شاتم
ایک گستاخ رسول
کی عبرتناک کہانی
تصنیف
مختار عالم
بسم اللہ الرحمن الرحیم
شاتم
کتاب سرائے پبلشرز، ڈسٹری بیوٹرز، مشیران کتب خانہ جات الحمد مارکیٹ، غزنی سٹریٹ، اُردو بازار، لاہور، پاکستان فون: 37320318-042 فیکس: 37239884-042
شا
تصنیف مختار
کتاب پبلشرز الحمد مارکیٹ، ل
بسم الله الرحمن الرحيم
شاتم
جملہ حقوق بحق مصنف محفوظ ہیں ۱۴۳۴ ہجری ۲۰۱۲ء
نام کتاب : شاتم تصنیف : مختار عالم اہتمام : بیت الحکمت، لاہور مطبع : میٹرو پرنٹرز، لاہور
ڈسٹری بیوٹرز کتاب سرائے کتاب سرائے پبلشرز، ڈسٹری بیوٹرز، سپلائرز کتب خانہ جات فرسٹ فلور، الحمد مارکیٹ، غزنی سٹریٹ اردو بازار، لاہور فون: 37320318 فیکس 37239884 ای میل: Kitabsaray@hotmail.com
فضلی بک فضلی بک سپر مارکیٹ اردو بازار، نزد ریڈیو پاکستان، کراچی۔ فون: 32629724-32212991
جملہ حقوق بحق مصنف محفوظ ہیں ۱۴۳۳ ہجری ۲۰۱۲ء
شاتم مختار عالم بیت الحکمت، لاہور میٹرو پرنٹرز، لاہور
ڈسٹری بیوٹرز فضلی بک فضلی بک سپر مارکیٹ اُردو بازار، نزد ریڈیو پاکستان، کراچی۔ فون: 32629724-32212991
انتساب
اُس احساس کے نام جسے تمام شاتمینِ رسول کا انجام عبرت ناک ہونے کا یقین ہے
شاتم
کہانی کی عجب کہانی
میرا تعلق فنونِ لطیفہ سے ہے۔ اس کے بعد کینوس سے زیادہ ٹی۔ وی میں جان دیکھ کر میڈیا کی طرف کھنچا آیا۔ لیکن کبھی بھی لکھاری نہیں رہا۔ کچھ عرصہ پہلے عمرہ کے لئے روانہ ہو رہا تھا۔ ایک دوست بھی ساتھ جا رہے تھے۔ مجھ سے پوچھنے لگے ”سنا ہے مکہ میں ایک جلال محسوس ہوتا ہے اور مدینہ طیبہ میں جمال ! اُس وقت رات کے نو بجے تھے اور جدہ کے لیے روانگی علی الصبح تھی۔ مجھے کچھ ضروری سامان بھی خریدنا تھا۔ لیکن اس سوال کے سنتے ہی میرے حواس گم ہو گئے۔ میں نے دوست سے معذرت کی اور اپنی کرسی پر آ بیٹھا۔ بھلا مکہ میں کیسا جلال؟ وہاں تو ماتھا ٹیک کر، ملتزم (خانہ کعبہ کے دروازے کی چوکھٹ) پکڑ کر، دو آنسو بہا کر قرار آ جاتا ہے۔ لیکن روضۂ رسولؐ پر کس منہ سے جاؤں گا۔ میں تو فنونِ لطیفہ کا آدمی ہوں۔ میڈیا سے تعلق ہے۔ خاکے بنانے والوں اور فلمیں
شاتم
بنانے والوں کا مقابلہ تو میرے ذمہ تھا۔ اتنے سال کیا کیا؟ کوئی جواب نہ تھا۔ دوسری طرف احادیث و روایات میرے ذہن میں وارد ہونے لگیں۔ فضیلت حضرت حسان بن ثابت کا باب گویا پہلی بار سمجھ میں آیا۔ دل نے فیصلہ کیا کہ جواب ضرور دیا جائے گا۔ فلم ضرور بنے گی اور کہانی بھی ابھی لکھی جائے گی۔ اُسی وقت قلم ہاتھ میں لیا۔ جسم پسینے سے تر ہو رہا تھا۔ لیکن عجیب بات ہے کہ فجر سے پہلے کہانی مکمل تھی۔ جسے میں نے فوراً سامان میں ساتھ رکھ لیا۔ شاید حاضری کا بہانہ مل گیا تھا۔
یہ کہانی بنیادی طور پر فلم بنانے کے لیے لکھی گئی تھی۔ اس کا سکرین پلے بھی مکمل ہو چکا ہے اور ان شاء اللہ وسائل مکمل ہوتے ہی فلم پر کام بھی شروع ہو جائے گا۔ لیکن آپ کے زیر نظر وہ اصل کہانی ہے جو اُسی رات کی آمد ہے۔ اس میں قطعاً کوئی تبدیلی نہیں کی گئی۔
گو کہ اس کہانی کے تمام کردار فرضی ہیں۔ لیکن اگر کسی گستاخ رسول کو یہ کہانی ایسے لگے جیسے اُسی کو دیکھ کر لکھی گئی ہے تو میں اُس سے بالکل معذرت نہیں کروں گا۔ بلکہ اُسے نصیحت کروں گا کہ اس کہانی کا انجام اُس کی زندگی میں اس سے بھی بدتر ہو سکتا ہے۔
غیر مسلموں اور انسانیت کے علمبرداروں کو یہ پیغام ضرور دینا چاہوں گا کہ اپنے ہاں Blasphamy کی موجودہ تحریکوں کو پناہ نہ دیں۔ تہذیبوں کو چند گندے دماغوں کی وجہ سے Clash کی طرف مت لے جائیں۔ مسلمانوں میں بھی بہترین آرٹسٹ موجود ہیں۔ لیکن ہمارے نبی کی تعلیمات نے ہمیں کسی کے
نے تھا۔ اتنے سال کیا کیا؟ کوئی جواب نہ تھا۔ میرے ذہن میں وارد ہونے لگیں۔ فضیلت گویا پہلی بار سمجھ میں آیا۔ دل نے فیصلہ کیا کہ بنے گی اور کہانی بھی ابھی لکھی جائے گی۔ اُسی تر ہورہا تھا۔ لیکن عجیب بات ہے کہ فجر سے فوراً سامان میں ساتھ رکھ لیا۔ شاید حاضری کا
کے لیے لکھی گئی تھی۔ اس کا سکرین پلے بھی وسائل مکمل ہوتے ہی فلم پر کام بھی شروع اصل کہانی ہے جو اُسی رات کی آمد ہے۔ اس
فرضی ہیں۔ لیکن اگر کسی گستاخ رسول کو یہ کہانی ہے تو میں اُس سے بالکل معذرت نہیں کروں کہانی کا انجام اُس کی زندگی میں اس سے بھی
کلاکاروں کو یہ پیغام ضرور دینا چاہوں گا کہ تحریکوں کو پناہ نہ دیں۔ تہذیبوں کو چند کی طرف مت لے جائیں۔ مسلمانوں میں ہوئے نبی کی تعلیمات نے ہمیں کسی کے
شاتم جھوٹے خدا کو بھی گالی دینے سے منع کیا ہے اور یہ مسلمان کی شان ہے کہ اُس نے آج تک اپنے دشمن ملک کے کسی بت کا بھی کارٹون نہیں بنایا کیونکہ ہمیں اس کی اجازت نہیں۔ البتہ وہ شخص یا وہ قوم جو ڈھٹائی کے ساتھ نبی کریمؐ کی توہین پر قائم رہے تو پھر اپنے معاملے میں ہمیں کسی بھی ایٹم بم سے زیادہ تباہ کن پائے گی۔ ان شاء اللہ
مختار عالم
☆☆............☆☆
شاتم
”شاتم“، محض ایک ناولٹ نہیں!
از قلم: حامد کمال الدین
مدیر سہ ماہی ایقاظ
کرب بذات خود ایک واقعہ ہے، اور کرب کو زبان ملنا اس سے بڑا واقعہ۔ پھر زبان بھی وہ جو احساس کی پوری تجسیم کرتی ہو.....! ڈاکٹر مختار عالم کی یہ تحریر دیکھئے تو یہاں ایک ایسا کرب ہے جس کو باہر آنے کے لیے اَن گنت پیرائے درکار تھے مگر تاحال اس کو ایک عدد ناولٹ ہی میسر آسکا ہے.....! اس کی تہہ میں اتریں تو یہاں ایسے بیکراں جذبات و احساسات ہیں کہ ان کے اظہار کے لیے جملہ اصناف ادب ناکافی رہ جائیں۔
دیکھنا یہ ہوتا ہے کہ آپ کے کرب کو حوالہ کیا حاصل ہے؟ مختار عالم کی تحریر اپنی بہت سی اثر انگیزی دراصل اسی نقطہ سے لیتی ہے؛ یعنی رسالت مآب ﷺ
شاتم سے اس کا ایک ناقابل بیان رشتہ! یہ وہ چیز ہے جس کا اندازہ آپ ان ناقص پیمانوں سے کر ہی نہیں سکتے جو اس جہان محدود میں رائج اجناس کے لیے مخصوص ہیں! اس کے لیے آپ کو اس مادی دنیا سے بلند ہو کر ایک وسیع جہان سے آشنائی پانا ہوتی ہے، جس کو عرف عام میں ”ایمان“ کہا جاتا ہے۔ ”ادب“ کو آج یہ جہتیں بالعموم حاصل نہیں ہیں اور اس سبب سے نسیم حجازی تو کیا اقبال ایسی نابغۂ روزگار شخصیت بھی ”ادب“ کے چوہدریوں سے کوئی بڑی سند پانے میں ناکام رہتی ہے! دور حاضر کا ادب ”اسلوب“ اور ”قواعد“ سے بڑھ کر کچھ مخصوص ”قدروں“ کا پابند ہے اور ان قدروں سے خروج کر لینا خود بخود آپ کو ”دائرۂ ادب“ سے باہر لے جاتا ہے! شاید آج کا ایک بڑا چیلنج ہی یہ ہے کہ ”ادب“ کو اس سے ملحقہ بے مقصدیت سے آزاد کرایا جائے۔ ”عبث“ کو ”ادب“ سے وہ خصوصی نسبت نہ رہنی چاہیے جو کہ اس کو آج حاصل ہے۔
اور جہاں تک اعلیٰ قدروں کی بے دخلی کی بات ہے تو یہ مسئلہ آج ہمیں صرف ادب نہیں بلکہ ”تخلیق“ کے جملہ شعبوں میں درپیش ہے۔ خود مختار عالم کا میدان بنیادی طور پر تحریر نہیں۔ شعبہ فنون لطیفہ کا یہ فارغ التحصیل دراصل آرٹ اور ابلاغ کا آدمی ہے اور اس لحاظ سے وہ اپنے مافی الضمیر کی اور بہت سی کامیاب اور جاندار صورتیں اپنے پاس رکھتا ہے۔ خدا کرے کہ مختار عالم کا یہ کرب جسے ہم ”شاتم“ کے زیر عنوان فی الحال کتابی صورت میں دیکھ رہے ہیں بہت جلد اپنے وہ سب پیراہن اختیار کرے جو ہمارے اس آرٹسٹ کی نظر میں ہیں۔ اس کی یہ نظر اسلامی تخلیق کے افق پر، خصوصاً الیکٹرانک میڈیا کے شعبے میں، بہت دور دور
شاتم
تک دیکھ رہی ہے۔ میں جب بھی اس پرعزم شخص کو دیکھتا ہوں، دل سے دعا نکلتی ہے یہ آدمی جلد ایک قافلہ بنے!
الحاد اور زندقہ جس طرح آج اس ملک کی ادبی و ثقافتی زمین پر قبضہ کرتا جا رہا ہے وہ سمجھداروں کے ہوش اڑا دینے کے لیے کافی ہے۔ اس بلا کو اس کے حال پر چھوڑ رکھنے کی صورت میں، ہمیں یہاں جن روح فرسا احوال کا منتظر رہنا چاہیے، اس کا ادراک بہت کم لوگ رکھتے ہیں اور اس سے خبردار کرنے والے اس سے بھی کم۔ ڈاکٹر مختار عالم ان معدودے چند افراد میں ہیں جو اس عفریت سے نہ صرف قوم کو خبردار کرتے ہیں بلکہ خود تیار ہیں کہ اس سے دو دو ہاتھ کریں۔ وہ چیلنج جو آج ہمیں درپیش ہے گو بہت بڑا چیلنج ہے اور اس کے شعبے شمار سے باہر ہیں، پھر بھی ڈاکٹر مختار عالم کا میدان ان اہم ترین میدانوں میں سے ایک ضرور ہے؛ اور ہم ان کی کامیابی کے لیے صدقِ دل سے دعا گو ہیں۔
☆.............☆
شاتم
کچھ اس کتاب کے بارے میں
از قلم: پروفیسر محمد یوسف عرفان
تاریخ اسلام قرآن اور صاحب قرآن کی تفسیر ہے۔ جس کے چار ادوار ظہور، عروج، زوال اور احیاء ہیں۔ موجودہ دور احیائے اسلام کا ہے۔ جس وقت خلافت عثمانیہ قبل اسلام کے قبائلی، علاقائی، نسلی اور لسانی تعصبات کے باعث تقسیم ہو رہی تھی، اس وقت ہندوستان میں قومی، ملی یکجہتی کے تحت تحریک خلافت چل رہی تھی۔ تحریک خلافت کا ملی ثمر نظریاتی پاکستان کا قیام ہے۔ جو انگریز سرکار اور بت پرست ہندو عوام کی مرضی اور پالیسی کے خلاف وجود میں آیا۔ اسی طرح نظریاتی پاکستان کا افغان جہاد کی سرپرستی کرنا اور جوہری طاقت بننا عالمی اتحادی ممالک کے خلاف اعلان جنگ کے مترادف ہے۔ افغان سرزمین مزاحمتی جہاد اور مقابلے کا مرکز ہے۔ اتحادی ممالک کو عالم اسلام میں سازشوں اور حملوں کے باوجود شدید عسکری مزاحمت کا سامنا ہے۔ اتحادی ممالک کو افغانستان، لبنان، عراق اور فلسطین وغیرہ میں فوجی شکست نے انھیں باؤلا اور دیوانہ کر دیا ہے اور انھوں نے
شاتم
یورپ، امریکہ اور افغانستان وغیرہ میں قرآن اور صاحب قرآن کی توہین کو معمول بنا دیا ہے۔ غیر اتحادی ممالک نے سلمان تاثیر، سلمان رشدی اور تسلیمہ نسرین جیسے گستاخان رسول کی سرپرستی کر رکھی ہے۔ قرآن جلانے اور صاحب قرآن کے خاکے بنائے اور اڑائے جاتے ہیں۔ تاریخ اسلام میں قرآن اور صاحب قرآن کی توہین کی سزا موت ہے مگر آج مسلمانوں کی بے بسی اور مجبوری جلسے جلوس اور مظاہرے میں ڈھل گئی ہے۔ ممتاز قادری اور عامر عبد الرحمٰن چیمہ بہت تھوڑے ہیں البتہ ڈاکٹر مختار عالم کی کتاب ”شاتم“ نے نسیم حجازی کی یاد تازہ کردی۔
شاتم مغربی خاکہ ساز کے عبرتناک انجام کی سچی روداد ہے۔ مصنف نے شاتم کی ذہنی ونفسیاتی کیفیات کو خوبصورتی سے قلمبند کیا ہے۔ مغربی اور صہیونی و صلیبی سازشوں کو بے نقاب کیا۔ نیز جابجا تاریخ اسلام کے واقعات اور قرآن و حدیث کی تعلیمات کو اُجاگر کیا ہے۔
مسلمان دنیا کی سب سے زیادہ روادار، ملنسار اور پاکباز قوم ہے۔ اسلام کی بنیادی تعلیم انصاف انسانی مساوات اور مواخات کی ہے کیونکہ قرآن نے تمام انسانوں کو حضرت آدم علیہ السلام کی اولاد قرار دیا ہے۔ نیز مسلمانوں کا رب تمام جہانوں یعنی دنیاؤں کا خالق، مالک، قادر اور رازق ہے جبکہ مسلمانوں کے نبی تمام جہانوں کے لیے رحمت اور راہنما بنا کر بھیجے گئے ہیں۔ لہٰذا مسلمانوں کے اللہ اور رسول ﷺ کی رحمت اور ہدایت مسلمانوں تک محدود نہیں بلکہ لامحدود ہے۔ قرآن وسنت کی تعلیمات کے مطابق اولاد آدم مسلم اور غیر مسلم اقوام میں منقسم ہے جبکہ امت مسلمہ کو بہترین امت اور تمام غیر مسلم اقوام کو ایک علیحدہ اور
شاتم
جدا گانہ امت قرار دیا ہے۔ اسلام تبلیغی مذہب ہے اور تبلیغ کے لیے قرآن وسنت پر مبنی بہترین عمل کو خشت اوّل گردانا جاتا ہے۔ لہٰذا اسلام کے بہترین وارث مسلمان سے زیادہ قرآن وسنت کے رہنما اصول ہیں۔ جن کو اپنانے میں کامیابی اور انکار میں ناکامی ہے۔ قرآن نے اولاد آدم کو تین طبقات میں تقسیم کیا ہے۔ پہلا طبقہ اصحاب الیمین دائیں بازو والے Rightist اور دوسرا طبقہ اصحاب الشمال بائیں بازو والے Leftist اور تیسرا طبقہ مقربون کا ہے جو خلوص نیت کے باعث قرآن وسنت کی عملی تفسیر ہیں۔ اسلام کی تبلیغ و توسیع میں مقربون کا اہم ترین کردار ہے۔ کیونکہ ان کی تعلیم و تبلیغ ربّ العالمین اور رحمۃ للعالمین کی تعلیمات کا نچوڑ ہیں اور یہی مقربون اولیاء اللہ اور عرف عام میں صوفیاء کرام کہلاتے ہیں۔
مسلمانوں کی تاریخ غیر مسلموں کے لیے رواداری اور ملنساری سے بھری پڑی ہے۔ ایران و روم کے عالمی حکمرانوں نے اسلام اور مسلمانوں کے خلاف بغض اور عناد کے باعث نوزائیدہ اسلامی ریاست کو ختم کرنے کے لیے حملے کیے اور شکست کھائی جس کے باعث ایرانی اور رومی استعمار کا خاتمہ ہوا اور اس طرح ایشیا اور یورپ کی کئی مظلوم اور محکوم اقوام کو قیصر و کسریٰ کے بے رحم اور غیر انسانی نظام حکومت سے نجات ملی۔
اسلام رنگ، نسل، زبان، علاقہ، قبیلے، کلچر اور زمین یعنی دھرتی ماتا کا پابند نہیں۔ اسلام جہاں گیا، وہیں کا ہو رہا۔ اسی لیے اسلام کو پردیسی بلکہ ہر دیسی کہا جاتا ہے۔ خلفاء راشدین، اموی اور عباسی خلفاء آدھی دنیا سے زیادہ رقبے پر
شاتم حکمران رہے۔ ان کی سلطنت میں غیر مسلم رعایا کی اکثریت تھی۔ جن کو معمولی مالی تعاون کے عوض جانی، مالی، مذہبی، سماجی، معاشی بلکہ بنیادی انسانی حقوق کا تحفظ میسر تھا۔ ان کے حقوق اور ریاستی فرائض مساوی تھے اور ان کے حقوق کے ضمن میں مسلمان حکمرانوں کی ذمہ داری دوگنی تھی۔ مسلمان رعایا پر قرآن و سنت کا نفاذ تھا اور غیر مسلم اقوام اپنے مذہبی قوانین کے تحت آزادانہ اور جداگانہ زندگی گزارنے کا حق رکھتے تھے۔ ان کے آزاد اور جداگانہ تشخص اور تحفظ کی ذمہ داری مسلمان حکمرانوں کی تھی اور اسی اضافی سرکاری ذمہ داری کے باعث غیر مسلم رعایا ذمی کہلاتی تھی۔ مسلمان حکمرانوں اور رعایا کی قرآن وسنت پر مبنی روادار پالیسی کا ثبوت یہ ہے کہ مسلمان کم و بیش ہزار سال ہندوستان کے حکمران رہنے کے باوجود دارالحکومت دہلی میں تاحال اقلیت ہیں۔ سومنات کا مندر محفوظ ہے مگر ہندو راج کے ۵۰ سال میں بابری مسجد منہدم کر دی گئی۔ یہی کیفیت اندلس کی ہے یہاں مسلمان حکمران اور رعایا نابود ہو گئے مگر غیر مسلم عیسائی اور یہودی کر وفر کے ساتھ باقی رہے۔ مشرقی یورپ کم و بیش ۵۰۰ سال ترکی کے عثمانی خلفاء کے ماتحت رہا۔ جبکہ آج مشرقی یورپ میں ایک بھی عثمانی مسجد موجود نہیں مگر مذکورہ علاقوں میں ہزار سال پرانے گرجا گھر موجود ہیں۔ اندلس اور ہندوستان میں مسلمان آج بھی اقلیت ہیں۔ بوسنیا، گجرات اور اندلس کی مسلم نسل کشی تاریخ عالم کا تاریک باب ہے، مذکورہ علاقوں میں مسلمانوں کو زبردستی عیسائی اور ہندو بنانے کی حکمت عملی کارفرما ہے۔ تاریخ اسلام میں غیر مسلم عوام کی نسل کشی اور جبری مسلمان بنانے کا ایک بھی واقعہ نہیں۔ مسلمانوں کی مجموعی پالیسی انتقام کے بجائے رواداری، نرمی
شاتم
اور فراخدلی کی ہے اور یہی پالیسی کامیاب اور بامراد ہے جب اتحادی ممالک نے افغانستان پر حملہ کیا کہ مجاہد طالبان حکومت نے امریکی و یورپی قیدی مرد اور خواتین اللہ کی راہ میں رہا کر دیے اور کہا کہ مذکورہ قیدیوں کے ممالک سے ہماری کھلی جنگ ہے اور غم و غصے کے باعث ہم شاید قیدیوں کے ساتھ انصاف نہ کر سکیں۔ مذکورہ قیدیوں نے رہائی کے بعد اسلام قبول کیا اور اپنے ممالک میں اسلام کے موثر مبلغ بن گئے۔ اتحادی ممالک کی قرآن اور صاحب قرآن کے خاکہ بازی کا جواب مظاہروں کے علاوہ ”شاتم“ جیسی مدلل اور مسکت کتاب ہے جو مسلمانوں کی ذہن سازی کے ساتھ ساتھ مغرب کے گھناؤنے کلچر کی بھرپور عکاسی کرتی ہے۔ یہ کتاب مسلم اور غیر مسلم کی زندگی کا بہترین موازنہ پیش کرتی ہے۔ ڈاکٹر مختار عالم کی کتاب شاتم بارش کا پہلا قطرہ ہے۔ اس نہج پر مزید کام کرنے کی ضرورت ہے۔
گنبد آبگینہ رنگ تیرے وجود میں حباب
☆☆............☆☆
شاتم
شاتم
ایک غیر انسانی ماحول میں پلنے والے ایسے بچے کا افسانہ حیات کیا ہو سکتا ہے جو بچپن ہی سے غیر ضروری قوت برداشت پیدا کرتے کرتے اچانک ایک ایسا طرز زندگی اختیار کر بیٹھتا ہے جو سراسر معاشرے کے دیے ہوئے ردّ عمل پر مبنی ہوتا ہے۔ وہی ردّعمل جو اس معاشرے میں والدین سے اولاد کو وراثت میں ملتا چلا آتا ہے۔
جارج کی ماں ایک بہت پڑھی لکھی خاتون تھی لیکن اس کی وجہ شہرت فلموں کے سکرپٹ اور کمرشل ناول بنے۔
یہ عورت جنسی بے راہروی کے شکار، ایک نام نہاد مہذب معاشرے (Sex Free Country) میں ایک ایسی ہستی تھی، جس کے لیے مرد اور عورت کی تفریق صرف دو جسموں یا جنسوں کے تضاد کے سوا کچھ نہیں۔
جس کے لئے اپنی ہر ہوس کا پورا کرنا ہر وقت ممکن تھا۔۔۔۔ اور درست بھی۔
شاتم
چھوٹے جارج کے بارے میں غالباً اس کی ماں کو بھی پتہ نہ تھا کہ اس کا باپ کون ہے شاید اسے اس کی ضرورت بھی نہ تھی۔ جارج کی پیدائش کے وقت ہسپتال سے ملنے والے فارم میں ولدیت کا خانہ موجود نہیں تھا۔
اس معاشرے میں یہ بات کسی عورت کے لیے باعث شرمندگی نہیں ہوتی۔ لہٰذا اس کو جارج کی ماں نے بھی اپنی آمدنی کا ایک ذریعہ بنا لیا تھا۔
”دراصل تم ہی اس کے باپ ہو، کم از کم آج ایسٹر پر اسے نئے تحفے تو دلا دو۔“ اس نے اپنے ایک آشنا سے کہا۔
یہی فقرہ جارج کے ذہنی انتشار کا باعث بنا تھا جو اس کی ماں مختلف آشناؤں سے بولتی اور اس طرح ملنے والی رقم ذاتی عیاشی کے لیے رکھ لیتی اور جارج کے حصے میں آتا صرف احساسِ محرومی۔
وہ ہر روز چھپ چھپ کر اپنی والدہ کو حیا سے گریز کے تقاضے پورے کرتے ہوئے دیکھتا اور جب اسے تخلیے کے لیے اشارہ کیا جاتا تو اس کے ذہن میں ایک ہلچل سی مچ جاتی۔ شروع شروع میں اسے بہت غصہ بھی آتا مگر مغربی سماجی ضابطے کے مطابق اسے اس کی عادت ڈالنا تھی۔ لہٰذا کچھ ہی عرصے میں یہ غصہ صرف کڑھنے تک محدود ہو گیا۔ اب جارج کی توجہ گھر میں موجود بہت سی بے ہودہ کتابوں پر مرکوز ہونے لگی اور اسی شوق نے اسے لائبریریوں سے روشناس کرایا۔
بے ہودہ لٹریچر کی چوری اس کا اوّلین مشغلہ بن گیا، ایک دن جب اسے کتابوں کی دکان سے مار کر نکالا گیا تو بلاوجہ دیر تک سڑک کے کنارے فٹ پاتھ پر بیٹھا رہا اور پھر بکھرے بالوں والے اس شخص سے متاثر ہوا جو آدھی رات تک
شاتم
بانسری بجا کر بھیک میں ملنے والے سکے جمع کرتا اور پھر بقیہ رات کسی ایسے ”مرد“ کے ساتھ گزار دیتا جہاں اسے شراب میسر آنے کے علاوہ صبح چند ڈالر کی آمدنی بھی ہو جاتی۔
جارج نے جب اس ہم جنس پرست کو اپنا تعارف اپنی ماں کے حوالے سے کروایا تو وہ چونک اٹھا۔
”اے لڑکے!! تم اتنی عظیم ماں کے بیٹے ہو؟ لیکن میں سوچتا ہوں بھلا تمہارے باپ کا نام کیا ہو سکتا ہے؟“ اُس نے سوالیہ نظروں سے جارج کو دیکھا۔
”یہ تو شاید میری ماں کو بھی معلوم نہیں“ جارج نے خیالی انداز میں جواب دیا۔ چلو چھوڑو۔ اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔“
پہلی بار جارج کو اس شخص کی مصاحبت میں ذہنی ہم آہنگی اور سکون کا احساس ہوا.......
