ارے تعبیر کرتا ہے لیکن اس کے الفاظ بھی ادا کر سکے۔ ہولوکاسٹ کا دوسری جنگ عظیم میں ہٹلر کے دور یورپ میں تقریباً 60 لاکھ یہودیوں کہ انہیں ایک الگ ملک دیا است الاٹ کر دی گئی۔ بعد میں یورپیوں نے ایک قانون بنوا دیا جا سکتا۔ جو شخص ہولوکاسٹ کے چار سال پیشتر معروف تاریخ دان ) کو آسٹریا کی عدالت نے کہا تھا کہ ہولوکاسٹ میں غلط ہے۔ امریکا میں ہٹلر کا سے جرم ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا جاتی ہے؟
ناموسِ رسالت صلی اللہ علیہ وسلم
کے خلاف
مغرب کی شرانگیزیاں
مغرب کی اسلام دشمنی اور مسلمانوں سے معاندانہ رویے پر مبنی تحقیقی دستاویز نا قابل تردید حقائق، تہلکہ خیز واقعات، ہوش ربا انکشافات
محمد متین خالد
علم و عرفان پبلشرز الحمد مارکیٹ، 40-اُردو بازار، لاہور
بسم اللہ الرحمن الرحیم
ناموس رسالتﷺ
کے خلاف
مغرب کی شرانگیزیاں
عجیب بات ہے کہ مغرب گستاخی رسول کو آزادی اظہار سے تعبیر کرتا ہے لیکن اس کے ہاں کسی شخص کو یہ جرات نہیں کہ وہ ہولوکاسٹ پر ایک لفظ بھی ادا کر سکے۔ ہولوکاسٹ کا مفہوم یہ ہے کہ یہودیوں نے یہ پروپیگنڈہ کیا تھا کہ دوسری جنگ عظیم میں ہٹلر کے دور اقتدار میں پولینڈ کے شہر شوئز میں بنائے گئے گیس چیمبرز میں تقریباً 60 لاکھ یہودیوں کو قتل کیا گیا۔ اس بنیاد پر یہودیوں نے مطالبہ کیا تھا کہ انہیں ایک الگ ملک دیا جائے۔ اس پروپیگنڈہ کے نتیجہ میں اُن کو اسرائیلی ریاست الاٹ کر دی گئی۔ بعد میں تحقیق ہوئی تو یہودیوں کا دعویٰ سراسر جھوٹا نکلا۔ تب یہودیوں نے ایک قانون بنوا دیا کہ ہولوکاسٹ کی مبینہ صداقت کو کہیں بھی چیلنج نہیں کیا جاسکتا۔ جو شخص ہولوکاسٹ کے جھوٹ پر تحقیق کرے گا، وہ قابل گردن زدنی ہوگا۔ چند سال پیشتر معروف تاریخ دان ڈیوڈ ارونگ (David John Cawdell Irving) کو آسٹریا کی عدالت نے محض اس لیے تین سال کی سزا سنا ڈالی کہ اُس نے صرف اتنا کہا تھا کہ ہولوکاسٹ میں یہودیوں کے قتل کی تعداد اتنی نہیں جتنی مبالغہ آرائی کی جاتی ہے۔ امریکا میں ہٹلر کا نشان Swastika شائع یا کسی جگہ پینٹ کرنا بھی صریح جرم ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہاں مغرب کی آزادی اظہار کہاں چلی جاتی ہے؟
ناموس
مغرب
مغرب کی اسلام دشمنی اور
نا قابل تردید حقائق
علم و عرفان
جملہ حقوق محفوظ ہیں
- نام کتاب ........................ ناموس رسالت ﷺ کے خلاف مغرب کی شرانگیزیاں
- مصنف ........................ محمد متین خالد
- ناشر ........................ علم وعرفان پبلشرز
الحمد مارکیٹ، 40- اردو بازار، لاہور۔
- کمپوزنگ ........................ رفاقت علی / تاج کمپوزنگ سنٹر، لاہور
- سن اشاعت ........................ 2012ء
- تعداد ........................ 1100
- قیمت ........................ 500/- روپے
تقسیم کار
علم و عرفان پبلشرز
الحمد مارکیٹ، 40- اردو بازار، لاہور۔ فون: 37232336 ' 37352332 فیکس: 37223584 www.ilmoirfanpublishers.com, E-mail: ilmoirfanpublishers@hotmail.com
- انتساب
- پردہ اٹھتا ہے!
- تحفظ ناموس رسالت ﷺ، اہمیت
- نبی کریم ﷺ سے محبت کا تقاضا
- ناموس رسالت ﷺ
- توہین رسالت ﷺ
- توہین رسالت کی سزا، قرآن مجید
- توہین رسالت اور احادیث نبویہ
- احادیث میں توہین رسالت ﷺ
- ...... کچھ نہیں، صرف امتی بن جائیں
- عظمت مصطفیٰ ﷺ، مغرب کا م
- کیا حضور نبی کریم ﷺ پر تنقید ہ
- ناموس رسول کی دولت اور مغرب
- صدر صاحب! کب تک خاموش
- ”سر“ ملا ہے سر کاٹنے کے لیے
- آخرت کا سودا
- توہین آمیز خاکوں کی دوبارہ ا
فہرست
- انتساب 11
- پردہ اٹھتا ہے! محمد متین خالد 15
- تحفظ ناموس رسالت ﷺ، اہمیت اور تقاضے پروفیسر محمد اکرم رضا 27
- نبی کریم ﷺ سے محبت کا تقاضا مفتی محمد تقی عثمانی 41
- ناموس رسالت ﷺ ڈاکٹر عامر لیاقت حسین 53
- توہین رسالت ﷺ مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ 57
- توہین رسالت کی سزا، قرآن مجید کی روشنی میں محمد فرقان 60
- توہین رسالت اور احادیث نبویہ ﷺ مولانا محمد علی جانباز 83
- احادیث میں توہین رسالت ﷺ کے واقعات حافظ حسن مدنی 101
- ...... کچھ نہیں، صرف امتی بن جائیے! ڈاکٹر عامر لیاقت حسین 111
- عظمت مصطفیٰ ﷺ، مغرب کا گستاخانہ رویہ ڈاکٹر اسرار احمد 114
- کیا حضور نبی کریم ﷺ پر تنقید برداشت کی جاسکتی ہے؟ مولانا حافظ محمد احمد 117
- ناموس رسول کی دولت اور مغرب کی تہی دامن تہذیب عبدالقیوم ساجد 122
- صدر صاحب! کب تک خاموش رہیں گے؟ ڈاکٹر عامر لیاقت حسین 125
- ”سر“ ملا ہے سر کاٹنے کے لیے......!! ڈاکٹر عامر لیاقت حسین 128
- آخرت کا سودا اوریا مقبول جان 131
- توہین آمیز خاکوں کی دوبارہ اشاعت اور یورپ انور غازی 134
- میری توبہ قبول ہو..... ڈاکٹر عامر لیاقت حسین 139
- خاص ہے ترکیب میں قوم رسول ﷺ ہاشمی حافظ عبدالواحد سجاد 142
- شان رسالت ﷺ اللہ داد نظامی 146
- حرمت رسول ﷺ پر صہیونی حملے اور ان کا سدباب حکیم عبدالوحید سلیمانی 149
- ہم اہل صفا مردود حرم! ڈاکٹر عامر لیاقت حسین 161
- یہود و نصاریٰ اور توہین رسالت ﷺ ملک احمد سرور 164
- ”تمہارا دشمن ہو گا نسل کٹا“ ڈاکٹر مطلوب حسین 168
- یہ شمع جلتی رہے گی مولانا محمد اسلم شیخوپوری 172
- قانون توہین رسالت ﷺ میں ترمیم کے مضمرات محمد اسماعیل قریشی ایڈووکیٹ 177
- توہین رسالت کا مقدمہ اور یورپی ممالک کے قوانین میاں منیر احمد 183
- یورپ کا خدا ڈاکٹر حسین احمد پراچہ 188
- یورپ اور قانون توہین انبیا محمد اسماعیل قریشی ایڈووکیٹ 192
- توہین رسالت ﷺ کا قانون کیسے بنا....... شاہ بلیغ الدین 196
- توہین رسالت ﷺ....... علمی جائزہ محمد اسماعیل قریشی ایڈووکیٹ 205
- لانگ آرم سٹیچو محمد عامر خاکوانی 209
- دہرا معیار اسرار احمد کسانہ 213
- آبروئے ما ز نام مصطفیٰ ﷺ است اوریا مقبول جان 216
- آزادیٔ اظہار کا مذاق مواحد حسین سید 219
- کیا یہ سیکولرزم ہے؟ پروفیسر جمیل احمد عدیل 222
- یہ تیر صرف ہمارے لیے ہیں! عرفان صدیقی 226
- آزادیٔ رائے اور تضحیک مذہب امجد عباسی 229
- غیر اخلاقی کارٹونوں کی اشاعت رابرٹ فسک 234
- توہین آمیز خاکوں کی اشاعت اور مغرب کا رویہ سفیر احمد صدیقی 238
- بے شرم ہڈیوں سے لپٹا احسان فراموش گوشت ڈاکٹر عامر لیاقت حسین 243
- سب سے بڑی سچائی
- اشتعال انگیز کارٹون، اسلام سے جنگ
- اظہار آزادی کا امتحان
- توہین رسالت ﷺ کرنے والے پر
- ایسا کیوں ہے؟
- سوہنے محمد ﷺ کے نام پر
- صلیبی جنگوں کا نیا سلسلہ شروع ہو
- دشمن کی دستک
- نئی شرانگیزی
- مغرب کا اصل چہرہ
- الکفر ملۃ واحدہ
- توہین آمیز خاکے...... جارج ڈبلیو
- مسلمانوں کا امتحان
- آئینہ دیکھیں تو چہرے نظر آتے ہیں
- در دل مقام مصطفیٰ ﷺ است
- اتنی بے بسی کیوں؟
- اپنے نام میں موجود محمد ﷺ کے
- بتلا دو گستاخ نبی ﷺ کو غیرت
- عاشق کے ہاتھوں گستاخ کی دھلائی
- کرنے کے تین کام
- شرار بولہبی
- توہین آمیز خاکوں کی اشاعت پر
- توہین آمیز خاکے، اسلام اور مغرب
- جام عشق پی لیے تو آج میخانے
ڈاکٹر عامر لیاقت حسین 139 آلِ نبی ہاشمی حافظ عبدالواحد سجاد 142 اللہ داد نظامی 146 اور ان کا سدباب حکیم عبدالوحید سلیمانی 149 ڈاکٹر عامر لیاقت حسین 161 ملک احمد سرور 164 ڈاکٹر مطلوب حسین 168 مولانا محمد اسلم شیخوپوری 172 کے مضمرات محمد اسماعیل قریشی ایڈووکیٹ 177 ناپاک کے قوانین میاں منیر احمد 183 ڈاکٹر حسین احمد پراچہ 188 محمد اسماعیل قریشی ایڈووکیٹ 192 بنا...... شاہ بلیغ الدین 196 محمد اسماعیل قریشی ایڈووکیٹ 205 محمد عامر خاکوانی 209 اسرار احمد کسانہ 213 اوریا مقبول جان 216 مواحد حسین سید 219 پروفیسر جمیل احمد عدیل 222 عرفان صدیقی 226 امجد عباسی 229 رابرٹ فسک 234 عکاسیہ سفیر احمد صدیقی 238 حقیقت ڈاکٹر عامر لیاقت حسین 243
- ❑ سب سے بڑی سچائی حامد میر 246
- ❑ اشتعال انگیز کارٹون، اسلام سے عیسائی مغرب کا بغض ارشاد احمد حقانی 249
- ❑ اظہار آزادی کا امتحان بی بی سی 252
- ❑ توہین رسالت ﷺ کرنے والے یورپ سے 39 سوال عبداللہ 254
- ❑ ایسا کیوں ہے؟ یاسر محمد خاں 259
- ❑ سوچئے محمد ﷺ کے نام پر مفتی ابولبابہ شاہ منصور 265
- ❑ صلیبی جنگوں کا نیا سلسلہ شروع ہوگیا یاسر محمد خان 269
- ❑ دشمن کی دستک یاسر محمد خان 275
- ❑ نئی شرانگیزی عرفان صدیقی 281
- ❑ مغرب کا اصل چہرہ جنرل (ر) حمید گل 285
- ❑ الکفر ملۃ واحدۃ اوریا مقبول جان 290
- ❑ توہین آمیز خاکے....... چرچ کی منصوبہ بندی ملک احمد سرور 293
- ❑ مسلمانوں کا امتحان جاوید چودھری 298
- ❑ آئینہ دیکھیں تو چہرے نظر آتے ہیں کئی پروفیسر خباب احمد خان 300
- ❑ در دل مقام مصطفیٰ ﷺ است عرفان صدیقی 304
- ❑ اتنی بے بسی کیوں؟ یاسر محمد خان 308
- ❑ اپنے نام میں موجود محمد ﷺ کے میم کی لاج رکھ لیجئے ڈاکٹر عامر لیاقت حسین 314
- ❑ بتلا دو گستاخِ نبی ﷺ کو غیرت مسلم زندہ ہے! ڈاکٹر عامر لیاقت حسین 317
- ❑ عاشق کے ہاتھوں گستاخ کی درگت ڈاکٹر عامر لیاقت حسین 321
- ❑ کرنے کے تین کام مفتی ابولبابہ شاہ منصور 325
- ❑ شرارِ بولہبی مولانا محمد اسلم شیخوپوری 330
- ❑ توہین آمیز خاکوں کی اشاعت ڈاکٹر محمد طاہر القادری 334
- ❑ توہین آمیز خاکے، اسلام اور عصری قانون حافظ حسن مدنی 341
- ❑ جامِ عشق پی لیتے تو آج تنہا نہ ہوتے! ڈاکٹر عامر لیاقت حسین 346
- Danks Javlar
- بغل میں ڈنمارک کا سفیر اور لبوں پہ عشق کا ڈھنڈورا ڈاکٹر عامر لیاقت حسین 349
- ڈمپل، ابابیل اور نفیل.....! ڈاکٹر عامر لیاقت حسین 352
- ڈنمارک کے اخبار کی اشتعال انگیزی 355
- صلیبی صہیونی ٹولے کی توہین رسالت ﷺ مہم سلیم یزدانی 358
- یہ ڈنمارک والے کون ہیں؟ پروفیسر شمیم اختر 362
- یہ ہے...... مغربی تہذیب عظیم سرور 366
- شاتمان رسول ﷺ...... دیکھیے دیکھیے آئینہ دیکھیے!!! محمد ہاشم جاوید 369
- ملعون رشدی کا مکروہ چہرہ حافظ سجاد تقی 374
- ملعون رشدی کے معاملے پر چوٹی کی چار شخصیات کا ردعمل عرفان صدیقی 378
- یہ بے نظیر کو کیا ہوا؟ خالد عمران 382
- اگر سلمان رشدی کو مار دیا ہوتا سیف اللہ خالد 386
- جاہل کو اگر جہل کا انعام دیا جائے...... مریم گیلانی 389
- ہمیں کہاں لے جایا جا رہا ہے؟ مولانا محمد شفیع چترالی 392
- مرتد اور گستاخ ، مغرب کی پناہ میں عبدالغفور ندیم 397
- اسلام مخالف متنازع فلم اشفاق احمد بھٹی 400
- شعائر اسلام کی توہین کیوں؟ جنید افتخار 405
- مسلمان عورت پر اشتعال انگیز فلم یاسر محمد خان 407
- فلموں میں انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام کے واقعات عرفان گیلانی 412
- دور جدید کے ابلیس کا ”الفرقان الحق“ مولانا محب اللہ مدظلہ 416
- یہ آگ کیسے ٹھنڈی ہو؟ عبدالرشید ارشد 420
- مسلمانوں کا قتل عام...... ایک ویڈیو گیم حامد میر 426
- گستاخان اسلام سے آمنا سامنا اشتیاق بیگ 429
- ...... اگر تم اب بھی نہ سمجھے؟ حامد میر 433
بشریٰ رحمن 436
- یہ کیسے لوگ ہیں؟
- توہین سنت رسول ﷺ
- رسول اکرم ﷺ کے خلاف جہ...
- آستین کے سانپ
- ایک گمراہ کا ذکر......!
- مقدس ناموں کی توہین
- اسلام کے خلاف مغرب کا منفی...
- بدنام زمانہ امریکی جنرل کی ہرزہ...
- ہماری ذمہ داری کیا ہے؟
- فتنہ پرور
- اہل صلیب کے گھٹیا ہتھکنڈوں ک...
- غازی علم الدین شہید اور حالیہ ...
- تاریخ پھر دہرائی جا رہی ہے؟
- پھر گستاخانہ خاکے!
- ملعون سلمان کے بعد ایک ...
- توہین قرآن کا ایک اور سانحہ...
- توہین رسالت ﷺ کی ایک ...
- ہوئے ہیں ناتواں ایسے کہ چہ...
- دور حیات آئے گا ”قاتل“ قذ...
- افغانستان کو دیکھ لیجیے!!!
- ہم جنس پرستی اور اسے پروان چ...
- کلیسا پاکستان کے نام ...... کھلا...
- امام کعبہ کا توہین رسالت پر خط...
- اسرائیل سے قادیان تک پھیلی...
- ❑ یہ کیسے لوگ ہیں؟ عرفان صدیقی 440
- ❑ توہین سنت رسول ﷺ مسلم سجاد 443
- ❑ رسول اکرم ﷺ کے خلاف جھوٹ کا پلندہ عبدالمجیب 445
- ❑ آستین کے سانپ ابن خالد 449
- ❑ ایک گمراہ کا ذکر .....! خاور چوہدری 452
- ❑ مقدس ناموں کی توہین مولانا سعید احمد جلال پوری 456
- ❑ اسلام کے خلاف مغرب کا منفی پراپیگنڈا سلطان محمود 462
- ❑ بدنام زمانہ امریکی جنرل کی پاکستان میں تعیناتی اشتیاق بیگ 468
- ❑ ہماری ذمہ داری کیا ہے؟ ماہم رجا 472
- ❑ فتنہ پرور مولانا محمد اسلم شیخوپوری 475
- ❑ اہل صلیب کے گھٹیا ہتھکنڈوں کا مقابلہ کیسے کیا جائے؟ ملک احمد سرور 479
- ❑ غازی علم الدین شہید اور حالیہ خاکے! جسٹس (ر) سجاد علی شاہ 484
- ❑ تاریخ پھر دہرائی جا رہی ہے؟ ریاض احمد فاروقی 490
- ❑ پھر گستاخانہ خاکے! ڈاکٹر عامر لیاقت حسین 495
- ❑ ملعون سلمان کے بعد ایک ..... ”بے“ وقار سلطان! ڈاکٹر عامر لیاقت حسین 499
- ❑ توہین قرآن کا ایک اور سانحہ ...... حافظ سجاد ستی 503
- ❑ توہین رسالت ﷺ کی ایک اور ناپاک جسارت ابوشراحیل 506
- ❑ ہوئے ہیں ناتواں ایسے کہ جینا بھی بھاری ہے حافظ سجاد ستی 509
- ❑ دور حیات آئے گا ”قاتل“ فتنہ کے بعد حافظ سجاد ستی 516
- ❑ افغانستان کو دیکھ لیجیے!!! جاوید چوہدری 520
- ❑ ہم جنس پرستی اور اے آر وائی کی مجرمانہ پیش رفت ام سعد 524
- ❑ کلیسیا پاکستان کے نام ...... کھلا خط مولانا عبدالرؤف فاروقی 526
- ❑ امام کعبہ کا توہین رسالت پر خطبہ جمعہ تلخیص: اکرم فضل 532
- ❑ اسرائیل سے قادیان تک پھیلی ہوئی ابلیسی تحریک مفتی ابولبابہ شاہ منصور 536
- فتنہ زید زمان (زید حامد) محمد ہاشم جاوید 543
- قادیانی وفد کی وزیر مذہبی امور سے ملاقات عبدالقدوس محمدی 550
- وفاقی وزیر مذہبی امور سے چند سوالات عبدالقدوس محمدی 554
- حویلی کا راز شبیر احمد 557
- کمال سپننگ مل والوں کا کمال با زوال مولانا عبدالرشید انصاری 563
- توہین آمیز خاکے اور قادیانی محمد ہاشم جاوید 566
- نامعلوم دہشت گرد مشکور راجپوت ایڈووکیٹ 568
- ہالینڈ کے رکن پارلیمنٹ کی ہرزہ سرائی محمد عمر 573
- توہین رسالت ﷺ کے قانون میں ترمیم کی کوشش؟ 575
- سیرت النبیٰ یا گوتم بدھ کا تذکرہ؟ 579
- اے رسول خدا ﷺ کے دشمن! حضرت حسان بن ثابت 581
- مگر تنقید آقا پر گوارا نہیں کر سکتا اثر جون پوری 582
- کھیل نہ جذبات سے اثر جون پوری 583
- تو پھر کم ظرف کون ہوا......؟ فرحت عباس شاہ 584
لفظوں کو محبت و اخلاص کے نگار، ہر دلعزیز ”عالم آن لائن“ جلد ختم جنہیں بدنام زمانہ گستاخ رسول ﷺ وزارت سے علیحدہ، قومی اسمبلی سے سچ گوئی اور اظہار جرأت و بیباکی پر کئی پہاڑ توڑے گئے، مگر وہ ہمیشہ کے لیے غازی علم الدین شہیدؒ کا مجسمہ سترہ سالہ دانیال جس نے پریشان کر دیا۔ افکار کا یہ واقعہ پاک 2008ء کو پیش آیا، جہاں وفاقی و تقریب انعامات جاری تھی، رمضان کے درمیان منعقد کی گئی اور اتوار کا والدین سے بھرا ہوا تھا، ان والدین اور مغربی موسیقی غالب تھی...... اس گیت پر رقص پیش کیا، یہ گیت ایک دیوانہ بنالیتی ہے، ادھر طالبات او لیول اور اے لیول کے امتحانات نام پکارے جانے لگے، گولڈ میڈل
محمد ہاشم جاوید 543 عبدالقدوس محمدی 550 عبدالقدوس محمدی 554 شمیم احمد 557 مولانا عبدالرشید انصاری 563 محمد ہاشم جاوید 566 منظور راجپوت ایڈووکیٹ 568 محمد عمر 573 575 579 حضرت حسان بن ثابتؓ 581 انور جون پوری 582 انور جون پوری 583 فرحت عباس شاہ 584
انتساب!
لفظوں کو محبت و اخلاص کا حسن و جمال بخشنے والے عاشق رسول ﷺ معروف کالم نگار، ہر دلعزیز ”عالم آن لائن“ مجاہد تحفظ ناموس رسالت ﷺ، محترم ڈاکٹر عامر لیاقت حسین جنہیں بدنام زمانہ گستاخ رسول ﷺ سلمان رشدی کے خلاف کالم لکھنے کی پاداش میں وفاقی وزارت سے علیحدہ، قومی اسمبلی سے استعفیٰ اور ایم کیو ایم کی بنیادی رکنیت سے خارج ہونا پڑا۔ سچ گوئی اور اظہار جرأت و بیباکی پر مبنی کالموں کی اشاعت کے بعد ان پر مصائب و تکالیف کے کئی پہاڑ توڑے گئے، مگر وہ ہمیشہ ثابت قدم رہے۔ ان کے کالم کا ہر لفظ گستاخان رسول ﷺ کے لیے غازی علم الدین شہیدؒ کا خنجر ثابت ہو رہا ہے ۔ اللہ کرے یہ مرحلہ شوق نہ ہو طے
سترہ سالہ دانیال جس کے ایک انکار نے اسلام آباد کی اشرافیہ کو حیران نہیں بلکہ پریشان کر دیا۔ انکار کا یہ واقعہ پاکستان نیشنل کونسل آف آرٹس کے ڈرامہ ہال میں 6 نومبر 2008ء کو پیش آیا، جہاں وفاقی دارالحکومت کے ایک معروف انگریزی میڈیم اسکول کی تقریب انعامات جاری تھی، رمضان المبارک کے باعث یہ تقریب صبح دس بجے سے بارہ بجے کے درمیان منعقد کی گئی اور اتوار کا دن ہونے کے باعث ڈرامہ ہال طلبا و طالبات اور ان کے والدین سے بھرا ہوا تھا، ان والدین میں شہر کے لوگ شامل تھے، اس تقریب پر مغربی ماحول اور مغربی موسیقی غالب تھی...... اس دوران سکول کی طالبات نے جنید جمشید کے ایک پرانے گیت پر رقص پیش کیا، یہ گیت ایک سانولی سلونی کے بارے میں تھا، جو شہر کے لڑکوں کو اپنا دیوانہ بنا لیتی ہے، ادھر طالبات نے اس گیت پر دیوانہ وار رقص کیا۔ رقص کے بعد اسٹیج سے او لیول اور اے لیول کے امتحانات میں نمایاں پوزیشن حاصل کرنے والے طلباء و طالبات کے نام پکارے جانے لگے، گولڈ میڈل حاصل کرنے والی بعض اسکارف اور برقعے میں ملبوس
تھیں، ایک طالب علم ایسا بھی تھا جس کے چہرے پر نئی ڈاڑھی آئی تھی اور جب پرنسپل صاحبہ نے اس کے گلے میں گولڈ میڈل ڈال کر اس کے ساتھ ہاتھ ملانا چاہا تو دبلے پتلے طالب علم نے نظریں جھکا کر اپنا ہاتھ کھینچ لیا۔
پرنسپل صاحبہ نے پوچھا کہ کیا تم ہاتھ نہیں ملانا چاہتے؟ طالب علم نے نفی میں سر ہلایا اور اسٹیج سے نیچے اتر آیا، پھر دانیال کا نام پکارا گیا، جو اے لیول مکمل کرنے کے بعد ایک امریکی یونیورسٹی میں زیر تعلیم ہے اور صرف گولڈ میڈل حاصل کرنے اپنے پرانے اسکول کی تقریب میں بلایا گیا تھا، وہ گولڈ میڈل وصول کرنے کے لیے پرنسپل صاحبہ کی طرف نہیں گیا بلکہ ڈائس پر جا کر کھڑا ہوا اور مائیک تھام کر کہنے لگا کہ وہ اپنے اسکول کی انتظامیہ کا بہت شکر گزار ہے کہ اسے گولڈ میڈل کے لیے نامزد کیا گیا، لیکن اسے افسوس ہے کہ اس تقریب میں طالبات نے رمضان المبارک کے تقدس کا خیال نہیں کیا اور واہیات گیت پر رقص کیا، اس نے کہا مسلمانوں کے ملک میں رمضان المبارک کے تقدس کی پامالی کے خلاف بطور احتجاج وہ گولڈ میڈل وصول نہیں کرے گا، یہ کہہ کر وہ اسٹیج سے اتر آیا اور ہال میں ہوٹنگ مچ گئی۔
کچھ والدین اور طلبا تالیاں بجا کر دانیال کی حمایت کر رہے تھے اور کچھ چیخیں، گیٹ آؤٹ طالبان، گیٹ آؤٹ طالبان!! ایسا محسوس ہوتا تھا کہ مخالفین حاوی ہیں، کیونکہ وہ بہت زیادہ شور کر رہے تھے، لیکن یہ کھلبلی وفاقی دارالحکومت کی اشرافیہ میں ایک اور واضح تقسیم کا پتہ دے رہی تھی، یہ تقسیم لبرل عناصر اور بنیاد پرست اسلام پسندوں کے درمیان تھی۔ پرنسپل صاحبہ نے خود مائیک سنبھال کر صورت حال پر قابو پایا اور تھوڑی دیر کے بعد ہوشیاری سے ایک خاتون دانشور کو اسٹیج پر بلایا اور خاتون نے اپنی گرج دار آواز میں دانیال کو ڈانٹ پلاتے ہوئے کہا کہ تم نے جو کچھ کیا وہ بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کی تعلیمات کے خلاف تھا، کیونکہ بانی پاکستان رواداری کے علمبردار تھے۔
پچھلی نشستوں پر براجمان ایک اسکارف والی طلبہ بولی کہ بانی پاکستان نے یہ کب کہا تھا کہ مسلمان بچیاں رمضان میں اپنے والدین کے سامنے سانولی سلونی محبوبہ بن کر ڈانس کریں؟ ایک دفعہ پھر ہال میں غل بلند ہوا اور اس مرتبہ بنیاد پرست حاوی تھے، لہٰذا پرنسپل صاحبہ نے مائیک سنبھالا اور کہا کہ طالبات کے رقص سے اگر کسی کے جذبات مجروح ہوئے ہیں تو وہ معذرت خواہ ہیں، اس واقعے نے اسلام آباد میں ایک مغربی سفارت خانے کو بہت کچھ سوچنے پر مجبور کر دیا، سفارت خانے نے فوری گیا کہ وہ اسلام آباد کے پانچ معروف ایک سو طلبا و طالبات سے امریکی پال کریں۔ سروے رپورٹ میں بتایا گیا برداشت نہیں کر سکتا۔ اور اُس کے تحف
ہارورڈ یونیورسٹی (versity محترم صمد خرم جنہوں نے 18 جول تقریب تقسیم اکیڈمک ایکسیلنٹ ایوا Patterson) سے احتجاجاً ایوارڈ و ہوئے کہا کہ امریکہ صدر پرویز مشرف کے عدالتی نظام کو تباہ و برباد کر رہا ہ وزیرستان بالخصوص مہمند ایجنسی پر بمبار شہید ہوتے ہیں، لہٰذا بحیثیت پاکستا ہوں۔
پنجاب یونیورسٹی لاء کالج کے میں پہلی پوزیشن حاصل کرنے والے م 2009ء کو مہمانِ خصوصی گورنر پنجاب م میڈل لینے سے انکار کیا اور کہا کہ آپ دیتے رہتے ہیں۔ مزید آپ نے 12 مذمت نہیں کی، لہٰذا میں آپ سے ایوارڈ OPF گرلز کالج اسلام آبا پوزیشن حاصل کرنے والی) غیور طالبہ م میں امتحانات میں نمایاں پوزیشن حاص تقریب میں مہمان خصوصی ایم کیو ایم کے ڈاکٹر فاروق ستار سے احتجاجاً سرٹیفکیٹ و
کے چہرے پر نئی ڈاڑھی آئی تھی اور جب پرنسپل صاحبہ نے اس کے ساتھ ہاتھ ملانا چاہا تو دبلے پتلے طالب علم کہا تم ہاتھ نہیں ملانا چاہتے؟ طالب علم نے نفی میں سر ہلایا نام پکارا گیا، جو اے لیول مکمل کرنے کے بعد ایک صرف گولڈ میڈل حاصل کرنے اپنے پرانے اسکول کی وصول کرنے کے لیے پرنسپل صاحبہ کی طرف نہیں گیا کہہ کر کہنے لگا کہ وہ اپنے اسکول کی انتظامیہ کا بہت شکر دہ رہ گیا، لیکن اسے افسوس ہے کہ اس تقریب میں کا خیال نہیں کیا اور واہیات گیت پر رقص کیا، اس نے ملک کے تقدس کی پامالی کے خلاف بطور احتجاج وہ اسٹیج سے اتر آیا اور ہال میں ہڑ بونگ مچ گئی۔ کہ دانیال کی حمایت کر رہے تھے اور کچھ بچیاں، گیت افسوس ہونا تھا کہ مخالفین حاوی ہیں، کیونکہ وہ بہت ایوان حکومت کی اشرافیہ میں ایک اور واضح تقسیم کا پتہ انتہا پسندوں کے درمیان تھی۔ پرنسپل صاحبہ ہو پایا اور تھوڑی دیر کے بعد ہوشیاری سے ایک کی گونج دار آواز میں دانیال کو ڈانٹ پلاتے ہوئے اعظم محمد علی جناح کی تعلیمات کے خلاف تھا، کیونکہ والی طالبہ بولی کہ بانی پاکستان نے یہ کب ان کے سامنے سانولی سلونی محجبہ بن کر ڈانس بنیاد پرست حاوی تھے، لہٰذا پرنسپل صاحبہ اگر کسی کے جذبات مجروح ہوئے ہیں تو وہ اس ایک مغربی سفارت خانے کو بہت کچھ سوچنے
پر مجبور کر دیا، سفارت خانے نے فوری طور پر ایک ماہر تعلیم کی خدمات حاصل کیں اور اسے کہا گیا کہ وہ اسلام آباد کے پانچ معروف انگریزی میڈیم اسکولوں میں اولیول اور اے لیول کے ایک سو طلبا و طالبات سے امریکی پالیسیوں، طالبان اور اسلام کے بارے میں رائے معلوم کریں۔ سروے رپورٹ میں بتایا گیا کہ ایک عام گناہ گار مسلمان بھی شعائر اسلامی کی توہین برداشت نہیں کر سکتا۔ اور اُس کے تحفظ کے لیے وہ ہر حد عبور کرنے کے لیے تیار ہوتا ہے۔
ہارورڈ یونیورسٹی (Harvard University) امریکہ کے ہونہار طالب علم محترم صمد خرم جنہوں نے 18 جون 2008ء کو نیشنل آرٹ گیلری اسلام آباد میں منعقدہ تقریب تقسیم اکیڈمک ایکسیلنٹ ایوارڈ میں مہمان خصوصی امریکی سفیر اینی پیٹرسن (Anne Patterson) سے احتجاجاً ایوارڈ وصول کرنے سے انکار کیا اور اس سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ امریکہ صدر پرویز مشرف کی حمایت کرتا ہے جو غیر آئینی صدر ہے اور پاکستان کے عدالتی نظام کو تباہ و برباد کر رہا ہے۔ مزید برآں امریکہ، ڈرون طیاروں کے ذریعے وزیرستان بالخصوص مہمند ایجنسی پر بمباری کر رہا ہے جس سے سینکڑوں معصوم اور بے گناہ افراد شہید ہوتے ہیں، لہٰذا بحیثیت پاکستانی آپ سے ایوارڈ لینا میں اپنی ملی غیرت کے منافی سمجھتا ہوں۔
پنجاب یونیورسٹی لاء کالج کے سالانہ کانووکیشن کے موقع پر ایل ایل بی کے امتحان میں پہلی پوزیشن حاصل کرنے والے محب وطن طالب علم محترم محمد شاہد جنہوں نے 11 اکتوبر 2009ء کو مہمان خصوصی گورنر پنجاب سلمان تاثیر (چانسلر پنجاب یونیورسٹی) سے احتجاجاً گولڈ میڈل لینے سے انکار کیا اور کہا کہ آپ اسلام اور پاکستان کے مفادات کے خلاف بیانات دیتے رہتے ہیں۔ مزید آپ نے 12 مئی 2008ء کو کراچی کے شرمناک واقعات کی کوئی مذمت نہیں کی، لہٰذا میں آپ سے ایوارڈ لینا اپنے ضمیر کے خلاف سمجھتا ہوں۔
OPF گرلز کالج اسلام آباد کی (اے لیول کے امتحان میں تمام مضامین میں پہلی پوزیشن حاصل کرنے والی) غیور طالبہ محترمہ اسما وحید جنہوں نے 22 جنوری 2010ء کو کالج میں امتحانات میں نمایاں پوزیشن حاصل کرنے والی طالبات کے اعزاز میں منعقدہ ایک تقریب میں مہمان خصوصی ایم کیو ایم کے مرکزی رہنما اور وفاقی وزیر (سمندر پار پاکستانیز) ڈاکٹر فاروق ستار سے احتجاجاً سرٹیفکیٹ وصول کرنے سے انکار کیا اور کہا کہ آپ کا شمار صدر پرویز
مشرف کے قریبی ساتھیوں میں ہوتا ہے۔ جس نے کئی بے گناہ پاکستانیوں کو بھاری ڈالروں کے عوض امریکہ کے حوالے کیا۔ ان میں ایک ڈاکٹر عافیہ صدیقی بھی شامل ہے۔ اس جرم میں آپ بھی برابر کے شریک ہیں، لہذا آپ سے ایوارڈ وصول کرنا میں اپنی ہتک محسوس کرتی ہوں۔
دی یونیورسٹی آف فیصل آباد سے ٹیکسٹائل انجینئرنگ میں تیسری پوزیشن حاصل کرنے والے، نیک بخت طالب علم محترم صاحبزادہ عطا رسول مہاروی جنہوں نے 16 نومبر 2009ء کو یونیورسٹی کے سالانہ کانووکیشن میں مہمان خصوصی گورنر پنجاب سلمان تاثیر سے احتجاجاً براؤنز میڈل وصول کرنے سے انکار کیا اور حقارت سے کہا کہ آپ نہ صرف گستاخان رسول ﷺ کی سرپرستی کرتے ہیں، بلکہ توہین رسالت ایکٹ 295/c کو کالا قانون، اور اسے ختم کرنے کے بیانات بھی جاری کرتے ہیں۔ اس طرح آپ بذات خود توہین رسالت کے مرتکب ہوئے ہیں، لہذا آپ سے میڈل وصول کرنا میں گناہ سمجھتا ہوں۔
اسلام اور پاکستان کی سرحدوں کے ان سچے محافظوں کو جب میں دیکھتا ہوں تو اقبالؒ کی زبان میں سوچتا ہوں، ایسی چنگاری بھی یارب، اپنی خاکستر میں تھی!
ویل ڈن مائی ڈیئرز، ویل ڈن، وی آر آل پراؤڈ آف یو!
پوری ملت اسلامیہ آپ کی دینی غیرت و حمیت پر آپ کو اور آپ کے والدین کو سیلوٹ کرتی ہے۔
میں اس کتاب کا انتساب ان خوش بخت اور فرخندہ اقبال شخصیات کے نام کرتے ہوئے ایک عجیب روحانی خوشی اور اطمینان محسوس کر رہا ہوں۔
پہناتی ہے درویش کو تاج سردارا
پردہ اٹھتا ہے!
صاحبان علم و دانش کا کہنا ہے کہ مغرب، دین اسلام کے حوالے سے احساس کمتری اور خوف کا شکار ہے۔ اپنی عالمگیر سچائیوں کی بدولت دین اسلام مغرب کے ہر گھر پر ہی نہیں ہر در دل پر بھی دستک دے رہا ہے اور خوشبو کی طرح پھیلتا ہی چلا جارہا ہے۔ اپنے دفاع کے لیے مغرب کے پاس کوئی دلیل نہیں۔ اب ان کے تھنک ٹینکس نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ اسلام کی ہر دلیل کا جواب گالی سے دیں گے۔ یورپی اخبارات و رسائل میں حضور نبی کریم حضرت محمد ﷺ کے حوالے سے شائع ہونے والے خاکے اسی ناپاک منصوبے کا حصہ ہے۔ ان بزرجمہروں کو معلوم نہیں کہ اس سے شان رسالت ﷺ میں کوئی کمی واقع نہیں ہوتی بلکہ اس کے برعکس ان کا اپنا ہی خبیث باطن دوسروں کے سامنے آشکار ہو جاتا ہے۔ ایسی گھٹیا اور مذموم حرکتیں دین اسلام کا راستہ نہیں روک سکتیں بلکہ یہ اپنی آفاقی سچائیوں کے سبب تیزی سے بلندی کی منازل طے کر رہا ہے۔
کئی سال پیشتر ملعون پادریوں کے ایک گروہ نے قرآن مجید کے خلاف بنائی جانے والی دل آزار فلم ”فتنہ“ انٹرنیٹ پر ریلیز کی جس میں مسلمانوں کی مقدس کتاب قرآن مجید کی تضحیک اور اس کی پاک تعلیمات کا مذاق اڑاتے ہوئے اسے دہشت گردی کا منبع قرار دیا۔ پادریوں کی اس ناپاک جسارت سے ہر مسلمان خون کے آنسو روتا رہا۔ قدرت کا کمال دیکھیے کہ اس فلم کے ریلیز ہونے سے اب تک تقریباً 1200 کے قریب عیسائیوں نے اسلام قبول کر لیا ہے۔ جن کا کہنا ہے کہ انہوں نے اس فلم کو دیکھنے کے بعد قرآن مجید کا بنظر غائر مطالعہ کیا اور وہ اس نتیجہ پر پہنچے ہیں کہ فلم ”فتنہ“ میں پیش کی جانے والی تمام باتیں نہ صرف غلط بلکہ اسلام کے خلاف جھوٹے پروپیگنڈے کا نتیجہ ہیں۔
حقیقت بات یہ ہے کہ مسلمانوں کے خلاف انتہا پسندی کا شور مچانے اور نعرے لگانے والے عیسائی رہنما خود سب سے بڑے انتہا پسند ہیں۔ یورپ اور امریکہ میں مسلمانوں
سے جو امتیازی سلوک ہو رہا ہے وہ کسی ذی شعور سے پوشیدہ نہیں۔ محمد اور احمد ناموں کے حامل مسلمانوں پر، ویزہ اور ملازمت کی پابندی لگانا، نت نئے سخت امیگریشن قوانین بنانا، سکیننگ کے ذریعے مسلمان خواتین ومردوں کی تلاشی لینا۔ انٹرنیٹ پر ”الفرقان“ کے نام سے جعلی قرآن مجید پیش کرنا کس ذہنیت کی غمازی کرتا ہے؟ کیا یہ سب انتہا پسندی اور دہشت گردی کے زمرے میں نہیں آتا؟
اسلام رواداری، برداشت، امن اور محبت کا درس دیتا ہے۔ وہ ہر قسم کی دہشت گردی کی سختی سے مذمت اور مخالفت کرتا ہے۔ مغرب اسلام کی آفاقی تعلیمات کے سامنے بے بس ہو چکا ہے۔ اب اس کی تمام تر توانائیاں محض اس بات پر صرف ہورہی ہیں کہ مسلمانوں کو پوری دنیا میں دہشت گرد قرار دے دیا جائے۔ حالانکہ ان سے پوچھنا چاہیے!
- پہلی جنگ عظیم کس نے شروع کی؟
- دوسری جنگ عظیم کس نے شروع کی؟
- آسٹریلیا میں 20 لاکھ افراد کا قتل کس نے کیا؟
- ہیروشیما اور ناگاساکی پر ایٹم بم کس نے پھینکا؟
- 180 ملین سے زائد افریقیوں کو کس نے سالہا سال تک غلام بنائے رکھا؟
مغرب کبھی ان سوالات کا جواب نہیں دے سکتا۔
انتہا پسندی اور دہشت گردی کے حوالے سے مغرب کے اپنے پیمانے اور معیارات ہیں۔ وہ مسلمانوں کے لیے نہایت متعصبانہ رویہ رکھتا ہے مثلاً اگر کوئی غیر مسلم غلط کام کرے تو اسے جرم (Crime) کے نام سے پہچانا جاتا ہے اور اگر وہی کام کسی مسلمان سے سرزد ہوجائے تو اسے دہشت گردی (Terrorism) کا نام دے دیا جاتا ہے۔ جب ایک یہودی لمبی داڑھی رکھتا ہے تو کہا جاتا ہے کہ یہ اس کے مذہب کا حصہ ہے، لیکن ایک باریش مسلمان کو انتہا پسند اور دہشت گرد گردانا جاتا ہے۔ ایک عیسائی راہبہ (نن) جب اپنے سر کو کپڑے سے ڈھانپتی ہے تو کہا جاتا ہے کہ اس نے اپنے آپ کو خداوند کے لیے وقف کر دیا ہے۔ لیکن جب ایک مسلمان خاتون سکارف لیتی ہے تو مغرب اسے نفرت کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔ عیسائی مرد وعورت اگر صلیب (+) کا نشان گلے میں ڈال کر برسر عام پھریں یا سینے پر کراس بنانے کے لیے انگلیاں گھمائیں تو اسے ہرگز ناروا نہیں سمجھا جاتا لیکن ایک مسلمان کو دینی وشرعی
صورت اور اعمال پر معترضہ قرار دیا جا مگر مسجد سے اذانوں کی آوازیں بلند کی جا جب ایک مغربی عورت ملازمت کرنے کے عورت کا کردار ادا کرتی ہے تو پورا معاشر خارجی زندگی کی قربانی دی ہے مگر جب تنقید ہوتی ہے کہ اسے گھٹن کے ماحول ہے۔ مغرب میں نوجوان لڑکی کو مکمل آزا اپنی مرضی کا لباس پہنے، چہرے اور بازو حجاب پہن کر کالج جاتی ہے تو اس کا مکمل خاص موضوع کے لیے خود کو مخصوص کر Potential کا بین ثبوت ہے لیکن جب ہے تو کہا جاتا ہے کہ اس نے اپنا مستقبل اس کا ذاتی فعل قرار دیا جاتا ہے، اس س کر دیتا ہے تو کہا جاتا ہے کہ اس نے اس یہودی کسی کی خاطر خود کو تیاگ دیتا ہے تو کوئی فلسطینی مسلمان اسرائیلی فوج سے اپ بھائیوں کے بازو توڑ دیے جاتے ہیں۔ کو تباہ کر دیا جاتا ہے اور اسے دہشت گرد دیا جاتا ہے۔ اس کے باوجود مغرب کو تہ عالمی چمپئن ہے۔ ان دوغلے اور دوہرے ملکوں میں نمایاں نظر آتی ہیں جو انسانی آز کہلاتے ہی نہیں، دعویدار بھی بنتے ہیں۔ ی
عجیب بات ہے کہ مغرب گستا کے ہاں کسی شخص کو یہ جرات نہیں کہ وہ یہو مفہوم یہ ہے کہ یہودیوں نے یہ پروپیگنڈ
عبادات اور اعمال پر معترضہ قرار دیا جاتا ہے۔ چرچ کی عمارت پر گھنٹیاں بجیں تو درست ہیں، مگر مسجد سے اذانوں کی آوازیں بلند کی جائیں تو اسے سماعت پر بوجھ اور نیند کش کہا جاتا ہے۔ جب ایک مغربی عورت ملازمت کرنے کے بجائے اپنے خاوند اور بچوں کی خاطر ایک گھریلو عورت کا کردار ادا کرتی ہے تو پورا معاشرہ اس کی تحسین کرتا ہے کہ اس نے اپنے گھر کے لیے خارجی زندگی کی قربانی دی ہے مگر جب ایک مسلمان عورت ایسا کرتی ہے تو اس پر زبردست تنقید ہوتی ہے کہ اسے گھٹن کے ماحول سے باہر نکلنا چاہیے کیونکہ اسے آزادی کی ضرورت ہے۔ مغرب میں نوجوان لڑکی کو مکمل آزادی اور حقوق حاصل ہیں کہ وہ یونیورسٹی یا کالج میں اپنی مرضی کا لباس پہنے، چہرے اور بازوؤں پر نقش و نگار بنوائے لیکن جب ایک مسلمان لڑکی حجاب پہن کر کالج جاتی ہے تو اس کا مکمل بائیکاٹ کر دیا جاتا ہے۔ مغرب میں جب ایک بچہ کسی خاص موضوع کے لیے خود کو مخصوص کر دیتا ہے تو کہا جاتا ہے کہ یہ اس کی ذہانت اور Potential کا بین ثبوت ہے لیکن جب ایک مسلمان بچہ خود کو اسلام کے لیے وقف کر دیتا ہے تو کہا جاتا ہے کہ اس نے اپنا مستقبل تباہ کر لیا ہے۔ جب ایک یہودی کسی کو قتل کرتا ہے تو یہ اس کا ذاتی فعل قرار دیا جاتا ہے، اس کے برعکس جب ایک مسلمان اپنے دفاع میں کسی کو قتل کر دیتا ہے تو کہا جاتا ہے کہ اس نے اسلامی تعلیمات سے متاثر ہو کر ایسا کیا ہے۔ جب کوئی یہودی کسی کی خاطر خود کو تیاگ دیتا ہے تو ہر شخص اس کے کردار کی تعریف کرتا ہے لیکن جب کوئی فلسطینی مسلمان اسرائیلی فوج سے اپنے بیٹے کو بچانے کے لیے ایسا کرتا ہے تو اس کے بھائیوں کے بازو توڑ دیے جاتے ہیں۔ اس کی والدہ کی عزت لوٹ لی جاتی ہے، اس کے گھر کو تباہ کر دیا جاتا ہے اور اسے دہشت گرد قرار دے کر ہمیشہ ہمیشہ کے لیے ٹارچر سیل میں بھیج دیا جاتا ہے۔ اس کے باوجود مغرب کو یہ زعم ہے کہ وہ انتہائی تہذیب یافتہ اور رواداری کا عالمی چیمپئن ہے۔ ان دوغلے اور دوہرے معیار اور سلوک کی نہ جانے کتنی مثالیں ہیں جو ان ملکوں میں نمایاں نظر آتی ہیں جو انسانی آزادی، انسانی حقوق اور آزادی اظہار کے علمبردار کہلاتے ہی نہیں، دعویدار بھی بنتے ہیں۔
عجیب بات ہے کہ مغرب گستاخی رسول کو آزادی اظہار سے تعبیر کرتا ہے لیکن اس کے ہاں کسی شخص کو یہ جرأت نہیں کہ وہ ہولوکاسٹ پر ایک لفظ بھی ادا کر سکے۔ ہولوکاسٹ کا مفہوم یہ ہے کہ یہودیوں نے یہ پروپیگنڈہ کیا تھا کہ دوسری جنگ عظیم میں ہٹلر کے دور اقتدار
میں پولینڈ کے شہر شوئز میں بنائے گئے گیس چیمبرز میں تقریباً 60 لاکھ یہودیوں کو قتل کیا گیا۔ اس بنیاد پر یہودیوں نے مطالبہ کیا تھا کہ انہیں ایک الگ ملک دیا جائے۔ اس پروپیگنڈہ کے نتیجہ میں اُن کو اسرائیلی ریاست الاٹ کر دی گئی۔ بعد میں تحقیق ہوئی تو یہودیوں کا دعویٰ سراسر جھوٹا نکلا۔ تب یہودیوں نے ایک قانون بنوا دیا کہ ہولوکاسٹ کی مبینہ صداقت کو کہیں بھی چیلنج نہیں کیا جاسکتا۔ جو شخص ہولوکاسٹ کے جھوٹ پر تحقیق کرے گا، وہ قابل گردن زدنی ہوگا۔ چند سال پیشتر معروف تاریخ دان ڈیوڈ ارونگ (David John Cawdell Irving) کو آسٹریا کی عدالت نے محض اس لیے تین سال کی سزا سنا ڈالی کہ اُس نے صرف اتنا کہا تھا کہ ہولوکاسٹ میں یہودیوں کے قتل کی تعداد اتنی نہیں جتنی مبالغہ آرائی کی جاتی ہے۔ امریکا میں ہٹلر کا نشان Swastika شائع یا کسی جگہ پینٹ کرنا بھی صریح جرم ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہاں مغرب کی آزادی اظہار کہاں چلی جاتی ہے؟
چند ماہ پیشتر امریکی ریاست فلوریڈا کے ایک چرچ میں ملعون امریکی پادری ٹیری جونز اور اس کے ساتھی پادری وائن ساپ نے 30 آدمیوں کی موجودگی میں قرآن کریم کی بے حرمتی کی اور اسے نذرِ آتش کر دیا۔ اس خبیث، بدفطرت اور مخبوط الحواس پادری نے گیارہ ستمبر 2010ء کو بھی قرآن کریم نذرِ آتش کرنے کا اعلان کیا تھا، اس وقت دنیا بھر میں مسلمانوں نے شدید احتجاج کیا، اس کے علاوہ امریکہ، کینیڈا، فرانس اور جرمنی کی حکومتوں نے بھی ٹیری جونز کے اس اعلان کی مذمت کی تھی، جس کے بعد اس پادری نے مجرمانہ چپ سادھ لی تھی۔ پھر 21 مارچ 2011ء کو اس نے اپنے ناپاک منصوبے پر عمل کرتے ہوئے نعوذ باللہ! قرآن کریم کو نذرِ آتش کر دیا۔
قرآن پاک کی شہادت کا انکشاف فرانسیسی خبر رساں ادارے نے اپنی رپورٹ میں کیا جس کے بعد یہ خبر درجنوں آن لائن اخبارات اور بالخصوص عرب ویب سائٹس پر شائع ہوئی۔ رپورٹ کے مطابق فلوریڈا کے قصبے گینز ویل میں اتوار کو ملعون پادری ٹیری جونز نے قرآن پاک کی شان میں گستاخی کے لیے ایک نام نہاد عدالت لگائی، جس کے بعد اس کے ساتھی ملعون پادری وائن ساپ نے قرآن پاک کے ایک نسخے کو آگ لگا دی۔ خبر رساں ادارے کے مطابق چرچ میں قرآن پاک کے خلاف ”مقدمہ“ چلایا گیا۔ ملعون ٹیری جونز نے اللہ تعالیٰ کی مقدس کتاب کو (نعوذ باللہ) دہشت گردی اور دیگر جرائم کا ذمہ دار ٹھہرایا۔ اس کے
بعد ”جیوری“ نے آٹھ منٹ تک غور و خوض ک ایک گھنٹے تک مٹی کے تیل میں ڈبوئے رکھ کے بعد قرآن کو نکال کر پیتل کی ایک ٹرے کی نگرانی میں دوسرے دینی دیوالیہ پادری لگادی، اس موقع پر چند لوگوں نے جلے ہ اطلاعات کے مطابق چرچ میں 30 کے قر اسلام سے مرتد ہونے والے 3 بدبخت بھی ستمبر میں مسلمانوں کو خبردار کیا تھا کہ وہ اپنی مجھے کوئی جواب موصول نہ ہوا تو میں نے س لیے میں نے قرآن پاک کو (نعوذ باللہ) ج بعد امریکہ میں اسلام مخالف انتہا پسندو ناموسِ رسالت ﷺ کی دفعات کو اقلیتوں کی مسلم اقلیت کے خلاف امتیازی سلوک کی
ملعون و مبغوض امریکی عیسائی پ مسلمانوں کی دشمنی میں ایسے اندھے اور پاگ صحیح اور غلط، حق اور باطل میں امتیاز مفقود ہ مظہر نے حضرت بی بی مریم علیہا السلام یہودیت کی طرف سے بی بی مریم علیہا الس دفاع کیا، جس کلام الٰہی نے ان کو صدیق پیدائش کی مکمل تفصیلات کو بیان کیا، اور ق تعالیٰ کا بندہ ہوں، مجھے اللہ نے کتاب دی ا نے مجھے بابرکت بنایا، اللہ تعالیٰ نے مجھے دنیائے عیسائیت پر عظیم احسان کیا ہے۔
حقیقت واقعہ یہ ہے کہ اگر ق محترمہ کی عفت، پاکدامنی اور پاکیزگی پ
بعد ”جیوری“ نے آٹھ منٹ تک غور و خوض کیا اور پھر ”سزا“ سنائی۔ اس دوران قرآن پاک کو ایک گھنٹے تک مٹی کے تیل میں ڈبوئے رکھا گیا۔ ملعون پادریوں نے شیطانی عدالتی کارروائی کے بعد قرآن کو نکال کر میٹل کی ایک ٹرے میں چرچ کے عین درمیان رکھا۔ ملعون ٹیری جونز کی نگرانی میں دوسرے ذہنی دیوالیہ پادری وائن ساپ نے قرآن پاک کے نسخے کو آگ لگادی، اس موقع پر چند لوگوں نے جلتے قرآن مجید کے نسخے کے ہمراہ فوٹو بھی بنوائے۔ اطلاعات کے مطابق چرچ میں 30 کے قریب لوگ موجود تھے جن میں ایک خاتون سمیت اسلام سے مرتد ہونے والے 3 بد بخت بھی شامل تھے۔ ملعون ٹیری جونز کا کہنا تھا کہ میں نے ستمبر میں مسلمانوں کو خبردار کیا تھا کہ وہ اپنی کتاب کی حفاظت کر لیں اور اس کا دفاع کریں لیکن مجھے کوئی جواب موصول نہ ہوا تو میں نے سوچا کہ حقیقی سزا دیئے بغیر حقیقی ٹرائل نہیں ہو سکتا، اس لیے میں نے قرآن پاک کو (نعوذ باللہ) سزا دے دی۔ مبصرین کے مطابق اس سماعت کے بعد امریکہ میں اسلام مخالف انتہاء پسندوں کی حوصلہ افزائی ہوئی، کیونکہ پاکستان میں تحفظ ناموس رسالت ﷺ کی دفعات کو اقلیت کے خلاف قرار دینے والے امریکہ نے اپنے ملک کی مسلم اقلیت کے خلاف امتیازی سلوک کی کھلی چھوٹ دے رکھی ہے۔
ملعون و مبغوض امریکی عیسائی پادری اسلام، قرآن، نبی آخر الزمان ﷺ اور مسلمانوں کی دشمنی میں ایسے اندھے اور پاگل ہو چکے ہیں کہ ان کے دل و دماغ اور فکر و نظر سے صحیح اور غلط، حق اور باطل میں امتیاز مفقود اور رخصت ہو چکا ہے، اس لیے کہ جس کلام مقدس و مطہر نے حضرت بی بی مریم علیہا السلام کی پاکدامنی کی گواہی دی، جس عظیم کتاب نے یہودیت کی طرف سے بی بی مریم علیہا السلام پر لگائے جانے والے الزامات اور بہتانوں کا دفاع کیا، جس کلام الٰہی نے ان کو صدیقہ کے لقب سے نوازا اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی پیدائش کی مکمل تفصیلات کو بیان کیا، اور گہوارے میں ہوتے ہوئے ان کا اقرار (کہ میں اللہ تعالیٰ کا بندہ ہوں، مجھے اللہ نے کتاب دی، اللہ تعالیٰ نے مجھے منصب نبوت عطا کیا، اللہ تعالیٰ نے مجھے بابرکت بنایا، اللہ تعالیٰ نے مجھے نماز اور زکوٰۃ کی تاکید کی) تفصیل سے ذکر کر کے دنیائے عیسائیت پر عظیم احسان کیا ہے۔
حقیقت واقعہ یہ ہے کہ اگر قرآن کریم حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور ان کی والدہ محترمہ کی عفت، پاکدامنی اور پاکیزگی کی صفائی اور گواہی نہ دیتا تو عیسائی دنیا قیامت تک
یہودیوں کے پروپیگنڈوں کے سامنے شرمندگی سے سر نہ اٹھاسکتی تھی اور نہ ہی ان کے اتہامات اور الزامات کا دفاع کرسکتی تھی، لیکن قرآن کریم نے نہ صرف یہ کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے اولوالعزم اور برگزیدہ نبی ہونے کی تصدیق کی، بلکہ یہودیوں کی جانب سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور ان کی والدہ حضرت مریم علیہا السلام پر لگائے جانے والے تمام اتہامات اور الزامات کا منہ توڑ جواب بھی دیا، لیکن یہ ملعون، ناپاک اور بدبودار عیسائیت کے نام نہاد پیروکار، غلیظ و پلید پادری پھر بھی اپنے خبث باطن کا مظاہرہ کرتے رہتے ہیں۔
ملعون پادری ٹیری جونز کا لوگوں کو اس شرمناک فعل اور مذموم حرکت میں شرکت کے لیے دعوت نامے تقسیم کرنا، امریکی مقامی انتظامیہ کا مجرمانہ خاموشی اختیار کرنا اور ان ناپاک پادریوں کو اس گھناؤنی حرکت سے باز رکھنے کے لیے موثر اقدامات نہ کرنا، اور اس کے بعد امریکی کانگریس کی کمیٹی کا مسلمانوں میں دہشت گردی کے رجحانات کے جائزے کے نام پر متعصبانہ سماعت کرنا اس بات کا بین ثبوت ہے کہ مسلمانوں کو مذہبی تنگ نظری اور عدم برداشت کا طعنہ دینے والے خود تشدد پسند، برداشت سے عاری اور متعصب ہیں۔ ورنہ بتلایا جائے کہ جو امریکہ اور اس کے حواری پاکستان میں کسی خودساختہ واقعے پر مذہبی انتہا پسندی اور دہشت گردی کی مذمت کرتے دیر نہیں لگاتے، انہوں نے ان پلید پادریوں کی اس ناپاک جسارت کو ابھی تک مذہبی انتہا پسندی اور دہشت گردی کیوں قرار نہیں دیا؟
الحمدللہ! مسلمان جس طرح تمام انبیاء کرام علیہم السلام پر ایمان رکھتے ہیں، اس طرح تمام انبیاء کرام علیہم السلام کی تعظیم وتکریم اور عزت و حرمت کو بھی فرض گردانتے ہیں۔ مسلمان جس طرح قرآن کریم کا ادب و احترام کرتے ہیں، اسی طرح تورات، انجیل اور زبور کا ادب کرنا بھی اپنے اوپر لازم، فرض اور ضروری قرار دیتے ہیں۔ مسلمانوں کے نزدیک جس طرح کسی نبی کی ادنیٰ توہین یا تنقیص سے کفر لازم آتا ہے، اسی طرح کسی نبی پر نازل شدہ کتاب یا صحیفہ کے انکار، توہین یا تنقیص سے بھی آدمی کافر ہوجاتا ہے۔ اس سے اندازہ لگایا جائے کہ متعصب، تشدد اور مذہبی تنگ نظر مسلمان ہیں یا یہ مغربی اقوام؟
زیر نظر کتاب مغرب کے انہی حیران کن تضادات اور منافقتوں کو اجاگر کرتی ہوئی اس کا اصل بھیانک چہرہ سامنے لاتی ہے۔ اس کا بسیط مطالعہ مغربی عیاریوں کی وہ قبیح صورتیں سامنے لائے گا جسے یورپی میڈیا نے بڑی کلاکاری سے دنیا کی نگاہوں سے چھپا رکھا ہے۔
اس کتاب کو خوب سے محمد فرقان نے ہر مرحلہ پر مجھے ا کوسوں دور اخلاص و وفا کے پا انسائیکلوپیڈیا کی حیثیت رکھتے ہیں
اس کتاب کو خوب سے خوب تر بنانے کے سلسلہ میں جناب ڈاکٹر حامد رضا اور محترم محمد فرقان نے ہر مرحلہ پر مجھے اپنے قیمتی مشوروں اور تجاویز سے نوازا۔ شہرت کی ہوس سے کوسوں دور اخلاص و وفا کے یہ دونوں پیکر تحفظ ناموس رسالت ﷺ کے محاذ پر ایک انسائیکلوپیڈیا کی حیثیت رکھتے ہیں۔ میں اپنے دونوں بھائیوں کا تہہ دل سے شکرگزار ہوں۔
محمد متین خالد لاہور mateenkh@gmail.com
أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَانِ الرَّجِيمِ بِأَعْدَائِكُمْ وَكَفَى بِاللَّهِ وَلِيًّا وَكَ أَسْتَغْفِرُ اللَّهَ الَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ الْعَلِيِّ الْعَظِيمِ .
حضور خاتم النبیین حضرت شک اللہ تعالیٰ کے نزدیک کے عیوب کو تلاش کرے پھول بغیر کانٹے کے نہیں کریں ، نکتہ چین اپنی نظر تلاش کرنے والے کو خوبصورت جسم چھوڑ کر صر کتے بھونکا کرتے ہیں طر دیتے ہیں۔ حسد کا کوئی اللہ وجہہ کا قول زریں دونوں کے منہ میں گرتا جبکہ سانپ اسے زہر ب ویسی اس کی تخلیق ۔" کافی ہے کہ جب تم خو حاسد حسد کی وہ شمع کیا
اَعُوْذُ بِاللّٰهِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ. بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ. وَاللّٰهُ اَعْلَمُ بِاَعْدَائِكُمْ وَكَفٰى بِاللّٰهِ وَلِيًّا وَّكَفٰى بِاللّٰهِ نَصِيْرًا. لَعْنَتُ اللّٰهِ عَلَى الْكٰذِبِيْنَ. اَسْتَغْفِرُ اللّٰهَ الَّذِيْ لَا اِلٰهَ اِلَّا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّوْمُ وَاَتُوْبُ اِلَيْهِ. وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ اِلَّا بِاللّٰهِ الْعَلِيِّ الْعَظِيْمِ. اَللّٰهُمَّ اِنِّيْ اَعُوْذُبِكَ مِنَ الْخُبُثِ وَالْخَبَائِثِ.
حضور خاتم النبیین حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ”بے شک اللہ تعالیٰ کے نزدیک بدترین انسان وہ ہے جو کسی مسلمان کے عیوب کو تلاش کرے اور اس کی نیکیوں کو فراموش کر دے۔“ پھول بغیر کانٹے کے نہیں ہوتا۔ آپ کتنا ہی نیک کام کیوں نہ کریں، نکتہ چین اپنی نیش زنی سے باز نہیں آتے۔ کسی کے عیب تلاش کرنے والے کی مثال اُس مکھی جیسی ہے جو سارا خوبصورت جسم چھوڑ کر صرف زخم پر ہی بیٹھتی ہے۔ چاند کو دیکھ کر کتے بھونکا کرتے ہیں اور بھونک بھونک کر یونہی اپنے آپ کو تھکا دیتے ہیں۔ حسد کا کوئی علاج نہیں۔ امیر المومنین حضرت علی کرم اللہ وجہہ کا قول زریں ہے: ”بارش کا قطرہ سیپ اور سانپ دونوں کے منہ میں گرتا ہے۔ سیپ اس قطرے کو موتی بنا دیتا ہے جبکہ سانپ اسے زہر میں تبدیل کر دیتا ہے۔ جیسا کسی کا ظرف، ویسی اس کی تخلیق۔“ مزید ارشاد فرمایا: ”حاسد کے لیے یہی سزا کافی ہے کہ جب تم خوش ہوتے ہو تو وہ افسردہ ہو جاتا ہے۔“
وہ شمع کیا بجھے، جسے روشن خدا کرے
ناموس مغرب
ناموس رسالت صلی اللہ علیہ وسلم
کے خلاف
مغرب کی شرانگیزیاں
پرو
تحفظ ناموس رسالت
حضور سلطان دو عالم احمد صورت اور جمالِ سیرت کے لحاظ سے ا تہذیبی محاسن ایک جگہ پر جمع کر دیے جا الصفات شخصیت کی ہمہ جہتی فضیلت کے وآلہ وسلم) رکھا گیا کہ آپ سے بڑھ کر کو آپ کو ”احمد“ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ک خالق کی توصیف کا حق ادا نہیں کر سکتی۔ ی ومولا (علیہ التحیۃ والثناء) کی عظمتوں کا نظا قدر ارفع و اعلیٰ ہے، کس قدر بلند مرتبہ مکرم اور اکرم ہے، کس قدر رحمت شعار ا ہے۔ فکر انسانی عاجز ہو کر اسی پر اکتفا کرتی
بعد از خ
محبوب جس قدر بے مثال ہ اسی قدر تیز تر اور سر بلند ہو گا اور جب ا قلب و جان میں نقش ہو جائیں گے تو ا سرمدی کا روپ اختیار کر لے گی جس کی جانا ایک فطری تقاضا تصور کیا جاتا ہ مصطفٰی علیہ الصلوٰۃ والسلام محبوب خدا ہی
پروفیسر محمد اکرم رضا
تحفظ ناموس رسالت ﷺ....... اہمیت اور تقاضے
حضور سلطان دو عالم افتخار آدم و بنی آدم جناب محمد مصطفیٰ ﷺ کی ذات گرامی حسن صورت اور جمال سیرت کے لحاظ سے اس قدر اکمل اور جامع ہے کہ ازل سے ابد تک کے تمام شخصی و تہذیبی محاسن ایک جگہ پر جمع کر دیے جائیں تو پھر بھی ان کا موازنہ محبوب خدا علیہ التحیۃ والثناء کی جامع الصفات شخصیت کی ہمہ جہتی فضیلت کے ساتھ نہیں کیا جاسکتا۔ اسی لیے آپ کا اسم گرامی محمد (صلی اللہ وآلہ وسلم) رکھا گیا کہ آپ سے بڑھ کر کسی اور شخصیت کی تعریف و مدحت ممکن ہی نہیں ہے اور اسی لیے آپ کو ”احمد“ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے مثالی نام سے پکارا گیا کہ آپ سے زیادہ اور کوئی ہستی اپنے خالق کی توصیف کا حق ادا نہیں کر سکتی۔ جب ایک مسلمان عشق و عقیدت کو اپنا راہنما تسلیم کر کے اپنے آقا و مولا (علیہ التحیۃ والثناء) کی عظمتوں کا تصور کرتا ہے تو ورطہ حیرت میں کھو جاتا ہے کہ ہمارا نبی ﷺ کس قدر ارفع و اعلیٰ ہے، کس قدر بلند مرتبت اور عالی نسب ہے۔ کس قدر فضیلت مآب ہے، کس قدر محترم مکرم اور اکرم ہے، کس قدر رحمت شعار اور ہر عالم کے لیے وجہ افتخار ہے، کس درجہ مظہر الطاف کردگار ہے۔ فکر انسانی عاجز ہو کر اسی پر اکتفا کرتی ہے کہ
بعد از خدا بزرگ توئی قصہ مختصر
محبوب جس قدر بے مثال اور بے نظیر ہو گا اس کے چاہنے والوں کے دلوں میں محبت کا جذبہ اسی قدر تیز تر اور سر بلند ہو گا اور جب اس محبوب کی شخصیت اور احترام کے روشن نقوش محبّ صادق کے قلب و جان میں نقش ہو جائیں گے تو پھر یہ چاہت اپنی انتہائی سر بلندیوں کو چھوتے ہوئے اس عشق سرمدی کا روپ اختیار کر لے گی جس کی بدولت محبوب کے ناموس، اور اس کے مقام و مرتبہ پر تصدق ہو جانا ایک فطری تقاضا تصور کیا جاتا ہے۔ اس لحاظ سے دیکھا جائے تو سلطان اقلیم دو عالم جناب محمد مصطفیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام محبوب خدا بھی ہیں اور محبوب خلائق بھی۔ آپ جامع الخصائل بھی ہیں اور مجمع
الکمالات بھی۔ آپ نورِ خدا کا مظہر بھی ہیں اور عشاق کی چاہتوں کا مرکز بھی۔ آپ کے جمالِ جہاں آرا کو جس نے ایک مرتبہ دیکھا‘ دیکھتا ہی رہ گیا۔ آپ کے کمالِ سیرت کو جس نے ایک بار دل میں بسا لیا‘ پھر ہمیشہ کے لیے انہی کے در کا ہو کر رہ گیا۔ آپ کی حیثیت اس شمع لازوال کی تھی جس کی تب و تاب میں جملہ انبیاء ورسل کے محامد ومحاسن کی جھلک محسوس ہوتی تھی۔ پروانے شمع کی ایک جھلک دیکھ کر قربانی و ایثار کے نام پر ایک لمحہ کے لیے بھی جھجک کا شکار نہیں ہوتے بلکہ اس کے حسنِ جہاں افروز پر قربان ہونے کو ہی اپنی سب سے بڑی کامرانی سمجھتے ہیں۔ حضور سرورِ کائنات (علیہ الصلوٰۃ والسلام) جب شمع انوارِ توحید کی صورت میں جلوہ گر ہوئے تو پھر جاں نثاریوں اور فدا کاریوں کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع ہو گیا۔ یہ سلسلہ صحابہ کرامؓ کے دورِ سعید سے شروع ہوا اور آج تک جاری ہے اور انشاء اللہ ابد کی آخری ساعتوں تک ناموسِ مصطفوی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر پروانہ وار نثار ہونے کا یہ جذبہ اہلِ ایمان کے دلوں کی دھڑکن بن کر سلامت رہے گا۔
تحفظ ناموسِ مصطفیٰ ﷺ کی اصل روح حضور نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا یہ فرمانِ اقدس ہے کہ ”تم میں سے کوئی اس وقت تک کامل مومن نہیں ہو سکتا‘ جب تک میں اسے مال‘ جائیداد‘ اولاد‘ ماں باپ حتیٰ کہ اس کی اپنی زندگی سے عزیز تر نہ ہو جاؤں۔“
حفیظ جالندھری کے لفظوں میں:
اسی میں ہو اگر خامی تو ایماں نامکمل ہے
محمدؐ کی غلامی ہے سند آزاد ہونے کی
خدا کے دامنِ توحید میں آباد ہونے کی
تحفظ ناموسِ رسالت (ﷺ) ہر صاحب ایمان کے دل کی آواز اور اس کی عقیدت کا اعزاز ہے۔ ہر مسلمان اپنے آقا ومولا (علیہ الصلوٰۃ والثناء) کی عزت وتوقیر پر فدا ہونا ایمان کی بنیاد سمجھتا ہے۔
یہ تعلیمات قرآنی کی تاثیر ہے اور یہی احکام ربانی کی تفسیر ہے۔ حرمت رسول (ﷺ) پر کٹ مرنا اور ناموسِ رسالت پر جان لٹا دینا ابدی کامرانی کی دلیل ہے۔
میں پندرہویں صدی ہجری کے پہلے عشرہ میں مادّیت کی ظاہری چکا چوند اور باطل فلسفوں کی بے اساس روشنیوں سے جان بچا کر تخیل کے راہوار پر سوار عشق وعقیدت کو خضرِ راہ بناتے ہوئے حیاتِ مصطفوی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ان ایمان افروز ادوار کا احاطہ کرتا ہوں جب مہرِ عالمتاب نبوت
اپنے چاہنے والوں کے درمیان بنفس نفیس جلوہ گر تھا۔ ہر طرف انوار کی ضوباری تھی فضائیں تجلی ریز تھیں تو ہوائیں عطر بیز ہر ساعت حاصل زندگی تھی تو ہر لمحہ پیام کمال شوق۔ عشاق کی آنکھیں تھیں کہ سلطان خوبان دوعالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے جلووں کو دیکھ کر سیر ہی نہیں ہوتی تھیں۔ میں تاریخ کی اوٹ میں جھانکتا ہوں تو غزوۂ بدر کا آوازہ میرے کانوں میں گونجتا ہے۔ یہ میرے لاشعور کی آواز ہے جو نسلاً بعد نسلاً میری سانسوں اور یادوں کا احاطہ کیے ہوئے ہے۔ میرے آقا ومولا ﷺ کفار کے مقابلے کی دعوت دیتے ہوئے انصار کے احسانات کا تذکرہ کرتے ہیں کہ کفار مکہ کی لڑائی ہم سے ہے‘ تم اگر پیچھے ہٹنا چاہو تو میری طرف سے کوئی مواخذہ نہیں ہوگا‘ سب دم بخود ہیں‘ سانسیں رک چکی ہیں۔ معا حضرت سعد بن عبادہؓ کی آواز گونجتی ہے:
"خدا کی قسم آپ فرمادیں تو ہم سمندر میں کود جائیں۔"
ابھی سرکار دوعالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مرحبا ہی کہا تھا کہ حضرت مقدادؓ گویا ہوئے:
"ہم قوم موسیٰؑ کی طرح یہ نہ کہیں گے کہ آپ اور آپ کا خدا جا کر لڑیں۔ ہم آپ کے دائیں سے‘ بائیں سے‘ سامنے سے اور پیچھے سے لڑیں گے۔"
پھر تحفظ ناموس رسالت کے نام پر بدر کا معرکہ بپا ہوتا ہے۔ نہتے افراد لوہے میں غرق افراد کو تہ تیغ کر رہے ہیں۔ دو ننھے شاہین حضرت معاذؓ اور حضرت معوذؓ مجاہدانہ یلغار کے ساتھ آگے بڑھ کر ابو جہل پر جھپٹتے ہیں اور قبل اس کے کہ وہ موت کے ان معصوم پیامبروں کے جذبے کا امتحان لینے کے لیے خود کو آمادہ کر سکے‘ یہ شاہین ننھی تلواروں کے ساتھ اسلام کے سب سے بڑے دشمن اور سلطان دو عالم (ﷺ) کے سب سے بڑے بدخواہ کو فی النار کر دیتے ہیں۔ اس کا انعام انہیں یوں عطا ہوتا ہے کہ شہادت کی خلعت لہو رنگ انہیں اپنے دامن میں ڈھانپ لیتی ہے۔
یہ عقل کی نہیں‘ عشق کی جنگ تھی۔ یہ خرد کا نہیں‘ جذبے کی تپش کا معرکہ تھا‘ جس میں جذبۂ محبت رسول (ﷺ) کی روشن مثالیں اس کثرت کے ساتھ نظر آتی ہیں کہ عقل دم بخود ہو کر عشق کی قد آوری کے پیچھے پناہ ڈھونڈنے لگتی ہے۔ اس غزوہ میں سیدنا صدیق اکبرؓ تحفظ ناموس رسول (صلی اللہ
علیہ وآلہ وسلم) کے نام پر اور آپ کے بیٹے ابو جہل کی زیرقیادت لڑ رہے تھے۔ جب اس بیٹے نے اسلام قبول کر لیا تو ایک دن سیدنا صدیق اکبرؓ سے عرض کیا:
"ابا جان! آپ غزوۂ بدر میں متعدد مرتبہ میری تلوار کی زد میں آئے مگر میں نے محبت پدری سے مغلوب ہو کر تلوار کو پیچھے ہٹا لیا۔"
سیدنا صدیق اکبرؓ نے فرمایا:
”بیٹے! مجھے رب کعبہ اور شانِ مصطفی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی قسم تو ایک مرتبہ بھی میری تلوار کی زد میں آجاتا تو مقامِ مصطفی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے تحفظ کے نام پر تیری گردن اڑا دیتا۔“
تحفظِ ناموسِ رسالت ﷺ خدا کو کس قدر عزیز ہے؟ ...... میں خود سے سوال کرتا ہوں۔ دفعتاً میرا باطن پھر مجھے اس دورِ قدسی میں لے جاتا ہے جب جنت کے گلزاروں کی بشارت دینے والے آقا ﷺ تبلیغ اسلام اور اعلائے کلمۃ الحق کے مقدس مشن کو عام کرتے ہوئے مکی زندگی میں دشمنانِ تیرہ باطن کی طرف سے مسلط کردہ ہر قسم کے شدائد برداشت کر رہے تھے۔ ایک روز سلطانِ دوعالم (ﷺ) نے قریشِ مکہ کے ہجوم کو بلایا، پہلے اپنے کردار کے بارے میں دریافت کیا۔ جب بدترین مخالفین نے بھی انہیں امین اور صادق تسلیم کر لیا تو پھر انہیں توحیدِ خداوندی اور اپنی رسالت کا سرمدی پیغام سنایا۔ بس پھر کیا تھا آپ کے چند جاں نثاروں کے علاوہ پورا مجمع آپ پر آوازے کسنے لگا، جن میں سے بدترین آوازہ آپ کے بدبخت چچا ابولہب کا تھا جس نے ذلت کی انتہا کو چھو کر کہا: ”اے محمد ! (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تمہارے وہ ہاتھ ٹوٹ جائیں جن سے تو نے ہمیں یہاں بلایا ہے۔“
ابولہب کے اس خبیث باطن، دریدہ دہنی اور انتہائی ذلیل طرزِ گفتگو نے زمین و آسمان کو لرزا دیا، کرسی و عرش کپکپا اٹھے۔ وہ جس کے لبوں سے جنت کی بشارت اور شفاعت کا مژدہ عطا ہو، جس کے ہاتھ اپنے اندازِ بخشش سے گداؤں کو غنی کر دیں، اس کے بارے میں اس درجہ خرافات۔ ہر شخص مہر بلب تھا۔ میرے آقا خاموش تھے۔ بہت کچھ کہہ سکتے تھے مگر شانِ رحمۃ للعالمینی آڑے آ رہی تھی۔ آپ کے صبر اور خاموشی کا انتقام آوازۂ خداوندی نے لیا۔ اور رب کریم نے ناموسِ مصطفی (ﷺ) کے مخالف سے اس درجہ سخت انداز میں خطاب کیا کہ پورے قرآن میں اس کی مثال نہیں ملتی۔ یوں محسوس ہوتا تھا جیسے ابولہب اور اس کے خاندان پر ابدی اور دائمی لعنتوں کے سلگتے ہوئے پتھر برس رہے ہوں۔ خدائے جبار وقہار مصروفِ ارشاد تھا:
”ٹوٹ گئے ہاتھ ابولہب کے۔ اور ٹوٹا وہ آپ۔ نہ کام آیا اس کا مال، اور نہ جو اس نے کمایا۔ اب پڑے گا لپک مارتی آگ میں۔ اور اس کی بیوی، سر پر لیے پھرتی ہے ایندھن۔ اس کی گردن میں رسی ہے مونجھ کی۔“
(سورۃ لہب)
اور چشمِ عالم نے دیکھا کہ وہی کچھ ہوا جو ارشادِ خداوندی تھا، ابولہب ذلت و رسوائی کی موت مرا
اور اس کی بیوی اس قدر عبرت ناک انجام سے دوچار ہوئی کہ موت کے وقت دنیا میں ہی اس کی نظروں میں عذاب جہنم کا نقشہ کھنچ گیا۔ سچ تو یہ ہے:
نبیؐ سے بچ بھی جائیں تو خدا سے کیسے بچتے ہیں
(اکرم رضا)
قرآن حکیم نے جس قدر زور عظمت و شان مصطفیٰ (ﷺ) پر زور دیا ہے اور احترام محبوب خدا ﷺ کی جتنی تاکید کی ہے، اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ خدا کو ناموس حضور (ﷺ) کا تحفظ کس قدر عزیز ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ خدائے کریم قرآن میں حضور نبی کریم (علیہ الصلوٰۃ والتسلیم) کے غیر معمولی محامد و محاسن بیان کر کے ہی آپ کے ناموس کے تحفظ کو ایمان کا لازمی جزو قرار دے سکتا تھا۔ اس لحاظ سے دیکھیں تو قرآن حکیم حضور محمد مصطفیٰ علیہ التحیۃ والثناء کے ظاہری و باطنی کمالات کا اعلانِ عام ہے۔ آپ کی رحمت عام، آپ کی شفاعت انس و جاں کا پیغام، کہیں یٰسٓ وطٰہٰ اور مزمل ومدثر کے خطاب، کہیں آپ کے شہر مقدس کی قسم، کہیں آپ کی پسندیدہ اشیاء کی قسم، کہیں آپ کی دلی خواہش پر تبدیلی قبلہ کا حکم، کہیں آپ کے ہاتھ کو اپنا ہاتھ قرار دینا، کہیں آپ کو ہر قسم کے فیوض وبرکات کی کثرت کا مژدہ سنانا، کہیں آپ کے دشمنوں کو ذلیل وخوار کرنا اور ابتر بتانا، کہیں آپ کو ”ورفعنالک ذکرک“ کا تاج پہنانا، کہیں آپ کی اطاعت وخوشنودی بتانا، کہیں آپ کو عرشِ علیٰ پر بلا کر مہمانِ خاص کا خلعت دوام پہنانا، کہیں آپ کے ہاتھوں دین اسلام کا اکمال کر کے آپ کو رہتی دنیا تک کے لیے محسنِ اعظم کی مسند خاص پر بٹھانا اور تمام اعزازات واکرامات عطا کر کے خود ہی آپ کی محافظت کا ذمہ اٹھانا کہ
”کافر ارادہ کرتے ہیں کہ اللہ کے نور کو اپنی پھونکوں سے بجھادیں۔ مگر خدا اپنے نور کو اکمال پذیر کر کے رہے گا۔ کفار اور منکرین شان رسالت اس کو نقصان پہنچانے کے لیے جو چاہے کرتے رہیں گے۔“
پھونکوں سے یہ چراغ بجھایا نہ جائے گا
اب ظاہر ہے کہ ایک صاحب ایمان اس ہستی عظیم کے ناموس اور عزت کے لیے جان لڑا سکتا ہے جو خدا کو بھی عزیز ہو اور مخلوق خدا کو بھی، جو افضل الخلائق بھی ہو اور ”بعد از خدا بزرگ توئی قصہ مختصر“ کا مصداق بھی۔ خدا اپنے ملائکہ کی جمعیت کے ساتھ جس کی شان میں رطب اللسان ہو کر فخر محسوس کر رہا ہو، ایسی عدیم النظیر ہستی پر اپنی متاع حیات لٹا کر بھی مسلمان سمجھتا ہے کہ اس نے بہت سستا سودا کیا ہے
کیونکہ جس زندگی کو وہ قربان کر رہا ہے وہ تو خدا کی دی ہوئی امانت ہے جب کہ اس فداکاری کے بدلے میں جو القابات سرمدی عطا ہو رہے ہیں‘ وہ ایک جان کیا ہزاروں زندگیوں کی مجموعی قدر و قیمت سے کہیں زیادہ افضل و سربلند ہیں۔
اس لیے جب ہم تحفظ ناموس رسالت کے جذبے کی اصل‘ مقام مصطفیٰ (علیہ التحیۃ والثناء) کی رفعتوں کو قرار دیتے ہیں تو یہ عقدہ ایک آن میں حل ہو جاتا ہے کہ تحفظ مقام حضور (ﷺ) پر قربان ہونے والے کیوں مسکراتے ہوئے موت کی وادیوں کی طرف چلتے رہے۔ موت اس کائنات کی سب سے بھیانک حقیقت ہے مگر عشاقِ مصطفیٰ (علیہ الصلوٰۃ والثناء) کے لیے موت کی حیثیت فقط ایک پل کی تھی جسے عبور کر کے حبیب اپنے حبیب سے جا ملتا تھا۔
تحفظ ناموس رسالت مآب ﷺ کا احساس دل کی خلوتوں سے ابھرتا‘ آنکھوں سے عقیدت کے آنسوؤں کا خراج لیتا‘ جذبات کو ناموس حضور (ﷺ) پر مر مٹنے کے لیے آمادہ کرتا اور سر کو درگاہِ رسول (ﷺ) پر فداکاری کے آداب سکھاتا ہے۔ ماضی ہو یا حال‘ یا حال کی کوکھ سے ابھرنے والا مستقبل‘ ہر لحظہ ہر آن امتِ مصطفوی (ﷺ) کے پیش نظر اپنے آقا و مولا (علیہ التحیۃ والثناء) کی عزت و ناموس پر کٹ مرنے کا جذبہ موجود رہا ہے۔ جیسا کہ ہم نے پہلے عرض کیا‘ عشق و عقیدت کی کٹھن راہوں پر وہی چل سکتا ہے جس کے دل میں مقام مصطفیٰ (ﷺ) کی شمع پوری ایمانی تب و تاب کے ساتھ جل رہی ہو۔ ہم عقیدت و احترام کے حوالے سے عشاقِ رسول (ﷺ) کے کارواں کے سالار سیدنا امام مالک رحمہ اللہ تعالیٰ کے حوالے سے ایک تاریخی حقیقت کا جائزہ لیتے ہیں:
”ایک مرتبہ خلیفہ ابو جعفر منصور عباسی نے رسول (ﷺ) کی مسجد میں امام مالکؒ سے مناظرہ کیا۔ اثنائے مناظرہ میں آواز بلند کی۔ حضرت امام نے فرمایا اے امیر المومنین! اس مسجد میں اپنی آوازوں کو بلند مت کرو کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں یوں ادب سکھایا ہے کہ اپنی آواز حضور نبی کریم ﷺ کی آواز سے پست رکھا کرو۔ حضور ﷺ کا احترام وفات شریف کے بعد بھی ویسا ہی ضروری ہے جیسا حالتِ حیات میں تھا۔ یہ سن کر ابو جعفر دھیما پڑ گیا اور کہنے لگا۔ امام مالک! کیا میں قبلہ رُخ ہو کر دعا مانگوں یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی جانب منہ کروں۔ امام مالکؒ نے جواب دیا کہ تم رسول ﷺ کی طرف سے اپنا منہ کیوں پھیرتے ہو‘ حالانکہ وہ قیامت کے دن تمہارے اور تمہارے باپ آدم کے وسیلہ ہیں‘ بلکہ تم حضور ﷺ ہی کی طرف منہ کرو اور آپ ہی کے وسیلے سے دعا مانگو اللہ تعالیٰ قبول کرے گا۔ کیونکہ ارشاد باری ہے ”اور اگر یہ لوگ جس وقت اپنی جانوں پر ظلم کرتے ہیں‘ آپ کے پاس آتے اور خدا سے بخشش مانگتے اور پیغمبر ان کے لیے بخشش مانگتے تو وہ اللہ کو معاف کرنے والا مہربان پاتے ۔“ (شفا شریف ۔ وفاء الوفا جزو اول)
اسی طرح ام المومنین سیدہ مکان میں میخ ٹھونکنے کی آواز سنیں تو کرم اللہ وجہہ نے اپنے گھر کے دونوں سے رسول (ﷺ) کو اذیت پہنچے۔ (
حضرت نافع روایت کر نبوی (ﷺ) میں تھے۔ ایک شخص ہو؟ اس نے اپنا تعلق بنو ثقیف سے نے کہا کہ میں طائف کا رہنے والا ہوتے تو میں تمہیں سزا دیتا۔ اس مسجـ
سیدنا امام مالک علیہ الرضـ کے حرم کی حد میں بول و براز نہیں کیاـ
غرضیکہ کس کس صاحب احترام و عقیدت کی حد تھا کہ حضور ( حیات ظاہری میں فرماتے تھے۔ اور ساتھ لرز اٹھتے تھے کہ کہیں گستاخی کا
اونچی آو
اس تناظر میں یہ امر مسلـ میں اکمل ترین ہے اور جو اس کی نظـ جس نے ظاہری آنکھوں سے دیـ جب قرآن حکیم کے مقدس متن باطن کو خیرہ کرنے لگتا ہے۔ دراصل کا تصور ہی وہ قوت ہے جو چاہنے عقیدت کا روپ اختیار کرتی ہے مردہ رگوں میں خونِ زندگی بن کـ
شریف۔
(وفاء الوفا جزو اول)
اسی طرح ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا اگر مسجد نبوی (ﷺ) کے گرد کسی مکان میں میخ ٹھونکنے کی آواز سنتیں تو کہلا بھیجتیں کہ رسول کریم (ﷺ) کو اذیت نہ دو۔ سیدنا علی المرتضیٰ کرم اللہ وجہہ نے اپنے گھر کے دونوں کواڑ صناع میں بند کرائے کہ مبادا لکڑی کی تیاری میں اس کی آواز سے رسول (ﷺ) کو اذیت پہنچے۔
(وفاء الوفا جزو اول)
حضرت نافع روایت کرتے ہیں کہ عشاء کے وقت حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ مسجد نبوی (ﷺ) میں تھے۔ ایک شخص کے ہنسنے کی آواز کان میں آئی۔ آپ نے اسے بلا کر پوچھا، تم کون ہو؟ اس نے اپنا تعلق بنو ثقیف سے بتایا۔ سیدنا عمرؓ نے پھر پوچھا کیا تم اس شہر کے رہنے والے ہو؟ اس نے کہا کہ میں طائف کا رہنے والا ہوں۔ یہ سن کر آپ نے اسے دھمکایا کہ اگر تم مدینہ کے رہنے والے ہوتے تو میں تمہیں سزا دیتا۔ اس مسجد میں آوازیں بلند نہیں کی جاتیں۔
(وفاء الوفا)
سیدنا امام مالک علیہ الرحمہ نے تمام عمر مدینہ منورہ میں بسر کی۔ پاس ادب کبھی مدینہ شریف کے حرم کی حد میں بول و براز نہیں کیا۔
(شفاء شریف)
غرضیکہ کس کس صاحب نظر کا تذکرہ کیا جائے۔ وہاں تو حیات مصطفیٰ (ﷺ) کا تصور ہی احترام و عقیدت کی حد تھا کہ حضور (ﷺ) ہماری آوازوں کو اسی طرح سماعت فرما رہے ہیں جس طرح حیات ظاہری میں فرماتے تھے۔ اور اسی لیے وہ بلند آہنگ لہجے میں بات کرتے ہوئے اس احساس کے ساتھ لرز اٹھتے تھے کہ کہیں گستاخی کا ارتکاب نہ ہو جائے کیونکہ یہاں تو یہ تمنا مچل رہی ہوتی ہے کہ
اونچی آواز ہوئی، عمر کا سرمایہ گیا
اس تناظر میں یہ امر مسلمہ ہے کہ محب اسی محبوب پر اپنی جان قربان کرتا ہے جو صورت و سیرت میں اکمل ترین ہے اور جو اس کی ظاہری آنکھوں سے نہاں ہو کر بھی اس کے قلب و جاں میں عیاں ہے، جسے ظاہری آنکھوں سے دیکھنے کے لیے عشاق کی نگاہیں ہمیشہ ہجر کی نمی سے وضو کرتی رہتی ہیں مگر جب قرآن حکیم کے مقدس متن کے پیش منظر میں جھانکتے ہیں تو اس محبوب رب لم یزل کا نوری سراپا، نگاہ باطن کو خیرہ کرنے لگتا ہے۔ دراصل حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی حیات باطنی اور آپ کی بے عیب شخصیت کا تصور ہی وہ قوت ہے جو چاہنے والوں کے دلوں میں ہر آن موجزن رہتی ہے۔ یہی قوت کبھی عشق و عقیدت کا روپ اختیار کرتی ہے اور کبھی محبت و وارفتگی کے نام پر جاں سپردگی کے آداب سکھاتی ہے۔ کبھی مردہ رگوں میں خون زندگی بن کر دوڑتی اور کبھی بنجر دلوں کی کھیتیوں کو شہید الفت مولانا کفایت علی کافی
رحمۃ اللہ علیہ کے جذبہ شہادت کے نام پر احساسات عشق حضور (ﷺ) کے اس گلاب کی تازگی عطا کرتی ہے کہ
پر رسول اللہ کا دینِ حسن رہ جائے گا
اس وقت جب کہ میں تحفظ ناموس مصطفیٰ ﷺ کے نام پر تاریخ واحادیث کے حوالے سے جگمگاتے ہوئے ستاروں کو یکجا کر کے انہیں ایک کہکشاں کا روپ دینے کی کوشش کر رہا ہوں تو میرے سامنے نکہت ونور کی اس طرح جلوہ گری نظر آتی ہے کہ میری باطنی نگاہیں تاریخ کی اوٹ میں پناہ لے کر بھی اس کی لمعہ افشانیوں کا احاطہ نہیں کر سکتیں۔ میں ماضی حال اور مستقبل کے حوالے سے تاریخی حقائق کو ترتیب کا روپ دینا چاہتا ہوں مگر عشق وعقیدت کے ایمان افروز نظائر اپنی اپنی اولیت اور زمانی ومکانی فوقیت ثابت کرنے کے لیے میرے خامہ عاجز اور ذہن ناپختہ کی سعی کو آزمائش میں ڈال دیتے ہیں۔ عشاق حضور (ﷺ) واقعات اور تحفظ مقام مصطفیٰ (علیہ التحیۃ والثناء) کے نام پر قربانیوں کو ترتیب دینا مجھے اپنے بس سے باہر نظر آتا ہے۔ حق تو یہ ہے کہ چودہ صدیوں کے ایمان افروز افق پر تواتر سے بکھری ہوئی داستان عقیدت کو ترتیب دینا کسے آتا ہے۔ یہاں تو قدم قدم پر جان کی بازی لگتی ہے دل و جان نذر کرنے پڑتے ہیں خرد کی تیرہ شبی سے جان چھڑا کر جنوں کی فدا کاری کو شعار بنانا پڑتا ہے۔ یہاں لفظوں کی مناجات نہیں بلکہ عمل کی سوغات مقبول ہوتی ہے یہاں اشعار کے بے رنگ گجرے نہیں بلکہ شہادت کے لہو رنگ گلدستے باریاب ہوتے ہیں:
لوگ آسان سمجھتے ہیں مسلماں ہونا
میں تخیل کو پھر خضر راہ بناتا ہوں مجھے کہیں سیدنا زید اور کہیں سیدنا خبیب کفار کے نرغے میں نظر آتے ہیں۔ ایک منظم سازش ہے کہ مسلم مبلغین، حفاظ اور شارحین دین مصطفیٰ (ﷺ) کو کسی نہ کسی بہانے مدینہ منورہ سے دور دراز کی بستیوں میں لے جا کر شہید کر دیا جائے۔ یہ عشاق سرمست اپنے آقا ومولا (علیہ التحیۃ والثناء) سے اجازت طلب کر کے جاتے ہیں مگر نگاہوں میں ہمہ وقت آپ ہی کے جلوے ہیں۔ کفار سیدنا زید کو اپنی بستی میں لے جا کر ظلم وتشدد کی انتہا کر دیتے ہیں انہیں کانٹوں پر گھسیٹا جاتا ہے پتھروں کی بارش کی جاتی ہے لباس تار تار ہے تو جسم فگار ہر بن مو سے لہو رس رہا ہے میلوں تک گھسیٹ کر لے جانے کے بعد ایک میدان کو ان کا مقتل بنا دیا جاتا ہے سولی گاڑ دی جاتی ہے۔ کفار کا سردار نہایت تکبر سے پوچھتا ہے کہ
”زید ! اب تو تم کہتے ہو گے کہ میں نے اسلام قبول کیوں کیا اور کاش اس وقت پھانسی کے پھندے میں میری گردن نہ ہوتی بلکہ محمد کی گردن ہوتی“ (نعوذ باللہ) تو اس وقت زیدؓ نے اپنے جسم کی بکھرتی ہوئی قوتوں کو یکجا کیا‘ پھانسی کے پھندے کو راہِ وفا کا نذرانہ سمجھ کر قبول کرتے ہوئے جو جواب دیا وہ قیامت تک ناموس مصطفیٰ (ﷺ) کے لیے جان لٹانے والوں کو عقیدت کا چلن سکھاتا رہے گا۔ میں پلکوں کے کناروں پر لرزاں آنسوؤں کو روک کر تاریخ کی زبان سے سیدنا زید کا یہ جواب سن کر اپنی نامسلمانی پر پشیمان ہونے لگتا ہوں کہ
یہ سر کٹ جائے اور تیرا سر پا اس کو ٹھکرائے
یہ سب کچھ ہے گوارا‘ پر یہ دیکھا جا نہیں سکتا
کہ ان کے پاؤں کے تلوے میں اک کانٹا بھی چبھ جائے
اور پھر تاریخ کے حوالے سے تحفظ ناموس مصطفیٰ (ﷺ) کا زریں عنوان بن کر مجھے غزوۂ احد کا وہ مجاہد یاد آتا ہے جو زخموں سے چور ہے۔ اس کے جسم کا کوئی عضو ایسا نہیں جہاں تیروں اور تلواروں کے زخم نہ لگے ہوں‘ اس پر نزع کا عالم طاری ہے۔ اس کے ساتھی اسے پانی پلانے کی کوشش کرتے ہیں مگر وہ کہتا ہے کہ میری آخری تمنا رخ مصطفیٰ (علیہ التحیۃ والثناء) کی زیارت ہے کہ جس کے لیے قربان ہو رہا ہوں‘ آخری سانسوں میں وہ سامنے ہو۔ حضور ﷺ کو اطلاع ملتی ہے۔ آپ اس مجاہد کی طرف چلتے ہیں۔ ادھر سے وہ اپنی بکھرتی ہوئی سانسوں کی ڈوری کو سمیٹتے ہوئے محبوب دو عالم (ﷺ) کی طرف لپکتا ہے۔ گھسٹتے گھسٹتے وہ سلطان دو عالم ﷺ کے قریب پہنچ گیا۔ میرے آقا (علیہ التحیۃ والثناء) کی چشم رحمت نواز نے اس کی طرف دیکھا۔ اس بجھتے ہوئے چراغ میں زمانے بھر کی روشنی سمٹ آئی۔ اس نے ڈبڈبائی ہوئی آنکھوں سے حضور (ﷺ) کی طرف دیکھا۔ محبوب و محب کی نگاہیں ملیں۔ دونوں طرف آنسو تھے۔ ایک طرف کے آنسوؤں میں رحمت بے کراں کی جلوہ سامانی تھی تو دوسری طرف کے اشکوں میں سرخروئی کی شادمانی۔
پھر اسی غزوۂ احد کے حوالے سے مجھے وہ جواں ہمت‘ بلند بخت اور سعید قسمت خاتون تحفظ ناموس سرکار ﷺ کا ایک نیا عنوان رقم کرتی نظر آتی ہے جو اس غزوہ میں سلطان دو عالم کی شہادت کی افواہ سن کر مدینہ سے روتی ہوئی چل پڑی تھی۔ راستے میں لوگ ملتے گئے۔ کسی نے کہا تمہارا باپ شہید ہو گیا‘ کسی نے خاوند اور بھائیوں کی شہادت کی خبر سنائی تو کسی نے بیٹوں کی شہادت کے بارے میں آگاہ کیا۔ وہ خاتون ان سب کی شہادت پر ”الحمد للہ الحمد للہ“ کا آوازہ بلند کرتی ہوئی فقط یہی سوال کرتی رہی کہ
”میرے لیے خوشی کا مقام ہے کہ میرے خاندان کا ہر فرد ناموس رسالت ﷺ پر تصدق ہو گیا۔ مگر میں نے تم سے ان کے بارے میں پوچھا ہی کب ہے۔ مجھے تو یہ بتاؤ کہ حضور رحمۃ للعالمین (ﷺ) کیسے ہیں؟“
اور پھر اسے سامنے سے آقائے دو عالم ﷺ تشریف لاتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ اسے یوں محسوس ہوتا ہے جیسے ادبار کے بادل چھٹ گئے ہوں، رنج و آلام مٹ گئے ہوں، مصائب کا خاتمہ ہو گیا ہو۔۔۔ اس کی بے چین روح کو یکلخت قرار آ گیا ہو۔ بے قرار ساحل تمنا کو سکون کی دولت عطا ہو گئی، اس کے آنسوؤں کے جھرنے یکلخت تھم گئے۔ اس مقام پر حفیظ جالندھری میرے اور اس محسن اسلام خاتون کے درمیان حائل ہو کر ترجمانی کا فریضہ سنبھال لیتے ہیں:
پکار اٹھا کہ اب میری تسلی ہی تسلی ہے
تسلی ہے، پناہ بے کساں زندہ سلامت ہے
کوئی پرواہ نہیں، سارا جہاں زندہ سلامت ہے
ماضی اور حال میرے سامنے گڈ مڈ ہو رہے ہیں۔ میں دبی ہوئی راکھ میں چنگاریاں تلاش کر رہا ہوں۔ میں خرد گزیدہ ہوں اس لیے اس کوشش میں ہوں کہ انگلیاں جھلسنے نہ پائیں۔ عصر حاضر کا کتنا بڑا فریب ہے۔ تحفظ ناموس مصطفیٰ (ﷺ) کی صدا بھی بلند کی جائے اور قربانی و ایثار کو قصۂ پارینہ سمجھ کر صرف چند الفاظ کو ہی متاع سرخروئی تصور کر لیا جائے۔ مصلحت کو امام اور خرد کو چراغ راہ سمجھ لیا جائے۔ کتنا بہادر، وجیہ اور تاریخ ساز تھا نواسۂ رسول جو اپنے تمام خاندان کی زندگیوں کے سرمائے کو ایک مالا میں پرو کر کربلا کی تپتی ہوئی سرزمین پر لے آیا تھا۔ جسے نجانے کس کس نے روکا ہوگا مگر وہ تو راکب دوش نبوت تھا، جگر گوشۂ مصطفیٰ (ﷺ) اور نور فاطمۃ الزہرا تھا۔ اسے فقط ایک ہی احساس دامن گیر تھا کہ یہ وقت امتحان ہے۔ ناموس مصطفیٰ ﷺ پر اس سے زیادہ کٹھن وقت اور کیا آئے گا کہ شعائر اسلام کی حرمت کو پامال کر دیا جائے۔ ملوکیت کے ٹوٹے ہوئے بت پھر سے کعبہ کی پاسبانی کا فریضہ سنبھال لیں۔ اس شہزادۂ گلگوں قبا شہسوار کربلا نے جسے دنیا حسین (رضی اللہ تعالیٰ عنہ) کے نام سے پکارتی ہے، اپنی جان ہی قربان نہیں کی بلکہ گلستان نبوت کی ایک ایک کلی نذر خزاں کر دی۔ ناموس مصطفیٰ (ﷺ) کے لیے یہ اتنی بڑی قربانی ہے کہ میں چاہوں بھی تو اس کی تفصیل میں نہیں جا سکتا۔ یہاں تو قلم لرزنے اور وجدان کانپنے لگتا ہے۔ تصور دم توڑنے اور تخیل فریاد کناں ہونے لگتا ہے اور میں روتی ہوئی آنکھوں کے ساتھ ”صلوا علیہ وآلہ“ کا ورد کرتا ہوا عہد حال میں لوٹ آتا ہوں کیونکہ
لیکن کہاں یہ دل کہ دیا جائے اس کو طول
ماضی سے حال کی جانب تاریخ کا سفر جاری ہے۔ یہ روشنی کا سفر ہے۔ کہیں کہیں ایسے فرعونوں کی آوازیں ابھرتی ہیں جو ’’انا ولا غیری‘‘ کے طلسم کا شکار ہو کر ناموس مصطفیٰ (علیہ التحیۃ والثناء) پر ہاتھ ڈالنے کی کوشش کرتے ہیں مگر فوراً ہی وقت کی بساط پر ایسے فدا کاران ﷺ بھی ابھرتے ہیں جو ان فرعونوں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر ناموس مصطفیٰ (ﷺ) کا پرچم اس بلندی پر لہرا دیتے ہیں کہ طاغوتی قوتوں کا ہر ہتھکنڈا اسے سرنگوں کرنے میں ناکام رہتا ہے۔ مجدد الف ثانی رحمۃ اللہ علیہ جیسی شخصیات ناموس رسالت (ﷺ) کے چراغ کو ایک لحظہ کے لیے بھی گل نہیں ہونے دیتیں۔ حتیٰ کہ انگریزی استبدادیت کے مہیب سائے برصغیر پاک و ہند کے مسلم تشخص کو ختم کر کے اسے اپنی لپیٹ میں لے لیتے ہیں۔
برطانوی سامراج نے اگرچہ 1857ء کی جنگ آزادی جیت لی تھی مگر وہ اس حقیقت سے بہرہ ور ہو چکا تھا کہ اس کے مظالم مسلمانوں کو تو کچل سکتے ہیں مگر ان کے باطن میں پوشیدہ روح اسلام کو مٹا نہیں سکتے۔ وہ مولانا کفایت علی کافی، مولانا غلام امام شہید، مولانا فضل حق خیر آبادی، مولانا عنایت اللہ کاکوروی، مفتی صدر الدین آزردہ، مولانا احمد اللہ مدراسی اور جنرل بخت خاں (رحمہم اللہ تعالیٰ) کی صورت میں شمع ناموس رسالت ﷺ کے پروانوں کی فداکاری کا لافانی جذبہ دیکھ چکا تھا اور اس نے سمجھ لیا تھا کہ
روح محمدؐ اس کے بدن سے نکال دو
یہی ’’روح محمدؐ ‘‘ ہے جسے ہم تحفظ ناموس رسالت کے جذبے کا دوسرا نام دے سکتے ہیں۔ اس مقصد کی خاطر اس نے تہذیب وتمدن کے کتنے ہی جال پھیلائے۔ حرص و آز اور مصلحت اندیشی کے سبق پڑھائے۔ ہندو عفریت نے برطانوی سامراج کا پورا پورا ساتھ دیا۔ ہر دو باطل قوتوں کی ایک ہی تمنا تھی کہ مسلمان اپنے ماضی سے دستبردار ہو کر ہندو قومیت سے رشتہ استوار کر لیں۔ مگر یہاں شیخ احمد سرہندی، امام احمد رضا فاضل بریلوی، حضرت علامہ محمد اقبال (رحمہم اللہ تعالیٰ) کی تعلیمات دلوں کو اسلامی نظریاتی تشخص کی قدر و قیمت سے بہرہ ور کر رہی تھیں۔ مسلمانوں پر انتہائی کٹھن وقت تھا۔ ایک طرف برطانوی استعماریت کی قہر سامانیاں اور دوسری طرف ہندو سامراج کی ازلی اسلام دشمنی--- ان سب کے ساتھ ساتھ قومیت پرست علماء کا نظریہ وطنیت اور پھر اس پر مستزاد آنجہانی مرزا غلام احمد قادیانی کی
خانہ ساز نبوت ۔۔۔ کلمہ حق کہنے پر زبان کٹتی تھی‘ غلامان رسول (ﷺ) پر عرصہ حیات تنگ تھا۔ ان تمام اسلام دشمن قوتوں کا ایک ہی مدعا تھا کہ اسلامیانِ ہند کے باطن سے اس جذبے کو کھرچ کر ختم کر دو جو ناموسِ رسالت ﷺ پر معمولی سا حرف بھی برداشت نہیں کر سکتا اور جب میدانِ وفا میں آگے بڑھتا ہے تو قلت و کثرت‘ نتائج اور انجام و عواقب سے بے نیاز ہو کر فقط محبت رسول (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) اور ناموسِ مصطفیٰ (ﷺ) ہی کو مقدم جانتا ہے۔
اس جذبہ محبت رسول (ﷺ) کو ختم کرنے کے لیے اور مسلمانوں کی پرسکون زندگی کو تہ و بالا کرنے کے لیے انگریزوں اور ہندوؤں نے وقت کے سمندر میں کتنے ہی پتھر پھینکے مگر وہ مسلمانوں کے جذبہ عشق رسول (ﷺ) کو ختم نہ کر سکے۔ مختلف ادوار میں غیرت اسلامی سے بہرہ ور اصحاب ایمان آگے بڑھتے رہے اور ہر ایک شاتم رسول کو عبرت ناک انجام سے دوچار کرتے رہے‘ حتیٰ کہ راجپال نے ”رنگیلا رسول“ کی صورت میں بحرِ سکون پذیر میں ایک بہت بھاری پتھر دے مارا۔
اگر محبان رسول ﷺ اس چوٹ کو برداشت کر جاتے تو پھر ناموس رسالت پر پے بہ پے حملوں کا سلسلہ شروع ہو جاتا۔ مگر غازی خدا بخش اور غازی عبدالعزیز کے بعد ناموس رسالت ﷺ کے عظیم پاسدار غازی علم الدین شہید نے راجپال کو اس طرح سے کیفر کردار تک پہنچایا کہ پھر کسی کو راجپال کہلانے یا کسی گستاخ رسول کو ناموس مصطفیٰ (ﷺ) کے تقدس پر ہاتھ ڈالنے کی جرات نہ ہو سکی۔ اس ایک مرد حق نے وہ کام کر دکھایا جو بعض اوقات ایک منظم سپاہ سے بھی ممکن نہیں ہوتا۔ اور یہ بھی ناموس رسالت کی بالا تری کا اعجاز ہے کہ اس دور پُر آشوب میں
غازی علم الدین شہید تو عشق مصطفیٰ ﷺ کے نام پر فدا ہو گئے مگر ہمارے لیے پیغام چھوڑ گئے کہ محبت رسول (ﷺ) فقط زبانی دعویٰ کا نام نہیں یہ تو موت کے ہاتھ پر بیعت کرنے کا دوسرا نام ہے۔ آج غازی علم الدین شہید کا نام محض ایک شخص کا نام نہیں بلکہ یہ تو جرات و ہمت کا استعارہ ہے‘ حمیت اسلامی کا نشان ہے‘ شوکت ایمان کی تنویر ہے‘ تحفظ ناموس رسالت کی عملی تفسیر ہے۔ وقت کے قرطاس پر خوں کی دھاروں سے نقش لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ رقم کرنے کا فسانہ ہے‘ اپنے آقا و مولا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے غلاموں کی وابستگی کا جذبہ بیکراں ہے۔
تاریخِ اسلام کے بطلِ جلیل غازی علم الدین شہید کی وساطت سے عہدِ حال کے ظلمت کدوں کو منور کرتے ہوئے جہاں میں حسِ فخر سے سرشار ہوتا ہوں کہ میں نے غازی علم الدین علیہ الرحمہ کی
صدی پائی ہے وہاں یہ احساس مجھے انتہائی م غازی علم الدین شہید نے یہ لہو رنگ قربانی دی اس کے اجالے ماند نہ پڑ جائیں۔ غازی علم ال ڈال دیا تھا جب مسلمان انتہائی مجبور و بے بس شہری ہیں۔ مملکت خداداد پاکستان غازی علم ال والثنا) کی قربانیوں کا ثمرہ ہے۔۔۔مگر اس کے ب علیہ وآلہ وسلم کے نام پر حاصل کیا گیا تھا‘ محفو
- O --- کیا اب بھی ایسی دل آزار تحریریں
زد پڑتی ہے؟
- O --- کیا وقت کے راجپالوں نے پینترا ب
- O --- شرارِ بولہبی کے مقابلے میں ہم اپن
علیہ وآلہ وسلم ) کی لو کو مدھم کر ر
- O --- تقسیم ہند سے قبل کوئی غیر مسلم
امتِ اسلامیہ کا غیض و غضب ہاتھوں ہو رہا ہے۔ مگر ہم ہیں کہ مجسمے بنے بیٹھے ہیں!
- O --- پہلے تحفظِ ناموسِ رسالت پر
فرقہ واریت کی نذر تو نہیں کر رہ
- O --- ایک شیطان رُشدی شیطانی چ
صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے محب کے آنسوؤں میں ڈوب کر م حمیت کے ترکش کا ”خدنگِ آ کے اپنی صدیوں کی غیرت من کتنے ہی سوالات ہیں جو محبانِ مگر ہم نے اپنی خرد کو رہنِ غیر کر کے اپن
صدی پائی ہے وہاں یہ احساس مجھے انتہائی مضمحل اور میرے فکری اعصاب کو بوجھل اور خستہ کر دیتا ہے کہ غازی علم الدین شہیدؒ نے اپنی لہو رنگ قربانی سے تحفظ ناموس مصطفوی (ﷺ) کی جو داستان رقم کی تھی، اس کے اجالے ماند نہ پڑ جائیں۔ غازی علیہ الرحمہ نے تو اس وقت سامراجی قوتوں کے قلعے میں شگاف ڈال دیا تھا جب مسلمان انتہائی مجبور و بے بس اور محکوم و لاچار تھے۔ مگر آج تو ہم ایک آزاد مملکت کے شہری ہیں۔ مملکت خداداد پاکستان غازی علم الدین شہیدؒ اور ان جیسے دوسرے عشاق مصطفی (علیہ التحیۃ والثناء) کی قربانیوں کا ثمرہ ہے۔۔۔ مگر اس ملک میں جو کہ فقط اور فقط اسلام اور حضور محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نام پر حاصل کیا گیا تھا تحفظ ناموس رسالت کے لیے ہم نے اب تک کیا کیا ہے؟؟
- o--- کیا اب بھی ایسی دل آزار تحریریں نہیں لکھی جا رہیں جس سے ناموس رسالتمآب (ﷺ) پر
زد پڑتی ہے؟
- o--- کیا وقت کے راجپالوں نے نئے نئے روپ اور چہرے تلاش نہیں کر لیے؟
- o--- شرار بولہبی کے مقابلے میں ہم اپنی مصلحت اندیشیوں کی بدولت چراغ مصطفوی (صلی اللہ
علیہ وآلہ وسلم) کی لو کو مدھم کرنے کا باعث تو نہیں بن رہے؟
- o--- تقسیم ہند سے قبل کوئی غیر مسلم حضور (ﷺ) کی شان میں معمولی گستاخی کرتا تھا تو پوری
امت اسلامیہ کا غیض و غضب آتش فشاں بن جاتا تھا۔ آج اس سے بڑا ظلم اپنوں کے ہاتھوں ہو رہا ہے۔ مگر ہم ہیں کہ دلوں سے عشق کی آگ کے بجھنے کا آخری منظر دیکھنے کے متمنی بنے بیٹھے ہیں!
- o--- پہلے تحفظ ناموس رسالت پوری امت مسلمہ کی غیرت کا امتحان تھا مگر اب ہم نے اسے بھی
فرقہ واریت کی نذر تو نہیں کر دیا؟
- o--- ایک شیطان رشدی شیطانی خرافات لکھ کر مسلمانوں کے جذبات اور ناموس و عزت حضور
صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کھیل کر ہماری حمیت کے لٹنے کا تماشا دیکھ رہا ہے اور ہم بے بسی کے آنسوؤں میں ڈوب کر سوچ رہے ہیں کہ کیا غازی علم الدین شہیدؒ ہی ہماری اسلامی حمیت کے ترکش کا ”خدنگِ آخریں“ تھا اور کیا اپنی اس بے چارگی کو من حیث القوم تسلیم کر کے اپنی صدیوں کی غیرت مندانہ روایات سے دستکش تو نہیں ہو چکے؟
کتنے ہی سوالات ہیں جو تحفظ ناموس مصطفی (ﷺ) کے حوالے سے ہمیں جھنجھوڑتے ہیں۔ مگر ہم نے اپنی خرد کو رہن غیر کر کے اپنی متاع فکر کو متاع رائیگاں سمجھ لیا ہے۔ ہمارے احساسات پر
آہستہ آہستہ مصلحت اندیشی کا کہر جمتا جا رہا ہے۔ لیکن تاریخ اس حقیقتِ ازلی کی شاہد ہے کہ عشقِ سرورِ کونین (ﷺ) محض وقتی جذبہ نہیں بلکہ یہ تو لاہوتی اور سرمدی نغمہ ہے جو زمان و مکان کے فاصلوں اور تاریخی مسافتوں کو ایک آن میں ختم کر کے غلاموں کا رشتہ اس آقا و مولا (علیہ التحیۃ والثناء) سے جوڑ دیتا ہے جس کی رحمۃ للعالمینی ہر دور کے خستہ سامانوں کو جینے کا حوصلہ عطا کرتی ہے۔ عشقِ رسول (ﷺ) کبھی فنا نہیں ہوتا۔ ہمارا رسول (ﷺ) لافانی ہے۔ اس کے اقوال و ارشادات، فرمودات اور احکام غیر فانی ہیں۔ اس کی سیرت کے نقوش دائمی اور اس کے وجود کا احساس ہمارے اپنے وجود کے ہونے کی دلیل ہے۔۔۔ وہ ہے تو سب کچھ ہے۔ اس سے کٹ کر ہماری حیثیت ذرۂ ریگ سے بھی کمتر ہے۔ اسی مظہر انوارِ خدا ﷺ کی محبت، اس کی لاثانی شخصیت کا اظہار اور اس کے لطف فرمانے والے باطنی وجود کا اقرار ہی تشکیک و اوہام کے سایوں کو ختم کر کے ہمیں اس کے ناموس کی حفاظت کے انداز عطا کر سکتا ہے۔
مولانا جسٹس (ر) مفتی محمد تقی عثمانی
نبی کریم ﷺ سے محبت کا تقاضا
دشمنان اسلام کی طرف سے اسلام کے خلاف کارروائیاں اور نبی کریم ﷺ کی شان میں گستاخیاں کوئی نئی بات نہیں۔ جب سے سرور دو عالم ﷺ اس کائنات میں تشریف لائے اور ان کی تعلیمات کا نور اس عالم میں پھیلا، اس وقت سے یہ کارروائیاں جاری ہیں اور جیسا کہ کہا گیا ہے؎
چراغ مصطفوی ﷺ سے شرار بولہبی
یہ اوچھی حرکتیں، اوچھے ہتھکنڈے ہر زمانے میں ہوتے رہے ہیں اور قرآن کریم نے خود فرمایا کہ آپ ﷺ سے پہلے جو رسول بھیجے گئے، ان کا مذاق اُڑایا گیا۔ لیکن قرآن یہ کہتا ہے یہ سارے اوچھے ہتھکنڈے بیکار ہوجائیں گے۔ یہ لوگ اپنی پھونکوں سے اللہ کے نور کو بجھانا چاہتے ہیں: ”یریدون لیطفئوا نور اللّٰہ بافواہہم واللّٰہ متم نورہ ولو کرہ الکافرون۔“ (الصف: 8) یہ چاہتے ہیں کہ اپنی پھونکوں سے اللہ کے نور کو بجھا دیں لیکن اللہ اپنے نور کو مکمل کرے گا۔ اگرچہ کافروں کو کتنا ہی ناگوار کیوں نہ ہو۔“ یہ اعلان قرآن کریم نے چودہ سو سال پہلے کردیا۔ واقعہ یہ ہے کہ گستاخیاں کرنے والے ہزار گستاخیاں کریں، مذاق اُڑانے والے، ہزار مذاق اُڑایا کریں، برا کہنے والا ہزار برا کہا کریں لیکن جس ذات کے بارے میں اللہ نے یہ فرما دیا: ”ورفعنا لک ذکرک“ ہم نے آپ ﷺ کے ذکر کو رفعت و بلندی عطا فرمائی ہے تو اس ذات کی عظمت و جلال اور رفعت و بلندی پر ایک دھبہ حرف نہیں آتا۔ بد زبانی کرنے والے ہزار بد زبانیاں کیا کریں....... لیکن سرور عالم ﷺ کی عظمت و تقدیس کے گیت تمام دنیا میں تا قیامت ہر وقت گائے جاتے رہیں گے۔
آج کائنات میں روئے زمین پر کوئی جگہ ایسی نہیں ہے جس پر ہر وقت ”اشھد ان
محمد رسول اللہ" کی صدا نہ گونج رہی ہو۔ پوری دنیا میں کوئی جگہ ایسی نہیں جہاں یہ صدا سنائی نہ دیتی ہو۔ مجھے یاد آتا ہے مشہور فلسفی اور حکیم بوعلی سینا جو اپنے زمانے میں حکمت اور علم کے شناور سمجھے جاتے تھے، ان کی فراست و ذہانت کا ڈنکا بجا ہوا تھا، ان کے ایک شاگرد نے ایک مرتبہ استاد سے کہا : "اللہ نے آپ کو اتنی فہم و فراست اور علم دیا ہے تو اگر آپ نبوت کا دعویٰ کر دیں تو میں سمجھتا ہوں کہ بہت بڑی خلقت آپ کے ساتھ ہو جائے گی، آپ کو لوگ نبی مان لیں گے ۔" بوعلی سینا نے اپنے شاگرد کی بات سنی ان سنی کر دی۔ کوئی جواب نہ دیا۔ بات آئی گئی ہوگئی۔ ایک عرصے بعد بوعلی سینا کو شام کا سفر پیش آیا اور دمشق گئے۔ جامع مسجد دمشق کے قریب ایک مکان کے اندر قیام کیا، شاگرد بھی ساتھ تھا۔ سخت سردی کا زمانہ تھا برفانی و طوفانی ہوائیں چل رہی تھیں۔ رات کو شیخ تہجد کے لیے بیدار ہوئے۔ شاگرد ساتھ سویا ہوا تھا۔ اس سے کہا : "بیٹا نماز پڑھنی ہے، وضو کرنا ہے، پانی گرم کر دو تا کہ میں وضو کر کے نماز ادا کرلوں۔" شاگرد نیند کے مزے لے رہے تھے۔ لحاف میں گھسے ہوئے تھے۔ انہوں نے کہا : "جناب شیخ ! تہجد کی نماز کوئی فرض و واجب تو ہے نہیں یہ تو ایک نفلی عبادت ہے اور سردی بہت سخت ہے۔ اگر آپ تہجد نہ پڑھیں تو کیا حرج ہے؟" شیخ خاموش ہو گئے۔ کچھ دیر گزری تھی کہ دمشق کے میناروں سے اذان کی آواز بلند ہوئی۔ مؤذن مسجد کے مینار پر چڑھ کر کہہ رہا تھا : "اشهد ان لا اله الا الله اشهدان محمد رسول الله" اذان ختم ہوئی تو شاگرد کو استاد نے بلایا اور کہا : "آج سے کچھ عرصہ تم نے ایک تجویز پیش کی تھی۔ اس وقت تو میں نے کوئی جواب نہیں دیا تھا، آج میں اس کا جواب دیتا ہوں۔ تم نے مجھ سے کہا تھا کہ نبوت کا دعویٰ کرو تو خلقت میرے ساتھ ہو جائے گی۔ یہ بتاؤ! اگر میں نبوت کا دعویٰ کرتا تو سب سے پہلے میرے جو میری تصدیق کرنے والے ہوتے وہ تم ہی ہوتے۔ تمہارا حال یہ ہے کہ میں نے تمہیں پانی گرم کرنے کا کہا تو تمہیں سردی یاد آ گئی اور مجھے یہ بتلانے لگے کہ یہ فرض نہیں، واجب نہیں، نفل ہے۔ جبکہ دوسری طرف دیکھو جامع دمشق کے مینار پر ان طوفانی و برفانی ہواؤں کے باوجود مؤذن یہ نعرہ لگا رہا ہے : "اشهد ان لا اله الا الله اشهدان محمد رسول اللہ" اس کو آج حضور ﷺ نے نہیں فرمایا کہ تم مینار پر جا کر اذان دو، ان کو تو دنیا سے پردہ فرمائے صدیاں گزر چکی ہیں لیکن آپ ﷺ کے حکم کی خاطر سردی کو خاطر میں لاتا ہے اور نہ ہی طوفانی ہواؤں کا خیال کرتا ہے۔ کھڑے ہو کر "اشهدان محمد رسول
ا دنیا میں کوئی جگہ ایسی نہیں جہاں یہ صدا ا سینا جو اپنے زمانے میں حکمت اور علم کا ڈنکا بجا ہوا تھا، ان کے ایک شاگرد نے نبوت اور علم دیا ہے تو اگر آپ نبوت کا کے ساتھ ہو جائے گی، آپ کو لوگ نبی ان سنی کر دی۔ کوئی جواب نہ دیا۔ بات دن آیا اور دمشق گئے۔ جامع مسجد دمشق کا تھا سخت سردی کا زمانہ تھا برفانی و بیدار ہوئے۔ شاگرد ساتھ سویا ہوا تھا۔ پانی گرم کرو تا کہ میں وضو کر کے نماز ادا میں گھسے ہوئے تھے۔ انہوں نے کہا : یہ تو ایک نفلی عبادت ہے اور سردی بہت خاموش ہو گئے۔ کچھ دیر گزری تھی کہ ان مسجد کے مینار پر چڑھ کر کہہ رہا تھا: اللہ“ اذان ختم ہوئی تو شاگرد کو استاد پیش کی تھی۔ اس وقت تو میں نے کوئی نے مجھ سے کہا تھا کہ نبوت کا دعویٰ کرو نبوت کا دعویٰ کرتا تو سب سے پہلے تھے۔ تمہارا حال یہ ہے کہ میں نے مجھے یہ بتلانے لگے کہ یہ فرض نہیں، مشق کے مینار پر ان طوفانی و برفانی لا الہ الا اللہ اشہد ان محمد مینار پر جا کر اذان دو، ان کو تو دنیا حکم کی خاطر سردی کو خاطر میں لاتا پڑ کر ”اشہد ان محمد رسول اللہ“ کی صدا بلند کرتا ہے۔ نبی وہ ہوتے ہیں، پیغمبر وہ ہوتے ہیں جن کے ماننے والے اپنی جان کی پروا نہیں کرتے، اپنی صحت کی پروا نہیں کرتے اور ان کے حکم پر اپنی جان قربان کر دیا کرتے ہیں۔
گستاخان رسول سرکار دو عالم ﷺ کی شان میں کیا گستاخیاں کریں گے؟ یہ تو اپنی عاقبت خراب کریں گے۔ سرکار دو عالم ﷺ کا تذکرہ اللہ نے ”ورفعنالک ذکرک“ ایک چھوٹی سی آیت میں بیان فرما کر قیامت تک اس کو ایسا دلنواز، ایسا محبوب اور ایسا بین الاقوامی بنا دیا ہے کہ دنیا کا کوئی گوشہ اس سے خالی نہیں۔ یہ سمجھتے ہیں کہ کارٹون بنا کر اور فلمیں چلا کر حضور ﷺ کے تذکرے کو بند کردیں گے۔ آپ ﷺ کی عظمت، محبت جو مسلمانوں کے دلوں میں پیوست ہے، اس کو ختم کردیں گے، ناممکن ہے۔ بات ساری یہ ہے کہ دلیل اور حجت کے میدان میں اللہ تعالیٰ نے ان کو شکست فاش دی ہے۔ دلیل کے میدان میں آجائیں اور بات کریں کہ نبی کریم ﷺ کی ذات والا صفات اور ان کے لائے ہوئے دین، اس کی کسی ایک چیز پر انگلی رکھ کر دکھائیں۔ اس سے یہ لوگ عاجز ہیں۔ دلیل اور حجت کے میدان میں شکست کھا چکے ہیں۔ قرآن نے کہہ دیا تھا: ”ھوالذی ارسل رسولہ بالھدیٰ و دین الحق لیظہرہ علی الدین کلہ، ولو کرہ المشرکون.“ (الصف: 9) اللہ نے اپنے رسول ﷺ کو ہدایت دے کر بھیجا ہے۔ سچا دین دے کر بھیجا ہے۔ اس لیے بھیجا ہے تا کہ یہ اپنی حجت اور دلیل سے تمام ادیان پر غالب آجائے چاہے مشرکین کو کتنا ہی ناگوار ہو۔ یہ جب ہو چکا تو اب ان کے پاس اوچھے ہتھکنڈوں کے علاوہ کچھ اور رہا نہیں۔ ان اوچھے ہتھکنڈوں کے نتیجہ میں اس کے علاوہ اور کیا ہو سکتا ہے کہ کوئی آدمی چاند پر تھوکے، چاند پر تھوک تو سکتا نہیں، وہ تھوک اسی کے منہ پر آنا ہے۔ اللہ نے ان کی اس زندگی کو عذاب بنا رکھا ہے اور یہ زندگی تو عذاب بن چکی ہے۔ ”انما یرید اللہ لیعذبہم بھا فی الحیوۃ الدنیا“ (التوبہ: 55) اللہ چاہتا ہے کہ ان کو اس دنیا میں اسی مال دولت کے ذریعے عذاب کے اندر مبتلا رکھے۔
تمام ممالک جو حضور ﷺ کی شان میں گستاخیاں کر رہے ہیں، ان میں سے اکثریت ان کی ہے جن کو اگر حرام زادے کہا جائے تو بالکل درست ہوگا۔ اللہ نے ان کی زندگیوں کو جہنم بنا رکھا ہے۔ خودکشیاں کر رہے ہیں۔ یہ ساری باتیں اور ان کا نتیجہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ دکھائیں گے اور اللہ نے ان کے لیے ایک زبردست عذاب تیار کر رکھا ہے۔
لیکن آج ہم جس مقصد کے لیے جمع ہیں وہ یہ کہ ان حالات میں ہمارے کیا فرائض ہیں؟ ہمیں کیا کرنا چاہیے؟ حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا تھا: ”لا یؤمن احدکم حتی اکون احب الیه من نفسه و ولده و والده والناس اجمعین“ تم میں سے کوئی شخص اس وقت تک پورا مومن نہیں ہوسکتا جب تک کہ میں اسے اپنی جان سے، اس کی اولاد سے اور اس کے ماں باپ سے زیادہ عزیز نہ ہو جاؤں۔ حضرت فاروق اعظمؓ نے یہ حدیث سنی اور اپنے دل کو ٹٹول کر حضور ﷺ سے عرض کیا: ”میں نے اپنے دل کو ٹٹولا تو آپ ﷺ کو اپنے مال اور اپنی اولاد سے زیادہ محبوب پایا لیکن مجھے شبہ یہ ہوتا ہے کہ شاید آپ ﷺ مجھے اپنی جان سے زیادہ ابھی محبوب نہیں۔“ سرکار دو عالم ﷺ نے ان کے سینے پر ہاتھ رکھا اور دوبارہ فرمایا: ”تم اس وقت تک مومن نہیں ہوسکتے جب تک کہ مجھے اپنی جان سے بھی زیادہ محبوب نہ سمجھ لو۔“ آپ ﷺ کا دستِ مبارک رکھنا تھا کہ حضرت عمرؓ نے فرمایا: ”الآن یا رسول اللہ!“ ”یا رسول اللہ! اب سے آپ کی ذات مجھے اپنی جان سے بھی زیادہ محبوب ہوگئی۔“ اس محبت کا تقاضا کیا ہے اور اس موقع پر ہمارے ذمہ کیا فرائض عائد ہوتے ہیں؟ تو اس بات کو سوچنے سمجھنے کے لیے آج ہم جمع ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں صحیح راستہ اختیار کرنے کی توفیق عطا فرمائے!
