دفاع
ختم نبوّت
ختم نبوت
تحقیق و تدوین
محمّد طاہر رزّاق
قادیانیت
تاریخ
تحفظ ختم نبوت
سیریز 5
دفاع
ختم نبوت
تحقیق و تدوین
محمد طاہر رزاق
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت، حضوری باغ روڈ، ملتان
بسم اللہ الرحمن الرحیم
ہر مسلمان اس کتاب کو شائع کر سکتا ہے لیکن اگر مصنف کو اس سے باخبر کر دیا جائے تو یہ ان کی مہربانی ہو گی۔
*
نام کتاب -------- دفاع ختم نبوت ترتیب و تدوین -------- محمد طاہر رزاق تعداد -------- گیارہ سو کمپوزنگ -------- المدد کمپوزرز‘ پریم نگر لاہور ڈیزائننگ -------- عنایت اللہ رشیدی قیمت -------- =/80 روپے اشاعت اول -------- جون 1999ء ناشر -------- عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت حضوری باغ روڈ، ملتان مطبع -------- شرکت پرنٹنگ پریس۔ نسبت روڈ‘ لاہور
ملنے کا پتہ:
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت۔ حضوری باغ روڈ، ملتان المحمود اکیڈمی۔ عزیز مارکیٹ‘ اردو بازار۔ لاہور مکتبہ سید احمد شہید ۔ اردو بازار۔ لاہور
میدان صحافت میں
تحفظ ختم نبوت اور تحفظ ناموس رسالت کیلئے
☆ مولانا ظفر علی خان
☆ مولانا مرتضیٰ احمد میکش
اور
☆ آغا شورش کشمیری
کے
قلم کے وارث
سید ارشاد احمد عارف
کے نام
Note: See Index at the end of the book
حرف سپاس
ابتدائے کتاب سے لے کر تکمیل کتاب تک تمام مرحلوں میں میرے محترم دوست جناب محمد فیاض اختر ملک‘ جناب محمد متین خالد‘ جناب محمد صدیق شاہ بخاری‘ جناب سید علمدار حسین شاہ بخاری‘ جناب طارق اسماعیل ساگر‘ جناب حافظ شفیق الرحمن‘ جناب عبد الرؤف روفی‘ جناب ممتاز اعوان‘ جناب محمد سلیم ساقی کا تعاون ہر دم مجھے میسر رہا اور ان دوستوں کی جدوجہد اور دعاؤں سے یہ کتاب منصہ شہود پر طلوع ہوئی۔ میں ان تمام دوستوں کا دل کی اتھاہ گہرائیوں سے شکر گزار ہوں اور اللہ تعالیٰ کے حضور بدست دعا ہوں کہ اللہ پاک انہیں اجر عظیم سے نوازے۔ (آمین)
میں ممنون ہوں خواجہ خواجگان حضرت مولانا خان محمد مدظلہ‘ خطیب ختم نبوت حضرت مولانا محمد اجمل خان مدظلہ‘ نمونہ اسلاف حضرت مولانا عزیز الرحمن جالندھری مدظلہ‘ فدائے ختم نبوت حضرت مولانا سید نفیس شاہ الحسینی مدظلہ‘ جانثار ختم نبوت الحاج محمد نذیر مغل مدظلہ‘ پروانہ ختم نبوت جناب ارشاد احمد عارف مدظلہ‘ مجاہد ختم نبوت صاحبزادہ طارق محمود مدظلہ کا جن کی سرپرستی کا سحاب کرم میرے سر پر چھایا رہا۔ اللہ تعالیٰ ان تمام بزرگوں کا سایہ ہمارے سروں پر تادیر سلامت رکھے۔ (آمین ثم آمین)
محمد طاہر رزاق
آؤ مدینے چلیں
- ☆ کشمیر جل رہا ہے۔۔۔۔۔ بہنوں کے عفت مآب آنچلوں کا دھواں پوری دنیا میں پھیل چکا
ہے۔۔۔۔۔ رات کے پچھلے پہر عقوبت خانوں سے اٹھنے والی دلدوز چیخیں سلامتی کونسل کے پتھریلے کانوں سے ٹکرا ٹکرا کر واپس ہو رہی ہیں۔۔۔۔۔ جیلوں میں پڑے گلنے سڑنے والے مسلمان آہستہ آہستہ موت کے بھیانک کنویں میں اتر رہے ہیں۔۔۔۔۔
- ☆ بھارت میں عظیم بابری مسجد شہید کر دی گئی ہے۔۔۔۔۔ اس کا ملبہ بھی جنونی ہندو اٹھا کر لے
گئے ہیں۔۔۔۔۔ ہزاروں دیگر مساجد کو شہید کرنے کا اعلان ہو چکا ہے۔۔۔۔۔ بال ٹھاکرے رقص ابلیس کر رہا ہے۔۔۔۔۔ مسلمانوں سے کہا جا رہا ہے۔۔۔۔۔ کہ ۔۔۔۔۔ ہندوستان میں رہنا ہے۔۔۔۔۔ تو ہندو بن کے رہو ۔۔۔۔۔ ہر سال ہندو مسلم فسادات کے نام پر ہزاروں مسلمانوں کو موت کے گھاٹ اتارا جا رہا ہے۔۔۔۔۔
- ☆ ایک خطرناک صیہونی سازش کے تحت دنیا کے امیر ترین ملک کویت کو آگ لگا دی
گئی ۔۔۔۔۔ سازش میں گرفتار عراقی فوج نے پورا کویت مسمار کر دیا ۔۔۔۔۔ تیل کے چشموں کو لگی آگ کئی مہینے شعلہ زن رہی ۔۔۔۔۔ لیکن سلامتی کونسل اسے بجھانے نہ آئی ۔۔۔۔۔ آخر یہ آگ سب کچھ خاکستر کر کے خود ہی بجھ گئی ۔۔۔۔۔
- ☆ عراقی فوج ہزاروں کویتی دوشیزاؤں کو اٹھا کر لے گئی ۔۔۔۔۔ امریکہ نے اس عظیم کارنامے
پر انہیں خوب شاباش دی ۔۔۔۔۔
کویت کے بعد عراق کی باری آئی ۔۔۔۔۔ امریکہ اور عیسائی دنیا کے طیاروں نے عراق پر آہن و آتش کی بارش کر کے ہزاروں مسلمانوں اور کھربوں کی املاک کو نذر آتش کر دیا ۔ عیسائی دنیا نے مسلمانوں کی نسل کشی کرنے کے لیے بچوں کی ادویات پر پابندی لگا دی ۔۔۔۔۔
آج یہ مظلوم بچے دوائیاں نہ ہونے کی وجہ سے مجبور ممتا کے ہاتھوں میں تڑپ تڑپ کر جان دے رہے ہیں۔۔۔۔۔ بچوں کے اجتماعی جنازوں کے جلوس نکال کر دنیا کے منصفوں کے انصاف کو متوجہ کیا جارہا ہے۔۔۔۔۔ ہزاروں عراقی مائیں لمبی لمبی قطاروں میں کھڑی اپنے بچوں کے لیے کھانے پینے کی اشیاء مانگتی ہوئی نظر آرہی ہیں۔۔۔۔۔ لیکن عیسائی دنیا نے ان پر سخت پابندیاں لگارکھی ہیں۔۔۔۔۔
- ٭ بوسنیا مقتل بن گیا ۔۔۔۔۔ ہر طرف مسلمانوں کی لاشیں بکھری پڑی تھیں۔۔۔۔۔ گلی محلے
مسلمانوں کے خون سے رنگین ہو گئے ۔۔۔۔۔ ہزاروں مسلمان دوشیزاؤں کو سرب بھیڑیے اغوا کرکے لے گئے ۔۔۔۔۔ ان کی عصمت دری کی ۔۔۔۔۔ انہیں اپنی حراست میں رکھ کر ان کے بطنوں سے عیسائی بچوں کی نسل پیدا کی ۔۔۔۔۔ آج یورپ کی اپنی خبروں کے مطابق بوسنیا میں ایک ایک قبر سے سینکڑوں لاشیں نکل رہی ہیں۔۔۔۔۔ لیکن ۔۔۔۔۔ ہر لاش اس بات کا اعلان کر رہی ہے کہ ملت اسلامیہ خود ایک لاش بن چکی ہے۔۔۔۔۔
- ٭ عیسائیوں نے کسوو میں قیامت بپا کر رکھی ہے۔۔۔۔۔ کسوو میں مسلمانوں کے گھر جلا دیے
گئے ہیں۔۔۔۔۔ ان کا کاروبار اور املاک لوٹ لیے گئے ہیں۔۔۔۔۔ مسلمان ریوڑوں کی شکل میں جنگلوں میں بھاگ رہے ہیں۔۔۔۔۔ وہ کھلے آسمان تلے پڑے کسی صلاح الدین ایوبی کا انتظار کر رہے ہیں۔۔۔۔۔ ان کی بیٹیاں سرب فوجی غنڈے اٹھا کر لے گئے ہیں۔۔۔۔۔ ان کی اجتماعی آبرو ریزی کر کے جشن کا اہتمام کیا گیا ۔۔۔۔۔ ان کے بچے اغوا کر کے عیسائی بنائے گئے ۔۔۔۔۔ یوں ایک گہرے منصوبے کے تحت یورپ کو مسلمانوں سے ”پاک“ کیا جارہا ہے۔
- ٭ سعودی عرب میں عیسائی اور یہودی فوجیں داخل ہوچکی ہیں۔۔۔۔۔ یہ فوجی ایک درجن
سے زیادہ مقامات پر تعینات ہیں۔۔۔۔۔ وہ سعودی خزانے سے جی بھر کر عیاشیاں کر رہے ہیں۔۔۔۔۔ اربوں ڈالر کما کر امریکہ منتقل کر رہے ہیں۔۔۔۔۔ امریکی فوجی بھیڑیے سعودی خزانے کے لعل اور یاقوت اپنے حریص دانتوں سے چبا چبا کر کھا رہے ہیں۔۔۔۔۔ یہی وجہ ہے کہ اب سعودی عرب جیسا خوشحال ملک بھی مقروض ہو گیا ہے۔
اپنی گردن پر امریکی پنجے کی بڑھتی ہوئی گرفت سے سعودی عرب اب سانس لینے میں گھٹن محسوس کر رہا ہے۔۔۔۔۔ لیکن دشمن کے پنجے کی گرفت ڈھیلی ہوتی نظر نہیں آ
رہی ۔۔۔۔۔ حالات تاریک سے تاریک صورت اختیار کرتے نظر آرہے ہیں۔
- ☆ دنیا کے نقشہ پر پھیلے دیگر اسلامی ممالک کو اگر ہم بنظر غائر دیکھیں ۔۔۔۔۔ تو وہ بھی یہود و
نصاریٰ کی گرفت میں ہیں ۔۔۔۔۔ ان پر بھی طرح طرح کے مصائب کی سنگ زنی کی جاتی ہے ۔۔۔۔۔ کسی کے گلے میں طوق ہے، کسی کے بازوؤں میں ہتھکڑیاں ہیں ۔۔۔۔۔ کسی کے پاؤں میں بیڑیاں ہیں ۔۔۔۔۔ اور کوئی خوشی سے ہی غلام ہے ۔۔۔۔۔ اور اپنی اس کفریہ غلامی پر نازاں ہے ۔۔۔۔۔
ملت اسلامیہ کو یوں زخمی زخمی اور لہولہو دیکھ کر میرا دل پسیج گیا ۔۔۔۔۔ میری آنکھوں میں نم آگیا ۔۔۔۔۔ میرے ہونٹوں سے سسکیاں جاری ہوگئیں ۔۔۔۔۔ میں اپنے اللہ سے سوالی ہوا ۔۔۔۔۔
الٰہی! امت اسلامیہ کی یہ زبوں حالی کیوں؟ مولا! قوم حجاز ذلیل و رسوا کیوں؟ پروردگار! امت محمدیہ کافروں کے شکنجے میں کیوں؟
اللہ پاک نے میرے ذہن کا رخ حکیم الامت حضرت علامہ اقبالؒ کی طرف پھیر دیا ۔۔۔۔۔ اور میری آنکھوں کے سامنے علامہ اقبال کے وہ شعر آگئے ۔ جنہوں نے میرے سارے سوالوں کے جواب دے دیئے ۔۔۔۔۔!!! ؎
مسلماناں چرا زار ندو خوارند
ندا آمد نمی دانی کہ ایں قوم
دلے دارند و محبوبے نہ دارند
ترجمہ : رات میں نے اللہ تعالیٰ کی جناب میں رو رو کر فریاد کی کہ مسلمان کیوں ذلیل و خوار ہیں ۔ جواب آیا کہ کیا تو نہیں جانتا کہ یہ قوم دل رکھتی ہے، مگر کوئی محبوب نہیں رکھتی ۔ (ارمغانِ حجاز ۔۔۔۔۔ علامہ اقبالؒ)
مسلمانو! ہم نے اپنا محبوب کھو دیا ۔۔۔۔۔ ہم نے اپنے محبوب سے بے وفائی کی ۔۔۔۔۔ وہ محبوب! جس کے ہونٹوں پر ہمارے لیے دعاؤں کی پھوار رہتی تھی ۔۔۔۔۔
جس کی آنکھیں ہمارے غم میں پر نم رہتی تھیں۔۔۔۔۔ جس کے دل کی ہر دھڑکن میں ہماری محبت رچی بسی تھی۔۔۔۔۔ جسے ہماری محبت راتوں کو سجدوں میں رلایا کرتی تھی۔۔۔۔۔ جسے ہماری قبر کی فکر بے چین رکھتی تھی۔۔۔۔۔ جسے ہمارے حشر کی فکر بے قرار رکھتی تھی۔۔۔۔۔ جسے ہماری جنت کی فکر مضطرب رکھتی تھی۔۔۔۔۔ ہم نے اس محسن اعظم سے بے وفائی کی۔۔۔۔۔
جب مرزا قادیانی ملعون نے اس کی ختم نبوت پر حملہ کیا۔۔۔۔۔ تو ہم ٹس سے مس نہ ہوئے۔۔۔۔۔ جب مرزا قادیانی رزیل نے اس کی لائی ہوئی کتاب میں تحریف کی۔۔۔۔۔ تو ہمارے لبوں پر مہر سکوت لگی رہی۔۔۔۔۔
جب مرزا قادیانی نے اس کی احادیث مبارکہ کو مسخ کیا۔۔۔۔۔ تو ہم بت بنے تماشا دیکھتے رہے۔۔۔۔۔
کذاب قادیان مرزا قادیانی اسلام کو روندتا رہا۔۔۔۔۔ رگیدتا رہا۔۔۔۔۔ لتاڑتا رہا۔۔۔۔۔ لیکن ہم نے قادیانیوں سے دوستیاں رکھیں۔۔۔۔۔ !!!
پھر کیا تھا۔۔۔۔۔ محبوب ﷺ ناراض ہو گیا۔۔۔۔۔ اللہ کا عذاب ٹوٹ پڑا۔۔۔۔۔ کفار نے ہماری ایسی درگت بنائی۔۔۔۔۔ کہ ہم دنیا میں عبرت کی مثال بن گئے۔۔۔۔۔ ذلت کی تمثیل بن گئے۔۔۔۔۔ رسوائی کا مرقع بن گئے۔۔۔۔۔
مسلمانو! آؤ۔۔۔۔۔ اپنے آقا صلی اللہ علیہ وسلم کو منانے مدینے چلیں۔۔۔۔۔ اپنے محبوب ﷺ کو راضی کرنے کے لیے مدینے چلیں۔۔۔۔۔ آنکھوں میں آنسو لے کر۔۔۔۔۔ دل میں ندامت کے جذبات لے کر۔۔۔۔۔ زبان پر فریادیں لے کر۔۔۔۔۔ ان کی بارگاہ عالی میں رو رو کر عرض کریں۔
کھو دی اپنی قدر و قیمت‘ آقا ہم سے بھول ہوئی ہے
چھن گئی ہم سے فقر کی دولت، آقاؐ ہم سے بھول ہوئی ہے
علم و عمل کا رشتہ ٹوٹا، جب سے تیرا دامن چھوٹا
فرقہ فرقہ ہوگئی امت، آقاؐ ہم سے بھول ہوئی ہے
دیکھ ہماری آنکھ مچولی، اپنا سینہ اپنی گولی
بھول گئے ہم درس اخوت، آقاؐ ہم سے بھول ہوئی ہے
در پر ترے آئے ہوئے ہیں، دنیا کے ٹھکرائے ہوئے ہیں
کھول دے اپنا باب رحمت، آقاؐ ہم سے بھول ہوئی ہے
خاکپائے مجاہدین ختم نبوت محمد طاہر رزاق بی ایس سی ۔ ایم اے (تاریخ) لاہور۔ 6 جون 1999ء
ترکش کے تیر
جناب محمد طاہر رزاق صاحب کی دس کتابیں منصہ شہود پر طلوع ہوچکی ہیں، جن کے اسمائے گرامی مندرجہ ذیل ہیں۔
- ١- تحفہ ختم نبوت
- ٢- مرگ مرزائیت
- ٣- قادیانی افسانے
- ٤- قادیانیت شکن
- ٥- نغمات ختم نبوت
- ٦- شعور ختم نبوت اور قادیانیت شناسی
- ٧- فتنہ قادیانیت کو پہچانئے
- ٨- دجال قادیان
- ٩- قادیانیت کش
- ١٠- شمع ختم نبوت کے پروانوں کی باتیں
یہ کتابیں ایک مجاہد ختم نبوت کے ترکش سے نکلے ہوئے تیر ہیں، جو قادیانیت کے سینے سے پار ہوگئے ہیں اور اس کی چیخیں چہار سو سنائی دے رہی ہیں۔ ان کی موجودہ کتاب تڑپتی ہوئی قادیانیت پر گیارہواں تیر ہے۔ اللہ تعالیٰ کے حضور میری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ محمد طاہر رزاق صاحب کو اس کا اجر کثیر عطا فرمائے اور ان کے علم و عمل اور عمر میں برکت دے۔ (آمین ثم آمین)
طالب شفاعت محمدیؐ بروز محشر الحاج محمد نذیر مغل
تین حرف بھیجنے کا وظیفہ
چودہ سو برس پہلے عرب میں محمد مصطفیٰ ﷺ آئے تو انہوں نے اخلاقی انحطاط کے شکار معاشرے کو ایسا مثالی بنایا جس کے اثرات آج بھی موجود ہیں۔ اور تا ابد رہیں گے۔ اس کے برعکس قادیان کے جھوٹے پیغمبر نے جو معاشرہ تشکیل دیا اس کے اخلاقی طاعون میں ملوث ہونے کا یہ عالم ہے وہ نبی اور اس کی امت عفت و کردار کے اس گوہر سے ہی محروم ہے جو انسانیت کے ماتھے کا جھومر ہوتا ہے۔
محمد طاہر رزاق صاحب دفاع ختم نبوت کے اس قافلے کے شریک سفر ہیں جس کے سالار علامہ اقبالؒ سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ اور شورش کاشمیریؒ جیسے بلند کردار رہے ہیں۔ طاہر صاحب اب تک نو کتابیں لکھ چکے ہیں۔ ان کی ہر کتاب کا انداز مختلف ہے لیکن موضوع اور مقصد ایک ہے۔ وہ بھی اپنے پیش رو اکابرین کی طرح عالم کے مسلمانوں اور عقل والوں کو یہ باور کرانا چاہتے ہیں کہ مرزا قادیانی جھوٹا نبی اور مرزائیت جھوٹا مذہب ہے۔ ان کی قلمی کوششیں رنگ لائی ہیں اور مزید ثمر بار ہوں گی۔ انسان بیدار تو ہو جائے‘ ہر شخص پکارے گا مرزا قادیانی جھوٹا ہے۔
محمد طاہر رزاق صاحب کا خدا زور قلم کرے اور زیادہ‘ انہوں نے جہاں مرزائیت کے پیپ زدہ پیکر پر نشتر زنی کی ہے‘ وہاں ایک ایسا کارنامہ بھی انجام دیا ہے جس سے صرف نظر نہیں کیا جاسکتا۔ ١٩٧٤ء سے مرزائی پاکستان میں کھل کھیل رہے تھے۔ چنانچہ ہر عامی و خاص‘ بڑا چھوٹا مسلمان ان کی ریشہ دوانیوں سے واقف تھا لیکن ٧ ستمبر ١٩٧٤ء کو جب انہیں کافر قرار دیا گیا تو پھر ان کی سرگرمیاں سازشوں میں بدل گئیں اور کفار کا یہ گروہ عام لوگوں کی نظروں سے اوجھل ہو گیا جبکہ ١٩٧٤ء کے بعد پیدا ہونے والی نسل تو قادیانیوں کے بارے میں بالکل بے خبر ہے۔ محمد طاہر رزاق صاحب کی تحریک اور تحریر کی جدت اور شدت نے موجودہ نوجوان نسل کے اندر مرزائیت کے خلاف ہلچل مچا کر رکھ دی ہے۔ ان کی لاتعداد کتابیں راقم کے حوالے سے لاہور کے مختلف کالجز میں پہنچیں تو انگنت طلبہ پر پہلی بار انکشاف ہوا کہ مرزائیت بھی کوئی چیز ہے؟ اس کے علاوہ ان تعلیمی اداروں میں چھپے
ہوئے بے شمار مرزائی طلبہ سامنے آگئے جن کے بارے میں کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا۔ یہ سب کفار کے گروہ کی ذریت ہیں۔
"شعور ختم نبوت اور قادیانیت شناسی" کی مانگ کا تو یہ عالم تھا کہ طاہر صاحب کو کتابیں مجھ تک پہنچانے کے لیے ہر روز پریس کلب آنا پڑتا تھا۔ اس کتاب میں انہوں نے مرزائی نبی' مرزائیت' اس کے پرچارکروں اور کرمچاریوں کے کارناموں کو سوالاً جواباً اس انداز میں بیان کیا ہے کہ اچھا بھلا مرزائی منہ چھپانے اور قادیانیت چھوڑنے پر مجبور ہو جاتا ہے جبکہ نئے جاننے والے اس کا مطالعہ کرتے ہی مرزائیت پر "تین حرف بھیجنے کا وظیفہ" شروع کر دیتے ہیں۔
محمد طاہر رزاق صاحب نے اپنے قلم کے وار سے مرزائیت کو اس قدر تار تار کیا ہے کہ قادیانیت کے چوتھے گورو مرزا طاہر کو ڈش پر کیے جانے والے "واویلے" میں اپنے چیلوں کو ان سے ڈرانا اور خبردار کرنا پڑتا ہے۔ یہ قدرت کا انعام ہے کہ وہ کس سے کیا کام لیتی ہے۔ ایک مرزا قادیانی جس نے جھوٹی نبوت کا ڈھونگ رچا کر عصمت نبوی ﷺ پر زبان طعن دراز کی تو رسول عربی ﷺ کے لاکھوں پروانے محمد طاہر رزاق بن کر دفاع ختم نبوت کے لیے مرزائیت کے خلاف برسرپیکار ہو گئے۔ یہ انہی پروانوں کے جہاد کا اعجاز ہے کہ مرزائی نبی اور اس کی امت سارے جہاں پر حکمرانی کا خواب دیکھتی دیکھتی پہلے قادیان سے چھوٹی' پھر ربوہ سے بھاگی اور اب یہودیوں کی طرح قریہ قریہ پناہ کے لیے ماری ماری پھر رہی ہے۔
مئی ١٩٧٤ء کا واقعہ اللہ پاک کی قدرت کاملہ کا ایسا کمال ہے جس کے نتیجے میں مرزائیوں کا حال ہاتھی والوں جیسا ہو گیا۔ پہلے یہ قانوناً کافر قرار دیے گئے پھر عبادت اور عبادت گاہوں سے گئے۔ اب تو اللہ کے فضل و کرم سے ربوہ بھی ربوہ نہیں رہا چناب نگر بن گیا ہے۔ اس کے باوجود مرزا طاہر اگر اپنے پجاریوں کی آنکھوں میں دھول جھونک رہا ہے تو جھونکا کرے' ہم تو اسے بھی عتاب الٰہی ہی کہیں گے جو جھوٹی امت اور اس کے امام پر نازل ہو رہا ہے۔
مرزا قادیانی کا المیہ یہ ہے کہ اس نے ہر دعویٰ بلا سوچے سمجھے پہلے کر دیا لیکن اس کے لیے دلائل بعد میں گھڑے۔ یہی وجہ ہے دعاوی اور نتائج میں کوئی ربط نہیں۔ اس کے چاروں خلفاء بھی اپنی دکانداری چمکانے اور اپنے مورث اعلیٰ کے جھوٹ کو نبھانے کے لیے
"ڈنگ ٹپاؤ" قسم کی دلیلیں دیتے رہے۔ مرزا طاہر کو اس سلسلے میں ایک برطانوی مصنف آئن ایڈسن کا سہارا لینا پڑا جس نے "اے مین آف گاڈ" میں مرزا غلام احمد کا ذکر احمد صلی اللہ علیہ وسلم کی غلامی کے شرف سے حذف کر کے صرف "احمد" نام سے کیا۔ حقیقت یہ ہے کہ مرزا غلام احمد کے فکر و عمل کی پوری کائنات "پیاز" ہے چھلکے پر چھلکا اتارتے جائیے نتیجہ کچھ بھی نہیں نکلے گا۔
محمد طاہر رزاق صاحب نے تو سیٹ لائٹ پر مرزا قادیانی کا جہنم سے انٹرویو کر کے اس کے منہ سے سب کچھ اگلوا بھی لیا ہے کہ وہ جھوٹا نبی ہے اور اس نبوت سازی کے لیے اسے کیا کیا پاپڑ بیلنے پڑے اور اس نے ایمان کا کفر سے سودا کن بنیادوں پر کیا اور اب جہنم میں وہ اپنے یاروں‘ پیاروں اور عیاروں کے ساتھ کیسی زندگی بسر کر رہا ہے۔ آگ کے گولوں کی یلغار میں دیے گئے انٹرویو میں مرزا قادیانی نے بار بار اقرار کیا کہ اس نے تو صرف نبوت کا دعویٰ کیا تھا مگر اس میں کذب و افترا اور ارتداد کے "کالے اضافے" اس کے پس رو چیلوں نے کیے۔ مرزا قادیانی نے تو یہاں تک کہہ دیا "میں تو اپنے کیے کی سزا بھگت رہا ہوں مگر اپنی امت کی نااہلی کا کیا کروں‘ جو تیرہ برس تک فالج کے کربناک عذاب سے دو چار رہنے والے میرے بیٹے کو الٹا اخبار پڑھتے ہوئے دیکھ کر بھی اپنا امام اور پیشوا مانتی رہی"۔
مرزا غلام احمد کو نبی بنانے سے پہلے انگریز نے پورے ہندوستان سے بے حمیت سے بے حمیت شخص تلاش کرنے کی جو مہم چلائی محمد طاہر رزاق صاحب نے اس کی بھی شاندار عکاسی کی ہے۔ اور غیرت سے عاری مرزا قادیانی جب فرنگی کو ملا تو وہ ساری سازشوں اور ریشہ دوانیوں کے باوجود مرزا قادیانی کو نبی ماننے سے محض اس وجہ سے ہچکچاتا اور شرماتا رہا ہے کہ یہ شخص شکل اور عقل سے کسی طور پر بھی نبی نہیں لگتا تھا۔ یہ تو مرزا قادیانی کی ہٹ دھرمی اور بے شرمی کا کرشمہ ہے کہ اس نے اپنا "ٹاسک" پورا کر لیا ورنہ فرنگی بابا تو ڈرتا ہی رہا کہیں اس کا جھوٹا نبی سارا ڈرامہ ہی فلاپ نہ کر دے۔
سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ نے سچ فرمایا تھا اگر وہ مرزا قادیانی کے دعویٰ نبوت کے وقت ہوتے تو اسے قتل کر دیتے۔ کاش شاہ جی ہوتے تو آج بربادی کی یہ داستان ہی نہ ہوتی۔ مرزا قادیانی کا شجرہ نجاست گستاخ رسولؐ حارث بن قیس سے ملتا ہے جو تاجدار عربؐ کی گستاخی کرنے والوں کا سرخیل تھا۔ اللہ پاک نے اسے ایسی سزا دی اور اس کے پیٹ میں ایسی بیماری پیدا کر دی کہ اسے منہ سے "پاخانہ" آنے لگا۔ ایسا ہی اللہ تعالیٰ نے
قادیان کے جھوٹے پیغمبر کے ساتھ کیا اور رسول خدا کی برابری کرنے کی پاداش میں اسے حارث بن قیس جیسی موت عطا کی۔
محمد طاہر رزاق صاحب نے قادیانی افسانے لکھ کر فتنہ قادیانیت کا نئے زاویے سے جائزہ لیا۔ سادہ لوح لوگوں کے دام مرزائیت میں پھنسنے اور بے شمار کو قادیانیت کی دلدل سے نکلنے کی کہانیاں سنانے کے علاوہ ایسے مرزائی کرداروں کو بے نقاب کیا جو ہمارے ارد گرد اب بھی موجود ارتدادی حربے آزما رہے ہیں۔
علامہ اقبالؒ مولانا ظفر علی خاں اور شورش کاشمیریؒ جیسے شعراء کا کلام نغمات ختم نبوت میں یکجا کر کے شان رسالت کو اجاگر اور مرزا قادیانی کا علمی اور عقلی محاسبہ جس انداز سے کیا گیا ہے‘ یہ بھی طاہر صاحب کا ہی کمال ہے۔
مرزا قادیانی کو نبی ماننے والوں کے دیدے پٹم ہوں‘ ان کی کم عقلی کی بے شمار مثالیں محمد طاہر رزاق نے اپنی کتابوں میں اکٹھی کی ہیں۔ یہ امت ایسے شخص کو نبی مانتی ہے جس کی اپنی مت ماری ہوئی تھی۔ مرزا قادیانی نے اپنی بیٹی کو شربت اسہال کے بجائے چنبیلی کا تیل پلا کر مار دیا۔ رضاعی بہن بھائی کا نکاح کروا کے اس پر بھی اتراتا رہا۔ زندگی بھر اس شخص نے سیدھا جوتا نہیں پہنا‘ بوٹ سے دوات کا کام لیا‘ چوزہ ذبح کرتے وقت اپنی ہی انگلی کاٹ ڈالی۔ ایسے شخص کو نبی ماننے والوں کی عقل پر ماتم ہی ہو سکتا ہے۔
محمد طاہر رزاق صاحب پر قدرت کا انتہائی اکرام ہے وہ ان سے مرزائیت کے خلاف کام لے کر یہ ثابت کر رہی ہے کہ جہنم میں تو جو سزا اس امت کے جھوٹے نبی کو مل رہی ہے سو مل رہی دنیا میں بھی اس کا محاسبہ کرنے والے موجود ہیں۔ مرزا قادیانی کے سفر آخرت کی جو تصویر طاہر صاحب نے کھینچی ہے‘ وہ لاجواب ہی نہیں مرزائی سمجھیں تو ان کے لیے ایک ڈراؤنا خواب بھی ہے۔ مرزا کا دم آخر قریب تھا مگر بیماری اس شخص کو دنیا سے لے جانے کا سبب بننے سے کترا رہی تھی۔ یہ ”ہیضہ“ تھا جس نے یہ بیڑا اٹھایا اور کماحقہ قابل نفرت بیماری سمجھا جاتا ہے لہٰذا میں ہی اس قابل نفرت انسان کے تابوت کی آخری کیل بنوں گا۔ دن‘ مہینے‘ وقت کوئی بھی نہیں چاہتا تھا‘ کسی کی نسبت اس شخص کے ساتھ ہو۔ انگریز کی دولت کے ڈھیر پر بیٹھ کر ڈینگیں مارنے والا یہ جھوٹا نبی عمر بھر اعلیٰ سواریوں میں سفر کرتا رہا مگر آخر میں اسے اٹھایا تو وہ بھی مال گاڑی نے۔
محمد طاہر رزاق صاحب مرزائیت کے خاتمے اور قادیانیوں کو راہ راست پر لانے کے
لیے ہر حربہ آزمایا ہے کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ یہ ان کی بد نصیبی ہے جو راہ پر نہیں آ رہے۔ کسی نے خوب کہا ہے بیماری کا تو علاج ہوتا ہے مگر خدائی پکڑ کا کوئی توڑ نہیں۔ طاہر صاحب مرزا قادیانی کے محمدی بیگم کے ساتھ عشق کے فسانے اور اس کے پاجاموں میں منہ دے دے کر المیہ ترانے پڑھنے اور راتوں کو آنسو بہانے کے ڈرامے، سب کچھ رقم کر ڈالا ہے۔ مچھر کی ماں کی کہانیاں ”بھانو“ سے ٹانگیں دبوانے کے قصے، ہر مرزائی کے لیے لمحہ فکریہ ہیں کہ ایسا شخص بھی نبی ہو سکتا ہے جو ایک غیر عورت سے رات بھر ٹانگیں دبوائے۔
طاہر صاحب واقعی مجاہد ہیں۔ انہوں نے مرزائیت پر جس قدر نشتر زنی کی ہے، اس پر مرزا قادیانی جہنم میں بیٹھا ضرور سوچتا ہو گا اگر اسے دنیا میں دوبارہ جانے کا موقع مل جائے تو وہ وہاں جاتے ہی محمد طاہر رزاق کے پاؤں پکڑ لے گا اور کہے ”بابا! میرے باپ کی بھی توبہ جو اب نبوت کا دعویٰ کروں۔ نازک قلم سے جس طرح تو نے میرا انگ انگ چھلنی کیا ہے، میرے لیے جہنم ہی بن گیا ہے میں تو اپنے ”پٹھوں“ کو بھی منع کر دوں گا کہ آئندہ کوئی کاشانہ نبوت میں نقب نہ لگائے ورنہ مجھے دیکھ جو دیدہ عبرت نگاہ ہوں۔
محمد طاہر رزاق صاحب میرے مہربان دوست اور محسن ہیں۔ ان کی تحریک پر ہی مجھے ”احمقوں کی جنت“ لکھنے کی سعادت نصیب ہوئی۔ ”ٹیچی ٹیچی۔۔۔۔ مٹھن لال اور خیراتی“ جیسے فرشتوں کے ذریعے ”پنی پنی کچنی“ ”خشم خشم“ ”پریش“ ”پراطوس“ ”پلاطوس“ جیسی وحی پڑھ کر ہنسی آتی ہو تو مرزا پر ایمان خاک آئے گا۔ میں نے ربوہ میں دس برس قیام کے دوران دیکھا اور سنا ہے کہ گفتار میں جھوٹی، کردار میں ہلکی اور اعتبار میں ماٹھی امت، اس سے بھی عجیب و غریب خرافات بیان کر کے لوگوں کو گمراہ کرنے کی کوشش کرتی ہے اور اکثر اوقات منہ کی کھاتی ہے مگر شرم اسے پھر بھی نہیں آتی۔
میں اپنے پیر کامل کے سوانح اور افکار پر قلم آرائی کر رہا تھا کہ محمد طاہر رزاق صاحب نے مجھے ”دفاع ختم نبوت“ پر تقریظ لکھنے کے لیے کہا۔ میں نے اپنا قلم روک لیا اور پہلے اس ارفع فریضہ کو ادا کرنے کے لیے کمر باندھ لی۔ طاہر صاحب کی تمام تحریریں میں نے حرف حرف پڑھی ہیں۔ ان کے متعلق سطور بالا میں اظہار بھی کیا ہے لیکن ان کی ”تصنیف فتنہ قادیانیت کو پہچانئے“ اور زیر نظر کتاب ”دفاع ختم نبوت“ تاریخی دستاویزات ہیں۔ ان میں مرزائیت کے بارے میں اکابرین کی وہ تحریریں ہیں جو اب تاریخ کا حصہ بن چکی ہیں۔
جن سے نئی نسل رہنمائی حاصل کر سکتی ہے جبکہ مرزائی ایک بار پھر تلملا کے رہ جائیں گے۔ ”دفاع ختم نبوت“ اس قدر جامع، عام فہم، خوبصورت عبارات اور دلچسپ واقعات کا مرقع ہے جس کو قاری پڑھے گا تو پڑھتا ہی جائے گا۔ اس میں مختلف کتابوں، جرائد، روزناموں سے لیے گئے اقتباسات، مضامین اور تبصرے شامل کیے گئے ہیں۔ ان رسائل میں ہفت روزہ ”ختم نبوت، صوت الاسلام، چٹان، لولاک، دبدبہ سکندری، تذکرہ مجاہدین ختم نبوت، ضیائے حرم، نقیب ختم نبوت اور البلاغ“ قابل ذکر ہیں۔ کتاب میں آل مسلم پارٹیز کنونشن، ١٩٥٣ء کی تحریک ختم نبوت کی حکائتیں اور شمع رسالت کے پروانوں کی قربانیوں کی کہانیاں، گرفتاریوں اور کرفیو کے ہولناک قصے غرض ماضی میں جو کچھ ہوا، وہ سب کچھ ہے۔
قبلہ عالم پیر جماعت علی شاہؒ عطاء اللہ شاہ بخاریؒ مولانا یوسف بنوریؒ مولانا غلام غوث ہزارویؒ ماسٹر تاج دین انصاریؒ مولانا ادریس کاندھلویؒ مولانا محمد علی جالندھریؒ مولانا ظفر علی خاںؒ کے نادر اور بصیرت افروز مضامین شامل ہیں۔ جن میں مرزا قادیانی، اس کی امت، خلفاء اور گماشتوں کی اپنے اپنے ادوار میں خوب خبر لی ہے۔ حضرت پیر جماعت علی شاہؒ، محدث علی پوری نے رد قادیانیت پر پانچ نکاتی بیان جاری فرمایا جس میں سچے اور جھوٹے نبی کا فرق کھول کر بیان کر دیا۔ فرماتے ہیں:
”سچا نبی کبھی کسی استاد کا شاگرد نہیں ہوتا بلکہ وہ روح القدس سے تعلیم پاتا ہے۔ ہر سچا نبی اپنی عمر کے چالیس سال گزار کر یکدم بحکم رب العالمین مخلوق کے روبرو دعویٰ نبوت کرتا ہے۔ اسے بتدریج اور آہستہ آہستہ نبوت کا درجہ نہیں ملتا۔ حضرت آدم علیہ السلام سے آج تک جتنے نبی آئے ہیں، ان کے نام مفرد تھے۔ سچے نبی کا نام مرکب نہیں ہوتا۔ مرزائی آنحضرت ﷺ کے مدارج کو مرزا قادیانی کے لیے مان کر شرک فی النبوہ کے مرتکب ہوئے ہیں۔ جس طرح خداوند کریم کا کوئی شریک نہیں، اسی طرح محمد عربی ﷺ کی بھی کوئی مثال نہیں۔“
سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ فرماتے ہیں:
”ارے قادیانیو! اگر نیا نبی بنائے بغیر تمہارا گزارا نہیں ہو سکتا اور اس کے بغیر تم
نہیں جی سکتے تو مسٹر جناح کو نبی مان لو۔ ارے مرد تو تھا۔ جس بات پر ڈٹا کوہ کی طرح اڑ گیا۔ آہوں کے بادل اٹھے، اشکوں کی گھٹا چھائی، خون کی ندیاں بہ گئیں، لاشوں کے انبار لگ گئے مگر کوئی چیز مسٹر جناح کے عزم کو نہ ہلا سکی۔ اس نے تاریخ کے اوراق کو پلٹ دیا اور ملک کے جغرافیہ کو بدل کر رکھ دیا۔ ارے تمہاری نبوت کو بھی جگہ ملی تو لٹ پٹ کر اس نے مسٹر جناح کے قدموں میں زندگی گزار دی۔ مسٹر جناح نے انگریز کی نوکری نہیں کی، حکومت سے خطاب نہیں لیا۔ انگریزوں سے کوئی تمنا وابستہ نہیں کی۔ ایک تمہارا نبی تھا جس نے حضور گورنمنٹ برطانیہ کے آگے عاجزانہ درخواستیں کرتے کرتے پچاس الماریاں سیاہ کر ڈالیں۔
علامہ اقبالؒ کے مطابق ”مرزائیت نہ صرف مسلمانوں کی وحدت کے لیے خطرہ ہے بلکہ اپنے اندر یہودیت کے وظائف کی خصوصیات رکھتی ہے۔ میں نے جماعت کے ایک کارکن کو خود اپنے کانوں سے آنحضرت ﷺ کے متعلق نازیبا کلمات کہتے سنا تھا۔ ہمیں قادیانیوں کی حکمت عملی اور دنیائے اسلام کے متعلق ان کے رویے کو فراموش نہیں کرنا چاہیے“۔
شورش کاشمیریؒ کے مطابق مرزا قادیانی برطانوی اغراض کا روحانی بیٹا تھا۔ قادیان مرزائیت کی جائے پیدائش، ربوہ اعصابی مرکز، تل ابیب تربیتی کیمپ، لندن پناہ گاہ، ماسکو استاد اور واشنگٹن اس کا بینک ہے“۔
یہ ان جلیل القدر ہستیوں کے افکار ہیں جن سے ”دفاع ختم نبوت“ مرصع ہے۔ یہ کتاب تاریخی دستاویز ہے۔ قلم کا ایسا جہاد ہے جو ایمان والوں کے لیے مشعل راہ اور اگر مرزائیوں کے دل شیطانی مہر سے آزاد ہو جائیں تو ان کے لیے تریاق القلوب ہے۔
جی۔ آر۔ اعوان روزنامہ جنگ لاہور ١٥ مئی ١٩٩٩ء
میرا سب کچھ قربان
شاہ جیؒ نے ایک دفعہ تقریر میں فرمایا! قادیان کانفرنس کے خطبہ پر دفعہ ١٥٣ کے تحت مجھ پر مقدمہ چلایا جا رہا ہے۔ اس کی سزا زیادہ سے زیادہ صرف دو سال قید ہے۔ میرا جرم یہ ہے کہ میں محمد رسول اللہ ﷺ کا خادم ہوں۔ اس جرم میں یہ سزا بہت کم ہے۔ میں رسول اللہ ﷺ کی ناموس پر ہزار جان سے قربان ہونے کو تیار ہوں۔ مجھے شیروں اور چیتوں سے ٹکڑے ٹکڑے کرا دیا جائے اور پھر کہا جائے کہ تجھے بجرم عشق مصطفیٰؐ یہ تکلیفیں دی جا رہی ہیں تو میں خندہ پیشانی سے اس سزا کو قبول کروں گا۔ میرا آٹھ سالہ بچہ عطاء المنعم اور اس جیسے خدا کی قسم ہزار بچے رسول اللہ ﷺ کی کفش پر سے نچھاور کردوں۔
(مختصر سوانح از خان کابلی)
ایسی ظلمت بڑھی تیرے جانے کے بعد (مولف)
مجذوب کی دعا
مقدمہ گورداسپور کی مصروفیت کے باوجود امیر شریعت اپنے مشن کے لیے رواں دواں رہے۔ ١٩٣٤ء کا سال آخری دموں پر تھا کہ معراج النبی ﷺ کے موقع پر امیر شریعت کو ملتان جانا پڑا۔ جلسے کی حاضری تاحد نظر تھی اور اس پر خاموشی کا یہ عالم جیسے انسانی سروں پر پرندے بیٹھ رہے ہوں۔ رات کے اس سکوت کو صرف امیر شریعت کی آواز توڑ رہی تھی۔ واقعہ معراج النبی ﷺ کا ذکر کرتے ہوئے اسے تمثیلی انداز میں پیش کیا اور حاضرین کی محویت کا یہ عالم تھا کہ وہ محسوس کرنے لگے، جیسے حضور نبی کریمؐ کی سواری ان کے سامنے سے گزر رہی ہے۔ امیر شریعتؒ نے فرمایا ”سوہنا معراج نوں چلیا‘ فضا رک گئی“ یہ بات کہہ کر مجمع سے پوچھا ارے بھائی کچھ سمجھے؟ تو آواز آئی شاہ جی نہیں سمجھے۔ پھر امیر شریعتؒ نے فرمایا ”اچھا تے فر جنگلی زبان وچ ای تہانوں سمجھاواں“ تو امیر شریعتؒ نے فرمایا ”تیرے لونگ دا پیا لشکار اتے ہالیاں نے ہل ڈک لئے“ عوام نے جب یہ سنا تو پھڑک اٹھے اور عین ایسے وقت مجمع سے ایک مجذوب اٹھا اور دونوں ہاتھ آسمان کی
طرف اٹھا کر اس نے ملتانی زبان میں کہا "سید اشالا اتھائیں دفن تھیویں" "اے سید! خدا کرے آپ یہیں دفن ہوں" یہ ١٩٣٤ء کی بات ہے۔ اس وقت حضرت امیر شریعتؒ کا مستقل قیام امرتسر میں تھا۔ قیام پاکستان کے بعد شاہ جی ملتان منتقل ہوئے اور بالآخر وہاں وفات ہوئی اور آج وہاں آرام فرما ہیں۔ یہ اس مجذوب کے منہ سے نکلی ہوئی دعا تھی۔
(ہفت روزہ "ختم نبوت" کراچی، جلد ٨، شمارہ ٢٥)
یوم شورش کاشمیری اور حنیف رامے کی مرمت
٧ نومبر بروز جمعۃ المبارک جناح ہال لاہور میں بے باک صحافی، سپاہی جنگ آزادی، نامور شاعر اور مجاہد ختم نبوت آغا شورش کاشمیریؒ کی برسی بڑے تزک و احتشام سے منائی گئی۔
اس ذیشان محفل کا آغاز قرآن کریم فرقان حمید کی تلاوت سے کیا گیا۔ تلاوت کلام مجید کے بعد سٹیج سیکرٹری جناب خواجہ افتخار صاحب نے محفل کے مقررین کے نام حاضرین کے گوش گزار کرنے شروع کیے۔ چند مقررین کا نام لینے کے بعد سٹیج سیکرٹری نے جب رسوائے زمانہ، قادیانیوں کے ایجنٹ "حنیف رامے" کا نام لیا تو اس کا نام سامعین کی سماعت سے اس طرح ٹکرایا جیسے شیشے کے گھر پر پتھر پڑتا ہے۔ اور سارے حاضرین دم بخود ہو گئے۔ گویا کہ ایک دوسرے سے پوچھ رہے تھے کہ گلشن میں زاغ کا کیا کام؟
بہر حال جلسہ کی کارروائی شروع ہوئی۔ جب پنجاب یونیورسٹی کے شعبہ ابلاغیات کے پروفیسر اور نامور دانشور جناب مغیث الدین شیخ صاحب کو دعوت خطابت دی گئی، تو انہوں نے آتے ہی دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ میں مصلحت پسند انسان نہیں ہوں اور نہ ہی مجاہد ختم نبوت آغا شورش کاشمیریؒ مصلحت پسند تھے۔ لہٰذا میں منتظمین جلسہ سے پوچھتا ہوں کہ ایک ایسی شخصیت، جس کے افکار و نظریات سے شورش لڑتا رہا، جس نے شورش پر سختیاں کیں اور مجاہدین ختم نبوت پر ستم توڑے، اس شخصیت کو یہاں دعوت دے کر ہمارے جذبات کو ٹھیس پہنچائی گئی ہے۔ لہٰذا میں اس کی یہاں آمد پر بھرپور مذمت کرتا ہوں۔ اس پر سارا ہال نعرۂ تکبیر اللہ اکبر، تاجدار ختم نبوت زندہ باد، مجاہد ختم نبوت آغا
شورش کاشمیری زندہ باد کے فلک شگاف نعروں سے گونج اٹھا۔ جونہی پروفیسر صاحب کی تقریر ختم ہوئی‘ اچانک رامے صاحب ڈرامائی انداز میں ہال میں داخل ہوئے۔ اس کے ساتھ ہی پورے ہال سے صدا اٹھی لعنت...... لعنت...... بے شمار، مرزائی کا جو یار ہے‘ اسلام کا غدار ہے۔ رامے کو ہال سے باہر نکالو۔ کچھ نوجوان انتہائی جذباتی ہو گئے اور ڈیسکوں پر چڑھ گئے اور انہوں نے اعلان کیا کہ آج غلامان محمد ﷺ یہاں موجود ہیں اور ہم دیکھیں گے رامے صاحب یہاں کیسے تقریر کرتے ہیں اور اس کے ساتھ ہی نوجوانوں کا ایک گروہ سٹیج پر چڑھ گیا۔ مہمان خصوصی جناب چودھری شجاعت حسین (وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات) اور جناب فخر امام صاحب (سابق اسپیکر قومی اسمبلی) نے بڑی مشکل سے نوجوانوں کے جذبات کو ٹھنڈا کیا اور دوبارہ جلسہ کی کارروائی شروع ہوئی۔
ایک معروف خاتون مقرر کو تقریر کی دعوت دی گئی۔ انہوں نے آتے ہی کہا خاتم النبیین ﷺ کے پروانو! میں تمہیں اور تمہارے جذبات کو سلام کہتی ہوں۔ اس کے ساتھ انہوں نے کہا کہ رامے صاحب نے کتاب ”پنجاب کا مقدمہ“ لکھ کر ملک کے ساتھ غداری کی ہے۔ ہم پورے ملک کی سالمیت و بقاء کی بات کرتے ہیں لیکن رامے صاحب نے یہ کتاب لکھ کر ملک میں صوبائی عصبیت کو ہوا دی ہے۔ لہٰذا آپ سب سے اپیل کرتی ہوں کہ اس کتاب کا بائیکاٹ کیا جائے۔
ایڈیٹر قومی ڈائجسٹ جناب مجیب الرحمٰن شامی صاحب نے شورش کو زبردست خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ شورش عزم و ہمت کا پہاڑ تھا اور ایک سچا عاشق رسولؐ تھا۔ اس نے ساری عمر ناموس رسالت ﷺ پر سودے بازی نہیں کی اور جب بھی نام محمد ﷺ پر آواز پڑی‘ وہ دیوانہ وار لپک لپک کر آیا۔
وطن عزیز کے نامور دانشور ماہر اقبالیات جناب پروفیسر مرزا منور صاحب نے کہا کہ شورش مرحوم نے ان اعلیٰ ہستیوں کا دامن پکڑا جنہوں نے دامن مصطفیٰ ﷺ کو پکڑا ہوا تھا۔ ختم نبوت کے لیے اس کی دی ہوئی قربانیاں ہمیشہ ہمیں شورش کی عظمت کی یاد دلاتی رہیں گی۔
ایڈیٹر روزنامہ وفاق جناب مصطفیٰ صادق نے اپنے خطاب میں کہا کہ مجھے شورش مرحوم کے ساتھ ایک عمر گزارنے کا اتفاق ہوا۔ وہ اتحاد ملت کا داعی تھا۔ ختم نبوت کا
فدائی تھا اور ناموس مصطفیٰ ﷺ کا سپاہی تھا۔ پنجاب یونیورسٹی یونین کے سابق صدر اور ممبر قومی اسمبلی جناب جاوید ہاشمی نے اپنی نہایت ہی جذباتی تقریر میں کہا جب ٧٤ء کی تحریک ختم نبوت چلی تو مجھے گرفتار کر کے جیل میں تشدد کیا گیا اور جب مجھے رہائی ملی تو میں اپنے گھر واپس ملتان پہنچا تو مجھے معلوم ہوا کہ میرا جوان بھائی تحریک ختم نبوت میں شہید ہو گیا ہے۔ میں شہید بھائی کے لاشے کو دیکھنے کے لیے جا رہا تھا کہ مجھے اس وقت یہی رائے صاحب جو اس وقت وزیر اعلیٰ تھے، کے حکم پر گرفتار کر کے مزید ایک ماہ کے لیے جیل بھیج دیا گیا۔ اس پر پورے ہال سے پھر 'شیم'، 'شیم'، اور لعنت لعنت کی آوازیں آنے لگیں۔ جن پر سٹیج سیکرٹری نے بڑی مشکل سے قابو پایا۔ ممبر قومی اسمبلی اور سابق صدر پنجاب یونیورسٹی سٹوڈنٹس یونین جناب لیاقت بلوچ نے شورش کو زبردست خراج تحسین پیش کیا اور گرجدار آواز میں کہا کہ اب وہ وقت آرہا ہے جب اس ملک میں تاجدار ختم نبوت کا پرچم لہرائے گا۔ اس کے بعد سٹیج سیکرٹری نے چپکے سے رائے صاحب کو دعوت خطاب دے دی۔ اس پر سامعین کے تن بدن میں آگ لگ گئی۔ نوجوان اپنی سیٹوں سے اٹھ کھڑے ہوئے اور گرجدار آواز میں نعرے لگانے لگے، 'مرزائی کا جو یار ہے اسلام کا غدار ہے'، 'غلام ہیں غلام ہیں رسول کے غلام ہیں'، 'غلامی رسول میں موت بھی قبول ہے'، 'رہبر و رہنما مصطفیٰ مصطفیٰ۔ سٹیج سیکرٹری اور دیگر مقررین حضرات ان کو چپ کرا رہے تھے۔ لیکن مجاہدین ختم نبوت کا ایک ہی مطالبہ تھا کہ رائے کے وجود کو ان کی آنکھوں سے دور کیا جائے۔ مشتعل نوجوانوں کا ایک گروہ سٹیج پر چڑھ گیا اور مائیک پر قبضہ کر کے رائے کے خلاف نعرے لگانے شروع کر دیے، رائے صاحب کو انتظامیہ نے گھیرا ہوا تھا اور وہ بھیگی بلی بنے کھڑے تھے۔ سارا ہال احتجاج کے لیے اٹھ کھڑا ہوا اور قریب تھا کہ مجاہدین ختم نبوت رائے صاحب کی مرمت کر دیتے، رائے کو سٹیج سے ہٹا لیا گیا۔
اس پر پنجاب یونیورسٹی سٹوڈنٹس یونین کے ایک اور سابق صدر جناب سعید سلمی سٹیج پر تشریف لائے اور انہوں نے للکار کر کہا کہ رائے صاحب سن لو اور گوش و ہوش سے سن لو۔ تم یہ نہ سمجھنا کہ یہ کام کسی تخریب پسند گروہ نے کیا ہے یا تمہاری کسی سیاسی مخالف جماعت کے کارندوں نے کیا ہے۔ یاد رکھنا یہ کام صرف اور صرف غلامان محمد ﷺ نے کیا ہے اور ہمیں اس پر فخر ہے کہ آپ جہاں کہیں بھی جائیں گے انشاء اللہ ہم
آپ کا پیچھا کریں گے۔ آخری مقرر وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات جناب چودھری شجاعت حسین تھے۔ رہی سہی کسر انہوں نے نکال دی۔ انہوں نے کہا یہ دور جمہوریت کا دور ہے۔ عوام کی مرضی ہے کہ وہ کسی مقرر کو سنیں یا نہ سنیں۔ آپ لوگوں کی مرضی نہیں تھی، آپ نے رائے صاحب کی تقریر نہیں سنی۔ لہٰذا میں بھی آپ کی رائے کی تائید کرتا ہوں۔ چودھری شجاعت حسین نے اعلان کیا کہ ہر سال شورشؒ کی برسی پر ریڈیو اور ٹیلی ویژن پر شورش کی خدمات پر مبنی پروگرام نشر کیے جائیں گے اور پنجاب یونیورسٹی میں شورش کاشمیریؒ میڈل دیا جائے گا۔
(ہفت روزہ ”ختم نبوت“ کراچی، جلد ٥، شمارہ ٢٦، از قلم محمد طاہر رزاق)
کوٹلی آزاد کشمیر میں قادیانی سرگرمیاں
کوٹلی، آزاد کشمیر کا پانچواں ضلع ہے جس کی سرحدیں پونچھ اور جموں سے ملتی ہیں۔ ١٩٤٧ء کے بعد قادیانیوں نے ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت جموں سے اپنا ہیڈ کوارٹر کوٹلی منتقل کیا تاکہ یہاں سے با آسانی جموں سے ان کا رابطہ رہے۔ کوٹلی کا مشہور سرحدی قصبہ گوئی جو بالکل بارڈر پر واقع ہے، اس میں ان کی ایک بڑی تعداد قیام پذیر ہے۔ جہاں ان کے پانچ چھ کے قریب عبادت خانے ہیں۔ گوئی اور اردگرد کے تعلیمی اداروں میں ایک بڑی تعداد ہیڈ ماسٹرز، سینئر ٹیچرز اور لیکچرار کے عہدوں پر فائز ہے۔ اس طرح کوٹلی کے ضلعی ہیڈ کوارٹر میں قادیانیوں کا ایک بااثر گروپ قیام پذیر ہے۔ بار روم پر ان کا ذہنی اور فکری ہولڈ ہے۔ ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال کوٹلی میں بھی نصف درجن کے قریب ڈاکٹرز اہم عہدوں پر فائز ہیں۔ وہ ان عہدوں کو اپنی تبلیغ کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔ مجموعی طور پر صرف تحصیل کوٹلی میں قادیانیوں کے بارہ کے قریب عبادت خانے ہیں جو عبادت خانے کم اور ........ گزشتہ ماہ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے ایک وفد نے کوٹلی کا دورہ کیا جس کی مفصل رپورٹ قارئین ”لولاک“ اور ارباب اختیار کی توجہ کے لیے شائع کی جارہی ہے۔ (ادارہ)
گزشتہ دنوں مانسہرہ میں عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے زیر اہتمام ختم نبوت
کانفرنس تھی۔ اس موقع پر حضرت الامیر مولانا خواجہ خان محمد صاحب دامت برکاتہم العالیہ‘ مرکزی ناظم اعلیٰ مولانا عزیز الرحمٰن جالندھری اور رئیس المناظرین مولانا اللہ وسایا بھی موجود تھے کہ رابطہ عالم اسلامی کے مندوب حضرت مولانا سید ہدایت اللہ شاہ مدنی نے کوٹلی میں قادیانیوں کی سرگرمیوں، دہشت گردیوں اور شرانگیزیوں سے ان حضرات کو آگاہ کیا تو مرکزی ناظم اعلیٰ نے اسلام آباد کے مبلغ محمد اورنگ زیب اعوان سے فرمایا کہ وہ ہدایت اللہ شاہ مدنی حاجی محمد نواز اور راقم الحروف (منظور احمد شاہ آسی) پر مشتمل ایک وفد لے کر کوٹلی کا دورہ کریں۔ چند روز بعد مولانا سید ہدایت اللہ شاہ مدنی کی قیادت میں چار رکنی وفد کوٹلی کے لیے روانہ ہوا۔
دریائے جہلم۔۔۔۔۔ قدرتی حد فاصل
کہوٹہ سے ہوتے ہوئے ہم دریائے جہلم کے کنارے پہنچے جو آزاد کشمیر اور پاکستان کے درمیان حد فاصل ہے اور سربفلک پہاڑوں کے دامن میں بہہ رہا ہے۔ دریائے جہلم کو عبور کرنے کے بعد ہم آزاد کشمیر میں داخل ہوئے۔ راستے میں بڑے بڑے قصبات، برساتی نالے اور آبشاریں دیکھتے ہوئے دریائے پونچھ کراس کر کے کوٹلی میں داخل ہوئے۔ پہاڑوں کی بلندی سے شہر کا نظارہ انتہائی قابل دید تھا۔ کوٹلی شہر قریباً ٣٥ مربع میل پر پھیلا ہوا ہے جو بالکل ہموار میدان اور چاروں طرف سے بلند و بالا پہاڑوں میں گھرا ہوا قدرت کی صناعی و کاریگری کا منظر پیش کر رہا تھا۔
مفتی عبد الشکور کی مساعی جمیلہ‘ حرکتہ الانصار کے دفتر میں اہم اجلاس
٢٥ جولائی دن گیارہ بجے اسلام آباد سے روانہ ہو کر شام پانچ بجے ہم کوٹلی پہنچے جہاں ہمارے میزبان قابل احترام حضرت مولانا مفتی عبد الشکور ضلع مفتی آزاد کشمیر کوٹلی نے ہمارا خیر مقدم کیا۔ مفتی عبد الشکور خان وفاق المدارس کے فاضل اور انتہائی قابل آدمی ہیں۔ ہمارے پہنچنے کے بعد مفتی صاحب نے تمام احباب سے رابطہ کیا اور حرکتہ الانصار کے دفتر میں رات ٩ بجے اجلاس رکھا۔ اجلاس میں ہم نے پاکستان سے آنے کا مقصد بیان کیا۔ شرکائے کانفرنس نے تفصیل کے ساتھ کوٹلی میں قادیانیوں کی سرگرمیوں اور ان
کے سدباب کے لیے تجاویز دیں۔ فیصلہ ہوا کہ ٢٦ جولائی کو تین بجے آل پارٹیز اجلاس کشمیر ہوٹل میں بلایا جائے۔ چنانچہ اجلاس کی تیاری کے لیے جناب جمیل مغل کی سربراہی میں ایک گروپ تشکیل دیا جس کے ذمہ دعوت نامے تیار کروا کے تمام مسالک اہل حدیث‘ بریلوی اور دیوبندی علماء کرام‘ تاجر‘ وکلاء اور ڈاکٹر حضرات کو دعوت دینا تھا۔
دھنواں
صبح سویرے ہم مفتی عبد الشکور صاحب کی قیادت میں ”دھنواں“ گئے۔ وہاں متعدد احباب سے ملاقاتیں کیں۔ حضرت امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ کے دور کے بزرگ اور شاہ جی کے رضا کار صوفی بشیر احمد کی زیارت کی۔ فاروقیہ مسجد دھنواں میں بیانات ہوئے اور عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کا لٹریچر تقسیم کیا۔
بیٹا مسلمان------ باپ قادیانیوں کا مربی
اسی گاؤں میں ایک سینئر ٹیچر چودھری محمد حنیف بھی ہیں۔ ان کا والد قادیانیوں کا مربی ہے۔ فرعون کے گھر موسیٰ والی بات ہوئی کہ چودھری محمد حنیف نے اسلام قبول کر لیا۔ قبول اسلام کے بعد پورے ملک سے نہیں بلکہ افریقہ سے ذمہ دار قادیانی ان کے پاس آئے اور انہیں مجبور کرتے رہے کہ وہ دوبارہ معاذ اللہ قادیانیت قبول کر لیں۔ لیکن ان کا ایک ہی جواب تھا کہ میں مرزائیت پر لعنت بھیج چکا ہوں لہٰذا مجھ سے مرزائیت کے عنوان پر کوئی گفتگو نہ کریں۔
رندھیری چرناڑی اور گوٹی میں امتناع قادیانیت آرڈیننس کی خلاف
ورزیاں
وہیں ہمیں پتہ چلا کہ رندھیری چرناڑی اور گوٹی میں قادیانی مراکز قائم ہیں جہاں باقاعدہ اذان و بیان کے لیے لاؤڈ سپیکر استعمال ہوتا ہے اور جمعہ کے دن ”قادیانی حوریں“ بھی آکر نماز باجماعت ادا کرتی ہیں۔
تتہ پانی کی خصوصیات و صفات
دھنواں جاتے ہوئے راستے میں ایک جگہ ”تتہ پانی“ ہے جو اسم بامسمی ہے۔ وہاں ایک چشمہ ہے۔ سردی جتنی شدید ہوگی‘ پانی اتنا ہی زیادہ گرم ہوگا۔ یہ جلدی امراض کے لیے بہت مفید پانی ہے۔ جس پہاڑ سے یہ نکل رہا ہے‘ اس میں قدرتی معدنیات‘ گندھک اور نوشادر وغیرہ بھی ہیں۔ چشمے کا پانی اتنا گرم ہے کہ اگر اس میں انڈہ ڈالا جائے تو وہ ابل پڑے۔ دور دور سے لوگ نہانے اور یہ پانی لے جانے کے لیے یہاں آتے ہیں۔ یہاں آکر نہانے یا پانی لے جانے والے اکثر جوڑوں کے درد یا خارش کے مریض ہوتے ہیں۔ تتہ پانی میں قادیانیوں کا ایک عبادت خانہ اور مسلمانوں کی صرف ایک مسجد ہے۔
کشمیر ویلی ہوٹل میں اجلاس --- صدارت: مولانا بشیر احمد
دھنواں اور تتہ پانی سے واپس آکر کشمیر ویلی ہوٹل پہنچے جہاں دیوبندی‘ بریلوی‘ اہلحدیث علماء‘ تاجر‘ وکلاء‘ ڈاکٹرز اور اساتذہ کا مشترکہ اجلاس تھا۔ اجلاس کی صدارت مولانا بشیر احمد نے فرمائی۔ سٹیج سیکرٹری نے وفد کی آمد کا مقصد بیان کیا اور مقامی حضرات سے تجاویز طلب کیں کہ کس انداز سے اور کس نہج پر یہاں کام کیا جائے۔ تمام حاضرین نے قیمتی تجاویز سے نوازا اور پر زور مطالبہ کیا کہ یہاں پر مستقل کام کے لیے ایک مبلغ کا ہونا اشد ضروری ہے جو یہاں رہ کر ہمہ وقت تردید مرزائیت اور ناموس رسالت مآب ﷺ کے تحفظ کا کام کرے۔ تمام تجاویز سننے کے بعد راقم الحروف نے تفصیل کے ساتھ قادیانیوں کے عقائد و عزائم بے نقاب کیے۔ جبکہ اورنگ زیب اعوان نے اندرون و بیرون ملک مجلس تحفظ ختم نبوت کی خدمات تفصیل سے پیش کیں۔ حاضرین مجلس نے اس بات کا عزم کیا کہ اب انشاء اللہ کوٹلی کی سرزمین مرزائیت کے لیے تنگ کر دی جائے گی۔
تھوڑی دیر حرکتہ الانصار کے کیمپ میں
اجلاس کے اختتام پر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کا وفد مفتی عبدالشکور خان کی قیادت میں حرکت الانصار کے تربیتی کیمپ میں گیا جہاں حرکتہ الانصار کے مجاہدین نے وفد کا
شاندار استقبال کیا۔ کیمپ میں راقم الحروف نے عظمت و فضیلت جہاد کے عنوان پر بیان کیا۔ رات قیام کیمپ میں ہی رہا۔ اگلے دن صبح سویرے راقم اور سید ہدایت اللہ شاہ صاحب واپس اسلام آباد آگئے جبکہ محمد اورنگ زیب اعوان وہیں رہے۔
علماء سے انفرادی ملاقاتیں
٢٧ جولائی کو انہوں نے مسجد خلفاء راشدین کے خطیب مولانا عبدالرشید‘ شاہی مسجد کے خطیب مولانا محمد اسلم نقشبندی‘ بلیاہ مسجد کے خطیب مولانا محبوب احمد رضوی سے ملاقاتیں کیں اور جماعت کا لٹریچر ان کی خدمت میں پیش کیا۔ تمام حضرات نے ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کرائی۔
ڈپٹی کمشنر کوٹلی سے ملاقات
اس کے بعد ضلع مفتی مولانا عبدالشکور خان کی ہمراہی میں محمد اورنگ زیب اعوان اور جناب جمیل مغل نے ڈپٹی کمشنر کوٹلی سے ملاقات کی۔ جماعت کی کتب کا سیٹ پیش کیا۔ کوٹلی میں قادیانیوں کی دہشت گردی و بربریت کے واقعات سے آگاہ کیا تو ڈپٹی کمشنر نے وفد کو ہر ممکن تعاون کا یقین دلایا اور کوٹلی میں قادیانیوں کو نکیل ڈالنے کا وعدہ کیا۔ ٢٨ جولائی کو انہوں نے محمد اسلم اور لیاقت حسین کی معیت میں سندھارا کا سفر اختیار کیا۔ راستہ میں تھوڑی دیر قادیانیوں کے گڑھ گوٹی میں قیام کیا۔ گوٹی میں قادیانیوں کے تین عبادت خانے ہیں۔ اذان بیان کے لیے لاؤڈ سپیکر آزادانہ استعمال ہوتا ہے۔ گوٹی میں قاری عبید الرحمن اور ماسٹر عبد الخالق سے قادیانیوں کی سرگرمیوں کے بارے میں تبادلہ خیال ہوا۔ گوٹی سے سندھارا کا سفر انتہائی کٹھن اور دشوار گزار ہے۔ مغرب کے وقت یہ وفد سندھارا پہنچا۔ جہاں خطیب سندھارا مولانا لال حسین‘ محمد یوسف اور ڈاکٹر محمد فاروق نے وفد کا خیر مقدم کیا۔ سندھارا میں اکثریت مسلمانوں کی ہے۔ گاؤں میں دو ڈاکٹر مرزائی ہیں۔ ڈاکٹر عبدالحنان اور ڈاکٹر محمد اسلم۔ عدم معلومات کی بناء پر اکثریت مرزائی نوازوں کی ہے۔
مولانا لال حسین کے شاگردوں نے صبح سویرے پہلا کام یہ کیا کہ پورے
علاقے میں گھر گھر جاکر جماعت کا لٹریچر پہنچایا۔ کوئی دکان اور مکان ایسا نہ تھا جہاں جماعت کا پیغام نہ پہنچا ہو۔ ہر دکان اور مکان پر اسٹیکر لگا دیے گئے جس سے مرزائی و مرزائی نواز بوکھلا اٹھے۔ جمعہ کے موقع پر رد قادیانیت کے موضوع پر تقریر کا پہلے ہی اعلان ہو چکا تھا۔ گرد و نواح کے دیہات میں بھی اعلانات ہو گئے۔ ڈاکٹر عبد المنان جو کہ قادیانیوں کا مربی بھی ہے اور ربوہ بھی رہ چکا ہے‘ اس نے لوگوں سے کہا کہ نماز جمعہ کے بعد مولوی صاحب سے مناظرہ کروں گا۔ نماز جمعہ کے اجتماع میں قرب و جوار سے بھی کافی لوگ آئے ہوئے تھے۔ فوجی بھی تھے‘ مسجد کھچا کھچ بھری ہوئی تھی۔ اورنگ زیب اعوان نے جمعہ کے اجتماع میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ قادیانیوں سے ہماری لڑائی دین کی وجہ سے ہے‘ ذاتی نہیں۔ کیونکہ قادیانیوں نے حضور نبی کریم ﷺ کے بعد ایک ایسے شخص کو مسند نبوت پر بٹھایا جسے ایک شریف انسان کہنا شرافت کی توہین ہے۔ انہوں نے تفصیل کے ساتھ عقیدہ ختم نبوت کی اہمیت اور فضیلت بیان کی۔ جب انہوں نے فتنہ قادیانیت کا پوسٹ مارٹم کیا تو لوگوں کی آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گئیں۔ انہوں نے ڈاکٹر عبد المنان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ:
تو تیر آزما ہم جگر آزمائیں
جس موضوع پر تیرا دل کرتا ہے‘ آ بحث کر۔ لیکن اتنا یاد رکھنا کہ بنیادی نقطہ‘ سارے اختلاف کی وجہ‘ ساری لڑائی کی بنیاد صرف اور صرف مرزا غلام احمد قادیانی کی ذات ہے۔ اگر تو مرزا قادیانی کو ایک شریف آدمی ثابت کر دے تو میں لکھ کر دینے کو تیار ہوں کہ آئندہ کبھی مرزائیت کے خلاف گفتگو نہیں کروں گا۔ محمد اورنگ زیب اعوان نے کہا کہ میں جانتا ہوں کہ ڈاکٹر عبد المنان مرنا قبول کرلے گا لیکن سید عطاء اللہ شاہ بخاری کے رضا کار کا سامنا کرنے کی جرات نہیں کرے گا۔ انہوں نے لوگوں سے اپیل کی کہ صرف نبی کریم ﷺ کی عزت و ناموس کی تحفظ کی خاطر ایک پلیٹ فارم پر اکٹھے ہو کر فتنہ قادیانیت کا تعاقب کریں۔ نبی رحمت ﷺ کی عزت و ناموس کا سپاہی ہونا اتنا بڑا اعزاز ہے کہ دنیا جہاں کا کوئی اعزاز اس کا مقابلہ نہیں کر سکتا۔
اہل سندھار کا عہد ۔۔۔ قادیانیوں کا بائیکاٹ
آخر میں انہوں نے اہل سندھار سے یہ عہد لیا کہ وہ قادیانیوں کا مکمل بائیکاٹ کریں گے۔ اس پر حاضرین نے ہاتھ اٹھا کر عہد کیا کہ ہم آئندہ قادیانی ڈاکٹروں سے علاج کروائیں گے نہ ہی ان سے کوئی لین دین رکھیں گے۔ نماز جمعہ کے بعد سے لے کر عصر تک قادیانی مربی کا انتظار کیا گیا لیکن اس نے آنا تھا نہ آیا۔ نماز عصر کے بعد محمد اورنگ زیب اعوان نے باقاعدہ مجلس تحفظ ختم نبوت کی شاخ وہاں قائم کی۔ سب نے اس عزم کا اظہار کیا کہ اب ہم انشاء اللہ قادیانیوں کو نیست و نابود کر کے ہی دم لیں گے۔
مغرب کے بعد پھارہ گلی‘ اگلے دن کمران گلی اور کھٹار میں بیانات ہوئے۔ جب کہ کینٹ روڈ‘ رہڑی جندوٹ اور گنگوٹ کا دورہ بھی کیا۔ یہ تمام علاقے بارڈر لائن کے ساتھ ساتھ واقع ہیں اور اکثریت وہاں قادیانیوں کی ہے جو بڑے بڑے عہدوں پر براجمان ہیں۔ قادیانیوں کا ان علاقوں میں بڑا اثر و رسوخ ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ٹھوس اور مستقل بنیادوں پر وہاں کام کا آغاز کیا جائے۔ لوگوں کے دلوں میں غیرت و حمیت کی چنگاری موجود ہے۔ اسے صرف ذرا ہوا دینے کی ضرورت ہے۔ ضلع کوٹلی کے علماء کرام اور عوام کا مشترکہ مطالبہ ہے کہ ضلع کوٹلی‘ جہاں قادیانیوں کے بارہ مراکز کام کر رہے ہیں‘ وہاں ان کے مقابلہ میں کم از کم مجلس تحفظ ختم نبوت کا بھی ایک مستقل مبلغ اور دفتر قائم ہونا چاہیے تاکہ قادیانیوں کی سرگرمیوں کا سد باب ہو سکے۔
(ہفت روزہ ”لولاک“ فیصل آباد‘ جلد ٣١‘ شمارہ ٩)
میں نے قادیانی جگری دوست کو چھوڑ دیا