”کیا میں تم سے موسیقی سیکھ سکتا ہوں؟“ جارج نے اس شخص سے روابط بڑھانے کی کوشش کی۔
”ارے کیوں نہیں؟“ ہم جنس پرست موسیقار نے گرم جوشی سے کہا ”تم جیسے چند لڑکے مجھے اور مل جائیں تو جلد ہی میں اپنا ایک گروپ بنا سکتا ہوں اور پھر ایک کلب Music & Sex یہ میری دیرینہ خواہش ہے....... جنس سے بھر پور موسیقی۔“
جارج کو یہ خیال پسند آیا، جس کا اظہار اس نے روایتی طریقہ سے ہاتھ پر ہاتھ مار کر کیا:
شاتم
”بس تو پھر آج سے ہی اپنا کام شروع کرتے ہیں......“
حیرت انگیز بات یہ ہوئی کہ 10 سالہ جارج کو اس سے ہاتھ ملاتے ہوئے پہلی بار ایک عجیب سی کراہت کا احساس ہوا کیونکہ ابھی اس کا ذہن حقیقی پراگندگی سے آشنا نہیں ہوا تھا یہ محض آغاز تھا۔
لیکن ...... چند ہی دنوں میں یہ احساس جاتا رہا اور وہ ہم جنس پرستی کی دلدل میں دھنستا چلا گیا۔
”کیا تم مجھے اپنی ماں سے ملواؤ گے؟ یقین کرو میں اس کے لیے بالکل بے ضرر ہوں“ موسیقار نے ایک روز جارج کو آنکھ مار کر کہا۔
”کیا مضائقہ ہے“ جارج نے کہا ”تم اسے کیا نقصان پہنچا سکتے ہو؟ نقصان تو تمہارا ہوسکتا ہے بلکہ مجھے یقین ہے کہ تم اپنی دن بھر کی کمائی سے بھی ہاتھ دھو بیٹھو گے۔“
دونوں مل کر دیر تک ہنستے رہے۔ اسی طرح دونوں کی دوستی گہری ہوتی چلی گئی۔
ایک روز موسیقار کسی تکلیف میں مبتلا تھا۔ جارج کے دریافت کرنے پر وہ ٹال گیا، لیکن ہر ممکن علاج کے باوجود مرض بڑھتا ہی چلا گیا۔
اس کی معاشی حالت بھی بہت خراب ہوچکی تھی۔ مجبوراً جارج اسے ایک خیراتی ہسپتال میں لے گیا جہاں جا کر پتہ چلا کہ موسیقار ایڈز کا شکار ہوچکا ہے۔
”کون ہے تمھیں اس عذاب میں مبتلا کرنے والا؟ مجھے اس کا نام بتاؤ؟“ جارج کے دل میں حیرت انگیز انتقامی جذبات پیدا ہونے لگے۔
شاتم
جارج کی کرید جاری رہی، لیکن موسیقار بوجوہ اس مجرم کا نام بتانے سے گریز کرتا رہا، جس نے اسے یہ مہلک روگ عطا کیا تھا۔
آخر ایک روز مفلس و قلاش موسیقار نے اس راز سے پردہ اٹھا دیا، اس کی وجہ غالباً یہ تھی کہ موسیقار کو اپنا انجام صاف دکھائی دینے لگا تھا۔ اور دم آخر اس نے تاسف بھرے لہجے میں اس شخص کا نام بتایا جسے سنتے ہی جارج کے پاؤں تلے سے زمین نکل گئی۔
وہ نام عزت مآب پادری ”جوزف“ تھا۔
”کیا؟؟؟“
ہاں ”پادری جوزف“
نہیں یہ نہیں ہوسکتا۔ میں...... میں اس کا جینا حرام کردوں گا۔“
جارج کا حیرت، دکھ اور غصے سے دم گھٹنے لگا۔ کسی کو معلوم نہ ہوا اور یہ لمحہ جارج کی کائنات بدل گیا۔
آخر کار موسیقار اپنے منطقی انجام کو پہنچ گیا اور اس کی زندگی کے چراغ کی لو مدہم ہوتے ہوتے دم توڑ گئی۔
یہ انجام اگرچہ غیر متوقع نہیں تھا تاہم جارج اپنے پسندیدہ شخص کو سسک سسک کر دم توڑتے دیکھ کر بے حد رنجیدہ ہوا۔
موسیقار کی المناک موت نے جارج کے کچے ذہن میں ہلچل مچادی اور اس نے اپنے دکھ کا اظہار ایک ایسا حیرت انگیز نغمہ تخلیق کر کے کیا جسے سن کر اس کی شہرت یافتہ ماں حیرت کے سمندر میں ڈوب گئی۔
شاتم
”کیا تم نے اس کی موسیقی بھی خود ترتیب دی ہے؟“ ماں نے حیرت سے پوچھا۔
ہاں! جارج کا یہ جواب سنتے ہی ماں نے سنجیدگی سے کہا:
”تمھیں کل ہی میرے ساتھ اسٹوڈیو چلنا ہوگا، میں تمھیں اس کے مالک سے ملواؤں گی، جلد ہی تم اس انڈسٹری کا ایک بڑا نام بننے والے ہو، البتہ اس کے لیے مجھے اپنے سارے تعلقات بروئے کار لانے ہوں گے۔
”لیکن ماں مجھے ابھی کالج جانا ہے“ جارج نے ملتجیانہ لہجے میں کہا۔
”بیوقوف! وہ بھی ہوتا رہے گا پہلے تمھیں انڈسٹری کو سر کرنا ہے، اس میں مضبوطی سے قدم جمانے ہیں۔ میں ہمیشہ جوان نہیں رہوں گی اور اپنی چمک دمک سے مردوں کو متاثر نہیں کرسکوں گی۔
بالآخر یہ بات جارج کی سمجھ میں آگئی۔
☆☆...........☆☆
پہلی بار اسٹوڈیو میں اپنی ماں کو اس گندے ماحول میں اہم کردار ادا کرتے دیکھ کر جارج کے چہرہ پر ایک شیطانی مسکراہٹ رقص کرنے لگی۔
یہی شب و روز تھے، یہی دیوار و در اور یہی ماحول تھا جہاں جارج نے جوانی کی ایک ایسی دہلیز پر قدم رکھا جہاں محبت کی پاکیزگی شیطانیت کے قانون میں دائمی موت کی سزا پاتی ہے۔
☆☆...........☆☆
درختوں سے گھرے گرجا کی بلند و بالا عمارت سے باہر نکل کر فادر فرنینڈس
شاتم علی الصبح ہی سیڑھیوں پر آبیٹھتا، اسے اپنے اردگرد اٹھکھیلیاں کرتی چڑیوں کو دانہ کھلانا بھلا لگتا تھا۔ پھر جب گرجے کی گھنٹیوں کی آواز سے چڑیاں اڑ جاتیں تو فادر فرنینڈس کی آنکھیں اس راستے پر ٹک جاتیں، جہاں سے کبھی کبھار چند بوڑھے سیر کرتے ہوئے چرچ کی طرف بھی آ نکلتے تھے۔ فادر فرنینڈس انہیں ہمیشہ بہت خوش دلی سے ملتا۔
ان بوڑھے مرد وخواتین کے علاوہ فادر کو کبھی کبھار چرچ کی سیڑھیوں پر ایک اور تحفہ بھی ملتا، کوئی نومولود بچہ، جسے فادر فرنینڈس محبت سے لا کر چرچ کی نن کے حوالے کرتا اور اس کے بارے میں بڑے شفقت بھرے لہجے میں دعا کرتا۔ ایسے بچوں کے ساتھ اکثر ماں کا ایک اعترافی خط بھی ہوتا جسے لکھ کر اس معاشرے کی عورت اپنے آپ کو تمام گناہوں سے آزاد سمجھ لیتی۔
☆☆............☆☆
آج خلاف معمول فادر فرنینڈس رات کے آخری پہر مقدس مریم کے مجسمے کے سامنے آ کھڑا تھا، نجانے کیوں وہ آج مامتا کے ایسے گہرے جذبات کو اپنے اندر جاگتے ہوئے محسوس کر رہا تھا وہ پوری زمین پر محبت کی فصل اگانے کے لیے کوئی بھی قربانی دینے کے لیے تیار تھا۔ اسے مقدس مریم کے چہرے پر ایک مسکراہٹ بکھرتی ہوئی نظر آنے لگی، وہ محویت کے عالم میں تھا جب اسے ایک بچے کے رونے کی آواز نے چونکا دیا۔
سیڑھیوں پر ایک نومولود بچی کی ٹوکری میں اسے جو خط ملا وہ عام روش سے ہٹ کر تھا۔ گرجے کی ایک بڑی شمع کے نیچے رکھ کر فادر فرنینڈس نے اسے بار بار
شاتم پڑھا، یہ خط اس بچی کی ماں اور باپ ک پیداوار نہ تھی بلکہ معاشرے کی غلاظتوں میں بچی کو نیک بنانے کی التجا کر رہے تھے انہوں نے بچی کا نام ”نینسی“ تجو سے بچی کی روحانی تربیت کرنے کی ذم فادر فرنینڈس نے ایک نظر مقدس م وہی مسکراہٹ محسوس ہوئی، (دکھائی دی اسی وقت کسی تاخیر کے بغیر فادر فر انداز میں گرجے کی گھنٹی بجانے لگا جس جب نن نے آ کر نینسی کو گود میں تھی کیونکہ آج گھنٹی کی آواز سے چڑیو فادر فرنینڈس نے بہت خلوص او کی خصوصی تربیت کا وعدہ لیا۔
☆☆............☆☆
یہ اسی وعدے کا ثمر تھا کہ نینسی ا کمال علم وعمل کی ایک زندہ و پاکیزہ اس کی سوچ ہر وقت مقدس مریم جو اس کے عقیدے کی رو سے ایک نینسی کو چرچ کی مصروفیات
شاتم
پڑھا، یہ خط اس بچی کی ماں اور باپ کی طرف سے تحریر کیا گیا تھا، بچی کسی گناہ کی پیداوار نہ تھی بلکہ معاشرے کی غلاظتوں سے تنگ آئے ہوئے والدین اس خط میں بچی کو نیک بنانے کی التجا کر رہے تھے۔
انہوں نے بچی کا نام ”نینسی“ تحریر کیا تھا اور فادر فرنینڈس سے خصوصی توجہ سے بچی کی روحانی تربیت کرنے کی درخواست کی تھی۔
فادر فرنینڈس نے ایک نظر مقدس مریم پر ڈالی، تو اس ماں کے چہرے پر بھی وہی مسکراہٹ محسوس ہوئی، (دکھائی دی)
اسی وقت کسی تاخیر کے بغیر فادر فرنینڈس نے بچی کو گود میں اٹھا لیا اور والہانہ انداز میں گرجے کی گھنٹی بجانے لگا۔
جب نن نے آ کر نینسی کو گود میں لیا تو اسے بھی آج رُت بدلی بدلی لگ رہی تھی کیونکہ آج گھنٹی کی آواز سے چڑیاں بیدار ہو کر اڑنے کی بجائے چہچہا رہی تھی۔
فادر فرنینڈس نے بہت خصوصی دعا کے ساتھ وہ خط نن کو دیا اور اس سے نینسی کی خصوصی تربیت کا وعدہ لیا۔
☆...............☆
یہ اسی وعدے کا ثمر تھا کہ نینسی نے جب بلوغت کی حدود میں قدم رکھا تو وہ کمال علم و عمل کی ایک زندہ و پاکیزہ مثال تھی۔
اس کی سوچ ہر وقت مقدس مریم کے کردار کا طواف کرتی رہتی تھی، ایسا کردار جو اس کے عقیدے کی رو سے ایک خدا کو، خدا کے بیٹے کو جنم دے سکتا ہے۔
نینسی کو چرچ کی مصروفیات میں سے جو وقت ملتا وہ اس کی کتب بینی کے
شاتم
شوق کی نذر ہوتا تھا۔ تھوڑے سے پیسوں کی بچت بھی اسے بازار میں کتابوں کی دوکان تک لے آتی۔
وہ ہر مذہب کے بارے میں جاننا چاہتی تھی۔ وہ مشکل میں تھی۔ اس ذہنی کشمکش کے باوجود اُسے ہر مذہب کے مثبت رویے پرکشش لگتے تھے۔
وہ شاید چرچ میں اپنے ہم مرتبہ لوگوں میں سب سے کم عمر تھی۔
کاش مجھے پتہ چل جائے کہ میرے والدین کون ہیں شاید وہ میرے ذہن کی گرہوں کو کھول دیں۔ لیکن پھر جلد ہی وہ اپنی سوچ پر قابو پا کر مقدس ماں کی پناہ لے لیتی۔
نینسی اپنے شوق کی تسکین کے لیے کتابوں کی ایک دوکان میں داخل ہوتی ہے لیکن اس بات سے بے خبر کہ ایک شخص خاصے فاصلے سے اس کا تعاقب کر رہا ہے۔ نینسی کے چہرے پر روحانی تقدس کا ہالہ جارج کو حیرت میں مبتلا کر دیتا ہے۔ اُس کی سمجھ میں نہیں آتا کہ یہ پاگل کر دینے والا حسن و جمال اسے کیوں اپنی طرف کھینچ رہا ہے۔
☆☆.............☆☆
”ذرا وہ کتاب دینا“ دوکان میں نینسی نے مذاہب عالم کے شیلف پر ایک کتاب کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا۔
”کون سی؟ حضرت عیسیٰ والی؟“ دوکان دار نے سرسری لہجے میں پوچھا۔
”نہیں جناب وہ محمد (دی ہولی پرافٹ) والی“
”میں دراصل اس عظیم ہستی کی زندگی کے بارے میں جاننا چاہتی ہوں۔
شاتم
آخر مائیکل ایچ ہارٹ نے اپنی کتاب (دی ہنڈرڈ The 100) میں انھیں دنیا کے سو بہترین افراد میں سب سے اوّل کیوں قرار دیا ہے؟“ ”عجیب لڑکی ہے، لگتا ہے اس کو پوپ کی دادی بننا ہے۔“ بوڑھا دوکان دار بڑبڑاتے ہوئے کتاب نکالنے لگا۔
☆☆............☆☆
35 سالہ جارج کو دوکان دار کا یہ فقرہ بہت دلچسپ لگا، اس کا منطقی دماغ جاذب نظر نن کے بارے میں نفسیاتی تجزیہ کرنے میں مصروف ہو گیا۔ ”بے وقوف لڑکی ...... میں تمھیں تمہارے خول سے باہر نکال لوں گا تا کہ تم جان سکو کہ تم جیسی خوبصورت حسینہ کا مقام ایسی روکھی پھیکی زندگی نہیں“ یہی سوچتے ہوئے جارج اُس کے پیچھے چل پڑا۔ صرف یہ دیکھنے کے لیے کہ یہ لڑکی کس چرچ سے تعلق رکھتی ہے۔ وہ مختلف منصوبے سوچتا رہا۔ جب منزل تک پہنچا تو ایک درخت کے پیچھے چھپ کر اسے چرچ میں جاتے دیکھنے لگا۔ ایک نن نے نینسی کو آواز دی۔ جارج نے زیر لب نام دہرایا ”نینسی“ اس چرچ کو دیکھ کر اس کی خوشی کی انتہا نہ رہی۔ اسے معلوم تھا کہ اُس کے دوست کا قاتل جوزف بھی اسی چرچ میں موجود ہے۔ اُس کے ذہن نے شاید ایک لمحے میں بہت سے نتیجہ خیز فیصلے کر لیے تھے وہ فوراً ایک قریبی بار کی طرف چل دیا۔ وہ آج حاصل ہونے والی لذت کو منحوس ایڈز زدہ پادری کے تصور سے پراگندہ نہیں کرنا چاہتا تھا۔
اس رات نیند جارج کی آنکھوں سے کوسوں دور تھی۔ معصوم نن کا چاند چہرہ چشم تصور میں جگمگا رہا تھا آج تک وہ صرف لڑکیوں کے جسم کے بارے میں سوچا
شاتم
کرتا تھا لیکن نجانے آج کیوں اسے اس معصوم نن میں ایک عجیب روحانی کشش محسوس ہو رہی تھی۔
اُس نے حسب عادت شراب کے جام میں سکون تلاش کرنے کی کوشش کی۔ اسی کوشش کے دوران اس نے زیر لب کہا۔
”کل تک یقیناً میں تمہارے ہاتھ کا بوسہ لے سکوں گا“ اُسے اپنی صلاحیتوں پر مکمل اعتماد تھا۔
اور پھر ......؟ لیکن آج اُس کا تصور اُس کی تمام تر شیطانی جرأتوں کا ساتھ نہیں دے رہا تھا۔
”یہ مجھے کیا ہو رہا ہے کیا میں کمزور ہو گیا ہوں؟“ جارج نے دل میں سوچا۔
آخر اس نے بوتل کو منہ لگایا، ایک میگزین اُٹھایا، کچھ ورق پلٹ کر سر کو ایک جھٹکا دیا۔ پھر کچھ سوچ کر فون کی جانب بڑھا۔
ایک ہی کال پر ریڈ لائٹ ایریا کی سب سے خوبصورت حسینہ اس کے بستر پر تھی۔ رات بھر ہم آغوشیوں کا لطف لینے کے بعد علی الصبح وہ ہڑبڑا کر اٹھا۔ خواب میں نن نے اُسے ایک زناٹے دار تھپڑ رسید کیا تھا۔
☆☆.............☆☆
آج اُس کا رخ گرجا کی طرف تھا لیکن عبادت کے لیے نہیں بلکہ آنجہانی موسیقار کے بتائے ہوئے اُس ایڈز زدہ پادری جوزف سے کچھ کام نکلوانے کا خیال اُس کے چہرے پر شیطانی مسکراہٹ بکھیرے ہوئے تھا۔
وہ سیدھا پادری کے حجرے کی کھڑکی پر آ کر رک گیا اُسے یقین تھا کہ وہ نن
شاتم
کے سلسلے میں پادری کو آلہ کار بنالے
”کیا تم اعتراف کے لیے آئے حسب معمول کوئی اعتراف کرنے وال
”میں اعتراف نہیں کرنا چاہتا بلک
”میں آج اپنا نہیں، تمہارا اعتراف جارج کے اس فقرے نے پادری سے دیکھتے ہوئے اس نے بارعب اندا
”لڑکے تمہیں معلوم ہے تم کہاں
”ہاں ایک ایسے عزت دار پادری کی وجہ سے میرا موسیقار دوست ایڈ بیٹھا ہے۔“ جارج نے تپتے ہوئے کہ پادری کی آنکھوں میں خوف و کر لیا۔
”میں ابلاغ کی دنیا کا ایک ج بھی حاصل ہے۔“
”اس سے پیشتر کہ میں کوئی ا پیچھے والے کھنڈر میں مل لینا چاہیے، وہیں میرے دوست کی قبر بہت محفوظ ہوگا۔“
شاتم
کے سلسلے میں پادری کو آلہ کار بنالے گا۔
’’کیا تم اعتراف کے لیے کچھ کہنا چاہتے ہو؟‘‘ پادری نے آنے والے کو حسب معمول کوئی اعتراف کرنے والا سمجھتے ہوئے کہا۔
’’میں اعتراف نہیں کرنا چاہتا بلکہ، آج تمہارا اعتراف سننا چاہتا ہوں۔‘‘
’’میں آج اپنا نہیں، تمہارا اعتراف سننے آیا ہوں۔ جوزف‘‘
جارج کے اس فقرے نے پادری کو حیران کر دیا، کھڑکی کھول کر جارج کو غور سے دیکھتے ہوئے اس نے بارعب انداز میں کہا:
’’لڑکے تمھیں معلوم ہے تم کہاں کھڑے ہو؟‘‘
’’ہاں ایک ایسے عزت دار پادری کے سامنے جو ایڈز کا مریض ہے اور جس کی وجہ سے میرا موسیقار دوست اسی مرض میں مبتلا ہو کر اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھا ہے۔‘‘ جارج نے تپتے ہوئے لہجے میں کہا۔
پادری کی آنکھوں میں خوف کے آثار دیکھ کر جارج نے اپنا لہجہ ذرا نرم کر لیا۔
’’میں ابلاغ کی دنیا کا ایک طاقتور فرد ہوں اور مجھے اظہار رائے کی آزادی بھی حاصل ہے۔‘‘
’’اس سے پیشتر کہ میں کوئی غلط قدم اٹھاؤں، آپ کو مجھ سے قبرستان کے پیچھے والے کھنڈر میں مل لینا چاہیے۔
وہیں میرے دوست کی قبر بھی ہے مجھے امید ہے کہ ہماری گفتگو سن کر وہ بہت محظوظ ہوگا۔‘‘
شاتم
”کیا تمھیں دولت درکار ہے۔“ پادری نے اپنے جذبات پر قابو پاتے ہوئے پوچھا۔
”نہیں ہرگز نہیں ...... بلکہ میں تو تمھیں کچھ رقم دینے آیا ہوں، اور یہ لو ایڈوانس۔“
اور اس نے ڈالرز سے بھرا ہوا ایک لفافہ پادری کے حجرے میں پھینک دیا۔
”دوپہر ٹھیک بارہ بجے اور ہاں یاد رہے مجھے انتظار کرنے کی عادت نہیں۔“ جارج سفاکانہ انداز میں غرایا۔
پادری کے دل کی دھڑکن اُس کے تیز قدموں کی چاپ سے ہم آہنگ ہونے لگی۔
☆☆..........☆☆
نینسی جوں جوں کتاب پڑھتی جا رہی تھی اس کے دل کی دھڑکن بے ترتیب ہو رہی تھی اور آنکھیں بھیگتی جا رہی تھیں۔
کہاں وہ ذاتِ گرامی ﷺ اور کہاں ان کی امت پر 9/11 کی دہشت گردی کا الزام...........