اگر نبی کریم ﷺ کی ناموس پر کوئی ادنیٰ بھی حملہ کرتا ہے تو ایک مسلمان کی غیرت کا تقاضا ہے کہ اس کی محبت جوش میں آئے اور اس پر کوئی عملی اقدام کیا جائے۔ عملی اقدام کیا ہو؟ جیسا مجھ سے پہلے کہا گیا ہے کہ آج کل عملی اقدامات کسی چیز پر احتجاج کے لیے معروف ہیں۔ جذباتی مظاہرے وغیرہ کر دیے۔ توڑ پھوڑ کر دی، جلاؤ گھیراؤ کر دیا۔ یہ ہمارے دین کی تعلیم ہے اور نہ اس سے مقصد کو فائدہ پہنچتا ہے بلکہ اس سے دشمن کو فائدہ ہوتا ہے۔ اگر ہم اپنے ہی پاؤں پر کلہاڑیاں مارنے لگیں، ہم اپنے ہی آدمیوں کو نقصان پہنچانے لگیں اور اپنی تجارت ختم کرنے لگیں تو اس سے ان کو کوئی نقصان نہیں ہوتا۔ ان کی چاندی ہوتی ہے اور وہ اس سے خوش ہوتے ہیں کہ ہمارے اس اقدام کے نتیجے میں یہ اپنی خودکشی کر رہے ہیں۔ یہ کوئی حل نہیں، لیکن کرنا کیا ہے؟ اس اجتماع میں اہلِ فکر موجود ہیں۔ تاجر برادری کے ذمہ دار افراد بھی شامل ہیں۔ میں چند گزارشات اور تجاویز آپ کی خدمت میں پیش کرنا چاہتا ہوں اور میں سمجھتا ہوں کہ میری نظر میں جو تجاویز ہیں یہ اس وقت مؤثر ہوسکتی ہیں جب ہم اسے محبت رسول ﷺ کا تقاضا سمجھ کر ان تجاویز کو عمل اور ان عملی اقدامات کا تعلق تین مختلف شعبوں کے لیے تین مختلف سطحوں پر کام کرنے کی ضر
- (3) تبلیغی و دعوتی سطح پر۔
سیاسی سطح پر ہمارا اقدام یہ ہونا کریں کہ وہ سیاسی میدان میں ایسے ممالک ہے جیسے ڈنمارک، اس کے ساتھ سفارتی جائے۔ اپنے سفیر کو واپس بلایا جائے۔ چاہیے اور حکومت کا یہ فرض ہے کہ نبی ﷺ ملک میں برداشت نہ کرے جس کا ملک ح پشت پناہی بھی کر رہا ہے۔ یہ مطالبہ مؤثر بہت بڑی تعداد ہے۔ یہ سارے مسلمان م کا ناطقہ بند کر سکتے ہیں۔ ان مغربی ممالک
دوسرا مطالبہ سیاسی سطح پر یہ ہ متحدہ کس لیے قائم ہوئی تھی؟ جس کے جائیں جس کے ذریعے پوری دنیا کے اقوام متحدہ کے ذریعے ایک ایسا بین الا گستاخی کرنے اور کسی بھی آسمانی کتاب ممالک کی طرف سے یہ کہا جاتا ہے کہ کی وجہ سے ہم ان لوگوں پر قدغن نہیں کوئی حیثیت نہیں۔ آزادی اظہار رائے دوسرے کی گستاخی کی جائے۔ آخر کوا سزا جرم قرار نہ دیا گیا ہو؟ ازالہ حیثیت سکتا ہے ہمارے ہاں آزادی اظہار را کی چاہو بے عزتی کرتے پھرو۔ دنیا
رسول ﷺ کا تقاضا سمجھ کر ان تجاویز کو عمل میں لانے کے لیے کمر بستہ ہو جائیں۔ ان تجاویز اور ان عملی اقدامات کا تعلق تین مختلف شعبوں سے ہے۔ یعنی ہمیں اس گستاخی کا مقابلہ کرنے کے لیے تین مختلف سطحوں پر کام کرنے کی ضرورت ہے۔ (1) سیاسی سطح پر۔ (2) معاشی سطح پر۔ (3) تبلیغی و دعوتی سطح پر۔
سیاسی سطح پر ہمارا اقدام یہ ہونا چاہیے کہ ہم اپنی اپنی حکومتوں کو اس بات پر آمادہ کریں کہ وہ سیاسی میدان میں ایسے ممالک جنہوں نے حضور ﷺ کی شان میں گستاخی کی ہے جیسے ڈنمارک، اس کے ساتھ سفارتی تعلقات ختم کیے جائیں۔ اس کے سفیر کو واپس بھیجا جائے۔ اپنے سفیر کو واپس بلایا جائے۔ یہ مطالبہ عوام کی طرف سے حکومت کے پاس جانا چاہیے اور حکومت کا یہ فرض ہے کہ نبی ﷺ کی حرمت اور ناموس کی خاطر ایسے سفیر کو اپنے ملک میں برداشت نہ کرے جس کا ملک حضور ﷺ کی بے حرمتی پر نہ صرف خاموش ہے بلکہ پشت پناہی بھی کر رہا ہے۔ یہ مطالبہ مؤثر انداز میں ہونا چاہیے۔ آج دنیا میں مسلمان ممالک کی بہت بڑی تعداد ہے۔ یہ سارے مسلمان ملک وہ ہیں اگر یہ کسی ایک بات کا تہیہ کرلیں تو مغرب کا ناطقہ بند کر سکتے ہیں۔ ان مغربی ممالک کی ساری زندگی اسلامی ممالک پر موقوف ہے۔
دوسرا مطالبہ سیاسی سطح پر یہ ہونا چاہیے کہ اقوام متحدہ کس مرض کی دوا ہے؟ اقوام متحدہ کس لیے قائم ہوئی تھی؟ جس کے ”بیسک چارٹر“ کا تقاضا یہ ہے کہ ایسے اقدامات کیے جائیں جس کے ذریعے پوری دنیا کے ممالک پُر امن بقائے باہمی کے طور پر رہ سکیں۔ لہٰذا اقوام متحدہ کے ذریعے ایک ایسا بین الاقوامی قانون ہونا چاہیے جو کسی بھی پیغمبر کی شان میں گستاخی کرنے اور کسی بھی آسمانی کتاب کی گستاخی والے کو قابل سزا جرم قرار دے۔ آج ان ممالک کی طرف سے یہ کہا جاتا ہے کہ ہمارے ہاں آزادی رائے ہے۔ اظہار آزادی رائے کی وجہ سے ہم ان لوگوں پر قدغن نہیں لگا سکتے، لیکن یہ بالکل کھوکھلا بہانہ ہے۔ اس کی بالکل کوئی حیثیت نہیں۔ آزادی اظہار رائے کا معنی یہ نہیں ہوتے کہ دوسرے کی توہین کی جائے اور دوسرے کی گستاخی کی جائے۔ آخر کون سا ملک ایسا ہے جس میں کسی شخص کی بے حرمتی کو قابل سزا جرم قرار نہ دیا گیا ہو؟ ازالہ حیثیت عرفی کے قوانین ہر ملک میں نافذ ہیں۔ کیا کوئی ملک کہہ سکتا ہے ہمارے ہاں آزادی اظہار رائے ہے۔ لہٰذا جس کی چاہو پگڑی اُچھالتے پھرو۔ جس کی چاہو بے عزتی کرتے پھرو۔ دنیا کا کوئی قانون اس کو گوارا نہیں کرتا۔ اگر ایک عام انسان
کی بے حرمتی اور بے عزتی کو جرم قرار دیا گیا ہے تو سرکار دو عالم ﷺ اور دیگر انبیا کی توہین کو کیسے برداشت کیا جاسکتا ہے؟ کیا یہ آزادی رائے ہے؟ الحمد للہ! ہم مسلمانوں کا دامن اس طرح کی چھچھوری حرکتوں سے ہمیشہ پاک رہا ہے۔ دلیل کے میدان میں بات کرنی ہے تو آجاؤ۔ الحمد للہ! اس کا جواب دینے کے لیے تیار ہیں لیکن ہم گالم گلوچ کرتے ہیں اور نہ ہی گالم گلوچ برداشت کرتے ہیں۔ اس لیے اظہار آزادی اظہار کا نعرہ لگا کر یہ کہنا کہ ہمارے ہاں اظہار آزادی رائے ہے، ان جرائم پر پردہ نہیں ڈال سکتا۔ اس کے خلاف قانون منظور ہونا چاہیے۔
مجھے ایک واقعہ یاد آتا ہے کہ آج سے چند سال پہلے جب پاکستان میں مرزائیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا گیا تو ان کی طرف سے پوری مغربی دنیا میں یہ فریاد کی جارہی تھی کہ ہم پر ظلم ہورہا ہے، آزادی اظہار رائے کے اوپر پاکستان میں پابندی عائد کی جارہی ہے۔ ان ہی دنوں میں ایک دن میں اپنے گھر میں بیٹھا تھا۔ مغرب کے بعد گھر کی گھنٹی بجی، باہر نکل کر دیکھا تو ہماری پاکستان کی وزارت خارجہ کے ایک ذمہ دار افسر پیرس سے ایمنسٹی انٹرنیشنل جو کہ ایک ادارہ ہے۔ اس کے ایک ڈائریکٹر کو لے کر تشریف لائے اور عجیب بات یہ تھی کہ وقت طے کئے بغیر یہ حضرات تشریف لائے اور مجھ سے کہا کہ ہم آپ کا انٹرویو کرنا چاہتے ہیں، میں نے پوچھا کہ کس موضوع پر آپ انٹرویو کرنا چاہتے ہیں، تو کہنے لگے کہ مجھے پیرس سے اس مشن پر بھیجا گیا ہے کہ میں جنوبی ایشیا کے لوگوں کا سروے کروں کہ ان کے ذہن میں آزادی اظہار رائے کا کیا تصور ہے اور آزادی اظہار رائے کے بارے میں وہ کیا موقف رکھتے ہیں۔ انہوں نے پہلے مجھ سے معذرت کی تھی کہ ہم آپ سے appointment کے بغیر آگئے ہیں، مجھے یہ اندازہ ہوا کہ وہ بہت مختصر وقت کے لیے آئے ہیں کہ وہ پہلے appointment بھی نہیں لے سکے۔ میں نے ان سے پوچھا کہ آپ کب تشریف لائے تو کہنے لگے کہ میں کل کراچی پہنچا ہوں، پھر میں نے پوچھا کہ اب آگے آپ کا کیا پروگرام ہے تو کہنے لگے کہ کل مجھے اسلام آباد جانا ہے اور دو دن وہاں رہ کر پھر نئی دہلی جاؤنگا اور نئی دہلی سے پھر مجھے کوالالمپور جانا ہے۔ میں نے کہا کل دورہ کتنے دنوں کا ہے؟ کہنے لگے ایک ہفتے میں یہ دورہ مکمل ہوگا تو میں نے کہا کہ کراچی میں جو آپ دو دن رہے کل سے اب تک رہے تو ذرا یہ فرمائیے کہ کتنے لوگوں کا انٹرویو آپ نے لیا۔ کہنے لگے کہ پانچ آدمیوں کا انٹرویو لے چکا ہوں، چھٹے آپ ہیں، تو میں نے کہا کہ کیا ان چھ آدمیوں کا انٹرویو لے کر آپ نے پورے
سید دو عالم ﷺ اور دیگر انبیاء کی توہین کو ہے؟ الحمد للہ! ہم مسلمانوں کا دامن اس ن کے میدان میں بات کرنی ہے تو آجاؤ۔ ہم گالم گلوچ کرتے ہیں اور نہ ہی گالم گلوچ نعرہ لگا کر یہ کہنا کہ ہمارے ہاں اظہار کے خلاف قانون منظور ہونا چاہیے۔ و سال پہلے جب پاکستان میں مرزائیوں ی مغربی دنیا میں یہ فریاد کی جا رہی تھی کہ ستان میں پابندی عائد کی جا رہی ہے۔ ان مغرب کے بعد گھر کی گھنٹی بجی، باہر نکل کر دہ دار افسر پیرس سے ایمنسٹی انٹرنیشنل جو کہ تشریف لائے اور عجیب بات یہ تھی کہ وقت کہ ہم آپ کا انٹرویو کرنا چاہتے ہیں، میں ہوں، تو کہنے لگے کہ مجھے پیرس سے اس روے کروں کہ ان کے ذہن میں آزادی کے بارے میں وہ کیا موقف رکھتے ہیں۔ appointment کے بغیر آ گئے کہتے ہیں کہ وہ پہلے appointment اب تشریف لائے تو کہنے لگے کہ میں کل آپ کا کیا پروگرام ہے تو کہنے لگے کہ کل نئی دہلی جاؤنگا اور نئی دہلی سے پھر مجھے کتنے؟ کہنے لگے ایک ہفتے میں یہ دورہ کرنا ہے۔ کل سے اب تک رہے تو ذرا یہ کہ پانچ آدمیوں کا انٹرویو لے چکا یوں کا انٹرویو لے کر آپ نے پورے
کراچی کا سروے مکمل کر لیا اور جو کل آپ اسلام آباد جا رہے ہیں تو ایک دن یا دو دن رہ کر پانچ چھ آدمیوں کا سروے وہاں لیں گے اور اس کے بعد پھر دہلی اور کوالالمپور جائیں گے اور ایک ہفتے کے اندر یہ سروے مکمل کر کے آپ اپنی کوئی رپورٹ ”سب مٹ“ کر دیں گے تو فرمائیے کہ یہ سروے کیا واقعی کوئی سنجیدہ سروے ہے جو اتنی مدت میں کیا جائے؟ کہنے لگے میں مجبور ہوں، مجھے اتنا ہی وقت دیا گیا ہے اور وقت کی کمی کے باعث میں اس سے زیادہ لوگوں سے ملاقات نہیں کر سکتا اس لیے انہی افراد سے انٹرویو کر کے میں اپنا سروے مکمل کرونگا۔ میں نے کہا کہ اگر آپ کے پاس اتنا ہی کم وقت تھا کہ آپ پانچ چھ افراد سے زیادہ کسی سے ملاقات نہیں کر سکتے تھے تو آپ کو کس ڈاکٹر نے مشورہ دیا تھا کہ سروے کریں، اگر سروے کرنا ہی تھا تو اس کے لیے وقت نکالتے لیکن اگر آپ تھوڑے سے وقت میں چند افراد کی بات سن کر اور پورے جنوبی ایشیا کی طرف آپ ایک نقطۂ نظر کو منسوب کرنے والے ہیں تو معاف کیجئے اس غیر سنجیدہ سروے میں، میں پارٹی بننے کو تیار نہیں، لہٰذا میں آپ کے کسی سوال کا جواب نہیں دونگا۔ آپ میرے مہمان ہیں بے شک چائے پیجئے میں آپ کی خاطر تواضع کرونگا لیکن جہاں تک انٹرویو کا تعلق ہے تو میں آپ کو کوئی انٹرویو نہیں دونگا۔ ہمارے ملک کی وزارت خارجہ کے افسر جو ان کے ساتھ تھے، انہوں نے مجھ سے کہا کہ جناب دیکھیے یہ صاحب بہت دور سے آئے ہیں کم سے کم کچھ تو آپ ان کی رعایت کر لیجیے، میں نے کہا کہ مہمان کی حیثیت سے رعایت یہ ہے کہ چائے پیئں میرے پاس لیکن جہاں تک معاملے کی بات ہے تو میں ایسے غیر سنجیدہ سروے میں حصہ لینے کے لیے تیار نہیں ہوں، جس کا مقصد دنیا کو دھوکہ دینا ہو کہ میں پورے جنوبی ایشیا کا سروے کر کے اور سارے جنوبی ایشیا کے سر پر ایک موقف تھوپ دیا جائے یا مجھے بتا دیں کہ میری بات غلط ہے مجھے سمجھا دیں کہ اتنے دنوں میں سروے ہو سکتا ہے، ان کے پاس کوئی جواب نہیں تھا۔ انہوں نے کہا بات تو آپ کی ٹھیک ہے لیکن میں آپ سے محض التماس کرتا ہوں کہ میں بہت دور سے آیا ہوں تو کچھ تو میری باتوں کا جواب دیدیں، میں نے کہا آپ کے کسی سوال کا جواب نہیں دونگا، آخر چونکہ ان کے پاس کوئی جواب نہیں تھا خاموش ہو کے بیٹھ گئے تو میں نے ان سے کہا کہ اگر آپ اجازت دیں تو میں ایک سوال آپ سے کرلوں؟ وہ کہنے لگے کہ میں تو آپ سے سوال کرنے آیا تھا آپ اُلٹا مجھ سے سوال کرنے لگے، میں نے کہا میں تو آپ سے اجازت مانگ رہا ہوں اگر آپ اجازت دیں گے تو سوال
کرونگا اور اگر اجازت نہیں دیں گے تو سوال نہیں کرونگا، انہوں نے کہا: اچھا کیجیے میں نے کہا: میرا سوال یہ ہے کہ آپ آزادیٔ اظہارِ رائے کے بارے میں ایک تحقیق کرنے کے لیے نکلے ہیں اور آپ کے ادارے نے اس آزادیٔ اظہارِ رائے کو اپنا ماٹو بنایا ہوا ہے، آپ یہ بتائیے کہ آپ کے خیال میں آزادیٔ اظہارِ رائے بالکل Absolute ہے اس کے اوپر کوئی شرط کوئی قید کوئی پابندی نہیں یا یہ کہ اس کے اوپر کوئی شرائط اور پابندیاں عائد ہوسکتی ہیں؟ کہنے لگے کہ میں مطلب نہیں سمجھا۔
تو میں نے کہا کہ مطلب یہ ہے کہ اگر ایک شخص یہ کہے کہ جتنے بڑے بڑے سرمایہ دار ہیں، ان سب نے قوم کی دولت کو لوٹا ہے، لہٰذا میں لوگوں کو دعوت دیتا ہوں کہ وہ ان لوگوں کی تجوریوں پر، ان لوگوں کے خزانوں پر، ان کے بینک بیلنس پر ڈاکے ڈالیں اور پیسے اکٹھے کر کے غریبوں کی مدد کریں تو بتائیے کیا اس بات کی آپ اجازت دیں گے، آپ اس ایکسپریشن کی فریڈم کے بھی قائل ہیں کہ اس کی بھی آزادی ملنی چاہیے کہ لوگ ڈاکے ڈالنے کی دعوت دیدیں جبکہ مقصد ان کا نیک ہو کہ غریبوں کی امداد کی جائے؟ کہنے لگے نہیں اس کی تو اجازت نہیں ہو سکتی۔ میں نے کہا کہ اگر اس کی اجازت نہیں ہو سکتی تو اس کا مطلب یہ ہے کہ فریڈم آف ایکسپریشن یہ بالکل Absolute چیز نہیں ہے، مطلق چیز نہیں ہے کہ اس کے اوپر کوئی پابندی عائد نہ ہو، کہنے لگے ہاں کچھ نہ کچھ تو پابندیاں عائد ہونگی، تو میں نے کہا کہ بتائیے وہ پابندیاں کیا ہیں اور کون مقرر کرے گا۔ کس کے پاس یہ اتھارٹی ہے کہ وہ یہ پابندیاں عائد کرے کہ فریڈم آف ایکسپریشن پر یہ پابندی ہونی چاہیے اور یہ پابندی نہیں ہونی چاہیے۔ اگر آپ کے ادارے نے اس کے بارے میں کوئی تحقیق کی ہو تو براہ کرم مجھے اس سے مطلع فرمائیں۔ کہنے لگے اس سے پہلے ہم نے اس موضوع پر سوچا نہیں ہے اور اگر ہمارے ادارے میں اس پر کوئی کام ہوا ہوگا تو ہم آپ کو مطلع کریں گے، میں نے کہا آپ ضرور مطلع کریں لیکن میں آپ سے یہ بات پورے اعتماد کے ساتھ کہتا ہوں کہ آپ اس سوال کا جواب زندگی بھر نہیں دے سکتے کہ آخر آزادیٔ اظہارِ رائے پر پابندی کس قسم کی ہو سکتی ہے اور کون سی اتھارٹی ہے جو یہ طے کرے کہ کون سی پابندی معقول ہے اور جائز ہے اور کون سی پابندی ناجائز ہے۔ وجہ اس کی یہ ہے کہ آج انسانوں کا ایک گروہ یہ کہے گا کہ فلاں پابندی ہونی چاہیے، دوسرا گروہ یہ کہے گا کہ فلاں پابندی ہونی چاہیے اور متفقہ بنیاد انسانوں کے درمیان فراہم ہونا
تقریباً ناممکن ہے، اس کا تو ایک ہی راستہ ہے اور وہ یہ کہ جس ذات نے اظہار رائے کی طاقت انسان کی زبان کو اور قلم کو عطا کی ہے اسی ذات سے پوچھا جائے کہ کونسی آزادی اے اللہ ! تیرے نزدیک جائز ہے اور کون سی آزادی اظہار رائے تیرے نزدیک ناجائز ہے؟ جب تک اللہ تعالیٰ کے آگے سر جھکایا نہیں جائے گا اور اللہ کے پیغمبر جناب محمد مصطفیٰ ﷺ کے قدموں پر سر نہیں رکھا جائے گا تو کوئی بھی شخص اس کا کوئی معیار اور اس کی کوئی بنیاد فراہم نہیں کرسکتا، چنانچہ آج اس واقعے کو کئی سال گزر گئے ہیں ، وہ دن ہے اور آج کا دن ہے آج تک پلٹ کر انہوں نے اس سوال کا جواب نہیں دینے کی یا اس کے بارے میں کوئی وضاحت کرنے کی زحمت نہیں اٹھائی ، اس لیے کہ ان کے پاس کوئی جواب تھا ہی نہیں ۔
اقوام متحدہ سے یہ مطالبہ ہونا چاہیے۔ پاکستان کے 35 علمائے کرام نے اقوام متحدہ اور او آئی سی کے نام یہ خطوط بھیجے ہیں کہ وہ ایسا قانون بنانے کی کوشش کریں۔ ہم یہ نہیں کہتے کہ صرف محمد ﷺ بلکہ ہم تمام انبیا کی توہین کو جرم قرار دیتے ہیں : "لا نفرق بین احد من رسله" (البقرۃ:285) تو یہ دوسرا اقدام ہے جو سیاسی طور پر کرنے کی ضرورت ہے اور اس آواز کو زیادہ سے زیادہ اُٹھالیں اور اس کو پھیلانے کی کوشش کریں ۔ دوسری بات جو میں نے عرض کی وہ معاشی ہے ۔ معاشی سطح پر ہمیں کیا کرنا ہے؟ میرے نزدیک ہمارے لیے یہ زبردست بے غیرتی کی بات ہوگی کہ جولوگ ہمارے نبی کریم ﷺ کی شان میں گستاخیاں کر رہے ہیں، ہم ان کی تجارت کو فروغ دیں۔ ہم ان کی مصنوعات کو استعمال کر کے ان کو طاقت ور بنائیں۔ میں یقین سے کہتا ہوں درحقیقت یہ لوگ پیسے کے پجاری ہیں۔ ان کے ہاں کوئی اخلاقی قدر نہیں ۔ ان کے ہاں ساری دوڑ دھوپ کا مرکز پیسہ اور صرف پیسہ ہے۔
آپ ذرا یہ تصور تو کیجیے کہ تمام اسلامی ممالک ڈنمارک کا مکھن کھانا چھوڑ دیں اور اس کی مصنوعات کا بائیکاٹ کریں تو ڈنمارک چند دنوں میں گھٹنے ٹیک دے گا۔ آزادی اظہار رائے کے تمام بہانے چند منٹ میں ختم ہو جائیں گے۔ اگر ان کو پتہ چلے کہ ہماری تجارت بیٹھ گئی ہے، ہماری آمدنی میں کمی ہو گئی ہے تو یہ چند دنوں میں گھٹنے ٹیک سکتے ہیں۔ یہ تحریک پورے اعتماد کے ساتھ چلانے کی ضرورت ہے۔ آج ہماری تاجر برادری کے افراد یہاں موجود ہیں ان سے درحقیقت یہی درخواست کرنا تھی کہ ہماری قومی و ملی حمیت اور نبی کریم ﷺ کے ساتھ محبت کے تعلق کا ہم سے یہ مطالبہ ہے کہ ایسے گستاخ ممالک کا کلی طور پر بائیکاٹ کریں۔
میرے بھائیو اور بہنو! آج سے کچھ عرصہ پہلے جب یہ کارٹون شائع ہوئے تھے تو ملک بھر میں اجتماعات منعقد ہوئے اور ان میں قراردادیں بھی پاس کی گئیں کہ ان مصنوعات کا بائیکاٹ کیا جائے لیکن افسوس وہ ساری باتیں ہوا میں اڑ گئیں۔ جلسوں اور تقریروں سے بات آگے نہ بڑھی۔ عملی میدان میں کوئی بائیکاٹ نہ ہوا۔ اس مرتبہ ایسا نہیں ہونا چاہیے اور آج کے اجتماع کا بنیادی مقصد بھی یہی ہے۔ اس سلسلے میں صرف جذباتی باتیں نہیں کرنی چاہئیں بلکہ پوری تحقیق کے ساتھ آگے بڑھنا چاہیے کہ کون کون سی مصنوعات ان ممالک کی ہیں۔ مثلاً ہالینڈ اور ڈنمارک، اگرچہ ہالینڈ حکومت یہ کہہ رہی ہے کہ یہ گیرٹ ولڈر کی فلم ”فتنہ“ ہماری مرضی کے خلاف بنی ہے لیکن ہالینڈ حکومت کے اقدامات ابھی تک ظاہر نہیں ہوئے۔
اگر وہ اس پر پابندی نہیں لگاتی اور اس فلم بنانے والے پر مقدمہ نہیں کرتی تو پھر اس کا مطلب یہی ہے کہ وہ بھی اس کے ساتھ ہے۔ حالانکہ ہالینڈ کے اندر نفرت انگیزی ایک جرم ہے تو اس کا بھی بائیکاٹ کرنا چاہیے۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ تھوڑا سا ہوم ورک ہو۔ آج چاہیے کہ تاجر برادری ایک جماعت تشکیل دے جو جائزہ لے کہ کون کون سی مصنوعات ان ممالک کی ہیں اور کن مصنوعات کا فوری طور پر بائیکاٹ کر سکتے ہیں؟ یہ تحریک پاکستان میں بھی چلے اور پھر اسے پوری اسلامی دنیا میں پھیلایا جائے۔ اس کے لیے کچھ افراد کا تیار ہونا ضروری ہے اور تاجر حضرات اس میں آگے بڑھیں اور پھر بائیکاٹ کی اپیل کی جائے۔ جہاں تک تمام مسلمانوں نے مختلف پمفلٹ شائع کیے ہیں جن میں ان مصنوعات کا ذکر کیا گیا ہے جو ہمارے ملک میں فروخت ہوتی ہیں۔ اس کو ذرا زیادہ اہتمام کے ساتھ جائزہ لے کر مزید پھیلانے کی ضرورت ہے۔
کیا ہم نبی کریم ﷺ کی محبت کی خاطر اتنا بھی نہیں کر سکتے؟ یہ جو چیزیں ہمارے ملک میں دستیاب ہیں ان کو استعمال کر کے ان مصنوعات کو دھکا دے دیں جو ان گستاخ ممالک کی ہیں۔ اگر اتنا نہیں کر سکتے تو پھر آپ ﷺ کے ارشاد کی اس وعید کو ذہن میں رکھیے: ”کوئی شخص کامل مؤمن نہیں ہو سکتا اس وقت تک جب تک کہ میں اسے محبوب نہ ہو جاؤں اس کی جان سے اس کے مال سے اور اس کی اولاد سے۔“ اگر ہم یہ نہیں کر سکتے تو صرف نعرے لگانے سے کوئی فائدہ نہیں۔ ہر مسلمان یہ طے کر کے اٹھے کہ بائیکاٹ کریں گے اور تاجر برادری سے عرض کروں گا کہ اس کام کو اپنا نصب العین قرار دے کر فوری طور پر ان مصنوعات کا
بائیکاٹ کیا جائے اور پھر ان تک لے جانا چاہیے۔ اگر ہ آئیں گے اور ان کے سارے ان کی آزادی اظہار رائے ک بات کرے کہ ہٹلر نے یہودیو پر ریسرچ کرنا چاہے کہ کتنے مجرم بن جاتے ہیں۔ اس ب اگر وہ دہشت گردی کرے عورتوں کو قتل کرے تو معاف نہیں۔ جرم تو صرف مسلما دہشت گرد۔ اگر وہ اپنی آزا ان قوموں کا انصاف ہے ہ ممالک کی مصنوعات کا ممک
تیسرا پہلو دعوت اور قرآن کی شان میں ا کارٹون اور فلم کا بنانے و لیکن ایک بات ضرور ہے ایسے لوگوں کی ہے جن کا ریسرچ یہ ہے کہ سارا مع ان کا ”مبلغ“ علم ہے ک اور انہوں نے کبھی پڑھ سب سے وسیع ذریعہ مع ہے جیسے ”فتنہ“ نامی فلم ک کہ قرآن مار دھاڑ کا ت بچوں کو ختم کرنا چاہتا ہ
بائیکاٹ کیا جائے اور پھر اس کو اپنے ملک تک نہ رکھا جائے بلکہ اس کو دوسرے اسلامی ممالک تک لے جانا چاہیے۔ اگر ہم اس کو لے کر آگے بڑھتے ہیں تو پھر ان کو دن میں تارے نظر آئیں گے اور ان کے سارے دلائل کہ ”یہ آزادی اظہار رائے ہے“، سب ختم ہو جائیں گے۔ ان کی آزادی اظہار رائے کا حال تو یہ ہے کہ یہودیوں کو اتنا تحفظ دیا ہوا ہے کہ اگر کوئی شخص یہ بات کرے کہ ہٹلر نے یہودیوں پر مظالم کیے تھے اور جرمنی میں ان پر ظلم ہوا تھا..... جو شخص اس پر ریسرچ کرنا چاہے کہ کتنی بات حقیقت ہے اور کتنی غلط؟ صرف اس تحقیق کرنے پر وہ لوگ مجرم بن جاتے ہیں۔ اس لیے کہ یہودی تو ”معصوم“ ہیں اور ان کو ہر قسم کا تحفظ حاصل ہے۔ اگر وہ دہشت گردی کرے تو معاف، ایٹم بم بنائے تو معاف۔ اگر فلسطینیوں کے بچے اور عورتوں کو قتل کرے تو معاف۔ اگر فلسطینیوں کے گھروں کو اجاڑے تو معاف، ان کا کوئی جرم نہیں۔ جرم تو صرف مسلمانوں کا ہے۔ اگر وہ اپنی حفاظت کے لیے ہتھیار اُٹھاتے ہیں تو دہشت گرد۔ اگر وہ اپنی آزادی کے لیے بھی لڑتے ہیں تو ان کو دہشت گرد کہا جاتا ہے۔ یہ تو ان قوموں کا انصاف ہے۔ تو میرے بھائیو اور بہنو! ہمیں آج یہ عزم لے کر اُٹھنا چاہیے کہ ان ممالک کی مصنوعات کا مکمل بائیکاٹ کریں گے۔
تیسرا پہلو دعوتی اور تبلیغی ہے۔ ان کارٹونوں اور فلموں سے حضور ﷺ کی شان میں اور قرآن کی شان میں ذرہ برابر کمی نہیں آئی۔ اگر کوئی شخص اس سے بدنام ہوتا ہے تو وہ اس کارٹون اور فلم کا بنانے والا اور اس کے بنانے والے کے ملعون ہونے پر شہادت موجود ہے لیکن ایک بات ضرور ہے کہ مغربی دنیا میں سب لوگ ایک جیسے نہیں بلکہ ایک بہت بڑی تعداد ایسے لوگوں کی ہے جن کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں، جن کو معلومات بھی نہیں۔ ان کی ساری ریسرچ یہ ہے کہ سارا دن کمانے کے بعد شام کو ٹی وی آن کر کے اس کو دیکھ لیتے ہیں۔ یہی ان کا ”مبلغ“ علم ہے۔ اس سے آگے ان کا کچھ نہیں ان کو اسلام کے بارے میں کچھ پتہ نہیں اور انہوں نے کبھی پڑھا ہی نہیں۔ کبھی دیکھا بھی نہیں۔ چونکہ آج کی دنیا میں تعلیم اور تبلیغ کا سب سے وسیع ذریعہ میڈیا ہے اور اس میڈیا پر کارٹون شائع کیے جاتے ہیں اور فلم بنائی جاتی ہے جیسے ”فتنہ“ نامی فلم۔ نام تو اس نے بالکل سچا رکھا ہے تو اس فتنہ نامی فلم میں یہ دکھایا گیا ہے کہ قرآن مار دھاڑ کا قائل اور وہ انسان کی حرمت کو (نعوذ باللہ) پامال کرتا ہے اور عورتوں بچوں کو ختم کرنا چاہتا ہے۔ یہ سب خیالات ایسے سیدھے سادے ناواقف لوگوں کے سامنے
پہنچتے ہیں تو یہ ممکن ہے کہ وہ اسلام کے بارے میں کوئی غلط تاثر قائم کریں اور اس کی وجہ سے اسلام کی دعوت میں کوئی رکاوٹ ہو اس تمام کے لیے ہمیں محنت کرنے کی ضرورت ہے کہ ہم تحریر کے ذریعے، تقریر کے ذریعے، تبلیغی وفود کے ذریعے ۔ وہ لوگ جو اسلام کی حقیقت سے واقف نہیں، ان کو اس حقیقت سے واقف کریں۔ اس کے لیے مناسب تحریریں، تقریریں ہوں اور ان کو بتلایا جائے کہ جو الزامات قرآن اور نبی کریم ﷺ پر کیے جارہے ہیں وہ کتنے بے ہودہ ہیں؟ غلط ہیں، حقیقت حال کیا ہے؟ سچی بات یہ ہے کہ ہم سب اس جرم کا اقرار کرتے ہیں کہ ہم نے اسلام کو حقیقت کے ساتھ بیان کرنے میں کوتاہی کی ہے۔ اللہ نے ہمیں اس کی تبلیغ کے لئے بہت بڑا میدان دیا ہے لیکن ہم نے اس میدان کو خالی چھوڑا ہوا ہے۔ آج کی دنیا ایسی ہے جو لادینیت کے برے نتائج سے تنگ آئی ہوئی ہے۔ خاندانی نظام تباہ ہوچکا ہے۔ مادیت کے نتیجے میں روحانی سکون ختم ہوچکا ہے اور اب خودکشی کرنے والوں کی سب سے زیادہ تعداد ان مغربی ممالک میں ہے۔ اگر ہم تبلیغ اسلام کریں تو وہ اسلام کی طرف راغب ہونے لگیں گے۔ یہ تو قدرت کا کرشمہ ہے کہ ان پروپیگنڈوں کے باوجود اب مسلمان ہونے والوں کی تعداد پہلے مسلمان ہونے والوں سے زیادہ ہے۔ اگر ہم موثر جدوجہد کر سکتے تو اس تعداد میں یقیناً اضافہ ہوتا۔ تو اس کی ذمہ داری ہم سب پر عائد ہوتی ہے کہ ہم صحیح اسلامی تعلیمات مغربی لوگوں تک پہنچائیں۔ جو غلط فہمیاں پھیلائی جارہی ہیں ان کا موثر جواب دیا جائے۔
ڈاکٹر عامر لیاقت حسین
ناموس رسالت ﷺ
عشق تو ایک کیفیت کا نام ہے جو کسی پہ طاری اور کسی پہ بھاری ہوتی ہے۔ جنہوں نے اسے اپنے وجود پر طاری کیا، اُن کے فیض کے چشمے آج بھی جاری ہیں اور جن بدنصیبوں نے اسے بھاری محسوس کیا، رب نے اپنی رحمت سے انہیں ہمیشہ کے لیے مایوس کیا...... کسی مرید نے اپنے مرشد سے پوچھا، ”حضرت یہ تو فرمائیے کہ ابلیس نے آخر سجدے سے انکار کیوں کیا“؟ مرشد نے مسکرا کے کہا، بہ زبان ایمان سننا چاہتا ہے تو جان لے کہ میرے رب کی یہی مشیت تھی اور اگر عقل کی جہتوں میں گم ہے تو سن لے کہ ہزاروں برس کی عبادتوں کے باوجود اُس کے پاس صرف تین ہی ”عین“ تھے، چوتھا ہوتا تو انکار نہ کرتا!...... مرید نے حیرانی سے دریافت کیا ”کون سے عین“؟...... مرشد نے مرید کے استعجاب سے لطف اندوز ہوتے ہوئے مسکان کی سلوٹوں کو شفتان کے کناروں سے تہہ کر کے جواب دیا...... وہ عارف تھا، عابد تھا، عالم بھی تھا مگر ”عاشق“ نہ تھا، اگر عشق کرتا تو سجدہ کرتا اور سمجھ جاتا کہ خالق کے نزدیک انسان ”محترم“ کیوں ہے؟ عشق سے خالی تھا، اسی لیے احترام نہ کر سکا، ناموس کے معنی نہ جان سکا اور قیامت تک کے لیے بے عزت ہوگیا...... کیونکہ عشق نے تو آنکھ ہی ادب کی آغوش میں کھولی ہے...... پست نگاہوں کی گلکاری نے بلند مرتبے کو رفتہ رفتہ جوان کیا ہے...... جھکاؤ نے اُٹھان اور تواضع نے کلام میں رس کو پیدا کیا ہے مگر اُسے تو عبادت، ریاضت، علم اور تحقیق پر غرور تھا، اُس نے کبھی عشق کے سجدے ہی نہیں کیے تھے تو کیسے جانتا کہ سجدوں میں لذت تو آتی ہی اُس وقت ہے جب وہ حکم پر کیے جاتے ہیں...... ”اوقات“ میں تو سب ہی کو سجدے مل جاتے ہیں مگر جنہیں ”سوغات“ میں ملتے ہیں، وہ خود سپردگی کے زینے کی ہر سیڑھی پر ہونٹوں کے قدم رکھتے ہیں...... عبادت کے شوق میں سب سے آگے نکلنے کی خواہش نے اُسے ”خواہ“ اور ”ش“ میں تقسیم کر دیا...... اور دربار سے آواز آئی ”خواہ“ تو ہو یا نہ ہو یہی
نائب بنے گا اور ”ہش“ کہ ہم نے تجھے دھتکار کر رجیم بنا دیا...... اے ناموس کے دشمن! دور ہو جا ہماری بارگاہ سے اور بھٹکا جب تک ہم تجھے بہکانے کی مہلت دیتے ہیں، تو آج عزت سے غریب ہوا اور اب یقیناً عزتوں پر ہی ڈاکے ڈالے گا...... حیلے تراشے گا، بہانے بنائے گا، وسوسے ڈالے گا اور ابنِ آدم کے بدن پر پیرہنِ ناموس کو حاسدانہ ناخنوں سے تار تار کرے گا مگر مجھے اپنی ناموس کی قسم! تیرے بہکاوے میں صرف وہی آئیں گے جنہیں ہم نے صحفِ تقدیر کے ہر صفحے پر پہلے ہی سے بے آبرو قرار دے دیا ہے......!!
بے شک ایسا ہی ہے، شراب کی چسکیوں سے دانتوں میں پھنسے سور کے ریشوں کو حلق کی امانت بنانے والے کل بھی ناموس کے دشمن تھے اور آج بھی اس پر وار کرنے سے قطعاً نہیں چوکتے...... دراصل ان کی اپنی ناموس تو ہے ہی نہیں، گرم بستروں میں شہوت کے قطروں سے حرام کی قطاریں لگانے والے کیا جانیں کہ عزت کسے کہتے ہیں اور اس پر حرف آجائے تو کس قدر تکلیف ہوتی ہے؟...... اور پھر اگر بات ”ناموسِ رسالت ﷺ“ کی ہو تو تعظیم و توقیر کے قرآنی حکم کی حفاظت کے لیے امتی کو کبھی ”قانونی سہارے“ کی حاجت نہیں رہی...... یعنی اگر قانون توہین رسالت ﷺ نہ ہوتا تو کیا ادب نہ ہوتا؟...... آلِ رسول ﷺ کے دیوانے اور صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین کے پروانے مخصوص دائرے میں سفر کرتے ہیں نہ پرواز؟...... اور ویسے بھی یہ قانونِ فطرت ہے کہ بدبو میں رہنے والے کو خوشبو میں بھی خوشبو نہیں آتی اور خوشبو میں رہنے والا، بدبو کو ایک لحظہ بھی برداشت نہیں کر سکتا، چہ جائیکہ وہ چمن میں کچھ دیر کے لیے قیام کرے...... ہم اپنے آقا اور مولا ﷺ سے ساری دنیا سے بڑھ کر اور ٹوٹ کر محبت کرتے ہیں کیونکہ اگر محبت میں ٹوٹے ہی نہیں تو جوڑے بنانے والا جوڑے گا کیسے؟...... اور معاف کیجیے گا! عزت کا مطلب اور اُس کی حد کیا ہے، وہ کیسے بتا سکتے ہیں جنہوں نے اپنی عزتوں کی بین الاقوامی منڈیاں لگا رکھی ہیں...... کم از کم برطانیہ تو یہ نہ سکھائے کہ ”ناموسِ رسالت ﷺ کے قانون کو کیسے ختم کیا جائے“ بلکہ یہ بتائے کہ ”اینگلو اور سیکسن“ نامی قبائل نے جس ”انگلینڈ“ کو جنم دیا ہے، وہاں آج بھی عورت صرف ”افزائشِ نسل کی مشین“ کیوں سمجھی جاتی ہے؟ میں نہیں کہتا، برطانوی جریدے ٹیلی گراف کی سالانہ رپورٹ چیخ چیخ کر کہہ رہی ہے کہ برطانیہ میں ہر سال 46.5 فیصد خواتین ”بن بیاہی ماں“ بن جاتی ہیں اور ان میں سے 95 فیصد وہ خواتین ہیں جن کی عمریں اٹھارہ سے بائیس برس کے لگ بھگ ہیں......
لہٰذا آمنہ کے لال کی حرمت (معاذ اللہ) پامال ہونے پر ہمارے عشق کی بھڑکتی ہوئی آگ کو سرد کرنے کی تدبیروں کے بجائے پہلے اپنی عورتوں کو ”سیدہ مریم علیہا السلام“ کی وہ عظیم پاکیزگی یاد دلائیے جن پر انگلیاں اٹھانے والے وہی ناہنجار تھے جنہیں قرآن نے ”انبیا کا قاتل“ قرار دیا اور آپ کے ہاں Mel Gibson نے The Passion of the Christ بنا کر دنیا کی سب سے بڑی Blasphemy کرنے والوں سے اپنی نفرت کا اظہار کیا ہے...... میں اور میرے ماں باپ مریم علیہا السلام کی عفت پر قربان کہ اُن کی عصمت کی گواہی تو پالنے میں لیٹے ہوئے مسیح اللہ نے خدا کا کلام سنا کر دی اور کیوں نہ دیتے کہ وہ اللہ کے سچے رسول تھے...... مگر مسیح سے بولنے کا فن سیکھ کر رسول اللہ سے محبت کی گواہی مسلمان گھرانوں کے وہ 6 سالہ بچے بھی دے دیتے ہیں جنہیں حفظ کی غذا پر قرآن نے قرأت کے لاڈ سے پالا ہے...... اہلیان یورپ کا چونکہ اصول ہے کہ وہ ہر برائی کو علمی رنگ اور فلسفے کا جامہ پہنا کر اُسے اعلیٰ ذوق کی علامت بنا دیتے ہیں چنانچہ جرمن یہودی فلسفی سگمنڈ فرائیڈ نے جنسیت کو عام کرنے کے لیے اسے کائنات کا ماحاصل اور کل قرار دیتے ہوئے پورے یورپ کے کپڑے اُتروا دیے جس کو بعد میں کانٹ، ہیگل، نطشے اور لاک نے ”آزادی“ کے خوبصورت نام سے تعبیر کر کے عورت کا رہا سہا مقام بھی گرا دیا...... لیکن ہم تو اپنے ماحی کے ایسے غلام ہیں کہ ”زید بن حارثہؓ“ بن کر غلامی رسول ﷺ میں اپنی آزادی بھی قربان کر دیتے ہیں یا پھر ثوبانؓ، بلالؓ، انسؓ اور ابو ھریرہؓ کی طرح عمر بھر سرکار کے نعلین تھام کر سگ مصطفیٰ ﷺ کی طرح اُن کے پیچھے چلنے ہی کو زندگی بنا لیتے ہیں یہاں تک کہ سماعت محمد ﷺ کو غلاموں کے عاجزانہ قدموں کی چاپ جنت میں سنائی دیتی ہے۔
ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن اور کوپن ہیگن یونیورسٹی کے Gender Studies ڈیپارٹمنٹ کے مطابق امریکا، ڈنمارک، ناروے، سوئیڈن، جرمنی اور فرانس دنیا میں ولد الحرام بچوں کا ہر سال 76 فیصد حصہ آپس میں بانٹتے ہیں...... گویا اپنی ان حرام حرکتوں کو درست کرنے کی بجائے اللہ نے جسے حرام قرار دیا ہے، اُسے حلال کرنے کے لیے انسانی حقوق، آزادی اظہار اور جنسی تفریق کے خاتمے کے نام پر فضائل و دلائل کے ذریعے حرام کے خصائل بیان کرنے والے ان ناموس کے دشمنوں کی زبانیں نہیں تھکتیں...... یہ کیا جانیں کہ تعظیم رسول ﷺ کے باعث نظریں جھکانے، آوازوں کے پست کرنے، سوال کرنے سے ڈرنے،
بستر نبوی ﷺ پر مشرک باپ کو نہ بیٹھنے دینے، معاہدے میں رسول کا لفظ مٹا دینے سے انکار کرنے، میرے ماں باپ آپ ﷺ پر قربان جیسے الفاظ تکیہ کلام بنا لینے، بے ادبی کے شائبے سے بھی گریز کرنے، اُس کے خیال کو بھی برا سمجھنے، برابر کھڑے ہونے اور آگے بیٹھنے کو گستاخی سمجھنے، آپ ﷺ کی رہائش کے اوپر اپنی رہائش کو توہین جاننے، حضور ﷺ سے کیے گئے عہد کو پورا نہ کرنے پر رنج میں مبتلا رہنے، حدیث کے مقابلے میں اپنی رائے پیش کرنے میں سخت ناراضی کا اظہار کرنے، مسجد نبوی ﷺ میں بلند آوازی پر تنبیہ کرنے، موئے مبارک سے برکت حاصل کرنے، حضور ﷺ کے وضو کا پانی جسموں پر ملنے اور جسد اطہر کے پسینے سے گلاب کا پودا اُگانے جیسے عشق کے ان مظاہر میں کیا مزا ہے؟ انہوں نے تو عمر بھر سیدنا موسیٰ علیہ السلام سے بدکلامی کی، مسیح اللہ سے چرب زبانی کی اور محمد رسول اللہ ﷺ سے روگردانی کی...... کاش یہ موسیٰ کے میم پر مصر رہنے کے بجائے محمد ﷺ کے میم کی اتباع کر کے ختم نبوت کی گرہ کے ساتھ اگر مسیح اور مہدی کے میم کے منتظر رہتے تو شاید فلاح پا جاتے۔......!!!!
۞...۞...۞
مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ
توہین رسالت صلی اللہ علیہ وسلم
دسمبر 1947ء میں رومن کیتھولک چرچ کے پوپ نے ایک پیغام دنیا بھر کی دینی جماعتوں کے سربراہوں کو جاری کیا تھا، جماعت اسلامی پاکستان کے امیر مولانا مودودیؒ کو بھی یہ پیغام ملا اور اس کا انہوں نے تفصیلی جواب بھی دیا جس میں عیسائی دنیا سے بعض سنگین شکایات کا ذکر ہے۔ یہ خط ”ترجمان القرآن“ کے شمارہ فروری 1968ء میں شائع ہوا۔ اس طویل خط کے دو اقتباس ذیل میں دیے جارہے ہیں، ملاحظہ کیجیے۔
مسیحی بھائیوں کے طرز عمل میں جو امور کسی ایک ملک یا قوم کے لیے نہیں، پوری دنیا کے مسلمانوں کے لیے وجہ شکایت ہیں، انہیں میں کسی لاگ لپٹ کے بغیر مختصراً آپ سے بیان کیے دیتا ہوں:۔
- 1- ایک مدت دراز سے مسیحی اہل علم اپنی تحریروں اور تقریروں میں سیدنا حضرت
محمد ﷺ، قرآن اور اسلام پر جو حملے کر رہے ہیں اور آج بھی جن کا سلسلہ جاری ہے، وہ مسلمانوں کے لیے انتہائی موجب اذیت ہیں۔ جہاں تک مسلمانوں کا تعلق ہے وہ حضرت مریم اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا انتہائی ادب و احترام ملحوظ رکھتے ہیں اور ان کے متعلق کوئی خلاف ادب بات زبان سے نکالنا ہمارے عقیدے میں کفر ہے۔ آپ کوئی مثال ایسی نہیں پاسکتے کہ کسی مسلمان نے کبھی سیدنا حضرت مسیح علیہ السلام اور ان کی والدہ ماجدہ کی شان میں کوئی بے ادبی کی ہو۔ اگرچہ ہم حضرت مسیح کی الوہیت کے قائل نہیں، مگر ان کی نبوت پر ہمارا ویسا ہی ایمان ہے جیسا حضرت محمد ﷺ کی نبوت پر ہے اور کوئی شخص مسلمان نہیں ہوسکتا جب تک وہ حضرت محمد ﷺ کے ساتھ ان پر اور دوسرے انبیاء پر بھی ایمان نہ لائے۔ اسی طرح ہم صرف قرآن ہی کو نہیں بلکہ تورات اور انجیل کو بھی خدا کی کتابیں تسلیم
کرتے ہیں اور کوئی مسلمان ان مقدس کتابوں کی توہین کا خیال بھی نہیں کر سکتا۔ ہماری طرف سے اگر کبھی کوئی بحث ہوئی ہے تو اس حیثیت سے ہوئی ہے کہ بائبل جس شکل میں اب پائی جاتی ہے، یہ کہاں تک مستند ہے؟ اور یہ بحث خود مسیحی علما بھی کرتے رہے ہیں۔ کسی مسلمان نے کبھی اس کا انکار نہیں کیا کہ حضرت موسیٰ و عیسیٰ اور بائبل کے دوسرے انبیا پر اللہ کا کلام نازل ہوا تھا اور مسلمان چاہے یہ بات نہ مانتے ہوں کہ اس وقت پائی جانے والی پوری بائبل اللہ کا کلام ہے، مگر یہ ضرور مانتے ہیں کہ اس میں اللہ کا کلام موجود ہے، لہٰذا ہمارے مسیحی بھائیوں کو ہم سے یہ شکایت کرنے کا کبھی موقع نہیں ملا ہے کہ ہم ان کے انبیا کی، یا ان کی کتب مقدسہ کی توہین کرتے ہیں۔ بخلاف اس کے ہمیں آئے دن ان سے یہ رنج پہنچتا رہتا ہے اور صدیوں سے اس دل آزاری کا سلسلہ چل رہا ہے کہ ان کے مصنفین اور مقررین ہمارے پیارے نبی ﷺ اور ہماری کتاب مقدس اور ہمارے دین پر سخت حملے کرتے ہیں۔ دنیا کی اسلامی اور مسیحی برادریوں کے درمیان تعلقات کی خرابی کا یہ ایک اہم سبب ہے۔ اس سے شدید باہمی منافرت پیدا ہوتی ہے، اور مزید برآں اس ناروا پروپیگنڈے کا لازماً یہ نتیجہ بھی ہوتا ہے کہ مسیحی عوام کے دلوں میں مسلمانوں کے خلاف نفرت و تحقیر کے جذبات پیدا ہوتے ہیں۔ آپ دنیا کے امن کی بہت بڑی خدمت انجام دیں گے اگر مسیحیت کے پیروؤں کو اس طرز عمل میں کم از کم اتنی اصلاح کرلینے کی نصیحت کریں کہ یہ دل آزاری اور نفرت انگیزی کی حد تک نہ پہنچے۔
مسیحی مشن اور مشنری ایک مدت دراز سے مسلم ممالک میں مسیحیت پھیلانے کے لیے جو جو طریقے استعمال کرتے رہے ہیں اور آج بھی کر رہے ہیں، وہ بھی دنیا کے مسلمانوں کے لیے ایک بڑی وجہ شکایت ہیں۔ دوسرے ملکوں اور آبادیوں میں ان کا جو طرز عمل بھی ہو، اس سے ہمیں کوئی بحث نہیں مگر مسلمان ملکوں اور آبادیوں میں ہمارا تجربہ اور مشاہدہ یہ ہے کہ انہوں نے محض ”تبلیغ“ پر اکتفا نہیں کیا ہے بلکہ اس سے تجاوز کر کے دوسرے متعدد ایسے طریقے اختیار کیے ہیں جو تبلیغ کے بجائے سیاسی دباؤ، معاشی طمع و تحریص اور اخلاقی و اعتقادی تخریب کی تعریف میں آتے ہیں جنہیں مشکل ہی سے کوئی معقول آدمی اشاعتِ مذہب کے جائز ذرائع تسلیم کر سکتا ہے۔ افریقہ مدد سے مسلمانوں کو تعلیم و بند کر دیے جو مسیحیت قبول نہ اختیار کرلے۔ اس طر آنے کے بعد آج وہ عا سے غالب ہے جن کی بیہ اکثریت رکھنے والے افر کی مدد سے مشنریوں نے اور تبلیغ کا حق صرف مسی تو درکنار، دوسری اغراض نہیں سمجھتا کہ اس کو کسی پ کیا جاسکتا ہے۔ خود ہما کار یہ ہے کہ وہ مسلمان ہ جو غریب آدمی عیسائیت خرچ پر بہم پہنچاتے ہیں ہے۔ علاوہ ازیں ان کی مسیحیت اختیار کرتی ہ طرز زندگی کے اعتبار س کے اندر مسیحیت یا اسلام کیا کوئی معقول آدمی ی دے رہے ہیں۔ یہی و تبلیغ کے بجائے اسلام آپ سے درخواست کر استعمال کر کے مشنری ال
تسلیم کر سکتا ہے۔ افریقہ کے ایک بڑے حصہ میں انہوں نے استعماری طاقتوں کی مدد سے مسلمانوں کو تعلیم سے محروم کیا اور درسگاہوں کے دروازے ہر اس شخص پر بند کر دیے جو مسیحیت قبول نہ کر لے یا کم از کم اپنا اسلامی نام ترک کر کے مسیحی نام نہ اختیار کر لے۔ اس طریقے سے جو باا
محمد فرقان
توہین رسالت کی سزا، قرآن مجید کی روشنی میں
اسلام کی اشاعت اور امت مسلمہ کی وحدت کی بنیاد رسول اللہ ﷺ سے مسلمانوں کا تعلق اور وابستگی ہے۔ ایک انسان جب کلمہ کی بنیاد پر اسلام میں داخل ہوتا ہے تو اس کا اصل الاصول دو عقائد کا اعلان ہے یعنی ذات باری تعالیٰ کی توحید اور ذات رسالت مآب ﷺ کی رسالت وختم نبوت کا اقرار۔ خالق کائنات اور رسول اللہ ﷺ سے پختہ، بامعنی اور دائمی وابستگی قائم کرنے میں جو چیز سب سے زیادہ مؤثر ثابت ہوتی ہے، وہ حب رسول (ﷺ) کی دولت ہے۔ اسلام میں ہر چیز کا حتمی حوالہ حضور نبی اکرم ﷺ کی ذات گرامی ہے۔ اسی لیے تمام اُمت کا اس بات پر اتفاق ہے کہ ہر ایسا قول یا فعل جو رسول اللہ ﷺ کی حیثیت کو مجروح یا متاثر کرنے کی کوشش کرے، اسلام کے خلاف ایک بغاوت اور سنگین جرم ہے۔
توہین رسالت کا مسئلہ انتہائی نازک مسئلہ ہے۔ مسلمان کتنا ہی جدت پسند اور روشن خیال ہو جائے، وہ کبھی اپنے مکرم نبی اکرم ﷺ کی ذات اقدس کے بارے میں حرف گیری برداشت نہیں کر سکتا کیوں کہ مسلمان کی عقیدت ومحبت، بے حقیقت جذباتی نظریے کی بنیاد پر نہیں بلکہ یہ اس کے ایمان کا لازمی جزو اور دین کا حصہ ہے اور نبی اکرم ﷺ کی اتباع میں ہی اس کی ابدی سعادت کا راز مضمر ہے۔ اس حقیقت کو قرآن مجید میں بے شمار مقامات پر دہرایا گیا ہے:
قُلْ اِنْ كَانَ اٰبَآؤُكُمْ وَاَبْنَآؤُكُمْ وَاِخْوَانُكُمْ وَاَزْوَاجُكُمْ وَعَشِيْرَتُكُمْ وَاَمْوَالٌ اقْتَرَفْتُمُوْهَا وَتِجَارَةٌ تَخْشَوْنَ كَسَادَهَا وَمَسَاكِنُ تَرْضَوْنَهَا اَحَبَّ اِلَيْكُمْ مِّنَ اللّٰهِ وَرَسُوْلِهٖ وَجِهَادٍ فِیْ سَبِيْلِهٖ فَتَرَبَّصُوْا حَتّٰى يَأْتِيَ اللّٰهُ بِاَمْرِهٖ۔ (١)
”آپ کہہ دیجئے کہ اگر تمہارے باپ اور تمہارے لڑکے اور تمہارے
بھائی اور تمہاری بیویاں اور تمہارے وہ تجارت جس کی کمی سے تم ڈرتے اگر یہ تمہیں اللہ سے اور اس کے زیادہ عزیز ہیں تو تم اللہ کے حکم
لہٰذا رسول اکرم ﷺ کی شخصیت صراحتاً یا اشارتاً یا بطور تعریض آ ایسے شخص پر دونوں جہانوں میں اللہ تعالیٰ نہیں بچا سکتی ہے، اس بات پر مسلم اُمت
مطالعہ قرآن وحدیث و تاریخ تکالیف دیتے رہے اور بعض کو تو انتہائی مذموم مقاصد کے حصول کے لیے عیسائیت ہیں۔ اس کے برعکس اہل علم پر بات روز لانے کی دعوت دیتا ہے اور ان کی عزت و
مغربی ممالک میں بھی مختلف شخصیت کی تنقیص پر سزائیں موجود ہیں ہے تو یہ لوگ آنکھیں بند کر لیتے ہیں۔ ا ارب افراد کے جذبات مجروح کر رہے ہی بھی احترام کیا جائے اور آزادی اظہار کا ن جلا کر نفرت اور ردعمل کی آگ کو بھڑکایا جا
مغربی معاشرہ کے برعکس مس حضرت موسیٰ علیہ السلام اور ان سے پہ ایمان کا حصہ ہے۔ جیسے ہم اپنے پیارے کر سکتے بالکل اسی طرح دیگر تمام انبیاء علی مذاہب کے بانیان کی تضحیک بھی نہیں کر سکتے
یہ عمل آج کوئی نیا نہیں بلکہ پرانا وطیرہ ہے
بھائی اور تمہاری بیویاں اور تمہارے کنبے قبیلے اور تمہارے کمائے ہوئے مال اور وہ تجارت جس کی کمی سے تم ڈرتے ہو اور وہ حویلیاں جنہیں تم پسند کرتے ہو اگر یہ تمہیں اللہ سے اور اس کے رسول سے اور اس کی راہ میں جہاد سے بھی زیادہ عزیز ہیں تو تم اللہ کے حکم سے عذاب کے آنے کا انتظار کرو۔"
لہٰذا رسول اکرم ﷺ کی شخصیت دین نسب یا حضور ﷺ کی کسی صفت پر طعن کرنا اور صراحتاً یا کنایتاً یا اشارتاً یا بطور تعریض آپ ﷺ پر تنقید ، نکتہ چینی کرنا یا عیب نکالنا کفر ہے۔ ایسے شخص پر دونوں جہانوں میں اللہ تعالیٰ کی لعنت ہے۔ اور ایسے شخص کو توبہ بھی دنیوی سزا سے نہیں بچا سکتی ہے، اس بات پر مسلم امت کا اجماع ہے۔
مطالعہ قرآن وحدیث و تاریخ سے پتا چلتا ہے کہ یہود ہمیشہ انبیاء کرام علیہم السلام کو تکالیف دیتے رہے اور بعض کو تو انتہائی بے دردی سے شہید بھی کیا اور عصر حاضر میں اپنے مذموم مقاصد کے حصول کے لیے عیسائیت کے ساتھ گٹھ جوڑ کر کے اسلام کے خلاف صف آراء ہیں۔ اس کے برعکس اہل عالم پر یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ اسلام تمام انبیاء پر ایمان لانے کی دعوت دیتا ہے اور ان کی عزت و تکریم کا سبق دیتا ہے۔
مغربی ممالک میں بھی مختلف قانون رائج ہیں جن کے مطابق کسی مذہبی کتاب یا شخصیت کی تنقیص پر سزائیں موجود ہیں لیکن جب معاملہ حضور نبی اکرم ﷺ کی ناموس کا آتا ہے تو یہ لوگ آنکھیں بند کر لیتے ہیں۔ اس وقت ان کو یہ احساس نہیں رہتا کہ ہم تقریباً ایک ارب افراد کے جذبات مجروح کر رہے ہیں۔ احترام انسانیت یہی ہے کہ دوسروں کے حقوق کا بھی احترام کیا جائے اور آزادی اظہار کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ انبیاء کی توہین کر کے یا قرآن کو جلا کر نفرت اور ردعمل کی آگ کو بھڑکایا جائے۔
مغربی معاشرہ کے برعکس مسیح ابن مریم علیہ السلام اور یہود کے جلیل القدر نبی حضرت موسیٰ علیہ السلام اور ان سے پہلے کے انبیاء کے بارے عزت و تکریم مسلمانوں کے ایمان کا حصہ ہے۔ جیسے ہم اپنے پیارے نبی ﷺ کی شان میں ادنیٰ سی گستاخی برداشت نہیں کر سکتے بالکل اسی طرح دیگر تمام انبیاء علیہم السلام کی توہین برداشت نہیں کر سکتے بلکہ دوسرے مذاہب کے بانیان کی تضحیک بھی نہیں کر سکتے، اور نہ ہی بے جا تنقید کا نشانہ بنا سکتے ہیں۔ یہود کا یہ عمل آج کوئی نیا نہیں بلکہ پرانا وطیرہ ہے کہ وہ عہد رسالت میں بھی اوچھے ہتھکنڈے استعمال
کرتے ہوئے نبی ﷺ کے بارے میں ذومعنی الفاظ استعمال کرتے جن کا مقصد تحقیر آمیز اور گستاخانہ ہوتا جیسے ”راعنا“ کے لفظ کا استعمال جس کا حوالہ سورۃ البقرہ میں ملتا ہے:
يٰاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تَقُوْلُوْا رَاعِنَا وَقُوْلُوْا انْظُرْنَا وَاسْمَعُوْا وَلِلْكٰفِرِيْنَ عَذَابٌ اَلِيْمٌ۔ (۲)
”اے اہل ایمان! (گفتگو کے وقت پیغمبر ﷺ سے) راعنا نہ کہا کرو اور انظرنا کہا کرو اور خوب سن رکھو اور کافروں کے لئے دُکھ دینے والا عذاب ہے۔“
یہود و نصاریٰ کے اس وقت بھی جو ناپاک حملے جاری ہیں وہ اسی روش کا نتیجہ ہیں جو صدیوں سے قائم ہے۔ دراصل یہود و نصاریٰ انبیاء کرام کے مقام و مرتبہ سمجھنے سے ہی قاصر ہیں اور انبیاء کی توقیر و تعظیم کا عنصر سرے سے ہی ان کے خمیر میں نہیں۔ اس کی واضح مثالیں بائبل میں موجود ہیں۔
اس مسئلہ کو جاننے کے لیے ضروری ہے کہ اوّلاً عصمت انبیاء کا قرآن اور بائبل سے تقابلی انداز سے مطالعہ کیا جائے۔ اس کے بعد یہ واضح کیا جائے کہ توہین انبیاء کرنے والے ہمیشہ عذاب الٰہی کا شکار ہوئے اور سب سے اہم بات کہ رسول اللہ ﷺ کی توہین کرنے اور ان کو ایذا دینے والے کے معاملہ میں قرآن مجید کیا کہتا ہے اور اس کے لیے کون سے نتائج وعواقب مرتب کرتا ہے۔
عصمت و مقام انبیاء قرآن کی روشنی میں
انبیاء کرام اللہ تعالیٰ کی پسندیدہ اور برگزیدہ ہستیاں ہوتی ہیں جو بنی نوع انسانی کی اصلاح اور راہنمائی کے لیے بھیجی جاتی ہیں۔ ان کے اخلاق، عادات، اقوال، افعال عبادات ومعاملات حکم ربی کے مطابق ہوتے ہیں۔ ان میں کسی قسم کی نفسانی خواہش کو دخل نہیں ہوتا۔ ان کا ہر عمل قابل قبول اور عنایت ربانی سے لبریز ہوتا ہے لہٰذا قصداً یا سہواً غلطی کا امکان ہی تصور نہیں کیا جاسکتا کیوں کہ تمام انبیاء معصوم عن الخطاء ہوتے ہیں۔
عصمت انبیاء پر قرآنی دلائل
اسی تناظر میں رسول اکرم ﷺ کے بارے میں ارشاد ربانی ملاحظہ کیجیے:
وَمَا اَرْسَلْنَا مِنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا لِيُطَاعَ بِاِذْنِ اللّٰهِ۔ (۳)
”ہم نے ہر رسول صرف اس لیے بھیجا کہ اللہ تعالیٰ کے حکم سے اس کی فرماں برداری کی جائے۔“
اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ پیغمبروں کے بھیجنے کا مقصد اللہ کے احکامات کی پیروی کروانا ہے اور بالواسطہ پیغمبر کی اطاعت اللہ کی ہی اطاعت ہے اور غیر معصوم کی اطاعت کو عین اطاعت خداوندی نہیں کہا جا سکتا۔ لہٰذا انبیاء کی اطاعت کا علی الاطلاق حکم دیا گیا ہے جو کہ ان کی عصمت کا واضح ثبوت ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:
مَنْ يُطِعِ الرَّسُوْلَ فَقَدْ اَطَاعَ اللّٰهَ. (۴)
”جس شخص نے رسول کی اطاعت کی پس تحقیق اس نے اللہ کی اطاعت کی۔“
فَكَيْفَ إِذَا جِئْنَا مِنْ كُلِّ اُمَّةٍ بِشَهِيدٍ وَجِئْنَا بِكَ عَلَى هَؤُلَاءِ شَهِيداً. (۵)
بھلا اُس دن کیا حال ہوگا جب ہم ہر اُمت میں سے احوال بتانے والے کو بلائیں گے اور تمہیں اُن لوگوں کا (حال بتانے کی) گواہ طلب کریں گے۔
یہاں یہ امر قابل غور ہے کہ شہادت کے لیے اللہ کے دربار میں غیر معصوم اور عاصی کا تصور ہی نہیں کیا جا سکتا ہے کیوں کہ غیر معصوم کی شہادت غیر مقبول ہے۔
وَمَنْ يَّعْصِ اللّٰهَ وَرَسُوْلَهُ وَيَتَعَدَّ حُدُوْدَهُ يُدْخِلْهُ نَاراً خَالِداً فِيْهَا. (٦)
اور جو اللہ اور اُس کے رسول کی نافرمانی کرے گا اور اُس کی حدوں سے نکل جائے گا اُس کو اللہ دوزخ میں ڈالے گا جہاں وہ ہمیشہ رہے گا۔
اس آیت قرآنی میں اللہ نے اپنے اور اپنے رسول کی نافرمانی کرنے والوں کے لیے جہنم کی سزا مقرر کی ہے جہاں وہ ہمیشہ رہیں گے یعنی غیر معصوم کی نافرمانی پر ایسی سزا کی توقع کی جاسکتی اور یہ بھی کیسے ممکن ہے کہ ایسے شخص کی اتباع کو جائز قرار دیا جائے جو معصوم نہ ہو۔
تِلْكَ الرُّسُلُ فَضَّلْنَا بَعْضَهُمْ عَلَى بَعْضٍ مِّنْهُمْ مَّنْ كَلَّمَ اللّٰهُ وَرَفَعَ بَعْضَهُمْ دَرَجٰتٍ وَآتَيْنَا عِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ الْبَيِّنَاتِ وَاَيَّدْنٰهُ بِرُوْحِ الْقُدُسِ. (۷)
یہ پیغمبر (جو ہم وقتاً فوقتاً بھیجتے رہے ہیں) اُن میں سے ہم نے بعض کو
بعض پر فضیلت دی ہے۔ بعض ایسے ہیں جن سے اللہ نے گفتگو فرمائی اور بعض کے (دوسرے اُمور میں) مرتبے بلند کئے۔ اور عیسیٰ ابن مریم کو ہم نے کھلی ہوئی نشانیاں عطا کیں اور روح القدس سے اُن کو مدد دی۔
اس آیت سے ایک حقیقت سامنے آتی ہے کہ اللہ اپنے بھیجے گئے پیغمبروں کی حفاظت فرماتے ہیں لہٰذا ان سے معصیت کا امکان ہی نہیں رہتا۔ ایک اور مقام پر ارشادِ ربانی ہے:
وَاصْبِرْ لِحُكْمِ رَبِّكَ فَإِنَّكَ بِأَعْيُنِنَا (۸)
اور تم اپنے پروردگار کے حکم کے انتظار میں صبر کئے رہو تم تو ہماری آنکھوں کے سامنے ہو۔
یعنی پیغمبر ہر وقت اللہ کی خاص حفاظت میں ہوتا ہے لہٰذا غلطی اور معصیت ممکن ہی نہیں۔
قُلْ إِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّونَ اللَّهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ اللَّهُ وَيَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوبَكُمْ ۰ (۹)
(اے پیغمبر لوگوں سے) کہہ دو کہ اگر تم اللہ کو دوست رکھتے ہو تو میر ی پیروی کرو اللہ بھی تمہیں دوست رکھے گا اور تمہارے گناہ معاف کر دے گا۔
انبیاء کرام علیہم السلام کی زندگی کا ایک ایک لمحہ واجب الاتباع ہوتا ہے۔ اگر معاذ اللہ انبیاء کرام علیہم السلام بھی گناہ کے مرتکب ہوں تو بس اس گناہ میں بھی ان کی اتباع کرنا پڑے گی جو کہ عقلاً اور نقلاً باطل ہے اور عدم معصومیت کی صورت میں انبیاء کرام واجب الاتباع نہ رہیں گے۔
دین کا مکمل دارومدار نبی کی ذات پر اعتماد کرنے کا ہی نام ہے اور اگر معاذ اللہ کردارِ رسول ہی مشکوک ہو جائے تو دین میں بھی شکوک و شبہات پیدا ہو جائیں گے یعنی صداقتِ دین صرف اور صرف عصمتِ نبوت پر ہی موقوف ہے۔
قَالَ رَبِّ بِمَا أَغْوَيْتَنِي لَأُزَيِّنَنَّ لَهُمْ فِي الْأَرْضِ وَلَأُغْوِيَنَّهُمْ أَجْمَعِينَO إِلَّا عِبَادَكَ مِنْهُمُ الْمُخْلَصِينَ ۰ (۱۰)
(اس نے) کہا کہ اے اللہ! جیسا تو نے مجھے رستے سے الگ کیا ہے میں بھی زمین میں لوگوں کیلئے (گناہوں کو) آراستہ کر دکھاؤں گا اور سب کو بہکاؤں گا۔ ہاں ان میں جو تیرے مخلص بندے ہیں (ان پر
قابو چلنا مشکل ہے۔
اب اگر کوئی ہستی ایسی ہے جس پر شیطان کی دسترس نہ ہو وہ سوائے گروہ انبیاء کے کوئی اور ممکن ہی نہیں اور اللہ نے عباد مخلصین انبیاء کرام کو ہی فرمایا ہے۔ حضرت یوسف علیہ السلام کے بارے میں فرمایا گیا: وَلَقَدْ هَمَّتْ بِهِ وَهَمَّ بِهَا لَوْلَا أَنْ رَّأَى بُرْهَانَ رَبِّهِ كَذٰلِكَ لِنَصْرِفَ عَنْهُ السُّوءَ وَالْفَحْشَاءَ إِنَّهُ مِنْ عِبَادِنَا الْمُخْلَصِينَ (۱۱) ”اور اس عورت نے ان کا قصد کیا اور انہوں نے اس کا قصد کیا اگر وہ اپنے رب کی نشانی نہ دیکھتے (تو جو ہوتا، ہوتا) یوں اس لئے (کیا گیا) کہ ہم اُن سے برائی اور بے حیائی کو روک دیں بیشک وہ ہمارے خالص بندوں میں سے تھے۔“
حضرت موسیٰ علیہ السلام کے بارے میں ارشاد باری تعالیٰ ہے: وَاذْكُرْ فِي الْكِتٰبِ مُوسٰى إِنَّهُ كَانَ مُخْلَصاً وَكَانَ رَسُولاً نَّبِيّاً (۱۲) اور کتاب میں موسیٰ کا بھی ذکر کرو بیشک وہ (ہمارے) برگزیدہ اور پیغمبر مرسل تھے۔
حضرت ابراہیم ، اسحاق اور یعقوب علیہ السلام کے متعلق فرمایا: وَاذْكُرْ عِبَادَنَا إِبْرٰهِيمَ وَإِسْحٰقَ وَيَعْقُوبَ أُوْلِي الْأَيْدِي وَالْأَبْصَارِ (۱۳) اور ہمارے بندوں ابراہیم اور اسحق اور یعقوب کو یاد کرو جو ہاتھوں والے اور آنکھوں والے تھے۔
اللہ تعالیٰ کی انبیاء پر یہ خاص عنایت ان کی عصمت کا واضح ثبوت ہے۔
بائبل میں موجود انبیاء سے منسوب فحش قصص
قرآن مجید نے تمام انبیاء ورسل کو معصوم عن الخطاء اور قدسی نفوس قرار دے کر انہیں واجب التکریم و حجت قرار دیا ہے۔ اقوام عالم میں اگر کسی پاکیزہ ہستی کے بارے میں کوئی بھی غلط تصور موجود تھا تو اس کی وضاحت فرماتے ہوئے اس نبی کی برأت کا اعلان فرمایا لیکن جب بائبل کا مطالعہ کیا جائے تو اس میں انبیاء کے ناموس کو پامال کرنے والے گھناؤنے قصے جا بجا
ملیں گے۔ ان قصوں کو دور جدید کے محققین نے الحاقی تو قرار دیا ہے مگر یہ یہود و نصاریٰ کی ناپاک ذہنیت کے عکاس ہیں۔ ان سے یہ بات خوب کھل کر سامنے آجاتی ہے کہ یہود ونصاریٰ کسی طرح توہین انبیاء کے شائق ہیں۔ ملاحظہ کیجیے کہ کس کس انداز سے انبیاء کے اسوہ کو مسخ کیا گیا ہے۔
حضرت نوح علیہ السلام
حضرت نوح علیہ السلام اللہ کے برگزیدہ پیغمبر تھے جو اپنی قوم کو کئی سو سال تک تبلیغ کرتے رہے لیکن وہ بد بخت آپ کی باتوں کا مذاق اُڑاتے رہے۔ آپ کے اسوہ کو پرانے عہد نامے میں کس طرح مسخ کیا گیا ہے اور کس انداز سے کردار کشی کی گئی ہے، ملاحظہ کیجیے:
”اور نوح کاشت کاری کرنے لگا اور اس نے ایک انگور کا باغ لگایا اور اس نے اس کی مے پی اور اسے نشہ آیا اور وہ اپنے ڈیرے میں برہنہ ہو گیا۔“ (۱۴)
حضرت ابراہیم علیہ السلام
حضرت ابراہیم علیہ السلام اللہ کے ایسے سچے پیغمبر تھے کہ اللہ کے دین کی سربلندی کے لیے آتش نمرود میں کود پڑے۔ اُن کے بارے میں بائبل میں ہے کہ آپ نے اپنی جان بچانے کے لیے جھوٹ بولا اور بیوی کو بہن باور کروانے کی کوشش کی:
”جب وہ مصر میں داخل ہونے کو تھا تو اس نے اپنی بیوی ساری سے کہا کہ دیکھ! میں جانتا ہوں کہ تو دیکھنے میں خوب صورت عورت ہے اور یوں ہوگا کہ مصری تجھے دیکھ کر کہیں گے کہ یہ اس کی بیوی سو وہ مجھے تو مار ڈالیں گے مگر تجھے زندہ رکھ لیں گے سو تو یہ کہہ دینا کہ میں اس کی بہن ہوں تاکہ تیرے سبب سے میری خیر ہو اور میری جان تیری بدولت بچی رہے۔“ (۱۵)
حضرت اسحاق علیہ السلام
حضرت اسحاق علیہ السلام پر کتاب پیدائش میں مے پینے کا الزام لگایا گیا ہے:
”یعقوب اپنے باپ اسحاق کے لیے مے لایا اور اس نے پی۔“ (۱۶)
حضرت یعقوب علیہ السلام کے
”روبن نے جا کر اپنے باپ کو یہ معلوم ہوگیا۔“ (۱۷)
حضرت لوط علیہ السلام
حضرت لوط علیہ السلام پر سے حاملہ ہونے کا بیان ملاحظہ ہو:
”اور لوط ضغر سے نکل کر اسے ضغر میں بستے ڈر لگا اور وہ اور اس نے چھوٹی سے کہا کہ ہمارا باپ بڑھا ہمارے پاس آئے، آؤ! ہم اپنے باپ باپ سے نسل باقی رکھیں۔ سو انہوں نے اور اپنے باپ سے ہم آغوش ہوئی پر دوسرے روز یوں ہوا کہ پہلوٹھی نے چھو ہوئی آؤ! آج رات بھی اس کو مے پلا باپ سے نسل باقی رکھیں۔ سو اس رات اس سے ہم آغوش ہوئی پر اس نے نہ بیٹیاں اپنے باپ سے حاملہ ہو گئیں۔“ (
حضرت داؤد علیہ السلام کی کردا
”اور شام کے وقت داؤد ا اور چھت پر اس نے ایک عورت کو نہا تب داؤد نے لوگ بھیج کر اس عورت ک کہتی ہے جو حتی اوریاہ کی بیوی ہے۔ د اور اس نے اس سے صحبت کی، پھر وہ یہوآب کو خط لکھا کہ اوریاہ کو گھمسان م تاکہ وہ مارا جائے...... اور حتی اوریاہ مر
حضرت یعقوب علیہ السلام کے بیٹے کا اپنی والدہ سے زنا
”روبن نے جا کر اپنے باپ کی حرم بلہاہ سے مباشرت کی اور اسرائیل کو یہ معلوم ہو گیا۔“ (۱۷)
حضرت لوط علیہ السلام
حضرت لوط علیہ السلام پر اپنی بیٹیوں سے زنا کرنے کا الزام پھر ان کا اپنے باپ سے حاملہ ہونے کا بیان ملاحظہ ہو:
”اور لوط ضغر سے نکل کر پہاڑ پر جا بسا اور اس کی دونوں بیٹیاں ساتھ تھیں کیوں کہ اسے ضغر میں بستے ڈر لگا اور وہ اور اس کی دونوں بیٹیاں ایک غار میں رہنے لگے۔ تب پہلوٹھی نے چھوٹی سے کہا کہ ہمارا باپ بڑھا ہے اور زمین پر کوئی مرد نہیں جو دنیا کے دستور کے مطابق ہمارے پاس آئے، آؤ! ہم اپنے باپ کو مے پلائیں اور اس سے ہم آغوش ہوں تا کہ اپنے باپ سے نسل باقی رکھیں۔ سو انہوں نے اسی رات اپنے باپ کو مے پلائی اور پہلوٹھی اندر گئی اور اپنے باپ سے ہم آغوش ہوئی پر اس نے نہ جانا کہ وہ کب لیٹی اور کب اٹھ گئی۔ اور دوسرے روز یوں ہوا کہ پہلوٹھی نے چھوٹی سے کہا کہ کل رات کو میں اپنے باپ سے ہم آغوش ہوئی آؤ! آج رات بھی اس کو مے پلائیں اور تو بھی جا کر اس سے ہم آغوش ہو تا کہ ہم اپنے باپ سے نسل باقی رکھیں۔ سو اس رات بھی انہوں نے اپنے باپ کو مے پلائی اور چھوٹی گئی اور اس سے ہم آغوش ہوئی پر اس نے نہ جانا کہ وہ کب لیٹی اور کب اٹھ گئی۔ سو لوط کی دونوں بیٹیاں اپنے باپ سے حاملہ ہو گئیں۔“ (۱۸)
حضرت داؤد علیہ السلام کی کردار کشی اور زنا کا الزام
”اور شام کے وقت داؤد اپنے پلنگ پر سے اٹھ کر بادشاہی محل کی چھت پر ٹہلنے لگا اور چھت پر اس نے ایک عورت کو دیکھا جو نہا رہی تھی اور وہ عورت نہایت خوب صورت تھی۔ تب داؤد نے لوگ بھیج کر اس عورت کا حال دریافت کیا اور کسی نے کہا کہ وہ العام کی بیٹی بت سبع ہے جو حتی اوریاہ کی بیوی ہے۔ اور داؤد نے لوگ بھیج کر اسے بلا لیا وہ اس کے پاس آئی اور اس نے اس سے صحبت کی، پھر وہ اپنے گھر چلی گئی اور وہ عورت حاملہ ہوگئی...... داؤد نے یوآب کو خط لکھا کہ اوریاہ کو گھمسان میں سب سے آگے رکھنا اور تم اس کے پاس سے ہٹ جانا تا کہ وہ مارا جائے...... اور حتی اوریاہ مر گیا۔“ (۱۹)
حضرت سلیمان علیہ السلام پر باطل معبودوں کی طرف رُجحان اور عیش پرستی کا الزام
”اور سلیمان بادشاہ فرعون کی بیٹی کے علاوہ اجنبی عورتوں یعنی موآبی ، عمونی ، ادومی ، صیدانی اور حتی عورتوں سے محبت کرنے لگا۔ یہ ان قوموں کی تھیں جن کی بابت خداوند نے بنی اسرائیل سے کہا تھا کہ تم ان کے بیچ نہ جانا اور نہ وہ تمہارے بیچ آئیں کیوں کہ وہ ضرور تمہارے دلوں کو اپنے دیوتاؤں کی طرف مائل کرلیں گی۔ سلیمان انہی کے عشق کا دم بھرنے لگا اور اس کے پاس سات سو شہزادیاں اس کی بیویاں اور تین سو حرمیں تھیں اور ان کی بیویوں نے اس کے دل کو غیر معبودوں کی طرف مائل کر لیا اور اس کا دل خداوند اپنے خدا کے ساتھ کامل نہ رہا جیسا اس کے باپ داؤد کا دل تھا۔“ (۲۰)
کتاب مقدس کا دیگر انبیاء کرام کے کردار پر حملہ:
”نبیوں کی بابت میرا دل اندر سے ٹوٹ گیا ۔۔۔۔۔ نبی اور کاہن دونوں ناپاک ہیں۔ ہاں! میں نے اپنے گھر کے اندر ان کی شرارت دیکھی ۔۔۔۔۔ میں نے یروشلم کے نبیوں میں بھی ایک ہولناک بات دیکھی ، وہ زنا کار ، جھوٹ کے پیرو اور بدکاروں کے حامی ہیں یہاں تک کہ کوئی اپنی شرارت سے باز نہیں آتا۔ وہ سب میرے نزدیک سدوم کی مانند اور اس کے باشندے عمورہ کی مانند ہیں۔“ (۲۱)
حضرت عیسیٰ علیہ السلام بھی توہین و تنقیص سے نہ بچ سکے
حضرت عیسیٰ علیہ السلام بغیر باپ کے پیدا ہوئے مگر انجیل متی میں ہے: ”اور یعقوب سے یوسف پیدا ہوا ، یہ اس مریم کا شوہر تھا جس سے یسوع پیدا ہوا جو مسیح کہلاتا ہے۔“ (۲۲)
پولس جو موجودہ عیسائیت کا بانی ہے گلتیوں کے نام اپنے خط میں لکھتا ہے: ”مسیح جو ہمارے لیے لعنتی بنا ، اس نے ہمیں مول لے کر شریعت کی لعنت سے چھڑایا کیوں کہ لکھا ہے کہ جو کوئی لکڑی پر لٹکایا گیا وہ لعنتی ہے۔“ (۲۳)
توہین انبیاء کرنے والوں کا انجام قرآن کی روشنی میں
اسلام امن و آشتی کا دین ہے جو تمام عالم کو امن و انصاف کی تعلیم دیتا ہے مگر یہ کسی کو یہ اجازت نہیں دیتا کہ وہ انبیاء کرام پر طعن کرے اور عیب جوئی کرے لیکن وہ لوگ جن کے
دل بغض وعناد، تعصب اور نفاق سے بھرے ہیں وہ اپنی فطرت کے ہاتھوں مجبور ہیں۔ وہ قصداً انتشار پھیلانے کے لیے نبی اکرم ﷺ کی ذاتِ اقدس میں عیب جوئی کی تلاش میں رہتے ہیں اور واقعات کو توڑ مروڑ کر سیاق و سباق سے ہٹا کر من مانی تاویل کر کے گمراہی میں ایک دوسرے سے سبقت لے جانے کی کوشش میں مصروف عمل ہیں۔
اس کے برعکس اسلام تمام انبیاء کو تحفظ دیتا ہے، ان سے پیار، محبت کا درس ان پر ایمان لانے کو ایمان کا لازمی جزو اور انکار کو کفر سے تعبیر کرتا ہے اللہ کی طرف سے مسلمانوں کو تمام انبیاء پر ایمان لانے اور ان میں کسی قسم کی تفریق نہ کرنے کا حکم ملا ہے:
قُوْلُوْا آمَنَّا بِاللّٰهِ وَمَا أُنْزِلَ إِلَيْنَا وَمَا أُنْزِلَ إِلَى إِبْرَاهِيْمَ وَإِسْمَاعِيْلَ وَإِسْحَاقَ وَيَعْقُوْبَ وَالْأَسْبَاطِ وَمَا أُوْتِيَ مُوْسَى وَعِيْسَى وَمَا أُوْتِيَ النَّبِيُّوْنَ مِنْ رَّبِّهِمْ لَا نُفَرِّقُ بَيْنَ أَحَدٍ مِّنْهُمْ وَنَحْنُ لَهُ مُسْلِمُوْنَ۔ (۱۳۶)
(مسلمانو) کہو کہ ہم اللہ پر ایمان لائے اور جو (کتاب) ہم پر اتری اس پر اور جو (صحیفے) ابراہیم اور اسماعیل اور اسحاق اور یعقوب اور ان کی اولاد پر نازل ہوئے ان پر اور جو (کتابیں) موسیٰ اور عیسیٰ کو عطا ہوئیں اُن پر اور جو اور پیغمبروں کو اُن کے پروردگار کی طرف سے ملیں اُن پر (سب پر ایمان لائے) ہم اُن پیغمبروں میں سے کسی میں کچھ فرق نہیں کرتے اور ہم اسی (معبود واحد) کے فرمانبردار ہیں۔
دوسرے مقام پر فرمایا:
آمَنَ الرَّسُوْلُ بِمَا أُنْزِلَ إِلَيْهِ مِنْ رَّبِّهِ وَالْمُؤْمِنُوْنَ كُلٌّ آمَنَ بِاللّٰهِ وَمَلَائِكَتِهِ وَكُتُبِهِ وَرُسُلِهِ لَا نُفَرِّقُ بَيْنَ أَحَدٍ مِّنْ رُّسُلِهِ وَقَالُوْا سَمِعْنَا وَأَطَعْنَا غُفْرَانَكَ رَبَّنَا وَإِلَيْكَ الْمَصِيْرُ۔ (۲۸۵)
رسول (اللہ) اس کتاب پر جو اُن کے رب کی طرف سے اُن پر نازل ہوئی ایمان رکھتے ہیں اور مومن بھی۔ سب اللہ پر اور اُس کے فرشتوں پر اور اُس کی کتابوں پر اور اُس کے پیغمبروں پر ایمان رکھتے ہیں (اور
کہتے ہیں کہ ہم اُس کے پیغمبروں سے کسی میں کچھ فرق نہیں کرتے۔ اور وہ (اللہ سے) عرض کرتے ہیں کہ ہم نے (تیرا حکم) سنا اور قبول کیا۔ اے رب ہم تیری بخشش مانگتے ہیں اور تیری ہی طرف لوٹ کر جانا ہے۔
اس لیے توہین انبیاء کو ناقابل معافی گناہ قرار دیا گیا ہے اور یہی نہیں بلکہ اسلام دوسروں کے حقوق کا خیال بھی رکھتا ہے اور مکمل مذہبی آزادی کا درس دیتا ہے۔ اس بات کا اندازہ اس آیت قرآنی سے لگایا جا سکتا ہے کہ اسلام ہی واحد ایسا دین ہے جو کسی باطل معبود کی توہین کی اجازت نہیں دیتا:
وَلَا تَسُبُّوا الَّذِيْنَ يَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ فَيَسُبُّوا اللّٰهَ عَدْواً بِغَيْرِ عِلْمٍ كَذٰلِكَ زَيَّنَّا لِكُلِّ اُمَّةٍ عَمَلَهُمْ ثُمَّ اِلٰى رَبِّهِم مَّرْجِعُهُمْ فَيُنَبِّئُهُم بِمَا كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ. (۲۶)
اور جن لوگوں کو یہ مشرک اللہ کے سوا پکارتے ہیں اُن کو بُرا نہ کہنا کہ یہ بھی کہیں اللہ کو بے ادبی سے بغیر سمجھے بُرا نہ کہہ بیٹھیں۔ اس طرح ہم نے ہر ایک فرقے کے اعمال (اُن کی نظروں میں) اچھے کر دکھائے ہیں پھر اُن کو اپنے رب کی طرف لوٹ کر جانا ہے تب وہ اُن کو بتائے گا کہ وہ کیا کیا کرتے تھے۔
مندرجہ بالا آیات میں اللہ کے علاوہ لوگ جن معبودوں کی عبادت کرتے ہیں ان کو گالی دینے اور برا کہنے کی ممانعت ہے۔ مگر یہود ایسی قوم ہے جس نے اللہ پر بھی جھوٹ باندھے، انبیاء کی توہین کی اور اپنے انہی اعمال شنیعہ کی وجہ سے انبیاء کی بددعاؤں سے ملعون قرار پائے اور عذاب الٰہی کا مستحق ٹھہرے۔
لُعِنَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا مِنْ بَنِيْ اِسْرَائِيْلَ عَلٰى لِسَانِ دَاوٗدَ وَعِيْسَى ابْنِ مَرْيَمَ ذٰلِكَ بِمَا عَصَوْا وَّكَانُوْا يَعْتَدُوْنَ. (۲۷)
جو لوگ بنی اسرائیل میں کافر ہوئے ان پر داؤد اور عیسیٰ بن مریم کی زبان سے لعنت کی گئی یہ اس لئے کہ نافرمانی کرتے تھے اور حد سے تجاوز کرتے تھے۔
حتی کہ اس قوم نے اپنے رب کو بھی معاف نہیں کیا: لَقَدْ سَمِعَ اللّٰهُ قَوْلَ الَّذِيْنَ قَالُوْا اِنَّ اللّٰهَ فَقِيْرٌ وَّنَحْنُ اَغْنِيَاء سَنَكْتُبُ مَا قَالُوْا وَقَتْلَهُمُ الْاَنْبِيَاءَ بِغَيْرِ حَقٍّ وَّنَقُوْلُ ذُوْقُوْا عَذَابَ الْحَرِيْقِ. (۲۸) اللہ نے ان لوگوں کا قول سن لیا ہے جو کہتے ہیں کہ اللہ فقیر ہے اور ہم امیر ہیں، یہ جو کہتے ہیں ہم اُس کو لکھ لیں گے اور پیغمبروں کو جو یہ ناحق قتل کرتے رہے ہیں اُس کو بھی (قلم بند کر رکھیں گے) اور (قیامت کے روز) کہیں گے کہ عذاب (آتش) سوزاں کے مزے چکھتے رہو۔
وَقَالَتِ الْيَهُوْدُ يَدُ اللّٰهِ مَغْلُوْلَةٌ غُلَّتْ أَيْدِيْهِمْ وَلُعِنُوْا بِمَا قَالُوْا بَلْ يَدَاهُ مَبْسُوْطَتَانِ يُنْفِقُ كَيْفَ يَشَاءُ وَلَيَزِيْدَنَّ كَثِيْراً مِّنْهُم مَّا أُنْزِلَ إِلَيْكَ مِن رَّبِّكَ طُغْيَاناً وَّكُفْراً وَأَلْقَيْنَا بَيْنَهُمُ الْعَدَاوَةَ وَالْبَغْضَاءَ إِلٰى يَوْمِ الْقِيَامَةِ كُلَّمَا أَوْقَدُوْا نَاراً لِّلْحَرْبِ أَطْفَأَهَا اللّٰهُ وَيَسْعَوْنَ فِي الْاَرْضِ فَسَاداً وَاللّٰهُ لَا يُحِبُّ الْمُفْسِدِيْنَ. (۲۹) اور یہود کہتے ہیں کہ اللہ کا ہاتھ (گردن سے) بندھا ہوا ہے (یعنی اللہ بخیل ہے) انہیں کے ہاتھ باندھے جائیں اور ایسا کہنے کے سبب ان پر لعنت ہو (اس کا ہاتھ بندھا ہوا نہیں) بلکہ اُس کے دونوں ہاتھ کھلے ہیں وہ جس طرح (اور جتنا) چاہتا ہے خرچ کرتا ہے اور (اے محمدﷺ!) یہ (کتاب) جو تمہارے رب کی طرف سے تم پر نازل ہوئی اس سے اُن میں سے اکثر کی شرارت اور انکار اور بڑھے گا۔ اور ہم نے اُن میں عداوت اور بغض قیامت تک کیلئے ڈال دیا ہے یہ جب لڑائی کیلئے آگ جلاتے ہیں اللہ تعالیٰ اُس کو بجھا دیتا ہے اور یہ ملک میں فساد کیلئے دوڑے پھرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ فساد کرنے والوں کو دوست نہیں رکھتا۔
اب گزشتہ اقوام کے احوال کو قرآن کی روشنی میں پرکھیں تو معلوم ہو جائے گا کہ انبیاء کے گستاخوں کو کیسے ذلیل و رسوا کیا گیا اور وہ کیسے انجام سے دوچار ہوئے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
عَدُوٌّ لِّلْكَفِرِينَ . (٣٠)
جو شخص اللہ کا اور اُس کے فرشتوں کا اور اُس کے پیغمبروں کا اور جبریل کا اور میکائیل کا دشمن ہو تو ایسے کافروں کا اللہ تعالیٰ دشمن ہے۔
حضرت نوح علیہ السلام
آپ علیہ السلام نے اپنی قوم کو کم و بیش ساڑھے نو سو سال تبلیغ کی اور دعوت و تبلیغ کا یہ فریضہ احسن طریق سے انجام دیا لیکن اس کے جواب میں بدبخت قوم آپ کی دعوت کو ہنسی مذاق میں اڑا دیتی اور آپ کے ساتھ استہزاء کرتی رہی۔ بالآخر ایک وقت ایسا آ گیا کہ اس قوم کو عذاب الٰہی نے آن پکڑا۔ حضرت نوح علیہ السلام کو کشتی کی تیاری کا حکم دیا گیا اس بات کو بھی لوگ مذاق جاننے لگے اور حضرت نوح علیہ السلام نے ہر مخلوق کے جوڑے جوڑے اپنے ساتھ کشتی میں سوار کر لیے اور باقی ماندہ نافرمان قوم کو اللہ نے غرق کر دیا۔ حضرت نوح علیہ السلام کا بیٹا بھی اس عذاب سے بچ نہ سکا، وہ سب لوگ اپنے گناہوں کے سبب غرق کر دیئے گئے۔ اس واقعہ کا ذکر سورۃ الاعراف کی آیات ۵۹ تا ۶۴ میں مذکور ہے۔
حضرت ہود علیہ السلام
حضرت نوح علیہ السلام کی طرح قوم عاد کی طرف حضرت ہود علیہ السلام کو رسول بنا کر بھیجا گیا لیکن قوم عاد فخر و ناز میں پڑ گئی۔ ناحق غرور کرنے لگی، اور کھلا دعویٰ کرنے لگی کہ ہم سے بڑا قوی کون ..... لیکن ہود کی قوم جسمانی حیثیت سے بڑی سخت تھی۔ دل بھی ان کا ایسا ہی سخت تھا وہ حق کی تکذیب میں سب امتوں سے آگے بڑھ گئے۔ حضرت ہود علیہ السلام ان کو خدائے واحد کی اطاعت کی طرف بلاتے تھے لیکن اس کافر جماعت نے کہا کہ اے ہود! ہم تمہیں بڑا بے سمجھ اور گمراہ پاتے ہیں کہ ہم کو ترک اصنام کی دعوت دیتے ہو ..... آپ نے فرمایا کہ میں بے سمجھ نہیں ، اللہ کا پیغام تم تک پہنچا رہا ہوں ۔ تمہارا خیر خواہ ہوں تم اللہ کا احسان مانو کہ نوح کے بعد تم کو ان کی جگہ دی اور ہلاک ہو گئی جس نے اپنے رسول کا کہا نہ مانا۔
اللہ کی طرف سے اس سرکش قوم پر عذاب الٰہی آندھی اور طوفان کی صورت میں آیا اور بڑے بڑے گھمنڈ کرنے والے مٹی میں مل گئے۔ حضرت ہود علیہ السلام کے فرمانبردار بچا
لیے گئے اور باقی سب عذاب الٰہی کے قَالُوا أَجِئْتَنَا لِنَعْبُدَ اللَّهَ وَ بِمَا تَعِدُنَا إِن كُنتَ مِنَ الْـ رَبِّكُمْ رِجْسٌ وَغَضَبٌ أَتُجَـ وَآبَاؤُكُم مَّا نَزَّلَ اللَّهُ بِهـ الْمُنتَظِرِينَ O فَأَنجَيْنَا الَّذِينَ كَذَّبُوا بِآيَاتِنَا وَمَا كَـ ہود نے کہا کہ تمہارے پرور نازل ہونا) مقرر ہو چکا ہے جھگڑتے ہو جو تم نے اور تمہـ لئے ہیں جن کی اللہ نے کوئی بھی تمہارے ساتھ انتظار کر کیساتھ تھے اُن کو نجات دی اُن کی جڑ کاٹ دی اور وہ
حضرت صالح علیہ السلام
ثمود کی طرف ایک پیغمبر تھے۔ ان کی قوم نے ان سے ایمان دعا فرمائی جس کے نتیجہ میں ایک ا دن ناقہ کرتی تاکہ دوسرے جانور بعد قوم سرکش ہو گئی اور فیصلہ کیا جائے ۔ سب کفار نے مل کر اونٹنی کو فَكَذَّبُوهُ فَعَقَرُوهَا فَدَمْـ مگر انہوں نے پیغمبر کو جھٹـ گناہ کے سبب ان پر عذ
رُسُلِهِ وَجِبْرِيْلَ وَمِيْكٰيٖلَ فَاِنَّ اللّٰهَ اور اُس کے پیغمبروں کا اور جبریل کافروں کا اللہ تعالیٰ دشمن ہے۔
نے ساڑھے نو سو سال تبلیغ کی اور دعوت و تبلیغ کا کے جواب میں بد بخت قوم آپ کی دعوت کو ہنسی اُڑاتی رہی۔ بالآخر ایک وقت ایسا آ گیا کہ اس علیہ السلام کو کشتی کی تیاری کا حکم دیا گیا اس بات نوح علیہ السلام نے ہر مخلوق کے جوڑے جوڑے اور اس قوم کو اللہ نے غرق کر دیا۔ حضرت نوح وہ سب لوگ اپنے گناہوں کے سبب غرق آیت ۶۳ تا ۷۹ میں مذکور ہے۔
عاد کی طرف حضرت ہود علیہ السلام کو رسول بنا سجدہ کرنے لگی، اور کھلا دعویٰ کرنے لگی کہ ہم لحاظ سے بڑی سخت تھی۔ دل بھی ان کا ایسا ہی کے پوجنے لگے۔ حضرت ہود علیہ السلام ان کو اس کافر جماعت نے کہا کہ اے ہود! ہم پیام کی دعوت دیتے ہو آپ نے فرمایا میں تمہارا خیر خواہ ہوں تم اللہ کا احسان مانو قوم نے اپنے رسول کا کہا نہ مانا۔ عذاب الہی آندھی اور طوفان کی صورت میں آیا حضرت ہود علیہ السلام کے فرمانبردار بچا لیے گئے اور باقی سب عذاب الہی کے مستحق قرار پائے۔ قَالُوْا اَجِئْتَنَا لِنَعْبُدَ اللّٰهَ وَحْدَهٗ وَنَذَرَ مَا كَانَ يَعْبُدُ اٰبَآؤُنَا فَاْتِنَا بِمَا تَعِدُنَا اِنْ كُنْتَ مِنَ الصّٰدِقِيْنَ O قَالَ قَدْ وَقَعَ عَلَيْكُمْ مِّنْ رَّبِّكُمْ رِجْسٌ وَّغَضَبٌ اَتُجَادِلُوْنَنِيْ فِيْ اَسْمَآءٍ سَمَّيْتُمُوْهَا اَنْتُمْ وَاٰبَآؤُكُمْ مَّا نَزَّلَ اللّٰهُ بِهَا مِنْ سُلْطٰنٍ فَانْتَظِرُوْا اِنِّيْ مَعَكُمْ مِّنَ الْمُنْتَظِرِيْنَ O فَاَنْجَيْنٰهُ وَالَّذِيْنَ مَعَهٗ بِرَحْمَةٍ مِّنَّا وَقَطَعْنَا دَابِرَ الَّذِيْنَ كَذَّبُوْا بِاٰيٰتِنَا وَمَا كَانُوْا مُؤْمِنِيْنَ (۳۱) ہود نے کہا کہ تمہارے رب کی طرف سے تم پر عذاب اور غضب (کا نازل ہونا) مقرر ہو چکا ہے کیا تم مجھ سے ایسے ناموں کے بارے میں جھگڑتے ہو جو تم نے اور تمہارے باپ دادا نے (اپنی طرف سے) رکھ لئے ہیں جن کی اللہ نے کوئی سند نازل نہیں کی تو تم بھی انتظار کرو میں بھی تمہارے ساتھ انتظار کرتا ہوں۔ پھر ہم نے ہود کو اور جو لوگ اُن کیساتھ تھے اُن کو نجات بخشی اور جنہوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا تھا اُن کی جڑ کاٹ دی اور وہ ایمان لانے والے تھے ہی نہیں۔
حضرت صالح علیہ السلام
ثمود کی طرف ایک پیغمبر حضرت صالح علیہ السلام بھیجے گئے جو توحید کی دعوت دیتے تھے۔ ان کی قوم نے ان سے ایمان لانے کے لیے معجزہ طلب کیا آپ علیہ السلام نے اللہ سے دعا فرمائی جس کے نتیجہ میں ایک اونٹنی نمودار ہوئی، وہ ایک دن چشمے سے پانی پیتی اور دوسرے دن ناغہ کرتی تاکہ دوسرے جانور پانی پی سکیں اور لوگ اس کا دودھ پیتے کچھ عرصہ گزرنے کے بعد قوم سرکش ہو گئی اور فیصلہ کیا کہ اونٹنی کو قتل کر دیا جائے تاکہ ہر روز پانی کا حق مل جائے۔ سب کفار نے مل کر اونٹنی کو قتل کر دیا۔
فَكَذَّبُوْهُ فَعَقَرُوْهَا فَدَمْدَمَ عَلَيْهِمْ رَبُّهُمْ بِذَنْۢبِهِمْ فَسَوّٰهَا (۳۲) مگر انہوں نے پیغمبر کو جھٹلایا اور اونٹنی کی کونچیں کاٹ دیں تو اللہ نے ان کے گناہ کے سبب ان پر عذاب نازل کیا اور سب کو ہلاک کر کے برابر کر دیا۔
حضرت لوط علیہ السلام
مِّنَ الْعَالَمِينَ. (۸۰)
اور (اسی طرح جب ہم نے) لوط کو (پیغمبر بنا کر بھیجا تو) اس وقت انہوں نے اپنی قوم سے کہا کہ تم ایسی بے حیائی کا کام کیوں کرتے ہو کہ تم سے پہلے اہل عالم میں سے کسی نے اس طرح کا کام نہیں کیا۔
اللہ تعالیٰ نے حضرت لوط علیہ السلام کو اہل سدوم کی طرف بھیجا کہ وہ اہل سدوم کو اللہ کی طرف بلائیں اور امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا فریضہ انجام دیں۔ تو قوم نے ان کی دعوت کے جواب میں ایسے فواحش اختراع کیے کہ آدم علیہ السلام سے لے کر اب تک ان کے سوا کسی نے جس کا ارتکاب نہیں کیا تھا اور وہ عورتوں کو چھوڑ کر مردوں کے پاس آتا تھا۔
صرف اسی پر بس نہیں بلکہ لوط علیہ السلام کی قوم نے ان کو وہاں سے نکال دیا۔ اللہ نے ان کو وہاں سے بہ حفاظت نکال لیا اور کفار کو اس نافرمانی کے عوض ذلت اور رسوائی کی موت مار ڈالا۔
مِّن سِجِّيلٍ مَّنضُودٍ () مُّسَوَّمَةً عِندَ رَبِّكَ وَمَا هِيَ مِنَ
الظّٰلِمِينَ بِبَعِيْدٍ. (۸۳)
تو جب ہمارا حکم آیا ہم نے اُس بستی کو اُلٹ کر نیچے اوپر کر دیا اور ان پر پتھر کی تہ بہ تہ یعنی پے در پے کنکریاں برسائیں۔ جن پر تمہارے پروردگار کے ہاں سے نشان کیے ہوئے تھے اور وہ بستی ظالموں سے کچھ دور نہیں۔
اللہ نے اس فعل اور نافرمانی کے سبب اس قوم پر پتھر برسائے اور انہیں غرق کر دیا۔
حضرت شعیب علیہ السلام
اللہ تعالیٰ نے مدین والوں کی طرف حضرت شعیب علیہ السلام کو بھیجا انھوں نے خدا کی وحدانیت اور توحید کا درس دیا اور ناپ تول پورا کرنے کی ہدایت کی اور فساد فی الارض سے منع فرمایا:
إِلٰهٍ غَيْرُهُ قَدْ جَاءَتْكُم بَيِّنَةٌ
وَلَا تَبْخَسُوا النَّاسَ أَشْيَاءَهُمْ
إِصْلَاحِهَا ذَلِكُمْ خَيْرٌ لَّكُمْ
اور مدین کی طرف ان کے اے قوم! اللہ ہی کی عباد تمہارے پاس تمہارے رب اور تول پوری کیا کرو اور اصلاح کے بعد خرابی نہ کر تمہارے حق میں بہتر ہے ان احکامات کی پیروی کر مؤمنین کے ساتھ بدسلوکی سے پیش آ اختیار کرو اور ہمارے وفادار بن جاؤ جب قوم شعیب اپنے بھیجا کہ وہ اپنے گھروں میں دھرے اصحابِ شعیب علیہ السلام کو انہوں ہود میں ہے کہ ”جب ہمارا عذاب رحمت سے بچا لیا اور ان ظالموں کو بیٹھے رہ گئے اور فنا ہو گئے۔“ جب کہ قرآن مجید میں شاتم رسول کی دین اسلام میں رسول ناراضی اللہ کی اطاعت و ناراضی کے شخص اس کے پیغامبر یا حضور علیہ کوئی بدبخت ایسا کرتا ہے تو اس
وَإِلَى مَدْيَنَ أَخَاهُمْ شُعَيْبًا قَالَ يَا قَوْمِ اعْبُدُوا اللّٰهَ مَا لَكُمْ مِنْ إِلٰهٍ غَيْرُهُ قَدْ جَاءَتْكُمْ بَيِّنَةٌ مِنْ رَّبِّكُمْ فَأَوْفُوا الْكَيْلَ وَالْمِيزَانَ وَلَا تَبْخَسُوا النَّاسَ أَشْيَاءَهُمْ وَلَا تُفْسِدُوا فِي الْأَرْضِ بَعْدَ إِصْلَاحِهَا ذٰلِكُمْ خَيْرٌ لَّكُمْ إِنْ كُنْتُمْ مُؤْمِنِينَ ۔ (۳۵)
اور مدین کی طرف اُن کے بھائی شعیب کو بھیجا (تو) انہوں نے کہا کہ اے قوم! اللہ ہی کی عبادت کرو، اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے نشانی آ چکی ہے تو تم ماپ اور تول پوری کیا کرو اور لوگوں کو چیزیں کم نہ دیا کرو اور زمین میں اصلاح کے بعد خرابی نہ کرو اگر تم صاحب ایمان ہو تو سمجھ لو کہ یہ بات تمہارے حق میں بہتر ہے۔
ان احکامات کی پیروی کرنے کے بجائے کفار نے حضرت شعیب علیہ السلام اور مؤمنین کے ساتھ بدسلوکی سے پیش آئے اور کہنے لگے کہ ہماری بستی چھوڑ دو یا پھر ہماری ملت اختیار کرو اور ہمارے وفادار بن جاؤ۔
جب قوم شعیب اپنے کفر پر مصمم ارادے سے قائم رہی تو اللہ نے ان پر ایسا زلزلہ بھیجا کہ وہ اپنے گھروں میں دھرے کے دھرے رہ گئے اور یہ سزا تھی اس بات کہ شعیب اور اصحاب شعیب علیہ السلام کو انہوں نے بلاوجہ ڈرایا، انہیں جلاوطنی کی دھمکی دی جیسا کہ سورۃ ہود میں ہے کہ ”جب ہمارا عذاب ان پر آ پہنچا تو ہم نے شعیب اور ان کے اصحاب کو اپنی رحمت سے بچا لیا اور ان ظالموں کو ایک ایسی کڑک نے آ پکڑا کہ اپنے گھروں میں بیٹھے کے بیٹھے رہ گئے اور فنا ہو گئے۔“ جب انہوں نے نبی کو جھٹلایا تو ان پر عذاب نازل ہوا۔
قرآن مجید میں شاتم رسول کے متعلق احکامات
دین اسلام میں رسول اللہ ﷺ کا مقام و مرتبہ متعین و واضح ہے ان کی اطاعت اور ناراضی اللہ کی اطاعت و ناراضی ہے۔ اللہ رب العزت اس بات کو سخت ناپسند کرتے ہیں کہ کوئی شخص اس کے پیغمبر یا حضور خاتم النبیین ﷺ کی گستاخی کرتے ہوئے انہیں ایذا دے اور اگر کوئی بدبخت ایسا کرتا ہے تو اس کے متعلق سخت ترین احکامات موجود ہیں جن کی تفصیل ذیل
میں دی جا رہی ہے۔ ارشادِ ربانی ہے: فَاضْرِبُوْا فَوْقَ الْأَعْنَاقِ وَاضْرِبُوْا مِنْهُمْ كُلَّ بَنَانٍ O ذلِكَ بِأَنَّهُمْ شَاقُّوا اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَمَنْ يُّشَاقِقِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ فَإِنَّ اللَّهَ شَدِيدُ الْعِقَابِ. (۳۶) اُن کے سر مار (کر) اڑا دو اور اُن کا پور پور مار (کر توڑ) دو۔ یہ (سزا) اسلئے دی گئی کہ انہوں نے اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کی اور جو شخص اللہ اور اُس کے رسول کی مخالفت کرتا ہے تو اللہ بھی سخت عذاب دینے والا ہے۔
اس آیت میں جو لفظ ”یشاقق“ استعمال ہوا ہے، لغت میں اس کے معنی مخالفت کے علاوہ عداوت رکھنا اور تکلیف و ایذا پہنچانا بھی آتے ہیں۔ (۳۷) نیز مفسرین اس آیت میں ”يُشَاقِقِ اللهَ وَ رَسُولَه“ سے مراد اللہ کے رسول کو ایذا پہنچانے اور ان سے گستاخی کی کوشش لیتے ہیں اور ایسے گستاخوں کی اس دنیا میں سزا موت اور آخرت میں دردناک عذاب ہے۔ (۳۸) جیسا کہ دوسری آیات میں بھی ذکر کیا گیا ہے: وَمَنْ يُشَاقِقِ الرَّسُوْلَ مِنْ بَعْدِ مَا تَبَيَّنَ لَهُ الْهُدَى وَيَتَّبِعُ غَيْرَ سَبِيْلِ الْمُؤْمِنِينَ نُوَلِّهِ مَا تَوَلَّى وَنُصْلِهِ جَهَنَّمَ وَسَاءَتْ مَصِيْراً. (۳۹) اور جو شخص سیدھا رستہ معلوم ہونے کے بعد پیغمبر کی مخالفت کرے اور مومنوں کے رستے کے سوا اور رستے پر چلے تو جدھر وہ چلتا ہے ہم اسے اُدھر ہی چلنے دیں گے اور (قیامت کے دن) جہنم میں داخل کریں گے اور وہ بُری جگہ ہے۔ لَعَذَّبَهُمْ فِي الدُّنْيَا وَلَهُمْ فِي الْآخِرَةِ عَذَابُ النَّارِ O ذلِكَ بِأَنَّهُمْ شَاقُّوا اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَمَنْ يُشَاقِّ اللَّهَ فَإِنَّ اللَّهَ شَدِيدُ الْعِقَابِ. (۴۰) ان کو دنیا میں بھی عذاب دے دیتا اور آخرت میں تو ان کے لئے
آگ کا عذاب (تیار) ہے۔
رسول کی مخالفت کی اور جو شخص دینے والا ہے۔ اسلام اور رسول کریم ﷺ کے بالکل واضح ہیں اور اس بارے میں کسی نرمی رحمت تھے انھوں نے بھی ”رحمۃ للعالمین سے کسی قسم کی کوئی رعایت نہیں برتی۔ خود ان إِنِّي أَبْعَثُ لِأُعَذِّبَ بِعَذَابٍ الْأَعْنَاقِ وَخُذِ الْوَثَاقِ (٤١ میں اللہ کے عذاب کے ساتھ کر نہیں بھیجا گیا لیکن میں نے کرنے کے لیے بھیجا گیا ہوں
توہین رسالت کے مجرموں سے
جب کافروں نے نبی کریم ﷺ کو تکلیف و ایذا پہنچانے کی کوئی کسر نہ مسلمانوں کو اجازت دی گئی کہ وہ ان ط ﷺ کے اور پیغام حق کے خلاف برسرِ وَطَعَنُوْا فِي دِيْنِكُمْ فَقَا لَعَلَّهُمْ يَنْتَهُوْنَ. (٤٢) اور تمہارے دین میں طعن کر ان کی قسموں کا کوئی اعتبار نہ
رسول اللہ ﷺ کے شاتم کی سزا
اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: وَمَا كَانَ لَكُمْ أَنْ تُؤْذُوْا
آگ کا عذاب (تیار) ہے۔ یہ اس لئے کہ انہوں نے اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کی اور جو شخص اللہ کی مخالفت کرے تو اللہ سخت عذاب دینے والا ہے۔
اسلام اور رسول کریم ﷺ کے دشمنوں اور گستاخوں کے بارے میں یہ قرآنی احکام بالکل واضح ہیں اور اس بارے میں کسی نرمی کی گنجائش نہیں ہے کیوں کہ نبی کریم ﷺ جو کہ سراپا رحمت تھے انھوں نے بھی ”رحمۃ للعالمین“ ہونے کے باوجود قانون شکن عناصر اور گستاخوں سے کسی قسم کی کوئی رعایت نہیں برتی۔ خود آپ کا ارشاد گرامی ہے: إِنِّي لَمْ أُبْعَثْ لِأُعَذِّبَ بِعَذَابِ اللَّهِ إِنَّمَا بُعِثْتُ بِضَرْبِ الرِّقَابِ أَيِ الْأَعْنَاقِ وَشَدِّ الْوَثَاقِ (۴۱)
میں اللہ کے عذاب کے ساتھ لوگوں کو عذاب دینے کے لیے رسول بنا کر نہیں بھیجا گیا لیکن میں بے حرمت باغیوں اور کافروں کی گردنیں قلم کرنے کے لیے بھیجا گیا ہوں۔
توہین رسالت کے مجرموں سے لڑنے کا حکم
جب کافروں نے نبی کریم ﷺ کو بے اعتبار و مشکوک ٹھہرانے کی کوشش کی اور آپ کو تکلیف و ایذا پہنچانے کی کوئی کسر اُٹھا نہ رکھی اور آپ کی شان میں ہر قسم کی گستاخی کی تو مسلمانوں کو اجازت دی گئی کہ وہ ان سردارانِ کفر سے جنگ کریں جو کہ لوگوں کو رسول اللہ ﷺ کے اور پیغام حق کے خلاف برانگیختہ کرتے تھے: وَطَعَنُوْا فِي دِينِكُمْ فَقَاتِلُوْا أَئِمَّةَ الْكُفْرِ إِنَّهُمْ لَا أَيْمَانَ لَهُمْ لَعَلَّهُمْ يَنْتَهُوْنَ (۴۲)
اور تمہارے دین میں طعن کرنے لگیں تو ان کفر کے پیشواؤں کو قتل کرو، ان کی قسموں کا کوئی اعتبار نہیں کہ اپنی حرکات سے باز آجائیں۔
رسول اللہ ﷺ کے شاتم کی سزا
اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: وَمَا كَانَ لَكُمْ أَنْ تُؤْذُوْا رَسُوْلَ اللّٰهِ (۴۳) (۴۳)
کسی کے لیے جائز نہیں ہے کہ وہ رسول اللہ کو ایذا پہنچائے۔ إِنَّ الَّذِيْنَ يُؤْذُوْنَ اللَّهَ وَرَسُوْلَهُ لَعَنَهُمُ اللَّهُ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ وَأَعَدَّ لَهُمْ عَذَاباً مُّهِيناً (۴۴) جو لوگ اللہ اور اس کے رسول کو ایذا پہنچاتے ہیں ان پر دنیا اور آخرت میں اللہ کی پھٹکار ہے اور ان کے لیے رسوا کن عذاب تیار کر رکھا ہے۔ وَالَّذِيْنَ يُؤْذُوْنَ رَسُوْلَ اللَّهِ لَهُمْ عَذَابٌ أَلِيْمٌ (۴۵) جو لوگ اللہ کے رسول کو ایذا پہنچاتے ہیں ان کے لیے دردناک عذاب ہے۔
یہ اور اس سے قبل تحریر کی گئی آیات اس بات کا ثبوت مہیا کرتی ہیں کہ توہین دین و رسالت نا قابل معافی جرم ہے جس کی سزا موت ہے اور حضور نبی اکرم ﷺ کے عمل سے اس سزا کی تصدیق وتوثیق ہوتی ہے کیوں کہ آپ نے ایسے کافر، بے حرمت اور گستاخ افراد کی گردن مارنے کا حکم خود کئی بار صادر فرمایا ہے۔ کعب بن اشرف یہودی جو کہ نبی اکرم ﷺ کی شان میں گستاخی کیا کرتا تھا، اس کے بارے میں آپ ﷺ نے فرمایا: مَنْ لِّكَعْبِ ابْنِ اَشْرَفَ فَاِنَّهُ قَدْ آذَى اللَّهَ وَ رَسُوْلَهُ (۴۶) تم میں سے کون کعب بن اشرف سے نمٹے گا؟ کیوں کہ اس نے اللہ اور اس کے رسول کو تکلیف پہنچائی ہے۔ اسی طرح آپ نے ابو رافع اور عقبہ بن ابی معیط کو قتل کرنے کا حکم دیا۔ (۴۷)
گستاخوں کا طویل سوہان روح
قرآن حکیم نے اسلام اور نبی کریم ﷺ کے خلاف کافرانہ حرکتوں، بے حرمتی ، شر اور غداری پر مصر افراد کے لیے سخت اور طویل سوہان روح کا اعلان کیا ہوا ہے: سَنُعَذِّبُهُم مَّرَّتَيْنِ ثُمَّ يُرَدُّوْنَ إِلَى عَذَابٍ عَظِيْمٍ (۴۸) ہم ان کو دوہرا عذاب دیں گے پھر وہ بڑے عذاب کی طرف لوٹائے جائیں گے۔
توہین رسالت کے مرتکب افراد سے میل جول کی ممانعت
توہین رسالت کے مرتکب لوگوں سے تعلقات رکھنا اور ان سے اختلاط کسی صورت
بھی روا نہیں ہے۔ اس ضمن ڈاکٹر حامد رضا رقم طراز ہیں:
مسلمان اگر دیکھیں یا سنیں کہ قرآن کریم کا مذاق اُڑایا جا رہا ہے اور رسول اللہ ﷺ کی ذات اقدس کو ہدف تنقید بنایا جا رہا ہے تو ان کا فرض ہے کہ وہ ایسی حرکتوں کے خلاف ردّ عمل ظاہر کریں اور ایسے لوگوں سے ہر قسم کا تعلق ختم کر لیں ایسا کرنے میں ناکامی کا مطلب یہ ہوگا کہ مسلمان بھی ان جیسے ہوگئے ہیں۔ (۴۹)
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
وَقَدْ نَزَّلَ عَلَيْكُمْ فِي الْكِتَابِ أَنْ إِذَا سَمِعْتُمْ آيَاتِ اللَّهِ يُكْفَرُ بِهَا وَيُسْتَهْزَأُ بِهَا فَلَا تَقْعُدُوا مَعَهُمْ حَتَّىٰ يَخُوضُوا فِي حَدِيثٍ غَيْرِهِ إِنَّكُمْ إِذًا مِّثْلُهُمْ (۵۰)