مرزائیت کے بارے میں‘ میں بچپن سے ہی کچھ نہیں جانتا تھا۔ صرف اتنا معلوم تھا کہ جس شخص نے نبوت کا دعویٰ کیا تھا وہ انتہائی غلاظت میں مرا تھا۔ اس سے زیادہ مجھے کچھ بھی علم نہیں تھا۔ شاید اس کی بنیادی وجہ یہ تھی کہ آج تک کبھی بھی ایسا موقع نہیں آیا تھا جس کی وجہ سے مجھے مرزائیت کے بارے میں جاننے کا شوق پیدا ہوا ہو۔
میٹرک کا امتحان میں نے بہت ہی اچھے نمبروں سے پاس کیا اور مجھے لاہور کے ایک اچھے کالج میں ایف۔ایس سی میں داخلہ مل گیا۔ ہمارے محلے میں ایک گھر ایسا تھا جس کا ابھی صرف ڈھانچہ کھڑا ہوا تھا۔ اس گھر میں اب چند لوگ آگئے تھے۔ بشیر نامی لڑکا بھی وہاں رہتا تھا۔ بشیر سے میری ملاقات کافی مرتبہ ہوئی تھی لیکن وہ محلے میں بہت کم آتا تھا۔ کیونکہ اس کا باپ واپڈا میں ایس ڈی او تھا اور اس کا تبادلہ شاہ کوٹ ہو گیا تھا۔ میٹرک کا امتحان پاس کرنے کے بعد وہ لوگ بھی لاہور ہی شفٹ ہو گئے تھے۔ اتفاق سے وہ اور میں ایک ہی سیکشن میں کالج میں داخل ہو گئے۔ اب ہم دونوں اکٹھے کالج جاتے تھے اور کالج کے اوقات میں بھی ہر وقت اکٹھے رہتے تھے۔ سب سے بڑی وجہ یہ تھی کہ ہم دونوں کی سوچ یکساں تھی۔ ہمارے مشاغل بالکل ایک جیسے تھے۔ میری ہر بات پر وہ لبیک کہتا تھا اور اس کی ہر بات پر میں لبیک کہتا تھا۔ کالج کے اوقات میں جس طرف بھی جانا چاہتا‘ وہ بھی خوشی سے اس طرف ہی چل پڑتا تھا۔ میں جب بھی یہ کہتا کہ یار بشیر آج پیریڈ پڑھنے کو دل نہیں کر رہا ہے‘ وہ بھی میری ہاں میں ہاں ملاتا اور جب بھی وہ مجھ سے کہتا کہ یار تنویر آج میرا فزکس کا پیریڈ پڑھنے کو دل نہیں کر رہا ہے تو میں اس کی ہاں میں ہاں ملاتا تھا۔ فارغ وقت میں ہم کالج سے باہر آکر اکثر نان چنے کھایا کرتے تھے۔ ایک اہم بات جس کا میں یہاں ذکر کرنا ضروری سمجھتا ہوں یہ کہ میں پانچ وقت کا نمازی تھا اور نماز باقاعدگی سے ادا کرتا تھا۔ میں چونکہ بشیر کے گھر کے سامنے سے گزر کر مسجد جاتا تھا‘ اس لیے میں اکثر اس کو نماز پڑھنے کو کہتا لیکن اس نے کبھی بھی اس پر آمادگی کا اظہار نہ کیا۔ میں نے اس طرف کوئی خاص توجہ نہ دی۔ کیونکہ اکثر مسلمان بھی سال میں ایک دو دفعہ ہی مسجد جانے کی زحمت گوارا کرتے ہیں۔
وقت اسی طرح گزرتا چلا گیا اور جوں جوں وقت گزرتا چلا گیا‘ ہم ایک دوسرے کے زیادہ قریب ہوتے گئے۔ ایک اور اہم بات یہ ہے کہ اس کے گھر والے محلے میں بہت کم لوگوں سے ملتے تھے۔ بلکہ یوں کہنا چاہیے کہ وہ کسی سے ملتے ہی نہیں تھے اور نہ ہی بشیر کبھی محلے میں دوسرے لڑکوں سے ملتا اور نہ ہی کبھی وہ عام لڑکوں کے ساتھ کوئی گیم وغیرہ کھیلتا تھا۔ میں نے کئی بار اس سے اس مسئلے پر بات کی مگر وہ کہتا تھا کہ میری عادت ہی ایسی ہے۔
ابھی ہمیں کالج جاتے ہوئے دو ماہ ہی ہوئے تھے کہ ہم ایک دوسرے کے بہت قریب آگئے۔ وہ مجھے پیار سے جگر کہتا تھا اور میں اسے پیار سے بشی کہتا۔ وہ مجھ سے کبھی بھی ناراض نہیں ہوتا تھا اور اگر میں اس سے کبھی ناراض ہو بھی جاتا تو وہ میرے ہاتھ پاؤں پکڑ لیتا تھا۔ ہم دونوں کے تعلقات اتنی مضبوط بنیادوں پر استوار ہونے کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ:
ہم ایک ہی جگہ پر رہتے تھے۔ ہم ایک ہی کالج میں پڑھتے تھے۔ ایک ہی سیکشن میں پڑھتے تھے۔ ہمارے رولنمبر بھی بالکل آگے پیچھے تھے۔ ہمارے نظریات ملتے تھے۔ ہمارے خیالات بالکل ایک جیسے تھے۔ ہماری سوچ بالکل یکساں تھی۔ ہماری پسند بالکل ایک تھی۔
یہ وہ تمام وجوہات تھیں جس نے ایک مضبوط دوستی کو جنم دیا تھا۔ ہماری دوستی ایک مثالی دوستی تھی۔ اس گہری دوستی کے باوجود ایک دن میں پارک میں بشیر سے باتیں کر رہا تھا۔ میں نے بشیر سے پوچھا یار بشیر تم مرزائی تو نہیں؟
بشیر نے اپنی بات جاری رکھی اور میری طرف کوئی توجہ نہ دی۔ جیسے ہی بشیر نے اپنی بات ختم کی‘ میں نے پھر انتہائی سنجیدگی اور مذاق کے موڈ میں اپنا سوال دہرایا۔
بشیر نے چند لمحوں کے لیے کچھ سوچا پھر انتہائی گھبراہٹ اور پریشانی کے عالم میں جواب دیا ‘ ہاں یار کچھ ایسا ہی چکر ہے۔
مگر وہ اس انداز سے بولا جیسے وہ کچھ بتانا نہیں چاہتا۔
کیسا چکر ؟ میں نے پھر پوچھا۔
بشیر : چھوڑو یار پھر کسی وقت بتا دوں گا۔
یار بتا تو سہی۔
بشیر : ہمارے خاندان میں چند لوگ قادیانی ہیں اور چند مسلمان۔ اس طرح
ایک گھپلا سا ہوا ہے۔ مسلمان اور احمدی کے درمیان۔
لیکن تیرے ابو کس مذہب سے تعلق رکھتے ہیں؟
بشیر: ”ہاں وہ احمدی ہیں“۔
اف میرے خدا یعنی تم ایک قادیانی خاندان سے تعلق رکھتے ہو۔
بشیر نے اثبات میں سر ہلا دیا۔
مجھے ایسا معلوم ہوا جیسے میرے قدموں تلے سے زمین نکل گئی۔ میرا وجود کانپ اٹھا۔ میرا ضمیر مجھے ملامت کر رہا تھا۔
میرے جسم کا ہر حصہ خوف سے کانپ رہا تھا۔ میں مذہب کے بارے میں بہت سی معلومات رکھتا تھا۔ مجھے اس بات کا ہرگز علم نہیں تھا کہ قادیانی کتنا گندہ فرقہ ہے مجھے جتنی بھی معلومات تھیں‘ وہ سب کی سب دیوبند‘ اہل حدیث‘ بریلوی اور شیعہ فرقوں کے متعلق تھیں۔ اور میں جانتا تھا کہ ان میں کون کون سا فرقہ قرآن وحدیث پر چلتا ہے۔ کیونکہ اس پر میں نے اپنا کافی وقت صرف کیا ہوا تھا۔
میں نے بشیر سے مزید پوچھا کہ تمہارا سارا خاندان ہی مرزائی ہے؟
بشیر: ہمارے خاندان میں چند لوگ مسلمان ہیں اور چند مرزائی ہیں۔ میرے ابو بھی پہلے مسلمان تھے۔ ابھی ٢٠ سال ہی گزرے ہیں ان کو مرزائی ہوئے یعنی انہوں نے اپنا مذہب تبدیل کر لیا ہے۔
بشیر: ہاں لیکن میں نے ابھی تک اس فیصلہ کو قبول نہیں کیا اور جب میں لٹریچر کا مطالعہ کروں گا تو اس بارے میں سوچوں گا۔ بشیر نے سفید جھوٹ بولا۔
بکواس مت کرو۔ میں نے پہلی مرتبہ سخت لہجہ اپنایا۔
بشیر: یار مجھے ذرا ایک ضروری کام ہے۔ میں تجھ سے پھر بات کروں گا۔ میں نے اس کو بہت روکا مگر وہ چلا گیا۔
اس کے چلے جانے کے بعد میں حیرانگی کے سمندر میں ڈوب گیا۔ میں بہت پریشان ہو گیا۔
میرا دماغ‘ میرا وجود اس چیز کو تسلیم نہیں کر رہا تھا کہ بشیر جو میرے انتہائی قریب تھا وہ مرزائی ہو گا۔ جیسا کہ میں پہلے بتا چکا ہوں کہ مجھے مرزائیت کے بارے میں کچھ
زیادہ علم نہ تھا۔ میں تو صرف یہ جانتا تھا کہ مرزا کی موت غلاظت میں ہوئی۔ اگر مجھے یہ معلوم ہوتا کہ مرزا نے ہمارے مقدس انبیاء اور دوسرے عظیم لوگوں کے متعلق کیا کیا بکواس کی ہے تو میں شاید کبھی اس کے منہ پر تھوکنا بھی پسند نہ کرتا۔
اس کے بعد میں نے پھر اس موضوع پر بات کی۔ بشیر نے مجھ سے کہا:
دیکھ دوست آج ٢٠ مارچ ہے۔ آج سے ٹھیک ایک ماہ بعد ہمارا امتحان ہے۔ تو امتحان ہونے دے۔ اس کے بعد ہم روز اس موضوع پر تبادلہ خیال کریں گے۔
خیر امتحان بھی ہو گئے۔ میں نے اپنے محلے کی مسجد سے ہفت روزہ ختم نبوت حاصل کیا۔
ہفت روزہ ختم نبوت کے بعض اقتباسات پڑھے جو کہ مرزا کی کتاب سے لیے گئے تھے۔ اس سے مجھے بہت حیرانگی ہوئی کہ اتنی غلاظت کے باوجود مرزائی مسلمان کیوں نہیں ہوتے۔ میں نے بشیر کو ان کے عقائد بتانا شروع کیے۔ دراصل بشیر مرزائیت کے متعلق کچھ بھی نہیں جانتا تھا۔ اس کو یہ بھی معلوم نہ تھا کہ مرزا نے مسیح موعود ہونے کا دعویٰ بھی کیا ہے۔ اس نے آج تک مرزائیت کے بارے میں کچھ بھی نہیں پڑھا تھا۔ اور نہ ہی وہ اپنی کسی کتاب کا نام جانتا تھا۔ وہ صرف جمعہ کو اپنی عبادت گاہ میں جاتا تھا اور بعض دفعہ تو کئی کئی جمعوں پر اپنی عبادت گاہ نہیں جاتا تھا۔ میں نے اس سے جتنی بھی اس موضوع پر بات کی تھی‘ اس سے میں نے ایک نتیجہ نکالا کہ بشیر صرف اس لیے قادیانی ہے کیونکہ وہ قادیانیوں کے گھر پیدا ہوا تھا اور میرا خیال تھا کہ میں اگر اس مسئلہ پر توجہ دوں تو عین ممکن ہے کہ وہ مرزائیت سے تائب ہو جائے۔ میں نہیں جانتا تھا کہ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے نام سے کوئی تنظیم بھی ہے جو ان کے خلاف کام کر رہی ہے۔ خیر میں ہفت روزہ ختم نبوت میں سے مجلس تحفظ ختم نبوت لاہور کا پتہ لے کر آفس گیا اور وہاں سے لٹریچر لے کر آیا۔ جب میں نے یہ لٹریچر پڑھا تو حیران رہ گیا کہ ان کی کتابوں میں اتنی غلاظت ہے۔ میں نے دن رات ایک کر دی۔ جب تک امتحان نہیں ہوا تھا تو بشیر کا رویہ بہت مثبت تھا اور اس نے یہ ظاہر کیا جیسے وہ اپنا مذہب تبدیل کر دے گا۔ لیکن یہ میری خوش فہمی تھی۔
کبھی وہ کہتا تھا کہ آج تک جتنے بھی لوگوں نے ہمارے ساتھ برا سلوک کیا ہے‘ ان کا حال اچھا نہیں ہوا۔ بھٹو نے ہمیں کافر قرار دیا‘ اس کو پھانسی ہوئی۔ صدر ضیاء
اہل حق نے ہمارے اوپر پابندی لگائی تو وہ جل کر مرا۔ کبھی کہتا کہ اگر تم اتنے غلیظ ہوتے تو اتنے امیر نہ ہوتے۔ میں اس کے تمام سوالات کا جواب دیتا تھا۔ میں نے مجلس تحفظ ختم نبوت (ملتان آفس) خط لکھا اور اس سے اپنی تسلی کے لیے چند نکات کی وضاحت چاہی۔ انہوں نے میرے سوالات کا جواب دیا اور کتابوں کی ایک فہرست میری طرف ارسال کی۔ اس سے میری معلومات میں مزید اضافہ ہوا۔ خیر یہ سلسلہ دو ماہ تک جاری رہا لیکن بشیر نہ مانا اور میں نے فیصلہ کر لیا کہ اگر یہ نہیں مان رہا تو نہ مانے، اب میں اس کی شکل بھی دیکھنا پسند نہیں کروں گا۔
ایک روز بشیر نے مجھ سے کہا یار تنویر مان لیا کہ تم لوگ سچے ہو اور ہم جھوٹے ہیں۔ میں تمہیں گالیاں تو نہیں دیتا۔ کیا ایسا نہیں ہو سکتا کہ ہم پھر اسی طرح دوبارہ ملا کریں۔ ہم مذہب پر بات نہ کیا کریں۔ آخر تم عیسائی، سکھ، ہندو اور دوسرے غیر مذاہب کے لوگوں سے باتیں بھی کرتے ہو۔ ان سب سے السلام علیکم بھی کہتے ہو۔ آخر ہم نے کون سا ایسا قصور کیا ہے کہ جو تم ہم سے بات کرنا بھی پسند نہیں کرتے۔ آخر اب مجھ سے اتنی نفرت کیوں کرتا ہے۔ ہم نے تمہارا کیا بگاڑا ہے؟ کیا قصور کیا ہے میں نے۔ میں تجھے یہ بھی اجازت دیتا ہوں کہ تو مجھے برا بھلا کہہ لیا کر۔ میں نے اس کو کھری بات بتائی۔ اس نے کہا چل ٹھیک ہے۔ تو مجھے ایک سکھ ہی سمجھ کر بات کر لیا کر۔ لیکن میں نے اسے دو ٹوک الفاظ میں بتا دیا کہ اب تیرا اور میرا گزارہ ممکن نہیں ہے۔
میں نے اس کا مکمل بائیکاٹ کر دیا۔ ایک ماہ اسی طرح گزر گیا۔ وہ لوگ بہت ڈر گئے کہ کہیں سارا محلہ ہی ان کا بائیکاٹ نہ کردے۔ اس کی والدہ نے مجھے بہت سمجھایا کہ بیٹا مولوی تو یونہی بکواس کرتے رہتے ہیں۔ تم اس موضوع پر بات ہی نہ کیا کرو۔ میں نے ان کو جواب دیا کہ "اگر آپ کا بیٹا ایک کتا ہوتا تو میں اس سے دوستی کر لیتا"۔
لیکن اقادیانی تو کتے سے بھی بدتر ہیں۔
انہوں نے مجھے بہت مجبور کیا لیکن میں نے ان سے مکمل بائیکاٹ کر دیا۔
وہی بشیر جس کو دیکھ کر میرے دل میں خوشیاں بھر جاتی تھیں، جو میرے لیے سب سے عزیز تھا، جس کے ساتھ ہوتے ہوئے میں فخر محسوس کرتا تھا، آج میں اس سے شدید نفرت کرتا ہوں۔ میں یہ نہیں جانتا تھا کہ کتنے برے شخص کے ساتھ اپنا وقت برباد کر رہا
ہوں۔ جس سے ملتے ہی میں خوشی سے باغ باغ ہو جاتا تھا‘ اب میں اس کی طرف تھوکنا بھی پسند نہیں کرتا۔ آج میں اس سے سب سے زیادہ نفرت کرتا ہوں۔
میں ہر مسلمان سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ مرزائیوں کا اگر مکمل بائیکاٹ کریں گے تو یہ اپنی موت آپ ہی مرجائیں گے۔ میں یہ بات دعویٰ سے کہتا ہوں کہ اگر ایسا ہو جائے تو یہ خود بخود مرزا طاہر کی طرح پاکستان سے بھاگ جائیں گے۔
از قلم: تنویر احمد‘ ہفت روزہ ”ختم نبوت“ کراچی
مولانا محمد ابراہیم ہزاروی کا تحریک ختم نبوت کا ایمان افروز واقعہ
تحریک ختم نبوت کے حوالے سے ایک واقعہ جو میں نے اپنے محلے کے ایک ضعیف آدمی سے سنا‘ وہ بیان کرتا ہے کہ تحریک ختم نبوت زوروں پر تھی اور میں بڑا عیاش طبع آدمی تھا۔ عید کی نماز کے سوا کبھی مسجد میں گیا بھی نہیں۔ جمعہ کا دن تھا اور حضرت کی مسجد کو پولیس نے گھیرے میں لے لیا ہوا تھا۔ بعد نماز جمعہ جلوس کا پروگرام تھا۔ زبردست پہرہ اور ممانعت تھی۔ بقول اس شخص کے ‘ ہم چند دوست سڑک پر کھڑے نظارہ دیکھ رہے تھے اور کہہ رہے تھے کہ مولوی کا دماغ خراب ہو گیا ہے۔ بے مقصد اپنے آپ کو موت میں ڈالتا ہے۔ وہ شخص کہتا ہے کہ مولانا نے اس جذبے اور ولولے سے نعرۂ تکبیر بلند کیا کہ ہمارے دل دہل گئے اور اس کے بعد مولانا نے بڑی حسرت‘ تڑپ اور جذبے سے ہماری طرف دیکھا اور صرف ایک جملہ کہا۔ بس اس جملے کا سننا تھا کہ اندر ایک تلاطم بپا ہو گیا۔ جذبات کا ایک طوفان امڈ آیا۔ آنسوؤں کا ایک سیلاب تھا جو تھمنے کا نام نہیں لیتا تھا۔ ندامت کا وہ احساس تھا جو زندہ دفن کیا جاتا تھا اور وہ جملہ یہ تھا ”یارو محمد رسول اللہ ﷺ صرف میرے آقا و مولیٰ تو نہیں۔ کل حشر میں تم کیا منہ دکھاؤ گے“ بقول اس شخص کے‘ بس پھر کیا تھا۔ ہم سب ساتھی نعرۂ تکبیر بلند کرتے ہوئے پولیس کا گھیرا توڑتے ہوئے‘ لاٹھیوں پر لاٹھیاں کھاتے مولانا کی قیادت میں آگے ہی آگے بڑھ رہے تھے۔ بقول شاعر۔
سجدہ خدا کو کرتے ہیں خنجر کی دھار پر
بہر حال یہ تو ایک چھوٹا سا واقعہ تھا۔ حضرت کا موت سے بے خوفی' بہادری' جرات اور اخلاص ایمان کا۔ ان کی پوری زندگی اس طرح کے واقعات سے پر ہے۔ جس کے لیے کوئی الگ مستقل موضوع درکار ہے۔ بہرحال بقول احسان دانش۔
جس کو ہوئی نصیب اطاعت حضور کی
دانش میں خوف مرگ سے مطلق ہوں بے نیاز
میں جانتا ہوں موت ہے سنت حضور کی
(ہفت روزہ ”ختم نبوت“ جلد ١٢ شمارہ ٢٤)
ایک قادیانی گستاخ رسول کی عبرتناک موت
بیل گاڑی نے اسے سیدھا جہنم پہنچادیا
صوبہ سندھ میں ”وارہ“ نامی ایک شہر ہے۔ اس کے قریب ایک گاؤں ”انور آباد“ کے نام سے واقع ہے۔ اس گاؤں میں فتنہ قادیانیت کے جراثیم وہاں کے چوڑوں کی بد قسمتی سے ایک شخص ملا عبدالرؤف ابڑو نے پھیلائے۔ سب سے پہلے یہ شخص مرتد ہوا اور اس نے دولت کے لالچ میں قادیانیوں کے ہاتھ اپنا ایمان بیچ دیا اور ساتھ ہی قصبہ مذکورہ میں ارتداد و زندیقیت کا بیج بھی بو دیا۔ شاعر نے ایک بڑا خوبصورت شعر کہا ہے۔
ڈر اس کی دیر گیری سے کہ ہے سخت انتقام اس کا
اللہ تعالیٰ کے ہاں دیر ضرور ہو سکتی ہے لیکن اس کی پکڑ بڑی سخت ہے۔ ایسے واقعات گمراہوں کی عبرت کے لیے اللہ تعالیٰ ظاہر فرماتے ہیں تاکہ وہ عبرت حاصل کر کے سچائی کو قبول کر لیں اور گمراہی و ارتداد کے گہرے گڑھے سے نکل جائیں۔ قصبہ انور آباد کے پہلے مرتد ملا عبدالرؤف ابڑو کے ساتھ بھی ایسا عبرت ناک واقعہ پیش آیا جو وہاں کے ہی نہیں بلکہ تمام قادیانیوں کے لیے سامان عبرت ہے۔
کہتے ہیں کہ مذکورہ قادیانی ایک بیل گاڑی پر جارہا تھا کہ گاڑی کے بیل کا رسہ پہیہ میں پھنس گیا۔ وہی رسہ اچھل کر عبدالرؤف قادیانی کی گردن میں پھانسی کے پھندے کی طرح پھنس گیا۔ بیل چل رہا تھا، پہیہ گھوم رہا تھا۔ جوں جوں پہیہ گھومتا گیا، پھندہ سخت ہوتا گیا۔ یہاں تک کہ اس کی حالت غیر ہو گئی۔ اس نے بیل کو روکنے کی بہت کوشش کی لیکن ناکام رہا۔ آخر وقت میں وہ اس قابل بھی نہ رہا کہ بیل کو روک سکے۔ بالآخر وہ پھندہ اس کے لیے پھانسی کا پھندہ بن گیا۔ وہ نیچے گرا اور گاڑی کے پہئے کے نیچے آگیا اور یوں انور آباد میں قادیانیت کے گندے جراثیم پھیلانے والا یہ قادیانی گستاخ رسول ایک بیل کے ذریعے جہنم رسید ہو گیا۔
فاعتبروا یا اولی الابصار
وہاں ایک اور شخص عبدالحکیم نامی ایک ماسٹر قادیانی تھا جسے ایک رات چوروں نے اتنا مارا کہ وہ براستہ ربوہ سیدھا جہنم میں جا پہنچا۔ اس گستاخ رسول کی لاش نے ایسی بدبو پھیلائی کہ قادیانیوں نے قیمتی عطر اور سینٹ وغیرہ چھڑک کر بدبو اور تعفن کو دبانے کی بہت کوشش کی لیکن تمام کوششیں ناکام ثابت ہوئیں۔ تابوت میں بند کرنے کے بعد بھی یوں محسوس ہو رہا تھا کہ لاش نہیں بلکہ غلاظت بھری ہوئی ہے۔ تابوت سے گندہ ریشہ بھی نکل رہا تھا۔ اسی حالت میں اسے ربوہ لے گئے اور اسے قادیانی مرگھٹ میں دبا دیا گیا۔
قادیانیو! سوچو! سوچو! اور عبرت حاصل کر کے راہ ہدایت پر آجاؤ۔
(ہفت روزہ ”ختم نبوت“ جلد ٩، شمارہ ٢٦)
جب ائیر مارشل ظفر چودھری قادیانی فوج کا سربراہ تھا
مدیر محترم----- آج میں آپ کی خدمت میں ایک اہم واقعہ گوش گزار کرنا چاہتا ہوں۔ یہ واقعہ ٧٤ء کا ہے جبکہ فضائیہ کا سربراہ ائیر مارشل ظفر چودھری تھا۔ میرے ایک بہت ہی قریبی دوست نے مجھے بتایا کہ چند نوجوان فضائیہ میں ٹریننگ حاصل کرنے کے لیے کراچی کورنگی گئے۔ ابھی تھوڑا عرصہ ہوا تھا کہ آرڈر ملا، تم لوگ ہیڈ کوارٹر رپورٹ کرو۔ جب وہ لوگ ہیڈ کوارٹر گئے تو انہیں بتایا گیا کہ تم لوگ ٹریننگ کے معیار پر پورے
نہیں اترے۔ تم نے وہ لوازمات پورے نہیں کیے جو ٹریننگ سے پہلے پورے کیے جاتے ہیں ۔ لہٰذا تم لوگوں کو نوکری سے نکالا جاتا ہے۔ ان نوجوانوں نے بہت سمجھایا کہ ہمیں ٹریننگ سے پہلے ان لوازمات کے بارے میں بالکل نہیں بتایا گیا لیکن ہیڈ کوارٹر کا ذمہ دار کسی بات کو سننے پر تیار نہیں تھا۔ وہ نوجوان چھوٹا سا منہ لے کر باہر نکل آئے۔ جب یہ نوجوان باہر نکلے تو مین گیٹ پر ایک شخص کھڑا تھا۔ اس نے ان نوجوانوں سے کہا کہ یہ فارم پر کردیں اور کراچی جا کر ٹریننگ حاصل کریں۔ ان نوجوانوں نے یہ فارم دیکھا تو پتہ چلا کہ یہ قادیانیت میں شامل ہونے کا "بیعت فارم" ہے اور فارم دینے والا بھی قادیانی ہے۔ نوجوانوں نے فارم لینے اور اسے پر کرنے سے انکار کردیا۔ نوکری چھوڑنا گوارا کرلیا۔ یوں یہ لوگ قادیانیت سے بچ گئے۔ خیر یہ تو وہ لوگ تھے جو قادیانیوں کے ہاتھ نہ پھنسے۔ نہ معلوم اور کتنے لوگ ایسے ہوں گے جنہوں نے قادیانیت کو اختیار کر لیا ہوگا۔
(ایک واقف کار‘ لاہور)
نوٹ : اس واقعہ کی تصدیق یا تکذیب ہم نہیں کر سکتے۔ اتنا ضروری ہے کہ حکومت کے کلیدی عہدوں پر فائز قادیانی پہلے اپنے مشن کی تبلیغ کرتے ہیں بعد میں وہ سرکاری کام کرتے ہیں۔ (ادارہ)
(ہفت روزہ "ختم نبوت" جلد ٨‘ شمارہ ٣٨)
مولانا محمد شریف جالندھری
مشہور مسلم لیگی رہنما چودھری ظہور الٰہی (گجرات) کو جب قتل کیا گیا تو مولانا مرحوم نے چودھری صاحب کے صاحبزادے چودھری شجاعت حسین کو تعزیت کا خط لکھا۔ جس پر ١٥ اکتوبر ١٩٨١ء کی تاریخ درج ہے۔ مولانا نے لکھا ”بندہ مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان کا جنرل سیکرٹری ہے۔ چودھری صاحب مرحوم ١٩٧٤ء کی تحریک ختم نبوت کے ہیرو تھے۔ لاہور مجلس عمل تحفظ ختم نبوت پاکستان کی میٹنگ شیرانوالہ گیٹ میں حضرت مولانا محمد یوسف بنوریؒ کی صدارت میں ہو رہی تھی کہ اطلاع ملی‘ کھاریاں سے آگے ڈوگہ نامی گاؤں میں شریف چیمہ ایس پی گجرات نے مرزائیوں کی حمایت میں گولی چلا کر دو مسلمانوں کو
شہید کر دیا ہے۔ چودھری صاحب نے فرمایا کہ بہت سی باتیں غلط اڑ جاتی ہیں۔ اس واقعہ کی وہاں جا کر مکمل تحقیق کرنی چاہیے۔ بندہ تب مرکزی مجلس عمل کا نائب ناظم اعلیٰ تھا۔ ہاؤس میں چودھری صاحب کے جواب میں خاموشی رہی۔ کسی نے مثبت جواب نہ دیا۔ بندہ نے اٹھ کر کہا کہ میں صبح کی نماز کے بعد خود جا کر تحقیق کر آؤں گا۔ چودھری صاحب نے کہا کہ آپ نے وہ علاقہ دیکھا ہے، میں نے نفی میں جواب دیا۔ فرمایا کہ آپ یہ کام نہ کر سکیں گے۔ پہاڑی علاقہ ہے اور راستے دشوار گزار ہیں۔ اس پر نواب زادہ نصر اللہ خان نے جواب دیا کہ اگر یہ نہیں جاسکتے تو پھر اس ہاؤس میں سے کوئی نہیں جاسکتا۔ فیصلہ ہوا کہ میں جاؤں اور پرسوں سرگودھا مجلس عمل کے اجلاس میں مکمل رپورٹ پیش کروں۔ بندہ نے صبح کی نماز کھاریاں پڑھی اور جمعہ ڈوگہ نامی گاؤں میں ادا کیا۔ یہی گاؤں تھا جہاں قادیانیوں کو خوش کرنے کے لیے پولیس نے خونریزی کی تھی۔ دو آدمی شریف چیمہ کی گولی سے شہید ہوئے۔ دونوں نوجوان تھے۔ ایک کے ورثاء میں اس کی بیوہ اور بہن اور دوسرے کے ورثاء میں اس کی بیوہ اور تین بچے تھے۔ چودھری صاحب نے اعلان کیا کہ جس شہید کے دو ورثاء تھے، انہیں دو صد روپیہ تا دم زیست ادا کرتا رہوں گا اور جس کے چار ورثاء تھے، انہیں تین صد روپیہ۔ گزشتہ برس جب گورنمنٹ نے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں اضافہ کیا تو چودھری صاحب نے ان کا وظیفہ دو چند کر دیا۔
(ہفت روزہ ”ختم نبوت“ کراچی، جلد ٤، شمارہ ٤٢)
حضرت مولانا قاضی احسان احمد شجاع آبادیؒ نے ایک جلسہ میں تقریر کرتے ہوئے فرمایا:
جہاں تک ختم نبوت کا تعلق ہے ہم صرف نبوت ہی کو ختم نہیں مانتے بلکہ اس کے ساتھ اور بہت سی چیزوں کو ختم مانتے ہیں۔۔۔۔۔ دیکھو کیا ارشاد ہوتا ہے:
قل اعوذ برب الناس
ترجمہ: ”کہہ میں پناہ میں آتا ہوں نسل انسانی کے رب کی“
شہر رمضان الذی انزل فیہ القرآن ھدی للناس ترجمہ: ”رمضان کا مہینہ جس میں اتارا گیا قرآن نسل انسانی کے لیے ہدایت ہے“
ان اول بیت وضع للناس ترجمہ: ”بے شک پہلا گھر (خانہ کعبہ ہے) جو بنایا گیا نسل انسانی کے لیے“
کنتم خیر امہ اخرجت للناس ترجمہ: ”تم خیر امت ہو نکالی گئی نسل انسانی کے لیے“
ان آیات میں بتایا گیا ہے کہ اب ہمارا:
رب رب الناس کتاب ھدی للناس قبلہ بیت وضع للناس امت اخرجت للناس یعنی ہمارا رب تمام انسانیت کا رب‘ ہماری کتاب تمام انسانیت کے لیے موجب ہدایت‘ ہمارا کعبہ تمام انسانیت کے لیے جائے مرکزیت اور ہم انسانیت کے لیے امت خیر۔
نسل انسانی کے لیے رب اکبر کے سوا اور کوئی رب نہیں۔ کعبہ کے سوا اور کوئی مرکز نہیں۔ قرآن کے سوا اور کوئی قانون نہیں اور محمدؐ عربی کے سوا اور کوئی نبی نہیں۔ ربوبیت رب پر ختم ہے۔ کتب قرآن پر ختم ہیں‘ امتیں اسلام پر ختم ہیں اور نبوت محمدؐ عربی پر ختم۔۔۔۔۔ رب اکبر کے سوا اور کوئی رب نہیں ہو سکتا۔ کعبہ کے بعد کوئی گھر نہیں ہو سکتا تو محمدؐ کے بعد اور کوئی نبی بھی نہیں ہو سکتا۔ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم
(ماہنامہ ”صوت الاسلام“ فیصل آباد‘ جلد ١٠‘ شمارہ ١٢)
تحریک ختم نبوت کے لشکر کا حدی خواں مولانا تاج محمود
جن لوگوں کا نام تحریک ختم نبوت کی تاریخ کے اس دور میں سرفہرست آئے گا‘ ان میں ایک متحرک شخص مولانا تاج محمود بھی ہیں۔ مولانا پہلے دن سے تحریک ختم نبوت کے شیدائی اور فدائی ہیں۔ آپ نے ہوش سنبھالتے ہی اپنے تئیں احرار سے وابستہ کر لیا۔ ابتداء اس کی دوسری صف کے رہنما تھے لیکن جلد ہی صف اول میں آگئے۔ احرار کے محاذ
میں ختم نبوت کی سپاہ کے ہر اول دستہ کا ایک سالار تھے۔ اس محاذ پر اتنے عظیم کارنامے سر انجام دیئے کہ اس مسئلہ میں جدوجہد کی طویل تاریخ ان کے جذبہ و استقلال کی شکرگزار ہے۔ سید عطاء اللہ شاہ بخاری انہیں معنوی اولاد گردانتے۔ مولانا محمد علی جالندھری بھائی کہتے اور قاضی احسان احمد شجاع آبادی ان پر جان چھڑکتے تھے۔ فرماتے! جب تک تاج محمود اور ان جیسے مخلصین ہماری صف میں ہیں تحریک ختم نبوت کا شعلہ گل نہ ہو گا۔ یہ چراغ روشن رہے گا اور ایک دن آئے گا‘ ممکن ہے ہم نہ ہوں‘ لیکن تاج محمود کامرانی کی صبح ضرور دیکھیں گے۔
لائل پور ختم نبوت کے عشاق کا سب سے بڑا معسکر تھا۔ ١٩٥٣ء کے بعد یہ محاذ ناقابل تسخیر ہو گیا۔ مولانا تاج محمود وہاں ریلوے کی جامع مسجد کے خطیب ہیں۔ وہ محض ملائے مکتبی نہیں اور نہ ان کے چہرے پر منبر و محراب کی شکنیں ہیں اور نہ لب و لہجہ میں دستار و عبا کی یبوست ہے۔ وہ ایک باغ و بہار انسان ہیں۔ علم دین کی منزل کو پہنچ کر انہوں نے فارسی و اردو کے علم و ادب کی وادیاں قطع کیں اور علوم شرقیہ کا مدرسہ قائم کر کے ہر سال بیسیوں طلبہ کو پڑھاتے رہے۔ اپنے رب کے سوا کسی انجمن یا ادارے کے محتاج نہیں۔ قدرت نے انہیں فیاض ہاتھ‘ سخی دل اور روشن دماغ دیا ہے۔ وہ دامن کو اجلا رکھتے اور دوسروں کی مدد کرنا اپنے ایمان کا جزو لاینفک سمجھتے ہیں۔ ان کی بدولت بیسیوں نوجوان تعلیم و تدریس کی منزلیں گزار کر کہیں سے کہیں جاپہنچے۔ حتیٰ کہ بڑے بڑے عہدوں پر فائز ہو گئے۔ وہ ایک ہاتھ سے دیتے تو دوسرے کو خبر نہیں ہونے دیتے۔ مہمان نوازی ان کی فطرت ثانیہ ہے۔ ان کا دروازہ و دل ہمیشہ کھلے رہتے ہیں۔ غمگسار کیا ہوتا ہے؟ اس کے معانی کا مجسمہ ان کا وجود ہے۔
١٩٥٣ء کی تحریک ختم نبوت جو مارشل لاء کی بھینٹ چڑھ کر شہید ہو گئی‘ لائل پور میں ان کے دم قدم سے چلی۔ حکومت نے بڑی تگ و دو کے بعد آپ کو گرفتار کیا۔ لاہور کے شاہی قلعہ میں لایا گیا۔ اس بوچڑ خانہ میں پولیس کے بعض افسروں نے آپ پر ستم توڑنے کی انتہا کر دی۔ لیکن اس مرد خدا نے ہر صعوبت‘ ہر تشدد اور ہر اذیت کو خندہ پیشانی سے جھیلا۔ اف تک نہ کی۔ اپنی استقامت سے قرن اول کی یاد تازہ کر دی کہ رسول اللہ کے عشاق کفار مکہ کے ظلم سہتے اور حضورؐ کے عشق میں قربان ہوتے تھے۔ سید اعجاز
حسین شاہ اس زمانہ میں سی آئی ڈی کے ڈی ایس پی اور قلعہ کے انچارج تھے۔ انہوں نے خود راقم الحروف سے ذکر کیا کہ:
”تاج محمود قرون اولیٰ کے فدایان رسول کی بے نظیر تصویر ہے۔ وہ پولیس کے ہر وار پر درود پڑھتا اور عشق رسالت میں ڈوب جاتا ہے“۔
شاہ جی رحلت کر گئے تو ختم نبوت کی تحریک کے لیے ایک جانگسل موڑ تھا۔ قاضی احسان احمد داغ مفارقت دے گئے تو ایک زبردست خلا پیدا ہو کر میدان سونا ہو گیا۔ مولانا محمد علی جالندھری اٹھ گئے تو اس صدمہ جانکاہ سے پورا قافلہ نڈھال ہو گیا۔ مولانا لال حسین اختر واصل بحق ہو گئے تو ایک ویرانہ پیدا ہو گیا۔ انہیں شدید صدمہ تھا کہ ان کے ساتھی اور بزرگ ایک ایک کر کے چلے گئے۔ لیکن وہ عشق رسالت کی جوت جگا کر اس قافلہ کی نئی پود فراہم کرتے رہے۔ انہوں نے اخباروں کو اس مسئلہ میں مہر بلب پایا تو خود ہفتہ وار ”لولاک“ نکالا۔ اور قادیانی امت کے ربوہ ایڈیشن کا اس شدومد سے محاسبہ شروع کیا کہ روز بروز ان کے خفیہ اوراق کھلتے گئے اور اس کی اندرونی پخت و پز بے نقاب ہونے لگی۔ خط و خال سامنے آگئے۔ تاج محمود کا سب سے بڑا کارنامہ یہ تھا کہ اس نے خلافت ربوہ کے حصار میں اپنے رفیق پیدا کر لیے۔ وہ انہیں اندرون خانہ کی خبریں لا کر دیتے۔ تاج محمود انکشاف عام کرتے۔ اس طرح حکومت کے ایوانوں نے محسوس کرنا شروع کیا کہ قادیانی مسلمانوں کا مذہبی فرقہ نہیں بلکہ ایک سیاسی سازش ہے جو استعمار کی معرفت مسلمانوں کی وحدت کو پاش پاش کرنے کے لیے پروان چڑھی ہے اور اب اپنے اقتدار کے لیے پاکستان میں بقول شورش کاشمیری عجمی اسرائیل قائم کرنا چاہتی ہے۔ تاج محمود نے مجلس ختم نبوت کے شہ دماغ کی حیثیت میں قادیانی امت کا احتساب جاری رکھا۔ لوگ انہیں دیوانہ سمجھتے رہے لیکن دیوانہ اپنے مشن میں ہوشیار تھا۔
تاج محمود کی ناقابل تسخیر جرات کا یہ حال رہا کہ وہ تسلسل سے ختم نبوت کانفرنسیں کرتے رہے۔ ان نوجوانوں کی ہمت بڑھائی جو ربوہ سے پٹ کے نڈھال ہوئے اور اپنے تئیں موت کے منہ میں محسوس کرتے تھے۔ اس دوران میں مولانا تاج محمود کے عشق ختم المرسلینی کا سب سے بڑا کارنامہ یہ تھا کہ انہوں نے مسئلہ کو ٹھنڈا نہ ہونے دیا۔ صحرا
میں اکیلے ہی اذان دیتے رہے۔ حتی کہ ایک ایسا قافلہ پیدا ہو گیا جس نے ربوہ کو لرزہ بر اندام کیا۔ اور سیاسی مصلحتوں کے خرمن کو آگ لگا کر دین کے لالہ زار میں بہار بے خزاں کی رونق پیدا کر دی۔ حتی کہ ہم کامیابی کی اس منزل پر آگئے کہ آج ہمارے خوابوں کی تعبیر ہمارے ہاتھ میں ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ہمارے عزائم کو فتح مند کر دیا ہے۔
نشتر میڈیکل کالج کے طلبہ سے ربوہ سٹیشن پر جو سلوک ہوا، وہ مولانا تاج محمود کی دھن سے لائل پور کے ریلوے اسٹیشن سے اٹھ کر ایک نئی لہر کے ساتھ تحریک بن گیا۔ اس تحریک نے بال و پر پیدا کیے۔ تمام جماعتوں کے دینی اتحاد کی راہیں کھلیں۔ مجلس عمل قائم ہوئی، حتی کہ شبانہ روز مساعی سے ایک ایسا ولولہ پیدا ہو گیا جس کا مسخر کیا جانا ناممکن تھا۔ حقیقت یہ ہے کہ نشتر میڈیکل کالج کے طلبہ پر جو بیتی، اس کو تحریک بنا دینے کی پہلی آواز مولانا تاج محمود تھے۔ ایک پودا جو نوے برس سے سینچا جا رہا تھا، اس نے پھول اور پھل پیدا کیے تو اس کے نگہداروں کی سعادت جن لوگوں کو حاصل ہوئی، تاج محمود ان کے سرخیل ہیں۔ تاج محمود مرزائیت کا انسائیکلو پیڈیا ہیں۔ ان کی معلومات سے خود حکومت کی پریشانیاں فائدہ اٹھاتی رہی ہیں۔ وہ ایک مایہ ناز خطیب اور خوش نگار ادیب ہیں۔ قدرت نے انہیں علم و نظر کی وسعتیں دے کر تحریک ختم نبوت کا مایہ ناز ہیرو بنا دیا ہے۔ تاج محمود زندہ باد۔
(ہفت روزہ "چٹان" جلد ٢٧ شمارہ ٣٦، از قلم شورش کاشمیری)
شاہ جی کی نکتہ آفرینی
آپ نے سورۂ فاتحہ کی تفسیر کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ میرا موضوع ہے عصمت انبیاء اور میں سورۂ فاتحہ کی آخری آیات کی روشنی میں اسے بیان کرنا چاہتا ہوں۔ جہاں فرمایا گیا ہے کہ اے اللہ ہمیں چلا سیدھی راہ پر۔ ان مقتدر ہستیوں کی راہ پر جن پر ہمیشہ تیرا انعام و اکرام ہوتا رہا۔ جن پر کبھی تیرا غضب نازل نہیں ہوا اور جو کبھی بھی راہ راست سے نہیں بھٹکے۔ یہ صاف اور واضح طور پر انبیاء کرام کے متعلق ہے جن کے لیے معصومیت لازمی شرط ہے۔ نبی کے لیے معصوم ہونا لازمی ہے۔ اور نبی کے علاوہ اور کوئی شخص معصوم نہیں ہو سکتا۔ لیکن پنجاب میں بھی ایک نبوت پیدا ہوئی۔ میں تو حیران ہوں کہ
آج نبوتیں اس طرح جنم لے رہی ہیں جیسے موسم برسات میں کیڑے اور پھر قادیانی خدا کی بدتمیزی ملاحظہ ہو کہ قلم کو سیاہی لگا کر سیاہی کے دھبے اپنے ”پیارے“ نبی کی شلوار پر گرا دے۔ بتائیے! کوئی برے سے برا منشی بھی ایسا مکروہ عمل نہیں کرتا۔ لیکن کیا کیا جائے نبوت ہی ایسی ہے۔
مسلمانو ! آج میں کھل کر ایک بات کہتا ہوں ۔ بلکہ ایک قدم آگے بڑھ کر کہتا ہوں کہ اللہ کی ربوبیت اسی وقت تک قائم ہے جب تک محمد کی نبوت قائم ہے۔ کیونکہ محمدؐ کی نبوت کی ابدیت ہی اللہ کی ربوبیت کی مظہر ہے۔ ہم میں سے کس نے خدا کو دیکھا ہے؟ ہم کیسے یقین کرتے ہیں کہ ایسی بھی کوئی ہستی ہے جسے خدا کہتے ہیں ۔ ہاں! ہم نے محمد رسول اللہ ﷺ کو دیکھا ہے جنہوں نے ہمیں بتایا کہ خدا بھی ہے۔ ہمیں تو اعتماد ہے اس بلند شخصیت پر ۔ بھائی! اعتماد کی ہی تو ساری بات ہے۔ اگر اعتماد نہ ہو تو سارا کھیل ہی چوپٹ ہے۔
(ہفت روزہ ”لولاک“ فیصل آباد‘ جلد ١٩‘ شمارہ ١٢)
آہ! مولانا عبدالواحد
اب انہیں ڈھونڈ چراغ رخ زیبا لے کر
مولانا عبدالواحد مرحوم مجاہد فی سبیل اللہ مرد درویش تھے۔ جن کی ساری زندگی اسلام کی سربلندی‘ ملک کی آزادی اور پاکستان میں اسلامی نظام کے نفاذ کے سلسلہ میں جدوجہد کرتے ہوئے گزری۔
تحریک ختم نبوت ١٩٥٣ء‘ تحریک ختم نبوت ١٩٧٤ء‘ تحریک نظام مصطفیٰ ١٩٧٧ء میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ قیدوبند کی مصیبتیں جھیلیں۔
١٩٥٣ء میں تحریک ختم نبوت کے دوران انہیں رات کے وقت گھر سے اچانک گرفتار کر کے لاہور شاہی قلعہ میں پہنچا دیا گیا۔ راقم الحروف کو بھی آپ سے چند دن بعد فیصل آباد سے گرفتار ہو کر شاہی قلعہ میں پہنچا دیا گیا۔ شاہی قلعہ میں ہم جتنے لوگ پہنچائے گئے تھے‘ انہیں الگ الگ کمروں میں رکھا گیا تھا۔ مولانا بھی الگ ہی ایک کمرے میں
بند تھے۔ جب قلعہ میں ختم نبوت کے سرفروشوں کا اجتماع زیادہ ہو گیا تو ایک کمرے میں دو دو ختم نبوت کے رہنماؤں کو بند کیا گیا۔ مجھے دو دن اور دو راتیں حضرت مولانا عبدالواحد صاحب رحمتہ اللہ علیہ کے ساتھ رہنے کا اتفاق ہوا۔ ان سے مختلف مسائل پر تبادلہ خیالات ہوا اور ان کی عبادت کا ذوق‘ شب بیداری کی کیفیت اور ان کا درویشانہ انداز بھی دیکھا۔ بخدا وہ ایک مجاہد فی سبیل اللہ اور باخدا درویش تھے۔ جن میں علمائے سلف کی تمام صفات پائی جاتی تھیں اور اس پر طرہ یہ کہ کوئی نمود و نمائش نہیں۔ سادگی اور کسر نفسی انتہا درجہ کی اختیار کیے ہوئے بزرگ تھے۔
(ہفت روزہ ”لولاک“ جلد ١٩‘ شمارہ ٣١)
قائد تحریک ختم نبوت حضرت مولانا خان محمد صاحب کا انٹرویو
مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان کے مرکزی امیر اور تحریک تحفظ ختم نبوت کے روح رواں شیخ المشائخ حضرت مولانا خان محمد صاحب‘ بہاول پور میں آنکھوں کے آپریشن کے سلسلے میں تشریف لائے تو بعض مقامی صحافیوں نے اس خواہش کا اظہار کیا کہ حالات حاضرہ پر حضرت والا سے ایک انٹرویو ریکارڈ ہو جائے۔ ہفت روزہ ”تکبیر“ کراچی کے نمائندہ خصوصی برائے بہاول پور جناب شوکت ماموں اور راقم الحروف حضرت والا کی قیام گاہ پر پہنچے اور عرض مدعا کیا۔ حضرت والا نے شفقت فرماتے ہوئے صبح کی نماز کے بعد کا وقت دیا تو اگلی صبح جناب شوکت ماموں اور محمد اسماعیل شجاع آبادی قیام گاہ پر پہنچے اور حضرت والا نے گفتگو کا آغاز ہوا۔ اکثر سوالات نمائندہ تکبیر نے کیے۔
سوال: مولانا! آپ اپنی جائے پیدائش، ابتدائی تعلیم اور تعلیم سے فراغت کے بعد اس منصب پر آپ کی زندگی کا سفر کیسے شروع ہوا۔ ذرا وضاحت فرمائیں۔
جواب: ضلع میانوالی‘ کندیاں شریف کے قریب دریائے سندھ کے کنارے پر ایک قصبہ ”بکھڑہ“ نامی قصبہ تھا۔ جو بعد میں دریا برد ہوا تو اس قصبہ کے لوگوں نے مختلف بستیاں آباد کیں۔ اور کچھ لوگ تھل کے علاقہ میں جا بسے۔ ان بستیوں میں سے ایک بستی ڈنگ کے نام سے معروف ہوئی‘ جو میری جائے پیدائش ہے۔ تقریباً ١٩٢٤ء میں میری پیدائش ہوئی اور بستی کے پرائمری سکول سے پرائمری کیا اور قریبی قصبہ ”کھولا“ میں چھٹی
جماعت پڑھی ۔ ہمارے خاندانی بزرگوں میں سے حضرت مولانا احمد خاں صاحبؒ نے اپنی آبائی زمین میں ایک بستی قائم کی جس کا نام ”خانقاہ سراجیہ“ رکھا ۔ حضرت نے میرے والدین سے میری تعلیم کے لیے مجھے لے لیا ۔ میں نے قرآن مجید اور فارسی کی ابتدائی کتابیں خانقاہ ہی میں پڑھیں ۔ صرف و نحو ”بھیرہ“ کی شاہی مسجد (جسے شیر شاہ سوریؒ نے بنایا تھا) میں واقع دارالعلوم عزیزیہ جسے مولانا احمد صاحب بگویؒ نے بنایا تھا‘ پڑھیں ۔
حضرت نے مجھے وہاں بھیجا اور وہیں ہدایہ اخیرین تک کتابیں پڑھیں ۔ اس دوران حضرت مولانا ظہور احمد صاحب بگویؒ کا انتقال ہو گیا تو میرے پیر و مرشد حضرت مولانا محمد عبداللہ صاحبؒ نے ١٩٤٣ء‘ ١٩٤٤ء میں مجھے دارالعلوم دیوبند بھیج دیا ۔ کچھ ساتھیوں کی وجہ سے ہم ڈابھیل چلے گئے ۔ وہاں موقوف علیہ حضرت مولانا بدر عالم میرٹھیؒ‘ مولانا محمد یوسف بنوریؒ‘ مولانا عبدالرحمٰن امروہی سے پڑھیں ۔
دوسرے سال دورہ کے لیے دارالعلوم دیوبند بھیج دیا ۔ ان دنوں حضرت مدنیؒ جو کہ شیخ الحدیث تھے‘ تین سال کے لیے نظر بند کر دیے گئے تو بخاری‘ ترمذی شیخ الادب مولانا اعزاز علیؒ سے پڑھیں ۔ دیوبند سے واپسی کے بعد حضرت نے مجھے لنگر کی خدمت سپرد کر دی ۔ تقریباً ١٣ سال مسلسل حضرتؒ کی خدمت میں رہا ۔ حضرتؒ کی رحلت کے بعد متعلقین نے متفقہ طور پر مجھے ان کی جانشینی کے لیے نامزد کیا ۔ ہمارے مشائخ حضرت مولانا احمد خاںؒ‘ مولانا محمد عبداللہ صاحبؒ ملکی حالات سے دلچسپی تو رکھتے تھے لیکن عملی کام نہیں کرتے تھے ۔ ١٩٥٣ء کی تحریک ختم نبوت کے بعد انکوائری کمیشن جسٹس منیر کی سربراہی میں مقرر ہوا تو لاہور میں حضرتؒ کے مرید حکیم عبدالمجید صاحب سیفی کے مکان پر رہائش رکھی ۔۔۔۔۔ اور انکوائری کی پیروی کی ۔
گرفتاری
اسی تحریک ختم نبوت میں حضرتؒ نے فرمایا کہ یا تو میں گرفتاری پیش کروں یا آپ (یعنی مولانا خاں محمد) تو میں نے گرفتاری پیش کی اور پانچ ماہ بیس دن تک لاہور کی جیلوں میں رہا ۔ مجلس تحفظ ختم نبوت میں شمولیت ١٩٧٣ء میں جب حضرت مولانا محمد یوسف بنوریؒ جماعت کے امیر بنے تو انہوں نے مجھے از خود نائب امیر مقرر کر دیا اور اس کی اطلاع مولوی
اللہ وسایا صاحب مبلغ ربوہ نے حضرت کے مکتوب گرامی سے دی۔ مجھے تعجب اور حیرانی ہوئی کہ میں تو اس میدان کا آدمی نہیں لیکن مشفق استاد کے حکم سے انکار مناسب نہ سمجھا۔ حضرت کے امیر منتخب ہونے کے تھوڑے عرصہ بعد تحریک ١٩٧٤ء شروع ہوئی (جو کہ بحمد اللہ کامیابی سے ہمکنار ہوئی) دریں اثناء حضرت بنوریؒ کی رحلت ہو گئی تو نائب امیر ہونے کی حیثیت سے مجھے خود بخود جماعت کی نگرانی سنبھالنی پڑی۔
مجلس تحفظ ختم نبوت کی امارت
تقریباً ٦ ماہ کے بعد اجلاس ہوا جس میں، میں شریک نہ ہوا۔ اور ایک عریضہ کے ذریعہ معذرت پیش کی لیکن احباب جماعت نے چنیوٹ کانفرنس کے موقع پر مجھے امیر منتخب کر لیا جو تاہنوز چلا آ رہا ہے۔
سوال: آپ کو کچھ یاد ہے کہ آپ مجلس کے ممبر کب بنے؟
جواب: یوں تو تمام مسلمان ہی اس جماعت کے ممبر ہیں۔ میں جماعت کا باقاعدہ ممبر نہیں تھا۔ حضرت بنوریؒ نے ہی مجھے نائب امیر نامزد کر دیا جس کی اطلاع حضرت کے گرامی نامہ سے ہوئی۔
سوال: آپ کا تعلق جمعیت علماء اسلام سے بھی رہا ہے۔
جواب: جمعیت علماء اسلام سے تعلق بحیثیت ممبر تو عرصہ سے چلتا آیا ہے جو کہ ۔۔۔۔۔ مولانا غلام غوث ہزارویؒ کی وجہ سے قائم ہوا۔ اس وقت جمعیت کی باگ ڈور حضرت مولانا مفتی محمد شفیعؒ، مولانا احتشام الحق تھانویؒ کے ہاتھوں میں تھی۔ بعد ازاں حضرت لاہوریؒ کی صدارت میں ملتان میں جمعیت کا کنونشن ہوا تو حضرت مولانا محمد عبد اللہ صاحب کو دعوت دی گئی تو حضرت والا نے مولانا قاضی شمس الدین (درویش) ہری پور ہزارہ، مفتی عطا محمد ڈیرہ اسماعیل خان کو بھیجا جو شرکت کے بعد واپس چلے گئے۔
اسی کنونشن میں جمعیت کی جدید تشکیل ہوئی جس میں حضرت مولانا احمد علی لاہوریؒ کو امیر اور مولانا غلام غوث ہزاروی کو ناظم اعلیٰ منتخب کیا گیا۔ مولانا ہزارویؒ کا تعلق چونکہ خانقاہ شریف سے تھا۔ ان کی ترغیب سے میں بھی کبھی کبھی اجلاسوں میں شریک ہو جایا کرتا۔ حضرت لاہوریؒ کے انتقال کے بعد جب حضرت درخواستی مدظلہ العالی امیر
منتخب ہوئے تو مولانا نے مجھے شوریٰ کا ممبر نامزد کر دیا جو کہ اب تک چلا آ رہا ہے۔
سوال: جب سے آپ مجلس سے وابستہ ہوئے تو آپ کی کتنی مرتبہ گرفتاری ہوئی؟
جواب: صرف ١٩٨٣ء میں ١٥‘ ٢٠ دن تک گرفتار رہا۔ بعد ازاں اسلام آباد میں مرزا ناصر کی موت کے دنوں میں مرزا ناصر کی کوٹھی کے بالمقابل ایک مسجد میں جلسہ منعقد ہوا جس کی صدارت میں نے کی۔ اس جلسہ کے دوران مرزا ناصر کو دل کا دورہ ہوا تو پولیس والے کچھ آدمیوں کو تھانے لے گئے جن میں میں بھی شامل تھا۔ رات تھانہ میں گزاری‘ صبح کو مجھے بغیر ضمانت رہا کر دیا گیا۔۔۔۔۔ جبکہ میرے رفقاء (مولانا عبد الشکور دین پوری) مولانا قاری محمد امین‘ راولپنڈی‘ مولانا نور محمد اسلام آبادی کو ضمانت پر رہا کر دیا گیا۔
سوال: نبی کریم ﷺ کی رحلت کے بعد مختلف آدمیوں نے مختلف اوقات میں نبوت کا دعویٰ کیا۔ ان میں سے کئی ایک کو قتل کیا گیا‘ کئی ایک مرگئے۔ لیکن پاکستان کے مخصوص حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے آپ نے قادیانیوں کی ریشہ دوانیوں کے لیے کیا لائحہ عمل مرتب کیا ہے؟ ذرا وضاحت فرمادیں۔
جواب: مسئلہ ختم نبوت بنیادی عقیدہ کی حیثیت رکھتا ہے جو کہ امت کی وحدت کے لیے اشد ضروری ہے۔ اس وقت پوری دنیا میں مسلمان ایک ارب کے قریب ہیں جو عقیدہ ختم نبوت کی برکت سے ملت واحدہ کہلاتی ہے۔ اگر اس میں کچھ نرمی و ترمیم کی جائے تو وحدت ملت باقی نہیں رہتی۔ یہی وجہ ہے کہ ہندوستان اور پوری دنیا میں مرزا قادیانی سے قبل کسی مدعی نبوت کو برداشت نہیں کیا گیا۔ یہ ہماری بدقسمتی ہے کہ انگریز سامراج نے اپنے مفادات کے لیے مرزا قادیانی کو استعمال کیا۔ اسی وقت سے علماء حق کا قافلہ اس کے خلاف جہاد کرتا چلا آیا۔ جس کی برکت سے انہیں غیر مسلم اقلیت قرار دیا گیا۔ پاکستان بنتے وقت انگریز نے اپنے مخصوص مفادات کی خاطر ظفراللہ خاں کو وزیر خارجہ بنوایا۔ قائد اعظم نے لارڈ ماؤنٹ بیٹن سے کہا کہ ہم ظفراللہ خاں کا وزیر خارجہ ہونا پسند نہیں کرتے تو اس نے جواب دیا کہ پھر پاکستان بھی نہیں بنے گا۔۔۔۔۔ اس لیے مجبوراً اسے برداشت کرنا پڑا۔
سوال: پاکستان اسلام کے لیے معرض وجود میں آیا۔ تھانے سے لے کر سپریم کورٹ تک تمام ادارے بھی مسلمانوں کے ہیں۔ تمام مسلمان عقیدہ ختم نبوت پر یقین
رکھتے ہیں۔ اس کے باوجود تحریک ختم نبوت کے قائدین کو کن دشواریوں کا سامنا کرنا پڑا؟
جواب: سب سے بڑی دشواری مسلمانوں کا انگریزی ذہن ہے۔ چونکہ مرزائی انگریز کا خود کاشتہ پودا ہیں، اس لیے انگریز نے انہیں بڑے بڑے عہدوں پر فائز کیا تو انگریزی ذہن ہمارے لیے دشواری کا باعث بنا۔
سوال: تحریک ختم نبوت کے لیے قیام پاکستان سے لے کر اب تک کتنے لوگ گرفتار ہوئے اور کتنوں نے جام شہادت نوش کیا؟ ان کا صحیح اندازہ ہو تو بتائیں۔
جواب: قیام پاکستان کے بعد جب بھی مرزائیوں کے خلاف کوئی تحریک چلی تو ان کی جارحانہ سرگرمیوں کی وجہ سے اٹھی۔ چنانچہ مرزا بشیر الدین محمود نے ١٩٥٢ء میں اعلان کیا کہ ١٩٥٢ء گزرنے نہ پائے کہ کم از کم بلوچستان کو ہم مرزائی صوبہ بنالیں۔ یہ آج بھی اخبارات کی فائلوں میں محفوظ ہے۔ چنانچہ امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ نے اعلان فرمایا کہ ١٩٥٢ء مرزا محمود کا ہے تو ٥٣ء ہمارا ہے۔
ظفر اللہ خان وزیر خارجہ تھا۔ اس نے کراچی میں ایک تقریر کرنے کی کوشش کی۔ مسلمانوں نے احتجاج کیا۔ وزیر اعظم خواجہ ناظم الدین کے روکنے کے باوجود نہ رکا تو تحریک چلی۔ مشہور ہے کہ مارشل لاء کی وجہ سے دس ہزار مسلمان شہید ہوئے۔ ہزاروں کی تعداد میں گرفتاریاں عمل میں آئیں۔ اگر کوئی مقرر اپنی تقریر میں مرزا قادیانی کو کافر کہتا تو اس کے خلاف مقدمہ قائم ہو جاتا۔ بے شمار مسلمانوں کے خلاف مقدمات ہوئے۔
تحریک ختم نبوت ١٩٧٤ء بھی ان کی جارحانہ سرگرمیوں کی وجہ سے شروع ہوئی۔ ہوا یوں کہ نشتر میڈیکل کالج ملتان کے کچھ طالب علم پشاور کے ٹور کے لیے چناب ایکسپریس پر جب ربوہ سے گزرے تو انہوں نے چند نعرے لگائے۔ واپسی پر ریلوے کے عملہ سے ملی بھگت کے ساتھ تین گھنٹہ تک مرزائی غنڈوں نے طلباء پر تشدد کیا جس کے رد عمل میں تحریک چلی۔ بالآخر پاکستان قومی اسمبلی نے آئین میں وہ شق منظور کرلی جس کی وجہ سے یہ آئینی طور پر کافر قرار دیے گئے لیکن انہوں نے اس آئینی ترمیم کو تسلیم نہیں کیا۔ یہی وجہ ہے کہ حالیہ مردم شماری میں، انہوں نے اپنے آپ کو مسلمان لکھوایا۔
سوال: تحریک ختم نبوت کی وجہ سے مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کو بھی سزائے
موت دی گئی تو کیا وجہ تھی کہ انہوں نے اس مسئلہ کو اپنے ہاتھ میں نہیں لیا؟
جواب: مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی نے ١٩٥٣ء کی تحریک ختم نبوت کے دوران کتابچہ ”قادیانی مسئلہ“ لکھا۔ اس کے تمام تر حوالہ جات مولانا قاضی احسان احمد شجاع آبادی نے لکھوائے۔ جب عدالت میں بحث ہوئی تو انہوں نے کہا کہ یہ حوالہ جات مجھے قاضی صاحب نے دیے۔ آپ انہی سے رجوع کیجئے، تو قاضی صاحب نے تمام حوالہ جات عدالت میں پیش کیے۔ باقی ان کی اپنی مصلحتیں تھیں۔ انہوں نے اس مسئلہ کو اپنے ہاتھ میں کیوں نہیں لیا۔ میں کچھ نہیں کہہ سکتا۔
سوال: حاضرین میں ایک آدمی نے سوال کیا کہ ایسا بھی ہوا کہ انہوں نے تحریک سے بے وفائی کی ہو اور معافی مانگ لی ہو؟
جواب: مولانا مودودی کے علاوہ مولانا عبدالستار خان نیازی اور مولانا خلیل احمد قادری کو پھانسی کا حکم سنایا گیا اور یہ تینوں حضرات سنٹرل جیل کے احاطہ میں رہتے تھے۔ جب مارشل لاء ختم ہوا اور تمام مقدمات بھی واپس لے لیے گئے تو یہ حضرات باہر آگئے۔
سوال: مذکورہ بالا افراد کا جیل سے رہائی کے بعد اب تک کیا رد عمل رہا؟ کیا تحریک میں شامل ہیں یا نہیں؟
جواب: تحریک ختم نبوت ١٩٧٤ء میں یہ حضرات شریک تھے۔ خوش قسمتی یہ تھی کہ اسمبلی میں ہمارے بعض علماء کرام مثلاً مولانا مفتی محمودؒ، غلام غوث ہزاروی، مولانا عبدالحکیم ہزاروی، مولانا شاہ احمد نورانی اسمبلی کی حزب اختلاف میں تھے۔ اور حزب اختلاف کی تمام جماعتیں بشمول نیپ وغیرہ سب مجلس عمل میں آگئیں۔ ہمیں کسی کے دروازے پر نہیں جانا پڑا۔
مولانا اسلم قریشی کے اغوا کے بعد ٢٧-٢٨ اکتوبر کو ربوہ میں پہلی سالانہ ختم نبوت کانفرنس میں مجلس عمل کی تجویز پیش کی گئی جس کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دی گئی جس میں مولانا محمد شریف جالندھری، مولانا حبیب اللہ فاضل رشیدی اور مولانا علاؤ الدین ڈیرہ اسماعیل خان شامل تھے۔ جس کے ذمہ لگایا گیا کہ یہ مختلف مکاتب فکر کے رہنماؤں سے ملیں۔ ٢٥، ٢٧ نومبر ١٩٨٢ء تبلیغی اجتماع رائے ونڈ سے فراغت کے بعد یہ حضرات لاہور آ کر مختلف حضرات سے ملیں۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا۔ یہ حضرات فراغت کے بعد مولانا
عبد الستار خان نیازی‘ حافظ عبد القادر روپڑی‘ علامہ احسان الٰہی ظہیر‘ علامہ محمود احمد رضوی سے ملے اور جماعت اسلامی کے مرکز منصورہ بھی گئے۔ شیعہ حضرات میں سے کچھ حضرات سے ملے۔
ان ملاقاتوں کے بعد طے پایا کہ لاہور کی سطح پر ایک اجلاس بلایا جائے۔ چنانچہ ١٤ نومبر ٨٣ء کو شیرانوالہ گیٹ میں مختلف مکاتب فکر کا بھرپور نمائندہ اجلاس منعقد ہوا جس میں لاہور کے علاوہ دیگر علاقوں سے بھی کچھ حضرات پہنچ گئے۔ جس میں جمعیت علماء پاکستان کی طرف سے مولانا عبد الستار خان نیازی اور ملک اکبر ساقی کے علاوہ بھی کچھ لوگ شریک ہوئے۔
سوال: اب ذرا مولانا اسلم قریشی کیس کی طرف آئیے کہ آج تک جو موصوف کی بازیابی کے لیے تفتیش وغیرہ ہوئی ہیں آپ اس سے مطمئن ہیں یا نہیں؟
جواب: مولانا اسلم قریشی کیس کے لیے جتنی بھی ٹیمیں بنی ہیں‘ انہوں نے آج تک حب الوطنی اور اخلاص کے جذبہ سے کام نہیں کیا۔ یہی وجہ ہے کہ معاملہ جوں کا توں ہے۔
سوال: اس وقت جو ٹیم مصروف کار ہے‘ اس کے سربراہ کے متعلق یہ افواہ گشت کر رہی ہے کہ اس کا تعلق قادیانی گروہ سے ہے۔ وضاحت فرمائیں؟
جواب: موجودہ تفتیشی ٹیم کا سربراہ میجر مشتاق احمد ڈی آئی جی فیصل آباد ہے جو پہلے گوجرانوالہ کا ڈی آئی جی رہ چکا ہے۔ اگرچہ اس کے خاندان والے اسے مسلمان کہتے ہیں لیکن اس کی کارروائی سے ہم مطمئن نہیں بلکہ اس کی تمام تر ہمدردیاں مرزائیوں کے ساتھ ہیں۔ ہم کئی ایک اجلاسوں میں اس پر عدم اعتماد کا اظہار کر چکے ہیں جو اخبارات میں آ چکی ہیں۔
سوال: قادیانیوں کی اشتعال انگیز سرگرمیوں اور ان کے محتسب اعلیٰ عبد العزیز بھانبڑی (جو کہ ١٩٧٤ء میں ربوہ ریلوے اسٹیشن پر مرزائیوں کی مسلح غنڈہ گردی کی قیادت کر رہا تھا) ان کے جارحانہ عزائم کے انسداد کے لیے حکومت نے کیا نوٹس لیا ہے؟
جواب: میرے خیال میں کوئی نوٹس نہیں لیا گیا۔
سوال: صدارتی آرڈیننس کے نفاذ سے پہلے آپ کی صدر مملکت سے جو ملاقات ہوئی‘ اس میں کون کون سے امور زیر بحث آئے؟
جواب: ہمیں مذاکرات کے لیے نہیں بلایا گیا تھا بلکہ آرڈیننس تیار شدہ موجود تھا۔ اس کے دکھلانے کے لیے کچھ ابتدائی باتیں ہوئیں۔ مولانا اسلم قریشی‘ مرزائیوں کا کلیدی اسامیوں پر فائز ہونا وغیرہ امور پر گفتگو ہو رہی تھی کہ وہ آرڈیننس منگوایا گیا جو کہ انگریزی میں تھا۔ راجہ ظفر الحق نے اس کا اردو ترجمہ پڑھ کر ہمیں سنایا۔ آرڈیننس کے متعلق ہم نے وہیں کہا کہ جو کچھ ہے‘ ٹھیک ہے لیکن ابھی بہت سی باتیں باقی ہیں۔ ہم نے آرڈیننس کو خوش آمدید کہا اور دیگر مطالبات کے تسلیم ہونے تک تحریک باقی اور جاری رکھنے کا اعلان کر دیا۔
سوال: کیا اس آرڈیننس پر سرکاری سطح پر عمل درآمد کرنے کی کوشش کی گئی ہے یا نہیں؟
جواب: پہلے دن کچھ عمل درآمد ہوا۔۔۔۔ جب ہم صدر مملکت سے واپس لوٹے تو وفاقی وزیر اطلاعات راجہ ظفر الحق ساتھ تھے۔ وہ اپنی کوٹھی لے گئے اور انہوں نے ہمارے سامنے ریڈیو اور ٹیلی ویژن والوں کو فون پر اطلاع دی۔ اس وقت رات کے آٹھ بجے تھے۔ ٹی وی والوں نے یہ خبر نشر کر دی۔ اس اعلان کے بعد مرزائیوں نے صبح کی اذانیں اپنی عبادت گاہوں میں نہیں دیں اور اپنی عبادت گاہوں سے ”مسجد“ کا لفظ بھی مٹا دیا۔ بس اس سے آگے کچھ نہیں ہوا۔ جب حکومتی اداروں کو شکایت کی جاتی ہے تو وہ ٹال مٹول سے کام لیتے ہیں۔
سوال: صدارتی آرڈیننس سے مرزائیوں کی سرگرمیاں کس حد تک متاثر ہوئیں؟
جواب: اس سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ اس سے مرزائیوں کی کمر خوب ٹوٹی اور عامۃ الناس میں آرڈیننس کے نفاذ کا اچھا اثر ہوا۔ اور لوگ یہ سمجھے کہ یہ مسلمانوں سے الگ گروہ ہے۔ تبھی تو انہیں اذان و تکبیر سے منع کر دیا گیا ہے۔
سوال: اس آرڈیننس کا ربوہ پر کیا اثر ہوا؟
جواب: اس آرڈیننس کے بعد ربوہ میں اذانیں بند ہو گئیں۔ نام نہاد بہشتی مقبرہ سے مرزا قادیانی کے نام نہاد صحابیوں کی قبروں پر لگے ہوئے کتبوں پر سے قابل اعتراض الفاظ مٹا دیے گئے۔ جیسے صحابی‘ رضی اللہ عنہ وغیرہ۔
سوال: کیا یہ بات درست ہے کہ مرزائیوں نے اپنے ”متبرک“ مقامات پر مسلح پہرہ لگایا ہوا ہے؟
جواب: یہ بات بالکل درست ہے کہ انہوں نے اپنے نام نہاد ”متبرک“ مقامات پر مسلح پہرہ لگایا ہوا ہے اور انہوں نے کئی ایک مسلح تنظیمیں بنائی ہوئی ہیں جیسے ”خدام الاحمدیہ“ ”انصار اللہ“ جو کہ تربیت یافتہ فوجی ہیں۔ یہ بات حکومت کے علم میں ہونے کے باوجود قابل اعتناء نہیں سمجھی گئی جبکہ مسلمانوں کی تنظیموں ”خاکسار“ وغیرہ کو بیلچہ اٹھانے کی اجازت نہیں۔
سوال: ایک افواہ گشت کر رہی ہے کہ گزشتہ دنوں ربوہ اسلحہ کا ایک ٹرک آیا۔ آیا یہ حکومت کے علم میں ہے یا نہیں۔ اگر ہے تو قابل گرفت نہیں؟ کیا حکومت تساہل سے کام لے رہی ہے‘ وضاحت فرمائیں۔
جواب: مرزائی سامراجی قوتوں کے ایجنٹ ہیں۔ یہ بیک وقت امریکہ کے بھی ایجنٹ ہیں اور روس کے بھی۔ جیسے اسرائیل‘ جس کی مادی امداد امریکہ کرتا ہے اور افرادی امداد روس‘ کہ وہ اپنے ملک کے یہودیوں کو اسرائیل منتقل کر دیتا ہے۔ یہ اسرائیل کی شاخ ہے جس کا بدستور سامراجی قوتوں کے ساتھ تعلق و رابطہ ہے۔
سوال: صدارتی آرڈیننس کے بعد آپ کو بھی مطالبہ کرنا چاہیے تھا کہ مرزائیوں کے ضیاء اسلام اور حیات الاسلام پریس کو ضبط کیا جائے۔
جواب: ہمارا مطالبہ جاری ہے کہ ان پریسوں کو بند کیا جائے یا کم از کم ان کے نام تبدیل کیے جائیں۔ (الحمدللہ تین ماہ کے لیے ان کا ضیاء الاسلام پریس سربمہر ہوچکا ہے)