پہلے تو اُسے لگا جیسے اس کے اور مسلمانوں کے غم سانجھے ہیں۔
وہ سوچنے لگی ”کیا ہماری طرح مسلمانوں میں بھی اپنے دین سے دوری اور بے راہ روی بڑھتی چلی جا رہی ہے؟
اُف میرے خدا اس میں انبیاء کا کیا قصور، اس میں ان کے لائے احکامات کا کیا قصور، وہ احکامات تو مالک کائنات نے نازل فرمائے تھے۔“
شاتم
اس نے قرآن مجید میں فرمایا ہے: ”تم کہو، ہم اللہ پر ایمان لائے اور اس پر بھی جو ہماری طرف نازل کیا گیا اور جو ابراہیم، اسمعیل، اسحق، یعقوب اور ان کی اولاد کی طرف نازل کیا گیا اور جو موسیٰ اور عیسیٰ کو دیا گیا، ہم ان کے درمیان تفریق نہیں کرتے اور ہم اسی کے فرمانبردار ہیں۔ پھر اگر وہ (یہود ونصاریٰ) اس (دین) پر ایمان لے آئیں جس پر تم ایمان لائے ہو تو وہ یقیناً ہدایت پا جائیں گے ۔
(البقرۃ: 136، 137)
اب اس کا کم وبیش سارا وقت اسی نوعیت کی کتابیں پڑھنے میں صرف ہونے لگا۔ (نبی کریم ﷺ کی حقانیت، رحمت، خلق اور محبت کے واقعات)
☆☆.............☆☆
لائبریری کے کمپیوٹر سیکشن میں فلم ”فارن ہائیٹ 9/11“ دیکھ کر اس ذہن میں نئے موضوعات در آئے۔
”کیا یہ سارا واقعہ ایک ڈھونگ تھا، آخر اس کے محرکات کیا ہیں اور اس میں کون کون سے خفیہ ہاتھ کارفرما ہیں؟“
ایک روز وہ فادر فرنینڈس کے آگے رو دی کیونکہ وہی اس کا سب کچھ تھا۔
”میری بیٹی میرے دل کے نور! انسانیت کے بارے میں تمہارے جذبات پر مجھے فخر ہے یہی خداوند یسوع مسیح کی اصل تعلیم ہے۔
اپنے ان ہی آنسوؤں سے انسانیت کی کھیتی کو سیراب کرتی رہنا تمہارا خلوص ہی سب سے بڑا اثر ہتھیار ہے۔
لیکن میری بیٹی! ایک بات ہمیشہ یاد رکھنا، ابلیس کو یہ کبھی گوارا نہ ہوگا، وہ
شاتم
بدبخت ہمیشہ تمہارے اردگرد موجود رہے گا۔ اس کی پہچان کرنا سیکھو۔ اس کے آگے ہارنے سے جان دینا کہیں بہتر ہوتا ہے یہی یسوع مسیح کی سنت ہے۔ خداوند تمہیں ایسی صلاحیت عطا فرمائے کہ تم اچھے اور برے میں امتیاز کر سکو۔“
اس روز نینسی نے اپنی الماری میں حضرت عیسیٰ اور حضرت محمد ﷺ کی کتابوں کو اکٹھے رکھا تو اس کی پلکیں بھیگنے لگیں اور اس کا چہرہ نورانی مسکراہٹ سے جگمگا اٹھا۔
☆☆............☆☆
قبرستان میں پرانے کھنڈر کے پاس موسیقار کی قبر پر پادری جارج کو نہایت درویشانہ لباس میں قبر کے سرہانے ساز بجاتے ہوئے دیکھ رہا تھا جارج اس کے ساتھ اتنے احترام سے پیش آیا کہ پادری حیرت زدہ رہ گیا۔
آتے ہی جارج نے اسے نوٹوں سے بھرا تھیلا پیش کیا۔ پادری ابھی نوٹوں کی تعداد کا اندازہ بھی نہ کر پایا تھا کہ اُس نے جارج کو اپنے سامنے گھٹنوں کے بل گڑگڑاتے دیکھا۔
”او میرے مہربان باپ! مجھ پر کرم کر۔ میں اعتراف کرنا چاہتا ہوں۔ یہاں جب موت ہر جانب نظر آتی ہے میں اپنی دعا قبول کروانا چاہتا ہوں۔ (میں اپنی دعا کی قبولیت چاہتا ہوں۔)
مگر خدا سے نہیں، اے مقدس فادر ...... آپ سے ...... (اس فقرے پر پہنچ کر اس کا ڈرامائی لہجہ دھیما اور معنی خیز ہوگیا۔)
شاتم
پادری نے جارج کو کندھوں سے پکڑ ”میرے بیٹے تم کس اذیت میں م رکھا ہے، مجھے بتاؤ۔“
جارج کے ہونٹ پادری کے کانوں کے انداز میں صرف ایک لفظ کہا ”نینسی“ پاد
”نینسی؟؟؟“ پادری ورطہ حیرت میں
”صرف ایک رات کے لیے ..... ب قربت درکار ہے۔“ جارج نے دھیمے مگر پر
پادری کا دل تو دھک سے رہ گیا پھر اس کی آنکھیں تک مسکرانے لگیں۔ اب وہ
جارج اسے اپنے ہی قبیلے کا فرد دکھ بھری اور اپنا سر مثبت انداز میں ہلا دیا۔ نین
”تمہاری خواہش ضرور پوری ہوگی۔
جوزف کے منہ سے یہ سننا تھا کہ جو کا اظہار کرتے ہوئے پادری کو گود میں اٹھ
ادھر پادری جارج کا جسمانی لمس م اختیار اس کے ہاتھوں کی انگلیاں جارج ک فعل سے جارج چونک اٹھا اور اس نے سے کہا:
شاتم
پادری نے جارج کو کندھوں سے پکڑ کر اوپر اٹھایا اور شفیق لہجے میں بولا: ”میرے بیٹے تم کس اذیت میں مبتلا ہو، کس خواہش نے تمھیں بدحال کر رکھا ہے، مجھے بتاؤ۔“
جارج کے ہونٹ پادری کے کانوں کے قریب ہوگئے اور اُس نے سرگوشی کے انداز میں صرف ایک لفظ کہا ”نینسی“
”نینسی؟؟؟“ پادری ورطۂ حیرت میں ڈوب گیا۔
”صرف ایک رات کے لیے ...... مجھے صرف ایک رات کے لیے اس کی قربت درکار ہے۔“ جارج نے دھیمے مگر پرعزم لہجے میں کہا۔
پادری کا دل تو دھک سے رہ گیا پھر جب جارج کا مفہوم اس پر آشکار ہوا تو اس کی آنکھیں تک مسکرانے لگیں۔ اب وہ مکمل شیطان کی گرفت میں آ چکا تھا۔
جارج اسے اپنے ہی قبیلے کا فرد دکھائی دینے لگا تب اس نے ٹھنڈی سانس بھری اور اپنا سر مثبت انداز میں ہلا دیا۔
”تمہاری خواہش ضرور پوری ہوگی۔“
جوزف کے منہ سے یہ سننا تھا کہ جارج خوشی سے دیوانہ ہو گیا اور اس دیوانگی کا اظہار کرتے ہوئے پادری کو گود میں اٹھا کر ناچنے لگا۔
ادھر پادری جارج کا جسمانی لمس پاتے ہی اپنی اصلیت پر اتر آیا اور بے اختیار اس کے ہاتھوں کی انگلیاں جارج کی گردن سے کھیلنے لگیں۔ اس بھیانک فعل سے جارج چونک اٹھا اور اس نے پادری کو زمین پر رکھتے ہوئے سنجیدگی سے کہا:
شاتم
”مجھے نینسی کی جسمانی قربت درکار ہے موت نہیں۔“
شہر خاموشاں میں جب دونوں شیطان شراب کے نشے میں دھت ہورہے تھے تو چاروں اطراف سے ان پر چھائے ہوئے ابلیس نے بھی اپنا جام ان کی کامیابیوں کے نام کیا۔
☆............☆
Vatican City میں پوپ کے ہاتھ میں ایک رسالہ تھا جسے پڑھ کر اس کے چہرے پر پریشانی کے آثار نمایاں ہورہے تھے۔ اس میں واضح طور پر اسلام کی بڑھتی ہوئی مقبولیت کا تذکرہ تھا اور یہ بتایا گیا تھا کہ کیتھولک عیسائیوں کی تعداد مسلمانوں کے مقابلے میں مسلسل کم ہورہی ہے اور اس سلسلے میں باقاعدہ اعدادوشمار دیے گئے تھے۔
(اعدادوشمار اور ریفرنس)
”خدارا ان حکمرانوں کو صحیح راستہ بتاؤ کیوں یہ مسلم ممالک پر جنگ مسلط کر کے ہماری جڑیں کاٹنے پر تلے ہوئے ہیں؟ کیا ہمارا مذہب تشدد کا راستہ بتاتا ہے؟
”مسلمانوں کو دہشت گرد قرار دینے والے کیوں پوری انسانیت کو اپنی دہشت گردی کا شکار کر کے اپنا مذاق اڑا رہے ہیں؟“ پوپ نے اپنی ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا۔
”مقدس پوپ! آپ جانتے ہیں وقت نے ہمیں صرف گرجا گھروں تک محدود کر دیا ہے۔
لوگ اب چرچ کو اعتراف گناہ اور Healing کا ایک دفتر سمجھتے ہیں،
شاتم
مذہب کی پابندی اور خدا کی رضا کے حصول کے بجائے صرف پیسے اور آسائش کے حصول ہی کو سب کچھ سمجھ لیا گیا ہے۔
ایسے میں یہودی سرمایہ داروں کے شیطانی ہتھکنڈے مذہب کی آڑ میں ذہنوں کو جنگوں کی طرف مائل کر رہے ہیں۔
”ہم جانتے ہیں یہ سب یسوع مسیح کی تعلیمات کے منافی ہے مگر ہم کر ہی کیا سکتے ہیں؟“ بڑے پادری نے اپنی بے بسی کا اعتراف کرتے ہوئے کہا۔
”دعا کرو...... گڑگڑاؤ....... لوگوں کے دلوں میں خدا کی محبت جگاؤ...... یہ دنیا امن کا گہوارہ بنے گی۔“
کسی کو گالی مت دو...... لوگوں کو بھی روکو......
