء کو امتناع قادیانیت آرڈیننس نافذ ہوا۔ قادیانیوں نے وفاقی شرعی عدالت میں رٹ دائر کی جو خارج ہوئی۔ قادیانی اس کے خلاف شریعت اپیلٹ بنچ میں گئے۔ وہاں بھی ان کی اپیل مسترد ہوئی۔ سپریم کورٹ میں اپیل دائر کی۔ پانچ ججوں میں سے چار نے مسلمانوں کے حق میں فیصلہ دیا۔ اب قادیانی اس کے خلاف نظر ثانی کی اپیل دائر کر چکے ہیں۔ ان شاء اللہ العزیز! وہ بھی خارج ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ اگر کسی جج نے امت مسلمہ کے متفقہ عقائد کے خلاف کوئی فیصلہ کیا تو اسے امت تسلیم نہیں کرے گی۔

قاری عبدالحمید قادری: جمعیۃ علماء پاکستان کے راہنماء قاری عبدالحمید قادری نے کہا کہ ختم نبوت کا مسئلہ اتنا ہی پرانا ہے جتنا کہ اسلام ہے۔ تحریک ختم نبوت اتنی ہی پرانی ہے جتنی پاکستان کی تاریخ۔ اگر مجھ سے پوچھا جائے کہ تیرے نامہ اعمال میں کیا ہے تو میں کہوں گا کہ سوائے تحریک ختم نبوت کی چودہ ماہ کی اسیری کے کچھ نہیں۔

مولانا عبدالکریم ندیم: مجلس علماء اہل سنت پاکستان کے مرکزی ناظم مولانا عبدالکریم ندیم نے حضرت الامیر کو یقین دلایا کہ ہماری جماعت عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ کے لئے ہر قسم کی قربانی دینے کے لئے تیار ہے۔

مولانا بشیر احمد شاد: جمعیۃ علماء اسلام (س) پنجاب کے جنرل سیکرٹری مولانا بشیر احمد شاد نے کہا کہ قادیانیوں کے نزدیک جہاد حرام ہے تو انہیں فوج سے نکالا کیوں نہیں جاتا۔ انہیں فوج سے فی الفور نکالا جائے۔

مولانا محمد اجمل خان: جمعیۃ علماء اسلام کے قائم مقام امیر مولانا محمد اجمل خان نے نعروں کی گونج میں اپنے مدلل مبرہن خطاب میں فرمایا کہ مسئلہ کشمیر قادیانیوں کا پیدا کردہ ہے۔ اگر قادیانی پاکستان کے حق میں اپنا ووٹ استعمال کرتے تو گورداسپور انڈیا کے پاس نہ جاتا اور مسئلہ کشمیر پیدا نہ ہوتا۔ اس لئے کہ انڈیا کے پاس کشمیر کو جانے کے لئے واحد راستہ گورداسپور کا ہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ آنجہانی ظفر اللہ خان قادیانی نے بانی پاکستان کا جنازہ نہیں پڑھا تھا۔ مسلم لیگ کی سب سے بڑی غلطی یہ تھی کہ اس نے آنجہانی ظفر اللہ خان قادیانی کو وزیر خارجہ بنایا جس کی وجہ سے آج بھی پاکستان سفارت خانوں میں قادیانیت کے متعدی و موذی جراثیم موجود ہیں۔

علامہ خالد محمود: جمعیۃ علماء اسلام کے مرکزی نائب امیر علامہ خالد محمود نے کہا کہ علماء کرام نے ایک سو سال تک قادیانیت کا مقابلہ کیا ہے۔ علماء کی مساعی کی وجہ سے ہی قادیانی غیر مسلم اقلیت قرار دیئے گئے۔ علماء اپنے فرائض سے نہ پہلے غافل رہے ہیں اور نہ آئندہ ہی رہیں گے۔ کاروان بخاری قادیانیت کے خاتمہ تک رواں دواں رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ علماء کے خلاف پروپیگنڈہ کے پیچھے صہیونی لابیاں کارفرما ہیں۔

اعظم طارق ایم۔این۔اے: مولانا محمد اعظم طارق ایم۔این۔اے نے نعروں کی یلغار میں مائیک پر تشریف لاکر کہا کہ قادیانیت ایک بار پھر ہاتھ پاؤں مار رہی ہے۔ ایک منظم منصوبہ بندی کے ساتھ مسلمانوں کے ایمان پر شب خون مارنے کے لئے توانائیاں صرف کر رہی ہے۔ ہمیں بھی اس کے مقابلہ میں سائنٹفک انداز میں جدوجہد کرنی ہوگی۔ کانفرنس حضرت الامیر مولانا خواجہ خان محمد صاحب کے حکم پر مولانا محمد اجمل قادری کی دعاء پر اختتام پذیر ہوا۔

(ہفت روزہ لولاک فیصل آباد ص ۱۶، ۱۷، مورخہ ۳۰؍ستمبر ۱۹۹۴ء)

ختم نبوت کانفرنس ٹنڈو آدم

مورخہ ۲۷؍اکتوبر ۱۹۹۴ء کو ٹنڈو آدم میں کانفرنس کی کارروائی رات عشاء کی نماز کے بعد تقریباً سوا آٹھ بجے شروع ہوئی۔ حافظ محمد زاہد نے تلاوت اور نظم پیش کی۔ اس کے بعد عبدالرحمن صاحب اور سیف اللہ صاحب نے سندھی میں نعتیں پیش کیں۔ مولانا محمد راشد مدنی

صفحہ ۳۲۴

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۴ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

نے کانفرنس کے اغراض و مقاصد پر روشنی ڈالی ۔ مولانا عبدالغفور بروہی امیر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ، خطیب سول ہسپتال مسجد سانگھڑ نے اپنے خطاب میں کہا کہ یہ وقت ہے کہ علماء متحد ہو جائیں سانگھڑ کے سندھی نعت خواں علی عابد لغاری نے اردو اور سندھی میں نظمیں پیش کیں ۔ علامہ احمد میاں حمادی عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی جنرل سیکرٹری حضرت مولانا عزیز الرحمن جالندھری، حضرت مولانا نذیر احمد تونسوی مبلغ ختم نبوت بلوچستان نے کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے قادیانیوں کے ناپاک عقائد سے آگاہ کیا ۔ مولانا عبدالقدیر لنڈ صاحب نے سندھی زبان میں سیرت طیبہ پر روشنی ڈالی۔ کانفرنس کے آخری مقرر فاتح ربوہ حضرت مولانا اللہ وسایا مرکزی راہنما عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت تھے ۔ انہوں نے اپنے خطاب میں سامعین کو ہنسایا بھی ، رلایا بھی ، گرمایا بھی ، بڑے ہی مدلل انداز سے حیات ونزول مسیح اور ظہور مہدی پر روشنی ڈالی ۔

کانفرنس کی دوسری نشست ۲۸؍ اکتوبر کو جمعہ کی دوپہر گیارہ بجے حافظ محمد زاہد حجازی کی تلاوت اور تقریر سے شروع ہوئی، جس میں مولانا حفیظ الرحمن صاحب رحمانی نے ایمان افروز خطاب کیا ۔ اس کے بعد کانفرنس کا اہم ترین خطاب عالمی تحفظ ختم نبوت کے مرکزی نائب امیر حضرت علامہ محمد یوسف لدھیانوی نے کیا ۔ حضرت کا بیان بڑا اصلاحی تھا اور اس کے ساتھ ساتھ حضرت نے قادیانیت کا بڑے اچھے انداز سے پوسٹمارٹم کیا ۔ خطبہ جمعہ اور نماز جمعہ کی امامت حضرت نے ہی کرائی ۔ نماز کے بعد حضرت مولانا محمد علی صدیقی مبلغ ختم نبوت کراچی اور مولانا سعید احمد جلالپوری نے بیان کیا اور دوسری نشست کا اختتام شام چار بجے مولانا سعید احمد جلالپوری کی دعا پر ہوا ۔

جھلکیاں:

تھا کہ ہم عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے قائدین کو ٹنڈوآدم پر خوش آمدید کہتے ہیں ۔

ہوئے تو عوام نے ختم نبوت زندہ باد کے فلک شگاف نعروں سے ان کا استقبال کیا ۔

روکا جائے ۔

ختم نبوت کانفرنس مٹھی

۲۹؍ اکتوبر ۱۹۹۴ء بعد نماز عشاء مٹھی کی جامع مسجد میں ختم نبوت کانفرنس منعقد کی گئی ۔ کانفرنس کا آغاز تلاوت قرآن اور نعتوں سے کیا گیا اور سب سے پہلے اسٹیج سیکرٹری خطیب جامع مسجد مٹھی حضرت مولانا محمد موسیٰ صاحب نے کانفرنس کے اغراض و مقاصد پر روشنی ڈالی ۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی شوریٰ کے رکن علامہ احمد میاں حمادی نے اپنے خطاب میں قادیانیوں سے مکمل بائیکاٹ پر زور دیا ۔ انہوں نے کہا کہ یہ المہدی ہسپتال نہیں بلکہ مسلمانوں کے ایمان کو لوٹنے کا جال ہے ۔ مسلمان اس جال سے ہوشیار رہیں ۔ مولانا حفیظ الرحمن مبلغ ختم

صفحہ ۳۲۵

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۴ء

ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

نبوت نے اپنے خطاب میں مرزا قادیانی کی پیش گوئیاں بیان کیں جو پوری نہ ہوسکیں ۔انہوں نے قادیانیت کی ارتدادی مہم کی سخت الفاظ میں مذمت کی ۔ کانفرنس سے آخری خطاب حضرت مولانا اللہ وسایا فاتح ربوہ مرکزی رہنما عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت نے کیا ۔

ختم نبوت کانفرنس لالولاشاری (حیدرآباد)

حیدرآباد سے ملحقہ آبادی لالولاشاری میں قادیانیوں نے اپنی ارتدادی مہم کا آغاز کیا تو وہاں کے مسلمانوں کو خبر دار کرنے کے لئے مولانا محمد نذر، جناب عبدالمتین پہنچے اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے وہاں ایک کانفرنس کا انعقاد ہو گیا ۔ ۳۰؍ اکتوبر کو بعد نماز عشاء لالولاشاری میں چوک پر عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس ہوئی ۔ اس کانفرنس سے مولانا راشد مدنی، جناب عبدالمتین نے خطاب کیا ۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی نائب امیر حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی نے کانفرنس میں تقریباً دو گھنٹے خطاب فرمایا ۔ انہوں نے اپنے خطاب میں فرمایا کہ اگر اسلامی حکومت ہوتی تو آج ایک بھی قادیانی زندہ نہ ہوتا ۔ کیونکہ شرعی طور پر قادیانی گستاخ رسول ہونے کی وجہ سے واجب القتل ہیں ۔ لہٰذا ارتداد کی شرعی سزا نافذ کی جائے ۔ علامہ احمد میاں حمادی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اگر قادیانی اپنی تبلیغ سے باز نہیں آتے تو پھر مسلمان ان کا وہ علاج کریں گے جو سیدنا صدیق اکبر ؓ نے کیا تھا ۔ حضرت مولانا اللہ وسایا فاتح ربوہ نے آخری خطاب کیا ۔ آخر میں مولانا اللہ وسایا کی ہی دعا پر کانفرنس کا اختتام ہوا ۔

(ہفت روزہ لولاک فیصل آباد ص ۱۶ تا ۱۸، مورخہ ۲۵؍نومبر ۱۹۹۴ء)

برسلز (بلجیم) میں عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس

برسلز ۳۱؍ اکتوبر ۱۹۹۴ء ( پ ۔ ر ) مسلمان اپنی صفوں میں مکمل اتحاد کے ذریعہ دشمن کے عزائم کو ناکام بنا دیں ۔ عقیدۂ ختم نبوت اور ناموس رسالت کے تحفظ کے لئے مسلمان اپنا کردار ادا کریں ۔ عقیدۂ ختم نبوت اسلام کا اساسی عقیدہ ہے اور مسلمان اس عقیدہ سے جذباتی حد تک وابستگی رکھتے ہیں ۔ یہ بات عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت برسلز کے زیر اہتمام مولن بیک برسلز میں منعقد ہونے والی عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس سے علمائے کرام نے خطاب کرتے ہوئے کہی ۔ ختم نبوت کانفرنس میں شرکت کے لئے ناروے، ہالینڈ اور بلجیم کے دور دراز کے علاقے کے مسلمان کثیر تعداد میں آئے ہوئے تھے ۔ بتایا گیا کہ بہت عرصے کے بعد برسلز میں اتنا بڑا مجمع دیکھنے میں آیا ۔ کانفرنس کی صدارت جمعیتہ علمائے برطانیہ کے نائب امیر مولانا عبدالرشید ربانی نے کی ۔ جب کہ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی رہنما الحاج عبدالرحمٰن باوا مہمان خصوصی تھے ۔ مولانا عبدالرشید ربانی نے کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج سب سے بڑی ضرورت مسلمانوں میں اتحاد کی ہے اور اتحاد کے ذریعہ ہی دشمن کے عزائم کو ناکام بنایا جاسکتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے مسلمانوں کے اتحاد ہی نے ۱۹۷۴ء میں تحریک تحفظ ختم نبوت کو کامیاب سے ہمکنار کیا اور قادیانی غیر مسلم اقلیت قرار پائے ۔ الحاج عبدالرحمٰن باوا نے کہا کہ قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دی جانے والی آئینی ترمیم، قادیانی آرڈیننس نیز ناموس رسالت کے قانون کو اگر چھیڑا گیا تو مسلمان اس کو برداشت نہیں کریں گے ۔ انہوں نے حکومت پاکستان سے مطالبہ کیا کہ امریکہ میں دیئے گئے مرزا طاہر کے بیانات کا نوٹس لے اور قادیانی سرگرمیوں پر کڑی نگاہ رکھے ۔ قادیانی پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کی سازشوں میں مصروف ہیں ۔ انہوں نے کہا ختم نبوت کا پیغام اور مشن یورپ بھر میں پھیلانے کے لئے منصوبہ بنایا جارہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ہمارا مشن ایک پر امن مشن ہے ۔ ہمارا مقصد عقیدۂ ختم نبوت کا تحفظ کرنا نیز مسلمانوں کو قادیانیت کی حقیقت سے آگاہ کرنا تاکہ مسلمان گمراہی سے بچیں ۔ کانفرنس کے چیف آرگنائزر امام مسجد پاکستان اسلامک سینٹر برسلز حاجی عبدالحمید نے کہا کہ ختم نبوت کے اس مقدس پلیٹ فارم اور اس اجتماع میں مختلف مکاتب فکر کے علماء اور لوگوں کی

صفحہ ۳۲۶

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۲ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

شرکت نے واضح کر دیا ہے کہ وہ عقیدۂ ختم نبوت کے تحفظ اور ناموس رسالت کے مسئلے پر ایک مشترکہ مؤقف رکھتے ہیں۔ انہوں نے بلجیم کے مسلمانوں کو دعوت دی کہ ختم نبوت کے کاز کے لئے ہمارا ساتھ دیں۔ جمعیۃ العلمائے برطانیہ کے مولانا اسلم زاہد نے کہا کہ حضور ﷺ سے محبت و اتباع شرط ایمان ہے۔ کانفرنس سے مولانا اختر ، حافظ نذیر احمد ، مولانا سردار احمد قادری، راجہ طاہر ، مولانا عبد الحکیم ، مولانا قریشی نے خطاب کیا۔

تیرہویں سالانہ ختم نبوت کانفرنس چناب نگر

کارروائی اجلاس عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت جامع مسجد ختم نبوت مسلم کالونی صدیق آباد بتاریخ یکم اکتوبر ۱۹۹۲ء، گیارہ بجے صبح ۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی رہنماؤں ومبلغین و کارکنوں کا اجلاس مولانا عزیز الرحمن جالندھری کی صدارت میں منعقد ہوا۔ تلاوت مولانا محمد اکرم طوفانی نے کی۔

شرکاء اجلاس: مولانا میر زاہد خان فیصل آباد، مولانا ممتاز الحسن فیصل آباد، مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی لاہور ، مولانا محمد اکرم طوفانی سرگودھا، مولانا غلام حسین جھنگ ، مولانا خدا بخش ، مولانا بشیر احمد ، مولانا محمد اسحاق ساقی ، مولانا حکیم محمد اسماعیل عاصم ، مولانا محمد شفیع ، مولانا عبداللہ ، مولانا غلام مصطفیٰ ، مولانا امام الدین مظفر گڑھ ، مولانا احمد بخش ، مولانا عبدالستار قاسمی ، مولانا عبدالخالق رحمانی ، سید اظہر حسین ، محمد یعقوب ، صاحبزادہ طارق محمود ، قاری اکرم مدنی ، ڈاکٹر خالد ممتاز ، مولانا فقیر محمد ، مولانا اللہ وسایا ، چوہدری محمد طفیل فیصل آباد، جہانگیر ایڈووکیٹ ۔

اجلاس کا آغاز مولانا محمد اکرم طوفانی کی تلاوت کلام پاک سے ہوا۔ مولانا اللہ وسایا نے گزشتہ اجلاس کی کارروائی بیان کی ۔ کانفرنس کے انتظامات کو حتمی شکل دی گئی ۔

کریں گے۔ اسٹیج سیکرٹری کے فرائض مولانا اللہ وسایا ، مولانا محمد یعقوب برہانی ، محمد اسماعیل شجاع آبادی سر انجام دیں گے۔

چاکنگ کریں گے ۔

پہنچ جائے گی اور پک اپ سیٹوں والی ہوگی ۔ بدھ ، جمعرات دو دن منادی ہوگی ۔ مولانا محمد اکرم طوفانی انتظام کریں گے ۔

تندور پانچ عدد مولانا یعقوب برہانی مہیا کریں گے اور پیر شام تک پہنچ جائیں گے۔ جھنگ کے احباب منگل شام تک لگالیں گے ۔ گوشت کے لئے بڑے جانور خرید لئے جائیں گے جو مولانا محمد یعقوب ، حاجی رشید احمد سکھر، مولانا بشیر احمد ، حافظ احمد بخش ، مخدوم شیر محمد باہمی مشاورت سے خریدیں گے ۔ جانوروں کے لئے منڈی منگل لالیاں ، بدھ چنیوٹ لگتی ہے اور چھوٹا گوشت بقدر ضرورت صبح و شام چنیوٹ سے منگوالیا جائے ۔ سالن پکوائی ، روٹی پکوائی اور اس کے لئے کاریگروں کا انتظام مولانا غلام حسین جھنگوی کریں گے ۔

صفحہ ۳۲۷

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۴ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

مولانا عبدالرزاق صاحب: کھڈیاں، ٹھینگ موڑ، نور پور نہر، پتوکی، رینالہ خورد، اوکاڑہ، دیپالپور، حجرہ شاہ مقیم، حویلی لکھا، پاکپتن، چونیاں، کھرپڑ، چھانگا مانگا، قصور، بھائی پھیرو، وساویوالہ۔

مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی: شاہ کوٹ، سکھیکی، خانقاہ ڈوگراں، فاروق آباد، شیخوپورہ، سانگلہ ہل، کیلے، لاہور، قصور، فیروز والا، شاہدرہ، مریدکے، بدوملہی۔

مولانا محمد اسماعیل عاصم، مولانا بشیر احمد، اورنگزیب: تلہ گنگ، چکوال، دینہ، گجر خان، پنڈی، اٹک، کہوٹہ، ٹیکسلا، حسن ابدال، ہری پور، نوشہرہ، واہ، ایبٹ آباد، مانسہرہ، پنڈدادنخان۔

مولانا خدا بخش، مولانا عبدالستار: جھنگ، اٹھارہ ہزاری، کوٹ شاکر، احمد پور سیال، شورکوٹ روڈ، شورکوٹ شہر، ماچھیوال، چیلے والا، پیرمحل، ٹوبہ، گوجرہ، جامعہ محمدی، ملہوآنہ موڑ، حویلی بہادر شاہ، بھوانہ۔

سید ممتاز الحسن گیلانی: گوجرہ موڑ، پینسرہ، سدھار، نواں لاہور، دھاندرہ، جھمرہ، چک باوا، کھرڑیانوالہ، مانوالہ بار، منڈی وار برٹن، چک نمبر ۹۶ شرییں، بچیانہ، جڑانوالہ، تھانہ بالک، روڑالہ روڈ، ننکانہ، سمندری، تاندلیانوالہ۔

مولانا احمد بخش: چنیوٹ، احمد نگر، لالیاں، فیصل آباد، انوری مسجد، جامع مسجد کچہری، تحصیل والی، دھوبی گھاٹ، سنت پورہ، ماڈل ٹاؤن، باغ والی، جناح کالونی، گلبرگ، انوری مسجد غلام آباد، جامعہ امدادیہ، دارالعلوم پیپلز کالونی، طارق آباد، سمن آباد، عبداللہ پور، منڈی کوہالہ، مصطفیٰ آباد۔

مولانا عبدالخالق، مولانا محمد اسحاق ساقی: احمد نگر، لالیاں، بھلوال، بھیرہ، میانی، چکرام داس، جھاوریاں، شاہ پور صدر، شہر، خوشاب، جوہرآباد، گروٹ گنجیال، روڈہ، پیلووانس، ہڈالی، ساہیوال، فاروقہ، سلانوالی۔

مولانا امام الدین: لولہ، چک نمبر ۳۳، ۳۵، ۴۵، ۴۶، سرووالا، لالیاں، احمد نگر، کانڈیوال، جلے والا، جبانہ، برج بابل، مخدوماں، ڈاور، پٹھان کوٹ، یکے کی، بستی والا، ولہ، ونوکہ، عنایت پور بھٹیاں، بڑھانہ، شاہین آباد، مڈرانجھا، تخت ہزارہ، جلال پور۔

آل پاکستان تیرہویں سالانہ ختم نبوت کانفرنس کی رپورٹ

کھڑے ہوکر میں قادیانیوں کو خدا کا فرمان اور نبی ﷺ کا فرمان سنا سکوں ۔ آپ خدا کو پیارے ہو گئے ۔ آپ کی آرزو اگرچہ آپ کی زندگی میں پوری نہ ہوسکی ۔ لیکن آپ کے نائب اور آپ کی جماعت کے پانچویں امیر شیخ الاسلام حضرت مولانا محمد یوسف بنوری کے دور امارت میں ۱۹۷۴ء کی تاریخ ساز تحریک کے بعد ربوہ کو کھلا شہر قرار دیا گیا اور ربوہ کی سرزمین پر سرکاری دفاتر ( عدالتیں ، ڈاکخانہ ، تھانہ وغیرہ ) بننا شروع ہوئے تو عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت نے مولانا خدا بخش شجاع آبادی کی ڈیوٹی لگائی ۔ موصوف ایک عرصہ تک ریذیڈنٹ مجسٹریٹ کی عدالت کے تھڑے پر اذان دیتے اور نماز پڑھاتے رہے ۔ تا آنکہ ربوہ ریلوے اسٹیشن پر ایک نیک دل اسٹیشن ماسٹر آئے اور انہوں نے اسٹیشن سے ملحق ریلوے کی زمین پر مسجد بنانے کی اجازت دی ۔ اللہ تعالیٰ کے فضل وکرم سے اسٹیشن کے پلیٹ فارم سے ملحق ”جامع مسجد محمدیہ“ مجلس نے تعمیر کی اور یوں نمازوں اور جمعات وعیدین کے لئے جامع مسجد میسر آگئی ۔

صفحہ ۳۲۸

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۲ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

کنارے پر محکمہ ہاؤسنگ نے ”مسلم کالونی“ کے نام سے ایک ہاؤسنگ اسکیم شروع کی۔ جس میں نو کنال پر مشتمل ایک قطعہ اراضی مسجد کے لئے مختص کیا گیا۔ مجلس کی درخواست پر یہ قطعہ اراضی عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے نام الاٹ کر دیا گیا۔ ابتداءً چار دیواری اور چھوٹی سی مسجد عارضی بنائی گئی اور دو کمروں پر مشتمل ایک مکان تعمیر کیا گیا۔ فاتح قادیان استاذ المناظرین حضرت مولانا محمد حیات جو چودہ سال تک قادیان میں رہ کر مرزائیت کا مقابلہ کرتے رہے۔ ان کی پرزور فرمائش پر انہیں ”مرکز ختم نبوت مسلم کالونی“ کا انچارج مقرر کیا گیا۔ جب کہ تعمیرات کی ذمہ داری شیخ منظور احمد چنیوٹی کے سپرد ہوئی اور کچھ عرصہ تک اس چھوٹی سی مسجد اور دو کمروں پر مشتمل مکان نما مدرسہ میں درس وتدریس اور دفتر ختم نبوت کا سلسلہ چلتا رہا۔

چوہدری افضل حق قادیان میں ان کا مقابلہ کرتے رہے۔ تا آنکہ ۱۹۴۷ء میں مملکت خداداد پاکستان نقشہ عالم پر نمودار ہوئی۔ مرزائی جماعت کا لیڈر مرزا بشیر الدین محمود برقعہ اوڑھ کر قادیان سے لاہور آیا اور انگریز گورنر ”موڈی“ سے آنہ مرلہ کے بدلے چنیوٹ کے قریب دریائے چناب کے کنارے ہزاروں ایکڑ زمین نوے سالہ لیز پر لے کر ”دجل وتلبیس“ اور ارتداد و کفر کا ایک نیا مرکز بنایا جو خالصتاً قادیانی آبادی پر مشتمل تھا۔

ہزاروں مسلمانوں کو گھیر گھار کر لاتے اور ان کے ذہنوں میں قادیانیت کے زہریلے جراثیم گھولے جاتے۔ ملک بھر سے خطوط آنے لگے کہ مرزائیت مسلمانوں کو گمراہ کر رہی ہے تو شاہ جی نے اپنے مکان واقع ملتان میں احرار رہنماؤں کا اجلاس طلب کیا اور سیاسیات سے کنارہ کشی کا اعلان کر دیا اور ”مجلس تحفظ ختم نبوت“ کے نام سے ایک غیر سیاسی تنظیم تشکیل دی۔ جس کے پہلے امیر شاہ جی خود منتخب ہوئے تو ”مجلس تحفظ ختم نبوت“ نے ربوہ سے ملحق چنیوٹ میں قادیانیوں کے ”ظلی حج“ کے مقابلہ میں ”سالانہ ختم نبوت کانفرنس“ کا اعلان کر دیا۔ چنیوٹ کے جماعتی رفقاء کی شبانہ روز محنتوں سے مسلمان قادیانی بننے سے محفوظ ہو گئے اور انہیں اپنی کانفرنس مل گئی اور یہ سلسلہ چلتا رہا تا آنکہ ۱۹۷۴ء میں ربوہ کھلا شہر قرار دیا گیا اور ربوہ میں مجلس نے اپنے مراکز قائم کئے تو چنیوٹ کانفرنس میں مقررین وعوام کے پرزور مطالبہ پر ۱۹۸۱ء میں ربوہ کی سنگینی کو توڑتے ہوئے پہلی سالانہ ختم نبوت کانفرنس کا اعلان کر دیا۔ جس میں ملک بھر سے مسلمان بڑے جوش وجذبہ اور ولولہ سے قافلوں کی صورت میں کانفرنس میں شریک ہوئے۔ کانفرنس میں تمام مکاتب فکر کے مرکزی رہنماؤں نے شرکت کر کے مسلمانان پاکستان کو نیا ولولہ دیا۔ آج کی کانفرنس ۱۹۸۱ء کی کانفرنس کا تسلسل اور تیرہویں کڑی ہے جو ۱۳، ۱۴؍ اکتوبر ۱۹۹۴ء کو منعقد ہوئی۔

سے کانفرنس کا آغاز ہوا۔ قبل ازیں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی ناظم اعلیٰ مولانا عزیز الرحمن جالندھری نے صبح کی نماز کے بعد حیات ونزول عیسیٰ علیہ السلام کے موضوع پر ڈیڑھ گھنٹہ درس قرآن پاک دیا۔ مولانا جالندھری نے فرمایا کہ حیات ونزول عیسیٰ کا عقیدہ مسلمانوں کا اجماعی عقیدہ ہے۔ جو تواتر سے ثابت ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام زندہ اور آسمان پر موجود ہیں۔ قیامت کے قریب تشریف لائیں گے۔ سرور کائنات ﷺ نے حضرت مسیح علیہ السلام کے نزول کا وقت، کیفیت، لباس، مقام نزول، نزول کے بعد

صفحہ ۳۲۹

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۴ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

حالات و واقعات، قتل دجال، وفات، جنازہ، مقام دفن تک وضاحت سے بیان فرمائے۔ لہٰذا حیات ونزول کا انکار اجماع امت وتواتر کا انکار ہے۔

گستاخی برداشت نہیں کرتے۔ لیگی حضرات مسٹر جناح اور نواز شریف کی اہانت برداشت نہیں کر سکتے تو مسلمان ہونے کی حیثیت سے ہم حضور ﷺ کی شان اقدس میں ذرہ برابر گستاخی برداشت نہیں کر سکتے۔ اگر کسی نے ایسی جرأت کی تو پوری قوت سے مزاحمت کی جائے گی۔

تاکہ قادیانیوں کو اپنے غلط عقائد کا احساس ہو۔

مرزا قادیانی کو نبی، حضور کے اہل بیت کے مقابلہ میں مرزا قادیانی کے خاندان کو اہل بیت آپ ﷺ کے صحابہ کے مقابلہ میں مرزا کے ساتھیوں کو صحابی، آپ ﷺ کے خلفاء راشدین کے مقابلہ میں مرزا کے گدی نشینوں کو امیر المؤمنین، خلیفۃ المسلمین، مسجد اقصیٰ کے مقابلہ اقصیٰ مرزائڑہ، مکہ مکرمہ کے مقابلہ میں قادیان مکرمہ اور مدینہ طیبہ کے مقابلہ میں ربوہ غرضیکہ تمام اسلامی شعائر کا ناجائز استعمال مسلمانوں کے نزدیک ناقابل برداشت ہے۔

ہم ان کی سازشوں کو ناکام بناتے رہیں گے۔

دوسری نشست : دوسری نشست ظہر کی نماز کے بعد شروع ہوئی جس کا آغاز جامعہ ختم نبوت مسلم کالونی صدیق آباد (ربوہ) کے استاذ قاری عبدالواحد کی تلاوت سے ہوا۔ تلاوت کے بعد مولانا محمد شریف ماہی نے پنجابی زبان میں ”سیرت المہدی“ کی روایت مرزا غلام احمد قادیانی اور بھانو کا مکالمہ اور دبانے کا واقعہ بیان کر کے خوب داد حاصل کی۔

زنا کرے، جھوٹ بولے، فراڈ کرے وہ نبی نہیں ہوتا۔

ڈالی اور کہا کہ قادیانیت کے کفر کا فیصلہ پاکستان کے علماء کرام اور دینی سیاست دانوں کی جدوجہد کا مرہون منت ہے۔ سیکولر

صفحہ ۳۳۰

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۲ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

عناصر کی سازش ہے کہ دینی کارکن کو مولانا فضل الرحمٰن، مولانا سمیع الحق، مولانا اعظم طارق کی قیادت سے بدظن کیا جائے۔ قادیانیوں کی ریشہ دوانیوں کی وجہ سے موجودہ وزیر داخلہ جنرل نصیر اللہ بابر، سابقہ وزیر داخلہ چوہدری شجاعت حسین کا شناختی کارڈ میں مذہب کے خانہ کے اضافہ کے سلسلہ میں ایک ہی بیان ہے۔ پی۔ پی اور مسلم لیگ دونوں کھوٹے سکے کے دو رخ ہیں۔ لہٰذا آپ حضرات سے کہوں گا کہ آپ لوگ ان کی وجہ سے اپنے بزرگوں سے کنارہ کشی نہ کریں۔

کانفرنس کا یہ اجتماع نقطۂ آغاز ہے اور انتہاء کائنات کا ذرہ ذرہ ہے۔ یہاں آنے کا ایک مقصد یہ ہے کہ سابقہ کارکردگی کا جائزہ لیں اور آئندہ فرائض منصبی کے متعلق سوچیں۔ گویا یہ مجلس مشاورت ہے۔ ایک پہیہ جام آج ہوا ہے اور ایک ۱۹۷۴ء میں ہوا تھا وہ ایشیاء کی تاریخ نہیں بھولے گی۔ ایسے محسوس ہوتا تھا کہ جیسے کائنات کا پہیہ جام ہوا ہو مائیں بعد میں آئیں اور بچے پہلے پٹڑی پر لیٹے ہوئے۔ ناموس رسالت کے معاملہ میں خالق کائنات سب سے زیادہ حساس ہے۔ یہ ہمارا مسلسل عمل ہے جو ہم سال کے بعد مل بیٹھتے ہیں۔ یہ اجتماع تجدید عہد کا اجتماع ہے اور اس میں جتنے حضرات آتے ہیں ملک بھر سے نکھرے ہوئے ہوتے ہیں۔ ہارس ٹریڈنگ کی جنس نہیں ہوتے۔ کائنات کا ذرہ ذرہ اللہ تعالیٰ کی وحدانیت اور رسول اللہ ﷺ کی ختم نبوت کا اعلان کر رہا ہے۔ اس کائنات کی تکمیل اللہ کی الوہیت اور حضور ﷺ کی ختم نبوت پر ہوتی ہے۔

اقتصادیات پر قابض کر دیا۔ شاید بھٹو کی بخشش کے لئے مسئلہ ختم نبوت ذریعہ بن جائے۔ پاکستان اس لئے بنایا گیا کہ ناموس رسالت کا محاذ مضبوط ہوگا۔ میاں نواز شریف یہ تحریر لکھ کر دیں کہ برسر اقتدار آ کر پاکستان کے کسی کلیدی عہدہ پر کسی قادیانی کو نہیں رکھا جائے گا اور اصحاب واہل بیت رسول اللہ ﷺ کی عزت پر حرف نہیں آئے گا تو میں حمایت کروں گا۔

امریکہ، جرمنی تک جہاں کہیں کائنات میں الوہیت خداوندی کا نام ہے ختم نبوت کا پھریرا لہرایا جائے گا۔

تو اس کے ساتھ وہی سلوک کیا جائے گا جو قادیانی کمپلیکس راولپنڈی کے ساتھ کیا گیا ہے۔ حافظ احمد بخش رحیم یار خان نے کہا کہ انسانی حقوق کے نام سے سرگرم تنظیمیں مرزائیوں کی ایجنٹ ہیں۔ بیرون دنیا سے کروڑوں روپے کا فنڈ ہضم کر رہی ہیں۔ ان کے حسابات چیک کئے جائیں۔

تیسری نشست: عشاء کی نماز کے بعد تیسری نشست کی صدارت مولانا عبداللہ بھکر نے کی۔ اس کا آغاز مفکر ختم نبوت حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی کے خطاب سے ہوا۔

تذکرہ کروں گا۔ (۱) سب بن مانگے آئے آپ ﷺ کو مانگا گیا۔ (۲) ہر نبی پہلے آیا چرچے بعد میں ہوئے۔ آپ ﷺ سب سے آخر میں آئے، لیکن تذکرے سب سے پہلے ہوئے۔ بلکہ تاقیامت تذکرے ہوں گے۔ (۳) ہر نبی کا نام لے کر خطاب

صفحہ ۳۳۱

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۲ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

کیا گیا۔ لیکن آپ کے اوصاف ’یاایھا المزمل، یاایھا المدثر، یٰسین‘ ”پورے قرآن میں آپ کا نام چار مقامات پر لایا گیا۔ ”وما محمد الا رسول قد خلت. ماکان محمد ابا احد۔“ دونوں مقامات پر ختم نبوت کا بیان ہے۔ (۴) ’نزل علٰی محمد‘ حقانیت قرآن کا بیان ہے: ’محمد رسول اللہ والذین معہ‘ اصحاب رسول کی عظمت کا بیان ہے۔ موصوف نے اپنی جماعت کی طرف سے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کو مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی۔

رہے گی۔

سے ثابت ہے۔ ارتداد کی شرعی سزا سزائے قتل ہے۔ نئے ہونے والے قادیانی مرتد ہیں اور جدی پشتی قادیانی بھی مرتد کے زمرے میں آتے ہیں۔ کیونکہ جب وہ کلمہ طیبہ پڑھتے ہیں تو مسلمان بن جاتے ہیں اور جب مرزا قادیانی کی نبوت کا اقرار کرتے ہیں تو مرتد ہوجاتے ہیں۔ زندیق اسے کہتے ہیں کہ جو قرآن وسنت کے کسی ایسے قطعی مسئلہ کی تاویل کرے جس سے اس کی روح نکل جائے۔ زندیق کی سزا سزائے موت ہے۔ اس کی توبہ قبول نہیں۔ انہیں غیر مسلم اقلیت قرار دلوانا پہلا قدم ہے۔ آخری منزل نہیں۔ دوسرا قدم یہ ہے کہ یہ مرتد ہیں اور مرتد کی سزا سزائے موت کے علاوہ کوئی نہیں۔ لہٰذا قادیانی واجب القتل ہیں۔ رہا یہ سوال کہ اتنے ساروں کو کیسے قتل کیا جائے گا۔ جواب یہ ہے کہ جس دن قانون نافذ ہوگا اس دن یا تو سارے مسلمان ہوجائیں گے یا ملک چھوڑ کر بھاگ جائیں گے۔ یہ پاکستان میں ناسور ہیں۔ جب تک اسے امت مسلمہ کے جسد اطہر سے الگ نہیں کیا جائے گا۔ چھوٹے چھوٹے مسئلے سر اٹھاتے رہیں گے۔

مکاتب کی خدمات لائق تحسین ہیں۔ ختم نبوت کے محاذ پر مولانا محمد حسین بٹالوی، مولانا ثناء اللہ امرتسری، مولانا امیر ابراہیم سیالکوٹی، مولانا داؤد غزنوی، امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاری، مولانا احمد علی لاہوری، پیر مہر علی شاہ گولڑوی، سید مظفر علی شمسی کی خدمات قابل صد افتخار ہیں۔ میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت اور اس کے قابل صد احترام امیر شیخ المشائخ مولانا خان محمد صاحب کو اہل حدیث علماء کی طرف سے مکمل تعاون کی یقین دہانی کراتا ہوں۔

ہے۔ لہٰذا ان کے قتل کا شرعی فیصلہ حکومت کو کرنا پڑے گا۔

ایک جھوٹے دعوے کئے۔ کبھی آدم، کبھی نوح، کبھی شیث، کبھی ابراہیم، کبھی موسٰی، کبھی عیسٰی اور کبھی یہ کہتا ہے کہ میں محمد ﷺ کا مظہر اتم ہوں۔ نعوذ باللہ! یہ دعاوی گستاخی رسول کے زمرے میں آتے ہیں۔ لہٰذا ایسے لٹریچر پر پابندی عائد کی جائے۔

رسوائی کا دعائیہ کلمہ کہا تو مجمع پر عجیب کیفیت طاری ہوگئی۔ مولانا حمادی نے اپنے خطاب میں مرزائیوں کی جارحانہ سرگرمیوں، دجل وتلبیس، ارتداد و زندقیت پر تفصیلی روشنی ڈالی اور فرمایا کہ علماء کرام نے مرزائیت کے کفر کو روز روشن کی طرح واضح کردیا

صفحہ ۳۳۲

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۲ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

ہے۔ اب اگر کوئی مسلمان قادیانی ہوتا ہے تو اس کی بدقسمتی یا مرزائیوں کے روایتی نوکری اور چھوکری والے ہتھکنڈے کی وجہ سے ہوتا ہے، نہ کہ دلائل کی روشنی میں۔ انہوں نے تمام سامعین سے اپیل کی کہ وہ کانفرنس سے فراغت کے بعد پورے ملک میں پھیل جائیں اور قادیانیوں کو اسلام کی دعوت تبلیغ سے مسلمان کریں۔

تو مجمع پر سحر طاری ہو گیا۔ مولانا نے کہا کہ قادیانیوں کو کلیدی آسامیوں پر فائز کرنا نظریہ پاکستان کے منافی ہے۔ حکمران اگر پاکستان کی حفاظت چاہتے ہیں تو قادیانیوں کو اہم پوسٹوں سے الگ کریں تاکہ ملک وملت کے خلاف جاسوسی نہ ہو سکے۔

دررسول پر پہرے دینے والے نوکر ہیں۔ ہمارا عقیدہ ہے کہ حضور ﷺ کے بعد قیامت تک کوئی نبی نہیں آ سکتا۔ ختم نبوت کا مسئلہ اسلام کی اساس و بنیاد ہے۔ یہ عقیدہ ہے تو اسلام ہے۔ اگر یہ عقیدہ نہیں تو کچھ بھی نہیں۔ نماز، نماز نہیں کہلا سکتی۔ روزہ روزہ نہیں بن سکتا۔ مسیلمہ کذاب نے نبوت کا دعویٰ کیا تو شوق میں ایک عورت سجاح نے بھی نبوت کا دعویٰ کیا اور اس کے ساتھ ایک لاکھ دیوانے اکٹھے ہو گئے تو مسیلمہ کذاب نے مذاکرات کی دعوت دی۔ زبردست معطر خیمہ تیار کرایا۔ تین دن کے بعد خیمہ سے برآمد ہوئے۔ حواریوں نے پوچھا کیا ہوا۔ اس نے کہا نکاح ہو گیا۔ اس کا مہر کیا ہے تو مسیلمہ نے کہا دو نمازیں معاف۔ دین کی تکمیل ہوگئی۔ اب جو شریعت آ چکی ہے تو اس میں کمی، بیشی اور اضافہ ممکن نہیں۔ انہوں نے کہا کہ مرزا قادیانی نے کئی ایک دعویٰ کئے۔ مجدد، مہدی، مسیح موعود، ظلی بروزی، غیر تشریعی، شرعی نبی، کرم خاکی پتہ نہیں کیا کیا دعاوی کئے۔ انہوں نے کہا کہ مرزائیوں سے گفتگو کرنی ہو تو ان سے ”محمدی بیگم“ والی پیش گوئی پر گفتگو شروع کر دو۔ ان شاء اللہ العزیز مرزائی دوڑ جائیں گے۔ انگریز نے مرزا قادیانی کو حضور کے مقابلہ میں لانے کی کوشش کی۔ امت مسلمہ نے سو سال تک جدوجہد کر کے مرزائیت کو ”ریورس گیئر“ لگا دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جسے ختم نبوت سے پیار نہیں اسے صحابہ سے کوئی تعلق نہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ پہلے ختم نبوت کے کارکن بنیں۔ یعنی ناموس صحابہ کے تحفظ کے ساتھ ناموس رسالت کی حفاظت کے لئے کمر بستہ ہو جائیں۔ نیز انہوں نے قادیانیوں کو متنبہ کیا کہ اگر انہوں نے ملک وملت کے خلاف سازشیں نہ چھوڑیں تو انہیں چیونٹی کی طرح مسل دیا جائے گا۔ موصوف کا خطاب دو بجے رات تک جاری رہا۔

آئندہ تین سالوں کے لئے مجلس کا مرکزی انتخاب ہوا۔

چوتھی نشست: چوتھی نشست قبل از جمعہ کی صدارت مولانا صاحبزادہ عزیز احمد بہلوی نے کی۔ مہمان خصوصی حافظ نذیر احمد گوجرانوالہ تھے۔ چوتھی نشست گیارہ بجے صبح شروع ہوئی۔ جس میں مولانا عبدالرحمٰن ہزاروی، حافظ عبدالرؤف سرگودھا، مولانا سیف الرحمٰن فیصل آباد، مولانا عبدالرحیم شکر گڑھ، قاری سعید احمد خوشاب، مولانا ضیاء الدین ژوب بلوچستان، حاجی اللہ دتہ مجاہد قصور نے خطاب کیا۔

کے لئے جتنا کسی کو کام کرنے کا موقع ملتا ہے اتنا ہی باعث سعادت ہے۔

صفحہ ۳۳۳

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۲ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

ترمیم کا حصہ ہے۔ اگر حکومت نے آٹھویں ترمیم کو ختم کرنے کی حماقت کی تو اسے زبردست تحریک کا سامنا کرنا پڑے گا۔

میں برداشت نہیں کیا جاسکتا۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ حکومت ناموس رسالت کے تحفظ کا دوٹوک اعلان کرے۔

ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قادیانی اپنے آپ کو قادیانی اور مرزائی کہنے کے لئے تیار نہیں۔

آخری نشست: آخری نشست بعد نماز جمعہ شروع ہوئی۔ جس کی صدارت حضرت الامیر دامت برکاتہم نے فرمائی۔ تلاوت کلام پاک جناب حافظ محمد یوسف عثمانی گوجرانوالہ نے کی۔ جب کہ نعت صوفی احمد بخش چشتی نے پیش کیا۔

کرتے ہوئے مجلس کو بھر پور تعاون کی یقین دہانی کراتا ہوں۔ نیز انہوں نے کہا کہ قادیانیت کو مسلمان کے دلوں سے جذبہ جہاد نکالنے کے لئے انگریز نے پیدا کیا۔ امریکہ مجاہدین کو دہشت گرد کہتا ہے۔ اگر مظلوموں کی امداد دہشت گردی ہے تو ہم سب سے بڑے دہشت گرد ہیں۔ کشمیر کے محاذ پر پچپن ہزار مجاہدین شہید ہو چکے ہیں۔ ۶۰/ ہزار پابند سلاسل ہیں۔ حرکتہ الانصار کشمیر میں علماء حق کی عسکری قوت ہے۔

کے متعلق قرآن وحدیث سے دلائل وبراہین سے بھر پور خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ قادیانیوں کی طرف سے مسلمانوں کو مرتد بنانے کے لئے ارتدادی شرعی سزا فی الفور نافذ کی جائے۔ بصورت دیگر مسلمانان پاکستان غازی علم دین شہید کی سنت پر عملدرآمد کرتے ہوئے گستاخان رسالت کو جہنم رسید کرنے پر مجبور ہوں گے اور اس کی ذمہ داری حکومت پر ہوگی۔ مولانا عبدالحمید کا بیان عصر تک جاری رہا۔

(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ص ۲۱ تا ۲۳، مؤرخہ ۲۶؍ نومبر تا ۲؍ دسمبر ۱۹۹۲ء)

ختم نبوت کانفرنس گلشن حدید کراچی

عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کراچی کے زیر اہتمام ایک عظیم الشان جلسہ جامع مسجد توحید گلشن حدید میں ہوا۔ جلسہ کی کارروائی تلاوت قرآن سے ہوئی۔ قاری سید انور شاہ نے تلاوت کی۔ بعد میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کراچی کے مبلغ مولانا محمد علی صدیقی نے خطاب کیا۔ مولانا سید صادق شاہ نے تقریر کرتے ہوئے کہا کہ قادیانی اسلام اور ملک کے دشمن ہیں اور اس ملک میں بدامنی کی فضاء پھیلانا چاہتے ہیں۔ خصوصاً اسٹیل ملز میں قادیانی شرارت کر رہے ہیں۔ آخر میں مولانا احسان اللہ ہزاروی نے تقریر کرتے ہوئے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کا شکریہ ادا کیا اور مولانا اللہ وسایا صاحب کی خدمات پر ان کو زبردست خراج عقیدت پیش کیا۔ مولانا ہزاروی نے مولانا اللہ وسایا کو یقین

صفحہ ۳۳۴

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

دلایا کہ ہم عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے شانہ بشانہ کام کریں گے اور جب تک ہمارے دم میں دم ہے مولانا نے کہا کہ اسٹیل ملز میں قادیانی شرارت کر رہے ہیں۔ لہٰذا وہ باز آجائیں۔ ورنہ اچھا نہیں ہوگا۔ جلسہ کے انتظامات بھائی محمد جعفر نے سرانجام دیئے۔ جلسہ مولانا اقبال اللہ کی دعاء پر ختم ہوا۔

(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ص ۲۵، مورخہ ۱۹ تا ۲۵/ نومبر ۱۹۹۴ء)

فیروز والا میں ختم نبوت کانفرنس

مورخہ ۱۴/ نومبر ۱۹۹۴ء کو فیروز والا کا ایک داؤد مونگا نامی قادیانی ٹریفک حادثہ میں مارا گیا۔ قادیانیوں نے مفروروں کی مدد سے اسلحہ کے زور پر اس قادیانی کو مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کرنے کی ناپاک جسارت کی۔ لیکن انجمن تحفظ ختم نبوت فیروز والا کے رہنماؤں مولانا محمد احمد فریدی، چوہدری محمد اکبر، حافظ محمد وکیل الدین اور محمد سعید خان اشرفی کی زیر قیادت مسلمانوں نے اس ناپاک کوشش کو منہ توڑ جواب دیا۔ علاقہ مجسٹریٹ چوہدری محمد حسین ایس ایچ او تھانہ فیروز والا ملک محمد اشرف کی موجودگی میں قادیانیوں نے اپنی اس ناپاک کوشش کی تحریری معافی مانگی اور تحریراً وعدہ کیا کہ وہ اب کبھی بھی ایسی ناپاک کوشش نہیں کریں گے۔ اسی خوشی میں فیروز والا کی تمام مذہبی سماجی اور معاشرتی تنظیموں کے تعاون سے ایک عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس کا انعقاد مورخہ ۱۸/ نومبر ۱۹۹۴ء کو مین بازار تھانہ فیروز والا میں ہوا۔ جس میں صاحبزادہ طارق محمود فیصل آباد، صاحبزادہ سید خورشید احمد گیلانی جنرل سیکرٹری (ر) محمد حسین انصاری، حافظ محمد تنویر، حافظ غلام حسین کلیانوی، پروفیسر غلام ربانی افغانی، پروفیسر حافظ فیض رسول، مولانا نعیم اختر عدنان، سید سلمان گیلانی، مولانا سید غلام مصطفیٰ شاہ، مولانا محمد احمد فریدی اور مولانا حافظ محمد صدیق نوری نے خطاب کیا اور عوام الناس کے جم غفیر کو اسلام کی حقانیت اور قادیانیت کی شیطانیت سے آگاہ کیا۔

(ہفت روزہ لولاک فیصل آباد ص ۱۱، مورخہ ۲۳/ دسمبر ۱۹۹۴ء)

چیچہ وطنی، ساہیوال میں عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس

چیچہ وطنی (نمائندہ خصوصی) عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام عرصہ دراز کے بعد ’’چوک شہداء ختم نبوت‘‘ میں عظیم الشان تحفظ ختم نبوت کانفرنس مورخہ ۱۸/ نومبر ۱۹۹۴ء بروز جمعتہ المبارک بعد نماز عشاء منعقد ہوئی۔ جس کی صدارت قائد تحریک ختم نبوت مولانا خان محمد صاحب دامت برکاتہم نے کی۔ کانفرنس سے تحریک ختم نبوت کی روحِ رواں مولانا عزیز الرحمن جالندھری، شاہین ختم نبوت مولانا اللہ وسایا، مولانا ضیاء الرحمن فاروقی، مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی، مولانا محمد فقیر اللہ، مولانا محمد صفدر میاں چنوں، مولانا عبدالعزیز آف جتوئی، حاجی خالد لطیف چیمہ نے خطاب کیا۔ کانفرنس میں شاعر ختم نبوت سید امین گیلانی، جناب عبدالعزیز انجم، طارق حفیظ جالندھری، مولانا محمد شریف ماہی نے نعتیہ کلام پیش کیا۔ کانفرنس کی کامیابی کے لئے قاری زاہد اقبال، حاجی محمد ایوب، مولانا عبدالخالق رحمانی نے شب و روز محنت کر کے چیچہ وطنی میں تحریک ختم نبوت کے لئے عظیم روایات کی یاد تازہ کر دی۔ واضح رہے کہ چیچہ وطنی تحریک ختم نبوت کا عظیم مرکز رہا ہے۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے پرجوش مبلغ مولانا عبدالرحمن میانوی ایک عرصہ تک چیچہ وطنی میں خطابت کے جوہر لٹاتے رہے ہیں۔ مولانا میانوی کی وفات کے بعد تقریباً بیس سال بعد یہ پہلی کانفرنس تھی جس نے مسلمانان چیچہ وطنی میں ایک نیا جوش و ولولہ پیدا کر دیا ہے۔ چیچہ وطنی غلہ منڈی میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کا دفتر قائم ہو چکا ہے۔ قاری زاہد اقبال خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔ خداوند قدوس موصوف کی خدمات کو شرف قبولیت سے سرفراز فرمائیں۔

(ہفت روزہ لولاک فیصل آباد ص ۱۰، مورخہ ۲۳/ دسمبر ۱۹۹۴ء)

صفحہ ۳۳۵

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۵ء

ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

تحریک ختم نبوت

کے سلسلہ میں

۱۹۹۵ء

کے

حالات و واقعات

صفحہ ۳۳۶

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۵ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

قادیانی منصوبہ اور اس کا توڑ

ربوہ (این۔ این۔ آئی) مرزا طاہر احمد نے پاکستان میں اپنی جماعت کو پاکستان بھر میں جولائی ۱۹۹۵ء تک کم از کم ۴۵ ہزار نئے ”احمدی“ بنانے کا ہدف دیا ہے جس پر کام شروع کردیا گیا ہے۔ مختلف تنظیمیں حلقہ کے واقف کار مسلمان مردوں اور عورتوں کو مائل کررہی ہیں۔ مارچ میں سالانہ جلسہ کے انعقاد سے مایوسی کے بعد مرزا طاہر احمد نے یہ ہدایت بھی کی ہے کہ دعوتوں پر اٹھنے والے اخراجات سالانہ جلسہ کے چندے سے پورے کئے جائیں۔ جو گیارہ سال سے استعمال ہو رہا تھا۔ یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ ہر تنظیم کے فنڈ مخصوص کر دیئے گئے ہیں۔

(روزنامہ جنگ مورخہ ۲۲؍ مارچ ۱۹۹۵ء)

قادیانی جماعت کے سربراہ مرزا طاہر نے پاکستان میں اپنی جماعت کو ایک مخصوص ٹارگٹ دے کر ارتدادی سرگرمیاں تیز تر کرنے کا واضح اشارہ کیا ہے۔ آج کل قادیانی حضرات جمعہ کے دن مرزا طاہر کی تقریر سیٹلائٹ کے ذریعے ٹیلی ویژن پر سننے کے لئے انتظام کرتے ہیں۔ اس موقع پر وہ گھر میں دعوت کا اہتمام کر کے بعض سادہ لوح مسلمانوں کو بھی مدعو کرتے ہیں۔ خاص طور پر نوجوان مسلمانوں کو اپنے ہاں بلا کر مرزا قادیانی کے کلام اور اپنے طعام سے خاطر مدارت کرتے ہیں۔ مرزا طاہر کی ہدایت میں واضح اشارہ موجود ہے کہ دعوتوں پر اٹھنے والے اخراجات سالانہ جلسہ کے چندے سے پورے کئے جائیں۔ قادیانی جماعت کے بجٹ میں سالانہ جلسہ کی رقم سے مسلمانوں میں ارتداد پھیلانے کے لئے نئی پالیسی اختیار کی گئی ہے۔ مسلمانوں کو چاہئے کہ وہ قادیانی جماعت کے ارتدادی پروگرام کو یکسر ناکام بنادیں۔ اس لئے تمام احباب جماعتی رفقاء اور کارکنوں کو چاہئے کہ:

لٹریچر منگوانے کے لئے دفتر مرکزیہ ملتان سے رابطہ کریں۔

اقلیت قرار پائے جانے کے بعد امتناع قادیانیت دفعہ ۲۹۸۔سی کے تحت سرعام نہ تو اجتماع کر سکتے ہیں اور نہ ہی کسی مسلمان کو اپنے مذہب کی دعوت وتبلیغ کر سکتے ہیں۔ اس لئے مسلمانوں کو چاہئے کہ قادیانیوں کے قانونی احتساب میں بھی سرگرمی دکھائیں۔

رد قادیانیت پر کتابیں اور دیگر لٹریچر حاصل کریں۔ اس طرح علاقے بھر کے مسلمانوں میں لٹریچر عام کریں تاکہ وہ قادیانیوں کے مکروہ مذہبی عقائد سے آگاہ ہو سکیں۔

جماعت اپنے خرچ پر مبلغ بھیج کر تردید مرزائیت کا کام سرانجام دے گی۔

احتساب کے لئے ویڈیو کیسٹ اور چھوٹے کتابچے اور پمفلٹ حاصل کریں۔ جو بالخصوص نوجوانوں کے لئے مفید ثابت ہوتے ہیں۔

صفحہ ۳۳۷

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۵ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

سے مرکزی مبلغ اور خطیب بھیجا جائے گا۔

ہمیں دشمن کی سرگرمیوں کی مذمت کی بجائے اپنی تیاری کرنی چاہئے۔ اگر تمام مکاتب فکر علماء قادیانی فتنہ کے خلاف اپنے اپنے شہروں اور علاقوں میں کچھ وقت دیں تو کوئی وجہ نہیں کہ مرزا طاہر کا ارتدادی منصوبہ خاک میں نہ مل جائے اور اس کا دیا ہوا ٹارگٹ فقط کاغذی ”خانہ پری“ تک محدود ہو کر رہ جائے۔ فتنہ قادیانیت کا احتساب صرف مولویوں کا کام نہیں بلکہ تمام مسلمانوں کو اس کا مبلغ ہونا چاہئے۔ ہر شخص عقیدہ ختم نبوت کا پہریدار ہے۔

(ہفت روزہ لولاک فیصل آباد ص ۵، مورخہ ۷؍اپریل ۱۹۹۵ء)

تحفظ ناموس رسالت کے قانون میں ترمیم

کابینہ نے تحفظ ناموس رسالت کے قانون میں دو ترامیم کی منظوری دے دی ہے۔ اخباری اطلاعات کے مطابق امریکہ کا دورہ کرنے سے قبل وزیر اعظم کی زیر صدارت کابینہ کے اجلاس میں منظوری دی گئی۔ انسانی حقوق سے متعلق وزیر اعظم کے مشیر سید کامران رضوی نے ایک انٹرویو میں بتایا۔

تحقیقات کے بعد مقدمہ درج ہوگا اور جھوٹا مقدمہ درج کرنے والے شخص کو دس سال قید کی سزا سنائی جائے گی۔

حکومت نے تحفظ ناموس رسالت کے قانون کے بارہ میں جو گل کھلایا ہے۔ وہ خلاف توقع نہیں۔ حکومت کے عزائم واضح ہیں۔ حکومت اس قانون میں ایسی ترامیم لانا چاہتی ہے کہ وہ اپنی حقیقی شکل سے محروم ہو کر غیر مؤثر ہو جائے۔ ملک بھر کے دینی سیاسی حلقوں کی جانب سے حکومت کے اس اقدام پر احتجاج کا سلسلہ جاری ہے۔ چونکہ قانون ساز اداروں کی منظوری باقی ہے۔ اس لئے قوم اب دیکھنا چاہتی ہے کہ ان کے نمائندے اس ضمن میں کیا کردار ادا کرتے ہیں۔ کیا وہ اس ترمیم کی مخالفت کر کے دنیا و آخرت میں سرفراز ہونا پسند کریں گے یا اس ترمیم کی حمایت کر کے عوامی غیض و غضب کا شکار ہونا پسند کریں گے؟ توہین رسالت کے قانون کے ضمن میں ہمیں حکومتی ترامیم سے سروکار نہیں۔ حکومت ہر حال میں امریکہ کو خوش کرنا چاہتی ہے۔ ہم تو ایک ہی بات جانتے ہیں۔ توہین رسالت کا مسئلہ تھانہ کچہری یا ڈپٹی کمشنر کی عدالت کا محتاج نہیں بلکہ اس کا فیصلہ نوک خنجر سے ہوگا۔ ماضی سے لے کر حال تک مسلمانوں کا یہی شیوہ اور شعار رہا ہے۔ توہین رسالت کا قانون اقلیتوں کے تحفظ کے لئے ایک ڈھال کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس میں انہیں صفائی کا پورا پورا موقع میسر آتا ہے۔ حقوق انسانی کی تنظیموں اور مسیحی اقلیت کے رہنماؤں نے بلا جواز پراپیگنڈہ کر کے اس قانون کو غیر مؤثر بنانے کی تحریک کے نتیجہ میں گھاٹے کا سودا کیا ہے۔ ہم نے مسیحی رہنماؤں کو ہر چند اعتماد میں لینے کی کوشش کی۔ لیکن ان کا ایک ہی مطالبہ رہا کہ تحفظ ناموس رسالت ایکٹ ختم کیا جائے۔ یہ قانون ہو یا نہ ہو۔ ”ناموس رسالت کا تحفظ“ اس کا محتاج نہیں۔

(ہفت روزہ لولاک فیصل آباد ص ۳،۴، مورخہ ۵؍مئی ۱۹۹۵ء)

حکومتی اعلان کے بعد تحفظ ناموس رسالت کمیٹی، ملی یکجہتی کونسل کے اجلاس منعقد کر کے مشترکہ طور پر تمام مکاتب فکر کی مرکزی قیادت نے ۲۷؍مئی ۱۹۹۵ء کو پورے ملک میں ہڑتال کی کال دی۔ چنانچہ اس کے لئے بھر پور تیاری کی گئی۔ ہڑتال کی کامیابی پر ہفت روزہ لولاک کا یہ اداریہ ملاحظہ فرمائیں:

صفحہ ۳۳۸

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۵ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

ہڑتال نہیں ریفرنڈم

تحریک تحفظ ناموس رسالت اور ملی یکجہتی کونسل کی مشترکہ اپیل پر ۲۷؍ مئی ۱۹۹۵ء بروز ہفتہ کو پورے ملک میں پہیہ جام ہڑتال کی گئی۔ اسلامیان پاکستان نے جلسے، جلوسوں اور احتجاجی مظاہروں کے ذریعہ حکومت پر واضح کر دیا ہے کہ تحفظ ناموس رسالت کے قانون میں حکومتی مجوزہ ترمیم اسے مہنگی پڑے گی۔ قوم اس ایکٹ میں کسی قسم کی ترمیم قبول نہیں کرے گی۔ تحریک کے مرکزی رہنماؤں نے حکومت کو متنبہ کیا ہے کہ اگر حکومت نے اس قانون میں کی گئی ترمیم واپس نہ لی اور اسے حقیقی شکل میں برقرار رکھنے کا اعلان نہ کیا تو حکومت کے خلاف سول نافرمانی کی تحریک چلائی جائے گی۔ چند ماہ پہلے سیشن جج لاہور نے گوجرانوالہ کے ایک توہین رسالت کے مقدمہ میں ملزمان کو سزائے موت دینے کا فیصلہ کیا تھا۔ حکومت نے ملزمان کی رہائی میں نہ صرف فیاضی کا مظاہرہ کیا بلکہ انہیں سرکاری پروٹوکول دے کر بیرون ملک بھجوانے میں کمال کر دکھایا۔ توہین رسالت کے ملزموں کے ساتھ حکومت کے فراخدلانہ سلوک سے حکومت کی اسلام دشمن پالیسی بے نقاب ہوگئی۔ مذہبی رہنماؤں کے خدشات کو حکومتی اقدامات سے تقویت ملی کہ حکومت کسی بیرونی طاقت کے اشارہ پر سب کچھ کر رہی ہے۔ اسی بنیاد پر تحریک ناموس رسالت میں ۳۵ دینی سیاسی جماعتوں کا اتحاد عمل میں آیا۔ بعد ازاں ملک کی گیارہ بڑی دینی سیاسی جماعتوں پر مشتمل ”ملی یکجہتی کونسل“ قائم ہوئی۔ موقع محل کی نزاکت کے مطابق دونوں تنظیموں کے رہنماؤں نے ملک گیر ہڑتال کرنے کا فیصلہ کیا۔ ہڑتال کی کال کی تاریخ دو ماہ پہلے دی گئی۔ بعد کے حالات و واقعات اور بالخصوص سانحہ چڑار شریف کے بعد ناموس رسالت کی تحریک پس منظر میں دکھائی دینے لگی۔ لیکن ۲۷؍ مئی ۱۹۹۵ء کی ہڑتال نے نظام مصطفےٰ کی تحریک کے دنوں کی یاد تازہ کر دی۔ کراچی سے لے کر پشاور تک کے مسلمانوں نے پیغمبر اسلام ﷺ سے قلبی عشق و محبت کا عملی مظاہرہ کیا۔

۲۷؍ مئی کو ملک گیر ہڑتال بلاشبہ ایک قومی ریفرنڈم کی حیثیت کی حامل ہے۔ اسلامیان پاکستان نے جلسے جلوسوں اور احتجاجی مظاہروں اور ریلیوں کے ذریعہ اپنی رائے کا اظہار کر دیا ہے کہ قوم تحفظ ناموس رسالت کو اس کی حقیقی شکل میں برقرار دیکھنا چاہتی ہے۔ قوم نے تحفظ ناموس رسالت کے قانون میں مجوزہ ترمیم کو یکسر مسترد کر دیا ہے۔ موجودہ حکومت عوامی اور جمہوری حکومت ہونے کی دعویدار ہے۔ لہٰذا حکومت کو چاہئے کہ وہ رائے عامہ کا احترام کرتے ہوئے تحفظ ناموس رسالت قانون میں کی گئی ترمیم کو باعزت واپس لے لے۔ چند دن پہلے پنجاب اسمبلی میں تحفظ ناموس رسالت کے قانون میں مرکزی کابینہ کی ترمیم کے خلاف قرارداد منظور کی جا چکی ہے۔ آبادی کے لحاظ سے پنجاب ملک کا سب سے بڑا صوبہ ہے۔ پارلیمانی روایت کو مدنظر رکھتے ہوئے بھی ضروری ہے کہ حکومت اکثریتی صوبے کی اسمبلی کی رائے اور فیصلہ کا احترام کرے۔

۲۷؍ مئی کی ہڑتال سے قبل ۲۶؍ مئی کے جمعتہ المبارک کے موقع پر پورے ملک کی مساجد میں خطباء اور علماء کا ایک ہی موضوع تھا۔ جمعتہ المبارک کے روز ”یوم یکجہتی“ اور اگلے روز پہیہ جام ہڑتال کے ذریعہ پاکستان کے کروڑوں مسلمانوں نے جس طرح اپنے جذبات کا اظہار کیا ہے۔ اس سے حکومت کی آنکھیں کھل جانی چاہئے لیکن افسوس کہ حکومت کے چند ایک وزیروں کی عقل کی سوئی تحفظ ناموس رسالت کے قانون کی ترمیم پر اٹکی ہوئی ہے اور وہ مسلسل ایسے اشتعال انگیز بیانات دے رہے ہیں۔ جن سے فضاء کے کشیدہ ہونے کا احتمال ہے۔ ہڑتال سے قبل حکومت نے وضاحت کی تھی کہ وہ ہڑتال میں رکاوٹ نہیں ڈالے گی۔ اس نے وزراء کو بیان بازی سے بھی روک دیا تھا۔ لیکن وزراء کے حالیہ بیانات سے محسوس ہوتا ہے کہ وہ ایسے ہی بیانات کے عوض تنخواہ پاتے ہیں۔ ہم وزیر اعظم صاحبہ (بے نظیر بھٹو) سے استدعا کریں گے کہ وہ اپنے وزراء کو پٹا ڈالیں۔ علماء کے خلاف ان کی زبان کو لگام دیں۔ ماضی گواہ ہے کہ ایسے ہی وزراء حکومتوں کا

صفحہ ۳۳۹

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۵ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

بیڑہ غرق کرتے ہیں۔ ہم پوری قوم کو مبارک باد پیش کرتے ہیں۔ تحریک ناموس رسالت اور ملی یکجہتی کونسل کے رہنماؤں کو بھی مبارک باد پیش کرتے ہیں۔ لیکن ایک بات نہایت دردمندی سے ان کے گوش گزار کرنا اپنا فرض منصبی سمجھتے ہیں کہ ۲۷ مئی کو قوم نے دینی وسیاسی رہنماؤں کی اپیل پر انہیں جو مینڈیٹ دیا ہے۔ وہ ان کے باہمی اتحاد اور یکجہتی کی بنیاد پر دیا ہے۔ انہیں یہ فراموش نہیں کرنا چاہئے کہ تحریک نظام مصطفیٰ کے بعد قوم نے ایک بار پھر ان پر اعتماد کا اظہار کیا ہے اگر ان کا باہمی اتحاد برقرار رہا تو پوری قوم نہ صرف ان کی آواز لبیک کہے گی بلکہ کسی بڑی سے بڑی قربانی سے بھی دریغ نہیں کرے گی۔

قادیانی جماعت تیرا شکریہ

اخباری اطلاعات کے مطابق ۲۷ مئی کو ملک گیر ہڑتال کے باوجود ربوہ میں ہڑتال نہیں ہوئی۔ دوکانیں اور بازار کھلے رہے۔ کاروبار زندگی معمول کے مطابق چلتا رہا۔ ربوہ چونکہ قادیانی جماعت کا مرکز ہے۔ اس لئے وہاں اسی جماعت کا حکم چلتا ہے۔ حالیہ ہڑتال میں حصہ نہ لینے کا فیصلہ بھی یقیناً جماعت احمدیہ نے ہی کیا ہوگا۔ ہمیں اس خبر سے قطعی کوئی افسوس یا دکھ نہیں پہنچا۔ بلکہ خوشی ہوئی ہے۔ ۲۷ مئی کی ہڑتال سرکار دو عالم ﷺ کی عزت و ناموس کے تحفظ کی ہڑتال تھی۔ رحمت عالم ﷺ کی ذات اقدس کل کائنات کے مسلمانوں کی عقیدت ومحبت کی مرکز ومحور ہے۔ اس بنیاد پر اسلامیان پاکستان نے تحفظ ناموس رسالت کے ضمن میں کی گئی ہڑتال میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ ربوہ کے قادیانیوں کا حالیہ ہڑتال میں حصہ نہ لینا اس بات کا بین ثبوت ہے کہ اس عقیدت ومحبت کا مرکز اور محور جناب رسول مآب ﷺ کی ذات بابرکات کی بجائے مرزا غلام احمد قادیانی کی ذات ہے۔ خانہ ساز نبوت کے داعی الگ مذہب کے پیروکار ہیں۔ ان کا اسلام سے دور کا تعلق واسطہ بھی نہیں۔ قادیانیوں نے مسلمانوں اور پاکستانی قوم کی ہڑتال میں حصہ نہ لے کر اپنے الگ مذہبی تشخص اور قومی غداری پر خود ہی مہر تصدیق کر دی ہے۔

(ہفت روزہ لولاک فیصل آباد ص ۳،۴، مورخہ ۲ جون ۱۹۹۵ء)

تحفظ ناموس رسالت کی خاطر راولپنڈی، اسلام آباد ۲۷ مئی کو مکمل طور پر بند رہا

جب سے موجودہ حکومت نے ناموس رسالت کے قانون ۲۹۵-سی میں ترمیم یعنی طریقہ کار میں تبدیلی کرنے کا سوچنا شروع کیا تو پورے ملک کے مسلمانوں نے احتجاج کی صدا بلند کرنا شروع کی اور پھر رمضان المبارک میں حکومت نے دو عیسائیوں کو جو توہین رسالت کے مرتکب تھے اور ان کو سیشن عدالت سے سزائے موت ہو چکی تھی۔ ہائیکورٹ لاہور سے باعزت بری کرا کر بڑے اعزاز واکرام کے ساتھ ملک سے باہر روانہ کر دیا۔ اس پر مسلمانان پاکستان نے بھرپور انداز اور جذبہ ایمانی سے سرشار ہو کر احتجاج کیا اور حکومت کی بھرپور مذمت کی تحریک تحفظ ناموس رسالت کے زیر اہتمام احتجاج ہوا۔ احتجاجی جمعہ کے اجتماعات بھی ہوئے اور اسی سلسلہ میں ۲۷ مئی کو ہڑتال کی کال دی گئی۔ ۲۷ مئی کا دن قابل دیدنی تھا کیونکہ اس دن مسلمانوں نے نبی کریم ﷺ کی محبت سے سرشار ہو کر بھرپور انداز میں اپنا کردار ادا کیا۔ ملک کے کئی شہر ایسے بھی تھے جہاں پہیہ جام ہڑتال بھی ہوئی اور اس میں راولپنڈی اور اسلام آباد بھی شامل ہیں کہ صبح ہی سے مسلمانوں نے دوکان نہیں کھولیں اور درد دل رکھنے والے مسلمان راولپنڈی کی معروف جگہ فوارہ چوک میں جمع ہونا شروع ہو گئے۔ بغیر کسی تفریق کے یوں محسوس ہوتا تھا کہ ایک ہی صف میں کھڑے ہوئے محمود ایاز، عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت راولپنڈی کی طرف سے ایک عظیم الشان جلوس جس کی قیادت سید چراغ الدین شاہ، قاری محمد امین، مولانا عبدالرحمٰن، مولانا محمد علی صدیقی مبلغ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کر رہے تھے۔ جامعہ سراجیہ نظامیہ نزد اصغر مال کالج سے شروع ہوا اور مختلف علاقوں سے ہوتا ہوا فوارہ چوک پہنچا۔ یاد رہے کہ فوارہ چوک راولپنڈی کی معروف مشہور تاجر منڈی ہے اور تحفظ

صفحہ ۳۴۰

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۵ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

ناموس رسالت کی ہڑتال کے اعلان پر لبیک کہتے ہوئے پورے طور پر علاقہ بند تھا۔ ورنہ اس جگہ میں ہڑتال کرانی بہت ہی دل گردے کا کام ہے۔ فوارہ چوک میں بریلوی حضرات کی قیادت میں جلوس، جماعت اسلامی کی قیادت میں، دیوبندی حضرات کی قیادت میں ایک بہت بڑا جلوس فوارہ چوک پہنچا۔ اسی طرح جامعہ فرقانیہ کا ایک جلوس مولانا عبدالمجید ہزاروی کی قیادت میں اور مدرسہ تعلیم القرآن سے جانشین شیخ القرآن مولانا اشرف علی صاحب کی قیادت میں اور جمعیۃ علماء اسلام کا ایک جلوس مولانا عبدالغفار توحیدی، مولانا عمر فاروق توحیدی کی قیادت میں فوارہ چوک پہنچا جو ایک بہت بڑے جلسے کی شکل اختیار کر گیا اور یہاں کچھ دیر پرامن طریقہ سے جلسہ ہوا تو حکومت کے پالتو پولیس والوں کو پرامن جلسہ اور جلوس دیکھ کر ان کی غیر فطری رگ پیدا ہوئی اور پرامن جلوس اور جلسہ پر بغیر کسی وارننگ لاٹھی چارج، آنسو گیس کی بری طرح شیلنگ شروع کر دی۔ یوں جلوس معروف و مشہور جگہ کمیٹی چوک میں اکٹھا ہو گیا۔ یہاں پر اہل تشیع حضرات اپنے جلوس کے ہمراہ تشریف لائے اور تحفظ ناموس رسالت کے جلوس میں ضم ہو گئے اور اس کے بعد سپاہ صحابہ سٹوڈنٹس کا ایک بہت بڑا جلوس تمام کالجز کا کمیٹی چوک میں پہنچا۔ یوں سپاہ محمد و سپاہ صحابہ اکٹھے پروگرام میں شریک ہوئے۔ شروع سے اختتام تک جلوس انتہائی پیار ومحبت کی تمام روایات کو برقرار رکھتے ہوئے پرامن رہا اور ہڑتال پورے ضلع سے راولپنڈی، اسلام آباد میں پرامن رہی اور حکومت اس کو ناکام بنانے پر تلی ہوئی تھی۔ مسلمانان پاکستان نے جس طرح نبی کریم ﷺ سے محبت کا عملی ثبوت فراہم کیا اس سے تحریک ۱۹۵۳ء، تحریک ۱۹۷۴ء، نظام مصطفیٰ کی یاد تازہ ہوئی اور مسلمانان پاکستان نے اس ہڑتال میں علماء کرام کے اعلان پر لبیک کہتے ہوئے حکومت کو واضح کر دیا کہ مسلمان دین کے مسئلہ میں حکومت اور کفر کے ساتھ نہیں بلکہ خالصتاً اسلام اور علماء کرام کے ساتھ ہیں۔ مسلمانان نے اس عزم کا اظہار بھی کیا کہ ہم سب کچھ برداشت کر سکتے ہیں لیکن نبی کریم ﷺ کی توہین کسی صورت میں بھی برداشت نہیں کر سکتے۔ ۲۷؍مئی کی ہڑتال کے سلسلہ میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی طرف سے جمعتہ المبارک کو بھی یوم احتجاج منایا گیا۔ راولپنڈی، اسلام آباد کے مولانا محمد عبداللہ، مولانا محمد شریف، مولانا نذیر فاروقی، شیخ الحدیث مولانا عبدالرؤف سمیت دیگر علماء کرام احتجاج میں شریک ہوئے۔

(ہفت روزہ لولاک فیصل آباد ص۲۲، ۲۳، مورخہ ۲۱؍ جولائی ۱۹۹۵ء)

قادیانی جاسوسوں کی گرفتاری

ہفت روزہ ختم نبوت کراچی نے اپنے اداریہ میں لکھا: روزنامہ خبریں لاہور مورخہ ۵؍ جولائی ۱۹۹۵ء کی خبر کے مطابق خفیہ ایجنسی نے کمپیوٹر کے ادارے کے مالک اور اس کے ملازمین کو پاکستان کے اہم راز یہود و ہنود کو پہنچانے کے جرم میں گرفتار کر لیا۔ ادارے کا مالک آسٹریلوی نژاد ہے اور یہ سب لوگ قادیانی ہیں۔ پوری خبر اس طرح ہے:

”اسلام آباد (نیوز ڈیسک) ایف آئی اے نے مبینہ طور پر پاکستان کے ایٹمی اور دیگر خفیہ راز بھارت اور اسرائیل کو پہنچانے والے کمپیوٹر ایکسپرٹ ڈاکٹر مبشر احمد کو گرفتار کر کے اس کے خلاف مقدمہ درج کر لیا ہے۔ جب کہ ایف آئی آر سر بمہر کر دی گئی ہے۔ فرنٹیئر پوسٹ کی رپورٹ کے مطابق اسلام آباد کے بلیو ایریا میں میڈیا لنک کے نام سے واقع ایک کمپیوٹر فرم کا مالک ڈاکٹر مبشر احمد جسے آسٹریلیا کی شہریت حاصل ہے، کو اپنے بھتیجے قاسم محمود کے ساتھ ایئر پورٹ جاتے ہوئے پچھلے مہینے کی گیارہ تاریخ کو ایف آئی اے نے گرفتار کیا تھا۔ ڈاکٹر مبشر قادیانی ہے اور اس کے دوستوں نے بتایا کہ اسے گرفتاری سے دس روز قبل ہی خفیہ والوں نے غائب کر دیا تھا۔ جب کہ اس کے تین قادیانی ملازموں کو بھی تین ماہ قبل گرفتار کیا گیا تھا۔ اخبار نے یہ بھی لکھا ہے کہ میڈیا لنک کے توسط سے ڈاکٹر مبشر ملک کے حساس اداروں اور ایٹمی انرجی پلانٹ میں کمپیوٹرز کی تنصیب اور دیگر امور کی آڑ میں خفیہ طور پر معلومات حاصل کر کے دشمن ممالک کو فراہم کرتا تھا جس کے انکشاف پر اسے فوری طور پر گرفتار کر لیا گیا۔ اس سلسلے میں اس کی آسٹریلوی شہریت رکھنے والی بیوی ساندرا احمد بھی اس کی خاطر خواہ مدد

صفحہ ۳۴۱

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۵ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

معاونت کرتی تھی اور یہ سب رابطے وہ اپنی میوزک اکیڈمی کی آڑ میں کرتی تھی۔ ڈاکٹر مبشر کے دوستوں نے بتایا کہ خفیہ ایجنسی کی تحویل میں ڈاکٹر کو دل کا دورہ پڑا تو وہ اسے ایک فرضی نام سے ہسپتال لے آئے، جس پر اس کے گھر والوں کو اس کی ہسپتال میں علاج کی اطلاع مل گئی۔ انہوں نے کوہسار تھانے میں ڈاکٹر کی گمشدگی کی اطلاع کرا رکھی تھی۔ اس کی بیوی نے جب آسٹریلوی سفارت خانے سے رابطہ کیا تو انہوں نے بھی مقدمے کے فیصلے تک کی پیش رفت کا اظہار نہیں کیا جب کہ دوسری طرف معلوم ہوا ہے کہ اس کی بیوی کو اڈیالہ جیل میں جوڈیشل ریمانڈ پر قید ڈاکٹر سے ملنے میں دشواری کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔‘‘

قادیانی گروہ اوّل روز سے اسلام اور مسلمانوں کے دشمن کافروں کی وفاداری کا نہ صرف علی الاعلان اعتراف کرتا ہے بلکہ اس کو باعث افتخار سمجھتا رہا ہے۔ مرزا غلام احمد قادیانی نے انگریزی حکومت سے غیر مشروط وفاداری کے اعلان کے ساتھ اپنے خاندان کی ان خدمات کا برملا اعتراف کیا ہے جو ۱۸۵۷ء کی جنگ آزادی میں مسلمانان برصغیر کے خلاف انگریزوں کی مدد کے لئے انجام دیں۔ ان خدمات میں پچاس گھوڑے مع مسلح سواروں کے ساتھ پیش کرنے کے ساتھ مسلمانوں کی مخبری کی خدمات بھی شامل تھیں۔ گویا مسلمان دشمنی کے ساتھ جاسوسی کا عمل قادیانی گروہ کے خمیر میں شامل چلا آ رہا ہے۔ غالباً اسی بناء پر شاعر مشرق علامہ اقبال نے لکھا تھا کہ: ’’قادیانی اسلام اور ملک دونوں کے غدار ہیں‘‘۔ قیام پاکستان کے بعد سر ظفر اللہ قادیانی کو بعض حکومتی مجبوریوں کے سبب وزیر خارجہ مقرر کرنا پڑا تو اس نے بیرون ملک پاکستان سفارت خانوں کو قادیانیت کی اشاعت کے مراکز بنانے کی پوری کوشش کی اور اندرون ملک وزارت خارجہ کے محکموں میں قادیانیوں کی بھرمار کر دی۔ اسرائیل، مغربی سامراج کی زیر نگرانی عالم اسلام کے لئے ناسور کی حیثیت رکھتا ہے۔ کسی غیر یہودی تنظیم کو وہاں اپنا مرکز قائم کرنے اور مشنری کام کی اجازت نہیں ہے۔ لیکن یہ ایک تاریخی اور واقعاتی حقیقت ہے کہ قیام پاکستان کے وقت بھی اسرائیل میں قادیانی مشن باقاعدہ مصروف عمل تھا۔ بلکہ اسرائیل حکومت کی اسے پوری مدد حاصل تھی اور بعد میں اس مشن کے روابط ربوہ اور قادیان دونوں قادیانی مراکز سے کوئی راز کی بات نہیں رہی۔ حال ہی میں قومی ڈائجسٹ میں شائع ہونے والے ایک مضمون میں سعودی گزٹ مورخہ یکم اپریل ۱۹۹۲ء کے حوالے سے یہ خبر دی گئی ہے۔ ۱۹۸۶ء میں اسرائیل کے وزیر اعظم چین ہیروز نے قادیانی مشن کے مقاصد کی تکمیل کے لئے ایک ملین (دس لاکھ) امریکی ڈالر کی رقم دی تھی۔

روس کے اشتراک و تعاون اور انگریزوں کی مدد سے لندن سے سیٹلائٹ اور دنیا بھر میں ڈش انٹینا کے ذریعہ قادیانیت کی تشہیر کے لئے ’’احمدیہ مسلم ٹیلی ویژن‘‘ کے نام سے نشریاتی ادارہ قائم کیا گیا ہے، جو مختلف زبانوں میں قادیانیت کی تبلیغ کرتا ہے اور اس میں مرزا طاہر قادیانی کے خطبے اور بیانات بھی نشر کئے جاتے ہیں۔ ہندوستان میں قادیانیوں کو سرکاری سرپرستی میں ملک کے گوشے گوشے میں قادیانیت کی تبلیغ کے لئے سہولتیں مہیا کی گئیں ہیں۔ قومی ڈائجسٹ کی رپورٹ کے مطابق سری نگر سے مدراس اور بمبئی سے کلکتہ تک کوئی قابل ذکر شہر ایسا نہ ہوگا جس میں قادیانیوں کے سینٹر قائم نہ کئے گئے ہوں اور یہ سینٹر خصوصیت سے ان ہی علاقوں میں قائم ہوئے ہیں۔ جہاں مسلمانوں کی اکثریت آباد ہوتی ہے۔ ۱۹۸۸ء میں قادیانیوں کے صد سالہ جشن کے موقع پر مشرقی پنجاب میں شورش اور بدامنی کا طوفان برپا تھا اور علاقہ میں غیر ملکیوں کا داخلہ ممنوع تھا لیکن دنیا بھر کے قادیانیوں کو حکومت نے خصوصی اجازت دے دی تھی۔

ان اشارات سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ یہود و ہنود کے ساتھ قادیانیوں کی کیسی رشتہ داری ہے اور دنیا کی یہ دونوں قومیں نسلی افتخار کی دعویدار ہیں۔ پھر یہود کے ہاتھ میں اس وقت دنیا کی سیاسی باگ ڈور بھی ہے اور مشرق و مغرب کی کوئی حکومت ان کے اشاروں کے بغیر نہیں چل سکتی۔ اس پس منظر میں یہود و ہنود کی بین الاقوامی سطح پر قادیانی گروہ پر نوازشات کی بارش ہر ذی فہم کو یہ سوچنے پر مجبور کر دیتی ہے

صفحہ ۳۴۲

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۵ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

کہ قادیانی گروہ ان اقوام عالم کا آلہ کار ہے اور ان اقوام کے اثرات سے نکلنے کے لئے مسلمان جو اقدام اور راستہ اختیار کرنے کی سوچتے ہیں ۔ اس کی مخبری اور جاسوسی کر کے مسلمانوں کو ناکام بنا دینے کی پالیسی قادیانیوں کا بنیادی مقصد ہے۔

حکومت پاکستان کے کلیدی محکموں پر قادیانیوں کا تسلط کھلی بات ہے۔ ناعاقبت اندیش حکمرانوں نے اس جانب سے آنکھیں بند کر رکھی ہیں کہ جو گروہ اسلام اور مسلمانوں کا کھلا دشمن ہے۔ ہندواور یہودیوں کو اس گروہ کی وفاداری پر پورا بھروسہ ہے۔ وہ پاکستان اور اس کے حکمرانوں کا وفادار کیسے ہو سکتا ہے؟ اس کھلی حقیقت سے عملی انکار کا نتیجہ یہی نکل سکتا ہے کہ کوئی قومی راز پوشیدہ نہ رہ پائے اور اسلام آباد میں موجود گرفتاریوں کا واقعہ تو غالباً کسی بے احتیاطی کا شاخسانہ ہے ورنہ قادیانی گروہ تو بڑے منظم انداز میں اس راہ پر گامزن ہے۔ اے کاش! کہ ہمارے حکمران ہوش کے ناخن لیں اور رقص وسرود کی محفلوں سے باہر نکلیں، اپنی ذمہ داریوں کا احساس کریں، قوم کی صحیح منزل کی جانب رہنمائی کریں۔ ورنہ جن لوگوں نے مغلیہ اقتدار کی بساط لپیٹنے میں اپنا بھر پور کردار ادا کیا۔ موجودہ دور کی بساط اقتدار کو تو پھونک سے اڑا سکتے ہیں ۔ مسلمان اپنے اصحاب اقتدار سے یہ مطالبہ کرنے میں حق بجانب ہیں کہ پاکستان کے تمام کلیدی سرکاری مناصب سے قادیانیوں کو علیحدہ کیا جائے اور ڈاکٹر مبشر کے ساتھ مرزا طاہر اور ڈاکٹر عبدالسلام قادیانی کو پاکستان واپس لا کر جاسوسی کے اس معاملہ میں شامل تفتیش کیا جائے اور مقدمہ کھلی عدالت میں چلایا جائے ۔

(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ص ۴، ۵، مورخہ ۱۷ تا ۲۰/ جولائی ۱۹۹۵ء)

قادیانی ملزم کو شعائر اسلامی کی توہین پر ۶/ سال قید با مشقت اور ایک ہزار روپے جرمانہ

ایک عرصہ پہلے ننکانہ صاحب کے ناصر احمد قادیانی نے اپنے ہاں شادی کے لئے ایک دعوتی کارڈ شائع کیا جس میں ایسی اصطلاحات (اسلامی شعائر) استعمال کی گئیں ۔ جس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ شادی کارڈ کسی غیر مسلم کا نہیں بلکہ مسلمان کا ہے۔ مثلاً : ”نحمدہ ونصلی علیٰ رسولہ الکریم، بسم اللہ الرحمٰن الرحیم، السلام علیکم“ ان شاء اللہ ! نکاح مسنونہ وغیرہ کے الفاظ لکھوائے ۔ ظاہر ہے کہ قادیانیوں کے لئے ایسے اسلامی شعائر کا استعمال شرعاً وقانوناً ممنوع ہے۔ چنانچہ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے ناظم اعلیٰ شوکت علی شاہد نے اس کے خلاف مقدمہ درج کروا دیا۔ اس ملزم کی گرفتاری ہوئی ۔ قادیانیوں نے ہائیکورٹ میں درخواست ضمانت دائر کی ۔ اس کی سماعت لاہور ہائیکورٹ کے جناب جسٹس میاں نذیر اختر صاحب کی عدالت میں شروع ہوئی۔ فاضل عدالت نے ان تاریخی ریمارکس کے ساتھ ملزم کی درخواست ضمانت خارج کر دی۔ عدالت نے لکھا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ قادیانی یا مرزا قادیانی کے دوسرے پیروکار دفعہ ۲۹۸۔بی ، پی . پی . سی کے تحت کچھ مخصوص کلمات مثلاً : ” امیرالمؤمنین ، خلیفۃ المؤمنین ، خلیفۃ المسلمین ، صحابی یا اہل بیت “ وغیرہ کا استعمال نہیں کر سکتے ۔ تاہم یہ مذکورہ ممنوعہ کلمات قادیانیوں کو اس بات کا لائسنس نہیں دے دیتے کہ وہ دیگر اس قسم کے مشابہ کلمات یا شعائر اسلام استعمال کریں جو عام طور عام مسلمان استعمال کرتے ہیں۔ کیونکہ اس طرح کرنے سے یہ قادیانی اپنے آپ کو مسلمان ظاہر کر رہے ہوں گے جو قانون کے مطابق ممنوع ہے۔ اس کے بعد ملزم نے سپریم کورٹ میں درخواست ضمانت دائر کی۔ جہاں جسٹس نسیم حسن شاہ ، شفیع الرحمٰن ، ایس سلام وغیرہ نے کیس کی سماعت کی اور اپنے فیصلہ میں لکھا کہ بظاہر ان کلمات کے استعمال سے شعائر اسلام کی توہین نہیں ہوتی ۔ جب تک کہ ملزم کے عقیدہ، نیت ، مقصد اور مذہب کا علم نہ ہو۔ لہٰذا ہم (سپریم کورٹ) اس بات کا فیصلہ سیشن کورٹ پر چھوڑتے ہیں کہ وہ اس معاملہ کی گہرائی تک جائے اور اپنا تفصیلی فیصلہ دے یعنی سیشن کورٹ جو فیصلہ کرے گی۔ سپریم کورٹ کو بھی وہ فیصلہ منظور ہوگا۔ لہٰذا سپریم کورٹ نے ملزم کی ضمانت منظور کرتے ہوئے کیس سیشن کورٹ شیخوپورہ بھیج دیا۔ سیشن کورٹ میں ملزم پر فرد جرم عائد کی گئی۔ گواہان کے بیانات ہوئے۔ جرح ہوئی۔ ملزم کا بیان ہوا اور پھر آخری بحث ہوئی اور بالآخر ایڈیشنل سیشن جج جناب محمد اکرم ذکی نے اپنا

صفحہ ۳۴۳

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۵ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

تاریخی فیصلہ صادر فرماتے ہوئے ملزم کو مجموعی طور پر چھ سال قید با مشقت اور ایک ہزار روپے جرمانہ کی سزا سنائی۔ مقدمہ کی ابتدائی سماعت سے لے کر فیصلہ تک ہر تاریخ پر ننکانہ صاحب سے مہر شوکت علی شاہد، محمد اکرم ناز، محمد متین خالد، محمد شاہین پرواز، محمد عباس بٹ، چوہدری نذیر احمد، محمد قدیر شہزاد، لیاقت علی، ظفر عباس، صغیر احمد۔ شیخوپورہ سے قاضی محمد اسلم کھوکھر، حافظ محمد امین، شیخ سرفراز احمد پیش ہوتے رہے۔ ننکانہ صاحب کے امیر حاجی عبدالحمید صاحب آخری بحث کے دوران تھوڑی دیر کے لئے تشریف لائے اور بعد میں اپنی کاروباری مصروفیات کے پیش نظر ملتان روانہ ہوگئے۔ فیصلہ کے دن کارکنان ختم نبوت کی ایک کثیر تعداد ضلع کچہری میں موجود تھی۔ دوسری طرف آئین وقانون شکن قادیانی جماعت کے امراء بھی بغیر نمبر پلیٹ موٹر سائیکلوں کے آئے ہوئے تھے تا کہ اگر ملزم کو سزا ہو جائے تو اسے کمرہ عدالت سے بھگا کر لے جائیں اور فیصلہ سے پہلے قادیانی مسلسل اشتعال انگیز حرکات کا ارتکاب کر کے لاء اینڈ آرڈر کا مسئلہ پیدا کرنا چاہتے تھے اور ادھر کارکنان ختم نبوت قادیانیوں کی ان حرکات پر ان کو سبق سکھا کر اپنے غم وغصہ کا اظہار کرنا چاہتے تھے۔ مگر ننکانہ صاحب کی جماعت کے روح رواں محمد اکرم ناز کی بصیرت نے اس معاملے کو بھانپ لیا اور ان کے بار بار سمجھانے پر کارکنان نے نہایت نظم وضبط اور تحمل وبرداشت کا مظاہرہ کیا اور قانون کو ہاتھ میں نہ لیا۔ ورنہ قادیانی غنڈوں کو وہ سبق سکھایا جاتا کہ ان کی نسلیں بھی یاد رکھتیں۔ قادیانی ملزم کو عدالت کی طرف سے سزا کے بعد قادیانیوں کے لعنت زدہ چہرے لٹک گئے اور انہیں بھاگنے ہی میں عافیت نظر آئی۔

جناب ایس. این خاور ایڈووکیٹ کے اعزاز میں استقبالیہ

گزشتہ دنوں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت شیخوپورہ نے حال ہی میں ننکانہ صاحب کے ایک قادیانی کی طرف سے شادی کارڈ پر اسلامی اصطلاحات استعمال کر کے شعائر اسلامی کی توہین کرنے کے الزام میں سیشن کورٹ شیخوپورہ سے سزا سنائی جانے کی خوشی میں معروف ایڈووکیٹ جناب ایس. این خاور جاوید کے اعزاز میں ایک پر تکلف استقبالیہ کا اہتمام کیا۔ جس میں ننکانہ صاحب شیخوپورہ اور فیروز والا کے سرگرم کارکنان کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔ مہمان خصوصی جناب ایس. این خاور خان کی آمد پر کارکنان نے ان پر زبردست گل پاشی کر کے فقید المثال استقبال کیا۔ استقبالیہ سے خطاب کرتے ہوئے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے صدر محمد متین خالد نے جناب خاور خان کو ان کی کامیاب کاوش پر زبردست خراج تحسین پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ جناب خاور صاحب نے جس محنت، لگن اور خلوص کے ساتھ اس کیس کو لڑا اس پر پوری ملت اسلامیہ انہیں مبارک باد پیش کرتی ہے۔ تقریب سے خصوصی خطاب کرتے ہوئے جناب ایس. این خاور خان نے کہا کہ اس شادی کارڈ کیس میں مسلمانوں کی طرف سے پیش ہونا میری سعادت مندی ہے اور اس کیس میں فتح صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کے فضل وکرم سے نصیب ہوئی۔ انہوں نے اپنے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ آئندہ بھی عدالتوں میں حضور نبی کریم ﷺ کی ختم نبوت کی حفاظت اور فتنہ قادیانیت کی سرکوبی کے سلسلہ میں اپنی خدمات بلا معاوضہ پیش کرتے رہیں گے اور فتنہ قادیانیت کو اس کے منطقی انجام تک پہنچایا جائے گا۔ آخر میں شیخوپورہ جماعت کے روح رواں جناب حافظ محمد امین صاحب کی طرف سے کارکنان کی پر تکلف مشروبات سے تواضع کی گئی۔

(ہفت روزہ لولاک فیصل آباد ص۲۱، ۲۲، مورخہ ۲۱؍ جولائی ۱۹۹۵ء)

سلانوالی میں قادیانیوں کے ساتھ ایک اور مناظرہ قادیانیوں کو دوبارہ شکست کا سامنا کرنا پڑا

قادیانی مبلغین مناظرہ کا وقت دے کر نہ پہنچ سکے

سلانوالی ضلع سرگودھا کے قریب عنایت پور بھٹیاں میں قادیانی اور مسلم مبلغین میں ایک اور مناظرہ قادیانیوں کو شکست فاش مسلمانوں کی شاندار فتح پر جشن کا سماں۔ تفصیلات کے مطابق موضع عنایت پور بھٹیاں میں قادیانیوں کے درمیان ایک مناظرہ ہوا۔ جس میں

صفحہ ۳۴۴

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۵ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

ختم نبوت کے مبلغین مولانا اللہ یار راشد، مولانا محمد الیاس چنیوٹی، مولانا غلام محمد، مولانا محمد ابراہیم، مولانا سید خالد مسعود گیلانی صاحبزادہ سید فضل الرحمن احرار کے علاوہ سینکڑوں افراد نے شرکت کی۔ مسلمان مبلغین اور سینکڑوں افراد نے دیر تک مرزائی مبلغ کا انتظار کرتے رہے۔ لیکن وہ نہ آیا جس پر مناظرہ کے ثالث نے مسلمانوں کی فتح کا اعلان کر دیا اور سینکڑوں افراد نے نعرہ تکبیر کے فلک شگاف نعرے لگائے۔ اس کے بعد ایک جلسہ ہوا جس سے مولانا احمد چاریاری اور مولانا اللہ یار نے خطاب کیا اور سید مسعود گیلانی نے دعا کرائی مناظرہ کے مقام پر پولیس کی بھاری نفری موجود تھی۔ یادرہے کہ گزشتہ دس دن میں ایک ہی مقام پر یہ دوسرا مناظرہ تھا جس میں مسلمانوں کو شاندار فتح ہوئی۔ جس سے موضع عنایت پور بھٹیاں میں بارہ قادیانیوں نے تائب ہو کر اسلام قبول کر لیا۔ مسلمان اور قادیانی مبلغ میں مناظرہ قادیانی مبلغ نے راہ فرار اختیار کر لی۔ تفصیلات کے مطابق گزشتہ دنوں موضع عنایت پور بھٹیاں میں مسلمانوں مبلغ حافظ غلام محمد اور قادیانی مبلغ جاوید اقبال کے درمیان مناظرہ ہوا۔ جس میں علاقے کی معروف شخصیات رائے امیر عبداللہ خان بھٹی نمبردار، رائے لیاقت حیات بھٹی کے علاوہ سینکڑوں افراد نے شرکت کی۔ قادیانی مبلغ ختم نبوت کے مبلغ کے سامنے بے بس ہو گیا اور اپنی شکست کو تسلیم کر لیا۔ جس پر موقع پر موجود سینکڑوں مسلمانوں نے مسرت کا اظہار کرتے ہوئے نعرہ تکبیر کے فلک شگاف نعرے لگائے۔ اس موقع پر بارہ قادیانیوں نے قادیانی مذہب سے تائب ہو کر اسلام قبول کر لیا۔ اسلام قبول کرنے والوں میں محمد بخش ولد صاحب خان، محمد یار ولد اللہ دتہ، اشرف بی بی دختر محمد یار، عبد العزیز بمعہ اہل خانہ، محمد بخش ولد سرور بخش، امیر عبداللہ ولد محمد یار، مستان بیوہ محمد مہر دانہ کے نام شامل ہیں۔

(ہفت روزہ لولاک فیصل آباد ص ۱۴، مورخہ ۲۱ / جولائی ۱۹۹۵ء)

راولپنڈی میں قادیانی و مسلم سوال و جواب

عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مبلغ مولانا محمد علی صدیقی اور قادیانی جماعت راولپنڈی کے امیر مجیب الرحمن کے مابین ایک بحث ہوئی جس پر قادیانی راہ فرار اختیار کر گئے۔ تفصیلات کے مطابق عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت راولپنڈی کے مبلغ مولانا محمد علی صدیقی کو چند مسلمان نوجوانوں نے آکر اطلاع دی کہ احمدیہ لائبریری میں آج قادیانیوں کی محفل سوال و جواب منعقد ہو گی۔ جس میں ہمیں دعوت دی گئی ہے اور ساتھ یہ بھی کہا کہ آپ جس کو مرضی لائیں ہماری طرف سے اجازت ہے۔ لہٰذا ہم آپ کو لینے آئے ہیں۔ آج بعد نماز مغرب احمدیہ لائبریری میں آپ ہمارے ساتھ چلیں اور ان پر سوالات کریں جس پر مولانا محمد علی صدیقی نے وہاں جانے کا وعدہ کیا اور حسب وعدہ بعد نماز مغرب وہاں پانچ ساتھیوں کے ہمراہ پہنچ گئے۔ قادیانیوں کے امیر مجیب الرحمن آداب محفل اور سوالات کے طریقہ کار بتا رہے تھے کہ سوالات لکھ کر کریں۔ سوالات کے جواب صحیح نہیں آرہے تھے اور آنے بھی کب صحیح تھے تو مولانا محمد علی صدیقی نے چٹ پر لکھ کر دیا کہ میں بالمشافہ سوالات کرنا چاہتا ہوں۔ جب بالمشافہ سوالات ہوئے تو مولانا کا پہلا سوال تھا:

مانتے ہیں۔ قادیانی: ہم مرزا کو مہدی موعود و مسیح موعود مانتے ہیں۔

قادیانی: دراصل مہدی اور مسیح دونوں ایک شخصیت کے نام ہیں۔ جیسے حدیث میں آرہا ہے کہ نہیں مہدی مگر عیسیٰ علیہ السلام ۔

بیسیوں سے زائد احادیث حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں ہیں کہ مسیح کون ہو گا اور ان احادیث کو تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے واضح فرمایا ہے کہ مہدی

صفحہ ۳۴۵

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۵ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

اور مسیح الگ الگ شخصیات ہیں اور آپ ایک حدیث کے ایک لفظ کو کیسے لیتے ہیں اور باقی تمام احادیث کا انکار کر دیتے ہیں۔ قادیانی: آپ بحث میں پڑ گئے اور ہمارا وقت ضائع کر رہے ہیں۔

قادیانی: کافی حضرات بیٹھے ہوئے ہیں انہوں نے بھی سوالات کرنے ہیں۔

قادیانی: نہیں! آپ بیٹھ جائیں۔

باکردار شخص ہوں گے یا بدکردار؟ قادیانی: مہدی اور مسیح باکردار ہوں گے۔

قادیانی: آپ جو حوالہ دیں گے میرے لئے بہت پرانا ہے۔

قادیانی: آپ سے بات اس وقت نہیں کوئی وقت مقرر کر لیتے ہیں پھر ہوگی۔

قادیانی: آپ ہماری محفل خراب کر رہے ہیں۔

قادیانی: اچھا تو ۲۸؍ مئی کی شام مغرب کے بعد بات ہوگی۔

قارئین بات طے ہو گئی کہ ۲۸؍ مئی ۱۹۹۵ء کی شام پھر احمدیہ لائبریری میں بات ہوگی اور جس دن یہ بات طے ہوئی۔ اس دن ۲۵؍ مئی تھی اچانک ۲۸؍ مئی بعد نماز ظہر ہمیں اطلاع دی گئی کہ بات چیت نہیں ہو سکتی۔ راقم نے فون پر مولانا صدیقی کو اطلاع دی۔ یہ ان کا ایک فرار کا بہانہ ہے۔ خیر کچھ احباب کو لے کر مولانا صدیقی احمدیہ لائبریری میں گئے تو آگے جو احباب ۲۵؍ مئی کی بات سوالات و جوابات سن چکے تھے۔ کافی تعداد میں موجود تھے۔ مولانا صدیقی کو دیکھ کر قادیانی قریب آئے۔ مولانا نے پوچھا کہ بھئی آپ کا مجیب کہاں ہے؟ کہنے لگے وہ تو موجود نہیں۔ مولانا نے فرمایا کہ پھر آپ تو فرار ہو گئے ہیں۔ اخبارات میں دیتا ہوں کہ قادیانی بحث سے فرار ہو گئے۔ اب لگے قادیانی مولانا صدیقی کی منت سماجت کرنے کہ دیکھئے جناب پھر کسی دن کریں گے۔ آج مجبوری ہو گئی۔

(ہفت روزہ لولاک فیصل آباد ص ۲۰، مؤرخہ ۴؍ اگست ۱۹۹۵ء)

مولانا زاہد الراشدی کا قادیانی گروہ کے سربراہ مرزا طاہر احمد کے نام کھلا خط

مرزا طاہر احمد صاحب سربراہ قادیانی جماعت، مقیم ٹلفورڈ لندن

السلام علی من اتبع الھدیٰ

گزارش ہے کہ ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اس سال پھر اپنی سالانہ رپورٹ میں پاکستان میں قادیانی جماعت کے مبینہ انسانی حقوق کی پامالی کا ذکر کیا ہے اور متعدد قادیانیوں کے خلاف درج مقدمات کو انسانی حقوق کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے حکومت پاکستان کو اس کا

صفحہ ۳۴۶

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۵ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

ملزم ٹھہرایا ہے۔ میں اس خط کے ذریعہ اسی اہم مسئلہ پر آپ سے مخاطب ہو رہا ہوں۔ کیونکہ یہ مسئلہ اس وقت نہ صرف مسلمانوں اور قادیانیوں کے مابین تنازعہ اور کشیدگی میں شدت کا باعث بنا ہوا ہے بلکہ بین الاقوامی اداروں اور لابیوں کے ہاتھ میں اسلام اور مسلمانوں کے خلاف ایک ہتھیار کی حیثیت اختیار کر گیا ہے۔ اس لئے ضروری معلوم ہوتا ہے کہ اس سلسلہ میں آپ کو حقائق و مسلمات کی طرف توجہ دلاتے ہوئے آپ سے کوئی ایسا معقول طرز عمل اختیار کرنے کی اپیل کی جائے جو اس کشیدگی میں کمی کا باعث بن سکے اور فریقین اپنی بہترین توانائیاں اور صلاحیتیں اس محاذ آرائی پر صرف کرنے کی بجائے انہیں مثبت مقاصد کے لئے استعمال میں لاسکیں۔ جناب مرزا صاحب آپ کے دادا مرزا غلام احمد قادیانی نے آج سے ایک صدی قبل نبوت کا دعویٰ کیا تھا اور نئی وحی الہی کے حوالے سے اپنی تعلیمات پیش کرنے کا آغاز کیا تھا۔ جسے امت مسلمہ کے تمام علمی و دینی حلقوں نے اسلام کے بنیادی عقیدہ ختم نبوت اور اس کی تیرہ سو سالہ اجتماعی تعبیر سے انحراف قرار دیتے ہوئے قبول کرنے سے انکار کر دیا تھا اور مرزا قادیانی اور ان کے پیروکاروں کو دائرہ اسلام سے خارج قرار دے کر ان سے مکمل لاتعلقی کا اعلان کیا تھا۔ جب کہ دوسری طرف مرزا قادیانی اور ان کے جانشینوں نے مرزا قادیانی پر نازل ہونے والی مبینہ وحی الہی پر ایمان لانے کو ضروری گردانتے ہوئے ایمان نہ لانے والوں یعنی دنیا بھر کے مسلمانوں کو اپنا ہم مذہب تسلیم کرنے سے صاف انکار کر دیا تھا اور اس طرح مسلمان اور قادیانی دونوں فریق اس نکتہ پر متفق ہو گئے تھے کہ دونوں گروہ ایک مذہب کے پیروکار نہیں ہیں بلکہ دونوں کا مذہب الگ الگ ہے اور ان میں مذہبی سطح پر کوئی نقطہ اتحاد موجود نہیں ہے۔ یہ ایک واقعاتی حیثیت ہی نہیں بلکہ مذاہب عالم کے درمیان ہزاروں سال سے کار فرما ایک مسلمہ اصول بھی ہے۔ جس کی بنیاد پر مذاہب ہمیشہ سے ایک دوسرے سے الگ شمار ہوتے چلے آرہے ہیں۔ لیکن قادیانی جماعت عملاً اس حقیقت اور اصول پر عمل پیرا ہونے کے باوجود خود کو مسلمان کہلانے پر اصرار کر کے اس اصول کی مسلسل خلاف ورزی کر رہی ہے جو مسلمانوں اور قادیانیوں کے مابین موجود تنازعہ اور کشیدگی میں اصل وجہ نزاع ہے۔ قادیانی جماعت کا کہنا یہ ہے کہ چونکہ وہ قرآن کریم اور حضرت محمد ﷺ پر ایمان رکھتی ہے۔ اس لئے اسے مسلمان کہلانے کا حق ہے۔ لیکن یہ مؤقف مذاہب عالم کے تاریخی تسلسل میں کسی طور پر بھی قابل قبول نہیں ہے۔ آپ خود تاریخ پر نظر ڈال لیجئے۔ یہودی حضرت موسیٰ علیہ السلام کی نبوت اور تورات پر ایمان رکھتے ہیں جب کہ عیسائی بھی ان دونوں پر ایمان رکھتے ہیں۔ لیکن ان کے بعد حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی نبوت اور انجیل کو بھی مانتے ہیں۔ اس لئے وہ حضرت موسیٰ علیہ السلام اور تورات پر ایمان رکھنے کے باوجود یہودی نہیں کہلاتے بلکہ ایک الگ مذہب کے پیروکار شمار ہوتے ہیں۔ اسی طرح مسلمان حضرت موسیٰ علیہ السلام اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام سمیت تمام انبیاء سابقین کی صداقت پر یقین رکھتے ہیں اور تورات، زبور اور انجیل سمیت تمام سابقہ کتب و صحائف کو سچا مانتے ہیں لیکن چونکہ وہ ان سب کے بعد حضرت محمد ﷺ کی نبوت اور قرآن کریم پر بھی ایمان رکھتے ہیں۔ اس لئے وہ نہ یہودی کہلا سکتے ہیں، نہ عیسائی بلکہ ان دونوں سے الگ ایک نئے مذہب کے پیروکار تسلیم کئے جاتے ہیں۔ یہ مذاہب عالم کا تاریخی تسلسل ہے جس سے انکار ممکن نہیں ہے اور مسلمانوں کا یہ مؤقف اسی تاریخ تسلسل کا حصہ ہے کہ قادیانی گروہ چونکہ مرزا غلام احمد قادیانی کی نبوت اور ان پر نازل ہونے والی مبینہ وحی پر ایمان رکھتا ہے اور اس ایمان کو اپنے مذہب میں شمولیت کی لازمی شرط قرار دیتا ہے۔ اس لئے وہ حضرت محمد ﷺ اور قرآن کریم پر ایمان کے دعوے کے باوجود ملت اسلامیہ کا حصہ نہیں ہے بلکہ ایک الگ اور نئے مذہب کا پیروکار ہے۔ مذاہب عالم کے مسلمہ اصول اور تاریخی تسلسل کے ساتھ مختلف مذاہب کے درمیان جداگانہ شناخت اور پہچان کے نقطۂ نظر سے بھی ضروری ہے کہ قادیانی گروہ چونکہ دنیا بھر کے مسلمانوں کو اپنا ہم مذہب تسلیم نہیں کرتا۔ اس لئے وہ ان سے اپنی شناخت الگ کرے اور الگ نام اختیار کرنے کے علاوہ وہ مذہبی علامات اور اصطلاحات بھی الگ وضع کرے تاکہ دونوں کے درمیان جداگانہ تشخص اور امتیاز قائم ہو جائے اور

صفحہ ۳۴۷

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۵ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

کوئی فریق دوسرے کے حقوق پر اثر انداز نہ ہو سکے۔ یہی وجہ ہے کہ علماء امت نے قادیانیوں کے بارے میں اس بات سے قطع نظر کہ نبوت کے نئے دعویداروں کے حوالہ سے جناب رسول اللہ ﷺ اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اور خلفاء راشدین کے طرز عمل کی روشنی میں ایک اسلامی حکومت کی ذمہ داری کیا ہے؟ مفکر پاکستان علامہ ڈاکٹر محمد اقبال کی تجویز پر صرف اس بات پر قناعت کر لی کہ مسلمانوں اور قادیانیوں کو مسلمانوں سے الگ ایک نئے مذہب کا پیروکار تسلیم کر لیا جائے۔ چنانچہ پاکستان میں قادیانیوں کو آئینی طور پر غیر مسلم اقلیت قرار دینے اور قانونی طور پر اسلام کا نام اور مسلمانوں کی مذہبی علامات واصطلاحات کے استعمال سے روک دینے کے اقدامات کئے گئے۔ جنہیں آج قادیانیوں کے انسانی حقوق کی پامالی کا عنوان دے کر ملت اسلامیہ اور پاکستان کے خلاف مسلسل مہم چلائی جارہی ہے۔

جناب مرزا صاحب! ”انسانی حقوق“ کے حوالے سے بھی دیکھا جائے تو اصل صورتحال اس سے مختلف ہے۔ کیونکہ مذہبی تشخص اور ملی شناخت کے تحفظ کا حق دوسرے مذاہب کے پیروکاروں کی طرح مسلمانوں کو بھی حاصل ہے اور انہیں مسلمہ طور پر یہ حق حاصل ہے کہ وہ کسی بھی ایسے گروہ کو اپنا نام استعمال نہ کرنے دیں اور اپنی مذہبی اصطلاحات وعلامات کے استعمال سے روکیں جو ان سے الگ مذہب رکھتا ہے اور وہ اپنا یہ جائز حق استعمال کر کے کسی پر زیادتی نہیں کر رہے اور نہ کسی کا کوئی حق پامال کر رہے ہیں جب کہ اس کے برعکس قادیانی جماعت اپنے مذہب کو مسلمانوں کی علامات واصطلاحات کے استعمال پر اصرار کر کے مسلمانوں کی مذہبی شناخت کو مجروح کر رہی ہے اور ان کے جدا گانہ مذہبی تشخص کو پامال کر رہی ہے جو دنیا بھر کے ایک ارب سے زائد مسلمانوں کے انسانی حقوق کی صریح خلاف ورزی ہے۔ قادیانی جماعت کا یہ طرز عمل مذاہب عالم کے تاریخی تسلسل اور مذاہب کے درمیان فرق امتیاز کے مسلمہ اصول سے انحراف ہے اور مسلمانوں اور قادیانیوں کے درمیان موجودہ تنازعہ اور کشیدگی میں یہی اصل وجہ نزاع ہے۔

اس ضمن میں مناسب معلوم ہوتا ہے کہ قادیانی جماعت کی دو معاصر تحریکوں کے طرز عمل کا بھی حوالہ دیا جائے۔ ایک امریکہ کے سیاہ فام لیڈر آلیج محمد کی تحریک ہے۔ جنہوں نے اسی صدی کے دوران اسلام قبول کرنے کا اعلان کیا لیکن ساتھ ہی نبوت کا دعویٰ کر دیا اور نئی مبینہ وحی کے حوالے سے اپنی تعلیمات پیش کیں، جنہیں ظاہر ہے کہ مسلمانوں نے مسترد کر دیا۔ آلیج محمد کے پیروکاروں کی ایک بڑی تعداد آج بھی موجود ہے لیکن اس کے فرزند جناب وارث دین محمد نے حق کے واضح ہونے کے بعد اپنے باپ کے غلط عقائد سے لاتعلقی کا اظہار کرتے ہوئے ملت اسلامیہ کے اجتماعی عقائد کو قبول کرنے اور امت کے اجتماعی دھارے میں شامل ہونے کا اعلان کر دیا اور آج وہ امریکہ میں صحیح العقیدہ مسلمانوں کے ایک بڑے گروہ کی قیادت کر رہے ہیں اور دوسری تحریک ایران کے بہائیوں کی ہے جس کے بانی محمد علی اور بہاء اللہ نے نبوت اور نئی وحی کا دعویٰ کیا۔ لیکن اس کے ساتھ ہی مذاہب عالم کے مسلمہ اصول کا احترام کرتے ہوئے اپنا نام اور مذہبی شناخت مسلمانوں سے الگ کر لی اور مسلمان کہلانے یا خود کو مسلمان کی صف میں شامل رکھنے پر اصرار نہیں کیا۔ یہی وجہ ہے کہ مذہب کے بنیادی اختلاف کے باوجود ان کے ساتھ مسلمانوں کا اس طرز کا کوئی تنازعہ موجود نہیں ہے جس طرح کا تنازعہ قادیانیوں کے ساتھ چل رہا ہے۔

جناب مرزا طاہر! یہ ایک نظر آنے والی واضح حقیقت ہے کہ مسلمانوں اور قادیانیوں کے درمیان موجود کشمکش کی اصل وجہ مذہب کا اختلاف نہیں بلکہ اختلافات کے منطقی نتائج کو تسلیم نہ کرنا ہے اور امر واقعہ ہے کہ اس کو تسلیم نہ کرنے کی تمام تر ذمہ داری قادیانی جماعت پر عائد ہوتی ہے۔ کیونکہ مسلمانوں کا موقف بالکل واضح ہے کہ قادیانی گروہ کا مذہب مسلمانوں کے مذہب سے الگ ہے۔ اس لئے وہ مسلمانوں کا نام اور اصطلاحات استعمال کر کے اشتباہ پیدا نہ کرے اور نہ ہی مسلمانوں کی دینی شناخت اور تشخص کو مجروح کرے بلکہ اپنے لئے الگ نام اور علامات واصطلاحات وضع کر کے اس کشیدگی کے خاتمہ کی طرف قدم بڑھائے۔ ان گزارشات کے ساتھ میں آپ سے یہ

صفحہ ۳۴۸

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۵ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

گزارش کرنا چاہتا ہوں کہ ایک غلط اور غیر منطقی موقف پر ضد کر کے نہ خود پریشان ہوں اور نہ مسلمانوں کو پریشان کریں بلکہ بہتر بات تو یہ ہے کہ جناب وارث دین محمد کی طرح غلط عقائد سے توبہ کر کے ملت اسلامیہ کے اجماعی عقائد کی بنیاد پر امت مسلمہ کے اجتماعی دھارے میں شامل ہو جائیں۔ آپ کے اس حقیقت پسندانہ فیصلہ سے پوری امت مسلمہ کی طرف سے خیر مقدم کیا جائے گا اور اگر یہ آپ کے مقدر میں نہیں ہے تو بہائیوں کی طرح اپنی مذہبی شناخت مسلمانوں سے الگ کر لیں اور پاکستان کی منتخب پارلیمنٹ کا جمہوری فیصلہ قبول کر کے غیر مسلم اقلیت کا جائز اور منطقی کردار اختیار کر لیں۔ اس کے سوا کوئی تیسرا راستہ معقولیت اور انصاف کا راستہ نہیں ہے اور نہ ہی آپ مغربی حکومتوں اور لابیوں کے سہارے کسی غلط اور نامعقول موقف کو مسلمانوں سے منوا سکتے ہیں۔ مجھے امید ہے کہ یہ گزارشات آپ کو مثبت اور صحیح رخ پر سوچنے کے لئے ضرور آمادہ کر سکیں گی۔ (والسلام علی من اتبع الھدیٰ) ابو عمار زاہد الراشدی چیئرمین ورلڈ اسلامک فورم خطیب مرکزی جامع مسجد گوجرانوالہ پاکستان، حال مقیم مدنی مسجد نوٹنگھم برطانیہ

(ہفت روزہ لولاک فیصل آباد ص ۱۵، ۱۶، مورخہ ۱۸؍اگست ۱۹۹۵ء)

وزیر داخلہ نصیر اللہ بابر کا قادیانیوں سے تعلق

ہفت روزہ ختم نبوت کراچی نے نومبر ۱۹۹۵ء کے اپنے شمارہ میں ذیل کا اداریہ تحریر کیا۔ گزشتہ مہینے ہم نے درج ذیل ادارتی نوٹ لکھا تھا:

کچھ عرصے سے یہ افواہ گشت کر رہی ہے کہ جنرل (ر) سروپ خان گورنر پنجاب اور جنرل (ر) نصیر اللہ بابر وزیر داخلہ کا اعتقادی و مذہبی تعلق قادیانی گروہ سے ہے۔ حتیٰ کہ ایسی افواہ اخبار کی زینت بھی بن گئی ہے۔ جیسا کہ روزنامہ امن کراچی مورخہ ۳۰؍ستمبر ۱۹۹۵ء کی خبر اس کی مظہر ہے۔ معاملہ اگر سیاسی اور انتظامی امور کا ہوتا تو ایسی افواہوں کی کوئی خاص اہمیت نہ ہوتی لیکن یہ معاملہ خالص دینی اور اسلامی عقیدہ کا ہے اور کراچی میں امن وامان کی غیر معمولی صورت حال، پنجاب میں سیاسی اکھاڑ پچھاڑ اور مالاکنڈ و باجوڑ کے علاقوں میں نفاذ شریعت کا مطالبہ کرنے والوں پر بے پناہ مظالم کے تناظر میں یہ معاملہ اور بھی اہمیت کا حامل ہو جاتا ہے۔ اس لئے ان ذمہ دار حضرات سے ہماری گزارش ہے کہ قبل اس کے کہ رائی پہاڑ کا روپ دھار لے۔ اس افواہ کی تردید ضروری ہے۔ کیونکہ بروقت تردید نہ کرنے کی صورت میں افواہ یقین کا درجہ حاصل کر سکتی ہے۔ پھر یہ تردید وغیرہ شائد زیادہ مؤثر ثابت نہ ہو سکے۔

ہماری اپیل صدا بصحرا ثابت ہوئی۔ وزارت داخلہ کی طرف سے اس اطلاع یا افواہ کی تردید کرنے کی ضرورت محسوس نہیں کی گئی۔ البتہ نوائے وقت ۲۸؍اکتوبر ۱۹۹۵ء میں درج ذیل خبر شائع ہو گئی جو وزیر داخلہ کے قادیانیوں کے ساتھ مذہبی تعلق کا اظہار ہے۔

”چکوال (نمائندہ نوائے وقت) وفاقی وزیر داخلہ میجر جنرل (ر) نصیر اللہ بابر کی ۲۳؍اکتوبر کو چکوال کے موضع دوالمیال میں اپنے قادیانی دوست کرنل ریٹائرڈ ممتاز احمد ملک کے جنازہ میں شرکت کی خبر پر علاقہ کے مذہبی حلقوں میں غم وغصہ کی لہر دوڑ گئی ہے“۔

کیا وزیر داخلہ یا ان کی وزارت کی طرف سے خاموشی کو یہی مفہوم دیا جائے کہ جس طرح سر ظفر اللہ خان علی الاعلان قادیانی ہونے کے باوجود پاکستان جیسے اسلامی ملک کا وزیر خارجہ بنا رہا۔ اب وزارت داخلہ پر اسی معنی میں نصیر اللہ بابر کو مقرر کر دیا گیا ہے۔ صدر مملکت کی ذمہ داری ہے کہ مسلمانوں کی حفاظت کی ذمہ دار وزارت پر ایسے شخص کی تقرری کا سخت نوٹس لیں جس کی ہمدردیاں مسلمان

صفحہ ۳۴۹

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۵ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

اکثریت کے بدترین دشمن گروہ قادیانیوں کے ساتھ اس حد تک زیادہ ہیں کہ ان کے جنازہ تک میں شرکت ضروری سمجھتا ہو۔ کراچی، باجوڑ اور مالاکنڈ وغیرہ کے بارے میں وزیر داخلہ کے بیانات اور عملی اقدامات کے اصل مفہوم کو قوم کچھ کچھ سمجھنے لگی ہے۔

(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ص ۵، نیز روزنامہ ختم نبوت کراچی ص ۵، مورخہ ۱۰ تا ۱۶ / نومبر ۱۹۹۵ء)

دولت خان کا مرزائیت سے اظہار نفرت

پشاور (نمائندہ خصوصی) ڈھیری شبقدر تحصیل چارسدہ کے موضع مٹہ مغل خیل کے ایک نوجوان مسمی دولت خان ولد حاجی عجب خان کو چند قادیانی غیر مسلموں نے مرزائیت کے کفریہ دام میں گرفتار کرنے کی غرض سے اسلامی عقائد خصوصاً حیات مسیح میں شبہات میں الجھا کر مرزا غلام احمد کذاب قادیانی کے قریب کر دیا تھا۔ مقامی علماء کرام نے ہر چند کوشش کی کہ دلائل سے اسے راہ راست پر لانے اور قادیانیت سے بچانے کی کوئی صورت پیدا ہو جائے لیکن گمراہ کن ”میں نہ مانو“ والی سخت روش سے مجبور ہو کر اس کے مرتد ہونے کا اعلان کر دیا۔ عوام میں مرزائیت کے خلاف غیض و غضب کو دیکھتے ہوئے مقامی انتظامیہ نے دولت خان مذکور کو اپنی پناہ میں لے کر قانونی کارروائی کی۔ مرزائی غنڈے اپنے شکار کی خاطر شبقدر پہنچے۔ جس میں پشاور کا عبدالرشید اور عبدالباسط وکیل غیر مسلموں کے علاوہ مردان کا ریاض احمد مرتد بھی شامل تھا۔ جہاں انہوں نے اپنے حکومت میں اثر و رسوخ کا رعب ڈالتے ہوئے مرزا غلام احمد قادیانی کی طرح گندگی اور غلیظ زبان استعمال کی۔ جس سے مسلمانوں میں اشتعال پیدا ہوا اور مشتعل ہجوم مرزائیوں پر ٹوٹ پڑا، رشید احمد قادیانی اور عبدالباسط وکیل قادیانی کو پولیس اپنی حفاظت میں لے کر بچانے میں کامیاب ہو گئی۔ مگر ریاض احمد قادیانی جو اچھل اچھل کر مسلمانوں پر حملہ کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔ ہجوم کو قابو میں کر کے مرزائی غنڈوں کی اس سازش کو ناکام بنا دیا کہ مقامی پولیس اور مسلمانوں میں تصادم ہو جائے۔ الحمدللہ! ہجوم، علماء کے تدبر کے باعث اس تصادم سے محفوظ رہا۔ اس واقعہ کی اطلاع ملتے ہی مولانا نور الحق نور کی قیادت میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کا وفد شبقدر پہنچا۔ علماء کرام علاقہ کے معززین سیاسی اور مذہبی تنظیموں کے زعماء سے مل کر مجلس نے سرتوڑ کوشش کی اور چند روز کی انتھک کوشش کی صورت میں عالمی مجلس کے ایک نمائندہ وفد نے شیخ القرآن مولانا عبدالسلام صاحب پشاور عالمی مجلس کے مرکزی مبلغ مولانا اللہ وسایا، مولانا محمد علی، مولانا نور الحق نور، سید رحیم شاہ شبقدر نے دولت خان سے ۲۹؍ مئی ۱۹۹۵ء کو جیل میں ملاقات کی اور تبلیغی انداز میں اس کے تمام شبہات قرآن وحدیث کی روشنی میں دور کرنے کے ساتھ ساتھ مرزائیوں اور مرزا غلام احمد قادیانی کی کتابوں سے اصل حوالہ جات دکھائے۔

اللہ تعالیٰ کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ مجلس کے علماء کی گفتگو سے دولت خان مکمل طور پر مطمئن ہو گیا۔ علماء کرام اور شبقدر کے سید رحیم شاہ کا شکریہ ادا کرتے ہوئے ایک تحریر کے ذریعہ دولت خان نے مرزا غلام احمد قادیانی اور اس کے جملہ پیروکاروں کے کفر کا اعلان کیا اور قادیانیوں سے ہر قسم کے تعلقات ختم کرنے کا بھی اعلان کیا۔

دولت خان کا تحریری بیان حلفی اسی پرچہ میں ملاحظہ فرمائیں:

بیان حلفی

میں دولت خان ولد حاجی عجب خان ساکن مٹہ مغل خیل شبقدر پشاور کے ڈاکٹر رشید احمد قادیانی کی مسلسل کوشش اور بریفنگ کے باعث حیات عیسیٰ پر شبہات میں مبتلا ہو کر ان کی جماعت جسے وہ جماعت احمدیہ کا نام دیتے ہیں، کی طرف مائل ہو چکا تھا۔ جس کے باعث

صفحہ ۳۵۰

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۵ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

گزشتہ دنوں شبقدر کے غیور مسلمانوں میں اشتعال پیدا ہوا اور سانحہ شبقدر رونما ہوا۔ جیل میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے وفد نے حضرت شیخ القرآن مولانا عبدالسلام کی قیادت میں ملاقات کی ۔ میں نے ان کے سامنے اپنے شبہات پیش کئے ۔ الحمد للہ ! حضرت شیخ القرآن اور مولانا اللہ وسایا نے قرآن اور حدیث اور مرزا غلام احمد کذاب قادیانی کی کتابوں سے میرے شبہات دور کر کے مجھے مطمئن کر دیا۔ آج میں پوری طرح مطمئن ہو کر اعلان کرتا ہوں کہ مرزا غلام احمد قادیانی ولد غلام مرتضیٰ کذاب مدعی نبوت اور جملہ پیروکار کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہے۔ میں یہ بھی اعلان کرتا ہوں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام آسمانوں میں زندہ ہیں اور قرب قیامت ان کا نزول ہوگا۔ محمد عربی ﷺ اللہ تعالیٰ کے آخری نبی ہیں اور آپ کے بعد ہر قسم کا مدعی نبوت اسلام سے خارج ہے۔ میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے علماء کرام اور خاص کر سید رحیم شاہ بادشاہ آف شبقدر کا بے حد مشکور ہوں۔ جن کی وجہ سے مجھے اطمینان نصیب ہوا۔ اللہ تعالیٰ مجھے استقامت نصیب فرمائے۔ میں یہ بھی اعلان کرتا ہوں کہ میں قادیانیوں سے کوئی تعلق نہیں رکھوں گا۔

(ہفت روزہ لولاک فیصل آباد ص۱۳، مورخہ ۲۱؍ جولائی ۱۹۹۵ء)

پہلا سالانہ ختم نبوت کورس چناب نگر

عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کا قیام ۱۹۳۹ء میں ہوا۔ ۱۹۵۴ء میں اس کا باقاعدہ انتخاب ہوا۔ اس زمانہ میں جہاں حضرت امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاری، خطیب پاکستان مولانا قاضی احسان احمد شجاع آبادی، متکلم اسلام مولانا محمد علی جالندھری، مقرر شعلہ نوا مولانا عبدالرحمن میانوی، مقرر شیریں بیان مولانا محمد شریف بہاول پوری ایسے خطیب حضرات پر یہ کاروان مشتمل تھا۔ وہاں مناظر اسلام مولانا لال حسین اختر، فاتح قادیان مولانا محمد حیات ایسے مناظرین بھی اس قافلہ میں شریک تھے۔ تب اس زمانہ میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام ایک شعبہ مرکزی دارالمبلغین کا قائم کیا گیا۔ دارالمبلغین نے مبلغین دین ومناظرین اسلام کی ایک کھیپ تیار کی جو اندرون و بیرون ملک عیسائیت و قادیانیت کے خلاف میدان مناظرہ کے شہسوار ثابت ہوئے۔ ان مناظرین کی جو مرکز میں دارالمبلغین ختم نبوت سے تیار ہوئے ان کی فہرست پیش کرنا مطلوب نہیں۔ اس کا صرف ایک خاکہ پیش کرنا مقصود ہے۔ اس وقت عالمی مجلس کے جتنے مبلغین ومناظرین ہیں۔ وہ سب اسی مرکزی دارالمبلغین کے فیض و تربیت یافتہ ہیں۔ مناظر اسلام مولانا عبدالرحیم اشعر، مولانا خدا بخش شجاع آبادی، مولانا جمال اللہ الحسینی، مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی، مولانا بشیر احمد صاحب سکھروی تو اس وقت عالمی مجلس کے شعبہ تبلیغ میں خدمات انجام دے رہے ہیں۔ دیگر حضرات ہر چند کہ وہ عالمی مجلس کے شعبہ تبلیغ سے وابستہ نہیں ہیں۔ دوسری جماعتوں یا اداروں میں کام کرتے ہیں مگر وہ اسی دارالمبلغین کے فیض یافتہ ہیں۔

جمعیۃ علماء اسلام میں مولانا محمد لقمان علی پوری، مولانا منظور احمد چنیوٹی، مولانا غلام مصطفیٰ بہاول پوری، مولانا غلام محمد، تنظیم اہل سنت میں مولانا قائم الدین مرحوم، مولانا قاضی عبدالطیف اختر، جمعیۃ علماء پاکستان میں مولانا صاحبزادہ فیض الحسن تنویر فقیر والی مرحوم، مولانا محمد یوسف چشتی لائل پوری، جمعیۃ اہل حدیث میں مولانا جمیل احمد، مجلس علماء اہل سنت کے نائب صدر مولانا سید منظور احمد شاہ حجازی یہ حضرات اس دارالمبلغین ختم نبوت کے تربیت یافتہ ہیں۔ اس زمانہ میں مناظر اسلام مولانا لال حسین اختر اور مولانا محمد حیات فاتح قادیان دارالمبلغین کے استاذ تھے۔ شیخ التفسیر حضرت مولانا احمد علی لاہوری کے دورۂ تفسیر لاہور، شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد عبداللہ درخواستی کے دورۂ تفسیر خان پور، شیخ القرآن مولانا غلام اللہ خان کے دورۂ تفسیر راولپنڈی میں ہر سال مناظر اسلام مولانا لال حسین اختر، فاتح قادیان محمد حیات صاحب، ان دورۂ تفسیر کے طلباء کو رد قادیانیت و رد عیسائیت پر تربیت دیتے تھے۔ یوں ہر سال

صفحہ ۳۵۱

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۵ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

ہزار ہا علماء کرام کی ایک جماعت کفر کی آنکھوں میں آنکھیں ملا کر مناظرہ کی صلاحیت سے بہرہ ور ہو جاتی تھی۔

اس کے علاوہ ہر سال عالمی مجلس کے زیر اہتمام مختلف عالمی مجلس کے مقامی دفاتر میں سہ روزہ، دس روزہ، مہینہ بھر کی تربیتی علاقائی کلاسیں بھی لگتی تھیں، جس میں علاقہ کے علماء و فضلاء تربیت حاصل کرتے تھے۔ بیرون ممالک میں مثلاً ہندوستان میں مولانا محمد یوسف امروہوی، مولانا محمد عمر حیدر آباد، جزائر فجی آئی لینڈ میں مولانا عبدالمجید، انگلستان میں مولانا سید محمد اسد اللہ طارق، عرب امارات میں مولانا محمد ہارون، بنگلہ دیش، امریکہ، افریقہ میں بھی عالمی مجلس کے مرکزی دارالمبلغین کے فضلاء دین اسلام کی خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔

خود عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت انگلستان کے مناظرین و مبلغین مولانا منظور احمد الحسینی، الحاج عبدالرحمٰن یعقوب باوا بھی اسی دارالمبلغین کے فیض نظر سے مستفیض ہوئے۔ جامعۃ الاسلامیہ علامہ بنوری ٹاؤن کراچی کے شعبہ افتاء میں مولانا مفتی محمد سعید الرحمٰن اور اسی طرح پورے ملک میں ہزار ہا علماء و مدرسین نے مرکزی دارالمبلغین کے چشمہ فیض سے اکتساب کیا۔ سالہا سال تک حضرت مولانا عبدالرحیم اشعر دامت برکاتہم جامعۃ العلوم الاسلامیہ کراچی میں سالانہ کلاس پڑھاتے رہے۔ بلا مبالغہ اس وقت پوری دنیا میں رد قادیانیت کے میدان میں کام کرنے والے تمام علماء و فضلاء بالواسطہ یا بلا واسطہ اس دارالمبلغین کے نظر کرم کے شناور ہیں (سوائے ایک دو سال کے عارضی انقطاع کے)

ہر سال ملتان دفتر مرکزیہ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت حضوری باغ روڈ ملتان میں سالانہ رد قادیانیت کورس کرایا جاتا رہا ہے۔ جس میں عالمی مجلس کے نائب امیر اول، محقق و مفکر اسلام مولانا محمد یوسف لدھیانوی، مولانا عبدالرحیم اشعر، مولانا محمد امین اوکاڑوی، مولانا بشیر احمد الحسینی، مولانا عبداللطیف مسعود، الحاج اشتیاق احمد، شیخ الحدیث حضرت مولانا فیض احمد صاحب ملتان والے اسباق پڑھاتے ہیں۔ اس سال عالمی مجلس کے مبلغین حضرات نے ایک فیصلہ کے مطابق دینی مدارس میں یک روزہ تربیتی اجتماعات کا اہتمام کیا گیا۔ بیسیوں دینی مدارس میں شریک علماء و طلباء نے ان سے خاطر خواہ فائدہ حاصل کیا۔ اسی طرح کے تربیتی اجتماعات کا بنگلہ دیش و انگلستان میں بھی اہتمام کیا گیا تھا۔ بنگلہ دیش کے ان تربیتی اجتماعات میں حضرت اقدس خواجہ خان محمد صاحب امیر مرکزیہ نے بھی شرکت سے حاضرین کو ممنون احسان فرمایا۔

(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ص ۱۷، مورخہ ۳۱/دسمبر ۱۹۹۳ء)

سالانہ رد قادیانیت کورس ربوہ

امسال پہلی مرتبہ مدرسہ ختم نبوت مسلم کالونی ربوہ میں سالانہ پندرہ روزہ رد قادیانیت کورس کا اہتمام کیا گیا۔ ۱۵/شعبان ۱۴۱۵ھ، مطابق ۱۸/جنوری ۱۹۹۵ء کو تعلیم شروع ہوئی۔ ۲۷/شعبان کو امتحانات ہوئے۔ ۲۸/شعبان ۱۴۱۵ھ مطابق ۳۱/جنوری ۱۹۹۵ء کو نتیجہ کا اعلان کیا گیا۔ کورس پڑھانے کے لئے حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی، حضرت مولانا محمد امین صفدر، حضرت مولانا بشیر احمد الحسینی، مولانا اللہ وسایا، مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی، حضرت مولانا عبداللطیف مسعود، حضرت مولانا زاہد الراشدی، جناب محمد متین خالد، الحاج اشتیاق حسین تشریف لائے۔ یومیہ آٹھ گھنٹے تعلیم ہوتی تھی۔ عشاء کے بعد کورس میں شریک حضرات کی تقریریں بھی کرائی جاتی تھی۔ صبح و شام ورزش کا بھی انتظام تھا۔ امسال کورس میں دیو بندی، بریلوی، اہل حدیث تینوں مکاتب فکر کے ساتھی جمع تھے۔ یونیورسٹی، اسکولز و کالجز اور دینی مدارس و جامعات کے رفقاء کا بہترین امتزاج یہ کورس تھا۔ پرائیویٹ و سرکاری ملازمین، حاضر سروس و ریٹائرڈ، مدرسین و مہتمم، خطباء و طلباء، سندھ، سرحد، بلوچستان، پنجاب، آزاد کشمیر سے کورس میں گلہائے رنگا رنگ جمع ہو کر حسین گلدستہ کی شکل اختیار کر گئے تھے۔ درمیان میں ایک دن حضرت الامیر خواجہ خان محمد صاحب کلاس کے معائنہ کے لئے تشریف لائے اور بھر پور دعاؤں سے نوازا۔ کورس میں ایک سو

صفحہ ۳۵۲

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۵ء ۳۵۲ ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

چھبیس رفقاء نے داخلہ لیا۔ تین ساتھی کثرت غیر حاضری کے باعث خارج کر دیئے گئے۔ تین امتحان میں شرکت نہ کر سکے۔ کل ایک سو بیس ساتھیوں نے امتحان میں حصہ لیا۔ تین ساتھی کامیاب نہ ہو سکے۔ باقی سب نے کامیابی حاصل کی۔ ٹوبہ ٹیک سنگھ کے قاضی احسان احمد نمبروں میں سے ۹۴ نمبر لے کر اوّل رہے۔ محمد صدیق شاہ صاحب ساہیوال سرگودھا کے دوم اور جناب واحد ہاشمی ربوہ سے سوم رہے۔

۲۸ شعبان ۱۴۱۵ھ کو نتائج کا اعلان کیا گیا۔ اوّل، دوم، سوم آنے والوں کو انعام دیئے گئے۔ شرکاء کورس میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی منتخب کتب کا ایک ایک سیٹ تقسیم کیا گیا (جو پانچ صد روپے کی مالیت کا تھا) اختتامی تقریب میں مہمان خصوصی حضرت شیخ الحدیث مولانا عبدالمجید صاحب مہتمم جامعہ باب الاسلام کہروڑ پکا، حضرت شیخ الحدیث مولانا نذیر احمد صاحب مہتمم جامعہ امدادیہ فیصل آباد تھے۔ حضرت مولانا نذیر احمد صاحب نے وجد آفریں علوم ومعارف پر مشتمل جامع بیان فرما کر سامعین کے ایمانوں کو جلا بخشی۔ حضرت مولانا عبدالمجید صاحب نے ایمان پرور دعا سے حاضرین کو فیضیاب کیا۔ دونوں بزرگوں نے تمام شرکاء کورس کو کتابوں کے سیٹ اور قرآن مجید اپنے مبارک ہاتھوں سے تقسیم فرمائے۔ چنیوٹ، ربوہ، احمد نگر، لالیاں سے علماء و دیگر احباب اختتامی تقریب میں شرکت کے لئے تشریف لائے۔ ربوہ کے تعلیمی اداروں کے مسلمان اساتذہ وطلباء نے بھی شرکت کی۔ وادی عزیز شریف کے سجادہ نشین کی نمائندگی ان کے صاحبزادہ صاحب نے فرمائی۔ اختتامی تقریب میں شریک رفقاء کی کثرت اور خوشی وانبساط کی کیفیات نے عید کا سماں پیدا کر دیا تھا۔ سوا بارہ بجے یہ تقریب اختتام کو پہنچی۔ اس کورس کے بحمدہ تعالیٰ بہت ہی مبارک اثرات مرتب ہوں گے۔ کھانے اور نماز کے بعد حضرت مولانا احمد یار صاحب امیر مجلس وہاڑی، حضرت مولانا محمد یوسف امیر مجلس نواں جنڈانوالہ، مولانا عبداللطیف مسعود ڈسکہ، مولانا فقیر اللہ اختر مبلغ گوجرانوالہ، مولانا غلام حسین مبلغ جھنگ، مولانا غلام مصطفیٰ انچارج ربوہ، جناب ساجد اعوان ایبٹ آباد، انچارج کلاس، نگران اعلیٰ جناب عثمان شاہد ایڈووکیٹ، نگران رانا محمد طفیل جاوید، جناب قاری عبدالواحد صاحب مدرس مدرسہ ختم نبوت ربوہ، طلباء مسلم کالونی کے مسلمانوں کی بہت بڑی تعداد نے ملک بھر سے آئے ہوئے مہمانان رسول مقبول ﷺ کو چشم پر نم اور دھڑکتے ہوئے دلوں سے رخصت کیا۔ کورس میں داخلہ لینے والے حضرات کے اسماء گرامی یہ ہیں۔

نمبر شمار نام تعلیم نمبر ایڈریس ۱ حافظ احمد عثمان شاہد موقوف علیہ، ایل۔ایل۔بی دفتر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت حضوری باغ روڈ ملتان ۲ محمد طفیل جاوید ایف۔اے دفتر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت حضوری باغ روڈ ملتان ۳ مولانا فقیر اللہ اختر دورۂ حدیث شریف دفتر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت اندرون سیالکوٹی گیٹ گوجرانوالہ ۴ مولانا عبدالعزیز دورۂ حدیث شریف دفتر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت خانیوال ۵ مولانا عبدالستار حیدری دورۂ حدیث ۵۰ موضع نند پورہ احمد پور شرقیہ بہاول پور ۶ مولانا رشید احمد زاہد درجہ عالیہ، ایف۔اے ۷۹ ٹکہ جیوڑی مانسہرہ ۷ محمد عاصم درجہ رابعہ ۵۷ محلہ کرم نگر گلی نمبر ۴ کھوکھر روڈ بادامی باغ روڈ لاہور ۸ سعید الرحمن درجہ رابعہ ۸۱ ابوبکر پارک بدر کالونی بادامی باغ لاہور ۹ عبدالشکور درجہ رابعہ، مڈل ۷۰ بلاک نمبر ۳ ڈیرہ غازیخان ۱۰ محمد نواز درجہ رابعہ، میٹرک ۶۱ چک نمبر ۱۰۰۔ ر۔ ب جڑانوالہ فیصل آباد

صفحہ ۳۵۳

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۵ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

۱۱ عاصم رشید میٹرک ۵۰ چک نمبر ۱۰۰-ر.ب جڑانوالہ فیصل آباد ۱۲ عبدالکریم میٹرک ۶۰ چک ایم۔بی-۸ نور پور روڈ خوشاب ۱۳ ایاز حسین درجہ چہارم ۶۵ مکان نمبر ۱۳۵۴ شادمان کالونی نوشہرہ کینٹ ۱۴ محمد موسیٰ میٹرک ۳۳ محلہ حیدری ہڑپہ ساہیوال ۱۵ محمد فاروق بی۔اے ۷۰ محلہ پنڈی گیٹ ختم نبوت جھنگ ۱۶ عبدالرؤف روفی بی۔اے پاک ملک شیک ایبٹ آباد روڈ مانسہرہ ۱۷ ساجد اعوان ایف۔اے دفتر ختم نبوت سکول روڈ نزد لکھ پتی چوک نواں شہر ایبٹ آباد ۱۸ ظفر محمود دورۂ حدیث ۶۰ چک ایل-۲۹/۳ لیاقت پور رحیم یار خان ۱۹ مولانا معین اللہ دورۂ حدیث ۵۰ باسیت خیل لکی مروت ۲۰ عبد الماجد دہم ۸۵ پاک ملک شیک ایبٹ آباد روڈ مانسہرہ ۲۱ محمد یوسف بی۔اے ۷۵ گورنمنٹ پرائمری سکول مانسہرہ، ڈب نمبر ۲ پکھوال روڈ مانسہرہ ۲۲ خلیل الرحمن ناز میٹرک ۶۲ محلہ ساتیاں آباد مانسہرہ یا فوٹو سروس چوک بازار مانسہرہ ۲۳ محمد لطیف سرور میٹرک ۷۸ چک نمبر ۱۸۹-ر.ب رسول پور فیصل آباد ۲۴ محمد افضل ایف۔اے ۷۳ فیروز وٹواں شیخوپورہ ۲۵ مولانا رحمت شاہ تکمیل ۴۷ ڈاکخانہ خیر خیرہ گاؤں پانس چوک پشاور ۲۶ مولانا محمد اسلم تکمیل ۷۳ ڈاکخانہ خیر خیرہ گاؤں پانس چوک پشاور ۲۷ حافظ محمد عمر طارق مشکوٰۃ ۶۶ معظم آباد بھلوال سرگودھا ۲۸ حافظ عبدالوارث انڈر میٹرک ۷۲ چک نمبر ۸۸-ج.ب فیصل آباد ۲۹ سیف الرحمن ایف۔اے ۷۲ فاروق آباد شیخوپورہ ۳۰ عرفان علی میٹرک ۷۵ فاروق آباد شیخوپورہ ۳۱ فیاض لطیف میٹرک ۷۲ راولہ کوٹ آزاد کشمیر ۳۲ عبدالقدوس ثالثہ، میٹرک ۸۰ ضلع باغ تحصیل دھیر کوٹ ڈاکخانہ سوہاوہ شریف جہالہ ٹوپہ معرفت عبدالحفیظ سوہاوہ ۳۳ زاہد محمود مشکوٰۃ ۸۶ گھٹالہ شکر گڑھ ۳۴ مرزا امجد پرویز بی۔اے ۶۸ چک چھٹھ گوجرانوالہ ۳۵ مولانا محمد سلیمان تکمیل ۴۵ مکان نمبر ۳۴۱۲ مین بازار خوشاب ۳۶ محمد زبیر ثالثہ ۷۰ چک نمبر ۳۳ شمالی سرگودھا ۳۷ محمد افضال ثالثہ ۷۰ محلہ راج والی چنیوٹ ضلع جھنگ ۳۸ اکرام ربانی عالیہ، میٹرک ۵۱ چک نمبر ۳۳ شمالی سرگودھا

صفحہ 352

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۵ء ۳۵۲ ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

۳۹ محمد ادریس الغنی ثالثہ ۶۵ گڑھا محلہ چنیوٹ ضلع جھنگ ۴۰ مولانا عبدالرشید اصغر ایف۔اے ۷۳ ڈھولن ہٹھار و خطیب ڈسٹرکٹ جیل قصور ۴۱ ذوالفقار حسین شاہ بی۔اے ۷۵ داتہ ضلع مانسہرہ ۴۲ محمد ارشد ثالث، میٹرک ۵۳ چک ۷۸ سرگودھا ۴۳ سردار علی ایف۔اے ۶۷ غنی پارک سرگودھا ۴۴ اکرام الحق ایف۔اے ۷۷ غنی پارک سرگودھا ۴۵ عبدالرحمٰن خامسہ، میٹرک ۶۷ شورکوٹ جھنگ ۴۶ حافظ غلام علی عربی فاضل محلہ عثمان آباد چنیوٹ ضلع جھنگ ۴۷ عبدالستار خامسہ ۵۸ چک نمبر ۱۶۔ایم۔ایل پپلاں ضلع میانوالی ۴۸ عبدالرزاق میٹرک ۶۰ محلہ مغل پور چک جھمرہ فیصل آباد ۴۹ محمد اکرم خامسہ ۵۳ سمہ سٹہ بہاول پور ۵۰ محمد عمر چاریاری رابعہ، پرائمری ۶۰ محلہ عمر آباد جھنگ روڈ لالیاں تحصیل چنیوٹ ضلع جھنگ ۵۱ محمد صدیق شاہ میٹرک ۹۰ بیرون کابلی گیٹ سرکلر روڈ ساہیوال ضلع سرگودھا ۵۲ محمد رفیق دورۂ حدیث ۳۸ چک نمبر ۳۷ بھکر ۵۳ انعام ربانی درجہ عالیہ ۴۸ ۳۳/شمالی سرگودھا ۵۴ محمد عثمان ثالثہ ۵۰ ۳۳/شمالی سرگودھا ۵۵ عبدالستار خوشابی ۳۵ محلہ جھوک بادشاہ ۵۶ عمر فاروق موقوف علیہ ۷۸ کریم پارک پنڈ دادن خان ضلع جہلم ۵۷ رضوان احمد ۵۰ دارالرحمت غربی مسلم کالونی چناب نگر ضلع جھنگ ۵۸ محمد ریاض ۶۸ بمقام احمد نگر تحصیل چنیوٹ ضلع جھنگ ۵۹ قاری عبدالواحد مخدوم سبعہ عشرہ ۶۶ ڈاورنزہ چناب نگر ضلع جھنگ ۶۰ عبداللطیف عالیہ ۴۸ چک نمبر ۹۴۔این۔بی ڈاکخانہ خاص تحصیل چنیوٹ ضلع جھنگ ۶۱ محمد ذاکر مخدوم پرائمری چاہ مخدوماں نزد چناب نگر ضلع جھنگ ۶۲ حافظ محمد یوسف عالیہ ۴۱ موضع گل کھک ضلع مظفر گڑھ ۶۳ محمد جان عالیہ، میٹرک ۶۷ شہداد کوٹ لاڑکانہ ۶۴ عبدالکریم عالمیہ میٹرک ۴۴ چڑہٹہ ڈیرہ غازی خان ۶۵ محمد یونس علی عالیہ ۸۸ ایل ۱۵۲ سرجانی ٹاؤن کراچی شہر ۶۶ محمد حمزہ عالیہ ۶۶ خیر المدارس ملتان

صفحہ ۳۵۵

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۵ء

ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

۶۷ قاضی عقیل حسنین موقوف علیہ ۶۲ بمقام چوہال ڈاکخانہ فاروقیہ شاہ پور سرگودھا

۶۸ جان محمد چنا ایم۔اے ۶۹ نوڈیرو لاڑکانہ

۶۹ عبدالقدیر عالیہ ۴۳ گوٹھ سٹھار جا خیر پور میرس

۷۰ فقیر اقبال سومرو ایم۔اے ۵۱ سومرو حویلی گجن پور چوک نوڈیروڈ لاڑکانہ سندھ

۷۱ محمد زبیر فاروقی دورۂ حدیث ۶۲ کریم داد قریشی بستی ٹبی لنڈی غربی ضلع مظفر گڑھ

۷۲ صنوبر خان میٹرک غنی پارک سرگودھا

۷۳ محمد افضل میٹرک ۵۵ موضع بھجوانہ ضلع سرگودھا

۷۴ مولانا احمد یار خطیب جامع مسجد غلام غوث وہاڑی

۷۵ ماسٹر ملک محمد حیات گورنمنٹ ہائی سکول ہست کھیوہ جھنگ

۷۶ صفدر احمد ۱۶ جامع مسجد فاروقیہ شرقی روڈ شیخوپورہ

۷۷ طاہر اختر ۶۹ جامع مسجد فاروقیہ شرقی روڈ شیخوپورہ

۷۸ محمد ثاقب میٹرک ۳۳ سورج آباد گاؤں شیخوپورہ

۷۹ مولانا عبد الواحد تکمیل

۸۰ صابر علی میٹرک ۶۰ محلہ منصور آباد گلی نمبر ۹ مکان نمبر ۶۳۵ فیصل آباد

۸۱ مولانا محمد یوسف تکمیل ۶۵ مدرسہ عربیہ اسلامیہ مدینۃ العلوم نواں جنڈانوالہ ضلع بھکر

۸۲ مولانا احسان الحق تکمیل ۶۵ مدرس مدرسہ تعلیم القرآن نواں جنڈانوالہ ضلع بھکر

۸۳ قاری فتح محمد تکمیل ۵۰ خطیب جامع مسجد بلال نواں جنڈانوالہ ضلع بھکر

۸۴ قاری محمد اختر حافظ قرآن ۵۲ مدرس تعلیم القرآن نواں جنڈانوالہ ضلع بھکر

۸۵ ماسٹر محمد نواز ایف۔اے ۶۶ بمقام چھنی گھلا ڈاکخانہ قادر آباد کالونی ضلع حافظ آباد

۸۶ عبدالرحمن نسیم موقوف علیہ ۶۸ جامعہ رحمانیہ ٹوبہ ٹیک سنگھ

۸۷ محمد شفیق ناصر موقوف علیہ ۷۰ جامعہ رحمانیہ ٹوبہ ٹیک سنگھ

۸۸ زبیر الحسن نقوی میٹرک ۶۸ جامعہ رحمانیہ تیزاب ملز جڑانوالہ روڈ فیصل آباد

۸۹ شمشاد حسین رابعہ ۷۴ چک نمبر ۳ تحصیل بھلوال ضلع سرگودھا

۹۰ خالد محمود بنوری ایف۔اے ۶۴ ساکنہ نارائن کوری ڈاکخانہ اکٹڑا ضلع کمیلا (بنگلہ دیش)

۹۱ مزمل احمد میٹرک ۷۹ دفتر مجلس تحفظ ختم نبوت مسلم کالونی ضلع جھنگ

۹۲ مشتاق احمد معاویہ رابعہ ۶۵

۹۳ محمد حنیف ساجد رابعہ ۶۴ ۱۔ ایل شیر گڑھ روڈ تحصیل رینالہ خورد اوکاڑہ

۹۴ قاضی محمد فقیر اللہ خامسہ ۵۷ ڈھولن چک نمبر ۷ ڈاکخانہ خاص تحصیل چونیاں ضلع قصور

صفحہ ۳۵۶

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۵ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

۹۵ عبدالرزاق خامسہ ۷۶ آف کوٹلہ جام تحصیل و ضلع بھکر

۹۶ عمر فاروق خامسہ ۶۷ مدرسہ عربیہ تجوید القرآن جلہ جیم تحصیل میلسی ضلع وہاڑی

۹۷ مولانا ضیاء الدین تکمیل ثناء اللہ کلاتھ ہاؤس تھانہ روڈ ژوب (سرحد)

۹۸ ملک محمد ساجد محمود ارشد خامسہ ۷۳ بمقام ڈاکخانہ پیڑہ فتحیال تحصیل تلہ گنگ ضلع چکوال

۹۹ واجد علی ہاشمی میٹرک ۸۹ موضع چھبیاں نزد چناب نگر ضلع جھنگ

۱۰۰ سید فیض الحسن شاہ مڈل ۲۶ موضع چھبیاں نزد چناب نگر ضلع جھنگ

۱۰۱ عبدالقادر میٹرک توحید آباد صادق آباد ضلع جیکب آباد

۱۰۲ محمد آصف شاہ ایف۔اے وساوے والا ضلع اوکاڑہ

۱۰۳ ماسٹر محمد علی بی۔اے وساوے والا ضلع اوکاڑہ

۱۰۴ محمد شمعون بٹ بی۔اے ۳۵ اسلام پورہ ضلع سرگودھا

۱۰۵ محمد منصور ایف۔اے ۶۴ ۱۰۹ صدر بازار کینٹ ایریا گوجرانوالہ

۱۰۶ قاضی احسان احمد سادسہ ۹۳ ۳۰۔ اقبال نگر ٹوبہ ٹیک سنگھ

۱۰۷ عبدالرحمن منور مشکوۃ ۳۵ کوٹھی نمبر ۱۹۴ بلاک اے سیٹلائٹ ٹاؤن سرگودھا

۱۰۸ شہاب الدین خامسہ ۶۰ ای۔۷ جامعہ فریدیہ اسلام آباد

۱۰۹ محمد حفیظ عالیہ ۶۲ باب العلوم کہروڑ پکا ضلع لودھراں

۱۱۰ ثناء الرحمن خامسہ ۶۶ گلگشت کالونی ملتان

۱۱۱ محمد یوسف میٹرک ونوئی والا ڈاور نزد چناب نگر ضلع جھنگ

۱۱۲ محمد طارق ۴۷ چک نمبر ۱۰۸۔ ایل آر شرقی تحصیل چیچہ وطنی ضلع ساہیوال

۱۱۳ شوکت علی جھنگ شہر

۱۱۴ محمد اشرف ربانی میٹرک ۵۹ کوٹ حسین تحصیل و ضلع شیخوپورہ

۱۱۵ عبدالمنان اثری میٹرک ۵۹ محلہ کٹڑہ احمد خان تحصیل احمد پور شرقیہ

۱۱۶ عبدالشکور عابد ثانیہ، پرائمری ۶۳ چک نمبر ۸۸ وریکیاں والا ساہیوال

۱۱۷ خان محمد تحصیل نوشہرہ ورکاں ضلع گوجرانوالہ

۱۱۸ شمس الحق خامسہ ۵۶ جامعہ انوار القرآن ۱۱-سی-۱، آدم ٹاؤن نارتھ کراچی نمبر ۳۶

۱۱۹ عبدالستار ربانی دورۂ حدیث ۳۲ موضع مندن ڈاکخانہ جلہ جیم میلسی ضلع وہاڑی

۱۲۰ سیف اللہ ۴۴ معرفت ملک اللہ دتہ

۱۲۱ آفتاب احمد ۶۴ بلاک نمبر ۴ مکان نمبر ۵/۶۴۳ سلانوالی سرگودھا

۱۲۲ مولوی عبدالرحمن ۵۵ محلہ پرانی عید گاہ وارڈ نمبر ۸ گلی نمبر ۵ مکان نمبر ۴۱۸ جھنگ

صفحہ ۳۵۷

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۵ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

۱۲۳ محمد راشد مدرسہ عربیہ صدیق اکبر کالونی بیکر روڈ ٹنڈو الہ یار (سندھ) ۱۲۴ محمد موسیٰ ایف۔اے ۶۲ نزد واپڈا ہاؤس ظفروال تحصیل و ضلع نارووال ۱۲۵ قاری اللہ داد ۶۰ جامع مسجد ڈی بلاک ماڈل ٹاؤن لاہور ۱۲۶ عدنان خان ۰۹ شہزادہ فلنگ اسٹیشن شنکیاری روڈ نزد زیارت کھر مانسہرہ

کارروائی اجلاس مبلغین عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت

مبلغین کی سہ ماہی میٹنگ کے کئی دورانئے ہوئے۔ آخری اجلاس کی صدارت حضرت الامیر (مولانا خواجہ خان محمد) مدظلہُم نے فرمائی۔ جب کہ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی مبلغین کا پہلا اجلاس مولانا محمد اکرم طوفانی کی صدارت میں مؤرخہ ۱۱ شوال المکرم ۱۴۱۵ھ، مطابق ۱۳/ مارچ ۱۹۹۵ء بعد نماز ظہر منعقد ہوا۔ جس میں مولانا عزیز الرحمن جالندھری، مولانا اللہ وسایا، مولانا خدا بخش (ملتان)، مولانا جمال اللہ الحسینی (پنوں عاقل)، مولانا عبدالرزاق مجاہد، مولانا عبدالکریم (پرمٹ)، مولانا احمد بخش (رحیم یار خان)، مولانا محمد نذر (حیدر آباد)، حافظ عبدالوہاب (حافظ آباد)، حافظ محمد ثاقب، مولانا فقیر اللہ اختر (گوجرانوالہ)، مولانا عبدالخالق (ساہیوال)، مولانا امام الدین قریشی (علی پور)، مولانا غلام مصطفیٰ (ربوہ)، مولانا غلام حسین (جھنگ)، مولانا راشد مدنی (ٹنڈو آدم)، مولانا عبدالعزیز (خانیوال)، مولانا حفیظ الرحمن (ٹنڈو آدم)، مولانا محمد علی صدیقی (راولپنڈی)، مولانا اسحاق ساقی (بہاول پور)، مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی (لاہور) نے شرکت کی۔ مولانا عزیز الرحمن جالندھری نے مبلغین سے خطاب کرتے ہوئے مسئلہ ختم نبوت کی اہمیت بیان کی۔ مولانا نے فرمایا کہ ختم نبوت کا کام یوں تو فرض کفایہ ہے۔ لیکن مبلغین کے لئے فرض عین ہے۔ مولانا جالندھری نے مبلغین کو ہدایات دیتے ہوئے فرمایا کہ آپ حضرات کے لئے مطالعہ از حد ضروری ہے۔ مرزائیت کے دجل و فریب اور ان کے جوابات اور جدید اشکالات اور ان کی تردید کرنا چاہئے۔ تردیدی کتب پر عبور حاصل کرنا ضروری ہے۔