سوال: مرزا طاہر کے ملک سے ڈرامائی انداز میں فرار سے متعلق آپ کیا جانتے ہیں؟
جواب: اس سلسلہ میں ہماری معلومات وہی ہیں جو اخبارات میں آتی رہیں۔ اس کا ملک سے فرار حکومت کی اجازت کے بغیر ممکن نہیں۔ ہم صراحۃً حکومت کو قصور وار ٹھہراتے ہیں۔
سوال: ساہیوال کے المناک واقعہ کے متعلق آپ کے کیا تاثرات ہیں؟
جواب: ہم یہ مطالبہ کرتے چلے آ رہے ہیں کہ ان کی عبادت گاہوں پر کلمہ طیبہ اور
آیات قرآنی مٹائی جائیں لیکن حکومت نے اس طرف کوئی توجہ نہیں دی۔ چنانچہ کئی مقامات پر ایسے واقعات رونما ہوئے کہ مسلمانوں نے خود ان کی عبادت گاہوں سے یہ کلمات مٹائے۔ جیسے گوجرانوالہ، چنیوٹ، مغل پورہ لاہور۔ اسی طرح ساہیوال میں واقعہ رونما ہوا۔
ساہیوال کا واقعہ اس طرح ہوا کہ مرزائیوں کی عبادت گاہوں پر کلمہ طیبہ وغیرہ لکھا ہوا تھا اور شہر میں یہ افواہ گشت کر رہی تھی کہ وہ آہستہ آواز سے اذان دیتے ہیں۔ تو چند نوجوانوں بغیر کسی منصوبہ اور سوچی سمجھی سکیم کے اور بغیر کسی ہتھیار کے تحقیق حال کے لیے گئے کہ اذان ہوتی ہے یا نہیں۔ یہ ٢٦ اکتوبر ٤ بج کر ٥٥ منٹ کا واقعہ ہے جو کہ عین اذان کا وقت تھا جس میں اکثر لوگ جاگ رہے تھے۔۔۔۔ اور انہوں نے گولی چلا کر دو نوجوانوں کو شہید کر کے غنڈہ گردی اور بربریت کی انتہا کر دی۔
سوال: اس مسلح غنڈہ گردی سے نمٹنے کے لیے آپ نے کچھ لوگوں سے رابطہ قائم کیا ہو گا جیسے جماعت اسلامی اور جمعیت علماء پاکستان، ان کا رد عمل کیا ہے؟
جواب: جماعت اسلامی تو مجلس عمل میں شامل ہے جبکہ جمعیت علماء پاکستان کے نیازی صاحب، ملک اکبر ساقی "انتخاب مجلس" کے پہلے تو ساتھ تھے لیکن جماعتی طور پر نہیں بلکہ ذاتی طور پر۔ اپریل ١٩٨٤ء کے پہلے ہفتہ میں ہماری کراچی کانفرنس تھی۔ جس کے بعد میں، مولانا عبدالمجید ندیم، مولانا محمد بنوری، مولانا شاہ احمد نورانی کو ملے اور انہیں دعوت دی تو انہوں نے تحریک ١٩٧٤ء کی داستان چھیڑ دی۔ میں نے عرض کیا کہ ہم اس کارروائی کی تکمیل میں لگے ہوئے ہیں۔ لہٰذا آپ بھی ہمارے ساتھ تعاون فرمائیں تو انہوں نے کہا کہ میں جمعیت علماء پاکستان کی مجلس شوریٰ کی اجازت کے بغیر کوئی فیصلہ نہیں کر سکتا۔ (گویا کہ احسن طریقہ سے ٹرخا دیا)
سوال: شیعہ حضرات من حیث الجماعت آپ کے ساتھ تعاون کر رہے ہیں یا انفرادی طور پر؟
جواب: امسال ربوہ کانفرنس کے موقع پر طے ہوا کہ مختلف مکاتب فکر کے رہنماؤں، مشائخ، علماء کرام سے ملاقاتیں کی جائیں۔ چنانچہ میں، مولانا ضیاء القاسمی، مولانا منظور احمد چنیوٹی، مولانا مختار احمد نعیمی راولپنڈی گئے اور گولڑہ شریف بھی گئے۔ اتفاقاً سجادہ
نشین گولڑہ شریف باہر گئے ہوئے تھے۔ پیر دیول شریف سے ملاقات کی کوشش کی لیکن ملاقات نہ ہوسکی۔ البتہ ان کے ایک معتمد کو خط دے دیا گیا۔ اس طرح شیعہ حضرات کی دونوں تنظیموں میں موسوی صاحب والے گروپ سے ملاقات ہوگئی۔ انہوں نے مکمل یقین دہانی کرائی۔ بلکہ انہوں نے تحریر بھی دی۔
سوال: مختلف جنرل حضرات کے متعلق یہ افواہیں ہیں کہ وہ مرزائی ہیں۔ مثلاً کے ایم عارف صاحب‘ غلام اسحاق خاں‘ جنرل رحیم الدین خان وغیرہ۔ آپ کی کیا رائے ہے؟
جواب: غلام اسحاق بنوں کے رہنے والے ہیں۔ وہاں کے لوگ کہتے ہیں کہ یہ قادیانی نہیں ہیں۔ جنرل رحیم الدین خان صدر ہند ڈاکٹر ذاکر حسین مرحوم کے بھانجے ہیں۔ جبکہ بیگم ڈاکٹر مرحوم کے چھوٹے بھائی کی لڑکی ہے۔ یہ خاندان اہل سنت والجماعت دیوبندی مکتب فکر سے متعلق ہے۔ جنرل کے ایم عارف کے متعلق صدر مملکت نے خود کہا کہ وہ میرے بتیس سال سے رفیق ہیں۔ یہ قادیانی نہیں ہے لوگ جسے بدنام کرنا چاہیں اسے مرزائی کہہ دیتے ہیں۔
سوال: تعلیمی اداروں میں چھائے ہوئے قادیانیوں کے متعلق کوئی پیش رفت ہوئی؟
جواب: ابھی تک کوئی پیش رفت نہیں ہوئی۔ ہمارا مطالبہ صرف تعلیمی اداروں میں چھائے ہوئے قادیانیوں سے متعلق ہی نہیں بلکہ تمام محکموں میں قادیانیوں کے متعلق ہے۔
سوال: وفاقی شرعی عدالت کے فیصلہ کے بعد آپ کے جذبات و احساسات کیا تھے؟
جواب: اس پر ہمیں خوشی ہوئی۔ لیکن اس میں دو تین حرف جو مذہبی آزادی سے متعلق تھے‘ ان پر دکھ ہوا۔
سوال: کئی سالوں سے نوجوان نسل کا اسلام کی طرف راغب ہونا ڈھکی چھپی بات نہیں۔ بہت سے نوجوان مرزائی غنڈوں کے خلاف "جذبات" رکھتے ہیں۔ لیکن مجلس عمل نے انہیں ٹھنڈا کیوں رکھا ہوا ہے؟
جواب: مجلس عمل نے آئین کی حدود میں رہتے ہوئے اپنی تحریک جاری رکھی ہوئی ہے۔ کیونکہ ملکی سالمیت کا مسئلہ سب سے مقدم ہے۔ اس لیے نہایت سوچ سمجھ کر اور
نہایت حوصلہ اور بردباری کے ساتھ ہم اپنا سفر جاری رکھے ہوئے ہیں۔ خداوند قدوس ہمیں کامیابی وکامرانی سے ہمکنار فرمائے۔ آمین۔
سوال: ١٩٧٤ء کی تحریک کا آغاز طلباء پر مسلح غنڈہ گردی تھی اور حال ہی میں ساہیوال میں بھی ایک طالب علم کو موت کے گھاٹ اتار دیا گیا ہے۔ کیا آج بھی تعلیمی اداروں میں تحریک اٹھ سکتی ہے؟
جواب: اگر ہم چاہیں تو یہ معمولی بات ہے لیکن ہم اس قسم کی کوئی تشدد آمیز کارروائی پسند نہیں کرتے۔
سوال: آئندہ کے لیے مجلس کا لائحہ عمل کیا ہوگا؟
جواب: مجلس عمل اپنے مقاصد کے حصول کے لیے مختلف پروگرام بنا رہی ہے۔ آہستہ آہستہ ہم اپنی منزل کے قریب ہو رہے ہیں۔
سوال: اندرا گاندھی کے قتل کے متعلق آپ کی کیا رائے ہے؟
جواب: اس قسم کے واقعات کوئی ذی شعور آدمی تحسین کی نظر سے نہیں دیکھ سکتا۔ سکھوں نے انتہائی قدم اٹھایا ہے۔ مرزائیوں کی جارحانہ سرگرمیوں کی وجہ سے یہ واقعہ یہاں بھی پیش آسکتا ہے۔
(ہفت روزہ ”لولاک“ جلد ٢١‘ شمارہ ٣٨)
مرزا قادیانی اور سودی قرضہ
ایک مرتبہ مرزا صاحب نے اعلان کیا کہ جو غیر مسلم براہین کا جواب لکھے گا اس کو دس ہزار روپیہ انعام دیا جائے گا تو پنڈت لیکھرام نے لکھا تھا کہ آپ کا دس ہزار روپیہ انعام کا اشتہار محض فریب و دجل ہے۔ کیونکہ آپ کی تمام منقولہ اور غیر منقولہ جائیداد بھی اس قیمت کی نہیں ہے۔ قادیان کے ہندو مسلمان آریہ وغیرہ اس بات کے گواہ ہیں بلکہ تمام ضلع گورداسپور کے لوگ آپ کی مفلسی اور وجہ معاش کے فقدان سے آگاہ ہیں اور پنجابی مثال ”آپ میاں مانگتے اور باہر کھڑے درویش“ بالکل آپ کے حسب حال ہے۔ خود قرض دار اور بسر اوقات سے ناچار مگر دس ہزار اشتہاری روپوں کے دعویدار
ہیں ۔ خلاصہ یہ ہے کہ آپ صفحہ قرطاس پر تو ہندسوں کی من مانی رقوم لکھ لیتے ہیں مگر زر نقد ندارد ہے ۔ (تکذیب براہین‘ ص ٢٧٦-٢٧٤)
پنڈت لیکھرام کے اس بیان کی تائید کہ مرزا صاحب مقروض تھے‘ اس واقعہ سے بھی ہوتی ہے کہ مرزا صاحب دوسری شادی کرنے کے بعد اپنے خسر ثانی کا دم چھلا بنے ہوئے تھے ۔ جہاں میر ناصر نواب تبدیل ہو کر جاتے‘ یہ بھی وہاں جا براجمان ہوتے اور ان کے ٹکڑوں پر بسر اوقات کرتے ۔ جس طرح مرزا صاحب کئی سال تک لدھیانہ میں اپنے خسر کے در دولت پر پڑے ہوئے تھے‘ اسی طرح اس سے پیشتر چھاؤنی انبالہ میں بھی میر صاحب کے گھر روٹیاں توڑتے رہے ۔ انہی ایام میں الہامی صاحب نے چھاؤنی انبالہ کے ایک مہاجن سے سودی قرضہ بھی لے رکھا تھا ۔ جب ”براہین احمدیہ“ کے صدقہ سے فراغ دستی نصیب ہوئی تو الہامی صاحب نے چھاؤنی انبالہ کا قرضہ چکا دینا چاہا ۔ قادیان کے آریوں کو اس کا پتہ چل گیا ۔ انہوں نے یہ ثابت کرنے کے لیے کہ مرزا صاحب دس ہزاری اشتہار شائع کرتے وقت خود مقروض تھے اور بہت بڑی شرح پر سود لے رکھا تھا‘ حالانکہ شریعت اسلام نے سود کا لینا اور دینا دونوں حرام قرار دیے ہیں ۔ کسی طرح الہامی صاحب کی دو چٹھیاں حاصل کر کے شائع کر دیں ۔ یہ چٹھیاں بشن داس انبالوی کے نام بھیجی گئی تھیں ۔ الہامی صاحب نے اس پر بہت پیچ و تاب کھایا ۔ آریوں کی اس جسارت و دیدہ دلیری پر شکوہ شکایت کا جو مواد ان کے نوک قلم سے ٹپکا‘ اس سے ناظرین کو محظوظ کیا جاتا ہے ۔ مرزا صاحب رسالہ شحنہ حق میں فرماتے ہیں:
”اس اعتراض کی اصلیت صرف اس قدر ہے کہ انبالہ چھاؤنی میں کئی ایک خط میں نے ایک ہندو دکاندار کی طرف بمراد تصفیہ ایک پرانی برداشتی حساب کے جس کا یوں ہی مدت تک ملتوی پڑے رہنا قرین مصلحت نہیں تھا‘ لکھے تھے اور اس دکاندار کو بلایا تھا کہ اب حساب دیر کا ہو گیا ہے تم ٹونبو (دستاویز) ساتھ لاؤ اور جو کچھ حساب نکلتا ہے‘ لے جاؤ اور ٹونبو دے جاؤ ۔ اگرچہ ٹھیک ٹھاک یاد نہیں مگر خیال کیا جاتا ہے کہ شاید ان خطوط میں سے کسی خط میں یہ بھی لکھا گیا ہو کہ تم نے حساب کے لیے بلائے جانے کا حال ظاہر نہ کرنا ہے ۔ اب معترض خیانت پیشہ جس نے سرقہ کے طور پر لالہ بشن داس مکتوب الیہ کے صندوق سے خط چرائے ہیں ۔ اس اصل حقیقت میں تحریف و تبدیل کر کے اور اپنی طرف سے کچھ کا
کچھ تو وہ طوفان بنا کر اور بات کو کہیں سے کہیں لگا کر یہ اعتراض کرتا ہے کہ گویا ہم نے یہ مکر و فریب کیا اور جھوٹ بولا اور جھوٹ کی ترغیب دی۔ جس ناجائز طور سے یہ خطوط حاصل کیے گئے‘ وہ یہ ہے کہ لالہ بشن داس مکتوب الیہ کی دکان پر ایک کیسوں والے آریہ نے جو اب باوا نانک صاحب سے بیزار ہو کر دیانندی پنتھ میں داخل ہوگیا ہے‘ ایک دو آریہ اوباشوں کی راز داری اور تحریک سے جیسا کہ دکانداروں کی عادت ہے‘ اپنی دکان کو کھلی چھوڑ کر کسی کام کے لیے بازار میں نکلا۔ اس کے جانے کے ساتھ ہی سکھ صاحب نے اس کے صندوق کو ہاتھ مارا۔
شاید اس دست درازی سے نیت تو کسی اور شکار کی ہو گی کیونکہ اسے معلوم تھا کہ یہ مال دار آدمی ہے مگر لالہ بشن داس کی قسمت اچھی تھی کہ اس جلدی میں زیور تک‘ جو صندوق میں پڑا ہوا تھا‘ ہاتھ نہ پہنچا۔ صرف دو خط ہاتھ میں آگئے جن کو اس کے ان ہی ہم مشورہ یاروں نے جو ایک ہی سانچے کے ہیں‘ بہت ہی خیانت اور یاوہ گوئی کے ساتھ چھاپ دیا۔ لالہ بشن داس نے اپنی شرافت سے صبر کیا ورنہ سکھ صاحب اور اس کے رفیقوں کو بیگانہ صندوق میں ہاتھ ڈالنے کا مزہ بھی معلوم ہو جاتا۔ ہماری دانست میں یہ مقدمہ اب بھی دائر ہونے کے لائق ہے۔ کیونکہ لالہ بشن داس کے زیور وغیرہ کا کچھ نقصان نہیں ہوا مگر خطوط کی چوری بھی حسب قانون مروجہ انگریزی ایک چوری ہے جس کی سزا میں شاید تین سال تک قید ہے۔
وہ صرف حسابی معاملہ کے خطوط تھے جن کا بے اجازت کھولنا جرم ہے۔ (
شحنہ حق‘ مولفہ مرزا غلام احمد ص ٣٧-٣٩)
(ہفت روزہ ”ختم نبوت“ جلد ٥‘ شمارہ ٢٩)
مقدمہ مولانا عبدالقیوم ہزاروی
حضرت مولانا عبدالقیوم ہزاروی کا نام نامی نمایاں اور ممتاز ہے۔ مولانا ہزاروی نے انگریز کو پوری جرات اور بہادری سے للکارا اور اس کا مقابلہ کیا اور پھر اس کی ذریت قادیانیت کو ناکوں چنے چبوائے۔ مولانا عبدالقیوم ہزاروی نے اپنی عادت کے
مطابق مدرسہ نصرۃ العلوم نزد گھنٹہ گھر چوک گوجرانوالہ میں ١٩٥٦ء میں خطاب کرتے ہوئے آنجہانی مرزا غلام احمد قادیانی کی کتابوں میں سے اس کی خرافات کو بیان کیا اور اس کی کتابوں سے اسے کافر اور بے ایمان ثابت کیا۔ انہوں نے ایک کتاب ”ایک غلطی کا ازالہ“ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا:
(مرزا کے بقول) ”میں ہی ”محمد رسول اللہ“ ہوں، اللہ پاک نے میرا ہی نام محمد اور احمد رکھا ہے“۔
مولانا نے اسی کتاب کا ایک اور حوالہ دیتے ہوئے کہا (بقول مرزا) ”میں چودھویں رات کا چاند ہوں اور نبی کریم ﷺ پہلی رات کے چاند ہیں“۔
مولانا ہزاروی نے خطابت کے جوش میں کہا ”مرزا غلام احمد قادیانی نے مسلمانوں کو گالیاں دی ہیں“۔ وہ لکھتا ہے ”جو مجھے نہیں مانتا وہ کتیوں اور سورنیوں کی اولاد ہیں۔ ان کی عورتیں جنگل کی سورنیاں ہیں۔ ان کے آدمی ولد الحرام ہیں“۔
اسی طرح انہوں نے کافی رات بھیگنے تک مرزا کے کذب خرافات بیان کیے۔ جلسہ رات ایک بجے کے قریب ختم ہوا۔
ان دنوں سٹی تھانہ کا انچارج تھانیدار قادیانی تھا۔ اس نے مولانا پر مقدمہ بنا دیا اور پرچہ میں لکھا ”مولانا نے تقریر کرتے ہوئے مرزا صاحب کو گالیاں دی ہیں اور ساتھ ہی اسے بھی گالیاں دی ہیں“۔
صبح مولانا عبد القیوم کو گرفتار کر لیا گیا۔ شہر میں ان کی گرفتاری سے اضطراب اور کشیدگی کی فضا بن گئی۔ ہم نے مولانا کی ضمانت کی کوشش کی، مگر مولانا نے انکار کر دیا۔ پھر ہم نے مقدمہ لڑنے کی تیاریاں کیں۔ ہر پیشی پر دو چار سو افراد جمع ہو جاتے۔ ہم عدالت کے سامنے ٹینٹ لگا کر دریاں بچھا کر بیٹھ جاتے۔ ایک بہت بڑا مٹکا لے کر اس پر سرخ رنگ کر کے سبیل ختم نبوت لکھوا لیا اور ایک سٹینڈ پر رکھ دیتے۔ اس میں برف بھی ڈال دی جاتی۔ اس طرح ہر گزرنے والا پانی پیتا۔ یوں پیشی پر ہزاروں آدمی جمع ہو کر ختم نبوت زندہ باد، مرزائیت مردہ باد اور مولانا عبد القیوم ہزاروی زندہ باد کے نعرے لگاتے۔ عدالت کھچا کھچ بھر جاتی اور یہ معمول ہر پیشی پر ہوتا۔
ایک روز ایک تھانیدار ہمارے پاس آیا کہ آپ مقدمے کی پیروی کر رہے
ہیں ۔ اس مقدمہ میں مولانا عبدالقیوم کے خلاف دو گواہ سردار محمد عرف دارو گجر بستہ ب کا بدمعاش اور گرجاکھی گیٹ کا رہنے والا ہے۔ اور دوسرا پولیس کا ٹاؤٹ محمد دین جو محلہ طوطیا نوالہ کا رہنے والا ہے۔ اگر آپ ان دونوں کو شہادت دینے سے روک لیں تو مولانا رہا ہوسکتے ہیں۔ انہیں تلاش کیا۔ سب سے پہلے سردار کے پاس گئے ۔ رات کے بارہ بجے ہوں گے۔ جب میں اور مرزا عبدالغنی اس کے گھر گئے۔ گرمی کا موسم تھا اس کے پاس چارپائی پر سی آئی ڈی کے رپورٹر بیٹھے اسے صبح کے بیان کی تیاری کروارہے تھے۔ انہیں دیکھ کر ہم دونوں چھپ گئے اور اس کے جانے کا انتظار کرنے لگے۔ جب وہ چلے گئے تو ہم خدا کا نام لے کر اس کے پاس جابیٹھے۔ اس کی منت خوشامد کی‘ اسے خدا کا خوف دلایا اور کہا کہ دیکھو تم جلسہ میں تھے ہی نہیں تو پھر ایک عالم دین کے خلاف جھوٹی گواہی دینے پر تیار ہو رہے ہو۔ آخر اس دنیا کو چھوڑ کر خدا کے پاس بھی جانا ہے۔ خدا کو کیا منہ دکھاؤ گے۔ اگر عدالت میں سچی بات کہہ دی تو یہ اتنی بڑی بات نہیں ہے۔ خدا کو تمہاری یہی بات پسند آگئی تو آخرت میں تمہاری بخشش کا ذریعہ بن جائے گی۔ ہم اپنی ذات کے لیے نہیں آئے‘ حضور اکرمؐ کی نبوت کے تحفظ کے لیے آئے ہیں۔ ہم نے بس اتنا ہی کہنا ہے۔ وہ کہنے لگا ”خدا کے لیے میری جان چھوڑ دو۔ رات کا ایک بھی بج چکا ہے۔ اب مجھے سونا بھی ہے۔ آپ کیا چاہتے ہیں؟“
ہم نے کہا ”آپ نے عدالت میں صرف یہ کہنا ہے کہ میں جلسہ میں نہیں تھا“۔
کہنے لگا ”جاؤ صبح آپ جو کچھ کہیں گے‘ وہی میں کروں گا“۔
ہم نے اسے یقین دلایا ”اگر حکومت نے کوئی جھوٹا مقدمہ آپ پر ڈالا تو ہم آپ کے ساتھ ہیں۔ ہم آپ کا کیس بھی لڑیں گے“۔
اس طرح ہم محمد دین کے پاس گئے۔ اسے بہت سمجھایا مگر اس نے ہماری بات ماننے سے انکار کر دیا اور کہنے لگا ”بھائی! سیدھی بات ہے میں پولیس والوں سے لڑائی نہیں لینا چاہتا۔ جو وہ کہیں گے‘ وہی میں کروں گا“۔
صبح تاریخ پر دونوں گواہ موجود تھے۔ ہماری طرف سے میاں منظور ایڈووکیٹ اور چودھری محمد رفیق تارڑ ایڈووکیٹ (حال جسٹس سپریم کورٹ آف پاکستان)
پیش ہوئے۔ عدالت کی طرف سے شہادتیں طلب کرنے پر سردار محمد عرف دارو پیش ہوا۔ اس نے حسب طریقہ حلف دیا کہ جو کچھ کہوں گا‘ سچ کہوں گا۔ اے ڈی ایم (اسسٹنٹ ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ) کی عدالت میں مقدمہ تھا اور وہ عیسائیت ترک کر کے مسلمان ہوا تھا۔ سرکاری وکیل نے گواہ سردار محمد سے پوچھا: وکیل: آپ کا نام کیا ہے؟ جواب: سردار محمد۔ وکیل: یہ بتائیے مولانا کی تقریر سننے کے لیے آپ مسجد میں گئے تھے؟ جواب: نہیں جناب‘ میرا تو باپ بھی کبھی مسجد کے قریب نہیں گیا تھا۔ میں نے کیا لینے جانا تھا۔ وکیل: آپ کیا کام کرتے ہیں؟ جواب: کام کیا کرنا ہے۔ میں دس نمبری ہوں۔ بستہ ب میں روز میری تھانہ میں حاضری لگتی ہے۔ وکیل: سرکاری وکیل نے سی۔آئی۔ڈی کے اہل کاروں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ”تم ان کو جانتے ہو؟“ جواب: بہت اچھی طرح سے جانتا ہوں۔ یہی تو تھانے میں میری حاضری لگاتے ہیں۔
سرکاری وکیل نے دوسرا گواہ طلب کیا۔ ہم نے میاں منظور صاحب سے کہہ دیا تھا کہ گواہ سے پوچھنا کہ مسجد میں لاؤڈ سپیکر لگے ہوئے تھے۔ میاں منظور صاحب کہنے لگے اس سے کیا ہو گا؟ ہم نے کہا کہ لاؤڈ سپیکر کی تو ہمیں اجازت ہی نہیں ملی تھی۔ سرکاری وکیل کے پوچھنے پر گواہ محمد دین نے اپنا نام و ولدیت درج کروائے۔ اس نے بھی حلف اٹھایا کہ سچ کہوں گا‘ سچ کے سوا کچھ نہیں کہوں گا۔ وکیل: تم مولانا کی تقریر سننے گئے تھے؟ جواب: جی ہاں گیا تھا۔ وکیل: مولانا کی تقریر کیسی تھی؟ جواب: بہت اچھی تقریر تھی۔ مولانا ثابت کر رہے تھے کہ مرزا کافر ہے۔
لوگ اس کی تقریر سن رہے تھے۔ اور بڑے جوش سے نعرے لگا رہے تھے۔ تقریر سننے کے بعد میرا بھی دل چاہتا تھا کہ میں ان مرزائیوں کو قتل کردوں۔
میاں منظور صاحب نے جرح کرتے ہوئے پوچھا:
میاں منظور ”مسجد میں لاؤڈ سپیکر چالو تھا؟“
جواب: جی ہاں
میاں منظور: کتنے یونٹ لگے ہوئے تھے؟
جواب: چار
میاں منظور: ان کے منہ کس طرف تھے؟
جواب: (بڑا سوچنے کے بعد) چاروں طرف۔
میاں منظور صاحب نے اے ڈی ایم کو مخاطب کرتے ہوئے کہا: ”ہمیں تو لاؤڈ سپیکر چلانے کی اجازت نہیں ملی تھی۔ جلسہ بغیر سپیکر کے کیا تھا۔ جناب! یہ کتنا ظلم ہے کہ عالم دین کے خلاف جھوٹی شہادتیں لائی گئی ہیں۔ ایک دس نمبر یا بستہ ب کا دوسرا پولیس کا ٹاؤٹ“۔
دوسری پیشی پر عدالت نے صفائی کی شہادت طلب کی۔ مولانا لال حسین اختر ”بطور گواہ تشریف لائے۔ انہوں نے عدالت میں ایک میز پر کتابوں کا ڈھیر لگا دیا۔ مولانا کی شہادت سے پہلے سرکاری وکیل نے انگریزی میں اے ڈی ایم سے کہا کہ یہ مولوی ہے۔ اس کی شہادت مختصر کر لوں کیونکہ مجھے ایک کام جانا ہے۔ مولانا لال حسین اختر نے انگریزی میں ہی جواب دیا:
”جناب! میں کراچی سے آیا ہوں۔ میں نے بار بار نہیں آنا“
اے ڈی ایم نے پوچھا ”آپ کی تعلیم؟“
مولانا: پرانے زمانے کا بی اے ہوں۔
اے ڈی ایم: مولانا! آپ بتائیں کہ مرزا غلام احمد قادیانی نے کسی مسلمان کو گالیاں دی ہیں؟ وہ ثابت کرنا چاہتے تھے کہ وہ کسی کو گالیاں نہیں دیتا مگر آپ گالیاں دیتے ہیں۔ مولانا نے ایک کتاب نکالی جس میں آنجہانی مرزا غلام احمد قادیانی نے لکھا تھا ”عیسیٰ (علیہ السلام) کی (نعوذ باللہ) دادیاں اور نانیاں زانیاں تھیں ۔۔۔۔۔ اور عیسیٰ (علیہ السلام) خود
شراب پیا کرتے تھے۔"
اے ڈی ایم چونکہ پہلے عیسائی تھا اس لیے یہ عبارت سن کر کانپ گیا۔
اے ڈی ایم: مولانا بتائیے کہ (آنجہانی) مرزا غلام احمد قادیانی کو مسلمان علماء نے متفقہ طور پر کافر قرار دیا تھا؟
مولانا لال حسین اخترؒ نے مقدمہ بہاول پور کا فیصلہ نکالا اور اس کی عبارت پڑھی۔
مولانا: پانچ سو علماء نے مرزا کو کافر کہا"۔
اس پر مولانا کی شہادت ختم ہو گئی تو مولانا لال حسین اخترؒ نے کہا ”میں بھی مرزا کو کافر، جھوٹا اور دجال سمجھتا ہوں"۔
اے ڈی ایم نے کہا ”صفائی کا اور بھی کوئی گواہ ہے" تو ہمارے طرف سے گواہوں کی ایک لمبی فہرست پیش کر دی گئی۔ جس میں ”آنجہانی" مرزا بشیر الدین محمود کا نام سر فہرست تھا۔ اس کے بعد خواجہ ناظم الدین اور پھر پاکستان کے تمام سیاست دان شامل کیے گئے تھے۔
اے ڈی ایم نے فہرست دیکھی تو کہا ”نہیں بھائی نہیں، تم کسی عالم کا نام دو میں انہیں نہیں بلا سکتا"۔
ہم نے کہا ”اچھا آپ کسی کو نہ بلائیں۔ صرف (آنجہانی) مرزا محمود کو بلا دیں"
اے ڈی ایم ”نہیں بھائی! اسے یہاں کسی نے قتل کر دیا تو پھر کیا ہو گا؟"
ہم نے جواب دیا ”اس کی حفاظت ہمارے ذمہ ہے۔ ہم حفاظت کے لیے پانچ سو رضا کار دیتے ہیں۔ اگر کسی قسم کا نقصان ہوا تو ہم ذمہ دار ہوں گے"۔
مگر اس نے بات نہ مانی۔ اے ڈی ایم کا ریڈر قادیانی تھا جو شہادت ہوتی، وہ اپنے ہاتھ سے لکھتا۔ اس نے اپنے ہاتھ سے یہ بھی لکھا ”مرزا کافر ہے، جھوٹا ہے"۔
ہم نے اے ڈی ایم سے میاں منظور صاحب کے ذریعہ پوچھنا چاہا کہ وہ بحیثیت مسلمان مرزا کو کیا سمجھتے ہیں؟" مگر میاں صاحب نے انکار کر دیا کہ دیکھو میرے کیس اس کے پاس لگے ہوئے ہیں۔ اس سے یہ چڑ جائے گا اور میرے کیس خراب کر دے گا۔ یہ
بات ہو رہی تھی کہ اتنے میں چودھری محمد رفیق تارڑ ایڈووکیٹ آگئے۔ انہوں نے کہا ”چھوڑو یار! میں پوچھتا ہوں“۔
چودھری محمد رفیق تارڑ صاحب نے اے ڈی ایم سے پوچھ لیا ”جناب! میں بحیثیت اے ڈی ایم کے نہیں، بلکہ بحیثیت مسلمان کے پوچھ رہا ہوں کہ تمام مسلمانوں کا عقیدہ ہے کہ مرزا جھوٹا، کذاب اور کافر ہے اور میں بھی مرزا کو جھوٹا، بے ایمان اور کافر سمجھتا ہوں۔ اور بحیثیت مسلمان آپ پتہ نہیں مرزا کو کیا سمجھتے ہیں؟“
اس نے مسکرا کر کہا کہ میں عدالت میں بیٹھا ہوں اور آپ مجھ سے یہ کہلوا رہے ہیں، بار بار کے اصرار پر اس نے کہا ”میرا بھی عقیدہ یہی ہے کہ مرزا کافر ہے، جھوٹا ہے“۔
عدالت برخاست ہوئی تو عدالت کے باہر سرکاری وکیل نے کہا: ”میں ساری عمر یہی سمجھتا رہا کہ مرزا کے خلاف یہ احراری لیڈر یوں ہی پروپیگنڈہ کرتے رہتے ہیں اور اپنے نمبر بنانے میں لگے ہوئے ہیں۔ میرا ذہن نہیں مانتا تھا کہ اتنی بڑی جماعت کا لیڈر لوگوں کو اتنا گندا لٹریچر دے رہا ہے۔ دوسرا حق اور باطل کا آج پتہ چلا ہے۔ اے ڈی ایم کا ریڈر قادیانی ہے جو اپنے ہاتھ سے مرزا کو جھوٹا، کذاب، بے ایمان اور کافر لکھتا رہا۔ میں خدا کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ اگر اس کی جگہ مسلمان ریڈر ہو تا تو نبی اکرم ﷺ کی شان میں کلمات گستاخی لکھنے پر موت کو ترجیح دیتا مگر حضور ﷺ کے خلاف کوئی لفظ لکھنے پر تیار نہ ہوتا“۔
الحمدللہ! مولانا عبدالقیوم ہزاروی کے خلاف درج مقدمہ واپس لے لیا گیا اور وہ باعزت بری کر دیے گئے۔
(”تحریک کشمیر سے تحریک ختم نبوت تک“ ص ٢٢٦-٢٣٢‘ از چودھری غلام نبی)
مناظرہ رام پور
رامپور میں منشی ذوالفقار علی قادیانی ہو گئے تھے (جو مولانا محمد علی جوہر کے بڑے بھائی تھے) اور ان کے چچا زاد بھائی حافظ احمد علی خان شوق رامپوری، جماعت حقہ کے
ساتھ تھے دونوں ہی نواب رامپور کے خاص ملازم تھے۔ مولانا ثناء اللہ امرتسری کے قول کے مطابق ان دونوں میں بحث و مباحثہ ہوا کرتا تھا۔ نواب حامد علی خاں والی ریاست رامپور نے اس بحث و مباحثہ کا حال معلوم کر کے کہا کہ دونوں فریق سرکاری خرچ پر اپنے اپنے علماء کو بلائیں۔ چنانچہ ١٥ جون کی تاریخ مناظرہ کے لیے مقرر ہوئی۔ اہل حق کی طرف سے حضرت محدث امروہیؒ، شیخ الہندؒ مولانا محمود الحسن دیوبندیؒ، حضرت مولانا حافظ محمد احمدؒ، حضرت مولانا تھانوی وغیرہم کو مدعو کیا گیا۔ ابوالوفاء مولانا ثناء اللہ امرتسری نے مناظرہ کیا۔ فریق ثانی کی حمایت کے لیے حکیم محمد احسن امروہی، خواجہ کمال الدین وغیرہما رامپور پہنچے تھے۔ حضرت مولانا امروہیؒ نے مولانا حافظ عبد الغنی پھلاودی کو ایک مکتوب گرامی میں اس مناظرہ کے بارے میں یوں تحریر فرمایا تھا:
........ امسال ایک مرتبہ دہرہ دون جانا ہوا اور پھر بھاگلپور ۔ اب ریاست رامپور میں فیمابین اہل سنت و جماعت و گروہ قادیانی مناظرہ قرار پایا ہے ۔ رئیس (نواب) کی خواہش ہے میری مشافہت میں مناظرہ ہو ۔ قادیانیوں نے مولوی محمد احسن امروہی (مولوی سرور اور دو چار اور کو منتخب کیا ہے ۔ ادھر سے اول میرا نام لیا گیا ہے اور مولوی محمد اشرف علی صاحب کا (اور) مولوی خلیل احمد، مولوی مرتضیٰ حسن چاند پوری کا۔ نیز پندرہ جون مقرر ہے ۔ کل بطلب بندہ رجسٹری خط آیا کہ آپ بروز پنجشنبہ دس جون کو رام پور آ جائیں۔ امور ضروریہ آپ کے سامنے طے ہونے ہیں۔ غالباً جمعہ کے بعد روانہ ہوں۔ میں نے مولانا محمود حسن صاحب صاحبزادہ صاحب (مولانا حافظ محمد احمد) اور مولانا حبیب الرحمٰن صاحب کو لکھا ہے کہ (امروہہ) جمعہ پڑھیں اور ایک ساتھ روانہ ہوں ۔ غالباً سب حضرات تشریف لاویں گے ۔ آپ کو ضرور یہ تکلیف دی جاتی ہے کہ دعا اور ہمت قلبی سے اعانت کریں۔
(١٩ جمادی الاول ١٣٢٧ھ، بروز چہار شنبہ (مطابق) ٩ جون ١٩٠٩ء)
اپنے دوسرے مکتوب گرامی میں اس مناظرہ میں جو نمایاں کامیابی ہوئی، اس کو مولانا حافظ عبد الغنی پھلاودیؒ کے نام ایک مکتوب میں یوں ارقام فرماتے ہیں:
بندہ نحیف احقر الزمن احمد حسن غفرلہ ۔۔۔۔۔ بخدمت جامع کمالات برادرم
مکرم مولوی حاجی حافظ محمد عبد الغنی صاحب سلمہم
بعد سلام مسنون مکلف ہے
...... رامپور جانے کے بعد سہ شنبہ کے روز مناظرہ شروع ہوا۔ مسئلہ وفات مسیح کا مولوی محمد احسن قادیانی...... مرزائی نے ثبوت پیش کیا۔ مولوی ثناء اللہ امرتسری نے اہل اسلام کی طرف سے تحقیقی و الزامی وہ جوابات دندان شکن دیے کہ ماشاء اللہ۔ مجلس میں ہر خاص و عام پر محمد احسن کی مغلوبی اور مولوی ثناء اللہ کا غلبہ واضح و ثابت ہو گیا۔ اس روز رامپور میں عام شہرت ہو گئی (کہ) قادیانی پسپا ہوئے مگر وہ بے غیرت اگلے روز بھی آکر زیادہ ذلیل ہوئے۔ محمد احسن کو ناقابل مان کر خود ان کے گروہ نے دوسرا مناظر مقرر کیا۔ وہ بھی کامیاب نہ ہو سکا۔ تیسرے روز الزامی جوابات میں بہت ذلیل ہوئے۔ نواب صاحب نے فرمایا یہ مسئلہ ختم ہوا اور حاضرین کو حق و ناحق معلوم ہو گیا۔ اب نبوت مرزا کا ثبوت دیجئے۔ آمادہ نہ ہوئے اور ایک شب کی مہلت لی۔ شب میں یہ درخواست لکھی کہ حضور (نواب صاحب) اہل اسلام کے حامی ہیں۔ بمقابلہ حضور ہم کو مناظرہ کرنا منظور نہیں۔ نیز مناظر اہل اسلام بد زبان ہے۔ ہمارے مقتدا وسیلہ نجات (مرزا قادیانی) کی بھاری گستاخی کرتا ہے۔ لہٰذا ہم کو مناظرہ کرنا کسی حال میں منظور نہیں۔ معاف فرمائیے۔ یہ درخواست لکھ کر بعضے شب میں ہی روانہ ہوئے اور بعض دن میں راہی...... والحمد للہ...... (٢٨ جون ١٩٠٩ء)
اب مناسب خیال کرتا ہوں کہ مناظرہ رامپور کی کچھ روئیداد ہفت روزہ اخبار دبدبہ سکندری رامپور سے پیش کی جائے۔
دبدبہ سکندری کے دو پرچوں میں مناظرہ کا مختصر حال لکھا ہے۔ مفصل طور پر مناظرہ کی رپورٹ نہیں لکھی ہے۔ ایک پرچہ سے معلوم ہوا کہ حافظ احمد علی صاحب نے مناظرہ کی مکمل روئیداد دبدبہ سکندری کو بھیجنے کا وعدہ کیا تھا۔ لیکن وہ بعض موانع کی وجہ سے پوری کیفیت تحریر کر کے دبدبہ سکندری کو نہ بھیج سکے۔ ممکن ہے مولانا ثناء اللہ امرتسری نے اپنے رسالہ اہل حدیث میں مناظرہ کے تمام احوال و کوائف شائع کر دیے ہوں لیکن رامپور کی رضا لائبریری میں اخبار اہل حدیث کا کوئی فائل ١٩١١ء سے پہلے کا نہیں ہے۔ حضرت محدث امروہیؒ کی ایک معرکۃ الآراء تقریر بھی مناظرہ کے دوران یا اختتام پر نواب کی موجودگی میں ہوئی تھی۔ اس کا بھی حاضرین پر بہت اثر پڑا تھا۔ مولانا عبد الوہاب خاں رامپوری مرحوم نے مجھ سے فرمایا تھا کہ میں نے یہ تقریر سنی تھی۔ یہ مناظرہ قلعہ رامپور
کے اندر ہوا تھا اور اندازہ ہوتا ہے کہ علاوہ خواص کے شہر کے اور بھی بہت سے تعلیم یافتہ اشخاص کو سماعت کا موقع ملا تھا۔ مناظرہ ١٥ جون ١٩٠٩ء کو شروع ہوا۔ اخبار دبدبہ سکندری کے پرچوں میں اس کی جو روئیداد چھپی ہے‘ اس کی تلخیص یہ ہے:
اس ہفتہ میں کئی روز حضرات علماء اسلام اور جماعت احمدیہ قادیانی میں نہایت عمدہ مناظرہ ہوا۔ اس مناظرہ کے محرک و مجوز جناب حافظ احمد علی خاں صاحب حنفی نقشبندی مہتمم کارخانہ جات‘ ذات خاص حضور اور منشی ذوالفقار علی خان صاحب سپرنٹنڈنٹ محکمہ آبکاری ریاست رامپور ہیں۔
بہت سے حضرات علماء اسلام مناظرہ میں تشریف لائے ہیں جن میں سے چند حضرات کے نام نامی یہ ہیں (حضرت) مولانا احمد حسن امروہی‘ ”حضرت مولانا خلیل احمد صاحب سہارنپوری‘ حضرت مولانا اشرف علی تھانوی‘ جناب محمد ثناء اللہ صاحب امرتسری‘ جناب مولانا محمد ابراہیم صاحب سیالکوٹی‘ جناب مولانا محمد الدین صاحب امرتسری‘ جناب مولانا محمد برکات علی صاحب لدھیانوی‘ جناب مولوی محمد ابراہیم صاحب دہلوی‘ جناب مولوی محمد عاشق الہی صاحب میرٹھی‘ جناب مولوی محمد یحییٰ صاحب کاندھلوی‘ جناب حاجی محمد عبدالغفار صاحب سوداگر دہلی‘ جناب مولوی حکیم قیام الدین صاحب جونپوری‘ جناب مولوی محمد حامد رضا خاں صاحب حنفی قادری بریلوی‘ جناب ڈاکٹر محمد عبدالحکیم صاحب اسسٹنٹ سرجن پٹیالہ‘ حضرت مولانا سید محمد شاہ صاحب محدث رامپوری‘ جناب مولوی عبدالغفار خان صاحب حنفی نقشبندی رامپوری جناب مولوی محمد لطف اللہ صاحب مفتی ریاست رامپور‘ جناب مولانا محمد فضل حق صاحب رامپوری‘ مدرس اول مدرسہ عالیہ ریاست رامپور۔
جماعت قادیانی کی طرف سے یہ اشخاص آئے ہیں:
مولوی محمد احسن صاحب امروہی‘ میاں سرور شاہ صاحب‘ منشی مبارک علی صاحب‘ منشی قاسم علی صاحب‘ منشی محمد علی صاحب ایم۔ اے‘ خواجہ کمال الدین صاحب وکیل لاہور‘ منشی یعقوب علی صاحب ایڈیٹر الحکم قادیان‘ حافظ روشن علی صاحب‘ ڈاکٹر محمد یعقوب خاں لاہوری‘ شیخ رحمت اللہ سوداگر لاہور وغیرہ۔
١٥ جون ١٩٠٩ء۔۔۔ حیات و ممات مسیح علیہ السلام کی بحث چلی۔ سب سے
پہلے جماعت قادیانی کی طرف سے محمد احسن امروہی نے ایک تحریری مضمون پڑھا۔ مولانا محمد ثناء اللہ صاحب امرتسری نے ان کے چاروں استدلال پر نقض قائم کر دیئے۔ مولوی محمد احسن کے بیان کی بے ربطی کا خود قادیانی جماعت نے اقرار کیا اور اس امر کو ان کی پیرانہ سالی کے سر منڈھا۔
١٦ جون ١٩٠٩ء۔۔۔۔ کو بعد معزولی محمد احسن منشی قاسم علی نے تحریری بیان وفات مسیح علیہ السلام پر پڑھنا شروع کیا۔ بجائے اس کے کہ مولانا محمد ثناء اللہ کے کل کے چار اعتراضات کا جواب دیا جاتا، وہ ڈیڑھ گھنٹہ کی تقریر کے بعد صرف ایک اعتراض کی جانب پلٹ کر آئے۔
١٧ جون ١٩٠٩ء۔۔۔۔ کو ناسازی طبع کی وجہ سے نواب صاحب جلسہ مناظرہ میں نہیں آئے اور ان کی قائم مقامی چیف سیکرٹری اور جوائنٹ سیکرٹری نے کی۔ (آج) قادیانی جماعت کے مناظر سے کہا گیا کہ وہ مولانا امرتسری کے اعتراضات کا جواب دیں مگر جماعت قادیانی کی جانب سے جواب دینے میں پہلو تہی کی گئی۔
١٨ جون ١٩٠٩ء کو مناظرہ نہیں ہوا۔
١٩ جون ١٩٠٩ء کو مناظرہ ہوا۔ آج بھی قادیانی مناظر وفات مسیح علیہ السلام کا کوئی ثبوت پیش نہ کر سکے۔ (اخبار ”دبدبہ سکندری“ ٢١ جون ١٩٠٩ء)
٢٠ جون کو اہل اسلام نے کہا کہ قادیانی ثبوت وفات مسیح علیہ السلام دینے سے گریز کرتے ہیں اور بار بار کے اصرار پر بھی عاجز ہیں۔ کل سے حضرات علماء اہل اسلام ابطال نبوت مرزا پر گفتگو کریں گے۔ اس پر خواجہ کمال الدین نے مناظرہ سے جان بچانے کے ڈھنگ نکالے اور ہٹ دھرمی سے کام لینا چاہا۔ بہت رد و قدح کے بعد قادیانیوں سے کہا گیا کہ وفات حضرت مسیح علیہ السلام پر آپ کو جو کچھ کہنا ہو، کہیں تاکہ مسئلہ تو ختم ہو۔ چنانچہ منشی قاسم علی نے تحریری مضمون پڑھنا شروع کیا اور اہل اسلام کی طرف سے جو نقض ان پر وارد ہوئے تھے، بعض کا جواب دیا۔ قادیانیوں کی تحریر کے ختم پر جناب مولانا ثناء اللہ صاحب کھڑے ہوئے اور تھوڑی دیر میں انہوں نے فریق مخالف کے تمام دلائل کو تار عنکبوت کی طرح توڑ دیا۔ اسی دن قادیانیوں نے یہ لکھا کہ ہم مناظرہ کرنا نہیں چاہتے۔ (الحق یعلو ولا یعلی) اللہ تعالیٰ نے دین حق کی نصرت فرمائی اور قادیانی
خائب و خاسر ٣٠ جون کی شب اور ٣١ جون کو یہاں سے چلے گئے۔ جناب مولانا قیام الدین صاحب بخت جونپوری نے کیا خوب تاریخ کہی
احمدی کہتے ہیں اپنے کو وہ لوگ لیکن این نسبت آنہا غلط است
بخت نے لکھی یہ سچی تاریخ احمدیوں کو ہوئی فاش شکست
١٣٢٧ھ
(اخبار ”دبدبہ سکندری“ ٢٨ جون ١٩٠٩ء)
نواب رامپور کا تبصرہ
نواب رامپور نے اس مناظرہ کا جو فیصلہ دیا ہے اس کو مولانا ثناء اللہ امرتسری نے صحیفہ محبوبیہ اور الہامات مرزا کے آخر میں درج کیا ہے۔ ذیل میں اس کو بھی نقل کیا جاتا ہے:
”رامپور میں قادیانی صاحبوں سے مناظرہ کے وقت مولوی ابو الوفاء محمد ثناء اللہ صاحب کی گفتگو ہم نے سنی۔ مولوی صاحب نہایت فصیح البیان ہیں اور بڑی خوبی یہ ہے کہ برجستہ کلام کرتے ہیں۔ انہوں نے اپنی تقریر میں جس امر کی تمہید کی اسے بدلائل ثابت کیا۔ ہم ان کے بیان سے محظوظ و مسرور ہوئے“۔
(محمد حامد علی خان والی ریاست رامپور)
مرزائیوں کا کھانا
میری بھانجی اس وقت بمشکل دس سال کی ہوگی۔ سینٹ ہیلن کانونٹ پبلک سکول سیٹلائٹ ٹاؤن راولپنڈی میں شاید تیسری یا چوتھی کلاس میں پڑھتی تھی۔ گرمیوں کی چھٹیوں میں ہمارے ہاں ایبٹ آباد آجایا کرتی تھی۔
ہوم ورک ختم کرنے کے بعد میری مذہبی کتابیں پڑھا کرتی تھی۔ ان میں خصوصاً جناب محمد طاہر رزاق کی ان کتب میں خاص دلچسپی لیتی جن میں مرزائیت کا آپریشن وہ
جدید انداز میں کرتے ہیں۔ مثلاً قادیانیت شکن وغیرہ۔
ایک روز دوپہر کھانا لگایا گیا۔ امبر اکیلی کھانے پر بیٹھی تھی۔ میں بھی دوسرے ممبرز کا منتظر قریب ہی بیٹھا تھا۔ مکمل خاموشی تھی۔
اس نے مجھ سے پوچھا ”بابو یہ جو مرزائی ہوتے ہیں یہ کھانا یوں کھاتے ہیں۔ خشک لقمہ توڑ کر منہ میں اور یوں انگلی سے سالن لگاتے ہیں۔ میں نے اسے بتایا نہیں ۔
امبر: پھر وہ کس طرح کھاتے ہیں؟
راقم: جیسے ہم کھاتے ہیں۔
امبر: ہم تو اس طرح کھاتے ہیں ناں جس طرح ہمارے نبی پاکؐ نے ہمیں بتایا ہے۔ تو وہ بھی اسی طرح کھائیں جس طرح ان کا نبی کھاتا تھا۔ (مرزائیو ڈوب مرو)
امبر نے شاید مرزا بشیر احمد ایم۔اے کی کتاب سیرت المہدی کی یہ روایت پڑھ رکھی تھی جس میں مرزا قادیانی کے کھانا کھانے کا ذکر ہے۔ مرزا بشیر احمد ایم۔اے لکھتا ہے:
”بعض دفعہ دیکھا گیا ہے کہ آپ صرف روکھی روٹی کا نوالہ منہ میں ڈال لیا کرتے تھے اور پھر انگلی کا سرا شوربے میں تر کر کے زبان سے چھوا کرتے تاکہ لقمہ نمکین ہو جائے“ (سیرت المہدی‘ مصنفہ مرزا بشیر احمد ایم۔اے‘ حصہ دوم‘ ص ١٣١)
(مجاہد ختم نبوت جناب ساجد اعوان صاحب کا مکتوب راقم کے نام)
ایمان کی بہار
ہمارے گاؤں نواں شہر میں ایک ہی قادیانی تھے۔ پیدائشی مسلمان تھے اور خاندانی شرافت میں معزز قبیلے سے متعلق تھے۔ ان کے اس فعل پر گاؤں تو گاؤں گھر والوں نے بھی ان سے بائیکاٹ کر رکھا تھا۔ یوں گزر گئے پینتیس سال۔ بڑے ضدی اور ہٹ دھرم تھے۔ اب عمر پینسٹھ کے پیٹے میں تھی۔ ١٩٨٩ء میں ختم نبوت یوتھ فورس نواں شہر کا یونٹ قائم کیا گیا۔ اور سال میں ایک دو جلسے نواں شہر میں ضرور رکھے جاتے جن میں مولانا اللہ وسایا صاحب کے علاوہ مولانا عبدالمجید ندیم شاہ صاحب‘ مولانا ضیاء الرحمن فاروقی صاحب‘
مولانا اجمل قادری صاحب‘ صاحبزادہ طارق محمود اور مولانا عبدالرؤف (مرحوم) خطاب کرتے تھے۔ اور صدارت حضرت مولانا خواجہ خان محمد صاحب فرماتے۔
یوں مرزائیت کے خلاف اک اصولی شعور بیدار ہونے لگا۔ مرزا سے نفرت تو ہر مسلمان کی گھٹی میں پڑ چکی ہے مگر یوں مرزائیت کو بے نقاب کر کے مرزائی سے زیادہ جب مرزائیت کے علاج پر زور دیا گیا تو عرصہ دراز کے بعد اعظم خان قادیانی کے گھر دعوت اسلام کے پیغام جانے لگے اور جو ہونا چاہیے تھا‘ وہ ہونے لگا۔
تحفظ ختم نبوت یوتھ فورس نے تحریری دعوت بھی دی اور بالمشافہ بھی ملے۔ مگر ہر چیز کا ایک وقت ہوتا ہے۔
١٧ نومبر ١٩٩٥ء کو جمعہ کا دن تھا۔ ہمارے خطیب صاحب حضرت مولانا سعید الرحمن قریشی صاحب نے صبح دس بجے بچہ بھجوا کر بلوایا۔ حاضر ہوا۔ مسجد میں اس وقت مولانا سعید الرحمن کے پاس دو آدمی بیٹھے تھے۔ مولانا صاحب نے تعارف کرایا۔ ڈاکٹر جمیل صاحب ہیں‘ اعظم خان صاحب کے بھتیجے ہیں۔ کہتے ہیں اعظم خان صاحب مسلمان ہو رہے ہیں۔
مجھے یوں لگا جیسے خواب کی بات ہے اور اکثر راقم اور تنظیمی احباب یہ خواب دیکھتے رہے تھے۔ ڈاکٹر جمیل صاحب نے بتایا کہ ہم نے اپنے قبیلے کے کم و بیش سو افراد کو بلوا لیا ہے۔ آپ حضرات چلیں اور اس کار خیر میں شامل ہوں۔
میں نے مولانا سعید الرحمن صاحب کی طرف دیکھا کہ چلنا چاہیے۔ مولانا صاحب نے فرمایا آپ ہماری طرف سے چلے جائیں۔ جو بھی فیصلہ ہو مجھے آکر مطلع کر دیں۔ جمعہ کے اجتماع میں‘ میں اعلان کردوں گا۔ ہم تینوں اٹھے اور گاڑی میں سوار ہو کر اعظم خان صاحب کے گھر جا پہنچے۔ جرگہ بیٹھا تھا اور ہمارا ہی منتظر تھا۔
مجھے لے جا کر اعظم خان صاحب کے قریب بٹھایا گیا۔ پہلے تو انہوں نے تیز نگاہوں سے دیکھا کہ یہ کدھر آگیا ہے۔ اور بے رخی سے دوسری طرف دیکھنے لگے اور قابل التفات نہ سمجھا مگر آج کے دن یہ ادائیں اچھی لگ رہی تھیں۔
ڈاکٹر یونس صاحب ان کے چھوٹے بھائی ہیں۔ انہوں نے سردار مشتاق ایڈووکیٹ کی مدد سے تحریر پہلے سے تیار کر رکھی تھی۔ وہ لے آئے۔
عرض کی اس کو پڑھ کر سنا دیں۔ انہوں نے درج ذیل تحریر پڑھ کر سارے جرگہ کو سنائی۔
”منکہ محمد اعظم خان ولد زین خان قوم پٹھان سکنہ محلہ قلعہ (صبا کالونی) نواں شہر تحصیل و ضلع ایبٹ آباد کا ہوں۔ آج بتاریخ ١١.١١.١٩٩٥ء بقائمی ہوش و حواس بلا جبر و اکراہ رضامندی سے خود سے اقراری ہوں اور حلفاً بیانی ہوں کہ میں خاتم النبین حضرت محمد ﷺ کی ختم نبوت پر مکمل اور غیر مشروط ایمان رکھتا ہوں اور یہ کہ میں کسی ایسے شخص کا پیرو کار نہیں ہوں جو حضرت محمد ﷺ کے بعد کسی بھی مفہوم، کسی بھی تشریح کے لحاظ سے پیغمبر ہونے کا دعویدار ہو۔ اور نہ ہی ایسے دعویدار کو پیغمبر یا مذہبی مصلح مانتا ہوں۔ نہ ہی قادیانی گروپ یا لاہوری گروپ سے تعلق رکھتا ہوں یا خود کو احمدی کہتا ہوں۔
میں آج روبرو گواہان حلفاً بیانی ہوں کہ آج کے بعد راسخ العقیدہ سنی مسلمان ہوں۔ میرا جماعت احمدیہ، کسی قادیانی گروپ یا شاخ سے یا ربوہ یا کسی قادیانی مقامی و غیر مقامی سے کوئی تعلق یا واسطہ نہ رہا ہے اور میں ان سے قطعاً لاتعلقی کا اعلان کرتا ہوں۔ میری کوئی تحریر یا وصیت وغیرہ اگر جماعت احمدیہ کے پاس ہو تو اس کو باطل اور منسوخ تصور کیا جائے۔ اگر مندرجہ بالا بیان کسی اخبار میں برائے اشاعت یا شناختی کارڈ میں درستگی اور کاغذات وغیرہ میں درستگی اور تصحیح کے لیے استعمال کی جائے تو مجھے کوئی اعتراض نہ ہو گا اور اس کا علی الاعلان اعتراف کرنے کو تیار ہوں۔ لہٰذا بیان حلفی روبرو گواہاں سنداً تحریر ہے۔
اس تحریر پر اعظم خان صاحب دستخط کر چکے تھے۔
جب ڈاکٹر یونس صاحب یہ تحریر پڑھ چکے تو عرض کی اس تحریر میں حیات عیسیٰ علیہ السلام سے متعلق صراحت موجود نہیں ہے۔ اور یہ صراحت بھی ضروری ہے۔
ڈاکٹر یونس صاحب نے کہا ”ختم نبوت کی بات ہو گئی۔ حضورؐ کے بعد کسی مدعی نبوت کے پیرو کار ہونے سے انکار ہو گیا۔ قادیانی یا لاہوری گروپ سے تعلق نہ ہونے کی بات ہو گئی تو مرزائی تو نہ رہے ناں۔
راقم : ٹھیک ہے لیکن حیات عیسیٰ علیہ السلام کا انکار مرزائیت کی خشت اول ہے لہٰذا یہ صراحت بھی ضروری ہے۔
اعظم خان صاحب بولے ”میں نے وضاحت کر دی ہے کہ اب میں ان
(قادیانیوں) خنزیروں میں سے نہیں ہوں۔ جو وضاحت آپ چاہتے ہیں لکھ دیں، میں دستخط کر دیتا ہوں۔
راقم نے تحریر میں درج ذیل جملہ شامل کیا: ”اور یہ کہ حضرت عیسیٰ بن مریم، رسول اللہ کو زندہ آسمانوں پر مانتا ہوں اور یہ کہ وہ قرب قیامت میں دنیا میں دوبارہ تشریف لائیں گے۔“ اعظم خان صاحب نے اس تحریر پر دستخط کر دیئے۔ اب میں ان کے برابر والی کرسی پر بیٹھ گیا اور ان کا ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لے کر مبارک باد دی۔ اب تک ان کا موڈ وہی تھا جو دو حریفوں میں ہوتا ہے مگر کہہ دیا خیر مبارک۔ دراصل ایک بار پہلے ان سے اچھی خاصی تلخی ہو چکی تھی اور بات تھانہ کچہری تک جا چکی تھی۔ مگر پٹھان قوم کا یہ نشہ اترتے اترتے اترتا ہے۔ اور وہ کیا ہے کہ رسی جل گئی، پر بل نہ گئے۔ میری ہزار کوششیں یہی تھیں کہ انہیں اپنی طرف آمادہ کروں اور وہ تھے کہ اپنی دنیا بسائے بیٹھے تھے۔
مولانا محمد یعقوب صاحب پیش امام مسجد نیا محلہ نواں شہر نے دعا کرائی۔ تمام جرگہ نے اعظم خان صاحب کو مبارک بادیں دیں اور مٹھائی اور چائے آگئی۔
میں نے ایک بار پھر قسمت آزمائی کی اور عرض کی ”میں آ جایا کروں جی کچھ سیکھنے سکھانے کے لیے؟“ کہنے لگے ”میری طرف نہ آیا کرو۔ ان سوروں (قادیانیوں) کی طرف جایا کرو اور انہیں سمجھاؤ“ چونکہ علم تو بہت تھا ان کے پاس۔ میں نے عرض کی آپ سے کچھ سیکھیں گے تو کسی کو کچھ سمجھا سکیں گے۔
کہنے لگے ”اس انگلی کو کیا کہتے ہیں؟“ میں نے عرض کی شہادت کی انگلی۔ کہنے لگے ”نہیں۔ عربی میں اسے کیا کہتے ہیں؟“ میں نے کہا عربی میں تو مجھے معلوم نہیں۔ اعظم خان صاحب نے کہا عربی میں اسے کہتے ہیں ”سبابہ“ میں نے پوچھا ”یہ سب (گالی) سے ہے جی؟ شاباش دیتے ہوئے کہنے لگے ہاں۔ یہ نام اس انگلی کا اس لیے ہے کہ اسے
جھگڑا کرتے ہوئے یوں استعمال کیا جاتا ہے کہ اے فلاں تو..... اے فلاں تو...... دشنام اور تہمت کے لیے اسے استعمال کیا جاتا ہے۔
راقم: جی۔
اعظم خان صاحب: تبلیغ کا یہ انداز نہیں ہوتا۔
اب میں سمجھا کہ توپ کا رخ کدھر ہے۔ میں نے عرض کی "اس لیے تو کہتا ہوں کہ آپ ہمیں کچھ سکھائیں"۔
کہنے لگے "میں بوڑھا آدمی ہوں اور اکثر بیمار رہتا ہوں۔ پینتیس سال کتے کی دم پکڑے رکھی ہے، میرے لیے یہی کافی ہے کہ اب چھوڑ دی ہے اور آپ مجھے میرے حال پر چھوڑ دیں"۔
راقم: ٹھیک ہے جی ہم آپ کو تنگ نہیں کرتے مگر یہ وعدہ تو کریں کہ آپ ہمارے لیے دعا کیا کریں گے۔
مان گئے اور کہنے لگے "اچھا ٹھیک ہے۔ ان (قادیانیوں) سے بھی کہہ دیا ہے کہ میری طرف آئندہ کوئی نہ آئے۔ بہت ہو چکا ہے ۔
راقم: آپ کے اسلام لانے کی خبر اور حلف نامہ اخبارات میں شائع کر دی جائے؟
اعظم خان صاحب: ضرور کریں تاکہ سب کو پتہ چل جائے کہ میں اب وہ نہیں رہا۔ اور پورے جرگے کو مخاطب کر کے کہنے لگے "بھائیو! تم سب جہاں بھی جاؤ، جہاں بیٹھو، یہ بات ضرور کرنا کہ میں آج کے بعد راسخ العقیدہ سنی مسلمان ہوں اور مرزائیت کا طوق میں نے اپنے گلے سے اتار پھینکا ہے۔ اب میں تم میں سے ہوں اور تم سب میرے بازو ہو"۔
ظاہراً تحریر کے مکلف ہو جانے کے بعد اطمینان قلب بھی حاصل ہو چکا تھا کہ اعظم خان صاحب جو کچھ کہہ رہے ہیں، دل سے کہہ رہے ہیں مگر یہ کانٹا اب تک دل میں ہے کہ یہ انقلاب بپا کیسے ہوا؟
عقل میں آنے والی اس کی دو صورتیں ہیں:
ایک یہ کہ ہر ماہ باقاعدگی سے تنظیم کی طرف سے ایک کتابچہ حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی مدظلہ کا لکھا ہوا اعظم خان صاحب کے نام بذریعہ ڈاک ارسال کیا کرتے
تھے اور دوسرے یہ کہ اعظم خان صاحب کا بھائی ڈاکٹر محمد یوسف صاحب کا درد اور محنت اس کامیابی کے ماتھے پر جھومر ہے۔
جیسے اعظم خان صاحب ایمان کی مٹھاس اور حلاوت اپنے قلب میں محسوس کر رہے تھے ، اسی طرح جرگے کے شرکاء مٹھائی اور چائے سے اپنے کام و دہن میٹھا کر چکے تھے اور ایک ایک کر کے اجازت لے لے کر جا رہے تھے۔
ہم بھی اس تواضع سے فارغ ہوئے اور اعظم خان صاحب سے اجازت چاہی۔ اٹھ کر کھڑے ہو گئے اور ہاتھ ملانے لگے۔ میں نے نہ جانے کس لہجے میں کہا ”سینے سے لگا لیں جی“
اعظم خان صاحب نے دونوں بازو پھیلا دیے اور کہا لو۔ سینے سے لگ گئے۔ پتہ نہیں کیا ہو رہا تھا اور یوں کتنے لمحے بیتے ۔ لیکن جب پیچھے ہٹا تو اعظم خان صاحب کی آنکھوں میں آنسو تھے۔
اجازت لی اور باہر دروازے پر آگیا۔ جو دوست مجھے لے کر آئے تھے ، دروازے میں کھڑے کہہ رہے تھے کہ خطیب صاحب سے کہہ دیں کہ آج جمعہ کے اجتماع میں اعلان ضرور کریں۔ اس دوران اعظم خان صاحب پھر اٹھے اور چند قدم آگے بڑھ کر مجھے بلوایا۔ میں ان کی طرف متوجہ ہوا۔ کہنے لگے ”شمال میں (ہمارے یہاں سے روزنامہ اخبار نکلتا ہے) جنوب میں، مشرق میں، مغرب میں سب اخباروں میں دے دو۔
راقم نے انہیں یقین دہانی کروائی۔ ہاں جی انشاء اللہ کل کے اخبارات میں آ جائے گا۔
ڈاکٹر صاحب دیگر مہمانوں کو رخصت کر کے آگئے اور مجھے ساتھ لے لیا۔ اعجاز اعوان صاحب ان کے محلہ دار ہیں، وہ بھی آگئے۔ ڈاکٹر صاحب بہت خوش تھے اور بتا رہے تھے کہ سارے محلے کے جذبات یہی ہیں۔ گفتگو اتنی ایمان پرور ہو رہی تھی کہ گلی میں سے اعجاز صاحب اس دوران ہمیں اپنی بیٹھک میں لے گئے اور ہم اس صوتی سعادت کا مزہ لیتے رہے۔ دوران گفتگو ڈاکٹر صاحب کی پلکیں بار بار بھیگ جاتیں اور میرے دل پر تو رحمت الہیہ آج یوں ٹوٹ کر برسی تھی کہ ان نور کے موتیوں سے آنکھیں چندھیانے لگیں۔
جمعہ کے اجتماع میں مولانا سعید الرحمن قریشی صاحب نے جب یہ اعلان کیا کہ اعظم خان صاحب حلقہ بگوش اسلام ہو گئے ہیں تو اجتماع میں خوشی کی لہر دوڑ گئی اور سب کے لبوں سے شکرانے کے کلمات جاری ہونے لگے اور ایک دوسرے کو مبارک بادیں دینے لگے۔
گلی محلہ اور بازار میں بھی لوگ ایک دوسرے کو مبارک بادیں دیتے رہے۔
دوسرے روز روزنامہ ”شمال“ ایبٹ آباد نے اس خبر کو شایان شان شائع کیا۔ چند دنوں بعد ڈاکٹر محمد یوسف صاحب بازار میں مل گئے۔ کہنے لگے بے شمار مبارک بادوں کے خطوط محمد اعظم خان صاحب کو مل رہے ہیں اور کچھ چھوٹے بچوں نے بھی لکھے ہیں جنہیں پڑھ پڑھ کر اعظم خان صاحب آبدیدہ ہو جاتے ہیں اور کہتے ہیں میں نہیں جانتا تھا کہ امت مجھے دوبارہ اس طرح پیار دے گی۔
بغیر کسی لمبی چوڑی محنت اور دعوت کے محمد اعظم خان صاحب جیسے پڑھے لکھے، ذہین، زمانے کے نشیب و فراز سے واقف، جہالت میں اپنے پرائیوں کی دشمنیوں اور سختیوں کو برداشت کر لینے والے محمد اعظم خان کا یوں قبول اسلام تصدیق ہے اس صداقت کی کہ وہ وقت آنے والا ہے جب تمام دنیا میں ڈھونڈنے کے باوجود ایک قادیانی بھی نہیں ملے گا اور مرزائیت کا یہ زخمی اژدھا جہاں گر چکا ہے، انشاء اللہ اب نہ اٹھے گا۔
چار کالمی سرخی اور پانچ انڈر لائنوں سے واضح کر کے خبر یوں شائع کی گئی:
”ایبٹ آباد (نمائندہ شمال) نواں شہر صباء کالونی محلہ قلعہ کے محمد اعظم خان ولد زین خان جو قریباً پینتیس (٣٥) سال تک قادیانی جماعت سے وابستہ رہے، آج انہوں نے اپنی رہائش گاہ واقع صباء کالونی نواں شہر میں ایک بڑے اجتماع کے روبرو قادیانیت سے تائب ہونے کا اعلان کیا۔ اجتماع میں مقامی معززین کی بڑی تعداد جمع تھی۔ جن میں علماء کرام اور تحفظ ختم نبوت یوتھ فورس نواں شہر کے نمائندے بھی شامل تھے۔ محمد اعظم خان نے مرزائیت سے برات کا اعلان کرتے ہوئے کہا میں آج کے بعد راسخ العقیدہ سنی مسلمان ہوں۔ میرا قادیانی جماعت کے کسی گروپ لاہوری یا ربوہ والے سے کوئی تعلق یا واسطہ نہیں رہا اور کسی مقامی و غیر مقامی قادیانی سے قطعاً لا تعلقی کا اعلان کرتا ہوں۔ انہوں نے
واضح کیا کہ میں حضرت محمد کی ختم نبوت پر غیر مشروط ایمان رکھتا ہوں اور کسی ایسے شخص کا پیروکار نہیں ہوں جو آپ کے بعد کسی بھی مفہوم یا تشریح کے لحاظ سے پیغمبر ہونے کا دعویدار ہو اور نہ ہی ایسے شخص کو پیغمبر یا مذہبی مصلح مانتا ہوں۔ انہوں نے کہا اگر میری کوئی تحریر یا وصیت وغیرہ قادیانی جماعت کے پاس ہو تو اس کو باطل اور آج کے بعد منسوخ تصور کیا جائے اور میں اس کا علی الاعلان اعتراف کرتا ہوں کہ حضرت عیسیٰ جو بنی اسرائیل کی طرف رسول بنا کر بھیجے گئے تھے، وہ آسمانوں پر زندہ موجود ہیں اور وہ قرب قیامت میں دوبارہ تشریف لائیں گے۔
اس موقع پر موجود تحفظ ختم نبوت یوتھ فورس کے نمائندہ ساجد اعوان نے کہا کہ قادیانیت محض چندہ خوری کا نام ہے اور سادہ لوح مسلمانوں کو قادیانیت کے جال میں پھانس کر ان کی جائیدادیں وغیرہ کو ہتھیا لیا جاتا ہے۔ محمد اعظم خان مبارک باد کے مستحق ہیں کہ انہوں نے مرزا غلام احمد قادیانی کی جھوٹی نبوت پر لعنت بھیج کر دامن مصطفوی میں پناہ حاصل کر لی ہے اور اس طرح انہوں نے جہاں اپنی متاع ایمانی بچالی ہے، وہیں قادیانی دھوکہ بازوں سے اپنی دنیا بھی محفوظ کر لی ہے۔ اسی طرح دیگر قادیانی بھی جو ابھی تک قادیانیت کے جال میں پھنسے ہوئے ہیں، ان کو بھی محمد اعظم خان کی تقلید کر کے دین اور دنیا میں حقیقی کامیابی حاصل کرنی چاہیے۔ محمد اعظم خان کے قادیانیت سے تائب ہونے کی خبر پورے ہزارہ ڈویژن میں خوشی کی لہر بن کر دوڑ گئی اور تمام مذہبی جماعتوں اور علماء کرام نے محمد اعظم خان کو مسلمان ہونے پر صدق دل سے مبارک باد دی ہے۔
(روزنامہ ”شمال“ ایبٹ آباد، ١٨ نومبر ١٩٩٥ء)
١٩ نومبر ١٩٩٥ء کے شمال نے اس پر خوبصورت اداریہ رقم کیا۔
(مجاہد ختم نبوت جناب ساجد اعوان صاحب کا مکتوب، راقم کے نام)
قصہ ایک مناظرے کا
حضرت امروہیؒ نے اپنے استاذ حضرت قاسم العلوم والمعارف کی طرح ہر فتنہ کا مقابلہ کیا اور اپنی تحریر و تقریر سے باطل کو ابھرنے نہ دیا۔ باطل کی سرکوبی کرنا ان کا خاص نصب العین تھا۔ اس کام کو کہاں کہاں اور کس کس تدبیر سے انجام دیا، اس کی تفصیل
بھی مدنظر نہیں۔ مجھے اس مقابلہ میں صرف حضرت محدث امروہی کی اس جدوجہد کا ذکر کرنا ہے جو انہوں نے مرزا قادیانی کے مقابلہ میں کی۔ بدقسمتی سے امروہہ میں حکیم محمد احسن جو ایک اچھے خاندان کے فرد تھے، مرزا قادیانی کے دام فریب میں آگئے اور قادیان سے ان کا وظیفہ مقرر ہو گیا۔ قادیانی مذہب کے واقفین پر یہ بات پوشیدہ نہیں ہے کہ حکیم محمد احسن امروہی' اور حکیم نور الدین بھیروی قادیانیوں کے یہاں نعوذ باللہ شیخین کا مرتبہ رکھتے ہیں اور ان کو رضی اللہ عنہ لکھا جاتا ہے۔ مرزا کی جھوٹی نبوت کا دارومدار انہی دونوں کی دجل آمیز تحقیق پر تھا۔ حکیم محمد احسن نے اپنے محلہ کے قریب رہنے والے چند اشخاص کو مرزا قادیانی کی طرف مائل کر دیا تھا۔ حضرت مولانا امروہیؒ اور ان کے ذی استعداد شاگردوں نے حکیم محمد احسن کا ڈٹ کر مقابلہ کیا اور وہ اپنی باطل و بے جا کوشش میں امید کے مطابق کامیاب نہ ہو سکے۔ ان لوگوں میں سے جو قادیانیت کی طرف مائل ہو گئے تھے، بعض لوگوں نے توبہ کر لی تھی۔ حضرت محدث امروہیؒ کو بڑا فکر تھا کہ ان کے وطن میں یہ فتنہ وباء کی طرح پھیلتا جا رہا ہے۔ چنانچہ وہ اپنے مکتوب گرامی میں جو مولانا حافظ سید عبدالغنی صاحب پھلاؤدی کے نام ہے، اس فتنہ کا ذکر فرماتے ہیں۔
بندہ نحیف احقر الزمن احمد حسن غفرلہ۔