اور اللہ نے تم (مومنوں) پر اپنی کتاب میں (یہ حکم) نازل فرمایا ہے کہ جب تم (کہیں) سنو کہ اللہ کی آیتوں سے انکار ہو رہا ہے اور اُن کی ہنسی اڑائی جاتی ہے تو جب تک وہ لوگ اور باتیں (نہ) کرنے لگیں اُن کے پاس مت بیٹھو ورنہ تم بھی انہیں جیسے ہو جاؤ گے۔
اسی طرح جب یہ آیات نازل ہوئیں:
إِنَّ الَّذِينَ يُحَادُّونَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ أُولَٰئِكَ فِي الْأَذَلِّينَ O كَتَبَ اللَّهُ لَأَغْلِبَنَّ أَنَا وَرُسُلِي إِنَّ اللَّهَ قَوِيٌّ عَزِيزٌ O لَّا تَجِدُ قَوْمًا يُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ يُوَادُّونَ مَنْ حَادَّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَلَوْ كَانُوا آبَاءَهُمْ أَوْ أَبْنَاءَهُمْ أَوْ إِخْوَانَهُمْ أَوْ عَشِيرَتَهُمْ (۵۱)
جو لوگ اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کرتے ہیں وہ نہایت ذلیل ہوں گے۔ اللہ کا حکم ناطق ہے کہ میں اور میرے پیغمبر ضرور غالب رہیں گے بیشک اللہ زور آور (اور) زبردست ہے۔ جو لوگ اللہ پر اور روزِ قیامت پر ایمان رکھتے ہیں تم ان کو اللہ اور اس کے رسول کے دشمنوں سے دوستی کرتے ہوئے نہ دیکھو گے خواہ وہ ان کے باپ بیٹے یا
بھائی یا خاندان کے ہی لوگ ہوں۔ أَلَمْ يَعْلَمُوا أَنَّهُ مَنْ يُحَادِدِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ فَأَنَّ لَهُ نَارَ جَهَنَّمَ خَالِداً فِيهَا ذَلِكَ الْخِزْيُ الْعَظِيمُ (۵۲) کیا ان لوگوں کو معلوم نہیں کہ جو شخص اللہ اور اس کے رسول سے مقابلہ کرتا ہے تو اس کے لئے جہنم کی آگ (تیار ہے جس میں وہ ہمیشہ (جلتا) رہے گا یہ بڑی رسوائی ہے۔
ان احکامات کے پیش نظر حالات یہ تھے کہ صحابہ کرام نے اپنے ان رشتہ داروں کو قتل کر دیا تھا یا قتل کرنے کی قسم اُٹھا رکھی تھی جو کہ نبی کریم ﷺ کو گالیاں دیتے یا بیہودہ مذاق کرتے تھے۔ حضرت ابو عبیدہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنے باپ الجراح کو اور حضرت مصعب رضی اللہ تعالیٰ عنہ بن عمیر نے اپنے بھائی کو جو نبی کریم ﷺ کو گالیاں دیتے تھے، خاص طور پر ڈھونڈ کر معرکہء بدر کے دوران قتل کیا۔ اسی طرح حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنے حقیقی بیٹے کو قتل کرنے کی قسم اُٹھا رکھی تھی۔ (۵۳)
قرآن حکیم کے یہ احکام واضح طور پر بتاتے ہیں کہ تمام مسلمانوں کو رسول اللہ ﷺ کے دشمن، شاتم، الزام لگانے والے اور آپ کی شان اقدس میں تنقید یا گستاخی کرنے والے کی برسر عام تحقیر کرنی چاہیے اور اس کو اس جرم کی حقیقی اور واحد سزا موت ( جو نبی کریم ﷺ کے عمل سے بھی ثابت ہے ) تک پہنچانے کا اہتمام کرنا چاہیے۔
حوالہ جات
۱۔ التوبہ ۹: ۲۴
۲۔ البقرہ ۲: ۱۰۴
۳۔ النساء ۴: ۶۴
۴۔ المائدہ ۵: ۸۰
۵۔ النساء ۴: ۴۶
۶۔ النساء ۴: ۱۴
۷۔ البقرہ ۲: ۲۵۳
۸۔ الطور ۵۲: ۴۸
۹۔ آل عمران ۳: ۳۱
۱۰۔ الحجر ۱۵: ۳۹، ۴۰
۱۱۔ یوسف ۱۲: ۲۴
۱۲۔ مریم ۱۹: ۵۱
۱۳۔ ص ۳۸: ۴۵
۱۴۔ کتاب پیدائش باب ۹ (۵)
۱۵۔ کتاب پیدائش باب ۱۲ (۳)
۱۶۔ کتاب پیدائش باب ۱۷ (۱۴)
۱۷۔ پیدائش باب ۲۲: ۳۵
۱۸۔ کتاب پیدائش باب ۱۹: ۳۰
۱۹۔ ۲ سموئیل باب ۱۱: ۱۸ تا ۲۷
۲۰۔ ۱۔سلاطین ۱۱: ۱ تا ۵
۲۱۔ یرمیاہ ۲۳: ۹ تا ۱۴
۲۲۔ متی باب ۱: ۱۶
۲۳۔ گلتیوں ۳: ۱۳
۲۴۔ البقرہ ۲: ۱۳۶
۲۵۔ البقرہ ۲: ۲۸۵
۲۶۔ الانعام ۶: ۱۰۸
۲۷۔ المائدہ ۵: ۷۸
۲۸۔ آل عمران ۳: ۱۸۱
۲۹۔ المائدہ ۵: ۶۴
۳۰۔ البقرہ ۲: ۹۸
۳۱۔ الاعراف ۷: ۷۰-۷۲
۳۲۔ الشمس ۹۱: ۱۴
۳۳۔ الاعراف ۷: ۸۰-۸۱
۳۴۔ ھود ۱۱: ۸۲-۸۳
۳۵۔ الاعراف ۷: ۸۵
اللَّهَ وَرَسُولَهُ فَأَنَّ لَهُ نَارَ جَهَنَّمَ خَالِداً
(۵۲)
جو شخص اللہ اور اس کے رسول سے مقابلہ کی آگ (تیار ہے جس میں وہ ہمیشہ
صرف یہ تھے کہ صحابہ کرام نے اپنے ان رشتہ داروں کو جود کہ نبی کریم ﷺ کو گالیاں دیتے یا بیہودہ مذاق بیدہ نے اپنے باپ الجراح کو اور حضرت مصعب جو نبی کریم ﷺ کو گالیاں دیتے تھے، خاص طور پر طرح حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے
(۵۳)
یہ بتاتے ہیں کہ تمام مسلمانوں کو رسول اللہ ﷺ کی شان اقدس میں تنقید یا گستاخی کرنے والے کی کی حتمی اور واحد سزا موت (جو نبی کریم ﷺ کے کام کرنا چاہیے۔
حوالہ جات
- ۸۔ النور ۲۴: ۵۲
- ۹۔ آل عمران ۳: ۳۱
- ۱۰۔ الحجر ۱۵: ۳۹ ، ۴۰
- ۱۱۔ یوسف ۱۲: ۲۴
- ۱۲۔ مریم ۱۹: ۵۱
- ۱۳۔ ص ۳۸: ۴۵
- ۱۴۔ کتاب پیدائش باب ۹ (۲۰-۲۱)
- ۱۵۔ کتاب پیدائش باب ۱۲ (۱۱ تا ۱۴)
- ۱۶۔ کتاب پیدائش باب ۲۷ (۲۵)
- ۱۷۔ پیدائش باب ۳۵: ۲۲
- ۱۸۔ کتاب پیدائش باب ۱۹: ۳۰-۳۶
- ۱۹۔ ۲ سموئیل باب ۱۱: ۳ تا ۱۸
- ۲۰۔ ۱۔سلاطین ۱۱: ۱ تا ۵
- ۲۱۔ یرمیاہ ۲۳: ۹ تا ۱۴
- ۲۲۔ متی باب ۱: ۱۶
- ۲۳۔ گلتیون ۳: ۱۳
- ۲۴۔ البقرہ ۲: ۱۳۶
- ۲۵۔ البقرہ ۲: ۲۸۵
- ۲۶۔ الانعام ۶: ۱۰۸
- ۲۷۔ المائدہ ۵: ۷۸
- ۲۸۔ آل عمران ۳: ۱۸۱
- ۲۹۔ المائدہ ۵: ۶۴
- ۳۰۔ البقرہ ۲: ۹۸
- ۳۱۔ الاعراف ۷: ۷۰-۷۲
- ۳۲۔ الشمس ۹۱: ۱۳
- ۳۳۔ الاعراف ۷: ۸۰-۸۱
- ۳۴۔ ھود ۱۱: ۸۲-۸۳
- ۳۵۔ الاعراف ۷: ۸۵
- ٣٦۔ الانفال ١٢:٨-١٣
- ٣٧۔ المنجد، ص ٣٩٦، (ش ق ق)
- ٣٨۔ تفسیر ابن کثیر ، ٣٢٥/٢
- ٣٩۔ النساء ١١٥:٤
- ٤٠۔ الحشر ٣:٥٩
- ٤١۔ مصنف ابن ابی شیبہ ، ٣٩٠:١٢، صحیح مسلم ، کتاب الجہاد ، ١١٩، سنن البیہقی ، ٤٠:٧
- ٤٢۔ التوبہ ١٢:٩
- ٤٣۔ الاحزاب ٥٣:٣٣
- ٤٤۔ الاحزاب ٥٧:٣٣
- ٤٥۔ التوبہ ٦١:٩
- ٤٦۔ مستدرک حاکم ، ٢٤٥:٣
- ٤٧۔ صحیح بخاری ، کتاب المغازی ، ١٧، ابن ہشام ، ١٩٥/١، ٢٠٤، ٤٢٦/٢-٤٢٧
الصارم المسلول علی شاتم الرسول ، ص ١٤٢، ١٤٧
- ٤٨۔ التوبہ ١٠١:٩
- ٤٩۔ تحفظ ناموس رسالت اور توہین رسالت ﷺ ایکٹ - ایک تنقیدی مطالعہ“، تحقیقی
مقالہ برائے ایم فل، علوم اسلامیہ علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی، اسلام آباد، ١٩٩٦ء، ص ٣٢-٣٣
- ٥٠۔ النساء ١٢٠:٤
- ٥١۔ المجادلہ ٢٠:٥٨-٢٢
- ٥٢۔ التوبہ ٦٢:٩
- ٥٣۔ تفسیر ابن کثیر ، ١٤/٣
شیخ الحدیث
توہین رسالت
اسلام ذاتِ نبوت ﷺ ایمان لانے کے بعد ہی انسان حلقہ اسل جہاں سے بڑھ کر محبت رکھنا ایمان کا لا میں آنے اور خود قرآن کے معلوم ہو ہے۔ پھر قرآن کریم میں جابجا آپ حضرت محمد ﷺ کی ام ﷺ کی قدر و منزلت اور درجہ و فضیل دنیا میں زندہ رہنے کے حق سے محرو ناموسِ مبارک پر حملہ آور ہو۔ دور ن ہوتی ہے کہ آپ ﷺ نے ایسے گس ظالموں کی سرکوبی اور انہیں راہِ عد
- 1- حضرت علیؓ سے مروی ہ
”ایک یہودی عورت رس کا گلا گھونٹ کر اسے ہلاک کر دیا تو دیا۔“ (ابو داؤد: 4362)
شیخ الاسلام ابن تیمیہؒ ف ”یہ حدیث اس مسئلہ جائز ہے۔ نیز یہ کہ ایسے ذمی کو ع دیں تو ان کو بطریقِ اولیٰ قتل کرنا چ
شیخ الحدیث مولانا محمد علی جانباز
توہین رسالت اور احادیث نبویہ ﷺ
اسلام ذات نبوت ﷺ کے گرد گھومتا ہے، آپ ﷺ کی ذات بابرکات پر ایمان لانے کے بعد ہی انسان حلقہ اسلام میں داخل ہوتا ہے اور نبی آخر الزمان ﷺ سے دنیا جہاں سے بڑھ کر محبت رکھنا ایمان کا لازمی تقاضا ہے۔ دین کے تمام احکامات کے ہمارے علم میں آنے اور خود قرآن کے معلوم ہونے کا مصدر و محور بھی آپ ﷺ کی ہی ذات گرامی ہے۔ پھر قرآن کریم میں جابجا آپ ﷺ کی اطاعت کو اللہ کی اطاعت ہی قرار دیا گیا ہے۔
حضرت محمد ﷺ کی اسلام میں اس قدر بنیادی حیثیت کا تقاضا یہ ہے کہ آپ ﷺ کی قدر و منزلت اور درجہ و فضیلت کا بھی پورا احترام برقرار رکھا جائے اور اس انسان کو دنیا میں زندہ رہنے کے حق سے محروم کر دیا جائے جو محسن انسانیت اور رحمۃ للعالمین ﷺ کی ناموس مبارک پر حملہ آور ہو۔ دور نبوت ﷺ کے درج ذیل واقعات سے یہی بات ثابت ہوتی ہے کہ آپ ﷺ نے ایسے گستاخان کی سزاؤں سے اتفاق کیا یا خود آپ ﷺ نے ایسے ظالموں کی سرکوبی اور انھیں راہ عدم سدھارنے کے لیے اپنے جانثار صحابہ متعین کیے۔
- 1- حضرت علیؓ سے مروی ہے:
"ایک یہودی عورت، رسول اللہ ﷺ کو گالیاں دیا کرتی تھی۔ ایک شخص نے اس کا گلا گھونٹ کر اسے ہلاک کر دیا تو آپ ﷺ نے اس عورت کے خون کو رائیگاں قرار دے دیا۔" (ابو داؤد: 4362)
شیخ الاسلام ابن تیمیہ فرماتے ہیں: "یہ حدیث اس مسئلہ میں واضح حکم رکھتی ہے کہ نبی کو گالیاں دینے والے کو قتل کرنا جائز ہے۔ نیز یہ کہ ایسے ذمی کو بھی قتل کیا جاسکتا ہے، پھر مسلم مرد یا عورت اگر آپ کو گالیاں دیں تو ان کو بطریق اولیٰ قتل کرنا جائز ہے۔ اس لیے کہ یہ عورت بھی ان لوگوں میں سے تھی جن
کے ساتھ معاہدہ کیا گیا تھا۔ رسول اللہ ﷺ جب مدینہ تشریف لائے تو مدینہ کے تمام یہودیوں کے ساتھ مطلق معاہدہ کیا گیا تھا اور ان پر جزیہ بھی نہیں لگایا گیا تھا۔ اہل علم کے مابین یہ مسئلہ متواتر کا درجہ رکھتا ہے۔ امام شافعیؒ فرماتے ہیں کہ علمائے سیر میں سے کوئی بھی اس کی مخالفت نہیں کرتا کہ جب رسول اللہ مدینہ منورہ تشریف لائے تو عام یہودیوں سے بلا جزیہ معاہدہ کیا گیا تھا۔ اور امام شافعیؒ کا یہ قول درست ہے۔" (الصارم المسلول: ص 62)
جب رسول اللہ ﷺ نے یہودیوں کے ساتھ جزیہ کے بغیر معاہدہ کیا پھر ایک یہودی عورت کے خون کو اس لیے رائیگاں قرار دیا کہ وہ رسول اللہ ﷺ کو گالیاں دیا کرتی تھی یا ایک یہودی عورت کے خون کو جس پر جزیہ عائد کیا گیا تھا اور وہ دینی احکام کے پابند بھی تھے، بے کار ٹھہرا دیں تو یہ اولیٰ وافضل ہے اور اگر اس عورت کا قتل جائز نہ ہوتا تو آپ اس عورت کے قاتل کے فعل کی مذمت فرماتے، کیونکہ رسول اللہ ﷺ کا ارشاد گرامی ہے: "جس نے کسی معاہد کو بلاوجہ قتل کیا تو وہ جنت کی خوشبو نہیں پائے گا۔"
(ابن حبان: 291/11، رقم: 8382، صحیح)
اور آپ ﷺ اس عورت کی ضمانت یا معصوم کو قتل کرنے کا کفارہ واجب کرتے۔ جب اس عورت کے خون کو آپ ﷺ نے رائیگاں قرار دیا تو اس سے معلوم ہوا کہ اس کا خون مباح تھا۔
- 2- حضرت عبداللہ بن عباسؓ سے مروی ہے:
"ایک اندھے شخص کی ایک اُم ولد لونڈی تھی جو رسول اللہ ﷺ کو گالیاں دیا کرتی تھی۔ وہ اسے روکتا مگر وہ باز نہ آتی، وہ ڈانٹتا مگر وہ رکتی نہ تھی۔ ایک رات اس نے رسول کریم ﷺ کو گالیاں دینے کا آغاز کیا تو اس نے بھالا لے کر اس کے شکم میں پیوست کر دیا اور اسے زور سے دبایا جس سے وہ ہلاک ہوگئی۔ صبح کو اس کا تذکرہ رسول کریم ﷺ سے کیا گیا تو لوگوں کو جمع کر کے آپ ﷺ نے فرمایا: میں اس آدمی کو قسم دیتا ہوں جس نے یہ قتل کیا اور میرا اس پر حق ہے کہ وہ کھڑا ہو جائے۔ یہ سن کر ایک نابینا آدمی کھڑا ہوا اور لوگوں کی گردنیں پھلانگتا ہوا آپ ﷺ کے پاس آیا اور بیٹھ گیا۔ اس نے کہا: یا رسول ﷺ! (اسے میں نے قتل کیا ہے) وہ آپ ﷺ کو گالیاں دیا کرتی تھی، میں اسے روکتا مگر وہ باز نہ آتی تھی، میں اسے ڈانٹ ڈپٹ کرتا مگر وہ پروا نہ کرتی۔ اس کے بطن سے میرے دو موتیوں جیسے بیٹے ہیں، وہ میری
رفیقہ حیات تھی۔ گزشتہ شب جب وہ آپ ﷺ کو گالیاں بکنے لگی تو میں نے بھالا لے کر اس کے پیٹ میں گاڑ دیا اور اسے زور سے دبایا حتیٰ کہ وہ مرگئی۔ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: گواہ رہو کہ اس کا خون رائیگاں ہے۔“ (سنن ابو داؤد : 4361 ’صحیح‘)
مندرجہ بالا واقعہ میں اگر اس عورت کو قتل کرنا ناروا ہوتا تو رسول کریم ﷺ فرما دیتے کہ اس کو قتل کرنا حرام ہے اور اس کا خون معصوم ہے۔ معصوم کو قتل کرنے کی وجہ سے اس پر کفارے کو واجب قرار دیتے اور اگر وہ اس کی لونڈی نہ ہوتی تو اس پر دیت کو واجب قرار دیتے۔ جب آپ ﷺ نے فرمایا کہ اس کا خون ہدر (رائیگاں) ہے اور ہدر وہ خون ہوتا ہے جس کا قصاص دیا جاتا ہے نہ دیت اور نہ کفارہ تو اس سے معلوم ہوا کہ وہ ذمی ہونے کے باوجود مباح الدم تھی۔ گویا گالیاں دینے کے مذموم فعل نے اس کے خون کو مباح کردیا تھا۔ مزید برآں آپ ﷺ نے اس کے خون کو اس وقت ہدر قرار دیا۔ جب آپ ﷺ کو بتایا گیا کہ گالیاں دینے کی وجہ سے اس کو قتل کیا گیا ہے۔ پس معلوم ہوا کہ اس کا موجب و محرک یہی ہے اور اس واقعہ کی دلالت اس پر واضح ہے۔ (الصارم المسلول علی شاتم الرسول ﷺ : ص 68)
امام شوکانی فرماتے ہیں: ”حدیث ابن عباسؓ اور حدیث اعمیٰ میں اس بات کی دلیل ہے کہ جو شخص نبی کو گالیاں دے، اسے قتل کر دیا جائے۔ ابن منذر نے اس پر اجماع نقل کیا ہے کہ جو شخص صریحاً نبی کو گالیاں دے، اس کا قتل کرنا واجب ہے۔ ابوبکر فارسی جو ائمہ شافعیہ میں سے ہیں، نے کتاب الاجماع میں نقل کیا ہے کہ جو شخص نبی کو گالیاں دے تو وہ تمام ائمہ کے نزدیک کافر ہے، اگر وہ توبہ بھی کرلے تو پھر بھی اس سے سزائے قتل ساقط نہیں ہو سکتی، کیونکہ (بحق) قذف کی حد قتل ہے اور حد قذف توبہ سے ساقط نہیں ہوتی۔“ (نیل الاوطار : 189/7)
نسائی کے شارح امام سندھی فرماتے ہیں: ”حدیث ابن عباسؓ میں اس بات کی دلیل ہے کہ ذمی آدمی جب اللہ اور اس کے رسول کے خلاف زبان درازی سے باز نہ آئے تو اس کا معاہدہ ختم اور اس کا قتل جائز ہے۔“
(حاشیہ نسائی : 109/7)
امام خطابی فرماتے ہیں: ”شاتم رسول کے قتل کے واجب ہونے میں مسلمانوں میں سے کسی کا اختلاف
نہیں ہے لیکن جب شاتم ذمی ہو تو اس میں اختلاف ہے۔ امام مالکؒ و احمد بن حنبل کے نزدیک یہود و نصاریٰ میں سے کوئی بھی آپ ﷺ کو گالیاں دے تو اسے قتل کیا جائے گا، الا یہ کہ وہ مسلمان ہو جائے۔ امام شافعیؒ فرماتے ہیں کہ ذمی آدمی اگر آپ ﷺ کو گالی دے تو اسے قتل کیا جائے گا اور اس سے معاہدہ ختم ہو جائے گا اور وہ اس سلسلہ میں کعب بن اشرف کے قتل والی حدیث سے استدلال کرتے ہیں۔ (معالم السنن: 295/3)
- 3- حضرت علیؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
من سبّ نبیاً فقتل ومن سبّ اصحابہ فجلد (الصارم المسلول: ص 92) "جس نے نبی کو گالی دی، اسے قتل کیا جائے اور جس نے آپ ﷺ کے صحابہؓ کو گالی دی تو اسے کوڑے مارے جائیں۔"
شیخ الاسلام ابن تیمیہؒ فرماتے ہیں: "یہ حدیث اس امر کی دلیل ہے کہ نبی کو گالی دینے والے کو قتل کرنا واجب ہے۔ بظاہر معلوم ہوتا ہے کہ اسے توبہ کا مطالبہ کیے بغیر قتل کیا جائے نیز یہ کہ قتل اس کے لیے حد شرعی ہے۔" حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر حضرت محمد ﷺ تک کسی نبی کو جو بھی گالیاں دے گا یا برا کہے گا تو وہ قتل کا مستحق ہے اور جو صحابہؓ میں سے کسی کو برا کہے گا تو اسے کوڑے لگائے جائیں۔"
- 4- حضرت ابو برزہؓ فرماتے ہیں:
"میں حضرت ابوبکرؓ کی خدمت میں حاضر تھا کہ آپؓ کسی شخص سے ناراض ہوئے تو وہ شخص درشت کلامی پر اتر آیا۔ میں نے کہا: اے خلیفہ رسول ﷺ! آپ مجھے اجازت دیتے ہیں کہ میں اس کی گردن اڑا دوں؟ میرے الفاظ سے ان کا سارا غصہ جاتا رہا اور وہ وہاں سے اٹھ کر گھر چلے گئے اور مجھے بلا بھیجا۔ میں گیا تو مجھ سے فرمایا کہ ابھی تم نے کیا کہا تھا؟ میں نے کہا: یہ کہا تھا کہ مجھے اجازت دیجیے کہ میں اس شخص کی گردن اڑا دوں۔ فرمایا: اگر میں تم کو حکم دیتا تو تم یہ کام کرتے؟ عرض کیا: آپ فرماتے تو ضرور کرتا۔ فرمایا: نہیں! اللہ کی قسم، یہ بات (کہ بدکلامی پر گردن اڑا دی جائے) حضرت محمد ﷺ کے بعد کسی کے لیے نہیں۔"
(سنن ابوداؤد: 4363 'صحیح')
مطلب یہ کہ صرف رسول اللہ ﷺ کی شان میں بدزبانی کرنے والا سزائے موت
کا مستوجب ہے۔ آپ ﷺ کے بعد کوئی انسان ایسا نہیں جس کی بدگوئی کرنے والے کو سزائے موت دی جائے۔ شیخ الاسلام ابن تیمیہ فرماتے ہیں:
"اس حدیث سے معلوم ہوا کہ آپ ﷺ کو یہ حق حاصل تھا کہ اپنے گالی دینے والے کو قتل کرا دیں۔ آپ ﷺ کو یہ حق بھی حاصل تھا کہ اس شخص کو قتل کرنے کا حکم دیں جس کے بارے میں لوگوں کو کچھ علم نہ ہو کہ اسے کیوں قتل کیا جا رہا ہے؟ اس معاملہ میں لوگوں کو آپ ﷺ کی اطاعت کرنا چاہیے، اس لیے کہ آپ ﷺ اسی بات کا حکم دیتے ہیں جس کا اللہ نے انہیں حکم دیا ہو اور آپ ﷺ اللہ کی نافرمانی کا کبھی حکم نہیں دیتے۔ جو آپ ﷺ کی اطاعت کرتا ہے، وہ اللہ کی اطاعت کرتا ہے۔ اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول کریم ﷺ کی دو خصوصیات ہیں: (1) آپ ﷺ جس کو قتل کرنے کا حکم دیں، اس میں آپ ﷺ کی اطاعت کی جائے۔ اور (2) جو شخص آپ ﷺ کو گالیاں دے اور سخت سست کہے، آپ ﷺ اس کو قتل کر سکتے ہیں۔ آپ ﷺ کو یہ دوسرا اختیار جو دیا گیا تھا، وہ آپ ﷺ کی وفات کے بعد بھی باقی ہے۔ لہٰذا جو شخص آپ کو گالی دے یا آپ ﷺ کی شان میں سخت الفاظ کہے تو اسے قتل کرنا جائز ہے بلکہ آپ ﷺ کی وفات کے بعد یہ حکم مؤکد تر ہو جاتا ہے، اس لیے کہ آپ ﷺ کا تقدس اور حرمت وفات کے بعد اور زیادہ کامل ہو جاتی ہے اور آپ ﷺ کی وفات کے بعد آپ ﷺ کی ناموس و آبرو میں سہل انگاری اور تساہل شعاری ممکن نہیں۔ اس حدیث سے مستفاد ہوتا ہے کہ آپ ﷺ کو مطلقاً قلت و کثرت کو ملحوظ رکھے بغیر گالی دینے سے ایسے شخص کا قتل مباح ہو جاتا ہے۔ علاوہ بریں اس حدیث کے عموم سے اس امر پر استدلال کیا جاتا ہے کہ ایسے شخص کو قتل کیا جائے قطع نظر اس سے کہ وہ مسلم ہو یا کافر۔" (الصارم المسلول: ص 94)
شیخ الاسلام ابن تیمیہ نے مسئلہ زیر بحث پر قرآن و سنت کے نصوص اور صحابہ و تابعین کا مسلسل تعامل ذکر کرتے ہوئے آخر میں خلیفہ راشد حضرت عمر بن عبدالعزیز کا یہ واقعہ نقل کیا ہے کہ کسی شخص نے ان کو برا بھلا کہا اور ان کی ہتک عزت کی۔ غالباً اس علاقے کے گورنر نے حضرت عمر بن عبدالعزیز سے استصواب کیا ہوگا کہ ایسے مفسد شخص کو قتل کر دیا جائے؟ تو اس کے جواب میں حضرت عمر بن عبدالعزیز نے گورنر کو لکھا کہ قتل صرف اس شخص کو کیا جاتا ہے جو شان رسالت ﷺ میں دریدہ دہنی کرے۔ لہٰذا اس شخص کو قتل تو نہ کیا جائے، البتہ
سرزنش کے لیے اس کے سر پر کوڑے لگائے جائیں اور یہ کوڑے لگانا بھی محض اس شخص کی اصلاح اور بہتری کے لیے ہے۔ اگر یہ بات نہ ہوتی تو میں اس کے کوڑے لگانے کا بھی حکم نہ دیتا۔ اس واقعہ کو نقل کرنے کے بعد حافظ ابن تیمیہ لکھتے ہیں:
”اور حضرت عمر بن عبدالعزیز کا یہ واقعہ مشہور ہے جبکہ وہ خلیفہ راشد، قرآن وسنت کے عالم اور بے حد متبع سنت ہیں۔ پس شاتم رسول ﷺ کا واجب القتل ہونا صحابہؓ و تابعینؒ کا اجماعی فیصلہ ہے اور کسی ایک صحابیؓ اور ایک تابعیؒ سے بھی اس کے خلاف منقول نہیں۔“
(الصارم المسلول: ص 205)
خلاصہ یہ کہ اسلامی قانون کی رُو سے توہین رسالت ﷺ کا مرتکب سزائے موت کا مستحق ہے اور اس مسئلہ پر تمام صحابہؓ و تابعینؒ اور فقہائے اُمت متفق ہیں۔
- 5- حضرت عبداللہ بن عباسؓ سے مروی ہے، فرماتے ہیں:
”خطمہ قبیلے کی ایک عورت نے رسول اللہ ﷺ کی ہجو کی تو آپ ﷺ نے فرمایا: اس عورت سے کون نمٹے گا؟ اس کی قوم سے ایک آدمی نے کہا: یا رسول اللہ ﷺ! یہ کام میں انجام دوں گا۔ چنانچہ اس نے جا کر اسے قتل کر دیا۔ (الصارم المسلول: ص 95)
مشہور سیرت نگار واقدی نے اس واقعہ کو پوری تفصیل سے ذکر کیا ہے۔ فرماتے ہیں کہ عصما بن مروان، بنی اُمیہ بن زید کے خاندان سے تھی اور یزید بن حسن خطمی کی بیوی تھی۔ یہ رسول کریم ﷺ کو ایذا دیا کرتی تھی۔ اسلام میں عیب نکالتی اور آپ ﷺ کے خلاف لوگوں کو بھڑکایا کرتی تھی۔ عمیر بن عدی خطمی کو جب اس کی باتوں اور اشتعال بازی کا علم ہوا تو اس نے کہا اے اللہ! میں تیرے حضور نذر مانتا ہوں کہ اگر تو نے رسول اللہ ﷺ کو بخیر و عافیت مدینہ لوٹا دیا تو میں اس عورت کو قتل کردوں گا۔ رسول کریم ﷺ اس وقت بدر میں تھے، جب آپ ﷺ بدر سے واپس آئے تو عمیر بن عدی آدھی رات کے وقت اس عورت کے گھر میں داخل ہوئے۔ اس کے اردگرد اس کے بچے سوئے ہوئے تھے اور ایک بچہ اس کے سینے کے ساتھ چمٹا ہوا تھا جسے وہ دودھ پلا رہی تھی۔ عمیر نے اپنے ہاتھ سے عورت کو ٹٹولا تو معلوم ہوا کہ وہ بچے کو دودھ پلا رہی ہے۔ عمیر نے بچے کو الگ کیا پھر اپنی تلوار کو اس کے سینے پر رکھا اور اس کی پشت کے پار کر دیا۔ پھر صبح کی نماز رسول کریم ﷺ کے پیچھے ادا کی۔ جب آپ ﷺ نماز سے فارغ ہوئے تو عمیر کی طرف دیکھ کر فرمایا کہ کیا تو نے بنت مروان کو قتل
کر دیا ہے؟ عرض کیا: جی ہاں! میرے ماں باپ آپ ﷺ پر قربان ہوں۔ عمیر اس بات سے ڈرا کہ اس نے رسول کریم ﷺ کی مرضی کے خلاف کام کیا ہو۔ اس نے کہا: یا رسول اللہ ﷺ کیا اس ضمن میں مجھ پر کوئی چیز واجب ہے۔ فرمایا: نہیں دو بکریاں اس میں سینگوں سے نہیں ٹکراتی۔ یہ فقرہ پہلی مرتبہ رسول کریم ﷺ سے سنا گیا۔ عمیر کہتے ہیں کہ پھر رسول کریم ﷺ نے اردگرد دیکھا اور فرمایا: اگر تم ایسا شخص دیکھنا چاہو جس نے اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی غیبی مدد کی ہے تو عمیر کو دیکھ لو۔
جب حضرت عمیر، رسول ﷺ کے یہاں سے لوٹ کر آئے تو دیکھا کہ اس عورت کے بیٹے لوگوں کی ایک جماعت کے ساتھ اسے دفن کر رہے ہیں۔ جب سامنے آئے تو دیکھا تو وہ لوگ عمیر کی طرف آئے اور کہا: اے عمیر! اسے تو نے قتل کیا ہے؟ عمیرؓ نے کہا: ہاں تم نے جو کرنا ہے کرلو اور مجھے ڈھیل نہ دو۔ مجھے اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! اگر تم سب وہ بات کہو جو وہ کہا کرتی تھی تو میں اپنی تلوار سے تم پر وار کروں گا، یہاں تک کہ میں مارا جاؤں یا تمہیں قتل کردوں۔ اس دن سے اسلام بنی خطمہ میں پھیل گیا۔ قبل ازیں ان میں سے کچھ آدمی ڈر کے مارے اپنے اسلام لانے کو پوشیدہ رکھتے تھے۔ (الصارم المسلول: ص 94 و مجمع الزوائد: 460/6)
- 6۔ واقدی نے لکھا ہے کہ بنو عمرو بن عوف میں ایک شیخ تھا جس کو ابو عفک کہتے تھے۔
نہایت بوڑھا تھا اور اس کی عمر ایک سو بیس سال تھی۔ یہ شخص مدینہ آکر لوگوں کو رسول کریم ﷺ کی عداوت پر بھڑکایا کرتا تھا۔ اس نے اسلام قبول نہیں کیا تھا۔ جب رسول کریم ﷺ بدر تشریف لے گئے اور اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کو فتح و کامرانی سے نوازا تو وہ حسد کرنے لگا اور بغاوت پر اتر آیا اُس نے رسول کریم ﷺ اور صحابہ کی مذمت میں ایک ہجویہ قصیدہ کہا۔
سالم بن عمیر نے نذر مانی کہ میں ابو عفک کو قتل کروں گا یا اسے قتل کرتے ہوئے مارا جاؤں گا۔ سالم اس کی غفلت کی تلاش میں تھا۔ موسم گرما کی ایک رات تھی اور ابو عفک موسم گرما میں قبیلہ بنو عمرو بن عوف کے صحن میں سو رہا تھا۔ اندریں اثنا سالم بن عمیر آیا اور تلوار اس کے جگر پر رکھ دی اور دشمن بستر پر چیخنے لگا۔ اس کے ہم خیال بھاگتے ہوئے اس کے پاس آئے پہلے اس کے گھر میں لے گئے اور پھر قبر میں دفن کردیا۔ کہنے لگے اسے کس نے قتل کیا ہے؟ بخدا اگر ہم کو قاتل کا پتہ چل جائے تو ہم اسے قتل کردیں گے۔
شیخ الاسلام حافظ ابن تیمیہؒ لکھتے ہیں: ”اس واقعہ میں اس امر کی واضح دلیل موجود ہے کہ معاہد اگر اعلانیہ نبی کو گالیاں دے تو اس کا عہد ٹوٹ جاتا ہے۔ اسے دھوکے سے قتل کیا جاسکتا ہے۔“
(الصارم المسلول: ص 104)
- 7- چھٹی حدیث جس سے حضرت امام شافعیؒ نے اس امر پر استدلال کیا ہے کہ ذمی
اگر رسول کریم ﷺ کو گالیاں دے تو اسے قتل کیا جائے۔ اس کا عہد و امان اس سے باقی نہیں رہتا، وہ کعب بن اشرف کا واقعہ ہے۔ امام خطابی المعالم (ج 3 ص 295) میں حضرت امام شافعیؒ سے نقل کرتے ہیں کہ ذمی اگر رسول کریم ﷺ کو گالیاں دے تو اسے قتل کیا جائے۔ اس فعل سے مسلمانوں کی ذمہ داری ختم ہو جاتی ہے۔ اس پر انہوں نے کعب بن اشرف کے واقعہ سے استدلال کیا ہے۔
رسول کریم ﷺ کے سامنے یا آپ ﷺ کے قرب و جوار میں یہود مدینہ کے سوا کوئی مشرک کتابی نہ تھا۔ یہ انصار کے حلیف تھے اور انصار نے حضور ﷺ کی آمد کے آغاز میں اسلام لانے کا پختہ ارادہ نہیں کیا تھا۔ چنانچہ یہود نے رسول کریم ﷺ کے ساتھ مصالحت کر لی اور جنگ بدر کے بعد یہودیوں نے اظہار عداوت کا آغاز کیا اور لوگوں کو آپ ﷺ کے خلاف بھڑکانے لگے۔ چنانچہ رسول کریم ﷺ نے بھی یہود کے خلاف جنگ و پیکار کا ارادہ کیا۔
اس ضمن میں پہلا واقعہ کعب بن اشرف کا پیش آیا۔ مدینہ منورہ میں جب فتح بدر کی بشارت پہنچی تو کعب بن اشرف کو بے حد صدمہ ہوا اور یہ کہا کہ اگر یہ خبر صحیح ہے کہ مکہ کے بڑے بڑے سردار اور اشراف مارے گئے تو پھر زمین کا بطن (اندرون) اس کی ظہر (پشت) سے بہتر ہے یعنی مرجانا جینے سے بہتر ہے تاکہ آنکھیں اس ذلت اور رسوائی کو نہ دیکھیں۔ لیکن جب اس خبر کی تصدیق ہوگئی تو مقتولین بدر کی تعزیت کے لیے مکہ روانہ ہوا اور جو لوگ بدر میں مارے گئے، ان پر مرثیے لکھے جن کو پڑھ پڑھ کر خود بھی روتا تھا اور دوسروں کو بھی رُلاتا تھا اور رسول اللہ ﷺ کے مقابلہ میں لوگوں کو جوش دلا دلا کر آمادۂ قتال کرتا تھا۔ ایک روز قریش کو حرم میں لے کر آیا تو سب نے بیت اللہ کا پردہ تھام کر مسلمانوں سے لڑائی کرنے کا حلف اٹھایا۔ پھر بعد ازاں مدینہ واپس آیا اور مسلمان عورتوں کے متعلق عشقیہ اشعار کہنے شروع کیے۔ (زرقانی: 2 ص 9)
ایک روایت میں ہے کہ بہانے سے بلایا اور کچھ آدمی متعین ک آپ ﷺ آ کر بیٹھے ہی تھے کہ ح کر دیا اور آپ ﷺ فوراً وہاں سے آئے اور واپسی کے بعد اس کے قت
کعب بن مالک رضی الل میں اشعار کہا کرتا تھا اور کفار مکہ مسلمانوں کو طرح طرح کی ایذا فرماتے رہے لیکن جب کسی شرار دیا۔ (ایضاً: 237/7)
صحیح بخاری میں حضر ”تم میں سے کعب ب کے رسول ﷺ کو بہت ایذا د عرض کیا یا رسول اللہ! آپ ﷺ مسلمہؓ نے عرض کیا: یا رسول الل کلمات اور ذوالمعنین الفاظ کہن فرمایا: اجازت ہے۔“ (صحیح بخ
محمد بن مسلمہ ایک د رسول اللہ ہم سے فقرا و مساکی شخص نے ہم کو مشقت میں ڈال ہوں۔ کعب نے کہا: ابھی کیا ہ بن مسلمہؓ نے کہا کہ اب تو ہم کے منتظر ہیں (اور دل میں یہ شکست یقینی ہے جس میں شر بطور قرض دے دیں، کعب
ایک روایت میں ہے کہ ایک مرتبہ کعب بن اشرف نے آپ ﷺ کو دعوت کے بہانے سے بلایا اور کچھ آدمی متعین کر دیے کہ جب آپ ﷺ تشریف لائیں تو قتل کر ڈالیں۔ آپ ﷺ آ کر بیٹھے ہی تھے کہ جبریل امین نے آ کر آپ ﷺ کو ان کے ارادہ سے مطلع کر دیا اور آپ ﷺ فوراً وہاں سے روح الامین کے پروں کے سایہ میں باہر تشریف لے آئے اور واپسی کے بعد اس کے قتل کا حکم دیا۔
(فتح الباری: ج 7 ص 338)
کعب بن مالکؓ راوی ہیں کہ کعب بن اشرف بڑا شاعر تھا۔ رسول ﷺ کی ہجو میں اشعار کہا کرتا تھا اور کفار مکہ کو رسول ﷺ کے مقابلہ کے لیے ہمیشہ بھڑکاتا رہتا تھا اور مسلمانوں کو طرح طرح کی ایذائیں پہنچاتا تھا۔ رسول ﷺ مسلمانوں کو صبر اور تحمل کا حکم فرماتے رہے لیکن جب کسی شرارت سے باز نہ آیا تو آپ ﷺ نے اس کے قتل کا حکم دے دیا۔
(ایضاً: 237/7)
صحیح بخاری میں حضرت جابرؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ نے فرمایا: ”تم میں سے کعب بن اشرف کے قتل کے لیے کون تیار ہے؟ اس نے اللہ اور اس کے رسول ﷺ کو بہت ایذا پہنچائی ہے۔ یہ سنتے ہی حضرت محمد بن مسلمہؓ کھڑے ہو گئے اور عرض کیا یا رسول اللہ! آپ ﷺ اس کا قتل چاہتے ہیں، آپ ﷺ نے فرمایا: ہاں! تو محمد بن مسلمہؓ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! پھر مجھے کچھ کہنے کی اجازت دیجیے (یعنی اسے مبہم تعریفی کلمات اور ذوالمعنین الفاظ کہہ سکوں) جن کو سن کر وہ بظاہر خوش ہو جائے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: اجازت ہے۔“
(صحیح بخاری: 4037)
محمد بن مسلمہؓ ایک روز کعب سے ملنے گئے اور اثنائے گفتگو میں یہ کہا کہ یہ مرد (یعنی رسول اللہ ہم سے فقرا و مساکین پر تقسیم کرنے کے لیے) صدقہ اور زکوٰۃ بہت مانگتا ہے اور اس شخص نے ہم کو مشقت میں ڈال دیا ہے۔ میں اس وقت آپ کے پاس قرض لینے کے لیے آیا ہوں۔ کعب نے کہا: ابھی کیا ہے، آگے چل کر دیکھنا، خدا کی قسم، تم ان سے اکتا جاؤ گے۔ محمد بن مسلمہؓ نے کہا کہ اب تو ہم ان کے پیرو ہو چکے ہیں، ان کو چھوڑنا ہم پسند نہیں کرتے، انجام کے منتظر ہیں (اور دل میں یہ تھا کہ انجام کار اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی فتح اور دشمنوں کی شکست یقینی ہے جس میں شبہ کی ذرہ برابر گنجائش نہیں) اس وقت ہم یہ چاہتے ہیں کہ کچھ غلہ بطور قرض دے دیں، کعب نے کہا: بہتر ہے مگر کوئی چیز میرے پاس رہن رکھ دو۔ ان لوگوں
نے کہا: آپ کیا چیز رہن رکھنا چاہتے ہیں۔ کعب نے کہا: اپنی عورتوں کو میرے پاس رہن رکھ دو۔ ان لوگوں نے کہا: اپنی عورتوں کو کیسے رہن رکھ سکتے ہیں، اول تو غیرت اور حمیت گوارا نہیں کرتی، پھر یہ کہ آپ نہایت حسین و جمیل اور نوجوان ہیں۔ کعب نے کہا: آپ اپنے لڑکوں کو رہن رکھ دو۔ ان لوگوں نے کہا کہ یہ تو ساری عمر کی عار ہے، لوگ ہماری اولاد کو یہ طعنہ دیں گے کہ تم وہی ہو جو ایک یا دو وسق غلہ کے معاوضہ میں رہن رکھے گئے تھے۔ ہاں ہم اپنے ہتھیار تمہارے پاس رہن رکھ سکتے ہیں۔
عکرمہؓ کی ایک مرسل روایت میں ہے کہ ان لوگوں نے یہ کہا کہ آپ کو معلوم ہے کہ ہم ہتھیاروں کے کس درجہ محتاج اور ضرورت مند ہیں۔ لیکن بایں ہمہ یہ ہو سکتا ہے کہ ہتھیار آپ کے پاس رہن رکھ دیں لیکن یہ ناممکن ہے کہ عورتوں اور بیٹوں کو رہن رکھ دیں۔ کعب نے اس کو منظور کیا اور یہ وعدہ ٹھہرایا کہ شب کو آکر غلہ لے جائیں اور ہتھیار رہن رکھ جائیں۔
حسب وعدہ یہ لوگ رات کو پہنچے اور جا کر کعب کو آواز دی۔ کعب نے اپنے قلعہ سے اترنے کا ارادہ کیا۔ بیوی نے کہا کہ اس وقت کہاں جاتے ہو۔ کعب نے کہا: محمد بن مسلمہؓ اور میرا دودھ شریک بھائی ابو نائلہ ہے، کوئی غیر نہیں، تم فکر نہ کرو۔ بیوی نے کہا: مجھے اس آواز سے خون ٹپکتا ہوا نظر آتا ہے۔ کعب نے کہا: شریف آدمی اگر رات کے وقت نیزہ مارنے کے لیے بھی بلایا جائے تو اس کو ضرور جانا چاہیے۔ اسی اثنا میں محمد بن مسلمہؓ نے اپنے ساتھیوں کو یہ سمجھا دیا کہ جب کعب آئے گا تو میں اس کے بال سونگھوں گا۔ جب دیکھو کہ میں نے اس کے بالوں کو مضبوطی سے پکڑ لیا ہے تو فوراً اس کا سر اتار دینا۔ چنانچہ جب کعب نیچے آیا تو سر تا پا خوشبو سے معطر تھا۔ محمد بن مسلمہؓ نے کہا: کیا آپ مجھے اپنے معطر سر کے سونگھنے کی اجازت دیں گے۔ کعب نے کہا: ہاں اجازت ہے۔ محمد بن مسلمہؓ نے آگے بڑھ کر خود بھی سر سونگھا اور اپنے رفقا کو بھی سونگھایا۔ کچھ دیر کے بعد پھر محمد بن مسلمہؓ نے کہا: کیا آپ دوبارہ اپنا سر سونگھنے کی اجازت دیں گے؟ کعب نے کہا: شوق سے۔ محمد بن مسلمہؓ آگے بڑھے اور سر سونگھنے میں مشغول ہوگئے جب سر کے بال مضبوط پکڑ لیے تو ساتھیوں کو اشارہ کیا، فوراً ہی سب نے اس کا سر قلم کر دیا اور آناً فاناً اس کا کام تمام کر دیا۔
(فتح الباری: ج 7 ص 340)
پھر اخیر شب رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں پہنچے۔ آپ ﷺ نے دیکھتے ہی یہ ارشاد فرمایا: ”افلحت الوجوہ“ ان چہروں نے فلاح پائی اور کامیاب ہوئے۔ ان لوگوں نے جواباً عرض کیا: ووجہک یا ر اللہ کے رسول ﷺ اور بع نے الحمد للہ کہا اور اللہ کا شکر ادا
جب یہود کو اس وا ہوئی تو یہود کی ایک جماعت سردار اس طرح مارا گیا۔ آپ تھا اور لوگوں کو ہمارے خلاف جواب نہ دے سکے اور جو آئندہ کوئی اس قسم کی حرکت ن
روایات حدیث وا ہیں وہ حسب ذیل ہیں:
- 1- نبی ﷺ کی شا
- 2- آپ ﷺ کی ہ
- 3- غزوات اور متق
- 4- غدر (دھوکہ دہی
- 5- لوگوں کو آپ ﷺ
- 6- دعوت کے بہانے
- 7- دین اسلام پر طع
لیکن قتل کا سب شتم اور آپ ﷺ کی ہج المسلول علی شاتم الر امام زہریؒ نے قَبْلِكُمْ وَمِنَ الَّذِيْنَ اُوْتُوْا اور مشرکین سے بہت بدگو
(عیون الاثر: 300/1)
جواباً عرض کیا: وجہک یا رسول اللہ! اور سب سے پہلے آپ ﷺ کا چہرہ مبارک اے اللہ کے رسول ﷺ اور بعد ازاں کعب بن اشرف کا سر آپ ﷺ کے سامنے رکھ دیا۔ آپ نے الحمد للہ کہا اور اللہ کا شکر ادا کیا۔ (فتح الباری: ج 7 ص 340)
جب یہود کو اس واقعہ کا علم ہوا تو یک لخت مرعوب اور خوفزدہ ہوگئے اور جب صبح ہوئی تو یہود کی ایک جماعت رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی اور عرض کیا کہ ہمارا سردار اس طرح مارا گیا۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ وہ مسلمانوں کو طرح طرح کی ایذائیں پہنچاتا تھا اور لوگوں کو ہمارے خلاف قتال پر برانگیختہ کرتا اور آمادہ کرتا تھا۔ یہود دم بخود رہ گئے اور کوئی جواب نہ دے سکے اور بعد ازاں آپ ﷺ نے ان سے ایک عہد نامہ لکھوایا کہ یہود میں سے آئندہ کوئی اس قسم کی حرکت نہ کرے گا۔ (طبقات ابن سعد: ج 2 ص 34)
روایات حدیث سے کعب بن اشرف کے قتل کے جو وجوہ اور اسباب معلوم ہو سکے ہیں وہ حسب ذیل ہیں:
- 1- نبی ﷺ کی شان میں دریدہ دہنی، سب و شتم اور گستاخانہ کلمات کا زبان سے نکالنا
- 2- آپ ﷺ کی ہجو میں اشعار کہنا
- 3- غزلیات اور عشقیہ اشعار میں مسلمان عورتوں کا بطور تشبیب (یعنی حسن کا) تذکرہ کرنا
- 4- غدر (دھوکہ دہی) اور نقض عہد
- 5- لوگوں کو آپ ﷺ کے مقابلہ کے لیے ابھارنا، اکسانا اور ان کو جنگ پر آمادہ کرنا
- 6- دعوت کے بہانہ سے آپ ﷺ کے قتل کی سازش کرنا
- 7- دین اسلام پر طعن کرنا
لیکن قتل کا سب سے قوی سبب آپ ﷺ کی شان اقدس میں دریدہ دہنی، سب و شتم اور آپ ﷺ کی ہجو میں اشعار کہنا ہے۔ شیخ الاسلام ابن تیمیہؒ نے اپنی کتاب الصارم المسلول علیٰ شاتم الرسول میں ص 70 تا 91 پر اس پر مفصل کلام کیا ہے۔
امام زہریؒ سے مروی ہے کہ آیت وَلَتَسْمَعُنَّ مِنَ الَّذِيْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ مِنْ قَبْلِكُمْ وَمِنَ الَّذِيْنَ اَشْرَكُوْا اَذًى كَثِيْرًا (آل عمران: 186) ”البتہ سنو گے تم اہل کتاب اور مشرکین سے بہت بدگوئی اور بدزبانی“ کعب بن اشرف کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔
(عون الاثر: 300/1)
امام عبدالرزاق بن ہمام یمانی کے مقام اور مرتبہ سے اہل علم واقف ہیں۔ یہ امام بخاریؒ اور امام احمد بن حنبلؒ کے جلیل القدر استاذ اور تبع تابعی ہیں۔ ان کے مجموعہ احادیث کا نام المصنف ہے۔ اس میں اکثر احادیث ثلاثی ہیں اور امام بخاریؒ کی تصریح کے مطابق تمام حدیثیں صحیح ہیں۔ اس میں امام صاحب نے سَبّ النبی ﷺ کا علیحدہ باب قائم کیا ہے۔ جس میں حسب ذیل روایات ذکر کی ہیں۔ ملاحظہ کیجیے:
- ❑ ابن عباسؓ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے حضور ﷺ کے بارے میں دشنام
طرازی کی۔ حضور ﷺ نے فرمایا: کون ہے جو ہمارے اس دشمن کی خبر لے گا؟ اس پر حضرت زبیرؓ نے کہا: میں حاضر ہوں۔ پھر حضرت زبیرؓ نے اس گستاخ کو قتل کردیا تو آپ ﷺ نے حضرت زبیرؓ کو اس کا چھینا ہوا مال عطا کردیا۔ (ج5 ص307)
- ❑ ایک بدبخت عورت آپ ﷺ کو گالیاں دیتی رہتی تھی۔ آپ ﷺ کے حکم سے
حضرت خالد بن ولیدؓ نے اس کو قتل کردیا۔ (ج5 ص307)
- ❑ ایک نصرانی شخص کے بارے میں ہے کہ جس نے رسول اللہ ﷺ کو گالیاں دی
تھیں، اس پر اس کو قتل کردیا گیا تھا۔ (ج5 ص307)
- ❑ حضرت سعید بن جبیرؓ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے حضور ﷺ کی تکذیب
کی۔ آپ ﷺ نے علیؓ اور زبیرؓ سے فرمایا: جاؤ اگر وہ مل جائے تو اسے قتل کردو۔ (ج5 ص308)
- ❑ حضرت علیؓ نے حکم دیا کہ جس نے رسول اللہ ﷺ کی توہین کی، اس کی گردن مار
دی جائے۔ (ج5 ص308)
- ❑ قاضی عیاضؒ نے کتاب الشفا میں ابن قانع سے روایت کی ہے کہ ایک مرتبہ ایک
شخص نے بارگاہِ رسالت ﷺ میں حاضر ہوکر عرض کیا: یارسول اللہ ﷺ! میں نے اپنے والد کو آپ ﷺ کی شان میں گستاخی کرتے ہوئے سنا تو یہ مجھ سے برداشت نہ ہوسکا، اس لیے میں نے اسے قتل کردیا تو آپ ﷺ نے اس سے باز پُرس نہیں فرمائی۔ (الشفا: 489/2)
- 8۔ کعب بن اشرف کے قتل کے بعد رسول اللہ ﷺ نے صحابہؓ کو حکم دیا کہ اس قسم کے
یہود کو جہاں کہیں پاؤ، قتل کرڈالو۔ چنانچہ حویصہ بن مسعود کے چھوٹے بھائی محیصہ بن مسعود
نے ابن سینہ یہودی کو قتل کر ڈالا جو تجارت کرتا تھا اور حویصہ، محیصہ اور دیگر اہل مدینہ سے داد و رسد کا معاملہ رکھتا تھا۔
حویصہ ابھی مسلمان نہ ہوئے تھے اور محیصہ پہلے سے مسلمان تھے۔ حویصہ چونکہ عمر میں بڑے تھے تو انہوں نے محیصہ کو پکڑ کر مارنا شروع کیا اور کہا کہ اے اللہ کے دشمن! تو نے اسے قتل کر ڈالا۔ واللہ! اس کے مال سے کتنی چربی تیرے پیٹ میں ہے۔ محیصہؓ نے کہا : مجھ کو اس کے قتل کا ایسی ذات نے حکم دیا ہے کہ اگر وہ ذاتِ بابرکات تیرے قتل کا بھی حکم دیتی تو واللہ ! تیری بھی گردن اڑا دیتا۔ حویصہ نے کہا : ہاں اللہ کی قسم ! اگر تیری گردن مارنے کا حکم دیتے تو ضرور تیری گردن اڑا دیتا۔ یعنی رسول اللہ ﷺ کے حکم کے بعد ذرہ برابر تیرے بھائی ہونے کا خیال نہ کرتا۔ حویصہ یہ سن کر حیران رہ گئے اور بے ساختہ یہ بول اٹھے کہ خدا کی قسم یہی دین حق ہے جو دلوں میں اس درجہ راسخ، مستحکم اور رگ و پے میں اس درجہ جاری و ساری ہے۔ اس کے بعد حویصہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور سچے دل سے اسلام قبول کیا۔ (استیعاب: 1463/4) اس واقعہ سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ شاتم رسول کی سزا میں دوستی اور بھائی کا رشتہ بھی مانع نہیں آتا۔
- 9- یہ واقعہ علمائے سیر کے نزدیک مشہور ہے کہ آخری واقعہ جو خزاعہ اور کنانہ کے مابین
پیش آیا، وہ یہ ہے کہ انس بن زنیم الدیلی نے رسول اللہ ﷺ کی ہجو کی۔ قبیلہ خزاعہ کے ایک لڑکے نے سن لیا اور اس نے انس پر حملہ کر دیا اور اس کے سر پر چوٹ ماری۔ وہ اپنی قوم کے پاس آیا اور اپنا زخم دکھایا جس سے فتنہ بازی کا آغاز ہوا۔ بنو بکر پہلے ہی خزاعہ سے اپنے خون کا مطالبہ کر رہے تھے۔
واقدی نے لکھا ہے کہ عمرو بن سالم خزاعی، قبیلہ خزاعہ کے چالیس سواروں کے ساتھ رسول کریم ﷺ سے مدد طلب کرنے کے لیے نکلا۔ انہوں نے اس واقعہ کا تذکرہ کیا جو ان کو پیش آیا تھا اور اس قصیدے کا بھی ذکر کیا جس کا پہلا مصرعہ یہ ہے لاہم انی ناشد محمدًا اور جب قافلہ والے فارغ ہوئے تو اُنہوں نے کہا : یا رسول اللہ ﷺ ! انس بن زنیم الدیلی نے آپ کی ہجو کی ہے تو رسول اللہ ﷺ نے اس کے خون کو رائیگاں قرار دے دیا۔ جب انس بن زنیم کو پتہ چلا تو وہ معذرت طلبی کے لیے آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ اس نے رسول اللہ ﷺ کی شان میں مدحیہ کہا اور وہ آپ ﷺ کو سنایا۔
واقدی کہتے ہیں کہ ’حرام‘ نامی شخص نے مجھے وہ قصیدہ سنایا۔ رسول کریم کے پاس وہ قصیدہ بھی پہنچا اور اس نے جو معذرت چاہی تھی وہ بھی پہنچی اور نوفل بن معاویہ الدیلی آپ ﷺ سے ہم کلام ہوا۔ اس نے عرض کیا: یا رسول اللہ ﷺ! آپ ﷺ سب لوگوں سے زیادہ معاف کرنے کے اہل ہیں۔ ہم میں سے کون ہے جس نے آپ ﷺ سے عداوت نہ رکھی ہو اور آپ ﷺ کو ستایا نہ ہو۔ دور جاہلیت میں ہمیں کچھ معلوم نہ تھا کہ کیا چیز لیں اور کیا نہ لیں حتیٰ کہ آپ ﷺ کے ذریعہ اللہ نے ہمیں ہدایت سے نوازا اور آپ ﷺ کی وجہ سے ہمیں ہلاکت سے چھڑایا۔ قافلہ والوں نے اس پر جھوٹ باندھا اور آپ ﷺ کے پاس مبالغہ آمیزی سے کام لیا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: قافلہ کا ذکر چھوڑیئے، ہم نے سرزمین تہامہ میں کسی دور و نزدیک کے رشتہ دار کو نہیں دیکھا جو خزاعہ سے زیادہ اطاعت شعار ہو۔ آپ ﷺ نے نوفل بن معاویہ کو خاموش کرا دیا۔ جب وہ خاموش ہو گیا تو رسول ﷺ نے فرمایا: میں نے اسے معاف کیا۔ نوفل نے کہا: میرے ماں باپ آپ ﷺ پر فدا ہوں۔ (کتاب المغازی: 791/2)
اس واقعہ میں وجہ استدلال یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے حدیبیہ والے سال دس برس کے لیے قریش کے ساتھ مصالحت کر لی تھی۔ قبیلہ خزاعہ آپ ﷺ کا حلیف بن گیا تھا، ان میں سے اکثر مسلمان ہو چکے تھے۔ ان کے مسلم اور کافر رسول ﷺ کے لیے ہمہ تن پیکر ہمدردی و خیر خواہی تھے۔ بنو بکر قریش کے حلیف بن گئے، یہ سب لوگ آپ ﷺ کے معاہد بن گئے۔ اور یہ وہ بات ہے جو تواتر سے ثابت ہے اور اہل علم کے ہاں اس میں کوئی اختلاف نہیں پایا جاتا۔
انس بن زنیم کے بارے میں آپ ﷺ کو بتایا گیا تھا کہ معاہد ہونے کے باوجود اس نے آپ ﷺ کی ہجو کی ہے۔ چنانچہ قبیلہ خزاعہ کے کسی آدمی نے اس کے سر پر چوٹ ماری اور رسول کریم ﷺ کو بتایا کہ اس نے آپ ﷺ کی ہجو لکھی ہے۔ اس سے ان کا مقصد رسول کریم ﷺ کو بنو بکر کے خلاف بھڑکانا تھا۔ رسول کریم ﷺ نے اس کے خون کو رائیگاں قرار دے دیا اور کسی اور کے خون کو رائیگاں قرار نہ دیا۔ اگر انھیں یہ بات معلوم نہ ہوتی کہ معاہد کی ہجو کہنے سے اس سے انتقام لینا واجب ہو جاتا ہے تو وہ ایسا نہ کرتے۔ اسی وجہ سے رسول کریم ﷺ نے اس کے خون کو رائیگاں قرار دیا حالانکہ اس نے معاہد ہوتے ہوئے ہجو گوئی کا ارتکاب کیا تھا۔ لہٰذا یہ اس ضمن میں واضح دلیل ہے کہ ہجو گو معاہد کا خون مباح ہو جاتا ہے۔
بعد ازاں جب وہ عا اسی لیے اسے آپ ﷺ کے صح رسول اللہ اور نبی رسول ا یہ کہ اس کا یوں کہنا ہی اس کا ا اللہ کہے تو اسے مسلم قرار دیا جا شہادت کو یہ کہہ کر رد کر دیا تھا ک عرصہ سے حرب و ضرب کا سلسل تو اسے اس بات کی ضرورت نہ پھر اسلام لانے، مع کے بعد اپنے خون کو رائیگاں قرا کی، حالانکہ معافی تب دی جات کہ اسلام لانے اور معذرت خ ﷺ نے قتل و بربادی کے ب السلول ص 106)
- 10۔ ”رسول اللہ ﷺ
فرمایا جن پر عبداللہ بن عتیک ر آپ ﷺ کے خلاف لوگوں ا ابو رافع کے قتل کا و مفصل طور پر ملاحظہ کیجیے: ف عبداللہ بن عتیک اس کا نام میں رہتا تھا۔ رسول اللہ ﷺ تکلیف پہنچاتا تھا۔ کعب بن کہ وہ مسلمانوں پر ابھار کر لا مسلمانوں کی عداوت میں ب کعب بن اشرف
بعد ازاں جب وہ حاضر ہوا تو اس نے اپنے اشعار میں اسلام لانے کا اظہار کیا۔ اسی لیے اسے آپ ﷺ کے صحابہؓ میں شمار کیا گیا ہے۔ اس کے اشعار میں یہ الفاظ کہ 'نعلم رسول اللہ اور نبی رسول اللہ' اس بات پر دلالت کرتے ہیں کہ وہ پہلے اسلام لا چکا تھا یا یہ کہ اس کا یوں کہنا ہی اس کا اسلام لانا ہے۔ اس لیے کہ بت پرست جب محمد رسول اللہ کہے تو اسے مسلم قرار دیا جائے گا۔ اس نے ہجو گوئی سے انکار بھی کیا تھا اور ان لوگوں کی شہادت کو یہ کہہ کر رد کر دیا تھا کہ وہ اس کے دشمن ہیں، اس لیے کہ دونوں قبیلوں کے درمیان عرصہ سے حرب و ضرب کا سلسلہ چلا آ رہا تھا۔ اگر اپنی اس حرکت سے وہ مباح الدم نہ ہو جاتا تو اسے اس بات کی ضرورت نہ تھی۔
پھر اسلام لانے، معذرت خواہی، مخبرین کی تردید اور رسول کریم ﷺ کی مدح گوئی کے بعد اپنے خون کو رائیگاں قرار دینے کے بارے میں اس نے رسول ﷺ سے معافی طلب کی، حالانکہ معافی تب دی جاتی ہے جب جرم کی سزا دینے کا جواز موجود ہو۔ اس سے معلوم ہوا کہ اسلام لانے اور معذرت خواہی کے بعد بھی آپ ﷺ اسے سزا دے سکتے تھے، مگر آپ ﷺ نے تحمل و بردباری کے پیش نظر اس پر کرم نوازی فرمائی اور اسے معاف کر دیا۔ (الصارم المسلول ص 106)
- 10- ”رسول اللہ ﷺ نے ابو رافع یہودی کو قتل کرنے کے لیے چند انصار کا انتخاب
فرمایا جن پر عبداللہ بن عتیک کو امیر مقرر کیا گیا۔ اور ابو رافع رسول اللہ ﷺ کو ایذا دیتا تھا اور آپ ﷺ کے خلاف لوگوں کی مدد کیا کرتا تھا۔“ (صحیح بخاری: 4039)
ابو رافع کے قتل کا واقعہ جو کتب حدیث و کتب تاریخ و سیر میں ذکر کیا گیا ہے، اسے مفصل طور پر ملاحظہ کیجیے: ابو رافع ایک بڑا مالدار یہودی تاجر تھا۔ ابو رافع اس کی کنیت اور عبداللہ بن ابی الحقیق اس کا نام تھا، اسے سلام بن ابی الحقیق بھی کہتے تھے۔ خیبر کے قریب گڑھی میں رہتا تھا۔ رسول اللہ ﷺ کا سخت دشمن تھا اور طرح طرح سے آپ ﷺ کو ایذا اور تکلیف پہنچاتا تھا۔ کعب بن اشرف کا معین اور مددگار تھا۔ یہی شخص غزوۂ احزاب میں قریش مکہ کو مسلمانوں پر اُبھار کر لایا تھا اور بہت زیادہ ان کی مالی امداد کی اور ہمیشہ رسول اللہ ﷺ اور مسلمانوں کی عداوت میں روپیہ خرچ کرتا رہتا تھا۔ (البدایہ والنہایہ: 137/4)
کعب بن اشرف کے قاتل محمد بن مسلمہ اور ان کے رفقاء رضی اللہ عنہم چونکہ سب قبیلہ
اوس کے تھے، اس لیے قبیلہ خزرج کو یہ خیال ہوا کہ قبیلہ اوس نے تو رسول کے ایک جانی دشمن اور بارگاہِ رسالت کے ایک گستاخ اور دریدہ دہن کعب بن اشرف کو قتل کر کے سعادت اور شرف حاصل کر لیا۔ لہٰذا ہم کو چاہیے کہ بارگاہِ نبوت کے دوسرے گستاخ اور دریدہ دہن ابو رافع کو قتل کر کے دارین کی عزت و رفعت حاصل کریں۔ چنانچہ آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر ابو رافع کے قتل کی اجازت چاہی تو آپ ﷺ نے اجازت دے دی۔
(فتح الباری: 342/7)
اور عبداللہ بن عتیک، مسعود بن سنان، عبداللہ بن انیس، ابو قتادہ، حارث بن ربعی اور خزاعی بن اسود رضی اللہ عنہم کو اس کے قتل کے لیے روانہ فرمایا اور عبداللہ بن عتیک کو ان پر امیر بنایا اور تاکید فرمائی کہ کسی بچے اور عورت کو ہرگز قتل نہ کرنا۔
(ایضاً: 343/7)
نصف جمادی الاخریٰ 3 ہجری کو حضرت عبداللہ بن عتیک مع اپنے رفقا کے خیبر کی طرف روانہ ہوئے۔
(تاریخ طبری: ج 3 ص 6)
صحیح بخاری میں حضرت براء بن عازب سے مروی ہے کہ غروب آفتاب کے بعد لوگ جب اپنے جانور چرا گاہ سے واپس لا چکے تھے تو یہ لوگ خیبر پہنچے۔ ابو رافع کا قلعہ جب قریب آ گیا تو حضرت عبداللہ بن عتیک نے اپنے رفقا سے کہا: تم یہیں بیٹھو، میں قلعہ کے اندر جانے کی کوئی تدبیر نکالتا ہوں۔ جب بالکل دروازہ کے قریب پہنچ گئے تو کپڑا ڈھانک کر اس طرح بیٹھ گئے جیسے کوئی قضائے حاجت کرتا ہو۔ دربان نے یہ سمجھ کر یہ ہمارا ہی کوئی آدمی ہے، یہ آواز دی کہ اے اللہ کے بندے! اگر اندر آنا ہے تو جلد آؤ ورنہ دروازہ بند کرتا ہوں۔ میں فوراً داخل ہو گیا اور ایک طرف چھپ کر بیٹھ گیا۔
ابو رافع بالا خانہ پر رہتا تھا اور شب کو قصہ گوئی ہوتی تھی۔ جب قصہ گوئی ختم ہوگئی اور لوگ اپنے اپنے گھر واپس ہو گئے تو دربان نے دروازہ بند کر کے چابیوں کا حلقہ ایک کیل پر لٹکا دیا جب سب لوگ سو گئے تو میں اٹھا اور کھونٹی سے چابیوں کا حلقہ اتار کر دروازہ کھولتا ہوا بالا خانہ پر پہنچا اور جو دروازہ کھولتا تھا، وہ اندر سے بند کر لیتا تھا تا کہ لوگوں کو اگر میری خبر بھی ہو جائے تو میں اپنا کام کر گزروں۔ جب میں بالا خانہ پر پہنچا تو وہاں اندھیرا تھا اور ابو رافع اپنے اہل و عیال میں سو رہا تھا۔ مجھ کو معلوم نہ تھا کہ ابو رافع کہاں اور کدھر ہے؟ میں نے آواز دی: اے ابو رافع!...... ابو رافع نے کہا: کون ہے؟ میں نے اسی جانب ڈرتے ڈرتے تلوار کا وار کیا مگر خالی گیا۔ ابو رافع نے ایک چیخ ماری، میں نے تھوڑی دیر بعد آواز بدلی اور ہمدردانہ
لہجے میں کہا ابورافع یہ کیسی آواز ہے؟ ابورافع نے کہا کہ ابھی مجھ پر کسی شخص نے تلوار کا وار کیا ہے۔ یہ سنتے ہی میں نے تلوار کا دوسرا وار کیا جس سے اُسے کاری زخم آیا۔ بعد ازاں میں نے تلوار کی دھار اس کے پیٹ پر رکھ کر اس زور سے دبائی کہ پشت تک پہنچ گئی جس سے میں سمجھا کہ میں اب اس کا کام تمام کر چکا اور واپس ہوگیا اور ایک ایک دروازہ کھولتا جاتا تھا۔ جب سیڑھی سے اُترنے لگا تو یہ خیال ہوا کہ زمین قریب آگئی لیکن اترنے میں گر پڑا اور پنڈلی کی ہڈی ٹوٹ گئی۔ چاندنی رات تھی اور میں نے عمامہ کھول کر ٹانگ کو باندھا اور اپنے ساتھیوں کے پاس آیا اور کہا کہ تم چلو اور رسول اللہ ﷺ کو بشارت سناؤ۔ میں یہیں بیٹھا ہوں، اس کی موت اور قتل کا اعلان سن کر آؤں گا۔ چنانچہ جب صبح ہوئی اور مرغ نے اذان دی تو خبر دینے والے نے قلعہ کی فصیل سے اس کی موت کا اعلان کیا۔ تب میں وہاں سے روانہ ہوا اور ساتھیوں سے آملا اور کہا: تیز چلو، اللہ نے ابورافع کو ہلاک کر دیا۔ ہم وہاں سے چل کر رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور خوشخبری سنائی اور جو واقعہ گزرا تھا، وہ سب بیان کیا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: اپنی ٹانگ پھیلاؤ۔ میں نے ٹانگ پھیلا دی تو آپ نے اپنا دستِ مبارک پھیرا، ایسا معلوم ہوا گویا کبھی شکایت ہی پیش نہ آئی تھی۔ (صحیح بخاری: 4039)
- 11- عبداللہ بن خطل پہلے مسلمان ہوگیا تھا اور رسول اللہ ﷺ نے عامل بنا کر صدقات
وصول کرنے کے لیے بھیجا، ایک غلام اور ایک انصاری ساتھ تھے۔ ایک منزل پر پہنچ کر ابن خطل نے غلام کو کھانا تیار کرنے کے لیے کہا: غلام کسی وجہ سے سو گیا جب بیدار ہوا تو ابن خطل نے دیکھا کہ اس نے ابھی تک کھانا تیار نہیں کیا۔ غصہ میں آکر اس غلام کو قتل کر ڈالا۔ بعد میں خیال آیا کہ حضرت محمد ﷺ ضرور مجھے اس کے قصاص میں قتل کریں گے۔ چنانچہ مرتد ہو کر مکہ چلا آیا اور مشرکین سے جاملا اور صدقات کے اونٹ بھی ساتھ لے گیا۔
آپ ﷺ کی ہجو میں شعر کہتا تھا اور باندیوں کو ان اشعار کے گانے کا حکم دیتا۔ پس اس کے تین جرم تھے: ایک خونِ ناحق، دوسرا مرتد ہو جانا اور تیسرا جرم یہ کہ آپ ﷺ کی ہجو میں شعر کہنا۔ ابن خطل فتح مکہ کے دن خانہ کعبہ کے پردوں کو پکڑے ہوئے تھا کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ”وہیں قتل کر ڈالو۔“ چنانچہ ابو برزہ اسلمیؓ اور سعد بن حریثؓ نے اُسے وہیں جا کر قتل کیا اور حجر اسود اور مقامِ ابراہیم کے درمیان اس کی گردن اُڑا دی گئی۔
(الصارم المسلول: ص 132 و زرقانی شرح موطا: 314/2 و کتاب المغازی از واقدی: 859/2)
فرتنی اور قریبہ یہ دونوں ابن خطل کی لونڈیاں تھیں۔ شب و روز آپ ﷺ کی ہجو گاتی رہتی تھیں۔ مشرکین مکہ کسی مجلس میں جمع ہوتے تو شراب کا دور چلتا اور یہ دونوں آپ ﷺ کی ہجو میں اشعار پڑھتیں اور گاتی بجاتی تھیں۔ ایک ان میں سے ماری گئی اور دوسری نے امن کی درخواست کی تو اس کو امن دے دیا گیا اور حاضر ہو کر مسلمان ہو گئی۔ (زرقانی: 315/2)
سارہ جاریہ بنو المطلب کا خون بھی مباح قرار دے دیا گیا تھا۔ یہ مکہ کی ایک مغنیہ تھی جو آنحضرت ﷺ کی ہجو میں اشعار گایا کرتی تھی۔ کہا گیا ہے کہ یہ وہی عورت تھی جو حضرت حاطب بن ابی بلتعہ کا خط لے کر مکہ کو روانہ ہوئی تھی۔ اس نے مدینہ میں آنحضرت ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر اپنی تنگدستی کی شکایت پیش کر کے آپ ﷺ سے مدد مانگی تھی۔ جس پر آپ ﷺ نے فرمایا: کیا تمھیں اپنے گانے سے کچھ روپیہ نہیں ملتا؟ عرض کیا: جب سے غزوہ بدر میں قریش کے آدمی مارے گئے ہیں، اس وقت سے انہوں نے گانا سننا ہی چھوڑ دیا ہے۔ پس آپ ﷺ نے اس پر ترس کھا کر اس کو ایک اونٹ پر غلہ بار کر کے عنایت فرما دیا جسے لے کر یہ مکہ واپس آ گئی۔ ابن خطل انہیں رسول اللہ ﷺ کی شان میں ہجو لکھ کر دیتا اور یہ گاتی تھی۔ اسی بنا پر فتح مکہ کے دن روپوش ہو گئیں مگر ان کے لیے حضور نبی کریم ﷺ سے امان کی درخواست کی گئی اور اس نے حاضر خدمت ہو کر اسلام قبول کر لیا اور پکی مسلمان رہیں۔ یہ حضرت ابوبکر کے زمانہ خلافت تک زندہ رہیں۔ (کتاب المغازی: 860/2)
- 12- رسول اللہ ﷺ نے حویرث بن نقیذ کا خون مباح قرار دیا تھا کیونکہ یہ آپ ﷺ
کی شان میں گستاخانہ باتیں کرتا اور آپ ﷺ کی ہجو میں اشعار کہتا تھا۔ جب آپ ﷺ مکہ میں تھے تو آپ کو بہت اذیت پہنچایا کرتا تھا اور جب آپ ﷺ کی صاحبزادی حضرت زینب نے مکہ سے ہجرت فرمائی تو ان کے اونٹ کو لکڑی چبھو کر بھڑکانے میں یہ بھی ہبار بن اسود کا شریک تھا۔ اس لیے حضرت علی نے اس کا کام تمام کر دیا۔ (کتاب المغازی للواقدی: 857/2)
٭ ٭ ٭
حافظ حسن مدنی
احادیث میں توہین رسالت ﷺ کے واقعات
ان دنوں اہانتِ رسول ﷺ پر دنیا بھر میں ایک ہنگامہ برپا ہے، اور عالم کفر اظہارِ رائے کی آزادی کے نام پر یہ حق چھیننے پر تلا بیٹھا ہے کہ وہ دنیا کی مقدس و متبرک ترین شخصیت کی من مانی توہین کی اجازت حاصل کرے۔ اس مسئلہ کی دیگر تفصیلات سے قطع نظر ذیل میں ان احادیث کو ذکر کیا جاتا ہے جن میں دورِ نبوی ﷺ میں توہین رسالت ﷺ کرنے والوں کے واقعات درج ہیں کہ رحمۃ للعالمین ﷺ نے ایسے گستاخان کے ساتھ خود کیا سلوک روا رکھا؟ یہ احادیث جہاں ایک مسلمان کے ایمان و ایقان کو تازہ کرتی ہیں، وہاں اسلام کے اہانت انبیا پر غیر متزلزل موقف کی بھی عکاس ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہم مسلمانوں کو اپنے نبی ﷺ کے حقوق پورے کرنے کی توفیق مرحمت فرمائے۔
حضرت علیؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
مَنْ سَبَّ نَبِيًّا قُتِلَ وَ مَنْ سَبَّ اَصْحَابَهُ جُلِدَ
(الصارم المسلول، ص 92)
”جس نے کسی نبی کو گالی دی، اسے قتل کیا جائے گا اور جس نے کسی صحابی کو گالی، اسے کوڑے مارے جائیں گے۔“
(احکام اہل الذمہ لابن قیم 275/1)
علامہ ابن تیمیہؒ فرماتے ہیں:
”یہ حدیث اس امر کی دلیل ہے کہ نبی کو گالی دینے والے کو قتل کرنا واجب ہے۔ بظاہر معلوم ہوتا ہے کہ اسے توبہ کا مطالبہ کیے بغیر قتل کیا جائے نیز یہ کہ قتل اس کے لیے حد شرعی ہے۔“
اس سلسلے میں مختلف صحابہ کرام کے فرامین حسب ذیل ہیں:
حضرت ابوبکرؓ کا فرمان ہے:
لا والله ما كانت لِبَشَرٍ بعد محمدؐ
(سنن ابو داؤد : 4363)
”اپنی توہین کرنے والے کو قتل کرنا نبی ﷺ کے علاوہ کسی کے لیے روا نہیں ہے۔“
حضرت عمرؓ کے پاس ایک آدمی لایا گیا کہ وہ نبی ﷺ کو برا بھلا کہتا تھا تو فرمایا: ”جس نے اللہ کو یا انبیائے کرامؑ میں سے کسی کو گالی دی تو اسے قتل کر دیا جائے۔“
(الصارم المسلول: ص 419)
حضرت علیؓ نے حکم دیا کہ ”جس نے رسول اللہ ﷺ کی توہین کی، اس کی گردن مار دی جائے۔“ (مصنف عبدالرزاق: ج 5 ص 308)
حضرت عبداللہ بن عباسؓ کا فرمان ہے: ”جس مسلمان نے اللہ یا اس کے رسول ﷺ یا انبیا میں سے کسی کو گالی دی، اس نے اللہ کے رسول کی تکذیب کی، وہ مرتد سمجھا جائے گا اور اس سے توبہ کروائی جائے گی، اگر وہ رجوع کر لے تو ٹھیک، ورنہ اسے قتل کر دیا جائے گا اور جو معاہدہ کرنے والا شخص خفیہ یا اعلانیہ، اللہ یا کسی نبی کو بُرا کہے تو اس نے وعدے کو توڑ دیا، اس لیے اسے قتل کر دو۔“ (زاد المعاد 60/5)
اسی حوالے سے دور نبوی کے واقعات اور ان پر نبی کریم ﷺ کا ردِّ عمل ملاحظہ کیجیے:
1- واقعہ کعب بن اشرف
”حضرت جابرؓ کا بیان ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: کعب بن اشرف کو کون قتل کرے گا؟ اس نے اللہ اور اس کے رسول ﷺ کو تکلیف دی ہے۔ محمد بن مسلمہؓ نے کہا: اے اللہ کے رسول ﷺ! کیا آپ ﷺ چاہتے ہیں کہ میں اسے قتل کر دوں؟ آپ نے فرمایا: ہاں! محمد بن مسلمہ نے کہا کہ مجھے اجازت دیجیے، میں اس سے کچھ بات کروں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: کہہ! (جو مصلحت ہو)۔ وہ کعب کے پاس آئے، اس سے باتیں کیں، اپنا اور حضرت محمد ﷺ کا معاملہ بیان کیا اور کہا کہ اس شخص (یعنی رسول اللہ ﷺ) نے صدقہ لینے کا ارادہ کیا ہے اور ہمیں تکلیف میں ڈال دیا ہے۔ جب کعب نے یہ سنا تو کہنے لگا: بخدا ابھی تم کو اور تکلیف ہوگی۔ محمد بن مسلمہؓ نے کہا اب تو ہم نے اس کی اتباع کر لی ہے اور اس کو اس وقت تک چھوڑنا بُرا معلوم ہوتا ہے، جب تک اس کا انجام نہ دیکھ لیں۔ محمد بن مسلمہؓ نے کہا کہ میں چاہتا ہوں کہ تم مجھے ایک وسق یا دو وسق قرض دے دو۔ کعب نے کہا: تم کیا چیز گروی رکھو گے؟ محمد بن مسلمہؓ نے پوچھا: تو کیا چاہتا ہے؟ کعب نے کہا: تم اپنی عورتوں کو میرے پاس گروی رکھ دو۔ محمد بن مسلمہؓ نے کہا: تم تو عرب میں سب سے زیادہ خوبصورت ہو، ہم اپنی عورتیں کیونکر تیرے پاس گروی رکھ دیں؟ ۔۔۔۔ ”اچھا! اپنی اولاد گروی رکھ دو۔ محمد بن مسلمہؓ
نے کہا: ہمارے بیٹے کو لوگ طعنہ دیں گے کہ کھجور کے ایک وسق کے لیے گروی رکھا گیا تھا۔ البتہ ہم اپنے ہتھیار تمہارے پاس گروی رکھ دیں گے۔ کعب نے کہا: ٹھیک ہے! پھر محمد بن مسلمہ نے اس سے وعدہ کیا کہ میں حارث (بن اوس)، ابوعبس بن حبیب اور عباد بن بشر کو لے کر آؤں گا۔ یہ آئے اور رات کو اسے بلایا۔ جب وہ ان کی طرف جانے لگا تو اس کی بیوی نے کہا: مجھے ایسے لگتا ہے جیسے اس آواز سے خون ٹپک رہا ہو۔ کعب نے کہا واہ! یہ تو محمد بن مسلمہ اور اس کا رضاعی بھائی ابونائلہ ہیں اور باہمت مرد کا کام یہ ہے کہ اگر رات کو بھی لڑائی کے لیے بلایا جائے تو چلا آئے۔ محمد (بن مسلمہ) نے (اپنے ساتھیوں سے) کہا کہ جب کعب آئے گا تو میں اپنا ہاتھ اس کے سر کی طرف بڑھاؤں گا اور جب وہ میری گرفت میں آ جائے تو تم اپنا کام کر جانا۔ پھر کعب خوشبو لگائے ہوئے آیا تو انہوں نے کہا: تم سے کتنی عمدہ خوشبو آ رہی ہے۔ کعب نے کہا: ہاں! میرے ہاں فلاں عورت ہے جو عرب کی سب عورتوں سے زیادہ معطر رہتی ہے۔ محمد بن مسلمہ نے کہا اگر تم اجازت دو تو میں تمہارا سر سونگھ لوں۔ کعب نے کہا: ہاں اجازت ہے! محمد نے اس کا سر سونگھا، پھر پکڑا پھر سونگھا پھر کہا: اگر اجازت دو تو دوبارہ سونگھ لوں؟ اور اسے اچھی طرح تھام لیا پھر اپنے ساتھیوں سے کہا: اس کا کام تمام کر دو! اُنہوں نے اسے قتل کر دیا۔ پھر وہ نبی کریم ﷺ کے پاس آئے اور آپ ﷺ کو خبر دی۔“
(صحیح مسلم 1801، بخاری 4037)
- 2- نابینا شخص کا اپنی گستاخ لونڈی کو قتل کرنا
”حضرت ابن عباسؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں ایک نابینا شخص تھا، اس کی (ام ولد) لونڈی تھی جس سے اس کے دو بچے تھے، وہ اکثر اللہ کے رسول ﷺ کو برا بھلا کہتی۔ نابینا اسے ڈانٹتا لیکن وہ نہ مانتی، منع کرتا تو وہ باز نہ آتی۔ ایک رات اس نے نبی کریم ﷺ کا ذکر کرتے ہوئے برا بھلا کہا، وہ شخص کہتا ہے: مجھ سے صبر نہ ہوسکا، میں نے خنجر اٹھایا اور اس کے پیٹ میں دھنسا دیا، وہ مر گئی۔ صبح جب وہ مردہ پائی گئی تو لوگوں نے اس کا تذکرہ نبی ﷺ سے کیا۔ آپ ﷺ نے لوگوں کو جمع کیا اور فرمایا: میں اسے خدا کی قسم دیتا ہوں جس پر میرا حق ہے (کہ وہ میری اطاعت کرے) جس نے یہ کام کیا ہے، وہ اٹھ کھڑا ہو، یہ سن کر وہ نابینا گرتا پڑتا آگے بڑھا اور عرض کی: اے اللہ کے رسول ﷺ! یہ میرا کام ہے، یہ عورت میری لونڈی تھی اور مجھ پر بہت مہربان اور میری رفیق تھی۔ اس کے بطن سے
میرے دو ہیرے جیسے بچے ہیں، لیکن وہ اکثر آپ ﷺ کو برا کہتی تھی، میں منع کرتا تو نہ مانتی، جھڑکتا تو بھی نہ سنتی، آخر گذشتہ رات اس نے آپ ﷺ کا تذکرہ کیا اور آپ ﷺ کی گستاخی کی، میں نے خنجر اٹھایا اور اس کے پیٹ میں مارا، یہاں تک کہ وہ مرگئی۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: سب لوگو گواہ رہو، اس لونڈی کا خون رائیگاں ہے۔‘‘
(صحیح سنن نسائی: 3794، سنن ابوداؤد: 4361)
3- عمیر بن اُمیہ کا اپنی گستاخ بہن کو قتل کرنا
’’حضرت عمیر بن اُمیہ کی ایک بہن تھی۔ جب یہ نبی کریم ﷺ کے پاس جانے کے لیے نکلتے تو یہ انہیں آپ ﷺ کے بارے میں اذیت دیتی اور نبی کریم ﷺ کو گالی دیتی، وہ مشرک تھی۔ ایک دن عمیر نے اس کے لیے تلوار لپیٹ کر ساتھ اٹھالی اور اس کے پاس آئے اور اسے قتل کر دیا۔ اس عورت کے بیٹے کھڑے ہو گئے اور چیخنے لگے اور کہنے لگے: ہمیں معلوم ہے، اسے کس نے قتل کیا؟ یہ کیسے ہوا کہ ہماری ماں قتل کر دی گئی جبکہ ان لوگوں کے ماں باپ بھی مشرک ہیں؟ جب عمیر کو خطرہ لاحق ہوا کہ وہ کہیں اس کے قاتل کی بجائے کسی دوسرے کو قتل نہ کر دیں تو وہ نبی کریم ﷺ کے پاس آئے اور سارے معاملے کی خبر دی، آپ ﷺ نے فرمایا: کیا تو نے اپنی بہن کو قتل کر دیا ہے؟ انہوں نے کہا: ہاں! نبی کریم ﷺ نے پوچھا: تو نے اسے کیوں قتل کیا ہے؟ عمیر نے جواب دیا: وہ آپ ﷺ کو بُرا بھلا کہہ کر مجھے تکلیف دیتی تھی۔ آپ ﷺ نے اس عورت کے بیٹوں کی طرف پیغام بھیج کر، ان سے قاتلوں کے بارے میں دریافت کیا۔ انہوں نے کسی اور کا نام لیا۔ آپ ﷺ نے انہیں صحیح قاتل کے بارے میں بتایا اور اس عورت کا خون رائیگاں قرار دیا۔‘‘
(مجمع الزوائد 260/6، رواتہ ثقات)
4- بنو خطمہ کی گستاخ عورت کا قتل
’’حضرت عبداللہ بن حارث بن فضل اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں کہ عصما بنتِ مروان جو بنو اُمیہ بن زید خاندان سے تعلق رکھتی تھی اور یزید بن زید بن حصین خطمی کی بیوی تھی۔ یہ نبی کو ایذا پہنچاتی، اسلام پر عیب جوئی کرتی اور لوگوں کو نبی کریم ﷺ کے خلاف اُبھارتی تھی اور اکثر یہ اشعار پڑھا کرتی تھی: ”بنو مالک، حبیب اور عوف کی سرین اور بنو خزرج کی سرین کی تم پیروی کرتے ہو۔ کیا وہ تمہیں دوسرے سے پناہ دیتی ہے، جبکہ نہ اس سے مراد
پوری ہوتی ہے اور نہ بچہ جنم لیتا ہے۔ تم سروں کے کٹنے کے بعد اس سے ایسے ہی امید کرتے ہو جیسے گوشت بھننے کے لیے لگائی گئی سلاخ سے شوربے کی اُمید کی جائے۔“
عمیر بن عدی خطمی کہتے ہیں: جب اس عورت کے یہ اشعار اور نبی کریم ﷺ کے خلاف بکواس مجھ تک پہنچی تو میں نے نذر مان لی کہ اے اللہ! اگر تو نے اپنے رسول ﷺ کو مدینہ لوٹا دیا تو میں اس عورت کو ضرور قتل کروں گا۔ اس روز رسول اللہ بدر میں تھے۔ جب رسول اللہ ﷺ واپس آئے تو عمیر بن عدی رات کی تاریکی میں اس کے گھر میں داخل ہوگئے۔ اس وقت اس کے اردگرد اس کے بچے سوئے ہوئے تھے جن میں سے ایک کو وہ اپنا دودھ پلا رہی تھی۔ جب اس نے اپنے ہاتھ سے چھو کر دیکھا تو اس کو لگا کہ وہ بچے کو دودھ پلا رہی ہے۔ عمیر نے بچہ اس سے علیحدہ کیا اور اپنی تلوار اس کے سینے پر رکھی اور اس کے پیٹ کے پار اُتار دی۔ پھر وہ وہاں سے نکلے اور نبی کریم ﷺ کے ساتھ صبح کی نماز پڑھی۔ نبی کریم ﷺ جب نماز سے فارغ ہوئے اور عمیر کی طرف دیکھا تو فرمایا: کیا تو نے مروان کی بیٹی کو قتل کردیا ہے؟ عمیر نے جواب دیا: جی ہاں، اے اللہ کے رسول ﷺ! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں۔ عمیر کو ڈر محسوس ہوا کہ کہیں اس کے قتل کی وجہ سے اللہ کے رسول ﷺ ناراض نہ ہوں۔ انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول ﷺ! کیا اس کا مجھ پر کوئی گناہ تو نہیں ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: اس بارے میں کوئی دورائے نہیں۔ میں نے رسول اللہ کی زبان سے یہ محاورہ پہلی مرتبہ سنا تھا۔ عمیر کہتے ہیں! پھر نبی کریم ﷺ اپنے اردگرد بیٹھے ہوئے لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: اگر تم کسی ایسے آدمی کو دیکھنا پسند کرو جس نے غیب میں اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی نصرت کی ہے تو عمیر بن عدی کو دیکھ لو۔ عمر بن خطاب نے کہا کہ اس نابینے کی طرف دیکھو جو کہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت میں چلتا ہے، آپ ﷺ نے فرمایا: اسے نابینا مت کہو یہ تو بینا ہے۔ عمیر جب رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں واپس لوٹے تو اپنے بیٹوں کو لوگوں کی ایک جماعت کے ساتھ مل کر اسے دفن کرتے ہوئے پایا، جب ان لوگوں نے انہیں مدینہ کی جانب سے آتے ہوئے دیکھا تو ان کی طرف متوجہ ہوئے اور پوچھا: اے عمیر! کیا تم نے اسے قتل کیا ہے؟ عمیر نے جواب دیا: ہاں! چاہو تو تم سب میرے خلاف تدبیر کرلو اور مجھے کوئی مہلت نہ دو۔ اس ذات کی قسم! جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، اگر تم سب بھی وہی بات کہو جو اس نے کہی تھی تو میں تم سب کو اپنی تلوار سے قتل کردوں گا یا
خود مر جاؤں گا۔ یہی وہ دن تھا کہ بنو خطمہ قبیلے میں اسلام غالب ہو ورنہ ان میں ایسے لوگ بھی تھے جو اپنی قوم کے ڈر سے اسلام کو حقیر سمجھتے تھے۔“
(المغازی للواقدی 173،174/1 : الصارم المسلول علی شاتم الرسول 95،94، مجمع الزوائد: 460/6)
5- عبداللہ بن خطل اور عبداللہ بن ابی سرح کا واقعہ
یہ شخص پہلے مسلمان ہو گیا تھا، آپ ﷺ نے اسے عامل زکوۃ بنا کر بھیجا تو صدقات وصول کرنے کے بعد راستے میں اپنے غلام سے ناراض ہو کر اسے قتل کر دیا اور خود مرتد ہو گیا۔ صدقات کے اونٹ ساتھ لے گیا اور جا کر مشرکین مکہ سے مل گیا۔ یہ نبی کریم ﷺ کی شان میں ہجو گوئی کیا کرتا اور اپنی دو لونڈیوں کو کہتا کہ ان اشعار کو گا کر لوگوں کو سناؤ۔ قرتنی اور قریبہ اس کی لونڈیوں کے نام تھے۔ جن میں سے ایک ماری گئی اور دوسری نے امان کی درخواست کی جسے امان دے دی گئی۔
(الصارم المسلول: 132، زرقانی شرح موطا: 314،315/2، المغازی: 859،860/2)
جب مکہ مکرمہ فتح ہو گیا تو نبی کریم نے چار اشخاص اور دو عورتوں کے ماسوا سب کو امان دے دی۔ مصعب بن سعد اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”ان افراد کو جہاں بھی پاؤ حتیٰ کہ کعبہ کے پردوں سے لٹکے ہوئے بھی ملیں تو ان کو قتل کر دو: عکرمہ، عبداللہ بن خطل، مقیس بن صبابہ، عبداللہ بن سعد بن ابی سرح۔ چنانچہ سعید بن حریث اور عمار بن یاسر نے عبداللہ بن خطل کو (بیت اللہ کے پردوں پر لٹکا) پا لیا تو سعید نے زیادہ جوان ہونے کی وجہ سے عمار پر سبقت کر کے اسے قتل کر دیا...... جبکہ عبداللہ بن سرح نے حضرت عثمانؓ کے پاس پناہ لے لی۔ پھر جب نبی کریم ﷺ نے لوگوں کو بیعت کے لیے بلایا تو حضرت عثمان نے عبداللہ کو وہاں پیش کر دیا اور نبی کریم ﷺ کو سفارش کی کہ اسے بیعت فرما لیجیے۔ آپ نے تین بار سر اٹھا کر عبداللہ بن سرح کو دیکھا لیکن اس کا اسلام قبول نہ کیا، آخر کار تیسری بار اس سے بیعت کر لی۔ پھر اپنے صحابہ سے گویا ہوئے: کیا تم میں کوئی سمجھ دار شخص نہیں تھا کہ جب میں عبداللہ کی بیعت قبول کرنے سے انکار کر رہا تھا تو وہ عبداللہ کو قتل کر دیتا؟ صحابہؓ نے جواب دیا: ہمیں کیسے اس بات کا پتہ چلتا (کہ اس کو قتل کر دیا جائے)؟ آپ ہمیں آنکھ سے ہی اشارہ فرما دیتے تو نبی کریم ﷺ نے جواب دیا کہ کسی نبی کی یہ شان
نہیں ہے کہ وہ آنکھوں سے اشارے ک فتح الباری میں عبداللہ بن ا بعض دیگر کتب سیرت میں اس کو توہی
بعض دیگر واقعات
- ❑ ”رسول اللہ نے ابو رافع ی
پر عبداللہ بن عتیک کو امیر مقرر کیا کیو خلاف لوگوں کی مدد کیا کرتا تھا۔“ ( 343،342/7 ، تاریخ طبری : 6/3
- ❑ ”حضرت عروہ بن مح
نے نبی کریم ﷺ کو بُرا بھلا کہا تو
- ❑ ”ایک عورت نبی کریم ﷺ
فرمایا: میرے اس دشمن سے کون میر کو قتل کر دیا ۔“ (مصنف عبدالرزاق
- ❑ ”حضرت علیؓ سے روایت
اور آپ ﷺ کی شان میں گستاخی کریم ﷺ نے اس کے خون کو رائی (السنن
- ❑ ”حضرت عکرمہ جو ابھی
کو ایک مشرک نے گالی دی، نبی کر حضرت زبیرؓ نے کہا: میں ! حضر ﷺ نے مشرک کا مال غنیمت ا اس کے علاوہ بھی چن
- ❑ حویرث بن نقیذ ک
نہیں ہے کہ وہ آنکھوں سے اشارے کرے۔" (سنن نسائی: 4072 ، بخاری 1846) فتح الباری میں عبداللہ بن ابی سرح کا جرم ارتداد ذکر کیا گیا ہے۔ (95/12) جبکہ بعض دیگر کتب سیرت میں اس کو توہین رسالت کا مجرم ٹھہرایا گیا ہے۔
بعض دیگر واقعات
- "رسول اللہ نے ابو رافع یہودی کو قتل کرنے کے لیے چند انصار کا انتخاب فرمایا جن
پر عبداللہ بن عتیک کو امیر مقرر کیا گیا۔ اور یہ ابو رافع رسول اللہ کو ایذا دیا کرتا تھا اور آپ کے خلاف لوگوں کی مدد کیا کرتا تھا۔" (صحیح بخاری: 4039) (مزید تفصیل دیکھیں: فتح الباری: 343،342/7، تاریخ طبری: 6/3)
- "حضرت عروہ بن محمد بلقین کے ایک آدمی سے روایت کرتے ہیں کہ ایک عورت
نے نبی کریم ﷺ کو بُرا بھلا کہا تو حضرت خالد بن ولیدؓ نے اسے قتل کر دیا۔"
(السنن الکبریٰ از امام بیہقی 203/8)
- "ایک عورت نبی کریم ﷺ کی شان میں گستاخی کیا کرتی تھی، تو آپ ﷺ نے
فرمایا: میرے اس دشمن سے کون میرا بدلہ لے گا؟ چنانچہ حضرت خالد بن ولیدؓ گئے اور جا کر اس کو قتل کر دیا۔" (مصنف عبدالرزاق: 9705، المحلیٰ از ابن حزم: 413/11، الشفاء: 951/2)
- "حضرت علیؓ سے روایت ہے کہ ایک یہودی عورت نبی کریم ﷺ کو گالی دیتی تھی
اور آپ ﷺ کی شان میں گستاخی کرتی تھی۔ ایک شخص نے اس کا گلا گھونٹ کر قتل کر دیا تو نبی کریم ﷺ نے اس کے خون کو رائیگاں قرار دے دیا۔" (یعنی خون کا قصاص نہیں لیا)
(السنن الکبریٰ از امام بیہقی 60/7، سنن ابوداؤد: 4362 ضعیف)
- "حضرت عکرمہ جو ابن عباسؓ کے غلام ہیں، ان سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ
کو ایک مشرک نے گالی دی، نبی کریم ﷺ نے فرمایا: میرے دشمن سے میرا بدلہ کون لے گا؟ حضرت زبیرؓ نے کہا: میں! حضرت زبیرؓ نے اس مشرک کو للکارا اور اسے قتل کر دیا، نبی کریم ﷺ نے مشرک کا مال غنیمت انہیں عطا کر دیا۔" (مصنف عبدالرزاق 237/5، 307، رقم 9477)
اس کے علاوہ بھی چند واقعات علمائے سیر نے درج کیے ہیں مثلاً:-
- حویرث بن نقیذ کی ہجو طرازی: نبی کریم ﷺ نے جب اس کا خون جائز قرار
دیا تو حضرت علیؓ نے اس کا کام تمام کر دیا۔
(المغازی از واقدی: 857/2)
- بنو عمرو بن عوف کے شخص ابو عفک کا قتل: یہ 120 سالہ بوڑھا شخص مدینہ
منورہ آ کر لوگوں کو آپ ﷺ کی عداوت پر بھڑکایا کرتا، بالخصوص غزوہ بدر کے بعد اس نے صحابہؓ اور حضور کی شان میں ہجویہ قصیدہ کہا۔ چنانچہ سالم بن عمیر نے اسے قتل کر دیا۔
(الصارم
المسلول: ص 104)
- انس بن زنیم دیلی نے معاہد ہونے کے باوجود آپ ﷺ کی ہجو گوئی کی، چنانچہ
خزاعہ قبیلہ کے ایک نوجوان نے اس پر حملہ کر کے اس کے سر پر لکڑی کی چوٹ ماری۔ لیکن اس نے اپنے گناہ کی معافی، اسلام اور پیغمبر اسلام ﷺ کی شان میں مدح گوئی کی اور معافی کا طالب ہوا۔ رحمۃ للعالمین ﷺ نے اس کا خون پہلے رائیگاں قرار دینے کے باوجود اُسے معاف کر دیا۔
(المغازی: 791/2، الصارم المسلول: ص 106)
- ایک نصرانی شخص کے بارے میں ہے جس نے رسول اللہ ﷺ کو گالیاں دی تھیں
جس پر اس کو قتل کر دیا گیا تھا۔
(مصنف عبدالرزاق: ج 5 ص 307)
- سعید بن جبیرؓ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے حضور ﷺ کی تکذیب کی۔ آپ
ﷺ نے علیؓ اور زبیرؓ سے فرمایا: جاؤ اگر وہ مل جائے تو اسے قتل کر دو۔
(ایضاً: ج 5 ص 308)
- قاضی عیاضؒ نے اپنی کتاب الشفا میں ابن قانع سے روایت کی ہے کہ ایک مرتبہ
ایک شخص نے بارگاہِ رسالت ﷺ میں حاضر ہو کر عرض کیا: یا رسول اللہ ﷺ! میں نے اپنے والد کو آپ ﷺ کی شان میں گستاخی کرتے ہوئے سنا تو یہ مجھ سے برداشت نہ ہو سکا، اس لیے میں نے اسے قتل کر دیا۔ تو آپ ﷺ نے اس سے باز پرس نہیں فرمائی۔ ”الشفا: 489/2“ (اس نوعیت کے واقعات کی مزید تفصیل کے لیے کتب حدیث کے ابواب سبّ النبی ﷺ اور ”محدث“ میں شائع ہونے والے مضمون ’توہین رسالت اور احادیثِ نبویہ‘ (مجریہ مارچ 2006ء) کا مطالعہ کریں)
رسول اللہ ﷺ پر جھوٹ باندھنے یا آپ ﷺ کو جھٹلانے والے کی سزا
اسلام کی رو سے جہاں ذاتِ نبوی کو غیر معمولی عصمت و تقدس حاصل ہے، وہاں فرمانِ نبوی کی حیثیت بھی انتہائی قابلِ احترام ہے اور کسی کے لیے یہ جائز نہیں کہ نبی کریم ﷺ
کے ذمہ کسی قول کا بھی الزام عائد کرنا پھر سے ایسی کوتاہی ہے جہاں زبان رسالت سے جہنم کی وعید صادر ہوئی ہے، وہاں دنیا میں بھی یہ امر سنگین سزا کا مستوجب ہے۔ حتی کہ زیر نظر واقعہ میں تو نبی کریم ﷺ نے ایسے شخص کو قتل تک کرنے کا حکم صادر فرمایا ہے، ملاحظہ کیجیے:
”حضرت سعید بن جبیر بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی تھا، وہ انصار کی ایک بستی کی طرف آیا اور کہا: مجھے رسول اللہ ﷺ نے تمہاری طرف بھیجا ہے اور حکم دیا ہے کہ تم فلاں عورت کی مجھ سے شادی کروا دو۔ اس عورت کے خاندان کے ایک آدمی نے کہا کہ یہ ہمارے پاس ایسی خبر لایا ہے جس کی رسول اللہ ﷺ کی طرف نسبت کا کوئی ثبوت نہیں ہے، اس آدمی کو عزت سے بٹھاؤ، یہاں تک کہ میں رسول اللہ ﷺ سے اس کے بارے میں کوئی اطلاع نہ لے آؤں۔ چنانچہ وہ شخص نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس بات کا تذکرہ کیا، آپ ﷺ نے حضرت علیؓ اور حضرت زبیرؓ کو حکم دیا کہ جاؤ، اگر تم اسے پاؤ تو قتل کر دینا، میرا نہیں خیال کہ تم اسے پا لو گے۔ وہ دونوں گئے تو انہوں نے دیکھا کہ اسے ایک سانپ نے ڈس کر ہلاک کر دیا ہے۔ انہوں نے واپس آ کر نبی کریم ﷺ کو اس بات کی خبر دی، آپ ﷺ نے فرمایا: جو مجھ سے غلط بات منسوب کرتا ہے، اسے چاہیے کہ اپنا ٹھکانا آگ میں بنالے۔“ (دلائل النبوۃ از بیہقی 284/6)
ایسے ہی جو مسلمان شخص نبی کریم ﷺ کے فیصلے کو تسلیم نہ کرے، تو اس کو قتل کر دینے کا تذکرہ بھی زیر نظر حدیث میں ملتا ہے۔ راقم کے پیش نظر یہاں ان واقعات کی تفصیلی بحث پیش نظر نہیں، اس لیے یہ واقعہ بلا تبصرہ ملاحظہ کیجیے:
- ❑ ”حضرت مکحول بیان کرتے ہیں کہ ایک دفعہ کسی مسلمان اور منافق کے درمیان کسی
بات پر جھگڑا ہو گیا وہ دونوں رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے، آپ ﷺ نے منافق کے خلاف فیصلہ فرما دیا۔ پھر وہ دونوں حضرت ابو بکرؓ کی طرف چلے گئے، انہوں نے کہا: جو رسول اللہ ﷺ کے فیصلے کو نہیں مانتا، میں اس کے درمیان فیصلہ نہیں کر سکتا۔ پھر وہ حضرت عمرؓ کے پاس گئے اور ان سے سارا واقعہ بیان کیا۔ عمرؓ نے کہا: میرے واپس آنے تک تم یہیں ٹھہرنا، حضرت عمرؓ گھر سے تلوار سونت کر آئے اور منافق کو قتل کر دیا اور کہا: جو رسول اللہ ﷺ کے فیصلے پر راضی نہیں ہوتا، اس کے لیے میں اسی طرح فیصلہ کرتا ہوں۔ پھر اللہ نے یہ آیت نازل کر دی۔ (فَلَا وَ رَبِّكَ لَا يُؤْمِنُوْنَ حَتّٰى يُحَكِّمُوْكَ...النساء: 65) اسی وجہ سے حضرت عمرؓ
کا لقب ’فاروق‘ پڑ گیا۔“ (تفسیر درمنثور: 181/2، تفسیر ابن کثیر: 789/1)
یہی واقعہ ایک اور حدیث میں یوں بھی بیان ہوا ہے:
”حضرت ابو اسود بیان کرتے ہیں کہ ایک دفعہ دو آدمی رسول اللہ کے پاس جھگڑا لے کر آئے، آپ ﷺ نے ان دونوں کے درمیان فیصلہ فرما دیا۔ جس کے خلاف فیصلہ ہوا تھا، اس نے کہا کہ عمرؓ کے پاس چلتے ہیں۔ جب وہ دونوں حضرت عمرؓ کے پاس آئے تو دوسرے آدمی (جس کے حق میں رسول اللہ ﷺ نے فیصلہ کیا تھا) نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے اس آدمی کے خلاف میرے حق میں فیصلہ فرما دیا ہے، لیکن اس نے کہا: عمرؓ کے پاس چلیے۔
حضرت عمرؓ نے اس سے پوچھا: کیا ایسے ہی ہے؟ اس نے جواب دیا: ہاں! حضرت عمرؓ نے کہا: تم دونوں یہیں ٹھہرو، میں ابھی آ کر تمہارا فیصلہ کرتا ہوں۔ حضرت عمرؓ تلوار سونت کر آئے اور جس نے کہا تھا کہ عمرؓ کے پاس چلو، اسے قتل کر دیا۔ اللہ نے یہ آیت نازل فرمادی: (فَلَا وَ رَبِّكَ لَا يُؤْمِنُوْنَ حَتّٰى يُحَكِّمُوْكَ ......) ”تیرے رب کی قسم! یہ اس وقت تک مومن نہیں ہو سکتے، جب تک تجھے اپنے جھگڑوں میں قاضی تسلیم نہ کر لیں۔“ (النساء 65) (درمنثور 180/2)
۞......۞......۞
ڈاکٹر عامر لیاقت حسین
......کچھ نہیں، صرف امتی بن جائیے!
اسے قسمت کی خرابی کہیے یا قیامت کی علامت کہ ہمارے اردگرد تجدد پسند، جدیدیت کے شیدائی اور مستشرقین سے مرعوب بعض ایسے روشن خیال محققین اور لکھاری بستے ہیں جو نبی کریم ﷺ کی حیات مبارکہ کے مہکتے سرسبز گوشوں پر اپنی ناقص عقل کے وہ بے رنگ و بے ترتیب پودے لگانے میں دھنسے ہوئے ہیں جن میں تحقیق کے پتے ہیں نہ تجربے کی شاخیں....... ان کا سارا رکھ رکھاؤ، مروت، خیال، تکلف اور جذبۂ ہمدردی اُن کے نام ہے جو سید العالمین ﷺ کی شان میں گستاخی کرتے ہیں اور یہ ”اسوۂ رسول ﷺ“ کا واسطہ دے کر امت کے ایمان میں اُن کم ظرفوں کو ”معاف کرنے کے کانٹے“ بڑی مہارت سے لگاتے ہیں۔۔۔۔۔۔ اگر کسی بدبخت نے شہنشاہ کون ومکاں کے عہد مبارک میں توہین کی (عہد سمجھانے کے لیے ہے ورنہ تو یہ عہد بھی اُنہی کا ہے) اور آپ ﷺ نے اسے معاف فرما دیا تو یہ حسن خلق اور وصف رحمۃ للعالمین ﷺ ہے لیکن امت میں سے کسی کو یہ اختیار حاصل نہیں....... حضور ﷺ اپنا حق معاف فرما سکتے ہیں لیکن اگر امتی کسی بد زبان کو نظر انداز کردے تو یہ حسن خلق نہیں، بے حمیتی اور بے غیرتی ہوگی...... امام ابوحنیفہؒ، امام ادریس شافعیؒ، امام محمد مالکؒ، امام احمد بن حنبلؒ اور امام محمد جعفر صادقؒ مکمل طور پر متفق ہیں کہ ایسے بدطینت کو توبہ کا موقع بھی نہیں ملنا چاہیے اور یہ اس لیے کہ اگر توبہ کا دروازہ کھول دیا جائے تو شیطان اپنے عمل خبیثہ کے باعث توبہ کے بہانے اپنے تئیں گرفت سے بچالے گا اور پھر ویسے بھی مجرم کو جرم ثابت ہونے کے بعد توبہ آخرت میں تو شاید بچالے لیکن دنیا سے اس کا تعلق توڑ دینا ہی عین انصاف ہے...... مجھے حیرت تو اس بات پر ہوتی ہے کہ دن رات حدیث کے خلاف لکھنے اور بولنے والے حدیث ہی کا سہارا لینے پر کیوں مجبور ہیں......؟ ان کے نزدیک تو ”قرآن ہی کافی ہے“...... پھر بھلا بتلائیے تو سہی کہ قرآن میں کہاں لکھا ہے کہ ”حضور کانٹے بچھانے والی کی عیادت کو تشریف لے گئے...... یا جنہوں نے استہزا کیا، انہیں معاف فرمادیا...... یا جنہوں نے پتھر برسائے، اُن کے حق میں دعا کی“...... یہ
سب حدیثیں ہی تو ہیں، روایات انہی کو تو کہتے ہیں اور اگر آج سے آپ نے (ماشاء اللہ) احادیث ماننا شروع کر دی ہیں تو پھر صحیح بخاری و مسلم، ابوداؤد اور نسائی کی ان روایات پر بھی ایمان لے آئیے کہ کعب بن اشرف، ابن خطل اور اُس کی دو باندیوں، ابو رافع، حویرث ابن نقید، یہودیہ عصماء شاعرہ، ابو عکف، نضر بن حارث، عقبہ بن ابی محیط، انس بن زنیم الدیلی، ابن سبعینہ اور ام ولد کو اُن کی دریدہ دہنی، سب و شتم، ہجو گوئی اور شانِ الوہیت اور رسالت میں گستاخی کرنے پر نبی کریم ﷺ نے قتل کرنے کا حکم دیا ...... کیا خیال ہے؟ ان پر بھی اثبات میں سر ہلائیں گے یا اپنے مطلب کی روایات کو حسن اور امت مسلمہ کے یقین کو ”ضعیف“ کہہ کر یونہی کام چلائیں گے ......؟ چلیے کچھ دیر کو آپ کی مان بھی لیں تو مجھے کم از کم اتنا بتائیے کہ کیا ہم سب کا یہ ایمان اور عقیدہ نہیں کہ سرکارِ کائنات ﷺ جس کی خاطر اپنا دستِ کرم دعا کے لیے بلند کریں اُس کا بیڑہ پار ہے اور دعا تو بہت دور کی بات ہے اگر وہ نظر عنایت بھی ڈال دیں تو اللہ سبحانہ و تعالیٰ اُس کے اگلے پچھلے سب گناہ معاف فرما دے گا ...... تو پھر یہ لوگ کون ہیں جن کے لیے سورہ توبہ میں اللہ تبارک و تعالیٰ کا اندازِ قہار ہم سب کو لرزا دینے کے لیے کافی ہے اور آیات 79 اور 80 میں وحدہٗ لاشریک کا نور کچھ اس طرح سے کلام کر رہا ہے کہ
سَخِرَ اللّٰهُ مِنْهُمْ ز وَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ o اِسْتَغْفِرْ لَهُمْ اَوْ لَا تَسْتَغْفِرْ لَهُمْ ط اِنْ تَسْتَغْفِرْ لَهُمْ سَبْعِيْنَ مَرَّةً فَلَنْ يَّغْفِرَ اللّٰهُ لَهُمْ ط ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ كَفَرُوْا بِاللّٰهِ وَرَسُوْلِهٖ ط وَاللّٰهُ لَا يَهْدِى الْقَوْمَ الْفٰسِقِيْنَ o
(ترجمہ) ”اللہ انہیں ان کے تمسخر کی سزا دے گا اور ان کے لیے دردناک عذاب ہے۔ آپ خواہ ان (بدبخت، گستاخ اور آپ ﷺ کی شان میں طعنہ زنی کرنے والے منافقوں) کے لیے بخشش طلب کریں یا ان کے لیے بخشش طلب نہ کریں، اگر آپ ﷺ (اپنی طبعی شفقت اور عفو و درگزر کی عادت کریمانہ کے پیش نظر) ان کے لیے ستر مرتبہ بھی بخشش طلب کریں تو بھی اللہ انہیں ہرگز نہیں بخشے گا، یہ اس وجہ سے کہ انہوں نے اللہ اور اُس کے رسول ﷺ کے ساتھ کفر کیا ہے، اور اللہ نافرمان قوم کو ہدایت نہیں دیتا“ ...... اللہ اکبر! یہ کون نامراد و بد نصیب ہیں جن کے لیے اللہ کے حضور میرے سرکار ﷺ کی التجائے بخشش بھی کام نہ آئے گی ...... اے متجدد دین! یہ گستاخانِ رسول ہیں ...... کعبے کے غلاف کے پیچھے چھپنے والے بدطینت و بدخواہ اور مادر کی خیانت سے تولد ہونے والے شاتمانِ مصطفیٰ ہیں اور آج کے
دور کے وہ Rush-Die ہیں جن م چند روشن خیال زعما بے چین ہوئے ہ عیاض میں ہے کہ خلیفہ ہارون رشید گستاخی کرنے والے کا حکم دریافت ک (صفحہ 492 جلد 2) کہ ”اس امت م مرتبہ کسی شخص نے مدینے کی زمین پ لگائے جائیں اور پھر اسے قید کر دیا ج نے فرمایا کہ یہ شخص لائق گردن زنی ہ کرنے والا بھی واجب القتل ہے ی ہیں، بس قتل پر مصر ہیں یا امام اعظم کیے جانے کے بعد اُس کی نماز جنازہ ضرور کیا جائے ...... یا پھر امام جعفر ہیں ...... یقیناً ”آج“ کے (کچھ زدہ گے یا پھر جتنی روایات میں نے بیان ہوں گی اور جان چھوٹ جائے گی س کہیں سے بھی ”ضعیفی“ نہ ٹپکے۔ ملعون کا یہ گھٹیا ناول پڑھا تھا اور ع بار بار کاٹا جائے ...... مگر فی الحال م لیجیے کہ اُن کے زمانہ خلافت میں تلاوت کرتا ...... مقتدیوں کی شک کیوں تلاوت کرتے ہو؟“ کہنے لگ کو چھڑکا ہے“ ...... ابھی اُس کے ل سر قلم کر دیا ...... رُشدی تو بہت دور مسجد کا قصہ ہے ...... لہٰذا میں پناہ م
دور کے وہ Rush-Die ہیں جن کے بارے میں کسی ”دوسری رائے“ کے حصول کے لیے چند روشن خیال زعما بے چین ہوئے جارہے ہیں تا کہ ملعون کی جاں خلاصی ہو سکے۔ شفا قاضی عیاض میں ہے کہ خلیفہ ہارون رشید نے جب امام مالکؒ سے نبی کریم ﷺ کی شان میں گستاخی کرنے والے کا حکم دریافت کیا تو آپ نے کہا کہ ما بقاء الامة بعد شتم نبیها (صفحہ 492 جلد 2) کہ ”اس امت کی کیا زندگی ہے جس کے پیغمبر کو گالیاں دی جائیں“۔ ایک مرتبہ کسی شخص نے مدینے کی زمین کو ”ردی“ کہا تو امام مالکؒ نے فتویٰ دیا کہ اس کو تیس درے لگائے جائیں اور پھر اسے قید کر دیا جائے حالانکہ دنیوی لحاظ سے وہ ایک معزز شخص تھا۔ آپ نے فرمایا کہ یہ شخص لائقِ گردن زنی ہے، اس لیے کہ میرے آقا ﷺ کے طین مبارک کی تحقیر کرنے والا بھی واجب القتل ہے یا پھر امام احمد بن حنبلؒ جو اس ضمن میں توبہ کے قائل ہی نہیں ہیں، بس قتل پر مصر ہیں یا امام اعظم ابو حنیفہؒ جن کے نزدیک توبہ کی صرف اتنی اہمیت ہے کہ قتل کیے جانے کے بعد اُس کی نمازِ جنازہ پڑھا کر مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کر دیا جائے مگر قتل ضرور کیا جائے...... یا پھر امام جعفر صادقؒ جو شاتم رسول سے تلوار کے ذریعے کلام کے قائل ہیں...... یقیناً ”آج“ کے (کچھ زیادہ ہی) اعتدال پسندوں کے لیے یہ آئمہ بھی انتہا پسند ہوں گے یا پھر جتنی روایات میں نے بیان کی ہیں وہ ”عقل کے خلاف“ اور ”نحیف و غریب و ضعیف“ ہوں گی اور جان چھوٹ جائے گی...... حالانکہ میں ابھی جوان ہوں، اس لیے کوشش کرتا ہوں کہ کہیں سے بھی ”ضعیفی“ نہ ٹپکے...... لکھنے کے لیے بہت کچھ ہے...... میں نے 1994ء میں اس ملعون کا یہ گھٹیا ناول پڑھا تھا اور میں جانتا ہوں کہ اس میں ایسا کچھ ہے کہ ہر لفظ پر اس کا سر بار بار کاٹا جائے...... مگر فی الحال سیدنا عمر فاروقؓ کے دور کے اس واقعے کو گرہ باندھ لیجیے کہ اُن کے زمانہ خلافت میں مسجد کا ایک امام قرأتِ جہر میں ہمیشہ عَبَسَ وَ تَوَلّٰی کی تلاوت کرتا...... مقتدیوں کی شکایت پر اُسے طلب کیا گیا اور پوچھا ”کہ صرف یہی سورت کیوں تلاوت کرتے ہو؟“ کہنے لگا ”مجھے مزہ آتا ہے کیونکہ اس میں اللہ تعالیٰ نے حضور ﷺ کو جھڑکا ہے“...... ابھی اُس کے الفاظ ختم ہی ہوئے تھے کہ حضرت عمرؓ نے اپنی تلوار سے اُس کا سر قلم کر دیا...... رشدی تو بہت دور کی بات ہے...... یہ تو پانچ وقت کی نماز پڑھانے والے امامِ مسجد کا قصہ ہے...... لہٰذا میں پناہ مانگتا ہوں ایسی روشن خیالی سے......!!!