فتنہ قادیانیت کے خلاف جدوجہد نئے جوش و جذبہ اور ولولہ سے کرنا چاہئے:

صفحہ ۳۵۸

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۵ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

میں مجلس کے رفقاء نے بھرپور حصہ لیا۔ مؤرخہ ۸؍ مارچ ۱۹۹۵ء کو لاہور میں مولانا عبدالستار خاں نیازی کی صدارت میں تمام مکاتب فکر کے علماء کرام اور مشائخ عظام کا اجلاس منعقد ہوا۔ جس میں مجلس کی نمائندگی مولانا اللہ وسایا، مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی نے کی۔ اجلاس میں فیصلہ پر عدم اعتماد کا اظہار کیا گیا۔ گستاخ رسول کی سزا ختم کرنے کے لئے حکومتی کوششوں پر نفرت کا اظہار کیا گیا۔ فیصلہ ہوا کہ ۱۹؍ مارچ تک ملک بھر میں احتجاجی جلسے، جلوس، مظاہرے کئے جائیں۔ اگر ۱۹؍ مارچ تک حکومت گستاخ رسول کے مسئلہ میں واضح پالیسی کا اعلان نہ کرے تو ۲۸؍ مارچ کو ملک بھر میں ہڑتال کی جائے۔ مبلغین ختم نبوت کے مذکورہ بالا فیصلہ کی توثیق کرتے ہوئے فیصلہ کیا کہ ناموس رسالت کے تحفظ کے لئے جان کی بازی تک لگا دی جائے گی اور ۲۸؍ مارچ کی ہڑتال کو کامیاب بنانے کے لئے بھرپور محنت کی جائے گی۔

ختم نبوت کانفرنسیں: اجلاس میں طے پایا کہ یکم تا ۴؍ اپریل اسلام آباد، راولپنڈی، کہوٹہ، دوالمیال ضلع چکوال، صدارت حضرت الامیر دامت برکاتہم، خطاب، مولانا عزیز الرحمن جالندھری، مولانا اللہ وسایا، مولانا خدا بخش، مولانا محمد علی صدیقی، اورنگزیب اعوان۔ ۶؍ اپریل ڈیرہ مراد جمالی۔ ۷؍ اپریل جیکب آباد۔ ۸؍ اپریل ٹنڈو جام۔ ۹؍ اپریل جیمس آباد۔ ۱۰؍ اپریل سانگھڑ۔ مقررین: مولانا اللہ وسایا، مولانا احمد میاں حمادی، مولانا جمال اللہ الحسینی، مولانا حفیظ الرحمن، مولانا راشد مدنی و دیگر مقامی علماء کرام۔ ۷؍ اپریل جامع مسجد بگڑ والی خوشاب۔ مقررین: مولانا اللہ وسایا، مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی۔ ۸؍ اپریل جامع مسجد پہلو وینس خوشاب۔ مولانا محمد اکرم طوفانی، مولانا خدا بخش۔ ۷؍ اپریل جامع مسجد روڈہ خوشاب خطبہ جمعہ مولانا غلام مصطفیٰ ربوہ۔ ۸؍ اپریل خانقاہ ڈوگراں۔ مولانا اللہ وسایا، مولانا محمد اکرم طوفانی، مولانا خدا بخش، مولانا غلام مصطفیٰ ربوہ، مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی۔ ۱۳؍ اپریل نور پور تھل۔ ۱۴؍ اپریل دیپالپور۔ مولانا اللہ وسایا، مولانا سید ضیاء اللہ شاہ بخاری جنرل سیکرٹری، متحدہ جمعیت اہل حدیث پاکستان (ساہیوال)، مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی، مولانا عبدالرزاق مجاہد۔ ۲۱؍ اپریل ساہیوال۔ مولانا اللہ وسایا، مولانا خدا بخش، مولانا عبدالخالق رحمانی، مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی۔ ۲۲؍ اپریل پاکپتن شریف۔ مذکورہ بالا علماء کرام خطاب فرمائیں گے۔ ۲۷؍ اپریل شکرانی اچ شریف۔ مقررین: مولانا اللہ وسایا، مولانا خدا بخش، مولانا عبد الکریم ندیم خانپور، مولانا امام الدین قریشی، مولانا محمد اسحاق ساقی، حافظ احمد بخش رحیم یار خان۔

تربیتی کلاسز: عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی مبلغین کے اجلاس منعقدہ ۱۳، ۱۴؍ مارچ میں فیصلہ کیا گیا کہ امسال عصری تعلیمی اداروں کی گرمیوں کی چھٹیوں میں صوبہ پنجاب اور سندھ کے مختلف علاقوں میں تربیتی کلاسز کا انتظام کیا جائے گا۔ جس میں تعلیمی اداروں کے اساتذہ کرام، طلباء اور مساجد کے ائمہ خطباء کو قادیانیت کے دجل وفریب سے آگاہ کیا جائے گا تاکہ مسلمان اساتذہ کرام اور طلباء کو دلائل سے مسلح کیا جاسکے۔

جائے گا۔

زندگی سے تعلق رکھنے والے حضرات تربیت حاصل کر چکے ہیں۔ چنانچہ امسال ربوہ کے مرکزی دارالمبلغین میں ۱۲۶ (ایک سو چھبیس) علماء کرام، خطباء عظام اور مختلف تعلیمی اداروں کے اساتذہ، ریٹائرڈ حاضر سروس ملازمین نے شرکت کی۔ احباب کے ذوق وشوق اور ضرورت واہمیت کے پیش نظر گرمیوں کی چھٹیوں میں تربیتی کلاسوں کا انتظام کیا جائے گا۔ تفصیل حسب ذیل ہے:

صفحہ ۳۵۹

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۵ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

لاہور: یکم تا ۵/ جولائی جامع مسجد عائشہ مسلم ٹاؤن۔ مولانا اللہ وسایا، مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی، مولانا حافظ عبدالرحمن شاہ جمالی۔

جھنگ: ۶ تا ۸/ جولائی تین روز۔ مولانا خدا بخش، مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی۔

سرگودھا: ۶ تا ۸/ جولائی تین روز۔ مولانا اللہ وسایا، مولانا محمد اکرم طوفانی۔

گوجرانوالہ: ۹ تا ۱۱/ جولائی۔ مولانا اللہ وسایا۔

اسلام آباد: ۱۲ تا ۱۴/ جولائی۔ استاذ مولانا اللہ وسایا۔

اوکاڑہ: ۹، ۱۰/ جولائی۔ مولانا خدا بخش، مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی۔

ساہیوال: ۱۱، ۱۲/ جولائی۔

بہاول نگر: ۱۳، ۱۴، ۱۵/ جولائی۔

بہاول پور: ۱۶، ۱۷/ جولائی۔

پرمٹ علی پور: ۱۸، ۱۹، ۲۰/ جولائی۔ مولانا خدا بخش، مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی لیکچر دیں گے۔ اجلاس میں طے کیا گیا کہ تربیتی کلاسوں میں شرکت کرنے والے حضرات کے اوقات سے خوب استفادہ کیا جائے۔ لیکچرز کے علاوہ مختلف مساجد میں عوامی اجتماعات اور مدارس عربیہ میں دینی طلباء و اساتذہ سے بھی خطاب کے مواقع فراہم کئے جائیں۔

(ہفت روزہ لولاک فیصل آباد ص۲۰، ۲۱، مورخہ ۷/اپریل ۱۹۹۵ء)

عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مبلغین کے تبلیغی دورے، خوشاب، روڈہ، خانقاہ ڈوگراں

(نمائندہ خصوصی) عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی مبلغین کے اجلاس منعقدہ ۱۱، ۱۲/ شوال المکرم ۱۴۱۵ھ کے فیصلہ کے مطابق مختلف علاقوں میں تبلیغی پروگرام رکھے گئے۔ مورخہ ۶/ ذیقعدہ ۱۴۱۵ھ مطابق ۷/ اپریل ۱۹۹۵ء جمعتہ المبارک کو خوشاب ضلع میں تین تبلیغی پروگرام رکھے گئے۔ جامع مسجد بگڑوالی خوشاب میں جمعتہ المبارک کی نماز سے قبل ختم نبوت تربیتی نشست تھی۔ جس کی صدارت قاری سعید احمد اسعد نے کی۔ جب کہ مولانا محمد اکرم طوفانی اور شیخ جہانگیر سرور ایڈووکیٹ سرگودھا نے نوجوانوں کے عظیم اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا وہ اپنی زندگیاں عقیدۂ ختم نبوت کے تحفظ اور قادیانیت کے تعاقب کے لئے وقف کر دیں۔ انہوں نے کہا نوجوان اگر اٹھ کھڑے ہوں تو دنیا کائنات کی کوئی طاقت قادیانیوں کو مسلمانوں کے غیظ و غضب سے نہیں بچا سکتی۔

مناظر ختم نبوت مولانا خدا بخش نے جامع مسجد روڈہ میں خطبہ جمعہ ارشاد فرمایا۔ تیسرا پروگرام پیلو وینس علاقہ تھل ضلع خوشاب کی جامع مسجد صدیق اکبر میں تھا جس میں مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی اور مولانا غلام مصطفیٰ ربوہ نے شرکت کی۔ جامع مسجد مذکور کے خطیب مولانا عبدالستار نے وفد کا پرجوش خیر مقدم کیا۔ خانقاہ ڈوگراں، جامع مسجد رسول نگر خانقاہ ڈوگراں میں تیسری سالانہ عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی جس کی صدارت یادگار اسلاف مولانا خان محمد فاضل دیوبند نے کی۔ جب کہ کانفرنس سے جامعہ محمودیہ شیخوپورہ کے مہتمم مولانا عبد الہادی نے خطاب کرتے ہوئے تحریک ختم نبوت کے سلسلہ میں علماء حقہ کی عظیم الشان قربانیوں کا تذکرہ کیا۔ مجاہد ختم نبوت مولانا محمد اکرم طوفانی نے اپنے ولولہ انگیز خطاب میں سامعین سے عہد لیا کہ وہ عظمت رسالت کے لئے مرزائیوں سے معاشی، اقتصادی، معاشرتی بائیکاٹ کر کے عشق رسالت مآب ﷺ کا عملی ثبوت دیں گے۔ مولانا خدا بخش نے خطاب کرتے ہوئے حکومت سے کہا کہ وہ مسلمانان

صفحہ ۳۶۰

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۵ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

پاکستان کے ایمان کا امتحان نہ لے۔ انہوں نے کہا کہ مسلمان ناموس رسالت کے تحفظ کے لئے کسی بھی بڑی سے بڑی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے۔ مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی نے آخر میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم رسول اللہ ﷺ کی عزت و ناموس کے تحفظ کے لئے اپنے خون کا آخری قطرہ تک پیش کر دیں گے۔

(ہفت روزہ لولاک فیصل آباد ص۲۲، مورخہ ۲۶؍اپریل ۱۹۹۵ء)

ختم نبوت کانفرنس حویلی لکھا

عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت حویلی لکھا کے زیر اہتمام جامع مسجد ربانیہ اہل حدیث میں عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس مورخہ ۱۴؍ اپریل ۱۹۹۵ء بروز جمعتہ المبارک بعد نماز عشاء منعقد ہوئی۔ جس کی صدارت متحدہ جمعیتہ اہل حدیث کے راہنما چاچا محمد شریف نے کی۔ کانفرنس کی کامیابی کے لئے مولانا عبدالرزاق مجاہد اوکاڑہ سے اور حاجی اللہ دتہ مجاہد قصور سے چار روز تک شب روز مصروف عمل رہے۔ جب کہ مقامی سطح پر چاچا محمد شریف، حکیم محمد سعید نے بھر پور تعاون کیا۔ کانفرنس ”وساوے والا“ آبائی گاؤں میاں منظور احمد وٹو وزیر اعلیٰ پنجاب میں گزشتہ سال نومبر میں قادیانیوں کی طرف سے ”سالانہ جلسہ“ کے جواب میں تھی جو کہ وزیر اعلیٰ پنجاب کے قادیانی باپ کی نگرانی و سرپرستی میں دو روز تک جاری رہا۔ اس کے خلاف مولانا سید امیر حسین گیلانی کی سرکردگی میں مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی، مولانا عبدالرزاق مجاہد پر مشتمل ایک وفد نے ایس۔ پی اوکاڑہ کو درخواست دی اور قادیانیوں کے خلاف آئین پاکستان کی دفعہ نمبر ۲۹۸-سی کے تحت کارروائی کا مطالبہ کیا۔

کانفرنس میں مسلمانان ”حویلی لکھا، وساوے والا“ کے جذبات دیدنی تھے۔ کانفرنس سے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی راہنما مولانا اللہ وسایا نے خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ قادیانیت کے متعفن لاشے کو آنجہانی ظفر اللہ خان کی وزارت خارجہ، ایم۔ ایم احمد کی منصوبہ بندی فائدہ نہیں پہنچا سکتی تو منظور احمد وٹو کی وزارت عالیہ بھی فائدہ نہیں دے سکے گی۔ انہوں نے وزیر اعلیٰ پنجاب سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنے قادیانی باپ کو آئین و قانون کا پابند بنائیں۔ ورنہ اگلے الیکشن میں وہ اپنی قادیانیت نوازی کی وجہ سے کامیاب نہیں ہو سکیں گے۔ مجاہدین ختم نبوت ان کا بھر پور تعاقب کریں گے اور آئندہ انہیں وزیر اعلیٰ ہاؤس کی ہوا نصیب ہو گی۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت لاہور کے مبلغ مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی نے خطاب کرتے ہوئے تحریک ختم نبوت کے لئے مسلمانان برصغیر کی ایک سو سالہ طویل کارکردگی، جدوجہد، کامیابیوں پر تفصیلی روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ حضور ﷺ کی ذات گرامی، مسلمانان پاکستان کے لئے نکتہ اتحاد ہے۔ وہ کہہ رہے تھے جب بھی مسلمانوں نے اتحاد کیا ہے کامیابیوں نے ان کے قدم چومے ہیں۔

پروانہ ختم نبوت حاجی اللہ دتہ مجاہد نے قیام پاکستان سے لے کر اب تک ہونے والی ملک و ملت کے خلاف قادیانیوں کی ریشہ دوانیوں پر روشنی ڈالی۔ حویلی لکھا کے بزرگ عالم دین مولانا سید مسعود الحسن شاہ نے اپنے خطاب میں اتحاد و اتفاق پر زور دیا۔ اہل حدیث عالم دین مولانا محمد سرور نے اپنے فاضلانہ خطاب میں عقیدہ ختم نبوت کی اہمیت اور قادیانیت کی سنگینی پر مجمع کی توجہ مبذول کرائی۔ علاوہ ازیں دیگر مقامی علماء کرام نے بھی خطاب کیا۔ جلسہ میں شرکت کے لئے مولانا سید محمد انور شاہ، حافظ محمد سفیان، قاری سلطان احمد اپنے ساتھیوں سمیت دیپالپور سے تشریف لائے۔ جب کہ قصور سے قصور مجلس کے ناظم نشر و اشاعت میاں محمد معصوم انصاری بھی کانفرنس میں شریک ہوئے۔ کانفرنس بارہ بجے رات تک جاری رہ کر ختم ہو گئی۔

(ہفت روزہ لولاک فیصل آباد ص۶، مورخہ ۵؍مئی ۱۹۹۵ء)

کارروائی سہ ماہی اجلاس مبلغین عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت

ملتان (نمائندہ خصوصی) عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی مبلغین کا سہ ماہی اجلاس مورخہ ۲۰، ۲۱، ۲۲؍ ذی الحجہ ۱۴۱۵ھ مطابق

صفحہ ۳۶۱

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۵ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

۱۹، ۲۰، ۲۱ / مئی ۱۹۹۵ء دفتر مرکزیہ ملتان میں منعقد ہوا۔ جس کی صدارت مولانا عزیز الرحمن جالندھری مرکزی ناظم اعلیٰ نے کی۔ اجلاس میں مولانا اللہ وسایا ملتان ، مولانا خدا بخش ، مولانا محمد اکرم طوفانی ، مولانا جمال اللہ الحسینی ، مولانا نذیر احمد تونسوی ، مولانا احمد بخش ، مولانا فقیر اللہ اختر ، مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی ، مولانا محمد علی صدیقی ، محمد اور نگزیب اعوان ، مولانا عبد الرزاق مجاہد ، مولانا عبد العزیز ، مولانا امام دین قریشی ، مولانا جمال اللہ الحسینی ، مولانا حفیظ الرحمن ، مولانا راشد مدنی ، مولانا محمد اسحاق ساقی نے شرکت کی۔

اجلاس میں حکومت کی توہین رسالت کی حوصلہ افزائی کی پالیسی پر تشویش کا اظہار کیا گیا۔ تحریک تحفظ ناموس رسالت کی طرف سے ۲۷ / مئی کی ہڑتال کی اپیل کی بھر پور تائید کی گئی اور مبلغین نے اس عزم کا اظہار کیا کہ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مبلغین اور کارکنوں نے اپنے اپنے علاقہ میں تحریک تحفظ ختم نبوت کے مبلغین اور کارکنوں نے اپنے اپنے علاقہ میں تحریک تحفظ ناموس رسالت کے لئے ہراوّل دستہ کا کردار ادا کرتے ہوئے تحریک جاری رکھیں گے۔ نیز مجلس کے مبلغین نے کہا کہ تحفظ ختم نبوت ، تحفظ ناموس رسالت ایک ہی چیز کے دو نام ہیں۔ دونوں کی حفاظت ہمارا فرض منصبی ہے۔ اجلاس میں طے کیا گیا کہ مبلغین ہفتہ میں کم از کم چار درس دیں گے اور اپنی کارکردگی کی پندرہ روزہ رپورٹ مرکز کو کریں گے۔

جن علاقوں میں مرزائی آباد ہیں ان علاقوں کا دورہ کریں گے۔ دروس اجتماعات سے خطاب ، معززین علاقہ سے ملاقاتیں اور مرزائیوں تک کلمہ حق پہنچائیں گے اور اپنے اپنے علاقوں میں مرزائی افسران کی سرگرمیوں پر کڑی نظر رکھیں گے۔ نیز اپنے اپنے علاقوں میں قادیانی مراکز اور ان کی سرگرمیوں کی رپورٹ بھی دفتر مرکزیہ کو کریں گے۔ نیز مرزائی آفیسرز کی لسٹیں مرتب کر کے مرکز کو ارسال کریں گے۔ اپنے اپنے علاقوں میں دینی مدارس اور جامعات کے ممتحن سے مل کر جامعات میں تردید قادیانیت کلاس کا انعقاد کریں گے تاکہ علماء کرام کو قادیانی شکوک و شبہات سے آگاہ اور اشکالات کے جوابات سے تیار کیا جاسکے۔

مفکر ختم نبوت مولانا محمد یوسف لدھیانوی کی کتاب ’’تحفہ قادیانیت‘‘ کا انگلش ترجمہ گفٹ فار قادیانیز ملک بھر کی لائبریریوں ، تحصیل ضلعی ڈویژنل اور صوبائی سطح پر پولیس ، انتظامیہ وعدلیہ کے آفیسران قومی وصوبائی اسمبلیوں کے سپیکرز قائد حزب اختلاف ، ہائیکورٹ اور سپریم کورٹ کے ججوں میں فری تقسیم کا فیصلہ کیا گیا۔ آئندہ سہ ماہی کے لئے مطالعہ کی کتاب ’’محمدیہ پاکٹ بک‘‘ کا حیات عیسیٰ علیہ السلام کا حصہ تجویز کیا گیا۔ آئندہ اجلاس کے موقع پر اس کا تحریری ٹیسٹ ہوگا۔ نئے تربیت حاصل کرنے والے مبلغین مولانا محمد اسحاق آف لیہ کو کنری ، مولانا ظفر محمود لیاقت پور رحیم یار خان کو لاہور میں معاون مبلغ مقرر کیا گیا۔ مولانا عبد الرزاق مجاہد ہر ماہ کی گیارہ تاریخ سے بیس تاریخ تک ضلع قصور میں تبلیغ کے فرائض سرانجام دیں گے۔

مبلغین کے تبلیغی پروگرام: مولانا اللہ وسایا صاحب ناظم تبلیغ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت مندرجہ ذیل مقامات پر تربیتی نشستوں سے خطاب کریں گے۔ سرگودھا: ۱۲، ۱۳ / جون ۔ لاہور: ۱۴، ۱۶، ۱۷ / جون ۔ گوجرانوالہ: ۱۷، ۱۸ / جون ۔ راولپنڈی: ۱۹، ۲۰ / جون ۔ مولانا خدا بخش شجاع آبادی ، مولانا نذیر احمد تونسوی ۳ تا ۱۴ / جون پنوں عاقل ، ٹھل ، ٹنڈو آدم ، لاڑکانہ ، کنری سمیت سندھ کے کئی علاقوں میں تربیتی و تبلیغی اجتماعات سے خطاب کریں گے۔ مولانا خدا بخش ، مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی جھنگ: ۶ تا ۸ / جولائی ۔ اوکاڑہ : ۹، ۱۰ / جولائی ۔ ساہیوال : ۱۱، ۱۲ / جولائی ۔ بہاول نگر : ۱۳، ۱۴ / جولائی ۔ بہاول پور : ۱۶، ۱۷ / جولائی ۔ پرمٹ ، علی پور : ۱۸، ۱۹، ۲۰ / جولائی ۔ تربیتی و تبلیغی اجتماعات سے خطاب کریں گے۔ مذکورہ بالا تبلیغی وتربیتی نشستوں میں زیادہ سے زیادہ احباب کو شرکت کے لئے دعوت دی جائے گی۔

صفحہ ۳۶۲

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۵ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

مولانا خدا بخش کے تبلیغی دورے: ۳ تا ۱۴؍ جون سندھ۔ ۱۶؍ جون خان پور۔ ۱۷ تا ۲۱؍ جون علی پور، مظفر گڑھ۔ ۲۲ تا ۲۶؍ جون گوجرانوالہ۔ ۲۷ تا ۳۰؍ جون راولپنڈی۔ ۶ تا ۲۰؍ جولائی کی تفصیل اوپر گزر چکی ہے۔ ۲۵ تا ۲۹؍ جولائی ضلع بہاول پور۔ ۳ تا ۱۰؍ اگست لودھراں، خانیوال، وہاڑی۔ ۱۳ تا ۲۰؍ اگست لاہور ڈویژن۔ مقامی مبلغین اپنے اپنے علاقوں میں مولانا اللہ وسایا، مولانا خدا بخش کے پروگرام ترتیب دیں گے۔

تحفظ ناموس رسالت و ختم نبوت کانفرنسیں

عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے شعبہ تبلیغ کے زیر اہتمام آئندہ سہ ماہی میں مندرجہ ذیل مقامات پر بڑی ختم نبوت کانفرنسیں تجویز کی گئیں۔ قصور : ۳؍ اگست، شیخوپورہ، لاہور: ۷؍ ستمبر، ۸؍ ستمبر بہاول پور۔ ۱۱، ۱۲؍ اکتوبر سالانہ کانفرنس صدیق آباد (ربوہ)۔

عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت لاہور کی میٹنگ

(پ۔ ر) عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت لاہور کی مجلس شوریٰ کا اجلاس قاری جمیل الرحمٰن اختر کی صدارت میں ۳؍ جون ۱۹۹۵ء بعد نماز عصر دفتر ختم نبوت مسلم ٹاؤن میں منعقد ہوا۔ جس میں مولانا ظفر اللہ شفیق، حاجی سعید علی شاہ، میجر عنایت اللہ، محمد اظہر، مولانا سید محبوب شاہ، خواجہ عزیز الرحمٰن، مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی، رشید احمد سندھو، قاری محمد یامین، حامد بلوچ، مولانا محمد امجد مجاہد نے شرکت کی۔ اجلاس میں ۲۷ مئی ۱۹۹۵ء ہڑتال کی کامیابی پر تاجروں، صحافیوں، مزدوروں، ٹرانسپورٹروں، علماء کرام، مشائخ عظام، طلباء تنظیموں اور تحریک تحفظ ناموس رسالت میں شامل تنظیموں کا شکریہ ادا کیا گیا اور ناموس رسالت کے تحفظ کے لئے ان کی عظیم کاوش پر انہیں مبارک باد دی گئی۔ مجلس کی شوریٰ نے کہا کہ تحریک تحفظ ناموس رسالت کے مطالبات تسلیم کئے جانے تک تحریک جاری رہے گی اور پولیس ہر اول دستہ کا کردار ادا کرے گی۔

مجلس مرکزیہ کی طرف سے مؤرخہ ۱۵، ۱۶، ۱۷؍ جولائی کو لاہور میں سہ روزہ رد قادیانیت کورس کے انعقاد کا خیر مقدم کیا گیا اور طے کیا گیا کہ کورس میں ٹریننگ دینے والے مناظر مولانا اللہ وسایا کا پروگرام زیادہ سے زیادہ جامعات اور مساجد میں پروگرام رکھے جائیں گے اور پروگرام حسب ذیل ہوں گے۔ رد قادیانیت کورس دفتر ختم نبوت مسلم ٹاؤن میں ساڑھے پانچ بجے سے ساڑھے آٹھ بجے تک ہوگا۔ ۱۵؍ جون صبح ساڑھے دس بجے سے بارہ بجے تک جامعہ اشرفیہ فیروز پور میں لیکچر ہوگا۔

خطبہ جمعہ جامع مسجد نیلا گنبد میں دیں گے۔

(ہفت روزہ لولاک فیصل آباد ص ۱۸، ۱۹، مؤرخہ ۲۱؍ جولائی ۱۹۹۵ء)

صوبہ سندھ میں تربیتی پروگرام

صوبہ سندھ میں بڑھتی ہوئی قادیانیت کی تبلیغی سرگرمیوں اور ارتدادی مہم کے پیش نظر سندھ کے دینی مدارس اور مساجد میں تربیتی پروگرام منعقد کئے گئے۔ اس تربیتی پروگرام میں جن مبلغین حضرات نے حصہ لیا، انہیں فاتح ربوہ حضرت مولانا خدا بخش شجاع آبادی، حضرت مولانا نذیر احمد تونسوی، حضرت مولانا جمال اللہ حسینی، حضرت مولانا حفیظ الرحمٰن رحمانی، حضرت مولانا محمد اسحاق، حضرت مولانا احمد میاں حمادی اور حضرت مولانا راشد مدنی ٹنڈو آدم بھی شامل ہیں

تھے۔ حضرت مولانا خدا بخش نے مرزا قادیانی کے جھوٹ (کذب مرزا) پر مفصل اور مدلل خطاب فرمایا۔ مولانا کے بعد راشد مدنی نے عقیدہ

صفحہ ۳۶۳

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۵ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

ختم نبوت پر قرآن وحدیث کی روشنی میں بیان کیا اور حضرت مولانا جمال اللہ الحسینی نے حیات عیسیٰ علیہ السلام پر قرآن سے دلائل پیش کئے اور حیات عیسیٰ پر مرزائیوں کے شبہات کے جواب بھی دیئے۔ بعد نماز ظہر مولانا حفیظ الرحمن نے خطاب کیا۔ (الحمد للہ! پروگرام کامیاب رہا)

(۲) گڈو: دوسرا پروگرام ۴/جون ۱۹۹۵ء بروز اتوار صبح آٹھ بجے مدنی مسجد گڈو میں ہوا۔ اس پروگرام کا انتظام واہتمام حضرت مولانا قاری محمد علی خطیب مدنی مسجد گڈو نے کیا۔ سب سے پہلے ابوطلحہ راشد مدنی حمادی نے مسئلہ ختم نبوت پر بیان کیا اور حوالہ جات بھی سامعین کو نوٹ کروائے اور پھر مولانا خدا بخش نے کذاب مرزا پر بیان کیا اور آخر میں مولانا حفیظ الرحمن رحمانی نے حیات عیسیٰ پر بیان کیا اور اس پروگرام کی پہلی نشست ایک بجے ختم ہوئی۔ دوسری نشست پر نماز عصر ہوئی جس میں راشد مدنی حمادی نے عصر تا مغرب بیان کیا اور سوالات کے جوابات بھی دیئے۔ تیسری نشست میں بعد نماز مغرب حضرت مولانا خدا بخش اور حضرت مولانا حفیظ الرحمن رحمانی نے خطاب کیا۔ اللہ کے فضل سے یہ پروگرام بھی بہت ہی کامیاب رہا۔ اس میں اعلیٰ افسران اور مزدور حضرات خطباء نے شرکت کی اور دلچسپی کا اظہار کیا۔

(۳) لاڑکانہ: ۵/جون ۱۹۹۵ء بروز پیر حضرت مولانا علامہ ڈاکٹر خالد محمود سومرو کے مدرسہ اشاعت القرآن والحدیث لاڑکانہ میں تیسرا تربیتی پروگرام ہوا۔ اس پروگرام کی دو نشستیں ہوئیں۔ پہلی نشست میں صبح نو بجے حضرت مولانا جمال اللہ الحسینی نے حیات عیسیٰ علیہ السلام پر قرآن وحدیث کی روشنی میں لیکچر دیا اور سامعین حاضرین کو حوالہ جات بھی تحریر کروائے۔ ان کے بعد مولانا خدا بخش نے کذب مرزا پر اور مولانا نذیر احمد تونسوی نے مرزا غلام احمد قادیانی کی پیش گوئیوں پر لیکچر دیئے۔ بعد نماز ظہر پروگرام کی دوسری آخری نشست میں مولانا راشد مدنی حمادی نے مسئلہ ختم نبوت پر اور آخر میں مولانا حفیظ الرحمن رحمانی نے لیکچر دیا اور سامعین کے سوالات کے جوابات دیئے۔

(۴) گمبٹ: ۶/جون ۱۹۹۵ء بروز منگل مدرسہ مطلع العلوم گمبٹ میں دوپہر گیارہ بجے سے نماز عصر تک پروگرام جاری رہا۔ سب سے پہلے حضرت مولانا جمال اللہ الحسینی مبلغ سندھ نے حضرت عیسیٰ پر خطاب کیا۔ مولانا نذیر احمد تونسوی کوئٹہ نے مرزا کی پیش گوئیوں پر روشنی ڈالی۔ کھانے کے وقفہ اور نماز ظہر کے بعد راشد مدنی نے مسئلہ ختم نبوت پر اور مولانا خدا بخش نے کذب مرزا پر لیکچر دیا۔ آخر میں مولانا حفیظ الرحمن رحمانی نے سوال وجواب کی نشست میں شرکاء کے سوالات کے جوابات دیئے۔ مولانا حفیظ الرحمن مولانا خدا بخش، مولانا نذیر احمد تونسوی اور راشد مدنی نے گمبٹ کی مختلف مساجد میں عشاء کے بعد درس دیئے۔

(۵) کنڈیارو: ۱۹۹۵ء بروز بدھ صبح تقریباً نو بجے مدرسہ جامع مسجد کنڈیارو میں تربیتی پروگرام کی پہلی نشست ہوئی۔ پہلی نشست میں ابوطلحہ راشد مدنی، مولانا نذیر احمد تونسوی اور مولانا جمال اللہ الحسینی نے لیکچرز دیئے اور ظہر کے بعد مولانا خدا بخش فاتح ربوہ اور مولانا حفیظ الرحمن رحمانی نے لیکچرز دیئے اور سوال وجوابات کی نشست ہوئی۔ پروگرام میں علماء خطباء، ائمہ مساجد طلباء واساتذہ حضرات وعوام نے بڑی تعداد میں شرکت کی پروگرام کا اہتمام وانتظام حضرت مولانا مفتی محمد ادریس نے کیا۔

(۶) مورو: ۸/جون بروز جمعرات مدرسہ نور الہدیٰ میں پروگرام ہوا۔ اس پروگرام کا اہتمام حضرت مولانا غلام اللہ کورائی وحضرت مولانا محمد ابراہیم کورائی نے کیا صبح کی نشست نو بجے ہوئی۔ سب سے پہلے شیر سندھ مولانا جمال اللہ الحسینی نے حیات عیسیٰ پر لیکچر دیا۔ پھر ابوطلحہ راشد مدنی نے پھر مولانا خدا بخش نے لیکچرز دیئے۔ پہلی نشست کے اختتام پر مورو کے شیعہ راہنما محمد ہاشم نے خطاب کیا اور کہا کہ ہم قادیانیوں کے خلاف جہاد میں عالمی مجلس عمل کے ساتھ ہیں۔ بعد نماز ظہر دوسری نشست ہوئی جس میں مولانا نذیر احمد تونسوی اور مولانا حفیظ الرحمن رحمانی نے لیکچر دیئے اور سوال جواب کی نشست ہوئی۔

(۷) حیدر آباد: ۱۱/جون بروز اتوار صبح نو بجے سے ڈیڑھ بجے تک جامعہ عربیہ مفتاح العلوم حیدر آباد میں تربیتی پروگرام ہوا۔ جس

صفحہ ۳۶۴

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۵ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

میں حضرت مولانا خدا بخش، حضرت مولانا نذیر احمد تونسوی، حضرت مولانا جمال اللہ الحسینی، حضرت مولانا ابو طلحہ راشد مدنی، حضرت مولانا حفیظ الرحمن رحمانی، حضرت مولانا علامہ احمد میاں حمادی نے خطاب کیا۔ اس پروگرام میں مدرسہ کے طلباء نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ یہ پروگرام مولانا مفتی شمس الدین دامت برکاتہم العالیہ کی صدارت میں ہوا۔ رات کو بعد از نماز عشاء مختلف مساجد میں مبلغین حضرات نے درس بھی دیئے۔ اس پروگرام کا اہتمام و انتظام مدرسہ جامعہ عربیہ مفتاح العلوم کے ناظم تعلیم ڈاکٹر مولانا سیف الرحمن آرائیں نے کیا تھا۔

نشست میں حضرت مولانا نذیر احمد تونسوی، حضرت مولانا حفیظ الرحمن رحمانی اور حضرت مولانا جمال اللہ الحسینی نے لیکچر دیئے۔ دوسری نشست میں بعد نماز ظہر راشد مدنی، حضرت مولانا خدا بخش فاتح ربوہ اور حضرت مولانا علامہ احمد میاں حمادی نے خطاب فرمایا اور پروگرام کا انتظام و اہتمام جامعہ محمدیہ کے منتظمین حضرات اور مولانا محمد ارشد مدنی امیر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت نواب شاہ نے کیا تھا۔

کے درجہ کتب کے اساتذہ اور طلباء نے کافی تعداد میں شرکت کی۔ جنہیں مسئلہ ختم نبوت اجراء نبوت، حیات ونزول عیسیٰ وفات عیسیٰ کذبات مرزا پر حضرت مولانا حفیظ الرحمن رحمانی، مولانا ابو طلحہ راشد مدنی، حضرت مولانا نذیر احمد تونسوی، حضرت مولانا فاتح ربوہ خدا بخش، حضرت مولانا شیر سندھ جمال اللہ الحسینی اور حضرت مولانا علامہ احمد میاں حمادی نے لیکچر دیئے۔

اسحاق اور حضرت مولانا نذیر احمد تونسوی، حضرت مولانا خدا بخش نے لیکچر دیئے۔ عصر کے بعد حضرت مولانا حفیظ الرحمن رحمانی نے خطاب کیا اور مغرب کے بعد حضرت مولانا جمال اللہ الحسینی اور حضرت مولانا احمد میاں حمادی نے خطاب کیا۔

خدا بخش مولانا نذیر احمد تونسوی، مولانا جمال اللہ الحسینی، حضرت مولانا حفیظ الرحمن رحمانی اور راشد مدنی نے لیکچر دیئے۔ اس پروگرام میں مدرسہ واسکولز کے طلباء واساتذہ نے بھر پور شرکت کی۔ پروگرام بہت ہی اچھا رہا۔ یہ پروگرام دس بجے سے ڈیڑھ بجے تک جاری رہا۔ اس پروگرام کا اہتمام مجاہد ختم نبوت حضرت مولانا محمد راشد ناظم مدرسہ صدیق اکبر ٹنڈو الہ یار نے کیا۔ راشد مدنی کے سندھ یونیورسٹی جامشورو کالونی کی بلال مسجد میں جمعہ کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مسلمانوں کو چاہئے کہ وہ اپنے تمام فروعی اختلافات کو بھلا کر متحد ہو جائیں۔

(ہفت روزہ لولاک فیصل آباد ص ۱۶، ۱۷، مورخہ ۲۱/جولائی ۱۹۹۵ء)

عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت قصور کا اجلاس

قصور عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کا اجلاس مورخہ ۴/جون ۱۹۹۵ء کو بعد نماز مغرب جامع مسجد گنبد والی میں منعقد ہوا۔ جس کی صدارت مقامی امیر قاری مشتاق احمد نے کی جب کہ مہمان خصوصی مولانا سید طیب شاہ ہمدانی تھے۔ اجلاس میں مولانا عبد الرزاق مجاہد، محمد اسماعیل شجاع آبادی، حاجی اللہ دتہ مجاہد، قاری یحییٰ ہمدانی، محمد یونس بھٹی، حکیم خوشی محمد، حافظ محمد افتخار احمد فخر، حافظ محمد امین، قاری حبیب اللہ سمیت کئی ایک حضرات نے شرکت کی۔

صفحہ ۳۶۵

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۵ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

مطالبہ کیا گیا کہ حکومت واضح اعلان کرے کہ ناموس رسالت کے قانون میں کسی قسم کی کوئی ترمیم نہیں کی جائے۔ اجلاس میں ۲۷ مئی کو قصور میں مکمل ہڑتال پر قصور کے مسلمانوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے انہیں مبارک باد پیش کی گئی۔

کانفرنس منعقد ہوگی۔ جس میں مختلف مکاتب فکر کے علماء کرام خطاب کریں گے۔

کی یقین دہانی کرائی گئی۔

سہ روزہ ردّ قادیانیت کورس لاہور

لاہور میں ۱۶، ۱۷، ۱۸؍ محرم الحرام ۱۴۱۶ھ، مطابق ۱۵، ۱۶، ۱۷؍ جون ۱۹۹۵ء منعقد ہوا۔ کورس کی تین نشستیں ہوئیں۔ کورس کا آغاز ۱۵؍ جون کو صبح ۶ بجے حضرت مولانا پیر سیف اللہ خالد کی دعا اور افتتاحی کلمات سے ہوا۔ پیر صاحب نے عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ کے لئے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی خدمات کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے شرکاء کو اس کورس سے مکمل استفادہ کی تلقین کی۔ بعد ازاں مناظر ختم نبوت مولانا اللہ وسایا نے رفع ونزول اور حیات المسیح علیہ السلام، ظہور مہدی، مہدی ومسیح کی علامات پر سیر حاصل گفتگو کی اور شرکاء کورس کے سوالات کے مدلل جوابات دیئے۔ یہ نشست ساڑھے آٹھ بجے صبح کو تکمیل پذیر ہوئی۔ افتتاحی دعا اور استاذ العلماء حضرت مولانا شاہ محمد مظلہ مہتمم جامعہ قاسمیہ رحمان پورہ لاہور نے فرمائی۔ ساڑھے دس سے بارہ بجے دوپہر تک موصوف نے جامعہ اشرفیہ کے طلباء سے خطاب فرمایا اور انہیں کہا کہ عملی زندگی میں آپ حضرات کو گمراہ فرقوں سے واسطہ پڑے گا۔ اس لئے آپ حضرات کو دلائل وبراہین سے مسلح ہونا چاہئے۔ بعد ازاں مسئلہ ختم نبوت کی اہمیت پر ڈیڑھ گھنٹہ خطاب کیا۔ جس میں دوسو سے زائد طلباء وعلماء کرام نے شرکت کی۔ بعد نماز عشاء جامع مسجد نورانی قلعہ محمدی راوی روڈ، مولانا اللہ وسایا نے درس قرآن کے اجتماع سے خطاب کیا جس کا انتظام حامد بلوچ، اعجاز بلوچ، حافظ حفیظ الرحمٰن، محمد یامین، محسن خان سمیت مقامی یونٹ کے کارکنوں نے کیا۔ بعد ازاں کارکنوں کا اجلاس مولانا اللہ وسایا کی صدارت میں دفتر راوی روڈ میں منعقد ہوا۔ جس میں ۲۱؍ستمبر کو ختم نبوت کانفرنس منعقد کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ ۱۷؍محرم صبح ساڑھے پانچ بجے سے ساڑھے آٹھ بجے شرکاء کورس سے خطاب کیا۔ موضوع سخن شرائط نبوت وعلامات نبوت تھا۔ موصوف نے تقریباً اڑھائی گھنٹے خطاب کیا۔

آپ نے خطبہ جمعہ جامع مسجد نیلا گنبد میں دیا۔ جب کہ مجلس لاہور کے مبلغ مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی نے جامع مسجد انارکلی میں خطاب کیا۔ بعد نماز عشاء جامع مسجد عثمانیہ آر. اے بازار کے بالمقابل کھلے گراؤنڈ میں جلسہ منعقد ہوا۔ جس کی صدارت قاری بشیر احمد نے کی۔ جب کہ سٹیج سیکرٹری کے فرائض خواجہ عزیز الرحمٰن صدیقی نے سرانجام دیئے اور مہمان خصوصی حاجی محمد شفیق لطفی جنرل سٹور تھے۔ مولانا سید محبوب احمد شاہ ہاشمی نے خطبہ استقبالیہ پیش کیا جس میں مجلس کے بزرگوں کی خدمت کو سراہا گیا تھا۔ جلسہ سے محمد اسماعیل شجاع آبادی نے خطاب کیا۔ بعد ازاں مولانا اللہ وسایا نے آخری خطاب کیا جس میں آر. اے بازار کے باسیوں کی تحریک ختم نبوت ۱۹۵۳ء، ۱۹۷۴ء، ۱۹۸۴ء میں خدمات کو سراہا اور حاضرین سے اپیل کی کہ ختم نبوت کا لٹریچر پڑھیں۔ مکمل معلومات حاصل کر کے چلتے پھرتے ختم نبوت کے مبلغ بن جائیں۔

(ہفت روزہ لولاک فیصل آباد ص۲۰، ۲۱، مؤرخہ ۲۱؍ جولائی ۱۹۹۵ء)

صفحہ ۳۶۶

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۵ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

دسویں سالانہ ختم نبوت کانفرنس برمنگھم

برمنگھم (نمائندہ خصوصی، مفتی محمد جمیل خان) مرزا طاہر سمیت تمام قادیانیوں کو چاہئے کہ وہ اپنے جھوٹے عقائد اور باطل نظریات سے تائب ہو کر محمد عربی ﷺ کا دامن تھام لیں اور اسلام قبول کریں۔ ان خیالات کا اظہار دسویں عالمی ختم نبوت کانفرنس کے شرکاء اور مقررین نے کیا۔ دسویں عالمی ختم نبوت کانفرنس جو ۶؍اگست ۱۹۹۵ء کو برمنگھم میں منعقد ہوئی ہر سال کی طرح اس سال بھی انتہائی کامیاب رہی۔ پچھلے سالوں میں اس کانفرنس میں حرمین شریفین کے اماموں میں سے شیخ الحذیفی شریک ہوتے رہے ہیں۔ اس سال اس کانفرنس میں امام کعبہ الشیخ عبداللہ السبیل بحیثیت مہمان خصوصی کے شریک ہوئے۔ کانفرنس کے دیگر مہمانان خصوصی عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے امیر دوم حضرت اقدس مولانا محمد یوسف لدھیانوی دامت برکاتہم اور حضرت مولانا سید محمد اسعد مدنی مدظلہ العالی امیر جمعیۃ علماء ہند تھے۔ یہ کانفرنس مختلف مکتبہ فکر کے مسلمانوں کا ایک عظیم اجتماع ثابت ہوئی۔

اس عظیم کانفرنس کی صدارت عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے امیر مرکزیہ حضرت اقدس مولانا خواجہ خان محمد صاحب دامت برکاتہم العالیہ نے فرمائی۔ کانفرنس کے مقررین میں الشیخ عبداللہ السبیل، حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی، حضرت مولانا اسعد مدنی، مولانا اللہ وسایا، مولانا محمد اکرم طوفانی، قاری حماد اللہ شفیق، جمعیۃ علماء اسلام کے مولانا اجمل قادری، ورلڈ اسلامک فورم کے مولانا زاہد الراشدی، مفتی منیر احمد اخون، علامہ خالد محمود، مولانا سعید احمد جلال پوری، مولانا حبیب الرحمن درخواستی، مولانا محمد حسن، شیخ احمد بلادی، حسن عودہ، مولانا محمد سلیم دھورات، صاحبزادہ حافظ محمد عابد، مولانا سعید احمد، حاجی عبدالرحمن یعقوب باوا، مولانا منظور احمد الحسینی شامل تھے۔

تقریب کی خصوصیت امام کعبہ الشیخ عبداللہ السبیل اور عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے امیر دوم حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی کے خطابات تھے۔ امام کعبہ نے عربی زبان میں تقریر فرمائی۔ انہوں نے عقیدہ ختم نبوت کی اہمیت بیان کرتے ہوئے اسے اسلام کا بنیادی عقیدہ قرار دیا۔ مقررین نے فرمایا کہ آنحضرت ﷺ نے اپنے بارے میں خاتم النبیین کا لفظ استعمال فرمایا اور پیشین گوئی فرمائی کہ میری امت میں تیس جھوٹے پیدا ہوں گے اور ان جھوٹوں میں سب سے آخری کا نام دجال ہوگا۔ مقررین نے مرزا غلام احمد قادیانی کو ان تیس جھوٹوں میں سے ایک جھوٹا قرار دیا۔ مقررین نے فرمایا کہ مرزا طاہر اپنی تبلیغ کے لئے ڈش انٹینا کو استعمال کر رہا ہے۔ ڈش انٹینا کے ذریعے وہ پوری دنیا تک اپنے باطل عقائد کو پہنچا رہا ہے۔ لیکن ان شاء اللہ! اس کی اس کوشش کو بھی اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے ناکام بنادے گا۔ مقررین نے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کو زبردست خراج تحسین پیش کرتے ہوئے فرمایا کہ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت قادیانیت کے خلاف بے مثال جدوجہد کر کے پوری دنیا کے مسلمانوں کی طرف سے فرض کفایہ ادا کر رہی ہے۔ مقررین نے تمام اسلامی ممالک پر زور دیا کہ وہ متحد ہو کر اس فتنے کے خلاف جدوجہد کریں تاکہ اس فتنے کو ہمیشہ کے لئے ختم کیا جاسکے اور آئندہ کسی کو بھی ایسا فتنہ اٹھانے کی جرات نہ ہو سکے۔

(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ص۱۶، مورخہ ۸ تا ۱۴؍ستمبر ۱۹۹۵ء)

چودھویں سالانہ ختم نبوت کانفرنس کے لئے اجلاس

اجلاس برائے انتظامات چودھویں سالانہ ختم نبوت کانفرنس مسلم کالونی چناب نگر منعقدہ مدرسہ ختم نبوت مسلم کالونی، مورخہ ۲۷؍ستمبر ۱۹۹۵ء مطابق یکم؍ جمادی الاوّل ۱۴۱۶ھ، زیر صدارت حضرت مولانا عزیز الرحمن صاحب جالندھری دامت برکاتہم۔

اجلاس شرکاء: حضرت مولانا عزیز الرحمن جالندھری، حضرت مولانا اللہ وسایا، حضرت مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی، حضرت

صفحہ ۳۶۷

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۵ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

مولانا محمد علی صدیقی، حضرت مولانا محمد اکرم طوفانی، حضرت مولانا امام الدین قریشی، حضرت مولانا ممتاز الحسن شاہ، حضرت مولانا محمد اسحاق ساقی، حضرت مولانا عبدالخالق رحمانی، حضرت مولانا محمد یعقوب برہانی، حضرت مولانا فقیر اللہ اختر، حضرت مولانا عبدالرزاق مجاہد، حضرت مولانا عبدالستار، حضرت مولانا نذیر احمد تونسوی، حضرت مولانا غلام مصطفیٰ، حضرت مولانا غلام حسین، جناب محمد اورنگزیب اعوان۔

اجلاس کا آغاز مولانا ممتاز الحسن شاہ گیلانی کی تلاوت کلام مقدسہ سے ہوا۔ مولانا اللہ وسایا نے مولانا عزیز الرحمن جالندھری کے حکم پر گزشتہ برس کے اجلاس کی کارروائی پڑھ کر سنائی۔ اس کے بعد امسال ختم نبوت کانفرنس کے انتظامات کو حتمی شکل دینے کے لئے مشاورت ہوئی۔

کانفرنس کی تشہیر اور اشتہارات کی تقسیم کے لئے مبلغین کرام کی درج ذیل علاقوں میں ڈیوٹیاں لگائی گئیں۔

مولانا محمد علی صدیقی: جابہ، نوشہرہ، اٹک، راولپنڈی، پنڈی گھیپ، جنڈ، ملہووالی، مردان، نوشہرہ، چکوال، دوالمیال، فتح جنگ، واہ کینٹ، حسن ابدال۔

مولانا فقیر اللہ اختر: رشیدہ، بخاریاں، جامعہ محمدی شریف، بھوانہ، پسرور، سیالکوٹ، ڈسکہ، نارووال، شکرگڑھ، قلعہ کالروالا، نارنگ منڈی، بدوملہی۔

مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی: سکھیکی، خانقاہ ڈوگراں، فاروق آباد، شیخوپورہ، کوٹ عبدالمالک، جیا موسیٰ، شاہدرہ، فیروزوالا، رانا ٹاؤن، لاہور شہر، شاہ کوٹ، سانگلہ ہل، لاہور کینٹ، مریدکے۔

مولانا عبدالخالق رحمانی: چھانگا مانگا، پتوکی، رینالہ خورد، دیپالپور، حویلی لکھا، ساہیوال، وساویوالہ، بھائی پھیرو، پاکپتن، حجرہ شاہ مقیم، اوکاڑہ کینٹ۔

محمد اورنگزیب اعوان: چونیاں، کھڈیاں، ٹھینگ موڑ، نور پور نہر، اوکاڑہ، کھپڑ، قصور، لاہور۔

مولانا امام الدین قریشی، مولانا محمد اسحق: لولہ، چک نمبر ۳۳، ۳۵، ۴۵، ۴۶، سرووالہ، کانڈیوال، جلے والا، جبانہ، برج بابل، مخدوماں، ڈاور، پٹھان کوٹ، یکے کی، ہستی والا، ھولہ، ونوکہ، عنایت پور بھٹیاں، بھڑانہ، شاہین آباد، مُدراجنھا، تخت ہزارہ، ہلال پور۔

مولانا نذیر احمد تونسوی، مولانا محمد ادریس: احمد نگر، لالیاں، بھلوال، بھیرہ، میانی، چک رمداس، جھاوریاں، ڈھڈیاں شریف، شاہ پور صدر، شہر، خوشاب، جوہر آباد، گروٹ، گنجیال روڈا، پیلووینس، اڈالی، ساہیوال، فاروقہ، سلانوالی۔

مولانا احمد بخش، مولانا فقیر اللہ اختر: چنیوٹ، فیصل آباد، انوری مسجد، مسجد کچہری بازار، مسجد تحصیل والی، دھوبی گھاٹ، سنت پورہ، باغ والی مسجد، ماڈل ٹاؤن، جناح کالونی، گلبرگ، انوری مسجد غلام آباد، جامعہ امدادیہ، دارالعلوم پیپلز کالونی، طارق آباد، سمن آباد، عبداللہ پور، مصطفیٰ آباد، خالصہ کالج۔

مولانا محمد اسحاق، سید ممتاز الحسن گیلانی: گوجرہ موڑ، پینسرہ، سدھار، نواں لاہور، دھاندرہ، چک جھمرہ، کھڑلیانوالہ، مانوالہ، وار برٹن، چک نمبر ۹۶ شیریں، بچیانہ، جڑانوالہ، تھانہ بالک، روڈالہ روڈ، ننکانہ، سمندری، تاندلیانوالہ۔

مولانا عبدالعزیز، مولانا عبدالستار: جھنگ، اٹھارہ ہزاری، کوٹ شاکر، احمد پور سیال، شورکوٹ روڈ، ماچھی وال، چیلے والا، پیرمحل، ٹوبہ ٹیک سنگھ، گوجرہ، ملہوانہ موڑ، حویلی بہادر شاہ۔

صفحہ ٣٦٨

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۵ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

چودھویں سالانہ آل پاکستان تحفظ ختم نبوت کانفرنس چناب نگر

آل پاکستان چودھویں سالانہ ختم نبوت کانفرنس مورخہ ۱۲/اکتوبر ۱۹۹۵ء بروز جمعرات ساڑھے دس بجے صبح قائد تحریک ختم نبوت حضرت مولانا خواجہ خان محمد صاحب دامت برکاتہم کی دعا سے افتتاح و آغاز ہوا۔ پہلی نشست کی صدارت حضرت مولانا حامد علی شاہ مدظلہ فیروزہ رحیم یار خان نے کی۔ تلاوت: حافظ علی حیدر شجاع آبادی، نعت: حسیب الرحمٰن ہری پور ہزارہ۔ مقررین: مولانا سید ممتاز الحسن گیلانی، مولانا ضیاء الدین آزاد ماموں کانجن، مولانا غلام اکبر ڈیرہ غازیخان، مولانا حفیظ الرحمٰن رحمانی ٹنڈو آدم، قاری خلیل احمد سکھر، صوفی اللہ وسایا ڈیرہ غازیخان، مولانا اشرف علی راولپنڈی، مولانا حافظ محمد صدیق اٹک نے خطاب کیا۔ یہ نشست مولانا سید حامد علی شاہ صدر اجلاس کی دعا پر اختتام پذیر ہوئی۔ سٹیج سیکرٹری مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی تھے۔

دوسری نشست بعد نماز ظہر: چودھویں سالانہ آل پاکستان تحفظ ختم نبوت کانفرنس کی دوسری نشست بعد نماز ظہر منعقد ہوئی۔ صدارت کے فرائض حضرت اقدس امیر مرکزیہ دامت برکاتہم نے سرانجام دیئے۔ اس نشست کا آغاز تلاوت کلام پاک سے ہوا۔ جو قاری مشتاق احمد قصور نے کی۔ مقررین: مولانا عبدالقدیر لنڈ، مولانا محمد نذیر فاروقی اسلام آباد، مولانا زاہد الراشدی گوجرانوالہ، شیخ الحدیث حضرت مولانا سرفراز خان صفدر گوجرانوالہ، حضرت مولانا عبدالقادر آزاد خطیب بادشاہی مسجد لاہور، آخری خطاب حضرت شیخ الحدیث دامت برکاتہم نے فرمایا۔ سٹیج سیکرٹری کے فرائض مولانا ضیاء الدین آزاد نے سرانجام دیئے۔ اجلاس حضرت شیخ الحدیث دامت برکاتہم کی دعا پر اختتام پذیر ہوا۔

محفل سوال وجواب بعد نماز عصر: بعد نماز عصر محفل سوال وجواب منعقد ہوئی۔ حضرت اقدس مولانا محمد یوسف لدھیانوی دامت برکاتہم نے تحریری سوالات کے جوابات مرحمت فرمائے اور یہ نشست مغرب تک جاری رہی۔

تیسری نشست بعد نماز عشاء: تیسری نشست بعد نماز عشاء حافظ محمد یوسف عثمانی گوجرانوالہ کی تلاوت سے شروع ہوئی۔ صدارت حضرت مولانا خواجہ خان محمد صاحب دامت برکاتہم نے کی۔ نعت طاہر برادران نے پیش کی۔ مقررین: علامہ محمد احمد لدھیانوی گوجرانوالہ، مولانا مفتی منیر احمد اخون کراچی، مولانا احمد میاں حمادی ٹنڈو آدم، ڈاکٹر خالد محمود سومرو لاڑکانہ، مولانا محمد اعظم طارق ایم این اے، مولانا ضیاء الرحمٰن فاروقی، مولانا محمد لقمان علی پوری، مولانا حافظ زبیر احمد ظہیر لاہور، مولانا فضل الرحمٰن امیر جمعیۃ علماء اسلام چیئرمین امور خارجہ کمیٹی پاکستان قومی اسمبلی نے خطاب کیا۔ جب کہ یہ اجلاس حضرت اقدس دامت برکاتہم کی دعا سے اختتام پذیر ہوا۔ سٹیج سیکرٹری مولانا ضیاء الدین آزاد۔

درس قرآن بعد نماز فجر: ۱۳/اکتوبر ۱۹۹۵ء صبح کی نماز کے بعد مناظر اسلام مولانا محمد امین صفدر اوکاڑوی نے حیات عیسیٰ علیہ السلام کے عنوان پر تقریباً ایک گھنٹہ تک پرمغز خطاب فرمایا۔

چوتھی نشست قبل از جمعہ: کانفرنس کی چوتھی نشست ۱۰/بجے صبح مولانا سید نفیس الحسینی مدظلہ کی صدارت میں شروع ہوئی۔ تلاوت: قاری محمد عبداللہ رحیمی، مقررین: حضرت مولانا میاں محمد اجمل قادری، حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی نے ایک گھنٹہ پرمغز خطاب فرمایا اور قادیانی دجل وتلبیس کا پردہ چاک کیا۔ سید محمد امین گیلانی نے ہدیہ نعت پیش کیا۔ اس نشست کے آخری خطیب مولانا عبدالمجید ندیم تھے۔ جن کا خطاب ڈیڑھ بجے تک جاری رہا۔ خطبہ جمعہ اور نماز حضرت مولانا سید محمد ارشد مدنی استاذ الحدیث دارالعلوم دیوبند نے ارشاد فرمایا۔

صفحہ ۳۶۹

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۵ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

آخری نشست بعد نماز جمعہ: چودھویں سالانہ آل پاکستان ختم نبوت کانفرنس کا آخری اجلاس شیخ الحدیث حضرت مولانا نذیر احمد صاحب مدظلہ مہتمم جامعہ امدادیہ فیصل آباد کی صدارت میں منعقد ہوا۔ تلاوت کلام پاک حافظ عبدالرحمن ابن صوفی محمد سرور صاحب جامعہ اشرفیہ لاہور نے کی۔ نعت: سید محمد امین گیلانی نے پیش کی۔ پہلا خطاب حضرت مولانا محمد ارشد مدنی مدظلہ کا اوصاف نبوت کے عنوان پر ہوا۔ مولانا سید مزمل حسین شاہ کے بعد امام الحرم شیخ عبداللہ ابن السبیل مدظلہ کے نمائندہ شیخ عبدالرحمن عبداللہ السعیدی نے امام صاحب کا پیغام پڑھ کر سنایا۔ جمعیۃ علماء اسلام پاکستان کے مرکزی جنرل سیکرٹری مولانا عبدالغفور حیدری نے کہا کہ ختم نبوت کے مسئلہ کے لئے اسمبلی کے اندر اور باہر ہماری خدمات حاضر ہیں۔

محدث العصر حضرت مولانا محمد یوسف بنوری کے فرزند ارجمند مولانا محمد بنوری نے امام العصر حضرت مولانا محمد انور شاہ کشمیری کے فرزند ارجمند مولانا محمد انظر شاہ کشمیری کا خیر مقدم کرتے ہوئے انہیں دعوت خطاب دی۔ آل پاکستان ختم نبوت کانفرنس کا اختتام مولانا محمد انظر شاہ کشمیری کے خطاب پر ہوا۔ مولانا انظر شاہ نے قادیانی جماعت کے وجوہ کفر بیان کئے۔ سٹیج سیکرٹری کے فرائض مولانا اللہ وسایا نے سر انجام دیئے۔ خداوند قدوس اس کانفرنس کو ہمارے لئے باعث نجات اور قادیانیوں کے لئے ہدایت کا باعث بنائیں۔

دو روزہ رد قادیانیت پروگرام دوالمیال

چکوال (نمائندہ ختم نبوت) دوالمیال ضلع چکوال کا ایک گاؤں ہے۔ تقسیم ہند سے قبل اس میں ایک معروف عالم دین سید لعل شاہ بخاری تھے جو قوم کی دینی اور دنیاوی رہنمائی کرتے تھے۔ حضرت شاہ صاحب مرحوم کا غالباً ۱۹۳۸ء میں انتقال ہوا۔ اس وقت آپ کی عمر ایک سو برس کے قریب تھی۔ یوں آپ کی پیدائش ۱۸۳۸ء کی ہے اور آپ نے مرزا غلام احمد قادیانی کا مقابلہ دیگر علماء کرام کے ساتھ مل کر کیا اور ہمیشہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو سرخرو کیا اور قادیانی ذلیل وخوار ہوئے۔ آپ کے انتقال کے بعد آپ کے صاحبزادہ نے اس مسند کو سنبھالا۔ اب حضرت شاہ صاحب کے دو پوتے حضرت مولانا سید منیر حسین شاہ صاحب خطیب جامع مسجد لعل بابا اور حضرت مولانا سید حبیب الرحمن شاہ صاحب نے اپنے دادا کے اس کام کو لئے ہوئے رواں دواں ہیں۔ یوں تو قادیانیوں کے خلاف دوالمیال میں انفرادی کام بھی ہوتا ہے۔ یاد رہے دوالمیال کو ثانی ربوہ کہا جاتا ہے۔ اس وقت دوالمیال میں ۱۴۵ گھر قادیانیوں کے ہیں اور جو فوج میں اعلیٰ عہدوں پر ہیں اور مسلمان غریب ہیں۔ انفرادی کام تو ہوتا رہا لیکن جماعتی سطح پر کام میں سستی رہی کہ ایک دن اچانک سید منیر حسین شاہ صاحب کو عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مبلغ مولانا محمد علی صدیقی کا خط کراچی سے ملا۔ جس میں لکھا تھا کہ مجھے سانگھڑ شہر کی ایک مسجد میں آپ کے دوالمیال کا ایک ساتھی ملا اور انہوں نے آپ کے علاقہ میں قادیانیوں کی سرگرمیوں کے بارے میں بتایا۔ جماعت آپ کے ساتھ بھر پور تعاون کرے گی اور لکھا کہ میں نے ملتان مرکزی دفتر میں جماعت کے ناظم اعلیٰ مولانا عزیز الرحمن جالندھری کو آپ کے علاقہ کی اطلاع روانہ کر دی ہے اور اسی کے ساتھ اسلام آباد کے مبلغ فاضل اورنگزیب اعوان صاحب کی خدمت میں خط لکھا کہ آپ دوالمیال میں حضرت شاہ صاحب کو ملیں اور اورنگزیب اعوان صاحب کو اور کسی دوالمیال کے ساتھی نے اسلام آباد میں ان سے ملاقات کی تو آپ دوالمیال تشریف لائے۔ جمعہ کی تقریر جامع مسجد لعل بابا میں کی اور پھر کچھ دن بعد تشریف لائے اور پھر آپ صاحبان جامع مسجد کبوتر والی میں حبیب الرحمن شاہ صاحب اور دیگر احباب سے ملاقات کا ایک سلسلہ چلتا رہا۔ یہاں تک کہ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مبلغ مولانا محمد علی صدیقی صاحب کراچی سے تبدیل ہو کر

صفحہ ۳۷۰

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۵ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

راولپنڈی تشریف لائے اور آتے ہی فوراً ہم سے رابطہ کی صورت پیدا کی اور ہر ماہ میں ایک جمعہ کا پروگرام لے کر آئے۔ جمعہ پڑھاتے، ساتھیوں پر قادیانیوں نے اپنے اشکال غلط طریقہ پر ڈالے ہوئے تھے۔ ان کے تسلی بخش جواب دیتے جو ساتھی آتا قادیانی اور ان کے مربی بحث کے لئے تیار ہو جاتے۔ مولانا صدیقی صاحب جب تشریف لاتے تو دوالمیال کے قادیانیوں کو سانپ سونگھ گیا۔ ایسے چپ کر گئے۔ بالآخر اتمام حجت کے لئے ہمارے ساتھی ان کے پاس گئے کہ بھئی آؤ بات کرو تو قادیانی آئیں بائیں شائیں کر کے ٹال گئے۔ جب اصرار بہت بڑھا تو قادیانی مربی کہنے لگا کہ ہم ایک صورت میں بات کرنے کو تیار ہیں کہ آپ تھانے میں ایک درخواست دیں۔ ہم قادیانیوں سے مناظرہ کرنا چاہتے ہیں تو اس پر اس مسلمان ساتھی نے کہا: کیا تم جب ارتدادی تبلیغ کرتے ہو تو تھانے میں درخواست دے کر آتے ہو؟ اس سے معلوم ہوا کہ تم جھوٹے ہو۔ اس کے بعد نوجوان ساتھیوں نے مل کر جماعت تشکیل دینے کا پروگرام بنایا اور پروگراموں میں جس میں سید منیر حسن شاہ صاحب اور سید حبیب الرحمن شاہ صاحب سرپرستی کرنے میں صف اوّل میں شامل ہیں۔ ۱۵؍ اکتوبر بعد نماز ظہر دوالمیال تشریف لائے اور آ کر اطلاع دی کہ ۲۶؍ اکتوبر ۱۹۹۵ء بروز جمعرات جگہ آپ کے ہاں رد قادیانیت کورس ہوگا۔ ساتھیوں کو علم ہوا، کورس کی تیاری شروع کر دی اور تیاری خوب ہو رہی تھی کہ ۲۳؍ اکتوبر کو قادیانی جماعت کا امیر ضلع چکوال ممتاز احمد رد قادیانیت کورس کا اشتہار پڑھتے ہوئے دل کا دورہ پڑنے سے واصل جہنم ہوا تو اس دن ایک اور عجیب واقعہ نے پورے مسلمانوں کو حیرت میں ڈال دیا کہ وزیر داخلہ ریٹائرڈ جنرل نصیر اللہ بابر نے اسلام آباد سے آ کر اس قادیانی کی نماز جنازہ میں شرکت کی اور اس قادیانی کی نماز جنازہ قادیانیوں کے مربی فضل اللہ تارڑ نے پڑھائی۔ جب نصیر اللہ بابر اس کے جنازہ پر آیا تو قادیانیوں نے نصیر اللہ بابر کو عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی طرف سے شائع شدہ پوسٹر دکھایا اور درخواست کی کہ یہ پروگرام نہ ہونے دیا جائے۔ وزیر موصوف نے فوری طور پر اے سی کو حکم دیا کہ پروگرام پر فوری پابندی لگا دو اور پروگرام نہ ہونے دو۔ اس پر اے سی نے ہمارے بزرگوں سے رابطہ کیا۔ تمام نوجوان ساتھیوں سے بات چیت ہوئی۔ ان سے اے سی نے پہلے درخواست کے انداز میں پھر ڈرانے والے انداز میں پروگرام رکوانے کی کوشش کی۔ ادھر راولپنڈی میں مولانا صدیقی صاحب کو اطلاع کر دی گئی۔ اس دن بدھ کا دن تھا اور اکتوبر کی ۲۵؍ تاریخ تھی۔ مولانا صدیقی نے جواباً کہا کہ آپ اور آپ کے ساتھی ڈٹ جائیں۔ ہم بس دیکھ رہے ہیں۔ حضرت مولانا خواجہ خان محمد صاحب دامت برکاتہم کوئٹہ سے راولپنڈی تشریف لائے۔ مولانا صدیقی نے تمام حالات حضرت کی خدمت میں پیش کئے تو حضرت اقدس نے پوچھا کیا چاہئے تو مولانا صدیقی نے عرض کیا کہ حضرت پروگرام ہر حال میں ہونا ہے۔ بس دعا فرما دیں۔ ادھر حضرت اقدس نے دعا فرمائی، ادھر مسلمانان دوالمیال کامیاب ہوئے کہ اے سی صاحب کہنے لگے آپ پروگرام کریں ہم نہیں روکتے۔ بس پھر کیا تھا ساتھی تمام پروگرام کو کامیاب بنانے میں مصروف ہوگئے۔ یوں ۲۶؍ اکتوبر ۱۹۹۵ء، یکم جمادی الاوّل کا سورج طلوع ہوا اور ادھر دوالمیال کی سر زمین شاہین ختم نبوت مولانا اللہ وسایا کو مولانا محمد علی صدیقی، جناب اورنگزیب اعوان نے انہیں خوش آمدید کہا۔ پونے گیارہ بجے دوالمیال کی جامع مسجد میں پروگرام سید مجیب الرحمن شاہ صاحب اور سید منیر حسین شاہ صاحب کی سرپرستی اور نگرانی میں شروع ہوا۔

مولانا اللہ وسایا صاحب سے قبل سید حبیب الرحمن شاہ صاحب نے خطاب کیا اور پھر مولانا محمد علی صدیقی صاحب نے خطاب کرتے ہوئے آنے والے اور دوالمیال کے ساتھیوں کو پروگرام کے متعلق آگاہ کیا۔ اس کے بعد حضرت مولانا اللہ وسایا صاحب کا پونے دو گھنٹے درس ہوا۔ جس میں سوا گھنٹہ آپ نے بیان فرمایا اور بقیہ سوالات کے جوابات دے کر ڈیڑھ بجے نماز ظہر اور کھانے کے لئے وقفہ کیا

صفحہ ۳۷۱

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۵ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

اور پھر ظہر کی نماز کے بعد مولانا محمد علی صدیقی نے پروگرام کا آغاز کیا۔ تلاوت اور نعت مولانا قاری سلمان صاحب خطیب چکوال کی ہوئی۔ پھر اس کے بعد مولانا محمد علی صدیقی صاحب نے جماعت کی تاریخ پر روشنی ڈالی اور کہا کہ ہم غیر سیاسی لوگ ہیں۔ نصیر اللہ بابر نے قادیانی کی نماز جنازہ پڑھا۔ آج تک ہم خاموش رہے۔ اب یہاں نصیر اللہ بابر سے کھلی بات ہوگی۔ اس کے بعد مولانا اللہ وسایا صاحب نے خطاب کرتے ہوئے حیات عیسیٰ علیہ السلام اور امام مہدی کا ظہور اور دجال کے خروج پر روشنی ڈالتے ہوئے فرمایا کہ احادیث میں تین شخصیات کے آنے کا ذکر آتا ہے۔ قیامت کے آنے سے قبل جس کا ظہور ہوگا۔ اس کا نام امام مہدی ہے۔ اصل نام محمد بن عبداللہ ہے۔ والدہ کا نام آمنہ ہوگا۔ حضرت حسن رضی اللہ عنہ کے خاندان سے ہوگا اور دوسرے کے خروج کے بارے میں آیا ہے۔ اس کا نام دجال ہوگا۔ ایک آنکھ سے کانا ہوگا۔ دعویٰ خدائی کا کرے گا۔ آنکھ اپنی ٹھیک نہیں کر سکے گا۔ تیسرے شخص کا نام عیسیٰ علیہ السلام ہوگا۔ جن کا آسمان سے نزول ہوگا۔ ان کا نام عیسیٰ علیہ السلام بغیر باپ کے پیدا ہوئے اور ماں کا نام حضرت مریم ہے۔ مولانا نے مزید تفصیل بتاتے ہوئے فرمایا کہ مرزا غلام احمد قادیانی نے بھی مسیح ہونے کا جھوٹا دعویٰ کیا اور کہا کہ جس مہدی اور مسیح نے آنا ہے وہ میں ہوں۔ یوں یہ پروگرام مغرب تک جاری رہا۔ جمعہ کے دن ۲۶؍ اکتوبر ۱۹۹۵ء عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی امیر حضرت مولانا خواجہ خان محمد صاحب اور مولانا عزیز الرحمن جالندھری، مولانا محمد اکرم طوفانی نے تشریف لانا تھا۔ تمام احباب تشریف لائے، لیکن حضرت امیر مولانا خواجہ خان محمد صاحب، سید عطاء المنعم شاہ بخاری کی وفات پر اظہار تعزیت کے لئے ملتان تشریف لے گئے۔ جمعہ سے قبل خطاب مولانا محمد علی صدیقی، مولانا اللہ وسایا، مولانا محمد اکرم طوفانی، مولانا عزیز الرحمن جالندھری کا ہوا اور مولانا اورنگزیب اعوان مبلغ اسلام آباد نے قراردادیں پیش کیں۔ جمعہ کی نماز کا خطبہ مولانا عبدالحمید سیالوی صاحب نے دیا اور یوں دو روزہ پروگرام اپنے اختتام کو بخوبی پہنچا۔ ہم مسلمان دوالمیال عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے شکرگزار بھی ہیں اور کارکن بھی اللہ تعالیٰ ہمیں توفیق نصیب فرماویں۔ آمین!

(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ص۱۸، مورخہ ۷ تا ۱۳؍ جون ۱۹۹۶ء)

گوجر خان میں ختم نبوت کانفرنس

تحصیل گوجر خان ضلع راولپنڈی کی ایک بہت بڑی تحصیل ہے۔ یہاں پر کچھ عرصہ پہلے چند ایک قادیانیوں نے ڈش انٹینا کے ذریعہ نوجوان نسل کو گمراہ کرنے کی ناکام کوشش کی۔ گوجر خان کے نوجوانوں ساتھ حضرت مولانا عبدالمتین خطیب جامع مسجد خلفائے راشدین اور مولانا قاری عبدالرشید، مولانا عبداللہ کے پاس آئے اور اس معاملہ کی اطلاع دی۔ جس پر مولانا عبدالمتین نے ان ساتھیوں کو عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت راولپنڈی کے مبلغ مولانا محمد علی صدیقی سے رابطہ کرنے کو کہا۔ مولانا تشریف لائے۔ حالات کا جائزہ لیا اور مولانا عبدالمتین صاحب سے مشورہ کرنے کے بعد ایک بھرپور انداز میں کانفرنس کرانے کا پروگرام بنایا۔ ۲۷؍ اکتوبر ۱۹۹۵ء بروز جمعۃ المبارک بعد نماز عشاء کانفرنس کا انعقاد کر دیا گیا۔ گوجر خان کے علماء کرام کی قیادت میں نوجوان ساتھیوں نے بھرپور انداز میں کانفرنس کی تیاری شروع کی اور اس دوران تین دفعہ مولانا محمد علی صدیقی بھی راولپنڈی سے تشریف لائے۔ یوں بالآخر وہ دن آگیا کہ جس دن کانفرنس ہونا تھی۔

بعد نماز عشاء کانفرنس شروع ہوئی۔ تلاوت حضرت قاری عبدالرشید صاحب نے کی اور صدارت کے فرائض قاری احسان اللہ صاحب خطیب جامع مسجد قاسمیہ اسلام آباد نے ادا کئے۔ سٹیج سیکرٹری مولانا محمد علی صدیقی تھے۔ سب سے پہلے تلاوت کے بعد خطاب کی دعوت کہوٹہ کے معروف خطیب مولانا قاضی عبدالشکور حمادی کو دی گئی۔ مولانا نے اپنے خطاب میں سیرت النبی ﷺ پر روشنی ڈالی اور مسلمانان گوجر خان کے جذبہ ایمانی کو تازہ کیا۔ اس کے بعد عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے ناظم اعلیٰ مولانا عزیز الرحمن جالندھری تشریف لائے

صفحہ ۳۷۲

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۵ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

اور اپنے خطاب میں حیات عیسیٰ علیہ السلام اور سیرت النبی ﷺ پر روشنی ڈالی اور قادیانیوں کی سازشوں سے باخبر رہنے کے بارے میں بتایا اور آخری خطاب مولانا اللہ وسایا صاحب نے فرمایا۔ آپ نے خطاب میں فرمایا کہ ہر فتنہ کے چار دور ہوتے ہیں۔ اس کی ابتداء اس کا عروج اس کا زوال اور خاتمہ ہم نے قادیانیوں کی ابتداء دیکھی عروج دیکھا اور زوال دیکھا۔ اب ایک دور رہ گیا ہے۔ وہ ہے خاتمہ۔ مولانا نے کہا کہ ان شاء اللہ وہ وقت دور نہیں جب مرزائیت کا خاتمہ ہو جائے گا۔ مولانا نے اپنی تقریر میں وزیر داخلہ نصیر اللہ بابر پر سخت قسم کی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ نصیر اللہ بابر تو نے ایک قادیانی (ملک ممتاز دوالمیال) کا جنازہ پڑھ کر امت مسلمہ سے غداری کی ہے۔ آخر میں قراردادیں ہوئیں اور کانفرنس کا اختتام مولانا قاری احسان اللہ کی دعا پر ہوا۔

عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے تحت انعامی مقابلہ

مانسہرہ (نمائندہ خصوصی) سرزمین مانسہرہ ہائی اسکول نمبر ۳ میں دوسرا انعام گھر پروگرام ہوا جن کی مختصر رپورٹ قارئین کرام کی خدمت میں حاضر ہے۔ ۱۸؍اکتوبر ۱۹۹۵ء کو بعد نماز ظہر مرکزی جامع مسجد مانسہرہ میں تقریری مقابلہ ہوا۔ جس میں دو پرچے ہوئے۔ ایک تیرہ سال سے کم عمر کے بچوں کے لئے دوسرا ہر عمر کے افراد کے لئے جس میں اڑھائی سو افراد نے شرکت کی۔ بڑی محنت اور شوق سے پرچے حل ہوئے اور جج صاحبان نے نتیجہ مرتب کیا جس میں بڑی عمر کے افراد کی تفصیل اس طرح ہے۔ اوّل پوزیشن سید احمد شاہ، دوم سید فرزند علی شاہ، سوم حمیرا خٹک، چہارم عبدالماجد، پنجم سید قائم علی شاہ، ششم انیلہ سحر اور ہفتم نازنین شاہین۔

جب کہ بچوں کے تحریری مقابلہ کے نتائج اس طرح ہیں۔ اوّل پوزیشن عائشہ خالد مانسہرہ انٹرنیشنل پبلک سکول مانسہرہ۔ اوّل شہباز علی خان مانسہرہ پبلک سکول ان کے نمبر برابر تھے۔ دوم یاسر خان مانسہرہ پبلک سکول۔ سوم مجیب الرحمن گورنمنٹ ہائی سکول نمبر ۳۔ چہارم بلال سلیمانی مانسہرہ پبلک سکول۔

۳۱؍اکتوبر کو ہائی سکول نمبر ۳ کے عظیم پنڈال میں پروگرام ہوا۔ جس میں کثیر تعداد میں علماء، عوام، طلباء اور خواتین نے شرکت کی۔ جس میں مہمان خصوصی عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ننکانہ صاحب کے امیر محمد متین خالد صاحب تھے اور اس پروگرام کی صدارت استاذ العلماء حضرت مولانا سید غلام نبی شاہ آف جیوڑی نے کی اور بیان حضرت مولانا محمد علی صدیقی کا ہوا اور جناب ہیڈ ماسٹر غلام حسین صاحب نے مجاہد اسلام حضرت مولانا غلام غوث ہزاروی کے ساتھ اپنی زندگی کے چند لمحات جو مولانا ہزاروی کی خدمت میں بسر ہوئے بیان کئے۔

مولانا ہزاروی کا جب ذکر خیر ہوا تو کچھ آنکھوں سے آنسو رواں تھے۔ جناب محمد متین خالد کی مختصر تقریر تھی جو عشق رسول میں ڈوبی ہوئی تھی۔ میرے دوستو! عشق رسول ہی نجات کی سیڑھی ہے۔ اگر اس زمین پر اللہ کے رسول کی توہین ہوئی تو اللہ کا عذاب نازل ہوگا۔ پھر اللہ کے عذاب سے کوئی نہیں بچا سکے گا۔ انعام گھر میں لوگوں نے بڑی دلچسپی لی۔ تین سو کتب انعام میں تقسیم ہوئی اور دیگر بہت سامان دیا گیا۔ ایک لاکھ کا سامان اسٹال پر موجود تھا۔ یوتھ فورس ضلع مانسہرہ کے نوجوانوں نے مختلف حضرات سے لیا تھا۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی لاتعداد مطبوعات تقسیم ہوئیں۔ عجیب وغریب منظر تھا۔ پروگرام شروع سے آخر تک دلچسپ رہا۔ معلوماتی، تاریخی، علمی، لطیفے سب کچھ پروگرام میں شامل تھا۔ مرزا قادیانی کی خوب مذمت تھی۔ یوتھ فورس ضلع مانسہرہ کے کارکن اگر اسی طرح پروگرام کرتے رہے تو بہت جلد سرزمین ہزارہ اس ناسور سے پاک ہوجائے گی۔ جس طرح لوگ پہلے مرزائیوں سے نفرت کرتے تھے۔ اب ایک ناپاک چیز خیال کرتے ہوئے دور بھاگیں گے۔

(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ص۱۸، ۱۹، مورخہ ۱۹ تا ۲۵؍جنوری ۱۹۹۵ء)

صفحہ ۳۷۳

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۶ء

ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

تحریک ختم نبوت

کے سلسلہ میں

۱۹۹۶ء

کے

حالات و واقعات

صفحہ ۳۷۴

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۶ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

جنوبی افریقہ کی سپریم کورٹ نے بھی قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دے دیا

جنوبی افریقہ جو فطری وسائل اور معدنیات ( سونا، ہیرا، یورینیم وغیرہ ) کی دولت سے مالا مال ہے تقریباً ساڑھے تین سو برس تک مغربی سفید استعمار کے زیر نگیں رہا۔ ڈچ (اہل ہالینڈ ) اور برطانوی استعمار اس پر حکومت کرتے رہے آخر ان کی عمر پوری ہوئی اور وہ راہ عدم کے مسافر ہوئے ۔ ۱۹۹۰ء سے ۱۹۹۵ء تک ۵ سالوں کے عرصے میں عظیم انقلاب رونما ہوئے ۔ صدر منڈیلا پورے ساڑھے ستائیس برس کی قید کے بعد آزاد ہو کر جنوبی افریقہ کے معمار کی حیثیت سے منظر عام پر نمودار ہوئے ان کا عالمی بھرم بڑھتا گیا اس لئے کہ اس قلیل عرصہ میں قومی ،عوامی اور مقامی انتخابات (الیکشن) کے ذریعہ موصوف نے ملک کو جمہوریت کی شاہراہ پر کھڑا کر دیا اور ملک کے جمہوری سانچوں کی داغ بیل ڈال دی۔

مسلمانوں کی آمد:

مغربی استعمار نے عالم اسلام پر جو تسلط قائم کیا تھا وہ بتدریج ختم ہوتا گیا۔ انڈونیشیا پر ڈچ حکمران پورے ساڑھے تین سو برس تک مسلط رہے، انڈونیشیا کے ساتھ ملائیشیاء کے جزائر بھی ان کے زیر نگیں رہے۔ مقامی مسلم سلاطین اور حکمران جو راجہ کے نام سے بھی معروف، استعمار کے ساتھ نبرد آزما ہوئے۔ استعمار نے انہیں قید کر کے پابہ زنجیر جنوبی افریقہ میں لا کر نظر بند کر دیا انہی میں ایک راجہ تنبورا بھی تھے۔

کیپ ٹاؤن میں مسلمانوں کی پہلی آمد ۱۶۵۸ء میں بتائی جاتی ہے جب مسلمانوں کی ایک جماعت ( Mardy Ckers of Ambya) یہاں بطور غلام ملائیشیاء وغیرہ کے علاقوں سے لائی گئی۔ کیپ ٹاؤن کے رجسٹر میں انہیں غلام کی حیثیت سے درج کیا گیا اس کے بعد سے مسلم قیدیوں کی آمد جاری رہی۔ راہ حریت کے متوالے جو ڈچ استعمار کے خلاف نبرد آزما تھے گرفتار کر کے یہاں لائے گئے اور جزیرہ رابن کے قید خانوں میں رکھے گئے۔ ان ممتاز شخصیات میں شیخ یوسف کا نام قابل ذکر ہے، موصوف بانٹم میں شاہی امام تھے۔ وہ ڈچ کے خلاف بانٹم کے مسلم حکمران کے ساتھ جنگ آزادی میں شریک تھے۔ چونکہ وہ شاہی مسجد کے امام تھے ، اس لئے ڈچ نے انہیں ۱۶۹۴ء میں لا کر غلاموں کے زمرے سے الگ رکھا۔ کیپ کے گورنر سے موصوف کے اچھے تعلقات تھے اس بنا پر موصوف نے درخواست کی کہ وہ تنبورا کے راجہ کو جیل سے نکال کر علیحدہ علاقہ میں منتقل کرے۔ شیخ یوسف کی وفات کے بعد ان کے مریدین ملائیشیاء واپس چلے گئے اور ان کی لڑکی سے راجہ تنبورا کی شادی ہوگئی۔ راجہ نے حافظہ کی مدد سے قرآن کریم کا پورا نسخہ اپنے ہاتھ سے لکھ کر گورنر کیپ کی خدمت میں پیش کیا۔ ۱۹۹۴ء میں جنوبی افریقہ میں مسلمانوں کی آمد کی تین سوسالہ تقریبات تزک و احتشام کے ساتھ منائی گئیں۔ صدر منڈیلا نے تقریب کا افتتاح کیا سارے ملک میں قرآن خوانی کے ساتھ دیگر تقریبات کا اہتمام کیا گیا۔

مسلمانوں کی آمد کی یہ مختصر ترین یادداشت اس لئے اہم ہے کہ چند نفوس ذکیہ اور مخلص دین داروں نے اس ملک میں مذہب اسلام اور قرآنی کلچر کی داغ بیل ڈال کر امت کے لئے وسعت ارضی میں اضافہ کیا۔ انہوں نے روز اول سے اسلامی روایات عقائد اور عبادات کے تحفظ پر زور دیا بچوں کی تعلیم کے لئے مدارس و مساجد قائم کئے۔ مسلم غلاموں کا قافلہ آخر آزادی کی نعمت سے شاد کام ہوا اور سیاسی قیدی آزاد شہری ہوگئے ۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ کیپ ٹاؤن میں ڈچ رفارم چرچ کے علاوہ کوئی دوسرا مذہب قابل قبول نہیں تھا۔ ان مشکلات کے باوجود اسلام کے معجز نما مذہب و کلچر یہاں پروان چڑھنے لگا، تصوف کا فروغ ہوا اور آج اسلام اس ملک کا ایک مستحکم مذہب ہے۔

صفحہ ۳۷۵

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۶ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

استعمار نے اسلام کو زیر کرنے کے لئے ہر قسم کے ہتھکنڈے استعمال کئے برصغیر ہند و پاک کے برطانوی استعمار نے قادیانی نام کا ایک نیا مذہب قائم کر کے امت مسلمہ کی تفریق کا سامان فراہم کیا۔ مسلمانوں کی وحدت کو پارہ پارہ کر دیا ، گھر گھر میں دو فرقے کھڑے ہو گئے ، پھر انہی قادیانی فرقہ کی دو بازو میں تقسیم کرایا ایک احمدی لاہوری کے نام سے موسوم ہوا اور دوسرا قادیانی کے نام سے ۔ وحدت امت کو ختم کرنے کے لئے یہ فتنہ کھڑا کیا کہ احمدی لاہوری مسلمان تھے ۔ اس طرح خود فرقہ قادیان میں دو جماعتیں باہمی متحارب کھڑی کر دیں حالانکہ دونوں ایک ہی یونٹ کے دو وال تھے ۔ قادیانی تحریک کو عالمی تحریک بنانے کی سعی جاری رہی اور اس کے قائدین نے عالمی دورہ کے ذریعہ ہر جگہ اس کی شاخیں قائم کر ڈالیں۔ براعظم افریقہ جو خود صدیوں زیر استعمار رہا ، تعلیم و ترقی میں پسماندہ رہا ۔ قادیانیوں نے افریقہ میں اپنی تحریک کو تیز گام بنانے کے لئے ہر ملک میں اپنی جماعت کی شاخیں قائم کر ڈالیں ۔ جنوبی افریقہ چونکہ براعظم افریقہ کا سب سے نمایاں ترقی یافتہ اور دولت مند ملک تھا، اس لئے قادیانیوں نے اس پر نظر گاڑی اور براعظم میں اس کو اپنی تحریک کا مرکزی قلعہ بنایا ۔

سر ظفر اللہ خان نور نظر برطانیہ، بنفس نفیس جنوبی افریقہ تشریف لائے اور شہر کیپ ٹاؤن میں ایک مرکز قائم کر کے واپس تشریف لے گئے ۔ قادیانی عقائد کی اشاعت کے لئے وہی ذرائع اختیار کئے گئے ، جو برصغیر میں استعمال کئے گئے تھے۔ مثلاً ذہین طلباء کو آکسفورڈ اور کیمبرج کے تعلیمی وظائف دے کر ان کی ذہنی اور تعلیمی تربیت مادر برطانیہ میں کی گئی ، جس نے اس فرقہ کو جنم دیا تھا۔ پاکستان میں فرقہ قادیان کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کے بعد فرقہ کا مرکز مادر برطانیہ منتقل ہو گیا ، جہاں سے سارے عالم میں مبلغ بھیجے جاتے رہے، جنوبی افریقہ بھی آتے رہے۔

جنوبی افریقہ میں قادیانی تبلیغ خفیہ طور پر چلتی رہی ۔ کیونکہ یہاں کے مسلمان نہ صرف بیدار تھے ، بلکہ پاکستانی دستور میں قادیانیوں کے مرتد یا غیر مسلم ہونے کا اعلان ہوتے ہی یہاں کے مسلمان ہوشیار ہو گئے اور ہر قادیانی کی سرگرمی پر نظر رکھنے لگے۔ مساجد میں ان کے داخلہ پر پابندیاں لگا دیں وغیرہ ۔

برصغیر کے باہر قادیانیوں نے اپنے تحفظ کے لئے قانونی چارہ جوئی شروع کی اور سیکولر عدالتوں میں مقدمات دائر کئے کہ انہیں مذہبی اقلیت کی حیثیت سے قانونی تحفظ فراہم کیا جائے ۔ اسلام دشمن سیکولر عدالتیں جنوبی افریقہ میں بھی ان کو تحفظ دینے کے لئے آمادہ نظر آئیں اور ایسے فیصلے صادر کئے ۔ جن سے قادیانیوں کو تقویت ہوئی اور وہ مسلم مساجد و قبرستان میں شرکت کا دعویٰ کرنے لگے۔ یہاں انہوں نے اپنے آپ کو احمدی لاہوری مسلم فرقہ قرار دے کر آنکھوں میں دھول جھونکا اور مسلمان ہونے کا دعویٰ کر دیا ۔

مسلم مساجد میں قادیانیوں کی آمد یا مسلم قبرستانوں میں ان کی تجہیز و تکفین کو مسلمانوں نے ناپسند کیا اور مزاحمت شروع کی ۔ بات آگے بڑھی اور قادیانیوں نے سیکولر عدالتوں میں مقدمات دائر کئے ۔ برطانیہ اور امریکہ سے قادیانی مبلغین اور وکلاء طلب کئے گئے تاکہ وہ ان کے مقدمات کی پیروی کریں ۔ اس طرح جنوبی افریقہ کا معروف قادیانی مقدمہ منظر عام پر آیا اور ۱۹۸۲ء سے ۱۹۹۵ء تک چلتا رہا۔

کیپ ٹاؤن کی سپریم کورٹ میں قادیانیوں نے مقدمہ دائر کیا کہ وہ من حیث احمدی لاہوری مسلم ہیں اور مسلم حقوق کے حق دار بھی ہیں ۔ انہیں مساجد میں داخل ہونے اور مقابر میں تدفین اور تجہیز و تکفین کی اجازت دی جائے اور ان کے مسلم حقوق بحال کئے جائیں ۔ سپریم کورٹ میں احمدی لاہوری من حیث مدعی اور مسلم جوڈیشل کونسل من حیث مدعلیہ PLAINTIFF حاضر ہوئے ۔

جنوبی افریقہ میں قادیانیت کے خلاف مقدمہ کا ایک منفرد پہلو :

راقم الحروف بھی روز اوّل سے من حیث ایکسپرٹ وٹنس مقدمہ میں شریک رہا۔ مقدمہ کی سماعت اس محور پر گردش کرتی رہی۔

صفحہ ۳۷۶

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۶ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

اوّل یہ کہ آیا احمدی اور لاہوری مسلم ہیں یا مرتد۔ دوم یہ کہ آیا سیکولر عدالت کو کسی مذہبی کمیونٹی کے عقائد کے بارے میں فیصلہ صادر کرنے کا حق حاصل ہے یا نہیں؟ ایم جے سی ( مسلم جوڈیشل کونسل ) کا مؤقف دونوں مسائل میں واضح تھا۔ یعنی احمدی اور لاہوری بھی غیر مسلم تھے اور مذہبی عقائد کے معاملہ میں سیکولر عدالت کا فیصلہ قابل قبول نہیں ہے۔

جج برمن نے بڑی جسارت کے ساتھ یہ فیصلہ صادر کر دیا کہ سیکولر عدالت قطعی مجاز ہے کہ وہ مذہبی عقائد سے متعلق مسائل میں بھی اپنے فیصلے صادر کرے، بلکہ ان معاملات میں سیکولر عدالت زیادہ باصلاحیت Competent ہے۔ اس کا فیصلہ خالص انصاف پر مبنی ہوگا اور غیر جانب دارانہ بھی۔ فیصلے کے اصل کلمات جسے سپریم کورٹ (عدالت عالیہ بلوم فاؤنٹین نے اپنے فیصلے (Judgement) کے صفحات ۳۰، ۳۱ پر نقل کیا ہے۔

"It appears to me that the resolution of the question whether Ahmadi's are Mslims or not may well be more fairly and dispassionately decided by a secular Court such as this than by some other trbiunal composed of the ologians. Certainly when regard is had to the considerable Number of experts to be called and the considerable volume of tcs timony to be given by them. This Court may well be the most suitable forum to deal with them and with their evide."

ایم۔ جے سی نے عدالت کے فیصلہ کو قبول کرنے سے انکار کر دیا اور مقدمہ کو مشرک عدالت سے خارج کرنے کی درخواست کی۔ مقدمہ کی سماعت ثانیہ نومبر ۱۹۸۵ء میں شروع ہوئی۔ مسلم وکیل اسماعیل محمد نے اعلان کر دیا کہ مذہبی مسائل میں سیکولر کورٹ کا فیصلہ مسلمانوں کے لئے قابل قبول نہیں۔ مشرک عدالت اس کی مجاز نہیں کہ وہ کسی کو مسلم اور کسی کو مرتد قرار دے۔

ایم۔ جے سی نے مقدمہ کا بائیکاٹ کیا۔ ۲۰؍نومبر ۱۹۸۵ء کو جج ولیم نے فیصلہ صادر کر دیا کہ احمدی لاہوری چونکہ مسلمان ہیں، لہٰذا ان کے مسلم حقوق بحال کئے جائیں۔ مساجد میں داخلہ اور قبرستان میں تجہیز و تکفین کی اجازت دی جائے۔ حکم عدولی کی سزا سخت ہوگی اور اسے توہین عدالت (Contempt of court) قرار دیا جائے گا۔

مسلمانوں نے عدالت کے فیصلہ کو مسترد کر دیا اور اعلان کر دیا کہ لاہوری احمدی بھی قادیانیوں کی طرح غیر مسلم ہیں۔ ایک کا فرجج دوسرے کافر کو مسلم قرار نہیں دے سکتا ہے۔ ایم۔ جے سی نے تمام مساجد اور اراکین کمیٹی کو ہدایت جاری کر دی کہ وہ کسی بھی قادیانی، لاہوری یا ان کے حمایتی اور طرف داروں کو مساجد میں داخل ہونے کی اجازت نہ دیں اور مسلم قبرستانوں میں ان کی تدفین کی مزاحمت کریں۔ یہ اعلان بھی کر دیا کہ ہر مسلمان عدالت کی حکم عدولی کی سزا بھگتنے اور جیل جانے کے لئے تیار رہے۔ جج ولیم کے فیصلہ کی روشنی میں قادیانی اور لاہوری احمدی جسارت کے ساتھ مساجد میں داخل ہونے لگے۔ اس سے فرقہ ورانہ کشمکش میں اضافہ ہوا اور تصادم کے خطرات بڑھنے لگے۔ مساجد اور مقابر میں ان کی مداخلت سے شہر میں فساد کا خطرہ پیدا ہوا۔

ملک کی عدالت عالیہ میں اپیل:

مسلم جوڈیشل کونسل (ایم۔ جے سی) نے ملک کی سب سے بڑی عدالت (بلوم فاؤنٹین) میں جج برمن اور جج ولیم کے فیصلوں

صفحہ ۳۷۷

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۶ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

کے خلاف اپیل دائر کی اور دعوی کیا کہ غیر مسلم عدالت (سیکولر کورٹ) کو کسی فرقہ کے مذہبی عقائد سے متعلق حکم صادر کرنے کا حق نہیں ہے۔ یہ فیصلہ مسلم کمیونٹی کے لئے قابل قبول نہیں ہیں۔

یہ مقدمہ (Case no. ۲۰۶۹ء۹۲) عدالت عالیہ کے بنچ میں پانچ عالمی ججوں کے سامنے پیش ہوا اور اس کی سماعت ۲۱، ۲۲، ۲۴، ۲۵، ۲۸ اور ۲۹؍ اگست ۱۹۹۵ء تک جاری رہی، ۲۶؍ ستمبر ۱۹۹۵ء کو ججوں نے ۷۱ صفحات پر مشتمل اپنا فیصلہ صادر کیا اور صفحات ۱۵۴ اور ۱۵۵ پر سابق ججوں کے فیصلوں کو مسترد کرتے ہوئے واضح الفاظ میں اعلان کر دیا کہ: ”کسی کمیونٹی کے مذہبی عقائد کے بارے میں فیصلہ خود اس کمیونٹی کے علماء اور ماہرین عقائد ہی، جو اس عقیدہ کے محافظ امین اور مجاور ہیں، کر سکتے ہیں۔ صرف انہی کو حق حاصل ہے کہ وہ یہ فیصلہ صادر کریں کہ کس فرد کے عقائد مذہب کے تسلیم شدہ عقائد کے مطابق ہیں اور کس فرد کے عقائد اس کے مخالف ہیں۔ اس حق کو کوئی عدالت یا فرقہ سلب نہیں کر سکتا ہے، سیکولر یا دنیاوی عدالت کے لئے غیر موزوں ہے کہ وہ فیصلہ صادر کرے کہ کون مسلمان ہے اور کون مرتد ہے کسی فرد کو مذہب کے دائرہ سے خارج کرنے کا (Excommunicate) حق بھی علماء کو حاصل ہے۔ فیصلے کے اصل الفاظ حسب ذیل ہیں۔

One cannot deny the right to those who are legaimately charged with the protection of the Muslim faith to seek to safeguard what they consider to be the fundamental and critical tenets of their fatith and to excommunicate someone whose convictions and beliefs are in opposition to, or not in conformity with those principles.

ججوں نے فیصلہ میں لارڈ ڈیوی (Lard Davy) کے تبصرے کو بھی اپنی حمایت میں پیش کیا ہے (ص ۱۵۴) نیز اسکاٹ لینڈ کے فری چرچ کے مقدمہ سے متعلق لارڈ ہلسبری (Lard Halsbury) کے فیصلوں کو بھی اپنی تائید میں پیش کیا ہے (ص ۱۵۵) ان فیصلوں کے مطابق بھی مذہبی عقائد کے سلسلہ میں سیکولر عدالتیں فیصلہ صادر نہیں کر سکتی ہیں ماورائی مسائل میں لا دینی عدالتیں حکم نہیں بن سکتی ہیں۔

جنوبی افریقہ کی عدالت عالیہ کا یہ فیصلہ اب ایک عالمی نظیر ہے۔ دنیا کی کسی عدالت میں قادیانی فرقہ یا احمدی اور لاہوری فرقہ منہ دکھانے کے قابل نہیں رہا۔ کوئی سیکولر عدالت ان فرقوں کو حق تحفظ دینے کی مستحق نہیں ان کے بارے میں حتمی فیصلہ امت مسلمہ کے علمائے کبار اور مذہب وعقائد کے ماہرین ہی کر سکتے ہیں اگر وہ انہیں غیر مسلم یا مرتد قرار دے چکے ہیں تو کوئی سیکولر عدالت انہیں مسلم قرار نہیں دے سکتی ہے۔ قادیانی جو عام طور پر سیکولر عدالتوں کا سہارا لے کر اپنے حقوق کا تحفظ حاصل کیا کرتے تھے اب وہ اس فیصلہ کن نظیر کی روشنی میں اس سے محروم ہو چکے ہیں۔ مادر برطانیہ جس کی کوکھ سے اس فرقہ نے جنم لیا ہے وہ بھی اپنی غیر محرم نسل کی حفاظت نہیں کر سکتی ہے۔ اس اعتبار سے جنوبی افریقہ کی عدالت عالیہ کا فیصلہ عالمی نظیر کی حیثیت رکھتا ہے اور عقائد کے مقدمات (Doctrinol and Exclesiastics) کی سماعت کا حق نہ تو یورپ کی عدالتوں کو ہے نہ ہی امریکی یا غیر امریکی عدالتوں کو ہے۔ برصغیر پاک و ہند کے لئے یہ فیصلہ سب سے اہم ہے کیونکہ یہ تحریک ہنوز سرگرم عمل ہے۔

مقدمات کے طویل ریکارڈ کا تحفظ:

تقریباً پندرہ سالوں کے طویل مقدمات کے عدالتی کاغذات، فائل اور متعلقہ ریکارڈ کیپ ٹاؤن کے نوجوان وکیل (اٹارنی) مسٹر احمد چوہان کی لائبریری میں محفوظ ہیں۔ محققین اور ریسرچ اسکالرز ان سے استفادہ کر سکتے ہیں۔ موصوف اس مقدمہ میں روز اوّل سے

صفحہ ۳۷۸

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۶ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

روز آخر تک متعلق رہے ہیں، قادیانی تحریک اب جنوبی افریقہ میں درگور ہوچکی ہے تحریک ارتداد کے کفن میں یہ فیصلہ آخری کیل تھی۔

دو اہم نظائر :

پانچ ججوں نے اپنے فیصلے کی تائید میں دو اہم نظائر پیش کئے ہیں وہ بھی پیش نظر رہیں۔

Significant in this conneciton are the following observations of Lord Davey in General Assembly of Free Chrch of Scotlant and others v Lord Overtoun and others 1904 AC 515 (HL Sc) at 644-5:

My Lords, I disclaim altogether any right in this or any other Civil Court of this realm to discuss the truth or reasonableness of any of the doctrines of this or any other religious associatin. Or to say whether any of them are or are not based on a just interpretation of the language of Scripture, or whether the contradictions or antinomies between different statements of doctrine are or are not real or apparent only, or whether such contradictions do or do not proceed only from an imperfect and finite conception of a perfect and infinite. Being, or any similar question. See too Lord Halsbruy LC at 613.

(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ۸ تا ۱۴ مارچ ۱۹۹۶ء ۶ تا ۹)

نیشن آف اسلام، امریکہ میں مسلمان کہلوانے والے منکرین ختم نبوت کا گروہ

بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ والصلوۃ والسلام علی رسولہ الکریم!

ریاست ہائے متحدہ امریکہ میں ان دنوں سیاہ فام امریکیوں کی معروف تنظیم ’’نیشن آف اسلام‘‘ کے سربراہ لوئیس فرحان کو لیبیا کے صدر محترم کرنل معمر القذافی کی طرف سے ملنے والی ایک ارب ڈالر کی امداد اعلیٰ حلقوں میں زیر بحث ہے اور امریکی کانگریس کے ایک ممبر پیٹر کنگ نے کہا ہے کہ لوئیس فرحان کو کانگریس کے سامنے اس امر کی وضاحت کے لئے طلب کیا جائے گا کہ انہیں صدر قذافی کی طرف سے ملنے والی امداد سے امریکی قوانین کی خلاف ورزی نہیں ہے۔ لوئیس فرحان نے گزشتہ دنوں لیبیا اور عراق کا دورہ کیا ہے اور اس سے قبل امریکی دارالحکومت واشنگٹن میں ’’نیشن آف اسلام‘‘ کی منعقد کردہ عوامی ریلی عالمی ذرائع ابلاغ کے ذریعہ پوری دنیا کے سامنے آ چکی ہے جس میں دس لاکھ کے لگ بھگ افراد نے شرکت کی تھی اس عوامی ریلی کی قیادت لوئیس فرحان نے کی اور اس میں تلاوت قرآن کریم اور اذان کے خصوصی اہتمام کے ساتھ دنیا کو یہ بتایا کہ ’’نیشن آف اسلام‘‘ امریکہ میں مسلمانوں کی سب سے بڑی تنظیم ہے جو اپنے اثر ورسوخ میں مسلسل اضافہ کر رہی ہے۔

اس پس منظر میں ضروری ہو گیا ہے کہ ’’نیشن آف اسلام‘‘ کے بارے میں تعارفی معلومات کو منظر عام پر لایا جائے تا کہ عام مسلمان امریکہ میں اسلام کے نام پر تیزی کے ساتھ آگے بڑھنے والی اس تحریک کے عقائد ونظریات اور مقاصد سے آگاہ ہو سکیں ’’نیشن

صفحہ ۳۷۹

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۶ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

آف اسلام، امریکہ کے آنجہانی سیاہ فام لیڈر ایلی جاہ محمد کی قائم کردہ تنظیم ہے اور گفتگو کا سلسلہ آگے بڑھانے سے قبل اس امر کی وضاحت ضروری ہے کہ یہ لفظ ”عالی جاہ“ نہیں ہے جیسا کہ ہمارے ہاں عام طور پر لکھا جاتا ہے بلکہ ”ایلی جاہ“ (eilijah) ہے جو الیاس کا انگلش تلفظ ہے جس طرح یعقوب کو انگریزی میں جیکب اور یوسف کو جوزف بولا جاتا ہے اسی طرح الیاس کو ایلی جاہ بولا جاتا ہے۔ ایلی جاہ محمد کا اصل نام ”ایلی جاہ پول“ تھا وہ ۱۸۹۷ء میں امریکی ریاست جارجیا میں عیسائیوں کے بیپٹسٹ فرقہ کے ایک واعظ کے ہاں پیدا ہوا۔ آٹو موبائل کا کاریگر تھا۔ ۱۹۳۰ء میں اس کی ملاقات امریکی شہر ڈیٹرائیٹ میں ”ولی دی فادر“ نامی ایک مبلغ سے ہوئی اور اس سے متاثر ہو کر اس نے اسلام کے نام پر اس کا مذہب قبول کر کے اپنا نام ایلی جاہ محمد رکھ لیا ”ولی دی فادر“ جسے نیشن آف اسلام کے حلقوں میں ماسٹر ڈبلیو فارد محمد کے نام سے یاد کیا جاتا ہے اس کے بارے میں انسائیکلو پیڈیا آف برٹانیکا میں ہے کہ یہ شخص ۱۸۷۷ء میں مکہ میں پیدا ہوا اور ۱۹۳۰ء میں امریکہ چلا گیا وہاں اس نے ڈیٹرائیٹا ور شکاگو میں مسجدیں بنائیں ، وہ سیاہ فام تھا، اس نے امریکہ کے سیاہ فاموں کو بتایا کہ وہ ان کی رہنمائی اور نجات کے لئے بھیجا گیا ہے جب کہ ”نیشن آف اسلام“ کے ارکان کا اس کے بارے میں عقیدہ یہ ہے کہ وہ خدا کا فرستادہ اور کالوں کا نجات دہندہ تھا بلکہ خود اللہ تعالیٰ اس کی شکل میں ظاہر ہوا تھا ایلی جاہ محمد ۱۹۳۰ء میں اس کا ساتھی بنا اور تھوڑے عرصہ میں ہی اس کے دست راست کی حیثیت اختیار کر لی ۱۹۳۴ء میں فارد محمد پر اسرار طور پر غائب ہو گیا اور ایلی جاہ محمد نے اس کے جانشین کے طور پر اس گروہ کی قیادت سنبھال لی ایلی جاہ محمد کا دعویٰ یہ تھا کہ وہ خدا کا پیغمبر ہے اور سیاہ فاموں کی نجات اور برتری کے لئے بھیجا گیا ہے۔ امریکہ میں سیاہ فاموں پر صدیوں سے چلے آنے والے مظالم اور نسلی تفریق کے پس منظر میں اس نے اپنے پیروکاروں کو یہ عقیدہ دیا کہ دنیا کی قدیم سوسائٹیوں کے اصل راہ نما سیاہ فام ہیں، جو حضرت آدم علیہ السلام کی نسل سے ہیں جبکہ سفید فام شیطان کی نسل سے ہیں اور ان کی برتری کا دور ختم ہونے والا ہے۔ اس نے سیاہ فاموں کو امریکی فوج میں بھرتی ہونے سے منع کیا جس کی پاداش میں اسے ۱۹۴۲ء سے ۱۹۴۶ء تک جیل بھگتنا پڑی اور اسے کالوں کے مسلمہ لیڈر کا درجہ حاصل ہو گیا۔ اس نے اپنے گروہ کا نام ”نیشن آف اسلام“ رکھا اور ”محمد بولتا ہے“ کے نام سے آرگن جاری کی اس نے کہا کہ سیاہ فام سب کے سب فطرتاً مسلمان ہیں اس لئے انہیں گوروں کے مذہب (عیسائیت ) کو چھوڑ دینا چاہئے ، ایلی جاہ محمد بنیادی طور پر سفید فاموں کے صدیوں سے چلے آنے والے مظالم کے خلاف سیاہ فاموں کے فطری رد عمل کا نمائندہ تھا اور اس کے عقائد وافکار اور سرگرمیاں سفید فاموں کے خلاف اسی رد عمل اور نفرت کے اظہار کے گرد گھومتی رہیں، لیکن اس نے ”اسلام“ کا لبادہ اوڑھ کر اپنی تحریک کو مذہبی رنگ دے دیا۔ اسی دوران اسے عالمی مکہ باز محمد علی کلے اور مالکم ایکس جیسے ساتھی مل گئے جس کی وجہ سے اس کی تحریک کو بہت زیادہ شہرت اور وسعت حاصل ہوئی محمد علی کلے کو تو ساری دنیا جانتی ہے البتہ مالکم ایکس کا تعارف یہ ہے کہ یہ شخص ۱۹۲۵ء میں پیدا ہوا اس کا اصل نام مالکم لٹل تھا۔ ہوش سنبھالتے ہی جرائم کی دنیا میں آگے بڑھنے لگا اور رفتہ رفتہ ایک ٹولی کا لیڈر بن گیا ۱۹۴۶ء میں چوری کے الزام میں جیل چلا گیا جہاں سے ۱۹۵۲ء میں رہائی ملی جیل کے دوران ایلی جاہ محمد کی تحریک سے متعارف ہوا اور اس میں شامل ہو گیا رہائی کے بعد ایلی جاہ محمد سے ملا اور اس کا سرگرم ساتھی بن گیا، شعلہ نوا مقرر تھا۔ تھوڑے دنوں میں ایلی جاہ محمد کے دست راست کی حیثیت اختیار کر لی اسی طرح محمد علی کلے نے بھی ایلی جاہ محمد کی تحریک سے متاثر ہو کر ”اسلام“ قبول کیا تھا اس لئے وہ بھی اس گروہ کے لئے خاصی تقویت کا باعث بنا لیکن مالکم لٹل جو اب مالکم ایکس یا مالکم شہباز کے نام سے متعارف ہو چکا تھا اور محمد علی کلے دونوں کو یہ فضا زیادہ دیر تک راس نہ آئی۔ محمد علی کلے کو دنیا کے مختلف حصوں کے مسلمانوں سے ملاقات کا موقع ملتا رہتا تھا اس لئے اس نے جلد محسوس کر لیا کہ دنیا بھر کے مسلمانوں کا اسلام اور ایلی جاہ محمد کا اسلام دو مختلف اور متضاد مذہب ہیں۔

صفحہ ۳۸۰

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۲ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

جب کہ مالکم ایکس کو ۱۹۶۴ء میں حج بیت اللہ کے لئے حرمین شریفین میں حاضری کا موقع ملا تو دنیا بھر سے آئے ہوئے مسلمانوں کو دیکھ کر اس کے ذہن کے دریچے کھل گئے چنانچہ حج سے واپسی پر امریکہ پہنچ کر اس نے ایلی جاہ محمد کے خلاف بغاوت کا اعلان کر دیا اور محمد علی کلے نے بھی اس بغاوت میں اس کا ساتھ دیا۔ ان دونوں نے اہل السنہ والجماعۃ کے عقائد کی بنیاد پر دنیا بھر کی مسلمان برادری میں شمولیت اختیار کر لی اور مالکم شہباز نے نیویارک میں ’’مسلم مسجد‘‘ کے نام سے الگ مرکز بنا لیا جو راقم الحروف نے دیکھا ہے ۲۱ فروری ۱۹۶۵ء کو ایک اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے مالکم شہباز کو شہید کر دیا گیا، جس کے بارے میں عام طور پر کہا جاتا ہے کہ یہ قتل ایلی جاہ محمد کے ایما پر کیا گیا۔

ایلی جاہ محمد اس کے بعد ۱۹۷۵ء تک زندہ رہا اور اپنے گروہ کی قیادت کرتا رہا ۱۹۷۵ء میں اس کی وفات ہوئی اس کے بیٹے وارث دین محمد نے اس کے جانشین کی حیثیت سے گروہ کی قیادت سنبھالی لیکن باپ کے غلط عقائد پر قائم رہنے کی بجائے اس نے بھی مالکم شہباز اور محمد علی کلے کا راستہ اختیار کیا اور اہل السنہ والجماعۃ کے عقائد اختیار کرنے کے ساتھ ساتھ تنظیم کا نام بدل دیا اور ساتھیوں کے لئے ’’بلالی مسلم‘‘ کا خطاب اختیار کیا، مگر بات یہاں پر ختم نہیں ہوئی، بلکہ وارث دین محمد کے ان اعلانات کے بعد ایلی جاہ محمد کے ایک اور ساتھی ’’لوئیس فرحان‘‘ نے جو اس سے قبل مالکم شہباز شہید اور محمد علی کلے کے ساتھیوں میں شمار ہوتا تھا الٹی زقند لگا کر ایلی جاہ محمد کی جانشینی کا دعویٰ کر دیا اور اس کے عقائد پر واپس جاتے ہوئے اس کے گروہ کی قیادت سنبھال لی۔ چنانچہ اس وقت صورت حال یہ ہے کہ وارث دین محمد، محمد علی کلے اور ان کے ساتھ امام سراج وہاج اہل السنہ والجماعۃ (شافعی مسلک) عقائد کی بنیاد پر صحیح العقیدہ مسلمانوں کی رہنمائی کر رہے ہیں۔ جب کہ لوئیس فرحان، ایلی جاہ محمد کے جانشین ہونے کا دعویٰ کر کے ’’نیشن آف اسلام‘‘ کی قیادت سنبھالے ہوئے ہے۔

لوئیس فرحان انتہائی عیار اور چالاک شخص ہے جو ایک طرف تو ایلی جاہ محمد کا نمائندہ قرار دیتا ہے اور اپنے سرکاری آرگن ’’دی فائنل کال‘‘ میں اس کے عقائد و نظریات کا مسلسل پرچار کر رہا ہے مگر دوسری طرف دنیا بھر کی مسلمان تنظیموں اور حکومتوں کے ساتھ روابط بڑھا کر ان سے اخلاقی اور مالی تعاون بھی حاصل کر رہا ہے۔ یہ شخص ایلی جاہ محمد کے غلط عقائد کے خلاف بغاوت میں محمد علی کلے اور مالکم شہباز شہید کے ساتھ تھا۔ لیکن وارث دین محمد کے اعلانات کے بعد جب ایلی جاہ محمد کی سیٹ خالی دیکھی تو فوراً پلٹ کر اس کے گروہ کی قیادت سنبھال لی۔ اس نے ایلی جاہ محمد کے بیٹے وارث دین محمد کے خلاف امریکی عدالت میں ایک طویل مقدمہ لڑا کہ چونکہ وارث دین محمد اپنے باپ کے عقائد سے منحرف ہو گیا ہے۔ اس لئے ایلی جاہ محمد اور نیشن آف اسلام کے اثاثوں پر اس کا کوئی حق نہیں ہے۔ یہ مقدمہ لوئیس فرحان نے جیت لیا ہے اور وہ تمام اثاثے اب اس کے پاس ہیں۔ لیکن مسلمان اداروں سے مفادات اٹھانے میں بھی وہ پیش پیش ہے۔ ۱۹۹۰ء میں رابطہ عالم اسلامی نے امریکہ میں مسلمان تنظیموں کی ایک کانفرنس منعقد کی تو اس میں لوئیس فرحان بطور مہمان خصوصی شریک تھا۔ اس نے اس کانفرنس کی رپورٹ اور تصویریں اپنے آرگن ’’دی فائنل کال‘‘ کے ۳۱؍اکتوبر ۱۹۹۱ء کے شمارے میں نمایاں طور پر ’’مسلمان متحد ہو گئے‘‘ کے عنوان کے ساتھ شائع کیں۔ جب کہ اسی شمارے میں ’’دی فائنل کال‘‘ کی پرنٹ لائن یوں درج ہے:

Published by Minister Louis Farrakhan National representative the honorable Elijah Muhammad and the Nation of Islam.

اس پر امریکہ کی مسلمان تنظیموں میں اضطراب پیدا ہوا چنانچہ شکاگو کے ایک مسلم ادارہ ’’انسٹی ٹیوٹ آف اسلام انفارمیشن اینڈ ایجو کیشن‘‘ کے ڈائریکٹر ڈاکٹر امیر علی صاحب نے رابطہ عالم اسلام کے سیکرٹری جنرل ڈاکٹر عبداللہ عمر نصیف کو ایک تفصیلی یادداشت بھجوائی۔ جس

صفحہ ۳۸۱

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۶ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

کی ایک کاپی شکاگو حاضری کے موقع پر انہوں نے مجھے بھی مرحمت فرمائی۔ اس یادداشت کے ساتھ ”نیشن آف اسلام“ کے سرکاری ترجمان ”دی فائنل کال“ کی ۲۸ ستمبر ۱۹۹۰ء کی اشاعت کے ایک صفحہ کی فوٹو کاپی بھی منسلک ہے، جس میں ”ایلیج محمد کی فوٹو کے ساتھ مسلمانوں کے عقائد کیا ہیں؟ کے عنوان سے ”نیشن آف اسلام“ کے عقائد درج ہیں۔ ان عقائد میں جہاں کالوں کی برتری اور آنے والے دور میں ان کی بالا دستی کا ذکر ہے۔ وہاں یہ بھی ہے کہ قیامت امریکہ میں قائم ہوگی اور اس کے نتیجے میں کالوں کی حکومت قائم ہو جائے گی۔ ان عقائد میں یہ بھی لکھا ہے کہ قیامت کے دن سزا و جزا کا تعلق جسم و بدن کے ساتھ نہیں ہوگا، بلکہ یہ روحانی اور ذہنی سکون یا اہانت کی صورت میں ہوگی اور انہی عقائد میں ماسٹر ڈبلیو فارڈ محمد کے بارے میں لکھا ہے کہ:

We believe that Allah (God) appeared in the person of Master W. Fard Muhammad July 1930 the long awaited Messiah of the Christian and the Mahdi of the Muslims.

”ہم یقین رکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ۱۹۳۰ء میں ماسٹر فارڈ محمد کی شکل میں ظاہر ہوا تھا۔ یہ وہی مسیح ہے جس کا عیسائیوں کو مدت سے انتظار ہے اور وہی مہدی ہے جس کا مسلمانوں کو انتظار ہے۔“

اس سے بخوبی اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ لوئیس فرخان کی قیادت میں ”نیشن آف اسلام“ کے نام سے پیش رفت کرنے والی اس جماعت کے اسلام اور ملت اسلامیہ کے ساتھ کتنا کچھ تعلق ہے اور بعض مسلمان حکومتیں اپنے سیاسی مقاصد کے لئے اسلام کے نام پر کس قسم کے گمراہ گروہوں کو آگے بڑھا رہی ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ مسلم ادارے اور جماعتیں اس سلسلہ میں بیداری کا مظاہرہ کریں اور ”نیشن آف اسلام“ کو تقویت دینے کی بجائے امریکہ بھر کے مسلمانوں کو اس گمراہی سے بچانے کے لئے اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرنے کا اہتمام کریں۔

(ہفت روزہ ختم نبوت ۲۶؍اپریل تا ۲؍مئی ۱۹۹۶ء ص ۱۲ تا ۱۴)

قادیانیوں کی حمایت سے شفیع محمدی ملازمت بچانا چاہتے ہیں؟

شفیع محمدی کو جسٹس لکھتے ہوئے شرم کے مارے قلم کو پسینہ آ جاتا ہے اور وہ بھی شریعت عدالت کی کرسی پر بیٹھ کر محمد عربی ﷺ کے لائے ہوئے دین اسلام سے کھلی بغاوت کرنے والے قادیانی گروہ کی بے جا وکالت کا فریضہ انجام دے رہا ہے۔ کیا قابل احترام عدالت کی کرسی پر شفیع محمدی صاحب کو بٹھا کر آئین پاکستان سے کھلی بغاوت کا مقدمہ پیش ہو اور ثبوت بغاوت کے بعد باغیوں کو پاکستان کے کلیدی عہدوں پر فائز کرنے کا فیصلہ اسی طرح دے دیا جائے گا جس طرح قادیانیوں کے متعلق ملازمتوں پر تقرر کے لئے دیا گیا ہے؟

شریعت عدالت کے جج کی حیثیت سے تقرر پر تقریباً پانچ ماہ قبل ہم نے اسی اندیشہ کا یوں اظہار کیا تھا:

جسٹس شفیع محمدی شریعت عدالت کے جج مقرر....... اللہ رحم کرے!

خبر ہے کہ اسلام کے چودہ سو سال تک متفقہ قانون نکاح و طلاق کو ”حلالہ“ کے عنوان سے استہزاء کا نشانہ بنا کر بدکاری کو قانونی رنگ دینے والے جج شفیع محمدی کو شریعت عدالت کا جج مقرر کر دیا گیا ہے۔ عدالتوں میں سیاسی بنیادوں پر ججوں کے تقرر نے پاکستان کے عدالتی وقار کو عدم اعتماد کی پرخار وادی میں دھکیل دیا ہے۔ شریعت عدالت کا بھرم ابھی تک قائم تھا معلوم ایسا ہوتا ہے کہ مغربی کلچر کے پھیلاؤ میں معاونت کی خاطر حکومت نے اس بھرم کو بھی توڑنے کا تہیہ کر لیا ہے۔ پاکستان کے مسلمانوں کی اکثریت فقہ حنفی پر عمل پیرا ہے۔ اسلامی

صفحہ ۳۸۲

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۶ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

قانون اور اس کے اصول ومبادی پر فقیہانہ دسترس سے عاری نام نہاد مدعیان اجتہاد نے پہلے ہی اسلامی قانون کو بازیچہ اطفال بنا رکھا ہے۔ شفیع محمدی جیسے بزعم خود مجتہد کو شریعت عدالت کا جج مقرر کرنا عدالتی نظام اور مسلمان عوام پر ظلم کے مترادف ہے۔ کیا حکمران اس قدر بے بہرہ بے توفیق ہو چکے ہیں کہ طبی اداروں میں انجینئر اور انجینئرنگ کے اداروں میں ڈاکٹروں کا تقرری کی جانے لگے گی؟ شریعت عدالت کی کرسی کی تو ماہرین شریعت کے لئے ہی مختص رہنی چاہئے ورنہ مذہبی وقانونی فساد کو قانون کی سند حاصل ہو جائے گی۔ پھر ایسے فساد کی سرحدیں متعین کرنا مشکل ہو جائے گا۔‘‘

(ختم نبوت ج ۱۲ ش ۴۳ ص ۵)

جسٹس شفیع محمدی کا تازہ ارشاد ملاحظہ فرمائیے جس میں ایک تیر سے حقائق کے کتنے ہی سینے بیک وقت چھلنی ہورہے ہیں فرماتے ہیں: ”انہوں نے کہا کہ پاکستان کے قیام کو صرف اسلام تک محدود کرنا صرف نعرہ تو ہوسکتا ہے مگر اسے حقیقت قرار نہیں دیا جاسکتا البتہ اسلام بھی قیام پاکستان کی تحریک کا ایک فیکٹر تھا ایک اور سوال پر انہوں نے کہا کہ قادیانی غیرمسلم ہیں تو اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ انہیں ملازمت میں نہ لیا جائے یا ملازمتوں سے نکال دیا جائے۔ آئین کے تحت صدر اور وزیراعظم کے سوا قادیانی ہر عہدے پر فائز ہو سکتے ہیں۔‘‘

(روزنامہ پاکستان لاہور ۷/اگست ۱۹۹۶ء)

جسٹس شفیع محمد صاحب! ۱۹۷۴ء کی قومی اسمبلی نے طویل بحث ومباحثہ اور قادیانیوں کو اپنے نقطہ نظر کے مکمل ومفصل دفاع کے مواقع مہیا کرنے کے بعد صاف صاف فیصلہ نہیں کیا تھا کہ قادیانی اسلام کے باغی ہیں اور نئے دین کے پیروکار ہونے کے ناطے مسلمانوں سے الگ ایک نئی امت ہیں؟ ۱۹۷۴ء سے ۱۹۹۶ء تک قادیانیوں نے قولا وعملا آئین پاکستان کو تسلیم کرنے سے صاف انکار نہیں کیا ہے؟ تاریخی حقائق کی روشنی میں مذکورہ دونوں باتیں واقعاتی ہیں تو شفیع محمدی صاحب کی عدالت اسلام کے باغیوں اور آئین پاکستان کو تسلیم نہ کرنے والوں کو ”جرم بغاوت‘‘ کا مرتکب قرار دے گی یا دیگر کلیدی عہدوں کے استحقاق کے ساتھ شریعت عدالت کی کرسی پر جسٹس بنا کر بٹھانے کا بھی مستحق ٹھہرائے گی؟

(ہفت روزہ ختم نبوت ۲۳ تا ۲۹/ اگست ۱۹۹۶ء ص ۵)

قادیانیوں کے تعلیمی اداروں کی واپسی ...... قابل مذمت اقدام، اس فیصلے کی مزاحمت کی جائے گی

موجودہ غیرشرعی حکومت نے جہاں بہت سارے غیر شرعی اقدامات کئے ان ہی میں سے قومی تحویل میں لئے گئے تعلیمی اداروں کو غیرمسلم اقلیت کو واپس دینے کا اقدام بھی ہے ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں یہ ادارے بدعنوانیوں اور دیگر بڑی گڑبڑ کرانے کے اقدام کی بناء پر قومی تحویل میں لے لئے گئے تھے۔ انہی اداروں میں قادیانیوں کے تعلیمی ادارے تعلیم الاسلام ہائی اسکول، تعلیم الاسلام کالج، نصرت گرلز ہائی اسکول، نصرت گرلز کالج بھی ہیں۔

اطلاعات کے مطابق ان اداروں کو بھی قادیانیوں کو واپس کیا جا رہا ہے اور مصدقہ اطلاعات کے مطابق رقم کا تعین کر کے قادیانیوں کی جماعت احمدیہ کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ رقم جمع کرا دیں۔ ایک اطلاع کے مطابق رقم جمع کرا دی گئی ہے۔ بہرحال رقم جمع کرا دی گئی ہو یا رقم دینے کی ہدایت کی گئی یا واپسی کا فیصلہ کر کے قادیانیوں کو مطلع کر دیا گیا ہے یا مطلع کیا جا رہا ہے ان تمام باتوں میں اس بات کا فیصلہ موجود ہے کہ یہ تعلیمی ادارے قادیانیوں کے حوالے کئے جا رہے ہیں اور یہی فیصلہ ہر اعتبار سے غلط اور ناقابل قبول ہے اور مسلمان اور عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت اس فیصلہ کی راہ میں رکاوٹ بنے گی، یہاں پر دو مسئلے ہیں۔ ایک تعلیمی اداروں کی واپسی اور دوسرا تعلیمی اداروں کو قادیانیوں کی تحویل میں دینا۔

صفحہ ۳۸۳

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۶ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

جہاں تک پہلے مسئلہ کا تعلق ہے ۔ ہمارے خیال میں مسلم ملک میں تعلیمی اداروں کا قیام مسلم حکومت اور مسلمان انتظامیہ کے ذمہ ہے ایک فلاحی ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنی رعایا چاہے وہ مسلمان ہوں یا غیر مسلم، ان کی جان ومال کی حفاظت کرے اور نبی اکرم ﷺ نے جب مدینۃ النبی ﷺ کی اسلامی ریاست تشکیل دی تو مسلمان اور غیر مسلم تمام لوگوں کی جان ومال کی حفاظت کی۔ تاریخ ایک مثال بھی ایسی پیش نہیں کرسکتی کہ مدینہ منورہ کی ریاست میں کسی غیر مسلم شخص کو قتل کیا گیا ہو یا ان کے مال کو لوٹا گیا ہو بلکہ اگر ایسا کوئی واقعہ پیش آیا تو نبی اکرم ﷺ نے قانون اسلامی کے مطابق غیر مسلم کے حق کی حفاظت کی۔ مشہور واقعہ ہے کہ ایک مسلمان اور ایک یہودی کا کسی معاملہ میں اختلاف ہو گیا۔ معاملہ نبی اکرم ﷺ کے پاس پہنچا۔ آپ نے فریقین کی باتیں سننے کے بعد یہودی کے حق میں فیصلہ دیا۔ نبی اکرم ﷺ کی خدمت سے واپسی میں مسلمان نے کہا کہ اس فیصلہ میں مجھے اشکال ہے اس لئے حضرت عمر ؓ کی خدمت میں یہودی اور مسلمان پہنچے اور اپنا فیصلہ پیش کیا۔ حضرت عمر فاروق ؓ فیصلہ فرمانے لگے تو یہودی نے بطور اطلاع کے کہہ دیا کہ حضور ﷺ نے یہ فیصلہ فرمایا تھا لیکن یہ مسلمان اس کو تسلیم نہیں کرتا۔ حضرت عمر ؓ نے فرمایا جو مسلمان حضور ﷺ کے فیصلے کو تسلیم نہیں کرتا اس کا فیصلہ عمر فاروق ؓ کی تلوار کرتی ہے ۔ اس واقع سے واضح ہوا کہ حضور ﷺ نے ایک فریق کے یہودی ہونے کے باوجود اس کے حق میں فیصلہ دیا۔ حضرت عمر فاروق ؓ نے یہودی کے مقابلے میں مسلمان کی صرف اس بناء پر گردن اڑا دی کہ حضور ﷺ کے فیصلے کو تسلیم کرنے سے انکار کیا تھا۔ تو اسلامی ریاست کی جس طرح ذمہ داری ہے کہ وہ غیر مسلموں کے جان ومال کی حفاظت کرے اسی طرح تعلیمی انتظام کی ذمہ داری بھی فلاحی حکومت پر ہے ، صرف ان کو اس بات کی اجازت ہوگی کہ وہ اپنی مذہبی تعلیم اپنی عبادت گاہوں اور اپنے مخصوص تعلیمی اداروں میں حاصل کریں۔ کوئی فلاحی ریاست بھی غیر مسلم اقلیت کو ایسے ادارے بنانے کی اجازت نہیں دے سکتی جن میں وہ اپنی اقلیت کے علاوہ اس ملک کے یا کسی کے دین یا نظریات کو بدلنے یا اس ملک کے خلاف سازشیں تیار کریں۔ یہی وجہ ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے ”مسجد ضرار“ کو ڈھانے کا حکم صادر فرمایا۔ کسی نے اعتراض بھی کیا کہ حضور ﷺ مسجد کیسے ڈھائیں گے تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے حکم نازل ہوا کہ جو مسجد مسلمانوں کے مقابلے میں کفر کی تبلیغ ، مسلمانوں کے درمیان تفریق اور انتشار پیدا کرنے کے لئے اور مسلمانوں کے مخالفین کی امداد اور تعاون کی منصوبہ سازی کے لئے بنائی جائے ایسی مسجد کو ڈھایا جائے اور نبی اکرم ﷺ نے اپنی نگرانی میں اس مسجد کو ڈھا دیا۔

مندرجہ بالا حوالے کی روشنی میں حکومت پاکستان کا یہ فیصلہ کہ غیر مسلم اقلیتوں کو تعلیمی ادارے واپس کئے جائیں گے کسی طور پر درست نہیں۔ کیونکہ پاکستان میں جو ادارے غیر مسلم اقلیتوں نے بنائے ہیں اس میں زیادہ تر ادارے مشنری طرز پر ہیں خصوصاً عیسائیوں کے تمام ادارے اس مقصد کے لئے قائم کئے گئے ہیں کہ اس کے ذریعہ عیسائیت کی تعلیم دی جائے۔ یہ ادارے صرف ان غیر مسلم اقلیتوں کی تعلیم کے لئے مخصوص نہیں ہوتے۔ بلکہ ان اداروں میں بعض جگہ تو غیر مسلم پڑھتے ہی نہیں تمام کے تمام مسلمان ہوتے ہیں اور ان کو عیسائیت کی تعلیم دی جاتی ہے ہماری اطلاع کے مطابق کراچی کے بعض عیسائی اسکولوں میں بائبل کے تعلیمی اوقات میں اسکول پڑھنے والے تمام طالب علموں کی شرکت لازمی ہے۔ اس طرح اسمبلی میں لازمی طور پر بائبل کی ایک دعا یاد کرائی جاتی ہے اور اس اسمبلی میں اسکول کے تمام طلباء لازمی طور پر شریک ہوتے ہیں۔ جب یہ صورت حال ہو تو ایسے اسکول کی اسلامی معاشرہ میں کس طرح اجازت دی جاسکتی ہے۔

انگریزی دور حکومت میں علمائے کرام نے انگریزی تعلیم کی جو مخالفت کی تھی اور جن کی وجہ سے علماء کرام کو بہت طعن وتشنیع کا سامنا کرنا پڑا تھا کہ علمائے کرام مسلمانوں کی ترقی کے مخالف ہیں۔ کنویں کے مینڈک ہیں۔ مسلمانوں کو چودہ سو سال پیچھے لے جانا چاہتے ہیں۔ ہندوؤں کے آلہ کار بن کر مسلمانوں کو پسماندہ رکھنا چاہتے ہیں وغیرہ وغیرہ۔

صفحہ ۳۸۲

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۶ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

حالانکہ علمائے کرام نہ ترقی کے مخالف تھے اور نہ ہی انگریزی زبان سیکھنے کے مخالف ۔ خود حضور ﷺ نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو حکم دیا کہ وہ دیگر زبانوں پر عبور حاصل کریں تو علماء کرام کیسے کسی زبان کے مخالف ہو سکتے ہیں، لیکن بات دراصل یہ ہے کہ اس وقت انگریزی دور حکومت تھا۔ انگریز مسلمانوں کے حکمران اور مسلمان غلاموں کی حیثیت سے رہ رہے تھے۔ ان سکولوں کی حیثیت حکمرانوں کے اسکولوں کی تھی اور اگر مسلمان ان اسکولوں میں تعلیم حاصل کریں گے تو انگریزی تعلیم کی بجائے انگریزی حکمرانوں کا مذہب قبول کریں گے ان کو عیسائی مذہب کی تعلیم دی جائے گی ۔ اس بنا پر ایسے اسکولوں میں تعلیم سے روکا گیا تھا نہ کہ انگریزی تعلیم سے ۔ علماء کرام کہتے تھے کہ اپنے اسکول قائم کر کے انگریزی پڑھائیں۔ بہر حال یہ تو صرف غیر مسلم اقلیت کے اسکول قائم کرنے اور ان کے اسکول واپس کرنے کا مسئلہ تھا۔

اس وقت موضوع بحث مسئلہ قادیانیوں کو ان کے اسکول واپس کرنے کا ہے جس سے مسلمانوں میں بہت زیادہ اضطراب اور تشویش پائی جاتی ہے۔ قیام پاکستان کے بعد سر ظفر اللہ وزیر خارجہ مقرر ہوئے ۔ قادیانی ہونے کی حیثیت سے وہ پاکستان سے زیادہ اپنے جھوٹے خلیفہ اور اپنے جماعتی سربراہ کے وفادار تھے، کیونکہ ہر قادیانی یہ حلف نامہ بھرتا ہے کہ وہ اپنے سربراہ کا وفادار رہے گا۔ یہی وجہ ہے کہ جب قائد اعظم محمد علی جناح کے جنازے کا وقت آیا تو سر ظفر اللہ نے نماز جنازہ پڑھنے سے انکار کر دیا۔ اس سر ظفر اللہ کی کوششوں سے قادیانیوں کو معمولی رقم کے عوض ربوہ جیسی قیمتی زمین الاٹ کی گئی۔ تحقیق کے مطابق ایک روپیہ ایکڑ کے حساب سے یہ زمین جماعت احمدیہ کو الاٹ کی گئی اور اب تک یہ زمین احمدیہ جماعت کے نام الاٹ ہے۔ بہر حال قادیانیوں نے ربوہ کو اپنا مرکز بنالیا اور قادیان کی بجائے اپنی تمام سرگرمیاں ربوہ سے شروع کر دیں۔ ایک طرح سے ربوہ قادیانیوں کی ارتدادی سرگرمیوں کا اڈاہ بن گیا۔ اس علاقے میں حکومت پاکستان کے قوانین کی بجائے قادیانی جماعت کے سربراہ کے قوانین چلتے تھے۔ ان کی حفاظتی فورس اپنی تھی۔ پولیس تک صرف قادیانی مقرر کئے جاتے، ڈاک خانے وغیرہ کا عملہ تک قادیانی مقرر کیا جاتا۔ اسٹیشن کا عملہ بھی قادیانی تھا۔ اگر خدانخواستہ کوئی مسلمان بھرتی ہو کر آ جاتا تو قادیانی اس کو تنگ کر کے نکال دیتے۔ قادیانیوں کو جو مکانات دیئے گئے وہ تمام کے تمام جماعت احمدیہ کے اپنے تھے اگر کوئی قادیانی مسلمان ہو جاتا تو اس پر ربوہ کی زمین تنگ کر دی جاتی ۔ بعض دفعہ قتل تک کر دیا جاتا۔ ان قادیانیوں نے اپنے دو اسکول اور دو کالج قائم کئے۔ تعلیم الاسلام ہائی سکول، نصرت گرلز ہائی سکول، تعلیم الاسلام کالج، نصرت گرلز کالج ۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت حکومت کو متنبہ کرتی رہی کہ قادیانی پاکستان کے دفاعی اور دینی دونوں محاذوں پر حملہ آور ہیں اور یہ تعلیمی ادارے اس کے سب سے بڑے اڈے ہیں۔ دفاعی لحاظ سے کہ قادیانی جماعت کی طرف سے بار بار اس بات کا اعادہ کیا جا رہا ہے کہ تقسیم پاکستان عارضی مسئلہ ہے۔ دوبارہ اکھنڈ بھارت بنے گا اور قادیان پھر مرکز قادیانیت ہو گا اس بناء پر قادیانیوں کے بعض سربراہوں اور سرکردہ لوگوں کی لاشیں ربوہ میں امانت کے طور پر دفن کی گئیں ہیں۔

اس طرح کلیدی آسامیوں پر فائز افراد کو ہدایت کی گئی کہ وہ حکومت کی وفاداری کی بجائے جماعت احمدیہ کے وفادار رہیں اور ملکی حکم کے مقابلے میں جماعت احمدیہ کے سربراہ کا حکم ہو تو جماعت کے سربراہ کے حکم کو ترجیح دی جائے۔ چاہے حکومت اور ملک کو نقصان پہنچے۔ اس طرح مرزا محمود نے ۱۹۵۲ء میں واضح اعلان کیا کہ ۱۹۵۲ء گزرنے نہ پائے کہ بلوچستان احمدیوں کے قبضہ میں آ جائے ۔ گویا بلوچستان جیسے مستحکم دفاعی مورچے کو پاکستان سے الگ کر کے قادیانی اسٹیٹ بنانے کی تیاری کی جا رہی تھی ۔

دینی محاذ پر اس طرح کے قادیانی جماعت کی تبلیغی سرگرمیاں جاری تھیں کہ کسی طرح مسلمانوں کو کافر بنا کر قادیانی بنا دیا جائے اور ان تمام سرگرمیوں کے سب سے بڑے مراکز یہ تعلیمی ادارے تھے۔ انہی اداروں میں نوجوانوں کو خصوصی طور پر تیار کر کے ’’فرقان فورس‘‘ کے نام سے ایک مسلح قوت تیار کی جارہی تھی جو ملک کے مختلف حصوں میں فسادات کے لئے بھیجی جاتی ۔ ربوہ کے حفاظتی اقدامات کرتی۔ اس

صفحہ ۳۸۵

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۶ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

فورس کا سربراہ مرزا طاہر تھا۔ اور اس کی قیادت اور حکم سے ۱۹۷۴ء میں ہزاروں قادیانی نوجوانوں نے نشتر کالج کے معصوم اور نہتے طلباء کو ربوہ کے ریلوے اسٹیشن پر بربریت اور ظلم کا نشانہ بنایا تھا۔ بہرحال عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت قادیانیوں کے اقلیت کے مطالبے کے ساتھ ساتھ ربوہ کو کھلا شہر قرار دینے کا مطالبہ بھی کرتی رہی ، لیکن مدتوں مطالبات کو ٹال کر قادیانیوں کی ملک اور اسلام دشمنی پر پابندی لگانے کی بجائے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے علمائے کرام کے خلاف کارروائیاں کی جاتیں۔ ۱۹۵۳ء کی تحریک میں قادیانیوں کی بجائے مسلمانوں کو دبانے کی کوشش کی ۔ لیکن ۱۹۷۴ء میں آخر کار مولانا سید محمد یوسف بنوری کی قیادت میں تحریک کامیاب ہوئی اور قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دے دیا گیا اور ربوہ کو کھلا شہر قرار دے دیا گیا۔ اس سے قبل ذوالفقار علی بھٹو نے تعلیمی اداروں کو سرکاری تحویل میں لیا تو قادیانیوں کے یہ اسکول اور کالج بھی قومی تحویل میں لے لئے گئے اور اس طرح قادیانیوں کی شرارت کے یہ اڈے کافی حد تک کنٹرول میں آنے کے امکان پیدا ہوئے لیکن بھٹو کی آئینی ترمیم کے بعد قانون سازی نہ ہونے کی وجہ سے کما حقہ فائدہ نہ ہو سکا۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت نے ضیاء الحق مرحوم کے مارشل لاء کے دور میں حضرت امیر مرکزیہ مولانا خواجہ خان محمد ، نائب امیر مرکزیہ مفتی احمد الرحمن مجلس عمل کے سیکرٹری جنرل مفتی مختار احمد نعیمی کی قیادت میں تحریک چلائی ۱۹۸۴ء میں امتناع قادیانیت آرڈی نینس جاری ہوا۔ آرڈی نینس جاری ہوتے ہی اب قادیانیوں کو اپنی سرگرمیاں محدود ہوتی نظر آئیں تو سب سے پہلے مرزا طاہر کو اپنا انجام نظر آیا اور تمام مظالم آنکھوں کے سامنے آگئے اور قانون کے دائرے میں پھنسنے کا امکان پیدا ہوا تو راتوں رات پاکستان سے چھپ کر ایسا فرار ہوا کہ لندن میں جا کر پناہ لی اور اپنا مرکز ربوہ سے منتقل کر کے اپنے آقا اور اصلی مربی انگریز کی گود لندن کے نواحی علاقے میں قائم کر دیا۔ اور ربوہ کے یہ تعلیمی ادارے مسلمانوں کے لئے کھل گئے اور ربوہ شہر میں مسلمانوں نے آباد ہونا شروع کر دیا۔

سرگرمیاں شروع کیں ۔ تمام تعلیمی اداروں میں اپنے چندوں سے مساجد تعمیر کیں۔ اسکول میں اسلامی لائبریریاں قائم کیں کیونکہ نہ تو ان میں مساجد تھیں اور نہ ہی لائبریریاں تھی نہ کوئی اسلامی اور دینی کتاب ۔ اب ۱۲ سال کی محنت اور لاکھوں روپے کے اخراجات کے بعد ان تعلیمی اداروں میں مسلمان طلباء کی ایک متعد بہ تعداد اور اساتذہ کی ایک مقدار ہوئی ہے اور بڑی محنت کے بعد ان اداروں کی قادیانی تبلیغ گاہ کی حیثیت ختم کی گئی ہے اب دوبارہ ان تعلیمی اداروں کو قادیانیوں کے حوالے کرنے سے درج ذیل امور کی وجہ سے مناسب نہیں۔

ادارے قادیانیوں کو واپس کئے گئے تو تعلیمی ادارے تعلیم گاہ کی بجائے قادیانیت کی تبلیغ اور دہشت گردی اور مسلح جدوجہد کے ادارے بن کر پاکستان اور مسلمانوں کے لئے خطرناک ہوں گے۔

شہریوں کے حقوق کا خیال رکھتے ہوں بلکہ ان کی حیثیت ایک معاند اور دشمن اور کافر حربی اور باغی کی ہے۔ انہوں نے آج تک پاکستان کو تسلیم نہیں کیا ۔ وہ پاکستان میں رہنے والے دس کروڑ سے زائد مسلمانوں کو ہی نہیں بلکہ پوری دنیا میں رہنے والے مسلمانوں کو جو حضور ﷺ کو آخری نبی تسلیم کرتے ہیں کافر ،کتیوں کی اولاد اور کنجریوں کی اولاد تصور کرتے ہوئے ان کی تباہی کے خواہش مند ہیں۔ مرزا طاہر بار بار اعلان کر چکا ہے کہ پاکستان کے مسلمانوں پر اللہ کا عذاب آئے گا ۔ پاکستان تباہ ہو

صفحہ ۳۸۶

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۶ء

ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

گا۔ پاکستان پر جب کوئی مصیبت آئے قادیانی خوشی مناتے ہیں۔ ایسے دشمن گروہ کو تعلیمی ادارے واپس دینے اپنے پاؤں پر خود کلہاڑی مارنے کے مترادف ہے۔ اگر یہ تعلیمی ادارے واپس کئے گئے تو پھر یہ دہشت گردی کے اڈے بن جائیں گے۔

سرگرمیاں شروع کرانا آئین پاکستان کی سراسر خلاف ورزی ہے۔

مسلمان طلباء کا مستقبل خطرے میں پڑ جائے گا اور آئے دن قادیانی انتظامیہ ان کو پریشان اور ہراساں کرے گی۔ تعلیمی کیریئر کو تباہ کرنے کی کوشش کرے گی۔ مسلمان طلباء کے مقابلے میں قادیانی طلباء کو امتیازی نمبرات دیئے جائیں گے قادیانی طلباء مسلمان طلباء کو مشتعل کریں گے۔ ان کی دل آزاری کریں گے آئے دن فسادات ہوں گے اور قادیانی دنیا بھر میں اس فسادات کی آڑ میں پاکستان اور اسلام کے خلاف پروپیگنڈہ کریں گے۔

بدلے لے گی ان کی فائلیں خراب کرے گی۔ ان کی ترقیوں میں رکاوٹ ڈالے گی۔ ان کو لالچ دے کر یا ڈرا دھمکا کر قادیانیت کی ترغیب دے گی۔

اس میں نماز پڑھ کر مسلمانوں کو مشتعل کریں گے۔ امام کے مسئلہ پر جھگڑا اٹھائیں گے۔ خود داخل ہونے کی کوشش کریں گے۔

ہے۔ علاقے کے صرف یہی دو چار ادارے ہیں جس میں علاقے کے مسلمان تعلیم حاصل کر سکتے ہیں۔ ان کا تعلیمی مستقبل تباہ ہوگا۔ ان کی تعلیم کا نظام ختم ہو جائے گا۔ جو شہریوں کے حقوق پر ڈاکہ ہے اس لئے مسلمان اس مطالبہ میں حق بجانب ہیں کہ یہ تعلیمی ادارے قادیانیوں کو واپس نہ کئے جائیں۔ یہ فیصلہ فوری طور پر واپس لیا جائے۔ اگر حکومت خود نہیں چلا سکتی تو مسلمانوں کی انتظامیہ بنا کر ان کے حوالے کر دے۔ بصورت دیگر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت اس فیصلے کی مزاحمت اور اس کے خلاف تحریک چلانے کا حق محفوظ رکھتی ہے۔

(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ۱۹ تا ۲۴؍ اکتوبر ۱۹۹۶ء ص ۴ تا ۷)

چناب نگر کے تعلیمی اداروں کی واپسی ، صدر پاکستان سردار فاروق احمد خان لغاری کے نام کھلا خط

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

مزاج گرامی

آنجناب کی توجہ ایک حساس قومی و دینی اور انتظامی مسئلہ کی طرف متوجہ کرانا چاہتے ہیں، جو بوجوہ آپ کی نظروں سے اوجھل ہے وہ یہ کہ:

بھی قومی تحویل میں لیا گیا۔ اسوقت ان اداروں میں قادیانی کتب نصاب کا حصہ تھیں۔ جنہیں نصاب سے خارج کیا گیا۔ اس وقت ان اداروں کی عمارتوں کی حالت خستہ اور نا گفتہ تھی۔ اکثر عمارات کو گرا کر نئے سرے سے تعمیر کیا گیا، تعلیمی بلاک، دفاتر،

صفحہ ۳۸۷

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۶ء

ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

ہوسٹل چار دیواریوں کو بنایا گیا۔ بعض عمارتوں کی مرمت کی گئی، لیبارٹری کا سامان سائنس کی کلاسوں کے لئے خریدا گیا۔ یوں تعمیر، مرمت، تنخواہوں اور دیگر گرانٹس پر اس وقت تک بلامبالغہ اربوں روپے قومی خزانہ سے ان ربوہ کے تعلیمی اداروں پر خرچ کئے گئے۔ قادیانیوں کی اجارہ داری ختم کر دی گئی ملک بھر کے دیگر تعلیمی اداروں کی طرح ان اداروں کو چلایا گیا۔ ربوہ اور گردونواح میں مسلمانوں کو قادیانیوں کے چنگل سے نجات ملی اور انہوں نے اس پر سکھ کا سانس لیا۔ اس پر بھٹو صاحب بجا طور پر مبارک کے مستحق گردانے گئے۔

(انا للہ وانا الیہ راجعون)

صفحہ ۳۸۸

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۶ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

طالبات، اساتذہ و اسٹاف کو حکومت قادیانیوں کی گود میں ڈالنا چاہتی ہے؟ جناب ! آپ ٹھنڈے دل و دماغ اور خدا داد صلاحیتوں کی بنیاد پر محض ملک اور اسلام کے مفاد میں ان امور پر غور فرمائیں۔ کیا قانوناً، شرعاً، اخلاقاً ان اداروں کو قادیانیوں کو واپس کرنے کا کوئی ادنیٰ سا بھی جواز ہے۔ خداوند کریم آپ کو ملکی سلامتی اور ربوہ و گردو نواح کے مسلمانوں کے تحفظ و بقا کے لئے صحیح فیصلہ کرنے کی توفیق ارزاں فرمائیں۔ امید ہے کہ آنجناب خداوند کریم کی عنایت کردہ توفیق سے اپنے اختیارات کو بروئے کار لاکر قادیانیوں کو ربوہ کے تعلیمی اداروں کی واپسی کی منسوخی کا واضح حکم جاری فرما کر ربوہ و گردو نواح کے مسلمانوں کو قادیانیوں کی غلامی سے محفوظ فرمائیں گے۔ اور حکومتی صریح زیادتی کا مداوا کریں گے۔

(ہفت روزہ ختم نبوت ۸ تا ۱۴؍نومبر ۱۹۹۶ء ص ۴، ۵)

قادیانی کو مسلمانوں کے قبرستان میں دفن ہونے سے روک دیا گیا

(رپورٹ ابو ثاقب ) چک نمبر ۱۔ تحصیل دنیا پور ضلع لودھراں میں مرزائی مردے کو مسلمانوں کے قبرستان میں دفن نہیں ہونے دیا۔ چک نمبر ۱۔ تحصیل دنیا پور میں ایک مرزائی مرتد جہنم واصل ہوا اور مرزائیوں نے اس کو مسلمان قبرستان میں دفن کرنے کی کوشش کی تو علاقے کے معززین کی کثیر تعداد نے جس میں چوہدری نذیر احمد ، حاجی فرزند علی ، اکبر علی ، محمد ریاض ، عبدالخالق ، محمد طفیل جاوید نے ڈپٹی کمشنر لودھراں اور اے سی دنیا پور سے ملاقات کی اور حالات کی سنگینی کا احساس دلایا۔ تو ڈی سی اور اے سی نے مسلمانوں کے جذبہ ایمانی کو مدنظر رکھتے ہوئے حکم صادر کیا کہ مرزائی چونکہ کافر ہیں ۔ اس لئے ان کا مسلمانوں کے قبرستان میں دفن ہونا منافی اسلام ہے۔

(ہفت روزہ ختم نبوت ۱۹ تا ۲۵؍ اکتوبر ۱۹۹۶ء ص ۴۶)

کوئٹہ میں قادیانیوں کی شرانگیزی............ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت نے ناکام بنادی

قومی اسمبلی سے قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کے تاریخی بل کے باوجود قادیانیوں کی شرانگیزی جاری تھی اور وہ ملک میں جگہ جگہ مساجد کے نام پر اپنی کفریہ عبادت گاہیں قائم کرتے تھے اور جگہ جگہ جلسے منعقد کر کے مسلمانوں کو مشتعل کرتے تھے۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت نے اس سلسلے میں ۱۹۸۴ء میں امیر مرکزیہ حضرت مولانا خواجہ خان محمد صاحب مدظلہ العالی ، نائب امیر مرکزیہ حضرت مفتی احمد الرحمٰن ، ناظم اعلیٰ مولانا محمد شریف جالندھری کی قیادت میں مارشل لاء دور میں تحریک چلائی اور خدا کے فضل و کرم سے امتناع قادیانیت آرڈی نینس کا اجرا ہوا اور ایک حد تک قانونی طور پر قادیانیوں کی شرانگیزی روکنے کا امکان پیدا ہو گیا۔ قادیانیوں نے سالانہ اجتماعات کے انعقاد کے لئے سپریم کورٹ سے رجوع کیا۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت نے سپریم کورٹ میں مقدمہ کی پیروی کی اور اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مؤقف کو فتح حاصل ہوئی اور سپریم کورٹ نے تمام اپیلوں کے سلسلے میں فیصلہ جاری کیا کہ قادیانی شعائر اسلام استعمال نہیں کر سکتے اور سالانہ اجتماعات منعقد نہیں کر سکتے۔ اس فیصلہ کی روشنی میں سب سے پہلے کوئٹہ شہر میں قادیانیوں کی گرفتاری عمل میں آئی ۔ جب کہ قادیانی کلمہ طیبہ کا لیبل لگا کر کلمہ طیبہ کی توہین کر کے مسلمانوں کو مشتعل کر رہے تھے ۔ اس گرفتاری کے بعد مقدمہ ہوا اور سزا ہوئی ۔ مسلمانان کوئٹہ کے لئے یہ بہت بڑا اعزاز تھا کہ امتناع قادیانیت آرڈیننس کے تحت مجرمین توہین رسالت کو سزا دی گئی ۔ ربوہ میں سالانہ اجتماعات پر پابندی لگی ۔ کوئٹہ شہر میں قادیانی اجتماع کرتے تھے اور عبادت گاہ مسجد کی شکل میں قائم کر رکھی تھی ۔ اس پر پابندی عائد کی گئی۔ موجودہ پیپلز پارٹی دور میں قادیانیوں نے پھر پر نکالنے شروع کئے اور سب سے پہلے آٹھویں ترمیم کو ختم کرنے کی آڑ میں قادیانیت کے سلسلے کی ترمیم اور دیگر اسلامی دفعات کو ختم کرنے کی کوشش کی گئی لیکن عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت میدان عمل میں آئی اور واضح

صفحہ 389

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۶ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

اعلان کیا کہ آئین کی اسلامی دفعات خصوصا قادیانیت کے متعلق ترمیم کو چھیڑنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ جمعیت علماء اسلام کے قائد مولانا فضل الرحمن نے حکومت پر دباؤ ڈالا۔ اس طرح حکومت اور اپوزیشن میں اتفاق رائے کے باوجود آٹھویں ترمیم کے سلسلے میں گڑبڑ کرنے کی کوشش ناکام بنادی گئی اور یوں قادیانیوں کا ناپاک منصوبہ ناکام ہوگیا۔

موجودہ حکومت کی ڈھیل کے پیش نظر قادیانیوں نے ملک میں دوبارہ شرارت کرنے کی کوششیں شروع کیں۔ ربوہ کے سالانہ اجتماع کے انعقاد کی کوشش کی گئی۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت نے اس کو ناکام بنادیا۔ کراچی کے مختلف علاقوں میں قرآنی آیات اور کلمہ طیبہ لگا کر شعائر اسلام کی توہین کی کوشش کی گئی۔ مجلس تحفظ ختم نبوت کے نائب امیر مرکزیہ حکیم العصر حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی صاحب کی پرامن قانونی کوششوں سے یہ حربہ ناکام ہو گیا اور مسلمان مشتعل ہوئے بغیر قانونی طریقہ کار سے اس پر قابو پایا گیا۔ گزشتہ دنوں کوئٹہ شہر میں فاطمہ جناح روڈ پر قائم قادیانیوں کی عبادت گاہ جو ۱۹۸۴ء میں امتناع قادیانیت آرڈیننس کے اجراء کے بعد مجلس تحفظ ختم نبوت کے مطالبہ کے بعد قانونی طور پر بند کی گئی تھی قادیانیوں نے دوبارہ کھلوانے کی کوشش کی اور فوری طور پر مجلس عمل اور جمعیت علمائے اسلام کے تعاون سے اس کے خلاف تحریک کا اعلان کردیا گیا۔ قانونی اور سیاسی دباؤ دونوں صورتیں اختیار کی گئیں۔ قادیانیوں نے جو دعوت نامہ جاری کیا تھا۔ اس میں مرزا غلام احمد قادیانی کے نام کے ساتھ ”علیہ السلام“ لکھا۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت نے واضح اعلان کر دیا کہ اگر عبادت گاہ کھولی گئی یا جلسے کی اجازت دی گئی تو مجلس تحفظ ختم نبوت کسی بھی انتہائی اقدام سے گریز نہیں کرے گی اور عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ کے لئے ہر قسم کی قربانی دی جائے گی۔ اللہ رب العزت نے فضل کا معاملہ فرمایا اور حکومت بلوچستان نے محسوس کیا کہ اگر قادیانیوں کو جلسے کی اجازت دی گئی تو بہت زیادہ خون خرابہ ہوگا۔ آخر کار انتظامیہ نے گھٹنے ٹیک دیئے اور قادیانیوں کی عبادت گاہ بھی سیل کر دی اور جلسے پر بھی پابندی عائد کر دی۔ اس عظیم کامیابی پر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے تمام ارکان نے رب کائنات کا شکریہ ادا کیا کہ اللہ تعالیٰ نے عقیدہ ختم نبوت کو عظمت عطا فرمائی۔ حکومت پاکستان کو چاہئے کہ بلوچستان حکومت کے اس اقدام کی تقلید میں پورے ملک میں قادیانیوں کی مساجد کی شکل میں قائم عبادت گاہیں سیل کرے اور قادیانیوں کو آئین کا پابند بنائے۔

(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی یکم تا ۷؍نومبر ۱۹۹۶ء ص۴، ۵)

ختم نبوت کانفرنس کراچی...... ایک سنگ میل

عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کراچی کے تحت ۲۵؍ اکتوبر ۱۹۹۶ء بروز جمعہ دفتر ختم نبوت کے سامنے عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی۔ جس کی صدارت امیر مرکزیہ حضرت مولانا خواجہ خواجگان خان محمد صاحب زید مجدہم نے فرمائی۔ حضرت اقدس حکیم العصر مولانا محمد یوسف لدھیانوی دامت برکاتہم نے خصوصی تقریر فرمائی۔ جمعیۃ علمائے اسلام کے قائد مولانا فضل الرحمن، مولانا سید عبدالمجید ندیم شاہ، مولانا محمد اسعد تھانوی اور دیگر علمائے کرام نے تفصیل سے عقیدۂ ختم نبوت اور قادیانیت کی شرانگیزیوں پر روشنی ڈالی۔ واضح رہے کہ کراچی میں قادیانیوں کی اسلام دشمن سرگرمیوں نے پھر مسلمان کو مضطرب کیا ہوا تھا۔ کانفرنس کے انعقاد سے ان مسلمانوں کے دلوں کو تقویت پہنچی۔ توقع ہے کہ ان شاء اللہ کانفرنس کے مثبت نتائج برآمد ہوں گے۔ کراچی میں عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ اور رد قادیانیت کے سلسلے میں ان شاء اللہ یہ کانفرنس سنگ میل ثابت ہوگی۔

(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی مؤرخہ یکم تا ۷؍نومبر ۱۹۹۶ء ص۵)

وزیر اعلیٰ کی ہٹ دھرمی...... قادیانی وزیر کی برطرفی کے لئے تاریخی ہڑتال

ہفتہ مؤرخہ ۱۴؍ دسمبر ۱۹۹۶ء کو مجلس عمل تحفظ ختم نبوت نے کراچی اور سندھ کے مسلمان شہریوں سے اپیل کی کہ وہ رضا کارانہ بنیاد پر

صفحہ ۳۹۰

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۶ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