بخدمت برادر مکرم جامع کمالات عزیزم حافظ مولوی محمد عبدالغنی سلمہ اللہ تعالیٰ۔
بعد سلام دعا نگار ہے کہ ........ امروہہ میں اور خاص محلہ دربار (کلاں) میں ایک مرض وبائی مہلک یہ پھیل رہا (ہے) کہ محمد احسن جو مرزا قادیانی کا خاص حواری ہے۔ اس نے حکیم آل محمد کو جو مولانا نانوتوی علیہ الرحمہ سے بیعت تھے، مرزا کا مرید بنا چھوڑا اور سید بدر الحسن کو جس نے مدرسہ میں مجھ ناکارہ سے بھی کچھ پڑھا (ہے) مرزا کی طرف مائل (کر دیا) ان دونوں کے بگڑنے سے محمد احسن کی بن پڑی۔ لن ترانیاں کرنی شروع کیں۔ طلبہ کے مقابلہ سے یوں عقب گزاری (کی) احمد حسن میرے مقابلہ پر آئے، میں جب مناظرہ پر آمادہ ہوا اور یہ پیغام دیا کہ حضرت ! مرزا کو بلائیے صرف راہ میرے ذمہ (یا) مجھ کو لے چلئے میں خود اپنے صرف کا متکفل (ہوں گا) بسم اللہ آپ اور مرزا دونوں مل کر مجھ سے مناظرہ کر لیجئے۔ یا میرے طلبہ سے مناظرہ کیجئے۔ ان کی مغلوبی میری مغلوبی۔ تب مناظرہ کا دعویٰ
چھوڑ‘ مباہلہ کا ارادہ کیا۔ بنام خدا میں اس پر آمادہ ہوا اور بے تکلف کہلا بھیجا۔ بسم اللہ مرزا آئے۔ مباہلہ مناظرہ جو شق وہ اختیار کرے‘ میں موجود ہوں۔ (میں نے) اس کے بعد جامع مسجد (امروہہ میں) ایک وعظ کہا اور اس پیغام کا بھی اعلان کر دیا۔ اور مرزا کے خیالات فاسدہ کا پورا رد کیا۔
کل بروز جمعہ دوسرا وعظ ہوا جو بفضلہ تعالیٰ بہت پر زور تھا اور بہت زور کے ساتھ یہ پکار دیا کہ دیکھو مولوی فضل حق کا یہ اشتہار مطبوعہ (اور) میرا یہ اعلان مرزا صاحب کو کوئی صاحب لوجہ اللہ غیرت دلائیں کب تک خلوت خانہ میں چوڑیاں پہنے بیٹھے رہو گے؟ میدان میں آؤ اور اللہ برتر کی قدرت کاملہ کا تماشا دیکھو کہ ابھی تک خدا کے کیسے بندے تم سے دجال امت کی سرکوبی کے واسطے موجود ہیں۔ اگر تم کو اور تمہارے حوارین کو غیرت ہے تو آؤ ورنہ اپنے ہفوات سے باز آؤ۔ بفضلہ تعالیٰ ان دونوں وعظوں کا اثر شہر میں امید سے زیادہ پڑا اور دشمن مرعوب ہوا۔
پیش گوئی تو یہ ہے کہ نہ مباہلہ ہو گا‘ نہ مناظرہ مگر دعا سے ہر وقت یاد رکھنا۔ مولانا گنگوہی مدظلہ (اور) مولوی محمود حسن صاحب دیوبندی نے بہت کلمات اطمینان تحریر فرمائے ہیں۔ ارادہ (ہے) دو چار وعظ اور کہوں۔
(٢٠ ذیقعدہ ١٣١٩ھ‘ مطابق یکم مارچ ١٩٠٢ء‘ از امروہہ)
خود حضرت محدث امروہیؒ نے مرزا کو براہ راست بھی ایک مکتوب گرامی تحریر فرمایا جو قادیانیوں کی روئیداد مباحثہ رامپور میں درج ہے۔ حضرت تحریر فرماتے ہیں ”بسم اللہ آپ تشریف لائیے۔ میں آپ کا مخالف ہوں۔ آپ مسیح موعود نہیں اور نہ ہو سکتے ہیں۔ آپ اپنے کو مسیح موعود ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں۔ میں بنام خدا مستعد ہوں۔ خواہ مناظرہ کیجئے یا مباہلہ‘ آپ اپنے اس دعویٰ کا احادیث معتبرہ سے ثبوت دیجئے۔ میں انشاء اللہ تعالیٰ اس دعویٰ کی قرآن و احادیث صحیحہ سے تردید کر دوں گا۔ والسلام علیٰ من اتبع الھدیٰ
راقم خادم الطلبہ احقر الزماں احمد حسن غفرلہ مدرس مدرسہ عربیہ امروہہ
(تتمہ ضروری مباحثہ رامپوری‘ ص٥٦)
پیر سید جماعت علی شاہ صاحب محدث علی پوری
آپ کی رد قادیانیت پر گرانقدر خدمات ہیں۔ مرزا قادیانی کے دعویٰ نبوت پر آپ نے پانچ نکاتی بیان جاری کیا
- ١۔ سچا نبی کسی استاد کا شاگرد نہیں ہوتا۔ اس کا علم لدنی ہوتا ہے۔ وہ روح
قدس سے تعلیم پاتا ہے۔ بلاواسطہ اس کی تعلیم و تعلم خداوند قدوس سے ہوتا ہے۔ (جھوٹا نبی اس کے برخلاف ہوتا ہے)
- ٢۔ ہر سچا نبی اپنی عمر کے چالیس سال گزرنے کے بعد یکدم بحکم رب العالمین
مخلوق کے روبرو دعویٰ نبوت کر دیتا ہے۔ بتدریج آہستہ آہستہ اس کو درجہ نبوت نہیں ملتا‘ کہ پہلے وہ محدث‘ پھر مجدد اور بعد میں نبوت کا دعویٰ کرے۔
- ٣۔ حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر حضور سرور کائنات ﷺ تک تمام
کے تمام انبیاء کرام کے نام مفرد تھے۔ کسی سچے نبی کا نام مرکب نہیں تھا۔ (اس کے برعکس جھوٹے نبی کا نام مرکب ہوا)
- ٤۔ سچا نبی کوئی ترکہ نہیں چھوڑتا۔ (جبکہ جھوٹا ترکہ چھوڑ کر مرا اور کچھ اولاد
کو محرم الارث کیا)
- ٥۔ علاوہ ازیں مرزائی حضور علیہ السلام کے مدارج کو مرزا قادیانی کے لیے
مان کر شرک فی النبوۃ کے مرتکب ہوئے۔ جس طرح خداوند کریم کا شریک کوئی نہیں اس طرح محمد عربی ﷺ کی مثال بھی کوئی نہیں۔
آپ کا یہ پانچ نکاتی اعلان و چیلنج آج تک مرزائی امت کے لیے سوہان روح ہے۔ اس کا کوئی مرزائی جواب نہ دے پایا۔
شاہی مسجد لاہور میں جہاں دیوبندی‘ اہل حدیث علماء‘ پیر مہر علی شاہ صاحب کی تائید کے لیے ٢٥ اگست ١٩٠٠ء کے معرکہ میں تشریف لائے تھے اور تقریریں کی تھیں‘ وہاں پیر جماعت علی شاہ بھی تشریف لائے۔ آپ نے ایمان افروز باطل سوز تقریر کی۔ اس طرح جب مرزا قادیانی کے خلیفہ نورالدین نے نارووال ضلع سیالکوٹ میں اپنا ارتداد کیمپ لگایا‘ آپ اس وقت صاحب فراش تھے۔ چارپائی سے اٹھا نہیں جاتا تھا لیکن آپ نے حکم دیا
کہ میری چارپائی اٹھا کر ہی نارووال لے چلو۔ چنانچہ متواتر چار جمعے آپ کی چارپائی اٹھا کر لے جاتے رہے۔ اور آپ خطبہ جمعہ میں مرزائی عقائد کا پردہ چاک کرتے رہے۔ بالاخر نور الدین کو وہاں سے راہ فرار اختیار کرنا پڑی۔
٢٧ اکتوبر ١٩٠٤ء کو مرزا قادیانی اپنے حواریوں کے ساتھ سیالکوٹ ارتدادی مہم پر آیا۔ ڈپٹی کمشنر سیالکوٹ کا سپرنٹنڈنٹ قادیانی تھا۔ اس لیے مرزا قادیانی کو خیال تھا کہ سرکاری اثر و رسوخ کے باعث میرے مقابلے میں کوئی نہ آئے گا۔ پیر جماعت علی شاہ نے سیالکوٹ میں تشریف لا کر تین ہفتے قیام کیا۔ ہر روز شہر کے مختلف مقامات پر آپ کے رد قادیانیت پر بیان ہوئے۔ بالاخر مرزا قادیانی کو راہ فرار اختیار کرنے پر مجبور کر دیا۔
٦ مئی ١٩٠٨ء کو مرزا قادیانی لاہور آیا۔ ارتدادی مہم کے مقابلے کے لیے لاہور کے مسلمانوں نے پیر جماعت علی شاہ کو بلوایا۔ آپ نے موچی دروازہ اور دیگر مقامات پر مرزا کو للکارا۔ مرزا قادیانی کو پانچ ہزار انعام دینے کا اعلان کیا کہ وہ آ کر مناظرہ کرے اور انعام پائے۔ جواب میں مرزا قادیانی نے کہا کہ پیر صاحب مجھے بھگانے کے لیے آئے ہیں۔ یہ ایڑی چوٹی کا زور لگائیں مگر میں ایسا نہیں جو بھاگ جاؤں۔ اگر وہ بارہ برس بھی رہے تو میرا قدم نہ ہلے گا۔ اس کے جواب میں پیر جماعت علی شاہ نے ٢٢ مئی ١٩٠٨ء کے جلسہ عام میں اعلان کیا کہ بارہ برس تو اپنی جگہ رہے، مرزا قادیانی جلد ہی لاہور نہیں بلکہ دنیا سے ذلیل و خوار ہو کر جائے گا۔ ٢٥-٢٦ مئی کی درمیانی رات کے جلسہ میں کہا کہ مرزا قادیانی کو چوبیس گھنٹے کی مہلت ہے۔ آئے اور مناظرہ کرے لیکن مسلمانو یاد رکھو وہ میرے مقابلہ میں نہ آئے گا۔ چنانچہ ایسا ہوا کہ ٢٦ مئی مرزا قادیانی کو ہیضہ نے آن گھیرا۔ ڈاکٹر نے ایسی دوائی دے دی کہ نجاست کا رخ جو نیچے کی طرف تھا، اوپر کو ہو گیا اور بیت الخلاء میں جان نکل گئی۔
(ضیائے حرم، دسمبر ١٩٧٤ء)
تمہارے سامنے کس کا چراغ جلتا ہے (مولف)
میں ذمہ دار ہوں
ادھر تحریک کی اندوہناک پسپائی سے لوگوں میں مایوسی کا پیدا ہونا ایک قدرتی امر تھا۔ کئی لوگ ان شہداء کے متعلق جو اس تحریک ناموس ختم نبوت پر قربان ہو چکے تھے‘ یہ سوال کرتے کہ ان کے خون کا ذمہ دار کون ہے؟ شاہ جی نے لاہور کے ایک جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے جواب دیا کہ
”جو لوگ تحریک ختم نبوت میں جہاں تہاں شہید ہوئے‘ ان کے خون کا جوابدہ میں ہوں۔ وہ عشق رسالت میں مارے گئے۔ اللہ تعالیٰ کو گواہ بنا کر کہتا ہوں کہ ان میں جذبہ شہادت میں نے پھونکا تھا۔ جو لوگ ان کے خون سے دامن بچانا چاہتے اور ہمارے ساتھ رہ کر اب کنی کترا رہے ہیں‘ ان سے کہتا ہوں کہ میں حشر کے دن بھی ان کے خون کا ذمہ دار ہوں گا۔ وہ عشق نبوت میں اسلامی سلطنت کے ہلاکو خانوں کی بھینٹ ہو گئے لیکن ختم نبوت سے بڑھ کر کوئی چیز نہیں۔ حضرت ابو بکر صدیقؓ نے بھی سات ہزار حافظ قرآن اسی مسئلہ کی خاطر شہید کر دیے گئے۔
شاہ جی تحریک کی پسپائی سے غایت درجہ ملول تھے۔ ان کا دل بجھ چکا تھا۔ فرماتے غلام احمد کی نبوت کے لیے تحفظ ہے‘ لیکن محمد کی ختم نبوت کے لیے تحفظ نہیں۔ عموماً اشکبار ہو جاتے۔ اسی زمانہ میں ایک دن تقریر کرنے کے لیے اٹھے تو عمر بھر کی روایت کے برعکس نہ خطبہ مسنونہ پڑھا نہ زیر لب ورد کیا۔ فرمایا:
مسٹر پریذیڈنٹ‘ لیڈیز اینڈ جنٹلمین! لوگوں نے قہقہہ لگایا اور ششدر رہ گئے۔
”شاہ جی یہ کیا؟“ فرمایا ایک سیکولر سٹیٹ کے شہریوں سے مخاطب ہوں۔
(تحریک ختم نبوت‘ ص ١٤٤‘ مصنفہ شورش کاشمیریؒ)
بخاری پاکستان سے آ رہا ہے
ترکی میں ایک عالم دین نے خواب دیکھا کہ ”آقائے نامدار ﷺ بمع صحابہ کرامؓ گھوڑوں پر سوار سفر پر تشریف لے جا رہے ہیں۔ میں نے عرض کی کہ آقا ﷺ
کہاں کا ارادہ ہے۔ آپ نے فرمایا کہ میرا بیٹا عطاء اللہ بخاری پاکستان سے آ رہا ہے۔ اسے لینے جارہے ہیں۔ ترکی کے یہ عالم دین سید عطاء اللہ شاہ بخاری کو نہ جانتے تھے۔ پاکستان میں وہ صرف مولانا محمد اکرم سلطان فاؤنڈری لاہور کو جانتے تھے۔ ان کو خط لکھا کہ فلاں رات خواب میں اس طرح دیکھا۔ آپ فرمائیں تو یہ عطاء اللہ بخاری کون ہیں اور اس رات کیا واقعہ پیش آیا۔ خط پڑھا تو معلوم ہوا کہ خواب کی وہی رات تھی جس رات سید عطاء اللہ شاہ بخاری کا وصال ہوا۔
(تذکرہ مجاہدین ختم نبوت‘ ص ٣٥٦‘ از مولانا اللہ وسایا)
چودھری ظہور الٰہی
مولانا تاج محمودؒ نے فرمایا کہ ٦ ستمبر ١٩٧٤ء کی شام چودھری ظہور الٰہی نے مسکراتے ہوئے فرمایا کہ آج انشاء اللہ مذاکرات کامیاب ہوں گے اور پھر گزشتہ رات کا ایک واقعہ بڑے دلچسپ انداز میں حاضرین کو سنایا۔ فرمایا کہ رات مسز بندرانائیکے وزیر اعظم سری لنکا کا عشائیہ تھا۔ جب وہ ختم ہوا تو مسز بندرانائیکے اور جناب بھٹو گیٹ کے پاس آکر کھڑے ہو گئے۔ تمام مدعوین جا رہے تھے۔ میں جب گیٹ کے قریب پہنچا تو بھٹو صاحب سے آنکھ بچا کر ایک طرف سے ہو کر نکلنے کی کوشش کی لیکن بھٹو صاحب نے دیکھ لیا۔ مجھے بلایا کہ چودھری ظہور الٰہی صاحب آپ کسی زمانہ میں میرے دوست تھے اور آج کل دشمن ہو رہے ہیں۔ آپ کو کیا ہو گیا؟ چودھری صاحب نے کہا کہ بھٹو صاحب یہ مسئلہ ختم نبوت‘ جو حضورؐ کی ناموس کا مسئلہ ہے‘ تیرے سامنے ہے اسے حل کر دے تو ہیرو ہو جائے گا۔ بھٹو صاحب نے کہا کہ نہیں اب میں کیا ہیرو ہوں گا۔ ہیرو تو میں جب ہوتا اگر ١٤ جون کو اس مسئلے کو حل کر دیتا۔” چودھری صاحب نے کہا کہ نہیں اب بھی اگر آپ یہ مسئلہ حل کر دیں تو نہ صرف دنیا میں تجھے بہت بڑی عزت نصیب ہو جائے گی بلکہ آپ کی آخرت بھی سنور جائے گی۔ بھٹو صاحب نے کہا کہ اگر میں مسئلہ حل کردوں تو تم میری مخالفت کو چھوڑ کر میرے دوست بن جاؤ گے۔” چودھری صاحب نے کہا کہ دوستی اور مخالفت اصولوں کی بنیاد پر ہے۔ اگر آپ مسئلہ حل کردیتے ہیں اور ہماری طرف محبت اور دوستی کا ہاتھ
بڑھائیں گے تو ہم بھی جواب میں آپ سے دوستی اور محبت کا ہاتھ ضرور بڑھائیں گے۔ چودھری صاحب کا خیال صحیح نکلا۔ دوسرے دن مذاکرات میں بھٹو صاحب مان گئے۔
(ہفت روزہ ”لولاک“ فیصل آباد)
مولانا محمد علی مونگیریؒ کا زبردست جہاد
حضرت مونگیریؒ نے یہ محسوس کیا کہ اگر پوری قوت کے ساتھ اس تحریک کا مقابلہ نہ کیا گیا تو اس سے بڑے افسوس ناک نتائج ظاہر ہو سکتے ہیں۔ یہی وہ موڑ تھا جہاں حضرت مونگیریؒ اپنی ساری صلاحیتوں کے ساتھ میدان میں اتر آئے۔ اور اپنا سارا وقت اور ساری قوت اس کے لیے وقف کر دی۔ اپنے تمام مریدین، مسترشدین رفقاء اور اہل تعلق کو اس میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے کی تلقین کی اور صاف صاف کہا کہ جو اس معاملہ میں میرا ساتھ نہ دے گا، میں اس سے ناخوش ہوں۔
(کمالات محمدیہ، ص ٣)
بہار میں قادیانیوں نے چار ضلعوں میں بہت کامیابی حاصل کی تھی۔ خاص طور پر مونگیر اور بھاگلپور کے متعلق یہ اندیشہ پیدا ہو گیا تھا کہ یہ دونوں ضلع قادیانی ہو جائیں گے۔ بھاگلپور میں آنجہانی مولوی عبد الماجد پورنوی، بھاگلپور (جو ایک جید عالم اور اچھے مدرس تھے، اور فلسفہ میں بڑی دستگاہ حاصل تھی اور انہوں نے شرح تہذیب پر حاشیہ لکھ کر فنِ منطق سے اپنی مناسبت کا پورا ثبوت پیش کیا اور ان کا حاشیہ آج بھی کتب خانہ رحمانیہ خانقاہ مونگیر میں موجود ہے) قادیانی ہو چکے تھے اور اپنی پوری صلاحیت اس باطل مذہب کی اشاعت و تبلیغ میں صرف کر رہے تھے۔ مونگیر کا تو کہنا ہی کیا، مونگیر میں آنجہانی مرزا کے خاص سمدھی اور مرزا بشیر محمود آنجہانی کے خسر مولوی حکیم خلیل احمد آنجہانی تشریف فرما تھے۔ اور خدا کی دی ہوئی ذکاوت اور طلاقتِ لسانی کو مرزا کے نوزائیدہ مذہب کی حمایت میں شب و روز صرف کر رہے تھے۔ ان دو حضرات نے بھاگلپور اور مونگیر کی فضا کو بہت زیادہ مسموم کر رکھا تھا اور اس کا خطرہ تھا کہ ان دونوں جگہوں پر رہنے والے مسلمان رفتہ رفتہ قادیانی مذہب اختیار کر لیں گے۔ پٹنہ اور ہزاری باغ میں قادیانی تحریک زوروں پر پھیل رہی تھی۔ حضرت مولانا مونگیریؒ نے اپنے خط میں ذکر کیا ہے کہ بہار کے علاوہ بنگال میں بھی اس نے مہم شروع کر دی ہے۔
حضرت مولانا مونگیری نے قادیانیت کے خلاف باقاعدہ اور منظم طریقے پر زبردست مہم شروع کی۔ اس کے لیے دورے کیے ، خطوط لکھے ، رسائل اور کتابیں تصنیف کیں ، دہلی اور کانپور سے کتابیں طبع کرا کے مونگیر لانے اور اشاعت فرمانے میں خاصہ وقت صرف ہوتا تھا اور حالات کا تقاضا یہ تھا کہ اس میں ذرا بھی تاخیر نہ ہو۔ اس لیے مولانا نے خانقاہ میں پریس اسی مقصد کے لیے قائم کیا۔ اس پریس سے سو سے زائد چھوٹی بڑی کتابیں رد قادیانیت پر شائع ہوئیں جو سب مولانا کے قلم سے ہیں۔ اس قدر ضعف اور سلسلہ علالت کے ساتھ اتنا وقیع اور عظیم تصنیفی کام بجائے خود ایک کرامت سے کم نہیں اور جس کی توجیہ تائید الٰہی و توفیق خداوندی کے سوا کسی اور چیز سے نہیں کی جاسکتی۔ اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ وہ خدا کی طرف سے اس کام پر مامور تھے۔ ہر چیز میں خدا کا فضل ان کے شامل حال تھا۔
حضرت مونگیری نے اپنے ایک معتمد اور خادم خاص کو ایک خط میں اس بات کی طرف اشارہ کیا ہے اور بے تکلفی اور سادگی کے ساتھ اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے لکھا ہے کہ میرا ضعف و ناتوانی اے عزیز تم پر اور اس کے سب بھائیوں پر ظاہر ہے کہ میں مدت سے بیکار ہو چکا ہوں۔ اور میرے ظاہری قویٰ نے جواب دے دیا ہے مگر خدائی ارشاد ”انا نحن نزلنا الذکر وانا لہ لحافظون“ نے اپنی غیر محدود قدرت کو ایک ضعیف و ناتواں ہستی میں جلوہ گر فرما کر وہ کام لیا جس کا خیال و خطرہ بھی نہ تھا۔ اس قدر رسائل ، اس ضعف و ناتوانی میں لکھوا دینا اسی کا کام ہے۔
(کمالات محمدیہ)
حضرت مولانا محمد علی مونگیری علیہ الرحمہ نے قادیانیت کی تردید میں سو سے زیادہ کتابیں اور رسائل تصنیف کیے جس میں سے صرف چالیس کتابیں ان کے نام سے طبع ہوئیں اور بقیہ دوسرے ناموں سے یا ابو احمد کے نام سے جو حضرت کی کنیت تھی۔ حضرت مولانا نے فتنہ قادیانیت کے ہر گوشہ اور ہر پہلو پر گفتگو کی اور رسائل لکھے اور اس باطل مذہب کے رد میں لکھنے کے لیے کوئی چیز نہ چھوڑی۔ انہوں نے قادیانیت کی بیخ کنی کی ، اور اس کے استیصال کو وقت کا اہم ترین جہاد قرار دیا ہے۔ حضرت مونگیری کتاب پر کتاب تردید میں لکھتے جاتے اور لوگوں میں مفت تقسیم کرتے اور مناسب جگہوں پر پہنچاتے۔ اس راہ میں ہزاروں روپے صرف کیے۔ اس مہم میں اپنے دوستوں ، عزیزوں اور عقیدت
مندوں کو بھی متحد اور منظم ہو کر مقابلہ کرنے کی ہدایت کرتے ۔ حضرت مونگیریؒ اپنے ایک گرامی نامہ میں تحریر فرماتے ہیں، میں چاہتا ہوں کہ مخالفین اسلام کی بے انتہا سعی اور کوشش کا جواب دیا جائے ۔ بالخصوص مرزائی جماعت کا فتنہ رفع کرنے میں جو کچھ ہو سکے، اس سے دریغ نہ کیا جائے ۔ اور نہایت انتظام کے ساتھ یہ سلسلہ میرے بعد جاری رہے ۔ اس لیے رائے یہ ہے کہ ایک انجمن قائم کی جائے جس کا نظم تم لوگ اپنے ہاتھ میں لو اور اس کے لیے ہر وہ شخص جو مجھ سے ربط و تعلق رکھتا ہے، وہ اس میں حسب حیثیت التزام کے ساتھ ماہانہ شرکت کرے ۔ ورنہ جو شخص میرے اس دینی اور ضروری ہدایت کی طرف بھی متوجہ نہ ہو تا، میں اس سے ناخوش ہوں اور وہ خود یہ سمجھ لے کہ اس کا مجھ سے کیا تعلق باقی رہا۔
(”کمالات رحمانی“ ص٢٧٦
تیرا سرمایہ تھا دانش فقط عشق رسول (مولف)
خود کاشتہ پودے کی آبیاری
میں کوئی دستوری نہیں، سپاہی ہوں ۔ تمام عمر انگریزوں سے لڑتا رہا اور لڑتا رہوں گا ۔ اگر اس مہم میں سور بھی میری مدد کریں گے تو میں ان کا منہ چوم لوں گا ۔ میں تو ان چیونٹیوں کو شکر کھلانے کے لیے تیار ہوں جو ”صاحب بہادر“ کو کاٹ کھائیں ۔ خدا کی قسم میرا ایک ہی دشمن ہے ۔ انگریز ۔ اس ظالم نے نہ صرف مسلمان ملکوں کی اینٹ سے اینٹ بجائی، ہمیں غلام رکھا اور مقبوضات پیدا کیے بلکہ خیرہ چشمی کی حد ہو گئی کہ قرآن حکیم میں تحریف کے لیے مسلمانوں میں جعلی نبی پیدا کیا ۔ پھر اس خود کاشتہ پودے کی آبیاری کی اور اب اس کو چہیتے بچے کی طرح پال رہا ہے ۔
(خطاب امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاری” )
محاسن نبوت
حضرت آدم علیہ السلام سے پیغمبر آخر الزمان حضرت محمد ﷺ تک کوئی ایسا نبی نہیں آیا ہے جس نے اپنی تعلیمات میں جلا پیدا کرنے کے لیے اپنے دور کے کسی انسان کے سامنے زانوئے تلمذ تہہ نہ کیا ہو ۔ لیکن نبی اور رسول براہ راست اللہ تعالیٰ سے علم حاصل کرتے ہیں ۔ نبی کی اللہ تعالیٰ خود راہنمائی کرتے ہیں ۔ انبیاء کرام بہادر بھی ہوتے ہیں اور معصوم بھی ۔ آپ انبیاء علیہم السلام کے احوال پر نگاہ ڈالیے جو نبی بھی دنیا میں تشریف لاتا ہے‘ اس کے ایک ہاتھ میں الہام الٰہی کی کڑکتی ہوئی بجلیاں ہوتی ہیں ۔ اور دوسرے ہاتھ میں تلوار ۔ وہ کاشانہ باطل پر برق بن کر گرتا ہے ۔ اس کے جلو میں سمندروں کا شور اور طوفانوں کا زور ہوتا ہے ۔ اس کی رفتار فرماں رواؤں کا دل دھڑکا دیتی ہے ۔ اس کی ایک للکار سے کائنات کا دل دہل جاتا ہے۔
(خطاب امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ)
نارسائی فکر
ارے قادیانیو! اگر نیا نبی بنائے بغیر تمہارا گزارا نہیں ہو سکتا اور اس کے بغیر تم جی نہیں سکتے‘ ہمارے مسٹر جناح کو ہی نبی مان لو ۔ ارے مرد تو تھا ۔ جس بات پر ڈٹا‘ کوہ کی طرح اڑ گیا ۔ آہوں کے بادل اٹھے‘ اشکوں کی گھٹا چھائی‘ خون کی ندیاں بہہ گئیں‘ لاشوں کے انبار لگ گئے مگر کوئی چیز مسٹر جناح کے عزم کو نہ ہلا سکی ۔ اس نے تاریخ کے اوراق کو پلٹ دیا اور ملک کے جغرافیہ کو بدل کر رکھ دیا ۔ ارے تمہاری نبوت کو بھی جگہ ملی تو لٹ پٹ کر اسی کے قدموں میں تمام عمر گزار دی ۔ انگریزوں کی نوکری نہیں کی‘ حکومت سے خطاب نہیں لیا‘ انگریزوں سے کوئی تمنا وابستہ نہیں کی اور ایک تمہارا نبی ہے کہ حضور گورنمنٹ کے آگے عاجزانہ درخواستیں کرتے کرتے ٥٠ الماریاں سیاہ کر ڈالیں ۔
(خطاب امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ)
تماشہ
ختم نبوت کی حفاظت میرا جزو ایمان ہے۔ جو شخص بھی اس ردا کو چوری کرے گا‘ جی نہیں‘ چوری کا حوصلہ کرے گا‘ میں اس کے گریبان کی دھجیاں اڑا دوں گا اور جو اس مقدس امانت کی طرف انگلی اٹھائے گا‘ میں اس کا ہاتھ قطع کردوں گا۔ میں میاں ( ﷺ ) کے سوا کسی کا نہیں‘ نہ اپنا نہ پرایا۔ میں انہی کا ہوں۔ وہی میرے ہیں۔ جس کے حسن و جمال کو خود رب کعبہ نے قسمیں کھا کر آراستہ کیا ہو‘ میں ان کے حسن و جمال پر نہ مر مٹوں تو لعنت ہے مجھ پر اور لعنت ہے ان پر جو ان کا نام تو لیتے ہیں لیکن سارقوں کی خیرہ چشمی کا تماشہ دیکھتے ہیں۔
(خطاب امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ)
حضرت شاہ عبدالرحیم رائپوریؒ
حکیم نور الدین بھیروی ثم قادیانی ایک دفعہ حضرت میاں صاحب کے پاس مہاراجہ جموں کے لیے دعا کرانے کے لیے گیا۔ آپ نے دیکھتے ہی فرمایا‘ نام نور الدین ہے۔ حکیم نے کہا ہاں۔ فرمایا قادیان میں ایک شخص غلام احمد نام کا پیدا ہوا ہے‘ جو کچھ عرصہ بعد ایسے دعوے کرے گا جو نہ اٹھائے جائیں نہ رکھے جائیں اور تم لوح محفوظ میں اس کے مصاحب لکھے ہوئے ہو۔ اس سے تعلق نہ رکھنا‘ دور دور رہنا ورنہ اس کے ساتھ ہی تم بھی دوزخ میں پڑو گے۔ حکیم صاحب سوچ میں پڑ گئے۔ فرمایا! تم میں الجھنے کی عادت ہے۔ یہی عادت تم کو وہاں لے جائے گی۔ چنانچہ کچھ عرصہ بعد مرزا غلام احمد قادیان میں ظاہر ہوا اور دعویٰ نبوت کیا اور کبھی مسیح موعود بنا اور حکیم نور الدین اس کا خلیفہ اول بنا اور اس کے دین کو پھیلایا۔ یہ شخص بڑا عالم تھا۔ مرزا صاحب کو بہت کچھ سکھاتا تھا۔ اس کے ساتھ گمراہ ہوا۔
بعد ازاں شاہ عبدالرحیم صاحب سہارنپوریؒ سے علماء لدھیانہ کی ملاقات ہوئی۔ آپ نے فرمایا کہ میں نے قادیانی کے متعلق استخارہ کیا تھا۔ میں نے دیکھا کہ یہ شخص بھینسے پر اس طرح سوار ہے کہ منہ دم کی طرف ہے۔ جب غور سے دیکھا تو اس کے گلے میں
زنار ہے۔ جس سے اس کا بے دین ہونا ظاہر نظر آتا ہے۔ اور یہ بھی یقینا کہتا ہوں کہ جو اہل علم اس کی تکفیر میں اب تک متردد ہیں، کچھ عرصہ تک سب کافر کہیں گے۔
(”فتاویٰ رضویہ“ از مولانا محمد لدھیانوی’’ص ١٧)
میں چھپ کے اندھیروں میں عبادت نہیں کرتا (مولف)
مولانا محمد حیات کے دو مناظرے
- ا۔ ایک دفعہ ایک مرزائی مناظر نے کہا کہ مولانا آپ نے قادیان چھوڑ دیا۔
آپ نے فرمایا کہ مرزا بشیر الدین کے فرار کے بعد۔
مرزائی نے کہا کہ نہیں اس وقت بھی قادیان میں ہمارے ٣١٣ افراد موجود ہیں۔ مولانا نے فرمایا کہ ”میں نے تو سنا ہے کہ ان کی تعداد ٣٢٠ ہے“ یہ سنتے ہی مرزائی نے غصے سے لال پیلا ہو کر کہا ”ہم آپ کے ”دیوبند“ پر پیشاب بھی نہیں کرتے“ مولانا نے بڑے دھیمے انداز میں جواب دیا کہ ”میں تو جتنا عرصہ قادیان میں رہا، کبھی بھی پیشاب نہیں روکا“۔ اس پر مرزائی اول فول بکتا ہوا یہ جا وہ جا۔
- ٢۔ ایک دفعہ مرزائیوں نے مناظرہ میں شرط رکھ دی کہ مناظر مولوی فاضل
ہوگا۔ مولانا مناظرہ کے لیے تشریف لے گئے تو مرزائی مناظر نے مولوی فاضل کی سند مانگی۔
مولانا نے فرمایا افسوس کہ آج ہم سے وہ لوگ سند مانگتے ہیں جن کا نبی پٹواری گری کے امتحان میں فیل ہو گیا تھا۔ مولانا نے کچھ اس انداز سے اسے بیان کیا کہ مرزائی مناظر مناظرہ کیے بغیر ہی بھاگ گیا۔
(”تذکرہ مجاہدین ختم نبوت“ ص ١٣٤-١٣٥’ از مولانا اللہ وسایا)
ہو جس کی فقیری میں بوئے اسد اللہی (مولف)
اک مناظرے میں بحث کی تعین پر گفتگو چل رہی تھی۔ مرزائی ”حیات و وفات مسیح“ کو موضوع بحث بنانے پر مصر تھے اور مولانا آسمانی نکاح بابت محمدی بیگم کو زیر
بحث لانا چاہتے تھے۔ قادیانی مناظر نے طنزاً کہا ”میں نہیں سمجھتا مولوی ثناء اللہ کا محمدی بیگم سے کیا رشتہ ہے کہ انہیں اس کی اتنی حمایت مقصود ہے“ مولاناؒ نے فوراً فرمایا کہ ”محمدی بیگم زیادہ سے زیادہ ہماری اسلامی بہن ہو سکتی ہے مگر وہ تو تمہاری (قادیانی امت کی) ماں ہے۔ اگر غیور ہو تو اپنی ماں کو اپنے گھر بٹھاؤ۔ دوسرے گھروں میں کیوں پھر رہی ہے“۔ اس ظریفانہ نکتہ سنجی اور حاضر جوابی پر پوری مجلس قہقہہ زار بن گئی اور فریق مقابل بہت خفیف ہوا۔
(”تذکرہ مجاہدین ختم نبوت“ ص ١٢٤‘ از مولانا اللہ وسایا)
دیکھتے دیکھتے کیا کیا گل خنداں نہ رہے (مولف)
علامہ انور شاہ کشمیریؒ نے جھوٹ کو ننگا کر دیا
مقدمہ بہاولپور میں شمس مرزائی نے یہ بات اٹھائی کہ خواجہ غلام فرید صاحب چاچڑوی نے مرزا صاحب کی تعریف کی ہے اور ان کی وہ عبارت پیش کی جہاں خواجہ صاحب نے لکھا ہے کہ وہ صالح اور متقی اور دین کا خدمت گزار ہے۔ میں چونکہ مختار تھا۔ میں نے کہا جج صاحب عدالت کا وقت ختم ہو گیا ہے۔ چنانچہ عدالت برخاست ہوئی۔ دوسرے دن ہم کتابوں سے خود مرزا صاحب کی عبارت تلاش کر کے لائے۔ اس نے لکھا تھا کہ مجھے فلاں فلاں آدمی کافر اور مرتد کہتے تھے اور ان میں چوتھے نمبر پر خواجہ غلام فریدؒ کا نام تھا۔ ہم نے جب یہ عبارت پیش کی‘ جج صاحب خوشی سے اچھل پڑے۔ پہلے روز شمس کے حوالے سے سارے شہر میں کہرام مچ گیا کیونکہ وہ لوگ خواجہ صاحب کے بہت معتقد تھے اور نواب صاحب بہاولپور بھی ان کے مرید تھے۔ اس پر حضرت اقدسؒ نے فرمایا کہ خواجہ صاحب نے تعریفی کلمات پہلے کبھی فرمائے ہوں گے (یعنی مرزا کے دعویٰ نبوت سے پہلے) مولانا محمد علی صاحب جالندھری نے عرض کیا کہ اوچ شریف میں مرزا صاحب کا ایک مرید غلام احمد نام کا تھا۔ وہ خواجہ صاحب کے سامنے مرزا کی ہمیشہ تعریفیں کیا کرتا تھا اور کہتا تھا کہ وہ شخص آریہ ہندو سکھوں‘ عیسائیوں سے مناظرے کرتا ہے اور اسلام کا بڑا خدمت گزار
ہے۔ اس پر خواجہ صاحب چونکہ خالی الذہن تھے، بعض تعریفی کلمات کہہ دیئے تھے۔
("تذکرہ مجاہدین ختم نبوت" ص ١٦، از مولانا اللہ وسایا)
پھر اس کے بعد چراغوں میں روشنی نہ رہی (مولف)
گواہی
ایک دن مولانا ابو الحسنات نے تحریک ختم نبوت کا ذکر کرتے ہوئے کہا: "شاہ جی! لوگ بھی عجیب ہیں۔ ایسی ایسی غزلیں کہتے ہیں کہ جن کا نہ مطلع درست ہے نہ مقطع۔ ایک دوست نے مجھ سے سوال کیا "حضرت! یہ درست ہے کہ عطاء اللہ شاہ نے حکومت سے روپیہ لے کر تحریک ختم نبوت کو ختم کیا ہے؟" تو میں نے غصے میں اس سے کہا "بے وقوف! تیرے جیسے لوگوں نے تو مجھے ان نیک لوگوں سے برگشتہ کیا ہوا تھا۔ جب میں ان کے نزدیک ہوا تو انہیں دین کی خدمت کرنے میں بہت مخلص پایا۔ باقی رہی تحریک ختم نبوت، تو وہ میری رہنمائی میں چل رہی تھی۔ اگر کوئی بات ہوتی تو میرے علم میں ہوتی۔ رہی روپیہ لینے کی بات، تو مجھے یاد ہے ایک دفعہ سکھر جیل میں شاہ جی کا داماد (سید وکیل احمد شاہ) میرے سامنے انہیں ملنے آیا اور اس نے گھر کی پریشان حالی کا ذکر کیا تو شاہ جی نے حاجی دین محمد صاحب کی طرف رقعہ لکھا کہ رقعہ حامل ہذا کو دو صد روپیہ قرض دے دیں۔ انشاء اللہ رہا ہو کر آپ کو ادا کر دوں گا"۔ ان واقعات کی موجودگی میں، میں تمہاری بات پر کیسے یقین کرلوں۔ اس پر معترض بہت شرمسار ہوا۔
مولانا ابو الحسنات کی زبانی یہ سارا کچھ سن کر امیر شریعتؒ نے ایک آہ بھری اور فرمایا۔
اور کافر یہ سمجھتا ہے مسلمان ہوں میں
اس شعر پر مولانا ابو الحسنات نے مسکراتے ہوئے کہا "سبحان اللہ! کیا تعریف ہوئی ہے ہماری"۔ اس پر محفل کے تمام لوگ بے اختیار ہنس پڑے۔
(”حیات امیر شریعت“ ص ٤١٣۔٤١٤‘ از جانباز مرزا)
ہائے وہ عظیم لوگ
مولانا ابو الحسنات کی امامت میں اسیران ختم نبوت نے جیل خانہ میں صبح کی پہلی نماز ادا کی اور پروردگار عالم کے حضور دعا کی:
”اے رب العزت! ہمارا کوئی جرم اس کے سوا نہیں کہ محمد مصطفیٰ ﷺ کی آبرو باقی رہے‘ ہم رہیں یا نہ رہیں مگر تیرے دنیا دار لوگوں نے ایوان سلطنت میں بیٹھ کر ہماری فرد جرم پر ہمارے باغی ہونے کی مہر ثبت کی ہے۔ مگر تو دلوں کو جاننے والا ہے کہ ہماری لڑائی اپنی ذات‘ اپنے کسی منصب کے لیے نہیں بلکہ تیرے ارشاد کی تعمیل میں ہے کہ الیوم اکملت لکم دینکم و اتممت علیکم نعمتی و رضیت لکم الاسلام دیناً‘ رہنماؤں کی آنکھوں میں آنسو‘ دلوں میں جذبات کا طوفان امڈ آیا۔ امیر شریعت کی سفید داڑھی پر گرے ہوئے آنسو پھولوں پر شبنم کی بہاریں دکھا رہے تھے۔ سپرنٹنڈنٹ جیل خان عنایت اللہ خاں حیدر آبادی نے امیر شریعتؒ اور ان کے رفقاء سے کہا ”آپ حضرات جن کوٹھڑیوں میں لائے گئے ہیں‘ یہ وہی خوش بخت کوٹھڑیاں ہیں کہ جہاں ١٩٢١ء میں مولانا محمد علی جوہر‘ مولانا حسین احمد مدنی‘ مولانا شوکت علی‘ ڈاکٹر سیف الدین کچلو‘ بغاوت کے جرم میں رہ چکے ہیں“ یہ سننا تھا کہ انگریزی اقتدار اور جور و ستم کی ساری تاریخ نقش بہ دیوار بن کر ابھر آئی۔ جیل خانے کی ایک ایک اینٹ پس دیوار زنداں کی کہانی بیان کرنے لگی۔ امیر شریعت نے جیل خانے کے در و دیوار سے خطاب کرتے ہوئے کہا:
”اے اونچی دیوارو! آہنی دروازو! تم گواہ رہنا کہ اگر مولانا حسین احمد مدنی‘ مولانا محمد علی جوہر اور ان کے رفقاء وطن عزیز کی آزادی کے لیے ١٩٢١ء میں تمہارے مصائب جھیل سکتے ہیں تو ١٩٥٣ء میں عطاء اللہ شاہ بخاریؒ اور اس کے ساتھی بھی خاتم الانبیاء علیہ الصلوٰۃ والسلام کی آبرو کے لیے تمہارے مصائب و آلام سے خائف نہیں ہوں گے“۔
امیر شریعتؒ کے ان الفاظ پر سپرنٹنڈنٹ جیل اور دوسرے افسران بہت متاثر ہوئے۔ کراچی جیل میں گو سرکاری طور پر کلاس کا اعلان نہیں کیا گیا تھا، تاہم خوراک اونچے درجے کی ملتی رہی اور سپرنٹنڈنٹ جیل کے بہتر رویے سے وقت اچھا گزرتا رہا۔ امیر شریعت دیوبندی‘ ابوالحسنات قادری بریلوی‘ فیض الحسن بریلوی‘ تاج الدین انصاری دیوبندی اور مظفر علی شمسی شیعہ‘ عقیدہ ختم نبوت کی طفیل یہ سب اسیران ختم نبوت پانچ وقت کی نماز مولانا ابوالحسنات کی امامت میں پڑھتے رہے۔ نہ تو کسی کا مذہب ضائع ہوا اور نہ ہی کسی کے عقیدے میں فرق آیا۔ بلکہ ان کی باہم رفاقت نے اکثر شبہات کا ازالہ کر دیا۔
(”حیات امیر شریعت“ ص ٣٦٤-٣٦٢، از جانباز مرزاؒ)
اور دشمن ملت کے لیے شعلہ فشاں تھا (مولف)
حضرت کشمیریؒ کی وجہ محبت
ڈابھیل میں، فیض اللہ نبوی کے نام سے ایک طالب علم تھا۔ اباجی کے یہاں ان کی رسائی صرف اس وجہ سے تھی کہ وہ شاہ جی کی شان میں اپنی انمل اور بے جوڑ نظمیں بڑے بے ہنگم لہجہ میں پڑھ کر سناتے تھے۔ اباجی ہمیشہ اس طالب علم پر توجہ دیا کرتے۔ اس کی مدارات فرماتے اور ہر جگہ اسے یاد رکھتے۔
(”یادگار زمانہ ہیں وہ لوگ“ ص ٦٧، از ازہر شاہ قیصرؒ)
شورش کی شورشیں
ان دنوں راقم نے اپنے جریدے میں ایک شذرہ لکھا ”ملا کو گالی نہ دو“ اصلاً یہ خلیفہ عبدالحکیم کے اس مقالہ کا جواب تھا جو انہوں نے ”ملا اور اقبال“ کے عنوان سے لکھا اور اس میں علماء کو بزعم خویش رسوا کرنا چاہا تھا۔ اس شذرہ کو دیکھتے ہوئے جسٹس منیر نے راقم کو عدالت میں طلب کر لیا ”فوراً گرفتار کر کے پیش کرو“ کے تحت راقم سہ پہر کے
اجلاس میں خود ہی پیش ہو گیا۔ جسٹس منیر ہوا کے گھوڑے پر سوار تھے۔
وہ: یہ شذرہ آپ نے لکھا ہے؟
میں: جی ہاں۔
وہ: کیا آپ سمجھتے ہیں کہ ہم اس کو سمجھتے نہیں۔
میں: ضرور سمجھتے ہوں گے۔
وہ: یہ عدالت کی توہین ہے۔
میں: عدالت کی توہین کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔
وہ: اس کی بین السطور میں عدالت پر تنقید کی گئی ہے۔
میں: معاف کیجئے اسلام سب جیوڈس (Sub judice) نہیں ہو گیا۔ میں نے اسلام کا دفاع کیا ہے اور اگر اسلام کا دفاع کرنا جرم ہے تو مجھے اپنے جرم کا اقرار ہے۔
جسٹس کیانی: علماء کا مذاق کہاں اڑایا جاتا ہے؟
میں: کافی ہاؤس جیسے مشروب خانوں میں۔
جسٹس کیانی: لوگ کیا کہتے ہیں؟
میں: میں ان کی خرافات کو یہاں بیان کرنا نہیں چاہتا۔ نقل کیا تو اس عدالت عالیہ کے حسن سماعت میں خراش پیدا ہو گی۔
جسٹس کیانی: آپ کافی ہاؤس میں روز و شب بیٹھنے والوں میں سے ہیں؟
میں: جی نہیں، صبح و شام کے بیٹھنے والوں میں سے ہوں، رات کو کافی ہاؤس بند ہو جاتا ہے۔
جسٹس منیر جس تیزی سے بول رہے تھے، مدہم ہو گئے اور اگلی تاریخ ڈال دی۔ پھر چھوڑ دیا۔
(سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ، ص ٢٤٨-٢٤٩، از شورش کاشمیریؒ)
ظلم کے شعلوں کو پھونکوں سے بجھا سکتا ہوں میں (مولف
میں (مولف)
دو علمائے حق کی محبت
عارف باللہ حضرت میاں شیر محمد صاحب شرقپوری رحمتہ اللہ علیہ نے جب حضرت شاہ صاحب کا نام اور شہرت سنی‘ دعا فرمایا کرتے کہ زندگی میں شاہ صاحب کی زیارت ہو جائے۔ ایک دفعہ لاہور حضرت کی تشریف آوری کی خبر سن لی۔ کار بھیج کر دعوت دی۔ حضرت نے پہلے تو انکار فرما دیا۔ لیکن مولانا احمد علیؒ کے اصرار پر منظور فرمالیا۔ شرق پور پہنچے اور اپنے قدوم میمنت لزوم سے شرق پور کو مشرف فرمایا۔ حضرت میاں صاحب بہت ہی ممنون ہوئے۔ حضرت کے سامنے دو زانو ہو کر بیٹھے اور کہا کہ آپ نائب رسول ہیں۔ میرا جی چاہتا ہے کہ جناب کے چہرہ مبارک پر انوار کو دیکھتا ہی رہوں۔ گفتگو فرماتے رہے اور حضرت شاہ صاحب خاموش سنتے رہے۔ کہیں کہیں کچھ ارشاد فرماتے رہے۔ میاں صاحب علیہ الرحمہ نے فرمایا کہ مجھے نجات کی انشاء اللہ توقع ہو گئی ہے۔ حضرت جب واپس ہونے لگے تو برہنہ پا پختہ سڑک تک ساتھ مشایعت کے لیے تشریف لائے۔ جب موٹر چلنے لگی تو پچھلے پاؤں واپس ہوئے۔ فرمانے لگے کہ ”دیوبند میں چار نوری وجود ہیں۔ ایک ان میں سے حضرت شاہ صاحب بھی ہیں“
دیوبند میں شاہ صاحب سے کسی نے پوچھا کہ آپ شرقپور گئے تھے۔ میاں صاحب کو کیسے پایا؟
فرمایا ”میاں صاحب عارف ہیں اور صحیح معنی میں عارف ہیں“
(”حیات انور“ بروایت مولانا محمد انوری)
(ہفت روزہ ”خدام الدین“ شیخ بنوری نمبر‘ ص ٥٤)
تیرا جلوہ میری نگاہ میں ہے (مولف)
حضرت قبلہ کی اسیری
١٩٥٣ء میں تحریک ختم نبوت نے زور پکڑا تو امت مسلمہ کے ہر فرد و بشر نے جذب و مستی سے سرشار ہو کر اس میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ جان نثاران حضرت ختمی
مرتبت ﷺ فدایان ناموس رسالت، عاشقان رحمۃ للعالمین، علمبرداران پیغام آخریں، دریائے خون سے گزر کر تاریخ امت میں ایک نئے باب کا اضافہ کر رہے تھے اور اپنی جان نثاری سے روایات عشق و محبت کو دوام بخش رہے تھے۔
خدا شاہد ہے کامل میرا ایماں ہو نہیں سکتا
اس سلسلے میں علماء کرام کی گرفتاریاں شروع ہوئیں۔ حضرت قبلہ خان محمد صاحب جیسا کہ ایماءاً مذکور ہو چکا ہے، حضرت ثانی کے ارشاد سے میانوالی تشریف لے گئے اور اپنے آپ کو گرفتاری کے لیے پیش کیا۔
زنداں دہد بہ صدق شما ہم شہادتے
چنانچہ آپ ١٥ اپریل ١٩٥٣ء کو سیفٹی ایکٹ کے تحت گرفتار ہونے کے بعد میانوالی جیل بھیج دیے گئے اور ٢٥ اپریل ٥٣ء کو میانوالی سے سنٹرل جیل لاہور منتقل کر دیے گئے۔ ٢٨ اپریل ١٩٥٣ء کو بورسٹل جیل جانا پڑا جہاں سے پھر ارباب بست و کشاد نے ١١ اگست کو سنٹرل جیل منتقل کر دیا۔ جب سنٹرل جیل کی کال کوٹھڑیوں میں آپ اسیری کے ایام بسر کر رہے تھے، آپ سے متصل احاطہ میں درج ذیل حضرات اسیر تھے:
- ١۔ امیر شریعت حضرت سید عطاء اللہ شاہ صاحب بخاری رحمہ اللہ تعالیٰ۔
- ٢۔ مولانا محمد علی جالندھری رحمہ اللہ تعالیٰ۔
- ٣۔ مولانا ابو الحسنات قادری رحمہ اللہ تعالیٰ۔
- ٤۔ مولانا ابو الحسنات کے صاحبزادے مولانا خلیل احمد صاحب مدظلہ
- ٥۔ مولانا عبد الحامد بدایونی صاحب۔
- ٦۔ صاحبزادہ فیض الحسن صاحب۔
- ٧۔ مولانا عبد الستار خان نیازی۔
- ٨۔ سید ابو الاعلیٰ مودودی صاحب وغیرہم۔
ماہنامہ ”نقیب ختم نبوت“ ملتان، امیر شریعت نمبر، حصہ اول، ص ٣٥٧-٣٥٨)
قطرے لہو کے زینت داماں نہیں رہے (مولف)
شاہ جیؒ سے جیل میں ملاقات
٥٣ء کی تحریک ختم نبوت میں جب اباجی قید تھے تو کئی مہینوں کی کوشش کے بعد ملاقات کی اجازت ملی۔ تینوں چھوٹے بھائی عطاء المحسن، عطاء المومن، عطاء المہیمن اور میں ابوالکفیل کے ساتھ سکھر اباجی سے ملنے گئے۔ ان کو تو جیل کے اندر جانے کی اجازت نہ دی گئی کہ ”داماد اہل خانہ میں شامل نہیں“ وہ باہر کھڑے رہے۔ ہم چاروں بہن بھائی جیل کے پھاٹک پر کھڑے تھے کہ سامنے ہشاش بشاش اباجی آتے دکھائی دیے۔ ابوالکفیل تو باہر کھڑے صرف مصافحہ ہی کر سکے۔ سنتری نے تالا کھولا اور ہم اندر داخل ہوگئے۔ ڈیوڑھی میں ہی سیڑھیاں تھیں۔ اباجی ہمارے ساتھ ہی اوپر آگئے۔ کمرے میں ایک لمبا میز اور کرسیاں رکھی تھیں۔ ایک پر جیلر بیٹھ گیا، ایک پر اباجی اور باقی پر ہم۔ گھر کا حال احوال پوچھا، بھائیوں سے تعلیم کا پوچھا۔ نصیحتیں کیں۔ اباجی نے جیلر سے پوچھا کہ داماد کو ملاقات کی اجازت کیوں نہیں۔ وہ کہنے لگا ”داماد“ کیا ہوتا ہے؟ عطاء المحسن سلمہ نے کہا ”سن ان لاء“ تو پھر اس نے قانونی مجبوری بیان کی۔ پون گھنٹہ کے قریب ہم بیٹھے۔ حبس، تپش، خراب آب و ہوا، ناقص غذا اور اسی قسم کی دیگر ابتلاؤں کے سبب صحت بہت دگرگوں تھی۔ بالخصوص چہرہ اور سینہ پھوڑوں پھنسیوں سے بھرا ہوا تھا۔ مگر اباجی نے اپنی کسی تکلیف کا ذکر تک نہیں فرمایا۔ پھر وہ ہمارے ساتھ ہی سیڑھیاں اترے اور اتنی بات کہی کہ رات رکنا مت۔ شاید آج ہی چاند ہو جائے۔ شعبان کی اس دن انتیس تھی نا۔ اور پھر ہم تو سلاخوں سے لگے انہیں جیل کے اندر جاتا دیکھتے رہے۔ جب تک وہ نظروں سے اوجھل نہ ہوگئے انہوں نے پلٹ کر نہیں دیکھا۔ اور رہِ عشق محمد ﷺ کے مسافر پیچھے مڑ کر دیکھا بھی کب کرتے ہیں۔
(ماہنامہ ”نقیب ختم نبوت“ امیر شریعت نمبر، حصہ اول، ص ٢٨٢)
قادیان ' دارالشیطان
مشہور ماہر اقبالیات سید نذیر نیازی مرحوم (١٩٠٠ء-١٩٨١ء) کے والد صاحب ایک زمانہ میں بسلسلہ ملازمت دینا نگر (گورداسپور) میں مقیم رہے۔ وہیں نیازی صاحب نے سکول میں داخلہ لیا۔ البتہ میٹرک کا امتحان قادیان کے ایک سکول سے پاس کیا۔ اس زمانہ تعلیم کے بارے میں ایک واقعہ انہوں نے خود سنایا۔
ہمیں سکول میں تاریخ اسلام کے معروف مرتب اکبر شاہ خان نجیب آبادی پڑھاتے تھے۔ انہوں نے ایک روز ہمیں خط لکھنے کا طریقہ سکھایا تو اوپر کونے میں لکھا ”از قادیان۔۔ دارالامان“ مجھے اپنے گھر کے دینی ماحول کے باعث اس زمانے میں بھی معلوم تھا کہ مرزائیت غیر اسلامی تحریک ہے۔ چنانچہ میں نے اپنی کاپی پر قادیان دارالامان کی بجائے لکھا ”قادیان دارالشیطان“۔
اکبر شاہ مرحوم نے میری کاپی دیکھی تو آپے سے باہر ہو گئے اور میرے ہاتھ پر تڑاخ تڑاخ بید لگانے لگے۔ پھر یہ بات آئی گئی ہو گئی۔ کئی سال بعد ١٩٢٨ء میں ایک روز علامہ اقبال کے ہاں میکلوڈ روڈ والی کوٹھی میں تھا کہ علامہ کے ملازم علی بخش نے اندر آ کر علامہ سے کہا ایک صاحب اکبر شاہ نجیب آبادی ملنے آئے ہیں۔ وہ اب مجھے پہچانتے نہیں تھے لیکن میں تو خوب پہچانتا تھا۔ میں نے جب انہیں بتایا کہ میں ان کا شاگرد رہا ہوں اور انہوں نے مجھے مذکورہ واقعہ پر سزا دی تھی تو وہ افسوس کرنے لگے۔ کیونکہ وہ اب مرزائیت سے تائب ہو چکے تھے۔
(سید نذیر نیازی ”حیات اور تصانیف“ (نسیم اختر) مقالہ ایم۔ اے اردو ١٩٨٣ء‘
پنجاب یونیورسٹی لاہور) (ماہنامہ ”نقیب ختم نبوت“ اپریل ١٩٩٣ء)
شیخ بنوریؒ کا عشق ختم نبوت
١٩٧٥ء میں انڈونیشیا کے ایک بہت بڑے عالم الشیخ الحبشی الشافعی مشرق
وسطی کے دورہ سے واپسی پر حضرتؒ کی خدمت میں کراچی تشریف لائے۔ کئی دن ان کا قیام رہا اور انہوں نے حضرتؒ کے سامنے انڈونیشیا میں قادیانی سرگرمیوں اور نصرانی سازشوں کی تفصیلات پیش کیں۔ یہ بھی بتایا کہ ”قادیانیوں سے ہمارا معرکہ رہتا ہے۔ جب ہم مرزا غلام احمد کا کوئی حوالہ پیش کرتے ہیں تو قادیانیوں کی طرف سے اصل کتاب پیش کرنے کا مطالبہ ہوتا ہے۔ میں نے مولانا ابوالحسن علی ندوی مدظلہ کو لکھا تھا کہ اس سلسلہ میں ہماری رہنمائی کریں۔ انہوں نے جواب دیا کہ اس فن کے امام مولانا شیخ محمد یوسف بنوری ہیں۔ کراچی میں ان سے رجوع کرو۔ اس لیے میں آپ کی خدمت میں حاضر ہوا ہوں۔
حضرتؒ نے ان کی بہت ہی قدر اور ہمت افزائی کی اور ان سے فرمایا کہ ہم نہ صرف قادیانیوں کا سارا لٹریچر آپ کے لیے مہیا کریں گے بلکہ ایک ایسا عالم بھی بھیجیں گے جو قادیانیت کا پورا ماہر ہو۔ کیونکہ قادیانیوں کی بیشتر کتابیں اردو میں ہیں۔ ہمارے آدمی آپ کے یہاں کے علماء کو قادیانی کتابوں کے حوالوں کا ترجمہ عربی میں نوٹ کرا دیں گے۔ اور قادیانیت پر ایسی تیاری کرا دیں گے کہ اس کے بعد آپ حضرات کو کسی اور سے مراجع کی حاجت نہیں ہو گی۔ وہ نقشہ آج بھی راقم الحروف کی آنکھوں کے سامنے ہے۔ جب شیخ حسین رخصت ہوتے ہوئے حضرت کی پیشانی اور ریش مبارک کو بوسہ دے رہے تھے۔ ان کی آنکھوں سے سیل اشک رواں تھے اور وہ بڑے رقت انگیز لہجے میں حضرت سے درخواست کر رہے تھے:
یا سیدی! زودنی بما زود سیدنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم معاذ بن جبل حین بعثہ الی الیمن
اور جواب میں حضرت نے اسی رقت انگیز مگر بزرگانہ لہجہ میں فرمایا:
زودک اللہ التقوی و استودع اللہ دینکم و امانتکم وخواتیم اعمالکم
بہر حال ان کی درخواست پر حضرتؒ نے جناب مولانا عبدالرحیم اشعر اور رفیق محترم مولانا اللہ وسایا اصلاحی کو قادیانیوں کا ضروری لٹریچر دے کر انڈونیشیا بھیجا۔ ان
حضرات نے وہاں قادیانیوں کو مناظرہ و مباحثہ کی دعوت دی مگر کوئی مقابلے پر نہیں آیا۔ وہاں مختلف مقامات پر ان کے بیانات ہوئے‘ جن کا ترجمہ ساتھ کے ساتھ انڈونیشین زبان میں ہوتا رہا۔ وہاں کے ریڈیو پر بھی ان کی تقریریں نشر ہوئیں اور سب سے اہم کام یہ کیا کہ قریبا دو صد حضرات علماء و کلاء اور طلبہ کی ایک بڑی جماعت کو عربی میں قادیانیت سے متعلق مختلف موضوعات پر تیاری کرائی۔ قادیانیوں کی کتابوں کے اصل ماخذ کی نشاندہی پیش کر کے ان کا عربی میں ترجمہ کرایا۔ اس طرح ایک بڑی جماعت کی رد قادیانیت پر تیاری مکمل کرائی۔ فالحمد للہ علی ذلک۔
ان دونوں احباب کی میزبانی کے فرائض شیخ حسین الحبشی نے ادا کیے۔ مگر سفر کے جملہ مصارف حضرتؒ نے جماعت کی طرف سے برداشت کیے اور قادیانی لٹریچر کا یہ ذخیرہ بھی انڈونیشیا چھوڑ دیا گیا۔ یہ دو رکنی وفد ٢٦ ذوالحجہ ١٣٩٥ھ مطابق ٢٢ دسمبر ١٩٧٥ء کو کراچی سے روانہ ہوا اور ٢٨ محرم ١٣٩٦ھ مطابق ٢٤ جنوری ١٩٧٦ء کو واپس ہوا۔ ان کی واپسی پر شیخ حسین نے حضرت کی خدمت میں شکریہ کا خط لکھا جس میں ان حضرات کی مساعی کی تفصیل کا ذکر کرتے ہوئے لکھا ”ان حضرات کا قیام اگرچہ ایک مہینہ رہا‘ لیکن ہم نے ان سے ایک سال کا استفادہ کیا“۔
(مقالات یوسفی“ ص ١٠٥-١٠٦‘ مولانا محمد یوسف لدھیانوی)
جو دل کو جوڑتے تھے وہ معمار کیا ہوئے (مولف)
مولانا سید یوسف بنوریؒ کی جرأت مندی
حضرت فارغ التحصیل ہونے کے بعد اپنے وطن پشاور تشریف لائے تو وہاں کے سرکاری حلقوں اور انگریزی خواں نوابوں میں قادیانیت کا خاصا اثر و رسوخ تھا۔ وہ کھلم کھلا قادیانیت کی تبلیغ کرتے اور ”یوم النبی“ کے نام پر جلسہ عام بھی کرتے۔ مرزائیوں کی یہ کھلے عام مرتدانہ سرگرمیاں حضرتؒ کی ”ایمانی غیرت“ کے لیے چیلنج کی حیثیت رکھتی تھیں اور ان کا انسداد ضروری تھا۔ حضرتؒ فرماتے تھے کہ قادیانیوں نے حسب عادت ”یوم
النبی“ کا اعلان کیا اور اس کے اشتہارات لگائے۔ میں نے اور میرے رفیق مولانا لطف اللہ نے باہم مشورہ کیا کہ قادیانیوں کی اس جرات کا سدباب ہونا چاہیے۔ چنانچہ ہم نے طے کر لیا کہ یہ جلسہ نہیں ہونے دیا جائے گا۔ جلسہ کی تاریخ آئی اور قادیانیوں نے مقررہ جگہ پر جلسہ کے انتظامات کے بعد کارروائی شروع کی تو ہم لوگ بھی اسٹیج پر پہنچ گئے۔
قادیانیوں کی طرف سے جلسہ کے صدر کا نام تجویز ہوا تو میں نے فوراً اٹھ کر اعلان کر دیا کہ یہاں جلسہ مسلمانوں کا ہو گا اور میں جلسہ کی صدارت کے لیے فلاں صاحب کا نام پیش کرتا ہوں۔ اس اعلان کا جو نتیجہ ہونا چاہیے تھا‘ وہی ہوا۔ ایک ہنگامہ مچ گیا۔ ہماری اور قادیانیوں کی ہاتھا پائی ہوئی۔ بالآخر حریف پسپا ہونے پر مجبور ہو گیا۔ ہنگامہ کا سن کر پورا شہر ٹوٹ پڑا۔ میں نے ختم نبوت پر تقریر کی۔ قادیانیوں کی مکاریوں سے لوگوں کو آگاہ کیا۔ قادیانی ذلت و رسوائی کے ساتھ بھاگ گئے اور آئندہ ان کو کبھی کھلے بندوں جلسہ کرنے کی ہمت نہیں ہوئی۔
(”مقالات یوسفی“ ص ٤٣‘ مولانا محمد یوسف لدھیانوی)
ہم خدا کے فضل سے اس قوم کے افراد ہیں (مولف)
کرایہ کے مکان میں جنازہ
تقسیم کے بعد حضرت امیر شریعت قدس سرہ نے باوجود امرتسر اور پٹنہ میں عظیم شہری جائیداد چھوڑ کر آنے کے کسی متروکہ جائیداد پر قبضہ گوارا نہ فرمایا اور لاہور سے سیدھے جناب نواب زادہ نصر اللہ خان کے ہاں خان گڑھ تشریف لے گئے۔ اور جب خان گڑھ کو راوی اور چناب کے سیلاب نے نقصان پہنچایا تو ملتان کوٹلہ تولے خان کے ایک کرایہ کے مکان میں رہائش اختیار فرمالی۔ چودہ برس کرایہ کے مکان میں رہائش پذیر رہنے کے بعد اسی مکان سے اس مرد مجاہد کا جنازہ اٹھا۔
(”تحریک ختم نبوت“ ١٩٧٤ء‘ جلد اول‘ ص ٤٥٤‘ مولانا اللہ وسایا)
حضرت خواجہ سیالویؒ کی آمد
٢٩ دسمبر ١٠ بجے قبل دوپہر کے اجلاس میں حضرت خواجہ قمر الدین صاحب سجادہ نشین سیال شریف کی عالمانہ اور بصیرت افروز تقریر ہوئی۔ حضرت سیالوی کے ہزاروں مرید اجتماع میں شریک تھے۔ مولانا محمد علی جالندھری امیر مرکزیہ نے حضرت کا خیر مقدم کیا اور فرمایا کہ حضرت امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ کے بعد میں اپنے آپ کو یتیم سمجھنے لگا ہوں۔ آج خواجہ سیالوی کے ختم نبوت کے پلیٹ فارم پر آنے سے میری بڑی حوصلہ افزائی ہوئی ہے۔ میں آپ کو حضرت امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاری کی جگہ اپنا سرپرست اور بزرگ خیال کرتا ہوں۔
(”تحریک ختم نبوت ١٩٧٤ء‘ جلد اول‘ ص ٤٩٤‘ مولانا اللہ وسایا)
شاہ جی کی وصیت
تحفظ ختم نبوت کے تمام مبلغین کو امیر شریعت نے اپنے مکان کی بیٹھک میں بلا کر حسب ذیل وصیت فرمائی:
عزیزو! اسلام کی تبلیغ کانٹوں کا تاج پہننے کے مترادف ہے۔ جدھر منہ کرو گے‘ مخالف ہی مخالف نظر آئیں گے۔ حتیٰ کہ ایسے ایسے مقامات سے گزر ہو گا اور مخالفت ہو گی جہاں تمہارا گمان بھی نہیں پہنچ سکتا۔ اگر تم اس عزم پر پکے اور پختہ رہے تو کامیاب ہو جاؤ گے۔ (پھر تھوڑا مسکرائے اور فرمایا) احرار بظاہر کسی تحریک میں کامیاب نہیں ہوئے لیکن اس عزم کو لے کر اٹھے اور ڈٹے رہے تو نتیجہ یہ ہے کہ برسر اقتدار آنے والا ہر گروہ احرار کے نام سے لرزتا ہے۔
وعظ کرنے کے لیے جانے سے پہلے داعی سے کرایہ کبھی وصول نہ کرنا۔ اگر اتنا بھی کرو گے تو منہ کھائے گا آنکھ شرمائے گی۔ حق بیان نہ ہو گا۔ آمد و رفت کا کرایہ گھر سے لے کر چلنا۔ تقریر و بیان کے بعد اگر داعی کچھ خدمت کرے تو اس کے سامنے شمار نہ کرنا اور
اگر کچھ بھی نہ دے تو اپنی زبان سے طلب بھی نہ کرنا بلکہ چپکے سے ہنس مکھ واپس آجانا۔ ساری زندگی میرا یہی عمل رہا ہے۔ جب کہیں جانا ہوتا تو میں تمہاری اماں (اہلیہ امیر شریعت) سے پوچھا کرتا تھا کہ مجھے فلاں جگہ وعظ کہنے جانا ہے۔ کرایہ ہے؟ اگر ہوتا تو آمد و رفت کا خرچ گھر سے لے کر چلتا۔
کچھ بھی خدمت نہ کرنے والا‘ اگر پھر بھی بلائے اور دعوت دے دے تو جانے سے انکار نہ کرنا۔ اب اگر پچھلی اور پہلی مرتبہ ہدیہ حق الخدمت وغیرہ نہ ملنے کے سبب جانے سے رک جاؤ گے تو للہیت نہیں ہو گی۔۔۔۔ بلکہ نفسانیت ہو گی اور داعی کے سامنے شمار کرنے سے روکنے میں یہ حکمت فرمائی‘ ہو سکتا ہے داعی غریب اور مفلس ہونے کے سبب حق الخدمت یا کرایہ بھی پورا نہ دے سکے۔ اس سے خود کو بھی تردد ہو گا اور داعی کے دل میں ہوک اٹھے گی ہائے ! میں غریب تھا کہ کرایہ بھی نہ دے سکا اور اس سے اس غریب کے دل سے ایک آہ نکلے گی۔ لہٰذا یہ نصیحت یاد رکھنا کہ غریب کی آہ اور دل دکھانے کے ہر پہلو سے پرہیز کرنا۔ اگر ان باتوں پر عمل کرو گے تو انشاء اللہ کبھی بھوکے نہیں رہو گے اور یہی باتیں دنیا و عقبیٰ کی فلاح و بہبود اور ترقی اور سربلندی کا موجب ثابت ہوں گی۔
(”حیات امیر شریعت“ ص ٤٨٥-٤٨٦‘ از جانباز مرزاؒ)
چراغ سحر ہوں بجھا چاہتا ہوں (مولف)
انسان یا چٹان
راقم الحروف کو یہ واقعہ شاہ جی نے خود سنایا تھا۔ فرمایا ایک دفعہ جالندھر قادیانیت کے خلاف تقریر کر رہا تھا۔ اچانک کسی مخالف نے شہد کی مکھیوں کے چھتے کو چھیڑ دیا۔ فرمایا شہد کی مکھیوں کا ایک مکمل نظام ہے۔ وہ اس نظام اور اپنے سردار کے تحت کام کرتی ہیں۔ فرمایا میں دیکھ رہا تھا کہ مکھیوں کا سردار آگے آگے میری طرف تیزی سے آ رہا ہے اور پیچھے پیچھے مکھیوں کا لشکر۔ وہ آتے ہی میرے ابروؤں کے درمیان بیٹھ گیا اور ساتھ ہی تمام لشکر نے میرے چہرے پر ڈیرہ جما لیا۔ اسی اثناء میں‘ میں نے دیکھا کہ بعض لوگ اٹھ
کر بھاگنے لگے۔ میں فوراً للکارا کہ خبردار! کوئی اٹھنے نہ پائے۔ فرمایا مجھے معلوم تھا کہ یہ بھاگنے کے پیچھے بھاگتی ہیں۔ اس لیے روک دیا کہ میں تو تختہ مشق بن چکا ہوں لوگ بھی ساتھ مارے نہ جائیں۔ فرمانے لگے کہ میرا چہرہ گرم ہوتا گیا۔ مجھے ان کے ڈنگ مارنے کا کچھ احساس نہیں تھا۔ صرف ایک مکھی نے کہیں میری آنکھ کے کونے میں ڈنگ مارا تو مجھے سوئی لگنے کی سی چبھن محسوس ہوئی مگر میں اپنی جگہ پر جم کر کھڑا رہا۔ بالآخر لوگوں نے سعی کر کے مجھے وہاں سے بچ بچا کر ساتھ لیا۔ کئی دن میرے چہرے کا ورم نہ گیا۔ کئی سیروں تو برف کوٹ کوٹ کر میرے چہرے پر رکھی جاتی تھی۔ فرمایا مجھے ایک خطرہ تھا کہیں میری بینائی کو نقصان نہ پہنچا ہو۔ جب ذرا میری آنکھیں کھلیں تو مجھے روشنی نظر آئی‘ میں نے شکر کیا۔
(”بخاری کی باتیں“ ص ٤٦۔٤٧‘ مصنفہ سید امین گیلانی)
دکھ سہنے کو اللہ نے بخشا ہے کلیجہ (مولف)
دربار رسالتؐ کا حکم
حافظ الحدیث حضرت مولانا محمد عبداللہ صاحب درخواستی دامت برکاتہم کو ایک دفعہ حضور سرور کائنات ﷺ کی زیارت ہوئی اور حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ مدینہ طیبہ سے میری زیارت کے بعد پاکستان چلے جانا (کیونکہ حضرت کا ارادہ تھا کہ بقایا عمر دیار حبیب میں ہی گزاروں) وہاں میری ختم نبوت پر کتے لپکے ہوئے ہیں۔ تم بھی اس کی حفاظت کرو اور عطاء اللہ شاہ بخاری کو میرا سلام پہنچا کر کہہ دینا کہ وہ اسی کام پر ڈٹا رہے۔
چنانچہ حضرت درخواستی مدظلہ کا جب یہ پیغام ملا تو کچھ عرصہ کے بعد دہلی دروازہ لاہور شاہ جیؒ کی ختم نبوت کے موضوع پر تقریر ہوئی۔ تقریر کے دوران میں ایک بار والہانہ جھوم کر فرمایا میں تو پہلے ہی اللہ کے فضل سے باز آنے والا نہیں تھا مگر اب تو ”سوہنے“ یعنی محبوب کا پیغام آگیا ہے۔ ہاں ہاں میرا سب کچھ ختم نبوت کی حفاظت پر قربان ہو جائے گا تو پرواہ نہیں۔
(”بخاری کی باتیں“ ص ٨١‘ مصنفہ سید امین گیلانی)
بس وہی آشنا خدا سے ہے
دہر میں اس کو کیا کمی جس کا
رابطہ شاہِ دو سرا سے ہے (مولف)
حضرت لاہوریؒ کی مسئلہ ختم نبوت سے محبت