۞...۞...۞
ڈاکٹر اسرار احمد
عظمت مصطفیٰ ﷺ ، مغرب کا گستاخانہ رویہ
مغربی ممالک بالخصوص ڈنمارک کے پرنٹ میڈیا نے نبی کائنات حضرت محمد ﷺ کے توہین آمیز خاکے شائع کر کے مسلم دنیا کو ایک بار پھر رنجیدہ کر دیا ہے اور یہ ایسے ہی نہیں ہو رہا بلکہ اس کے پس منظر میں ایک گہری سازش ہے جس کا جائزہ لینا بہت ضروری ہے۔ ہر کوئی جانتا ہے کہ حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ سے ہر مسلمان کے تعلق کی بنیادی نوعیت یہ ہے کہ وہ آپ ﷺ پر ایمان لائے اور آپ ﷺ کی تصدیق کرے۔ اس اقرار و یقین کا نام ”ایمان بالرسالت“ ہے اور اسی سے ہمارے اور حضور اکرم ﷺ کے مابین ایک تعلق اور رشتہ کا آغاز ہوتا ہے۔ ایمان بالرسالت کا لازمی تقاضا ہے کہ آپ ﷺ کی توقیر و تعظیم ہر دنیاوی رشتے اور ناتے سے بڑھ کر کی جائے۔ اسی ایمان کے دو مضمرات ہیں کہ آپ ﷺ کی اطاعت بلاشروط، دل کی آمادگی، پورے انبساط قلب، شرح صدر اور محبت کے ساتھ کی جائے۔ متعدد احادیث مبارکہ میں ایسے شخص کے ایمان کی نفی کر دی گئی ہے جسے نبی کائنات حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی ذات اقدس، دنیا کے تمام انسانوں سے بڑھ کر محبوب نہ ہو۔ حب مصطفیٰ ﷺ کا لازمی نتیجہ یہ ہے کہ آپ ﷺ کی ذات ہمارے لیے آئیڈیل ہو یعنی ان کے ہر طرز عمل کی پیروی و اتباع کو اپنے لیے واجب التعمیل سمجھا جائے۔ گویا ؎
خیاباں خیاباں ارم دیکھتے ہیں
دشمنان اسلام روز اوّل سے مسلمانوں کے نبی ﷺ سے تعلق کو کمزور کرنے کی کوششوں میں لگے ہوئے ہیں اور ان کی ناپاک کوشش ہے کہ مسلمانوں کی محبوب ترین شخصیت کو متنازع بنا دیا جائے تا کہ اس عظمت اور توقیر و تعظیم کو زد پہنچائی جاسکے جو آپ ﷺ کے پیروکاروں کے دلوں میں پائی جاتی ہے ۔ اس سازش میں یہود سرفہرست ہیں اور اُن کی
عداوت کی وجہ یہ ہے کہ حضور پاک ﷺ کا خاندانی تعلق بنی اسرائیل سے نہیں تھا اور یہودیوں کا یہ خیال ہے کہ نبوت صرف اور صرف بنی اسرائیل ہی کا حق ہے۔ ہجرت مدینہ کے بعد اہل مدینہ نے یہودیوں کے پشت پناہ عبداللہ بن ابی کو مسترد کرتے ہوئے آپ ﷺ کو مدینہ کا سربراہ بنا دیا۔ یہ بات یہودیوں پر بجلی بن کر گری اور انہوں نے اُسی دن سے اپنی سازشوں کا مرکز نبی کائنات کی ذات گرامی کو بنالیا۔ اسی طرح امت کو تقسیم کرانے کے لیے ایک اور یہودی مگر بظاہر مسلمان عبداللہ بن سبا نے بھی اہم کردار ادا کیا۔ متعدد مدعیان نبوت کا ظاہر ہونا بھی اسی سازش کا حصہ تھا جن کے خلاف خلیفہ اول حضرت ابوبکر صدیق نے جہاد کا فیصلہ کیا اور ان کا خاتمہ کر کے امت مسلمہ پر عظیم احسان فرمایا۔ برصغیر پاک و ہند میں قادیانی فتنے کو کھڑا کرنے کا مقصد بھی یہی تھا کہ نبوت کے اہم منصب کو متنازع بنایا جا سکے۔ یہی وجہ ہے کہ انگریز نے ایک ایسے ملعون کو منتخب کیا جس کے مذہبی مناظرے اس کی ہر دلعزیزی اور مقبولیت کا ذریعہ بن گئے تھے۔ وہ تو اللہ کی خاص تائید و نصرت شامل حال رہی کہ مسلمانوں کے تمام مکاتب فکر نے متحد ہو کر اس فتنے کا مقابلہ کیا اور اس کی سرکوبی میں اہم کردار ادا کیا۔ اس سلسلے میں سابق وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کا کردار بھی قابل تحسین ہے۔ کچھ سال پہلے برطانیہ کے ملعون سلمان رشدی اور ملعونہ تسلیمہ نسرین کو پناہ دینے کا مقصد بھی یورپ کی اسلام دشمنی ہے۔ اور مسلمانوں کو اس وقت مزید تکلیف پہنچی جب گستاخ رسول سلمان رشدی کو ”سر“ کا خطاب دیا گیا۔ اس مرتبہ پھر یہ فتنہ ایک منظم سازش کے تحت شروع ہوا ہے اور اب کی بار اس کی پشت پر یہود کی ایجنٹ سپر پاور امریکہ کی دجالی طاقت ہے۔ یہ دجالی طاقت اور اس کے اتحادی، یورپ اور دیگر ممالک ایک منظم سازش کے تحت مسلمانوں کا رشتہ نبی اکرم ﷺ سے توڑنا چاہتے ہیں۔ مغربی ممالک کے پرنٹ میڈیا میں بار بار توہین آمیز خاکوں کی اشاعت کے پس پردہ یہی ناپاک جذبہ کارفرما ہے اور حقیقت میں یہی تہذیبوں کی جنگ ہے، جس کا نظریہ امریکی دانشور سیموئیل ہنٹنگٹن نے پیش کیا ہے۔ امریکہ کی تہذیبی جنگ میں تمام مسلمان ممالک کے حکمران امریکی ایجنٹ کا کردار ادا کر رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہالینڈ کے ایک رکن پارلیمنٹ نے یہ گستاخانہ جرأت کی ہے کہ قرآن کے خلاف متنازع فلم بنا ڈالی ہے مگر مجال ہے کہ کسی مسلمان حکمران نے اس مسئلہ پر ہالینڈ یا ڈنمارک کی حکومتوں کو للکارا ہو۔ ماضی میں پاکستان کے ایک نوجوان طالب علم عامر چیمہ کو جرمنی میں پولیس نے بہیمانہ تشدد کر کے شہید
کر دیا تھا جس نے توہین آمیز خاکوں پر احتجاج کیا تھا۔ اس مسئلہ پر بھی حکومت پاکستان کی جانب سے پسپسا سا احتجاج ہوا تھا۔ عالمی طاقتوں کی اسلام دشمنی کا اندازہ اس امر سے لگایا جاسکتا ہے کہ فلسطین میں عرصہ دراز سے اسرائیلی فوج مسلمانوں کے خون سے ہولی کھیل رہی ہے اور اس میں ہمیشہ تب اضافہ ہوتا ہے جب امریکی وزیر خارجہ کونڈالیزا رائس کا دورہ فلسطین و اسرائیل ہوتا ہے مگر اس پر عالمی ادارے مکمل خاموش رہتے ہیں۔ چند دن پہلے اسرائیل کے ایک مذہبی مدرسے پر فائرنگ کے نتیجے میں آٹھ یہودی ہلاک ہونے پر سلامتی کونسل کا اجلاس طلب کرلیا گیا، گویا اسرائیلی انسان ہیں اور مسلمان محض راکھ کا ڈھیر ہیں۔ مگر مغرب کے توہین آمیز خاکوں کی ناپاک جسارت پر کسی عالمی ادارے کے کان پر جوں تک نہیں رینگی۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ مغرب کی اس گھناؤنی سازش کے خلاف پوری قوم متحد ہو مگر ہماری بدقسمتی ہے کہ اس مسئلے پر بھی ہم بٹے ہوئے ہیں اور اب تک یہ سمجھا جارہا ہے کہ یہ مسئلہ صرف اور صرف دینی جماعتوں کا ہے اور وہی ابھی تک میدان میں ہیں جبکہ دوسری جانب سیاسی جماعتیں اس مسئلے سے لاتعلق ہیں۔ حضور نبی کائنات ﷺ کی ذات اقدس ہر مسلمان کے لیے واجب تقدیس و تعظیم ہے۔ اس مسئلے میں کسی قسم کی کمزوری دکھانا ایمان کو خطرے میں ڈالنے کے مترادف ہے۔ لہٰذا اس صورت حال میں ضرورت اس امر کی ہے پوری قوم لازوال اتحاد کا مظاہرہ کرے تاکہ امریکہ اور مغرب کو پیغام دیا جاسکے کہ بنیادی معاملات میں لاکھ اختلافات سہی مگر دینی معاملات بالخصوص ناموس رسالت ﷺ کی خاطر پوری قوم متحد ہے۔ اگر ایسا ہوا تو شاید ہم روز آخرت سید کائنات ﷺ کو منہ دکھا سکیں۔ بقول اقبالؒ ؎
یہ جہاں چیز ہے کیا لوح و قلم تیرے ہیں
مولانا محمد احمد حافظ
کیا حضور نبی کریم ﷺ پر تنقید برداشت کی جاسکتی ہے؟
توہین رسالت کے حالیہ اندوہناک واقعے نے مسلمانوں کے ہر طبقے کو یکساں متاثر کیا ہے۔ آج ہم مسلمانوں کا اہم ترین موضوع اہل مغرب کی توہین رسالت پر مبنی اجتماعی جسارت ہے۔ ہم مغرب کے رویے کو دیکھتے ہوئے اپنے تعلقات کے حوالے سے نظر ثانی پر مجبور ہیں۔ ایک طرف نبی کریم ﷺ کی ذات اقدس کے حوالے سے ایمانی تقاضے ہیں، دوسری طرف مغرب کے ساتھ سیاسی، سفارتی، اقتصادی اور تہذیبی تعلقات ہیں۔ الحمد للہ! یہ اطمینان بخش بات ہے کہ سوا ارب مسلمانوں نے پرزور احتجاجی مظاہروں کے ذریعے مغرب کو یہ پیغام دیا ہے کہ وہ نبی ﷺ کی ذات کے حوالے سے کسی قسم کی مداہنت کے لیے تیار نہیں۔
اس سلسلے میں جہاں ایک طرف لاکھوں افراد کے اجتماعات منعقد ہوئے، وہیں اہل فکر کی محدود نشستیں بھی منعقد ہوئیں اور مغرب کے سامنے ردعمل کے مختلف پیرایوں پر غور و خوض ہوا۔ فکر و نظر پر مبنی ایسی ہی ایک نشست ”مجلس علمی فاؤنڈیشن کراچی“ کے زیر اہتمام 9 مارچ کو ہوئی۔ مجلس علمی مولانا محمد یوسف بنوری، مولانا محمد طاسین رحمہم اللہ کی یادگار ہے اور اس کا اپنا بظاہر محدود مگر ”منتخب“ کتب خانہ ہے۔ آج کل مجلس علمی کے روح رواں ڈاکٹر عامر طاسین ہیں جو اکابر کی علمی میراث کو نہایت خوبی کے ساتھ سنبھالے ہوئے ہیں۔ اس فکری نشست کے داعی بھی وہی تھے۔
اس نشست میں مولانا سید فضل الرحمٰن، ڈاکٹر عبدالرؤف پاریکھ، مولانا طلحہ رحمانی، مولانا سید احمد بنوری، جناب ملک نواز احمد اعوان، مولانا زبیر احمد چترالی، سید عزیز الرحمٰن اور دیگر اہل علم حضرات موجود تھے۔ معروف اسکالر اور قلم کار مولانا زاہد الراشدی جو ان دنوں کراچی کے دورے پر تھے، اس تقریب کے مہمان خصوصی تھے۔ تقریب کا وقت گو کہ تین بجے طے تھا مگر مولانا کی اے آر وائی چینل پر مصروفیت کے باعث ذرا تاخیر سے شروع ہو پائی۔ سلسلۂ کلام کا آغاز مولانا کی طرف سے ہی ہوا، ان کی گفتگو کا خلاصہ یہ تھا:
”آج کل کے گئے گزرے اور مادی دور میں مسلمانوں کا متحد ہو کر تحفظ ناموس رسالت کے لیے آواز بلند کرنا، حضور ﷺ کی ذات گرامی کا اعجاز ہے۔ مغرب، مذہب اور آسمانی ہدایت سے دستبرداری کے مرحلے میں ہے اور حیوانیت پر اتر آیا ہے۔ اس کے ترکش میں دلائل و براہین کے تیر نہیں رہے۔ اب معاملہ صرف توہین آمیز خاکوں کی اشاعت کا نہیں رہا بلکہ یہ مسلمانوں کی زندگی اور موت کا مسئلہ بن گیا ہے۔ مغرب مسلمانوں پر الزام عائد کرتا ہے کہ مسلمان تنقید برداشت نہیں کرتے۔ جب مسلمان تنقید برداشت نہیں کریں گے تو بحث و مباحثہ کیسے ہوگا؟ یہ بات توہین آمیز خاکے شائع کرنے والے اخبار کے ایڈیٹر نے کی ہے۔ اس نے اپنے وضاحتی مضمون میں اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ یہ خاکے عمداً شائع کیے گئے اور ان کا مقصد ایک طرف اظہار رائے کی آزادی کو چیک کرنا اور دوسری طرف مسلمانوں کے اندر حلال و حرام کے امتیازات کو ختم کرنا تھا۔ مولانا نے فرمایا مسلمانوں نے ہمیشہ تنقید کو برداشت کیا ہے اور تنقید کا دلائل کی روشنی میں جواب بھی دیا ہے۔ تنقید اور توہین میں فرق ہے مسلمان تنقید کو برداشت کر لے گا مگر تنقیص و توہین کو برداشت نہیں کرے گا۔ موجودہ صورت حال میں اہل علم و دانش کا فرض ہے کہ وہ آگے بڑھیں اور مغرب کے پیش کردہ چیلنج کا علمی و فکری سطح پر جواب دیں۔“
ممکن ہے کہ اس پیرا گراف میں راقم مولانا زاہد الراشدی کے فرمودات کی کماحقہ ترجمانی نہ کر پایا ہو لیکن آخری بات کہ ”مسلمان تنقید برداشت کر سکتا ہے تنقیص و توہین نہیں“ مولانا کے ہی الفاظ ہیں۔ اس سے زیادہ غیر مبہم الفاظ روزنامہ اسلام نے اپنی 8 مارچ کی اشاعت میں نقل کیے جو انہوں نے جامعہ انوار القرآن کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہے۔ روزنامہ ”اسلام“ کے مطابق مولانا کا کہنا تھا:
”تاریخ گواہ ہے کہ حضور ﷺ کی ذات اور قرآن کریم پر جو تنقید کی گئی تو دلائل سے اس کا جواب دیا گیا، مگر گستاخی کو کبھی بھی معاف نہیں کیا گیا۔ آج بھی مسلمان تنقید برداشت کریں گے مگر توہین کسی صورت برداشت نہیں ہوگی۔“
(روزنامہ اسلام 8 مارچ 2006ء)
اس کے علاوہ مختلف مقامات پر اپنی گفتگو میں انہوں نے اہل مغرب سے مکالمے پر بھی زور دیا اور کہا کہ مغرب سے فکری سطح پر مکالمے کی ضرورت ہے۔
تنقید اور مکالمہ...... دونوں سطحوں پر گفتگو کی خاصی گنجائش موجود ہے۔
اس سلسلے میں پہلی بات تو یہ ہے کہ حضور نبی کریم ﷺ کی ذات گرامی کے حوالے سے مغرب کے مستشرقین اور دانشوروں نے ہمیشہ معاندانہ رویوں کا ثبوت دیا ہے۔ آپ ﷺ کی ذات اقدس کو نعوذ باللہ ہدف تنقید بنایا ہے۔ آپ ﷺ پر نعوذ باللہ اقربا پروری، عیش کوشی اور خونریزی کے بے سروپا الزامات لگائے ہیں۔ معاندین کے ان بے سروپا الزامات کو ذہن میں رکھتے ہوئے ڈنمارک میں چھپنے والے کارٹونوں کو دیکھا جائے تو ایک معنی میں فرق صرف اتنا ہے کہ یہ کارٹون انہی الزامات کا تصویری اظہار ہیں، مطلب یہ کہ کل جو الزامات لفظوں کے پیرائے میں دہرائے جاتے تھے، آج وہ متشکل لکیروں میں دہرائے گئے ہیں۔
دوسری بات کہ اہل مغرب جب بھی ذات رسالت مآب پر تنقید کرتے ہیں تو اس سے ان کا مقصد سوائے تنقیص اور توہین کے اور کچھ نہیں ہوتا۔ کوئی معاند تنقید اس لیے نہیں کرے گا کہ اس سے حضور نبی کریم ﷺ کا مرتبہ بلند ہو۔ مستشرقین کی ساری تنقید پڑھ لیجیے، ان کے پیش کردہ اعتراضات کا مطالعہ کر لیجیے، ان تمام کے پیچھے واضح طور پر یہ جذبہ کارفرما نظر آئے گا کہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی ذات اقدس کو مورد تنقید بنا کر نعوذ باللہ آپ ﷺ کے روئے زیبا کو داغ دار کرنے کی کوشش کی جائے تاکہ دینی عقائد، احکام، اعمال اور آپ ﷺ کی مبارک تعلیمات کو مشکوک ٹھہرایا جا سکے۔ کوئی مسلمان آپ ﷺ کی ذات گرامی پر تنقید کو اس لیے برداشت نہیں کرے گا کہ اس کا کوئی علمی پیرایہ ہے...... بھلا حضور نبی رحمت ﷺ پر تنقید کا معاذ اللہ کوئی علمی پیرایہ بھی ہو سکتا ہے؟...... ذرا تصور کیجیے ایک ادنیٰ مسلمان کے سامنے بھی کوئی بھاری بھرکم علمی شخصیت اپنے علم و مطالعہ کے زور پر آپ ﷺ پر اعتراضات اٹھائے تو اس کا ردعمل کیا ہوگا؟ یقینی طور پر اس کی پہلی کوشش اس ناہنجار کو تہ تیغ کرنے کی ہی ہوگی۔ ذات رسالت مآب ﷺ پر تنقید کو برداشت کرنا قرآنی منشاء کے بھی خلاف ہے۔ جب سورۂ بقرہ آیت 104 میں اہل ایمان کو مخاطب کر کے تمام لوگوں کو بتا دیا گیا کہ آپ کے سامنے (لاتقولوا راعنا و قولوا انظرنا) ”راعنا“ نہیں بولنا بلکہ ”انظرنا“ کہہ کر آپ ﷺ سے درخواست کرنی ہے اور سمع و طاعت کا مظاہرہ کرنا ہے، تو اس کا مطلب یہی ہے کہ بے ادبی اور بے اکرامی کے ادنیٰ شائبے کو بھی رد کر دیا گیا ہے۔
تیسری بات یہ کہ ”مسلمان تنقید کو برداشت کرتا ہے“۔ سوال یہ ہے کہ کیا نبی کریم ﷺ کی ذات گرامی نقد و نظر کی میزان میں رکھی جا سکتی ہے؟...... قطعاً نہیں۔ حضور نبی کریم ﷺ
کی ذات گرامی تنقیدی پیمانوں میں رکھے جانے سے ماورا ہے۔ تاریخ میں ایسے واقعات موجود ہیں کہ کسی شخص نے آپ ﷺ کو نعوذ باللہ گالی دی نہ برا بھلا کہا محض کسی مسنون عمل پر اپنی طبعی ناپسندیدگی کا اظہار کیا، تب بھی اس پر تلوار سونت لی گئی۔ الامام المجاہد حضرت عبداللہ بن مبارک رحمہ اللہ کا معروف واقعہ ہے کہ دوران درس ایک حدیث شریف آئی جس میں تھا کہ آنحضرت ﷺ کو سبزیوں میں کدو بہت پسند تھا، قریب بیٹھے کسی شخص نے کہا ”مجھے تو پسند نہیں“ (مقصود آپ ﷺ کی توہین نہ تھا) حضرت عبداللہ بن مبارک رحمہ اللہ فوراً طیش میں آگئے۔ مسند کے پاس رکھی اپنی تلوار نکالی اور کہا ”ابھی اپنے ایمان کی تجدید کرو ورنہ تیرا سر اڑاتا ہوں.....“ اس ردعمل کو کیا نام دیا جائے گا......؟ بلا شبہ علمائے امت نے مستشرقین اور دیگر ملاحدہ و زنادقہ کی تنقیدات کا عالمانہ اسلوب میں جواب دیا ہے تاکہ عامۃ الناس کو معاندین کی فریب کاریوں سے محفوظ رکھا جاسکے۔ لیکن اس سے یہ بات ثابت نہیں ہوتی کہ علمیت بگھارنے کے نام پر ذات رسالت مآب ﷺ پر تنقید کی نہ صرف کھلی چھوٹ دے دی جائے اور اسے ٹھنڈے پیٹوں ہضم بھی کیا جاتا رہے۔
اگر برداشت کے نام پر تنقید کو روا تسلیم کرلیا جائے تو پھر ہر دشمن رسول ﷺ تنقید کی آڑ میں آپ ﷺ کی توہین و تنقیص کو شعار بنا لے گا.......مغرب کے تنقیدی پیمانے ہماری علمی روایت سے بہت مختلف اور قطعی ناقابل قبول ہیں.....! کوئی تنقید اس لیے برداشت نہیں کی جائے گی کہ اس کا پیرایہ اظہار توہین یا تنقیص پر مبنی نہیں یا وہ ایک ”علمی بحث“ ہے۔...... ہمیں نہیں معلوم کہ توہین رسالت کے حوالے سے حساس فضا کے باوجود نکتہ آفرینی کے لطیف پیرایوں میں ذات رسالت مآب ﷺ پر تنقید کو برداشت کرنے کا تاثر کیوں پھیلایا جارہا ہے.....؟ شاید مغرب کے اس پروپیگنڈے کہ ”مسلمانوں میں برداشت نہیں“ کے زیر اثر خیال کیا جارہا ہے کہ کہیں تو برداشت کا بھی مظاہرہ کرنا چاہیے۔ یہ فکر و خیال مغرب سے شدید مرعوب کسی دانش ور کا تو ہوسکتا ہے، سچے مومن کا نہیں۔ مغرب کو ہم سے عدم برداشت کی شکایت ہے تو رہے.....!! اسے یہ بھی تو معلوم ہونا چاہیے کہ ”عدم برداشت کو برداشت نہ کرنا بھی عدم برداشت ہے“۔ ہم اگر اپنی بات کریں تو عرض ہے کہ محض برداشت اور رواداری کا فلسفہ مغرب کی اپنی اختراع ہے۔ ہماری علمی اور اخلاقی روایات میں جہاں برداشت اور رواداری کی اقدار موجود ہیں، وہیں ”عدم برداشت“ کی مضبوط قدر بھی مسلمہ ہے۔ ”من رای
منکم منکرا فلیغیرہ بیدہ“ کا مطلب کیا ہوسکتا ہے؟ یہی ن جائے یا کوئی شخص کسی ملعون حر جائے۔ اہل علم اگر ”بغض“ ک ہو جائے گی۔ یہ تو عمومی بات ہ بے اکرامی کا معاملہ ہو، وہاں ت مقام ہے جہاں بہ جز سمع و طاع ادب گاہیس نفس گم ک
منکم منکراً فلیغیرہ بیدہ‘‘ اور ”من احب لله و ابغض لله فقد استکمل الایمان“ کا مطلب کیا ہو سکتا ہے؟ یہی نا کہ جب بھی کوئی منکر مشاہدے میں آئے، اسے برداشت نہ کیا جائے یا کوئی شخص کسی ملعون حرکت میں ملوث ہو تو اس کے لیے دلوں میں بغض و نفرت رکھی جائے۔ اہل علم اگر ”بغض“ کے مادہ، معنی اور مصداق پر غور فرمالیں تو بات کافی حد تک واضح ہو جائے گی۔ یہ تو عمومی بات ہے، جہاں حضور نبی کریم ﷺ کی ذات اقدس کی بے ادبی و بے اکرامی کا معاملہ ہو، وہاں ”برداشت“ کا ادنیٰ خیال بھی حبط ایمان کا سبب ہو سکتا ہے۔ یہ وہ مقام ہے جہاں بہ جز سمع و طاعت اور کچھ روا نہیں......
نفس گم کردہ می آید، جنید و با یزید ایں جا
٭........٭........٭
عبدالقیوم ساجد
ناموس رسول ﷺ کی دولت اور مغرب کی تہی دامن تہذیب
یہ انسانی نفسیات کی ایک بنیادی حقیقت ہے کہ باسعادت لوگ باادب ہوتے ہیں اور جو لوگ دوسروں کے ساتھ بے ادبی اور بے احترامی سے پیش آتے ہیں، وہ عمومی طور پر انسانی شرف و وقار کے مبادیات سے انکاری ہوا کرتے ہیں۔ مغربی ممالک کے بعض اخبارات نے نبی رحمت ﷺ کے بارے گستاخانہ خاکے شائع کر کے جہاں دوسروں کے جذبات و احساسات کی جانب سے اپنی بے حسی اور لاپروائی کا ثبوت دیا ہے، وہاں ان بدبختوں نے یہ بھی ثابت کر دیا ہے کہ وہ جن تہذیبی اقدار کی نمائندگی کرتے ہیں، وہ شرف انسانی کے بنیادی اوصاف سے عاری ہے۔ مغربی معاشرے میں جنس اور دوسرے حوالوں سے جو روایات پختہ ہورہی ہیں، ان پر ایک سرسری نگاہ ڈالنے سے ہی ان معاشروں کا کھوکھلا پن ظاہر ہو جاتا ہے۔ جو لوگ مغربی ممالک کا سفر کرتے رہتے ہیں اور جنہیں وہاں کے معاشرتی اور اخلاقی رویوں کو قریب سے دیکھنے کا موقع ملتا رہتا ہے، وہ اس بات کی گواہی دیں گے کہ مغربی ملکوں میں خاندان، چھوٹے بڑے اور اچھے برے کی تمیز زیادہ تر ختم ہو چکی ہے اور وہ معاشرے عام طور پر ان چیزوں کو انسان کی مادی ترقی اور آزادی کے راستے میں رکاوٹ خیال کرتے ہیں۔ یہ ایک ناقابل تردید حقیقت ہے کہ مغرب میں بہن بھائی، ماں باپ کے رشتوں کا باہمی تقدس اور احترام ختم ہو چکا ہے۔ یہ لوگ اسی لیے ماں باپ وغیرہ کے نام سے سال میں ایک دن مناتے ہیں کیونکہ باقی کا سارا سال انہیں ان رشتوں کے بارے میں سوچنے کی فرصت ہی نہیں ہوتی بلکہ یہ کہا جائے تو زیادہ درست ہوگا کہ باقی کا سارا سال وہ ان رشتوں کو سرے سے یاد ہی نہیں رکھتے۔ یورپ کے کئی ملکوں میں بہن بھائی، بیٹی، بیٹا اور خود ماں اور باپ اپنے اپنے پسند کے ”دوستوں“ کو آزادانہ لے کر گھومتے ہیں اور بوقت ضرورت گھروں کے اندر بھی لے آتے ہیں۔ حتیٰ کہ دادا، دادی، نانا، نانی کی سطح کے لوگ بھی اپنے فرینڈز کو
بازاروں سے تلاش کر کے گھروں میں لاتے ہیں اور ان کے ساتھ دوستی کا حق ادا کرتے ہیں۔ اسکینڈے نیوین اسٹیٹس اور بہت سے دوسرے مغربی ملکوں میں انسانی آزادی کا سراسر خبط اور بے ہودہ تصور اس حد تک آگے بڑھ چکا ہے کہ وہاں کوئی مرد اور عورت سرعام بھی سخت سے سخت قابل اعتراض فعل آزادانہ طور پر کر سکتے ہیں اور انہیں ٹوکنا تو درکنار گھور کر بھی دیکھنا قانونی جرم ہے اور اس پر اسے باقاعدہ سزا ہو سکتی ہے۔ پھر آپ غور فرمائیں گے کہ ان نام نہاد مہذب مغربی ملکوں میں مذہب کی حیثیت کیا ہے؟ قانونی طور پر مذہب کو کھڈے لائن لگا دیا گیا ہے۔ اس کی ان معاشروں میں حیثیت کسی کمی کمین سے زیادہ نہیں ہے۔ مذہبی پیشواؤں کا انتخاب اور تقرر وغیرہ یہ محض روایت ہی کی حد تک ہے، ورنہ ہمیں یہ انتہائی دکھ کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہے کہ پوپ مقدس تک ان بے لگام ملکوں اور ان کی مادر پدر آزاد حکومتوں سے ذرا بھر اطاعت کی توقع نہیں کر سکتا۔ عملاً مذہب کا ادارہ ہی ایک جزو معطل بنا کر رکھ دیا گیا ہے۔ اس کی افادیت یا ضرورت کا تصور محض اتنا ہے کہ مادر پدر آزاد مغربی معاشرہ یا ریاست جب خود اس کی ضرورت محسوس کرے، مذہبی نمائندے ان کے سامنے دست بستہ حاضر ہو جائیں اور جب معاشرہ اور ریاست چاہیں وہ سر جھکا کر ان کے راستے سے ہٹ جائیں اور تو اور مغربی معاشروں میں لادینیت کی سوچ نے یہاں تک پر پرزے نکال لیے ہیں کہ خود مغرب کے بڑے بڑے بین الاقوامی شہرت کے حامل جرائد اور اخبارات یہ سوال اٹھاتے رہتے ہیں کہ ان کے اپنے انبیا انسانی تاریخ میں واقعتاً کبھی موجود بھی رہے ہیں یا محض قصے کہانیوں کا حصہ ہیں؟ غور فرمائیں جو شخص اپنے باپ ہی کے وجود پر یقین نہ رکھتا ہو، وہ کسی دوسرے کے بزرگوں کا کیا احترام کرے گا! دراصل مغربی معاشروں کی یہ بے راہ روی اور بدتہذیبی ان کی دین و مذہب سے دوری اور بیزاری ہی کا نتیجہ ہے۔ آپ مغربی ملکوں کے لڑکے، لڑکیوں کے لباس، بالوں کی بناوٹ اور سجاوٹ وغیرہ پر نظر دوڑائیں، اسفل سافلین کا نقشہ آنکھوں کے سامنے پھر جائے گا۔ جو تہذیب اپنے ماننے والوں کو اس حال تک پہنچا دے، اس سے عمومی شرف انسانی اور دوسروں کے ادب و احترام کی کیا توقع رکھی جاسکتی ہے؟ آزادی اظہار وغیرہ محض ڈھکوسلے اور دھوکا دینے کی باتیں ہیں۔ پھر لطف کی بات یہ ہے کہ انہی مغربی ملکوں میں ایک عام شہری کسی دوسرے شہری کے بارے میں توہین آمیز بات کہہ کر سزا سے نہیں بچ سکتا یعنی ایک عام آدمی کی عزت و توقیر کو ان کے معاشروں میں قانونی تحفظ حاصل ہے۔ البتہ مذہب کے بارے میں
ایسی کوئی حفاظتی فصیل ان کے ہاں نہیں بنائی گئی اور جہاں ایسا کرنے کی کوشش کی بھی گئی ہے وہاں اپنے سوا دوسروں کے ادب اور احترام کو سرے سے کوئی جگہ نہیں دی گئی۔ اب اس تہذیبی پس منظر کا تقابل آپ اسلامی ملکوں اور معاشروں سے کرلیں۔ آپ پر یہ حقیقت فوراً واضح ہو جائے گی کہ جس طرح کوئی بدمعاش اور بے آبرو شخص عزت دار لوگوں کی پگڑیاں اچھالتے دیر نہیں کرتا، بالکل اسی طرح اپنے شرف اور وقار کو لات مار دینے والی مغربی تہذیب دوسری تہذیبوں کے تقدس اور احترام کے احساس سے بھی خالی ہو چکی ہے لیکن ان کے لیے یاد رکھنے کی بات یہ ہے کہ اسلامی معاشرہ نہ ان کی طرح تہی دامن ہے نہ مذہب سے بیزار، اور نہ ہمارا دین ہی ہماری تہذیب اور معاشرت سے علیحدہ کوئی چیز ہے۔
کچھ لوگ جو ختمی مرتبت ﷺ کے بارے کی گئی اس گستاخی کے بعد بھی مغربی ملکوں سے مرعوب ہو کر ان سے ہر حال میں بنا کر رکھنے اور خاموش رہنے کی تلقین کر رہے ہیں، وہ در حقیقت ایمان باللہ اور حب رسول ﷺ کی نعمت سے محروم ہیں۔ کوئی شخص خود ان صلح اور صبر کی تلقین کرنے والوں کی سرعام توہین کر کے دیکھ لے، یہ اسے جان سے مار دینے تک آ جائیں گے۔ یہ اپنے مفادات کی وجہ سے مسلمانوں کو دھوکہ دینے کی کوشش کر رہے ہیں، انہیں اچھی طرح معلوم ہے کہ محمد عربی ﷺ کا کلمہ پڑھنے والا کوئی کمزور سے کمزور مسلمان بھی حضور ﷺ کی آن پر اپنا سب کچھ قربان کر دینے کو اپنے لیے باعث صد افتخار سمجھتا ہے اور یہ ایسی دولت ہے جس سے مغرب کی تہی دامن تہذیب کے ساتھ ساتھ اس تہذیب کے کاسہ لیس بھی ہمیشہ ہمیشہ کے لیے محروم کر دیے گئے ہیں۔
۞.......۞.......۞
ڈاکٹر عامر لیاقت حسین
صدر صاحب! کب تک خاموش رہیں گے؟
آج محبت، ادب اور عشق میں ڈوب کر احساس تشکر کے ساتھ اللہ کے حضور گردن جھکانے اور پلکیں بچھانے کا دن ہے، سرکار العالمین ﷺ کے امتی ہونے کا واسطہ دے کر رحمٰن سے رحمت کی بھیک مانگنے کا دن ہے، یہ دن تو عاشقان مصطفیٰ ﷺ کی معراج ہے، اس دن محمد ﷺ کے دیوانوں پر اللہ سبحانہ و تعالیٰ کی رحمت برستی ہے اور مخلوق خدا کی بستی اس ایک دن کے لیے تین سو چونسٹھ دنوں تک ترستی ہے، یہ دن فرزندان توحید کی عبادتوں کا حاصل اور ایمان کا حاصل ہے، یہ دن نہ آتا تو صبح صادق کی روشنی نہ چھاتی، انسانیت خوشی سے جھوم نہ پاتی، اسی لیے یہ نور فیض ربانی ہے، طور مکانی ہے اور قندیل محراب انسانی ہے۔۔۔۔۔۔ بضاعت محبت رکھنے والو! سنو! کہ آج چہار سو خوشیوں کے شادیانے بج رہے ہیں، نگاہ عشق رکھنے والو! دیکھو کہ درود کی کلیوں سے عرش اور فرش کیا خوب سج رہے ہیں، ایک طرف بی بی آمنہ کا چہرہ مسرت سے معمور ہے کیونکہ شکم آمنہ میں ”المصور“ کی نورانی تصویر کشی کے سبب پوری کائنات میں نور ہی نور ہے اور دوسری طرف دائی حلیمہ کی خوشی کا بھی ٹھکانا نہیں، اس لیے کہ انھیں یقین ہے کہ رسول کبریا ﷺ کو اُن کی گود کے سوا اب اور کہیں جانا نہیں ۔۔۔۔۔۔ آج تو عبدالمطلب کا آنگن نبوت کی خوشبو سے مہک رہا ہے، ابو طالب بھی بڑے مسرور ہیں کیونکہ ان کی گود میں بھی پیارے حضور ہیں۔ حضرت ابراہیم کے لبوں پر تبسم اور ایک احساس مسرت ہے کہ اب وہ اس عظیم ہستی کے جد امجد کہلائیں گے جنہیں اللہ نے اپنا محبوب اور ایسا احمد و محمد ﷺ بنایا ہے کہ احمد میں سے الف ہٹا کر بھی اللہ کی حمد ہوتی ہے اور محمد ﷺ میں سے میم ہٹا دیں تب بھی اللہ کی حمد برقرار ہے۔ یہی نہیں بلکہ احمد کا الف اور محمد ﷺ کا میم الگ الگ ہو کر بھی الف سے اللہ میم سے محمد ﷺ ہی کہلاتے ہیں یعنی پیارے کے دونوں مقبول نام مبارک، اللہ کی حمد بھی ہیں اور پروردگار کے قریب بھی ہیں۔ (سبحان اللہ)!
”محمد ﷺ“ کیا برکت والا لفظ ہے، جس میں توحید کا نور، اسم ذات کا نور اور اسم
صفات کے انوار چمک رہے ہیں، یہ مبارک نام رحمت الٰہی کا ایسا بے کنار سمندر ہے جس میں غوطہ مارنے والے دونوں عالم میں نہال ہوتے ہیں اور دل و دماغ میں چپکے سے حب مصطفیٰ ﷺ کی بھینی بھینی خوشبو پھیل جاتی ہے تو کیوں نا آج ہم بھی اس دریائے رحمت کے پیراک بن کر عشق رسول ﷺ میں ہمیشہ کے لیے ڈوب جائیں، اپنی تمناؤں کی کھیتیاں سرسبز و شاداب کریں تا کہ گلشن ایمان ہرا بھرا ہو کر پھر سے لہلہانے لگے...... یہ نام محمد ﷺ بڑا بلند ہے، ذریعۂ شفاعت ہے، ان کا جسم مقدس و معطر ہے، وہ چاشت کے آفتاب ہیں، اندھیری رات کے ماہتاب ہیں، بلندی کے صدر نشین ہیں، ہدایت کے نور امین ہیں، تاریکیوں میں روشن چراغ ہیں، نبوت کا مہکتا باغ ہیں، جود و کرم کے مالک ہیں اور فاطمۃ الزہرا کے والد ہیں، میرے محمد ﷺ تو تمام رسولوں کے سردار ہیں، سراپا نور اور مجسم پیار ہیں...... اے محمد ﷺ کے میم! مومن میں بھی ہے تو، مسلم میں بھی ہے تو، ایمان میں بھی تو، اسلام میں بھی تو...... مسجد میں تجھے دیکھا، مینار میں بھی دیکھا، منبر میں تجھے پایا، محراب میں بھی دیکھا...... مشرق میں موجود ہے، مغرب میں بھی ہے میم، نماز میں پاتا ہوں اور امام میں بھی میم...... میلاد کی محفل میں سلام تک ہے، میم، کلیم کے سفر میں کلام تک ہے، میم، آدم کی ابتدا سے خاتم کی انتہا تک میم ملتا ہے، اس میم نے قسمت بھی دی، حکمت بھی ہم کو دی اور سرکار کی غلامی کی امانت بھی ہم کو دی، اس میم نے معراج کا رتبہ بڑھا دیا، میرے آقا کو عرش معلیٰ دکھا دیا اور اسی میم نے اولاد کو ماں سے ملا دیا، ممتا کا اسی میم نے مطلب بتا دیا، زمانے میں ڈھونڈا، اسے محیط میں ہے گم، مالک کا میم، مٹی سے مخلوق بنائے اور موت میں یہ جائے تو میت اٹھالائے، امن کا میم ملتا ہے مکان میں اگر، مکین کا میم ملتا ہے لامکان میں مگر، مؤذن سے نکلا میم اقامت میں مل گیا، سلامت سے نکلا میم قیامت میں مل گیا، معبود ہے موجود، دونوں میں یہی میم، شمس و قمر کے ارد گرد گھومتا ہے میم، حمایت کے میم نے کئی حامی بنا دیے اور جا کے نام میں کئی نامی بنا دیے، مدبر و مفکر، مبشر و مبلغ اسی میم کے محتاج ہیں اور محلوں میں حاکم اسی میم سے کرتے راج ہیں لیکن افسوس کہ میم کے صدقے مزے لوٹنے والے آج اُسی محمد ﷺ سے لاتعلق ہیں۔ لہٰذا آج کے دن میں میم سے بنے حاکم سے صرف ایک سوال کروں گا کہ ”آپ کے ارد گرد جو متجددین بستے ہیں، جو پرکشش دلیلوں اور چپڑی تاویلوں سے آپ کو اللہ اور اُس کے حبیب ﷺ سے بہت دور لے گئے ہیں، ایک مرتبہ ذرا اُن سے پوچھیے تو سہی کہ وحی کسے کہتے ہیں؟ وہ جواب دیں گے، وحی لوگوں کو ہدایت دینے، احکامات الہیہ بتانے اور رہنمائی کے لیے اُترتی
ہے، اس کے نزول کا ایک مقصد ہوتا ہے، احکام آتے ہیں، لوگوں کا زندگی بسر کرنے کا طریقہ اور سلیقہ سکھایا جاتا ہے لیکن تَبَّتْ يَدَا أَبِي لَهَبٍ وَّتَب کے بارے میں کیا فرماتے ہیں آپ کے متجددین؟ ذرا اس کا منشا ومقصود اور مضمون بھی سامنے رکھ لیں، اس وحی کی کیفیت بھی دیکھ لیں کہ ”ابولہب تیرے ہاتھ ٹوٹ جائیں، تو تباہ و برباد ہو جائے!“…… غامدی صاحب سے پوچھیے صدر صاحب! اس میں کون سا فرض اترا ہے، کون سی ہدایت و رہنمائی دی گئی ہے، زندگی گزارنے کا کون سا لائحہ عمل دیا گیا ہے ……اور پھر اُس کی گستاخ بیوی کو بھی مخاطب کر کے کہا کہ وَامْرَأَتُهُ حَمَّالَةَ الْحَطَبِ اور اُس کی (خبیث) عورت (بھی) جو (کانٹے دار) لکڑیوں کا بوجھ (سر پر) اٹھائے پھرتی ہے، (اور ہمارے حبیب ﷺ کے تلوؤں کو زخمی کرنے کے لیے رات کو اُن کی راہوں میں بچھا دیتی ہے ) ”پڑھ لیجیے سورۃ اللھب، یہ جملے اللہ پاک فرما رہا ہے کہ ”لکڑیوں کی گٹھڑیاں باندھنے والی، وہ بھی جہنم میں جائے، برباد ہو، اُس کا بھی بیڑا غرق ہو“…… میم کے صدقے میں حکومت کے مہینے گننے والے محترم! یہ اللہ کا کلام ہے، میں اپنی تفسیر نہیں بتا رہا، پھر پیغام کیا ہے؟ پیغام یہ ہے کہ ابولہب مردود اور اُس کی بیوی ام جمیل نے میرے پیارے سے گستاخی کی ہے، کسی اور کی کرتا تو معاملہ اور تھا، اس نے میرے حبیب ﷺ کی ذاتِ اقدس پر زبان کھولی ہے سو میں نے جو سراپا رحمن و رحیم ہوں، اس بات پر اپنے قہر کو رحمت سے نہیں ڈھانپا، اس سے نرمی نہیں برتی یعنی اشارہ یہ ہے کہ ہر بات گوارا ہے لیکن اپنے احمد ﷺ کی شان میں گستاخی گوارا نہیں، ہر بات پر معافی ہے، ہر غرور کا جواب ہے اور اُس کی سزا ہے مگر جب میرے محمد ﷺ سے کوئی زبان درازی یا اُن کی شان میں گستاخی کرے گا تو ایسا جواب دوں گا کہ اُس کی نسلیں بھی یاد رکھیں گی، یہاں اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے ایک نہج و سنت دی کہ حضور ﷺ کے ساتھ اللہ کا تعلق ایسا ہے کہ محبوب ﷺ کی ذات کے ساتھ نا گستاخی قبول ہے نا بے تعلقی! اُس نے فرما دیا جو میرے حبیب ﷺ کا نہیں وہ میرا نہیں، وہ جائے جہنم میں، لعنت ہے اس پر …… صدر صاحب! آج کے دن اللہ کی خوشنودی کے لیے قرآن پاک کی عملی تفسیر بن کر پاکستان میں موجود ڈنمارک کے ابولہب کو باہر نکال دیجیے، تعلیمات نبوی ﷺ ہمیں روکتی ہیں کہ ہم سفیر کے ہاتھ توڑ دیں، درست! مگر کہیں ایسا نا ہو کہ گستاخوں کو بچاتے بچاتے شافع محشر ہی سے تعلق ٹوٹ جائے اور خاکم بدہن اگر یہ تعلق ٹوٹ گیا تو عرش سے لگنے والی ”ایمرجنسی“ فرش والوں کے دل دہلا دے گی ……!!!
ڈاکٹر عامر لیاقت حسین
”سر“ ملا ہے سر کاٹنے کے لیے......!!
محمد ﷺ کہتے ہی قلوب میں محبت و عقیدت کی ٹھنڈی آبشاریں رواں ہو جاتی ہیں...... اس مقدس لفظ کے صوتی اثرات سے طاری ہونے والی عشق کی بے مثال کیفیت کا اظہار لفظوں میں ناممکن ہے...... لبوں کا آپس میں ایسا مکرر اتصال ہے کہ نطق آگے بڑھ کر خود زبان کے بوسے لینے لگتی ہے...... اور پھر اگر اس محمد ﷺ کی شان میں کوئی گستاخی کرے تو اس نور کو بشری لباس پہنانے والے خالق کے غیظ و غضب کا عالم کیا ہوگا، یہ تحریر کرتے ہوئے ہاتھ بھی کانپ اٹھتے ہیں...... میں نہیں جانتا اور نہ جاننا ہی چاہتا ہوں کہ 15 جون 2007ء کی شام کھاریاں میں کانسٹیبل ثاقب نے اچانک حوالات میں گھس کر مبینہ گستاخان رسول پر جب گولیاں برسائیں تو اُس کی وجہ کیا تھی؟...... قانون پر عدم اعتماد یا خود سزا دینے کی کوشش؟...... مگر وجودِ عشق میں دھڑکتے دل کی دھڑکن تو یہی کہتی ہے: ”عقیدے اور عقیدت کی مسند اُس دن کانسٹیبل ثاقب ہی کے لیے سجی تھی اور ایک دن سب کے سامنے پھر اسی کے لیے سجے گی“...... ثاقب سے اپنے آقا و مولیٰ ﷺ کی شان میں ان ہی کا کھا کر غرانے والے مرزا یونس عرف اثر چغتائی کی گستاخی اور دریدہ دہنی برداشت نہ ہوئی اور مرزا کے خبیث باطن کو کتاب کی شکل میں منظر عام پر لانے والے میاں عاصم انصاری، عرفان نسیم اور عبدالغفور اسلم پر اُس نے فائر کھول دیا جس کے نتیجے میں عاصم انصاری موقع پر ہی ہلاک ہو گیا...... ثاقب اب گرفتار ہے مگر کسی سمندر کی طرح جوار بھاٹا سے قبل پرسکون...... اُس کے اندر اٹھنے والا طوفان تھم چکا ہے جس میں تڑپ کی ایسی زور آور لہریں تھیں جنہوں نے مصلحت کی ہر چٹان کو پاش پاش کر دیا...... اس لیے کہ مکتب عشق کے دستور ہی نرالے ہیں...... اس میں زندگی سے کہیں زیادہ موت کی اہمیت ہوتی ہے اور مصلحتیں ثنائے محبوب پر نچھاور کی جاتی ہیں...... کیونکہ عشق کی شراب میں دھت رہنے والے ساجن کی بارگاہ میں باریابی کے لیے کئی بھیس بدل لیتے ہیں......
ترکھان کے بیٹے غازی علم دین شہید نے بھی جب اپنے والد سے یہ سوال کیا تھا
کہ ”جو شخص ہمارے نبی کی شان میں گستاخی کرے، زندہ رہ سکتا ہے؟“ تو ”ہرگز نہیں!“ جیسا مختصر جواب دینے والے طالع مند نے اُس وقت یہ نہ سوچا تھا کہ اُس کا بیٹا علم دین اسے ہدایت اور حکم سمجھ کر بدذات و نابکار راج پال کو اس طرح واصل جہنم کرے گا کہ غیور بپھرے شیر دل حملہ آور کے روپ میں خنجر نما چھرا اُس وقت تک ”رنگیلا رسول“ کے ناشر کے کلیجے میں اتارتا رہے گا جب تک کہ آتش جہنم اُس کی آخری سانس کو بھی نہ جلا دے...... اور گرفتاری کے بعد یہ تاریخی جملہ کہے گا....... کہ ”اللہ کا شکر کہ جس نے یہ سعادت مجھے بخشی“....... علم دین کی شہادت پر ”کی محمد ﷺ سے وفا تو نے تو ہم تیرے ہیں“ جیسے الہامی مصرعے کے خالق علامہ محمد اقبال (جنہوں نے سر کہلانے پر کبھی فخر محسوس نہیں کیا) کا یہ جملہ مدرسہ عشاق کی لوح بن چکا ہے کہ ”یہ جوان ہم سب پڑھے لکھوں سے بازی لے گیا“...... مشیت ایزدی عظیم مقاصد کے لیے جن بندوں کا انتخاب کرتی ہے، اُن کی زندگی کے لمحے لمحے سے لاتعداد حقائق منسوب ہوتے ہیں....... غازی علم دین شہید کا سن پیدائش یعنی 8 ذی قعد 1326 ہجری مطابق 4 دسمبر 1908ء بروز جمعرات بھی تاریخ میں ایک خاص اہمیت رکھتا ہے....... اسی سال مدینہ منورہ میں حجاز ریلوے کا اجرا ہوا، ایران میں احمد شاہ قاجار اور عوام کے مابین خانہ جنگی ہوئی...... مراکش میں نہتے عربوں نے فرانسیسیوں کو شکست دی...... افغانستان میں امیر حبیب اللہ نے پہلی مرتبہ عوام کے لیے مدارس کھلوائے...... سلطان عبدالحمید خان نے ترکوں کو پارلیمانی حکومت عطا کی اور مرزا غلام احمد قادیانی ہیضے کے مرض میں مبتلا ہو کر بیت الخلا میں حالت نجاست میں ایڑیاں رگڑ رگڑ کر مرا.......
گذشتہ چند برسوں کے دوران بعض مسیحی مؤرخین، اہل ہنود اور یہودی مصنفین نے بارہا اپنی تنگ نظری کا ثبوت دیا ہے...... ان کی صفوں میں موجود کوئی نہ کوئی بد زبان اور کج قلم مذہبی دل آزاری کا سامان کر کے مسلمانوں کے تاریخی ورثے اور جذبات و احساسات کا تمسخر اڑاتا رہتا ہے...... سید الانبیا کی پاکیزہ سیرت پر سوقیانہ اور رکیک حملے کر کے چودہ سو برس قبل بھی انہیں سکون ملتا تھا اور آج بھی ہرزہ سرائی اور دلوں پر چرکے لگا کر وہ دراصل اپنے گھٹیا خیالات کی زمین پر پُرفتن اشجار کی ٹہنیوں سے لٹکے اطمینان کے جھولے جھولتے ہیں....... ہم سے کہا جاتا ہے ہم تنگ نظر اور محدود سوچ و فکر کے مالک اور داعی ہیں اور ہماری ہی صفوں میں موجود عبداللہ ابن ابی یا ابن سبا جیسے منافقین اور گستاخوں کو روشن خیالی اور اعتدال پسندی کے یہ بین الاقوامی چیمپیئن اعزازات و خطابات سے نوازتے ہوئے اتنا بھی نہیں سوچتے کہ یہ خود
کتنے محدود ہو چکے ہیں...... ان کا سفر تو شروع ہونے سے پہلے ہی ختم ہو جاتا ہے...... صبح و شام ہمیں Tolerance کا پاٹ پڑھانے والے آج تک اس بات کا جواب تو دے نہیں سکے کہ ہم مسلمانوں میں جب یوسف، یعقوب، ابراہیم، اسحق، ایوب، موسیٰ، شعیب اور زکریا جیسے بابرکت اور عظیم نام فخر و شوق سے رکھے جاتے ہیں تو پھر آپ کے ہاں ”محمد ﷺ“ کسی کا نام کیوں نہیں ہے؟...... ایسی جلن؟ اتنی حسد؟ غضب کا بغض اور قیامت کا عناد...... اللہ اللہ......!!...... ہم تو اُن تمام انبیا پر ایمان لاچکے ہیں جن کو آپ مانتے ہیں یا جن کو تعصب کی بنا پر نہیں مانتے (جیسے یہودی حضرت عیسیٰ کو) مگر ”ایک محمد ﷺ سے دشمنی کیا کیا قیامت ڈھا گئی!“ کہ آج تک آپ کے ہاں کسی بچے کا مقدر یہ مقدس نام نہ بن سکا...... برداشت کی ضرورت تو آپ کو ہے ہمیں نہیں...... کینہ پرور آپ ہیں، ہم نہیں...... دل میں بغض کی آگ جلائے آپ بیٹھے ہیں اور چاہیں تو ”آپ رحمۃ للعالمین ﷺ“ سے یک دم اس آتشِ بے وجہ کو سرد کردیں...... لیکن اس کم بخت انا اور زعم برتری نے ابو جہل کا بھی راستہ روکا تھا اور آپ کو بھی نہ جانے ہدایت سے کب تک دور رکھے گی......
میں تو صرف اتنا جاننا چاہتا ہوں کہ برٹش نائٹ ہڈ کا ”اعزاز“ پانے والے اُن 20 افراد کی فہرست میں ادب کی خدمت کرنے والے اُس مصنف Dan Brown کا نام کیوں نہیں جس نے Da Vinci Code جیسی کتاب لکھ کر یسوع مسیح اور پاکیزہ بی بی مریم علیہم الصلوٰۃ والسلام کی توہین کی....... سیدنا عیسیٰ کے عقد اور ان کی نسل (نعوذ باللہ) کی کھوج میں صفحے کالے کرنے والا James Gordon آخر اس ”اعزاز“ سے کیوں محروم ہے......؟ کیا صرف اس لیے کہ کتاب استثنا (بائبل) کے باب 12:17 میں، رسولوں کی شان میں گستاخی کی سزا، سزائے موت ہے بلکہ نائبینِ رسول کے گستاخوں کو بھی واجب القتل قرار دیا گیا ہے۔“ ...... پھر آپ یہ کیوں بھول گئے کہ وہاں ”رسول“ نہیں ”رسولوں“ کا ذکر ہے یعنی بائبل کا حکم ہے کہ صرف ”یسوع مسیح“ کی نہیں بلکہ ”رسولوں“ کی توہین کرنے والے کو قتل کردو...... اب آپ ہی بتلائیے کہ جسے آپ نے ”سَر“ کہا، اُس کا سر کاٹنے کو پال، لوکس، پیٹر اور برنباس اصرار کر رہے ہیں...... ہماری نہیں سنتے نہ سنیے کیوں کہ ہم تو گستاخوں کو زندہ چھوڑتے ہی نہیں، کبھی نہ کبھی سر کاٹ ہی لیں گے...... لیکن ادب کے نام پر اس ”بے ادبی“ پر یسوع مسیح کو کیا جواب دیں گے...... سوچ لیجیے......!!
۞......۞......۞
اوریا مقبول جان
آخرت کا سودا
سارے شہر میں ہو کا عالم تھا۔ دکانیں بند، بازار سنسان، جمعہ کی نماز کے بعد لوگوں کا ابلتا ہوا ہجوم شہر کی سڑکوں پر غصے سے بپھر رہا تھا۔ اس جم غفیر کا کوئی لیڈر تھا نہ رہنما۔ جو کوئی جوش و ولولے میں گونجتی آواز کے ساتھ کسی چوک میں بلندی پر کھڑا ہو جاتا، وہی مقرر اور وہی رہنما۔ لوگوں کی آنکھوں میں آنسو تھے اور چہرے پر غصہ۔ میں اپنے باپ کی انگلی پکڑے اس ہجوم میں شامل تھا۔ میرا باپ بار بار اپنی آنکھوں سے نکلتے ہوئے آنسو صاف کرتا اور مجھے جو صرف سات آٹھ سال کا بچہ تھا، اسے بتاتا تمہیں معلوم ہے ہندوؤں نے ہمارے پیارے رسول ﷺ کا موئے مبارک چوری کر لیا ہے۔ آپ ﷺ کے ایک بال سے اس قدر عقیدت اور محبت میرے بچپن کی یادوں میں سے ایک ہے۔ مجھے اس جلوس کے اختتام پر ایک مقرر کے دو اشعار نہیں بھولتے جو اس نے جذبے کی تپتی ہوئی آواز میں کہے۔ مولانا ظفر علی خان کے شعر، ایسے لگتا اس قوم کی آواز ہیں۔
مگر میں باوجود اس کے مسلماں ہو نہیں سکتا
نہ جب تک کٹ مروں میں خواجہ بطحا کی حرمت پر
خدا شاہد ہے کامل میرا ایماں ہو نہیں سکتا
سرکارِ دو عالم ﷺ کی حرمت پر کٹ مرنے کی آرزو میری قوم کا اثاثہ تھا۔ یہ اثاثہ کسی مسجد و محراب یا مدرسے تک محدود نہ تھا بلکہ جو جتنا گناہگار ہوتا، اسے اتنا ہی اس حرمت پر کٹ مرنے کا احساس ہوتا کہ شاید یوں ہی اسے نجات کا راستہ مل جائے۔ اس کی گناہگار زندگی کی شرمندگی دور ہو سکے۔ اختر شیرانی اردو کے مشہور شاعر تھے، وہ ایک سادہ مسلمان
تھے۔ جنہیں پارسائی کا کوئی دعویٰ نہ تھا۔ ایک دفعہ ان کے سامنے ایک شخص نے سید الانبیا کی شان میں گستاخی کی کوشش کی۔ اختر نے گلاس کھینچ کر اسے مارا اور کہا کیا تم مجھ سے میری آخری متاع بھی چھیننا چاہتے ہو۔
عاصیوں، گناہگاروں اور عام مسلمانوں کی یہ آخری متاع جسے عشق رسول ﷺ کہا جاتا ہے، میرے ملک کے باسیوں کا خاصہ رہا ہے۔ جس سرزمین نے غازی علم الدین شہید جیسے جانثار کو جنم دیا کہ اپنے وقت کے مقرر، خطیب اور عالم سید عطا اللہ شاہ بخاری کو کہنا پڑا کہ ساری زندگی قرآن سناتے رہے، اپنی عالی نسبی پر ناز کرتے رہے، عشق رسول ﷺ پر وعظ کرتے رہے اور بازی ترکھانوں کا بیٹا لے گیا۔ لیکن یہ آخری متاع صرف چند سالوں میں ہم سے یوں چھن جائے گی کہ پوری امت مسلمہ سراپا احتجاج بن جائے۔ عرب اس توہین آمیز کارٹون پر ڈنمارک کی اشیا کا بائیکاٹ کریں تو صرف ایک ہفتے میں انہیں 27 ملین ڈالر کی ایکسپورٹ کا نقصان ہو۔ عراق میں برستی گولیوں اور امریکی فوج کی یلغار کے باوجود برستی بارش میں لاکھوں لوگ سڑک پر نکل آئیں۔ محکوم فلسطین میں سالوں سے مار کھاتے فلسطینی، افغانستان کے بے یار و مددگار افغان، امریکی حملے کی زد میں آنے والے ایرانی اور امریکی دھمکیوں کے نرغے میں شام کے مسلمان سب ایسے سراپا احتجاج تھے کہ مجھے اپنے بچپن کا وہ شہر، وہ جلوس، وہ جم غفیر اور آنکھوں سے بہتے آنسو یاد آ گئے اور میں اپنے چاروں جانب اس ہجوم کو ڈھونڈتا رہا۔ غازی علم الدین کے شہر میں اس غم و غصے کو تلاش کرتا رہا۔ مجھے تسلی دینے والے بہت تھے۔ کہتے تھے دیکھو، سفیروں کو بلا کر احتجاج کر دیا گیا اور بیان دے دیئے گئے۔ لیکن معلوم نہیں کیوں مجھے سرکار دو عالم ﷺ کی وہ حدیث بار بار یاد آ جاتی ”تم اس وقت تک مسلمان ہو ہی نہیں سکتے جب تک میں تمہیں اپنے ماں باپ اور بیوی بچوں سے زیادہ عزیز نہ ہو جاؤں۔“ میں اکثر خود سے سوال کرتا کہ کیا کسی بھی بیان دینے والے یا سفارتی خط لکھنے والے شخص کے باپ یا ماں کا مضحکہ خیز خاکہ بنایا جاتا یا توہین آمیز کارٹون شائع ہوتا تو وہ ایسا ہی کرتا۔ وہ اس شخص سے زندگی بھر بولنا چھوڑ دیتا۔ اس سے نفرت کرتا۔ مقدور ہوتا تو اس سے بدلہ لینے کی کوشش کرتا۔ آج بھی توہین آمیز خاکوں کی اشاعت کے خلاف دنیا بھر میں مظاہرے ہو رہے ہیں۔ ہمارے ملک میں یہی صورت حال ہے لیکن اس میں وہ شدت اور جاہ
وجلال نہیں جو ہونا چاہیے۔ آسائش حاصل کی جاسکتی ہے۔ پرعیش زندگی گزاری جاسکتی ہے لیکن آخرت کے سودے اس سے بالکل الگ ہیں۔ ہم نے وہ سودے کرنے چھوڑ دیئے ہیں کہ شاید ہمارے قومی مفاد میں نہیں۔ لیکن میں اپنے اس ماضی کو کہاں دفن کروں جہاں مجھے غیظ وغضب کا ہجوم نظر آتا ہے۔ اپنے باپ کی آنسوؤں سے بھیگی ڈاڑھی نظر آتی ہے۔ آنسو میری آنکھ میں بھی ہیں لیکن بے بسی کے آنسو، بے یقینی کے آنسو۔ میں نے عشق رسول کی آخری متاع کے بدلے میں آخرت کا سودا کرنے کا موقع کھو دیا ہو۔
❖......❖......❖
انور غازی
توہین آمیز خاکوں کی دوبارہ اشاعت اور یورپ
’’ذرا دائیں بائیں نظر دوڑائیں تو آپ کو معلوم ہو جائے گا کہ ہم کس طرف جا رہے ہیں؟ بادئ النظر میں آپ کو یہ ہرگز معلوم نہیں ہوگا کہ جس ملک میں آپ رہ رہے ہیں، اس میں اندر ہی اندر ایک مسلسل جنگ چل رہی ہے لیکن تھوڑا سا غور کرنے سے آپ جان جائیں گے کہ ایک جنگ جاری ہے اور اس میں ہمیں اپنا دفاع کرنا ہوگا۔ ہو سکتا ہے ایسا وقت بھی آجائے کہ آپ بے خبر ہوں اور مسجدوں کی تعداد گرجا گھروں سے بھی بڑھ جائے۔‘‘
یہ الفاظ ہالینڈ کے ممبر پارلیمنٹ گریٹ ولڈرز کے ہیں۔ گریٹ ولڈرز 1963ء میں پیدا ہوا اس کی پرورش اگرچہ ایک کیتھولک خاندان میں ہوئی لیکن یہ بذات خود ایک دہریہ شخص ہے۔ اس نے اپنی لازمی ملٹری سروس 1983ء میں مکمل کی اور اردن، اسرائیل سرحد پر دو سال کام کیا۔ 1989ء میں گریٹ ولڈرز نے ”پیپلز فور فریڈم اینڈ ڈیموکریسی“ میں شمولیت اختیار کر لی۔ جماعت کے اراکین سے اختلاف پیدا ہو جانے کی وجہ سے اس نے اس تنظیم سے علیحدگی اختیار کی اور اپنی الگ جماعت کی بنیاد رکھی جس کا نام اس نے ”پارٹی فور فریڈم“ رکھا۔ 1998ء سے یہ مسلسل پارلیمنٹ کا ممبر چلا آ رہا ہے۔ نومبر 2006ء کے انتخابات میں اس کی پارٹی نے 150 کے ایوان میں 9 نشستیں حاصل کیں۔ اسے اور اس کی پارٹی کو اسرائیل نواز جماعت سمجھا جاتا ہے۔ اس کے اسرائیلی حکام سے بہت اچھے تعلقات ہیں اور ہالینڈ میں موجود اسرائیلی سفارتخانے میں اس کا اکثر آنا جانا رہتا ہے۔
گزشتہ دنوں اس نے مشہور زمانہ Fox News کو انٹرویو دیا۔ جس کے بعد دنیا بھر میں اضطراب پھیل گیا اور تب سے اسلامی حلقے بطور خاص مضطرب ہیں۔ گریٹ ولڈرز کو خصوصی سیکورٹی مہیا کی گئی ہے۔ ہالینڈ کی حکومت نے دنیا بھر میں موجود اپنے سفارتخانوں کو حفاظتی انتظامات سخت کرنے اور احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کا حکم دیا ہے۔ خبر ہے کہ پاکستان
سمیت دنیا بھر میں ہالینڈ کے سفارتخانوں کے لیے خصوصی انتظامات کیے گئے ہیں جبکہ دوسری طرف بیک وقت 17 ڈینش اخبارات نے شرانگیزی کا ثبوت دیتے ہوئے توہین آمیز خاکے دوبارہ شائع کر کے مسلمانوں کے زخم ہرے کر دیئے ہیں۔
اب آئیے اس انکشاف کی جانب جو اس نے اس انٹرویو کے دوران کیا ہے......
گریٹ ولڈرز نے کہا کہ وہ نامور مستشرقین، پروفیسرز اور قلمکاروں کی ایک ٹیم کے ساتھ ایک فلم پر کام کر رہا ہے۔ اس فلم کے ذریعے لوگوں کو معلوم ہوگا کہ یورپ کے رنگ میں رنگے مسلمانوں میں بھی قرآن کی عظمت بہت حد تک زندہ ہے۔ جس کی وجہ سے ہر وہ چیز اور نظریہ تیزی سے تباہی کی جانب گامزن ہے جس پر مغربی تہذیب قائم ہے۔ یہ فلم مغربی دنیا کو ایک بہت بڑے خطرے سے آگاہ کرے گی اور وہ خطرہ ہے اسلامائزیشن کا۔ یورپ کو اس وقت اسلامائزیشن کے سونامی کا سامنا ہے۔ ہمیں اس طوفان کو روکنے اور اس کے خلاف بند باندھنے کے لیے متحد ہونا پڑے گا۔ ورنہ یہ مذہب پورے مغرب کو اپنے بہاؤ میں لے جائے گا۔
اس انٹرویو میں اس نے مزید کہا کہ میں سمجھتا ہوں کہ ہماری ثقافت فرسودہ اسلامی ثقافت سے بہت بہتر ہے۔ دنیا میں موجود 99 فیصد عدم برداشت اسلامی عقائد قرآن کی وجہ سے ہے۔ اپنے ان خیالات کی وجہ سے چونکہ یہ کافی عرصے سے سخت سیکورٹی میں رہنے پر مجبور ہے، اس لیے اس نے یہ بھی کہا کہ میں جن حالات میں رہنے پر مجبور ہوں، میں اپنے بدترین دشمن کے لیے بھی ایسا کبھی نہیں چاہوں گا اور اس صورت حال کی وجہ سے اسلام کے خلاف میرے نظریے میں مزید شدت آئی ہے۔ اس نے کہا کہ وہ اس فلم کو ہالینڈ کے مقبول نیوز روم پروگرام NOVA میں نشر کرنا چاہتا ہے۔ اگر اس کی اجازت نہ ملی تو پھر وہ اس فلم کو اس وقت میں چلائے گا جو گورنمنٹ نے اس کی پارٹی کو سرکاری ٹی وی پر عطا کیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ مشہور زمانہ ویب سائٹ Youtube پر بھی جاری کرے گا۔
کہا جا رہا ہے کہ یہ فلم توہین قرآن اور توہین رسالت ﷺ پر مبنی ہوگی اور اس سے پہلے کی جانے والی تمام قلمی اور فلمی جسارتوں سے بڑھ کر ہوگی۔ ہالینڈ کے میڈیا نے اس سلسلے میں ایک سروے بھی کیا جس کے مطابق 65 فیصد ولندیزی شہری اس بات کے حق میں ہیں کہ اس فلم کو نشر کرنے کی اجازت دی جائے۔
گریٹ ولڈرز اس سلسلے کی پہلی کڑی نہیں ہے۔ اس سے قبل بھی ہالینڈ میں ہی ایک
فلم Submission کے نام سے بن چکی ہے جس پر دنیا بھر میں احتجاج ہوا تھا۔ اس فلم کا ڈائریکٹر تھیوگوان تھا اور ریان ہرسی علی نامی صومالی لڑکی نے اس کا سکرپٹ لکھا تھا۔ اس فلم میں ننگی عورتوں کے جسم پر پروجیکٹر کی مدد سے روشنی ڈال کر قرآنی آیات لکھی گئی تھیں۔ ریان ہرسی علی نے یہ دکھایا کہ یہ وہ آیات ہیں جن میں اسلام اور قرآن نے عورتوں کے حقوق غصب کیے ہیں۔ انہیں نصف شہری قرار دیا ہے اور اس طرح سے عورت کو کمتر قرار دے کر اس پر ظلم کے دروازے کھول دیئے ہیں۔
اس فلم کے ڈائریکٹر تھیوگوان کو محمد بوعیری نامی ایک شخص نے قتل کیا تھا۔ اس کے سینے پر خنجر کے ذریعے ایک پرچہ بھی لٹکا دیا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ ریان ہرسی علی اپنی موت کا انتظار کرے۔ ناموس رسالت ﷺ کے پروانے محمد بوعیری کو گرفتار کر کے عمر قید کی سزا دی گئی جبکہ ریان ہرسی کو انتہائی سخت سیکورٹی فراہم کی گئی۔ اس کے بقول حکومت اس کی حفاظت پر اب تک 35 لاکھ یورو خرچ کر چکی ہے۔ ریان نے جب اس فلم کا سکرپٹ لکھا تھا تب وہ بھی پارلیمنٹ کی ممبر تھی۔ ریان صومالی عورت ہے جو کہ ہالینڈ میں سیاسی پناہ گزین کے طور پر آئی تھی اور اب اسے وہاں کی شہریت بھی دے دی گئی ہے۔
ہالینڈ کا ایک اور ممبر پارلیمنٹ ”پم فارچوین“ بھی اسی ملعون گروہ کا فرد تھا۔ اس نے بھی ہالینڈ میں مسلمانوں کے خلاف گویا ایک تحریک برپا کر رکھی تھی۔ وہ ہر فورم پر اسلام اور مسلمانوں کے خلاف زہر اگلتا تھا۔ اس کے بھی اسرائیلی حکام سے بہت گہرے مراسم تھے۔ اسے ہالینڈ میں جانوروں کے حقوق کے لیے کام کرنے والی ایک این جی او کے ممبر گاف نے قتل کر دیا تھا۔ بعد میں گاف نے عدالت میں اپنے بیان میں کہا کہ ”پم“ جن خیالات کا پرچار کر رہا تھا، اس سے ہمارے معاشرے کے ایک کمزور حصے یعنی مسلمانوں کی تذلیل ہوتی ہے اور ”پم“ معاشرے کے کمزور حصے کو نشانہ بنا رہا تھا۔ یہ ہماری مغربی روایات کے خلاف تھا، اس لیے میں نے اسے قتل کر دیا۔ گاف کو عدالت نے 18 سال قید کی سزا سنا دی۔
قارئین! ان تمام اسلام دشمنوں میں دو باتیں مشترک ہیں۔ ایک یہ کہ سب پارلیمنٹ کے ممبرز ہیں اور دوسرا یہ کہ ان سب کے اسرائیل سے گہرے تعلقات ہیں۔ آخر یہ سب ایسا کیوں کر رہے ہیں؟ کیا یہ سب ایک اتفاق ہے؟ ہرگز نہیں۔ اس بات کی تہہ تک پہنچنے کے لیے ہمیں ہالینڈ کے بارے میں مزید جاننا ہوگا۔
ہالینڈ یورپی یونین کے اولین اراکین میں سے ہے۔ اس کی سرحدیں جرمنی اور بیلجیم سے ملتی ہیں۔ 1967ء کی عرب اسرائیل جنگ میں اگرچہ سارا یورپ اسرائیل کے موقف کی حمایت کر رہا تھا لیکن 1973ء کی عرب اسرائیل جنگ میں ہالینڈ امریکہ کے بعد پوری دنیا میں وہ واحد ملک تھا جس نے اسرائیل کی نہ صرف حمایت کی بلکہ مدد بھی۔ ہالینڈ کی آبادی ایک کروڑ ساٹھ لاکھ کے قریب ہے جس میں 10 لاکھ مسلمان ہیں۔ تناسب کے لحاظ سے یورپ کے جس ملک میں سب سے زیادہ مسلمان موجود ہیں، وہ ہالینڈ ہی ہے۔ اگرچہ تعداد کے لحاظ سے مسلمان فرانس میں سب سے زیادہ ہیں لیکن آبادی کے تناسب کے حساب سے ہالینڈ میں مسلمان ہر یورپی ملک سے زیادہ تعداد میں ملتے ہیں۔ یہ پوری آبادی کا 5.6 فیصد ہیں۔ تمام تر مخالفت کے باوجود اسلام ہالینڈ میں بھی تیزی سے پھیل رہا ہے۔ ہالینڈ میں عریانی و فحاشی اپنے عروج پر ہے۔ ملک کی آبادی کا 41 فیصد طبقہ دہریہ نظریات رکھتا ہے جبکہ رومن کیتھولک 31 فیصد اور ڈچ ریفارمر 13 فیصد ہیں اور یہ بھی پروٹسٹنٹ کی ایک قسم ہے جبکہ 7 فیصد پروٹسٹنٹ ہیں۔ یہاں بہت ساری خواتین بغیر قمیض کے عام ٹرانسپورٹ میں سفر کرتی ہیں اور اس کے علاوہ ہم جنس پرستی کی لعنت بھی عام ہے۔ اس ملک میں منشیات استعمال کرنے کی باقاعدہ قانونی اجازت موجود ہے۔ یہاں ہیروئن و دیگر ممنوع منشیات 15 سال سے زیادہ عمر کے افراد کے لیے غیر مواخذہ ہے۔ اس غیر اخلاقی آزادی کے نتائج کی وجہ سے اس معاشرے سے تنگ آئے ہوئے افراد تیزی سے اسلام کی جانب راغب ہو رہے ہیں اور اسلام تیزی سے اپنی جگہ بنا رہا ہے اور یہی وہ چیز ہے جس نے حکومتی حلقوں کو پریشان کر رکھا ہے۔ چنانچہ اس صورت حال کو دیکھتے ہوئے ارکان پارلیمنٹ اسلام مخالف سرگرمیوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہے ہیں اور وقتاً فوقتاً اسلام کے خلاف بل پیش کرتے رہتے ہیں۔ برقع پر پابندی کا ایک بل اس وقت بھی پارلیمنٹ میں زیر غور ہے۔
ہالینڈ کے چونکہ اسرائیل سے بہت اچھے تعلقات اور مراسم ہیں۔ اس لیے یہاں اسلام کی مقبولیت کم کرنے کے لیے اسرائیلی مدد سے تمام سرکردہ سیاستدان اور اراکین پارلیمنٹ مصروف عمل ہیں۔ چنانچہ گیرٹ ولڈرز کی فلم کے بارے میں حکومت کا موقف ہے کہ ہالینڈ میں ہر ایک کو اظہار کی آزادی ہے اور اس پر کوئی قدغن لگانا انسانی حقوق کے خلاف ہوگا۔ انسانی حقوق کے یہ ٹھیکیدار اپنے ہی ملک کے دس لاکھ باشندوں کے مذہبی حقوق کی
خلاف ورزی کر رہے ہیں اور پوری دنیا کے مسلمانوں کے دلوں پر ایک اور قیامت برپا ہونے کو ہے۔ یہ سمجھتے ہیں کہ شاید وہ ایسی مذموم حرکتوں سے اسلام کا راستہ روک لیں گے۔ اسی لیے مسلمانوں کو ظلم و ستم کا نشانہ بنایا جا رہا ہے اور فلسطینیوں کے خون کی ہولی کھیلنے والے اسرائیل نے ہالینڈ کو اپنی مذموم سرگرمیوں کا مرکز بنالیا ہے۔
خود کو آزاد سمجھنے والے اسرائیل کے یہ ولندیزی غلام بزعم خود اسلام کا راستہ روک رہے ہیں لیکن قدرت نے اسلام کی فطرت میں لچک رکھی ہے۔ یہ اتنا ہی ابھر رہا ہے جتنا اس کو دبانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ پچھلے ہی دنوں افغانستان میں 31 سالہ امریکی فوجی ”والیس نیلسن“ نے اسلام قبول کر لیا ہے۔ اندریں حالات ڈنمارک اخبارات نے توہین آمیز خاکے شائع کر کے مسلمانوں کے زخموں پر نمک پاشی کی ہے۔ اس کا واضح اور بڑا مقصد کسی سے مخفی نہیں!!
ڈاکٹر عامر لیاقت حسین
میری توبہ قبول ہو.......
ہدایت بارگاہ ایزدی سے عطا کی جانے والی وہ عظیم نعمت ہے جس کے حصول کے لیے صدائے ضمیر کی حمایت شرط اول ہے۔ میں نے کتنے ہی سپاٹ چہرے ایسے دیکھے ہیں جو اس دارالغرور میں مستقل مکین بننا چاہتے ہیں اور اس دارِ فانی پر فنا ہونے کے لیے تیار ہیں۔ آپ تصنع، تکبر بناوٹ اور دستِ منافقت سے جنم لینے والی ڈمی کے یہ عظیم شاہکار بضد ہیں کہ ہر فرد ان کا ہم نوا بن جائے۔ یہ سوچوں کو سلب کر کے خواہشات پر مر مٹنے والے قلب تیار کرتے ہیں۔ زمانے کے ساتھ چلنا ان کا دستور ہے۔ چاہے اس کی خاطر صاحبِ زمانہ کے اعلیٰ مقام پر معاذ اللہ حرف ہی کیوں نہ آجائے۔ ان کے لغت میں ہم جیسوں کی تعریف دیوانے کے سوا کچھ بھی نہیں تو پھر ہم ہیں دیوانے۔ ایسے دیوانے جو راہِ عشق میں اپنا تن من دھن، کسی شے کی پروا نہیں کرتے۔ وہ قیس ہیں جو عشق کے سفر میں سود و زیاں کا سوال نہیں اٹھاتے۔ وہ رانجھے ہیں کہ جب جان کی بازی لگتی ہے تو جان کے ہارا کرتے ہیں۔ ہمشکلِ فرہاد کوہ کن ہیں کہ ناممکن کو ممکن بنا دینے کی دھن میں تیشہ اٹھا کر سنگلاخ چٹانوں سے دودھ کی نہریں نکالنے کے لیے کمر کس لیتے ہیں۔ وہ سقراط ہیں جو وقت پڑنے پر ہنس کر زہر کا پیالہ نوش کر جاتے ہیں۔ وہ متوالے ہیں جو اپنے جسم کے چیتھڑے اڑ جانے کے باوجود بھی عشق ہی کی گردان کرتے ہیں۔ وہ منصور ہیں جو سولی پر تو چڑھ جاتے ہیں مگر اُف تک نہیں کرتے اور ایسے عجیب دیوانے ہیں کہ اُس پر مرتے ہیں جسے دیکھا تک نہیں! بس سنا ہے کہ ایک محمد ﷺ ہیں۔ جلوہ دیکھا ہے نہ تاباں، جلال دیکھا ہے نہ جمال۔ سماعتوں میں محفوظ ندائے عشق نے صرف اتنا سمجھایا ہے کہ ہے ایک روئے منور جو گنبد خضریٰ میں جلوہ افروز ہے! ایسا حسین کہ جس کے حسن پر سورج اور چاند بھی شرما جائیں۔ لہٰذا ہم عاشقِ صادق بن دیکھے ہی اُس ہستی کے عشق میں دیوانہ وار چل رہے ہیں۔ جو محبوب اول بھی ہے اور محبوب آخر بھی۔ اس راہ پر
دیوانہ وار چلنے والوں نے کب دیکھا ہے کہ راہ کتنی پُر خطر ہے؟ شمع رسالت کے گرد رقصاں پروانے خوب جانتے ہیں کہ انجام جل جانے کے سوا کچھ نہیں۔ پھر بھی روش نہیں بدلتے ، یہ مجنوں تو محبوب پر وارفتگی و شیفتگی و خود سپردگی کی اُس منزل پر ہیں جہاں سے پلٹنا بھی چاہیں تو پلٹ نہیں سکتے ۔ راہ سلوک کے وہ مسافر ہیں جو اُس منزل کی جانب گامزن ہیں کہ جس کی مسافت سے بھی بے خبر ہیں۔ اُس مدرسہ عشق کے طالب حق ہیں کہ جس کا دستور ہی نرالا ہے۔ جہاں عشق کی تعلیم دی جاتی ہے مگر طالب صادق کو سبق یاد کرنے پر چھٹی نہیں ملتی ! ہم کیا کریں کہ ہمیں بھی چھٹی نہیں چاہیے! اُن کی محبت ہی کچھ ایسی ہے کہ اب کچھ اور دکھائی نہیں دیتا۔ اس ڈوبنے میں کچھ ایسا مزا ہے کہ مصلحت کے ساحل اور نزاکت کے کنارے نظر آ بھی جائیں تو ہاتھ بڑھا کر زندگی کی بھیک مانگنے کو جی نہیں چاہتا۔ میں اُن کے حسن میں کچھ ایسا گم ہوں کہ میری تلاش میں نکلنے والے مجھے پانے کے بعد بھی کھوج رہے ہیں۔ میں تو ابھی ادائے جاں نثاری کا حق بھی ادا نہیں کر پایا تھا کہ اُنہوں نے کرم کی حد سے بڑھ کر کرم فرما دیا! میں تو دلدل میں پھنسا تھا، حاسدوں میں گھرا تھا، مشکل میں پڑا تھا، انہوں نے عطائے کریمی سے تھاما اور رستہ دکھا دیا۔ میں تو خطا کار تھا، گناہ گار تھا، ایک گستاخ تھا، پر شاید نگاہ ناز کے نزدیک اب بھی سبز شاخ تھا۔ میری توبہ رب کی بارگاہ میں قبول ہو گئی ، حالانکہ جالیوں کے سامنے ادب سے کھڑے ہو کر صرف اتنا ہی کہا تھا: سرکار! معاف کر دیجیے، بڑی بھول ہو گئی! اور رحمتیں بانٹنے والے میرے قاسم نے مجھ عاصی کی خلاصی کر دی۔ عاجز ہوں اس احسان عظیم کو اُتارنے سے، بے کس ہوں کہ رب ذوالجلال کے دربار میں شکر کا طریقہ اور اشک بہانے کا سلیقہ نہیں آتا۔ ناقص و نادان ہوں اور اس وقت ایک اکیلا انسان ہوں جو تنہا اُن ڈاکوؤں کا سراغ لگانے نکل پڑا ہے جنہوں نے اُس کے آقا ﷺ کے حق پر ڈاکہ ڈالا ہے۔ نبوت کے شاداب باغ میں کذب وافتراق کی سرنگ لگانے کی کوشش کی ہے۔ جھوٹے سمجھتے ہیں کہ سرکار کا زمانہ گزر گیا۔ وہ وصال فرما گئے کیونکہ سب ہی موت میں مجبور ہیں! افسوس کہ وہ یہ جان سکتے کہ نبی موت کے معاملے میں مختار ہوتا ہے، مجبور نہیں ! صحیح بخاری کی حدیث ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا : ہر نبی کو موت سے قبل موت و حیات کے درمیان اختیار دیا جاتا ہے چاہے وفات قبول کرے چاہے مزید زندہ رہے، ہم تو اس لیے مردہ ہو گئے کہ مجبور ہیں جبکہ نبی کے معاملے میں موت مغلوب ہے اور نبی غالب! اب خود ہی سوچ لیجیے کہ جو موت خود اختیار نبی کے تابع ہے وہ موت اُس نبی کو فنا کیسے کر سکتی ہے؟ چنانچہ حضور
ﷺ نے جو رحلت فرمائی، وہ فنا کرنے کی طرف سفر نہیں تھا بلکہ میرے وجدان کے مطابق حضور ﷺ کے وصال کی وجہ یہ ہے چونکہ موت تابعِ اختیار محمد ﷺ ہے، اس لیے اس نے آ کر حضور کی بارگاہ میں عرض کیا ہو گا کہ یا رسول اللہ ﷺ! آپ ﷺ نے ساری زندگی تو حیات کو شرف بخشا، اب تھوڑا سا مجھے بھی مس کر لینے دیں تاکہ میں بھی فخر کروں! پس یہ مطیع حضور ﷺ کو چومنے اور بوسہ لینے کے لیے آئی اور چھو کر چلی گئی۔ تو پھر میں اُسی صاحبِ حیات کو گواہ اور سفارشی بنا کر یہ علانیہ توبہ کرتا ہوں کہ اے ہمارے رب! ہم سے یقیناً اپنی زبان کی حفاظت میں کوتاہی ہوئی ہے۔ ہماری زبان سے لغزشیں ہوئی ہیں۔ یقیناً ہماری زبان بہکی اور بکی ہے، یہاں تک کہ بے لگام بھی ہو گئی۔ بلاشبہ ہماری زبان سے کفریات اور شرکیات نکلی ہیں اور خرافات و واہیات باتیں ہم نے کہی ہیں۔ خود تیرے پیارے حبیب ﷺ نے فرمایا ہے کہ ہر بنی آدم خطا کار ہے اور بہترین خطا کار وہ ہیں جو خطا کرنے کے بعد توبہ کر لیتے ہیں۔ تو پھر اے سب سے بڑھ کر رحم کرنے اور گناہوں کو بخشنے والے! آج سب سے پہلے میں اپنی زبان کی لغزشوں اور کوتاہیوں سے توبہ کرتا ہوں! اے دلوں کے پلٹنے والے! مجھ سے جو بھی تیری شانِ الوہیت میں گستاخی اور شانِ رسالت میں بے ادبی ہوئی ہو، اُس سے درگزر فرما دے۔ مجھ سے جو بھی شانِ اہل بیت کے بارے میں بے ادبی ہوئی ہو، مجھے معاف فرما دے۔ مجھ سے شانِ صحابہ میں جو بھی گستاخی ہوئی ہو یا شیخین کریمین کی ذاتِ اقدس کے بارے میں کوئی بے ادبی ہوئی ہو اور اے میرے رب یقیناً ہوئی ہے، میں کھلے دل سے تسلیم کرتا ہوں، تیری ہی طرف رجوع کرتا ہوں اور میں بغیر کسی خجالت و شرمندگی کے، اے میرے رب! صدقِ دل اور خلوصِ نیت کے ساتھ توبہ کرتا ہوں کہ مجھے معاف فرما دے! اور آئندہ کے لیے ناموسِ الوہیت، ناموسِ رسالت ﷺ، ناموسِ اہل بیت، ناموسِ صحابہ، ناموسِ خلفائے راشدین اور ختمِ نبوت کا سب سے بڑا محافظ اور سپاہی بنا دے! اور اے اللہ! اسی طرح ہماری زبان سے ماضی کی زندگی میں جو کفریات نکلی ہوں، ہم سب آج اُس سے رجوع کرتے ہیں اور اپنے ایمان کی تجدید کرتے ہیں۔ سب سے پہلے میں اپنے ایمان کی تجدید کرتا ہوں اور کلمہ پڑھتا ہوں ”لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ“ اور یہ سطور پڑھنے والے تمام قارئین سے بھی التجا کروں گا کہ وہ بھی اپنے اپنے ایمان کی تجدید کر لیں کہ اللہ کو راضی کرنے کا اس سے بہترین طریقہ اور کوئی نہیں!!
حافظ عبدالواحد سجاد
خاص ہے ترکیب میں قوم رسول ہاشمی صلی اللہ علیہ وسلم
سلطان نورالدین زنگی (1174,1118ء) نہایت پرہیزگار شب بیدار اور عادل بادشاہ تھا۔ دارالحکومت دمشق میں 1162ء کی ایک رات نماز تہجد سے فارغ ہو کر سو گیا، خواب میں آقائے دوجہاں صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت ہوئی۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دو نیلی آنکھوں والے آدمیوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا ”ان دونوں سے میری حفاظت کرو۔“ سلطان کی گھبراہٹ سے آنکھ کھلی تو فوراً اٹھ کر وضو کیا، نوافل ادا کیے اور پھر لیٹ گیا، آنکھ لگ گئی تو معا دوبارہ وہی خواب دیکھا جس سے پریشان ہو کر پھر اٹھ کھڑا ہوا، وضو کر کے نوافل ادا کیے مگر نیند کے غلبے نے اسے پھر آلیا۔ تیسری مرتبہ بھی جب وہی خواب دیکھا تو یہ کہتے ہوئے اٹھ کھڑا ہوا کہ ”اب نیند کی کوئی گنجائش نہیں رہی۔“ اسی وقت اپنے نیک سیرت وزیر جمال الدین کو بلا کر خواب سے آگاہ کیا تو اس نے خواب کا ذکر کسی سے نہ کرنے اور بلا تاخیر مدینہ منورہ روانہ ہونے کا مشورہ دیا۔ سلطان فوراً تیار ہو گیا، اپنے وزیر اور بیس دوسرے آدمیوں کو لے کر تیز رو اونٹوں پر بہت سا مال و متاع لاد کر اسی رات مدینہ طیبہ کی طرف رخت سفر باندھا۔ شب و روز سفر کیا اور سولہویں دن دمشق سے مدینہ طیبہ پہنچا اور سیدھا مسجد نبوی میں پہنچ کر ”ریاض الجنہ“ میں دو نوافل ادا کرنے کے بعد شہر کے تمام لوگوں کی دعوت کے اہتمام اور انہیں انعامات سے نوازنے کا اعلان کیا تاکہ مطلوبہ اشخاص کو پہچان کر گرفتار کر لیا جائے۔ دعوت ہوئی اور اہل مدینہ کو انعامات سے نوازا گیا، اس دوران سلطان کی نگاہیں خواب میں دیکھے ہوئے اشخاص کی ٹوہ میں لگی رہیں مگر وہ نظر نہ آئے تو سلطان نے دوبارہ اعلان کرایا کہ ”کوئی اور آدمی رہ گیا ہو تو اسے بھی لایا جائے۔“ لوگوں نے کہا کہ سب آدمی آچکے ہیں کوئی باقی نہیں رہا۔ سلطان نے اصرار کیا تو معلوم ہوا کہ دو مغربی آدمی روضہ انوار کے قریب ہی مقیم ہیں۔ دن رات عبادت میں مشغول رہتے ہیں، تارک الدنیا اور گوشہ نشین ہیں، اس لیے وہ یہاں نہیں آئے۔ شاہی
فرمان کے باعث انہیں مجبوراً سلطان کے روبرو پیش کیا گیا۔ بادشاہ نے انہیں دیکھتے ہی پہلی نظر میں پہچان لیا کہ یہ وہی دو آدمی ہیں جو خواب میں دکھائے گئے تھے۔ سلطان نے ان سے دریافت کیا ”تم کون ہو اور کہاں کے رہنے والے ہو؟“ انہوں نے بتایا ”ہم مغربی لوگ ہیں، حج کے لیے آئے تھے، وہاں سے فارغ ہوئے تو مدینہ طیبہ آگئے، حضور اکرم ﷺ کے پڑوس میں رہنے کی تمنا اور شوق نے یہیں کا کر دیا۔“ بادشاہ انہیں وہیں ٹھہرنے کا حکم دے کر خود ان کی قیام گاہ پر گیا، تلاش بسیار کے باوجود چند کتابوں کے سوا کوئی مشتبہ چیز نظر نہ آئی تو بادشاہ کی پریشانی میں اضافہ ہو گیا، یہ کیا ماجرا ہے؟ اُدھر اہلِ مدینہ ان مشتبہ افراد کی سفارش کے لیے جمع ہو گئے اور کہنے لگے ”یہ دن بھر روزہ رکھتے ہیں، ہر نماز ریاض الجنۃ میں ادا کرتے ہیں، جنت البقیع کی زیارت اور ہر اتوار کو مسجد قبا پابندی سے جانا ان کے معمولات میں شامل ہے۔ سالِ رواں میں قحط سالی کے دوران یہ بڑی فراخ دلی سے روپیہ پیسہ خیرات کرتے رہے۔“ ایسی باتوں نے سلطان کو مزید ہیجان میں مبتلا کر دیا کہ ”خدایا! یہ سب کچھ کیا ہے، میری سمجھ میں تو کچھ نہیں آ رہا۔“ ابھی وہ اسی ادھیڑ بن میں لگا تھا کہ دفعتاً اسے خیال آیا کہ ان کی جائے نماز کو اٹھا کر دیکھا جائے۔ سلطان نے اسے الٹا تو ایک پتھر نظر آیا، پتھر ہٹایا گیا تو ایک سرنگ نمودار ہوئی جو بہت گہری تھی اور حضور اکرم ﷺ کی قبر اطہر تک پہنچی ہوئی تھی۔ بادشاہ نے انہیں گرفتار کر کے اس مذموم حرکت کا سبب دریافت کیا تو چار و ناچار انہیں حقیقت حال بتانی پڑی کہ ”ہم دونوں عیسائی ہیں اور عیسائی بادشاہوں نے ہمیں بے پناہ مال و دولت دے کر اس لیے بھیجا کہ کسی طرح حجرہ مقدسہ میں داخل ہو کر سرورِ دو عالم ﷺ کا جسدِ اطہر نکال کر لے جائیں، ہم رات بھر کھدائی کرتے اور مٹی نکال کر قریبی کنویں میں ڈال دیتے ہیں۔ سلطان نے خود سرنگ کا معائنہ کیا اور حضور ﷺ کے حکم کے مطابق کہ ”اے نورالدین! مجھے دو بدبختوں سے بچاؤ“ انہیں قتل کر کے ان کی لاشوں کو نذرِ آتش کیا، روضۂ اطہر کے اردگرد سیسہ پلائی دیوار بنا کر حضور اکرم کے روضۂ اقدس کو ہمیشہ کے لیے بدبختوں کی خیرہ دستیوں سے محفوظ کر دیا۔
مغرب کا 1162ء میں شروع ہونے والا سفر 844 برس کے بعد بھی جاری ہے۔ اگر اس وقت رسول اکرم ﷺ کے جسم اطہر کی توہین کے لیے عیسائی بادشاہوں نے اپنی دولت کی تجوریوں کے منہ کھول رکھے تھے تو آج بھی ڈالر، پاؤنڈز، کرونی (ڈنمارک اور ناروے کے سکے) لیرا (اٹلی کا سکہ) اور فرانک (فرانس کا سکہ) بانٹے جا رہے ہیں تاکہ اظہارِ
رائے اور جمہوری آزادیوں کے نام پر اہانت رسول ﷺ کا ارتکاب کیا جائے۔ کبھی یہ کام مستشرقین سے لیا گیا تھا، اب یہ اخبارات اور الیکٹرانک میڈیا سے لیا جا رہا ہے۔ 30 ستمبر 2005ء کو ڈنمارک کے روزنامے جیلنڈزپوسٹن (Jyllands posten) نے نبی کریم ﷺ کا توہین آمیز اسکیچ شائع کیا۔ (نعوذ باللہ) اس خاکے پر 4 نومبر 2005ء کو جمعۃ المبارک کے دن بعد از نماز جمعہ کوپن ہیگن میں ڈنمارک کے مسلمانوں نے احتجاجی مظاہرہ کیا اور اخبار کے ایڈیٹر اور کارٹونسٹ سے معافی کا مطالبہ کیا تو انہوں نے جواب دیا کہ ”یہ اقدام اظہار رائے کی آزادی کے لیے اٹھایا گیا ہے۔“ کیا آزادی تحریر و تقریر کا مطلب صرف یہ رہ گیا ہے کہ عقیدے، مذہب اور پیغمبر کی ذات پر کیچڑ اچھالا جائے؟ حیران کن امر یہ ہے کہ سلطنت، ریاست، دستور اور اقتدار اعلیٰ پر حرف گیری تو سزائے موت کی موجب بنے مگر باعث تخلیق کائنات کی عزت و حرمت پر حرف گیری اظہار رائے کی آزادی قرار پائے۔
12 جنوری 2006ء کو ناروے کے اخبار ”Magazinet“ نے انہی خاکوں کو دوبارہ شائع کیا تو سعودی عرب نے سب سے پہلے اس کا نوٹس لیا اور عرب لیگ کے 17 ممالک نے ڈنمارک حکومت سے ڈینش اخبار کو سزا دینے کا مطالبہ کیا مگر حکومت نے جب یہ جواب دیا کہ وہ اخبارات کی آزادی پر قدغن نہیں لگا سکتی تو شیخ یوسف القرضاوی کی اپیل پر احتجاجی مظاہروں کے ساتھ ساتھ ڈنمارک کی اشیائے صرف اور مصنوعات کا بائیکاٹ شروع کیا گیا، موبائل فونز کے SMS کے ذریعے یہ مہم آگے بڑھتی چلی گئی۔ تمام عرب ممالک کے دکانداروں نے 270 سے زائد اقسام کی مصنوعات کو اپنی دکانوں اور اسٹوروں سے باہر پھینک دیا، اگر یہ مہم جاری رہی تو صرف کویت میں پونے دو ارب سالانہ کا نقصان ڈنمارک کی کمپنیوں کو متوقع ہے۔ صرف یہی نہیں سعودی عرب، لیبیا اور کویت سمیت کئی ممالک نے ڈنمارک سے اپنے سفیروں کو بھی واپس بلا لیا ہے۔ بائیکاٹ نے اپنا رنگ دکھایا تو ڈنمارک کی ڈیری مصنوعات کی سب سے اہم کمپنی ”آرلا“ نے حکومت کو بات چیت کا راستہ اختیار کرنے کا مشورہ دیا تا کہ بھاری نقصان سے بچا جا سکے۔ کنفیڈریشن آف ڈینش انڈسٹری کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر نے ”جیلنڈزپوسٹن“ کو خط لکھ کر یہ سوال کیا کہ ”آپ کی اس حرکت کے سبب ملک و قوم کو کتنے بڑے نقصان کا سامنا ہے؟“ احتجاجی اور سفارتی دباؤ کے آگے نہ جھکنے والا ڈنمارک معاشی بائیکاٹ کے جزوی عمل سے ہی معافی مانگنے پر مجبور ہو گیا اور اخبار کے ایڈیٹر "Carsten Juste" نے "Honourable Fellow of Muslims world"
(عالم اسلام کے عزت مآب شہریوں کی خدمت میں) کے عنوان کے تحت کھلے خط میں معذرت کی مگر اس میں ندامت کم اور معاشی مجبوری زیادہ دکھائی دیتی ہے۔ ”کچھ غلط فہمیوں کے سبب خاکوں کی اشاعت نے مسلمانوں کو مشتعل کر دیا اور عرب ممالک میں ڈنمارک کی مصنوعات کا بائیکاٹ شروع ہو گیا۔ 12 ایمیجز کافی سوبر و سنجیدہ تھیں، ان کا مقصد کسی کو مشتعل کرنا تھا اور نہ ہی ملکی قوانین کی خلاف ورزی تھی لیکن اس کے سبب اشتعال پیدا ہوا، ہم اس پر معذرت کرتے ہیں۔ ...... خلیجی ممالک میں گردش کرنے والے خاکے ہم نے نہیں چھاپے جو اشتعال کا باعث بنے۔“ خط کے الفاظ بتا رہے ہیں کہ مغرب معذرت سے زیادہ مبارزت کی راہ پر گامزن ہے۔ یکم فروری 2006ء کو فرانس کے اخبار France Soir نے خاکوں کی اشاعت کے ساتھ یہ تبصرہ لکھا ”کسی مذہب کے عقائد جمہوری اور سیکولر سوسائٹی پر مسلط کرنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔“ 2 فروری کو جرمنی کے اخبار Welt Die نے صفحہ اول پر یہ سرخی لگائی ”توہین کا حق جمہوری آزادیوں میں سے ایک ہے۔“ اسی طرح اٹلی کے اخبار La Stampa اور سپین کے TI Peridico نے بھی انہی خاکوں کی اشاعت سے آپ ﷺ کی شخصیت کی تضحیک کی جس سے یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ یہ ایک منصوبہ بندی کا حصہ ہے۔ تہذیبوں کے تصادم کو خلاف واقعہ قرار دینے والے ”دانشوروں“ کے لیے اس میں سامان عبرت موجود ہے۔ توہین مسیح کی سزا امریکہ، برطانیہ، اسکاٹ لینڈ اور دوسرے مغربی ممالک میں بھی موجود ہے۔ امریکہ میں توہین مسیح کے مرتکب کے گھروں کو ان کی عبادت گاہ سمیت ڈھانے سے انسانی حقوق پامال نہیں ہوتے تو پھر توہین رسالت کے مرتکبین کے لیے مسلم ممالک میں سزائے موت انسانی حقوق کی کیسے خلاف ورزی قرار پاتی ہے؟ مسلم ممالک اسلام اور پیغمبر اسلام ﷺ کی تضحیک کرنے والوں کا اقتصادی بائیکاٹ کر کے عوامی امنگوں کی ترجمانی کریں۔ متفقہ قراردادیں اپنی جگہ مگر موجودہ صورت حال عمل کی متقاضی ہے۔ مسلمانوں کو امن اور اعتدال پسندی کا درس دینے والے مغرب کا دوہرا طرز عمل ایک بار پھر دنیا کے سامنے ہے، گوانتاناموبے اور ابوغریب کی تذلیل کے بعد مغرب نے یہ باور کر لیا تھا کہ اسلام اور پیغمبر اسلام ﷺ کی تضحیک کا مرحلہ شروع کیا جائے مگر حالیہ احتجاج نے یہ واضح کر دیا ہے کہ اسلام پر نہ چلنے والا مسلمان بھی حرمت رسول ﷺ پر قربان ہونا اپنے لیے سعادت سمجھتا ہے کیونکہ
اللہ داد نظامی
شان رسالت ﷺ
گزشتہ دنوں براعظم یورپ کے مختلف ممالک کے اخبارات میں حضور رسالت مآب ﷺ کی توہین پر مبنی خاکے شائع کیے گئے۔ جب مسلمانوں نے اس غیر انسانی حرکت پر غم و غصے کا اظہار کیا تو کچھ مزید ممالک کے اخبارات نے یہ خاکے دوبارہ شائع کر دیے۔ گویا یہ حرکت شیطان اور اس کے ساتھیوں کی طرف سے رسول اللہ ﷺ اور اہل ایمان کے خلاف اعلانِ جنگ ہے۔ ہر چیز کی ایک حد ہوتی ہے ایمان اور کفر کی حد رسول پاک ﷺ کی ذات ہے۔ جو آپ ﷺ کا فرماں بردار ہے وہ مومن ہے، جو آپ ﷺ کا احترام کرتا ہے وہ انسان ہے اور جو آپ ﷺ کا احترام بھی نہیں کر سکتا وہ جانوروں سے بھی گیا گزرا ہے۔ جو مسلمان رسول پاک ﷺ کی توہین ہونے پر اپنے ردعمل کا اظہار نہیں کرتا، وہ قرآن وحدیث کی رُو سے مسلمان ہی نہیں ہے۔ قرآن وحدیث میں بتایا گیا ہے کہ مسلمان صرف وہ ہے کہ جس کو نبی پاک ﷺ کی ذات ہر چیز، ہر مفاد، ہر تعلق اور ہر رشتے سے زیادہ پیاری ہو۔ ایک صحابی کو مکہ والوں نے گرفتار کر کے سولی چڑھانے کا اہتمام کر لیا، عین اس موقع پر مکہ والوں نے کہا کہ اگر تم یہ کہہ دو کہ مجھے چھوڑ دو اور اللہ کے رسول ﷺ کو میری جگہ سولی چڑھا دو، صرف اتنا کہنے پر تمہاری جان چھوٹ سکتی ہے۔ اس صحابی نے جواب میں فرمایا کہ تم نے ایک بڑی سخت بات کہہ دی ہے، مجھے تو یہ بھی برداشت نہیں کہ میری جان کے بدلے میں رسولِ پاک ﷺ کے جسم مبارک میں کانٹا بھی چبھے۔ اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی ذات کے حوالے سے اہل ایمان کا رویہ اور سوچ کیا ہونی چاہیے۔ جہاں تک غیر مسلموں کا معاملہ ہے تو یہ ایک حقیقت ہے کہ اہانتِ رسول ﷺ غیر اسلامی ہی نہیں مکمل طور پر ایک غیر انسانی فعل ہے۔ مغرب کے اصولِ جمہوریت کی رُو سے ایک ارب پچاس کروڑ انسانوں کے متفقہ اور محبوب لیڈر کے خلاف چند سو اوباش جھوٹ، بکواس اور بے ہودگی شائع کرنے کا کیا حق
رکھتے ہیں؟ مغرب کے اصول آزادی رائے کے مطابق وہ کون سا انسانی معاشرہ ہے جہاں کتے انسانوں کو کاٹنے کے لیے آزاد ہیں۔ مغرب کے فرد کی آزادی کے اصول کے حوالے سے یہ حقیقت ہے ہر قوم ملکی سلامتی کو نقصان پہنچانے اور ملک کا دستور توڑنے پر سخت ترین سزائیں دینے کے لیے قانون بناتی ہے اور ہر ملک کا حق دفاع پوری دنیا میں تسلیم کیا گیا ہے اور ہر ملک اپنے دشمن کو سزا دینے اور نقصان پہنچانے کا مکمل حق رکھتا ہے۔ اگر یہ سب کچھ انسانی آزادی کے خلاف نہیں ہے تو گستاخان پیغمبر اسلام ﷺ کو نکیل ڈالنے اور سزا دینے کا مطالبہ انسانی آزادی کے خلاف کیسے ہو گیا؟ ان خاکوں کے ذریعے رسول پاک ﷺ کو ظلم و تشدد کا علمبردار قرار دینے والے یہ صحافی اور مغربی حکمران کوئی ان پڑھ، بے وقوف اور تاریخ سے نابلد لوگ نہیں ہیں۔ نبی پاک ﷺ کے اسلامی انقلاب سے پہلے بھی سیاسی اور نظریاتی جنگیں لڑی گئیں اور لاکھوں لوگ ان کا شکار ہوئے۔ رسول پاک ﷺ کے بعد بھی آج تک دنیا میں سینکڑوں جنگیں برپا ہوئیں اور ان میں کروڑہا انسان لقمہ اجل بنے۔ رسول پاک ﷺ جو سیاسی، نظریاتی اور جغرافیائی تبدیلی لائے، وہ تاریخ پر سب سے بڑھ کر اثر انداز ہوئی اور انسانی تاریخ میں سب سے کم جانی نقصان اسی جدوجہد میں ہوا۔ اس تاریخی حقیقت سے مشرق یا مغرب کا کوئی بھی پڑھا لکھا انسان انکار نہیں کر سکتا۔ بیسویں صدی انسانیت کے لیے ہلاکت خیز صدی ہے۔ دونوں عالمی جنگیں اس صدی میں لڑی گئیں اور دونوں جنگوں کے متحارب فریقین رسول اللہ ﷺ کی رسالت سے انکاری تھے۔ اسی طرح انقلاب فرانس اور روس کے کیمونسٹ انقلاب کی بے انتہا ہلاکت خیزی کس سے چھپی ہوئی ہے؟ ان حقائق کی موجودگی میں عالمی امن کو برباد کر دینے والے اشتعال انگیز خاکے شائع کرنے والے یہ لوگ انسانیت کے لیے باعث ننگ و عار نہیں ہیں تو اور کیا ہیں؟ عالمی امن کو برباد کرنے کی سازش کرنے والے یہ لوگ صفحہ ہستی سے حرف غلط کی طرح مٹا دیے جانے کے لائق ہیں۔ پیغمبر اسلام ﷺ کو اس دنیا سے پردہ فرمائے ہوئے تقریباً ایک ہزار اور چار سو سال سے زائد عرصہ گزر چکا ہے۔ اندازاً اسی پچاسی نسلیں آپ ﷺ کے اس دنیا سے تشریف لے جانے کے بعد پیدا ہو چکی ہیں۔ انسانی سمجھ سے یہ بات بالکل باہر ہے کہ اتنا طویل عرصہ گزر جانے کے بعد آخر کسی کو رسول پاک ﷺ نے آج کیا نقصان پہنچایا ہے کہ مغربی پریس اور مغرب کے حکمران اللہ کے رسول ﷺ کی شان میں گستاخی کرنے پر اتر آئے ہیں۔
یہ کہا جا رہا ہے کہ اہل مغرب حضرت موسیٰ اور حضرت عیسیٰ سمیت مختلف انبیاء کے حوالے سے توہین آمیز رویہ اختیار کرتے رہتے ہیں۔ اگر کوئی شخص اپنے باپ کی توہین کرتا رہتا ہو تو اسے یہ اختیار کیسے حاصل ہو گیا کہ وہ ہر ایک باپ کی توہین کر سکتا ہے۔ تمام انبیاء کی تعلیمات انسانیت کی مشترکہ میراث ہیں لیکن مغرب کا صحافی اور حکمران طبقہ تو سرے سے آسمانی ہدایت کی ضرورت ہی سے انکاری ہے اور ان کا کسی بھی نبی کی نبوت پر ان معنوں میں ایمان ہی نہیں جس کو فی الواقع ایمان کہا جاتا ہے۔
اے اہل ایمان! ہم نے اسلامی دستور حکومت کا ٹوٹنا برداشت کر لیا ہے جسے نواسہ رسولؐ نے برداشت نہ کیا تھا اور اپنا پورا کنبہ شہید کرا دیا۔ ہم نے اسلامی قانون پر بادشاہوں کے قانون کا غالب آنا برداشت کر لیا ہے جسے امام اعظم ابو حنیفہؒ سمیت چاروں اماموں نے برداشت نہ کیا، جیلوں میں گئے، کوڑے کھائے اور جانوں کی قربانی دے دی۔ ہم نے مسلمانوں کی سر زمین پر کافروں کا قبضہ برداشت کر لیا جسے اپنے اپنے وقت کے مجاہدین نے برداشت نہ کیا، گھر بار لٹا دیے، پھانسیوں کے پھندے چوم کر گلے میں ڈالے اور ہنستے مسکراتے سولیوں پر چڑھ گئے۔ آج آخری حد ہمارے سامنے کھڑی ہے۔ رسول اللہ ﷺ کی توہین برداشت کر لینے کے بعد ہمارے پاس کون سا ایمان اور کون سا اسلام باقی رہ جائے گا؟ مغرب کے حکمران اور اسلامی ممالک میں ان کے پیروکار کہتے تھے ہمیں ملا کا اسلام نہیں چاہیے۔ پھر کہتے تھے ہمیں مجاہدین کا اور سیاسی اسلام نہیں چاہیے۔ آج وہ کہتے ہیں رسول پاک ﷺ کا اسلام نہیں چاہیے تو پھر کون سا اسلام باقی بچ گیا؟ بش کا اسلام اور عالم اسلام پر مسلط مغرب کے پٹھو حکمرانوں کا اسلام؟ آج ایمان اور مفاد آمنے سامنے کھڑے ہیں۔ امام مہدی کا ظہور اور حضرت عیسیٰ کا نزول قریب تر ہے۔ جو مفاد بچائے گا، ایمان سے محروم ہو جائے گا، جو ایمان بچائے گا، مفاد سے محروم ہو جائے گا۔ اپنے ایمان سے چمٹ جائیے۔ اہل مغرب کی شیطانی قوتوں نے اہل ایمان پر آخری حملے کا آغاز کر دیا ہے۔ غیرت کا ثبوت دیجیے کہ غیرت کا دوسرا نام ایمان ہے۔ جبکہ کفر کا دوسرا نام بے غیرتی ہے۔
حکیم عبدالوحید سلیمانی
حرمت رسول ﷺ پر صیہونی حملے اور ان کا سدباب
توہین کا لفظ وہن سے نکلا ہے جس کے معنی کمی یا کمزوری کے ہیں۔ توہین سے مراد یہ ہے کہ کسی شخصیت کے بارے میں اس کی عزت یا وقار کے منافی اس طرح کی باتیں کرنا جس سے وہ شخص لوگوں کی نظروں میں اپنے مرتبہ اور مقام سے کمتر محسوس ہو۔ توہین رسالت سے مراد اللہ کے نبی ﷺ کی طرف ایسی بات مشہور کرنا ہے جس سے نبی ﷺ کی شخصیت میں عیوب اور نقائص کا پایا جانا ہے حالانکہ اللہ کے کسی بھی نبی میں کوئی عیب نہیں پایا جاتا۔ شریعت اسلامی کے تحت بے حرمتی کی اصطلاح خالصتاً اعمال، مختلف کلمات یا تحریروں پر مبنی ہوتی ہے۔ اگر کوئی شخص اللہ کے رسول ﷺ کو زبان سے گالی دیتا ہے یا تحریر میں آپ ﷺ کے خلاف نازیبا الفاظ استعمال کرتا ہے یا آپ ﷺ کے اہل وعیال میں سے کسی کو بُرا بھلا کہتا ہے یا ذلت آمیز الفاظ استعمال کرتا ہے یا حضور ﷺ کا نام آنے پر برا منہ بناتا ہے یا اپنی شکل بگاڑتا ہے یا صحابہ، تابعین، تبع تابعین اور مسلمانوں کے لیے دشمنی اور نفرت کا اظہار کرتا ہے یا رسول اللہ ﷺ ان کے اصحاب اور اہل بیت پر تہمت لگاتا ہے یا اللہ اور اس کے رسول ﷺ سے بغاوت کرتا ہے یا آپ ﷺ کی لائی ہوئی شریعت کے خلاف بولتا ہے، یہ سب حرمت رسول ﷺ پر حملے اور توہین رسالت ﷺ کے ضمن میں آتا ہے اور شریعت اسلامی کے تحت یہ بدترین جرم ہے۔ کوئی بھی شخص جو حضور ﷺ کی ہنسی اڑاتا ہے یا آپ ﷺ کی سیرت کے بارے میں یا اس کے کسی گوشہ کے بارے میں مزاح کا انداز اختیار کرتا ہے یا آپ ﷺ کے بارے میں تنقیص کا رویہ اختیار کرتا ہے یا آپ ﷺ کی نسبت بری باتوں کو منسوب کرتا ہے۔ صحابہؓ اور اہل بیت کو برا بھلا کہتا ہے۔ قرآن مجید اور ان کی آیات کا مذاق اڑاتا ہے اور اس قسم کے اشعار کہتا ہے کہ ۔
نفرتوں کے یہ صحیفے عمر بھر کھولے گا کون
در حقیقت وہ خود اول درجے کا کافر، مرتد، زندیق اور ملحد ہے تو اسلامی حکومت میں کوئی شخص یہ حرکت کرتا ہے تو اسلامی حکومت میں اس کو قتل کرنا واجب ہے۔ جو اس کے کفر میں شک کرتا ہے وہ بھی کافر ہے بلکہ یہاں تک کہ ایسے شخص کی توبہ بھی قبول نہیں کی جائے گی۔ امام ابن تیمیہؒ توہین کی تشریح کرتے ہوئے کہتے ہیں:
"اس کا مطلب رسول ﷺ کو (نعوذ باللہ) گالی دینا، ان کے لیے کسی مشکل کی دعا کرنا یا ان کی طرف کسی ایک چیز کو منسوب کرنا ہے جو ان کے رتبے کے لحاظ سے فروتر ہو یا آپ ﷺ کے بارے میں جھوٹے، نامناسب اور گھٹیا الفاظ استعمال کرنا، ان پر کسی انسانی کمزوری کا الزام لگانا یا ان کی طرف کسی جہالت کی بات کو منسوب کرنا توہین رسالت ہے۔ اللہ کے آخری نبی ﷺ ایک عظیم کائناتی پیغام لے کر تشریف لائے۔ آپ ﷺ دنیا کے تمام جن وانس کے لیے قابل تعظیم ہیں ہم میں کسی شخص سے ایسا کام نہیں ہونا چاہیے ایسا قول و فعل سرزد نہیں ہونا چاہیے جس سے حضور ﷺ کو معمولی سا گزند بھی پہنچے یا آپ ﷺ کی شان اقدس میں معمولی سی گستاخی بھی ہو۔ اسی طرح ازواج مطہراتؓ اور بنات طاہراتؓ کے بارے میں بھی غلط لفظ زبان سے نہ نکلے۔ قرآن وسنت مسلمانوں پر یہ فرض عائد کرتے ہیں کہ وہ حضور ﷺ کو اپنی جان سے زیادہ عزیز رکھیں۔ ازواج مطہراتؓ کو اپنی حقیقی ماؤں سے زیادہ قابل تکریم سمجھیں اور ان عقائد میں سرنگ لگانے والوں کی ہر ہر کوشش کی مزاحمت کریں اور ایسے لوگوں سے سختی سے نمٹیں جو شخص حضور ﷺ کی بے حرمتی کا مرتکب ہوتا ہے۔ وہ امت مسلمہ کی بے حرمتی کا مرتکب ہوتا ہے اور جو حضور ﷺ کی شان میں گستاخی کرتا ہے، وہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کا دشمن ہے۔ رسول اللہ ﷺ کو اپنی زندگی میں بہت سختیوں اور سازشوں کا سامنا کرنا پڑا۔ کفار اور یہود کا خیال تھا کہ نبی اکرم ﷺ کو ختم کر کے وہ اسلام کا نور بجھا دیں گے لیکن اللہ نے آپ ﷺ کی مدد کی اور انہیں منہ کی کھانی پڑی۔
پھونکوں سے یہ چراغ بجھایا نہ جائے گا
یہودیوں نے ہجرت مدینہ کے بعد حضور ﷺ کو تکالیف پہنچانا شروع کیں اور
آغاز میں کفار مکہ نے آپ ﷺ کو بے شمار ایذائیں پہنچائیں۔ اگر حضور ﷺ کے علاوہ اور کوئی شخص ہوتا تو وہ شخص اپنی ہمت کھو بیٹھتا۔ آپ ﷺ کے محلہ دار جو مکہ کے رؤسا میں سے تھے، آپ ﷺ کی راہ میں کانٹے بچھاتے۔ جب آپ ﷺ حرم پاک میں نماز پڑھ رہے ہوتے تو شور مچاتے اور مکہ کے لونڈوں کو آپ ﷺ کے پیچھے لگا دیتے، وہ تالیاں پیٹتے اور شور مچاتے۔ حضور ﷺ قرآن پڑھ رہے ہوتے تو وہ اللہ کو، آپ ﷺ کو اور قرآن کو گالیاں دیتے۔ حضور ﷺ کو سب سے زیادہ پریشانیاں یہود کی طرف سے اٹھانا پڑیں۔ لیکن ہجرت مدینہ سے پہلے اہل مکہ بالخصوص قریش نے بھی کوئی کمی نہ کی۔ اس سلسلہ میں سب سے بڑا فتنہ پرور آپ ﷺ کا چچا ابولہب تھا۔ اسی وجہ سے قرآن مجید میں اس کا نام لے کر اس کی مذمت کی گئی۔ جب حضور ﷺ نے وانذر عشیرتک الاقربین (الشعراء : 214) کی تعمیل کرتے ہوئے کوہ صفا پر تشریف لے گئے اور یا صباحاہ کہہ کر لوگوں کو ڈرایا جب آپ ﷺ نے قریش کے خاندان کے نام لے کر انہیں پکارا ۔ اے بنی فہر! اے بنی ہاشم! اے بنی عبدالمطلب، اے بنی فلاں، اے بنی فلاں میں تمہیں بتاؤں کہ پہاڑ کے پیچھے ایک لشکر تم پر حملہ کرنے کے لیے تیار کھڑا ہے کیا تم میری بات سچ مانو گے؟ تمام لوگوں نے یک زبان کہا ہاں! ہم نے کبھی آپ ﷺ کے منہ سے جھوٹ نہیں سنا، آپ ﷺ نے فرمایا میں تمہیں آگاہ کرتا ہوں کہ آگے سخت عذاب آنے والا ہے۔ اس بات پر ابولہب نے شر پسندی کی اور پکار اٹھا تبالک الهذا جمعتنا (تیرا برا ہو، کیا اس مقصد کے لیے ہمیں یہاں جمع کیا تھا ) ایک دوسری روایت میں ہے کہ اس نے محسن انسانیت ﷺ پر پتھر اٹھایا تا کہ آپ ﷺ پر کھینچ مارے۔
ابولہب حضور ﷺ کا چچا ہی نہیں تھا بلکہ دیوار بہ دیوار آپ ﷺ کا ہمسایہ بھی تھا۔ ابولہب کی زیادتیوں میں اس کی بیوی ام جمیل بھی برابر کی شریک تھی۔ اس نے سالہا سال تک حضور ﷺ کے راستہ میں کانٹے، غلاظت اور کوڑا کرکٹ جمع کرنے کا کام کیا۔ جب تبت یدا ابی لہب و تب نازل ہوئی تو وہ نبی اکرم ﷺ کو تلاش کرتی ہوئی خانہ کعبہ میں پہنچی، اس کے ہاتھ میں پتھر تھے، اس موقع پر اللہ نے اس کی نگاہ چھین لی۔ وہ حضور ﷺ کو نہ دیکھ سکی اور بے نیل مرام واپس چلی گئی۔ ایک دفعہ ذوالمجاز کے بازار میں رسول اللہ ﷺ لوگوں کو دین کی دعوت دے رہے تھے اور لوگوں سے کہہ رہے تھے لا الہ الا اللہ کہو، فلاح پاؤ گے۔ اس حالت میں لوگوں نے دیکھا کہ ایک شخص پے در پے آپ ﷺ کو پتھر مار رہا ہے جس سے آپ ﷺ کی
پنڈلیوں سے لہو بہہ رہا ہے اور وہ شخص کہے جارہا ہے کہ یہ جھوٹا ہے اس کی بات نہ سنو۔ دیکھنے والوں نے بتایا کہ یہ آپ ﷺ کا چچا ابولہب ہے جو شرانگیزی کر رہا ہے۔ جب حضور ﷺ، بنی ہاشم اور بنی عبدالمطلب کو شعب ابی طالب میں تین سالہ نظر بند رہنا پڑا تو ابولہب کفار مکہ کا ساتھی تھا، ان پر فاقوں کی نوبت آئی لیکن جب بھی باہر سے کوئی قافلہ آتا یہ ان سے کہتا کہ ان کو مال نہ بیچو میں منہ مانگی قیمت دوں گا۔ وہ اس کے بہکاوے میں آجاتے تو بازار کے عام نرخ پر انہیں ٹرخا دیتا۔ ابوجہل بھی اللہ کے رسول ﷺ کا سخت دشمن تھا۔ اس نے حضور ﷺ کو شدید ذہنی رنج پہنچایا اور جسمانی اذیت سے ہم کنار کیا۔ اس نے رسول اللہ ﷺ کو قتل کرنے کی سازش بھی کی۔ اس نے متعدد بار آپ ﷺ کو نماز پڑھنے سے روکا۔ ایک دفعہ آپ ﷺ کو مقام ابراہیم کے پاس نماز پڑھتے ہوئے دیکھ کر اس نے آپ ﷺ کو نماز پڑھنے سے روکا۔ آپ ﷺ نے بھی سختی سے جواب دیا۔ اس پر اس نے آپ ﷺ کو دھمکی دی کہ میری محفل مکہ میں سب سے بڑی ہے اور میں آپ ﷺ سے نپٹ لوں گا۔ اس پر اللہ نے جواب دیا فلیدع نادیہ (اچھا تو اپنی محفل والوں کو بلالے)!