مذہبی جذبے کے تحت قادیانی وزیر کی برطرفی اور عقیدہ ختم نبوت سے وابستگی کے ثبوت کے لئے اپنا کاروبار بند رکھیں تا کہ حکومت پر دباؤ ڈالا جائے اور وہ قادیانی وزیر کو برطرف کرے۔ رب کائنات کا ہزار ہا شکر ہے اور نبی اکرم ﷺ کا صدقہ ہے کہ بغیر کسی جبر اور تشدد اور بغیر کسی محنت کے کراچی اور سندھ کے شہریوں نے وہ تاریخی ہڑتال کی کہ سابقہ ہڑتالوں کے ریکارڈ ٹوٹ گئے اور عجیب بات یہ ہے کہ ہڑتال کے دن نہ کوئی ٹائر جلا ، نہ کسی بس پر پتھراؤ ہوا اور نہ ہی کسی کی املاک کو نقصان پہنچایا گیا۔ اگر کسی نے غلط فہمی کی بناء پر کاروبار زندگی چلانے کی کوشش کی تو مجلس عمل تحفظ ختم نبوت کے کارکنوں نے نہایت پر امن طریقے سے ان سے درخواست کی اور انہوں نے کاروبار زندگی بند کر کے مجلس عمل کا ساتھ دیا ۔ یہ خالص اللہ تعالیٰ کا فضل و کرم اور مسلمانوں کی اپنے آقا رحمت عالم سرور کائنات ﷺ سے عقیدت اور وابستگی کا ثمرہ تھا ورنہ ہڑتال کے لئے جہاں تک محنت کا تعلق ہے اس کے لحاظ سے اس ہڑتال کو ایک فیصد بھی کامیاب نہیں ہونا چاہئے تھا۔ پیر کے دن اعلان ہوا کہ ہفتہ کو ہڑتال ہو گی۔ منگل اسی طرح گزر گیا۔ اجلاس تک نہ ہوسکا۔ بدھ کے دن کچھ انفرادی ملاقاتیں شروع کی گئیں۔ چند تاجر تنظیموں اور چند ٹرانسپورٹ تنظیموں نے ہڑتال میں تعاون کا یقین دلایا۔ ایک اشتہار تک نہیں چھپا، کراچی یا سندھ کی کسی شاہراہ پر ایک بینر ہڑتال کے لئے نہیں لگایا گیا ، کسی جگہ دھمکی نہیں دی گئی کہ اگر ہڑتال نہ کی تو دکانیں محفوظ نہیں رہیں گی ، بس اخبارات میں خبروں کے ذریعہ اپیل کی گئی اور معمولی رابطے ، لیکن جس مسلمان نے اخبار میں ہڑتال کی اپیل پڑھی، اپنے مسلمان بھائی ، تاجر ، مزدور پیشہ ، ٹرانسپورٹر ، سرکاری ملازم ، پٹرول پمپ والے ، کارخانہ دار، ہوٹل والے غرض چھوٹے بڑے کام کرنے والے سب نے ایک دوسرے کو تلقین کی کہ یہ ہڑتال نہ سیاسی ہے اور نہ کسی مفاد کے پیش نظر، یہ ہڑتال سب مسلمانوں کی ہے، کلمہ ”لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ“ پڑھنے والوں کی ہے، ہم سب کو خود ہی اس ہڑتال کو کامیاب بنانا چاہئے اور مسلمانوں کی مشترکہ کوشش کامیاب ہو گئی ۔

ہفتہ کی صبح کا جب آغاز ہوا تو نماز کے بعد ہی احساس ہوا کہ آج کراچی کی سڑکیں ویرانی کا منظر پیش کریں گی۔ محلے کے دکاندار بھی ہڑتال میں شریک تھے۔ بعض علاقوں میں دودھ والوں اور بیکری والوں سے درخواست کی گئی۔ یہ ضرورت زندگی کی چیز ہے آپ کچھ دیر کے لئے دکان کھول لیں۔ ہوٹل والوں تک نے اس سعادت میں شریک ہونا اپنے لئے ضروری سمجھا، سرکاری دفاتر اور بینک تک عملے کے نہ آنے کی وجہ سے کھل نہ سکے ، ہڑتال کے معمولات کے مطابق کہیں ٹائر جلنے اور فائرنگ کے مناظر دیکھنے میں نہیں آ رہے تھے۔ ایسی پرامن ہڑتال کہ بی بی سی کو تبصرہ کرنا پڑا کہ مجلس عمل تحفظ ختم نبوت کی ہڑتال کامیاب اور مؤثر رہی اور کسی جگہ سے بھی کسی نا خوشگوار واقعہ کی اطلاع نہیں ملی۔

یہ ہڑتال ایک قادیانی وزیر کی برطرف کرنے کے مطالبے کے حق میں تھی۔ مجلس عمل کا موقف ہے کہ قادیانیوں نے اب تک آئینی ترمیم کو تسلیم نہیں کیا تو ان کو کس طرح مسلمانوں کا وزیر بنایا جا سکتا ہے؟ بہرحال بغیر کسی تیاری کے ہڑتال کامیاب ہونا اس بات کی دلیل ہے کہ مسلمانوں کا دین اور نبی اکرم ﷺ سے محبت اور عقیدت کا تعلق بہت مضبوط ہے اور اس رشتہ کو کسی صورت میں ختم نہیں کیا جا سکتا۔ مسیلمہ کذاب سے لے کر مرزا غلام احمد قادیانی تک دسیوں جھوٹوں نے ظاہری طور پر اس بات کی کوشش کی کہ مسلمانوں کے تعلق اور عقیدت کو حضور ﷺ سے ہٹا کر اپنی طرف مبذول کر لیں ۔ سینکڑوں گم کردہ راہ منافقین نے اس رشتہ کو کمزور کرنے کی کوشش کی لیکن مسلمان بے عمل تو ہوسکتا ہے، غافل تو ہو سکتا ہے، لیکن حضور ﷺ سے تعلق کے حوالے سے وہ کسی قسم کی کمی یا کوتاہی کو گوارہ نہیں کرتا۔ اس بنا پر جب حضور ﷺ کی شان اقدس میں کسی بد باطن نے توہین کی جسارت کی تو مسلمانوں نے اسے برداشت نہیں کیا اور ایسے شخص کی زبان بند کر دی۔ کیونکہ حضور ﷺ کی ذات اقدس کو اگر دین سے نکال دیا جائے تو دین کہاں باقی رہتا ہے۔ امت کو تمام شرف اور عظمت حضور ﷺ کی وجہ سے عطا ہوئی ہے۔ بہر حال ہڑتال کے لئے جس سے بھی درخواست کی اس نے بخوشی قبول کر لیا اور اس طرح یہ تاریخی ہڑتال مسلمانوں کے مذہبی

صفحہ ۳۹۱

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۶ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

جذبہ کی وجہ سے بھر پور کامیاب ہوئی۔ حکومت سندھ کو عقل سے کام لینا چاہئے اور مسلمانوں کے جذبات کا احترام کرتے ہوئے قادیانی وزیر کو برطرف کر دینا چاہئے۔ مجلس عمل تحفظ ختم نبوت نے ہڑتال کی کامیابی پر اللہ تعالیٰ کا شکریہ ادا کرتے ہوئے تمام مسلمانوں کا خصوصاً تاجر برادری، ٹرانسپورٹ برادری، مزدور، طلباء، سرکاری، غیر سرکاری ملازمین کے اس مذہبی جذبے پر ان کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے جب تک مسلمانان پاکستان میں یہ جذبہ رہے گا پاکستان کا اسلام سے رشتہ کوئی نہیں توڑ سکتا اور پوری دنیا میں اسلامی تحریکات کی قیادت مسلمانان پاکستان کرتے رہیں گے۔

ہڑتال والے دن سندھ کے غیر دانش مند اور دینی حمیت سے عاری وزیر اعلیٰ نے پھر قادیانی وزیر کی حمایت میں ایک بیان جاری فرمایا۔ جس میں دعویٰ کیا کہ مسلمان بلاوجہ کنور ادریس کے خلاف شور مچا رہے ہیں۔ اس سے قبل وہ بڑے بڑے عہدوں پر فائز رہ چکا ہے۔ اس وقت مسلمان کیوں خاموش تھے اور ظفر اللہ جب وزیر خارجہ بنا تھا تو مسلمانوں نے کیوں تحریک نہیں چلائی۔ علماء کرام اسمبلیوں میں کافروں کے ساتھ بیٹھتے ہیں ایک قادیانی وزیر پر بلاوجہ چراغ پا ہیں۔

جناب وزیراعلیٰ! آپ سندھ کے بڑے خاندان سے تعلق رکھتے ہیں ، ضد و تکبر اور انا آپ کے خاندان کی مشہور ہے لیکن ایک بات ذہن میں رکھ لیں کہ دین کے مسئلے میں بڑے بڑے طرم خان زمین بوس ہو چکے ہیں۔ آپ کے کزن بھٹو صاحب مرحوم تحریک ختم نبوت ۱۹۷۴ء کے موقع پر اس سے بڑی بڑی بڑھکیں مار رہے تھے۔ ان کی حکومت اور کرسی بہت مضبوط تھی، لیکن عوامی سیلاب کے آگے وہ بھی نہ ٹھہر سکے اور انہیں کہنا پڑا کہ بھٹو گناہ گار اس مسئلہ کو حل کرے گا اور پھر اسی اسمبلی نے، جس میں قادیانی ناچتے تھے اور دندناتے تھے، قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دیا۔

جناب آپ کی وزارت تو تنکے کے سہارے قائم ہے۔ نگران حکومت میں آنے والے چور دروازے سے اقتدار پر آنے والے کہلاتے ہیں۔ آپ تو ایک سیٹ بڑی مشکل سے جیت پاتے ہیں۔ کمزور حکومت پر ناز کر کے زیادہ اکڑئیے مت، کنور ادریس یا قادیانی جماعت آپ کے اقتدار کو مضبوط سہارا نہیں دے سکتی۔ ایک دفعہ اگر آپ کے ووٹروں میں یہ بات پھیل گئی کہ ممتاز بھٹو قادیانی جماعت کی سر پرستی کرتا ہے تو آپ کے لئے اپنے علاقے میں سر چھپانا مشکل ہو جائے گا۔ آپ کے ہاری بے شک آپ کے غلام ہیں لیکن حضور ﷺ کے مقابلے میں ان کے نزدیک آپ کی حیثیت پرکاہ بھی نہیں ہے۔ اس سے پہلے کہ وقت آپ کو قادیانیوں کی فہرست میں شامل کرلے، آپ ہوش کے ناخن لیں۔

قائد اعظم محمد علی جناح کا جنازہ جب ظفر اللہ نے نہیں پڑھا تو آپ کے جنازہ کو بھی کوئی قادیانی کندھا دینے نہیں آئے گا۔ آپ کی حیثیت قادیانیوں کے نزدیک ٹشو پیپر سے زیادہ نہیں ، استعمال کیا اور پھینک دیا۔ آپ قادیانیوں کی باتوں میں آ کر ٹشو پیپر نہ بنیں ۔ حضور ﷺ کے وفادار بن جائیں۔ سارے مسلمان آپ کے دستِ راست ہوں گے۔ باقی آپ قادیانی وزیر کی برطرفی کے مسئلہ پر قادیانی وزیر سے مشورہ نہ کریں ۔ وہ آپ کو احمقانہ مشورہ ہی دے گا۔ آپ مسلمان ساتھیوں کے مشوروں پر اعتماد کریں۔ قادیانی آپ کو مسلمان نہیں سمجھتے وہ جب حضور ﷺ کے وفادار اور مخلص نہیں تو آپ کے کیسے مخلص ہوں گے۔ آپ اپنے بہترین دوستوں کو اعتماد میں لیں۔ اپنے علماء سے پوچھیں ، ہم آپ کے مخالف نہیں؟ آپ کے خیر خواہ ہیں اور قادیانیوں سے بچنے کا مشورہ آپ کے فائدہ کے لئے دے رہے ہیں۔ یہ آستین کے سانپ ہیں، آپ کو اور آپ کی اولاد کو ڈسیں گے، انشاء اللہ ہمارا کچھ نہیں بگاڑ سکتے...... وہ وزیر بن کر بھی غریب مسلمانوں کو قادیانی بنانے کی کوشش کریں گے اور اگر ایک مسلمان بھی قادیانی بن گیا تو اس کا وبال آپ پر ہوگا باقی آپ نے جو فرمایا کہ کنور ادریس کے

صفحہ ۳۹۲

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۶ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

لئے پہلے کیوں تحریک نہیں چلائی تو محترم تاریخ کا اگر آپ مطالعہ کرتے تو آپ کو یہ کہنے کی ضرورت نہیں پڑتی۔ کنور ادریس جب ڈی سی تھا تو مجاہد ملت مولانا غلام غوث ہزاروی نے اس کے خلاف تحریک چلائی اور بڑے بڑے جلسوں میں اس کو کنجر ابلیس کہہ کر للکارا، کمشنر اور ہوم سیکرٹری کے موقع پر بھی احتجاج ہوا۔ شاید اس کا تبادلہ مسلمانوں کے احتجاج پر ہوتا تھا۔ چیف سیکرٹری کے عہدے پر جب بٹھایا گیا تو جمعیت علماء اسلام کے قائد مولانا فضل الرحمٰن نے سابقہ وزیر اعظم بے نظیر بھٹو کے سامنے سخت احتجاج کیا اور ان کو مجبور کیا کہ وہ کنور ادریس کو برطرف کریں۔ مجبوراً بے نظیر کو کنور ادریس کو برطرف کرنا پڑا۔ اس برطرف شدہ چیف سیکرٹری کو آپ نے وزیر بنا دیا اور وزیر بھی سینئر اور وہ بھی مسلمانوں پر پھر ستم بالائے ستم یہ کہ اس نے حلف بھی مسلمانوں کی طرح اٹھایا اور ختم نبوت کی صریح توہین کی، صرف اس کو برطرف کرنا ہی ضروری نہیں بلکہ اس کے خلاف ۲۹۸ سی کے تحت مقدمہ درج کر کے اسے گرفتار کیا جائے۔ جہاں تک آپ کا یہ فرمان ہے کہ ظفر اللہ کیخلاف کیوں تحریک نہیں چلائی گئی اس سلسلے میں ہم آپ کو یہی مشورہ دیں گے کہ تحریک ختم نبوت ۱۹۵۳ء کا مطالعہ فرمالیں۔ مسلمانوں نے ظفر اللہ کو ہٹانے کے لئے کیا کیا قربانیاں نہیں دیں۔ ظفر اللہ کے وزیر بنتے ہی احتجاج کا ایک نہ رکنے والا سلسلہ شروع ہوگیا تھا حالانکہ اس وقت پاکستان کسی احتجاج کا متحمل نہیں تھا قافلے لٹے پٹے آرہے تھے لیکن امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاری، حضرت مولانا محمد علی جالندھری، حضرت قاضی احسان احمد شجاع آبادی نے مشورہ کر کے احتجاج شروع کر دیا۔ اور پھر جب ظفر اللہ نے منصوبہ کے مطابق اس وقت کے خلیفہ کے حکم پر قادیانیت کا فروغ شروع کر کے پاکستان کو قادیانی اسٹیٹ بنانے کی کوشش کی اور کراچی میں قادیانیوں کے ایک جلسہ سے خطاب کا اعلان کیا تو مجلس تحفظ ختم نبوت سراپا احتجاج بن گئی۔ کراچی میں تمام علماء کرام کو جمع کر کے جلسہ کو سبوتاژ کرنے کا اعلان کیا اور پھر ظفر اللہ پاکستان بھر میں کہیں جلسہ نہ کر سکا۔ لاہور میں مارشل لگا، دس دس ہزار نوجوانوں نے جام شہادت نوش کیا اور آخر کار ظفر اللہ قادیانی کو اپنا بوریا بستر گول کر کے عالمی عدالت میں اپنے آقاؤں کے پاس پناہ لینی پڑی۔

دس ہزار جان نثاران ختم نبوت نے جانوں کے نذرانے پیش کئے اور ایک لاکھ علماء کرام، مشائخ عظام، اور جان نثاروں نے گرفتاریاں پیش کیں اور کئی کئی سال کی سزائیں بھگتیں، اس کے باوجود آپ کا یہ فرمانا کہ ظفر اللہ کے خلاف کیوں تحریک نہیں چلائی تجاہل عارفانہ ہے، اس پر ہم سوائے افسوس کے اور کیا کر سکتے ہیں۔ باقی علماء کرام کا غیر مسلموں کے ساتھ اسمبلیوں وغیرہ میں بیٹھنا تو اس کا جواب ہم کئی مرتبہ دے چکے ہیں کہ قادیانی اپنے آپ کو غیر مسلم اقلیت تسلیم کر لیں ہم غیر مسلموں کی حیثیت سے ان کے ساتھ کام کرنے لئے تیار ہیں، لیکن وہ ہمیں کافر کہیں اور ہم ان کے ساتھ رعایت کریں یہ ممکن نہیں۔ وزیر اعلیٰ صاحب! اس سے پہلے کہ تقدیر آپ کی برطرفی کا فیصلہ کرے آپ ایک قادیانی کو برطرف کر کے سرخرو ہو جائیں۔

(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی مؤرخہ ۲۷/ دسمبر ۱۹۹۶ء تا ۲/ جنوری ۱۹۹۷ء ص۴ تا ۶)

صدر پاکستان سے مرکزی مجلس عمل کے وفد کی ملاقات

پیر مؤرخہ ۱۶/ دسمبر ۱۹۹۶ء کو مجلس عمل کے ایک وفد نے جمعیت علماء اسلام کے قائد مولانا فضل الرحمٰن کی قیادت میں صدر پاکستان جناب فاروق احمد لغاری سے ملاقات کی مجلس عمل تحفظ ختم نبوت کے مرکزی امیر مولانا خواجہ خان محمد کی نمائندگی کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمٰن نے صدر پاکستان کو سندھ کابینہ میں قادیانی وزیر کنور ادریس کی تقرری پر مسلمانان پاکستان کی تشویش اور اضطراب سے آگاہ کیا اور بتایا کہ کئی مظاہروں اور احتجاجی جلسے کے بعد ہفتہ ۱۴/ دسمبر ۱۹۹۶ء کو سندھ میں مسلمانوں نے رضا کارانہ بنیاد پر تاریخی پر امن ہڑتال کر کے اپنے جذبات کا اظہار کیا۔ نیز وزیر اعلیٰ اور گورنر سندھ کو خطوط لکھے، گورنر سندھ نے یقین دہانی کرانے کے بعد وعدہ خلافی کی۔ اب سوائے

صفحہ ۳۹۳

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۶ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

اس کے اور کوئی چارہ نہیں تھا کہ آپ کی طرف رجوع کیا جائے۔

صدر پاکستان نے سوال کیا کہ آئین کے تحت تو قادیانی وزیر بننے پر کوئی پابندی نہیں، دوسری غیر مسلم اقلیتوں کے افراد بھی وزیر بنتے رہے ہیں۔ مولانا فضل الرحمن نے واضح کیا کہ قادیانیوں اور دیگر کافروں میں بہت فرق ہے۔ دیگر کافر اپنے آپ کو کافر کہتے ہیں، ہندو اپنے آپ کو ہندو، عیسائی اپنے آپ کو عیسائی، یہودی اپنے آپ کو یہودی وغیرہ سمجھتے اور کہتے ہیں۔ لیکن قادیانی اپنے آپ کو مسلمان اور مسلمانوں کو کافر کہتے ہیں۔ انہوں نے آئین پاکستان کی اس آئینی ترمیم کو تسلیم نہیں کیا جس کے تحت انہیں غیر مسلم اقلیت قرار دیا گیا تھا۔ انہوں نے امتناع قادیانیت آرڈی نینس کو نہ صرف عدالتوں میں چیلنج کیا بلکہ اس کی کھلم کھلا خلاف ورزیاں کیں جس پر ان کے خلاف مقدمات قائم ہوئے اور قادیانیوں کو ان جرائم پر سزائیں بھی ملیں، سپریم کورٹ کے شائع شدہ فیصلے میں اس کی تفصیل دیکھی جاسکتی ہے۔ آئین کو نہ ماننے والوں بلکہ توڑنے والوں کو کس طرح وزیر بنایا جاسکتا ہے۔

صدر پاکستان نے کہا کہ وہ اپنے آپ کو مسلمان کہتا ہے تو اس صورت میں ہم اس کو کیوں قادیانیت کی فہرست میں شامل کریں۔ صدر پاکستان کو بتایا گیا کہ وہ اپنے آپ کو قادیانی کہتا ہے، لیکن اس نے حلف مسلمانوں کی طرح اٹھایا تھا، اس طرح اس نے ۲۹۸-سی کی خلاف ورزی کی ہے اور اس پر اس سلسلے میں مقدمہ بننا چاہئے ، صدر پاکستان نے کہا کہ جب اس نے مسلمانوں کی طرح حلف اٹھایا تو ختم نبوت کو تسلیم کر لیا کیوں کہ یہ چیز حلف میں موجود ہے۔ مولانا اللہ وسایا نے بتایا کہ تمام قادیانی خاتم النبیین سے مرزا غلام احمد قادیانی مراد لیتے ہیں۔

صدر پاکستان نے کہا کہ اگر وہ اسلام قبول کر لے تو؟ مولانا اللہ وسایا نے کہا کہ اس کی توبہ قبول ہوگی لیکن اسے اس منصب پر نہیں رکھا جاسکتا اور نہ ہی وزارت کے لئے اسلام کی دعوت دی جاسکتی ہے۔ خلیفہ اوّل سیدنا صدیق اکبر ؓ نے فرمایا تھا کہ زندیق کی توبہ قبول کی جائے گی لیکن اس کو کسی منصب پر فائز نہیں کیا جاسکتا۔

تفصیلی گفتگو کے بعد صدر پاکستان کی توجہ پنجاب کے چیف جسٹس کے تبادلہ کی طرف دلاتے ہوئے مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ چونکہ قادیانی جج کی انہوں نے سفارش نہیں کی تھی اس بناء پر ان کا تبادلہ کر دیا گیا، اس کی صدر پاکستان نے واضح تردید کی اور کہا کہ قادیانیوں کو جج کے عہدہ پر فائز نہیں کیا گیا اور آئندہ بھی ایسا ہی ہوگا۔ تعلیمی اداروں کی واپسی کے سلسلے میں صدر پاکستان نے کہا کہ نجکاری کا عمل روک دیا گیا ہے، قادیانیوں کو تعلیمی ادارے واپس نہیں کئے جائیں گے۔

(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی مورخہ ۲۷؍ دسمبر ۱۹۹۶ء تا ۲؍ جنوری ۱۹۹۷ء ص ۶)

علماء کرام کی احتجاجی ریلی ...... قادیانیوں کے ارتداد کی سزا کا فیصلہ مفتیان کرام کے ذمہ

مجلس عمل تحفظ ختم نبوت کی قادیانی وزیر کی برطرفی کے لئے مہم جاری ہے۔ ہفتہ ۱۴؍ دسمبر ۱۹۹۶ء کی کامیاب ہڑتال کے بعد مجلس عمل کے رہنماؤں نے فیصلہ کیا۔ پیر ۲۳؍ دسمبر ۱۹۹۶ء کو ریگل چوک سے وزیر اعلیٰ ہاؤس تک علماء کرام کی ریلی کا اہتمام کیا جائے اور یہ ریلی وزیر اعلیٰ ہاؤس میں احتجاجی یاداشت پیش کرے۔ اس فیصلے کی روشنی میں تیاری شروع کی گئی۔ انتظامیہ نے دو روز پہلے سے علماء کرام کو ڈرانا ، دھمکانا اور منت و خوشامد کا سلسلہ شروع کر دیا۔ پہلے مرحلے پر ریلی منسوخ کرنے اور دوسرے مرحلے پر ریلی کو وزیر اعلیٰ ہاؤس نہ لے جانے پر اصرار شروع کیا۔ مجلس عمل کا مؤقف تھا کہ وزیر اعلیٰ ہاؤس کوئی ایسی مقدس جگہ نہیں ہے کہ وہاں جانے کی اجازت نہیں۔ ابھی ہائی کورٹ نے فیصلہ دیا ہے کہ پرامن ریلی کو کسی جگہ جانے سے روکنا جمہوری روایات کے خلاف ہے۔ ڈی سی صاحب تمام باتوں کے باوجود اصرار کرتے رہے۔

صفحہ ۳۹۴

تحریک ختم نبوت جلد(۶) ۱۹۹۶ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

مجلس عمل کے وفد نے جو مولانا احمد میاں حمادی، مولانا عبدالحلیم صدیقی، مولانا نذیر احمد تونسوی پر مشتمل تھا، اس بات کی یقین دہانی کرائی کہ ہم تصادم نہیں کریں گے۔ کسی کی املاک کو نقصان نہیں پہنچائیں گے۔ آپ نے زبردستی روکا تو رک جائیں گے لیکن آپ سے اپنا حق ضرور مانگتے رہیں گے۔ وفد کو بتایا گیا کہ دفعہ ۱۴۴ نافذ ہے، لیکن ان تمام رکاوٹوں کے باوجود مجلس عمل نے احتجاجی ریلی نکالنے کا فیصلہ کیا۔ پورے کراچی کی انتظامیہ حرکت میں آ گئی۔ مسجد باب الرحمت دفتر ختم نبوت جہاں صرف پانچ قائدین مولانا عزیر الرحمن جالندھری، مولانا احمد میاں حمادی، مولانا اللہ وسایا، مولانا نذیر احمد تونسوی اور رانا محمد انور کو جانا تھا، ایک ہزار کے قریب پولیس والوں نے گھیر لیا۔

پونے چار بجے دعا کے بعد یہ قائدین ایک ٹرک پر روانہ ہوئے تو کئی پولیس موبائل کے ہمراہ ہونے کی وجہ سے جلوس کی شکل پیدا ہو گئی تھی۔

۴ بجے ریگل چوک پر جان نثاران ختم نبوت جمع تھے۔ ایس ڈی ایم بمع ہزاروں نفری کے موجود تھے، ایس ڈی ایم بھی ایک نہیں پورے ضلع کے ایس ڈی ایم جمع تھے۔ انہوں نے ایک کاغذ حوالے کیا کہ علاقے میں دفعہ ۱۴۴ نافذ ہے، آپ ریلی یا احتجاج نہیں کر سکتے۔ مجلس عمل کے ترجمان نے بتایا کہ پندرہ روز قبل یہاں احتجاجی مظاہرہ کیا گیا اس وقت آپ نے نہیں بتایا کہ علاقے میں دفعہ ۱۴۴ نافذ ہے۔ بہر حال ہم قانون کی خلاف ورزی نہیں کریں گے۔ چار چار افراد کی قطار بنائیں گے۔ ایس ڈی ایم نے بتایا کہ آپ جمع ہو کر دفعہ ۱۴۴ کی خلاف ورزی کرچکے ہیں۔ مجلس عمل کے ترجمان نے بتایا کہ نماز ادا کر رہے ہیں اور اس پر کسی قسم کی کوئی پابندی نہیں۔ بہرحال صف بندی کر لی گئی۔ اتنے میں قائدین مولانا شاہ احمد نورانی، صوفی ایاز خان نیازی، قاری شیرافضل خان، مولانا محمد احمد مدنی، شاہ فریدالحق، مولانا محمد اسعد تھانوی، مولانا محمد یوسف سلفی، مولانا فیروز الدین رحمانی، محمد حسین محنتی، محمد صدیق راٹھور، مولانا محمد عثمان یار خان، جاوید یوسف قمر، مولانا احمد میاں حمادی، مولانا عبدالحلیم صدیقی، طارق محبوب، محمد اشرف قریشی، قاری محمد امین، مولانا عقیل انجم، مولانا محمد احمد نورانی، مولانا نذیر احمد تونسوی، قاری محمد عثمان، مولانا اللہ وسایا، پیر مختار جان سرہندی، اور کئی دیگر علماء کرام تشریف لے آئے۔ نماز عصر ادا کی گئی۔ بعد ازاں مولانا شاہ احمد نورانی نے خطاب کرتے ہوئے کہا آج ہم نے دفعہ ۱۴۴ توڑی ہے کل اس سے بھی زیادہ قانون کی خلاف ورزی کریں گے۔ یہ ملک حضور ﷺ کی عظمت کے لئے قائم ہوا تھا یہاں پر قادیانیوں کو مسلط ہونے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ وزیر اعلیٰ ہاؤس کوئی مقدس جگہ ہے کہ کوئی اس تک جا نہیں سکتا۔ ہم نے دفعہ ۱۴۴ کی خلاف ورزی کی ہے ہم کو گرفتار کر لیں، بعد ازاں ریلی پرامن طور پر بزنس روڈ کی طرف روانہ ہوئی راستے میں دونوں اطراف میں مسلمان ان علماء کرام کو خراج تحسین پیش کرنے کے لئے کھڑے تھے۔ بزنس روڈ کے مسلمانوں نے محمد الطاف کی قیادت میں ریلی میں شرکت بھی کی اور علماء کرام پر پھول بھی نچھاور کئے۔ جنگ پریس سے ہوتی ہوئی جب ریلی شاہین کمپلیکس پہنچی تو تمام راستے پولیس نے ناکہ بندی کر کے روکے ہوئے تھے۔ علاقے کے تمام ایس ڈی ایم موجود تھے اور انہوں نے واضح طور پر کہہ دیا کہ آگے کسی صورت میں نہیں جانے دیں گے۔ مذاکرات شروع ہوئے اور مجلس عمل کے وفد نے کہا کہ چونکہ ہم وعدہ کر چکے ہیں کہ تصادم نہیں کریں گے۔ اس لئے یہ ریلی پرامن طور پر ختم کر رہے ہیں، لیکن آئندہ احتجاج جاری رکھیں گے اور احتجاجاً ہم یہ یادداشت نہیں دیں گے۔ بعد ازاں ریلی سے اختتامی خطاب کرتے ہوئے مقررین نے کہا کہ چونکہ حکومت مسلمانوں کے جائز مطالبات منظور نہیں کر رہی اور قادیانی وزیر کو برطرف نہیں کر رہی اس لئے مجلس عمل مفتیان کرام کا اجلاس بلا کر ان سے مسئلہ پوچھے گی کہ کیا حکومت اگر ارتداد کی سزا جاری نہ کرے تو مسلمان خود ہی یہ سزا جاری کرنے کا حق رکھتے ہیں اگر مفتیان کرام نے فتویٰ دے دیا تو ہم مسلمانوں سے اپیل کریں گے کہ وہ خود ہی قادیانی وزیر کو سزا دیں اور قادیانیوں کے سماجی بائیکاٹ کا فیصلہ کریں گے۔ متفقہ طور پر قرارداد منظور کی گئی کہ قادیانی وزیر کو برطرف کیا جائے۔

(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی مورخہ ۳ تا ۹ جنوری ۱۹۹۹ء ص۴)

صفحہ ۳۹۵

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۶ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

جناب نگران وزیراعلیٰ صاحب، صوبہ سندھ پاکستان

والسلام على من اتبع الھدیٰ! مجلس عمل تحفظ ختم نبوت میں شامل سیاسی اور مذہبی جماعتوں کے نمائندہ علماء کرام کی یہ احتجاجی پرامن ریلی جو ریگل چوک سے شروع ہو کر مختلف شاہراہوں پر احتجاجی گشت کرتی وزیر اعلیٰ ہاؤس کی طرف مندرجہ ذیل یادداشت پیش کرنے کے لئے جانا چاہتی تھی۔ راستہ میں کسی بھی جگہ ان علماء کرام یا ان کے کارکنوں نے کسی قسم کی غیر قانونی حرکت کا ارتکاب نہیں کیا۔ اس سے آپ کو اندازہ ہوگیا ہوگا کہ ان علماء کرام کے کوئی سیاسی مفادات یا سستی شہرت کا حصول نہیں۔ یہ تمام ایک اہم اور حساس دینی مسئلہ کی طرف توجہ دلانا چاہتے ہیں اور اس مسئلہ کو حل کرنا آپ کے اختیار اور بس میں ہے اور اس کو حل کرنے میں آپ کی حکومت پر کوئی زد بھی نہیں پڑے گی اور نقصان بھی نہیں ہوگا اور یہ وہ مسئلہ ہے جس کے لئے گزشتہ ڈیڑھ ماہ سے کراچی سمیت سندھ میں احتجاج ہو رہا ہے اور اب پنجاب اور دوسرے شہروں میں بھی یہ احتجاج پھیلتا جا رہا ہے۔ صدر پاکستان کو بھی اس سلسلے میں یادداشت پیش کی گئی ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ اس اہم مسئلہ کو حل کرنے کا سہرا آپ کے سر ہو۔ امید ہے کہ درج ذیل نکات کی روشنی میں آپ اس مسئلہ کو سنجیدگی سے حل کرنے کی کوشش کریں گے۔ اور وہ مسئلہ ہے نگران کابینہ میں ایک قادیانی وزیر کی حیثیت سے تقرری کا۔ پاکستان مسلمانوں کا ملک ہے اور کلمہ ”لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ“ (ﷺ) کی بنیاد پر معرض وجود میں آیا اور اس کے لئے برصغیر کے مسلمانوں نے سالوں تحریک آزادی چلا کر بے شمار قربانیاں دیں۔ تحریک آزادی کو ناکام بنانے کے لئے انگریزوں نے مرزا غلام احمد نامی ایک شخص کو کھڑا کیا جس نے نبوت کا دعویٰ کیا، مسلمانوں کو انگریزوں کی وفاداری کی تلقین اور مسلمانوں پر جہاد کو حرام قرار دیا، حضور ﷺ کی ذات پر تنقید کی اور اپنے اوپر ایمان لانا ضروری قرار دیا۔ مرزا غلام احمد قادیانی نے اپنے کو نبی نہ ماننے والوں کو کافر، جنگل کے سور اور رنڈیوں کی اولاد قرار دیا۔ جس وقت مرزا غلا م احمد قادیانی نے نبوت کا دعویٰ کیا اس وقت سے علماء کرام اور مسلمان مطالبہ کرتے رہے کہ ان کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا جائے۔ ۹۰ سالہ طویل جدوجہد کے بعد ۱۹۷۴ء میں آئینی ترمیم کے ذریعہ قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا گیا لیکن قادیانیوں نے اس آئینی ترمیم کو تسلیم کرنے سے انکار کیا اور اس کی کھلم کھلا خلاف ورزی کی۔ اس کے بعد ۱۹۸۴ء میں امتناع قادیانیت آرڈی نینس جاری کیا گیا۔ قادیانیوں نے اس کو بھی ماننے سے انکار کر دیا۔ اس بنا پر مسلمانوں کا ہمیشہ مطالبہ رہا کہ قادیانی چونکہ آئین کو تسلیم نہیں کرتے۔ اپنے کو غیر مسلم اقلیت تسلیم نہیں کرتے۔ مسلمانوں کو کافر سمجھتے ہیں۔ پاکستان اور اسلام کے مخالف ہیں۔ اس لئے ان کو کلیدی عہدوں سے برطرف کیا جائے۔ بجائے اس کے کہ اس مطالبہ کو تسلیم کیا جاتا آپ کی نگران کابینہ میں ایک قادیانی کو بحیثیت وزیر شامل کر دیا گیا اور آپ نے اس کو اقلیتی وزیر بھی نہیں بنایا بلکہ سینئر وزیر کا درجہ دیا۔ گویا آپ کے بعد قائم مقام وزیر اعلیٰ وہ قادیانی ہی ہے۔

قادیانی وزیر کی اس تقرری پر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے نائب امیر مرکزیہ حضرت اقدس مولانا محمد یوسف لدھیانوی زید مجدہم (مؤلف تحفہ قادیانیت، آپ کے مسائل اور ان کا حل) نے ایک خط کے ذریعہ آپ سے اپیل کی کہ آپ اس قادیانی وزیر کو برطرف کر دیں۔ آپ نے جواب دیا کہ اقلیت کے وزیر بننے پر آئین کے تحت کوئی پابندی نہیں۔ اس کا جواب دیا گیا کہ قادیانی اپنے آپ کو اگر مسلم اقلیت تسلیم کر لیں تو مسلمانوں کا اعتراض ختم ہو جائے گا۔ اس سلسلے میں آپ کے بعض بیانات بھی شائع ہوئے جس سے اندازہ ہو کہ آپ مسئلہ کے حقائق اور مضمرات سے آگاہ نہیں اس لئے اس یادداشت کے ذریعہ آپ کو تفصیل سے آگاہ کیا جاتا ہے کہ دیگر اقلیتوں کے وزیر بننے پر کیوں اعتراض نہیں اور قادیانیوں کے وزیر بننے پر کیوں اعتراض ہے۔

صفحہ ۳۹۶

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۶ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

اندراج ہے۔ نیز وہ دیگر قوموں کو دھوکہ دینے کے لئے اپنے آپ کو مسلمان کہہ کر ان کو گمراہ نہیں کرتیں، وہ پاکستان کے آئین کی پابندی کا حلف اٹھاتی ہیں ، وہ اقلیتی نشستوں کے انتخابات میں حصہ لیتی ہیں اور اقلیتی نشستوں پر منتخب ہو کر وزیر اور دیگر مناصب پر فائز ہوتی ہیں ، ان کا اپنا ایک تشخص اور معاشرہ ہے، وہ آئین کا احترام کرتی ہیں اور اس میں دیئے گئے حقوق کے مطابق اپنے حقوق طلب کرتی ہیں ، لیکن قادیانیوں کا معاملہ الگ ہے۔

کریم ﷺ کے لئے استعمال کرتے ہیں۔

تاکہ مسلمانوں کی تعداد کم ہو اور کشمیر کا الحاق پاکستان سے نہ ہو سکے۔

ظفر اللہ کو جہانگیر پارک میں جلسہ کرنے نہیں دیا گیا۔ لاہور میں جزوی مارشل لاء لگا، دس ہزار نوجوانوں نے جام شہادت نوش کیا ، ایک لاکھ علماء ، مشائخ اور رضا کاران ختم نبوت نے قید و بند کی صعوبتیں برداشت کیں ۔ سر ظفر اللہ قادیانی کو تحریک کے نتیجے میں مستعفی ہونا پڑا ۔ ۱۹۷۴ء میں ربوہ ریلوے اسٹیشن پر قادیانیوں نے طلبا پر حملہ کیا۔ پورا ملک سراپا احتجاج بن گیا۔ زبردست تحریک چلی اور ۷ ستمبر ۱۹۷۴ء کو قومی اسمبلی نے قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا۔

تسلیم نہیں کیا ہائی کورٹ ، سپریم کورٹ میں چیلنج کیا دونوں عدالتوں نے تفصیلی فیصلہ دیا۔ قادیانیوں نے تسلیم نہیں کیا۔

صفحہ ۳۹۷

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۶ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

اقلیت ہیں، قادیانیوں نے اس کو بھی تسلیم نہیں کیا۔

یہ قادیانیت کی مختصر سی جھلک ہے۔ تفصیلات میں قادیانیوں نے سیکڑوں کتابیں لکھی ہیں ملاحظہ کی جاسکتی ہیں۔

اس مختصر سی جھلک سے واضح ہوتا ہے کہ قادیانی مسلمانوں کے ازلی دشمن ہیں۔ وہ پاکستان کے دشمن ہیں، وہ پاکستان کے آئین کو تسلیم نہیں کرتے۔ انہوں نے پاکستان کے خلاف پوری دنیا میں پروپیگنڈہ کیا ہے، وہ اپنے منصب کو اس کے خلاف استعمال کرتے ہیں۔ ان میں اور دیگر اقلیتوں میں وہی فرق ہے جو ایک وفادار اور غدار میں ہوتا ہے۔ جس طرح ملک کا غدار کسی وزارت کے منصب پر فائز نہیں ہوسکتا اسی طرح قادیانی بھی وزارت کے منصب پر فائز نہیں ہو سکتے۔

محترم وزیر اعلیٰ صاحب! ۴۶ سال بعد ظفر اللہ کے بعد نگران وزارت میں کنور ادریس قادیانی وزیر بنا ہے وہ اعلانیہ اپنے کو قادیانی کہتا ہے اس کو قادیانی ہونے کی وجہ سے چیف سیکرٹری کے عہدے سے برطرف کیا گیا۔ قادیانی ہونے کے باوجود اس نے مسلمانوں کی حیثیت سے حلف اٹھا کر جھوٹ اور بددیانتی کا ارتکاب کیا۔ وہ خاتم النبیین سے مراد مرزا غلام احمد قادیانی لیتا ہے۔ اس کے وزیر بننے سے پوری مسلمان امت مضطرب ہے۔ اس کی برطرفی کے لئے آپ مطالبہ کیا گیا۔ گورنر سندھ سے مطالبہ ہوا، صدر پاکستان سے مطالبہ ہوا، اس کی برطرفی کے لئے سندھ کے تمام مسلمانوں نے متفقہ طور پر ہفتہ مورخہ ۱۴؍ دسمبر کو تاریخی پر امن ہڑتال کی۔ اس کی برطرفی کے لئے آج احتجاجی ریلی منعقد کی گئی ہے۔ وہ آپ کو، ہم سب کو کافر سمجھتا ہے۔ وہ آپ کی نماز جنازہ ادا نہیں کرے گا۔ اس کو اگر اس کا خلیفہ حکم دے دے کہ ممتاز بھٹو کو قتل کر دو تو وہ آپ کو قتل کر دے گا۔ وہ وزارت سے قادیانیت کو فروغ دے رہا ہے۔ ان تمام حالات کی وجہ سے ہم اس مطالبہ پر مجبور ہیں کہ قادیانی وزیر کنور ادریس کو فوری طور پر برطرف کر دیا جائے۔ امید ہے کہ آپ مسلمانوں کے دینی جذبات کا احترام کریں گے۔ ورنہ خواجہ ناظم الدین کی طرح آپ کا نام بھی ان بدنصیبوں میں ہو گا جو ایک اسلام دشمن اور حضور ﷺ کے دشمن کے لئے مسلمانوں کے قتل عام سے بھی گریز نہیں کرتے۔ تاریخ آپ کا انتظار کر رہی ہے۔ نیک نامی یا بدنامی؟ فیصلہ آپ نے کرنا ہے۔ حضور ﷺ کی عزت پر اپنی عزت قربان کر دیں۔ کنور ادریس کے بغیر آپ کی وزارت ان شاء اللہ زیادہ مستحکم ہوگی۔

مجلس عمل میں شامل جماعتیں

جمعیت علماء اسلام (ف)، جمعیت علماء پاکستان، جمعیت علماء اسلام (س)، سپاہ صحابہ پاکستان، جمعیت علماء پاکستان (ن)، جماعت اسلامی، عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت۔

(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی مورخہ ۳ تا ۹؍ جنوری ۱۹۹۷ء ص ۵، ۶)

غوثیہ کالونی سائیٹ ایریا کوٹری میں قادیانی کا قبول اسلام

حیدرآباد عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت سائٹ ایریا کوٹری کے صدر شاہ محمد رفیع الدین کے دست پر ایک قادیانی بشیر احمد ولد عبداللطیف نے قادیانیت پر لعنت بھیج کر اسلام قبول کیا بشیر احمد نے کہا کہ حضور ﷺ خاتم النبیین ہیں آپ کے بعد دعویٰ نبوت کرنے والا مرزا غلام احمد قادیانی دجال، کذاب اور دائرہ اسلام سے خارج ہے۔ مرزا غلام احمد قادیانی نے جو مسیح موعود اور مہدی ہونے کا دعویٰ کیا ہے وہ سوائے دجل اور تلبیس کے کچھ نہیں تمام مسلمانوں کے اجماعی عقیدہ نزول عیسیٰ علیہ السلام و آمد مہدی کو تسلیم کرتا ہوں اور مرزا غلام احمد قادیانی کے تمام ماننے والوں کو دائرہ اسلام سے خارج سمجھتا ہوں اس موقع پر مولانا محمد نذیر مبلغ ختم نبوت حیدرآباد بھی موجود تھے انہوں نے نو مسلم بشیر احمد کو مبارک باد

صفحہ ۳۹۸

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۶ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

دی اور دعا کی اللہ تعالیٰ اسے ثابت قدم رکھے مولانا محمد نذر نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اسلام ایک آفاقی مذہب ہے۔ جب کہ اسلام کے علاوہ تمام مذاہب جھوٹے اور گمراہ کن عقائد کے حامل ہیں انہوں نے تمام قادیانیوں کو دعوت اسلام دی کہ وہ قادیانی مذہب کا غور وفکر کے ساتھ مطالعہ کریں اور اگر ان کے کوئی شکوک وشبہات ہیں تو ہم دور کرنے کے لئے تیار ہیں یاد رہے نوری آباد سے آٹھ افراد پر مشتمل ایک کنبہ پچھلے ماہ قادیانیت سے تائب ہو کر اسلام قبول کر چکا ہے۔

(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی مؤرخہ ۲۸ / جون تا ۴/ جولائی ۱۹۹۶ء ص ٹائٹل ۳)

قادیانی گھرانے کا قبول اسلام

شیخ نذیر احمد اور ان کی اہلیہ خورشید بیگم اور اس کے لڑکے عقیل احمد نے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کراچی کے دفتر میں آکر اپنے سابقہ مذہب قادیانیت کے کفریہ عقائد سے توبہ کر کے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی مبلغ مولانا نذیر احمد تونسوی کے ہاتھ پر قبول اسلام کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے قادیانیت کا بڑے غور سے مطالعہ کرنے کے بعد یہ فیصلہ کیا ہے کہ قادیانیت کوئی مذہب نہیں بلکہ مذہبی روپ میں بین الاقوامی لٹیروں کا ایک گروہ ہے اور دجل و فریب اور منافقت کے سوا ان کے پاس اور کچھ نہیں ہے۔ ختم نبوت سے بغاوت اور اسلام دشمنی قادیانیت کا امتیازی نشان ہے۔

انہوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ اس نے قبل از موت ہمیں توبہ کی توفیق دے کر اسلام جیسی لازوال دولت سے نوازا ہے۔ اور آج ہم قادیانیت کے تمام کفریہ عقائد سے توبہ کر کے محمد عربی ﷺ کی ختم نبوت اور آپ کے لائے ہوئے آخری دین پر مکمل اور غیر مشروط ایمان لانے کا اعلان کرتے ہیں اور ہمارا یہ بھی پختہ اعلان ہے کہ محمد عربی ﷺ اللہ تعالیٰ کے آخری رسول ہیں آپ ﷺ کے بعد قیامت تک کسی کو نبوت نہیں ملے گی اور عیسیٰ علیہ السلام جو آپ ﷺ سے قبل بنی اسرائیل کے آخری نبی تھے وہ ابھی حیات ہیں اور قیامت کے قریب آسمانوں سے نزول فرما کر دوبارہ دنیا میں تشریف لائیں گے اور مرزا قادیانی ، مسیح موعود کے دعوی سمیت اپنے تمام دعوؤں میں جھوٹا ، کذاب اور دجال ہے اور اس کو ماننے والے خواہ وہ قادیانی ہوں یا لاہوری ہوں۔ ان سب کو ہم کافر اور دائرہ اسلام سے خارج سمجھتے ہیں۔ اور آج کے بعد ہمارا ان میں سے کسی گروپ سے قطعا کوئی تعلق نہیں ہے ہم حضرت محمد ﷺ کی ختم نبوت کے رضا کار ہیں اور ناموس رسالت کے تحفظ کے لئے اپنی جان تک قربان کرنے کو سعادت سمجھتے ہیں۔ اس موقع پر حضرت اقدس حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی مدظلہ، مفتی جمیل احمد خان ، مولانا سعید احمد جلال پوری ، صاحبزادہ حافظ عتیق الرحمن لدھیانوی ، مولانا عبداللطیف ، محمد انور رانا ، قاری عبدالرحمن عباسی ، شفیق الرحمن ، سید شاہد مختار فاروقی ، نعیم صدیقی ، جمال عبدالناصر ، ریاض الحق ، سید کمال شاہ اور رانا عبدالستار نے نو مسلم گھرانے کو مبارک باد دی ، اور ان کی استقامت کے لئے دعا کی۔

(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی مؤرخہ ۴ تا ۱۰ / اکتوبر ۱۹۹۶ء ص ٹائٹل پیج ۳)

عبدالسمیع نے اسلام قبول کر لیا ، کارکنان ختم نبوت نے عبدالسمیع کو عدالت میں سینے سے لگا لیا

(ایبٹ آباد) اکتوبر ۱۹۹۱ء میں ایبٹ آباد تھانہ چھاؤنی میں عبدالسمیع قادیانی کے خلاف وقار گل جدون صدر ختم نبوت یوتھ فورس ضلع ایبٹ آباد کی درخواست پر ۲۹۸ سی کا مقدمہ درج کیا گیا تھا۔ ۱۹۹۵ء تک یہ مقدمہ ایبٹ آباد میں حفظ الرحمن خان کی عدالت میں زیر سماعت رہا۔ قادیانیوں نے پشاور ہائی کورٹ میں درخواست دے کر جسٹس ابن علی سے پشاور منتقل کروالئے ۔ اپریل ۱۹۹۵ء سے یہ مقدمات پشاور میں میاں نسیم الحق کی عدالت میں زیر سماعت رہے مگر جوڈیشلی کی علیحدگی پر یہ مقدمہ جوڈیشل مجسٹریٹ نصراللہ خان کی عدالت میں منتقل ہوگیا۔ پانچ سال تک اسلام اور کفر کا یہ مقدمہ مختلف عدالتوں میں زیر سماعت رہنے کے بعد گزشتہ روز عبدالسمیع قادیانی نے اپنے

صفحہ ۳۹۹

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۶ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

قادیانی وکیل عبدالباسط کے روبرو نصر اللہ خان مجسٹریٹ کے ایک سوال کے جواب میں مرزا غلام احمد قادیانی (مدعی نبوت) اور اس کے پیروکاروں کو غیر مسلم کہہ کر اسلام اور مرزائیت کے اس مقدمہ کو ختم کر دیا۔

یوں ایک اور قادیانی نے مرزا غلام احمد اور اس کے پیروکاروں کو کافر کہہ کر سچے اسلام کو قبول کر لیا۔ عبدالسمیع نے مزید یہ بھی کہا کہ وہ مرزا غلام احمد قادیانی کا پیروکار نہیں ہے اور نہ ہی خود کو قادیانی کہتا ہے بلکہ میں مسلمان ہوں اور حضرت محمد ﷺ کی شریعت کا پیروکار ہوں۔

عبدالسمیع کے مرزا غلام احمد قادیانی اور اس کے پیروکاروں کے کفر کے اعلان پر عدالت میں موجود کارکنان ختم نبوت نے عبدالسمیع کو سینے سے لگا لیا اور اسے صحیح معنوں میں اسلام قبول کرنے پر مبارک باد دی۔ اس موقع پر ساجد اعوان جنرل سیکرٹری ختم نبوت یوتھ فورس ضلع ایبٹ آباد نے کہا کہ ہمیں مرض سے دشمنی ہے مریض سے خیر خواہی ہے، ہمارا اور عبدالسمیع کا جھگڑا قادیانیت کا جھگڑا تھا اب جب کہ انہوں نے مرزا قادیانی اور اس کے پیروکاروں کو کافر اور غیر مسلم کہہ دیا ہے تو یہ آج کے بعد ہمارے بھائی ہیں دوسرے قادیانیوں کو بھی عبدالسمیع کی تقلید کرنی چاہئے اور سچے اور زندہ اسلام کی تعلیمات پر عمل پیرا ہونا چاہئے۔

ایبٹ آباد میں اس مقدمہ کی پیروی سلطان احمد جمشید ایڈوکیٹ، سید فرزند حسین شاہ ایڈوکیٹ نے کی جب کہ پشاور میں امداد حسین عادل ایڈوکیٹ، منصف خان ایڈوکیٹ اور سرکاری وکیل عتیق الرحمن کی خدمات آب زر سے لکھنے کے قابل ہیں۔

(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی مؤرخہ ۱۱تا۱۷؍ اکتوبر ۱۹۹۶ء ص ۲۴)

نام شرکاء، دوسرا سالانہ رد قادیانیت وعیسائیت کورس

دفتر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت مسلم کالونی چناب نگر منعقدہ ۱۰؍ شعبان تا ۲۷؍ شعبان ۱۴۱۶ھ، بمطابق ۲؍ جنوری ۱۹۹۶ء تا ۱۹؍ جنوری ۱۹۹۶ء کورس کرنے والے حضرات کو اس سال سندات دینے کا اہتمام مجلس کی تاریخ میں پہلی بار ہوا۔

نمبر شمار نام ولدیت ضلع نمبر شمار نام ولدیت ضلع ۱ عطاء الحسن طاہر عطاء الرحمن شیخوپورہ ۲ ہارون الرشید صوبیدار عبدالرشید کوہاٹ ۳ محمد اطہر محمد رشید ساہیوال ۴ حافظ مشتاق احمد سید محمد اختر شاہ اوکاڑہ ۵ طارق محمود صالح حیات مانوالہ بار ۶ محمد بدر عالم ...... خارج ۷ رضوان محمود محمد ادریس جھنگ ۸ مولانا سعد اللطیف مولانا محفوظ الحق نوشہرہ ۹ شفیق الرحمن سعید الرحمن بٹگرام ۱۰ اقرار الحسن ...... خارج ۱۱ غلام کبیر عبدالعزیز بھکر ۱۲ محمد داؤد حافظ اسلام الدین بھکر ۱۳ ناظر حسین رانا محمد یعقوب سرگودھا ۱۴ فضل الرحمن دین محمد میانوالی ۱۵ محمد اقبال اللہ دین فیصل آباد ۱۶ محمد اعظم محمد ابراہیم لیہ ۱۷ قاضی فقیر اللہ عبدالرزاق قصور ۱۸ سمیع اللہ محمد حنیف احمد پور شرقیہ ۱۹ عبدالسمیع رسول بخش خیر پور میرس ۲۰ مولوی منیر احمد محمد ایوب نوشہرو فیروز ۲۱ محمد سچل محمد موسیٰ خیر پور ۲۲ محمد داؤد کشمیری محمد گلزار خان بھونٹ چوک

صفحہ ۴۰۰

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۶ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

۲۳ مولانا عبدالرزاق مولانا عبدالقیوم بلوچستان ۲۴ رانا احمد علی وریام خان جھنگ ۲۵ عتیق الرحمن ماسٹر محمد امین جھنگ ۲۶ محمد اسماعیل احمد یار جھنگ ۲۷ محمد افضل شمس الدین جھنگ ۲۸ محمد سلیمان رب نواز ڈی جی خان ۲۹ محمد اشرف محمد اسماعیل کھوکھر سرگودھا ۳۰ غلام محمد اعوان محمد رمضان ...... ۳۱ کلیم اللہ حاجی نور اللہ مظفر گڑھ ۳۲ محمد مبین نور محمد جھنگ ۳۳ محمد رفیق مولانا غلام محمد جھنگ ۳۴ محمد خالد محمد امیر سیال جھنگ ۳۵ محمد اکبر غلام حیدر انصاری جھنگ ۳۶ محمد مسعود محمد حیات خوشاب ۳۷ محمد شفیق اعوان جمال دین اعوان فیصل آباد ۳۸ عبدالمہیمن عبدالحی سیالکوٹ ۳۹ مولانا عبدالصمد قادر بخش نوشہرو فیروز ۴۰ محمد اسلم صدیقی محمد وریام جھنگ ۴۱ الطاف حسین احمد دین قریشی خوشاب ۴۲ جاوید الرحمن عبدالرحمن عباسی راولپنڈی ۴۳ حسین احمد قاضی عبید اللہ وہاڑی ۴۴ محمد اختر غلام نبی وڑائچ سرگودھا ۴۵ ملک محمد حیات خدا بخش جھنگ ۴۶ محمد طارق محمد رفیق ساہیوال ۴۷ مولانا معین اللہ ارس اللہ لکی مروت ۴۸ حافظ حمد اللہ معین اللہ ...... ۴۹ محمد فاروق عطاء محمد اعوان چکوال ۵۰ حق نواز طارق نذیر احمد پاکپتن ۵۱ سید زاہد حسین سید سردار حسین کراچی ۵۲ محمد اسلم محمد عثمان کراچی ۵۳ محمد یعقوب حافظ عبدالخالق رحیم یار خان ۵۴ سید اکرام الرحمن سید ولی الرحمن کراچی ۵۵ محمد ظفر معاویہ کرم الہی کبیروالہ ۵۶ عطاء الرحمن فیض محمد منیر بہاول پور ۵۷ محمد صابر غازی محمد کھوکھر بہاول پور ۵۸ محمد عارف رانا اللہ دتہ سمہ سٹہ ۵۹ حکیم احمد حسن ...... خارج ۶۰ گل جمیر گل بھر گجر مانسہرہ ۶۱ صغیر احمد حاجی فقیر محمد مانسہرہ ۶۲ قاری عبدالستار مہدی حسن سرگودھا ۶۳ محمد عدنان محمد سالم خان مانسہرہ ۶۴ مولانا محمد حسین چراغ دین گجر ملتان ۶۵ مہر خضر حیات ...... خارج ۶۶ قاضی احسان احمد قاضی فیض احمد ٹوبہ ٹیک سنگھ ۶۷ محمد سلیم اللہ خان امام خان میواتی قصور ۶۸ واجد علی محمد یوسف جھنگ ۶۹ ریاض احمد علی خان رانجھا منڈی ۷۰ محمد رمضان منظور احمد بلوچ ڈی جی خان ۷۱ الطاف حسین عبدالغفور چنیوٹ ۷۲ محمد اسعد محمد اعظم جٹ وزیر آباد ۷۳ محمد اسماعیل محمد حنیف ڈھڈی بہاول نگر ۷۴ عبید اللہ حافظ عطاء اللہ سرگودھا ۷۵ محمد اسحاق محمد بخش جھنگ ۷۶ مہر مطلوب حسین منظور احمد جھنگ ۷۷ عبدالقدیر حافظ سلطان احمد کلور کوٹ ۷۸ امام بخش غلام محمد اعوان کلور کوٹ

صفحہ ۴۰۱

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۶ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

۷۹ محمد عمر چار یاری مولانا احمد چار یاری جھنگ ۸۰ دوست محمد خوشی محمد جھنگ ۸۱ حافظ محمد ریاض خوشی محمد جھنگ ۸۲ محمد شریف ...... خارج ۸۳ مولانا محمود قاسم مولانا محمد قاسم بہاول نگر ۸۴ مولانا سعود قاسم ...... ...... ۸۵ ظفر اقبال نوری محمد شفیع لودھراں ۸۶ محمد بلال فضل احمد ارائیں بہاول پور ۸۷ مشتاق احمد حافظ محمد امین لودھراں ۸۸ مولانا محمد صدیق محمد عمر لاڑکانہ ۸۹ محمد سہیل احمد مہر غلام رسول جھنگ ۹۰ عبدالرزاق مولانا ظہور احمد چنیوٹ ۹۱ محمد سلیم مشتاق احمد اعوان سرگودھا ۹۲ خدا بخش محمد حیات سرگودھا ۹۳ جاوید احمد خلیل احمد گوجرانوالہ ۹۴ منیر احمد فیض احمد سلانوالی ۹۵ عبید اللہ مولانا محمد یونس منڈی ۹۶ خالد محمود ضیاء مولانا عبید الرحمن ٹوبہ ٹیک سنگھ ۹۷ عبد المالک نور حسین اعوان اٹک ۹۸ محمد آصف سعود محمد احمد آرائیں خانیوال ۹۹ شعیب احمد محمد سلیم مانسہرہ ۱۰۰ مولانا محمد امین قاری خدایار افغانستان ۱۰۱ مولانا عزیز اللہ امام علی افغانستان ۱۰۲ فضل الرحمن محمد ابراہیم جھنگ ۱۰۳ جناب عبدالرؤف مولانا محمد یوسف مانسہرہ ۱۰۴ نصر اللہ مولا بخش بھلوال ۱۰۵ لیاقت علی محمد مظفر مانسہرہ ۱۰۶ مولانا محمد صدیق محمد رمضان مرحوم خیر پور ۱۰۷ عاصم رشید عبدالرشید جڑانوالہ ۱۰۸ مولانا محمد شمشاد محمد قیس ٹوبہ ٹیک سنگھ ۱۰۹ محمد فاروق محمد یوسف جھنگ ۱۱۰ محمد موسیٰ محمد حسن نارووال ۱۱۱ حافظ محمد اکرم علی محمد ...... ۱۱۲ حافظ احمد علی میاں اللہ بخش چنیوٹ ۱۱۳ بذریعہ حضرت حافظ محمد عابد خانیوال ۱۱۴ مولوی محمد صدیق الٰہی بخش لاڑکانہ

دوران سال دو حضرات نے تربیت حاصل کی۔

۱....... مولانا محمد حسین ناصر صاحب دنیا پور ۲....... مفتی محمد ادریس صاحب اٹک

قصور میں عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس

قصور عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام مورخہ ۲۷ مارچ ۱۹۹۶ء کو جامع مسجد گنبد والی کوٹ مراد خاں میں عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی جس کی صدارت قاری مشتاق احمد رحیمی امیر مجلس تحفظ ختم نبوت قصور نے کی۔ جبکہ مہمان خصوصی یادگار اسلاف حضرت مولانا سید محمد طیب شاہ ہمدانی فاضل دارالعلوم دیوبند تھے۔ اسٹیج سیکرٹری کے فرائض مولانا عبدالرزاق مجاہد نے سرانجام دیئے۔

کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے حاجی اللہ دتہ نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ کی عزت و ناموس کے تحفظ کے لئے کسی قربانی سے دریغ نہیں کیا جائیگا۔ انہوں نے کہا ملک بھر میں ۲۳ کے قریب بدبختوں نے سرور کائنات ﷺ کی شان اقدس میں دریدہ دہنی کی۔ حکومت نے نہ انہیں صرف تحفظ فراہم کیا بلکہ انہیں ایوارڈ تک دے کر اپنے مینڈیٹ سے انحراف کیا ہے لہٰذا ایسی حکومت کو برسر اقتدار رہنے کا کوئی حق

صفحہ ۴۰۴

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۶ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

حاصل نہیں۔

عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت لاہور ڈویژن کے انچارج مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی نے تحریک ختم نبوت کے سلسلہ میں دی جانے والی قربانیوں پر روشنی ڈالی۔ اور کہا کہ قادیانیت کے ایک سو سالہ سفر کے مقابلہ میں تحریک ختم نبوت کا موازنہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ ۱۹۷۴ء میں قادیانی غیر مسلم اقلیت قرار دیئے گئے۔ ۱۹۸۴ء میں امتناع قادیانیت آرڈی نینس آیا۔ قادیانی اس کے خلاف وفاقی شرعی عدالت میں گئے جہاں ان کی رٹ مسترد ہوئی۔ شریعت اپیلانٹ بنچ، سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ کے آٹھ فیصلے ان کے خلاف آئے۔

آج قادیانی گروہ ۱۹۹۶ء کے پہلے چار ماہ کو خوشخبری کہہ رہا ہے جس سے معلوم ہوتا ہے اسے بیرونی آقاؤں اور اندرونی مہروں کی آشیر باد حاصل ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر قادیانیوں کے خلاف آئینی فیصلوں کو کالعدم قرار دیا گیا تو ان کے خلاف فیصلہ کن تحریک چلے گی۔ جس میں ان کے ارتداد کا فیصلہ اور ارتداد کی شرعی سزا ”سزائے موت“ کو نافذ کرنے پر مجبور کیا جائے گا۔ کانفرنس مولانا سید محمد طیب شاہ ہمدانی کی دعا پر اختتام پذیر ہوئی۔

دوالمیال میں قادیانی شرارتیں

راولپنڈی مکرمی جناب مدیر ختم نبوت کراچی السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

میں آپ کے ہفت روزہ ختم نبوت کے ذریعہ سے حکومت کی توجہ اس اہم مسئلہ کی طرف مبذول کرنا چاہتا ہوں امید ہے کہ آپ اس مسئلہ میں میرا قانونی تعاون فرمائیں گے۔ مسئلہ یہ ہے کہ گورنمنٹ اسکول دوالمیال ضلع چکوال کے مسلمان طالبات پر اتنا مذہبی ظلم کیا جارہا ہے جس کی مثال شاید ربوہ میں قادیانیوں کا شہر ہے اس میں بھی نہ ہو کہ ایک ہی اسکول میں چھ عدد قادیانی استانیاں پڑھا رہی ہیں۔ ان کے نام یہ ہیں۔ شاہدہ پروین (پی۔ٹی۔سی) اور رفعت شاہین (ای۔ایس۔ٹی) اور یہ دونوں آپس میں بہنیں ہیں۔ مسعود بیگم (ایس۔وی) فرخندہ بیگم (پی۔ٹی۔سی) فریدہ بیگم (پی۔ٹی۔سی) عارفہ خانم (پی۔ٹی۔سی) سے ہیں فرخندہ، فریدہ اور عارفہ یہ آپس میں بہنیں ہیں جناب والا آپ کے رسالہ ہفت روزہ ختم نبوت کے ذریعہ سے خدمت میں درخواست کرتا ہوں اور پوچھتا ہوں کہ ان خاندانوں کو کس بنا پر اتنے عرصے سے مسلمان طالبات پر مسلط کیا ہوا ہے اور پھر ان سے پڑھنے والی اکثر مسلمان طالبات ہیں۔ لہذا حکومت سے استدعا کی جاتی ہے ان کو فوری ہٹا کر مسلمان ٹیچرز تعینات کئے جائیں جو مسلمان طالبات کی ذہنی کوفت کو ختم کریں۔

(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی مؤرخہ ۱۰ تا ۱۶ مئی ۱۹۹۶ء ص ۱۲)

پریس کانفرنس حضرت مولانا خواجہ خان محمد صاحب صدر آل پارٹیز مجلس عمل تحفظ ختم نبوت پاکستان

۳۱ مارچ ۱۹۹۶ء فلیٹیز ہوٹل لاہور میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی امیر حضرت مولانا خان محمد کندیاں شریف نے پریس کانفرنس سے خطاب کیا پریس کانفرنس میں چالیس کے قریب مختلف مکاتب فکر کے رہنماؤں اور قومی اخبارات کے نمائندوں نے شرکت کی۔

پریس کانفرنس میں ورلڈ اسلامک فورم کے چیئرمین مولانا زاہد الراشدی، جمعیت علماء اسلام کے مرکزی ڈپٹی سیکرٹری مولانا سید امیر حسن گیلانی، عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی رہنماؤں مولانا عزیز الرحمٰن جالندھری، مولانا اللہ وسایا، مولانا محمد اکرم طوفانی، مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی، مرکزی جمعیت اہل حدیث کے ڈپٹی سیکرٹری پروفیسر عبدالرحمٰن لدھیانوی، جماعت اہل حدیث کے صاحبزادہ عارف سلمان روپڑی، جمعیت علماء اسلام پنجاب (س) کے نائب امیر پیر نعیم اللہ فاروقی، جمعیت علماء پاکستان نیازی گروپ کے رہنماؤں قاری عبدالحمید قادری، انجینئر سلیم اللہ خان، جامعہ نعیمیہ کے مہتمم ڈاکٹر سرفراز احمد نعیمی، شیعہ پولیٹیکل پارٹی کے علامہ غضنفر کراروی سمیت کئی

صفحہ ۴۰۳

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۶ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

ان جماعتوں کے رہنماؤں نے شرکت کی۔ پریس کانفرنس کا متن پیش خدمت ہے۔

الحمد للہ رب العالمین والصلوۃ والسلام علٰی خاتم النبیین وعلٰی آلہ واصحابہ اجمعین

قادیانی گروہ جسے برطانوی استعمار نے نو آبادیاتی مقاصد کے لئے ایک صدی قبل پروان چڑھایا تھا۔ اب پھر عالمی استعمار کی پشت پناہی اور آشیر باد کے ساتھ دنیا کے مختلف ممالک میں متحرک اور سرگرم دکھائی دے رہا ہے اور اسلامی جمہوریہ پاکستان میں قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے اور اسلام کے نام اور شعائر کے استعمال سے روکنے کے آئینی اور قانونی فیصلوں کو سبوتاژ کرنے کے لئے امریکہ اور دیگر مغربی ممالک کھل کر میدان میں آ گئے ہیں۔

قادیانیوں کو اسلامیان پاکستان کے مذہبی معاملات میں مداخلت سے روکنے اور انہیں ان کی جائز حدود میں پابند کرنے کے لئے ۱۹۷۴ء میں ایک آئینی ترمیم کے ذریعہ قادیانی گروہ کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا گیا، ۱۹۸۴ء میں صدارتی آرڈی نینس کے ذریعہ انہیں اسلام کا نام اور علامات استعمال کرنے سے قانوناً روک دیا گیا اور ۱۹۹۲ء میں وفاقی شرعی عدالت کے فیصلہ کے مطابق توہین رسالت ﷺ پر موت کی سزا کا قانون نافذ کیا گیا اور یہی تین فیصلے اس وقت مغرب کی سیکولر قوتوں اور لابیوں کی معاندانہ مہم کا سب سے بڑا ہدف ہیں اور صورت حال یہ ہے کہ:

تنقید بنا رہی ہے۔

شرط رکھی ہے اور اس سال امریکی وزارت خارجہ کی سالانہ رپورٹ میں توہین رسالت کی سزا کے قانون اور قادیانیوں کے بارے میں آئینی اور قانونی فیصلوں پر تنقید کے ساتھ ساتھ امریکی نائب وزیر خارجہ رابن رافیل نے واضح طور پر اعلان کر دیا ہے کہ ان قوانین کی منسوخی کے لئے امریکہ مسلسل دباؤ ڈالتا رہے گا۔

جاری ہے۔

ان تمام کارروائیوں کا مقصد پاکستان کے اسلامی تشخص کو ختم کر کے اسے سیکولر اسٹیٹ کی حیثیت دینا اور مغرب کی مادر پدر آزاد ثقافت کا تسلط قائم کرنا ہے۔ جب کہ حکومت پاکستان کی معذرت خواہانہ ذہنیت کا حال یہ ہے کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کے نظریاتی تشخص اور جمہوری و اسلامی فیصلوں کے خلاف اس یکطرفہ اور سراسر ناجائز بین الاقوامی دباؤ کو مسترد کرنے کے بجائے وہ مسلسل پسپائی کا راستہ اختیار کئے ہوئے ہے جس کا تازہ ترین اظہار اقلیتوں کے دوہرے ووٹ کی مضحکہ خیز حکومتی تجویز کی صورت میں سامنے آیا ہے اور یوں محسوس ہورہا ہے کہ اگر پاکستان کے اندرونی مذہبی معاملات میں بڑھتی ہوئی امریکی مداخلت اور حکومت پاکستان کی پسپا پالیسی کو آگے بڑھ کر غیور مسلمانوں کی عوامی قوت کے ساتھ نہ روکا گیا تو پاکستان میں اسلامی قوانین اور مذہبی روایات ایک ایک کر کے عالمی استعمار کی ناجائز خواہشات کی بھینٹ چڑھ جائیں گے۔

اس کے ساتھ یہ بات بھی قابل توجہ ہے کہ پاکستان کے مختلف علاقوں میں قادیانی گروہ کی جارحانہ سرگرمیوں میں بتدریج اضافہ

صفحہ ۴۰۴

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۶ء ۴۰۴ ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

ہوتا جا رہا ہے اور اس پس منظر میں گزشتہ چند ماہ کے دوران :

پاک فوج کے دینی مزاج کے خلاف ’’مبینہ عالمی سازش‘‘ میں شریک ہونے کا اعتراف کر لیا ہے۔

حالات کا رخ یوں نظر آ رہا ہے کہ کسی بین الاقوامی سازش کے تحت قادیانی گروہ ملک میں جان بوجھ کر ایسے حالات پیدا کرنے کی کوشش کر رہا ہے جو عالمی استعمار اور بین الاقوامی لابیوں کی مداخلت میں مزید اضافے اور ان کے مذموم منصوبوں کی تکمیل کے لئے بہانہ بن سکیں۔

ان حالات میں ضروری ہو گیا ہے کہ کل جماعتی مرکزی مجلس عمل تحفظ ختم نبوت پاکستان کے اس پلیٹ فارم کو از سر نو منظم اور متحرک کیا جائے جس پر پاکستان کے غیور مسلمانوں نے ۱۹۵۳ء، ۱۹۷۴ء اور ۱۹۸۴ء میں متحد ہو کر بے مثال قربانیوں اور عظیم جدوجہد کے ذریعہ عقیدہ ختم نبوت اور ناموس رسالت کے تحفظ کا دینی فریضہ سر انجام دیا تھا چنانچہ مرکزی مجلس عمل کے سربراہ کی حیثیت سے میں کل جماتی مرکزی مجلس عمل تحفظ ختم نبوت پاکستان کو متحرک کرنے کا اعلان کرتے ہوئے یہ واضح کر دینا چاہتا ہوں کہ اپنی سابقہ روایت اور طریق کار کے مطابق تمام مکاتب فکر کو مرکزی مجلس عمل کے پلیٹ فارم پر متحد و منظم کر کے:

پر تحفظ کیا جائے گا۔

اختیار کرنے پر مجبور کیا جائے گا۔

مکاتب فکر کے علمائے کرام اور دیگر طبقات کے رہنما شریک ہوں گے اور تحریک ختم نبوت کے اگلے پروگرام کا اعلان کیا جائے گا اور اس سے ایک روز قبل تمام دینی جماعتوں کا سربراہی اجلاس ہو گا جس میں تفصیلات طے ہو جائیں گی۔ انشاء اللہ تعالیٰ۔

مرکزی رابطہ کمیٹی قائم کر دی گئی جس کے کنوینر مولانا عزیز الرحمن جالندھری ہوں گے۔ کمیٹی کے اراکین مندرجہ ذیل ہوں گے۔ مولانا زاہد الراشدی گوجرانوالہ، مولانا سید امیر حسین گیلانی اوکاڑہ ، علامہ علی غضنفر کراروی لاہور، مولانا عبد المالک خان لاہور،

صفحہ ۴۰۵

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۶ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

پروفیسر عبدالرحمن لدھیانوی لاہور، مولانا نعیم اللہ فاروقی، صاحبزادہ عارف سلمان روپڑی، ڈاکٹر سرفراز احمد نعیمی، قاری عبدالحمید قادری، مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی،۔ یہ کمیٹی ”قومی ختم نبوت کنونشن“ کے انتظامات کے علاوہ مختلف مکاتب فکر اور طبقات فکر اور اس کے رہنماؤں سے رابطے کرے گی اور دیگر متعلقہ امور سرانجام دے گی۔ میں تمام مکاتب فکر کے علمائے کرام، دینی کارکنوں اور ہر طبقہ کے غیور مسلمانوں سے اپیل کرتا ہوں کہ اس مقدس مشن میں ہمارے ساتھ شریک ہوں۔ تا کہ ہم مل کر اپنے ملک کے اسلامی تشخص، خود مختاری اور عقیدہ ختم نبوت و تحفظ ناموس رسالت کے سلسلہ میں اب تک ہونے والی پیش رفت کو استعماری سازشوں کا شکار ہونے سے بچاسکیں۔

(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی مؤرخہ ۱۹ تا ۲۵ / اپریل ۱۹۹۶ء ص ۲۱ ،۲۲)

قومی ختم نبوت کنونشن لاہور

۱۶ / مئی ۱۹۹۶ء کو لاہور میں کل جماعتی مجلس عمل تحفظ ختم نبوت نے ملک بھر میں تحریک ختم نبوت کو از سر نو منظم کرنے اور ہر سطح پر مجالس عمل کی تشکیل کا فیصلہ کیا ہے۔ آج یہ فیصلہ مجلس عمل میں شامل جماعتوں کے سربراہوں کے اجلاس میں کیا گیا جو دفتر ختم نبوت مسلم ٹاؤن لاہور میں خواجہ خان محمد کی زیر صدارت منعقد ہوا۔ جس سے سینیٹر قاضی حسین احمد، مولانا محمد اجمل خان، ڈاکٹر اسرار احمد، جنرل (ر) محمد حسین انصاری، لیاقت بلوچ، قاری عبدالحمید قادری، مولانا سید محفوظ شاہ مشہدی، مولانا سعید احمد اسعد، مولانا عزیر الرحمن جالندھری، مولانا زاہد الراشدی، مولانا اللہ وسایا، پروفیسر خالد شبیر احمد، سردار محمد لغاری، سید محمد کفیل بخاری، حافظ محمد ریاض درانی، مولانا اللہ وسایا قاسم، مولانا محمد اسحاق سلیمی، مولانا عبدالمالک، مولانا سید ضیاء اللہ شاہ بخاری، حافظ عبدالرحمن مدنی، میاں محمد جمیل، اعجاز احمد چوہدری، صاحبزادہ عبدالرؤف قریشی، عبداللطیف خالد چیمہ، مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی، جناب اورنگ زیب اعوان اور مولانا محمد امجد خان نے شرکت کی۔

اجلاس میں مرکزی مجلس عمل کے تنظیمی ڈھانچے کا فیصلہ کیا گیا جس کے مطابق مولانا خواجہ خان محمد صدر اور مولانا حافظ عبدالقادر روپڑی، قاری عبدالحمید قادری، علامہ علی غضنفر کراروی، نائب صدور ہوں گے جبکہ سردار محمد خان لغاری کو سیکرٹری جنرل مولانا اللہ وسایا کو رابطہ سیکرٹری، مولانا زاہد الراشدی کو سیکرٹری اطلاعات اور عبداللطیف خالد چیمہ کو ڈپٹی سیکرٹری اطلاعات منتخب کیا گیا۔ اس کے علاوہ جناب لیاقت بلوچ کی سربراہی میں دستور کمیٹی قائم کی گئی۔ جو مجلس کا مستقل دستور وضع کرے گی، دستور کمیٹی میں مولانا زاہد الراشدی، سردار محمد خان لغاری، جنرل (ر) محمد حسین انصاری، مولانا اللہ وسایا، علامہ علی غضنفر کراروی، سید ضیاء اللہ شاہ بخاری، حافظ عبدالرحمن مدنی اور انجینئر سلیم اللہ خان شامل ہیں۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ ۷ / جون ۱۹۹۶ء جمعتہ المبارک کو ملک بھر میں یوم مطالبات منایا جائے گا۔ اور اس موقع پر خطبات جمعہ و دیگر اجتماعات میں تحریک ختم نبوت کے مطالبات پر روشنی ڈالی جائے گی۔ اس کے علاوہ اگلے تین ماہ کے دوران کامونکی، کوٹلی، میر پور، آزاد کشمیر، پشاور، گوجرانوالہ، ملتان اور سکھر میں ختم نبوت کانفرنسیں منعقد کی جائیں گی اور مرکزی مجلس عمل کے رہنماؤں کا وفد ملک کے مختلف شہروں کا دورہ کرے گا۔ اجلاس میں طے پایا کہ انسانی حقوق کی تنظیموں کے وفد کی لاہور آمد کے موقع پر مرکزی مجلس عمل کا ایک وفد اس سے ملاقات کر کے قادیانی مسئلہ اور تحفظ ناموس رسالت کے بارے میں مسلمانوں کے جذبات سے انہیں آگاہ کرے گا۔ اجلاس میں مندرجہ ذیل قراردادوں کی منظوری دی گئی۔

اجماعی عقیدہ، متفقہ فیصلہ اور اسلامی جمہوریہ پاکستان کی منتخب پارلیمنٹ کے دستوری فیصلہ سے قادیانی امت کے انحراف کو ہٹ دھرمی اور بے جا ضد قرار دیتے ہوئے اس حقیقت کا اظہار ضروری سمجھتا ہے کہ قادیانی گروہ عالمی استعمار کی شہ پر امت مسلمہ کو مسلسل الجھائے رکھنے اور نئی

صفحہ ۴۰۶

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۶ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

پود کو ذہنی انتشار کا شکار بنانے کے لئے جان بوجھ کر یہ صورت حال قائم رکھے ہوئے ہے ورنہ اس مسئلہ کا واحد حل یہ ہے کہ قادیانی گروہ امت مسلمہ کے اجتماعی دھارے میں واپس آجائے اور اگر ایسا اس کے مقدر میں نہیں ہے تو اپنے نئے مذہب کے لئے الگ نام اور شناخت اختیار کر کے غیر مسلم اقلیت کی دستوری حیثیت کو قبول کر لے تا کہ دھوکہ اور اشتباہ کی فضا سے نکل کر وہ اپنے مسلمہ حقوق کا تحفظ کر سکے۔

قومی ختم نبوت کنونشن یقین دلاتا ہے کہ اجماعی عقیدہ ختم نبوت کی بنیاد پر امت مسلمہ میں واپس آنے والے قادیانی گروہ یا افراد کا پر جوش خیر مقدم کیا جائے گا۔ اور علماء امت اور پارلیمنٹ کے فیصلے کی بنیاد پر غیر مسلم اقلیت کی حیثیت قبول کرنے کی صورت میں قادیانی گروہ کے تمام اقلیتی حقوق کے تحفظ کی مکمل حمایت کی جائے گی۔

میں امریکہ اور دیگر مغربی حکومتوں اور اداروں کی مسلسل مداخلت کو مسلمانوں کے مذہبی معاملات میں مداخلت قرار دیتا ہے جس میں توہین رسالت کی سزا کے قانون اور قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دینے کے آئینی و قانونی اقدامات کو ہدف تنقید بناتے ہوئے ان کی منسوخی کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ کنونشن پاکستان کے غیور مسلمانوں کے ان جذبات کا اظہار ضروری سمجھتا ہے کہ امریکہ اور دیگر مغربی حکومتیں اور ادارے اس قسم کی رپورٹوں اور مطالبات کے ذریعہ پاکستان کے اسلامی تشخص کو مجروح کرنے کے ساتھ ساتھ مسلمانوں کو ان کے بنیادی عقائد اور مذہبی احکام پر عمل سے روکنا چاہتے ہیں جو کہ بنیادی مذہبی حقوق کے منافی ہے اور قطعی طور پر ناقابل برداشت ہے۔ کنونشن، قادیانی مسئلہ، توہین رسالت کی سزا کے قانون اور دیگر مذہبی معاملات کے بارے میں امریکی وزارت خارجہ اور ایمنسٹی انٹرنیشنل کی رپورٹوں کو یک طرفہ اور معاندانہ قرار دیتے ہوئے مسترد کرنے کا اعلان کرتا ہے اور واضح کر دینا چاہتا ہے کہ پاکستان کے اندرونی معاملات میں امریکہ سمیت کسی بھی ملک یا ادارے کی مداخلت کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔

پاکستان کے معذرت خواہانہ طرز عمل پر شدید احتجاج کرتا ہے۔ اور عالمی اداروں کے مطالبہ پر حکومت کے اس جواب کو دستور پاکستان سے انحراف قرار دیتا ہے، چونکہ حکومت کے پاس اسمبلی میں دو تہائی اکثریت نہیں ہے، اس لئے وہ ان قوانین میں ترمیم کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ حکومت پاکستان مغربی اداروں اور حکومتوں کے موقف اور مطالبہ سے متفق ہے اور وہ قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دینے اور توہین رسالت کی سزا کے قانون کو ختم کرنا چاہتی ہے لیکن اس کے پاس اسمبلی مطلوبہ اکثریت نہیں ہے جس کی وجہ سے ایسا کرنا اس کے لئے مشکل ہے۔ قومی ختم نبوت کنونشن حکومت کے اس موقف کو دستور کے تقاضوں کے منافی سمجھتے ہوئے مطالبہ کرتا ہے کہ حکومت اس سلسلہ میں اپنے طرز عمل پر نظر ثانی کرے اور مغربی حکومتوں اور لابیوں کے مطالبات پر معذرت خواہانہ طرز عمل اختیار کرنے کی بجائے پاکستان کے غیور مسلمانوں کے عقائد و روایات کے تحفظ اور دستور پاکستان کے تقاضوں کی پاسداری کی ذمہ داری پوری کرے اور تحفظ ناموس رسالت کے قانون، اور امتناع قادیانیت آرڈی نینس پر مکمل طور پر عمل درآمد کا اہتمام کرے۔

قرار دیتا ہے جس پر برصغیر میں قیام پاکستان کی جدوجہد استوار کی گئی اور ایک نئی مسلم مملکت کا وجود عمل میں لایا گیا۔ کنونشن یہ سمجھتا ہے کہ اقلیتوں کو ڈھال کے طور پر استعمال کر کے پاکستان کے اسلامی تشخص اور قیام پاکستان کے جواز کو ختم کرنے کی عالمی سطح پر سازش کی جا رہی ہے اور اقلیتوں کو دوہرے ووٹ کے حق کی حکومتی تجویز بھی اسی مہم کا حصہ ہے۔ قومی ختم نبوت کنونشن اس تجویز کو مسترد کرتے ہوئے اعلان

صفحہ ۴۰۷

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۶ء

ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

کرتا ہے کہ اگر حکومت نے اس قسم کی کسی تجویز پر عمل در آمد کی کوشش کی تو رائے عامہ کی منظم قوت کے ساتھ اس کی پرزور مزاحمت کی جائے گی اور ایسی کارروائی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

تشویش کا اظہار کرتا ہے جن میں دوالمیال ضلع چکوال اور ھمہ نزد ہلال پور سرگودھا، چک نمبر ۶ نزد ہڑپہ ضلع ساہیوال، منڈی احمد آباد تحصیل دیپال پور اور پیلو وائنس ضلع خوشاب کے واقعات بطور خاص قابل ذکر ہیں جہاں قادیانیوں نے مسلمانوں کو تشدد کا نشانہ بنایا اور بلاوجہ اشتعال کی فضا پیدا کی۔ قومی ختم نبوت کنونشن یہ سمجھتا ہے کہ قادیانی گروہ ملک کے مختلف مقامات پر جان بوجھ کر اس قسم کے حالات پیدا کرنا چاہتا ہے۔ اس لئے کنونشن قادیانیوں کو خبردار کرتا ہے کہ ان کی اس قسم کی حرکات کا دائرہ صرف ان کے مقاصد تک محدود نہیں رہے گا اگر اس طرح کی کارروائیاں جاری رہیں تو ملت اسلامیہ کی طرف سے ان کے ردعمل کا سامنا تو خود قادیانیوں کے لئے ملک کے کسی بھی حصے میں مشکل ہو جائے گا اس لئے قادیانی گروہ کی قیادت کو چاہئے کہ وہ اس طرز عمل کے نتائج کا بروقت اندازہ کرتے ہوئے اس پر نظر ثانی کرے۔ نیز حکومت پاکستان کی ذمہ داری ہے کہ اس صورت حال کا سنجیدگی سے نوٹس لے اور معاملات کو ملک گیر سطح پر بگڑنے سے روکنے کے لئے قانونی اقدامات کرے۔

جج اسلم بھٹی کو مستقل جج کی حیثیت دی جارہی ہے۔ کنونشن یہ سمجھتا ہے کہ جو گروہ دستور پاکستان کے واضح فیصلے کو حتمی طور پر تسلیم کرنے سے انکاری ہے اس کے کسی فرد کو اسی دستور کے تحت ہائیکورٹ میں بطور جج مقرر کرنے کا فیصلہ واپس لیا جائے اور دستور کو تسلیم کرنے کے واضح اعلان تک قادیانی گروہ کے کسی فرد کو ملک کے کسی کلیدی عہدہ پر مقرر نہ کرنے کا اعلان کر کے دستور پاکستان کے احترام کے تقاضے پورے کئے جائیں۔

(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی مورخہ ۱۲؍مئی تا ۶؍ جون ۱۹۹۶ء ص۷، ۵)

مانگا ضلع سیالکوٹ میں ختم نبوت کانفرنس

سیالکوٹ میں جولائی ۱۹۹۶ء کو جامع مسجد مدنی موضع مانگا ضلع سیالکوٹ میں عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی۔ جس سے مولانا محمد انور انصر، مولانا محمد صدیق اختر، مولانا محمد اکرم نسیم اور دیگر علمائے کرام نے خطاب کیا۔

(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی مورخہ ۲۶؍ جولائی تا یکم؍ اگست ۱۹۹۶ء ص۱۲)

گوجرانوالہ میں ختم نبوت کانفرنس

گوجرانوالہ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام جامع مسجد شیرانوالہ باغ میں ۲۱ جون ۱۹۹۶ء کو عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی۔ جس کی صدارت قائد تحریک ختم نبوت مولانا خواجہ خان محمد کندیاں شریف نے کی۔ کانفرنس سے ابن امیر شریعت سید عطاء المہیمن بخاری، مولانا اللہ وسایا، مولانا زاہد الراشدی، متحدہ جمعیت اہل حدیث کے ناظم اعلیٰ سید ضیاء اللہ شاہ بخاری، جمعیت علماء پاکستان پنجاب کے جنرل سیکرٹری اور کل جماعتی مجلس عمل تحفظ ختم نبوت کے ناظم اعلیٰ سردار محمد خان لغاری، جماعت اسلامی لاہور کے امیر جناب لیاقت بلوچ، جمعیت اتحاد العلماء کے مولانا غلام رسول راشدی، مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی، مولانا فقیر اللہ اختر، حافظ محمد ثاقب، حافظ محمد یوسف عثمانی، حافظ گلزار احمد آزاد سمیت کئی ایک علماء کرام نے خطاب کیا۔

صفحہ ۴۰۸

تحریک ختم نبوت جلد(۶) ۱۹۹۶ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

مولانا اللہ وسایا نے کہا قادیانی جارحیت کی وجہ سے ایک مرتبہ پھر مجلس عمل کو منظم کیا جا رہا ہے انہوں نے کہا کہ پاکستان کے اندرونی معاملات میں امریکی یا برطانوی مداخلت کو کسی صورت میں برداشت نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے قادیانیوں کو متنبہ کیا کہ وہ ملک و ملت کے خلاف سازشیں بند کر دیں۔ ورنہ ان کے خلاف فیصلہ کن تحریک چلائی جائے گی۔

آل پارٹیز مجلس عمل کے جنرل سیکرٹری سردار محمد خان لغاری نے کہا اقلیتوں کو دوہرے ووٹ کا حق دینا نظریہ پاکستان کو ذبح کرنے مترادف ہے۔ انہوں نے حکمرانوں سے کہا کہ وہ مغربی طاقتوں کا آلہ کار بننے کے بجائے نظریہ پاکستان کا تحفظ کریں۔

جناب لیاقت بلوچ نے کہا جداگانہ طرز انتخاب کا خاتمہ درحقیقت قادیانیت کو مسلط کرنے کا منصوبہ ہے۔ دینی جماعتیں مولانا خواجہ خان محمد کی قیادت میں ایسے کسی منصوبہ کو کامیاب نہیں ہونے دیں گی۔

متحدہ جمعیت اہل حدیث کے جنرل سیکرٹری سید ضیاء اللہ شاہ بخاری نے کہا مرزائیت کے خاتمہ تک تحریک جاری رہے گی۔ انہوں نے حضرت الامیر مدظلہ کی طرف متوجہ ہو کر کہا کہ قادیانیت کے خاتمہ کے لئے آپ کی قیادت میں چلنے والی تحریک میں اہل حدیث نوجوان ہراول دستہ کا کردار ادا کریں گے۔

ابن امیر شریعت مولانا سید عطاء المہیمن بخاری نے قادیانیوں کی ملک وملت دشمنی کا پردہ چاک کرتے ہوئے کہا کہ قادیانی بقول علامہ اقبال ملک وملت کے غدار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت ایسے سانپ پال کر ملت دشمنی کا کردار ادا کر رہی ہے۔ ایسی حکومت سے خیر کی توقع رکھنے والے احمقوں کی جنت میں بستے ہیں۔

مولانا زاہد الراشدی نے مجلس عمل کے مطالبات پر روشنی ڈالی اور قراردادیں منظور کرائیں۔ کانفرنس رات گئے تک جاری رہ کر حضرت الامیر دامت برکاتہم کی دعا پر اختتام پذیر ہوئی۔

(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی مورخہ ۱۶ تا ۲۲؍ اگست ۱۹۹۶ء ص ۲۳)

کل جماعتی ختم نبوت کانفرنس سکھر

کل جماعتی مجلس عمل تحفظ ختم نبوت سکھر کی طرف سے ۴؍ جولائی ۱۹۹۶ء کو بروز جمعرات عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس سکھر کے تاریخی میونسپل اسٹیڈیم میں منعقد کی گئی۔ کانفرنس کے انعقاد سے سکھر ڈویژن کے عوام کی وہ دیرینہ خواہش پوری ہوگئی، جس کی تڑپ وتمنا اور حسرت سکھر ڈویژن کے عوام گزشتہ گیارہ سال سے دلوں میں لئے ہوئے تھے۔ کیوں کہ اس پرفتن دور میں اللہ تعالیٰ نے اعزاز عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کو عطا فرمایا ہے کہ ہر مسلمان کی خواہش کے مطابق تمام مکاتب فکر کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کرنا۔

۴؍ جولائی ۱۹۹۶ء کی کانفرنس کو کامیاب کرنے کے لئے سکھر کے تمام مکاتب فکر کے علماء کرام کی ایک خصوصی میٹنگ بلائی گئی میٹنگ میں دیگر امور کے ساتھ ساتھ علماء کرام کی ایک استقبالیہ کمیٹی تشکیل دی گئی جس میں قائدین کے استقبال اور پریس کانفرنس شامل تھی۔ جمعرات کی صبح ہی لوگ خصوصا اندرون سندھ کے ساتھی کانفرنس میں شرکت کے لئے سکھر پہنچنا شروع ہوگئے۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان کے مرکزی ناظم اعلیٰ عزیز الرحمن صاحب کانفرنس سے ایک دن قبل تشریف لے آئے بالاخر وہ لمحے آن پہنچے کہ سکھر کی عوام اپنے مرکزی قائدین کا دیدار کرسکیں۔ ۴؍ جولائی ۱۹۹۶ء کی شام مرکزی قائدین کے استقبال کے لئے استقبالیہ کمیٹی کے علماء کرام کی قیادت میں لوگ جوق در جوق روہڑی اسٹیشن اور سکھر ائیر پورٹ پر جمع ہونا شروع ہوگئے شالیمار ایکسپریس کے ذریعہ پہنچنے والے قائدین میں جمعیت علماء پاکستان کے مرکزی امیر وملی یک جہتی کونسل کے صدر علامہ شاہ احمد نورانی، جمعیت اہل حدیث کے امیر مولانا معین الدین لکھوی، و ناظم اعلیٰ

صفحہ ۴۰۹

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۶ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

جمعیت اہل حدیث کے علامہ ضیاء اللہ شاہ بخاری، مجلس عمل کے نائب صدر علامہ علی غضنفر کراروی، مجلس عمل کے مرکزی جنرل سیکرٹری محمد خان لغاری و دیگر علماء کرام شامل تھے جنہیں جلوس کی شکل میں سکھر لایا گیا۔ ہوائی جہاز کے ذریعہ پہنچنے والے قائدین مجلس عمل تحفظ ختم نبوت و عالمی مجلس ختم نبوت پاکستان کے مرکزی امیر پیر طریقت حضرت مولانا خواجہ خان محمد صاحب، جمعیت علماء اسلام پاکستان (ف) کے مرکزی امیر و امور خارجہ کمیٹی کے چیئرمین حضرت مولانا فضل الرحمن و دیگر علماء کرام شامل تھے۔ تقریباً دو میل لمبا جلوس جب سکھر ایئر پورٹ کی حدود میں داخل ہوا تو سکھر ایئر پورٹ نعرہ تکبیر، ختم نبوت زندہ باد، مرزائیت مردہ باد کے نعروں سے گونج اٹھا۔ تقریباً چھ بجے مرکزی امیر حضرت خواجہ خان محمد صاحب ایئر پورٹ سے باہر تشریف لائے تو ایک بار پھر فضا نعرہ تکبیر کے فلک شگاف نعروں سے گونج اٹھی۔ بعد ازاں مولانا فضل الرحمن پریس کانفرنس کرنے کے بعد تشریف لائے ۔ حضرت خواجہ خان محمد سکھر ایئر پورٹ سے سیدھے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان کے سابق مرکزی رکن شوری حاجی فرزند علی مرحوم کے صاحبزادے شیخ محمد سعید کی رہائش گاہ پر تشریف لائے ۔ مولانا فضل الرحمن ہزاروں عوام کے جلوس کے جلو میں سرکٹ ہاؤس پہنچے راستے میں چوک گھنٹہ گھر سکھر پر خطاب بھی کیا۔ بعد نماز عشاء حاجی فرزند علی مرحوم کے صاحبزادے شیخ محمد سعید کی طرف سے مرکزی قائدین کے اعزاز میں عشائیہ کا اہتمام کیا گیا۔ جس میں تمام مرکزی قائدین نے عشائیہ میں شرکت کی اور پریس کانفرنس بھی کی۔ بعد نماز مغرب کانفرنس کا آغاز ہوا۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی مبلغین حضرات اور مقامی علماء کرام کا روح پرور خطاب جاری رہا۔ تقریباً دس بجے رات جب خواجہ خان محمد صاحب کی قیادت میں مرکزی قائدین اسٹیڈیم کی حدود میں داخل ہوئے تو اسٹیج سیکرٹری کے فرائض شاہین ختم نبوت حضرت مولانا اللہ وسایا صاحب اور جمعیت علماء اسلام سندھ کے سیکرٹری جنرل ڈاکٹر علامہ خالد محمود سومرو نے انجام دیئے۔ جمعیت علماء اہل حدیث کے امیر مولانا معین الدین نے کہا کہ ہر کلمہ گو چاہے وہ کسی طبقے سے تعلق رکھتا ہو ختم نبوت کی خاطر تمام تر فروعی اختلاف پس پشت ڈال کر میدان عمل میں نکل پڑتا ہے اور آخری دم تک تن من دھن کی قربانی دیتا ہے۔ جمعیت اہل حدیث کے ناظم اعلی مولانا ضیاء اللہ شاہ بخاری نے اپنے خطاب سے مجمع کے اندر ایک نئی روح پھونک دی۔ انہوں نے اپنے خطیبانہ انداز میں کہا کہ آج وقت کا اہم تقاضا ہے کہ ہم سب ختم نبوت کے دشمنوں کے لئے انگلیاں نہیں مکا بن جائیں ذرے نہیں چٹان بن جائیں۔ فتنوں کے سامنے سیسہ پلائی دیوار بن جائیں۔ سکھر کی معروف شخصیت مفتی محمد حسین قادری کا پیغام اتحاد مجلس عمل کے نائب صدر علامہ علی غضنفر کراروی کا خطاب ہوا۔ انہوں نے کہا کہ آج کے دن ہم عہد کریں کہ دینی معاملات کو افہام وتفہیم سے طے کریں گے ۔ وہ مسئلہ چاہے ناموس رسالت کا ہو یا ناموس صحابہ یا ناموس اہل بیت کا ہو ہمیں ہر سطح پر اتحاد کا مظاہرہ کرنا چاہئے ان کے بعد علامہ شاہ احمد نورانی صاحب نے خطاب میں بھٹو دور کے حوالے سے کہا کہ اس دور میں مولانا محمد یوسف بنوری کی قیادت نے اسمبلی کے اندر اور باہر پوری قوم کو یکجا کیا۔ اتحاد کی برکت سے ۷ ستمبر ۱۹۷۴ء کو اللہ تعالیٰ کی مہربانی سے قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دلوایا گیا اور قانونی طور پر مسئلہ ہمیشہ کے لئے حل ہو گیا۔ کانفرنس سے مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ اسمبلی کے اندر جب بھی کسی مذہبی مسئلہ پر کوئی بات ہوئی تو ہم نے اسمبلی کے فورم پر حق کی آواز کو بلند کیا ہے ۔ مدارس کے بارے میں حکومت نے منفی اقدام کرنا چاہا تو ہم نے اس کا راستہ روکا، ناموس رسالت آرڈی نینس کا بھر پور انداز سے دفاع کیا ، اب عورت کے لئے سزائے موت کے مسئلہ پر بھی حکومت سے یہ بات منوالی کہ عورت کی سزائے عمر قید کو واپس لے کر سزائے موت کو برقرار رکھا جائے۔ اس کے علاوہ جب بھی اسمبلی کے اندر یا باہر خصوصاً ختم نبوت کے موضوع پر کوئی مسئلہ در پیش آیا ہم نے حق کی آواز بلند کی ہے ۔ تقریباً تین بجے حضرت خواجہ خان محمد صاحب نے دعا کرائی اور اس طرح یہ عظیم الشان کانفرنس سوا تین بجے اختتام پذیر ہوئی۔

صفحہ ۴۱۰

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۶ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

کانفرنس کے اختتام سے پہلے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت سکھر کے جنرل سیکرٹری مولانا قاری خلیل احمد خطیب مرکزی جامع مسجد سکھر نے قائدین اور عوام کا شکریہ ادا کیا۔ اس کانفرنس کے انتظامات اور تمام ذمہ داری مبلغ ختم نبوت سکھر مولانا بشیر احمد کے کاندھوں پر تھی۔ مولانا بشیر احمد اور آغا سید محمد امیر ختم نبوت سکھر و مولانا قاری خلیل احمد صاحب ، مولانا محمد رفیق خزانچی ختم نبوت سکھر کی دن رات محنت کا نتیجہ ہے کہ جولائی کی شدید گرمی میں اتنی عظیم الشان کانفرنس کو کامیابی سے ہمکنار کیا ۔ دیگر معاونین حضرات میں مشرف محمود قادری ، مفتی محمد عاف سعیدی ، مولوی عبداللہ ، اسد اللہ صاحب بھٹو ، ایڈوکیٹ محمد ظفر سعیدی ، حافظ محمد بلال نے خوب محنت کی ۔ اسٹیج کا نظام حرکت الانصار کے ساتھی حافظ عبید الرحمن اطہر و جمعیت علماء اسلام کے کارکنوں کے سپرد تھا۔

(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی مؤرخہ ۲ تا ۸؍ اگست ۱۹۹۶ء ص ۲۳، ۲۴)

میر پور آزاد کشمیر میں ختم نبوت کانفرنس

مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام جامعہ اسلامیہ سیکٹر ون بی میر پور میں عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی۔ جس کے مہمان خصوصی مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی تھے۔ جبکہ کانفرنس سے مولانا مفتی اویس خان ، جناب اورنگ زیب اعوان ، مولانا نذیر احمد فاروقی اسلام آباد اور عباس نقوی نے خطاب کیا۔ مفتی اویس خان نے سردار عبد القیوم خان وزیر اعظم آزاد کشمیر کی قادیانیوں کے بارے میں نرم پالیسی پر شدید تنقید کی اور پاکستان کی طرز پر آزاد کشمیر میں امتناع قادیانیت آرڈی نینس نافذ کرنے کا مطالبہ کیا۔

تحریک جعفریہ کے سید عباس نقوی کے نے میر پور ختم نبوت کانفرنس کے انعقاد کا خیر مقدم کرتے ہوئے تحریک جعفریہ کی طرف سے مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی ۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت اسلام آباد کے مبلغ جناب اورنگ زیب اعوان نے آزاد کشمیر میں قادیانیوں کی ارتدادی سرگرمیوں اور لاؤڈاسپیکر پر تقاریر پر شدید تنقید کی اور حکومت سے قادیانیوں کے خلاف اسلام خلاف آئینی سرگرمیوں پر پابندی کا مطالبہ کیا ۔ اسلام آباد کے خطیب مولانا محمد نذیر احمد فاروقی نے کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مسئلہ ختم نبوت کی حقیقت واضح کی اور عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ کے لئے اسلامیان پاکستان و آزاد کشمیر کی خدمات کو سراہا۔ نیز عقیدہ ختم نبوت کی حفاظت کے لئے مجلس کی خدمات کی تحسین کی ۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی مبلغ مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی نے مرز غلام احمد قادیانی کے دعویٰ نبوت ، انگریز کی چاپلوسی بلکہ جاسوسی ، قادیانیوں کی پاکستان اور عالم اسلام کے خلاف معاندانہ سرگرمیوں اور ان کے مقابلہ میں علماء کرام اور اسلامیان پاکستان کی تحریک ختم نبوت میں شاندار خدمات پر روشنی ڈالی ، پھر سے مرکزی مجلس عمل تحفظ ختم نبوت کے احیاء مطالبات پر سیر حاصل بحث کی ۔ اور آزاد کشمیر میں امتناع قادیانیت آرڈی نینس کی طرز کے قانون کے وعدے کے نفاذ کے ساتھ امیدواروں کی تائید کی ، اور کانفرنس کے داعی حضرت مولانا مفتی محمد یونس کو خراج تحسین پیش کیا ۔ کانفرنس مغرب سے شروع ہو کر ساڑھے نو بجے رات کو اختتام پذیر ہوئی ۔ کانفرنس میں میر پور کے علماء کرام اور عوام نے دینی جوش و جذبہ سے شرکت کی۔

(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی مؤرخہ ۲ تا ۸؍ اگست ۱۹۹۶ء ص ۲۴، ۲۵)

ختم نبوت کانفرنس ٹنڈو آدم

گزشتہ دنوں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ٹنڈو آدم کے زیر اہتمام جوہر آباد میں عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی۔ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے جنرل سیکرٹری حضرت مولانا عزیز الرحمن جالندھری نے کہا کہ سلسلہ نبوت و رسالت ہمارے نبی کریم محمد عربی ﷺ کی ذات اقدس پر ختم ہو چکا ہے ۔ آپ ﷺ اللہ تعالیٰ کے آخری پیغمبر ہیں ۔ آپ کے بعد قیامت تک کسی انسان کو عہدہ نبوت سے سرفراز نہیں کیا جائے گا۔

صفحہ ۴۱۱

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۶ء

ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

انہوں نے کہا کہ مرزا قادیانی نے ہندوستان میں انگریز کے اشارہ سے نبوت و رسالت کا دعویٰ کر کے اہل اسلام کے مذہبی جذبات کا امتحان لیا۔ انہوں نے کہا کہ قادیانیت کا اسلام سے دور کا بھی واسطہ نہیں ہے۔ فتنہ قادیانیت کو انگریز نے اپنے سیاسی مقاصد کی خاطر جنم دیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ ایمانی غیرت کا تقاضا ہے کہ ہر مسلمان مذہبی بیداری کا ثبوت دیتے ہوئے قادیانیوں کا مکمل بائیکاٹ کرے۔

مولانا ڈاکٹر خالد محمود سومرو نے کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ قادیانی ایک گہری سازش کے تحت صوبہ سندھ کے جنوبی علاقوں میں سرعام اسلام دشمن سرگرمیوں میں مصروف ہیں۔ جس سے پھر آئے دن مسلمانوں کے مذہبی جذبات مشتعل ہوتے رہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کا فریضہ ہے کہ وہ قادیانی اقلیت کو لگام دے کر قانون کا پابند بنائے۔ بصورت دیگر صوبہ سندھ میں مسلمانوں کا ردعمل قادیانیت کے تابوت میں آخری کیل ثابت ہوگا۔

عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی رہنما علامہ احمد میاں حمادی نے کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت تمام اسلام دشمن طاقتوں کی پشت پناہی قادیانیت کو حاصل ہے۔ آج قادیانی ایک گہری سازش کے تحت قرآن مجید کی بے حرمتی اور توہین رسالت جیسے واقعات کروا کر ملکی حالات کو اپنے غیر ملکی آقاؤں کے اشارہ پر خراب کرنے کی بھر پور کوشش میں مصروف ہیں۔

مولانا مفتی حفیظ الرحمن نے کہا کہ آنحضرت ﷺ کے بعد نبوت کا مدعی دجال وکذاب ہے اس کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں ہے بلکہ وہ اسلامی قانون کے مطابق واجب القتل ہے۔

کانفرنس سے مولانا عبدالقدیر لنڈ نے تقریر کرتے ہوئے کہا کہ تحفظ ناموس رسالت کا عظیم مشن جو امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاری نے شروع کیا تھا۔ تا قیامت جاری رہے گا۔ مولانا ابو طلحہ راشد مدنی نے کہا کہ حکمرانوں نے گستاخان رسول کے مقدمات کو ختم کر کے گستاخان رسول کی حوصلہ افزائی کی ہے اور یہ خود ایک بہت بڑا سنگین جرم ہے۔ کانفرنس سے حافظ حسین احمد مدنی پنوں عاقل ، حافظ محمد رفیق سانگھڑ ، حافظ منظور احمد اور جناب محمد اعظم اور دیگر علماء کرام نے خطاب کیا اسٹیج سیکرٹری کے فرائض مولانا راشد مدنی نے انجام دیئے۔

(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی مؤرخہ ۹ تا ۱۵؍اگست ۱۹۹۶ء ص ۶)

ختم نبوت کانفرنس حیدر آباد

گزشتہ دنوں جامع مسجد زم زم جنرل بس اسٹینڈ حالی روڈ حیدر آباد میں ایک روزہ عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی۔ جس سے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی مبلغ مولانا نذیر احمد تونسوی ، خطیب سندھ مولانا محمد رمضان میمن ، مجلس تحفظ حقوق اہل سنت کے رہنما مولانا جمیل الرحمن نقشبندی ، جمعیت علماء اسلام کے رہنما مولانا قاری محمد طاہر ، مولانا محمد صالح خلیق ، مولانا قاری محمد احمد اور مولانا محمد شفیق ہزاروی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عقیدہ ختم نبوت دین اسلام کی بنیاد اور ایمان کی روح ہے اور پورے دین اسلام کی عمارت اس عقیدہ کی بنیاد پر قائم ہے اور ملت اسلامیہ کی وحدت کا راز بھی اس عقیدہ میں پنہاں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ختم نبوت کے صریح اعلان اور ملت اسلامیہ کے متواتر اقدامات کے بعد یہ ممکن ہی نہیں کہ کوئی شخص جو دماغی طور پر معذور نہ ہو سنجیدگی کے ساتھ دعویٰ نبوت بھی کر سکتا ہے۔ اس لئے مسیلمہ کذاب سے لے کر مسیلمہ پنجاب مرزا قادیانی تک ہر مدعی نبوت کے دعویٰ کا کوئی سیاسی یا معاشی سراغ ضرور ملے گا۔

(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی ، مؤرخہ ۳۰؍اگست تا ۵؍ستمبر ۱۹۹۶ء ص ۲۴)

صفحہ ۴۱۴

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۶ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

مبلغین ختم نبوت کا دورہ بلوچستان

امسال بھی بلوچستان میں گزشتہ سال کی ۱۸؍ صفر سے ۲۵؍ صفر ۱۴۱۷ھ، بمطابق ۵؍ جولائی تا ۱۲؍ جولائی ۱۹۹۶ء تبلیغی کورس مرتب کئے گئے۔ جو دکی، لورالائی، ژوب، کوئٹہ، چمن، پشین، مستونگ میں قرار دیئے گئے۔ کورس کرانے کی خاطر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت سندھ کے مبلغ مولانا جمال اللہ الحسینی، مولانا حفیظ الرحمن رحمانی، بلوچستان کے مبلغ مولانا محمد علی صدیقی شامل تھے۔ اس کورس کی سرپرستی بلوچستان ختم نبوت کے امیر مولانا منیر الدین، ممبر شوریٰ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت نے کی۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کا تین افراد کا وفد ۶؍ جولائی کو دکی روانہ ہوا، جہاں مولانا محمد علی خطیب مسجد مرکزی دفتر مدرسہ مدینۃ العلم اور قاری دوست محمد، ڈاکٹر محمد اعجاز نے وفد کا خیر مقدم کیا اور بعد نماز عصر مرکزی مسجد میں عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس ہوئی۔ جس سے خطاب کرتے ہوئے مولانا جمال اللہ الحسینی نے فرمایا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام زندہ آسمانوں پر موجود ہیں اور قیامت سے قبل اس دنیا میں تشریف لائیں گے اور دجال کو قتل کریں گے۔ شادی کریں گے اور روضہ رسول ﷺ پر حاضری دیں گے اور اس دنیا سے انتقال فرمائیں گے تو روضہ رسول اللہ میں دفن ہوں گے۔ مولانا حفیظ الرحمن صاحب نے خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ مسئلہ ختم نبوت بہت ہی اہمیت کا حامل مسئلہ ہے اور نبی کریم ﷺ پر نبوت کا سلسلہ ختم ہوچکا ہے۔ اس لئے کہ آپ پوری دنیا کے لئے نبی رحمت قیامت تک کے لئے بن کر آئے ہیں۔

مولانا محمد علی صدیقی مبلغ بلوچستان نے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ قادیانی نے مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی ناپاک جسارت کی ہے اور عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت مسلمانوں کو قادیانیت کے جال سے بچانے میں مصروف عمل ہے۔ مولانا محمد دین صاحب، قاری دوست محمد، ڈاکٹر اعجاز صاحب کا خصوصی طور پر شکریہ ادا کیا اور پروگرام مولانا دین محمد صاحب کی دعا پر اختتام پذیر ہوا اور مجلس کے وفد نے رات کا قیام دکی میں کیا۔

صبح ۷؍ جولائی کو لورالائی کی طرف عازم سفر ہوا اور لورالائی میں وفد کا استقبال عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے حاجی محمد شفیع، محمد اشرف، مولانا ممتاز صاحب، مولانا آغا محمد، محب اللہ، مولانا نیاز الرحمن حیدری نے کیا۔ نماز عصر جامع مسجد مرکزی میں مولانا ممتاز صاحب کی صدارت میں ایک عظیم الشان کانفرنس ہوئی جس سے خطاب کرتے ہوئے مولانا حفیظ الرحمن رحمانی صاحب نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے نبی کریم ﷺ کی ذات گرامی اقدس کو خاتم الانبیاء ہونے کا لقب دیا ہے اور آپ ﷺ کی ختم نبوت کی گواہی قرآن مجید سے احادیث مبارکہ سے ثابت ہے اور اس بات کا عقیدہ رکھنا کہ آپ ﷺ آخری نبی ہیں اور اب آپ ﷺ کے بعد کسی نئے نبی کی ضرورت نہیں۔ عین ایمان ہے اور امت مسلمہ کا اجماعی عقیدہ ہے۔ مولانا جمال اللہ الحسینی نے خطاب کیا۔

مولانا محمد علی صدیقی نے خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت تمام مسلمانوں کی محبوب جماعت ہے اور یہ جماعت پوری دنیا میں قادیانیت کے خلاف ان کا تعاقب کر رہی ہے۔ جہاں بھی قادیانی کسی کو گمراہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں تو عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مبلغین وہاں پہنچ کر قادیانیت کا سدباب کرتے ہیں۔

۸؍ جولائی کو عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کا یہ وفد شام چھ بجے ژوب پہنچا۔ جہاں ژوب مجلس تحفظ ختم نبوت کے ناظم اعلیٰ حاجی محمد اکبر، مولانا اللہ داد اور دیگر احباب نے وفد کا خیر مقدم کیا۔ سب سے پہلا پروگرام گورنمنٹ ڈگری کالج ژوب میں ہوا، جس کی صدارت پروفیسر سعد اللہ خان نے کی۔ مولانا جمال اللہ الحسینی صاحب نے خطاب کرتے ہوئے مرزا غلام احمد قادیانی کی دو پیشین گوئیوں کا تذکرہ کرتے

صفحہ ۴۱۳

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۶ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

ہوئے کہا کہ مرزا غلام احمد قادیانی نے کہا کہ مکہ اور مدینہ کے درمیان ریل چلے گی۔ قادیانیوں سے پوچھ لو، کیا ریل مکہ اور مدینہ کے درمیان چلی ہے؟ اور دوسرا مرزا قادیانی نے محمدی بیگم کے بارے میں کہا کہ میرا اس سے اللہ تعالیٰ نے آسمانوں پر نکاح کر دیا ہے۔ لیکن مرزا قادیانی مر گیا، محمدی بیگم اس کو نہ مل سکی۔ لہٰذا مرزا قادیانی کی دونوں باتیں جھوٹی اور جس کی باتیں جھوٹی ہوتی ہیں وہ شخص قابل اعتبار نہیں ہوتا چہ جائے کہ اس کو نبی بنایا جائے یا مانا جائے۔ مولانا حفیظ الرحمٰن صاحب نے خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ اسلام بہت ہی اعلیٰ اور آسان ترین مذہب ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انبیاء کرام علیہم السلام کو دنیا میں بھیج کر جہاں اپنی بندگی کا حکم دیا وہاں نبی کریم ﷺ کی عالمگیر نبوت کا اعلان بھی کرایا مولانا نے طلباء کرام سے کہا کہ آپ سوچتے ہوں گے کہ ہمارے ژوب کے علاقہ میں قادیانی نہیں ہیں تو آپ ہمیں قادیانیت کے بارے میں کیوں بتا رہے رہے ہیں۔ اس کے جواب میں فرمایا کہ آپ قوم کے معمار ہیں آپ نے کل مکران ملازمت کے لئے دوسرے علاقوں میں جانا ہے اگر آپ کو ان سے واسطہ پڑا تو آپ کو ان کا مقابلہ کرنا آسان ہو جائے گا کالج کا پروگرام کوئی ڈیڑھ گھنٹہ جاری رہا اور آخر میں علماء کرام کے مختلف سوالات کے جوابات مولانا حفیظ الرحمٰن نے دیئے۔

۹؍ جولائی بعد نماز عصر مرکزی جامع مسجد ختم نبوت ژوب کا پروگرام تھا۔ جس کی صدارت مولانا اللہ داد خطیب مسجد نے کی۔ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مولانا جمال اللہ حسینی نے نبی کریم کی سیرت پر روشنی ڈالی اور فرمایا کہ نبوت کا دامن پاک صاف ہوتا ہے اور مرزا غلام احمد قادیانی نے نبوت کا دعویٰ کیا اس کی تاریخ کا مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ ایک شریف انسان بھی نہیں تھا۔ ہمیں قادیانیوں پر حیرت ہے کہ وہ کیسے اس کو اپنا سربراہ مانتے ہیں۔ مولانا حفیظ الرحمٰن نے خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ اسلام ایک سلامتی والا مذہب ہے جس کو قبول کرنے والا امن میں ہو جاتا ہے قادیانیوں سے لین دین کا جھگڑا نہیں، بلکہ ہمارا ان سے عقیدہ ختم نبوت کا اختلاف ہے۔ تمام قادیانی نبی کریم ﷺ کے دامن سے وابستہ ہو جائیں۔ ہمارے بھائی ہیں۔ مولانا نے مسئلہ ختم نبوت پر تفصیلی روشنی ڈالی عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت بلوچستان کے مبلغ مولانا محمد علی صدیقی نے خطاب میں فرمایا کہ قادیانیوں سے ہمارا بنیادی جن تین مسائل پر اختلاف ہے۔ وہ مسائل قرآن وحدیث اور اجماع سے ثابت ہیں۔ جس کا انکار کفر ہے اور قادیانی ان کا انکار کرتے ہیں۔

رات کو بعد نماز عشا مسجد بلال میں مولانا حفیظ الرحمٰن صاحب رحمانی نے درس دیا۔

۲۳؍ صفر کو دس بجے مدرسہ بنات مولانا ضیاء الدین کے مدرسہ میں مولانا جمال اللہ حسینی، مولانا حفیظ الرحمٰن رحمانی مولانا محمد علی صدیقی کا مسئلہ ختم نبوت پر بیان ہوا۔

جمعرات ۱۱؍ جولائی کو وفد واپس کوئٹہ آیا۔

۱۲؍ جولائی کے جمعۃ المبارک مولانا جمال اللہ حسینی نے چمن میں اور مولانا حفیظ الرحمٰن رحمانی نے پشین میں اور مولانا محمد علی صدیقی نے مرکزی جامع مسجد مستونگ میں پڑھایا۔

(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی، مورخہ ۳۰؍ اگست تا ۵؍ ستمبر ۱۹۹۶ء ص ۲۵، ۲۶)

جامع مسجد توحید آفن باخ جرمنی میں دوسری ختم نبوت کانفرنس

جرمنی یورپ کا ترقی یافتہ اور صاف ستھرا شہر ہے جو ہٹلر کی وجہ سے دنیا بھر میں مشہور ہے۔ گزشتہ کئی سال سے قادیانیوں نے مغربی جرمنی کو اپنا مرکز بنایا ہوا ہے اور بے شمار قادیانی مظلومیت کا رونا رو کر سیاسی پناہ حاصل کر چکے ہیں اور اب جرمنی میں قادیانیت کی تبلیغ کر رہے ہیں۔ دو سال قبل عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت نے محسوس کیا کہ جرمنی میں قادیانی مسلمانوں کو گمراہ کرنے کے لئے مختلف ہتھکنڈے اختیار کر رہے

صفحہ ۴۱۴

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۶ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

ہیں تو مولانا منظور احمد الحسینی اور دیگر علماء کرام نے جرمنی کی جامع مسجد توحید آفن باخ کے خطیب و امام سے رابطہ کیا اور ان کے سامنے قادیانیت کا مسئلہ رکھا۔ مولانا مشتاق الرحمن نے بتایا کہ وہ تو خود اس سلسلے میں کئی دفعہ رابطہ ہم سے کر چکے ہیں لیکن کوئی پروگرام تشکیل نہ پا سکا۔ بہر حال عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے تعاون سے جرمنی کے مسلمان قادیانیوں کے خلاف ہرقسم کا کام کرنے کے لئے تیار ہیں کیونکہ عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ کے لئے کام کرنا ہر مسلمان کا مذہبی فریضہ ہے۔

اس طرح جرمنی میں عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ کے کام کی ذمہ داری مولانا مشتاق الرحمن صاحب نے اپنے ذمہ لی۔ اور اس طرح جامع مسجد توحید عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کا مرکز بنا اور مولانا مشتاق الرحمن صاحب عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے نمائندے، مولانا مشتاق الرحمن جامعۃ العلوم الاسلامیہ بنوری ٹاؤن کے استاذ حدیث حضرت مولانا بدیع الزمان صاحب کے بھتیجے اور داماد ہیں، جامعہ بنوری ٹاؤن کے فضلاء میں سے ہیں۔ حضرت اقدس مولانا محمد یوسف بنوری کے شاگرد اور جانشین حضرت بنوری مولانا مفتی احمد الرحمن کے تربیت یافتہ ہیں۔ گزشتہ سال پاکستان تشریف لائے تو حضرت اقدس مولانا محمد یوسف لدھیانوی صاحب دامت برکاتہم سے تفصیلی بات چیت کے بعد جرمنی میں قادیانیوں کی سرگرمیوں کو روکنے کے لئے طریقہ کار طے کیا۔

اس کی روشنی میں گزشتہ سال پہلی ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی جس میں جرمنی کے مختلف حصوں سے مسلمان شریک ہوئے اور پاکستان اور انگلینڈ کے علماء کرام نے خطاب کیا اور مسلمانوں کو قادیانیوں کے دجل وفریب سے آگاہ کرتے ہوئے اس سے بچنے کا طریقہ بتایا۔ الحمد للہ! اس کے اچھے اثرات مرتب ہوئے اور مسلمانان جرمنی میں بیداری پیدا ہوئی۔ چنانچہ فیصلہ ہوا کہ اس طرح کی کانفرنسیں ہر سال منعقد کی جائیں۔

۱۹۹۶ء میں اس کانفرنس کے لئے ۱۸/ جولائی کی تاریخ طے کی گئی اور پاکستان سے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی مبلغ مولانا اللہ وسایا سرگودھا کے مبلغ اور مشہور خطیب مولانا محمد اکرم طوفانی، جامع مسجد ابو بکر لندن کے خطیب اور مجلس تحفظ ختم نبوت کے مبلغ مولانا منظور احمد الحسینی، مرکز دعوت والارشاد چنیوٹ کے سربراہ مولانا منظور احمد چنیوٹی کو مدعو کیا گیا تھا۔

مولانا اللہ وسایا بر وقت ویزہ نہ ملنے کی وجہ سے پہنچ نہ سکے بقیہ علماء کرام کانفرنس کے موقع پر پہنچ گئے۔ مولانا مشتاق الرحمن اور آفن باخ کے دیگر مسلمانوں نے ان علماء کرام کا پر تپاک خیر مقدم کیا۔

۱۸/ جولائی بروز جمعرات جامع مسجد توحید آفن باخ میں کانفرنس کا آغاز تلاوت قرآن پاک سے ہوا۔ بعد ازاں اسٹیج سیکرٹری جناب راشد محمود غوری صاحب نے کانفرنس کے میزبان اور چیف آرگنائزر مولانا قاری مشتاق الرحمن کو دعوت خطاب دی۔ مولانا قاری مشتاق الرحمن نے سب سے پہلے علماء کرام کا شکریہ ادا کیا کہ یہ حضرات تشریف لائے اور جرمنی کے مسلمانوں کی دعوت قبول کی اس کے بعد کانفرنس کے مقاصد بیان کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ انگلینڈ کے بعد جرمنی ایسا ملک ہے جس میں قادیانیوں کے لئے بہت کشش ہے۔

قادیانیوں نے ۱۹۷۴ء میں غیر مسلم اقلیت قرار پانے کے بعد جرمنی کی طرف رخ کیا اور مظلومیت کا رونا رو کر سیاسی پناہ اور جرمنی کی شہریت حاصل کی چونکہ قادیانیت کی وجہ سے شہریت آسانی سے ملنے لگی تو قادیانیوں نے مسلمانوں کو ویزے کا لالچ دے کر قادیانی بنانے کی کوشش کی اور اس کے علاوہ جرمنی کے مختلف شہروں اور علاقوں میں قادیانی مبلغین سادہ لوح مسلمانوں کو گمراہ کرنے کے لئے مسلسل کوشاں ہیں۔ اس کانفرنس کا مقصد مسلمانوں کو عقیدہ ختم نبوت کے بارے میں آگاہ کرنا ہے کہ یہ اسلام کا سب سے بنیادی عقیدہ ہے اور امت کو جو شرف اور مرتبہ عطا ہوا ہے وہ خاتم الانبیاء ﷺ کی امت کی حیثیت سے حاصل ہوا ہے اگر مرزا غلام احمد قادیانی کے بقول یہ تسلیم کر لیا جائے کہ

صفحہ ۴۱۵

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۶ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

آپ کے بعد کوئی نبی آسکتا ہے (العیاذ باللہ) تو پھر حضور ﷺ کی امت کہاں باقی رہ گئی اور پھر اس کو یہ فضیلتیں کیسے ملیں گی اس لئے مسلمانوں کو چاہئے کہ وہ حضور ﷺ سے اپنا تعلق اور رشتہ مضبوط کریں اور قادیانیت کے فریب اور دھوکہ کو سمجھیں یہی اس کانفرنس کا مقصد ہے۔

مسلمانوں کو چاہئے کہ وہ اپنے گرد نگاہ رکھیں اور جہاں دیکھیں کہ قادیانی مسلمانوں کو تبلیغ کر رہے ہیں فوراً اس کا سد باب کریں اور نوجوان مسلمانوں کو اس سے دور رکھیں، انہوں نے کہا کہ کانفرنس میں آفن باخ فرینکفرٹ، برلن، اسٹوٹ گارڈن، ھائل، برارن اور دیگر شہروں سے کثیر تعداد میں مسلمانوں کی شرکت اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ عقیدہ ختم نبوت کے ساتھ گہری دلچسپی اور وابستگی رکھتے ہیں اور جھوٹے مدعی نبوت مرزا غلام احمد قادیانی سے نفرت کا اظہار کرتے ہیں۔ اور مسلمان انشاء اللہ اپنے اپنے علاقے میں قادیانیت کی سرگرمیوں کے سدباب کے لئے محنت کریں گے تاکہ قیامت کے دن نبی اکرم ﷺ کی شفاعت نصیب ہو۔

مولانا مشتاق الرحمٰن صاحب کے بعد مولانا منظور احمد حسینی کو خطاب کی دعوت دی گئی۔ مولانا منظور احمد حسینی نے قادیانیت کی ابتداء سے لے کر آج تک کا تاریخی جائزہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ مرزا غلام احمد قادیانی نے جھوٹا دعویٰ نبوت کرلیا، امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاری نے محدث العصر انور شاہ کشمیری کے حکم پر جس جہاد کا آغاز کیا تھا، حضرت کشمیری کے جانشین عاشق رسول علامہ سید محمد یوسف بنوری کی قیادت میں وہ کامیابی سے ہمکنار ہوا اور قومی اسمبلی نے قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دے دیا۔ صرف پاکستان ہی نہیں عالم اسلام کے تمام علماء کرام نے متفقہ طور پر مرزا غلام احمد قادیانی اور اس کی ذریت اور پیروکاروں کے کفر کے فتویٰ کی تصدیق کی اس کے بعد قادیانیوں کے پاس ایک ہی رستہ ہے کہ وہ توبہ کرکے دائرہ اسلام میں داخل ہوجائیں یا اسلام کا دعویٰ چھوڑ کر قادیانیت کے نام پر تبلیغ کریں۔ دنیا کے ایک ارب سے زیادہ مسلمانوں نے عقیدہ ختم نبوت پر ایمان کا اعلان کرکے مرزا غلام احمد قادیانی سے نفرت کا اظہار کیا ہے۔ مسلمانوں کو چاہئے کہ وہ فتنہ قادیانیت پر گہری نگاہ رکھیں۔

مولانا منظور احمد چنیوٹی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مرزا غلام احمد قادیانی نے نبوت کا دعویٰ کرکے مسیلمہ کذاب کے جانشین کا کردار ادا کیا۔ وہ قرآن مجید کی صریح آیات اور احادیث متواترہ کی رو سے کافر ہے اور اس کے ماننے والے دائرہ اسلام سے خارج اور مرتد ہیں۔ انہوں نے کتابوں کے حوالے سے بتایا کہ مرزا غلام احمد قادیانی نے تمام انبیاء کرام اور نبی اکرم ﷺ کی شان میں توہین کی ۔ دنیا میں ایک ارب سے زائد مسلمانوں کے بارے میں کہا کہ وہ کافر اور کنجریوں کی اولاد ہیں۔ ایک جگہ وہ لکھتا ہے کہ میری دعوت جس کو پہنچی، اس نے اگر میری بیعت نہیں کی وہ کافر ہے اور دائرہ اسلام سے خارج ہے۔ بتائیے ! جب مرزا غلام احمد قادیانی نے نبی اکرم ﷺ کے ماننے والوں کو کافر قرار دے دیا تو اب مسلمان کس طرح ان کو مسلمان تسلیم کرسکتے ہیں۔

مولانا محمد اکرم طوفانی نے خطاب میں کہا کہ ہم حضور ﷺ کے وفادار اور جان نثار غلام ہیں۔ ان کی دعا پر کانفرنس کا اختتام ہوا۔

(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی مؤرخہ ۱۶ تا ۲۲ / اگست ۱۹۹۶ء ص ۲۵، ۲۶)

گیارھویں سالانہ عالمی ختم نبوت کانفرنس برمنگھم (برطانیہ)

عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت انگلینڈ کے تحت ۱۱ / اگست ۱۹۹۶ء بروز اتوار جامع مسجد (سینٹرل) برمنگھم میں گیارھویں سالانہ عالمی ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی۔ یہ کانفرنس اس سلسلے کی کڑی ہے جس کا آغاز ۱۹۸۵ء میں ویمبلے ہال لندن میں اس وقت کیا گیا۔ جب قادیانی جماعت کے موجودہ سربراہ مرزا طاہر امتناع قادیانیت آرڈیننس کے نفاذ کے بعد پاکستان سے بھاگ کر لندن میں آباد ہوا اور قادیانی

صفحہ ۴۱۶

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۶ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

جماعت نے ربوہ کے بجائے لندن کے قریب اپنا مرکز قائم کر لیا اور ربوہ میں سالانہ اجتماع پر پابندی کے بعد لندن میں اپنے اجتماع آغاز کیا۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے رہنما مولانا خواجہ خان محمد صاحب کے حکم پر امام اہل سنت مولانا مفتی احمد الرحمٰن تحفہ قادیانیت کے مؤلف مولانا محمد یوسف لدھیانوی نے انگلینڈ کا دورہ کر کے لندن میں ختم نبوت سینٹر قائم کرنے کا فیصلہ کیا اور علماء یورپ کے مشورے اور جمعیت علماء برطانیہ کے تعاون سے ویمبلے ہال لندن میں پہلی بار عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کانفرنس منعقد کی گئی۔ اس کانفرنس میں یورپ، انڈیا، پاکستان، بنگلہ دیش کے جید علماء کرام نے خطاب کیا۔ اس کانفرنس کے نتائج کے پیش نظر اسے سالانہ کانفرنس کا عنوان دیا گیا۔

اسی طرح ۱۹۹۶ء میں گیارھویں تحفظ ختم نبوت کانفرنس منعقد کی گئی۔ حسب سابق اس کانفرنس کی تیاری کے لئے انگلینڈ کے تمام شہروں میں جمعیت علماء برطانیہ، دارالعلوم بری، جامعہ اسلامیہ نوٹنگم ۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت بلجیم اور جرمنی کے تعاون سے گلاسکو، ایڈنبرا، شیفیلڈ، بری، بولٹن، لیسٹر، بریڈفورڈ، والسال، مانچسٹر، برمنگھم، بری، نوٹنگم، لندن، آکسفورڈ اور دیگر شہروں میں ختم نبوت سیمینار، توحید وسنت کانفرنس وغیرہ کا انعقاد کیا گیا اور تقریباً تین سو پروگراموں سے مولانا اللہ وسایا، مولانا محمد اکرم طوفانی، مولانا مفتی محمد اسلم، مولانا عبیدالرحمٰن، مولانا عبدالرشید ربانی، حاجی عبدالرحمٰن یعقوب باوا، مولانا منظور احمد الحسینی، مولانا محمد سلیم، مولانا محمد ابراہیم سیالکوٹی وغیرہ نے خطاب کیا۔ کانفرنس سے قبل مولانا خواجہ خان محمد، مولانا محمد یوسف لدھیانوی، مولانا سید عبدالمجید ندیم شاہ، قاری محمد طیب نقشبندی، جمعیت علماء ہند کے امیر جانشین شیخ الاسلام مولانا محمد اسعد مدنی، قاری عمر خطاب، نواب کنور محمد سلیم، مولانا خلیل احمد بندھانی، مولانا سعید احمد جلالپوری، مفتی محمد جمیل خان وغیرہ حضرات انگلینڈ پہنچے۔ تو جمعیت علماء برطانیہ اور عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت یورپ کے رہنماؤں نے پرجوش خیرمقدم کیا۔ ان علماء کرام نے کانفرنس سے قبل بعض بڑے اجتماعات سے بھی خطاب کیا۔

کانفرنس کا آغاز صبح دس بجے ہوا تو انگلینڈ کے تمام بڑے شہروں سے کوچوں، ویگنوں اور گاڑیوں کے ذریعہ جوق در جوق جانثاران ختم نبوت پہنچنے شروع ہو گئے تھے۔ کانفرنس کی مناسبت سے جنگ لندن نے ایک خصوصی صفحہ شائع کیا۔

مولانا خواجہ خان محمد کی صدارت میں قاری محمد ہارون اور قاری صولت نواز کی خوش الحان آواز اور مسحور کن تلاوت سے جب کانفرنس شروع ہوئی تو فضاء پر ایک عجیب روحانی کیفیت طاری ہو گئی اور تلاوت کے بعد محمد شعیب نے نبی آخر الزمان ﷺ کی شان میں ہدیہ نعت پیش کیا۔ اس کے بعد لندن دفتر کے انچارج حاجی عبدالرحمٰن یعقوب باوا اور ناظم تبلیغ مولانا منظور احمد الحسینی نے کانفرنس کے اغراض ومقاصد عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کا تاریخی جائزہ اور ۱۹۸۵ء سے اب تک یورپ میں مجلس کے کام سے متعلق تفصیلات بیان کیں۔

اس کے بعد مذہبی اسکالر تحفہ قادیانیت کے مؤلف اور جنگ میں ”آپ کے مسائل اور ان کا حل“ کے کالم نگار مولانا محمد یوسف لدھیانوی کو خطاب کی دعوت دی گئی۔ مولانا محمد یوسف لدھیانوی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ نبی کریم ﷺ آخری نبی ہیں آپ کے بعد نبوت ورسالت کا سلسلہ منقطع کر دیا گیا۔

مسیلمہ کذاب سے لے کر مرزا غلام احمد قادیانی تک جس نے بھی نبوت، رسالت ومسیح موعود، امام مہدی، عیسیٰ ابن مریم ہونے کا دعویٰ کیا۔ امت مسلمہ نے اس کو مسترد کر دیا اور امت کا اجتماعی طور پر کسی منکر نبوت کو مسترد کر دینا خلیفہ اول نے مسیلمہ کذاب کے خلاف جہاد کر کے ثابت کر دیا کہ جھوٹے نبی کے خلاف جہاد ضروری ہے اور امت مسلمہ کا یہی فرض ہے کہ جب بھی کوئی جھوٹا نبی، مہدی یا مسیح موعود پیدا ہو، اس کے خلاف جہاد کرے اور اس کو اپنے آپ سے الگ کر دے۔ مرزا غلام احمد قادیانی کے جھوٹے ہونے کی سب سے بڑی دلیل یہ ہے کہ ایک ارب بیس کروڑ مسلمانوں نے عقیدہ ختم نبوت پر غیر متزلزل یقین کر کے قادیانیت کی نفی کر دی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ رابطہ عالمی

صفحہ ۴۱۷

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۶ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

اسلامی کے تحت فقہی کونسل میں ۴۰ اسلامی ممالک کے علماء نے قادیانیت کے غیر مسلم ہونے کا فتویٰ صادر کیا۔ پھر پاکستان کی قومی اسمبلی نے مرزا ناصر اور لاہوری قادیانی جماعت کے سر براہ پر تفصیلی جرح کر کے اور تمام عقائد کی جانچ پڑتال کر کے قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا۔ ۱۹۸۴ء میں امتناع قادیانیت آرڈیننس جاری ہوا۔ پاکستان کی چھوٹی عدالت سے لے کر عدالت عالیہ اور عدالت عظمیٰ نے طویل عرصہ مقدمات کی سماعت کر کے فریقین کے دلائل کی روشنی میں قادیانیوں کے غیر مسلم اقلیت ہونے کے فیصلے پر مہر تصدیق ثبت کی اور قادیانیوں کو حکم دیا کہ وہ اپنے مذہب کے لئے الگ امتیازات قائم کریں اور اپنے آپ کو مسلمان نہ کہیں اور نہ کہلوائیں اور مسلمانوں کے شعائر استعمال نہ کریں۔

اب جب کہ پاکستان کی آئین ساز اسمبلی، تمام عدالتوں اور تمام مسلم ممالک نے قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دیا ہوا ہے تو انگلینڈ اور یورپ اور مغرب کو چاہئے کہ وہ قادیانیوں کے ساتھ غیر مسلم کمیونٹی کا معاملہ کریں اور قادیانیوں کو مسلمانوں کے حقوق نہ دیں بلکہ سکھوں، ہندوؤں اور دیگر مذاہب کے حقوق کی طرح قادیانیوں کے حقوق متعین کریں اور ان کو بلاوجہ سیاسی پناہ نہ دیں۔ کیونکہ یہ جھوٹ بول کر اپنے آپ کو مظلوم ظاہر کرتے ہیں۔ بڑے بڑے عہدوں پر فائز ہیں۔ تجارت کی مکمل آزادی ہے۔ البتہ ان کو صرف اتنا کہا جاتا ہے کہ یہ لوگوں کو اسلام کا نام لے کر دھوکہ نہ دیں۔

جمعیت علماء ہند کے مولانا محمد اسعد مدنی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ قادیانی گروہ سے ہمارا اختلاف صرف اور صرف یہ ہے کہ وہ مرزا غلام احمد قادیانی کو نبی اور رسول کہتے ہیں جب کہ مسلمانوں کا عقیدہ ہے کہ حضور ﷺ کے بعد نبوت و رسالت کا سلسلہ منقطع ہو گیا ہے۔ اگر قادیانی جماعت اپنے اس عقیدہ سے توبہ کرے اور نبی اکرم ﷺ کے عقیدہ ختم نبوت کے مطابق مرزا غلام احمد قادیانی کو مسترد کر دے اور دعوت اسلام قبول کر لے تو ہمارا ان سے کوئی اختلاف نہیں۔ ہم ان کو دعوت دیتے ہیں کہ وہ اسلام کے دامن رحمت میں آ جائیں تاکہ دنیا و آخرت میں نجات حاصل کریں اگر وہ اپنے اس عقیدہ سے باز نہ آئے اور مرزا غلام احمد کو نبی، مہدی، مسیح موعود، یا مجدد، تسلیم کرتے رہے تو مسلمان ان کو کسی صورت میں امت مسلمہ کی حیثیت سے قبول کرنے لئے تیار نہیں وہ اپنے مذہب کے لئے الگ تشخص قائم کریں۔

غازی نذیر احمد ایڈوکیٹ نے کہا کہ دنیا کی تمام عدالتوں نے مسلمانوں کے دلائل سننے اور مرزا غلام احمد قادیانی کے پیروکار وکیلوں کے دلائل کے بعد یہ فیصلہ دیا کہ قادیانی گروہ امت مسلمہ سے علیحدہ ہے۔ ان کے اپنے عقائد ہیں۔ اپنی رسومات ہیں۔ جو کسی طور پر مسلمانوں اور اسلامی تعلیمات سے میل نہیں کھاتیں ایسی صورت میں قادیانی جماعت کا مسلمان رہنے پر اصرار ہٹ دھرمی اور دھوکہ بازی ہے۔ اگر قادیانی اپنے آپ کو سچا سمجھتے ہیں تو پھر انہیں مسلمان کہنے اور مسلمان کہلوانے پر اصرار کیوں ہے دراصل وہ اسلام کا نام لے کر اور اپنے آپ کو مسلمانوں میں شامل کر کے نوجوان نسل کو گمراہ کرنے کے لئے حربے اختیار کرنا چاہتے ہیں۔ وہ عالم اسلام میں گھسنے کے لئے مسلمانوں کا نام استعمال کرتے ہیں۔ وہ مسلمانوں کے نام پر مغرب سے حقوق حاصل کرنا چاہتے ہیں۔

اب جب کہ افریقہ کی عدالت نے بھی واضح طور پر فیصلہ دے دیا کہ قادیانی گروہ مسلمانوں سے الگ ہے تو اب قادیانی جماعت کو نوشتہ دیوار پڑھ لینا چاہئے دراصل قادیانی جماعت کا مقصد مسلمانوں کو اشتعال دلانا ہے تاکہ مسلمان احتجاج کریں اور ہم مغرب کی دنیا میں اپنے کو مظلوم ظاہر کر کے سیاسی پناہ اور ناجائز مراعات حاصل کریں۔ مغرب کو چاہئے وہ قادیانی جماعت کی ان سیاسی چالوں کو سمجھے قادیانی جماعت کی لڑائی علماء سے نہیں۔ یہ فرقہ واریت نہیں ہے۔ ایک الگ مذہب کی بنیاد اور مسلمانوں کے خلاف ایک عظیم سازش ہے مغرب کو دوہرا معیار اختیار نہیں کرنا چاہئے۔ قادیانی جماعت کے سر براہ مرزا غلام احمد قادیانی نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی بھی توہین کی۔

صفحہ ۴۱۸

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۶ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

دوسری نشست کا آغاز قاری صولت نواز کی تلاوت سے ہوا۔ گلاسکو کے حاجی محمد صادق نے ہدیہ نعت پیش کیا اس کے بعد عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے رہنما مولانا اللہ وسایا نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ نبی اکرم ﷺ نے احادیث نبویہ میں مسیح موعود اور مہدی کے بارے میں پیشین گوئیاں اور نشانیاں بتائی ہیں ان میں ایک بھی مرزا غلام احمد پر ثابت نہیں ہوئی اس کے باوجود مرزا صاحب کی طرف سے اس قسم کے دعوے کفر نہیں تو اور کیا ہیں اور پھر مسیح موعود کے بعد ۱۹۰۱ء میں نبوت کا دعویٰ کر کے مرزا غلام احمد نے اپنے سابقہ کفر کو فوری طور پر واضح کر دیا۔

اس کے بعد علماء کرام کے پاس کوئی گنجائش نہیں تھی کہ وہ مرزا غلام احمد قادیانی اور ان کی جماعت کو ملت اسلامیہ سے خارج نہ کرتے۔ مرزا غلام احمد قادیانی اور اس کے ماننے والوں کو علماء کرام کافر نہیں کہہ رہے بلکہ مرزا نے ایسے عقائد اختیار کئے ہیں جس کی وجہ سے اس کے علاوہ اور کوئی چارہ نہیں کہ ان کو کافر کہا جائے۔ مسیلمہ کذاب سے جو جھوٹی نبوت کا سلسلہ شروع ہوا تھا مرزا غلام احمد قادیانی اسی سلسلے کی اس دور میں کڑی ہے جس طرح مسیلمہ کذاب کے خلاف جہاد فرض تھا اسی طرح قادیانی جماعت کے خلاف بھی جہاد ضروری ہے۔

مجلس تحفظ حقوق اہل سنت کے سربراہ مولانا سید عبدالمجید ندیم شاہ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عقیدہ ختم نبوت پہلا عقیدہ ہے جس پر امت نے پہلا اجماع کیا سیدنا حضرت ابو بکر صدیق ؓ نے تمام صحابہ کرام کو جمع کیا اور جھوٹے نبی مسیلمہ کذاب کا مسئلہ پیش کیا سب نے اتفاق کیا کہ اس کے خلاف جہاد کیا جائے۔ ۱۲ سو سے زائد صحابہ کرام نے جان کا نذرانہ پیش کیا اور بالآخر مسیلمہ کذاب بمع لشکر کے جہنم رسید ہوا اس وقت سے لے کر آج تک مسلمان متفقہ طور پر جھوٹے مدعیان نبوت کے خلاف جہاد میں مصروف عمل ہیں۔ قادیانیوں کے خلاف بھی مسلمانوں کی جدوجہد اس جہاد کے سلسلے کا ایک حصہ ہے۔ مسلمانوں کو چاہئے کہ مولانا خواجہ خان محمد، مولانا محمد یوسف لدھیانوی کی قیادت میں جہاد کو پوری دنیا میں پھیلائیں۔

کانفرنس سے جامع مسجد توحید جرمنی کے خطیب مولانا مشتاق الرحمٰن، عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت بلجیم کے صدر قاری عبدالحمید سواد اعظم اہل سنت کے قاری محمد طیب نقشبندی، مولانا محمد اکرم طوفانی، قاری عمر خطاب، جمعیت علماء برطانیہ کے مفتی محمد اسلم، مولانا عبیدالرحمٰن، قاری عبدالرشید ربانی، مفتی مقبول احمد، قاری خلیل احمد بندھانی اور دیگر علماء کرام نے خطاب کیا۔ کانفرنس میں پندرہ سے بیس ہزار افراد شریک ہوئے جس میں سینکڑوں علماء کرام شامل تھے۔

(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی مورخہ ۳۰؍اگست تا ۵؍ستمبر ۱۹۹۶ء ص ۲۱ تا ۲۴)

جامع مسجد باب الرحمت میں علماء کرام کا اجتماع

حضرت اقدس مولانا محمد یوسف لدھیانوی دامت برکاتہم بارہا اس طرف توجہ دلا چکے ہیں کہ قادیانی ملک اور بیرون ملک بہت سرگرمی کے ساتھ ملک دشمن سرگرمیوں میں مصروف عمل ہیں۔ لیکن بدقسمتی سے ہم کو جس انداز میں کام کرنا چاہئے تھا، اس کی طرف ہماری غفلت ہے۔ گزشتہ سال عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے آپ نے حکم دیا کہ ہر مسجد میں دفتر ختم نبوت قائم کیا جائے اور ہر مسجد میں تبلیغی نوجوانوں کی طرز پر نوجوانوں کی ایک جماعت تشکیل دی جائے اور ان کو عقیدہ ختم نبوت کے موضوع اور قادیانیت کے دجل وفریب سے مکمل واقف کرایا جائے اور پھر یہ نوجوان اپنے اپنے محلے میں قادیانیوں کو تبلیغ کریں اور ان کے نوجوانوں کو جھوٹے نبی کی پیروکاری اور جہنم کی آگ سے نکال کر حضور ﷺ کے دامن رحمت میں واپس لائیں۔ کراچی میں قادیانیوں کی سرگرمیوں کو دیکھتے ہوئے بارہا انہوں نے فرمایا کہ علماء کرام کا اجلاس بلا کر اس انداز میں ان کو ختم نبوت کے کام کی طرف متوجہ کیا جائے۔ آپ اکثر فرماتے کہ ہم نے قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دلوا کر اور امتناع قادیانیت آرڈی نینس جاری کروا کر اپنے آپ سے بوجھ اتار لیا ہے اور قادیانیوں کے

صفحہ ۴۱۹

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۶ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

لئے میدان کھلا چھوڑ دیا ہے۔ آئین اور قانون کے محافظوں کو صاحب اقتدار افراد کی خدمت سے فرصت نہیں کہ وہ قادیانیوں کی غیر قانونی سرگرمیوں کا نوٹس لیں۔ علماء کرام سمجھتے ہیں کہ ہم نے فرض ادا کر لیا ہے اس لئے قادیانیوں کے لئے میدان صاف ہے اور وہ مسلمان بن کر نوجوانوں کو گمراہی کے پھندے میں گھسیٹ لیتے ہیں۔

حضرت اقدس کے اس درد کو محسوس کرتے ہوئے، مولانا مفتی نظام الدین شامزئی، مولانا مفتی منیر احمد اخون، مولانا نذیر احمد تونسوی، محمد انور رانا، مولانا سعید احمد جلال پوری نے تجویز کیا کہ کراچی کے مقتدر علماء کرام کا ایک اجلاس طلب کیا جائے اور ان کے سامنے حضرت اقدس مولانا لدھیانوی صاحب تمام صورتحال رکھیں۔ اس فیصلے کی روشنی میں علماء کرام کو دعوت نامے جاری کر دیئے گئے۔ الحمدللہ ! حضرت اقدس کی اس دعوت پر علماء کرام نے لبیک کہا اور وقت مقررہ پر مندرجہ ذیل علماء کرام تشریف لے آئے۔ مولانا محمد انور، مولانا محمد الیاس، مولانا محمد قاسم، مولانا نور الوکیل، مولانا ابوطاہر، محمد یار فاروقی، مولانا قاسمی، مولانا محمد عمر، مولانا محمد فرید، مولانا محمد عبداللہ، مولانا محمد یوسف کشمیری، مولانا شفیق الرحمن، مولانا محمد عبید اللہ، مولانا جاوید حسین کشمیری، مولانا شجاع احمد، مولانا عبد الحمید، مولانا قاری حق نواز تونسوی، مولانا حبیب اللہ، مولانا کلیم اللہ، مولانا محمد یوسف، مولانا ہدایت اللہ، مولانا عبد المتین، مولانا ظفر احمد، مولانا فضل الوحید ریحان، مولانا سید خالد مسعود گیلانی، مولانا عبد الخالق، مولانا محمد زکریا، مولانا محمد حنیف، مولانا سید صبا احسن، مولانا محمد یاسین، مولانا حمایت اللہ ربانی، مولانا عرفان اللہ، مولانا عبد اللطیف، مولانا عبد الشکور، مولانا نعیم امجد سلیمی، مولانا سعید احمد جلالپوری، مولانا مفتی جمیل خان، مولانا محمد صدیق سواتی، مولانا گل محمد فانی، مولانا محمد رفیق الکریم، مولانا فضل الرحمن، مولانا شکیل احمد، مولانا مفتی محمد عثمان یار خان، مولانا محمد امین انصاری، مولانا عبدالرشید انصاری، مولانا اللہ داد، مولانا بشیر احمد تونسوی، مولانا محمد صدیق تونسوی، مولانا محمد زیب، مولانا محمود الحسن رحیمی، مولانا فتح محمد، مولانا حبیب اللہ، مولانا مطیع الرحمن، مولانا مختار احمد جیار حقانی، مولانا محمد شعیب، مولانا ہدایت الرحمن، مولانا رعایت اللہ خان، مولانا عبد الرحمن، مولانا عبد الرحیم، مولانا محمد سعید، مولانا شیر محمد، مولانا عبد الکریم، مولانا محمد انور فاروقی، مولانا عبد الرحمن فاروقی، مولانا محمد احمد، مولانا شیر احمد، مولانا خالد میر، مولانا علی سید، مولانا عبد الوہاب، مولانا عبد الرحمن، مولانا حافظ عبدالقیوم نعمانی، مولانا بشیر احمد نعمانی، مولانا شبیر احمد، مولانا حافظ محمد حسین، مولانا عبدالقیوم قاسمی، مولانا احسان اللہ ہزاروی، مولانا ڈاکٹر نصیر الدین سواتی، مولانا عبدالغفار، مولانا محمد فیض اللہ، مولانا غلام مصطفیٰ فاروقی، مولانا نوید مسعود ہاشمی، مولانا محمد سالم میر، مولانا مفتی عزیز الرحمن، مولانا فضل محمد، مولانا عبد الکریم عابد، مولانا حماد اللہ شاہ، مولانا جمیل الرحمن، مولانا محمد ہارون القاسمی، مولانا عبد اللہ شاہ، مولانا عبد المالک، مولانا قاری عبد الرحمن، مولانا محمد احمد، مولانا عبد الستار توحیدی، مولانا محمد یوسف حسن زئی، مولانا محمد عمر صادق، مولانا قاری عبد الحفیظ، مولانا قاری سلطان محمد، مولانا اکرام الحق خیری، مولانا خان محمد ربانی، مولانا قاری محمد امین، مولانا غلام قادر، مولانا عبد الغفور، مولانا محمد ہاشم، مولانا سیف الرحمن، مولانا منظور الحق، مولانا غلام اللہ، مولانا عبید الرحمن، مولانا خلیل الرحمن، مولانا محمد الیاس، مولانا عبد الواحد، مولانا عطاء الرحمن اور مولانا محمد عبد اللہ کے علاوہ بھی بہت سے علماء کرام شریک ہوئے۔

اجلاس کا آغاز قاری عبد الرحمن کی تلاوت کلام پاک سے ہوا۔ بعد ازاں مولانا نذیر احمد تونسوی کو خطاب کی دعوت دی گئی۔ انہوں نے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کا مختصر تعارف اور مرزا غلام احمد قادیانی کے مختلف دعوؤں سے جھوٹا نبی بننے تک کے احوال سے علماء کرام کو آگاہ کیا۔ اس کے بعد مرشد العلماء حضرت اقدس مولانا محمد یوسف لدھیانوی صاحب زید مجدہم نے خطاب کیا۔

آپ نے خطبہ مسنونہ کے بعد فرمایا: آپ حضرات کے علم میں ہے کہ قادیانی کس طرح امت مسلمہ کو گمراہ کر رہے ہیں۔ ہم لوگوں کا

صفحہ ۴۴۰

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۶ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

خیال ہے کہ ۱۹۷۴ء میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے پلیٹ فارم سے امت نے حق ادا کر دیا اور قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دے دیا گیا اور ۱۹۸۴ء میں ایک اور تحریک کے نتیجے میں امتناع قادیانیت آرڈی نینس جاری ہو گیا اور قادیانیوں کو شعائر اسلام استعمال کرنے ، اپنے آپ کو مسلمان ظاہر کرنے اور کھلے عام تبلیغ کرنے سے روک دیا گیا ۔ لیکن کیا عملی طور پر قادیانیوں کی سرگرمیوں میں کوئی فرق آیا۔ عوام کے مزاج سے تو آپ واقف ہیں ان کا خیال یہ ہے کہ مولویوں کا کام ہی لوگوں کو کافر بنانا ہے۔ یہ تو زبردستی کسی نہ کسی پر فتوے لگاتے رہتے ہیں ایک دوسرے کو کافر کہنا ان کا کام ہے لیکن آپ دیکھئے ۱۹۷۴ء کے فیصلے کو ۲۲ سال گزر چکے ہیں ۔ نئی نسل کے علم میں بالکل بھی نہیں کہ قادیانی کیا ہیں ۔ ان کے عقائد کیا ہیں ۔ اور ان سے امت کو کیا خطرات ہیں ۔ وہ بالکل خالی الذہن ہیں کیوں کہ دین کی تعلیم سے وہ بے بہرہ ہیں ، جو تعلیم ان کو دی جاتی ہے ۔ اس میں دین کا بالکل گزر نہیں ۔ دوسری طرف قادیانی اپنی مظلومیت کا ڈھنڈورا پیٹتے ہیں ۔ حقائق تو بتاتے نہیں ، نئے نئے طریقے سے مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں ۔ طرح طرح کے سوالات کے ذریعے ان کے ذہنوں میں شکوک وشبہات پیدا کرتے ہیں ۔ ان کا ہر فرد مبلغ ہے ۔ وہ سرکاری افسر ہو یا عام فرد۔ کسی بھی محکمے میں ہو ، اس نے اپنے جھوٹے نبی اور جھوٹے دین کی تبلیغ کرنی ہے ۔ اپنا لٹریچر ہر شخص تک پہنچانے کی کوشش کرنی ہے ۔ اپنے محکمے اور عہدہ سے ناجائز فائدہ اٹھا کر جھوٹے نبی کی تشہیر کرنی ہے۔ قادیانی کوچنگ سینٹر کے نام سے جگہ جگہ ادارے قائم کر کے تعلیمی تیاری کے نام پر اپنے مذہب کی تبلیغ کرتے ہیں ۔ اسی طرح کمپیوٹر سینٹر قائم کر کے تبلیغی سرگرمیاں جاری ہیں ۔ مختلف علاقوں میں طبی سینٹر قائم کر کے اس کے ذریعہ تبلیغی کام کیا جاتا ہے اور ان سب میں وہ اپنے آپ کو مسلمان ظاہر کرتے ہیں۔ عورتوں کے ذمہ باقاعدہ قادیانیت کی تبلیغ کا کام لگایا جاتا ہے۔ ہمارے علاقے میں ایک قادیانی نے مکان خریدا۔ اس کی لڑکیاں باقاعدہ ربوہ سے تعلیم وتربیت حاصل کر کے آئی ہیں ۔ وہ خود بھی ماسٹر ہے اور اس کی لڑکیاں بھی استانیاں ہیں۔ اب وہ باقاعدہ قادیانیت کی مبلغہ ہیں۔ گھر گھر جا کر وہ قادیانیت کی تبلیغ کرتی ہیں ۔ ان کا گھر قادیانیت کا تبلیغی مرکز بنا ہوا ہے۔ اس کی بیوی فجر کی نماز کے بعد سڑک کی طرف والے کمرے میں بیٹھ کر زور زور سے قرآن مجید کی تلاوت کرتی ہے ۔ اس سے لوگ متاثر ہوتے ہیں۔ مسلمانوں نے قرآن مجید کو گھروں سے نکالا ہوا ہے ۔ اگر کوئی پڑھتا بھی ہے تو چھپ کر تا کہ بنیاد پرستی کا الزام نہ لگے اور وہ قادیانی گھرانہ اس طرح اپنے آپ کو مسلمان ظاہر کرنے کے لئے بلند آواز سے اور دکھا کر دینی کام کرتے ہیں تا کہ لوگ ان کی دین داری سے مرعوب ہوں ۔

اسی طرح قادیانیوں نے تبلیغی جماعت کی تشکیل کر کے تبلیغی کام بھی شروع کیا ہے ۔ اسی طرح ڈش انٹینا کے ذریعہ گھر گھر تبلیغی سینٹر بنا ہوا ہے ۔ فلمیں نوجوانوں کے لئے دلچسپی کا باعث ہیں ۔ دعوت یا چائے پر مدعو کر کے کہا جاتا ہے کہ ہمارے ایک بزرگ ہیں بڑی اچھی تقریر کرتے ہیں ذرا سا وقت میں سن لیتے ہیں اس طرح نوجوانوں کے ذہنوں کو خراب کیا جاتا ہے ۔

ہمارے علم میں یہ بات آتی ہے کہ گلشن اقبال پارک نمبر ۴ میں قادیانیوں کو مسجد ربانی سے متصل ایک پلاٹ حاصل ہوا ہے جو اسپتال کے لئے مخصوص ہے ۱۹۷۶ء سے اس پلاٹ پر صرف چار دیواری ہے ۔ قادیانیوں نے اس پلاٹ پر نماز جمعہ اور عیدین شروع کر دیئے ہیں اور گزشتہ دنوں وہاں ان کا اجتماع بھی ہوا ۔ دیکھئے ! کتنی بد قسمتی کی بات ہے ایک اسلامی مملکت میں عین خانہ خدا سے متصل نبی اکرم ﷺ کی ذات اقدس کے خلاف ایک جھوٹے نبی کے دین کی تبلیغ ہورہی ہے ۔ اسلام کے نام سے اسلام پر ڈاکہ ڈالا جا رہا ہے اور لیکن خطیب اور امام اور مسلمانوں کے کان پر جوں تک نہیں رینگتی ۔ اگر کوئی اس طرف توجہ دلائے تو کمیٹی والے اور امام صاحب کہیں کہ ہم اختلافی مسائل میں نہیں پڑتے ۔ مسلمانوں کو اس کی کوئی پرواہ نہیں ۔ کمیٹی کے سر میں کیا درد کہ اس کو نوجوانوں کے گمراہ ہونے کی فکر ہو۔ عام مسلمان کو اس کا کیا غم کہ ان کے مسلمان بھائی گمراہ ہو رہے ہیں ۔ ہر شخص اپنے آپ میں مگن ہے ۔ بے روزگاری آج کل عام ہے ۔ امریکہ ، جرمنی ،

صفحہ ۴۲۱

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۶ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

انگلینڈ کی شہریت مل جائے بلکہ صرف ویزہ ہی مل جائے تو سمجھتے ہیں کہ جنت کا ٹکڑا مل گیا۔ قادیانیوں نے مسلمانوں کی اس کمزوری کو بھانپ لیا اور چونکہ وہ تو مغرب اور انگلینڈ کے پیدا کردہ ہیں ان کو ان ممالک میں سہولتیں حاصل ہیں اس لئے ان کی سفارش پر ویزہ اور نوکریاں مل جاتی ہیں۔ پھر قادیانیوں نے مظلومیت ظاہر کر کے سیاسی پناہ کا دروازہ کھول دیا تاکہ پاکستانی اور مسلمان خوب بدنام ہوں۔ ان حربوں کو وہ استعمال کر کے مسلمان نوجوان خصوصا بے روزگار اور پریشان حال لوگوں پر نظر رکھتے ہیں ان کے دکھ میں ظاہری طور پر شرکت کرتے ہیں ان کو باہر کی نوکری کا لالچ دیتے ہیں۔ ویزہ لگواتے ہیں اور جب ان کو نوکری ملنے لگتی ہے تو ایک فارم بھروالیتے ہیں۔ مسلمان بھائی خیال کرتے ہیں کہ وہ فارم بھرنے سے کیا ہوگا ایمان تو ہمارے پاس محفوظ ہے لیکن آہستہ آہستہ ان کے گرد اپنے جال کا دائرہ تنگ کرتے جاتے ہیں۔ عورتیں دے کر شادیاں کراتے ہیں اور اس طرح ان کو قادیانی بناتے ہیں۔ وہ غیر محسوس طریقے سے دام میں گرفتار ہوجاتے ہیں۔ اب وہ ہزار بار کہیں کہ وہ قادیانی نہیں لیکن ان کے فارم دکھا کر ان کو بلیک میل کرتے ہیں۔ اس طرح ربوہ کانفرنس اور لندن سالانہ اجتماع کے موقع پر قادیانیوں کی ذمہ داری لگائی جاتی ہے کہ وہ اپنے ساتھ ایک یا دو مسلمانوں کو لائے۔ یہ سیر کرانے کے بہانے لے جاتے ہیں۔ وہاں انہوں نے ایک جگہ کو جنت کا نام دیا ہوا ہے خوبصورت عورتیں رکھی ہوئی ان کو حوریں کہہ کر نوجوانوں سے ملاتے ہیں۔ طرح طرح کے عیش کراتے ہیں اور اس کو مرعوب کرتے ہیں۔ ابتدا میں مسلمان ظاہر کرتے ہیں ایک دفعہ جب ربوہ ختم نبوت کانفرنس میں شرکت کے لئے گیا تو ربوہ کی سیر کی وہاں انہوں نے ایک عمارت بنائی ہوئی ہے اسمبلی ہال کے طرز پر اسی طرح قصر صدارت وغیرہ بنائے ہوئے ہیں۔ آپ کے اور میرے نزدیک ان چیزوں کی اہمیت نہیں لیکن عام آدمی اس سے بہت زیادہ متاثر ہوتا ہے ان چیزوں کو وہ اپنی حقانیت کی دلیل میں پیش کرتے ہیں جس طرح ڈش انٹینا کو وہ اپنے حق ہونے کی دلیل پیش کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ گرو مرزا غلام احمد قادیانی نے کہا کہ میری آواز پوری دنیا میں پھیلے گی اور آج پیش گوئی پوری ہوئی اور ڈش انٹینا کے ذریعہ آواز پھیل رہی ہے۔ ان بھلے مانسوں سے کوئی پوچھے اس طرح کی شعبدہ بازیاں تو عیسائی آج سے پچاس سال پہلے دکھا چکے ہیں۔ اس قسم کی ترقیاں عیسائی سیکڑوں سال سے کر رہے ہیں تو کیا وہ حق پر ہیں؟ پھر آج ایک گویے اور ناچنے والی کی آواز پوری دنیا میں گونج رہی ہے لیکن عام آدمی کا ذہن اس سطح پر نہیں سوچ سکتا۔ آپ کو ہمیں ان کو اچھے انداز میں قادیانیوں کی عیاری سے آگاہ کرنا ہوگا۔