انہی دنوں سرگودھا میں بھی ختم نبوت کانفرنس تھی۔ حضرت نے بھی شرکت کا وعدہ فرمایا تھا مگر حضرت صاحب فراش ہو گئے۔ ادھر کانفرنس شروع ہو گئی۔ ہم مایوس تھے کہ حضرت شرکت نہ فرما سکیں گے، مگر دیکھتے ہی دیکھتے کار پر تشریف لے آئے۔ تھوڑی دیر تقریر فرمائی اور فرمایا کہ اگر میں اس سے زیادہ بھی بیمار ہوتا تو سیکنڈ کلاس کی سیٹ ریزرو کروا کے لیٹ کر آتا اور آکر سٹیج پر لیٹ رہتا تاکہ میری حاضری شمار ہو جائے۔ یہ آنحضور ﷺ کی ختم نبوت کا مسئلہ ہے، آنحضور کی ناموس کا سوال ہے، میں کسی حال میں بھی اس معاملہ میں پیچھے نہیں رہنا چاہتا۔
("دو بزرگ" ص٢٥-٢٦، مصنفہ سید امین گیلانی)
صحرائے محبت میں کچھ پھول کھلا جاؤں (مولف)
رٹ اور رہائی
مسٹر محمود علی قصوری نے حضرت شاہ صاحب، مولانا ابو الحسنات، صاحبزادہ فیض الحسن اور ماسٹر تاج الدین انصاری کی نظربندی کے خلاف رٹ دائر کر دی۔ جسٹس ایس اے رحمٰن نے قانونی غلطی کا فائدہ دے کر ٨ فروری ١٩٥٣ء کو انہیں رہا کر دیا۔ نتیجتاً حضرت شاہ صاحب اور ان کے محولہ بالا ساتھی ٨ فروری ١٩٥٣ء کو لاہور سنٹرل جیل سے رہا ہو گئے۔
رہائی کے فوراً بعد شاہ جی نے ملتان میں ایک استقبالیہ سے خطاب کیا۔ عمر بھر
کی روایت کے خلاف تقریر میں خطبہ مسنونہ کی تلاوت نہ کی۔ لوگ ششدر رہ گئے۔ فرمایا لیڈیز اینڈ جنٹلمین! مجمع کھلکھلا اٹھا، کسی نے کہا ”شاہ جی یہ کیا؟“
فرمایا کچھ نہیں، قرآن اس لیے نہیں پڑھوں گا مبادا جسٹس منیر توہین عدالت میں بلوالیں۔ رہا لیڈیز اینڈ جنٹلمین، تو جسٹس منیر نے انکوائری رپورٹ میں لکھ دیا ہے کہ مسلمان کی کوئی تعریف نہیں۔ اب یہ ملک مسلمانوں اور مسلمات کا نہیں لیڈیز اینڈ جنٹلمین کا ہے“۔
(سید عطاء اللہ شاہ بخاری” ، ص ٢٥٠‘ مصنفہ شورش کاشمیری)
یہی رہا ہے ازل سے قلندروں کا طریق (مولف)
”امیر شریعت“ کا خطاب ملنے پر چشم دید منظر
امام العصر حضرت مولانا انور شاہ کشمیری کو حضرت شاہ صاحب سے بے انتہا محبت تھی اور دعائیں دیا کرتے تھے۔ فرماتے تھے کہ ایسا خطیب کبھی نہیں دیکھا کہ روتوں کو ہنسادے اور ہنستوں کو رلادے اور فرماتے تھے کہ مرزا قادیانی کے خلاف کسی مجلس میں جو ان کو دیکھتے تو باوجود اس کے کہ متانت و وقار کے پہاڑ تھے اتنے محظوظ نظر آتے تھے جس کی انتہا نہیں۔
مئی ١٩٣٠ء میں جو تاریخی اجلاس انجمن خدام الدین کا لاہور میں ہوا تھا، جس کا سماں آج بھی میری آنکھوں میں ہے، اس وقت امام شیخ رحمتہ اللہ علیہ کا اسم گرامی مولانا ظفر علی خاں نے امارت کے لیے پیش کیا تھا۔ حضرت شیخ نے کھڑے ہو کر تقریر فرمائی اور اپنی صحت کی کمزوری کی وجہ سے معذرت پیش کی اور شاہ بخاری کی امارت نہ صرف تجویز کی بلکہ امیر بنا کر فرمایا میں بھی اس مقصد کے لیے ان کے ہاتھ پر بیعت کرتا ہوں۔ آپ حضرات بھی ان سے بیعت کریں اور اپنے دونوں ہاتھ مبارک سید عطاء اللہ شاہ بخاری کے ہاتھ میں دے دیے۔
وہ منظر بھی عجیب تھا کہ مولانا عطاء اللہ شاہ بخاری رو رہے ہیں اور کہتے ہیں
خدا کے لیے مجھے معاف فرمائیں۔ میں اس کا اہل نہیں اور حضرت شیخ اصرار فرما رہے ہیں کہ نہیں آپ اہل ہیں۔ اس وقت سب سے پہلے مولانا عبد العزیز گوجرانوالہ نے بیعت کی۔ پھر مولانا ظفر علی خاں مرحوم نے بیعت کی اور تقریر فرمائی۔ راقم الحروف بھی اس مجمع میں شریک تھا۔ اور غالباً تیسرا نمبر بیعت کرنے والوں میں میرا تھا۔ اس وقت شاہ صاحب امیر شریعت بنائے گئے اور ان کی شخصیت میں قبولیت و جاذبیت کا وہ دور شروع ہوا جو پہلے کبھی نہ تھا۔
(خطاب امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاری‘ ص ٨٨-٨٩‘ از مولانا مجاہد الحسینی)
مولانا محمد ادریس کاندھلویؒ کا انعام
اس کتاب کے بارے میں والد صاحب اپنا ایک عجیب خواب بیان فرماتے ہیں۔
”جس شب اس رسالے (کلمۃ اللہ فی حیات روح اللہ) کی لوح کا ورق (یعنی ٹائٹل) طبع ہو رہا تھا‘ اس ناچیز نے یہ خواب دیکھا کہ یہ ناچیز دارالعلوم دیوبند کی مسجد میں داخل ہوا۔ دیکھتا کیا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام منبر کے قریب اور محراب امام کے سامنے تشریف فرما ہیں۔ چہرہ مبارک پر عجیب و غریب انوار ہیں۔ یوں معلوم ہوتا ہے کہ ایک فرشتہ بیٹھا ہوا ہے اور حضرت کے ساتھ کوئی خادم بھی ہے۔ یہ ناچیز نہایت ادب کے ساتھ دو زانو بیٹھ گیا۔ تھوڑی دیر میں ایک قادیانی پکڑ کر لایا گیا اور سامنے کھڑا کر دیا گیا۔
بعد ازاں دو عبا لائے گئے۔ ایک نہایت سفید اور خوبصورت ہے اور دوسرا نہایت سیاہ اور بدبودار ہے۔ حضرت عیسیٰؒ نے اپنے خادم کو حکم دیا کہ سفید عبا اس ناچیز کو پہنا دیں اور بدبودار عبا اس قادیانی کو پہنایا جائے۔ چنانچہ سفید عبا اس ناچیز کو پہنایا گیا اور سیاہ عبا اس قادیانی کو۔ اور یہ ناچیز خاموش کھڑا ہے اور قادیانی کو دیکھ کر دل میں یہ آیت پڑھ رہا ہے سرابيلهم من قطران وتغشى وجوههم النار اس کے بعد آنکھ کھل گئی۔
(”حیات عیسیٰ“ طبع ملتان‘ ١٣٧٦ھ‘ ص ٦٥) (بحوالہ ”تذکرہ مولانا محمد ادریس
کاندھلوی“ ص ١٠٠-١٠١’ از میاں محمد صدیقی
منہ پر ہی گرا جس نے مہتاب پہ تھوکا (مولف)
علامہ اقبال حضرت انور شاہ کشمیریؒ کے حضور
ایک مرتبہ حضرت شاہ صاحب انجمن خدام الدین کے کسی سالانہ اجتماع میں شرکت کی غرض سے لاہور تشریف لائے تو ڈاکٹر صاحب خود ملاقات کے لیے حضرت موصوف کی قیام گاہ پر آئے اور پھر ایک دن اپنے ہاں رات کے کھانے پر مدعو کیا۔ دعوت کا صرف بہانہ تھا۔ ورنہ اصل مقصد علمی استفادہ تھا۔ چنانچہ کھانے سے فراغت کے بعد ڈاکٹر صاحب نے ختم نبوت اور قتل مرتد کا مسئلہ چھیڑ دیا۔ جس میں کامل ڈھائی گھنٹہ تک گفتگو رہی۔ ڈاکٹر صاحب کی عادت یہ تھی کہ جب وہ کسی اسلامی مسئلہ پر کسی بڑے عالم سے گفتگو کرتے تھے تو بالکل ایک طالب علمانہ انداز سے کرتے تھے۔ مسئلہ کے ایک ایک پہلو کو سامنے لاتے اور اس پر اپنے شکوک و شبہات کو بے تکلفانہ بیان کرتے تھے۔ چنانچہ اب اس وقت بھی انہوں نے ایسا ہی کیا۔ حضرت شاہ صاحب نے ڈاکٹر صاحب کے شکوک و شبہات اور ایرادات و اعتراضات کو بڑے صبر و سکون کے ساتھ سنا اور اس کے بعد ایک ایسی جامع اور مدلل تقریر کی کہ ڈاکٹر صاحب کو ان دو مسئلوں پر کلی اطمینان ہو گیا اور کچھ خلش ان کے دل میں جو تھی وہ جاتی رہی اور اس کے بعد انہوں نے ختم نبوت پر وہ لیکچر تیار کیا کہ جو ان کے چھ لیکچروں کے مجموعہ میں شامل ہے اور قادیانی تحریک پر وہ ہنگامہ آفریں مقالہ سپرد قلم فرمایا جس نے انگریزی اخبارات میں شائع ہو کر پنجاب کی فضا میں تلاطم برپا کر دیا تھا۔
(”میں بڑے مسلمان“ ص ٣٧٧’ از عبدالرشید ارشد)
اب زمیں روح کے بیمار لیے پھرتی ہے (مولف)
احمد بن حنبل
١٩٥٣ء میں جب آپ تحریک تحفظ ختم نبوت کے سلسلے میں گرفتار ہوئے کسی
باخبر انسان نے آپ کو لاہور کے اسٹیشن پر ہتھکڑی لگے ہوئے دیکھا تو بے ساختہ پکار اٹھا کہ یہ پیرانہ سالی میں جھکی ہوئی کمر والے حضرت مولانا احمد علی رحمۃ اللہ علیہ تو نہیں ہیں بلکہ عصر حاضر کے امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ ہیں۔
("بیس بڑے مسلمان" ص ٦٧٦، از عبد الرشید ارشد)
چراغ عزم و عمل ہوں کہیں جلاؤ مجھے (مولف)
حضرت مولانا عبد القادر رائے پوری کی نظر میں مجلس احرار کا مقام
صوفی عبدالحمید صاحب مرحوم کی کوٹھی پر ہی ایک دفعہ (١٩٥٧ء) میں حاضری کا موقع ملا۔ بعض مولویوں نے احرار رہنما مولانا عبد الرحمٰن میانوی مرحوم کی آزاد روی اور مزاج کے بارے میں حضرت کے کان بھرنے شروع کیے۔ میانوی صاحب بھی حضرت کے پیچھے کچھ فاصلے پر بیٹھے ہوئے تھے حضرت مولویوں کی باتیں سنتے رہے۔ بالآخر سر اٹھا کر فرمایا "ان لوگوں (احرار والوں) کے متعلق کوئی بات مت کیا کرو۔ میں ان لوگوں کے ساتھ فرشتے چلتے پھرتے دیکھ رہا ہوں"۔
(ماہنامہ "نقیب ختم نبوت" جلد ٤، شمارہ ١، ص ٥٤)
مولانا حسین احمد مدنیؒ اور گولڑہ شریف
جب ریل کیمبل پور سے چلی تو یہ سیہ کار بھی ڈبہ میں سوار ہو گیا۔ ٹکٹ پہلے ہی راولپنڈی کا لے رکھا تھا۔ گاڑی میں کھانا گرم کیا گیا اور اس (راقم الحروف) نے میزبانوں کے بادشاہ کے ساتھ کھانا کھایا۔ کتنا پرلطف اور پرکیف وہ منظر تھا۔ کھانے کے بعد آپ اپنی برتھ پر لیٹ گئے۔ احقر آگے بڑھا اور پاؤں دبانے کی سعادت حاصل کرنی شروع کردی۔ دل میں ڈر رہا تھا کہ یہ پیکر انکسار و مجسمہ تواضع مجھ کو روک نہ دیں۔ مگر اس آن دلربائی کے قربان! کچھ بھی نہ فرمایا۔ جی کھول کر سعادت حاصل کی۔ حتیٰ کہ گولڑہ کے اسٹیشن پر ریل پہنچ کر کھڑی ہوئی۔ راستہ میں کسی بھی اسٹیشن پر کچھ دریافت نہ فرمایا تھا۔ لیکن یہاں پہنچتے ہی فرمایا کون سا اسٹیشن ہے؟ میں نے عرض کیا کہ گولڑہ ہے۔ یہ سن کر فرمایا
”گولڑہ شریف! (جہاں تک خیال ہے چونکہ) حاجی صاحب نور اللہ مرقدہ کے گلشن صابرہ کا ایک سدا بہار پھول یہاں بھی عطر بیز ہے اس لیے اس مقام کی جانب خصوصی طور پر آپ متوجہ ہوئے۔ (انتھی بملخص بتغیر یسیر)
(”شیخ الاسلام (مولانا مدنیؒ) کے حیرت انگیز واقعات“ ص٣٠-٣١)
رزم حق و باطل ہو تو فولاد ہے مومن (مولف)
آغا شورشؒ کی خطابت کا اعجاز
تحریک آزادی اور قیام پاکستان سے پہلے کا تو مجھے علم نہیں، البتہ ایوب خان کے پہلے مارشل لاء کی کچھ کچھ سوجھ بوجھ ہے۔ جب مرزائیوں کے مذہب کی تشہیر زوروں پر تھی، جگہ جگہ سٹال لگا کر مفت لٹریچر تقسیم کیا جاتا تھا اور بابا فریدؒ کے عرس پہ خاص طور پر ان کی ”مہم“ ایک نیا رخ اختیار کر لیا کرتی تھی۔ میں نے بھی ان کی کتنی ہی کتابیں مفت لے لے کر اکٹھی کیں مگر پڑھنا کجا اس زمانے میں آغا شورش کاشمیری کی ایک تقریر سنی جو تحفظ ختم نبوت کے سلسلے کی ایک کڑی تھی۔ تقریر کا اثر یہ ہوا کہ میں نے گھر آتے ہی وہ تمام کتابیں جو مفت میں حاصل کی تھیں، کچھ ردی میں بیچ دیں اور کچھ کو آگ لگا دی۔
(ہفت روزہ ”چٹان“ شورش کاشمیریؒ نمبر، ص٩٢)
ہم سر کشیدہ لوگ تھے گردن نہ خم ہوئی (مولف)
علامہ کشمیری کا دورہ پنجاب
١٣٤٣ھ میں حضرت شاہ صاحب نے پنجاب کا ایک وسیع دورہ کیا تاکہ مختلف مقامات پر قادیانیوں نے قادیانی منطق کا جو جال بچھا رکھا ہے، اس کا تار پود بکھیرا جائے۔ چنانچہ حضرت علامہ شبیر احمد عثمانیؒ، مولانا مرتضیٰ حسن صاحبؒ، مولانا قاری محمد طیب صاحبؒ، مولانا سید محمد بدر عالم صاحبؒ، مولانا محمد ادریس صاحبؒ، مولانا مفتی محمد نعیم صاحبؒ
اور حضرت مفتی محمد شفیع صاحب رحمۃ اللہ علیہ کی معیت میں حضرت شاہ صاحبؒ پنجاب کے دورے پر نکلے۔ یہ علم و عمل کے پہاڑ اور فضل و ولایت کے سمندر لدھیانہ‘ امرتسر‘ لاہور‘ گوجرانوالہ‘ گجرات‘ راولپنڈی‘ ایبٹ آباد‘ مانسہرہ‘ ہزارہ اور کوئٹہ وغیرہ میں جلسوں میں مرزائیوں کو للکارتے پھرے۔ مرزائی دجال جو آئے دن اہل اسلام کو مناظروں کے چیلنج کرتے پھرتے تھے‘ ایسے چھپے کہ کسی ایک جگہ بھی چہرہ نہ دکھایا۔ معلوم ہوتا تھا کہ وہ اس جہان میں نہیں ہیں۔
("مقدمہ مرزائیہ بہاولپور"‘ ص ٤٠١‘ از میر عبد الماجد سید)
دہر میں اسم محمد سے اجالا کر دے (مولف)
مفتی محمد شفیعؒ کا سرمایہ
اسی مقدمہ بہاولپور میں حضرت شاہ صاحب کا جو بیان ہوا‘ اس میں آپ نے علوم و معارف کے دریا بہا دیے۔ حضرت والد صاحبؒ فرماتے تھے کہ اس بیان کے دوران حاضرین پر تو سکتہ طاری تھا ہی‘ جج صاحب کی کیفیت بھی یہ تھی کہ وہ عالم حیرت میں حضرت کے چہرے کو تک رہے تھے۔ عدالت کی طرف سے یہ بیان قلم بند کرنے والے لوگوں نے کچھ دیر تو حضرتؒ کا ساتھ دیا۔ لیکن تھوڑی ہی دیر کے بعد جب حضرت شاہ صاحبؒ اپنے اصلی رنگ پر آئے تو انہوں نے بھی قلم رکھ کر چہرے کو تکنا شروع کر دیا۔ بیان ختم ہونے کے بعد جج صاحب نے کہا کہ بیان چونکہ قلم بند نہیں ہوسکا اس لیے کل یہ بیان تحریری طور پر پیش کیا جائے۔
عدالت سے واپس ہونے کے بعد قیام گاہ پر یہ مسئلہ حضرت شاہ صاحبؒ حضرت مولانا مرتضیٰ حسن صاحب اور دوسرے بزرگوں کے سامنے آیا۔ سوال یہ تھا کہ حضرت شاہ صاحبؒ کی طرف سے یہ بیان کون لکھے؟
بالآخر قرعہ فال حضرت والد صاحبؒ کے نام نکلا۔ خود حضرت شاہ صاحبؒ نے آپ کو مامور فرمایا کہ بیان آپ لکھئے۔ حضرت والد صاحبؒ نے جواب میں عرض کیا کہ
"حضرت ! آپ کی طرف سے آپ کے شایان شان بیان لکھنا تو میرے بس میں نہیں ، البتہ ضرورت پوری کرنے کے لیے تعمیل حکم کروں گا"۔
"حضرت" نے فرمایا کہ "ہم دعا کریں گے۔ آپ اللہ کا نام لے کر شروع کر دیجئے"۔
حضرت والد صاحب" فرماتے ہیں کہ دن میں تو لکھنے کا موقع نہ ملا۔ رات کے وقت میں اپنے کمرے میں لکھنے کے لیے بیٹھا اور ساری رات یہ بیان لکھتا رہا۔ فجر کی اذان ہو رہی تھی تو میں آخری سطور لکھ رہا تھا۔ عین اسی وقت برابر سے حضرت شاہ صاحب کے کمرے کا دروازہ کھلا۔ آپ اندر تشریف لائے اور پوچھا کہ "کام کہاں تک پہنچا ہے؟" احقر نے جواباً عرض کیا "بحمد اللہ ابھی ابھی پورا ہو گیا ہے" اور جب حضرت" نے بیان دیکھا اور آپ کو یہ بھی معلوم ہوا کہ اس کے لیے تمام رات جاگتا رہا ہوں۔ تو حضرت" نے صمیم قلب سے اتنی دعائیں مجھے دیں کہ ان کی حلاوت آج تک محسوس ہوتی ہے۔ اور یہی دعائیں میرا سب سے بڑا سرمایہ ہیں۔
("البلاغ" مفتی اعظم نمبر ، ص ٢٨٢-٢٨٣)
احساس قرض
بعد میں یہ تحریک جن لوگوں نے آگے بڑھائی مولانا غلام غوث ہزاروی بھی انہی میں شامل تھے اور تحریک کے اختتام تک گرفتار نہیں ہوئے۔ حکومت اپنے وسائل سے مولانا کو تلاش کرتی رہی اور ان کی گرفتاری کے لیے دس ہزار روپے انعام بھی مقرر کیا۔ لیکن وہ آزاد قبائل میں رہ کر اپنے فرائض انجام دیتے رہے اور کبھی کبھار پنجاب کے اضلاع کا بھی دورہ کرتے تاکہ سول نافرمانی کی رفتار میں کمی نہ ہونے پائے۔
مولانا ان دنوں اکثر دیہاتوں کا پیدل سفر کرتے یا پھر ایسی لاریوں میں سفر کرتے جن میں عام دیہاتی لوگ سوار ہوتے۔ مولانا لباس اور شکل و صورت سے اس پوزیشن کے دکھائی نہیں دیتے تھے جو انہیں ملک میں حاصل تھی۔ یہی وجہ تھی کہ پولیس والے انہیں پہچاننے میں ہمیشہ ناکام رہے۔ اس طرح مولانا غلام غوث ہزاروی کو تحریک ختم
نبوت کا بہت بڑا کریڈٹ جاتا رہا۔
(ماہنامہ ”تبصرہ“ جلد ٢٢‘ شمارہ ٦‘ ص ٨)
ہم اگر دل نہ جلائیں تو ضیاء کیسے ہو (مولف)
دندان شکن
١٩٤٨ء میں جب مجھے میرے دو رفقاء کار کے ساتھ نظر بند کردیا گیا تھا تو اس وقت کے وزیر دفاع نے پریس کے نمائندوں کو ایک کانفرنس میں مدعو کیا اور ان کے اشارے پر ایک صحافی (امین الدین صحرائی) نے میرے خلاف الزام تراشی شروع کی کہ یہ شخص قائد اعظم کو برا بھلا کہتا ہے اور جہاد کشمیر کا مخالف ہے۔۔۔۔۔ وغیرہ ذالک۔
شورش مرحوم و مغفور جو وہاں موجود تھے‘ فوراً اٹھ کھڑے ہوئے اور سختی سے مقرر کو ڈانٹ کر کہنے لگے کہ ایاز قدر خود بشناس‘ تو کون ہوتا ہے جو مودودی کے منہ آتا اور اس کے متعلق ہرزہ سرائی کرتا ہے۔ یہ سب باتیں جھوٹ اور خلاف واقعہ ہیں۔ پھر وزیر موصوف کو مخاطب کر کے کہنے لگے کہ پہلے اپنے گریبان میں منہ ڈال کر دیکھیں اور اپنی صفوں پر نظر ڈالیں۔ آپ کا وزیر خارجہ وہ شخص ہے جس نے قائد اعظم کا جنازہ تک نہیں پڑھا۔ جو آپ سب کو کافر سمجھتا ہے اور جو یو۔این۔او میں تقریریں کرتا ہے کہ ہمارا جنگ کشمیر سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ نہ ہمارا کوئی آدمی وہاں لڑ رہا ہے۔ اس پر سناٹا چھا گیا اور کسی کو مزید کچھ کہنے کی جرات نہ ہو سکی۔
(ہفت روزہ ”چٹان“ جلد ٣٤‘ شمارہ ٤٣‘ ص ٤١)
نے ابلہ مسجد ہوں نہ تہذیب کا فرزند (مولف)
حضرت انور شاہ کشمیریؒ کا سوز
حضرت کشمیریؒ کے قلب صافی پر اس فتنہ کی شدت کا جو اثر تھا‘ وہ ان اشعار وہ ان اشعار
سے نمایاں ہے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ وہ اس فتنہ کے استیصال کے لیے مامور من اللہ تھے۔ اور ان کی تمام صلاحیتیں اس پر لگی ہوئی تھیں کہ وہ قادیانیت کے قصر الحاد کو پھونک ڈالیں۔ حضرت امام العصرؒ نے قادیانی الحاد پر تابڑ توڑ حملے کیے اور ان کے کفر و ارتداد کو عالم آشکارا کرنے کے لیے قلم اٹھایا۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام، قادیانی قزاقوں کے سب سے بڑے حریف تھے۔ مرزا اور مرزائی امت نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں جس دریدہ دہنی کا مظاہرہ کیا ہے، اس سے ایک باغیرت باحمیت مسلمان کا خون کھول جاتا ہے۔ اور جو شخص اس کے بعد بھی قادیانیوں کے بارے میں کسی نرمی یا مصالحت کا رویہ رکھتا ہے اس کے بارے میں یہی کہا جاسکتا ہے کہ وہ یا تو دین و ایمان سے محروم ہے یا پھر اس کی غیرت و حمیت کو مصلحت کی دیمک چاٹ گئی ہے۔
(ماہنامہ ”الرشید“ دیوبند نمبر، ص ٦٩٠)
میری نگاہ میں وہ یقیناً ہے کم نصیب (مولف)
فرمان انور شاہ کشمیریؒ
امام العصر فرماتے ہیں:
و من شک قل ھذا لاول ثان
”یعنی انبیاء علیہم السلام کی شان میں گستاخی کرنے والا قطعاً کافر ہے اور جو شخص اس کے کفر میں شک کرے تو صاف کہہ دو کہ یہ بھی پہلے کا دوسرا ہے“
(ماہنامہ ”الرشید“ دارالعلوم دیوبند نمبر، ص ٦٩٠-٦٩١)
اور پارلیمنٹ نے قادیانیوں کو کافر قرار دے دیا
مولانا مفتی محمودؒ صاحب اسمبلی ہاؤس سے باہر نکلے اور سیدھے دفتر مجلس تحفظ ختم نبوت آگئے۔ وہاں مفتی صاحبؒ کا بڑی شدت سے انتظار ہو رہا تھا۔ مفتی صاحبؒ
پہنچے تو حضرت مولانا سید محمد یوسف بنوریؒ مصلے پر سجدہ ریز تھے اور اللہ تعالیٰ سے گڑ گڑا کر دعا مانگ رہے تھے۔ آنسوؤں سے ان کی داڑھی تر ہو گئی تھی۔ مفتی صاحبؒ تشریف لائے اور انہوں نے آواز دی:
”حضرت اللہ پاک کا شکر ہے ہمارا مطالبہ مان لیا گیا۔ قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دے دیا گیا“۔
حضرت مولانا سید محمد یوسف بنوریؒ دوبارہ سجدہ ریز ہو کر شکر بجا لائے۔ وہ روتے جاتے تھے اور کہہ رہے تھے ”اللہ پاک ! ہم آپ کا شکر کیسے ادا کریں۔ آپ نے ہم پر بڑا احسان کیا ہے“۔
سجدہ سے اٹھتے ہوئے فرمانے لگے:
”اللہ تعالیٰ نے مجھے سرخرو کیا ہے۔ مرنے کے بعد امیر شریعتؒ سے ملاقات ہوئی تو میں کہہ دوں گا کہ آپ کے مشن میں تھوڑا سا حصہ ڈال کر آیا ہوں۔ آپ نے ختم نبوت کے جس پودے کو پانی دیا تھا‘ میں اسے پھل لگے ہوئے دیکھ آیا ہوں۔ دوستو ! میری بات سن لو۔ حضرت عطاء اللہ شاہ بخاریؒ صاحب کو امیر شریعت کا خطاب اس وقت کے پانچ سو اجل علماء نے دیا تھا اور میری خوش قسمتی ہے کہ میرے دستخط دوسرے یا تیسرے نمبر پر موجود ہیں“۔
(”تحریک کشمیر سے تحریک ختم نبوت تک“ ص ٢٨٩‘ از چودھری غلام نبی)
آنجہانی ظفر اللہ کا قتل
جب لاہور سے آنجہانی ظفر اللہ روانہ ہوا‘ میں بھی اسی ٹرین میں بیٹھ گیا۔ خانیوال ریلوے اسٹیشن سے میں نے روہڑی میں احباب کو فون کے ذریعے اطلاع کر دی کہ آپ کا مال بک کرا دیا گیا ہے اور مال کے ساتھ میں بھی آ رہا ہوں۔ میری بات وہ سمجھ گئے۔ روہڑی ریلوے اسٹیشن پر ہم سب اکٹھے ہو گئے اور ٹرین میں سوار ہو گئے۔ اس کے بعد جہاں بھی ٹرین رکی ہم نے آنجہانی ظفر اللہ کے ڈبے کے اردگرد چکر کاٹے‘ مگر ڈبہ مکمل طور پر بند تھا۔ اس لیے ہمیں کامیابی کی کرن دکھائی نہ دی۔ ڈبہ کے آگے پیچھے پولیس تھی۔
آنجہانی ظفر اللہ نے کسی بھی اسٹیشن پر جھانک کر نہیں دیکھا۔ اس طرح ہم کراچی پہنچ گئے۔ کراچی میں پولیس کی بھاری تعداد موجود تھی۔ وہ آنجہانی ظفر اللہ کو چور دروازے سے نکال کر لے گئے۔ اس طرح ہمارا منصوبہ ناکام ہو گیا۔
(”تحریک کشمیر سے تحریک ختم نبوت تک“ ص ١٦٩‘ از چودھری غلام نبی)
شہید ختم نبوت
قادیان میں مولانا عنایت اللہ کی طرح سندھ میں کسی ایسے شخص کی ضرورت تھی جو ایمان کی پختگی کے ساتھ کفر کا مقابلہ کر سکے۔ چنانچہ کئی مہینوں کی جستجو کے بعد ضلع گجرات موضع کڑیاں والا سے مولانا تاج الدین بسمل مل گئے۔ یہ حضرت امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاری سے دلی عقیدت رکھتے تھے۔ گھریلو زندگی میں زمیندارانہ ذہن تھا۔ جب انہیں اس ذمہ داری کے لیے کہا گیا تو بہت خوش ہوئے۔ جماعت نے انہیں ان کی صواب دید پر چھوڑ دیا کہ وہ سندھ میں مرزائیت کے خلاف جو مقام اور ضلع چاہیں پسند کریں۔ چنانچہ نواب شاہ سے بیس بائیس میل اس طرف ”پڈعیدن“ کا علاقہ انہیں پسند آیا۔ یہاں زمین خریدی‘ دینی مدرسہ قائم کیا۔ جامعہ مسجد بنائی اور اس کا نام احرار نگر رکھا۔
یہیں دم واپسی تک مولانا تاج الدین بسمل کفر سے جنگ آزما رہے۔ خصوصاً مرزائیت کی تردید کا محاذ ان کے سپرد تھا۔ یہ ذمہ داری انہوں نے آخر دم تک نبھائی۔ آخر (عید الفطر کے دن) ٨ مئی ١٨٩٨ء کو انہیں اسی جگہ شہید کر دیا گیا۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔
بسمل کا قاتل کون ہے؟ اس کا جواب حکومت سندھ کے پاس ہے۔
دوسری طرف ڈگری (تھرپارکر کے قریب) میں حافظ محمد شفیع کا انتخاب ہوا۔ یہ شخص ڈگری میں مدرسہ تعلیم الاسلام کا مہتمم تھا۔ ۔۔۔۔ تاریخ تو ذہن میں نہیں مگر اسی سن کا ذکر ہے۔ راقم کو ان کے مدرسہ کے سالانہ جلسہ میں جانے کا اتفاق ہوا۔ اس موقعہ کو غنیمت جان کر میں نے مدرسہ کے مہتمم کو اس علاقہ میں مرزائیوں کی سرگرمیوں سے آگاہ کیا۔ جیسے کہ اوپر عرض کیا گیا کہ مرزائیوں نے میرپور خاص سے آگے کنری
جیمس آباد اور ڈگری کے اضلاع میں اس خاموشی سے اپنی ریاستیں قائم کیں کہ علاقے کا مسلمان اس فتنہ سے قطعا بے خبر رہا۔ حافظ محمد شفیع کو جب اس سے آگاہ کیا گیا تو خاصے حیران ہوئے۔ حالانکہ وہ کافی برسوں سے یہاں رہ رہے تھے۔ اس پر انہوں نے اپنے مدرسہ کے منشور میں تردید مرزائیت کو شامل کر لیا۔ شعبہ تبلیغ مجلس احرار نے انہیں اپنا لٹریچر بھیجنا شروع کر دیا۔
اس طرح پڈعیدن سے ڈگری تک اس باطل گروہ کا گھیراؤ شروع ہو گیا۔
(”مسیلمہ کذاب سے دجال قادیان تک“ ص ٢٧٤‘ از جانباز مرزاؒ)
رسول پاک نے بانہوں میں لے لیا ہوگا (مولف)
مولانا غلام غوث ہزارویؒ کی ایمانی جرات
قصبہ زیدہ‘ مردان ہی کا ایک قصبہ ہے۔ مولانا کو علم ہوا کہ اس قصبہ میں مرزائیوں کا بہت بڑا اثر ہے بلکہ یوں سمجھیں کہ مرزائی اسٹیٹ بنا ہوا ہے۔ ”حضرت صاحب“ کے بغیر مرزا قادیانی کا نام لینا بھی جرم ہے۔ آپ کو بڑا دکھ ہوا اور بڑی کوشش اور تگ و دو سے ایک چھوٹی سی مسجد میں ختم نبوت کا جلسہ رکھوایا۔ لوگوں کو علم ہوا تو جوق در جوق جلسہ میں پہنچ گئے۔ مگر ایک مرزائی خان پستول لے کر بھرے مجمع میں پہنچ گیا اور پستول تان کر کہا ”مولوی صاحب جو تقریر کرنا چاہیں کریں مگر مرزا صاحب کے بارے میں ایک بات نہیں سنوں گا۔ اگر ایسا ہوا تو سینہ گولیوں سے چھلنی کر دوں گا“ ظاہر بات ہے پٹھانوں کا چیلنج وہ بھی بھرے مجمع میں۔ ناممکن ہے کہ خطا ہو۔ جان نہیں یا جہان نہیں۔ یہ صورت حال دیکھی تو جو مولوی صاحب تقریر کر رہے تھے‘ اس کی قوت گویائی جواب دے گئی اور وہ ادھر ادھر کی باتوں سے مجمع کا دل بہلانے لگا۔ مولانا ہزارویؒ نے جب یہ منظر دیکھا تو برداشت نہ ہو سکا۔
فرمایا مولانا صاحب بس کرو جو ہو گا‘ سو ہو گا۔
یہ کہہ کر منبر پر تشریف لے آئے اور مختصر سے خطبہ کے بعد ارشاد فرمایا:
لوگو! سنو اور پورے غور و فکر، ہوش و حواس کے ساتھ سنو!
یہ آپ کے اور میرے ایمان کا مسئلہ ہے۔ میں پورے یقین کے ساتھ کہتا ہوں کہ جو شخص بھی حضور اقدس ﷺ کے بعد نبوت کا دعویٰ کرے، وہ قطعاً کافر، بے ایمان اور مرتد ہے۔ مرزا قادیانی بھی کافر اور مرتد ہے اور جو اس کو کافر و مرتد نہ سمجھے، وہ بھی کافر اور قطعی کافر ہے۔ اس عقیدے کے بیان کرنے پر جو خان نواب مجھے گولی مارنا چاہتا ہے، تو غلام غوث کا سینہ حاضر ہے۔ یہ کہہ کر سینہ ننگا کر کے مرزائی خان کے سامنے رکھ دیا۔ پھر فرمایا مار میں دیکھتا ہوں کہ تو کتنا بہادر ہے۔ تیرا گرو تو بہت بزدل تھا۔ تو کہاں سے بہادر نکل آیا۔ تیرا مرزا خبیث انگریزوں کا پٹھو اور ان کا ٹوڈی تھا۔ تم بھی ان کے ٹوڈی ہو، ان کے جوتے چاٹ کر دنیا بناتے اور ایمان گنواتے ہو۔ پھر فرمایا کیا ہم ٹوڈی اور انگریزی نبی کو نبی مانیں؟ حاضرین، نہیں نہیں۔
کیا رسول عربی ﷺ کے بعد کوئی نیا نبی آسکتا ہے؟ حاضرین نہیں نہیں۔
آپ نے فرمایا قرآن، حدیث اور اجماع امت سے یہ بات قطعی طور پر ثابت ہے کہ حضور ﷺ اللہ تعالیٰ کے آخری نبی ہیں۔ آپ کے بعد جو بھی نبوت کا دعویٰ کرے وہ جھوٹا، کذاب اور بے ایمان ہے۔ مسلمانو! اپنے ایمان کو بچاؤ۔
مولانا نے جس جرات رندانہ سے تقریر فرمائی، وہ انہی کی شان قلندرانہ تھی۔ ورنہ بڑے بڑے بہادروں کے پتے ایسے موقع پر خشک ہو جاتے ہیں۔ مولانا گرج چمک کے ساتھ جب مرزائیوں پر برسنے لگے تو مرزائی خان کے ہاتھ لٹک گئے۔ لوگوں نے اس کو پکڑ لیا اور اس کی ساری پھنے خانی خاک میں مل گئی۔
مولانا کی کرامت
مولانا نے دوران تقریر فرمایا کہ مرزائیوں کے ساتھ غمی، خوشی، شادی، بیاہ اور نماز جنازہ کا تعلق رکھنا بھی حرام ہے۔ یہ لوگ قطعی کافر ہیں۔ اللہ کا کرنا ایسا ہوا کہ جلسہ کے تین دن بعد مرزائی خوانین کا ایک بچہ مرگیا۔ لوگوں نے اس کے کفن، دفن، اور جنازے کا بائیکاٹ کر دیا۔ اور مسلمانوں کے قبرستان میں دفنانے سے روک دیا۔ جنازہ تین دن تک پڑا رہا۔ مگر کچھ نہ ہو سکا۔ آخر حکومت کی مداخلت سے یہ بچہ مرزائیوں کی اپنی زمین
میں دفنایا گیا اور اس طرح ربوہ میں مسلمانوں اور قادیانیوں کا قبرستان الگ ہو گیا۔
(ہفت روزہ ”ختم نبوت“ کراچی، جلد ١٤، شمارہ ٣٠، ص ٤١)
تیرے دیوانے نہیں یا گردش عالم نہیں (مولف)
محفل زعفران زار بن گئی
چشتی صاحب کی قومی اور ملی نظمیں خوب ہوتی ہیں۔ مولانا نے از راہ شفقت فرمایا کہ ”بھئی کچھ ہمیں بھی سناؤ“ چشتی صاحب جو ابھی نو مشق طالب علم تھے، ایک شہنشاہ سخن، ارتجال گو اور قادر الکلام شاعر کی اس فرمائش پر کچھ سمٹے، سکڑے تو آپ نے از راہ حوصلہ افزائی فرمایا کیوں جی! سناتے کیوں نہیں؟ الامر فوق الادب، جناب شریف چشتی کو تعمیل کرنی پڑی۔ دو تین نظمیں سنائی گئیں جو پسند کی گئیں۔ آخری نظم کا مقطع تھا۔
ڈیڑھ سو سال سے ہے جو تیری پیشانی پر
ساری نظم، خصوصاً مقطع میں خود مولانا کا رنگ جھلک رہا تھا۔ نظم مکمل ہو چکی تو فرمایا کہ آپ ایک شعر تو بھول ہی گئے۔ چشتی صاحب نے کہا ”قبلہ وہ کیا؟ برجستہ فرمایا۔
زد یہ خود پڑتی ہے مرزائیوں کی نانی پر
یہ شعر سن کر ساری محفل کشت زار زعفران بن گئی۔
(”ظفر علی خان اور ان کا عہد“ ص ٤٦٢، از عنایت اللہ نسیم سوہدروی)
جب مولانا ظفر علی خان علی گڑھ پہنچے
انہی دنوں طلبائے مسلم یونیورسٹی علی گڑھ نے جن میں جناب شریف چشتی، انوار صمدانی مرحوم، راقم (نسیم سوہدروی) سردار عبدالوکیل خاں اور چند دوسرے
احباب شامل تھے۔ یہ فیصلہ کیا کہ مولانا کو علی گڑھ یونیورسٹی آنے کی دعوت دی جائے؟ کیونکہ ان دنوں مسلم یونیورسٹی طبیہ کالج پر قادیانیوں کا قبضہ تھا۔ ڈاکٹر بٹ پرنسپل کالج چن چن کر وہاں قادیانی جمع کر رہے تھے۔ ادھر "الفضل" میں یہ اعلان شائع ہو گیا کہ خلیفہ نور الدین کے فرزند عبد السلام عمر اسی طرح علی گڑھ کو فتح کرلیں گے جس طرح طارق نے ہسپانیہ پر قبضہ کیا تھا۔
راقم، یونین کے سیکرٹری عمران احمد انصاری کا خط لے کر لاہور پہنچا۔ جس میں مولانا کو علی گڑھ آنے کی دعوت دی گئی تھی۔ مولانا ان دنوں آئے دن "زمیندار" سے طلب کردہ اور ضبط شدہ ضمانتوں اور پریس کی ضبطی سے کچھ پریشان تھے مگر اس وجہ سے کہ مسلمانوں کی اس درس گاہ کو قادیانی اثرات سے محفوظ کرنا ضروری ہے۔ فوراً تیار ہوگئے اور دو دن بعد ٢٦ نومبر کو علی گڑھ پہنچ گئے۔ مولانا کے دورۂ علی گڑھ کی روداد "زمیندار" کے خصوصی نمائندے کے قلم سے درج ذیل ہے:
"طلبائے مسلم یونیورسٹی کی دیرینہ آرزو تھی کہ علی گڑھ یونیورسٹی کا وہ مایہ ناز فرزند جس کے دم قدم سے ہندوستان میں اسلام اور ملت بیضا کی روایات زندہ ہیں، ایک مرتبہ آئے اور مردہ دلوں کو پیام زندگی سنائے۔ مگر مولانا کی ادبی، سیاسی و صحافی سرگرمیاں اور آئے دن کی دیگر مصروفیات و مشکلات و مصائب کے پیش نظر ان کی تشریف آوری از قبیل محالات معلوم ہوتی تھی۔ پھر زمیندار پر جو تازہ افتاد پڑی اس نے مولانا کے آنے کو اور مشکل بنادیا تھا۔ اب معلوم ہوتا تھا کہ طلباء کی آرزو، آرزو کی حد سے تجاوز کر کے حسرت کی شکل اختیار کر لے گی مگر رب کعبہ کے الطاف کریمانہ کو کچھ اور ہی منظور تھا۔
خیر تو ١٧ نومبر کے "زمیندار" میں مولانا کی آمد کی خبر شائع ہوئی تو یہ خبر یونیورسٹی کے طول و عرض میں برقی رو کی طرح پھیل گئی مگر دوسرے ہی روز اطلاع ملی کی پروگرام منسوخ ہو گیا۔ چنانچہ ایک خاص قاصد (راقم) کے ذریعے مولانا کو علی گڑھ آنے کی دعوت دی گئی۔ جسے انہوں نے قبول کر لیا اور ٢٦ نومبر کو تشریف آوری کا پروگرام بن گیا۔ مولانا کی آمد پر یونیورسٹی کا عجب سماں تھا۔ طلباء جوق در جوق ہار لیے اسٹیشن پر پہنچ رہے
تھے ۔ ٹرین کے آنے سے ایک گھنٹہ پہلے ہی پلیٹ فارم طلباء سے اٹ گیا ۔ شہر کے سربر آوردہ زعماء حافظ عثمان اور دیگر سبھی لوگ موجود تھے۔ جونہی ٹرین اسٹیشن کی حد میں داخل ہوئی 'فضا اللہ اکبر 'ظفر علی خان زندہ باد کے نعروں سے گونج اٹھی۔ ان کا بے النظیر استقبال کیا گیا۔ طلباء موٹر کو سجا کر لائے تھے۔ جس کے سامنے یہ شعر آویزاں تھا۔
پھونکوں سے یہ چراغ بجھایا نہ جائے گا
طلباء نے موٹر کا انجن بند کر کے اپنے ہاتھ سے موٹر کو کھینچا اور تمام طلبہ بلند آواز سے یہ شعر پڑھ رہے تھے۔
آج سارا عالم اسلام تیرے ساتھ ہے
مولانا کا رات یونیورسٹی یونین ہال میں استقبال کیا گیا۔ جناب شریف چشتی نے استقبالیہ نظم پڑھی اور مولانا پر پھول برسائے گئے ۔ بعد میں مولانا نے اپنی تقریر میں مسائل حاضرہ پر تبصرہ کرتے ہوئے قادیانی فتنہ کا کھل کر ذکر کیا اور طبیہ کالج میں قادیانیوں کے غلبہ پر ارباب یونیورسٹی کو لتاڑا ۔ ایک پروفیسر نے کچھ کہنا چاہا کہ کسی کے مذہب کے خلاف کچھ نہ کہا جائے مگر ان کی آواز طلباء کے شور میں گم ہو گئی ۔ انہیں بیٹھنا پڑا۔ اگلے دن سٹریچی ہال میں بھی تقریر کی۔ طلباء کے اصرار پر آفتاب ہال میں مولانا کی تقریر کا اعلان ہو چکا تھا کہ انگریز پرو وائس چانسلر اور پروفیسر حبیب نے اجازت دینے سے انکار کر دیا مگر طلباء کے عزم و جوش کے سامنے ان کی ایک نہ سنی گئی۔ طلبہ نے فیصلہ کر لیا کہ ہر قیمت پر تقریر ہو گی ۔ چنانچہ مولانا تشریف لائے اور تقریر ہوئی ۔ عبدالسلام عمر نے مداخلت کرنا چاہی 'طلبہ میں اشتعال پیدا ہو گیا مگر مولانا نے کمال تدبر سے اسے آغوش میں لے کر طلبہ سے بچالیا۔
تحریک ترک موالات میں مولانا محمد علی جوہر کی تقریر کے بعد یہ دوسری تقریر تھی جو انتظامیہ کی ممانعت کے باوجود طلباء نے کروائی ۔ اگلے دن جامع مسجد علی گڑھ میں مولانا نے خطاب کیا جس میں کھل کر اس فتنہ کے خلاف اظہار خیال کیا اور مسلمانوں سے مطالبہ کیا کہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں قادیانیوں کے تسلط کو یکسر ختم کیا جائے ۔ چنانچہ مولانا کے اس دورے کا یہ اثر ہوا کہ یونیورسٹی کے ارباب کار اور طلبہ اس فتنہ سے آگاہ ہو گئے ۔
آئندہ قادیانیوں کی بھرتی بند ہو گئی اور قادیانیت ایک گالی بن گئی۔ قادیانیوں کو اقلیت قرار دینے کا مطالبہ شدت اختیار کر گیا۔ اس سلسلہ میں علمائے کرام مفتی کفایت اللہ، مولانا داؤد غزنوی، مولانا احمد علی، مولانا احمد سعید صاحب (جو اب سب مرحوم ہو چکے ہیں) کی طرف سے قادیانیوں کے کفر کا فتویٰ جاری ہوا۔ ادھر مولانا ظفر علی خان، علامہ اقبال، مرتضیٰ احمد خاں میکش اور دیگر بزرگوں کی طرف سے یونیورسٹی سے قادیانیوں کی علیحدگی کی اپیل شائع ہوئی۔ اس دورہ کے بعد مولانا ہر سال علی گڑھ جاتے بلکہ یونیورسٹی کورٹ کے ممبر بھی منتخب ہو گئے۔ ایک دفعہ ظفر اللہ خاں ممبر وائسرائے کونسل کانووکیشن کے جلسہ میں آ رہے تھے کہ طلبہ نے ان کا پروگرام منسوخ کرا دیا۔ غرض تقسیم ملک تک علی گڑھ میں گو یونیورسٹی نے انہیں اقلیت قرار نہیں دیا۔ تاہم ان اداروں میں قادیانی اثر و رسوخ بالکل ختم ہو گیا۔ (طلبہ نے اس سلسلہ میں جو کارنامے انجام دیے فرزند علی گڑھ میں ان کا ذکر تفصیل سے درج ہے)
قصہ مختصر یہ کہ اب حالات یہ صورت اختیار کر چکے تھے کہ پوری ملت بیدار ہو چکی تھی۔ چنانچہ علامہ اقبال نے قادیانیوں کو نہ صرف انجمن حمایت اسلام سے علیحدہ کرایا بلکہ اس کے خلاف کھل کر سامنے آگئے۔ جسٹس سر ظفر علی مرحوم جیسے لوگوں نے مرزائیوں کی مخالفت میں بیان دیے۔ انہی دنوں راقم الحروف (نسیم) کرم آباد حاضر ہوا۔ مولانا نے میری ڈائری پر حسب ذیل شعر لکھ دیے۔
تو قادیاں کی نبوت کی روک تھام کرو
محمد عربی رحمت دو عالم ہیں
تم امت ان کی ہو اس مرحمت کو عام کرو
اس اثناء میں ”زمیندار“ کا قادیانی نمبر شائع ہوا۔ جس میں علامہ اقبال نے اس فرقہ ضالہ کے دلائل کی قلعی کھول دی۔
(”ظفر علی خان اور ان کا عہد“ ص ٤٠٥ تا ٤٠٧، از عنایت اللہ نسیم سوہدرویؒ)
مولانا محمد علی جالندھری کا حوصلہ
جیل اور بھائیوں کی وفات: آپ قید کاٹ رہے تھے کہ آپ کے بڑے بھائی چودھری محمد اسماعیل اور منجھلے بھائی چودھری احمد علی چھ گھنٹے کی مدت میں فوت ہو گئے۔ آپ کو بذریعہ تار اطلاع دی گئی۔ حکومت کا منشا تھا کہ معافی مانگ کر مولانا رہا ہو جائیں مگر مولانا پیرول پر رہا ہوئے۔ جب گھر داخل ہوئے تو والد محترم اپنے بیٹوں کی جدائی برداشت نہ کرتے ہوئے فوت ہو چکے تھے اور ان کا جنازہ تیار ہو رہا تھا۔ ایک شخص کے لیے دو بھائیوں کا چھ گھنٹے کے وقفے سے وفات پانے کے بعد والد محترم کی وفات پر جو حال ہو سکتا ہے ’وہ ہوا‘ لیکن آپ نے اس کو برداشت کیا۔ خیال تھا کہ مولانا معافی مانگ لیں گے مگر مولانا والد کا جنازہ پڑھ کر واپس جیل میں چلے گئے۔
(”مولانا محمد علی جالندھری کا حوصلہ“ عزم۔۔ یاد) (”میں مردان حق“ ص ١٢١‘
از مولانا عبدالرشید ارشد)
مولانا محمد علی جالندھریؒ کا خطبہ غیرت
راقم ٥٣/ ١٩٥٢ء میں ملتان دورہ حدیث کر رہا تھا اور تقریباً ہر جمعہ (اگر گھر نہ آیا ہوتا) تو مسجد سراجاں میں پڑھا کرتا اور اس کے بعد اکثر بخاری صاحب کے ہاں حاضری دیتا۔ واقعہ کپ کے بعد مولانا محمد علی کی جمعہ کی تقاریر میں وہ جذب اور کیفیت ہوتی تھی کہ قلم جس کو لکھنے سے قاصر اور زبان بیان کرنے سے عاجز ہے۔۔۔۔۔ ایک جمعہ میں فرمایا کہ ہم ایک ایک کے دروازے پر جا کر دستک دیں گی اور دامن پھیلا کر ناموس رسالت و ختم نبوت کا واسطہ دے کر بھیک مانگیں گے اور پھر گلو گیر لہجہ میں فرمایا کہ دیوبندی اپنے آپ کو کہتے ہیں کہ ہم علمائے حق کے خاندان سے تعلق رکھتے ہیں۔ میں ان سے پوچھتا ہوں کہ ختم نبوت پر ڈاکہ ڈالا جا رہا ہے اور تم خاموش اپنے گھروں میں بیٹھے ہو۔ میں بریلوی حضرات سے عرض کرتا ہوں کہ تمہیں دعویٰ ہے کہ تم سے زیادہ اور بڑا کوئی عاشق رسول نہیں اور یا رسول اللہ کے نعرے لگاتے ہو۔ کیا تم کو اس کی خبر نہیں کہ رسول اللہ ﷺ قبر میں بے چین ہیں اور تم اپنے حلوے مانڈنے کی فکر میں ہو اور اہل حدیث حضرات سے سوال کرتا
ہوں کہ تمہیں دعویٰ ہے کہ تمہارے سوا کوئی بھی زیادہ حدیث پر عمل کرنے والا نہیں۔ کیا تمہیں معلوم نہیں کہ احادیث کے مقابلے میں نئی احادیث بنائی جا رہی ہیں اور شیعہ حضرات سے بھی پوچھتا ہوں کہ تمہیں شیعان علی کا دعویٰ کرتے ہوئے شرم آنا چاہیے کہ ایک شخص حضرت فاطمۃ الزہرا کے متعلق بکواس کرتا ہے اور حسنین اور کربلا کے متعلق جو کچھ کہتا ہے کہ کیا تم اس سے بے خبر ہو‘ کیا تمہیں اس کی خبر نہیں۔
(”بیس مردان حق“ ص ١٤٩‘ از مولانا عبد الرشید ارشد)
کاش کوئی میرے نغموں کی زباں تک پہنچے (مولف)
مولانا غلام غوث ہزارویؒ کو زیارت رسولؐ ہوتی ہے
١٩٥٣-٥٤ء کی تحریک ختم نبوت میں جب سارے مرکزی رہنما اور لیڈر گرفتار ہوئے تو آپ کو مرکزی قیادت کی طرف سے حکم ملا کہ پیچھے رہ کر کام کریں اور گرفتاری نہ دیں۔ مگر جب لاہور کے حالات حکومت کے قابو سے باہر ہو گئے اور تحریک کی طاقت و مقبولیت کے مظاہر سامنے آگئے تو حکومت نے قوم کے مطالبہ کو ماننے کے بجائے لاہور میں مارشل لاء نافذ کر کے اسے فوج کے حوالے کر دیا۔ فوج نے چارج سنبھال کر یہ معلوم کیا کہ یہ تحریک ایسے پروگرام اور منظم طریقے سے کون چلا رہا ہے کہ مارشل لاء کے باوجود تحریک رکتی نہیں‘ بڑھتی ہی جاتی ہے۔ تو فوج کے افسروں کو معلوم ہوا کہ یہ ساری گرما گرمی مولانا ہزارویؒ اور ان کے چند رفقاء کار کے دم خم سے قائم ہے۔ جب تک وہ گرفتار نہ ہوں‘ تحریک دب نہیں سکتی۔ چنانچہ ان کی گرفتاری کے لیے متعدد جگہوں پر چھاپے مارے۔ مولانا کے رفقاء کار مولانا عبدالستار نیازی وغیرہ تو گرفتار ہو گئے۔ مگر مولانا ہزارویؒ ان کے ہاتھ نہ لگے۔ چنانچہ فوج نے اعلان کر دیا کہ مولانا ہزارویؒ جہاں ملیں گولی مار دی جائے اور یہ بھی اعلان کیا کہ جو شخص مولانا ہزارویؒ کو زندہ یا مردہ گرفتار کرائے گا‘ ان کی گرفتار میں مدد پہنچائے گا‘ اسے دس ہزار روپے نقد انعام دیا جائے گا۔ اس اعلان کے بعد حالات سخت سے سخت تر ہو گئے مگر اس اللہ تعالیٰ کے بندے کو فوجی زعماء بھی شکست نہ
دے سکے۔ میں نے ایک دن ہمت کر کے حضرت مولانا مرحوم سے روپوشی کے حالات دریافت فرمائے۔ آپ نے فرمایا کہ میں تم سے ایک بات بیان کرتا ہوں جو کسی کو معلوم نہیں اور نہ کسی سے آج تک بیان کی ہے۔ فرمایا:
جب میں روپوش تھا، پولیس اور فوج میری تلاش میں جگہ جگہ چھاپے مار رہی تھی۔ مجھے اس وقت سخت پریشانی لاحق ہوئی۔ اپنی حالت سوچتا تھا کہ اگر گولی سے مارا جاتا ہوں تو یہ بزدلی کی موت ہوگی اور اگر گرفتاری کے لیے ظاہر ہوتا ہوں تو مرکز کے حکم کی خلاف ورزی ہے۔ یہ پریشانی تین دن تک رہی۔ تیسرے دن مجھے کچھ بین النوم والیقظہ‘ یعنی کچھ نیند اور کچھ بیداری کی حالت میں حضور خاتم النبیین و سید المرسلین ﷺ کی زیارت مبارک نصیب ہوئی۔ آپ ﷺ نے آکر میری پیشانی پر ہاتھ رکھ کر فرمایا: ”مولوی غلام غوث تم نے میرے ناموس کے لیے قربانی دی ہے۔ پریشان مت ہو، کوئی تمہارا کچھ نہیں بگاڑ سکتا۔ اللہ تعالیٰ تمہارا حافظ و ناصر رہے گا“ جب میری آنکھ کھلی تو طبیعت میں زیارت نبوی ﷺ سے بشاشت کے ساتھ کامل اطمینان پیدا ہوگیا۔ پھر اس کے بعد بہت سی تکالیف آئیں مگر قطعاً پریشانی نہیں ہوئی اور اس کے بعد ہی میں پولیس اور فوج کو جل دے کر لاہور سے باہر چلا گیا۔ لاہور میں جب تک رہا ایسے اوقات بھی آئے کہ فوج اور پولیس والے میری امامت میں نماز پڑھتے رہے لیکن بشارت نبوی ﷺ اور حفاظت الٰہی کا نتیجہ تھا کہ پہچان نہیں سکے۔ اس سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ حضرت مولانا کو اپنے کردار میں تائید الٰہی حاصل تھی اور یہ سب سے بڑی کرامت ہے۔
(”بیس مردان حق“ ص ٦٢٧-٦٢٨‘ از مولانا عبدالرشید ارشد)
جگر کے خون سے لکھی گئی ہیں تفسیریں
(مولف)
تحریک تحفظ ختم نبوت
اور
احرار کے کارنامے
انگریز نے دھوکہ، فریب، مکاری اور عیاری سے سات سو سالہ مسلمان حکومت کو اپنوں کی غداری اور ہم وطن ہندوؤں کی سازش سے اگرچہ ختم کر کے ہندوستان پر تسلط تو قائم کر لیا لیکن مسلمان قوم سے ہمیشہ خائف رہتے ہوئے درپئے آزار ہی رہا۔ سرنگاپٹم کے میدان میں سلطان ٹیپو شہید کی للکار، ١٨٥٧ء کی جنگ آزادی میں علماء حق کی طرف سے ہندوستان کو دارالحرب قرار دینا، شاملی کے محاذ پر انگریزی فوج کے خلاف علماء اسلام کا علم جہاد بلند کرنا اور سینہ سپر ہو کر جام شہادت نوش کرنا، شیخ الہند مولانا محمود حسن اور مولانا حسین احمد مدنی کی زیر قیادت تحریک ریشمی رومال، احرار اسلام کی فوجی بھرتی بائیکاٹ کی تحریک (١٩٣٩ء) کے علاوہ ایک درجن ملی و قومی تحریکیں دراصل اسلامی اقدار کے احیاء اور وطن کی غلامی سے نجات حاصل کرنے کی جدوجہد کا ہی تسلسل تھا۔ جس کی وجہ سے فرنگی حکمران کبھی بھی امن و چین سے نہ رہ سکے۔ اور انہیں معلوم ہو گیا کہ ہندوستان کو آزاد کیے بغیر چارہ نہیں۔ بالخصوص مسلمان غلامی پر قانع نہیں رہ سکتے۔
اگست ١٩٤٧ء کو جب انگریز بامر مجبوری ہندوستان کو تقسیم کر کے جانے لگا تو اس نے پاکستان کی حکومت اس گروہ کے سپرد کرنے کا انتظام کر دیا جس میں اکثریت ان کے پشتینی وفاداروں، کاسہ لیسوں اور قوم کے غداروں پر مشتمل تھی۔ جن کی سرشت میں
خود غرضی، نفس پرستی اور عوام الناس سے بیگانگی کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی تھی۔ جو ایثار و قربانی اور ملک کی خدمت کے نام ہی سے نا آشنا تھے۔ یہ فرنگی حکومت کا مراعات یافتہ طبقہ جاگیر داروں، وڈیروں، سرمایہ داروں اور خطاب یافتگان پر مشتمل تھا جو گورے کالے افسروں کے آگے کورنش بجالانے اور مجاہدین آزادی کی مخبری کو ہی سیاست کی معراج سمجھنا، غیروں کے آگے جھکنا اور عوام کو کمی سمجھ کر ان کی تذلیل کرنا ان لوگوں کی فطرت ثانیہ تھی۔ خدمت خلق کو عار اور باعث ندامت خیال کرتے تھے۔ آزادی کے تقاضوں اور ضرورتوں کا ادراک ان کے بس کا روگ ہی نہ تھا۔ یہ تن آسان اور تساہل پسند لوگ مذہب کو بھی ذاتی مقاصد کے لیے رسم و رواج پر قربان کر دینے میں کوئی عیب نہ سمجھتے تھے۔ یہی وجہ تھی کہ یہ لوگ قوت فیصلہ سے عاری اور اپنی ناک سے آگے سوچنے کی صلاحیت سے ہی محروم تھے۔
١٩٥٣ء کی تحریک تحفظ ختم نبوت کے اسباب بھی یہی تھی کہ انگریز کے خود کاشتہ پودا مرزائیت کی کھلی غداریوں، پاکستان اور اسلام دشمن باغیانہ سرگرمیوں کے پایہ ثبوت تک پہنچ جانے کے باوجود حکمران کسی قسم کی کارروائی کرنے سے گریزاں تھے۔ بلکہ الٹا اس باغی اور غدار مسلم اقلیت کے تحفظ کے لیے پوری قوم سے لڑنے کے لیے اسلحہ سے لیس ہو کر میدان میں نکل آئے۔ صد حیف کہ اس وقت کے حکمرانوں نے مسئلہ ختم نبوت کے تحفظ کا مطالبہ کرنے والے ہزاروں مسلمانوں کو جیل اور سینکڑوں کو قلعہ کے عقوبت خانوں کا شکار بنایا۔ جنرل اعظم خاں کے ذریعے ہزاروں مسلمانوں کے خون ناحق سے ہاتھ رنگ کر ظلم و بربریت کا ایسا کھیل کھیلا کہ ہلاکو اور چنگیز کی یاد تازہ ہو گئی۔ انجام کار یہ حکمران ٹولہ بھی عبرت کا نشان بن گیا۔ قدرت نے ان سے زمام اقتدار چھین لی۔ بقول مولانا ظفر علی خاں
کہ اپنی ہی رعایا سے پڑا ہو جس کو ٹکرانا
تحریک تحفظ ختم نبوت ١٩٥٣ء میں لائل پور (فیصل آباد) کی مجلس احرار اسلام نے مرکزی مجلس عمل کے زیر کمان جو کارہائے نمایاں انجام دیے، ان میں سے چیدہ چیدہ واقعات کا تذکرہ پیش خدمت ہے۔ جو فیصل آباد اور کراچی میں دوران تحریک پیش
آئے ا
لائل پور میں مرزائی وزیر خارجہ کے خلاف پہلا بھر پور اور کامیاب
مظاہرہ
حضرت امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاری ٢٢-٢٣ مارچ ١٩٥٢ء کو بذریعہ چناب ایکسپریس سرگودھا خطاب کرنے جا رہے تھے۔ مولانا عبید اللہ احرار جنرل سیکرٹری مجلس احرار اسلام لائل پور نے ریلوے اسٹیشن پر ان سے ملاقات کی۔ حضرت امیر شریعت نے فرمایا کہ میری سرگودھا سے واپسی تک لائل پور میں سر ظفر اللہ خاں کے خلاف اس کی برطرفی کے لیے احتجاجی مظاہرہ ہو جانا چاہیے۔ میرا وجدان کہتا ہے کہ مشیت ایزدی یہی چاہتی ہے۔ انہی دنوں اشرف المدارس گورو نانک پورہ کا سالانہ جلسہ اقبال پارک میں ہو رہا تھا۔ مولانا عبید اللہ احرار نے اس میدان کے مقابل ایک جگہ خواجہ جمال الدین بٹ امرتسری صدر مجلس احرار اسلام لائل پور، جانباز مرزا، میاں محمد عالم بٹالوی، خواجہ غلام حسین، سالار امان اللہ، شیخ خیر محمد، راقم شیخ عبد المجید، محمد عالم منہاس کو علیحدہ لے جا کر میٹنگ کی اور حضرت امیر شریعت کا لائل پور میں سر ظفر اللہ وزیر خارجہ کے خلاف مظاہرہ کرنے کی خواہش کا اظہار کر کے کہا کہ ہمیں اسی وقت فیصلہ کر کے اس جلسہ کو ہی جلوس کی شکل دے کر مظاہرہ کرنا چاہیے۔ چونکہ جمعہ کا دن تھا اور جلسہ دن کے وقت ہو رہا تھا جمعہ کی نماز بھی اسی پنڈال میں پڑھائی جانی تھی۔
اس میٹنگ میں مولانا تاج محمود شریک نہ ہوئے تھے۔ جبکہ دو مرتبہ میاں عالم بٹالوی کو مولانا تاج محمود کے ہاں پورا پروگرام دے کر بلانے کے لیے جامع مسجد ریلوے اسٹیشن بھیجا گیا لیکن وہ خطبہ جمعہ کے عذر پر شریک مشاورت نہ ہوئے۔ یہ مظاہرہ چونکہ حکومت کے خلاف پہلا مظاہرہ تھا، چنانچہ بعض موہوم خطرات کے پیش نظر شرکائے جلوس کسی متفقہ فیصلہ پر نہ پہنچ رہے تھے۔ تو مولانا عبید اللہ احرار نے کہا کہ چاہے آپ شریک ہوں یا نہ ہوں، میں اپنی ذمہ داری پر مظاہرہ کرنے کا اعلان کرتا ہوں اور شیخ عبد المجید، خواجہ غلام حسین اور سالار امان اللہ کو تانگہ پر لاؤڈ سپیکر فٹ کر کے لانے کا حکم دیا کہ جلسہ
کے اختتام پر لاؤڈ سپیکر لے کر سڑک پر تیار رہیں اور مجھے سٹیج پر مولانا غلام غوث ہزاروی کے پاس جو مجلس احرار اسلام پاکستان کے نائب صدر تھے ' اور تقریر فرما رہے تھے ' مظاہرہ کا اعلان کرنے کا پیغام دے کر بھیجا۔ میں نے مولانا عبید اللہ کی طرف سے لکھ کر دے دیا کہ آپ کی تقریر کے اختتام کے ساتھ ہی حضرت امیر شریعت کے حکم کے مطابق مجلس احرار اسلام لائل پور مرزائی وزیر خارجہ کے خلاف مظاہرہ کر رہی ہے!
مولانا غلام غوث صاحب نے تقریر کا رخ مظاہرہ کی طرف موڑ دیا اور مسئلہ ختم نبوت ' مرزائیوں کی اسلام دشمنی اور پاکستان کے خلاف سازشوں اور مرزائی وزیر خارجہ سر ظفر اللہ کی ملت اسلامیہ کو نقصان پہنچانے والی حرکات سے آگاہ کرتے ہوئے مظاہرہ کی اہمیت اور اس میں شرکت کی اپیل بھی کر دی جس کا خاطر خواہ اثر ہوا۔ مولانا عبید اللہ احرار کا یہ مجاہدانہ فیصلہ جہاں جماعتی حکم سے وفاداری کا آئینہ دار تھا ' وہاں ان حالات میں بڑی ہی جرات ' بہادری اور حوصلہ کا ایک تاریخی اقدام تھا۔ کیونکہ مسلم لیگی حکومت کی انتظامیہ پہلے ہی احرار رہنماؤں اور کارکنوں کی نگرانی کر رہی تھی اور بعض کارکنوں کو ہراساں بھی کیا گیا تھا ' ایسی اطلاعات بھی تھیں کہ کارکنوں پر جھوٹے مقدمات بنا کر جیل بھیج دیا جائے۔ نیز مظاہرہ میں پولیس اور مرزائیوں سے تصادم کا خطرہ بھی موجود تھا لیکن احرار کی تو تاریخ ہی خطرات اور طوفانوں سے ٹکرانا ہے۔ احرار کی روایات میں ہے کہ جب ناموس رسالت ﷺ کے تحفظ کا مسئلہ ہو ' صحابہ کرامؓ کی حرمت کا سوال ہو ' ملک کے دفاع کا معاملہ ہو ' ہر قسم کے خوف و خطر کو پس پشت ڈال کر ہر چہ بادا کہتے ہوئے بڑی سے بڑی طاغوتی طاقت سے بھی ٹکرا جانا احرار کی فطرت ہے۔ اقبال نے انہی جانباز و جانثار عاشقان رسول ﷺ کے ایثار و قربانی سے متاثر ہو کر کہا تھا
عقل ہے محو تماشائے لب بام ابھی
جلسہ کے اختتام پر مولانا عبید اللہ احرار سپیکر والے تانگہ کی اگلی نشست پر مظاہرہ کی قیادت کے لیے بیٹھ گئے۔ راقم الحروف (یعقوب اختر) خواجہ غلام حسین ' محمد عالم منہاس اور شیخ عبد المجید پچھلی نشست پر بیٹھ کر سپیکر کے ذریعے مظاہرین کو کنٹرول کرنے لگے اور بھوانہ بازار کی طرف سے گھنٹہ گھر کا رخ کیا جو لائل پور شہر کا مرکزی مقام ہے۔
ہزاروں مسلمانوں کا یہ ولولہ انگیز جلوس بڑے ہی جوش و خروش سے مرزائیت مردہ باد‘ سر ظفر اللہ وزیر خارجہ کو برطرف کرو‘ مرزائی نواز حکومت مردہ باد‘ مرزائی وزیر خارجہ مردہ باد‘ مرزائیوں کو اقلیت قرار دو‘ کے فلک شگاف نعروں کی گونج میں شہر کے آٹھوں بازاروں کا چکر لگا کر سرخرو اور کامیاب ہوا اور جلوس پھر دھوبی گھاٹ کی جلسہ گاہ میں پہنچ گیا جہاں میں نے اور مولانا عبید اللہ احرار نے خطاب کیا اور حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ مرزائی وزیر خارجہ کو فی الفور وزارت سے علیحدہ کر دے۔ لائل پور کی ضلعی انتظامیہ اور پولیس کو مجلس احرار اسلام لائل پور سے ایسی جرات رندانہ کی توقع نہ تھی۔ اور نہ ہی اتنے بڑے مظاہرہ کا ان کو اندازہ تھا۔ اچانک یہ سب کچھ دیکھ کر عجیب بوکھلاہٹ میں بندوقوں سے مسلح اور لٹھ بند پولیس کے دستے جلوس کے آگے پیچھے بھاگتے دوڑتے رہے اور مظاہرہ کو دہشت زدہ کرنے کی ناکام کوشش کرتے رہے۔ لیکن اللہ کے فضل و کرم سے مظاہرہ پروگرام کے مطابق کامیاب رہا جس سے حکومت کے غبارے سے ہوا نکل گئی۔ اس کے ساتھ ساتھ احرار کی بہادری اور جرات کے چرچے شہر کے گلی کوچوں میں اور گاؤں گاؤں ہونے لگے۔ عوام و خواص پر مرزائیت کا پول کھل گیا۔ اس مظاہرہ کا اثر کئی کانفرنسوں اور جلسوں پر بھاری رہا۔ اس مظاہرہ کے بعد ہی مجلس کی شاخیں مضافات میں قائم ہو گئیں۔ موضع گوکھوال میں بھی ایک جماعت کا قیام عمل میں آیا۔ اس گاؤں میں مرزائی بھی آباد تھے بلکہ ایک نمبردار بھی تھا جس کا اثر و رسوخ کافی تھا۔ وہاں مجلس احرار کا قیام مرزائیت کے لیے پیغام اجل تھا۔ گوکھوال میں بہت سے جلسے مجلس احرار اسلام لائل پور کے زیر انتظام منعقد ہوئے اور وہاں کافی ”اٹ کھڑکا“ رہا۔
◯
اس تاریخی اور کامیاب جلوس کے بعد انتظامیہ نے اپنی خفت مٹانے کے لیے جھوٹی اور بے بنیاد رپورٹوں کی بناء پر احراری کارکنوں کو تنگ کرنا شروع کر دیا۔ ایک روز مولانا عبید اللہ احرار مرحوم کو ایس۔ پی کا پیغام ملا کہ اپنے چیدہ چیدہ ساتھیوں کو لے کر سہ پہر میری کوٹھی پر ملاقات کریں۔ چنانچہ مولانا عبید اللہ احرار مرحوم اپنے ساتھیوں خواجہ جمال الدین بٹ مرحوم‘ صدر مجلس احرار اسلام لائلپور‘ مرزا غلام نبی جانباز مرحوم‘ مولانا
تاج محمود مرحوم‘ شیخ خیر محمد مرحوم‘ شیخ عبدالمجید اور راقم محمد یعقوب اختر کو ساتھ لے کر ایس پی کی کوٹھی پر گئے۔ ہمیں لان میں کرسیوں پر بٹھایا گیا۔ تھوڑی دیر بعد ایس پی خان عبید اللہ خاں بغل میں رول دبائے کمرے سے برآمد ہوئے اور بغیر دعا سلام کے ہماری کرسیوں کے ارد گرد چکر لگاتے ہوئے انتہائی غصہ آور اور تحکمانہ لہجہ میں گویا ہوئے کہ تم لوگ شہر میں دنگا فساد کرنے کی سازش کر رہے ہو لیکن یاد رکھو میں یہ سب برداشت نہیں کر سکتا۔ اور آپ کو وارننگ دیتا ہوں کہ یہ فرقہ وارانہ کشیدگی لاء اینڈ آرڈر کا مسئلہ بن سکتی ہے۔ تم جانتے نہیں ہو! میں نے بڑوں بڑوں کو سیدھا کر دیا ہے!