اُف اے مقدس خدا۔ اے یسوع! ہم تیری قربانی رائیگاں کر رہے ہیں۔ انسانیت کو تیری تعلیمات کی ضرورت ہے۔“
پوپ کے آنسو بہہ رہے تھے جب نینسی کو چھوٹے پادری کا پیغام ملا۔
☆☆……………☆☆
نینسی کو یہ پیغام عجیب سا محسوس ہوا۔ بہرحال وہ اُسی وقت تیار ہو کر پادری کے حجرے کے باہر پہنچ گئی۔
”فادر آپ نے بلاوا بھیجا تھا؟“ نینسی نے مصنوعی طور پر کھانستے ہوئے پادری کو متوجہ کیا۔
”آؤ میری بیٹی۔ خدا تمہاری حفاظت کرے۔ آج مجھے تمہیں ایک بہت اہم ذمہ داری سونپنی ہے۔“
شاتم
پادری نے شفقت بھرے لہجے میں نینسی کو خوش آمدید کہا۔
”حکم فرمائیے فادر۔ میں کیا خدمت کر سکتی ہوں؟“ نینسی نے حیرت زدہ لہجے میں کہا۔
”بیٹی یہ ایک گہرا راز ہے جس میں خداوند مقدس کے حکم سے میں تمہیں شریک کر رہا ہوں۔
مجھے خوشی ہے کہ مقدس خدا نے تمہیں اس کام کے لیے منتخب کیا ہے“ پادری کی پراسرار گفتگو نے نینسی کی حیرت میں مزید اضافہ کر دیا۔
پادری نے اپنی گفتگو جاری رکھتے ہوئے کہا: ”ایک عرصے سے میں کسی لاوارث بچے کی پرورش کر رہا ہوں مگر اس کی تشہیر نہیں چاہتا۔
میں نے اس بچے کو تمام علوم میں طاق کیا ہے، وہ سخت ریاضتوں سے گزرا ہے۔
اس کا مسکن قبرستان والا کھنڈر ہے، خداوند نے اسے اس دور میں اپنے مذہب کے فروغ کے لیے منتخب فرمایا ہے۔
یہ بات میں تیس راتوں سے مسلسل خواب میں دیکھ رہا ہوں۔ کیا یہ بشارت صحیح ہے؟ چونکہ میں تمہارے مطالعے اور علم کا معترف ہوں۔
اسی لیے میں چاہتا ہوں کہ تم ہمارے اس راز میں شریک بنو، تاکہ وقت آنے پر تم میری گواہی دے سکو۔
نینسی حیرت میں ڈوبی ہوئی آواز سے بولی۔
”لیکن فادر میری بھلا کیا ضرورت ہے، میں کیا کر سکتی ہوں؟“
شاتم
”تمہیں خود اس کا امتحان لینا ہوگا، اس سے گفتگو کرو، مجھے تمہاری رائے چاہیے۔
لیکن میری بیٹی۔ خدائی فیصلے بہت راز داری مانگتے ہیں۔ تمھیں اس کام میں مکمل راز داری رکھنا ہوگی۔
اگر تمہیں وہاں جاتے ہوئے ڈر محسوس ہو تو میں خود تمہارے ساتھ جانے کو تیار ہوں۔“ پادری نے پیشرفت جاری رکھی۔
”ہاں! یہ زیادہ بہتر ہے۔“ نینسی نے نیم رضامندی ظاہر کی۔
ٹھیک ہے۔ آج شام ہم اس کے پاس جا کر اس کے مذہبی تجربے کو جاننے کی کوشش کریں گے۔
میں اسے جلد از جلد چرچ کی روحانی دنیا میں اعلیٰ مراتب پر فائز دیکھنا چاہتا ہوں۔“ پادری نینسی کو گفتگو کے جال میں جکڑ کر راہِ فرار سے محروم کر دینا چاہتا تھا۔
نینسی حیران تھی، وہ فادر فرنینڈس سے اس معاملے میں بات کرنا چاہتی تھی۔ وہ ان کے کمرے کی جانب بڑھی، لیکن راز داری کے وعدے نے اس کے قدم روک لیے۔
یہ عجیب و غریب صورت حال تھی۔ وہ اس بارے میں ابھی تذبذب میں مبتلا تھی کہ پیغام لانے والی نن اُس کے پاس پہنچ گئی اور بالکل سپاٹ لہجے میں مخاطب ہوئی۔
چلو میں بھی تمہارے ساتھ چل رہی ہوں، کیونکہ فادر جوزف کا خیال ہے کہ تم خوف کا شکار ہو۔“
شاتم
”مجھے اکیلے جانا عجیب لگ رہا تھا، خیر اگر تم میرے ساتھ ہو تو شاید مجھے کچھ بہتر محسوس ہو۔“ نینسی نے اپنے سر کا رومال ٹھیک کرتے ہوئے کہا۔
☆☆............☆☆
قبرستان کے کھنڈر میں درویش کا حلیہ بنائے جارج موم بتی کی روشنی میں باہر دیکھ رہا تھا۔ اسے تین سائے اپنی طرف آتے ہوئے نظر آئے تو خوشی سے اس کے منہ سے آواز نکلی۔
”میں بڑا باصلاحیت ہوں اور ہر کام کرنے کی قدرت رکھتا ہوں۔“
وہ فوراً گھٹنوں کے بل عبادت کے انداز میں بیٹھ گیا اور منہ آسمان کی طرف کر کے مناجات میں مشغول ہوگیا۔
فادر کے اشارے پر ٹن وہیں رک گئی اور وہ خود نینسی کو لے کر آگے بڑھا۔
”جارج! میرے بیٹے ...... اٹھو وقت آ گیا ہے۔“ پادری نے جارج کو اپنی جانب متوجہ کیا۔
جارج نے مڑ کر دونوں کو دیکھا اور بزرگانہ لہجے میں لب کشا ہوا۔
”نینسی!! جو دنیا کی عورتوں کے لیے رحمت ہے، جس پر فرشتے فخر کرتے ہیں۔ جس کا دل اتنا خوبصورت ہے کہ انسانیت کے دل خوشیوں سے جھوم اٹھیں گے۔
ہم وہ کام کریں گے جو لازوال تاریخ رقم کرے گا۔“ (جس کی تاریخ لازوال ہوگی۔)
پادری جارج کی شیطانیت پر مسکرانے لگا اور اس نے کہا:
شاتم
”آج ہم تمہارے منہ سے تمہاری حکمت عملی سننے کے لیے آئے ہیں میں جانتا ہوں کہ الفاظ تمہارے ہوں گے۔
مگر ان کا القا خداوند یسوع مسیح کی طرف سے ہوگا۔ سب سے پہلے تو یہ بتاؤ کہ شیطان مکمل شکست سے کیسے ہمکنار ہوگا؟“
”شیطان ہے ہی کہاں، جہاں ہر سمت محبت کی پاکیزگی ہو وہاں شیطان کا بدبودار وجود کہاں پنپ سکتا ہے۔“ ہمیں ہر جگہ محبت کو عام کرنا ہے۔ محبت ہی ہر انقلاب کا آغاز ہے۔“ جارج نے جواب دیا۔
”مگر اس زمانے میں اس کا آغاز کیسے ہوگا؟“ نینسی نے پہلی بار لب کھولے۔
”ویرانے سے“ جارج معنی خیز لہجے میں بولا۔
”اگر تم آرام سے بیٹھ جاؤ تو میں تمھیں اس کی مثال دے سکتا ہوں۔“
نینسی نے پادری کی طرف دیکھا۔ پادری نے ہاں میں سر ہلایا تو نینسی قبر کی چار دیواری پر بیٹھ گئی۔
”کیا تمہیں میرے ہاتھوں میں محبت محسوس ہوتی ہے؟“ جارج نے دونوں ہاتھ نینسی کے سامنے کھول دیئے۔
”نہیں!“ نینسی پریشان تھی۔
”کیسے ہو سکتی ہے جب تک میں تمھیں چھو کر ان سے محبت کا احساس نہ دلواؤں؟“ یہ کہتے ہوئے جارج نے پادری کو اشارہ کیا اور وہ مڑ کر واپس چل پڑا۔
نینسی ایک دم خوفزدہ ہو گئی۔ اس نے فادر کو پکارا۔
”ڈرو نہیں بیٹی! یہ تجربہ تمہارے لیے بے حد ضروری ہے“ پادری مسکرا کر بولا۔
شاتم
نینسی کو پہلی بار جارج میں مکمل شیطان نظر آنے لگا۔ وہ گڑگڑانے لگی۔ ”مجھے چھوڑنا مت...... تمہیں مقدس خداوند کا واسطہ۔“
لیکن جارج نے مضبوطی سے اس کا بازو پکڑ لیا اور درندگی کے انداز میں بولا:
”تم نے دیکھا نہیں کہ تمہارا مقدس باپ بھی میرے اشارے پر ناچتا ہے۔ بھلا تم مجھے اپنے ارادوں کو عملی جامہ پہنانے سے کیسے روک سکتی ہو؟“
جارج نے آخر کار اپنی اصلیت کا اظہار کر ہی دیا۔
اب نینسی تمام حالات کو مکمل طور پر سمجھ چکی تھی اور صورت حال کے انکشاف نے اسے بہت خوفزدہ کر دیا۔ وہ کمزور فاختہ کی طرح لرزنے لگی، لیکن چونکہ اس کی فطری بنیاد نیکی پر استوار ہوئی تھی، لہٰذا اسی مثبت سوچ نے اسے سہارا دیا۔
نینسی نے جارج کا ہاتھ گرفت میں لے کر اس کی پشت پر اپنے دانت پیوست کر دیئے۔
جارج کے پورے بازو میں درد کی شدید لہر اُٹھی اور اس کی گرفت ڈھیلی پڑ گئی۔ جس سے فائدہ اٹھاتے ہوئے نینسی بھاگ نکلی لیکن جارج نے اس کا تعاقب کیا۔ نینسی قبروں کو پھلانگتی ہوئی باہر سڑک پر آ گئی۔ جارج بدستور اس کا پیچھا کر رہا تھا۔
رفتہ رفتہ اُن کا درمیانی فاصلہ کم ہونے لگا، پھر ایک معجزہ رونما ہوا۔
سامنے سے سڑک پر ایک نورانی چہرے والا ضعیف شخص آتا دکھائی دیا جس کے ساتھ ایک تنومند نوجوان بھی تھا۔
نینسی ان رحمت کے فرشتوں کو دیکھ کر پوری قوت سے چلائی ”میری مدد کرو
شاتم
......اے خدا کے بندو! خدا تمھیں اس کا ایک بھیڑیا میری عصمت کی چادر ک
یہ سنتے ہی باریش بوڑھے نے نیف اس پر پستول تانتے ہوئے کہا:
”بیوقوف بڈھے! اس بے جامہ اخل
”بوڑھے باریش شخص نے بے خ عجیب انداز میں کہا: ”وہ ہاتھ ٹوٹ جا
جارج اور بوڑھے شخص کا مکالمہ کی طرح اچھل کر جارج کی کلائی پر پ
جارج کا پستول چھوٹ کر دور جا گ
جونہی جارج نہتا ہوا اس کی سلام کے جذبے کو اہم ترین گردانتے ہوئ
نوجوان نے اس کا تعاقب کر ن
”مصطفیٰ بیٹا! رک جاؤ، شیطا
یہ سنتے ہی مصطفیٰ فوراً رک گیا او کو دیکھا اور آگے بڑھ کر اسے اپن
یہ رات نینسی نے اس مسلما سناتے ہوئے گزار دی۔
☆☆☆
شاتم
......اے خدا کے بندو! خدا تمھیں اس کا اجر دے گا۔ ایک بھیڑیا میری عصمت کی چادر کو داغ دار بنانا چاہتا ہے۔
یہ سنتے ہی باریش بوڑھے نے نینسی کو اپنی اوٹ میں لے لیا، مگر جارج
شاتم
مصطفیٰ اور اس کا باپ نینسی کو تسلیاں دیتے رہے لیکن جس انداز میں دونوں اس کے دکھوں میں شریک ہوئے اس نے نینسی کے دل کا بند دروازہ کھول دیا۔
”مجھے چرچ واپس نہیں جانا“ صبح نینسی بوڑھے آدمی کی منت کرنے لگی۔
بوڑھے نے نینسی کو سمجھاتے ہوئے کہا:
”نا بیٹا۔ تم چرچ جا کر فادر فرنینڈس سے بات کرو۔ وہ ایک فرشتہ صفت انسان ہے۔
میں اسے اچھی طرح جانتا ہوں میں خود تمہارے ساتھ چلوں گا۔ اگر تم کہو تو میں پولیس کو اطلاع کیے دیتا ہوں۔“
”نہیں بابا جی! اس طرح تو پورا چرچ بدنام ہو جائے گا“ نینسی نے انکار کر دیا۔
یہ سن کر بوڑھے شخص کے چہرے پر دنیا جہاں کا دکھ سمٹ آیا اور اس نے اپنا لرزتا ہاتھ نینسی کے سر پر رکھتے ہوئے کہا:
”سچ ہے بیٹی، عبادت گاہیں تو گمراہی کے اندھیرے میں روشنی کے چراغ ہیں۔ قرآن میں اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿إِنَّ الْمَسَاجِدَ لِلّٰهِ﴾ (بیشک مسجدیں اللہ کے لیے ہیں ۔) یہ خالق کائنات سے رابطہ بحال کرنے کے وسیلے ہیں۔ ہمارے نبی محمد ﷺ نے کسی مذہب یا نبی کو برا کہنے سے منع فرما کر کتنی بڑی سچائی کا اظہار کیا ہے۔“
تھوڑی دیر توقف کے بعد بوڑھا لب کشا ہوا: ”اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ تمام انبیاء سلامتی کے راستے پر تھے۔“
شاتم
”سلامتی کا راستہ۔ آپ کا مطلب ہے۔ ...... اسلام؟“
”ہاں میری بیٹی! یہ الفاظ تم نے ادا نہیں کیے بلکہ تمہارے منہ سے نکلوائے گئے ہیں“ یہ کہہ کر بوڑھے نے آسمان کی طرف نگاہ اٹھائی اور زیر لب کہا:
اے رب ذوالجلال! تو واقعی قادر مطلق ہے تو دلوں کو راہ راست پر لاتا ہے اور راہوں میں بھٹکتے مسافروں کو اس کا احساس تک نہیں ہونے دیتا۔ تیری اس بندی نے کس برق رفتاری سے سچائی کو دیکھ لیا ہے۔ پھر وہ نینسی سے مخاطب ہوا:
اسلام تو سراسر سلامتی ہے جیسا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
مسلم، یعنی اسلام قبول کرنے والا وہ ہے جس کے ہاتھ اور زبان سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں اور آپ ﷺ نے دین اسلام کے بارے میں فرمایا: دین تو خیر خواہی کا نام ہے۔ یوں اپنے مسلمان بھائی بہنوں کی سلامتی چاہنا اور خیر خواہی کرنا عین اسلام ہے۔
یہ رات نینسی نے مسلسل کشمکش میں گزاری، مطلق سچائی اُسے اپنی طرف کھینچ رہی تھی لیکن آباؤ اجداد کا متعین کردہ طریقہ اس کا راستہ روکے ہوئے تھا۔
☆☆............☆☆
نینسی جب بوجھل قدموں سے واپس چرچ پہنچی تو وہاں کی ہر چیز بدلی ہوئی تھی حتی کہ اس کے قریبی دوست، احباب کی نظروں سے بھی نفرت کا اظہار صاف دکھائی دے رہا تھا۔
وہ اپنے کمرے میں جا رہی تھی جب صفائی والی نے اسے اندر جانے سے روک دیا اور ایک کاغذ اس کے ہاتھ میں تھما دیا، یہ ایک نوٹس تھا چرچ انتظامیہ کی
شاتم
طرف سے۔
اس کے الفاظ پڑھ کر نینسی نے اپنے آنسو روک لیے اور نہایت ہمت سے فادر فرنینڈس کے کمرے میں داخل ہوئی۔
جہاں چرچ کی انتظامیہ کے تمام ذمہ دار پہلے ہی موجود تھے۔
یہاں پہلے نینسی سے سچ بولنے کا حلف لیا گیا۔
”کیا رات تم مصطفیٰ کے گھر میں تھی؟“ فادر فرنینڈس نے تفتیش کا آغاز کرتے ہوئے پوچھا۔
”جی ہاں!“ نینسی نے جواب دیا۔
”کیا تم اس مسلمان گھرانے میں کسی کو پسند کرنے لگی ہو؟ دوسرا سوال
نینسی: سب کو!
چرچ میں کئی سرگوشیاں ابھریں۔
فادر فرنینڈس نے بھرائی ہوئی آواز میں کہا: ”کیا تم اس بارے میں مزید کچھ کہنا چاہو گی؟“
نینسی نے انکار میں سر ہلایا۔
چند لمحے کی خاموشی کے بعد فادر فرنینڈس نے نینسی کو چرچ سے نکل جانے کے لیے صرف دو گھنٹے کی مہلت دی۔
لیکن نینسی دو گھنٹے کیا دو منٹ میں واپس مصطفیٰ کے گھر کی طرف چل دی تھی۔ چرچ اب اس کے نزدیک شیطان صفت لوگوں کی آماجگاہ بن چکا تھا۔
☆☆..............☆☆
شاتم
مصطفیٰ کے والد نے جب نماز کے بعد سلام پھیرا تو نینسی کو اپنے قریب بیٹھے دیکھا۔
اس سے پہلے کہ وہ کچھ کہتے ان کی سماعت سے نینسی کی معصوم آواز اس طرح ٹکرائی کہ ان کا رواں رواں اللہ کی حمد کرنے لگا۔
"میں اقرار کرتی ہوں کہ اللہ صرف ایک ہے اور حضرت محمد ﷺ اس کے پیغمبر اور رسول ہیں۔
ان سے بڑھ کر محترم کوئی نہیں جو انہوں نے کیا اور کہا سب سچ ہے اور ہر مسلمان کے لیے واجب الاطاعت ہے۔"
جب مصطفیٰ اور اس کے والد اللہ کی تسبیح کرتے ہوئے رونے لگے تو نینسی کو سارے جہاں کے رشتے سچے لگنے لگے۔
وہ صبح واقعی نورانی تھی، نینسی کے گرد و پیش کے سارے رنگ زیادہ شوخ ہو گئے تھے، ہوائیں زیادہ معطر ہو گئیں۔
اور اسے ساری کائنات اپنے ساتھ مل کر رب کائنات کی حمد و ثناء کرتی محسوس ہوئی۔
نینسی کا اسلامی نام "مریم" تجویز کیا گیا۔
"بابا، میری کیوں نہیں؟ نینسی نے معصوم لہجے میں کہا۔
مصطفیٰ کے والد: "بیٹا قرآن میں اس مقدس ہستی کا نام "مریم" آیا ہے، "میری" نہیں۔
مریم: ٹھیک ہے۔ کیا میں آج آپ دونوں کے ساتھ مسجد میں جا سکتی ہوں؟
شاتم
(نینسی کی تعلیم کا آغاز دین کے بنیادی عقائد جو غیر مسلموں کی Confusion دور کرے۔)
مصطفیٰ کے والد: ”کیوں نہیں؟“
مسجد جاتے ہوئے تینوں کو ایک گاڑی میں جارج کا شیطانی چہرہ نظر آیا۔ لیکن ابھی وہ اس کی موجودگی کو سمجھ بھی نہ پائے تھے کہ تڑاتڑ گولیاں چلنے لگیں اور وہ ان کی بوچھاڑ کی زد میں آگئے۔
بابا نے پہلی گولی کی آواز سنتے ہی نومسلم ”مریم“ کو اپنی اوٹ میں لے کر ”ہونی“ کو روکنے کی کوشش کی مگر بے رحم گولیاں اس کے جسم کو پار کرتے ہوئے مریم کو بھی چاٹ گئیں۔ دونوں کے لاشے گرے تو اس وقت بھی بابا جی کا جسم مریم کی ڈھال بنا ہوا تھا۔
مصطفیٰ زخمی چیتے کی طرح چھلانگ لگا کر اپنے شفیق باپ سے لپٹ گیا۔ قدرت کو شاید اس کی یہ ادا بہت پسند آگئی اور گولیاں اس کے اوپر سے گزر گئیں گولیاں داغنے والے جنونی آناً فاناً منظر سے غائب ہوگئے۔
پولیس جائے واردات پر پہنچی اور کرید کرید کر مصطفیٰ سے تفتیش کرنے لگی، مگر مصطفیٰ کے اندر تو ایک طوفان کروٹیں لے رہا تھا۔
اس نے اپنی زبان بند رکھی مگر اس کا ذہن برق رفتاری سے کسی منصوبہ بندی میں مصروف تھا۔
دونوں جسم پوسٹمارٹم کے لیے ہسپتال لے جائے گئے اور مصطفیٰ کے قدم گھر کی طرف اٹھ گئے۔
کے بنیادی عقائد جو غیر مسلموں کی Confusion
ی نہیں؟“ کو ایک گاڑی میں جارج کا شیطانی چہرہ نظر آیا۔ موجودگی کو سمجھ بھی نہ پائے تھے کہ تڑاتڑ گولیاں چلنے لگیں آگئے۔ واز سنتے ہی نومسلم ”مریم“ کو اپنی اوٹ میں لے کر ں مگر بے رحم گولیاں اس کے جسم کو پار کرتے ہوئے کے لاشے گرے تو اس وقت بھی باباجی کا جسم مریم
چھلانگ لگا کر اپنے شفیق باپ سے لپٹ گیا۔ ہوا بہت پسند آگئی اور گولیاں اس کے اوپر سے گزر کر آناً فاناً منظر سے غائب ہو گئے۔ پہنچی اور کرید کرید کر مصطفیٰ سے تفتیش کرنے لگی، مگر گھونٹیں لے رہا تھا۔ تھا مگر اس کا ذہن برق رفتاری سے کسی منصوبہ بندی
لیے ہسپتال لے جائے گئے اور مصطفیٰ کے قدم گھر کی
شاتم مصطفیٰ کا خاندان عام لوگوں پر مشتمل نہ تھا۔ اس کے دادا ایک باکمال بزرگ تھے۔ جو پوری دنیا میں ایرانی قالینوں کی تجارت کیا کرتے تھے۔ مصطفیٰ کے والد کاروبار کے لیے ایران سے افغانستان منتقل ہوئے مگر انہی دنوں روس کی عسکری دراندازی سے ان کا کاروبار سخت متاثر ہوا۔ روسی لادینیت کے فروغ کی تحریک اور اس وقت کی سپر پاور سوویت یونین کے نہتے افغانیوں پر مظالم نے ان کے ذہن کو انسانیت کی بقا کے لیے اس شیطانی قوت کے سامنے سینہ سپر کر دیا۔ آخر کار روسی ذلیل و رسوا ہو کر افغانستان سے نکل گئے۔ مصطفیٰ کے والد ایک بہادر شخص تھے جنہوں نے پیغام مصطفوی کو عام کرنے کے لیے اپنی زندگی وقف کر دی تھی۔ ابھی کچھ عرصہ پہلے انہیں یورپ کے اسلامک سنٹرز میں دلچسپی پیدا ہوئی اور وہ اس سرزمین پر محبتوں کے پیغام کے ساتھ وارد ہوئے۔ بہت جلد انہوں نے یہاں کے روحانی حلقوں میں ایک مقام بنا لیا تھا۔ پوری دنیا میں ان کے خاندان کے افراد کے علاوہ ان سے محبت کے رشتے میں پروئے ہوئے افراد کی تعداد ہزاروں سے بھی زائد تھی۔
اب ان دو شہیدوں کی تدفین کے وقت ہر مذہب ونسل کے لوگوں کی موجودگی سے قبرستان کے اندر گہما گہمی تھی، لوگوں کے چہروں پر تناؤ تھا یہ تناؤ دکھ اور غصے کا واضح اظہار تھا۔
پولیس کی ایک بھاری نفری بھی سارے علاقے کو گھیرے ہوئے تھی انہی میں غیرت سے عاری کچھ غدار ایسے بھی تھے جو پل پل کی خبر جارج کو پہنچا رہے تھے۔
☆☆...........☆☆
شاتم
جارج نے اپنی زندگی میں بہت پریشانیاں دیکھی تھیں لیکن آج وہ ایک انجانے خوف میں مبتلا تھا۔
وہ جانتا تھا کہ سب کچھ اس کے پلان کے مطابق زبردست طریقے سے ہوا ہے۔ پھر بھی اس کا دماغ اس کے جسم پر لرزہ طاری کیے ہوئے تھا اس نے نیند کی دو گولیاں لیں اور دیر تک شیشے کے آگے کھڑا رہا۔ پہلی بار اسے شدید تنہائی کا احساس ہو رہا تھا۔
آج وہ خلاف معمول جلد ہی بستر میں گھس گیا۔
دوا اور شراب کا اثر تھوڑی دیر کے لیے اسے نیند میں لے گیا۔
(کتوں کا ایک غول اس کے اردگرد منڈلا رہا تھا۔ وہ بھاگنے لگا لیکن بھاگنا اس کے لیے دوبھر ہو رہا تھا۔ وہ بمشکل چند گز دور جاسکا اور اس کا جسم تھکن سے چور چور ہو گیا اتنے میں ایک کتے نے اس کی گردن اپنے جبڑوں میں دبوچ لی اور اس کے ساتھ ہی نینسی کے ہنسنے کی واضح آواز سنائی دی۔
جارج ہڑبڑا کر اٹھ بیٹھا اس کا سانس دھونکنی کی طرح چل رہا تھا اس نے گھڑی کی طرف دیکھا رات کا ڈیڑھ بج رہا تھا وہ اس طرح ساری رات نہیں گزار سکتا تھا۔
ٹھیک پندرہ منٹ بعد اس کا رخ نائٹ کلب کی طرف تھا وہ بار میں داخل ہوا تو اسے ایک پرانا واقف کار ڈاکٹر جم مل گیا یہ اس کی ماں کا آشنا تھا۔
”ارے لڑکے! کیسے ہو تم؟ اس عمر میں اکیلے ...... ارے اپنی آنکھوں کو کھولو، دیکھو یہاں ایک سے ایک بڑھ کر حسینہ موجود ہے۔
شاتم
گریٹی! ذرا یہاں آؤ۔ جم نے ایک لڑکی کو بلایا۔ جارج نے گریٹی سے ہاتھ ملانے کے لیے آگے بڑھایا تو اسے نینسی کا چہرہ نظر آیا۔
اور وہ چکرا کر گر گیا۔
ہوش میں آنے پر اس نے کمرے میں چند لوگوں کے ہمراہ ایک ڈاکٹر کو دیکھا۔
شاید یہ زیادہ پریشان ہے یا کام کا زیادہ لوڈ ۔ باقی سب ٹھیک ہے ، فکر کی کوئی بات نہیں۔
”شکریہ ڈاکٹر“ اس ادھیڑ عمر آدمی نے ڈاکٹر کو رخصت کرتے ہوئے کہا۔
میرا تجربہ بتاتا ہے کہ تم کسی عورت سے متعلق خوف کا شکار ہو۔
دیکھو جھوٹ مت بولنا۔ تم جانتے ہو میں ماہر نفسیات ہوں۔
”جی ڈاکٹر جم! میں اچھی طرح جانتا ہوں مگر آپ سے اپنے خوف کا سبب Share نہیں کر سکتا ، یہ بہت ذاتی نوعیت کا معاملہ ہے۔“
”ٹھیک ہے! تمہاری مرضی.....“ جم بولا۔
لیکن میرا مشورہ ہے کہ تم اپنے آپ کو فوراً مصروف کر لو، صبح ہونے والی ہے۔
میرا ڈرائیور تمھیں گھر چھوڑ دے گا یہ ڈاکٹر رچرڈ کا کارڈ ہے، اگر دوا کی ضرورت ہو تو ان سے رجوع کرنا۔
وہ ایک بہترین سائیکاٹرسٹ بھی ہیں، اپنے طور پر نیند آور ادویات ہرگز استعمال نہ کرنا۔
بہت شکریہ ڈاکٹر جم۔ جارج نے الوداعی سلام کرتے ہوئے کہا۔
☆☆............☆☆
شاتم
گھر آ کر جارج نے ہر طرف روشنی کر لی۔ اسے اندھیرے سے وحشت ہو رہی تھی۔
اس نے اسٹوڈیو فون کر کے اپنے شیڈول کا پوچھا تو اسے پتہ چلا کہ آج دن میں اسے کوئی کام نہیں۔ البتہ رات کو وہ مکمل مصروف تھا۔
اچانک اس کے دل میں ایک پرانے دوست کا خیال آیا۔ یہ اس کے موسیقار مرحوم دوست کا جاننے والا تھا۔ جارج نے فون ملایا تو فون اسی نے اٹھایا۔
”ہیلو ولیم! میں جارج بات کر رہا ہوں۔“
ولیم بہت حیران ہوا۔
”یار آج کا دن تمہارے ساتھ گزارنا چاہتا ہوں۔
ولیم نے ایک قہقہہ لگایا: ارے تم اتنے مشہور آدمی، اور کہاں میں ایک غیر معروف حقیر بندۂ ناچیز! بولو کیا کام ہے مجھ سے؟“
جارج: کوئی خاص کام نہیں ہے بس کچھ پرانے دنوں کی یاد آ رہی ہے۔
”اچھا آ جاؤ“ ولیم بولا ”آج تمھیں اپنے اڈے کی سیر کرواتے ہیں۔“
جارج ولیم کے بتائے ہوئے اڈے پر جا پہنچا اور جب اسے پتہ چلا کہ ولیم اس بیہودہ سی جگہ ہم جنس پرستوں کا کلب چلا رہا ہے تو اسے ہرگز حیرت نہ ہوئی۔
”کتنی آمدنی ہو جاتی ہے یہاں سے؟“ جارج نے پوچھا:
کوئی زیادہ نہیں۔ البتہ اپنے استاد کی روح کو تواتر سے ثواب ارسال کرنے کی سعادت حاصل کر رہا ہوں،“ ولیم نے آنکھ ماری۔
اس پر دونوں نے قہقہہ لگایا۔
شاتم
”میں دراصل اپنے آپ کو کسی ایسے کام میں مصروف کرنا چاہتا ہوں جو میرے زندگی کے شب و روز بدل دے۔ اگر تم چاہو تو میں تمہارے اس کام میں ایک بڑی رقم لگا سکتا ہوں۔“ جارج اپنے اصل مدعا کی طرف آگیا۔
”یہ کام بہت منافع بخش ہے اب ہمارے معاشرے کے اکثر مرد عورتوں کی بجائے کم عمر چھوکروں کی فرمائش کرتے ہیں۔ ولیم نے اپنے دوست کی دلچسپی میں اضافہ کرتے ہوئے کہا۔
جارج: ”ہمارے موسیقار استاد کا ایک خواب تھا Music & Sex کلب۔“ کیا یہ کام اعلیٰ سطح پر ہو سکتا ہے؟
”یقیناً! لیکن اس کے لیے رقم درکار ہوگی۔“ ولیم بولا۔
اس کی فکر مت کرو۔ میرے پاس اس کام کے لیے کافی رقم ہے اور ابھی تک میری ماں کے چاہنے والے بھی تو موجود ہیں۔
ان میں سے ہر ایک مجھے اپنا بیٹا سمجھتا ہے“ جارج نے فخریہ ”بے غیرتی“ کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہا اور پھر دونوں نے فلک شگاف قہقہہ لگایا۔
ہاہاہاہاہاہاہاہا.................