آپ حضرات کو اسی لئے زحمت دی کہ یہ آپ کے اور ہمارے سوچنے کی بات ہے فکر اور غور کرنے کی باتیں ہیں۔ بیٹھ کر خوب مناقشہ کر کے ان قادیانیوں کی سرگرمیوں سے عام مسلمانوں کو آگاہ کرنے کے لئے لائحہ عمل طے کریں۔ مسلمانوں کے ایمان بچانے کی فکر کریں۔ علماء کرام کو اللہ تعالیٰ نے امت کی پاسبانی کی سعادت سے سرفراز فرمایا ہے۔

اس وقت جو صورت حال ہے صرف فتنہ قادیانیت ہی نہیں بے شمار فتنے سر اٹھا رہے ہیں۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ہم لوگ خصوصا علماء کرام بے بس ہو چکے ہیں ہماری زبان پر تالے لگا دیئے گئے ہیں۔ بالکل ایسا محسوس ہوتا ہے کہ علماء کرام کے دلوں سے امت کی درد مندی کی کسک نکال دی گئی ہے۔ بالکل ایسی مثال ہے کہ گھر والے سو رہے ہیں اور چوکیدار بھی محو استراحت ہے اور قزاق، ڈاکو اور چور بڑے اطمینان سے کام کر رہے ہیں۔ وقتی ابال کے لئے ہم نعرے لگا لیتے ہیں اور قادیانی مرتد کہہ لیتے ہیں۔ لیکن سوال یہ ہے کہ قادیانی جن لوگوں سے ملتے ہیں وہ ہمارے معاشرے کے لوگ ہیں۔ اگر امت مسلمہ کے افراد کو قادیانیوں کی فوج کی فوج مرتد بنانے کے لئے نوچ رہی تو ان کی حفاظت کی ذمہ داری کس پر عائد ہوتی ہے یہ آخر کس کا کام ہے؟ قادیانیوں کی سرگرمیوں پر نگاہ رکھتے ہوئے فہم و فراست کے ساتھ تدارک کے لئے لائحہ عمل تیار کریں۔ کیونکہ قادیانی مسلمانوں کو بدنام کرنے کا کوئی حربہ نہیں چھوڑتے۔ آپ کے علم میں ہے کہ قادیانیوں کو

صفحہ ۴۲۴

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۶ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

اسمبلی نے غیر مسلم قرار دے دیا۔ ۱۹۸۴ء میں اس ترمیم سے متعلق آرڈی نینس کے ذریعہ قانون سازی کی گئی اور شعائر اسلام استعمال کرنے سے روکا گیا۔ مسلمان ظاہر کرنے سے روکا گیا۔ ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ نے کئی مرتبہ فیصلے دیئے کہ قادیانی غیر مسلم ہیں لیکن اس کے باوجود قادیانی ملک اور بیرون ملک اس فیصلے کی خلاف ورزی کرتے ہیں۔ مسلمانوں کو مشتعل کرنے کے لئے مسجد نما عبادت گاہیں بناتے ہیں۔ کلمہ طیبہ آویزاں کرتے ہیں۔ قرآنی آیات کو غلط معانی پہنا کر اپنے لئے استعمال کرتے ہیں۔ مسلمان اگر منع کریں تو پوری دنیا میں واویلا مچاتے ہیں کہ ہمیں جینے کا حق نہیں دیا جارہا ۔ ہم کو کلمہ طیبہ پڑھنے نہیں دیتے۔ مسجد بنانے نہیں دیتے مسلمان اصرار کریں تو ایسا رویہ اختیار کرتے ہیں کہ مسلمان مشتعل ہو کر خود اس کے تدارک کے لئے کچھ کریں تو فلمیں بنا کر امریکہ، مغرب کی حمایت حاصل کرتے ہیں اور اپنی مظلومیت کا رونا روتے ہیں۔ اس لئے آپ حضرات ایسی حکمت عملی تیار کریں جس کی وجہ سے قادیانیت کی سرگرمیوں کو روکا جاسکے اور مسلمانوں کے ایمان اور عقیدہ ختم نبوت کا تحفظ کیا جاسکے اور پاکستان اور مسلمانوں کے خلاف قادیانیوں کو پروپیگنڈہ کا موقع نہ ملے۔ اس لئے آپ آئین کے دائرے میں حکومت کو مجبور کریں کہ وہ قادیانیوں کو آئین کا پابند بنائیں اور کفر گاہوں پر اسلامی شعائر کا لیبل نہ لگنے دیں۔ صرف یہ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کا مسئلہ نہیں اور نہ ہی کریڈٹ یا ناموری کا مسئلہ ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی رضا مندی کا معاملہ ہے حضور ﷺ کی ذات اقدس اور آپ کی شفاعت کا مسئلہ ہے۔ مسلمانوں کے ایمان کی حفاظت کا مسئلہ ہے ہم سب کو مل کر اس فریضہ کو انجام دینا ہے۔ اب اس اجلاس کی صدارت مفتی نظام الدین شامزئی صاحب فرمائیں گے۔

حضرت اقدس کے تشریف لے جانے کے بعد علماء کرام نے مختلف تجاویز پیش کیں اور ان پر غور و خوض کیا گیا۔ بعد ازاں درج ذیل فیصلے کئے گئے۔

فیصلہ جات: مندرجہ ذیل میں مولانا نذیر احمد تونسوی کے جمعہ کے پروگرام دیئے جائیں گے۔ فردوس مسجد سعید آباد، قرطبہ مسجد بہادر آباد، جامع مسجد فائیو جے سعید آباد، جامع مسجد باب السلام فیڈرل بی ایریا، مکہ مسجد نئی آبادی سعید آباد ۔ مسجد قدسیہ الاخوان مسجد فیڈرل بی ایریا بلاک نمبر ۱۵، اللہ والی مسجد منگھوپیر، جامع مسجد شیر شاہ اور دیگر کئی مساجد میں نماز جمعہ اور درس کے پروگرام ترتیب دیئے جائیں گے۔

نبوت کا کام کرنے کے لئے اپنا نام پیش کیا۔

دفتر کو مطلع کریں گے۔

آخر میں مفتی نظام الدین شامزئی نے خطاب کرتے ہوئے کہا اس وقت پوری دنیائے کفر خصوصاً مغرب مسلمانوں سے بہت زیادہ خوف زدہ ہے اور وہ طرح طرح کے حیلے بہانوں سے مسلمانوں کو تباہ کرنے اور اقتصادی طور پر دیوالیہ کرنے میں جتا ہوا ہے۔ مختلف طریقوں سے مسلمانوں کے قلوب سے ایمان نکالنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ صرف بنگلہ دیش میں ۵۰ ہزار عیسائی مشنریاں کام کر رہی ہیں۔ ہمارے ملک، بنگلہ دیش اور افریقی ممالک میں قادیانیوں کی ہزاروں جماعتیں ارتدادی فتنہ کے فروغ کے لئے مصروف عمل ہیں۔ ان کی خواہش ہے کہ مسلمان اکثریتی ممالک کو عیسائی اور قادیانی اکثریتی ملک میں تبدیل کر دیا جائے کیونکہ قادیانی اور عیسائی ایک ہی تھالی کے دو بینگن ہیں۔ ایک ترازو کے دو پلڑے ہیں۔ وہ لوگ ایک دوسرے کی حمایت کے لئے پیدا ہوئے ہیں اس لئے اس وقت علماء کرام کو بہت

صفحہ ۴۲۳

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۶ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

چوکنا ہونے کی ضرورت ہے اور گرد کے ماحول پر نگاہ رکھیں۔ موجودہ دور کے مطابق تبلیغی سرگرمیوں کے دائرہ کو وسیع کریں۔ عوام کی ذہنی سطح کی روشنی میں اسلامی تعلیمات ترتیب دیں۔ جائز ذرائع ابلاغ کو تبلیغی مقاصد کے لئے استعمال کریں۔ قادیانیت پر سب سے زیادہ نظر رکھنے کی ضرورت ہے کیونکہ یہ مسلمان بن کر مسلمانوں کے ایمان پر ڈاکہ ڈالتے ہیں اور آستین کے سانپ کی طرح ڈستے ہیں اللہ تعالیٰ مسلمانوں کے ایمان کی حفاظت فرمائے۔

مفتی نظام الدین شامزئی کی دعا پر علماء کرام کا اجلاس اس عزم کے ساتھ اختتام پذیر ہوا کہ قادیانیت کے سدباب کے لئے مشترکہ جدوجہد کریں گے۔

(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی مورخہ ۲۳ تا ۲۹؍اگست ۱۹۹۶ء ص ۲۳ تا ۲۶)

ختم نبوت کانفرنس گھارو ضلع ٹھٹہ

عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت گھارو ضلع ٹھٹہ کے زیر اہتمام عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے عالمی مجلس کے نائب امیر حضرت اقدس مولانا محمد یوسف لدھیانوی صاحب، علامہ احمد میاں حمادی، شیخ الحدیث مولانا عبدالغفور قاسمی، مجاہد اسلام مولانا مفتی محمد جمیل خان، مبلغ اسلام مولانا حفیظ الرحمن رحمانی، مبلغ ختم نبوت مولانا نذیر احمد تونسوی، خطیب اسلام حضرت مولانا محمد رمضان، شیخ الحدیث مولانا خدا بخش، مولانا فقیر محمد شاہ، مولانا حافظ عبدالستار، مولانا سعید احمد جلال پوری، مولانا محمد ابراہیم، مولانا محمد احمد صاحب، مولانا محمد عابد، مولانا حافظ عبدالخالق، مولانا مفتی محمد اشرف، مولانا فضل ربی، مولانا محمد قاسم، مولانا عبدالرؤف، مولانا بشیر احمد، مولانا حافظ محمد سلیم اور دیگر علماء کرام نے کہا کہ قرآن وحدیث کی روشنی میں اس بات پر مسلمانوں کا اتفاق ہے کہ آنحضرت ﷺ اللہ تعالیٰ کے آخری پیغمبر ہیں۔ آپ کی نبوت قیامت تک آنے والے انسانوں اور سارے جہانوں کے لئے عام ہے۔ آپ ﷺ اپنے عہد مبارک سے لے کر قیامت تک پیدا ہونے والے ہر انسان کے لئے نبی و رسول ہیں آپ کے بعد قیامت تک کسی شخص کو عہدہ نبوت سے سرفراز کئے جانے کا تصور بھی گناہ ہے۔ اس لئے اللہ تعالیٰ نے آپ کی ذات اقدس پر دین اسلام کو مکمل کر کے جہاں تکمیل دین کی بشارت دی وہاں واضح الفاظ میں تکمیل نبوت کا بھی اعلان فرمایا۔

(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی مورخہ ۱۱ تا ۱۷؍ اکتوبر ۱۹۹۶ء ص ۲۲)

جانشین شیخ الاسلام مولانا محمد اسعد مدنی سے اظہار تشکر

قدوۃ السالکین، امام المجاہدین، شیخ الاسلام حضرت اقدس مولانا سید حسین احمد مدنی قدس سرہ نور اللہ مرقدہ کے جانشین۔ جمعیت علماء ہند کے سربراہ، شیخ طریقت مولانا سید محمد اسعد مدنی گزشتہ دنوں پندرہویں سالانہ ختم نبوت کانفرنس میں مہمان خصوصی کی حیثیت سے شرکت کے لئے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے نائب امیر حضرت اقدس مرشدالعلماء مولانا محمد یوسف لدھیانوی زید مجدہم کی خصوصی دعوت پر پاکستان تشریف لائے۔ آپ نے ربوہ کانفرنس میں شرکت کے علاوہ ایک ہفتہ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کو میزبانی کا شرف عطا فرمایا۔ مجلس تحفظ ختم نبوت کے کراچی دفتر اور مرکزی دفتر کا خصوصی طور پر دورہ فرمایا اور مجلس کے تحت کراچی اور ملتان میں علمائے کرام سے خصوصی خطاب فرمایا۔ آپ کی تشریف آوری پر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے امیر مرکزیہ شیخ المشائخ مولانا خواجہ خواجگان حضرت مولانا خان محمد صاحب دامت برکاتہم، نائب امیر مرکزیہ حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی زیدمجدہم، ناظم اعلیٰ مولانا عزیز الرحمن جالندھری اور عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے ایک ایک مبلغ اور قافلہ امیر شریعت کے ایک ایک رضا کار نے جس خوشی کا اظہار کیا اور جس طرح اپنے لئے نعمت تصور کی اور بقول حضرت لدھیانوی صاحب ہم آپ کی شکل میں حضرت مدنی کی زیارت کر رہے ہیں اور آپ کی آمد سے ہم غلاموں کی عزت میں اضافہ ہوا

صفحہ ۴۴۴

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۶ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

ایک طرح سے عملی تشکر کا اظہار ہے اور جس عقیدت ومحبت سے آپ کے خطابات کے ایک ایک لفظ کو اپنے قلوب میں سمویا وہ حضرت مولانا محمد اسعد مدنی کی خدمت میں خراج تحسین ہے۔

حضرت مولانا اسعد مدنی صاحب نے جس محبت و شفقت سے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی دعوت قبول فرمائی اور جس خصوصی تعلق کا اظہار کرتے ہوئے کارکنان عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کو نصیحتیں فرمائیں اور جس طرح مختلف مواقع پر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی خدمات کو خراج تحسین پیش کرتے مقبولیت اور مزید توفیق کی دعا فرمائی وہ قافلہ امیر شریعت کے ایک ایک کارکن کے لئے ذخیرہ آخرت اور سرمایہ دنیا ہے۔ ہم کارکنان عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت، جان نثار ختم نبوت، رضا کاران قافلہ امیر شریعت حضرت مولانا محمد اسعد مدنی صاحب کے شکر گزار ہیں اور دعا گو ہیں کہ اللہ تعالیٰ حضرت مولانا اسعد مدنی صاحب کی زندگی میں برکت عطا فرمائے اور ہمیشہ عافیت نصیب فرمائے اور آپ کے فیض کو پوری دنیا میں پھیلائے حضرت اقدس مولانا محمد اسعد مدنی صاحب کو ویزے کے انتظار کے سلسلے میں جو تکلیف اور ذہنی اذیت اٹھانی پڑی اس پر ہم حضرت سے معذرت خواہ ہیں اس کی وجہ سے آپ کا سفر مختصر بھی ہو گیا۔ ویزے کے سلسلے میں مفکر اسلام مولانا مفتی محمود کے جانشین قائد جمعیت علمائے اسلام مولانا فضل الرحمن نے جو تعاون فرمایا عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے تمام کارکن ان کے شکر گزار ہیں ایک بار پھر ہم مولانا محمد اسعد مدنی صاحب کے شکر گزار ہوتے ہوئے یہ توقع کرتے ہیں کہ ان شاء اللہ العزیز! خانوادہ شیخ الاسلام حضرت مدنی نور اللہ مرقدہ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے ساتھ اس طرح تعاون کا سلسلہ رکھ کر سر پرستی فرماتے رہیں گے۔

(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی مورخہ یکم تا ۷رنومبر ۱۹۹۶ء ص ۵)

پندرھویں سالانہ ختم نبوت کانفرنس چناب نگر (ربوہ)

۳، ۴ر اکتوبر ۱۹۹۶ء بروز جمعرات، جمعہ منعقد ہوئی۔ جس کی صدارت شیخ المشائخ حضرت مولانا خواجہ خان محمد دامت برکاتہم نے کی۔ سید امین گیلانی اور سید سلمان گیلانی نے نعتیں پیش کیں۔ بھارت سے امیر جمعیت علماء ہند حضرت مولانا محمد اسعد مدنی مدظلہ نے خاص طور پر کانفرنس میں شرکت کی۔ مقررین میں فقیہ العصر حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی، قائد جمعیت حضرت مولانا فضل الرحمن، مولانا فضل الرحمن خلیل، مولانا فضل الرحمن درخواستی، جناب لیاقت بلوچ، مولانا خالد حسین مجددی، مولانا محفوظ حسین مشہدی، مولانا عبد المالک، مولانا جمال اللہ، مولانا محمد اکرم طوفانی، مولانا عزیز الرحمن جالندھری، مفتی محمد حمید خان، مولانا اللہ وسایا، مولانا عبد المجید لدھیانوی، مولانا عبد القدیر لنڈ اور ملک محمد اسلم کچھیلا شامل تھے۔ شیخ حاکم علی (صوبائی امیر) نے اپنی جماعت کی نمائندگی کی۔ پہلے روز آخری خطاب مولانا سید عبد المجید ندیم کا تھا۔ انکا خطاب شروع ہوتے ہی بارش شروع ہوگئی اور سلسلہ تقریر منقطع ہو گیا۔ بہر حال اگلے روز موسم اچھا ہو گیا اور کانفرنس کی کارروائی پھر سے شروع ہوئی۔ ۱۹۹۶ء کی کانفرنس میں اس بارش کے بعد قائدین مجلس نے شرکائے کانفرنس کے لئے کئی اور کمرے بنوائے۔

ربوہ تعلیم الاسلام کالج قادیانیوں کو دیا گیا تو مزاحمت کی جائے گی:

(کانفرنس کے پہلے دن اخبارات کو یہ خبر جاری کی گئی) ربوہ (رپورٹ محمد جمیل خان) قادیانیوں کو پاکستان میں تمام اقلیتوں سے زیادہ حقوق حاصل ہیں۔ سینکڑوں قادیانی کلیدی عہدوں پر فائز ہیں۔ ہزاروں قادیانی بڑے بڑے صنعتی اداروں کے مالک ہیں اور ربوہ شہر اور پاکستان کے تمام شہروں میں قادیانی ٹھاٹھ سے زندگی گزار رہے ہیں کسی ایک قادیانی پر بحیثیت قادیانی کے کوئی ظلم نہیں کیا اس کے باوجود قادیانی یورپ، مغربی ممالک اور امریکہ کی خوشنودی اور مغربی ممالک میں سیاسی پناہ حاصل کرنے کے لئے اپنے آپ کو مظلوم بنا کر پیش

صفحہ ۴۲۵

تحریک ختم نبوت جلد(۶) ۱۹۹۶ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

کر رہے ہیں اس طرح وہ پاکستان اور اسلام کو بدنام کرنے کی مذموم کوششوں میں مصروف ہیں اس لئے مسلمانان پاکستان کا مطالبہ ہے کہ قادیانیوں کی مذموم سرگرمیوں کو حکومتی سطح پر تعاقب کیا جائے ۔ پاکستان اور عالم اسلام کے مسلمان کسی صورت میں حضور اکرم ﷺ کے بعد کسی جھوٹے مدعی نبوت کو کسی صورت میں برداشت نہیں کر سکتے اسی بنا پر عالم اسلام اور دنیا پاکستان کی تمام عدالتوں اور عدالت عظمیٰ اور پاکستان کی قومی اسمبلی نے قادیانیوں کے غلط عقائد پر تفصیل سے بحث کر کے قادیانیوں کو دائرہ اسلام سے خارج کرتے ہوئے غیر مسلم اقلیت قرار دیا یہ مولویوں کا مسئلہ نہیں ۔ قادیانی ہر اس شخص کو کافر سمجھتے ہیں جو مرزا غلام احمد قادیانی کو نبی تسلیم نہیں کرتا ان کے نزدیک دنیا کے ایک ارب بیس کروڑ سے زائد مسلمان کافر ہیں اگر قادیانی اپنے کو حق پر سمجھتے ہیں تو پھر اپنے آپ کو مسلمان کہلوانے اور کہنے پر کیوں اصرار کرتے ہیں ۔ وہ قادیانی بن کر تبلیغ کریں ان کو اپنی حقیقت کا اندازہ ہو جائے گا ۔ وہ مسلمان کہہ کر مسلمانوں کو دھوکہ دیتے ہیں ۔

ان کا کلمہ پڑھنا اور قرآنی آیات استعمال کرنا سراسر بد دیانتی پر مبنی ہے اور وہ کلمہ طیبہ سے مراد غلام احمد کو لے کر کلمہ طیبہ کی توہین کرتے ہیں ۔ ان خیالات کا اظہار عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے امیر مولانا خواجہ خان محمد ، تحفہ قادیانیت کے مؤلف مولانا محمد یوسف لدھیانوی ، جمعیت علماء اسلام کے مولانا بشیر احمد شاد ، اتحاد العلماء کے مولانا عبد المالک ، جمعیت اہل حدیث کے مولانا معین الدین لکھوی ، متحدہ جمعیت اہل حدیث کے ضیاء اللہ شاہ ، مجلس تحفظ حقوق اہل سنت کے مولانا سید عبدالمجید ندیم شاہ ، مولانا عزیز الرحمن جالندھری ، مولانا محمد اکرم طوفانی ، مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی ، مولانا جان محمد ، مولانا حفیظ الرحمن ، مولانا محمد یعقوب رحمانی ، مولانا خلیل احمد بندھانی ، مولانا نذیر احمد تونسوی ، مولانا بشیر احمد نے پندرہویں سالانہ ختم نبوت کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔

ان علماء کرام نے واضح کیا کہ اگر تعلیم الاسلام کالج ربوہ قادیانیوں کو واپس کیا گیا تو چھ سو مسلمان طلبا اور ۱۳۵ اساتذہ کرام کا مستقبل خطرے میں پڑ جائے گا ۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت اس فیصلے کو قبول نہیں کرے گی اور اس کی مزاحمت کی جائے گی تعلیم الاسلام کے نام کالج آئین کے مطابق غیر مسلم کو نہیں دیا جا سکتا کیونکہ اسلام کی تعلیم دینا مسلمانوں کا حق ہے پھر اس کالج میں مسجد ہے مسجد کس طرح قادیانیوں کے حوالے کی جاسکتی ہے ۔

مولانا محمد یوسف لدھیانوی نے خصوصی خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مرزا غلام احمد قادیانی نے اپنی جھوٹی نبوت کی سچائی کی دلیل میں جتنی پیش گوئیاں کیں ۔ جتنے دعوی کئے اللہ تعالیٰ نے مرزا غلام احمد قادیانی کی زندگی میں جھوٹے ثابت کئے ۔ مرزا غلام احمد قادیانی نے ۵۲ سال تک اپنی کتابوں میں تحریر کیا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام زندہ ہیں اور قیامت کے قریب ان کا نزول ہو گا ۔ ۵۲ سال بعد الہام ہوا کہ عیسیٰ علیہ السلام وفات پاچکے ہیں ۔ اور وہ مسیح موعود ہیں ۔ مسلمان کہتے ہیں کہ مرزاغلام احمد قادیانی نے زندگی کے ۵۲ سال سچ کہا اور مرزاغلام احمد کے پیروکار کہتے ہیں کہ ۵۲ سال جھوٹ کہا اس کے بعد ۱۷ سال سچ کہا ۔ گویا فرق یہ ہے کہ مسلمان کہتے ہیں سترہ سال جھوٹ بولا قادیانی کہتے ہیں کہ ۵۲ سال جھوٹ بولا آپ بتائیے کہ ایک جھوٹا شخص کیسے نبی ہو سکتا ہے ۔

مرزا طاہر دعوی کرتا ہے کہ مرزا غلام احمد قادیانی کی پیش گوئی کے مطابق میری آواز دنیا میں پھیلے گی اور آج قادیانی کی آواز ڈش انٹینا کے ذریعہ پوری دنیا میں پھیل رہی ہے اگر ٹی . وی کے ذریعہ آواز پھیلانا حق کی دلیل ہے تو تمام گانے والے مرد اور عورتیں جن کی آواز دنیا بھر میں اربوں لوگ سنتے ہیں وہ حق پر ہیں ۔ عیسائیت کی آواز کئی سالوں سے ٹی . وی پر گونج رہی ہے وہ حق پر ہیں ۔ قادیانیت کے باطل ہونے کی دلیل ہے کہ وہ غیر اسلامی طریقے سے تبلیغی سرگرمیوں کو جاری رکھے ہوئے ہیں ۔ حق کا معیار نبی اکرم ﷺ اور صحابہ کرام کی زندگی ہے اور مسلمان نبی اکرم ﷺ سے وابستہ ہونے کو شفاعت کا ذریعہ سمجھتے ہیں اگر قادیانی نجات چاہتے ہیں تو جھوٹے مدعی نبوت کی اتباع چھوڑ

صفحہ ۴۲۶

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۶ء

ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

کر نبی آخر الزمان ﷺ کے دامن کو تھام لیں اور جھوٹے نبی کے خلاف حضرت ابو بکر صدیق ؓ کی طرح جہاد کریں۔

(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی مؤرخہ ۱۹ تا ۲۴/ اکتوبر ۱۹۹۶ء ص ۱۶)

عقیدہ ختم نبوت کا مضمون، نصاب تعلیم میں شامل کیا جائے:

(کانفرنس کے دوسرے دن اخبارات کو یہ خبر جاری کی گئی) ربوہ (رپورٹ محمد جمیل خان) پندرہویں سالانہ ختم نبوت کانفرنس کے دوسرے دن مسلم کالونی ربوہ میں دوسری نشست کا آغاز مولانا خواجہ خان محمد صاحب کی صدارت میں ہوا۔

کانفرنس سے جمعیت علماء اسلام کے قائد مولانا فضل الرحمن، جمعیت علماء ہند کے امیر مولانا سید محمد اسعد مدنی، جماعت اسلامی کے رہنما جناب لیاقت بلوچ، مولانا عبداللہ بھکر، تحفہ قادیانیت کے مؤلف مولانا محمد یوسف لدھیانوی، مولانا اللہ وسایا، مولانا عزیز الرحمن جالندھری، مولانا جمال اللہ الحسینی، مفتی محمد جمیل خان، مولانا خالد حسین مجددی، مولانا محفوظ حسین مشہدی، مولانا محمد علی، مولانا ضیاء الدین آزاد ماموں کانجن، مولانا نذیر احمد تونسوی، مولانا عبدالمجید، حافظ محمد عابد، مولانا عزیز احمد اور دیگر علمائے کرام نے خطاب کرتے ہوئے کہا عقیدہ ختم نبوت چونکہ مسلمانوں کا بنیادی عقیدہ ہے۔ اس لئے اس عقیدہ کی اہمیت کے پیش نظر اس کو نصاب تعلیم میں شامل کیا جائے۔

علمائے کرام نے کہا کہ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت فتنہ قادیانیت کے تعاقب کے لئے بھر پور کوشش کر رہی ہے امت مسلمہ کے ہر فرد کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے علاقے میں قادیانیت کی سرگرمیوں پر نظر رکھے اور آئین پاکستان کے مطابق قادیانیوں کی تبلیغی سرگرمیوں کو روکنے کی ہر ممکن کوشش کرے کیونکہ مسلمان نوجوان کے دین کی حفاظت کرنا ہر مسلمان کی ذمہ داری ہے اگر ایک مسلمان بھی علاقہ میں گمراہ ہو گیا تو اس کا وبال تمام علاقے والوں پر ہوگا۔

مولانا محمد یوسف لدھیانوی نے خصوصی خطاب کرتے ہوئے کہا حضرت عیسیٰ ؑ کی آمد سے ختم نبوت کے عقیدے پر فرق نہیں پڑتا کیونکہ آپ پہلے نبی ہیں اور آپ کی زندگی طویل کر دی گئی اور آپ کی دعا قبول کر کے حضرت عیسیٰ ؑ کو حضور ﷺ کا امتی بنایا گیا۔ مرزا غلام احمد قادیانی جیسا جھوٹا آدمی مسیح موعود تو کیا ایک شریف آدمی کہلانے کے قابل نہیں۔ شرعی قوانین کے تحت جیسا کہ امام بخاری نے لکھا ہے کہ اگر جماعت مرتد ہو جائے تو اس کے خلاف قتال اور جہاد ضروری ہے۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت قلمی اور تقریری جہاد کر رہی ہے۔ مسلم حکومت کو شرعی قتال کرنا چاہئے اور اب جو شخص مرتد ہو اس کو شرعی ارتداد کی سزا دے کر قتل کیا جائے۔

مولانا فضل الرحمن نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ قادیانی گروہ مذہبی جماعت نہیں بلکہ سیاسی تحریک ہے اور اس کا مقصد مسلمانوں کے درمیان اختلاف اور انتشار پیدا کرنا ہے اور مسلمانوں کے دلوں سے جذبہ جہاد کو ختم کرنا ہے۔ مرزا غلام احمد قادیانی نے شریعت کے ہر مسئلہ میں تحریف کی اسی بناء پر پوری امت مسلمہ نے متفقہ طور پر دائرہ اسلام سے خارج کیا آج یہ عیسائی اور فری میسن تحریک کی طرح مسلمانوں کو گمراہ کر کے اسلام اور پاکستان کو بدنام کرنے کا کوئی حربہ نہیں چھوڑتے اس لئے مسلمانوں کو عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے پلیٹ فارم سے فتنہ قادیانیت کا بھر پور تعاقب کرنا چاہئے۔

ملی یکجہتی کونسل کے سربراہ مولانا شاہ احمد نورانی نے کانفرنس کے نام ایک پیغام میں کہا کہ قادیانیت امت مسلمہ کا ایسا ناسور ہے جو مسلمانوں کو گمراہی کے گڑھے میں ڈالنے کی ہر ممکن کوشش کر رہا ہے۔ اس لئے ان کے خلاف جہاد ضروری ہے اور عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت اس فرض کفایہ کو مسلمانوں کی طرف سے ادا کر رہی ہے۔ اس لئے ہر مسلمان کو عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے شانہ بشانہ اس جہاد میں اس وقت

صفحہ ۴۲۷

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۶ء

ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

تک حصہ لینا چاہئے جب تک فتنہ قادیانیت جڑ سے ختم نہ ہو جائے۔

جمعیت علماء ہند کے امیر مولانا سید محمد اسعد مدنی نے مہمان خصوصی کی حیثیت سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ فتنہ قادیانیت کا آغاز ہندوستان کے قصبہ قادیان سے شروع ہوا تو علامہ محمد انور شاہ کشمیری، شیخ الاسلام مولانا سید حسین احمد مدنی اور دیگر علماء کرام نے جہاد کا اعلان کیا اور گھر گھر جا کر لوگوں کو عقیدہ ختم نبوت اور جھوٹے نبی مرزا غلام احمد قادیانی کے عقائد سے آگاہ کیا۔ قیام پاکستان کے بعد ان کا رخ پاکستان کی طرف ہو گیا۔ پاکستان میں غیر مسلم اقلیت قرار پانے کے بعد انہوں نے دوبارہ ہندوستان اور یورپ اور افریقی ممالک میں کام شروع کر دیا ہے۔ دارالعلوم دیوبند نے ہندوستان میں ان کا تعاقب شروع کیا ہے۔ اس وقت ضرورت اس بات کی ہے پوری دنیا میں علماء کرام متفقہ طور پر قادیانی جماعت کی ارتدادی تبلیغی سرگرمیوں کا مقابلہ کریں۔

(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی مورخہ ۱۹ تا ۲۵/اکتوبر ۱۹۹۶ء ص ۱۲)

حضرت مولانا سید اسعد مدنی کی دفتر مرکزیہ ملتان تشریف آوری

شیخ الاسلام حضرت مولانا سید حسین احمد مدنی کے جانشین، جمعیت علماء ہند کے سربراہ، امیر الہند، ندائے ملت حضرت مولانا سید اسعد مدنی ۱۸/اکتوبر ۱۹۹۶ء کی صبح کراچی سے ملتان تشریف لائے۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے ناظم اعلیٰ حضرت مولانا عزیز الرحمن جالندھری کی سربراہی میں حضرت مدنی کے ارادت مندوں، دینی جماعتوں کے رہنماؤں اور ملتان کے مدارس کے نمائندگان علماء و مشائخ کی کثیر تعداد نے ائیر پورٹ پر آپ کا والہانہ استقبال کیا۔ ائیر پورٹ سے آپ جامعہ خیر المدارس تشریف لے گئے جہاں آپ نے اساتذہ و طلباء کے اجتماع سے علم کی فضیلت کے موضوع پر جامع پر اثر خطاب فرمایا۔ اس کے بعد آپ نے حضرت امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاری کے جانشین حضرت مولانا سید عطاء المنعم شاہ بخاری کی وفات پر ان کے لواحقین ورثاء سے دار بنی ہاشم میں تعزیت فرمائی۔ ظہر کے بعد جامعہ قاسم العلوم میں دعا فرمائی۔ عصر کے بعد آپ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے دفتر مرکزیہ ملتان میں تشریف لائے۔ آپ نے دفتر کا معائنہ فرمایا۔ پون گھنٹہ عالمی مجلس کی لائبریری میں آپ نے گزارا۔ مختلف فنون کی کتب کو دیکھا، مختلف مذاہب و فرق کی اصل کتب کو دیکھا اور ان کے رد میں لکھی گئی کتابوں سے آپ نے گہری دلچسپی لی اور لائبریری کے ذخیرہ کتب پر مسرت کا اظہار فرمایا۔

(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی مورخہ ۸ تا ۱۴/نومبر ۱۹۹۶ء ص ۲۵)

آل پاکستان ختم نبوت کانفرنس کراچی

۲۵/اکتوبر ۱۹۹۶ء بروز جمعتہ المبارک کی مبارک تاریخ آئی کہ جس کے انتظار میں عاشقان رسول آخرین ﷺ سراپا انتظار تھے۔ یہ کانفرنس شاہراہ قائدین پر جامع مسجد باب الرحمت پرانی نمائش بالمقابل مزار قائد منعقد ہوئی۔ کتاب وسنت کے متوالوں کے تمام قافلے تمام راستے مسجد باب الرحمت کی طرف رواں دواں ہوئے اہل توحید اور عاشقان رسول ﷺ ہزاروں کی تعداد میں قافلہ در قافلہ اور جوق در جوق شاہراہ قائدین پہنچے، شیدایان خاتم النبیین ﷺ کے دلوں میں ایک ہی خواہش، ایک ہی ولولہ اور ایک ہی جذبہ کارفرما تھا کہ وہ کتاب وسنت کے جواہر پاروں کو اپنی جھولیوں میں سمیٹ لیں گے اور سینوں میں اللہ رب العزت کے کلام اور خاتم الرسل ﷺ کی سنت طیبہ کی ضیاء پاشیوں کے چراغ جلائیں گے اور آتش عشق سرور انبیاء ﷺ میں گوری اقلیت کے پروردہ ناسور قادیانیت کے خس وخاشاک کو جلا کر خاکستر کر دیں گے۔ ختم نبوت کے پروانوں نے تحفظ ناموس رسول ﷺ کے اس شجر سایہ دار کو دیکھا کتنا تناور ہو چکا ہے کہ جس کی آبیاری میں دس ہزار نوجوانوں نے ۱۹۵۳ء میں اپنی جوانیاں لٹا دیں، بوڑھوں نے اپنے جگر گوشوں کو اپنی آنکھوں کے سامنے ذبح ہوتے

صفحہ ۴۲۸

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۶ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

دیکھا، ماؤں نے اپنے پیاروں کو تحفظ ناموس رسالت کے لئے قربان ہوتے دیکھا، دلہنوں نے اپنے سہاگ لٹا دیئے، اس لئے کہ خاصہ کائنات محبوب کبریا ﷺ کے نام و ناموس پر آنچ نہ آنے پائے۔ عاشقان مصطفیٰ ﷺ نے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے اس عظیم الشان مجمع غفیر، اس شجر سایہ دار کو دیکھا کہ وہ کس قدر برگ و بار لا چکا! جس کی آبیاری میں مردان احرار نے حضرت سید عطاء اللہ شاہ بخاری، مولانا احسان احمد شجاع آبادی، مولانا لال حسین اختر، مولانا محمد علی جالندھری، مولانا محمد یوسف بنوری، نے اور موجودہ امیر مرکزیہ شیخ المشائخ حضرت مولانا خواجہ خان محمد دامت برکاتہم نے کس طرح تحفظ ناموس رسالت کے لئے قید و بند کی صعوبتوں اور کلفتوں کو برداشت کیا۔ غازی علم الدین شہید اور غازی عبدالقیوم جیسے عظیم سپوتوں نے تختہ دار کو لبیک کہنے سے گریز نہیں کیا تھا۔ تحریک ختم نبوت ۱۹۷۴ء میں پوری قوم نے متحد ہو کر سچی محبت رسول ﷺ کا ثبوت دیا نتیجہ یہ نکلا کہ گوری اقلیت کے ”خودکاشتہ“ قادیانیت کو پاکستان کے آئین میں غیر مسلم قرار دیا گیا اور پوری دنیا پر قادیانیت کا روایتی دجل واضح ہو گیا۔

(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی مورخہ ۸ تا ۱۴ نومبر ۱۹۹۶ء ص ۴، ۵)

عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس کراچی

کراچی شہر کو یہ خصوصیت حاصل رہی کہ ختم نبوت تحریک ۱۹۵۳ء کا آغاز اسی شہر کراچی سے ہوا۔ اسی شہر کے جاں نثاران ختم نبوت نے سرظفر اللہ قادیانی کو کراچی میں عقیدہ ختم نبوت کے خلاف جلسہ کرنے کی اجازت نہیں دی۔ اسی شہر کو اللہ تعالیٰ نے یہ شرف عطا فرمایا کہ اس شہر کی عظیم شخصیت جامعہ علوم الاسلامیہ بنوری ٹاؤن کے رئیس جانشین محدث العصر حضرت الامام سید محمد انورشاہ کشمیریؒ، امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ، کے عظیم سپہ سالار، عاشق رسول حضرت علامہ سید محمد یوسف بنوری قدس اللہ سرہ العزیز نے ۱۹۷۴ء میں تحریک ختم نبوت کی کامیابی سے ہمکنار کیا۔ اسی شہر کراچی کے حضرت اقدس مولانا بنوریؒ کے جانشین حضرت مولانا عبدالرحمن کامل پوریؒ کے خلف الرشید، امام اہل سنت نے ۱۹۸۴ء میں جنرل ضیاء الحق کے مارشل لاء کے زمانہ میں شیخ المشائخ خواجہ خواجگان حضرت مولانا خواجہ خان محمد صاحب مدظلہ کی قیادت میں تحریک چلائی اور امتناع قادیانیت آرڈیننس جاری کرانے کا فخر حاصل کیا۔

آج اسی شہر میں حضرت بنوریؒ کے ہم نام و ہم کام حکیم العصر حضرت اقدس مرشدی مولانا محمد یوسف لدھیانوی زید مجدہ جاں نثاران ختم نبوت اور قافلہ امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ رضا کاران شیخ بنوری، غلامان مفتی احمد الرحمن مجاہدین اسلام کی قیادت فرما رہے ہیں۔ اس عظیم شہر کراچی میں آج شہر کے مختلف علاقوں سے لوگ جوق در جوق دفتر ختم نبوت کی طرف رواں دواں تھے کیوں کہ ان کو آج قائدین ختم نبوت شیخ المشائخ خواجہ خواجگان حضرت مولانا خواجہ خان محمد صاحب زید مجدہم، حکیم العصر مرشد العلماء حضرت اقدس مولانا محمد یوسف لدھیانوی، شاہین ختم نبوت حضرت مولانا اللہ وسایا، جانشین مفتی احمد الرحمن مفتی نظام الدین شامزئی نے عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ اور قادیانیت کی دین دشمن سرگرمیوں کے سدباب کے لئے پکارا تھا۔ آج ان حضرات کے حکم سے دفتر ختم نبوت کے سامنے شاہراہ قائدین پر عین دوپہر کو تپتی دھوپ میں جمع ہو کر حضور خاتم النّبیین ﷺ سے اپنی عقیدت و محبت کا اظہار کرنا تھا۔ آج ان کے قائدین شیخ المشائخ خواجہ خواجگان حضرت مولانا خان محمد صاحب مدظلہ، حکیم العصر حضرت اقدس مولانا محمد یوسف لدھیانوی صاحب زید مجدہم، قائد ابن قائد جانشین مفکر اسلام مفتی محمودؒ قائد جمعیت مولانا فضل الرحمن، جانشین مفتی احمد الرحمن مفتی نظام الدین شامزئی، سفیر ختم نبوت خطیب اسلام مولانا سید عبدالمجید ندیم شاہ صاحب، جمعیت علماء پاکستان کے رہنما شاہ فرید الحق، جماعت غرباء اہل حدیث کے سربراہ مولانا عبدالرحمن سلفی، شاہین ختم

صفحہ ۴۲۹

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۶ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

نبوت فاتح ربوہ مولانا اللہ وسایا، مجاہد ختم نبوت حضرت مولانا احمد میاں حمادی، جمعیت علماء اسلام کے رہنما قاری شیرافضل خان، مبلغ ختم نبوت مولانا جمال اللہ الحسینی، مولانا ضیاء الدین آزاد ماموں کانجن، مولانا حفیظ الدین، مولانا محمد اشرف کھوکھر، مولانا محمد اسحاق نے ختم نبوت کے وسیع و عریض اور متفقہ پلیٹ فارم سے ان کے سامنے خاتم النبیین ﷺ کے عقیدہ ختم نبوت اور اس دور کے مسیلمہ کذاب مرزا غلام احمد قادیانی اور اس کی ذریت کی دین دشمن سرگرمیوں سے ان کا آگاہ کرنا تھا۔

یہ قائدین عقیدہ ختم نبوت کی آواز سنانے اور ختم نبوت کی صدا بلند کرنے کے لئے بیماری اور ضعف اور تکالیف کے باوجود دور دراز کا سفر کر کے تشریف لائے تھے۔ کراچی شہر میں گزشتہ کئی سالوں بعد ایسا اسٹیج ختم نبوت کے رضا کاروں نے تیار کیا تھا جس میں سب کے سب قائدین کو ایک جگہ جمع کیا تھا۔ ختم نبوت کانفرنس کراچی والوں کے لئے ایک نوید تھی۔ منتظر نگاہوں کی تسکین تھی۔ آج ان کی آرزوں کی تکمیل اور خوابوں کی تعبیر کا دن تھا۔ اس لئے ماحول بے قرار اپنی بساط سے بڑھ کر اس کانفرنس کی کامیابی کے لئے دعا گو تھا۔ مدارس، مساجد، خانقاہوں میں کانفرنس کی کامیابی کے لئے دعاؤں کا سلسلہ جاری تھا۔ اعتکاف میں بیٹھے ہوئے لوگ ہاتھ اٹھائے آنکھوں سے آنسوؤں کا نذرانہ پیش کر کے کانفرنس کی کامیابی کے لئے دعاؤں میں مصروف تھے منتظمین خوف اور امید کی کیفیت میں مبتلا کانفرنس کی تیاری کے لئے دن رات ایک کیا ہوا تھا۔

جمعیت علماء اسلام کے دونوں گروپ اپنے اپنے علاقوں میں کانفرنس کی تشہیر میں لگے ہوئے تھے۔ جمعیت علماء اسلام اور حرکتہ الانصار کے کارکنان اشتہارات چسپاں کرتے نظر آئے تھے۔ مولانا ضیاء الدین آزاد نے کیمپ لگا کر نمائش چوک کو ختم نبوت کانفرنس کا اشتہار بنایا ہوا تھا۔ سہیل باوا اور مولوی محمد طیب بھی کانفرنس کے انتظامات کے لئے بھاگتے دوڑتے نظر آئے۔ مولانا ضیاء الدین آزاد نے چاروں طرف چاکنگ کر کے اطراف کی دیواروں کو ختم نبوت کے نعروں سے مزین کر دیا تھا۔

اطہر نے اخبارات کا شعبہ سنبھال کراچی اور سندھ میں کانفرنس کی خبروں کا بازار گرم کر رکھا تھا۔ مولانا عبدالرحمٰن فاروقی نے اسٹیج تیار کرا کر کانفرنس کے منتظمین کی ایک بھاری ذمہ داری کا بوجھ اتار دیا تھا۔ سلیم شام نے میز بانی کا شعبہ سنبھال لیا۔

مفتی عبدالجبار، مولانا انور فاروقی، مولانا احسان اللہ ہزاروی، مولانا اقبال اللہ، مولانا شمس الحق شاہ، مولانا عبدالکریم عابد اور جمعیت علماء اسلام کے کارکنوں نے اپنے اپنے اضلاع کی ذمہ داریاں اپنے کندھوں پر لے لیں تھیں۔ مولانا بشیر احمد کے جماعتی حکم کے ذریعہ تمام کارکنوں کو پابند کر دیا کہ وہ کانفرنس میں بھر پور شرکت کریں۔ برادرم حاجی محمد فاروق قریشی نے اپنے ادارے کے ای ایس سی سے جنریٹر کا انتظام کر کے قادیانیوں کی طرف سے بجلی فیل کرنے کی سازش کو ناکام بنا دیا تھا۔ الغرض ایک ایک کارکن دن رات اپنی اپنی محنت میں مصروف تھا۔ کس کس کا نام یاد رکھا جائے۔

اعلان کے مطابق کانفرنس کا آغاز جمعہ کے بعد ہونا تھا لیکن چونکہ امیر مرکزیہ شیخ المشائخ خواجہ خواجگان حضرت مولانا خواجہ خان محمد صاحب مدظلہ اور قائد ابن قائد مولانا فضل الرحمٰن نے نماز مسجد باب الرحمت دفتر ختم نبوت (متصل جلسہ گاہ) میں ادا کرنی تھی اس لئے ۱۲ بجے ہی سے لوگوں کی آمد و رفت شروع ہوگئی تھی۔ چاروں طرف سے جان نثاران ختم نبوت جوق در جوق تشریف لا رہے تھے۔ ہر شخص کے چہرے پر عجیب خوشی اور انبساط کی کیفیت تھی۔ سفید ریش بزرگوں کو دیکھا، عقیدت و محبت سے کھنچتے ہوئے آ رہے تھے۔ علماء کرام تھے، قراء تھے، حافظ تھے، مشائخ تھے اور عام مسلمان۔ صرف ایک ہی جذبہ سب کے چہروں سے عیاں تھا۔ نبی اکرم ﷺ کی شفاعت نصیب ہو جائے۔

ایک بجے اذان ہوئی۔ تقاریر شروع ہوگئیں۔ مسجد اوپر نیچے، صحن، گیلری، گیراج اور باہر اسٹیج تک صفیں بھر گئیں۔ لوگ نماز کے

صفحہ ۴۳۰

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۶ء ۴۳۰ ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

لئے جلسہ گاہ کی طرف پہنچنے لگے۔ پونے دو بجے امیر مرکزیہ خواجہ خواجگان مسجد تشریف لائے ۔ اس دوران جمعیت علماء اسلام کے قائد مولانا فضل الرحمٰن بھی پہنچ گئے حضرت نے اور جاں نثاران ختم نبوت نے سنتیں ادا کیں ۔ دو بجے امیر مرکزیہ کے حکم سے مولانا فضل الرحمٰن منبر رسول ﷺ پر تشریف فرما ہوئے۔ سہیل باوا نے اذان ثانی کے لئے اللہ اکبر کی صدائیں بلند کیں تو حرم مکی کی یاد تازہ ہوگئی مولانا فضل الرحمٰن نے خطبہ مسنونہ ادا ر فرمایا ۔ ماحول پر سکوت کے ساتھ روحانی کیفیت طاری تھی ۔ عقیدہ ختم نبوت کے ساتھ وابستگی ہر چہرے پر اطمینان اور نور سے عیاں تھی۔ خطبہ کے بعد نماز جمعہ ادا کی گئی۔ مولانا فضل الرحمٰن کی پرسوز تلاوت نے مفکر اسلام حضرت مولانا مفتی محمود کی یاد تازہ کر دی۔ پرانے لوگ پرانے زمانے میں کھو گئے۔ ایسا معلوم ہوتا تھا کہ مفتی محمود صاحب دوبارہ تشریف لے آئے ہیں اور نماز پڑھا رہے ہیں۔ نماز کے بعد کئی لوگوں سے سنا مولانا فضل الرحمٰن بہت شاندار تلاوت کرتے ہیں ۔

نماز کے حضرت امیر مرکزیہ کی اجازت سے جلسہ کی کارروائی کا آغاز کیا۔ تمام شرکاء سخت گرمی اور دھوپ میں شاہراہ قائدین پر سکون اور دلجمعی سے تشریف فرما ہو گئے ۔ مولانا ضیاء الدین آزاد نے شاہین ختم نبوت مولانا اللہ وسایا ، مولانا احمد میاں حمادی ، قاری شیر افضل خان کو اسٹیج پر مہمان کی حیثیت سے تشریف لانے کی دعوت دی ختم نبوت کا اسٹیج سادگی کے باوجود ایک وقار کا مرقع نظر آ رہا تھا۔ جانثاران ختم نبوت کی بے لوث نگاہوں اور اکابر علماء کرام کی تو جہات نے اسٹیج پر ایک رونق کی فضا پیدا کی ہوئی تھی ۔

مولانا ضیاء الدین آزاد نے نعرے لگا کر جاں نثاران ختم نبوت کے جذبات کو ابھارا تا کہ گرمی کے احساس کی شدت میں کمی پیدا ہو۔ انہوں نے لوگوں میں گرم جوشی پیدا کر دی ۔ اس گرم جوشی کے ماحول میں مولانا ضیاء الدین آزاد صاحب نے دارالعلوم کورنگی کے قاری حضرت مولانا قاری عبد المالک صاحب کو تلاوت کلام سے جلسے کے آغاز کے لئے مدعو کیا ۔ حضرت قاری صاحب نے جب خوش کن اور پر درد آواز میں تلاوت شروع کی ہر شخص قرآن کی حلاوت میں کھو گیا ۔

اس کے بعد جناب محمود احمد قاری نے نبی آخر الزمان ﷺ کی شان کریمی میں ہدیہ نعت خوبصورت آواز میں پیش کیا۔ نعت کے بعد مجاہد ختم نبوت مولانا احمد میاں حمادی کو دعوت دی گئی ۔ آپ نے پندرہ منٹ میں تفصیل کے ساتھ مسلمانوں اور قادیانیوں کے درمیان فرق کو واضح کیا اور ثابت کیا کہ قادیانیوں سے کسی قسم کی مروت بھی خاتم النبیین ﷺ سے غداری ہے۔

مولانا احمد میاں حمادی کے بعد فاتح ربوہ ، شاہین ختم نبوت ، تحریک ختم نبوت ۱۹۵۳ء ، قومی دستاویز تحریک ختم نبوت ۱۹۷۴ء کے مؤلف مولانا اللہ وسایا صاحب کو دعوت خطاب دی گئی ۔ اس دوران عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے امیر مرکزیہ شیخ المشائخ خواجہ خواجگان مولانا خواجہ خان محمد صاحب کی کرسی صدارت پر تشریف آوری ہوئی ۔ پورا مجمع عقیدت ومحبت کے جذبات سے لبریز ہو کر کھڑا ہو گیا اور نعرے بلند کر کے حضرت کا استقبال کیا ۔ حضرت مولانا اللہ وسایا صاحب نے مجمع سے خطاب کے دوران کئی مرتبہ مجمع سے ہاتھ اٹھوا کر وعدے لئے کہ وہ عقیدہ ختم نبوت کی سر بلندی کے لئے کام کریں تقریباً نصف گھنٹہ تفصیلی خطاب فرمایا ۔

خطاب کے دوران جمعیت علماء اسلام کے قائد مولانا فضل الرحمٰن کی اسٹیج پر تشریف آوری ہوئی ۔ پورے مجمع نے نعروں کی گونج میں اپنے قائد کا استقبال کیا ۔ مولانا اللہ وسایا کے خطاب کے بعد مفتی جمیل خان نے جمعیت علماء اسلام کے قائد مولانا فضل الرحمٰن کو خطاب کی اس انداز میں دعوت دی ۔ اب آپ کے سامنے تشریف لاتے ہیں قائد ابن قائد جانشین مفکر اسلام مفتی محمود قائد جمعیت علماء اسلام مولانا فضل الرحمٰن ۔ میں ان سے درخواست کروں گا کہ وہ عقیدہ ختم نبوت کے موضوع پر آپ کے سامنے اظہار خیال کریں ۔ تشریف لائیں قائد ابن قائد مولانا فضل الرحمٰن ۔

صفحہ ۴۴۱

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۶ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

مولانا فضل الرحمن کے تشریف لاتے ہی مجمع پر سکون چھا گیا۔ خطبہ مسنونہ کے بعد تقریباً پینتیس منٹ مفصل اور مدلل خطاب فرمایا۔ دوران تقریر کئی مرتبہ نعروں سے آپ کی تقریر کا خیر مقدم کیا گیا۔ مولانا فضل الرحمن کی تقریر دلائل اور موضوع دونوں اعتبار سے بہت ہی بہترین تقریر تھی۔ آپ نے عقیدہ ختم نبوت کی وضاحت فرمائی۔ قادیانیت کے بارے میں واضح کیا کہ اس فتنہ کی حیثیت کیا ہے۔ اس فتنہ کے امت پر کیا اثرات مرتب ہوئے۔ اس فتنہ سے متعلق افراد کا کلیدی آسامیوں پر فائز ہونا ملک و ملت کے لئے کس قدر نقصان دہ ہے۔ حضرت لدھیانوی صاحب کے بعد مولانا فضل الرحمن کی تقریر کو کانفرنس کی جان اور مسئلہ کا محور قرار دیا گیا (حضرت مولانا اللہ وسایا، حضرت مولانا فضل الرحمن، حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی، حضرت مولانا سید عبدالمجید ندیم شاہ کی تقاریر علیحدہ شائع کی جائیں گی)۔

مولانا فضل الرحمن کے بعد جمعیت علماء پاکستان کے رہنما اور مولانا شاہ احمد نورانی کے نمائندے شاہ فرید الحق کو خطاب کی دعوت دی گئی۔ آپ نے فرمایا۔ عقیدہ ختم نبوت مسلمانوں کا بنیادی عقیدہ ہے اور اس پر اتنے دلائل پیش کئے جاچکے ہیں کہ اب اس پر کہنے کی گنجائش نہیں۔ مسلمان وہی ہو سکتا ہے جو نبی آخر الزمان ﷺ کو مانتا ہو۔ حضور ﷺ کے مقابلے میں جھوٹے دعوے باز اور عیار شخص کو منصب نبوت پر بٹھانا کفر اور نفاق کے علاوہ اور کیا ہے۔ آج انسانی حقوق کے حوالے سے ہمیں کہا جاتا ہے کہ ہم قادیانیوں کو مسلمان کہلانے سے کیوں روکتے ہیں۔ ایک شخص خود کو مسلمان کہتا ہے اور آپ اس کو زبردستی کافر بناتے ہیں بات یہ نہیں، مسلمانوں کے بھی کچھ حقوق ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے منافقین کو کافر کہا۔ ان کے ایمان کو جھوٹ قرار دیا۔ ہم کسی صورت میں قادیانیوں کو مسلمانوں کی پیٹھ میں خنجر گھونپنے کی اجازت نہیں دیں گے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت مسلمانوں کی طرف سے یہ فریضہ ادا کر رہی ہے ہم سب کو اس سے مکمل تعاون کرنا چاہئے۔ ہمارے درمیان معمولی اختلافات ہو سکتے ہیں لیکن عقیدہ ختم نبوت کے سلسلے میں ہم اس مسئلے میں سب متفق ہیں اور ایک پلیٹ فارم سے جدوجہد جاری رکھیں گے۔

اس کے بعد قائد جماعت غرباء اہل حدیث کو دعوت خطاب دی گئی آپ نے قرآنی آیات اور احادیث نبویہ کی روشنی میں تفصیل سے عقیدہ ختم نبوت اور ختم النبیین کی وضاحت فرمائی۔ مولانا عبدالرحمن سلفی کے بعد اسٹیج سیکرٹری کی طرف سے مجلس تحفظ ختم نبوت کے نائب امیر کو اس انداز میں تقریر کی دعوت دی گئی۔

اب میں دعوت خطاب دے رہا ہوں تحفہ قادیانیت کے مؤلف محدث العصر عاشق رسول حضرت علامہ سید محمد یوسف بنوری کے ہم نام اور ہم کام حکیم العصر مرشد العلماء حضرت اقدس محمد یوسف لدھیانوی کو کہ وہ تشریف لائیں۔ حضرت اقدس مولانا محمد یوسف لدھیانوی کی تشریف آوری پر پورا مجمع ہمہ تن گوش اور حضرت کے روحانی فیض کی طرف متوجہ ہو کر پرسکون بیٹھ گیا۔ حضرت اقدس نے دس منٹ مختصر تقریر فرمائی جس میں مسئلہ کا ماحاصل مکمل بیان فرما دیا۔

حضرت اقدس مولانا لدھیانوی صاحب کے بعد خطیب اسلام سفیر ختم نبوت مجلس تحفظ حقوق اہل سنت کے قائد مولانا عبدالمجید ندیم شاہ نے خوبصورت الفاظ، مسحور کن تلاوت کلام پاک، پر جوش تقریر کے ذریعہ جاں نثاران ختم نبوت کے سامنے تفصیل سے مسئلہ ختم نبوت اور قادیانیوں کی سرگرمیوں پر روشنی ڈالی۔

آخر میں شیخ المشائخ خواجہ خواجگان حضرت مولانا خواجہ خان محمد صاحب کی دعا پر ختم نبوت کانفرنس بحسن و خوبی اختتام کو پہنچی اور جاں نثاران ختم نبوت نہایت پرامن طریقے سے اپنے اپنے گھروں کو روانہ ہوگئے۔ کانفرنس کے بارے میں عام تاثر یہ تھا کہ علماء کرام اور جاں نثاران ختم نبوت کا اتنا بڑا مجمع گزشتہ تئیس سالوں میں کراچی کی تاریخ میں نظروں سے نہیں گذرا۔ عام مسلمانوں نے جس محنت اور

صفحہ ۴۳۲

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۶ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

اخلاص سے کانفرنس میں شرکت کی اس کا بدلہ اللہ تعالیٰ عطا فرمائیں گے۔ کانفرنس میں کئی قراردادیں منظور کرائی گئیں۔ اللہ تعالیٰ کانفرنس میں تعاون کرنے والے ہر فرد کو اپنی طرف سے جزائے خیر عطا فرمائے اور نبی کریم ﷺ کی شفاعت نصیب فرمائے۔ (آمین)

(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی مؤرخہ ۱۵ تا ۲۱ / نومبر ۱۹۹۶ء ص ۷ تا ۹)

ختم نبوت کانفرنس کوئٹہ

عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کوئٹہ کے تحت ۲۷ / اکتوبر ۱۹۹۶ء کو ختم نبوت کانفرنس کا انعقاد کا فیصلہ کیا گیا۔ اس سلسلے میں مقامی علماء کرام کے علاوہ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے نائب امیر مرکزیہ حکیم العصر حضرت اقدس مولانا محمد یوسف لدھیانوی زید مجدہم مؤلف تحفہ قادیانیت، آپ کے مسائل اور ان کا حل، فاتح ربوہ شاہین ختم نبوت حضرت مولانا اللہ وسایا مؤلف تحریک ختم نبوت ۵۳ء، تحریک ختم نبوت ۷۴ء کو بھی مدعو کیا گیا تھا۔

پروگرام کے مطابق شاہین ختم نبوت حضرت مولانا اللہ وسایا صاحب کوچ کے ذریعہ صبح کوئٹہ پہنچے۔ حضرت نائب امیر مرکزیہ حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی صاحب دس بجے بذریعہ ہوائی جہاز کوئٹہ ایئر پورٹ پہنچے۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کوئٹہ اور جمعیت علماء اسلام کے رہنماؤں نے پر جوش خیر مقدم کیا۔ روزنامہ جنگ کے چیف رپورٹر جناب فیاض صاحب عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مبلغ مولانا محمد علی صدیقی، مرکزی جامع مسجد کے خطیب مولانا انوار الحق حقانی، مدرسہ تجوید القرآن کے مہتمم قاری مہر اللہ صاحب، جامع مسجد طوبیٰ کے خطیب قاری محمد حنیف صاحب، سنہری مسجد جی. پی. او کے خطیب مفتی عبدالسلام صاحب، مولانا عبداللہ منیر صاحب، محمد اسماعیل ماشکیل، مولانا محمد حسن صاحب، مولانا عبدالواحد صاحب خطیب قندھاری جامع مسجد، حاجی سید شاہ محمد آغا، طارق محمود بھٹی، حاجی تاج محمد فیروز، حاجی نسیم خان، حاجی محمد عبداللہ مینگل، حاجی نعمت اللہ خان، چوہدری محمد طفیل احرار، خلیل الرحمٰن صاحب، حافظ محمد انور مندوخیل، مولانا عبدالرحیم رحیمی، حاجی سیف اللہ آغا، حاجی سیف اللہ وڑائچ، حافظ عبداللہ خطیب جامع مسجد سانڈک استقبال کرنے والوں میں قابل ذکر افراد تھے۔

ایئر پورٹ سے مولانا قاری انوار الحق حقانی کی زیر نگرانی مسجد تقویٰ و مدرسہ انوار القرآن کی تعمیر کے آغاز کے سلسلے میں سنگ بنیاد رکھنے کے لئے تشریف لے گئے وہاں سے دفتر ختم نبوت گاڑیوں کے جلوس میں پہنچے۔ دفتر میں علماء کرام وغیرہ موجود تھے۔ ان سے گفتگو کی جناب فیاض صاحب نے مفتی عبدالسلام کو پیش کیا کہ ان کو نصیحت کریں کہ مجلس تحفظ ختم نبوت میں فعال کردار ادا کریں۔ اس پر حضرت اقدس مولانا لدھیانوی صاحب نے فرمایا۔ میں حج کی سعادت کے لئے جب گیا تو مدینہ منورہ حاضری کی سعادت حاصل ہوئی وہاں حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانوی کے ایک مرید پروفیسر حشمت علی صاحب سے ملاقات ہوئی۔ انہوں نے بتایا کہ میں جب پہلی مرتبہ حضرت حکیم الامت کی خدمت عالیہ میں حاضر ہوا اور واپسی پر میں نے حضرت تھانوی سے رخصتی مصافحہ کے بعد نصیحت کی درخواست کی تو حضرت تھانویؒ نے فرمایا بھائی نصیحت تو اس لئے کی جاتی ہے کہ غافل انسان سے غفلت دور ہو آپ تو ماشاء اللہ غافل نہیں آپ کو نصیحت کی ضرورت نہیں۔ علماء کرام الحمد للہ دین کے کام میں مشغول ہیں اور ہمہ وقت ان کی کوشش ہے کہ اللہ تعالیٰ کے دین کی اشاعت ہو، اللہ تعالیٰ کے نظام کی حکمرانی ہو، ایک کام عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ کا بھی ہے اپنے دیگر کاموں میں علماء کرام کو اس کام کی طرف بھی توجہ دینی چاہئے۔

صفحہ ۴۳۳

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۶ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

دفتر ختم نبوت میں پونے بارہ بجے تک مختلف علماء کرام سے ملاقاتوں کا سلسلہ جاری رہا بعدازاں دورہ کوئٹہ کے داعی اور میزبان جناب فیاض صاحب کے گھر تشریف لے گئے کیونکہ ربوہ ختم نبوت کانفرنس کے انعقاد کے موقع پر فیاض صاحب نے کوئٹہ میں ختم نبوت کانفرنس کے انعقاد کے بارے میں بتایا اور حضرت اقدس سے ۲۵ اکتوبر کا وقت مانگا تو بتایا گیا کہ ۲۵؍ اکتوبر کو کراچی میں ختم نبوت کانفرنس ہے تو فیاض صاحب نے حضرت اقدس کی تشریف آوری کو یقینی بنانے کے لئے تاریخ تبدیل کی اور ۲۷ اکتوبر کو کانفرنس طے کی۔ اور جب حضرت اقدس مولانا لدھیانوی صاحب نے دعوت قبول کر لی تو انہوں نے میزبانی کا شرف حاصل کرنے کے لئے حضرت سے درخواست کر دی کہ حضرت کا قیام فیاض صاحب کے گھر ہوگا۔ فیاض صاحب نے حضرت اقدس کے اعزاز میں پر تکلف ظہرانے کا اہتمام فرمایا تھا جس میں دیگر علماء کرام کو بھی مدعو کیا تھا۔ کھانا بہت زیادہ پر تکلف تھا۔ حضرت نے فرمایا کہ فیاض صاحب آپ نے تو بہت زیادہ اہتمام کر دیا۔ فیاض صاحب نے عرض کیا، حضرت عرصہ دراز کی خواہش کے بعد تو آپ کی تشریف آوری کی آرزو پوری ہوئی ہے۔ کھانے کے دوران بھی علماء کرام حضرت سے مسائل پوچھتے رہے۔ کھانے کے بعد کچھ دیر آرام فرمایا۔

۴ بجے دفتر ختم نبوت میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کوئٹہ کی طرف سے استقبالیہ کا اہتمام تھا۔ دفتر علماء کرام سے کھچا کھچ بھرا ہوا تھا۔ مولانا محمد علی صدیقی کے مختصر تعارف کے بعد حضرت کو خطاب کی دعوت دی۔ حضرت نے مختصر خطاب میں عقیدہ ختم نبوت پر روشنی ڈالتے ہوئے فرمایا کہ بادشاہ کے بہت سارے اہلکار ہوتے ہیں۔ وزیر اعظم سے لے کر سپاہی تک اور سپاہیوں میں بھی پھر ذاتی محافظین اور خصوصی خدام ہوتے ہیں۔ اب عہدے میں تو وزیر اعظم، سپہ سالار، افسر بالا، حفاظتی عملے کا سربراہ کا درجہ بہت بڑا ہوتا ہے ان کی بڑی بڑی تنخواہیں ہوتی ہیں لیکن جو تعلق اور قرب بادشاہ کے ذاتی عملے اور محافظین کو ہوتا ہے وہ بڑے بڑے افسران اور عہدیداران کو حاصل نہیں ہوتا۔ اگرچہ اس کی تنخواہ بھی بہت کم ہوتی ہے اور اس کا عہدہ بھی بہت چھوٹا ہوتا ہے۔ اختیارات نہ ہونے کے برابر ہوتے ہیں۔ لیکن بادشاہ سے قربت کے لحاظ سے یہ بہت زیادہ قریب ہوتا ہے۔ مجلس تحفظ ختم نبوت کے کارکنوں کی مثال ان ذاتی محافظین کی ہے۔ یہ نبی آخر الزمان ﷺ کے ذاتی محافظ ہیں۔ عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ کے کام کی وجہ سے ان کی حیثیت حضور ﷺ کے ذاتی ملازم کی ہوگئی ہے اس لئے انشاء اللہ ان رضاکاروں کا حضور ﷺ سے خصوصی تقرب اور نسبت حاصل ہے اسی بنا پر امام وقت محدث العصر حضرت مولانا سید محمد انور شاہ کشمیریؒ نے فرمایا تھا۔ جو عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ کے لئے کام کرے گا اس کو حضور ﷺ کی شفاعت نصیب ہوگی۔ آپ علماء کرام ہیں، بڑے بڑے مراتب پر فائز ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو وارث انبیاء کرام کے منصب پر فائز فرمایا ہے، آپ کو نصیحت کرنے نہیں آپ کی زیارت کے لئے پہلی مرتبہ آپ کے شہر کوئٹہ حاضری ہوئی ہے صرف اس درخواست کے ساتھ کہ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت آپ کے اکابر علماء کرام کی امانت ہے۔ محدث العصر حضرت علامہ کشمیریؒ کے تربیت یافتہ اس کے بانی اور امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ اس کے پہلے امیر قرار پائے۔ تمام علمائے کرام نے ان کے ہاتھ پر حضرت کشمیریؒ کے حکم سے بیعت فرمائی۔ حضرت مولانا قاضی احسان احمد شجاع آبادیؒ ، حضرت مولانا محمد علی جالندھریؒ ، حضرت مولانا محمد حیاتؒ ، ہمارے شیخ عاشق رسول حضرت مولانا سید محمد یوسف بنوریؒ ، مولانا محمد شریف جالندھریؒ ، مفتی احمد الرحمٰنؒ ، مفکر اسلام حضرت مولانا مفتی محمودؒ نے اس امانت کو بہت اچھے انداز سے سنبھالے رکھا اب ہمارے حضرت شیخ المشائخ مولانا خواجہ خان محمد صاحب اس میں ہماری رہنمائی اور امارت فرما رہے ہیں ہم نے اور آپ نے ان کی قیادت میں اس امانت کا حق ادا کرنا ہے۔ اس لئے آپ تمام علماء کرام وقت نکال کر ختم نبوت کے تحفظ کے لئے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے ساتھ مل کر کام کریں اور روزانہ کچھ وقت نکال کر اس مشن کے لئے کام کریں استقبالیہ کے بعد مجلس تحفظ ختم نبوت کے پرانے رفیق جناب طفیل احرار کی عیادت کی۔

صفحہ 434

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۶ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

رات کو عشائیہ کا اہتمام مجلس کے پرانے ساتھی حاجی تاج محمد صاحب نے کیا۔ کافی علماء کرام بھی مدعو تھے۔ کھانے کے دوران مختلف دینی مسائل پر گفتگو ہوئی ایک سوال کے جواب میں حضرت نے فرمایا کہ مشکوۃ شریف کی حدیث منقول ہے کہ سب سے زیادہ سنی جانے والی مقبول دعا رات کے نصف حصے اور فرائض کے بعد ہے اس لئے فرض نمازوں کے بعد ہمارے اسلاف علماء کرام دعا فرمایا کرتے تھے۔

عشائیہ کے بعد جامع مسجد طوبیٰ میں ختم نبوت کانفرنس کا اہتمام تھا۔ مسجد علماء کرام اور جاں نثاران ختم نبوت رضا کاران امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاری جمع تھے۔ کانفرنس کی صدارت حضرت مولانا منیر الدین صاحب نے فرمائی۔ بعد ازاں ایک گھنٹہ سے زائد مولانا اللہ وسایا صاحب نے تفصیلی خطاب فرماتے ہوئے کہا کہ قادیانی صرف دائرہ اسلام سے خارج ہی نہیں بلکہ اسلام کے باغی اور دشمن بھی ہیں اور ایک ارب بیس کروڑ سے زائد مسلمانوں کو کافر ہی نہیں سور اور کنجریوں کی اولاد کہتے ہیں اور جہنمی تصور کرتے ہیں ان کی کوشش ہے کہ مسلمانوں کا نام ونشان دنیا سے مٹایا جائے۔ حضور ﷺ جن کے بارے میں رب کائنات نے فرمایا ، ہم آپ کا نام دنیا میں بلند کریں گے۔ قادیانی ان قرآنی آیات کو مٹانے کے درپے ہیں کہ اسلام کا چراغ گل کر دیں۔ لیکن اللہ تعالیٰ اسلام کے چراغ کو زیادہ روشن رکھے گا اگرچہ کفار پسند نہ کریں۔ اس لئے مسلمانوں کو قادیانیوں کے ساتھ مروت اور اخلاق کا معاملہ نہیں کرنا چاہئے بلکہ دشمنوں والا معاملہ کرنا چاہئے محدث العصر حضرت انور شاہ کشمیری نے مرزا غلام احمد قادیانی کا نام لیتے تو ملعون ، دجال ، اور کذاب بہت زور اور غصہ سے فرماتے۔ بعض لوگوں نے سوال کیا کہ حضرت آپ اتنے حلیم اور نازک مزاج ہیں۔ کسی فرد سے غصہ سے گفتگو نہیں فرماتے لیکن جب مرزا غلام احمد قادیانی کا نام لیتے ہیں تو ملعون اور کذاب اور دجال کہہ کر غصہ فرماتے ہیں۔ آپ جیسے بااخلاق اور باکردار عالم دین سے یہ زیب نہیں دیتا۔ حضرت کشمیری نے فرمایا کہ جس طرح نبی اکرم ﷺ کی محبت وعقیدت عین ایمان ہے اسی طرح نبی اکرم ﷺ کے دشمنوں سے بغض کا اظہار بھی عین ایمان ہے۔

مولانا اللہ وسایا صاحب نے تمام حاضرین سے ہاتھ اٹھوا کر وعدہ لیا کہ نبی اکرم ﷺ سے محبت اور نبی اکرم ﷺ کے دشمنوں سے بغض رکھیں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ کتنے افسوس کی بات ہے کہ ۱۹۷۴ء کی آئینی ترمیم کے بعد ذوالفقار علی بھٹو نے ربوہ کو کھلا شہر قرار دیا اور جب اسکولوں کو قومی تحویل میں لیا تو قادیانیوں کے اسکول بھی قومی تحویل میں لے لئے گئے اس کی وجہ سے قادیانیوں کا تسلط ربوہ سے ختم ہوا۔ تبلیغی سرگرمیوں کے مراکز مسلمانوں کے قبضے میں آئے۔ آج ان تعلیمی اداروں میں چھ سو سے زائد مسلمان طلباء تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ ان تعلیمی اداروں میں مسلمانوں نے مسجدیں قائم کیں۔ لائبریریاں بنائیں۔ یونین طلباء کی ہے، سابقہ عمارتوں کی جگہ نئی عمارتیں بنا دی ہیں۔ اب اس باپ کی بیٹی جس باپ کے مرنے پر قادیانیوں نے جشن منایا۔ مٹھائیاں تقسیم کیں اور کہا۔ ہمارا دشمن کتے کی موت مر گیا۔ آج اس کی بیٹی اپنے باپ کے دشمنوں کو تعلیمی ادارے واپس کر رہی ہے اور بی بی اگر تم رسول اللہ ﷺ کی نہیں بنتی تو کم از کم اپنے باپ کی تو بن اور تعلیمی ادارے واپس نہ کر اگر تو نے تعلیمی ادارے واپس کئے تو سینکڑوں مسلمان طلباء تعلیم سے محروم ہو جائیں گے۔ ان کا تعلیمی سلسلہ منقطع ہو جائے گا، اگر انہی اداروں میں پڑھتے رہے تو قادیانی ان کے ایمان پر ڈاکہ ڈالیں گے ان کو قادیانی بنانے کی کوشش کریں گے۔ مساجد قادیانیوں کے قبضے میں چلی جائیں گی ، لائبریریوں میں اسلامی کتابوں کی توہین کی جائے گی۔ تعلیمی ادارے قادیانیوں کے مشنری ادارے بن جائیں گے۔ مسلمان اساتذہ کا مستقبل غیر محفوظ ہو جائے گا۔ کیا آپ حضرات یہ برداشت کر سکتے ہیں۔ تمام سامعین نے ہاتھ بلند کر کے وعدہ کیا کہ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت اس سلسلے میں جو احتجاجی پروگرام ترتیب دے گی ہم اس میں بھر پور شرکت کریں گے۔

صفحہ ۴۳۵

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۶ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

مولانا اللہ وسایا صاحب کے بعد مفتی گل محمد خان نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ دنیا میں اللہ تعالیٰ نے انسانوں پر بہت زیادہ انعامات فرمائے ان میں سب سے بڑا انعام نبی آخر الزمان ﷺ کی ذات اقدس ہے امت کو تمام مرتبہ اور شرف آپ ﷺ کی ذات اقدس کی بناء پر ہے۔ اس شرف اور منزلت کو مٹانے کے لئے مسیلمہ کذاب سے لے کر مرزا غلام احمد قادیانی تک سبھی نے کوششیں کیں امت نے ہر کوشش کو ناکام بنا دیا اور اپنی وابستگی حضرت محمد ﷺ سے باقی رکھی۔ مرزا غلام احمد قادیانی کے خلاف حضرت انور شاہ کشمیری نے جو قافلہ تیار کیا تھا وہ قافلہ امیر شریعت عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے نام سے رواں دواں ہے۔ قادیانی اس وقت ہر حربہ اختیار کر کے مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ آج یہ آگ دوسروں کے گھروں کو جلا رہی ہے کل یہ آگ آپ کے اور میرے گھر کو بھی جلا سکتی ہے اس لئے نگاہ رکھئے اور قادیانی تبلیغی سرگرمیوں کا سد باب کیجئے تاکہ قیامت کے دن نبی اکرم ﷺ کی شفاعت نصیب ہو۔

حضرت اقدس حکیم العصر مولانا محمد یوسف لدھیانوی زید مجدہم جب خطاب کے لئے تشریف لائے تو تمام مجمع نہایت سکون اور اطمینان قلب کے ساتھ آپ کی طرف متوجہ ہوا، کوئٹہ کے کسی عام مجمع سے حضرت اقدس کا پہلا خطاب تھا۔ حضرت نے تقریباً ۲ ۱/۲ گھنٹے مفصل خطاب فرمایا۔ اور وقت کی تنگی کی وجہ سے آپ کے خطاب کی تشنگی سامعین نے محسوس کی لیکن رات زیادہ ہونے کی وجہ سے آپ نے تقریر ختم کر دی۔ (یہ خطاب الگ شائع کیا جائے گا)

آخر میں صدر جلسہ نے دعا فرمائی ۲۸ اکتوبر بروز پیر ناشتہ فیاض صاحب کے گھر کیا۔ پہلا پروگرام مدرسہ خیر المدارس میں طلباء سے خطاب تھا۔ حضرت نے طلباء کو مختصر نصیحت کرتے ہوئے فرمایا کہ علوم دین نبی اکرم ﷺ کی امانت ہے اور علماء کرام اس کے امین ہیں اگر ہم اس امانت کو صحیح انداز میں امت کے سامنے پیش کریں گے تو قیامت کے دن سرخرو ہوں گے۔ انگریزی تعلیم اگر صرف زبان سیکھنے کی حد تک حاصل کی جائے اور اس کی وجہ سے علوم دین کی تحقیر اور اپنی بالا دستی نہ ہو تو اس کے حاصل کرنے میں کوئی حرج نہیں بلکہ اس کو ہتھیار سمجھ کر سیکھنا بہتر ہے۔

مدرسہ خیر المدارس کے بعد کوئٹہ کے قدیم جامعہ مطلع العلوم حضرت مولانا عبدالواحد صاحب کی تعزیت کے لئے گئے۔ ان کے صاحبزادے مولانا رشید احمد سے تعزیت کرتے ہوئے کہا کہ حضرت مولانا عرض محمد صاحب اور حضرت مولانا عبدالواحد صاحب بہت بزرگ عالم دین تھے۔ حضرت مولانا عرض محمد صاحب سے میرا غائبانہ تعارف تھا اور حضرت مدنی کے اس قصے کے حوالے سے مجھے ان سے غائبانہ محبت تھی۔ کہ ایک مرتبہ وہ حضرت مدنی کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا ، حضرت ساتھی میرا مذاق اڑاتے ہیں کہ عرض محمد کیا نام ہے۔ حضرت مدنی نے بے ساختہ فرمایا، کیوں مذاق اڑاتے ہیں آپ کا نام تو بخاری شریف سے ثابت ہے

فان ابی ووالدتی وعرضی لعرض محمد منكم وقاء

ایک مرتبہ حضرت مولانا عرض محمد ہمارے شیخ بنوری سے ملنے کے لئے تشریف لائے ۔ مجھے اطلاع ملی تو میں ان سے ملنے کے لئے اٹھنے لگا کہ اچانک وہ میرے کمرے میں تشریف لے آئے۔ میرے کمرے میں ایک چٹائی بچھی ہوئی تھی سادگی کے ساتھ بیٹھ گئے اور فرمانے لگے کہ میں آپ کی ہر تحریر پڑھتا ہوں اللہ تعالیٰ آپ کی تحریر میں برکت عطا فرمائے ۔ پھر فرمایا کہ میں نے ایک فہرست بنائی ہوئی ہے جس میں ان افراد کے اسمائے گرامی ہیں جن کے لئے میں روزانہ دعا کرتا ہوں ان میں آپ کا نام بھی شامل ہے۔ حضرت کی یہ بات سن کر ان کے ساتھ میری عقیدت میں اضافہ ہوا کہ دنیا میں کیسے کیسے نیک بزرگ ہیں جو ہم جیسے چھوٹے اور گناہ گار لوگوں کو اپنی دعاؤں میں شامل رکھتے

صفحہ ۴۳۶

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۶ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

ہیں اور میں سمجھتا ہوں کہ ہمارے کام کی یہ برکت ان اکابر علماء کرام کی دعاؤں کا ثمرہ ہے میں مدرسہ دیکھ کر بہت خوش ہوا اس میں سے حضرت مولانا عرض محمد صاحب حضرت مولانا عبدالواحد کی روحانیت کے اثرات محسوس ہوتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان حضرات کے درجات بلند فرمائے اور آپ حضرات کو ان کے نقش قدم پر چلائے۔ مجھے آج معلوم ہوا ہے سینیٹر حافظ حسین احمد صاحب، حضرت مولانا عرض محمد صاحب کے صاحبزادے ہیں۔

اگلا پروگرام مدرسہ تجوید القرآن میں تھا جس میں علماء کرام اور طلباء سے خطاب کرنا تھا۔ ایک گھنٹہ آپ نے تفصیلی خطاب فرمایا۔ اس کے بعد تمام علماء کرام کے اعزاز میں ظہرانہ کا اہتمام تھا۔ بعد ازاں ظہر کی نماز مفتی عبدالسلام اور مولانا غلام سرور صاحب کی مسجد میں ادا کی اور کچھ ساتھیوں نے حضرت اقدس سے بیعت کی۔ آخری پروگرام مولانا محمد حسن صاحب خطیب جامع مسجد واپڈا کے یہاں تھا وہاں مختصر ساتھیوں سے ملاقات ہوئی اور اس طرح کوئٹہ کا یہ روحانی سفر خیر و برکت کے ساتھ اختتام پذیر ہوا۔ (مفتی محمد جمیل خان)

(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی مؤرخہ ۲۲ تا ۲۹؍ نومبر ۱۹۹۶ء ص ۲۳ تا ۲۶)

ختم نبوت کانفرنس حویلی لکھا

عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام ۲۹؍ اکتوبر ۱۹۹۶ء کو جامع مسجد بلقیسیہ میں عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی جس کی صدارت حضرت مولانا سید مسعود الحسن بخاری نے کی۔ کانفرنس سے مولانا عبدالرزاق مجاہد، مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی، حاجی اللہ دتہ مجاہد، مولانا عبدالعزیز نوری، مولانا اللہ وسایا، مولانا سید مسعود الحسن بخاری نے خطاب کیا۔

حاجی اللہ دتہ مجاہد نے ملک عزیز میں سرکاری سرپرستی میں اہانت رسول ﷺ کے واقعات پر تفصیل سے روشنی ڈالی، اور تشویش کا اظہار کرتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا کہ تعزیرات پاکستان کی دفعہ ۲۹۵ سی پر عمل درآمد کو موثر بنایا جائے۔ اور گستاخان رسول ﷺ کو فی الفور کیفر کردار تک پہنچایا جائے۔

بریلوی مکتب فکر کے مولانا عبدالعزیز نوری نے کہا کہ قادیانی ہر سال (سندھوک داس) نامی گاؤں میں نومبر میں اجتماع منعقد کرتے ہیں۔ اس سال انہیں اجتماع نہیں کرنے دیا جائے گا۔ بصورت دیگر مسلمانان حویلی ان کی اینٹ سے اینٹ بجا دیں گے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت لاہور ڈویژن کے رہنما مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی نے اپنے خطاب میں قرآن وسنت اور اجماع امت کی روشنی میں مسئلہ ختم نبوت کی وضاحت کی اور کہا کہ چودہ سو سال میں امت نے کسی جھوٹے مدعی نبوت کو برداشت نہیں کیا۔ جب بھی کسی نے نبوت کا دعویٰ کیا۔ اس کو پیوند خاک کر دیا گیا۔

ختم نبوت کے مبلغ مولانا اللہ وسایا مدظلہ نے قرآن وسنت عقلی ونقلی دلائل سے مہدی ومسیح کی آمد اور ان کی علامات پر تفصیل سے روشنی ڈالتے ہوئے فرمایا کہ مہدی ومسیح دو علیحدہ علیحدہ شخصیات ہیں۔ جب کہ مرزائی دونوں ایک ہی شخص کو قرار دیتے ہیں کہ وہ مرزا قادیانی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مہدی اور مسیح کی علامات میں سے ایک علامت بھی مرزا قادیانی میں نہیں پائی جاتی۔ لہٰذا وہ مہدی اور مسیح کے دعویٰ میں جھوٹا ہے۔

(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی مؤرخہ ۶ تا ۱۲؍ دسمبر ۱۹۹۶ء ص ۲۳ تا ۲۴)

ختم نبوت کانفرنس چیچہ وطنی

گزشتہ سالوں کی طرح اس مرتبہ بھی ۳؍ نومبر ۱۹۹۶ء کو بعد نماز عشاء چیچہ وطنی کی جامع مسجد بلاک نمبر ۱۲ میں بعد نماز عشاء تیسری

صفحہ 437

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۶ء ۴۳۷ ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

سالانہ ختم نبوت کانفرنس قبلہ امیر مرکزیہ حضرت مولانا خواجہ خواجگان خان محمد مدظلہ کی زیر سرپرستی منعقد ہوئی۔ ضلع ساہیوال کے علاوہ ضلع وہاڑی، ضلع ٹوبہ ٹیک سنگھ کے نواحی علاقوں میں سے کثیر تعداد میں فدائیان ختم نبوت شریک ہوئے۔ کانفرنس کی کارروائی کا باقاعدہ آغاز قاری محمد رمضان صاحب کی تلاوت کلام پاک سے ہوا۔ ہدیہ نعت پیش کرنے کے لئے عبدالباری برادران مدعو تھے۔ علاقہ ساہیوال کے معروف شاعر محمد شریف صاحب نے ولولہ انگیز نظم ختم نبوت کے عنوان پر پیش کی۔ مقررین میں حضرت مولانا افتخار احمد حقانی آف کبیر والا، مولانا عبدالرؤف بوریوالہ، حضرت مولانا عزیر الرحمن جالندھری ناظم اعلیٰ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت، حضرت مولانا عبدالغفور حقانی صدر مجلس علماء اہل سنت، حضرت مولانا عبدالکریم ندیم، ناظم اعلیٰ مجلس علماء اہل سنت ان حضرات نے بالترتیب خطاب فرمایا۔

مقررین نے ماشاء اللہ اپنے اپنے مخصوص انداز میں عقیدہ ختم نبوت مرزائیوں کی سرگرمیوں اور ناپاک سازشوں اور سابقہ حکومت کی (جو کہ اس رات حکومت کی آخری رات تھی) مرزائیوں کی پشت پناہی کے متعلق بالتفصیل عوام الناس کو روشناس کرایا۔

الحمد للہ ! یہ اجلاس رات سوا ایک قبلہ حضرت امیر مرکزیہ صاحب مدظلہ کی رقت آمیز دعاؤں کے ساتھ اختتام پذیر ہوا۔

۴/نومبر کو بعد نماز مغرب مقامی مجلس تحفظ ختم نبوت کی دعوت پر سید رضاء الدین صاحب کی رہائش گاہ پر معززین شہر کو دعوت نامے جاری کر کے مدعو کیا گیا تھا۔ ماشاء اللہ توقع سے زیادہ بھر پور حاضری ہوئی۔ مولانا اللہ وسایا نے حاضرین کو ختم نبوت کے عنوان سے خطاب فرمایا بعد میں تمام حاضرین کو پر تکلف کھانا کھلایا گیا۔

ضلع جھنگ میں ختم نبوت کے اجتماعات

عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی امیر شیخ المشائخ حضرت مولانا خواجہ خواجگان خان محمد زید مجدہم کی نگرانی میں حضرت مولانا اللہ وسایا صاحب، حضرت مولانا خدا بخش صاحب، مولانا غلام حسین صاحب، اور حضرت مولانا غلام مصطفیٰ صاحب نے ضلع جھنگ کے مختلف شہروں میں بڑے اجتماعات سے خطاب فرمائے۔ حضرت مولانا خدا بخش، حضرت مولانا غلام حسین اور حضرت مولانا غلام مصطفیٰ نے جھنگ سٹی کی مختلف مساجد جن میں جامع مسجد کورٹ روڈ، جامع مسجد العثمانیہ، جامع مسجد مومن پورہ، جامع مسجد ٹلیانوالی، جامع مسجد قاضیانوالی، قابل ذکر ہیں۔ ان اجتماعات سے عقیدہ ختم نبوت، سیرۃ النبی ﷺ، حیات مسیح جیسے موضوعات پر مفصل خطاب کئے۔

ختم نبوت کانفرنس کوٹ بہادر

۳۰/اکتوبر بروز بدھ موضع میر محمد اڈا کوٹ بہادر میں ایک عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی۔ جس میں علاقہ کے لوگوں نے کثیر تعداد میں شرکت کی، مولانا غلام حسین صاحب، مولانا غلام مصطفیٰ حضرت مولانا ظہور احمد سالک کے خطابات کے بعد فاتح ربوہ حضرت مولانا خدا بخش صاحب نے قادیانیت کے مکر و فریب سے لوگوں کو بخوبی آگاہ کیا اور آخر میں شاہین ختم نبوت حضرت مولانا اللہ وسایا صاحب ناظم تبلیغ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کا مفصل و مدلل خطاب پر یہ عظیم الشان کانفرنس اختتام پذیر ہوئی۔

ختم نبوت کانفرنس واصو آستانہ

۳۱/اکتوبر ۱۹۹۶ء میں بروز جمعرات واصو آستانہ میں ایک عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی جس میں کثیر تعداد میں لوگوں نے شرکت کی حضرت مولانا غلام مصطفیٰ نے قادیانیوں کے عقائد کے بارے میں مفصل بیان کیا۔ جب کہ حضرت مولانا خدا بخش صاحب

صفحہ ۴۳۸

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۶ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

مدظلہ، حضرت مولانا غلام حسین صاحب نے حیات مسیح پر مفصل اور مدلل خطاب فرمایا۔ حضرت مولانا خدا بخش صاحب کے خطاب پر دعا کے بعد کانفرنس کا اختتام ہوا۔ یاد رہے کہ ”واصو آستانہ ختم نبوت کانفرنس“ کا اہتمام جناب محترم ماسٹر محمد اقبال نے کیا۔

(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی مورخہ ۲۹/ نومبر تا ۵/ دسمبر ۱۹۹۶ء ص ۲۵، ۲۶)

وادی سون سکیسر کا تبلیغی دورہ

گزشتہ ہفتہ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی رہنما مولانا خدا بخش شجاع آبادی مدرسہ ختم نبوت جابہ سون سکیسر تشریف لائے ایک ہفتہ کے تبلیغی دورہ میں تلہ گنگ، جابہ، نوشہرہ، انگہ، کوڑڈھی، اوچھالی، کھوڑا، سوڈھی میں مختلف اجتماعات سے خطاب کیا۔

(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی مورخہ ۱۳ تا ۱۹/ دسمبر ۱۹۹۶ء ص ۲۳)

ختم نبوت کانفرنس جابہ

۸/ نومبر ۱۹۹۶ء پینتیسویں سالانہ کانفرنس منعقد ہوئی۔ جس میں مولانا اللہ وسایا اور مولانا خدا بخش شجاع آبادی نے خطاب کر کے صدر پاکستان سے مطالبہ کیا کہ ارتداد کی شرعی سزا نافذ کرے اور توہین رسالت کرنے والے بد بخت کو اسلام کے مطابق سزا دی جائے اور قادیانیوں کی ہر قسم کی سرگرمیوں کا نوٹس لیا جائے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے رہنماؤں نے مسئلہ ختم نبوت پر تفصیل سے روشنی ڈالی اس کے علاوہ مولانا ابراہیم صاحب، مولانا امام دین سوڈھی، قاضی احمد رضا ٹلی، نے بھی خطاب کیا نعت خواں حسین احمد انگوی نے بھی شرکت کی یاد رہے کہ حافظ محمد حیات مدرس جابہ نے کانفرنس کا اہتمام کیا تھا۔

(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی مورخہ ۲۰ تا ۲۶/ دسمبر ۱۹۹۶ء ص ۱۸)

ختم نبوت کانفرنس بدین

بدین ( نمائندہ خصوصی) عالمی مجلس کے زیر اہتمام یہ ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی۔ جس میں تحفظ ختم نبوت کے رہنماؤں نے خطاب کیا۔ حضرت علامہ مولانا احمد میاں حمادی نے مولانا عبد الغفور قاسمی، مولانا مفتی حفیظ الرحمن، مولانا محمد عیسیٰ سموں اور مولانا محمد نذر، مولانا محمد اسحاق ظفر، مولانا تقی محمد نے خطاب کیا۔

(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی مورخہ ۲۰ تا ۲۶/ دسمبر ۱۹۹۶ء ص ۱۸)

مجلس عمل تحفظ ختم نبوت سندھ کا اجلاس

عالمی ختم نبوت کراچی کی تحریک پر ۱۹/ نومبر ۱۹۹۶ء کو جناح مسجد صدر میں مولانا شاہ احمد نورانی کی صدارت میں تیس مذہبی جماعتوں کے نمائندوں نے ایک اجلاس میں شرکت کی اور سندھ مجلس عمل تحفظ ختم نبوت وجود میں لایا گیا۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے رہنماؤں نے صدر فاروق احمد خان لغاری کو نہ صرف متعدد ٹیلی گرام دیئے بلکہ مختلف علماء اور قائدین نے صدر سے ملاقاتیں کیں۔ کراچی میں گورنر سندھ کمال الدین اظفر سے ملاقاتیں کی گئیں، لیکن جب قادیانی وزیر کو برطرف کرنے میں سرد مہری کا مظاہرہ کیا گیا تو دفتر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت پرانی نمائش کراچی میں تمام مذہبی تنظیموں کے اجلاس بلائے گئے۔ بالآخر ۹/ دسمبر بروز پیر ریگل چوک پر احتجاجی مظاہرہ کرنے کا فیصلہ ہوا۔ اس مظاہرہ میں کراچی کے علماء حضرات کے علاوہ عوام الناس نے ہزاروں کی تعداد میں شرکت کی۔ شیخ المشائخ حضرت مولانا خواجہ خان محمد مدظلہ العالی نے بھی شرکت فرما کر اختتامی دعا فرمائی۔ بعد ازاں ڈیفنس کراچی میں آپ نے اپنے مرید کیپٹن خالد احمد صاحب

صفحہ ۴۳۹

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۶ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

کے ہاں قیام فرمایا اور مریدین، متوسلین اور عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے وفود نے سینکڑوں کی تعداد میں آنجناب سے ملاقاتیں کیں۔ آپ ۱۰؍دسمبر ۱۹۹۶ء کو کراچی سے بذریعہ ہوائی جہاز اسلام آباد تشریف لے گئے۔ فیصل آباد سے کراچی کے سفر میں مولانا اللہ وسایا ناظم تبلیغ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت اور صاحبزادہ حافظ محمد عابد صاحب اس سفر میں بھی امیر مرکزیہ مدظلہ کے رفیق سفر رہے۔

(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی مؤرخہ ۲۷؍دسمبر ۱۹۹۶ء تا ۲؍جنوری ۱۹۹۷ء ص۲۴، ۲۵)

شیخوپورہ میں ختم نبوت کانفرنس

عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ضلع شیخوپورہ کے زیر اہتمام ۲۸، ۲۹، ۳۰؍دسمبر ۱۹۹۶ء کو شیخوپورہ، شاہ کوٹ، سانگلہ ہل میں ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئیں۔ شیخوپورہ جامع مسجد عید گاہ مولانا عبداللطیف انور شاہ کوٹ کی صدارت میں ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی۔ جس میں مولانا اللہ وسایا، مولانا منظور احمد چنیوٹی، مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی نے خطاب کیا۔ جب کہ اسٹیج سیکرٹری کے فرائض مولانا عبدالہادی نے سرانجام دیئے کانفرنس رات گئے تک جاری رہی۔

علماء کرام نے ضلع شیخوپورہ کی انتظامیہ کی سانگلہ ہل میں قادیانیت نوازی پر شدید غم وغصہ کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا ضلعی انتظامیہ نے قادیانیوں کو کھلی چھٹی دے رکھی ہے۔ جب کہ چک نمبر ۴۵ مرڑ سانگلہ ہل میں دومرتبہ ختم نبوت کانفرنس کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کی اور ناکہ بندی کر کے علماء کرام کو کانفرنس جانے میں رکاوٹیں ڈال کر قادیانیوں کو خوش کیا گیا۔ علماء کرام نے کہا کہ اگر انتظامیہ مرزائیت نوازی سے باز نہ آئی تو ہائی کورٹ میں رٹ دائر کی جائے گی۔

نیز علماء کرام نے قادیانیوں کی ملک وملت کے خلاف ریشہ دوانیوں پر تفصیل سے روشنی ڈالی اور نگران حکومت کی قادیانیت نوازی، کنور ادریس قادیانی کو سندھ میں چھ وزارتیں سپرد کرنے، اسلام بھٹی، جاوید منیر قادیانی کو لاہور ہائی کورٹ کا جج بنانے اور مذکورہ بالا ججوں کا مسلمان کی حیثیت سے حلف اٹھانے کی پرزور مذمت کرتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا مذکورہ بالا قادیانیوں کو عہدوں سے برطرف کیا جائے اور قادیانیوں کی ملک وملت کے خلاف سازشوں پر کڑی نظر رکھی جائے۔

شاہ کوٹ میں ختم نبوت کانفرنس

شاہ کوٹ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام جامعہ اشرفیہ شاہ کوٹ میں ۲۹؍دسمبر ۱۹۹۶ء کو ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی۔ جس کے مہمان خصوصی یادگار احرار مولانا محمد احمد میاں علی ڈوگراں تھے۔ کانفرنس سے مولانا عبداللطیف انور، مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی، مولانا عبدالہادی، مولانا غلام مصطفیٰ خطیب ربوہ نے خطاب کیا۔ جبکہ اسٹیج سیکرٹری کے فرائض مولانا مفتی غلام مرتضیٰ نے سرانجام دیئے۔ اور انتظامات قاری سید احمد نے کئے۔ مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی نے مرزائیت کا پس منظر، مرزا قادیانی، کے دعاوی، علماء کرام کا تعاقب، مجلس احرار اور عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی مرزائیت کے تعاقب کے سلسلہ میں خدمات پر تفصیلی روشنی ڈالی۔

مولانا غلام مصطفیٰ نے کہا کہ ہم ربوہ میں قادیانی ظلم وستم کے خلاف سدسکندری ہیں۔ ہم نے بلا امتیاز ربوہ میں قادیانی آمریت کے ظلم وستم کا شکار قادیانی مظلومین کی بھرپور اعانت کی ہے اور آئندہ بھی مظلوموں کی امداد جاری رکھیں گے۔ انہوں نے کہا کہ قادیانی جارحیت کا شکار قادیانی عوام ربوہ میں ان کے مظالم سے تنگ آچکے ہیں۔ کانفرنس ۱۰ بجے مولانا محمد احمد کی دعا پر اختتام پذیر ہوئی۔

(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی مؤرخہ ۲۴ تا ۳۰؍جنوری ۱۹۹۷ء ص ۲۱، ۲۲)

صفحہ ۴۴۰

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۶ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

سانگلہ ہل میں ختم نبوت کانفرنس

سانگلہ ہل ضلع شیخوپورہ کی سب تحصیل ہے، جس کے چکوک میں قادیانی خاصے بااثر ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وہ آئے دن مسلمانوں کو اپنے جال میں پھانسنے، انہیں کینیڈا، فرانس، جرمنی اور امریکہ کا ویزا دینے ان کو مشرک اور کافر قادیانی بنانے کی سازشوں میں مصروف ہیں۔ حتی کہ ان کی ریشہ دوانیاں ارباب حل وعقد تک اثر انداز ہورہی ہیں۔ انتظامیہ سے تعلق رکھنے والے حضرات ہی کو آفرز کرتے ہیں، ایک افسر سے ملاقات ہوئی تو اس نے خود کہا کہ قادیانیوں نے مجھے رشتہ کی پیش کش کی ہے۔ بایں ہمہ انتظامیہ مجرمانہ خاموشی اختیار کئے ہوئے ہے گزشتہ مہینوں میں قادیانیوں نے سانگلہ کے ایک چک میں خطیب صاحب کو جمعہ کا خطبہ دینے سے منع کر دیا۔ تو مجلس نے مقامی دوستوں کے تعاون سے چک ۲۵ مرڑ میں ختم نبوت کانفرنس کے انعقاد کا اعلان کیا۔ اس سے قبل مولانا منظور احمد چنیوٹی کو مذکورہ بالا چک میں داخل ہونے سے روک دیا گیا تھا تو کانفرنس میں شرکت کے لئے مولانا اللہ وسایا، مولانا فقیر اللہ اختر غیر معروف راستوں سے ہوتے ہوئے مسجد میں جانے میں کامیاب ہو گئے اور کانفرنس سے خطاب کیا۔ اسی سلسلہ میں شیخوپورہ، شاہ کوٹ، سانگلہ ہل شہر میں کانفرنس کی اجازت کے لئے درخواست ڈپٹی کمشنر کو دی گئی تو انہوں نے شیخوپورہ، شاہ کوٹ کی اجازت دی۔ لیکن سانگلہ میں لاؤڈاسپیکر کی اجازت نہ دی۔ جس سے معلوم ہوتا ہے کہ سانگلہ علاقہ غیر ہے، جہاں ڈی سی کا آرڈر نہیں چلتا بلکہ قادیانی تھانیدار کا آرڈر چلتا ہے۔ بہرحال یہ گورنمنٹ پنجاب کے لئے لمحہ فکریہ ہے۔ تمام تر رکاوٹوں کے باوجود حضرت مولانا عبداللطیف انور، مولانا عبد الہادی، مولانا خدا بخش، مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی سانگلہ ہل پہنچے اور کانفرنس سے خطاب کیا، جو جامع مسجد کمیٹی والی میں حاجی صابر حسین کی صدارت میں منعقد ہوئی۔

مولانا امام الدین قریشی کا دورہ بھکر

مبلغ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت مظفر گڑھ مولانا امام الدین قریشی نے ضلع بھکر کا آٹھ روزہ دورہ کیا۔ جمعۃ المبارک دریا خان گلزار مدینہ مسجد، پنج گرائیں، کلورکوٹ، روڈہ، نواں جنڈانوالہ، دلی والہ، بہل، نوتک، دوسرا جمعہ جامع مسجد رشیدیہ بھکر پڑھایا۔ آپ نے اپنے پورے دورہ میں جماعت کا پروگرام پیش کیا۔ اور اپنے تمام دورہ میں قادیانیت کی بڑھتی ہوئی سرگرمیوں پر تشویش کا اظہار کیا۔

(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی مؤرخہ ۲۴ تا ۳۰ /جنوری ۱۹۹۷ء ص ۲۱، ۲۲)

تیسرا سالانہ رد قادیانیت وعیسائیت کورس

دفتر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت، مسلم کالونی چناب نگر، ضلع جھنگ، مورخہ ۱۱ تا ۲۸ شعبان ۱۴۱۷ھ بمطابق ۲۲ دسمبر ۱۹۹۶ء تا ۸ جنوری ۱۹۹۷ء

نمبر شمار نام ولدیت ضلع نمبر شمار نام ولدیت ضلع ۱ محمد خان حاجی گل عالم خان لیہ ۲ ممتاز احمد گل محمد آزاد کشمیر ۳ ریاض احمد حافظ خیر اللہ ڈی جی خان ۴ عبدالرحمن مولانا احمد بخش لیہ ۵ ریاض احمد عبدالحکیم بٹگرام ۶ محمد اکرم حاجی غلام رسول منڈی ۷ محمد فرقان عطاء محمد میلسی ۸ محمد اشفاق عبدالحمید کمالیہ ۹ ولی اللہ محمد جان شہید ٹانک ۱۰ محمد اسلم محمد وریام جھنگ

صفحہ ۴۴۱

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۶ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

۱۱ عمر فاروق حافظ ہارون ٹوبہ ۱۲ عبدالقیوم میاں ابراہیم ملتان ۱۳ محمد ندیم محمد صغیر بہاول پور ۱۴ مسعود الحسن مولانا عبدالسبحان پتوکی ۱۵ محمد اصغر کریم بخش لیہ ۱۶ حافظ یحییٰ محمد اظہر شیخوپورہ ۱۷ ظفر اقبال رحمت علی پتوکی ۱۸ محمد یوسف حاجی برہان الدین ٹانک ۱۹ صلاح الدین محمد ارشاد کوٹلی ۲۰ محمد زرین گل داد مانسہرہ ۲۱ مبشر عظیم محمد عظیم میرپور ۲۲ حبیب السعید طالب سعید دیر ۲۳ عبدالستار اللہ دتہ سیالکوٹ ۲۴ محمد مسعود محمد حیات خوشاب ۲۵ محمد زردار مثل خان لکی مروت ۲۶ محمد شریف یار محمد چناب نگر ۲۷ عبدالستار حافظ محمد شریف دنیا پور ۲۸ صدر الدین محمد صالحین چکوال ۲۹ جمیل احمد جام اللہ دتہ بہاول پور ۳۰ محمد رمضان قادر بخش لودھراں ۳۱ محمد ایوب عبدالمجید رحیم یار خان ۳۲ واجد علی ہاشمی محمد یوسف چناب نگر ۳۳ خالد مجتبیٰ غلام مجتبیٰ ملتان ۳۴ مختار احمد واحد بخش بہاول پور ۳۵ عمر فاروق صوفی محمد دین جھنگ ۳۶ ظفر عباس شاہ شیر شاہ چناب نگر ۳۷ ارشد حسین حسن محمد چناب نگر ۳۸ فیصل رندھاوا خالد محمود چناب نگر ۳۹ محمد اسحاق محمد بخش جھنگ ۴۰ عبید اللہ حافظ عطاء اللہ سرگودھا ۴۱ طاہر عباس شیر شاہ چناب نگر ۴۲ حافظ احمد علی میاں اللہ بخش چنیوٹ ۴۳ عبدالجلیل حکیم محمد جمیل چنیوٹ ۴۴ عبدالرزاق ظہور احمد چنیوٹ ۴۵ محمد انور غلام سرور لاہور ۴۶ سراج الدین محمد عظیم افغانستان ۴۷ راشد حمید عبدالحمید دوالمیال ۴۸ وسیم احمد سخی محمد دوالمیال ۴۹ وجاہت حسین سجاد حسین دوالمیال ۵۰ سید اللہ یار سید طالب حسین چنیوٹ ۵۱ محمد احسن شاہ محمد اکرم چناب نگر ۵۲ عنصر عباس شاہ شیر شاہ چناب نگر ۵۳ محمد نواز سلطان علی مظفر آباد ۵۴ غلام جیلانی عبدالستار مظفر آباد ۵۵ ابوبکر عبیدالرحمن ضیاء کمالیہ ۵۶ محمد قاسم حافظ عبدالمجید ملتان ۵۷ اسرار احمد سعید احمد قصور ۵۸ فہیم الحق اکرام الحق نوشہرہ ۵۹ اسلم جاوید حاجی غیاث الدین سرگودھا ۶۰ محمد طاہر مکی احمد میاں حمادی ٹنڈو آدم ۶۱ عبدالغفور حاجی عجب خان لاہور ۶۲ عبدالرحیم محمد بخش رحیم یار خان ۶۳ عبدالخالق حسین بخش رحیم یار خان ۶۴ بہاء الدین گل عالم بلوچستان

صفحہ ۴۴۴

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۶ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

۶۵ معین اللہ ارسل اللہ لکی مروت ۶۶ عزیز الرحمٰن عبدالرزاق لودھراں ۶۷ محمد انوار بہادر خان گجرات ۶۸ مزمل احمد خالد محمود چناب نگر ۶۹ محمد اظہر قاضی غلام محمد چنیوٹ ۷۰ خالد محمود فضل احمد چناب نگر ۷۱ عبدالرؤف مولانا محمد یوسف مانسہرہ ۷۲ احمد اعجاز دریمان مانسہرہ ۷۳ محمد جہانگیر محمد نواز مانسہرہ ۷۴ یاسر خٹک منظور خٹک مانسہرہ ۷۵ فرخ عزیز عبدالعزیز بٹ چناب نگر ۷۶ انصر علی محمد حسین وزیر آباد ۷۷ عثمان علی ولی اللہ چلاس ۷۸ محبوب احمد نور محمد جھنگ ۷۹ شاہد عمران مرزا خان سرگودھا ۸۰ فرحان عزیز عبدالعزیز بٹ چناب نگر ۸۱ رزاق ڈنو صفدر حسین بخش لاڑکانہ ۸۲ عبدالجبار محمد علی لاڑکانہ ۸۳ دیدار حسین غلام علی لاڑکانہ ۸۴ زبیر احمد مولانا سعید احمد رحیم یار خان ۸۵ ذوالفقار محمد نواز چنیوٹ ۸۶ الطاف حسین عبدالغفور چنیوٹ ۸۷ محمد اسلم مولانا عبدالرحمن لاہور ۸۸ خالد محمود بہادر علی چنیوٹ ۸۹ عتیق الرحمٰن حافظ شیر محمد گوجرانوالہ ۹۰ محمد بچل محمد موسیٰ خیر پور میرس ۹۱ حافظ نعمت اللہ امام بخش خیر پور میرس ۹۲ حافظ عبدالقدوس بخش علی خیر پور میرس ۹۳ حافظ ضمیر احمد محمد سومرو خیر پور میرس ۹۴ محمد مقبول بشیر احمد ملتان ۹۵ محمد ہاشم محمد انور چناب نگر ۹۶ اعجاز حسین محمد زمان سیالکوٹ ۹۷ حافظ غلام داؤد محمد مسکین اٹک ۹۸ محمد ندیم محمد اسلم سرگودھا ۹۹ محمد دلشاد محمد قمیص فیصل آباد ۱۰۰ محمد عبیداللہ سیف اللہ ٹوبہ ۱۰۱ مطلوب الرحمٰن منظور احمد جھنگ ۱۰۲ محمد نواز سلطان احمد حافظ آباد ۱۰۳ عبدالغفور حاجی غلام رسول لاڑکانہ ۱۰۴ صوفی احمد سعید ایم لطیف شیخوپورہ ۱۰۵ عمران خان سکندر حیات چنیوٹ ۱۰۶ شوکت محبوب محبوب الٰہی اٹک ۱۰۷ سید عطاء اللہ شاہ سید فدا حسین اٹک ۱۰۸ عمر حیات مولانا امداد اللہ چنیوٹ ۱۰۹ محمد فاروق ...... غیر حاضر ۱۱۰ محمد اسماعیل احمد یار چنیوٹ ۱۱۱ محمد عبدالرؤف حافظ ظہور احمد سرگودھا ۱۱۲ محمد عبدالواحد مخدوم مخدوم غلام عباس چناب نگر ۱۱۳ امجد راز ...... ...... ۱۱۴ محمد افضل مولانا محمد یعقوب چنیوٹ

نوٹ: دوران سال مندرجہ ذیل حضرات نے تربیت حاصل کی۔ ۱...... قاضی احسان احمد ٹوبہ ٹیک سنگھ ۲...... مولانا عبدالغفور سندھ ۳...... مولانا محمد طیب فاروقی صادق آباد ۴...... مولانا عزیز الرحمٰن ثانی لودھراں

صفحہ ۴۴۳

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۷ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

تحریک ختم نبوت

کے سلسلہ میں

۱۹۹۷ء

کے

حالات و واقعات

صفحہ ۴۴۴

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۷ء

ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اسلام دشمن عناصر کی طرف سے آٹھویں ترمیم کو ختم کرنے کی سازش

ملک کی مقتدر عدالت سپریم کورٹ میں آٹھویں ترمیم کے سلسلے میں بحث جاری ہے اور سپریم کورٹ نے فیصلہ دیا ہے کہ اب وہ آٹھویں ترمیم کے سلسلے میں حتمی تشریح کرے گی تاکہ ابہام ختم ہو۔

سپریم کورٹ ملک کی سب سے بڑی عدالت ہے اور آئین کی تشریح کی ذمہ داری اس پر ہے، لیکن ایک بات واضح ہے کہ سپریم کورٹ آئین ساز ادارہ نہیں ہے۔ اس لئے آئین یا قانون سازی کرنا یا کسی قانون کو ختم کرنے کا اختیار اس کے دائرہ میں نہیں ہے۔ صرف آئین کی تشریح وہ کر سکتی ہے۔ اس لئے اس حد تک تو ٹھیک ہے کہ سپریم کورٹ آٹھویں ترمیم کے سلسلے میں پھیلے ہوئے ابہام کو دور کرے، لیکن اگر سپریم کورٹ نے آٹھویں ترمیم کے خاتمے کی بات کی تو یہ اپنے اختیار سے تجاوز ہو گا، جو کسی صورت میں قابل قبول نہیں۔

آٹھویں ترمیم دراصل عام طور پر شہرت کے مطابق صدر کے اختیارات کے بارے میں ہے اور اس کے ذریعہ گزشتہ چند سالوں میں صدر نے تین حکومتوں کو برطرف اور تین اسمبلیوں کو تحلیل کیا ہے۔ جس کی وجہ سے آٹھویں ترمیم بہت حد تک بدنام ہو گئی ہے، لیکن اس میں کوئی شک نہیں کہ تینوں مرتبہ قوم کو عذاب کی کیفیت سے نکالنے کا کردار بھی اس آٹھویں ترمیم نے کیا۔ اگر یہ آٹھویں ترمیم نہ ہوتی تو قوم کبھی سکھ کا سانس نہ لے سکتی اور عذاب میں مبتلا رہتی۔ اس حوالے سے ہم اس آٹھویں ترمیم کی حمایت کرنے پر مجبور ہیں، لیکن اس وقت آٹھویں ترمیم کے اصل خدوخال آپ کے سامنے پیش کرنا مقصود ہیں۔

آٹھویں ترمیم صرف اس صدارتی اختیارات کا نام نہیں اور نہ ہی صرف اس تلوار کا نام ہے جو صدر چلا کر کسی بھی وقت اسمبلی اور حکومت کو صفحہ ہستی سے مٹا سکتا ہے بلکہ آٹھویں ترمیم ایک مجموعہ قوانین کا نام ہے جس کی ایک شق صدارتی اختیارات سے متعلق ہے اس میں وہ تمام اصولی قوانین ہیں جس کی وجہ سے آج پاکستان کو اسلامی مملکت کہا جا سکتا ہے۔ اس کے تحت امتناع قادیانیت آرڈی نینس اور سب اسلامی حدود و قصاص، اسلامی دفعات وغیرہ تمام اس میں شامل ہیں۔ اسلام دشمن عناصر ظاہری طور پر تو یہ نہیں کہہ سکتے کہ اسلامی دفعات کو ختم کر دیا جائے کیونکہ اس سے پوری قوم ان کے خلاف اٹھ کھڑی ہو گی لیکن وہ آٹھویں ترمیم کی آڑ میں ان اسلامی دفعات کو ختم کرنا چاہتے ہیں پہلے بھی علماء حق نے اس کا راستہ روکا اور اب بھی روکیں گے۔ گزشتہ دور میں نواز شریف اور بے نظیر بھٹو اس بات پر متفق ہو گئے تھے کہ آٹھویں ترمیم کے سلسلے میں مشترکہ لائحہ عمل طے کریں تو جمعیت علماء اسلام کے مولانا فضل الرحمٰن نے اسمبلی کے فلور پر واضح اعلان کیا کہ آٹھویں ترمیم کی اسلامی دفعات کو چھیڑنے کی کسی صورت اجازت نہیں دی جائے گی اس کا نتیجہ نکلا کہ پی۔ پی۔ پی کو جرأت نہ ہو سکی کہ آٹھویں ترمیم کے بارے میں کوئی اقدام کر سکے۔ جمعیت کا یہ رویہ دیکھ کر نواز شریف بھی راہ فرار اختیار کر گئے۔ آٹھویں ترمیم کی اسلامی دفعات پاکستان کی اساس ہیں، صدارتی اختیارات کے چکر میں ان کو چھیڑنے کی کوشش کی گئی تو مذہبی قوتیں سد سکندری بن کر اس کا تحفظ کریں گی۔ اس لئے سپریم کورٹ اس ترمیم کے سلسلے میں اپنے دائرہ اختیار کے مطابق تشریح کرے آئین سازی کے مسئلہ کو قومی اسمبلی پر چھوڑ دے۔

(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی مورخہ ۱۰ تا ۱۶؍ جنوری ۱۹۹۷ء ص۴)

آئین کی واضح خلاف ورزیوں کے باوجود حکمرانوں کی مجرمانہ غفلت

صدر محترم اور نگران وزیر اعلیٰ، قادیانی وزیر کی تقرری کے سلسلے میں دلائل دیتے ہوئے فرما رہے تھے کہ غیر مسلم اقلیتوں کو وزارت

صفحہ ۴۴۵

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۷ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

دینا آئین اور قانون اور اخلاقی تقاضوں کے خلاف نہیں، مجلس تحفظ ختم نبوت سابقہ ریکارڈ سے ثابت کر رہی تھی کہ غیر مسلم اقلیتوں اور قادیانیوں میں واضح فرق ہے۔ اللہ تعالیٰ مجلس تحفظ ختم نبوت کے رہنماؤں کی لاج رکھ لی اور قادیانی جماعت کی طرف سے اعلان ہوا۔ ربوہ (پی۔ پی۔ اے) ملک خالد مسعود ناظر امور عامہ صدر انجمن جماعت احمدیہ کی طرف سے الیکشن ۱۹۹۷ء سے لاتعلقی کا اعلان جاری کیا گیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ چیف الیکشن کمشنر کو مطلع کیا جا چکا ہے کہ قومی و صوبائی اسمبلیوں کی احمدیوں کے لئے مخصوص نشست پر انتخاب میں حصہ لینا احمدی اپنے اعتقاد اور ضمیر کے خلاف سمجھتے ہیں اس لئے انتخابی فہرستوں میں احمدیوں نے اپنے ووٹ درج نہیں کرائے، اگر کسی کا نام درج ہوا تو اس کی اطلاع اور رضا مندی کے بغیر ہوا ہے ایسے ووٹوں کو منسوخ کیا جانا چاہئے ان حالات میں جو کوئی بطور احمدی انتخاب میں حصہ لیتا ہے اسے جماعت احمدیہ نمائندہ تسلیم نہیں کرتی۔

(روزنامہ جنگ کراچی، مورخہ ۲۸؍ دسمبر ۱۹۹۶ء)

مجلس تحفظ ختم نبوت کا یہی مؤقف تھا کہ قادیانی اپنے آپ کو غیر مسلم اقلیت تسلیم ہی نہیں کرتے بلکہ وہ مسلمانوں کو غیر مسلم قرار دیتے ہیں اور آئین کی ترمیم ۱۹۷۴ء اور امتناع قادیانیت آرڈیننس ۱۹۸۴ء اور سپریم کورٹ اور باقی کورٹوں کے علاوہ جنوبی افریقہ کی طرف سے دیئے ہوئے فیصلے کہ قادیانی مسلمانوں سے الگ کوئی مذہب ہے کی کھلم کھلا خلاف ورزی کرتے ہیں اور انہوں نے کبھی غیر مسلم لسٹ میں اپنا نام درج نہیں کرایا اور اب مندرجہ بالا اعلان کر کے انہوں نے مجلس تحفظ ختم نبوت کے موقف کی بھر پور تائید کر دی ہے۔ اس صورتحال کے پیش نظر درج ذیل سوالات ہر مسلمان کے ذہن میں ابھرتے ہیں۔

قادیانیوں نے انگریزی دور حکومت میں جب گورداسپور میں مردم شماری ہو رہی تھی، مطالبہ کیا کہ ان کے نام مسلمانوں کی لسٹ میں درج نہ کریں اور اس وقت کے مرزا غلام احمد قادیانی کے جانشین مرزا بشیر الدین محمود نے انگریز وائسرائے کو خط لکھا: قادیانی (احمدی) جماعت کے افراد کے ناموں کو مسلمانوں کی فہرست میں شامل نہ کریں۔ بلکہ ان کے لئے الگ فہرست کا انتظام کریں۔ اس کی وجہ سے گورداسپور کے مسلمانوں کی تعداد کم ہوئی اور بھارت کو کشمیر کا واحد زمینی راستہ مل گیا۔

نام درج نہ کریں اور نام درج کرانے والوں کو جماعت سے فارغ کر دیا جائے گا۔

اب جب کہ قادیانی غیر مسلم اقلیت کی حیثیت سے ووٹر لسٹ میں نام درج نہیں کراتے تو آئین کی خلاف ورزی پر ان کے خلاف مقدمہ کیوں درج نہیں کیا جاتا اور اگر غیر مسلم اقلیت کی فہرست میں نام درج نہیں کراتے اور مسلمانوں کی فہرست میں نام درج کراتے ہیں تو یہ بھی آئین کی خلاف ورزی ہے کیونکہ (۲۹۸ سی) کے مطابق اگر کوئی غیر مسلم اپنے آپ کو اشارتاً، کنایتاً اور وضاحتاً مسلمان کہلوائے تو اس کو تین سال کی سزا ہو گی۔ کیوں حکومت اس صورت میں قادیانیوں کے خلاف مقدمہ درج نہیں کرتی؟ وہ اگر غیر مسلم اقلیت کی فہرست میں نام درج نہیں کراتے تو وہ انتخابی قوانین کے مطابق آئین کی خلاف ورزی کے مرتکب ہوتے ہیں کیونکہ ووٹر لسٹ میں نام درج نہ کرانا بھی جرم ہے۔ کیا حکومت نے اس صورت میں ان کے خلاف ایکشن لیا ہے؟

جب قادیانی جماعت کے افراد اپنے آپ کو پاکستانی کہلوانا ہی پسند نہیں کرتے اور نہ ہی کسی ووٹر لسٹ میں اپنا نام درج کراتے

صفحہ ۴۴۶

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۷ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

ہیں تو پھر حکومت کی طرف سے انہیں شناختی کارڈ اور پاسپورٹ کا اجرا کس بنیاد پر کیا جاتا ہے ان کو حقوق کس بنیاد پر دیئے جاتے ہیں کلیدی عہدوں اور وزارتوں میں کیوں رکھا جاتا ہے، حالانکہ اگر کوئی پاکستانی معمولی سا بھی جرم کرے تو قانون فوراً حرکت میں آ جاتا ہے لیکن کیا قادیانیوں کے خلاف آئین اور قوانین کی حرکتوں پر پہرے بٹھا دیئے گئے ہیں یا ان کو تمام قوانین سے بالاتر کر دیا گیا ہے۔

تمام اخبارات میں ببانگ دہل اعلان کرنے کے بعد خبریں اخبار مورخہ ۳۰ دسمبر ۱۹۹۶ء میں قادیانیوں نے اشتہار چھاپا کہ ووٹر لسٹ میں نام درج نہ کرائیں، نام درج کرانے والوں کو جماعت سے نکال دیا جائے گا، اس کے باوجود حکومت کی طرف سے قانون کو حرکت میں لانا مجرمانہ غفلت اور ملک اور دین دشمنی نہیں تو اور کیا ہے؟ مسلمان یہ سوال کرنے میں حق بجانب ہیں کہ آخر حکومت یہ مجرمانہ غفلت کب تک کرتی رہے گی؟ کب تک اس باغی اور زندیق اقلیت کو مسلمانوں پر مسلط کر کے قانون سے ماوراء سمجھا جائے گا۔

قادیانی ووٹرلسٹ میں نام درج کرائیں مجرم نہیں مسلمان اس پر احتجاج کریں مجرم؟ قادیانی مسلمان کہلائیں مسلمانوں کو کافر کہیں مجرم نہیں مسلمان اس پر احتجاج کریں مجرم؟ قادیانی مسلمانوں کو خنزیر کہیں، کنجریوں کی اولاد کہیں مجرم نہیں مسلمان اس پر احتجاج کریں مجرم؟ قادیانی مساجد بنائیں۔ کلمہ کی توہین کریں مجرم نہیں مسلمان کہیں ایف.آئی.آر درج کرائیں مجرم؟

آخر یہ کھیل کب تک جاری رہے گا؟ کیا مسلمان اس کا خود علاج تجویز کریں؟ حکومت کیا چاہتی ہے ۱۹۷۴ء کی تحریک کا اعادہ کیا جائے؟ مسلمانوں کو کہا جائے قادیانیوں کا معاشرتی بائیکاٹ کرو؟ حکمران کیوں مسلمانوں کے در پے ہیں۔ بدنام حکمران نہیں ہوتے انتظامیہ نہیں ہوتی۔ خدارا مسلمانوں کا امتحان نہ لیں۔ قادیانیوں کے اس واضح اعلان، اس واضح اشتہار کے بعد مجرمانہ غفلت کو چھوڑ دیں اور قانون کو حرکت میں لائیں۔ جبری غیر مسلم اقلیت میں نام درج کرائیں۔ اگر نہ کریں تو انتخابی قانون کے مطابق مقدمہ بنائیں۔ اگر قادیانی ووٹرلسٹ میں نام درج نہیں کراتے تو کسی اور ملک میں چلے جائیں۔ پاکستان میں غیر مسلم اقلیت کی حیثیت سے رہنا ہوگا۔ ورنہ مسلمان ان کے حقوق کے ذمہ دار نہیں۔

(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی مؤرخہ ۱۷ تا ۲۳/ جنوری ۱۹۹۷ء ص۴، ۵)

نگران حکومت کی ایک اور بڑی حماقت

نگران حکومت جب سے برسر اقتدار آئی ہے حماقتوں پر حماقتیں کرتی چلی جا رہی ہے خاص طور پر قادیانی مسئلہ پر جس انداز میں یہ حکومت غلطیاں کر رہی ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس تمام کارروائی کی پشت پر کوئی طاقت ہے جو پس پردہ قادیانیت سے متعلق تمام راستے صاف کرنا چاہتی ہے۔ پہلے قادیانی وزیر کا تقرر کیا گیا جو احتجاج کے باوجود اب تک برقرار ہے۔ پھر لاہور میں چیف جسٹس کا اس لئے سپریم کورٹ میں تبادلہ کر دیا گیا کہ انہوں نے قادیانیوں کے لئے جج بننے کی سفارش نہیں کی۔ بعض حساس جگہوں پر قادیانیوں کا تبادلہ کیا گیا اب مورخہ ۹/جنوری ۱۹۹۷ء کے اخبار ”امت کراچی“ میں درج ذیل خبر شائع ہوئی جس نے پوری امت کو اضطراب میں ڈال دیا ہے:

”اسلام آباد (این. این. آئی) وزارت داخلہ نے ساری دنیا میں پاکستانی سفارت خانوں اور سفارتی مشنوں میں کام کرنے والے امیگریشن حکام کو ہدایت کی ہے کہ نئے پاسپورٹ بنوانے کے لئے رجوع کرنے والے قادیانی حضرات کے پاسپورٹوں کے مذہب کے خانے میں غیر مسلم یا قادیانی کی بجائے احمدی لکھا جائے۔ انتہائی باخبر ذرائع کے مطابق نگران حکومت نے پاکستان کے بارے میں بنیادی حقوق کے تحفظ کی نام نہاد تنظیموں کے بے بنیاد پروپیگنڈے سے خوفزدہ ہو کر یہ فیصلہ کیا ہے تاکہ انسانی حقوق کے حوالے سے عالمی سطح پر پاکستان کی پوزیشن کو بہتر بنایا جائے۔“

(روزنامہ امت کراچی مؤرخہ ۹/ جنوری ۱۹۹۷ء)

صفحہ ۴۴۷

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۷ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

اگر یہ خبر سچ ہے تو اس سے زیادہ آئین پاکستان کی توہین اور نہیں ہو سکتی اور نگران حکومت کے بارے میں واضح طور پر کہا جاسکتا ہے کہ وہ قادیانیوں کی آلہ کار ہے ۔ قادیانیوں کو ”احمدی“ لکھوانے کا حکم دینا دفعہ (۲۹۸ سی) کے تحت جرم ہے ۔ احمد نبی کریم ﷺ کا نام ہے اور قرآن میں واضح طور پر یہ نام نبی اکرم ﷺ کے لئے استعمال ہوا ہے ۔ احمدی کی آڑ لے کر قادیانی مسلمانوں کو دھوکہ دے کر اپنے آپ کو مسلمان ظاہر کرتے ہیں اور پھر اپنے جھوٹے مذہب کی تبلیغ کرتے ہیں ۔ اس ہدایت کو جاری کر کے حکومت نے خود آئین کی خلاف ورزی کی ہے۔ نگران حکومت کو اپنا یہ حکم نامہ فوری طور پر واپس لینا چاہئے ورنہ قوم کو نگران حکومت کے خلاف تحریک چلانی پڑے گی ، خدا کے لئے نگران حکومت مسلمانوں کے جذبات سے نہ کھیلے ۔ ورنہ یہ اس کے لئے مہنگا پڑے گا۔

نگران وزیر اعلیٰ کا آبائی گاؤں میں تعاقب ممتاز بھٹو...... نام یا گالی ؟

مجلس عمل تحفظ ختم نبوت کے پلیٹ فارم سے قادیانی وزیر کی تقرری کے وقت سے ہی احتجاج کا سلسلہ جاری ہے ۔ سندھ میں ہڑتال ہوئی ، کراچی میں مظاہرے اور ریلی نکالی گئی ۔ ہفتہ ختم نبوت منایا گیا لیکن نگران حکومت ٹس سے مس نہ ہوئی اس لئے مجلس عمل نے فیصلہ کیا کہ نگران وزیر کے گھر جا کر اس کے ووٹروں کے ذریعے اس کو پیغام دیا جائے کہ اگر اس نے قادیانیت نوازی نہ چھوڑی تو اس کی اپنی قوم اس کو مسترد کر دے گی اس سلسلے میں ڈاکٹر خالد محمود سومرو سیکرٹری جنرل جمعیت علماء اسلام صوبہ سندھ کو نگران مقرر کیا گیا ۔ ڈاکٹر خالد محمود سومرو نے مولانا جمال اللہ حسینی اور دیگر علماء کرام کے تعاون سے ایک ہفتہ نگران وزیر اعلیٰ کے آبائی حلقے لاڑکانہ ضلع کے ایک ایک علاقے کا دورہ کیا اور منگل دوپہر بارہ بجے رتو ڈیرو چوک کو جاں نثاران ختم نبوت سے بھر دیا۔ قافلہ امیر شریعت ہر طرف سے رتو ڈیرو کی طرف رواں دواں تھا اور ایک ہی نعرہ لگا رہا تھا۔ نبی کے دشمن نا منظور ، قادیانیت نوازی مردہ باد ، قادیانی وزیر کو برطرف کرو۔ ساڑھے بارہ بجے کارروائی شروع ہوئی ۔ ہر مقرر جب تقریر کے لئے آتا ۔ مجمع جوش و خروش سے نعرے لگاتے ہوئے رتو ڈیرو کو ہلا دیتا ۔ ڈاکٹر خالد محمود سومرو نے تفصیلی خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم نبی کریم ﷺ کے دشمن کو کسی صورت میں برداشت نہیں کریں گے ۔ ہماری دوستی بھی اللہ تعالیٰ کے لئے ہے اور دشمنی بھی اللہ تعالیٰ کے لئے ہے کل ہم نے تجھے انتخاب میں جتوایا تو آنکھیں پھیر لیں ، ہم کسی کام سے تیرے دربار میں نہیں گئے ، ایک دینی مطالبہ کیا ہے ۔ اس میں تیرا فائدہ ہے ، اگر قادیانی وزیر کو برطرف نہیں کیا تو ہم تیرے ایک ایک امیدوار کا مقابلہ کریں گے ۔ تیری قادیانیت نوازی کی وجہ سے تیرا گھر گھر تعاقب کریں گے ۔ ایک ایک ووٹر کو تیرے خلاف اٹھائیں گے ، تیرے بچنے کی ضمانت اللہ کی امداد سے ضبط کرائیں گے ۔ تجھ کو آج تک غدار اور دوست کے درمیان فرق محسوس نہیں ہوا ؟ ایک قادیانی کے لئے تو اپنے آپ کو پورے سندھ کا مطعون کر رہا ہے ۔ یاد رکھ اگر قادیانی وزیر کو برطرف نہ کیا تو ممتاز بھٹو کا نام سندھ میں گالی بنا دیا جائے گا۔ لوگ تیرے منہ پر تھوکیں گے ، صدر اور وزیر اعلیٰ ممتاز بھٹو دونوں قادیانی وزیر بنانے کے مجرم ہیں ۔ اس لئے قوم ان کو کبھی معاف نہیں کرے گی اور اگر انہوں نے قادیانی وزیر کو برطرف نہ کیا تو پاکستان کی تاریخ میں ان کا نام دینی مجرمین کی حیثیت سے لکھا جائے گا اور فاروق احمد خان لغاری کی نمازیں تہجدیں دھری کی دھری رہ جائیں گی ۔

مولانا عبد الحلیم صدیقی صدر مجلس عمل خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم مسلمانوں کی جان و مال کے تحفظ کے لئے پر امن تحریک چلا رہے ہیں اگر حکومت نے اس کا حل نہ کیا تو نگران حکومت کے خلاف بھی جہاد کا علم بلند کیا جائے گا مظاہرہ سے شیخ الحدیث مولانا علی محمد حقانی ، مولانا عطاء اللہ ، مولانا محمد صدیق مینگل ، مولانا امیر حسین بروہی ، حاجی عبد الحمید جروار ، مولانا اقبال احمد سومرو ، میاں سراج احمد شاہ

صفحہ ۴۴۸

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۷ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

امروٹی، حافظ غلام رسول، حافظ محمد عثمان جھیال، مولانا سعید احمد چانڈیو، مولانا منیر احمد پنھور، حافظ عبدالقادر سیال، مولانا حفیظ الرحمٰن سومرو، مولانا اللہ داد خیر خواہ نے بھی خطاب کیا۔ ہزاروں مظاہرین نے اس بات کا عزم کیا کہ وہ ممتاز بھٹو کے حلقے میں جا کر اس کا گھیراؤ کریں گے اور اس کو مجبور کریں گے کہ وہ قادیانی وزیر کی حمایت چھوڑ دے ورنہ ووٹر اس کو ووٹ نہیں دیں گے۔ پاکستان کی تاریخ میں قادیانیت نواز شخص کا انجام اچھا نہیں ہوا۔ قائد اعظم محمد علی جناح سے لے کر خواجہ ناظم الدین تک تاریخ اس کی گواہ ہے۔ آئندہ کی تاریخ صدر فاروق خان لغاری اور ممتاز بھٹو کے فیصلے کی منتظر ہے۔ سیاہ باب یا روشن باب؟ فیصلہ ممتاز بھٹو اور صدر فاروق احمد لغاری نے کرنا ہے۔ مسلمانوں کے ساتھ حشر یا قادیانیوں کے ساتھ حشر؟ اس لئے نبی کریم ﷺ فرما گئے ہیں جو کسی سے محبت رکھے گا قیامت کے دن اس کا حشر اسی کے ساتھ ہوگا۔ انسان کی شناخت اس کے دوستوں سے ہوتی ہے۔ آج تک یہ بات سمجھ میں نہیں آئی کہ قادیانی وزیر کی ایسی کون سی ضرورت ہے۔ جس کی وجہ سے اس کی تقرری باقی رکھنے پر اتنا اصرار ہے۔ اگر ممتاز بھٹو محض علماء کرام کی ضد کی وجہ سے ایسا کر رہے ہیں تو یہ ضد ان کو مہنگی پڑے گی۔ صرف آخرت کے حوالے سے ہی نہیں بلکہ دنیا کے حوالے سے بھی۔ قادیانیت وہ سانپ ہے جو سب سے پہلے دوستوں کو ڈستا ہے۔ نگران وزات تو ویسے بھی چند روز کا کھیل ہے۔ چند روزہ کھیل کے لئے اتنی بڑی جرأت اور حماقت خسارہ کا سودا ہے اس لئے اب بھی وقت ہے ممتاز بھٹو صاحب فیصلہ کرلیں۔ صدر فاروق احمد خان لغاری صاحب فیصلہ کرلیں۔ ان کی زندگی مسلمانوں کے ساتھ گزرنی ہے۔ مرنا جینا مسلمانوں کے ساتھ ہے۔ ان سے دشمنی مول لینا مناسب نہیں ہے۔ خدا کرے صدر فاروق احمد خان اور ممتاز بھٹو عقل سے کام لیں اور قادیانی وزیر کی برطرفی کی حمایت ترک کر دیں اور فوری طور پر قادیانی وزیر کو برطرف کر دیں۔

(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی مؤرخہ ۲۴ تا ۳۰ / جنوری ۱۹۹۷ء ص۴، ۵)

قادیانیوں کے ایک سو خاندانوں کو گیمبیا سے نکال دیا گیا

گیمبیا (خصوصی رپورٹ) افریقہ کی اسٹیٹ گیمبیا جو تقریباً دس گیارہ لاکھ کی آبادی پر مشتمل ہے اور اس میں ۹۵ فیصد مسلمان آباد ہیں۔ وہاں کی حکومت نے مسلمانوں کی تعداد کی فہرستیں بنوائیں تو وہاں کے قادیانیوں کے سو خاندان نے مسلمانوں میں اپنے نام درج کرانے سے انکار کر دیا، یاد رہے کہ گیمبیا میں قادیانیوں نے عیسائی طرز کی مشنری، تین ہسپتال، تین ہائی اسکولز اور چند ایک مساجد کے نام پر اپنے عبادت خانے بنا رکھے تھے۔ قادیانیوں سے وہاں کی حکومت نے جب مسلمانوں میں نام اندراج نہ کروانے کی وجہ دریافت کی تو انہوں نے کہا کہ صرف احمدی (قادیانی) ہی مسلمان ہیں۔ باقی تمام مکاتب فکر کافر ہیں اور پھر قادیانیت کے فروغ کے لئے پمفلٹ اور لٹریچر شائع کر کے تقسیم کرنا شروع کر دیئے تو وہاں کے مسلمانوں نے شدید احتجاج کیا اور جناب مولانا محمد فاطمی صاحب نے جمعہ کے خطاب میں قادیانیت کے مکر و فریب سے مسلمانوں کو آگاہ کیا۔ بالاخر مسلمانوں کے شدید احتجاج کے نتیجے میں گیمبیا کے صدر اے۔ جے۔ جے جامع نے اپنی ریاست سے قادیانیوں کو نکال دیا۔

(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی مؤرخہ ۲۳ تا ۲۹ جنوری ۱۹۹۷ء ص ۲۵)

ایک فیصلہ کن مناظرہ اور قادیانیت کا فرار

قادیانی یہودی اور صہیونی طاقتوں کی پشت پناہی میں کچھ عرصہ سے اپنے روایتی دجل و فریب کو پھیلانے اور عالم اسلام کے باہمی اتحاد و اتفاق کا شیرازہ بکھیرنے کے لئے سرگرداں ہیں۔ حکومت کی گرفت ڈھیلی ہونے کی وجہ سے قادیانی، نوجوان نسل کو روزگار کا لالچ دے کر قادیانیت کے دام فریب میں پھانسنے کی کوششوں میں لگے ہوئے ہیں تاکہ مسلمانوں کے دلوں سے رسول آخرین محمد عربی ﷺ کی محبت کو نکال کر

صفحہ ۴۴۹

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۷ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

قادیان کے دہقان زادے مرزا غلام احمد قادیانی کا غلام بنا سکیں لیکن ایسا ہرگز نہیں ہو گا جب تک خاصہ کائنات محبوب کبریا محمد رسول ﷺ کی ختم نبوت کی تحفظ کرنے والے دیوانے اور پروانے موجود ہیں قادیانیت کے ناپاک وجود کو کرہ ارض پر پنپنے نہیں دیں گے۔ ان شاء اللہ العزیز!

ماضی قریب کے دور حکومت میں قادیانیوں نے پھر سے اپنی پر فریب سرگرمیاں تیز کر دیں اور آئین پاکستان کی کھلم کھلا مخالفت شروع کر دی تاحال قادیانی مرزا غلام احمد کی جھوٹی نبوت کے پرچار میں سرگرداں ہیں اور خاص کر نوجوان نسل کو بے ایمان بنانے کے لئے کوشاں ہیں حکومت وقت کو بروقت اس کا سدباب کرنا چاہئے ورنہ یہودیت کے یہ آلہ کار مملکت خداداد کے امن وامان کو مسموم کر دیں گے۔

قادیانی جہاں ملک کے دوسرے حصوں میں اپنے روایتی دجل کو پھیلانے کی سعی لاحاصل کر رہے ہیں۔ وہاں پاکستان کے دل یعنی کراچی میں ان کی سرگرمیاں تیز تر دکھائی دیتی ہے تا کہ کراچی کے روبہ امن صورت حال کو ایک دفعہ پھر مکدر کیا جائے ، قادیانیوں نے کراچی کے مختلف علاقوں ملیر ، منظور کالونی ، نیوکراچی ، بلدیہ ٹاؤن کے علاقوں میں قادیانیت کی تبلیغ شروع کر دی ہے تازہ ترین صورت حال یہ ہے کہ بلدیہ ٹاؤن کے ایک کارخانہ میں قادیانیوں نے وہاں موجود مزدور طبقہ اور دوسرے مسلمانوں کو قادیانیت کی تبلیغ شروع کر دی مولانا قاری حق نواز تونسوی مہتمم دارالعلوم صفہ جو اس علاقہ کے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے امیر بھی ہیں نے اس کی اطلاع ختم نبوت کے دفتر واقع پرانی نمائش ایم .اے جناح روڈ کراچی پہنچائی۔ اس سے قبل مولانا انور فاروقی اور بلدیہ ٹاؤن میں موجود قادیانی مبلغ میں مباحثہ بھی کرایا قادیانی مبلغ نے ۱۶؍ مارچ ۱۹۹۷ء کو جوابات دینے کا صبح 9 بجے تا 11 بجے وقت مقرر کیا ۔ چنانچہ دفتر ختم نبوت سے مقررہ تاریخ کو مولانا نذیر احمد تونسوی ، مولانا جمال اللہ الحسینی ، مفتی احمد حسن اور دفتر کے ہم ساتھی صبح سویرے مرزا غلام احمد قادیانی کی کتابیں روحانی خزائن ، نور الحق ، ازالہ اوہام وغیرہ کا ایک بڑا بیگ تیار کر کے اپنی گاڑی میں روانہ ہوئے ۔ وقت مقررہ پر سب ساتھی پہنچ گئے ۔ مقام مقرر پر قادیانی مربی محمد طاہر اور محمد سرور کے علاوہ تقریباً پچاس کے قریب لوگ موجود تھے۔ ہمارے پہنچتے ہی قادیانی مربی کے پسینے چھوٹ گئے۔ پہلے تو وہ بات نہ کرنے کے بہانے بنانے لگا، لیکن ختم نبوت والے اپنے شکار کو کب چھوڑتے ہیں؟ بہر حال قادیانی مربی طاہر کسی طرح بات کرنے کے لئے تیار ہو گیا۔ سب سے پہلے حضرت مولانا نذیر احمد تونسوی صاحب نے فرمایا: ”آپ خواہ مخواہ گھبرا گئے ہیں ہم نے آپ سے کوئی مشکل بات نہیں کرنی بلکہ ایسی آسان گفتگو کریں گے کہ جس کا نتیجہ دو اور دو چار کی طرح واضح ہو کر سامنے آ جائے گا۔ قرآن میں ہے کہ ”لعنت اللہ علی الکاذبین“ (جھوٹوں پر خدا کی لعنت ہے) اس اصول کی روشنی میں مرزا قادیانی کا ایک الہام ”انا انزلنہ قریبا من القادیان“ جو تذکرہ نامی قادیانی کتاب میں درج ہے اور یہ کتاب موجود ہے۔ مرزا غلام احمد نے کہا کہ میں نے دیکھا یہ الہام قرآن مجید میں نصف کے قریب دائیں حصے پر لکھا ہوا ہے۔ آپ قرآن مجید کے کسی نسخے سے یہ الہام نکال کر دکھائیں ۔ ورنہ قرآن کریم کے حکم کے مطابق مرزا پر لعنت بھیج کر مرزائیت سے برات کا اعلان کریں۔“

یہ حوالہ پیش ہونے کے بعد قادیانی مربی محمد طاہر کے منہ پر ہوائیاں اڑنے لگیں اور لاجواب ہو کر شرمندہ ہو گیا اس کے بعد با قاعدہ گفتگو کا آغاز ہوا قادیانی مربی طاہر نے سوال کیا کہ ”مرزا صاحب نے یہ دعویٰ کیا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام فوت ہو چکے ہیں جب کہ آپ تمام حضرات کا یہ عقیدہ ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام آسمان پر بقید حیات موجود ہیں اور قرب قیامت میں نزول فرمائیں گے آپ قرآن مجید کی کوئی ایک آیت یا حدیث نبویہ پیش کریں؟ اگر آپ حیات و نزول عیسیٰ علیہ السلام ثابت کر دیں میں (طاہر ) مرزا صاحب کی تمام باتوں کو جھوٹا مان کر قادیانیت سے تائب ہو جاؤں گا اور مرزا غلام احمد پر لعنت بھیجوں گا۔“ اس پر مولانا نذیر احمد تونسوی نے فرمایا: ”پہلے آپ ہماری پہلی بات کا جواب دیں ۔ بقول آپ کے مرزا نبی ہے ، نبی کی بات تو جھوٹی نہیں ہوتی اور جھوٹے پر اللہ تعالیٰ نے لعنت بھیجی ہے ۔ لہذا مرزا

صفحہ ۴۵۰

ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۷ء

قادیانی قرآن مجید کی رو سے جھوٹا ہے۔ ”انا انزلناہ قریبا من القادیان“ قرآن مجید میں موجود نہیں لہٰذا مرزا پر آپ بھی لعنت بھیجیں۔ اس کے بعد دوسری بات کا جواب دیں گے حیات ونزول عیسیٰ علیہ السلام قرآن وحدیث سے ثابت کریں گے۔ اب قادیانی مربی آئیں بائیں شائیں کرنے لگا اور غصہ سے لال پیلا ہو کر بھاگنے کی کوشش کی، وہاں پر موجود لوگوں نے منت سماجت سے قادیانی مربی طاہر کو واپس بلایا تو مولانا جمال اللہ الحسینی نے مرزا قادیانی کی کتاب نور الحق کا حوالہ دیتے ہوئے فرمایا کہ ”ہم نے مرزا غلام احمد قادیانی پر قرآن مجید کی روشنی میں ایک بار لعنت بھیجی آپ اس پر خفا ہو گئے لیکن مرزا قادیانی نے یہ دیکھیں ”نور الحق“ کا حوالہ ہے مرزا غلام احمد قادیانی نے تمام امت مسلمہ پر حضور نبی کریم ﷺ کے ماننے والوں پر نمبر وار ایک ہزار مرتبہ لعنت لعنت لعنت لکھی ہے اور مولانا جمال اللہ الحسینی صاحب نے حاضرین کو مرزا کی لکھی ہوئی لعنت لعنت دکھائی جہاں مرزا قادیانی نے تمام امت مسلمہ کو لعنتی لکھا ہے۔“

اب قادیانی مربی طاہر جان چھڑانے کی کوشش کرنے لگا لیکن تحفظ ختم نبوت کے مجاہدین قادیانی غداروں کا پیچھا چھوڑنے والے نہیں ہیں اب مولانا تونسوی صاحب، مولانا جمال اللہ الحسینی اور ختم نبوت کے ساتھیوں نے مرزا قادیانی کے اخلاق پر گفتگو کرنے کو کہا مولانا جمال اللہ الحسینی نے فرمایا چونکہ فتنہ کی اصل مرزا غلام احمد قادیانی ہے۔ لہٰذا اس پر بات کریں لیکن قادیانی مربی اپنے مٹھن لال اور ٹیچی ٹیچی سے الہام پانے والے نبی کے اخلاق پر بات کرنے کے لئے کب تیار ہوتے ہیں؟

نہ خنجر اٹھے گا نہ تلوار ان سے یہ بازو میرے آزمائے ہوئے ہیں

اب قادیانی مربی نے اپنی پہلے والی بات دہرائی تو مولانا جمال اللہ الحسینی نے فرمایا کہ حیات نزول عیسیٰ علیہ السلام تو قرآن مجید سے ہم ثابت کر کے دکھاتے ہیں۔ خود مرزا غلام احمد قادیانی حیات ونزول عیسیٰ علیہ السلام کا قائل تھا اصل اختلاف تو اس میں ہے کہ مرزا غلام احمد قادیانی اپنے آپ کو مسیح موعود کہتا ہے جب کہ مسیح حضرت عیسیٰ بن مریم علیہما السلام ہیں اور موعود کا مطلب لوٹ کر آنے والا یا وعدہ کیا ہوا۔ لہٰذا مرزا اس لحاظ سے حیات عیسیٰ علیہ السلام کا قائل ہوا اور یہ بات طے ہو گئی کہ حضرت مسیح علیہ السلام کا آنا سچ ہے اور محمد رسول اللہ ﷺ نے کچھ نشانیاں اور علامات بتائی ہیں اب مولانا جمال اللہ الحسینی نے بہت ساری احادیث نبویہ سنائیں۔ اب مولانا جمال اللہ الحسینی نے قرآن مجید کی آیت ”وقولہم انا قتلنا المسیح ابن مریم رسول اللہ وماقتلوہ وماصلبوہ“ (سورہ نساء پ ۶) ”یعنی یہودیوں پر اس قول کے سبب لعنت پڑی کہ وہ کہتے تھے کہ ہم نے ضرور بالضرور مسیح ابن مریم کو قتل کر دیا اور انہوں نے اس کو قتل نہیں کیا اور نہ صلیب پر کھینچا۔“ اور ظاہر ہے کہ قتل کرنے اور صلیب پر کھینچنے کے قابل جسم ہوتا ہے نہ کہ روح۔ پس یہود کا دعویٰ قتل مسیح کے جسم کی نسبت ہوا اور اللہ تعالیٰ نے بھی قتل اور صلب کی نفی جسم مسیح کی نسبت کی چونکہ سب منصوب ضمیریں ”وماقتلوہ“ اور ”وماصلبوہ“ کی طرح ”بل رفعہ اللہ الیہ“ میں پائی جاتی ہیں۔ ان سب کا مرجع المسیح ہے۔ لہٰذا ضروری ہے کہ مسیح علیہ السلام کا جسم اٹھایا جانا ماننا پڑے گا۔ کیونکہ جس چیز کی طرف یہودی دعویٰ کرتے تھے کہ ہم نے اس کو قتل کر دیا۔ اللہ تعالیٰ نے اس کی تردید فرمائی اور اوپر آسمان پر اٹھا لیا۔

اب قادیانی مربی نے پینترا بدلا ”رفعناہ مکانا علیاً“ سے بلندی درجات کا حوالہ دے کر انکار حیات عیسیٰ علیہ السلام کا پہلو بدلا لیکن مولانا جمال اللہ الحسینی نے ترجمہ سمجھا دیا پھر قادیانی مربی اپنے روایتی طریقہ آئیں بائیں شائیں کرنے لگا۔ یاد رہے کہ قادیانی مربی طاہر نے رفعناہ علیاً پڑھی تو حاضرین میں سے ایک شخص کھڑا ہو کر کہنے لگا کہ جو شخص قرآن مجید صحیح نہیں پڑھ سکتا اس کے عقیدہ کا کیا اعتبار ہے؟ اس پر قادیانی مربی انتہائی شرمندہ ہوا بالآخر قادیانی مربی کوئی جواب نہ دے سکا تو کہنے لگا یہ کتابیں (روحانی خزائن وغیرہ) مرزا صاحب کی نہیں ہیں اس پر مولانا جمال اللہ الحسینی اور مولانا نذیر احمد تونسوی صاحب نے فرمایا کہ اگر یہ کتابیں مرزا غلام احمد کی نہ ہوں تو ہم ایک لاکھ

صفحہ ۴۵۱

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۷ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

روپے انعام دیں گے تو اب قادیانی مربی اپنا سا منہ لے کر رہ گیا۔ اب آخر میں جب قادیانی لاجواب ہو گئے تو حضرت مولانا نذیر احمد تونسوی صاحب نے ختم نبوت پر مدلل تقریر کی اور مرزا قادیانی کے کفریہ عقائد کا پردہ چاک کیا اور علاقہ میں قادیانیت کے خلاف مسلمان نوجوانوں سے وعدہ لیا اور مبلغین ختم نبوت نے مرزائی کتب کے حوالہ جات پیش کرتے ہوئے کہا کہ مرزا غلام احمد نے انبیاء کرام کی توہین کر کے برصغیر میں توہین رسالت کی بنیاد ڈالی۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو ننگی گالیاں دیں، روضہ رسول اکرم ﷺ کی توہین کی۔ صحابہ کرام اور اہل بیت کی توہین کی، مبلغین نے مرزائی کتب سے حوالے دکھا کر کہا کہ جس شخص نے اپنے مریدوں سے خطوط لکھ کر تاکید سے شرابیں منگوائیں جس نے اپنے آپ کو حاملہ کہہ کر اپنی مدت حمل دس ماہ بیان کی۔ جس نے تمام مسلمانوں کو کنجریوں کی اولاد لکھا۔ جس نے رات کی تنہائی میں بھانو نامی ایک غیر محرم عورت سے ٹانگیں دبوائیں۔ جس بد زبان نے اپنے مخالفین کو جنگل کے سور اور ان کی عورتوں کو کتیاں تحریر کیا ہو۔

ہمارا چیلنج ہے دنیا بھر کے مرزائی، اکٹھے ہو کر بھی مسیح موعود تو بعد کی بات ہے پہلے اسے شریف انسان ثابت کریں۔ لیکن ہمارا تجربہ ہے کہ ساری دنیا کے مرزائی زہر کا پیالہ پی لیں گے لیکن مرزا کی ذات پر بحث کر کے اسے شریف انسان ثابت کرنے سے عاجز ہیں۔ بالآخر پانچ گھنٹے طویل گفتگو کے دوران ذلت آمیز شکست اور رسوائی اٹھانے کے بعد مرزائی مربیوں نے یہ کہہ کر جان چھڑائی کہ ہم اپنے بڑوں سے بات کر کے آپ کے اعتراضات کے جوابات دلوائیں گے۔

جس پر حاضرین بہر حال بہت خوش ہوئے جن لوگوں کو قادیانیوں نے قادیانیت کے دام فریب میں پھانسنے کے لئے ورغلایا ہوا تھا۔ ان کے ایمان پختہ ہو گئے۔ حضرت قاری حق نواز صاحب کی رقت آمیز دعا پر مجلس برخاست ہوئی۔ مولانا نے انتہائی سوز و گداز سے دعا کی کہ یا اللہ امت مسلمہ کو قادیانیت کے فتنے کے فریب سے محفوظ فرما، قادیانی ( غلامان زن، غلامان زر، غلامان زمین ) کو ہدایت عطا فرما۔

(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی مورخہ ۴ تا ۱۰ / اپریل ۱۹۹۷ء ص ۶، ۷، ۲۶)

امیر مرکزیہ کی علماء دیوبند کو یکجا کرنے کی کوشش

امیر مرکزیہ شیخ المشائخ مولانا خواجہ خان محمد صاحب دامت برکاتہم العالیہ پاکستان کی ان شخصیات میں شامل ہیں جن پر امت کے تمام مسالک کا متفقہ اعتماد ہے اس بنا پر جب بھی مشترکہ لائحہ عمل کے لئے مجلس عمل ترتیب پائی پاکستان کی تمام مذہبی اور سیاسی جماعتیں حضرت الامیر کو اپنا قائد تسلیم کرتی ہیں۔ مسلک حقہ میں علماء دیوبند میں تو آپ کی حیثیت ایک مشفق روحانی والد کی ہے۔ تمام طبقے آپ کا از حد احترام کرتے ہیں۔ گزشتہ کچھ سال سے مسلک حقہ کے درمیان جس طرح افتراق و انتشار ہوا اس کی وجہ سے مسلک سے وابستہ ہر شخص دل گرفتہ اور خون کے آنسو روتا تھا۔ خاص کر مولانا فضل الرحمٰن اور مولانا سمیع الحق کے اختلافات نے جس طرح علماء دیوبند کے درمیان اختلاف کی لکیر کو زیادہ اجاگر کیا کہ ہر جگہ شکست کا سامنا کرنا پڑا اور اسکی وجہ سے ہر جگہ دشمنوں نے علماء دیوبند کے مدارس اور مساجد کو نقصان پہنچایا اس پر ہر شخص خواہش مند تھا کہ اختلافات کی اس خلیج کو دور کرنے لئے کوئی بزرگ پیش قدمی فرمائیں اور ان تمام علماء کرام کو ایک مشترکہ پلیٹ فارم پر جمع کریں۔ تمام طبقوں کی نگاہ حضرت امیر مرکزیہ پر مرکوز ہوئی اور انہوں نے اپنے اختلاف دور کرانے کے لئے حضرت سے ثالثی کی درخواست کی۔ حضرت اقدس نے تمام سرکردہ لوگوں کو اسلام آباد میں جمع فرمایا اور ان کو ایک پلیٹ فارم پر جمع ہونے کی تلقین کی۔ اجلاس میں مولانا سمیع الحق، مولانا فضل الرحمٰن، مولانا فداء الرحمٰن درخواستی، مولانا محمد اسفندیار خان، مولانا سید عبدالمجید ندیم شاہ، مولانا ڈاکٹر حبیب اللہ مختار، مولانا عبدالغفور حقانی، مولانا عبدالستار تونسوی، مولانا محمد عبداللہ، مولانا نذیر احمد فاروقی، مولانا عزیز الرحمٰن جالندھری، مولانا محمد اکرم طوفانی وغیرہ شریک ہوئے اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ تمام علماء کرام مسلک حق کے لئے مشترکہ کام کریں گے۔ مولانا فضل الرحمٰن اور مولانا سمیع الحق دونوں

صفحہ ۴۵۲

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۷ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

جماعتوں کو یکجا کرنے کی کوشش کریں، اجلاس میں امیر مرکزیہ کو اختیار دیا گیا کہ وہ مولانا علی شیر حیدری سے ملاقات کر کے ان کو بھی مشترکہ پلیٹ فارم کے تحت کام کرنے پر آمادہ کریں گے، اجلاس میں فرقہ واریت کے بہانے مسلک دیو بند کے مدارس اور مساجد پر حملوں کی مذمت کرتے ہوئے فریقین کو کہا گیا کہ ایک دوسرے کو جان سے مارنا اور بے گناہوں کو قتل کرنا شرعاً جائز نہیں اس لئے تمام علماء کرام دہشت گردی سے برأت کا اظہار کرتے ہوئے متحارب فریقین کو تلقین کرتے ہیں کہ وہ ایک دوسرے کے قتل عام کو بند کریں اور علمی اور عقیدے کے مسائل کو ملی انداز میں حل کریں کیونکہ اس طرح مغرب مسلمانوں کو بدنام کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ یہ طے کیا گیا کہ اگلا اجلاس جلد ہو گا جس میں مشترکہ لائحہ عمل طے کیا جائے گا۔

(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی مؤرخہ ۴ تا ۱۰ / اپریل ۱۹۹۷ء ص ۵)

سفر نو اور عزم نو

عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے بزرگ رہنماء و بانی رکن مجاہد ملت حضرت مولانا تاج محمود نے آج سے تینتیس سال قبل ہفتہ وار لولاک فیصل آباد سے اجرا فرمایا تھا ، اس کا پہلا شمارہ ۲۰ مارچ ۱۹۶۴ء کو شائع ہوا۔ یہ رسالہ خالصتاً تبلیغی اصلاحی اور تعلیمی تھا اور انہیں خطوط پر حضرت مولانا مرحوم نے پرچہ کو اپنی زندگی کے آخری وقت تک جاری رکھا۔

آپ کی وفات (جنوری ۱۹۸۲ء کے بعد آپ کے جانشین حضرت صاحبزادہ طارق محمود صاحب نے (مئی ۱۹۹۷ء) تک پرچہ کی آبیاری فرمائی۔ محترم صاحبزادہ کی صحت اور گھریلو اور جماعتی مصروفیات کے باعث ان کی خواہش تھی کہ اب پرچہ مجلس کے مرکزی دفتر سے شائع ہو۔ اس امر پر مرکزی مجلس شوریٰ نے اپنے گزشتہ اجلاس میں طویل غور و فکر کے بعد فیصلہ کیا کہ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے ترجمان کی حیثیت سے ہفتہ وار لولاک کی ایک عظیم تاریخ اور گرانقدر خدمات ہیں اب جب کہ بحمدہ تعالیٰ عالمی مجلس کا ایک ہفتہ وار ترجمان ختم نبوت کراچی بڑی آب و تاب اور کامیابی کے ساتھ جاری ہے۔ اس لئے کراچی کے پرچہ کو نہ صرف ہفتہ وار رہنے دیا جائے بلکہ اسے مزید خوبصورت تر بنایا جائے ۔ اور ساتھ ہی ہفتہ وار لولاک کو بجائے ہفتہ وار کے ماہانہ کر دیا جائے اور فیصل آباد کی بجائے ملتان کے مرکزی دفتر سے اس کی اشاعت کا اہتمام کیا جائے۔

الحمد للہ ! پریس برانچ لاہور نے اس کے لئے این. او. سی جاری کر دیا ہے۔ اب صرف ڈی سی ملتان کی طرف سے اجازت نامہ پر دستخط ہونے باقی ہیں۔ بحمدہ تعالیٰ آج بھی اس پرچہ کے بنیادی اہداف تعلیمی ، اصلاحی ، تبلیغی ہوں گے ۔ اس کا فرقہ واریت سے کوئی تعلق نہ ہوگا۔ اتحاد بین المسلمین کا علمبردار ، اور رحمت عالم ﷺ کی عزت و ناموس کے تحفظ اور عقیدہ ختم نبوت کی ترجمانی کا داعی اور خادم ہوگا۔ نئے ہجری سال محرم ۱۴۱۸ھ اس کے نئے سفر کا نئے عزم کے ساتھ آغاز کیا جا رہا ہے۔ ابتدائی طور پر طباعت و اشاعت کے لئے نا تجربہ کاری کا عذر آپ حضرات کے سامنے ہے۔ اس کی خوبیوں اور خامیوں پر آپ حضرات مطلع فرمائیں گے۔ ہماری کوشش ہوگی اسے بہتر سے بہتر انداز میں آپ حضرات کے سامنے پیش کر سکیں ۔ اللہ رب العزت اپنی رحمت و عنایت خاص سے آنحضرت ﷺ کی ختم نبوت کے صدقے ہمیں اپنے مقصد میں کامیاب فرمائیں اور ان حقیر خدمات کو اپنی بارگاہ میں شرف قبولیت سے سرفراز فرمائیں۔ تمام رفقاء جماعتی احباب سے دعاؤں کی درخواست کے ساتھ نئے سفر کا آغاز ہو رہا ہے۔ حق تعالیٰ شانہ اپنے رحم اور کرم کا معاملہ فرمائیں اور تمام رکاوٹوں کو دور فرما کر آسانیوں کی نعمت ارزاں فرمائیں۔ آمین ثم آمین!