ایک بار نبی کریم ﷺ کو نماز پڑھتے دیکھ کر وہ چلا آیا کہ آپ ﷺ کی گردن دبالے لیکن لوگوں نے دیکھا کہ وہ پلٹ رہا ہے اور اپنا دفاع کر رہا ہے۔ لوگوں نے پوچھا، تمہیں کیا ہوا؟ اس نے کہا مجھے یوں محسوس ہورہا ہے جیسے محمد ﷺ اور میرے درمیان آگ کی ایک خندق ہے۔ لوگوں نے نبی ﷺ سے پوچھا تو آپ ﷺ نے فرمایا اگر وہ میرے قریب آتا تو فرشتے اس کے ایک ایک عضو کو روند ڈالتے۔ ایک بار نبی مکرم ﷺ کو نماز پڑھتے دیکھ کر اس نے پتھر اٹھایا اور آپ ﷺ کو مارنے کے لیے دوڑا لیکن آپ ﷺ کے قریب پہنچنے پر وہ پسینہ پسینہ ہو کر بھاگا۔ اس کا رنگ اڑا ہوا تھا اور دونوں ہاتھ پتھر سے چپکے ہوئے تھے۔ لوگوں نے پوچھا تمہیں کیا ہوا؟ کہنے لگا میں محمد ﷺ کے قریب گیا تو وہاں ایک اونٹ بیٹھا ہوا تھا، اس طرح کی کھوپڑی، گردن اور ایسے دانتوں والا اونٹ میں نے پہلے کبھی نہیں دیکھا۔ لگتا تھا کہ مجھے کچا چبا جائے گا۔ آپ ﷺ نے فرمایا اونٹ کی شکل میں یہ جبریل امین تھے، اگر ابوجہل میرے قریب آتا تو وہ اسے پکڑ لیتے۔
ایک مرتبہ حضور ﷺ خانہ کعبہ میں نماز پڑھ رہے تھے کہ عقبہ نے چادر کا پلو آپ ﷺ کی گردن میں ڈال کر اس زور سے گھونٹا آپ ﷺ گھٹنوں کے بل گر پڑے اور
آپ ﷺ کو شدید چوٹ آئی۔ ایک مرتبہ آپ ﷺ کہیں جا رہے تھے کہ کسی نے آپ ﷺ کے سر پر مٹی ڈال دی۔ ایک مرتبہ بیت اللہ میں نماز پڑھتے ہوئے ابوجہل اور اس کے ساتھیوں نے اونٹ کی نجاست سے بھری ہوئی اوجھ سجدے کی حالت میں آپ ﷺ کے اوپر ڈال دی۔ حضور ﷺ بوجھ سے پریشان تھے اور وہ بدبخت آپ ﷺ کا مذاق اڑا رہے تھے۔ کسی نے حضرت فاطمہؓ کو اطلاع دی اور انہوں نے اوجھ کے بوجھ سے اپنے پیارے والد کو نجات دلائی۔ رسول اللہ ﷺ کو ابولہب اور ابو جہل کے علاوہ تکلیف دینے والوں میں حکم بن ابی العاص، عقبہ بن ابی معیط ، عدی بن حمراء، ثقفی ابن اصدا ہذلی وغیرہ شامل تھے۔ اہل مکہ کے مظالم اور حق سے منہ موڑنے کی وجہ سے حضور ﷺ طائف تشریف لے گئے لیکن اہل طائف نے آپ ﷺ کے ساتھ اہانت آمیز سلوک کیا۔ آپ ﷺ کی دعوت کو جھٹلایا بلکہ شہر کے اوباشوں کو آپ ﷺ کے پیچھے لگا دیا۔ انہوں نے آپ ﷺ کو گالیاں دیں۔ پتھر مارے، تالیاں پیٹیں، ایذائیں دیں جس کے نتیجہ میں آپ ﷺ کے دونوں جوتے جسم سے نکلنے والے خون سے بھر گئے۔ حضرت زید بن حارثہؓ آپ ﷺ کے ساتھ گئے تھے، وہ پریشان ہو گئے وہ پتھروں کو روک رہے تھے، ان کے سر پر بھی پتھر لگے۔ ان کے جسم پر بھی جگہ جگہ چوٹیں آئیں، پتھر کھاتے کھاتے اور اذیتیں برداشت کرتے کرتے رسالت مآب ﷺ بے ہوش ہو گئے۔ حضرت زید بن حارثہؓ نے آپ ﷺ کو بے ہوشی کی حالت میں اپنے کندھوں پر اٹھایا اور شہر سے باہر ایک باغ میں لے گئے۔ حضور ﷺ کو ہوش آیا تو حضرت زیدؓ نے عرض کیا کہ آپ ﷺ ان بدبختوں کے لیے بددعا کریں مگر آپ ﷺ نے ایسا کرنے سے انکار کر دیا اور فرمایا میں ان کے لیے کیوں بددعا کروں، ہو سکتا ہے ان کی آنے والی نسلیں اسلام قبول کر لیں۔ اسی موقع پر پہاڑوں کے فرشتے نے کہا تھا کہ حضور (ﷺ) اگر آپ (ﷺ) اجازت دیں تو میں ان کو ان دونوں پہاڑوں کے درمیان پیس کر رکھ دوں، لیکن آپ ﷺ نے فرمایا کہ نہیں نہیں ! انہیں کچھ نہ کہا جائے، ہو سکتا ہے کہ ان کی آئندہ آنے والی نسلیں اسلام قبول کر لیں۔ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہؓ فرماتی ہیں کہ ایک دن میں نے محسن انسانیت ﷺ سے پوچھا کہ آپ ﷺ پر کوئی دن احد سے زیادہ سخت بھی گزرا ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا تمہاری قوم نے مجھے جن جن مصیبتوں میں مبتلا کیا، ان میں سب سے بڑی مصیبت وہی جب میں گھاٹی میں یعنی شعب ابی طالب میں رہا۔ میں نے ابن عبد یالیل
کے سامنے اسلام پیش کیا لیکن اس نے میری بات نہ مانی۔ اس بات سے مجھے شدید صدمہ پہنچا۔ اس کے علاوہ قریش نے متعدد بار آپ ﷺ کو قتل کرنے کی کوشش کی لیکن وہ ناکام و نامراد رہے۔ رسول اکرم ﷺ کو ختم کرنے کے لیے قریش مکہ نے بڑی بڑی سازشیں کیں۔ دارالندوہ میں ایک میٹنگ منعقد ہوئی جس میں قریش کے تمام بڑے بڑے سردار شریک ہوئے۔ ان کے ساتھ ابلیس لعین بھی انسانی شکل میں شریک ہوا جس نے یہ تجویز پیش کی کہ قریش کے ہر قبیلہ سے ایک ایک نوجوان لیا جائے جن کے ہاتھوں میں تلواریں ہوں اور وہ بیک وقت حضور ﷺ پر حملہ کر کے آپ ﷺ کا کام تمام کردیں۔ اتنے بہت سے قبیلوں سے بنو عبد مناف بدلہ نہیں لے سکیں گے۔ اللہ نے جبریل امین کے ذریعہ سرور دو عالم ﷺ کو آگاہ کر دیا۔ آپ ﷺ حضرت علیؓ کو اپنے بستر پر لٹا کر نکل گئے اور مشرکین منہ دیکھتے رہ گئے۔ اس کے بعد قریش نے اعلان کیا کہ جو کوئی حضور ﷺ کو زندہ یا مردہ حالت میں لائے گا، اس کو سو اونٹوں کا انعام دیا جائے گا۔ بریدہ اسلمی قریش سے انعام حاصل کرنے کے لالچ میں آپ ﷺ کی تلاش میں نکلے لیکن انسان کامل سے ملاقات کے بعد ان کی کایا پلٹ گئی اور اپنی قوم کے ستر آدمیوں سمیت مسلمان ہو گئے۔ سراقہ بن مالک بھی اسی انعام کے لالچ میں آپ ﷺ کی تلاش میں نکلا، وہ آپ ﷺ کو دیکھتا تو زہر آلود تیر چھوڑتا۔ ایک جگہ پر اس کے گھوڑے نے ٹھوکر کھائی اور اس کی ٹانگیں زمین میں دھنس گئیں۔ سراقہ نے محسوس کیا کہ اس کے دل کے اندر کوئی چیز اسے جھنجھوڑ رہی ہے اور رسول اللہ ﷺ کے قتل کرنے کے ارادہ سے باز رکھ رہی ہے۔ وہ دہشت زدہ ہو گیا اور اس نے واپسی کا فیصلہ کر لیا۔ حضور ﷺ سے اس نے امان چاہی تو آپ ﷺ نے اسے نہ صرف امان دی بلکہ کسریٰ کے کنگنوں کی خوش خبری بھی سنائی۔ ایران کے خلاف جنگ میں اسے کسریٰ کے اربوں روپے مالیت کے کنگن ملے جو اس نے اسلامی بیت المال میں جمع کرا دیے۔ عمیر بن وہب زہر میں بجھی ہوئی تلوار لے کر نبی مکرم ﷺ کو قتل کرنے کے ارادے سے آیا لیکن مسلمانوں نے اسے گرفتار کر لیا اور خدمت اقدس میں پیش کیا۔ آپ ﷺ نے اسے معاف کر دیا وہ اس واقعہ سے اتنا متاثر ہوا کہ اس نے اسلام قبول کر لیا۔ فضالہ بن عمیر نے خاتم الانبیاء ﷺ کو قتل کرنے کا منصوبہ بنایا، فتح مکہ کے موقع پر حضور ﷺ طواف کعبہ میں مشغول تھے، فضالہ جب آپ ﷺ کے پاس آیا تو اللہ نے آپ ﷺ پر وحی فرما دی۔ آپ ﷺ نے اسے اس کے ارادہ سے آگاہ کیا۔ پہلے تو اس
نے انکار کیا اور جھوٹ بولا۔ آپ ﷺ مسکرائے اور آپ نے فرمایا فضالہ اللہ سے معافی مانگو پھر آپ ﷺ نے فضالہ کی چھاتی پر ہاتھ رکھا اور اس کی تسکین قلب کے لیے دعا کی۔ وہ کہتا تھا جوں ہی اللہ کے رسول ﷺ نے میری چھاتی سے ہاتھ اٹھایا، مجھے دنیا میں آپ ﷺ سے بڑھ کر کوئی محبوب نہیں رہا۔ کفار مکہ کے علاوہ یہودیوں نے بھی آپ ﷺ کی مخالفت میں کوئی کمی نہ کی۔ ہجرت مدینہ کے بعد تو حضور ﷺ انصار مدینہ کے ساتھ ساتھ یہود کے پڑوس میں بھی آ بسے۔ یہودی نبیوں کو ماننے والی قوم تھی۔ اللہ نے ان کی طرف ہزار ہا پیغمبر بھیجے اور انہیں لوگوں پر فضیلت دی تھی مگر انہوں نے دین میں نئی چیزیں شامل کر لیں اور اللہ کے نبیوں کو قتل کرنا شروع کر دیا تو اللہ نے ان سے فضیلت واپس لے لی اور مسلمانوں کو اس منصب پر فائز کر دیا۔ ان کی آسمانی کتابوں میں یہ ذکر موجود تھا کہ نبیوں میں سب سے زیادہ فضیلت والے نبی آنے والے ہیں۔ وہ آپ ﷺ کا انتظار بھی کر رہے تھے اور انہیں یہ بھی معلوم تھا کہ وہ ہجرت کے بعد مدینہ منورہ میں قیام پذیر ہوں گے لیکن جب انہیں یہ معلوم ہوا کہ آپ ﷺ کا تعلق بنی اسرائیل نہیں بلکہ بنی اسماعیل سے ہے تو وہ آپ ﷺ کے مخالف ہو گئے اور انہوں نے مدینہ میں کفار مکہ کے ساتھ مل کر آپ ﷺ کے خلاف سازشیں شروع کر دیں۔ مدینہ میں کچھ یہودیوں نے رسول اکرم ﷺ اور آپ ﷺ کے بے شمار صحابہ کو قتل کرنے کا منصوبہ بنایا۔ انہوں نے آپ ﷺ اور آپ ﷺ کے ساتھیوں کو رات کے کھانے پر بلوایا لیکن اللہ نے آپ ﷺ کو اس منصوبہ کی خبر کر دی جس کی وجہ سے آپ ﷺ وہاں تشریف نہ لے گئے۔ اس طرح اللہ نے آپ ﷺ کو محفوظ رکھا۔
فتح خیبر کے موقع پر ایک یہودی عورت زینب بن الحارث نے یہ معلوم کر کے کہ حضور ﷺ کو دستی کا گوشت زیادہ پسند ہے، اس میں زہر ملایا اور حضور ﷺ کو تحفتاً بھیج دیا۔ حضور ﷺ نے گوشت پکڑا اور لقمہ منہ میں رکھا اور فوراً ہی یہ کہتے ہوئے تھوک دیا کہ اس میں زہر ملا ہوا ہے۔ بعد میں جب اسی یہودی عورت سے پوچھا گیا تو اس نے اپنے جرم کو قبول کر لیا۔ ایک صحابی بشر بن براء شدید بیمار تھے، رات کو انہیں شدید تکلیف ہوئی۔ انہوں نے دوسرے صحابہ سے کہا کہ اگر مجھے رات کو موت آجائے تو نبی ﷺ کو نہ بتایا جائے کیونکہ انہیں یہود کی سازشوں سے شدید خطرہ ہے۔
مذہب کے یہ ٹھیکیدار جو بظاہر مہذب نظر آتے ہیں، آپ ﷺ سے بڑے تپاک
سے ملتے تھے لیکن ان کے دلوں میں زہر بھرا ہوا تھا۔ وہ ایسی ایسی باتیں کرتے تھے جس کا مفہوم کچھ سے کچھ ہو جاتا تھا، زبان کو ذرا گھما پھرا کر السام علیکم کہتے جس کا مطلب ہے آپ کو موت آئے۔ رحمت دارین جب وعظ و نصیحت کرتے اور آپ ﷺ کی زبان سے نکلی ہوئی بات ان کی سمجھ میں نہ آتی تو صحابہ کرام فرماتے جس کا مطلب ہماری طرف توجہ فرمائیے۔ یعنی ان الفاظ کو دہرا دیں مگر جب یہودی کہتے تو زبان کو تھوڑا سا بل دے کر کہتے۔ راعینا یعنی اے ہمارے چرواہے، اس طرح آپ ﷺ کی شان میں گستاخی کرتے اور خوش ہوتے۔ اللہ نے مسلمانوں کو راعنا کہنے سے منع کر دیا اور فرمایا جب حضور ﷺ کو مخاطب کرنا ہو تو انظرنا کہو (آپ ﷺ ہماری طرف نظر رحمت کیجیے)۔ اسلام کسی بھی سطح پر گستاخی اور اہانت رسول ﷺ کی اجازت نہیں دیتا اور رسول اللہ ﷺ کی شان میں گستاخی کرنے والا لعنتی ہے اور جہنمی بھی۔ صحابہ کرام حضور ﷺ کی مجلس میں آپ ﷺ کی بات سن کر کہتے سمعنا واطعنا (ہم نے سنا اور اطاعت اختیار کی) لیکن یہودی زبان کو تھوڑا سا بل دے کر کہتے سمعنا و عصینا (ہم نے آپ ﷺ کی بات کو سنا اور ہم نے ماننے سے انکار کیا) یہودی آپ ﷺ کی دعوت کو جھٹلانے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہ دیتے۔ یہودیوں نے آپ ﷺ پر ہر طرح کے الزام لگائے۔ حضور ﷺ نے اپنی پھوپھی زاد کی شادی اپنے منہ بولے بیٹے حضرت زیدؓ سے کی۔ حضرت زینبؓ کے خاندانی تفاخر اور حضرت زیدؓ کے غلام ہونے کی وجہ سے یہ رشتہ کامیاب نہ ہوسکا۔ اللہ کے حکم سے طلاق کے بعد حضور ﷺ نے ان سے خود شادی کر لی لیکن یہودیوں نے اس پر طوفان کھڑا کر دیا۔ منافقین بھی یہود کے ساتھ شامل ہو گئے۔ اس واقعہ کی حقیقت یہ تھی کہ اللہ تعالیٰ منہ بولے رشتوں کی حرمت کو ختم کرنا چاہتے تھے لیکن لوگوں نے بات سے بتنگڑ بنالیا۔ اسی طرح آپ ﷺ کے بارے میں یہ افواہ اڑائی گئی کہ معاذ اللہ آپ ﷺ کانوں کے کچے ہیں۔ عام مسلمانوں کے لیے چار شادیوں کی اجازت مگر مختلف پہلوؤں کی وجہ سے حضور ﷺ کو اللہ تعالیٰ نے زیادہ شادیوں کی اجازت دی۔ اس پر یہودیوں نے بہت پروپیگنڈہ کیا۔ حضرت صفیہؓ اور حضرت ریحانہؓ کا تعلق یہودی خاندان سے تھا۔ ان سے نکاح کے بعد یہودیوں کی آپ ﷺ کے خلاف سرگرمیاں ٹھنڈی پڑ گئیں۔ مگر ٹھنڈی کہاں پڑیں؟ حضور ﷺ کے دنیا سے ظاہری پردہ فرما لینے کے بعد بھی ان کی حضور ﷺ سے مخالفت جاری ہے۔ وہ اب بھی حضور ﷺ کی شان میں گستاخی کرتے ہیں لیکن بعض نام نہاد مسلمانوں سے
یہ کام لیتے ہیں۔ اس طرح کے لوگوں میں نمایاں مثال ملعون سلمان رشدی کی ہے جس نے Satanic Verses (شیطانی آیات) کتاب لکھ کر حضور ﷺ کی شان میں گستاخی کی۔ لیکن ابھی تک کوئی غازی علم الدین پیدا نہیں ہوا جو اس کو کیفر کردار تک پہنچا سکے۔ بنگلہ دیش کی ملعون خاتون تسلیمہ نسرین ہے جس نے ”لجا“ نامی ناول میں قرآن حکیم، شریعت اور حضور ﷺ کی ذات اقدس پر حملے کیے ہیں۔ وہ کبھی یورپ، کبھی امریکہ اور کبھی بھارت میں اپنی جان چھپاتی پھرتی ہے۔ مصر کے ڈاکٹر حامد ابو زید اور ترکی کے عزیز نے بھی ایسی ہی کمینی حرکتوں کا ارتکاب کیا۔ یہ سب کا سب یہودی لابی کے کہنے پر ہوا اور وہی ان کی حفاظت کر رہی ہے۔ قادیانیت حضور ﷺ کے خلاف بغض وعناد کا ایک آتش فشاں ہے۔ حضور ﷺ کی خاتم النبیین کی صفت پر ڈاکہ ہے۔ یہودیوں اور انگریزوں نے اس مکروہ شخص کو پروان چڑھایا۔ قادیانیت مسیلمہ کذاب کے غلیظ مشن کا تسلسل ہے اس ملعون شخص نے اسلام کو بہت زیادہ نقصان پہنچایا۔ اس نے جہاد کو منسوخ کرنے کا اعلان کیا۔ اس نے ایک موقع پر خود یہ بات کہی کہ میں انگریز کا خودکاشتہ پودا ہوں۔ آج کل مسلمانوں کے ازلی و ابدی دشمن یہودیوں نے ایک چکر چلا رکھا ہے۔ کچھ فتنہ پرور اور مفاد پرست مسلمان بھی ان کے ساتھ مل گئے ہیں۔ ان سب نے مل کر حضور ﷺ کی زندگی کو فلمانے کی شرمناک حرکت شروع کر رکھی ہے جس پر ساری دنیا کے مسلمان تلملا رہے ہیں۔ ایسی فلم بنانا محض توہین رسالت ہی نہیں بلکہ کھلم کھلا استہزا اور مذاق ہے۔ شریعت اسلامی نے ہر گستاخ رسول کے لیے سزا مقرر کی ہے اور کسی بھی گستاخ کو یہ سزا بھگتنے کے لیے تیار رہنا چاہیے۔ قرآن مجید میں ان لوگوں کے خلاف جو رسول اللہ ﷺ کا مذاق اڑاتے ہیں، اللہ نے ایک فیصلہ صادر کر دیا ہے جن میں ان کے خلاف جنگ کرنا، ان کو قتل کرنا یا ان کا سرقلم کرنا ضروری ہے۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
”پس ان لوگوں کی گردنوں پر ضرب مارو اور جوڑ جوڑ پر چوٹ لگاؤ یہ اس لیے کہ انہوں نے اللہ اور اس کے رسول کا مقابلہ کیا اور جو اللہ اور اس کے رسول ﷺ سے مقابلہ کرے تو اللہ اس کے لیے نہایت سخت گیر ہے۔“
(الانفال: 12، 13)
دوسری جگہ پر قرآن مجید میں ہے:
”جو لوگ اللہ اور اس کے رسول کو تکلیف دیتے ہیں، ان پر اللہ نے دنیا اور آخرت میں لعنت فرمائی ہے اور ان کے لیے رسوا کر دینے والا عذاب مہیا کر رکھا ہے۔“
(احزاب: 57)
امام مالکؒ کہتے ہیں جو شخص مسلمان ہو یا کافر، رسول اللہ ﷺ کو گالی دے، اس کی سزا موت ہے۔ امام ابو حنیفہؒ، حضرت لیث، حضرت اسحاق اور امام اوزاعیؒ کا فتویٰ ہے کہ شاتم رسول کو موت کی سزا سنا کر قتل کر دینا چاہیے۔ امام شافعیؒ کے شاگرد ابو بکر شافعیؒ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کو گالی کی سزا موت ہے۔ امام احمد بن حنبلؒ کہتے ہیں کہ جو رسول اللہ ﷺ یا ان کے اہل بیتؓ کو گالی دیتا ہے، اسے قتل کر دیا جانا چاہیے، اس کے لیے معافی نہیں ہے۔ گزشتہ تین سال سے یورپ اور امریکہ کے ممالک میں ایک وبا پھیلی ہوئی ہے۔ وہاں کے اخبارات العیاذ باللہ نبی ﷺ کے کارٹون، اور خاکے اپنے رسائل میں چھاپتے ہیں۔ اب تک دنیا کے 65 ملکوں میں ڈیڑھ سو سے زائد اخبار یہ خاکے شائع کر چکے ہیں۔ افسوسناک خبر یہ ہے کہ 18 اسلامی ممالک نے بھی یہ توہین آمیز خاکے شائع کیے۔
”بیدار ڈائجسٹ“ کے اگست 2004ء کے شمارہ میں ایک مضمون شائع ہوا جو دراصل ایک جرمن رپورٹ تھی۔ اس میں اس اخبار نے بتایا کہ چرچ نے اسلام کی پھیلتی ہوئی روشنی کا راستہ روکنے کے لیے نبی اکرم ﷺ کی شخصیت کو مسخ کرنے کا ایک پروگرام بنایا ہے۔ جس کے تحت اربوں پاؤنڈ اکٹھے کیے جائیں گے جس کے ذریعے اسلام کے پھیلاؤ کو روکنے کی کوشش کی جائے گی۔ روم میں قائم یہ تنظیم مسلمانوں اور عیسائیوں کے درمیان نفرت پیدا کر رہی ہے۔ دنیا بھر کے چالیس فیصد عیسائی اس کی مالی مدد کر رہے ہیں۔ اس کا سالانہ بجٹ 30 ارب روپے ہے۔ اشتعال انگیز خاکوں کی اشاعت سوچے سمجھے منصوبے کا حصہ ہے۔ 5 تا 8 مئی 2005ء کو جرمنی کی ریاست بوریا میں ٹیگرنسی جھیل کے کنارے مقتدر امرا کا ایک اجلاس ہوا۔ ایک خاتون میرینٹی ایلڈریپ جیلنڈز پوسٹن اخبار جس نے سب سے پہلے حضور ﷺ کے خاکے شائع کیے، کی منتظم اعلیٰ ہیں۔ ڈنمارک پچھلے کئی سالوں سے برطانیہ کا پٹھو ملک چلا آ رہا ہے جس پر حکومت کا سخت کنٹرول ہے۔ یہ خاکے ایک مذموم مقصد کے تحت شائع کیے گئے ہیں۔ ڈنمارک میں دو لاکھ مسلمان رہتے ہیں۔ ان کے احتجاج کے باوجود اخبار کی انتظامیہ کے کان پر جوں تک نہیں رینگی۔ گیارہ مسلمان ممالک کے سفیروں کے دفاتر ڈنمارک میں موجود ہیں۔ ان سب نے احتجاجاً وہاں کے وزیر اعظم سے ملاقات کی کوشش کی لیکن اس کی ڈھٹائی دیکھیے کہ اس نے ان سب سے ملنے سے انکار کر دیا۔ توہین آمیز خاکے بنانے والے ایک کارٹونسٹ نے گلاسگو میں ہیرالڈ کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ یہ خاکے دہشت گردی کو ذہن میں
رکھ کر بنائے گئے تھے کیونکہ انہیں اسلام سے روحانی اسلحہ ملتا ہے۔ ڈنمارک کے تعلیمی شعبے کے سربراہ نے یہاں تک کہا کہ خاکوں کو تعلیمی نصاب میں شامل کیا جائے اور میوزیم میں نمائش کے لیے رکھا جائے گا۔ اٹلی کے ایک وزیر نے اپنے ملک میں یہ اعلان کیا کہ ان خاکوں والی تصاویر کی شرٹس نہ صرف وہ پہنیں گے بلکہ اٹلی کے شہریوں میں تقسیم کریں گے۔ ڈنمارک کی حکومت کو بش نے باقاعدہ شاباش دی اور جیلنڈز پوسٹن اخبار کو خصوصی ایوارڈ دیا گیا۔ محسنِ اعظم حضرت محمد ﷺ کے خاکوں اور فلم کے بارے میں ہمارے ملک پاکستان میں ایک غلط سوچ پروان چڑھ رہی ہے۔ بعض لوگوں کا یہ کہنا ہے کہ حضور ﷺ رحمت للعالمین تھے۔ بڑے شفیق اور حلیم تھے، انہوں نے تو اس بڑھیا کو بھی معاف کردیا تھا جو روزانہ آپ ﷺ پر کوڑا پھینکتی تھی۔ بلکہ بیمار ہونے پر اس کی عیادت بھی کی اور ان کے گھر کی صفائی بھی کی اس لیے حضور ﷺ کی سنت کو مدنظر رکھتے ہوئے ان کو معاف کردینا چاہیے۔ بلاشبہ اسلام میں سب سے بڑا انتقام معاف کردینا ہے مگر اس ضمن میں دو باتیں بہت ضروری ہیں۔ پہلی یہ کہ آیا گستاخی کرنے والا معافی مانگ بھی رہا ہے یا ہم بغیر معافی مانگے ہی اسے معاف کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔ دوسری بات یہ ہے کہ معاف کرنا خالصتاً اس کا حق ہے جو متاثر ہو۔ یہاں کوئی معافی مانگ بھی رہا ہے یا نہیں۔ لہٰذا شاتمینِ رسول کو معاف کرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ کوڑا کرکٹ پھینکنے والی خاتون کو معافی محسنِ انسانیت ﷺ نے دی تھی اور کسی نے نہیں دی تھی۔ حالانکہ اکابر صحابہ موجود تھے طائف کے لوگوں نے جب پتھر مار کر حضور ﷺ کو لہولہان کردیا تھا۔ ان کو معافی بھی محسنِ انسانیت نے دی تھی۔ لہٰذا موجودہ دور کے گستاخانِ رسول کو ہم کیسے معاف کرسکتے ہیں؟ اس حرکت کی کوئی معافی نہیں۔ اللہ کے ہاں صرف اس کی سزا ہے اور وہ بھی موت۔ اس کے علاوہ کوئی سزا نہیں۔ امریکہ، یورپ اور دیگر ممالک میں آج کل تجارت کی بہت بڑی اہمیت حاصل ہے۔ اس لیے اگر ان ممالک کی اشیاء کا بائیکاٹ پورا عالم اسلام کردے تو ان کی چیخیں نکل جائے۔ ہم ان ممالک سے اتنی دور ہوتے ہوئے ان کو قتل تو نہیں کرسکتے لیکن ان کا سوشل بائیکاٹ کر کے ان کو معاشی موت سے ہمکنار کرسکتے ہیں۔ ہزاروں لاکھوں سال جب نرگس اپنی بے نوری پر روتی ہے تب غازی علم الدین شہید، غازی عبدالرشید شہید، عبدالقیوم شہید اور عامر چیمہ شہید پیدا ہوتے ہیں جو سولی پر چڑھ کر پوری امت کو سمجھا دیتے ہیں کہ
مگر میں باوجود اس کے مسلمان ہو نہیں سکتا
خدا شاہد ہے کامل میرا ایمان ہو نہیں سکتا
جرمنی کا ہٹلر بہت عظیم شخصیت تھا، اس نے اسرائیلیوں کو ناکوں چنے چبوا دیے تھے۔ جب ہٹلر فتوحات پر فتوحات کرتا ہوا روس پہنچا تو اس کے کمانڈر فان لیب نے لینن گراڈ کا محاصرہ کر لیا۔ اس وقت وہاں سردی کا موسم تھا اور درجہ حرارت منفی 30 تھا۔ فان لیب نے ہٹلر سے درخواست کی ٹمپریچر بہت کم ہے، میں اس درجہ حرارت کا مقابلہ نہیں کر سکتا، مجھے پیچھے ہٹنے کی اجازت دی جائے۔ اس پر ہٹلر نے تاریخی فیصلہ کیا اور اسے کہلا بھیجا کہ
I wish I would have the power like Mohammad!
کاش میرے پاس محمد ﷺ جیسی قوت ہوتی!
ہفت روزہ غزوہ کے مدیر محترم امیر حمزہ نے اپنے پرچہ میں لکھا کہ چرچ آف انگلینڈ کے سربراہ روون ولیم نے ایک ایسی بات کہہ ڈالی جس نے عیسائی دنیا کو رلا دیا۔ ولیم نے کہا کہ برطانیہ میں مقیم مسلمانوں کے مقدمات اسلامی قوانین کے تحت کیے جائیں۔ اس پر پورے برطانیہ میں ہاہا کار مچ گئی۔ روون ولیم نے دوسری بات یہ کہی کہ حضرت محمد ﷺ سے بڑھ کر دنیا کے امن اور انصاف کے لیے کسی نے کوشش نہیں کی۔ خواتین سے جتنا اچھا برتاؤ آپ ﷺ نے سکھایا، اس سے بہتر نہ دنیا میں آج سلوک ہو رہا ہے نہ ہی آج سے پہلے ہوا ہے۔ اس پر برطانیہ کے وزیر اعظم گورڈن براؤن نے یہ تبصرہ کیا کہ روون ولیم ہمارے ملک کی ایک محترم شخصیت ہیں۔ لہٰذا ان کے بیان کو سنجیدگی سے لینا چاہیے۔ اس خبر کو بی بی سی اور دیگر بے شمار ٹیلی ویژن سٹیشنز نے نشر کیا۔ 12 فروری 2008ء کو روون ولیم کا تذکرہ ہوا اس کے ٹھیک دو دن بعد واشنگٹن ریڈیو نے کیرن آرم سٹرانگ کا انٹرویو نشر کیا۔ یہ خاتون برطانیہ کی مشہور تجزیہ نگار اور تاریخ دان ہے۔ اس نے کہا میں نے انہی دنوں ایک کتاب لکھی ہے، اس کا نام ہے ”محمد ﷺ ہمارے دور کے نبی“ یہ نام میں نے اس لیے رکھا ہے کہ محمد ﷺ کی تعلیم کو قدیم نہیں کہا جاسکتا۔ آپ ﷺ کی تعلیمات آج کے دور کے تقاضوں کے عین مطابق ہیں اور یہ جدید ترین معلومات کے مطابق ہیں۔ اس نے مزید کہا کہ سلمان رشدی کی تصنیف Satanic Verses پیغمبر اسلام ﷺ کے اوپر الزامات کا پلندہ ہے اور میں نے اس کے جواب میں یہ کتاب لکھی ہے۔
۞........۞........۞
ڈاکٹر عامر لیاقت حسین
ہم اہلِ صفا مردودِ حرم!
دُنیاوی عہدوں کی خواہش، دارالفنا کے دھوکوں اور متاع الغرور میں ”بس چند دن قیام اور“ کی جستجو میں وہی مبتلا رہتے ہیں جنہوں نے عشق کے بہتے دھاروں سے کبھی اپنے ہونٹ سیراب ہی نہ کیے ہوں...... محمد ﷺ کے طلب گار کو اگر محمد ﷺ مل جائیں تو اُسے منصب نہیں صرف ”مصحف“ نظر آتا ہے۔ جس میں حروفِ عشق سے لکھے جاں نثاری کے افسانے، اُن پر قربان ہونے کے بہانے بن جاتے ہیں...... محبوب کی گلی کے چکر لگانے والے گالیاں کھاتے تو ہیں پر دیتے نہیں...... ”اپنوں“ کے ہاتھوں ستائے جاتے ہیں، ستاتے نہیں...... رُلائے جاتے ہیں، رُلاتے نہیں...... اور دوسری جانب...... عقل کی جہتوں پر فلسفوں کا محل تعمیر کرنے والے اپنے نظریات کی اندھی پرستش میں اتنے سخت اور کٹھور ہو جاتے ہیں کہ ”دل کی سُن کر دل سے بولنے والے“ انہیں زہر لگنے لگتے ہیں...... وہ انہیں اُس گھر میں جگہ دینے کو تیار ہی نہیں ہوتے جس کی ایک ایک اینٹ مفاد سے بنے ہوئے گارے کی ہے اور پھر اچانک ایک آواز یوں گونجتی ہے کہ...... خانماں برباد عاشقو! نکل جاؤ ہماری محفل سے، یہاں تم جیسے دیوانوں کا کوئی کام نہیں، یہ دنیا داروں کی انجمن ہے، یہاں ”مطلب کے سکوں“ سے ”حکومت میں حصے“ خریدے جاتے ہیں، یہاں پہچان ”غرض“ ہے صلہ ”فرض“ نہیں، مذہب صرف ایک شناخت ہے جس میں ہم اپنے فہم کی پرداخت کرتے ہیں...... تم کیا جانو، اے بے کارو! جو مزہ اغیار کے تلوے چاٹنے میں ہے، وہ نام محمد ﷺ چومنے میں کہاں؟...... تم تو وہ ناکارہ اور عاشقِ آہ واہ ہو جسے بس ہر وقت محبوب کی ناموس ہی کی فکر لاحق رہتی ہے...... ذرا آنکھیں کھول کر دیکھو تو سہی کہ دنیا کہاں سے کہاں پہنچ گئی اور تم اب تک حدیثوں ہی میں غرق ہو...... ختمِ نبوت کی خاطر ختم ہونے پر آمادہ ہو...... سن لو! کہ ہم دنیا کی خاطر جینے والے اپنی بستی میں کسی ایسی ہستی کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں جو جینے کے بجائے ”مدینے“ کی آرزو
کرے!...... تمہاری میٹھی میٹھی باتوں میں ہم سے بے زاری جھلکتی ہے، تم تو چودہ برس پرانا وہ ماڈل ہو جسے نئے دور کے صحرا میں فوراً ہی دفن ہو جانا چاہیے تھا...... اف! کتنی نفرت ہے تمہیں اُن سے جو گستاخِ رسول ہیں اور سینے میں کتنا لاوا بھرا ہے اُن کے لیے جو ہماری تجوریاں بھرتے ہیں...... ارے او ناکام و نامراد شخص! تمہیں اقتدار راس آیا اور نہ امیر شہر ہی کے در سے کبھی پیغام سپاس آیا...... تم تو ایک جزو لاحاصل ہو کر پھر بھی اٹھلاتے پھرتے ہو، کہیں تم اس گمان کے مریض تو نہیں کہ عشق بچالے گا؟ یا پھر اس فریب میں اسیر ہو کہ عقیدت ایک انمول دولت ہے تو تم بہت امیر ہو...... تف ہے تم پر کہ تم نے عملیت پسندوں کا نام ڈبودیا، اپنے ہی ہاتھوں اپنی تباہی کا بیج بو دیا، بھول گئے کہ ہمارے ہاں ایک اصول ہے، فصل وہ نہیں کاٹتا جو کاشت کرتا ہے بلکہ حق اُسی کا ہے جو نگہداشت کرتا ہے...... تم نے جرات اور انکار کی غذا سے بغاوت کی پرورش کی ہے، رسول ﷺ، رسول ﷺ کی رٹ لگا کر ہمیں مذہب سے جوڑنے کی سازش کی ہے، ہماری اعتدال پسندی اور روشن خیالی کا مذاق اڑایا ہے، برسوں سے ہم جن اندھیروں کی بودوباش کرتے رہے، اے بدبخت عاشق! تم نے وہاں عشق کا چراغ جلایا ہے...... یہ ایک سنگین جرم ہے جو ناقابل معافی اور تلافی ہے، تم اب ہماری ملت میں سے نہیں، تمہارا ہمارا کوئی رشتہ نہیں، جاؤ ہم نے تمہیں فارغ کیا اور اپنی صفوں سے ہمیشہ کے لیے خارج کیا! عشق کا دفتر کہیں اور جا کر کھولو کیونکہ ہم نے تم سے ہر تعلق توڑ ڈالا ہے، تم ایک ایسے انتہا پسند ہو جس نے ہماری دنیا کے رنگ میں بھنگ ڈال کر جشن کے ہر انداز کو پھیکا کردیا...... سچ پوچھو تو تمہیں زندہ رہنے کا بھی حق نہیں...... جاؤ! ہماری نظروں سے دور ہو جاؤ...... جاؤ! کہ اب تم نہیں ہو ہمارے اختیار میں......!
عاشق سنتا رہا، چونکہ محبت نے پیار کے دھاگوں سے ہونٹ سی دیے تھے، اِسی لیے صرف مٹھیاں بھینچ لیں اور خاموش رہا، ستم گروں کے ستم سہتا رہا، الزامات کی بوچھاڑ میں چپ چاپ کھڑا رہا، اسے افسوس اپنوں کی عداوت اور کسی بہت ہی پیارے کی شقاوت پر نہیں بلکہ اپنی اُس غلط فہمی پر تھا جس نے اُسے اس دھوکے میں مبتلا کیے رکھا کہ دنیا پرستی کی گرد کی تہہ ابھی اتنی گہری نہیں ہوئی ہے جس میں مروت، رواداری، شرافت اور تعلق چھپ کر رہ جائیں، قربانیاں بھلا دی جائیں اور جھوٹ کی طاقت سے انگلیاں اٹھا کر وفادار آنکھوں میں حیرت کا وہ سمندر بپا کردیا جائے جس میں ڈوبتی ہوئی غیرت کی آخری دلدوز چیخ اعتماد کی نیا ہلا دے!
یہ نری عقل کبھی عشق کو جرم نہیں بتاتی صرف سزا سناتی ہے....... لیکن عشق کی عقل سزا سے پہلے ہی عشق کو جرم بتا دیتی ہے..... تو اگر جرم یہ ہے کہ ختم نبوت کا تحفظ کیوں کیا؟ تو سن لیجیے کہ عشق عیار نہیں، یہ جرم کرتا رہے گا..... اگر جرم یہ ہے کہ محمد ﷺ سے پیار کیوں کیا؟ تو سن لیجیے اس پر بھی اختیار نہیں، جرم جاری رہے گا ہمارے لیے تو آپ ﷺ کا فکر و تصور اہل عشق کی نماز ہے اور درود و سلام کا ملکوتی وظیفہ افضل ترین عبادت!...... سرکار العالمین ﷺ سے محبت و شیفتگی صحابہ کرامؓ کا طغرائے امتیاز ہے کہ جب آپ ﷺ ناخن ترشواتے تو یہ زمین پر گرنے سے پہلے اپنے دامن میں بطور تبرک سمیٹ لیتے، وضو کے وقت استعمال شدہ پانی کو زمین پر گرنے نہیں دیا جاتا بلکہ ہاتھوں کے پیالوں میں بھر کر اپنے چہروں پر مل لیتے، بال بنواتے تو کٹی ہوئی زلفیں عاشقان رسول ﷺ سنبھال سنبھال کر رکھتے کہ ان سے دارین کی برکتیں حاصل کی جائیں کہ یہ سب مظاہر عشق ہیں...... ہم زندہ ہی اس ناموس کی برکت سے ہیں جب تک اس وابستگی اور غیرت ایمان کا استنباط ناموس مصطفیٰ ﷺ کے ساتھ رہے گا، تب تک ہم بھی زندہ رہیں گے، اگر یہ رشتہ کٹ گیا، کمزور پڑ گیا، دراڑ آ گئی، متزلزل ہو گیا تو سمجھ لیجیے کہ ایمان کمزور ہو گیا، یقین لرز گیا، عقیدے کا پودا جل گیا اور ہم زندوں سے بدتر ہو گئے...... جنہیں پاکستان کا آئین غیر مسلم قرار دے، میں انہیں اسلام کا ایک فرقہ کیسے کہوں؟ جن کے کفر پر امت مسلمہ کا اجماع ہو، میں اُن کی مدح سرائی کے لیے اجتماع کیسے منعقد کروں؟ جو یہودیوں کی گود میں بیٹھ کر عقیدہ ختم نبوت کے سینے کو گود رہے ہوں، انہیں کوئی اور گود لینا چاہے تو شوق سے لے، کم از کم اسلام ان ”ناجائزوں“ کو اپنا نام دینے کے لیے تیار نہیں! یہ غیر مسلم بن کر رہیں، سر آنکھوں پر، ان کے حق کے لیے میں اپنی جان بھی قربان کر دوں گا مگر اپنے آقا ﷺ کے حق میں خیانت کرنے والوں کو مسلمان کہوں اور اُن کی نبوت پر ڈاکہ مارنے والے ڈاکوؤں کا تعاقب نہ کروں، اب میں اتنا بھی روشن خیال نہیں! صحیح فرمایا کہ میں بک گیا ہوں، ہاں میں بک گیا ہوں بازار عشق میں بے دام اور میرا خریدار کوئی اور نہیں وہی ہیں جن کے نواسوں نے حق سے جنت خرید رکھی ہے۔
ستم نہ ہو تو محبت میں کچھ مزا ہی نہیں
ملک احمد سرور
یہود و نصاریٰ اور توہین رسالت ﷺ
نبی کریم ﷺ کی شان میں گستاخی کرنے کے لیے یہودیوں نے روزِ اوّل سے ہی انتہائی اوچھے ہتھکنڈوں کا استعمال کیا۔ آپ ﷺ کی غیر موجودگی میں تو وہ آپ ﷺ کے خلاف نازیبا اور گستاخانہ الفاظ استعمال کرتے ہی تھے، آپ ﷺ کی موجودگی میں بھی ذومعنی الفاظ استعمال کرنا شروع کر دیے یعنی ایسے الفاظ جن کے اچھے معنی بھی ہوتے ہیں اور تحقیر آمیز برے بھی۔ ایسے ہی ایک لفظ ”راعنا“ کے حوالے سے سورۃ البقرہ میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
”اے ایمان لانے والو! راعنا نہ کہا کرو بلکہ انظرنا کہو اور توجہ سے بات سنو، یہ کافر تو عذابِ الیم کے مستحق ہیں۔“
(104:2)
مولانا مودودیؒ اس آیت کی تفسیر میں لکھتے ہیں:
”یہودی جب نبی کریم ﷺ کی مجلس میں آتے تو اپنے سلام اور کلام میں ہر ممکن طریقے سے اپنے دل کا بخار نکالنے کی کوشش کرتے تھے۔ ذومعنی الفاظ بولتے، زور سے کچھ کہتے اور زیرِ لب کچھ اور کہہ دیتے، ظاہری ادب آداب برقرار رکھتے ہوئے درپردہ آپ ﷺ کی توہین کرنے میں کوئی دقیقہ اٹھا نہ رکھتے تھے۔ قرآن میں اس کی متعدد مثالیں بیان کی گئی ہیں۔ یہاں جس خاص لفظ کے استعمال سے مسلمانوں کو روکا گیا ہے، یہ ایک ذومعنی لفظ تھا۔ جب نبی ﷺ کی گفتگو کے دوران میں یہودیوں کو یہ کہنے کی ضرورت پیش آتی کہ ٹھہریے ذرا ہمیں یہ بات سمجھ لینے دیجیے تو وہ ”راعنا“ کہتے تھے۔ اس لفظ کا ایک ظاہری مفہوم تو یہ تھا کہ ذرا ہماری رعایت کیجیے یا ہماری بات سن لیجیے، مگر اس میں کئی احتمالات اور بھی تھے مثلاً عبرانی میں اس سے ملتا جلتا ایک لفظ تھا جس کے معنی تھے ”سن! تو بہرہ ہو جائے۔“ اور خود عربی میں اس کے ایک معنی صاحب رعونت اور جاہل و احمق کے بھی تھے۔ اور گفتگو میں یہ ایسے موقع پر بھی بولا جاتا تھا، جب یہ کہنا ہو کہ تم ہماری سنو تو ہم تمہاری سنیں۔ اور ذرا زبان کو لچکا دے کر
رَاعِينَا بھی بنا لیا جاتا ہے جس کے معنی ”اے ہمارے چرواہے!“ کے تھے۔ اس لیے مسلمانوں کو حکم دیا گیا کہ تم اس لفظ کے استعمال سے پرہیز کرو اور اس کے بجائے انْظُرْنَا کہا کرو، یعنی ہماری طرف توجہ فرمائیے، یا ذرا ہمیں سمجھ لینے دیجیے۔ پھر فرمایا کہ توجہ سے بات سنو۔ یعنی یہودیوں کو تو بار بار یہ کہنے کی ضرورت اس لیے پیش آتی ہے کہ وہ نبی ﷺ کی بات پر توجہ نہیں کرتے اور ان کی تقریر کے دوران میں وہ اپنے ہی خیالات میں الجھے رہتے ہیں مگر تمہیں غور سے نبی کی باتیں سننی چاہئیں تاکہ یہ کہنے کی ضرورت ہی پیش نہ آئے۔
وَيَقُولُوْنَ سَمِعْنَا وَعَصَيْنَا وَاسْمَعْ غَيْرَ مُسْمَعٍ وَّ رَاعِنَا لَيًّا بِاَلْسِنَتِهِمْ وَ طَعْنًا فِی الدِّیْنِ (النساء: 46)
”اور دینِ حق کے خلاف نیش زنی کرنے کے لیے وہ اپنی زبانوں کو توڑ مروڑ کر کہتے ہیں سَمِعْنَا وَعَصَيْنَا اور وَاسْمَعْ غَيْرَ مُسْمَعٍ اور رَاعِنَا۔ یعنی جب انہیں خدا کے احکام سنائے جاتے ہیں تو زور سے کہتے ہیں سَمِعْنَا (ہم نے سن لیا) اور آہستہ کہتے ہیں عَصَيْنَا (ہم نے قبول نہیں کیا) یا اَطَعْنَا (ہم نے قبول کیا) کا تلفظ اس انداز سے زبان کو لچکا دے کر کرتے ہیں کہ عَصَيْنَا بن جاتا ہے۔ یعنی دورانِ گفتگو میں جب وہ کوئی بات محمد ﷺ سے کہنا چاہتے ہیں تو کہتے ہیں اِسْمَعْ (سنیے) اور پھر ساتھ ہی غَيْرَ مُسْمَعٍ بھی کہتے ہیں جو ذو معنی ہے، اس کا ایک مطلب یہ ہے کہ آپ ﷺ کو کوئی بات خلاف مرضی نہیں سنائی جا سکتی، دوسرا مطلب یہ ہے کہ تم اس قابل نہیں کہ تمہیں کوئی بات سنائے۔ ایک اور مطلب یہ ہے کہ خدا کرے کہ تم بہرے ہو جاؤ“۔
(تفہیم القرآن)
یہودیوں نے توہین رسالت ﷺ کا سلسلہ بند نہ کیا، مسلمانوں نے جب عیسائی مملکتوں پر قبضہ کیا تو پادریوں نے اس سلسلے کو مزید آگے بڑھایا۔ اس کے بعد مغربی ممالک میں مستشرقین کا باقاعدہ ایک گروہ وجود میں آگیا جس نے تحقیق کے نام پر اسلام بالخصوص نبی کریم ﷺ کی ذات اقدس پر رکیک حملے کیے۔ نبی کریم ﷺ کی کردار کشی میں یہود و نصاریٰ نے ایک ہی پالیسی اپنا لی اور ایک دوسرے کو سپورٹ کیا۔ صلیبی جنگوں میں صلیبی مناد صلیب کے پرستاروں کو مسلمانوں کے خلاف جنگ پر اُبھارنے کے لیے دینِ اسلام پر برملا طعن و تشنیع کرتے، نبی کریم ﷺ کی شان میں فحش قسم کے کذب و افترا سے اپنی زبانیں آلودہ کرنا اپنا
مذہبی فریضہ سمجھتے۔ ان کے حوالہ جات بطور نمونہ بھی نقل کرنا ایک مسلمان کے لیے انتہائی مشکل ہے۔ متعصب مستشرقین اور گستاخ پادریوں کے بغض، عناد اور ذہنی خباثت کو دیکھنے کے لیے ان کی کتب کا مطالعہ کریں۔ مصری سیرت نگار محمد حسین ہیکل نے اپنی کتاب ”حیات محمد ﷺ“ میں ایسے کئی حوالے بطور نمونہ نقل کیے ہیں جو انتہائی توہین آمیز ہی نہیں، ایک مسلمان قاری کے لیے اذیت ناک بھی ہیں۔ نمونے کے طور پر دیے ہوئے ان حوالوں کو پڑھ کر معلوم ہوتا ہے کہ مغرب کے بیشتر مصنفین کے علم و تحقیق کا معیار ناقص اور بغض و عناد اپنی انتہاؤں پر تھا۔ یہی صورت حال آج کے مغربی مصنفین کی ہے۔ اگر آپ مغرب سے تعلق رکھنے والے نو مسلموں کی رودادوں کا مطالعہ کریں تو یہ حقیقت عیاں ہو کر سامنے آتی ہے کہ جس مستشرق اور پادری نے بھی غیر متعصب ہو کر خالی ذہن کے ساتھ قرآن، اسلام اور سیرت رسول پاک ﷺ پر تحقیق کی، وہ اسلام قبول کیے بغیر نہ رہ سکا۔
سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہود و نصاریٰ کے اہل قلم نبی کریم ﷺ کی ذات اقدس ہی کو کیوں نشانہ تضحیک بناتے ہیں، اس کی متعدد وجوہ ہیں:
- 1- دونوں مذاہب کے پاس کوئی ایسی روحانی قیادت نہیں ہے جو کسی بھی شعبہ میں نبی
کریم ﷺ کا مقابلہ کر سکے۔ حضرت موسیٰ اور حضرت عیسیٰ کی شخصیتیں انہوں نے اس حد تک مسخ کر دی ہوئی ہیں کہ نسل نو کے لیے ان کے اندر کسی قسم کا پرکشش کردار نہیں رہنے دیا گیا۔ جب وہ دیکھتے ہیں کہ جو فرد بھی قرآن مجید اور سیرت محمد ﷺ کا مطالعہ کرتا ہے تو وہ مسلمان ہو جاتا ہے، اس رجحان کو روکنے کے لیے انہوں نے نبی کریم ﷺ کی ذات کو صدیوں سے نشانہ تضحیک بنایا ہوا ہے۔ نبی کریم ﷺ کے بارے میں تحقیق کے نام پر وہ جھوٹ ہی جھوٹ پیش کر رہے ہیں۔
- 2- بائبل کی تعلیمات سائنس کی دریافتوں سے میل نہیں کھاتیں، جب جدید تعلیم یافتہ
طبقہ بائبل کی داستانیں پڑھ کر ملحد ہو جاتا ہے، ملحد ہونے کے بعد اپنے اندر ایک روحانی خلا محسوس کرتا ہے اور کسی نہ کسی ذریعہ سے وہ اسلام کا مطالعہ کرنے لگتا ہے تو اسے دو چیزیں خاص طور پر متاثر کرتی ہیں، اول قرآن کی تعلیمات جو سائنس سے متصادم نہیں بلکہ کئی سائنسی انکشافات بھی کرتی ہیں، دوسری چیز نبی کریم ﷺ کا اعلیٰ و ارفع کردار ہے۔ قرآن مجید کو مشکوک بنانے کے لیے ضروری ہے کہ اس شخصیت
کہ مشکوک بنا نبی کریم ﷺ
- 3- زیادہ متشدد، قائد
ہیں اور ہر مسلما اس سے مقابلہ عقیدت طاقتور کہ مسلمانوں نے حملے کرتے رہے پاک ﷺ سے ڈنمارک کے گھڑت کتاب پڑھی ہو گی کرائے پر حاصل کیا ہو گا جو غلط امیج پیدا کیا، وہ بڑے مجرم پوپ، پادری پادریوں اور مستشرقین کے آئے ہیں کہ مغرب کے کریم ﷺ کو نشانہ تضحیک رسول ﷺ کی مہموں کے حق میں ہی نکلیں گے کیونک ” یہ لوگ اپ ہے کہ وہ اپنے نور کو پھیلا
کہ مشکوک بنایا جائے یا Degrade کر دیا جائے جس پر وہ نازل ہوا ہے۔
- 3- نبی کریم ﷺ کی ذات اقدس آج بھی بڑی سے بڑی قابل اور مقتدر شخصیت سے
زیادہ مقتدر، قابل احترام اور رہنمائی فراہم کرنے والی ہے۔ کیونکہ ان کی تعلیمات زندہ ہیں اور ہر مسلمان پڑھتے ہوئے یہ محسوس کرتا ہے کہ اللہ کا یہ رسول ﷺ براہِ راست اس سے مخاطب ہے۔ مسلمانوں کا یہ احساس اور اللہ کے رسول ﷺ سے محبت و عقیدت طاغوت کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ اسی لیے روح محمد ﷺ کو مسلمانوں کے دلوں سے نکالنے کے لیے، وہ نبی کریم ﷺ کی ذات اقدس پر حملے کرتے رہتے ہیں۔ ان حملوں کے نتیجے میں اسلامی تعلیمات اور سیرتِ رسول پاک ﷺ سے بے بہرہ روشن خیال ان کے جال میں پھنس جاتے ہیں۔
ڈنمارک کے کارٹونسٹوں نے کسی متعصب اور گمراہ مستشرق اور پادری کی کوئی من گھڑت کتاب پڑھی ہوگی یا پھر متعصب پادریوں نے ان کی ذہنی ”تطہیر“ کی ہوگی یا پھر انہیں کرائے پر حاصل کیا ہوگا۔ ان مستشرقین اور پادریوں نے ان کے ذہن میں نبی کریم ﷺ کا جو غلط امیج پیدا کیا، وہ انہوں نے اپنے کارٹونوں میں ظاہر کر دیا۔ اس لیے کارٹونسٹوں سے بڑے مجرم پوپ، پادری اور مستشرقین ہیں۔ ڈنمارک کے یہ کارٹونسٹ عیسائیوں کے پوپ، پادریوں اور مستشرقین کے تعصب، تنگ نظری، اسلام سے بغض وعناد کا ایک نمونہ بن کر سامنے آئے ہیں کہ مغرب کے مذہبی رہنما نبی کریم ﷺ کے بارے میں کیا سوچ رکھتے ہیں؟ وہ نبی کریم ﷺ کو نشانہ تضحیک بنا کر مسلمانوں کو نفسیاتی طور پر مغلوب کرنا چاہتے ہیں۔ گستاخانِ رسول ﷺ کی مہموں کے نتائج پہلے بھی اسلام کے حق میں ہی نکلے ہیں اور انشاء اللہ اب بھی حق میں ہی نکلیں گے کیونکہ اللہ تعالیٰ کا واضح فرمان ہے:
”یہ لوگ اپنے منہ کی پھونکوں سے اللہ کے نور کو بجھانا چاہتے ہیں اور اللہ کا فیصلہ یہ ہے کہ وہ اپنے نور کو پورا کر کے رہے گا خواہ کافروں کو کتنا ہی ناگوار ہو۔“ (الصف: 8)
ڈاکٹر مطلوب حسین
”تمہارا دشمن ہو گا نسل کتا“
یہ سنہ 627 عیسوی کا آخری دور تھا ..... جبکہ رومیوں (اٹلی) نے فارس (ایران) کی فوجوں کو زبردست شکست سے دوچار کیا تھا ..... ایرانی اور رومی، اس وقت دنیا کی سب سے طاقتور اور ترقی یافتہ سلطنتیں تھیں ..... اسی گھمنڈ میں وہ ہمیشہ ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کی کوششوں میں مصروف رہتی تھیں۔ اس کوشش میں وہ کبھی کبھی آپس میں ٹکرا بھی جاتی تھیں۔ جب ایسا ہوتا تو انسانیت تڑپ اٹھتی تھی۔ بے گناہوں کا خون پانی کی طرح بہتا تھا ..... یہ 627ء کا سال تھا اور اس سال رومیوں نے فارس کی فوجوں کو شکست دی تھی۔ ان کے ایک ہزار سے زیادہ سپاہی رومیوں کے قیدی بھی بن گئے تھے۔
ایسے وقت میں شہنشاہ ایران ”خسرو پرویز“ کا عتاب اپنی فوج اور امرائے سلطنت پر نازل ہو رہا تھا ۔ وہ یہ سمجھتا تھا کہ انہی امیروں کی غفلت اور بزدلی کی وجہ سے اسے شہنشاہ روم ”ہرقل“ کے مقابلہ میں شکست ہوئی ہے۔ سو ہر روز کسی نہ کسی امیر کی موت کا پروانہ جاری ہوتا تھا ..... شہنشاہ ایران اپنے دربار میں زخمی سانپ کی مانند پھنکار رہا تھا، اس کے محل قصر سپید کے باہر منقش سیڑھیوں پر ایک شخص سفید عربی لباس میں چٹان کی مانند کھڑا تھا۔ وہ محل کے محافظوں سے اپنا تعارف عرب کے سفیر کے طور پر کرا رہا تھا۔ لیکن محافظ اس کی بات پر اعتبار کرنے کو ہرگز تیار نہیں ہو رہے تھے، کیونکہ آج تک کسی بھی ملک کا کوئی بھی سفیر اس حالت میں اس دربار میں پہلے کبھی نہیں آیا تھا ..... اس کے ساتھ محافظوں اور کنیزوں کا جم گھٹا بھی ہوتا تھا۔ شہنشاہ ایران کو عرب کے سفیر کی اطلاع دی گئی تو وہ غرایا : ”تمام عرب علاقہ تو میرے قائم مقام امیر کا ہے، پھر یہ سفیر کیسا؟“ تاہم سفیر کو اندر بلایا گیا۔ عرب سفیر کے ساتھ کوئی غلام یا کنیز تھی اور نہ ہی سر پر ہیرے جواہرات سے مرصع کوئی تاج اطلس و کم خواب کے بجائے
سادہ عربی لباس پہنے، کمر میں تلوار ہوا۔ قصر سپید میں بچھے دنیا کے ب انی قالین پر مارتے ہوئے۔ سنجیدگی اور متانت سے بادشاہ ک طرف دیکھ رہا تھا۔ دربار پر سا مقرر تھی، سب بادشاہ کے رو نہیں دی جا سکتی تھی۔
عرب سفیر مغرور ب نے آج تک آنکھیں بھر کر نہی بولا : ”اپنا مقصد بیان کر!“ مصاحب نے خط پڑھا، لکھا تھا جانب سے کسریٰ شاہ فارس ک پر ایمان لائے، اس پر سلام ہ نہیں ۔ وہ یکتا ہے۔ لاشریک ہ تمام دنیا کے لیے رسول بنا ک بلاؤں۔ تم بھی اسلام قبول کر ل کا وبال بھی تمہارے سر ہو گا۔ آگ بگولہ ہو گیا۔ پہلے قاصد ک کر دیا۔ اس نے حاجب سے ک یہ جرات کہ میرے نام کے س کیے اور بدتمیزی کے ساتھ سفیر حذافہ نے چاک شدہ خط بی طرح بے باکی سے دربار س کے پاس پیغام روانہ کر دی
سادہ عربی لباس پہنے، کمر میں تلوار لٹکائے ہوئے وہ عجیب شان بے نیازی سے دربار میں داخل ہوا۔ قصر سپید میں بچھے دنیا کے قیمتی ترین قالین پر آہستہ خرام چلتے ہوئے اور زنگ آلود نیزہ کی ”انی“ قالین پر مارتے ہوئے قدم بہ قدم چلتا ہوا، بغیر کوئی تعظیمی سجدہ کیے بڑے ہی وقار، سنجیدگی اور متانت سے بادشاہ کے سامنے جا کھڑا ہوا۔ بادشاہ خسرو پرویز حیرت سے اس کی طرف دیکھ رہا تھا۔ دربار پر سناٹا طاری تھا، سجدہ تعظیمی نہ کرنے کی ”گستاخی“ کی سزا موت مقرر تھی، سب بادشاہ کے ردعمل کے متجسس تھے...... لیکن اس زمانہ میں بھی سفیر کو موت کی سزا نہیں دی جا سکتی تھی۔
عرب سفیر مخمور مدبھری آنکھوں سے بادشاہ کی طرف دیکھ رہا تھا۔ شہنشاہ کسریٰ کو کسی نے آج تک آنکھیں بھر کر نہیں دیکھا تھا، وہ اپنے ماتھے پر تیوری ڈالتے ہوئے جھینپ کر بولا: ”اپنا مقصد بیان کر!“...... عرب سفیر نے ایک خط نکال کر کسریٰ کی طرف بڑھا دیا۔ ایک مصاحب نے خط پڑھا، لکھا تھا: ”اللہ کے نام سے جو رحمٰن و رحیم ہے۔ محمد رسول اللہ ﷺ کی جانب سے کسریٰ شاہِ فارس کے نام...... جو ہدایت اللہ کی پیروی کرے، اس کے رسول ﷺ پر ایمان لائے، اس پر سلام ہے۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں۔ وہ یکتا ہے۔ لاشریک ہے اور محمد ﷺ اس کا بندہ اور رسول ﷺ ہیں۔ اللہ نے مجھے تمام دنیا کے لیے رسول بنا کر بھیجا ہے، تا کہ ہر زندہ انسان کو آگاہ کردوں اور خدا کی طرف بلاؤں۔ تم بھی اسلام قبول کرلو، تا کہ سلامتی کو پالو۔ اگر تم نے انکار کیا تو تمام مجوسی قوم کی گمراہی کا وبال بھی تمہارے سر ہوگا...... مہرِ نبوت“...... شہنشاہِ کسریٰ خسرو پرویز نے جب یہ خط سنا تو آگ بگولہ ہوگیا۔ پہلے قاصد کی بے باکی اور اب خط کی عبارت نے اسے مکمل طور پر مشتعل کر دیا۔ اس نے حاجب کے ہاتھ سے خط لیا اور یہ کہتے ہوئے خط پھاڑ دیا کہ : ”اس بدّو کی یہ جرأت کہ میرے نام کے ساتھ اپنا نام لکھے!“...... کسریٰ نے غصہ میں خط کے چار ٹکڑے کیے اور بدتمیزی کے ساتھ سفیر کے منہ پر دے مارے...... رسول اللہ ﷺ کے سفیر عبداللہ بن حذافہ نے چاک شدہ خط کے ٹکڑے چوم کر آنکھوں کو لگائے اور اپنی جیب میں رکھے اور اسی طرح بے باکی سے دربار سے باہر نکل گیا۔ کسریٰ نے اپنے وزیر کو حکم دیا کہ ابھی یمن کے امیر کے پاس پیغام روانہ کردو کہ وہ صحرا میں ”محمد ﷺ“ کو گرفتار کر کے فوراً میرے پاس بھیج
دے۔ عبداللہ بن حذافہؓ نے حضور ﷺ کو آکر پھٹا ہوا خط دکھایا، آپ ﷺ نے بڑے ہی تحمل سے فرمایا: ”اللہ نے اس کی سلطنت کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا۔“ یمن کے امیر ”ملک بازان“ کے لیے یہ کافی کڑا وقت تھا۔ اس نے ”بابویہ“ کی ہمراہی میں کچھ سپاہیوں کو حضور ﷺ کے پاس بھیجا۔ اسی رات شہنشاہِ کسریٰ خسرو پرویز کے بیٹے ”شیرو“ نے اپنے باپ کو قتل کر دیا۔ اس واقعہ کے صرف چار سال کے اندر ہی اندر سلطنتِ فارس میں تقریباً ایک درجن شہنشاہ ہوئے، لیکن حضور ﷺ نے جو پیشگوئی فرمائی تھی وہ پوری ہو کر رہی، عظیم سلطنت ٹکڑے ٹکڑے ہو گئی اور بالآخر حضرت عمرؓ کے دورِ خلافت میں اسلامی قلم رو میں شامل کر لی گئی۔ کسریٰ نے نبی ﷺ کے خط کو پھاڑ دیا اور اپنی سلطنت کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا۔
قرآن پاک میں لکھا ہے : ”بے شک آپ ﷺ کا دشمن ہو گا نسل کٹا۔“ یہ ایک اٹل قانون بن گیا کہ دنیا میں کہیں بھی، جب بھی اور کسی بھی زمانہ میں اور جو بھی رسول ﷺ اللہ کی گستاخی و بے ادبی کرے گا اور رسول ﷺ اللہ کا دشمن ہو گا، اس کی نسل ہی ختم ہو جائے گی، قیامت تک کے لیے اس کی نسل نیست و نابود ہو جائے گی۔ نبی اور رسول کوئی عام لوگ نہیں ہوتے، وہ نوعِ انسانی کا جوہر ہوتے ہیں۔ سب کو ازبر ہے کہ حضرت نوحؑ نے جب دعا کی تو اللہ نے مومنین کے علاوہ ساری دنیا کے انسانوں اور ہر زندہ شئے کو پانی کے سیلاب سے ختم کر دیا تھا۔ اسی طرح حضرت لوطؑ، حضرت صالحؑ، حضرت شعیبؑ، حضرت موسیٰؑ، حضرت ہودؑ کی اقوام سمیت کسی بھی قوم نے جب بھی اپنے نبی برحق کی بے ادبی و گستاخی اور بے حُرمتی کی تو اللہ نے اپنے برگزیدہ نبیوں کی گستاخ قوم کا نام و نشان ہی مٹا دیا۔
ہزاروں سال کی تاریخ گواہ ہے کہ اللہ نے اپنے کسی بھی نبی کے کسی بھی گستاخ کو کبھی نہیں چھوڑا، وہ انجام کو ضرور پہنچا۔ نبیوں اور رسولوں کے دشمن ہمیشہ ذلیل و خوار ہو کر اس طرح مرے کہ ان کی نسل بھی ہمیشہ کے لیے ختم ہو گئی۔ دنیا کے ٹاپ جیالوجسٹوں ریسرچروں اور سائنسدانوں نے اعتراف کیا ہے کہ ”سیکنڈے نیوین کنٹریز“ اور یورپ کے کئی دوسرے ممالک کے ساحل اپنی اصل سطح سے چھ فٹ اونچے ہوچکے ہیں اور خشکی چھ فٹ نیچے چلی گئی ہے، اور ان ممالک کے سائنسدان بھی یہ بات بخوبی جانتے ہیں۔ یہ عمل ابھی جاری ہے۔ سلمان رشدی سمیت بہت سے گستاخانِ رسولؐ یورپ میں اکٹھے ہوچکے ہیں۔ ”تمہارا دشمن
ہو گا نسل کٹا‘‘....... جس کا مفہوم
کی نسلوں تک کو بھی تباہ و برباد
ہے، گویا کہ اس قانون کو مدنظر
وبا، جنگ و جدل، سمندری طوفان
اشارے قرآن کے آخری پارے
(حضرت یحییٰؑ) کا بائیس ابواب
ہوگا نسل کٹا" ...... جس کا مفہوم یہ بھی بنتا ہے : (یعنی ) "اے محبوب ﷺ! ہم تمہارے دشمنوں کی نسلوں تک کو بھی تباہ و برباد کر دیں گے ۔" قرآن کا یہ قانون تو "حرکت" میں آتا ہی آتا ہے، گویا کہ اس قانون کو مدنظر رکھا جائے تو یورپ کسی بھی لمحے کسی آفت ناگہانی، زلزلہ، کسی وباء، جنگ و جدل، سمندری طوفان یا سونامی وغیرہ کی لپیٹ میں شاید آنے ہی والا ہو؟ کچھ اشارے قرآن کے آخری سپارے کی آیات میں بھی موجود ہیں، تاہم "انجیل" میں پیغمبر یوحنا (حضرت یحییٰ) کا بائیس ابواب پر مشتمل جو "مکاشفہ" ہے وہ بھی شاید اسی طرف اشارہ ہو۔
۞ ...... ۞ ...... ۞
مولانا محمد اسلم شیخوپوری
یہ شمع جلتی رہے گی
بلاشبہ یہ اتنا بڑا حادثہ ہے کہ اگر اس کے غم میں سورج سیاہ چادر اوڑھ لے، چاند پر تاریکی چھا جائے، ستاروں کی قندیلیں بجھ جائیں، آسمان ٹوٹ پڑے اور زمین کا سینہ شق ہو جائے تو بجا ہے۔ توہین کی گئی ہے اس عظیم شخصیت کی جسے جہانوں کے لیے رحمت بنا کر بھیجا گیا۔ مذاق اڑایا گیا اس معلم انسانیت کا جس نے زندگی بھر کسی مذہبی پیشوا تو کیا، خون کے پیاسوں کا بھی مذاق نہیں اڑایا۔ بازاری انداز میں خاکے بنائے گئے ہیں اس فخر انسانیت کے جس کے لائے ہوئے مذہب میں ایسا شخص مسلمان نہیں ہو سکتا جو کسی بھی نبی کی توہین کرتا ہو یا اس کے دل میں کسی پیغمبر کے بارے میں کدورت ہو۔
اس ناروا حرکت پر صومالیہ سے افغانستان تک، عراق اور شام سے پاکستان و ہندوستان تک احتجاج کی شدید لہر اٹھی ہے۔ جلوس نکل رہے ہیں، نعرے گونج رہے ہیں، گستاخان رسول ﷺ کی مصنوعات کا بائیکاٹ ہو رہا ہے، سینے شق ہو رہے ہیں، آنکھیں ابل رہی ہیں۔ ایسے عشاق کی کمی نہیں جو ناموس رسالت ﷺ پر سب کچھ قربان کر دینا چاہتے ہیں۔ ان کی سمجھ میں نہیں آ رہا کہ وہ کیا کریں۔ تڑپ سکتے ہیں، سو تڑپ رہے ہیں، بے بسی کے آنسو بہا سکتے ہیں، سو بہا رہے ہیں، یہ سب کچھ ہونا ہی تھا، سو ہو رہا ہے۔ مسلمان کتنا گیا گزرا ہی سہی، اس کے دل کے کسی نہ کسی کونے میں حبیب خدا ﷺ کی محبت کا چراغ جل رہا ہوتا ہے۔ اس کی لو مدہم ہی سہی مگر وہ روشن ضرور ہوتا ہے۔ مولانا عتیق الرحمٰن سنبھلی کے نقل کردہ درج ذیل واقعہ سے یہ حقیقت بخوبی واضح ہو جاتی ہے۔
”اختر شیرانی اردو کے مشہور شاعر گزرے ہیں۔ لاہور کے عرب ہوٹل میں ایک دفعہ کمیونسٹ نوجوانوں نے، جو بلا کے ذہین تھے، اختر شیرانی سے مختلف موضوعات پر بحث چھیڑ دی۔ اس وقت تک وہ دو بوتلیں چڑھا چکے تھے اور ہوش قائم نہ تھے۔ تمام بدن پر رعشہ
طاری تھا۔ حتی کہ الفاظ بھی ٹوٹ ٹوٹ کر زبان سے نکل رہے تھے۔ ادھر ”انا“ کا شروع سے یہ عالم تھا کہ اپنے سوا کسی کو نہیں مانتے تھے۔ جانے کیا سوال زیر بحث تھا، فرمایا: ”مسلمانوں میں تین شخص ایسے پیدا ہوئے ہیں جو ہر اعتبار سے جینئس بھی ہیں اور کامل الفن بھی۔ پہلے ابوالفضل، دوسرے اسد اللہ غالب، تیسرے ابوالکلام آزاد.....“ شاعر وہ شاذ ہی کسی کو مانتے تھے۔ ہم عصر شعرا میں جو واقعی شاعر تھا اسے بھی اپنے سے کمتر خیال کرتے تھے۔ کمیونسٹ نوجوانوں نے ”فیض“ کے بارے میں سوال کیا۔ طرح دے گئے۔ ”جوش“ کے متعلق پوچھا۔ کہا: وہ ناظم ہے۔ ”سردار جعفری“ کا نام لیا۔ مسکرائے ”فراق“ کا ذکر چھیڑا، ہوں ہاں کر کے چپ ہو گئے۔ ”ساحر لدھیانوی“ کی بات کی، سامنے بیٹھا تھا، کہا: مشق کرنے دو۔ ”ظہیر کشمیری“ کے بارے میں کہا: نام سنا ہے۔ ”احمد ندیم قاسمی؟“ ارشاد ہوا: ”میرا شاگرد ہے ۔“ نوجوانوں نے دیکھا کہ ترقی پسند تحریک ہی کے منکر ہیں تو بحث کا رُخ پھیر دیا۔ ”حضرت! فلاں پیغمبر کے بارے میں کیا خیال ہے؟“ آنکھیں سُرخ ہو رہی تھیں، نشہ میں چُور تھے، زبان پر قابو نہیں تھا...... لیکن چونک کر کہا : ”کیا بکتے ہو؟ ادب و انشا یا پھر شعر و شاعری کی بات کرو۔“ کسی نے فوراً ہی افلاطون کی طرف رُخ موڑ دیا: ان کے مکالمات کی بابت کیا خیال ہے؟ ارسطو اور سقراط کے بارے میں سوال کیا مگر اس وقت وہ اپنے موڈ میں تھے۔ فرمایا: ”اجی یہ پوچھو کہ ہم کون ہیں؟ یہ ارسطو، افلاطون یا سقراط آج ہوتے تو ہمارے حلقے میں بیٹھتے، ہمیں ان سے کیا کہ ان کے بارے میں رائے دیتے پھریں۔“ اس لڑکھڑاتی ہوئی آواز سے فائدہ اُٹھا کر ایک قادیانی نے سوال کیا: ”آپ کا حضرت محمد ﷺ کے بارے میں کیا خیال ہے؟“ اللہ، اللہ! ایک شرابی جیسے کوئی برق تڑپی ہو، بلور کا گلاس اُٹھایا اور اس کے سر پر دے مارا....... ”بدبخت! ایک عاصی سے سوال کرتا ہے، ایک سیاہ رو سے پوچھتا ہے، ایک فاسق سے کیا کہلانا چاہتا ہے؟“ تمام جسم کانپ رہا تھا، ایکا ایکی رونا شروع کیا، گھگھی بندھ گئی....... ”ایسی حالت میں تم نے یہ نام کیوں لیا، تمہیں جرات کیسے ہوئی؟ گستاخ! بے ادب ”باخدا دیوانہ باش و با محمدؐ ہوشیار۔“ اس شریر سوال پر توبہ کرو، تمہارا خبیث باطن سمجھتا ہوں......“ خود قہر و غضب کی تصویر ہو گئے۔ اس نوجوان کا یہ حال تھا کہ کاٹو تو بدن میں لہو نہیں۔ اس نے بات کو موڑنا چاہا مگر اختر کہاں سنتے تھے۔ اسے اُٹھوا دیا، پھر خود اُٹھ کر چلے گئے، تمام رات روتے رہے، کہتے تھے: ”یہ لوگ اتنے نڈر ہو گئے ہیں کہ آخری سہارا بھی ہم
سے چھین لینا چاہتے ہیں، میں گنہگار ضرور ہوں، لیکن یہ مجھے کافر بنا دینا چاہتے ہیں۔“
لاہور کے ایک ترکھان کے بیٹے علم الدین کا نام بھی آپ نے ضرور سنا ہوگا۔ وہ عالم فاضل تھا نہ دنیاوی طور پر تعلیم یافتہ۔ مکتب میں داخلہ لیا نہ خانقاہ کا راستہ دیکھا۔ وہ سیدھا سادا جفاکش قسم کا ناخواندہ نوجوان تھا۔ اکیس سال کی عمر تھی کہ ایک دن معمول کی مزدوری سے واپس آتے ہوئے دہلی دروازے میں لوگوں کا ایک ہجوم دیکھا۔ وہاں تقریریں ہورہی تھیں، وہ بھی کچھ دیر کھڑے ہوکر سنتا رہا لیکن اس کے پلے کچھ نہ پڑا۔ قریب کھڑے ایک صاحب سے دریافت کیا تو انہوں نے بتایا کہ راجپال نے نبی کریم ﷺ کے خلاف کتاب چھاپی ہے، اس کے خلاف تقریریں ہو رہی ہیں اور علما نے اسے واجب القتل قرار دیا ہے۔ علم الدین کے دل میں شعلے سے بھڑک اُٹھے لیکن اسے معلوم نہ تھا، راجپال کون ہے؟ کہاں رہتا ہے؟ اس کا حلیہ کیا ہے؟ انہی دنوں بیرون دہلی دروازہ میں مسلمانوں کا ایک فقید المثال اجتماع ہوا۔ جس میں امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاری رحمہ اللہ نے ایسی دل گداز تقریر کی کہ سامعین پر رقت طاری ہوگئی۔ کچھ لوگ دھاڑیں مار مار کر رونے لگے۔ شاہ جی نے مسلمانوں سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا:
”آج آپ لوگ جناب فخر رسل، محمد عربی ﷺ کی عزت و ناموس کو برقرار رکھنے کے لیے یہاں جمع ہوئے ہیں۔ آج جنس انسان کو عزت بخشنے والے کی عزت خطرہ میں ہے، آج اس جلیل المرتبت کا ناموس معرض وجود میں ہے جس کی دی ہوئی عزت پر تمام موجودات کو ناز ہے۔“ اس جلسہ میں مفتی کفایت اللہ اور مولانا احمد سعید دہلوی بھی موجود تھے۔ شاہ جی نے ان سے مخاطب ہو کر کہا: ”آج مفتی کفایت اللہ اور مولانا احمد سعید کے دروازے پر ام المومنین عائشہ صدیقہ اور ام المومنین خدیجۃ الکبریٰ (رضی اللہ عنہما) کھڑی پوچھ رہی ہیں: ہم تمہاری مائیں ہیں، کیا تمہیں معلوم نہیں کہ کفار نے ہمیں گالیاں دی ہیں؟ ارے دیکھو! کہیں ام المومنین عائشہ صدیقہؓ دروازہ پر کھڑی تو نہیں؟“
یہ الفاظ دل کی گہرائیوں سے اس جوش اور ولولہ کے ساتھ اُبل پڑے کہ سامعین کی نظریں معا دروازے کی طرف اُٹھ گئیں اور ہر طرف سے آہ و بکا کی صدائیں بلند ہونے لگیں۔
پھر اپنی تقریر جاری رکھتے ہوئے فرمایا: ”تمہاری محبتوں کا یہ عالم ہے کہ عام حالتوں میں کٹ مرتے ہو لیکن کیا تمہیں معلوم نہیں کہ آج کعبۂ خضرا میں رسول اللہ ﷺ تڑپ رہے ہیں؟ آج
خدیجہ اور عائشہ پریشان ہیں۔ بتاؤ! تمہارے دلوں میں امہات المومنین کے لیے کوئی جگہ ہے؟ آج ام المومنین عائشہ تم سے اپنے حق کا مطالبہ کرتی ہیں۔ وہی عائشہ جنہیں رسول اللہ ﷺ ”حمیرا“ کہہ کر پکارا کرتے تھے، جنہوں نے سید عالم ﷺ کو وصال کے وقت مسواک چبا کر دی تھی۔ یاد رکھو! اگر تم نے خدیجہ اور عائشہ کے لیے جانیں دیں تو یہ کچھ کم فخر کی بات نہیں۔“
اس تقریر نے سارے شہر میں آگ لگا دی۔ ملک کے طول و عرض میں احتجاجی جلسے ہونے اور جلوس نکلنے لگے۔ آخر ایک دودھ فروش خدا بخش نامی اٹھا اور اس نے راجپال پر جا کر چاقو سے حملہ کر دیا۔ راجپال زخمی تو ہوا لیکن اس کی جان بچ گئی۔ ادھر علم الدین رات کو سو رہے تھے کہ انہیں ایک بزرگ خواب میں ملے اور انہوں نے کہا: ”علم الدین ابھی تک سو رہے ہو، تمہارے نبی ﷺ کی شان کے خلاف دشمن کارروائیوں میں لگے ہیں۔ اٹھو! جلدی کرو۔“ علم الدین صبح اٹھا، اس نے ایک ہندو کباڑیے کی دکان سے اپنے مطلب کی چھری لی اور چل دیا۔ راجپال ابھی اپنے دفتر میں آ کر بیٹھا ہی تھا کہ غازی علم الدین نے اندر داخل ہو کر پلک جھپکنے میں چھری نکال کر گستاخ رسول ﷺ کے بدبودار سینے میں اتار دی۔ ایک ہی وار اتنا کارگر ثابت ہوا کہ راجپال کے منہ سے صرف ہائے کی آواز نکلی اور وہ اوندھے منہ زمین پر جا پڑا۔
علامہ اقبال کو جب غازی علم الدین کے بارے میں بتایا گیا کہ ایک اکیس سالہ اَن پڑھ اور مزدور پیشہ نوجوان نے گستاخ رسول ﷺ کو واصل جہنم کر دیا ہے تو انہوں نے گلوگیر لہجے میں کہا : ”اسی گلاں ای کردے رہ گئے تے ترکھاناں دا منڈا بازی لے گیا۔“ (ہم باتیں ہی بناتے رہے اور بڑھئی کا بیٹا بازی لے گیا)۔
غازی گرفتار ہوئے، سیشن کورٹ میں مقدمہ چلا اور انہیں پھانسی کی سزا کا حکم سنایا گیا۔ مسلمانوں نے سیشن جج کے فیصلے کے خلاف ہائی کورٹ میں اپیل کردی۔ مسٹر محمد علی جناح ان دنوں بمبئی میں وکالت کرتے تھے۔ انہیں اس مقدمے کے لیے بلالیا گیا۔ انہوں نے فاضلانہ بحث کی اور ٹھوس دلائل دیے لیکن ہائی کورٹ نے سیشن جج کا فیصلہ برقرار رکھا۔ غازی کو ہائی کورٹ کا فیصلہ سنایا گیا تو انہوں نے مسکرا کر کہا : ”شکر الحمد للہ! میں یہی چاہتا تھا، بزدلوں کی طرح قیدی بن کر جیل میں گلنے سڑنے کی بجائے تختہ دار پر چڑھ کر رحمۃ للعالمین ﷺ پر اس حقیر سی جان کو قربان کر دینا صد ہزار سکون کا موجب ہے۔ اللہ میری اس ادنیٰ اور پُر خلوص قربانی کو قبول فرمائے۔“
غازی علم الدین شہید کے جنازے میں تقریباً 6 لاکھ مسلمان شریک ہوئے اور جنازے کا جلوس تقریباً ساڑھے 5 میل لمبا تھا۔ وہ نہ صوفی با صفا تھے نہ شعلہ نوا خطیب، نہ کوئی مشہور مدرّس تھے اور نہ ہی سیاسی رہنما...... بس ایک عاشقِ رسول ﷺ تھے مگر جب انہیں قبر میں رکھا گیا تو قطعہء ارض خوشبو سے مہک اٹھا اور بے شمار علما و مشائخ کے دل میں یہ آرزو مچلنے لگی کہ اے کاش! اس قبر میں ہمارے جسدِ خاکی کو رکھا جاتا۔
حضرت عیسیٰ اور حضرت مریم علیہما السلام اور دوسرے انبیائے کرام علیہم السلام کی نازیبا تصاویر بنا کر ان سے لطف اندوز ہونے والے کیا جانیں کہ ایک مسلمان کے دل میں سرورِ دو عالم ﷺ کا کیا مقام ہے؟ کاش! پوری دنیا کو امن پسندی، رواداری، محبت اور انسانیت کا درس دینے والوں کو کوئی بتا دے کہ تمہاری یہ مذموم حرکتیں تہذیبوں کے تصادم کو جنم دے سکتی ہیں۔ ملکوں اور شہروں میں ایسی آگ بھڑک سکتی ہے جسے کوئی اپیل، کوئی وارننگ ٹھنڈا نہیں کر سکتی۔ ایسے علم الدین پیدا ہو سکتے ہیں جو ناموسِ رسالت ﷺ پر قربان ہو جانے کو دائمی زندگی اور ذریعہء نجات سمجھتے ہیں۔ ان پروانوں کا امتحان مت لو، ان کا ظاہر کیسا ہی سہی مگر ان کے باطن میں اب بھی شمعِ محبت فروزاں ہے۔ ان شاء اللہ یہ شمع جلتی رہے گی، تمہاری بدبودار پھونکیں اس شمع کو بجھا نہیں سکتیں۔ جس قوم کا عقیدہ، شاعر یہ بیان کرتا ہو:
مگر میں باوجود اس کے مسلماں ہو نہیں سکتا
نہ جب تک کٹ مروں میں خواجۂ بطحا کی حرمت پر
خدا شاہد ہے کامل میرا ایماں ہو نہیں سکتا
اس قوم کے سینے میں جلنے والی یہ مبارک شمع بجھ بھی کہاں سکتی ہے؟
محمد اسماعیل قریشی (سینئر ایڈووکیٹ سپریم کورٹ)
قانون توہین رسالت ﷺ میں ترمیم کے مضمرات
جنرل پرویز مشرف نے 2000ء میں اعلان کیا تھا کہ قانون توہین رسالت ﷺ کا غلط استعمال ہو رہا ہے، اس لیے اس کے ضابطہ کار (procedural law) کو تبدیل کرنا ہوگا۔ راقم نے ورلڈ ایسوسی ایشن آف مسلم جیورسٹس کی جانب سے اس تجویز سے اختلاف کرتے ہوئے اس پر گہری تشویش کا اظہار کیا کہ موجودہ طریقہ کار میں تبدیلی، اس قانون کو غیر موثر بنانے کی ناروا کوشش ہے جو قومی اشتعال کا باعث ہوگی اور اس کے پس پردہ امریکہ اور یورپ کی متعصب ذہنیت کارفرما ہے۔
پاکستان کی دینی اور سیاسی جماعتوں نے اس ترمیم کی مخالفت کرتے ہوئے اس کے خلاف ملک بھر میں احتجاجی مظاہرے شروع کر دیے۔ اس دوران، جنرل موصوف بیرون ملک دورے پر تھے، وہاں انہیں اس بگڑتی ہوئی صورت حال سے آگاہ کیا گیا۔ اس لیے انہوں نے واپسی پر ایئر پورٹ ہی سے قوم سے براہ راست خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ یہ حکومت کے چند اہل کاروں کی طرف سے ایک تجویز تھی جو نادانستہ طور پر پیش ہو گئی۔ قوم اگر اسے ناپسند کرتی ہے تو ہم قانون توہین رسالت ﷺ کے طریقہ کار میں کسی قسم کی کوئی تبدیلی کیسے کر سکتے ہیں؟ اس لیے تجویز فوری طور پر واپس لے لی گئی۔
امریکہ اور یورپ یہ جانتے تھے کہ جنرل مشرف نے یہ بات مصلحتاً کہہ دی ہے لیکن اس بات کو بھی وہ برداشت نہ کر سکے۔ امریکہ کی نیوکون (نئی قدامت پسند عیسائی) گورنمنٹ کے اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ نے ڈیموکریسی اور ہیومن رائٹس بیورو کے حوالے سے 2003ء کی انٹرنیشنل رپورٹ تیار کی ہے، (جو 2004ء میں منظر عام پر آئی)۔ اس میں قانون توہین رسالت ﷺ کا سختی سے محاسبہ کیا گیا ہے کہ اس کی وجہ سے مذہبی آزادی اور حقوق انسانی سلب ہو رہے ہیں۔ اقلیتوں، خاص طور پر قادیانی / مرزائی گروہ کے متعلق بتایا گیا ہے کہ ان کی زندگی
اور جان و مال محفوظ نہیں۔ اگرچہ ساتھ ہی یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس قانون کے سال 1991ء میں نافذ ہونے کے بعد اب تک ہائی کورٹ، فیڈرل شریعت کورٹ یا سپریم کورٹ سے کسی شخص کو بھی سزائے موت نہیں دی گئی اور نہ کوئی سزایاب ہی ہوا ہے۔ 15 کروڑ آبادی کے اس ملک میں 67 مقدمات زیر سماعت ہیں۔ ان کی نظر میں یہ بھی تشویش ناک صورت حال ہے۔
جوں ہی یہ رپورٹ جنرل مشرف کے نوٹس میں آئی یا لائی گئی، ان کو ہمہ مقتدر صدر امریکہ جارج ڈبلیو بش کی دست راست کنڈولیزا رائس کی وہ وارننگ یاد آ گئی کہ اگر پاکستان نے امریکی حکومت کی مرضی کے خلاف کوئی کام کیا تو گاجر کی مدارات ختم کر کے چھڑی کے زور سے اسے راہ راست پر لایا جائے گا۔ چونکہ ہمارے صدر بڑے ہی امن پسند اور صلح جو جنرل ہیں، اس لیے انہوں نے نہایت پھرتی سے یوٹرن لیا اور الٹی زقند لگائی۔ اس سے قبل وہ کنڈولیزا کے پیش رو کولن پاول کی ایک کال پر، بش کی خوشنودی کے لیے مسلم ملک افغانستان کے خلاف ان کے اعلان صلیبی جنگ (کروسیڈ) پر بھی مہر لگا چکے ہیں۔ اس مرتبہ یوٹرن لیتے ہوئے جنرل موصوف نے ضابطہ کار سے بھی آگے بڑھ کر خود قانون توہین رسالت ﷺ پر نظر ثانی کا اعلان داغ دیا (مئی 2004ء) اس اعلان میں حدود قوانین کے بارے میں بھی بتایا گیا کہ یہ قوانین بھی انسانی ذہن کی تخلیق ہیں، یعنی سرقہ، ڈکیتی، حرابہ، بدکاری قذف کے جرائم کی قرآن وسنت میں مقررہ سزائیں ماڈرن اجتہاد کی روشنی میں معاذ اللہ وضعی یا انسان کی اپنی بنائی ہوئی ہیں۔ اس پر مسلمان عوام، ان کے قائدین اور دینی رہنما تڑپ اٹھے اور حکومت کی مخالفت پر کمربستہ ہو گئے۔ دوسری طرف سے وزیروں اور مشیروں کی فوج ظفر موج بھی میدان میں اتر گئی۔ سیکولر دستے پہلے ہی سے ان کی مدد کے لیے موجود تھے، مگر مصلحت وقت کے پیش نظر طے پایا کہ تمام اسلامی قوانین پر نظر ثانی کی جائے جس کی رو سے کاروکاری یا قتل غیرت (honour killing) کو ’’قتل عمد‘‘ میں شامل کیا گیا۔ یہ ترمیم پرائیویٹ بل کے طور پر پیش کی گئی تھی۔ اس میں قانون توہین رسالت ﷺ میں کسی قسم کی کوئی ترمیم شامل نہ تھی۔
یہاں اس بات کا ذکر نامناسب نہ ہوگا کہ پاکستان میں ایک نجی ٹی وی چینل نے 13 مئی 2004 کو توہین رسالت ﷺ کے سلسلے میں ایک اہم مذاکرے کا اہتمام کیا تھا جس میں راقم، وزیر مذہبی امور جناب اعجاز الحق اور بشمول سرکردہ پی پی پی رکن قومی اسمبلی مسز فوزیہ وہاب کے علاوہ محبوب صدا ڈائریکٹر کرسچن اسٹڈی سنٹر کو مدعو کیا گیا تھا۔ اس میں یہ امور زیر بحث
تھے کہ کیا حکومت، امریکہ کے دباؤ میں توہین رسالت ﷺ کا قانون ختم کرنا چاہتی ہے؟ کیا طریقہ کار میں تبدیلی سے قانون کا غلط استعمال رک جائے گا؟ کیا سزائے موت ختم کرنے سے فیڈرل شریعت کورٹ کے فیصلے کی خلاف ورزی ہوگی؟
امریکی دباؤ کے بارے میں ہمارا موقف بالکل واضح تھا کہ یہ امریکی ایجنڈے کا حصہ ہے جس کی تائید میں امریکن ہیومن رائٹس بیورو کی رپورٹ کا دستاویزی ثبوت پیش کیا گیا لیکن وزیر مذہبی امور اور مسز فوزیہ وہاب نے اس کی تردید کرتے ہوئے کہ پاکستان امریکہ کے زیر اثر ایسا کوئی کام نہیں کرتا۔ جناب محبوب صدا اور مسز فوزیہ وہاب کی رائے تھی کہ اس قانون کو ختم کر دینا چاہیے اور یہ فیڈرل شریعت کورٹ کے فیصلے کی خلاف ورزی نہیں ہوگی۔ پارلیمنٹ ایک با اختیار ادارہ ہے اور اسے ایسا کرنے کا حق حاصل ہے۔ انہوں نے ایک متبادل تجویز یہ پیش کی کہ توہین رسالت ﷺ کی کم از کم سزا سات سال ہونا چاہیے۔ جب موصوفہ سے پوچھا کہ تنسیخ یا ترمیم کے مطالبے کا کیا جواز ہے جس پر انہوں نے فرمایا : اللہ تعالیٰ نے ایسے معاملات میں عفو و درگزر کا حکم دیا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے اپنے ایذا دینے والوں کو معاف کر دیا تھا۔ مزید دریافت پر کہ کیا آپ قرآن سے یا ریاست مدینہ میں قیام کے بعد سے حضور ﷺ کا کوئی ایسا عمل بتلا سکتی ہیں کہ جب آپ ﷺ نے توہین رسالت ﷺ کے ملزموں کو معاف فرما دیا ہو؟ اس پر موصوفہ نے تسلیم کیا کہ اس سلسلے میں ان کا مطالعہ اتنا وسیع نہیں ہے کہ فی الوقت اس کا جواب دے سکیں۔
کرسچین کمیونٹی کے نمائندے جناب محبوب صدا کی توجہ اس طرف دلائی گئی کہ خود بائبل میں پیغمبروں کی توہین کی سزا، سزائے موت ہے۔ کہنے لگے: بائبل کا قانون کہیں لاگو نہیں ہے۔ جب بتلایا گیا کہ برطانیہ، یورپ اور امریکہ میں جو اپنے آپ کو سیکولر ہونے کے دعوے دار ہیں، وہاں بھی سزائے موت موقوف ہونے کے بعد توہین مسیح کی سزا عمر قید کر دی گئی ہے تو کہا گیا کہ ہمارا یورپ، برطانیہ اور امریکہ سے کوئی تعلق نہیں، ہم تو یہاں کی بات کرتے ہیں۔ اگر برطانیہ اور امریکہ میں کوئی فیصلے ہوئے ہیں تو ہمیں اس کا کوئی علم نہیں۔ لیکن انہوں نے یہ تسلیم کیا کہ پاکستان میں ابھی تک کسی ایک شخص کو بھی توہین رسالت ﷺ پر سزا نہیں دی گئی۔
وزیر مذہبی امور جناب اعجاز الحق نے برملا اعتراف کیا کہ توہین رسالت ﷺ کی
سزا، سزائے موت ہے۔ پارلیمنٹ کو توہین رسالت ﷺ کی سزا میں ترمیم یا تنسیخ کا کوئی اختیار نہیں اور نہ حکومت کا ایسا کوئی ارادہ ہے، لیکن چونکہ اس قانون کا غلط استعمال ہورہا ہے اس لیے حکومت چاہتی ہے کہ اصل قانون میں کسی تبدیلی کے بغیر طریقہء کار (procedural law) میں تبدیلی کی جائے۔ کیسی تبدیلی؟ کے جواب میں بتلایا کہ اگر کسی نے توہین رسالت ﷺ کا مقدمہ درج کرایا اور تفتیش یا انکوائری میں مقدمہ غلط ثابت ہو یا عدالت سے ملزم بری ہو جائے تو مقدمہ درج کرانے والے کو سزائے موت دی جائے گی۔
ایک مسلمان کی نفسیات تو یہ ہے کہ وہ توہین رسالت ﷺ کو بالکل برداشت نہیں کرسکتا اور اس کے مرتکب کو موقع پر ہی مار دینا چاہتا ہے۔ وہ توہین رسالت ﷺ کے ملزم کو عدالت میں صفائی کا حق بھی نہیں دینا چاہتا جیسا کہ ہمارے مقدمہ توہین رسالت ﷺ میں وفاقی حکومت کے ڈپٹی اٹارنی جنرل سید ریاض الحسن گیلانی نے فیڈرل کورٹ کے سامنے اپنا ذاتی اور حکومت پاکستان کا موقف بیان ریکارڈ کرایا تھا۔ پروفیسر طاہر القادری کا بھی یہی موقف تھا کہ ملزم گستاخ رسول ﷺ کو موقع پر ہی اس کی نیت، ارادے اور قصد جانے بغیر ہی جان سے مار دینا چاہیے، جبکہ ہمارا واضح موقف شروع ہی سے فیڈرل شریعت کورٹ، ہائی کورٹ، سپریم کورٹ اور پریس کانفرنس میں یہی چلا آ رہا ہے کہ توہین رسالت ﷺ کے قانون کا مقصد ہی یہ ہے کہ ملزم کو پوری طرح اپنی صفائی پیش کرنے کا حق قرآن، قانون اور عدل و انصاف کا تقاضا ہے۔ نیت اور ارادے کے بغیر توہین رسالت ﷺ یا حدود میں سزا نہیں دی جاسکتی۔
اب رہ گیا یہ اہم سوال کہ کیا توہین رسالت ﷺ کے طریقہء کار میں ترمیم سے اس قانون کا غلط استعمال رک جائے گا؟ جیسا کہ ہم نے پہلے عرض کیا کہ کاروکاری / قتل غیرت کے پرائیویٹ بل میں توہین رسالت ﷺ کے قانون میں یا اس کے طریقہ کار میں ترمیم کا کہیں ذکر موجود نہیں۔ لیکن سرکار کے وزیر انچارج نے کاروکاری اور قتل غیرت (honour killing) جیسے گھناؤنے جرائم کو نمایاں کر کے توہین رسالت ﷺ کے طریقہء کار میں ترمیم کو کمال ہوشیاری سے قصاص اور دیت کے بل میں خلط ملط کر دیا اور ترمیم کی غرض و غایت کے بیان میں بھی اسے نظر انداز کر دیا گیا۔ قصاص و دیت کے ترمیمی بل پر سرکاری دربار کے حاشیہ نشینوں کے سوا ملک کی اپوزیشن، ایم ایم اے، اے آر ڈی اور پیپلز پارٹی کے ممبران اسمبلی سخت
احتجاج کرتے ہوئے ایوان سے والے شہریوں نے ان غیر اسلامی این جی اوز تک نے بھی اہم قومی بل کو متنازع قرار دیا۔ کار کا ترمیمی بل قانون بن جائے پہلے ضابطہ فوجداری کی دست اندازی پولیس جرائم، قبل رپورٹ کرنے پر مقدمہ درج کر کو یک گونہ اطمینان ہو جاتا کہ ملزم پولیس کی تحویل میں آ جائے۔ علاقے یا ملک سے اس کے فرار اینڈ آرڈر برقرار رکھنے کے لیے دیہاتوں اور قریہ قریہ میں ہمہ و مل جاتے ہیں۔ دفعہ 156-B ضابطہ جرم 295-C تعزیرات کی تفتیش ظاہر ہے کہ ایس پی کو اپنے ہی کے اندر لا کر تو بٹھایا نہیں جا وزیروں، مشیروں اور افسران ہوتے ہیں کیوں کہ انہی کے اپوزیشن کے جلسے جلوسوں کی ر مصروف اعلیٰ پولیس افسروں کو انکوائری کی مہلت کہاں؟ ان رسول اکرم ﷺ کی عزت اور ہے، ایس پی صاحبان کی تلاش
احتجاج کرتے ہوئے ایوان سے واک آؤٹ کر گئے۔ ملک کے تمام مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے شہریوں نے ان غیر اسلامی تعلیمات کو یکسر مسترد کر دیا۔
این جی اوز تک نے بھی غیر پارلیمانی اور دھونس کا طریقہ کار (بل ڈوز) کرنے پر اس اہم قومی بل کو متنازع قرار دیا۔ اس لیے یہ بل اور خاص طور پر توہین رسالت ﷺ کے طریقۂ کار کا ترمیمی بل قانون بن جانے کے بعد بھی قلب و ذہن کے لیے نا قابل قبول رہے گا۔
پہلے ضابطہ فوجداری کی دفعہ 156 کی رو سے پولیس اسٹیشن کے انچارج افسر کو قابل دست اندازی پولیس جرائم، قتل، توہین رسالت ﷺ اور دیگر سنگین جرائم میں اطلاع دینے یا رپورٹ کرنے پر مقدمہ درج کر کے ملزم کو گرفتار کر کے تفتیش کا اختیار حاصل تھا جس سے مدعی کو یک گونہ اطمینان ہو جاتا کہ ملزم کے خلاف قانون حرکت میں آ گیا ہے۔ اس طریقہ کار میں ملزم پولیس کی تحویل میں آجانے سے قاتلانہ حملے یا واردات قتل سے بھی محفوظ ہو جاتا تھا۔ علاقے یا ملک سے اس کے فرار ہونے کے راستے بند ہو جاتے کیوں کہ جرائم کے انسداد اور لا اینڈ آرڈر برقرار رکھنے کے لیے پولیس کے تھانے اور چوکیاں شہر کے اندر قریب قریب اور دیہاتوں اور قریہ قریہ میں ہمہ وقت موجود ہیں، یا ان کے افسر گشت کرتے ہوئے فریادیوں کو مل جاتے ہیں۔
دفعہ 156-B ضابطہ فوجداری میں اضافی ترمیم کے ذریعے توہین رسالت ﷺ کے جرم 295-C تعزیرات کی تفتیش کا امتیاز صرف پولیس کے اعلیٰ افسر ایس پی کو دیا گیا ہے۔ ظاہر ہے کہ ایس پی کو اپنے ہیڈ کوارٹر آفس سے ملک بھر کے شہروں اور دیہاتوں کے تھانوں کے اندر لا کر تو بٹھایا نہیں جا سکتا۔ ایس پی صاحبان تو صدر مملکت، گورنر، قطار اندر قطار وزیروں، مشیروں اور افسران سرکار کے جان و مال کے تحفظ کے لیے شب و روز مصروف کار ہوتے ہیں کیوں کہ انہی کے دم قدم سے اس ملک کی بقا اور استحکام وابستہ ہے۔ مزید برآں اپوزیشن کے جلسے جلوسوں کی روک تھام بھی ان کی ذمہ داریوں میں شامل ہے۔ ایسے ہمہ مصروف اعلیٰ پولیس افسروں کو توہین رسالت ﷺ کے ملزموں کے خلاف رپورٹ کی تفتیش اور انکوائری کی مہلت کہاں؟ ان حالات میں توہین رسالت ﷺ کا مدعی، جس کے دل میں رسول اکرم ﷺ کی عزت اور حرمت اس کی جان و مال، ماں باپ اور اولاد سے بڑھ کر ہوتی ہے، ایس پی صاحبان کی تلاش کے سلسلے میں ان کے دفتروں کے چکر لگانے کے لیے صبر ایوب
کہاں سے لائے گا۔
تاریخ کے واقعات کا تسلسل ہمیں بتاتا ہے کہ توہین رسالت ﷺ کا قانون موجود نہ ہو تو پھر جس کسی مسلمان کے سامنے اس گھناؤنے جرم کا ارتکاب ہوگا، وہ قانون کو اپنے ہاتھ میں لے کر مجرم کو موقع واردات پر ہی سزا دے گا۔ توہین رسالت ﷺ کا قانون ہونے کے باوجود ایسے سرفروش لوگوں کی بھی کمی نہیں جو توہین رسالت ﷺ کے ملزموں کے مقدمات میں تاخیر بھی برداشت نہیں کرتے۔ چنانچہ لاہور کی جیل کے اندر ہمارے ہی مقدمہ توہین رسالت ﷺ کے ملزم یوسف کذاب کے متعلق ایک قیدی کو معلوم ہوا کہ گستاخ رسول ﷺ قیدی کو ضمانت پر رہا ہونے کے بعد یورپ کی ایجنسیاں پاکستان سے باہر اپنے ملک میں لے جانے کے لیے منتظر ہیں تو اس قیدی نے اسے جیل کے اندر گولی مار کر ہلاک کر دیا اور اقرار جرم بھی کر لیا۔ اس گستاخ رسول ﷺ کو مسلمانوں نے اپنے قبرستان میں دفن ہونے کی اجازت بھی نہیں دی۔
چند ماہ قبل لبنان کی ایک گلوکارہ نے حضور اکرم ﷺ کے خلاف توہین آمیز گانے گائے تو اس کے شوہر نے اس کا گلا کاٹ دیا۔ نیوز ویک کے ماہ نومبر 2004ء کی ایک رپورٹ کے مطابق جب ہالینڈ کے ایک بدقماش فلم ساز تھیووان گوگھ نے قرآن ناطق ﷺ کی آیات وحی کی ایک نیم برہنہ اداکارہ کے ذریعے تضحیک اور بے حرمتی کرائی تو ایک مراکشی نوجوان نے اس کا کام تمام کر دیا۔
ملکی اور عالمی حالات کے تناظر میں قانون توہین رسالت ﷺ کے ضابطہ کار میں ترمیم کے ذریعے اسے غیر موثر بنانے کی کوشش ملک اور قوم کے لیے انتہائی خطرناک ہوگی۔ اس سے مسلمانوں کے برانگیختہ جذبات کا طوفانی بند (flood gate) کھل جائے گا جسے بند کرنا حکومت کے بس کی بات نہیں رہے گی۔ اس لیے ایسی مجوزہ ترمیم کو روبہ عمل لانا، کسی بھی لحاظ سے حکومت کا دانش مندانہ اقدام نہیں ہوگا۔
۞ ..... ۞ ..... ۞
میاں منیر احمد
توہین رسالت ﷺ کا مقدمہ اور یورپی ممالک کے قوانین
ڈنمارک اور یورپ کے اخبارات میں توہین آمیز خاکوں کی اشاعت کے خلاف پورا ملک سراپا احتجاج بنا ہوا ہے۔ توہین آمیز خاکوں کی اشاعت یورپ کے اخلاق اور قانون کا امتحان ہے۔ توہین رسالت کی اس واردات کی دانش ور مختلف وجوہات بیان کر رہے ہیں، کوئی اس معاملے کو یورپ کی عدالتوں میں لے جانے کے بارے میں رہنمائی نہیں دے رہا۔ حکومت نے دعویٰ کیا ہے کہ او آئی سی کے پلیٹ فارم سے اقوام متحدہ سے مطالبہ کیا جائے گا کہ مغرب کو ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے قانون سازی پر مجبور کیا جائے۔ ہماری حکومت، وزارت قانون، وزارت خارجہ اس معاملے میں لاعلم ہی نہیں نااہل بھی ثابت ہوئی ہیں۔ انہیں علم ہی نہیں کہ یورپ میں اس حوالے سے قانون پہلے سے موجود ہے مگر وہ تعصب برت رہا ہے۔ اب حکومت کا ایک پارلیمانی وفد برسلز روانہ ہو گیا ہے۔ اپوزیشن کو بھی دعوت دی گئی تھی لیکن وہ اس وفد میں شامل ہونے سے انکار کر چکی ہے۔ اس وفد نے ہوم ورک کچھ بھی نہیں کیا۔ وزیر مذہبی امور اعجاز الحق کی سربراہی میں جانے والے اس وفد میں ارکان قومی اسمبلی عطیہ عنایت اللہ، مشتاق وکٹر، اسد مرتضیٰ گیلانی شامل ہیں۔ ان کے سامنے کوئی ایجنڈا نہیں اور نہ انہیں علم ہے کہ کس سے کیا بات کرنا ہو گی اور نہ وہ اس کی اہلیت ہی رکھتے ہیں۔ اقوام متحدہ، جنیوا، پیرس اور جدہ میں موجود ہمارے سفارت کار حکومت اور قومی اسمبلی کو کوئی رہنمائی فراہم نہیں کر سکے لیکن انسٹی ٹیوٹ آف اسٹریٹجک اسٹڈی کی سربراہ ڈاکٹر شیریں مزاری نے ایک رپورٹ تیار کی ہے۔ یہ رپورٹ انہوں نے وزیر اعظم کی صدارت میں ہونے والی ایک کانفرنس میں پیش کی تو کانفرنس میں شریک وزرا تک منہ میں انگلی دبائے بیٹھے رہے۔ رپورٹ میں واضح طور پر بتایا گیا کہ یورپ سے نئی قانون سازی کرنے کی بجائے پہلے سے موجود قانون پر عمل درآمد کا مطالبہ کیا جائے۔ وزیر مملکت برائے قانون شاہد اکرم بھنڈر کے
لیے اس رپورٹ میں پیش کی جانے والی ساری معلومات نئی تھیں۔ مذکورہ رپورٹ کے بعد بھی اگر حکومت کچھ نہ کر سکے تو یہ قوم کی بدقسمتی بھی ہوگی اور حکومت کی اہلیت کا امتحان بھی۔
ان خاکوں کے حوالے سے جو بات سب سے زیادہ اہم ہے وہ یہ کہ توہین آمیز خاکوں کی اشاعت کے دو پہلو ہیں۔ ایک یہ کہ کیا یہ معاملہ کسی عالمی عدالت میں اٹھایا جاسکتا ہے؟ اور دوسرا یہ کہ مغرب کی نظر میں اسلام کے بارے میں اصل خیالات کس قدر امتیازی ہیں۔ ان شرانگیز خاکوں کی اشاعت کے حوالے سے مغرب شروع دن سے ہی دنیا کی توجہ تقسیم کرنے کی کوشش میں ہے اور اس بات پر زور دے رہا ہے کہ مسلم دنیا کے ساتھ وہ اس معاملے میں بات چیت اور ڈائیلاگ پر تیار ہے۔ یہ گمراہ کن چال ہمیں اپنے مقصد سے دور کرنے کے لیے چلی جارہی ہے۔ مغرب کے ساتھ اس معاملے پر ڈائیلاگ سے گھبراہٹ بالکل بھی نہیں، لیکن ہمیں اس بات کا لازمی جائزہ لینا چاہیے کہ کیا ان خاکوں کی اشاعت کا معاملہ مسلمان یورپ سمیت دنیا کی کسی عدالت میں لے جاسکتے ہیں یا نہیں؟ اس کے لیے مغرب کے ممالک اور خصوصاً ان ممالک میں جہاں ان خاکوں کی اشاعت ہوئی، کے قوانین کا جائزہ لیا جانا ضروری ہے۔ اظہار رائے کی آزادی کے حوالے سے مغرب میں قوانین موجود ہیں اور مذہب کے احترام کے حوالے سے مغرب یورپی کنونشن پر دستخط کیے ہوئے ہے۔ اس کنونشن کے مطابق آرٹیکل 10 بہت واضح ہے، لہٰذا جن ممالک کے اخبارات نے شرانگیز خاکے شائع کیے ہیں وہ اس آرٹیکل کی خلاف ورزی کے مرتکب ہوئے ہیں۔ اس آرٹیکل کے مطابق ہر شخص اظہار رائے کی آزادی رکھتا ہے اور یہ حق اسے کسی انتظامی رکاوٹ کے بغیر حاصل رہے گا، کسی ریاست کو یہ حق نہیں کہ وہ ریڈیو، ٹیلی ویژن، اخبارات اور سنیماؤں کے لیے لائسنس روک سکے۔‘‘ آرٹیکل میں کہا گیا ہے کہ یہ حق کچھ پابندیوں کے ساتھ حاصل ہوگا، ان کی خلاف ورزی پر سزا اور جرمانہ دونوں ہی دیے جاسکتے ہیں، یہ آزادی قومی سلامتی اور سوسائٹی کے امن میں خلل نہ ڈالنے کے ساتھ مشروط ہوگی، ریاست کی یہ ذمہ داری ہوگی کہ وہ قومی سلامتی، علاقائی خود مختاری، پبلک سیفٹی کے تمام تقاضوں کے مدنظر لوگوں کی صحت، اخلاقیات اور دوسرے تمام بنیادی حقوق کو مذہب کی توہین کے جرم سے محفوظ رکھنے کی ذمہ داری بھی ریاست پر عائد ہوتی ہے۔
یورپی کنونشن کے چارٹر کا اطلاق ڈنمارک پر بھی ہوتا ہے۔ ڈنمارک نے اپنے آئین
میں اس کے مطابق قانون سازی کر رکھی ہے۔ لہٰذا ڈنمارک کے وزیراعظم کا یہ موقف کہ وہ اس اخبار کے خلاف کارروائی نہیں کر سکتے، ایک لغو خیال اور بے بنیاد جواز ہے۔ ان کی جانب سے یہ موقف اختیار کیے جانے پر ہی تنازعہ شروع ہوا ہے۔ یہ موقف اختیار کر کے وہ نہ صرف غلط بیانی کر رہے ہیں بلکہ خود اس اخبار یولان پوسٹن کو ملک کا اور ریاست کا قانون توڑنے کے لیے ایک جواز فراہم کر رہے ہیں۔ دراصل ڈنمارک مسلمانوں کے بارے میں بہت ہی امتیازی رویے کا باعث بنا ہوا ہے۔ وہاں کی ملکہ نے اپریل 2005ء میں کہا کہ Danes" ڈنمارک کی ایک رکن پارلیمنٹ "should show thier opposition to islam Ms Louice Frevert نے اپنی ویب سائٹ پر لکھا کہ "Our laws forbid us to kill our enemies in public so the only remedy is to fill our prisons with these criminals most efficient method would probably be to send muslim to Russian prisons for a fee of DKK 25 per day"
یہ تمام امتیازی باتیں اور دلائل اصل میں ڈنمارک کی اپنی تاریخ کے منافی ہیں۔ تاریخی حقائق کے مطابق ڈنمارک نے 1953ء میں یورپ کے اس کنونشن کی توثیق کر رکھی ہے اور اس کے مطابق قانون سازی کے لیے آئین میں ترمیم بھی کر چکا ہے۔ جس کا مقصد مذہب کی توہین کے واقعات کو روکنا ہے۔ ڈنمارک کے ساتھ ساتھ ناروے، فرانس، جرمنی میں بھی مذہب کے احترام کا قانون موجود ہے۔ ان ممالک میں اظہار رائے کی آزادی کو چند لازمی پابندیوں کے ساتھ مشروط کیا گیا ہے۔ فرانس کے آئین کا آرٹیکل 11 کہتا ہے ”اظہار رائے کی آزادی ہر کسی انسان کا حق ہے اور وہ اس حق کی بنیاد پر مرضی سے بول سکتا ہے، لکھ سکتا ہے اور اشاعت کر سکتا ہے۔ لیکن یہ حق، قانون کے اندر دی جانے والی پابندیوں کے ساتھ مشروط ہے۔ ان پابندیوں کی لازمی حد کا جو تعین کیا گیا ہے اس کی پابندی لازمی قرار دی جاتی ہے۔ اسی طرح ناروے میں بھی آئین کا آرٹیکل 100 کہتا ہے کہ ”ملک میں پریس کی آزادی ہوگی اور کسی شخص کو کسی تحریر پر سزا نہیں دی جاسکے گی اور اس کا چاہے کوئی بھی رخ یا پہلو ہو، جب تک یہ عمل جان بوجھ کر کیا جانا ثابت نہ ہو جائے، اگر کوئی کسی کی توہین جان بوجھ کر کرے گا، یا کسی کے اکسانے پر کیا جائے گا اور اس عمل سے مذہب کی توہین کا اور اخلاقیات
کی توہین کا پہلو نکلتا ہو اور ان پر حرف آتا ہو تو یہ عمل قابل سزا ہوگا اور اس کا تعین قانون میں کر دیا گیا ہے۔" اسی طرح جرمنی میں بھی قانون موجود ہے۔ جرمنی کے آئین کے آرٹیکل 11 جو مذہب اور زندگی کی فلاسفی کے متعلق ہے، اس کے سیکشن 166 میں کہا گیا ہے کہ مذہب، ایمان اور سوسائٹی کا نظم و ضبط لازمی ہے اور مذہب کی توہین پر تین سال قید اور جرمانے کی سزا دی جاسکتی ہے۔ جرمنی کے قانون کے سیکشن 167، جو مذہبی فرائض کی ادائیگی کے بارے میں مکمل بحث کرتا ہے، میں کہا گیا ہے کہ مذہب اور مذہبی عبادات کی توہین قابل سزا جرم ہے، اس کی سزا زیادہ سے زیادہ تین سال تک ہو سکتی ہے۔ اسی طرح نیوزی لینڈ کے کرائم ایکٹ 1961ء کے پارٹ 7 میں درج ہے کہ مذہب، اخلاقیات اور پبلک ویلفیئر کے خلاف کہی ہوئی بات، لکھی ہوئی تحریر اور توہین آمیز مواد کی اشاعت پر ایک سال قید یا جرمانے کی سزا دی جاسکتی ہے۔ تاہم مذہب و اخلاق کے بارے میں اچھے ذہن اور بہتر دلائل کے ساتھ کی جانے والی تنقید جس میں توہین کا پہلو نہ نکلتا ہو، پر کسی عمل کی سزا نہیں ہوگی۔ ایسے الزام پر اٹارنی جنرل کے سامنے پیشی ہوگی جو الزام لگائے جانے کے حوالے سے سوالات کرے گا اور جواب سے مطمئن نہ ہونے پر اس شخص کو بھی سزا دی جاسکتی ہے، چاہے اس نے اچھائی کے پہلو کو سامنے رکھ کر ہی کیوں نہ مذہب پر تنقید کی ہو۔ جہاں تک بلاسفمی لاء کا تعلق ہے، یورپ میں صرف برطانیہ ایک ایسا ملک جو اسے چرچ کے ساتھ لنک کرتا ہے اور اس کے نزدیک چرچ کا ہی دفاع ہونا چاہیے اور دوسرے تمام یورپی ممالک میں یہ قومی قوانین نیشنل لاء کے طور پر نافذ ہیں، بالکل اسی طرح آسٹریا میں آرٹیکل 189، فن لینڈ میں آرٹیکل 10 کے باب 17 میں پینل کوڈ موجود ہے، ہالینڈ کریمنل کوڈ میں آرٹیکل 147 اور اسپین میں آرٹیکل 525 موجود ہے جس کے تحت مذہب کے بارے میں منفی اور توہین آمیز بات نہیں کی جاسکتی اور یہ قابل سزا جرم ہے۔ اس حوالے سے آئرلینڈ میں بھی قانون موجود ہے۔ اس کے قانون کے آرٹیکل 1، 6 اور 40 کے مطابق یہ عمل قابل سزا جرم ہے۔
اب ان تمام قوانین اور یورپ کی سوسائٹی کے بارے میں مطالعے کے بعد پتہ چلتا ہے کہ ڈنمارک کے اخبار یولان پوسٹن کے حوالے سے کسی قانون پر عمل نہیں کیا گیا بلکہ اظہار رائے کی آزادی کے حوالے سے غلط تشریح کی جا رہی ہے۔ اس اخبار میں توہین آمیز خاکوں کی اشاعت کی ذمہ داری صرف کارٹونسٹ پر ہی عائد نہیں ہوتی، توہین رسالت ﷺ کے
معاملے میں وہ تنہا نہیں بلکہ اسے تو یہ خیال پیش کرنے کی باقاعدہ دعوت دی گئی اور متعلقہ ایڈیٹر کی جانب سے اسے اسائن کیا گیا۔ اس اخبار نے 30 ستمبر 2005ء کے شمارے میں اپنے کلچرل صفحے پر اس کی خود وضاحت بھی کی ہے۔ یہ طرز عمل Free expression کی بجائے Induced expression کہلائے گا بلکہ کہنا چاہیے۔ ماضی میں جب ڈنمارک کے فلم سازوں کے ایک گروپ نے sex life of jeseus بنائی تو برطانیہ نے اس پر پابندی لگائی کیونکہ اس میں توہین کا پہلو موجود تھا اور ڈنمارک نے اُس وقت برطانیہ کے اس فیصلے پر کوئی احتجاج نہیں کیا تھا۔ پاکستان کی جانب سے حکومتی سطح پر یورپ سے توہین مذہب کے خلاف قانون سازی کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔ یہ مطالبہ کم علمی پر مبنی ہے کیونکہ قوانین تو پہلے سے موجود ہیں صرف ان پر عمل درآمد نہیں کیا جا رہا ہے۔ یہ طرز عمل یورپ کی منافقت اور اسلام کے بارے میں اغیار کے بارے میں امتیازی رویے کی نشاندہی کر رہا ہے۔ اس رویے کے خلاف ان ممالک میں بسنے والے مسلمان بھی وہاں کی عدالتوں سے رجوع کر سکتے ہیں۔ اس سے بھی یورپ کے دوہرے معیار کو جانچا جا سکے گا۔ مسلمان ممالک کو یورپ سے ان قوانین پر عمل درآمد کا مطالبہ کرنا چاہیے۔
ڈاکٹر حسین احمد پراچہ
یورپ کا خدا
ڈینمارک کے وزیراعظم آندرے فوگ اور یورپی یونین کے صدر جوز مینوئل بیروسو دونوں نے پرجوش انداز میں آزادی صحافت کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ ڈینش اخبار یولانڈ پوسٹن اور دوسرے یورپی اخبارات کو ہر طرح کے کارٹون شائع کرنے کا حق حاصل ہے۔ اس سے کسی کے جذبات مجروح ہوتے ہیں تو ہوا کریں، ہمیں اس کی پروا نہیں۔
گارڈین کی خبر کے مطابق اسی ڈینش اخبار یولانڈ پوسٹن نے 2003ء میں حضرت عیسیٰ کے بارے میں بنائے گئے کارٹونوں کو شائع کرنے سے انکار کر دیا تھا، اس لیے کہ اس سے راسخ العقیدہ عیسائیوں کے جذبات مجروح ہونے کا اندیشہ تھا۔ آزادی صحافت کے علمبردار اسی اخبار کے ثقافتی ایڈیٹر فلیمنگ روز نے 9 فروری کو سی این این کو انٹرویو دیتے ہوئے اعلان کیا کہ اگر ایرانی اخبار نے ہولوکاسٹ یعنی یہودیوں کے ”قتل عام“ کے بارے میں کارٹون شائع کیے تو وہ اپنے اخبار میں انہیں دوبارہ شائع کرے گا مگر صرف دو گھنٹے کے بعد اسی اخبار نے تردید کر دی کہ وہ ایسے کارٹون شائع نہیں کرے گا کیونکہ اس سے یہودیوں کے جذبات کو ٹھیس لگنے کا خدشہ ہے۔
یورپ میں ایسے قوانین موجود ہیں جن کے مطابق اگر کوئی ہولوکاسٹ کا انکار کرے گا اور اس طرح کا مواد شائع کرے گا تو اس کا یہ جرم قابل دست اندازی پولیس ہوگا اور ایسے شخص کو حوالہ زنداں کر دیا جائے گا۔ اسی جرم کی پاداش میں ان دنوں برطانیہ کا ایک مورخ آسٹریا کی جیل میں قید و بند کی صعوبتیں جھیل رہا ہے۔
جب 30 ستمبر 2005ء کو یہ گستاخانہ کارٹون ڈنمارک کے یہودی اخبار یولانڈ پوسٹن میں شائع ہوئے تو اسلامی دنیا سے تعلق رکھنے والے گیارہ ممالک، کہ جن میں پاکستان
بھی شامل تھا، کے سفرا نے ڈنمارک کے وزیراعظم آندرے فوگ راسموسین سے ملاقات کی اور انہیں مسلمانوں کے مجروح جذبات سے آگاہ کرنے کی خواہش کا اظہار کیا تو ڈینش وزیراعظم نے تکبر و حقارت سے اس درخواست کو مسترد کر دیا۔ یاد رہے کہ ڈنمارک میں وزرا اور وزیراعظم سے ملاقات کوئی دشوار کام نہیں اور وزیراعظم روز مرہ کے معمولی کاموں کے لیے اپنے شہریوں سے رات دن ملتا ہے۔ مگر مسلمان سفرا کے لیے اس کے پاس وقت نہیں تھا۔ سبب اس کا یہ ہے کہ اس کے نزدیک مسلمانوں کے جذبات و احساسات کی کوئی اہمیت ہی نہیں۔ بعد میں ڈینش وزیراعظم نے ایک بیان میں کہا کہ میرے پاس ایسے کوئی اختیارات نہیں کہ میں اخبار کو آزادی اظہار سے روک سکوں نیز میری سمجھ میں نہیں آتا کہ میں کس بات کی مسلمانوں سے معافی مانگوں۔ اس ”بے خبر“ وزیراعظم کو کیا معلوم نہیں کہ ڈنمارک کے قانون کی دفعہ 266-B کے تحت اگر کوئی شخص ایسا بیان دیتا ہے یا ایسی تحریر شائع کرواتا ہے جس سے نسلی تعصب، جنس، رنگ یا اعتقاد کی بنا پر کسی کو نشانہ تضحیک بنایا جاتا ہے تو ایسے شخص کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی جس میں جرمانہ اور دو سال تک کی قید کی سزا دی جاسکے گی۔ اس قانون کے سیکشن 140 کے تحت کسی شخص یا گروہ کے مذہبی اعتقادات و عبادات کو طنز وتشنیع کا نشانہ بنانے والے کو قید و جرمانہ کی سزا دی جائے گی۔
اتنے قانونی اختیارات کے باوجود ڈنمارک کا وزیراعظم اس لیے بے اختیار ہے کہ کارٹون شائع کرنے والا اخبار یہودی ہے اور جن کے خلاف کارٹون شائع کیے گئے، وہ مسلمان ہیں۔ جن کا کوئی والی وارث نہیں۔ یورپ ہو یا امریکہ، تجارت اُن کی رگِ حیات ہے اور یہ رگِ حیات پنجۂ یہود میں ہے۔ اس لیے یورپی اور امریکی حکمران یہودیوں کے جذبات کا احترام کرتے ہیں۔ دوسری طرف یہ حقیقت بھی اہلِ مغرب کو معلوم ہے کہ اگرچہ مسلمانوں کے اربوں کھربوں ڈالروں سے امریکہ کے کارخانے چل رہے ہیں مگر مسلمان حکمران، امریکہ سے اتنے مرعوب ہیں کہ وہ اس کے سامنے چون و چرا تک نہیں کرسکتے۔ امریکہ مسلمان حکمرانوں کے درجہ مزاحمت کا اچھی طرح اندازہ کرچکا ہے۔ انہیں معلوم ہے کہ مسلمانوں پر ظلم وستم کا جو پہاڑ چاہو توڑ لو، یہ جواب میں آہ تک بلند نہیں کریں گے۔ فلوجہ سے لے کر باجوڑ تک کی داستانِ الم سے یہی ثابت ہوتا ہے۔ آج یو این او نے امریکہ کو پُر زور انداز میں
ہدایت کی ہے کہ وہ گوانتاناموبے میں اپنا ٹارچر کیمپ بند کرے اور وہاں ظلم کی چکی میں پسنے والے مظلوم انسانوں کو رہا کرے یا اُن پر کھلی عدالتوں میں مقدمات چلائے۔ تاہم جن کے جگر گوشے ہیں، ان کو یہ کہنے کی توفیق نہیں ہوئی کہ جانوروں کے حقوق کا پرچار کرنے والو انسان کے حقوق کو یوں پامال نہ کرو مگر ان انسانوں کے حقوق اس لیے پامال ہو رہے ہیں کہ وہ انسان مسلمان ہیں۔ مغرب کو اچھی طرح معلوم ہے کہ مسلمانوں کے بے حس حکمران فلوجہ کی تباہی پر چپ رہے، ابو غریب کے جیلوں میں مسلمانوں کی تذلیل و تضحیک پر خاموش رہے، پاکستان سے اٹھائے جانے والے مرد و خواتین کے بارے میں اتنا مطالبہ بھی نہیں کر سکے کہ اُن پر کھلی عدالتوں میں مقدمہ چلائیں اور دنیا کو اچھی طرح معلوم ہے کہ پندرہ کروڑ انسانوں کا ملک پاکستان جو ایک ایٹمی قوت بھی ہے، باجوڑ میں امریکی حملے سے شہید ہونے والے اپنے اٹھارہ شہریوں کے بارے میں سرکاری طور پر صدائے احتجاج بھی بلند نہیں کر سکا۔ لہٰذا جو اپنے جذبات کا خود احترام نہیں کرتے ہمیں ان کے جذبات کا احترام کرنے کی کیا ضرورت ہے۔
صلیبی جنگوں کی بات کرنے والوں اور تہذیبوں کی جنگ کے شعلوں کو ہوا دینے والوں کی طرف سے اٹلی کے ایک وزیر رابرٹو کالڈسولی نے مسلمانوں کے زخموں پر نمک چھڑکتے ہوئے بیان دیا کہ وہ ڈنمارک کے گستاخانہ کارٹونوں کو ٹی شرٹوں پر پرنٹ کروائے گا اور اس ٹی شرٹ کو خود بھی پہنے گا اور نوجوانوں کو بھی فراہم کرے گا تا کہ وہ بھی پہنیں۔ انہیں بعد میں وزارت سے ہاتھ دھونا پڑا۔ یورپ اور امریکہ میں صلیبی جنگوں کی باتیں کرنے والوں کا غالباً مطالعہ تاریخ نہ ہونے کے برابر ہے۔
تاریخ کے مطالعے سے انہیں معلوم ہوتا کہ جنگیں اسلحے کی کثرت اور فوج کی بہتات سے نہیں، عقیدے اور جذبے سے جیتی جاتی ہیں۔ دوسری صلیبی جنگ میں جرمنی اور فرانس کے بادشاہوں نے 1147ء میں نو لاکھ صلیبیوں کا لشکر جنگ میں جھونک دیا مگر یہ ٹڈی دل لشکر مسلمانوں کے سامنے نہ ٹھہر سکا اور بالآخر 1192ء میں سلطان صلاح الدین ایوبی نے بیت المقدس فتح کر لیا اور یورپ کے حصے میں ہزیمت کے سوا کچھ نہ آیا۔
یورپ تاریخ سے سبق حاصل کرے اور تہذیبوں کی جنگ بھڑکانے سے اجتناب کرے۔ وطنیت کی طرح تجارت بھی یورپ کا خدا ہے۔ اس ’’خدا‘‘ پر آنچ آئے گی تو یورپ
بالعموم اور ڈنمارک بالخصوص مغربی مرعوبیت سے باہر نہ کریں لیکن صرف ڈنمارک برطانوی اشیا کا بائیکاٹ کر کیا سوا ارب سے زیادہ آ کو معافی مانگنے پر مجبور نہیں کی عقل ٹھکانے آ جائے گی
بالعموم اور ڈنمارک بالخصوص اپنے رویے پر نظر ثانی کریں گے۔ اس وقت مسلمان حکمران مغربی مرعوبیت سے باہر نکلیں۔ اپنے عوام کے جذبات کا احترام کریں اور کچھ نہیں کر سکتے تو نہ کریں لیکن صرف ڈنمارک کی ڈیری اور دوسری اشیا کا مکمل بائیکاٹ کریں۔ اگر گاندھی برطانوی اشیا کا بائیکاٹ کر کے اس وقت کی سپر پاور برطانیہ کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر سکتے تھے تو کیا سوا ارب سے زیادہ آبادی والے 57 اسلامی ممالک ڈینش اشیا کا بائیکاٹ کر کے ڈنمارک کو معافی مانگنے پر مجبور نہیں کر سکتے۔ یورپ کے ”خدا“ تجارت کا بائیکاٹ کیا جائے گا تو یورپ کی عقل ٹھکانے آجائے گی۔
محمد اسماعیل قریشی (سینئر ایڈووکیٹ سپریم کورٹ)
یورپ اور قانون توہین انبیا
یہ بات نہیں کہ یورپ اور امریکہ کو مسلمانوں کے اپنے پیغمبر ﷺ کی ذات اقدس سے والہانہ عقیدت اور محبت کا علم نہیں۔ موجودہ اکیسویں صدی میں اور اس سے قبل چودہ سو سال کے عرصہ دراز میں یورپ، انڈونیشیا اور افریقہ میں جہاں جہاں بھی مسلمان بطور حکمران رہے ہیں یا بحیثیت شہری آباد رہے ہیں، وہاں ان کی رواداری، امن و آشتی اور تمام مذاہب کے پیغمبروں اور رہنماؤں کا احترام ان کی صلح جو پالیسی ہی نہیں بلکہ ہر جگہ، ہر مقام اور ہر دور میں اس کا عملی مظاہرہ بھی ہوتا رہا ہے۔ اس کا اعتراف خود عیسائی اور غیر مسلم مورخین کرتے چلے آئے ہیں۔ لیکن اس کے ساتھ ہی اس حقیقت سے بھی انکار نہیں کیا جاسکتا کہ وہ اپنے پیغمبر ﷺ کی شان میں کسی قسم کی کوئی گستاخی اور توہین کسی طور پر برداشت نہیں کرسکتے۔ اس کے لیے وہ اپنی جان و مال، ماں باپ اور اولاد تک قربان کرنے کے لیے ہمیشہ تیار رہتے ہیں۔ قدرت اللہ شہاب جو انگریز کے استعماری دور میں اور اس کے بعد پاکستان بیوروکریسی کے اعلیٰ عہدوں پر فائز رہے ہیں اور ملک عزیز کے نامور مصنف بھی ہیں، سرکار رسالتمآب ﷺ سے اپنے ذاتی واقعہ کے حوالہ سے مسلمانوں کی قومی نفسیات کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
”رسول خدا ﷺ کے متعلق اگر کوئی بدگوئی کرے تو مسلمان آپے سے باہر ہوجاتے ہیں۔ (جیسا کہ وہ خود ہوئے تھے) اور کچھ لوگ تو مرنے مارنے کی بازی لگا بیٹھتے ہیں۔ اس میں اچھے، نیم اچھے یا برے مسلمان کی بالکل تخصیص نہیں بلکہ تجربہ تو یہی شاہد ہے کہ جن لوگوں نے اپنی جان عزیز کو ناموسِ رسول ﷺ پر قربان کر دیا، ظاہری طور پر وہ تو نہ علم و فضل میں نمایاں تھے اور نہ زہد و تقویٰ میں ممتاز تھے۔ ایک عام مسلمان کا شعور اور لاشعور جس شدت اور دیوانگی کے ساتھ شانِ رسالت ﷺ کے حق میں مضطرب ہوتا ہے، اس کی بنیاد
عقیدے سے زیادہ عقیدت پر مبنی جنون کی صورت میں نمودار ہوتی ہے یورپ اور امریکہ کی سے واقف ہیں۔ اس کا تاریخی جب مسلمان سپین، فرانس، روم، ممالک میں حکمران رہے ہیں، عیسائیوں، یہودیوں، ہندوؤں اور اپنے مذہب کی عملداری میں پوری کبھی کوئی دخل اندازی نہیں کی۔ بھی معاف کر دیا ہے۔ لیکن اس مطابق قرار واقعی سزا دی ہے۔ آلہ کار بن کر اپنی شرمناک کتاب جس پر تمام یورپ، امریکہ اور یورپ کی عیسائی اور معیار رہا ہے کہ اپنے ملکوں میں اور اب بھی عمر قید کی صورت میں ملکوں میں پیغمبر اسلام ﷺ کی اور دیگر اقلیتوں کے انسانی حقوق ”ریڈرز ڈائجسٹ“ کے حوالے سے توہین رسالت کے کا عیسائیوں کے خلاف اعلان کے عنوان سے مضامین شائع مذاکرے میں مسیحیوں کے نمائندے نبی ﷺ کے متعلق ان کا ارشاد ہے حرکت میں آتا ہے۔ لیکن یورپ
عقیدے سے زیادہ عقیدت پر مبنی ہے۔ خواص میں یہ عقیدت ایک جذبہ اور عوام میں ایک جنون کی صورت میں نمودار ہوتی ہے۔“
یورپ اور امریکہ کی عیسائی اور سیکولر حکومتیں پیروان محمد ﷺ کے اس اجتماعی شعور سے واقف ہیں۔ اس کا تاریخی پس منظر بھی ان کے سامنے موجود ہے۔ گذشتہ صدیوں میں جب مسلمان سپین، فرانس، روم، یونان، بلغاریہ، روس اور یورپ کے علاوہ ایشیا اور افریقہ کے ممالک میں حکمران رہے ہیں، وہاں انہوں نے اسلامی رواداری سے کام لیتے ہوئے عیسائیوں، یہودیوں، ہندوؤں اور دیگر غیر مسلموں کو اپنے ساتھ شریک اقتدار کیا ہے اور انہیں اپنے مذہب کی عملداری میں پوری آزادی دی ہے۔ ان کے مذہبی معاملات اور عبادات میں کبھی کوئی دخل اندازی نہیں کی۔ انہوں نے اپنی حکومتوں کے خلاف کھلی بغاوت کرنے والوں کو بھی معاف کر دیا ہے۔ لیکن اپنے پیغمبر کی شان میں گستاخی کرنے والوں کو اپنے قانون کے مطابق قرار واقعی سزا دی ہے۔ چند سال پیشتر ایک بدبخت شخص سلمان رشدی نے عیسائیوں کا آلہ کار بن کر اپنی شرمناک کتاب ”شیطانی آیات“ میں پیغمبر اسلام ﷺ کی بالواسطہ اہانت کی جس پر تمام یورپ، امریکہ اور ساری دنیا کے مسلمان سراپا احتجاج بن گئے تھے۔
یورپ کی عیسائی اور نام نہاد سیکولر حکومتوں کا شروع ہی سے یہ عجیب و غریب دوہرا معیار رہا ہے کہ اپنے ملکوں میں تو توہین مسیح کے جرم کی سنگین سزا، سزائے موت نافذ رہی ہے اور اب بھی عمر قید کی صورت میں موجود ہے۔ لیکن وہ چاہتے ہیں کہ پاکستان یا دوسرے مسلمان ملکوں میں پیغمبر اسلام ﷺ کی اہانت کی سزا سرے سے موجود نہ رہے کیونکہ اس سے عیسائی اور دیگر اقلیتوں کے انسانی حقوق مجروح ہوتے ہیں۔
”ریڈرز ڈائجسٹ“ اور نیویارک سنڈے ٹائمز میگزین کے مضمون نگاروں نے راقم کے حوالے سے توہین رسالت کے قانون ”قریشی بلاس فیمی لاء“ بتلاتے ہوئے اسے پاکستان کا عیسائیوں کے خلاف اعلان جنگ (Pakistan's war against Christians) کے عنوان سے مضامین شائع کیے ہیں۔ ایسی ہی بات گذشتہ روز ”توہین رسالت ﷺ“ کے مذاکرے میں مسیحیوں کے نمائندے جان الیگزینڈر ملک بشپ نے کہی ہے۔ یورپ میں بلاس فیمی لا کے متعلق ان کا ارشاد ہے کہ توہین مسیح کا قانون وہاں حضرت مسیح کی تضحیک اور تمسخر پر حرکت میں آتا ہے۔ لیکن یورپی ملکوں میں مسلمانوں کے محبوب نبی حضرت محمد ﷺ کے
خلاف کارٹون اور خاکوں کے ذریعہ جو تمسخر کیا جا رہا ہے اور ان کی مقدس ذات کی تضحیک کی جا رہی ہے، اسے وہاں کی حکومتیں، عیسائی دنیا اور پریس آزادی اظہار کا نام دے رہی ہے جس کو وہ اپنا پیدائشی حق سمجھتے ہیں اور ایسی غیر اخلاقی اور ناشائستہ حرکتوں کے اعادہ سے روکنے کے لیے بھی ان حکومتوں نے صاف انکار کر دیا ہے، حالانکہ خود ان ملکوں اور ساری دنیا کے آئین اور قانون میں اظہار رائے کی آزادی کی واضح حدود متعین ہیں۔ اس مضمون میں ان ملکوں کے آئینی دفعات کی گنجائش نہیں، اس لیے ہم یہاں صرف یورپی ملکوں کے کنونشن (آئین) کے آرٹیکل 10 کا حوالہ دیں گے۔ اس میں کہا گیا ہے کہ اظہار آزادی کا حق نہایت حزم و احتیاط اور ذمہ داری کے ساتھ استعمال کیا جانا چاہیے۔ اس کے ذریعہ کسی کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ ملک میں معاشرے کے اخلاقی اقدار، دوسروں کی عزت نفس اور ان کے بنیادی حقوق کو گزند پہنچائے۔ اس بارے میں یورپی یونین کی ہیومن رائٹس کی اعلیٰ ترین عدلیہ نے سال 1996ء میں برطانیہ کے ہاؤس آف لارڈز کے توہین مسیح کے مقدمہ میں فیصلہ پر اسی آرٹیکل 10 کے تحت اپیل کی سماعت کے بعد ایک اہم اور نہایت دلچسپ مقدمہ ونگرو بنام مملکت برطانیہ میں بڑا معرکہ آرا فیصلہ صادر کیا ہے۔ جو یورپی یونین کے تمام ممبر ملکوں پر لاگو ہے۔ اس فیصلہ کا مختصر سا ذکر ہمارے ملک کے حکمرانوں کے لیے چشم کشا اور سبق آموز ہے۔
برطانیہ میں ایک فلم ڈائریکٹر مسٹر ونگرو نے ایک ویڈیو فلم تیار کی جس میں سولہویں صدی کی عیسائی راہبہ ٹریسا جو حضرت یسوع مسیح کی بڑی عقیدت مند تھی، حالت وجد میں صلیب کے گرد رقص کرتے ہوئے اپنا گریبان چاک کر کے اپنے عریاں سینہ کو لہو رنگ کر لیتی ہے اور اسی حالت میں تصوراتی مسیح کا بوسہ لیتی ہے جس پر جناب مسیح کے لبوں کو بھی ہلکی سی جنبش ہوتی ہے۔ اس فلم کو برطانیہ کے سنسر بورڈ نے نمائش کی اجازت دینے سے انکار کر دیا جس پر یہ معاملہ عدالتوں تک پہنچا۔ جہاں یہ قرار دیا گیا کہ یہ مقدس سینٹ ٹریسا کے کردار کی توہین ہے جس سے برطانیہ کے عیسائی شہریوں کے جذبات مشتعل ہونے کا اندیشہ ہے۔ ان فیصلوں کے خلاف جوڈیشل ریویو کے لیے یہ مقدمہ برطانیہ کی سب سے بڑی عدالت ہاؤس آف لارڈز میں سماعت کے لیے آیا۔ وہاں کے تمام جج حضرات نے ماتحت عدالتوں کے فیصلہ کو بحال رکھا۔ عدالت عظمیٰ کے ایک معروف لبرل جج اسکار مین نے یہ بھی قرار دیا کہ بلاس فیمی لا برطانیہ کی سالمیت کے لیے ناگزیر ہے۔ اس فیصلہ کو مملکت برطانیہ کے خلاف مسٹر ونگرو
نے یورپی یونین کے حقوق انسانی کی اعلیٰ ترین عدالت میں چیلنج کردیا کہ اس فیصلہ سے ایک آزاد ملک کے آزاد شہری کے آزادی اظہار کے حقوق ختم ہوئے ہیں جو یورپی یونین کے کنونشن (آئین) کے آرٹیکل 10 کی صریح خلاف ورزی ہے۔ یورپ کے ہیومن رائٹس کی اس عدالت عالیہ نے اپنے آئین کی آرٹیکل 10 کی تشریح کرتے ہوئے ہاؤس آف لارڈز کے فیصلہ کی توثیق کردی اور ونگرو کی اپیل کو مسترد کردیا۔ مملکت برطانیہ کے حق میں فیصلہ صادر کرتے ہوئے لکھا کہ توہین مسیح کے قانون کی بدولت حقوق انسانی کا تحفظ برقرار رہتا ہے۔
یورپ کے ہم جیسے خوش فہم مسلمانوں نے اس عالی مرتبت عدالت میں سلمان رشدی کے حوالہ سے اپنے جائز حقوق انسانی کے لیے داد رسی طلب کی، لیکن کون سنتا ہے فغان درویش، غریب مسلمانوں کو فریاد کی اجازت بھی نہیں مل سکی۔ یہ ہیں یورپ کے وہ حقوق انسانی جن سے دنیا کی تمام دوسری اقوام سے صرف ایک مسلمان قوم جس کے پیرو سوا ارب سے زیادہ ساری دنیا میں پھیلے ہوئے ہیں، محروم کردیا گیا ہے۔
مسلمان ملکوں میں کروسیڈ کے نام پر خونریز جنگ، قتل و غارت گری اور ان کے جغرافیائی سرحدوں میں گھس کر وہاں کے نہتے بچوں، عورتوں، بوڑھوں اور مردوں کا سفاکانہ قتل عام جاری ہے اور اب مسلمان ملکوں کی نظریاتی سرحدوں پر یلغار کی جو محرکات ہیں، اس کی تہہ اور تحت شعور میں تین صدیوں کی مسلسل صلیبی جنگوں میں یورپ اور پاپائیت کی شکست کا انتقامی جذبہ کارفرما ہے۔ لیکن مغرب اس غیر انسانی مجرمانہ کارروائیوں کے انجام سے بے پروا ہو کر سپر پاور ہونے کے زعم میں جس طرح کھل کر کھیل رہا ہے، اس نے تہذیبوں کے تصادم سے انسانیت کو تباہی کے مہیب غار کے خوفناک دہانہ تک پہنچا دیا ہے۔ اب ذرا سی سہل انگاری اس کرۂ ارض پر انسان کے وجود ہی کو نیست و نابود کردے گی۔
شاہ بلیغ الدین
توہین رسالت ﷺ کا قانون کیسے بنا......