☆☆.............☆☆
چند ہی روز میں ایک خوبصورت جھیل کے کنارے دونوں کو اپنے مطلب کی جگہ مل گئی اور کلب کا آغاز زور و شور سے کر دیا گیا۔
اس کلب میں عورت، مرد اور شراب کی ہر ورائٹی نہ صرف جھیل کنارے
شاتم
دستیاب تھی بلکہ باقاعدہ ہوم ڈلیوری سروس بھی موجود تھی۔ جارج کو ملکی وغیر ملکی بڑی بڑی شخصیات کی طرف سے مبارکباد کے فون آرہے تھے۔
جلد ہی اُس خاص کلب کی شہرت دور دور تک پھیل گئی۔
جارج نے یہاں مزید جگہ خرید لی۔ وہ اس جگہ ایک بڑا اسٹوڈیو اور ایک اشاعتی ادارہ بنانے کا ارادہ رکھتا تھا۔
اب وہ ہالی وڈ میں تیار ہونے والی جنسی لذت سے بھر پور فلموں کے سرمایہ کاروں کی طرح سوچنے لگا۔
اس کے ذہن میں برہنگی کی تشہیر کرنے والے رسائل بھی تھے۔
☆☆.............☆☆
اسی شام ولیم نے پرجوش لہجے میں اُسے ایک خوشخبری سنائی۔
”آج یہاں ڈینیئل گولڈ نے ایک ہفتہ کے لیے Hut بک کروایا ہے۔
”کیا ڈینیئل گولڈ ۔ وہ امیر ترین یہودی سرمایہ کار، جسے اپنی دولت کا اندازہ ہی نہیں؟“
ولیم: ہاں! اور وہ خاص تم سے ملنے آرہا ہے۔
جارج: مجھ سے!
”ہاں! اس نے تم سے ملاقات پر اصرار کیا ہے۔“
جارج نے ولیم کو اس کے بھر پور استقبال کی تفصیلات بتائیں اور اُسے بہترین Hut میں بہترین آسائش مہیا کرنے کے احکامات جاری کر دیئے۔
☆☆.............☆☆
شاتم
ہیلی کاپٹر کے اترنے کا منظر اور سیکورٹی کے انتظامات نے ہر شخص کو مرعوب کیا۔ ڈینیئل گولڈ جارج کے ساتھ بڑی گرمجوشی سے ملا۔ Hut میں بیٹھ کر اس نے جارج کے چہرے کو دیکھا۔
”تمہیں معلوم ہے میں یہاں کیوں آیا ہوں؟ ڈینیئل نے گفتگو کا آغاز کرتے ہوئے کہا:
مجھے تمہارا کام، تمہاری فلمیں، تمہاری تحریریں بہت پسند ہیں اور اس سلسلے میں مجھے شکریے کی ضرورت نہیں۔ مجھے تم پر فخر ہے۔
آج تمہاری ماں زندہ ہوتی تو بہت خوش ہوتی کیونکہ صرف وہ ہی اس بات کی گواہ ہے کہ ......
کہ میں تمہارا حقیقی باپ ہوں“ ڈینیئل گولڈ نے انکشاف کیا۔
جارج کو یوں لگا جیسے آج اس نے دنیا فتح کر لی ہو یہ سب اس کی ماں کا کمال تھا۔
وہ ڈینیئل سے لپٹ گیا اور تصور میں اس نے اپنی ماں کو آنکھ ماری۔
"Thanks Mom."
☆☆...............☆☆
اگلے روز دونوں جھیل پر مچھلیاں پکڑ رہے تھے ڈینیئل نے بولنا شروع کیا:
”اب میں بوڑھا ہو چکا ہوں مجھے اپنا جانشین چاہیے مجھے فخر ہے کہ تم نے چھوٹی عمر میں ہی بڑا نام کما لیا ہے۔
لیکن ابھی تمہیں بہت آگے جانا ہے، مجھ سے بھی آگے ......
شاتم
جارج: ”جی پاپا!“
ڈینیئل گولڈ: تمہارا مذہب کے بارے میں کیا خیال ہے؟
جارج: پاپا ۔ کبھی غور نہیں کیا۔
ڈینیئل گولڈ: ”اچھا کیا۔ بلکہ بہت اچھا کام کیا۔
دراصل مذہب ہی ہر برائی کی جڑ ہے، ہر لڑائی اور فتنے کا سبب۔
ہمیں اس فتنہ کو جڑ سے اکھاڑنا ہوگا۔ ورنہ دنیا میں حقیقی امن کبھی قائم نہیں ہوگا اور نہ ہی حقیقی شخصی آزادی مل سکے گی۔“
”ٹھیک کہا پاپا آپ نے“ جارج نے ہاں میں ہاں ملاتے ہوئے کہا۔
ڈینیئل نے گفتگو جاری رکھی۔ ”مجھے دیکھو۔ لوگ مجھے ایک یہودی کہتے ہیں لیکن میں ہرگز مذہب کی طاقت کو نہیں مانتا۔ سب سے بڑی طاقت پیسے میں ہے یہی طاقت تمام مذاہب کا صفایا کر دے گی۔
میرے پاس تمہارے لیے ایک پراجیکٹ ہے اور اس پراجیکٹ کے لیے کروڑوں ڈالر۔ مجھے یقین ہے کہ تم میرے منصوبوں کو آگے بڑھا سکو گے میرے حقیقی جانشین بن کر۔
جارج کو لگا جیسے اس کے سر پر سونے کا تاج رکھ دیا گیا ہو............. اُس کی خوشی دیدنی تھی۔
☆☆............☆☆
رات کے اندھیرے میں بوڑھا ڈینیئل کسی کو فون پر مطلع کر رہا تھا۔
”لڑکا پوری طرح سے قابو میں ہے۔ مجھے اپنی کامیابی پر سو فیصد یقین ہے۔“
شاتم
اسی رات جارج فون پر ولیم کو بتا رہا تھا: ”بوڑھا پوری طرح قابو میں ہے اب ہمیں سرمایہ کاری کے لیے کسی بنک کی ضرورت نہیں پڑے گی۔“
☆☆.............☆☆
آج یہودی ڈینیل گولڈ جارج کے گھر میں مدعو تھا۔ جارج کے کمرے میں گھستے ہی اس نے جو پہلی چیز دیکھی وہ اس کی قد آدم تصویر تھی۔ اس نے جارج کو محبت سے گلے لگا لیا اس موقع پر بھی کئی تصاویر اتاری گئیں۔ ”آج رات میں یہیں گزاروں گا۔ مجھے تمہاری ماں بہت یاد آتی ہے۔ یقیناً اس کی روح بھی خوش ہو گی۔“ ڈینیل نے عندیہ دیا۔ ”یقیناً پاپا“ جارج خوشی سے پھولا نہیں سما رہا تھا۔ ”ویسے بھی مجھے تم سے ایک بڑے پراجیکٹ کے سلسلہ میں بات کرنی ہے یہ ہماری ون ٹو ون میٹنگ ہو گی۔ کھانے کی میز پر۔ اس کے بعد میں تمھیں اپنا قانونی جانشین تسلیم کرنے کا اعلان کروں گا۔“ جارج کے لیے رات کا انتظار قیامت خیز ثابت ہو رہا تھا۔
☆☆.............☆☆
مریم کو مسلمانوں کے قبرستان میں سپرد خاک کیا گیا، مصطفیٰ کے باپ کی قبر بھی اس کے ساتھ تھی۔ آج مصطفیٰ چند نوجوانوں کے ساتھ یہاں موجود تھا، بظاہر وہ یہاں فاتحہ خوانی کے لیے آئے تھے، لیکن ان کے چہرے کوئی اور ہی داستان بیان کر رہے تھے۔
شاتم
وہ جارج تک پہنچنے کا فیصلہ کر چکے تھے۔ مصطفیٰ نے اپنے باپ کی قبر کو مخاطب کرتے ہوئے دشمن سے بھر پور انتقام لینے کا وعدہ کیا۔
اس کے دوست اس کے ساتھ تھے۔
☆☆............☆☆
فادر فرنینڈس کو بھی یہ معاملہ ہضم نہیں ہو رہا تھا۔ چرچ کے بیشتر افراد بھی اس سے نظریں چرا رہے تھے۔
اس نے مصطفیٰ سے ملنے کا فیصلہ کیا اور بغیر اطلاع اس کے گھر پہنچ گیا۔ مگر بڑی کوشش کے باوجود وہ لڑکے سے کچھ اگلوانے میں کامیاب نہیں ہوا۔ اس نے علاقے کے پولیس آفیسر سے بھی بات کی لیکن ہر شخص اس موضوع سے کنی کترا رہا تھا۔
پولیس آفیسر نے فادر کو صبر کرنے اور خاموش رہنے کا مشورہ دیا تو فادر فرنینڈس کا سر شرمندگی سے جھک گیا۔ وہ رات تک خداوند کے سامنے گڑگڑاتا رہا۔
اسے یقین ہو گیا تھا کہ اس سے فیصلے میں جلد بازی ہوئی تھی اور مریم بے قصور تھی اب وہ پچھتاوے کی آگ میں جل رہا تھا۔
☆☆............☆☆
چھوٹے پادری نے جارج کو بتا دیا کہ معاملہ بالکل قابو میں ہے جس سے جارج کی گھبراہٹ میں کسی حد تک کمی واقع ہو گئی تھی۔
”زندگی میں ایسا ہوتا ہی رہتا ہے اب تم جانتے ہو کہ میری وجہ سے کتنے لوگ موت کی آغوش میں جا چکے ہیں۔
شاتم
لیکن ہمیں اپنی ساکھ کے لیے بہت کچھ کرنا پڑتا ہے۔‘‘ پادری نے جارج کو نصیحت کی۔
جارج کا ذہن کچھ اور ہی سوچ رہا تھا۔ اُس نے مسکرا کر پادری کو دیکھا اور بولا: میں ہرگز فکر مند نہیں ہوں بلکہ میرے اندر ایک نئی طاقت نے جنم لیا ہے۔
یہ لو Hut کی چابی، میرے پاس تمہارے لیے بہترین ”مال“ موجود ہے تم بھی چند دن آرام کر لو۔
چند گھنٹوں بعد پادری کی لاش کلب سے برآمد ہوئی تو فادر فرنینڈس نے پولیس آفیسر کو پوسٹ مارٹم کرنے سے روک دیا۔ اس میں چرچ کی بدنامی تھی۔
☆☆...........☆☆
آج رات جارج نے بہترین لباس زیب تن کیا۔ وہ ڈینیل کے ساتھ بیٹھا کھانا کھا رہا تھا۔
ڈینیل نے مسلمانوں کی دہشت گردی ثابت کرنے کے لیے ایک لمبی تقریر کر ڈالی۔ اس نے جنگ یرموک (636ء)، جنگ ملازکرد، ترکی (1071ء) جنگ زلاقہ، اندلس (1086ء) جنگ نکوپولس، بلغاریہ (1388ء) جنگ کسوو (1389ء) اور جنگ موہاکس، ہنگری (1526ء) میں لاکھوں عیسائیوں کی ہلاکت اور اسپین، بحیرہ روم، بلقان، قسطنطنیہ وغیرہ کی اسلامی فتوحات کے واقعات سنا کر جارج کو جوش دلایا کہ کس طرح مسلمان لشکر مسیحی علاقوں پر تاخت و تاراج کرتے رہے ہیں۔ پھر اس نے یورپی صلیبیوں کی وہ داستانیں سنائیں جو ارضِ مقدس فلسطین کو مسلمانوں سے واپس لینے کی صلیبی جنگوں سے وجود میں آئیں۔
شاتم
مسلمانوں کی فتوحات اور صلیبی جنگوں کے یہ قصے اُسے ازبر تھے۔
اُسے خوب یاد تھا کہ کس طرح پیٹر راہب نے گیارہویں صدی عیسوی کے آخری عشرے میں ارض مقدس (فلسطین) کو مسلمانوں کے قبضے سے چھڑانے کے لیے مسیحیوں پر مسلمانوں کے فرضی مظالم کے قصے سنا سنا کر یورپ بھر میں آگ لگا دی تھی اور پھر پوپ اربن کی آشیر باد سے صلیبیوں کے غول کے غول یروشلم کی آزادی کے نام پر شام و فلسطین پر چڑھ دوڑے تھے۔ صلیبیوں نے شام کے شہر معرۃ النعمان پر قبضہ کر کے تین دن قتلِ عام کیا تھا جس کے نتیجے میں ایک لاکھ مسلمان ہلاک ہو گئے تھے۔ محاصرہ انطاکیہ کے دوران صلیبیوں نے ترکوں کی لاشیں کھود نکالی تھیں، اس خیال سے کہ وہ سونا نگل گئے ہوں گے لاشیں چاک کی گئیں اور ٹکڑے ٹکڑے کر کے پکا کر کھا لی گئیں۔ (حروب صلیبیہ، عبدالحلیم شرر)
پھر جون 1099ء میں جب صلیبی لشکر بیت المقدس پر قابض ہوا تو ابن اثیر کے بقول ”مسجد اقصیٰ کے اندر جہاں مسلمانوں نے پناہ لی تھی 70 ہزار آدمیوں کو قتل کیا گیا جن میں بڑے بڑے علماء اور عابد و زاہد شامل تھے۔ بیت المقدس میں ایک ہفتہ قتلِ عام ہوتا رہا اور ایک مسیحی مؤرخ مجاڈ کے بقول مسجد اقصیٰ میں ہزاروں لاشیں انسانی خون کے سمندر میں تیر رہی تھیں اور جو صلیبی مسجد اقصیٰ کے جلو خانے تک گئے ان کے گھوڑے گھٹنوں تک انسانی خون کے دریا میں غرق تھے۔ صلیبی سردار ٹنکرڈ نے 300 مسلمان قیدیوں کی جاں بخشی کی تھی مگر اگلے دن کے شدید تر قتلِ عام میں ان سب کو بھی ہلاک کر دیا گیا اور لاشوں کا یہاں تک قیمہ کیا گیا کہ سر اور پاؤں میں فرق نہیں کیا جا سکتا تھا۔ (حروب صلیبیہ) اس کے
شاتم
برعکس 88 برس بعد جب صلاح الدین ایوبی نے بیت المقدس صلیبیوں سے آزاد کرایا تھا تو معمولی فدیے پر تمام عیسائیوں کو شہر سے نکل جانے دیا تھا۔ لیکن تیسری صلیبی جنگ (1189-92) میں جب شاہ انگلستان رچرڈ فلسطین کے شہر عکہ (Acre) پر قابض ہوا تو اس نے صلاح الدین ایوبی کی طرف سے فدیہ پہنچنے کی شرط پر 2600 مسلمانوں کو امان دی تھی مگر کچھ عرصہ بعد فدیہ بروقت نہ پہنچنے پر اس درندہ صفت بادشاہ نے ان بیکس و مجبور مسلمانوں کو باندھ کر وحشیانہ طریقے سے شہید کر دیا تھا۔ پھر اس نے یہ واقعہ بھی سنایا کہ چھٹی صلیبی جنگ (1220) میں صلیبیوں نے مصری شہر دمیاط پر قبضہ کر کے 70 ہزار محصورین میں سے صرف تین ہزار کی جاں بخشی کی تھی اور باقی سب قتل کر دیے تھے۔ اور ان تین ہزار کی جان بخشی بھی صرف اس شرط پر کی تھی کہ وہ خود گلی کوچوں اور مکانوں کو اپنے عزیز و اقارب کی لاشوں سے صاف کردیں۔ اور آٹھویں صلیبی جنگ میں جب شاہ فرانس لوئی نہم کو گرفتار کر لیا تھا اور پھر شاہ فرانس کو بھاری فدیہ کے عوض رہائی ملی تھی۔ یہی نہیں 1270-71 میں لوئی نہم کی نئی صلیبی مہم تیونس پر اس کے حملے اور وہیں وفات پا جانے کے ساتھ ہی ختم ہو گئی تھی۔ آخر کار مئی 1291 میں مملوک سلطان صلاح الدین خلیل اشرف بن قلاوون نے آخری صلیبی مرکز عکا فتح کرلیا تو یورپ کی ان دو سو سالہ صلیبی جنگوں کا سلسلہ ختم ہو گیا جن کا مقصد بیت المقدس سمیت ارض مقدس فلسطین کو مسلمانوں سے واپس لینا تھا تاہم اگلی صدیوں میں یورپ کا صلیبی جذبہ دنیائے اسلام پر صلیبی تسلط میں ڈھل گیا۔ شاہ اسپین چارلس پنجم نے 1535ء میں جب تیونس کے شہر مہدیہ پر قبضہ کیا تو ایور سلے کے بیان
شاتم
کے مطابق 30 ہزار بے گناہ مسلمان شہید کر دیے اور 10 ہزار غلام بنا کر فروخت کر دیے گئے اور لوگوں کو جبراً عیسائی بنایا گیا۔ اسی زمانے میں اسپین میں مسلمانوں کا نام ونشان مٹانے کے لیے نام نہاد احتسابی عدالتیں Inquisition کے نام پر کام کر رہی تھیں۔ پادریوں کے تحت یہ ”عدالتیں“ ان مسلمانوں کو شکنجوں میں کسنے اور زندہ جلانے کے احکام صادر کرتی تھیں جو اسلام ترک کر کے عیسائیت قبول کرنے پر آمادہ نہیں ہوتے تھے۔ سقوطِ غرناطہ (1492ء) کے بعد اس مسیحی احتسابی مہم میں لاکھوں اندلسی مسلمانوں کو اذیتیں دے دے کر ہلاک کر دیا گیا حتیٰ کہ 1609ء میں اسپین میں ایک بھی مسلمان باقی نہ رہا۔
جارج ڈینیل کی معلومات پر حیران ہو رہا تھا۔
ڈینیل گولڈ ”میرا کام اس جنگ کو ایسے منطقی انجام تک پہنچانا ہے جس کے بعد دونوں قومیں آپس میں لڑنے کے قابل نہ رہیں اسی طرح حقیقی امن قائم ہو سکتا ہے۔“
”مگر ہم یہ کام کیسے کر سکتے ہیں؟“ جارج نے سوال کیا۔
ڈینیل گولڈ: اس کے لیے بلند خیالی کی ضرورت ہے، بلند حوصلہ اور بہت سا پیسہ۔
خیال اور پیسہ تمھیں میں دیئے دیتا ہوں البتہ حوصلہ تمھیں خود پیدا کرنا ہوگا۔ (اس کے ساتھ ہی اُس نے یہودی لابی کی اکانومی، اداروں اور ان جگہوں کے دلفریب نظارے بھی دکھانے شروع کر دیے جن سے جارج کو دنیا ہی میں جنت نظر آنے لگی۔ حقائق؟)
شاتم
جارج: پاپا! میں آپ کی خواہش کی تکمیل کے لیے دل و جان سے تیار ہوں۔
ڈینیئل گولڈ: وعدہ؟
جارج: پکا!