” بحرمة النبی الامی الكريم خاتم النبيين وعلى آل و اصحابه و ازواجه وعلينا معهم يا ارحم الراحمين رب يسر ولا تعسر “

(ماہنامہ لولاک ملتان مئی ۱۹۹۷ء ص ۳)

صفحہ ۴۵۳

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۷ء

ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

ماہنامہ لولاک کی ملتان سے اشاعت شروع ہونے سے قبل ہفت روزہ ختم نبوت کراچی میں درج ذیل اشتہار شائع ہوتا رہا ہے۔

ملاحظہ فرمائیں:

ایک ضروری اعلان و خوشخبری

ماہنامہ لولاک

کا مرکزی دفتر ملتان سے اجراء

وما توفیقی الا باللہ، علیہ توکلت والیہ انیب !

رابطے کا پتہ : (حضرت مولانا) عزیز الرحمن جالندھری مرکزی ناظم اعلیٰ، عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت مرکزی دفتر حضوری باغ روڈ ملتان

صفحہ ۴۵۲

ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۷ء

پی. آئی. اے میں قادیانیوں کی شرانگیزیاں

گزشتہ صفحات میں ہم نے پی. آئی. اے سے متعلق قادیانیوں کی شرانگیزیوں سے آگاہ کیا تھا، ہماری تائید ہفت روزہ تکبیر کی رپورٹ میں بھی ہوگئی جناب شاہد خان عباسی صاحب کے چیئرمین ہوکر تشریف لاتے ہی عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت نے ان کو فیکس روانہ کیا ہے کہ مجلس کے وفد کو ملاقات کا وقت دیں۔ امام حرم کعبہ کو فیکس کیا گیا کہ وہ جدہ میں قادیانی افسر کی تعیناتی کا نوٹس لیتے ہوئے اس کو سعودیہ سے باہر نکلوائیں۔ ہم پی. آئی. اے کی انتظامیہ سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ پی. آئی. اے میں قادیانیت کو لگام دیں ورنہ حالات کی خرابی کی ذمہ داری پی. آئی. اے کی انتظامیہ پر ہوگی۔ بالمشافہ ملاقات میں ہم تفصیل سے قادیانیوں کی شرانگیزیوں کا تذکرہ کریں گے۔

(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی مؤرخہ ۱۳ تا ۱۹/ جون ۱۹۹۷ء ص ۶)

ایوان صدر میں قادیانی

سابقہ گورنمنٹ کے اعلیٰ آفیسر جناب محمد بشیر خالد صاحب کی یادداشتیں روزنامہ ”باخبر“ کوئٹہ میں بعنوان ”ایوان صدر میں سولہ سال“ شائع ہورہی ہیں۔ یکم/ جون ۱۹۹۷ء کو بارھویں قسط شائع ہوئی ہے۔ اس میں ایک عنوان ہے ”ایوان صدر میں قادیانی“ وہ پیش خدمت ہے۔ اس سے آپ اندازہ کرسکتے ہیں کہ بدبخت ازلی انگریز کے زلہ خوار مرزا غلام احمد قادیانی کی ذریہ البغایا ظفر اللہ قادیانی مرتد اعظم سے لے کر ایک کلرک تک کس طرح قادیانیوں نے ملک کو دونوں ہاتھوں سے لوٹا۔ ان درندہ صفت بدفطرتوں کی ایک جھلک اس مضمون میں آپ ملاحظہ فرمائیں:

”ایک صاحب عبدالوحید تھے تعلیم میٹرک تک تھی انہیں وائسرائے ہاؤس دہلی میں چوہدری سر محمد ظفراللہ خان نے کلرک بھرتی کروایا تھا۔ برصغیر کی تقسیم کے وقت او. پی. ٹی کرنے والا عملہ کراچی پہنچا تو عبدالوحید سب کلرکوں میں سینیئر قرار پائے چوہدری صاحب نے جو وزیر خارجہ تھے اعانت فرمائی اور عبدالوحید گورنر جنرل کے سیکرٹریٹ میں سپرنٹنڈنٹ بنادیئے گئے۔

۱۹۵۵ء میں میجر جنرل سکندر مرزا تشریف لائے تو اسسٹنٹ سیکرٹری فرخ امین کو جنہیں قائد اعظم کے پی اے ہونے کا اعزاز حاصل رہا تھا اور بعد میں خواجہ ناظم الدین اور غلام محمد کے منظور نظر رہے تھے ٹرانسفر کردیا گیا ان کی جگہ عبدالوحید کو اسسٹنٹ سیکرٹری بنایا گیا اب کی دفعہ اس کی سفارش چوہدری صاحب نے (ہالینڈ) سے کی تھی جہاں وہ بین الاقوامی عدالت کے جج کے عہدہ جلیلہ پر متمکن تھے اگرچہ وحید کا شمار سکندر مرزا کے ذاتی سٹاف میں ہونے لگا تھا۔ تاہم ضروری تربیت نہ ہونے کے سبب عبدالوحید کی ذمہ داریاں دفتری عملے تک محدود رہیں ۔

یہ شخص کٹر قادیانی تھا چوہدری محمد ظفراللہ کی سرپرستی حاصل تھی اس کے علاوہ ایم. ایم. احمد اور بھٹو دور میں ملک گیر شہرت پانے والے اسٹیبلشمنٹ سیکرٹری وقار احمد (جو رشتے میں عبدالوحید کے بھانجے ہیں) عبدالوحید کے مربی اور نگران کے فرائض انجام دے رہے تھے عبدالوحید کے ایوان صدر میں موجود ہونے کے سبب قادیانی جماعت کے امیر اور خلیفہ مرزا ناصر احمد ربوہ سے تشریف لاتے تھے تو عبدالوحید کو میز بانی کا شرف بخشا کرتے اور عبدالوحید ہمیں فخر سے بتایا کرتا تھا، فرخ امین نے عبدالوحید کو اس کے مقام پر رکھا ہوا تھا فرخ امین چلا گیا تو عبدالوحید نے پر پرزے نکالے اور خوب نکالے کیونکہ قدرت اللہ شہاب طبیعت کی نرمی کی وجہ سے عبدالوحید کو لگام ڈالنے کی پوزیشن میں نہیں تھے۔

صفحہ ۴۵۵

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۷ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

قائد اعظم کے مزار کی تعمیر کا مسئلہ معرض التواء میں چلا آ رہا تھا۔ تعمیر کی غرض سے خطیر رقم ایوان صدر کی تحویل میں تھی عبدالوحید نے اس رقم میں اضافہ کرنے کے بہانے شہاب صاحب کو قائل کر کے اس رقم سے مزار کے لئے مختص شدہ سرکاری قطعہ زمین پر دکانیں تعمیر کروائیں جسے شبینہ مارکیٹ کا نام دیا گیا۔

یہ مارکیٹ آدھی رات تک کھلی رہتی تاکہ سارا دن مصروف رہنے والے لوگ رات کو شاپنگ کر سکیں اس مارکیٹ کی تعمیر میں عبدالوحید نے صرف ایک آفس اسسٹنٹ مرزا عبدالرحمن کو اپنے ساتھ رکھا تیسرے کسی شخص کو علم نہ ہونے دیا کہ ٹھیکہ دار کون ہے؟ انجینئر کون ہے؟ دوکانیں الاٹ کون کرتا ہے؟ کرایہ کون وصول کرتا ہے؟ حساب کتاب کون رکھتا ہے؟ وغیرہ وغیرہ بس ایک عبدالوحید اور دوسرا مرزا عبدالرحمن۔

مرزا عبدالرحمن خود بڑا آزاد خیال مشہور تھا۔ البتہ اس کا والد آنجہانی مولوی عمر دین مشہور قادیانی مبلغ اور قادیانی جماعت کے بانی آنجہانی مرزا غلام احمد قادیانی کا قریبی دوست تھا گویا قادیانیوں کے مطابق مولوی عمر دین ”صحابی“ کے درجہ پر فائز رہا تھا۔

یہ مارکیٹ خوب چلائی گئی شام کے بعد عبدالرحمن اور عبدالوحید وہیں اپنا دفتر بھی لگاتے عبدالوحید کے بقول ایک طرف قائد اعظم میموریل فنڈ میں اضافہ ہوا تو دوسری طرف سرکاری زمین غیر قانونی تجاوزات سے محفوظ رہی۔

جب دارالحکومت کراچی سے پنڈی منتقل ہوا تو عبدالوحید کو راولپنڈی آنا پڑا مگر اس نے مرزا عبدالرحمن کا کراچی شبینہ مارکیٹ میں اپنا نمائندہ بنا کر چھوڑ دیا، چند ماہ بعد محسوس ہوا کہ سیٹھ صاحب کے منیجر کی بجائے مرزا صاحب خود سیٹھ ہی بن بیٹھے ہیں تو عبدالوحید نے مارکیٹ بند کروا کر بلڈوزر چلوا دیئے عبدالرحمن نے بھی نام کمایا اور دام بھی اس کے ساتھ کاروبار کا تجربہ حاصل ہوا مونچھوں کو خون بھی لگ گیا۔

اچھے کاموں کا شوق ہو تو اللہ تعالیٰ اچھے اسباب پیدا کر دیتا ہے نیت بری ہو تو خدا ڈھیل دیئے جاتا ہے اتنی ڈھیل اور رسی اتنی دراز کہ بعد میں مشکیں کسنے کا وقت آئے تو رسہ کم نہ پڑ جائے۔

ایوب خان تشریف لا چکے تھے اور مزار قائد کی تعمیر ایوب خان کی پہلی ترجیحات میں سے تھی ابتدائی مراحل کے بعد تعمیر شروع ہوئی۔

عبدالوحید پہنچ گئے قدرت اللہ شہاب کی خدمت میں عرض کی کہ پی.ڈبلیو.ڈی اور دوسرے ادارے بہت گھپلا کرتے ہیں اس لئے میٹریل کی سپلائی ہمیں اپنے ہاتھ میں رکھنی چاہئے سنگ مرمر مردان اور ملاکوری سے مہیا ہونا تھا ان جگہوں کے دورے شروع ہو گئے سنگ مرمر کے تاجروں کو خبر ہو گئی وہ لال کرتی میں عبدالوحید کے گھر کا طواف کرنا شروع ہو گئے مزار قائد کی تعمیر کی نگرانی کرنے کے لئے کنسلٹنگ انجینئر کی ضرورت تھی چنانچہ تلاش کرنے سے مطلب کا آدمی مل گیا، پی.ڈبلیو.ڈی سے ریٹائرڈ شدہ سپرنٹنڈنگ انجینئر عبدالرحمن ان کے لئے ایوان صدر میں اسسٹنٹ سیکرٹری بڑی چیز تھی جب بھی عبدالوحید بلاتا، سر کے بل تشریف لاتے اور ادب کے ساتھ گفتگو کرتے عبدالوحید کو اب بھی ایک عبدالرحمن میسر آ گیا تھا ایوان صدر سے باہر سنگ مرمر کی خریداری کی دخل اندازی کی نہ جرأت تھی اور نہ ہی حق حاصل تھا عبدالوحید اس سلسلے میں مختار کل تھا البتہ آفس اسسٹنٹ مرزا عبدالرحمن توبہ تائب کر کے دوبارہ خدمت پر مامور ہو چکا تھا۔

افسران بالا کے لئے اتنی بات ہی وجہ اطمینان تھی کہ مزار کی تعمیر پروگرام کے مطابق جاری ہے گھپلا کس نوعیت کا ہو رہا تھا اور کون کر رہا تھا؟ انہیں اس سے دلچسپی نہ تھی۔

عبدالوحید نے موقع پا کر مطالبہ کیا کہ چونکہ اس کے فرائض منصبی میں گرانقدر اضافہ ہوا ہے لہٰذا اسے اسسٹنٹ سیکرٹری سے ترقی دے کر ڈپٹی سیکرٹری بنایا جائے سیکرٹری شہاب صاحب نے کہا کہ ٹھیک ہے پریذیڈنٹ صاحب کی منظوری کے بعد وزارت خزانہ سے رجوع

صفحہ ۴۵۶

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۷ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

کیا گیا تا کہ ضابطے کی کارروائی پوری ہو، کسی نائب قاصد کا دس پندرہ روپے ماہانہ اضافہ کی بات ہوتی تو وزارت خزانہ کے افسران بال کی کھال اتارنا شروع کر دیتے یہ تو صرف ایک افسر کا رتبہ بڑھانا اور اس کی تنخواہ میں چار پانچ سو روپیہ ماہوار کا اضافہ کرنا تھا اور بس، افسر بھی ایوان صدر کا جس سے کسی وقت بھی کام پڑ سکتا تھا لہٰذا اعتراض کر کے کیا لینا تھا؟

پولیس نوں آکھاں رشوت خور تے فائدہ کی بوتھی ہو جائے ہور دی ہور تے فائدہ کی

منظوری آ گئی اور عبدالوحید ڈپٹی سیکرٹری بن گیا۔ دریں اثنا عبدالوحید نے اسلام آباد کے سیکٹر جی سکس میں جو سب سے پہلے آباد ہوا تھا ایک مکان بنوا لیا راقم کو اس مکان کو دیکھنے کا اتفاق ہوا۔

قدرت اللہ شہاب جو اب سیکرٹری وزارت اطلاعات تھے اور ان کی بیگم عفت شہاب بھی ہمراہ تھیں۔ غسل خانے تو خیر مرمر کے ہونے ہی تھے، کمروں کے فرش اور مکان کی چار دیواری (اندر کی طرف سے) سنگ مرمر کی تھی۔ صرف کمروں کی چھتوں پر پلستر تھا۔ قائد اعظم کے مزار والا مقدس سنگ مرمر بیگم شہاب سے کہے بغیر نہ رہا گیا کہنے لگیں۔ وحید صاحب کا مکان گھر نہیں بلکہ کسی مغل بادشاہ کا مقبرہ لگتا ہے عبدالوحید بتایا کرتا تھا کہ اپنی تنخواہ میں سے ایک طے شدہ رقم قادیانی جماعت کو ماہوار بھیجنا پڑتی ہے قائد اعظم کے مزار کی بدولت ماہانہ چندے میں یقیناً اضافہ ہوا، قائد اعظم میموریل فنڈ سے شبینہ مارکیٹ اور سنگ مرمر کی سپلائی کی (سردردی) سے کاروبار کا وسیع تجربہ ہو گیا تھا۔ پریذیڈنٹ کے سیکرٹری اب این۔ اے فاروقی تھے، جو خود مرزائی تھے۔ ان سے منظوری لے کر قائد اعظم میموریل فنڈ سے چھ عدد کالے رنگ کی فورڈ پریفیکٹ کاریں خرید کر ٹیکسیاں رجسٹرڈ کروائیں۔ جن کی نمبر پلیٹ پر کیو۔ ایم۔ ایف لکھوایا گیا تھا تا کہ ٹریفک پولیس کا عملہ قائد اعظم کے احترام میں ان ٹیکسیوں کا بھی احترام کرے۔ اگر بالفرض ٹریفک پولیس والے اپنی ہوس میں اندھے بھی ہو چکے ہوں تو ان کی آنکھوں کا نور بحال کرنے کے لئے ڈرائیور فوراً وہ کاغذ دکھا دے جس پر لکھا تھا کہ یہ ٹیکسی ایوان صدر سے تعلق رکھتی ہے تا کہ پولیس والا پیچھے ہٹ کر سلام کرے اور اگلے سپاہی کو اشارہ کر دے کہ ”جان دیوں“ بھروسے کے ڈرائیور بھرتی کئے گئے تھے جن سے روزانہ کی وصولی دولت خانہ پر ہوتی تھی۔

حساب کتاب کے لئے اب کی دفعہ مرزا عبد الرحمن کو نظر انداز کر کے اپنے پی۔ اے عبدالقادر بھٹی اور نائب قاصد سرفراز خان کی خدمات حاصل کر لی گئیں حق خدمت کے طور پر انہیں ٹیکسیوں کی آمدنی میں سے ماہانہ الاؤنس دیا جاتا ، یہ مشغلہ ۱۹۶۸ء تک جاری رہا اس دوران سیکرٹری صاحبان کی تبدیلیاں ہوتی رہیں قدرت اللہ شہاب کے بعد تھوڑی مدت کے لئے میاں ریاض الدین و اعجاز نائیک تشریف لائے تھے ان کے بعد این اے فاروقی اور سید فدا حسین تشریف لائے تھے مگر عبد الوحید سب کی آنکھوں میں خاک جھونکنے میں کامیاب رہا، نہ ہی کسی کوتوال شہر کو مسجد کے زیر سایہ اس خرافات پر انگلی اٹھانے کی جرأت ہو سکی ایوان صدر میں سیکرٹریٹ کے عملے نے عبد الوحید کے بارے میں یہ بھی مشہور ہے کہ یہ سید فدا حسین کے پاس گیا کہ جناب ایوان صدر میں غریب عملے کو ان کی لمبی خدمات کے عوض صوبائی حکومت سے تھوڑی تھوڑی سرکاری اراضی دلوائی جائے فدا حسین نے کہا ٹھیک ہے گورنر موسی کے نام چٹھی لکھ کر لاؤ ، چٹھی لکھ کر لے گئے دس بارہ چپڑاسیوں کے لئے ساڑھے بارہ ایکڑ (آدھا مربعہ) اور فہرست کے آخر میں خود اپنا نام اور اس کے آگے صرف سو ایکڑ یعنی چار مربع زرعی اراضی چٹھی روانہ ہوئی گورنر موسی کے سٹاف نے دیکھا تو ان کے منہ میں بھی پانی بھر آیا اور نام شامل کر لئے ضلع میانوالی کی تحصیل بھکر میں اراضی الاٹ ہو گئی۔

صفحہ ۴۵۷

تحریک ختم نبوت جلد(۶) ۱۹۹۷ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

جن چپڑاسیوں کے نام گئے تھے وہ عبدالوحید کی غریب پروری پر عش عش کر اٹھے جن کے نام رہ گئے تھے ان میں سے دو چار جو زیادہ ”بڑبولے تھے ۔ ان کو سمجھا دیا گیا کہ دیکھو اگلے سال پھر نام بھجوانے ہیں تم کام اچھا کرتے رہو وہ اچھا کام کرنے کا مطلب سمجھ گئے اور خاموش ہو گئے۔

۱۹۶۸ء کے وسط میں فدا حسین تبدیل ہو گئے ان کی جگہ عبدالقیوم تشریف لے آئے یہ حضرت بالکل ہی دوسری قسم کے تھے آتے ہی ٹیکسیوں کا کاروبار بند کروایا اور حساب کتاب طلب کر لیا ابھی ہفتہ عشرہ بھی نہ گزرا تھا کہ عبدالوحید کو بوریا بستر لپیٹنے کا حکم مل گیا۔

اگرچہ اس وقت تک آر. ڈی سی کے لئے میری سلیکشن ہو چکی تھی اور ایوان صدر سے رخصت ہونے کے لئے پریذیڈنٹ صاحب کی اجازت کا منتظر تھا تاہم عبدالقیوم صاحب نے مجھے عبدالوحید سے چارج لینے کو کہا عبدالوحید نے اپنے ذاتی کاغذات اور سامان سمیٹنے کے لئے قیوم صاحب سے دو دن کی مہلت مانگی جو مل گئی آخری دن تھا شام کے بعد رات شروع ہو گئی عبدالوحید نے اپنے پی. اے عبدالقادر اور نائب قاصد سرفراز خان کی مدد سے ”پھولا پھالی“ میں مصروف رہا اور وقفہ وقفہ سے پیشانی سے پسینہ پونچھتا رہا میں بھی انتظار میں بیٹھا رہا میں رات نو بجے کھانا کھانے اپنے گھر جو ایوان صدر کی حدود کے اندر چلا گیا واپس آیا تو عبدالوحید کاغذات کا ڈھیر لگائے انہیں جلانے میں مشغول تھا راکھ بتا رہی تھی کہ بوری بھر کاغذ جلائے جا چکے ہیں۔

میں نے اپنے کمرے میں آ کر ٹیلی فون پر عبدالقیوم صاحب کو اطلاع دینے کی کوشش کی مگر وہ گھر پر نہیں تھے رات گیارہ بجے چارج لیا صبح قیوم صاحب کو پتہ چلا تو سیخ پا ہو گئے اور لگے مجھ پر برسنے ان کا غصہ بجا تھا مگر میں بے قصور تھا ریکارڈ جل چکا تھا اور عبدالوحید جا چکا تھا کچھ عرصہ وہ چھٹی پر رہا پھر اس کی پوسٹنگ سی. ڈی. اے جہاں این اے فاروقی چیئرمین تھے بطور ایڈمن آفیسر ہو گئی، میں ایوان صدر کو چھوڑ کر آر سی ڈی میں تہران چلا گیا ایران سے واپسی پر میری تقرری وزارت تعلیم ہو گئی ایوان صدر کے پرانے دوستوں سے معلوم ہوا کہ عبدالوحید کے خلاف انکوائری ہوئی تھی جس کے نتیجے میں اسے جبری ریٹائر کر کے آدھی پنشن بحق سرکار ضبط کر لی گئی تھی اس تمام کاروائی کا کریڈٹ عبدالقیوم کو جاتا ہے اگر چہ جرائم کے مقابلے میں سزا بہت کم تھی ممکن ہے بلکہ یقینی طور پر سمجھا جا سکتا ہے کہ ایم. ایم. احمد ، وقار احمد این. اے فاروقی اور دوسرے قادیانی افسران نے مک مکا کی پوری کوشش کی ہوگی اپنے خلاف بیشتر کاغذی شہادتیں وہ پہلے ہی ایوان صدر سے نکلتے وقت تلف کر چکا تھا تاہم مکافات عمل سے کون بچا ہے جو عبدالوحید بچ جاتا۔

(یکم/ جون ۱۹۹۷ء روزنامہ باخبر کوئٹہ)

قادیانی ججوں کی تقرری کے بارے میں چیف جسٹس کے ریمارکس

قادیانی ججوں کی تقرری کے سلسلے میں ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے چیف جسٹس صاحب نے فرمایا ”غیر مسلم اقلیت قادیانی جج بن سکتے ہیں ۔“ ہم چیف جسٹس صاحب کی خدمت میں عرض کریں گے کہ وہ آئین اور قانون کے شارح ہیں اور ان کا منصب بہت مقدس ہے اس لئے ان کو تبصرہ کرتے ہوئے بہت محتاط رویہ اختیار کرنا چاہئے ۔ غیر مسلم اقلیت کے جج بننے کے بارے میں کسی کو اشکال نہیں ۔ مسئلہ قادیانیوں کا ہے، جنہوں نے آئین کو تسلیم نہیں کیا اپنے کو غیر مسلم اقلیت نہیں سمجھتے بلکہ ہم سب کو چیف جسٹس سمیت کافر گردانتے ہیں۔ کیا آئین کے ایسے منحرف افراد یا اقلیتیں جج بن سکتی ہیں؟ چیف جسٹس صاحب اس حوالے سے اگر جواب دیں تو مناسب ہوگا۔ ہمیں امید ہے کہ چیف جسٹس صاحب کسی قادیانی کو جج بنانے کی سفارش نہیں کریں گے۔

(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی مورخہ ۱۰ تا ۱۶ / جنوری ۱۹۹۷ء ص۴)

صفحہ ۴۵۸

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۷ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

کیا قادیانی کو جج بنایا جاسکتا ہے؟

عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کا شروع سے مؤقف یہ رہا ہے کہ قادیانی چونکہ حضور اکرم ﷺ کی ذات سے مخلص نہیں، اس لئے وہ پاکستان اور مسلمانوں سے کسی صورت مخلص نہیں ہو سکتے۔ اس لئے کلیدی اسامیوں خصوصاً منصب قضا پر فائز نہیں ہونا چاہئے کیونکہ عدالت عالیہ ایک مقدس ادارہ ہے اور اس میں قادیانیت سے متعلق آئینی مسائل پیش ہوتے رہتے ہیں اگر کسی مسئلہ میں قادیانی نے غلط فیصلہ دے دیا تو وہ نظیر بن جائے گی اور مسلمانوں کو نقصان پہنچے گا۔ عام طور پر یہ کہا جاتا ہے کہ جب ہندو اور عیسائی وغیرہ جج بن سکتے ہیں، کلیدی عہدوں پر فائز ہو سکتے ہیں تو قادیانی کیوں نہیں بن سکتے۔ اس سلسلے میں ہم پہلے بھی کئی دفعہ وضاحت کر چکے ہیں۔ لیکن حکومتی ارکان اور آج کے نئے پڑھے لکھے لوگوں کے ذہنوں میں یہ بات آتی نہیں کہ قادیانی اور دیگر کافروں میں کیا فرق ہے؟ اس سلسلے میں حضرت اقدس مرشد العلماء حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی صاحب نے ”قادیانی اور دیگر کافروں میں فرق“ کے عنوان سے ایک رسالہ بھی تحریر کر چکے ہیں۔ قادیانی وزیر کنور ادریس کے سلسلے میں بھی یہ سوال بہت زیادہ اٹھایا جاتا رہا ہے۔ گزشتہ دنوں ججوں کی تقرری کے موقع پر لاہور کے چیف جسٹس صاحب اور اور گورنر پنجاب نے بھی یہ بیان جاری کیا کہ قادیانی آئین کے مطابق جج بن سکتے ہیں۔ اس سلسلے میں مجلس عمل تحفظ ختم نبوت کے رابطہ سیکرٹری حضرت مولانا اللہ وسایا صاحب نے گورنر پنجاب کی خدمت میں ایک مراسلہ بھیجا ہے پہلے وہ خط ملاحظہ فرمائیں:

بخدمت عالی جناب گورنر پنجاب السلام علیکم مزاج گرامی!

آج ۳۱؍ مئی ۱۹۹۷ء کے اخبارات میں جناب کا بیان شائع ہوا ہے کہ:

پر یقین کر لینا چاہئے۔

جناب والا! اسی طرح کا بیان سابق چیف جسٹس لاہور کا بھی شائع ہوا ہے آپ سے استدعا ہے کہ:

سرے سے آئین کو تسلیم ہی نہیں کرتی ہے اپنے آپ کو آئین پاکستان کے علی الرغم مسلمان کہتی ہے۔ دنیا بھر کے مسلمانوں کو کافر گردانتی ہے۔ اقلیتوں میں بطور پالیسی کے اپنے ووٹ درج نہیں کراتی۔ ظاہر ہے کہ ان کے یہ اقدامات آئین پاکستان سے کھلی بغاوت ہے۔ باقی اقلیتیں آئین کو تسلیم کرتی ہیں ان کے جج یا کسی اعلیٰ عہدے پر فائز ہونے پر کسی مسلمان نے اعتراض نہیں کیا۔ ایک مسیحی چیف جسٹس رہا ہے۔ وہ اقلیتیں جو آئین کی وفادار ہیں ان کو قادیانی اقلیت پر قیاس کرنا جو آئین سے انحراف کرتی ہے کیا یہ زیادتی نہیں؟ دن ورات ظلمت ونور وفاداری وغداری کو ایک پیمانہ سے ناپنا یہ آپ جیسے حضرات کی عظمت کے منافی ہے۔ قادیانیوں کا ایک جج اسلام بھٹی موجود ہے، تناسب آبادی کے اعتبار سے مزید قادیانی جج لینا کیا یہ مسلمان اکثریت سے صریحاً ظلم اور زیادتی نہیں؟

مسلمان کہتے ہیں، ان کے اس بیان کو کیسے تسلیم کر لیں یہ تو پاکستان کے آئین سے صریح انحراف ہے۔ پھر قادیانی تمام دنیا کے

صفحہ ۴۵۹

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۷ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

مسلمانوں کو جو مرزا قادیانی کو نہیں مانتے ”آپ کے اور میرے سمیت“ وہ سب کو کافر قرار دیتے ہیں۔ کیا ان کے اس بیان کو بھی صحیح تسلیم کر لینا چاہئے؟

☆...... پھر آپ کا یہ استدلال کہ وہ ختم نبوت کا اقرار کرتا ہے۔ قبلہ! دھوکہ و دجل اسی کا نام ہے کہ ختم نبوت کا اقرار بھی کریں اور مرزا کو نبی بھی مانیں۔ اس دھوکہ دہی کا دوسرا نام قادیانیت ہے۔ ہمیں کسی مسلمان کو قادیانی بنانے کا شوق نہیں۔ قادیانیت بحمدہ تعالیٰ ایک گالی بن چکی ہے۔ کسی مسلمان کو قادیانی کہنا دوسرے لفظوں میں اسے کافر کہنے کے برابر ہے۔ جس کا کوئی مسلمان تصور بھی نہیں کر سکتا۔ لیکن سوال صرف یہ ہے کہ جو شخص صرف یہ کہے کہ میں مسلمان ہوں قادیانی نہیں ختم نبوت کو مانتا ہوں۔ اتنی بات سے وہ مسلمان سمجھا جاسکتا ہے۔ غور فرمائیے کہ اس بات کو ہر قادیانی طوطے کی رٹ کی طرح اپنائے ہوئے ہے۔ اس لئے ضروری ہے کہ جس شخص پر قادیانی ہونے کا الزام لگے۔ خدا کرے کہ وہ غلط ہو اور وہ شخص مسلمان ہو تو آئین پاکستان کے مطابق کھلے لفظوں میں اسے اپنے عقیدے کا اعلان کرنا چاہئے کہ وہ مرزا غلام احمد قادیانی اور اس کے پیروکاروں کو کافر تسلیم کرتا ہے۔ جب تک وہ یہ نہیں کہے گا اس کے متعلق ابہام دور نہیں ہوگا۔ زیر بحث جج صاحب کو علیحدہ اسی عنوان کا عریضہ لکھا جا رہا ہے۔ اور آپ سے بھی استدعا ہے کہ جب تک وہ مرزا قادیانی کے کفر کا آئین کے مطابق اعلان نہیں کرتے۔ اس وقت تک ان کے قادیانی ہونے کے الزام کی نفی نہیں ہو سکتی۔ ختم نبوت کا مسئلہ انتہائی اہمیت کا حامل مسئلہ ہے۔ اس پر برصغیر بالخصوص اسلامیان پاکستان کی طویل ترین اسلامی جذبہ سے جدوجہد ایک لازوال درجہ کی حامل ہے۔ قادیانیوں کو جج بنانا آئین سے منحرف ایک گروہ کو آئین کی پامالی کی سند جواز مہیا کرنے کے مترادف ہے۔ ساتھ ہی سابق ریٹائرڈ جج سپریم کورٹ جناب چوہدری محمد رفیق تارڑ کا ایک مضمون لف ہے۔ ان تلخ گزارشات کی ضرورت اس لئے پیش آئی کہ آئندہ بننے والے ججوں کی فہرست میں ایک جنونی متعصب قادیانی ملک افضل خان کا نام بھی ہے۔ اور ایک منیر صاحب کے متعلق بھی اس قسم کا خدشہ ہے۔ ظاہر ہے کہ یہ جان بوجھ کر آئین کو بازیچہ اطفال بنانے اور اسلامیان عالم کی ختم نبوت سے لازوال وابستگی کو مجروح کرنے کے مترادف ہے۔

امید ہے کہ نہ صرف توجہ فرمائیں گے بلکہ اس کے ازالہ کی بھی سعی فرمائیں گے۔ والسلام!

فقیر اللہ وسایا رابطہ سیکرٹری مجلس عمل تحفظ ختم نبوت پاکستان

جناب مولانا اللہ وسایا صاحب کے خط سے آپ کو اس سوال کا بہت حد تک جواب مل گیا ہوگا۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کا موقف یہ ہے کہ اقلیتوں کو حقوق اس صورت میں دیئے جاتے ہیں جب وہ اپنے آپ کو اقلیت تسلیم کر کے اس ملک کے آئین اور قانون کے پابند بن جائیں گے، اگر کوئی اقلیت آئین کو تسلیم نہیں کرتی تو کسی صورت میں اقلیتی حقوق اس کو نہیں دیئے جاسکتے بلکہ ان کے ساتھ باغیوں اور مخالفین والا سلوک کر کے اس کے خلاف قانونی کارروائی کی جاتی ہے۔ قادیانی گروہ ابتدا سے مسلمانوں اور پاکستان کا دشمن رہا، جدوجہد آزادی میں انگریزوں سے وفاداری کا اعلان کیا۔ کشمیر ان کی وجہ سے بھارت کو ملا، پاکستان بننے کے بعد اکھنڈ بھارت کا خواب دیکھتے رہے، بلوچستان اور پاکستان احمدی اسٹیٹ بنانے کی کوشش کی۔ ۱۹۷۴ء کی آئینی ترمیم کی مخالفت ہی نہیں کی بلکہ اکثر عدالتوں میں اس کو چیلنج کیا،

صفحہ ۴۶۰

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۷ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

اب اس ترمیم کو اور ۱۹۸۴ء کے امتناع قادیانیت آرڈیننس کو تسلیم نہیں کر رہے، جب ایک اقلیتی گروپ آئین کو تسلیم ہی نہیں کرتا اس کے باوجود ہماری طرف سے بار بار یہ کہنا کہ قادیانی آئین کے تحت جج بن سکتے ہیں، قادیانی وزیر بن سکتے ہیں، قادیانی کلیدی عہدوں پر فائز ہو سکتے ہیں، آئین کے ساتھ مذاق نہیں تو اور کیا ہے؟ اس لئے ہمارا مطالبہ ہے کہ آئین میں قادیانیوں سے متعلق واضح لکھ دیا جائے کہ وہ اگر آئینی ترمیم کو تسلیم کر کے اپنے آپ کو قادیانی تسلیم کریں تو ان کو اقلیتوں والے حقوق دیئے جائیں گے۔ آئین کے باغی کو ہم کسی صورت میں آئینی حقوق مانگنے کی اجازت نہیں دیں گے۔

(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی مورخہ ۱۳ تا ۱۹؍جون ۱۹۹۷ء ص۴ تا ۶)

جمعیت علماء ہند کی طرف سے قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کا مطالبہ

جمعیت علماء ہند کے امیر مولانا سید اسعد مدنی نے ایک پریس کانفرنس کے ذریعے حکومت ہند سے مطالبہ کیا ہے کہ قادیانیوں کو غیر مسلموں کی فہرست میں رکھا جائے اور ان کے ساتھ مسلمانوں والا معاملہ نہ کیا جائے۔ جمعیت علماء ہند کی اس پریس کانفرنس کو ہندوستان کے اخبارات نے نمایاں شائع کیا ہے۔ قادیانیوں کی طرف سے اس کی مخالفت کرتے ہوئے اس کو پاکستان ایجنٹوں کی شرارت قرار دیا گیا ہے۔

جمعیت علماء ہند حضرت شیخ الہند مولانا محمود حسن کی قائم کردہ جماعت ہے جو انگریزوں کے زمانے سے مسلمانان ہند کی دینی رہنمائی کر رہی ہے، قیام پاکستان سے قبل تک تحریک آزادی کی قیادت بھی جمعیت علماء ہند کر رہی تھی، شیخ الاسلام مولانا حسین احمد مدنی، مولانا شبیر احمد عثمانی، حضرت مفتی کفایت اللہ، حضرت مولانا حفظ الرحمن سیوہاروی، حضرت مفتی محمد شفیع صاحبؒ وغیرہ نے جدوجہد آزادی میں جو کردار ادا کیا ہے۔ تاریخ کے صفحات میں وہ سنہری حروفوں سے محفوظ ہے۔ قیام پاکستان کے بعد اکثر علماء کرام اور مسلمان پاکستان منتقل ہو گئے اور ان علماء کرام نے جمعیت علماء اسلام کے نام سے مولانا شبیر احمد عثمانی، مفتی محمد حسن امرتسری، حضرت مولانا احمد علی لاہوری، مفتی پاکستان مفتی محمود، مفتی اعظم پاکستان مفتی محمد شفیع، مجاہد اسلام مولانا غلام غوث ہزارویؒ نے پاکستان میں نفاذ اسلام کی جدوجہد شروع کی جو تاہنوز جاری ہے۔ ہندوستان میں مسلمان اقلیت میں رہ گئے۔ کئی علاقوں میں قتل عام ہوا، لاکھوں افراد شہید کر دیئے گئے، ۴۰ ہزار سے زائد بچیاں سکھوں کی قید میں اب تک زندگیاں گزار رہی ہیں اس زمانہ میں شیخ الاسلام مولانا حسین احمد مدنی، حضرت مولانا مفتی کفایت اللہ، حضرت مولانا ابوالکلام آزاد، حضرت مولانا حفظ الرحمن سیوہاروی، حضرت مولانا محمد الیاس صاحب رئیس التبلیغ، شیخ الحدیث حضرت مولانا زکریا صاحب، قاری محمد طیب صاحب مہتمم دارالعلوم دیوبند اور جمعیت علماء ہند کے اکابر علماء کرامؒ نے جس جانفشانی اور محنت سے اور اپنی جانوں کو خطرے میں ڈال کر ان مسلمانوں کی رہنمائی کی اور مسلمانوں کو آباد کیا وہ ان علماء کرام کی عزیمت کی قابل قدر اور قابل تحسین مثال ہے اور تاریخ اس سے بڑی قربانی پیش کرنے سے قاصر ہے۔ حضرت شیخ الحدیث مولانا زکریا آپ بیتی میں تحریر فرماتے ہیں کہ حضرت مولانا عبدالقادر رائے پوری اور حضرت مولانا محمد الیاس نے حضرت مدنی سے فرمایا کہ ہندوستان سے اکثر مسلمان پاکستان چلے گئے ہیں۔ مدارس بے آباد ہو گئے ہیں۔ جالندھر، لدھیانہ وغیرہ تمام مشرقی پنجاب سے تمام مسلمان آبادیوں کے نام و نشان مٹ گئے ہیں۔ ہمارے اکثر متعلقین اس طرف ہیں۔ اگر اجازت ہو تو ہم لوگ پاکستان ہجرت کر جائیں تو حضرت مدنی کی آنکھوں میں آنسو آگئے اور بھرائی ہوئی آواز میں فرمایا:

”ہمیں تو اس کا خدشہ تھا جس کا اظہار ہم لوگ بہت عرصہ سے کر رہے تھے، آج آپ لوگ جو پاکستان جانے کی بات کرتے ہیں تو ان ہندوستان کے مسلمانوں کو کس کے حوالے کر کے جاؤ گے؟ کیا یہ ہمارے جانے کے بعد ہندو نہیں ہو جائیں گے؟ ان کے ایمان، ان کی

صفحہ ۴۶۱

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۷ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

عزت و آبرو کی حفاظت کس کے ذمہ ہے ۔؟

حضرت مدنی کی یہ بات سن کر تمام علماء کرام نے ہندوستان میں رہنے کا فیصلہ کیا اور از سر نو محنت کر کے ایک ایک گاؤں کا دورہ کر کے وہاں کی مساجد کو آباد کیا۔ مسلمانوں کے حوصلے بلند کئے ، تقسیم ہند کے فوری بعد مولانا ابوالکلام آزاد نے مسلمانوں کے ایک بہت بڑے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا:

” مسلمان کبھی بزدل نہیں ہوتا ، عزت کی زندگی یا شہادت اس کا نعرہ ہے ، سینہ سپر ہو جاؤ اور ڈٹ کر مقابلہ کرو ، ہندوستان پر جس طرح ایک ہندو اور ایک سکھ ، ایک عیسائی کو رہنے کا حق ہے ، ہمارا بھی حق ان سے کہیں زیادہ ہے، یہ ملک ہمارے اسلاف کا ہے ، ہم اسی ملک میں جئیں گے اور اسی ملک میں مریں گے کوئی ہمیں اس ملک سے نہیں نکال سکتا۔“

علماء کرام کی طرف سے اس محنت کے بعد مسلمانوں نے جرات اور بہادری سے رہائش شروع کی اور بہت جلد تمام ملک میں مسلمانوں کی آبادیاں محفوظ ہونے لگیں۔ اکثر مساجد آباد ہوگئیں جن جگہوں پر مسلمان بالکل چھوڑ چکے تھے وہاں مسلمانوں کو آباد کرنے کی کوشش کی۔ مسلمانوں کے مذہبی اور سیاسی تشخص اجاگر کرنے کے لئے جمعیت علماء ہند نے جو جدو جہد کی اس کا ثمرہ ہے کہ اس وقت ۱۲ کروڑ مسلمان ہندوستان میں سینہ تان کر چل رہے ہیں۔ اس تمام عرصہ میں حکومت کو اسلام اور مسلمانوں کے خلاف کسی قانون کو منظور نہیں ہونے دیا۔ مسلمانوں کے لئے بیت المال الاسلامی تسلیم کروایا، عائلی قانون مسلمانوں کے منظور کروائے ،مسلمانوں کی آباد کاری کے لئے بلاسود بینکاری شروع کی اس کے علاوہ جمعیت علماء ہند نے علماء کی ایک کونسل قائم کی ہوئی ہے۔ اس کے تحت نئے اور جدید مسائل کی تحقیق کر کے مسلمانوں کو ان مسائل سے آگاہ کیا جاتا ہے۔

قادیانی مسئلہ نہیں! تحریک آزادی کے دنوں میں ۱۸۸۰ء سے مرزا غلام احمد قادیانی نے مسلمانوں کے درمیان اختلاف پیدا کرنے کے لئے مجدد مہدی مسیح موعود کے شوشے چھوڑے اور پھر ۱۸۸۹ء میں مسیح موعود کی حیثیت سے بیعت لینی شروع کی ، ۱۹۰۱ء میں نبوت کا دعویٰ کیا ، سب سے پہلے دارالعلوم دیوبند کے محدث العصر حضرت علامہ سید انور شاہ کشمیری نے قادیان کے اس جھوٹے مدعی نبوت اور کذاب دجال کے خلاف فتویٰ جاری کر کے امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاری کے ہاتھ پر بیعت کروا کے قادیانیت کے خلاف تحریک کا آغاز کیا۔ اس وقت سے لے کر آج تک دارالعلوم دیوبند کے علماء کرام کی نگرانی میں پوری دنیا میں یہ تحریک جاری ہے اور اس میں تمام مسالک کے علماء کرام شریک ہیں۔ پاکستان میں ۱۹۷۴ء میں ایک پرامن تحریک کے ذریعے قومی اسمبلی نے قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا۔ بعد ازاں ۱۹۸۴ء میں امتناع قادیانیت آرڈی نینس جاری ہوا۔ سپریم کورٹ، ہائی کورٹ، نے اپنے فیصلوں میں واضح کیا کہ قادیانی الگ مذہب سے تعلق رکھتے ہیں۔ اسلام سے ان کا کوئی تعلق نہیں۔ جنوبی افریقہ کی عدالت نے فیصلہ دیا کہ قادیانی اسلام سے الگ مذہب ہے اور خود قادیانی دعویٰ کرتے ہیں کہ ان کا مذہب الگ ہے، ان کا پیغمبر الگ ہے، ان کی نماز کا طریقہ الگ ہے ، ان کا کلمہ الگ تو پھر جب مسلمان یہ مطالبہ کرتے ہیں کہ ان کو مسلمانوں سے الگ کر دو تو ناراض کیوں ہوتے ہیں؟ جمعیت علماء ہند کے اس مطالبہ کی حمایت عالم اسلام کے پچاس سے زائد ممالک کر رہے ہیں۔ ان تمام ملکوں میں قادیانی غیر مسلم اقلیت ہیں ، اس لئے ہم یہ کہتے ہیں کہ جمعیت علماء ہند کا یہ مطالبہ برحق اور حقیقت پر مبنی ہے ، قادیانیوں کو اس مطالبہ کو تسلیم کر لینا چاہئے کیونکہ وہ ۱۹۷۴ء سے پہلے خود لکھ کر دے چکے ہیں کہ ان کو مسلمانوں کی فہرست میں درج نہ کیا جائے۔ ہم جمعیت علماء ہند کے مطالبہ کی حمایت کرتے ہوئے حکومت ہند سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ

صفحہ ۴۶۲

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۷ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

فوری طور پر جمعیت علماء ہند کا یہ مطالبہ تسلیم کرے کیونکہ جمعیت علماء ہند مسلمانوں کی نمائندہ جماعت ہے، دیگر مسلمان جماعتوں کو بھی چاہئے کہ وہ جمعیت علماء ہند کے مطالبہ کی بھر پور حمایت کریں۔ ہم اس عظیم مطالبہ پر جمعیت علماء ہند کے اکابر مولانا سید محمد اسعد مدنی ، مولانا سید محمد ارشد مدنی ، دارالعلوم دیوبند کے مہتمم مولانا مرغوب الرحمن صاحب کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں اور حکومت ہند سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ جمعیت علماء ہند کے اس مطالبہ کو تسلیم کر کے مسلمانوں سے فراخ دلی کا ثبوت دیں۔

(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی مورخہ ۲۰ تا ۳۱ جولائی ۱۹۹۷ء ص ۵،۴)

پتوکی میں قادیانیوں کی سازش ناکام

پتوکی (پ ر) گزشتہ دنوں جب گستاخان رسول قادیانیوں مرتدوں نے مسلمانوں کو تبلیغ کے ذریعہ گمراہ کرنے کی کوشش کی تو عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے سرگرم رکن مرد مجاہد جناب صوفی محمد صادق زرگر اور جناب راجہ رستم ظہیر اور چوہدری منیر احمد نے قادیانیوں کو دفعہ ۲۹۵۔بی کے تحت گرفتار کرایا ان کو اپنی دولت پہ ناز تھا اوپر تک رابطے شروع کر دیئے ادھر نبی کریم ﷺ کے پروانوں کو محمد عربی کی غلامی پر ناز تھا آخر کار ایڈیشنل ڈسٹرکٹ جج تحصیل پتوکی جناب چوہدری عبدالشکور صاحب نے فریقین کے دلائل سنے اور دونوں قادیانی ملزموں بشیر الحق ، مبشر احمد کی ضمانتیں منسوخ کر دیں مسلمانوں کی طرف سے جو مسلم وکلاء شریک ہوئے ، چوہدری صبغت اللہ ایڈووکیٹ ، ملک محمود احمد ، چوہدری محمد ارشد صدر بار پتوکی ، فاروق احمد ایڈووکیٹ ، چوہدری بشیر احمد ایڈووکیٹ صاحبان نے مسلسل دو گھنٹے کی بحث میں اپنا موقف بھر پور طور پیش کیا ۔ جب کہ قادیانی وکلاء اپنا موقف پیش کرنے میں بری طرح ناکام ہوئے ۔ مسلمانوں کے اندر خوشی کا سماں تھا پتوکی کے در و دیوار کو عاشقان مصطفیٰ کی جرأت پر ناز تھا ۔ یہاں سے قادیانی رسوا ہو کر لاہور ہائی کورٹ میں گئے ، وہاں بھی کفر کے تمام حربے زیر زمین ہو گئے ہائی کورٹ کے جسٹس جناب راؤ محمد اقبال نے بھی ان کی ضمانتیں منسوخ کر دیں ۔ یوں کافر مرتدیں گستاخان رسول کو جیل میں پہنچا کر پتوکی کے مسلمانوں نے سکون کا سانس لیا ہے گزشتہ دنوں مبلغ ختم نبوت مولانا عبدالرزاق مجاہد شجاع آبادی نے پتوکی دارالعلوم دینیہ و جامعہ عثمانیہ ریل بازار میں کارکنوں سے ملاقاتیں کی اور اجلاس ہوا ۔ جس میں مندرجہ ذیل شرکاء نے شرکت کی ۔ مولانا نور محمد شاکر ، پروفیسر مولانا مسعود الحسن ، مشتاق احمد معاویہ ، محمد الیاس ساقی ، مولانا محمد عاشق ، حافظ خالد مجاہد ، محمد عبداللہ ، دین محمد قاسمی ، نثار احمد ظہیر ، قاری عبدالحئی کے علاوہ کثیر کارکن شریک ہوئے ۔

(ماہنامہ لولاک ملتان ستمبر ۱۹۹۷ء ص ۳۰ تا ۳۵)

الطاف حسین ، قادیانی اور شیعہ سنی لڑائی

لاہور (پ ر) عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے رہنماؤں مولانا عزیز الرحمن جالندھری ، مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی ، حاجی بلند اختر نظامی ، مولانا منور حسین صدیقی نے ایک مشترکہ بیان میں ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین کی طرف سے اسلام اور آئین کے برعکس قادیانیوں کی حمایت میں بیان دینے اور مرزا طاہر احمد کا علماء کرام کے قتل اور اپنے مریدوں کو مژدہ جان فزا سنانے اور نام نہاد مباہلہ کی آڑ میں مذہب اسلام ، علماء کرام اور پاکستان کے خلاف ہرزہ سرائی کرنے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ان کے بیانات سے واضح ہو گیا ہے کہ پاکستان میں ہونے والی مذہبی اور لسانی دہشت گردی میں قادیانی ملوث ہیں اور قادیانی کمانڈوز شیعہ اور سنی اختلافات کی آڑ میں مذہبی رہنماؤں کو قتل کرا رہے ہیں اور انہیں آپس میں لڑا کر فائدہ اٹھا رہے ہیں۔

صفحہ ۴۶۳

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۷ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

مذکورہ رہنماؤں نے لندن میں قادیانی اجتماع میں قادیانی اعداد وشمار کو مرزائی امت کا شاہکار جھوٹ قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ حقیقت یہ ہے کہ یہود اور ہنود، امریکہ اور برطانیہ، اسرائیل اور دیگر اسلام دشمن قوتوں کی بے پناہ سرپرستی کے باوجود قادیانی فتنہ کو ریورس گیئر لگ چکا ہے۔ اندرون و بیرون ملک سینکڑوں قادیانی سال رواں میں اسلام قبول کر چکے ہیں۔ قادیانی اپنے ناپاک وجود کو ختم ہوتے دیکھ کر دہشت گردی پر اتر آئے ہیں جو ان کی بوکھلاہٹ کا بین ثبوت ہیں۔ ان حالات میں اسلام پسند قوتوں پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ متحد ہو کر اسلام اور پاکستان کے خلاف قادیانی فتنہ کے خطرناک عزائم کو خاک میں ملا دیں۔ نیز حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ علماء کرام کے قتل عام میں قادیانی جماعت کے لیڈروں اور خدام احمدیہ کے تربیت یافتہ کمانڈوز کو شامل تفتیش کیا جائے۔

(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی مؤرخہ ۳۱؍ اکتوبر تا ۶؍ نومبر ۱۹۹۷ء ص ۱۸)

متحدہ قومی موومنٹ کے سربراہ کے نام کھلا خط ...... قائد متحدہ قومی موومنٹ پاکستان

بحوالہ روزنامہ عوام، پبلک، جرأت، امن، خبریں، جسارت مورخہ ۲۸ جولائی ۱۹۹۷ء آپ نے اپنے ٹیلی فونک خطاب میں کہا ہے کہ پاکستان میں قادیانیوں کے ساتھ ناروا سلوک کیا جا رہا ہے۔ جس کی آپ نے مذمت بھی کر ڈالی، جب کہ پاکستان میں قادیانی سب سے زیادہ مراعات یافتہ زندگی گزار رہے ہیں۔ آئین اور قانون و مسلم امہ کے جذبات وحقوق کے برعکس تمام اہم عہدوں پر فائز ہیں۔ کئی فیکٹریوں اور بڑی ملز کے مالک ہیں، چند گھروں سے لے کر کافی گھروں کی تعداد میں مسلمانوں کے ساتھ رہ رہے ہیں۔ انہی کی خفیہ سازشوں کی وجہ ملکی حالات خراب ہوئے اور مسلمانوں کا قتل عام ہوا اور بعض علاقوں سے مسلمانوں نے نقل مکانی کی۔ اس کے برعکس پورے ملک میں کسی قادیانی کا ماورائے عدالت قتل نہیں ہوا اور نہ ہی کسی قادیانی نے نقل مکانی بھی کی۔ البتہ پنجاب میں اکا دکا ایسا واقع رونما ہوا ہے وہ بھی انہی کی زیادتیوں کی وجہ سے ورنہ مسلمانوں کی جانب سے کسی قسم کی زیادتی نہیں ہوئی۔ البتہ ان کی غیر قانونی اور غیر آئینی حرکات کو روکنے کے لئے قانون سازی کی گئی ہے، کبھی کبھار ان کی طرف سے قانونی خلاف ورزی پر برائے نام قانونی کارروائی ہوتی ہے۔ جس پر یہ ٹولہ غلط پروپیگنڈہ کر کے ملک اور مسلمانوں کو بدنام کرتا ہے۔ اور بے خبر لوگ متاثر ہو کر ان کی ناجائز حمایت کرتے ہیں وہ بھی اس لئے کہ یہ حضرات قادیانیوں کے اصل مکروہ چہرے سے ناواقف ہیں۔ لہٰذا اس قسم کے سادہ اور ناواقف مسلمانوں بالخصوص آنجناب کی معلومات کے لئے مختصراً چند حقائق پیش کئے جا رہے ہیں:

مانتے ہیں۔ البتہ لاہوری گروپ ہیرا پھیری کے انداز میں اسے امام مہدی مانتے ہیں۔ اس شخص نے بلاوجہ پوری مسلم امہ کو کافر قرار دیا اور اپنے مخالفین کو ’’رنڈیوں کی اولاد، جنگلوں کے سور اور مسلم خواتین کو کتیوں سے بڑھ کر بے غیرت‘‘ قرار دیا۔

(بحوالہ سپریم کورٹ منتھلی ریویو صفحہ ۱۷۶۶)

اور اہل بیت رسول اطہار کے بارے میں لکھا کہ ’’سو حسین ؓ میرے گریبان میں اور حسنین شہیدین جنت کے سرداروں سے بڑھ کر مرزا ہے اور حضرت حسین ؓ شہید کربلا کا ذکر گوہ کا ڈھیر ہے اور شیر خدا حضرت علی ؓ کو مردہ لکھا ہے اور اپنے کو زندہ علی۔‘‘

(بحوالہ پی۔ایل۔جے ۱۹۹۲ء ۲۴۳۶-۲۴۳۵ سی۔آر۔سی)

صفحہ ۴۶۴

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۷ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

اور اصحاب صفہ رضی اللہ عنہم جو کہ معیاری اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم شمار ہوتے ہیں۔ ان کے بارے میں مرزا لکھتا ہے کہ: ”یہ روتے بھی ہیں اور مرزا پر درود بھی بھیجتے ہیں ۔“ ان تمام بکواسات کا ملکی ہائی کورٹوں اور سپریم کورٹ آف پاکستان نے مرزا ملعون اور اس کے جان نشینوں کی مسلمہ کتابوں بمعہ صفحات کے نمبروں ساتھ اپنے تاریخی فیصلوں میں لکھا ہے ۔ ہر باشعور شخص اس بات کو مانتا ہے کہ عدالت فیصلے میں تو غلطی کر سکتی ہے مگر کسی حوالے یا ریفرنس کے اندراج میں آج تک کسی عدالت نے کوئی غلطی نہیں کی اور نہ ہی قادیانیوں نے اپنے حوالوں کے بارے میں آج تک کوئی تردید کی ہے ۔

ریکارڈ توڑ ڈالے ۔ جب کہ ہر مسلمان بشمول جناب کے کہ اللہ کے بعد سب سے بڑی ذات رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو مانتے ہیں ۔ پوری مخلوق میں آپ کا ہمسر کسی کو بھی نہیں مانتے ۔ حتی کہ سچے رسولوں اور نبیوں کو بھی ، اور تمام مسلمان بشمول جناب (الطاف حسین) کے اپنی جان و مال عزت و آبرو غرض ہر چیز سے زیادہ محبوب رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ہی مانتے ہیں ۔ مگر بلاوجہ مرزا غلام احمد قادیانی نے اسی ذات اقدس کو توہین وتنقیص کا نشانہ بنا کر مسلمانوں کے دل و دماغ کو مجروح کر کے ان کے بنیادی حقوق کی دھجیاں اڑائیں ، اسی پر بس نہیں بلکہ خباثت و بدترین ارتداد و غلاظت کا نام ”اصلی وحقیقی اسلام“ اور ۱۴ سوسالہ حقیقی متفقہ اسلام کو کفر قرار دے دیا ۔ مرزا غلام احمد قادیانی نے اپنے کو ”نبی اور رسول“ قرار دے کر رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اعزاز پر بھی اس طرح ہاتھ صاف کیا کہ سب سے بڑے اعزاز درود شریف کو پہلے اپنے پر پھر رسول پاک پر ”صلی اللہ علیک وعلی محمد“ بحوالہ تذکرہ ص ۷۷۷) اور اس پر اکتفا نہ کیا بلکہ نہایت بے شرمی اور ڈھٹائی کے ساتھ اپنے کو نبی و رسول قرار دے کر رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس طرح جھوٹا قرار دیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں لیکن اس ملعون نے کہا کہ میں نبی ہوں ۔ اسی طرح اس نے اپنے آپ کو قرآن مجید کی سورہ نمبر ۶۲ اور آیت نمبر ۳ (جو کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ختم نبوت کے بارے میں ہے) کی رو سے اپنے آپ کو آخری نبی قرار دے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جھوٹا قرار دیا ۔ (نعوذ باللہ ) اس لئے ایک ہی چیز کے بیک وقت دونوں مدعی سچے نہیں ہوتے ۔ اسی طرح قرآن مجید کی سورہ نمبر ۴۸ کی آیت نمبر ۲۹ (جس میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہی کو محمد اور رسول کہا گیا ہے ) مگر اس ملعون نے لکھا ہے کہ ”وحی الٰہی میں مرزا کو محمد اور رسول کہا گیا ہے ۔“ اسی طرح مرزا نے لکھا ہے کہ جو مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم اور مرزا میں تفریق کرتا ہے اس نے نہ مرزا کو دیکھا اور نہ پہچانا ۔

(بحوالہ سپریم کورٹ منتھلی ریویو ص نمبر ۱۷۷۵)

اسی طرح ”اپنے ناپاک جسم کو محمد رسول اللہ کا جسم قرار دیا ہے“ (بحوالہ شریعت پٹیشن نمبر ۱۷۱/آف ۱۹۸۲ء ، ص نمبر ۱۲۳) ملعون نے اس پر بھی بس نہیں کی ، بلکہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو نشانہ بنا کر لکھتا ہے کہ ”رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اشاعت دین کی تکمیل نہیں کی بلکہ مرزا نے اشاعت دین کی تکمیل کی“ اور اسی طرح نہایت ہی گستاخی کا مظاہرہ کرتے ہوئے لکھتا ہے کہ ”رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بعض نازل شدہ وحیوں کو نہیں سمجھے اور آپ سے بہت ساری غلطیاں سرزد ہوئیں“ (گویا مرزا ملعون کی نظر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم غلط کار ٹھہرے نعوذ باللہ ) جب کہ ہر مسلمان کا عقیدہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہر غلطی اور گناہ سے پاک ہیں ۔

(بحوالہ سپریم کورٹ منتھلی ریویو صفحہ ۱۷۷۶)

اسی طرح نہایت کمینگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر سور کی چربی کھانے کا الزام لگایا ۔ (نعوذ باللہ ، استغفر اللہ )

(بحوالہ سپریم کورٹ منتھلی ریویو ص ۱۷۷۶)

اس سے بڑھ کر کمینہ پن اور شیطانیت کا مظاہرہ کرتے ہوئے مرزا ملعون نے اپنی کتاب (تحفہ گولڑویہ ص ۷۰ حاشیہ در حاشیہ ، خزائن

صفحہ ۴۶۵

تحریک ختم نبوت جلد(۶) ۱۹۹۷ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

ج ۷ ص ۲۰۵) میں لکھا ہے کہ ”اور خدا تعالیٰ نے آنحضرت ﷺ کے چھپانے کے لئے ایک ایسی جگہ تجویز کی جو نہایت متعفن اور تنگ و تاریک اور حشرات الارض کی نجاست کی جگہ ہے۔“ (معاذ اللہ استغفر اللہ)

(بحوالہ پی ایل جے لاہور ۱۹۹۲ء، ۴۳۳ سی آر بی)

میں مرزائیت سے ناواقف تمام حضرات بشمول الطاف حسین صاحب سے پوچھنا چاہتا ہوں کہ مذکورہ بالا خبیثانہ بکواسات میں سے ایسی کون سی بکواس ہے جو کسی بھی مسلمان کے لئے قابل برداشت ہو سکتی ہے۔ (ہرگز نہیں) یا دنیا کے دیگر مذاہب کے پیروکاروں میں سے کون سا ایسا پیروکار ہوگا جو اپنے مذہب میں ایسی مداخلت برداشت کرے، یا اپنے مذہب کی اعلیٰ ترین شخصیت پر اس قسم کی نکتہ چینی یا توہین آمیز ریمارکس دینے کی اجازت دے سکتا ہے؟ (ہرگز نہیں، کوئی بھی ایسا نہیں) تو کیا لے دے کر ہم ہی مسلمان اس ذلت اور خواری کو برداشت کرنے کے لئے رہ گئے ہیں کہ اپنے سچے دین میں ناقابل برداشت مداخلت برداشت کریں یا رسول اکرم ﷺ پر اس قسم کی توہین آمیز ریمارکس برداشت کریں یا آپ ﷺ کی تکذیب برداشت کریں، ملکی اعلیٰ عدالتوں سے لے کر عدالت عظمیٰ تک نے اپنے فیصلوں میں مذکورہ بالا غلیظ حوالہ جات کتابوں کے ناموں اور صفحات کے نمبروں تک درج کر دیئے ہیں۔ اگر یہ حوالہ جات ثابت نہ ہوں تو مرزائی سچے اور ہم جھوٹے اور ہر سزا کے مستحق اور اگر یہ حوالہ جات ثابت ہو جائیں تو یہ سادہ لوح مسلمان اور آپ اس پر غور فرما کر مسلم قوم کو دو ٹوک الفاظ میں بتائیں کہ کیا مرزا غلام احمد قادیانی کے مذکورہ بالا نظریات کی تبلیغ کی مرزائیوں کو اجازت دیگر مسلمانان پاکستان بشمول پوری مسلم امہ کو ”جنگلوں کے سور، اور ان کی ماؤں کو رنڈیوں اور بیویوں کو کتیوں سے بڑھ کر بے غیرت ہونے پر مہر تصدیق لگا دی جائے؟ اور اس سے بڑھ کر ظلم پر ظلم یہ کہ نبی کریم ﷺ کو معاذ اللہ جھوٹا ہونے اور اپنے مشن میں ناکام ہونے اور آپ ﷺ سے بہت سی غلطیاں سرزد ہونے اور آپ ﷺ پر سور کی چربی کھانے کا الزام لگانے جیسی تبلیغ کی اجازت دے کر سب سے پہلے ہم اپنی بے غیرتی پر مہر تصدیق ثبت کرتے ہوئے اسلام سے دستبردار ہو جائیں؟ (ہرگز نہیں)

مذکورہ بالا تمام حوالہ جات کی تصدیق عدالتی تصدیق سے بڑھ کر کوئی نہیں ہو سکتی، اس لئے مذکورہ بالا عدالتوں کے اوریجنل ہمارے پاس محفوظ ہیں۔ ہم آپ سے استدعا کرتے ہیں کہ آپ ہی ہماری گزارشات پر غور فرما کر خصوصی توجہ سے مرزا طاہر سے رابطہ کر کے یہ بات منوالیں کہ یا تو وہ پوری امت مسلمہ کی طرح مسلمان بن کر اسلامی برادری میں شامل ہو جائیں، یا کھلے دل سے قادیانی حضرات اپنے آپ کو غیر مسلم تسلیم کر کے پاکستان کے آئین کو دل وجان سے تسلیم کرتے ہوئے دیگر غیر مسلم اقلیتوں کی طرح پاکستان میں پرامن طور پر رہیں اور غیر مسلم ووٹر لسٹ میں اپنے نام اندراج کرائیں اور سرور کائنات ﷺ اور آپ کی امت کو بلاوجہ دی گئی غلیظ گالیوں کا کوئی بھی مناسب تدارک کریں تو کبھی کوئی مسلمان ان سے تعارض نہیں کرے گا۔

تا دانستہ ہم امید کرتے ہیں کہ آنجناب بلا تاخیر ان مذہبی قزاقوں مرزائیوں کی حمایت سے بے زاری کا اعلان کر کے اپنی مسلم برادری کا دل جیتنے کے ساتھ ساتھ شافع محشر ﷺ کی شفاعت کے حقدار بنیں گے۔

آنجناب کے جواب کے شدت سے منتظر ہیں۔ فقط: والسلام! آپ کا خیراندیش علامہ احمد میاں حمادی و جملہ خدام ختم نبوت

(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی مورخہ ۷ تا ۱۳/نومبر ۱۹۹۷ء ص ۱۱ تا ۱۳)

صفحہ ۴۶۶

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۷ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

وفاقی شرعی عدالت کے جج عبدالوحید کے متعلق علمائے بلوچستان کا چیف جسٹس سپریم کورٹ کے نام کھلا خط

جناب عالی ! گزارش ہے کہ وفاقی شرعی عدالت کے جج عبدالوحید صدیقی نے کوئٹہ میں ۱۹؍اکتوبر ۱۹۹۷ء کو بہائی غیر مسلم اقلیت کی ایک تقریب میں شرکت کی۔ شرعی عدالت جو ملک کی سب سے بڑی اسلامی عدالت ہے اس کے جج کی غیر مسلم بہائیوں کی تقریب میں شرکت ہی قابل اعتراض ہے کیونکہ وہ مسلمانوں کی شرعی عدالت کے جج ہیں نہ کہ بہائیوں کے؟ تمام ملت اسلامیہ کے مکاتب فکر شیعہ، سنی، دیوبندی، بریلوی، اہل حدیث، حنفی، شافعی، مالکی، حنبلی، جعفری سب بہائیوں کو اہل اسلام سے الگ تصور کرتے ہیں اور ایک غیر مسلم اقلیت قرار دیتے ہیں۔ وفاقی شرعی عدالت کے جج نے نہ صرف اس تقریب میں شرکت کی بلکہ اسلام کی تعلیمات کا مذاق بھی اڑایا۔ نبی کریم ﷺ صحابہ کرام ؓ اور اہل بیت اطہار ؓ کی شان میں گستاخی کے مرتکب ہوئے۔ انہوں نے تقریر میں جو الفاظ ادا کئے وہ کوئٹہ کے ایک مقامی اخبار روزنامہ باخبر میں ۲۰؍اکتوبر ۱۹۹۷ء کو صفحہ اوّل پر شائع ہوئے۔ الفاظ مندرجہ ذیل ہیں:

”مرد اگر دو شادیاں کر سکتا ہے تو عورت کو بھی اس کا حق دیا جائے، کیونکہ مرد جو دوسری شادی کرتا ہے وہ بدمعاشی سے کم نہیں۔“

عالیجاہ ! اس خبر کی اشاعت کے چار روز تک پروفیسر عبدالوحید صدیقی کوئٹہ میں موجود رہے لیکن انہوں نے اس خبر کی تردید نہیں کی جب کہ بہائی اقلیت نے بھی محسوس کیا اور ایک وضاحتی بیان جاری کیا جو درخواست ہذا کے ساتھ منسلک ہے لیکن جب اخباری اطلاع کے مطابق مذکورہ جج کو آپ نے اس بیان کی وجہ سے اسلام آباد طلب کیا تو انہوں نے اسلام آباد میں ایک بیان جاری کیا، جس میں کہا کہ ان کے خلاف ڈرگ مافیا بیان بازی کر رہا ہے۔ وہ وفاقی شرعی عدالت کو کام کرنے نہیں دینا چاہتا حالانکہ ان کے بیان پر گرفت مختلف دینی جماعتوں کے رہنماؤں اور علماء کرام نے کی۔ جسٹس عبدالوحید صدیقی کی عدالت میں منشیات کے کسی ملزم کا مقدمہ زیرسماعت نہیں ہے۔

جناب عالی ! بلوچستان کے علماء کرام آنجناب سے مطالبہ کرتے ہیں کہ جسٹس عبدالوحید صدیقی کو وفاقی شرعی عدالت سے برطرف کیا جائے۔ مقامی طور پر ان کے شرانگیز بیانات پر مقدمہ درج کرنے کی درخواست دے دی گئی ہے امید ہے کہ درخواست پر فوری کاروائی کریں گے اور اہل اسلام کی دلجوئی کر کے عنداللہ ماجور ہوں گے۔

ان علماء کرام کے اسمائے گرامی جنہوں نے جسٹس عبدالوحید صدیقی کے بیان کی پرزور مذمت کی اور آنجناب سے درخواست ہذا پر فوری کاروائی کی درخواست کی ہے:

مولانا منیر الدین (صدر مجلس تحفظ ختم نبوت بلوچستان)، مولانا انوار الحق حقانی (خطیب جامع مسجد مرکزی کوئٹہ)، شیخ القرآن مولانا محمد یعقوب شرودی (جامعہ رشیدیہ تعلیم القرآن وصدر جمعیت اشاعۃ التوحید والسنہ)، مولانا عبدالواحد (نائب امیر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت خطیب جامع مسجد قندھاری کوئٹہ)، شیخ الحدیث مولانا عبدالباقی (مدرسہ مفتاح العلوم کوئٹہ)، رئیس القراء قاری مہر اللہ (مہتمم مدرسہ تجوید القرآن)، مولانا حافظ حسین احمد شرودی (ڈپٹی جنرل سیکرٹری جمعیت علماء اسلام)، مولانا عبدالحق (سابق رکن قومی اسمبلی، امیر جماعت اسلامی بلوچستان)، مولانا قاری محمد حنیف (خطیب جامع مسجد طوبیٰ)، مفتی عبدالسلام (خطیب جامع مسجد پوسٹل کالونی)، مفتی غلام محمد قادری (صدر ملی یکجہتی کونسل بلوچستان)، مولانا امیر حمزہ بادینی (جنرل سیکرٹری جمعیت علماء اسلام (س))، مولانا قاضی دوست محمد جعفر، حافظ عبدالرشید ہزاروی، مولانا سید محمد طاہر شاہ، مولانا عبدالقدوس، مولانا عبدالسلام، حاجی سید شاہ محمد، مولانا محمد حسن کاکڑ، مولانا علی محمد ابوتراب اور مولانا حافظ محمد یوسف ہزاروی (خطیب جامع مسجد اقصیٰ)۔

(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی مورخہ ۲۶؍دسمبر تا یکم جنوری ۱۹۹۷ء ص ۲۲)

صفحہ ۴۶۷

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۷ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

قادیانی کنور ادریس کو یو۔بی۔ایل کا ڈائریکٹر بنادیا گیا، وفاقی وزیرخزانہ سرتاج عزیز کیا کر رہے ہیں

کنور ادریس بدترین جنونی قادیانی ہے یہ کراچی اور اسلام آباد میں مختلف حکومتی عہدوں پر براجمان رہا۔ اس کی سب سے بڑی وجہ قابلیت قادیانی ہونا ہے۔ جس کی وجہ سے یہ ان عہدوں سے نوازا گیا۔

بھٹو صاحب مرحوم کے زمانہ میں قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا گیا۔ قادیانیوں نے آئینی ترمیم کو تسلیم نہ کر کے ملکی آئین سے بغاوت کا برملا اعلان کیا۔ تب سے آج تک قادیانی الیکشن کا بائیکاٹ کرتے چلے آ رہے ہیں۔ ووٹ بنوانا ، ووٹ ڈالنا تو درکنار اگر کوئی قادیانی الیکشن میں حصہ لیتا ہے تو قادیانی گھسٹاپو قیادت اسے اپنی جماعت سے خارج کر دیتی ہے ، ۔ نتیجہ یہ ہوا کہ ۱۹۷۴ء سے کوئی قادیانی وزیر نہ بن سکا۔ صدر مملکت سردار فاروق احمد لغاری صاحب نے بے نظیر حکومت برطرف کر کے نگران حکومت قائم کی ۔ تو سندھ کابینہ میں نامعلوم مجبوری کی بناء پر قادیانی کنور ادریس کو سینئر وزیر لے لیا گیا۔ اس پر ملک بھر میں احتجاج ہوا۔ سندھ میں ہڑتالیں ہوئیں۔ مگر لغاری صاحب نے اپنے کان اور آنکھیں بند کر لیں ۔ نئے الیکشن کے نتیجے میں میاں نواز شریف نے واضح اکثریت لے کر حکومت بنائی ۔ ان کے دور حکومت میں سرکاری ملازمین کو مختلف حیلوں بہانوں سے نکالا جارہا ہے۔ یہ سب کچھ آئی ۔ایم۔ایف کے حکم کی تعمیل میں ہو رہا ہے۔

موجودہ حکومت کی تازہ کرم فرمائی یہ ہوئی کہ کنور ادریس قادیانی کو یو۔بی۔ایل کا ڈائریکٹر بنادیا گیا۔ ان کے ساتھ دو قادیانی بھی یو۔بی۔ایل کے مقدر کے مالک بن گئے ہیں ۔ قادیانی لابی کو لانے میں آئی ۔ایم۔ایف کا ہاتھ ہو سکتا ہے ۔ اس لئے کہ قادیانی بین الاقوامی اسلام و ملک دشمن لابیوں کے ہمراہی ہیں ۔ اس قادیانی لابی نے سب سے پہلا وار یو۔بی۔ایل کے ملازمین پر یہ کیا کہ آٹھ ہزار ملازمین کو بیک بینی و دو گوش برطرف کر دیا ہے۔ برطرفی کے بعد پانچ سال تک وہ کسی اور ادارے میں بھی ملازمت نہیں کر سکتے ۔ گویا ان کو صرف نکالا نہیں گیا بلکہ مفلوج کر کے چوراہے میں ڈال دیا گیا ہے کہ وہ سسک سسک کے اپنی معاشی موت مرجائیں۔

میاں محمد نواز شریف صاحب اور جناب سرتاج عزیز کیا یہ بتائیں گے کہ جب سرکاری افسروں کو نوکری سے فارغ کیا جارہا ہے تو ریٹائرڈ قادیانیوں کو دوبارہ ملازمت میں کیوں لیا جارہا ہے۔

محترم میاں صاحب پہلے حکومتوں کے ان عوامل کا جائزہ لیں جس کے باعث وہ ناکام ہوئیں ۔ ان میں قادیانیت نوازی کا پہلو خصوصیت سے پیش نظر ہونا چاہئے ۔ میاں صاحب بھی اس ڈگر پر چل پڑے ہیں یا ان کو اس ڈگر پر چلا دیا گیا ہے کہ وہ قادیانی کنور ادریس جیسے جنونی قادیانی کو دوبارہ ملازمت میں لائے ہیں ۔ ان کا یہ اقدام ملک و اسلام اور ملکی معیشت کے حوالہ سے کسی طرح بھی مستحسن نہیں ہے کیا وفاقی وزیرخزانہ سرتاج عزیز توجہ فرمائیں گے؟

(ماہنامہ لولاک ملتان نومبر ۱۹۹۷ء ص ۳)

حکومت اور عدلیہ کی جنگ، قادیانی جج نکالئیے

حکومت اور عدلیہ کے مابین آج کل محاذ آرائی اپنے نقطہ عروج پر ہے۔ چیف جسٹس سید سجاد علی شاہ ججوں کی تقرری کے آئینی حق کے حصول کے لئے اپنے مؤقف پر ڈٹے ہوئے تھے۔

دوسری طرف واضح مینڈیٹ کی حامل حکومتی جماعت پارلیمنٹ کی بالا دستی کی خاطر کوئی سی لچک پیدا کرنے کے لئے تیار نظر نہیں آتی تھی۔ دونوں فریقین ملک کے وسیع تر مفاد کو بالائے طاق رکھتے ہوئے اپنی اپنی بات منوانے پر بضد رہے۔

ملک الموت کو ضد ہے کہ میں جان لے کے ٹلوں گا
اور سر بسجدہ ہے مسیحا کہ میری بات رہے گی
صفحہ 468

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۷ء ۴۶۸ ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

حکومت اور عدلیہ کے درمیان اعلیٰ عدالتوں کے ججوں کی تقرریوں اور ترقیوں کے ضمن میں تنازعات ہماری تاریخ کا حصہ ہیں۔ اپنے مخصوص مفادات کے تحفظ کی خاطر ہر حکومت عدلیہ کو اپنے تابع رکھنا چاہتی ہے۔ اگرچہ یہ بات عدلیہ کے وقار اور معیار دونوں کے منافی ہے۔ عدلیہ کو حکومت کے زیرنگیں رکھنے کی روایت کا آغاز گورنر جنرل ملک غلام محمد کے دور سے شروع تھا۔ مارشل لاء میں فوجی حکومت کے اپنے ضابطے ہوتے ہیں۔ اس کے برعکس سیاسی جمہوری حکومتوں نے عدلیہ کو آزادی و خود مختاری دینے کی بجائے اس کو اپنی جیب کی گھڑی اور ہاتھ کی چھڑی بنانے کی ہمیشہ کوشش کی ہے۔ سابق صدر محمد ایوب خان کے دور میں عدلیہ اور حکومت کے اختلافات نے ایک موقع پر ایسی سنگین صورتحال اختیار کرلی تھی کہ اعلیٰ عدالتوں کے ججوں نے عدلیہ کے وقار کی خاطر استعفیٰ دے کر جرأت مندی کا بے مثال مظاہرہ کیا تھا۔ عدلیہ کی تاریخ میں جہاں اس کی عظمت کی خاطر قربانیاں دینے والے ججوں کے نام آتے ہیں۔ وہاں عدلیہ کے وقار کو خاک میں ملانے والے سابق جسٹس منیر جیسے بے ضمیروں کا تذکرہ بھی موجود ہے۔ سابق وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کا دور بھی حکومت اور عدلیہ کے مابین کشمکش اور باہمی تنازعات کی تلخ حقیقتوں سے لبریز نظر آتا ہے۔

سابق وزیر اعظم بے نظیر بھٹو کے دور ثانی میں موجودہ چیف جسٹس سید سجاد علی شاہ سے اختلافات نے باقاعدہ لڑائی کی صورتحال اختیار کر لی تھی۔ یہ بات مشہور ہے کہ موصوف چیف جسٹس نے کسی مقدمہ میں سابق وزیر اعظم اور ان کے شوہر نامدار کی سفارش نہیں مانی تھی جس پر انہیں شاہی جوڑے کے عتاب کا شکار ہونا پڑا تھا۔ انہیں ہراساں کرنے، ڈرانے، دھمکانے اور جھکانے کے تمام حربے اختیار کئے گئے۔ اسی ذہنی دباؤ کے نتیجہ میں فاضل جسٹس دل کے دورے کا شکار بھی ہوئے۔ سید سجاد علی شاہ نے کمال صبر و تحمل اور استقامت کا مظاہرہ کیا۔ جب انہوں نے مستعفی ہونے کی تجویز مسترد کر دی۔ تو بے نظیر بھٹو صاحبہ نے اپنے جیالے جہانگیر بدر کو چیف جسٹس بنوانے کا شوشہ چھوڑ کر انہیں تبدیل کرنے کی مذموم کوشش کی۔ سابق وزیر اعظم اس مقصد میں تو کامیاب نہ ہو سکیں۔ البتہ انہوں نے ہائی کورٹ میں دو جج ایسے لئے جن پر کرپشن اور بدعنوانی کے سنگین الزامات تھے۔ ان میں ایک جج تو مقدمہ قتل میں ملوث تھے۔ اور اپنے منصب پر فائز ہونے کے بعد بھی اپنی تاریخیں بھگتا کرتے تھے۔ عدلیہ کی تاریخ میں شاید ہی ایسی مثال پیش کی جاسکے۔ بے نظیر بھٹو نے عدلیہ کے ساتھ لڑائی میں ترپ کا آخری پتہ یہ کہہ کر پھینکا۔ کہ وہ پارلیمنٹ میں ایسا قانون منظور کرانا چاہتی ہیں۔ جس کے مطابق اگر ۱۳۲ ارکان قومی اسمبلی چاہیں تو کسی بھی فاضل جج کو جبری رخصت پر بھیجا جاسکے گا۔ جاگیردارانہ اور آمرانہ ذہنیت رکھنے والی وزیر اعظم کی جانب سے عدلیہ کو فتح کرنے کا جنون اس قدر مہنگا پڑا کہ بالآخر انہیں حکومت سے ہاتھ دھو کر لاڑکانہ جانا پڑا۔

سیاسی حلقے امید رکھتے تھے کہ میاں نواز شریف دوبارہ بلکہ سہ بارہ وزیر اعظم بننے کے بعد ماضی کی غلطیوں اور بالخصوص بے نظیر بھٹو والی حماقتوں کو نہیں دہرائیں گے۔ بلکہ دانش مندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے عدلیہ کے ساتھ خوشگوار مراسم قائم کریں گے۔ باہمی اعتماد اور ربط کے ذریعہ آزاد خود مختار ادارہ بنانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑیں گے۔ یہ توقع بھی کی جا رہی تھی کہ وزیر اعظم عدلیہ کے ساتھ ماضی قریب میں روا رکھی گئی نا انصافیوں کا ازالہ بھی کریں گے۔ میاں محمد نواز شریف نے جب منصب اقتدار سنبھالا۔ تو ان کی حکومت کے لئے سب سے بڑا چیلنج ملکی امن وامان کے حوالے سے دہشت گردی۔ تخریب کاری کا قلع قمع کرنا تھا۔ انسداد دہشت گردی کی عدالتوں کا قیام اس سلسلہ کی ایک کڑی تھی۔ اور وقت کی اہم ضرورت بھی تھی حکومت اور عدلیہ کے مابین اختلافات کا آغاز یہیں سے ہوا۔ معاملہ بڑھتے بڑھتے سپریم کورٹ کے ججوں کی تعیناتی تک پہنچا۔ تو تنازعات نے جنگ کی صورت حال اختیار کر لی۔ چیف جسٹس سید سجاد علی شاہ کے ساتھ وزیر اعظم کے

صفحہ ۴۶۹

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۷ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

اختلافات جب منظر عام پر آئے تو خیال تھا کہ سپریم کورٹ کے ججوں کی تعداد اور انتخاب پر رونما ہونے والا تنازعہ خوش اسلوبی سے طے پا جائے گا دو بڑوں کی موجودگی میں فاضل چیف جسٹس اور وزیر اعظم کی ملاقات بھی نتیجہ خیز ثابت نہ ہوسکی۔ دونوں فریق اپنے موقف پر ڈٹے ہوئے تھے۔ کوئی فریق بھی پسپائی اختیار کرنے یا اپنے رویّہ میں لچک پیدا کرنے کے لیے تیار نہیں تھا۔ اب تک جو صورتحال سامنے آئی ہے۔ اس سے محسوس ہوتا ہے کہ دونوں فریق آئین اور قانون کی بالادستی کے برعکس انا کی بالادستی کے حصول میں سرگرم عمل ہیں۔ اور اہم اور بڑے فیصلے کرنے والے فاضل چیف جسٹس عدلیہ کی بالادستی چاہتے ہیں۔ تو بھاری مینڈیٹ حاصل کرنے والی پارٹی کے قائد نواز شریف پارلیمنٹ کی بالادستی چاہتے ہیں۔ حکومت اور عدلیہ چکی کے دو پاٹوں کے درمیان بے چاری قوم پس رہی ہے۔ اس تنازعہ نے پورے ملک میں غیر یقینی صورتحال پیدا کر رکھی ہے۔

نافذ العمل صدارتی حکم کے مطابق سپریم کورٹ میں ججوں کی تعداد سترہ ہے۔ موجودہ چیف جسٹس سید سجاد علی شاہ بھی اسی حکم نامہ کی بنیاد پر پانچ ججوں کی ڈیمانڈ رکھتے ہیں۔ حکومتی جماعت کا موقف ہے کہ سترہ جج کسی طور پر مناسب نہیں کیونکہ ہم سے پانچ گنا بڑے ہمسایہ ملک بھارت اور ترقی یافتہ ملک امریکہ میں سپریم کورٹ کے ججوں کی تعداد اس سے نصف کے قریب ہے۔ تاہم چیف جسٹس کا مطالبہ آئینی تقاضوں کے عین مطابق ہے۔ دوسری طرف پارلیمنٹ کو جج صاحبان کی تعداد میں تخفیف کرنے کا حق حاصل ہے۔ لیکن اس کے حصول کے لئے حکومتی پارٹی کو پارلیمنٹ میں ایک نیا قانون منظور کروانا پڑے گا۔ اس قانون کی آئینی حیثیت کے بارے میں فیصلہ صادر کرنے کی سفارشات کا اختیار چیف جسٹس کو ہی حاصل ہوگا۔ آئین کے مطابق قانون سازی کا حق پارلیمنٹ کو حاصل ہے۔ لیکن آئین کی تشریح عدلیہ کا کام ہے۔ سپریم کورٹ آف پاکستان نے ۲۰؍ مارچ ۱۹۹۷ء کے فیصلہ میں ججوں کی تقرریوں کے آرٹیکلز کی حتمی تشریح میں بتایا ہے کہ حکومت چیف جسٹس آف پاکستان کی سفارشات کی پابند ہے۔ اگر حکومت کو کسی جج کی تقرری پر اعتراض ہو تو وہ اسے تحریر کرے۔ لیکن آئینی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ تحریری اعتراض بھی قابل مواخذہ ہے۔ اس سے ثابت ہوتا ہے ۔ کہ اصل حقیقت واہمیت چیف جسٹس کی سفارشات کو ہی حاصل ہے۔ میاں محمد نواز شریف بھاری مینڈیٹ کا ہوا دکھا کر عدلیہ کو مرعوب نہیں کر سکتے۔ اگر ان کی جماعت پارلیمنٹ میں قانون منظور کروانے میں کامیاب ہو بھی جائے تو بھی انہیں فاضل چیف جسٹس کی سفارشات کا پابند ہونا پڑے گا۔ نتیجہ گویا وہی ”ڈھاک کے تین پات“ والی بات ہوگی۔

حکومت اور عدلیہ کی محاذ آرائی باقاعدہ جنگ میں تبدیل ہوگئی ہے۔ حکومتی پارٹی اور اس کی حلیف جماعتوں نے نہ صرف وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف پر اعتماد کا اظہار کیا ہے ۔ بلکہ انہوں نے پارلیمنٹ کی مستقل بالا دستی کے قیام کے لئے اور اسے خود مختار ادارہ بنانے کا واضح اعلان بھی کر دیا ہے۔ ۲۹؍ اکتوبر ۱۹۹۷ء کی شب ہونے والے قومی اسمبلی کے اجلاس میں ایک قرار داد کے ذریعہ اس امر کا اعلان کیا گیا۔ اسی تاریخ کو پہلے وقت سپریم کورٹ نے چودھویں ترمیم کے خلاف اپنا عبوری فیصلہ دے کر حکومت کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک لانے کی راہ بھی ہموار کر دی ہے۔ اگرچہ حکومتی جماعت کے بعض ارکان نے بادل ناخواستہ اس فیصلہ کے خلاف رد عمل کا اظہار کیا ہے۔ واضح رہے کہ عدم اعتماد کی تحریکوں میں ارکان اسمبلی کی چاندی ہے ۔ اس سنہری موقع پر منہ میں آنے والے پانی کا ذائقہ چکھے انہیں مدت گزر گئی ہے۔ اس میں شک نہیں کہ ہارس ٹریڈنگ عرف عام لوٹا کریسی نے ملک کے سیاسی جمہوری نظام کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا ہے۔ عوام نے مدت بعد سکھ کا سانس لیا تھا۔ اس لحاظ سے سپریم کورٹ کے عبوری فیصلہ کو عوامی سطح پر پسند نہیں کیا جائے گا۔ حکومت اور عدلیہ کی محاذ آرائی کا

صفحہ ۴۷۰

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۷ء

ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

نتیجہ کیا نکلتا ہے۔ یہ تو خدا ہی بہتر جانتا ہے۔ یا روحانی پیشوا پیر پگاڑا قلب و جگر پر نظر رکھتے ہیں۔ اس کی روحانی تاریں بہر حال اسلام آباد سے جڑی ہوئی ہیں۔ نتیجہ کچھ بھی ہو۔ حکومت اور عدلیہ کی لڑائی قوم اور ملک کے لئے قطعی مفید ثابت نہیں ہو سکتی۔

حکومت اور عدلیہ کی محاذ آرائی میں ایک بات تو طے شدہ ہے۔ کہ اصل تنازعہ ججوں کی تعداد پر نہیں افراد پر ہے۔ وزیر اعظم میاں نواز شریف پانچ میں دو ججوں پر اتفاق کرتے ہیں اور تین ججوں کے معاملہ کو التواء میں رکھنے کا اصرار کرتے ہیں۔ آخر اس کی وجہ کیا ہے؟ حکمران جماعت کو سفارش شدہ دو ججوں کے بارے میں اعتراضات ہیں۔ ایک فاضل جج نے وزیر اعظم کے والد گرامی میاں محمد نواز شریف کی حبس بے جا کی درخواست مسترد کر دی تھی۔ جب کہ دوسرے فاضل جج نے شریف خاندان کے ملکیتی اتفاق گروپ کے خلاف فیصلے دیئے تھے۔ حکومت نے مذکور بالا دونوں ججوں کو جبری رخصت پر بھیجنے کی کوشش بھی کی۔ جسے انہوں نے قبول کرنے سے انکار کر دیا۔ غالب گمان یہی ہے کہ حکومت اور عدلیہ کے درمیان وجہ تنازعہ یہی دو جج صاحبان ہیں۔ جنہیں وزیر اعظم، ان کا خاندان اور ان کی پارٹی کیونکر قبول کر سکتے ہیں؟

حکومت اور عدلیہ کی حالیہ چپقلش کو تمام کالم نویسوں اور تبصرہ نگاروں نے ذاتی انا کی لڑائی قرار دیا ہے۔ ملک کے وسیع تر مفاد کو پس پشت رکھ کر دونوں فریقوں نے پورے ملک کو داؤ پر لگا دیا ہے۔ اس وقت سٹاک ایکسچینج بحران کا شکار ہے۔ حکومت اور عدلیہ کی اس محاذ آرائی کے دوران روپیہ کی قیمت میں اچانک ریکارڈ کمی نے ملکی معیشت کا بیڑہ غرق کر دیا ہے کاروبار زندگی معطل ہو کر رہ گیا ہے۔ تاہم افواہ سازی کا کاروبار اپنے عروج پر ہے۔ فاضل چیف جسٹس اور وزیر اعظم انا اور مفاد کی جنگ میں کچھ ماننے اور سننے کو تیار نہیں۔ لیکن ان دونوں فریق نے اعلیٰ عدالتوں میں تین مبینہ ججوں کو قبول کر رکھا ہے۔ ہم نہایت معذرت کے ساتھ فاضل چیف جسٹس کی خدمت میں عرض کریں گے کہ وہ اپنے طور پر عدلیہ کے دفاع کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ وہ آئین کی پاسداری کے علمبردار ہیں۔ کیا قادیانی ججوں کی اعلیٰ عدالتوں میں تعیناتی عدلیہ کے وقار اور اسکی عظمت کے منافی نہیں؟ قادیانیوں نے ابھی تک قومی اسمبلی ۱۹۷۴ء کی اس آئینی ترمیم کو تسلیم نہیں کیا۔ جس میں انہیں ملک کی لوئر کورٹس سے لے کر عدالت عظمیٰ اور وفاقی شرعی عدالت سمیت غیر مسلم قرار دیا گیا تھا۔ اعلیٰ عدالتوں کے فیصلے محفوظ ہیں۔ جنہوں نے قادیانیوں کے کفر پر مہر تصدیق ثبت کی ہے۔ لیکن وہ ابھی تک اپنے آپ کو مسلم کہلوانے اور لکھنے پر مصر ہیں۔ کیا یہ آئین کے خلاف کھلی بغاوت نہیں؟ یہ بات پوری قوم کے لئے لمحہ فکریہ ہے۔ کہ وزیر اعظم ذاتی دشمنی کی بنا پر دو ججوں کو قبول کرنے کے لئے تیار نہیں۔ لیکن آقائے نامدارﷺ کے باغی اور گستاخ تین ججوں کو کیسے برداشت کئے بیٹھے ہیں؟ ہم چار بڑوں سے استدعا کرتے ہیں کہ اعلیٰ عدالتوں میں تعینات تین مصدقہ قادیانی ججوں کو نکالا جائے۔ ان کی تعیناتی آئین سے متصادم ہے۔ اس پہلو سے فاضل جسٹس کی رگ حمیت کیوں نہیں پھڑکتی؟ وزیر اعظم نواز شریف کی دینی حمیت کیوں بیدار نہیں ہوتی؟ صدر مملکت فاروق، قادیانی مسئلہ پر ایسے چپ ہیں، جیسے شب عروسی میں دلہن مہر بلب ہوتی ہے۔ ان کا زہد و تقوی اور تہجد گزاری کس کام کی؟

وفاقی وزیر قانون پر الزام

معروف وکیل وہاب الخیری نے گزشتہ دنوں ایک بیان میں وفاقی وزیر قانون خالد انور پر الزام لگایا ہے کہ وہ نہ صرف قادیانیوں کے رشتہ دار ہیں بلکہ وہ قادیانیوں کے لئے کام کر رہے ہیں۔ وہ آرٹیکل ۲-اے کی شق کو نکالنا چاہتے ہیں۔

(نوائے وقت ۲/نومبر ۱۹۹۷ء)

وہاب الخیری کا حالیہ بیان دینی حلقوں کے لئے لمحہ فکریہ کی حیثیت رکھتا ہے ان کے بیان کے بعد ابھی تک وفاقی وزیر قانون کی

صفحہ ۴۷۱

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۷ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

طرف سے کوئی وضاحتی بیان یا تردید منظر عام پر نہیں آئی، ویسے تو وزیر قانون آج کل خود منظر عام سے غائب ہیں تاہم اتنے بڑے الزام کے بعد ان کی جانب سے عدم تردید کی بنا پر وہاب الخیری کے بیان کی تصدیق میں کوئی شک نہیں کیا جاسکتا۔

ہم وفاقی وزیر قانون خالد انور کے بارے میں زیادہ معلومات تو نہیں رکھتے تاہم سیاسی حلقوں کے مطابق موصوف نے حکومت اور عدلیہ کے مابین لڑائی میں نواز شریف حکومت کی کشتی ڈبونے میں کوئی کسر نہیں اٹھا چھوڑی تھی شنید ہے کہ انہیں وزارت سے فارغ کیا جارہا ہے تاہم یہ حکومت کا خانگی معاملہ ہے ہم تو حکومت کو ملک کے وسیع تر مفاد کے ضمن میں کوئی سی رائے یا مشورہ دے سکتے ہیں وہاب الخیری چونکہ حکومت کے مخالفین میں شمار کئے جاتے ہیں حکومت اور عدلیہ کے مابین محاذ آرائی میں انہوں نے عدلیہ کے وقار اور بالادستی میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ قرین قیاس ہے کہ حکومت ان کے حالیہ بیان کو اہمیت نہ دے گی لیکن دینی حلقے اور بالخصوص عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت اس مسئلہ پر غافل نہیں یہ مسئلہ تحقیق طلب ہے کہ وفاقی وزیر قانون کی وفاداریاں کس کے ساتھ وابستہ ہیں۔

قادیانی جماعت نے اپنے متعلق آئینی ترمیم کو ابھی تک تسلیم نہیں کیا بلکہ قادیانی جماعت نے اقلیتی نشستوں کا بائیکاٹ کر کے آئین کے خلاف کھلی بغاوت کا ارتکاب کیا ہے بے نظیر یا نواز شریف دونوں حکومتوں نے اس کا سختی سے نوٹس نہ لے کر مجرمانہ غفلت اور مرزائیت نوازی کا ثبوت دیا ہے۔ اعلیٰ عدالتوں میں تین قادیانی جج تعینات ہیں۔ یہ تمام حقائق اس بات کا ثبوت ہیں کہ قادیانی جماعت ہر حالت میں اس آئینی ترمیم کے خاتمہ کے بعد اپنے آپ کو مسلمانوں کی صفوں میں شامل کرنا چاہتی ہے اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم کے طفیل ہم پورے وثوق سے کہہ سکتے ہیں کہ قادیانی جماعت کی یہ خواہش کبھی پوری نہ ہوگی چاہے جتنا مرضی زور لگالیں سازشوں کے جال بچھالیں انشاء اللہ ان کے ارادے کبھی کامیابی حاصل نہ کر سکیں گے۔

وزیر اعظم صاحب وہاب الخیری کے الزام کی صحت کا جائزہ لیں۔ اسے محض مجذوب کی بڑ نہ سمجھیں اور نہ ہی مخالف کا الزام خیال کریں وزیر اعظم تحقیق فرمائیں۔ وزیر قانون کے رشتہ دار کون ہیں؟ ان کی وفاداریاں کس سے وابستہ ہے۔ موصوف کے روابط کس سے ہیں۔ وہ ملک اور قوم کے لئے مفید ہیں یا نقصان دہ۔

(ماہنامہ لولاک ملتان، دسمبر ۱۹۹۷ء ص ۳ تا ۷)

قبول اسلام

صوبہ کیرالہ کے گیارہ قادیانیوں کا قبول اسلام

جنوبی ہندوستان کے صوبہ کیرالہ کے کوڈ تیور گاؤں میں جہاں مسلمانوں اور قادیانیوں کے درمیان تاریخی مباہلہ منعقد ہوا تھا، ایک مشہور قادیانی خاندان کے تین گھرانوں کے گیارہ آدمی (اہل وعیال سمیت) نے قادیانیت سے توبہ کر کے اسلام قبول کر لیا۔ اس خاندان نے جس کا سربراہ یہاں کا اشم ادھکاری تھا ۱۹۶۴ء میں قادیانیت قبول کی تھی اور انہوں نے دس سال قبل قادیانی ہو کر ہی انتقال کیا تھا۔

گزشتہ عیدالاضحیٰ کے دن اس خاندان کے بڑے بیٹے جناب کے پی حسن صاحب ان کے بھائی عبدالرحمٰن، عبدالناصر، خان اور سالہ ایم اے ناصر جو کالی کٹ کے مشہور پلاؤڈ کمپنی فنیر و پلائی کا ایم ڈی بھی ہے۔ اپنے اہل وعیال سمیت اسلام میں داخل ہوئے یادرہے کہ انہی کے ناریل کے باغ میں مباہلہ منعقد ہوا تھا۔ ۸ مئی ۱۹۸۹ء کو کوڈ تیور میں مباہلہ ہوا تھا۔ یہاں کے قادیانی اس کے نتیجے کے منتظر تھے، میعاد کے ختم ہونے پر مرزا طاہر کی پیش گوئی کے مطابق مسلمانوں میں سے کسی کی موت نہیں ہوئی تو قادیانی نوجوانوں نے سر اٹھائے اور چند لوگ خدا کی ہستی سے ہی انکار کرنے لگے تو قادیانیوں نے مرزائی اڈے میں ارکان کا اجتماع کیا اور سمجھایا کہ ”یہاں جو مباہلہ ہوا تھا وہ اصل میں

صفحہ ۴۷۲

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۷ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

خلیفہ صاحب کا چیلنج کردہ مباہلہ نہیں ہے۔ انجمن اشاعت اسلام کے اصرار پر یہ مباہلہ ہوا تھا لہٰذا اس کا کوئی نتیجہ نہ ہوا‘‘ یہ سن کر وہ لوگ مطمئن ہوگئے لیکن چند نوجوان قادیانی سوال کرنے لگے کہ خلیفہ نے اس مباہلہ کی اجازت دی تھی اور خود انجمن والوں کو خط لکھا تھا کہ اگر تم نے مباہلہ قبول نہیں کیا تو بھی تم مباہلے کی زد میں ہو گے اور خدا تمہاری اہانت کرے گا۔

اس کا کچھ جواب نہ پا کر تین نوجوان قادیانیت کو چھوڑ کر اسلام لائے تھے گزشتہ سال کٹی حسن کے گھر میں مسلمان علماء کرام اور قادیانی مربیوں کے درمیان اس سلسلے میں بحث مباحثہ ہوا، انجمن اشاعت اسلام کے علماء نے ثابت کر دیا کہ مرزا طاہر نے دعویٰ کیا تھا کہ مباہلہ کا چیلنج ارشاد باری تعالیٰ کے مطابق دیا گیا تھا اور اس کا نتیجہ فریق ثانی کا مکمل فنا ہے، اس کے لئے اخبار بدر کے شمارے (۱۵؍ستمبر ۱۹۸۸ء اور ۱۱؍اپریل ۱۹۸۵ء) اور قادیانی کتب پیش کی گئیں۔ آخر یہ بھی ثابت کر دیا گیا کہ کوڈتیور مباہلہ قادیانی خلیفہ کی اجازت کے مطابق ان کا چیلنج کردہ مباہلہ تھا، آخر ان کو اقرار کرنا پڑا۔ پھر ختم نبوت، رفع عیسیٰ علیہ السلام اور مرزا غلام احمد قادیانی کے دعوائے نبوت پر پانچ مرتبہ گفتگو ہوئی اور اس خاندان کے پورے لوگ جو وہاں بحث ومباحثہ سننے کے لئے موجود تھے، سب نے اسلام قبول کر لیا۔ الحمد للہ! قارئین سے دعا کے طالب ہیں کہ خدائے عزوجل ان کو استقامت بخشے اور دیگر قادیانیوں کو بھی ہدایت بخشے اور رد قادیانیت کی سعی کے عوض انجمن اشاعت اسلام کیرالہ کے علماء کرام اور کارکنان کو خدا اجر عظیم سے نوازے اور ہم سب کو جنت فردوس میں جگہ دے۔ (آمین)

(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی مؤرخہ ۲ تا ۸؍جنوری ۱۹۹۷ء ص ۲۵)

قادیانی خاتون کا قبول اسلام

کوئٹہ میں ایک قادیانی خاندان کی لڑکی صفیہ ڈار نے مسلمان نوجوان جاوید حسین سے اسلام کی حقانیت پر تفصیلی بحث کی اور آخر میں قادیانیت سے تائب ہو کر اسلام قبول کر لیا۔ ممتاز عالم دین قاری محمد افتخار کاظمی کے ہاتھ پر اسلام قبول کیا اور با قاعدہ حلف نامہ پیش کر کے جاوید حسین نامی سے نکاح کر لیا۔ لیکن قادیانیوں نے پولیس کو غلط اطلاع دے کر لڑکی اور لڑکے اور اس کے مزید پانچ ساتھی مسلمانوں کو گرفتار کروا دیا۔ لڑکی نے پولیس اور مجسٹریٹ کے سامنے بیان دیا کہ اس نے بارضا ورغبت بغیر کسی جبر کے اسلام قبول کیا۔ اب وہ آخر دم تک اسلام پر قائم رہے گی۔ اس بیان کے باوجود پولیس نے اس کو ایدھی سینٹر کی تحویل میں دے دیا۔ جب مجلس تحفظ ختم نبوت کے رہنماؤں کو اس زیادتی کا علم ہوا تو ایک وفد کی شکل میں جس میں مولانا منیر احمد، مولانا عبدالواحد، مفتی غلام محمد، مولانا عبدالحق، قاری سید افتخار کاظمی، مولانا محمد علی صدیقی، جناب فیاض حسن سجاد، حاجی شاہ محمد آغا، حاجی تاج محمد فیروز، حاجی نعمت خان، خلیل الرحمن، پروفیسر فیض محمد، قاری غلام یاسین، حافظ عبدالمجید، ناظم دفتر غلام یاسین اور مجلس کے تمام عہدیداران نے ڈی سی کوئٹہ جناب فداء حسن فدا سے ملاقات کی، جنہوں نے مسماۃ صفیہ کے بیانات سنے اور تمام قانونی کارروائیاں پوری کرتے ہوئے موصوفہ کو مسلمانوں کے حوالہ کر دیا علماء کرام نے ڈی سی کوئٹہ اور مجسٹریٹ جناب ذوالفقار درانی کا شکریہ ادا کیا۔ نیز یادرہے کہ مسلمان ہونے والی موصوفہ بلوچستان کے اہم قادیانی خاندان سے تعلق رکھتی ہے اور اس کے مسلمان ہونے سے قادیانیوں کے حوصلے پست ہو گئے اور مسلمانوں میں ایک خوشی کی لہر دوڑ گئی۔ اللہ تعالیٰ سبھی کو حق سمجھنے کی تو فیق دے۔

(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی مؤرخہ ۲۲ تا ۳۰؍جنوری ۱۹۹۷ء ص ۱۲، ۲۲)

پسرور میں ایک مرزائی نوجوان کا قبول اسلام

مرزا پور تحصیل پسرور کے نوجوان عبدالعزیز ولد محمد صدیق نے قادیانیت سے تائب ہونے کا اعلان کرتے ہوئے مجلس تحفظ ختم

صفحہ ۴۷۳

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۷ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

نبوت کے مرکزی رہنما مولانا عبداللطیف مسعود کے ہاتھ پر اسلام قبول کر لیا ہے۔ عبدالعزیز نے قبل ازیں قادیانیت پر مباحثہ کیا اور مولانا مسعود کے دلائل پر قادیانیت کے دجل وفریب سے آگاہ ہوئے۔ آنجہانی مرزا غلام احمد قادیانی کی جھوٹی نبوت پر لعنت بھیجی اور اسلام کی حقانیت کو تسلیم کرتے ہوئے حضرت محمد ﷺ کی ختم نبوت پر غیر متزلزل ایمان لانے کا اعلان کیا۔ مجلس تحفظ ختم نبوت گوجرانوالہ کے رہنماؤں میں حافظ شیخ بشیر احمد ، قاری محمد یوسف عثمانی ، مولانا فقیر اللہ اختر ، حافظ محمد ثاقب اور امان اللہ قادری نے عبدالعزیز کے قبول اسلام پر اسے مبارک باد دی اور اس کی نیک بختی اور سعادت پر خوشی کا اظہار کیا۔ علاوہ ازیں مولانا عبداللطیف مسعود نے ۱۷؍ مارچ سے ۲۲؍ مارچ ۱۹۹۷ء تک پسرور کے علماء کرام اور کالجوں کے اساتذہ اور طلباء کو رد قادیانیت پر خصوصی کورس کرایا۔

(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی مؤرخہ ۲۵ تا یکم مئی ۱۹۹۷ء ص ۲۴)

آٹھ قادیانی افراد کا قبول اسلام

کوٹ لالہ تھانہ کوٹ لدھا ضلع گوجرانوالہ کے آٹھ افراد کے قدیمی قادیانی خاندان نے اسلام قبول کر لیا ہے۔ اور قادیانیت سے تائب ہونے کا اعلان کیا ہے۔ اس خاندان نے رتہ دوہتڑ کے بین الاقوامی توہین رسالت کیس کے مدعی ماسٹر عنایت اللہ اور چوہدری محمد عارف مدن چک اور محمد اصغر کی کوششوں سے اسلام قبول کیا ہے۔ خاندان کے سربراہ محمد صالح ، مقصود احمد ، نصرت بی بی ، لقمان احمد ، بشیر احمد ، انیلہ مقصود ، ماریہ مقصود اور ثناء مقصود نے قادیانیت کو فریب اور جعل سازی کا ملغوبہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ مرزا غلام احمد قادیانی اور ان کے حواری جھوٹ اور فریب کے چمپئن ہیں۔ ہم ان پر لعنت بھیجتے ہیں اور حضرت محمد ﷺ کی ختم نبوت پر غیر متزلزل ایمان رکھتے ہیں۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے رہنماؤں مولانا محمد طیب فاروقی ، حافظ محمد ثاقب ، چوہدری غلام نبی اور حافظ احسان الواحد نے کوٹ لالہ کا دورہ کیا اور محمد صالح اور ان کے خاندان کو قبول اسلام پر مبارک باد دی اور ان کے لئے استقلال اور ثابت قدمی کی دعا کی۔

(ماہنامہ لولاک ملتان، جولائی ۱۹۹۷ء ص ۶)

کوئٹہ میں تین قادیانیوں کا قبول اسلام

جامعہ اسلامیہ معارف القرآن و جامع مسجد نیو ٹاؤن تفتان کے خطیب مولانا خدائے نظر کے ہاتھوں تین قادیانی مسمیان چوہدری منظور احمد دکاندار تفتان مارکیٹ ، محمد علی ٹیلر ماسٹر اور ان کا بھائی مبشر احمد جس کا اسلامی نام بشیر احمد رکھا گیا ہے۔ بقائے ہوش وحواس با رضا و رغبت مشرف بہ اسلام ہوئے۔ تینوں کا تعلق پنجاب سے ہے۔ انہوں نے قادیانیت سے مکمل برأت کا اعلان کیا اور خاتم النبیین ﷺ کی ختم نبوت پر مکمل ایمان لانے کا اعلان کیا اور کہا کہ نبی کریم ﷺ کے بعد ہر مدعی نبوت کاذب، دجال اور دائرہ اسلام سے خارج ہے۔

اس موقع پر ہزاروں مسلمانوں نے ان کے لئے دین اسلام پر استقامت کے لئے دعا کی اور انہیں مبارک باد دی۔ مولانا خدائے نظر نے ان کو اسلام کی حقانیت سے آگاہ کیا۔ نو مسلموں نے اپنے قادیانی والدین اور رشتہ داروں سے لا تعلقی کا اظہار کیا۔

(ماہنامہ لولاک ملتان اکتوبر ۱۹۹۷ء ص ۸)

میں نے مرزائیت کیوں چھوڑی (احمد ہاریادی، انڈونیشیاء)

الحمد للہ و کفیٰ وسلام علیٰ عبادہ الذین اصطفٰی!

مرزائی امت کا مقدر سیاہ ہے کہ ہمیشہ اسے ذلت کا سامنا رہا ہے، انہیں غیروں سے زیادہ اپنوں نے ہی گھائل کیا، تفصیلات میں

صفحہ ۴۷۴

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۷ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

جانے کی ضرورت نہیں کہ فہرست طویل ہے اور تکلیف دہ بھی۔ اسے سب سے پہلا دھچکا اس وقت لگا جب مرزا جی نے محمدی بیگم کے نکاح کو اپنی حقانیت کی دلیل قرار دیا ، مگر کیا کہے مرزا جی کے الہامی سسر اور محمدی بیگم کے والد مرزا احمد بیگ کو کہ انہوں نے خاندان نبوت کی سبز قدمی سے اپنے گھر کو معمور نہ ہونے دیا۔ دوسرا دھچکا اس وقت لگا جب آتھم نامعقول کے ساتھ مباہلہ ہوا اور اس بے ادب و گستاخ نے مرنے سے انکار کر دیا۔ مرزائی امت نے پورا زور لگایا کہ آتھم مر جائے اور مرزائی نبوت کی بیل منڈھے چڑھ جائے مگر وہ ایسا سخت جان نکلا کہ پورا خاندان یا اللہ آتھم مرجائے ، یا اللہ آتھم مرجائے ، یا اللہ آتھم مرجائے اور مرزائی نبوت کی بیل منڈھے چڑھ جائے۔ مگر وہ ایسا سخت جان نکلا کہ پورا قادیان یا اللہ آتھم مرجائے ، یا اللہ آتھم مرجائے کی دعاؤں سے گونج اٹھا۔ قادیانی رائل فیملی کے مسلمہ ماہرین عملیات سے تعویزات لئے گئے ، بکرے ذبح کئے گئے ، کالے چنے پڑھ کر قادیان کے اندھے کنویں میں ڈلوائے گئے ، لیکن اس کافر کے بچنے نے قادیانی نبوت کی لٹیا ہی ڈبو دی۔ تیسرا سب سے بڑا دھچکا اس وقت لگا جب مرزا بشیر الدین محمود کے کارناموں کے چرچے قادیان کی حویلی سے نکل کر گھر گھر ہونے لگے اور مرزائی امت دو حصوں میں بٹ گئی حتی کہ عبدالرحمن مصری جیسا پکا قادیانی اپنے گھر میں خلافت کا بیج اگتے دیکھ کر چیخ اٹھا اور مرزا جی کی نبوت کو مجددیت میں تبدیل کرنے کا فیصلہ کر لیا ، جس کا نہایت ہی تابناک اور خوشگوار نتیجہ یہ نکلا کہ موصوف کی اولاد میں حافظ بشیر احمد مصری کو اللہ تعالیٰ نے قادیانیت پر دو حرف بھیج کر اسلام کی دولت سے مالا مال فرمایا۔ اور ماشاء اللہ وہ ایمان کی دولت لے کر اس دنیا سے رخصت ہوئے اور جاتے جاتے مرزا طاہر کو مباہلہ کا چیلنج بھی دے گئے۔ کچھ اسی طرح کا سانحہ جناب حسن محمود عودہ صاحب (جو کہ عربی النسل نوجوان تھے مگر قادیانیت کے دام میں پھنس گئے تھے) کے قادیانیت چھوڑنے پر ہوا۔

جناب حسن محمود عودہ اس وقت بھی لندن کے مضافات سلاؤ میں رد مرزائیت میں بہت اچھا کام کر رہے ہیں۔ اب جب کہ مرزائیت مسلم دنیا میں گالی کا درجہ حاصل کر چکی ہے اور مشکل ہی سے کوئی مسلمان قادیانیت کے دام تزویر میں آتا ہے ، سابق قادیانی مبلغ جناب احمد ہاریادی انڈونیشی بھی مسلمان ہوگئے اور انہوں نے گھر کا بھیدی لنکا ڈھائے کے مصداق مباہلہ کا ہتھیار خود مرزا طاہر پر آزمایا ، اور وہ ایسا فٹ آیا کہ اب مرزا طاہر احمد صاحب کو نہ اگلتے بنتی ہے اور نہ ہی نگلتے ۔ مرزا طاہر اس مباہلہ سے کس قدر حواس باختہ ہے اس کا اندازہ احمد ہاریادی اور مرزا طاہر کے ان خطوط سے لگایا جا سکتا ہے ، جو شامل اشاعت ہیں۔

احمد ہاریادی صاحب سے دفتر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت لندن میں ملاقات ہوئی موصوف انگلش اور عربی زبان لکھ اور پڑھ لیتے ہیں ، جب کہ انڈونیشی ان کی مادری زبان ہے۔ نہایت سمجھدار ، ہنس مکھ اور ستھرا ذوق رکھتے ہیں ، میں (مولانا سعید احمد جلال پوری) نے ان سے ترک مرزائیت کے سلسلہ میں کچھ سوالات کئے تو انہوں نے عربی زبان میں نہایت نپے تلے الفاظ میں جواب دیئے اور خواہش ظاہر کی کہ پاکستان بھر میں میری یہ آواز پہنچائی جائے اور یہ بھی کہا کہ میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے توسط سے قادیانیت سے اپنی برأت کا اعلان اور مرزا طاہر احمد کے نام مباہلہ کا چیلنج دنیا بھر میں پہنچانا چاہتا ہوں ۔ وہ ایک ماہ تک دفتر میں مقیم رہے اور ہر آدمی سے کہتے مجھے مرزا طاہر احمد سے مناظرہ ، مناقشہ اور روبرو مباہلہ کرنا ہے۔ میری مرزا طاہر احمد سے ملاقات کا انتظام کیا جائے ۔ انہوں نے ۱۲رویں ختم نبوت کانفرنس لندن میں بھی اپنے عربی خطاب میں (جس کا ترجمہ جناب مولانا منظور احمد الحسینی مبلغ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت لندن نے کیا) یہی کہا کہ میں اس کانفرنس کے ذریعہ مرزا طاہر احمد کو مباہلہ کا چیلنج دیتا ہوں اور اسے ہر طرح کے مناظرہ اور مناقشہ کی دعوت دیتا ہوں ۔

ذیل میں ہم موصوف کے خیالات وجذبات خود ان کی زبانی نقل کرتے ہیں ۔

جناب احمد ہاریادی صاحب نے فرمایا میں کدیری شرقی جاوا انڈونیشیا میں ۱۹۵۲ء میں پیدا ہوا۔ پیدائشی مسلمان تھا ، کدیری میں

صفحہ ۴۷۵

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۴ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

ابتدائی تعلیم حاصل کی، اعلیٰ تعلیم کے لئے جاوا کے مرکزی شہر سرابیا کا سفر کیا، ۱۹۷۱ء میں وہاں بشیر کن نامی ایک قادیانی سے ملاقات ہوئی جو اصلاً پاکستانی تھا ، مگر اب انڈونیشیا کا رہائشی ہے، اس نے مرزا غلام احمد قادیانی کی کتب پڑھنے کے لئے دیں۔ دینی معلومات نہ ہونے اور دین کی طرف میلان کے باعث اس کی باتوں کو ہی دین سمجھا اور کسی قدر متاثر ہونا شروع ہوا۔ رفتہ رفتہ قربت بڑھتی گئی تا آنکہ دسمبر ۱۹۷۳ء میں اس نے نہایت عیاری سے مجھ سے قادیانیت کی بیعت کا فارم پر کرایا اور میں نے بنڈونگ کے مربی میاں عبدالحی، جو پاکستان سے مبعوث تھے، کے ہاتھ پر بیعت کی اور باقاعدہ قادیانی سلسلہ میں داخل ہو گیا۔ میری تربیت شروع ہو گئی اور ایک ہفتہ بعد جکارتہ میں خدام الاحمدیہ کا معلوماتی مقابلہ ہوا جس میں ملک بھر کے قادیانی نوجوان شامل ہوئے اس میں مجھے بھی بطور خاص شریک کیا گیا۔ میں اس مقابلہ میں اوّل آیا، مجھے بہت سارے انعامات سے نواز کر میری حوصلہ افزائی کی گئی۔ میری معلومات اور قادیانیت سے دلچسپی کے باعث قادیانی مبلغین اور مربیوں نے ربوہ پاکستان میں قادیانی مبلغ کورس کے لئے بھیجنے کی ترغیب دی اور کوشش کی، مگر انہی دنوں ربوہ اسٹیشن پر نشتر میڈیکل کالج ملتان کے مسلمان طلبہ پر ختم نبوت زندہ باد کے نعرہ کی پاداش میں قادیانیوں کی جانب سے تشدد کا واقعہ رونما ہوا اور ۱۹۷۴ء کی تحریک شروع ہو گئی۔ یوں میں پاکستان مربی کورس کے لئے نہ جا سکا۔ بہر حال میں نے اپنے شوق سے قادیانیت کی اچھی خاصی معلومات حاصل کرلیں۔ اور میں مقامی علماء کرام کے پاس جا جا کر بحث مناظرے کرنے لگا، ظاہر ہے ان علماء کرام کو قادیانی دجل و فریب سے چنداں واقفیت نہ تھی اور میں قادیانی لٹریچر از بر کر چکا تھا اس لئے مجھ سے کوئی جیت نہ سکتا تھا، حتیٰ کہ انڈونیشیا کے بہت بڑے عالم اور مفسر جناب علامہ حاجی عبد المالک کریم اللہ المعروف حمکا سے میں جا الجھا اور انہیں بھی اپنے خیال میں لاجواب کر دیا۔

اگست ۱۹۷۵ء میں مجھے قادیان اور ربوہ کا سفر کئے بغیر اطلاع دی گئی کہ تمہیں صومالیہ کے جزیرہ سوماترا کا مبلغ بنا دیا گیا ہے۔ میں مبلغ بن کر صومالیہ چلا گیا۔ ۱۹۷۵ء سے ۱۹۷۷ء تک میں وہاں کا مبلغ اور مربی رہا کچھ عرصہ بعد مجھے صومالیہ سے جکارتہ کا مبلغ بنا دیا گیا، اسی اثناء میں مجھے مرزا بشیر الدین محمود کے ترجمہ قرآن کو عربی سے انڈونیشی زبان میں منتقل کرنے والی تحقیقی کمیٹی کا رکن نامزد کر دیا گیا، میں جکارتہ میں ہی تھا کہ ۱۹۷۹ء کے جلسہ سالانہ کے موقع پر مجھے ربوہ پاکستان اور پھر قادیان بھیجا گیا، جہاں میں نے قادیان اور ربوہ میں بہشتی مقبرہ دیکھا اور میں نے مرزا غلام احمد قادیانی کی قبر کے پاس کھڑے ہو کر اپنی عقیدت اور محبت کے آنسو بہائے اور خوب رویا، اس کے بعد میں جکارتہ آ گیا تین سال وہاں مبعوث رہنے کے بعد مجھے شرقی جاوا کے جزیرہ بالی میں مربی مقرر کیا گیا وہاں ہندوؤں کی اکثریت ہے، چھ ماہ تک وہاں رکھا گیا یہ ۱۹۸۰ء کی بات ہے، اس کے بعد مجھے جزیرہ لمبنو کا مربی مقرر کیا گیا۔ یہ جزیرہ بالی کی مشرقی جانب ہے جس میں سو فیصد مسلمان آباد ہیں اس جزیرہ میں میرا تقریباً ۷۰ علماء سے تین مسائل میں مناظرہ ہوا یعنی:

ان علماء کرام کو میں نے مناظرہ کے بعد ایک خط کے ذریعہ دعوت مباہلہ دی میرا وہ خط میرے اس رسالہ کے صفحہ ۴۰ پر درج ہے جس میں، میں نے قادیانیت قبول کرنے اور چھوڑنے کی تفصیلات ذکر کی ہیں۔ (میرا یہ رسالہ انڈونیشی زبان میں مطبوعہ موجود ہے )

بہر حال وہاں کے مقامی علماء اس فتنہ سے کما حقہ واقفیت نہ رکھنے کی بناء پر مباہلے کے لئے تیار نہ ہوئے۔ ایک سال تک یہی سلسلہ جاری رہا اسی اثناء میں حاجی عرفان نامی ایک عالم سے ملاقات ہوئی ان سے مناظرہ ہوا اور پھر میں نے اس کو بھی دعوت مباہلہ دی اور

صفحہ ۴۷۶

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۷ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

کہا کہ مرزا غلام احمد کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟ وہ اپنے دعوی میں سچا تھا یا جھوٹا؟ حاجی عرفان صاحب نے کہا کہ مرزا غلام احمد قادیانی سو فیصد جھوٹا ، دجال ، کذاب اور مرتد تھا میں نے ان سے کہا کہ کیا آپ سو فیصد یہی اعتقاد رکھتے ہیں ؟ انہوں نے کہا ہاں مجھے سو فیصد یقین ہے۔ اس پر میں نے کہا کہ آپ اس پر حلف اٹھائیں ، اور ٹھیک یہی مطالبہ حاجی صاحب نے مجھ سے کر دیا ۔ چونکہ مجھے سو فیصد یقین تھا کہ مرزا غلام احمد قادیانی اپنے دعوؤں میں سچا ہے اس لئے میں نے حلف اٹھایا اور کہا کہ مرزا غلام احمد قادیانی اپنے تمام دعوؤں میں سچا تھا اگر میں جھوٹا ہوں تو اللہ تعالیٰ مجھ پر تین مہینے کے اندر اندر ایسا عذاب نازل کرے جو دوسروں کے لئے باعث عبرت ہو۔ اس پر حاجی عرفان صاحب نے یہ قسم اٹھائی کہ اگر میں اپنے اعتقاد میں جھوٹا ہوں تو تین مہینے کے اندر اندر مجھ پر اللہ تعالیٰ کا ایسا عذاب نازل ہو جو دوسروں کے لئے باعث عبرت ہو۔ اسی کے ساتھ میں نے حاجی عرفان صاحب کا ہاتھ پکڑ کر کہا اگر تین مہینے کے اندر اندر تجھ پر اللہ تعالیٰ کا عذاب نازل نہ ہوا تو آپ میری گردن کاٹ سکتے ہیں ، اس پر میرے اور ان کے حلف کی تحریر تیار کی گئی اور دونوں کے دستخط لئے گئے اور اس مباہلہ کی تقریباً چار ہزار فوٹو اسٹیٹ تیار کی گئی یہ چودہ جولائی ۱۹۸۳ء کا قصہ ہے۔

اس کے ایک دن بعد یعنی ۱۵/جولائی ۱۹۸۳ء کو میں نے مرزا طاہر احمد کو خط لکھا اور اس میں میں نے حاجی عرفان سے اپنے مباہلہ کی روئیداد لکھی اور مباہلہ پر مبنی تحریر کا فوٹو بھی اپنے اس خط میں بھیج دیا۔ اس پر مرزا طاہر احمد نے جواب دیا کہ:

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

RABWAH 4 Zahur 1362. 4 August 1983.

Dear Ahmad Hariadi Al Pancery,

Assalam o Alaikum.

Thank you for your detailed letter of the 15th July, 1983/ Wafa 1362.

May Allah bless you with His eternal favour and grant you the best of this life and of the life to come.

May He further strengthen your faith in Islam and charge you with renewed vigour and determination to serve His cause.

May Allah guide you to the right path and guard you against all evil. Ameen.

yours sincerely (Mirza Tahir Ahmad) Khalifa tul Masih Iv

Mr. Ahmad Hariade, Indonesia.

صفحہ ۴۷۷

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۷ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

’’اللہ تعالیٰ آپ کو دنیا و آخرت میں کامیابی عطا فرمائے ، اللہ تعالیٰ آپ کو اسلام پر مضبوطی عطا فرمائے ، صراطِ مستقیم عطا فرمائے اور برائیوں سے بچائے۔‘‘ اس سے میرا اعتقاد و عقیدہ پہلے سے زیادہ مضبوط ہو گیا کہ خلیفہ صاحب نے میرے لئے دعا فرمائی ہے ، میں ضرور کامیاب ہوں گا اور میرا دشمن تین ماہ کے اندر اندر ہلاک ہوگا۔ میں نے اس خط کے بعد اٹھتے ، بیٹھتے ،سوتے جاگتے اللہ تعالیٰ سے خوب دعا مانگی کہ یا اللہ حاجی عرفان عذاب میں مبتلا ہو جائے اور میں کامیاب ہو جاؤں، اس کے علاوہ میں نے اپنے معتقدین سے کہا کہ تم اس مباہلہ کی کامیابی کے لئے صدقہ کے بکرے ذبح کرو۔ چنانچہ اس قادیانی مرکز جس میں میں رہتا تھا ۱۷ بکرے ذبح کئے گئے اور رو، رو کر دعا مانگی گئی ، میں رات کو تہجد میں خوب دعا کرتا اور یہ بھی کہتا اے مقلب القلوب ! حاجی عرفان کا مرزا غلام احمد قادیانی کی طرف دل پھیر دے ورنہ اسے عذاب میں مبتلا کر دے تاکہ میرا دل مطمئن ہو جائے ، چونکہ اس وقت مرزائی تعلیمات کا مجھ پر خوب خوب اثر تھا اس لئے اپنی ہدایت کی بجائے مخالف کی ہلاکت کی دعا مانگتا رہا ، چونکہ میرے اور حاجی عرفان کے مباہلہ پر مشتمل چار ہزار فوٹو اسٹیٹ ملک بھر میں پھیل چکی تھیں اور اس حق و باطل کے معرکہ کی خبریں خوب گرم تھیں کہ تین ماہ تک حاجی عرفان ہلاک نہ ہوا تو میری گردن کاٹ سکے گا ۔ اس لئے تین ماہ گزرنے سے ایک ہفتہ قبل پولیس نے مجھے گرفتار کر لیا اور پولیس اسٹیشن لے جاکر مجھے میری وہ تحریر دکھائی جس میں ، میں نے لکھا تھا کہ اگر میں جھوٹا ثابت ہو جاؤں تو میری گردن کاٹ دی جائے اور کہا کیا یہ تحریر تیری ہے؟ میں نے کہا جی ہاں۔ اسی طرح حاجی عرفان سے کہا کہ اگر احمد یار ہادی غائب ہو گیا اسے قتل کیا گیا تو اس کے ذمہ دار آپ ہوں گے۔

تین ماہ پورے ہو گئے تو میں نے ایک ایسے قادیانی سے جو حاجی عرفان کا پڑوسی تھا پوچھا کہ حاجی عرفان کا کیا حال ہے۔ اس نے کہا کہ وہ بالکل ٹھیک ہے میں نے ابھی ابھی اسے دیکھا ہے وہ اپنے گھر کے سامنے اپنے شاگردوں کے ساتھ باتیں کر رہا تھا، اس پر میرے دل میں خیال آیا کہ ایسے کیوں ہوا؟ میں غلطی پر ہوں یا مرزا غلام احمد قادیانی کی وحی غلط تھی کیونکہ مرزا صاحب کا الہام ہے ، کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے ’’میں اسکو ذلیل کروں گا جو تیری اہانت کرے گا‘‘ اس وعدہ الٰہی کے باوجود مرزا صاحب کے اس دشمن کو اللہ تعالیٰ نے آخر کیوں ہلاک نہیں کیا؟ چنانچہ رفتہ رفتہ میرے دل میں قادیانیت کے خلاف شکوک و شبہات پیدا ہونے لگے اور آہستہ آہستہ میرے دل سے قادیانیت نکلنے لگی ، پہلے اس کی حقانیت پر سو فیصد یقین تھا تو اب اسی فیصد پھر پچاس فیصد تک رہ گیا۔ جب میرے مغلوب ہونے کی اطلاع قادیانی مرکز کو ہوئی تو مرکز کی جانب سے مجھے کہا گیا کہ تم جزیرہ لمبو سے جزیرہ بالی کی طرف چلے جاؤ مگر میں نے قادیانی مرکز کی بات ماننے سے انکار کر دیا اور میں نے جزیرہ لمبو کو نہیں چھوڑا۔ میں حاجی عرفان صاحب کے آنے کا انتظار کرتا رہا مگر وہ نہ آئے یہاں تک کہ مباہلہ کی تاریخ سے دو ہفتے اوپر ہو گئے تو حاجی عرفان اپنے سینکڑوں ساتھیوں کے ہمراہ میرے پاس آئے اور کہنے لگے کہ میرا اور آپ کا مباہلہ ہوا تھا مدت مقررہ تین ماہ گزر گئے اور مجھ پر اللہ کا عذاب نازل نہیں ہوا۔ آپ نے کہا تھا اگر تین ماہ کے اندر اندر مجھ پر عذاب نازل نہ ہوا تو میں آپ کی گردن کاٹ دوں ، لہٰذا اپنی گردن لائیے تاکہ میں اسے کاٹ کر یہ اعلان کر سکوں کہ آپ جھوٹے ثابت ہوئے ہیں اور مرزا غلام احمد کذاب، دجال اور مرتد تھا۔ اس پر میں نے آگے سے جوابی تقریر شروع کر دی ، حاجی عرفان نے کہا میں تمہاری تقریر سننے نہیں آیا۔ حسب معاہدہ گردن لائیے تاکہ میں اسے کاٹ کر اعلان حق کر سکوں ، بہر حال حسب معاہدہ میں نے اپنے آپ کو پیش کر دیا۔ قریب تھا کہ حاجی عرفان صاحب میری گردن کاٹ دیتے مگر انہوں نے کہا میں اللہ تعالیٰ سے پرامید ہوں کہ تجھے ہدایت نصیب ہو جائے۔ اس لئے تیری

صفحہ ۴۷۸

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۷ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

گردن نہیں کاٹا اس کے ساتھیوں نے کہا اگر تم اس کی گردن نہیں کاٹتے تو ہم اس کام کو سرانجام دیتے ہیں۔ حاجی عرفان نے ان کو بھی منع کر دیا۔ اسی اثناء میں فریقین کے تحفظ کے لئے پولیس آگئی۔ مجھے اور حاجی عرفان صاحب کو گرفتار کر کے لے گئی۔

اس سانحہ کے بعد میرے دل میں شکوک وشبہات نے کثرت سے جنم لینا شروع کر دیا ایک طرف تو مرزا غلام احمد کشتی نوح میں لکھتا ہے کہ ”میری روح ہر اس قادیانی کی مدد کو آئے گی جو مخلص ہوگا اور یہاں باوجود اخلاص کے میں بری طرح شکست کھا چکا ہوں مگر مرزا صاحب کی روح نے آ کر ہی نہیں دیا۔ اس ذہنی کشمکش کے طوفان بلاخیز کے سامنے میں مجبور ہو گیا اور قادیانیت کی صداقت کی فلک بوس عمارت مجھے زمین بوس ہوتی ہوئی نظر آئی، میں تین دن کے بعد مجبوراً جزیرہ لمبنو سے جزیرہ مالی چلا گیا۔ اب میں قادیانیت کو چھوڑنا چاہتا تھا مگر حالات اور محالات سے اس قدر مجبور تھا کہ چاروں طرف سے مجھے مشکلات نظر آتی تھیں کہ کہاں سے کھاؤں گا؟ گھر کہاں سے لاؤں گا؟ بچوں کا کیا ہوگا وغیرہ وغیرہ گویا میں ہر طرف سے قادیانی حصار میں جکڑا ہوا تھا اسی اثناء میں مجھے جزیرہ مالی سے جاوا شرقیہ کے شہر مادیون کے مربی بن جانے کے احکامات موصول ہوئے اور میں بادل نخواستہ وہاں چلا گیا۔ اب مجھ میں وہ جذبہ نہیں تھا جو اس سے قبل تبلیغ قادیانیت کے سلسلے میں اپنے اندر پاتا تھا جبراً وقہراً اور اپنی مجبوری کی وجہ سے میں بہر حال ان کے ساتھ چل دیا۔ مگر دل کی خلش اور قلق کے باعث میں اس جستجو میں تھا کہ کوئی ملازمت مل جائے تو میں اس منحوس جماعت کو چھوڑ کر ترک قادیانیت کا اعلان کر سکوں۔ اس سلسلہ میں ، میں نے پانچ بار برونائی کا سفر کیا قادیانی مرکز کی جانب سے مجھے بار بار روکا گیا کہ خلیفہ کی اجازت کے بغیر آپ ملک سے باہر نہیں جا سکتے ، میں نے ان کی ایک نہ سنی۔ اللہ تعالیٰ کے فضل اور احسان سے مجھے مالیزیا میں ملازمت مل گئی۔ اور میں ”مؤسسۃ الارقم بالدعوۃ“، یعنی اسلامی فاؤنڈیشن میں صرف ونحو کا استاد مقرر ہو گیا اس وقت میں نے وہاں کے اخبار الوطن اور ہفتہ وار جریدہ اسلامیہ اور روزنامہ سینگا پور کے صحافیوں کے سامنے قادیانیت سے برأت کا اعلان کر دیا۔ یہ تین سے گیارہ اپریل ۱۹۸۶ء کا واقعہ ہے اس کے بعد قادیانیوں کی جانب سے ہر طرح کا رابطہ ختم ہو گیا، اور میں نے اپنے قادیانیت سے نکلنے کی وجوہات پر مشتمل ایک کتاب لکھی جس کا نام ہے: ”میں نے قادیانیت کیوں چھوڑی“، اس میں، میں نے واضح کیا کہ دس سال تک قادیانی مبلغ ہونے کے باوجود میں نے قادیانیت کیوں چھوڑی؟ میں نے اس کتاب کو تین ابواب پر تقسیم کیا:

یہ کتاب انڈونیشی زبان میں ۷۶ صفحات پر مشتمل مطبوعہ موجود ہے اس میں، میں نے مرزا طاہر احمد کو دعوت مباہلہ بھی دی ہے۔

دو سال تک میں مالیزیا میں رہا، اسی اثناء میں میری یہ کتاب شائع ہوئی۔ اس کے تمام تر مصارف رابطہ عالم اسلامی انڈونیشیا نے برداشت کئے، اسی بناء پر رابطہ عالم اسلامی کے سیکرٹری جنرل جناب ڈاکٹر عبداللہ نصیف نے رابطہ عالم اسلامی انڈونیشیا کو لکھا کہ اس شخص کا ہر طرح کا تعاون کیا جائے اور اس کے تمام مصارف رابطہ عالم اسلامی کی جانب سے پورے کئے جائیں۔ میں واپس انڈونیشیا آ گیا مجھے رابطہ کی جانب سے مبلغ نامزد کر دیا گیا۔ تب میری اور مرزا طاہر احمد کی خط و کتابت شروع ہو گئی اور میں نے مرزا طاہر احمد کو دوبارہ مباہلہ کے چیلنج کا خط لکھا:

صفحہ ۴۷۹

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۷ء

ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

(احمد ہریادی کا مرزا طاہر احمد کو مباہلہ کے چیلنج کا خط)

جناب مرزا طاہر احمد صاحب خلیفہ رابع مسیح کذاب، حال ساکن لندن

ان چار نقاط کی بنیاد پر میں آپ کے پاس مباہلہ کی تحریر کی ایک مختصر کاپی بھیج رہا ہوں آپ اس پر فوراً دستخط کر دیں تاکہ اسے اخبارات میں شائع کیا جائے تاکہ پوری دنیا میں حقیقت حال واضح ہو جائے۔ میں تمہیں اس تحریر پر فوراً دستخط کرنے کی دعوت دیتا ہوں اور میں تمہیں آگاہ کرتا ہوں کہ اگر آپ نے دستخط نہ کئے تو آپ قسم میں حانث ہو جائیں گے۔

آپ دستخط کر کے مردانگی دکھائیے ہجڑوں کا کردار ادا نہ کیجئے۔ جب آپ مباہلہ کی تحریر پر دستخط کر لیں تو اس کا فوٹو فوراً مجھے بھیج دیں تاکہ اسے شائع کیا جاسکے۔ اگر آپ مباہلہ کے سلسلہ میں جکارتہ آنا چاہیں تو آپ کے آنے جانے کا ٹکٹ میرے ذمہ ہوگا۔ اگر اس مقصد کے لئے ہمیں اپنے مستقر لندن میں بلانا چاہیں تو ہم اپنے ٹکٹ پر وہاں حاضر ہونے کو بھی تیار ہیں۔ سنئے ! میں آپ کے جواب کی انتظار میں رہوں گا۔ مجھے توقع ہے کہ آپ اپنی قسم سے منحرف نہیں ہوں گے۔

احمد ہریادی، سابق قادیانی مبلغ انڈونیشیا

۱۷؍ محرم ۱۴۰۸ھ مطابق ۲۰؍ اگست ۱۹۸۸ء

احمد ہریادی کا مرزا طاہر احمد کو مباہلہ کا چیلنج

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

”میں احمد ہریادی دس سالہ سابق قادیانی مبلغ اس خط مباہلہ کے ذریعہ اعلان کرتا ہوں اور قسم اٹھاتا ہوں کہ مرزا غلام احمد قادیانی جماعت احمدیہ اپنے دعویٰ نبوت و رسالت میں جھوٹا، مفتری اور کذاب و دجال تھا۔ اور وہ اپنے الہامات میں (جن کے بارے میں وحی کا دعویدار ہے) بھی جھوٹا اور مفتری تھا یہ سب اس کے ذاتی خیالات و اوہام تھے۔ اگر میں اپنے حلف مباہلہ میں جھوٹا ہوں تو مجھ پر اللہ کی لعنت ہو۔“

احمد ہریادی، انڈونیشیا

۲۰؍ اگست ۱۹۸۸ء مطابق ۱۷؍ محرم ۱۴۰۹ھ

احمد ہریادی نے دعوت مباہلہ اور اپنے خط کے ساتھ مرزا طاہر احمد کو ایک تحریر بھیجی کہ اگر آپ مجھ سے مباہلہ کے لئے تیار ہیں تو اس تحریر پر دستخط کر دیں:

صفحہ ۴۸۰

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۷ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

”میں طاہر احمد مسیح کا چوتھا خلیفہ اور عالمی جماعت احمدیہ کا سربراہ (احمد ہریادی) کے اس خط کے جواب میں قسم کھاتا ہوں کہ مرزا غلام احمد قادیانی بانی جماعت احمدیہ، جس نے نبوت ورسالت کے دعویٰ کیا تھا اپنے دعویٰ میں سچا تھا۔ اور اس نے جو کچھ بیان کیا وہ اللہ کی جانب سے سچی وحی تھی، وہ اس کے ذاتی خیالات اور اوہام نہیں تھے، اس لئے میں اللہ کی قسم کھاتا ہوں کہ بے شک احمد ہریادی پر (جو کہ مرزا غلام احمد کو نہیں مانتا ہے) عنقریب اللہ کی مار پڑے گی اور وہ اس مباہلہ نامہ پر دستخط کرنے کے بعد ایک سال کے اندر اندر ذلیل ورسوا ہو کر مر جائے گا۔ اور اگر اس پر ایک سال کے اندر اندر مصیبت (عذاب) نازل نہ ہوئی تو میں اور پوری دنیا کے تمام احمدی، قادیانی مذہب چھوڑ کر اسلام میں داخل ہونے کے لئے تیار ہیں۔ پھر ہم سب دین اسلام میں (جو کہ حق ہے) شامل ہو جائیں گے ۔“ طاہر احمد خلیفہ مسیح رابع

اس کے جواب میں مرزا طاہر کی طرف سے ربوہ کے وکیل تبشیر منصور احمد نے انڈونیشیا کے قادیانی امیر کو لکھا:

مکرم امیر صاحب انڈونیشیا السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

آپ کی چٹھی ۶۴۳۲، ۲۶/ ستمبر ۱۹۸۸ء موصول ہوئی۔ جزاکم اللہ! آپ نے احمد ہریادی کے مباہلہ کے چیلنج کے بارے میں تفصیل تحریر کی ہے اور یہ رائے دی ہے کہ اس کے مقابل پر حضور انور کا دستخط کرنا مناسب نہیں۔ یہ سب تفصیل خدمت اقدس میں پیش کی گئی، حضور انور ایدہ اللہ بنصرہ العزیز نے فرمایا ہے کہ احمد ہریادی سے کہیں کہ مباہلہ کو کسی اخبار میں شائع کرادیں۔ یہی کافی ہے۔ اللہ تعالیٰ جماعت کو کثرت سے تائیدی نشانوں سے نوازے۔ والسلام! خاکسار: منصور احمد، وکیل التبشیر

دوسری طرف مرزا طاہر نے انڈونیشیا کی تمام قادیانی جماعتوں کو لکھا کہ ہر نماز کے بعد احمد ہریادی کی ہلاکت کی دعا کریں اور ہر مرکز میں ایک ایک بکرا ذبح کیا جائے۔ چنانچہ اس مقصد کے لئے کئی سو بکرے ذبح کئے گئے ۔

اس کے بعد میں نے انڈونیشیا کے قادیانی مراکز کو تقریباً ایک سو خطوط لکھے کہ مرزا طاہر احمد کو میں نے مباہلہ کا چیلنج دیا ہے مگر وہ میرے مقابلہ میں نہیں آتا۔ مرزائیوں نے مرزا طاہر احمد کو لکھا کہ اگر آپ سچے ہیں اور احمد ہریادی جھوٹا ہے اور وہ مباہلہ کا چیلنج بھی آپ کو دے چکا ہے تو اس پر اللہ کا عذاب کیوں نازل نہیں ہوتا اور وہ ہلاک کیوں نہیں ہوتا؟ اس پر مرزا طاہر احمد اور قادیانی مربی انہیں جواب دیتے رہے کہ عنقریب احمد ہریادی پر اللہ کا عذاب نازل ہوگا۔

لیکن جب انڈونیشی قادیانیوں کی جانب سے میرے اور حاجی عرفان کے مباہلہ کے نتیجے میں میری شکست اور میرے قادیانیت سے تائب ہونے اور حاجی عرفان کی فتح کے سلسلہ میں مرزا طاہر پر دباؤ بڑھا تو مرزا طاہر نے نہایت غصہ میں انڈونیشیا کے قادیانیوں کے نام اردو زبان میں پندرہ صفحات پر مشتمل ایک خط بھیجا اور لکھا کہ لازم ہے کہ یہ احمدیوں کو پڑھ کر سنایا جائے کہ میں احمد ہریادی کے مباہلے سے بری ہوں۔ میرا اور احمد ہریادی کا مباہلہ نہیں ہوا بلکہ یہ ان ملعون انڈونیشی احمدیوں کا فعل ہے۔ یہ انہوں نے مباہلہ کیا تھا۔ لہٰذا میں اس سے بری ہوں۔

میری مباہلہ والی کتاب شائع ہوئی تو میں نے قادیانی مراکز میں سے ہر ایک کو پانچ پانچ نسخے بھیجے تاکہ ان کو حقیقت معلوم ہو سکے۔ اس کتاب میں، میں نے واضح کیا کہ میرا حاجی عرفان سے مباہلہ ہوا، اور میں نے شکست کھائی، اس لئے کہ قادیانی مذہب جھوٹا ہے پھر میں نے مرزا طاہر کو مباہلہ کا چیلنج دیا مگر وہ آج تک میرے مقابلہ میں نہیں آیا۔

خلاصہ یہ ہے کہ پوری مرزائی امت نے میرے خلاف بددعائیں کیں، کئی سو بکرے ذبح کئے گئے کہ کسی طرح ہمارے گلے کا کانٹا احمد ہریادی مر جائے اور ہم مسلمانوں کو دھوکہ دے سکیں ۔

صفحہ ۴۸۱

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۷ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

لیکن آج تک میں الحمد للہ ! ٹھیک ہوں ۔ ہاں ! البتہ میرے اس مباہلہ کے بعد مرزا طاہر احمد کی بیوی اور قادیانی مرکز انڈونیشیا کے امیر محمود احمد چیمہ کی بیوی مر گئی ۔

یہ میری صداقت اور مرزا طاہر احمد کے جھوٹے ہونے کی واضح دلیل ہے ، بہر حال میں اس کے بعد برمنگھم میں بارھویں عالمی ختم نبوت کانفرنس ۱۹۹۷ء میں بھی مرزا طاہر احمد کو روبرو مناقشہ، مناظرہ اور مباہلہ کا چیلنج دے چکا ہوں ۔ اب میں اس تحریر کے ذریعہ پھر مرزا طاہر احمد کو چیلنج دیتا ہوں ، اگر وہ یہاں انڈونیشیا آنا چاہیں تو اس کے سفر کے تمام مصارف ہمارے ذمہ ہوں گے ، بڑے شوق سے آئے اور اگر وہ یہاں آنا پسند نہ کریں تو ہمیں جہاں فرما دیں اپنے اخراجات پر آنے کو تیار ہیں ۔

وان لم تفعلوا ولن تفعلوا فاتقوا النار التى وقودها الناس و الحجارة .

جاء الحق و زهق الباطل ان الباطل كان زهوقا .

میں ایک بار پھر مرزا طاہر کو مباہلہ کا چیلنج دیتا ہوں اور انہیں دعوت دیتا ہوں کہ چند روزہ عیش کی خاطر اپنی آخرت برباد نہ کریں ، بلکہ حضرت محمد عربی ﷺ کے دامنِ رحمت سے وابستہ ہو کر اپنے آپ کو جہنم کی آگ اور اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بچالیں ۔

وصلی اللہ تعالیٰ علیٰ خیر خلقہ محمد و آلہ و اصحابہ اجمعین

(مولانا سعید احمد جلال پوری)

(ماہنامہ لولاک ملتان نومبر ۱۹۹۷ء ص ۱۷ تا ۲۸)

سہنہ میں ختم نبوت کانفرنس

گوجرانوالہ کھاریاں کے نواحی گاؤں سہنہ جسے ربوہ ثانی کہا جاتا ہے وہاں ختم نبوت کانفرنس منعقد کی گئی ۔ کانفرنس کے دوران مرزائیوں نے فائرنگ بھی کی مگر جذبہ ایمان سے سرشار مسلمانوں نے کانفرنس جاری رکھی اور سامعین نے مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی مبلغ مولانا فقیر اللہ اختر کی تقریر پر نعرہ تکبیر اللہ اکبر اور مرزائیت مردہ باد کے نعرے لگائے اور گولیوں کی قطعاً کوئی پرواہ نہ کی ۔ کانفرنس سے مولانا محمد یونس، مولانا خالد محمود، قمر الزمان صدیقی، مولانا قاری محمد یوسف، مولانا محمد امین، مولانا محمد اختر، مولانا فقیر اللہ اختر اور امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاری کے جاں نثار ساتھی حضرت مولانا محمد شریف احرار نے بھی خطاب کیا جب کہ حرکۃ الانصار کھاریاں کے نوجوانوں نے حفاظتی انتظامات کئے ۔ مولانا فقیر اللہ اختر نے کہا کہ ہم فائرنگ سے ڈرنے والے نہیں ہیں ۔ ہماری جان ناموسِ مصطفیٰ ﷺ پر قربان ہو جائے تو اس سے بڑھ کر اور کوئی سعادت مندی نہیں ہے ۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ مرزائیوں کو احمدی کی بجائے قادیانی ہی لکھا جائے اور قادیانیت نوازی کی روش ترک کر دی جائے ۔ مولانا محمد شریف احرار نے فائرنگ کرنے والے مرزائیوں کی گرفتاری کا مطالبہ کیا ۔

(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی مورخہ ۲۵؍ اپریل تا یکم مئی ۱۹۹۷ء ص ۲۶)

قصور میں ختم نبوت کانفرنس

عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت قصور کے زیر اہتمام جامعہ اسلامیہ تبلیغی مرکز میں ۲۳؍ مارچ ۱۹۹۷ء کو ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی ۔ جس کی صدارت حضرت مولانا سید محمد طیب شاہ ہمدانی نے کی ۔ جب کہ تلاوت کلام پاک قاری محمد مشتاق احمد، قاری غلام محمد نے کی اور کانفرنس سے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی رہنماؤں میں مولانا اللہ وسایا، مولانا خدا بخش، مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی، مولانا عبد الرزاق

صفحہ ۴۸۴

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۷ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

مجاہد، مولانا عبدالحق، حاجی اللہ دتہ مجاہد، مرکزی جماعت اہل حدیث پاکستان کے امیر حافظ زبیر احمد ظہیر نے خطاب کیا۔

(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی مورخہ ۱۸ تا ۲۴؍اپریل ۱۹۹۷ء ص۲۴، ۲۵)

چوتھی سیرت خاتم الانبیاء کانفرنس شادی لارج بدین

شادی لارج جامع مسجد میں چوتھی سیرت خاتم الانبیاء کانفرنس عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام منعقد ہوئی۔ جس کی صدارت جناب حضرت مولانا محمد یوسف مہتمم دارالعلوم الحسنیہ نے کی۔ مولانا محمد عبداللہ سندھی صاحب، مولانا عیسیٰ سموں صاحب، حافظ عبدالواحد، مولانا عبدالستار چاوڑا اور مولانا محمد اسحاق مبلغ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت بدین نے خطاب کیا۔

(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی مورخہ ۲ تا ۸؍مئی ۱۹۹۷ء ص۲۶)

سہ ماہی اجلاس مبلغین کرام

عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مبلغین کرام کا سہ ماہی اجلاس ۱۸، ۱۹؍ذوالحجہ ۱۴۱۷ھ، بمطابق ۲۷، ۲۸؍اپریل ۱۹۹۷ء دفتر مرکزیہ ملتان میں مرکزی ناظم اعلیٰ مولانا عزیز الرحمن جالندھری مدظلہ کی زیر صدارت منعقد ہوا۔

اجلاس میں سکھر سے مولانا بشیر احمد، مرکز سے مولانا اللہ وسایا، مولانا خدا بخش، لاہور سے مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی، کراچی سے مولانا محمد اشرف، پنوعاقل سے مولانا جمال اللہ، گوجرانوالہ سے مولانا فقیر اللہ، حافظ محمد ثاقب، ساہیوال سے مولانا عبدالخالق رحمانی، جھنگ سے مولانا غلام حسین، اوکاڑہ سے مولانا عبدالرزاق مجاہد، ٹوبہ ٹیک سنگھ سے مولانا قاضی احسان احمد، بلوچستان سے مولانا محمد علی، فیصل آباد سے سید ممتاز الحسن گیلانی، ٹنڈو آدم سے مولانا راشد مدنی، سانگھڑ سے مفتی حفیظ الرحمن، بہاولپور سے مولانا محمد اسحاق ساقی اور اسلام آباد سے محمد اورنگ زیب اعوان، حیدرآباد سے مولانا محمد نذر نے شرکت کی۔

اجلاس میں ماہنامہ لولاک کی اشاعت پر قلبی مسرت کا اظہار کیا گیا، مبلغین کرام نے ماہنامہ لولاک کی اشاعت کے سلسلہ میں بھر پور معاونت کا وعدہ کیا۔ حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی مدظلہ کی سربراہی میں ماہنامہ لولاک کے لئے مبلغین کی ایک کمیٹی بنائی گئی جو پرچہ کے تمام امور کی نگرانی کرے گی۔

نئے سال کے آغاز میں یکم محرم الحرام سے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی سہ سالہ رکنیت سازی مہم شروع کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ اس سلسلے میں درج ذیل مبلغین کرام کی ڈیوٹیاں لگائی گئیں۔

مولانا عبدالعزیز ومولانا عبدالخالق رحمانی ضلع خانیوال، ضلع بہاولنگر، ضلع ساہیوال، اور پاک پتن، وہاڑی۔

جناب محمد اورنگ زیب اعوان راولپنڈی ڈویژن، اسلام آباد، صوبہ سرحد اور آزاد کشمیر مولانا غلام حسین ضلع جھنگ مولانا سید ممتاز الحسن گیلانی ضلع ٹوبہ ٹیک سنگھ، ضلع فیصل آباد مولانا غلام مصطفیٰ چنیوٹ ربوہ، گردو نواح کے چکوک مولانا فقیر اللہ اختر وحافظ محمد ثاقب ضلع گوجرانوالہ، ضلع گجرات، ضلع نارووال، ضلع سیالکوٹ، ضلع حافظ آباد، منڈی مولانا محمد اسحاق ساقی ضلع بہاول پور، ضلع لودھراں

صفحہ ۴۸۳

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۷ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی ضلع لاہور، ضلع شیخوپورہ مولانا عبدالرزاق مجاہد ضلع اوکاڑہ، ضلع قصور حافظ محمد حیات انگوی علاقہ سون سیکسر مولانا محمد علی صدیقی صوبہ بلوچستان مولانا خدا بخش سرگودھا ڈویژن مولانا بشیر احمد ڈیرہ غازیخان ڈویژن مولانا عبدالکریم پرمٹ حافظ احمد بخش ضلع رحیم یار خان، تحصیل شجاع آباد مولانا جمال اللہ سکھر، لاڑکانہ، شکار پور مولانا محمد نذر، مولانا راشد مدنی ضلع خیر پور، ضلع نوشہرو فیروز، ضلع نواب شاہ، ضلع حیدرآباد، ضلع بدین، ضلع ٹھٹھہ مولانا حفیظ الرحمن، مولانا عبدالغفور ضلع سانگھڑ، میر پور خاص، ضلع عمر کوٹ

پورے ملک میں بعض حلقے خالی ہونے کے باعث جماعتی کام کا حرج ہو رہا تھا اس کمی کو پورا کرنے کے لئے چار نئے مبلغین کرام کی تعیناتی کی گئی۔

مولانا عبدالغفور سندھی مولانا احمد میاں حمادی کی سرپرستی میں مولانا عزیز الرحمن مولانا محمد اسماعیل کی نگرانی میں مولانا محمد طیب مولانا فقیر اللہ اختر کی نگرانی میں مولانا عبید اللہ مولانا عبدالعزیز کے ساتھ بطور معاون اپنی خدمات سرانجام دیں گے

تبلیغی پروگرام، رکنیت سازی مہم کے باعث آئندہ سہ ماہی کے لئے صرف مندرجہ ذیل مقامات پر کانفرنسوں کا فیصلہ کیا گیا جس میں حضرت مولانا محمد لقمان علی پوری، مولانا اللہ وسایا مرکز کی نمائندگی کریں گے۔

۱۔ ۲۔ ۳۔ ۴ جون بدین، مٹھی، خیر پور ۱۔ ۲۔ ۳۔ ۴ جولائی لاہور، شیخوپورہ، ساہیوال ماہ ربیع الاول کے آخر میں جیکب آباد، لاڑکانہ، شکار پور، مولانا اللہ وسایا صاحب ۹۔ ۱۰۔ ۱۱ جون گوجرانوالہ، سیالکوٹ ۱۲۔ ۱۳۔ ۱۴ جون اسلام آباد، راولپنڈی، ہری پور

دعائے مغفرت

رحیم بخش پانی پتی مرحوم کے جانشین حضرت قاری محمد عبداللہ کی وفات پر گہرے افسوس کا اظہار کیا گیا اور فوت شدگان کے لئے

صفحہ ۴۸۴

ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۷ء

دکھی دل سے اجتماعی دعا کی گئی۔

سے اپیل کی گئی کہ وہ اپنے اپنے حلقہ اثر میں ان مذموم کارروائیوں کو روکنے کے لئے اقدام کریں۔ حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ دہشت گردوں کو بلا امتیاز اور بغیر رعایت و مصلحت کے گرفتار کر کے خصوصی عدالتوں میں کیس چلائے جائیں اور دہشت گردوں کو واقعی عبرت ناک سزا دی جائے۔

اس کا ٹرائل کرنے کا حکومت سے مطالبہ کیا گیا اور امت کے جن افراد اور جماعتوں یا اداروں نے اس کذاب کے مکر و فریب کو آشکارا کرنے کے لئے کاوشیں کیں ان کو بھر پور خراج تحسین پیش کیا گیا۔ اور توقع کی گئی کہ اس کیس کو منطقی انجام تک پہنچانے کے لئے اپنی تمام صلاحیتوں کو بروئے کار لائیں گے۔ مرکزی مجلس عمل میں شامل تمام جماعتوں، روزنامہ خبریں کے ایڈیٹر جناب ضیاء شاہد، عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی، اور ملک کے ممتاز قانون دان جناب محمد اسماعیل قریشی کو خصوصی طور پر خراج عقیدت پیش کیا گیا۔

اللہ رب العزت کا لاکھوں لاکھ شکر ہے کہ اس ذات نے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کو اپنی ذمہ داری پوری کرنے کی توفیق بخشی۔ مجلس نہ صرف کیس میں مدعی ہے۔ بلکہ شب و روز اس کذاب کو عدالتی سطح پر منطقی انجام تک پہنچانے کے لئے کوشاں بھی ہیں۔

دو روز میں کئی اجلاس ہوئے ان اجلاسوں کی صدارت حضرت ناظم اعلیٰ اور حضرت مولانا بشیر احمد صاحب نے فرمائی۔ تلاوت کلام پاک حضرت مولانا مفتی حفیظ الرحمن نے کی۔ دوسرے روز قبل از ظہر حضرت مولانا سید ممتاز الحسن گیلانی کی دعائے خیر پر بخیر و خوبی اجلاس اختتام پذیر ہوا۔

جماعتی رفقاء سے ضروری درخواست رکنیت سازی و جماعت سازی کی استدعا

عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے دستور کے رو سے ہر تین سال بعد نئی ممبر سازی اور جماعتی انتخابات ضروری ہیں۔ نئے سال کے آغاز ماہ محرم الحرام ۱۴۱۸ھ سے ملک بھر میں عالمی مجلس کی ممبر سازی اور مقامی مجالس کی تشکیل کا کام شروع ہے۔ ملک بھر میں مقامی مجالس کی تشکیل و تنظیم اور انتخابات کے مکمل ہوتے ہی ان شاء اللہ العزیز مرکزی سہ سالہ انتخابات ختم نبوت کانفرنس چناب نگر (ربوہ) کے موقع پر ماہ اکتوبر ۱۹۹۷ء میں ہوں گے۔

عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ایک تبلیغی، مذہبی جماعت ہے اس کا ملک کی مروجہ الیکشنی سیاست سے کوئی تعلق نہیں۔ فرقہ واریت سے پاک خالصتاً رحمت عالم ﷺ کی عزت و ناموس کا تحفظ اس کا طرہ امتیاز ہے۔ ہر مسلمان جو کسی بھی مکتب فکر سے تعلق رکھتا ہو مجلس کا ممبر بن سکتا ہے۔ آپ حضرات غور فرمائیں کہ حضرت امیر شریعت کی خواہش پر حکیم الامت حضرت مولانا شاہ اشرف علی تھانوی نے تازیست ختم نبوت کی ممبر شپ قبول فرمائی تھی۔ ہمارے بزرگوں کی خواہش تھی کہ جس طرح ہر قادیانی جہاں کہیں بھی ہو وہ اپنی جماعت کا ممبر ہوتا ہے۔ اسی طرح ہر مسلمان چاہے وہ کسی سیاسی جماعت و ادارہ، حکومتی عہدہ و ملازمت یا کسی بھی مکتب فکر سے تعلق رکھتا ہو۔ اسے ختم نبوت کی ممبر شپ قبول کرنی چاہئے۔ تمام ساتھی اس کے لئے محنت فرمائیں۔ مسلمانوں کو زیادہ سے زیادہ ممبر سازی کے عمل میں شریک ہونے کی دعوت دیں۔

صفحہ ۴۸۵

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۷ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

ہر اہم شہر و دیہات میں مجلس کی مقامی جماعتوں کی تشکیل ہونی چاہئے ۔ یہ ضروری ہے ایمان وعقیدہ کے لحاظ سے بھی اور وقت کے تقاضے کے لحاظ سے بھی۔ سہ سالہ رکنیت شپ کے لئے پانچ روپے ادا کر کے مجلس کا رکن بنا جا سکتا ہے اور جو حضرات تین سو روپے یکمشت ادا کریں گے وہ تازیست مجلس کے رکن ہوں گے۔ آگے بڑھیں صلائے عام ہے یاران نکتہ دان کے لئے رحمت حق اور شفاعت نبوی ﷺ ہم سب پر سایہ فگن ہو اور دنیا اور آخرت کی خیر وبرکت سے حق تعالی ہم سب کو وافر حصہ نصیب فرمائیں۔ آمین! (ماہنامہ لولاک ملتان مئی ۱۹۹۷ء ص ۴۱ تا ۴۴)

ختم نبوت کانفرنس فیروزہ

۵؍ مئی ۱۹۹۷ء بعد از ظہر مدرسہ مدینۃ العلوم فیروزہ کی جامع مسجد کے وسیع وعریض صحن میں ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی۔ پورے صحن کو شامیانوں سے ڈھانپ دیا گیا تھا۔ شرکاء کے لئے ٹھنڈے پانی کا اہتمام کیا گیا یہ تمام تر انتظامات صاحبزادہ سید ناصر شاہ صاحب اور مدرسہ کے مدرسین نے اپنے ذمہ لے رکھے تھے۔ کانفرنس کی صدارت مخدوم العلماء حضرت مولانا سید حامد علی شاہ دامت برکاتہم نے کی۔ مدرسہ کے طلباء نے قرآن مجید کی خوبصورت تلاوت کر کے ایمان پرور سماں پیدا کر دیا۔ سٹیج سیکرٹری مولانا شبیر احمد عثمانی تھے۔ ابتدائی تقریر حضرت مولانا حافظ احمد بخش نے کی اور کانفرنس کے اغراض مقاصد پر روشنی ڈالی حضرت صاحبزادہ قاضی شفیق الرحمن نے مجاہدانہ خطاب فرمایا ان کے بعد جامعہ عبداللہ بن مسعود کے ناظم اعلیٰ حضرت مفتی حبیب الرحمن صاحب نے خطاب فرمایا۔ اور شرعی نقطہ نظر سے قادیانیت کی اسلام دشمنی کو واضح کیا ان کے بعد عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی مبلغ مولانا اللہ وسایا نے مسئلہ ختم نبوت کی اہمیت پر ایمان افروز خطاب کیا۔ آپ نے قادیانی فتنہ سے متعلق تازہ ترین صورت حال بیان کر کے مسلمانوں سے قادیانی عزائم ناکام بنانے کا عہد لیا۔

آخری خطاب جامعہ عبداللہ بن مسعود کے شیخ الحدیث اور مجلس علماء اہل سنت کے صدر حضرت مولانا شفیق الرحمن درخواستی کا ہوا۔ آپ نے قرآن وسنت سے مسئلہ ختم نبوت کی فضیلت وبرکت اور مرزا قادیانی کی کتب سے قادیانیت کے کفر کو واشگاف کیا۔ عصر تک اجلاس جاری رہا۔ بھر پور حاضری تھی۔ فلحمد للہ! کانفرنس ہر لحاظ سے مثالی طور پر کامیاب ہوئی۔

ختم نبوت کانفرنس لیاقت پور

۵؍ مئی ۱۹۹۷ء بعد از نماز عشاء مدرسہ قاسم العلوم لیاقت پور میں ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی۔ گردونواح کے چکوک و دیہات سے اور شہر سے رفقاء نے شرکت کی۔ مسجد اور مدرسہ کا صحن سامعین سے بھرا ہوا تھا۔ قاسم العلوم کے مہتمم اور صدر مدرس قاری محمد طیب و جملہ مدرسین اور شہر کے دیگر علماء کرام اور جماعتی رفقاء نے کانفرنس کو کامیاب بنانے کے لئے بڑا وسیع اہتمام کیا ہوا تھا۔ خوبصورت سٹیج تھا۔ بھر پور لائیٹنگ سے ماحول بقعہ نور بنا ہوا تھا۔ حضرت مولانا سید حامد علی شاہ صاحب کی صدارت میں یہ کانفرنس شروع ہوئی۔ مولانا شبیر احمد عثمانی سٹیج سیکرٹری تھے۔ ابتدائی مقامی علماء کرام کے بیانات کے بعد عالمی مجلس کے مرکزی مبلغ مولانا اللہ وسایا نے مسئلہ ختم نبوت کی حفاظت اور فتنہ قادیانیت کے تعاقب کی سو سالہ جدوجہد پر تفصیلی بیان کیا۔ آپ کے بیان سے ایسے محسوس ہوتا تھا۔ جیسے سو سالہ جدوجہد کی مکمل داستان ان کی آنکھوں کے سامنے سے گزر رہی ہے۔ آپ نے سامعین سے فتنہ قادیانیت کے تعاقب کے لئے نئے انداز میں کام کرنے کا عہد لیا۔ آپ کے بعد جامعہ عبداللہ بن مسعود کے مہتمم و شیخ الحدیث حضرت مولانا شفیق الرحمن درخواستی نے ایمان پرور جہاد آفرین ۔ حقائق افروز خطاب سے حضرت درخواستی کی یاد تازہ کردی، رات گئے تک اجلاس جاری رہا بحمدہ تعالیٰ لیاقت پور میں ختم نبوت کانفرنس کے دور رس نتائج برآمد ہوں گے ، بعض چکوک و دیہات کے عوام نے حضرت مولانا اللہ وسایا سے دورہ کرنے کی درخواست کی آپ نے ان سے وعدہ

صفحہ ۴۸۶

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۷ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

کیا کہ اولین فرصت میں اس علاقہ کا دورہ کیا جائے گا۔ حضرت مولانا سید حامد علی شاہ صاحب یادگار اسلاف کی روح پرور دعا پر کانفرنس بخیر و خوبی اختتام پذیر ہوئی۔

ختم نبوت کانفرنس ظاہر پیر

۶ مئی ۱۹۹۷ء بعد نماز ظہر جامعہ احیاء العلوم ظاہر پیر کی جامع مسجد میں ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی استاذ العلماء مفسر قرآن یادگار اسلاف حضرت مولانا منظور احمد نعمانی اور آپ کے گرامی قدر شاگردوں علماء کرام اور مدرسین حضرات کی بھر پور توجہ سے عظیم الشان اجتماع منعقد ہوا۔ کٹائی کا موسم ہونے کے باوجود علاقہ بھر سے وفود قافلوں کی شکل میں علماء کرام کی سربراہی میں عوام نے شرکت کی۔ ابتدائی بیانات کے بعد حضرت مولانا حافظ احمد بخش صاحب اور مولانا اللہ وسایا نے تقاریر فرمائیں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت رحیم یار خان کے امیر اور مرکزی مجلس شوریٰ کے رکن حضرت قاضی عزیز الرحمن کے بیان کے بعد آخری خطاب جمعیت علماء اسلام کے مرکزی رہنماء حضرت مولانا محمد لقمان علی پوری کا تھا۔ آپ کی سحر بیانی سے جامع مسجد و مدرسہ کے درودیوار جھوم اٹھے۔ عصر تک کانفرنس جاری رہی۔ مسجد کا ہال و صحن سامعین سے بھرے ہوئے تھے۔ بھر پور حاضری تھی۔ خانقاہ عالیہ دین پور شریف کے خانوادہ کے مرد درویش حضرت مولانا صاحبزادہ ریاض احمد دین پوری کے صدارتی بیان ودعا پر کانفرنس اختتام پذیر ہوئی۔

ختم نبوت کانفرنس خان پور

۶ مئی ۱۹۹۷ء بعد نماز عشاء جامعہ عبداللہ بن مسعود میں ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی۔ صدارت جامعہ کے شیخ الحدیث حضرت مولانا شفیق الرحمن درخواستی نے فرمائی۔ مجلس اہل سنت کے خطیب لاثانی حضرت مولانا عبدالکریم ندیم نے اپنی ایمان پرور جادو بیانی سے کانفرنس کا افتتاح کیا۔ جامعہ کی مسجد کا صحن سامعین سے کھچا کھچ بھرا ہوا تھا۔ جامعہ عبداللہ بن مسعود کے روح رواں و بانی حضرت مفتی حبیب الرحمن آپ کے جامعہ کے مدرسین وطلباء نے کانفرنس کو کامیاب بنانے کے لئے دن رات ایک کر دیا تھا۔ دور دور تک کانفرنس کے اشتہارات کی تقسیم وتنصیب کا اہتمام کیا گیا باہر سے آنے والے مہمانوں کی مہمان داری کا بہت اچھا انتظام کیا تھا۔

مولانا اللہ وسایا نے مختصر بیان کیا مولانا خالد دین پوری کا بہت اچھا بیان ہوا۔ ان کے بعد یادگار بخاری حضرت مولانا محمد لقمان علی پوری کا مجاہدانہ ولولہ انگیز خطاب ہوا۔ مجلس علماء اہل سنت پاکستان کے ناظم عمومی خطیب اسلام حضرت مولانا عبدالغفور حقانی کے آخری بیان پر رات گئے کانفرنس اختتام پذیر ہوئی۔ کانفرنس کے موقعہ پر جامعہ کے دفتر میں عالمی مجلس کے رہنما مولانا اللہ وسایا نے پریس کانفرنس سے خطاب کیا قادیانیوں کو احمدی لکھنے، کذاب یوسف کی ناز برداری، اور حکومتی سطح پر قادیانیت کو کھلی چھٹی دینے کے مسئلہ پر آپ نے مجلس کا نقطہ نظر واضح کیا اور حکومت سے مطالبہ کیا کہ حکومت قادیانیوں کو احمدی لکھنے کا آرڈر واپس لے۔ کذاب یوسف کو قرار واقعی سزا دے اور قادیانیوں کو قانون کا پابند بنائے۔ اس موقعہ پر مولانا احمد بخش صاحب جامعہ کے ناظم عمومی مفتی حبیب الرحمن، مجلس علما اہل سنت پاکستان کے رہنما خطیب اسلام مولانا عبدالکریم ندیم اور دوسرے حضرات بھی موجود تھے۔

ختم نبوت کانفرنس رحیم یار خان

۷ مئی ۱۹۹۷ء بعد نماز عشاء جامعہ قادریہ رحیم یار خان کی مرکزی جامع مسجد کے صحن میں ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی۔ مخدوم العلماء حضرت مولانا غلام ربانی مرحوم کے جانشین حضرت مولانا عبدالرؤف ربانی، مجاہد فی سبیل اللہ حضرت مولانا قاضی شفیق الرحمن،

صفحہ ۴۸۷

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۷ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

حضرت مولانا خالد دین پوری کے ایمان پرور بیانات ہوئے۔ جامع مسجد کھچا کھچ بھری ہوئی تھی۔ حضرت مولانا مفتی حبیب الرحمن درخواستی اور حضرت مولانا شفیق الرحمن درخواستی بھی کانفرنس میں شرکت کے لئے تشریف لائے ہوئے تھے۔ شیخ الحدیث حضرت مولانا شفیق الرحمن درخواستی کا جامع اور تفصیلی علمی بیان ہوا۔ آپ نے فتنہ قادیانیت کی سرکوبی کے لئے عوام و خواص سے وعدہ لیا۔ آپ کے بعد عالمی مجلس کے رہنما مولانا اللہ وسایا نے خطاب کیا۔ آخری بیان حضرت مولانا محمد لقمان علی پوری کا ہوا۔ آپ نے ختم نبوت، سیرت النبی ﷺ شہادت حسین ؓ کے عنوان پر تفصیلی خطاب فرمایا۔ ضلع و شہر کی دینی قیادت کانفرنس میں موجود تھی۔

ختم نبوت کانفرنس صادق آباد

۸؍ مئی ۱۹۹۷ء بعد نماز عشاء الفیصل اکیڈمی کی جامع مسجد قبرستان والی میں ختم نبوت کانفرنس صادق آباد منعقد ہوئی۔ تلاوت و نظم اور حضرت مولانا حافظ احمد بخش صاحب کے بیان کے بعد حضرت مولانا قاضی شفیق الرحمن خطیب رحیم یار خان نے خطاب فرمایا اور اپنی مدلل گفتگو اور شیریں بیانی سے سامعین کے قلب و جگر کو منور کیا آپ کے بعد آخری خطاب عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے رہنما مولانا اللہ وسایا کا تھا۔ آپ نے تفصیل سے قادیانی عقائد وعزائم۔ عقیدہ ختم نبوت کی اہمیت وعظمت پر خطاب کیا۔ کانفرنس میں تمام شہر کی دینی قیادت اور حضرات علماء کرام موجود تھے۔ صادق آباد کی معروف دینی شخصیت حضرت مولانا مشتاق احمد جو حال ہی میں حج کے مقدس سفر سے واپس تشریف لائے تھے اور جس کی بھر پور محنت اور توجہ سے یہ کانفرنس انعقاد پذیر ہوئی تھی۔ آپ کی دعا پر رات گئے کانفرنس اختتام پذیر ہوئی۔ یوں چار روزہ دورے سے رحیم یار خان کے در و دیوار عقیدہ ختم نبوت کی صدا سے گونج اٹھے۔ فلحمد للہ!