پاکستان کی قومی اسمبلی کی چھٹیوں کے بعد اجلاس کا پہلا دن تھا۔ میں وقت سے ذرا پہلے ایوان اسمبلی میں پہنچا تو معلوم ہوا کہ بیگم نثار فاطمہ مجھے ڈھونڈتی پھر رہی ہیں۔ میں مختلف ساتھیوں سے باتیں کرتے ہوئے اپنی نشست پر آیا تو بیگم نثار فاطمہ میرے پاس آئیں۔ انہوں نے کہا کہ ایک تحریک استحقاق وہ ابھی ابھی سپیکر کو دے آئی ہیں۔ اس پر انہوں نے میرا نام تحریک پیش کرنے والوں میں لکھ دیا ہے، مجھے اس پر تقریر کرنا ہے۔ قرارداد کی ایک نقل انہوں نے میرے حوالے کی۔ میں اس زمانے میں اسمبلی کے حزب اختلاف میں تھا اور اسلامی پارلیمانی گروپ کا صدر تھا۔ اصولی طور پر یہ تحریک پہلے میری نظر سے گزرنی چاہیے تھی مگر عجلت کے پیش نگاہ تحریک استحقاق وقت مقررہ کے اندر اسپیکر کو دے دی گئی تھی۔ بیگم نثار فاطمہ، مولانا امین احسن اصلاحی کی بہت قریبی عزیز تھیں۔ مدتوں جماعت اسلامی میں رہ چکی تھیں۔ بڑی سمجھدار اور سلجھی ہوئی خاتون تھیں اور تقریریں بھی خوب کرتی تھیں۔ اس وقت اسلامی پارلیمانی جماعت میں ہمارے ساتھ حمزہ صاحب کے علاوہ مولانا معین الدین لکھوی، مولانا وصی مظہر ندوی اور رفیق صفدر بھی تھے۔ کل سات ارکان تھے۔ اس تحریک پر بحث ہوئی۔ تحریک استحقاق یہ تھی کہ ایک خاتون عاصمہ جیلانی نے اسمبلی کے موجودہ اجلاس سے تھوڑے دن پہلے ہوٹل ہالیڈے ان (اسلام آباد) کے ایک اجتماع میں شان رسالت مآب ﷺ میں نازیبا اور گستاخانہ الفاظ استعمال کیے تھے...... نقل کفر کفر نہ باشد!
جہاں تک مجھے یاد آتا ہے اس تحریک میں بیگم نثار فاطمہ اور میرے علاوہ مولانا معین الدین لکھوی، وصی مظہر ندوی، جناب لیاقت بلوچ اور جناب رفیق صفدر کے علاوہ کچھ اور اراکین نے بھی تقریریں کی تھیں۔ تحریک پر اچھی خاصی بحث کے بعد حکومت کی طرف سے (اقبال احمد خاں وزیر قانون اور پارلیمانی امور کی غیر حاضری کی بنا پر) میر نواز مروت صاحب
نے جو اس وقت وزیر مملکت تھے، اس قرارداد کا جواب دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ تعزیرات پاکستان میں ایک دفعہ موجود ہے جس میں ایسی گستاخیوں پر قانونی چارہ جوئی کی جاسکتی ہے، اس لیے تحریک پیش کرنے والوں اور مسلمانان پاکستان کا استحقاق مجروح نہیں ہوتا۔ انہوں نے یہ بھی فرمایا کہ ہم بھی تو مسلمان ہیں اور آپ ہی کی طرح حضور اکرم ﷺ کی ذات اقدس سے محبت رکھتے ہیں۔ ڈپٹی اسپیکر جوگیزئی صاحب نے تحریک مسترد کر دی۔ یہ دفعہ ایل ایل بی کے نصاب میں ہم نے بھی پڑھی تھی۔ مجھے حکومت کی طرف سے اس جواب کی امید نہ تھی۔ میرا ذہن پکار پکار کر کہہ رہا تھا کہ پاکستان ایک نظریاتی مملکت ہے۔ یہاں کی تعزیرات میں توہین رسالت ﷺ پر خصوصی دفعہ ہونی چاہیے۔ میں فوراً اٹھ کر اسمبلی کے کتب خانے میں پہنچا اور تعزیرات پاکستان نکال کر وہ دفعہ 295 پڑھی۔ یہ برطانوی دور کی بنائی ہوئی عام سی دفعہ تھی، جس میں مسجدوں، مندروں یا گردواروں کے احترام اور مذہبی تقریبوں اور مذہبی رہنماؤں کے خلاف اشتعال پھیلانے والی تقریروں تحریروں سے منع کیا گیا تھا۔ اب مجھے فکر ہوئی کہ یہ معلوم کروں کہ اس میں کوئی ترمیم ہوئی ہے یا نہیں؟ شام میں مختلف وکیل دوستوں کے چیمبرز میں فون پر بات کرنے سے معلوم ہوا کہ اس میں ایک ترمیم آئی ہے اور پاکستان کے پرچم کے احترام کے لیے ہے۔ میں اس بارے میں مستقل سوچتا رہا اور بار بار ذہن میں ایک ہی سوال آتا تھا کہ اگر پاکستانی پرچم کے لیے ایک خصوصی دفعہ آسکتی ہے تو اللہ کے رسول ﷺ کی شان میں گستاخی کرنے والوں کے لیے بھی ایک خصوصی دفعہ ہونی چاہیے کیونکہ جو دفعہ انگریز نے بنائی تھی، وہ اپنے سیاسی اغراض سے بنائی تھی۔ شان رسالت ﷺ سے انہیں کوئی دلچسپی نہیں تھی کیونکہ اس کے باوجود حضرت غازی علم الدین شہید کو گستاخ کا منہ بند کرنا پڑا۔ رات میں نے بڑی احتیاط سے ایک تحریک استحقاق اسی استدلال کے ساتھ مرتب کی اور اپنے ساتھیوں کے نام لکھے تاکہ صبح ان سے دستخط لے لیے جائیں۔ اسمبلی پہنچا تو اس خیال سے کہ کل ایک تحریک مسترد کر دی گئی تھی، آج کہیں ایسا نہ ہو کہ اسپیکر کے چیمبر ہی میں اسے داخل دفتر کر دیا جائے۔ میں نے لیاقت بلوچ صاحب سے تفصیلی بات کی اور ان سے کہا کہ وہ اپنی طرف سے بھی اسی مضمون کی ایک تحریک لکھ بھیجیں اور اس میں چار چھ مقررین کے نام بھی لکھ دیں تاکہ اسپیکر پر دباؤ رہے۔ لیاقت اس زمانے میں جماعت اسلامی کے پارلیمانی گروہ کے نائب صدر تھے۔ اب جو تحریک پیش ہوئی تو پھر نائب اسپیکر جوگیزئی صاحب ہی ایوان کی کارروائی چلا رہے تھے۔ اپنی تقریر میں اس وقت جو باتیں میں نے کہیں، اس میں پہلے تو نیت
کے تعلق سے میں نے بات کی اور پھر بطور نظیر عہد نبوی ﷺ میں اس تعلق سے جو تفصیلات ملتی تھیں، ان کا بھی ذکر کیا۔ اللہ کے رسول ﷺ نے اپنی ذات کے لیے کسی سے کوئی بدلہ نہیں لیا۔ اپنے ایک سے ایک بڑے دشمن کو معاف کر دیا۔ فتح مکہ پر اس کا اعلان عام کیا۔ کعب بن اشرف یہودی کے واقعہ کی تفصیلات بیان کرتے ہوئے میں نے کہا کہ صحابہ کرام کا متفقہ فیصلہ ہے کہ شاتم رسول ﷺ کو سزا ملنی چاہیے۔ اب پوری تقریر یاد نہیں، اسمبلی کے ریکارڈ میں موجود ہے۔ سب تقریروں کے خاتمے کے بعد پھر اسی انداز میں بات کی گئی تو میں سمجھ گیا کہ وہی رولنگ دہرا دی جائے گی۔ لیکن آج صورت حال میرے ہاتھوں میں تھی کیونکہ مجھے جوابی تقریر کا حق تھا۔ میں اسی سے فائدہ اٹھانا چاہتا تھا۔ چنانچہ اپنی جوابی تقریر میں، میں نے حکومت کے اس رجحان پر نہ صرف سخت تنقید کی بلکہ میں نے کہا آج یہ تحریک استحقاق کسی بہانے سے ختم نہ کی جا سکے گی۔ حکومت کو میں کھلا چیلنج دیتا ہوں کہ اگر اس تحریک کو ایوان میں اسپیکر کی رولنگ سے کچلنے کی کوشش کی گئی تو ہم اس ایوان سے نکل جائیں گے۔ اس اسلامی مملکت کے آئین میں اگر انگریزوں کی بنائی تعزیرات کی اس دفعہ کو حکومت کافی سمجھتی ہے تو حکومت اس امر کا جواب دے کہ کیا پاکستان کا پرچم اللہ کے رسول ﷺ کی حرمت سے زیادہ اہم ہے کہ اس کے لیے ایک ذیلی دفعہ کا اضافہ کیا گیا ہے۔ ایسا آئین جو ناموس رسالت ﷺ کا تحفظ نہ کر سکے، میری نظر میں پرکاہ سے زیادہ اہمیت نہیں رکھتا۔ اللہ تعالیٰ نے سورۃ الشرح میں فرمایا کہ اس نے اپنے رسول ﷺ کے ذکر کو بہت بلند کر دیا ہے۔ قرآن حکیم میں، کلمے، اذان میں جہاں جہاں اطاعت اللہ کا ذکر ہے وہیں اطاعت رسول ﷺ کا ذکر ہے۔ ارشاد ربانی ہے کہ رسول ﷺ سے محبت کرو اور ان کی اطاعت و پیروی کرو تو اللہ تم سے محبت کرے گا۔ جو وہ کہہ دیں، وہ سن کر مان لو! جو دے دیں، وہ لے لو! خبردار! گفتگو میں کبھی ان کی آواز سے اپنی آواز بلند نہ کرنا۔ اگر ارباب حکومت اس ذات اقدس ﷺ کی منزلت سے واقف نہیں ہیں تو ایسی حکومت اور ایسی وزارت کس کام کی۔ اس ایوان اسمبلی کا بھی کوئی مقام نہیں......! پھر میں نے للکار کے کہا کہ اگر صدر اور وزیر اعظم میری تقریر اپنے اپنے کمرے میں ٹی وی کے خصوصی سیٹ پر دیکھ رہے ہیں تو یہ بات سن لیں کہ اب یہ قرارداد عوامی تحریک بن کر اٹھے گی اور ہم اس مسئلے پر لیت و لعل سے کام نہیں لیں گے۔ پورے جذبات کے ساتھ میری تقریر جاری تھی کہ وزیر اعظم جونیجو صاحب نے مداخلت کی اور اسپیکر نے اعلان کیا کہ تحریک مسترد نہیں کی جائے گی۔ میں نے جواب دیا کہ اگر یہ یقین دہانی کی جائے کہ اس پر
فوری طور پر کارروائی شروع کی جائے گی اور اسی سیشن میں مسودہ قانون تیار ہوگا اور اسمبلی کا یہ سیشن ختم ہونے سے پہلے ایوان سے منظوری لی جائے گی تو میں بائیکاٹ کی تجویز واپس لے لوں گا ورنہ نہیں۔ یہ بات میں حکومت کو بتا دوں کہ پورا ایوان متفقہ طور پر دفعہ 295 میں ایک خصوصی شق کا اضافہ چاہتا ہے۔
میری تقریر کے دوران ہی سارے ایوان نے ہاتھ اٹھا کر اعلان کیا کہ ہاں متفقہ طور پر ترمیم پاس ہو گی۔ اقلیتوں کے پارلیمانی لیڈر کرنل ہربرٹ نے اپنی پوری جماعت کے ساتھ اپنے تعاون کا اعلان کیا اور یوں کارروائی آگے بڑھ گئی اور پاکستان کی تعزیرات میں ایک خصوصی ذیلی دفعہ شامل ہوئی۔ لیاقت بلوچ اب بھی سیاست میں سرگرم عمل ہیں اور مروت صاحب کراچی میں وکالت کر رہے ہیں۔ وہ ان تفصیلات سے خوب واقف ہیں۔ اسمبلی کی رپورٹ بھی چھپی چھپائی موجود ہے۔ میں اس تحریک استحقاق کو اپنی پارلیمانی زندگی کا حاصل، موجب شفاعت اور باعث سعادت ومنزلت و برکت سمجھتا ہوں۔ اللہ تعالیٰ جونیجو صاحب اور ضیاء الحق صاحب اور جملہ ارکان پارلیمنٹ کو اس کا اجر عطا فرمائے جنہوں نے متفقہ طور پر اسے منظور کیا۔ اللہ کے رسول ﷺ کی شان میں گستاخی کا مسئلہ کئی طرح کا ہوتا ہے۔ ایک وہ بد نصیب مسلمان ہے جو توہین رسالت ﷺ کرتا ہے اور فوری طور پر دائرہ اسلام سے خارج ہو جاتا ہے۔ یہاں اسلامی مملکت کی عدالت جانچ پڑتال کے بعد اس کی نیت کو پیش نظر رکھ کر اس کی سزا تجویز کرتی ہے۔ طلیحہ مسلمان ہوا تھا۔ پھر وہ مرتد ہو گیا بعد میں اس نے توبہ کر لی تو صدیق اکبرؓ نے بحیثیت خلیفہ اسے معاف کر دیا۔ دوسری صورت یہ ہے کہ اسلامی مملکت میں کوئی غیر مسلم بے حرمتی کا مرتکب ہوتا ہے، اگر وہ معافی مانگ لے اور اظہار ندامت کرے تو اسے معاف کیا جا سکتا ہے۔ کعب بن اشرف غیر مسلم تھا۔ اللہ کے رسول ﷺ نے صرف اس سے بیزاری کا اظہار کیا۔ وہ مسلسل اور مستقل طور پر حضور اکرم ﷺ کی شان میں گستاخی کرتا رہتا تھا۔ صحابہ کرام کا اس بارے میں متفقہ فیصلہ تھا کہ شاتم رسول ﷺ لائق گردن زنی ہوتا ہے۔ ”رنگیلا رسول“ کتاب لکھنے والا شردھا نند بھی علما کے فتووں کے مطابق قابل سزا ٹھہرا۔ ایک غیرت مند مسلمان علم الدین شہید نے اسے کیفر کردار کو پہنچایا۔ ایک صورت اس زمانے میں ”رشدی“ کی ہے جس نے اپنی کتاب شیطانی راگ (The Satanic Verses) چھاپ کر عام کی اور مغربی دنیا کی منہ بولی اولاد بن گیا۔ ہمارے جلیل القدر علما اور مصر و عراق کے مسلم زعما نے رشدی کے بارے میں بھی یہی فیصلہ دیا۔ عالمی بنیاد پر جو گروہ
ایسے لوگوں کو ابھارتا ہے، ایسے لوگوں کی مدد کو بھی پہنچ جاتا ہے۔ چنانچہ آج رشدی اور اس کی ”بہن“ تسلیمہ کے لیے دو بڑی حکومتوں کی طرف سے سیکورٹی کے انتظامات کیے گئے ہیں اور لاکھوں روپوں سے اس کی امداد کی گئی کہ آج بھی وہ کڑے پہرے میں ہے۔ اپنی چار چار بیویوں کے ساتھ عیش وعشرت کی زندگی گزار رہا ہے۔ وہ اور اس کی بہن تسلیمہ دنیا بھر میں مسلمانوں کے خلاف اپنی کارستانیوں میں لگے ہیں۔ امریکہ میں عورت کی امامت کا حالیہ فتنہ بھی انہی کے گروپ کا اٹھایا ہوا ہے۔ دنیا کے تمام مہذب ملکوں کے دستور اور قوانین میں مذہبی صحیفوں مسجدوں، مندروں، مذہبی پیشواؤں کے احترام کے تحفظات موجود ہیں۔ پاپائے روم کو اور کینٹربری کے اسقف اعظم کو تقدس مآب (His Holiness) کہا جاتا ہے۔ کوئی ان کا مضحکہ نہیں اڑاتا نہ ان کے کارٹون بناتا ہے۔ مشرق اور مغرب کی تہذیبی روایات میں بڑا فرق ہے۔ مغرب میں بائبل کے عہد عتیق میں پیغمبروں کے بارے میں نامناسب باتیں لکھی ہیں۔ وہ حضرت موسیٰ اور حضرت عیسیٰ پر فلمیں بھی بناتے ہیں، اسے بھی ناپسند کیا گیا۔ لیکن ان کی خصوصی توجہ اب مسلمانوں پر مرکوز ہے۔ مسلمانوں کو مشتعل کرنے اور دہشت گرد ثابت کرنے کے لیے ایک جاہل اور بے ادب کارٹونسٹ سے ایسا کارٹون بنوایا گیا جس پر سیدالانبیاء ﷺ کو ظالم بدطین دہشت گرد کے روپ میں پیش کیا گیا ہے۔ یہ ایک سوچی سمجھی سازش ہے۔ پاپائے روم انوسنٹ سوم نے پاپائیت کی توہین کرنے والوں کو زندہ جلانے کا حکم دیا تھا۔ یہ سزا یہودیوں پر بھی لاگو کر دی گئی۔ سقوط غرناطہ کے بعد ملکہ ازبیلا نے مسلمانوں کو زندہ جلانے کا عام حکم جاری کر دیا تھا۔ اسپین کے مسلمانوں کو تو زندہ جلانے کے ساتھ ان کی دولت اور جائیداد پر بھی قبضہ کر لیا گیا تھا۔ تاریخ ان مظالم سے بھری پڑی ہے۔ مستشرقین (Orientalists) میں سے کسی نے اسلام کی صحیح تصویر پیش نہیں کی۔ 9/11 کے واقعہ کے بعد سے ساری عیسائی دنیا کی زبان پر ”کروسیڈ“ کا نعرہ آ گیا ہے۔ ڈنمارک کے اخبار کے کارٹونسٹ کرٹ ویسٹر گارڈ نے یہ کارٹون اپنی مرضی سے نہیں بنایا، اس کے پیچھے کچھ اور لوگ ہیں۔ یہی حال اس کارٹون کا تھا جس میں مسلمانوں کو امریکہ کے اخبار ورسائل نے کتے کی شکل میں پیش کیا۔ صاف ظاہر ہے کہ یہ چھچھوری حرکتیں بدنیتی سے کی جا رہی ہیں۔ یہ توہین آمیز حرکتیں مغربی دنیا کے گوشے گوشے ہو رہی ہیں اور منظم طور پر ہو رہی ہیں۔ ڈنمارک کے اخبار میں چھپے کارٹون سے تمام دنیا کے مسلمانوں کی دل آزاری ہوئی ہے۔ اصولی طور پر حکومت ڈنمارک کو اس حرکت پر
معافی مانگنا چاہیے۔
افسوس کہ امت زبان بن کر پکار اٹھے۔ مسلمان دیکھ رہے ہیں تحریک کے اپنا ”ہنگامی عرب دنیا میں اس توہین مسلمانوں نے کوئی ایسا ڈنڈے کے زور پر ہو تو تھے۔ رچرڈ نے اس سے کی مدد سے وہ مسلمانوں کو دفاع پر مامور کر دیا آزمائی کے بعد پیچھے ہٹ اس لڑائی پر
ایسے اعلیٰ اخلاق کا مظاہرہ صورت نہ رہی۔ اس پر عالمی توازن قوت بگڑ گیا یہ کہاں کی انسانیت ا پیغمبر ﷺ پر کیچڑ اچھالنا برا نہ کہو ورنہ پھر وہ تمہارے
قرآن حکیم کتابوں اور اس کے پا فرق و تمیز روانہ رکھو۔ تم
ایک عہد ہے جو ہم مسل رسول ﷺ کی شان میں علیہا السلام کی توہین پر
معافی مانگنا چاہیے۔
افسوس کہ اس وقت عالم اسلام میں کوئی ایسی قد آور شخصیت نہیں جو مسلم امہ کی زبان بن کر پکار اٹھے۔ او آئی سی وہ واحد ادارہ ہے جس کی طرف دنیا کے چاروں کونوں کے مسلمان دیکھ رہے ہیں لیکن یہ ادارہ اس درجہ مصلحت کوشی کے تابع ہے کہ باوجود پاکستان کی تحریک کے اپنا ”ہنگامی اجلاس“ بلانے کے بارے میں بھی عالم تشویش میں مبتلا ہے۔ حالانکہ عرب دنیا میں اس توہین آمیز کارٹون کے خلاف شدید ترین مظاہرے ہوئے ہیں۔ ہم مسلمانوں نے کوئی ایذا رسانی کی ہے اور نہ یہ مسئلہ آزادی صحافت کا ہے۔ سارا مظاہرہ ڈنڈے کے زور پر ہو رہا ہے۔ پچھلی مرتبہ صلیبی جنگوں سے پیشتر مسلمان منتشر اور پارہ پارہ تھے۔ رچرڈ نے اس سے فائدہ اٹھا کر ”کروسیڈ“ کا اعلان کر دیا۔ وہ سمجھتا تھا کہ یورپی حکومتوں کی مدد سے وہ مسلمانوں پر وارد ہو جائے گا لیکن اللہ نے نور الدین زنگی اور صلاح الدین ایوبی کو دفاع پر مامور کر دیا اور جب مسلمانوں نے متحد ہو کر زور لگایا تو یورپی طاقتیں پوری زور آزمائی کے بعد پیچھے ہٹ گئیں۔
اس لڑائی میں صلاح الدین ایوبی نے رچرڈ کی گری ہوئی حرکت کے جواب میں ایسے اعلیٰ اخلاق کا مظاہرہ کیا کہ یورپی مورخین کو بھی اس کا شکریہ ادا کرنے کے سوا اور کوئی صورت نہ رہی۔ اس مرتبہ بھی مغرب کے دہرے معیار اور انسانیت دشمن سرگرمیوں کی وجہ سے عالمی توازن تو بگڑ گیا ہے۔ مغرب نے خود اپنے بنائے ہوئے اصولوں پر ضرب لگائی ہے۔ یہ کہاں کی انسانیت اور آزادی ہے کہ دوسروں کے مذہب اور دنیا کے سب سے بڑے پیغمبر ﷺ پر کیچڑ اچھالا جائے۔ اسلام کا تو صاف حکم ہے کہ ”مسلمانو! دوسروں کے خداؤں کو برا نہ کہو ورنہ پھر وہ تمہارے اللہ کو برا کہیں گے“
قرآن حکیم اپنی آیت میں مسلمانوں کو پابند کرتا ہے کہ ”اللہ، فرشتوں، تمام آسمانی کتابوں اور اس کے بھیجے ہوئے تمام انبیا کو مانو اور خبردار، رسولوں کے احترام اور ادب میں کوئی فرق و تمیز روا نہ رکھو۔“ اس ارشاد کے بعد تاکید آئی ہے کہ تم نے حکم سنا، اس کی اطاعت کرو۔ یہ ایک عہد ہے جو ہم مسلمانوں سے اللہ تعالیٰ نے لیا ہے۔ اگر کسی نادان، بدکار و عیار نے اللہ کے رسول ﷺ کی شان میں گستاخی روا رکھی تو ہم مسلمان حضرت عیسیٰ، حضرت موسیٰ یا حضرت مریم علیہا السلام کی توہین نہیں کر سکتے۔ اسی طرح جو صحابہ کرامؓ اور اولیاء اللہؒ کی شان میں گستاخی کرتے
ہیں، ہم اس کے جواب میں گستاخی کرنے والوں کی مقدس ہستیوں کی بے حرمتی نہیں کر سکتے۔ کاش! یہ باتیں ہم مغرب تک پہنچا سکیں کہ یہ ہمارا عقیدہ اور یہ ہمارا عمل ہے۔
اسلام سے زیادہ تہذیب سکھانے والا اور روادار مذہب دنیا میں اور کوئی نہیں۔ یہ اپنے منہ میاں مٹھو بننے والی بات نہیں ہے، ہماری چودہ سو سالہ اسلامی تاریخ کا حاصل ہے۔
سچ یا جھوٹ ہولو کاسٹ (Hollo Caust) ہٹلر کا فعل تھا۔ مسلمانوں نے تو یہودیوں کے ساتھ مدینے میں حسن سلوک کا مظاہرہ کیا اور خیبر و زرعات (تبوک کی سرحد پار یہودی بستیوں) اور فلسطین میں کبھی ان پر ذرہ برابر ظلم روا نہ رکھا۔ اس کے خلاف مغربی مورخ جین پلاؤی کی کتاب پڑھیے تو معلوم ہوتا ہے کہ رومی حکومت اور کلیسائی عدالتوں نے مسلمانوں اور یہودیوں کا خون پانی کی طرح بہایا ہے۔ یروشلم کی فتح کے وقت کے لارڈ پادری صفری نوس نے جب اپنے کلیسا کی چابیاں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے حوالے کیں اور اس کارروائی میں اتنا وقت گزارا کہ نماز کا وقت آ گیا تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ ہمیں اب نماز پڑھنا ہے۔ صفری نوس نے کہا یہ جگہ پاک ہے، آپ یہاں نماز پڑھ لیجیے۔ امیر المومنین نے جواب دیا کہ یہ جگہ پاک ہے لیکن یہاں نماز نہیں پڑھوں گا۔ کلیسا کے باہر ایک چٹان پر انھوں نے نماز ادا کی اور صفری نوس سے کہا کہ ”میں نے تمہاری کلیسا میں اس لیے نماز نہ پڑھی کہ کل کو کوئی مسلمان یہ مطالبہ کرے کہ یہاں ہمارے امیر المومنین نے نماز پڑھی ہے، اس لیے یہاں مسجد بنے گی، میں ایسی صورت نہیں چاہتا۔“ اسلام اقلیتوں سے رواداری کا جو حکم دیتا ہے، یہ اس کی پابندی تھی۔ امیر المومنین نے اس کا عملی مظاہرہ پیش کیا۔ عیسائیوں کی عبادت گاہیں، ہمارے لیے مسجدوں ہی کی طرح محترم ہیں۔ ہماری تاریخ بتاتی ہے کہ اسلامی مملکت میں عیسائی اقلیت ہمیشہ خوش رہی۔ حیرت ہے کہ آج ہولو کاسٹ کو تو قانونی تحفظ حاصل ہے، امریکا اس قانون کے تحت ایران کے صدر پر مقدمہ چلانا چاہتا ہے اور گستاخی رسول ﷺ کو آزادی رائے سے تعبیر کیا جا رہا ہے۔ اس منافقت ہی نے دنیا میں فساد پھیلایا ہے۔ لہٰذا اس وقت یورپ اور امریکا میں مقیم مسلمانوں کا فرض ہے کہ وہ پوری کوشش کے ساتھ اخبار، ریڈیو، ٹی وی اور یونیورسٹیوں کے پلیٹ فارم کے ذریعے اہل مغرب کو یہ سمجھائیں کہ یہ تہذیبوں کا تصادم نہیں، یہ ہمارے خلاف سازشی حربے ہیں۔ اسلام امن اور سلامتی کا پیام لے کر آیا ہے۔
دنیا کی ترقی میں مسلمان دانشوروں اور سائنسدانوں کا بھی بڑا حصہ ہے۔
ہارون الرشید کے زمانے (786 تا 809ء) میں جب انگلستان پر پنڈا شاہ مرثیہ کی حکومت تھی تو مغرب میں بیماری کا علاج گنڈوں اور جھاڑ پھونک سے ہوتا تھا۔ ہم اس زمانے میں نہ صرف آپریشن کے لیے بے ہوش کرنے کے طریقے سے واقف تھے بلکہ سرجن زہراوی نے چھوٹی بڑی چیر پھاڑ کے لیے سو ڈیڑھ سو مختلف نشتر اور قینچیاں ایجاد کی تھیں جس میں سے پچاس فیصد نشتر اب بھی استعمال ہوتے ہیں۔ ابن الہیثم نے آنکھ کی ساخت اور اس کے علاج کے لیے جو تجربات اور مشاہدات کیے تھے، وہ آج بھی مغرب کے لیے رہنما اصول ہیں۔ ہم علم حیوانات، علم نباتات، جڑی بوٹیوں کی خصوصیات اور علم فلکیات سے خوب واقف تھے، بڑی بڑی رصد گاہیں بغداد اور اس کے اطراف میں بنائی جا چکی تھیں، ہوا میں پرواز کرنے کے ابتدائی تجربات ابن فرناس کر چکا تھا۔ ابن المقنع نے نخشب کے کنوئیں سے مصنوعی بجلی کا چاند بنا کر طلوع کیا تھا۔ یورپ کی نشاۃ ثانیہ اور پندرھویں صدی کا صنعتی انقلاب بغداد، قرطبہ اور غرناطہ کا مرہون منت ہے۔ اسلام کا تصور جہاد، قتل و غارت گری کے لیے نہیں بلکہ ظلم کے مٹانے کے لیے ہے۔ خون انسانی کا جو احترام، اسلام نے کیا ہے کسی اور مذہب نے نہیں کیا۔ مدینے کی پہلی اسلامی مملکت کے قیام کے لیے جو دس لاکھ مربع میل کے رقبے پر محیط تھی یعنی آدھے یورپ کے برابر تھی، کیا انسانی خون بہایا گیا؟ ڈاکٹر حمید اللہ کے دیے ہوئے اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ 120 مسلمان شہید ہوئے اور 150 سے کچھ زیادہ غیر مسلم مارے گئے۔ مغرب نے آج تک جہاد اور قتال کا فرق نہیں سمجھا۔ میدان جنگ میں جب مسلمان قتال کے لیے نکلتا ہے تو حکم ہے کہ لڑائی میں اس وقت تک پہل نہ کی جائے جب تک دشمن حملہ نہ کر دے۔ حکم ہے کہ قتال سے پہلے ایک بار صلح کا پیام بھجوایا جائے اور میدان جنگ میں لڑائی شروع کرنے سے پہلے مجاہدوں کی صفوں کے آگے تلاوت کلام پاک کی جائے تاکہ مجاہدوں کے دلوں میں اللہ کا خوف طاری رہے اور ان کے دل میں جذبہ شہادت پیدا ہو۔ لڑائی کا حکم صرف اس وقت ہے، جب سمجھانے کی ہر کوشش ختم ہو جائے۔
مکی زندگی کے 13 برسوں میں مسلمانوں کو جنگ کا حکم نہیں ملا تھا۔ صبر کے ساتھ ہر ظلم کو برداشت کرنے کا حکم تھا۔ 2 ہجری میں جنگ کا حکم مدینے میں آیا۔ وہ بھی اس طرح کہ مسلمانوں پر بہت ظلم ہو چکا، اب وہ بھی ظالموں اور حملہ آوروں کے خلاف تلوار اٹھا سکتے ہیں۔ ساتھ ہی تاکیدیں آئیں کہ بستیاں تباہ نہ کرنا، کھیت نہ اجاڑنا، بوڑھوں، بیماروں، عورتوں اور
بچوں کو قتل نہ کرنا، جو لڑائی نہ کرنا چاہتے ہوں، ان سے نہ لڑنا، لڑائی میں جو لوگ قیدی بن جائیں، ان سے شریفانہ سلوک کرنا، دنیا پر ایٹم بم گرانے کی ابتدا کرنے والوں کو کوئی اسلام کے صلح و جنگ کے اصول بتائے تا کہ انھیں معلوم ہو کہ انھوں نے حقوق انسانی کی تفصیل قرآن پاک سے اور رسول اکرم ﷺ کے خطبہ حجۃ الوداع سے حاصل کی ہیں۔ انہی اصولوں پر چل کر ہم نے تین براعظموں میں اپنی حکومت قائم کی تھی۔ اللہ نے مسلمانوں کو وہ عروج عطا فرمایا تھا کہ ان کی مملکت میں سورج غروب نہیں ہوتا تھا۔ اللہ کے رسول ﷺ کی سیرت پڑھ کر دیکھیے، وہ خیر مجسم تھے اسی لیے قرآن کریم میں ہے کہ ”انھیں دنیا جہاں کے لیے رحمت بنا کر بھیجا گیا ہے۔“
محمد اسماعیل قریشی (سینئر ایڈووکیٹ سپریم کورٹ)
توہین رسالت ﷺ ....... علمی جائزہ
لاہور ہائیکورٹ کے دو فاضل جج حضرات نے توہین رسالت ﷺ کی اپیل کیس کا فیصلہ صادر کرتے ہوئے خوشاب کے ایک ملزم محمد محبوب عرف بابو کو حال ہی میں بری کر دیا ہے۔ فیصلہ کی رپورٹ ملک کے موقر اردو اور انگریزی اخبارات میں مسلسل شائع ہو رہی ہے۔ جس پر مجھ سے اس فیصلہ کے بارے میں فون پر بالمشافہ ای میل اور مراسلت کے ذریعہ استفسار کیا جا رہا ہے۔ ان سب کا علیحدہ علیحدہ جواب دینے کے لیے کافی وقت درکار تھا۔ اس لیے اس فیصلہ کے علمی جائزہ کو مضمون کی شکل دی گئی ہے تاکہ لوگوں کے ذہن میں جو اضطراب اور اشکال پیدا ہو گیا ہے، دور ہو سکے۔ وفاقی شرعی عدالت نے محمد اسماعیل قریشی بنام حکومت پاکستان کے مقدمہ میں 1990ء میں جو فیصلہ دیا اور جو سال 1991ء سے پاکستان میں نافذ العمل ہے، اس کی رو سے توہین رسالت ﷺ کی سزا، سزائے موت مقرر ہو چکی ہے۔ اس فیصلہ کے خلاف اپیل بھی سپریم کورٹ سے خارج کر دی گئی تھی۔ آئین کی رو سے پاکستان کی تمام ہائی کورٹس اور ماتحت عدالتیں فیڈرل شریعت کورٹ کے فیصلہ پر عملدرآمد کی پابند ہیں۔ پھر سپریم کورٹ کے فیصلہ سے کوئی عدالت بھی انحراف نہیں کر سکتی۔ فیڈرل شریعت کورٹ نے مذکورہ بالا فیصلہ میں اپنی بحث کو سمیٹتے ہوئے یہ قرار دیا ہے:
”مندرجہ بالا دلائل کے بعد کسی قسم کا شبہ باقی نہیں رہتا کہ قرآن حکیم کے مطابق جب رسول کریم ﷺ نے اس کی تشریح فرمادی اس کے بعد امت میں تواتر سے اس پر عمل ہو رہا ہے کہ حضور رسالت مآب ﷺ کی توہین کی سزا اس کے علاوہ کچھ اور ہو نہیں سکتی۔ رسول پاک ﷺ کے بعد کسی نے اس سزا میں کمی یا معافی کا حق استعمال نہیں کیا اور نہ کسی کو یہ حق حاصل تھا۔“ (پیراگراف 32)
اس سے پہلے پیراگراف 26 میں کہا گیا ہے: ”یہاں یہ ذکر کرنا ضروری ہے کہ
رسول پاک ﷺ نے چند گستاخان رسالت ﷺ کو معاف فرما دیا تھا لیکن تمام فقہا کا اس بارے میں اتفاق ہے کہ نبی کریم ﷺ کو بذات خود معافی کا اختیار حاصل تھا لیکن امت میں کسی کو آپ ﷺ نے شاتمین رسول ﷺ کو معاف کرنے کا کوئی اختیار نہیں دیا۔‘‘
قرآن و سنت اور اجماع امت کی روشنی میں فیڈرل شریعت کورٹ کے اس فیصلہ کے بعد کسی کو یہ فیصلہ کرنے کا جواز کہاں سے مل گیا کہ توبہ کے بعد گستاخ رسول ﷺ کو معاف کر دیا جائے۔ اگر اس بارے میں امام ابن تیمیہؒ کی شتم رسول ﷺ پر مستند ترین کتاب ”الصارم المسلول علی شاتم الرسول“ ”گستاخ رسول کے سر پر ننگی تلوار“ کے حوالہ سے حضرت ابن عباسؓ کی ایک روایت کا ذکر کیا گیا ہے کہ توہین رسالت ﷺ کا مرتکب مرتد ہو جاتا ہے جو توبہ نہ کرے تو واجب القتل ہے۔ اسی صفحہ پر امامؒ نے اس روایت کی حضرت ابن عباسؓ ہی کی مستند روایت سے تردید کی ہے کہ جس میں انہوں نے فرمایا کہ ”امہات المومنین پر تہمت لگانے والوں کی توبہ قابل قبول نہیں“ اس سے ابن تیمیہؒ استدلال کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ پھر نبی ﷺ کی بے حرمتی کرنے والے کی توبہ کس طرح قابل قبول ہو سکتی ہے؟ امام ابن تیمیہؒ کی ساری کتاب میں ارتداد اور شتم رسول ﷺ کے فرق کو کھول کر بیان کر دیا گیا ہے۔ قرآن، سنت رسول ﷺ اور اجماع امت سے انہوں نے ثابت کیا ہے کہ گستاخ رسول ﷺ کی توبہ کسی صورت میں بھی قابل قبول نہیں۔ حضور ﷺ کے معاف کرنے والے جس واقعہ کا ذکر بالعموم کیا جاتا ہے وہ ہجرت سے قبل اور مدینہ میں اسلامی ریاست قائم ہونے کے بعد شاتمانِ رسول ﷺ کے قتل کا حکم خود حضور ﷺ نے صادر فرمایا تھا۔
توہین رسالت ﷺ کے قانون کے بارے میں یہ کہنا کہ قانون تقسیم ہند سے قبل برٹش گورنمنٹ نے مسلمان اقلیت کے مذہبی جذبات کا لحاظ کرتے ہوئے نافذ کیا تھا تاریخ سے ناواقفیت کا مظہر ہے۔ امر واقعہ یہ ہے کہ برٹش گورنمنٹ نے انڈیا میں اقتدار حاصل کرنے کے بعد سال 1860ء میں قانون توہین رسالت ﷺ کو منسوخ کر دیا تھا۔ جبکہ قانون توہین مسیح (Blasphemy) انگلستان میں اس وقت موجود تھا اور آج بھی یہ قانون وہاں بطور کامن لا (Common Law) موجود ہے۔ اس قانون کے مطابق گے نیوز (Gay News) کے ایڈیٹر کو وہاں کی عدالت ابتدائی نے سزا دی تھی۔ جس کی اپیل بھی کوئنز بنچ نے خارج کر دی جس کی توثیق ملکہ برطانیہ نے حال ہی میں کر دی ہے۔ پاکستان میں بلاس فہمی کی
دی تعریف آگئی اور متعین کر دی ہے۔ اس گستاخی کو بلاس فہمی کہہ ملکوں میں بلاس فہمی کی کی ڈکشنریوں اور انسائیکلو بتلائے گئے ہیں۔ بائبل روزنامہ کے کسی نامہ نگار ”سب سے بڑی بلاس فہمی باعث ہونا۔“ بتلائے گئے بلکہ یہ بات تمام پیروکاروں اسی انگریز کہ سال 1948ء سے سال 1987ء سے رسالت ﷺ کے مجرموں 1985ء تک بلاس فہمی میں سب سے پہلے رسالت ﷺ پر ایک کا نوٹس لیا۔ لیکن ہمارے تسلسل میں سال 87 سال 1991ء سے موقوف یہ اخباری رپورٹ قطعا قانون موجود تھا اور ہو جانے کی وجہ سے مسلمانوں نے مسلمانوں کہ مسلمان کبھی توہین
وہی تعریف آئینی اور قانونی سمجھی جائے گی جو فیڈرل شریعت کورٹ اور واضعان قانون نے متعین کر دی ہے۔ اس کی رو سے حضور رسالت مآب ﷺ اور تمام انبیائے کرام کی شان میں گستاخی کو بلاس فیمی یعنی توہین رسالت ﷺ میں بالوضاحت بیان کر دیا گیا ہے۔ تمام اسلامی ملکوں میں بلاس فیمی کی یہی تعریف ہے۔ اس کے علاوہ دنیا کی تمام انگریزی اور اردو زبانوں کی ڈکشنریوں اور انسائیکلو پیڈیا میں بلاس فیمی کے معنی توہین مسیح ، اہانت خدا اور توہین بائبل بتلائے گئے ہیں۔ بائبل میں تو نائب رسول کی توہین کی سزا سنگساری ہے۔ مگر ایک انگریزی روزنامہ کے کسی نامہ نگار کی ایک خود ساختہ احمقانہ تعریف کو نمایاں جگہ دی گئی ہے جس میں ”سب سے بڑی بلاس فیمی“ کے معنی ”کسی بھوکے بچے کی فاقہ کشی کے ذریعہ تدریجی موت کا باعث ہونا ۔“ بتلائے گئے ہیں۔ ایسی تعریف آج تک نہ کسی نے کی ہے اور نہ ہو سکتی ہے۔ بلکہ یہ بات تمام پیروان مذہب کی دل آزاری کا باعث بھی ہے۔
اسی انگریزی روزنامہ کی ایک سروے رپورٹ پر انحصار کرتے ہوئے بتلایا گیا ہے کہ سال 1948ء سے سال 1979ء تک گیارہ، سال 1979ء سے لے کر 1986ء تک تین، سال 1987ء سے 1999ء تک 42 اور سال 1999ء سے سال 2000ء تک 52 توہین رسالت ﷺ کے کیس رجسٹر ہوئے۔ اس رپورٹر کو یہ خبر بھی نہیں کہ سال 1948ء سے سال 1985ء تک بلاس فیمی کا قانون پاکستان میں بنا ہی نہ تھا۔ بلاس فیمی لانے کا آغاز پاکستان میں سب سے پہلے راقم الحروف کے فیڈرل شریعت کورٹ میں سال 1984ء سے توہین رسالت ﷺ پر ایک کتاب کی اشاعت سے ہوا جس پر قومی اسمبلی میں منتخب نمائندوں نے اس کا نوٹس لیا۔ لیکن ہمارے پیش کردہ مسودہ قانون سے کچھ اختلاف پر میں نے پہلی پٹیشن کے تسلسل میں سال 1987ء میں فیڈرل کورٹ سے رجوع کیا جہاں 1990ء کے فیصلہ کے بعد سال 1991ء سے موجودہ قانون توہین رسالت ﷺ پاکستان میں نافذ العمل ہے۔ اس لیے یہ اخباری رپورٹ قطعاً غلط ہے کہ سال 1986ء سے پہلے پاکستان میں توہین رسالت ﷺ کا قانون موجود تھا اور اس کے تحت مقدمات درج ہوتے رہے۔ استدلال کہ قانون سخت ہو جانے کی وجہ سے بلاس فیمی کے مقدمات کی رجسٹریشن میں اضافہ ہوا ہے اور زیادہ تر مسلمانوں نے مسلمانوں کے خلاف مقدمات دائر کیے ہیں اور اس کے ساتھ یہ بھی کہا گیا ہے کہ مسلمان کبھی توہین رسالت ﷺ کا ارتکاب نہیں کر سکتا۔ ان خیالات میں تضاد پایا جاتا
ہے۔ اسلامی اصول فقہ کی رو سے جرم کی سنگینی کے لحاظ سے سخت سزاؤں کا قانون مقرر ہے۔ جو سزائیں حد نے ہی مقرر کی ہیں، ان میں کمی بیشی کا کسی کو اختیار نہیں۔ یہ کہنا کہ ایک مسلمان حضور ﷺ کی توہین نہیں کر سکتا، درست مگر حضور ﷺ کی شان میں گستاخی کرنے والا مسلمان نہیں منافق ہوتا ہے جو کفر سے بھی بدتر جرم ہے۔ رپورٹ میں یہ نہیں بتلایا گیا کہ 1991ء سے ابھی تک کتنے ملزموں کی سزائے موت عدالت عالیہ نے کنفرم کی ہے۔
موجودہ صدر جنرل پرویز مشرف نے بھی اس تجویز کو مسترد کر دیا تھا کہ توہین رسالت ﷺ کی رپورٹ ڈپٹی کمشنر کو پیش کی جائے جو اس بارے میں تحقیقات کے بعد مقدمہ درج کرنے یا نہ کرنے کا حکم دے گا۔ مگر عدالت عالیہ نے انسپکٹر جنرل پولیس کو یہ حکم دیا ہے کہ توہین رسالت ﷺ کی رپورٹ پولیس کی بجائے دو ایسے گزیٹڈ افسروں کے سامنے پیش کی جائے جو صرف قانون اسلامی کے نہیں بلکہ اصول فقہ اسلامی سے بھی واقف ہوں اور اگر یہ دونوں ضرورت محسوس کریں تو ”ماہرین فقہ اسلامی قانون“ کی یہ ٹیم تیسرے کسی غیر متنازعہ سکالر کو بھی شامل کر لیں اور اس رپورٹ کی تحقیقات کرے۔ اگر ان کی تحقیقات میں رپورٹ درست نہ ہو تو اس کو خارج کر دیا جائے۔ اس طرح قانون ضابطہ فوجداری کی دفعات 156، 173 وغیرہ کو حذف کر کے ایک نیا ضابطہ فوجداری نافذ کر دیا گیا ہے۔ جبکہ ایسی قانون سازی کا اختیار صرف قانون ساز اسمبلی کو حاصل ہے۔ مقننہ کے ان اختیارات میں عدلیہ مداخلت کرنے کی مجاز نہیں۔
مذکورہ بالا فیصلہ مندرجات سے یہ مجموعی تاثر پیدا ہوتا ہے کہ اس کی وجہ سے قانون توہین رسالت ﷺ غیر مؤثر ہو کر رہ جائے گا۔ پاکستان میں امریکہ کی طرح گستاخان رسول ﷺ کو موقع مل جائے گا کہ وہ توہین رسالت کرتے چلے جائیں۔ کیونکہ انہیں معلوم ہے کہ عدالت عالیہ نے ان کے لیے توبہ سے معافی کا دروازہ کھول دیا ہے جو اس ملک کی سلامتی کے لیے نہایت خطرناک بات ہوگی۔
۞......۞......۞
محمد عامر خاکوانی
لانگ آرم سٹیچو
ڈاکٹر شہزاد پچھلے بارہ برسوں سے امریکہ میں مقیم ہیں۔ وہ لاہور کے مشہور کے ای میڈیکل کالج سے منسلک ہیں۔ ڈینش اخبار میں چھپنے والے توہین آمیز کارٹونز اور ڈچ ڈائریکٹر کی جانب سے بنائی جانے والی اسلام مخالف فلم پر وہ بڑے مشتعل ہیں۔ انہوں نے مختلف پاکستانی قلم کاروں کو ایک دھواں دھار ای میل ارسال کی۔ جس میں یہ سوال اٹھایا کہ یورپ میں ہولوکاسٹ کے خلاف بات کرنا جرم ہے تو اسلام کے خلاف مہم چلانے والوں کو کیوں نہیں روکا جا سکتا؟ یہ بڑا اہم اور بنیادی نوعیت کا سوال ہے، مگر اس کے جواب سے پہلے ایک نظر ہولوکاسٹ پر ڈالی جائے۔
ہولوکاسٹ (Holo Caust) یونانی لفظ ہولوکاسٹن (Holo Kaston) سے نکلا ہے، جس کا مطلب دیوتا کے حضور مکمل طور پر خاکستر شدہ قربانی کی بھینٹ چڑھانا، ہے۔ انیسویں صدی تک یہ اصطلاح کسی بہت بڑے سانحہ تباہی یا قتل عام کے لیے استعمال ہوتی تھی۔ تاہم دوسری جنگ عظیم کے بعد یہ اصطلاح یہودیوں کی نسل کشی کے لیے مختص ہو گئی۔ ماہرین کے مطابق نازیوں نے دوسری جنگ عظیم کے دوران چھ ملین (60 لاکھ) یہودیوں کو مختلف طریقوں سے موت کے گھاٹ اتارا۔ یہ بربریت صرف یہودیوں تک محدود نہ تھی، بلکہ لاکھوں کی تعداد میں جپسی (خانہ بدوش)، پولش (پولینڈ کے رہنے والے) کمیونسٹ کارکن اور دانشور، ہم جنس پرست اور ذہنی و جسمانی معذور افراد کو بھی ہلاک کیا گیا۔ دراصل نازی جرمنوں نے یورپ پر اپنی یلغار اور یکے بعد دیگرے ملنے والی فتوحات کے بعد مختلف مقامات پر قیدیوں کو رکھنے کے لیے کیمپ بنائے۔ انہی کیمپوں میں بعد ازاں یہ لاکھوں افراد ہلاک کر دیے گئے۔ اس وقت اسرائیل اور دس کے قریب یورپی ممالک میں عوامی سطح پر ہولوکاسٹ کو نہ ماننا یا اسے جائز قرار دینا جرم ہے اور اس پر قید تک کی سزا دی جا سکتی ہے۔ ان یورپی ممالک
میں جرمنی، آسٹریا، فرانس، رومانیہ، بلجیم، سوئٹزرلینڈ، چیک ری پبلک، پولینڈ، لیتھوانیا اور سلاواکیا شامل ہیں۔ کچھ عرصہ پہلے ایک برطانوی مورخ واشنگٹن ارونگ کو آسٹروی قانون کے تحت 3 سال سزا سنائی گئی۔ یہ آسٹریا کا خاصا معروف قانون ہے اور 2004ء کے دوران 72 افراد پر اس کے تحت مقدمہ چلایا گیا، مگر یہ اب تک ملنے والی پہلی سزائے قید ہے۔
ہولوکاسٹ کو جھٹلانے والے کے خلاف تادیبی کارروائی کا قانون ایک خاص پس منظر کا حامل ہے۔ یہودیوں نے دوسری جنگ عظیم کے اختتام پر بڑی ہوشیاری کے ساتھ یہ ایشو اٹھایا۔ انہوں نے ہولوکاسٹ کو نہ ماننے والوں کا تعلق نازی ازم سے جوڑا اور منظم مہم چلائی کہ یہ بات کرنے والے اصلاً نازی ہی ہیں، اس لیے اگر ان کی حوصلہ شکنی نہ ہوئی تو یورپ میں نازی ازم پھر سے عروج پائے گا اور یوں سارے خطے کا سکون برباد ہو جائے گا۔ نازی ازم اور ہٹلر نے یورپ کو ایسا ناقابل تلافی نقصان پہنچایا تھا (جنگ میں کروڑوں یورپیئن ہلاک ہوئے تھے) کہ وہاں کی رائے عامہ اس قانون بنانے کے لیے ہموار ہو گئی۔
ہولوکاسٹ کے حوالے سے یورپی ممالک میں موجود قانون مسلمانوں کے لیے بھی ایک نظیر کی حیثیت رکھتا ہے، لیکن اس سے پہلے ہمیں اہل مغرب کے فریم آف ریفرنس کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔ یورپ میں اظہار کی آزادی بذات خود ایک غیر رسمی قانون کی حیثیت رکھتی ہے۔ اپنے مخصوص تہذیبی پس منظر کے باعث وہاں حضرت عیسیٰ کے بارے میں تنقیدی اور کسی حد تک توہین آمیز مواد کی اشاعت بھی ممکن ہو جاتی ہے۔ ویٹی کن اور پوپ کی شدید مخالفت بھی وہاں عیسائیت کے حوالے سے قابل اعتراض فلموں کی ریلیز نہیں رکوا سکتی۔ دو سال پہلے مشہور امریکی فن کار میل گبسن کی فلم ”پیشن آف کرائسٹ“ ریلیز ہوئی، جس میں حضرت مسیح کے خلاف یہودی سازشوں کو پہلی بار منظر عام پر لایا گیا۔ اسرائیل اور امریکہ کی یہودی لابی نے اس پر بڑا شور مچایا اور اس فلم کو یہود مخالف قرار دے کر ریلیز رکوانے کی کوشش کی، مگر اس طاقتور لابی کو بھی شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ پیشن آف کرائسٹ امریکہ بھر میں ریلیز ہوئی اور اس نے اچھا خاصا بزنس کیا۔ اسی طرح کچھ عرصہ پہلے ”ڈا ونچی کوڈ“ نامی فلم پر پوپ اور دنیا بھر کے عیسائی پادریوں نے اعتراضات کیے، مگر ان کی مہم بھی ناکام رہی۔
مسلمان حکومتوں اور انٹیلی جنسیا کو یہ واضح کرنے کی ضرورت ہے کہ ہم آزادی اظہار یا مخالف نقطہ نظر کے مخالف نہیں، مگر اقوام متحدہ کے عالمی چارٹرز کے مطابق کسی بھی شخص
کو نفرت انگیز تقریر کرنے، لکھنے یا پھیلانے کا کوئی حق نہیں۔ ڈینش کارٹونسٹ نے اسلام کے حوالے سے اپنی کسی علمی رائے کا اظہار نہیں کیا، بلکہ اس نے سراسر ایک ارب مسلمانوں کے دل دکھانے والی گھٹیا حرکت تھی۔ اسلام یا اسلامی تعلیمات کے کسی جزو کے حوالے سے ماضی میں بہت سے عیسائی سکالرز اور ماہرین علمی اعتراضات کرتے رہے، مگر ایسے لٹریچر پر کسی مسلمان نے احتجاج نہیں کیا، بلکہ مسلمان علما ان کے رد میں کتاب تحریر کر دیتے تھے۔ پچھلے چند برسوں میں بعض جرمن مستشرقین کی تصانیف سامنے آئی ہیں جن میں اسلامی تعلیمات کے حوالے سے کئی اہم نکات اٹھائے گئے۔ معروف مسلم سکالر پروفیسر ہمدانی اپنی کتاب میں ان الزامات کا خاصا تفصیلی جواب دے چکے ہیں۔ اس نوعیت کے علمی مباحثے ہمیشہ سے جاری رہے ہیں اور مسلم معاشرے نے انہیں بڑی فراخدلی سے برداشت کیا۔ یہ نکتہ مغربی رائے عامہ پر واضح کرنے کی ضرورت ہے۔
مصنوعات کا بائیکاٹ بھی پرامن احتجاج ہی کی ایک شکل ہے، مگر اسے بھی مغرب میں منفی حربہ گردانا جاتا ہے۔ پچھلے دنوں ایک ویب سائٹ نظر سے گزری، جس میں احتجاج کے 198 پرامن طریقے بتائے گئے۔ ان میں خاموش مظاہروں سے لے کر مختلف رنگوں کی احتجاجی پٹی باندھنا شامل تھا۔ دلچسپی رکھنے والا کوئی بھی شخص گوگل سے اس کی تفصیل حاصل کرسکتا ہے۔ چند سال پہلے امریکہ کی مورمون (عیسائیوں کا ایک فرقہ جسے بڑے فرقے عیسائیت سے خارج سمجھتے ہیں) کمیونٹی پر کسی پروٹسٹنٹ سکالر نے شدید تنقیدی کتاب لکھ ماری۔ مورمون کمیونٹی نے جواباً دلچسپ احتجاجی حکمت عملی اختیار کی۔ مختلف شہروں میں روزانہ چند سو مورمون افراد ایک بینر تھامے فٹ پاتھ پر واک کرتے جس پر لکھا تھا۔ ”ہمارے جذبات مجروح ہوئے، ہم دکھی ہیں۔“ چند ہی ہفتوں میں یہ مہم رنگ لائی اور اس مصنف نے اخلاقی دباؤ کی تاب نہ لاتے ہوئے خود ہی اپنی کتاب واپس لینے کا اعلان کردیا۔
او آئی سی کو بھی چاہیے کہ وہ اقوام متحدہ اور یورپی یونین کا چینل استعمال کرتے ہوئے توہین رسالت ﷺ کو عالمی سطح پر قابل تعزیر جرم بنوانے کی کوشش کرے۔ تاہم اس سے پہلے پاکستان اور دیگر مسلم ممالک توہین رسالت کو لانگ آرم اسٹیچو (Long arm statue) کا درجہ دیں۔ اس قانونی اصطلاح کے مطابق اگر کسی جرم کو لانگ آرم اسٹیچو بنادیا جائے تو اس کا مرتکب خواہ دنیا بھر میں جہاں بھی ہو، وہ اس ملک کا مجرم سمجھا جائے گا اور اس
کی حوالگی کا مطالبہ کیا جاسکتا ہے۔ امریکہ نے دہشت گردی اور اسرائیل نے سامیت دشمنی (Anti Semitism) کو لانگ آرم اسٹیچو بنایا ہوا ہے، اسی لیے وہ دنیا کے کسی بھی ملک سے اپنے مجرم کو حوالے کرنے کا مطالبہ کرسکتے ہیں۔ توہین رسالت ﷺ کو لانگ آرم اسٹیچو بنانے کے لیے ہماری نئی پارلیمنٹ کو صرف ایک بل پاس کرنے کی ضرورت ہے۔ انٹرنیشنل لاء کے ماہرین کے مطابق اگر مسلمان ممالک جو پچاس سے زیادہ ہیں، اگر وہ سب توہین رسالت ﷺ کو لانگ آرم اسٹیچو بنادیں تو یہ خود بخود انٹرنیشنل لاء کے زمرے میں آجائے گا۔ امید کرنی چاہیے کہ پاکستانی وکلا برادری جس نے عدلیہ کی بحالی کے لیے نہایت منظم مہم چلائی، اب اس اہم ایشو پر توجہ مرکوز کریں گے۔
اسرار احمد کسانہ
دوہرا معیار
مشہور زمانہ جریدے دی اکانومسٹ کو آخر یہ سرخی لگانے کی ضرورت کیوں پیش آئی کہ ”Big vision colides with small minds“۔ وجہ یہ تھی کہ دبئی میں ایک کمپنی ”دبئی پورٹس ورلڈ“ نے 6.8 ارب ڈالر کی قیمت سے Peninsular and oriental steam navigation نامی ایک کمپنی کو خرید لیا جس سے نہ صرف امریکہ کی چھ بڑی بندرگاہیں بلکہ برطانیہ، بیلجیم، فرانس، بھارت اور چین سمیت اٹھارہ ممالک کی بڑی بڑی بندرگاہیں اس کے کنٹرول میں چلی جاتیں۔ جیسے ہی اس ڈیل کی خبر سامنے آئی، امریکی سیاستدانوں نے ایک واویلا کھڑا کر دیا کہ ہماری سرحدیں اور بندرگاہیں دہشت گردوں کے کنٹرول میں چلی جائیں گی اور اس کمپنی کے ذریعے دہشت گرد امریکہ کے اندر بآسانی داخل ہوسکیں گے جس سے قومی سلامتی خطرے میں پڑنا یقینی امر ہوگا۔ امریکہ کے شہریوں کو اس قدر ڈرا دیا گیا کہ عوام بھی انگشت بدنداں کی تصویر بن گئے۔ حکومتی شخصیات کے اس مہم میں حصہ لینے پر دبئی کی کمپنی اس ڈیل کو مؤخر کرنے پر رضامند ہوگئی۔ مگر سوال یہ ہے کہ بین الاقوامی تجارت کے تمام قوانین کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے وجود میں آنے والی کسی بھی ڈیل کو اس لیے خطرے میں ڈالنا کہ اس کمپنی کا تعلق ایک مسلمان ملک سے ہے، کہاں کی دانشمندی ہے اور کہاں کا منصفانہ قدم ہے؟ اگر نائین الیون کے فضائی حادثات سے تعلق رکھنے والے دو ہائی جیکروں کا تعلق متحدہ عرب امارات سے تھا تو اس کمپنی کا کیا قصور جو کسی فرد کی نہیں بلکہ دبئی کی حکومتی کمپنی ہے اور ایک عرصہ سے شپنگ کے بزنس سے وابستہ ہے اور جس نے تمام بین الاقوامی اصولوں کے مطابق اس ڈیل میں بہتر بولی دے کر کامیابی حاصل کی۔ تمام اصول ایک طرف مگر جب بات آتی ہے کسی نہ کسی مسلمان شخصیت یا ادارے کے کوئی ممتاز مقام حاصل کرنے کی تو نہ جانے مغرب اپنے تمام تر نام نہاد اصول اور اخلاقیات پس پشت کیوں ڈال
دیتا ہے؟ حقیقت یہی ہے اور جس کے حقیقت بننے میں خود مغرب کے اپنے ٹریک ریکارڈ کا زیادہ کمال ہے کہ اپنے لیے مغرب کے قوانین کچھ اور ہیں مگر بات آتی ہے مسلمانوں کی تو وہ قوانین بالکل پس پشت ڈال دیے جاتے ہیں اور نئی نئی توجیہات اور توضیحات نکال کر اپنے خبث باطن کو چھپانے کی کوشش کی جاتی ہے۔
مغرب کا یہ دوہرا معیار آئے دن دیکھنے کو مل رہا ہے۔ دو مزید تازہ ترین مثالوں سے یہ بات واضح ہو جائے گی حماس کے معاملہ کو بھی لیجیے۔ امریکہ نے عراق پر حملہ کرنے کے بعد جب مہلک ہتھیاروں کی موجودگی میں ناکامی پر سبکی محسوس کی تو اپنے حملے کا مقصد مسلم دنیا بالخصوص مشرق وسطیٰ میں جمہوریت کا قیام ٹھہرایا اور عراق کو اس سلسلے میں پہلا قدم قرار دیا جانے لگا۔ اب جبکہ حماس نے تمام تر بین الاقوامی اصولوں کے مطابق لوگوں کے حق انتخاب کی ایکسر سائز ہونے کے بعد انتخابات میں کامیابی حاصل کی تو امریکہ بہادر نے کہا کہ یہ دہشت گرد حکومت اس کے لیے قابل قبول نہ ہوگی۔ سوال یہ اٹھتا ہے کہ جب فلسطینی عوام کی اکثریت نے حماس کو اپنے اعتماد سے نوازا ہے تو کیا یہ جمہوریت کا بنیادی اصول نہیں ہے کہ حکمرانی کا حق اکثریت کے پاس ہوتا ہے۔ آخر کیوں حماس کی حکومت بننے سے پہلے ہی اس کے راستے میں روڑے اٹکائے جارہے ہیں۔ اس کی امداد بند کرنے کی دھمکیاں دی جارہی ہیں بلکہ جو ممالک اس کی مدد کرنے کا اظہار کر رہے ہیں ان پر برہمی کا اظہار کیا جا رہا ہے اور کوشش کی جا رہی ہے کہ حماس کی حکومت کے پاؤں نہ لگنے دیے جائیں۔ گویا کہ اگر جمہوریت کا نتیجہ امریکہ کے حق میں نکلے تو وہ صحیح جمہوریت ہے اور اگر نتائج پسند کے برآمد نہ ہوں تو وہ ناقابل قبول ہے، اسی کو دوہرا معیار کہتے ہیں جو اس وقت مغرب بحیثیت مجموعی مسلمانوں کے لیے رکھتا ہے۔
دوسری مثال توہین رسالت ﷺ کی ہے۔ حالیہ کارٹون تنازعے نے مغرب کے دوہرے معیار کو ایک دوسرے زاویے سے ظاہر کیا ہے۔ آئے دن جب مختلف ممالک میں توہین آمیز خاکوں کو بار بار شائع کیا گیا تو کہا یہ گیا کہ یہ آزادی رائے کے حق کی پاسبانی کی خاطر کیا جا رہا ہے اور یہ کہ مغرب جیسی مہذب سوسائٹی میں یہ ایک بہت بڑا قیمتی حق ہے جس کی پاسداری جمہوریت کی بنیادی نشانی ہے۔ ہر اخبار نے اظہار یکجہتی کی خاطر ان خاکوں کو شائع کرنا مناسب سمجھا۔ مغرب کے دوہرے معیار کا بھانڈا ایک بار پھر اس وقت پھوٹا کہ جب ممتاز تاریخ دان ڈیوڈ ارونگ کو آسٹریا کی عدالت میں یہودیوں کے قتل عام کے متعلق
1989ء میں دیئے گئے ان کے ریمارکس کی پاداش میں تین سال جیل کی سزا سنائی گئی۔ اور یہ وہ ریمارکس تھے جن سے بعد میں وہ تائب بھی ہو گئے تھے۔ یہ ریمارکس آخر تھے کیا؟ ڈیوڈ ارونگ کا جرم یہ تھا کہ انہوں نے 1989ء میں کہا تھا کہ یہودیوں کے قتل عام (HOLOCAUST) میں مرنے والوں کی تعداد اتنی نہیں تھی جتنی کا دعویٰ کیا جاتا ہے بلکہ اس سے کہیں کم تھی اور جو یہودی ہلاک بھی ہوئے وہ بھوک اور بیماری سے ہلاک ہوئے نہ کہ ہٹلر کے ظلم کی وجہ سے ۔ ANTI-SEMITISM کے قانون کا سہارا لیتے ہوئے ڈیوڈ ارونگ کو سزا سنا دی گئی کہ مبادا ساری دنیا کے یہودی آسٹریا کے خلاف ہو جائیں۔ اس معاملے میں آزادی رائے کا حق اور اس کی حرمت کہاں گئی۔ ڈیوڈ ارونگ نے بھی تو صرف اپنی رائے کا اظہار ہی کیا تھا اور رائے رکھنے کا حق مغربی جمہوریت ہر کسی کو دیتی ہے۔ تو آخر ڈیوڈ ارونگ کو سزا کیوں دی گئی۔ وجہ دراصل یہ ہے کہ یہاں بات یہودیوں سے متعلق تھی جو اپنے متعلق کسی قسم کی کوئی غلط بات برداشت تو کیا سننا بھی پسند نہیں کرتے۔ امریکہ میں اور دیگر ممالک میں انہوں نے اپنے اثر و رسوخ کی بنا پر ایسے قوانین بنوا لیے ہیں کہ ان کے خلاف بات کرنا یا لکھنا قابل تعزیر فعل ہے۔ امریکہ میں ہٹلر کا نشان SWASTIKA کسی دیوار یا جگہ پر پینٹ کرنا بھی کسی کو جیل بھجوانے کے لیے کافی ہے۔ مگر دوسری طرف اسلام یا مسلمانوں کے خلاف مغرب میں موجود اس قدر نفرت ہے کہ وہ آئے دن بہانے سوچتے رہتے ہیں کہ اس کا اظہار کس طرح کریں۔ غیر ملکیوں سے نفرت یعنی XENOPHOBIA مغرب میں اس قدر عام ہو گیا ہے کہ اب اس کا اظہار بھی آسان اور قابل قبول عمل بن گیا ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ اسلام سے خوف یا نفرت کے اظہار اور XENOPHOBIA کو بھی اقوام متحدہ کے پلیٹ فارم سے قابل تعزیر جرم قرار دلوایا جائے اور مغرب کے اوپر ایسا دباؤ ڈالا جائے کہ جس کے بعد اسلام اور اس کے شعائر پر زبان درازی کرنے والا سب کی نظر میں ملعون ٹھہر سکے۔ اس امر میں سب سے ضروری بات یہ ہے کہ مسلمانوں کو خود منظم اور دور اندیش ہونا ہوگا، وگرنہ وہ آئے دن مغرب کے دوہرے معیارات کا نشانہ بنتے رہیں گے۔
اوریا مقبول جان
آبروئے ما ز نام مصطفیٰ ﷺ است
واشنگٹن امریکہ کا دارالحکومت ہے لیکن جہاں اس شہر میں دنیا کی اس سپر پاور کی دعویدار مملکت کے تمام بڑے ادارے موجود ہیں وہیں یہ اپنے بڑے بڑے عجائب گھروں کی وجہ سے بھی مشہور ہے۔ یہ عجائب گھر ایک فرانسیسی نواب کے ایسے بیٹے نے بنائے تھے جسے وہ دنیا کے سامنے اپنا بیٹا تسلیم نہیں کرتا تھا کیونکہ وہ ایک خفیہ شادی کا نتیجہ تھا۔ یہ بیٹا مفلوک الحالی میں امریکہ آیا۔ قسمت آزمائی کی اور اپنا نام Smith,s son یعنی سمتھ کا بیٹا رکھا۔ اس کی جائیداد سے طرح طرح کے عجائب گھر بنے بڑے ڈائنوسار کے ڈھانچوں کا میوزیم، دنیا کے پہلے جہاز سے خلائی شٹل والا میوزیم، بڑی بڑی قیمتی پینٹنگز کا میوزیم۔ لیکن اس کے مرنے کے بعد ان اداروں پر امریکہ کے یہودی چھا گئے اور انہوں نے اسے جنگ عظیم دوم میں مرنے والے یہودیوں کی یادگار کے طور پر ایک ہولوکاسٹ میوزیم بنا دیا۔ اس میوزیم اور دنیا بھر کے میڈیا کے ذریعے انہوں نے یہ شدید ترین پراپیگنڈہ کیا کہ اس جنگ میں مغرب نے 60 لاکھ یہودیوں کو مارا تھا۔ فلمیں بنیں، کتابیں لکھی گئیں، مضمون اور پمفلٹ شائع ہوئے اور امریکہ کی سیاست پر قبضے کی وجہ سے پورے یورپ کو مطعون کیا گیا۔ ان کے عوام اور رہنماؤں کو قصابوں سے تعبیر کیا گیا۔
ہولوکاسٹ کے مرنے والے یہودیوں کو اس قدر مقدس درجہ حاصل ہو گیا کہ ان کے خلاف بات کرنے والا، ان کی چالاکیوں، نمک حرامیوں اور اپنے ہی ملک سے غداری کے بارے میں گفتگو کرنے والے کو نفرت پھیلانے والا قرار دے کر قابل تعزیر بنا دیا گیا۔ وہ لوگ جنہوں نے یورپ امریکہ اور کینیڈا میں ان یہودیوں کی عیاری کا پردہ چاک کرنے کی کوشش کی ان کا جو حشر ہوا وہ ایک لمبی داستان ہے۔ میں یہاں صرف ان لوگوں میں سے چند ایک کا ذکر کروں گا جنہوں نے صرف اتنا زبان سے یا قلم سے نکالا کہ یہودیوں نے جو 60 لاکھ تعداد بتائی
ہے وہ غلط ہے بلکہ مرنے والوں کی تعداد تو چند لاکھ سے بھی زیادہ نہیں ہے۔ بعض نے تو صرف اس طرف اشارہ ہی کیا تھا۔ ان سب کو نفرت پھیلانے کے جرم میں سزائیں بھگتنا پڑیں۔
کینیڈا میلکم روس، ڈوگ کولنز، ارنسٹ زنڈل کو پریس میں سب سے پہلے ذلت و رسوائی کا سامنا کرنا پڑا اور پھر ان کو عدالتوں میں گھسیٹا گیا۔ ان کی جائیدادیں ضبط کر لی گئیں اور انہیں معاشرے میں نفرت پھیلانے کے جرم میں در بدر ہونا پڑا۔ ان کا جرم صرف یہ تھا کہ انہوں نے سوال اٹھایا تھا کہ ثابت کیا جائے کہاں کہاں ساٹھ لاکھ یہودی مرے تھے؟
ان میں سے دو ارنسٹ زنڈل اور گریمر روڈلف امریکہ چلے گئے لیکن کچھ عرصے بعد ان دونوں کو امریکہ نے اپنے ملک سے نکال کر جرمنی کے حوالے کر دیا جہاں وہ آج کل نفرت پھیلانے کے جرم میں مقدمے کا سامنا کر رہے ہیں۔ آسٹریا وہ ملک ہے جہاں اسی ہولوکاسٹ کے خلاف بات کرنا جرم ہے وہاں ان کے ایک مشہور صحافی ڈیوڈ ارونگ کو گزشتہ دنوں گرفتار کر لیا گیا کیونکہ وہ اپنی تحریر سے یہودیوں کے اس پراپیگنڈے کو غلط ثابت کر رہا تھا۔ بیلجیم کا ایک اور لکھنے والا سیک فرائڈ در بیک ایسی ہی تحریریں لکھتا تھا کہ اسے ہالینڈ کی حکومت نے گرفتار کیا اور آجکل وہ جرمن کی عدالت میں پیش ہونے کے لیے ہالینڈ بدری کا انتظار کر رہا ہے۔ وہ جرمن شہری بھی نہیں لیکن اس کے عالمی وارنٹ جرمن عدالت نے جاری کیے ہیں۔ صرف قانونی کارروائی کی بات نہیں 19 ستمبر 2005ء کو بیلجیم کے ایسے ہی ایک لکھنے والے وینسف ریو نارڈ کے گھر میں پولیس گھس گئی۔ پورے گھر کو توڑ پھوڑ دیا۔ اسے گرفتار کر لیا گیا اور کہا گیا کہ اسے تب رہا کیا جائے گا اگر وہ پاگلوں کے ڈاکٹر سے معائنہ کروائے اور یہودیوں کے ہولو کاسٹ کے خلاف لکھنا اور بولنا بند کر دے۔
یہ سب تو ان ممالک میں ہوا ہے جو آج سرکار دو عالم ﷺ کے توہین آمیز کارٹون چھاپنے پر پریس کی آزادی کا بہانہ بناتے ہوئے کارروائی سے انکار کر رہے ہیں۔ لیکن اس دنیا کے چہرے پر ایک اور طمانچے کا ذکر کروں گا۔ 19 جون 2004ء کو اسرائیل کی کیبنٹ یعنی پارلیمنٹ نے حکومت کو یہ اختیار دیا ہے کہ وہ دنیا میں کہیں بھی کسی جگہ بھی کوئی شخص اگر ساٹھ لاکھ کی تعداد کو کم بتانے کی کوشش کرے تو اس پر مقدمہ چلا سکتی ہے اور اس ملک سے اسے نفرت کے جرم ”Hate Criminal“ کے طور پر مانگ سکتی ہے۔ گرفتار کر سکتی ہے، سزا دے سکتی ہے یعنی اس وقت جو لکھنے والے جرمنی اور آسٹریا کی عدالتوں میں مقدموں کا سامنا کر رہے
ہیں وہ کل اسرائیل کی درخواست پر اس کی جیل میں ہوں گے۔ نفرت پھیلانے والے سزا صرف ان لکھنے والوں کو دی جاتی ہے جو یہودیوں کے خلاف لکھتے ہیں ۔
یہ تفصیل اس قدر طویل ہے اور کئی سالوں پر پھیلی ہوئی ہے لیکن صرف اس لیے پیش کر رہا ہوں کہ صرف جنگ میں اپنے ہی ملک سے غداری کے جرم میں اور اپنی عیاریوں کی وجہ سے سزا پانے والے یہودی اتنے مقدس ہیں کہ ان کی تعداد کم کرنے پر نفرت پھیلتی ہے تو وہ قوم جس کے لوگوں کی زندگیوں کا سرمایہ ہی عشق رسول ﷺ ہے۔ جو اپنی جان، مال، عزت، آبرو، اولاد اور ماں باپ سے زیادہ ان سے محبت کرتی ہے اس کی توہین نفرت پھیلانے کے جرم میں نہیں آتی۔ کاش کوئی حکمران، کوئی لیڈر، کوئی صاحب اقتدار دنیا بھر کے میڈیا کے سامنے بتائے کہ جس نے کارٹون چھاپے، اسے اسی قانون کے تحت سزا دیں ورنہ تم ہم سے اجنبی، بیگانے۔ کاش! کوئی پارلیمنٹ سڑک پر نکلنے سے پہلے اسرائیل کی طرح یہ بل منظور کرے کہ توہین رسالت ﷺ کا مجرم خود امریکہ میں ہو یا ڈنمارک میں اسے ہمارے حوالے کر دو۔ اس بل کو پاس کرنے کے لیے صرف ایک ووٹ چاہیے لیکن اس ووٹ کو ڈالنے کے لیے غیرت، ہمت، جرأت ہی نہیں، عشق رسول ﷺ کی دولت بھی ضروری ہے اور اسی میں ہماری آبرو کا راز پوشیدہ ہے۔
مواجد حسین سید
آزادی اظہار کا مذاق
مغرب میں ایک عام پروپیگنڈہ کیا جاتا ہے کہ مسلم دنیا میں توہین آمیز کارٹونز کے خلاف رویہ آزادی رائے کے منافی ہے کیونکہ یہ لوگ آزادی رائے کی اہمیت سے واقف نہیں ہیں۔ مغرب میں یہ تاثر پایا جاتا ہے کہ اگر مسلمان زیادہ روشن خیال اور تعلیم یافتہ ہوتے اور آزادی رائے کی حقیقت سے آگاہ ہوتے تو یہ تنازعہ کھڑا نہ ہوتا لیکن کیا مغرب واقعی ویسا ہی کرتا ہے جیسا یہ کہتے ہیں؟
امریکہ میں سفر کے دوران میں نے ورجینیا میں ارلنگٹن نیشنل سمیٹری کا دورہ کیا اور جنرل جارج براؤن کی قبر پر رک گیا جو 1974 سے 1978ء تک چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف تھے یہ امریکہ کی اعلیٰ ترین فوجی پوزیشن ہے۔ جنرل براؤن 1974ء میں اپنے ایک بیان کی وجہ سے بہت مشہور ہو گئے تھے جب انہوں نے خبردار کیا تھا کہ امریکہ کی مشرق وسطیٰ کے حوالے سے اسرائیلی لابی کی اندھی حمایت بین الاقوامی مسائل پیدا کر سکتی ہے۔ جنرل براؤن نے اپنی بات کا اعادہ امریکی کانگریس کے سامنے بھی کیا جب انہوں نے اسرائیل کو امریکہ کے اوپر ایک ”سٹریٹجک بوجھ“ قرار دیا۔ جنرل کے ان بیانات نے اسرائیل کے حامی حلقوں میں بہت زیادہ ہلچل پیدا کر دی تھی اور انہوں نے اس وقت کے امریکی صدر فورڈ پر زور دیا تھا کہ وہ جنرل براؤن کو فارغ کر دیں مگر بعد میں ایسا نہ کیا گیا کیونکہ اسرائیل کو معلوم تھا کہ اگر اسے ہٹایا گیا تو اس سے یہ ثابت ہو جائے گا کہ جنرل براؤن صحیح تھے۔
جنرل براؤن سے پہلے ایڈمرل تھامس مورر تھے جو 1970ء سے 1974ء تک چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف رہے۔ جون 1967ء میں عرب اسرائیلی جنگ کے دوران ایک اسرائیلی جنگی جہاز نے امریکی بحری جہاز کو بم مار کر عملے کے 34 افراد سمیت 172 افراد کو ہلاک کر دیا تھا۔ ایڈمرل مورر اور ان کے سینئر بحریہ کے افسران کا شکریہ کہ حقیقت
کبھی منظر عام پر نہ آسکی۔ امریکی نیوی میں کچھ افسران نے امریکی انتظامیہ کو واقعہ چھپانے کا مورد الزام ٹھہرایا۔ 1984ء میں ایڈمرل مورر نے کہا...... ”اگر امریکی عوام کو پتہ لگ جائے کہ اسرائیل کے حامی عناصر امریکی حکومت میں کس قدر اثر ورسوخ رکھتے ہیں تو شاید وہ ہتھیار اٹھالیں۔“ حقیقت تو یہ ہے کہ امریکہ اور اسرائیل کے تعلقات کے حوالے سے بہت کم بحث ہوئی ہے۔ کئی دوسرے افراد کا بھی یہ خیال ہے کہ امریکی جمہوریت کو ہائی جیک کرلیا گیا ہے۔ سابق کانگرس کے رکن پاؤل فنڈلے نے اس موضوع پر ایک کتاب بھی لکھی ہے "They dare to speak out"
عمان میں یکم مارچ 2006ء کو اقوام متحدہ میں پی ایل او کے پہلے نمائندے زیدی تیرزی انتقال کر گئے۔ وہ 1975ء میں اقوام متحدہ میں فلسطین کے پہلے مستقل ممبر بنے تھے۔ 1986ء میں امریکی سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ نے زیدی تیرزی کو نیویارک سے 200 میل دور بوسٹن میں ہارورڈ لاء سکول جانے سے روک دیا تھا کہ وہ وہاں مسئلہ فلسطین پر بحث نہ کر سکیں۔ 1979ء میں تیرزی نے اقوام متحدہ میں امریکی سفیر اینڈریو ینگ کے ساتھ دوپہر کا کھانا تناول کیا۔ اس پر اسرائیل کی حامی لابی نے اتنا زیادہ شور مچایا کہ امریکی صدر جمی کارٹر اینڈریو ینگ کو فارغ کرنے پر مجبور ہو گئے کیونکہ ان کا خیال تھا کہ وہ فلسطین کے حوالے سے نرم گوشہ رکھتے ہیں۔ اینڈریو ینگ ایک معروف سیاہ فام ہیومن رائٹس لیڈر اور کانگرس کے رکن رہے تھے۔
حال ہی میں کولوراڈو کی ایک سکول ٹیچر جے بینش کو محض اس لیے معطل کر دیا گیا کیونکہ انہوں نے صدر بش کا ہٹلر کے ساتھ موازنہ کرنے کی کوشش کی اور ثابت کیا کہ امریکہ دنیا کی سب سے بدمعاش قوم ہے۔ کلاس کے دوران بینش نے سوال کیا کہ امریکہ کو مشرق وسطیٰ میں جنگ کرنے کی اجازت کیوں دی گئی جبکہ فلسطینی ریاست کے لیے جدوجہد کرنے والوں کو دہشت گرد قرار دیا جاتا ہے کیونکہ وہ اسرائیل کے خلاف کام کر رہے ہیں۔ ٹیچر کو سزا دے کر معطل کر دیا گیا۔
5 مارچ کو ہالی وڈ میں آسکر ایوارڈ کی تقریب میں جس فلسطینی فلم ”Pradise Now“ کو بہترین غیر ملکی فلم کے لیے ہاٹ فیورٹ تصور کیا جا رہا تھا۔ اس فلم کی کہانی دو فلسطینی نوجوانوں سے بحث کرتی ہے جو اسرائیلی تسلط کے خلاف خود کش دھماکے کا منصوبہ بناتے ہیں۔
اسرائیل میں بہت زیادہ شور وہ مسئلہ فلسطین کے حوالے سے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ اس فلم کو ک اس کے مقابلے میں ای کے خلاف پروپیگنڈہ کرنے پر r against the West فلم کا مختصر جائزہ ا ”آج ہمارا سامنا ہے۔ آج جب ہم اپنے گھر ہمارے خلاف سرگرم عمل ہو چ تہذیب کو ختم کرنے کے درپے میں مزید جاننا چاہیں وہ مندرجہ com امریکی آئین میں ایسی خلاف ورزیاں کی گئی ہیں دیے گئے ہیں۔ اس سے یہ بھی عا اسے عرب اور مسلمانوں کے خ ہے۔ امریکہ میں یہ بندوبست فلسفے کو ہوا دے رہا ہے اور مط بدقسمتی ہے مسلمان آپس میں یہ مغرب میں موجو بہاؤ اور عدم مساوات کے خ باقی نہیں رہے گا، پھر ایسی زغ
اسرائیل میں بہت زیادہ شور مچایا گیا اور کہا گیا کہ اس فلم کو مقابلے سے دستبردار کیا جائے کیونکہ وہ مسئلہ فلسطین کے حوالے سے کسی بھی قسم کی ہمدردی والی فلم کو پروموٹ ہوتا نہیں دیکھ سکتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ اس فلم کو کوئی ایوارڈ نہیں دیا گیا۔
اس کے مقابلے میں ایک اور ڈاکومنٹری کو پروموٹ کرنے کی کوشش کی گئی جو مسلمانوں کے خلاف پروپیگنڈہ کرنے کے لیے بنائی گئی تھی۔ اس کا نام Obsession- Radical Islam's War against the West ہے۔
فلم کا مختصر جائزہ ان الفاظ میں پیش کیا گیا ہے۔
”آج ہمارا سامنا ایک نئے دشمن سے ہے جو دنیا کو تبدیل کرنے کا خواب دیکھ رہا ہے۔ آج جب ہم اپنے گھروں میں پرسکون زندگی بسر کر رہے ہیں، ایک بہت بڑا شیطان ہمارے خلاف سرگرم عمل ہو چکا ہے۔ ایک نیا طوفان ہمارے لیے خطرہ بن رہا ہے اور وہ مغربی تہذیب کو ختم کرنے کے درپے ہے۔ یہ دشمن انتہا پسند اسلام ہے۔“ جو لوگ اس فلم کے بارے میں مزید جاننا چاہیں وہ مندرجہ ویب سائٹ ملاحظہ کر سکتے ہیں۔
www.obsessionthemovie.com
امریکی آئین میں پہلی ترمیم آزادی رائے سے بحث کرتی ہے لیکن اس کے باوجود ایسی خلاف ورزیاں کی گئی ہیں حالانکہ آئین میں اس حوالے سے تمام تر ضمانتیں اور تحفظات دیے گئے ہیں۔
اس سے یہ بھی واضح ہوتا ہے کہ کس طرح آزادی رائے یک طرفہ ہے۔ عملی طور پر اسے عرب اور مسلمانوں کے حوالے سے مشرق وسطی کے مسئلے کو دبانے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ امریکہ میں یہ بند دروازوں اور بند ذہنوں کی کہانی ہے۔ مغرب ”تہذیبوں کے تصادم“ کے فلسفے کو ہوا دے رہا ہے اور مغرب کے عیسائیوں کو اسلام کے خلاف کھڑا ہوا دکھایا جا رہا ہے مگر بدقسمتی ہے مسلمان آپس میں بھی لڑائی میں مصروف ہیں جو مال و دولت کے لیے ہو رہی ہے۔
یہ مغرب میں موجود مسلمانوں کے لیے لمحہ فکریہ ہے، اگر وہ اس معلومات کے منفی بہاؤ اور عدم مساوات کے خلاف آواز بلند نہیں کرتے تو ان کا مغرب میں تحفظ، عزت و احترام باقی نہیں رہے گا، پھر ایسی زندگی کا کیا فائدہ کہ آپ زندہ ہیں مگر زندہ نہیں۔
۞ ۞ ۞
جمیل احمد عدیل
کیا یہ سیکولرازم ہے؟
قرآن مجید کی سورۃ یٰسین میں ارشادِ ربانی ہے: يٰحَسْرَةً عَلَى الْعِبَادِ ۚ مَا يَأْتِيْهِمْ مِنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا كَانُوْا بِهِ يَسْتَهْزِءُوْنَ ط ترجمہ: صد افسوس ان بندوں پر، نہیں آیا ان کے پاس کوئی رسول مگر وہ اس کے ساتھ مذاق کرنے لگ گئے۔
(یٰسین:30)
بلاشبہ ہمیشہ یہی ہوا ہے کہ بے خبروں کو جب بھی کوئی خدا کا فرستادہ نتائج کی حتمیت کا شعور دینے کے لیے آیا، اس کا جی بھر کر تمسخر اڑایا گیا۔ سوال یہ ہے کہ اللہ نے جتنے بھی رسول اور نبی مبعوث فرمائے، پیامِ حق پہنچانے کے بدلے وہ کسی اجرت، کسی معاوضے کے طلبگار ہوئے؟ ناممکن ہے کہ کسی نے کوئی عوضانہ مانگا ہو۔ انہوں نے تو اپنے اللہ کے حکم کی تعمیل میں اپنا ایک ایک لمحہ مصلوب کرایا مگر ایک قدم پیچھے ہٹنا کبھی گوارا نہیں کیا۔ اور جو کچھ ان رُسل اور انبیا نے دیا اس کا خلاصہ صرف اور صرف قوانینِ خداوندی کا ادراک ہے کہ اے بھلے لوگو! یہ کائنات ایک عظیم حکیم کے ترتیب دیے گئے نظام کے تحت کام کر رہی ہے۔ اگر تم اپنی زندگیوں کو اس سسٹم سے ہم آہنگ کر لو گے تو تمہارے لیے آسانیاں پیدا ہو جائیں گی، اور اگر تم ایسا نہیں کرو گے تو اسی زندگی میں مہلک نتائج تمہیں اس طرح پکڑ لیں گے کہ تم اس شدید ایذا سے بلبلا اٹھو گے۔ وہ صورت حال تمہارے لیے ناقابلِ برداشت ہو گی۔
اب رہے وہ قوانینِ خداوندی تو آؤ انہیں پرکھ کر، تجربے میں لا کر خود ہی دیکھ لو اور ہمارے دعاوی کو سکون کے ساتھ آزما لو، یہ ہو نہیں سکتا کہ نتیجہ دعوے کے برعکس نکلے۔ ایسا ہی ہوتا آیا ہے، سدا ایسا ہی ہو گا، یہی ہماری صداقت کو جانچنے کا پیمانہ ہے۔ تم پر کسی نوع کا کوئی جبر نہیں ہے، تمہاری مرضی ہے، سلامتی کو قبول کر لو گے تو سلامتی عطا ہو جائے گی، نہیں تو نہیں۔ لیجیے! اس سنجیدہ تعلیم میں بھلا کسی ایسے ردِعمل کی معمولی سی بھی گنجائش ہے جو استہزا،
ٹھٹھے، تمسخر، ہنسی اور مذاق پر مبنی ہو؟ ہرگز نہیں۔ لیکن عقلِ انسان کا ماتم کریں کہ انعام ایسے عوام تو اوئے اوئے!! کے نعرے لگاتے ہی ہیں، تالیاں پیٹ کر اور سیٹیاں بجا کر اپنی اسفل ذہنیت کا مظاہرہ کرتے ہی ہیں، اچھے خاصے تعلیم یافتہ، عمر رسیدہ، معاشرے کے مکرم افراد، جہاندیدہ اصحاب بھی اس لایعنی عمل کا حصہ بن کر اسی صف میں آن کھڑے ہوتے ہیں جو گھٹیا سوچ کے مالکوں کے لیے مخصوص ہوتی ہے۔ حضرت نوح علیہ السلام سے لے کر حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ تک کون سا ایسا پیغمبر گزرا ہے جسے حق گوئی کے ”جرم“ کی پاداش میں دیگر تکلیفوں کے ساتھ ذہنی اذیت میں سے نہیں گزرنا پڑا؟ نہیں جناب! کوئی ایسی مقدس ہستی نہیں گزری جسے عوامی کٹ حجتیوں اور پھبتیوں کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔ پیغمبرانِ حق نے اپنی وضع نہیں بدلی تو ان کے مخاطبین نے بھی اپنی خُو میں تغیر پیدا نہیں کیا۔ سچ پیش کرنے کے عمل کا ردِّعمل ہمیشہ سے بازاری جگتیں بھی رہا ہے۔
یہ مضحکہ خیز رویہ ایک تاریخ رکھتا ہے۔ سلسلۂ انبیا کے آخر میں جب اللہ تعالیٰ نے اپنے سب سے پیارے انسان کو مبعوث فرمایا تو انہیں کج فہم لوگوں نے سب سے زیادہ ستایا۔ ان کے دور کے وہ ذہنی مریض جنہوں نے چھچھورے پن کا مظاہرہ کرتے ہوئے آپ ﷺ کو مکہ کی گلیوں میں مذاق کا ہدف بنایا، ان کی لایعنیت وہیں ختم نہیں ہوگئی بلکہ ڈیڑھ ہزار برس بیت جانے کے باوجود ان اجلاف کی معنوی اولاد آج بھی دنیا میں موجود ہے اور ہر حیلے بہانے سے اپنے متعفن پن، خباثتِ باطن اور کینے کا اظہار کرتی ہی رہتی ہے۔ درآں حالیکہ آپ ﷺ کی پاکیزہ شخصیت، آپ ﷺ کی بیحد مفید تعلیمات........ سب کچھ مسلم الثبوت کے درجے پر فائز ہو چکا ہے۔ مسلمان گھرانوں میں جنم لینے والے فدائیوں کی محبتیں تو اپنی جگہ، غیر مسلموں کے آنگنوں میں آنکھیں کھولنے والوں کی معروضی تحقیق کے نتیجے میں جب آنکھیں کھلی ہیں تو انہوں نے ضخیم کتب تصنیف کر کے دنیا کے سامنے یہ اعتراف کیا ہے کہ آپ ﷺ صادق تھے، آپ ﷺ امین ہیں۔ آپ ﷺ کے اُجلے کردار پر حرف گیری کے لیے انہیں ایک نقطہ بھی فراہم نہیں ہو سکا۔ آپ ﷺ پر نازل ہونے والی آخری کتاب یعنی قرآن مجید میں انہیں خلافِ واقعہ ایک شمہ بھی دکھائی نہیں دیا۔ انفس و آفاق کی تمام سمتوں پر محیط اس سے بہتر ضابطہ انہیں کسی لائبریری سے نہیں مل سکا۔
یہ سب کیسے ہوا؟ صرف اور صرف غیر جانبداری، بے تعصبی اور ذہنی دیانت کے
سبب۔ جو بھی معروضی اساس پر آپ ﷺ کی حسین شخصیت، آپ ﷺ کے دل نواز پیغام کا جائزہ لے گا، اس سے ہٹ کر نتیجہ اخذ کر ہی نہیں سکتا۔ جہاں عصبیت باطن میں فساد مچائے ہوئے ہوگی، وہاں زبانیں اور قلم تاریکیوں کو ہی اُگلیں گے۔ ان دنوں آپ ﷺ سے محبت کا تعلق محسوس کرنے والا ہر شخص اپنے سینے میں زخمی دل لیے پھر رہا ہے کہ فرانس کے ایک اخبار میں حضور خاتم النبیین ﷺ کی دلآویز شخصیت کو کیری کچر کے ذریعے پیش کرنے کی ناپاک جسارت ہوئی ہے۔ نہ صرف اخبار فرانسوا سواغ میں یہ مذموم حرکت ہوئی ہے بلکہ اٹلی، جرمنی اور سپین کے اخبارات لاستیمپا، ڈائی ویلٹ اور ایل پیریڈیکو وغیرہ کے صفحات بھی ایسی ہی اہانت کے مرتکب ہوئے ہیں۔ پیرس سے شائع ہونے والے اخبار فرانسوا سواغ کے ذمہ داروں نے یہ مؤقف اختیار کیا ہے کہ ان کیری کچرز کی اشاعت کا مقصد یہ دکھانا ہے کہ ایک سیکولر معاشرے میں مذہبی کٹر پن کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔
اس جواز پر سر پیٹ لینے کو جی چاہتا ہے کہ کیا اسے ”سیکولر ازم“ کہتے ہیں؟ آخر دنیا کا وہ کون سا معاشرہ ہے جس کی اخلاقی قدروں میں دوسروں کی واجب التکریم شخصیت کا احترام موجود نہیں ہے؟ مغرب کے پیشہ ور متعصبین کو بھی مہذب قرار دینے کا جو پروپیگنڈہ اک عرصے سے کیا جا رہا ہے، یہ دلیل اس کی قلعی کھول دینے کے لیے نہایت کافی ہے۔ اس آزادی کو کوئی غلام صفت ہی آزادی سے موسوم کر سکتا ہے۔
ہمیں تسلیم ہے کہ یہ کبھی نہیں ہوتا کہ پوری دنیا کسی شخصیت اور اس کے نظریات سے صد فی صد متفق ہو جائے۔ اختلاف کی گنجائش ہو سکتی ہے لیکن سوال اس اختلاف کے اظہار کا ہے۔ اگر ایسی ہی چھوٹ بنام ”پیدائشی آزادی“ ہر فرد کو مل جائے تو پھر خدارا! انصاف سے بتائیے کہ کس طرح کے سماج وجود میں آئیں گے؟ دنیا کیا فساد سے لبالب بھر نہیں جائے گی؟
سو یہ بنیادی نکتہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ اگر آپ دوسرے کی دل آزاری کے مرتکب ہوں گے تو پھر دوسرا کسی نہ کسی طرح تو اپنے ردّعمل کا اظہار کرے گا۔ اقوام مغرب کے بعض شریروں کی جانب سے مسلمانوں کے جذبات سے کھیلنے کی یہ پہلی قابلِ مذمت کوشش نہیں ہے۔ ماضی گواہ ہے کہ یہ لوگ اپنے بطون کی خباثت کے اظہار کے لیے ایسی متعدد کوششیں کر چکے ہیں۔ پھر انہیں اس سے ملا کیا؟ کیا اُن کی اِن حرکات سے مسلمان اپنے عقائد اور عقیدتوں سے معاذ اللہ! منحرف ہو کر اُن کے ہم خیال اور ہم نوا بن گئے ہیں؟ نہیں، کوئی
گناہگار سے گناہگار مسلمان بھی کے ہاتھوں مجبور ہو کر وہ کسی ای کرتے پھریں گے، لوجی! یہ میر مسئلے کا حل وہ شعور کے معیارات دکھاوے پر مبنی ہ کے متعلق مشہور ہے کہ وہاں کو مداخلت کے مترادف سمجھا جات ہے کہ روئے ارض پر ایسا جنو جانب عام انسان اس قدر مکر اپنی جان نثار کرنے کے لیے م کی بات قرار دیا جائے، یہ بے شرم سے ڈوب مرنا چاہیے۔ اور حمیت کے آسمانی معیاروں کے رسول کی توہین ایسا اقدام تعجب نہیں۔
گناہگار سے گناہگار مسلمان بھی انہیں ایسی مکروہ حرکات پر شاباش نہیں دے سکتا۔ الٹا اپنے دل کے ہاتھوں مجبور ہو کر وہ کسی ایسے ردّعمل پر اُتر آئے گا جسے پھر یہ پوری دنیا کے سامنے مشتہر کرتے پھریں گے، لو جی! یہ مسلمان تو ہیں ہی بنیاد پرست، دہشت گرد!
مسئلے کا حل وہ شعور ہے کہ لاکھ اختلاف ہو مگر اس کا اظہار ناشائستہ نہ ہو اور شائستگی کے معیارات دکھاوے پر مبنی نہ ہوں، نہ داخلی تضادات کا شکار ہوں، مثال کے طور پر مغرب کے متعلق مشہور ہے کہ وہاں کوئی فرد، دوسرے کو گھور کر نہیں دیکھ سکتا، کہ اس عمل کو نجی زندگی میں مداخلت کے مترادف سمجھا جاتا ہے۔ اس طرح شخصی آزادی کا پرچم بلند کر کے یہ ثابت کیا جاتا ہے کہ روئے ارض پر ایسا جنت نظیر معاشرہ ممکن نہیں۔ لیکن یہ ناقابل فہم تناقض ہے کہ ایک جانب عام انسان اس قدر مکرم، دوسری طرف وہ پاکباز، راستباز شخصیت جس پر اربوں لوگ اپنی جان نثار کرنے کے لیے مستعد رہتے ہوں، اسے میڈیا میں اہانت کا نشانہ بنانے کو معمول کی بات قرار دیا جائے، یہ بے عقلی نہیں، بدعقلی کی انتہا ہے۔ اہل مغرب کو اس طرزِ احساس پر شرم سے ڈوب مرنا چاہیے۔...... لیکن واقعہ یہ ہے کہ اپنے سماج سے مغرب والوں نے غیرت اور حمیت کے آسمانی معیاروں کو خارج کر کے خود کو ہلاکت کے ہاویہ میں گرا لیا ہے وگرنہ اللہ کے رسول کی توہین ایسا اقدام ہے کہ اس پر نہ رکنے والی بارشِ سنگ مقدر بن جائے تو یہ مقامِ تعجب نہیں۔
۞......۞......۞
عرفان صدیقی
یہ تیر صرف ہمارے لیے ہیں!