مولانا عبید اللہ احرار نے اٹھ کر ایس پی صاحب سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا.......
”خان صاحب رمضان کا مہینہ ہے اور ہم سب الحمد للہ روزہ دار ہیں۔ افطاری کا وقت قریب ہے اور میں اپنے رفقاء کو لے کر واپس جا رہا ہوں! ہم احراری اس قسم کی دھمکی آمیز باتیں سننے کے عادی نہیں ہیں۔ اگر مجھے آپ کے اس رویہ کا اندازہ ہوتا تو ہم ہرگز آپ کے بلانے پر نہ آتے اور جیل ہمارے لیے کوئی نئی بات نہیں۔ نہ ہم سازشی ہیں نہ فسادی۔ اعلائے کلمۃ الحق ہمارا مذہبی فریضہ ہے اور یہ ہم کرتے رہیں گے“
یہ سن کر ایس پی کے ہوش ٹھکانے آگئے۔ مولانا عبید اللہ کو پکڑ کر بٹھاتے ہوئے کہا ”مولانا آج افطاری اس فقیر کے ڈیرے پر کریں!“ ایس پی کی تدبیر الٹی ہو گئی اور توقع کے برعکس جواب سن کر منت سماجت پر اتر آیا۔ مولانا کو اس کی حالت پر رحم آیا اور وہ بیٹھ گئے۔ ہمیں کہا آپ تشریف رکھیں۔ مجھے ضروری بات کرنا ہے کیونکہ ہم سب جانے کے لیے اٹھ کھڑے ہوئے تھے اور ملازم کو شربت وغیرہ کا انتظام کرنے کو کہا۔
افطاری اور نماز کے بعد ایس پی نے دریافت کیا آپ میں یعقوب اختر کون ہے؟ جس پر ہم سب نے کان کھڑے کیے اور ایک دوسرے کو متجسسانہ نظروں سے دیکھنے لگے اور میں خاص طور پر نروس ہوا کہ یہ ماجرا کیا ہے؟
مولانا عبید اللہ احرار نے کہا آپ خاص طور پر یعقوب اختر کا کیوں پوچھ رہے ہیں! اگر کوئی شکایت یا خاص بات ہے تو آپ مجھ سے بات کریں۔ میں پوری جماعت کی طرف سے ذمہ دار ہوں۔ لیکن ایس پی بضد رہا کہ پہلے آپ یعقوب اختر کا تعارف
کرائیں۔ مولانا عبید اللہ احرار نے ایس پی کے اصرار پر میری طرف اشارہ کیا۔ میں اس وقت کلین شیو اور پینٹ بوشرٹ میں ملبوس تھا۔ ایس پی خان عبید اللہ خاں مجھے دیکھ کر پریشانی کے عالم میں سوچنے لگا اور پھر مجھ سے مخاطب ہو کر کہنے لگا کہ تم ..... نے مرزائیوں کے مکانوں اور دکانوں کو آگ لگانے کا جو منصوبہ بنایا ہے، اس کا ہمیں علم ہو گیا ہے!
میں اس قسم کی کوئی حرکت برداشت نہیں کروں گا۔ مولانا عبید اللہ احرار فوراً اپنی نشست سے اٹھے اور ایس پی سے مخاطب ہو کر اس کی پر زور اور واضح الفاظ میں تردید کی اور کہا کہ :
”ہم یقیناً مرزائی اور ان کے حواریوں کے خلاف سرگرم عمل ہیں جو کسی سے پوشیدہ نہیں لیکن کسی بھی سازش کے ہم مخالف ہیں۔ یعقوب اختر ہمارا ذمہ دار ساتھی ہے جو آگ لگانا تو دور کی بات ہے ، ایسا سوچ بھی نہیں سکتا۔ مجلس احرار اسلام ١٩٣٤ء سے مرزائیوں کے تعاقب میں ہے۔ ہماری تاریخ شاہد ہے کہ ہم نے ہمیشہ مرزائیت کو بر سر عام میدان میں للکارا ہے۔ سازش ہمارا شیوہ نہیں ۔ نہ ہم بزدل ہیں کہ گھناؤنی قسم کا کوئی ہتھکنڈہ استعمال کریں“۔
میں نے بھی بتایا کہ یہ بے بنیاد الزام کسی مرزائی یا مرزائی نواز کا خانہ ساز ہے جس کا علم مجھے آپ کے بتانے پر ہی ہوا ہے۔ اس مسئلہ پر کافی دیر بحث و تمحیص ہوئی اور بالآخر ایس پی نے لاجواب ہو کر کہا کہ مجھے یہی رپورٹ کی گئی تھی۔ اس طرح یہ بات رفت گزشت ہوئی ورنہ اس جھوٹے کیس میں مجھے پھنسا لیا جاتا۔
سی۔آئی۔ڈی کے ہرکارے اپنا امیج بڑھانے اور کارروائی ڈالنے کے لیے ایسی ہی غلط رپورٹیں کرتے اور ان رپورٹوں کا سہارا لے کر احرار کارکنوں کو جھوٹے مقدمات میں پھانسا جاتا تھا۔
آل مسلم پارٹیز کنونشن اور حضرت امیر شریعت کی عظمت
١٣ جولائی ٥٢ء کا دن بھی بہت اہمیت کا حامل ہے کہ اس دن برکت علی محمڈن ہال بیرونی موچی گیٹ لاہور میں ”آل پارٹیز کنونشن“ کے نام سے ایک تاریخ ساز اجتماع مجلس احرار اسلام کی مساعی جمیلہ سے منعقد ہوا جس میں دیوبندی، بریلوی اور اہلحدیث علماء
کرام‘ بڑے بڑے پیران عظام اور گدی نشینوں نے ایک چھت کے نیچے بیٹھ کر ملت واحدہ کا عملی مظاہرہ کیا اور مغرب زدہ کمیونسٹ اور دین کا تمسخر اڑانے اور علماء کی تضحیک کرنے والوں کی زبانیں گنگ کر دیں۔ اجتماع کے مدعوین میں مولانا محمد علی جالندھری‘ ناظم اعلیٰ مجلس احرار اسلام پنجاب‘ مولانا غلام محمد ترنم امرتسری (بریلوی) مولانا مفتی محمد حسن (دیوبندی) جامعہ اشرفیہ‘ حضرت مولانا احمد علی لاہوری انجمن خدام الدین‘ مولانا سید محمد داؤد غزنوی (اہل حدیث) مولانا سید نور الحسن شاہ بخاری (تنظیم اہل سنت) سید مظفر علی شمسی (تحفظ حقوق شیعہ) شامل تھے۔
اس کا دعوت نامہ مولانا غلام غوث ہزاروی نائب صدر مجلس احرار اسلام پاکستان کے دستخطوں سے جاری ہوا تھا۔ یہ بھی حضور شافع محشر ﷺ کی ختم المرسلینی کا ہی معجزہ تھا جو مجلس احرار اسلام کے ذریعہ وقوع پذیر ہوا۔ اور وہ علماء کرام جو ایک دوسرے کی شکل دیکھنے کے بھی روادار نہیں تھے‘ جن کی زبانیں ایک دوسرے کو برا بھلا کہتے نہیں تھکتی تھیں۔ جس کی غلط روی کی وجہ سے امت مسلمہ افتراق و انتشار کا شکار ہو چکی تھی۔ ١٣ جولائی ٥٢ء کے اس اجلاس کی بدولت اپنے تمام تر فروعی اختلافات کو طاق نسیاں کر کے نبی کریم ﷺ کی ختم نبوت کے تحفظ اور ناموس رسالت ﷺ کے لیے مرزائیت اور مسلم لیگ کی مرزائی نواز حکومت کے خلاف سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن گئی اور جو لوگ حکومت کے ایماء یا کسی اور مصلحت کا شکار ہو کر اس باہمی اتحاد سے گریزاں رہے‘ ان کو عامۃ المسلمین نے رد کر دیا۔ ان کے جلسے ویران اور جمعہ کے اجتماعات میں حاضری نہ ہونے کے برابر رہ گئی۔
برکت علی ہال کے اندر اور باہر مجلس احرار اسلام کے مستعد اور تجربہ کار رضا کاروں کا کنٹرول تھا۔ جن کی کمان چودھری معراج الدین سالار اعلیٰ کر رہے تھے۔ ان کے انتظام و انصرام کا یہ عالم تھا کہ حکومتی اور مخالفین کی کوششوں کے باوجود مدعوین کے سوا کوئی اور ہال میں داخل نہ ہو سکا۔ بندہ بھی اس اجلاس میں مجلس احرار اسلام لائل پور کے وفد جو اجلاس کے انتظام میں اعانت کے لیے شریک ہوا‘ شامل تھا۔ اجلاس کی صدارت مفتی محمد حسن صاحب مہتمم جامعہ اشرفیہ لاہور نے کی۔ تمام ہال کھچا کھچ بھرا ہوا تھا۔ اگلی قطار میں پیران عظام‘ سربراہان جماعت اور دیگر علماء کرام تشریف فرما تھے۔ پیچھے دیگر
مدعوین حضرات کرسی نشین تھے۔ سب سے آخر میں حضرت امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاری تشریف لائے۔ ہال میں داخل ہوئے تو تمام حاضرین آپ کے اعزاز و استقبال کے لیے اٹھ کھڑے ہوئے۔ آپ نے بلند آواز میں السلام علیکم کہا۔ آپ کو اگلی نشست پر جلوہ افروز ہونے کے لیے لایا گیا تو مولانا محمد علی جالندھری نے آپ کے کان میں بتایا کہ دائیں جانب حضرت پیر مہر علی شاہ کے صاحبزادہ غلام محی الدین عرف بابو جی آف گولڑہ شریف کرسی پر براجمان ہیں تو شاہ جی وہیں سے اپنے دونوں ہاتھ پھیلا کر بابو جی کے گھٹنوں کی طرف نیچے جھکے لیکن بابو جی تڑپ کر اٹھے اور شاہ جی کے جھکے ہوئے ہاتھوں کو اپنے ہاتھوں میں لے کر گلے سے لگا لیا اور بے ساختہ کہا شاہ جی یہ کیا؟ مگر امیر شریعت نے گلو گیر آواز میں کہا ”توں تے پیر زادہ ایں“ اور ساتھ ہی ”کتھے مہر علی کتھے تیری ثناء“ پڑھنے لگے! آپ دونوں کے ساتھ دیگر شرکائے اجلاس اکابر بھی بہت متاثر ہوئے۔ فرط جذبات سے اکثر کی آنکھیں بھیگ گئیں۔
حضرت امیر شریعت کی اس انکساری نے دیکھنے والوں کے دلوں پر اپنے خلوص کا سکہ بٹھا دیا اور حاضر سینکڑوں علماء کرام اور پیران عظام کو آپ کی عظمت کا برملا اعتراف کرنا پڑا۔
سرگودھا میں ہڑتال‘ لاہور دہلی دروازہ کا جلسہ عام اور شاہ جی کا اخلاص
١٦ فروری ١٩٥٣ء کو وزیر اعظم پاکستان خواجہ ناظم الدین نے پنجاب کے دورہ پر سرگودھا ہوتے ہوئے لاہور آنے کے پروگرام کا اعلان کیا۔ مجلس تحفظ ختم نبوت نے موقع کی مناسبت سے مرزائیوں کے خلاف عوامی رد عمل کا مظاہرہ کرنے کا اعلان کر دیا۔ تاکہ مرزائی وزیر خارجہ سر ظفر اللہ کی علیحدگی اور مرزائیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کے متعلق مسلمانوں کے متفقہ مطالبات سے حکومت کسی غلط فہمی کا شکار نہ رہے اور عوامی جذبات کی شدت اور مسئلہ کی نزاکت سے آگاہ ہو جائے۔ چنانچہ لاہور اور سرگودھا کے شہروں میں مجلس عمل تحفظ ختم نبوت کے مطالبات کے حق میں زبردست ہڑتال ہوئی۔ نیز مجلس عمل کی طرف سے لاہور کے بیرون دہلی دروازہ میں ایک عظیم الشان جلسہ عام کا انعقاد کیا گیا۔
مجلس کی صدارت حاجی ترنگزئی پیر محمد امین صاحب امیر جماعت ناجیہ سرحد نے کی۔ عوام کا ٹھاٹھیں مارتا ہوا سمندر سراپا احتجاج بن کر حکومت کو اپنے سیلاب میں بہا لے جانے کے لیے بے چین‘ مضطرب اور بے قرار۔ مرزائیت مردہ باد‘ مرزائی نواز حکومت مردہ باد‘ مرزائی وزیر خارجہ کو برطرف کرو اور ”قائد قلت“ (خواجہ ناظم الدین کو گندم کی قلت پیدا کرنے کی وجہ سے عوام طنزاً ”قائد قلت“ کے نام سے پکارتے) مردہ باد کے فلک شگاف نعرے لگا کر اپنے جذبات کی شدت کا اظہار کر رہا تھا اور اپنے قائدین کے حکم پر ہر قسم کی قربانی دینے کا برملا اعلان کر رہا تھا۔
حضرت امیر شریعت نعروں کی گونج میں خطاب کر رہے تھے کہ سٹیج کی پچھلی جانب سے مولانا اختر علی خاں ایڈیٹر روزنامہ زمیندار اپنے والد ماجد مولانا ظفر علی خاں کو سہارا دے کر سٹیج پر چڑھے۔ کسی نے حضرت امیر شریعت کو بتایا آپ کی پچھلی جانب سے مولانا ظفر علی خاں کو لایا جا رہا ہے۔
لوگوں نے یہ تاریخی منظر بھی دیکھا کہ خلوص کا پیکر‘ ختم المرسلین ﷺ کا سچا شیدائی و فدائی‘ قائد احرار حضرت امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاری‘ اخبار زمیندار لاہور کے مالک و مدیر مولانا ظفر علی خان کے لیے بغیر کسی ہچکچاہٹ کے فوری طور پر تقریر روکتا ہے‘ کرسی سے اٹھتا ہے اور مڑ کر پچھلی جانب سے آنے والے ظفر علی خان کو گلے لگا کر پیشانی کو بوسہ دیتا ہے۔ لوگوں نے یہ منظر بھی دیکھا کہ ماضی کے دونوں حریفوں کی آنکھوں سے آنسو چھلک پڑے اور دیکھنے والے ہزارہا آدمیوں کے دل بھی بھر آئے۔ شاہ جی نے ظفر علی خان سے مخاطب ہو کر فرمایا:
مرکزی قائدین کی گرفتاری
٢٦ فروری ٥٣ء کو مرکزی مجلس عمل کے قائدین نے آرام باغ کراچی جلسہ عام میں اعلان کر دیا کہ مطالبات منظور نہ ہونے کی صورت میں یکم مارچ ٥٣ء سے
راست اقدام کیا جائے گا۔ جس کا طریقہ کار یہ ہو گا کہ پانچ آدمی مطالبات کے پلے کارڈ لے کر پر امن طریق سے وزیر اعظم ہاؤس جا کر تا منظوری مطالبات ہر روز اپنے آپ کو گرفتاری کے لیے پیش کریں گے لیکن حکومت جلسہ ہی سے لرزہ براندام ہو گئی۔ ٢ بجے رات کو جب جلسہ عام ختم کر کے قائدین تحریک دفتر مجلس احرار اسلام بندر روڈ جا کر لیٹے ہی تھے کہ پولیس کی بہت بڑی جمعیت نے اے۔ ٹی نقوی، کمشنر کراچی کی سرکردگی میں دفتر کو مسلح دستوں کے ذریعہ گھیر لیا اور تمام قائدین جن میں حضرت امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاری، مولانا ابو الحسنات قادری (صدر مجلس عمل تحفظ ختم نبوت) صاحبزادہ سید فیض الحسن شاہ (سجادہ نشین آلو مہار) ماسٹر تاج الدین انصاری (صدر مجلس احرار) سید مظفر علی شمسی، مولانا لعل حسین اختر، عبدالرحیم جوہر بمبئی، غازی اللہ نواز ایڈیٹر اخبار ”حکومت“ کراچی۔ ان سب کو دفتر پر شب خون مار کر گرفتار کر لیا گیا۔ مولانا عبدالحامد بدایونی کو جو کہ جلسہ سے فارغ ہو کر گھر چلے گئے تھے، گھر سے گرفتار کیا گیا۔ نیاز احمد لدھیانوی احرار کارکن کو جلسہ گاہ سے جو سامان کی حفاظت کے لیے جلسہ گاہ میں رہ گئے تھے گرفتار کر لیا گیا۔
نتیجتاً کراچی میں دوسرے دن جلسوں اور مظاہروں کا طوفان اٹھ کھڑا ہوا۔ لیکن قائدین کی گرفتاری کے باعث یہ غیر منظم تحریک ہزارہا گرفتاریاں دے کر اور حکومت کے ظلم و جور کا حتی المقدور مقابلہ کرتے ہوئے زیادہ دن جاری نہ رہ سکی۔ حالانکہ ان دنوں پنجاب میں تحریک شباب پر تھی اور لوگ جوش و خروش سے نعرہ تکبیر بلند کرتے ہوئے حکومت کے ایوانوں میں زلزلہ بپا کیے ہوئے تھے۔
٢٧ فروری کو مجلس احرار اسلام کی میٹنگ
قائدین مجلس عمل تحفظ ختم نبوت کی گرفتاریوں کی خبر ٢٧ فروری کے اخبارات کے ذریعہ جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی اور پبلک میں اضطرابی اور ہیجانی کیفیت پیدا ہو گئی۔ لوگوں کے ٹھٹھ بازاروں میں نعرہ زنی کرنے لگے اور دفتر مجلس احرار اسلام لائل پور (فیصل آباد) کے سامنے اکٹھے ہو گئے تو انہیں سمجھایا گیا کہ آج رات پروگرام کا اعلان کر دیا جائے گا۔
لوگ حق بجانب تھے کہ مجلس احرار اسلام سے پروگرام مانگیں۔ کیونکہ پوری مجلس عمل میں مجلس احرار اسلام ہی منظم اور داعی جماعت تھی۔ چنانچہ ٢٧‘ ٢٨ فروری کی درمیانی شب ایک اجلاس مولانا عبید اللہ احرار کی دعوت پر انہی کے مکان پر خواجہ جمال الدین بٹ (صدر مجلس احرار لائل پور) کی زیر صدارت منعقد ہوا۔ جس میں چیدہ چیدہ کارکن شریک ہوئے۔ جن میں مولانا عبید اللہ احرار کے علاوہ مولانا تاج محمود‘ میاں محمد عالم بٹالوی‘ خواجہ غلام حسین لدھیانوی‘ سالار شہر امان اللہ‘ محمد عالم منہاس لدھیانوی‘ شیخ خیر محمد‘ شیخ عبدالمجید امرتسری اور راقم الحروف (محمد یعقوب اختر) کے علاوہ بھی بہت سے کارکن شریک تھے۔
اجلاس میں مولانا عبید اللہ احرار‘ مولانا تاج محمود‘ خواجہ غلام حسین‘ شیخ عبدالمجید اور راقم الحروف نے خطاب کیا اور تجدید عہد کرتے ہوئے کہا کہ ناموس مصطفیٰ ﷺ کے لیے کسی بھی قسم کی قربانی سے دریغ نہیں کیا جائے گا۔ اجلاس ٣ / ٤ گھنٹے جاری رہا اور طے پایا کہ تمام کارکن خود اور دوسرے ساتھیوں کو ہر وقت گرفتاری کے لیے تیار رکھیں۔ اجلاس سے فارغ ہو کر چنیوٹ بازار عالم کافی ہاؤس آئے۔ چائے پی کر گھنٹہ بھر بیٹھے تو بارہ بج چکے تھے۔ ابھی گھروں کو روانہ ہونے ہی والے تھے کہ لاہور سے محمد حسین سیتھی سالار لاہور مجلس عمل کی ہدایات لے کر آگئے اور مولانا عبید اللہ احرار کو مجلس عمل کا زبانی پیغام دیا کہ کل صبح احتجاجی جلسہ عام کر کے عوام الناس کو صورتحال کی نزاکت اور حکومت کی یکطرفہ پولیس کارروائی سے آگاہ کیا جائے بقیہ تفصیلی ہدایات کل آپ کو مل جائیں گی۔ اس کے ساتھ ہی تمام کارکن اپنے اپنے گھروں کو چلے گئے۔
مولانا عبید اللہ احرار اور مرزا جانباز کی گرفتاری
میں ابھی سویا ہی تھا کہ میرے دروازہ پر دستک ہوئی۔ میں سمجھا شاید پولیس آگئی۔ ہڑبڑا کر اٹھا‘ نیچے جھانک کر دیکھا تو مولانا تاج محمود گھبرائی ہوئی آواز میں مجھے پکار رہے تھے۔ میں نے دل میں کہا خدا خیر کرے‘ یہ منہ اندھیرے کیسے آگئے‘ جبکہ ابھی رات ایک بجے ہم جدا ہوئے تھے۔ میں نے اوپر ہی سے پوچھا ”مولانا خیریت تو ہے؟ ابھی دروازہ کھولتا ہوں“۔ لیکن مولانا نے اسی پریشانی کے عالم میں کہا ”تم فوراً نیچے آؤ‘ چلنا ہے“۔ میں
نے کہا "کپڑے تو تبدیل کر لوں" تو مولانا نے کہا "اتنی مہلت نہیں ہے فوراً آ جاؤ"۔ میں نے پینٹ پہن رکھی تھی، بُو شرٹ ہاتھ میں لئے گھر والوں کو بتائے بغیر نیچے آگیا۔ مولانا سے آنے کی وجہ پوچھنا چاہی لیکن انہوں نے مجھے سائیکل پر بٹھایا اور خواجہ جمال الدین بٹ صاحب کے مکان محلہ ڈگلس پورہ لے گئے اور وہیں میاں محمد عالم بٹالوی اور محمد عالم منہاس کو بلا لیا گیا۔ تب مولانا تاج محمود نے بتایا کہ رات کو مولانا عبید اللہ احرار اور مرزا غلام نبی جانباز کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ وہیں ہم نے فوری طور پر جلسہ عام اور ہڑتال کا پروگرام بنالیا اور طے پایا کہ نماز فجر کے بعد جامع مسجد کچہری بازار جا کر میں اہل لائل پور کو صورت حال سے آگاہ کر کے جلسہ عام اور ہڑتال کی اپیل کروں اور جلدی واپس آجاؤں۔ محمد عالم بٹالوی اور میں جامع مسجد کچہری بازار آگئے۔ نماز کے بعد مفتی سیاح الدین کاکاخیل درس قرآن دینے لگے تو میں نے قریب جا کر گزشتہ روز کی صورتحال بتا کر اعلان کرنے کے لئے کہا۔ مفتی صاحب نے مائیک مجھے دے دیا۔ میں نے ہڑتال اور جلسہ عام کا اعلان کرتے ہوئے لوگوں کو بتایا کہ کراچی میں مجلس عمل کے مرکزی قائدین کی گرفتاری کے بعد گزشتہ شب مولانا عبید اللہ احرار اور مرزا غلام نبی جانباز کو بھی گرفتار کر لیا گیا ہے، حکومت کے اس اقدام کے خلاف احتجاج کرنے کے لئے اپنا اپنا کاروبار بند رکھیں۔ آج شہر میں ہڑتال ہوگی اور اپنے مطالبات کے حق میں اور گرفتاریوں کے خلاف اپنے احتجاج کے اظہار کے لئے عید باغ کے میدان میں جلسہ عام ہو گا۔ لائل پور میں تحریک تحفظ ختم نبوت کے سلسلہ کی یہ پہلی ہڑتال تھی جو بغیر کسی پیشگی نوٹس کے ہوئی اور انتہائی کامیاب رہی جس کا اعزاز اللہ تعالیٰ نے راقم الحروف کو بخشا۔
٢٨/ فروری ٥٣ء کو صبح دس بجے جلسہ عام میں تل دھرنے کی جگہ نہ رہی جس میں مولانا تاج محمود، صاحبزادہ افتخار الحسن شاہ، مولانا محمد یعقوب نورانی اور دیگر کئی کارکنان احرار نے ولولہ انگیز تقاریر کیں اور ہر قسم کی قربانی کے لئے سر بکف رہنے کے عزم کا اظہار کیا۔ عوام کو گرفتاری کے لئے نام لکھوانے کی اپیل کی۔ اسی میدان میں مجلس احرار کی طرف سے تحریک چلانے کے لئے کیمپ بھی لگایا گیا۔ کافی تعداد میں لوگوں نے نام لکھوائے۔ کیمپ میں میرے معاون محمد عالم منہاس اور شیخ عبدالمجید تھے۔ اگلے دن مفتی محمد یونس صاحب (خطیب جامع مسجد کچہری بازار) کی قیادت میں جامع مسجد سے کراچی میں
گرفتاری دینے کے لئے قافلہ کی روانگی کا اعلان کر کے کیمپ عید باغ سے جامع مسجد کچہری بازار منتقل کر دیا گیا۔ مفتی محمد یونس صاحب مقامی مجلس عمل تحفظ ختم نبوت کے صدر بھی تھے۔
گرفتاریوں کا آغاز
اگلے دن یکم مارچ ٥٣ء کو حسب پروگرام جامع مسجد کچہری بازار سے مفتی شہر مولانا محمد یونس کی قیادت میں میاں محمد عالم بٹالوی‘ راجہ محمد افضل (نائب سالار شہر مجلس احرار اسلام لائل پور) بابا غلام رسول تمیمی وغیرہ پر مشتمل پہلا جتھہ براستہ لاہور کراچی جانے کے لئے ہزار ہا فدایان ختم نبوت کے پرجوش نعروں کی گونج میں ریلوے اسٹیشن سے روانہ ہو گیا۔ جتھہ کی روانگی کے لئے طریق کار یہ تھا کہ روانگی سے پہلے جامع مسجد میں تقاریر ہوتیں اور اراکین جتھہ کو ہار پہنا کر ریلوے اسٹیشن تک جلوس کی صورت میں الوداع کیا جاتا۔ دوسرے دن صاحبزادہ سید افتخار الحسن شاہ کی قیادت میں پہلے دن سے بھی بڑے جلوس کے ساتھ جتھہ روانہ ہوا۔ ٹرین پر سوار ہونے سے قبل صاحبزادہ صاحب نے ریلوے اسٹیشن کے سامنے والی گراؤنڈ میں پرجوش تقریر کی‘ جس سے لوگ بپھر گئے اور انتہائی غیظ و غضب کے ساتھ نعرے لگانے لگے۔ مرزائی نواز حکومت مردہ باد‘ مرزائی وزیر خارجہ کو برطرف کرو‘ مرزائیوں کو اقلیت قرار دو‘ تاج و تخت ختم نبوت زندہ باد کے فلک شگاف نعروں کے ساتھ قافلہ کو الوداع کیا لیکن پولیس نے گٹی اور سالار والا اسٹیشن کے درمیان ایک جگہ صاحبزادہ کو اتار لیا اور جیل لے جا کر پابند سلاسل کر دیا۔ باقی رضا کاروں کو پانچ پانچ دس دس میل کے فاصلہ پر لے جا کر چھوڑ دیا۔
(نوٹ: اس گرفتاری کی مکمل روداد میرے کسی دوسرے مضمون میں آئے گی۔ ان شاء اللہ‘ عبدالمجید امرتسری)
تحریک روز بروز تیز سے تیز تر ہوتی جارہی تھی۔ مضافات سے بھی جتھے آنا شروع ہو گئے۔ گرفتار ہونے والوں کی تعداد حد سے متجاوز ہو جانے نیز مقامی طور پر گرفتاریاں شروع ہونے کے باعث دن میں دو بار جلوس کا پروگرام بنانا پڑا۔ مسجد کی دونوں منزلیں رضا کاروں سے بھر گئیں۔ دن میں دو بار گرفتار ہونے سے بھی لوگوں کا جوش و
خروش بڑھتا جا رہا تھا۔ اب ایک وقت مولانا تاج محمود اور ایک دوسرے وقت مولانا محمد یعقوب نورانی پر جوش تقاریر سے لوگوں کو گرماتے اور حکومت کو بے باکانہ للکارتے تھے۔ جب مولانا محمد یعقوب نورانی گرفتار ہو گئے تو ایک جلوس کے وقت مولانا تاج محمود اور دوسرے وقت راقم الحروف تقاریر کرتے تھے۔ سمندری‘ گوجرہ‘ ٹوبہ ٹیک سنگھ‘ چک جھمرہ‘ سانگلہ ہل‘ چنیوٹ اور دیگر قریبی قصبات سے شمع رسالت ﷺ کے پروانے ذوق و شوق سے کفن بردار چلے آ رہے تھے اور گرفتاری کے انتظار میں مسجد میں مقیم ہو رہے تھے۔ اہل لائل پور نے میزبانی کے فرائض سنبھال رکھے تھے اور بڑی خوش اسلوبی سے انجام دے رہے تھے۔
٤/ مارچ ٥٣ء کو مولانا عبد الرحمن صاحب (مہتمم اشرف المدارس) جن کا ان دنوں شہر میں طوطی بولتا تھا‘ کی قیادت میں ایک بہت بڑا جلوس ڈپٹی کمشنر ابن حسن کی کوٹھی کی طرف روانہ کیا گیا تاکہ وہاں جاکر گرفتاریاں پیش کی جائیں۔
○
کراچی ریلوے اسٹیشن سے باہر نکلتے ہی مستری عبد الرشید لدھیانوی سے ملاقات ہو گئی۔ جو پنجاب سے رضا کاروں کی کراچی آمد کے منتظر تھے۔ مل کر خوش بھی ہوئے اور تحریک کو آگے بڑھانے کی امنگ بھی بڑھی۔ ہمیں بھی رہائش کی پرابلم سے دو چار نہ ہونا پڑا۔
مستری صاحب گوردھن داس مارکیٹ (اب "لطیف مارکیٹ") کے ایک فلیٹ میں ٹھہرے ہوئے تھے جو چودھری محمد حسن صاحب نے اپنی کاروباری ضرورت کے تحت لیا ہوا تھا۔ چودھری صاحب لائل پور کے کپڑا کے ایک مشہور تاجر اور لدھیانہ کے احراری خاندان سے تعلق رکھتے تھے۔ ہم بھی ان کے ساتھ مذکورہ فلیٹ میں قیام پذیر ہو گئے۔ دوسرے دن میاں محمد عالم بٹالوی سے بمبئے بازار میں ملاقات ہو گئی۔ وہ بھی کراچی میں تحریک کی خاموشی پر نوحہ کناں تھے اور کچھ کرنے کی فکر میں تھے۔ باہم مشاورت سے طے ہوا کہ آرام باغ کی مسجد کو مرکز بنا کر تحریک کو نئے سرے سے متحرک کرنے کی سعی و جہد کی جائے۔ میاں محمد عالم اور محمد شریف جالندھری کو یہ کام سونپا گیا کہ آرام باغ مسجد کمیٹی یا
ارد گرد کے ماحول میں کوئی نرم گوشہ تلاش کر کے فضا کو سازگار بنایا جائے۔ ان کی کوشش کے بعد دو چار ایسے آدمی مل گئے جو اس بات کے شاکی تھے کہ مرکزی رہنماؤں کی گرفتاری کے بعد تحریک کو منظم اور لیڈ کرنے کا کوئی بندوبست نہ ہونے پر خاموشی چھا گئی ہے ورنہ نوجوانوں میں قربانی کا جذبہ موجود ہے۔ چنانچہ ان لوگوں نے خطیب مسجد سے نماز جمعہ سے ذرا پہلے کا وقت لے لیا۔ بس اللہ تعالیٰ نے سب کام آسان کر دیے۔ ہم ڈر بھی رہے تھے کہ مخبری ہونے پر کہیں ایک ساتھ ہی گرفتار نہ ہو جائیں۔ اس کا حل یہ نکالا کہ مسجد میں سب علیحدہ علیحدہ داخل ہوئے۔ میں اور محمد شریف جالندھری خطیب صاحب سے ملے۔ پروگرام طے کیا۔ انہوں نے کہا کہ میں اپنی تقریر ختم نبوت پر ہی کروں گا۔ ماحول سازگار ہو چکا ہو گا۔ اس کے بعد آپ بات آگے بڑھا لیں اور یہ سب اچانک ہو گا۔
چنانچہ حسب پروگرام خطیب صاحب نے بڑی پرجوش تقریر کی۔ لوہا گرم تھا مجھے زیادہ کچھ نہ کہنا پڑا۔ حاضرین، نماز کے بعد جلوس کے لیے پرجوش نعرے بلند کرنے لگے۔ اللہ کے فضل و کرم سے نماز کے بعد ہم جلوس نکالنے میں کامیاب ہو گئے۔ جلوس انتہائی پرجوش اور منظم تھا۔ یوں کراچی میں دوبارہ تحریک تحفظ ختم نبوت کا آغاز ہو گیا۔ مستری رشید احمد لدھیانوی نے دوسرے دن ایک سائیکلو سٹائل مشین کہیں سے لا کر ہمیں دے دی۔ جس سے کام آسان ہو گیا۔ اس سے پیشتر کئی روز سے ایک ڈپلیکیٹر کے ذریعہ تھوڑی تعداد میں پمفلٹ چھاپ کر میں اور محمد عالم منہاس صدر، بندر روڈ، بولٹن مارکیٹ، پاکستان مارکیٹ، ٹاور وغیرہ میں تقسیم کرنے کا کامیاب تجربہ کر چکے تھے جس سے سی آئی ڈی اور پولیس حرکت میں آچکی تھی۔ چنانچہ احتیاطاً ہم سائیکلو سٹائل مشین کو لے کر گوردھن داس مارکیٹ سے صرف میں اور محمد عالم منہاس سلور کالونی چلے گئے اور پھر کلری جھیل کی کچی آبادی میں ایک جھونپڑی کرایہ پر لے کر وہاں منتقل ہو گئے۔
یہ آبادی چونکہ غریب مچھیروں کی تھی جو سارا دن سمندر یا دوسرے علاقوں میں مزدوری کے لیے چلے جاتے۔ اکثر ان کے بچے اور عورتیں بھی مزدوری پر چلے جاتے جس سے ہمیں کام کرنے میں نسبتاً تحفظ اور یکسوئی میسر تھی۔ میں مضمون بناتا اور محمد عالم منہاس صاحب کتابت کرتے پھر ہم مشین کے ذریعہ چھاپ کر بنڈل بنا لیتے اور شہر کے بارونق علاقوں میں جلدی جلدی تقسیم کر کے رات کو گوردھن داس مارکیٹ میں سب
اکٹھے ہو کر باہم مشاورت سے اگلے دن کا پروگرام بناتے اور اپنی جھونپڑی میں چلے جاتے۔ ان دنوں سائیکلو سٹائل مشین رکھنا ہی جرم تھا چہ جائیکہ اس پر حکومت کے خلاف مواد چھاپنا، یہ تو کھلی بغاوت تھی۔ اور پولیس ایسے جرم کرنے والے کے ساتھ جو ظلم و ستم روا رکھتی تھی، آج اس کا تصور بھی شاید ممکن نہ ہو۔ یہ جان جوکھوں کا کام بہر حال ہم کر رہے تھے۔ جلوس بھی نکل رہے تھے۔ کراچی میں تحریک تحفظ ختم نبوت کے سلسلہ میں جلوسوں کا دوبارہ اجرا اور سائیکلو سٹائل پمفلٹوں کے تسلسل نے حکومت کے ایوانوں میں زلزلہ پیدا کر دیا۔ پولیس اور CID حیران اور پریشان تھے کہ دن دہاڑے اس جرات و بے باکی کے ساتھ حکومت کی آنکھوں میں کون دھول جھونک رہا ہے؟ حکومت کی تمام انٹیلی جنس ایجنسیاں بمعہ پولیس اور سی آئی ڈی جگہ جگہ اس بات کا کھوج لگانے میں سرگرم عمل تھیں کہ جلوس کے لیے رضا کار کون لاتا ہے، پمفلٹ کون لکھتا ہے اور کہاں چھاپے جاتے ہیں اور کیسے تقسیم ہوتے ہیں؟ جب گھیراؤ تنگ ہوتا ہوا محسوس ہوا تو ہم نے سکیم بدل لی۔
کراچی میں شام کو کئی اخبار چھپتے ہیں جو عموماً چھوٹے بچے فٹ پاتھ پر رکھ کر یا بھاگ دوڑ کر بیچتے ہیں۔ ہم نے ان بچوں سے کام لیا۔ ایک ایک دو دو روپے دے کر پمفلٹ تقسیم کروانے لگے۔ بچوں کو پمفلٹ دے کر ہم ادھر ادھر ہو جاتے یا باہر کی بستیوں میں تقسیم کے لیے چلے جاتے۔ اس تقسیم کاری کی وجہ سے شہر کے بہت سے علاقوں میں پمفلٹ تقسیم ہو جاتے۔ اب ہمارا رابطہ پنجاب سے بھی تھا۔ جہاں سے رضا کار کراچی آرہے تھے۔ پمفلٹ تقسیم کرنے میں وہ بھی ہاتھ بٹاتے۔ احرار کارکن بھی پنجاب سے آتے اور ہمارے ساتھ شریک کار ہوتے جن میں حکیم ذوالقرنین سیکرٹری مجلس احرار اسلام لاہور اور گوجرانوالہ کا ایک کارکن غلام نبی بھی تھا۔ حکیم ذوالقرنین جہانگیر پارک صدر میں خان عبدالقیوم جو ان دنوں مرکزی وزیر تھے، کے جلسہ میں رات کے وقت ہمارے ساتھ پمفلٹ تقسیم کرتے ہوئے پولیس کے ہتھے چڑھ گئے۔ ہم نے اپنے پمفلٹ پرانے طریقہ کے مطابق اخباری بچوں ہی کے ذریعہ تقسیم کروائے تھے۔
گرفتاریوں کا طریقہ کار
مستری رشید احمد لدھیانوی جو ان دنوں کراچی میں تحریک کے عملی طور پر
انچارج تھے، نے گوجرانوالہ کے ایک احرار کارکن غلام نبی کو کرایہ وغیرہ دے کر بہاولپور سے رضا کار لانے پر مامور کیا ہوا تھا۔ ہوتا یوں تھا کہ پنجاب کے مختلف شہروں میں جن احرار کارکنوں سے ہم رابطہ رکھے ہوئے تھے، ان میں اکثر کاروباری تھے۔ ان سے مستری رشید احمد صاحب یا ہم میں سے جو بھی فون پر بات کرتا تو خالص کاروباری لہجہ ہوتا۔ مال کب آرہا ہے، کتنا مال بھیج رہے ہو، کتنے نگ ہیں، کون سی گاڑی پر بک کرایا ہے؟ اسی لہجہ میں جواب بھی ملتا۔ دس نگ بھیج رہے ہیں۔ فلاں گاڑی پر مال (یعنی رضا کار) آئے گا وصول کر کے مطلع کریں۔ کوڈ ورڈ بھی بتا دیا جاتا۔ کراچی آنے پر مطلوبہ گاڑی سے مال وصول کر لیا جاتا۔ لانے والے کی ڈیوٹی اسٹیشن پر ختم ہو جاتی اور دوسرا آدمی جو متعین ہوتا، وصول کرلیتا۔ اور اسٹیشن سے باہر ایک طرف لے جاکر ہدایات دی جاتیں۔ اور طریق کار ذہن نشین کرا کے اپنے پیچھے آنے کا اشارہ کرتے اور وہ ایک ایک کر کے مسجد میں نماز کے وقت پہنچ جاتے اور ایک مقررہ جگہ پر نماز ادا کرتے۔ جب امام صاحب سلام پھیرتے تو تمام رضا کار سفید رومال نکال کر سروں پر باندھ لیتے جو ہم انہیں فراہم کرتے تھے اور خود ہی اپنے گلے میں ہار ڈال کر نعرہ تکبیر بلند کرتے۔ تمام نمازی بھی نعرہ بازی میں شریک ہو جاتے۔ تاج و تخت ختم نبوت زندہ باد، مرزائیت مردہ باد، قائد ملت زندہ باد، مرزائی نواز حکومت مردہ باد۔ ظفر اللہ مرزائی وزیر خارجہ کو برطرف کرو! کے فلک شگاف نعرے لگاتے ہوئے ہجوم سڑک پر آجاتا اور سڑک پر جلوس کی شکل بن جاتی۔ تھوڑی دور جا کر پولیس رضا کاروں کو گرفتار کر لیتی اور ہم کارکن ہجوم میں گھل مل کر اپنے اپنے طے شدہ پروگرام پر نکل جاتے۔
تصویر کا دوسرا رخ
ہمیں کراچی میں مقامی ساتھیوں کی تلاش رہتی تھی۔ اسی سلسلہ میں رام پور (انڈیا) کے ایک مہاجر مولوی حفیظ الرحمن خان، مستری رشید احمد صاحب سے متعارف ہوا۔ جو تحریک کے ابتدائی دنوں میں گرفتار ہو کر جیل یاترا بھی کر چکا تھا۔ اس نے مستری رشید احمد کو اپنے طرز عمل اور چرب زبانی سے پوری طرح اپنے اعتماد میں لے لیا۔ ایک دن اس نے اپنی جھونپڑی ناظم آباد میں رات کو مستری صاحب کو دعوت پر بلایا اور کہا کہ اپنے ساتھیوں کو بھی لائیں۔ چنانچہ مستری صاحب مجھے اور محمد عالم منہاس کو بھی اپنے
ساتھ لے گئے۔
○
دو تین دن گزر گئے مگر نہ تو مستری کہیں ملے اور نہ ہی ہر شب کی مجلس مشاورت میں شریک ہوئے تو میں اور محمد عالم منہاس مستری صاحب کو تلاش کرتے ہوئے مولوی حفیظ الرحمٰن کی جھونپڑی میں گئے تاکہ معلوم کریں کہ مستری صاحب وہاں بھی گئے ہیں یا نہیں۔ مولوی حفیظ الرحمٰن کے راستے میں ایک پنواری بیٹھا کرتا تھا۔ ہم آتے جاتے اکثر اس سے پان کھا لیا کرتے تھے۔ جس سے وہ کچھ شناسا ہو گیا تھا۔ آج بھی اس سے پان لینے کے لیے کھڑے ہوئے تو اس نے ادھر ادھر نظر دوڑا کر رازدارانہ لہجہ میں کہا کہ آپ کے ساتھی مولوی صاحب کو پولیس پرسوں یہاں سے گرفتار کر چکی ہے۔ اس لیے خیریت اسی میں ہے کہ اس جھونپڑی میں جانے کی بجائے الٹے پاؤں واپس چلے جائیں۔ اس کے بتائے ہوئے حلیہ سے ہمیں یقین ہو گیا کہ مولوی حفیظ الرحمٰن نے مستری رشید احمد کو گرفتار کروا دیا ہے۔ ہم وہاں سے بذریعہ بس شہر آگئے اور رات اپنی جھونپڑی کی بجائے کسی دوسری جگہ پر گزاری۔ دن میں کلری جھونپڑیاں اکثر خالی ہو جایا کرتی تھیں۔ دوسرے دن تقریباً گیارہ بجے ہم اپنی جھونپڑی گئے۔ جلدی جلدی کاغذات سمیٹے، سائیکلو سٹائل مشین، ڈپلیکیٹر اور دوسرا سامان بوری میں بند کیا اور سائیکل رکشہ پر غیر معروف راستوں سے ہوتے ہوئے صدر آگئے۔ اگلے روز ہمیں اطلاع ملی کہ جھونپڑی خالی کرنے کے چند ہی منٹ بعد وہاں پولیس نے چھاپہ مارا۔ کلری جھیل کی تمام جھونپڑیوں اور بلوچ مسجد کا سارا علاقہ گھیرے میں لے کر تلاشی لی گئی۔ ہماری جھونپڑی کا تالہ توڑ کر تلاشی لی گئی۔ امام مسجد سے بھی پوچھ گچھ کی گئی کہ بتاؤ وہ کون لوگ تھے، کدھر گئے ہیں؟ سائیکلو سٹائل مشین ڈھونڈنے کی ناکام کوشش کی گئی لیکن پنچھی تو پہلے ہی بسیرا بدل چکے تھے۔
گوجرانوالہ سے چھپنے والی ایک کتاب پڑھنے سے اب معلوم ہوا ہے کہ چھاپہ گوجرانوالہ کے ایک غلام نبی نامی آدمی کی مخبری پر مارا گیا تھا لیکن "جسے اللہ رکھے اسے کون چکھے" کے مصداق ابھی چند دن اور باہر رہنا اللہ کو منظور تھا اس لیے بچ گیا۔ کراچی میں اب میں اور محمد عالم منہاس ہی بقیۃ السیف تھے۔ چنانچہ ہم دونوں نے باہم فیصلہ کیا کہ
اب پنجاب واپس جاکر گرفتاری دینی چاہیے۔ کراچی میں تحریک کو جاری رکھنا بے حد مشکل تھا۔ مسٹر نبی رشید احمد ہی کراچی میں تحریک کے روح رواں تھے۔ فنانس بھی کرتے اور دیگر تمام بھاگ دوڑ بھی انہی کے دم سے تھی۔ چنانچہ میں اور محمد عالم منہاس چناب ایکسپریس کے ذریعہ راولپنڈی پہنچے۔ ایک دوست کے گھر دو تین گھنٹے آرام کیا۔ ہم ابھی لیٹے ہی ہوئے تھے کہ پولیس نے سارے محلے کو گھیرے میں لے لیا اور دروازہ کھٹکھٹایا۔ صاحب خانہ نے نیند سے بیدار کر کے ہمیں پولیس کی آمد کی اطلاع دی۔ پولیس آفیسر بیٹھک میں تھا اور ہم دونوں بیٹھک میں آگئے۔ اس نے گرفتار کر کے حوالات بھیج دیا اور اگلے روز راولپنڈی جیل میں بند کر دیا۔ گرفتاری چونکہ سیفٹی ایکٹ دفعہ ٣ کے تحت عمل میں آئی تھی لہٰذا عدالت وغیرہ کا کوئی چکر نہیں تھا۔ کچھ عرصہ بعد لائل پور (فیصل آباد) جیل میں منتقل ہو گئے۔ قید کے بقیہ دن وہیں گزار کر ٨ دسمبر ١٩٥٣ء کو رہائی ملی۔
نکلے اسیر تو بدلا ہوا زمانہ تھا۔ برسر اقتدار گروہ ایوان حکومت سے بے آبرو ہو کر حکومت سے نکل چکا تھا۔ مسلم لیگ کی جابر و قاہر سنگ دل حکومت زیر و زبر ہو چکی تھی۔ جن کرسیوں کو بچانے کے لیے مسئلہ ختم نبوت سے غداری کی تھی‘ الٹ چکی تھی اور کل کے حکمرانوں کی یہ حالت تھی
اللہ تعالیٰ کی لاٹھی بے آواز ہے۔ اس نے مسلم لیگی رہنما قسم کے رہزنوں کو ایوان اقتدار سے ایسا دیس نکالا دیا کہ بقیہ زندگانی کے لیے ذلت و رسوائی ان کا مقدر بن گئی۔ جو لوگ ان میں سے آگے چلے گئے وہ جتنی دیر اس دنیا میں رہے‘ نفرت و عبرت کا نشان بنے رہے۔ جو ابھی زندہ ہیں‘ ان کی روسیاہی چھپائے نہیں چھپتی اور چالیس برس کا طویل عرصہ گزرنے کے باوجود اپنے زخم چاٹ رہے ہیں۔ فاعتبروا یا اولی الابصار
اللہ کے شیروں کو آتی نہیں روباہی
١٩٥٢ء میں انجمن حمایت اسلام کا سالانہ جلسہ لاہور میں بڑی دھوم دھام سے ہو رہا تھا۔ اس وقت انجمن کے صدر خلیفہ شجاع الدین مرحوم تھے جو پنجاب اسمبلی کے
سپیکر بھی تھے ! مرحوم بہت ہی خوبیوں کے مالک اور مرنجان مرنج انسان تھے۔ دینی، تعلیمی، ادبی اور سیاسی حلقوں میں ان کا یکساں احترام کیا جاتا تھا۔ حضرت امیر شریعت کے ساتھ دیرینہ تعلق کی بناء پر خلیفہ صاحب نے جلسہ کے آخری اجلاس سے خطاب کے لیے خصوصی درخواست کی اور دیگر احرار رہنماؤں کو بھی اپروچ کیا کہ وہ حضرت شاہ جی کو جلسہ میں شرکت پر آمادہ کریں مگر شاہ جی جلسہ میں شرکت پر آمادہ نہیں ہو رہے تھے۔ وہ انجمن کے سابقہ انگریز پرست کار پردازان کے رویہ کے شاکی تھے۔ جو مجلس احرار اسلام کی انگریز دشمنی کے باعث انجمن کے سالانہ جلسوں میں شاہ جی کو بلانے سے کتراتے تھے۔ جب شاہ جی کو لاہور لانے کی سب تدبیریں ناکام ہوتی نظر آئیں تو مرکزی احرار رہنماؤں نے سالار اعلیٰ پنجاب چودھری معراج الدین صاحب کو شیخ محمد فاضل صاحب کی کار دے کر ملتان بھیجا کہ وہ جیسے بھی ہو شاہ جی کو ساتھ لے کر آئیں!
سالار صاحب ملتان پہنچے۔ شاہ جی کی خدمت میں حاضر ہوئے اور لاہور چلنے کی درخواست کی۔ لیکن شاہ جی نے خوبصورتی کے ساتھ ٹالنے کی کوشش کی تو چودھری صاحب نے عرض کیا شاہ جی آج رات لاہور میں جلسہ ہے، ساتھی وہاں بے چینی سے آپ کے منتظر ہیں۔
اس لیے جلدی فیصلہ فرمائیے، وقت بہت کم ہے۔ ویسے آپ جانتے ہی ہیں کہ میں آپ کا ہی بنایا ہوا سالار ہوں اور سالار تو پھر حکم ہی دیا کرتا ہے جس کو آپ نے ہمیشہ شرف قبولیت بخش کر اپنے سالاروں اور رضا کاروں کا مان بڑھایا ہے۔
شاہ جی نے ایک نگاہ دل نواز سے اپنے سالار کی طرف دیکھا اور مسکرائے۔ پھر فرمایا سالار بھائی اول تو نہیں مانتا اگر آپ کا حکم ہے تو پھر میں بھی ڈسپلن کا آدمی ہوں۔ اس لیے آپ کا حکم ٹال کر آپ کی دل شکنی نہیں کروں گا ”یوں شاہ جی لاہور آئے“۔
اخبارات و اشتہارات کے ذریعہ یہ چرچا ہو چکا تھا کہ انجمن حمایت اسلام کے سالانہ جلسہ کے آخری اجلاس میں شاہ جی خطاب فرمائیں گے۔ لاہور کے علاوہ گوجرانوالہ، سیالکوٹ، وزیر آباد، فیصل آباد (لائل پور) کے احرار کارکن دفتر احرار میں جمع ہو رہے تھے۔ میں بھی لائل پور سے ساتھیوں کے ہمراہ حضرت امیر شریعت کی زیارت اور تقریر سے مستفید ہونے کے لیے لاہور پہنچا۔ دیگر تمام اکابر احرار دفتر میں موجود تھے۔
خصوصاً قاضی احسان احمد شجاع آبادی، ضیغم احرار شیخ حسام الدین، ماسٹر تاج الدین انصاری اور صاحبزادہ فیض الحسن شاہ سر جوڑے سرگوشیوں میں مصروف اور شاہ جی کے لیے سراپا انتظار تھے۔ مغرب سے متصل سالار معراج الدین نے سیڑھیوں کے دروازہ ہی سے اپنی گونج دار آواز میں السلام علیکم کہہ کر یہ مژدہ جانفزا سنایا کہ حضرت امیر شریعت تشریف لے آئے ہیں جس سے خوشی کی ایک لہر دوڑ گئی۔ تمام رفقائے احرار کے چہرے کھل اٹھے۔ سالار معراج الدین کے عقب میں شاہ جی بھی اوپر دفتر میں تشریف لے آئے اور اکابر احرار کے کمرہ میں جانے کی بجائے کارکنوں کے ساتھ ہال کمرہ میں بیٹھ کر خوش گپیوں میں مصروف ہو گئے۔
اسی اثناء میں شیخ حسام الدین اور فیض الحسن شاہ نے شاہ جی سے کہا حضرت جلسہ شروع ہوا چاہتا ہے۔ اس لیے آپ دوسرے کمرہ میں آئیں تاکہ آپس میں ضروری مشاورت کر لیں۔
شاہ جی نے فرمایا ”بھائی جن کے حکم پر اور جن کے لیے آیا ہوں، ان سے تو کچھ باتیں کر لینے دیں“۔
لیکن شیخ صاحب کے بار بار اصرار پر ان کے ہمراہ دوسرے کمرہ میں چلے گئے تو دروازہ اندر سے بند کر لیا گیا۔ تقریباً ایک گھنٹہ کی میٹنگ کے بعد شاہ جی باہر تشریف لائے اور ہم کارکنوں کے درمیان دوبارہ جلوہ افروز ہو گئے۔ چہرہ سے متانت اور سنجیدگی صاف عیاں تھی۔ آپ عجیب و غریب انداز میں بچوں کی طرح مدرسہ کا سبق یاد کرنے کے انداز میں دائیں ہاتھ سے بائیں ہاتھ کی ایک ایک انگلی پکڑ کر آموختہ دہرانے کے انداز میں کہنے لگے کہ آج صرف مسئلہ ختم نبوت بیان کرنا ہے اور کچھ نہیں کہنا ہے۔ باقی باتوں سے احتراز کرنا ہے۔
اس طرح جو باتیں اندر ہوئی تھیں وہ بیان کرنے لگے۔ اتنے میں باقی قائدین احرار بھی باہر تشریف لے آئے اور قاضی صاحب کی سیاہ شیروانی اتروا کر شاہ جی کو پہنانے لگے۔ وہ ٹال رہے تھے لیکن رفقاء کے اصرار پر اچکن زیب تن کر لی، جو شاہ جی کے جسم پر خوب پھبی۔ قاضی صاحب نے دیکھتے ہی بڑے پیار سے اور بلند آواز سے امیر شریعت کا نعرہ بلند کر دیا۔ تمام حاضرین نے زندہ باد سے مستانہ وار جواب دیا جس سے سڑک پر جاتے
ہوئے لوگ رک گئے۔
اس کے ساتھ ہی قائدین احرار نے مصلحت اسی میں جانی کہ تمام رضاکاروں کو جلسہ گاہ جانے کا حکم دے کر شاہ جی کو پھر چھوٹے کمرہ میں لے گئے تاکہ مزید باتیں افشاء نہ ہوں۔ تمام کارکنان احرار اسلامیہ کالج گراؤنڈ کی طرف جانے کے لیے دفتر سے نیچے آگئے۔ انجمن حمایت اسلام کا آخری اجلاس جس کی صدارت نئے وزیر اعلیٰ پنجاب میاں ممتاز محمد خاں دولتانہ کر رہے تھے اور مجلس استقبالیہ کے صدر خلیفہ شجاع الدین تھے۔ پنڈال بڑی خوبصورتی سے سجایا گیا تھا جبکہ اسٹیج کے مقابل جگہ کو "ڈی" کی شکل میں صوفے لا کر درمیان میں سیکورٹی کے حساب سے خالی جگہ چھوڑی ہوئی تھی۔ صوفوں کے پیچھے مرصع کرسیاں بچھائی گئی تھیں جو صرف خواص کے لیے تھیں۔ اس حصے کو موٹے رسوں اور بانسوں کے ذریعہ عوام کی نشست گاہ سے علیحدہ کیا ہوا تھا۔ ١٠ بجے شب کے بعد حضرت امیر شریعت اپنے رفقاء کے ہمراہ جلسہ گاہ میں جلوہ افروز ہوئے۔ ان کی آمد کے ساتھ ہی نعرہ تکبیر اللہ اکبر ، حضرت امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاری زندہ باد ، مرزائیت مردہ باد اور مجلس احرار اسلام زندہ باد ، پاکستان کا مطلب کیا ، لا الہ الا اللہ کے فلک شگاف نعروں سے لوگوں نے اپنی نشستوں سے اٹھ کر حضرت امیر شریعت کا والہانہ انداز میں استقبال کیا۔
عوام کی خوشی اور جوش و خروش دیدنی تھا۔ بدیں وجہ جلسہ گاہ کا کنٹرول پولیس کی گرفت سے باہر ہو گیا۔ دیکھتے ہی دیکھتے رسوں اور بانسوں کے ذریعہ بنائے ہوئے حفاظتی انتظامات درہم برہم ہو گئے۔ لوگ شاہ جی سے مصافحہ کرنے اور ان کی ایک جھلک دیکھنے کے لیے دیوانہ وار ایک دوسرے سے بڑھ کر پیار و محبت اور جوش و ولولہ سے دیدہ و دل نچھاور کرتے ہوئے ، شاہ جی کی طرف لپک رہے تھے جس سے جلسہ کا نظم و نسق اور لاؤڈ سپیکر کا نظام بھی تہہ و بالا ہو کر رہ گیا۔ احرار رضا کار کافی تگ و دو کے بعد شاہ جی کو عشق کے نرغہ سے نکال کر اسٹیج پر لے جانے میں کامیاب ہوئے ١
صدر جلسہ وزیر اعلیٰ پنجاب میاں ممتاز دولتانہ عوام کی اس وارفتگی سے امیر شریعت کی پذیرائی دیکھ کر حیران و ششدر رہ گئے اور اسی سراسیمگی کی حالت میں شاہ جی کی پیشوائی کے لیے اسٹیج سے اترے۔ آگے بڑھ کر دست بوسی کی کوشش کی لیکن شاہ
جی بے نیازی سے ہاتھ ملا کر آگے بڑھ گئے اور اسٹیج پر خلیفہ شجاع الدین کے ساتھ والی کرسی پر فروکش ہو گئے۔ بڑے وقار اور تمکنت سے نظریں جھکائے صدر جلسہ کی تقریر جو صرف چند منٹوں میں ختم ہو گئی، سماعت فرماتے رہے۔ صدر جلسہ نے جب امیر شریعت کو دعوت خطاب دی تو پھر دوبارہ فلک شگاف نعروں کی گونج سے سرد موسم میں بھی گرمی پیدا ہو گئی۔ یوں معلوم ہوتا تھا کہ لوگ کسی بہت بڑے فاتح یا قومی ہیرو پر اپنا سب کچھ نچھاور کرنے کا اظہار کر رہے ہوں!
حضرت امیر شریعت زندہ باد! مجلس احرار اسلام زندہ باد، مرزائیت مردہ باد اور نعرہ تکبیر اللہ اکبر کے والہانہ نعروں نے ایک سماں باندھ دیا۔ جو کئی منٹ تک امیر شریعت کے روکنے کے باوجود جاری رہا۔ صدر جلسہ کی حالت دیدنی تھی جیسے کاٹو تو لہو نہیں بدن میں۔
رومال سے بار بار اپنی پیشانی سے عرق ندامت صاف کر رہے تھے۔
حضرت امیر شریعت تقریباً پندرہ بیس منٹ تک اپنی مخصوص حجازی لے میں قرآن پاک کی تلاوت فرماتے رہے جس سے مجمع پر وجد کی سی کیفیت طاری ہو گئی۔ فضا میں ایک خاص قسم کی نورانیت کا ہالہ بن رہا تھا۔ سامعین پر آسمان سے سکینت نازل ہوتی معلوم ہوتی تھی جس سے ہر چھوٹا بڑا مبہوت ہو کر عربی نہ جانتے ہوئے بھی جھوم رہا تھا۔ یوں محسوس ہو رہا تھا جیسے تمام کائنات تھم گئی ہو اور وقت کی رفتار رک گئی ہو!
صدر جلسہ، صدر استقبالیہ خلیفہ شجاع الدین صاحب! میرے بزرگو، بھائیو! میری ماؤں، بہنو اور بیٹیو! نئی نسل کے نوجوانو! اور میرے عزیز رفیقو! اسی اثناء میں آپ کی نظر سامنے پڑی تو شیخ حسام الدین اور صاحبزادہ فیض الحسن شاہ فروکش تھے اور دائیں بائیں قاضی احسان احمد شجاع آبادی اور ماسٹر تاج الدین انصاری اس طرح بیٹھے نظر آئے کہ دوران تقریر جس طرف بھی شاہ جی کی نظر جائے اپنے ساتھیوں کا دیا ہوا مشورہ بصورت ہدایات انہیں یاد دہانی کا موجب بنتا رہے۔ یہ اہتمام دیکھ کر آپ زیر لب مسکرائے اور جو کہنے لگے تھے، اس کو چھوڑ کر فرمایا...... ایک عرصہ کے بعد انجمن حمایت اسلام نے مجھ جیسے فرنگی باغی کو خطاب کے لیے بلایا ہے۔ اب کہنے کو تو بہت کچھ ہے اور دل چاہتا بھی ہے! لیکن کیا کروں!
اس لیے مجھ کو تڑپنے کی تمنا کم ہے
آپ کو معلوم ہے کہ میں مجلس احرار اسلام کا ایک عام ممبر ہوں اور جماعتی نظم و ضبط کا تقاضا ہوتا ہے کہ ہر کارکن اپنے رہنماؤں کی باتیں ہوش گوش سے سن کر، اسے حکم سمجھ کر اس پر عمل کرنے کی کوشش کرے۔ مجھے یہاں آنے سے قبل میرے جماعتی قائدین محترم نے کچھ ہدایات دی ہیں۔ لیکن میں کیا کروں دوسری طرف حضور سرور کائنات ﷺ نے جابر سلطان کے سامنے کلمہ حق کہنا بہترین جہاد قرار دیا ہے اس لیے اگر میں یہاں صرف نظر کر جاؤں تو میری اور ہدایات دینے والے ساتھیوں کی بھی روایات کے خلاف ہوگا۔
میرے بھائیو! آپ تو جانتے ہی ہیں کہ ہم مجلس احرار والے انگریزی حکومت کے باغی تھے۔ اس لیے ہماری ساری زندگی ریل اور جیل کی نذر ہوگئی۔ اس طرح اگر مجھے کوئی یہ کہے کہ میرا تعلق ایک بیرونی حکومت کے باغی گروہ سے تھا تو یہ میرے لیے غصہ کی بات نہیں اعزاز کی بات ہوگی ہاں اگر مجھے کوئی یہ کہے کہ ہم احرار والے فرنگی حکومت کے کاسہ لیس تھے تو یقیناً ہمارے لیے یہ گالی ہوگی۔
اسی طرح اگر میں یہ کہوں کہ پنجاب کے جاگیرداروں اور خطاب و مراعات یافتہ وڈیروں نے فرنگی حکومت کی خدمت گزاری کو اپنی زندگی کا شعار بنائے رکھا اور صدر جلسہ کے بزرگ بھی انہی میں سے تھے اور انہوں نے اپنے حلال ہونے کا پورا پورا ثبوت دیا تو اس پر غصہ نہیں آنا چاہیے۔ اس لیے کہ یہ خلاف حقیقت بات نہیں۔ جب صدر جلسہ انگلینڈ کی پرکیف فضاؤں میں اپنے آقایان ولی نعمت کے زیر سایہ انگریزی تعلیم میں مہارت حاصل کر رہے تھے تاکہ فرنگی کی تہذیب و تمدن کے رموز و نکات ازبر ہو جائیں، شکل وصورت اور چال ڈھال سے گوروں کی صحیح تصویر نظر آئیں۔ میں اگر یہ کہوں کہ حکومت برطانیہ کا منشاء بھی اس تعلیم سے (اگر اسے تعلیم کہا جاسکے) یہ تھا کہ تعلیمی اداروں سے نکل کر ہندوستانی نوجوان بالکل ”کالے صاحب“ نظر آئیں۔ اپنی مذہبی ثقافتی اور تاریخی روایات کو رودبار انگلستان کی نذر کر کے فرنگی بادشاہ اور ملکہ کی درازی عمر کے نغمے دل و دماغ میں بسا کر واپس اپنے ملک جائیں اور وہاں جا کر برطانیہ عظمیٰ کے سایہ ہمایونی کو برصغیر پر
قائم رکھنے اور حکومت کے ہاتھ مضبوط کرنے کا باعث بنیں تو یہ ایک کھلی حقیقت کا اظہار ہوگا۔ اس میں خفگی یا پریشانی وافسوس کی کوئی بات نہ ہوگی۔
یہ لوگ خوش نصیب ہیں۔ جس آزادی کے حصول کی جدوجہد میں ہم عقوبت خانوں اور جیلوں میں ظلم و ستم کا شکار ہوئے‘ اسی آزادی کا سورج طلوع ہونے کے ساتھ ہی صاحب صدر جلسہ اور ان کے رفقاء پھر کرسی نشین بنا دیے گئے۔ لوگ تو یوں بھی کہتے ہیں کہ .......
لیکن میں کہتا ہوں کہ بھائی ہماری منزل تو وہ ہے جس دن کچھ چہرے سفید اور کچھ سیاہ کر دیے جائیں گے۔ میرے آقائے ﷺ نے فرمایا ہے کہ وہ دن آنا ہے اور انشاء اللہ وہ دن آکر رہے گا۔
اس لیے اس دنیا میں آزادی کا پھل نہ ملنے کا ہمیں ذرہ برابر افسوس نہیں۔ ہم آزادی چاہتے تھے۔ الحمد للہ ہماری قربانیاں رنگ لائیں۔ وہ جن کی حکومت میں کبھی سورج غروب نہیں ہوتا تھا‘ اپنا بستر بوریا لپیٹ کر سات سمندر پار چلے گئے اور ہم آزاد فضا میں اپنے ملک میں بیٹھے ہیں۔ ہم اس پر خوش ہیں۔ حکومت تمہیں مبارک! میری خوشی لا انتہا ہے۔ بھائیو! ہم نے اسی لاہور میں ہزاروں باوردی جاں نثار رضا کاروں اور لاکھوں مسلمانوں کے اجتماع میں مروجہ انتخابی سیاست سے دست برداری اختیار کرلی تاکہ کار پردازان مملکت بغیر کسی ہچکچاہٹ اور رکاوٹ کے کوئی فلاح و بہبود کا کام کر سکیں۔ ہم نے یہ دست برداری کسی خوف یا لالچ سے نہیں بلکہ سوچ سمجھ کر رضا کارانہ طور پر کی ہے اور ہم نے اپنے لیے تبلیغی و اصلاحی میدان کو منتخب کرکے باغیان محمد ﷺ کی سرکوبی اور ان کی ملک دشمن سرگرمیوں کا قلع قمع کرنا اپنا وظیفہ حیات بنا لیا ہے۔ ہم نے اس حالت میں بھی ملک کو جب ضرورت پیش آئی تو فوری طور پر ملک عزیز کے قریہ قریہ شہر شہر میں احرار دفاع کانفرنسیں کرکے ہندوستان کے جارحانہ عزائم کو بے نقاب کیا اور لوگوں میں جذبہ جہاد بیدار کرکے پوری قوم میں ایک سپرٹ پیدا کردی اور اللہ کے فضل و کرم سے پوری قوم دشمنوں کے خلاف سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن گئی۔
میرے محترم بزرگو! اب ہم جس مسئلہ کے داعی ہیں وہ ہے تحفظ ناموس رسالت ﷺ کا معاملہ نوع انسان کو عزت بخشنے والے آقا ﷺ کی عزت کی پاسداری اور حفاظت کی ذمہ داری‘ یہ پوری امت کا فریضہ ہے لیکن ہم احرار والوں نے ہمیشہ کے لیے خصوصی طور پر اس مسئلہ کو اولیت دی ہے۔ اس کے لیے سینہ سپر رہے ہیں۔ اس لیے باغیان محمد ﷺ دشمنان اسلام‘ عدوان ملک وملت‘ مرزائیوں کا محاسبہ وتعاقب ہم نے اپنا مشن بنا رکھا ہے۔ ہم اپنی پوری توانائیاں صرف کر کے بھی خواہان ملت کو بیدار کرنے کے لیے جہد کناں ہیں۔ ہم سب سے ملتجی ہیں‘ کیا حکمران اور کیا رعایا‘ سب کو مل کر اپنے آقا حضرت محمد ﷺ کی ختم المرسلینی کے تحفظ کا عہد کرنا چاہیے!
ملک کے صدر‘ وزیراعظم‘ صوبوں کے وزرائے اعلیٰ‘ گورنروں‘ وزراء اور اسمبلیوں کے ممبران سمیت پاکستان کی تمام مذہبی اور سیاسی جماعتوں کو دشمنان ختم نبوت کی بیخ کنی کو اپنا سب سے اول فریضہ قرار دینا چاہیے۔ میں بڑی ہی عاجزی سے آپ سے کہتا ہوں کہ جس کی جوتیوں کے صدقہ میں یہ ملک معرض وجود میں آیا ہے‘ آج اس ملک میں ان ہی کی عظمت و حرمت خطرہ میں ہے۔ اس کی حفاظت تمہاری ذمہ داری ہے۔ تمہیں تو ایسا انتظام وانصرام کرنا چاہیے کہ حضور ﷺ کی ختم المرسلینی و عظمت کے پرچم چار دانگ عالم میں لہرائیں۔ نہ یہ کہ اپنے ہی ملک میں عظمت مصطفیٰ ﷺ معرض خطر میں ہو اور ہم خاموش رہ کر مجرم ٹھہریں!
میں تمہیں وارننگ دیتا ہوں کہ اگر غداران ختم نبوت مرزائیوں کو اسی طرح کھلی چھٹی ملی رہی اور ان کے منہ میں لگام دے کر انہیں بے لگام ہونے سے نہ روکا گیا تو اس سے ملت اسلامیہ میں افتراق وانتشار پیدا ہوگا جس سے پاکستان کے دفاع کو خطرات لاحق ہو جائیں گے۔ اور اس کی ذمہ داری....... اے محترم صدر جلسہ! آپ پر اور آپ کے حکمران ساتھیوں پر ہوگی۔ خسرالدنیا والاخرہ کی وعید کے آپ مستحق ہوں گے۔ ایک اور اہم بات بھی آپ کی موجودگی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ڈنکے کی چوٹ پر کہہ دینا چاہتا ہوں کہ ہم احرار والے مٹ سکتے ہیں‘ مرسکتے ہیں‘ تختہ دار پر لٹک سکتے ہیں‘ گولیوں سے ہمارے جسم چھلنی کیے جاسکتے ہیں۔ ہمارے ہی آزاد کرائے ہوئے ملک میں ہماری آزادی چھینی جا سکتی ہے لیکن اس معاملہ میں رواداری کے نام پر ہم سے کسی نرمی اور مصلحت کی کوئی بھی
توقع نہ کرے۔ میں پھر کہتا ہوں کہ مرزائی پاکستان کے لیے باعث افتراق ہیں اور وہ اپنے مکہ و مدینہ قادیان (جو کہ بھارت کے قبضہ میں ہے) کے لیے پاکستان میں رہتے ہوئے ففتھ کالم گروہ کا کام کر رہے ہیں۔ ان سے لاپروائی، خود فریبی اور اپنے آپ کو دھوکہ دینے کے مترادف ہے!