(ماہنامہ لولاک ملتان جون ۱۹۹۷ء ص ۲۹ تا ۳۱)

نیشنل ہوٹل ایبٹ روڈ لاہور میں ختم نبوت کانفرنس

۲۶؍ مئی ۱۹۹۷ء کو عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیرانتظام نیشنل ہوٹل ایبٹ روڈ لاہور میں ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی۔ جس میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مولانا اللہ وسایا، مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی، مجلس احرار اسلام کے سید کفیل شاہ بخاری، عبداللطیف چیمہ، چوہدری ظفر اقبال، جمعیت علماء پاکستان کے قاری عبدالحمید قادری، انجینئر سلیم اللہ خان، تنظیم اسلامی کے محمد اشرف وصی، حزب الجہاد کے علامہ علی غضنفر کراروی سمیت کئی ایک حضرات نے خطاب کیا۔

مقررین نے حکومتی اور عدالتی حلقوں کے فیصلوں جن میں کئی ایک قادیانیوں کو لاہور ہائی کورٹ کا جج بنایا جا رہا ہے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے خطرے کا الارم قرار دیا۔ اور کہا کہ اس فیصلہ سے اسلامیان پاکستان کی شدید دل آزاری ہو رہی ہے۔ کیونکہ پہلے بھی جسٹس اسلام بھٹی اور جسٹس جاوید بٹر قادیانی لاہور ہائی کورٹ میں تعینات ہیں۔ مزید قادیانیوں کو جج بنانا مسلمانوں کے حقوق غصب کرنا اور فتنہ و فساد کا دروازہ کھولنا ہے۔

انہوں نے کہا کہ قادیانی آئین پاکستان کے آرٹیکل نمبر ۲۶۰ جس میں انہیں غیر مسلم اقلیت قرار دیا گیا ہے کو تسلیم نہیں کرتے اسی وجہ سے مذکورہ بالا جج سمیت کسی قادیانی کا ووٹ درج نہیں لہٰذا انہیں ان مناصب پر فائز کرنا آئین پاکستان کی خلاف ورزی ہے اور مسلمانوں کے حقوق پامال کرنے کے مترادف ہے انہوں نے حکومت اور چیف جسٹس سپریم کورٹ پاکستان سے مطالبہ کیا کہ قادیانیوں کو ان کی مردم شماری کے تناسب سے زائد عہدوں سے الگ کیا جائے۔

صفحہ ۴۸۸

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۷ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

مذکورہ بالا رہنماؤں نے کہا کہ اگر قادیانیوں کو الگ نہ کیا گیا تو ہم رائے عامہ منظم کرنے اور قادیانیت نوازی کے خلاف تحریک چلانے پر مجبور ہوں گے ۔ اور اس کی تمام تر ذمہ داری حکومتی اور عدالتی عمائدین پر ہو گی علماء کرام نے خبردار کیا کہ قادیانیت نوازی کسی صورت میں برداشت نہیں کی جائے گی۔

(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی مؤرخہ ۲۷؍ جون تا ۱۰؍ جولائی ۱۹۹۷ء ص ۲۶)

ختم نبوت کانفرنس بدین

عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے تحت ہفتہ ختم نبوت کے سلسلے میں بدین ، ٹنڈو آدم میں ختم نبوت کانفرنسوں اور ختم نبوت کنونشنوں سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر خالد محمود سومرو، مولانا اللہ وسایا ، مولانا عبدالغفور حقانی ، مولانا احمد میاں حمادی، ، مولانا جمال اللہ حسینی ، مولانا حفیظ الرحمٰن رحمانی نے کہا کہ نبی کریم ﷺ کے بعد سلسلہ نبوت بند ہو گیا ہے اور آپ کے بعد دعویٰ نبوت کرنے والوں کو حضور نبی کریم ﷺ نے کذاب اور دجال سے تعبیر کیا ہے ، اس لئے آپ ﷺ کے بعد کسی قسم کی نبوت ملنے کی گنجائش نہیں ۔ ان علماء کرام نے اس بات پر تشویش کا اظہار کیا کہ امتناع قادیانیت آرڈی نینس میں واضح حکم کے باوجود قادیانی گروہ اندرون سندھ خاص طور پر لاڑکانہ، شادی لارج اور تھر پارکر کے غریب علاقوں میں اسلام کے نام پر تبلیغ کر رہے ہیں اور انتظامیہ اس سلسلہ میں چشم پوشی ہی نہیں کر رہی ہے بلکہ قادیانیوں کی پشت پناہی بھی کر رہی ہے۔ حکومت کو چاہئے کہ وہ آئین کی پابندی کرتے ہوئے قادیانیوں کی غیر آئینی سرگرمیوں کا نوٹس لے اور قادیانیت کی تبلیغ پر پابندی عائد کرے۔ ان علماء کرام نے واضح کیا کہ اگر حکومت نے اس سلسلے کو بند نہ کیا تو مسلمان اور عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت اور جمعیت علماء اسلام کے رضا کار اس سلسلے کو بند کرنے کی کوشش کریں گے، جس سے تصادم اور امن وامان بگڑنے کا اندیشہ ہے حکومت کو چاہئے کہ اس مسئلہ کو آئین اور قانون کے تحت فوری طور پر حل کرے۔ ہفتہ ختم نبوت کے سلسلے میں ۱۰؍ جون کو صبح دس بجے دار الفیوض ہاشمیہ سجاول میں ختم نبوت کنونشن منعقد ہوا اور رات کو بعد نماز مغرب وحدت کالونی ، حیدرآباد میں دفتر ختم نبوت کا افتتاح حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی صاحب دامت برکاتہم نے کیا ۔ جب کہ بعد نماز عشاء جامع مسجد پرانی وحدت کالونی میں ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی ۔ جس سے مولانا اللہ وسایا ، مولانا عبد الغفور قاسمی ، ڈاکٹر خالد محمود سومرو، مولانا نذیر احمد تونسوی ، ، مولانا نذر احمد ، مولانا احمد میاں حمادی ، مولانا حفیظ الرحمٰن ، قاری جمیل الرحمٰن ، مولانا محمد طیب لدھیانوی نے خطاب کیا۔

قادیانی آئین پاکستان کے تحت اپنا غیر مسلم ہونا تسلیم کر لیں

عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے تحت منائے جانے والے ہفتہ ختم نبوت کے سلسلے میں گھوٹکی اور کندھ کوٹ میں عظیم الشان ختم نبوت کانفرنسیں منعقد ہوئیں ۔ کانفرنسوں میں سندھ کے ممتاز مقررین علامہ خالد محمود سومرو، مولانا اللہ وسایا ، مولانا احمد میاں حمادی ، مولانا نذر احمد ، مولانا راشد مدنی ، مولانا حفیظ الرحمٰن ، مولانا جمال اللہ حسینی نے خطاب کیا۔

مقررین نے اپنی تقریروں میں عوام کے سامنے قادیانیوں کا اصل چہرہ واضح کرتے ہوئے کہا کہ قادیانیوں کو پاکستان کے وجود سے کوئی دلچسپی نہیں ۔ روز اول سے لے کر آج تک وہ پاکستان کے خلاف سازشوں میں مصروف رہے ہیں ۔ آئین پاکستان کی خلاف ورزی اور ملکی قوانین توڑنے کے جرم میں ان کے خلاف سپریم کورٹ اور ہائیکورٹ اور دیگر عدالتوں میں بے شمار مقدمات زیر سماعت ہیں اور کئی مقدمات میں قادیانی سزا بھگت رہے ہیں ۔ انہوں نے قادیانیوں کو مخاطب کر کے کہا کہ اگر وہ آئین پاکستان کے تحت اپنا غیر مسلم اقلیت ہونا تسلیم کر لیں اور آئین پاکستان کی توہین، ملک کے خلاف بغاوت اور دیگر جرائم سے کنارہ کشی اختیار کر لیں تو مسلمان اور حکومت پاکستان

صفحہ ۴۸۹

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۷ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

انہیں آئین کے تحت غیر مسلموں کو حاصل تمام مراعات دینے کو تیار ہیں ۔

(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی مؤرخہ ۱۱ تا ۱۷/جولائی ۱۹۹۷ء ص ۲۶)

ختم نبوت کانفرنسوں اور کنونشنوں کی رپورٹ

گزشتہ کچھ عرصہ سے اطلاعات مل رہی تھیں کہ صوبہ سندھ میں قادیانیوں نے ارتدادی مہم تیز کر دی ہے ۔ تھر کے علاقہ میں قادیانیت قبول کرنے کے لئے قادیانی مرتدین بیعت فارم تقسیم کر رہے ہیں ۔ پیسہ، نوکری، روزگار کے چکر میں سندھ کے عوام کو دھوکہ دیا جا رہا ہے ۔ یہ صورت حال سن کر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے امیر مرکزیہ حضرت اقدس خواجہ خان محمد صاحب دامت برکاتہم نے جمعیت علماء اسلام کے سرپرست پیر طریقت قطب عالم حضرت قبلہ مولانا عبدالکریم صاحب دامت برکاتہم کو والا نامہ تحریر فرمایا ۔ جس میں صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا گیا تھا ۔ حضرت قبلہ مولانا عبدالکریم صاحب ، پیر شریف کو قدرت نے قادیانیت کے سلسلے میں ایک خاص ذوق ودیعت فرمایا ہے اور ایسے محسوس ہوتا ہے کہ آپ تکوینی طور پر قادیانیت کے کام پر معمور ہیں ۔ آپ نے حضرت امیر مرکزیہ کا خط پڑھتے ہی عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے خدام کو حکم فرمایا کہ صوبہ سندھ کے تمام ضلعی مقامات پر ختم نبوت کانفرنسوں علماء کنونشنوں کا اہتمام کیا جائے ۔ علماء کرام اور عوام کو قادیانی دجل سے باخبر کیا جائے ۔ آپ نے اپنے دستخطوں سے سندھ کے علماء کرام اور جمعیت علماء اسلام سے وابستہ حضرات کو حکم فرمایا کہ وہ اس دینی امر کے لئے تمام صلاحیتوں کو بروئے کار لائیں ۔ آپ نے جمعیت علماء اسلام صوبہ سندھ کے سیکرٹری جنرل مجاہد کبیر، خطیب شعلہ نوا، مرد حق علامہ ڈاکٹر خالد محمود سومرو کو حکم فرمایا کہ وہ پورے سندھ کے جماعتی رفقاء کے نام ان کانفرنسوں وکنونشنوں کو کامیاب بنانے کے لئے سرکلر جاری کریں ۔ جناب ڈاکٹر صاحب ومولانا جمال اللہ صاحب مبلغ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت نے پروگرام ترتیب دیا، سرکلر جاری کر دیئے گئے ۔ فون پر ہدایات دی گئیں اور یوں سندھ میں ختم نبوت کانفرنسوں و کنونشنوں کے لئے بھر پور تیاری شروع ہو گئی ۔ مولانا جمال اللہ صاحب کراچی تشریف لے گئے ۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے نائب امیر حضرت اقدس مولانا محمد یوسف لدھیانوی ، حضرت مولانا مفتی محمد جمیل خان ، حضرت مولانا نذیر احمد تونسوی ، سے مشاورت کے بعد اشتہارات و دعوت نامے طبع کرائے اور صوبہ سندھ میں ان کی تقسیم ترسیل کا عمل شروع ہو گیا ۔ مرکز کی نمائندگی کے لئے مولانا اللہ وسایا کو بلایا گیا ۔ جب کہ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت سندھ کے مبلغین و رہنما حضرت مولانا احمد میاں حمادی ، مولانا بشیر احمد ، مولانا مفتی حفیظ الرحمٰن ، مولانا راشد مدنی ، مولانا محمد حسین ناصر اور دیگر رفقاء نے بھر پور تیاری وانتظامات شروع کر دیئے ۔

ختم نبوت کنونشن میر پور خاص

۷/جون ۱۹۹۷ء بروز ہفتہ شام کو زکریا ایکسپریس سے مجلس علماء اہل سنت پاکستان کے جنرل سیکرٹری خطیب اسلام مولانا عبد الغفور حقانی ومولانا اللہ وسایا ملتان سے روانہ ہوئے ۔ مولانا جمال اللہ روہڑی سے ان کے ساتھ ہو گئے تھے ۔ روہڑی اسٹیشن پر مولانا بشیر احمد ، مولانا محمد حسین ناصر نے مہمانوں کو خوش آمدید کہا ۔ ۸ جون ۱۹۹۷ء کو یہ قافلہ ٹنڈو آدم اترا ۔ جہاں مولانا احمد میاں حمادی ، مولانا مفتی حفیظ الرحمٰن ، مولانا راشد مدنی سمیت یہ حضرات میر پور خاص کے لئے روانہ ہوئے ۔ جمعیت علماء اسلام سندھ کے سیکرٹری جنرل ڈاکٹر خالد محمود سومرو لاڑکانہ سے ٹرین کے ذریعہ میر پور خاص تشریف لائے ۔

۸/جون بروز اتوار صبح دس بجے جامع مسجد مدینہ میر پور خاص کی وسیع و عریض جامع مسجد میں علماء کنونشن شروع ہوا ۔ ضلع بھر سے علماء کرام ۔ جمعیت علماء اسلام کے عہدیداران تشریف لائے ہوئے تھے ۔ مسجد کا ہال بھرا ہوا تھا ۔ بھر پور حاضری کے باعث کنونشن کی بجائے

صفحہ ۴۹۰

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۷ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

جلسہ عام کی شکل ہو گئی۔ مجلس تحفظ ختم نبوت کی مرکزی مجلس شوریٰ کے رکن اور جامع مسجد مدینہ کے خطیب مدرسہ مدینۃ العلوم کے مہتمم حضرت مولانا قاری فیض اللہ صاحب میزبان تھے۔ مہمانوں کی خاطر مدارات کے لئے وسیع اہتمام کیا گیا تھا۔ جمعیت علماء اسلام میر پور خاص کے ضلعی صدر حضرت مولانا عبد الحفیظ سیال نے کنونشن کو کامیاب بنانے کے لئے قابل فخر بھر پور جدو جہد کی۔ ابتدائی تلاوت و نظم کے بعد مولانا محمد عبد اللہ صاحب نے بیان کیا۔ اس کے بعد مولانا اللہ وسایا نے کنونشن کی غرض وغایت بیان کی۔ مولانا حفیظ الرحمن، نے قادیانی کفریات کو طشت از بام کیا۔ حضرت مولانا احمد میاں حمادی اور مولانا جمال اللہ نے فتنہ قادیانیت کے استیصال کے لئے حضرات علماء کرام کی ذمہ داریوں کے عنوان پر خطاب فرمایا۔ حضرت مولانا عبد الغفور حقانی نے قرآن وسنت کی روشنی میں قادیانی فتنہ کی شرانگیزیوں پر سیر حاصل بیان فرمایا۔ سب سے آخر میں علامہ ڈاکٹر خالد محمود سومرو نے قادیانی کفر کو للکارا۔ حضرات علماء کرام کو قادیانیت کے خلاف سینہ سپر ہونے کی تلقین کی۔ آپ کے مجاہدانہ خطاب سے قادیانیوں کے خواب و خور حرام ہوگئے۔ آپ کی للکار سے میر پور خاص کے در و دیوار گونج اٹھے۔ ایک قرارداد کے ذریعہ ارتداد کی شرعی سزا کے نفاذ کا مطالبہ کیا گیا اور قادیانی شرانگیزیوں پر حکومت سے نوٹس لینے کا مطالبہ کیا گیا۔ آپ کا ایمان پرور بیان ظہر تک جاری رہا۔ ظہر کی نماز حضرت قاری فیض اللہ نے پڑھائی اور کنونشن کی اختتامی دعا کرائی۔

ختم نبوت کانفرنس عمرکوٹ

صوبہ سندھ کے تھر کے علاقہ میں عمر کوٹ ضلعی صدر مقام ہے۔ ۸ جون ۱۹۹۷ء بعد نماز عشاء عمرکوٹ کے بازار میں ختم نبوت کانفرنس کا اہتمام کیا گیا۔ وسیع و عریض پنڈال کو روشنیوں کے ذریعہ بقعہ نور بنا دیا گیا تھا۔ سٹیج پر ضلع بھر کی دینی قیادت جمعیت علماء اسلام کے رہنمایان اور ختم نبوت کے مجاہدین تشریف فرما تھے۔ کنری، ڈگری، ٹالہی اور دیگر شہروں وقصبات سے قافلے ویگنوں، بسوں، ٹرالیوں پر نعرے لگاتے ہوئے کانفرنس میں شریک ہوئے۔ کانفرنس میں حاضری بھر پور اور مثالی تھی۔ ایسے محسوس ہوتا تھا کہ آج پورا ضلع ہی نہیں بلکہ پورا سندھ قادیانی کفر کے خلاف اٹھ کھڑا ہوا ہے۔ جامع مسجد عمر کوٹ کے جناب مولانا عبد الرحمن جمالی، مدرسہ منبع العلوم عمرکوٹ کے مہتمم مولانا عبد الرحمن نہڑی، مولانا محمد ہاشم سومرو، مولانا مراد علی راہموں میزبان تھے۔ کانفرنس کے شرکاء کے لئے دیدہ دل فرش راہ کئے ہوئے تھے۔ ابتدائی بیانات کے بعد مفتی حفیظ الرحمن نے امت مسلمہ کی مسئلہ ختم نبوت سے لازوال وابستگی کی برصغیر میں قادیانی کفر کے احتساب کی تاریخ بیان کی۔ مولانا اللہ وسایا نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی حیات طیبہ اور نزول من السماء کے عنوان پر مفصل خطاب فرمایا۔ مولانا جمال اللہ نے سندھ میں قادیانی سازشوں کا ذکر کرتے ہوئے قادیانی اور قادیانی نواز لابی کو للکارتے ہوئے کہا کہ تم نے جان بوجھ کر ارتدادی مہم شروع کر کے اہل اسلام کو جوابی کاروائی پر مجبور کر دیا ہے۔ اگر قادیانیت اپنی حماقتوں سے باز نہ آئی تو اپنی اختیار کردہ ہلاکت کے گڑھے میں دفن کر دی جائے گی۔ مولانا احمد میاں حمادی صاحب نے قادیانی کفریات کو کھول کھول کر بیان کیا اور قادیانی کتب کے حوالہ جات سے ثابت کیا کہ اس کائنات میں حضور سرور کائنات ﷺ کا سب سے بڑا گستاخ گروہ قادیانی جماعت ہے گستاخ رسول کی شرعی سزا نافذ کر کے ان کے شر سے امت محمدیہ کو بچانا ہمارا دینی فریضہ ہے حضرت علامہ مولانا عبد الغفور حقانی نے اپنی ایمان پرور تلاوت وسحر بیانی سے سامعین کے قلب و جگر کو منور کیا۔ آخر میں خطیب وادی مہران علامہ خالد محمود سومرو صاحب نعروں کی گونج پر سامعین کے دلوں کی دھڑکن بن کر مائک پر تشریف لائے۔ فلک شگاف نعروں سے عمرکوٹ کے در و دیوار جھوم اٹھے۔ آپ نے تلاوت فرمائی تو فضاء ساکت ہو گئی۔ خطاب کیا تو سامعین دم بخود ہو گئے۔ قادیانی کفر کو للکارا تو قادیانیت تھرا اٹھی۔ آپ نے سامعین سے ختم نبوت پر کام کرنے کے لئے اپیل کی تو پورا مجمع

صفحہ ۴۹۱

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۷ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

لبیک لبیک کے نعرے لگاتا ہوا سر وقد ہو گیا۔ رات کے اڑھائی تین بجے تک آپ نے خطاب کیا۔ آپ نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ قادیانی کفر کو قانون کے کھونٹے پر باندھے ۔ اگر حکومت نے تساہل کیا یا قادیانی باز نہ آئے تو پھر اسلامیان سندھ کی ختم نبوت دوستی کے سامنے قادیانی کفر کو بھاگنے کی مہلت نہیں ملے گی ۔

ختم نبوت کنونشن ٹنڈوآدم

۹ / جون ۱۹۹۷ء بروز پیر صبح دس بجے جامع مسجد مرکزی ٹنڈو آدم میں ضلع سانگھڑ کے علماء کرام کا کنونشن رکھا گیا تھا، ضلع بھر سے جمعیت علماء اسلام کے قائدین دینی مدارس کے مہتمم ومدرسین حضرات، مساجد کے آئمہ وخطباء ، مجلس تحفظ ختم نبوت کے خدام و رضا کاروں نے بھر پور شرکت کی۔ ضلع کی بھر پور نمائندگی تھی۔ دور دراز تک شہروں اور دیہاتوں کے حضرات علماء کرام نے شرکت کی ، حضرت مولانا احمد میاں حمادی کی سر پرستی میں مجلس تحفظ ختم نبوت ٹنڈوآدم کے رفقاء نے میزبانی کا شرف حاصل کیا ، جمعیت علماء اسلام کے رہنما مولانا عبدالغفار کھوسو ، ٹنڈوآدم کے دینی مدارس کی شرکت نے کنونشن میں جلسہ عام کا سماں پیدا کر دیا۔ سانگھڑ کے مولانا عبدالغفور، ٹنڈو آدم کے مولانا حفیظ الرحمن ، مولانا راشد مدنی ، شہداد پور جامعہ حسینیہ کے مہتمم خطیب اہل سنت مولانا محمد یوسف ، مولانا جمال اللطیف آباد مجلس تحفظ ختم نبوت کے رہنما مولانا محمد اسجد مدنی، خطیب اسلام مولانا عبدالغفور حقانی ، علامہ ڈاکٹر خالد محمود سومرو، مولانا اللہ وسایا کے بیانات ہوئے۔ قراردادیں منظور کی گئیں۔ مجلس تحفظ ختم نبوت سندھ کے بزرگ رہنما مولانا احمد میاں حمادی کی دعا پر ظہر کے بعد بخیر و خوبی کنونشن اختتام پذیر ہوا۔

ختم نبوت کانفرنس بدین

۹ / جون ۱۹۹۷ء بعد از عشا مہران چوک بدین میں ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی ۔ ضلع بھر عوام نے قافلوں کی شکل میں کانفرنس میں شرکت کی۔ بدین کی تاریخ کا یہ عظیم الشان دینی اجتماع تھا۔

حضرت مولانا عبدالستار چاوڑو اور مجلس تحفظ ختم نبوت کے مبلغ مولانا عبدالغفور جتوئی نے صوبہ سندھ کے عظیم دینی رہنما شیخ الحدیث مولانا عبدالغفور قاسمی دامت برکاتہم کی سرپرستی میں کانفرنس کی کامیابی کے لئے ان تھک محنت کی۔ مدرسہ عربیہ اسلامیہ بدین میں باہر سے آنے والے مہمانوں کے لئے وسیع پیمانہ پر خوردونوش کا اہتمام کیا گیا تھا۔ مولانا زبیر احمد میمن ٹنڈو غلام علی ، مولانا حافظ عبدالواحد، مولانا محمد قاسم جمالی اور دیگر جمعیت علماء اسلام کی قیادت نے کانفرنس کے لئے دن رات ایک کر دیئے تھے ۔ کانفرنس سے مولانا حفیظ الرحمن ، مولانا غلام محمد ، مولانا عیسیٰ سموں ، حضرت علامہ احمد میاں حمادی نے خطاب کیا۔ مولانا اللہ وسایا نے قادیانی کفریات کو عوام کے سامنے بیان کیا تو عوام توبہ، توبہ پکار اٹھے ۔ شیخ الحدیث حضرت مولانا عبدالغفور قاسمی نے اپنے عالمانہ خطاب سے سامعین کے قلب و جگر کو منور کر دیا۔ حضرت مولانا عبدالغفور حقانی نے قادیانی عقائد پر سیر حاصل تبصرہ کیا۔ قادیانی چربہ اور نئے جھوٹے مدعی نبوت یوسف کذاب لاہوری کو آڑے ہاتھوں لیا اور حکومت سے مطالبہ کیا کہ اس مرتد کو بجرم ارتداد پھانسی پر لٹکایا جائے۔

آخری خطاب حضرت علامہ ڈاکٹر خالد محمود سومرو کا ہوا۔ آپ نے بدین کے عوام کو کانفرنس کے کامیاب بنانے پر خراج تحسین پیش کیا۔ رات گئے تک آپ کی خطابت کی گرجدار آواز و گونج دار للکار سے بدین کے درودیوار پر وجد کی کیفیت طاری رہی۔ الحمدللہ ! کانفرنس بدین میں قادیانی فتنہ کی بیخ کنی کا باعث ہوگی ۔

صفحہ ۴۹۲

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۷ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

ختم نبوت کنونشن سجاول

۱۰/ جون ۱۹۹۷ء بروز منگل سجاول کی تاریخی مرکزی جامع مسجد میں دن دس بجے ضلع ٹھٹھہ کے علماء کرام کا کنونشن منعقد ہوا۔ سجاول میں صوبہ سندھ کی مرکزی قدیمی دینی درسگاہ دارالفیوض ہاشمیہ ہے۔ جس میں حضرت علامہ شمس الحق افغانی جیسے اکابر علماء مدرس اور مولانا محمد شریف کشمیری (شیخ الحدیث جامعہ خیر المدارس ملتان) جیسے طالب علموں نے دین کی شمع روشن کی۔ حضرت مولانا نور محمد صاحب اس دینی جامعہ کے اولین بزرگوں میں سے تھے۔ آج کل حضرت مولانا عبد الغفور قاسمی، حضرت مولانا غلام محمد سومرو، مولانا محمد صالح مراد، مولانا مفتی نذیر احمد، حضرت مولانا عمران صاحب نے اکابر کی اس امانت کو سینے سے لگا رکھا ہے۔ حضرت مولانا عبد الغفور قاسمی فاضل اجل خطیب ، نامور عالم دین اور جمعیت علماء اسلام صوبہ سندھ کے نائب امیر ہیں۔ آپ کی خطابت سے سندھ ہی نہیں بلکہ انگلستان بھی گونج اٹھا ہے۔ عقیدہ ختم نبوت کی پاسبانی کے لئے قدرت نے آپ کو قابل رشک جوہر سے نوازا ہے۔ آپ کی اخلاص بھری کاوشوں اور جمعیت علماء اسلام کے دیگر رہنماؤں کی محنتوں سے ضلع ٹھٹھہ کے علماء کرام کی بہت بڑی تعداد نے کنونشن میں شرکت کی۔ حضرت علامہ احمد میاں حمادی، مفتی حفیظ الرحمن، مولانا اللہ وسایا، مولانا عبد الغفور حقانی، حضرت مولانا عبد الغفور قاسمی، حضرت علامہ خالد محمود سومرو کے بیانات ہوئے۔ حضرت مولانا غلام محمد سومرو نے صدارت فرمائی۔ مقررین نے قادیانیوں سے بائیکاٹ کرنے کا حاضرین سے وعدہ لیا۔ جامع مسجد کا وسیع ہال اپنی تمام وسعتوں کے باوجود سامعین کی کثرت سے تنگی داماں کی شکایت کرنے لگا۔ علماء کرام نے ضلع بھر میں قادیانی ارتداد کے سامنے سد سکندری بننے کا عہد کیا۔

ختم نبوت کانفرنس حیدر آباد

۱۰/ جون ۱۹۹۷ء بعد نماز مغرب وحدت کالونی حیدر آباد کی جامع مسجد میں منعقد ہوئی۔ حضرت مولانا عبدالمتین مرحوم کے جانشین حضرت مولانا جمیل الرحمان نے میزبانی کا فرض ادا کیا۔ فقیہ العصر حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی دامت برکاتہم نے مغرب سے عشاء تک خطاب فرمایا۔ جامع مسجد وحدت کالونی میں دفتر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کا افتتاح فرمایا اور پھر دفتر ختم نبوت حیدر آباد لطیف آباد میں آپ کے اعزاز میں منعقدہ عشائیہ کے پروگرام میں شرکت فرما کر کراچی تشریف لائے تھے۔ آپ کے صاحبزادگان مولانا محمد طیب، حافظ محمد یحییٰ اور آپ کے خادم خان عبد الرحمن آپ کے ساتھ تھے۔ اس کانفرنس میں شرکت کے لئے حضرت مولانا نذیر احمد تونسوی کراچی سے تشریف لائے تھے۔ عشاء کے بعد آپ کے بیان سے کانفرنس کا دوسرا اجلاس شروع ہوا۔ جمعیت علماء اسلام کے مقامی صدر مولانا تاج محمد، ضلعی ناظم اعلیٰ حاجی عبد المالک ٹالپر جامعہ مفتاح العلوم کے علماء کرام قاری رفیق اللہ نے حضرت جمیل الرحمٰن اور ضلعی مبلغ کے ہمراہ کانفرنس کو کامیاب بنانے کے لئے بھر پور محنت کی۔ ان کا اخبارات سے مسلسل رابطہ رہا۔ خوبصورت قد آدم اشتہارات شائع کئے گئے تھے (جو ہفت روزہ شہادت حیدر آباد نے عطیہ کئے تھے)

مولانا راشد مدنی، مولانا حفیظ الرحمٰن شمس نے سٹیج سیکرٹری کے فرائض انجام دیئے۔ مولانا اللہ وسایا، مولانا احمد میاں حمادی، مولانا عبدالغفور حقانی اور ڈاکٹر خالد محمود سومرو نے خطاب کیا۔ رات گئے تک کانفرنس جاری رہی۔ حاضری بھر پور تھی اور عوام کا جوش وجذبہ قابل دید تھا۔

صفحہ ۴۹۳

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۷ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

ختم نبوت کنونشن نواب شاہ

۱۱؍ جون ۱۹۹۷ء بروز بدھ دس بجے جامعہ کبیر ریلوے اسٹیشن نواب شاہ میں ضلع بھر کے علماء کرام کا ختم نبوت کنونشن منعقد ہوا۔ حضرت مولانا دوست محمد، حضرت مولانا محمد ارشد مدنی، حضرت مولانا محمد اسجد مدنی نے میزبانی کا فرض ادا کیا۔ ان حضرات کی بھر پور محنت سے شہر و ضلع بھر کے علماء کرام، جمعیت علماء اسلام، دیگر دینی جماعتوں کے رہنمایان، دینی مدارس و جامعات کے علماء کرام، آئمہ و خطباء کی عدیم المثال حاضری تھی۔ جامع مسجد کا ہال و برآمدہ بھرے ہوئے تھے۔ مولانا احمد خان چانڈیو ضلعی صدر جمعیت علماء اسلام سکرنڈ سے مولانا عبدالکریم بروہی ضلعی ناظم اعلیٰ جمعیت پچھیری اور دیگر کئی مقامات سے علماء کرام نے قافلوں کی شکل میں شرکت کی حضرت مولانا محمد ارشد مدنی نے سٹیج سیکرٹری کے فرائض انجام دیئے۔ مولانا راشد مدنی، مولانا احمد میاں حمادی، مولانا اللہ وسایا، مولانا عبدالغفور حقانی نے قبل از ظہر اجلاس سے خطاب کیا۔ جناب علامہ ڈاکٹر خالد محمود سومرو نے ظہر کے بعد مجاہدانہ ایمان پرور جہاد آفریں خطاب کیا۔ قراردادیں پاس کی گئیں جن میں اسلامی نظریاتی کونسل کی سفارشات پر قانون سازی اور ارتداد کی شرعی سزا کے نفاذ کا مطالبہ کیا ۔ یوسف کذاب کو سرعام پھانسی دینے کا مطالبہ کیا گیا اور طالبان کی افغانستان میں اخلاقی اور مالی مدد کے لئے بھر پور عزم کا اظہار کیا گیا۔

ختم نبوت کانفرنس نوشہرو فیروز

۱۱؍ جون ۱۹۹۷ء بعد از نماز عشاء جامعہ انوار العلوم کنڈیارو کی جامع مسجد میں ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی۔ ضلع بھر سے عوام و خواص نے وفود کی شکل میں شرکت کی۔ جمعیت علماء اسلام کے رہنما مولانا محمد حسن لنگاہ صوبائی ناظم ، مولانا عبدالرحمٰن ڈنگراج ضلع ناظم اعلیٰ، جمعیت علماء اسلام حضرت مولانا محمد ادریس سومرو ، ضلعی صدر مولانا عبدالعلیم صاحب گھانگھرو نے کانفرنس کو کامیاب بنانے کے اعلیٰ پیمانہ کا اہتمام کیا تھا۔

سکھر کے پروفیسر مولانا عطاء محمد صاحب نے قادیانیت کی اسلام دشمنی و انگریز نوازی پر قادیانی کتب کے حوالہ سے تاریخی خطاب کیا۔ جمعیت علماء اسلام سندھ کے نامور رہنما۔ بلبل سندھ حضرت مولانا عبدالحمید لنڈ نے بطور خاص کانفرنس میں شرکت کی ۔ مولانا اللہ وسایا، خطیب اسلام حضرت مولانا عبدالغفور حقانی کے ایمان افروز بیانات ہوئے۔ آخری خطاب مجاہد اسلام علامہ خالد محمود سومرو صاحب کا ہوا۔ تین بجے رات کانفرنس اختتام پذیر ہوئی۔

ختم نبوت کنونشن خیر پور میرس

جامعہ حمادیہ خیر پور میرس میں ۲۱؍ جون ۱۹۹۷ء صبح دس بجے ضلع خیر پور میرس کے علماء کرام کا کنونشن منعقد ہوا۔ حضرت مولانا بشیر احمد مرکزی سیکرٹری نشر و اشاعت عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ، مولانا جمال اللہ الحسینی مبلغ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت سندھ خیر پور کے کنونشن میں تشریف لائے ۔ جمعیت علماء اسلام کے ناظم حضرت مولانا میر محمد میرک ، حضرت مولانا خادم حسین ، خطیب اسلام مولانا صدر الدین ، مولانا محمد رمضان پھلپھوٹے نے کنونشن کے لئے مثالی اہتمام کیا ہوا تھا۔ وفد میں شریک تمام علماء کرام کے بیانات ہوئے ۔ کرونڈی ، بانڈہ ٹھیڑی سے علماء کرام کے وفود شریک ہوئے ۔ گمبٹ سے شیخ عبدالسمیع صاحب کی قیادت میں علماء کرام اور جماعتی رفقاء کی ایک جماعت نے شرکت کی۔ اجلاس ظہر تک جاری رہا۔

صفحہ ۴۹۴

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۷ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

تعزیت وعیادت

مجلس تحفظ ختم نبوت سکھر کے ناظم مالیات جناب مولانا محمد رفیق کے انتقال کی خبر سن کر وفد خیر پور سے سکھر آگیا۔ جہاں مرحوم کے صاحبزادگان سے اظہار تعزیت کیا۔

جمعیت علماء اسلام کے قائد حضرت مفتی محمود صاحب مرحوم کے سکھر میں میزبان اور خادم خاص اور عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت سکھر کے امیر الحاج آغا سید محمد صاحب کی کمر پر معمولی پھوڑا کا آپریشن ہوا تھا۔ وہ ہسپتال میں داخل تھے ان کی عیادت کے لئے وفد ہسپتال گیا۔ جمعیت علما اسلام سندھ کے رہنما مولانا میر محمد میرک صاحب بھی خیر پور سے سکھر تک وفد کو الوداع کہنے کے لئے ساتھ تشریف لائے تھے۔ آپ نے جماعتی امور پر محترم ڈاکٹر خالد محمود سومرو سے مشاورت بھی کی۔

ختم نبوت کانفرنس پنوعاقل

۱۲/ جون ۱۹۹۷ء بعد نماز عشاء مین چوک پنوعاقل میں ختم نبوت کانفرنس عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت پنوعاقل کے امیر مولانا محمد فاروق صاحب کی زیر صدارت منعقد ہوئی۔ جناب محمد رفیق احمد جنرل سیکرٹری جمعیت علماء اسلام پنوعاقل نے سٹیج سیکرٹری کے فرائض انجام دیئے۔ مولانا محمد راشد مدنی کے بیان سے کانفرنس کا آغاز ہوا۔ حضرت مولانا بشیر احمد مرکزی رہنما عالمی مجلس نے کانفرنس کے اغراض و مقاصد پر تفصیل سے روشنی ڈالی۔ حضرت مولانا احمد میاں حمادی، مولانا اللہ وسایا اور مجلس علماء اہل سنت کے رہنما مولانا عبدالغفور حقانی کے بیانات ہوئے۔ حضرت ڈاکٹر علامہ خالد محمود صاحب کا اختتامی بیان ہوا جو رات گئے تک جاری رہا۔ آپ کی دعا پر کانفرنس اختتام پذیر ہوئی۔

خطبات جمعہ

حضرت علامہ ڈاکٹر خالد محمود سومرو صاحب پنوعاقل کی کانفرنس کے بعد خطبہ جمعہ اور ختم نبوت کانفرنس لاڑکانہ کے انتظامات کے لئے لاڑکانہ تشریف لے گئے۔ جہاں آپ نے ۱۳/ جون ۱۹۹۷ء کا خطبہ جمعہ ارشاد فرمایا۔ جامع مسجد قاسم العلوم گھوٹکی میں جمعہ سے قبل مولانا جمال اللہ الحسینی اور جمعہ کے بعد خطیب اسلام مولانا عبدالغفور حقانی نے بیان فرمایا۔ حضرت مولانا احمد میاں حمادی نے جامع مسجد مرکزی پنوعاقل اور مولانا محمد راشد مدنی نے مین چوک کی جامع مسجد میں خطبہ جمعہ ارشاد فرمایا۔ جامع مسجد مرکزی بندر روڈ سکھر، جامع مسجد اللہ والی بندر روڈ سکھر کے اجتماعات جمعہ سے مولانا اللہ وسایا نے خطاب کیا۔ حضرت مولانا بشیر احمد نے بھی سکھر میں خطبہ جمعہ ارشاد فرمایا۔

ختم نبوت کانفرنس کندھ کوٹ

۱۳/ جون ۱۹۹۷ء بعد نماز عشاء کندھ کوٹ میں ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی۔ مقامی علماء کرام کے علاوہ مولانا محمد راشد مدنی، مولانا جمال اللہ، مولانا اللہ وسایا، حضرت مولانا احمد میاں حمادی اور حضرت مولانا عبدالغفور حقانی نے خطاب کیا۔

ختم نبوت کنونشن جیکب آباد

۱۴/ جون ۱۹۹۷ء بروز ہفتہ صبح دس بجے مسجد اقصیٰ کوئٹہ روڈ جیکب آباد میں ختم نبوت کنونشن منعقد ہوا۔ مولانا فیض محمد ڈول، ڈاکٹر عبدالغنی انصاری، ضلعی ناظم اعلیٰ جمعیت علماء اسلام حافظ میر محمد بنگلانی اور دوسرے علماء کرام کی شبانہ روز کاوشوں سے ضلع بھر کے علماء کرام نے قافلوں کی شکل میں کنونشن میں شرکت کی۔ مجلس تحفظ ختم نبوت بلوچستان کے مبلغ مولانا محمد علی صدیقی، سندھ کے مبلغ مولانا محمد راشد مدنی،

صفحہ ۴۹۵

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۷ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

مولانا جمال اللہ حسینی ، حضرت مولانا احمد میاں حمادی ، مولانا اللہ وسایا اور مولانا عبدالغفور حقانی نے خطاب فرمایا۔ حضرت مولانا فیض احمد صاحب مرکزی رہنما جمعیت علماء اسلام کی دعا پر کنونشن اختتام پذیر ہوا۔ اس موقع پر پریس کلب میں مجلس کے مرکزی رہنماؤں مولانا اللہ وسایا ، مولانا احمد میاں حمادی نے پریس کانفرنس سے خطاب کیا۔ پریس کانفرنس کا اہتمام جمعیت علماء اسلام کے صوبائی قائد علامہ ڈاکٹر خالد محمود سومرو کی ہدایت پر جمعیت کے ضلعی ناظم اعلیٰ ڈاکٹر عبدالغنی انصاری نے کیا تھا۔

ضلع شکار پور کے علماء کا خصوصی اجتماع

مدرسہ دارالقرآن شکار پور میں ۱۴؍ جون ۱۹۹۷ء بعد نماز عصر ضلع بھر کے علماء کرام کا خصوصی اجتماع منعقد ہوا۔ اس میں سکولز و کالجز کے اساتذہ پروفیسرز اور طلباء نے بھی شرکت کی۔ ملک کے نامور قاری القرآن حضرت مولانا قاری محمد علی مدنی کی ایمان پرور تلاوت سے کارروائی کا آغاز ہوا۔ مولانا جمال اللہ حسینی کے تعارفی کلمات کے بعد عالمی مجلس کے رہنما حضرت مولانا اللہ وسایا نے عہد نبوی ﷺ سے لے کر دور حاضر تک عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ کے لئے جان کا نذرانہ پیش کرنے والی عظیم شخصیات کی جستہ جستہ تاریخ بیان کی۔ آپ کا خطاب مغرب کی نماز سے چند منٹ پہلے تک جاری رہا۔ جمعیت علماء اسلام کے مرکزی نائب امیر حضرت مولانا غلام قادر پنوار کی دعا پر اجلاس اختتام پذیر ہوا۔

ختم نبوت کانفرنس شکار پور

۱۴؍ جون ۱۹۹۷ء بعد نماز عشاء لکھی گیٹ مین روڈ پر ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی۔ عظیم الشان تاریخی اور مثالی بلاشبہ ہزار ہا کا اجتماع تھا۔ حضرت مولانا غلام قادر ، حضرت قاری محمد علی صاحب مدنی کے فرزند ارجمند حافظ مجیب الرحمن ، حاجی نثار احمد میمن اور دوسرے علماء کرام اور جمعیت علماء اسلام کے رہنماؤں کی جدوجہد سے تاریخ ساز اجتماع ہوا۔ مخدوم القراء حضرت قاری محمد علی مدنی کی تلاوت سے شکار پور کے درودیوار جھوم اٹھے۔ مجلس تحفظ ختم نبوت سکھر کے ناظم اعلیٰ اور جامع اشرفیہ سکھر کے ناظم حضرت مولانا قاری خلیل احمد بندہانی ، جمعیت علماء اسلام کے مرکزی رہنما شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد مراد صاحب مہتمم جامعہ حمادیہ منزل گاہ ، حضرت مولانا بشیر احمد صاحب مرکزی رہنما مجلس تحفظ ختم نبوت کانفرنس میں خصوصی طور پر شرکت فرمائی اور خطاب کیا مقامی علماء کرام کے علاوہ مولانا اللہ وسایا ، مولانا احمد میاں حمادی کے بعد سندھ کے بے تاج بادشاہ علامہ ڈاکٹر خالد محمود سومرو کا تاریخی اور مثالی خطاب ہوا۔ آپ کی للکار سے قادیانی و قادیانی نواز لابیوں کے ایوانوں میں زلزلہ برپا ہوگیا۔ آپ کی مجاہدانہ گونج سے قادیانیت لرزہ براندام ہوگئی۔ آخری خطاب ملک عزیز کے نامور خوش بیان مقرر حضرت مولانا عبدالغفور حقانی کا ہوا۔ رات ۳ بجے تک کانفرنس جاری رہی۔ جماعت اسلامی اور شیعہ حضرات نے بھی اس روز اپنے اجتماعات رکھے ہوئے تھے۔ انہوں نے ختم نبوت کانفرنس کے احترام میں اپنے پروگرام مختصر کر دیئے کانفرنس ہر لحاظ سے کامیاب رہی اور ان شاء اللہ ! اس کے دور رس نتائج برآمد ہوں گے۔ باہر سے آنے والے تمام مہمانوں کے خوردونوش کا حضرت قاری محمد علی صاحب مدنی نے اہتمام کیا تھا۔

ختم نبوت کنونشن دادو

۱۵؍ جون ۱۹۹۷ء بروز اتوار دن دس بجے مدرسہ دارالفیوض دادو کے دارالحدیث میں ختم نبوت کنونشن منعقد ہوا۔ کنونشن کی صدارت حضرت مولانا منظور احمد سومرو ضلعی امیر جمعیت علماء اسلام نے فرمائی۔ کنونشن سے مقامی علماء کرام کے علاوہ حضرت مولانا احمد میاں

صفحہ ۴۹۶

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۷ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

حمادی، مولانا اللہ وسایا، علامہ ڈاکٹر خالد محمود سومرو نے خطاب کیا۔ صدارتی خطبہ شیخ الحدیث حضرت مولانا منظور احمد نے ارشاد فرمایا۔ سٹیج سیکرٹری کے فرائض حضرت مولانا محمد علی صدیقی نے انجام دیئے۔

ختم نبوت کانفرنس لاڑکانہ

۱۵؍ جون ۱۹۹۷ء بعد نماز عشاء جناح باغ لاڑکانہ میں ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی۔ استاد العلماء مولانا محمد علی حقانی نے صدارت فرمائی۔ ڈاکٹر خالد محمود سومرو کے بھائی مولانا محمد اقبال احمد سومرو مدرس جامعہ اسلامیہ اشاعت القرآن والحدیث، حاجی عبدالحمید جروار انجمن محمدی لاڑکانہ کے صدر اور جمعیت علماء اسلام کے دوسرے رہنماؤں نے کانفرنس کا لاڑکانہ کے شایان شان اہتمام کیا مقامی و ضلعی علماء کرام کے علاوہ سندھ کے نامور خطیب خوش الحان عالم باعمل حضرت مولانا عبدالرزاق میکھو، حضرت مولانا اللہ وسایا، حضرت مولانا عبدالغفور حقانی، اور سب سے آخر میں علامہ ڈاکٹر خالد محمود سومرو کا بیان ہوا۔ کانفرنس رات کے ۳ بجے تک جاری رہی۔ مقررین نے ممتاز بھٹو کی عبوری دور حکومت میں بدترین قادیانیت نوازی کی پرزور مذمت کی۔ ملک میں قادیانی ججز کے تقرر پر حکومت سے سخت احتجاج کیا گیا اور یوسف کذاب کو سرعام پھانسی دینے کا مطالبہ کیا گیا۔ لاڑکانہ کی تاریخ میں ختم نبوت کے عنوان پر اپنی نوعیت کی عظیم الشان کانفرنس منعقد ہوئی۔

وفد کی پیر شریف حاضری

۱۶؍ جون فجر کے بعد حضرت مولانا احمد میاں حمادی کی قیادت میں ڈاکٹر علامہ خالد محمود سومرو، مولانا اللہ وسایا، مولانا جمال اللہ الحسینی، مولانا راشد مدنی، مولانا محمد علی صدیقی، نے صوبہ سندھ کے معروف بزرگ رہنما روحانی شخصیت شیخ طریقت حضرت مولانا عبدالکریم صاحب سرپرست جمعیت علماء اسلام کی خدمت میں خانقاہ پیر شریف میں حاضری دی۔ ڈاکٹر خالد محمود، مولانا اللہ وسایا نے صوبہ سندھ کے دورہ کی تفصیلی رپورٹ پیش کی۔ حضرت اقدس دامت برکاتہم نے ختم نبوت کے سلسلہ میں ان اجتماعات کی کامیابی پر بھر پور خوشی کا اظہار فرمایا اور ڈھیروں دعاؤں سے جمعیت علماء اسلام، مجلس تحفظ ختم نبوت اور وفد کے ارکان کو نوازا۔

(ماہنامہ لولاک ملتان جولائی ۱۹۹۷ء ص ۱۸ تا ۲۸)

ختم نبوت کانفرنس دہلی (۱۴؍ جون ۱۹۹۷ء جامع مسجد شاہجہانی دہلی کے اردو پارک میں عظیم الشان تاریخ ساز ختم نبوت کانفرنس)

دہلی کی تاریخ ساز ختم نبوت کانفرنس کی رپورٹ کل ہند مجلس تحفظ ختم نبوت کے ناظم حضرت مولانا قاری محمد عثمان مدرس دارالعلوم دیوبند نے ارسال کی ہے جو پیش خدمت ہے۔

مرکزی دفتر تحفظ ختم نبوت دارالعلوم دیوبند ملک کے مختلف صوبوں میں قادیانی فتنہ کی سرگرمیوں کی رپورٹ اپنی ذیلی شاخوں کے ذریعہ حاصل کرتا رہتا ہے، اور قادیانی فتنہ کے مکر و فریب سے عام مسلمانوں کو آگاہ کرنے کے لئے حسب ضرورت کارروائی کرتا رہتا ہے۔

راجدھانی دہلی میں بھی قادیانیوں کا ہیڈ کوارٹر تغلق آباد، ہمدرد یونیورسٹی کے برابر میں مسلمانوں کی مسجد کی شکل میں بنا ہوا ہے جس کا مقصد ناواقف مسلمانوں کو دھوکہ دینا ہے کہ ہم بھی مسلمان ہیں، دہلی کے قادیانی ہیڈکوارٹر سے مختلف کالونیوں میں اور یوپی میں جو ریشہ دوانیاں کی جاتی ہیں۔ اس کی اطلاعات دفتر کل ہند مجلس تحفظ ختم نبوت دارالعلوم دیوبند کو پہنچ جاتی ہیں اور ان کے سدباب کے لئے مقامی ذمہ داران کے مشورے سے مناسب حکمت عملی اپنائی جاتی ہے۔ ۵؍ اکتوبر ۱۹۹۶ء کو قادیانیوں نے ماؤلنکر ہال دہلی میں پہلی بار کھلا اجلاس کیا جس کو دہلی یو۔پی کی سالانہ احمدیہ کانفرنس قرار دیا اور عام مسلمانوں کو اس میں شرکت کی دعوت و اجازت دی۔ کانفرنس کے اناؤنسر صاحب

صفحہ ۴۹۷

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۷ء ترتیب وتحقیق : حضرت مولانا اللہ وسایا

نے اغراض و مقاصد بیان کرتے ہوئے بتایا کہ اس کانفرنس کا مقصد لوگوں کو یہ سمجھانا ہے کہ جماعت احمدیہ (قادیانی گروہ) کن کن طریقوں سے اسلام کی خدمات انجام دے رہی ہے، جس میں قرآن مجید اور احادیث کے ترجمہ مختلف زبانوں میں کرنا بھی شامل ہے اس طرح کھلم کھلا ناواقف مسلمانوں کو فریب میں مبتلا کرنے کا منصوبہ بنا کر اس کو عملی جامہ پہنایا گیا، قرآن کریم کی آیات اور احادیث کے تحریف کردہ ترجمے و تفسیریں شائع کر کے اس کو اسلام کی خدمت قرار دیا جا رہا ہے۔ نعوذ باللہ من ذالک!

ایسی صورتحال میں ملت اسلامیہ کے درد مند حضرات خاموش تماشائی بنے نہیں رہ سکتے۔ اس لئے جمعیت علماء ہند اور دہلی کے ذمہ دار حضرات نے طے کیا کہ جامع مسجد شاہجہانی کے سامنے اردو پارک میں ۱۴ / جون ۱۹۹۷ء کو ساڑھے سات بجے شام عظیم الشان تحفظ ختم نبوت کانفرنس منعقد کی جائے جس میں عقیدہ ختم نبوت کی حقیقت و اہمیت عام مسلمانوں کو سمجھائی جائے اور بتایا جائے کہ مدعی نبوت مرزا غلام احمد قادیانی نے ۱۹۰۱ء میں نبوت کا دعوی کیا اور حضور ﷺ کی دو بعثوں کا عقیدہ ایجاد کر کے اپنے آپ کو حضور ﷺ کی بعثت ثانیہ کی شکل میں عین محمد قرار دیا اور نبوت کو کسبی مان کر لوگوں کو ورغلایا کہ حضور ﷺ کی اتباع کامل کر کے آپ ﷺ کی مہر سے میں نبی بن گیا ہوں۔ یہی کفریہ عقائد آج تک مرزا قادیانی کی جماعت پھیلا رہی ہے، اس لئے شروع ہی سے مرزا قادیانی اور اس کے ماننے والوں کے بارے میں مسلمانوں کے تمام مکاتب فکر کا ایک ہی فتوی ہے کہ یہ لوگ کافر، مرتد، زندیق ہیں۔ نیز مسلم و غیر مسلم حکومتوں کی عدالتوں نے مکمل بحث و تمحیص کے بعد تاریخی فیصلے کئے ہیں کہ قادیانیوں کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں، لہٰذا قادیانیوں کا کفر بالکل طے شدہ امر ہے مزید کسی بحث و مباحثہ کی ضرورت ہی نہیں، اس کے باوجود قادیانی گروہ کا اصرار ہے کہ مرزا قادیانی کو نبی، مہدی، مسیح مان کر بھی ہم مسلمان ہیں، بلکہ ہمارا اسلام حقیقی اسلام ہے اور مرزا قادیانی کے نہ ماننے کی بنا پر دنیا کے کروڑوں مسلمان پکے کافر ہیں (نعوذ باللہ من ذالک) قادیانیوں کا یہ اصرار فریب کاری تو ہے ہی مذہب اسلام پر زبردست حملہ اور اس کے خلاف خطرناک سازش بھی ہے۔ جس کو مسلمان کسی قیمت پر برداشت نہیں کر سکتا۔

کل ہند مجلس تحفظ ختم نبوت دارالعلوم دیوبند کے زیر اہتمام ۱۴ / جون کی کانفرنس کی تیاری اور عام مسلمانوں میں قادیانی فتنہ کے بارے میں بیداری پیدا کرنے لئے بڑی بڑی جامع مسجدوں میں خطبہ سے پہلے ہر جمعہ کو تقریباً آدھا گھنٹہ تحفظ ختم نبوت و رد قادیانیت کے موضوع پر مدلل و پر مغز تقریروں کا سلسلہ اجلاس سے چار ہفتہ قبل شروع ہوا، علاوہ جمعہ کی تقریروں کے محلوں میں سڑکوں پر روزانہ اسی موضوع پر متعدد علاقوں میں اجلاس عام ہوئے جس کو تمام مسلمانوں نے بہت غور وفکر اور اہمیت کے ساتھ سنا۔ تقریروں کے ساتھ ساتھ ہر پروگرام کے موقع پر ہزاروں کی تعداد میں رد قادیانیت کے کتابچے اور پمفلٹ اردو، ہندی، اور انگلش میں مسلمانوں کو تقسیم کئے گئے جس سے لوگوں نے قادیانیوں کے مکر وفریب کو خوب سمجھا اور پختہ عزم کا اظہار کیا کہ نام نہاد احمدی جماعت کے لوگوں ( قادیانیوں ) سے مکمل سماجی اور معاشرتی بائیکاٹ رکھیں گے اور ۱۴ / جون کی کانفرنس میں شریک ہو کر اپنی ایمانی غیرت وحمیت کا بھر پور مظاہرہ کریں گے۔

ان پروگراموں میں تقریر کرنے کے لئے دارالعلوم دیوبند، مظاہر علوم سہارن پور (دار جدید) مدرسہ مظاہر علوم سہارن پور وقف، مدرسہ شاہی مراد آباد، مدرسہ امدادالعلوم مراد آباد، مدرسہ اعزاز العلوم ویٹ، مدرسہ خادم الاسلام ہاپوڑ، مدرسہ حسینیہ تاؤلی، کے اساتذہ کرام تشریف لاتے رہے، اور دارالعلوم کے آٹھ صاحبان جناب مولانا محمد یامین، جناب مولانا محمد عرفان صاحب ، جناب مولانا محمد راشد صاحب (مبلغین) جناب مولانا شاہ عالم صاحب ، جناب مولانا محمد ادریس صاحب اور دو زیر تربیت طلبہ مولوی خالد گیاوی اور مولوی ثناء

صفحہ ۴۹۸

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۷ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

اللہ دربھنگوی مع راقم الحروف کے تقریباً ایک ماہ مستقل طور پر جمعیت علما ہند کے دفتر میں دہلی میں مقیم رہے اور جمعیت علما ہند کے آرگنائزر حضرات کے ساتھ مسلسل پروگراموں میں مشغول رہے، دہلی کے مشہور قدیم مدارس عربیہ مدرسہ امینیہ، مدرسہ عبدالرب، مدرسہ حسین بخش، مدرسہ فتح پوری سمیت جمنا پار اور مختلف کالونیوں کے مدارس و مکاتب اسلامیہ نیز خطباء آئمہ کرام و ذمہ داران مساجد نے پر خلوص تعاون دیا، اساتذہ مدارس اور خطیب حضرات نے تقریریں فرمائیں اور ۱۴ جون کے اجلاس کی کامیابی کے لئے جدوجہد فرمائی اس سلسلہ میں خصوصیت سے جناب مولانا اسعد مدنی صاحب سیکرٹری جمعیت علماء ہند کا مخلصانہ تعاون قابل ذکر ہے، موصوف نے اپنے دفتر کے تمام عملے کو ہدایت دے رکھی تھی، اور خود بھی روزانہ اور جمعوں کے پروگراموں کی تشکیل کے لئے شب و روز انتھک محنت فرماتے رہے، تقریباً ایک بجے شب میں روزانہ جلسوں میں شرکت کر کے واپس آتے تھے۔

اس موقع پر جناب مولانا شوکت علی صاحب مہتمم مدرسہ اعزاز العلوم ویٹ کے خصوصی تعاون کا تذکرہ بھی ضروری ہے، موصوف نے تقریباً چار ہفتے دہلی میں قیام فرما کر زبردست جدوجہد فرمائی۔

اس طرح سب کی مشترکہ محنت اور مخلصانہ تعاون سے کل ہند مجلس تحفظ ختم نبوت دارالعلوم دیوبند نے دو سو سے زیادہ جلسے منعقد کئے اور لاکھوں مسلمانوں کو عقیدہ ختم نبوت کی حقیقت سمجھا کر قادیانی مغالطہ انگیزیوں سے بچنے کی تلقین کی۔ ۱۴؍ جون کی کانفرنس کے لئے مجلس استقبالیہ تقریباً ایک سو افراد کی تشکیل دی گئی، جس کے صدر جناب الحاج بابو دوست محمد صاحب قریشی اور جنرل سیکرٹری جناب الحاج فیاض الدین (حاجی میاں) ہوٹل والے بنائے گئے جناب الحاج عیسیٰ شفیق صاحب (پتیل والے) خزانچی مقرر کئے گئے۔

حاجی فیاض صاحب نے مینا بازار کے تاجران کی یونینوں کے صدور صاحبان و رفقاء سے رابطہ قائم کر کے اردو پارک میں اجلاس عام کے انتظامات کی تفصیلات طے فرمائیں۔ بفضلہ تعالیٰ مینا بازار کے تاجران صاحبان نے جلسہ گاہ کے تمام انتظامات اپنے ذمہ لے لئے، اور کانفرنس کے شایان شان تیاریوں میں مصروف ہو گئے، کانفرنس کو زیادہ سے زیادہ مفید بنانے کے لئے اہم شخصیات اور امت مسلمہ کے مختلف مکاتب فکر کے حضرات کو کانفرنس میں شرکت کی دعوت دی گئی۔

حسب توقع ان سب حضرات نے قادیانی فتنہ کی سرکوبی کے لئے کانفرنس کے انعقاد کو بر وقت ایک ضروری اقدام قرار دیا اور مکمل تائید فرمائی اور شرکت کا وعدہ فرمایا، خوش قسمتی سے عالم اسلام کی مایہ ناز شخصیت حضرت مولانا ابوالحسن علی میاں صاحب ندوی صدر آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ نے اپنے انتہائی مصروف و قیمتی اوقات میں سے وقت نکال کر رد قادیانیت کی اس تاریخی کانفرنس میں تشریف لانے کا پروگرام بنایا۔

۱۳؍ جون کو حضرت مولانا مرغوب الرحمٰن صاحب مہتمم دارالعلوم دیوبند وصدر کل ہند مجلس تحفظ ختم نبوت دارالعلوم دیوبند اور حضرت امیر الہند مولانا سید اسعد مدنی صدر جمعیت علماء ہند نے رد قادیانیت کے موضوع پر پریس کانفرنس بلائی جس میں تقریباً ۱۶۲ اخباری رپورٹروں نے شرکت کی، ہر دو حضرات نے پریس کانفرنس میں اعلان کیا کہ ۱۴؍ جون کو کانفرنس قادیانیوں کے خلاف ملک گیر تحریک کا آغاز ہے جس کا مقصد قادیانیوں کی فریب کاریوں کو بے نقاب کر کے امت مسلمہ کے ایمان وعقیدہ کی حفاظت کرنا ہے، اردو ہندی، انگلش تمام اخبارات نے اس پریس کانفرنس کی خبروں کو اہمیت سے نشر کیا۔

صفحہ ۴۹۹

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۷ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

کانفرنس میں شرکت کے لئے مسلمانوں کا جوش وخروش

بہر حال مختلف ذرائع سے عموماً اور محلہ محلہ ، مسجد مسجد پروگراموں سے خصوصاً ۱۴/ جون کی کانفرنس کی زبردست تشہیر ہوئی اور مسلمانوں میں ذوق وشوق بڑھتا چلا گیا ، اور نہایت بے تابی کے ساتھ اس مبارک ساعت کا انتظار کرنے لگے جب قصر نبوت کے محافظین کے قافلے اردو پارک میں جمع ہونے لگے ، اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے ۱۴/ جون کا مبارک دن آ گیا ، آج جامع مسجد شاہجہانی کا ماحول بدلا ہوا ہے ، ہر روز کی طرح نہ ہنگامہ ہے نہ شور مینا بازار کی دوکانوں پر سامان خریدنے والوں کی آمدورفت نہ ہونے کے برابر ہے نماز عصر کے بعد ہی ہر طرف سے شمع رسالت کے پروانے اردو پارک کی طرف بڑھنے لگے، جامع مسجد کے اونچے اونچے مینار ان کے استقبال کر رہے تھے ، مغرب کا وقت ہوا ، اور ہر طرف سے اللہ اکبر کی دلکش صدائیں بلند ہونے لگیں ، شاہجہانی مسجد اور قرب و جوار کی مساجد اللہ کے سب نیک بندوں سے بھر گئیں ، نماز ختم ہوتے ہی عجیب پر رونق منظر بن گیا ، جسے دیکھو اردو پارک کا رخ کئے ہوئے تیز چلا جا رہا ہے دیکھتے ہی دیکھتے پورا میدان عاشقان ختم رسالت سے کھچا کھچ بھر گیا اور آزادی کے بعد پہلی مرتبہ اردو پارک کے میدان میں کل ہند مجلس تحفظ ختم نبوت دارالعلوم دیوبند کی دعوت پر تقریباً پچاس ہزار شمع رسالت کے پروانوں نے عقیدت واخلاص کے جذبات سے معمور قلوب کے ساتھ جوق در جوق پہنچ کر سارقان ختم رسالت کے حوصلے پست کر دیئے ۔

ادھر کانفرنس کا اسٹیج بھی اپنی رونقوں اور دیدہ زیبوں میں اضافہ کر رہا تھا اکابر علماء اسلام ، بزرگان دین ، شیوخ طریقت ایک ایک کر کے اسٹیج پر جلوہ افروز ہونے لگے۔

اجلاس عام کا پروگرام

قاری سید محمد عفان منصور پوری متعلم دارالعلوم دیوبند کی تلاوت کلام پاک سے کانفرنس کا آغاز ہوا ، تلاوت کے بعد تحریک صدارت پیش کرنے سے پہلے جناب مولانا قاری محمد شوکت علی صاحب مہتمم مدرسہ اعزاز العلوم ویٹ مائک پر تشریف لائے اور عظیم الشان کانفرنس کی صدارت کے لئے امیر الہند مولانا سید اسعد مدنی صاحب مدظلہ العالی کا نام نامی پیش کرنے سے پہلے حضرت موصوف کی طویل ملکی اور ملی خدمات کا مختصر تذکرہ کرتے ہوئے بتایا کہ ہندوستان میں دس بارہ سال قبل جب قادیانی فتنہ نے دوبارہ سر اٹھانا شروع کیا تو اللہ تعالیٰ کے فضل وکرم سے یہ سعادت حضرت اقدس کے حصہ میں آئی کہ ہندوستان میں قادیانی فتنہ کا منظم تعاقب کرنے کا عملی پروگرام مرتب فرمائیں ، چنانچہ موصوف کی تحریک پر مجلس شوریٰ دارالعلوم دیوبند نے ۱۹۸۶ء میں سہ روزہ اجلاس تحفظ ختم نبوت دارالعلوم دیوبند میں منعقد کیا جانا طے کیا چنانچہ یہ اجلاس انتہائی کامیابی سے ہمکنار ہوا ، اس موقع پر کل ہند مجلس تحفظ ختم نبوت کی تشکیل ہوئی جس کے تحت تقریباً ۱۱ سال سے پورے ملک میں قادیانی فتنہ کی سرکوبی کے کامیاب پروگرام ہوئے ہیں ، اور یہ شاہجہانی جامع مسجد کی تاریخی تحفظ ختم نبوت کانفرنس بھی اسی سلسلہ کی ایک اہم کڑی ہے جس سے قادیانی فتنہ ارتداد کے خلاف پر زور تحریک کا آغاز بھی ہو رہا ہے۔

اس لئے اس عظیم الشان کانفرنس کی صدارت کے لئے ہمارے درمیان سب سے زیادہ موزوں شخصیت حضرت مولانا سید اسعد مدنی صاحب صدر جمعیت علماء ہند رکن مجلس شوریٰ دارالعلوم دیوبند کی ذات گرامی ہے ۔

قاری صاحب موصوف کی تحریک صدارت کی تائید کرتے ہوئے حضرت قاری محمد میاں صاحب شاہی امام عید گاہ دہلی نے فرمایا کہ جس ذات گرامی کا نام نامی صدارت کے لئے پیش کیا گیا ہے اس کی میں پر زور تائید کرتا ہوں ۔

صفحہ ۵۰۰

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۷ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

اس کے بعد جناب قاری عبدالرؤف صاحب استاد دارالعلوم دیوبند نے تلاوت کلام پاک سے سامعین کو محظوظ فرمایا، تلاوت کے بعد بھاگلپور کے مشہور شاعر غلام قاصر صاحب نے نعتیہ کلام اور رد قادیانیت پر نظم پیش فرمائی۔

اس کے بعد حضرت مولانا ابوالحسن علی میاں ندوی مدظلہ العالی سے کانفرنس کا افتتاح کرنے کی گزارش سے پہلے جناب مولانا عبدالعلیم صاحب فاروقی جنرل سیکرٹری جمعیت علماء ہند نے حضرت موصوف کا تعارف کراتے ہوئے بتایا کہ موصوف ندوۃ العلماء کے ناظم اور آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کے صدر محترم اور دارالعلوم دیوبند کی مجلس شوری کے رکن ہونے کے ساتھ ساتھ عالم اسلام کی بیسیوں تنظیموں کے اہم رکن ہیں خصوصاً رد قادیانیت کے موضوع سے حضرت موصوف کا گہرا ربط ہے، چنانچہ اپنے شیخ و مرشد کے حکم ہی پر موصوف نے لاہور قیام کے زمانہ میں ۱۹۵۲ء میں ”القادیانی والقادیانیہ“ عربی میں تصنیف فرمائی پھر اس کا اردو ایڈیشن بھی تیار فرمایا اور پھر انگلش میں یہ کتاب آئی، ہر زبان میں اس کے متعدد ایڈیشن شائع ہوئے۔

حضرت موصوف نے اپنے افتتاحی خطاب میں فرمایا کہ تاریخی حوالوں سے یہ بات ثابت ہو چکی ہے کہ قادیانی نبوت انگریزی سامراج کا خود کاشتہ پودا ہے جس کا مقصد مسلمانوں کو کمزور کرنا ہے، آپ نے فرمایا کہ یہ تحریک انگریزوں نے اس لئے شروع کرائی تھی تاکہ ۱۸۵۷ء کے بعد ایشیاء اور دوسرے اسلامی ملکوں میں جو انتظامی و اخلاقی انحطاطی دور آیا تھا۔ اس کا فائدہ اٹھا کر اسلامی ملکوں پر قبضہ کر لیا جائے، یہ یورپ کا ایک پلان تھا جسے وہ اکثر صلیبی جنگوں کی صورت میں ظاہر کرتے رہے ہیں، اس سلسلہ میں آپ نے حضرت سید احمد شہید کی اس تحریک کا ذکر فرمایا، جو علماء کرام کے ذریعہ اس طرح کے فتنوں کی سرکوبی کے لئے چلائی گئی تھی۔

حضرت مولانا علی میاں صاحب نے مسلمانوں کے جذبہ جہاد پر روشنی ڈالتے ہوئے فرمایا کہ انگریزوں کے نزدیک مسلمانوں کا ذوق شہادت اور جذبہ جہاد ایک نیا تجربہ تھا اس لئے انگریزوں نے مسلمانوں کو ملک و قوم کے لئے خطرناک سمجھا اور یہ وہ خوف تھا جس کی وجہ سے انگریزی سامراج نے مسلمانوں کو کمزور اور منتشر کرنے کے لئے یہ فتنہ کھڑا کیا جس کی شہادتیں تاریخ کے اوراق میں بکھری پڑی ہیں۔

اس کے بعد قومی شاعر جناب حافظ اسحاق سہارنپوری نے رد قادیانیت پر اپنا کلام پیش فرمایا۔ حافظ سہارنپوری کی نظم کے بعد دہلی کے مشہور سماجی کارکن جناب بابو دوست محمد قریشی صاحب نے خطبہ استقبالیہ پیش فرمایا جس میں آپ نے شرح و بسط کے ساتھ دہلی کی عظمت، اس کی دینی و مذہبی خدمات اور اہم شخصیات کا تذکرہ فرماتے ہوئے فتنہ قادیانیت کی دسیسہ کاریوں کا بھر پور تعاقب کرنے کی اپیل کی، اور بحیثیت صدر مجلس استقبالیہ، اپنے احباب، رفقاء و اراکین مجلس استقبالیہ کی طرف سے سبھی مہمانان عظام اور حاضرین گرامی کا تہہ دل سے استقبال فرمایا، اور معاونین کا شکریہ ادا فرمایا۔

خطبہ استقبالیہ کے بعد صدر کانفرنس پاسبان ختم نبوت امیر الہند حضرت مولانا سید اسعد مدنی مدظلہ نے اپنا پر مغز طویل تحریری خطبہ صدارت پیش فرمایا، آپ نے کانفرنس کے اغراض و مقاصد پر روشنی ڈالتے ہوئے فرمایا:

آج ہم اسلام کے جس بنیادی عقیدہ کے تحفظ کے سلسلہ میں اپنی ایمانی غیرت و حمیت کے اظہار کے لئے یہاں جمع ہوئے ہیں وہ ہر مسلمان کے لئے انتہائی اہمیت کا حامل ہے، شریعت اسلامی اور اس کی بنیادوں سے ادنی واقفیت رکھنے والا انسان بخوبی جانتا ہے کہ عقیدہ ختم نبوت ایمان کا جزو ہے، دین اسلام کی اساس اور تاقیامت امت کی شیرازہ بندی اور اتحاد کی اصل بنیاد ہے۔

صفحہ ۵۰۱

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۷ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

قادیانیت انگریزی سامراج کا بویا ہوا بیج ہے جس کا مقصد ملت کی شیرازہ بندی کو ختم کر کے انتشار پیدا کرنا اور اپنی حکومت کے دن بڑھانا تھا ، موصوف نے تاریخی حوالوں سے واضح کیا کہ نبوت کے دعویٰ کے لئے چند افراد کا انٹرویو انگریز نے لیا اور مرزا قادیانی کو اس ملعونیت کے لئے منتخب کیا۔

حضرت امیر الہند نے مرزا غلام احمد قادیانی اور اس کی ذریت کی دسیسہ کاریوں کا پردہ چاک کرتے ہوئے اخیر میں انتہائی دل سوزی کے ساتھ مسلمانوں کو متنبہ کیا کہ اگر پوری سرگرمی سے اور قوت کے ساتھ اس فتنہ پر بند نہ لگایا گیا تو اندیشہ ہے کہ ملک کے ہزاروں مسلمان لالچ اور جہالت کی بنا پر ارتداد کے قعر ضلالت میں گر پڑیں گے۔

خطبہ صدارت کے بعد اجمیر سے آئے ہوئے مشہور صاحب طرز شاعر جناب راہی شہابی نے رد قادیانیت پر ایک منظوم کلام پیش فرمایا، اس کے بعد ناظم کل ہند مجلس تحفظ ختم نبوت دارالعلوم دیوبند مولانا قاری محمد عثمان صاحب منصور پوری نے تحفظ ختم نبوت کے سلسلہ میں جانفشانی کرنے والوں کے حق میں حضور اقدس ﷺ کے بشارتوں کے دو ایک واقعات بسلسلہ حضرت مولانا سید عطاء اللہ شاہ بخاری سنا کر توجہ دلائی کہ ہم سب کا مقصد اصلی یہی ہونا چاہئے کہ جناب رسول کریم ﷺ کی خصوصی تو جہات حاصل کریں۔

جلسہ کے اناؤنسر مولانا عبد العلیم فاروقی نے عالمی شہرت یافتہ اسلامی یونیورسٹی ازہر الہند دارالعلوم دیوبند کے مہتمم گرامی قدر اور صدر کل ہند مجلس تحفظ ختم نبوت دارالعلوم دیوبند سے گزارش کی کہ کانفرنس کی تاریخی قرارداد جو چار اہم تجاویز پر مشتمل ہے پیش فرمائیں۔

حضرت موصوف نے یہ تجاویز خود پڑھ کر سنائیں ، جن میں قادیانیوں کو آگاہ کیا گیا ہے کہ وہ کلمہ طیبہ اور اسلامی اصطلاحات کا استعمال فوراً بند کر دیں، کیونکہ وہ مرتد زندیق ہیں، حکومت ہند سے کہا گیا کہ قادیانی لوگوں کو غیر مسلم قرار دے۔

تجاویز کی تائید کے سلسلے میں پہلی تقریر حضرت مولانا مفتی سعید احمد صاحب پالنپوری استاذ حدیث و ناظم اعلیٰ کل ہند مجلس ختم نبوت دارالعلوم دیوبند نے فرمائی، موصوف نے عقیدہ ختم نبوت کی اہمیت بیان کرتے ہوئے حدیث شریف کی روشنی میں واضح فرمایا کہ جھوٹی نبوت کی دوکان مال وزر کے بل بوتے پر چلتی ہے، خدائی تائید سے خالی ہوتی ہے عقیدہ ختم نبوت رحمت ہے اس کی بغاوت زحمت ہے و آزمائش ہے اس لئے قادیانی فتنہ کا جم کر مقابلہ کرنا ہمارا ایمانی حصہ ہے۔

اس کے بعد حضرت شیخ الحدیث مولانا زکریا صاحب مہاجر مدنی کے صاحبزادے جناب مولانا طلحہ صاحب مدظلہ نے مائک پر تشریف لا کر تجاویز کی تائید کی اور دعا فرمائی کہ اللہ تعالیٰ کانفرنس کو کامیابی سے ہمکنار فرمائے (آمین)!

تجاویز کی تائید میں جناب مولانا عبدالوہاب خلجی جنرل سیکرٹری جمعیت اہل حدیث نے حضرات علماء دیوبند اور علماء اہل حدیث کی رد قادیانیت کے بارے میں زریں خدمات کا تفصیلی جائزہ لیا اور فرمایا کہ میں مرزا طاہر کو (جو قادیانیوں کا آج کل سر براہ ہے ) مباہلہ کی دعوت دیتا ہوں۔

تجاویز کی تائید کے لئے مختلف مکاتب فکر کے اہم حضرات کے نام طے ہوئے تھے مگر وقت کی تنگی کی وجہ سے ممکن نہ ہوسکا، کیونکہ سوا گیارہ بجے کے بعد جلسے کی اجازت نہیں تھی۔

تائید کے سلسلہ کے بعد جناب حاجی فیاض الدین صاحب مالک ہوٹل والے نے بحیثیت جنرل سیکرٹری مجلس استقبالیہ تمام مہمانوں اور معاونوں کا شکریہ ادا کیا، اور فرمایا کہ یہ پہلا اجلاس ہے، آخری نہیں ہے ہم آئندہ بھی ایسے پروگرام کرتے رہیں گے انشاء اللہ !

صفحہ ۵۰۴

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۷ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

اخیر میں ناظم اجلاس جناب مولانا عبدالعلیم فاروقی صاحب نے اراکین مجلس استقبالیہ شہر دہلی ہمدردان، دور دراز سے تشریف لانے والے علماء کرام اور سامعین کا شکریہ ادا فرمایا اور ٹھیک سوا گیارہ بجے یہ تاریخی کانفرنس حضرت مولانا مرغوب الرحمٰن صاحب مہتمم دارالعلوم دیوبند کی پرتاثیر دعا پر بخیر و خوبی اختتام پذیر ہوا۔

کانفرنس میں ملک کے تقریبا تمام صوبوں کے علماء کرام نے شرکت فرمائی۔

دہلی ختم نبوت کانفرنس کی قراردادیں

۱۴؍ جون ۱۹۹۷ء کو جامع مسجد شاہجہانی کے سامنے اردو پارک میں عظیم الشان تحفظ ختم نبوت کانفرنس کی قراردادوں کا متن مذہب اسلام کے بنیادی عقائد میں وحدانیت اور رسالت کا اقرار شامل ہے اور عقیدہ ختم نبوت کا حاصل یہ ہے کہ حضرت محمد ﷺ کو اللہ کا پیغمبر ماننے کے ساتھ ساتھ خاتم النبیین یعنی سلسلہ انبیا کرام کی آخری کڑی بھی مانا جائے۔

مرزا غلام احمد قادیانی (۱۸۴۰ تا ۱۹۰۸) نے ۱۹۰۱ء میں نبوت کا دعویٰ کر کے حضور ﷺ کے خاتم النبیین ہونے کا انکار کیا، اور اپنی نبوت پر ایمان لانے کی لوگوں کو دعوت دی اور جو مرزا قادیانی کی نبوت کو نہ مانے اسے دائرہ اسلام سے خارج قرار دیا۔ ان وجوہات کی بنا پر اسی وقت سے امت مسلمہ کے تمام مکاتب فکر کے مفتیان و علماء کرام نے مرزا غلام احمد قادیانی اور اس کے متبعین کے مرتد اور زندیق ہونے کے متفقہ فتاویٰ صادر کئے اور سرکاری عدالتوں میں بھی مکمل بحث و تمحیص کے بعد قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دیا گیا۔

کریں، تمہارا عقائد کفریہ پر اسلام کا لیبل لگانا ایسے ہی دھوکہ دہی ہے جیسے شراب کی بوتل پر زمزم کا لیبل لگا کر شراب کا کاروبار کرنا۔ لہٰذا یہ اسلام کی زبردست توہین ہے جو مسلمانوں کے لئے ناقابل برداشت ہے۔

دے اور انہیں مسلمانوں والا کلمہ طیبہ، اور دوسری اسلامی اصطلاحات استعمال کرنے ، اور اپنی عبادت گاہیں مسجدوں کی شکل میں بنانے ، اور ا ن کو مسجد کا نام دینے سے روکے۔

کر کے کفر پھیلانے میں مصروف ہیں، لہٰذا قادیانی لوگ خدا اور رسول کے دشمن ہیں۔ قرآن کریم کے مطابق ایسے لوگوں سے تعلقات اور دوستی رکھنا ایمان کے خلاف ہے اس لئے ان کے بارے میں شرعی حکم یہ ہے کہ ان کا مکمل بائیکاٹ کرنا واجب ہے ان سے سلام و کلام ، لین دین، اور تعلقات رکھنا، ان کی تقریبات میں شریک ہونا، ان کو اپنی کسی تقریب میں شریک کرنا، ان سے رشتہ ناطہ اور شادی بیاہ کرنا، مسلمانوں کے قبرستان میں ان کے مردوں کو دفن کرنا، غرض یہ کہ مسلمانوں جیسا سلوک ان کے لئے روا رکھنا قطعی حرام ہے۔ لہٰذا تمام مسلمانوں کو چاہئے عقیدہ ختم نبوت کی حفاظت اور قادیانی فتنہ کی سرکوبی کے لئے نام نہاد احمدیوں (یعنی قادیانیوں ولاہوریوں کے بارے میں ) شرعی حکم پر عمل پیرا ہو کر ان کا مکمل بائیکاٹ کریں، اور اپنی ایمانی غیرت وحمیت کا مظاہرہ کر کے حضور اقدس ﷺ کی خصوصی توجہات اپنی طرف مبذول کرنے کی سعادت حاصل کریں۔

صفحہ ۵۰۳

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۷ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

یہ کانفرنس تمام اہل مدارس اسلامیہ اور مسلم تنظیموں سے اپیل کرتی ہے کہ قادیانی عبادت گاہوں ، دوسرے تمام مقامات پر جہاں وہ ارتدادی سرگرمیوں میں مشغول رہتے ہیں کڑی نگاہ رکھیں اور ان کی سرگرمیوں کا محاسبہ کرتے ہوئے ان کے پھیلائے ہوئے جال سے بچنے کے لئے مسلمانوں کے سامنے ان کو پوری طرح بے نقاب کریں۔

ختم نبوت کانفرنس کھرپہ ضلع سیالکوٹ

عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی ناظم تبلیغ مولانا اللہ وسایا نے کہا کہ مرزائی دین و دنیا میں ذلیل و رسوا ہورہے ہیں اور ان کا جھوٹ کا پردہ چاک ہو گیا ہے۔ اب وہ اپنے جھوٹ کو چھپانے کے لئے جھوٹے پروپیگنڈہ کا سہارا لئے ہوئے ہیں۔ ان کے صد سالہ جشن کو گزرے ہوئے عرصہ ہو گیا ہے مگر کہیں بھی قادیانیت کو غلبہ حاصل نہیں ہے۔ اب وہ وقت قریب ہے کہ انشاء اللہ دنیا بھر سے قادیانیت کا نام ونشان مٹ جائے گا۔ عام لوگ بھی قادیانیوں کے فریب سے آگاہ ہو چکے ہیں۔ قادیانی اپنے عیاں ہونے پر مشتعل ہو گئے ہیں اور انہوں نے دہشت گردی اور تخریب کاری کا راستہ اپنا لیا ہے۔ بمبوں کے دھماکوں ، قتل وغارت، فسادات اور فرقہ واریت کے پس پردہ قادیانی اور غیر ملکی ہاتھ ہیں حکومت کو قادیانیوں کی ان سرگرمیوں پر نظر رکھنی چاہئے ان خیالات کا اظہار انہوں نے نواحی گاؤں کھرپہ میں ختم نبوت کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ کانفرنس کی صدارت محقق ومصنف مولانا عبداللطیف مسعود نے کی اور کانفرنس سے عالمی مجلس کے مرکزی مبلغ مولانا فقیر اللہ اختر ،مولانا محمد طیب فاروقی ،مولانا نور الحسن نور، قاری محمد شفیق ڈوگر، مولانا قاری صالح احمد عثمانی ،مولانا مصدق قاسمی ،مولانا سید اعجاز حسین شاہ اور دیگر مقررین نے خطاب کیا۔ مولانا اللہ وسایا نے کہا کہ کلیدی اسامیوں پر کام کرنے والے مرزائی جاسوسی کا کام کرتے ہیں اور وہ غیر ملکی آقاؤں کے اشاروں پر ملکی سالمیت کے منافی کام میں مصروف رہتے ہیں۔ حکومت ان پر کڑی نظر رکھے اور انہیں کلیدی اسامیوں سے الگ کرے۔ انہوں نے ملک میں خلافت راشدہ کے نظام کے نفاذ کا مطالبہ کیا اور علماء کرام کی بلا جواز گرفتاری کی مذمت بھی کی۔

ختم نبوت کانفرنس پنڈی بھاگو ضلع سیالکوٹ

عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی ناظم تبلیغ مولانا اللہ وسایا نے کہا کہ مرزاغلام احمد آنجہانی کا دعویٰ مسیحیت جھوٹ اور دروغ گوئی پر مشتمل ہے۔ مرزائی جھوٹ کو سچ ثابت کرنے کے لئے قرآن مجید اور احادیث نبوی میں تحریف کرنے سے بھی گریز نہیں کرتے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام زندہ ہیں اور قرب قیامت کی نشانی کی حیثیت سے تشریف لا کر اعلائے کلمۃ الحق کا فریضہ ادا کریں گے۔ مرزا غلام احمد آنجہانی نے انگریزوں کی شہ پر ولائت سے لے کر نبوت تک کے تمام دعوے مرحلہ وار کئے اور دجل وفریب کے سہارے لوگوں کو گمراہ کرنے کا چکر چلایا۔ جدید دور میں مرزائی جدید ترین وسائل کو بروئے کار لا کر لوگوں کو گمراہ کرنے کا شیطانی کام کر رہے ہیں۔ ہماری حکومتیں بھی شیطان کی آلہ کار بن کر رہ گئی ہیں اور بادل نخواستہ مرزائیت نوازی کر کے دولت ایمان سے محروم ہوتی رہتی ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے نواحی گاؤں پنڈی بھاگو میں نزول مسیح اور امام مہدی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا جس کی صدارت ضلعی امیر پیر سید شبیر احمد شاہ گیلانی نے کی۔ کانفرنس سے مجلس کے مرکزی مبلغ مولانا فقیر اللہ اختر ،مورخ اور ممتاز عالم دین مولانا عبداللطیف مسعود، مولانا محمد طیب فاروقی ،مولانا حافظ محمد ثاقب،مولانا قاری محمد اسحاق نعمانی،مولانا احمد مصدق قاسمی،مولانا نور الحسن نور،مولانا قاری امتیاز احمد،مولانا بشیراحمد قاسمی، قاری شفیق احمد ڈوگر اور حافظ جمشیدعزیز معاویہ نے خطاب کیا۔ کانفرنس میں عالمی مجلس ضلع سیالکوٹ کے ایک قافلہ نے پیر سید

صفحہ ۵۰۶

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۷ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

شبیر احمد گیلانی کی قیادت میں شرکت کی۔ ورک کنگرہ روڈ پر مولانا قاری امیتاز احمد کی زیر قیادت علاقہ کے عوام کے قافلہ کا استقبال کیا اور عصرانہ دیا۔

ختم نبوت کانفرنس وزیر آباد ضلع گوجرانوالہ

مجلس عمل تحفظ ختم نبوت پاکستان کے سیکرٹری اطلاعات مولانا اللہ وسایا مدیر لولاک نے کہا ہے کہ باطل فرقوں نے مسلمانوں کو قوت ایمانی سے محروم کرنے کے لئے ہر دور میں جھوٹے نبی کھڑے کئے ہیں اور مسلمانوں نے ہر دور میں نہ صرف ان شیطانی پیغمبروں کو جھٹلایا بلکہ ان کا پوری قوت کے ساتھ مقابلہ کر کے ان کی سرکوبی کا فریضہ بھی ادا کیا۔ جدید دور میں آنجہانی مرزا غلام احمد قادیانی نے انگریز استعمار کی اعانت سے نبوت کا جھوٹا دعوی کیا اور ان سے فراہم کئے تحفظ اور پناہ کے بل بوتے پر قادیانی آج بھی دجل وفریب کے سہارے گمراہی کا جال بچھائے ہوئے ہیں۔ مسلمانوں نے اتحاد و اتفاق کی قوت سے کام لے کر قادیانیت کا پردہ چاک کر کے رکھ دیا ہے۔ علامہ انور شاہ کشمیری ، امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاری اور اس قافلہ کے دیگر مخلص رہنماؤں کی محنتوں اور قربانیوں کا نتیجہ ہے کہ دنیا بھر میں مرزائی پناہ کی تلاش میں ذلیل وخوار ہو رہے ہیں۔ فریب کے سہارے کچھ عرصہ نکال لیتے ہیں اور پھر ان کی حقیقت آشکار ہوتی ہے تو کسی اور منزل کے لئے چل پڑتے ہیں۔ مرزائی اسرائیل کے یار اور یہودیوں کے وفادار ہیں وہ اسلام اور پاکستان کے کبھی بھی مخلص نہیں ہو سکتے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے داراکبوتراں وزیر آباد میں ختم نبوت کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا جس کی صدارت جماعت اسلامی کے مرکزی مجلس شوری کے رکن اور ضلعی امیر شیخ محمد انور زبیری نے کی۔ کانفرنس سے جمعیت اہل حدیث کے رہنماء مولانا محمد رفیق سلفی ، ادارہ منہاج القرآن کے رہنما سید ضیاء نور شاہ ، عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی مبلغ مولانا فقیر اللہ اختر ، ضلعی کنوینر رکنیت سازی حافظ محمد ثاقب، ضلع منڈی بہاء الدین کے کنوینر رکنیت سازی مولانا محمد طیب فاروقی، تحصیل وزیر آباد کے کنوینر مولانا عبدالغفور قاسمی، اور دیگر مقررین نے بھی خطاب کیا۔ کانفرنس میں مختلف قراردادوں کے ذریعہ دینی کارکنوں کی ہلاکت، علماء کرام کی گرفتار یوں، کراچی کے بگڑتے ہوئے حالات ، روز افزوں مہنگائی اور معاشی عدم استحکام پر تشویش کا اظہار کیا گیا۔ اور حکومت سے اصلاح احوال کے لئے فوری اقدامات کا مطالبہ کیا گیا اور کہا گیا کہ ان تمام حالات کی درستگی صرف اور صرف خلافت راشدہ کے نظام کے نفاذ سے ہی ممکن ہے۔

خطبہ صدارت، تحفظ ختم نبوت کانفرنس اردو پارک جامع مسجد دہلی

(جون ۱۹۹۷ء) امیر الہند حضرت مولانا محمد اسعد مدنی مدظلہ

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ الحمد لله وحده والصلوة على من لا نبى بعده، اما بعد! دردمندان ملت، بزرگان محترم اور سامعین عظام!

آج ہم اسلام کے جس بنیادی عقیدے کے تحفظ کے سلسلہ میں اپنی ایمانی غیرت وحمیت کے اظہار کے لئے یہاں جمع ہوئے ہیں وہ ہر مسلمان کے لئے انتہائی اہمیت کا حامل اور قابل توجہ مسئلہ ہے لیکن افسوس کہ دینی معاملات میں لاپرواہی اور بے جا مصلحت کوشی کے رجحان نے ایسے اہم موضوع کو ہمارے ذہنوں سے مٹا دیا ہے اور ہمارے کتنے ہی مسلمان بھائی لاعلمی کے سبب ختم نبوت جیسے اہم اور بنیادی مسئلہ کو مسلمانوں کے فروعی مسائل کی طرح سمجھنے کی غلطی میں مبتلا ہیں اور اس عقیدہ کے تحفظ کے لئے علماء کرام کی مخلصانہ اور سرفروشانہ

صفحہ ۵۰۵

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۷ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

کوششوں کو سعی لاحاصل کے نام سے یاد کرتے ہیں، حالانکہ شریعت اسلامیہ اور اس کی بنیادوں سے ادنیٰ واقفیت رکھنے والا انسان بھی بخوبی اس حقیقت سے واقف ہے کہ عقیدہ ختم نبوت ایمان کا جزو، دین اسلام کی اساس اور تاقیامت امت مسلمہ کی شیرازہ بندی اور اتحاد کے لئے اصل بنیاد ہے۔ قرآن کریم، احادیث مبارکہ اور اجماع امت اس عقیدہ پر ناطق ہیں کہ ”ہمارے آقا سید الاولین والآخرین، سرور کائنات، فخر موجودات حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ اللہ تعالیٰ کے آخری پیغمبر ہیں اور نبوت ورسالت کا سلسلہ آپ ﷺ کی ذات اقدس پر ختم ہو چکا ہے۔“

چنانچہ ارشاد ربانی ہے: ”ما كان محمد ابا احد من رجالكم ولكن رسول الله وخاتم النبيين (الاحزاب)“ ﴿محمد ﷺ تمہارے مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں لیکن اللہ کے رسول اور نبیوں کو ختم کرنے والے ہیں۔﴾

جناب نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”كانت بنو اسرائيل تسوسهم الانبياء كلما هلك نبى خلفه نبى وانه لا نبى بعدى وسيكون خلفاء فيكثرون (بخاری ومسلم)“ بنی اسرائیل کی سیاست ان کے انبیاء کیا کرتے تھے۔ جب کسی نبی کی وفات ہوتی تھی تو ان کے بعد دوسرا نبی آتا تھا لیکن میرے بعد کوئی نبی نہیں البتہ خلفاء ہوں گے اور بہت ہوں گے۔

”انا آخر الانبياء وانتم آخر الامم“ میں آخری نبی ہوں میرے بعد کسی کو منصب نبوت نہیں ملے گا اور تم آخری امت ہو تمہارے بعد کوئی اور امت نہ ہوگی۔

ان صریح نصوص کی روشنی میں فقہاء امت نے لکھا ہے کہ:

”اذا لم يعرف ان محمد ﷺ آخر الانبياء فليس بمسلم لانه من الضروريات (الاشباه والنظائر، فتاویٰ عالمگیری)“ جو شخص محمد ﷺ کو آخری نبی نہ سمجھتا ہو وہ مسلمان نہیں کیونکہ یہ عقیدہ ضروریات دین میں سے ہے۔

الحاصل حضرت محمد ﷺ کو آخری پیغمبر ماننے ہی پر اسلامی شریعت کا مدار ہے اور یہی عقیدہ مدار نجات ہے۔ اگر یہ عقیدہ مستحکم نہ رہے تو قرآن کریم پر اعتماد باقی نہیں رہتا ہے اور نہ احادیث طیبہ کی تشریعی حیثیت برقرار رہ سکتی ہے۔ اس لئے اس عقیدہ کی عظمت واہمیت ہر مسلمان کے دل میں راسخ رہنی ضروری ہے۔ اس عقیدہ کے رسوخ کے بغیر ایمان کی تکمیل ہرگز نہیں ہو سکتی۔ سامعین عظام دشمنان اسلام کی طرف سے عقیدہ ختم نبوت کو سبوتاژ کرنے کی کوششیں دور نبوت ہی سے شروع ہوگئی تھیں۔ جس کا سلسلہ اسلام کی چودہ صدیوں میں جاری رہا، دنیا کے مختلف حصوں میں موقع بموقع جھوٹے مدعیان نبوت پیدا ہوتے رہے جن کی تفصیل کا یہ موقع نہیں۔ آنحضرت ﷺ نے پیشین گوئی فرما کر امت کو ان خود ساختہ جھوٹے نبیوں کے مکر وفریب میں نہ آنے کہ طرف رہنمائی فرمادی ہے۔

چنانچہ اس حدیث میں آپ ﷺ ارشاد فرماتے ہیں: ”انه سيكون فى امتى كذابون ثلاثون كلهم يزعم انه نبى وانا خاتم النبيين لا نبى بعدى (مسلم شریف)“ میری امت میں تیس جھوٹے پیدا ہوں گے ہر ایک یہی کہے گا میں نبی ہوں۔ حالانکہ میں خاتم النبیین ہوں میرے بعد کوئی نبی نہیں ہو سکتا۔

حضرات گرامی! خاتم النبیین حضرت محمد ﷺ نے جن جھوٹے مدعیان نبوت کے بارہ میں پیشن گوئی فرمائی تھی۔ ان میں ایک بڑا جھوٹا مسیلمہ پنجاب مرزا غلام احمد قادیانی علیہ ماعلیہ ہے۔ آج سے ڈیڑھ صدی قبل ۱۸۳۹ء یا ۱۸۴۰ء میں قصبہ قادیان (کادیان) میں پیدا ہوا اور برطانوی سکیم کے مطابق اولاً طرح طرح کے پرفریب دعوؤں کے جال میں فرزندان اسلام کو گرفتار کیا اور مسلمانوں کی صفوں میں

صفحہ ۵۰۶

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۷ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

انتشار و افتراق پیدا کرنے کا کارنامہ سرانجام دیا۔ پھر ۱۹۰۱ء میں اپنی نبوت کا اعلان کیا اور نئی شریعت کی تشکیل کی جس کا خاص حکم یہ تھا کہ انگریز کی اطاعت اور وفاداری ہر فرض سے بڑھ کر فرض ہے۔ اور گورنمنٹ برطانیہ کے خلاف جہاد کرنا حرام ہے اور قطعاً حرام ہے۔

مرزا غلام احمد قادیانی کی نبوت ایک برطانوی سکیم

گرامی قدر سامعین! انیسویں صدی میں ہندوستان پر انگریزوں کے تسلط اور اقتدار کے بعد امام حریت حضرت شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی نے ہندوستان کے دارالحرب ہونے اور جہاد حریت کے فرض ہونے کا فتویٰ دیا۔ جس کے نتیجہ میں ملک کے طول وعرض میں جہاد حریت کی آگ بھڑک اٹھی۔ علماء امت اور مجاہدین وطن میدان کارزار میں سر بکف کود پڑے اور سامراجی درندوں کا ہر محاذ پر مردانہ وار مقابلہ کیا۔ ۱۸۵۷ء کی جنگ آزادی میں اگرچہ مسلمان مجاہدین کو شکست سے دوچار ہونا پڑا اور انگریزوں کے بہیمانہ وسفاکانہ ظلم و تشدد کا نشانہ بننا پڑا۔ پھر بھی مجاہدین حریت کا جذبہ جہاد فنا نہ ہو سکا اور کسی نہ کسی طرح جہاد آزادی کا سلسلہ جاری رہا۔ انگریزوں کی شاطرانہ نگاہیں ان دبی ہوئی چنگاریوں سے غافل نہ تھیں جو دلوں کے خاکستر میں سلگ رہی تھیں وہ جانتے تھے کہ کسی وقت بھی یہ شرر شعلہ جوالہ بن کر خرمن برطانیہ کو خاکستر کر سکتا ہے۔ اس لئے انہوں نے تقسیم کرو اور حکومت کرو کی منافقانہ پالیسی وضع کی ، اور ملت اسلامیہ سے جذبہ جہاد، وحدت ملی، ایمان ویقین کامل، کتاب وسنت سے والہانہ شیفتگی کو مٹا کر سامراجی نظام کو مستحکم کرنے کے لئے ایک سرکاری نبی بنانے کی اسکیم تیار کی جس کا انکشاف برطانوی کمیشن کی ایک رپورٹ سے ہوتا ہے۔

۱۸۶۹ء میں انگریزوں نے ایک کمیشن سرولیم ہنٹر کی سربراہی میں ہندوستان بھیجا کہ وہ انگریزوں کے متعلق مسلمانوں کا مزاج معلوم کرے اور آئندہ کے لئے مسلمانوں کو رام کرنے کے لئے تجاویز مرتب کرے۔ کمیشن نے ایک سال ہندوستان میں رہ کر مسلمانوں کے حالات کا جائزہ لیا۔ ۱۸۷۰ء میں وائٹ ہاؤس لندن میں کانفرنس منعقد ہوئی جس میں کمیشن کے نمائندگان کے علاوہ ہندوستان میں متعین مشنری کے پادری بھی بطور خاص شریک ہوئے اور دونوں نے علیحدہ رپورٹ پیش کی جو ”دی آرائیول آف برٹش ایمپائر ان انڈیا“ کے نام سے شائع کی گئی۔ سرولیم ہنٹر نے اپنی رپورٹ میں لکھا: ”مسلمانوں کا مذہبی عقیدہ یہ ہے کہ وہ کسی غیر ملکی حکومت کے زیر سایہ نہیں رہ سکتے ، اور ان کے لئے غیر ملکی حکومت کے خلاف جہاد کرنا ضروری ہے؟ جہاد کے اس تصور سے مسلمانوں میں ایک جوش اور ولولہ ہے اور جہاد کے لئے ہر لمحہ تیار ہیں۔ ان کی یہ کیفیت کسی وقت بھی انہیں حکومت کے خلاف ابھار سکتی ہے۔

پادریوں نے اپنی رپورٹ میں لکھا: ”ملک ہندوستان کی آبادی کی اکثریت اندھا دھند اپنے پیروں اور روحانی رہنماؤں کی پیروی کرتی ہے اگر اس مرحلہ پر ہم ایک ایسا آدمی تلاش کرنے میں کامیاب ہو جائیں جو اس بات کے لئے تیار ہو کہ اپنے لئے ظلی نبی (نبی کے حواری ) ہونے کا اعلان کر دے تو لوگوں کی بڑی تعداد اس کے گرد جمع ہو جائے گی۔ لیکن اس مقصد کے لئے مسلمان عوام سے کسی شخص کو ترغیب دینا بہت مشکل کام ہے اگر یہ مسئلہ حل ہو جائے تو ایسے شخص کی نبوت کو سرکاری سرپرستی میں پروان چڑھایا جا سکتا ہے۔ ہم نے پہلے غداروں کی مدد حاصل کر کے ہندوستانی حکومتوں کو محکوم بنایا لیکن وہ مختلف مرحلہ تھا۔ اس وقت فوجی نقطہ نظر سے غداروں کی ضرورت تھی لیکن اب ہم نے ملک کے کونے کونے پر اقتدار جما دیا ہے اور ہر طرف امن اور آرڈر ہے ہمیں ایسے اقدامات کرنے چاہئیں جن سے ملک میں داخلی بے چینی پیدا ہو سکے۔“

(مطبوعہ رپورٹ سے اقتباس انڈیا آفس لائبریری لندن)

اس رپورٹ کے تناظر میں برطانوی سکیم کو بخوبی سمجھا جا سکتا ہے اسی سکیم کے تحت حکومت برطانیہ نے شیعوں میں بہاء اللہ ایرانی کو

صفحہ ۵۰۷

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۷ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

اور مسلمانوں میں سے مرزا غلام احمد قادیانی کو اپنی خانہ ساز نبوت کے منصب پر کھڑا کیا۔ مرزا غلام احمد قادیانی کی سرگرمیوں کا سرسری جائزہ لینے کے بعد اس یقین تک پہنچنا آسان ہو جاتا ہے کہ مرزا غلام احمد قادیانی کی نبوت برطانوی سامراج کی ساختہ پرداختہ ہے اور برطانوی سرکار کی سرپرستی میں پروان چڑھی ہے جس اعتراف خود مرزا غلام احمد قادیانی نے اپنی متعدد تحریروں میں کیا، ملاحظہ ہو۔ ملکہ وکٹوریہ کو لکھتا ہے کہ:

(ستارہ قیصریہ ص ۸، خزائن ج ۱۵ ص ۱۲۰)

سے کام لے۔

(تبلیغ رسالت ص ۱۹ ج ۷، مجموعہ اشتہارات ج ۳ ص ۲۱)

کہ اور گورنمنٹ کے زیرسایہ انجام پذیر ہو سکتے، اگرچہ وہ کوئی اسلامی گورنمنٹ ہی ہوتی۔

(تحفہ قیصریہ ص ۳۱، ۳۲، خزائن ج ۱۲ ص ۲۸۳، ۲۸۴)

میں، نہ کابل میں۔ مگر اس گورنمنٹ (انگریزی) میں جس کے اقبال کے لئے دعا کرتا ہوں۔

(تبلیغ رسالت ج ۶ ص ۶۹، مجموعہ اشتہارات ج ۲ ص ۳۷۰)

مرزا غلام احمد قادیانی کی اس طرح کی متعدد تحریریں ہیں جن کو طوالت کے خوف سے نقل نہیں کر رہا ہوں۔ اسی کے ساتھ حکومت برطانیہ کے ساتھ اس کی اور اس کی جماعت کی وفاداریوں اور خدمات پر بھی ایک سرسری نظر ڈالتے ہوئے چلئے۔ لکھتا ہے:

بارے میں اس قدر کتابیں لکھیں ہیں اور اشتہار شائع کئے ہیں کہ اگر وہ رسائل اور کتابیں اکھٹی کی جائیں تو پچاس الماریاں بھر سکتی ہیں۔‘‘

(تریاق القلوب ۱۵، خزائن ج ۱۵ ص ۱۵۵)

کر اس ملک اور نیز دوسرے بلاد اسلامیہ میں اس مضمون کے شائع کئے کہ گورنمنٹ انگریزی ہم مسلمانوں کی محسن ہے۔ لہٰذا ہر ایک مسلمان کا یہ فرض ہونا چاہئے کہ اس گورنمنٹ کی سچی اطاعت کرے۔‘‘

(ستارہ قیصریہ ص ۳، خزائن ج ۱۵ ص ۱۱۴)

اپنی محسن گورنمنٹ کا مقابلہ کر کے ملک میں شور ڈال دیا تب میرے والد بزرگوار نے پچاس گھوڑے اپنی گرہ سے خرید کر کے اور پچاس سوار بہم پہنچا کر گورنمنٹ کی خدمت میں پیش کئے اور پھر ایک دفعہ چودہ سوار سے خدمت گزاری کی۔‘‘

(شہادت القرآن ص ۱، خزائن ج ۶ ص ۳۷۸)

(برطانیہ) سے ہرگز جہاد درست نہیں بلکہ سچے دل سے اطاعت کرنا ہر مسلمان کا فرض ہے۔‘‘

(تبلیغ رسالت ج ۶ ص ۶۵، مجموعہ اشتہارات ج ۲ ص ۳۶۶، ۳۶۷)

صفحہ ۵۰۸

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۷ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

کے فتوؤں پر نظر ڈالتے ہیں جنہوں نے عام طور پر مہریں لگا دی تھیں جو انگریزوں کو قتل کر دینا چاہئے تو ہم بحر ندامت میں ڈوب جاتے ہیں کہ یہ کیسے مولوی تھے اور کیسے ان کے فتوے تھے جن میں نہ رحم تھا، نہ عقل تھی، نہ اخلاق نہ انصاف۔ ان لوگوں نے چوروں اور قزاقوں اور حرامیوں کی طرح اپنی محسن گورنمنٹ پر حملہ کرنا شروع کیا اور اس کا نام جہاد رکھا۔“

(حاشیہ ازالہ اوہام حصہ دوم ص ۴۲۲، خزائن ج ۳ ص ۴۹۰)

مرزا غلام احمد قادیانی کے آنجہانی ہونے کے بعد بھی یہ جماعت انگریزوں کے مفادات کی تکمیل کرنے میں پیچھے نہیں رہی۔ جنگ عظیم میں انگریزوں کی ...... ہر طرح مدد کی۔ تحریک خلافت کی پر زور مخالفت کی اور جہاں بھی انگریزوں کو فتح ہوئی جشن چراغاں کیا۔ ایک مرتبہ پنڈت جواہر لال نہرو یورپ کے دورے سے واپس آئے تو انہوں نے اسٹیشن پر اتر کر ڈاکٹر سید محمود سیکرٹری کانگریس سے یہ بات کی کہ ”اگر ہمیں انگریزوں کو کمزور کرنا ہے تو پہلے احمدیہ جماعت کو کمزور کرنے کی محنت کرنی ہوگی۔“

واقعہ مرزا بشیر الدین محمود نے اپنے ایک خطبہ میں بیان کیا ہے کہ جو مرزائیوں کے ترجمان الفضل ج ۲۳ ش ۳۰ ص ۸، کالم ۱ مؤرخہ ۶؍اگست ۱۹۳۵ء میں شائع ہوا ہے۔

(قادیان سے اسرائیل تک ص ۱۳۵)

مذکورہ بالا دلائل و قرائن اس امر کے شاہد ہیں کہ قادیانی تحریک پوری طرح انگریزی سامراج کی سرپرستی میں وجود میں آئی تھی اور آج تک یہ تحریک انہی اسلام دشمن تحریکات کے آلہ کار کے طور پر کام کر رہی ہے۔ چنانچہ آج بھی اس تحریک کا ہیڈ کوارٹر برطانیہ میں ہے۔

دین اسلام کی دو اہم بنیادیں

گرامی قدر سامعین! دین اسلام کی بنیاد دو اہم عقیدوں پر ہے۔ (۱) توحید! یعنی اللہ تعالیٰ کو اس کی ذات وصفات میں یکتا ماننا اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ قرار دینا۔ (۲) نبوت! یعنی نبی آخر الزمان حضرت محمد ﷺ کی ذات مبارکہ پر وحی نبوت کا سلسلہ منتہی ہو چکا ہے اور آپ ﷺ کی شریعت آخری اور مکمل شریعت ہے۔

قرآن کریم میں اللہ تبارک و تعالیٰ کا ارشاد ہے: ”اليوم اكملت لكم دينكم و اتممت عليكم نعمتي و رضيت لكم الاسلام دينا (المائدة) “ ﴿ آج میں نے تمہارا دین تم پر مکمل کر دیا اور اپنی نعمت تم پر تمام کر دی اور تمہارے لئے دین اسلام کو پسند کر لیا۔ ﴾

اسی طرح دوسری جگہ ارشاد فرمایا گیا: ”هو الذي ارسل رسوله بالهدى و دين الحق ليظهره على الدين كله. ولو كره المشرکون (الصف) “ ﴿ وہی ذات ہے جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور دین حق دے کر بھیجا تا کہ وہ اسے سب دینوں پر غالب کرے اگرچہ مشرکین کو یہ بات پسند نہ ہو۔ ﴾

ان اسلامی عقیدوں کے برخلاف مرزا غلام احمد قادیانی نے ایسا موقف اختیار کیا جس سے نہ عقیدہ ختم نبوت اپنی اصلی شکل میں باقی رہتا ہے اور نہ عقیدہ توحید ہی محفوظ رہتا ہے۔ بلکہ اس کے دعاوی نے ان دونوں عقیدوں کی بیخ کنی کر ڈالی ہے۔

عقیدہ ختم نبوت

حاضرین گرامی! مرزا غلام احمد قادیانی نے بتدریج ملہم من اللہ، مجدد، مسیح موعود، مہدی موعود، ظلی بروزی نبی، تا آنکہ ۱۹۰۱ء میں با قاعدہ تشریعی نبوت کا دعویٰ کر کے اسلامی عقیدہ ختم نبوت کے اصلی مفہوم ہی کو بگاڑ ڈالا۔

صفحہ ۵۰۹

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۷ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

چنانچہ اپنی کتاب دافع البلاء میں لکھا ہے: ”سچا خدا وہی خدا ہے جس نے قادیان میں اپنا رسول بھیجا۔“

(دافع البلاء ص ۱۱، خزائن ج ۱۸ ص ۲۳۱)

اور ایک غلطی کے ازالہ میں دعویٰ کرتا ہے: ”میں رسول بھی ہوں اور نبی بھی ہوں ، یعنی بھیجا گیا بھی اور خدا سے غیب کی خبریں پانے والا بھی۔“

(ایک غلطی کا ازالہ ص ۴، خزائن ج ۱۸ ص ۲۱۱)

خود مرزا قادیانی ایک جگہ ہرزہ سرائی کرتا ہے: ”آنحضرت ﷺ کے بعد جو در حقیقت خاتم النبیین تھے مجھے رسول اور نبی کے لفظ سے پکارے جانا کوئی اعتراض کی بات نہیں ہے اور نہ اس سے مہر خاتمیت ٹوٹتی ہے۔ کیونکہ میں بار بار بتلا چکا ہوں کہ میں بموجب آیت: ”وآخرین منهم لما یلحقوا بهم“ بروزی طور پر وہی نبی خاتم الانبیاء ہوں اور خدا نے آج سے بیس برس پہلے براہین احمدیہ میں میرا نام محمد اور احمد رکھا ہے اور مجھے آنحضرت ﷺ کا ہی وجود قرار دیا ہے۔ پس اس طور سے آنحضرت ﷺ کے خاتم الانبیاء ہونے میں میری نبوت سے کوئی تزلزل نہیں آیا کیونکہ ظل اپنے اصل سے علیحدہ نہیں ہوتا۔“

(اشتہار ایک غلطی کا ازالہ ص ۴، ۵، خزائن ج ۱۸ ص ۲۱۲)

دیکھئے: اس عبارت میں ظلی اور بروزی جیسے الفاظ کا سہارا لے کر مرزا غلام احمد قادیانی نے خود کو عین ”محمد“ بنا دیا اور اسی طرح حضور ﷺ کی زبردست توہین کی ہے۔

ایک دوسری کتاب میں مرزا غلام احمد قادیانی لکھتا ہے: ”آنحضرت ﷺ کے دو بعثت ہیں یا بہ تبدیلی الفاظ یوں کہہ سکتے ہیں کہ ایک بروزی رنگ میں آنحضرت ﷺ کا دوبارہ آنا دنیا میں وعدہ دیا گیا تھا جو مسیح موعود اور مہدی موعود (مرزا قادیانی) کے ظہور سے پورا ہوا۔“

(تحفہ گولڑویہ حاشیہ ص ۹۷، خزائن ج ۱۷ ص ۲۴۹)

جب قادیانیوں پر یہ اعتراض ہوا کہ نبی کریم ﷺ کے بعد اگر مرزا قادیانی ایسا نبی ہے کہ اس پر ایمان لانا ضروری ہے تو مرزا کا الگ کلمہ کیوں نہیں پڑھتے ، مسلمانوں والا کیوں پڑھتے ہو؟ اس کا جواب مرزا بشیر احمد ایم اے قادیانی دیتا ہے۔

”مسیح موعود (مرزا غلام احمد قادیانی) خود محمد رسول اللہ ہے جو اشاعت اسلام کے لئے دوبارہ دنیا میں تشریف لائے ، اس لئے ہم کو کسی نئے کلمہ کی ضرورت نہیں، ہاں اگر محمد رسول اللہ کی جگہ کوئی اور آتا تو ضرورت پیش آتی ۔“

(کلمۃ الفصل ص ۱۵۸)

اس کتاب میں پھر لکھتا ہے: ”اب معاملہ صاف ہے، اگر نبی کریم کا انکار کفر ہے تو مسیح موعود (مرزا غلام احمد قادیانی) کا انکار بھی کفر ہونا چاہئے۔ کیونکہ مسیح موعود نبی کریم سے الگ کوئی چیز نہیں بلکہ وہی ہے۔“

(کلمۃ الفصل ص ۱۴۶، ۱۴۷)

اس طرح کے صریح دعاوی مرزا غلام احمد قادیانی اور اس کے پیروکاروں کی تحریروں میں جا بجا پائے جاتے ہیں جس سے صراحتاً اسلامی عقیدہ ختم نبوت کی نفی لازم آتی ہے اور مرزا غلام احمد قادیانی یہ تصور پیش کرتا ہے کہ وہی اللہ کا آخری نور ہے اور اس پر ایمان لائے بغیر نجات ہو ہی نہیں سکتی ۔ چنانچہ ایک جگہ لکھتا ہے:

”ہلاک ہو گئے وہ جنہوں نے ایک برگزیدہ رسول کو قبول نہیں کیا ، مبارک ہیں وہ جنہوں نے مجھے پہچانا میں خدا کی سب راہوں میں آخری راہ ہوں اور اس کے سب نوروں میں سے آخری نور ہوں ، بدقسمت ہے وہ جو مجھے چھوڑتا ہے کیونکہ میرے بغیر سب تاریکی ہے۔“

(کشتی نوح ص ۵۶، خزائن ج ۱۹ ص ۶۱)

صفحہ ۵۱۰

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۷ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

ظاہر ہے کہ جب ایمان کی تکمیل اور نجات کے حصول کے لئے مرزا قادیانی پر ایمان کی شرط لگادی جائے۔ تو پھر اسلامی عقیدہ ختم رسالت کہاں باقی رہ سکتا ہے؟ لطف کی بات یہ ہے کہ ان گستاخانہ دعوؤں کے باوجود مرزائی یہ کہتے نہیں تھکتے کہ ہم بھی ختم نبوت پر ایمان رکھتے ہیں اور اس کے بارے میں مرزا قادیانی کی وہ عبارتیں پیش کرتے ہیں جن میں اس نے آنحضرت ﷺ کے خاتم الانبیاء ہونے کا اقرار کیا ہے مگر یہ اچھی طرح سمجھ لینا چاہئے کہ یہ ساری عبارتیں اس وقت کی ہیں جب مرزا غلام احمد قادیانی نے مصالح کی بنا پر اپنے اصل چولہ کو ظاہر نہیں کیا تھا۔ بعد میں اس نے وضاحت کے ساتھ اپنے کو آخری نور یعنی مدار نجات ہونے پر سارا زور صرف کر دیا ہے اور مرزا غلام احمد قادیانی کے ماننے والے آج بھی اسے اسی درجے پر رکھتے ہیں اور تسلیم کرتے ہیں اور محض ڈھٹائی کا اظہار کرتے ہوئے یہ کہتے ہیں کہ مرزا غلام احمد قادیانی کو نبی ماننے سے آنحضرت ﷺ کے آخری نبی ہونے پر کوئی زد نہیں پڑتی۔

(ماہنامہ لولاک ملتان ستمبر ۱۹۹۷ء ص ۱۳ تا ۲۰)

ختم نبوت کانفرنس بلجیم

عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام ۲۶/ جولائی ۱۹۹۷ء کو بلجیم میں دوسری سالانہ ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی۔ پاکستان سے مولانا اللہ وسایا، برطانیہ سے مولانا منظور احمد الحسینی اور جمعیت علماء برطانیہ کے رہنما مولانا قاری غلام نبی نے شرکت کی۔ بلجیم کی اس کانفرنس کا بلجیم ختم نبوت کے امیر حاجی عبدالحمید اور ان کے رفقاء نے اہتمام کیا تھا۔ بلجیم کے گردونواح کے شہروں اور یورپ کے مختلف ممالک سے وفود نے کانفرنس میں شرکت کی۔ کانفرنس کی کارروائی کئی گھنٹے جاری رہی۔ کانفرنس کے سٹیج سیکرٹری مسلم لیگ بلجیم کے جنرل سیکرٹری تھے۔ کانفرنس کے اختتام پر مسلمانوں کی خوردنوش سے تواضع کی گئی۔ کانفرنس کے ان شاء اللہ العزیز! دور رس نتائج برآمد ہوں گے۔ کانفرنس حاضری، تقاریر، جوش وجذبہ اور انتظامات کے اعتبار سے ہر لحاظ سے کامیاب رہی۔

(ماہنامہ لولاک ملتان ستمبر ۱۹۹۷ء ص ۳۳)

ختم نبوت کانفرنس جرمنی

جرمنی کے دارالحکومت فرینکفرٹ کے آفن باغ میں عظیم الشان دوسری سالانہ ختم نبوت کانفرنس ۱۷/ جولائی ۱۹۹۷ء کو منعقد ہوئی۔ کانفرنس کا اہتمام عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت جرمن کے امیر حضرت مولانا مشتاق الرحمٰن صاحب مدظلہ نے کیا تھا۔ کانفرنس میں یورپ کے مختلف ممالک اور جرمنی کے شہروں سے وفود نے شرکت کی۔

کانفرنس سے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان کے مبلغ مولانا اللہ وسایا، مکۃ المکرمہ کے فضیلۃ الشیخ حضرت مولانا عبدالحفیظ مکی، برطانیہ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے ناظم تبلیغ مولانا منظور احمد الحسینی، ۔ جمعیت علماء برطانیہ کے رہنما مولانا قاری غلام نبی اور بلجیم مجلس کے امیر حاجی عبدالحمید اور دوسرے رہنماؤں نے خطاب کیا۔

کانفرنس میں عوام کا جوش و جذبہ قابل قدر تھا۔ بھرپور حاضری تھی۔ مقررین نے عقیدہ ختم نبوت کی اہمیت، مسئلہ حیات و نزول مسیح علیہ السلام ، کذب مرزا قادیانی کے عنوانات پر سیر حاصل بیانات کئے۔ حالات حاضرہ پر روشنی ڈالی گئی۔ قراردادیں منظور کی گئیں۔ کانفرنس ہر طرح سے کامیاب اور مثالی تھی۔ کانفرنس کی کارروائی پانچ گھنٹوں پر مشتمل تھی۔ سامعین نے بڑی محبت اور مثالی نظم وضبط سے کانفرنس کی کارروائی کو سنا۔

کانفرنس کے آخری اجلاس میں سامعین کے سوالات کے مولانا اللہ وسایا صاحب نے جوابات دیئے۔ اختتامی دعا کے بعد کانفرنس کے مدعوین و شرکاء کی خوردنوش سے تواضع کی گئی۔

(ماہنامہ لولاک ملتان ستمبر ۱۹۹۷ء ص ۳۲)

صفحہ ۵۱۱

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۷ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

بارہویں سالانہ ختم نبوت کانفرنس برمنگھم

۱۰؍ اگست ۱۹۹۷ء کو حسب سابق سنٹرل جامع مسجد برمنگھم میں بارہویں سالانہ ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی۔ کانفرنس میں برطانیہ کے مختلف شہروں اور دیہات سے سینکڑوں وفود نے کاروں، بسوں، کوچوں اور ویگنوں کے ذریعہ رات بھر کا سفر کر کے صبح کانفرنس میں شرکت کی۔

سنٹرل جامع مسجد برمنگھم برطانیہ کی بہت بڑی جامع مسجد کا وسیع وعریض ہال اپنی تمام تر وسعتوں کے باوجود سامعین کی کثرت سے تنگی دامن کا شکوہ کرنے لگا۔ شدید گرم ترین دن کے باوجود صبح سے شام تک سامعین نے جس حوصلہ و ہمت سے کانفرنس کی کارروائی کو سنا۔ یہ اہلیان برطانیہ کی عقیدہ ختم نبوت سے والہانہ محبت کا منہ بولتا ثبوت تھا۔ کانفرنس کے لئے برطانیہ کے طول وعرض کا حضرت مولانا محمد اکرم طوفانی نے دومرتبہ دورہ کیا۔

حضرت اقدس مولانا محمد یوسف لدھیانوی صاحب نے اپنے رفقاء مولانا مفتی محمد جمیل صاحب، مولانا سعید احمد صاحب، مولانا محمد طیب صاحب، رانا محمد انور صاحب اور دوسرے ساتھیوں سمیت پورے برطانیہ کے طول وعرض کا طوفانی دورہ کیا اور سترہ روز میں کم وبیش ایک سو مساجد میں آپ کے بیانات ہوئے۔

قطب الارشاد حضرت شاہ عبدالقادر رائے پوری کے خلیفہ مجاز اور عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی رہنما پیر طریقت حضرت سید انور حسین نفیس رقم کی سربراہی میں مولانا اللہ وسایا صاحب، مکرم عبدالرحمن یعقوب باوا صاحب، اور عالمی مجلس برطانیہ کے رہنما مولانا محمد ایوب سورتی صاحب پرمشتمل وفد نے لنکا شائر کا دس روزہ طوفانی دورہ کیا اور متعدد مقامات پر کانفرنسوں سے خطاب کیا۔

عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے امیر مرکزیہ حضرت اقدس مولانا خواجہ خان محمد صاحب اور مکرم صاحبزادہ حافظ محمد عابد صاحب نے کانفرنس سے قبل متعدد شہروں کا دورہ کیا اور کانفرنس کی تیاری کے لئے مختلف مقامات پر خطاب کئے۔

یوں کانفرنس سے قبل پورے برطانیہ میں ان وفود کے ذریعہ ختم نبوت کا پیغام پہنچایا، اور بحمدہ تعالیٰ ان کے دوروں کے اثرات کانفرنس کے دن دیکھنے میں آئے، کانفرنس میں عوام کی بھرپور شرکت سے محسوس ہوتا تھا کہ پورے برطانیہ سے وفود وقافلے برمنگھم میں جمع ہو گئے ہیں۔

۱۰؍ اگست ۱۹۹۷ء کو کانفرنس کا آغاز ہوا قبل از ظہر کے اجلاس کے صدر حضرت امیر مرکزیہ حضرت مولانا خواجہ خان محمد دامت برکاتہم اور مہمان خصوصی حضرت پیر طریقت سید انور حسین نفیس مدظلہ رقم تھے۔ بعد از ظہر کے دوسرے اجلاس کی بھی صدارت امیر مرکزیہ نے فرمائی۔ جب کہ مہمان خصوصی جمعیت علماء ہند کے صدر، امیر الہند حضرت مولانا سید اسعد مدنی مدظلہ تھے، کانفرنس میں حضرت مولانا سید اسعد مدنی مدظلہ، قائد جمعیت حضرت مولانا فضل الرحمن صاحب، حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی، حضرت مولانا زاہد الراشدی صاحب، مولانا اللہ وسایا صاحب، جناب نذیر احمد غازی صاحب لاہور، مولانا محمد اکرم طوفانی، حاجی عبدالحمید بلجیم، مولانا احسان اللہ ہزاروی صاحب، مولانا نور الاسلام بنگلہ دیش، مولانا مفتی محمد اسلم، مولانا عبدالرشید ربانی، مولانا منظور احمد الحسینی نے خطاب کیا۔ تلاوت دارالعلوم کراچی کے قاری عبدالمالک نے کی۔ کانفرنس میں اردو، عربی، انگلش میں تقاریر ہوئیں، انڈونیشیا کے سابق قادیانی مبلغ نے اسلام قبول کرنے کے بعد برطانیہ کی ختم نبوت کانفرنس میں بطور خاص شرکت کی اور اپنے خطاب میں مرزا قادیانی کے خوب لتے لئے۔

صفحہ ۵۱۶

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۷ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

کانفرنس میں مولانا عبیدالرحمن، مولانا محمد حسین، مفتی مقبول احمد، مولانا امداداللہ قاسمی مسجد حمزہ، حاجی صادق، مولانا محمد اکرم، مولانا محمد سلیم، مولانا عبدالباری، حاجی محمد معصوم شاہ، حاجی حسن شاہ، احمد واعظ، مولانا علی بھائی، مفتی محمد ابراہیم راجہ، مولانا محمد کمال، قاری محمد ابراہیم بہبودی، حافظ محمد ازہر، حاجی محمد معصوم، قاری قمرالزمان، مولانا محمد ابراہیم سیالکوٹی، مولانا عزیزالرحمن توحیدی، مولانا محمد خورشید، قاری محمد طیب نقشبندی، قاری محمد عمر خطاب، مولانا محمد طیب لدھیانوی، مولانا سعید احمد جلال پوری، قاری عبدالمالک، مولانا محمد اقبال اللہ، مولانا محمد فاروق ملا، مولانا محمد عمران جہانگیری، مولانا بہاءالدین، صوفی اللہ دتہ، مولانا منظور احمد الحسینی، مولانا محمد ایوب مدنی، مولانا محمد اسماعیل راجہ، قاری عبدالرشید رحمانی، مولانا ضیاءالحق، مولانا محمد راشد، سید عسقلان شاہ، حاجی محمودالرحمن، قاری محمد شریف، مولانا عزیز الحق، عزت خان، مولانا عزیزالرحمن، محمد انور رانا، محمد اسلم زاہد، مولانا محمد فیض علی شاہ، مولانا محمد عیسیٰ منصوری، مفتی محمد اسماعیل، محمد نعمان، قاری غلام نبی، مولانا غلام احمد، مولانا ریاض الحق، مفتی محمد سہیل، عمران زکی، مولانا عبدالرحمن، منصور بھائی، مفتی محمد فاروق اور دیگر علماء کرام نے شرکت کی۔ دونوں نشستوں میں محمد شعیب نے ہدیہ نعت پیش کیا۔

اس موقعہ پر روزنامہ جنگ لندن نے خصوصی ایڈیشن شائع کیا۔ کانفرنس ہر لحاظ سے کامیاب رہی۔ اللہ رب العزت اپنی بارگاہ میں شرف قبولیت سے نوازیں۔

وفود کی واپسی: ۱۳؍اگست ۱۹۹۷ء کو حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی مدظلہ، حضرت مفتی محمد جمیل خان، قاری عبدالمالک اور مولانا محمد طیب برطانیہ سے عمرہ کے لئے سعودی عرب تشریف لے گئے اور ۱۶؍اگست کو پاکستان واپس تشریف لائے۔ کراچی ایئرپورٹ پر مولانا نذیر احمد تونسوی کی سربراہی میں جماعتی رفقاء، علماء کرام اور حضرت کے متعلقین نے آپ کا استقبال کیا۔

۱۴؍اگست کو حضرت امیر مرکزیہ مولانا خواجہ خان محمد صاحب اور صاحبزادہ محمد عابد اور حافظ قاری محمد عثمان جالندھری عمرہ کے لئے سعودی عرب تشریف لائے۔ ۱۳؍اگست کو حرمین شریفین کی زیارت سے فراغت کے بعد حضرت امیر مرکزیہ لاہور تشریف لائے۔ جہاں حضرت مولانا عزیزالرحمن جالندھری مرکزی ناظم اعلیٰ کی قیادت میں لاہور، گوجرانوالہ، راولپنڈی، ساہیوال چیچہ وطنی کے علماء، جماعتی کارکنوں اور حضرت امیر مرکزیہ کے متوسلین نے کثیر تعداد میں حضرت امیر مرکزیہ کا استقبال کیا۔

۱۱؍اگست ۱۹۹۷ء کو حضرت مولانا سید انور حسین نفیس، مولانا اللہ وسایا، مولانا سعید احمد، کنور محمد سلیم، رانا محمد انور اور دوسرے حضرات عمرہ کے لئے حجاز مقدس تشریف لائے۔ یکم ستمبر کو حضرت اقدس انور حسین رقم کراچی تشریف لائے۔ جہاں جماعتی رفقاء نے آپ کا خیر مقدم کیا۔ تین روز کراچی میں قیام کے بعد ۴؍ستمبر کو آپ لاہور کے لئے روانہ ہوئے۔ کراچی ایئرپورٹ پر جماعتی رفقاء نے آپ کو رخصت کیا اور لاہور ایئرپورٹ پر لاہور کے جماعتی رفقاء نے آپ کا استقبال کیا۔

(ماہنامہ لولاک ملتان ستمبر ۱۹۹۷ء ص ۳۰، ۳۱)

ختم نبوت کانفرنس کوئٹہ

۷؍ستمبر ۱۹۹۷ء عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت بلوچستان کے زیر اہتمام جامع مسجد طوبیٰ میں ایک روزہ ختم نبوت کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے علماء کرام نے مطالبہ کیا کہ حکومت قادیانیوں کی ملک و دین دشمن سرگرمیوں اور قادیانی جماعت پر پابندی عائد کرے اور اسے خلاف قانون قرار دے اور مسلمان خود کو کفر کی قوتوں کے مقابلے میں جہاد کے لئے تیار کریں۔ کانفرنس کی صدارت عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے امیر مولانا خواجہ خان محمد صاحب آف کندیاں شریف نے کی مجلس کے مرکزی رہنما، خطیب پاکستان قاضی احسان احمد شجاع آبادی کے

صفحہ ۵۱۳

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۷ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

جانشین مولانا قاضی عبداللطیف اختر شجاع آبادی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں فرقہ واریت اور دہشت گردی کے پس منظر میں قادیانی سازشیں کارفرما ہیں توہین رسالت آرڈیننس کی مخالفت اور شناختی کارڈ پر مذہب کے اندراج کی مخالفت میں قادیانی پیش پیش رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تمام اسلامی فرقوں کا ایمان ہے کہ حضور ﷺ خاتم النبیین ہیں۔ جامع مسجد قندھاری کے خطیب مولانا عبدالواحد نے کہا کہ آج مسلمان سوئے ہوئے ہیں اس ملک میں اللہ کا قرآن، نبی ﷺ کی ذات، نبی ﷺ کی جماعت محفوظ نہیں قرآنی تعلیمات کا مذاق اڑایا جا رہا ہے۔ قادیانی مرتد بلوچستان جیسے حساس صوبے میں غیور مسلمانوں کی غیرت کو للکار رہے ہیں۔ میڈیا سے عیاشی اور فحاشی پھیلائی جا رہی ہے۔ علماء کرام کی باتوں کو اہمیت نہیں دی جا رہی۔ لیڈی ڈیانا اور نصرت فتح علی خان کی بڑی بڑی خبریں شائع ہو رہی ہیں علماء کی تقاریر کو اہمیت نہیں دی جاتی۔ مجلس تحفظ ختم نبوت کے ناظم تبلیغ قاری عبدالرحیم رحیمی نے کہا کہ اسلام کے نام پر حاصل کئے گئے ملک میں کسی قومی رہنما کی شان میں گستاخی کرنے پر سزا ہے لیکن نبی کریم ﷺ کے دشمنوں قادیانیوں کو کھلی چھٹی ہے۔ جامع مسجد طوبیٰ کے خطیب مولانا محمد حنیف نے کہا کہ ۷؍ ستمبر تجدید عہد کا دن ہے کیونکہ پارلیمانی تاریخ میں قادیانیوں کو کافر قرار دیا گیا اسمبلی کے باہر محدث العصر مولانا محمد یوسف بنوری اور قومی اسمبلی میں مفکر اسلام مولانا مفتی محمود نے آئینی جنگ لڑی۔ مجلس کے امیر حضرت مولانا خواجہ خان محمد آف کندیاں شریف ہیں جو تمام مذہبی جماعتوں کے سرپرست ہیں کانفرنس میں قراردادیں بھی منظور کی گئیں۔

(ماہنامہ لولاک ملتان نومبر ۱۹۹۷ء ص ۳۴ تا ۳۹)

ختم نبوت کانفرنس ایبٹ آباد

عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ضلع ایبٹ آباد کے زیر اہتمام ۲۱؍ ستمبر ۱۹۹۷ء بروز اتوار مرکزی جامع مسجد ایبٹ آباد میں ایک فقید المثال ختم نبوت کانفرنس کا انعقاد کیا گیا۔ اس ختم نبوت کانفرنس کی صدارت حضرت اقدس مولانا خواجہ خان محمد صاحب مدظلہ نے کی جب کہ خطیب اسلام مولانا محمد اجمل خان صاحب لاہور، شاہین ختم نبوت مولانا اللہ وسایا، فاتح ربوہ مولانا منظور احمد چنیوٹی صاحب، حرکۃ الانصار کے مرکزی امیر حضرت مولانا فضل الرحمٰن خلیل اور مولانا محمد اکرم طوفانی نے ایمان افروز اور وجد آفرین خطابات کئے جب کہ شاعر اسلام سید سلمان گیلانی شرکاء کانفرنس کے قلوب کو گرماتے رہے۔

ظہر کی نماز کے بعد کانفرنس کا آغاز تلاوت قرآن مجید سے ہوا۔ بعد میں نعت شریف سید سلمان گیلانی صاحب نے پڑھی۔ خطبہ استقبالیہ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ضلع ایبٹ آباد کے امیر مولانا شفیق الرحمٰن صاحب نے پیش کرتے ہوئے اس امر کا اعادہ کیا کہ ایبٹ آباد میں ہم قادیانیوں کے پاؤں نہیں جمنے دیں گے باوجود اس کے کہ وہ ہمیشہ سے ایبٹ آباد کو گرمائی ربوہ بنانے کے خواہاں رہے ہیں انہوں نے کہا اکثر قادیانی یہاں سے بھاگ چکے ہیں اور باقیوں کو بھی چین نصیب نہیں ہے وہ ہمہ وقت کسی نہ کسی طور اپنی ارتدادی مہم چلانے میں مصروف رہتے ہیں مگر اس کے خلاف قانون عمل کے نتیجے میں دھر لئے جاتے ہیں اور پھر فرار کا راستہ اختیار کرتے ہیں اور بیرون ملک جا کر سیاسی پناہیں حاصل کرتے ہیں اور پاکستان پر طرح طرح کے الزامات لگاتے ہیں اور ملک عزیز کی بدنامی کا باعث بنتے ہیں۔

مولانا اللہ وسایا صاحب نے عقیدہ ختم نبوت کی اہمیت اور اس کے تحفظ کی خاطر صحابہ کرام کی قربانیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ صحابہ نے اپنے جسموں کے ٹکڑے ٹکڑے کرا کے ختم نبوت کا تحفظ کیا انہیں دہکتی آگ میں ڈالا گیا مگر ان کے پایہ ثبات میں لغزش نہ آئی۔ مسلمانو! صحابہ کا نام لینے والو! عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ کے لئے یہ دور پھر صحابہ کرام کی قربانیوں کا متقاضی ہے، انہوں نے کہا بہت ظالم اور جابر حکمران آئے اور گئے مگر بحمد اللہ امت نے سرور دو عالم ﷺ کی ختم نبوت پر حرف نہیں آنے دیا اور نہ ہی آئندہ کسی شیطان کا یہ خواب

صفحہ ۵۱۴

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۷ء ترتیب وتحقیق : حضرت مولانا اللہ وسایا

شرمندہ تعبیر ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ قیامت تک ختم نبوت کا دفاع جاری رہے گا۔

مولانا محمد اکرم طوفانی صاحب نے ناموس رسالت کے قانون پر سختی سے عملدرآمد کو ہی پاکستان کی فلاح و کامیابی قرار دیا۔ انہوں نے کہا ناموس رسالت کا مسئلہ کروڑوں کہوٹہ پلانٹوں سے زیادہ حساس اور اہم ہے ناموس رسالت کا تحفظ کر لو کوئی مائی کا لال پاکستان کی طرف میلی آنکھ سے نہ دیکھ سکے گا ملک عزیز کا بچہ بچہ دفاع وطن کے لئے جانوں کے نذرانے لئے کھڑا ہو گا مگر ناموس رسالت کے قانون میں نرمی یا ترمیم کی سوچ خود پاکستان اور حکومتوں کے لئے زہر قاتل ثابت ہو گی ۔ انہوں نے کہا امتناع قادیانیت آرڈی نینس پر بھی سختی سے عملدرآمد کیا جائے اور قانونی غداروں کو سخت ترین سزائیں دی جائیں۔

مولانا منظور احمد چنیوٹی نے دنیا بھر میں مرزائیوں کے تعاقب کی تاریخ بیان کرتے ہوئے کہا کہ اب قادیانی مرزا قادیانی کو نبی کے طور پر متعارف نہیں کرواتے بلکہ مرزا طاہر نے تو اب مرزا قادیانی کی کئی بنیادی باتوں سے انکار کر دیا ہے اور یہ دنیا بھر میں ان کے کامیاب تعاقب کی دلیل ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب تک مرزائیت صفحہ ہستی سے مٹ نہیں جاتی ہماری تحریک جاری رہے گی۔

بعد نماز عصر خطیب اسلام حضرت مولانا محمد اجمل خان صاحب نے انتہائی درد دل سے گفتگو کا آغاز کرتے ہوئے کہا کہ آج وقت تقریر کا نہیں تدبیر کا ہے۔ مرزائیت کا حل گفتار میں نہیں تلوار میں ہے اور مرزائی فتنہ کے خلاف تلوار سے کام لینا موجودہ حکومت کے بس کی بات نہیں ، یہ نصیبا طالبان کا ہے۔

مولانا محمد اجمل خان نے واضح کیا کہ اسلامی ریاست میں ارتداد اور پھر دنیا کے بدترین زندقہ مرزائیت ہرگز برداشت نہیں کیا جاسکتا مگر ہمارے حکمران ہمارے ملک کو اسلامی جمہوریہ پاکستان بھی کہتے ہیں اور مرزائیوں کو تحفظ بھی فراہم کرتے ہیں انہوں نے کہا کہ یہ الٹی گنگا کب تک بہہ سکتی ہے؟

انہوں نے کہا کہ جو جذبہ قیام پاکستان کے وقت مسلمانوں کے سینوں میں موجزن تھا اور ”لااله الا الله محمد رسول الله“ کی روح قیام پاکستان کا سبب بنی ۔ آج گولڈن جوبلی کے موقع پر پھر وہی جذبات دو آتشہ ہو کر عوام کے سینوں میں مچل رہے ہیں کل قیام پاکستان کے لئے علماء کرام نے ساتھ دیا تھا تو آج تکمیل پاکستان کے لئے تمہیں علماء کا ساتھ دینا چاہئے کیونکہ گزشتہ پچاس سال تمہاری ناکامی کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔ انہوں نے حکمرانوں سے کہا کہ علماء کا ساتھ دو ہم تمہیں پاکستان کو صحیح معنوں میں پاکستان بنا کر دیں جس میں اللہ کے احکامات اللہ کی مخلوق پر نافذ کر کے صحیح معنوں میں امن اور سلامتی ہو گی اور کوئی فتنہ و شر باقی نہ ہوگا۔ اذان مغرب پر ان کی تقریر کا اختتام ہوا۔

بعد نماز مغرب مولانا فضل الرحمن خلیل نے خطاب شروع کیا۔ انہوں نے کہا مرزا قادیانی کو انگریز نے کھڑا ہی اس لئے کیا تھا کہ مسلمان قوم سے ”جہاد“ کو ختم کیا جائے۔ ساری زندگی اس نے جہاد کے حرام ہونے کا اور انگریز کی اطاعت کی تبلیغ کی۔ مرزا قادیانی نے کہا تھا۔

چھوڑ دو دوستو جہاد کا خیال دین میں حرام ہے اب جنگ اور قتال

مولانا فضل الرحمن خلیل نے کہا کہ ہماری بدقسمتی کہ مرزا قادیانی کے یہ خیالات امت میں زہر کی طرح سرائت کر گئے جو جھنڈیاں پہلے بالاکوٹ اور شاملی کے میدانوں میں نظر آتی تھیں اب قبروں پر نظر آنے لگیں ہیں۔ میدان جنگ میں پڑھے جانے والے رزمیہ ترانوں کی جگہ قوالیوں نے لے لی اور یوں انگریز بدبخت مرزا قادیانی کے ذریعے کسی حد تک اپنے مشن میں کامیاب ہو گیا۔

صفحہ ۵۱۵

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۷ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

انہوں نے کہا مرزائیت کا مسئلہ مذہبی مسئلہ نہیں یہ خالص سیاسی تحریک ہے، اور اس کے تمام تر مقاصد سیاسی ہیں مگر جب سے امت نے مرزائیت کا تعاقب جاری کیا ہے اور عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت حضرت مولانا خواجہ خان محمد صاحب دامت برکاتہم کی امارت میں ملکوں ملک جا کر اسے ناکوں چنے چبوا رہی ہے مرزائی فتنہ اپنے منطقی انجام کو پہنچ رہا ہے۔ مولانا فضل الرحمن خلیل نے کہا ترکی کی خلافت اسلامیہ کے ختم ہونے اور جہاد کو حرام قرار دینے پر ہمیشہ مرزائی ذریت جشن مناتی رہی لیکن بحمد اللہ جب سے دوبارہ امت نے جہاد اور قتال کا راستہ اختیار کیا ہے اور عملاً مرزائیت کی روح پر ضرب کاری لگائی ہے۔ اللہ کریم نے اپنے فضل و کرم سے افغانستان میں دوبارہ خلافت عطا کر دی ہے اور دنیا بھر میں دوبارہ جہاد جاری ہو گیا ہے اب امریکہ کی وزیر خارجہ افغانستان آئی تو امیر المومنین نے حکم دیا کہ باپردہ ہو کر سرزمین افغانستان پر قدم رکھنا چنانچہ وہ برقعہ اوڑھ کر جہاز سے باہر آئی۔ جہاد کی برکت دیکھو دنیا کی واحد سپر پاور کی وزیر خارجہ پر اسلامی احکام کی تنفیذ عملاً کر کے دکھا دی۔

عشاء کی اذان سے کچھ پہلے آپ کی دعا سے اس عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس کا اختتام ہوا۔ شرکاء مجلس نے چند قراردادیں بھی منظور کیں۔

مقدمات چل رہے تھے دوران مقدمہ گزشتہ دور حکومت میں بیرون ملک جاچکے ہیں۔ اس بات کی تحقیقات کرائی جائیں کہ دوران مقدمہ وہ کیونکر اور کیسے بیرون ملک جاسکے اس سازش میں ملوث سرکاری و غیر سرکاری افراد کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے۔

(ماہنامہ لولاک ملتان اکتوبر ۱۹۹۷ء ص ۲۱ تا ۲۳)

ضلع مانسہرہ کا تبلیغی دورہ

ختم نبوت یوتھ فورس ضلع مانسہرہ کے زیر اہتمام عظیم الشان کانفرنس ہائے ختم نبوت کے انعقاد سے مانسہرہ کے قادیانیوں کی نیندیں اڑگئیں۔ ضلع مانسہرہ کے در و دیوار اور روز و شب تاج و تخت ختم نبوت زندہ باد اور تاجدار ختم نبوت زندہ باد کے نعروں سے گونج اٹھے۔

عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان کے مرکزی امیر امام العصر، قائد مجاہدین ختم نبوت حضرت مولانا خواجہ خان محمد صاحب دامت برکاتہم العالیہ کے ہفت روزہ دورہ مانسہرہ کے موقع پر تحفظ ختم نبوت یوتھ فورس ضلع مانسہرہ نے خصوصی پروگرام ترتیب دیئے۔

نوکوٹ ختم نبوت کانفرنس

حضرت مولانا خواجہ خان محمد صاحب ۲۲؍ستمبر ۱۹۹۷ء کو مانسہرہ پہنچے۔ ۲۲، ۲۳ اور ۲۴؍ستمبر ۱۹۹۷ء کو حضرت اقدس کے مریدین مختلف علاقوں میں اور مقامات پر اصلاح و ارشاد کی محافل سجاتے رہے ہیں اور قلب و نظر منور ہوتے رہے ۔ جب کہ پہلا عام اجتماع جمعرات ۲۵؍ستمبر ۱۹۹۷ء کو بعد از نماز عشاء نوکوٹ میں انعقاد پذیر ہوا۔ حضرت اقدس کی صدارت میں شاہین ختم نبوت ، حضرت مولانا اللہ وسایا صاحب مدظلہ العالی کا ایمان افروز اور وجد آفرین خطاب ہوا۔

صفحہ ۵۱۶

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۷ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

مرکزی جامع مسجد مانسہرہ میں ختم نبوت کانفرنس

جمعہ ۲۶؍ستمبر ۱۹۹۷ء کو مرکزی جامع مسجد مانسہرہ میں عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس کا اعلان کیا گیا تھا۔ جب حضرت مولانا خواجہ خان محمد صاحب اور شاہین ختم نبوت مولانا اللہ وسایا صاحب جامع مسجد میں پہنچے تو عوام الناس اور بالخصوص مجاہدین ختم نبوت کا جوش وخروش قابل دید اور ناقابل فراموش تھا۔ طلباء علماء جوق در جوق مرکزی جامع مسجد کی طرف فرط عقیدت اور عزم مسلسل کے ساتھ رواں دواں تھے۔ جسے دیکھو سینے پر ختم نبوت کا بیج لگائے نگاہوں میں عقابی روح لئے بڑھے جارہا تھا۔ شاہین صفت مقرر مولانا اللہ وسایا صاحب کے ولولہ انگیز خطاب سے وسیع وعریض جامع مسجد کے درودیوار گونجنے لگے، ہزاروں کا مجمع، دلوں میں عشق رسالت کے ٹھاٹھیں مارتے سمندر، نگاہوں کی چمک اور ماسوا اک کفر شکن صدا کے ہر سو ایک ہو کا عالم ۔ لوگوں کے سروں پر گویا پرندے بیٹھے ہوں۔ مولانا اللہ وسایا صاحب، دنیا کے بدترین کفر قادیانیت کی سیاہ تاریخ، سیاسی عزائم ، ارتدادی تحریک اور ملک دشمنی اس انداز سے بیان کر رہے تھے کہ پانچ سالہ بچے سے لے کر اسی سالہ بزرگ تک ہر کوئی مرزائی فتنہ کی سرکوبی کے لئے عملاً تیار تھا مگر مولانا اللہ وسایا صاحب نے دوران تقریر فرمایا تحریکیں یوں نہیں چلا کرتیں ان کے لئے ازخود مواد تیار ہوا کرتا ہے قادیانی دنیا بھر میں بالخصوص پاکستان میں یہ فضا تیار کر رہے ہیں اور اب قادیانیت کے خلاف جو تحریک چلے گی وہ انشاء اللہ قادیانیت کے خاتمہ کی تحریک ہوگی اور میرے اللہ نے چاہا تو اس تحریک میں قادیانی اتنی دیر میں مٹے گی جتنی دیر میں کوئی اپنی مونچھوں پر ہاتھ پھیرتا ہے، انہوں نے کہا کہ ۱۹۷۴ء کی تحریک ختم نبوت میں پوری تحریک کی قیادت مولانا محمد یوسف بنوری نے فرمائی ان کا تعلق صوبہ سرحد سے تھا قومی اسمبلی میں اس تحریک کی قیادت مولانا مفتی محمود نے کی ان کا تعلق بھی آپ کے سرحد سے تھا۔ مولانا غلام غوث ہزاروی نے بھی قومی اسمبلی میں بھر پور کردار ادا کیا تھا۔ ان کا تعلق بھی آپ کے علاقہ سے تھا صوبہ سرحد والو قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دلوانے میں تمہارا بہت بڑا ہاتھ ہے اب قادیانیت کے خاتمہ کی تحریک میں بھی تمہیں فرنٹ آنا چاہئے ۔ ہزاروں کے مجمع سے بھر پور بیک زبان آواز اٹھی ۔ ان شاء اللہ !