آج سے کوئی 16 سال قبل برطانوی مورخ ڈیوڈ ارونگ نے آسٹریا میں ایک لیکچر میں یہ کہہ دیا کہ ”یہودیوں کے قتل کے لیے پولینڈ میں گیس چیمبرز کی موجودگی ایک افسانہ ہے اور دوسری جنگ عظیم کے دوران نازیوں کے ہاتھوں 60 لاکھ یہودیوں کے قتل کی کہانی بھی درست نہیں۔“ اس افسانوی قتل عام کو ”ہولوکاسٹ“ کا نام دیا جاتا ہے اور یہ ایک ایسی متبرک دیومالائی صداقت قرار پائی ہے جس پر ”ایمان“ نہ لانا یا جسے جھٹلانا یا اس پر شک و شبہ کا اظہار کرنا بہت سے مغربی ممالک نے جرم قرار دے رکھا ہے۔ آسٹریا میں اس جرم کی سزا دس سال قید ہے۔ ڈیوڈ ارونگ پر مقدمہ قائم کر دیا گیا۔
نومبر 2005ء میں وہ دائیں بازو کے انتہا پسند طلبہ کی دعوت پر لیکچر دینے آسٹریا گیا تو اسے گرفتار کر لیا گیا۔ ڈیوڈ ارونگ کو حالات کے تیوروں کا اندازہ ہو گیا۔ اُس نے بی بی سی کو ایک خط لکھا کہ ”گیس چیمبرز کے بارے میں میرے خیالات میں اب تبدیلی آ گئی ہے۔ یہ بلاشبہ ایک بدترین سانحہ تھا۔“ عدالت میں پیشی کے دوران اُس نے ”60 لاکھ“ تو نہ کہا البتہ تسلیم کیا کہ ”لاکھوں لوگ مارے گئے اور اس بات کے شواہد ملے ہیں کہ گیس چیمبرز بھی موجود تھے۔“ ارونگ کے اس رویے پر نرمی کا اظہار کرتے ہوئے عدالت نے اُسے تین سال قید کی سزا سنائی اور جیل بھیج دیا۔ ڈیوڈ ارونگ کے وکیل نے کہا کہ اُسے اس فیصلے پر حیرت ہوئی ہے۔ ”شاید عدالت اس فیصلے کے ذریعے دنیا کو پیغام دینا چاہتی تھی لیکن پیغام کافی سخت ہو گیا ہے۔“ وکیل نے فیصلے پر نظرثانی کی استدعا کرتے ہوئے نرم رویہ اختیار کرنے کے لیے کہا ہے کیونکہ بقول اُس کے ڈیوڈ ارونگ کے خیالات میں اب تبدیلی آ گئی ہے۔
ڈیوڈ ارونگ کو شاید معلوم نہ تھا کہ ”آزادی اظہار رائے“ کا اصل مفہوم کیا ہے؟ وہ کب، کہاں اور کن کے لیے استعمال ہونی چاہیے؟ اور اس خوبصورت ترکش سے نکلنے والے
تیروں کا رخ کن سینوں کی طرف ہونا چاہیے۔ اُسے غالباً اس امر کی اطلاع بھی نہیں ہوسکی کہ مغرب کی کارگہ فکر نے امریکہ میں وضع ہونے والی نئی لغت پر مہر تصدیق ثبت کر دی ہے۔ اب الفاظ، تراکیب اور اصطلاحات کا وہی مفہوم لیا جاتا ہے جو وائٹ ہاؤس کی دانش گاہ نے متعین کر دیا ہے۔ ہم اہل شرق تو اچھی طرح جان گئے ہیں کہ امریکہ، یورپ اور مغرب میں ترتیب پانے والی اس نئی لغت میں درج الفاظ کیا معنی رکھتے ہیں اور انھیں کس مفہوم میں استعمال کیا جانا چاہیے۔ مثال کے طور پر ہم جانتے ہیں کہ جب ”غلامی“ کی زنجیروں میں جکڑی کسی قوم کو آزادی دلانے کا اعلان کیا جاتا ہے تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ اس کی سرزمین کم نصیب کو ہلاکت آفریں بموں اور میزائلوں کا نشانہ بنایا جانے والا ہے۔ وہاں آگ اور بارود کی برکھا برسانے کی تیاریاں ہو رہی ہیں اور وہاں فلوجہ جیسے مناظر اور ابو غریب جیسی داستانیں رقم ہونے والی ہیں۔ عراق اور افغانستان کے عوام اس ”آزادی“ سے ہمکنار ہو چکے ہیں۔ اب کے پھریرے لہراتا لشکر بے اماں ایران اور شام کے ”محکوموں“ کو ”آزادی“ دلانے کی تیاریاں کر رہا ہے۔ ہم اب یہ بھی جان چکے ہیں کہ اس نو تخلیق لغت میں ”جمہوریت“ کے معنی و مفہوم کیا ہیں۔ اس کا سیدھا سادہ مفہوم یہ ہے کہ ہر وہ بندوبست، جمہوریت بلکہ حقیقی جمہوریت کہلاتا ہے جو اپنے عوام کے جذبہ و احساس سے بے نیاز امریکہ سے آئے ہرفرمان کو اپنا دستورالعمل بنانے اور دل و جان سے اسے عملی جامہ پہنانے میں جٹ جائے۔ اس کے برعکس ہر وہ نظام غیر جمہوری اور آمرانہ ہے جو بے شک عوام کے ووٹوں سے وجود میں آئے اور جس کے حکمران عوام کی دھڑکنوں میں بستے ہوں لیکن وہ امریکہ کے سامنے گردن جھکانے کے بجائے اپنے قومی وملی مفادات کو اولیت دیتا ہو۔ اسی طرح ”انصاف“ کے معنی وہ سزا ہے جو امریکہ کسی فرد یا حکومت کے لیے تجویز کرتا ہے۔ اس طرح انصاف کے تحت امریکہ پہلے ایک مفروضہ تخلیق کرتا، پھر اسے ہولناک جرم قرار دے کر چارج شیٹ جاری کرتا اور اس کے ساتھ ہی حملہ کر دیتا ہے۔ بعد ازاں اگر یہ مفروضہ سو فیصد غلط نکلے تو بھی اسے انصاف ہی کا ایک پہلو خیال کر لیا جاتا ہے۔ بعض اوقات ”فوری انصاف“ ناگزیر ہو جاتا ہے۔ ایسی صورت میں امریکہ کسی رسمی کارروائی کے خرخشوں میں پڑے بغیر ہی ”مشکوک مجرم“ کا بھرکس نکال دیتا ہے جیسے باجوڑ میں ہوا۔ ”دہشت گردی“ کے معانی بھی اب پوری دنیا پر واضح ہوچکے ہیں۔ طے پا گیا ہے کہ یہ صرف مسلمانوں کے ذہنوں میں انگڑائی لیتی اور انہی کے
ہاتھوں ظہور پذیر ہوتی ہے اور امریکہ کی طرف سے لاکھوں معصوم انسانوں کی ہلاکت دراصل دہشت گردی کے خلاف جنگ ہے۔
اب ”آزادی اظہار“ کا مفہوم بھی اپنی تمام تر معنویت کے ساتھ آشکار ہو رہا ہے۔ اگر ڈیوڈ ارونگ، ”ہولوکاسٹ“ کی شان میں گستاخی کرنے کے بجائے سوا ارب مسلمانوں کے مذہب، عقائد، شعائر یا مقدس شخصیات کی حرمت سے کھیلتا تو پورا یورپ اس کے کندھے سے کندھا ملا کر کھڑا ہو جاتا۔ ٹونی بلیئر اور جارج بش اس سے اظہار یکجہتی کرتے اور وہ یکا یک محبوبیت و مقبولیت کی معراج کمال پر پہنچ جاتا۔ افسوس کہ وہ ایک برطانوی مورخ ہوتے ہوئے بھی ”آزادی اظہار“ کے حقیقی معنی و مفہوم کو نہیں سمجھ پایا اور نہ اُسے کسی نے سمجھایا کہ یہ تیر کن سینوں پر چلایا جاتا ہے۔
٭ ٭ ٭
امجد عباسی
آزادیِ رائے اور تضحیکِ مذہب
اسلام، نبی کریم ﷺ اور مسلمانوں کو (نعوذ باللہ!) آزادیِ رائے، آزادیِ صحافت، انسانی حقوق اور سیکولر جمہوریت کے نام پر تضحیک، تمسخر اور تذلیل کا برابر نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ یہ بات بھی ڈھکی چھپی نہیں کہ اس کا پشت پناہ مغرب ہے اور وہی اس کو تحفظ بھی دیتا ہے۔ بھارتی نژاد ملعون رشدی کے بعد بنگلہ دیش کی تسلیمہ نسرین (حال ہی میں ان کی متنازعہ کتاب ”دوجی کھنڈت“ پر بھارتی مسلمانوں کے ردعمل کا سامنے آنا) ڈنمارک کے اخبار اور دیگر اخبارات میں شیطانی خاکوں کی اشاعت، ولندیزی فلم ساز تھیووان گوگھ کی اسلام میں عورت کے مقام کے موضوع پر اشتعال انگیز فلم کی تیاری اور اس کے شدید ردعمل میں اس کی ہلاکت، جرمنی میں توہین رسالت ﷺ پر عامر چیمہ کی شہادت اور اب سوڈان میں ایک عیسائی مشنری اسکول کی ٹیچر گلیئن گبنز کا اپنی کلاس کے طلبہ کو ”........“ کا نام (نعوذ باللہ! ثم نعوذ باللہ) محمد ﷺ رکھنے کے لیے ورغلانے اور توہین رسالت ﷺ کا مرتکب ہونا، اسی کا تسلسل ہے۔ گلیئن گبنز کی سزا ختم کروانے اور تحفظ دینے میں بھی برطانیہ کا ہاتھ نمایاں ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ مغرب کی طرف سے توہین اسلام اور توہین رسالت ﷺ میں کیوں شدت آتی جا رہی ہے، اور دوسری جانب اس سب کچھ کو آزادیِ رائے اور انسانی حقوق کے حوالے سے تحفظ دینے کی بات بھی کی جا رہی ہے، نیز اُمت کے اہل علم اس مسئلے کا کس انداز سے جواب دیں؟
مغرب میں چند صدیاں قبل انسانی حقوق کا سوال اس وقت سامنے آیا جب یورپ میں سائنس اور مذہب میں چپقلش سامنے آئی۔ اس سے قبل یورپی تاریخ میں انسان کے بنیادی حقوق کا کوئی تصور نہیں ملتا۔ عیسائیت نے چند یونانی تصورات کو مذہبی تقدس کا مقام دے دیا اور سائنسی حقائق کو جھٹلاتے ہوئے انتہائی اقدامات اٹھائے اور ان عقائد کی خلاف ورزی کرنے پر سائنس دانوں کو پھانسی تک دے ڈالی۔ اس پر شدید ردعمل سامنے آیا اور اہلِ
یورپ نے کلیسا کی بالادستی ختم کرنے کا فیصلہ کیا، نیز انسان کے بنیادی حقوق کے لیے مذہب سے ہٹتے ہوئے قانون سازی کی بنیاد رکھی۔ سائنس کو الوہیت کا مقام دے دیا اور تجرباتی سائنس اور تجربہ و مشاہدہ کو علم کی بنیاد ٹھہرایا۔ عیسائیت کے غلط تصورات کی بنا پر مذہب سے بے زار اور بے نیاز ہو کر انسانی زندگی کے معاملات کو طے کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس کے نتیجے میں انسان کے بنیادی حقوق کے لیے قانون سازی عمل میں آئی۔ اس کا آغاز انگلستان کے میگنا کارٹا (1215ء) سے ہوا، اور مختلف مراحل سے گزرتا ہوا یہ عمل اقوام متحدہ کے منشور انسانی حقوق (1948ء) پر منتج ہوتا ہے۔
دوسری طرف مغرب اور امریکہ کا اپنے مذموم مقاصد اور مفادات کے حصول کے لیے عدل و انصاف اور حقوق انسانی کی دھجیاں اڑا دینا، اور دہشت گردی کے خلاف جنگ کی آڑ میں افغانستان اور عراق پر حملہ، گوانتانامو بے اور ابوغریب جیل میں تشدد کے انسانیت سوز واقعات، اور ایران پر حملے کی دھمکی کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں بلکہ کھلی حقیقت ہے۔ ایسے میں اقوام متحدہ کے منشور انسانی حقوق، عدل و انصاف اور امن وامان جیسی اقدار پر عمل درآمد ایک سوال بن کر رہ جاتا ہے۔
قانون توہین رسالت ﷺ ہی کو لیجیے۔ نیو انسائیکلوپیڈیا برٹانیکا کے مطابق اکثر مشرقی اور یورپی ممالک میں قانون توہین انبیا (بلاس فیمی لا) کسی نہ کسی صورت میں قابل مواخذہ جرم رہا ہے۔ آسمانی صحائف کو ماننے والی اقوام جہاں بھی حکمران رہی ہیں، وہاں توہین رسالت ﷺ کی سزا، سزائے موت پر عمل درآمد ہوتا رہا ہے۔ یورپ، امریکہ اور دیگر سیکولر ریاستوں میں قانون توہین مسیح (بلاس فیمی لا) اب بھی موجود ہے اور اس حوالے سے ان ملکوں کی اعلیٰ ترین عدالتوں کے فیصلے بھی موجود ہیں۔ برطانیہ میں اٹھارھویں صدی تک توہین مسیح کی سزا، سزائے موت تھی مگر بعد میں سزائے موت ختم کر دی گئی، لہٰذا اب اس کی سزا عمر قید ہے۔ اس ضمن میں ایک معروف مثال یورپی یونین حقوق انسانی کی عدالت کا 25 نومبر 1996ء کو برطانیہ کے حق میں دیا جانے والا فیصلہ ہے۔ اس کی اہمیت اس لحاظ سے بھی ہے کہ اس سے مجموعی طور پر مغرب کے نقطۂ نظر کی عکاسی ہوتی ہے۔ اس مقدمے کے مطابق ایک برطانوی شہری نائیجل ونگرو نے حضرت عیسیٰ کے حوالے سے ایک فلم دکھانے کی اجازت طلب کی۔ مگر یورپی یونین حقوق انسانی کی عدالت نے اس کی اپیل کی اجازت نہ دی کہ اس سے عیسائیوں
کے جذبات مشتعل ہوں گے کے خلاف توہین رسالت ﷺ (دیکھیے : ناموس رسول ﷺ 239-234) یہاں مغرب باوجود واضح طور پر محسوس کیا جا اسلام میں انسانی اور اس کا خلاصہ نبی کریم ﷺ انسانوں کے حقوق کی نہ صرف کا حق بھی دیتا ہے۔ دوسر اعلان سے بڑھ کر نہیں اور نہ اسلام نے جو انس تمام انسانوں کو اولاد آدم ہی آزادی اظہار رائے کو شہرا کے تصور سے بڑھ کر حق کہ دعوت دے اور برائی سے رو سے غفلت برتنا نہ صرف غل کہ بنی اسرائیل کی روش تھا۔ (المائدہ 5: 79) اسلام نے ذمیوں وایمان میں سے جو راہ چاہے اصول دیا ہے۔ تاریخ اسلام ذمی کی حیثیت سے ان کما سے بھی منع کیا ہے۔ ولا تسبوا الذ جنہیں یہ لوگ اللہ کے ماسو
کے جذبات مشتعل ہوں گے اور توہین عیسیٰ ہوتی ہے۔ مگر جب اس کیس میں سلمان رشدی کے خلاف توہین رسالت ﷺ کا مسئلہ اٹھایا گیا تو اسے خارج از بحث قرار دے دیا گیا (دیکھیے : ناموس رسول ﷺ اور قانون توہین رسالت ﷺ، محمد اسماعیل قریشی، ص 239-234) یہاں مغرب کا دہرا معیار، انسانی حقوق اور اخلاقی اقدار کے تمام تر دعوؤں کے باوجود واضح طور پر محسوس کیا جاسکتا ہے۔
اسلام میں انسانی حقوق کا تصور مغرب سے بہت پہلے 14 سو سال سے موجود ہے اور اس کا خلاصہ نبی کریم ﷺ کا خطبہ حجۃ الوداع ہے۔ اسلام بلا امتیاز مذہب و ملت تمام انسانوں کے حقوق کی نہ صرف ضمانت دیتا ہے، بلکہ قوت نافذہ رکھتا ہے، اور قانونی چارہ جوئی کا حق بھی دیتا ہے۔ دوسری طرف اقوام متحدہ کے منشور انسانی حقوق کی حیثیت محض ایک اعلان سے بڑھ کر نہیں اور نہ اس کے نفاذ کو یقینی بنانے کے لیے کوئی ضمانت دی گئی ہے۔
اسلام نے جہاں رنگ و نسل کے فرق کی بنیاد پر انسانی تفاوت کو مٹایا ہے، وہاں تمام انسانوں کو اولاد آدم ہونے پر برابر قرار دیا اور نیکی اور تقویٰ کو وجہ امتیاز ٹھہرایا ہے۔ آزادی اظہار رائے کو شہریوں کا بنیادی حق ہی نہیں، بلکہ درپیش مسائل پر اظہار رائے کو مغرب کے تصور سے بڑھ کر، حق سے زیادہ فرض ٹھہرایا ہے۔ ایک مسلمان کا فرض ہے کہ وہ بھلائی کی دعوت دے اور برائی سے روکے۔ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا فریضہ اسی کا نام ہے۔ اس سے غفلت برتنا نہ صرف نفاق ہے، بلکہ اسے ملت کے زوال کا ایک سبب بھی بتایا گیا ہے، جیسا کہ بنی اسرائیل کی روش تھی کہ انہوں نے ایک دوسرے کو برے افعال سے روکنا چھوڑ دیا تھا۔ (المائدہ 5: 79)
اسلام نے ضمیر اور اعتقاد کی آزادی کا حق دیا ہے۔ ہر شخص کو حق حاصل ہے کہ وہ کفر و ایمان میں سے جو راہ چاہے اختیار کر لے۔ اسلام نے لا اکراہ فی الدین (البقرہ: 256) کا اصول دیا ہے۔ تاریخ اسلام شاہد ہے کہ مسلمانوں نے کبھی کسی قوم کو جبراً مسلمان نہیں کیا، بلکہ ذمی کی حیثیت سے ان کو مذہبی آزادی ہے اور ان کا تحفظ کیا ہے۔ اسلام نے تو مذہبی دل آزاری سے بھی منع کیا ہے۔
ولا تسبوا الذين يدعون من دون الله (الانعام: 108) ان کو برا بھلا نہ کہو جنہیں یہ لوگ اللہ کے ماسوا معبود بنا کر پکارتے ہیں۔
خیال رہے کہ جہاں مذہبی دل آزاری سے منع کیا گیا ہے وہاں برہان، دلیل اور معقول طریقے سے مذہب پر تنقید کرنا اور اختلاف کرنا آزادیٔ اظہار کے حق میں شامل ہے۔ خود مسلمانوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ اہلِ کتاب اور دیگر مذاہب کے حاملین سے اگر گفتگو کی جائے تو تحمل اور رواداری کا مظاہرہ کیا جائے اور احسن انداز اپنایا جائے۔
ولا تجادلوا اهل الكتب الا بالتى هى احسن (العنکبوت 46:29)
اہلِ کتاب سے بحث نہ کرو مگر احسن طریقے سے۔
اسلام میں رواداری کا تصور یہ نہیں ہے کہ مختلف اور متضاد خیالات کو درست قرار دیا جائے۔ بقول سید مودودیؒ: ”رواداری کے معنی یہ ہیں کہ جن لوگوں کے عقائد یا اعمال ہمارے نزدیک غلط ہیں، ان کو ہم برداشت کریں، ان کے جذبات کا لحاظ کر کے ان پر ایسی نکتہ چینی نہ کریں جو ان کو رنج پہنچانے والی ہو، اور انہیں ان کے اعتقاد سے پھیرنے یا ان کے عمل سے روکنے کے لیے زبردستی کا طریقہ اختیار نہ کریں۔ اس قسم کے تحمل اور اس طریقے سے لوگوں کو اعتقاد و عمل کی آزادی دینا نہ صرف ایک مستحسن فعل ہے، بلکہ مختلف الخیال جماعتوں میں امن
جہاں انسان اگر ٹھہر کر نہیں سوچتا تو قرآن کے مطابق انسان کی اس روش سے زمین میں فساد برپا ہو سکتا ہے۔ ظَهَرَ الْفَسَادُ فِى الْبَرِّ وَالْبَحْرِ بِمَا كَسَبَتْ أَيْدِى النَّاسِ (الروم: 41) ”خشکی اور تری میں فساد برپا ہو گیا ہے لوگوں کے اپنے ہاتھوں کی کمائی سے۔“ تہذیبوں کی جنگ کا واویلا بھی مچایا جا رہا ہے اور اسلام کو ہدف بنایا جا رہا ہے، حالانکہ اسلام کا اس سے کوئی تعلق نہیں۔ وہ تو آزادی اظہار کے تحت نہ صرف معقول اور منطقی انداز میں اختلافِ رائے کا حق دیتا ہے، بلکہ عقیدے کی آزادی اور تحفظ فراہم کرتا ہے۔
اس مسئلے کا اصولی حل یہی ہے کہ مغرب نے مذہبی تعصب کی وجہ سے عقل اور سائنس کو جس طرح خدا بنا رکھا ہے اور الوہیت کا درجہ دے رکھا ہے، اس پر نظر ثانی کرے۔ اگر یہ ماضی کے عیسائیت اور اہلِ کلیسا کے غلط نظریات کا ردّعمل ہے تو اسلام کے حوالے سے ایسا سوچنا مناسب نہیں۔ اسلام ایک روایتی مذہب نہیں، بلکہ ایک دین اور ایک مکمل نظامِ حیات ہے جو ہر شعبہ زندگی بہ شمول سائنس کے لیے ہدایات اور رہنمائی رکھتا ہے۔ اصولی طور پر بھی دیکھا جائے تو آزادی رائے، انسانی حقوق اور انسانیت کی فلاح کے لیے اسلام کی تعلیمات زیادہ جامع ہیں جنہیں عقل تسلیم کرنے پر مجبور ہے، جب کہ عیسائیت و دیگر مذاہب کی تعلیمات اس معیار پر پورا نہیں اترتیں۔ اگرچہ روسو نے یہ کہا تھا کہ انسان آزاد پیدا ہوا مگر اسے ہر جگہ زنجیروں میں جکڑ دیا گیا ہے، تاہم یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ حضرت عمر فاروقؓ نے 14 سو سال پہلے یہ فرمایا تھا کہ تم نے انسانوں کو غلام کب سے بنا لیا؟ ان کی ماؤں نے تو انہیں آزاد جنا تھا۔ مگر اس جرأت کے لیے خدا سے ڈرنے والا دل اور وحیِ الٰہی پر ایمان لانے کی ضرورت ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مغرب کو یہ خدشہ لاحق ہے کہ اسلام اپنی تعلیمات اور منطقی استدلال کی بنا پر غالب نہ آجائے۔ اسلام کی نظریاتی بالادستی اور اسلامی تحریکوں کے تحت احیائے اسلام کے لیے برپا منظم جدوجہد اور قبول اسلام کے بڑھتے ہوئے عالمی رجحان کی بنا پر، مغرب کو یہ خدشہ یقین میں بدلتا ہوا دکھائی دے رہا ہے۔ بقول اقبالؒ ؎
رابرٹ فسک
غیر اخلاقی کارٹونوں کی اشاعت
اُدھر ڈنمارک کے ایک اخبار نے پیغمبر اسلام حضرت محمد ﷺ کے کارٹون شائع کیے اور ادھر متعدد اسلامی ممالک کی حکومتوں نے اپنے سفیر کوپن ہیگن سے واپس بلا لیے۔ سعودی عرب اور شام نے بھی شدید احتجاج کیا۔ خلیجی ریاستوں میں ڈنمارک کی مصنوعات دکانوں سے نکال پھینکی گئیں اور غزہ کے جنگجوؤں نے یورپی یونین اور غیر ملکی صحافیوں کو دھمکیاں دینا شروع کر دیں۔
ڈنمارک کے جس غیر اہم اخبار میں یہ احمقانہ کارٹون شائع ہوئے، اس کے ”مدیر ثقافت“ فلیمنگ روز نے گزشتہ ستمبر میں کہا تھا کہ ہم مغرب کی سیکولر جمہوریتوں اور اسلامی معاشروں میں تصادم کا مشاہدہ کر رہے ہیں۔ میرے خیال میں مذکورہ کارٹونوں کی اشاعت نے ثابت کر دیا ہے کہ ڈنمارک کے صحافی ہینس کرسچین اینڈرسن کے ”سچے پیروکار“ ہیں۔ دراصل ہم تہذیبوں کے تصادم کا نہیں، تہذیبوں میں پائے جانے والے بچپنے کا مشاہدہ کر رہے ہیں۔
اسے ”سیکولر ازم بمقابلہ اسلام“ کسی قسم کا مسئلہ نہ سمجھا جائے۔ مسلمانوں کا عقیدہ ہے کہ ان کے نبی ﷺ پر (وحی کے) الفاظ براہ راست خدا کی طرف سے نازل ہوتے تھے۔ ہم اپنے برگزیدہ افراد اور نبیوں کو بشکل تاریخی شخصیتیں خیال کرتے ہیں اور ان کی شبیہوں کو مضحکہ خیز حد تک مسخ کر دیتے ہیں۔ ہم اپنے (نام نہاد) انسانی حقوق اور (بے جا) شخصی آزادیوں کے بل بوتے پر ایسا کرتے ہیں۔ درحقیقت مسلمان اپنے مذہب کے مطابق زندگی بسر کرتے ہیں، جبکہ ہم میں ایسی کوئی بات نہیں۔ مسلمان لاتعداد مرتبہ گردش زمانہ کا شکار ہوئے، لیکن انہوں نے اپنے عقائد نہیں بدلے۔ میتھیو آرنلڈ نے جب ”سمندر کی طویل مگر دم توڑتی ہوئی چنگھاڑ“ (Sea's long withdrawing roar) کے عنوان کے تحت نظم لکھی، اس کے بعد اس نے اپنے عقیدے سے منہ موڑ لیا یا یوں کہنا زیادہ مناسب ہو گا کہ
ہمارے عقائد بھی کہیں کھو گئے۔ یہی وجہ ہے کہ ہم ”عیسائی بمقابلہ اسلام“ کی بجائے ”مغرب بمقابلہ اسلام“ کی بات کرتے ہیں، کیونکہ یورپ میں عیسائیوں کی تعداد زیادہ نہیں۔ ہم مذاہب عالم (کے نمائندوں) کو اکٹھا کر کے یہ نہیں پوچھ سکتے کہ ہمیں پیغمبر کا مضحکہ اڑانے کی اجازت کیوں نہیں دی جاتی۔
علاوہ ازیں ہم مذہبی محسوسات پر اپنی ذاتی ریا کاری کو بھی حاوی کر سکتے ہیں۔ مجھے یاد ہے کہ کم و بیش ایک عشرہ قبل ”عیسیٰ کو (شیطان کی) آخری ترغیب“ (The last-temptation of Christ) کے نام سے بنائی گئی ایک فلم میں حضرت عیسیٰ کو کسی عورت کے ساتھ (نعوذ باللہ) جنسی اختلاط کرتے دکھایا گیا تھا۔ پیرس کے جس سینما میں وہ فلم دکھائی گئی، اسے کسی نے آگ لگا دی اور نتیجتاً ایک فرانسیسی نوجوان اپنی جان گنوا بیٹھا۔ مجھے یہ بھی یاد ہے کہ تقریباً تین سال قبل ایک بڑی امریکی یونیورسٹی میں مجھے لیکچر دینے کے لیے مدعو کیا گیا تھا۔ میں نے جو لیکچر دیا، اس کا عنوان تھا : ”11 ستمبر 2001ء، یہ ضرور پوچھیں کہ وہ کس کا کیا دھرا تھا، لیکن خدا کے لیے یہ دریافت مت کریں کہ ایسا کیوں کیا گیا؟“ (September 11, 2001 ask who did it but for God's sake ...... don't ask why)...... جب میں یونیورسٹی پہنچا تو میرے علم میں لایا گیا کہ یونیورسٹی حکام نے ”خدا کے لیے“ (For God's sake) کی ترکیب عنوان میں سے حذف کر دی ہے۔ میرے استفسار پر بتایا گیا کہ ”ہم بعض اہل عقل و خرد کو ناراض نہیں کرنا چاہتے تھے۔“ واہ جی واہ! اس کا مطلب ہوا کہ ہم میں بعض ”اہل عقل و خرد“ بھی پائے جاتے ہیں۔
دوسرے لفظوں میں جب ہم یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ آزادی اظہار یا بازاری قسم کے کارٹونوں کی اشاعت کے حوالے سے مسلمان ہر صورت میں سیکولرازم کے اچھے پیروکار ثابت ہوں۔ ہمیں ان لوگوں کے بارے میں بھی اتنا ہی فکر مند ہونا چاہیے، جو ہمارے عظیم اور قیمتی مذہب سے وابستہ ہیں۔ میں ان یورپی سیاستدانوں کے (بظاہر) رعب دار دعووں سے بھی محظوظ ہوا، جن کا موقف ہے کہ وہ آزادی اظہار یا اخبارات پر کوئی قدغن عائد نہیں کر سکتے۔ یہ بھی انتہائی غیر معقول موقف ہے۔ اگر پیغمبر کی بجائے ہم کسی یہودی ربی کا کارٹون شائع کر دیں، جس نے سر پر یمکا نما ٹوپی پہن رکھی ہو تو یہودیوں کی چیخ و پکار ہماری سماعت سے ٹکرانے لگتی ہے کہ یہ ”یہودیت کی مخالفت“ ہے۔ مصری اخبارات میں شائع ہونے والے یہود
مخالف کارٹونوں کے خلاف اسرائیلی مجسم شکایت بنے نظر آتے ہیں۔
مزید برآں بعض یورپی ممالک مثلاً فرانس، جرمنی اور آسٹریا میں نسل کشی کے واقعات سے انکار قانوناً ممنوع قرار دے دیا گیا ہے۔ مثلاً فرانس میں یہ کہنا قانون شکنی تصور کیا جاتا ہے کہ یہودیوں اور آرمینائی عوام کا قتل عام (ہولوکاسٹ) وقوع پذیر نہیں ہوا تھا۔ (ذرا انتظار کریں، جب ترکی یورپی یونین میں شامل ہوگا تو اسے بھی اس مسئلے کا سامنا کرنا پڑے گا) لہٰذا یہ نتیجہ اخذ کیا جاسکتا ہے کہ یورپی ممالک میں بعض بیانات جاری کرنے کی اجازت نہیں دی جاتی۔ مجھے ابھی تک اس امر پر شک ہے کہ ایسے قوانین اپنے مقاصد حاصل کر لیتے ہیں، اگر ”ہولوکاسٹ“ کے انکار سے قانوناً روک بھی دیا جائے تو یہود مخالف حلقے یہودیوں کو زچ کرنے کا کوئی اور طریقہ دریافت کرلیں گے۔
مختصر یہ کہ ہم یہود مخالف کارٹونوں کی اشاعت یا ہولوکاسٹ سے انکار کو روکنے کے لیے نہ تو کوئی سیاسی قدغن لگا سکتے ہیں نہ اس حوالے سے بنائے گئے قوانین ہی کارگر ثابت ہوسکتے ہیں۔ (اپنی اس ناکامی کو چھپانے کے لیے) جب ہم مسلمانوں کی دل آزاری کا باعث بننے والا مواد شائع کرتے ہیں تو ان کا معترض ہونا فطری سی بات ہے۔ ان کے اعتراض کرنے پر ہم سیکولر ازم کا ڈھنڈورا پیٹنا شروع کر دیتے ہیں۔
اس قابل نفرین واقعہ پر ”اسلامی ردعمل“ اکثر مسلمانوں کے لیے باعث پریشانی بنا ہوا ہے۔ اس امر پر یقین کر لینے کی معقول وجوہ موجود ہیں کہ مسلمان اپنے مذہب میں اصلاح کے عنصر کو خوش آمدید کہیں گے۔ اگر اس کارٹون کی اشاعت کے پس پردہ یہ مقصد کارفرما تھا کہ اس معاملے کو قابل بحث بنانے والوں کو تقویت ملے اور اگر اس کی اشاعت کے باعث سنجیدہ مذاکرات کی اجازت مل جاتی تو کوئی بھی برا نہ مانتا، لیکن صاف لگ رہا ہے کہ اس کا مقصد ہی طیش دلانا تھا۔ یہ اس قدر مجرمانہ اور غیر اخلاقی تھا کہ شدید ردعمل کا باعث بن گیا۔ یہ وقت سیموئیل ہٹنگٹن کے ”تہذیبوں کے ٹکراؤ“ سے متعلقہ پرانا کیچڑ اچھالنے کے لیے ہرگز موزوں نہیں۔ ایران میں ایک مرتبہ پھر مذہبی حکومت برسر اقتدار آچکی ہے۔ جہاں تک عراق کا تعلق ہے، وہاں ہم نے ایک آمر کو معزول کیا اور جہاں آمروں کو معزول کرکے انتخابات کرائے جاتے ہیں، وہاں عام طور پر مذہبی طور پر منتخب حکومت برسر اقتدار آجاتی ہے۔ ہم نے بھی یہ خواہش نہیں کی تھی کہ عراق میں مذہبی حکومت آئے، لیکن ہماری خواہشات کے عین
برعکس یہ ”حادثہ“ رونما ہوچکا ہے۔
مصر کے حالیہ پارلیمانی ا لی ہیں۔ ”حماس“ فلسطین کی حاکم ب پوشیدہ ہے وہ یہ کہ حکومتیں بدلنے اور اپنے مقاصد کے حصول میں ناکام ر کر رکھے تھے، وہاں رائے دہندگا ہوئے الاؤ پر ڈنمارک سے شائع ہ ہو سکتا ہے۔ زیر بحث کارٹون میں ال حالانکہ ایسی کوئی بات نہیں۔ کیا ہم کارٹونوں میں دکھائی ہے؟
برعکس یہ ’حادثہ‘ رونما ہو چکا ہے۔ مصر کے حالیہ پارلیمانی انتخابات میں ”اخوان المسلمین“ نے 20 فیصد نشستیں جیت لی ہیں۔ ”حماس“ فلسطین کی حاکم بن چکی ہے اور ان تمام حقائق میں ہمارے لیے ایک پیغام پوشیدہ ہے وہ یہ کہ حکومتیں بدلنے اور مشرق وسطیٰ میں جمہوریت کے نفاذ پر مبنی امریکی پالیسیاں اپنے مقاصد کے حصول میں ناکام رہیں۔ ہم نے جن ملکوں کے عوام پر بدعنوان حکمران مسلط کر رکھے تھے، وہاں رائے دہندگان اب اسلام کو ترجیح دے رہے ہیں۔ آگ کے اس جلتے ہوئے الاؤ پر ڈنمارک سے شائع ہونے والے کارٹونوں کو ”انڈیلنا“ واقعتاً خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔ زیر بحث کارٹون میں اسلام کو ایک تشدد پسند مذہب کے طور پر اُجاگر کیا گیا ہے، حالانکہ ایسی کوئی بات نہیں۔ کیا ہم چاہتے ہیں کہ اسلام وہی شکل اختیار کر لے جو ہم نے کارٹونوں میں دکھائی ہے؟
لیفٹیننٹ کرنل (ر) سفیر احمد صدیقی
توہین آمیز خاکوں کی اشاعت اور مغرب کا رویہ
گزشتہ ستمبر 2005ء میں ڈنمارک کے اخبار ”Jyllands Posten“ نے جب ہمارے رسول اقدس، ہادی برحق، سرور کونین حضرت محمد ﷺ کی شان میں گستاخی کرتے ہوئے توہین آمیز خاکے شائع کیے تو ان دنوں عالم اسلام نے احتجاجی آواز ضرور بلند کی لیکن جب گزشتہ ہفتے یورپ کے متعدد ممالک کے اخباروں نے ان قابل مذمت خاکوں کو دوبارہ شائع کیا تو جکارتا سے لے کر استنبول تک مسلمان نہ صرف سراپا احتجاج بن گئے بلکہ ان کے غم و غصے نے آتش فشاں کا روپ دھار لیا۔ روئے زمین پر مسلمانوں کے جذبہ ایمانی اور عشق رسول ﷺ کا لاوا اتنی تیزی سے بہہ رہا ہے اور ایسا ارتعاش پیدا کر رہا ہے کہ مغربی قوتیں فکر مند ہو کر اس سیل رواں کو روکنے کی تدابیر پر غور و خوض کر رہی ہیں۔ انہیں شاید یہ احساس ہو گیا ہے کہ ان کی یہ حرکت نہ صرف مسلمانوں کے جذبات کو مجروح کرنے کی مذموم کوشش ہے بلکہ ایسی سازشیں تہذیبوں کے درمیان تصادم کا محرک اور موجب بن سکتی ہیں۔
مجھے امید تھی کہ ڈنمارک کی حکومت اپنے ملک کے اخبار جائی لینڈز پوسٹین کی شرانگیزی پر عالم اسلام سے غیر مشروط طور پر معافی مانگ کر مجرموں کو کیفر کردار تک پہنچائے گی لیکن وہ تو ٹس سے مس نہیں ہوئی ہے بلکہ بہت سے اسلامی ملکوں سے اس نے اپنے سفیر واپس بلا لیے ہیں۔ آئیے اس بات کا جائزہ لیتے ہیں کہ دنیا بھر کے مسلمانوں کے جذبات کو مجروح کرنے کے باوجود وہ معافی مانگنے کا غیر منطقی رویہ کیوں اختیار کیے ہوئے ہے۔ جب جارج بش جیسے Hot Headed صدر نے نائن الیون سے پیدا شدہ صورت حال کے بعد مسلمانوں کے خلاف ”Crusade“ یعنی صلیبی جنگ کا تصور پیش کیا تھا تو انہیں جلد ہی اپنی غلطی کا احساس ہو گیا تھا۔ انہوں نے اسے جذبات کی رو میں بہہ جانے والی Slip Of tongue کہہ کر مسلمانوں کی غلط فہمیاں دور کی تھی۔ ڈنمارک کی حکومت کا کہنا ہے کہ ان کے
ملک میں آزادی اظہار رائے (Freedom of expression) کا بڑا لحاظ رکھا جاتا ہے۔ اور اخبار چاہے جو لکھیں حکومت اس معاملے میں کوئی مداخلت نہیں کرسکتی۔ عالم اسلام کے مسلمانوں کے جذبات کو مجروح کر کے معافی نہ مانگنا یا ان کے زخموں پر پھاہا نہ رکھنا یقیناً ایسا رویہ ڈنمارک کی حکومت کی مسلم دشمنی پر مبنی مجرم ذہنیت کی عکاسی کرتا ہے۔ اگر مغرب میں آزادی صحافت کی اتنی قدرومنزلت ہے تو یورپ کے سات ممالک میں یہ کہنا غلط اور غیر قانونی کیوں ہے کہ ہٹلر نے 6 ملین یہودیوں کو موت کے گھاٹ نہیں اتارا تھا۔ مغرب کے دوہرے معیار کی ایک اور جھلک ملاحظہ کیجیے: لندن میں فنس بری پارک مسجد کے امام ابوحمزہ کو سات سال کی قید سنا دی گئی کہ جج کے خیال میں امام نے اپنے خطبے میں ایسی اشتعال انگیز زبان استعمال کی تھی جس سے سامعین مشتعل ہو کر قتل و غارت گری کے مرتکب ہو سکتے تھے۔ اس کے برعکس ایک برطانوی جج نے گروہی منافرت پھیلانے کے الزام میں مقدمہ چلائے جانے والے ایک ملزم گریفن جو کہ ایک بدنام زمانہ متعصب برطانوی شہری ہے، بغیر کسی سزا کے بری کر دیا۔ گریفن نے اسلام کو بدطینت اور فاسد ”Vicious & Wicked“ مذہب قرار دیا تھا۔
توہین رسالت ﷺ سے متعلق دو تین واقعات کا ذکر کرنا یہاں غیر مناسب نہ ہوگا۔ دو سال قبل ہالینڈ کے ایک فلم پروڈیوسر نے ایک ایسی فلم بنائی جس میں اسلام، اللہ اور اس کے رسول ﷺ کو تمسخر کا نشانہ بنایا گیا۔ ہالینڈ کے ایک مسلمان سے یہ توہین برداشت نہ ہوئی، اس نے اس پروڈیوسر کو بلا تاخیر قتل کر کے عبرت کا نشانہ بنا دیا۔ 80 کی دہائی میں مکروہ شکل سلمان رشدی نے مسلمانوں کی مقدس کتاب کو اپنے شیطانی نظریات کا ہدف بنایا تو پورے عالم اسلام میں اس ابلیس کے خلاف غم و غصے کی لہر دوڑ گئی۔ وہ ملعون آج بھی زیرِ زمین ہے۔ بنگلہ دیش کی گمراہ خاتون مصنفہ تسلیمہ نسرین نے سستی شہرت حاصل کرنے کے لیے یہ اعلان کیا کہ نعوذ باللہ قرآن مجید کو ”Revise“ کرنے کی ضرورت ہے۔ بنگلہ دیش کے سادہ لوح مسلمانوں کے لیے ایسے توہین آمیز بیان برداشت کے قابل نہ تھے۔ لاکھوں فرزندانِ توحید ہاتھوں میں درانتیاں لے کر تسلیمہ کو قتل کرنے کے ارادے سے گھروں سے نکل پڑے۔ قریب تھا کہ وہ قتل کر دی جاتی، کچھ ”غیبی“ طاقتوں نے اسے بنگلہ دیش سے نکال کر محفوظ جنت میں پہنچا دیا۔ کہتے ہیں اس نے یہ ذلیل حرکت انہی کے ایما پر کی تھی۔
”Jyllands posten“ کے ایڈیٹر فلیمنگ روز سے جب پوچھا گیا کہ کیا
محمد ﷺ کے خاکے بنا کر اس نے مذمت دین (Blasphemy) کے جرم کا ارتکاب نہیں کیا؟ تو اس نے جواب دیا کہ ڈنمارک کے وکلا اس بات کا تعین ایک ماہ پہلے کر چکے ہیں کہ خاکوں کی اشاعت سے مذمت دین کا آپس میں کوئی واسطہ نہیں۔ اس نے مزید یہ بتایا کہ اس نے Cartoonist سے صرف اتنا کہا تھا کہ وہ اپنے ذہنی تصور کے مطابق محمد ﷺ کی تصویر بنائیں۔ میں نے انہیں ہرگز یہ نہیں کہا تھا کہ وہ ایسے خاکے بنائیں جس سے مسلمانوں کی دل آزاری ہو۔ امر واقعہ یہ ہے کہ ڈنمارک کے کارٹونسٹ ہی دل میں جانتے تھے کہ جب وہ ایسے اشتعال انگیز کارٹون بنائیں گے تو دنیائے اسلام میں شدید ردعمل ہوگا اور لازمی طور پر اپنے غم و غصے کا اظہار کے لیے وہ تشدد کا راستہ اختیار کریں گے جس سے مذہب اسلام کے خلاف ایک منفی جذبہ ابھرے گا۔ یورپ میں مسلمانوں کے ساتھ ناروا سلوک برتنے میں یکا یک تیزی آجائے گی۔
Jylland posten کے ایڈیٹر انچیف کارسٹین پوستے کی طرف سے دنیا بھر کے مسلمانوں کو لکھے گئے ایک بیان میں توہین آمیز خاکوں سے لاتعلقی کا اظہار کیا گیا ہے اور اس نے کہا ہے کہ "میں مسلمانوں کے جذبات کو ٹھیس پہنچانے پر معافی مانگتا ہوں۔ ہم نے یہ خاکے دل آزاری کے لیے نہیں چھاپے تھے ۔" دراصل بہت جلد ڈنمارک کی حکومت بھی اس قسم کی معافی مانگے گی۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ پہلے اتنی خودسری کا مظاہرہ کرنے کے بعد اخبار کے ایڈیٹر انچیف مصالحتی راستہ اختیار کرنے پر کیوں مجبور ہو رہے ہیں؟ میری دانست میں اس کی وجہ مسلم دنیا کی طرف سے ڈنمارک کی مصنوعات کا مکمل بائیکاٹ ہے۔ ایک سروے کے مطابق اگر صرف اردن جیسے چھوٹے ملک نے ڈنمارک کی مصنوعات کا اگلی گرمیوں تک بائیکاٹ جاری رکھا تو ڈنمارک کو 36 بلین یوروز کا نقصان ہونے کا خدشہ ہے۔ ڈنمارک، سویڈن کی مشترکہ کمپنی جو مشرقی وسطیٰ کو Dairy Products فراہم کرتی ہے اس کے مندوب کا کہنا ہے کہ ان کی مصنوعات کے بائیکاٹ سے انہیں اب تک 50-40 ملین ڈالر کا نقصان ہو چکا ہے اور ہر دن 1.6 ملین ڈالر کا نقصان ہو رہا ہے۔ کمپنی کو اتنا نقصان ہو رہا ہے کہ انہوں نے 170 ملازمین کو نوکری سے فارغ کر دیا ہے۔ نائیجیریا نے ڈنمارک کے ساتھ ہائیڈرو الیکٹرک پلانٹ خریدنے سے متعلق جس کی لاگت 25 ملین ڈالر بتائی جاتی ہے، اپنے مذاکرات ملتوی کر دیے ہیں۔ نائیجیریا ڈنمارک سے 72 نئی بسیں خرید رہا تھا، وہ ٹھیکہ بھی منسوخ کر دیا گیا۔ انڈونیشیا کی درآمدات کی ایسوسی ایشن نے ڈنمارک کی مصنوعات کے
بائیکاٹ کا آغاز کر دیا ہے جس جب توہین آمیز خاکوں کی اشاعت گیارہ سفیروں نے ڈنمارک کے انہیں کسی بہانے سے ایسی ملاقات اس سلسلے میں کوئی پریس کانفرنس پسینے آنے شروع ہوئے۔ جب ڈنمارک کی مصنوعات کا بائیکاٹ درجہ رکھتی ہے جب مسلم دنیا ٹھکانے آ جائیں گے۔
مسلمانوں کے خلاف انتہائی ضروری ہے۔ قرونِ وسطیٰ سے ہرزگوینا میں سربوں کے ہاتھوں ہے۔ یورپ میں مسلمانوں کو روکا جاتا ہے۔ انہیں Others کریں گے کہ پچھلے 20 سال دارالحکومت کوپن ہیگن میں ایک ہے اور تو اور ڈنمارک جس کی ہیں، ان کا کوئی اجتماعی قبرستان حالیہ دنوں میں وزیراعظم فوگ ہے۔ ان کی عوام ان سے معافی تک نہیں مانگ رہے کے لیے ضروری ہے کہ گاہے پیمائی کی جائے۔ ان کے کہ انہیں مشتعل کیا جائے اور
بائیکاٹ کا آغاز کر دیا ہے جس سے ڈنمارک کو 74 ملین ڈالر سالانہ کا نقصان ہوگا۔ کہتے ہیں جب توہین آمیز خاکوں کی اشاعت سے مسلمانوں کے جذبات کو ٹھیس پہنچی تو مسلم ممالک کے گیارہ سفیروں نے ڈنمارک کے وزیراعظم فوگ راسموسین سے ملاقات کرنے کی کوشش کی لیکن انہیں کسی بہانے سے ایسی ملاقات سے روک دیا گیا۔ یہاں تک کہ ڈنمارک کے وزیراعظم نے اس سلسلے میں کوئی پریس کانفرنس بھی منعقد نہیں کی۔ ڈنمارک کے وزیراعظم کو اس وقت ٹھنڈے پسینے آنے شروع ہوئے۔ جب دنیا بھر کے مسلمانوں نے یکجہتی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ڈنمارک کی مصنوعات کا بائیکاٹ کرنا شروع کر دیا۔ تجارت ڈنمارک کے لوگوں کے لیے خدا کا درجہ رکھتی ہے جب مسلم دنیا کے مال کا بائیکاٹ کرے گی تو ان خودسر لوگوں کے دماغ خود ہی ٹھکانے آ جائیں گے۔
مسلمانوں کے خلاف یورپ میں کیا جذبات ہیں اس کی ایک جھلک پیش کرنا انتہائی ضروری ہے۔
قرون وسطیٰ سے یورپ میں مسلمانوں کو نفرت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ بوسنیا ہرزگووینا میں سربوں کے ہاتھوں مسلمانوں کا قتل عام دنیا کے ضمیر کو جھنجھوڑنے کے لیے کافی ہے۔ یورپ میں مسلمانوں کو حقیر سمجھا جاتا ہے۔ ان کو سوسائٹی میں مدغم ہونے سے دانستہ طور پر روکا جاتا ہے۔ انہیں Others کی کیٹیگری میں شمار کیا جاتا ہے۔ قارئین! کیا آپ یہ یقین کریں گے کہ پچھلے 20 سالوں سے مسلمان اس کوشش میں لگے ہوئے ہیں کہ ڈنمارک کے دارالحکومت کوپن ہیگن میں ایک مسجد تعمیر کریں لیکن وہاں کی حکومت ٹال مٹول سے کام لے رہی ہے اور تو اور ڈنمارک جس کی کل آبادی 5.4 ملین ہے اور جہاں مسلمان 2 لاکھ کے لگ بھگ ہیں، ان کا کوئی اجتماعی قبرستان نہیں ہے۔ ڈنمارک کی مسلم دشمنی اور بھی عیاں ہو جاتی جب حالیہ دنوں میں وزیراعظم فوگ راسموسین کی مقبولیت 52.6 فیصد سے بڑھ کر 55.5 فیصد ہوگئی ہے۔ ان کی عوام ان سے بہت خوش ہے کہ وہ دنیائے اسلام سے تن تنہا ٹکر لے رہے ہیں اور معافی وافی نہیں مانگ رہے ہیں۔ کچھ یورپیوں کا خیال ہے کہ مسلمانوں کو اپنے قابو میں رکھنے کے لیے ضروری ہے کہ گاہے بگاہے ان کے عقیدے ان کے ایمان و ایقان کی طاقت کی قدر پیمائی کی جائے۔ ان کے مذہب کی طاقت کو کیسے جانچا جا سکتا ہے؟ اس کے لیے ضروری ہے کہ انہیں مشتعل کیا جائے اور پھر ان کے ردعمل کو ٹھنڈے دماغ سے جانچا جائے۔
آزادی اظہار رائے کی آڑ میں عیسائی مذہب کے ماننے والوں نے دین اسلام سے جس قسم کی نفرت کا کھلم کھلا اظہار کیا ہے اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ عیسائی دنیا میں ان خاکوں کو کم از کم 75 اخباروں میں شائع اور 200 ٹی وی اسٹیشنوں سے نشر کر کے اللہ کے آخری نبی محمد ﷺ کی توہین کی مذموم کوشش کی گئی ہے۔ اس قسم کی کھلی دشمنی سے یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ یہ کوئی اتفاقیہ حادثہ نہیں ہے بلکہ اس کی کڑیاں قدیم صلیبی جنگوں سے ملائی جاسکتی ہیں۔ ایسا رویہ اسلام اور عیسائیت کے درمیان کشمکش کی علامات ظاہر کر رہے ہیں جسے تہذیبوں کا تصادم بھی کہہ سکتے ہیں۔
ڈنمارک کے پینل کوڈ سیکشن 266/B کے مطابق کوئی شخص اگر کھلے عام یا اس نیت سے ایسے مواد کی تشہیر کرتا ہے یا ایسے بیانات دیتا ہے یا ایسی اطلاع فراہم کرتا ہے جس سے کسی دوسرے شخص یا گروہ کو اس کے رنگ، نسل، مذہب، عقیدے اور فرقے کی بنیاد پر دھمکی دینا یا توہین کرنا مقصود ہو تو ایسے شخص پر جرمانہ عائد کیا جاسکتا ہے۔ عارضی طور پر حوالات میں بھیجا جاسکتا ہے یا اسے جیل میں قید کیا جاسکتا ہے جس کی مدت 2 سال سے تجاوز نہ کرے۔ اگر ڈنمارک کا پینل کوڈ ایسے جرم کے مرتکب لوگوں کو جیل بھیجنے کی اجازت دیتا ہے تو ابھی تک جائی لینڈز پوسٹن کے کلچر ایڈیٹر فلیمنگ روز جو اس سازش کا مرکزی کردار ہے اور ایڈیٹر انچیف کارسٹین یوسٹے کو جیل کیوں نہیں بھیجا گیا ہے؟ انہیں حکومت تحفظ کیوں فراہم کر رہی ہے؟
جائی لینڈ پوسٹن کے خلاف جو بات جاتی ہے اس کا انکشاف ”دی گارڈین“ نے کیا ہے۔ کچھ ہی دن پہلے مذکورہ اخبار نے عیسائیت کے خلاف بنائے جانے والے کارٹون کے خالق کرسٹوفر زیلر سے معذرت کی تھی اور اس کے کارٹونوں کو رد کرتے ہوئے کہا تھا کہ ایسے کارٹونوں کو دیکھ کر لوگ شاید ہی محظوظ ہوں بلکہ اس کی اشاعت سے تو عیسائی مذہب کے پیروکاروں میں غم و غصے کی لہر دوڑ جائے گی۔ لہٰذا ہم ایسے کارٹونوں کو نہیں چھاپ سکتے ہیں۔ اخبار کے سنڈے ایڈیٹر جینس کئیر کے الفاظ سے ایسا لگتا ہے کہ آزادی خواہ اس کا تعلق کسی شعبہ حیات سے ہو، ایسی آزادی ذمہ دار آزادی ہونی چاہیے۔ کسی مفکر نے کیا خوب کہا ہے۔
“Your Liberty Ends Where My Nose Begins.”
ڈاکٹر عامر لیاقت حسین
بے شرم ہڈیوں سے لپٹا احسان فراموش گوشت
55 سالہ ہم جنس پرست سویڈش کارٹونسٹ لارس ولکس Larse Vile ذہنی مریض ہے نہ سستی شہرت کا طالب۔۔۔ البتہ مغرب کے اُس مخصوص رویے کا چہرہ اور ترجمان ضرور ہے جہاں تعصب کی بھٹیوں اور برتری کے زعم کو تہذیب کا جوہر قرار دیا جاتا ہے۔۔۔۔ 30 ستمبر 2005ء کو ڈنمارک کے اخبار جیلنڈ پوسٹن کے صفحات پر بکھری ہوئی غلاظت کو شاید اِسی کارٹونسٹ نے چاٹ کر اپنے معدے میں نفرت سے محفوظ کر رکھا تھا اور 19 اگست 2007ء کو اسٹاک ہوم کے مقامی اخبار Nerikes Allenda کے قرطاس اُسی کی الٹی سے سنے اور بدبو سے بھرے ہوئے تھے۔۔۔ کیا وجہ ہے کہ اپنی بہنوں، بیویوں اور بیٹیوں کے برہنہ رقص دیکھنے والے۔۔۔ بے لباس رہنے پر فخر کرنے والے۔۔۔ شراب اور سؤر کو اپنی غذا کا حصہ بنانے والے اور کتوں کا منہ چوم چوم کر انسانی زندگی کے حیوانی مزے لوٹنے والے یہ چوپایوں سے بدتر انسان وقفے وقفے سے نبی کریم ﷺ کی شانِ اقدس میں گستاخیاں کرتے ہیں۔۔۔؟ کبھی ملکہ برطانیہ کی جانب سے ملعون رشدی کو ”سر نائٹ ہڈ“ کا خطاب دیا جاتا ہے تو کبھی عورتوں اور زیر جامے پر (نعوذ باللہ) مقدس کلمات لکھے جاتے ہیں۔۔۔ کبھی امریکی افواج کی جانب سے افغانستان کے صوبے خوست میں ایسے فٹ بال گرائے جاتے ہیں جن پر سعودی عرب کا پرچم اور کلمہ طیبہ چھپا ہوتا ہے تو کبھی گوانتاناموبے کے ٹوائلٹس میں (معاذ اللہ) قرآن کریم کے مقدس اوراق شہید کیے جاتے ہیں۔۔۔! کہیں یہ مسلمانوں کی دینی حرارت اور مذہبی غیرت ماپنے کا پیمانہ تو نہیں۔۔۔؟ کہ مسلمانوں کے سینے میں جلتی ہوئی آتشِ عشق سرد ہوگئی یا اب بھی بھڑک رہی ہے۔۔۔؟ مدت سے یہود و نصاریٰ جانتے ہیں کہ مسلمانوں کے عشق کے پیمانے صرف اپنے نبی ﷺ کی محبت سے نہیں بھرے بلکہ گستاخ سے نفرت، جاں ثاری کی ابتدائی منزل ہے۔۔۔ اور شاید گاہے بگاہے بے ہودہ، گھٹیا، رکیک اور غلیظ حملے کر کے یہ اِسی غیرت ایمانی کو جانچتے رہتے ہیں۔۔۔ کیونکہ ان کے ہاں تو اللہ اور اُس کے رسولوں کی
توہین محض ایک کاروبار اور آزادی اظہار ہے اور یہ اسی آزادی اظہار کے نام پر نفرت کے زہر میں بجھے ہوئے خنجر سے تہذیب، احترام اور شائستگی کو ہر روز بے دردی سے قتل کرتے ہیں...... ان کے ہاں تو اللہ، رسول اور مقدس کتاب کی توہین کے بعد جاں خلاصی کے لیے باقاعدہ نرخ مقرر ہیں...... مسیح ؑ کو برا کہنے والا امریکہ میں ہے تو جنرل لا کے 272 Chapter کے سیکشن 36 کے مطابق اسے صرف تین سو ڈالر دینے ہیں اور چھوٹ جانا ہے...... یعنی یسوع مسیح کی توہین یہ برداشت کر لیتے ہیں مگر تین سو ڈالر کے عوض...... بے شرمی کی انتہا ہے، سور کھاتے ہیں نا اسی لیے...... اور اگر شاتم رسول یا نظریہ تثلیث (Trinity) کا مذاق اڑانے والا برطانیہ میں ہے تو وہاں کے Blasphemy Law کے مطابق پانچ سو پاؤنڈ جرمانے کی ادائیگی کے بعد اُسے یہ کہہ کر چھوڑ دیا جائے گا کہ ”آئندہ ایسا نہیں کرنا ورنہ دوبارہ پانچ سو پاؤنڈ دینے پڑیں گے!“ اور یہاں پر بھی نوٹ لے کر ”توہین آمیز نوٹ“ قبول کرلیا جاتا ہے...... اسی طرح فن لینڈ کے Penal Code کے 17 Chapter کے سیکشن 10، جرمنی کے Penal Code کے آرٹیکل 166، آئرلینڈ کے Irish Constitution، نیدرلینڈ کے Penal Code کے آرٹیکل 147، نیوزی لینڈ کے 1961 Crime Act کے سیکشن 123، ناروے کے نورویجین Penal Code کے سیکشن 142، اسپین کے Penal Code کے آرٹیکل 525 اور سوئٹزرلینڈ کے Penal Code کے آرٹیکل 261 میں ”گالی دو تو پیسہ دو“ کا قانون آج بھی یہودا کی ایما پر یسوع مسیح کو سولی پر چڑھانے کا حکم دینے والے بادشاہ پیلاطوس کی اُس ننگی روایت کو تسکین پہنچا رہا ہے کیونکہ اُس نے (مسیحی بھائیوں کے عقیدے کے مطابق کیونکہ ہمارا یہ عقیدہ نہیں) یسوع مسیح کو قتل کرنے کے بعد بی بی مریم علیہا السلام کو ”خون بہا“ ادا کرنے کی پیش کش کی تھی اور نبی پیدا کرنے والی پاک ماں نے اُسے دھتکار دیا تھا...... مگر یہ تو پیسے لے لیتے ہیں اور پال، پیٹر، جاشوا، لوکس، متی، جیمس اور برنباس کے سینوں پر چھریاں چلاتے ہیں دوسری جانب پاکستان، سعودی عرب اور ایران فخر کرتے ہیں کہ حضور پر نور، شافع یوم النشور، فخر دو جہاں اور نبی آخرالزماں حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی ذات بابرکات ہماری نگاہوں کا مرکز ہے اور ان خطوں میں توہین رسالت کرنے والا، بالخصوص بدبخت مسلمان پیسے دے کر نہیں، جان دے کر ہی چھوٹتا ہے...... ہمارے نزدیک ایمان کا تقاضا تو یہ ہے کہ اُن ہاتھوں کو قطع کر دیا جائے جو نبی ﷺ کی گستاخی رقم کرتے ہیں...... اُس زبان کو کھینچ لیا جائے جو اہانت اور تضحیک کی مرتکب ہوتی ہے...... اُن آنکھوں کو نکال لیا جائے جن میں لفظ
”محمد ﷺ“ دیکھ کر اساس ہے بلکہ خود ا گستاخ کے ساتھ فرد کیا جاسکتا بلکہ حقیقت وابستگی اور غیرت ایم گے۔۔۔ اگر یہ رشتہ کم یقین لرز گیا۔ عقیدہ ت آخرالزماں ﷺ کی گستاخ کے لیے مر ہے۔۔۔ اگر کسی شخص اُسے معاف فرمادیا حاصل نہیں۔۔۔ حضو کردے تو یہ حسن عم ہونے والے ان مغر بین المذاہب ہم آہ مستقبل میں تہذیب جناب خورشید محمود ق ممالک، توہین آمیز مسلمانوں کی دل آز رشدی، جیلنڈ پوسٹ جان لینا چاہیے کہ کی ڈھیل سمجھیں کیو قطرے نے ان ج رسالت کا شہید بھ صرف جیل اور کھان
”محمد ﷺ“ دیکھ کر بغض کے ڈورے تیرنے لگتے ہیں۔۔۔۔۔ یہ جذبہ صادق نہ صرف ایمان کی اساس ہے بلکہ خود ایمان ہے کیونکہ جلالِ حضور ﷺ سے عشق و محبت، ایمان کا تقاضا ہے، وہیں گستاخ کے ساتھ نفرت اور غیظ و غضب بھی ایمان کا اُبال ہے۔۔۔۔۔ دونوں کو ایک دوسرے جدا نہیں کیا جا سکتا بلکہ حقیقت تو ہے کہ ہم زندہ ہی اس ناموس کی برکت سے ہیں۔۔۔۔۔ جب تک اِس سے وابستگی اور غیرتِ ایمان کا ارتباط ناموسِ مصطفیٰ ﷺ کے ساتھ ہے، تب تک ہم بھی زندہ رہیں گے۔۔۔۔۔ اگر یہ رشتہ کٹ گیا، کمزور پڑ گیا، دراڑ آ گئی یا متزلزل ہو گیا تو سمجھ لیجیے کہ ایمان کمزور ہو گیا، یقین لرز گیا، عقیدے اور عقیدت کا پودا جل گیا اور ہم زندوں سے بدتر ہو گئے۔۔۔۔۔ دل میں نبی آخر الزماں ﷺ کی محبت و عقیدت نہ ہونا بھی ایک طرح سے بے ادبی ہے اور گستاخی کرنا یا گستاخ کے لیے نرم گوشہ رکھنا گناہِ کبیرہ ہے جبکہ اُس کو ٹھکانے نہ لگانا ایک ناقابلِ عفو جرم ہے۔۔۔۔۔ اگر کسی شخص نے شہنشاہِ عالمین ﷺ کے عہدِ مبارک میں توہین کی اور آپ ﷺ نے اُسے معاف فرما دیا تو یہ حسنِ خلق اور وصفِ رحمت للعالمین تھا لیکن امت سے کسی کو یہ اختیار حاصل نہیں۔۔۔۔۔ حضور ﷺ اپنا حق معاف فرما سکتے ہیں لیکن اگر امتی کسی بد زبان کو نظر انداز کر دے تو یہ حسنِ خلق نہیں، بے حمیتی اور بے غیرتی ہو گی۔ لہٰذا کتوں کی زبان چوس چوس کر بڑے ہونے والے ان مغربی دانشوروں کو اب یہ جان لینا چاہیے کہ تواتر سے کی جانے والی یہ گستاخیاں بین المذاہب ہم آہنگی کی اُن کوششوں پر بھی کاری ضرب لگا رہی ہیں جن کے ذریعے شاید مستقبل میں تہذیبوں کے ممکنہ تصادم کو روکا جا سکتا ہے۔۔۔۔۔ ان حالات میں پاکستانی وزیرِ خارجہ جناب خورشید محمود قصوری کی اِس تجویز کا سنجیدگی سے جائزہ لینے کی ضرورت ہے کہ ”اسلامی ممالک، توہین آمیز خاکوں کی اشاعت کا معاملہ اقوام متحدہ میں اٹھائیں کیونکہ مغربی میڈیا مسلمانوں کی دل آزاری کے ذریعے نفرتوں کے بیج بو رہا ہے“۔۔۔۔۔ رہی بات سوئیڈش کارٹونسٹ، رشدی، جیلنڈ پوسٹن کے ایڈیٹر، تسلیمہ نسرین یا ان جیسے دیگر گستاخانِ رسول ﷺ کی۔۔۔۔۔ تو یہ جان لینا چاہیے کہ ”بدترین گناہوں کے باوجود اللہ کی نعمتیں ملنے پر بغلیں بجانے والے اسے اُس کی ڈھیل سمجھیں کیونکہ جس دن رسی کھینچ گئی اور رحمانیت کے بحرِ بیکراں سے قہر کے صرف ایک قطرے نے ان پر برسنے کی اجازت مانگی تو جہاں یہ ہنستے اور بستے ہیں، وہیں یہ قطرہ ناموسِ رسالت کا شہید بن کر ان کی بے شرم ہڈیوں سے اُس احسان فراموش گوشت کو علیحدہ کر دے گا جو صرف چیل اور کووں کی امانت ہے“۔۔۔۔۔!!
حامد میر
سب سے بڑی سچائی
گیارہ ستمبر 2001ء کے بعد دہشت گردی کے خلاف نام نہاد عالمی جنگ شروع کرنے والوں کا دعویٰ تھا کہ ان کا ہدف مسلمان نہیں بلکہ صرف چند انتہا پسند ہیں۔ چند انتہا پسندوں کے خلاف شروع ہونے والی اس جنگ کو افغانستان سے عراق منتقل کیا گیا تو مسلمانوں کی ایک بڑی اکثریت میں یہ تاثر تقویت پکڑنے لگا کہ یہ جنگ دہشت گردی کے خلاف نہیں بلکہ اسلام کے خلاف ہے۔ یہ تاثر ابھرا کہ مغربی ممالک اس جنگ کے نام پر ایک طرف مسلم ممالک کے قدرتی وسائل لوٹنا چاہتے ہیں اور دوسری طرف انہیں ذہنی غلام بنانے کے لیے ان کے عقیدے پر بھی حملے شروع ہو گئے۔ اس حقیقت سے کوئی انکار نہیں کر سکتا کہ گیارہ ستمبر 2001ء کے بعد دنیا بھر میں دہشت گردی کم ہونے کی بجائے بڑھتی جا رہی ہے۔ اسلام اور مغرب کے درمیان خلیج بھی کم ہونے کی بجائے وسیع ہو رہی ہے۔ افسوس کہ مغربی ذرائع ابلاغ ان بڑھتے ہوئے فاصلوں کی ذمہ داری ہمیشہ طالبان، القاعدہ یا ”اسلامی انتہا پسندوں“ پر عائد کر کے خود کو بری الذمہ قرار دے دیتے ہیں۔ مسلم ممالک میں مغربی مفادات کی ترجمانی کرنے والے کرائے کے قلمی سپاہیوں کی بھی کمی نہیں۔ کرائے کے ان قلمی سپاہیوں نے مغرب پر تنقید کرنے والوں یا مغرب کی نفرت میں ہتھیار اٹھانے والوں کے لیے ”جہادی“ کی اصطلاح کا استعمال شروع کیا اور اب یہ قلمی گماشتے لفظ ”جہادی“ کو صرف طعنے کے لیے نہیں بلکہ گالی کے لیے بھی استعمال کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
مسلم ممالک میں ”جہادیوں“ کی مخالفت کرنے والے مغرب کے قلمی گماشتے اپنے آپ کو سیکولر اور لبرل کہتے ہیں لیکن ان کے طرز فکر کا جائزہ لیا جائے تو یہ انتہا پسندوں سے کم نہیں۔ ان میں سے اکثر تو وہ ہیں جو ایک زمانے میں سرخ انقلاب کے نام پر سوویت یونین سے رقم بٹورا کرتے تھے۔ بعض نے تو ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں سرخ انقلاب لانے کے
لیے عسکریت پسندی کا راستہ بھی اختیار کیا۔ آج کل ان میں سے اکثر امریکی حکومت کے منظور نظر ہیں اور ہر وقت پاکستان کے قبائلی علاقوں میں بم برساتے رہنے کا راگ الاپتے ہیں۔ اگر کوئی پاکستانیت کا مارا ہوا صحافی یہ سوال اٹھائے کہ مشرف حکومت نے بھارتی جاسوس کشمیر سنگھ کو تو چھوڑ دیا لیکن اس کے بدلے میں کوئی پاکستانی قیدی کیوں رہا نہیں کروایا تو یہ قلمی گوریلے ایسے صحافیوں کے خلاف آپریشن کلین اپ کرنے کا مطالبہ بھی شروع کر دیتے ہیں۔ پاکستانی عوام کی اکثریت ایک طرف، اور منہ ٹیڑھا کر کے انگریزی بولنے والے یہ چند دانشور دوسری طرف ہیں۔ یہ پوری قوم کو بے وقوف اور اپنے آپ کو عقل مند سمجھتے ہیں۔ ان کی عقل میں ابھی تک یہ بات نہیں آرہی کہ مسلم ممالک کے نوجوانوں میں مغرب کے متعلق پیدا ہونے والی انتہا پسندانہ سوچ دراصل لبرل انتہا پسندی کا ردعمل ہے۔
پچھلے دنوں اسلام آباد کی ایک سفارتی محفل میں ایک دلچسپ واقعہ پیش آیا۔ کچھ مغربی سفارتکار ایک پاکستانی ماہر اقتصادیات کے ساتھ ہالینڈ کے ایک فلم ساز کے خلاف ہونے والے مظاہروں پر تبادلہ خیال کر رہے تھے۔ یہ پاکستانی ماہر اقتصادیات طویل عرصہ تک امریکہ میں رہے جہاں وہ عالمی بینک میں ملازمت کرتے تھے اور چند سال پہلے ہی پاکستان واپس آئے ہیں۔ مغربی سفارتکار اس امریکہ پلٹ پاکستانی سے کہہ رہے تھے کہ ہالینڈ کے ایک رکن پارلیمنٹ جیٹ ویلڈرز نے قرآن پاک کے خلاف فلم بنا کر آزادی اظہار کا حق استعمال کیا ہے اور پاکستانیوں کو اس فلم کے خلاف جلسے جلوسوں کے ذریعہ اپنی جہالت کا مظاہرہ نہیں کرنا چاہیے۔ امریکہ پلٹ پاکستانی نے بڑی سنجیدگی کے ساتھ مغربی سفارتکاروں سے کہا کہ یہ مظاہرے بند ہو سکتے ہیں اگر آپ گستاخ ویلڈرز کو پکڑ کر گوانتانامو بے جیل بھیج دیں۔ تمام سفارتکاروں نے اس رائے کو مذاق سمجھ کر ٹال دیا لیکن امریکہ پلٹ دانشور سنجیدہ تھا۔ اس نے کہا کہ اگر گستاخ ویلڈرز کو گوانتانامو بے نہیں بھیجا جا سکتا تو ایک اور طریقہ ہے۔
مغربی سفارتکاروں نے بڑی دلچسپی سے پوچھا کہ وہ کیا؟ امریکہ پلٹ دانشور بولے کہ آپ ایک جاسوس طیارہ ہالینڈ بھیجیں اور اس طیارے سے میزائل مار کر آپ اپنے گستاخ فلم ساز کو جہنم رسید کر دیں۔ یہ سن کر ایک خاتون سفارتکار سیخ پا ہو گئیں۔ امریکہ پلٹ پاکستانی دانشور نے اپنی سنجیدگی برقرار رکھتے ہوئے کہا کہ کیا گوانتانامو بے جیل اور تمہارے جاسوس طیاروں کے میزائل صرف مسلمانوں کے لیے ہیں؟ مسلمانوں کے محبوب نبی ﷺ اور
قرآن کو برا بھلا کہنا کیا آزادی اظہار ہے؟ تم لوگ آزادی اظہار کے اتنے ہی متوالے ہو تو ہٹلر کے ہاتھوں یہودیوں کے مبینہ قتل عام کی سچائی کے بارے میں سوال اٹھانے پر مغرب میں کیوں پابندی ہے؟ غصے میں سرخ ہونے والی خاتون سفارتکار کا رنگ پیلا پڑ گیا اور وہ اپنے سینڈل چٹخاتی ہوئی محفل سے واک آؤٹ کر گئی۔ اس کی طبیعت کسی اسلامی مدرسے کے طالب علم یا جنوبی وزیرستان کے عسکریت پسند کی گفتگو سے خراب نہ ہوئی تھی بلکہ عالمی بینک میں کئی سال تک ملازمت کرنے والے ایک ایسے امریکہ پلٹ دانشور نے اسے لاجواب کیا جس کے دل میں اسلام کے لیے درد باقی تھا۔ مغربی حکومتوں کو یہ سوچنا چاہیے کہ مغرب کے خلاف نفرت صرف اسلامی مدارس کے طلبہ اور قبائلی علاقوں کے نوجوانوں تک محدود نہیں بلکہ یہ نفرت مسلم ممالک کے علاوہ غیر مسلم ممالک کے ہر طبقے میں پھیل چکی ہے۔
ہالینڈ کے گستاخ فلم ساز جیٹ ویلڈرز کے بارے میں اس کے اپنے ملک کے اخبار ٹیلیگراف نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ پچھلے چند سال میں 40 دفعہ اسرائیل کا دورہ کر چکا ہے اور ہیگ میں اسرائیلی سفارتخانے سے ہدایات لیتا ہے۔ قرآن کے خلاف فلم بنانے کے لیے جیٹ ویلڈرز کو تمام سرمایہ اسرائیل نے فراہم کیا ہے تاکہ اس فلم کے ذریعہ دنیا میں اسلام اور مسلمانوں کو بدنام کیا جائے۔ قرآن کے خلاف فلم کا معاملہ ہو یا نبی کریم ﷺ کے توہین آمیز خاکوں کی اشاعت کا تنازعہ ہو، ہمارے ملک میں رہنے والے مغرب کے لکھاری اس لبرل انتہا پسندی کی مذمت میں کچھ لکھنے کے لیے تیار نہیں ہوتے۔ جب تک یہ مذہبی انتہا پسندی کے مقابلے پر لبرل انتہا پسندی کا مظاہرہ کرتے رہیں گے، اس وقت تک معاشرے میں امن قائم نہیں ہوگا۔ ان دوستوں سے ہاتھ باندھ کر گزارش ہے کہ لفظ جہاد کو اپنی طعنہ زنی کے لیے استعمال نہ کریں۔ جہاد کا لفظ بار بار قرآن میں آیا ہے۔ ہالینڈ کے گستاخ فلم ساز جیٹ ویلڈرز نے بھی قرآن میں جہاد کے لفظ پر اعتراض کیا ہے اور ہمارے بعض دانشور بھی دانستہ یا نادانستہ طور پر لفظ ”جہادی“ کو گالی بنانے کی کوشش میں مصروف رہتے ہیں۔ یہ حضرات نام نہاد جہاد کرنے والوں پر ضرور تنقید کریں لیکن لفظ جہاد کی توہین سے گریز کریں کیونکہ اس سے مسلمانوں کے جذبات کو ٹھیس پہنچتی ہے۔
ارشاد احمد حقانی
اشتعال انگیز کارٹون ...... اسلام سے عیسائی مغرب کا بغض
ڈنمارک کے اخبار ”Jyllands Posten“ میں گزشتہ ستمبر کو نبی ﷺ کے جو 12 بے ہودہ اشتعال انگیز اور احمقانہ کارٹون شائع ہوئے تھے، ان کے خلاف عالم اسلام میں جو احتجاج جاری ہے، اس کی شدت اور وسعت نے بعض مغربی مبصرین کو حیرت زدہ کردیا ہے۔ ان کے لیے یہ سمجھنا مشکل ہورہا ہے کہ مسلمانوں کا ردعمل دنیا کے تمام کونوں میں اس قدر شدید کیوں ہے؟ لیکن انہیں معلوم ہونا چاہیے کہ مسلمان اپنے پیغمبر ﷺ کی محض شبیہہ شائع کرنے کے بھی مخالف ہیں، چہ جائے کہ کوئی اخبار ان کے بارہ ایسے کارٹون شائع کردے جو کارٹون سے زیادہ Caricatures ہیں اور جن میں نعوذ باللہ آپ ﷺ کو ایک دہشت گرد کے روپ میں پیش کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ ان خاکوں کی اشاعت کا اس سے زیادہ کمزور دفاع اور کوئی نہیں ہوسکتا کہ یہ آزادی اظہار کا ایک مظہر ہیں اور مغربی حکومتیں اپنے اپنے قوانین کے تحت پریس کی آزادی پر کوئی قدغن عائد نہیں کر سکتیں۔ مغربی مبصرین اس حقیقت پر چاہے جس قدر بھی پردہ ڈالنے کی کوشش کریں لیکن یہ حقیقت ہے کہ ان کارٹونوں کی اشاعت اور پورے یورپ کے متعدد اخبارات میں ان کی دوبارہ اشاعت اس کینے اور نفرت کی آئینہ دار ہے جو عیسائی یورپ مسلمانوں، اسلام، عالم اسلام اور ہادی برحق ﷺ کے بارے میں رکھتا ہے۔ ڈنمارک کے مذکورہ اخبار نے اگر ایک حماقت کر ہی دی تھی تو متعدد یورپی اخبارات کو ان کارٹونوں کی دوبارہ اشاعت کی کوئی ضرورت نہ تھی۔ اس عمل کی کوئی توجیہہ اس کے علاوہ ممکن نہیں کہ عیسائی مغرب کے نام نہاد علمی اور سیاسی حلقوں میں اسلام کے خلاف جو نفرت پائی جاتی ہے، وہ اس قدر شدید ہے کہ انہوں نے حضور ﷺ کی اہانت کرنے والے خاکوں کو بڑے شوق سے شائع کیا اور دلیل یہ دی کہ وہ آزادی صحافت کے اصول کی حمایت کر رہے ہیں اور مذکورہ اخبار سے اپنی یکجہتی کا ثبوت دینا چاہتے ہیں۔ زیر نظر واقعے نے ایک دفعہ
پھر اس نفرت اور کینے کو نمایاں کر دیا ہے جو جمہوریت اور سیکولرازم کے تمام تر دعوؤں کے باوجود مغربی ذہن اور ضمیر میں جاگزیں ہے، ورنہ کوئی وجہ نہ تھی کہ متعدد یورپی ممالک کے بڑے بڑے ثقہ اخبارات بھی فوری طور پر ان خاکوں کی اشاعت کی ضرورت محسوس کرتے۔ عین ممکن ہے کہ بعض مشتعل ہجوموں نے متعلقہ ممالک کے سفارتخانوں پر حملہ کر کے اور انہیں آگ لگا کر اپنے جذبات کا نامناسب اور غیر معتدل اظہار کیا ہو۔ اس کی بجائے یہ بہتر ہوتا کہ مسلمان اور ان کی تنظیمیں متعلقہ ممالک کا تجارتی مقاطعہ کرنے اور ان کے خلاف اپنے اپنے ملک کی عدالتوں میں مقدمہ درج کرانے کا راستہ اختیار کرتیں۔ بعض ممالک میں مسلمانوں نے یہ راستہ اختیار کیا بھی ہے لیکن مسلمان عوام پیغمبر ﷺ اسلام کے بارے میں عقیدت و احترام کے جو جذبات رکھتے ہیں جب ان کو دانستہ اور شعوری طور پر ٹھیس پہنچائی جائے تو کچھ لوگوں کا قانون اپنے ہاتھ میں لے لینا اور تشدد کے واقعات پر اتر آنا افسوسناک ہونے کے باوجود ناقابل فہم نہ ہونا چاہیے۔ بعض امریکی اور برطانوی مبصرین نے ڈنمارک کے اخبار میں شائع ہونے والے خاکوں کی مذمت بھی کی ہے لیکن صدر بش اور وزیر اعظم ٹونی بلیئر نے ڈنمارک کے وزیر اعظم کے ساتھ اظہار یکجہتی کر کے اپنے خبث باطن کا ثبوت دے دیا ہے اور یہ بات اب قریب قریب طے سمجھی جانی چاہیے کہ کوئی تسلیم کرے یا نہ کرے مسلم اور عیسائی تہذیبوں کے درمیان ایک بنیادی اختلاف بلکہ تصادم کے عوامل پائے جاتے ہیں۔ مغربی ممالک نے ماضی کے بعض واقعات کی طرح اس دفعہ بھی مسلمانوں کو مشتعل کرنے میں پہل کی ہے اور جو لوگ یہ دعویٰ کر رہے ہیں کہ مذکورہ کارٹونوں کی اشاعت تہذیبوں کے تصادم کا کوئی اظہار نہیں ہے وہ اپنے آپ کو اور دنیا کو دھوکہ دینے کی کوشش کر رہے ہیں۔ مغرب روشن خیالی، انسانی حقوق، سیکولرازم اور جمہوریت کا علمبردار ہونے کا مدعی ہے لیکن اس کے دہرے معیار زیر نظر واقعے نے بالکل آشکار کر دیے ہیں۔ بہتر ہوتا کہ مسلمان تشدد اور تخریب کاری کا راستہ اختیار کرنے کی بجائے مغربی ممالک اور ان کے اخبارات کے خلاف زیادہ بہتر تدابیر اختیار کریں۔ مسلمانوں کو اپنے طاقتور اور موثر ٹی وی چینل قائم کرنے چاہئیں۔ جن سے اسلام کی حقیقی تعلیمات کو سامنے لانے میں مدد مل سکے اور جو عیسائی اور مغربی حلقے لاعلمی اور کم فہمی کی وجہ سے اسلام اور پیغمبر اسلام ﷺ سے کدورت رکھتے ہیں ان کے رویے میں کچھ اعتدال لایا جاسکے۔
مقام افسوس ہے کہ ڈنمارک کے وزیراعظم Andrs Fogh Rasmussen نے ہفتہ وار ”الاہرام“ کو جو تفصیلی انٹرویو دیا ہے اس میں انہوں نے کارٹونوں کی اشاعت پر صاف اور واضح معافی مانگنے سے گریز کیا ہے اور متعین سوال کے جواب میں صرف آئیں بائیں شائیں کرنے پر اکتفا کیا ہے۔ اسی طرح صدر بش نے اپنے حالیہ سٹیٹ آف دی یونین پیغام میں یہ کہنا مناسب سمجھا ہے کہ ”ریڈیکل اسلام“ کو شکست دینا ان کی حکومت کی اہم ترجیح ہے۔ صدر بش اور امریکی حکومت کو یہ واضح کرنا چاہیے کہ ”ریڈیکل اسلام“ سے ان کی کیا مراد ہے؟ کیا ہر اس فرد اور قوم اور حکومت کا اسلام ریڈیکل اسلام ہے جو امریکی استعماری ہتھکنڈوں کا مخالف ہے؟ جبکہ انہیں قدامت پرست لیکن امریکی حکومت کے ہمنوا حلقوں کا اسلام قابل قبول ہے۔ صدر بش کے مذکورہ اعتراف کی اس کے سوا کوئی توجیہہ نہیں کی جاسکتی کہ ان کا اصل بغض دین اسلام سے ہے اور وہ اس پر پردہ ڈالنے کے لیے ریڈیکل کی اصطلاح استعمال کر رہے ہیں۔ مغربی ڈنمارک میں مسلمانوں کی 25 قبروں کی بے حرمتی اسلام اور مسلمانوں کے خلاف عیسائی بغض کا ایک اور اظہار ہے۔
بی بی سی
اظہار آزادی کا امتحان
پیغمبر اسلام ﷺ کے بارے میں کارٹونوں کی اشاعت کے جواب میں ایران کے ایک اخبار نے ہولوکاسٹ پر مبنی کارٹونوں کے ایک مقابلے کے انعقاد کا اعلان کیا ہے۔ اخبار ہمشہری کا کہنا ہے کہ اس مقابلے کا مقصد آزادی اظہار کی حدود کی آزمائش ہے جسے مغربی اخبارات پیغمبر اسلام ﷺ کے کارٹون شائع کرنے کے جواز میں دلیل کے طور پر پیش کرتے ہیں۔ دوسری عالمگیر جنگ کے دوران جرمنی کے ہاتھوں یہودیوں کی نسل کشی کے لیے ہولوکاسٹ کی اصطلاح استعمال کی جاتی ہے۔
مسلم دنیا میں پیغمبر اسلام ﷺ کے بارے میں کارٹونوں کی اشاعت کے بعد مسلسل احتجاج جاری ہے اور اسے توہین رسالت ﷺ سے تعبیر کیا جا رہا ہے۔ ایران کے سب سے زیادہ فروخت ہونے والے اخبار ہمشہری نے سوال اٹھایا ہے کہ : ”کیا مغرب کی اظہار آزادی کی وسعت ہولوکاسٹ تک بھی ہے یا پھر آزادی کا یہ اظہار آسمانی مذاہب کی بے حرمتی تک محدود ہے؟“ اخبار نے ایسے کارٹون شائع کرنے کی بات بھی کی ہے کہ جن میں امریکہ اور اسرائیل کے ”جرائم اور لوٹ مار“ کا نقش بھی ہو۔ ایران کے قدامت پسند حکمران ہولوکاسٹ کی ازسرِ نو تشریح کرنے والے مؤرخوں کی حمایت کرتے ہیں۔ ان مؤرخوں کا استدلال ہے کہ جرمنی کے ہاتھوں یہودیوں کی ہلاکتوں کے معاملے کو سیاسی مقاصد کی غرض سے بڑھا چڑھا کر پیش کیا گیا ہے۔ گرافکس ایڈیٹر فرید مرتضوی نے جنہوں نے کارٹونوں کے مقابلے کا اعلان کیا، مغربی اخباروں کو چیلنج کیا ہے کہ وہ ایران میں مستقبل میں شائع ہونے والے ہولوکاسٹ پر مبنی کارٹونوں کو بھی اسی طرح شائع کریں جیسے انہوں نے کچھ مغربی ممالک میں پیغمبر اسلام ﷺ سے متعلق شائع ہونے والے کارٹون کی دوبارہ اشاعت کی ہے۔
اخبار ہولوکاسٹ پر مبنی بارہ بہترین کارٹون بنانے والوں کو انعام کے طور پر سونے
کے سکے دے گا۔ کارٹونوں کی تعداد بارہ رکھنے کا فیصلہ اس لیے کیا گیا ہے کہ ڈنمارک کے اخبار میں بھی بارہ کارٹون شائع کیے گئے ہیں۔ اخبار کا کہنا ہے کہ اس کا طرز عمل انتقامی نہیں اور نہ غیر ذمہ دارانہ ہے۔ اخبار نے یہ بھی کہا ہے کہ تیرہ فروری کو کارٹونوں کے مقابلے کی مکمل تفصیلات لوگوں کے سامنے رکھ دی جائیں گی۔ یہودیوں کے حقوق کی ایک تنظیم نے ایرانی اخبار کے اعلان کردہ کارٹونوں کے مقابلے کی مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ ”یہ ہٹلر کے اس فارمولے کی پیروی ہے جس کے مطابق اگر کہیں بھی کوئی گڑ بڑ ہوتی ہے تو اس کے ذمہ دار یہودی ہیں۔“
عبداللہ
توہین رسالت ﷺ کرنے والے یورپ سے 39 سوال
- 1- کیا مغربی ملکوں میں توہین ادیان، ہتک عزت یا مذہبی دل آزاری کرنے والوں
کے خلاف کوئی قانون موجود نہیں؟
- 2- برطانیہ میں آج تک نافذ العمل توہین عیسائیت قانون (Blasphemy
Law) کے حوالے سے آپ کی کیا رائے ہے؟ کیا یہ آزادی اظہار پر قدغن نہیں؟
- 3- 1990ء کی دہائی میں آسٹریا میں بھی ایسا ہی ایک کیس عدالت میں لایا گیا جس
میں اوٹو پریمینگر انسٹی ٹیوٹ (Otto Preminger Institute) کو فریق بنایا گیا۔ کیا یہ ثابت نہیں کرتا کہ برطانیہ کے علاوہ دیگر یورپی ممالک میں یہ قانون کسی نہ کسی طرح موجود ہے؟
- 4- برطانیہ میں موجود قانون کا دائرہ کار صرف چرچ (عیسائیت) کے تحفظ تک کیوں
محدود ہے؟
- 5- برطانوی ماہرین قانون کے مطابق اگر برطانیہ میں دیگر مذاہب کے لوگوں کے
لیے کوئی قانون ہے بھی تو اس کی حیثیت "کسی کی ذاتی شناخت" ہے نہ کہ "کسی کے عقائد" کی۔ اس مذہبی تفریق کے حوالے سے آپ کیا کہیں گے؟
- 6- یورپی ممالک کو آئین کے مطابق جہاں ایک طرف آزادی اظہار کا احترام کرنا
ہے، وہیں وہ اقلیتوں پر ہونے والے زبانی اور عملی حملے روکنے کے بھی پابند ہیں۔ کیا یہ مشکل ترین کام نہیں؟ کیا انسانی حقوق کے حوالے سے یہ تضاد کا حامل نہیں؟
- 7- 1989ء میں ایک فلم (Visions of Ecstacy) بنائی گئی جو سینٹ تھیریسا
آف ایویلا کے ویژن کے موضوع پر تھی۔ برطانوی بورڈ نے اس فلم کی ریلیز روک دی تھی کیونکہ اس کے نزدیک یہ توہین مذہب (یا چرچ) کے دائرے میں آتی
ہے۔ حالانکہ جیلنڈز پوسٹ بلیئر کا ڈنمارک دوغلے پن آزادی پر
- 8- حیران کن
دائر کر دیا۔ نے بھی فیص کے دوغلے
- 9- کیا یورپی
قوانین موجو
- 10- کیا یورپی
انہوں نے
- 11- ڈنمارک
طور پر تسلیم کرے گا، جیلنڈز پوسٹ
- 12- کیا جیلنڈز
لائے جانے
- 13- خود ڈنمارک
مندرجہ بالا حکومت ڈنمارک
- 14- ڈنمارک
پر دفاع کر رہے؟ پاک
ہے۔ حالانکہ وہ ثابت بھی نہیں کرسکے تھے۔ فلم سچ مچ توہین آمیز ہے۔ لیکن جیلنڈز پوسٹن نامی ڈنمارک کے اخبار میں توہین آمیز خاکوں کی اشاعت پر ٹونی بلیئر کا ڈنمارک کے وزیراعظم کو فون اور اس کے ساتھ یکجہتی کا اظہار، کیا برطانوی دوغلے پن کو ثابت نہیں کررہا؟ کیا ان کے نزدیک فلم کا اجرا روکنا اظہار رائے کی آزادی پر قدغن نہیں تھا؟
- 8- حیران کن بات یہ ہے کہ فلم میکر ونگرو نے 1996ء میں یورپی عدالت میں کیس
دائر کردیا۔ اس نے بھی یہ دعویٰ آزادیٔ اظہار کی بنیاد پر کیا تھا۔ مگر یورپی عدالت نے بھی فیصلہ اس کے خلاف دیا۔ کیا یہ واقعہ اسلام کے حوالے سے یورپی ممالک کے دوغلے طرز عمل کو آشکار نہیں کرتا؟
- 9- کیا یورپی عدالت میں اس کیس کا دائر کرنا یہ ثابت نہیں کرتا کہ وہاں اس حوالے سے
قوانین موجود ہیں؟ لیکن وہ صرف ان کے اپنے مذہب کے تحفظ کے لیے ہیں؟
- 10- کیا یورپی عدالت کا برطانوی حکومت کے حق میں فیصلہ دینا یہ ثابت نہیں کرتا کہ
انہوں نے مذہبی تعظیم کو آزادیٔ اظہار پر فوقیت دی؟
- 11- ڈنمارک کے کریمنل کوڈ کے سیکشن 140 کے مطابق ”ہر وہ شخص جو ملک میں قانونی
طور پر مقیم کسی فرد یا کمیونٹی کے مذہب یا عبادات اور دیگر مقدس علامات کی تضحیک کرے گا، اسے زیادہ سے زیادہ چار ماہ کی قید یا جرمانہ کی سزا دی جاسکے گی۔“ کیا جیلنڈز پوسٹن نامی ڈنمارک کا اخبار اس قانون کی زد میں آتا ہے؟
- 12- کیا جیلنڈز پوسٹن کے خلاف کریمنل سیکشن 140 کے تحت قانونی کارروائی عمل میں
لائے جانے کا امکان ہے؟
- 13- خود ڈنمارک کی حکومت نے اپنی سرکاری ویب سائٹ www.um.dk پر
مندرجہ بالا دونوں سوالات کا جواب ہاں میں دیا ہے۔ اگر ایسا ہے تو پھر ڈنمارک کی حکومت مذکورہ اخبار کے خلاف قانونی کارروائی کیوں نہیں کر رہی؟
- 14- ڈنمارک کے وزیراعظم اخبار جیلنڈز پوسٹن کی اس حرکت کا آزادیٔ اظہار کے نام
پر دفاع کرتے پھرتے ہیں۔ کیا وہ اپنے ہی ملک کے قوانین کو سبوتاژ نہیں کر رہے؟ یا پھر ڈنمارک کے مسلمان وہاں کے قانونی شہری نہیں؟
- -15 ڈنمارک میں رائج کریمنل کوڈ کے سیکشن 266 بی کے مطابق ”ایسا کوئی بھی بیان یا
سرگرمیاں جرم ہیں جو کسی بھی کمیونٹی کے افراد کے لیے رنگ، نسل، قومیت، مذہب یا جنس کے حوالے سے دل آزار ہوں۔“ کیا جیلنڈز پوسٹن نے مذہب کی بنیاد پر قانونی طور پر مقیم ڈنمارک کی مسلمان آبادی کی دل آزاری نہیں کی؟
- -16 اپنی سرکاری ویب سائٹ پر ڈنمارک کی حکومت نے تسلیم کیا ہے کہ ذرائع ابلاغ کو
آزادی اظہار کا حق حاصل ہے مگر کسی قانون کو توڑنے کا نہیں۔ کیا جیلنڈز پوسٹن نے کریمنل کوڈ سیکشن 140 اور سیکشن 266 بی کو نہیں توڑا؟
- -17 اگر ایسا ہے تو پھر وہ آزادی اظہار کا سہارا کیوں لے رہا ہے اور دیگر یورپی ممالک کے
اخبارات اور خود ان کے حکمران انہیں آزادی اظہار کی پناہ کیوں فراہم کر رہے ہیں؟
- -18 مندرجہ بالا حقائق کے باوجود ڈنمارک کے وزیراعظم نے اپنی سرکاری ویب سائٹ
پر جیلنڈز پوسٹن کی حرکت پر معافی مانگنے سے انکار کیوں کیا؟
- -19 ڈنمارک کے آئین میں آزادی اظہار کے حوالے سے سیکشن 77 موجود ہے۔ جس
کے مطابق ”ہر شخص کو اپنے خیالات کا اظہار اور اسے چھاپنے کی مکمل آزادی ہے مگر اپنے خیالات کے حوالے سے وہ کورٹ آف جسٹس کو جواب دہ ہے۔“ کیا جیلنڈز پوسٹن بھی کورٹ آف جسٹس کو جواب دہ ہے؟
- -20 اگر ہاں (جیسا کہ آئین کہتا ہے) تو کیا کورٹ آف جسٹس نے دنیا بھر کے مسلمانوں
کے جذبات کا احترام کرتے ہوئے جیلنڈز پوسٹن سے جواب طلب کیا ہے؟
- -21 اگر ایسا اب تک نہیں ہوا تو کیا یہ ظاہر نہیں کرتا کہ خود ان ممالک میں بھی آئین اور
قوانین پامال کیے جاتے ہیں؟
- -22 کیا اس سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ آئین اور قوانین امتیازی ہیں؟
- -23 ڈنمارک اور دیگر یورپی ممالک میں ہولوکاسٹ کے منکرین کے لیے قانون موجود ہے
جس کے مطابق ہولوکاسٹ یعنی نازیوں کی جانب سے یہودیوں کے قتل عام کی کہانی کے کسی ایک جزو سے انکار کرنے والے کو 20 سال قید تک کی سزا ہو سکتی ہے۔ کیا یہ قانون یہودیوں کو یورپ میں دوسروں سے نسلی برتری قرار دینے کا ثبوت نہیں؟
- -24 ہولوکاسٹ کے منکرین کے لیے قانون بنانے کی ضرورت کیوں پیش آئی؟
- -25 کیا ہولوکاسٹ کی
- -26 اگر ڈنمارک اور
کیا ہولوکاسٹ لیے قانون نہ بنا
- -27 کیا ہولوکاسٹ کی
ایسے ہی کسی قانو
- -28 اگر ہاں تو کیا یہ تض
سازی کی جائے
- -29 بصورت دیگر کیا
اس سے بھی زیادہ
- -30 اگر ایسا ہوا تو کیا ی
- -31 انسانی حقوق اور
(4.XI.1950) شخص کو آزادی مذہب کی تبدیلی اسی کی تعلیمات و کے دائرہ کار کے تحفظ، امن و امان ذریعہ نہ بنیں۔“ چارٹر کی پاسداری
- -32 کیا انہوں نے آزا
- -33 یورپی یونین کے
”آزادی اظہار کا بندشوں سے آزاد کوئی بھی شخص کسی م
- -25 کیا ہولوکاسٹ کا یہ قانون آزادی اظہار پر قدغن نہیں؟
- -26 اگر ڈنمارک اور دیگر یورپی ممالک کے مطابق تمام شہریوں کے حقوق برابر ہیں تو
کیا ہولوکاسٹ کے لیے علیحدہ سے قانون بنانا اور مسلمانوں کے مذہبی احترام کے لیے قانون نہ بنانا متضاد تاثر نہیں چھوڑتا؟
- -27 کیا ہولوکاسٹ کے منکرین کے لیے قانون کی موجودگی اسلام کے حوالے سے بھی
ایسے ہی کسی قانون کو رواج دینے کے لیے جواز فراہم کر سکتی ہے؟
- -28 اگر ہاں تو کیا یہ توقع کی جاسکتی ہے کہ یورپی ممالک میں اس حوالے سے قانون
سازی کی جائے گی؟
- -29 بصورت دیگر کیا آپ اس امکان کو رد کر سکتے ہیں کہ مستقبل میں اسی نوعیت کا یا
اس سے بھی زیادہ گھٹیا فعل کا اعادہ ہو؟
- -30 اگر ایسا ہوا تو کیا یہ تہذیبوں کے تصادم کے نظریے کو سچ ثابت نہیں کر دے گا؟
- -31 انسانی حقوق اور بنیادی آزادیوں کے حوالے سے یورپی کنونشن کے چارٹر
(Rome, 4.XI.1950) کے سیکشن 1 آرٹیکل 9 پارٹ 1 اور 2 کے مطابق ”ہر شخص کو آزادی خیالات، شعور اور مذہب کا حق حاصل ہے۔ اس آزادی میں مذہب کی تبدیلی (اس کے یا بطور برادری) اپنے مذہب کے مطابق زندگی گزارنا اس کی تعلیمات عام کرنا شامل ہیں۔ ان آزادیوں پر معاشرے میں موجود قوانین کے دائرہ کار کے اندر عمل کرنا ہوگا تاکہ یہ آزادیاں کسی دوسرے فرد یا کمیونٹی کے تحفظ، امن و امان اور دیگر افراد یا کمیونٹی کے حقوق اور آزادیوں کو سلب کرنے کا ذریعہ نہ بنیں۔“ کیا ڈنمارک سمیت دیگر یورپی ممالک نے یورپی یونین کے اس چارٹر کی پاسداری کی ہے؟
- -32 کیا انہوں نے آزادی کے لیے دوسروں کی آزادی اور حق پر ڈاکہ نہیں ڈالا؟
- -33 یورپی یونین کے اسی چارٹر کے سیکشن 1 آرٹیکل 10 پارٹ 1 اور 2 کے مطابق
”آزادی اظہار کا مطلب یہ ہے کہ ہر کوئی اپنی رائے کے اظہار کے لیے حکومتی بندشوں سے آزاد ہے۔“ کیا اس شق سے کہیں بھی یہ مطلب اخذ کیا جا سکتا ہے کہ کوئی بھی شخص کسی دوسرے کے مذہب یا ذاتی زندگی میں مداخلت کر سکتا ہے؟
- -34 آزادی اظہار کی اسی شق کے پارٹ 2 میں صاف طور پر یہ الفاظ درج ہیں:
"Since it carries with it duties & responsibilities" کیا یہ آزادی اظہار کے ساتھ ساتھ ”فرض شناسی اور ذمہ داری“ کی شرط عائد نہیں کرتا؟
- -35 اگر ہاں تو کیا یورپ کے اخبارات نے فرض شناسی اور ذمہ داری کی شرط پوری کی
ہے؟
- -36 اگر یورپی اخبارات نے یہ شرط پوری نہیں کی تو ان کے حکمران آزادی اظہار کا
تحفظ کیوں فراہم کر رہے ہیں؟
- -37 اسی شق میں یہ جملہ بھی درج ہے کہ ”آزادی اظہار کے حوالے سے ملکی قوانین
پامال نہیں کیے جائیں گے تاکہ جمہوری روایات، علاقائی سلامتی، قومی مفادات، دوسرے کے حقوق کی پاسداری اور باہمی اعتماد کو نقصان نہ پہنچے“۔ کیا کسی بھی یورپی ملک کے اخبارات نے اس حرکت سے قبل مندرجہ ذیل عوامل پر غور کیا؟
- -38 مندرجہ بالا شق صاف طور پر آزادی اظہار کو ملکی قوانین کا گھیرا ڈال کر محدود کرتی
ہے۔ کیا ڈنمارک کے اخبار نے اپنے ہی ملک کے کریمنل کوڈ سیکشن 140 اور 266 بی کو پامال نہیں کیا؟
- -39 کیا یورپی اخبارات کے اس فعل نے یورپی ممالک کی جمہوری روایات، علاقائی
سلامتی، قومی مفادات، دوسروں کے حقوق کی پاسداری اور باہمی اعتماد کو تباہی کے کنارے لا کھڑا نہیں کر دیا؟
(یہ سوال نامہ پالیسی ریسرچ سنٹر اور روزنامہ ”امت“ نے مشترکہ طور پر تیار کیا)
۞ ۞ ۞
یاسر محمد خاں
ایسا کیوں ہے؟
فرڈی نینڈ مارکوس فلپائن کا صدر تھا۔ وہ 30 دسمبر 1965ء سے 30 جون 1986ء تک فلپائن کا حکمران رہا۔ وہ ایک آمرانہ سوچ کا حامل شخص تھا، اس نے ملک کی ساری طاقتیں اور سارے اختیارات اپنے ہاتھ میں لے لیے۔ اس نے ملک میں مارشل لا نافذ کر دیا۔ تمام اپوزیشن لیڈروں اور اخبار نویسوں کو گرفتار کر لیا، میڈیا پر سنسر شپ لگا دی۔ اس نے نیا آئین نافذ کیا اور تمام اختیارات اپنی بیوی کو دے دیے۔ اس نے اپوزیشن لیڈر بینگوا کینو کو ہوائی جہاز کی سیڑھیوں پر گولی مروا دی۔ وہ بے انتہا کرپٹ انسان بھی تھا، اس نے دونوں ہاتھوں سے فلپائن کو لوٹا، اس نے ٹھیکوں سے کمیشن لی اور سرکاری خزانہ جی بھر کے لوٹا۔ امریکہ اس سارے معاملے میں مارکوس کا ساتھی تھا۔ اس کی دو وجوہ تھیں۔ ایک: ان دنوں فلپائن میں کمیونسٹ پارٹی بہت سرگرم تھی اور امریکہ کا خیال تھا کہ اگر اس نے مارکوس سے تعاون نہ کیا تو کمیونسٹ اقتدار میں آجائیں گے جس کے نتیجے میں مشرق بعید کا ایک اہم ملک ان کے ہاتھ سے نکل جائے گا۔ دوسرا: امریکہ نے 1892ء سے فلپائن میں فوجی اڈے قائم کر رکھے تھے، یہ اڈے 99 سال کی لیز پر تھے۔ امریکہ کا خیال تھا: اگر 1991ء تک فلپائن میں ان کی حامی حکومت نہ ہوئی تو ان کی لیز میں اضافہ نہیں ہوگا، انہیں فلپائن چھوڑنا پڑے گا۔ مارکوس ایک ایسا شخص تھا جو ان دونوں معاملات میں امریکہ کی مدد کر سکتا تھا۔ چنانچہ امریکہ نے مارکوس کے ساتھ اندھا تعاون کرنا شروع کر دیا۔ مارکوس نے اس تعاون کا بھر پور فائدہ اٹھایا اور وہ چند برسوں میں فلپائن کا مختار کل بن گیا لیکن پھر قدرت کی طاقتیں اس کے خلاف متحرک ہو گئیں۔ لوگوں کے دلوں میں اس کے خلاف نفرت بیدار ہوئی، اپوزیشن جماعتوں نے اتحاد بنایا، فوج نے اپوزیشن کی مدد کرنا شروع کی اور فلپائن میں مارکوس کے اقتدار کی بساط لپیٹی جانے لگی۔ 7 فروری 1986ء کو مارکوس نے الیکشن کرائے جس میں اس
نے بھر پور دھاندلی کرائی ، الیکشن کمیشن نے اسے کامیاب قرار دے دیا ...... لیکن اپوزیشن نے ان نتائج کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا۔ عوام سڑکوں پر آئے جس سے متاثر ہو کر فوج کے سربراہ جنرل راموس نے مارکوس کے خلاف بغاوت کر دی۔ فوج، عوام اور اپوزیشن ایک جگہ جمع ہوئے ، مارکوس اکیلا ہو گیا چنانچہ وہ ستمبر 1986ء کو ”ہوائی“ فرار ہو گیا۔ وہ اپنے ساتھ 86 کروڑ 8 لاکھ ڈالر بھی لے گیا۔
مارکوس کے فرار ہونے کے بعد فلپائن کے لوگوں نے امریکہ سے احتجاج کرنا شروع کر دیا۔ یہ احتجاج بہت دلچسپ تھا۔ فلپائن کا جو بھی شہری منیلا میں امریکی سفارت خانے کے قریب پہنچتا وہ چند سیکنڈ کے لیے امریکی سفارت خانے کے گیٹ پر رکتا، اپنی گاڑی کا رخ گیٹ کی طرف کرتا، زور سے ہارن بجاتا اور اپنی منزل کی طرف روانہ ہو جاتا۔ منیلا کے ہر شہری نے اسے اپنی عادت بنالیا۔ احتجاج کے اس طریقے کے موجد منیلا یونیورسٹی کے چند طالب علم تھے۔ ان طالب علموں نے اخبارات میں اشتہار دیا جس میں انہوں نے عوام سے درخواست کی : آپ لوگ فلاں تاریخ کو فلاں وقت اپنی اپنی گاڑیاں لے کر امریکی سفارت خانے کے سامنے پہنچ جائیں، ہم سب مل کر امریکی حکومت سے احتجاج کریں گے۔ اس اشتہار کے جواب میں فقط دو اڑھائی سو لوگ پہنچے، یہ سب لوگ آدھ گھنٹہ تک ہارن بجاتے رہے۔ ہارن کے ذریعے اس دلچسپ احتجاج کی خبر اگلے روز اخبارات میں شائع ہوئی تو منیلا کے لوگوں کو یہ طریقہ دلچسپ لگا چنانچہ اگلے دن جو بھی شہری امریکن ایمبیسی کی طرف جاتا وہ چند سیکنڈ کے لیے گیٹ کے سامنے رکتا، ہارن بجاتا اور آگے روانہ ہو جاتا۔ یہ سلسلہ آگے بڑھا اور فلپائن کے زیادہ تر لوگوں نے امریکی سفارت خانے کے سامنے ہارن بجانا اپنا معمول بنالیا۔ منیلا کے ایک اخبار کی تحقیق کے مطابق امریکن ایمبیسی کے سامنے روزانہ ایک لاکھ گاڑیاں ہارن بجاتی تھیں اور روزانہ مجموعی طور پر اڑھائی لاکھ سیکنڈ ہارن بجتا تھا۔ اس احتجاج کا شدید نفسیاتی رد عمل ہوا، امریکی سفارت خانے میں کام کرنے والا عملہ بیمار ہو گیا، امریکہ کے پانچ بڑے سفارتکاروں نے استعفیٰ دے دیا، لوکل لوگوں نے کام بند کر دیا اور امریکہ نے آنے والے دنوں میں اس احتجاج کو بڑی سنجیدگی سے لیا۔ امریکہ نے 1986ء میں دو اعلان کیے۔ ایک : حکومت نے مارکوس کی حمایت سے انکار کر دیا۔ یہ انکار اس قدر پکا تھا کہ اس کے بعد امریکہ نے مارکوس کو ہوائی کے دارالحکومت ہونولولو سے باہر نہیں جانے دیا۔ اس کی نقل و حرکت
محدود کر دی گئی ، مارکوس دوسرا : امریکہ نے فلپائن 16 ستمبر 19 درخواست مسترد کر دی بھی چپ چاپ سرگی 27 اکتوبر کو اپنے اڈے سارے آپریشن کا کر امریکی حکومت کو یہ باو بجا بجا کر بھی دوسری قو یہ احتجاج کا اقوام نے اس سے یکج ساؤتھ افریقہ کے کسی ب کیا کہ ”امریکی سنڈی“ کے لیے وضع کی تھی۔ علاقوں کی فصلوں کو نق کیڑا جب پودے کے ہے اور اسے سرکنڈا بن سنڈی“ کا نام دے دی لوگ تمام امریکیوں کو (Weed) نام کا ایک پ سے بھی پکارا جاتا ہے جہ پہلے برطانوی فوجی جاپا دیے۔ وہاں اس وقت دور میں ایک برطانوی ط نے اسے یہ پودا تحفے میں
محدود کر دی گئی، مارکوس اسی پابندی کے عالم میں 28 ستمبر 1989ء کو ہونولولو میں انتقال کر گیا۔ دوسرا: امریکہ نے فلپائن قوم سے اپنی سابقہ غلطیوں پر معافی مانگ لی۔ 16 ستمبر 1991ء کو فلپائن کی سینٹ نے امریکی اڈوں کی لیز میں اضافے کی درخواست مسترد کر دی۔ یہ امریکہ کے لیے ایک بہت بڑا جھٹکا تھا لیکن امریکی حکومت یہ جھٹکا بھی چپ چاپ سہہ گئی کیونکہ وہ فلپائن عوام کے احتجاج کی شدت سے واقف تھی۔ امریکہ نے 27 اکتوبر کو اپنے اڈے فلپائن حکومت کے حوالے کیے اور اپنی فضائیہ واپس بلا لی۔ تاریخ اس سارے آپریشن کا کریڈٹ فلپائن کے ان لوگوں کو دیتی ہے جنہوں نے ہارن کے ذریعے امریکی حکومت کو یہ باور کرا دیا تھا جب کوئی قوم کسی دوسری قوم سے نفرت کرتی ہے تو ہارن بجا بجا کر بھی دوسری قوم کو پسپائی پر مجبور کر دیتی ہے۔
یہ احتجاج کا ایک شاندار طریقہ تھا، اسے اب تک چار اقوام اپنا چکی ہیں اور چاروں اقوام نے اس سے یکساں فوائد حاصل کیے ہیں۔ احتجاج کا ایک اور دلچسپ طریقہ میں نے ساؤتھ افریقہ کے کسی جریدے میں پڑھا تھا۔ اس جریدے میں کسی سائنس دان نے انکشاف کیا کہ ”امریکی سنڈی“ کی ترکیب ایک جاپانی سائنس دان نے امریکی قوم کا مذاق اڑانے کے لیے وضع کی تھی۔ یہ سنڈی بنیادی طور پر پودوں کا ایک کیڑا ہے۔ یہ کیڑا گرم مرطوب علاقوں کی فصلوں کو لگ جاتا ہے۔ یہ کیڑا ایک بار لگنے کے بعد پودے کی جان نہیں چھوڑتا۔ یہ کیڑا جب پودے کے تنے کو اپنی گرفت میں لیتا ہے تو اس کے بعد اس کا سارا رس چوس جاتا ہے اور اسے سرکنڈا بنا کر چھوڑتا ہے۔ ایک جاپانی سائنس دان نے اس کیڑے کو ”امریکی سنڈی“ کا نام دے دیا۔ اس کے بعد یہ نام پوری دنیا میں مشہور ہو گیا۔ اب تیسری دنیا کے لوگ تمام امریکیوں کو ”امریکی سنڈی“ کہتے ہیں۔ احتجاج کا ایک طریقہ ناٹ ویڈ (Knot Weed) نام کا ایک پودا بھی تھا۔ یہ ایک جاپانی پودا ہے، اسے اس وقت احتجاجی پودا کے نام سے بھی پکارا جاتا ہے۔ یہ پودا جاپان میں کثرت سے پایا جاتا ہے۔ آج سے ڈیڑھ سو برس پہلے برطانوی فوجی جاپان پہنچے، انہوں نے وہاں قبضہ کر لیا اور مقامی آبادی پر ظلم و ستم شروع کر دیے۔ وہاں اس وقت ایک بانس نما پودا ہوتا تھا، یہ پودا دیکھنے میں انتہائی خوبصورت تھا۔ اس دور میں ایک برطانوی خاندان جاپان سے واپس برطانیہ آنے لگا تو جاپان کے ایک مقامی شخص نے اسے یہ پودا تحفے میں دے دیا۔ وہ خاندان برطانیہ آیا اور اس نے اپنے صحن میں یہ پودا لگا
دیا۔ یہاں سے برطانیہ کی زراعت کی تباہی شروع ہوگئی۔ یہ دنیا کا ایک ایسا پودا ہے جو ہر قسم کی مٹی میں اُگ سکتا ہے۔ یہ سڑکوں، چٹانوں، کنکریٹ کی دیواروں اور چھتوں پر اُگ سکتا ہے اور نہایت تیزی سے پھیلتا ہے۔ اس کے پھولوں پر آنے والے زرد ذرات ہوا کے ذریعے اڑتے ہیں اور یہ ہوا جس جس جگہ سے گزرتی ہے وہاں یہ پودا اگتا چلا جاتا ہے۔ اس پودے کے بارے میں مشہور ہے کہ اگر زمین میں مٹر کے دانے کے برابر بھی اس کی جڑ ہو تو یہ بیس پچیس برس بعد دوبارہ اگ آتا ہے۔ یہ پودا جس جگہ لگتا ہے وہاں کے تمام دوسرے پودے گلنا شروع ہو جاتے ہیں، وہاں کی زمین بنجر ہو جاتی ہے۔ 1946ء میں برطانیہ کو اس پودے کی تباہی کا اندازہ ہوا تو گوروں نے اسے جڑوں سے اکھیڑ کر باہر پھینک دیا....... لیکن جہاں جہاں یہ پودا پھینکا گیا وہاں وہاں یہ دوبارہ اُگ آیا۔ اس وقت برطانیہ میں نہ صرف اس پودے پر پابندی ہے بلکہ پودا لگانے والے کو دو سال قید بامشقت کی سزا بھی دی جاتی ہے۔ برطانوی حکومت کے ایک تخمینے کے مطابق برطانیہ کو اس پودے سے جان چھڑانے کے لیے ڈیڑھ ارب پاؤنڈ درکار ہیں۔ یہ پودا جاپانیوں کا انتقام یا احتجاج تھا، وہ کمزور تھے۔ لہٰذا وہ برطانوی فوجوں کا مقابلہ نہیں کر سکتے تھے لیکن انہوں نے ایک پودے کا تحفہ دے کر برطانیہ سے اس کے ظلم اور ستم پر ایسا احتجاج کیا جس کا سلسلہ ڈیڑھ سو سال سے جاری ہے۔
احتجاج کا ایک طریقہ خرید و فروخت بھی ہے۔ اس وقت دنیا کو گلوبل ولیج کہا جاتا ہے۔ یہ حقیقتاً ایک ایسا گاؤں ہے جس میں ہر چیز ایک دوسرے کے ساتھ گتھم گتھا ہے۔ اس گاؤں میں ایک وقت میں ایک شخص خریدار بھی ہوتا ہے اور اسی وقت فروخت کنندہ بھی ...... یہ حقیقت ہے اس دنیا میں اب کوئی ملک دوسرے ملک کی مدد کے بغیر سلامت نہیں رہ سکتا۔ سب ملک ایک مارکیٹ کی حیثیت اختیار کر چکے ہیں جس میں ایک ملک دوسرے کو گندم بیچ رہا ہے اور اس کے بدلے میں اس سے تیل خرید رہا ہے اور یہ دونوں ملک مل کر کسی تیسرے ملک سے پانی لے رہے ہیں چنانچہ اس وقت یہ مجبوری احتجاج کا سب سے بہتر طریقہ ہے۔ اس سلسلے میں ہم چین کی مثال دے سکتے ہیں۔ چین اس وقت سوئیاں بنانے والا دنیا کا واحد ملک ہے۔ آپ کپڑے سینے کی مشینوں سے لے کر سرنج کی سوئیوں اور گھڑیوں میں نصب سوئیوں تک کو لے لیں۔ یہ سب سوئیاں چین میں بنائی جاتی ہیں، اس کی بنیادی وجہ وہ مخصوص فولاد ہے جس کے ذریعے یہ سوئیاں بنتی ہیں۔ یہ فولاد صرف چین میں دستیاب ہے۔ لہٰذا اگر چین دنیا کی
صرف سوئیاں بند کر دے تو دنیا کے 182 ممالک مسائل کا شکار ہو جائیں۔ اسی طرح اس وقت دنیا میں تیل پیدا کرنے والے صرف 11 ممالک ہیں۔ ان گیارہ ممالک میں سے 10 ممالک اسلامی ہیں۔ ان ممالک نے عرب اسرائیل جنگ کے دوران یورپ کو تیل کی سپلائی بند کر دی تھی، جس کے نتیجے میں پورے یورپ اور پورے امریکہ میں ٹریفک بند ہوگئی تھی۔ لوگ پیدل دفتر جاتے اور پیدل گھر آتے تھے۔ آپ احتجاج کی تازہ ترین لہر کو لیں: ڈنمارک میں گستاخ خاکوں کی اشاعت کے بعد سعودی عرب اور اس کے بعد متحدہ عرب امارات نے ڈنمارک کی کمپنی ”آرلے“ کی مصنوعات کا بائیکاٹ کر دیا۔ ”آرلے“ ہر سال 3 ارب ڈالر کی ڈیری مصنوعات عرب ممالک کو فروخت کرتی تھی۔ اس بائیکاٹ کے نتیجے میں یہ کمپنی شدید مالیاتی بحران کا شکار ہوگئی۔ کمپنی کے ترجمان کا کہنا ہے اگر یہ بائیکاٹ جاری رہا تو شاید کمپنی کو اپنے ملازمین کی تعداد نصف کرنا پڑے۔ اسی طرح ”ٹیلی نار“ ناروے کی موبائل فون کمپنی ہے۔ یہ کمپنی اس وقت 21 اسلامی ممالک میں کاروبار کر رہی ہے۔ خاکوں کی اشاعت کے بعد اسلام ممالک میں ٹیلی نار کے دفاتر اور تنصیبات پر حملے شروع ہوگئے، لوگوں نے اس کی سروسز بند کر دیں، صرف ایک ماہ میں اس کمپنی کا ریونیو نصف ہو گیا جبکہ اسلامی ممالک میں موجود اس کے نمائندوں نے دھڑا دھڑ چھٹیاں لینا شروع کر دی ہیں۔
ڈنمارک کے گستاخ خاکوں کے بارے میں اطلاعات جب پاکستان پہنچیں تو ہمارے عوام نے بھی ان پر شدید احتجاج کیا۔ اس میں کوئی شک نہیں نبی اکرم ﷺ کی ذات وہ ذات اقدس ہے جس پر کوئی مسلمان سمجھوتہ نہیں کر سکتا۔ توہین رسالت کے بعد مسلمان کے لیے دو راستے رہ جاتے ہیں: وہ غازی بن کر زندہ رہے یا پھر شہید ہو کر ابدی زندگی پا جائے لیکن بدقسمتی سے ہم نے اس احتجاج کے لیے جو طریقہ استعمال کیا وہ خودکشی سے ملتا جلتا ہے۔ ہم نے دشمن پر حملہ کرنے، اسے اپنا موقف سمجھانے یا اسے کوئی گزند پہنچانے کی بجائے اپنا نقصان شروع کر دیا۔
حکومت کے ایک وزیر نے ایک دن ڈنمارک کی ادویات کے بائیکاٹ کا اعلان کیا اور اگلے دن حکومت نے اس اعلان کی تردید کر دی۔ ہم نے ڈنمارک اور ناروے کے سفارتخانوں کی حفاظت کے لیے وہاں پولیس تعینات کر دی ہے۔ ہماری انتظامیہ جی جان سے اسلام آباد کے سفارتی علاقے کی حفاظت کر رہی ہے اور ہم لوگ اسی طرح ڈنمارک کے مکھن کے مزے لوٹ رہے ہیں۔ آپ پاکستان کے کسی فائیو سٹار ہوٹل میں جا کر دیکھ لیں، آپ کو
ناشتے میں ڈنمارک کا مکھن ملے گا، ایسا کیوں ہے؟ یہ کیسا احتجاج ہے؟ جن لوگوں کی زندگیاں اس احتجاج سے متاثر ہونی چاہیے تھیں، وہ لوگ تو اطمینان سے زندگی گزار رہے ہیں جبکہ احتجاج کرنے والوں کی اپنی دکانیں، اپنے گھر اور اپنی گاڑیاں جل رہی ہیں۔ ہماری زندگی تعطل اور پریشانی کا شکار ہے، یہ غلط ہے۔ ہمیں بنیادی طور پر احتجاج کرنے کا طریقہ نہیں آتا۔ ہمیں چاہیے ہم صرف خرید و فروخت کو احتجاج کا ذریعہ بنائیں۔ ہم گستاخ ممالک کی مصنوعات خریدنا اور انہیں اپنی مصنوعات بیچنا بند کر دیں۔ ہم آج فیصلہ کر لیں ہم ڈنمارک اور ناروے کو ایک قطرہ تیل نہیں دیں گے۔ ہم ناروے اور ڈنمارک کی کسی کمپنی کی کوئی پراڈکٹ نہیں خریدیں گے۔ اس کے بعد ہم ڈنمارک اور ناروے کے کاروباری حریف ممالک سے تجارتی معاہدے کریں۔ ہم ان کے دشمن ممالک سے وہ تمام مصنوعات خریدنا شروع کر دیں جن میں ڈنمارک اور ناروے کو مناپلی حاصل تھی۔ اس کے نتیجے میں یہ دونوں گستاخ ملک شدید معاشی اور تجارتی بحران کا شکار ہو جائیں گے۔ کہا جاتا ہے ایک تاجر اپنے والد کو ناراض کر لیتا ہے لیکن وہ گاہک کی ناراضی برداشت نہیں کرتا۔ ہمیں تجارت کی اس نفسیاتی کمزوری کو اپنے احتجاج کا ذریعہ بنانا چاہیے۔ اس وقت دنیا میں ایک ارب 45 کروڑ مسلمان ہیں۔ یہ تمام مسلمان صابن، ٹوتھ پیسٹ، ہیئر آئل، شیمپو، خوشبو اور ادویات استعمال کرتے ہیں۔ یہ کپڑے اور جوتے بھی پہنتے ہیں، ان میں سے نصف مسلمانوں کے پاس موبائل بھی ہیں۔ ان میں سے کم از کم تیس چالیس کروڑ مسلمانوں کے پاس گاڑیاں، ٹیلی ویژن، فریج اور مائیکرو ویو اون بھی ہیں۔ یہ ایک ارب 45 کروڑ مسلمان یورپ اور امریکہ کے گاہک ہیں اور یہ حقیقت ہے دنیا کی کوئی قوم، کوئی ملک گاہکوں کی اتنی بڑی تعداد کو ناراض نہیں کر سکتا۔ اسی طرح ہمارے پاس تیل ہے اور تیل کو اس وقت وہی حیثیت حاصل ہے جو انسانی بدن میں خون کو حاصل ہے۔ لہٰذا جس طرح انسانی بدن خون کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتا بالکل اسی طرح آج دنیا تیل کے بغیر نہیں چل سکتی۔ چنانچہ اگر ہم نے احتجاج کرنا ہے تو ہم ایک طرف یورپ کا تیل بند کر دیں اور دوسری طرف اپنے اپنے ملک میں یورپ کی مصنوعات کا بائیکاٹ کر دیں۔ یقین کیجیے یورپ اپنی موت آپ مر جائے گا۔ وہ اپنے ہی قدموں میں گر کر دم توڑ جائے گا...... لیکن خدا کے لیے خودکشی بند کریں۔ احتجاج وہ کریں جس سے گستاخ ملکوں کو نقصان پہنچے۔ اپنے پاؤں پر کلہاڑی نہ ماریں، خود کو قتل نہ کریں۔