ڈینیئل گولڈ: بس تو آج سے تم میرے جانشین ہو، حقیقی جانشین!
صبح تمھیں تمہاری نئی فلم کا سکرپٹ مل جائے گا۔ یہ سکرپٹ ہمارے بہترین دماغوں نے تیار کیا ہے۔
اس کے لیے جتنی بھی رقم تمھیں درکار ہو تم چند گھنٹوں میں حاصل کر سکو گے۔
مجھے امید ہے کہ تم اس کام میں دیر نہیں لگاؤ گے۔
بلکہ ایک مقدس مذہبی فریضہ سمجھ کر اس کی تکمیل کرو گے۔
☆ ☆............. ☆ ☆
جارج سکرپٹ پڑھ کر اس کے اہم نکات لکھتا جا رہا تھا...... بعض مناظر اسے خوفزدہ کرنے لگے۔
بہر حال چونکہ یہ بہت بڑے بجٹ کا معاملہ تھا لہذا وہ اس موقع کو ہاتھ سے جانے نہیں دینا چاہتا تھا۔
دوپہر کے کھانے پر اس نے ڈینیئل سے پہلا سوال کیا:
”اس فلم سے تمام مسلمان بہت غصہ میں آ جائیں گے ان کے نبی کا معاملہ تو ان کے لیے بہت حساس ہے۔“
تم اس کی فکر نہ کرو، یورپ نے انہیں اپنے ہی ملکوں میں الجھا رکھا ہے پھر اس معاملہ میں تم بھول رہے ہو کہ تم بھی یورپین ہو۔
شاتم
اس طرح یورپ اور مسلمانوں میں نفرت کو فروغ ملے گا اور شاید قتل و غارت بھی بڑھ جائے گی یہی ہمارا مطمح نظر ہے۔ اور اس لڑائی کی آگ کو ہمیں بھڑکانا ہے“ ڈینیل گولڈ بولتے وقت جارج کی آنکھوں میں جھانک رہا تھا۔
”اور اگر کوئی مجھ پر حملے کر دے تو؟“ جارج نے خوف کا اظہار کیا۔
”بے وقوف لڑکے! میری سیکیورٹی فل پروف ہے اور تم میرے بیٹے ...... ہو ...... یہ بات کبھی نہ بھولنا پھر اس فلم کی ریلیز کے ساتھ ہی ہم کسی ایسے ملک میں ہوں گے جہاں چڑیا بھی پر نہیں مار سکتی اور تم وہاں کے عوام کے ہیرو بن چکے ہو گے۔
ویسے بھی ابھی تک چالیس سے زائد آرٹسٹ اس موضوع پر کام کر چکے ہیں۔ اہلِ یورپ کبھی بھی میڈیا کی اتنی بڑی تعداد کو گزند پہنچنے نہیں دیں گے اور ہماری پہنچ اور حکومتی اثر و رسوخ تمہیں دنیا بھر میں معزز بنا دے گا۔“
ڈینیل ہر طرح سے پُر اعتماد تھا۔
”کیا تم ڈر رہے ہو، اس نے جارج سے پوچھا؟
جارج ”ہرگز نہیں پاپا۔ میں آپ کا بیٹا ہوں، آج ہی سے کام شروع کروں گا۔
ڈینیل گولڈ : جاؤ پہلے یہ بیگ کھول کر اپنی تسلی کر لو۔
اور سنو، اپنے ساتھ اچھے اور وفادار دوستوں کا چناؤ کرنا۔
”فکر نہ کریں پاپا“ جارج نے ایک نظر بیگ کی زپ کھول کر دیکھتے ہوئے کہا۔ جو نوٹوں سے بھرا ہوا تھا۔
☆☆.............☆☆
شاتم
سکرپٹ پر اسٹوڈیو میں گرما گرم بحث ہو رہی تھی۔
پیٹر: ”آخر تم نے یہ موضوع چنا ہی کیوں ہے؟
”اس میں جھوٹ کیا ہے؟“ جارج نے جواب دیا۔
”میڈیا آزاد اور سچ بولتے ہوئے ہی اچھا لگتا ہے۔“
لیکن یہ Code of Ethics کے خلاف ہے۔ ایک اور شخص نے سوال کیا۔
جارج: تو کیا تمہاری ٹرپل ایکس فلمیں Code of Ethics کے مطابق ہیں؟
سوال کرنے والا چپ ہو گیا۔
جارج: سب سے بڑی بات یہ ہے کہ یہ فلم پوری دنیا میں اتنی مشہور ہو جائے گی کہ تم ہزار فلمیں بنا کر بھی اتنا نام اور روپیہ نہیں کما سکو گے۔
پھر ذرا سوچو یہ تمہارے ازلی دشمنوں کے خلاف ہے اس سے ان کی کمر ٹوٹ جائے گی اور لوگ عیسائیت کی طرف مائل ہوں گے۔
آج لوگ دھڑا دھڑ مسلمان ہو رہے ہیں۔ ہمیں اپنے مذہب کو بچانا ہے۔ دنیا کو مسلمانوں کا اصل روپ دکھانا ہے۔
پیٹر: ہماری پوری انڈسٹری اس پر کام کر تو رہی ہے۔
جارج: تو ابھی تک ہوا ہی کیا ہے۔ اس کا کوئی نتیجہ؟؟
جارج: یہ فلم تہلکہ مچا دے گی۔ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جائے گا۔ کھل کر بات کرو، مسلمانوں کو حقیر اور غلط ثابت کرو۔
پیٹر: لیکن اس کا بجٹ تم کہاں سے Manage کر رہے ہو؟
شاتم
جارج: اس بات کو چھوڑو۔ سمجھو کہ حکومت ہمارے ساتھ ہے، ہر شخص کو اس کی حیثیت سے دوگنا معاوضہ ملے گا۔
ہرے ..................... ہرے.....................
اس بات پر سب خوش ہوگئے اور کسی نے تجویز پیش کی ’’تو ہوجائے ایک جام اس فلم کی کامیابی کے نام‘‘
☆☆.....................☆☆
ڈینیئل گولڈ جیسی ہستی کا تعارف اور پیسے کی فراوانی۔ پھر اچانک بڑے با اثر حلقوں میں اپنی پذیرائی پر جارج کو ایسا محسوس ہورہا تھا کہ جیسے دنیا کا ہر خزانہ اس کے قدموں میں ہے اور اب اُسے زندگی کے اعلیٰ ترین مقام تک پہنچنے سے کوئی طاقت نہیں روک سکتی۔ مگر رات کی تنہائی میں اس کی ذہنی حالت اس کے بالکل برعکس ہوتی۔ بالخصوص سوتے وقت اس کا بستر کانٹوں کی سیج ثابت ہوتا......
آج رات خواب میں وہ اپنے موسیقار دوست کی قبر پر کھڑا ساز بجا رہا تھا کہ یکا یک قبر کھلی اور اس کے دوست نے اس کی ٹانگوں سے پکڑ کر اپنی قبر میں کھینچنا شروع کردیا۔ جارج نے ساز اس کے سر پر دے مارا مگر اس پر کوئی اثر نہ ہوا۔ جارج کی چیخیں بھی بے اثر تھیں۔
وہ آدھے دھڑ تک قبر میں جا چکا تھا۔
جب اس کی آنکھ کھلی تو اس کی چیخوں کی آواز سن کر ملازم اس کا دروازہ کھٹکھٹا رہے تھے۔
جارج نے لیمپ روشن کیا اس کی سانسوں کا تسلسل اکھڑا اکھڑا سا تھا دل کی
شاتم
دھڑکن اس قدر بے ترتیب تھی کہ اس میں دروازہ کھولنے کی ہمت نہیں ہو رہی تھی پھر ایک ملازم نے روشن دان تک پہنچ کر اندر جھانکا۔
کیا آپ ٹھیک ہیں سر؟
جارج کی خوف سے ایک بار پھر چیخ نکل گئی۔
”سر! یہ میں ہوں۔“
جارج: ہاں ہاں۔ میں ٹھیک ہوں۔“
جارج نے اٹھ کر پانی پیا۔
☆☆............☆☆
آج صبح ولیم نے جارج کو ایک پریشان کن خبر سنائی۔
”ہمارے ہاں سے ایڈز کے مریض رپورٹ ہونے لگے ہیں۔ رات مجھے ایک حکومتی اہلکار کا فون آیا تھا کہ فوراً اس پر کنٹرول کرو۔“
”اس حکومتی اہلکار کو نوٹوں بھرا بریف کیس بھیج دو اور اس کا شکریہ ادا کرنا کہ اس نے ہمیں بروقت اطلاع دی“ جارج نے بے نیازی سے کہا۔
ولیم: اور ایڈز کے مریض؟؟؟
جارج: انہیں سفر آخرت پر روانہ کر دو۔
جارج: ”ہاں۔ اور یاد رہے کوئی بھی موت پادری کی طرح ہمارے ہاں نہ ہو یہ لوگ اپنے گھروں میں ہی مرنے چاہئیں۔
یہ کہتے ہوئے جارج کے چہرے پر ایک شیطانی مسکراہٹ ابھری۔
”آخر ہمیں دنیا کو اس بیماری سے بچانا ہے۔ خدمت خلق کا فریضہ ادا کرنا ہے۔“
شاتم
”ٹھیک ہے باس۔“ ولیم نے ہتھیار ڈالتے ہوئے کہا۔ وہ جانتا تھا کہ جارج سے انکار کرنے کا مطلب اپنی موت کو دعوت دینا ہے۔
☆☆.............☆☆
اسٹوڈیو میں جارج کی مصروفیات حد سے زیادہ بڑھ گئی تھیں اور اپنی ہر تھکن کو وہ شراب کے سہارے مٹا رہا تھا۔
دوسری طرف میڈیا والوں نے اس کی ناک میں دم کر رکھا تھا۔
صحافی: سنا ہے آپ کی فلم مسلمانوں کے پیغمبر ﷺ کے خلاف ہے۔
”یہ تو وقت بتائے گا!“ جارج نے سپاٹ لہجے میں جواب دیا۔
صحافی: آخر آپ یہ سب کچھ کیوں کر رہے ہیں؟
”میں صرف سچ بول رہا ہوں۔ کیوں آپ کو کوئی اعتراض ہے کیا“ جارج غصے میں بولا۔ اور سکیورٹی اہلکار جارج کو گھیرے میں لے کر وہاں سے لے گئے۔
گزشتہ روز ڈینیل گولڈ ”سپیشل چارٹرڈ طیارے“ سے ڈنمارک پہنچا تھا۔ وہاں اس کی مصروفیات بہت زیادہ تھیں وہ سب سے پہلے جارج کے پاس گیا۔ جارج اسٹوڈیو میں اسے دیکھ کر حیران رہ گیا۔
”پاپا! آپ نے آنے کی اطلاع بھی نہیں دی۔“
”مجھے پتہ چلا ہے کہ تم بہت زیادہ پریشان ہو اور نفسیاتی ہیجان کا شکار بھی“ ڈینیل نے کہا۔
جارج: نہیں پاپا۔ بس یونہی رات کو پریشان کن خواب آتے ہیں۔
یہ خواب صرف انسانی ذہن کے توہمات ہیں۔ برے خواب انسانی
شاتم
کمزوریوں اور خوف کی نشانی ہیں، رات میں کسی کو اپنے بستر کی زینت بنا لیا کرو۔
ڈینیئل نے جارج کو آنکھ مارتے ہوئے کہا۔
اگلے ہفتے تمہاری فلم کا پریمیئر شو ہے، میں شاید بزنس کے سلسلہ میں یہاں نہ آسکوں اسی لیے ابھی وقت تھا تو سوچا اس کامیابی کا جشن پہلے ہی تمہارے ساتھ منالوں، تمہارے لیے اس خوشی کے موقع پر میں نے ایک ہیلی کاپٹر خریدا ہے۔
اب تم ہر جگہ جلد اور محفوظ ہو کر جاسکو گے۔
جارج خوشی میں ڈینیل سے لپٹ گیا۔
”پاپا۔ یو آر دی گریٹ، اب میں خود بھی آپ سے ملنے آسکوں گا۔“
”شاید!“ بوڑھے ڈینیل نے معنی خیز انداز سے کہا۔
☆☆…………☆☆
فلم کا پریمیئر شو ہوتے ہی پوری دنیا میں ایک طوفان سا کھڑا ہو گیا۔
پوری دنیا سے نہ صرف مسلمانوں بلکہ دوسرے مذہبی حلقوں نے اس ہتک آمیز فلم کی پرزور مذمت کی۔
فون کی گھنٹیاں جارج کے سر پر ہتھوڑے بن کر برس رہی تھیں، اس کو وضاحتیں کرنا پڑ رہی تھیں۔ بعض اوقات وہ مغلظات بکنے لگ جاتا۔
”تم اسے بند کیوں نہیں کردیتے“ ملازم نے فون کے بارے میں رائے دی۔
”حکومتی اور بااثر شخصیات کے جوابات تمہارا باپ دے گا دفع ہو جاؤ یہاں سے“ جارج دھاڑا۔
جارج کے اس ناروا سلوک کی وجہ سے اس کا پرانا اور وفا دار ملازم اسی وقت
شاتم
گھر چھوڑ کر چلا گیا۔ آج اس کی آنکھوں میں بھی جارج کے لیے نفرت تھی۔
☆☆............☆☆
جارج نے ہر طرح سے ڈینیل سے رابطہ کرنے کی کوشش کی لیکن اسے کوئی جواب نہیں مل رہا تھا۔ اس کی نظریں غیر ارادی طور پر تصویر کی طرف اٹھیں۔ وہ بار بار فون ملاتا کبھی گھر ، کبھی آفس حتی کہ اب تو Cell Phone بھی اس کا منہ چڑا رہا تھا۔
اچانک اس کے ذہن میں اس کارٹونسٹ کا خیال آیا جو چند روز پہلے ہی اپنے 40 ساتھیوں کی ٹیم کے ساتھ ایسی گستاخی کر چکا تھا۔
اس نے اخبار کا نمبر لیا لیکن اس کی رسائی کسی کارٹونسٹ تک نہ ہوسکی۔
اس وقت جارج اپنے آپ کو اس بھری دنیا میں تنہا محسوس کر رہا تھا۔ اس نے کھڑکی سے نیچے دیکھا۔ ہر آنے والا شخص اس کے گھر کو ایک بار غور سے ضرور دیکھتا۔
اس نے پولیس کو فون کیا:
”مجھے سکیورٹی چاہیے۔“
”جی اس کا مناسب انتظام ہم پہلے ہی کر چکے ہیں آپ فکر نہ کریں اور فون بند کر دیا گیا۔“
☆☆............☆☆
مصطفیٰ کو اب یقین ہوچکا تھا کہ جارج کو قتل کرنا اس کی اہم ترین ذمہ داری بن چکی ہے۔ وہ شرعی حکم سے بھی واقف تھا۔
اس نے صحیح مسلم میں پڑھا تھا کہ ایک غزوہ کے موقع پر نبی ﷺ نے حسان
شاتم
بن ثابت رضی اللہ عنہ سے فرمایا تھا: ”تم قریش کی ہجو کرو جو ان پر تیروں کی بارش سے زیادہ سخت ہو گی۔“
(حدیث:2490)
اور صحیح بخاری (4123) کے مطابق رسول اللہ ﷺ نے غزوہ قریظہ کے موقع پر حسان رضی اللہ عنہ سے فرمایا تھا: ”ان (یہود بنو قریظہ) کی ہجو کرو۔ جبریل تمہارے ساتھ ہے۔“
(حدیث:4123)
اسے قرآن مجید کی یہ وعید بھی یاد تھی کہ (اے محمد ﷺ) تم سے پہلے بھی رسولوں کا مذاق اڑایا جاچکا ہے مگر میں نے ہمیشہ کافروں کو ڈھیل دی اور آخر کار انہیں پکڑ لیا۔ پھر دیکھ لو میری سزا کیسی سخت تھی۔“
(الرعد:32/13)
تاریخ سیرت کے مطالعے سے اسے پتہ چلا کہ کفار مکہ کے علاوہ یہود مدینہ بھی توہین رسالت کے مرتکب ہوئے تھے۔ وہ اہانت آمیز الفاظ، جملوں اور ہجویہ شاعری کے ذریعے نبی ﷺ کو تکلیف پہنچاتے تھے۔ توہین رسالت کا ارتکاب کرنے والوں میں جہاں قریشی سرداروں نضر بن حارث، عقبہ بن ابی معیط، ابوعزہ جمحی، دو ہجو گو لونڈیوں ارنب اور ام سعد اور حارث بن طلال کے نام ملتے ہیں وہیں کعب بن اشرف، ہجو گو شاعرہ عصماء، ابوعفک اور ابورافع جیسے یہودی اس مذموم فعل کے مرتکب ہوئے تھے۔ ان سب کو دور نبوت میں نبی ﷺ کے حکم یا علم سے قتل کیا گیا۔ فتح مکہ کے وقت وہاں کے گستاخان رسول کے بارے میں تو یہاں تک فرمایا گیا تھا کہ اگر یہ لوگ غلاف کعبہ میں بھی لپٹے ہوں تو بھی انہیں قتل کر دیا جائے۔
امام بخاری رحمہ اللہ نے حضرت جابر بن عبداللہ سے یہ روایت بیان کی ہے
شاتم
کہ کعب بن اشرف جب توہین رسول میں سے حد سے گزر گیا تو آپ نے صحابہ سے مخاطب ہو کر فرمایا: ”کعب بن اشرف کا ذمہ کون اٹھاتا ہے؟“ اس پر محمد بن مسلم نے عرض کی: ”میں اسے ٹھکانے لگا دوں؟“ آپ نے فرمایا: ہاں انہوں نے آپ سے کعب کے ساتھ کچھ باتیں کرنے کی اجازت مانگی جو عطا کر دی گئی۔ آخر کار محمد بن مسلم اس بدبخت یہودی سردار کا کام تمام کرنے میں کامیاب ہو گئے۔ اسی طرح عبداللہ بن عتیک نے ابو رافع یہودی کو ٹھکانے لگا دیا۔ اسی طرح ایک نابینا صحابی کی بیوی جو شان رسالت میں گالیاں بکتی تھی اسے اس کے شوہر نے گلا دبا کر جہنم رسید کر دیا تو آپ نے اس کے خون کو رائیگاں قرار دے دیا۔ (مکی دور میں مجرم توہین رسالت کے جہنمی ہونے کا واقعہ)
مصطفیٰ نے بنو حنیفہ کے جھوٹے نبی مسیلمہ کا حشر بھی یاد کیا جو قبیلے کے 17 رکنی وفد کے ساتھ دربار نبوت میں حاضر ہوا تھا۔ مگر ایمان لانے کی بجائے اس نے شراکت نبوت کی تجویز پیش کی تھی اور واپس یمامہ جا کر اس سلسلے میں اس نے ایک خط بھی لکھا تھا۔ آخر کار خلیفہ اوّل ابوبکر صدیق نے خالد بن ولید کو مسیلمہ کذاب کی سرکوبی کے لیے بھیجا تھا، چنانچہ یمامہ کی اس جنگ میں ایک ہزار سے زائد مسلمانوں نے جانیں دے کر نبوت کے جھوٹے دعوے دار مسیلمہ اور اس کے 70 ہزار پیروکاروں کو ہلاک کر دیا تھا اور یوں ایک مثال قائم کر دی تھی کہ امت کسی نوع کی توہین رسالت کا ارتکاب کرنے والوں کو ہرگز برداشت نہیں کرے گی۔
جہاں تک توہین رسالت کا ارتکاب کرنے والوں کی شرعی سزا کا مسئلہ ہے، اکابر امت میں اس پر اتفاق پایا جاتا ہے۔ امام ابن تیمیہ نے بڑی جامعیت کے
شاتم
ساتھ وہ استدلال پیش کیا ہے جو ایسے مجرموں کو سزا دینے کے لیے ضروری ہے۔
قرونِ اولیٰ میں جو لوگ توہین رسول کے جرم کا ارتکاب کرتے تھے انہیں پادریوں کی اصطلاح میں بنیاد پرست (Fundamentalists) کہا جاتا تھا۔ بنیاد پرستی کی یہ تحریک اندلس (اسپین) میں یولوجیس نامی راہب کی سرپرستی میں شروع ہوئی تھی جس نے عیسائی نوجوانوں میں یہ اندھا جذبہ پیدا کیا تھا کہ پیغمبر اسلام کے خلاف اہانت کے مرتکب ہونے پر اگر انہیں قتل بھی کر دیا جائے تو یہ ان کے تقدس اور بلند مرتبہ پر فائز ہونے کی علامت ہوگی۔ یہ اندلس کے اموی حکمران عبدالرحمن اوسط کا عہد تھا۔ دراصل اس تحریک کا مقصد اندلس میں عیسائیوں کے اقتدار کی بحالی تھا، چنانچہ ایک دولت مند عیسائی الوارو اور ایک مسیحی دوشیزہ فلورا اس مذموم تحریک کے سرپرست بن گئے۔ فلورا کا باپ مسلمان اور ماں عیسائی تھی۔ باپ مر چکا تھا اور اس کی ماں نے اسے عیسائی تعلیم دی تھی، چنانچہ وہ اپنے آبائی گھر سے فرار ہو کر یولوجیس کے پاس چلی گئی تھی اور وہ مل کر اس ناپاک تحریک کو چلانے لگے۔ عید کے روز پرفیکٹس نامی پادری مسلمانوں کے مجمع میں گھس کر سرکار دو عالم پر سب وشتم کرنے لگا۔ مسلمانوں نے اسے پکڑ کر وہیں مار ڈالا۔ پھر ایک اور پادری آئزک نے قاضی کی عدالت میں جا کر وہی حرکت کی تو اسے قاضی کے حکم سے قتل کر دیا گیا۔ ان دونوں پادریوں کو عیسائیوں نے سینٹ (ولی) کا درجہ دیا۔ پھر قصر شاہی کے پہرے دار سینکو کو توہین رسول کے جرم میں جہنم واصل کیا گیا۔ 237/851ء میں 11 عیسائی مردوں اور فلورا مذکورہ اور اس کے ساتھ میری کو اس جرم میں ہلاک کیا گیا، تاہم امیر عبدالرحمن کی نرم روی کے باعث عیسائیوں کی یہ
شاتم
تحریک دم توڑ گئی۔ اس کے بیٹے محمد کے عہد میں پادری پولوجیس نے پھر توہین رسول کی مجنونانہ حرکت کی تو اسے اس کی محبوبہ لکریٹیا کے ہمراہ سزائے موت دے دی گئی۔
تاریخ اسلام کے ان حقائق کے پیش نظر مصطفیٰ نے اپنے قریبی دوستوں سے اس بارے میں مشورہ کیا۔ سب اس کے ہم خیال تھے اور ان کے چہرے جوش سے تمتما رہے تھے۔
ان کے پاس صرف ایک پستول تھا۔ اور اس میں بھی صرف 7 گولیاں تھیں۔ کیا ہمارا رابطہ مسلم مجاہدین کے ساتھ نہیں ہو سکتا؟ کیا وہ اس سلسلہ میں ہماری مدد کریں گے؟ ایک دوست نے پوچھا۔
مصطفیٰ: یقیناً وہ مدد ضرور کریں گے لیکن یہ ہمارے اپنے ملک میں ہماری اپنی جنگ ہے۔
”ہمارے والدین نے اس دار الکفر میں کچھ پیسوں اور آسائشوں کے لیے جو زندگیاں گزاری ہیں اس کا کفارہ بھی ہم ہی کو ادا کرنا ہوگا۔ ہم مزید ذلت برداشت نہیں کر سکتے۔“ ایک دوسرا لڑکا بولا۔
مصطفیٰ نے ہاتھ سے سب کو خاموش رہنے کا اشارہ کیا۔ مصطفیٰ: ”اس کام کے لیے بہت احتیاط اور حکمت کی ضرورت ہے۔ ہم ان میں سے کسی ایک کو بھی زندہ نہیں چھوڑیں گے۔“
☆☆..............☆☆
رات T.V پر مسلمانوں کا ردّ عمل اور ریلیاں دکھائی جا رہی تھیں ہر چینل
شاتم
بھرپور کوریج دے رہا تھا۔ جارج اس کی آنکھیں بالکل ساکت بھی نہ تھی۔
تھوڑی ہی دیر میں اس کی بی جہاں شیطان فلک شگاف قہق
”دوست“ تم کیوں ہنس رہ
شیطان: ”کیا کہا تھا تمہارے اگر کوئی تمہاری ایک گال پ آگے کر دو۔ لیکن تم نے خود ہی طمانچہ دے
ھا ھا ھا اب آئے گا مزا!