اس کے بعد شاہ جی نے تلاوت کردہ آیات قرآنی اور احادیث مبارکہ کا ترجمہ کر کے اسلام کے عقائد پر روشنی ڈالی۔ ساڑھے گیارہ بجے شب صدر جلسہ میاں ممتاز دولتانہ وزیراعلیٰ پنجاب نے کورنش بجالاتے ہوئے شاہ جی سے جانے کی اجازت چاہی اور سلام کر کے خاموشی سے چلے گئے۔
جلسہ رات دو بجے تک جاری رہا۔ حضرت امیر شریعت نے مسئلہ ختم نبوت کی اہمیت، مرزائی کی ریشہ دوانیاں، سر ظفر اللہ قادیانی (وزیر خارجہ) کے سازشی ماضی اور موجودہ ملت دشمن سرگرمیوں سے آگاہ کیا اور مرزا بشیر الدین خلیفہ ربوہ کے مذموم عزائم سے لوگوں کو خبردار کیا۔ دو بجے رات دعائے خیر کے بعد نعروں کی گونج میں جلسہ اختتام پذیر ہوا۔
O
جس دن مولانا عبدالرحمن مہتمم مدرسہ اشرف المدارس جلوس لے کر ڈی سی ہاؤس پہنچے تو ڈپٹی کمشنر میجر ابن حسن اور ایس پی رانا جہانداد نے مولانا عبدالرحمن اور ان کے رفقاء کو گرفتار کرنے سے معذوری کا اظہار کیا اور مولانا کی خوشامد کر کے جلوس واپس لے جانے کو کہا جس پر مولانا نے کہا کہ تحریک کے ڈکٹیٹر اور دیگر ذمہ دار حضرات جامع مسجد میں ہیں، ان سے ہدایات لے کر ہی کوئی فیصلہ کیا جا سکتا ہے!
چنانچہ مولانا نے شرکاء جلوس میں سے دو معتمد رفقاء کو جامع مسجد بھیجا۔ انہوں نے مولانا تاج محمود کو پیدا شدہ صورت حال سے آگاہ کیا۔ مولانا تاج محمود نے فوراً مولانا محمد یعقوب نورانی اور دیگر رفقاء سے مشاورت کی اور فیصلہ کے مطابق مجھے تین دیگر دوستوں کی معیت میں ڈی۔سی سے موقع پر گفتگو کرنے کے لیے بھیجا۔
میں نے جلوس کی موجودگی میں ڈپٹی کمشنر اور ایس پی سے بات کی۔ لیکن وہ
بار بار جیل میں جگہ نہ ہونے اور راشن کی قلت کا عذر کر کے ملتجی تھے کہ کسی طرح جلوس واپس لے جایا جائے! میں نے انہیں دو ٹوک الفاظ میں بتا دیا کہ جلوس ہم کسی صورت بھی واپس نہیں لے جا سکتے۔ کیونکہ ہم تو مطالبات منوانے کے لیے یہ راست اقدام کر رہے ہیں اور اگر حکومت مجبور ہو چکی ہے یا دیوالیہ ہو چکی ہے تو ہم آپ کی یہ مدد کر سکتے ہیں کہ جب تک آپ کے پاس راشن نہیں آتا ہم جیل میں کھانے کا اپنا بندوبست کر دیتے ہیں۔ آپ حکومت کو لوگوں کے جذبات سے آگاہ کر کے مطالبات تسلیم کرنے پر زور دیں۔ مطالبات کی منظوری کے ساتھ ہی ایجی ٹیشن خود بخود بند ہو جائے گی اور حکومت کے کھاتے میں نیک نامی بھی آئے گی۔ لیکن وہ اپنی ہٹ دھرمی پر قائم رہتے ہوئے کبھی دھمکی اور کبھی خوشامد پر اتر آتے! اس اثناء میں جلوس جذباتی رنگ اختیار کر چکا تھا اور ڈی سی اور ایس پی جلوس کے گھیرے میں تھے۔ صورت حال بھانپ کر ڈی سی نے مجھ سے کہا! آئیے اندر کوٹھی میں چل کر اطمینان سے بات کرتے ہیں۔ میرے چونکہ وارنٹ جاری ہو چکے تھے اس لیے میں ان کے دھوکے میں نہ آیا اور کہا کہ جو بات ہو گی جلوس کی موجودگی میں یہیں ہو گی اور مولانا عبدالرحمن کو اشارہ دیا کہ جلوس کو جیل کی طرف لے جائیں اور ڈی سی کو بھی ساتھ لے جائیں۔ میں مزید مشورہ کرنے کا بہانہ کر کے واپس آگیا۔ جلوس وہاں سے ڈپٹی کمشنر کو زبردستی اپنے ہمراہ لے کر جیل کی طرف چل دیا۔ راستہ میں بارش کے پانی اور کیچڑ نے ڈپٹی کمشنر کی سفید پینٹ اور قمیص نیز چہرے کو لت پت کر کے اس کا حلیہ بگاڑ دیا۔ جس سے وہ مشتعل ہو کر آپے سے باہر ہو گیا اور تشدد پر اتر آیا۔ شمع رسالت کے پچاس ساٹھ پروانوں کو گرفتار کر لیا اور جیل کے اندر ان نہتے رضا کاروں کو ظلم و تشدد کا نشانہ بنوایا۔
اسی واقعہ سے آگ بگولہ ہو کر‘ جس سے اس کا کروفر مجروح ہو گیا تھا‘ تحریک کو کرش کرنے کا تہیہ کر لیا اور شہر کو ملٹری کے سپرد کرنے کا ارادہ کر لیا۔ چونکہ میں نے اس کے روبرو بے باکانہ جواب دیے تھے اور اس کی کوئی بھی بات ماننے سے انکار کر دیا تھا اس لیے مجھے گرفتار کر کے تشدد کا نشانہ بنانے اور پھر گولی مارنے کا چنگیزی حکم بھی دے دیا۔ اس بات کا علم مجھے جیل سے رہائی کے بعد ٥٤ء میں شیخ نصیر علی ایک پولیس آفیسر سے ہوا۔ جو ان دنوں لائل پور میں تعینات تھے!
مفتی محمد یونس صاحب کا خط بنام مولانا تاج محمود
اسی دوران لائل پور کا ایک کپڑے کا تاجر کراچی سے میاں محمد عالم بٹالوی کا ایک خط مولانا تاج محمود کے نام لایا جس میں میاں محمد عالم بٹالوی نے مفتی محمد یونس صاحب کی طرف سے تحریر کیا تھا کہ کراچی میں اعلیٰ قیادت کے پابند سلاسل ہو جانے کی وجہ سے تحریک ابتدائی دنوں میں خوب جوش و خروش دکھانے کے بعد دم توڑ چکی ہے۔
پاکستان کا دارالحکومت ہونے کی وجہ سے غیر ملکی سفراء بھی اسی شہر میں ہیں۔ اس لیے کراچی میں کام کرنے کی بہت ضرورت اور اہمیت ہے۔ اس لیے محمد یعقوب اور دیگر دو ایک ساتھیوں کو فوری طور پر کراچی بھیج دیا جائے تاکہ یہاں تحریک کو نئے سرے سے منظم کر کے کام شروع کیا جائے۔ مولانا تاج محمود کسی صورت مجھے لائل پور سے بھیجنا نہیں چاہتے تھے۔ اسی لیے مجھے وارنٹ کے باوجود گرفتار نہ ہونے دیا جا رہا تھا۔
خواجہ جمال الدین بٹ امرتسری کا ”بٹ موٹر ورکس“ ضلع کچہری کے سامنے تھا جہاں حضرت امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاری، شیخ حسام الدین، ماسٹر تاج الدین انصاری، آغا شورش کاشمیری، مولانا محمد علی جالندھری، قاضی احسان احمد شجاع آبادی اور دیگر اکابرین احرار اکثر آتے رہتے تھے۔ خواجہ جمال الدین بٹ مرحوم مجلس احرار اسلام لائل پور کے صدر تھے اور شہر میں ان کی سیاسی حیثیت نمایاں تھی۔ اگرچہ وہ مقرر نہ تھے لیکن مجلس احرار کے تمام پروگراموں میں خاموش اور مستقل مزاجی سے منہمک رہتے۔ انہیں ٣ مارچ ٥٣ء کو سیفٹی ایکٹ دفعہ ٣ کے تحت گرفتار کر لیا گیا حالانکہ ابھی تک مجلس عمل کے کسی بھی ذمہ دار مقامی رہنما کو اس اعزاز کا مستحق نہ سمجھا گیا تھا۔ اس وقت تک صرف مجلس احرار ہی کے اکابر کو اس بدنام زمانہ سیفٹی ایکٹ کے تحت گرفتار کیا گیا تھا۔ جس کی اپیل تھی نہ کوئی دلیل سنتا تھا۔ اسے صرف ہائیکورٹ میں رٹ کے ذریعہ ہی چیلنج کیا جا سکتا تھا۔ گورنمنٹ کی نظر میں صرف مجلس احرار اسلام ہی تحریک کی ذمہ دار اور کرتا دھرتا تھی۔ جبکہ حقیقت بھی یہی تھی۔
چار نوجوانوں کی شہادت
٧ مارچ کو راقم‘ محمد عالم منہاس اور شیخ عبدالمجید امرتسری مع ایک دو دیگر ساتھیوں کے کراچی کے لیے سالار محمد صدیق کی قیادت میں قافلہ کو گاڑی پر سوار کرا کے ریلوے اسٹیشن سے واپس لوٹ رہے تھے کہ ریلوے روڈ پر ہم نے گولی چلنے کی آواز سنی۔ ہم نے فوراً ریلوے کوارٹر کی طرف واٹر ٹینک کے عقب سے ہو کر شہر کا راستہ لیا۔ تاہم معلوم کرنے پر پتہ چلا کہ انجن شیڈ کے سامنے پولیس نے نہتے اور بے گناہ چار نوجوانوں کو تھری ناٹ تھری کی گولیوں سے خاک و خون میں تڑپا دیا اور لا تعداد کو زخمی کر دیا ہے۔
جونہی یہ دردناک اور وحشت ناک خبر لوگوں نے سنی تو پورا شہر اس ظلم و سفاکی کے خلاف مشتعل ہو گیا اور سراپا احتجاج بن گیا۔ لوگوں کا جم غفیر اسٹیشن پر لاشوں کے حصول کے لیے جمع ہو گیا۔ پولیس نے پھر مزاحمت کی لیکن شمع رسالت کے پروانوں کے آگے پولیس کی ایک نہ چل سکی۔ شدید مزاحمت کے باوجود لوگ چار لاشیں لے کر جامع مسجد آگئے۔ جو رات بھر مسجد کے صحن میں رکھی رہیں۔ اگلے دن ایک بہت بڑے جلوس کے ساتھ دھوبی گھاٹ میں نماز جنازہ ادا کی گئی۔ یہ منظر بھی دیدنی تھا۔ حد نظر تک انسانوں کے سر تھے۔ بے پناہ ہجوم تھا۔ ہر آنکھ اشکبار اور ہر دل مجروح تھا۔ پولیس کے دستے جلوس کے اردگرد منڈلا رہے تھے۔ ذرا سی بے احتیاطی ہزاروں انسانوں کو خاک و خون میں تڑپا سکتی تھی۔ گورنمنٹ تہیہ کیے ہوئے تھی کہ ذرا موقعہ ملے تو گولی چلانے سے دریغ نہ کیا جائے۔ ہمیں یہ اطلاع مل چکی تھی کہ ڈی سی کے عزائم کیا ہیں۔ پولیس بھی چوکنا تھی۔ ہم کوئی ایسا موقع دینا نہ چاہتے تھے‘ لیکن لوگ ختم رسالت ﷺ کی ناموس پر قربان ہو جانا سعادت دارین سمجھتے ہوئے ہر قربانی کے لیے تیار تھے۔
ان حالات میں جبکہ شہداء کے جنازے سامنے ہوں‘ جذبات انتہا پر ہوں‘ جلوس کو پرامن اور منظم رکھنا بہت مشکل تھا۔ تاہم تانگہ پر سپیکر فٹ کیا گیا اور شیخ عبدالمجید کو ذمہ داری سونپی گئی کہ انتہائی نظم و احتیاط کے ساتھ جلوس کو پرامن رکھا جائے۔ مشتعل اور سراپا احتجاج لاکھوں انسانوں کو بمشکل تمام پرامن رہنے کی اپیل پر لبیک کہنے کے لیے تیار کیا گیا۔ یوں عوام نے بھی پرامن رہ کر حکومت کا منصوبہ ناکام بنا دیا۔ شیخ عبدالمجید
صاحب نے بڑی حکمت عملی سے جلوس کا ذہنی رخ احترام شہداء کی طرف موڑ دیا۔ بار بار سپیکر پر اعلان ہو تا رہا حضرات! شہداء کے جنازوں کا احترام ملحوظ رکھیں۔ ادب اور خاموشی کے ساتھ شہداء کو ان کی منزل تک پہنچائیں۔ چند منٹوں کا سفر کئی گھنٹوں میں طے ہوا۔ شہداء کو بڑے قبرستان میں نہایت اعزاز و اکرام کے ساتھ دفن کیا گیا۔
چنیوٹ بازار اور جامع مسجد کے باہر فائرنگ
انتہائی شقی القلب مرزائی نواز ڈپٹی کمشنر میجر ابن حسن نے بڑی راز داری کے ساتھ فوج طلب کرلی۔ چونکہ لاہور میں مارشل لاء لگ چکا تھا اور جنرل اعظم خاں نے ابن حسن کو ایک مرزائی آفیسر کے زیر کمان فوجی دستہ بھیج دیا۔
ابھی ریلوے اسٹیشن پر فائرنگ کے زخم مندمل نہیں ہوئے تھے کہ ایک رات ہم لوگ مسجد میں موجود رضا کاروں کو آرام کرنے کی ہدایات دے کر میں اور محمد عالم منہاس مولانا عبید اللہ احرار کے مکان اور مولانا تاج محمود اقبال فیروز کے گھر پر جاچکے تھے کہ معاً دس بجے رات کو اچانک گولی چلنے کی آواز آئی اور یہ سلسلہ وقفہ وقفہ سے دس پندرہ منٹ جاری رہا جس سے ہم تشویش میں مبتلا ہو کر سوچ رہے تھے کہ کہاں اور کس نے گولی چلائی ہے؟ اسی اثناء میں جامع مسجد سے ملک محمد شریف سابق صدر مسلم لیگ لائل پور جن کا مکان مسجد سے ملحق تھا‘ نے سپیکر پر اعلان کیا کہ چنیوٹ بازار میں پولیس نے گولی چلائی ہے اس لیے کوئی آدمی باہر نہ نکلے اور اپنی جان کو خطرہ میں نہ ڈالے!
میں اور محمد عالم منہاس یہ روح فرسا اعلان سن کر تڑپ گئے۔ اگرچہ باہر آنے میں جان کا خطرہ تھا۔ کسی لمحہ بھی کسی طرف سے گولی لگ سکتی تھی لیکن ہم نے تو ناموس مصطفیٰ ﷺ پر قربان ہونے کا فیصلہ کر کے ہی تحریک میں حصہ لیا تھا۔ اس لیے اللہ پر بھروسہ کر کے اس پر ہیبت اور اندھیری رات میں رضائی اوڑھ کر میں اور محمد عالم منہاس کلمہ طیبہ کا ورد کرتے ہوئے گلیوں کے راستے افغان چوک سے کچہری بازار میں داخل ہوئے تو کسی نے دہشت ناک آواز کے ذریعہ رکنے کو کہا۔ لیکن ہم جلدی جلدی قدم اٹھاتے ہوئے رفیق واچ کمپنی والی گلی میں داخل ہو گئے۔ اسی دوران کسی نے گولی بھی چلا
دی۔ تاہم بفضل ایزدی ہم بغیر کسی نقصان کے جامع مسجد پہنچ گئے۔ مسجد کا دروازہ چونکہ رات کو بند رکھا جاتا تھا، اس وقت بھی بند تھا اور پیچھے قدموں کی آواز بھی آرہی تھی۔ ڈیوٹی پر موجود رضاکار نے پہچان کر فوراً دروازہ کھول دیا اور ہم اندر داخل ہوگئے۔ دروازہ پھر مقفل کردیا گیا۔ مسجد میں ایک اضطراری اور اضطرابی کیفیت طاری تھی اور ایک عجیب روحانی عالم تھا۔ کوئی اللہ تعالیٰ کے حضور قیام میں تھا تو کوئی سربسجود اللہ کی حمد و ستائش میں مصروف تھا۔ کسی کے لبوں پر کلمہ طیبہ تھا اور کوئی درود شریف کے ورد میں رطب اللسان تھا۔ ہر کوئی اپنے آقا و مولا کے حضور اپنی جان کا نذرانہ پیش کرنے کے لیے سب سے پہلے میدان میں نکلنے کے لیے پرجوش تھا۔ جنہیں بڑی مشکل سے رات کے وقت روکا گیا۔ لیکن کرفیو کی وجہ سے پولیس اور فوج شہید اور زخمی ہونے والوں کو اٹھا کر لے گئی جن کی تعداد کا علم نہ ہوسکا۔
آخری جلوس اور کرفیو
لائل پور انتظامیہ نے مختلف ہتھکنڈوں اور ظلم و ستم کے ذریعہ پرامن تحریک کو نقصان پہنچانے کے لیے اپنی غیر آئینی اور غیر اخلاقی سرگرمیاں تیز کردیں اور مسجد کو کسی بھی طرح خالی کرانے کی ٹھان لی۔ پولیس اور فوج دونوں کا جبر و تشدد عشق رسول ﷺ سے سرشار ناموس مصطفیٰ ﷺ پر قربان ہونے کا جذبہ عامتہ المسلمین کے دلوں سے نکال نہ سکے۔ کیونکہ تحریک کے مرکز جامع مسجد میں مجلس عمل کے مقامی رہنماؤں، جو کہ مجلس احرار اسلام ہی کے کارکن تھے، کی موجودگی لوگوں میں ایک نیا جوش اور ولولہ پید کر رہی تھی۔ روزانہ سپیکر پر بیان ہوتا تھا اور تمام حالات سے لوگوں کو باخبر رکھا جاتا اور ایک ولولہ تازہ دیا جاتا۔
اسی لیے انتظامیہ غیر آئینی اور غیر اخلاقی ہتھکنڈوں پر اتر آئی کہ کسی بھی طرح مسجد کو خالی کرایا جائے اور تحریک کے ذمہ دار ارکان کو گرفتار کیا جائے۔ شہر پر عملی طور پر کارکنان تحریک کا ہی حکم چلتا تھا اور اس کا مرکز جامع مسجد تھی۔ ہماری گرفتاری سے انتظامیہ اور پولیس اپنے آپ کو بے بس پا رہی تھی۔
٧ مارچ ١٩٥٣ء کو آخری جلوس جو ہزاروں جاں نثاران ختم نبوت پر
مشتمل تھا، خواجہ غلام حسین سالار مجلس احرار اسلام لائل پور کی قیادت میں نکلا۔ شرکاء جلوس کا جوش و خروش دیدنی تھا جس سے پولیس چوک گھنٹہ گھر سے امین پور بازار کی طرف دبک گئی۔ چوک گھنٹہ گھر میں تقاریر ہوئیں اور جلوس مرزائیت مردہ باد، قائد ملت مردہ باد، سر ظفر اللہ کو علیحدہ کرو، مرزائیوں کو اقلیت قرار دو، نعرہ تکبیر اللہ اکبر کی گونج میں پولیس کی طرف بڑھ رہا ہے۔ خواجہ غلام حسین کو پولیس جیپ میں بٹھا کر لے گئی اور باقی کو گرفتار کرنے کا جھانسہ دے کر نو دو گیارہ ہو گئی۔ تحریک کی روز افزوں شدت سے زچ ہو کر، اپنی بے بسی اور خفت پر پردہ ڈالنے کے لیے اسی سہ پہر کو غیر معینہ مدت کے لیے کرفیو نافذ کر دیا گیا جو تین دن تک مسلسل نافذ رہا، جس سے شہریوں کو اذیت ناک تکالیف سے دو چار ہونا پڑا۔ اسی دوران جامع مسجد خالی کرالی گئی۔ پہلے دن مسجد کا پانی بند کیا گیا۔ دوسرے دن بجلی کاٹ دی گئی۔ اس سے مسجد اور عوام کا رابطہ ٹوٹ گیا۔ اور ایک رات پولیس اور فوجی جوتوں سمیت مسجد میں گھس گئے۔ مسجد میں موجود کارکنوں میں سے کچھ گرفتار کر لیے گئے اور کچھ بھاگ نکلنے میں کامیاب ہو گئے ١
تاہم اس سے تحریک کا کام لائل پور میں عملاً بند ہو گیا۔ بعد میں وقتاً فوقتاً جلوس نکلتے رہے اور گرفتاریاں ہوتی تھیں ١
میں اور محمد عالم منہاس کرفیو کے دوران ہی گورو نانک پورہ اور مولانا تاج محمود چک نمبر ٢٧٩ میں روپوش تھے۔ تاہم ہمارا آپس میں رابطہ تھا۔ ملاقات ہوئی تو آئندہ کے لیے تحریک کے سلسلہ میں مختلف تجاویز پر غور کیا جو مولانا کی اچانک گرفتاری کی وجہ سے رو بہ عمل نہ آسکیں۔
کراچی روانگی
میں اور محمد عالم منہاس مرحوم نیز محمد شریف جالندھری نے مختلف رفقاء سے مل کر کراچی جاکر تحریک کے لیے کام کرنے کا پروگرام طے کیا۔ چنانچہ ہم تینوں ٹرکوں اور بسوں کے ذریعہ خانیوال ہوتے ہوئے ملتان پہنچے جہاں مستری رشید احمد لدھیانوی بھی آ گئے۔ اس طرح چاروں بذریعہ ٹرین کراچی چلے گئے۔
○ ١٨٥٧ء کی جنگ آزادی کی خاکستر سے جہاں ملت فروش‘ ملک دشمن‘ انگریز پرست اور قومی غداروں نے جنم لیا وہاں ان کے مقابل اللہ تبارک و تعالیٰ کے فضل و کرم سے حق کے نقیب‘ اسلام کی نشاۃ ثانیہ کے علمبردار‘ آزادی کے متوالے اور حضور اقدس ﷺ کی ناموس کے رکھوالے ”احرار“ پیدا ہوئے۔ احرار اکابر میں حضرت امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاری‘ مولانا حبیب الرحمٰن لدھیانوی‘ چودھری افضل حق‘ مولانا غلام غوث ہزاروی‘ مولانا مظہر علی اظہر‘ مولانا محمد کثیر شہید‘ شیخ حسام الدین‘ ماسٹر تاج الدین انصاری‘ آغا شورش کاشمیری‘ احسن متانی‘ قاضی احسان احمد شجاع آبادی‘ مولانا محمد علی جالندھری‘ مرزا غلام نبی جانباز‘ مولانا مجاہد الحسینی‘ صاحبزادہ فیض الحسن شاہ‘ مولانا عبید اللہ احرار‘ جناب صوفی عبد الرحیم نیازی‘ سردار محمد شفیع‘ چودھری معراج الدین‘ غازی محمد حسین اور دیگر ان گنت رضاکاران احرار میں استخلاص وطن اور آقائے تاجدار حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی عزت و ناموس اور تحفظ ختم نبوت کا جذبہ کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا تھا۔
یہی وجہ تھی کہ انگریز اپنے حکومتی جاہ و جلال‘ کروفر‘ اپنی طاقت کی بدمستی اور قاہرانہ جبر و تشدد کے باوجود احرار کے مفلس و نادار‘ بے سروسامان اور غریب رضاکاروں کو نہ ہراساں کر سکا‘ نہ دبا سکا‘ نہ جنس بازار بنا کر خرید ہی سکا۔ حالانکہ یہ وہ وقت تھا جب منڈی میں ضمیر فروش بڑے بڑے جاگیردار‘ نواب‘ وڈیرے اور سرمایہ دار اپنی عزت و ناموس تک کا نیلام اپنی دستار کے جعلی طرۂ امتیاز کو اونچا رکھنے کا ذریعہ سمجھتے تھے۔ فوج و پولیس کا ظلم و ستم‘ بندوقوں کی گولیاں‘ لاٹھیوں کی مار‘ جیلوں کی تنگ و تاریک کو ٹھڑیاں احرار والوں کو اعلائے کلمۃ الحق سے باز رکھنے میں ہمیشہ ناکام رہیں۔ جب بھی احرار رہنماؤں اور رضاکاروں کو ظلم و تشدد کا نشانہ بنایا گیا‘ وہ ان کے جذبوں اور حوصلوں کے لیے مہمیز کا کام کر گیا اور انگریز حکومت اور اس کے ذلہ خواروں کے ہاتھ سوائے ندامت و پشیمانی کے کچھ نہ آیا۔
احرار اتنے جری اور بہادر تھے کہ عدالت کا کٹہرا اور فرنگی کا دبدبہ ان کو حق
اور سچ کہنے سے نہ روک سکا۔ احرار انسان ہونے کے ناطے کسی دنیاوی معاملہ میں غلطی تو کر سکتے تھے لیکن حضور اقدس ﷺ کی حرمت اور ختم نبوت کے تحفظ کے لیے سارقان ختم نبوت مرزائیوں کے تعاقب میں کبھی کسی کوتاہی کے مرتکب نہ ہوئے۔ نہ ہی اس معاملہ میں کسی کو انہوں نے معاف ہی کیا بلکہ اس مسئلہ پر جان‘ مال اور عزت تک کی بازی لگانے پر تیار رہے۔ احرار کا اس نقطہ پر وارفتگی کا یہ عالم تھا کہ باغیان ختم نبوت کے خلاف ہر ظلم و جبر کا مردانہ وار مقابلہ اپنے ایمان کی تکمیل کا جز سمجھتے تھے اور ان قربانیوں کا صلہ داور محشر پر چھوڑ دیئے کہ جس دن کچھ چہرے سیاہ اور کچھ نورانیت سے سفید ہوں گے۔
١٩٥٣ء میں مسلم لیگی قیادت کی ناعاقبت اندیشی اور اُس کی حکومت کی کوتاہ نظری، سیاسی تعصب اور مخالفانہ رویہ نے تحفظ ختم نبوت جیسی مقدس تحریک کو اپنی جھوٹی انا کی بھینٹ چڑھا دیا۔ پولیس اور انتظامیہ کے اعصاب جب بپھرے ہوئے عوام کے سامنے بے بس ہو کر رہ گئے تو پھر فوج کو اپنے ہی شہریوں کے مقابل لا کھڑا کرنے کی حماقت کی۔ جس کے نتیجہ میں کلمہ طیبہ کا ورد کرتے ہوئے اور گلے میں قرآن پاک حمائل کیے ہوئے ہزاروں بے ضرر اور نہتے مسلمانوں کو گولیوں کا نشانہ بنا کر خاک و خون میں تڑپا دیا گیا۔ مزید ایک لاکھ سے زائد مسلمانوں کو پابند سلاسل کر دیا گیا لیکن مرکزی حکومت پاکستان اور صوبائی حکومت پنجاب کے کار پرداز جو بزعم خود مارشل لاء کے سہارے یہ سمجھ بیٹھے تھے کہ تحریک کو ہم نے ختم کر دیا۔ لیکن ہوا کیا، جس اقتدار اور حکومت کو بچانے کے لیے یہ ظلم و ستم کیا گیا۔ تحریک کے سیلاب میں دونوں حکومتیں خس و خاشاک کی طرح بہہ گئیں اور ان کے کارپرداز اپنی موت تک اپنے زخم سہلاتے رہے جو مندمل نہ ہو سکے۔
اسی کسمپرسی کے عالم میں حکومت نے منیر انکوائری کورٹ کے نام سے نام نہاد تحقیقات کا ڈول ڈالا جس میں کچھ ہوا یا نہ ہوا لیکن دیوبندی‘ بریلوی‘ اہل حدیث اور شیعہ مکتبہ فکر کے عظیم اور نامور علماء گرامی قدر‘ مفتیان عظام اور مجتہدین کو تضحیک کا نشانہ بنایا گیا اور ان کے علم و مرتبہ کا خیال کیے بغیر ان کی عزت و توقیر کم کرنے کی شعوری یا غیر شعوری بھرپور کوشش کی گئی۔
مولانا مظہر علی اظہر منیر انکوائری کمیشن میں
تحریک میں شامل جماعتوں نے اپنے اپنے وکیل منیر انکوائری کورٹ میں اپنے اپنے کیس پلیڈ کرنے کے لیے مقرر کیے۔ مجلس عمل کی طرف سے حسین شہید سہروردی مرحوم مقرر ہوئے۔ جبکہ حقیقتاً کیس مولانا مرتضیٰ احمد خاں میکش نے لڑا۔ مگر شومئی قسمت کہ حکومت کی احرار دشمنی کے باعث مجلس احرار اسلام کی وکالت کے لیے کوئی بڑا وکیل جرات نہیں کر رہا تھا۔ لاہور جیل میں حضرت امیر شریعت کو اس بات کا علم ہوا تو انہوں نے مولانا مظہر علی اظہر صاحب ایڈووکیٹ کو پیغام بھیجا کہ وہ مجلس احرار اسلام کی وکالت کی ذمہ داری سنبھالیں۔ نیز فرمایا کہ بھائی مظہر علی اظہر جیسا بہادر، تجربہ کار اور صاحب بصیرت ہی اس آڑے وقت میں یہ فریضہ انجام دے سکتا ہے۔
چنانچہ مولانا نے شاہ جی اور دوسرے احرار رہنماؤں کے پیغام پر لبیک کہتے ہوئے بخوشی یہ ذمہ داری قبول کر لی اور انکوائری کورٹ میں مجلس احرار کی طرف سے پیش ہو گئے۔ مولانا مظہر علی اظہر نہ صرف پنجاب ہائی کورٹ کے معزز و محترم وکیل تھے بلکہ وہ مجلس احرار اسلام کے بانی رہنماؤں میں سے تھے۔ نہایت شریف الطبع، درویش صفت اور سادہ وضع قطع کے دبلے پتلے باریش عظیم انسان تھے۔ ١٩٣٧ء تک آل انڈیا مجلس احرار اسلام کے مرکزی جنرل سیکرٹری رہے۔ اس وقت ملک میں ان کا طوطی بولتا تھا۔ مسلم لیگ اور کانگریس کے رہنما ان کی خطابت کے سامنے ٹھہرنے کا یارا نہ رکھتے تھے۔ ان کے سیاسی حملہ سے بڑے سے بڑے جغادری لیڈر بھی لرزاں و ترساں رہتا تھا۔ ان کی جوابی تقریر کا تو بہت ہی شہرہ تھا۔ اتنی مدلل اور پر مغز تقریر ہوتی جس سے بڑے بڑے لیڈروں کے دانت کھٹے ہو جاتے اور وہ خاموشی میں ہی عافیت سمجھتے۔
تحریک کشمیر ١٩٣١ء میں سب سے پہلے مولانا گرفتاری پیش کر کے بارش کا پہلا قطرہ ثابت ہوئے۔ جس کے پیچھے زبردست طوفان آیا۔ جس میں چالیس ہزار سے زائد مسلمانوں نے احرار کے پرچم تلے اپنے آپ کو گرفتاری کے لیے پیش کیا۔ اس وقت تک کانگریس جیسی بڑی جماعت بھی اتنی عظیم قربانی پیش نہیں کر سکی تھی۔ علاوہ ازیں بہت سے لوگ جام شہادت نوش کر کے جنت مکیں ہوئے۔
تحریک مدح صحابہ بھی مولانا مظہر علی اظہر مرحوم کی قیادت میں مجلس احرار اسلام نے چلائی اور سب سے پہلا جتھہ لے کر مولانا ہی لاہور سے لکھنؤ گئے اور مدح صحابہ کہتے ہوئے گرفتار ہوئے۔
١٩٣٧ء کے انتخابات میں مجلس احرار اسلام کے ٹکٹ پر پنجاب اسمبلی کے ممبر منتخب ہوئے۔ مولانا مظہر علی اظہر کا آبائی شہر بٹالہ ضلع گورداسپور (انڈیا) تھا۔ بٹالہ تحصیل میں ہی قادیان واقع تھا۔ اس لیے بٹالہ شہر احرار کا بہت مضبوط قلعہ تھا۔ وہاں کے مسلمان احرار کے پرچم تلے مرزائیت کے خلاف ہمہ وقت مصروف جہاد رہتے۔ مولانا ظفر علی خاں مرحوم نے بٹالہ کے مسلمانوں کے جذبہ اسلامی سے متاثر ہو کر مندرجہ ذیل اشعار میں ان کو خراج تحسین پیش کیا تھا:
حریفوں کے چھکے چھڑایا کرے گا
دکھایا کرے گا جلال محمد ﷺ
علم قادیاں کا جھکایا کرے گا
حاجی عبدالغنی بٹالوی صدر ضلع مجلس احرار اسلام کی ’مرزائیوں کی سازش سے‘ شہادت پر مفکر احرار چودھری افضل حق نے ایک عظیم احتجاجی جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے بٹالہ کے مسلمانوں کی ان الفاظ میں تعریف کی تھی ”کیا تم اپنے آپ کو خوش قسمت انسان نہیں سمجھتے کہ تمہارے ذریعہ اللہ تعالیٰ اسلام کی سب سے بڑی خدمت لے رہا ہے“۔ (جلسہ منعقدہ ١٨ اپریل ١٩٣٨ء) (شہادت حاجی عبد الغنی صاحب ٢٧-٢٨ فروری ١٩٣٨ء)
مولانا مظہر علی اظہر اسی بٹالہ شہر کے باسی ہونے اور مجلس احرار اسلام سے وابستگی کی وجہ سے انگریز کی خانہ ساز نبوت اور قادیانیوں کے دجل و فریب سے مکمل طور پر آگاہ تھے۔ اسی وجہ سے دوسری جماعتوں کے وکلاء صفائی مولانا سے وقتاً فوقتاً رہنمائی لیتے رہتے تھے۔ (نیز جی ڈی کھوسلہ سیشن جج گورداس پور کی عدالت میں جب حضرت امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاری کا مشہور مقدمہ زیر سماعت تھا اور جس کے تاریخی فیصلہ نے پہلی بار عدالت کے ذریعہ مرزائیوں کے جھوٹ کا پول کھول کر تقدس کے اوڑھے
ہوئے جھوٹے نقاب کو اتار پھینکا‘ جس سے پڑھا لکھا طبقہ پہلی بار مرزائیوں کے دجل و تلبیس اور طریقہ واردات سے آگاہ ہوا۔ اسی مقدمہ میں مسٹر جسٹس منیر بطور سرکاری وکیل اور مولانا مظہر علی اظہر حضرت امیر شریعت کی طرف سے ایک دوسرے کے مد مقابل پیش ہو چکے تھے) انکوائری کورٹ دو ججوں پر مشتمل تھی۔ جس میں آنجہانی جسٹس منیر سربراہ اور دوسرے جج ایم آر کیانی ممبر تھے۔ نامعلوم وجوہ کی بناء پر عام لوگوں کا تاثر یہی تھا کہ جسٹس منیر مولانا مظہر علی اظہر سے کچھ کھنچے کھنچے سے رہتے اور اکثر مولانا کو اپنا کام خوش اسلوبی سے سرانجام دینے میں معاندانہ رویہ اختیار کرتے۔ ایک دن دوران سماعت جبکہ ماسٹر تاج الدین انصاری کا بیان جاری تھا‘ مسٹر جسٹس منیر نے اچانک یہ غیر متعلقہ سوال کر کے سب کو ورطہ حیرت میں ڈال دیا کہ مولانا آپ نے قائد اعظم کو کافر اعظم کہا تھا۔
مولانا مظہر علی اظہر نے کہا کہ میں اس انکوائری میں کوئی فریق نہیں ہوں بلکہ مجلس احرار اسلام کا وکیل ہوں۔ اس لیے آپ کا مجھ سے یہ سوال خلاف ضابطہ ہے۔ نیز اس کا انکوائری سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ اس لیے میں درخواست کروں گا کہ آپ صرف انکوائری کے فرق کو ملحوظ خاطر رکھیں۔
لیکن مسٹر جسٹس منیر اپنے سوال کے جواب کے لیے مصر رہا اور آخر میں صاف صاف کہہ دیا کہ یہ کورٹ کا حکم ہے کہ پہلے اس سوال کا جواب آپ کو دینا ہی ہوگا۔ ماسٹر جی نے بھی ٹالنے کے لیے کہا کہ جناب عالی یہ الیکشن کی باتیں الیکشن کے ساتھ ہی ختم ہو جاتی ہیں لیکن جسٹس منیر نے اپنی ضد اور ہٹ دھرمی سے باز نہ آتے ہوئے پھر مولانا سے جواب مانگا تو مولانا کی احراری حس جاگ اٹھی۔
فرمایا: بہتر ہوتا کہ آپ عدالتی طریق کار میں رہتے لیکن اگر آپ اس پر بضد ہیں تو سن لیں کہ یہ قیام پاکستان سے قبل انتخابات کی بات تھی جو وقت کے ساتھ رفت گزشت ہو چکی ہے۔ اگر آپ گڑے مردے اکھاڑنا ہی چاہتے ہیں تو سن لیں کہ قائد اعظم محمد علی جناح جس فرقے کے ایک فرد تھے‘ میں اس کا عالم اور مفتی ہوں۔ اس کی تصدیق اپنے ساتھی جسٹس کیانی صاحب سے آپ کر سکتے ہیں۔ یہ بات کہتے ہوئے مولانا مظہر علی صاحب نے مسٹر جسٹس کیانی کی طرف اشارہ کیا جس پر کیانی صاحب نے سر کی جنبش سے مولانا کی بات کی تائید کی۔ لیکن جسٹس منیر خاموش رہا جس کا مطلب تھا کہ بات جاری
رہے۔ تو مولانا نے کہا کہ قائد اعظم محمد علی جناح نے بمبئی کی ایک پارسی المذہب عورت رتی بائی سے سول میرج لا کے تحت شادی کی تھی جس پر میں نے کہا تھا ”اک کافرہ عورت کے لیے دین کو چھوڑا‘ یہ قائد اعظم ہے کہ کافر اعظم“
اور مرحوم نے اپنی زندگی میں اس کی تردید نہیں کی تھی اس لیے میں اس سے رجوع نہیں کر سکتا اور اسی پر قائم ہوں۔ میں نے تب بھی پوری جرات سے کہا تھا اور آج بھی جان ہتھیلی پر رکھ کر آیا ہوں۔ یہ بات سن کر عدالت ہال میں سناٹا چھا گیا۔ جسٹس منیر کرسی سے اچھلا اور کہا کہ مسٹر مظہر علی آپ کو بانی پاکستان کے متعلق اس جرات اظہار پر خوف نہیں آیا؟ اب اگر آپ قتل کر دیے جائیں تو؟ وہ مرد درویش بھلا کہاں رکتا اور خاموش رہتا۔
فوراً جواب دیا کہ یہ شعر میں لاکھوں کے اجتماعات میں ہندوستان کے بہت سے شہروں میں اپنی تقاریر میں کہتا رہا ہوں۔ لیکن مجھے روکنے ٹوکنے کی کسی نے بھی جرات نہ کی تھی۔ اب اگر میں قتل ہوا تو اس کی ذمہ داری عدالت پر ہو گی جس پر جسٹس منیر سٹ پٹا کر رہ گیا۔ پیشانی سے پسینہ پونچھا۔ فوراً کرسی سے اٹھا اور تیز تیز قدموں سے چلتا ہوا اپنے کمرہ میں چلا گیا۔ میاں محمد عالم بٹالوی ہائی کورٹ سے مولانا کے ساتھ ہی ان کے گھر گئے۔ وہاں یہ خبر پہلے ہی پہنچ چکی تھی۔ گھر والوں نے پوچھا آج آپ یہ کیا کر آئے ہیں۔ آپ نے بچوں کے مستقبل کا بھی خیال نہیں کیا تو مولانا نے کہا کہ میں اسوۂ حسینی پر عمل کر کے آیا ہوں۔ اب جو ہوتا ہے‘ ہو جائے۔ میں کسی کے لیے ڈر یا خوف سے مرعوب ہو کر حق کو حق کہنے سے باز نہیں رہ سکتا۔
میاں محمد عالم بٹالوی مرحوم ہی کی روایت کے مطابق جب مولانا مظہر علی اظہر مرض الموت میں مبتلا تھے تو میں ان کی عیادت کے لیے لاہور گیا۔ ہسپتال میں بستر پر لیٹے ہوئے تھے میں ان کے سرہانے کھڑا تھا۔ اور مولانا لیٹے لیٹے جلدی جلدی کلمہ طیبہ کا ورد کر رہے تھے اور اسی حالت میں اس دار فانی سے عالم جاودانی کو سدھار گئے۔ انا للہ و انا الیہ راجعون! رہے نام اللہ کا۔ نماز جنازہ ولی کامل حضرت مولانا عبید اللہ انور رحمہ اللہ نے پڑھائی۔ اس طرح ایک سچی زبان ہمیشہ کے لیے خاموش ہو گئی!
جس دن مولانا مظہر علی اظہر مرحوم نے منیر انکوائری کورٹ میں قائد اعظم
کے بارے میں جسٹس منیر کی تسلی کے لیے سچ کا اظہار کیا دوسرے روز ملک کے تمام اخبارات میں یہ خبر جلی سرخیوں کے ساتھ شائع ہو گئی۔ کچھ دنوں بعد قطب زماں حضرت مولانا شاہ عبدالقادر رائے پوری قدس سرہ اپنے چند متوسلین کے ہمراہ مولانا مظہر علی اظہر کی رہائش گاہ پر تشریف لے گئے اور ان کی جرات ایمانی کی داد ان الفاظ میں دی ”مولانا آپ نے تمام علماء کی لاج رکھ لی ہے، اللہ آپ کو جزائے خیر دے“۔
ماسٹر تاج الدین انصاری لدھیانوی
ماسٹر جی، لدھیانہ جیسے مجاہدوں کے شہر کے باسی تھے۔ جہاں کے علمائے کرام نے ١٨٥٧ء کے پرخطر دور انحطاط و ابتلاء میں جب علمائے حق کے لیے ہر طرف پھانسیاں اور کال کوٹھڑیاں تھیں، جابر و قاہر انگریز حکومت کے خلاف جہاد کا فتویٰ دے کر علم بغاوت بلند کیا اور ہندوستان کو دارالحرب قرار دیا، جس سے پورے ملک میں جہاد کی روح تازہ ہو گئی تھی۔
جب ماسٹر جی مجلس احرار اسلام میں شامل ہوئے، میونسپل کمیٹی لدھیانہ کے معزز رکن تھے۔ خوبصورت سرخ و سفید چہرہ پر سیاہ داڑھی، شربتی اور متحرک و متجسس آنکھیں ان کی ذہانت و قابلیت کا منہ بولتا ثبوت تھیں۔ منحنی اور دبلے پتلے جسم کے ساتھ تیز دماغ کے زیرک ترین رہنما تھے۔ نیلوفری ٹھنڈی طبیعت کے مالک تھے۔ میٹھی میٹھی باتوں سے مخالف کا دل بھی موہ لیتے اور اپنی مسحور کن گفتگو سے مخاطب کو ایسا جکڑ لیتے تھے کہ اس کو اپنی بے مائیگی کا احساس اس وقت ہوتا جب وہ چاروں شانے چت ہو چکا ہوتا۔ یوں سمجھئے کہ
کی جیتی جاگتی تصویر تھے۔ احرار میں شامل ہوئے تو اپنے ان ہی اوصاف کی وجہ سے جلد ہی مجلس احرار اسلام کے صف اول کے رہنماؤں میں نظر آنے لگے۔ چودھری افضل حق ان کی ذہانت کے معترف تھے اور جب بھی جماعت پر کوئی نازک مرحلہ آیا تو اس سے عہدہ برآ ہونے کے لیے چودھری صاحب کی نظر انتخاب ہمیشہ ماسٹر جی پر ہی پڑی!
١٩٣٤ء میں مجلس احرار اسلام نے قادیانیوں کے دجل و تلبیس اور ان کی اسلام کے خلاف بڑھتی ہوئی ریشہ دوانیوں کا محاسبہ کرنے کے لیے دائرہ وسیع کرنے کی ٹھانی تو چودھری صاحب نے اپنے اس نابغہ روزگار ساتھی ماسٹر تاج الدین انصاری کو لاہور بلا کر قادیان میں متعین کیا تاکہ قادیان، جہاں فرنگی حکومت نے اپنے خودکاشتہ پودے کی بے جا ناز برداریاں کر کے شتر بے مہار کر دیا تھا، ان کو لگام دی جاسکے اور وہاں پر مجلس احرار اسلام کا دفتر قائم کر کے منارۃ المسیح کے زیر سایہ ہونے والے ظلم و ستم اور وہاں کے لوگ، جن کی زندگی قادیانیوں نے اجیرن بنارکھی تھی اور بیچارے ایک بے کس و درماندہ مظلوم رعایا کے طور پر کسمپرسی کی حالت میں دوسرے نمبر کے شہریوں سے بھی بدتر زندگی گزارنے پر مجبور کر دیئے گئے تھے۔ حتیٰ کہ مرزائیوں کی مرضی کے خلاف کوئی شخص قادیان میں رہ ہی نہیں سکتا تھا۔ قادیان کی حالت اس وقت کیا تھی۔ چنانچہ جی۔ ڈی کھوسلہ سیشن جج گورداسپور (انڈیا) نے شاہ جی کی ایک اپیل کے فیصلہ میں قادیان کی حالت پر اپنے فیصلہ میں تحریر کیا ہے کہ چودھری فتح محمد کا عدالت میں یہ اقرار صریح، یہ بیان کرنا تعجب انگیز ہے کہ اس نے محمد امین کو قتل کیا مگر پولیس اس معاملہ میں کچھ نہ کر سکی جس کی وجہ یہ بتائی گئی کہ مرزائیوں کی طاقت اس حد تک بڑھ گئی تھی کہ گواہ سامنے آکر سچ بولنے کی جرات نہیں کر سکتا تھا۔ ہمارے سامنے عبدالکریم کے مکان کا واقعہ بھی ہے کہ عبدالکریم (مباہلہ) کو قادیان سے خارج کرنے کے بعد اس کا مکان نذر آتش کر دیا گیا اور قادیان کی ”سمال کمیٹی“ نے حکم جاری کر کے نیم قانونی طور پر اسے گرانے کی کوشش کی۔
یہ افسوس ناک واقعات اس بات کی ”منہ بولتی شہادت“ ہیں کہ قادیان میں ”قانون کا احترام“ بالکل اٹھ چکا تھا۔ آتش زنی اور قتل تک کے واقعات ہوتے تھے۔ مرزا کا کروڑوں مسلمانوں کو شدید دشنام طرازی کا نشانہ بنانا اس کی تصانیف ”اسقف اعظم“ کے اخلاق کا انوکھا مظاہرہ ہیں جو صرف نبوت کا مدعی نہ تھا؟ بلکہ خدا کا برگزیدہ انسان اور مسیح ثانی ہونے کا مدعی تھا۔ معلوم ہوتا ہے کہ قادیانیت کے مقابلہ میں حکام غیر معمولی حد تک مفلوج ہو چکے تھے۔ ماخوذ (مشاہدات قادیان، صفحہ نمبر ١٤٩، مصنفہ مولانا عنایت اللہ چشتی)
فیصلہ جی ڈی کھوسلہ
لہٰذا ان حالات میں ماسٹر تاج الدین انصاری نے تقریباً دو سال سے زیادہ عرصہ قیام کر کے وہاں پر پہلے سے موجود مجلس احرار اسلام کے مبلغ مولانا عنایت اللہ چشتی کو ساتھ لے کر ایسا تانا بانا بنا کہ چند ماہ کے اندر اندر مسلمانوں بلکہ ہندو اور سکھوں میں بھی ایک ہمت اور حوصلہ پیدا ہو گیا جس سے وہ مرزائیوں کے منہ آنے لگے۔ حتیٰ کہ قادیان کے ایک غریب خاکروب کے بیٹے محمد حنیف نے مرزا غلام احمد کے خاندان کے ایک بیٹے مرزا شریف احمد کو بھرے بازار میں دن دہاڑے جھاڑو ٹانگوں میں پھنسا کر زمین پر گرایا اور اس کی دبر پر جھاڑو مار مار کر ہلکان کر دیا اور سخت بے عزت کیا۔ یہ سب کیا دھرا ماسٹر جی کا تھا۔ کیونکہ وہ دیکھتے تھے کہ جب مرزا غلام احمد کاذب کی ذریت کا کوئی بھی فرد بازار میں نکلتا ہے تو لوگ دورویہ کھڑے ہو کر سلامی دیتے ہیں۔ دکاندار سروقد کھڑے ہو جاتے کیونکہ ان کو بتایا گیا تھا کہ یہ سب شعائر اللہ (اللہ کی نشانیاں) ہیں۔ ماسٹر جی نے اس جھوٹے تقدس کو توڑنے کے لیے یہ کارروائی کر دی۔ اس تدبیر اور کارروائی سے پہلی مرتبہ ذلت خواری کا مرزائیوں کو منہ دیکھنا پڑا۔ جس سے جھوٹی نبوت کے تقدس اور مرزا محمود کی خلافت کو ایک زبردست دھچکہ لگا۔ دوسرا عجیب واقعہ حضرت امیر شریعت کی قادیان میں داخلہ پر یکے بعد دیگرے پابندی تھی۔ جس کی وجہ سے حضرت امیر شریعت کو قادیان کی سرزمین میں اسلام کی تبلیغ سے محروم رکھا جا رہا تھا تاکہ مرزائیوں کے جھوٹ وافتراء کا پول نہ کھل جائے۔ حکومت کہتی تھی کہ امیر شریعت کے قادیان جانے سے امن وامان کو خطرہ ہے اس لیے پابندی ضروری ہے۔
ماسٹر جی نے اس مسئلہ کو اپنے ناخن تدبیر سے اس طرح حل کیا کہ غیر تو غیر اپنے بھی ماسٹر جی کی ذہانت کی داد دیے بغیر نہ رہ سکے۔ جس دن شاہ جی کے قادیان میں داخلہ پر پابندی کا آخری دن تھا‘ قادیان کے قریب ایک موضع بھانیڑی میں شاہ جی کا جلسہ رکھ لیا۔ رات کو گردو نواح کے ہزار ہا لوگ شاہ جی کے مواعظ حسنہ سے مستفید ہونے کے لیے جوق در جوق جلسہ گاہ میں جمع ہو گئے۔ حضرت امیر شریعت بھی احرار رضا کاروں کے جلوس میں لاری کے ذریعہ بٹالہ سے تشریف لائے۔ رات کو اپنے مخصوص انداز میں لوگوں سے
خطاب فرمایا۔ تقریر سے فارغ ہو کر جس لاری سے آئے تھے‘ اسی پر بٹالہ واپس جانے کے لیے سوار ہوئے لیکن ماسٹر جی نے اپنی حکمت عملی کے تحت بغیر کسی پر ظاہر کیے لاری کے ڈرائیور کو بٹالہ جانے کی بجائے قادیان جانے پر آمادہ کر لیا۔ حضرت امیر شریعت اور ماسٹر جی کی قیادت میں یہ قافلہ قادیان کی حدود میں داخل ہوا تو شاہ جی نے ماسٹر جی سے پوچھا کہ یہ کس نئے راستے سے آپ بٹالہ لے آئے ہیں۔ یہ وہ راستہ تو نہیں جس سے کل ہم گئے تھے تو ماسٹر جی نے بتایا حضرت یہ قادیان ہے اور وہ سامنے مرزا بشیر الدین کا قصر خلافت ہے۔ یہ دیکھ کر حضرت امیر شریعت بہت ہی مسرور ہوئے۔
لاری شہر میں داخل ہو گئی۔ شاہ جی کو ایک محفوظ مکان میں ٹھہرایا گیا۔ یہ خبر پورے قادیان میں آناً فاناً پھیل گئی۔ لوگ حضرت امیر شریعت کی زیارت کے لیے جوق در جوق آنے لگے۔ شہر میں جلسہ عام کا اعلان کر دیا گیا۔ نماز ظہر کے بعد جلوس کی شکل میں شاہ جی کو قصر خلافت والی گلی سے گزار کر جلسہ گاہ لے جایا گیا۔ یہ دوسری شکست و ذلت تھی جو مرزائیوں اور حکومت کو اٹھانا پڑی۔ شاہ جی نے جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے جھوٹی نبوت اور اس کی ذریت کو بانگ دہل للکار کر کہا کہ میں اور میری جماعت سارقان ختم نبوت کا محاسبہ اور مقابلہ اپنے ایمان کا جزو سمجھتے ہیں۔ ہم نے تیرے باپ کو نبی بنانے والی حکومت کو برداشت نہیں کیا۔ بشیر الدین تیری خلافت؟ کیا پدی اور کیا پدی کا شوربہ کے مترادف ہے۔ ہمت ہے تو آؤ‘ میں تیرے شہر میں ہوں اور تو بیٹھا میری آواز بھی سن رہا ہے۔ لیکن میں کہتا ہوں کہ تو بخاری تو کیا میرے ایک رضا کار کے سامنے بھی دم نہیں مار سکتا۔
جلسہ بخیر و خوبی ختم کر کے حضرت امیر شریعت اسی لاری کے ذریعہ باقی ساتھیوں کے ہمراہ بٹالہ تشریف لے گئے۔
اس طرح ماسٹر تاج الدین انصاری کے حسن تدبر اور ذہانت سے شاہ جی کی قادیان میں داخلہ سے بدامنی کے جھوٹ کی قلعی کھل گئی‘ جس سے مرزائیوں کے ایماء پر بار بار پابندی لگانے والی حکومت کو بھی خفت اٹھانا پڑی۔
O
امرتسر ہندوستان کا وہ تاریخی اور انقلابی شہر تھا جس کو ١٩١٩ء میں تمام سیاسی
جماعتوں نے اپنے سالانہ اجلاسوں کے لیے منتخب کیا تھا۔ یہی وہ شہر ہے جہاں جنرل ڈائر نے بے گناہ اور نہتے ہزار ہا انسانوں کو محض اس لیے مشین گن کی گولیوں سے بھون دیا تھا کہ وہ انقلاب زندہ باد کا نعرہ لگا کر آزادی کے طلبگار تھے۔ اسی شہر امرتسر میں ہندو، مسلم، سکھ (معاشرتی) اتحاد کو دیکھ کر انگریزی حکومت کے اوسان خطا ہو گئے تھے اور اتحاد کا یہ عالم تھا کہ من و تو کا تصور ہی ختم ہو گیا۔ تمام ہندو، مسلم اور سکھ ایک پیالے سے پانی پی کر اپنی یک جہتی کا عملی مظاہرہ کر رہے تھے۔ جسے دیکھ کر انگریز حکومت کو اپنا چل چلاؤ نظر آنے لگا۔ مولانا محمد علی جوہر اور مولانا شوکت علی مرحومین بھی تحریک خلافت کے سلسلہ میں جیل کی سزا کاٹ کر سیدھے امرتسر پہنچے۔ جہاں کانگریس، مسلم لیگ اور جمعیت العلماء ہند کا مشترکہ اجلاس ہو رہا تھا۔ یہاں دونوں حضرات کا ہندو، مسلم اور سکھوں نے مشترکہ جلوس کے ذریعہ اتنا زبردست اور تاریخی استقبال کیا کہ اس غیر معمولی جلوس نے انگریز حکومت کو لڑاؤ اور حکومت کرو کی رسوائے زمانہ پالیسی کو سختی سے نافذ کرنے ہی میں اپنی حکومت کی بقا نظر آئی!
آج ہم صرف عظمت رفتگان امرتسر کو یاد کر کے آہیں ہی بھر سکتے ہیں۔ برادرم صوفی کاشمیری نے اس ضمن میں کیا خوب کہا ہے!
عظمت رفتگان امرتسر
آہ وہ عالمان حق آگاہ
آہ وہ فاضلان امرتسر
وہ غلامان خواجہ کونین
وہ جواں غازیان امرتسر
ہائے وہ شمع حق کے پروانے
ہائے وہ ساکنان امرتسر
شیخ حسام الدین اسی امرتسر کے رؤساء میں سے تھے اور مجلس احرار اسلام کے بانی رہنما تھے۔ سرخ و سفید رنگ، مناسب قد، صاف ستھرا کھدر کا لباس اور کھدر ہی کی ٹوپی اور شیروانی زیب تن کرتے۔ اللہ تعالیٰ نے بارعب اور دل آویز شکل و صورت سے نوازا
تھا۔ آواز میں ایسا دبدبہ اور طنطنہ تھا کہ حکمرانوں کے دل دہل جاتے۔ اسٹیج پر شیر کی طرح گرجتے اور باز کی طرح جھپٹتے۔ ان کے جوش و جذبہ سے بڑے بڑوں کا پتہ پانی ہو جاتا۔ باد مخالف اور ہوائے تند کے باوجود اپنا پرچم جواں مردی، جرات اور بہادری سے لہراتے ہوئے جانب منزل رواں رہتے!
١٩٣٩ء میں جب انگریز دوسری جنگ عظیم میں الجھ گیا تو مجلس احرار اسلام نے ملک کو انگریز کی غلامی سے نجات دلانے کے لیے فوجی بھرتی کے خلاف سب سے پہلے علم بغاوت بلند کیا اور ایک ملک گیر منظم تحریک چلانے کا اعلان کر کے تمام سیاسی پارٹیوں کے رہنماؤں کو ورطہ حیرت میں ڈال دیا۔ جس سے مجلس احرار اسلام نے ایک دفعہ پھر اپنی جرات و بہادری کے جھنڈے گاڑ دیے اور انگریز دشمنی میں ہندوستان بھر میں گویا سبقت لے گئی! یہ امر باعث حیرت ہے کہ کانگریس، مسلم لیگ، جمعیت علماء ہند اور دیگر سیاسی جماعتیں چپ تھیں اور مجلس احرار اسلام تنہا ”فوجی بھرتی بائیکاٹ“ کی تحریک چلا رہی تھی۔ یہ تحریک ہندوستان بھر کے عوام کی آواز بن گئی۔ ہزاروں احرار کارکن جیلوں میں بھر دیے گئے۔ بعد از خرابی بسیار کانگرس اور دیگر پارٹیوں نے بھی مجلس احرار اسلام کی پیروی کی لیکن
ہر مدعی کے واسطے دار و رسن کہاں
جب امرتسر میں آل انڈیا مجلس احرار اسلام کے مرکزی اجلاس میں شیخ حسام الدین مرحوم و مغفور نے فوجی بھرتی کے خلاف ریزولیوشن پیش کیا تو چودھری افضل حق علیہ الرحمہ نے اٹھ کر ناچنا شروع کر دیا۔ سب حیران ہوئے کہ چودھری صاحب ایسا سنجیدہ اور متین آدمی اور یہ بچگانہ حرکت؟ استفسار پر بتایا کہ جنگ کا نتیجہ چاہے کچھ بھی ہو، ہندوستان اب غلام نہیں رہ سکتا۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا۔ اسی طرح وقت نے احرار کے ہر موقع اور صحیح اقدام پر مہر تصدیق ثبت کر دی!
یہ تحریک بھی مجلس احرار ڈکٹیٹر شیخ حسام الدین کی قیادت میں چلائی گئی۔
١٩٤٦ء میں جب وزارتی مشن لارڈ پیتھک لارنس کی سرکردگی میں کیبنٹ مشن پلان لے کر ہندوستان آیا تو اس نے کانگریس، مسلم لیگ اور دوسری سیاسی پارٹیوں کو
قائل کرنے کے لیے دہلی میں ملاقات کی دعوت دی تو مسلم لیگ سمیت مسلم جماعتوں کے نمائندوں نے احرار رہنما شیخ حسام الدین کی قیادت میں ملاقات کی تھی۔ انہی ایام میں مجلس احرار اسلام کے زیر اہتمام دہلی میں وہ تاریخی جلسہ عام منعقد ہوا۔ جس میں پانچ لاکھ سے زائد مسلمانوں نے شرکت کی۔ حضرت امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاری نے دہلی میں تاریخی اور آخری خطاب کیا جس کو سننے کے لیے لارڈ پیتھک لارنس‘ پنڈت جواہر لعل نہرو اور مولانا ابوالکلام آزاد تشریف لائے اور حضرت امیر شریعت کے سحر خطابت کو داد و تحسین دے کر گئے۔ ہندوستان میں مجلس احرار کے اس تاریخی اور عظیم جلسہ عام کے سٹیج سیکرٹری بھی شیخ حسام الدین ہی تھے۔ قیام پاکستان سے قبل امرتسر میونسپلٹی کے آخری مسلمان پریذیڈنٹ بھی آپ ہی تھے اور قیام پاکستان تک اس عہدہ پر فائز رہے۔ آل انڈیا موٹر ٹرانسپورٹ یونین کے مرکزی صدر بھی آپ ہی تھے۔ پرائیویٹ موٹر ٹرانسپورٹ کی اصلاح کے لیے آپ نے بہت کام کیا۔ انفرادی ٹرانسپورٹروں کو کوآپریٹو سوسائٹیوں سے منسلک کر کے ایک نظم و ضبط قائم کیا جس سے پبلک کو بھی بہت فائدہ ہوا۔ افسوس کہ بھٹو دور میں اس کا تانا بانا بکھیر دیا گیا اور اب ٹرانسپورٹر حکومت سے نالاں اور پبلک ٹرانسپورٹروں سے تنگ ہے!
قیام پاکستان کے بعد امرتسر سے لاہور آگئے۔ کافی شہری جائیداد چھوڑ کر آنے کے باوجود گوالمنڈی میں ایک ہندو دوست نے جاتے وقت جو مکان دیا تھا‘ آخر وقت تک صبر شکر کے ساتھ اپنے خاندان کے ہمراہ اسی میں گزر بسر کی۔
ہندوستان کے وزیر اعظم پنڈت جواہر لعل نہرو نے پیغام بھیجا کہ آپ واپس ہندوستان آجائیں۔ مرکزی وزارت آپ کی منتظر ہے لیکن شیخ صاحب نے شاہ جی اور دوسرے رفقاء کے مشورہ کے بعد پنڈت کی پیشکش کو ٹھکرا دیا۔ کچھ عرصہ بعد مسز ارونا آصف علی‘ جو مغویہ خواتین کے انخلاء کے سلسلہ میں آتی جاتی رہتی تھیں‘ کے ذریعہ پنڈت نہرو نے دوبارہ پیشکش کی کہ اگر آپ ہندوستان نہیں آنا چاہتے تو مصر چلے جائیں اور ہم دہلی سے مصر کی حکومت کو کاغذات بھیج دیتے ہیں کہ آپ کو ہندوستان کا سفیر مقرر کیا جاتا ہے لیکن اس جانباز مجاہد نے اس عزت افزائی کو بھی بے نیازی سے ٹھکرا کر اپنی انا کو قائم رکھا۔ افسوس کہ اپنوں نے آزادی کے لیے قربانیوں کا صلہ قید‘ نظر بندی اور زبان بندی
کی صعوبتوں کی صورت میں دیا۔ کوآپریٹو سوسائٹیوں کے سرمایہ میں جو مسلمانوں کا حصہ تھا اور ہندوستان میں رہ گیا تھا‘ اس کی بازیابی کے لیے سرکاری سطح پر کئی وفد گئے اور آئے‘ لیکن ناکامی سے دو چار ہوئے۔ جب کوئی صورت بنتی نظر نہ آئی تو حکومت نے مجبوراً جناب شیخ کی چوکھٹ پر سجدہ ریز ہو کر پاکستانی وفد کی قیادت کی درخواست کی جو اس مرد جری نے ملکی مفاد کے پیش نظر منظور کر کے لاکھوں روپیہ ہندوستان سے واپس دلوایا۔ مجلس احرار اسلام کے سٹیج پر جناب شیخ حسام الدین کو ضیغم احرار کے خطاب سے پکارا جاتا۔ وہ اتنے بہادر‘ نڈر اور بے خوف رہنما تھے کہ ضیغم ملت اور صیغم اسلام کہلوانے کے یقیناً حقدار بھی تھے۔ کیونکہ تحفظ ناموس رسالت ﷺ اور آزادی وطن کی راہ میں اگر طوفان بھی سد راہ ہوئے تو اس کا رخ موڑ دیا۔ آندھیاں آئیں تو ان کو راستہ بدلنے پر مجبور کر دیا۔ زلزلوں کے جھٹکے اور باد صرصر کے تھپیڑے انہیں صحیح کو صحیح اور غلط کو غلط کہنے سے نہ روک سکے۔ انہوں نے حق اور سچائی کے پرچم کو کسی جگہ بھی‘ چاہے وہ جلسہ عام ہو‘ عدالت کا کٹہرا ہو یا حکمرانوں کے دربار ہوں‘ سرنگوں نہ ہونے دیا۔ اس لیے ان کو کئی سال جیل کی تنگ و تاریک کوٹھڑیوں میں قربان کرنے پڑے۔ مجلس احرار اسلام کے قیام سے لے کر پیام اجل کے آنے تک مجلس احرار اسلام سے وابستہ رہے‘ رحلت کے وقت وہ مجلس احرار اسلام کے مرکزی صدر تھے۔
قارئین محترم! ذیل میں ان کی حق گوئی و بے باکی کا ایک واقعہ تحریر کیا جاتا ہے جسے پڑھ کر آپ اپنے ایمان کو تازہ کریں اور احرار اکابر کے لیے دعائے مغفرت کیجئے۔ اللہ آپ کا حامی و ناصر ہو۔
ید بیضا لیے بیٹھے ہیں اپنی آستینوں میں
یادش بخیر سکندر مرزا ملک کے صدر بنے بیٹھے ہیں۔ حسین شہید سہروردی وزیر اعظم پاکستان کا دور حکومت ہے۔ مغربی پاکستان میں ڈاکٹر خان صاحب وزیر اعلیٰ ہیں! نہیں معلوم اندر خانہ سہروردی صاحب اور سکندر مرزا کے درمیان کیا بات تھی تاہم سہروردی صاحب نے ماسٹر تاج الدین انصاری اور شیخ حسام الدین صاحبان
سے کہا کہ سکندر مرزا (صدر مملکت) کو مجلس احرار اسلام کے بارے میں غلط فہمی ہے۔ میں نے کوشش کی ہے کہ اس کا ذہن صاف ہو جائے لہٰذا آپ کی اس سے ملاقات مفید ثابت ہوگی۔ غرض کہ ماسٹر تاج الدین انصاری اور شیخ حسام الدین صاحبان سکندر مرزا سے ملاقات کے لیے گورنر ہاؤس لاہور چلے گئے اور سہروردی صاحب کی معیت میں اندر جاکر بیٹھ گئے۔ سکندر مرزا اپنے صدارتی جاہ و جلال کے ساتھ کمرے سے برآمد ہوا۔ اور شاہانہ بے نیازی کے ساتھ فروکش ہو گیا۔ ڈاکٹر خان صاحب وزیر اعلیٰ صوبہ مغربی پاکستان ہمراہ تھے۔ سہروردی صاحب نے مرزا صاحب سے کہا کہ دونوں احرار رہنما، شیخ صاحب اور ماسٹر جی آئے ہیں ان سے ملئے!
مرزا نے حقارت سے جواب دیا احرار ”پاکستان کے غدار ہیں“ ماسٹر جی ٹھنڈی طبیعت کے آدمی تھے کہنے لگے غدار ہیں تو پھانسی پر لٹکا دیجئے۔ لیکن الزام کا ثبوت ہونا چاہیے۔ سکندر مرزا نے اسی رعونت سے جواب دیا ”بس میں نے کہہ دیا کہ احرار غدار ہیں“ ماسٹر جی نے تحمل کا رشتہ نہ چھوڑا لیکن مرزا صاحب نے سرکش گھوڑے کی طرح پٹھے پر ہاتھ ہی نہ دھرنے دیا۔ وہی ڈائر خانی ”بس احرار غدار ہیں!“
شیخ صاحب نے غصہ میں کروٹ لی اور مرزا صاحب سے پوچھا کیا کہا آپ نے؟
مرزا صاحب ”میں نے!
شیخ صاحب ”جی ہاں!
”احرار پاکستان کے غدار ہیں“ مرزا نے مٹھیاں بھینچتے ہوئے کہا۔
شیخ صاحب کہاں رکتے۔ گورنمنٹ ہاؤس، گورنر موجود، وزیر اعلیٰ موجود، وزیر اعظم موجود، صدر مملکت کی بارگاہ۔ فوراً جواب دیا: ”احرار غدار ہیں کہ نہیں، اس کا فیصلہ ابھی تاریخ کرے گی۔ تمہارا فیصلہ تاریخ کر چکی ہے کہ ”تم غدار ابن غدار ہو۔ تمہارے جد امجد میر جعفر نے نواب سراج الدولہ سے غداری کی تھی اور تم اسلام کے غدار ہو“۔
اس پر ڈاکٹر خان صاحب نے فوراً شیخ صاحب مرحوم کو آغوش میں لے لیا اور سکندر مرزا سے پشتو میں کہا میں نے تمہیں پہلے ہی کہہ دیا تھا کہ ان لوگوں کے ساتھ
شریفانہ لہجہ میں گفتگو کرنا۔ یہ بڑے بے ڈھب کے لوگ ہیں۔ انہوں نے تمہارے باوا انگریز کو معاف نہیں کیا۔ سہروردی حیران کن آنکھوں سے شیخ صاحب کو دیکھ رہے تھے (ماسٹر جی کا اپنا بیان ہے کہ میں دل ہی دل میں ”جل تو جلال تو“ پڑھ رہا تھا) لیکن شیر کی ایک ہی دھاڑ سے بلی سپر انداز ہو چکی تھی ایکا یک سکندر مرزا کا لہجہ تبدیل ہو چکا تھا (ماخوذ از چٹان)
جرات و مردانگی کی تمام تصاویر یکے بعد دیگرے ختم ہوتی گئیں اور ..... اکا دکا رہ گئے جو تیار بیٹھے ہیں۔
شاید کہ تم کو میر سے صحبت نہیں رہی
〇
مجلس احرار اسلام نے ١٢ جنوری ٤٩ء کے اپنے فیصلہ کے مطابق مروجہ الیکشنی سیاست سے علیحدگی اختیار کر لی اور اپنی تمام تر سرگرمیاں تبلیغی میدان تک محدود کر لیں۔ خصوصاً سارقان ختم نبوت مرزائیوں کے محاسبہ اور تحفظ ختم نبوت کو اپنے ذمہ لے کر ملک بھر میں اس کے لیے جدوجہد شروع کر دی اور الیکشنی سیاست کا میدان مسلم لیگ کے لیے کھلا چھوڑ دیا۔
وزیر اعظم پاکستان لیاقت علی خاں مرحوم جو اس وقت مسلم لیگ کے بھی صدر تھے‘ نے پنجاب میں ممدوٹ اور دولتانہ کی اقتداری کشمکش سے تنگ آکر بذریعہ گورنر پنجاب اسمبلی توڑوا کر ١٩٥٠ء میں نئے انتخاب کا اعلان کر دیا۔
احرار چونکہ مسلم لیگ کے حلیف تھے تو اس سلسلہ میں مجلس احرار اسلام سے بھی بات ہوئی اور کچھ سیٹوں کی پیشکش بھی کی گئی تو احرار رہنماؤں نے کہا کہ آپ صرف اتنا کریں کہ مسلم لیگ کا ٹکٹ کسی مرزائی کو نہ دیں۔ ہم مسلم لیگ کی بے لوث حمایت کریں گے۔ یہ گفتگو لیاقت علی خاں مرحوم اور احرار کے نمائندہ قاضی احسان احمد شجاع آبادی مرحوم کے درمیان طے پائی۔ لیکن جب مسلم لیگ کے ٹکٹ ہولڈروں کے نام شائع ہوئے تو ان میں تین مرزائی شامل تھے اور پانچ مرزائی ربوہ کے ٹکٹ پر کھڑے تھے۔ جب
اس پر لیاقت علی خاں مرحوم سے احتجاج کیا گیا تو مرحوم نے اپنی برات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پنجاب کے پارلیمینٹری بورڈ نے بالا ہی بالا یہ اعلان کر دیا ہے۔ تاہم ان سیٹوں پر نہ تو مسلم لیگ کی طرف سے الیکشن میں امیدواروں کی کوئی مدد کی جائے گی نہ ہی میں ان حلقوں میں جاؤں گا۔ قاضی احسان احمد شجاع آبادی نے وزیر اعظم سے ڈسکہ ضلع سیالکوٹ کے ریلوے اسٹیشن پر ان کے سیلون میں ملاقات کر کے واضح کر دیا کہ مجلس احرار اسلام مرزائیوں کی مخالفت تمام سیٹوں پر کرے گی۔ نیز مرزائیت کا کچا چٹھا اور سر ظفر اللہ کی اسلام اور ملک دشمن سرگرمیوں کو بھی طشت از بام کیا جس سے لیاقت علی خاں مرحوم بہت متاثر ہوئے۔
چک جھمرہ ضلع لائل پور (فیصل آباد) کے حلقہ میں چودھری عصمت اللہ مرزائی مسلم لیگ کے ٹکٹ پر الیکشن میں امیدوار تھا۔ یہ جٹ برادری سے تعلق رکھتا تھا۔ یوں تو جٹ برادری حلقہ میں کافی تعداد میں آباد ہے لیکن مرزائی خال خال ہیں۔ مقابلہ میں دیگر کئی امیدوار بھی کھڑے تھے جن میں دو راجپوت اور چار ارائیں تھے۔ ارائیوں کے بھی کئی دیہات حلقہ میں موجود ہیں۔ مجلس احرار اسلام نے لائل پور کو ہی بیس بنا کر اللہ کا نام لے کر کام شروع کر دیا۔ چک جھمرہ میں پہلے جلسہ عام کا اعلان لوکل اخبارات ’غریب‘ سعادت عوام کے ذریعہ کیا۔ مقررہ تاریخ کو لائل پور سے مولانا محمد علی جالندھری، مرزا غلام نبی جانباز، شیخ خیر محمد، حافظ عبد الرحمن مرحومین اور شیخ عبد المجید امرتسری بمعہ لاؤڈ سپیکر شام کو چک جھمرہ پہنچ گئے تھے اور شہر میں منادی کر رہے تھے۔ مولانا ابراہیم خادم مرحوم پنجابی نظمیں پڑھ رہے تھے۔ بعض جگہ مرزائیوں سے پنگے بھی ان کی رپورٹ کے مطابق عصمت اللہ غلہ منڈی میں آڑھت کی دکان کرتا ہے اور پولیس کا ٹاؤٹ بھی ہے۔ علاقہ کے غنڈہ عناصر سے میل جول کی وجہ سے لوگوں پر اس کا خاصہ رعب ہے۔ بدیں وجہ جلسہ کامیاب نہیں ہو گا کیونکہ جب مرزائیوں نے مجھ پر حملہ کرنے اور مجھے مارنے کی کوشش کی تو عام لوگوں نے محض بیچ بچاؤ پر اکتفا کیا۔ یہاں صرف حکیم جمال الدین صاحب میرے واقف اور پرانے احراری ہیں اور میں ان کے پاس ہی ٹھہرا ہوا ہوں۔ آئیے ان کے پاس چلتے ہیں !