جمعہ کی نماز کے بعد محفل سوال و جواب ہوئی اب بھی وسیع وعریض ہال کھچا کھچ بھرا ہوا تھا۔ مولانا اللہ وسایا صاحب نے قادیانیت سے متعلق سوالات کے تسلی بخش جوابات دیئے آخر میں حضرت اقدس مولانا خواجہ خان محمد صاحب دامت برکاتہم کی دعا سے یہ کانفرنس اختتام پذیر ہوئی۔

ختم نبوت کانفرنس داتہ

۲۶؍ستمبر ۱۹۹۷ء عشاء کی نماز کے بعد مرکزی جامع مسجد غوثیہ داتہ میں ختم نبوت کانفرنس منعقد ہونا تھی۔ عصر کی نماز کے بعد یہ قافلہ مانسہرہ سے مولانا خواجہ خان محمد صاحب دامت برکاتہم کی سربراہی میں داتہ کی طرف روانہ ہوا۔

مغرب کی نماز کے بعد دعوت طعام سے فراغت حاصل کی گئی ۔ داتہ کی فضاؤں میں اذان عشاء کی گونج سے مجاہدین ختم نبوت نے مرکزی جامع مسجد داتہ کا رخ کیا یہ وہی داتہ ہے جسے کبھی ربوہ ثانی کہا جاتا تھا جہاں مسلمانوں کے قبرستان میں قادیانی مردے ’’رضی اللہ عنہ‘‘ کے الفاظ کے ساتھ دفن تھے جب داتہ میں ختم نبوت یوتھ فورس کا قیام عمل میں آیا اور ختم نبوت کانفرنسوں کا سلسلہ شروع ہوا تو ان قادیانیوں کی قبروں سے ان کی تختیاں اتار لی گئیں۔ ڈش انٹینے ٹوٹے۔ مقدمات بنے مکمل بائیکاٹ کیا گیا اب صرف چند قادیانی گھرانے داتہ کی سر زمین پر سسک رہے ہیں۔

صفحہ ۵۱۷

تحریک ختم نبوت جلد(۶) ۱۹۹۷ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

عشاء کی نماز کے بعد کانفرنس کا آغاز تلاوت قرآن مجید اور نعت رسول مقبول ﷺ کے بعد مولانا اللہ وسایا صاحب کا خطاب شروع ہوا تو اہلیان داتہ نے اپنے اس محسن اور مربی کا رشک بھری نگاہوں اور ہمہ تن مجسم عشق بن کر استقبال کیا۔ آپ کا ایک ایک لفظ داتہ کے غیور عوام عمل کی نیت سے سن رہے تھے شاید آپ کے یہی الفاظ داتہ کے قادیانیوں کے لئے تیر ثابت ہوں گے مولانا اللہ وسایا صاحب نے کہا وہ دن ہوا ہوئے جب قادیانی ربوہ میں بیٹھ کر پاکستان کو قادیانی سٹیٹ بنانے کے منصوبے بنایا کرتے تھے آج قادیانی خلیفہ دیار غیر میں سر چھپاتا پھرتا ہے اور وہ دن دور نہیں جب پوری کائنات میں تلاش کرنے کے باوجود ایک قادیانی نظر نہیں آئے گا۔ مسلمانو! ہمت کرو ان فتوحات کو حاصل کرنے میں اپنا اپنا حصہ ڈالو تا کہ کل قیامت کے دن محمد عربی ﷺ کے روبرو سرخرو ہوں۔ رات گئے یہ کانفرنس ختم ہو گئی۔

مانسہرہ میں انعام گھر

۲۷؍ستمبر ۱۹۹۷ء کو گورنمنٹ ہائی سکول نمبر ۳ مانسہرہ کے گراؤنڈ میں انعام گھر کا پروگرام ترتیب دیا گیا تھا۔ حضرت مولانا خواجہ خان محمد صاحب، مولانا اللہ وسایا صاحب کے علاوہ ضلع مانسہرہ کی پوری دینی قیادت اس موقع پر جمع تھی۔ کشادہ سٹیج، انعامات کی کثرت سے تنگ پڑ گیا۔ ضلع بھر کے سرکاری اور پرائیویٹ سکولوں کے بچے اس انعام گھر کے مہمانان خصوصی اور مقصد و مطلوب تھے۔ ہزاروں بچے تحفظ ختم نبوت اور قادیانیت کے ”لٹل سکالرز“ مبلغ و دانش ور کی صلاحیتوں سے بہرہ ور اس پروگرام میں موجود تھے۔ تلاوت قرآن مجید اور نعت شریف کے بعد پروگرام کا باقاعدہ آغاز ہوا۔ تحفظ ختم نبوت اور رد قادیانیت کے موضوع پر سوالات اور جوابات کا سلسلہ شروع ہوا تو بڑوں بڑوں کی گردنیں جھک گئیں بچے جس اعتماد اور لیاقت کے ساتھ درست جوابات دے رہے تھے وہ بعض مدارس کے فارغ التحصیل علماء کے بس کا روگ نہ تھا۔ مولانا خواجہ خان محمد صاحب یہ منظر دیکھ کر بہت مسرور ہورہے تھے اور مجاہدین ختم نبوت کے لئے آپ کی یہ خوشی ہی اصل انعام تھا۔ کتاب شعور ختم نبوت میں ساڑھے تین سو کے قریب سوال و جواب ہیں ہزاروں کی تعداد میں یہ کتاب سکولوں میں مفت تقسیم کی گئی اور آج سوالات بھی اسی کتاب سے کئے جارہے تھے اکثر بچوں کو یہ کتاب زبانی ازبر تھی۔ ایک موقع پر اعلان کیا گیا کہ ایسے بچے سٹیج پر آئیں جو اس کتاب میں سے کسی بھی جگہ سے پوچھے جانے والے سوال کا جواب دے سکیں ان کے لئے انعام ہے۔ کئی بچے دوڑنے لگے مگر صرف ایک ہی بچے سے سوال پوچھنا تھا باقیوں کو واپس جانا پڑا۔ اس بچے سے کئی سوال پوچھے گئے اس نے درست جواب دے کر انعام جیتا اور ایک بھی غلطی نہیں کی مگر ایک اور بچہ پھر سٹیج پر آگیا اور پروگرام کے کمپیئر عبدالرؤف روفی نے اس سے کہا کہ آپ دس سوالوں کے جواب دیں انعام آپ کا۔ ان کا خیال تھا کہ بچہ جیسے پہلے بچے کی طرح ہی پانچ سوالوں پر انعام جیتنے کے لئے کہے گا، مگر اس بچے نے پانچ کی جگہ دس سوالوں کے چیلنج کو تسلیم کر لیا۔ کمپیئر نے دس کی جگہ سوالوں کی تعداد بیس کر کے پوچھا تو اس نے یہ چیلنج بھی قبول کر لیا۔ کمپیئر نے پچاس سوال کرنے کو کہا تو اس بچے نے کہا کہ یہ بھی منظور ہے۔ کمپیئر نے کہا اچھا سو سوالوں پر انعام ہے تو بچے نے کہا آپ سوال پوچھیں۔ کمپیئر نے کہا ساری کتاب پوچھ کر انعام ملے گا تو کیا آپ اس کے لئے تیار ہیں تو بچے نے کہا آپ سوال تو پوچھیں۔ کمپیئر نے ہار مانتے ہوئے کہا ہمارے پاس اتنا وقت نہیں ہے آپ کو بن سوال پوچھے انعام دیا جاتا ہے۔

پندرہ سال کے کم عمر بچوں کی رد قادیانیت پر اس قدر تیاری اور جذبہ صرف اور صرف آنکھوں ہی سے دیکھا جا سکتا تھا۔ ساڑھے چھ گھنٹے مسلسل یہ پروگرام جاری رہا۔ اس کے باوجود کسی طرح کی تھکاوٹ اور بوریت نہ ہوئی تنگی وقت اور جذبہ مسلسل کے باعث تحفظ ختم نبوت یوتھ فورس ضلع مانسہرہ کو تین ماہ کے اندر اندر دوبارہ انعام گھر کرنے کا اعلان کرنا پڑا۔

صفحہ ۵۱۸

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۷ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

ختم نبوت کانفرنس ڈھوڈیال

دوران پروگرام حضرت مولانا خواجہ خان محمد صاحب اور مولانا اللہ وسایا صاحب کو جلسوں میں شرکت کے لئے جانا پڑا۔ ایک جلسہ جامع مسجد ڈھوڈیال میں قبل از ظہر منعقد ہوا۔ عقیدہ ختم نبوت اور اسلام کی سربلندی کے موضوع پر مولانا اللہ وسایا صاحب کا خطاب ہوا، حضرت اقدس نے دعا فرمائی۔

ختم نبوت کانفرنس جبوڑی

بعد از نماز ظہر ہزارہ عظیم علمی اور سیاسی شخصیت مولانا غلام نبی شاہ صاحب کے مدرسہ سراج العلوم جبوڑی میں ختم نبوت پر مولانا اللہ وسایا صاحب کا خطاب ہوا دور افتادہ علاقوں میں قائدین ختم نبوت کے یہ دورے اس بات کا غماز ہیں کہ قادیانیت کے خلاف چلنے والی آخری تحریک چند دنوں کی بات ہے۔ جوں جوں قادیانیت کی جارحیت بڑھ رہی ہے غیر مرئی طور پر تحریک ختم نبوت بھی رفتار پکڑ رہی ہے اور جلسوں اور کانفرنسوں میں بڑی بڑی حاضریاں ہورہی ہیں۔

بفہ میں مولانا غلام غوث ہزاروی کانفرنس

۲۷ ستمبر ۱۹۹۷ء بعد از عشاء بفہ میں مولانا غلام غوث ہزاروی کانفرنس انعقاد پذیر ہوئی حضرت مولانا خواجہ خان محمد صاحب کی صدارت میں بفہ کی دینی قیادت نے مولانا غلام غوث ہزاروی کو خراج تحسین پیش کیا اور مولانا مرحوم کی عقیدہ ختم نبوت کی لگن اور خدمات کو اجاگر کیا گیا اور مرحوم کے مشن کو آگے بڑھانے کے لئے ہر قربانی پیش کرنے کے عزم کا اعادہ کیا۔

مولانا اللہ وسایا صاحب نے ہزارہ ڈویژن میں قادیانیوں کی بڑھتی ہوئی سرگرمیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہ سب کچھ قادیانی اس لئے کررہے ہیں کہ آج ان کی راہ میں کوئی غلام غوث نہیں۔ مگر انہوں نے کہا کہ ختم نبوت کے یہ ابابیل اور ہزارہ کے غیور عوام کبھی بھی ان کے عزائم پورے نہیں ہونے دیں گے ہم اہلیان ہزارہ سے توقع رکھتے ہیں کہ قادیانی فتنہ کے تابوت میں آخری کیل آپ ہی ٹھونکیں گے اور قادیانیوں کو خاک بسر ہزارہ بدر کرنے میں تاخیر نہ ہونے دیں گے۔ حضرت اقدس کی دعا پر رات گئے یہ کانفرنس اختتام پذیر ہوئی۔ رات بارہ بجے حضرت اقدس مولانا خواجہ خان محمد صاحب اپنے خدام کے ہمراہ ہری پور تشریف لے گئے۔

شہدائے بالاکوٹ کانفرنس

اسی رات سوا آٹھ بجے قطب الاقطاب، امام الخطاطین شیخ طریقت حضرت شاہ نفیس الحسینی دامت برکاتہم مانسہرہ تشریف لائے۔ دوسرے روز ۲۸ ستمبر ۱۹۹۷ء بروز اتوار صبح ۹ بجے ڈسٹرکٹ کونسل ہال مانسہرہ میں تحفظ ختم نبوت یوتھ فورس کے زیر اہتمام ”شہدائے بالاکوٹ سیمینار“ منعقد ہوا۔ جس کی صدارت حضرت سید نفیس الحسینی شاہ صاحب نے فرمائی۔ اس شہدائے بالاکوٹ سیمینار کی خاص بات یہ تھی کہ اس میں عام تقاریر کی بجائے مقالے پیش کئے گئے۔ علمی اور تحقیقی انداز میں ۱۶۷ سال میں پہلی بار یوں شہدائے بالاکوٹ کو نذرانہ عقیدت پیش کیا گیا۔ مولانا اللہ وسایا صاحب کے علاوہ آج بھی ضلع بھر کی دینی قیادت مجتمع تھی اور ہال اپنی وسعتوں کے باوجود کم پڑ گیا تھا۔ بارہ بجے کے بعد حضرت شاہ نفیس الحسینی صاحب کی دعا کے ساتھ پروگرام ختم ہوا۔ کھانے اور ظہر کے بعد یہ کارواں حضرت شاہ نفیس الحسینی صاحب کی قیادت میں شہدائے بالاکوٹ کے مزارات کی زیارت کے لئے بالاکوٹ روانہ ہوا۔

صفحہ ۵۱۹

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۷ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

بالاکوٹ پہنچنے پر شدید بارش نے کارواں کا استقبال کیا۔ اسی بارش میں کہیں ٹھہرے بغیر حضرت نفیس الحسینی شاہ صاحب کے حکم پر سید اسماعیل شہید کے مزار پر حاضری ہوئی۔ بارش ، ٹھنڈا دریا اور پہاڑوں کے چوٹیوں سے اوپر گرجتے ہوئے بادلوں نے حضرت نفیس شاہ صاحب کی معیت میں حضرت شاہ اسماعیل شہید اور حضرت سید احمد شہید کے مزارات پر حاضری کو یادگار بنا دیا۔ عصر کی نماز کے بعد مرکزی جامع مسجد بالاکوٹ میں حضرت نفیس شاہ صاحب کی صدارت میں حضرت مولانا اللہ وسایا صاحب نے ختم نبوت پر مختصر خطاب کیا۔ بابا طالب نے آنحضورﷺ کی شان میں حضرت نفیس شاہ صاحب کی یادگار اور مشہور نعت ”تجھ سا کوئی نہیں“ سنائی۔

واپسی پر مغرب کی نماز گڑھی حبیب اللہ میں ادا کی گئی اور عشاء کے قریب یہ قافلہ مانسہرہ واپس آیا۔ دوسرے روز صبح ۲۹ / ستمبر ۱۹۹۷ء کو مہمان علماء کرام کو مانسہرہ سے رخصت کیا گیا۔

(ماہنامہ لولاک ملتان نومبر ۱۹۹۷ء ص ۳۴ تا ۳۸)

سولہویں سالانہ ختم نبوت کانفرنس چناب نگر (ربوہ)

انگریز ایسٹ انڈیا کمپنی کے بہانے برصغیر پاک و ہند میں آیا اور ساڑھے سات سو سال تک پورے کروفر کے ساتھ قائم مسلمان حکومت کو تاخت و تاراج کر دیا اور اپنے اقتدار کو مضبوط کرنے کے لئے مسلمانوں کو جذبہ جہاد سے عاری کرنے کی تدبیریں سوچیں بالآخر اس نے اپنے مذموم مقاصد کی تکمیل کے لئے قادیان ضلع گورداسپور کے ایک دہقان زادے مرزا غلام احمد سے نبوت کا دعویٰ کروایا جس نے اپنے آقا انگریز کی خوشنودی کے لئے اللہ رب العزت کے آخری پیغمبر حضرت محمدﷺ سے غداری کی اور مسلمانوں کے جذبہ جہاد کو مفقود کرنے کے لئے اپنے شب و روز اکارت کئے۔

مرزا قادیانی آنجہانی ہوا تو اس کی ذریت نے انگریز کے پیسے کی پرواز سے شیطانی مشن کو جاری رکھا مسلمانوں نے مرزا کی زندگی میں بھی اس کا مقابلہ کیا اور اس کے بعد اس کی معنوی ذریت سے بھی اپنی بے سروسامانی کے باوجود ڈٹ کر مقابلہ کیا۔ مرزائی قادیان میں تھے تو امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاری اور آپ کے رفقاء مولانا محمد حیات ، مولانا محمد عنایت اللہ چشتی ، ماسٹر تاج الدین انصاری اور چوہدری افضل حق قادیان میں ان کا مقابلہ کرتے رہے۔ یہاں تک کہ ۱۹۴۷ء میں ملک عزیز پاکستان دنیا کے نقشے پر نمودار ہوا، مرزائی جماعت کا لیڈر مرزا بشیر الدین محمود برقعہ اوڑھ کر قادیان سے لاہور آیا اور انگریز گورنر موڈی سے ایک آنہ مرلہ کے بدلے چنیوٹ کے قریب دریائے چناب کے کنارے ہزار ایکڑ زمین نوے سالہ لیز پر لے کر دجل و فریب اور ارتداد و کفر کا نیا مرکز بنایا جو خالصتاً قادیانی اسٹیٹ کی حیثیت رکھتا تھا۔

ایک وہ وقت تھا کہ امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاری فرمایا کرتے تھے کہ ”کاش! مجھے ربوہ میں ایک مرلہ زمین مل جائے جس پر کھڑے ہو کر میں قادیانیوں کو اللہ کا قرآن اور نبیﷺ کا فرمان سنا سکوں۔“

آپ کی یہ حسرت و آرزو اگرچہ آپ کی زندگی میں پوری نہ ہوسکی لیکن آپ کے نائب اور جماعت کے پانچویں امیر شیخ الاسلام حضرت مولانا محمد یوسف بنوری کے دور امارت میں ۱۹۷۴ء کی تاریخ ساز تحریک کے بعد ربوہ کو کھلا شہر قرار دیا گیا۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے رہنماؤں کے حکم پر مولانا خدا بخش شجاع آبادی ریذیڈنٹ مجسٹریٹ کی عدالت کے تھڑے پر اذان دیتے اور نماز پڑھاتے رہے یہاں تک کہ ربوہ ریلوے اسٹیشن سے ملحق ریلوے کی زمین پر مسجد بنانے کی اجازت ملی۔ بفضلہ تعالیٰ اسٹیشن کے پلیٹ فارم سے ملحق ”جامع مسجد محمدی“ مجلس نے تعمیر کی اور یوں نماز جمعہ وعیدین کے لئے جامع مسجد مل گئی۔

صفحہ ۵۲۰

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۷ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

حضرت امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاری اور آپ کے رفقاء کی آہوں اور سسکیوں کو اللہ رب العزت نے شرف قبولیت بخشا، دریائے چناب کے کنارے محکمہ ہاؤسنگ نے ”مسلم کالونی“ کے نام سے ہاؤسنگ اسکیم شروع کی جس میں نو کنال پر مشتمل ایک قطعہ اراضی مسجد کے لئے مختص کیا گیا۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی درخواست پر یہ قطعہ اراضی عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے نام الاٹ کر دیا گیا ایک چھوٹی سی مسجد بنائی گئی اور دو کمروں پر مشتمل ایک مکان تعمیر کیا گیا۔ فاتح قادیان حضرت مولانا محمد حیات جو چودہ سال تک قادیان میں رہ کر قادیانیت کا مقابلہ کرتے رہے ان کی پرزور خواہش پر انہیں ”مرکز ختم نبوت مسلم کالونی“ کا انچارج مقرر کیا گیا۔ بعد ازاں ایک انتہائی خوبصورت مسجد اور شمالی اور مشرقی سائیڈ میں کمرے تعمیر کئے گئے اور ایک عظیم الشان ”سید عطاء اللہ شاہ بخاری لائبریری“ کا قیام عمل میں لایا گیا۔ امسال شمالی مشرقی سائیڈ ڈبل سٹوری بنا دی گئی ہے۔ ۱۹۸۱ء میں یہاں پہلی آل پاکستان سالانہ ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی تھی اور امسال عظیم الشان سولہویں سالانہ ختم نبوت کانفرنس اس کا تسلسل ہے۔ یکم؍ اکتوبر ۱۹۹۷ء سے سولہویں ختم نبوت کانفرنس ربوہ میں شمولیت حاصل کرنے کے لئے حسب سابق شمع ختم نبوت کے پروانے قافلہ در قافلہ کارواں در کارواں اپنی منزل طے کرتے ہوئے قادیانیوں کی ڈوبتی ہوئی تقدیر کے تعاقب میں مغرب کی معمور ظلمت وادیوں میں غیض و غضب یوں جھانک رہا تھا کہ اس کے جلال رخ انور سے شفق کی دیواریں سرخ ہو گئی تھیں۔ مجاہدین ختم نبوت کے ہر قافلے میں ہر عمر کے اور ہر پیشے کے احباب شامل تھے۔ دس دس گیارہ گیارہ سال کی عمر کے بچے معوذ اور معاذ کی سنت ادا کرنے کانفرنس میں شرکت کے لئے رواں دواں تھے، ایک مزدور سے لے کر ایک تاجر تک، طلبہ و اساتذہ اور مختلف محکموں کے ملازمین غرض ہر طبقہ کے لوگ رسول آخرین محمد عربی ﷺ سے اپنی سچی محبت کا ثبوت پیش کرنے آئے تھے۔ پنجاب، سرحد، سندھ، بلوچستان، کشمیر اور پاکستان کے کونے کونے سے آنے والے قافلوں کے لئے مرکز ختم نبوت مدرسہ و جامع مسجد ختم نبوت کی جنوب میں ایک بہت بڑے پنڈال میں خیموں کی قطاریں موجود تھیں، ہر علاقہ سے آنے والے مہمانوں کے لئے ایک حلقہ بندی تھی۔ موٹر کاروں، بسوں، ویگنوں اور موٹر سائیکلوں کے لئے الگ اسٹینڈ بنا دیا گیا تھا۔ ہر آنے والا قافلہ میں موجود لوگ عجیب کیف و مستی میں ڈوبے ہوئے تھے، نعروں کی گونج سے دارالکفر ربوہ کے در و دیوار سہمے ہوئے تھے، نعرہ تکبیر اللہ اکبر، تاج و تخت ختم نبوت زندہ باد، مرزائیت مردہ باد کے فلک شگاف نعرے دریائے چناب کے کناروں سے ٹکرا کر بازگشت پیدا کر رہے تھے، غرض حق شاداں و فرحاں تھا اور باطل سرنگوں تھا۔

پہلی نشست: یکم؍ اکتوبر ۱۹۹۷ء پہلی نشست کا باقاعدہ آغاز ساڑھے دس بجے ہوا، کرسی صدارت پر امیر مرکزیہ شیخ المشائخ حضرت مولانا خواجہ خان محمد مدظلہ، رونق افروز ہوئے، قاری محمد افضل (چنیوٹ) نے خوبصورت آواز میں تلاوت کلام پاک سے سامعین کو محظوظ کیا۔ اس کے بعد مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی نے اسٹیج سیکرٹری کے فرائض انجام دیتے ہوئے صوفی احمد بخش چشتی جھنگ کو ہدیہ نعت رسول مقبول ﷺ پیش کرنے کی دعوت دی۔ نعت پیش کی گئی، مجمع اب صحن مسجد، پنڈال، خیموں سے بڑھ کر دریائے چناب کے کنارے کی طرف کھلے میدان تک درختوں کی چھاؤں کے نیچے تک ہمہ تن گوش ہو گیا، اتنے میں یادگار اسلاف ناظم اعلیٰ حضرت مولانا عزیز الرحمن جالندھری نے اپنے مخصوص انداز میں افتتاحی تقریر کا آغاز فرمایا مختصر خطبہ مسنونہ کے بعد فتنہ قادیانیت کا آغاز اور عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی سو سالہ جدوجہد پر روشنی ڈالی، آپ نے فرمایا گزشتہ انبیاء کرام کا عرصہ نبوت پچیس، تیس سال ہوتا تھا لیکن حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کی نبوت کا عرصہ تا قیام قیامت ہے، قرآن و حدیث اور اجماع امت کی رو سے حضور اکرم ﷺ اللہ کے آخری پیغمبر ہیں۔ آپ ﷺ کے بعد نیا مدعی نبوت دائرہ اسلام سے خارج اور واجب القتل ہے۔ اتنے میں تقریباً بارہ ہزار انسانوں کا ٹھاٹھیں مارتا ہوا سمندر نعروں کی صدائیں بلند

صفحہ ۵۲۱

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۷ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

کرتا ہے۔ جو ربوہ کی در و دیوار کو ہلا دیتے ہیں۔ بعد ازاں آپ نے فرمایا علمائے حق بزدلی کی زندگی سے موت کو بہتر سمجھتے ہیں، علماء کا فیصلہ ہے کہ اسلام کا تحفظ یا آخرت کی سرخ روئی کے لئے جان دے دینا بہت بڑی سعادت ہے۔ فرمایا ایک مرزائی افسر ساہیوال سے اوکاڑہ آکر مرزائیت کی تبلیغ کرتا تھا بالآخر تنگ آکر ایک ماسٹر نے اسے قتل کر دیا۔ ہائیکورٹ تک مقدمہ چلا بالآخر جسٹس منیر نے کہا کہ قادیانی افسر کو اگر تبلیغ کا بھوت سوار نہ ہوتا تو قتل نہ کیا جاتا بہر حال مرزائی جو جہاں کہیں ہے وہ اپنے دجل و فریب کی تبلیغ کرتا ہے ہر مسلمان کا فرض ہے کہ جو جہاں کہیں ہے کسی بھی پیشہ سے تعلق رکھتا ہے وہ حضور اکرم ﷺ سے سچی محبت اور آپ ﷺ کی ختم نبوت کے تحفظ کی تبلیغ کرے۔

اس کے بعد حضرت مولانا محمد اکرم طوفانی صاحب کو دعوت خطاب دی گئی۔ آپ نے مختصر خطبہ پڑھا۔ نعروں کی گونج ، نعرہ تکبیر اللہ اکبر، تاج و تخت ختم نبوت زندہ باد، مرزائیت مردہ باد کے نعروں نے مجمع کا جوش وخروش دوبالا کر دیا۔ مولانا طوفانی نے ”واتقوافتنہ...... لا تصیبن الذین“ والی حدیث سے استدلال کرتے ہوئے فرمایا عذاب میں صرف فتنہ والے نہیں پکڑے جاتے بلکہ اہل فتن کے ساتھ سمجھوتہ کرنے والے بھی پکڑے جاتے ہیں۔ آپ نے فرمایا کفار پاکستان کے مسلمانوں کو مرتد بنانے کے لئے ڈھائی ارب ڈالر خرچ کر رہے ہیں، ان فتنوں کا مقابلہ کرنے کے لئے مسلمانوں کو گیارہ سو وولٹ کا کرنٹ پیدا کرنے کی ضرورت ہے مسلمانو! محمد رسول اللہ ﷺ سے سچی محبت کا ثبوت دو اس کے بعد فرمایا حضرت مولانا محمد علی جالندھری کا قول ہے کہ مرزائی چاند پر بھی پہنچے تو ہم ان کا تعاقب جاری رکھیں گے۔ اس کی روشنی میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کفر کی سرزمین لندن میں پاکستان اور دوسرے ممالک کی طرح ختم نبوت سینٹر قائم کیا اور آج تقریباً آٹھ سو مساجد صرف دیو بندیوں کی وہاں موجود ہیں، تقریباً تین سو گرجے خرید کر مسلمانوں نے مساجد تعمیر کی ہیں، مسلمانو! آؤ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کا ساتھ دو حضور اکرم ﷺ کی ختم نبوت کا تحفظ کر کے سچی محبت نبوی کا ثبوت فراہم کرو۔ آپ نے نماز ظہر سے قبل دعائیہ الفاظ پر اپنی تقریر کو ختم کیا اس کے بعد نماز ظہر کے لئے اذان دی گئی، نماز باجماعت ادا کرنے کے بعد دوسری نشست کا آغاز ہوا۔

دوسری نشست: دوسری نشست کی صدارت جناب قاضی فیض احمد صاحب ٹوبہ ٹیک سنگھ نے فرمائی۔ تلاوت کلام پاک سے قاری محمد اسلم طاہر نے سامعین کو محظوظ کیا اور نعت جناب غلام یاسین نے پیش کی۔ پہلی تقریر جناب حضرت مولانا عبدالرحیم (لیہ) نے کی۔ اس کے بعد نعت محمد طاہر جھنگوی نے پیش کی۔ تقریر کے لئے جناب محمد اسلام انبالوی جن کا تعلق خاکسار تحریک سے ہے کو اسٹیج پر آنے کی دعوت دی گئی۔ اس کے بعد جناب مولانا غلام اکبر ثاقب (ڈیرہ غازی خان)، جناب مطیع اللہ نیازی کینیڈا، مفتی حبیب الرحمن درخواستی خانپور، صوفی سعید احمد قادری سانگلہ ہل، مولانا احمد میاں حمادی سندھ، حضرت مولانا محمد عبداللہ بھکر اور مولانا زاہد الراشدی گوجرانوالہ نے اپنی تقاریر سے اس عظیم اجتماع کے دلوں و دماغوں کو روشن کیا۔ علامہ احمد میاں حمادی نے قادیانیت کے دجل وفریب کا پردہ چاک کیا اور ان کی سندھ میں مذموم سرگرمیوں کے سد باب کے بارے میں لوگوں کو آگاہ کیا اور لوگوں میں اللہ کے آخری پیغمبر محمد رسول اللہ ﷺ سے سچی محبت کے جذبہ کو ابھارا اور آپ کی تقریر دعائیہ کلمات پر اختتام پذیر ہوئی۔

اس کے بعد مولانا محمد عبداللہ بھکر نے خطبہ مسنونہ کے بعد فرمایا مسئلہ ختم نبوت پر کام کرنے والے لوگوں کو ہمیشہ کامیابی ہوئی ہے۔ آج امریکہ پاکستان کے دین دار لوگوں کو ختم کروانا چاہتا ہے، لیکن ہم دشمنان اسلام کے ان مذموم عزائم کو قطعاً پورا نہیں ہونے دیں گے، تحفظ ناموس رسالت کے قانون کو ختم کرنے والوں کو یاد رکھنا چاہئے کہ ہم ماضی دہرائیں گے، دینی مدارس میں انبیاء کی وراثت تقسیم ہوتی ہے۔ ان کے خلاف اٹھنے والے ہاتھ نہیں رہیں گے اور دیکھنے والی آنکھ نہیں رہے گی۔ اس کے بعد جان نثاران ختم نبوت کے مجمع میں

صفحہ ۵۲۲

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۷ء

ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

مزید اضافہ ہوتا رہا اور اب مولانا حبیب الرحمن درخواستی صاحب کو دعوت خطاب دی گئی۔ مولانا موصوف نے فرمایا انگریز نے جذبہ جہاد کو مفقود کرنے کے لئے مرزا قادیانی کو کھڑا کیا تھا، علمائے حق نے اس کا بھرپور مقابلہ کیا، آج پھر انگریز کے پروردہ دینی مدارس کے نصاب سے کتاب الجہاد کو ختم کرنے کے لئے مذموم عزائم رکھتے ہیں۔ خدارا! علماء حق کو غنیمت جانیں اور دشمن کے ناپاک عزائم کو پورا نہ ہونے دیں، تمام علماء مل جل کر کام کریں۔ ہم امیر مرکزیہ مولانا خواجہ خان محمد دامت برکاتہم اور قائدین ختم نبوت کے حکم پر عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ کے لئے آخری دم تک حاضر ہیں۔

اے اقتدار والو! خدا نے تمہیں موقع دیا اسلام کا نظام نافذ کرو ہم تمہارا ساتھ دیں گے اور اگر مغربی آقاؤں کو خوش کرنے کی کوشش کی تو اس کا نتیجہ بہت برا نکلے گا۔ دعائیہ کلمات پر تقریر ختم ہوئی۔

اس کے بعد مولانا زاہد الراشدی صاحب کا تفصیلی خطاب ہوا، خطبہ مسنونہ کے بعد آپ نے فرمایا امریکہ بہادر کا یہ مطالبہ ہے کہ:

مجمع کو مخاطب کر کے مولانا موصوف نے کہا میں اس کا جواب عوام سے طلب کرتا ہوں، کیا امریکہ بہادر کے ان مذموم عزائم کو پورا ہونا چاہئے؟ اب پندرہ ہزار نفوس نے بیک زبان کہا کہ ہرگز نہیں پھر مولانا موصوف نے کہا موسیٰ علیہ السلام کے مقابلہ کے لئے جادوگر آئے تھے لیکن عصائے موسیٰ علیہ السلام کا مقابلہ فرعونی نہ کر سکے چند منٹوں کے وقفہ سے پہلے ایمان لانے والوں نے فرعون کی دھمکیوں کی پروا نہیں کی تھی، ایمان سے دست بردار نہیں ہوئے تھے۔ ہم بھی اپنے اسلام پر قائم ہیں اور انشاء اللہ رہیں گے۔ اس کے بعد نماز عصر کے لئے اذان دی گئی، نماز ادا کی گئی۔ بعد از نماز عصر سوال و جواب کی نشست ہوئی۔ نائب امیر مرکزیہ حکیم العصر حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی دامت برکاتہم نے مختصر خطبہ مسنونہ کے بعد فرمایا ”مرزائیو! مرزا قادیانی مر چکا ہے تم بھی مرو گے، سب اللہ کے سامنے جواب دو گے، مہدی علیہ الرضوان کا آنا برحق ہے حجر اسود کے قریب کعبہ بیت اللہ میں ان سے بیعت کی جائے گی، مرزا قادیانی نے تو حج بھی نہیں کیا۔ قادیانیو! تم اپنے کفر پر مت اڑو توبہ کر لو اور محمد رسول اللہ ﷺ کے دامن رحمت سے وابستہ ہو جاؤ۔“ اس کے بعد حضرت اقدس نے حیات ونزول عیسیٰ علیہ السلام پر مفصل بیان فرمایا اور اس موضوع پر لوگوں کے سوالات کے جوابات دیئے۔

تیسری نشست: تیسری نشست کا آغاز بعد از نماز عشاء شیخ المشائخ خواجہ خواجگان حضرت مولانا خان محمد دامت برکاتہم کی زیر صدارت ہوا، قاری نصیر احمد صاحب (چنیوٹ) نے خوبصورت آواز میں تلاوت کی، مولانا محمد اقبال پتوکی نے نعت پیش کی علاوہ ازیں جناب سید سلمان گیلانی نے بھی اپنے مخصوص انداز میں نعت پیش کی۔ تقاریر مولانا عبدالکریم ندیم، مولانا عبدالشکور نقشبندی چکوال، مولانا پیر سیف اللہ خالد لاہور، جناب لیاقت بلوچ جماعت اسلامی، مولانا امجد خان لاہور، حضرت مولانا اللہ وسایا صاحب، صاحبزادہ ابتسام الٰہی ظہیر، علامہ علی شیر حیدری، ڈاکٹر خالد محمود سومرو لاڑکانہ نے اپنی اپنی تقاریر سے اس عظیم اجتماع کو محظوظ کیا۔

صفحہ ۵۲۳

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۷ء

ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

چوتھی نشست: ۲/ اکتوبر ۱۹۹۷ء کانفرنس کے دوسرے روز جمعتہ المبارک فجر کی نماز کے بعد حضرت مولانا اللہ وسایا صاحب نے درسِ قرآن دیا۔ مسئلہ ختم نبوت، حیات ونزول عیسیٰ علیہ السلام، ظہور مہدی، خروج دجال پر روشنی ڈالی۔ چوتھی نشست کے باقاعدہ آغاز سے قبل شیخ المشائخ خواجہ خواجگان مولانا خان محمد مدظلہ کرسی صدارت پر رونق افروز ہوئے، قاری محمد یوسف عثمانی نے خوبصورت آواز میں تلاوت کلام پاک سے سامعین کے ایمان کو گرمایا۔ صوفی احمد بخش چشتی نے نعت پیش کی، جان نثاران ختم نبوت کے مزید قافلے اجتماع میں شریک ہوتے رہے۔ اتنے میں ربوہ کالج واسکول کے مسلمان طلباء کا ایک بڑا جلوس نعرۂ تکبیر اللہ اکبر، تاج وتخت ختم نبوت زندہ باد، امیر شریعت زندہ باد، مرزائیت مردہ باد کے نعرے لگاتا ہوا سامعین میں شریک ہوا۔

مولانا سعید احمد اسعد خوشاب کی تقریر کے بعد سید امین گیلانی نے نعت پیش کی بعد ازاں شیخ الحدیث مولانا عبدالمجید انور ساہیوال، مولانا منور حسین صدیقی لاہور، قاری محمد انور انصر سیالکوٹ، مولانا نذیر احمد تونسوی، مولانا محمد نذیر حیدر آباد، سید ممتاز الحسن گیلانی، قاری فیض الرحمن سرگودھا، پیر محمد اکرم اعوان امیر تنظیم الاخوان نے مسئلہ ختم نبوت، سیرت النبی ﷺ، حیات ونزول عیسیٰ علیہ السلام، ظہور مہدی و خروج دجال کے عنوانات پر مفصل تقاریر کیں۔ قبل از نماز جمعہ حضرت مولانا عزیز الرحمن جالندھری ناظم اعلیٰ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کا تفصیلی خطاب ہوا اور جمعہ کا خطبہ حضرت مولانا فضل الرحمن صاحب نے دیا۔ بعد از نماز جمعہ پانچویں نشست کا آغاز ہوا۔

پانچویں نشست: جناب مولانا محمد یعقوب برہانی صاحب نے اسٹیج سیکرٹری کے فرائض سرانجام دیتے ہوئے، حضرت مولانا خواجہ خان محمد مدظلہ کو کرسی صدارت پر رونق افروز ہونے کی دعوت دی۔ حضرت والا نے کرسی صدارت کو زینت بخشی۔ قاری مشتاق احمد قصور اور ڈاکٹر صولت نواز نے تلاوت کلام پاک سے سامعین کو محظوظ کیا۔ اس کے بعد سید مزمل شاہ صاحب نے تقریر کی۔ بعد ازاں جناب محمد اورنگ زیب اعوان مبلغ ختم نبوت اسلام آباد نے قراردادیں پیش کیں۔ بعد ازاں مولانا ضیاء الدین آزاد اور جناب اسلم چھیلا صاحب سابق ایم این اے، جناب شیخ جہانگیر سرور ایڈووکیٹ سرگودھا، الیاس مدنی صاحب سرگودھا، سید امیر حسین گیلانی اور حضرت مولانا فضل الرحمن صاحب نے تقاریر کیں اور بعد از نماز عصر حضرت امیر مرکزیہ حضرت مولانا خواجہ خان محمد مدظلہ کی رقت آمیز طویل دعا کے بعد سولہویں سالانہ ختم نبوت کانفرنس چناب نگر (ربوہ) اختتام پذیر ہوئی اور پاکستان کے کونے کونے سے آنے والے قافلے واپس ہوئے۔ تقریباً پندرہ ہزار جان نثاران ختم نبوت نہایت پرامن کانفرنس کی کارروائی میں حصہ لیتے رہے۔ کسی قسم کا کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش نہیں آیا۔ قادیانیوں کے مرکز میں مسلمانوں کے اس عظیم اجتماع نے یہ ثابت کر دیا کہ ہم تشدد پسند نہیں ہیں۔ ہم رسول آخرین محمد عربی ﷺ کے سچے پیروکار ہیں۔ ہم امن عامہ کے خلاف کوئی اقدام نہیں کرتے۔ ہم قادیانیوں اور دوسرے کفار کو پرامن طریقے سے دعوتِ اسلام دیتے ہیں۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت تمام علماء حق کا مشترکہ اسٹیج ہے۔ جس سے ہم تمام بنی نوع انسانوں کو اسلام میں پورے کا پورا داخل ہونے اور خاصہ کائنات حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کے دامن رحمت سے وابستہ ہونے کی دعوت دیتے ہیں۔ واعتصموا بحبل الله جمیعا ولا تفرقوا!

سولہویں سالانہ عالمی ختم نبوت کانفرنس کے انتظامات کے سلسلہ میں مبلغین ختم نبوت کے کانفرنس سے پہلے اور بعد میں چھ اجلاس ہوئے یاد رہے کہ کانفرنس کے آخری روز جمعتہ المبارک صبح نو بجے امیر مرکزیہ اور نائب امیر مرکزیہ کے انتخاب کے سلسلہ میں ہونے والے اجلاس میں امیر مرکزیہ حضرت مولانا خواجہ خان محمد دامت برکاتہم اور نائب امیر مرکزیہ حکیم العصر حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی کی امارت و قیادت پر تمام نمائندگان مجلس عمومی اور اراکین ختم نبوت نے اعتماد کا اظہار کیا۔ ۴/ اکتوبر ۱۹۹۷ء بروز ہفتہ صبح ۹ بجے سے ایک بجے

صفحہ ۵۲۲

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۷ء ۵۲۲ ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

دوپہر تک مبلغین ختم نبوت کا آخری اجلاس امیر مرکزیہ خواجہ خواجگان حضرت مولانا خان محمد مدظلہ کی زیر صدارت ہوا اور کانفرنس کے انتظام و انصرام کا جائزہ لیا گیا اور کئی دوسری تجاویز زیر غور لائی گئیں۔ بعد از نماز ظہر حضرت والا صاحبزادہ خلیل احمد صاحب اور جناب حافظ محمد عابد صاحب خانقاہ سراجیہ بذریعہ کار روانہ ہوئے جب کہ تمام مبلغین ختم نبوت کو بعد از نماز عصر اپنے حلقوں کو جانے کی اجازت دی گئی الحمد للہ ! یوں سولہویں سالانہ ختم نبوت کانفرنس بخیر و خوبی اختتام پذیر ہوئی۔

(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی مورخہ ۳۱/اکتوبر تا ۶/نومبر ۱۹۹۷ء ص ۲۱ تا ۲۴)

نیپال کی راجدھانی کھٹمنڈو میں عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس

حضرت مولانا سید اسعد مدنی اور نیپال کے وزیر اعظم کی شرکت:

پاسبان مل گئے کعبہ کو صنم خانے سے

ملک نیپال کی راجدھانی ”کھٹمنڈو“ میں مورخہ ۳۰، ۳۱/اکتوبر ۱۹۹۷ء میں ”تحفظ ختم نبوت“ کے موضوع پر ایک عظیم الشان کانفرنس کا انعقاد کیا گیا۔ یہ کانفرنس مجلس تحفظ ختم نبوت نیپال کے زیر اہتمام حسب اعلان شاندار تیاریوں کے ساتھ ”راشٹریہ سبھا گرہ“ میں حضرت مولانا عبد العزیز صدیقی کی صدارت میں منعقد ہوئی۔ جس میں برصغیر کے ممتاز علماء، دانشوران ملک و ملت اور ہزاروں مندوبین حضرات نے شرکت کی۔ ساتھ ہی میزبان ملک ”نیپال“ کے وزیر اعظم سورج بہادر تھاپا، اپنے تین وزراء اور متعدد ممبران پارلیمنٹ کے ہمراہ شریک کانفرنس ہوئے اور اپنے حوصلہ افزاء اعلانات و بیانات کے ذریعہ شرکائے کانفرنس کی عزت افزائی فرمائی۔

معینہ پروگرام کے مطابق اس افتتاحی اجلاس کی صدارت کا آغاز ہوا چاہتا تھا۔ پورے مجمع کی نگاہیں امیر الہند حضرت مولانا سید اسعد مدنی صدر جمعیت علمائے ہند کی آمد پر لگی ہوئی تھیں۔ محکمہ شرعیہ بہار کے قاضی حضرت مولانا انوار الحق قاسمی بمع قافلہ استقبالیہ حضرت امیر شریعت ہند کے استقبال کے لئے طیران گاہ پر موجود تھے۔ لیکن اطلاع ملی کہ جہاز کے اترنے میں تاخیر ہے اس لئے وقت کی نزاکت کے پیش نظر حضرت مولانا عبد العزیز صدیقی صدر مجلس تحفظ ختم نبوت و صدر جلسہ کی اجازت سے ناظم اجلاس حضرت مولانا امیر اللہ اسعدی صدر جمعیت علماء نیپال نے کانفرنس کی باضابطہ کارروائی شروع کی۔ جناب قاری محمد انوار صاحب صدر مدرس مدرسہ تجوید القرآن خیروا نے بڑے پرجذب انداز میں تلاوت قرآن پاک فرمائی۔ کلام الٰہی کی صدائے روح پرور سے پورے مجمع پر خشوع و خضوع کی کیفیت طاری ہو گئی۔ پھر جناب قاری ساجد معین نے بارگاہ رسالت ﷺ میں ایک دلکش ہدیہ نعت پیش کیا۔ ہمالہ کی بلندی پر واقع اس کاشانہ اغیار سے ابھرتی ہوئی ترانہ وحدہ لاشریک کی صدائے بازگشت جب فضائے بسیط میں پھیل کر پربت کی چوٹیوں سے ٹکرائی تو ایسا محسوس ہوا کہ ؎

پاسبان مل گئے کعبہ کو صنم خانے سے

تلاوت قرآن پاک اور ہدیہ نعت کے بعد صدر استقبالیہ جناب حاجی جمال خان صاحب نے نہایت متانت و سنجیدگی کے ساتھ خطبہ استقبالیہ پیش کیا۔ پھر طے شدہ پروگرام کے مطابق عالی جناب مرزا دلشاد بیگ وزیر تجارت و زراعت نیپال کو مدعو کیا گیا۔ وزیر موصوف نے بڑے صاف اور بے باک انداز میں غرض و غایت بیان کرتے ہوئے انسداد قادیانیت اور عید الفطر و عید الاضحیٰ کی گزیٹیڈ چھٹیاں نیز مسلمانوں کے دیگر واجب حقوق کا مطالبہ وزیر اعظم اور دوسرے وزراء و ارباب حکومت کے سامنے رکھا۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ وزیر موصوف کے بعد مائک پر آنے والے تمام وزراء و ارباب حکومت نے وزیر تجارت و زراعت مرزا دلشاد بیگ کے ذریعہ کئے گئے مطالبوں کی پرزور تائید کی۔ بعد ازاں وزیر اعظم نیپال جناب سورج بہادر تھاپا اسٹیج پر تشریف لائے۔ سامعین نے تالیوں کی گونج سے ان کا استقبال

صفحہ ۵۲۵

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۷ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

کیا وزیر اعظم موصوف نے واضح طور پر فرمایا ’’نیپال کی تحریک آزادی میں مسلمانوں کا بھی بڑا حصہ ہے اور واقعتاً انہیں بھی عید الفطر وعید الاضحیٰ کی گزٹیڈ چھٹیاں نیز ان کے واجب حقوق ملنے چاہیں۔ اور جہاں تک مذہب کی تبدیلی کا مسئلہ ہے وہ نیپال کے آئین میں لکھا ہوا ہے کہ کوئی کسی کا مذہب زور زبردستی اور لالچ کے ذریعہ تبدیل نہیں کر سکتا ہے۔ یہ ایک قانونی جرم ہے۔ اگر قادیانی مذہب کے ماننے والے لوگ ایسا کر رہے ہیں تو انہیں بھی قرار واقعی سزا دی جائے گی۔ اور ہماری پارٹی اور ہماری حکومت خصوصیت کے ساتھ مسلمانوں سے ہمدردی رکھتی ہے‘‘ اپنی اس حوصلہ افزا تقریر کے بعد وزیر اعظم اپنی دیگر مصروفیات کے سبب شکریئے اور معذرت کے ساتھ رخصت ہو گئے۔

تقاریر کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے ناظم اجلاس نے ایشیاء کی سب سے بڑی اسلامی درسگاہ دارالعلوم دیوبند سے تشریف لائے ہوئے مہمان، کل ہند مجلس تحفظ ختم نبوت کے ناظم اعلیٰ حضرت مولانا مفتی محمد سعید صاحب مدظلہ کو تقریر دلپذیر کی دعوت دی۔ حضرت موصوف کی علمی اور ایمان افروز تقریر سے پورے ہال پر سکوت کا عالم طاری تھا کہ اتنے میں قافلہ استقبالیہ کے ہمراہ جانشین شیخ الاسلام ، فدائے ملت حضرت مولانا سید اسعد مدنی دامت برکاتہم اسٹیج پر جلوہ افروز ہوئے۔ حضرت امیر شریعت کے آتے ہی پوری فضا اللہ اکبر اور امیر شریعت زندہ باد کے نعروں سے گونج اٹھی۔ حضرت تشریف فرما ہوئے اور حضرت مولانا مفتی سعید پالن پوری کی تقریر جاری رہی۔ اخیر میں حضرت مولانا اسعد مدنی مدظلہ نے دعا فرمائی اور پھر ناظم جلسہ نے بصد شکریہ اجلاس کی اس پہلی نشست کے اختتام کا اعلان کیا۔

اجلاس کی دوسری نشست بعد نماز مغرب (بہ وقفہ نماز عشاء ) ۱۱ بجے شب تک اور تیسری نشست ۱۳؍ اکتوبر ۱۹۹۷ء صبح ۸ بجے سے (بہ وقفہ نماز جمعہ ) عصر کے وقت تک ہوئی۔ یہ دونوں نشستیں نیپالی جامع مسجد میں منعقد ہوئیں۔

دوسری اور تیسری نشست میں بھی کثیر تعداد میں ملک اور بیرون ملک سے تشریف لائے ہوئے علماء کرام، مندوبین، اور ہزاروں نیپالی مسلمانوں نے شرکت کی اور یہ ثابت کر دیا کہ عقیدہ ختم نبوت اور عشق رسول ﷺ کی بقاء کے لئے ہم پوری طرح سرگرم عمل ہیں اور کسی طرح کی قربانی دینے سے دریغ نہیں کریں گے۔

دوسری نشست کا آغاز جناب قاری محمد ناظم صاحب اور تیسری نشست کا آغاز جناب قاری مولانا امیر اللہ اسعدی نے ہر دو نشستوں میں نعت رسول ﷺ اور رد قادیانیت پر ایک نظم پیش کر کے سامعین سے خراج تحسین حاصل کیا۔ پہلی تقریر بنگلہ دیش سے آئے ہوئے مہمان جناب حضرت مولانا نور الاسلام قاسمی کی ہوئی۔ دوسری تقریر دارالعلوم دیوبند کے نائب مہتمم کل ہند مجلس تحفظ ختم نبوت کے ناظم جناب حضرت مولانا قاری سید محمد عثمان صاحب کی ہوئی۔ تیسری تقریر بعد نماز عشاء حضرت امیر شریعت مولانا سید اسعد مدنی دامت برکاتہم کی ہوئی۔ ۸ بجے صبح کے تقریری پروگرام میں جناب مولانا سراج الحق قاسمی، مولانا حشمت اللہ چترویدی، مولانا محمد سلمان مظاہری، حضرت مولانا شیخ عبداللہ مدنی، مولانا حسن حبیب فلاحی، مولانا عبدالرحمٰن سلفی، مولانا محمد عباس ندوی، مولانا اظہار الحق قاسمی کشمیری، جناب حضرت مولانا مفتی محمد اشفاق صاحب قاسمی سرائے میر والے اور حضرت مولانا مفتی محمد سعید صاحب استاذ الحدیث دارالعلوم دیوبند قابل ذکر ہیں۔ افسوس کہ وقت کی کمی کے باعث حضرت مولانا انوار الحق قاسمی اور حضرت مولانا شاہ عالم صاحب قاسمی گورکھپوری جیسے جید علماء کی تقریر نہیں ہو سکی اور شیخ الحدیث حضرت مولانا شمس الدین صاحب کی عدم شرکت کا احساس شدت سے رہا۔

اس عظیم کانفرنس کا ایک اہم اور انفرادی وصف یہ رہا کہ اس میں ہر مکاتب فکر کے علماء حضرات نے شرکت فرمائی اور اس کانفرنس کو مشترکہ بنا کر مرزائیوں کے قلع قمع کا عزم مصمم کیا۔

صفحہ ۵۲۶

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۷ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

حضرت مولانا سید اسعد مدنی نے تقریباً اپنے دو گھنٹے کی تقریر میں بڑے ہی مؤثر انداز میں عقیدۂ توحید اور عقیدہ ختم نبوت کی وضاحت کرتے ہوئے فرمایا: ”قرآن وحدیث اور مسلمانوں کا یہ حتمی فیصلہ ہے کہ خاتم النبیین حضرت محمد ﷺ خدا کے آخری رسول ہیں۔ آپ ﷺ کے بعد کوئی پیغمبر نہیں آئے گا اور جو دعویٰ نبوت کرے وہ جھوٹا ہے اور اس کے سارے متبعین بھی جھوٹے ہیں۔ یقیناً مرزا غلام احمد قادیانی اور اس کے متبعین درجہ بدرجہ کذاب، مرتد، زندیق، ملحد، کافر اور فرقہ ضالہ میں داخل ہیں۔ ان سے کسی طرح کا ربط وضبط رکھنا جائز نہیں بلکہ جو مسلمان شعبہ زندگی میں ان کا مکمل بائیکاٹ نہ کرے اور ان کو کافر نہ سمجھے وہ بھی کافر ہے۔ پھر دورانِ تقریر ہی حضرت امیر شریعت نے مرزا غلام احمد اور اس کے متبعین کے کذاب، مرتد، زندیق اور کافر ہونے پر ایک دفتر بے پایاں کھول کر رکھ دیا اور حوالہ بحوالہ ثبوت فراہم کر کے شرکائے اجلاس کو ششدر کر دیا۔ کمال یہ کہ خود مرزائیوں کی کتابوں سے ہی ان کے متضاد بیانات اور جھوٹ کا پلندہ عوام کے سامنے پیش کر کے حضرت نے عوام سے انصاف طلب کیا۔ ایک بار پھر فضا اللہ اکبر اور امیر شریعت زندہ باد کے نعروں سے گونج اٹھی۔“

اس موقع پر علمائے نیپال کی ایک خصوصی نشست ہوئی جس میں حضرت قاری سید عثمان صاحب نے علمائے کرام کو ان کے فرائض کا احساس دلاتے ہوئے ان سے کہا۔ آج کا دور ہم اہل ایمان خصوصاً علمائے کرام کے لئے آزمائش کا دور ہے۔ جہاں طرح طرح کے اور دوسرے فتنے سر ابھار رہے ہیں وہیں یہ فتنہ قادیانیت سامراجی قوتوں کے بل بوتے پر ہمارے لئے آزمائشوں کی علامت بن گیا ہے۔ آج کی یہ عظیم کانفرنس ہمارے لئے ایک لائحہ عمل ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ یہاں سے جانے کے بعد ہم ملک کے گوشے گوشے اور کونے کونے میں حق کی آواز پہنچائیں اور اس فتنہ قادیانیت کا تعاقب کریں ورنہ یہ کانفرنس بھی نشستند وگفتند برخاستند کے مصداق بن کر رہ جائے گی۔ اسی طرح جناب شیخ عبداللہ مدنی جھنڈانگری اور دوسرے مقتدر علمائے کرام نے عوام کو ایک حوصلہ افزا پیغام دیا اور تحفظ ختم نبوت و رد قادیانیت کی تحریک کو ایک نئی توانائی بخشی۔

ایک اہم اور قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ اس کانفرنس میں متعدد قادیانی شریک ہوئے جن میں ایک عبدالسلام قادیانی تائب ہو کر حضرت مولانا سید اسعد مدنی مدظلہ سے بیعت ہوئے۔ اس سے قبل بھی نیپال کے مختلف شہروں اور قصبوں میں قادیانیوں کے خلاف منعقد جلسے اور مناظرے کے دوران کئی قادیانی مثلاً ڈاکٹر مولانا انوار الحق مظاہری اور مولانا مہدی حسن مفتاحی شرفِ ہدایت پا کر ضلالت و گمراہی سے رجوع کیا۔

در حقیقت یہ کانفرنس ملک نیپال میں اپنی نوعیت وانفرادیت اور حقائق وعمل کے اعتبار سے پہلی کانفرنس ہے جو اتنی کامیاب ہوئی اور اس میں کچھ شک نہیں کہ ہر اعتبار سے اس عظیم کانفرنس کو تاریخ ساز ہونے کا شرف حاصل ہوا اور جہاں اس کی کامیابی کا سہرا حضرت مولانا عبدالعزیز صدیقی صدر مجلس تحفظ ختم نبوت نیپال، احقر (حضرت مولانا) وکیل احمد حسینی ناظم اعلیٰ مجلس تحفظ ختم نبوت نیپال، حضرت مولانا انوار الحق قاسمی قاضی محکمہ شرعیہ بہار، حضرت مولانا امیر اللہ اسعدی صدر جمعیت علماء نیپال، جناب حاجی جمال خان صدر نیپالی جامع مسجد اور حضرت مولانا ظہیر الدین صاحب قاسمی مدرسہ محمودیہ ارجہ پور کے سر ہے وہیں اس کی کامیابی میں سب سے بڑا حصہ جناب الحاج ڈاکٹر محمد ظفر الحسن صاحب مدظلہ نائب صدر جمعیت علماء بہار اور مولانا قمر الہدیٰ صاحب خطیب سیھو مسجد کھٹمنڈو، سلیم باجوہ اور بابو نظام الدین کھٹمنڈو کے تعاون، توجہ، محنت اور کاوشوں کا ہے بلکہ میں سمجھتا ہوں کہ تنہا اگر جناب الحاج ڈاکٹر محمد ظفر الحسن صاحب مدظلہ کی توجہ، کوشش، محنت اور دعا نہ ہوتی تو شاید یہ عظیم کانفرنس اتنا سرخرو اور کامیاب نہ ہوتی اور غالباً الحاج موصوف ہی کی خصوصی توجہ اور رہنمائی تھی کہ ملک کی

صفحہ ۵۲۷

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۷ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

راجدھانی کھٹمنڈو کی سرزمین پر پہلی بار حضرت امیر شریعت وصدر جمعیت علماء ہند حضرت مولانا سید اسعد مدنی دامت برکاتہم کے قدم مبارک پہنچے اور جناب حاجی جمال خان سمیت ۳۲ حضرات مشرف بہ بیعت ہوئے اور ملک کی راجدھانی میں فیض وبرکت کا ایک سلسلہ جاری ہوا۔ خدائے پاک قطب عالم حضرت امیر شریعت ہند اور الحاج ڈاکٹر محمد ظفر الحسن صاحب کی عمر میں برکت عطاء فرمائے تاکہ فیض کا ایک لامتناہی سلسلہ جاری ہو۔ (وکیل احمد حسینی، نیپال)

(ماہنامہ لولاک ملتان فروری ۱۹۹۷ء ص ۴۴ تا ۴۷)

ختم نبوت کانفرنس جنڈانوالہ بھکر

سالانہ سولہویں ختم نبوت کانفرنس زیر صدارت حضرت مولانا خان محمد مدظلہ منعقد ہوئی۔ اس کانفرنس کا آغاز تلاوت کلام پاک سے ہوا۔ قاری محمد اکبر نے تلاوت کلام پاک کا شرف حاصل کیا۔ اس کے بعد دارالعلوم جنڈانوالہ کے دو طالب علموں نے نعت پیش کی اور پھر باقاعدہ حضرت مولانا محمد یوسف عاصی نے ختم نبوت کے قواعد و ضوابط بتائے۔ پہلی نشست میں ڈاکٹر دین محمد فریدی نے ختم نبوت کے موضوع پر روشنی ڈالی اور پھر دوسری نشست میں مفتی محمد عمران کلورکوٹ اور تیسری نشست میں مفتی مولانا عطاء الرحمٰن ڈھڈیاں والہ کلورکوٹ نے ختم نبوت کے عقیدے پر تفصیلاً روشنی ڈالی اور پھر دعائیہ کلمات پر کانفرنس اختتام پذیر ہو۔

(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی مورخہ ۷ تا ۱۳/نومبر ۱۹۹۷ء ص ۲۵)

عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس سیال موڑ سرگودھا

۴/نومبر ۱۹۹۷ء سیال موڑ کے بالکل متصل ایک کالونی راجہ ڈاہر کے نام سے مشہور ہے۔ اس میں ایک جامع مسجد میں خطیب و مدرس قادیانی، سنی بن کر کچھ عرصہ سے متعین تھا۔ اور مسلمانوں میں اپنے آپ کو مسلمان ظاہر کرتا رہا۔ مگر اس کی ایک تحریر جو کہ مسلمانوں کے خلاف تھی اور مرزا قادیانی دجال کے حق میں تھی۔ پکڑی گئی۔ اس تحریر اور اس واقعہ کا علم جب عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ربوہ کو ہوا تو ناظم مجلس ربوہ مولانا غلام مصطفیٰ صاحب نے قریبی علاقہ کے ایک معروف عالم دین مولانا عبدالواحد مخدوم سے رابطہ کیا۔ ان کی اور دیگر اراکین کی متفقہ رائے سے ختم نبوت کانفرنس کا اعلان کر دیا گیا۔ علاقہ راجہ ڈاہر کالونی کے مقامی لوگوں کو کہا گیا کہ اس قادیانی مربی ماسٹر یعقوب مرتد کو آپ اس ختم نبوت کانفرنس میں پابند کریں کہ یا تو یہ (قادیانی) مسلمانوں کے جلسہ عام اور مجمع عام میں مرزا قادیانی پر اعلانیہ لعنت کرے اور اپنے آپ کو سنی مسلمان ثابت کرے ورنہ یہ خود یا قادیانیوں کے مرکز ربوہ سے قادیانی مربیان کو مناظرہ کرنے کے لئے لائے اور مناظرہ کرے اور علاقہ کے مسلمانوں کے شک و شکوک کو دور کرے۔ نیز قادیانی مربیان مرزا قادیانی دجال کو سچا اور شریف دیانت دار انسان ثابت کر دیں۔ تو منہ مانگا انعام دیا جائے گا۔ مگر علاقہ کے مقامی لوگوں کو مطمئن نہ کر سکا اور وہ ختم نبوت کانفرنس کے موقعہ پر کہیں بھاگ گیا۔ حالانکہ وہ ۶، ۷ سال سے (قادیانی) سنی بن کر مسلمانوں کی مسجد میں بطور خطیب و مدرس رہا ہے۔

راجہ ڈاہر نزد سیال موڑ میں یہ پہلی ختم نبوت کانفرنس تھی۔ اس ختم نبوت کانفرنس میں بہت سے علماء کرام نے خطاب کیا۔ چند ایک کے نام یہ ہیں۔ حضرت مولانا محمد اکرم طوفانی سرگودھا، حضرت مولانا غلام مصطفیٰ خطیب ربوہ، حضرت مولانا قاری محمد عبدالواحد مخدوم، حضرت مولانا محمد مغیرہ صاحب خطیب مسجد احرار ربوہ، مجاہد اسلام حضرت مولانا عبدالرحمٰن سرگودھا، مولانا منشاء الحق صاحب خطیب تخت ہزارہ، مولانا احمد یار چاریاری لالیاں، مولانا محمد اسحق صاحب خطیب مڈھ رانجھا اور دیگر بہت سے علماء کرام نے خطاب کیا۔ یہ کانفرنس

صفحہ ۵۲۸

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۷ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

زیر صدارت چوہدری ظہور احمد صاحب، رانجھا رئیس راجہ ڈاہر کالونی منعقد ہوئی۔ سٹیج سیکرٹری کے فرائض مولانا شاہد مسعود صاحب نے انجام دیئے۔ جب کہ خصوصی خطاب شمشیر بے نیام مولانا محمد اکرم طوفانی کا تھا۔ انہوں نے خوب اچھے انداز میں عشق رسول اور محبت رسول کے موضوع پر اظہار خیال فرما کر موضوع کا حق ادا کیا۔ مولانا عبدالرحمن نے بڑے اچھے انداز سے مرزائیت کو بے نقاب کیا اور کہا کہ مرزائیت اتنی بے نقاب ہو چکی ہے کہ اب مزید اس کے کذب و دجل پر دلائل کی ضرورت نہیں رہی ہے۔ مجاہد ختم نبوت مولانا غلام مصطفیٰ مرکزی مبلغ مجلس عمل تحفظ ختم نبوت ربوہ نے ختم نبوت کانفرنس منعقد کرنے کی وجہ اور ضرورت پر روشنی ڈالی۔ جب کہ آخری خطاب مولانا قاری محمد عبدالواحد صاحب مخدوم نے فرمایا اور باحوالہ اپنی تقریر کو مزین کیا۔ مولانا نے مرزا غلام احمد قادیانی کی گستاخیوں کے حوالہ جات کے انبار لگا دیئے جو اس نے خدا تعالیٰ، انبیا کرام علیہم السلام، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اور مسلمانوں کے بارے میں کی تھیں۔ اس کانفرنس میں بہت دور دراز سے کثیر لوگوں نے شرکت کی اور استفادہ کیا۔ آخر میں مولانا محمد عطاء اللہ خطیب مڈھ رانجھا کی دعا سے یہ کانفرنس اختتام پذیر ہوئی۔

(ماہنامہ لولاک ملتان جنوری ۱۹۹۷ء ص ۳۷، ۳۸)

ختم نبوت کانفرنس گوجر خان

شہیدوں کی سرزمین گوجر خان ضلع راولپنڈی کی مرکزی جامع مسجد خلفاء راشدین میں تیسری سالانہ ختم نبوت کانفرنس ۷ نومبر ۱۹۹۷ء کو یادگار اسلاف ولی کامل حضرت مولانا عبدالمتین دامت برکاتہم کی سرپرستی میں انعقاد پذیر ہوئی۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت گوجر خان کے رفقاء کرام خصوصاً قاری محمد عبداللہ، قاری محمد فضل کریم، عزیز الرحمٰن، ذوالفقار احمد اور خالد مبین نے کانفرنس کی کامیابی کے لئے دن رات محنت کی۔ گوجر خان کے چوکوں چوراہوں پر ختم نبوت کانفرنس کے بینرز آویزاں کئے گئے تھے۔ ۷ نومبر بروز جمعۃ المبارک کو نماز عشاء کی اذان ہوتے ہی گوجر خان کی عوام محبان مصطفیٰ عاشقان احمد مجتبیٰ ﷺ نے مسجد خلفاء راشدین کا رخ کیا دیکھتے ہی دیکھتے مسجد شمع ختم نبوت کے پروانوں سے کھچا کھچ بھر گئی اور گوجر خان کی اس وسیع و عریض مسجد میں تل دھرنے کی جگہ نہ رہی۔ شمع رسالت کے پروانوں نے عشاء کی نماز مولانا عبدالمتین دامت برکاتہم کی امامت میں ادا کی۔ تکمیل نماز کے بعد عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت اسلام آباد کے مبلغ جناب اورنگ زیب صاحب اعوان مائیک پر آئے اور انہوں نے اعلان کیا کہ آج گوجر خان کی سرزمین پر تیسری سالانہ ختم نبوت کانفرنس انعقاد پذیر ہو رہی ہے۔ کانفرنس کے مہمان خصوصی شاہین ختم نبوت مورخ اسلام حضرت مولانا اللہ وسایا صاحب مجاہد ختم نبوت خطیب ربوہ حضرت مولانا خدا بخش شجاع آبادی تشریف لا چکے ہیں۔ کانفرنس کی باقاعدہ کارروائی کا آغاز قرآن مجید کے پیغام انقلاب سے کرنے کے لئے قاری محمد ہارون کو دعوت دی۔ قاری محمد ہارون نے انتہائی مسحور کن اور وجد آفریں انداز میں قرآن مجید کی تلاوت کر کے سامعین کے قلوب و اذہان کو نور قرآن سے منور کیا۔ تلاوت قرآن مجید کے بعد خالد مبین چوہدری نے دربار رسالت میں ہدیہ نعت پیش کرنے کی سعادت حاصل کی۔ سلسلہ تقاریر کا آغاز مولانا محمد امین ربانی کے خطاب سے ہوا۔ انہوں نے اپنے خطاب میں عظمت جہاد اور مرزا قادیانی کے عنوان پر خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ انگریز نے مسلمانوں کے دلوں سے جذبہ جہاد کو نکالنے کے لئے مرزا غلام احمد قادیانی کا انتخاب کیا۔ اس بدبخت سے نبوت کا دعویٰ کرایا اور اس ملعون نے سب سے پہلے حرمت جہاد اور اطاعت انگریز کا فتویٰ دیا۔ مگر انگریز کے خود کاشتہ پودے کی ساری کوششیں رائیگاں ثابت ہوئیں اور وہ تمام تر کاوشوں کے باوجود مسلمانوں کے دلوں سے جذبہ جہاد کو نکالنے میں ناکام رہا۔ جہاد مسلمان کی پہچان ہے اور یہ جہاد ہی کی برکت ہے کہ آج دنیائے کفر مجاہدین کے نام سے لرزتی ہے۔

صفحہ ۵۲۹

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۷ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

مولانا محمد امین ربانی کے جہاد آفرین خطاب کے بعد سٹیج سیکرٹری نے اعلان کیا کہ سامعین گرامی ۱۹۷۴ء میں جب قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا گیا۔ ربوہ کو کھلا شہر قرار دیا گیا تو اس وقت امت مسلمہ کی نمائندگی کرتے ہوئے جس عظیم مجاہد نے ربوہ کی سرزمین پہ کلمہ حق بلند کیا، مسلسل پندرہ برس اس دارالکفر ربوہ میں رہ کر دنیائے کفر کو للکارا اور جس عظیم مرد مجاہد کے ہاتھ پر درجنوں قادیانیوں نے اسلام قبول کیا آج ملت اسلامیہ کے وہ مایہ ناز فرزند ہمارے درمیان موجود ہیں میں دعوت خطاب دیتا ہوں مجاہد اسلام خطیب ربوہ حضرت مولانا خدا بخش شجاع آبادی کو کہ وہ تشریف لائیں اور اپنے خطاب سے اہالیان گوجرخان کو مستفید فرمائیں۔ شرکاء کانفرنس نے پرجوش نعروں سے ان کا استقبال کیا اور گوجرخان کے درودیوار نعرہ تکبیر اللہ اکبر اور تاج وتخت ختم نبوت زندہ باد کے فلک شگاف نعروں سے گونج اٹھے۔

مولانا خدا بخش شجاع آبادی نے خطبہ مسنونہ کے بعد ارشاد فرمایا کہ آپ لوگ انتہائی خوش نصیب ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو ختم نبوت کانفرنس میں شریک ہونے کی سعادت نصیب فرمائی۔ حضور ﷺ کی عزت و ناموس کے تحفظ کے ناطے موسم سرما کی اس ٹھٹھرتی رات میں آپ کا اکٹھا ہونا اور مل بیٹھنا ان شاء اللہ آپ کی نجات کا باعث بنے گا۔ انہوں نے تفصیل کے ساتھ قادیانی فتنہ کے عقائد اور اس کے مضمرات بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ قادیانیت محمد عربی ﷺ کے لائے ہوئے دین متین سے مکمل بغاوت کا دوسرا نام ہے۔ لہٰذا ہمارا فرض بنتا ہے حضور نبی کریم ﷺ سے محبت وعقیدت کا عملی اظہار کرتے ہوئے ہم فتنہ قادیانیت کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں۔ جب ہم فتنہ قادیانیت کے خلاف متحدہ جدوجہد میں شریک ہوں گے تو رحمت خداوندی ہماری دستگیری فرمائے گی۔ مولانا خدا بخش شجاع آبادی کی اپیل پر اہالیان گوجر خان نے ہاتھ بلند کر کے عہد کیا۔

ان کے قادیانیت شکن خطاب کے بعد حضرت مولانا اللہ وسایا قاسم سٹیج پر تشریف لائے اور اپنے مخصوص انداز میں فضائل جہاد اور فتنہ قادیانیت کے موضوع پر خطاب فرمایا۔ انہوں نے کہا کہ جب بھی ضرورت پڑی عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے ہراول دستے کی حیثیت سے میدان جہاد میں نکلیں گے اور فتنہ قادیانیت کو ناکوں چنے چبوا کے دم لیں گے۔ ان کے بعد کانفرنس کے روح رواں مہمان خصوصی شاہین ختم نبوت مناظر ختم نبوت حضرت مولانا اللہ وسایا صاحب مسجد کے ہال میں داخل ہوئے تو اہالیان گوجرخان نے انتہائی محبت وعقیدت کے ساتھ کھڑے ہو کر پرجوش نعروں سے اپنے محبوب قائد کا استقبال کیا اور ایک دفعہ پھر گوجرخان کے درودیوار نعرہ تکبیر اللہ اکبر، تاج وتخت ختم نبوت زندہ باد اور مرزائیت مردہ باد کے فلک شگاف نعروں سے گونج اٹھے۔

حضرت مولانا اللہ وسایا صاحب نے دو گھنٹے کے معلومات افزا اور وجد آفریں خطاب میں فرمایا کہ عقیدہ ختم نبوت دین اسلام کا اساسی اور بنیادی عقیدہ ہے اور امت نے کبھی بھی اس عقیدہ کے تحفظ کے ضمن میں تساہل کا مظاہرہ نہیں کیا۔ امت مسلمہ کی یہ چودہ سو سالہ قابل فخر تاریخ ہے کہ اس نے نہ تو کبھی کسی جھوٹے مدعی نبوت کو برداشت کیا اور نہ ہی اس کے پیروکاروں کو پنپنے کا موقع دیا۔ سیدنا صدیق اکبر ؓ کے دور خلافت میں یمامہ کے میدان میں حضرت خالد بن ولید کی سربراہی وقیادت میں حضرات صحابہ کرام ؓ نے جھوٹے مدعی نبوت مسیلمہ کذاب اور اس کے حواریوں کو واصل جہنم کر کے بتلایا کہ جھوٹے مدعیان نبوت کا ایک ہی علاج ہے کہ ان کا سر قلم کر دیا جائے۔ مولانا اللہ وسایا صاحب نے فرمایا کہ حضور سرور کائنات ﷺ کے دعویٰ نبوت سے لے کر وصال تک حضرات صحابہ کرام پورے دین کے تحفظ بقا اور سلامتی کے لیے ۲۳ سالہ دور نبوت میں جتنی بھی جنگیں لڑی ہیں۔ ان تمام جنگوں میں شہید ہونے والے صحابہ کرام ؓ کی تعداد صرف ۲۵۹ ہے۔ لیکن ایک عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ کے لئے اور جھوٹے مدعی نبوت مسیلمہ کذاب کے خلاف یمامہ کے میدان میں جو جنگ

صفحہ ۵۳۰

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۷ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

لڑی گئی۔ اس میں ساڑھے بارہ سو صحابہ کرام شہید ہوئے، جن میں سے ۷۰۰ قرآن مجید کے حافظ اور قاری تھے۔ اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ صحابہ کرام نے پورے دین کے تحفظ بقاء اور سلامتی کے لئے اتنی جانوں کے نذرانے پیش نہیں کئے جتنا کہ ایک عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ کے لئے اپنی جانوں کے نذرانے پیش کئے ہیں۔ مولانا اللہ وسایا صاحب نے فرمایا کہ جلیل القدر صحابی حضرت حبیب ابن زید نے مسیلمہ کذاب کے دربار میں اپنے جسم کے ٹکڑے کرا دیئے اپنے بازو اور ٹانگیں کٹوا دیں، لیکن یہ سننے کے لئے اپنے کانوں تک کو آمادہ نہ کیا کہ حضور ﷺ کے بعد کوئی اور نبی ہو سکتا ہے۔ معروف تابعی حضرت ابو مسلم خولانی نے اپنے آپ کو زندہ آگ کے اندر ڈالے جانے کو تو قبول کر لیا ، مگر اسود عنسی کی نبوت کو قبول نہ کیا۔ آج وقت کی پکار ہے کہ ہم بھی صحابہ کرامؓ اور اپنے اکابرین کے نقش قدم پر چلتے ہوئے فتنہ قادیانیت کے سامنے سیسہ پلائی دیوار بن جائیں اور دنیائے کفر کو بتلا دیں کہ مسلمان ہر ایک کو برداشت کر سکتا ہے مگر حضور سرور کائنات ﷺ کے دشمنوں کو قطعاً برداشت نہیں کر سکتا۔

حضرت مولانا اللہ وسایا صاحب کے تفصیلی اور معلوماتی خطاب کے بعد صدر اجلاس حضرت مولانا عزیز الرحمن ہزاروی نے دعا فرمائی اور ان کی رقت آمیز دعا پر تیسری سالانہ ختم نبوت کانفرنس بخیر و خوبی اپنے اختتام کو پہنچی۔

(ماہنامہ لولاک ملتان جنوری ۱۹۹۸ء ص ۳۴ تا ۳۶)

ختم نبوت کے شہر چیچہ وطنی میں چوتھی سالانہ کانفرنس

چیچہ وطنی ضلع ساہیوال کی تحصیل ہے۔ بفضل خدا مذہبی سرگرمیوں سے اس شہر کی گہری وابستگی ہے۔ تحریک ختم نبوت ۱۹۷۴ء اور تحریک نظام مصطفیٰ میں اہالیان چیچہ وطنی نے بھر پور نمائندگی کی۔

شہر کے مرکزی چوک جس کا سابقہ نام فوارہ چوک تھا ختم نبوت کے ساتھ گہری وابستگی کی بنا پر بلدیہ کی طرف سے منظوری کے بعد ضیاء الحق مرحوم کی مجلس شوریٰ کے ممبر خواجہ محمد صفدر صاحب نے اپنے دست مبارک سے شہدائے ختم نبوت کی تختی نصب فرمائی۔ جس سے اس کا مستقل نام ختم نبوت چوک بن گیا۔ علاوہ ازیں چیچہ وطنی شہر کے مختلف چوکوں میں جس طرح بلدیہ نے خلفاء راشدین کے اسماء گرامی کے بورڈ نصب کئے ہیں۔ اسی طرح پروانہ ختم نبوت امیر شریعت چوک بھی ان کے نام سے موسوم ہے جس کا نام بخاری چوک ہے۔ اہل سنت والجماعت کی مرکزی مسجد میں عرصہ دراز مجلس تحفظ ختم نبوت کے نامور خطیب مولانا عبد الرحمن میانوالی منصب خطابت پر فائز رہے۔ ماشاء اللہ حسب سابق اس سال بھی مذکورہ بالا جامع مسجد بلاک نمبر ۱۲ میں چوتھی سالانہ ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی۔ یہ کانفرنس مورخہ ۱۵؍ نومبر ۱۹۹۷ء بعد نماز عشاء منعقد ہوئی۔ کانفرنس میں ضلع ساہیوال کے علاوہ ضلع وہاڑی، ضلع خانیوال، ضلع پاکپتن اور ضلع ٹوبہ ٹیک سنگھ سے کافی تعداد میں ختم نبوت کے پروانے شریک ہوئے۔ ماشاء اللہ اس سال گزشتہ سالوں سے حاضری کافی زیادہ تھی۔ سامعین نے تمام بیانات میں دلچسپی کا ثبوت فراہم کرتے ہوئے رات ڈیڑھ بجے تک برضا و خوشی بیانات سنے۔

امیر مرکزیہ قبلہ حضرت مولانا خان محمد صاحب نے صدارت فرمائی، جماعت کی نمائندگی حضرت مولانا اللہ وسایا اور مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی نے کی۔ مولانا اللہ وسایا نے بالتفصیل دور حاضر میں قادیانیت کے مذموم عزائم اور حکومت کی مرزائیت نوازی سے عوام کو باخبر کیا۔ جمعیت علماء اسلام صوبہ پنجاب کے امیر مولانا محمد عبداللہ صاحب نے صوبہ پنجاب کی نمائندگی فرمائی۔ مرکز کی طرف سے حضرت مولانا عبد الغفور حیدری صاحب نے خطاب فرمایا۔ مولانا عبد الغفور حیدری نے پاکستان اور بین الاقوامی سطح پر قادیانیت کے عیسائی یہودی گٹھ جوڑ سے پردہ اٹھایا۔ اس کے ساتھ ساتھ جمعیت علماء اسلام کی طرف سے مجلس تحفظ ختم نبوت کو بھر پور تعاون کی یقین دہانی کرائی۔

صفحہ ۵۳۱

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۷ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

شاعر ابن شاعر، شاعر انقلاب سید سلمان گیلانی نے اپنے منظوم کلام میں علماء دیوبند کا بخوبی تعارف کرایا۔ علاقہ ساہیوال کے مقامی معروف پنجابی شاعر جناب شریف ماہی صاحب نے پنجابی میں منظوم کلام پیش فرما کر مجمع کو خوب محظوظ کیا۔ رات بارہ بجے سے لے کر ڈیڑھ بجے تک مولانا عبدالکریم ندیم صاحب نے واقعہ معراج اور سیرت کے دیگر پہلوؤں سے ختم نبوت کے مدلل ثبوت پیش فرمائے علاوہ ازیں پندرہ قراردادیں پاس کی گئیں۔

(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی مؤرخہ ۲۶؍ دسمبر تا یکم؍ جنوری ۱۹۹۷ء ص ۲۴، ۲۵)

ٹنڈو آدم میں عظیم الشان ختم نبوت کنونشن

عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت نے ٹنڈو آدم کے غیور مسلمانوں کے دلوں میں محبت رسول کو تازہ کرنے کے لئے مورخہ ۱۸؍ نومبر ۱۹۹۷ء بروز منگل ٹنڈو آدم میں ختم نبوت کنونشن کا اہتمام کیا اور قائد تحریک ختم نبوت حضرت خواجہ خان محمد دامت برکاتہم سے استدعا کی گئی کہ وہ خود اس کنونشن کو رونق بخشیں حضرت الامیر نے انتہائی شفقت فرماتے ہوئے استدعا کو قبول فرمایا اور پھر ٹنڈو آدم میں کنونشن کی تیاریاں شروع ہو گئیں پورے شہر میں حضرت الامیر اور دیگر قائدین ختم نبوت کے لئے استقبالیہ نعروں کی وال چاکنگ کی گئی۔

صبح ہی سے جماعتی رفقاء نے دفتر ختم نبوت آنا شروع کر دیا نماز ظہر فوجی موڑ ٹنڈوالہ یار روڈ ٹنڈو آدم کے مقام پر جو کہ شہر سے دو میل کے فاصلہ پر ہے حضرت الامیر کے استقبال کا پروگرام بنایا نماز ظہر کے بعد اڑھائی بجے سائیکلوں اور موٹر سائیکلوں اور پیدل احباب فوجی موڑ پر پہنچنا شروع ہو گئے۔

نماز عصر وہیں ادا کی گئی اور عصر کے بعد شام پانچ بجے جب حضرت الامیر کی گاڑی پر مجاہدین ختم نبوت کی نظر پڑی تو فضاء نعرہ تکبیر اللہ اکبر، ختم نبوت زندہ باد، قائد تحریک زندہ باد کے نعروں سے گونج اٹھی اور نوجوانوں نے حضرت الامیر کی گاڑی پر پھولوں کی پتیاں نچھاور کر کے اپنے قائد کے ساتھ والہانہ محبت کا ثبوت دیا اور پھر جلوس کی صورت میں حضرت کو ٹنڈو آدم کے سب سے بڑے دینی ادارے مدرسہ عربیہ مدینۃ العلوم لے جایا گیا جہاں حضرت کے قیام کا انتظام تھا رات کو عشاء کی نماز کے متصل بعد کنونشن کا آغاز ہوا جناب بہاء الدین زکریا نے تلاوت کی اور جناب محمد اعظم قریشی صاحب نے نعت پیش کی حضرت مولانا محمد نذر نے سیرت رسول پر روشنی ڈالی۔ ان کے بعد حضرت مولانا نذیر احمد تونسوی نے قادیانیت کی بڑھتی ہوئی سرگرمیوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے حکومت کو متنبہ کیا کہ اگر قادیانیوں کو ان کی شر انگیزیوں سے باز نہ رکھا گیا تو ملک کے حالات کی تمام تر ذمہ داری حکمرانوں پر ہو گی۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی نائب امیر حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی صاحب مدظلہ جب خطاب کے لئے مسجد میں داخل ہوئے تو عوام نے حضرت کا پرجوش انداز میں استقبال کیا حضرت نے ایمان افروز بیان فرمایا۔

حضرت لدھیانوی صاحب کے بعد شاہین ختم نبوت مولانا اللہ وسایا نے خطاب کیا۔ انہوں نے صحابہ کرام کی محبت رسول کے واقعات بیان کر کے حضرت الامیر سمیت پورے مجمع کو رلایا بھی اور مرزا قادیانی کی ہسٹری بیان کر کے ہنسایا بھی، مولانا کے بیان کے بعد حضرت الامیر خواجہ صاحب سے بیعت ہونے کے خواہش مند احباب حضرت سے بیعت ہوئے الحمدللہ۔

ٹنڈو آدم میں اب حضرت کے مریدین کا حلقہ وسیع ہو رہا ہے بیعت کے بعد عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی جنرل سیکرٹری مجاہد ابن مجاہد حضرت مولانا عزیز الرحمن صاحب جالندھری نے انتہائی پرسوز بیان فرمایا اور فرمایا کہ پاکستان کو پچاس سال ہونے کے بعد بھی ترقی نہ کر سکنے کی وجہ قادیانیت کا وجود ہے۔ آخری خطاب حضرت مولانا محمد اکرم طوفانی صاحب نے کیا مولانا نے اپنے خطاب میں کہا کہ

صفحہ ۵۳۲

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۷ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

ملک میں نہ ختم ہونے والا بحرانوں کا سلسلہ اس وقت تک ختم نہیں ہوگا جب تک ملک میں ناموس رسالت کا مسئلہ حل نہ ہو گا آخر میں حضرت الامیر نے دعا کروائی۔

حضرت الامیر کی سیکورٹی کے لئے چار احباب (شعیب عرف شوبی، محمد آصف، عبدالرشید اور محمد اقبال مغل) نے ذمہ داری بہت احسن طریقے سے نبھائی جب تک حضرت ٹنڈو آدم میں رہے اس وقت تک چاروں ساتھی حضرت کے ساتھ رہے رات جاگ کر ان حضرات نے سیکورٹی کا انتظام سنبھالا صبح چار بجے تک حضرت الامیر ناشتہ کر کے جب رخصت ہو رہے تھے تو تمام نوجوانوں کی آنکھوں سے آنسو رواں دواں تھے حضرت نے نوجوانوں کو خوب دعائیں دیں اور رخصت ہوئے۔

(ماہنامہ لولاک ملتان جنوری ۱۹۹۷ء ص ۳۸، ۳۹)

مدرسہ عربیہ دارالہدیٰ پرمٹ کا سالانہ جلسہ

الحمد للہ ! عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام درجن بھر دینی مدرسے تعلیم القرآن ، حفظ و ناظرہ و قرأت کی خدمت کامیابی سے سرانجام دے رہے ہیں۔ ان میں سے ایک مدرسہ عربیہ دارالہدیٰ چوک پرمٹ ضلع مظفر گڑھ بھی ہے۔ مدرسہ کی وسیع وعریض اراضی ہے۔ جس میں طلباء کی رہائش کے لئے چار کمرے ، درسگاہ، عظیم الشان جامع مسجد تیار ہوچکے ہیں۔ مدرسہ گزشتہ پچیس سال سے خدمت اسلام وترویج علوم دینیہ کا فریضہ ادا کر رہا ہے۔ لائبریری کی تعمیر جاری ہے۔ مدرسہ میں حضرت مولانا عبدالکریم نگران و منتظم وخطیب ، حضرت قاری سعید احمد ، قاری شکیل احمد ، قاری عبدالرشید صاحب تدریس کے شعبہ میں کام کر رہے ہیں مدرسہ میں اس وقت ستر مسافر طلبہ اور دوسو مقامی طلبا کل دوسوستر طلباء قرآن و ناظرہ اور ابتدائی سکول کی تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ مدرسہ کے جملہ اخراجات مجلس مرکزیہ کا صدر دفتر ملتان ادا کرتا ہے۔ عالمی مجلس کا یہ صدقہ جاریہ ہے جو بحمدہ تعالیٰ روز افزوں اعلیٰ تعلیم وتربیت کی بنیاد پر ترقی کر رہا ہے۔

ہر سال مدرسہ دارالہدیٰ میں سالانہ دو روزہ تبلیغی جلسہ کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ اس سال یہ جلسہ ۳۰؍ نومبر اور یکم؍ دسمبر ۱۹۹۷ء کو منعقد ہوا۔ پہلے روز جمعیت علماء اسلام کے رہنماء ملک کے نامور عالم دین حضرت مولانا محمد لقمان علی پوری ، حضرت مولانا حافظ احمد بخش رحیم یار خان ، حضرت مولانا عطاء اللہ اور مجلس علماء اہل سنت کے مرکزی رہنما حضرت مولانا خدا بخش کہروڑ لعل عیسن اور دوسرے روز استاذ العلماء حضرت مولانا اللہ بخش گرواں ، حضرت مولانا غلام قادر بیٹ سیال ، عالمی مجلس تحفظ ختم کے مبلغ مولانا اللہ وسایا ، مولانا قاری عبدالخالق علی پوری اور مجلس علماء اہل سنت پاکستان کے مرکزی ناظم اعلیٰ حضرت مولانا عبدالکریم ندیم خان پوری نے خطاب فرمایا۔ دونوں روز صبح دس بجے سے عصر تک اجلاس جاری رہے۔ علاقہ کے معروف عالم دین اور بزرگ رہنما حضرت مولانا محمد مکی اور حافظ محمد قاسم مدظلہ نے صدارت کے فرائض انجام دیئے۔ علاقہ کی بہت بڑی تعداد نے دیوانہ وار جلسہ میں شرکت کی ۔ اجلاس تقاریر اور حاضری کے اعتبار سے بھر پور کامیاب رہے۔ مولانا عبدالکریم ، حاجی بشیر احمد ، میاں غوث بخش اور دوسرے رفقاء نے جلسہ کی کامیابی کے لئے دن رات ایک کر دیئے۔

حضرت قاری سعید احمد ، قاری شکیل احمد نے مہمانوں کے لئے دیدہ دل فرش راہ کر دیئے۔ اللہ دتہ ، شفیع ہوشیار پوری نے نعتیہ کلام پیش کیا۔ شرکاء کے لئے دونوں روز کھانے کا اعلیٰ پیمانے پر اہتمام کیا گیا تھا۔ مدرسہ کے طالب علموں نے تلاوت کلام پاک سے مدرسہ کے درودیوار میں روحانی ماحول پیدا کر دیا تھا۔ اللہ رب العزت عالمی مجلس کی ان خدمات کو شرف قبولیت سے نوازیں۔

(ماہنامہ لولاک ملتان جنوری ۱۹۹۸ء ص ۴۰)

صفحہ ۵۳۳

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۷ء

ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

کندھ کوٹ سندھ میں رد قادیانیت کورس

مدرسہ عربیہ اسلامیہ خیر المدارس کندھ کوٹ کی طرف سے ایک ہفتہ کے لئے رد قادیانیت کورس منعقد کیا گیا۔ جن کی تعلیمی خدمات عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی مبلغ مولانا جمال اللہ حسینی نے سرانجام دیں۔ جب کہ ان کے معاون عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ضلع سانگھڑ کے مبلغ مولانا محمد راشد مدنی تھے اس کورس میں درج ذیل مضامین پڑھائے گئے۔

(۱) حیات عیسیٰ علیہ السلام کے دلائل، (۲) حیات عیسیٰ علیہ السلام پر مرزا کے شبہات کے جوابات، (۳) ختم نبوت کے دلائل از روئے قرآن وحدیث، (۴) مرزا قادیانی کے غلیظ عقائد وغیرہ۔ اس کورس میں علماء طلباء سکولوں کے اساتذہ اور شہر کی مساجد کے خطباء نے کافی تعداد میں شرکت کی۔ کورس کے آخر میں شرکاء سے تحریری امتحان لیا گیا۔ اور کامیاب شرکاء کو مدرسہ کی طرف سے اس کورس میں کامیابی کی اسناد دی گئیں۔

(ماہنامہ لولاک ملتان فروری ۱۹۹۸ء ص ۴۴)

چوتھا سالانہ رد قادیانیت و عیسائیت کورس چناب نگر (ربوہ)

منعقدہ ۱۱/دسمبر تا ۲۷/دسمبر ۱۹۹۷ء

فتنہ قادیانیت کے خلاف جماعتی سطح پر سب سے پہلے شیخ الاسلام محدث عصر حضرت مولانا سید محمد انور شاہ کشمیری کے حکم پر حضرت امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاری نے مجلس احرار ہند کے تحت کام شروع کیا۔ مجلس احرار اسلام ہند کا شعبہ تبلیغ قادیان میں قائم کیا گیا۔ فاتح قادیان حضرت مولانا محمد حیات، ماسٹر تاج الدین انصاری، مولانا عنایت اللہ چشتی اور ان کے گرامی قدر رفقاء نے قادیان میں مثالی طور پر تبلیغی خدمات سرانجام دیں۔ قادیان میں رد قادیانیت پر ریفریشر کورسز کا اہتمام کیا گیا اور علمائے کرام کی مناظرین اسلام کی ایک بہت بڑی جماعت قادیانیت کے خلاف تیار ہوگئی۔

ملک عزیز پاکستان کے قائم ہوتے ہی حضرت امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاری، مولانا قاضی احسان احمد شجاع آبادی، مولانا محمد علی جالندھری، مولانا لال حسین اختر، مولانا محمد حیات، مولانا تاج محمود، مولانا محمد شریف جالندھری، مولانا محمد شریف بہاول پوری، مولانا عبدالرحمن میانوی، مولانا قاری لطف اللہ شہید، مولانا شیخ احمد بورے والا، مولانا نذیر حسین پنو عاقل اور دوسرے حضرات نے مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان کی داغ بیل ڈالی ملتان میں مولانا محمد حیات کو مجلس تحفظ ختم نبوت کے مرکزی دارالمبلغین کا استاد مقرر کیا گیا۔ مولانا عبدالرحیم اشعر، مولانا محمد لقمان، مولانا قائم الدین، مولانا بشیر احمد، مولانا غلام محمد، مولانا قاضی عبداللطیف، مولانا غلام مصطفیٰ اور دیگر حضرات کی پہلی مناظرین اسلام کی پاکستان میں جماعت نے مولانا محمد حیات سے مناظرانہ تربیت حاصل کی۔

مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام دارالمبلغین کی ایک کلاس چنیوٹ میں ربوہ کے مقابل شروع کی گئی۔ مناظر اسلام قاطع قادیانیت مولانا لال حسین اختر اس کے استاد مقرر ہوئے اور آپ سے بارہ علماء کرام کی جماعت نے مناظرہ پڑھا اس میں مولانا عبداللطیف مانسہرہ، مولانا فضل الرحمن احرار سلانوالی، مولانا جمال اللہ حسینی پنوعاقل، مولانا ضیاء الدین آزاد ماموں کانجن خصوصیت کے ساتھ قابل ذکر ہیں۔

مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام دفتر مرکزیہ میں سال میں متعدد بار تین ماہ کا کورس رد قادیانیت پر کرایا جاتا رہا۔ مناظر اسلام مولانا لال حسین اختر، مولانا محمد حیات فاتح قادیان ان جماعتوں کی مناظرانہ تربیت کرتے رہے۔ اس وقت دنیا بھر میں رد قادیانیت پر کام

صفحہ ۵۳۴

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۷ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

کرنے والے اکثر و بیشتر براہ راست مجلس تحفظ ختم نبوت کے تربیت یافتہ ہیں۔ حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی، حضرت مولانا بشیر احمد الحسینی، مولانا منظور احمد چنیوٹی، مولانا جمال اللہ، مولانا خدا بخش، مولانا محمد اسماعیل، مولانا محمد فیروز خان ڈسکوی اور ان جیسے ہزاروں علماء کرام نے مجلس کے دارالمبلغین کے اساتذہ سے فیض حاصل کیا۔

شیخ التفسیر مولانا احمد علی لاہوری، شیخ الاسلام مولانا محمد عبداللہ درخواستی، شیخ القرآن مولانا غلام اللہ خان کے ہاں دورہ تفسیر کے موقع پر ہزاروں علمائے کرام کو مناظر اسلام مولانا لال حسین اختر اور مولانا محمد حیات نے قادیانیت کے خلاف تیاری کرائی اور بحمدہ تعالیٰ اب تک مختلف انداز میں یہ سلسلہ جاری ہے۔ اللہ رب العزت اسے تاقیام قیامت اخلاص سے جاری وساری رکھنے کی توفیق ارزانی فرمائیں۔

قادیانیوں کو پاکستان میں ۷ ستمبر ۱۹۷۴ء کو آئینی طور پر غیر مسلم اقلیت قرار دیا گیا۔ دسمبر ۱۹۷۴ء کے آخری دنوں میں ربوہ میں مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان نے اپنی تبلیغی مساعی کا آغاز کر دیا تھا۔ حضرت مولانا تاج محمود اور حضرت مولانا محمد شریف جالندھری کی محنتوں و کاوشوں سے ۱۹۷۶ء میں مسلم کالونی ربوہ میں مسجد و مدرسہ کے لئے نو کنال اراضی کا پلاٹ حاصل ہوا۔ حضرت مولانا سید محمد یوسف بنوری کے حکم پر حضرت مولانا خواجہ خان محمد صاحب نے مسجد و مدرسہ کا سنگ بنیاد رکھا۔

۱۹۸۱ء سے سالانہ آل پاکستان ختم نبوت کانفرنس چنیوٹ سے ربوہ میں منتقل کر دی گئی۔ جو بغیر کسی وقفہ کے ہر سال وہاں اکتوبر میں منعقد ہوتی ہے۔ آج سے تین سال قبل مجلس تحفظ ختم نبوت کی جنرل کونسل نے مدرسہ تعلیم القرآن ختم نبوت مسلم کالونی چناب نگر (ربوہ) میں مجلس کے مرکزی دارالمبلغین کی سالانہ رد قادیانیت کلاس جاری کرنے کی منظوری دی۔ تب سے ہر سال شعبان المعظم میں مدارس عربیہ کی سالانہ چھٹیوں کے موقع پر مسلم کالونی چناب نگر میں ردقادیانیت و رد عیسائیت کورس کا اہتمام ہوتا ہے۔

چناب نگر میں چوتھی مرتبہ اس سال دس شعبان سے ستائیس شعبان بمطابق ۱۱ دسمبر تا ۲۷ دسمبر ۱۹۹۷ء تک کورس کا اہتمام کیا گیا۔ حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی، حضرت مولانا محمد امین صفدر، حضرت مولانا بشیر احمد الحسینی، حضرت مولانا عبداللطیف مسعود، مولانا خدا بخش، مولانا جمال اللہ، حضرت مولانا مفتی حفیظ الرحمن، صاحبزادہ طارق محمود، مکرم جناب محمد متین خالد، مکرم الحاج اشتیاق احمد، حضرت مولانا زاہد الراشدی، حضرت مولانا محمد اکرم طوفانی نے لیکچر دیئے۔ قادیانیت وعیسائیت کے تمام پہلوؤں پر محاکمہ کیا گیا۔ ۲۷ شعبان کو آخری لیکچر حضرت مولانا عزیز الرحمن جالندھری نے دیا۔

اس سال بھی الحمدللہ ! ایک سو سے زائد علماء و خطباء، پروفیسر اور کالجز ودینی مدارس کے طلباء نے شریک ہو کر مناظرانہ تربیت حاصل کی۔ ۲۶ شعبان جمعہ کو صبح آٹھ بجے تک شرکاء کا تحریری امتحان ہوا۔ ہمیشہ کی طرح ایبٹ آباد مجلس کے روح رواں جناب ساجد اعوان نے پرچہ تحریر کیا۔ سیالکوٹ کے پروفیسر جناب شجاعت علی مجاہد، رانا محمد طفیل ملتان، جناب محمد یاسر خٹک مانسہرہ نے امتحان کی نگرانی کی۔ ایک سو ایک کی جماعت میں سات ساتھی امتحان میں شریک نہ ہو سکے تین ضروری تقاضہ کی وجہ سے رخصت لے کر چلے گئے چار کو کثرت غیر حاضری کی وجہ سے خارج کر دیا گیا۔ ۹۴ حضرات نے امتحان میں شرکت کی، تین امتحان پاس نہ کر سکے۔ دو کو رعایتی پاس کیا گیا ۸۸ حضرات نے بہترین پرچے حل کئے اور مثالی کامیابی حاصل کی۔

رول نمبر ۳۸: اعجاز احمد مانسہرہ نے اوّل پوزیشن، رول نمبر ۲۳: جناب ذوالفقار علی فاروقی نے دوم پوزیشن، رول نمبر ۵: جناب امیر نواز ڈیرہ اسماعیل خان نے سوم پوزیشن حاصل کی۔

صفحہ ۵۳۵

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۷ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

۲۷ شعبان ہفتہ کے دن ظہر کے بعد تقریب تقسیم انعامات و تقسیم اسناد مجلس منعقد ہوئی۔ حضرت امیر مرکزیہ مولانا خواجہ خان محمد مدظلہ ، مولانا عزیز الرحمن جالندھری، صاحبزادہ حافظ محمد عابد ، مولانا محمد یعقوب ، جناب چوہدری سرفراز احمد ، مولانا غلام مصطفیٰ نے اپنے ہاتھوں کتب و اسناد کامیاب شرکاء کو دیں۔ علاقہ کے مسلمانوں پریس نمائندگان مدرسہ ختم نبوت کے مدرسین و طلباء کی شرکت نے اس مجلس کو بہت ہی پررونق بنادیا۔ مکرم احمد بخش چشتی نے نعتیہ کلام پیش کیا مدرسہ کے ننھے طالب علم سعید الرحمن نے تلاوت کی۔ حضرت اقدس مولانا خواجہ خان محمد دامت برکاتہم ہفتہ کے دن گیارہ بجے تشریف لائے رات کا قیام بھی آپ نے مرکز میں قبول فرمایا۔ جماعتوں کی امامت فرمائی۔ شرکائے کورس کو اپنی مقدس دعاؤں سے رخصت کیا۔ الحمد للہ اولا و آخرا !

ذیل میں شرکائے کورس کی فہرست ملاحظہ فرمائیں:

نمبرشمار نام ضلع نمبرشمار نام ضلع ۱ محمد اجمل شیخوپورہ ۲ سیف اللہ لکی مروت ۳ مختار احمد مظفر آباد ۴ اکبر علی وہاڑی ۵ امیر نواز ڈیرہ اسماعیل خان ۶ محمد زاہد بہاول نگر ۷ شفاء اللہ بھکر ۸ محمد الیاس ایبٹ آباد ۹ ناصر محمود کراچی ۱۰ فخر القرنین میانوالی ۱۱ محمد شوکت مانسہرہ ۱۲ محمد فہد عرفان راجن پور ۱۳ عبدالرحمن کرک ۱۴ محمد اسلم کرک ۱۵ معراج دین لورالائی ۱۶ صوفی نذیر احمد فیصل آباد ۱۷ عبدالرزاق ڈیرہ غازی خان ۱۸ حافظ عماد الدین ڈیرہ غازی خان ۱۹ طاہر بشیر پونچھ ۲۰ عبدالمنان قصور ۲۱ محمد نواز سیالکوٹ ۲۲ محمد اقبال مظفر آباد ۲۳ ذوالفقار علی فاروقی چکوال ۲۴ اختر حسین مظفر آباد ۲۵ عبدالمالک کوئٹہ ۲۶ بصیر احمد چشتی پاکپتن ۲۷ حبیب احمد صدیقی جھنگ صدر ۲۸ زاہد اقبال میانوالی ۲۹ محمد اشرف میانوالی ۳۰ سلطان حبیب منڈی بہاؤ الدین ۳۱ محمد افضل سلہری سیالکوٹ ۳۲ محمد اشرف مانسہرہ ۳۳ عبدالمالک اٹک ۳۴ عبدالقادر جیلانی چکوال ۳۵ محمد ابوبکر صدیق ملتان ۳۶ صغیر احمد عدیل مانسہرہ ۳۷ سید بلال حسین شاہ مانسہرہ ۳۸ احمد اعجاز مانسہرہ

صفحہ ۵۳۶

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۷ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

۳۹ محمد عبدالمالک لقمان مانسہرہ ۴۰ عقیل احمد راولپنڈی ۴۱ اسد اقبال سعد صوابی ۴۲ نفیس الدین فیصل آباد ۴۳ محمد عبداللہ جھنگ ۴۴ شہباز علی لاہور ۴۵ سید عبدالاحد کراچی ۴۶ نذیر احمد فیصل آباد ۴۷ سیف الرحمن سرگودھا ۴۸ محمد صدیق گوجرانوالہ ۴۹ محمد اکبر جھنگ ۵۰ محمد زبیر ساجد شیخوپورہ ۵۱ لیاقت علی اوکاڑہ ۵۲ محمد اطہر خانیوال ۵۳ محمد حفیظ خانیوال ۵۴ زبیر احمد خانیوال ۵۵ محمد اجمل خانیوال ۵۶ محمد شاہد راجہ ساہیوال ۵۷ محمد یعقوب ملتان ۵۸ جاوید اقبال ملتان ۵۹ فیاض احمد لودھراں ۶۰ احمد عثمان ٹوبہ ٹیک سنگھ ۶۱ محمد یوسف شیخوپورہ ۶۲ محمد عبدالمنان ٹوبہ ٹیک سنگھ ۶۳ کامران عابد حافظ آباد ۶۴ محمد سلیم حنفی سرگودھا ۶۵ اسد عباس صدیقی سرگودھا ۶۶ خان محمد لاڑکانہ ۶۷ ضیاء اللہ جھنگ ۶۸ غلام نبی کھٹالہ مانسہرہ ۶۹ محمد اشرف علی فیصل آباد ۷۰ محمد حسین حیدری سرگودھا ۷۱ محمد احسن ندیم سرگودھا ۷۲ محمد شفیق گوجرانوالہ ۷۳ محمد اشفاق ٹوبہ ٹیک سنگھ ۷۴ عبدالخالق ڈیرہ غازی خان ۷۵ آصف سلطان جھنگ ۷۶ خادم حسین اوکاڑہ ۷۷ قاری عبدالجلیل خوشاب ۷۸ محمد عرفان فیصل آباد ۷۹ محمد عارف بہاول نگر ۸۰ محمود احمد اوکاڑہ ۸۱ محمد عتیق الرحمن شیخوپورہ ۸۲ ارشاد احمد مظفر گڑھ ۸۳ ولی محمد مظفر گڑھ ۸۴ محمد ابراہیم گوجرانوالہ ۸۵ محمد رمضان وہاڑی ۸۶ عماد الدین چترال ۸۷ محمد رمضان سرگودھا ۸۸ احسان اللہ جھنگ ۸۹ محمد یوسف ٹانک ۹۰ بلال احمد خان جھنگ

صفحہ ۵۳۷

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۷ء ۵۳۷ ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

۹۱ شاہد عمران فاروقی سرگودھا ۹۲ محمد منشاء صدیقی جھنگ ۹۳ محمد یوسف رحیم یارخان ۹۴ شاہد سرفراز ملتان ۹۵ عبدالرزاق معاویہ لیہ ۹۶ محبوب احمد جھنگ ۹۷ محمد رمضان خوشاب ۹۸ غلام محمد سرگودھا ۹۹ جہانگیر مانسہرہ ۱۰۰ ناصر محمود مانسہرہ ۱۰۱ محمد یاسر مانسہرہ ۱۰۲

(ماہنامہ لولاک ملتان جنوری ۱۹۹۷ء ص ۳ تا ۶)

برلن (جرمنی) میں پہلی دوروزہ عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس (منعقدہ ۲۵، ۲۶؍ دسمبر ۱۹۹۷ء)

جب سے قادیانی سیاسی پناہ کی بنیاد پر جرمنی پہنچنا شروع ہوئے ہیں اسی روز سے تمام مسلمانوں میں سخت تشویش پائی جاتی ہے اس سلسلے میں جب یہاں امام بن کر حضرت مولانا قاری مشتاق الرحمن تشریف لائے تو باقاعدہ کام شروع ہوا۔ چنانچہ ۲۷؍ جولائی ۱۹۹۷ء کو جامع مسجد توحید آفن باغ میں تیسری عظیم الشان ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی۔ جو نہایت کامیاب رہی تھی اور اس میں پورے جرمنی سے مسلمانوں نے شرکت کی تھی، ایک بڑا وفد برلن سے بھی شرکت کے لئے پہنچا تھا جس کی قیادت جناب عبدالرزاق اور حافظ فداء الرحمن صاحب کر رہے تھے۔ کانفرنس کے اختتام پر فیصلہ ہوا کہ برلن میں بھی ختم نبوت کانفرنس منعقد کی جائے گی۔ چنانچہ طے پایا گیا کہ دسمبر میں کانفرنس ہو گی تاریخوں کا تعین بعد میں کیا جائے گا۔

چنانچہ دسمبر میں احباب اسلامی تحریک برلن نے میٹنگ کی کہ کانفرنس کا انعقاد کرسمس کی تعطیلات ۲۵، ۲۶؍ دسمبر ۱۹۹۷ء کو کیا جائے اور اس میں طے پایا گیا کہ برطانیہ سے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے رہنما مولانا منظور احمد الحسینی اور تحریک کشمیر کے مولانا منور حسین مشہدی کو دعوت دی جائے اور جرمنی سے مولانا مشتاق الرحمن صاحب اور ظفر اقبال صاحب کو بلایا جائے اشتہارات شائع کر کے تقسیم کر دیئے گئے اور کانفرنس کو کامیاب کرنے لئے ڈیوٹیاں تقسیم کر دی گئیں۔

چنانچہ مقررہ تاریخ کو جامع مسجد نور برلن میں ۱۲ بجے کانفرنس میں شرکت کے لئے مسلمان پہنچنا شروع ہو گئے یہ شہر کی بڑی مساجد میں سے ایک ہے حاضرین کی تعداد دیدنی تھی مستورات کے لئے پردے کا معقول انتظام تھا۔ رات کو قیام و طعام کا بندوبست بھی تھا کیونکہ کانفرنس دو روزہ تھی اس لئے اس کی چار نشستیں ہوئیں۔ پہلی نشست کا آغاز ۲۵؍ دسمبر جمعرات کو ۲ بجے تلاوت کلام پاک سے ہوا۔ بعدازاں ملک اظہر حسین نے نعت رسول پاک ﷺ پیش کی، افتتاحی کلمات کانفرنس کے چیف آرگنائزر جناب عبدالرزاق نے پیش کئے۔ بعدازاں ۲ بج کر ۴۵ منٹ پر مولانا منور حسین مشہدی امیر تحریک کشمیر یوکے (برمنگھم) کو دعوت خطاب دی گئی انہوں نے کہا کہ ختم نبوت کے حوالے سے یہ کانفرنس بڑی اہم ہے اس میں شرکت باعث برکت اور باعث نجات ہے انہوں نے کہا کہ اسلام میں جہاد کا بڑا مقام ہے اور یہ ایک مستقل عظیم الشان عبادت ہے جو قیامت تک جاری رہے گی مگر مرزا قادیانی نے کہا کہ میں نے جہاد کو منسوخ کر دیا ہے انہوں نے کہا کہ تمام کشمیری مسلمان جو آج تک مظلوماً مارے گئے ہیں ان سب کا خون قادیانیوں کے سر ہے کیونکہ انہی کی گہری سازشوں کی وجہ سے مسلمانوں کو آج تک آزادی نہیں ملی۔ انہوں نے کہا کہ قادیانی ٹولہ شیطانی اور طاغوتی طاقتوں کا آلہ کار ہے اس لئے ان کا طاغوتی طاقتوں

صفحہ ۵۳۸

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۷ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

کے ساتھ گہرا رابطہ ہے۔ مرزا قادیانی نے حضور ﷺ کے بعد نبوت کا دعویٰ کیا جو سراسر کفر ہے انبیاء علیہم السلام کی توہین کی خصوصاً حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے خلاف ایسی بد زبانی کی ہے جو قادیانیوں کے لئے باعث ننگ ہے۔

۴ بجے شام مغرب پڑھی گئی۔ بعد ازاں چائے کا وقفہ دیا گیا۔ ٹھیک ۵ بجے دوسرا اجلاس شروع ہوا۔ تلاوت کلام پاک کے بعد جناب ظفر اقبال صاحب نے خطاب کیا جو ۶ بجے تک جاری رہا۔ انہوں نے کہا کفر ایک مرتبہ پھر اسلام کا لباس پہن کر بغل میں دودھاری چھری لے کر اسلام پر حملہ کر رہا ہے قادیانیت حضرت محمد ﷺ سے بغاوت کا دوسرا نام ہے۔ انہوں نے مسلمانوں سے اپیل کی وہ باغیان اسلام سے کسی قسم کا کوئی تعلق نہ رکھیں ان سے کسی قسم کا تعلق بھی مسلمان کو جہنم لے جانے کا باعث بنے گا۔

اس اجلاس کے دوسرے مقرر حضرت مولانا قاری مشتاق الرحمن امیر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت جرمنی و خطیب جامع مسجد توحید آفن باغ تھے۔ انہوں نے کہا کہ میں تمام اراکین اسلامی تحریک برلن کا تہہ دل سے مشکور ہوں جنہوں نے عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ کے سلسلے میں شہر برلن میں اس کام کی ابتداء کی اور دوروزہ ختم نبوت کانفرنس کا انعقاد کا نظم بنایا۔ انہوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے اسلام کو جیسا مکمل ابدی قانون عطا فرمایا اس میں قیامت تک کی انسانیت کے لئے تمام اصول بیان کر دیئے گئے ہیں اور خاتم الانبیاء حضرت محمد ﷺ جیسا نبی اور رسول مرحمت فرمایا اب تکمیل دین کے بعد ہمیں کسی اور طرف دیکھنے کی ضرورت نہیں حضرت محمد ﷺ کی تشریف آوری کے بعد قیامت تک نبوت کا دروازہ بند ہے جو دعویٰ نبوت کرے وہ جھوٹا ہے۔ انہوں نے کہا ایمان کی دولت سب سے بڑی نعمت ہے مسلمانوں کو چاہئے کہ وہ اس کی قدر کریں انہوں نے کہا کہ جو لوگ قادیانی بن جاتے ہیں وہ اس وقت دائرہ اسلام سے خارج ہو جاتے ہیں ان کے سابقہ اعمال ضائع ہو جاتے ہیں اور بیوی نکاح سے نکل جاتی ہے۔ انہوں نے کہا علماء کرام کی یہ ڈیوٹی ہے کہ وہ شریعت کا حکم لوگوں کو بتائیں اور شریعت کا حکم ظاہر پر لگتا ہے۔ انہوں نے کہا ایمان کا دوسرا نام غیرت ہے غیرت ایمانی کا تقاضہ یہ ہے کہ قادیانیوں سے مکمل بائیکاٹ کیا جائے۔ مولانا کا بیان ۶ بجے شروع ہوا جو ۷ بجے تک جاری رہا۔ ۷ بجے چائے کا وقفہ دیا گیا۔ سوا سات بجے اس کانفرنس کا تیسرا اجلاس ہوا تلاوت کلام پاک اور نعت شریف کے بعد ۸ چھوٹی بچیوں نے رمضان کی آمد کی خوشی میں مل کر رمضان کو مرحبا کہا اور رمضان کی شان میں عربی میں نظم پڑھی جو تمام حاضرین نے خوب پسند کی کہ باوجود زبان کے نہ جاننے کے عربی میں استقبالیہ رمضان پیش کر کے حق ادا کر دیا۔ پورے ۸ بجے مولانا منظور احمد الحسینی مبلغ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت نے بیان شروع کیا جو ۹ بج کر ۲۰ منٹ پر ختم ہوا۔ انہوں نے قادیانیوں سے بائیکاٹ کے مسئلہ پر تفصیلی روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ حضور اکرم ﷺ نے مشرکین مکہ سے صلح حدیبیہ کی مدینہ منورہ کے یہودیوں سے معاہدہ کیا وفد نجران عیسائیوں سے صلح کا معاہدہ ہوا مگر اسود عنسی جھوٹے مدعی نبوت سے کسی قسم کی کوئی صلح نہیں کی گئی اور وہ آپ ﷺ کی زندگی ہی میں واصل جہنم کیا گیا۔ بعد ازاں حضرت ابو بکر صدیق ؓ کے دور میں جھوٹے مدعی نبوت مسیلمہ کذاب کا یہی حشر ہوا اور انگریز کے دور تک جس کسی نے جہاں کہیں بھی نبوت کا دعویٰ کیا، اس کو جہنم رسید کیا گیا۔ امت مسلمہ نے اس کو معاف نہیں کیا یہی وجہ ہے کہ بہت سے جھوٹے نبی آئے مگر آج دنیا میں ان کے ماننے والوں میں سے کسی کا وجود نہیں ہے۔ انہوں نے کہا ہم دیار غیر میں رہنے والے غیرت ایمانی کا ثبوت دیں اور جھوٹے مدعی نبوت مرزا غلام احمد کے ماننے والوں سے مکمل بائیکاٹ کریں۔ پونے دس بجے عشاء کی نماز ہوئی بعد ازاں اسلامی تحریک کی طرف سے عشائیہ دیا گیا۔ ۱۱ بجے آپ کے سوالات اور علماء کرام کے جوابات کے زیر عنوان خصوصی محفل سوال و جواب منعقد ہوئی جو کافی دلچسپ تھی۔

(ہفت روزہ ختم نبوت کراچی مؤرخہ ۳۰ جنوری تا ۱۲ فروری ۱۹۹۸ء ص ۲۱، ۲۲، ۲۳)

صفحہ ۵۳۹

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۲ء تا ۱۹۹۷ء

ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت

کی

مرکزی شوریٰ کے اجلاسوں

کی

کارروائیاں

۱۹۹۲ء تا ۱۹۹۷ء

صفحہ ۵۴۰

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۲ء تا ۱۹۹۷ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

عالمی مجلس کی مرکزی مجلس شوریٰ اور مجلس عمومی کے اجلاسات

نمبر شمار مقام اجلاس تاریخ صدر اجلاس ۶۷ دفتر مرکزیہ ملتان (مجلس عاملہ) ۲۹؍ جنوری ۱۹۹۲ء، مطابق ۲۳؍ رجب ۱۴۱۲ھ خواجہ خواجگان حضرت خواجہ خان محمد ۶۸ دفتر مرکزیہ ملتان (مجلس عاملہ) ۱۸؍ اپریل ۱۹۹۲ء، مطابق ۱۴؍ شوال ۱۴۱۲ھ // // // ۶۹ دفتر مرکزیہ ملتان (اجلاس شوریٰ) ۴؍ اپریل ۱۹۹۳ء، مطابق یکم شوال ۱۴۱۳ھ // // // ۷۰ دفتر مرکزیہ ملتان (مجلس عاملہ) تاریخ ندارد // // // ۷۱ دفتر مرکزیہ ملتان (اجلاس شوریٰ) ۲۷؍ مارچ ۱۹۹۴ء، مطابق ۱۴؍ شوال ۱۴۱۴ھ // // // ۷۲ مسلم کالونی چناب نگر (جنرل کونسل) ۱۴؍ اکتوبر ۱۹۹۴ء، مطابق ۸؍ جمادی الاوّل ۱۴۱۵ھ // // // ۷۳ دفتر مرکزیہ ملتان (اجلاس شوریٰ) ۲۷؍ مارچ ۱۹۹۵ء، مطابق ۲۵؍ شوال ۱۴۱۵ھ // // // ۷۴ دفتر مرکزیہ ملتان (اجلاس شوریٰ) ۲؍ جون ۱۹۹۶ء، مطابق ۱۸؍ محرم الحرام ۱۴۱۷ھ // // // ۷۵ دفتر مرکزیہ ملتان (مجلس منتظمہ) ۱۴؍ ستمبر ۱۹۹۶ء، مطابق ۲۹؍ ربیع الثانی ۱۴۱۷ھ // // // ۷۶ دفتر مرکزیہ ملتان (مجلس منتظمہ) ۷؍ فروری ۱۹۹۷ء، مطابق ۹؍ شوال المکرم ۱۴۱۷ھ // // // ۷۷ دفتر مجلس تحفظ ختم نبوت لاہور (مجلس منتظمہ) ۳۰؍ جون ۱۹۹۷ء، مطابق ۲۴؍ صفر الخیر ۱۴۱۸ھ // // // ۷۸ دفتر مرکزیہ ملتان (اجلاس شوریٰ) ۱۶؍ جولائی ۱۹۹۷ء، مطابق ۱۵؍ ربیع الاوّل ۱۴۱۸ھ // // // ۷۹ مسلم کالونی چناب نگر (جنرل کونسل) ۳؍ اکتوبر ۱۹۹۷ء، مطابق ۳۰؍ جمادی الاوّل ۱۴۱۸ھ // // //

(۶۷ واں) اجلاس مجلس عاملہ

اجلاس مجلس عاملہ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان بمقام دفتر مرکزیہ ملتان۔

مؤرخہ ۲۹؍ جنوری ۱۹۹۲ء، مطابق ۲۳؍ رجب المرجب ۱۴۱۲ھ، بروز بدھ، بعد از ظہر منعقد ہوا۔

زیر صدارت: حضرت امیر مرکزیہ مولانا خواجہ خان محمد صاحب دامت برکاتہم۔

شرکاء: (۱) حضرت مولانا خواجہ خان محمد صاحب دامت برکاتہم، (۲) حضرت مولانا محمد اکرم طوفانی، (۳) حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی، (۴) حضرت مولانا عبدالرحیم اشعر، (۵) حضرت مولانا اللہ وسایا، (۶) حضرت مولانا عزیز الرحمن جالندھری، (۷) حضرت صاحبزادہ طارق محمود۔

حضرت مولانا محمد اکرم طوفانی صاحب نے تلاوت کلام پاک فرمائی۔

۱...... سب سے پہلے بندہ عزیز الرحمن نے اجلاس کی غرض وغایت بیان کرتے ہوئے کہا کہ اب مجلس کا کام اتنا پھیل گیا ہے اور بعض

صفحہ ۵۴۱

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۲ء تا ۱۹۹۷ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

امور ایسے ہوتے ہیں کہ صرف دفتر مرکزیہ کے ذمہ دار رفقاء ان کے متعلق فیصلہ کرنے کے مجاز نہیں۔ اس لئے ضروری ہوا کہ اکابرین عہدیداران کا گاہے بگاہے اجلاس ہو جایا کرے تاکہ تمام مجلس کے اکابرین حضرات متفقہ طور پر ان امور میں دفتر کو ہدایات جاری فرمائیں۔ پھر بعد میں دفتر کے لئے شرح صدر سے ان پر عمل کرنا آسان ہو جایا کرے گا۔ ان امور اور ضروریات کو دیکھ کر حضرت امیر دامت برکاتہم نے عہدیداران کا اجلاس بلانے کی ہدایت فرمائی۔ آپ کے ارشاد گرامی کی تعمیل میں یہ اجلاس طلب کیا گیا ہے۔ اس پر فیصلہ ہوا کہ ہر سہ ماہ بعد عہدیداران کا اجلاس ہو جایا کرے تاکہ ان امور پر مشورہ ہو جائے۔ اس لئے کہ مجلس شوریٰ کا اجلاس سال بعد ہوتا ہے اور بعض فوری اہم امور سال بھر ان کو معلق نہیں رکھا جا سکتا۔ اجلاس عہدیداران سال میں سہ ماہی ترتیب سے ہوتا رہے۔

شناختی کارڈ، حج فارم وغیرہ میں مسلمانوں کے لئے ایک حلف نامہ رکھا گیا۔ شناختی کارڈ فارم میں جو شخص اپنے مذہب کو اسلام ظاہر کرے اس کے لئے حلف نامہ پر کرنا ضروری ہے جس میں تفصیل سے درج ہے کہ میں مرزا کو کافر وغیرہ تسلیم کرتا ہوں۔ بعد میں جنرل محمد ضیاء الحق مرحوم نے آرڈیننس جاری کیا۔ جداگانہ طرز انتخابات کو الیکشن کی بنیاد تسلیم کیا تو ووٹر لسٹوں میں بھی یہ حلف نامہ آیا۔ اسی طرح پاسپورٹ میں بھی مذہب کا خانہ موجود ہے اور اپنا مذہب اسلام ظاہر کرنے والے پاسپورٹ ہولڈر کے وہ حلف نامہ پر کرنا ضروری ہے۔ لیکن اس کا نقصان یہ ہوا کہ شناختی کارڈ میں مذہب کا خانہ نہ ہونے کے باعث کئی مفاسد پیدا ہوئے۔ مثلاً پاسپورٹ، شناختی کارڈ کی بنیاد پر بنتا ہے۔ شناختی کارڈ میں مذہب کا خانہ موجود نہیں ہے۔ پاسپورٹ بنواتے وقت ایک قادیانی سعودیہ جانے کے لئے خود کو مسلمان، یا ایک شخص مغرب جانے کے لئے پاسپورٹ میں خود کو قادیانی ظاہر کرتا ہے۔ اس کی کئی مثالیں ہیں، جن سے شدید نقصان ہوا۔ نیز یہ کہ پاسپورٹ میں تو مذہب کا خانہ موجود ہے۔ کوئی قادیانی خود کو مسلمان ظاہر کر کے اس میں دھوکہ کرتا ہے تو چونکہ پاسپورٹ عام دکھانے کی چیز نہیں۔ دوسرا شخص اس پر مطلع نہیں ہوتا۔ اس لئے مرزائیوں کو قانون میں ہمارے لئے جکڑنا آسان نہیں ہوتا۔ بخلاف شناختی کارڈ کے اگر اس میں مذہب کا خانہ درج ہو جائے۔ اگر اس میں مرزائی غلط بیانی و دھوکہ دہی کریں گے تو آسانی سے پکڑے جائیں گے۔ کیونکہ یہ عام استعمال کی چیز ہے۔ جیسا کہ ایک دفعہ لندن جانے والے سترہ قادیانیوں نے جو خود کو پاسپورٹ میں مسلمان لکھوا رکھا تھا۔ کراچی ائیر پورٹ پر گرفتار ہوئے۔ اگلے سال مرزا طاہر نے قادیانیوں کو سرکلر جاری کیا کہ وہ پاسپورٹ میں خود کو مسلمان کی بجائے احمدی لکھوائیں تو اس لئے جناب بھٹو صاحب اور جنرل ضیاء الحق کے زمانہ میں شناختی کارڈ میں مذہب کے خانہ کے اندراج کا مطالبہ کیا گیا۔ مگر منظور نہ ہو سکا۔ پھر جونیجو گورنمنٹ کے زمانہ میں شناختی کارڈ کو نئے سرے سے کمپیوٹر پر لانے کا فیصلہ ہوا تو مطالبہ کیا گیا۔ اصولی طور پر حکومت نے مطالبہ تسلیم کر لیا اور ڈائریکٹر جنرل رجسٹریشن اسلام آباد نے شناختی کارڈ کی ڈیزائننگ میں یہ خانہ رکھا۔ لیکن وفاقی کابینہ میں منظوری کے لئے پیش ہونے کا مرحلہ نہ آ سکا اور وہ اقتدار سے لڑھک گئے۔ جتوئی صاحب اور محترمہ بے نظیر کے دور میں بھی یہ منظوری کے لئے کابینہ میں نہ جا سکا۔ اب موجودہ حکومت کے وفاقی سیکرٹری داخلہ چوہدری شجاعت نے کمپیوٹر پر لانے کا اعلان کیا ہے اور یہ فروری ۱۹۹۲ء کے دوسرے ہفتے میں کمپیوٹر پر بننے شروع ہو جائیں گے۔ اس لئے مجلس کو نئے سرے سے اس مطالبہ کے منوانے کے لئے جدوجہد کا آغاز کرنا چاہئے۔

اس پر تفصیلی غور و خوض کیا گیا۔ مثبت و منفی، نفع و نقصان کے تمام پہلوؤں پر غور کیا گیا۔ حضرت مولانا محمد یوسف صاحب لدھیانوی

صفحہ ۵۲۲

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۲ء تا ۱۹۹۷ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

دامت برکاتہم نے اس کے تمام گوشوں پر روشنی ڈالی اور فیصلہ ہوا کہ اس سلسلہ میں آل پارٹیز مرکزی مجلس عمل تحفظ ختم نبوت پاکستان کا فوری طور پر لاہور میں اجلاس بلایا جائے۔ تمام پہلو، ان کے سامنے رکھ کر ان نمائندگان سے مشاورت کے بعد لائحہ عمل طے کریں اور محنت شروع کردیں۔ اللہ رب العزت محض اپنے فضل و رحم سے مدد فرمائیں اور کامیابی سے ہمکنار فرمائیں۔ آمین ثم آمین !

حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی دامت برکاتہم نے فرمایا کہ سپریم کورٹ کے کیسوں کی جلد سماعت کے لئے فوری طور پر کاوش کی ضرورت ہے اور یہ کہ وہ خود اس سلسلہ میں کراچی سے سعی فرمائیں گے۔ اسی طرح صاحبزادہ طارق محمود صاحب بھی۔

فیصلہ ہوا کہ دفتر ان کی ضروریات جیل کے لئے جیسے جو مناسب امداد سمجھے کر سکتا ہے۔ ضمانتوں اور اپیل کے لئے آئینی قانونی مدد فراہم کرنا بھی ہمارا فرض ہے۔ اس کی بھی اجازت ہے۔

صفحہ ۵۲۳

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۲ء تا ۱۹۹۷ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

ضرورت قانونی امداد کی اجازت ہے۔

قبل از مغرب اجلاس اختتام پذیر ہوا۔ حضرت الامیر دامت برکاتہم نے دعا فرمائی۔ فلحمدلله !

دستخط قاضی فیض احمد محرر

(۶۸ واں) اجلاس مجلس عاملہ

اجلاس مجلس عاملہ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان بمقام دفتر مرکزیہ ملتان ۔

مؤرخہ ۱۸؍ اپریل ۱۹۹۲ء، مطابق ۱۴؍ شوال المکرم ۱۴۱۲ھ، بروز ہفتہ، قبل از دوپہر منعقد ہوا۔

شرکاء: (۱) حضرت مولانا خواجہ خان محمد صاحب دامت برکاتہم، (۲) حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی مدظلہ، (۳) حضرت مولانا عبدالرحیم اشعر، (۴) حضرت الحاج بلند اختر نظامی لاہور، (۵) جناب قاضی فیض احمد، (۶) حضرت مولانا اللہ وسایا، (۷) حضرت مولانا بشیر احمد، (۸) حضرت مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی، (۹) حضرت مولانا عزیز الرحمن جالندھری، (۱۰) مولانا محمد اسلم صاحب خطیب گوجرہ (اعزازی)

حضرت الامیر کی زیر صدارت اجلاس شروع ہوا۔ مولانا محمد اسلم صاحب نے تلاوت فرمائی۔

دینے کا وعدہ فرمایا۔ فیصلہ ہوا کہ رقم ملنے پر مسجد کی تعمیر کا آغاز کر دیا جائے۔ حضرت قاضی فیض احمد صاحب، حضرت حاجی محمد اعظم صاحب، حضرت مولانا محمد اسلم صاحب پر مشتمل کمیٹی نقشہ و تعمیرات کی نگرانی کرے۔ قاضی فیض احمد صاحب تاریخ مقرر کر کے وہاں تشریف لے جا کر رفقاء کو مل کر تفصیلات طے فرمائیں۔

میں اجلاس شروع ہوا۔

شرکاء: حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی، حضرت مولانا عبدالرحیم اشعر، حضرت مولانا عزیز الرحمن جالندھری، حافظ محمد ثاقب، مولانا فقیر اللہ گوجرانوالہ، مولانا محمد اسماعیل لاہور، مولانا زرین احمد خانیوال، مولانا محمد اکرم طوفانی سرگودھا، مولانا غلام حسین جھنگ، مولانا محمد اسماعیل بہاول نگر، مولانا احمد بخش رحیم یار خان، مولانا محمد اسحاق بہاول پور، مولانا امام الدین مظفر گڑھ، مولانا نذیر احمد کوئٹہ، مولانا جمال اللہ سندھ، مولانا خلیل الرحمن سندھ، مولانا بشیر احمد سندھ، مولانا خدا بخش مرکز، مولانا صوفی اللہ وسایا ڈیرہ غازی خان، مولانا اللہ وسایا ملتان ۔

مولانا نذیر احمد تونسوی کی تلاوت سے کارروائی کا آغاز ہوا۔

صفحہ ۵۴۴

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۲ء تا ۱۹۹۷ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

اللہ وسایا نے شناختی کارڈ سے متعلق اب تک ہونے والی عالمی مجلس کی خدمات کی رپورٹ پیش کی۔ گزشتہ اجلاس ۲۹؍ جنوری ۱۹۹۲ء کی روشنی میں ۳؍ فروری ۱۹۹۲ء کو آل پارٹیز مرکزی مجلس عمل تحفظ ختم نبوت پاکستان کا اجلاس لاہور دفتر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت میں حضرت الامیر دامت برکاتہم کی زیر صدارت منعقد ہوا۔ مرکز سے مولانا عزیز الرحمن جالندھری، مولانا اللہ وسایا، مولانا محمد اکرم طوفانی، لاہور سے مولانا محمد اسماعیل، الحاج بلند اختر نظامی نے مجلس کی نمائندگی کی۔ تمام جماعتوں کے قائدین شریک جس کی تفصیل مجلس عمل کے رجسٹر کارروائی میں دیکھی جاسکتی ہے۔ مجلس عمل نے فیصلہ کیا کہ ۱۴؍ فروری ۱۹۹۲ء کو ملک بھر میں یوم احتجاج منایا جائے۔ چنانچہ اشتہار شائع کیا گیا اور یوم احتجاج منایا گیا۔ مجلس عمل نے دوسرا فیصلہ کیا تھا کہ صدر مملکت وزیر اعظم اور وزیر داخلہ سے ملاقات کی جائے۔ وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف اور وزیر داخلہ چوہدری شجاعت حسین سے مولانا فضل الرحمن نے بات کی اور صدر مملکت سے ۱۸؍ فروری ۱۹۹۲ء کو مولانا حافظ حسین احمد سینیٹر، راجہ ظفر الحق سینیٹر، مولانا علی اکبر، مولانا محمد حسن، مولانا حسن جان، جناب عطاء محمد قریشی (ایم این اے حضرات) قاضی احسان الحق، مولانا مفتی احتشام الحق آسیا آبادی اور مرکز سے مولانا اللہ وسایا نے ملاقات کی۔ صدر مملکت نے مطالبہ کی معقولیت کو تسلیم کیا اور وعدہ کیا کہ وہ متعلقہ وفاقی وزارت داخلہ کو ہدایات جاری کریں گے۔ اخبارات، ریڈیو، ٹی وی پر خبر آئی۔

لیکن اس دوران وفاقی سیکرٹری داخلہ نے اعلیٰ سطحی میٹنگ کر کے جس میں ڈی جی رجسٹریشن جاوید قیوم بھی تھے۔ فیصلہ کیا کہ چاروں صوبائی حکومتوں سے رپورٹ طلب کی جائے۔ چنانچہ چاروں ہوم سیکرٹریوں کو تمام اخبارات کے کٹنگ اور درخواستیں رجسٹرڈ ڈاک سے بھجوائی گئیں۔ کوئٹہ کی جماعت، لاہور مولانا آزاد، مولانا محمد اسماعیل، کراچی حمادی میاں، پشاور مولانا نور الحق اور مولانا محمد امیر بجلی نے ہوم سیکرٹریوں سے ملاقاتیں کیں۔ انہوں نے مطالبہ کی معقولیت کو تسلیم کیا اور ہمارے حق میں رپورٹ بھجوانے کا وعدہ کیا۔ ۹؍ فروری ۱۹۹۲ء کو اسلام آباد ہاسٹل میں سود کے خلاف ایک کنونشن جماعت اسلامی کا تھا۔ اس میں بھی تقریر اور قرارداد پاس ہوئی۔ قاضی حسین احمد نے وزیر اعظم اور صدر مملکت کو ہماری ارسال کردہ درخواستیں بھجوائیں۔ مارچ میں رمضان شریف تھا۔ وزیر اعظم، صدر مملکت وعدہ پورا کریں۔ اشتہار، ختم نبوت ولولاک میں شائع کیا گیا۔ عید و جمعۃ الوداع پر آواز اٹھائی گئی۔ لیکن آج ۱۸؍ اپریل ۱۹۹۲ء کو مولانا عبد الرؤف نے اسلام آباد سے اطلاع دی ہے کہ گورنمنٹ پریس کراچی جہاں سے نوٹ چھپتے ہیں۔ وہاں سے سو سو شناختی کارڈ کی سلپیں چھپ کر آگئی ہیں۔ مگر اس میں مذہب کا خانہ درج نہیں۔ اس نئی صورتحال پر غور کیا جائے۔ رفقاء، شرکاء نے بحث میں حصہ لیا اور فیصلہ ہوا کہ فوری لاہور جا کر مولانا محمد اسماعیل، مولانا اللہ وسایا، مجلس عمل کے رہنماؤں سے ملیں اور ان کے مشورہ سے پروگرام بنائیں۔ پھر قومی اسمبلی کا اجلاس ہو رہا ہے۔ وہاں مولانا اللہ وسایا اور مولانا محمد اکرم طوفانی کاوش کریں اور نئی صورتحال کو جس طرح ممکن ہو کنٹرول کریں۔ اللہ رب العزت فضل فرمائیں۔ محنت و کاوش میں کسر نہ اٹھا رکھی جائے۔

۴، ۵؍ مئی اسلام آباد علی الترتیب کراچی کمپنی، مسجد دارالسلام، ۶؍ مئی ہری پور، ۷؍ مئی ایبٹ آباد میں کانفرنسیں ہیں۔ ۵، ۶، ۷؍ مئی کو مولانا محمد یوسف صاحب ان کانفرنسوں میں شرکت کریں گے۔ حضرت الامیر دامت برکاتہم کے ساتھ اس سفر مولانا محمد یوسف صاحب لدھیانوی کے علاوہ، مولانا اللہ وسایا، مولانا محمد اکرم طوفانی ہوں گے اور اگر ممکن ہو تو اسلام آباد میں اس موقع پر مجلس عمل کا اجلاس رکھا جائے۔ ممبران اسمبلی کے نام اپیل اشاعت و تقسیم کا اہتمام کریں۔ ۲۴؍ اپریل کو کراچی حق نواز کانفرنس میں قرارداد ہو۔

صفحہ ۵۴۵

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۲ء تا ۱۹۹۷ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

۱۹/ اپریل ۱۹۹۲ء صبح ساڑھے سات بجے حضرت الامیر کی زیر صدارت اجلاس شروع ہوا۔ تلاوت حضرت مولانا محمد اکرم طوفانی نے فرمائی۔ حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی دامت برکاتہم نے ابتداً پندونصائح، کاز سے اخلاص وللہیت کے ساتھ کام کرنے کی طرف مبلغین حضرات کی توجہ مبذول کرائی۔ کتاب تحریک ختم نبوت ۱۹۵۳ء تمام مبلغین حضرات کو مرکز کی طرف سے دینے کا فیصلہ ہوا۔ حضرت جالندھری کا بیان اور انکوائری کمیشن، سات سوالات کا جواب وغیرہ مندرجہ تحریک ختم نبوت ۱۹۷۴ء کو علیحدہ کتابی شکل میں چھاپنے کا حضرت لدھیانوی دامت برکاتہم نے حکم فرمایا۔ مسجد عائشہ کے حالات پر مولانا عزیز الرحمن جالندھری مرکزی ناظم اعلیٰ نے روشنی ڈالی۔ فیصلہ ہوا کہ کیس دائر کردہ مرزائیان کو لڑا جائے۔ مدرسہ کا نظم مزید وسیع کیا جائے۔ مزید تعمیرات نہ کی جائیں۔ غیر قانونی قابض مسلمانوں سے حسن سلوک رکھا جائے۔ فیصلہ کے بعد جو نئی صورتحال ہوگی اسے دیکھا جائے۔ اگر وقف کے کسی حصہ پر غیر متعلقہ شخص یا اشخاص غیر قانونی جبراً قابض ہوں ان کا قبضہ لینے کے لئے باقی ماندہ وقف جگہ بھی ہاتھ سے جانے کا اندیشہ ہو تو خاموشی بہتر ہے۔ ہم گنہگار نہ ہوں گے۔ غیر قانونی قابضین جانیں، ان کا معاملہ جانے۔ ہاں! البتہ فیصلہ کے بعد نئی صورتحال ایسی ہو کہ ان سے جگہ حاصل کی جاسکتی ہو تو ایک منٹ کی تاخیر نہ کریں گے۔ کنری مسجد کی تعمیر کی دیکھ بھال کے لئے مولانا جمال اللہ صاحب کی تجویز پر مولانا عزیز الرحمن صاحب کے فوری سفر کرلینے کا فیصلہ ہوا۔ فقیر خان محمد عفی عنہ

(۶۹ واں) اجلاس شوریٰ

اجلاس مرکزی مجلس شوریٰ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان بمقام دفتر مرکزیہ ملتان۔ مؤرخہ ۴/ اپریل ۱۹۹۳ء، مطابق یکم شوال المکرم ۱۴۱۳ھ، بروز اتوار، بوقت ۱۰ بجے دن منعقد ہوا۔ زیر صدارت: حضرت امیر مرکزیہ مولانا خواجہ خان محمد صاحب دامت برکاتہم۔

شرکاء: (۱) حضرت مولانا خواجہ خان محمد صاحب دامت برکاتہم، (۲) حضرت مولانا محمد بنوری صاحب کراچی، (۳) حضرت صوفی محمد ریاض الحسن گنگوہی ڈیرہ اسماعیل خان، (۴) حضرت قاضی عبدالمالک صاحب جھاوریاں، (۵) حضرت مولانا زاہد الراشدی (اعزازی)، (۶) حضرت انوار الحق حقانی کوئٹہ، (۷) حضرت عبدالواحد کوئٹہ، (۸) جناب قاضی فیض احمد ٹوبہ ٹیک سنگھ، (۹) حضرت مولانا فیض احمد ملتان، (۱۰) حضرت مولانا بشیر احمد سکھر سندھ، (۱۱) جناب حاجی بلند اختر نظامی لاہوری، (۱۲) حضرت مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی لاہور، (۱۳) مکرم عبدالرحمن باوا کراچی، (۱۴) جناب حکیم قاری محمد یونس راولپنڈی، (۱۵) حضرت مولانا نور الحق صاحب نور پشاور، (۱۶) حضرت مولانا عبدالرحیم اشعر، (۱۷) حضرت مفتی نظام الدین شامزئی کراچی، (۱۸) حضرت مولانا احمد میاں حمادی، (۱۹) حضرت مولانا ڈاکٹر عبدالرزاق اسکندر کراچی، (۲۰) حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی، (۲۱) حضرت مولانا محمد اشرف ہمدانی، (۲۲) جناب صاحبزادہ طارق محمود فیصل آباد، (۲۳) حضرت مولانا محمد عبداللہ اسلام آباد، (۲۴) قاضی عزیز الرحمن رحیم یارخان، (۲۵) حضرت مولانا عزیز الرحمن جالندھری، (۲۶) حضرت مولانا اللہ وسایا، (۲۷) جناب حاجی سیف الرحمن بہاول پور شریک اجلاس ہوئے۔ حضرت سید انور حسین نفیس لاہور اور مولانا فیض اللہ صاحب میر پور خاص نے ضروری کاموں کے سلسلہ میں شرکت سے معذوری فرمائی۔ حضرت مولانا قاری محمد امین صاحب راولپنڈی ہانگ کانگ کے سفر کے باعث تشریف نہ لاسکے۔

صفحہ ۵۴۶

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۲ء تا ۱۹۹۷ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

حضرت مولانا قاری انوار الحق صاحب حقانی معزز رکن کوئٹہ کی تلاوت کلام پاک سے کارروائی کا آغاز ہوا۔

ایجنڈا شق نمبر ۱: سابقہ کارروائی کی توثیق:

سابقہ اجلاس مجلس شوریٰ منعقدہ مسلم کالونی چناب نگر بتاریخ ۱۷؍ اکتوبر ۱۹۹۱ء۔

سابقہ اجلاس مجلس عاملہ منعقدہ دفتر مرکزیہ ملتان بتاریخ ۲۹؍ جنوری ۱۹۹۲ء۔

سابقہ اجلاس مجلس عاملہ منعقدہ دفتر مرکزیہ ملتان بتاریخ ۱۸؍ اپریل ۱۹۹۲ء

تینوں اجلاسوں کی کارروائی پڑھ کر سنائی گئی۔ جس کی تمام شرکاء اجلاس نے بالاتفاق توثیق و منظوری مرحمت فرمائی۔

قرارداد تعزیت: مرکزی ناظم اعلیٰ حضرت مولانا عزیز الرحمن صاحب جالندھری دامت برکاتہم نے سابقہ روایات کے مطابق ذیل کی قرارداد توثیق فرمائی۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی مرکزی مجلس شوریٰ نے اپنے منعقدہ اجلاس سالانہ مورخہ ۴؍ اپریل ۱۹۹۳ء میں ستمبر ۱۹۹۱ء سے ۳؍ اپریل ۱۹۹۳ء تک اپنے حلقہ کے فوت شدگان، بزرگان، علماء دین اور دینی حلقہ کے رفقاء کی تعزیت کے لئے تعزیتی قرارداد منظور کی۔ یہ اجلاس اس عرصہ میں فوت شدگان حضرات کی خدمات کو خراج تحسین پیش کرتا ہے۔ ان کی مغفرت کے لئے حق تعالیٰ شانہ کے حضور دعائے مغفرت کرتا ہے اور ان کے پسماندگان سے گہری ہمدردی کا اظہار کرتا ہے۔ جن حضرات کے لئے تعزیتی قرارداد منظور کی گئی۔ ان کے اسماء گرامی یہ ہیں۔

حضرت مولانا سید محمد صادق حسین شاہ صاحب، مولانا رشید احمد مدنی، مولانا قاری محمد حذیفہ، حافظ حبیب الرحمن، حضرت حاجی عزیز الرحمن (شہدائے جھنگ ۷؍ ستمبر ۱۹۹۱ء) حضرت مولانا فقیر محمد صاحب پشاوری خلیفہ مجاز حضرت تھانوی (۲؍ اکتوبر ۱۹۹۱ء)، حضرت امیر مرکزیہ حضرت اقدس خواجہ خان محمد صاحب دامت برکاتہم کے برادر نسبتی جناب ملک عطاء محمد صاحب، جناب افتخار احمد ہری پور، حضرت مولانا غلام ربانی رحیم یار خان مرکزی رہنما جمعیۃ علماء اسلام، حضرت مولانا غلام محمد صاحب منڈی فاروق آباد، حضرت مولانا محمد عبداللہ مسعود بہاول پور (۳؍ اکتوبر ۱۹۹۱ء) مولانا سید عبدالرحیم بہاول پور، شیخ الحدیث حضرت مولانا علی محمد صاحب کبیر والا (۶؍ جنوری ۱۹۹۲ء)، حضرت مولانا نیاز محمد صاحب ختنی، شیخ الحدیث بہاول نگر نو مسلم سید محمد شہید بلوچستان (۲۹؍ دسمبر ۱۹۹۱ء)، مولانا مسعود شمیم مدرسہ صولتیہ مکہ مکرمہ حضرت قاری سعید احمد عثمانی تلہ گنگ، محمد حسین چغتائی بہاول پور، درگاہ ہالیجی شریف سندھ کے سجادہ نشین مولانا عبدالستار اور ان کے بیس رفقاء شہداء کرام ہالیجی شریف، مولانا اکرام الحق الخیری کے والد گرامی، مولانا ڈاکٹر مناظر حسن نظر لاہور، حضرت مولانا محمد سلیمان طارق، مولانا معراج الحق مدرسہ دارالعلوم دیوبند (۱۸؍ اگست ۱۹۹۱ء)، حافظ بشیر احمد مصری (۱۳؍ جولائی ۱۹۹۲ء)، مولانا قاضی احسان الحق راولپنڈی (۳۰؍ ستمبر ۱۹۹۲ء)، صوفی محمد علی لودھراں، مولانا غلام نبی جانباز (۱۹؍ نومبر ۱۹۹۲ء)، مولانا محمد اسحق قادری لاہور، الحاج ذکر اللہ بہاول پور، سید افتخار الحسن فیصل آباد، مولانا محمد اسحق چیمہ فیصل آباد، مولانا مطیع اللہ رشیدی ساہیوال، مولانا محمد اسحق جالندھری ملتان (۳۰؍ مارچ ۱۹۹۳ء)، الحاج حضرت حاجی سیف الرحمن بہاول پور کی ہمشیرہ محترمہ حضرت اقدس شاہ عبدالعزیز سرگودھوی رائے پوری خلیفہ مجاز حضرت شاہ عبدالقادر رائے پوری، جناب ملک محمد اکبر ساقی لاہور، حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی کے برادر اکبر، عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے بانی اور امیر اوّل حضرت امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاری مرحوم مغفور کی اہلیہ محترمہ مرحومہ، مبلغ مجلس مولانا

صفحہ ۵۲۷

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۲ء تا ۱۹۹۷ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

خدا بخش کے والد مرحوم ان مرحومین کے لئے حضرت امیر مرکزیہ مولانا خواجہ خان محمد صاحب نے مغفرت فرمائی۔ تمام شرکاء اجلاس اراکین مرکزی مجلس شوریٰ نے دل گرفتگی کے عالم میں مرحومین کے رفع درجات کی دعا میں شرکت کی۔ فیصلہ ہوا کہ تمام مرحومین کے ورثاء کو اس تعزیتی قرارداد کی ایک ایک کاپی ارسال کر دی جائے۔

ایجنڈا شق نمبر ۲: اندرون ملک مجلس کی سالانہ کارروائی کی رپورٹ، مقدمات سپریم کورٹ، شناختی کارڈ میں خانہ مذہب کی مہم، حضرت مولانا عزیز الرحمن جالندھری مرکزی ناظم اعلیٰ نے سالانہ کارکردگی کی رپورٹ پیش کرتے ہوئے فرمایا کہ اس عرصہ میں عالمی مجلس کے زیر اہتمام جو کانفرنسیں منعقد ہوئیں ان کی تفصیل اسی جلد میں دوسری جگہ موجود ہے۔ اس لئے یہاں درج نہیں کیا گیا۔

شعبہ نشر و اشاعت: اس عرصہ میں (۱) گالیاں کون دیتا ہے؟ (۲) قادیانیوں اور دوسرے کافروں میں فرق، (۳) مجرم اسلام، (۴) آستین کے سانپ، (۵) عاشقان مصطفےٰ کہاں ہیں، (۶) چہرہ قادیانیت، (۷) مسئلہ کشمیر اور فتنہ قادیانیت، (۸) روئیداد ۱۴۱۰ھ، (۹) مسیلمہ کذاب سے دجال قادیانی تک (جزوی امداد)، (۱۰) روئیداد ۱۴۱۱ھ، (۱۱) روئیداد ۱۴۱۲ھ، (۱۲) فیصلہ ہائیکورٹ صد سالہ جشن پر پابندی، (۱۳) فیصلہ ہائیکورٹ از جسٹس نذیر احمد اختر، (۱۴) تذکار مصطفیٰ ﷺ، (۱۵) نواز شریف کے نام کھلا خط، (۱۶) شناختی کارڈ میں خانہ مذہب کا اضافہ، (۱۷) قومی شناختی کارڈ اور خانہ مذہب۔ ہزار ہا کی تعداد میں یہ رسائل شائع کئے گئے۔ علاوہ ازیں حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی دامت برکاتہم کے اردو رسائل کا مجموعہ ۲۴ رسائل کمپیوٹرائز ہو چکے ہیں۔ اس طرح کل ۴۱ رسائل وکتب کی اشاعت کا اہتمام کیا گیا۔ انگریزی رسائل اس کے علاوہ ہیں۔

فیصلہ ہوا کہ حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی کے رسائل کا اردو و انگریزی کے مجموعہ جات علیحدہ علیحدہ شائع کئے جائیں۔ انگریزی رسائل کے مجموعہ کو کم از کم ایک ہزار نسخہ یورپ کی لائبریریوں میں مجلس کے خرچہ پر رکھنے کا اہتمام کیا جائے اور مکرم جناب باوا صاحب آئندہ میٹنگ تک رپورٹ دیں کہ وہ لندن دفتر سے انگریزی رسالہ ماہوار یا سہ ماہی شائع کرنے کی پوزیشن میں ہیں۔

ایجنڈا شق نمبر ۳: بیرون ملک قادیانی سرگرمیاں اور مجلس کی مساعی: مکرم محترم حضرت اقدس مولانا محمد یوسف لدھیانوی دامت برکاتہم نے ازبکستان کے تبلیغی دورہ وفد مجلس کی رپورٹ پیش کرتے ہوئے فرمایا کہ ہمارا دورہ خاصا کامیاب رہا۔ مکرم حضرت مولانا تقی عثمانی، مکرم و محترم حضرت مولانا ڈاکٹر عبد الرزاق صاحب اسکندر کے زیادہ تر بیانات عربی زبان میں ہوئے۔ بعد میں بھی تین وفد وقفہ وقفہ سے وہاں کا دورہ کر چکے ہیں۔ نیز یہ کہ وہاں پر قادیانیت کے سردست پھیلنے کا اندیشہ نہیں ہے۔ سرکاری حکام سے مل کر قادیانی ایک مسجد کی چابی لینے کے لئے کوشش کر رہے تھے۔ گورنر صاحب سے مل کر اس کا انکار سرکاری سطح پر کرایا گیا۔ ان علاقوں میں سادہ قرآن مجید کی ضرورت تھی۔ مجلس نے پانچ لاکھ نسخے شائع کرنے کا اہتمام کیا۔ اس کے بیشتر انتظامات کا مرحلہ بآسانی مکمل ہو گیا ہے۔ مزید جو کام باقی ہے۔ اس کی تکمیل کے لئے کوششیں جاری ہیں۔

حضرت امیر مرکزیہ دامت برکاتہم نے ۱۵؍دسمبر سے ۲۹؍دسمبر ۱۹۹۲ء تک کے اپنے پندرہ روزہ دورہ بنگلہ دیش کی تفصیلات ارشاد فرمائیں۔ آپ نے فرمایا کہ ہمارے دورہ سے بنگلہ دیش کے دینی مدارس کے علماء، طلباء اور دیندار حلقہ قادیانیت کے خلاف بیدار ہوا۔ انجمن دین حنیف بنگلہ دیش نے مستقلاً دو مبلغین حضرات کو عقیدۂ ختم نبوت کے تحفظ کے لئے وقف کر رکھا ہے۔ ان کا ایک ماہوار رسالہ بھی ختم

صفحہ ۵۴۸

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۲ء تا ۱۹۹۷ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

نبوت کا داعی و نقیب ہے۔ درجن بھر کے قریب بنگلہ زبان میں کتب ورسائل شائع ہو کر ہزاروں کی تعداد میں تقسیم ہو چکے ہیں۔

مکرم محترم جناب الحاج یعقوب باوا صاحب نے برطانیہ میں قادیانی سرگرمیوں اور مجلس کی رپورٹ پیش کرتے ہوئے فرمایا کہ:

۲۶/ اپریل ۱۹۸۴ء کے امتناع قادیانیت آرڈیننس نافذ ہونے پر مرزا طاہر نے لندن کو اپنا مستقر بنایا۔ عالمی مجلس نے اس کے مقابلہ میں سالانہ کانفرنس کی برطانیہ میں داغ بیل ڈالی۔ چنانچہ:

پہلی سالانہ ختم نبوت کانفرنس ویمبلے ہال لندن میں ۴/ اگست ۱۹۸۵ء کو منعقد ہوئی۔

دوسری سالانہ ختم نبوت کانفرنس ویمبلے ہال لندن میں ۲۷/ جولائی ۱۹۸۶ء کو منعقد ہوئی۔

تیسری سالانہ ختم نبوت کانفرنس ویمبلے ہال لندن میں ۳۰/ ستمبر ۱۹۸۷ء کو منعقد ہوئی۔

چوتھی سالانہ ختم نبوت کانفرنس ویمبلے ہال لندن میں ۲۱/ اگست ۱۹۸۸ء کو منعقد ہوئی۔

پانچویں سالانہ ختم نبوت کانفرنس ویمبلے ہال لندن میں یکم/ اکتوبر ۱۹۸۹ء کو منعقد ہوئی۔

چھٹی سالانہ ختم نبوت کانفرنس بریڈ فورڈ میں ۱۲/ اگست ۱۹۹۰ء کو منعقد ہوئی۔

ساتویں سالانہ ختم نبوت کانفرنس برمنگھم میں ۱۶/ اگست ۱۹۹۲ء کو منعقد ہوئی۔

۱۹۹۱ء میں سلمان رشدی فتنہ کے باعث حالات کشیدہ تھے۔ کانفرنس نہ ہوسکی۔ البتہ علماء کنونشن کا لندن دفتر میں ........... کیا گیا۔

اور اب آٹھویں سالانہ ختم نبوت کانفرنس برمنگھم میں یکم/ اگست ۱۹۹۳ء کو منعقد ہوگی۔ (ان شاء اللہ العزیز)

اس دوران میں دفتر کی خریداری اور اس کے کاغذات کی تکمیل کی گئی۔ کاغذات کی تکمیل ہوچکی ہے۔ لندن کا دفتر عالمی مجلس ملتان کے نام پر خریدا گیا ہے۔

فیصلہ ہوا کہ کراچی دفتر کا نظام مکرم باوا صاحب حسب سابق چلائیں۔ پاکستان قیام کے دوران میں اس کی نگرانی فرمائیں۔ ان کی عدم موجودگی میں ان کے مرتب کردہ خطوط پر کام کی نگرانی مکرم مولانا محمد انور فاروقی صاحب فرمائیں گے۔ مزید ہدایات کے لئے مکرم مولانا فاروقی صاحب حسب ضرورت حضرت اقدس مولانا محمد یوسف لدھیانوی دامت برکاتہم سے رجوع کریں گے۔ اسی طرح دفتر مرکزیہ بھی ان کی رہنمائی کرے گا۔ کراچی میں عالمی مجلس اور پرچہ کے صرف دو اکاؤنٹ رکھے جائیں۔ باقی کو ختم کر دیا جائے۔ اکاؤنٹ پر چار دستخط ہوں۔ حضرت نائب امیر اول، مکرم باوا صاحب، مکرم فاروقی صاحب، مکرم مرکزی خازن۔ کوئی دو دستخطوں سے رقم نکلوائی جاسکے گی۔ حضرت باوا صاحب کی عدم موجودگی میں حضرت نائب امیر اول کے دستخط ضروری ہوں گے۔ کراچی میں ایک فلیٹ خریدا گیا جو مکرم باوا صاحب کے نام ہے۔ درحقیقت وہ مجلس مرکزیہ کا ہے۔ مکرم باوا صاحب لندن روانگی سے قبل اکاؤنٹ کراچی اور فلیٹ کی منتقلی بنام دفتر مرکزیہ کرا کر جائیں۔ (چنانچہ عمل ہو گیا)

ایجنڈا شق ۴: نظام تبلیغ کو مزید وسعت دینے کے لئے تجاویز: مختلف معزز اراکین نے اپنی تجاویز سے نوازا۔ فیصلہ ہوا کہ:

صفحہ ۵۴۹

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۲ء تا ۱۹۹۷ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

ڈاکٹر عبدالرزاق صاحب اسکندر نے ذمہ داری قبول فرمائی۔ آپ وفاق کے کارپردازان سے بات کر کے اسے شامل نصاب کرائیں گے۔

ان امور پر عمل درآمد کے لئے مرکزی شوریٰ کے تمام اراکین کو مجلس کے دونوں پرچے اعزازی جاری کئے جائیں تاکہ وہ نگرانی اور رہنمائی کر سکیں۔

بعد از ظہر دوسری نشست کا آغاز: مکرم حضرت قاری انوار الحق صاحب کی تلاوت کلام پاک سے ہوا۔

ایجنڈا کی شق نمبر ۲ میں مقدمات سپریم کورٹ، شناختی کارڈ میں خانہ مذہب کی ........... کی مہم پر گفتگو: اس اجلاس کے لئے مختص کی گئی تھی۔ اس پر اظہار خیال کرتے ہوئے حضرت مولانا عزیز الرحمٰن صاحب جالندھری نے فرمایا: سپریم کورٹ آف پاکستان میں قادیانیوں نے پانچ اپیلیں اور تین رٹیں کر رکھی تھیں۔ کل آٹھ مقدمات تھے۔ جن کو عدالت عالیہ نے یکجا کر کے ان کی سماعت کے لئے پانچ رکنی فل بنچ مقرر کیا۔ جس کے سربراہ جسٹس شفیع الرحمٰن اور اراکین ، جناب جسٹس عبدالقدیر ، جسٹس ولی محمد ، جسٹس افضل لون ، جسٹس سلیم اختر تھے۔ ۲۸؍ جنوری ۱۹۹۳ء سے ۳؍ فروری ۱۹۹۳ء تک مسلسل پانچ روز سماعت ہوئی۔ اس سے قبل تاریخیں نکلتی تھیں۔ مگر قادیانی حیلوں، بہانوں سے اسے ٹال دیتے تھے۔ اب کے جسٹس افضل ظلہ امریکہ کے دورہ پر گئے تو حقوق انسانی کمیشن کی تنظیموں اور قادیانی لابی اور امریکی حکام کی ان سے ملاقاتیں ہوئیں۔ واپسی پر انہوں نے بنچ مقرر کیا۔ اب کے قادیانی پیروی میں حصہ لینے کے لئے فوراً آموجود ہوئے۔ قادیانیوں کی طرف سے مجیب، عزیز باجوہ، جی ابراہیم فخر الدین بوہری پیش ہوئے۔ حکومت کی طرف سے چاروں صوبوں کے ایڈووکیٹ جنرل، عزیز اے منشی اٹارنی جنرل آف پاکستان اور وزارت مذہبی امور کی طرف سے جناب ریاض الحسن گیلانی۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی طرف سے جناب راجہ حق نواز وائس چیئرمین پاکستان بار کونسل، جناب محمد اسماعیل قریشی پیش ہوئے۔ جناب ریاض الحسن گیلانی کا بہت عمدہ بیان ہوا۔ اس کے بعد جناب محمد اسماعیل قریشی کا بیان ہوا جو بہت زیادہ وزنی اور عمدہ بیان تھا۔ ان کے بعد جناب ملک مقبول ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کا بیان ہوا جو بہت ہی وزنی اور قانونی اعتبار سے مثالی بیان تھا۔ آخر میں اٹارنی جنرل آف پاکستان کا بیان ہوا جو اپنی مثال آپ تھا۔ جی ابراہیم فخر الدین بوہری کا قادیانیوں کی طرف سے بیان ہوا۔ بی۔ بی۔ سی نے اپنے نشریہ میں ۳؍ فروری ۱۹۹۳ء کی شب کہا کہ وہ عدالت کو مطلع کرنے میں ناکام رہے۔ جناب راجہ حق نواز صاحب نے تحریری بیان داخل کرانے کی اجازت حاصل کی۔ چنانچہ انہوں نے قانونی طور پر اور حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی مدظلہ نے مذہبی نقطہ نظر سے دلائل مرتب کر کے دیئے۔ دونوں بیانات راجہ صاحب کی طرف سے عدالت عالیہ میں جمع کرا دیئے گئے۔ علاوہ ازیں عدالت نے اپنے آخری اجلاس میں شرعی وقانونی دلائل کے ذریعہ علماء و وکلاء سے تحریری بیان داخل کرانے کی اجازت دی۔ حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی نے جامع بیان عدالت عظمیٰ میں جمع کرایا۔ اسے عالمی مجلس کے شعبہ نشر و اشاعت سے علیحدہ بھی شائع کیا جا رہا ہے۔

اگر تو فیصلہ دلائل کی بنیاد پر ہونا ہے تو سو فیصد فیصلہ امت کے حق میں ہوگا اور اگر پالیسی کی بنیاد پر ہونا ہے تو اس کے خلاف ہونے کے بھی چانس ہیں۔ (اللہ تعالیٰ نے کرم کیا وہ مسلمانوں کے حق میں فیصلہ ہوا)

فیضان حضرت محمد ﷺ

صفحہ ۵۵۰

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۲ء تا ۱۹۹۷ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