بکواس بند کرو، میں ڈینیل ک طمانچہ مارے۔ جارج نے حقارت س
”اور میں کون ہوں؟“ شیط کے سامنے آ گئی۔
پھر اس کے اشارے پر ہر طر دہشت سے جب جارج کی آ نہ تھی لیکن اس سے بھی عجیب واقعہ
شاتم
بھرپور کوریج دے رہا تھا۔ جارج شراب کے نشے میں دھت بستر پر اوندھا پڑا تھا۔ اس کی آنکھیں بالکل ساکت تھیں۔ اس میں T.V کو بند کرنے کی ہمت بھی نہ تھی۔
تھوڑی ہی دیر میں اس کی نیند اسے ایک عجیب ویرانے میں لے گئی۔ جہاں شیطان فلک شگاف قہقہے لگا رہا تھا۔
”دوست“ تم کیوں ہنس رہے ہو؟؟؟ جارج نے پوچھا۔
شیطان: ”کیا کہا تھا تمہارے Christ نے تم سے۔ لوگوں سے پیار کرو۔ اگر کوئی تمہاری ایک گال پر طمانچہ مارے تو تم اپنا دوسرا گال اس کے آگے کردو۔
لیکن تم نے خود ہی طمانچہ دے مارا۔ اور وہاں طمانچے کا جواب ہے طمانچہ۔
ہاہاہا
اب آئے گا مزا!
بکواس بند کرو، میں ڈینیل گولڈ کا بیٹا ہوں اور کسی کی جرأت نہیں جو مجھے طمانچہ مارے۔ جارج نے حقارت اور غصے سے جواب دیا۔
”اور میں کون ہوں؟“ شیطان نے منہ پھیرا تو ڈینیل گولڈ کی شکل جارج کے سامنے آگئی۔
پھر اس کے اشارے پر ہر طرف سے خونخوار کتے جارج کی طرف بڑھنے لگے۔
دہشت سے جب جارج کی آنکھ کھلی تو اس میں بستر سے ہلنے کی سکت بھی نہ تھی لیکن اس سے بھی عجیب واقعہ جو اسی وقت رونما ہوا وہ T.V پر ڈینیل گولڈ کا
شاتم
بیان تھا۔
”میں نے جارج کو سمجھانے کی بڑی کوشش کی لیکن میرے خیال میں اس کے اندر شیطان ہے۔“
دنیا کا کوئی مذہب ہمیں کسی نبی کا مذاق اڑانے کی اجازت نہیں دیتا، کم از کم میں تو اس ایکٹ کی سخت مخالفت کرتا ہوں۔“ مسٹر گولڈ اپنے آپ کو صاف بچا گیا۔
جارج نے پوری ہمت مجتمع کر کے چیخ ماری اور گلدان اٹھا کر سکرین کو مارنے کی کوشش کی، لیکن اس کے جسم نے اس کا ساتھ نہ دیا اور وہ بستر ہی پر گر گیا۔
☆☆............☆☆
پاکستان میں ایک ارب پتی تاجر اپنے وفد کے ساتھ ایک فلم بنانے والے ادارے میں داخل ہوا اور وہاں کے مشہور فلم ڈائریکٹر زید سے ملا۔
”مسٹر زید آپ لوگ دیکھ رہے ہیں کہ کس طرح ہمارے دین اور ہمارے محترم نبی ﷺ کو مذاق کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
بولیے اس کا جواب دینے کے لیے آپ کس بات کا انتظار کر رہے ہیں؟ اگر پیسہ کا مسئلہ ہے تو یہ لیجیے۔ اس نے چیک بک زید کے آگے رکھ دی۔
پوری دنیا کے مسلمان اپنے تمام خزانے نبی ﷺ کی ذات پر لٹانے کو تیار ہیں۔ ہم ایک کے مقابلہ میں سو فلمیں بنا دیں گے۔
عیسائیوں کو نہیں چھوڑیں گے۔ کیا آپ لوگوں کو ہمارے جذبات کا علم نہیں؟ کیا آپ میڈیا میں ہماری نمائندگی نہیں کر رہے؟
بولیے ! آج اس سلسلے میں اپنی ضروریات بتائیں۔ ہم پوری کریں گے۔“
شاتم
زید نے بڑے صبر سے سب باتیں سنی اور بولا:
”کیا آپ میرے ساتھ مسجد تک چل سکتے ہیں ہمیں یہ ساری بات مفتی صاحبان کے مشورہ سے کرنا ہوگی۔
تاجر: ہم انتظار کرنے یا وقت ضائع کرنے نہیں آئے ابھی چلئے۔
☆☆.............☆☆
مسجد میں مفتی صاحب نے بڑے پیار سے سب کا استقبال کیا۔
”آپ سب پر اللہ کی رحمت ہو۔ مجھے فون پر زید صاحب نے سب کچھ بتا دیا تھا۔ نبی ﷺ سے محبت کا یہ عالم اللہ اکبر.............
بخدا! ہم سب ان کی محبت میں جان دینے کو تیار ہیں۔
تاجر: تو پھر انتظار کس بات کا ہے؟“
مفتی صاحب: بیٹا لفظ صبر اور انتظار میں تھوڑا سا فرق ہے، بالخصوص اس معاملہ میں۔
تاجر: صبر؟ کیسا صبر اور کیوں؟
مفتی صاحب: اچھا ایک سوال کا جواب دو۔
”کیا آپ سب لوگ ایک ہی مسلک سے تعلق رکھتے ہیں چلئے تعارف کر لیتے ہیں؟“
آپ؟؟؟
جی...... بریلوی
آپ؟...... دیوبندی
شاتم
آپ؟ ...... اہل حدیث
آپ؟ ...... اہل تشیع
مفتی صاحب: چلیں اتنا ہی کافی ہے آج اس مسئلہ پر آپ سب اکٹھے ہیں۔ میرا سوال ہے کہ کیا آپ میں سے کوئی بھی اللہ اور نبی ﷺ کے حکم سے روگردانی کر سکتا ہے؟“
تاجر: ”جی نہیں“
مفتی صاحب: تو پھر اللہ اور نبی ﷺ کے حکم کے مطابق ہم نہ کسی کے خدا کو برا کہہ سکتے ہیں، نہ نبی کو کیوں کہ نبی تو ہم سب کے سانجھے ہیں اور نہ ہی مذہب کو برا کہہ سکتے ہیں!
کیونکہ تمام انبیاء کا مذہب اسلام ہی تھا۔ کیا آپ لوگوں نے قرآن وحدیث میں اس کا مطالعہ کر رکھا ہے؟“
تاجر: جی ہاں! مگر مذاہب اپنی اصل حالت میں موجود نہیں ہیں۔
مفتی صاحب: ”تو اس میں انبیاء کا کیا قصور؟ اس مذہب کے نام کا کیا قصور؟ مذاہب میں تحریف اور نئی باتیں شیطانی افعال ہیں۔
اگر برا کہنا ہے تو شیطان کو کہو، اس سے لڑو، قتل کرو، لیکن کسی نبی کے لائے ہوئے مذہب کی توہین نہیں کی جاسکتی۔
اگر تمام مذاہب سے مشترک Factor نکال سکو تو تم انہیں اسلام کے قریب پاؤ گے۔
البتہ شیطان کے ساتھ جنگ کی تمہیں کھلی اجازت ہے، ان بیمار ذہنوں کا
شاتم
علاج ہر اُس طریقہ سے کرو جو شیطانیت کو ہوا دے رہے ہیں۔ جو اپنی مذہبی تعلیمات کے منافی دوسروں کے انبیاء کو برا کہہ رہے ہیں یقیناً ہمارے مذہب میں ایسے شیطان صفت انسان کی سزا موت ہے۔ لیکن میں پھر کہوں گا کہ اس سے پورا مذہب برا نہیں ہو جاتا، پوری قوم پر تہمت نہیں لگانی چاہیے۔
تاجر: لیکن مفتی صاحب قرآن میں واضح ہے کہ عیسائی اور یہودی کبھی تمہارے دوست نہیں ہو سکتے۔
مفتی صاحب: آہ! کیا ان دونوں کو نکال کر باقی سب تمہارے دوست ہیں۔
قرآن وسنت میں تو جنگ کے بھی آداب سکھائے گئے ہیں تمہیں تو مفتوحہ علاقے میں غیر ضروری درخت کاٹنے کی اجازت نہیں۔
پھر بچہ، عورت، بوڑھا اور ہر وہ شخص جو تم پر تلوار نہ اٹھائے وہ بھی امن میں ہے۔ اس گلوبل ویلج میں تمہیں نئے معاہدوں میں شریک ہونا ہوگا۔
جیسے نبی ﷺ نے یہودیوں اور کفار کے ساتھ کئی معاہدے کیے۔
اسی معاملہ کو دیکھ لو! اگر انبیاء اور نبی ﷺ کے خلاف توہین نہ کرنے کا کوئی معاہدہ طے پا جاتا ہے تو انسانیت کس قدر محبت کی راہ پر گامزن ہو سکتی ہے۔
کیا اس موضوع پر کوئی پیش رفت نہیں ہو سکتی، ہر مذہب سے ہمیں تحمل اور بردباری کے اصول لے کر مشترکہ لائحہ عمل ترتیب دینا ہوگا۔
اسلام اس کا بہترین حل پیش کرتا ہے، صرف ایک بار اس پر صاف ذہن سے تحقیق کی ضرورت ہے۔
شاتم
اگر تمام دنیا کے مسائل اس سے حل نہ ہوتے ہوں تو قسم ہے اس ذات باری تعالیٰ کی میں خود اپنی گردن کٹوانے کو تیار ہوں۔
آج کی سپر پاور کو خود یہ سوچنا چاہیے کہ آخر افغانستان میں یہ سارا معاملہ مسلمانوں کی وجہ سے پیدا ہوا یا روسی استعماری حملے سے؟ کیا افغانستان پر روسی فوجی تسلط اور پھر امریکی حملے سے پہلے اس خطے میں کوئی دہشت گردی تھی؟
کیا عراق میں کیمیکل ہتھیار نکلے؟ کیا یہ عالمی شہرت یافتہ جھوٹوں کے سردار بش اور بلیئر کا ابلیسی پروپیگنڈہ نہیں تھا؟ کیا یہ ساری کارروائی عراقی تیل پر قبضے اور اسرائیل کے تحفظ کے لیے نہیں کی گئی؟ بغداد پر امریکن قبضے کے بعد صدر بش نے یہ کیوں کہا تھا کہ اب اسرائیل اور فلسطین امن سے رہ سکیں گے؟ کیا صدام کا سب سے بڑا قصور یہ نہیں تھا کہ وہ اسرائیل کے ظالمانہ تسلط کے خلاف جدوجہد کرنے والے فلسطینی سرفروشوں کے اہل خانہ کو رقوم پہنچاتا تھا؟ کیا یہ سب کچھ مسلمانوں کے قبلہ اوّل بیت المقدس (یروشلم) پر یہودی قبضے کو دوام بخشنے کے لیے کیا گیا؟
پھر ابھی تک وہاں کیا ہو رہا ہے۔ بوسنیا کے پر امن مسلمانوں کا قتل عام کیوں کر کیا گیا؟ کیا بوسنیا کے ایک مسلم اکثریتی ملک بن جانے کے امکان کو روکنے کے لیے تین سال تک مسلمانوں کی وحشیانہ نسل کشی نہیں کی گئی اور کیا بوسنوی مسلمان جو پہلے ملکی آبادی کا 45 فیصد تھے، اب 38 فیصد نہیں رہ گئے؟
فلسطین والے کب تک بے گھر زندگی گزاریں گے۔ کیا صہیونی ریاست اسرائیل دنیا میں نسل پرستی کی بدترین مثال نہیں جو فلسطینی مسلمانوں کا پچھلے 61
شاتم
برسوں سے قتل عام کر رہی ہے؟ کیا مغرب
سوالوں کا جواب ہے کہ
- 1: نام نہاد ہولوکاسٹ کہاں پیش آیا او
پڑی۔
- 2: یورپ میں ہولوکاسٹ پر ریسرچ ک
داروں کو سزا کیوں نہ دی گئی۔ لی
کشمیر کا مسئلہ جمہوری طریقہ پ برطانوی وائسرائے ماؤنٹ بیٹن اور ر اپنی قرار دادوں میں اہل کشمیر کو حق خود ا کیا پچھلے ساٹھ برسوں میں یو این او نے قرار دادوں پر عمل درآمد کا پابند کیا ہے؟ لیے تو فوراً ریفرنڈم کرا دیا گیا مگر ڈیڑھ ک کیوں نہیں کیا جاتا؟ اور برطانوی وزیر خ فرسودہ کیوں ٹھہراتے ہیں۔
کیا حماقت ہے کہ نفرتوں کے بیج بو حد ہو گئی ہے بیوقوفی کی۔
لیکن ہمیں ایسا نہیں کرنا۔ ہم کسی م کہہ سکتے۔
اس کی ہمارے مذہب میں قطعی اجا
شاتم
برسوں سے قتل عام کر رہی ہے؟ کیا مغرب کے پاس ایرانی صدر احمدی نژاد کے ان سوالوں کا جواب ہے کہ
- 1: نام نہاد ہولوکاسٹ کہاں پیش آیا۔ اور فلسطینی عوام کو اس کی قیمت کیوں چکانا
پڑی۔
- 2: یورپ میں ہولوکاسٹ پر ریسرچ کو ممنوع کیوں قرار دیا گیا اور اس کے ذمہ
داروں کو سزا کیوں نہ دی گئی۔
کشمیر کا مسئلہ جمہوری طریقہ پر کیوں حل نہیں کیا جاتا؟ کیا یہ مسئلہ آخری برطانوی وائسرائے ماؤنٹ بیٹن اور ریڈ کلف کا پیدا کردہ نہیں؟ کیا یو این او نے اپنی قرار دادوں میں اہل کشمیر کو حق خود ارادیت دلانے کی ضمانت نہیں دی تھی اور کیا پچھلے ساٹھ برسوں میں یو این او نے مغرب کے لاڈلے بھارت کو ان عالمی قرار دادوں پر عمل درآمد کا پابند کیا ہے؟ مشرقی تیمور کے پانچ لاکھ عیسائیوں کے لیے تو فوراً ریفرنڈم کرا دیا گیا مگر ڈیڑھ کروڑ کشمیریوں کے لیے ریفرنڈم کا اہتمام کیوں نہیں کیا جاتا؟ اور برطانوی وزیر خارجہ برصغیر آ کر کشمیر پر عالمی قرار دادوں کو فرسودہ کیوں ٹھہراتے ہیں۔
کیا حماقت ہے کہ نفرتوں کے بیج بو کر محبت کی فصل کا انتظار؟ حد ہو گئی ہے بیوقوفی کی۔
لیکن ہمیں ایسا نہیں کرنا۔ ہم کسی مذہب، کسی نبی اور کسی کے خدا کو برا نہیں کہہ سکتے۔
اس کی ہمارے مذہب میں قطعی اجازت نہیں۔
شاتم
تاجر: اور وہ اگر ہمارے گھروں پر چڑھ آئیں تو؟؟
مفتی صاحب: پھر وہ ہمیں اپنے ایٹمی ہتھیاروں سے بھی سخت پائیں گے۔ اس وقت بھی انہیں معلوم ہے کہ وہ لوہے کے چنے چبانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
اُن کا میڈیا کتنا ہی جھوٹ بول لے لیکن وہ جانتے ہیں کہ اُن کی فوج اور تمام ٹیکنالوجی سالہا سال سے سادہ بندوق بردار پٹھانوں کو بھی زیر نہیں کرسکی۔ لہٰذا ان کے لیے بہتر ہے کہ وہ امن کا راستہ اختیار کریں۔ سلامتی کا راستہ......“
☆☆......☆☆
جارج کے وکیل کی درخواست پر اس کی سیکورٹی بڑھا دی گئی تھی۔ ڈاکٹر مسلسل اسے ادویات دے رہا تھا مگر اس کی حالت دگرگوں ہوتی جا رہی تھی۔ اسے ہر شخص۔ ہر مذہب سے نفرت تھی۔ ہر (ازم) کو حقارت کی نگاہ سے دیکھتا تھا۔
وہ ہذیان بک رہا تھا۔
”ہر انسان کو اس دنیا میں ننگا پھرنے کی آزادی کیوں نہیں؟ یہ سب میرے کیا لگتے ہیں جو میں ان کے کہنے پر چلوں؟؟ میرے پاس دولت ہے اور میں اپنی مرضی کا مالک ہوں۔ جو چاہوں کروں۔ ارے نینسی تو پاگل تھی۔ اور میری ماں بھی .............