جب ہم حکیم جمال الدین صاحب سے ملے تو مزید حالات سامنے آئے۔
حکیم صاحب کا کہنا تھا کہ پہلے یہاں دو چار میٹنگیں کرتے، کچھ ساتھی اکٹھے ہو جاتے تو ہمارے لیے آسانی رہتی۔ اب آپ نے غلہ منڈی میں جلسہ کا اعلان کیا ہے تو عصمت اللہ غلہ منڈی کا صدر بھی ہے اور کافی اثر و رسوخ رکھتا ہے۔ خیر جلسہ تو ہم نے اب کرنا ہی ہے۔ آپ میری صدارت میں جلسہ کریں اس سے یہ ہو گا کہ لوگ سمجھیں گے کہ میں نے بلوایا ہے۔ میرا بھی تھوڑا بہت اثر ہے۔ اللہ بہتر کرے گا۔ عشاء کے بعد جلسہ کا آغاز حکیم جمال الدین صاحب کی صدارت میں تلاوت قرآن پاک سے ہوا۔ حاضری معمولی تھی۔ بہر حال شیخ عبدالمجید نے سائیں محمد حیات پسروری کی نظم شروع کی۔ ابھی دو تین شعر ہی پڑھے تھے کہ جلسہ گاہ سے آواز آئی بکواس بند کرو! پھر دو چار آوازیں اور ابھریں۔ جلسہ بند کرو اور سامان اٹھا کر بھاگ جاؤ۔ ورنہ تمہیں لاشیں بھی نہ ملیں گی!
اتنی دیدہ دلیری اور احرار کے جلسہ میں؟ ہمارا خون کھول اٹھا۔ جانباز مرحوم نے شیخ عبدالمجید کو مائک سے ہٹا کر خود بولنا شروع کیا۔ اسی اثناء میں مقامی ایس۔ ایچ او مولانا محمد علی صاحب کو ایک طرف لے جا کر ہاتھ باندھے کھڑا تھا اور کہہ رہا تھا کہ مرزائی فساد پر آمادہ ہیں اور میرے پاس تھانے میں صرف دو سپاہی ہیں۔ بقیہ چار راؤنڈ پر جا چکے ہیں اور پھر آپ نے جلسہ کا اسٹیج عصمت اللہ کی دکان کے آگے بنالیا ہے۔ بیک پر ان کی دکان ہے۔ چھت سے کوئی اینٹیں برسانا شروع کر دے تو جب تک ہم آئیں گے، وہ بھاگ چکے ہوں گے۔ آپ مہربانی کر کے جلسہ ملتوی کر دیں اور اگر کوئی گڑ بڑ ہو گئی، جیسا کہ یقینی ہے تو سب سے پہلے میری پیٹی اترے گی۔ میرے چھوٹے چھوٹے بچے ہیں۔ مہربانی کریں جلسہ ملتوی کر دیں۔ آپ جلسے کی کوئی اور تاریخ رکھ لیں تاکہ میں فورس کا انتظام کر لوں۔ مولانا نے حالات کے پیش نظر کیونکہ جانباز صاحب کی تقریر کے باوجود مجمع جوں کا توں بیٹھا رہا (بعد میں پتہ چلا کہ حاضرین اکثر مرزائی تھے یا ان کے زیر اثر لوگ) جلسہ ملتوی کر دیا۔ لیکن اس شرط کے ساتھ کہ مختصراً چند باتیں کہہ کر جلسہ ملتوی کرنے کا اعلان کرتا ہوں تاکہ لوگ پرامن طور پر منتشر ہو جائیں۔ چنانچہ مولانا سٹیج پر آئے اور فرمایا کہ الیکشن کمپین میں ہر پارٹی کو حق ہوتا ہے کہ وہ اپنے امیدوار کی حمایت میں جلسہ کرے اور اپنا پروگرام پبلک کے سامنے رکھے۔ ہم نے بھی اپنا یہ حق استعمال کرنا چاہا۔ لیکن پولیس آفیسر اپنی مجبوری ظاہر کر رہا ہے کہ میرے پاس فورس نہیں ہے اور نقص امن کا خطرہ ہے۔ فورس کا انتظام کیوں نہیں کیا
گیا جبکہ ہم نے جلسہ کا اعلان بذریعہ اخبارات کئی روز پہلے کر دیا تھا۔ تاہم پولیس بھی اپنی ہے اور حکومت بھی اپنی ہے۔ اب ہم اپنی رضا کار فورس لا کر جلسہ کریں گے اور تاریخ کا اعلان اخبارات میں ہو جائے گا۔
اس وقت بڑی مختصر بات آپ سے کہنی تھی۔ وہ یہ کہ مرزائی اور مسلمان دو جدا جدا قومیں ہیں۔ پنجابی میں (بھئی انہاں دی کھرلی وکھری کر دیو سانجھے پٹھے نہیں کھا یدے جاندے) (یعنی مرزائیوں کی کھرلی علیحدہ کر دیں چارہ اکٹھے نہیں کھا سکتے) اس پر ایک نوجوان نے اسٹیج پر چڑھ کر مولانا کی چادر جو انہوں نے اوڑھ رکھی تھی‘ کھینچ کر کہا مولانا آپ معاہدے کی خلاف ورزی کر رہے ہیں؟ یہی بات جو آپ نے ایک فقرے میں کہہ دی ہے‘ دو گھنٹے میں کہنی تھی۔ تقریر بند کریں! معلوم ہوا کہ مرزائیوں کی پولیس سے ساز باز ہو چکی تھی۔ بوجوہ پولیس ان کی حمایت کر رہی تھی۔
چنانچہ جلسہ ختم کر کے ہم حکیم جمال الدین صاحب کے گھر چلے گئے۔ کھانا وغیرہ کھا کر رات کو لائل پور آگئے۔ صبح باہم مشاورت سے چک جھمرہ میں جلسہ عام کی تاریخ مقرر کی گئی اور لوکل اخبارات نیز روزنامہ آزاد لاہور میں خبر دے دی گئی۔ تمام ماتحت جماعتوں کو ایک سرکلر کے ذریعہ مطلع کیا گیا کہ پوری تیاری کے ساتھ باوردی شامل ہو کر جلسہ کو کامیاب کریں۔ نزدیکی اضلاع میں عموماً اور لائل پور میں خصوصاً یہ خبر حیرت اور اچھنبے کے ساتھ سنی گئی کہ چک جھمرہ میں احرار اسلام کا جلسہ ناکام کر دیا گیا ہے۔ بہرحال کئی دن یہ چرچا رہا کہ دیکھیں اب احرار کیا کرتے ہیں۔ اب ہم نے عصمت اللہ پر دوسرا وار کیا۔ حلقہ کے تمام مسلمان امیدواران اسمبلی کو اکٹھا کیا اور سب سے درخواست کی کہ سب کسی ایک نام پر متفق ہو جائیں تاکہ مسلمان ووٹ تقسیم ہو کر عصمت اللہ کی کامیابی کا باعث نہ بنیں۔
بات چلی تو یہ کام بہت مشکل ثابت ہوا۔ ایک دوسرے سے گلے شکوے‘ پرانی رنجشیں‘ برادریوں کے معاملات جن کو دور کرنا سانپ کے منہ سے کوڑی لانے کے مترادف تھا‘ بہر حال راجپوت برادری کے دو آدمی کھڑے تھے۔ مولانا کے سمجھانے بجھانے پر وہ تو جلد ہی بیٹھ گئے۔ اللہ ان کا بھلا کرے بات ان کی سمجھ میں آگئی۔ البتہ ارائیوں کا
معاملہ ذرا ٹیڑھا ہو گیا۔ کئی اجلاس ہوئے لیکن کسی ایک پر اتفاق نہ ہو سکا۔ اس سلسلہ میں میاں محمد عالم (عالم کافی ہاؤس والے) نے بہت کام کیا۔ ان کا سسرالی گاؤں اسی حلقہ میں تھا۔ اس سے بھی فائدہ اٹھایا خود بھی ارائیں تھے۔
پیر قطبی شاہ
پیر صاحب کہاں کے رہنے والے تھے، معلوم نہیں۔ غالباً جھنگ کے علاقے سے تعلق تھا۔ بولی ٹھولی ایسی ہی تھی لیکن چک جھمرہ کے اکثر دیہات میں معروف پیر تھے۔ ان کے مریدوں اور عقیدت مندوں کی علاقہ میں بہتات تھی۔ میاں محمد عالم کے سسرالی گاؤں میں بھی ان کے کافی مرید تھے۔ میاں صاحب نے ایک دن اپنی سسرال والوں کی وساطت سے پیر صاحب سے ملاقات کی اور حضور ختم المرسلین ﷺ کے حوالے سے بات شروع کی تو پیر صاحب نے اپنی بولی میں کہا ”میں قربان تھیواں، سائیں حکم کرو میرا سر وی حاضر اے“ میاں صاحب نے جب حضرت امیر شریعت کا ذکر کیا کہ وہ بھی تشریف لائیں گے تو پیر صاحب کھل اٹھے۔ کہنے لگے ”حضرت نال ملاقات ناں تھی ویسے سنیا ہا سید وڈا ہنڑا ہائی“ یعنی میں نے سنا ہے کہ شاہ صاحب بڑے بہادر ہیں۔ میاں صاحب نے کہا آپ سے ملاقات ضرور کرا دیں گے۔ پیر صاحب نے کہا ”باقی گال تے سید صاحب نال ملاقات دے بعد ہوسی، باقی ایہہ مرزائی تے عصمت اللہ میری شکل ویکھدیاں انج بھج ویسن جیویں کاں غلیل توں ڈر کے بھج ویندا (یعنی یہ مرزائی اور عصمت اللہ تو میری شکل دیکھتے ہی ایسے بھاگ جائیں گے جیسے کوا غلیل سے ڈر کر بھاگ جاتا ہے)
چنانچہ پیر صاحب کو شاہ جی سے جلد ملاقات کا عندیہ دیا۔ اب گاؤں گاؤں جلسے اور کارنر میٹنگز شروع ہوئیں۔ لیکن ہمارے لیے یہ بڑی مشکل تھی کہ ہم کسی ایک امیدوار کے حق میں بات نہ کر سکتے تھے۔ عصمت اللہ کی مخالفت مرزائی ہونے کی وجہ سے تو ہو رہی تھی اور یہ مہم بڑی کامیاب تھی۔ پیر قطبی شاہ بھی موثر ثابت ہو رہے تھے۔ آخر ایک روز مولانا محمد علی جالندھری نے تمام مسلمان امیدواران اور ان کے ساتھیوں کو وارننگ کے انداز میں کہا کہ آپ حضرات ایک دو روز میں باہم فیصلہ کر کے کسی ایک امیدوار پر اتفاق کر لیں۔ بصورت دیگر جماعت کو اختیار ہو گا کہ وہ کسی ایک کے حق میں
فیصلہ کر لے؟ ادھر چک جھمرہ میں مجوزہ جلسہ عام کی تاریخ بھی آگئی۔ مقررہ دن چک جھمرہ ریلوے اسٹیشن پر اور شہر میں پولیس کا خصوصی اجتماع اور انتظام تھا۔
لائل پور کی جماعت کا رابطہ صبح ہی سے لاہور دفتر سے تھا۔ اطلاعات آ رہی تھیں کہ سیالکوٹ، گوجرانوالہ، وزیر آباد اور دیگر شہروں سے رضا کار پہنچ رہے ہیں۔ لائل پور سے احرار کارکن اور رضا کار جن میں مولانا عبید اللہ احرار، مولانا تاج محمود، خواجہ جمال الدین، مرزا غلام نبی جانباز، شیخ خیر محمد، شیخ عبدالمجید امرتسری، محمد یعقوب اختر، حاجی اللہ رکھا بٹالوی، سالار امان اللہ خاں، مولوی محمد طفیل جالندھری، چاچا محمد اسماعیل جالندھری، چودھری غلام محمد لدھیانوی، سالار محمد صدیق جالندھری اینڈ برادران، محمد رفیق، فقیر محمد، کامریڈ محمد رفیق لدھیانوی، مرزا نیاز بیگ، ملک محمد اصغر، میاں خدا بخش، میاں محمد عالم بٹالوی، مرزا چغتائی، شیخ محمد بشیر (کلاتھ مرچنٹ) شیخ محمد شریف، محمد بشیر اور بہت سے باوردی رضا کار جلوس کی صورت میں ریلوے اسٹیشن پہنچ گئے۔ گاڑی آنے پر ریلوے انجن پر مجلس احرار اسلام کا پرچم لہرا دیا گیا اور نعرہ تکبیر اللہ اکبر، تاج و تخت ختم نبوت زندہ باد پروقار انداز میں بلند ہو رہے تھے۔ عجیب روح پرور سماں تھا۔ گاڑی روانہ ہونے ہی والی تھی کہ ایس ایس پی عبید اللہ خاں پولیس کی مسلح گارڈ لے کر آدھمکا اور دھمکی آمیز لہجہ میں کہا کہ آپ چک جھمرہ نہیں جا سکتے۔ کیونکہ وہاں فساد کا خطرہ ہے اور یہ معاملہ امن عامہ سے تعلق رکھتا ہے۔ امن قائم رکھنا ہماری ذمہ داری ہے۔ مولانا عبید اللہ احرار نے کہا کہ ہم تو خود فساد ختم کرنے کے لیے ہی چک جھمرہ جا رہے ہیں۔
مرزائیوں نے مسلمانوں کو چیلنج دیا ہے کہ چک جھمرہ میں مسلمان جلسہ نہیں کر سکتے۔ اس لیے ہم فساد نہیں، جلسہ کرنے وہاں جا رہے ہیں۔ ساتھ ہی رضا کاروں نے نعرہ تکبیر بلند کر دیا۔ اب پوری ٹرین سے نعرے بلند ہونے لگے۔ اللہ اکبر کے نعرہ کے ساتھ ہی امیر شریعت زندہ باد، مرزائیت مردہ باد، مرزائی نواز مردہ باد کے نعرے تواتر کے ساتھ آنے لگے۔ ان ولولہ انگیز نعروں کو سنا تو سپر انداز ہو گیا اور مولانا سے کہنے لگا میں دیکھ رہا ہوں آپ کے پاس اسلحہ بھی ہے اور یقیناً لائسنس بھی ہوں گے۔ آپ مہربانی کر کے تمام اسلحہ جمع کرا دیں اور رسید لے لیں تاکہ ہماری بات بھی رہ جائے۔ اس طرح خواجہ جمال الدین بٹ، مولانا عبید اللہ احرار، سالار امان اللہ خاں اور دیگر جن ساتھیوں کے پاس اسلحہ
تھا، بمعہ لائسنس جمع کرا کر رسیدیں لے لیں۔ اس بم چخ کے بعد پولیس چلی گئی اور گاڑی پندرہ بیس منٹ لیٹ روانہ ہوئی۔ تھوڑی دیر میں چک جھمرہ آگیا۔ فاصلہ ہی کیا تھا۔ اللہ کے ہر کام میں حکمت ہوتی ہے۔ ٹرین لیٹ ہونے کا یہ فائدہ ہوا کہ لاہور سے آنے والی اور ملتان نیز سرگودھا سے آنے والی گاڑیاں بھی ایک ہی وقت میں چک جھمرہ پلیٹ فارم پر آ کر رکیں۔ لاہور کے رضا کار سالار اعلیٰ پنجاب چودھری معراج الدین کی سرکردگی میں اور سیالکوٹ، وزیر آباد کے رضا کار سالار بشیر احمد کے زیر کمان ، گوجرانوالہ کے رضا کار سالار میر محمد رفیق صاحب کی زیر قیادت ٹرین سے نعرے لگاتے ہوئے برآمد ہوئے۔ اس طرح چک جھمرہ ریلوے اسٹیشن عجیب روح پرور نظارہ پیش کر رہا تھا۔ سینکڑوں باوردی احرار رضا کار اکٹھے ہو گئے۔
صدر مرکزیہ ماسٹر تاج الدین انصاری بھی اسی ٹرین سے تشریف لائے تھے۔ انہیں دیکھ کر رضا کاروں نے امیر شریعت زندہ باد، مجلس احرار اسلام زندہ باد، مرزائیت مردہ باد کے فلک شگاف نعرے لگانے شروع کر دیے۔ نعروں کی گونج میں ابھی ہم ایک دوسرے سے مل ہی رہے تھے کہ عصمت اللہ کے فرستادہ مسلح غنڈے جو ویٹنگ روم میں چھپے بیٹھے تھے اور موقع کے منتظر تھے، میں سے عصمت اللہ مرزائی کے بھتیجے نے باہر نکل کر حضرت امیر شریعت کے نعرہ کے جواب میں بلند آواز میں مردہ باد کہا اور واپس بھاگ کھڑا ہوا۔ اس کا یہ کہنا ہی تھا کہ لاہور سے آئے ہوئے ایک رضا کار نے ڈرائنگ روم کی طرف بھاگتے اس کی پیٹھ میں چاقو گھونپ دیا۔ وہ چیخ مار کر گر پڑا تو دوسرے رضا کاروں نے اسے پکڑ کر ریلوے اسٹیشن کے آہنی جنگلہ کے اوپر سے اچھال کر باہر سرکنڈوں میں پھینک دیا۔ بس چشم زدن میں یہ واقعہ ہو گیا۔ چودھری معراج الدین سالار اعلیٰ نے فوراً کمان اپنے ہاتھ میں لے لی اور جلوس ترتیب دے دیا۔ اور چک جھمرہ شہر میں غلہ منڈی کا رخ کیا۔ آج پولیس کا انتظام معقول تھا۔ لیکن درج بالا واقعہ اتنی تیزی سے وقوع پذیر ہوا کہ پولیس والے صرف حیران ہی ہو سکے اور خاموشی سے زخمی کو اٹھا کر ہسپتال لے گئے۔ بقیہ مرزائی غنڈے سر پر پاؤں رکھ کر بھاگ گئے۔ یہ ہماری مقابلہ پر پہلی فتح تھی۔ جلوس بڑے جوش و خروش اور فاتحانہ انداز میں نعرے لگاتا ہوا پورے شہر میں بازاروں کے چکر لگاتا ہوا کمیٹی
باغ کے اندر جلسہ گاہ میں جا کر اختتام پذیر ہوا۔ احرار کے اس جرات مندانہ اقدام اور مظاہرہ سے شہری نہیں بلکہ گرد و نواح کے دیہات میں جو لوگ عصمت اللہ کی روایتی غنڈہ گردی کے ڈر سے گھروں میں دبکے ہوئے تھے، جوق در جوق جلسہ گاہ میں آنا شروع ہو گئے۔
دن کے دس بجے جلسہ کا باقاعدہ آغاز ماسٹر تاج الدین انصاری کی صدارت میں ہوا۔ تلاوت کلام پاک کے بعد مرزا غلام نبی جانباز نے ایک ولولہ انگیز نظم پڑھی۔ آج پولیس کی نفری بہت زیادہ تھی۔ ایس پی، ڈی ایس پی اور علاقہ مجسٹریٹ سب ڈیوٹی پر موجود تھے۔ لیکن جلسہ گاہ پر احرار رضا کاروں کا مکمل کنٹرول تھا۔
مولانا عبید اللہ احرار، مولانا تاج محمود اور مولانا محمد علی جالندھری کے مختصر خطاب کے بعد صدر مرکزیہ کو خطاب کی دعوت دی گئی تو پنڈال میں اسلام زندہ باد، پاکستان پائندہ باد، مجلس احرار اسلام زندہ باد، امیر شریعت زندہ باد، مرزائیت مردہ باد، عصمت اللہ مردہ باد کے فلک شگاف نعروں کی گونج میں ماسٹر جی مائیک پر تشریف لائے اور اس شعر سے اپنی تقریر کا آغاز کیا
میری تو کچھ فکر نہ کر، میں خوگر ہوں طوفانوں کا
ماسٹر جی نے خلاف عادت اپنے دھیمے اور نرم لہجہ کو ترک کرتے ہوئے اپنی آواز کو پر زور بناتے ہوئے عصمت اللہ اور اس کے غنڈہ عناصر کی سخت مذمت کرتے ہوئے کہا کہ مجلس احرار اسلام تو ١٩٣٤ء سے سارقان ختم نبوت قادیانیوں کا محاسبہ کر رہی ہے اور میں نے مجلس احرار اسلام کے حکم پر قادیان کی سرزمین پر ”طول منارہ“ (مرزائیوں کے منارۃ المسیح کا احراری نام) کے سامنے مرزا بشیر الدین کے قصر خلافت (غلاظت) کے مقابل غلام احمد کی جھوٹی نبوت کو للکارا اور اس کذاب کے دجل و تلبیس کی دھجیاں فضا میں بکھیر دیں۔ ان کے جھوٹ کی ہنڈیا کو قادیان ہی کے چوراہے میں پھوڑ دیا تھا۔ قادیان کی بستی جہاں کے رہنے والوں کی زندگی مرزائیوں نے اجیرن بنا رکھی تھی اور لوگوں کو دوسرے درجہ کے شہری کے طور پر اپنا باجگزار بنا رکھا تھا۔ یہاں تک کہ قادیان کے لوگوں کی جان و مال، عزت و ناموس تک مرزائیوں سے محفوظ نہیں تھے۔ میں نے مجلس
احرار اسلام کی سرپرستی میں مسلمانوں کو مرزائیوں کے مقابل کھڑا کیا اور ان میں ایک نیا حوصلہ اور ولولہ پیدا کر کے عزت کے ساتھ سر اونچا کر کے مرزائیوں کی متوازی حکومت کے مقابلہ میں چلنے کی جرات پیدا کی۔ قصر خلافت (ربوہ) اور ”ظل مینارہ“ کے جھوٹے وقار اور دبدبہ کو خاک میں ملا دیا تھا۔
حضرت امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاری‘ مولانا قاضی احسان احمد شجاع آبادی‘ مظہر علی اظہر‘ مولانا عنایت اللہ چشتی اور دیگر اکابر احرار اور علمائے حق کو ساتھ لے کر انگریز اور اس کے خود کاشتہ پودے قادیانیت‘ دونوں کا ناطقہ بند کر دیا تھا اور اس طرح امت مسلمہ کو ارتداد سے بچا کر ان کے ایمان کا تحفظ کیا اور قادیان کے رہائشی لوگوں کو مرزائیوں کی دوہری غلامی سے نکال کر آزادی سے زندگی بسر کرنے کا چلن سکھایا۔ حضرات! بات ذرا لمبی ہو گئی لیکن عصمت اللہ کے لئے یہ تعارف ضروری تھا کہ یہ کھونٹے پر ناچتا ہے میں اس کو بھی جانتا ہوں۔ امید ہے آپ بھی اب واقف ہو گئے ہوں گے!
عصمت اللہ! تم اپنے آپ کو کیا سمجھتے ہو؟ تم ہو کیا چیز؟ چند غنڈوں کے بل بوتے پر اترا رہے ہو؟ تم نے پاسبان ختم نبوت اور اسلام کے علمبردار‘ احرار کے جرنیل اور میرے محترم رفیق مولانا محمد علی جالندھری کو تقریر کرنے سے روکنے کی جسارت کی ہے؟
یاد رکھو ہم نے تمہارے گرو گھنٹال اور اس کے پیدا کرنے والے انگریز کو یہاں سے چلتا کیا ہے‘ تو کیا چیز ہے۔ کیا پدی اور کیا پدی کا شوربہ؟ اپنے خلیفہ کو ربوہ جا کر بتا دو کہ احرار والے کہتے ہیں کہ ہم نے اس الیکشن میں کھڑے ہونے والے تمام مرزائیوں کو شکست و ہزیمت سے دوچار کر کے پاکستان کی سیاست سے ہمیشہ ہمیشہ کے لئے دیس نکالا دے دیا ہے!
عصمت اللہ تم نے یہ ناپاک جسارت پہلے بھی کی؟ اور آج پھر جب ہم چک جھمرہ ریلوے اسٹیشن پر گاڑی سے اترے تو تمہارے فرستادہ مسلح غنڈوں نے تمہارے بھتیجے کی قیادت میں ہمارے بہادر اور جانباز رضا کاروں کے منہ آنے کی کوشش کی جس کے حشر سے تو آگاہ ہو چکا ہو گا۔ میں تمہیں وارننگ دیتا ہوں کہ اگر آئندہ تم نے یا تمہارے
بدمعاشوں نے کوئی مرزائی ہتھکنڈہ استعمال کیا تو ختم نبوت کے پروانے ایسا سبق دیں گے کہ امت مرزائیہ ہمیشہ یاد رکھے گی! رہا تیرے پاس مسلم لیگ کا ٹکٹ؟ جس کا واسطہ دے کر تو نے پولیس کو جل دینے کی کوشش کی، تو مسلم لیگ کا میں بھی ممبر ہوں (جیب سے مسلم لیگ کی پرچی نکال کر دکھاتے ہوئے) ایس پی صاحب! آپ بھی سن لیں، پولیس قانون کی محافظ ہے مرزائیت کی نہیں۔ ہمارے پہلے جلسہ کا اعلان چار روز پہلے اخبارات کے ذریعہ ہو چکا تھا اور مقامی ایس ایچ او جلسہ شروع ہونے کے بعد کہتا ہے مولوی صاحب جلسہ ملتوی کر دیں کیونکہ میرے پاس تھانے میں نفری نہیں ہے اور مرزائی فساد پر آمادہ ہیں۔ یہ کیا ڈرامہ تھا؟ وہ جو تمہارے بڑے لاٹ ہیں نا لاہور میں، وہاں مجھے بھی کرسی ملتی ہے، میری بات بھی سنی اور مانی جاتی ہے، ایک ٹیلیفون پر وردیاں اتروائی جاسکتی ہیں۔ لیکن کیا کروں حکومت مسلم لیگ کی ہے اور مسلم لیگ میری اپنی ہے، پولیس بھی اپنی ہے۔
پر بیچ میں منہ تیرا ہے کہ میں کچھ نہیں کہتا
پیشتر ازیں مولانا محمد علی جالندھری نے اپنے خطاب میں خطبہ مسنون کے بعد قرآن پاک کی آیہ کریمہ ”قل جاء الحق وزهق الباطل ان الباطل کان زهوقا“ کی تلاوت کر کے اس کا ترجمہ و تفسیر کچھ اردو اور کچھ پنجابی میں بیان کیا۔ اور کہا عصمت اللہ تو نے مجھے چیلنج دیا تھا اور میں تیرے شہر آگیا ہوں اور دن کی روشنی میں آیا ہوں۔ ہزاروں کے اجتماع میں تیرے خلاف تقریر کر رہا ہوں، تجھ میں غیرت اور ہمت ہے تو اپنے غنڈوں کو لے کر میدان میں نکل؟ میں تو پردیسی مولوی ہوں اور تجھے دعوت دے رہا ہوں تو اپنے مسلح غنڈوں کو ساتھ لے آ۔ میں، محمد ﷺ کے نہتے جانثاروں کے ساتھ تیرے شہر میں آیا ہوں اور میں نے آتے رہنا ہے جب تک تجھے شکست نہیں ہو جاتی۔ اگر تجھے ممبر بننا ہے تو باطل عقیدہ سے توبہ کر اور مرزا غلام قادیانی پر لعنت بھیج کر محمد ﷺ کی غلامی اختیار کر، ممبر بنوانے کا میں ذمہ لیتا ہوں!
آخر میں پھر تجھے اور تیرے ساتھی غنڈوں کو متنبہ کرتا ہوں کہ غنڈہ گردی سے باز رہیں۔
شکست تو تمہارا مقدر بن چکی ہے۔ تم ممبری کے خواب دیکھ رہے ہو،
تمہیں علاقہ میں گالی نہ بنا دیا تو کہنا۔ اس کے بعد مولانا نے لوگوں سے ہاتھ اٹھوا کر وعدہ لیا کہ ختم نبوت کے باغی عصمت اللہ کو ووٹ نہیں دیں گے ! ظہر کی اذان کے ساتھ ہی جلسہ اختتام پذیر ہوا۔ اسی رات مولانا محمد علی جالندھری نے تمام امیدواران کی میٹنگ چک جھمرہ میں بلوائی تھی تاکہ کسی ایک کینڈیڈیٹ کے حق میں فیصلہ ہو سکے اور ووٹ تقسیم نہ ہوں۔ میٹنگ میں نہ صرف چاروں امیدوار بلکہ علاقہ کے کافی با اثر لوگ بھی شامل ہوئے۔ دوپہر کے جلسہ کا اثر ابھی تازہ تھا۔ سب نے دیکھ لیا تھا کہ عصمت اللہ کا رعب و دبدبہ ہوا ہو چکا تھا اور اس کا اثر و رسوخ بھی کسی کام نہ آیا تھا۔ علاقہ کے چودھریوں اور چاروں امیدواروں نے متفقہ طور پر کہہ دیا کہ مولانا آپ جس بھی امیدوار کے حق میں فیصلہ دیں ہمیں منظور ہے، باقی تینوں امیدوار اس کے حق میں دست بردار ہوتے ہیں۔ چنانچہ مولانا محمد علی جالندھری نے علاقہ کی بعض بااثر شخصیات کے ساتھ مشورہ کر کے چودھری ممتاز احمد ایڈووکیٹ کے حق میں فیصلہ دے دیا۔ باقی تینوں حضرات نے اپنی دست برداری کا اعلان بذریعہ اخبار کر دیا۔ چنانچہ انتخابی مہم زور شور سے شروع کر دی گئی۔ گاؤں گاؤں جلسے ہوتے رہے، ملاقاتوں کا سلسلہ بھی جاری رہا۔ مرزائی اپنی خباثت کا مظاہرہ کرتے رہے، دو چار جگہ مار کٹائی ہوئی، بعض جگہ گولی بھی چلی۔ مرزائیوں کی کوشش تھی کہ کسی طرح مولانا محمد علی جالندھری کو نشانہ بنایا جائے لیکن جسے اللہ رکھے اسے کون چکھے۔
اس مہم میں لائل پور کے سب احرار کارکن شریک تھے خصوصاً میاں محمد عالم بٹالوی مرحوم، شیخ خیر محمد مرحوم، شیخ محمد شریف برادر اصغر شیخ عبدالمجید امرتسری نے انتھک محنت کی اور دن رات ایک کر دیا۔
شاہ جی نے بھی بعض دیہاتوں میں تقریریں کیں۔ پیر قطبی شاہ، شاہ جی سے مل کر بہت متاثر ہوئے۔ ہر جلسے میں شاہ جی کا تعارف اپنے مریدوں سے اپنی زبان میں کراتے ہوئے کہتے ”میں قربان تھیواں سید بادشاہ توں، ایہہ تشریف گھن آئے ہن، ساڈے بھاگ جاگ پئے ہین، سید بادشاہ جنت دے سردار ہین جو انہاں دی گال منیسی اوہ جنتی تھیسی تے انکار کرن والا دوزخ سڑسی۔ ہاں میں تہاڈا پیر ہاں تے تساں اپنے پیر دی گال منو تے عصمت اللہ مرزائی نوں بھجا چھوڑو۔ بس مرزائی نوں ہر حال وچ شکست ڈیونی ہے۔“
یعنی شاہ جی تشریف لے آئے ہیں۔ میں ان پر قربان ہو جاؤں، ہماری قسمت جاگ اٹھی ہے۔ یہ سید بادشاہ جنت کے سردار ہیں، ان کی بات ماننے والا جنت میں جائے گا اور نہ ماننے والا دوزخ میں۔ ہر حال میں مرزائی عصمت اللہ کو شکست دینی ہے۔ میں تمہارا پیر ہوں، میری بات مانو اور مرزائی کو شکست دے دو۔
اس انتخابی مہم میں بعض لطیفے بھی ہوئے۔ ایک گاؤں میں جلسہ تھا۔ شاہ جی کی تقریر تھی، پیر قطبی شاہ بھی ساتھ تھے۔ گرمی کا موسم نہ تھا، شاہ جی چونکہ بہت ٹھنڈا پانی پیتے تھے، تھرماس ہر وقت برف سے بھری رہتی۔ پیر قطبی شاہ نے اکثر دیکھا تھا کہ شاہ جی جب تھرماس سے پانی پیتے تو ان کی آواز میں اور نکھار آ جاتا ہے۔ پیر صاحب نے اسے کرامت پر محمول کرتے ہوئے ایک روز تقریر سے پہلے خوب جی بھر کر تھرماس سے پانی پیا، پھر جب تقریر کرنے لگے تو گلا جواب دے چکا تھا، بولیں کیسے؟ بڑی مشکل سے شاہ جی سے مخاطب ہوئے... ”پیر! میرا تے گھگو بند تھی گیا اے“۔ شاہ جی ہنستے ہنستے لوٹ پوٹ ہو گئے۔ ایسے ہی ایک گاؤں ”قادو کے دیسہ“ میں جلسہ تھا۔ شاہ جی اپنا دورہ مکمل کر کے جاچکے تھے اور مولانا محمد علی بھی لائل پور گئے ہوئے تھے۔ جلسہ کا وقت صبح دس بجے تھا۔ تمام قریبی دیہاتوں میں منادی ایک روز پہلے کرا دی گئی تھی۔ لوگ کافی تعداد میں جمع ہو چکے تھے۔ ساڑھے دس بج گئے۔ مولانا محمد علی بھی کسی وجہ سے ابھی تک نہ پہنچ سکے تھے۔ گاؤں چونکہ پیر قطبی شاہ کے مریدوں کا تھا، وہ ایک دن پہلے سے ایک مرید کے گھر براجمان تھے اور مریدوں کے جھرمٹ میں مولانا محمد علی جالندھری کا انتظار کر رہے تھے۔ اتنے میں ایک مجسٹریٹ بمع چند پولیس والوں کے آن وارد ہوئے۔ نمبردار کو بلایا اور دفعہ ١٤٤ کا نفاذ کر دیا۔ نمبردار نے گاؤں میں ڈونڈی پٹوا دی لہٰذا جلسہ گڑبڑ ہو گیا۔ میاں محمد عالم بٹالوی نے پیر قطبی شاہ سے کہا کہ آئیے مجسٹریٹ سے بات کرتے ہیں۔ الیکشن کے دنوں میں جلسہ بند نہیں کیا جاسکتا جبکہ یہاں کوئی دنگا فساد بھی نہیں ہوا۔ پیر صاحب مردانے کمرہ میں بیٹھے ہوئے تھے، اٹھ کر گھر کے اندر کمرہ میں چلے گئے اور جاتے ہوئے کہنے لگے ”میاں صاحب اب کیا ہو سکتا ہے؟ خود مجسٹریٹ آ گئے ہیں تو صاحب بہادر سے بات کیسے کریں؟ پولیس بھی آگئی ہے۔ نہ بابا! ایہہ سرکاری گال ہے، قانون دا معاملہ ہے کوئی مسئلے مسلے دی گال نئیں، میں تا اتھاں بیٹھا ہاں، صاحب نوں آکھو جے پیر صاحب ونجی گئے ہین“۔ اتنے میں مولانا محمد علی جالندھری تشریف لے
آئے۔ انہیں صورت حال سے آگاہ کیا گیا اور بتایا کہ پیر صاحب اندرونی کمرے میں چلے گئے ہیں۔ مولانا مسکرائے اور میاں محمد عالم ہٹالوی اور چند دیگر کارکنان کے ہمراہ نمبردار کی حویلی میں پہنچ گئے اور مجسٹریٹ سے مل کر دریافت کیا کہ ”دفعہ ١٤٤ کے تحت آپ نے کیا پابندی عائد کی ہے۔ میں نے سنا ہے کہ آپ نے جلسہ بند کر دیا ہے“۔ مجسٹریٹ نے کہا ”میں نے صرف جلسہ گاہ میں آتشیں اسلحہ لے کر آنے پر پابندی عائد کی ہے اور دیگر کسی قسم کے اسلحہ کی نمائش پر بھی پابندی ہے“۔
مولانا نے کہا کہ ”آپ کے حکم پر نمبردار نے جو منادی کرائی ہے اس میں کہا گیا ہے کہ علاقہ مجسٹریٹ کے حکم پر دفعہ ١٤٤ کے تحت جلسہ نہیں ہوگا“۔ مجسٹریٹ نے اس سے صاف انکار کیا اور لکھ کر چوک میں اشتہار لگوا دیا کہ جلسہ پر کوئی پابندی نہیں ہے، صرف آتشیں اور دیگر کسی قسم کا اسلحہ لے کر آنے اور اس کی نمائش پر پابندی ہے۔
مولانا محمد علی جالندھری نے واپس آکر پیر صاحب کو بتایا کہ حضرت جلسہ پر کوئی پابندی نہیں ہے، آئیے جلسہ گاہ میں چلتے ہیں تو پیر قطبی شاہ نے کہا میں تو لوگوں کو پہلے ہی کہہ رہا تھا کہ میرے ہوتے ہوئے جلسہ کون بند کرا سکتا ہے؟ ایسی دفعات ہمارا کیا بگاڑ سکتی ہیں، ہم کوئی ڈرنے والے ہیں۔ ایسے کئی مجسٹریٹ دیکھے بھالے ہیں اور پھر یہ جلسہ بھی بخیر و خوبی اختتام پذیر ہوا۔ اسی طرح حلقہ انتخاب میں جلسے بھی ہوتے رہے، جلوس بھی نکلتے رہے، دو چار جگہ مرزائیوں سے ٹکراؤ بھی ہوا لیکن ہر جگہ اللہ کے فضل و کرم سے مرزائی دم دبا کر بھاگتے نظر آئے اور گاؤں گاؤں یہ نعرے گونجتے رہے ”اسلام زندہ باد، پاکستان پائندہ باد، حضرت امیر شریعت زندہ باد، مرزائیت مردہ باد، عصمت اللہ مرزائی مردہ باد، عصمت اللہ مرزائی کو ووٹ دینا حرام ہے“۔ ان نعروں کی گونج میں عصمت اللہ اپنی برادری اور غنڈہ گردی کے باوجود شکست فاش سے دو چار ہوا۔ فالحمد للہ ۔
○
١٩٥٠ء کے انتخابات کے نتائج مارچ ١٩٥١ء میں شائع ہوئے تو مرزائیوں کی شکست فاش پر مجلس احرار اسلام نے ملک بھر میں یوم تشکر منانے کا فیصلہ کیا جو مختلف دنوں میں مختلف مقامات پر منایا گیا۔ لائل پور (فیصل آباد) ٢٠/ اپریل ٥١ء، گوجرانوالہ ٣٠/
اپریل ٥١ء اور لاہور میں ٢٥‘ ٢٦ / مئی ٥١ء کو دو دن کانفرنس ہوئی جس میں پورے پنجاب سے جیوش احرار مع بینڈ کے شریک ہوئے۔ ٢٥ / مئی ٥١ء کا دن اس لحاظ سے تاریخی تھا کہ جنوری ٣٩ء کے بعد پہلی مرتبہ احرار کے سرخ پوش رضا کار پورے جاہ و جلال کے ساتھ اپنے اپنے اضلاع سے بینڈ کے ساتھ شرکت کے لئے بصورت جلوس شہر میں داخل ہو کر مرکزی دفتر مجلس احرار اسلام لاہور پر لہراتے ہوئے پرچم احرار کو سلامی دے کر احرار پارک دہلی دروازہ میں اپنے اپنے مخصوص خیموں میں مقیم ہو رہے تھے۔ شام تک احرار پارک میں ایک ”نیا مدینہ الاحرار“ بس گیا تھا۔ پنجاب کے اضلاع سیالکوٹ، لائل پور (فیصل آباد)، گوجرانوالہ، سرگودھا، میانوالی، ملتان، ساہیوال، اوکاڑہ، شیخوپورہ، راولپنڈی، وزیر آباد، صوبہ سرحد سے پشاور، بنوں، ہری پور ہزارہ اور کوہاٹ سے بھی جیوش احرار اسلام سرخ وردیوں میں شامل ہوئے۔ رات کو جلسہ عام میں اکابر احرار نے اپنی تقاریر میں مرزائیت کا تار و پود بکھیر کر رکھ دیا۔ ٢٦ / مئی کو جلوس کا پروگرام تھا۔ مرزائیوں کی شکست پر جہاں احرار خوشی کے شادیانے بجا رہے تھے وہاں مرزائیوں کے ہاں صف ماتم بچھی ہوئی تھی۔ پھر بھلا مرزائی یہ سب کچھ ٹھنڈے پیٹوں کیسے برداشت کر لیتے۔ ربوہ اور لاہور سے کراچی ٹیلیگرام دیئے جا رہے تھے، عرضداشتیں گزاری جا رہی تھیں۔
چمبڑ گئے سیال دے تاپ وانگوں
(سائیں حیات)
مسٹر قربان علی آئی جی پنجاب پولیس، سردار عبد الرب نشتر گورنر پنجاب اور مسٹر ممتاز احمد دولتانہ وزیر اعلیٰ پنجاب کو درخواستیں دی جا رہی تھیں کہ احرار کو روکو، پکڑو، دوڑو ۔۔۔ پولیس اپنے طور پر بھی سرگرم عمل تھی۔ کبھی شیخ حسام الدین سیکرٹری جنرل مرکزیہ مجلس احرار اسلام کو تنبیہ کی جاتی اور کبھی صدر مرکزیہ ماسٹر تاج الدین انصاری کو گورنر ہاؤس طلب کر کے سردار نشتر فرماتے ”ماسٹر جی یہ کیا ہو رہا ہے ۔ یہ کیسا ہنگامہ ہے، میرے پاس جو رپورٹیں آ رہی ہیں اور خاص طور پر آئی جی پولیس بہت غیر مطمئن ہیں۔ آپ کرنا کیا چاہتے ہیں؟ ایکشن تو ختم ہو چکا، پورے سیکرٹریٹ میں ہلچل مچی ہوئی ہے ! چیف
منسٹر بھی اضطراب محسوس کرتے ہیں۔" ماسٹر جی نے فرمایا " آپ ہمارے کردار و عمل سے بخوبی واقف ہیں۔ ہم جنوری ٤٧ء سے مروجہ سیاست سے کنارہ کش ہو چکے ہیں۔ مسلم لیگ کو اب احرار سے کوئی خطرہ نہیں نہ ہمارے کوئی سیاسی عزائم ہیں۔ رہا مرزائیوں کا معاملہ تو ہم ان کو محب وطن نہیں سمجھتے۔ مرزائی اسلام کے باغی ہیں، ان کی مخالفت صرف ہمارا ہی نہیں ہر مسلمان کا دینی فریضہ ہے۔ اس پر بھی مطمئن نہیں تو پھر ایسا کیجئے کہ قرآن پاک منگوائیے، آپ مسلمان ہیں، ماشاء اللہ نمازی بھی ہیں، قرآن پاک آپ کے یہاں یقیناً موجود ہو گا۔ میں بھی اس پر ہاتھ رکھتا ہوں آپ بھی رکھیں اور حلف اٹھاتے ہیں پاکستان کی وفاداری پر!" نشتر فوراً گویا ہوئے ”نہیں نہیں ماسٹر جی، مجھے آپ کی بات پر کوئی شک و شبہ نہیں ہے۔ میرا مقصد یہ ہے کہ کوئی لاء اینڈ آرڈر کا مسئلہ نہ کھڑا ہو جائے۔" ماسٹر جی نے کہا کہ آپ مطمئن رہیں ایسا ہرگز نہیں ہو گا اور ماسٹر جی واپس آ گئےا
دراصل مسلم لیگی حکومت اپنی بد اعمالیوں اور لوٹ کھسوٹ کی وجہ سے پبلک میں اپنا اعتماد کھو چکی تھی۔ اسے ہر طرف خطرہ نظر آ رہا تھا۔ حکومت پاکستان امریکہ کی وجہ سے مرزائیوں کو بھی ناراض نہیں کرنا چاہتی تھی۔ وزیر خارجہ سر ظفر اللہ (قادیانی) نے خارجہ پالیسی کو بازیچہ اطفال بنا رکھا تھا۔ کشمیر کا معاملہ ڈانوا ڈول تھا، مرزائی اپنی سازشوں اور مکارانہ پالیسی کے تحت پاکستان کو اندرونی طور پر کمزور کرنے کے لئے کلیدی آسامیوں پر قابض ہوتے جا رہے تھے اور امریکہ ان کی حمایت کر رہا تھا۔ سر ظفر اللہ نے مسلم لیگی بزرجمہروں کو یہ یقین دلا رکھا تھا کہ امریکہ ہی کی وجہ سے ہم بچے ہوئے ہیں ورنہ انڈیا ہمیں روس کے ساتھ مل کر ہڑپ کر جاتا، لیکن ہو کیا رہا تھا؟ اقوام متحدہ کی جنرل کونسل میں جب بھی مسئلہ کشمیر درپیش ہوتا روس ویٹو کر دیتا اور پاکستان منہ دیکھتا رہ جاتا اور امریکہ، بھارت یا روس سے کوئی نہ کوئی اپنا مفاد حاصل کر کے چشم پوشی کر لیتا یا پاکستان کو مزید قرضہ دے کر یا محض قرضہ دینے کی یقین دہانی کرا کر خاموش رہنے کی تلقین کرتا۔ ایسے میں اگر پبلک میں کوئی شور و غوغا ہو تو حکومت کیسے متحمل ہو سکتی ہے۔ نیز حکومت کو یہ خطرہ بھی لاحق تھا کہ گو احرار بیشک مسلم لیگ کے حلیف ہیں لیکن کوئی بھی طالع آزما گروہ اس ایشو
پر طمع آزمائی کر سکتا ہے۔ بدیں وجہ نہ تو حکومت مرزائیوں کو ناراض کر سکتی تھی کہ امریکہ بہادر ناراض ہوتا تھا۔ ظفر اللہ نے یہی ہوا دکھا کر حکومت کو دباؤ میں رکھا ہوا تھا اور نہ ہی احرار کے خلاف کوئی بڑا اقدام حکومت کے وارے میں تھا۔ ٢٦؍ مئی کو صبح دس بجے جلوس ترتیب دیا گیا‘ قیادت کے فرائض فرزند امیر شریعت مولانا سید ابوذر بخاری نے انجام دیئے۔
جلوس دہلی دروازے سے شہر میں داخل ہوا اور چوک وزیر خان سے ہوتا ہوا شاہ عالم مارکیٹ سے گزر کر سرکلر روڈ پر آگیا۔ جلوس اس طریقہ پر ترتیب دیا گیا کہ سب سے آگے سیالکوٹ کا بینڈ اور جیش حافظ محمد صادق کی قیادت میں اور اس کے بعد دوسرے اضلاع کے جیش‘ ان کے بعد گوجرانوالہ کا بینڈ اور جیش‘ پھر فیصل آباد (لائل پور) کا بینڈ اور جیش‘ پھر دوسرے اضلاع کے جیش‘ پھر لاہور کا بینڈ اور دوسرے اضلاع کے سرخپوش عجیب بہار دکھا رہے تھے۔ ہر جیش کے سالار نے مجلس احرار اسلام کا پرچم تھام رکھا تھا۔ تھوڑے تھوڑے فاصلہ پر سرخ رنگ کے کپڑے پر سفید لکھائی میں حسب ذیل مطالبات اور نعرے درج تھے۔ ”پاکستان کا مطلب کیا لا الہ الا اللہ‘ حکومت الہیہ کا قیام ہمارا مشن ہے‘ مجلس احرار اسلام زندہ باد‘ مرزائیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دو‘ سر ظفر اللہ کو وزارت خارجہ سے علیحدہ کرو‘ مرزائی پاکستان کے دشمن ہیں‘ تاج و تخت ختم نبوت زندہ باد‘ پاکستان پائندہ باد“... یہ ماٹو دو دو رضا کار اٹھائے ہوئے چل رہے تھے۔ جگہ جگہ جلوس پر گل پاشی ہو رہی تھی۔ ٹھنڈے پانی کی سبیلیں لگی ہوئی تھیں۔ جلوس میں شامل گوالمنڈی لاہور کے خورشید الاسلام ہائی سکول کے طلبا کا بینڈ اور پی ٹی کے کرتب کی ایسی شان تھی‘ اتنا پروقار اور نظم و ضبط کا پابند جلوس چشم لاہور نے شاید ہی کبھی دیکھا ہو۔ جلوس کا پہلا جیش شاہ عالم مارکیٹ سے گزر کر سرکلر روڈ پر آگیا تھا لیکن ہنوز دہلی گیٹ میں آخری جیش ابھی ترتیب پا رہا تھا۔ سرکلر روڈ سے جلوس نے ٹرن لیا اور انارکلی بازار سے ہوتا ہوا عجائب گھر کے سامنے سے مزنگ اور میانی صاحب کے قبرستان میں مفکر احرار چوہدری افضل حق کے مزار پر حاضری اور فاتحہ خوانی نیز سلامی کے بعد شملہ پہاڑی سے گزر کر واپس دہلی گیٹ احرار پارک آکر اختتام پذیر ہوا۔ کھانا کھانے کے بعد رضا کار اپنے اپنے خیموں میں آرام کرنے لگے۔ نماز عشاء کے بعد کانفرنس کا اجلاس تھا جس میں حضرت امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ
بخاری کا خطاب شامل تھا۔ صدارت حضرت مولانا احمد علی لاہوری کر رہے تھے۔ حضرت خطبہ صدارت لکھ کر لائے تھے۔ جلسہ کا آغاز تلاوت قرآن کریم سے ہوا۔ مرزا غلام نبی جانباز، سید امین گیلانی، سائیں محمد حیات پسروری اور ابراہیم خادم کی کڑکتی پھڑکتی نظموں کے بعد حضرت لاہوری نے خطبہ پڑھنا شروع کیا جو بہت طویل ہوتا گیا۔ لوگ جو امیر شریعت کو سننے کا اشتیاق لے کر آئے تھے، جزبز ہونے لگے۔ گرمی کا موسم تھا، رات کافی ہو چکی تھی۔ حضرت مولانا احمد علی نے جب حضرت امیر شریعت اور مجلس احرار اسلام کے کارنامے خاص طور پر احرار رضا کاروں کے لئے تعریفی کلمات بیان فرمائے تو ایک سے برداشت نہ ہو سکا۔ اس نے حضرت مولانا کو مخاطب کرتے ہوئے سوال کیا ”حضرت یہ جو آج لاہور میں احرار رضا کار بینڈ باجے بجاتے رہے ہیں کیا اسلام اس کی اجازت دیتا ہے؟“ حضرت نے جواب میں فرمایا ”احرار رضا کاروں کا یہ فعل محض نمود و نمائش نہیں بلکہ دشمنان اسلام پر رعب ڈالنا اور قوت احرار کا اظہار تھا“ اور پھر بڑی گمبھیر آواز میں فرمایا ”ارے تم ان رضا کاروں کو کیا سمجھتے ہو، یہ اسلام کے سپاہی ہیں“ اور پھر ایک خاص جذبہ کے تحت فرمایا ”ارے میں تو ان لوگوں کو حضرت بخاری کے جلو میں ایسے ہی بینڈ باجوں کے ساتھ جنت الفردوس میں داخل ہوتے ہوئے دیکھ رہا ہوں، تم ان کے مقام و مرتبہ کو کیا جانو؟ کاش پوری قوم کے نوجوان اسی جذبہ جہاد سے سرشار ہو کر میدان عمل میں نکل آئیں۔ یہ تھا حضرت مولانا احمد علی (جو اپنے وقت کے کامل ولی تھے) کا احرار رضا کاروں کو خراج تحسین۔ اللہ تبارک و تعالیٰ حضرت کو علیین میں اعلیٰ مقام سے نوازے (آمین) بہر حال حضرت نے خطبہ صدارت ختم کیا۔
حضرت امیر شریعت بے شمار نعروں کی گونج میں مائیک پر تشریف لائے۔ ابھی خطبہ شروع نہیں کیا تھا کہ ایک آدمی نے سٹیج کے قریب سے الفضل اخبار (مرزائیوں کا بھونپو) کا ایک پرچہ دیا جس میں مرزا بشیر الدین کا ایک بیان چھپا تھا۔ شاہ جی نے پڑھ کر رکھ دیا اور ایک لمبا ٹھنڈا سانس لیا۔ پھر عربی میں خطبہ شروع کیا۔ عام لوگ عربی تو نہیں سمجھتے ہیں، ہم فیصل آباد کے ساتھی سٹیج کے قریب ہی ایک جگہ پر بیٹھے ہوئے تھے۔ کچھ سو چکے تھے کچھ اونگھ رہے تھے اور ہوا بھی چل رہی تھی۔ اتنے میں مولوی تاج محمود مرحوم لائل پوری پنجابی میں کہنے لگے...”او منڈیو... ہوش نال بیٹھو۔ اج شاہ جی دی تقریر عام تقریراں نالوں
مختلف ہو گی۔ عربی خطبے دا انداز ایہو دسدا اے" ۔ (اے نوجوانو ! ہوش سے بیٹھو ۔ آج شاہ جی کی تقریر عام تقریروں سے ہٹ کر ہوگی ، عربی خطبہ کا انداز یہی بتا رہا ہے ۔ )منہ پر پانی کے چھینٹے مار لو تاکہ سو نہ جاؤ۔ چنانچہ ہم سب رضا کاروں نے ایسا ہی کیا اور ہوشیار ہو کر بیٹھ گئے!
شاہ جی فرما رہے تھے ”آیا تھا یوم تشکر منانے لیکن اب اسے یوم تفکر کا نام دیتا ہوں۔ یہ جو میں نے ابھی آپ کے سامنے الفضل اخبار میں مرزا بشیر الدین کا بیان پڑھا ہے یہ دعوتِ فکر دیتا ہے۔ ایسے ہی بیانات اور رویاء اس سے پہلے بھی شائع ہوتے رہے ہیں اور ان کے نتائج بھی سامنے آتے رہے ہیں۔ آج پھر یہ بیان کسی کے لئے انتباہ ہے ! ملا لو کڑیاں؟ ایسے ہی بیان قادیان میں جب بھی دیئے جاتے کوئی نہ کوئی قتل ضرور ہوتا۔ مولانا عبد الکریم مباہلہ پر قاتلانہ حملہ اور محکم دین بٹالوی کا قتل نیز محمد امین مرزائی کا قتل اور دیگر کئی تشدد آمیز واقعات جن کا ذکر جی ڈی کھوسلہ سیشن جج گورداسپور کے فیصلہ میں موجود ہے ، ایسے ہی بیانات کا شاخسانہ تھے"۔ شاہ جی نے اور بھی کئی حوالے دیئے اور پھر اچانک کھڑے ہو گئے۔ بڑے جوش سے فرمایا "لیاقت علی ! بچو اس تحریری بیان سے ، مجھے تمہارے قتل کی بو آ رہی ہے"۔ یہ فقرے مجمع پر بجلی بن کر گرے۔ سارا مجمع کھڑا ہو گیا۔ اکابر احرار جو سٹیج پر بیٹھے ہوئے تھے ، ساکت و جامد مجسمہ سوال بنے ہوئے تھے۔ آخر شیخ حسام الدین گویا ہوئے شاہ جی یہ آپ کیا کہہ رہے ہیں۔ وہ ملک کا پرائم منسٹر ہے۔ اگر خدا نخواستہ کوئی گڑ بڑ ہوئی تو ہم کیا جواب دیں گے؟ شاہ جی نے فرمایا ! جواب ؟ کس بات کا؟ یہ سازش تو ہو چکی ! لوگ بھی شور مچا رہے تھے ۔ شاہ جی مکمل کریں بات ۔ اتنے میں ہلکی سی بوندا باندی ہونے لگی۔ شاہ جی نے فرمایا ! بابو لوگو ! میں کیا کروں میری آنکھیں جو دیکھ رہی ہیں وہ تم نہیں دیکھ سکتے۔ پھر کہتے ہو یہ بوڑھا جو کہتا ہے وہ ہو جاتا ہے۔ ہاں ہاں میں دیکھ رہا ہوں خدا کی قسم یہ آئے ہوئے بادل ٹل سکتے ہیں ، بارش رک سکتی ہے لیکن بخاری کی بات غلط نہیں ہو سکتی۔ جب شاہ جی یہ بات کہہ رہے تھے تو ان کی دائیں ہاتھ کی انگلی آسمان کی طرف تھی اور بارش ہو رہی تھی۔ یہ بات کہتے ہوئے جب انگلی نیچے آئی تو بارش رک چکی تھی۔ تمام مجمع ساکت و جامد حیران و پریشان ٹک ٹک دیدم دم نہ کشیدم کی کیفیت میں تھا۔ شاہ جی پھر گویا ہوئے ۔ لیاقت علی اگر بچنا چاہتے ہو تو (ماسٹر جی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے)
اس بڑھے سے بات کرو! ہماری ہی کیا سارے پنڈال، نہیں نہیں پورے لاہور کی نیند اڑ چکی تھی۔ گورنمنٹ ہاؤس میں الارم بج اٹھے۔ یہ واقعہ آج بھی میرے دماغ کی لوح پر من و عن نقش ہے۔ میں دیکھ رہا ہوں لوگ اضطراری کیفیت میں ایک دوسرے سے سوال کر رہے تھے۔ یہ کیسے ہو سکتا ہے۔ ملک کے وزیر اعظم کے قتل کی سازش کا اعلان جلسہ عام میں ہو رہا ہے۔ ان کو کیسے علم ہوا؟ کیا یہ خود ملوث ہیں؟ اگر نہیں تو ان کو کیسے علم ہو گیا؟ اگر خود شریک ہیں تو اپنی ہی خفیہ بات مجمع عام میں کیسے کر سکتے ہیں؟ ان ہونی بات بخاری نے کہہ دی ہے۔ یہ سوال ہمارے گرد و پیش بھی ہو رہا تھا۔ میرے ساتھی بھی کہہ رہے تھے اب کیا ہوگا؟ میرے منہ سے بے ساختہ نکلا:
یہ پکی بات لکھ لو، لیاقت علی خان گئے۔ اگر شاہ جی کی بات پر توجہ نہ دی گئی تو یہ انہونی ہو کر رہے گی۔ شاہ جی نے اور کیا کیا کہا، کسی کو سننے کا ہوش کہاں تھا۔ جلسہ برخاست ہوا تو شاہ جی دفتر احرار میں تشریف لے گئے اور چائے طلب کی۔ دوست احباب ہمہ تن سوال بنے بیٹھے تھے۔ چائے آگئی۔ شاہ جی چائے پینے لگے۔ کسی میں ہمت نہیں ہو رہی تھی کہ شاہ جی سے مزید کوئی سوال کرتا۔ اتنے میں ہوم سیکرٹری، آئی جی، ڈی آئی جی اور دیگر کئی افسران کی کاریں آکھڑی ہوئیں اور شاہ جی سے ملاقات کی خواہش ظاہر کی۔ تمام حضرات کو اوپر دفتر میں بلا لیا گیا۔ علیک سلیک کے بعد شاہ جی نے فرمایا بابو لوگو! ہم فقیروں کا ڈیرہ تو ایسے ہی ہے۔ کرسیاں اور صوفے تو ہمارے پاس نہیں تشریف رکھئے۔ چائے پیش کرنا چاہی تو انہوں نے بصد ادب معذرت کر لی اور گرد و پیش پر نظر ڈالی یعنی تخلیہ چاہا۔
شاہ جی نے احباب کو دوسرے کمرے میں جانے کا اشارہ کیا تو سب ساتھی اٹھ گئے۔ صرف ماسٹر تاج الدین انصاری اور شیخ حسام الدین کو شاہ جی نے روک لیا۔ باقی تمام ساتھی ملحقہ کمرہ میں ہمہ تن گوش ہو کر بیٹھ گئے۔ بات شروع ہوئی۔
آنے والے اصحاب میں سے کسی نے کہا کہ شاہ جی آپ نے وزیر اعظم کے قتل کی پیش گوئی کی ہے۔ اس سلسلہ میں آپ کے (Sources) ذرائع کیا ہیں۔ اور آپ کو اس کا علم کیسے ہوا؟ شاہ جی نے فرمایا میں نے انتباہ کر دیا ہے۔ سازش کو ڈھونڈنا آپ کا کام
ہے۔ میں نے مرزا بشیر الدین کی تقریر سے اخذ کیا ہے۔ اللہ کرے میری بات جھوٹ ہو۔ لیکن میرا وجدان کہتا ہے کہ سازش ہو چکی ہے۔ شاہ جی نے زمین سے چائے والا کپ اوپر اٹھایا اور فرمایا اگر میں یہاں سے چھوڑ دوں تو نتیجہ کیا ہو گا؟ کسی نے کہا یہ گرنے سے ٹوٹ جائے گا۔ فرمایا بس معاملہ ایسے ہی اٹکا ہوا ہے۔ میں نے برسرعام کہا ہے اب بھی کہتا ہوں کہ مرزائیوں کی ایک ٹیکنیک ہے اور وہ اسی کے تحت کام کرتے ہیں۔ سازش مہینوں پہلے ترتیب دیتے ہیں۔ جب مکمل کر لیتے ہیں تو پھر کسی نہ کسی بہانے یا اپنے کسی ایجنٹ کو مطلع کرنے کے لیے اشارہ دیتے ہیں۔ میں نے اس بیان سے یہی نتیجہ اخذ کیا ہے۔ اسی لائن پر آپ تحقیق کریں۔ ایسی ہی دو چار باتیں کر کے وہ چلے گئے۔
شاید وہ اسے مجذوب کی باتیں سمجھتے رہے لیکن محرم حال تو حقیقت کو پا گئے تھے اور پھر ١٦ اکتوبر ٥١ء کو راولپنڈی میں وہ ناشدنی واقعہ کماحقہ ظہور پذیر ہو گیا۔ پاکستان کے پہلے وزیر اعظم لیاقت علی خان کو بھرے جلسہ عام میں تمام سیکیوریٹیز کے باوجود گولی کا نشانہ بنا دیا گیا۔ اور سازش کے ثبوت خود پولیس کے ہاتھوں گم کرا دیے گئے۔ تحقیقاتی کمیشن مقرر ہوئے لیکن آج تک کوئی نتیجہ برآمد نہ ہو سکا۔
تاریخ اپنے اوراق پلٹتی ہے۔ کئی سال بعد وہی دہلی دروازہ کا احرار پارک ہے اور ایک جلسہ عام ہے۔ شاہ جی پھر بانگ دہل کہتے ہیں کہ میں نے اسی پارک میں لیاقت علی کے قتل کے بارے میں انتباہ کیا تھا لیکن حکومت نے میری بات کو مجذوب کی بڑ جانتے ہوئے در خور اعتناء نہ سمجھا اور لیاقت علی قتل ہو گئے اور پھر تم شہید ملت کے قتل کی تحقیقاتی رپورٹ کی حفاظت نہ کر سکے۔ آج پھر کہتا ہوں تحقیق میں نے بھی کی ہے۔ قاتل میرے سامنے ہے۔ کہو تو بتا دوں؟ لوگوں نے شور مچا دیا کہ شاہ جی بتائیں بتائیں۔ فرمایا ایسے ہی بتا دوں۔ جاؤ حکومت سے کہو ہائی کورٹ کے ججوں پر مشتمل ایک کمیشن قائم کیا جائے جو بااختیار ہو۔ اس کمیشن کے سامنے قاتل کو کھڑا کروں گا۔ اگر غلط ہو تو مجھے پھانسی دے دی جائے۔ پوری ذمہ داری سے کہتا ہوں۔ بھرے جلسہ عام میں کہہ رہا ہوں۔ ہم منافق نہیں ہیں۔ جو کچھ دل میں ہے وہی زبان پر ہے۔ مرزائیت کے معاملہ میں بھی سچ جھوٹ پرکھنا چاہتے ہو تو پرکھ لو۔ فتح ہمیشہ سچ کی ہوتی ہے۔ جاؤ مرزا بشیر الدین کو لے آؤ۔ اس کے دائیں ہاتھ کو اور میرے بائیں ہاتھ کو ہتھکڑی لگا دو۔ پھر دونوں کو جیل بھیج دو۔ صرف ایک ہفتہ
کے لیے کھانے کو کچھ نہ دو‘ پینے کے لیے پانی رکھ دو۔ ایک ہفتہ کے بعد جو زندہ نکل آئے‘ وہ سچا۔ بے شک وہ اپنے ابا کی سنت میں پلوموناک وائن پی کر آئے۔ میں اپنے نانا کی سنت میں ستو پی کر آؤں گا۔ تم اور کچھ نہیں کر سکتے تو یہ ہی کر کے دیکھ لو۔ سچ جھوٹ سامنے آ جائے گا۔
دوستو! دستور دنیا ہے کہ جب بھی اندھیرا پھیلتا ہے‘ اس اندھیرے کو دور کرنے کے لیے چراغ جلائے جاتے ہیں۔ بلب اور ٹیوبیں روشن کی جاتی ہیں۔ کوئی چراغ کسی جھونپڑی میں جلتا ہے۔ کوئی بلب کسی کمرے میں روشنی کرتا ہے۔ کوئی ٹیوب کسی گلی یا بازار میں روشنی بکھیرتی ہے تاکہ اندھیرے میں کوئی ٹھوکر کھا کر گر نہ جائے‘ کوئی لٹ نہ جائے‘ کوئی مسافر راستہ نہ بھٹک جائے۔
ہم نفسو! قادیانی لٹیرے دنیا میں قادیانیت کا اندھیرا پھیلانے کی سرتوڑ کوشش کر رہے ہیں تاکہ اس اندھیرے میں جھوٹی نبوت کا کھوٹا سکہ چل سکے۔ کسی کے ایمان پر ڈاکہ ڈالا جا سکے۔ کسی مسافر کو بھٹکا کر لوٹا جا سکے۔ حق و باطل میں تمیز نہ ہوسکے۔ سچی اور جھوٹی نبوت کی الگ الگ پہچان نہ ہوسکے۔
صاحبو! آؤ اس اندھیرے کا مقابلہ کرنے کے لیے ہم بھی چراغ جلائیں۔ ملت اسلامیہ کا ہر فرد اک چراغ ہے۔ آؤ ان چراغوں کو روشن کریں۔ ان میں خون جگر ڈالیں۔ ان میں جہاد کا تیل ڈالیں۔ ان کے ایمان کی لو کو بلند کریں۔ پھر یہ چراغ بستی بستی‘ گاؤں گاؤں‘ نگر نگر‘ شہر شہر اور ملک ملک روشن ہوں اور قادیانیت کا اندھیرا سر پر پاؤں رکھ کر بھاگے اور کسی کی متاع ایمان نہ لٹ سکے۔
فہرست
آؤ مدینے چلیں (محمد طاہر رزاق) 10 ترکش کے تیر (الحاج محمد نذیر مغل) 15 تین حرف بھیجنے کا وظیفہ (جی۔ آر۔ اعوان) 16
- ١- میرا سب کچھ قربان 20
- ٢- مجذوب کی دعا 20
- ٣- یوم شورش کشمیری اور حنیف رامے 21
٤- کوٹلی آزاد کشمیر میں قادیانی سرگرمیاں 24
٥- دریائے جہلم.......قدرتی حد فاصل 25
٦- مفتی عبدالشکور کی مساعی جمیلہ ‘ حرکتہ الانصار کے دفتر میں اہم 25 اجلاس
٧- دھنواں 26
٨- بیٹا مسلمان.......باپ قادیانیوں کا مربی 26
٩- رندھیری چرناڑی اور گوٹی میں امتناع قادیانیت آرڈیننس کی 26 خلاف ورزیاں
١٠- تتہ پانی کی خصوصیات و صفات 27
١١- کشمیر ویلی ہوٹل میں اجلاس۔ صدارت: مولانا بشیر احمد 27
١٢- تھوڑی دیر حرکتہ الانصار کے کیمپ میں 27
١٣- علماء سے انفرادی ملاقاتیں 28
١٤- ڈپٹی کمشنر کوٹلی سے ملاقات 28
١٥- اہل سندھار کا عہد۔۔۔۔ قادیانیوں کا بائیکاٹ 30
١٦- میں نے قادیانی جگری دوست کو چھوڑ دیا 30
١٧- مولانا محمد ابراہیم ہزاروی کا تحریک ختم نبوت کا ایمان افروز واقعہ 36
١٨- ایک قادیانی گستاخ رسول کی عبرت ناک موت بیل گاڑی نے 37 اسے سیدھا جہنم پہنچا دیا
١٩- جب ایئر مارشل ظفر چودھری قادیانی فوج کا سربراہ تھا 38
٢٠- مولانا محمد شریف جالندھری 39
- ٢١- حضرت مولانا قاضی احسان احمد شجاع آبادیؒ نے ایک جلسہ میں 40
تقریر کرتے ہوئے فرمایا
- ٢٢- تحریک ختم نبوت کے لشکر کا حدی خواں مولانا تاج محمود 41
- ٢٣- شاہ جی کی نکتہ آفرینی 44
- ٢٤- آہ مولانا عبد الواحد 45
- ٢٥- قائد تحریک ختم نبوت حضرت مولانا خان محمد صاحب کا انٹرویو 46
- ٢٦- گرفتاری 47
- ٢٧- مجلس تحفظ ختم نبوت کی امارت 48
- ٢٨- مرزا قادیانی اور سودی قرضہ 57
- ٢٩- مقدمہ مولانا عبد القیوم ہزاروی 59
- ٣٠- مناظرۂ رام پور 65
- ٣١- نواب رامپور کا تبصرہ 70
- ٣٢- مرزائیوں کا کھانا 70
- ٣٣- ایمان کی بہار 71
- ٣٤- قصہ ایک مناظرے کا 78
- ٣٥- پیر سید جماعت علی شاہ صاحب محدث علی پوری 81
- ٣٦- میں ذمہ دار ہوں 83
- ٣٧- بخاری پاکستان آرہا ہوں 83
- ٣٨- چودھری ظہور الٰہی 84
- ٣٩- مولانا محمد علی مونگیریؒ کا زبردست جہاد 85
- ٤٠۔ خود کاشتہ پودے کی آبیاری 87
- ٤١۔ محاسن نبوت 88
- ٤٢۔ نارسائی فکر 88
- ٤٣۔ تماشہ 89
- ٤٤۔ حضرت شاہ عبدالرحیم رائپوریؒ 89
- ٤٥۔ مولانا محمد حیات کے دو مناظرے 90
- ٤٦۔ علامہ انور شاہ کشمیریؒ نے جھوٹ کو ننگا کر دیا 91
- ٤٧۔ گواہی 92
- ٤٨۔ ہائے وہ عظیم لوگ 93
- ٤٩۔ حضرت کشمیریؒ کی وجہ محبت 94
- ٥٠۔ شورش کی شورشیں 94
- ٥١۔ دو علمائے حق کی محبت 96
- ٥٢۔ حضرت قبلہ کی اسیری 96
- ٥٣۔ شاہ جیؒ سے جیل میں ملاقات 98
- ٥٤۔ قادیان‘ دارالشیطان 99
- ٥٥۔ شیخ بنوریؒ کا عشق ختم نبوت 99
- ٥٦۔ مولانا سید یوسف بنوریؒ کی جرات مندی 101
- ٥٧۔ کرایہ کے مکان میں جنازہ 102
- ٥٨۔ حضرت خواجہ سیالویؒ کی آمد 103
- ٥٩۔ شاہ جی کی وصیت 103
- ٦٠- انسان یا چٹان 104
- ٦١- دربار رسالت کا حکم 105
- ٦٢- حضرت لاہوری کی مسئلہ ختم نبوت سے محبت 106
- ٦٣- رٹ اور رہائی 106
- ٦٤- ”امیر شریعت“ کا خطاب ملنے پر چشم دید مناظر 107
- ٦٥- مولانا محمد ادریس کاندھلویؒ کا انعام 108
- ٦٦- علامہ اقبال حضرت انور شاہ کشمیریؒ کے حضور 109
- ٦٧- احمدؒ بن حنبل 109
- ٦٨- حضرت مولانا عبد القادر رائے پوری کی نظر میں مجلس احرار کا 110
مقام
- ٦٩- مولانا حسین احمد مدنیؒ اور گولڑہ شریف 110
- ٧٠- آغا شورشؒ کی خطابت کا اعجاز 111
- ٧١- علامہ کشمیری کا دورہ پنجاب 111
- ٧٢- مفتی محمد شفیعؒ کا سرمایہ 112
- ٧٣- احساس قرض 113
- ٧٤- دندان شکن 114
- ٧٥- حضرت انور شاہ کشمیریؒ کا سوز 114
- ٧٦- فرمان انور شاہ کشمیری 115
- ٧٧- اور پارلیمنٹ نے قادیانیوں کو کافر قرار دے دیا 115
- ٧٨- آنجہانی ظفر اللہ کا قتل 116
- ٧٩- شہید ختم نبوت 117
- ٨٠- مولانا غلام غوث ہزارویؒ کی ایمانی جرات 118
- ٨١- مولانا کی کرامت 119
- ٨٢- محفل زعفران زار بن گئی 120
- ٨٣- جب مولانا ظفر علی خان علی گڑھ پہنچے 120
- ٨٤- مولانا محمد علی جالندھریؒ کا حوصلہ 124
- ٨٥- مولانا محمد علی جالندھریؒ کا خطبہ غیرت 124
- ٨٦- مولانا غلام غوث ہزارویؒ کو زیارت رسولؐ ہوتی ہے 125
- ٨٧- تحریک تحفظ ختم نبوت اور احرار کے کارنامے 126