(۷۰ واں) اجلاس مجلس عاملہ

اجلاس مرکزی مجلس عاملہ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان۔

مؤرخہ ۱۱؍ اگست ۱۹۹۳ء کو منعقد ہوا۔

زیر صدارت: حضرت امیر مرکزیہ مولانا خواجہ خان محمد صاحب دامت برکاتہم۔

شرکاء: (۱) حضرت اقدس مولانا خواجہ خان محمد صاحب دامت برکاتہم، (۲) حضرت اقدس مولانا محمد یوسف لدھیانوی مدظلہ، (۳) حضرت مولانا عزیز الرحمن جالندھری مدظلہ، (۴) حضرت مولانا اللہ وسایا مدظلہ، (۵) حضرت مولانا بشیر احمد، (۶) جناب صاحبزادہ طارق محمود، (۷) حضرت مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی۔

ایجنڈا کی شق نمبر ۱: ختم نبوت کانفرنس بنگلہ دیش: عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت بنگلہ دیش کے زیراہتمام ۲۴؍ دسمبر کو ڈھاکہ میں عالمی ختم نبوت کانفرنس کے بیرونی حضرات کے آمد و رفت کے کرایہ جات، رہائش و خوراک کے مصارف مجلس ادا کرے گی۔ باقی مصارف بنگلہ دیش کی جماعت پورے کرے گی۔

عبدالقادر آزاد، راجہ ظفر الحق، مولانا زاہد الراشدی شرکت کریں۔ (رابطہ دفتر مرکزیہ کرے گا)

صاحب حضرت کے ساتھ سفر کریں گے۔

شق نمبر ۲: مقدمات توہین رسالت: تعزیرات پاکستان کی دفعہ نمبر ۲۹۵-سی کے تحت کم از کم کیس رجسٹرڈ کرائے جائیں۔ جہاں جہاں کیس چل رہے ہیں۔ ان کی بھر پور پیروی کرنی چاہئے۔

کریں۔ نیز کوٹلی کے مفتی مولانا عبدالشکور صاحب سے مل کر ان کی راہنمائی میں کشمیر کا دورہ کیا جائے اور اس دورہ کی رپورٹ شوال المکرم ۱۴۱۴ھ کو مبلغین کی میٹنگ میں پیش کی جائے اور آزاد کشمیر کے کئی ایک شہروں کے علماء کرام کے ایڈریس بھی لائے جائیں تاکہ مرکز کی طرف سے ان حضرات سے رابطہ قائم کیا جائے۔

شق نمبر ۶: مرکزی مجلس شوریٰ کا اجلاس ۲۷؍ مارچ ۱۹۹۴ء کو اور مبلغین کا اجلاس ۲۸، ۲۹؍ مارچ کو ملتان میں منعقد ہوں گے۔

شق نمبر ۷: اشاعت قرآن۔

اجلاس میں آئیں گی۔

صفحہ 551

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۲ء تا ۱۹۹۷ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

پروگرام میں شرکت فرمائیں۔

تعزیت کے لئے تشریف لے جائیں گے۔

بنانے کے لئے زیادہ سے زیادہ احباب کو شرکت کے لئے آمادہ کیا جائے۔ نیز رمضان المبارک کے علاوہ لیکچرز کا انتظام کیا جائے گا۔

فقط خادم محمد اسلم قمر

(۱۷۱) اجلاس شوریٰ

اجلاس مرکزی مجلس شوریٰ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان بمقام دفتر مرکزیہ ملتان۔ مؤرخہ ۲۷/ مارچ ۱۹۹۴ء، مطابق ۱۴/ شوال المکرم ۱۴۱۴ھ، بروز اتوار، بوقت ۸ بجے صبح منعقد ہوا۔

زیر صدارت: حضرت امیر مرکزیہ مولانا خواجہ خان محمد صاحب دامت برکاتہم۔

شرکاء: (۱) حضرت مولانا خواجہ خان محمد صاحب دامت برکاتہم، (۲) حضرت مولانا محمد بنوری کراچی، (۳) جناب بلند اختر نظامی لاہور، (۴) جناب حکیم عبدالرحمن آزاد، (۵) جناب قاضی عزیز الرحمن رحیم یار خان، (۶) مولانا عبدالواحد کوئٹہ، (۷) جناب قاضی فیض احمد، (۸) مولانا انوار الحق کوئٹہ، (۹) حضرت مولانا احمد میاں حمادی، (۱۰) جناب سیف الرحمن بہاول پور، (۱۱) جناب قاضی عبدالمالک جھاوریاں، (۱۲) حضرت مولانا بشیر احمد، (۱۳) حضرت مولانا محمد اکرم طوفانی، (۱۴) حضرت مولانا اللہ وسایا، (۱۵) حضرت مولانا عزیز الرحمن جالندھری، (۱۶) حضرت مولانا نور الحق نور پشاور، (۱۷) حضرت مولانا ڈاکٹر عبدالرزاق اسکندر کراچی، (۱۸) حضرت مولانا محمد عبداللہ، (۱۹) حضرت مولانا مفتی نظام الدین شامزئی، (۲۰) حضرت مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی، (۲۱) حضرت مولانا فیض احمد ملتان، (۲۲) جناب اشتیاق احمد جھنگ، (۲۳) محمد ریاض الحسن گنگوہی، (۲۴) جناب محمد ریاض الحق۔

منعقدہ ۱۱/ شوال المکرم ۱۴۱۳ھ، مطابق ۴/ اپریل ۱۹۹۳ء کی کارروائی پڑھ کر سنائی گئی۔ تمام اراکین نے اس کی توثیق فرمائی۔ حضرت اقدس امیر مرکزیہ دامت برکاتہم نے توثیقی دستخط فرمائے۔

جماعتی رفقاء، مبلغین ختم نبوت یا ان کے عزیز واقارب جو وفات پا گئے ہیں۔ ان مرحومین کے نام پڑھ کر سنائے گئے جو درج ذیل ہیں۔ حضرت مولانا زرین احمد خان صاحب، حضرت مولانا محمد یحییٰ صاحب دین پور، چوہدری محمد خلیل صاحب گجرات، حضرت مولانا محمد رمضان صاحب میانوالی، جناب سیف اللہ احرار صاحب فیصل آباد، حضرت مولانا عبدالحق جالندھری صاحب خیر المدارس، حضرت مولانا احمد حسن

صفحہ ۵۵۲

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۲ء تا ۱۹۹۷ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

شاکری صاحب ٹوبہ، جناب پیر بشیر احمد صاحب سیالکوٹ، حضرت مولانا عبدالحئی صاحب گھوٹکی، حضرت مولانا محمد شاہد تھانوی صاحب کراچی، جناب میاں محمد شفیع چغتائی صاحب، جناب خان غلام قادر خان صاحب، حضرت حافظ حبیب الرحمٰن صاحب فیروزہ، جناب سید صادق حسین شاہ صاحب، حضرت مولانا عبدالرؤف صاحب جتوئی، حضرت مولانا ولی محمد صاحب ساہیوال، حضرت مولانا سید غازی شاہ صاحب مانسہرہ، حضرت مولانا نذیر احمد صاحب چنیوٹ، جناب حافظ محمد ادریس بن الحاج ذکر اللہ صاحب، اہلیہ محترمہ حضرت قاضی احسان احمد صاحب شجاع آبادی والدہ مرحومہ مولانا نذیر احمد تونسوی کوئٹہ، برادر مرحوم مولانا عبداللطیف صاحب شاہ کوٹ، اہلیہ محترمہ نوابزادہ نصر اللہ خان خان گڑھ، اہلیہ مرحومہ مولانا حبیب الرحمٰن صاحب ایبٹ آباد۔ تمام مرحومین کی وفات پر ان کے ورثاء سے دلی صدمہ کا اظہار کیا گیا اور مرحومین کے لئے مغفرت و بخشش اور ترقی درجات کی دعا کی گئی۔ حضرت اقدس دامت برکاتہم نے اجتماعی دعا کرائی۔

۱۰/ اپریل ۱۹۹۳ء میں لاہور علماء کنونشن منعقد ہوا۔ ۱۰/ اپریل ۱۹۹۳ء میں قصور علماء کنونشن منعقد ہوا۔ ۱۲/ اپریل ۱۹۹۳ء میں اسلام آباد علماء کنونشن منعقد ہوا۔ ۱۲/ اپریل ۱۹۹۳ء میں راولپنڈی علماء کنونشن منعقد ہوا۔ ۱۳/ اپریل ۱۹۹۳ء میں سرگودھا علماء کنونشن منعقد ہوا۔ ۱۴/ اپریل ۱۹۹۳ء میں جھنگ علماء کنونشن منعقد ہوا۔ ۱۵/ اپریل ۱۹۹۳ء میں ربوہ علماء کنونشن منعقد ہوا۔ اپریل ۱۹۹۳ء میں حیدرآباد علماء کنونشن منعقد ہوا۔ اپریل ۱۹۹۳ء میں کراچی علماء کنونشن منعقد ہوا۔ اپریل ۱۹۹۳ء میں سکھر علماء کنونشن منعقد ہوا۔

۲۵/ اپریل ۱۹۹۳ء تا ۲۹/ اپریل ۱۹۹۳ء اسلامی وزرائے خارجہ کانفرنس کراچی میں منعقد ہوئی۔ مجلس کی طرف سے عربی، انگلش میں عرض داشت تقسیم کی گئی۔ ۲۷/ اپریل ۱۹۹۳ء دی نیوز انگلش اور ۲۸/ اپریل ۱۹۹۳ء جنگ، کراچی اردو میں عرض داشت کا مکمل متن شائع کرایا گیا۔ عرض داشت عربی میں محترم رکن شوریٰ حضرت ڈاکٹر عبدالرزاق اسکندر نے مرتب فرمایا۔

۱۷/ مئی ۱۹۹۳ء میں لیاقت پور ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی۔ ۱۸/ مئی ۱۹۹۳ء میں ترنڈہ محمد پناہ ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی۔ ۱۹/ مئی ۱۹۹۳ء میں ظاہر پیر بشہر صادق آباد منعقد ہوئی۔ ۲۰/ مئی ۱۹۹۳ء میں گڈو ضلع سکھر ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی۔ جون میں مولانا عبدالرؤف صاحب اور مولانا فقیر اللہ اختر صاحب نے گوجرانوالہ ڈویژن کا دورہ کیا۔ جون میں مولانا خدا بخش صاحب نے اور مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی صاحب لاہور ڈویژن کا دورہ کیا۔ جون میں حضرت مولانا جمال اللہ صاحب اور مولانا بشیر احمد صاحب سکھر سندھ کا دورہ کیا۔ جولائی میں مولانا خدا بخش صاحب فیصل آباد ڈویژن کا تفصیلی دورہ کیا۔ ۵/ جون ۱۹۹۳ء کو سپریم کورٹ فیصلہ ہوا۔

یکم/ اگست ۱۹۹۳ء کو آٹھویں سالانہ کانفرنس برمنگھم میں منعقد ہوئی۔ پہلے اجلاس کی صدارت مولانا اسعد مدنی صاحب دوسرے اجلاس کی امام مسجد نبوی نے صدارت فرمائی۔

۲/ اگست ۱۹۹۳ء کو اوچ شریف موضع شکرانی میں ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی۔

۳/ اگست ۱۹۹۳ء کو یزمان اور لودھراں میں ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی۔

۷/ ستمبر ۱۹۹۳ء کو لاہور جناح ہال میں ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی۔ ۸/ ستمبر کو اٹک میں ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی۔

صفحہ ۵۵۳

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۲ء تا ۱۹۹۷ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

۷/ ستمبر ۱۹۹۳ء کو قصور میں ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی۔

۱۰/ ستمبر ۱۹۹۳ء کو پورے ملک میں یوم احتجاج و یوم مطالبات منایا گیا۔

۱۰/ ستمبر ۱۹۹۳ء کو بہاول پور میں سالانہ ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی۔

۲۱، ۲۲/ اکتوبر ۱۹۹۳ء میں بارہویں سالانہ ختم نبوت کانفرنس چناب نگر میں منعقد ہوئی۔ اس کی دعوت و تشہیر کے لئے سرگودھا، فیصل آباد ڈویژن کا مبلغین حضرات نے دورہ کیا۔

۵/ نومبر ۱۹۹۳ء کو چیلے والا ضلع جھنگ میں ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی۔

۱۷/ نومبر ۱۹۹۳ء کو غازی ہری پور سرحد میں ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی۔

۱۸/ نومبر ۱۹۹۳ء کو قصور نور نہر ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی۔

۲۱ تا ۲۵/ نومبر ۱۹۹۳ء تک سندھ میں علماء کنونشن و کانفرنسوں کا اہتمام کیا گیا۔

۲۱/ نومبر ۱۹۹۳ء دن جامعہ اشرفیہ سکھر علماء کنونشن منعقد ہوا۔ مغرب دارالہدیٰ ٹھیڑی، عشاء کے بعد خیر پور میرس میں کانفرنس ہوئی۔

۲۲/ نومبر ۱۹۹۳ء شکار پور علماء کنونشن رات کو کانفرنس۔

۲۳/ نومبر ۱۹۹۳ء کو ڈیرہ احد خان پٹھل نو ضلع جیکب آباد کانفرنس منعقد ہوئی۔

۲۳/ نومبر سے ۴/ دسمبر تک نواب شاہ، سانگھڑ، ٹنڈو آدم، کھپرو، ڈگری، کنری، جیمس آباد، عمر کوٹ، ٹنڈو غلام علی، ٹالہی، مٹھی، نوکوٹ، گلارچی، کوٹری، حیدرآباد، مولانا جمال اللہ صاحب، مولانا خدا بخش صاحب، مولانا حفیظ الرحمٰن نے دورہ کیا۔

۳/ دسمبر ۱۹۹۳ء تک رحیم یار خان میں تین کانفرنسیں منعقد ہوئیں۔

۳/ دسمبر ۱۹۹۳ء کو ڈھاکہ میں ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی۔ جس میں حضرت الامیر دامت برکاتہم، حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی، حضرت مولانا اللہ وسایا، ڈاکٹر عبدالرزاق اسکندر، مولانا مفتی منیر احمد نے مجلس کی نمائندگی فرمائی۔ ماہ رجب المرجب میں مولانا خدا بخش نے وادی سون سکیسر و تلہ گنگ کا دورہ کیا۔ ۲۷، ۲۸، ۲۹/ رجب المرجب کو سرگودھا میں تین روزہ تربیتی اجتماع ہوا۔

۲۹/ رجب المرجب کو شاہ پور صدر میں ختم نبوت کانفرنس منعقد ہوئی۔

۱۰/ شعبان المعظم، ۱۵/ شعبان المعظم تک جامعۃ العلوم الاسلامیہ کراچی میں رد قادیانیت کورس اور شب کو کراچی میں کانفرنسیں منعقد ہوئیں۔

۱۵/ شعبان المعظم ۱۴۱۴ھ بمطابق ۲۹/ جنوری ۱۹۹۴ء سے ۱۲/ فروری ۱۹۹۴ء، ۳۰/ شعبان المعظم ۱۴۱۴ھ تک پندرہ روزہ دفتر مرکزیہ میں رد قادیانیت کورس ہوا۔

یکم/ رمضان المبارک سے ۱۶/ رمضان تک بہاول پور میں سالانہ درس ہوئے۔ ۲۰/ رمضان المبارک ۱۴۱۴ھ، ۲۴ تک چار روزہ جامعہ نصرت العلوم گوجرانوالہ میں سالانہ دورۂ تفسیر کے طلباء کو رد قادیانیت کورس پڑھایا گیا۔ اس سال مبلغین حضرات کی سہ ماہی میٹنگوں کا اہتمام کیا گیا۔ پہلی میٹنگ یکم/ ربیع الثانی ۱۴۱۴ھ کو ہوئی۔ دوسری میٹنگ ۲۳/ جمادی الثانی کو دفتر مرکزیہ میں منعقد ہوئی اور اب

صفحہ ۵۵۴

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۲ء تا ۱۹۹۷ء

ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

تیسری میٹنگ ۱۵؍شوال کو اس اجلاس کے دوسرے دن منعقد ہوگی۔ جس میں آئندہ تین ماہ کا تبلیغی پروگرام مرتب کیا جائے گا۔

اشاعت کتب: اس سال تحفہ قادیانیت مجموعہ رسائل مولانا محمد یوسف لدھیانوی تحریک ختم نبوت جلد اوّل ۱۹۷۴ء، قادیانیت کا سیاسی تجزیہ شائع کی گئیں۔ لاگت پر مطبوعہ کتب قارئین کو فراہم کی جاتی ہیں۔ آج تک جتنی کتب ملک کی اہم لائبریریوں، ادارہ جات، شخصیات کو تقسیم کی گئیں۔ حضرت الامیر دامت برکاتہم، حضرت نائب امیر کی اجازت کے توسط سے دی گئیں۔ آئندہ کے لئے کوئی ضابطہ مقرر کر دیا جائے تاکہ اہم لائبریریوں، ادارہ جات وشخصیات کو حسب ضرورت کتابیں مجلس کی طرف سے دی جاسکیں۔ حضرت مفتی نظام الدین صاحب نے فرمایا کہ ملک کی اہم لائبریریوں، دینی مدارس کی لائبریریوں کو کتابیں دی جاسکیں۔ حضرت مولانا محمد بنوری نے ارشاد فرمایا کہ ملک کی اہم شخصیات سینٹ، قومی اسمبلی، ہائیکورٹوں کی لائبریریوں کو مجلس کی مطبوعات کا سیٹ دیا جائے۔ مولانا محمد اکرم طوفانی نے فرمایا کہ انتظامیہ وعدلیہ کے افراد کو بھی کتب دی جائیں۔ چنانچہ فیصلہ ہوا کہ یونیورسٹیز، جامعات دینیہ، عدلیہ وانتظامیہ کی لائبریریوں کو دو صد سیٹ مجلس اپنے خرچہ پر بھجوانے کا اہتمام کرے۔ ان کی فہرست مرتب کی جائے۔ مزید اگر ضرورت ہو تو حضرت ناظم اعلیٰ صاحب کو اختیار حاصل ہوگا کہ وہ اس تعداد میں بقدر ضرورت اضافہ کر سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ مقامی جماعتوں مبلغین حضرات اور ڈاک کے ذریعہ فری لٹریچر تقسیم کیا جاتا ہے۔ حضرت ڈاکٹر عبدالرزاق نے ارشاد فرمایا۔ فری لٹریچر کی تقسیم کا نظام ٹھیک ہے۔ مزید یہ کہ جامعات میں دورہ حدیث شریف سے فارغ ہونے والے طلباء کی تعداد معلوم کر کے ان طلباء کے لئے فری لٹریچر بھجوایا جائے۔

سعید احمد صاحب مدرس پرمٹ، حضرت قاری محمد شکیل احمد مدرس پرمٹ میں متعین کئے گئے۔ جناب جمال عبدالناصر صاحب کو ملتان دفتر مرکزیہ میں دفتری امور مقرر کیا گیا۔ جناب مولانا ظفر اللہ شفیق صاحب کو بطور خطیب عائشہ مسجد مسلم ٹاؤن لاہور، مولانا عبدالرؤف صاحب سرگودھا بطور خطیب جامع مسجد محمدیہ ربوہ مقرر کیا گیا۔ حضرت مولانا محمد نذر صاحب جو پرمٹ میں مدرس کے طور پر کام کر رہے تھے۔ ان کا کراچی بطور مبلغ کے تبادلہ کیا گیا۔ ان تقرریوں وتبادلوں کی شوریٰ نے توثیق فرمائی۔

دعوت دی جاتی ہے۔ امسال ۱۳، ۱۴؍اکتوبر ۱۹۹۴ء کو کانفرنس کی شوریٰ نے تاریخ مقرر فرمائی۔ کانفرنس میں امسال حضرت ڈاکٹر عبدالرزاق صاحب کوشش فرمائیں کہ ائمہ حرمین شریفین میں سے کوئی ایک تشریف لائیں تو اس سے کانفرنس کی اہمیت میں اضافہ ہوگا۔ اسی طرح انڈیا سے کسی بزرگ کے بلوانے کا اہتمام کر لیا جائے۔

کالونی میں کرالئے جائیں۔ اس سے قبل ملک بھر میں رکنیت سازی، مقامی جماعتوں کی تشکیل اور اراکین مجلس عمومی کے چناؤ کا کام مکمل کر لیا جائے۔

لندن کے متعلق تھی۔ دفتر لندن و کراچی کے امور کی حضرت اقدس مولانا محمد یوسف لدھیانوی صاحب دامت برکاتہم سرپرستی فرماتے ہیں۔

صفحہ ۵۵۵

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۲ء تا ۱۹۹۷ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

حضرت مولانا اچانک علالت کے باعث تشریف نہیں لا سکے۔ اس لئے ان امور پر حضرت اقدس سے مشاورت کے لئے حضرت ناظم اعلیٰ صاحب کراچی تشریف لے جائیں۔ حضرت مولانا محمد یوسف صاحب لدھیانوی دامت برکاتہم ہی کراچی ولندن کے امور کی حسب سابق رہنمائی وسرپرستی فرمائیں۔ ان کی رائے مبارک اور مشورہ پر عمل کیا جائے۔

حضرت الامیر دامت برکاتہم کے حکم پر حضرت مولانا عزیز الرحمن جالندھری کے صاحبزادے جناب قاری چوہدری محمد عثمان شاہد اور حضرت مولانا احمد میاں حمادی کے صاحبزادے جناب مولانا راشد مدنی صاحب جماعت میں کام کرنے پر آمادہ ہوئے۔ جناب محمد عثمان شاہد صاحب مرکز میں اور مولانا راشد مدنی صاحب حضرت حمادی صاحب کی سربراہی میں کام کریں گے۔ حضرت اقدس نے ہر دو حضرات کے لئے دعا فرمائی۔

فیصلہ مجلس عاملہ

(۲۷واں) اجلاس عمومی

اجلاس مرکزی مجلس عمومی عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان بمقام مسلم کالونی چناب نگر۔

مؤرخہ ۱۴/اکتوبر ۱۹۹۴ء، مطابق ۸/ جمادی الاوّل ۱۴۱۵ھ، بروز جمعۃ المبارک، بوقت ۸ بجے صبح منعقد ہوا۔

زیر صدارت: حضرت امیر مرکزیہ مولانا خواجہ خان محمد صاحب دامت برکاتہم۔

شرکاء: (۱) حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی کراچی، (۲) حضرت مولانا عزیز الرحمن جالندھری ملتان، (۳) حافظ محمد عابد خانیوال، (۴) مولانا نور الحق نور پشاور، (۵) حضرت مولانا اللہ وسایا بہاول پور، (۶) حاجی فرزند علی سکھر، (۷) حاجی بلند اختر نظامی لاہور، (۸) حاجی محمد اکبر بلوچستان، (۹) خواجہ محمد اشرف لورالائی، (۱۰) مولانا سید عبد المالک شاہ بلوچستان، (۱۱) مولانا عبد الواحد کوئٹہ شہر، (۱۲) بابر رضوان گوجرانوالہ، (۱۳) حافظ احسان الواحد گوجرانوالہ، (۱۴) مولانا محمد الیاس اوکاڑہ، (۱۵) حاجی احسان الحق قریشی اوکاڑہ، (۱۶) اللہ داد انصاری اوکاڑہ، (۱۷) مولانا مفتی عطاء اللہ اوکاڑہ، (۱۸) عبد المجید خان اوکاڑہ، (۱۹) طارق سلیمان اوکاڑہ، (۲۰) قاری محمد اسحاق اوکاڑہ، (۲۱) قاری محمد حسن اوکاڑہ، (۲۲) چوہدری نور محمد ایڈووکیٹ اوکاڑہ، (۲۳) مولانا عبد الشکور اوکاڑہ، (۲۴) میاں داؤد اوکاڑہ، (۲۵) لیاقت علی اوکاڑہ، (۲۶) مولانا محمد اسماعیل اوکاڑہ، (۲۷) مولانا محمد اسلم اوکاڑہ، (۲۸) مولانا محمد امین معاویہ اوکاڑہ، (۲۹) مولانا ظفر اللہ شفیق لاہور، (۳۰) مولانا جمیل الرحمن اختر لاہور، (۳۱) حکیم عبد الرحمن لاہور، (۳۲) خواجہ عزیز الرحمن لاہور، (۳۳) مولانا عبید اللہ ارشد لاہور، (۳۴) مولانا سعید الرحمن احمد لاہور، (۳۵) مولانا خلیل الرحمن حقانی لاہور، (۳۶) مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی لاہور، (۳۷) قاری نذیر احمد لاہور، (۳۸) محمد اظہر لاہور، (۳۹) مولانا محمد غازی لاہور، (۴۰) قاری محمد زبیر لاہور، (۴۱) مولانا محمد امجد مجاہد لاہور، (۴۲) محمد متین خالد لاہور، (۴۳) سید محمد صدیق شاہ لاہور، (۴۴) اعجاز بلوچ لاہور، (۴۵) حافظ محبوب الٰہی لاہور، (۴۶) مولانا مفتی بشیر احمد لاہور، (۴۷) مولانا حفیظ الرحمن ربانی شیخوپورہ، (۴۸) مولانا غلام مصطفیٰ شیخوپورہ، (۴۹) سید محمد امین گیلانی شیخوپورہ، (۵۰) قاری محمد امین شیخوپورہ، (۵۱) مولانا محمد یعقوب ربانی شیخوپورہ، (۵۲) حاجی محمد حسین جنجوعہ شیخوپورہ، (۵۳) مولانا محمد اسلم قادری شیخوپورہ، (۵۴) مولانا عبد الرحیم نارووال، (۵۵) محمد ارشد اوکاڑہ، (۵۶) مولانا عبد الرشید مظفر گڑھ،

صفحہ ۵۵۶

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۲ء تا ۱۹۹۷ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

(۵۷) احمد بخش مظفر گڑھ، (۵۸) داسو غلام حیدر مظفر گڑھ، (۵۹) مولانا رشید احمد سیالکوٹ، (۶۰) مولانا محمد انذر قاسمی سیالکوٹ، (۶۱) حکیم عبدالرحمن آزاد گوجرانوالہ، (۶۲) چوہدری غلام نبی گوجرانوالہ، (۶۳) مولانا احمد یار مظفر گڑھ، (۶۴) عزیز الرحمن کراچی، (۶۵) محمد جمشید گوجرانوالہ، (۶۶) مولانا محمد یوسف گوجرانوالہ، (۶۷) قاری شہباز احمد گوجرانوالہ، (۶۸) ساجد محمود گوجرانوالہ، (۶۹) حافظ محمد یوسف گوجرانوالہ، (۷۰) محمد منور گوجرانوالہ، (۷۱) قاری محمد خلیل آزاد منڈی بہاؤالدین، (۷۲) غلام نور قریشی بہاؤالدین، (۷۳) اکرام اللہ خان بہاؤالدین، (۷۴) نور الحسن انور سیالکوٹ، (۷۵) حافظ محمد انور انصر سیالکوٹ، (۷۶) حاجی نصیر احمد سیالکوٹ، (۷۷) محمد اصغر سیالکوٹ، (۷۸) راشد علی سیالکوٹ، (۷۹) محمد یونس انس سیالکوٹ، (۸۰) محمد اکرم خان سیالکوٹ، (۸۱) شبیر احمد بھٹی سیالکوٹ، (۸۲) منیر احمد سیالکوٹ، (۸۳) آصف بٹ نارووال، (۸۴) حاجی محمد اشرف نارووال، (۸۵) ماسٹر ظہور احمد نارووال، (۸۶) سجاد حسین نارووال، (۸۷) محمد نواز نارووال، (۸۸) حافظ اختر رحمان نارووال، (۸۹) ماسٹر عبدالستار فیصل آباد، (۹۰) محمد عارف اوکاڑہ، (۹۱) محمد طارق اوکاڑہ، (۹۲) راؤ ریحان اقبال اوکاڑہ، (۹۳) قاری محمد طاہر جھنگ، (۹۴) حکیم عبدالرحمن سرگودھا، (۹۵) صوفی مہر مقبول سرگودھا، (۹۶) مولانا محمد یعقوب سرگودھا، (۹۷) مولانا محمد رفیق سرگودھا، (۹۸) حافظ محمد زکریا بھکر، (۹۹) حاجی عبدالغفار بھکر، (۱۰۰) حافظ عبدالرحیم بھکر، (۱۰۱) مولانا محمد قاسم بھکر، (۱۰۲) مولانا محمد ابوبکر بھکر، (۱۰۳) حافظ نثار احمد بھکر، (۱۰۴) مولانا محمد یوسف بھکر، (۱۰۵) محمد یوسف آسی بھکر، (۱۰۶) محمد منصور گوجرانوالہ کینٹ، (۱۰۷) مولانا غلام مصطفیٰ جھنگ، (۱۰۸) حسن علی باجوہ جھنگ، (۱۰۹) غلام سرور جھنگ، (۱۱۰) مولانا محمد یعقوب برہانی جھنگ، (۱۱۱) مولانا ظہور احمد جھنگ صدر، (۱۱۲) سید مصدق حسین شاہ جھنگ صدر، (۱۱۳) حاجی اشتیاق احمد جھنگ صدر، (۱۱۴) صوفی عبدالسلام جھنگ صدر، (۱۱۵) مولانا محمد سرور جھنگ صدر، (۱۱۶) محمد اقبال جھنگ صدر، (۱۱۷) مولانا عبدالمالک جھنگ صدر، (۱۱۸) محمد رفیق ساقی جھنگ صدر، (۱۱۹) حکیم محمد شریف جھنگ صدر، (۱۲۰) حافظ بشیر احمد جھنگ صدر، (۱۲۱) مولانا محمد شفیع جھنگ صدر، (۱۲۲) مولانا غلام حسین جھنگ صدر، (۱۲۳) سید کوثر حسین شاہ جھنگ صدر، (۱۲۴) سید ناصر محمود شاہ رحیم یار خان، (۱۲۵) حاجی غلام مصطفیٰ رحیم یار خان، (۱۲۶) سعید مصطفیٰ رحیم یار خان، (۱۲۷) قمر الزمان رحیم یار خان، (۱۲۸) قاری ظہور احمد رحیم یار خان، (۱۲۹) مولانا علی محمد صدیقی رحیم یار خان، (۱۳۰) حکیم احمد سومرو بہاول نگر، (۱۳۱) حافظ عبدالخالق بہاول نگر، (۱۳۲) مولانا قدرت اللہ بہاول نگر، (۱۳۳) مولانا قطب الدین بہاول نگر، (۱۳۴) مولانا سعید احمد بہاول نگر، (۱۳۵) مولانا شفیع عطاء بہاول نگر، (۱۳۶) نذیر احمد بہاول نگر، (۱۳۷) مولانا رشید احمد نور پوری بہاول پور، (۱۳۸) محمد عبداللہ مظفر گڑھ، (۱۳۹) صوفی عبدالرحیم مظفر گڑھ، (۱۴۰) عبدالخالق مظفر گڑھ، (۱۴۱) ملک غلام نازک ڈتہ مظفر گڑھ، (۱۴۲) سردار محمد اسحاق مظفر گڑھ، (۱۴۳) مولانا محمد رفیع مظفر گڑھ، (۱۴۴) قاری عبدالحئی مظفر گڑھ، (۱۴۵) عبیداللہ مظفر گڑھ، (۱۴۶) حاجی محمد شریف مظفر گڑھ، (۱۴۷) ڈاکٹر محمود الحسن مظفر گڑھ، (۱۴۸) حافظ محمد رمضان مظفر گڑھ، (۱۴۹) حافظ امام دین مظفر گڑھ، (۱۵۰) عبدالقادر مظفر گڑھ، (۱۵۱) عبدالعزیز مظفر گڑھ، (۱۵۲) چوہدری ناظر حسین مظفر گڑھ، (۱۵۳) محمد امین مظفر گڑھ، (۱۵۴) حضور بخش مظفر گڑھ، (۱۵۵) ملک فرید بخش راجن پور، (۱۵۶) ملک محمد مراد راجن پور، (۱۵۷) قاری حفیظ اللہ راجن پور، (۱۵۸) پیر فاروق

صفحہ ۵۵۷

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۲ء تا ۱۹۹۷ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

احمد سکھر، (۱۵۹) مولانا اللہ داد کاکڑ بلوچستان، (۱۶۰) قاری غلام مصطفیٰ قادری شیخوپورہ، (۱۶۱) شیخ عبدالجبار ملتان، (۱۶۲) مولانا محمد صدیق جلالپور پیروالہ، (۱۶۳) محمد اسحاق ساقی جلالپور پیروالہ، (۱۶۴) قاری سعید احمد جلالپور پیروالہ، (۱۶۵) مولانا حفیظ الرحمٰن ہری پور، (۱۶۶) عبدالستار قاسمی احمد پور شرقیہ، (۱۶۷) مولانا فقیر اللہ اختر مظفر گڑھ، (۱۶۸) نذیر احمد تونسوی ڈیرہ غازی خان، (۱۶۹) مولانا بشیر احمد ضلع راجن پور، (۱۷۰) عبدالعزیز ضلع مظفر گڑھ، (۱۷۱) علامہ حکیم محمد اسماعیل عاصم اسلام آباد، (۱۷۲) مولانا خدا بخش ضلع ملتان، (۱۷۳) مولانا امام دین لودھراں، (۱۷۴) صاحبزادہ ضیاء الدین فیصل آباد، (۱۷۵) محمد مقصود گوجرانوالہ، (۱۷۶) مولانا حکیم عبدالرحمٰن آزاد گوجرانوالہ، (۱۷۷) حافظ محمد ثاقب گوجرانوالہ، (۱۷۸) حافظ محمد رمضان گوجرانوالہ، (۱۷۹) ڈاکٹر محمد ارشد گوجرانوالہ۔

چناب نگر (ربوہ) میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی مرکزی مجلس عمومی کا اجلاس آج مورخہ ۱۴؍اکتوبر ۱۹۹۲ء بروز جمعۃ المبارک صبح ساڑھے نو بجے قائد تحریک ختم نبوت حضرت اقدس مولانا خواجہ خان محمد صاحب دامت برکاتہم کی صدارت میں منعقد ہوا۔ اجلاس کی باقاعدہ کارروائی کا آغاز مولانا حافظ محمد اکرم طوفانی کی تلاوت کلام پاک سے ہوا۔ تلاوت کے بعد مرکزی ناظم اعلیٰ حضرت مولانا عزیز الرحمٰن جالندھری صاحب کے حکم پر حضرت مولانا اللہ وسایا نے گزشتہ اجلاس کی کارروائی پڑھ کر سنائی اور گزشتہ تین سالوں کی جماعتی کارکردگی بیان فرمائی۔ انہوں نے بتایا کہ:

میں ختم نبوت کانفرنسوں کا انعقاد ہوتا ہے اور دو مہینے مسلسل عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے خدام پورے برطانیہ میں نبی رحمت ﷺ کی ختم نبوت کا پرچار کرتے ہیں۔ گزشتہ تین برسوں سے سالانہ ختم نبوت کانفرنس برطانیہ کے شہر برمنگھم میں منعقد ہوتی ہے۔ جس میں ہزاروں شمع رسالت کے پروانے پورے برطانیہ سے شرکت کرتے ہیں۔ جب کہ پاکستان، ہندوستان اور سعودی عرب سے علماء کرام اس کانفرنس میں شرکت فرماتے ہیں۔ برطانیہ کی یہ کانفرنسیں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے امیر مرکزیہ حضرت اقدس مولانا خواجہ خان محمد صاحب دامت برکاتہم کی سرپرستی میں انعقاد پذیر ہوتی ہیں۔

سال ۱۵؍شعبان المعظم تا ۳۰؍شعبان المعظم رد قادیانیت کے عنوان سے پندرہ روزہ کورس ہوتا ہے۔ ان کورسز میں پورے ملک سے دینی مدارس کے طلباء، علماء کرام، سکول و کالج کے طلباء شرکت کرتے ہیں۔ جب کہ ملک کے مایہ ناز مذہبی اسکالرز ان کورسز میں رد قادیانیت پر لیکچرز دیتے ہیں۔

میں چھپوا کر فری تقسیم کئے۔ جب کہ نائب امیر مرکزیہ حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی کے انگریزی رسائل کو تمام یورپ، مغربی جرمنی، امریکہ اور کینیڈا میں جماعت کی طرف سے ہزاروں کی تعداد میں مفت تقسیم کیا گیا۔ اس کے علاوہ شعبہ نشر و اشاعت نے ’’تحفہ قادیانیت‘‘ شائع کی۔ ’’قادیانیت کا سیاسی تجزیہ (جلد اوّل)‘‘، ’’تحریک ختم نبوت ۱۹۷۴ء (جلد اوّل، دوم)‘‘ جیسی ضخیم کتابیں بھی شائع کیں۔

صفحہ ۵۵۸

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۲ء تا ۱۹۹۷ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

سیاسی تجزیہ) پر مشتمل دو صد سیٹ جماعت کے خرچے پر بھیجے گئے۔

بلند کی۔ اللہ تعالیٰ نے فضل فرمایا اور سعد سعود جان سپریم کورٹ کا چیف جسٹس نہ بن سکا۔

نے جہاں جہاں اس آرڈیننس کی خلاف ورزی کی ان کے خلاف قانونی کارروائی کے ضمن میں مقدمات درج کرائے گئے۔ ماتحت عدالتوں سے لے کر ہائیکورٹ تک نوبت پہنچی۔ پانچ کیس امتناع قادیانیت آرڈیننس کی خلاف ورزی کے، ایک کیس قادیانیوں کی طرف سے امتناع قادیانیت آرڈیننس کو سپریم کورٹ میں چیلنج کرنے کا اور اسی طرح قادیانیوں کے سالانہ اجتماع ربوہ پر پابندی کا کیس یوں قادیانیوں کی اپیلیں سپریم کورٹ میں زیر سماعت آئیں۔

عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت نے سپریم کورٹ میں ان اپیلوں کی پیروی، مسلمان وکلاء کی تیاری کروائی۔ علماء کرام کے بیانات ہوئے۔ امتناع شعائر اسلامی کے مفصل رسائل بعنوان عدالت عظمیٰ کی خدمت میں حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی نے تحریری بیان داخل کروایا۔ جو اپنی نوعیت کا شاہکار اور دلائل کا مجموعہ تھا۔ الحمد للہ! شعائر اسلامی کے استعمال سے قادیانیوں کو روکے جانے کے صحیح ہونے کے حق میں چاروں صوبوں کی ہائیکورٹوں نے فیصلہ دیا کہ قادیانی، مرتد، زندیق اور دائرہ اسلام سے خارج ہیں۔ اس بنیاد پر وہ اپنے آپ کو مسلمان ظاہر کر کے شعائر اسلامی استعمال نہیں کر سکتے۔ چنانچہ ہائیکورٹس کے فیصلوں کی توثیق میں سپریم کورٹ کے پانچ رکنی پینل نے فیصلہ دیا کہ قادیانی شعائر اسلامی استعمال نہیں کر سکتے۔

عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت نے نئے کمپیوٹرائزڈ شناختی کارڈ میں مذہب کے خانہ کے اضافہ کے لئے زبردست تحریک چلائی۔ پورے ملک میں مجلس عمل تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام احتجاجی کانفرنسیں اور مظاہرے منعقد ہوئے۔ مجلس عمل کے رہنماؤں نے مختلف مقامات پر پریس کانفرنسوں سے خطاب کیا۔ وزیر داخلہ، وزیر اعظم اور صدر پاکستان سے ملاقاتیں کیں۔ سب نے اس مطالبہ کی معقولیت کو تسلیم کیا اور نئے شناختی کارڈ میں مذہب کے خانہ کے اضافہ کا وعدہ کیا۔ وزیر اعظم نواز شریف سے ایک نجی ملاقات بھی ہوئی جس میں اس نے وعدہ کیا کہ تمام تر دباؤ کے باوجود شناختی کارڈز میں مذہب کے خانہ کا اضافہ ضرور کیا جائے گا۔ اخبارات میں سرخیاں لگیں، ٹیلی ویژن پر اعلانات ہوئے۔ مگر اس تمام تر محنت و کاوش کے باوجود ایک سازش کے تحت عیسائیوں کو سڑکوں پر لایا گیا اور یہ سارا ڈرامہ قادیانیوں نے رچایا۔ جس کے نتیجہ میں گورنمنٹ اپنے وعدوں اور اعلانات سے منحرف ہوگئی اور یوں یہ ہماری محنت کامیابی سے ہمکنار نہ ہوسکی۔

اس تحریک کے دورانیہ میں ”شناختی کارڈ میں مذہب کا خانہ کیوں ضروری ہے“ نامی کتابچہ ایک لاکھ کی تعداد میں شائع کر کے فری تقسیم کیا گیا۔

مولانا اللہ وسایا کے تفصیلی بیان کے بعد مرکزی ناظم اعلیٰ مولانا عزیز الرحمن جالندھری مدظلہ العالی نے بیان کرتے ہوئے فرمایا

صفحہ ۵۵۹

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۲ء تا ۱۹۹۷ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

کہ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت اپنے یوم تاسیس سے لے کر آج تک درجہ سیاست سے کنارہ کش رہ کر فتنہ قادیانیت کا تعاقب کرتی چلی آ رہی ہے۔ مجلس تحفظ ختم نبوت کے پہلے امیر، امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاری نور اللہ مرقدہ چھ سال سے زیادہ مجلس کے امیر رہے۔ شاہ جی کی وفات کے بعد چھ سے نو ماہ تک یہ سلسلہ چلتا رہا کہ اب مجلس کا امیر کون بنے گا؟ بالآخر رفقاء کے پرزور اصرار پر قاضی احسان احمد شجاع آبادی نے مسند امارت سنبھالی۔ آپ کا عرصہ امارت تین سال آٹھ ماہ ستائیس دن پر محیط ہے۔ قاضی صاحب کی وفات کے بعد مجاہد ملت مولانا محمد علی جالندھری نے مفتی اعظم پاکستان مفتی محمد شفیع، شیخ محمد یوسف بنوری، علامہ شمس الحق افغانی، مولانا خواجہ خان محمد سے انفرادی ملاقاتوں میں درخواست کی کہ آپ جماعت کی قیادت و سیادت سنبھالیں مگر چاروں حضرات نے معذرت فرمائی اور مفتی اعظم نے فرمایا کہ امارت کے لائق آپ سے زیادہ کوئی نہیں۔ لہٰذا آپ ہی جماعت کی امارت قبول فرمائیں۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ہمارے اکابر نے تصنع اور نمود و نمائش سے ہٹ کر کام کیا ہے اور ان کی فی الامکان کوشش رہی کہ جماعت کی امارت ہر دور کے ولی کامل کے ہاتھ میں رہے۔ احباب کے پرزور اصرار پر مجاہد ملت مولانا محمد علی جالندھری نے جماعت کی امارت سنبھالی اور مسند امارت پر جلوہ افروز ہوئے۔ آپ کا دور امارت چار سال چار ماہ نو دن پر محیط ہے۔ آپ کی وفات حسرت آیات کے بعد مناظر اسلام مولانا لال حسین اختر دو سال ایک ماہ بیس دن جماعت کے امیر رہے۔ مولانا لال حسین اختر کی وفات کے بعد فاتح قادیان مولانا محمد حیات عارضی طور پر چھ ماہ جماعت کے امیر رہے۔ یہ عرصہ انتہائی شدید حالات کا تھا۔ بالآخر شیخ محمد یوسف بنوری نے امارت اس شرط پر قبول فرمائی کہ نائب امیر مولانا خان محمد ہوں گے۔ ایک زمانہ وہ تھا کہ قاضی احسان احمد کی وفات کے بعد مولانا محمد علی جالندھری ان کی خدمت میں حاضر ہوئے اور جماعت کی سرپرستی کی استدعا کی تو حضرت نے معذرت فرمادی۔ پھر ایک وقت یہ آیا کہ مولانا محمد عبداللہ درخواستی کی موجودگی میں ملتان دفتر سے رفقاء نے کراچی فون کیا اور حضرت نے فون پر ہی امارت قبول فرمالی۔ حضرت شیخ کا عرصہ امارت تین سال سات ماہ سترہ دن ہے۔ حضرت شیخ کی رحلت سے لے کر آج تک یعنی دو دن کم سترہ سال سے حضرت اقدس مولانا خواجہ خان محمد دامت برکاتہم جماعت کے امیر چلے آ رہے ہیں۔ الحمد للہ!

آج کا اجلاس حضرت اقدس مولانا خواجہ خان محمد دامت برکاتہم کے عہدہ امارت اور مولانا محمد یوسف لدھیانوی کی نائب امارت کی آئندہ سہ سالہ توثیق اور اظہار تشکر کے لئے ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہم خدام کو ان حضرات کی قیادت و سیادت میں کام کرنے کی توفیق عطاء فرمائی۔

مولانا عزیز الرحمن جالندھری مدظلہ نے فرمایا کہ میں امید کرتا ہوں کہ جن خیالات اور جذبات کا میں نے اظہار کیا ہے بعینہ آپ تمام حضرات کے جذبات بھی اس کی حمایت میں ہوں گے کہ تازیست امیر مرکزیہ مولانا خواجہ خان محمد دامت برکاتہم العالیہ اور نائب امیر مرکزیہ مولانا محمد یوسف لدھیانوی کی سرپرستی میں ہم عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ اور فتنہ قادیانیت کے استیصال کی جنگ لڑتے رہیں۔ چنانچہ مجلس عمومی کے تمام اراکین نے بآواز بلند اپنی توثیقی رائے کا اظہار فرمایا۔ حضرت ناظم اعلیٰ نے یہ بھی اعلان فرمایا کہ ردقادیانیت کورس اب ملتان کے بجائے ۱۵؍ شعبان سے ۳۰؍ شعبان تک چناب نگر میں منعقد ہوا کرے گا۔

حضرت ناظم اعلیٰ کے بیان کے بعد حاضرین کے پرزور اصرار اور شدید خواہش پر حضرت اقدس مولانا محمد یوسف لدھیانوی نے اپنے بیان کا آغاز کرتے ہوئے فرمایا کہ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت اپنے یوم تاسیس سے لے کر اب تک فتنہ قادیانیت کا تعاقب کرتی چلی

صفحہ ۵۶۰

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۲ء تا ۱۹۹۷ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

آرہی ہے۔ قادیانیت کا فتنہ اتنا سنگین ہے کہ اس سے بڑا فتنہ سوائے مسیح دجال کے اور کوئی نہ ہو۔ چونکہ فتنہ بڑا سنگین تھا۔ اس کے مقابلہ کے لئے اللہ کریم نے اکابرین امت کے دل میں القاء فرمایا اور اکابرین ملت فتنہ قادیانیت کے خلاف جہاد پر کمر بستہ ہوئے۔ انجمن خدام الدین کے جلسہ میں امام العصر مولانا سید محمد انور شاہ کشمیری نے مولانا سید عطاء اللہ شاہ بخاری کے ہاتھ پر بیعت فرمائی۔ حضرت شاہ جی تھر تھر کانپ رہے تھے۔ فرمایا میں یہ سمجھتا ہوں کہ حضرت نے اپنی غلامی میں قبول فرمالیا ہے۔ شاہ جی پاکستان سے قبل سیاسی اور مذہبی محاذ پر کام کرتے رہے۔ مگر پاکستان بن جانے کے بعد شاہ جی نے مجلس تحفظ ختم نبوت بنائی اور تا زیست اس کے امیر مرکزیہ رہے۔

حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی نے فرمایا کہ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت مسلسل بالاقطاب ہے اور تمام اکابر کی توجہات مجلس تحفظ ختم نبوت کی طرف مبذول رہیں۔ حضرت لدھیانوی نے مجلس عمومی کے اراکین سے اپیل کرتے ہوئے فرمایا کہ رد قادیانیت کورس کے موقع پر کم از کم پانچ صد آدمی آپ ہمیں دیں۔ علاقائی سطح پر علمائے کرام و دیگر پڑھے لکھے لوگوں کو تیار کر کے لائیں۔ نائب امیر مرکزیہ کا بیان اتنا پر تاثیر اور پر درد تھا کہ شاید ہی کوئی آنکھ ہو جو پرنم نہ ہوئی ہو۔ بالآخر یہ اجلاس پونے گیارہ بجے حضرت اقدس مولانا محمد یوسف لدھیانوی کی پرسوز دعاء پر اختتام پذیر ہوا۔

سالانہ ختم نبوت کانفرنس کی مصروفیت کی وجہ اراکین مجلس شوریٰ، عہدیداران کے اسمائے گرامی کا اعلان نہ ہوسکا۔ حضرت اقدس مولانا خواجہ خان محمد دامت برکاتہم جماعتی دورہ پر حافظ آباد تشریف لے گئے۔ جب کہ حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی نے فیصل آباد جمعہ پڑھایا اور بعد ازاں کراچی روانہ ہوگئے۔ ۱۵؍اکتوبر ۱۹۹۲ء بروز ہفتہ حضرت امیر مرکزیہ مسلم کالونی تشریف لائے اور درج ذیل اراکین مجلس شوریٰ و عہدیداران عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان کا اعلان فرمایا۔

اسمائے گرامی اراکین مجلس شوریٰ: (۱) حضرت سید نفیس شاہ صاحب لاہور، (۲) حضرت مولانا محمد بنوری کراچی، (۳) حضرت مولانا فیض احمد صاحب ملتان، (۴) حضرت مولانا منیر الدین صاحب کوئٹہ، (۵) حضرت مولانا ڈاکٹر عبدالرزاق اسکندر کراچی، (۶) حضرت مفتی نظام الدین صاحب کراچی، (۷) حضرت مولانا نور الحق نور پشاور، (۸) حضرت مولانا حکیم عبدالرحمن آزاد گوجرانوالہ، (۹) حضرت مولانا عبداللہ صاحب اسلام آباد، (۱۰) حضرت قاری محمد امین صاحب راولپنڈی، (۱۱) حضرت مولانا عبدالرحیم اشعر ملتان، (۱۲) جناب عبدالرحمن یعقوب باوا لندن، (۱۳) حضرت مولانا احمد میاں حمادی ٹنڈو آدم، (۱۴) حضرت مولانا فیض اللہ صاحب میر پور خاص، (۱۵) حضرت مولانا قاضی عزیز الرحمن رحیم یار خان، (۱۶) حضرت مولانا قاضی عبدالمالک صاحب جھاوریاں، (۱۷) حضرت مولانا عبدالواحد صاحب کوئٹہ، (۱۸) حضرت مولانا انوار الحق حقانی کوئٹہ، (۱۹) حضرت مولانا محمد اشرف ہمدانی فیصل آباد، (۲۰) محترم ریاض الحسن گنگوہی ڈیرہ اسماعیل خان، (۲۱) مکرم حافظ محمد عابد صاحب خانیوال، (۲۲) مولانا صاحبزادہ عزیز احمد صاحب خانقاہ سراجیہ، (۲۳) محترم قاضی فیض احمد صاحب ٹوبہ ٹیک سنگھ، (۲۴) محترم حاجی سیف الرحمن صاحب بہاول پور، (۲۵) حضرت حکیم محمد یونس صاحب راولپنڈی، (۲۶) حاجی بلند اختر نظامی لاہور، (۲۷) صاحبزادہ طارق محمود فیصل آباد، (۲۸) مکرم حاجی فرزند علی صاحب سکھر، (۲۹) حاجی اشتیاق احمد صاحب جھنگ، (۳۰) جناب حافظ نذیر احمد صاحب گوجرانوالہ، (۳۱) جناب میاں خان محمد صاحب باگڑ سرگانہ۔

حضرت مولانا خواجہ خان محمد صاحب مدظلہ نے مرکزی ناظم اعلیٰ حضرت مولانا عزیز الرحمن جالندھری، حضرت مولانا بشیر احمد اور

صفحہ ۵۶۱

تحریک ختم نبوت جلد(۶) ۱۹۹۲ء تا ۱۹۹۷ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

حضرت مولانا اللہ وسایا سے مشاورت کے بعد درج ذیل عہدیداروں کا اعلان فرمایا:

حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی نے ایک گفتگو میں اس خواہش کا اظہار فرمایا کہ اراکین مجلس شوریٰ میں حضرت مولانا عبدالقادر رائے پوری نور اللہ مرقدہ کے خلفاء میں سے دو تین نمائندے بھی ہونے چاہئیں تاہم اراکین مجلس شوریٰ میں سرفہرست حضرات اقدس سید نفیس شاہ صاحب حضرت رائے پوری کے خلیفہ ہیں۔ مزید ایک دو بزرگ حضرت رائے پوری کے حلقہ میں سے لے لینے چاہئیں۔

حضرت مولانا عزیز الرحمن جالندھری اور حضرت مولانا اللہ وسایا نے یہ خواہش حضرات اقدس مولانا خواجہ خان محمد دامت برکاتہم کے گوش گزار کی تو حضرت نے اس تجویز کو پسند فرمایا اور حکم فرمایا کہ مولانا محمد یوسف لدھیانوی حسب منشاء جن دو حضرات کے نام پیش کریں انہیں شوریٰ میں لے لیا جائے۔

فقیر خان محمد غفرلہ

(۷۳ واں) اجلاس شوریٰ

اجلاس مرکزی مجلس عمومی عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان بمقام دفتر مرکزیہ ملتان۔

مؤرخہ ۲۷/ مارچ ۱۹۹۵ء، مطابق ۲۵/ شوال المکرم ۱۴۱۵ھ، بروز سوموار، بوقت ۹ بجے صبح منعقد ہوا۔

زیر صدارت: حضرت امیر مرکزیہ مولانا خواجہ خان محمد صاحب دامت برکاتہم۔

شرکاء: (۱) حضرت مولانا خواجہ خان محمد صاحب مدظلہ، (۲) حضرت مولانا محمد بنوری کراچی، (۳) حضرت مولانا عبدالرزاق صاحب اسکندر کراچی، (۴) حضرت مولانا محمد امین صاحب راولپنڈی، (۵) حضرت مولانا محمد عبداللہ صاحب اسلام آباد، (۶) حضرت مولانا نور الحق صاحب بنوں، (۷) حضرت مولانا انوار الحق کوئٹہ، (۸) حضرت مولانا عبدالواحد کوئٹہ، (۹) حضرت مولانا مفتی نظام الدین کراچی، (۱۰) حضرت مولانا قاضی عزیز الرحمن رحیم یار خان، (۱۱) حضرت مولانا محمد اشرف ہمدانی فیصل آباد، (۱۲) حضرت مولانا احمد میاں حمادی ٹنڈو آدم، (۱۳) صاحبزادہ حافظ محمد عابد خانیوال، (۱۴) حضرت مولانا عبدالرحیم اشعر ملتان، (۱۵) صاحبزادہ عزیز احمد صاحب خانقاہ سراجیہ کندیاں ضلع میانوالی، (۱۶) حاجی بلند اختر نظامی لاہور، (۱۷) مکرم حاجی فیض احمد صاحب ٹوبہ ٹیک سنگھ، (۱۸) حاجی سیف الرحمن بہاول پور، (۱۹) صوفی ریاض الحسن ڈیرہ، (۲۰) حاجی اشتیاق احمد جھنگ، (۲۱) صاحبزادہ طارق محمود فیصل آباد، (۲۲) مولانا اللہ وسایا ملتان، (۲۳) حضرت مولانا عزیز الرحمن جالندھری ملتان، (۲۴) میاں خان محمد سرگانہ صاحب باگڑ سرگانہ، (۲۵) مولانا بشیر احمد ملتان، (۲۶) مولانا حافظ نذیر احمد گوجرانوالہ، (۲۷) مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی۔

اجلاس کا آغاز مولانا قاری انوار الحق کی تلاوت کلام مقدس سے ہوا۔ بعد ازاں شرکائے مجلس شوریٰ میں ایجنڈا کی فوٹو کاپیاں تقسیم کی گئیں۔ گزشتہ اجلاس مجلس شوریٰ سے تا ایں روز ملک بھر میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے حلقہ اثر کے مندرجہ ذیل بزرگان، سرپرست

صفحہ ۵۶۲

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۲ء تا ۱۹۹۷ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

راہنما، رفقاء کرام اور کارکن فوت ہوئے۔ حضرت مولانا محمد عبداللہ درخواستی، حضرت مفتی ولی حسن، حضرت مولانا عبدالرؤف حیدرآباد، حافظ محمد حنیف ندیم، مولانا مسعود الرحمن انوری، سردار فضل محمود خاکوانی، حاجی فرزند علی سکھر، مولانا عبید اللہ لورالائی، مولانا عبد الحکیم کراچی، مولانا فضل الرحمن احرار، مولانا انذر قاسمی، صلاح الدین مدیر تکبیر، حافظ انور احمد مکتبہ مدنیہ، مولانا عبداللہ خالد مانسہرہ، حاجی فیروز الدین کوئٹہ، مولانا سعید الرحمن علوی، قاری مقصود احمد جامعہ مدنیہ، حاجی بشیر احمد بہاول پور، مولانا پیر جی عبدالعلیم چیچہ وطنی، حافظ گل محمد سرگانہ و دیگر مرحومین کی مغفرت، بلندیٔ درجات، ایصال ثواب اور پسماندگان کے صبر جمیل کے لئے حضرت امیر مرکزیہ دامت برکاتہم العالیہ نے اجتماعی دعا فرمائی۔

اجلاس کے آغاز میں صاحبزادہ عزیز احمد نے ایجنڈا سے متعلق فرمایا کہ ایجنڈا اجلاس میں پیش کرنے کے بجائے اجلاس کے دعوت نامہ کے ساتھ ہی بھیجا جانا چاہئے تھا۔ صاحبزادہ عزیز احمد چونکہ اجلاس میں پہلی دفعہ شریک ہوئے۔ اس لئے انہوں نے جماعت کا دستور طلب کیا۔ جس پر تمام اراکین مجلس شوریٰ کو دستور کی کاپیاں پیش کی گئیں۔ صاحبزادہ عزیز احمد نے کہا کہ دستور میں بعض شقیں وضاحت طلب ہیں۔ جیسا کہ دستور میں اس بات کی وضاحت نہیں کہ اراکین مجلس شوریٰ کی تعداد منتظمہ کمیٹی سمیت تینتیس ہے یا منتظمہ کمیٹی کے علاوہ؟ لہٰذا ان امور کی بھی وضاحت ہونی چاہئے۔

اس پر حضرت مولانا عزیز الرحمن جالندھری نے وضاحت کرتے ہوئے فرمایا کہ ہمیشہ سے یہی ہوتا ہے کہ ایجنڈا دعوت نامہ کے ساتھ ہی بھیجا جاتا ہے۔ اس دفعہ کا اجلاس چونکہ ہنگامی اجلاس ہے اور عدم فرصت و وقت کی تنگی کے باعث ایجنڈا تیار کر کے اراکین مجلس شوریٰ کی خدمت میں نہ بھیجا جاسکا۔ آئندہ ایجنڈا ان شاء اللہ دعوت نامہ کے ساتھ ہی ارسال کر دیا جائے گا۔

جہاں تک دستور کی مبہم شقوں کا تعلق ہے تو واقعتاً دستور کی بعض شقیں وضاحت طلب ہیں اور ان پر نظر ثانی کی ضرورت ہے۔ لندن دفتر کے قیام کے بعد بیرون ملک جماعت کی تشکیل کے لئے مولانا تاج محمود اور مولانا محمد شریف جالندھری نے دستور کی بعض شقوں میں ترمیم و اضافہ کیا تھا۔ اس ترمیم شدہ دستور کی طباعت نہ ہوسکی۔ بعد کے تجربے سے معلوم ہوا کہ اس غیر مطبوعہ دستور کی بعض شقیں ایسی ہیں کہ موجودہ حالات کے پیش نظر ان پر عمل درآمد ناممکن ہے۔ دستور میں ترمیم واضافہ کی مجاز مجلس عمومی ہے۔ گزشتہ اجلاس مجلس عمومی کے موقع پر دستور پر نظر ثانی اور ترمیم واضافہ سے متعلق مجلس عمومی نے ترمیم واضافہ کا مجاز حضرت امیر مرکزیہ مدظلہ اور حضرت نائب امیر مرکزیہ مدظلہ کو قرار دیا کہ ہر دو حضرات جو مناسب خیال کریں دستور میں ترمیم واضافہ کر سکتے ہیں۔

مجلس عمومی کے اجلاس کے اختتام پر نائب امیر مرکزیہ نے مجھے (مولانا عزیز الرحمن کو ) فرمایا کہ آپ اور مولانا اللہ وسایا دونوں مل کر دستور میں جہاں کہیں ضرورت ہو مناسب ترمیم واضافہ کریں اور اگر چاہیں تو ساتھ کسی اور ساتھی کو بھی ملا لیں تا کہ دستور میں ترمیم واضافہ کرنے میں آپ کو آسانی رہے۔ چنانچہ نائب امیر مرکزیہ کی اجازت سے بندہ عزیز الرحمن مولانا اللہ وسایا اور صاحبزادہ طارق محمود نے دستور میں مناسب ترمیم واضافہ کیا ہے اور اس کا خاکہ تقریباً مرتب شدہ ہے۔ فائنل نہ ہونے کے باعث وہ دستور اراکین مجلس شوریٰ کی خدمت میں پیش نہ کیا جاسکا۔ اب امیر مرکزیہ اور نائب امیر مرکزیہ کی خدمت میں اس ترمیم شدہ دستور کو پیش کر کے اور منظوری لینے کے بعد آئندہ اجلاس مجلس شوریٰ میں حتمی دستور پیش کر دیا جائے گا۔

صفحہ 563

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۲ء تا ۱۹۹۷ء ۵۶۳ ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

گزشتہ اجلاس مرکزی مجلس شوریٰ منعقدہ ۴؍ شوال ۱۴۱۴ھ اور اجلاس مجلس عمومی منعقدہ ۸؍ جمادی الاول ۱۴۱۴ھ کی منضبط کارروائی پڑھ کر سنائی گئی۔ حضرت الامیر دامت برکاتہم اور اراکین مجلس شوریٰ نے اس کارروائی کی توثیق کی اور حضرت الامیر دامت برکاتہم نے اس کارروائی پر توثیقی دستخط ثبت فرمائے۔ ملک عزیز کے اندر دین سے بے راہ روی، حکمرانوں کی اسلام دشمنی، قتل وغارت، قادیانیوں کی اسلام اور ملک دشمن سرگرمیاں، قادیانیوں کی طرف امتناع قادیانیت آرڈیننس کی خلاف ورزیاں، ان تمام تر حالات کے باوجود بھی عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت نے اپنی ذمہ داریوں کو بفضل تعالیٰ پورا کرنے کی کماحقہ کوشش کی اور قدرت حق نے ہر محاذ پر مجلس تحفظ ختم نبوت کی دستگیری فرمائی۔

عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت نے تحریر وتقریر کے ذریعے پورے ملک میں ختم نبوت کے پیغام کو پہنچایا اور قادیانیت کے مکروہ چہرے سے نقاب اٹھایا۔ ختم نبوت کانفرنسوں، تربیتی نشستوں اور لٹریچر کے ذریعے سے مسلمانوں کے اندر حضور اکرم ﷺ کی عزت وناموس پر مر مٹنے کے جذبے کو جلا بخشی گئی۔ ملکی حالات و واقعات کی سنگینی کے باوجود جس قدر ممکن تھا عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے شعبہ تبلیغ اور شعبہ نشر واشاعت نے انتہائی خوش اسلوبی سے اپنی ذمہ داریوں کو پورا کیا۔

پورے ملک کے اندر نامساعد حالات کے باوجود درج ذیل مقامات پر ختم نبوت کانفرنسوں کا انعقاد کیا گیا۔

۲۲؍ جون ۱۹۹۵ء اسلام آباد ۲۴؍ جون ۱۹۹۵ء مانسہرہ ۲۵؍ جون ۱۹۹۵ء سکھ ھارو پھگلہ ۲۷؍ جون ۱۹۹۵ء ایبٹ آباد ۴؍ جولائی ۱۹۹۵ء لسبیلہ ۱۴؍ اگست ۱۹۹۵ء برمنگھم یکم ستمبر ۱۹۹۵ء بدین ۲؍ ستمبر ۱۹۹۵ء وارہ ۷؍ ستمبر ۱۹۹۵ء لاہور ۸؍ ستمبر ۱۹۹۵ء بہاول پور ۹؍ ستمبر ۱۹۹۵ء رحیم یار خان ۱۳،۱۴؍ ستمبر ۱۹۹۵ء ربوہ (چناب نگر) ۲۱؍ اکتوبر ۱۹۹۵ء بلجیم ۱۸؍ نومبر ۱۹۹۵ء چیچہ وطنی

۲۰ تا ۲۸؍ نومبر تک مبلغین کرام نے آزاد کشمیر کا تفصیلی دورہ کیا۔ علاوہ ازیں ماہ اکتوبر میں لالوشاری، ٹنڈو آدم، مٹھی اور گولارچی میں بھی ختم نبوت کانفرنسیں منعقد کی گئیں۔ ختم نبوت کانفرنسوں کے علاوہ کئی مقامات پر ردقادیانیت پر تربیتی نشستوں کا انعقاد بھی کیا گیا۔ جن میں سے چند اہم مقامات کے نام درج ذیل ہیں۔

جامعۃ العلوم الاسلامیہ کراچی، جامعہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ، سلطان العلوم کوٹلہ رحم علی شاہ، جامعۃ العلوم الاسلامیہ العزیزیہ اسلام آباد

امسال شعبان ۱۴۱۵ھ سالانہ رد قادیانیت کورس مسلم کالونی ربوہ میں انعقاد پذیر ہوا۔ تائید ایزدی شامل حال رہی اور کورس کامیابی وکامرانی سے ہمکنار ہوا۔ ربوہ میں پہلی بار ردقادیانیت پر پندرہ روزہ تربیتی کلاس کے اہتمام پر ملک بھر میں اس فیصلہ کا خیر مقدم کیا گیا۔ علماء کرام، دینی مدارس کے طلباء، یونیورسٹیوں اور کالجز کے طلباء نے کورس میں شرکت کی۔ تمام مکاتب فکر کی بھر پور نمائندگی اس کورس میں موجود تھی۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے شعبہ نشر واشاعت نے امسال ”تحفہ قادیانیت“ کا ایڈیشن دوم اردو اور انگریزی میں شائع کیا۔ انگریزی ایڈیشن ملک بھر کے سپریم کورٹ وہائیکورٹ کے ججز صاحبان واعلیٰ افسران کو ہدیۃً بھجوایا گیا۔

صفحہ ۵۶۴

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۲ء تا ۱۹۹۷ء ۵۶۴ ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

۱۹۷۴ء کی قومی اسمبلی میں مرزا ناصر احمد قادیانی پر مکمل جرح کی مکمل کارروائی ’’قومی تاریخی دستاویز‘‘ کے نام سے شائع کی۔ ’’قادیانی مذہب‘‘ مؤلفہ پروفیسر محمد الیاس برنی کے تمام حوالہ جات کو جدید وقدیم حوالہ جات سے آراستہ و پیراستہ کر دیا گیا ہے اور عنقریب ان شاء اللہ اسے بھی شائع کر دیا جائے گا۔ حسب سابق امسال بھی عربی، انگریزی اور اردو میں لٹریچر شائع کر کے فری تقسیم کیا گیا۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مبلغین نے اپنے تبلیغی اسفار میں، ذیلی دفاتر میں اور دفتر مرکزیہ ملتان میں فری لٹریچر کی تقسیم وترسیل پورا سال جاری رکھی۔ قادیانیوں کے دجل وتلبیس کو آشکارا کرنے کے لئے امسال عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت نے پورے ملک کے سکولوں، کالجوں، یونیورسٹیوں اور دینی مدارس کی لائبریریوں کو جماعت کی طرف سے شائع ہونے والی کتابوں کے سیٹ فری بھجوائے۔ بیرون ملک کی اہم شخصیات اور اداروں کو بھی عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی مطبوعات بھیجی گئیں۔

اس ضرورت کا بھی شدت سے احساس دلایا گیا کہ قادیانیوں اور قادیانیت زدہ افراد کے لئے عام فہم لٹریچر جو جدید تقاضوں کو پورا کرے شائع کیا جائے۔ نیز قادیانی روایتی دجل وتلبیس کا مظاہرہ کرتے ہوئے جو اشکالات پیش کرتے ہیں اور اعتراضات کرتے ہیں۔ ان کے تسلی بخش جوابات کے لئے حضرت مولانا اللہ وسایا سینئر مبلغین سے مشاورت کر کے نئے کتابچے ترتیب دیں گے تا کہ شعبہ نشر واشاعت کی طرف سے انہیں شائع کیا جاسکے۔ یہ تجویز زیر غور آئی کہ حضرت مولانا لدھیانوی کے رسالہ قادیانی فیصلہ کے چاروں ابواب الگ الگ شائع کر لئے جائیں۔ ان میں اگر ترمیم واضافہ کی ضرورت محسوس ہو تو مولانا اللہ وسایا صاحب کراچی کا سفر کر لیں گے۔

حضرات انبیاء کرام اللہ تبارک وتعالیٰ کی انتہائی برگزیدہ شخصیات ہیں۔ ان کی عزت وناموس اور تقدس کا تحفظ ہمارا جزوایمان ہے۔ انبیاء کرام کی شان مقدسہ میں گستاخی کا تصور بھی کفر ہے۔ بہت سے بدبخت انبیاء کرام کی شان مقدسہ میں گستاخی کے مرتکب ہوئے۔ انہی بدبختوں میں ایک مرزا غلام احمد قادیانی بھی ہے۔ مرزا قادیانی کی گستاخ زبان اور بے باک قلم نے کسی بھی پیغمبر کو معاف نہیں کیا۔ حضور نبی اکرم ﷺ کی شان مقدسہ میں سب سے زیادہ گستاخی کا مرتکب مرزا غلام احمد قادیانی ہوا ہے۔ مرزا غلام احمد قادیانی کے پیروکار اس وقت عالم اسلام میں سب سے زیادہ اسلام، شعائر اسلام اور پیغمبر اسلام کی ذات اقدس کے خلاف ہر طرح توہین آمیز رویہ اپنائے ہوئے ہیں۔ یہاں تک کہ اس مذموم دھندہ میں انہوں نے یہود ونصاریٰ کو آلہ کار بنا کر توہین رسالت کے بہت سے واقعات خود پس پردہ رہ کر عیسائیوں سے کروائے ہیں۔ گزشتہ دو تین برسوں میں عیسائیوں کی طرف سے کئی ایک ایسے واقعات ہوئے ہیں جو نہایت ہی نا قابل برداشت اور مسلمانوں کے لئے باعث اضطراب ہیں۔ کیونکہ عیسائیت سے تصادم اور ٹکر مسلمانوں کے مفاد میں نہیں۔ قادیانی لابی یہ ٹکراؤ کرا کے اپنا تحفظ چاہتی ہے۔ ان سنگین واقعات میں سے رتہ دوہتڑ، گوجرانوالہ کا واقعہ سب سے زیادہ سنگین ہے۔ تین عیسائی بدبختوں نے حضور سرور کائنات ﷺ کی شان مقدسہ میں گستاخی کا ارتکاب کیا۔ مولوی فضل حق امام مسجد رتہ دوہتڑ نے نمبردار اور دیگر معززین علاقہ کے ساتھ مل کر گستاخان رسول کے خلاف مقدمہ درج کرایا جو مختلف عدالتوں سے ہوتا ہوا ایڈیشنل سیشن جج لاہور کی عدالت میں پہنچا۔ ابتدائی تفتیش سے لے کر سیشن کورٹ تک جماعت نے کیس کی پیروی کی۔ وکلاء فراہم کئے لئے ودیگر ہر قسم کے مصارف برداشت کئے۔ سیشن کورٹ نے جرم ثابت ہو جانے پر فیصلہ مسلمانوں کے حق میں دیا اور ملزمان کو سزائے موت کا آرڈر سنایا۔

ملزمان نے لاہور ہائیکورٹ میں اس فیصلہ کے خلاف اپیل کی۔ دوسرے دن کیس کی سماعت شروع ہوگئی۔ لاہور ہائیکورٹ کے دو ایڈہاک ججوں نے ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت اپنی سو سالہ تاریخ کے علی الرغم قواعد وضوابط اور آئین کو بالائے طاق رکھتے ہوئے فیصلہ

صفحہ ۵۶۵

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۲ء تا ۱۹۹۷ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

آئین پاکستان اور مسلمانوں کے خلاف کیا جو اسلام اور پاکستان کی عدالتی تاریخ میں انتہائی گھناؤنا اور شرمناک عدالتی فیصلہ ہے۔ اس فیصلہ پر پورا ملک سراپا احتجاج بن گیا۔ ہمارے حکمران طبقہ نے اپنی بدترین اسلام دشمنی پالیسی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ان بد بخت عیسائیوں کو انتہائی اعزاز و اکرام کے ساتھ انہیں اسلام آباد پہنچایا جہاں سے انہیں پندرہ پندرہ ہزار پاؤنڈ نقد و دیگر ضروری سامان دے کر جرمنی بھجوا دیا۔

پاکستان کے مسلمانوں نے حکومت کی اس اسلام دشمن پالیسی کی شدید مذمت کی۔ حکومت کے اس طرزعمل کے ردعمل میں مولانا عبدالستار خان نیازی نے آل پارٹیز تحفظ ناموس رسالت کمیٹی بنائی۔ مجلس تحفظ ختم نبوت نے اس کمیٹی میں بھر پور کردار ادا کیا۔ تحفظ ناموس رسالت کے عنوان سے اسلام آباد، راولپنڈی، لاہور، ملتان اور سرگودھا میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت نے کانفرنسوں کا انعقاد کیا اور عوام کو تحفظ ناموس رسالت مآب کے لئے جانی و مالی قربانی کے لئے تیار کیا۔

ہائیکورٹ کے فیصلہ پر سپریم کورٹ میں اپیل کرنے کے لئے حضرت مولانا محمد عبداللہ (اسلام آباد) نے تجویز دی کہ ہمیں اب اس کیس کو سپریم کورٹ میں لے جانا چاہئے۔ مگر فیصلہ ہوا کہ ملزمان چونکہ بیرون ملک ہیں اور اسلام دشمن حکومتی پالیسی سپریم کورٹ میں بھی کیس کو خراب کر دے گی اور یوں امت مسلمہ کی جگ ہنسائی ہوگی۔ لہذا حالات وواقعات کے پیش نظر مناسب یہی ہے کہ سپریم کورٹ میں اپیل نہ دائر کی جائے اور توہین شان رسالت ﷺ کے مرتکب ملزمان اور ان کے معاونین کو تعزیر خداوندی کے حوالہ کیا جائے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ اپنے دین متین اور پیغمبر اسلام ﷺ کی عزت و ناموس کے خود محافظ اور نگہبان ہیں۔

۹ ویں سالانہ ختم نبوت کانفرنس لندن کے اختتام پر حضرت الامیر دامت برکاتہم کی صدارت میں اجلاس ہوا۔ جس میں حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی، حضرت عبدالرحمن یعقوب باوا و دیگر جماعتی رفقاء کرام نے شرکت کی۔ اس اجلاس میں فیصلہ ہوا کہ بفضلہ تعالیٰ لندن کانفرنس کی کامیابی، کانفرنس میں برطانیہ کے مسلمانوں کا جوش و خروش قابل صد تحسین ہے۔ کانفرنس پر اجتماع اتنا زیادہ ہوتا ہے کہ برطانیہ کی کوئی بھی مسجد اس کی متحمل نہیں ہو سکتی۔ لہذا فیصلہ ہوا کہ آئندہ برس دسویں سالانہ ختم نبوت کانفرنس ۱۹۹۵ء کے چار علیحدہ علیحدہ اجلاس مختلف شہروں میں منعقد کئے جائیں۔ پورے برطانیہ کے دور دراز شہروں سے سفر کی دقتیں برداشت کر کے مسلمان لندن کانفرنس میں شرکت کرتے ہیں۔ مختلف شہروں میں کانفرنسوں کا انعقاد ہونے کی وجہ سے ختم نبوت کا پیغام زیادہ سے زیادہ عوام تک پہنچے گا اور مسلمانان برطانیہ طویل سفر کی دقت سے بھی بچ جائیں گے۔ لہذا طے پایا کہ امسال ۲۳؍ جولائی، ۳۰؍ جولائی، ۶؍ اگست اور ۱۳؍ اگست کو برطانیہ کے مختلف شہروں میں ختم نبوت کانفرنسوں کا انعقاد کیا جائے گا اور تمام تر انتظامات جناب عبدالرحمن باوا صاحب کریں گے۔ پاکستان سے ان کانفرنسوں میں شرکت اور باوا صاحب کے ساتھ معاونت کے لئے حضرت الامیر مولانا خواجہ خان محمد مدظلہ، حضرت اقدس مولانا لدھیانوی مدظلہ، حضرت مولانا محمد اکرم طوفانی اور حضرت مولانا اللہ وسایا تشریف لے جائیں گے۔ مزید اگر کسی عالم دین کو مدعو کرنا جناب عبدالرحمن یعقوب باوا کی صوابدید پر ہے جن حضرات کو وہ مناسب سمجھیں بلا سکتے ہیں۔ مجلس شوریٰ نے اس فیصلہ کی بھی توثیق فرمائی۔

مسلم کالونی ربوہ میں سالانہ ختم نبوت کانفرنس الحمدللہ ! ہر سال کامیابی و کامرانی سے ہمکنار ہوتی ہے۔ پورے ملک سے جماعتی رفقاء کرام انتہائی جوش و خروش سے کانفرنس میں شرکت کرتے ہیں۔ کانفرنس سے پہلے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے مبلغین پورے ملک کا دورہ کر کے عوام کو کانفرنس میں شرکت کے لئے تیار کرتے ہیں۔ ہماری کوشش ہوتی ہے کہ اپنے اکابرین کی روایات کی پاسداری کرتے ہوئے تمام مکاتب فکر کے جید اور نمائندہ افراد کو دعوت دی جائے۔ مسلسل و پیہم کوششوں سے ان حضرات کو کانفرنس میں شمولیت پر آمادہ کیا جاتا ہے۔ طے پایا کہ ہندوستان کے اپنے اکابرین سے رابطہ کر کے انہیں کانفرنس میں شمولیت کی دعوت دی جائے۔ ان اکابر کی ہماری

صفحہ ۵۶۶

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۲ء تا ۱۹۹۷ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

کانفرنس میں شرکت ہمارے لئے باعث برکت، اللہ تعالیٰ کی نصرت شامل حال ہونے کی موجب اور جماعتی کارکنوں کے لئے باعث حوصلہ افزائی ہوگی۔ ہندوستان کے اکابرین سے رابطہ دفتر مرکزیہ ملتان کے رفقاء کرام کیا کریں گے۔ مجلس شوریٰ نے اس کی بھی تحسین فرمائی اور فیصلہ ہوا کہ آئندہ ختم نبوت کانفرنس چناب نگر ۱۲، ۱۳، ۱۴/ اکتوبر ۱۹۹۵ء بروز جمعرات، جمعہ ہوگی۔ فیصلہ از مجلس شوریٰ

(۷۷ واں) اجلاس شوریٰ

اجلاس مرکزی مجلس شوریٰ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان بمقام دفتر مرکزیہ ملتان۔

مؤرخہ ۲/ جون ۱۹۹۶ء، مطابق ۱۵/ محرم الحرام ۱۴۱۷ھ، بروز اتوار بوقت آٹھ بجے صبح منعقد ہوا۔

زیر صدارت: امیر مرکزیہ مولانا خواجہ خان محمد صاحب دامت برکاتہم۔

شرکاء: (۱) مولانا خواجہ خان محمد صاحب دامت برکاتہم، (۲) مولانا محمد یوسف لدھیانوی، (۳) مولانا سید نفیس الحسینی شاہ لاہور، (۴) مولانا فیض احمد ملتان، (۵) مولانا محمد عبداللہ اسلام آباد، (۶) مولانا عبدالواحد کوئٹہ، (۷) مولانا انوار الحق کوئٹہ، (۸) مولانا نور الحق نور پشاور، (۹) مولانا فیض اللہ میر پور، (۱۰) مولانا احمد میاں حمادی ٹنڈو آدم، (۱۱) مولانا قاضی عزیز الرحمن رحیم یار خان، (۱۲) حافظ نذیر احمد گوجرانوالہ، (۱۳) صاحبزادہ محمد عابد خانیوال، (۱۴) صاحبزادہ عزیز احمد خانقاہ سراجیہ میانوالی، (۱۵) حاجی فیض احمد ٹوبہ ٹیک سنگھ، (۱۶) حاجی بلند اختر نظامی لاہور، (۱۷) حاجی سیف الرحمن بہاول پور، (۱۸) الحاج صوفی ریاض الحسن ڈیرہ اسماعیل خان، (۱۹) حاجی اشتیاق احمد جھنگ، (۲۰) میاں خان محمد باگڑ سرگانہ، (۲۱) مولانا سید عبدالمجید شاہ ندیم ملتان، (۲۲) حکیم محمد یونس کراچی، (۲۳) مولانا عزیز الرحمن جالندھری ملتان، (۲۴) مولانا اللہ وسایا ملتان، (۲۵) مولانا بشیر احمد ملتان، (۲۶) مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی ملتان۔

دعائے مغفرت: اجلاس کا آغاز مولانا محمد عبداللہ کی تلاوت کلام پاک سے ہوا۔ بعد ازاں معزز شرکائے اجلاس میں ایجنڈا کی کاپیاں تقسیم کی گئیں۔

گزشتہ برس اندرون و بیرون ملک فوت ہونے والی شخصیات، عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے حلقہ رفقاء یا جماعتی بزرگوں کے متعلقین سے فوت شدہ حضرات کے لئے حضرت الامیر مرکزیہ دامت برکاتہم نے دعا مغفرت کرائی۔ اللہ رب العزت تمام مرحومین کو جنت الفردوس اور پسماندگان کو صبر جمیل نصیب فرمائیں۔ جن کے لئے دعا مغفرت کی گئی ان کے اسماء گرامی درج ذیل ہیں۔

مولانا انعام الحسن دہلی، مولانا قاری محمد حنیف ملتان، جناب عبدالواحد اختر اکوڑہ خٹک، مولانا بشیر احمد فقیر والی، جناب پروفیسر محمد اشرف پشاور، مولانا سید عطاء المنعم شاہ بخاری ملتان، مولانا عبدالقیوم چھچھ، مولانا محمد شفیع ہوشیار پوری، سردار رحیم خان لغاری رحیم یار خان، والد گرامی مولانا محمد عبداللہ لدھیانوی ٹوبہ ٹیک سنگھ، مولانا عبدالواحد چیچہ وطنی، ملک احمد سعید خانقاہ سراجیہ کندیاں، میاں اللہ دتہ باگڑ سرگانہ، حافظ محمد انور اٹک، مولانا فضل حق پشاور، والدہ محترمہ پیر شبیر احمد گیلانی سیالکوٹ، اہلیہ محترمہ مولانا ابوالسعد احمد خان خانقاہ سراجیہ، محترمہ صاحبزادی مولانا محمد شریف بہاول پوری، والدہ محترمہ مولانا قاری زرین احمد راولپنڈی، والدہ محترمہ مولانا فضل الرحیم لاہور۔

گزشتہ اجلاس مجلس شوریٰ کی کارروائی مولانا اللہ وسایا نے اجلاس میں پڑھ کر سنائی۔ گزشتہ اجلاس کے فیصلوں پر عملدرآمد سے متعلق ساتھ ساتھ وضاحت بھی عرض کی گئی۔ تمام اراکین مجلس شوریٰ نے گزشتہ کارروائی کی توثیق اور فیصلوں پر عملدرآمد کی تحسین فرمائی۔

صفحہ ۵۶۷

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۲ء تا ۱۹۹۷ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

حضرت امیر مرکزیہ دامت برکاتہم نے توثیقی دستخط فرمائے۔ سال گزشتہ ۱۴۱۶ھ کی تبلیغی رپورٹ، رد قادیانیت کورس چناب نگر، ملک بھر میں ردقادیانیت کورسز سے متعلق تحریری مرتب شدہ رپورٹ مولانا اللہ وسایا نے پڑھ کر سنائی جو کہ درج ذیل ہے۔

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

”سالانہ تبلیغی رپورٹ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت“

یکم محرم الحرام تا ۳۰؍ ذی الحجہ ۱۴۱۶ھ

(یہ کارروائی چونکہ پہلے موقعہ بموقعہ کتاب میں درج ہو چکی ہے۔ لہٰذا دوبارہ درج کرنے کی ضرورت نہیں)

شعبہ نشر واشاعت: ۱۴۱۶ھ میں یکم محرم الحرام سے تا اختتام سال حسب فیصلہ مرکزی مجلس شوریٰ مندرجہ ذیل کتب اندرون و بیرون ملک تقسیم کی گئیں۔ دفتر مرکزیہ میں علیحدہ رجسٹر تقسیم کتب پر ان کی تفصیل درج ہے۔

جن شخصیات، اداروں اور لائبریریوں کو یہ کتابیں دی گئیں۔ ان کے پتہ جات متذکرہ رجسٹر پر موجود ہیں۔ قومی تاریخی دستاویز ورئیس قادیان سب سے زیادہ تقسیم ہوئیں۔ اس کا باعث یہ ہے کہ ربوہ میں رد قادیانیت کورس کے شرکاء کو بھی امسال یہ کتابیں مجلس کی طرف سے دی گئیں۔ اس سال قادیانی مذہب اور رئیس قادیان کا نیا کمپیوٹر ایڈیشن شائع کیا گیا۔ تحفہ قادیانیت کا انگریزی ایڈیشن مختلف سرکاری دفاتر میں جماعت کے مبلغین کے توسط سے تقسیم کیا گیا۔ جماعت ہر سال فری لٹریچر شائع کر کے ملک بھر میں تقسیم کرتی ہے۔ جب کہ ڈاک کے ذریعہ بھی دفتر مرکزیہ سے ہزار ہا کی تعداد میں لٹریچر روانہ کیا جاتا ہے۔ اس سال پانچ انگریزی کے رسائل پانچ پانچ ہزار کی تعداد میں شائع کر کے ان کا بیشتر حصہ برطانیہ وجرمنی بھجوایا گیا۔ رسائل کے نام درج ذیل ہیں:

قومی ختم نبوت کنونشن مؤرخہ ۱۶/مئی لاہور: گزشتہ تین چار برسوں سے ملک میں ہونے والے اسلام دشمن حالات و واقعات خصوصاً عیسائیوں کی اسلام دشمن سرگرمیاں، توہین رسالت مآب ﷺ کے واقعات، قادیانیوں کی دہشت گردیاں وتخریب کاریاں خصوصاً دوالمیال ضلع چکوال، چک نمبر ۶ ہڑپہ ضلع ساہیوال، ادرھمہ ضلع سرگودھا، منڈی احمد آباد ضلع اوکاڑہ میں قادیانیوں کی اشتعال انگیز وشرارت آمیز کارروائیاں، امریکی وزارت خارجہ کی رپورٹ کہ قانون تحفظ ناموس رسالت اور امتناع قادیانیت آرڈیننس کو منسوخ کیا

صفحہ ۵۶۸

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۲ء تا ۱۹۹۷ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

جائے اور ان قوانین کی منسوخی کے لئے جرمنی و امریکہ کی حکومتوں کا دباؤ مزید برآں مرزا طاہر احمد کا یہ اعلان کہ آئندہ چند ماہ میں قادیانی جماعت خوشخبریاں سنے گی۔ کابینہ کا فیصلہ کہ اقلیتوں کو دوہرے ووٹ کا حق دیا جائے۔ تعلیم الاسلام کالج ربوہ کی واگزاری کا اعلان، ان حالات میں ضروری ہوا کہ آل پارٹیز مرکزی مجلس عمل تحفظ ختم نبوت پاکستان کو از سر نو متحرک کیا جائے۔

چنانچہ حضرت الامیر دامت برکاتہم سے مشورہ و اجازت کے بعد محنت کر کے ۳۰/مارچ ۱۹۹۶ء کو حضرت اقدس مدظلہ کے سفر حج پر جانے سے قبل لاہور میں پریس کانفرنس ہوئی۔ جس میں آپ نے مجلس عمل کے متحرک کرنے اور ۱۶/مئی ۱۹۹۶ء کو لاہور میں ”قومی ختم نبوت کنونشن“ منعقد کرنے کے لئے مولانا عزیز الرحمن جالندھری مدظلہ کی سربراہی میں ایک کمیٹی تشکیل دی جس میں مولانا زاہد الراشدی، مولانا عبد المالک خان، مولانا عبد الحمید قادری، علامہ علی غضنفر کراروی، مولانا سرفراز نعیمی اور مولانا عبد الرحمن لدھیانوی شامل تھے۔ ”قومی ختم نبوت کنونشن“ کے انعقاد سے متعلق اس کمیٹی کے لاہور میں تین اجلاس ہوئے۔ ۱۶/مئی کو صبح ۹/بجے مسجد عائشہ لاہور میں مجلس عمل تحفظ ختم نبوت میں شریک جماعتوں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت، جمعیۃ علماء اسلام (ف)، جمعیۃ علماء اسلام (س)، جمعیۃ علماء پاکستان (ن)، جمعیۃ علماء پاکستان (نورانی)، متحدہ جمعیۃ اہل حدیث، مرکزی جمعیۃ اہل حدیث، منہاج القرآن، مجلس احرار اسلام، تحریک دعوت اسلام، اتحاد العلماء جماعتوں کے سربراہوں و نمائندگان کا حضرت الامیر مدظلہ کی زیر صدارت اجلاس ہوا اور اسی دن ۲/بجے سے ۶/بجے تک فلیٹیز ہوٹل میں ”قومی ختم نبوت کنونشن“ منعقد ہوا۔ جس میں تین سو سے زائد مندوبین نے پورے ملک خصوصاً صوبہ پنجاب سے شرکت کی۔ کنونشن بھر پور انداز میں الحمد للہ! کامیابی سے ہمکنار ہوا۔ اب مجلس عمل کو متحرک کرنے کے لئے ملک بھر میں کانفرنسیں کرنے کا پروگرام ہے۔ اللہ رب العزت قبول فرمائیں اور توفیق سے سرفراز فرمائیں۔ آل پارٹیز مرکزی مجلس عمل تحفظ ختم نبوت میں حسب سابق داعی عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت ہے۔ اس لئے حسب سابق جملہ اخراجات بھی عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت برداشت کرے گی۔ مجلس عمل تحفظ ختم نبوت پاکستان کے عہدیدار درج ذیل ہیں۔

صدر: حضرت اقدس مولانا خواجہ خان محمد صاحب دامت برکاتہم۔ نائب صدر: مولانا عبد الحمید قادری، مولانا عبد القادر روپڑی، علامہ علی غضنفر کراروی۔ جنرل سیکرٹری: سردار محمد خان لغاری۔ سیکرٹری نشر و اشاعت: مولانا زاہد الراشدی (معاون) عبد اللطیف خالد چیمہ۔ رابطہ سیکرٹری: مولانا اللہ وسایا۔

اجلاس نے ان فیصلوں کی توثیق فرمائی اور منظوری دی۔

عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام دس شعبہ ہائے تعلیم القرآن کام کر رہے ہیں۔ ان میں ملتان، چنیوٹ اور ربوہ (چناب نگر) میں مسافر طلباء بھی ہیں۔ ان شعبہ ہائے تعلیم القرآن کے تمام اخراجات عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کا مرکزی دفتر ادا کرتا ہے۔ شعبہ ہائے تعلیم القرآن، مدرسین اور زیر تعلیم طلباء کی فہرست درج ذیل ہے۔

نمبر شمار نام شعبہ ہائے تعلیم القرآن مدرس مقام تعداد ۱ شعبہ تعلیم القرآن ختم نبوت حافظ محمد حیات جابہ ضلع خوشاب ۴۱ ۲ ختم نبوت اکیڈمی قاری محمد رمضان مدنی لکڑ منڈی سرگودھا ۲۳ ۳ تعلیم القرآن ختم نبوت قاری عبد الرحمن شاکر مسلم کالونی ربوہ ۹۵

صفحہ ۵۶۹

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۲ء تا ۱۹۹۷ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

۴ جامع مسجد محمدیہ ریلوے اسٹیشن حافظ محمد یوسف مسجد محمدیہ ربوہ ۴۳ ۵ شعبہ تعلیم القرآن مدرسہ عربیہ دار الہدیٰ حافظ سعید احمد پرمٹ ضلع مظفر گڑھ ۶۱ // // // حافظ محمد شکیل احمد // // ۷۰ ۶ جامع مسجد الصادق قاری اللہ وسایا بہاول پور ۳۸ // // // قاری مشتاق احمد // // ۵۲ ۷ شعبہ تعلیم القرآن حافظ محمد بلال سکھر ۳۷ ۸ شعبہ تعلیم القرآن حافظ محمد رفیق اللہ حیدرآباد ۳۲ ۹ جامع مسجد باب الرحمت قاری مطیع الرحمٰن کراچی ۲۱ ۱۰ مدرسہ تعلیم القرآن بخاری مسجد قاری سعید احمد کنری سندھ ۸۵

اجلاس شوریٰ میں منظمہ کی منظور کردہ ترامیم پر تفصیلی غور وفکر کر کے دستور میں ترامیم کی حتمی شکل دی گئی۔ ۱۴۱۶ھ میں مجوزہ اخراجات کے علاوہ جو ہنگامی خرچے ہوئے ان کی تفصیل بیان کر کے منظوری حاصل کی گئی۔

ہے اور جماعت کا خرید کردہ ہے۔ اس میں دو فٹ بھرائی ڈال کر صحن اور تمام کمرہ جات اونچے کئے گئے۔ جدید پلستر، چھتوں پر فرش، شرقی جانب ۶۰ فٹ لمبا پردہ، جنوباً ۲۵ فٹ لمبا پردہ اور غرباً ۱۵ فٹ لمبا پردہ کیا گیا۔ جس پر اس وقت تک ۹۰۴۲۲ روپے خرچ ہوئے۔ مزید سٹور کا پلستر ہوگا۔ شلفیں تیار ہوں گی اور رنگ روغن ہوگا۔

کی امداد دی گئی۔ انہوں نے اس امداد کو صرف کر کے دو کمرے، برآمدہ و دیگر ضروریات مکمل کیں۔

کرائی۔ انہیں ۲۵۰۰۰ روپے اور ۲۰۰۰۰ روپے مجموعہ ۴۵۰۰۰ روپے نقد امداد بذریعہ ڈرافٹ دی گئی۔ جس سے انہوں نے دفتر کے اندر بجلی کی فٹنگ، کھڑکیاں، دروازے اور رنگ و روغن کا کام مکمل کرایا۔

مجلس منظمہ اور مالیاتی کمیٹی میں زیر مشاورت آنے والے امور تجاویز کا خلاصہ جو اجلاس مجلس شوریٰ میں پیش کیا گیا۔ اس کی تحریر یہاں مکمل ہوئی۔ مجلس شوریٰ نے ان تمام فیصلوں کی منظوری دی اور توثیق کی۔

ہفت روزہ لولاک فیصل آباد کو حضرت مولانا تاج محمود مرحوم نے نامساعد حالات میں جاری کیا۔ رد قادیانیت کے ضمن میں اس کی گرانقدر مثالی سنہری خدمات ہیں۔ مجلس تحفظ ختم نبوت کے پہلے آرگن ہونے کا اس کو شرف حاصل ہے۔ حضرت مرحوم کی وفات کے بعد صاحبزادہ طارق محمود نے اسے بخوبی چلایا۔ اب صاحبزادہ صاحب کی مصروفیات اور دیگر عوارض کی بنیاد پر پرچہ تعطل کا شکار ہے۔ چنانچہ شعبہ تبلیغ کے رفقاء کرام کی تجویز ہے کہ اسے ماہنامہ کر دیا جائے اور بجائے فیصل آباد کے دفتر مرکزیہ ملتان سے جاری کیا جائے۔ تمام مبلغین

صفحہ ۵۷۰

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۲ء تا ۱۹۹۷ء

ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

اس کی اشاعت بڑھانے اور مضامین وخبروں کے لئے ذمہ داری قبول کرتے ہیں۔ اس لئے معزز اراکین مجلس شوریٰ سے درخواست ہے کہ ہفت روزہ لولاک کی اشاعت بحال کرنے اور فیصل آباد سے ملتان لانے کی تجویز سے اتفاق کرتے ہوئے اس کی اجازت مرحمت فرمائی جائے۔ مجلس شوریٰ نے مرکزی رفقاء کرام اور مبلغین کی تجویز کی تحسین کرتے ہوئے رسالے کی ملتان سے اشاعت کی اجازت دی۔

مولانا محمد یوسف لدھیانوی نے اس پر تشویش کا اظہار کیا کہ قادیانی مسلمانوں کی نوجوان نسل کو جس انداز میں گمراہ کر رہے ہیں اور آئے دن ان کی سرگرمیاں بڑھتی ہی جارہی ہیں ان سرگرمیوں کی روک تھام کے لئے احباب تجاویز دیں۔ نیز قادیانیوں کو اسلام کی دعوت دینے کے فریضہ کی ادائیگی کی مناسب تدابیر پر بھی روشنی ڈالیں۔ اراکین مجلس شوریٰ نے مولانا کی اس تشویش سے اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ قادیانی آج کل جدید تعلیم یافتہ مسلمانوں کی مجبوریوں سے فائدہ اٹھا کر دنیاوی لالچ اور مفادات کا جھانسہ دے کر اور ان کی کسی مجبوری کو تاک کر انہیں قادیانیت کے جال میں پھنساتے ہیں۔ ظاہر ہے کہ کفر اور گمراہ کن فتنے یکساں طور پر ایسے ہی ہتھکنڈے استعمال کرتے رہے ہیں اور آج بھی کر رہے ہیں۔ مسلمان تو دفاعی پوزیشن میں ہیں۔ جہاں تک قادیانیوں کی شرانگیزیوں کے سدباب کا تعلق ہے تو جدید ضرورت کے تحت گزشتہ پانچ، سات سالوں سے مسلسل لٹریچر، پمفلٹ، رسائل اور اعلیٰ تعلیم یافتہ حلقوں میں رد قادیانیت کی کتب وافر مقدار میں تقسیم کی جارہی ہیں۔ اس کے علاوہ اردو، انگریزی، عربی و دیگر زبانوں میں لٹریچر شائع کرنے کی کوششیں کی جارہی ہیں۔ علاوہ ازیں جہاں تک ممکن ہو سکے قادیانیوں کے فریب سے نوجوان نسل کو بچانے کی تمام تدابیر ختم نبوت کے عنوان پر کام کرنے والے حلقے اپنا رہے ہیں۔

مولانا عبدالمجید ندیم شاہ نے اس عنوان پر اس انداز سے وضاحت کی کہ قادیانی چور ہیں اور چور ہمیشہ چھپ کر وار کرتا ہے۔ قادیانی، قادیانیت کے جال میں دھوکے سے مسلمانوں کو اس طرح پھانستے ہیں۔ جیسے شکار کو اب وہ مسلمانوں کو دین اسلام کی شاہراہ سے اغواء کرتے ہیں۔ ورنہ قادیانیت نام کی کوئی چیز ان کے ہاں کشش کا باعث نہیں۔ مفتی نظام الدین نے تجویز دی کہ مدارس کے علماء کرام اور جماعت کے مقامی رفقاء وعہدیداران کے علاقائی ، ضلعی اور صوبائی سطح پر اگر کنونشن منعقد کئے جائیں اور انہیں قادیانیوں کی شرانگیزیوں سے مطلع کر کے محاسبہ قادیانیت کے لئے تیار کیا جائے تو ڈش انٹینا کے ذریعہ قادیانی جہاں جہاں مسلمان نوجوانوں کو ورغلاتے ہیں۔ اس کا سدباب کیا جاسکتا ہے۔ اس تجویز کی افادیت سے اتفاق کرتے ہوئے طے پایا کہ ۳۰؍ ربیع الاوّل کو ہونے والی مبلغین کی سہ ماہی میٹنگ میں آئندہ تین ماہ کے تبلیغی پروگراموں میں علاقائی کنونشن منعقد کرنے کا پروگرام بھی مرتب کیا جائے گا۔

مولانا سید عبدالمجید ندیم نے تجویز دی کہ برطانیہ میں دیگر مقامات کی طرح گلاسکو میں بھی ختم نبوت کانفرنس منعقد کی جائے۔ وہاں اچھے رفقاء کی ٹیم مل سکتی ہے۔ وہاں کے لوگوں میں طلب بھی ہے اور احساس ضرورت بھی۔ ہندو پاکستان کی طرح بنگلہ دیش میں بھی قادیانیوں کی سرگرمیاں عروج پر ہیں۔ وہاں کے مسلمانوں کی کمزور مالی حالت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے وہ عیسائی مشنریوں کی طرز پر مسلمانوں کو گمراہ کرتے ہیں۔ مجلس تحفظ ختم نبوت بنگلہ دیش کافی فعال ہے اور وہ بھر پور انداز سے ان کا تعاقب کر رہی ہے۔ بنگلہ دیش میں سیرت کے عنوان پر ہر سال پندرہ، سولہ پروگرام بڑے اہم اہم مقامات پر ہوتے ہیں۔ جن میں پاکستان سے میں (سید عبدالمجید ندیم) اور انڈیا سے اکابرین شرکت کرتے ہیں۔ آئندہ ایسے سیرت اجلاسوں کے موقع پر اگر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کا کوئی نمائندہ بھی سفر کر لیا کرے تو رد قادیانیت کے عنوان پر بیانات سے وہاں کے مسلمانوں کو بہت فائدہ پہنچ سکتا ہے۔

تجویز مستحسن ہے۔ ایسا کیا جاسکتا ہے۔

فیوضات حسینیہ صفحہ ۷۱

صفحہ ۵۷۱

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۲ء تا ۱۹۹۷ء

ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

(۷۵واں) اجلاس مجلس منتظمہ

اجلاس مرکزی مجلس منتظمہ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان بمقام دفتر مرکزیہ ملتان۔

مؤرخہ ۱۴؍ ستمبر ۱۹۹۶ء، مطابق ۲۹؍ ربیع الثانی ۱۴۱۷ھ کو منعقد ہوا۔

زیر صدارت: امیر مرکزیہ مولانا خواجہ خان محمد صاحب دامت برکاتہم۔

شرکاء: (۱) مولانا خواجہ خان محمد صاحب دامت برکاتہم، (۲) مولانا محمد یوسف لدھیانوی، (۳) مولانا عزیز الرحمٰن جالندھری، (۴) مولانا اللہ وسایا، (۵) مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی، (۶) مولانا جمیل احمد خان، (۸) صاحبزادہ حافظ محمد عابد۔

مدرسہ مسلم کالونی کانفرنس: مدرسہ مسجد مسلم کالونی کے اردگرد سوئی گیس کے پائپ بچھا دیئے گئے ہیں۔ مسجد، دفتر، مدرسہ کے لئے سوئی گیس کے کنکشن ملنے کے امکانات ہیں۔ فیصلہ ہوا کہ سوئی گیس کے کنکشن حاصل کئے جائیں اور اگر ممکن ہو تو کانفرنس سے قبل گیس چالو کرالی جائے تاکہ سہولت ہو۔ کانفرنس کی تیاری کے لئے ۲۲؍ ستمبر ۱۹۹۶ء کو مقامی رفقاء و مبلغین کا اجلاس منعقد کیا جائے۔ کھانے کے نظم کو زیادہ سے زیادہ بہتر بنایا جائے۔ مقررین کو دعوت دینے اور ان سے پختہ وعدہ جات کے لئے بھرپور کوشش کی جائے۔ مقررین کی تقاریر بہتر انداز میں ہوں اور مبلغین حضرات ۲۲؍ ستمبر سے کانفرنس کی دعوت کے لئے علاقہ بھر کا بھرپور دورہ کریں۔

برمنگھم کانفرنس کا جائزہ، مولانا منظور احمد الحسینی، باوا صاحب، کراچی کانفرنس: برمنگھم کانفرنس امسال حسب سابق بہتر طریقہ پر منعقد ہوئی۔ مولانا محمد یوسف لدھیانوی مدظلہ کی تجویز پر برطانیہ میں علماء کرام کے مختلف اجتماعات منعقد کرنے کی منظوری دی گئی۔

مولانا منظور احمد الحسینی: یورپ میں کام کرنے کی ضرورت ہے۔ افراد کار کا قحط ہے۔ مولانا منظور احمد الحسینی اس کاز پر تیار شدہ ساتھی ہیں۔ بہتر خدمات انجام دے سکتے ہیں۔ اگر وہ کلیتہً ہمہ وقتی، اپنے آپ کو مجلس کے شعبہ تبلیغ سے وابستہ کر لینے پر آمادہ ہوں تو یورپی ممالک کے لئے بطور مبلغ کے ان کی خدمات حاصل کی جائیں۔

فقیر خواجہ خان محمد عفی عنہ

(۷۶واں) اجلاس مجلس منتظمہ

اجلاس مرکزی مجلس منتظمہ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان بمقام دفتر مرکزیہ ملتان۔

مؤرخہ ۱۷؍ فروری ۱۹۹۷ء، مطابق ۹؍ شوال المکرم ۱۴۱۷ھ، بروز سوموار صبح ۹؍ بجے منعقد ہوا۔

زیر صدارت: امیر مرکزیہ مولانا خواجہ خان محمد صاحب دامت برکاتہم۔

شرکاء: (۱) مولانا خواجہ خان محمد صاحب دامت برکاتہم، (۲) مولانا محمد یوسف لدھیانوی، (۳) مولانا عزیز الرحمٰن جالندھری، (۴) مولانا اللہ وسایا، (۵) مولانا بشیر احمد، (۶) مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی، (۷) جناب مفتی جمیل احمد، (۸) محترم حافظ محمد عابد، (۹) جناب حاجی فیض احمد، (۱۰) جناب حاجی ریاض الحسن، (۱۱) مولانا محمد اکرم طوفانی۔

مولانا محمد اکرم طوفانی کی تلاوت سے کارروائی کا آغاز ہوا۔ سابقہ کارروائی مولانا عزیز الرحمٰن نے پڑھ کر سنائی۔ حضرت امیر مرکزیہ دامت برکاتہم نے توثیقی دستخط فرمائے۔

صفحہ ۵۷۲

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۲ء تا ۱۹۹۷ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

ختم نبوت کانفرنس برمنگھم ۱۰/ اگست ۱۹۹۷ء کو منعقد کی جائے۔ مولانا مفتی محمد جمیل خان برطانیہ، مولانا مفتی محمد اسلم سے رابطہ کر کے مسجد کا ہال بک کرائیں۔ کانفرنس کی تیاری کے لئے حسب سابق ملتان سے اشتہار شائع کئے جائیں۔ تبلیغی دورہ اور کوچز کی بکنگ کے لئے مولانا محمد اکرم طوفانی عید الاضحیٰ کے بعد سفر کریں اور تا اختتام کانفرنس وہاں تبلیغی خدمات انجام دیں۔

اجلاس شوریٰ کے متعلق طے ہوا کہ اکابر مجلس کی حج مقدس سے واپسی پر تاریخیں مقرر کر لی جائیں۔ ختم نبوت کانفرنس صدیق آباد (ربوہ) ۱۰،۹/ اکتوبر ۱۹۹۷ء کو منعقد کی جائے۔ البتہ وادی عزیز والوں کی کانفرنس کا ابھی سے معلوم کر لیں۔ اگر دونوں کانفرنسوں کی ایک تاریخ ہو تو رد و بدل کر لیا جائے۔ اجلاس شوریٰ کے متعلق طے ہوا کہ اکابر مجلس کی حج مقدس سے واپسی پر تاریخیں مقرر کر لی جائیں۔ مولانا محمد اشرف کھوکھر نے چار ماہ کا کورس مکمل کیا ہے۔ ان کو کراچی دفتر برائے پرچہ بھیج دیا گیا ہے۔ اس کی توثیق کی گئی۔ مولانا قاضی احسان احمد کی تقرری کی منظوری دی گئی۔ البتہ وہ مزید ملتان دفتر رہ کر تیاری مکمل کرلیں۔

ربوہ کورس کے شرکاء اور دوسرے علماء کرام نے سہ ماہی کورس ملتان کے لئے درخواستیں بھجوائی ہیں۔ ان کے متعلق فیصلہ ہوا کہ شوال سے ذو الحجہ ۱۴۱۷ھ تک سہ ماہی کورس کی ملتان دفتر مرکزیہ میں کلاس منعقد کی جائے۔ امتحان پاس کرنے والے خواہشمند حضرات کو مجلس شعبہ تبلیغ سے وابستہ کر لیا جائے۔ مسلم کالونی مدرسہ کے مسافر طلباء کی تعداد امسال ستر ہوگی۔ مقامی طلباء علاوہ ازیں ہیں۔ ایک مدرس نا کافی ہے۔ دوسرا مدرس رکھ لیا جائے۔ مدرسہ پرمٹ کے پلاٹ میں ایک کمرہ لائبریری و دفتر کے لئے ضرورت ہے۔ اس کی تعمیر کی منظوری دی گئی۔ فقیر حقیر عزیز الرحمن غفرلہ

(۷۷ واں) اجلاس مجلس منتظمہ

اجلاس مرکزی مجلس منتظمہ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان بمقام مکان الحاج بلند اختر نظامی لاہور۔ مؤرخہ ۳۰/ جون ۱۹۹۷ء، مطابق ۲۴/ صفر الخیر ۱۴۱۸ھ، بروز سوموار منعقد ہوا۔

زیر صدارت: امیر مرکزیہ مولانا خواجہ خان محمد صاحب دامت برکاتہم۔

شرکاء: (۱) مولانا خواجہ خان محمد صاحب دامت برکاتہم، (۲) مولانا محمد یوسف لدھیانوی، (۳) مولانا مفتی جمیل خان، (۴) مولانا عزیز الرحمن جالندھری، (۵) مولانا اللہ وسایا، (۶) مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی، (۷) جناب حاجی بلند اختر نظامی، (۸) صاحبزادہ حافظ محمد عابد، (۹) مولانا سید نفیس شاہ صاحب الحسینی۔

۳۰/ جون ۱۹۹۷ء لاہور الحاج بلند اختر نظامی کے مکان پر صبح دس بجے حضرت امیر مرکزیہ دامت برکاتہم کی صدارت میں مجلس منتظمہ کا اجلاس شروع ہوا۔ مولانا مفتی محمد جمیل نے تلاوت فرمائی۔ گزشتہ اجلاس کی کارروائی پڑھ کر سنائی گئی اور حضرت امیر مرکزیہ دامت برکاتہم نے توثیقی دستخط فرمائے۔

ختم نبوت کانفرنس برمنگھم: ۱۰/ اگست ۱۹۹۷ء کو منعقد ہو رہی ہے۔ اشتہار شائع ہو گئے ہیں۔ مولانا محمد اکرم طوفانی نے ایک دورہ مکمل کر لیا ہے۔ مولانا اللہ وسایا شوریٰ کے اجلاس کے بعد سفر کریں گے۔ پاکستان سے اکابرین مجلس کے علاوہ امسال سید انور حسین نفیس رقم مدظلہ، مولانا محمد سرفراز خان صفدر شریک ہوں گے۔ مولانا محمد تقی عثمانی کے لئے بھی کوشش کی جائے گی۔ انڈیا سے مولانا سعید احمد پالن پوری اور مولانا اسعد مدنی مدظلہ شریک ہوں گے۔ ان شاء اللہ!

صفحہ ۵۷۳

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۲ء تا ۱۹۹۷ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

جرمنی میں زیر تجویز ۲۷ / جولائی ۱۹۹۷ء کی کانفرنس کے لئے ویزا ملنے کی شکل میں مولانا محمد یوسف لدھیانوی، مفتی محمد جمیل خان اور مولانا اللہ وسایا شریک ہوں گے۔

ماہنامہ لولاک: حسب اجازت شوریٰ و منتظمہ یکم محرم الحرام ۱۴۱۸ھ سے ملتان سے شائع ہونا شروع ہو گیا ہے۔ ماہنامہ لولاک کے اخراجات کو ہفت روزہ ختم نبوت کی طرح علیحدہ رکھا گیا ہے تا کہ اخراجات پر کنٹرول رہے۔ رسالے کی اشاعت بڑھانے اور اسے خود کفیل بنانے کی سعی اور کوشش کی جاسکے۔ ابتدائی اخراجات کے لئے محرم میں دس ہزار روپے دیئے گئے ہیں اور آئندہ حسب سابق ماہنامہ لولاک کو جو پانچ ہزار روپے کی امداد ملتی تھی اس کا اجراء کر دیا جائے۔

جناب عبد الستار جو مجلس کے حسابات آڈٹ کرتے ہیں ان کی رائے یہ ہے کہ حکومتوں کے اکھاڑ پچھاڑ اور دینی اداروں سے حسابات کے متعلق جو صورتحال اخبارات میں آتی رہتی ہے۔ اس کا تقاضا ہے کہ ۱۴۰۹ھ تا ۱۴۱۷ھ تک کی آڈٹ رپورٹوں پر مشتمل جنرل آڈٹ رپورٹ مجلس کے حسابات کی تیار کر لی جائے تا کہ کوئی بھی حکومتی ادارہ یا فرد حساب طلب کرے تو وہ رپورٹ سامنے رکھ دی جائے۔ اسے دیکھ کر وہ ان شاء اللہ ایک لفظ بھی پوچھنے کی ضرورت محسوس نہیں کریں گے۔ فیصلہ ہوا کہ ان کی رائے مجلس کی خیر خواہی پر مبنی ہے۔ لہٰذا جنرل آڈٹ رپورٹ تیار کر لی جائے۔

چار جدید مبلغین جنہوں نے شوال تا ذوالحجہ ۱۴۱۷ھ تین ماہ تکمیل کورس کی۔ ان کا یکم محرم الحرام ۱۴۱۸ھ بحیثیت مبلغ تقرر کیا گیا۔ مولانا عزیز الرحمٰن ثانی حلقہ شیخوپورہ ، مولانا محمد طیب فاروقی منڈی بہاؤالدین ، مولانا عبد الغفور صوبہ سندھ علاقہ بدین ، مولانا عبید اللہ علاقہ بہاول نگر۔

فیصلہ از ذمہ بحمد للہ!

(۷۸ واں) اجلاس مجلس شوریٰ

اجلاس مرکزی مجلس شوریٰ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان بمقام دفتر مرکزیہ ملتان۔

مؤرخہ ۱۶ / جولائی ۱۹۹۷ء ، مطابق ۱۰ / ربیع الاول ۱۴۱۸ھ، بروز بدھ بوقت ۹ / بجے صبح منعقد ہوا۔

زیر صدارت: امیر مرکزیہ مولانا خواجہ خان محمد صاحب دامت برکاتہم۔

شرکاء: (۱) مولانا خواجہ خان محمد صاحب دامت برکاتہم ، (۲) مولانا محمد یوسف لدھیانوی ، (۳) مولانا سید نفیس الحسینی شاہ لاہور ، (۴) مولانا فیض احمد ملتان ، (۵) مولانا مفتی نظام الدین کراچی ، (۶) مولانا عبد الرزاق اسکندر کراچی ، (۷) مولانا انوار الحق کوئٹہ ، (۸) مولانا نور الحق پشاور ، (۹) مولانا قاضی عبد المالک جھاوریاں ، (۱۰) مولانا احمد میاں حمادی ٹنڈو آدم ، (۱۱) مولانا قاضی عزیز الرحمٰن رحیم یار خان ، (۱۲) صاحبزادہ حافظ محمد عابد خانیوال ، (۱۳) صاحبزادہ عزیز احمد خانقاہ سراجیہ ، (۱۴) جناب قاضی فیض احمد ٹوبہ ٹیک سنگھ ، (۱۵) جناب حاجی سیف الرحمٰن بہاول پور ، (۱۶) جناب حاجی اشتیاق احمد جھنگ ، (۱۷) جناب میاں خان محمد باگڑ سرگانہ ، (۱۸) مولانا سید عبد المجید ندیم شاہ ملتان ، (۱۹) مولانا عزیز الرحمٰن جالندھری ملتان ، (۲۰) مولانا اللہ وسایا ملتان ، (۲۱) مولانا بشیر احمد ملتان ، (۲۲) مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی ملتان ، (۲۳) مولانا مفتی جمیل خان کراچی۔

آغاز مولانا مفتی محمد جمیل خان کی تلاوت قرآن مجید سے ہوا۔

کراچی سے نائب امیر مولانا محمد یوسف لدھیانوی اور دیگر اراکین مجلس شوریٰ جہاز کی تاخیر کی وجہ سے ایک گھنٹہ دیر سے پہنچے۔

صفحہ ۵۷۴

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۲ء تا ۱۹۹۷ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

ان کے انتظار کی وجہ سے اجلاس ۹ بجے کے بجائے ۱۰ بجے شروع ہوا۔ مولانا محمد یوسف لدھیانوی کی بوجہ ناسازی طبع واپسی قریب دوپہر دو بج کر چالیس منٹ پر تھی۔ اس وجہ سے اجلاس کی صرف ایک نشست ہوئی۔ آغاز اجلاس میں مرکزی ناظم اعلیٰ مولانا عزیز الرحمن جالندھری نے گزشتہ برس انتقال فرما جانے والے علماء کرام اور جماعتی حلقہ کے رفقاء کرام کے لئے تعزیتی قرارداد پیش کی۔ تمام مرحومین اور شہداء کے لئے مغفرت، بلندی درجات اور پسماندگان کے لئے صبر جمیل کی حضرت الامیر دامت برکاتہم نے دعاء کرائی۔

دعائے مغفرت: فوت شدگان کے اسماء گرامی درج ذیل ہیں: مولانا مفتی محمود حسن گنگوہی، مولانا قاضی اطہر مبارک پوری، مولانا اظہار الحسن، مولانا محمد عمر پالن پوری، مولانا قاضی زاہد الحسینی، مولانا محمد منظور نعمانی، الشیخ ابوغدہ عبدالفتاح، مولانا ضیاء الرحمن فاروقی، مولانا قاری محمد عبداللہ رحیمی، مولانا ایوب الرحمن جالندھری، مولانا غلام مصطفیٰ بہاول پوری، مولانا عبدالحق بستی مولویاں، مولانا عبدالوحید ڈھڈیاں شریف، مولانا عبد الہادی شیخوپورہ، مفتی غلام مرتضیٰ شاہ کوٹی، مولانا محمد رفیق سکھروی، صوفی قمر الدین ملتان، ڈاکٹر مطیع الرحمن لاہور، شیخ ظہور احمد چنیوٹ، مولانا عبدالحمید فاروقی تلہ گنگ، ملک منظور الہی اعوان سیالکوٹ، صاحبزادہ حکیم عبدالرحمن آزاد۔ مندرجہ بالا احباب کے علاوہ اندرون ملک دہشت گردی کا شکار ہونے والے شہداء کی بلندی درجات اور گرفتار شدگان کی رہائی کے لئے بھی دعا کی گئی۔

پاسپورٹ میں احمدی / قادیانی نزاع: نگران دور حکومت میں کینیڈا کے قادیانیوں کی درخواست پر وزارت داخلہ نے اپنے سفارت خانہ کو خط لکھ دیا کہ قادیانیوں کو پاسپورٹ میں قادیانی کے بجائے احمدی لکھا جائے۔ اس آرڈر کے خلاف پورے ملک میں احتجاج ہوا۔ لاہور میں مجلس عمل تحفظ ختم نبوت کے اجلاس بلائے گئے۔ مسجد شہداء لاہور میں احتجاجی کانفرنس ومظاہرہ کا اہتمام کیا گیا۔ پورے ملک میں بھرپور صدائے احتجاج بلند کی گئی۔ ۱۵؍ رمضان المبارک ۱۴۱۷ھ کو مجلس عمل تحفظ ختم نبوت کا وفد گورنر پنجاب خواجہ طارق رحیم کی دعوت پر ان سے ملا۔ وزارت داخلہ کے سیکرٹری، وزیر اعلیٰ پنجاب اور صوبائی وزیر قانون موجود تھے۔ انہوں نے مذاکرات کے بعد وعدہ کیا کہ یہ آرڈر واقعی غلط ہوا ہے۔ ہم اس کو واپس لیتے ہیں۔ مگر یہ آرڈر واپس نہ ہوا۔ مجلس تحفظ ختم نبوت نے اس سلسلہ میں بھرپور احتجاج کیا اور اس سلسلہ کو تحریکی انداز میں جاری رکھا۔ مولانا بشیر احمد ملتان سے اسلام آباد تشریف لے گئے۔ مولانا محمد عبداللہ، مولانا محمد نذیر فاروقی، محمد اورنگزیب اعوان پر مشتمل وفد نے سیکرٹری وزارت داخلہ مہر جیون خان سے ملاقات کی۔ انہوں نے سابقہ احکامات کی واپسی کے آرڈر کی کاپی مہیا کی۔ قادیانیوں سے متعلق پاسپورٹ اور فارم میں آئندہ کے لئے کیا طریقہ کار ہو؟ اس پر ایک میٹنگ ایڈیشنل سیکرٹری وزارت داخلہ سیف الرحمن خان سے ہوئی۔ جس میں جناب محمد اسماعیل قریشی سینئر ایڈووکیٹ سپریم کورٹ، مولانا اللہ وسایا، مولانا محمد عبداللہ اور محمد اورنگزیب اعوان شامل تھے۔ یوں قدرت نے اس قضیہ میں مجلس تحفظ ختم نبوت کو کامیاب فرمایا۔ فلحمد لله علی ذالک!

دیوبندی مسلک کا اتحاد: ۲۹؍ شوال المکرم ۱۴۱۷ھ کو اسلام آباد میں دیوبندی مسلک کے اکابرین کی حضرت الامیر مولانا خواجہ خان محمد دامت برکاتہم نے میٹنگ طلب فرمائی تاکہ ملک بھر میں مسلک کے رفقاء میں باہمی ربط اور اتحاد واتفاق کی کوئی صورت نظر آئے۔ میٹنگ میں مولانا سمیع الحق، مولانا فضل الرحمن، مولانا محمد یوسف خان پلندری، مولانا عزیز الرحمن جالندھری، مولانا حبیب اللہ مختار، مولانا فداء الرحمن درخواستی، مولانا اسفند یار، مولانا عبدالستار تونسوی، مولانا عبدالمجید ندیم، مولانا عبدالغفور حقانی، مولانا محمد اشرف علی، مولانا محمد عبداللہ، مولانا محمد نذیر فاروقی اور دوسرے اکابرین نے شرکت کی۔ تمام شرکائے اجلاس نے دیوبندی مکتب فکر کے اداروں اور جماعتوں میں باہم بڑھتے ہوئے بعد کو شدت سے محسوس کیا۔ اختلاف رائے کو کم کرنے، باہم ربط بڑھانے اور تمام مکاتب فکر کے ساتھ روابط کو قریب ترین اور مستحکم بنانے کی ضرورت کو شدت سے محسوس کیا گیا۔

صفحہ ۵۷۵

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۲ء تا ۱۹۹۷ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

ہائیکورٹ لاہور میں قادیانی جج لطف الرحمٰن کی تعیناتی: حکومت نے ہائیکورٹ میں آٹھ نئے جج تعینات کئے ہیں جن میں ایک جج لطف الرحمٰن قادیانی ہے۔ نیشنل ہوٹل لاہور میں مجلس عمل تحفظ ختم نبوت کی طرف سے ۱۸؍ محرم الحرام ۱۴۱۸ھ کو پریس کانفرنس کر کے اس قضیہ کو اٹھایا۔ گورنر پنجاب کا اخبارات میں بیان شائع ہوا کہ لطف الرحمٰن مسلمان ہے۔ اس پر مولانا اللہ وسایا نے گورنر پنجاب کو خط لکھا کہ لطف الرحمٰن مسلمان نہیں بلکہ قادیانی ہے۔ صرف اپنے روایتی دجل کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنے آپ کو مسلمان کہہ رہا ہے۔ وہ خط اخبارات میں شائع ہوا۔ علاوہ ازیں لطف الرحمٰن قادیانی کو بھی خط لکھا گیا کہ آپ نے جو بیان دیا ہے کہ میں مسلمان ہوں یہ ناکافی ہے۔ اگر واقعی آپ مسلمان ہیں تو مرزا قادیانی کے کفر کا اعلان کریں۔ اسی دورانیہ میں ملک افضل قادیانی بھی جج تعینات کیا جارہا تھا۔ اسے تو فی الحال روک دیا گیا ہے۔ کاوشیں جاری ہیں۔ اللہ تعالیٰ کامیابی بخشیں۔ آمین!

اس سلسلہ میں ۱۹؍ محرم الحرام ۱۴۱۸ھ کو جناب محمد اسماعیل قریشی ایڈووکیٹ کی ہمراہی میں مولانا اللہ وسایا اور محمد اورنگزیب اعوان نے وفاقی سیکرٹری قانون سے ملاقات کر کے مجلس تحفظ ختم نبوت پر عائد فرض ادا کیا۔

گزشتہ سال ۱۴۱۷ھ میں مجلس منتظمہ کے ماہ ربیع الثانی، ماہ شوال المکرم میں دو اجلاس ہوئے۔ ان اجلاسوں میں جو امور زیر مشورہ آئے اور منتظمہ نے ان کو منظوری دی۔ اجلاس ہذا مجلس شوریٰ میں وہ امور برائے توثیق پیش کئے گئے جو کہ درج ذیل ہیں۔

ربوہ میں جو قادیانی آبادی کا حلقہ ہے وہاں مکمل طور پر سوئی گیس کی سہولت موجود ہے۔ جب کہ مسلم کالونی کا تمام علاقہ اس سہولت سے محروم ہے۔ مجلس تحفظ ختم نبوت کی اپنی ضرورت بھی ہے۔ مدرسہ میں ۸۰ مسافر طلباء، دو مدرس، استاد، خادم، باورچی، جامعہ مسجد کے خطیب وعلاقائی مبلغ بھی ہیں۔ جن کے طعام کے سلسلہ میں بڑی مشکلات درپیش ہوتی ہیں۔ سالانہ ختم نبوت کانفرنس وسالانہ رد قادیانیت کورس کے مواقع پر بھی گیس کی ضرورت شدت سے محسوس کی جاتی ہے۔ چنانچہ گیس کے حصول کے لئے مجلس تحفظ ختم نبوت اگر کوشش کرے تو اس سے مسلم کالونی کے رہائشی مسلمانوں کو بھی کنکشن مل جائے گا۔ مجلس منتظمہ نے اپنے اجلاس میں سرکاری خرچ پر سوئی گیس کے حصول کی ممکنہ جدوجہد کی اجازت دی اور اس کے ساتھ ساتھ یہ اجازت بھی دی کہ اگر سرکار خرچہ نہ کرے تو جو خرچہ بھی ہو بہر صورت کر لیا جائے اور گیس کنکشن کے حصول کو یقینی بنایا جائے۔ حسب منظوری مجلس منتظمہ کنکشن کے حصول کے لئے جدوجہد شروع کی گئی۔ بالآخر اللہ تبارک وتعالیٰ کے فضل وکرم سے گیس کا کنکشن مل گیا۔ اندرون مسجد ومدرسہ فٹنگ اور میٹر کے خرچوں کے علاوہ کوئی اور خرچہ نہیں ہوا۔ اب منظوری کے بعد توثیق کے لئے اجلاس مجلس شوریٰ میں پیش کیا جاتا ہے۔

سالانہ رد قادیانیت کورس میں تربیت حاصل کرنے والے چار علماء کرام کو شعبہ تبلیغ سے وابستہ کرنے کی مجلس منتظمہ نے منظوری دی۔

مدرسہ پرمٹ شعبہ تعلیم القرآن تقریباً دو ایکڑ اراضی پر مشتمل ہے۔ مجلس تحفظ ختم نبوت کا پرانا مدرسہ ہے۔ اس مدرسہ میں ۶۰ مسافر طلباء رہائش پذیر ہیں۔ ان کو کھانا مستقل بستی والے دیتے ہیں۔ اب مدرسین کا خیال ہے کہ کھانے کا انتظام مدرسہ میں ہی کر لیا جائے۔ دفتر مرکزیہ کے احباب کی رائے یہ ہے کہ پرانا نظم فی الحال بحال رکھا جائے۔ البتہ ناشتہ / سالن کی جو کمی ہو وہ مدرسہ میں پوری کر لی جائے۔ ناشتہ اور کھانے کے اخراجات پانچ تا سات ہزار تک ہوں گے۔ اس کی مجلس منتظمہ نے منظوری دی۔ مدرسہ پرمٹ میں مجلس تحفظ ختم نبوت کے لئے دفتر کی ضرورت کے پیش نظر دو کمرے، برآمدہ ودیگر لوازمات کی تیاری کے لئے اجازت دی گئی۔ اس تجویز سے اراکین مجلس شوریٰ نے اتفاق کیا اور اخراجات کی منظوری دی۔ اجلاس ہذا مجلس شوریٰ میں تمام مندرجہ بالا امور توثیق کے لئے پیش کئے گئے اور اراکین مجلس شوریٰ نے مجلس منتظمہ کے مندرجہ بالا تمام فیصلوں کی توثیق فرمائی۔

صفحہ ۵۷۶

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۲ء تا ۱۹۹۷ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

گزشتہ برس گیارھویں سالانہ ختم نبوت کانفرنس (برمنگھم) سے قبل جرمنی اور بلجیم کے احباب نے ختم نبوت کانفرنسوں کا اہتمام کیا تھا۔ اس سال بھی وہ کانفرنسوں کا انعقاد کر رہے ہیں۔ جرمنی کی کانفرنس میں مولانا محمد یوسف لدھیانوی مدظلہ، مولانا اللہ وسایا ودیگر مناسب وموزوں حضرات جو انگریزی میں رد قادیانیت پر تقریر کر سکیں، شرکت کرلیں۔ اسی طرح بلجیم کانفرنس کے لئے بھی مولانا محمد یوسف لدھیانوی مدظلہ، مولانا اللہ وسایا اور لندن سے مقامی انگریزی بولنے والے ساتھی سفر کر لیں۔ بارھویں سالانہ ختم نبوت کانفرنس برمنگھم میں حسب سابق مولانا سید محمد اسعد مدنی، دارالعلوم دیوبند سے مولانا سعید احمد پالن پوری کو مدعو کر لیا جائے۔ زیادہ تر بیانات کے لئے انگریزی میں تقریر کرنے والے احباب کا لندن سے ہی انتخاب کر لیا جائے۔ دیگر جو حضرات تبلیغی دورہ پر لندن پہنچے ہوئے ہوں۔ ان کے بھی بیانات کرالئے جائیں۔

اصولاً مجلس تحفظ ختم نبوت کے فنڈ سے دستی اور قرض رقم نہیں دی جاتی۔ خاص خاص مبلغین جو گندم وغیرہ کے سلسلہ میں قرض لیتے ہیں۔ حضرت الامیر مولانا خواجہ خان محمد دامت برکاتہم کی اجازت سے انہیں قرضے دیئے جاتے ہیں۔ گزشتہ اجلاس مجلس منتظمہ میں اس کی تفصیلات درج ہیں۔ اراکین مجلس شوریٰ سے بھی استدعا ہے کہ وہ ہنگامی ضرورت کے تحت مبلغین اور دیگر رفقاء کو محدود حدود میں قرض دیئے جانے اور آئندہ دینے کی منظوری مرحمت فرمائیں۔ مسلم کالونی چناب نگر میں ایک مکان 12X13 سائز کے ۸ کمرے، دو درس گاہیں، ایک لائبریری اور دو مہمان خانے تعمیر شدہ ہیں۔ ۸۰ طلباء، اساتذہ، دفتر کا عملہ ان کے لئے موجودہ عمارت ناکافی ہے۔ چونکہ ملحقہ تمام عمارات سو فیصد قادیانیوں کی ہیں۔ چند ایک مقامات مسلمان کے ہیں۔ اس بناء پر سالانہ ختم نبوت کانفرنس کے موقع پر احباب کے قیام کی بڑی دقت پیش آتی ہے۔ اس لئے تجویز یہ ہے کہ ایک تا پانچ مشرقی کمروں پر دوسری منزل، ایک وسیع طعام گاہ اور ایک وسیع باورچی خانہ تیار کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ جو کانفرنس کے موقع پر بھی مہمانوں کے لئے آرام اور آسائش کا موجب ہوگا۔ چنانچہ تمام صورتحال کا جائزہ لیتے ہوئے مجوزہ تعمیرات کی منظوری دی گئی۔ کوشش کی جائے گی کہ سالانہ ختم نبوت کانفرنس سے پہلے پہلے یہ تعمیرات مکمل ہو جائیں۔

اراکین مجلس شوریٰ نے بالاتفاق رائے آئندہ امارت کے لئے مخدوم العلماء مولانا خواجہ خان محمد دامت برکاتہم کا نام نامی تجویز کیا۔ آئندہ منتخب ہونے والے اراکین مجلس عمومی سے ماضی کی طرح آئندہ بھی آپ کی ذات پر اعتماد کرنے اور نائب امیر مرکزیہ کے انتخاب اور چناؤ کے حق کو استعمال کرتے ہوئے اراکین مجلس عمومی سے اس وثوق کا اظہار کیا کہ وہ مولانا محمد یوسف لدھیانوی کو منتخب فرمائیں گے۔

فقیر خان محمد عفی عنہ

(۷۹واں) اجلاس مجلس عمومی

اجلاس مرکزی مجلس عمومی عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان بمقام جامع مسجد ختم نبوت مسلم کالونی چناب نگر۔

مؤرخہ ۳/اکتوبر ۱۹۹۷ء، مطابق ۳۰/ جمادی الاوّل ۱۴۱۸ھ، بروز جمعۃ المبارک منعقد ہوا۔

زیر صدارت: امیر مرکزیہ مولانا خواجہ خان محمد صاحب دامت برکاتہم۔

تلاوت: حافظ محمد یوسف عثمانی (گوجرانوالہ)

شرکاء: (۱) مولانا فاروق احمد پنوں عاقل، (۲) رضا محمد شیخ پنوں عاقل، (۳) حاجی رشید احمد سکھر، (۴) مولانا قاری خلیل احمد سکھر، (۵) منور علی راجپوت میر پور خاص، (۶) ڈاکٹر محمد خالد ٹنڈو آدم، (۷) حاجی قادر داد کھوسو ٹنڈو آدم، (۸) حافظ محمد حسین ٹنڈو آدم، (۹) محمد اعظم قریشی ٹنڈو آدم، (۱۰) محمد بہادر خان ٹنڈو آدم، (۱۱) مولانا قاری اسلام الدین نوشہرو فیروز، (۱۲) طفیل احمد تھرپارکر، (۱۳) عبدالسمیع شیخ

صفحہ ۵۷۷

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۲ء تا ۱۹۹۷ء ۵۷۷ ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

خیر پور میرس، (۱۴) اعجاز اللہ شیخ خیر پور میرس، (۱۵) مفتی اصغر علی آرائیں خیر پور میرس (۱۶) شیخ غلام حیدر ژوب، (۱۷) مولانا محمد عطاء اللہ سبی، (۱۸) مولانا قاضی عبدالصبور جعفر آباد، (۱۹) گل حسن گجر نصیر آباد، (۲۰) مولانا عبدالرزاق ضلع بولان، (۲۱) حافظ عبدالرشید ضلع بولان، (۲۲) عبدالمجید ساجد ضلع بھکر، (۲۳) مفتی غلام فرید ضلع بھکر، (۲۴) محمد رفیق ضلع سرگودھا، (۲۵) محمد افضل الحسینی ضلع سرگودھا، (۲۶) مولانا قاضی عبدالمالک ضلع سرگودھا، (۲۷) حافظ محمد رفیق خوشاب، (۲۸) عبدالمجید خوشاب، (۲۹) قاری انور حسین خوشاب، (۳۰) مولانا قاری گل محمد خوشاب، (۳۱) حافظ مشتاق احمد خوشاب، (۳۲) ماسٹر محمد فاضل شارق خوشاب، (۳۳) ملک حاجی نور زمان خوشاب، (۳۴) قاضی محمد احمد رضا خوشاب، (۳۵) محمد قاسم کلیرہ خوشاب، (۳۶) حافظ دلاور حسین خوشاب، (۳۷) قاری سعید احمد اسعد خوشاب، (۳۸) مولانا عبدالحق ساہیوال، (۳۹) محمد اقبال ساہیوال، (۴۰) قاری محمد عبداللہ ساہیوال، (۴۱) حافظ عبدالعزیز ساہیوال، (۴۲) مولانا عبدالحفیظ ساہیوال، (۴۳) مولانا محمد امین ساہیوال، (۴۴) عبدالرحیم لیہ، (۴۵) مولانا عبدالوہاب ساہیوال، (۴۶) محمد رفیق طارق پاکپتن، (۴۷) صوفی محمد ارشد پاکپتن، (۴۸) نور محمد خان خانیوال، (۴۹) مولانا اللہ یار لودھراں، (۵۰) مولانا فضل الرحمن بہاول پور، (۵۱) حافظ غلام نبی جلالپور پیروالہ، (۵۲) مولانا محمد دین بہاول پور، (۵۳) مولانا محمد ارشاد الحق بہاول پور، (۵۴) حاجی سیف الرحمن بہاول پور، (۵۵) شیر محمد قریشی بہاول پور، (۵۶) حاجی غلام عباس بہاول پور، (۵۷) مولانا محمد اسرائیل بہاول پور، (۵۸) سید حامد علی شاہ فیروزہ، (۵۹) مولانا مشتاق احمد صادق آباد، (۶۰) ملک عبدالغفور لیاقت پور، (۶۱) مولانا قاضی عزیز الرحمن رحیم یار خان، (۶۲) مولانا منظور احمد نعمانی رحیم یار خان، (۶۳) مولانا مفتی حبیب الرحمن درخواستی خان پور، (۶۴) ماسٹر محمد رفیق ٹوبہ ٹیک سنگھ، (۶۵) جمشید اقبال گجرات، (۶۶) مولوی اکرام اللہ منڈی بہاؤ الدین، (۶۷) مولانا محمد یوسف الحسینی کھاریاں، (۶۸) مولانا قاری محمد اختر کھاریاں، (۶۹) حافظ محمد عطاء اللہ کھاریاں، (۷۰) قمر زمان کھاریاں، (۷۱) حاجی طارق سعید خان لاہور، (۷۲) قاری محمد زبیر لاہور، (۷۳) مولانا محمد احمد مجاہد لاہور، (۷۴) خالد سعید جانباز لاہور، (۷۵) قاری نذیر احمد لاہور، (۷۶) مولانا ظفر اللہ شفیق لاہور، (۷۷) قاری جمیل الرحمن اختر لاہور، (۷۸) مولانا مشتاق احمد لاہور، (۷۹) مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی لاہور، (۸۰) مولانا محب النبی لاہور، (۸۱) اعجاز بلوچ لاہور، (۸۲) حاجی بلند اختر نظامی لاہور، (۸۳) میاں عبدالرحمن لاہور، (۸۴) مولانا منور حسین صدیقی لاہور، (۸۵) قاری نذیر احمد لاہور، (۸۶) مولانا نور محمد پتوکی، (۸۷) قاری مشتاق احمد قصور، (۸۸) قاری محمد طاہر قصور، (۸۹) محمد منصور گوجرانوالہ، (۹۰) حافظ بشیر احمد گوجرانوالہ، (۹۱) حافظ محمد اشرف گوجرانوالہ، (۹۲) محمد شکور عالم رانجھا گوجرانوالہ، (۹۳) ماسٹر محمد خالد گوجرانوالہ، (۹۴) محمد یونس ربانی گوجرانوالہ، (۹۵) ماسٹر عنایت اللہ گوجرانوالہ، (۹۶) محمد خالد چشتی گوجرانوالہ، (۹۷) پروفیسر محمد اعظم گوجرانوالہ، (۹۸) حافظ احسان الواحد گوجرانوالہ، (۹۹) مہر محمد ارشد گوجرانوالہ، (۱۰۰) مولانا عبدالغفور قاسمی وزیر آباد، (۱۰۱) حاجی عبدالرحمن گوجرانوالہ، (۱۰۲) حافظ محمد ادریس گوجرانوالہ، (۱۰۳) ماسٹر ذوالفقار علی وزیر آباد، (۱۰۴) طارق محمود حافظ آباد، (۱۰۵) مولانا محمد حنیف انور گوجرانوالہ، (۱۰۶) قاری دوست محمد خلیل گوجرانوالہ، (۱۰۷) چوہدری محمد ارشد نائب گوجرانوالہ، (۱۰۸) ارشد محمود رندھاوا گوجرانوالہ، (۱۰۹) صلاح الدین گوجرانوالہ، (۱۱۰) عبادت علی ملک گوجرانوالہ، (۱۱۱) پروفیسر نجیب اللہ گوجرانوالہ، (۱۱۲) غلام سرور کمبوہ گوجرانوالہ، (۱۱۳) محمد عارف کھوکھر گوجرانوالہ، (۱۱۴) حافظ گلزار احمد آزاد گوجرانوالہ، (۱۱۵) محمد بابر رضوان باجوہ گوجرانوالہ، (۱۱۶) حافظ محمد ثاقب گوجرانوالہ، (۱۱۷) مولانا محمد یوسف گوجرانوالہ، (۱۱۸) سید احمد حسین زید گوجرانوالہ، (۱۱۹) محمد اختر پسرور، (۱۲۰) رشید احمد قادری پسرور، (۱۲۱) ارشد جمیل ساجد ڈسکہ، (۱۲۲) مولانا محمد اسحاق سیالکوٹ، (۱۲۳) مولانا دین محمد ثاقب پسرور، (۱۲۴) محمد انور انصر چونڈہ، (۱۲۵) عبدالستار پسرور، (۱۲۶) مولانا بشیر احمد قاسمی سیالکوٹ، (۱۲۷) محمد بشیر اختر پسرور، (۱۲۸) محمد حنیف ندیم پسرور، (۱۲۹) قاری احسان احمد پسرور، (۱۳۰) مولانا اعجاز حسین شاہ پسرور،

صفحہ ۵۷۸

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۲ء تا ۱۹۹۷ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

(۱۳۱) حافظ غلام مرتضیٰ ڈسکہ، (۱۳۲) شیخ عبدالحق ڈسکہ، (۱۳۳) حاجی محمد آصف ڈسکہ، (۱۳۴) امتیاز الحق چوہدری شکرگڑھ، (۱۳۵) مولانا قاری غلام رسول کھاریاں، (۱۳۶) حافظ عنایت اللہ گجرات، (۱۳۷) سید عباس حیدر بخاری گجرات، (۱۳۸) مولانا عبدالرحمن عثمانی تلہ گنگ، (۱۳۹) قاری عبدالحئی تلہ گنگ، (۱۴۰) حافظ حسین احمد تلہ گنگ، (۱۴۱) ماسٹر محمد افضل تلہ گنگ، (۱۴۲) مولانا محمد جمیل اجمل فیصل آباد، (۱۴۳) نصیر احمد آزاد فیصل آباد، (۱۴۴) مولانا محمد انور نظامی فیصل آباد، (۱۴۵) مولانا محمد عمران مخدوم پوری فیصل آباد، (۱۴۶) قاری منیر احمد فیصل آباد، (۱۴۷) محمد خالد فیصل آباد، (۱۴۸) شفیق احمد فیصل آباد، (۱۴۹) محمد طاہر فیصل آباد، (۱۵۰) محمد سلطان فیصل آباد، (۱۵۱) محمد شریف شاکر فیصل آباد، (۱۵۲) محمد اکرم فیصل آباد، (۱۵۳) قاری حبیب اللہ کمالیہ، (۱۵۴) صاحبزادہ طارق محمود فیصل آباد، (۱۵۵) قاری ثناء اللہ تاندلیانوالہ، (۱۵۶) میاں محمد سعید کھرڑیانوالہ، (۱۵۷) سرور شعیب شیخوپورہ، (۱۵۸) محمد عتیق الرحمن شیخوپورہ، (۱۵۹) حاجی محمد حسین جنجوعہ شیخوپورہ، (۱۶۰) حکیم عبدالحلیم احمد شیخوپورہ، (۱۶۱) قاری غلام مصطفیٰ شیخوپورہ، (۱۶۲) مولانا خدا بخش جتوئی، (۱۶۳) حاجی بشیر احمد علی پور، (۱۶۴) میاں خلیل الرحمن جتوئی، (۱۶۵) مولانا قاری حفیظ اللہ جتوئی، (۱۶۶) ملک عبدالغفار علی پور، (۱۶۷) امان اللہ خان کورائی جتوئی، (۱۶۸) مولانا عبدالمجید مظفرگڑھ، (۱۶۹) مولانا محمد یعقوب برہانی چنیوٹ، (۱۷۰) چوہدری عبدالحمید جھنگ، (۱۷۱) مولانا محمد ریاض شورکوٹ، (۱۷۲) عبدالواحد جھنگ، (۱۷۳) قاری محمد سلیم جھنگ، (۱۷۴) مولانا محمد اشرف جھنگ، (۱۷۵) حافظ بشیر احمد جھنگ، (۱۷۶) مولانا سید کوثر علی شاہ شورکوٹ، (۱۷۷) حاجی احمد خان شورکوٹ، (۱۷۸) مولانا محمد فاروق بہاول نگر، (۱۷۹) عبدالسلام بہاول نگر، (۱۸۰) مولانا قدرت اللہ بہاول نگر، (۱۸۱) حافظ عبدالخالق بہاول نگر، (۱۸۲) مولانا یار محمد بہاول نگر، (۱۸۳) ڈاکٹر نور محمد بہاول نگر، (۱۸۴) مولانا نیاز علی بہاول نگر، (۱۸۵) حافظ عبدالغنی چیچہ وطنی، (۱۸۶) فضل احمد شاہ ہڑپہ، (۱۸۷) حافظ حبیب اللہ چیمہ چیچہ وطنی، (۱۸۸) حافظ خلیل الرحمن راجن پور، (۱۸۹) مولانا الٰہی بخش ساقی فاضل پور، (۱۹۰) مولانا عبدالرحیم اشعر جلالپور پیروالہ، (۱۹۱) حافظ شبیر احمد وہاڑی، (۱۹۲) حاجی محمد صابر میلسی، (۱۹۳) حافظ عبدالحمید شیخوپورہ، (۱۹۴) مولانا طاہر ندیم شیخوپورہ، (۱۹۵) مولانا عزیز الرحمن جالندھری ملتان، (۱۹۶) مولانا اللہ وسایا احمد پور شرقیہ، (۱۹۷) مولانا بشیر احمد راجن پور، (۱۹۸) مولانا خدا بخش ملتان، (۱۹۹) مولانا احمد بخش، (۲۰۰) مولانا محمد طیب، (۲۰۱) مولانا عزیز الرحمن ثانی لودھراں، (۲۰۲) مولانا فقیر اللہ اختر مظفرگڑھ، (۲۰۳) مولانا عبدالرزاق مجاہد، (۲۰۴) قاری محمد حفیظ اللہ مظفرگڑھ، (۲۰۵) رانا محمد طفیل جاوید دنیا پور، (۲۰۶) قاضی احسان احمد ٹوبہ ٹیک سنگھ، (۲۰۷) محمد اورنگزیب اعوان ہری پور۔

مولانا عزیز الرحمن جالندھری نے کارروائی کا آغاز کرتے ہوئے مجلس عمومی کے گزشتہ اجلاس کی تلخیص پیش کی اور اس کے اہم اہم حصوں کو دہرایا۔ متفقہ طور پر ممبران مجلس عمومی نے گزشتہ اجلاس کی توثیق کی۔ مولانا عزیز الرحمن جالندھری نے فرمایا کہ سیدنا صدیق اکبر ؓ سے لے کر اس وقت تک امت کے وہ خوش نصیب حضرات جنہوں نے عقیدۂ ختم نبوت کے تحفظ کے لئے اپنی تمام تر صلاحیتوں کو صرف کیا مجلس تحفظ ختم نبوت امت کے اسی تسلسل کا دوسرا نام ہے۔ مجلس تحفظ ختم نبوت کو یہ شرف حاصل ہے کہ روزِ اوّل سے لے کر تا امروز اس کی قیادت و سیادت اہل اللہ کے پاس رہی ہے۔ مجلس تحفظ ختم نبوت کے سہ سالہ انتخابات میں ہمیشہ سے یہ روایت رہی ہے کہ متفقہ طور پر ہم اپنے امیر مرکزیہ اور نائب امیر کا چناؤ کرتے ہیں اور مجلس کے ایک دفعہ امیر بن جائیں وہ تاحیات مجلس کے امیر رہتے ہیں۔ اس کی آپ یہ بھی تعبیر کر سکتے ہیں کہ ہم تین سال بعد دراصل تجدید عہد کے لئے اور اپنے امیر و نائب امیر کی قیادت پر بھر پور اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے نئے جذبہ و ولولہ سے پہلے سے زیادہ کام کے لئے ایک نیا عزم لے کر جاتے ہیں۔ اب تو دستور میں نئی ترمیم کے مطابق امیر مرکزیہ کے لئے مجلس شوریٰ سفارش کرتی ہے اور مجلس عمومی کو اس کی توثیق کرنی ہوتی ہے۔ جب کہ نائب امیر کے لئے ہر شخص اپنی تجویز اور نام پیش کرنے کا

صفحہ ۵۷۹

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۲ء تا ۱۹۹۷ء ترتیب و تحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

مجاز ہے۔ لیکن ہماری یہ بھی روایت ہے کہ جب اجلاس میں ایک دفعہ نائب امیر کے لئے نام آجائے تو اس کے مقابلہ میں دوسرا نام نہیں لایا جاتا۔ وہ بھی متفقہ طور پر بلامقابلہ منتخب ہوتے ہیں۔

ان گزارشات کے بعد اب شرکاء اجلاس مجلس عمومی کے سامنے مجلس شوریٰ کی سفارش کے مطابق امیر مرکزیہ کے لئے مولانا خواجہ خان محمد صاحب دامت برکاتہم کا نام نامی توثیق کے لئے اور نائب امیر کے لئے مولانا محمد یوسف لدھیانوی مدظلہ کا نام منتخب کرنے کی غرض سے پیش کرتے ہیں۔

مولانا عزیز الرحمٰن جالندھری مدظلہ کی اس تجویز پر مجلس عمومی کے ممبران نے بیک زبان ہو کر امنا وصدقنا کہہ کر ہاتھ بلند کر کے تبریک و تحسین کے بھر پور جذبات سے مولانا خواجہ خان محمد دامت برکاتہم کو امیر مرکزیہ اور مولانا محمد یوسف لدھیانوی مدظلہ کو نائب امیر منتخب کیا۔ اس وقت پورے ہاؤس کی یہ کیفیت تھی کہ وہ وجدانی طور پر سراپا تسلیم ورضا بنے ہوئے تھے اور آئندہ تین سال کے لئے اپنے ان ہر دو اکابر کے منتخب ہونے پر سراپا تشکر بنے ہوئے تھے۔

اس کے بعد مولانا عزیز الرحمٰن جالندھری نے ملک بھر کے اراکین مجلس عمومی کو ہدایات اور خطاب سے نوازنے کے لئے مولانا محمد یوسف لدھیانوی مدظلہ سے استدعا کی۔ مولانا محمد یوسف لدھیانوی مدظلہ نے خطبہ مسنونہ کے بعد فرمایا کہ ہماری خوش بختی کی انتہاء ہے کہ اللہ رب العزت نے ہمیں مرشد العلماء، پیر طریقت، حضرت مولانا خواجہ خان محمد دامت برکاتہم جیسے اکابرین کی قیادت میں مسئلہ ختم نبوت کے لئے کوشش و کاوش اور سعی کرنے کی توفیق نصیب فرمائی ہے۔ ہمیں ڈرنا چاہئے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں اس سعادت سے ہمارے کسی عمل کی وجہ سے محروم نہ کر دیں۔ اس کے لئے دعا و استغفار کرنا چاہئے اور خلوص نیت کے ساتھ کام کو آگے بڑھانے کی بھر پور کاوش کرنی چاہئے۔ مولانا محمد یوسف لدھیانوی نے فرمایا کہ دو چیزوں کا خصوصیت کے ساتھ آج کی مجلس میں بیان کرنا ضروری ہے۔

قدم پر چلتے ہوئے ہمیں عدم تشدد کی پالیسی پر کاربند رہنا چاہئے۔ تشدد ہمارے نزدیک اس مسئلہ کا حل نہیں۔ خدا کرے ہمارے ملک میں خلافت کے منہاج پر اسلامی حکومت قائم ہو جائے اور منکرین ختم نبوت کے متعلق سنت صدیقی کو نافذ ہوتا ہوا ہم اپنی آنکھوں سے دیکھ سکیں۔ جب تک ایسے نہیں ہوتا اس وقت تک ہمیں اپنے جذبات کو قابو میں رکھ کر اکابر کے طرز عمل کو اپنا کر اپنی تمام تر صلاحیتوں کو بروئے کار لاکر ممکنہ وسائل و ذرائع کو استعمال کر کے منکرین ختم نبوت کا تعاقب جاری رکھنا چاہئے۔

کار لائیں گے اور برابر آگے بڑھتے چلیں گے۔ وہ شخص خوش نصیب ہوگا جس کا مرنا اور جینا اسی مقدس مشن کے لئے ہو اور اس کا مطمح نظر اللہ رب العزت کی رضا، حضور ﷺ کی شفاعت اور دنیا میں اسلام کی سربلندی ہو۔ مولانا محمد یوسف بنوری مدظلہ جس وقت مجلس تحفظ ختم نبوت کے امیر بنے تو یہ شرط عائد کی تھی کہ مولانا خواجہ خان محمد دامت برکاتہم جماعت کے نائب امیر ہوں۔ حضرت بنوری نور اللہ مرقدہ کی دور رس نگاہوں کا یہ حسن انتخاب تھا کہ حضرت بنوری کے بعد مولانا خواجہ خان محمد مدظلہ نے جماعت کے کام کو سنبھالا دیا اور امت نے ان کی قیادت میں قادیانیت کے فتنہ پر وہ ضربیں لگائیں جس سے ان کی کمر ٹوٹ گئی۔

صفحہ ۵۸۰

تحریک ختم نبوت جلد (۶) ۱۹۹۲ء تا ۱۹۹۷ء ترتیب وتحقیق: حضرت مولانا اللہ وسایا

قادیانیوں کے ڈش انٹینا وغیرہ ظاہری اسباب سے آپ متاثر نہ ہوں۔ یہ سب ظاہر داری ہے۔ اس میں کوئی خیر کا پہلو نہیں جو کچھ ہم سے ممکن ہو شرعی حدود میں رہ کر کر گزریں اور نتیجہ اللہ رب العزت پر چھوڑ دیں۔ نتائج کی ذمہ داری ہم پر نہیں ہمارے ذمہ کام ہے اور صرف کام اور وہ بھی محض اللہ رب العزت کی توفیق وعنایت سے اس میں ہم سے جو کمی کوتاہی ہو جائے سراپا عجز و انکساری بن کر ہمیں اللہ تعالیٰ سے اس کی معافی مانگنی چاہئے۔ جب ہمارا یہ طرز عمل ہوگا تو آپ دیکھیں گے کہ قدرت کس طرح فتوحات کے دروازے کھولتی ہے اور کس طرح یہ فتنہ اپنے انجام کو پہنچتا ہے۔ آپ نے فرمایا کہ رفقاء کرام ، علماء عظام ، حاضرین وسامعین آپ ہمت کریں آگے بڑھیں یہاں سے جانے کے بعد قادیانیوں کی حرکات وسکنات پر نظر رکھیں۔ مسلمانوں کو ان کے فتنہ سے بچائیں اور قادیانی سازشوں وشرارتوں کو ناکام بنانے کے لئے بھر پور اخلاص بھری محنت کریں۔ قدرت حق آپ کو اور مجھے اس کی توفیق مرحمت فرمائے۔ آپ نے حضرت الامیر مولانا خواجہ خان محمد دامت برکاتہ سے استدعا کی کہ وہ دعا فرمادیں۔ حضرت اقدس دامت برکاتہم کی ایمان پرور، وجد آفریں دعا پر اجلاس کی کارروائی اپنے اختتام کو پہنچی۔

نوٹ: اجلاس مجلس عمومی کے بعد چونکہ سولہویں سالانہ ختم نبوت کانفرنس کی کارروائی شروع ہونا تھی اور کانفرنس کے اختتام پر مولانا خواجہ خان محمد دامت برکاتہم نے فیصل آباد تشریف لے جانا تھا۔ اس لئے دوسرے دن بروز ہفتہ بتاریخ ۴؍ نومبر ۱۹۹۷ء صبح دس بجے حضرت اقدس دامت برکاتہم مدرسہ ختم نبوت مسلم کالونی صدیق آباد تشریف لائے اور مبلغین ودیگر رفقاء کی موجودگی میں آپ نے آئندہ تین سال کے لئے مرکزی عہدیداران اور اراکین مجلس شوریٰ کی درج ذیل نامزدگی فرمائی۔

مرکزی عہدیداران عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت:

ناظم اعلیٰ: حضرت مولانا عزیز الرحمن جالندھری مدظلہ ناظم تبلیغ: حضرت مولانا بشیر احمد مدظلہ ناظم نشر و اشاعت: حضرت مولانا محمد اکرم طوفانی مدظلہ خازن: حضرت مولانا اللہ وسایا مدظلہ ناظم دفتر: حضرت مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی مدظلہ

اسماء گرامی اراکین مجلس شوریٰ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت:

مولانا سید نفیس الحسینی شاہ لاہور، مولانا فیض احمد ملتان، مولانا محمد بنوری کراچی، مولانا مفتی نظام الدین کراچی، مولانا عبدالرزاق اسکندر کراچی، مولانا محمد عبداللہ اسلام آباد، مولانا منیر الدین کوئٹہ، مولانا عبدالواحد کوئٹہ، مولانا انوار الحق کوئٹہ، مولانا نورالحق نور پشاور، عبدالرحمن یعقوب باوا لندن، مولانا قاضی عزیز الرحمن رحیم یار خان، مولانا قاضی عبدالمالک جھاوریاں، مولانا سید عبدالمجید ندیم ملتان، مولانا محمد اشرف ہمدانی فیصل آباد، صاحبزادہ طارق محمود فیصل آباد، حاجی فیض احمد ٹوبہ ٹیک سنگھ، حاجی بلند اختر نظامی لاہور، حاجی سیف الرحمن بہاول پور، قاری محمد یوسف عثمانی گوجرانوالہ، صاحبزادہ حافظ محمد عابد خانیوال، صاحبزادہ عزیز احمد خانقاہ سراجیہ، صوفی ریاض الحسن گنگوہی ڈیرہ اسماعیل خان، حافظ نذیر احمد گوجرانوالہ، میاں خان محمد باگڑ سرگانہ، مولانا احمد میاں حمادی ٹنڈو آدم، مولانا فیض اللہ میر پور، حکیم محمد یونس کراچی، حاجی اشتیاق احمد جھنگ، مولانا مفتی محمد جمیل خان کراچی۔

بقیہ اسماء اگلے صفحہ پر

PDF 583

تحریک ختم نبوت پر ایک تاریخی دستاویز

نابغہ و عبقری شخصیت کے مالک حضرت مولانا اللہ وسایا صاحب کو تحفظ ختم نبوت کے محاذ پر ایک جری، دلیر اور تہور پیشہ سپہ سالار کی حیثیت حاصل ہے۔ تقریر و تحریر ہو یا مباحثہ و مناظرہ، دونوں میں انہیں لاثانی خدا داد ملکہ حاصل ہے۔ مطالعہ و تحقیق اور تصنیف و تالیف ان کے محبوب و مرغوب مشاغل ہیں۔ ان کی گرانقدر مطبوعہ کتب ”قومی اسمبلی میں قادیانی مسئلہ پر بحث کی مصدقہ رپورٹ ، چمنستان ختم نبوت کے گلہائے رنگا رنگ ، دروس و بیانات ختم نبوت، آئینہ قادیانیت، یاد دلبراں اور قادیانی شبہات کے جوابات“ خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔ یہ ایک غیر مختتم سلسلۃ الذہب ہے۔ ؎ اللہ کرے یہ مرحلہ شوق نہ ہو طے

حضرت مولانا اللہ وسایا صاحب کی نئی کتاب ”تحریک ختم نبوت“ نہایت مبسوط، مدلل ، مربوط، جامع اور تحقیقی کتاب ہے۔ ۱۹۳۴ء کی ختم نبوت کانفرنس قادیان سے دسمبر ۲۰۱۹ء تک تحریک ختم نبوت جن مراحل سے گزرتی رہی اس کی لمحہ بہ لمحہ رپورٹ کو جمع کر دیا گیا ہے، دس ضخیم جلدوں کے ساڑھے چھ ہزار صفحات پر مشتمل قریباً ایک صدی کی عشق و محبت کی داستان لازوال جو ایمان پرور ، جہاد آفریں بھی ہے اور حقائق افروز بھی۔ اس کی ترتیب و تہذیب اور تالیف و تدوین بڑی عرق ریزی، دقت نظر اور حسن عقیدت سے کی گئی ہے۔ انداز نگارش ایسا سحر انگیز ہے کہ اس کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے جیسے مولانا خود ان تمام حالات و واقعات کے عینی شاہد ہیں۔

یہ کتاب کارکنان تحفظ ختم نبوت کے لیے ایک دستور العمل کی حیثیت رکھتی ہے۔ اس میں ایمان پرور واقعات، اکابرین کے ولولہ انگیز خطابات ، پس پردہ حقائق ، ہوش ربا انکشافات ، حکمرانوں کی قادیانیت نوازی اور مختلف اعلیٰ عدالتی فیصلوں کا بھر پور تذکرہ ہے جس کے مطالعہ سے دلوں میں عقیدت و محبت کی ایک برقی رو دوڑ جاتی ہے۔ دینی غیرت و حمیت کی ایسی پرسوز و گداز کیفیت پیدا ہوتی ہے کہ خون جوش مارتا اور آنکھیں اشکبار ہو جاتی ہیں۔ ایسی کیفیات اور احساسات کو جاننے اور سمجھنے کے لیے اس تاریخی کتاب کا مطالعہ ناگزیر ہے۔ امید ہے کہ یہ کتاب کارکنان تحفظ ختم نبوت کے لیے انمول سوغات اور سدا بہار گلدستہ ثابت ہو گی۔ مزید برآں اس اہم موضوع پر ریسرچ کرنے والے سکالرز اور طالب علموں کے لیے بھی چراغ راہ کا کام کرے گی۔ دعا ہے کہ رب کائنات حضرت مولانا اللہ وسایا صاحب کی ہمت کو جواں اور ان کے قلم کو رواں دواں رکھے۔ آمین

محمد متین خالد لاہور