شاتم
”میں سب سے بہتر ہوں کیونکہ میرے باپ بھی ایک سے زیادہ ہیں۔“
اور وہ سب اپنی خواہش کے مطابق زندگی بسر کر رہے ہیں۔
سب کو ایسی آزادی ملنی چاہیے۔。。。。。سب کو۔۔۔۔۔۔
مجبوراً ڈاکٹر کو اسے ایک ٹیکہ لگانا پڑا۔
☆☆.......☆☆
ایک دو روز میں وہ کچھ بہتر محسوس کرنے لگا۔ ڈاکٹر نے اسے نارمل رہ کر عام لوگوں کی سی زندگی بسر کرنے کی ہدایت کی۔ اسے کچھ ایسے میگزین اور اخبار مہیا کیے گئے جن میں اس کی ہمت اور بہادری کی تعریف کی گئی تھی۔
ان کارٹونسٹ لوگوں کے چرچے پڑھ کر بھی وہ خوش ہو رہا تھا جنہوں نے نبی ﷺ کے گستاخانہ کارٹون بنانے کی ناپاک جسارت کی تھی۔ بلاشبہ یورپ کی ان حکومتوں نے ان کا ساتھ دینے کا فیصلہ کر لیا تھا۔
40 افراد کے انسانی حقوق کا معاملہ اربوں مسلمانوں سے زیادہ اہم تھا۔
☆☆.......☆☆
جارج کو کچھ دن کے لیے ایک پر فضا مقام پر بھیج دیا گیا۔
یہاں کے لوکل سکول کی ہیڈ جارج کو جانتی تھی۔ اس نے جارج کے لیے سکول میں تھیٹر سے متعلق ایک تقریب منعقد کی جس میں اسے کرسی صدارت پر بٹھایا گیا۔
بچوں کے پیش کیے گئے ڈرامے کے بعد جارج کا تعارف کروایا گیا اور اس کی بہادری کی تعریف کی گئی۔
شاتم
تقسیم انعامات کی تقریب میں ایک ننھا گول مٹول سا بچہ جارج کو بہت پیارا لگا۔ جب وہ انعام لینے کے لیے آیا تو بچہ کچھ ناراض سا لگ رہا تھا۔
جارج گھٹنوں کے بل اس کے سامنے بیٹھ گیا اور پوچھا: ”تمہارا نام؟؟؟“
”حسین“ بچے نے جواب دیا۔
کیا تم سچ مچ فلم بنانے والے جارج ہو؟ بچے نے جواباً سوال کیا۔
جارج: ہاں! تمھیں کوئی شک ہے۔
تمام ہال سکتے میں آ گیا جب سب لوگوں نے دیکھا کہ بچے نے طمانچہ مارنے کے لیے ہاتھ اٹھایا۔ پھر رک گیا اور بولا! نہیں نبی کریم ﷺ نے رخسار پر مارنے سے منع فرمایا ہے۔ اور غصے میں زمین پر تھوک کر واپس چلا آیا۔
جارج غصے سے پاگل ہو چکا تھا۔
ٹیچر نے بچے کو اٹھایا اور منظر سے غائب ہوگئی۔
سکیورٹی کے عملے نے بڑی مشکل سے جارج کو گاڑی میں بٹھایا۔ جارج کو دوا دی اور بڑی مشکل سے اسے سلایا گیا۔
آج رات پھر وہی شب قیامت تھی۔ خواب میں اس نے خود کو گندگی اور غلاظت سے بھرے ہوئے گڑھے میں دیکھا وہ باہر نکلنے کی کوشش کر رہا تھا۔ اس کے جسم پر غلیظ کیڑے رینگ رہے تھے۔
صبح اس نے فوری واپسی کا فیصلہ کر لیا۔
واپسی پر جارج کی نظر اچانک درختوں میں چھپے ہوئے مصطفیٰ پر پڑی تو خوف سے اس کا رنگ پیلا پڑ گیا۔
شاتم
مگر حیرت انگیز بات یہ ہوئی کہ جائزہ لیا تو مصطفیٰ کا کہیں نام و نشان نہ لیکن جارج اب ایک نئے خوف
☆☆
گھر آ کر جارج نے ہر طرف سکیورٹی والوں سے بھرا تھا، مگر ایک عجیب جارج کی نظر اپنے ہاتھ پر پڑی آیا، اس میں ہلکی ہلکی خارش تھی اور وہ
☆☆
صبح کے اخبار میں خبر چھپی تھی کہ ایک جرمن اخبار ڈائی ویلٹ کے ایڈیٹ پر وار کر کے اسے قتل کرنے کی کوشش
جارج کے ماتھے پر پسینہ آگیا
سکیورٹی کی بے احتیاطی کا گلہ کیا اور
اس پر پولیس والے کو بھی غصہ آ
”یہ حملہ اس انداز سے ہوا کہ
کش حملہ کر دے تو ہمارا اس میں کیا قصو
مصیبت میں تو تم نے ہمیں ڈ
برداشت نہیں کروں گا ۔“ یہ کہہ کر جا
شاتم
مگر حیرت انگیز بات یہ ہوئی کہ جب سکیورٹی والوں نے تمام اطراف کا جائزہ لیا تو مصطفیٰ کا کہیں نام ونشان نہیں تھا۔
لیکن جارج اب ایک نئے خوف میں مبتلا ہو گیا۔
☆☆......☆☆
گھر آ کر جارج نے ہر طرف سے کھڑکیاں بند کرلیں تھیں، اس کا باغیچہ سکیورٹی والوں سے بھرا تھا، مگر ایک عجیب بے اطمینانی کی کیفیت اس پر طاری تھی۔
جارج کی نظر اپنے ہاتھ پر پڑی تو ایک بڑا دانہ اسے اپنی ہتھیلی کی پشت پر نظر آیا، اس میں ہلکی ہلکی خارش تھی اور درد کی ٹیسیں اٹھ رہی تھیں۔
☆☆......☆☆
صبح کے اخبار میں خبر چھپی تھی کہ توہین رسالے کے خاکے شائع کرنے والے ایک جرمن اخبار ڈائی ویلٹ کے ایڈیٹر پر عامر نامی ایک شخص نے چاقو کے پے در پے وار کر کے اسے قتل کرنے کی کوشش کی۔
جارج کے ماتھے پر پسینہ آ گیا۔ اس نے فون اٹھا کر پولیس والوں سے سکیورٹی کی بے احتیاطی کا گلہ کیا اور انہیں سخت سست کہا۔
اس پر پولیس والے کو بھی غصہ آ گیا۔
”یہ حملہ اس انداز سے ہوا کہ ہم کچھ نہیں کر سکے۔ کل کلاں اگر تم پر کوئی خود کش حملہ کر دے تو ہمارا اس میں کیا قصور ہو گا؟
مصیبت میں تو تم نے ہمیں مبتلا کر رکھا ہے۔ خبردار! میں آئندہ بدتمیزی برداشت نہیں کروں گا۔“ یہ کہہ کر پولیس والے نے بھی فون بند کر دیا۔
شاتم
جارج کا پورا جسم پسینے میں بھیگ چکا تھا۔ وہ منہ دھونے کے لیے جب واش بیسن پر آیا تو خوفزدہ ہو گیا۔
اس کے چہرے پر ویسے ہی کئی دانے دکھائی دے رہے تھے۔
اس نے فوراً ڈاکٹر کو فون کیا۔
ڈاکٹر نے پورے جسم پر دانوں کا معائنہ کرتے ہوئے بتایا:
”شاید یہ کثرت شراب نوشی کا نتیجہ ہے، تمہارا جگر بے کار ہو رہا ہے۔ تمہیں سکون آور دوائیاں بھی چھوڑنا ہوں گی ورنہ یہ مرض تمہارے لیے جان لیوا بھی ہو سکتا ہے۔ بہرحال تم فوراً مکمل چیک اپ کراؤ۔“
اور ڈاکٹر کا اندازہ صحیح نکلا۔ یہ نشان بڑھتے چلے جا رہے تھے جبکہ جارج کو ہر لمحہ شراب کی ضرورت تھی۔ جارج کی دماغی کیفیت اس کے کنٹرول سے باہر تھی۔
جب توہین رسالت کے خاکے بنانے والا ایک آرٹسٹ نامعلوم وجوہ کی بنیاد پر مرا ہوا پایا گیا تو جارج نے اپنے آپ کو کمرے میں بند کر لیا۔ وہ مسلسل ہذیان بک رہا تھا:
جارج: ”میں نہیں مرسکتا۔“
کسی کی جرأت نہیں جو مجھ تک پہنچ سکے۔
میں سب سے بڑا حرامی ہوں۔
سب کو کھا جاؤں گا۔
پھر وہ ہمت کر کے اٹھا اور ڈینیل گولڈ کی بڑی تصویر تک پہنچا۔
لیکن تو مجھ سے بھی بڑا حرامی ہے۔ مکار۔ مطلب پرست۔
شاتم
اگر تو میرا باپ ہے تو......
سب سے پہلے میں تجھے ماروں گا۔
یہ کہہ کر اس نے چاقو اٹھایا اور تصویر کے ٹکڑے ٹکڑے کر دیے۔
☆☆......☆☆
صبح اس نے دروازہ کھولا تو اسے باغیچے میں اپنے ملازم کے ساتھ ایک چھوٹا سا کتا کھیلتا نظر آیا۔ آج جارج نے اسے بہت دنوں کے بعد دیکھا تھا۔
ٹامی۔ ٹامی۔ یہاں آؤ جارج نے اسے پکارا۔
کتا بھاگتا ہوا جارج کے قریب آیا، لیکن رک گیا اس نے حیرت سے جارج کے بدنما داغوں کو دیکھا اور الٹے قدموں پیچھے ہٹنے لگا۔
جارج نے آگے بڑھ کر کتے کو پیار کرنا چاہا تو بھاگ کر میز کے نیچے چھپ گیا۔
جارج گھٹنوں کے بل بیٹھ گیا اور بلک بلک کر رونے لگا۔
اس کے ملازم نے آج کا اخبار اس کے سامنے رکھا اور بولا۔
”میرا خیال ہے آپ کو یہ خبر پڑھ لینی چاہیے۔ میں چھٹی پر گاؤں جانا چاہتا ہوں آپ کی بہتری اسی میں ہے کہ آپ فوراً ہسپتال داخل ہو جائیں۔
جارج نے اخبار پر نظر ڈالی۔ ایک کارٹونسٹ کی آگ میں جل کر مرنے کی خبر تھی۔
”کیا تم مجھے موت سے ڈرانے آئے ہو، دفع ہو جاؤ ذلیل کے بچے۔ وہ اپنا غصہ ملازم پر نکالنے لگا۔
شاتم
کھڑکی میں جب اس نے اپنے آخری ملازم کو بھی جاتے دیکھا تو وہ سنجیدگی سے اپنی موت کے بارے میں سوچنے لگا۔
اس کے ماتھے پر پسینے کے قطرے تھے۔ وہ ڈاکٹر کی تمام ہدایات بھول کر شراب میں تسکین حاصل کرنے لگا۔
رات اس نے نیند حرام کر دینے والا خواب دیکھا......
اس کی میت لاوارث پڑی تھی اور بچے ایک لمبی قطار میں باری باری اس پر تھوک رہے تھے۔
☆☆......☆☆
صبح ڈاکٹر کے آنے پر سکیورٹی والوں نے کھڑکی توڑ کر دروازہ کھولا۔
”جارج اگر برا نہ مانو تو ایک بات کہوں؟“ ڈاکٹر نے آہستہ سے پوچھا۔
”بولو“ جارج بہت تکلیف میں تھا۔
ڈاکٹر: چرچ جا کر اعتراف کر لو۔ تمہیں کچھ سکون ملے گا۔
جارج: نہیں، کبھی نہیں۔
ڈاکٹر: غصہ مت کرو، میں ایک ڈاکٹر ہوں اس طرح سسک سسک کر مرنے سے بہتر ہے کہ کم از کم اپنا کتھارسس کر لو۔
اعتراف سے سکون بھی ملتا ہے اور کتھارسس بھی ہوتا ہے۔ شاید Healing کی بھی کوئی صورت نکل آئے۔
جارج پاگلوں کی طرح ہنسنے لگا۔ ”بے وقوف ڈاکٹر تم بھی“
ھا ھا ھا
شاتم
میرے خیال میں مجھے اب تمہاری بھی ضرورت نہیں۔
دفع ہو جاؤ یہاں سے دفع ہو جاؤ ان سکیورٹی والوں سے کہو کہ یہ بھی یہاں سے دفع ہو جائیں۔
ڈاکٹر اور سکیورٹی آفیسر دونوں نے کندھے اچکائے اور گھر خالی کر دیا۔
صرف سکیورٹی آفیسر نے جارج سے ایک کاغذ پر دستخط لیے۔
☆☆......☆☆
مصطفیٰ کو جارج کے گھر سکیورٹی والوں کے چلے جانے کی اطلاع ملی تو اس نے کہا۔
”بہت احتیاط سے کہیں یہ کوئی چال نہ ہو۔“
☆☆......☆☆
آدھی رات کو جارج نے اپنے گرد چادر لپیٹی اور دروازہ کھول کر گرجے کی طرف چل دیا۔
”فادر فرنینڈس۔ فادر فرنینڈس“
دیکھو میں آیا ہوں۔ جارج ۔ عظیم فلم میکر
میرا اعتراف سنو!
سنو! ”میری“ کو میں نے ہی قتل کیا تھا، وہ بے گناہ تھی اس پر الزام بھی میں نے لگایا تھا تمہارا حرامی پادری میرا ساتھی تھا۔
وہی اُسے ورغلا کر میرے پاس لایا تھا بہت سے پیسے دیئے تھے میں نے اس پادری کو جانتے ہو کہاں ہے وہ! ہاں میں یہ بھی اعتراف کرتا ہوں کہ میں
شاتم
نے اسے بھی مار ڈالا۔ میں نفرت کرتا ہوں اس دوزخی سے۔
بہت نفرت کرتا ہوں ”میں جانتا تھا“ فادر فرنینڈس کی دھیمی آواز اس کے کانوں سے ٹکرائی۔
جارج نے مڑ کر دیکھا۔ پادری کی آنکھوں میں آنسو تھے۔
”تمہارا معاملہ اعتراف سے حل ہونے والا نہیں، تم قاتل ہو، انسانی جان کے اور پوری دنیا کے مسلمانوں کی مجموعی تعداد شامل کی جائے تو ڈیڑھ ارب سے زائد انسانی جذبات کے“ فادر فرنینڈس نے لرزیدہ لہجے میں کہا:
جاؤ...... کسی مسجد میں...... پہلے گڑگڑا کر اس مکروہ کیفیت سے نجات حاصل کرو۔
اگر معافی مل جائے تو عدالت میں پیش ہونا پھر وہاں قانون کے سامنے گڑگڑانا۔
جاؤ! اس کے علاوہ کوئی صورت نہیں۔ فادر فرنینڈس نے اسے سمجھایا۔
جارج یہ سن کر پتھر کے بت کی طرح خاموش کھڑا رہا پھر ہارے ہوئے جواری کی طرح بوجھل قدموں سے چلتا ہوا چرچ سے باہر آ گیا۔
اس کا رخ اب مسجد کی طرف تھا۔
سیڑھیوں پر اس نے ایک شخص سے پوچھا:
”مجھے جانتے ہو؟“
جواب میں اس شخص نے جارج کے ہاتھوں میں ایک سکہ تھما دیا۔
”میں بھکاری نہیں ہوں، مجھے تم سب سے ایک بات کرنی ہے۔“ جارج
شاتم
نے چیخ کر کہا:
میں جارج ہوں۔ عظیم فلم پروڈیوسر ۔ تاریخ کا رخ پلٹ دینے والا فلمساز
دیکھو! تم سب کو میری بات سننا ہو گی۔
شاید ہم لوگ کسی مفاہمت پر پہنچ سکیں۔
کوئی اس کی طرف متوجہ نہ ہوا۔ سب نفرت سے منہ موڑ کر اپنی اپنی راہ ہو لیے۔
مصطفیٰ ایک ستون کے پیچھے کھڑا سب دیکھ رہا تھا۔ جب مسجد خالی ہو گئی تو مصطفیٰ قریب ہو کر بولا:
”ہم اپنے نبی ﷺ کی توہین کرنے والوں سے مفاہمت نہیں کیا کرتے، اسے صرف جان سے مارتے ہیں لیکن میں چاہوں گا کہ ایک بار تم مریم سے ملو۔ شاید نجات کا کوئی راستہ نکل آئے۔
جارج: ”مریم!! کون مریم؟“
مصطفیٰ: نینسی ۔ الحمد للہ وہ شہادت سے پہلے مسلمان ہو گئی تھی۔
جارج: کہاں ہے وہ؟
مصطفیٰ: مسلمانوں کے قبرستان میں جا کر اسے تلاش کرو۔ بعد میں اپنے موسیقار دوست کے پاس آ جانا۔ مجھے اپنا منتظر پاؤ گے۔ شاید مفاہمت کی کوئی صورت نکل آئے۔
☆☆......☆☆
صبح سویرے مسلمانوں کے قبرستان میں جارج پاگلوں کی طرح مریم کی قبر کو
شاتم
ڈھونڈ رہا تھا۔ اچانک اسے ایک طرف کتوں کا غول نظر آیا۔ غراتے ہوئے کتے اسی کی طرف آ رہے تھے۔
اسے اپنا خواب حقیقت بن کر صاف دکھائی دینے لگا۔ وہ جان بچا کر ایک طرف سرپٹ بھاگ اٹھا۔
گرتا پڑتا جب وہ موسیقار کی قبر پر پہنچا تو مصطفیٰ وہاں پہلے ہی سے موجود تھا۔
”مجھے معلوم تھا یہی تمہارا آخری ٹھکانہ ہے۔“ مصطفیٰ نے پستول لوڈ کرتے ہوئے کہا:
جارج نے چادر گرا کر اپنے خون آلود چہرے کو ہاتھ سے صاف کیا تو مصطفیٰ کا رواں رواں کانپ اٹھا اور وہ بے اختیار قرآنی آیات کی تلاوت کرنے لگا۔
بے اختیار اس کے منہ سے قرآن پاک کی آیات جاری ہو گئیں۔
جارج زمین پر گر گیا۔
”یہ تم کیا کہہ رہے ہو؟“
مصطفیٰ نے اسے اردو ترجمہ سنایا۔
”اور جس نے نبی ﷺ کی شان میں گستاخی کی، اس کے لیے دردناک عذاب ہے۔“
جارج گڑگڑانے لگا۔
”مجھ پر ایک احسان کرو۔ میرا اس زندگی سے پیچھا چھڑا دو۔ دیکھو تم جانتے ہو کہ میں تمہارے باپ کا قاتل ہوں۔“
شاتم
مصطفیٰ: تم نے امت مسلمہ کو خواب غفلت سے جگایا ہے۔
تم نے ہمارے بکھرے ہوئے فرقوں کو ایک حب رسول ﷺ کی مضبوط لڑی میں پرو دیا ہے۔
تمہاری ایک حرکت سے پوری دنیا میں نبی ﷺ کا نام مزید بلند ہوا ”ورفعنا لک ذکرک“ اور ان کی اُمت کا ہر فرد بلا امتیاز رنگ و نسل اور مسلک حرمت رسول ﷺ پر جان قربان کرنے کو تیار ہوگیا۔
”اللہ اکبر“
وہ چالیں چلتے ہیں مگر ”واللہ خیر الماکرین“ اللہ کی چال سب سے اچھی ہے۔
یقین کرو ...... تم ہمارے نہیں اپنی قوم کے دشمن ہو۔
”اپنی قوم کا دشمن میں نہیں! ڈینیل گولڈ ہے۔“
مصطفیٰ مسکرایا: ہاں! وہ یہودی اور اُس کا پورا نیٹ ورک عیسائیوں اور مسلمانوں کا دشمن ہے۔ لیکن کاش تم اپنی شیطانی ہوس میں گرفتار ہونے سے پہلے اس بات کو سمجھ لیتے
یہ کاپی اور قلم تمہارے پاس چھوڑے جا رہا ہوں۔
تاکہ تم مرنے سے پہلے اپنی قوم کو کوئی پیغام پہنچا سکو (اپنی قوم کے نام کوئی پیغام لکھ سکو۔)
☆☆.......☆☆
تمام اخبارات کو جارج کی جو آخری وصیت ملی وہ گورکن نے اس کے کہنے
شاتم
کے مطابق اس کی موت کی خبر کے ساتھ سب کو ارسال کی تھی۔ اس نے لکھا تھا:
”میں اعتراف کرتا ہوں کہ میں اپنی قوم کا مجرم ہوں۔ میں نے مسلمانوں کو ایک پلیٹ فارم پر متحد کیا اور ان کے دل میں ان کے نبی ﷺ کی محبت جگا کر ناقابل معافی وتلافی جرم کا ارتکاب کیا۔
میری وصیت کے مطابق جو شخص بھی میری قبر کے قریب آئے وہ ڈینیل گولڈ پر بلند آواز سے لعنت بھیجے۔ شاید ”مجھے کچھ سکون ملے“
لیکن یہ وصیت کہیں بھی نہ چھپ سکی کیونکہ
”اظہار رائے کی آزادی کی بھی ایک حد ہوتی ہے۔“
☆☆............☆☆
مختار عالم میڈیا کے میدان میں ایک تحریک کا نام ہے۔ مقصدیت سے بھرپور تحریک، جس کے پیچھے پروفیسر عبدالجبار شاکر، مولانا فضل الرحیم، بابا اشفاق احمد اور ایسے کتنے ہی بزرگوں کی خواہشات پنہاں ہیں۔ ان کا ہر پروگرام انفرادی ہے۔
ان کے سوفٹ ویئر Read n Win نے لاکھوں بچوں کو ناظرہ قرآن پڑھنا سکھا دیا۔ ہادی کی سیریل بچوں کے لیے قرآن کی پہلی تفسیر کا روپ دھار رہی ہے۔ ناموس رسالت کے لیے مر مٹنے پر تیار ہیں لیکن دینی حدود اور ذمہ داری کا احساس ہر پروگرام کو مشرکین کی بے لگام اظہار آزادی کے مقابلہ میں ایک وقار دیئے ہوئے ہے۔ لہٰذا ”شاتم“ ہو یا ”اجالے جنوں کے“ یا پھر اس موضوع پر تمام وہ ڈاکومنٹریز جو زیر تکمیل ہیں۔ ہر باہوش گستاخ کے ہوش اڑا دینے کے لیے کافی ہے۔
میڈیا میں ان کے ٹریننگ پروگرامز منفرد ہیں جو چینلز کو سینکڑوں باوقار افراد مہیا کر چکے ہیں۔ مختار عالم کی کوئی خواہش ایسی نہیں جسے ہم نے پورا ہوتے ہوئے نہ دیکھا ہو۔ امّہ کے نامور بزرگوں کی دعائیں ان کے شامل حال ہیں۔ اسی لیے یقین ہے کہ آج کل یہ جس ٹی۔ وی چینل کا نیا ماڈل لیے ہر جگہ مشاورت کرتے نظر آ رہے ہیں۔ یہ بھی اللہ کے فضل سے امّہ کو ایک نئی جہت سے روشناس کروائے گا۔
کتاب سرائے
کتاب سرائے پبلشرز، ڈسٹری بیوٹرز، مشیران کتب خانہ جات
فرسٹ فلور، الحمد مارکیٹ، غزنی سٹریٹ اُردو بازار، لاہور فون: 37320318 فیکس: 37239884 ای میل: Kitabsaray@hotmail.com