٭ ٭ ٭
مفتی ابولبابہ شاہ منصور
سوہنے محمد ﷺ کے نام پر
مسلمانوں کی نفسیات میں پوشیدہ حب رسول ﷺ کے لافانی جذبے پر کافی کچھ سوچا اور لکھا جا چکا ہے۔ اس عقدے کی گرہ کشائی کی مغربی مفکرین نے بہت کوشش کی ہے لیکن وحی کے علم سے محرومی کے سبب وہ اس راز کو نہیں پاسکے کہ ان کے رنگ میں پوری طرح رنگے اور دنیا داری میں بری طرح لتھڑے اس ”محمدن“ کو نبی پاک ﷺ کا نام نامی سنتے ہی اچانک کیا ہو جاتا ہے کہ یہ باطنی تطہیر کے سارے مرحلے ایک جست میں پھلانگ کر کٹر بنیاد پرست ”مُسلے“ کا روپ دھار لیتا ہے اور تو اور وہ لوگ جو بظاہر نام ہی کے مسلمان ہوتے ہیں، وہ بھی آپے سے باہر ہو کر مرنے مارنے پر تل جاتے ہیں اور اس طرح کی کوئی بات سنتے ہی ان کے اندر سے اجلا چمکتا، حب رسول ﷺ سے سرشار مسلمان برآمد ہو کر اپنے پر پھیلا کر گناہوں پر سایہ کر لیتا ہے۔ میں جب مغربی مفکرین کو اس پر حیرت زدہ دیکھتا ہوں تو مجھے ان پر ہنسی اور خود پر فخر آتا ہے کہ الحمدللہ ! میں بھی گنہگار مسلموں میں سے ایک فرد ہوں جس کے پاس ایسا نادر و نایاب سرمایہ ہے جو آخری دم تک اور قبر وحشر تک میرا سہارا ہے۔ ایسے موقع پر مجھے بخشو چاچا یاد آجاتے ہیں۔
بخشو چاچا کی ڈیوٹی یہ ہوتی تھی کہ وہ نظر رکھیں۔ دوپہر کو سارے بچے سوتے رہیں اور کوئی بھی دھوپ میں باہر نہ نکلے جبکہ بچوں کی کوشش یہ ہوتی تھی کہ کس طرح چاچا کو جل دے کر نکل جائیں اور کھیل کود کے مزے لیں یا بیر اور گوندیاں توڑ کر کھائیں۔ چاچا میں کمال یہ تھا کہ وہ نگرانی کرتے کرتے خود بھی اونگھنے لگتے اور کبھی کبھی تو باقاعدہ سوجاتے لیکن ان کو غافل سمجھ کر جیسے ہی کوئی بچہ بستر چھوڑتا یا اٹھ کر باہر جانے کی کوشش کرتا ، فوراً ان کی آنکھ کھل جاتی اور بچے کو واپس بستر میں دبکنے کے سوا کوئی چارہ نہ ہوتا۔ ہم مدتوں یہ راز حل نہ کر پائے کہ آخر وہ کون سا الارم ہے جو سوتے اونگھتے چاچا کو بروقت خبر دار کر دیتا ہے اور کیا وجہ ہے کہ وہ عین
وقت پر چونک کر اٹھ جاتے ہیں اور چوری پکڑ لیتے ہیں۔ بعد میں جب خوابیات، مابعد الطبیعات اور نفسیات پر کچھ پڑھنے کا موقع ملا تو معلوم ہوا کہ انسان کی فکر پر کوئی چیز اتنی مسلط ہو جائے کہ اس کا شعور، تحت الشعور اور لاشعور یکساں طور پر اس کی طرف ہمہ تن رہنے کا عادی ہو جائے تو اس کے لیے بیداری اور نیند برابر ہو جاتے ہیں اور اس کے لاشعور میں بجنے والی گھنٹی کو اس کا شعور بروقت سن لیتا ہے۔
مسلمان کے تحت الشعور میں بھی کلمہ پاک کا دوسرا جزو ”محمد رسول اللہ ﷺ“ پڑھتے ہی ذات محمدی ﷺ سے ایسا انس و محبت تکوینی طور پر فیڈ ہو جاتا ہے کہ اس کا ظاہر کتنا ہی گندا ہو جائے، اس کے باطن میں یہ پاکیزہ اور مبارک روشنی روح کی گہرائیوں میں اتر کر لو دیتی رہتی ہے اور جیسے ہی اس پر چنگاری کو پھونک مار دی جائے، یہ شعلہ جوالہ بن کر بھڑک اٹھتی ہے۔ قدرت اللہ شہاب نے اس حقیقت کو بڑے خوبصورت انداز میں سمجھایا ہے۔ ان کے اپنے الفاظ میں ملاحظہ ہو:
”جب میری عمر پانچ یا چھ سال کے قریب تھی تو اس زمانے میں مجھے اسلام اور پیغمبر اسلام کے ساتھ کسی قسم کا کوئی خاص ذاتی لگاؤ نہ تھا۔ مسلمان گھرانے میں پیدا ہونے کے باعث میکانکی طور پر کلمہ جانتا تھا اور دینیات کے استاد کے خوف سے نماز کی سورتیں اور دعائیں طوطے کی طرح رٹ رکھی تھیں۔ آبادی سے دور ایک مجنوں صفت، مجذوب نما شخص ویرانے میں بیٹھا رہتا تھا اور ہمہ وقت ’لا الہ الا اللہ‘ کی ضربیں لگاتا رہتا تھا۔ میں اور میرا ایک ہم عمر ہندو دوست ’لا الہ الا اللہ‘ کے وزن پر مہمل، مضحکہ خیز اور کبھی کبھی غلط قافیے جوڑ کر مذاق بھی اڑایا کرتے تھے۔ مجذوب نے ہمیں بار بار ڈانٹا کہ ہم اللہ کے نام کی بے حرمتی نہ کریں لیکن ہم باز نہ آئے۔ ایک روز ہم دونوں اسی مشغلے میں مصروف تھے کہ ایک شخص ادھر سے چند نعتیہ اشعار الاپتا ہوا گزرا جس کا ایک مصرع یہ تھا ع
یہ مصرع سن کر میرا ہندو دوست زور زور سے ہنسنے لگا اور اس نے اسم محمدؐ کی شان میں کچھ گستاخیاں بھی کیں۔ میں نے آؤ دیکھا نہ تاؤ، لپک کر ایک پتھر اٹھایا اور اسے گھما کر ہندو لڑکے کے منہ پر ایسے زور سے دے مارا کہ اس کے سامنے کا آدھا دانت ٹوٹ گیا۔
یہ حقیقت ہے کہ اس زمانے میں شعوری طور پر اللہ اور رسول اللہ ﷺ دونوں کے ساتھ یکساں بیگانگی تھی۔ پھر لاشعور کی وہ کون سی لہر تھی جو اللہ کے ساتھ مذاق پر تو خاموش رہتی تھی لیکن رسول اللہ ﷺ کے ساتھ گستاخی پر آناً فاناً جوش میں آ گئی تھی؟ یوں بھی عام مشاہدہ یہی ہے کہ اگر کوئی ہمیں گالی دے تو غصہ آتا ہے۔ ہمارے ماں باپ کو گالی دے تو اور زیادہ غصہ آتا ہے اللہ تعالیٰ کے خلاف زبان طعن دراز کرے تو دل کڑھتا ہے اور گالی گلوچ تک نوبت آ سکتی ہے۔ لیکن رسول خدا ﷺ کے متعلق بدزبانی کرے تو اکثر لوگ آپے سے باہر ہو جاتے ہیں اور کچھ لوگ تو مرنے مارنے کی بازی تک لگا بیٹھتے ہیں۔ اس میں اچھے، نیم اچھے یا برے مسلمان کی بالکل کوئی تخصیص نہیں بلکہ تجربہ تو یہی شاہد ہے کہ جن لوگوں نے ناموس رسول ﷺ پر اپنی جان عزیز کو قربان کر دیا، ظاہری طور پر نہ تو وہ علم و فضل میں نمایاں تھے اور نہ زہد و تقویٰ میں ممتاز تھے۔ ایک عامی مسلمان کا شعور اور لاشعور جس شدت اور دیوانگی کے ساتھ شان رسالت ﷺ کے حق میں مضطرب ہوتا ہے، اس کی بنیاد عقیدے سے زیادہ عقیدت پر مبنی ہے۔ خواص میں یہ عقیدت ایک جذبہ اور عوام میں ایک جنون کی صورت میں نمودار ہوتی ہے۔ یہ جذبہ یا جنون نہ تو کسی منظم تحریک کی پیداوار ہے اور نہ ہی کسی خاص برین واشنگ کا نتیجہ ہے۔ اس کے برعکس یہ تو ایک خود کار تخلیقی عمل کی طرح جنم لے کر فطرت انسانی کے ایسے نہاں خانوں میں پوشیدہ رہتا ہے جس کا بسا اوقات ہمیں خود بھی علم نہیں ہوتا۔ زیادہ نیک لوگوں میں عقیدت رسول کی حدت پائی جاتی ہے اور نسبتاً کم نیک لوگوں میں عقیدت رسول میں شدت پائی جاتی ہے۔ عقیدت کی حدت اور شدت کا یہ وسیع و عریض ہمہ گیر پھیلاؤ یقیناً اس آیت کریمہ کی منہ بولتی تفسیر ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے حضور اکرم ﷺ کے بارے میں یہ بشارت دی ہے: ”ورفعنا لک ذکرک: ہم نے آپ کا ذکر بلند کر دیا“ (الم نشرح، 4) ظاہری طور پر اس بشارت کا مظہر وہ ذکر رسول ہے جو درود و سلام اور اذان اور نماز میں بار بار ہر جگہ ہر آن لازمی طور پر کیا جاتا ہے لیکن باطنی طور پر اس کا کھلا مظہر احترام رسالت ﷺ کی وہ پوشیدہ حقیقت ہے جو ہر اچھے یا برے مسلمان کے لاشعور میں اسی طرح جاری و ساری رہتی ہے جس طرح کہ خون اس کی رگوں میں گردش کرتا ہے۔“
(شہاب نامہ: ص 1217)
الحمدللہ! ثم الحمدللہ! ہماری رگوں میں بھی یہی خون گردش کر رہا ہے اور جب تک یہ دنیا قائم ہے، سوہنے محمد ﷺ کے نام لیواؤں کی رگوں میں عشق رسول ﷺ کی حرارت
موجود رہے گی اور یہ جان فزا خوشبو ان کے دل و دماغ میں قیامت کی صبح تک رچی بسی رہے گی۔ میرے محمدی بھائیو! ہمیں گستاخان رسول ﷺ کی مصنوعات کی طرح ان کی تہذیب و ثقافت کی نفرت بھی دل میں بٹھانی ہوگی۔ ان کے طور طریقوں کا بھی بائیکاٹ کرنا ہوگا ورنہ یوم قیامت سوہنے نبی ﷺ کو سینے کے زخم کو دکھا سکیں گے، منہ دکھانا مشکل ہوگا۔ مغربی تہذیب نے بسنت کے روپ میں ہندوانہ تہذیب کے ساتھ آمیزش کر کے ہمیں غلاظت پر ڈال دیا ہے۔ ہے کوئی جو سوہنے محمد ﷺ کے نام پر وہ سب کچھ کر گزرے جو آج نہ ہوا تو بہت دنوں تک پھر نہ ہوگا۔
صلیبی
یولانڈ پوسٹن ( کا ایڈیٹر پڑھنے کے لیے بے اس کے ذاتی حلقے میں شا اکرم ﷺ کی حیات پر ف اکرم ﷺ کے خاکے شائ آرٹسٹوں سے رابطے کیے تو تھا: مسلمان اسے توہین رسا کی زندگی خطرے کا شکار ہو ساز نے ایک برہنہ عورت قلم ساز کو قتل کر دیا۔ قتل کے کی: ”مہربانی کر کے مجھے شخص نے میرے سامنے کھ قاتل نوجوان کا یہ بیان مسلم اکرم ﷺ کی مقدس و مطہر کرتے۔ چنانچہ ہم لوگ اپنی جب یہ مصنف ہر طر کے ایڈیٹر کے پاس آگیا اور ہیں، یہ لوگ مسلمانوں کے جذ اس کی وجہ پوچھی تو اس نے ”آرٹسٹ بلاوجہ پریشان ہیں
یاسر محمد خان
صلیبی جنگوں کا نیا سلسلہ شروع ہو گیا
یولانڈ پوسٹن (Jyllands-Posten) ڈنمارک کا مشہور اخبار ہے۔ اس اخبار کا ایڈیٹر پڑھے لکھے طبقے میں بہت مشہور ہے۔ ڈنمارک کے بے شمار لکھاری مصنف اور صحافی اس کے ذاتی حلقے میں شامل ہیں۔ ایڈیٹر کے لکھاری دوست نے پچھلے سال ستمبر میں نبی اکرم ﷺ کی حیات پر ایک گستاخانہ کتاب لکھی تھی۔ وہ اس کتاب میں (نعوذ باللہ) نبی اکرم ﷺ کے خاکے شامل کرنا چاہتا تھا لیکن جب اس نے خاکے بنوانے کے لیے مختلف آرٹسٹوں سے رابطے کیے تو تمام آرٹسٹوں نے خاکے بنانے سے انکار کر دیا۔ ان آرٹسٹوں کا کہنا تھا: مسلمان اسے توہین رسالت ﷺ سمجھتے ہیں اور اگر انہوں نے کوئی ایسی حرکت کی تو ان کی زندگی خطرے کا شکار ہو جائے گی۔ وہ لوگ ہالینڈ کی مثال دیتے تھے جہاں ایک گستاخ قلم ساز نے ایک برہنہ عورت کے جسم پر آیت لکھ دی تھی بعد ازاں ایک مسلمان نوجوان نے اس قلم ساز کو قتل کر دیا۔ قتل کے بعد جب مقدمہ چلا تو اس نوجوان نے عدالت سے درخواست کی: ”مہربانی کر کے مجھے پھانسی کی سزا دے دی جائے کیونکہ اگر میں زندہ رہا اور کسی دوسرے شخص نے میرے سامنے گستاخی کی تو میں اسے بھی قتل کر دوں گا۔“ ان آرٹسٹوں کا کہنا تھا: اس قاتل نوجوان کا یہ بیان مسلمانوں کی ذہنیت اور طرز فکر کو ظاہر کرتا ہے۔ یہ لوگ اپنے دین، نبی اکرم ﷺ کی مقدس و مطہر شخصیت اور صحابہ کرام کی ذات پر کسی قسم کا کمپرومائز (سمجھوتہ) نہیں کرتے۔ چنانچہ ہم لوگ اپنی جان رسک (خطرہ) لینے کے لیے تیار نہیں ہیں۔
جب یہ مصنف ہر طرف سے ناکام ہو گیا تو وہ یولانڈ پوسٹن (Jyllands Posten) کے ایڈیٹر کے پاس آ گیا اور اس نے اس سے شکایت کی: ”ہمارے ملک کے تمام آرٹسٹ بزدل ہیں، یہ لوگ مسلمانوں کے پیغمبر ﷺ کا خاکہ تیار کرنے پر تیار نہیں ہیں۔“ ایڈیٹر نے مصنف سے اس کی وجہ پوچھی تو اس نے ”بزدلی“ کی ساری وجہ بتا دی۔ ایڈیٹر نے اس کے جواب میں کہا: ”آرٹسٹ بلاوجہ پریشان ہیں، ڈنمارک ایک لبرل اور سیکولر ملک ہے اور اس میں آباد تمام مسلمان
بھی ڈنمارک کے لوگوں کی طرح ہیں۔ یہ لوگ ڈنمارک کے لوگوں کے کلچر میں رنگے ہوئے ہیں۔ یہ ہماری زبان بولتے ہیں، ہمارے جیسے کپڑے پہنتے ہیں، ہمارے جیسے کھانے کھاتے ہیں اور ان میں بھی وہ تمام بری عادتیں موجود ہیں جو ہمارے لوگوں میں ہیں، لہٰذا ڈنمارک کے مسلمان اس پر کسی قسم کا ردعمل ظاہر نہیں کریں گے۔“ مصنف نے اس کے جواب میں کہا: ”مسلمان ذرا مختلف قسم کی قوم ہیں۔ یورپ اور امریکہ کا عیسائی آپس میں تقسیم ہے۔ وہ ناروے کا عیسائی، ڈنمارک کا عیسائی اور برطانیہ کا عیسائی ہے۔ چنانچہ ہم سب کے مسائل مقامی اور اپنے اپنے ملک تک محدود ہوتے ہیں۔ مسلمان بھی آپس میں تقسیم ہیں لیکن بعض ایسی باتیں، بعض ایسے مسائل ہیں جن پر ان لوگوں کی سوچ ایک ہوتی ہے، جن پر ان کا ردعمل یکساں ہوتا ہے۔ یہ لوگ ان باتوں پر نیل کے ساحل سے لے کر کاشغر تک ایک ہی قسم کا ردعمل ظاہر کرتے ہیں۔“ مصنف کے جواب پر ایڈیٹر کو بڑی حیرت ہوئی۔ لہٰذا اس نے ٹیسٹ کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس نے اخبار کے کارٹونسٹ کو بلایا، اسے آئیڈیا دیا اور اس کارٹونسٹ نے گستاخی کا عمل شروع کر دیا۔ اس بدبخت نے نبی اکرم ﷺ کے (نعوذباللہ) بارہ خاکے بنائے اور یہ خاکے ایڈیٹر کے حوالے کر دیے۔ ایڈیٹر نے 30 ستمبر 2005ء کو اخبار میں یہ خاکے شائع کر دیے۔
یہ خاکے چھپنے کی دیر تھی کہ ڈنمارک کے مسلمانوں کے تن بدن میں آگ لگ گئی۔ وہ تمام نوجوان جن کے بارے میں ایڈیٹر کا خیال تھا کہ یہ لوگ مغربی ثقافت میں پوری طرح رچ بس گئے ہیں، ان کے اندر کا مسلمان فوت ہو گیا ہے اور یہ لوگ اب کسی قسم کا ردعمل ظاہر نہیں کریں گے، وہ نوجوان شعلہ جوالہ بن گئے اور ان نوجوانوں نے کوپن ہیگن کے تمام اسٹالوں سے اخبارات اٹھائے اور ان تمام اخبارات کو چوک میں رکھ کر آگ لگا دی۔ اس کے بعد وہ اخبار کی عمارت کی طرف بڑھے، اخبار کی انتظامیہ نے فوراً پولیس طلب کر لی، پولیس آئی اور اس نے عمارت کو گھیرے میں لے لیا۔ یہ نوجوان وہاں پہنچے تو پولیس کے کمانڈوز نے انہیں روک لیا...... یہ لوگ غیر مسلح تھے لیکن اس کے باوجود محسوس ہوتا تھا ان کے اندر آگ لگی ہوئی ہے اور لپکتے شعلے کسی بھی وقت سب کچھ خاکستر کر دیں گے۔ حالات کو یوں خراب ہوتے دیکھ کر اخبار کا ایڈیٹر فرار ہو گیا جبکہ پولیس نے اس اخبار سے وابستہ تمام کارٹونسٹوں کے گھروں پر پہرے بٹھا دیے اور شہر کے تمام آرٹسٹوں کی نقل وحمل محدود کر دی۔ پولیس کا خیال ہے کہ مسلمان نوجوان تمام آرٹسٹوں کو ہدف بنا سکتے ہیں۔ یہ آگ اگلے دن سویڈن اور ناروے پہنچ
گئی اور وہاں کی مسلمان کمیونٹی نے بھی احتجاج شروع کر دیا۔ دس جنوری کو ناروے کے ایک جریدے ”میگزنٹ“ نے بھی یہ سارے خاکے شائع کر دیے جبکہ وہاں کے ایک بڑے اخبار ”داگ بلادت“ نے انہیں انٹرنیٹ پر جاری کر دیا جس کے ردعمل میں وہاں بھی ڈنمارک جیسی صورت حال پیش آ گئی اور پولیس کو اس میگزین اور اس اخبار کی عمارت کے سامنے بھی مورچے لگانا پڑ گئے۔ ڈنمارک اور ناروے کی صورت حال کو عالمی نشریاتی اداروں نے اٹھایا۔ ان کا خیال تھا وہ اس صورت حال کی مدد سے عالم اسلام کو مزید بدنام کر سکیں گے لیکن جوں ہی بی بی سی، سی این این، اے بی سی، واشنگٹن پوسٹ اور نیو یارک ٹائم میں یہ خبر شائع ہوئی، یہ ایشو پورے عالم اسلام تک پہنچ گیا اور تمام اسلامی ممالک میں یہ یورپ اور امریکہ کے خلاف احتجاج شروع ہو گئے۔ اس دوران 11 اسلامی ممالک کے سفیروں نے ڈنمارک کے وزیر اعظم سے ملاقات کی کوشش کی لیکن انہوں نے ملنے سے انکار کر دیا۔ جنوری کے درمیان تک دنیا کے کسی تجزیہ نگار کو اس شدید ردعمل کی توقع نہیں تھی۔ امریکہ اور یورپ کے دانشوروں اور تجزیہ نگاروں کا خیال تھا اس ایشو پر عالم اسلام معذرت خواہانہ رویہ اختیار کرے گا اور ان لوگوں کو انہیں مزید دہشت گرد ثابت کرنے کا موقع مل جائے گا لیکن اس کا ردعمل اس قدر شدید اور خوف ناک تھا کہ شاطر یورپ گھبرا گیا اور اس نے اس صورت حال کے تدارک کی کوششیں شروع کر دیں۔
لیکن آنے والے دنوں میں صورت حال مزید بگڑتی چلی گئی۔ تقریباً تمام اسلامی ممالک نے اپنے اپنے ممالک میں موجود ڈنمارک کے سفیروں کو طلب کیا اور ان کے سامنے تحریری طور پر احتجاج کیا۔ سعودی عرب، لیبیا اور شام نے ڈنمارک سے اپنے سفیر واپس بلا لیے اور او آئی سی کے سیکرٹری جنرل اکمل الدین احسان اوغلو نے ڈنمارک کے وزیر اعظم کو خط لکھا اور اس خط میں ان سے شدید احتجاج کیا۔ انہوں نے لکھا: ”اخبارات میں حضور ﷺ کی توہین پر مبنی کارٹونوں کی اشاعت سے تناؤ اور انتشار پھیل سکتا ہے۔ ڈنمارک کے حکام کو چاہیے شانِ رسالت ﷺ میں گستاخی کرنے والوں کو باز رکھیں اور ان کی مذمت کا بیان جاری کریں۔“ سیکرٹری جنرل نے کہا کہ شانِ رسالت ﷺ میں گستاخانہ اقدامات سے دنیا بھر کے مسلمانوں کے جذبات مجروح ہوئے ہیں اور مسلمانوں نے سمجھ لیا ہے کہ ڈنمارک اور ناروے کے حکام نے گستاخانہ اقدامات کرنے والوں کو روکنے کی بجائے ان کا دفاع کیا ہے۔ سیکرٹری جنرل نے ڈنمارک کے حکام سے کہا کہ وہ مسلم دنیا کے جذبات کو مدنظر رکھتے
ہوئے فوری طور پر معافی مانگیں۔
یورپ کے لیے یہ ایک غیر متوقع صورت حال تھی۔ اسی دوران یورپ کا چرچ اس صورت حال میں داخل ہوا اور اس نے یورپ کے مختلف ممالک کے مختلف اخبارات کو ڈنمارک اور ناروے کے ”متاثرہ“ اخبارات کی مدد کے لیے ابھارنا شروع کر دیا۔ ان کا خیال تھا: ”عالم اسلام اس ایشو پر تیزی سے اکٹھا ہو رہا ہے۔ لہٰذا ہمیں بھی اس وقت اتحاد اور نظم وضبط کا مظاہرہ کرنا چاہیے ۔“ چرچ کی یہ کوششیں رنگ لائیں اور جنوری کے آخر میں اٹلی، فرانس، جرمنی اور سپین کے اخبارات نے بھی یہ گستاخانہ کارٹون شائع کر دیے ، اس کے بعد عیسائیوں اور مسلمانوں میں کھلی جنگ شروع ہو گئی۔
27 جنوری کو جمعہ تھا۔ اس دن حرمین شریفین کے ائمہ کرام نے اپنی تقریروں میں مسلمانوں سے درخواست کی کہ وہ ڈنمارک کی مصنوعات کا بائیکاٹ کردیں۔ ان تقریروں کے ردعمل میں سب سے پہلے سعودی عرب میں بائیکاٹ شروع ہوا۔ ڈنمارک عرب ممالک کو بڑے پیمانے پر دو اشیا سپلائی کرتا ہے: ایک حلال گوشت اور دوسری ڈیری مصنوعات۔ عربوں نے 1960ء میں پہلی بار ڈنمارک سے گوشت خریدنا شروع کیا تھا۔ اس دور میں ڈنمارک یورپ کا واحد ملک تھا جو بڑے پیمانے پر گائے اور دنبے پالتا تھا۔ ان کے جانور مخصوص ماحول میں پلنے کے باعث بہت صحت مند اور لذیذ ہوتے تھے۔ لہٰذا عربوں نے ڈنمارک حکومت کے ساتھ سمجھوتہ کیا اگر وہ انہیں حلال گوشت فراہم کرنا شروع کردیں تو وہ ان کے ساتھ کھلی تجارت شروع کر سکتے ہیں۔ ڈینش گورنمنٹ مان گئی۔ چنانچہ سعودی عرب نے کوپن ہیگن میں مذبح بنائے اور وہاں مسلمان قصاب تعینات کر دیے جو خود اپنے ہاتھ سے جانور ذبح کرتے اور اس کے بعد اپنی نگرانی میں جانوروں کو صاف کر کے پیک کراتے۔ آنے والے دنوں میں یہ تجارت اس قدر بڑھ گئی کہ ڈنمارک حکومت نے اپنے تمام ذبیحہ خانوں میں سعودی عرب کے قصاب ملازم رکھ لیے۔ یوں اس وقت ڈنمارک یورپ کا واحد ملک جس میں تمام حلال جانور اسلامی طریقے سے ذبح کیے جاتے ہیں۔
ڈینش گورنمنٹ کا اعلان ہے آپ ڈنمارک کی کسی مارکیٹ کی کسی دکان سے مرغی، گائے اور بکرے کا گوشت خرید سکتے ہیں، یہ گوشت حلال ہوگا۔ گوشت کے بعد ڈنمارک کی سب سے بڑی تجارت اس کی ڈیری مصنوعات ہیں، ڈنمارک یورپ کا اکیلا ملک جو اربوں ڈالر کا دودھ (خشک اور ملک پیک دونوں) دہی، پنیر، مکھن، لسی اور بالائی برآمد کرتا ہے۔ اس
کی ڈیری مصنوعات کی سب سے بڑی کمپنی آرلے (Arly) صرف متحدہ عرب امارات کو ہر سال 3 ملین ڈینش کراؤن کی ڈیری مصنوعات فروخت کرتی ہے جبکہ سعودی عرب ہر سال ڈنمارک سے 350 ملین ڈالر کا مکھن اور دودھ درآمد کرتا ہے۔ اس وقت سعودی عرب کی اسٹورز کی چار بڑی چینز میں ”آرلے“ کے الگ کاؤنٹر اور شیلفیں بنی ہیں۔ لیکن ائمہ کرام کے اعلان کے بعد آرلے کی مصنوعات کا بائیکاٹ ہو گیا اور اسٹورز کے مالکان نے اس کی ساری مصنوعات اٹھا کر باہر پھینک دیں۔ سعودی عوام نے بھی اپنے اپنے فریجوں سے یہ ساری مصنوعات نکالیں اور اٹھا کر باہر پھینک دیں۔ ڈنمارک حکومت کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق صرف ایک ہفتے میں ڈنمارک کی کمپنیوں کو اڑھائی سو ملین ڈالر نقصان ہوا جو ایک بہت بڑی رقم ہے۔ تازہ ترین اطلاعات کے مطابق فرانس حکومت کے دباؤ پر فرانسیسی اخبارات کے ایڈیٹر کو نوکری سے برخاست کر دیا گیا ہے۔ یورپ کے تمام اخبارات کے دفاتر کی سیکیورٹی بڑھا دی گئی ہے۔ 59 اسلامی ممالک میں احتجاج اور جلسے جلوسوں کا سلسلہ شروع ہو چکا ہے، یورپ کے تمام سفیر اور سفارتی عملے کو اسلامی ممالک میں اپنی سرگرمیاں محدود کرنے کی ہدایات جاری ہو چکی ہیں۔ 22 اسلامی ممالک میں ڈنمارک اور ناروے کے سفارتی عملے نے اپنے اہل خانہ واپس بھجوا دیے ہیں اور ڈنمارک کے مختلف اہلکاروں نے چھٹی کی درخواست دے دی ہے۔ اسلامی ممالک میں ان تمام گستاخ ممالک کی مصنوعات کا بائیکاٹ جاری ہے اور بظاہر یوں محسوس ہوتا ہے یہ معاملہ ابھی آگے چلے گا۔
اب ہم آتے ہیں اس معاملے کی نفسیاتی جہتوں اور پس منظر کی طرف ...... اسلام پر رکیک حملوں کا سلسلہ سلطان صلاح الدین ایوبی رحمہ اللہ کے دور سے شروع ہوا تھا۔ اس دور میں یہودیوں اور عیسائیوں نے ایک سازش کے تحت شعائر اسلام اور مسلمانوں کی مقدس ہستیوں کا مذاق اڑانا شروع کیا تھا۔ ان حرکتوں کے ردعمل میں صلیبی جنگیں شروع ہو گئیں اور یہ سلسلہ کئی برسوں تک جاری رہا۔ جنگوں کا یہ سلسلہ مسلمانوں نے جیت لیا تھا لیکن سازشوں کا عمل اسی طرح چلتا رہا۔ شدت پسند عیسائی وقتاً فوقتاً گستاخی کے مرتکب ہوتے رہے اور اس کے جواب میں مسلمانوں کے ردعمل کا مطالعہ کرتے رہے۔ میں نے برسوں پہلے کسی نو مسلم کی ایک کتاب پڑھی تھی۔ یہ صاحب اسلام قبول کرنے سے پہلے یورپ کے کسی چرچ میں پادری رہے تھے۔ انہوں نے انکشاف کیا: ”مسلمانوں کی مقدس ہستیوں کی توہین ایک سازش کے ذریعے کی جاتی ہے اور اس کا مقصد صرف یہ دیکھنا ہوتا ہے کہ مسلمان کس حد تک مغربی تہذیب
میں رنگے جاچکے ہیں اور ان کی برداشت کا لیول کیا ہے؟ یہ لوگ اس قسم کی توہین کے ذریعے مسلمانوں کی برداشت کا امتحان لیتے ہیں۔“ میں نے جب یہ چیز پڑھی تو مجھے یورپ کی وہ تمام حرکتیں یاد آگئیں جن کے ذریعے انہوں نے مسلمانوں کے جذبات سے کھیلنے کی کوشش کی تھی۔ مجھے اس وقت معلوم ہوا: یہ تمام حرکتیں ایک تجربہ، ایک ٹیسٹ ہوتی ہیں اور ان کا مرکز عموماً یورپ کے ماڈرن معاشرے ہوتے ہیں اور یہ لوگ اس قسم کی حرکتوں کے ذریعہ یہ معلوم کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ ان ممالک میں رہنے والے مسلمانوں کی غیرت کی کیا پوزیشن ہے؟ مسلمان کس حد تک ”روشن خیال“ اور ”اعتدال پسند“ ہوچکے ہیں؟
مجھے معلوم ہوا اس قسم کی حرکتیں ہر پانچ سات برس بعد ایک تواتر کے ساتھ ہوتی ہیں۔ کبھی یہ سازش امریکہ سے باہر نکالی جاتی ہے، کبھی یہ مشرق بعید چلی جاتی ہے اور کبھی اس کا مرکز یورپ ہوجاتا ہے اور کبھی سلمان رشدی اور تسلیمہ نسرین کی شکل میں عالم اسلام میں بھی ایسے گستاخ پیدا کردیے جاتے ہیں اور اس کے بعد چرچ کے بے شمار ادارے ایسی گستاخیوں کے ردعمل کا مطالعہ کرتے ہیں۔ کارٹونوں کے اس سلسلے کا تعلق بھی اسی سازش سے ہے لیکن اس بار پہلی مرتبہ عالم اسلام میں ایک اتحاد اور نظم نظر آرہا ہے۔ پہلی مرتبہ یہ محسوس ہوتا ہے عالم اسلام اس سازش کے خلاف ڈٹ جائے گا اور وہ عملی طور پر یورپ کی طاغوتی طاقتوں کا مقابلہ کرے گا۔ اس سے قبل بھی بے شمار مرتبہ ایسی گھناؤنی حرکتیں ہوئیں لیکن اسلامی ممالک بالخصوص عربوں نے یورپی مصنوعات کے بائیکاٹ کا باقاعدہ اعلان نہیں کیا لیکن اس بار سب سے پہلے عرب سے بائیکاٹ کا اعلان ہوا اور اس کے بعد یہ سلسلہ دراز ہونا شروع ہوگیا۔
یوں محسوس ہوتا ہے مسلمانوں کا یہ اتحاد یورپ کو بہت جلد پسپائی پر مجبور کردے گا لیکن یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے: کیا واقعی یورپ پسپا ہوجائے گا؟ میرا ذاتی خیال ہے: یورپ کے سفارتی اور سیاسی لشکر تو پسپا ہوجائیں گے لیکن مذہبی حلقے اپنی شکست تسلیم نہیں کریں گے۔ یہ لوگ آنے والے دنوں میں مزید منصوبہ بندی کے ساتھ عالم اسلام پر حملہ آور ہوں گے اور یہ اس جنگ میں اپنا سارا میڈیا جھونک دیں گے۔ میں جوں جوں ان حقائق پر غور کرتا ہوں، مجھے محسوس ہوتا ہے ہم لوگ صلیبی جنگوں کے ایک بہت بڑے دہانے پر بیٹھے ہیں۔ مجھے محسوس ہوتا ہے 2006ء صلیبی جنگوں کے نئے دور کا آغاز ثابت ہوگا۔
۞ ۞ ۞
یاسر محمد خان
دشمن کی دستک
آج ہم گفتگو کا آغاز اسلامی تاریخ کے ایک گوشے سے کرتے ہیں، یہ گیارہویں صدی عیسوی کا زمانہ تھا۔ یورپ کے عیسائیوں اور ایشیا کے مسلمانوں کے درمیان شدید محاذ آرائی جاری تھی۔ اس محاذ آرائی کا آغاز اس وقت ہوا تھا جب مسلمانوں نے بیت المقدس پر قبضہ کر لیا تھا۔ حضرت عمر فاروق کے دور خلافت میں بیت المقدس پہلی بار مسلمانوں کے زیر نگیں آیا تھا اور کئی سو برس تک مسلسل مسلمانوں کے قبضے میں رہا تھا۔ اس دوران عیسائیوں نے بارہا اسے مسلمانوں کے قبضہ سے آزاد کرانا چاہا لیکن عالم اسلام کے دبدبے، رعب اور برتری کے باعث ان کی یہ خواہش تشنہ ہی رہی۔ بیت المقدس حضرت عیسیٰ کی جائے پیدائش ہے، اس لیے عیسائی اسے ایک مقدس اور متبرک مقام سمجھتے تھے۔ لہٰذا مسلمانوں کا قبضہ ان کے لیے ناقابل برداشت تھا۔ چنانچہ عیسائی طاقتوں نے بیت المقدس کو مسلمانوں کے قبضہ سے آزاد کرانے کے لیے اپنی پوری طاقت استعمال کرنا چاہی اور انہوں نے قتل و غارت گری، خوں ریزی، وحشت اور تعصب کی انتہا کر دی۔ اس محاذ آرائی کے دور میں عالم اسلام شدید انتشار و افتراق کا شکار تھا، مشرقی ممالک عباسیہ خلافت کے اطاعت گزار تھے جبکہ مغربی ممالک میں بے تحاشا چھوٹی چھوٹی ریاستیں موجود تھیں، شام و فلسطین بھی انتشار اور عدم استحکام سے دوچار تھے۔ چنانچہ عیسائی اقوام نے مسلمانوں کے خلاف محاذ آرائی شروع کردی جسے بعد ازاں تاریخ صلیبی جنگوں کے نام سے پکارتی ہے۔
اگر ہم ان صلیبی جنگوں کا تھوڑا سا گہرائی میں جا کر جائزہ لیں تو ہمیں اس کی چار وجوہات نظر آتی ہیں: پہلی وجہ بیت المقدس کی مذہبی حیثیت تھی۔ بیت المقدس عیسائی دنیا کے لیے بڑا مقدس اور متبرک مقام تھا جو حضرت عمر فاروق کے دور سے ہی مسلمانوں کے قبضے میں چلا آ رہا تھا۔ اس دور میں نہ صرف بیت المقدس کو مکمل تحفظ فراہم تھا بلکہ فلسطین میں موجود
عیسائیوں کے دوسرے مقامات کو بھی احترام کی نظر سے دیکھا جاتا تھا۔ حضرت عمر فاروق کے بعد بھی مسلم حکمرانوں نے عیسائیوں کے مذہبی مقامات کی کبھی بے حرمتی نہیں کی تھی، وہ نہ صرف ان کے مذہبی مقامات کو تحفظ فراہم کرتے رہے تھے بلکہ انہوں نے عیسائیوں کے ساتھ انتہائی محبت اور رواداری کا سلوک بھی اپنا رکھا تھا۔ عیسائیوں کو فلسطین میں پوری مذہبی آزادی حاصل تھی، ان کے تمام شہری حقوق بحال تھے، انہیں سرکاری عہدوں پر بھی تعینات کیا گیا تھا۔ وہ بغیر کسی رکاوٹ کے فلسطین میں آ جاسکتے تھے اور ان کے کلیسا اور مقدس مقامات بھی محفوظ تھے۔ مسلم حکمرانوں کی اس رواداری کے باوجود عیسائیوں کا مسلمانوں کے ساتھ رویہ شر انگیز تھا۔ وہ جب ان مقدس مقامات کی زیارت کے بعد یورپ واپس جاتے تھے تو وہ لوگوں کو مسلمانوں کے مظالم اور مذہبی تنگ نظری کی من گھڑت کہانیاں سنا کر متنفر کرتے رہتے تھے جس کا یہ نتیجہ نکلا کہ یورپ میں اسلام اور مسلمانوں کے خلاف نفرت پھیلتی چلی گئی جس نے بعد ازاں صلیبی جنگوں کا روپ دھار لیا۔
صلیبی جنگوں کی دوسری بڑی وجہ سیاست تھی۔ اس زمانے میں قسطنطنیہ یورپ کا ایک اہم ترین علاقہ سمجھا جاتا تھا۔ یورپ کے عیسائی قسطنطنیہ کو دفاعی مورچہ خیال کرتے تھے۔ یہ واحد علاقہ تھا جس نے مسلمانوں کو یورپ کی طرف پیش قدمی سے روک رکھا تھا۔ ادھر جب سلجوقیوں کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہونے لگا تو عیسائیوں کو یہ خطرات لاحق ہو گئے کہ وہ قسطنطنیہ پر بھی قابض نہ ہو جائیں۔ یہاں میں یہ بتانا ضروری سمجھتا ہوں سلجوقی وسط ایشیا کے ترک قبائل تھے۔ عیسائی اس خدشے کا شکار ہو گئے کہیں سلجوقی قسطنطنیہ کو فتح نہ کر لیں اور یہ لوگ آگے بڑھ کر یورپ میں داخل نہ ہو جائیں۔ عیسائیوں نے اس خطرے سے نمٹنے کے لیے ایک محاذ بنایا اور اس محاذ میں یورپ کے تمام ممالک کو شامل کیا گیا۔ اس محاذ نے بعد ازاں مسلمانوں کے خلاف بڑے پیمانے پر کارروائی کا آغاز کیا اور یہ کارروائی صلیبی جنگوں کا آغاز ثابت ہوئی۔
تیسری وجہ معاشی ترقی تھی۔ اس زمانے میں یورپ پر جاگیردارانہ نظام کا بھوت سوار تھا۔ اٹلی کے تاجر زمانہ قدیم سے مشرق وسطیٰ سے تجارت کرتے آ رہے تھے۔ جب مشرق وسطیٰ پر مسلمانوں کا تسلط قائم ہوا تو اطالوی تاجروں کی یہ تجارتی اجارہ داری ختم ہو گئی۔ چنانچہ ان تاجروں نے محسوس کیا اگر جنگوں کے ذریعہ شام اور فلسطین کا علاقہ مسلمانوں سے چھین لیا جائے تو انہیں پہلے جیسے تجارتی مواقع دوبارہ مل سکتے ہیں۔ اگرچہ عیسائیوں کے ایک طبقے کے
یہاں دولت کی ریل پیل تھی مگر غ ان غریب لوگوں کو استعمال کر خواب دکھایا اور انہیں لالچ دیا گزار سکتے ہیں۔ ان مذہبی پیش صلیبی جنگوں کا یہ سلسلہ شروع نے انہیں صلیبی جنگوں پر آماد مسلمانوں کے خلاف ان جنگوں
صلیبی جنگوں کی ب کرتے تھے وہ مسلمانوں کے انہیں ذہنی اذیتیں دیں اور ان نکالتے تھے، دوسرے ممالک آمد اڑاتے تھے۔ یہ لوگ بعض ا پروپیگنڈا کرتے تھے۔ مسلما رہتے تھے۔ یہ سلسلہ رفتہ رفت نے شدت اختیار کی تو اس وجوہات صلیبی جنگوں کا بنیا
میں بات کو آگے میں سلطان صلاح الدین بعد بیت المقدس آزاد کرا بیت المقدس پر کنٹرول حا دوسرے شہروں پر قبضہ کیا آ گئے۔ بیت المقدس پر م پوپ نے مسلمانوں کے پہن کر پورے یورپ م کے بعد مسلمانوں کے خ
ہاں دولت کی ریل پیل تھی مگر عام لوگ غربت کا شکار تھے، عیسائیوں کے مذہبی پیشواؤں نے ان غریب لوگوں کو استعمال کرنے کا فیصلہ کیا، انہوں نے انہیں مشرق کے خوشحال علاقوں کا خواب دکھایا اور انہیں لالچ دیا کہ اگر وہ مشرق کے ممالک پر قبضہ کر لیں تو وہ خوشحال زندگی گزار سکتے ہیں۔ ان مذہبی پیشواؤں نے ان میں جنگی جنون پیدا کیا جس کے بعد محاذ آرائی یا صلیبی جنگوں کا یہ سلسلہ شروع ہوا۔ یوں ایک طرف مشرقی ممالک کی روایتی خوشحالی اور رعنائی نے انہیں صلیبی جنگوں پر آمادہ کیا اور دوسری طرف پادریوں نے انہیں یقین دلایا اگر وہ مسلمانوں کے خلاف ان جنگوں میں شریک ہوں تو ان کے سارے گناہ دھل جائیں گے۔
صلیبی جنگوں کی چوتھی وجہ بڑی اہم تھی، پادری مذہبی اجتماع میں عیسائیوں کو تبلیغ کرتے تھے وہ مسلمانوں کے خلاف شرانگیز رویہ اپنائیں۔ مسلمانوں کے جذبات سے کھیلیں، انہیں ذہنی اذیتیں دیں اور ان کو پوری دنیا میں بدنام کر کے رکھ دیں۔ چنانچہ یہ لوگ یورپ سے نکلتے تھے، دوسرے ممالک آتے تھے اور یہاں آکر مسلمانوں اور ان کی اسلامی اقدار کا مذاق اڑاتے تھے۔ یہ لوگ بعض اوقات انبیائے کرامؑ اور صحابہ کرام کے خلاف بھی منفی پروپیگنڈا کرتے تھے۔ مسلمانوں کو اشتعال دلاتے تھے اور ان کی غیرت ایمانی کو چیلنج کرتے رہتے تھے۔ یہ سلسلہ رفتہ رفتہ چلتا رہا، مسلمان جذباتی طور پر رنجیدہ تھے اور جب ان جذبات نے شدت اختیار کی تو اس کا نتیجہ صلیبی جنگوں کی صورت میں سامنے آیا۔ یوں یہ چار بڑی وجوہات صلیبی جنگوں کا بنیادی محرک تھیں اور یہ چوتھی وجہ ہی ہمارا آج کا موضوع ہے۔
میں بات کو آگے بڑھانے سے قبل آپ کو یہ بتانا ضروری سمجھتا ہوں۔ 1187ء میں سلطان صلاح الدین ایوبی نے بیت المقدس واپس لینے کی ٹھانی اور تاریخی جدوجہد کے بعد بیت المقدس آزاد کروانے میں کامیاب ہوا۔ 2 اکتوبر 1187ء کو صلاح الدین ایوبی نے بیت المقدس پر کنٹرول حاصل کر لیا۔ بعد ازاں صلاح الدین ایوبی نے یکے بعد دیگرے کئی دوسرے شہروں پر قبضہ کیا۔ یہاں تک کہ طرابلس اور انطاکیہ کے تمام علاقے اس کے زیر تسلط آگئے۔ بیت المقدس پر مسلمانوں کے قبضے نے یورپ کے ایوانوں میں کہرام مچا دیا۔ چنانچہ پوپ نے مسلمانوں کے خلاف جنگ جاری رکھنے کا اعلان کر دیا۔ پادری اور راہب سیاہ لباس پہن کر پورے یورپ میں پھیل گئے۔ انہوں نے عیسائیوں کو مشتعل کرنا شروع کر دیا۔ جس کے بعد مسلمانوں کے خلاف ایک نئی جنگ کا آغاز ہو گیا تھا لیکن ہم ان جنگوں اور ان واقعات
کی تفصیلات میں نہیں جانا چاہئے۔ لہٰذا اب میں اصل موضوع کی طرف آتا ہوں۔ عیسائی یورپ سے نکلتے تھے اور دوسرے ممالک میں پھیل جاتے تھے اور ان ممالک میں مسلمانوں کے خلاف شرانگیز باتیں کرتے تھے، وہ مسلمانوں کی غیرت ایمانی کو للکارتے تھے اور انہیں ذہنی اذیت پہنچاتے تھے۔ جب صلاح الدین ایوبی نے بیت المقدس کو فتح کیا تھا تو اس نے عیسائی پادریوں سے پوچھا تھا: ”وہ ایسا کیوں کرتے ہیں؟“ تو عیسائی پادریوں نے اسے جواب دیا تھا: ”ہم ایسا اس لیے کرتے ہیں کہ اس طرح ہمیں مسلمانوں کی غیرت ایمانی کا پتہ چلتا ہے، ہمیں یہ معلوم ہوتا ہے مسلمان متحد ہیں یا نہیں اور کیا ان کی غیرت ایمانی زندہ ہے؟“
یہ 1190ء کی دہائی کی صورت حال تھی اور آج ہم 2008ء میں بیٹھے ہیں۔ ان آٹھ سو برسوں کے سفر کے بعد آج بھی یہودیوں اور عیسائیوں کا یہ شرانگیز سلسلہ جاری ہے۔ اگر ہم آج بھی عیسائیوں اور یہودیوں کی اس فطرت کا تجزیہ کریں تو ایسا محسوس ہوتا ہے عیسائی اور یہودی آج بھی اپنے اس منصوبے پر تواتر کے ساتھ عمل پیرا ہیں۔ میں اپنے گزشتہ کالم میں یہ عرض کر چکا ہوں کہ یہودی اور عیسائی پچھلے چند برسوں سے تسلسل کے ساتھ رسول اکرم ﷺ کی شان اقدس میں گستاخی کرتے چلے آ رہے ہیں۔ وہ مختلف طریقوں سے مسلمانوں کے جذبات ابھارتے رہے ہیں۔ انہیں معاشی سہولتیں فراہم کرتے رہے اور ان کو مسلمانوں کے خلاف استعمال بھی کرتے رہے۔ آپ اس سلسلے میں سلمان رشدی کی مثال لے سکتے ہیں، یہ وہ شخص تھا جو 1947ء میں ممبئی میں پیدا ہوا تھا، اس نے ابتدائی تعلیم عیسائی مشنری سکول میں حاصل کی تھی۔ اس دوران اسے اور اس کے دیگر ساتھیوں کو عیسائی مبلغ باقاعدہ خوراک اور پوشاک اور بنیادی ضروریات زندگی فراہم کرتے تھے جس کا نتیجہ تھا وہ عیسائیوں کے زیادہ قریب ہوتا چلا گیا۔ اس کا خاندان بعد ازاں بھارت میں تنگ دستی کا شکار ہوا اور لندن فرار ہو گیا، وہ لندن میں ”رگبی“ نامی ایک سکول میں پڑھتا رہا اور اس کے بعد اس نے کیمبرج یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کی۔ وہ نوکری کی تلاش میں نکلا، ایک عرصہ تک دھکے کھاتا رہا۔ پاکستان ٹیلی ویژن میں نوکری کی اور وہ اس دوران اسلام مخالف سرگرمیوں میں شامل ہو گیا۔ جب اس کا اصل چہرہ بے نقاب ہوا تو حکومت پاکستان نے اسے واپس لندن بھجوا دیا۔ واپسی کے بعد وہ مسلمانوں کے خلاف نازیبا زبان استعمال کرتا رہا۔ بعد ازاں اس پر شہرت کا بھوت سوار ہوا۔ 1975ء میں اس نے گریمس نامی پہلی کتاب لکھی۔ یہ کتاب ناکام ثابت ہوئی اور
اس کی امیدوں پر پانی پھر گیا۔ چنانچہ اس نے ایک یہودی لڑکی سے شادی کی اس کے ناشرین سے تعلقات تھے اور اس کے بعد رشدی نے ایک دوسری کتاب ”مڈنائٹ چلڈرن“ لکھی اور اس کتاب کے مارکیٹ میں آنے کے بعد اسے کافی تحسین ملی، برطانیہ نے اسے ”بوکر“ کا انعام دیا اور اس کے بعد 1982ء میں اس نے ”العار“ نامی تیسری کتاب لکھی، اس کتاب میں بھی اس کی اسلام سے نفرت کی بو محسوس ہورہی تھی، اس کتاب پر بھی اسے اعزاز دیا گیا۔ یہ اعزاز ملنے کے بعد اس نے بیوی کو طلاق دے دی اور ایک امریکی کاتبہ سے شادی کر لی۔ یہودیوں اور عیسائیوں نے اس کی کتابوں کو بڑی پذیرائی بخشی، مغربی میڈیا نے رشدی کو خوش آمدید کہا، اسے یورپی معاشرے میں عزت اور مرتبہ دیا اور عیسائی مبلغین نے اس کی بھرپور مدد کی۔ 1988ء میں اس نے ایک اور کتاب لکھ ڈالی، اس کتاب کا عنوان تھا ”شیطانی آیات“ یہ کتاب مکمل طور پر اسلام مخالف تھی۔ لہٰذا یہ کتاب جونہی پبلش ہوئی، اسلامی دنیا میں اس کتاب کے خلاف زبردست ردعمل سامنے آیا۔ 27 مئی 1988ء کو لندن کے پارلیمنٹ سکوائر میں ایک لاکھ مسلمان باشندوں نے مظاہرہ کیا۔ اس وسیع وعریض اسکوائر میں تل دھرنے کی جگہ نہ تھی۔ یہ مسلمانوں کا ناموس رسالت ﷺ کے حوالے سے سب سے بڑا مظاہرہ تھا۔ 3 مارچ 1989ء کو ہالینڈ کے دارالحکومت میں ایک مظاہرہ ہوا۔ اس مظاہرے میں چھ ہزار سے زائد لوگوں نے شرکت کی۔ 12 فروری 1989ء میں اسلام آباد میں امریکی سفارتخانے کے سامنے مظاہرہ ہوا۔ اس مظاہرے پر پولیس نے فائرنگ اور شیلنگ کی جس میں پانچ سے زائد لوگ شہید ہوگئے اور 24 فروری 1989ء کو بمبئی میں مظاہرہ ہوا، پولیس کی فائرنگ سے پندرہ سے زائد مسلمان شہید ہوئے۔ یوں اگر دیکھا جائے تو عیسائی اور یہودی ہر دور میں مسلمانوں کے خلاف فتنہ انگیز کارروائی کرتے رہے۔ وہ لوگوں کی برین واشنگ کرتے رہے اور مسلمانوں کے جذبات ابھارتے رہے۔ یہاں تک کہ 2005ء میں ڈنمارک کے ایک اخبار نے رسول اکرم ﷺ کی شان میں گستاخی کرتے ہوئے خاکے شائع کر ڈالے۔ مسلمان باہر آئے، احتجاج ہوا، ریلیاں اور جلسے جلوس ہوئے اور 2006ء میں ایک بار پھر وہی خاکے دوبارہ شائع ہوئے اور پھر حال ہی میں ڈنمارک کے اخبار نے ازسرنو نبی کریم ﷺ کی شان کے خلاف خاکے شائع کیے اور اسلامی دنیا میں ان خاکوں کے خلاف شدید ردعمل دیکھنے میں آرہا ہے جبکہ یہ سلسلہ اب مزید ایک قدم آگے بڑھ گیا ہے۔ ہالینڈ کے ایک رکن پارلیمنٹ گرٹ ولڈرز نے
فروری کے آخری ہفتے میں اسلام مخالف فلم تیار کرنے کا اعلان کیا اور کہا کہ وہ وسط مارچ تک یہ فلم دنیا بھر میں نیٹ کے ذریعے جاری کر دے گا۔ اس فلم میں قرآنی آیات کو بیس بنا کر اسلام کو شدت پسند مذہب قرار دینے کی کوشش کی گئی۔ گرٹ ولڈرز اس سے قبل بھی 2004ء میں اسلام مخالف فلم بنا چکا ہے۔ تاہم اس کی نئی فلم کے منظر عام پر آنے سے عالم اسلام میں بھونچال آجائے گا اور مجھے یوں محسوس ہوتا ہے عیسائی اور یہودی ان خاکوں اور فلموں کی اشاعت سے ایک بار پھر صلیبی جنگوں کا آغاز کرنے جارہے ہیں۔ دنیا جانتی ہے صدر بش نے جب افغانستان پر حملہ کیا تھا تو انہوں نے اس حملے کو صلیبی جنگوں کا آغاز کہا تھا۔ چنانچہ اس میں کوئی شک نہیں، یہ خاکے اور یہ فلمیں آنے والے وقت میں مسلمانوں کے خلاف نئی جنگوں کا باعث بنیں گی اور یورپ کے عیسائی ان جنگوں کے آغاز سے پہلے مسلمانوں کی غیرت ایمانی کو ٹٹول رہے ہیں۔ وہ یہ دیکھنا چاہتے ہیں کیا مسلمانوں کی غیرت ایمانی زندہ ہے؟ وہ متحد ہیں اور کیا وہ ان سازشوں کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں گے؟ لہذا یہ مسلمانوں کی غیرت ایمانی کا ٹیسٹ ہے۔ آج میں جب بھی عالم کفر کی ان سازشوں کو دیکھتا ہوں اور اس کے بعد عالم اسلام کے اتحاد اور مظاہروں کو دیکھتا ہوں تو مجھے لگتا ہے وہ وقت آ گیا ہے جب عالم کفر ہمیں تباہ کرنے کے لیے پر تول رہا ہے اور 62 اسلامی ممالک چپ سادھے بیٹھے ہیں۔ مجھے یہ صورت حال دیکھ کر بڑی حیرت ہو رہی ہے کہ ہمارا دشمن ہمارے دروازے پر دستک دے رہا ہے اور ہم گھروں میں دبکے بیٹھے ہیں۔ خدا کے بندو، اب تو سمجھ جاؤ، اب تو جاگ جاؤ!!!
عرفان صدیقی
نئی شر انگیزی
مغرب کے ذہن میں کوئی نہ کوئی ایسا خناس ضرور ہے جو اسے تھوڑے تھوڑے وقفوں کے ساتھ مسلمانوں کی دل آزاری پر ابھارتا رہتا ہے۔ یہ ایک نا قابل فہم سی بات ہے کہ تعلیم یافتہ ہونے اور جمہوریت پر یقین رکھنے والے معاشرے، دوسرے مذاہب کے پیروکاروں کے جذبات سے کیوں کھیلتے ہیں؟ جب وہ چاہتے ہیں کہ ان کے مذہب کا احترام کیا جائے تو وہ دوسروں کے مذہب کا احترام کیوں نہیں کرتے؟ جب ان کی خواہش ہوتی ہے کہ ان کی مذہبی شخصیات کی شان میں کسی طرح کی اہانت نہ کی جائے تو وہ خود دوسروں کی مذہبی شخصیات پر نشتر زنی کیوں کرتے ہیں؟ جب انہیں معلوم ہے کہ تہذیب و اخلاقیات کا قرینہ دوسرے انسانوں کے جذبات و احساسات کی تکریم کا درس دیتا ہے تو وہ انسانیت کے اس بنیادی درس کو کیوں فراموش کر دیتے ہیں؟ اور عملاً اسلام کو تختہ مشق کیوں بنایا جاتا ہے؟ خاص طور پر مسلمانوں کے جذبات کیوں مجروح کیے جاتے ہیں؟ جان بوجھ کر پیغمبر انسانیت، ختم المرسلین حضرت محمد ﷺ کی شان اقدس میں کیوں گستاخی کی جاتی ہے؟ کیا یہ خبث باطن نہیں؟ کیا یہ پرلے درجے کی شرانگیزی اور اشتعال انگیزی نہیں؟ کیا یہ باور نہ کیا جائے کہ سب کچھ شعوری طور پر، سوچی سمجھی اسکیم کے تحت کیا جاتا ہے؟
اطلاعات ہیں کہ ڈنمارک کے سترہ اخبارات نے باقاعدہ سازش اور منصوبہ بندی کر کے نبی کریم ﷺ کے وہ توہین آمیز خاکے دوبارہ شائع کیے ہیں جو 2006ء میں ایک ملعون کارٹونسٹ ویلرز گارڈ نے شائع کیے تھے۔ اس پر پوری دنیا میں ایک طوفان اُٹھ کھڑا ہوا تھا۔ مشرق وسطیٰ، افریقہ اور ایشیا میں ہنگامے پھوٹ پڑے تھے اور کم و بیش پچاس افراد ان کا نشانہ بن گئے۔ یہ آگ بمشکل تھمی لیکن اسلامی دنیا میں یہ احساس ایک بار پھر قوی ہو گیا کہ مغرب کو اُمت مسلمہ کے جذبات کا کچھ پاس و لحاظ نہیں۔ اب ایک خبر چلی کہ 73 سالہ بوڑھے
کارٹونسٹ ویسٹر گارڈ کو قتل کرنے کی ایک سازش پکڑی گئی ہے۔ اس سازش کے حوالے سے کچھ گرفتاریاں بھی عمل میں آئی ہیں۔ ابھی تک قتل کی اس نام نہاد سازش کی پوری تفصیلات سامنے نہیں آسکیں، نہ کوئی ٹھوس شواہد ہی منظر عام پر آئے ہیں۔ لیکن خبر کے شائع ہوتے ہی ڈنمارک میں ابلیسی سازشوں کا آغاز ہو گیا۔ سترہ اخبارات کے ایڈیٹر مل بیٹھے۔ انہوں نے فیصلہ کیا کہ ملعون کارٹونسٹ سے اظہار یکجہتی کے لیے دو سال قبل والے خاکے دوبارہ شائع کر دیے جائیں۔ ایک اخبار کی رگ شیطنت اس طرح پھڑکی کہ اس نے بارہ کے بارہ خاکے ایک ساتھ شائع کر دیے۔ گستاخانہ خاکے شائع کرنے والوں میں ڈنمارک کے صف اول کے تین بڑے اخبارات شامل ہیں۔ شیطنت مزاج ایڈیٹرز کا کہنا ہے کہ وہ یہ اقدام ”سیلف سنسرشپ“ کے خلاف اٹھا رہے ہیں جس کے تحت ہر اخبار کا ادارتی عملہ فیصلہ کرتا ہے کہ اسے کون سا مواد شائع کرنا چاہیے اور کون سا نہیں؟ ایک اخبار نے اپنے اداریے میں لکھا: ”اظہار رائے کی آزادی ہمیں اپنی مرضی سے بولنے، سوچنے اور خاکے بنانے کی اجازت دیتی ہے۔“ ایک اور اخبار نے تمام اخبارات سے اپیل کی کہ وہ ”فاشزم کے خلاف متحد ہو جائیں۔“ بائیں بازو کا اخبار ”پولیٹکن“ جو عام طور پر متعصب خیال نہیں کیا جاتا، بھی اس مہم میں شامل ہو گیا ہے۔ اخبار لکھتا ہے کہ ”مبینہ قتل کی سازش انتہائی افسوس ناک ہے اور یہ ظاہر کرتی ہے کہ انتہا پسند مسلمان، معاملات کو دھمکیوں کے ذریعے اپنی مرضی کے مطابق حل کرنا چاہتے ہیں۔“ ایک اور اخبار نے لکھا ہے کہ ”ہمیں قتل کی سازش کا نشانہ بننے والے کارٹونسٹ کا بھر پور ساتھ دینا چاہیے۔“
ایک لمحے کے لیے مان لینا چاہیے کہ ڈنمارک کے اخبارات کو ملعون بوڑھے کارٹونسٹ سے بڑی ہمدردی ہے۔ اس ہمدردی کے اظہار کے لیے وہ کوئی مہذب اور مناسب طریقہ کار بھی اختیار کر سکتے تھے لیکن انہوں نے اظہار یکجہتی کا نہایت ہی شرمناک اور بھونڈا طریقہ اختیار کیا ہے۔ یہ ایک طفلانہ اور نہایت ہی غیر مہذب ردعمل ہے جس کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ ایک شخص سے ہمدردی اور یکجہتی کے لیے سوا ارب مسلمانوں کی دل آزاری کرنا اور ان کے مجروح جذبات پر نمک چھڑکنا کہاں کی انسانیت ہے؟ ایسی اخلاقیات کون سے مذہب، کون سے ضابطۂ اخلاق اور کون سے منشور انسانیت میں روا ہیں کہ ایک فرد کی آسودگی کے لیے ایک دین پر حملہ کیا جائے؟ پیغمبر آخرالزمان ﷺ کی پاک ہستی کو نشانہ بنایا جائے؟ اس ہستی کے لیے جانیں قربان کر دینے والے مسلمانوں کے جذبات کو مجروح کیا جائے؟ کیا اسے
بغض، کینہ اور نفرت کا اور مرض کا شکار ہے؟ ا کی گستاخانہ کارروائیوں کے باوجود اہل مغرب کے پرچم بردار ہونے بنیادی حقوق ہیں؟
اس مکروہ ہونے والی یلغار بھی رونما ہونے والے واقعہ تک واقعے کی جزئیات افسانے سے زیادہ کچھ انتظامیہ نے یہ سراغ امریکیوں کو ان سوالوں سامنے آئیں۔ اس کے سے اندازہ ہوتا ہے کہ ہاتھوں سے بخوبی باخبر عمل کو کلی طور پر پس پشت لادن اور طالبان کو نشانہ ہے۔ دوسری طرف اس بنایا اور پھر سرزمین دجلہ مسلمان رہتے بستے ہیں مرتب کردہ رپورٹ کے امریکی قہر کا نشانہ بن چکے پُر امن جوہری پروگرام کی توانائی ایجنسی کی بات کو
بغض، کینہ اور نفرت کا نام نہیں دیا جاسکتا؟ کیا یہ نتیجہ اخذ نہیں کیا جاسکتا کہ مغرب نفسیاتی روگ اور مرض کا شکار ہے؟ اسے خاص طور پر اہل حرم کے ساتھ کد ہے۔ کیا وجہ ہے کہ اس طرح کی گستاخانہ کارروائیوں کا سلسلہ رکنے میں نہیں آ رہا؟ کیا وجہ ہے کہ مسلمانان عالم کے احتجاج کے باوجود اہل مغرب کے رویے میں تبدیلی نہیں آ رہی؟ کیا وجہ ہے کہ بنیادی انسانی حقوق کے پرچم بردار ہونے کے باوجود انہیں اس امر کا احساس نہیں ہو رہا کہ اہل حرم کے بھی کچھ بنیادی حقوق ہیں؟
اس مکروہ کھیل کا ایک پہلو امریکہ کی سرپرستی میں اسلامی ممالک کے خلاف شروع ہونے والی یلغار بھی ہے جسے دہشت گردی کے خلاف جنگ کا نام دیا گیا ہے۔ نائن الیون کو رونما ہونے والے واقعات کے بارے میں ابھی تک کوئی مستند تحقیق سامنے نہیں آسکی۔ ابھی تک واقعے کی جزئیات و تفصیلات کا پتہ نہیں چلایا جاسکا۔ پانچ سو صفحات کی رپورٹ بھی ایک افسانے سے زیادہ کچھ نہیں۔ سات برس ہونے کو آئے ہیں لیکن ابھی تک جارج ڈبلیو بش کی انتظامیہ نے یہ سراغ لگانے کی کوشش ہی نہیں کی۔ واردات میں کن لوگوں کا ہاتھ ہے؟ شاید امریکیوں کو ان سوالوں سے زیادہ دلچسپی نہیں۔ وہ نہیں چاہتے کہ اس واقعے کے حقیقی محرکات سامنے آئیں۔ اس کے ساتھ ساتھ دنیا بھر کے ذرائع ابلاغ میں ایسی کہانیاں عام ہیں جن سے اندازہ ہوتا ہے کہ نائن الیون کے پس منظر میں کچھ خفیہ ہاتھ کارفرما تھے اور امریکہ ان ہاتھوں سے بخوبی باخبر ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے امریکہ نے مجرموں کے سراغ لگانے کے عمل کو کلی طور پر پس پشت ڈال دیا ہے۔ اس نے اپنے مکروہ عزائم کی تکمیل کے لیے اسامہ بن لادن اور طالبان کو نشانہ بنالیا ہے اور اس آڑ میں وہ اپنے لاؤ لشکر سمیت افغانستان میں آبیٹھا ہے۔ دوسری طرف اس نے عراق پر حملے کے لیے نام نہاد ہلاکت آفریں ہتھیاروں کا بہانہ بنایا اور پھر سرزمین دجلہ و فرات پر چڑھ دوڑا۔ افغانستان اور عراق کا قصور یہ ہے کہ وہاں مسلمان رہتے بستے ہیں۔ اور مسلمانوں کے لہو کی کوئی قیمت نہیں۔ ایک امریکی یونیورسٹی کی مرتب کردہ رپورٹ کے مطابق اب تک صرف عراق میں سات لاکھ کے لگ بھگ انسان امریکی قہر کا نشانہ بن چکے ہیں۔ افغانستان میں تو گنتی اور شمار کا بھی کوئی نظام نہیں۔ ایران کے پُر امن جوہری پروگرام کی آڑ میں اس پر حملے کے منصوبے بن رہے ہیں۔ بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی کی بات کو بھی نہیں سنا جا رہا اور امریکہ بضد ہے کہ ایران پر حملہ ناگزیر ہے۔ اور
پاکستان کی اطاعت گزاری کا ثمر بھی یہ دیا جا رہا ہے کہ پیہم اس کے ایٹمی اثاثوں کو ہدف تنقید بنا رہا ہے۔ امریکہ بھارت کے ساتھ مل کر پاکستان کے مفادات پر ضربیں لگا رہا ہے۔ اس نے بھارت کے ساتھ ایف 16 اور جدید ترین ہتھیاروں کی سپلائی کے علاوہ اس سے پُر امن ایٹمی توانائی کا ایٹمی سمجھوتہ بھی کر رکھا ہے لیکن پاکستان سے کہا جا رہا ہے کہ وہ ابھی اس قابل نہیں ہوا کہ اسے بھی اس طرح کی کوئی رعایت دی جاسکے۔ کشمیر کے حوالے سے بھی امریکہ نے اپنا پورا وزن بھارت کے پلڑے میں ڈال رکھا ہے اور وہ اسی سے دیر پا دوستی کی راہ پر چل رہا ہے۔
اسلام، مسلمانوں اور عالم اسلام سے مغربی دنیا کا یہ بغض اب پوری طرح آشکارا ہو چکا ہے۔ ہارورڈ یونیورسٹی کے پروفیسر ہنٹنگٹن نے تہذیبوں کے تصادم کا جو نظریہ پیش کیا تھا، وہ اب پوری طرح عملی شکل اختیار کر رہا ہے۔ یوں تو مغرب نے کسی بھی دور میں اسلام اور اہل اسلام کے ساتھ حسن سلوک کا مظاہرہ نہیں کیا لیکن روس کی شکست و ریخت اور کمیونزم کے انتشار کے بعد یہ تھیوری تخلیق کی گئی کہ اصل خطرہ اسلام سے ہے اور جب تک پورے عالم اسلام کو بے بال و پر کر کے پوری طرح مطیع نہیں بنالیا جاتا، اس وقت تک مغرب چین کی نیند نہیں سو سکتا۔
ڈنمارک کے اخبارات کی حیا باختہ دیدہ دلیری بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ ظاہر ہے ان خاکوں کا مقصد سوائے اس کے کچھ نہیں کہ مسلمانوں کے دل زخمی کیے جائیں۔ ان میں اشتعال پیدا کیا جائے اور تصادم کی فضا بنائی جائے۔ اہل مغرب کو اس امر کا بھی بخوبی اندازہ ہے کہ ہر مسلمان نبی کریم ﷺ سے بے پناہ محبت کرتا ہے۔ وہ محبت و عقیدت کے اسی جذبے پر نشتر زنی کرتے ہیں۔ انہیں اس حقیقت کا بھی ادراک ہے کہ نبی آخر الزمان ﷺ، دین اسلام کا وہ محوری نکتہ ہیں جسے علامہ اقبال نے ”پردۂ ناموس دین مصطفیٰ ﷺ“ کا نام دیا تھا۔ ڈنمارک کے اخبارات کی جسارت کوئی نئی بات نہیں۔ یہ شیطنت کا وہ پہلو ہے جس کا اظہار صدیوں سے ہو رہا ہے۔ اس کے باوجود آج اسلام دنیا بھر میں سب سے زیادہ تیزی کے ساتھ پھیلنے والا دین بن چکا ہے اور وہ یہ کہ اسلام کی حقانیت کا جادو سر چڑھ کے بولتا ہے جبکہ نفرتوں کا کاروبار کرنے والے آسمان پر تھوکنے کی کوششوں میں اپنے چہرے کو آلودہ کرنے کے سوا کچھ نہیں کرتے۔
۞ ۞ ۞
جنرل (ر) حمید گل
مغرب کا اصل چہرہ
جب ہم ناموس رسالت ﷺ کے حوالے سے بات کرتے ہیں تو میرا خیال ہے اسے ایک بڑے وسیع پس منظر میں دیکھنے کی گنجائش موجود ہے۔ نہ صرف گنجائش بلکہ ضرورت موجود ہے اس لیے کہ یہ بلاشبہ ایک بہت بڑی جنگ ہے۔ اس جنگ کے اسباب اور اس کے عوامل اور اس کا پس منظر سمجھنے کی ضرورت ہے۔ ان کے کیا مقاصد ہیں اور ہماری کیا کیفیت ہے؟ اس میں دیکھنا یہ ہے کہ کیا جارحیت ہماری طرف سے ہوئی یا جارحیت ان کی طرف سے عمل میں آئی؟ اس کے کیا مقاصد ہیں؟ کیا حضور ﷺ کی توہین اس کا مقصد ہے یا اس کا مقصد اس سے بڑھ کر ہے اور یہ بھی دیکھنا ہے کہ یہ کس نوعیت کی جارحیت ہے؟ کیا کسی کے ایمان کے اوپر حملہ آور ہونا جارحیت کی بدترین شکل نہیں ہے؟ یہ جارحیت ہے۔ جب آپ کی زمین کے اوپر حملہ کیا جاتا ہے تو وہ جارحیت اتنی شدید نہیں ہوتی جتنی آپ کی روح کے اوپر جب حملہ کر دیا جاتا ہے۔ ہماری روحوں کے خلاف ایک حملہ ہوا ہے اور یقیناً اس کا مقصد ہوگا۔ جب راجپال نے حضور ﷺ کی شان میں گستاخی کی تو وہ ایک فرد واحد کا عمل تھا۔ اس نے نتیجہ بھگتا۔ ایک مسلمان نے، ایک ایمان والے نے جا کر اس کو قتل کر دیا اور وہ خود سولی پر چڑھ گیا اور اس کو آج بھی غازی علم الدین شہید کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔
لیکن یہ جو جارحیت ہے، یہ بڑی بامقصد ہے، اس کے لمبے عزائم ہیں اور اس کو اگر تہذیب کے ٹکراؤ کے پس منظر میں دیکھیں جو پروفیسر سیموئیل پی ہنٹنگٹن خبیث یہودی نے 1993ء میں اپنا ایک تھیسس (مقالہ) لکھا کہ آئندہ تہذیبوں کا ٹکراؤ ہو گا تو یہ محض ایک پیش گوئی نہیں بلکہ ایک فارمولا لایا گیا، ایک ارادے کا اظہار کیا گیا۔ ایک پلان (منصوبہ) دیا گیا کہ یہ ٹکراؤ جو ہے اسے سامنے میدان میں لایا جائے۔ وہ ٹکراؤ ہمیں سامنے نظر آ رہا ہے، اس کی مختلف جہتیں مختلف شکلیں ہمارے سامنے ہیں۔ پہلے تو جہاد کو دہشت گردی کا نام دے دیا
گیا، دلوا دیا گیا، مسلمان حکمرانوں نے اسے قبول کر لیا۔ مسلمانوں کے لبرل طبقے نے روشن خیال طبقے نے مغرب زدہ طبقے نے اس کو قبول کر لیا کہ ہاں یہ دہشت گردی ہے۔
جن لوگوں نے جان کو عزیز جانا، معاملے کو سخت جانا، انہوں نے جہاد سے کنارہ کشی کی۔ اس کے بعد صریحاً قرآن کی توہین ہوئی، اس کو بھی ہم پی گئے، ٹھنڈے پیٹوں ہم نے ہضم کر لیا اور اب یہ آخری وار جو ہمارے اوپر ہوا ہے، تو تین مقاصد تھے ان کے، تیسرا مقصد بھی انہوں نے بڑی حد تک اپنی نظر میں اپنے خیال میں حاصل کر لیا یعنی آپ سے آپ کا رول ماڈل بھی چھینا جائے۔ آپ کا رول ماڈل بھی چھینا جائے اور آپ سے آپ کی قوت مزاحمت بھی جس کا نام جہاد ہے۔ ظلم کے خلاف۔ جو کہ عدم توازن کو توازن میں لانے کا ذریعہ ہے۔ جب توازن بگڑ جاتا ہے، معاشی و معاشرتی توازن بگڑ جاتا ہے اور بگڑتا رہا ہے۔ صدیوں سے ایسا ہی سلسلہ چلا آ رہا ہے تو اس کو واپس توازن کی شکل میں لانے کا نام جہاد ہے۔ باقی اس کی تشریح آپ مجھ سے بہتر سمجھتے ہیں اور اگر آپ سے جہاد بھی چھین لیا جائے، قوت مزاحمت بھی چھین لی جائے۔ آپ کا رول ماڈل یعنی جس کی طرف آپ کی تمام توجہ ہے، باقی سارے رول ماڈل جو ہیں ان میں کچھ نہ کچھ نقائص ہو گئے ہیں لیکن حضور ﷺ کی زندگی کا ایک ایک لمحہ ریکارڈ ہے۔ کسی اور ذی روح کا ایسا ریکارڈ نہیں۔ خود ان کے لوگ اس میں کوئی خرابی تلاش نہیں کر سکے تو یہ صریحاً تضحیک کی گئی۔ یہ نہ اس کارٹونسٹ کا معاملہ ہے، نہ اس اخبار کا معاملہ ہے جس کا نام ”جیلنڈز پوسٹن“ ہے۔ بلکہ ایک باقاعدہ سازش کے تحت، ایک باقاعدہ پلان کیا گیا۔ Good luck to them ان کی خوش قسمتی ہے کہ وہ طاقت ور ہیں اور یہ کہا جاتا ہے کہ Power has a divine right to rule طاقت کا یہ حق ہے کہ وہ حکومت کرے۔ وہ کیسی ہی طاقت کیوں نہ ہو، وہ چنگیز خان کی طاقت کیوں نہ ہو، ملحد کیوں نہ ہو، کافر کیوں نہ ہو اور اسلام کی طاقت کیوں نہ ہو لیکن ہم یہاں ایک بات بھول جاتے ہیں کہ طاقت کے بھی دو بڑے پہلو ہوتے ہیں۔ ایک کو اخلاقی اور دوسری کو مادی طاقت کہتے ہیں۔ مادی طاقت کے ساتھ اخلاقی طاقت کا ٹکراؤ ہوگا تو لامحالہ اخیر میں جا کر اخلاقی طاقت جیت جاتی ہے۔ بشرطیکہ وہ اخلاقی طاقت خود اپنے طور پر منظم ہو، اس کے پاس بھی ایک پلان ہو، اس کے پاس بھی ایک لائحہ عمل ہو اور جارحیت سے لڑنے کا اس کا ارادہ ہو۔ ہر
ایک چیز ایک ارادے رُخ ہونا چاہیے۔ اس ا لے جاتا ہے۔ پاکستان بالآخر وہی خواب ایک ح اور پھر ان کی تعبیر تلاش کر کے اوپر کار بند رہنا چا جو توہین رسالت ﷺ ک لاسکتی۔ نبی ﷺ کی نام ہے ہمیں ہمارا دانشور بتا ور ہیں آپ ان کا کچھ ن حاصل کریں، اس وقت جناب، میں اسے مان ل اور بعض اوقات آپ چھ کہ ایک مختلف انداز سے وقت آپ زندہ ہیں، سا عظیم کشمکش میں ہمیں کیا ساتھ دیں گے؟ باطل پ میں شریک ہوں گے۔
ہوسکتا ہے، جان سے ج ہے وہ تجارت کے ذری میں جائے بغیر یہ کہتے قسمت ہیں بہت سی ن کس دور میں رہنا چاہ زندگی بتانا چاہوں گا۔
ایک چیز ایک ارادے سے پیدا ہوئی ہے پہلے ارادہ کرے اور وہ ارادہ مصمم ہونا چاہیے۔ اس کا رُخ ہونا چاہیے۔ اس کی منزل ہونی چاہیے پھر اس کے بعد وہ ارادہ آپ کو ایک منزل تک لے جاتا ہے۔ پاکستان بنانے کا جب خواب دیکھا گیا کہ یہ ایک دیوانے کا خواب ہے لیکن بالآخر وہی خواب ایک حقیقت میں بدل گیا۔ خواب دیکھنے میں کوئی برائی نہیں۔ خوابوں کے اوپر ان کی تعبیر تلاش کرنا اور اس کے لیے کام کرنا بہت ہی اعلیٰ و ارفع انسانی جذبہ ہے اور اس کے اوپر کاربند رہنا چاہیے۔ یہ جو آج تہذیبوں کا ٹکراؤ ہے دراصل یہ اس کا شاخسانہ ہے۔ یہ جو توہین رسالت ﷺ کی ناپاک جسارت کی گئی ہے، یہ حضور ﷺ کی شان میں کوئی کمی نہیں لاسکتی۔ نبی ﷺ کی ناموس کی حفاظت کرنا ہماری ذمہ داری ہے۔ آج کی نسل کی ذمہ داری ہے ہمیں ہمارا دانشور بتاتا ہے کہ آپ کو سر نیچے ڈال دینا چاہیے، قبول کر لینا چاہیے، وہ طاقت ور ہیں آپ ان کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے، اس کے لیے آپ دو سو سال اور انتظار کریں۔ ٹیکنالوجی حاصل کریں، اس وقت ہماری دس نسلیں گزر چکی ہوں گی تو پھر وہ مقابلہ کرے جاکے۔ نہیں جناب، میں اسے مان نہیں سکتا۔ یہ معرکہ آج کا ہے، یہ مسئلہ آج کا ہے یہ کشمکش آج کی ہے اور بعض اوقات آپ جو یہاں بیٹھے ہوئے ہیں اور میں جو یہاں کھڑا ہوں۔ میں یہ سمجھتا ہوں کہ ایک مختلف زاویے سے اس ساری صورت حال کو دیکھنا چاہیے کہ میں زندہ ہوں۔ اس وقت آپ زندہ ہیں، سانس لے رہے ہیں اور اس کیفیت میں ہیں کہ اس عظیم معرکے میں اس عظیم کشمکش میں ہمیں کیا پوزیشن اختیار کرنا ہے؟ کیا حق کے ساتھ کھڑے ہوں گے یا باطل کا ساتھ دیں گے؟ باطل کے سامنے جھک کے بے طرف ہو کر، نیوٹرل ہو کر کھڑے رہیں۔ اس میں شریک ہوں گے۔ یہ اور بات ہے کہ اس شرکت کا انداز کیا ہوگا کیونکہ وہ مال سے بھی ہوسکتا ہے، جان سے بھی ہوسکتا ہے، قلم کے ذریعے بھی ہوسکتا ہے۔ وہ آواز سے بھی ہوسکتا ہے وہ تجارت کے ذریعہ سے اور صحافت کے طریقوں سے بھی ہوسکتا ہے۔ ہم اس کی بحث میں جائے بغیر یہ کہتے ہیں کہ آج ہم اس معرکے میں جو عظیم الشان معرکہ ہے اور ہم خوش قسمت ہیں بہت سی نسلیں گزر گئیں ان کو یہ دور کبھی پیش نہیں آیا۔ اگر مجھے کہا جائے کہ آپ کس دور میں رہنا چاہیں گے تو میں سمجھوں گا کہ دو تین دور ایسے ہیں جس میں، میں خود اپنی زندگی بتانا چاہوں گا۔ ایک تو ظاہر ہے کہ حضور ﷺ کا دور، خلافت راشدہ کا دور جو ہمارے
لیے بہت عزیز ہے اور دوسرا پاکستان کی تحریک جب بپا تھی اور ریاست مدینہ کے بعد نئی ریاست وجود میں آ رہی تھی اور وہ ان لوگوں اور افراد کی کاوشوں سے آ رہی تھی جنہوں نے یہ فیصلہ کر لیا کہ بنا کے رہیں گے پاکستان اور اس کے پیچھے جذبہ یہ کارفرما تھا کہ یہاں پر ہم اپنا ایک اسلامی نظام لائیں گے اور اس کے ذریعہ سے مساوات محمدی ﷺ اور عدل اجتماعی کا انتظام کریں گے اور اس کے بعد تیسرا دور وہ ہے جس کے اندر سے آج ہم گزر رہے ہیں۔ تاریخ لکھی جا رہی ہے۔ تہذیب کے پردے کے پیچھے سے، کیوں کہ وہ اپنے کو مہذب دنیا کہتے ہیں مہذب قوم کہتے ہیں لیکن خونخوار درندے جو اس کے پیچھے چھپے ہوئے تھے، ان کے چہرے کے اوپر ایک پردہ ڈالا ہوا تھا، وہ پردہ پھاڑ کے یہ خونخوار درندے باہر نکل آئے ہیں۔ وہ چاہے اس کا اظہار ابوغریب میں ہو۔ گوانتاناموبے میں ہو، تضحیک قرآن پر ہو، ناموس رسالت ﷺ سے ہو یا ہیومن رائٹس جو کشمیر میں ہو رہی ہے۔ چیچنیا میں ہو رہی ہے۔ بوسنیا میں قتل عام ہوا، یہ ساری وہ مہذب دنیا ان کی تہذیب اور مہذب ہونا سارا کھل گیا، عیاں ہو گیا۔ کوئی قوم مہذب نہیں ہو سکتی جس کا اللہ سے لگاؤ نہ ہو اور ہم کبھی مسلمان کہلا نہیں سکتے اگر ہم محمد ﷺ کے ساتھ وفا نہ کر جائیں۔ ایک بات تو کھل گئی اور عیاں ہو گئی کہ ہمارا مقابلہ ہے، بہت سخت مقابلہ ہے اور اس کے اندر ہمیں اس چیلنج کو قبول کرنا ہے تو یہ صورت حال ہے ہمارے سامنے اور اس کا بھی علامہ اقبال نے ”ابلیس کی مجلس شوریٰ کی نظم“ کے اندر بہت لمبا ذکر کیا اور پھر بالآخر ابلیس اپنے شورائیوں کو کہتا ہے۔
روح محمد ﷺ اس کے بدن سے نکال دو
افغانیوں کی غیرت دین کا ہے یہ علاج
مُلّا کو اُن کے کوہ و دمن سے نکال دو
اہل حرم سے ان کی روایات چھین لو
آہو کو مرغزار ختن سے نکال دو
آئیے بیعت رضوان پر بات کرتے ہیں وہ لوگ جو کہتے ہیں ہم کمزور ہیں، غلطی پر ہیں، ہم تو طاقت ور ہیں۔ بیعت رضوان میں کیا ہوا تھا؟ کوئی ہتھیار تھا کسی کے پاس اور کیا قسم
کھائی گئی تھی اور اس وقت کچھ بھی نہیں تھا۔ اس کے یہ مقابلہ کرنا ہے۔ ہم اپنی جنگ ہار ہی گئے تو ہم ہار مقابلہ صرف کچھ لوگ کر
ریک جب اُٹھی اور ریاست مدینہ کے بعد نئی ئی اور افراد کی کاوشوں سے آ رہی تھی جنہوں نے یہ اس کے پیچھے جذبہ یہ کارفرما تھا کہ یہاں پر ہم اپنا ذریعہ سے مساوات محمدی ﷺ اور عدل اجتماعی کا قائم ہے جس کے اندر سے آج ہم گزر رہے ہیں۔ ٹانے کے پیچھے سے، کیوں کہ وہ اپنے کو مہذب دنیا نڈے جو اس کے پیچھے چھپے ہوئے تھے، ان کے نقاب کے یہ خونخوار درندے باہر نکل آئے ہیں۔ وہ پر حملہ ہو، تضحیک قرآن پر ہو، ناموسِ میں ہو رہی ہے۔ چیچنیا میں ہو رہی ہے۔ بوسنیا کی تہذیب اور مہذب ہونا سارا کھل گیا، عیاں ساتھ لگاؤ نہ ہو اور ہم کبھی مسلمان کہلا نہیں سکتے یہ بات تو کھل گئی اور عیاں ہو گئی کہ ہمارا مقابلہ اب اس چیلنج کو قبول کرنا ہے تو یہ صورت حال ہے ابلیس کی مجلس شوریٰ کی نظم“ کے اندر بہت لمبا ہے۔
بدن سے نکال دو
کا ہے یہ علاج
دمن سے نکال دو
روایات چھین لو
سے نکال دو
ں وہ لوگ جو کہتے ہیں ہم کمزور ہیں، غلطی پر لیا تھا؟ کوئی ہتھیار تھا کسی کے پاس اور کیا قسم
کھائی گئی تھی اور پھر اللہ نے کیا کہا کہ میں نے اپنا ہاتھ ان کے ہاتھوں کے اوپر رکھ دیا یعنی کچھ بھی نہیں تھا۔ اس کے باوجود مقابلہ کی ٹھان لی تھی۔ تو جب مقابلہ کیا جانا ہے اور آج ہمیں یہ مقابلہ کرنا ہے۔ ہم اپنی دوسری نسل پر نہیں چھوڑ سکتے۔ یہ آج کا مقابلہ ہے اور آج اگر ہم جنگ ہار گئے تو ہم مارے جائیں گے۔ یہ ایک جنگ ہے ، کھلی جنگ ہے اس کے اندر مقابلہ صرف کچھ لوگ کر رہے ہیں جبکہ کرنا سب کو چاہیے۔
۞ ...... ۞ ...... ۞
اوریا مقبول جان
الکفر ملۃ واحدہ
سات فروری 2006ء کو پریشان حال اور گھبرائے ہوئے ڈنمارک کے وزیر اعظم نے اپنے حواس بحال کرتے ہوئے صحافیوں کو بتایا کہ امریکہ کے صدر جارج بش نے مجھے ٹیلیفون کیا اور کہا کہ کارٹونوں کے چھپنے کے بعد مسلم امہ میں ابھرنے والے نفرت کے سیلاب کے طوفان کے مقابلے میں ڈنمارک کی مکمل حمایت کرتے ہیں۔ کوپن ہیگن کی اس پریس کانفرنس میں وزیر اعظم نے امریکی صدر کی حمایت کو اپنی حکومت کا اثاثہ قرار دینے کے بعد فوراً ایران کی حکومت کو للکارا لیکن خوف کا یہ عالم تھا کہ اس نے کہا کہ دنیا میں جن مسلم ممالک میں ڈنمارک کی افواج موجود ہیں، ان سب سے کہا گیا ہے کہ وہ اپنی یونیفارم پر کوئی ایسا نشان نہ لگائیں جس سے ان کی شناخت ہوسکے کہ وہ ڈنمارک کے شہری ہیں۔ ادھر پاکستان اور دوسرے ملکوں میں جہاں کہیں بھی ڈنمارک کے سپاہیوں کی یونٹیں ہیں، وہاں سے ڈنمارک کے جھنڈے اتار دیے گئے ہیں۔ دوسری جانب اسی ملک نے افغانستان میں موجود اپنے سپاہیوں کی تعداد دوگنی کرنے کا اعلان کیا ہے اور عراق میں 330 ڈنمارک کے سپاہیوں کو ان کی خدمات پر سراہا ہے۔ اس سارے خوف اور اپنی گستاخی پر ہٹ دھرمی کی لاتعداد وجوہ اور بے شمار مقاصد ہیں۔
کیا یہ سب کچھ اچانک سے ہو گیا؟ کیا یہ صرف ایک بدطینت قسم کے صحافی کی بدبختی ہے؟ پوری دنیا میں یہ تاثر دینے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ صرف ایک ملک میں شائع ہونے والے ایک اخبار کی حرکت ہے اور پھر دنیا کے دوسرے ملکوں میں کام کرنے والے صحافیوں نے پریس کی آزادی کے نام پر اظہار یکجہتی کے لیے سب کچھ کیا اور وہ کارٹون دوبارہ چھاپ دیے جو ستمبر 2005ء میں ڈنمارک میں چھپے تھے۔ یہ الگ بات ہے کہ امت مسلمہ کے جذبات کو جس طرح مجروح کیا گیا عالمی تناظر میں امریکہ اور اسرائیل کے ایران کے خلاف
اپنے عزائم اور شام کو دیے جانے والی دھمکیوں کے بعد ذرا حالات کا جائزہ لیں تو بات کھل کر سامنے آنے لگتی ہے۔ ایران کے ایٹمی پروگرام سے اگر کسی کو خوف ہے تو وہ اسرائیل ہے کیونکہ وہ اپنے ارد گرد بسنے والے ممالک میں کسی کو بھی ایٹمی طاقت بنتے ہوئے نہیں دیکھنا چاہتا۔ یہی وجہ ہے کہ جب عراق نے ایٹمی پروگرام پر کام شروع کیا تو اسرائیلی طیاروں نے بم برسا کر اس کا ایٹمی ری ایکٹر تباہ کر دیا اور پھر عراق کی تیز رفتار ترقی کو لگام دینے اور ایک قوت بن کر اُبھرنے سے روکنے کے لیے وہاں امریکی حملہ کروایا گیا۔ امریکہ دو وجہ سے یہودیوں کا غلام ہے ایک ان کا میڈیا پر مکمل طور پر کنٹرول اور دوسرا ان کا امریکہ کی تمام معیشت اور معاشی اداروں پر غلبہ۔ امریکہ نے ذرا ایران کے بارے میں یورپ کے ممالک کی رائے لی تو اسے ایران پر حملہ کرنے کے بارے میں کسی قسم کی مدد کی یقین دہانی نہ ملی۔ اُلٹا یورپی یونین ایران کے ساتھ مذاکرات کرنے لگی جس پر جارج بش انہیں دھمکیاں دیتا رہا کہ بس ایک ماہ میں ختم کرو، دو ماہ میں ختم کرو، اب ہم برداشت نہیں کر سکتے۔ دوسری جانب اسرائیل نے کہنا شروع کر دیا کہ اگر امریکہ ایران پر حملہ نہیں کرتا تو ہم کر دیں گے۔ ایسے میں گھبرائے ہوئے جارج بش نے کھل کر ایران کے خلاف گفتگو شروع کر دی۔ امریکہ یوں شکنجے میں ہے کہ کوئی امریکی صدر یہودی میڈیا اور یہودی دولت کے بغیر انتخاب نہیں جیت سکتا۔ لیکن یورپ اب بھی خاموش تھا۔ مذاکرات کی بات کرتا تھا۔ اس کی سب سے بڑی وجہ یہ تھی کہ اگر ایران سے جنگ شروع ہوتی ہے تو چین اور روس کو تیل کی اتنی فیصد سپلائی بند ہو جائے گی جو ایران سے ملتی ہے۔ وہ ان ذرائع پر انحصار کریں گے جن پر یورپ کرتا ہے اور پھر تیل کی قیمتیں دو سے تین گنا زیادہ ہو جائیں گی۔ یہودیوں کا خوف، امریکہ کی دھمکیاں اور عالمی دباؤ یہ سب اسے کسی فیصلہ پر پہنچنے سے روک رہا تھا کیونکہ دوسری جانب اسے اپنی معیشت کا انجام نظر آ رہا تھا۔
ایسے میں یہودی ذہن جو میڈیا پر غلبہ رکھتا ہے وہ اپنے شیطانی منصوبے کی طرف چل نکلا۔ یولانڈ پوسٹن کے کلچر ایڈیٹر فلیمنگ روز نے ڈنمارک کے چالیس کارٹونسٹوں کو خطوط لکھے کہ وہ سرورِ دو عالم ﷺ کا، جو جس طریقے سے محسوس کرتے ہیں ویسے ہی ان کا کارٹون (نعوذ باللہ) بنائیں۔ ان چالیس میں سے ۱۲ کے قریب کارٹونوں کو منتخب کیا گیا اور خاموشی کے ساتھ امت مسلمہ کا ردِ عمل دیکھنے کے لیے ایک کارٹون کو ستمبر میں شائع کیا گیا۔ خوابیدہ اُمتِ مسلمہ کا احتجاج مناسب تھا۔ اب یہودیوں کو وہ نتائج نہ مل سکے تو انہوں نے وہ باقی ماندہ
کارٹون ناروے اور آسٹریلیا کے پریس میں چھپوائے اور ٹیلی ویژن پر بار بار نشر کروائے جس پر فرانس کے ایک اخبار میں اسی لابی نے پورے ٹائٹل پیج پر کارٹون شائع کر دیے۔
اب وہ امت مسلمہ جس کا ایمان ہے کہ اسے اپنے ماں باپ اور بیٹوں سے زیادہ سید عالم ﷺ عزیز ہیں، وہ سڑکوں پر نکل آئی۔ ایک غصہ تھا جو پورے عالم اسلام میں بسنے والے مسلمانوں کے چہروں پر عیاں تھا۔ ایمبیسیاں جلائی گئیں، مصنوعات کا بائیکاٹ کیا گیا۔ لوگوں نے سینوں پر گولیاں کھائیں۔ شہادت کی منزل کو پہنچے لیکن نفرت کا رُخ اس طرف نہ مڑ سکا جس طرف سے شرارت آئی تھی۔ کسی نے امریکہ کی مذمت نہ کی، کسی نے امریکی مصنوعات کا بائیکاٹ کرنے کو نہیں کہا۔ وہ اُمت جس کے رسول ﷺ نے ان کو درس دیا تھا کہ پوری کافر قومیں ایک ملت واحدہ ہیں انہیں آج یہ درس یاد نہیں۔ جو جارج بش ڈنمارک کے وزیر اعظم کو فون کر کے اس سارے قضیے میں حمایت کا یقین دلاتا ہے، وہی اس سارے افسانے کا بڑا مجرم ہے اور اس سے بڑا مجرم اسرائیل جو اس کی پالیسیوں کو مرتب کرتا ہے۔ جو اُمت آج اس آزمائش کی گھڑی میں اُٹھ کھڑی ہوئی ہے، اسے ان کاسہ لیس حکمرانوں پر اور ”روشن خیال“ اتحادیوں پر واضح کرنا چاہیے کہ سرورِ دوعالم ﷺ کی محبت ہمارے لیے ایک جیسی ہیں۔ سب سے تعلقات ہمارے جذبہ حب رسول ﷺ کے منافی ہیں۔ حیرت ہے کہ جو امت یہ دعویٰ کرتی ہو کہ مجھے سرکار سید الانبیاء ﷺ اپنے ماں باپ سے زیادہ عزیز ہیں، ان کے حکمرانوں سے، ان کے مقتدر سیاست دانوں سے، اہل ارباب بست و کشاد سے کوئی سوال کرے کہ اگر آپ کے ماں باپ کا کارٹون اس طرح مضحکہ خیز بنایا جائے تو کیا آپ اس شخص سے گفتگو کریں گے؟ اس کی دکان سے سودا خریدیں گے؟ اس سے دوستی کا رشتہ رکھیں گے؟ شاید اس کا جواب ہی یہ فیصلہ کر دے گا کہ ہمیں آپ ﷺ سے کتنی محبت ہے کہ آپ ﷺ نے فرما دیا: ”اس میں ایمان نہیں جس میں میری محبت نہیں۔“
ملک احمد سرور
توہین آمیز خاکے...... چرچ کی منصوبہ بندی
بیدار ڈائجسٹ شمارہ اگست 2004ء میں ”حضرت محمد ﷺ کے خلاف 30 ارب“ کے عنوان سے ایک مضمون شائع ہوا تھا۔ یہ مضمون دراصل ایک جرمن اخبار کی رپورٹ تھی اور اس میں بتایا گیا تھا کہ چرچ نے اسلام کی پھیلتی ہوئی روشنی کا راستہ روکنے کے لیے نبی کریم ﷺ کی ذاتِ اقدس کے امیج کو مسخ کرنے کا ایک گھٹیا پروگرام بنایا ہے۔ اس رپورٹ میں بتایا گیا تھا:
”ویٹی کن (عیسائیوں کا مقدس شہر اور پوپ کی سلطنت) اپنے تمام اثر و رسوخ کو بروئے کار لاتے ہوئے کیتھولک چرچ کے تحت قائم ایک بااختیار اور مؤثر ادارے کے لیے بہت بڑی رقوم اکٹھی کر رہا ہے تاکہ دنیا میں اسلام کے پھیلاؤ کو روکا جاسکے۔ ویلٹ ایم سونٹیگ (Welt am Sonntag) 30 مئی کو لکھتا ہے کہ انجیل کی تبلیغ کے لیے کلیسا کے اساقفہ اور عمائدین (Congregations) کی ایک خفیہ تنظیم کو بڑی رقم فراہم کی جائے گی۔ Andreas Englisch کی مرتب کردہ اس رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اسلام کے خلاف خفیہ سرگرمیوں میں ملوث اس تنظیم کا بنیادی اور بڑا مقصد حضرت محمد ﷺ کا چہرہ مسخ کر کے اسلام کے پھیلاؤ کو روکنا ہے۔
روم میں قائم اس تنظیم کا بظاہر مقصد اسلام اور عیسائیت کے درمیان تعلق کا مطالعہ کرنا ہے مگر عملاً یہ دنیا کی ایک بڑی بلکہ واحد انٹرنیشنل آرگنائزیشن ہے جو اسلام اور عیسائیت کے پیروکاروں میں نفرت و تعصب پیدا کر رہی ہے اور پوری قوت سے نفرت کے شعلوں کو بھڑکا رہی ہے۔ اخبار کے مطابق اس تنظیم کو دنیا بھر کی عیسائی حکومتوں اور پالیسی سازوں کی طرف سے کیتھولک ازم کے ابلاغ اور دیگر مذاہب کے لوگوں کو عیسائی بنانے کے لیے ہر قسم کی امداد مل رہی ہے۔ اس تنظیم کے بارے میں حکومتی سطح پر یہ ایک بہت بڑی تبدیلی ہے کیونکہ
1966ء میں پوپ پؤس ششم (Pope Pius vi) نے جب اسے قائم کیا تو عیسائی دنیا میں اسے کوئی خاص اہمیت نہ دی گئی بلکہ اسے یہاں تک نظر انداز کیا گیا کہ صلیبی ممالک کے وزرائے خارجہ نے اس کے نمائندوں کے ساتھ ملاقات سے بھی انکار کر دیا۔ اخبار کے مطابق پوپ کی خواہش تھی کہ اس تنظیم کے ذریعے عیسائی اساقفہ وعمائدین سے کام لیتے ہوئے نئے طریقوں کو اختیار کر کے دنیا بھر کے لوگوں کو عیسائی بنایا جائے۔
جرمن اخبار کے مطابق صلیبی مشنری مبلغین لوگوں کو عیسائی بنانے کے لیے بے رحم (merciless) ضابطوں، طور طریقوں اور منصوبوں پر عمل کرتے ہیں بالکل ایسے ہی طریقے جسے (ظالم و سفاک صلیبی) فوجی استعمال کرتے ہیں۔ اخبار نے صلیبی اساقفہ وعمائدین کے پریفیکٹ ”Crescenzio Sepe“ کے الفاظ نقل کرتے ہوئے لکھا ہے کہ اس نے اپنی تنظیم کے ارکان کے لیے ”میرے سپاہی (My Soldiers)“ کے الفاظ بولے۔ یہ الفاظ غیر شعوری طور پر زبان سے نہ نکلے بلکہ تنظیم کے کام کی اہمیت ونوعیت کی وضاحت کے لیے استعمال کیے گئے۔ اخبار لکھتا ہے کہ یہ بات نوٹ کرنے والی ہے کہ مذکورہ پریفیکٹ ان ممالک میں جہاں عیسائیت کا ابلاغ ممنوع ہے، 1981ء ڈایوسس کی خفیہ طور پر نگرانی ورہنمائی کرتا ہے (ڈایوسس وسیع وعریض عیسائی تعلیمی حلقے کو کہتے ہیں)۔ ان ممالک میں سعودی عرب، یمن، چین، ویتنام اور کمبوڈیا وغیرہ شامل ہیں۔ اخبار کے مطابق دنیا بھر کے 40 فیصد عیسائی اس تنظیم کی سرگرمیوں کی حمایت وکفالت کرتے ہیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 85000 ننز اور پادریوں اور 450,000 انتظامی ورکروں کی مدد سے گزشتہ چند سالوں میں 65,000 مسیحی مبلغین کو 280 سے زیادہ کورسز کرائے گئے ہیں۔ اس طرح دس لاکھ کے عمومی مسیحی لشکر کے علاوہ یہ ایک دوسرا بڑا خصوصی لشکر ہے۔ اس تنظیم کا سالانہ بجٹ 30 ارب روپے ہے۔“
چرچ کے اس کام کو آگے بڑھانے کے لیے تنظیم نے کئی اور اجلاس بھی کیے، ایسے ہی ایک اجلاس کے بارے میں روزنامہ نوائے وقت کے کالم نگار جناب نصرت مرزا نے بھی 22 فروری کو اپنے کالم میں لکھا ہے:
”اس بات کے شواہد موجود ہیں کہ اشتعال انگیز خاکوں کی اشاعت سوچے سمجھے منصوبہ کا حصہ ہے۔ 5 تا 8 مئی 2005ء جرمنی کی ریاست باوریا میں ٹینگرنیسی نامی جھیل کے کنارے واقع ڈورنٹ سوفی ہوٹ اس اجلاس کے شرکا میں نیو آئ حملہ کے زبردست حامی تھے ہ اور مقتدر رہنما اور نیٹو کے سیکر ساتھ روکل فیلر اور روتھ شیلڈ ا ایلڈر رپ اور دیگر شامل تھے تھا۔ بائیلڈر برگر گروپ دوس برنارڈ نے منظم کیا تھا۔ ایک گ قیادت میں ملتے ہیں اور عال بائیکاٹ کا پروگرام منظور کیا گ تھا۔ ایک خاتون میرینتی ا کے کارٹون خاکے شائع کی کے آئل اور گیس کمپنی ک اور سرگرم رکن ہیں اور ا امریکی دانشور معہود کرم بائیلڈر برگر گروپ کے ا جیلینڈز پوسٹن نے عملی جا کی حاکمیت پر یقین رکھ نہیں ہے کہ ڈنمارک ک پچھلی دو صدیوں سے ی کنٹرول رکھتی ہے اور و آزادی صحافت کے ا تحت شائع کیا گیا ج اشاعت سے مسلم دنیا ک نہیں دیتا لیکن اس ک
کنارے واقع ڈورنٹ سوئی ٹیل سی ہوٹل میں بحر اوقیانوس مقتدر امرا کا ایک اجلاس منعقد ہوا۔ اس اجلاس کے شرکا میں نیوکان فاشسٹ مائیکل لیڈین رچرڈ پرل اور ولیم لوٹی جو عراق پر حملہ کے زبردست حامی تھے کے علاوہ ڈچ بلجیم اور اسپین کے بادشاہان یورپ کے اعلیٰ ترین اور مقتدر رہنما اور نیٹو کے سیکرٹری جنرل جاپ ہوپ ڈی شیفر اور دیگر عہدیداران کے ساتھ ساتھ روکر فیلر اور روتھ شیلڈ انٹرنیشنل کے بینکرز اور ہنری کسنجر کے ساتھ ڈنمارک کے انڈریس ایلڈریپ اور دیگر شامل تھے۔ یہ دراصل نیوکان اور بائیلڈر برجر گروپ کا مشترکہ اجلاس تھا۔ بائیلڈر برجر گروپ دوسری عالمگیر جنگ کے بعد برطانیہ کے شہزادہ فلپس اور ڈچ شہزادہ برنارڈ نے منظم کیا تھا۔ ایک پراسرار گروپ ہے جہاں ملکی مالدار مقتدر لوگ امریکہ اور برطانیہ کی قیادت میں ملتے ہیں اور عالمی معاملات پر اتفاق کرتے ہیں۔ اسی گروپ نے عرب تیل کے بائیکاٹ کا پروگرام منظور کیا تھا اور اسی گروپ نے امریکی ڈالر اور بینکنگ نظام کو استحکام بخشا تھا۔ ایک خاتون میریٹی ایلڈریپ اخبار جیلنڈز پوسٹن جس نے رسول اکرم حضرت محمد ﷺ کے کارٹون خاکے شائع کیے تھے، کی منتظم اعلیٰ ہیں۔ ان کے شوہر انڈریس ایلڈریپ ڈنمارک کے آئل اور گیس کمپنی کے چیئرمین اور بائیلڈر برجر گروپ کے پچھلے پانچ برسوں سے متحرک اور سرگرم رکن ہیں اور انہوں نے 5 مئی 2005ء کے اجلاس میں بھی شرکت کی تھی۔ ایک امریکی دانشور ویبسٹر گرفن ٹارپلے کے مطابق ان خاکوں کو چھاپنے کا فیصلہ نیوکان اور بائیلڈر برجر گروپ کے 5 تا 8 مئی 2005 کے اجلاس میں کیا گیا جس کو ڈنمارک کے اخبار جیلنڈز پوسٹن نے عملی جامہ پہنایا۔ اس اخبار کے ایڈیٹر فلیمنگ روز انتہائی متعصب اور گوروں کی حاکمیت پر یقین رکھنے والی میکارتھین ٹائپ کی تنظیم سے تعلق رکھتے ہیں۔ یہ کہنا بھی درست نہیں ہے کہ ڈنمارک کوئی آزادی خیال کا بڑا علمبردار ملک ہے بلکہ حقیقت یہ ہے کہ ڈنمارک پچھلی دو صدیوں سے برطانیہ کا پٹھو ہے جہاں کی انٹیلی جنس ایجنسی PET اخبارات پر سخت کنٹرول رکھتی ہے اور وہ آمریت و بادشاہی نظام کو تحفظ فراہم کرتی ہے، اس لیے یہ کارٹون آزادی صحافت کے اظہار یا کسی غلطی یا نادانی سے شائع نہیں ہوا بلکہ انتہائی گھناؤنی سازش کے تحت شائع کیا گیا جس کے مذموم مقاصد ہیں۔ اچھی طرح جانتے تھے کہ اس کارٹون کی اشاعت سے مسلم دنیا میں شدید ردعمل ہوگا۔ خود ڈنمارک کا دستور کسی کی دل آزاری کی اجازت نہیں دیتا لیکن اس کے باوجود 30 ستمبر 2005ء کو یہ کارٹون شائع ہوا جس پر وہاں کی مسلمان
آبادی نے جو تقریباً دو لاکھ کے لگ بھگ ہے سخت احتجاج کیا اور 14 اکتوبر 2005ء کو تقریباً 4 ہزار مسلمان مظاہرین نے کوپن ہیگن میں احتجاجی جلوس نکالا اور گیارہ ممالک کے سفرا نے ڈنمارک کے وزیراعظم سے ملنے کی کوشش کی تاکہ اس صورتحال پر ڈینش حکومت کو توجہ دلائی جائے مگر ڈنمارک کے وزیراعظم نے نہ تو مظاہرہ کا نوٹس لیا اور نہ گیارہ مسلم ملکوں کے سفرا سے ملاقات کی جس سے اندازہ ہو جاتا ہے کہ ڈنمارک کی حکومت خود اس کارٹون کی اشاعت سے نفرت اور ردعمل کے فروغ میں دلچسپی رکھتی تھی۔“
توہین آمیز خاکوں کے لیے جس طرح باقاعدہ مقابلہ کرایا گیا اور اس کے بعد مسلمانوں کے احتجاج پر یورپ نے جس ردعمل کا اظہار کیا، یہ اس بات کی شہادت کے لیے کافی ہے کہ یہ سب کچھ ایک منصوبہ کے تحت کیا گیا۔ ڈنمارک کے وزیراعظم نے مسلم ممالک کے سفیروں سے ملنے تک سے انکار کر دیا اور معافی مانگنے سے انکار کرتے ہوئے کہا: ”ہمیں اس سے کوئی سروکار نہیں کہ میڈیا میں کیا ہوتا ہے۔ ڈنمارک وہ ملک نہیں ہے جس کا وزیراعظم اخبار کی ادارتی پالیسیوں سے اختلاف کرتے ہوئے فوراً فون اٹھائے اور اخبار کے نیوز روم میں انہیں ہدایت کرے۔“ اخبار جیلینڈز پوسٹن کے ایڈیٹر نے کہا: ”احتجاج کرنے والے وہ لوگ ہیں جنہیں ہماری سوسائٹی کی اقدار کا علم نہیں، مذہبی آزادی کا یہ مطلب نہیں کہ میں دوسرے مذاہب کا بھی احترام کروں۔“ خاکوں کے پس منظر سے آگاہ کرتے ہوئے اس نے نیوز ویک کو بتایا: ”مجھے اس بات کی تشویش تھی کہ یورپ کے آرٹسٹ اور کلچرل دائروں میں خود اختیار کردہ سنسر شپ میں اضافہ ہو رہا ہے۔ اسی وجہ سے میں نے (یہ توہین آمیز) کارٹون شائع کرنے کا فیصلہ کیا تاکہ اس رجحان کی ماہیت کا اندازہ لگایا جاسکے۔ یہ بھی خیال تھا کہ ان کارٹونوں کی اشاعت سے ایک نئی بحث کا آغاز ہوگا۔ میں نے یہ کام سنجیدگی سے کیا۔ اس کا اندازہ اس سے لگایا جاسکتا ہے کہ میں نے ڈنمارک میں رہنے والے مختلف کارٹونسٹوں سے خود رابطہ کیا اور ان سے کہا کہ محمد ﷺ کے بارے میں تم لوگوں کے ذہنوں میں جو خیالات ہیں، اس پس منظر میں ان کی تصویر کشی کرو۔“ اس نے معافی مانگنے سے انکار کرتے ہوئے مزید کہا ”اسلام تنقید کو برداشت نہیں کرتا اور ہمارا موقف یہ ہے کہ ہم عدم برداشت کو برداشت نہیں کر سکتے۔ میرے اخبار کی یہ پالیسی رہی ہے کہ وہ اعتدال پسند مسلمانوں کو جرأت گویائی دے۔ اب بحث ڈنمارک کی حکومت اور مسلمانوں کے درمیان نہیں رہی بلکہ انتہا پسند اور
اعتدال پسند مسلمانوں کے درمیان ہے۔“
توہین آمیز خاکے بنانے والے ایک کارٹونسٹ نے گلاسکو میں ہیرالڈ کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ ”یہ خاکے دہشت گردی کو ذہن میں رکھ کر بنائے تھے کیونکہ اسے روحانی اسلحہ اسلام سے ملتا ہے۔“ ڈنمارک کے تعلیمی شعبے کے پبلشر نے کہا کہ ”خاکوں کو تعلیمی نصاب میں شامل کیا جائے گا اور میوزیم میں نمائش کے لیے رکھا جائے گا۔“ اٹلی کے ایک وزیر نے خاکوں والی شرٹس پہننے اور تقسیم کرنے کا اعلان کیا۔ یورپی پارلیمنٹ نے مسلمانوں کے احتجاجی مظاہروں کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ”ڈنمارک کا بائیکاٹ پورے یورپ کا بائیکاٹ سمجھا جائے گا۔“ امریکی صدر بش نے ڈنمارک کے وزیراعظم کو ٹیلی فون کر کے اظہار یکجہتی کیا۔ ڈنمارک میں کارٹون شائع کرنے والے اخبار جیلنڈز پوسٹن کو باقاعدہ ایوارڈ دیا گیا۔
مسلمانوں کے خلاف صلیبی ممالک میں جو یکجہتی دیکھی گئی ہے، مسلم دنیا میں وہ کہیں نظر نہیں آئی بلکہ پاکستان سمیت کئی مسلم ممالک میں ریاستی تشدد کے ذریعے احتجاجی مظاہروں کو کچلا گیا ہے اور بڑے پیمانے پر گرفتاریاں بھی ہوئی ہیں اور ہنوز یہ سلسلہ جاری ہے۔ ایسے لگتا ہے کہ مسلم ممالک کے حکمران چرچ کے آلہ کار بن چکے ہیں۔
جاوید چودھری
مسلمانوں کا امتحان
یہ مسئلہ 12 فروری 2008ء کو شروع ہوا، ڈنمارک کے مغرب میں ”AARHUS“ نام کا ایک چھوٹا سا قصبہ ہے، اس قصبے میں پولیس نے صبح سویرے ایک گھر پر چھاپہ مارا اور تین مسلمان باشندے گرفتار کر لیے، ان میں سے ایک کا تعلق مراکش سے تھا جبکہ باقی دو تنزانیہ سے تعلق رکھتے تھے۔ پولیس کا دعویٰ تھا یہ تینوں ایک کارٹونسٹ کرٹ ویسٹر گارڈ کو قتل کرنے کا منصوبہ بنا رہے تھے۔ کرٹ ویسٹر گارڈ ان بارہ کارٹونسٹوں میں شامل تھا جنہوں نے 30 ستمبر 2005ء کو ڈنمارک کے مشہور اخبار ”یولانڈ پوسٹن“ کے لیے گستاخانہ خاکے بنائے تھے۔ کرٹ ویسٹر گارڈ کی عمر 73 سال ہے اور یہ مسلمان فدائیوں سے چھپ کر بیٹھا تھا، پولیس اور خفیہ ادارے اس کی حفاظت پر مامور تھے، ان اداروں نے دیکھا چند لوگ کرٹ ویسٹر گارڈ کے معمولات کا جائزہ لے رہے ہیں۔ خفیہ اداروں نے جب ان لوگوں کی نگرانی شروع کی تو معلوم ہوا یہ لوگ کرٹ ویسٹر گارڈ کو قتل کرنا چاہتے ہیں۔ یوں پولیس نے ان لوگوں کو گرفتار کر لیا، کرٹ ویسٹر گارڈ کے خلاف اس اقدام کی خبر اخبارات تک پہنچی تو ”یولانڈ پوسٹن“ نے کرٹ کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے ایک بار پھر گستاخی کر دی، اخبار نے 13 فروری کو مزید ایک گستاخانہ خاکہ شائع کر دیا، اگلے دن ڈنمارک کے تین، سویڈن کے دو اور ہالینڈ اور سپین کے پانچ اخبارات نے بھی یہ خاکہ چھاپ دیا جس کے بعد گستاخی کا یہ سلسلہ چل نکلا اور یوں پچھلے ایک ماہ کے دوران یورپ کے 17 اخبارات یہ گستاخانہ حرکت کر چکے ہیں، یہ خاکے یوٹیوب پر بھی چڑھائے گئے لیکن پاکستان میں احتجاج کے بعد حکومت نے یوٹیوب پر پابندی لگا دی اور اس کے بعد یوٹیوب سے یہ خاکے اڑا دیے گئے۔
گستاخانہ خاکوں کا سلسلہ ستمبر 2004ء سے شروع ہوا تھا، 2004ء کے آخر میں ڈنمارک کے مصنف کرے پلیلکن نے بچوں کے لیے ذات اقدس پر ایک کتابچہ لکھا، وہ اس کتابچے میں (نعوذ باللہ) آپ ﷺ کے خاکے شائع کرنا چاہتا تھا، اس نے ڈنمارک کے بے شمار مصوروں سے رابطہ کیا لیکن انہوں نے معذرت کر لی، وہ بعد ازاں ایک دوست کے
ذریعے سے ”یولانڈ پوسٹن“ اخبار کے دفتر گیا، اس نے اخبار کے ایڈیٹر سے اپنا مسئلہ ڈسکس کیا اور اس دوران ایڈیٹر کے دماغ میں یہ شیطانی آئیڈیا آ گیا، ایڈیٹر نے 40 کارٹونسٹوں سے رابطہ کیا، 28 نے انکار کر دیا لیکن کرٹ ویسٹر گارڈ سمیت 12 گستاخ اس قبیح جسارت پر رضامند ہو گئے۔ یوں یہ خاکے بنے اور انہوں نے پوری دنیا کا امن غارت کر دیا۔ 2005ء سے آج مارچ 2008ء تک عالم اسلام اس گستاخانہ حرکت پر دہکتے کوئلوں پر لوٹ رہا ہے اور لوگوں کا بس نہیں چل رہا وہ ان گستاخوں کو کیا سزا دیں؟ ان خاکوں کو دیکھتے ہوئے ہالینڈ کے ایک سیاستدان کرٹ ویلڈرز نے بھی قرآن کے خلاف پندرہ منٹ کی ایک فلم بنا دی، کرٹ ویلڈرز ”پارٹی فار فریڈم“ نام کی ایک سیاسی جماعت کا بانی اور سربراہ ہے اور ہالینڈ کی پارلیمنٹ میں اس کے نو ارکان ہیں، کرٹ ویلڈرز عربوں کے خلاف بیانات، نبی رحمت ﷺ کی شان میں گستاخی اور اسرائیل کے ساتھ تعلقات کی وجہ سے پورے یورپ میں مشہور ہے، وہ ہر مہینے اسرائیل کا دورہ کرتا ہے اور موساد کے ساتھ اس کے قریبی تعلقات ہیں، یہ ایک ایسی فتنہ پرور فلم ہے جس کے بارے میں خود ہالینڈ حکومت کا خیال ہے کہ جب یہ فلم ریلیز ہوگی تو اس دن ہمیں اسلامی دنیا میں اپنے سفارتخانے بند کرنا پڑ جائیں گے۔ یورپین یونین، ناٹو اور امریکہ بھی یہ فلم رکوانے کی کوشش کر رہا ہے لیکن کرٹ ویلڈرز نہیں مان رہا۔ پاکستان میں موجود برطانوی سفارتخانے نے جنوری 2008ء میں اپنے عملے کے تمام افراد کو ایک خط کے ذریعے اس فلم کے بارے میں مطلع کر دیا تھا اور یہ ہدایت کی تھی کہ جوں ہی یہ فلم ریلیز ہو، تمام لوگ اپنی حرکات وسکنات محدود کر دیں، اسی طرح کی ایک اور گستاخی کا سلسلہ امریکہ میں شروع ہونے والا ہے، ایک امریکی مصنف رابرٹ سپنسر نے ”دنیا کا عدم برداشت پر مبنی مذہب اور اس کے بانی کی حقیقت“ کے نام سے ایک گستاخانہ کتاب تحریر کی اور امریکہ کے ایک ہفت روزہ ”ہیومن ایونٹس“ نے اس کتاب کی مفت کاپیاں تقسیم کرنے کا اعلان کر دیا اور یہ اعلان بھی آنے والے دنوں میں فساد کی جڑ بن جائے گا۔
دنیا میں موجود ہر مسلمان کے خون کا ایک ایک قطرہ اور سانس کی ایک ایک تار نبی اکرم ﷺ کی محبت سے بندھی ہے اور ہم ان کی تصویر، شبیہہ اور مجسمہ تو رہا ایک طرف ان کے تصویری تصور تک کو بے ادبی سمجھتے ہیں، ہم لوگ تو وضو کے بغیر ان کی نعلین شریفین کے سکیچ تک کو ہاتھ نہیں لگاتے۔ چنانچہ ہم لوگ اس شخص کو مسلمان ہی تسلیم نہیں کرتے جو نبی رحمت ﷺ کے گستاخوں کی مذمت نہیں کرتا۔
پروفیسر خباب احمد خاں
آئینہ دیکھیں تو چہرے نظر آتے ہیں کئی
رواداری کے معنی ہیں فراخ دلی، وسیع القلبی، آزاد خیالی، بے تعصبی، تحمل، بردباری۔ انگریزی میں اس کے لیے جو لفظ بولا جاتا ہے وہ "TOLERANCE" ہے۔ انگلش ڈکشنری میں اس کے معنی تحمل، برداشت اور رواداری کے لکھے گئے ہیں۔ اس کی وضاحت یوں کی گئی ہے، برداشت کرنے کی استعداد یا عمل۔ طبی لحاظ سے کسی دوا یا زہر کا اثر برداشت کرنے کی استعداد۔ جو رواداری کا مظاہرہ کرے، اسے TOLERANT کہا جاتا ہے۔ اسی سے TOLERATE کا لفظ بنتا ہے جس کے معنی ہیں روادار ہونے اور بے چون و چرا گوارا کر لینے کے بیان کیے گئے ہیں۔ ”مہذب دنیا“ میں رواداری اور ٹالرینس (TOLERANCE) کا چرچا حد سے زیادہ سننے میں آتا ہے۔ وہ ”فراخ دلی“، ”وسیع القلبی“ اور ”بے تعصبی“ کے ”مظاہرے“ اکثر کرتی نظر آتی ہے۔ مساجد کے میناروں کی بات ہو یا حجاب کا سلسلہ، دہشت گردی کا قضیہ ہو یا حضور اکرم ﷺ کی اہانت، ہر طرف ”رواداری“ کی بکھری ہوئی داستانیں دیکھنے کو مل رہی ہیں۔ رواداری کا طبی معنی دوا یا زہر برداشت کرنے کی استعداد اور روادار کے بے چون و چرا گوارا کر لینے کے معانی پڑھ کر خیال آتا ہے کہ ”مہذب دنیا“ مسلمانوں سے ایسی ہی رواداری کی توقع کرتی ہے کہ ہر قسم کا زہر ”تریاق“ سمجھ کر پی لیں۔ وہ اپنی، اپنے دین، اپنی کتاب اور اپنے پیغمبر کی توہین بلا چون و چرا گوارا کر لیں۔ اس کے بغیر انہیں رواداری کا سرٹیفکیٹ نہیں مل سکتا۔ جس طرز عمل کا ”مہذب دنیا“ مظاہرہ کر رہی ہے تو وہ بھی رواداری کے زمرے میں ہی آتا ہے۔ آزاد خیال لوگوں کو یہ ”حق“ حاصل ہے کہ وہ آزاد روی (من مرضی) کریں۔ یہ ان کے لیے ”روا“ (جائز) ہے۔ رواداری میں ”روا“ پر ان کا عمل ہے ”داری“ پر کون انہیں مجبور کر سکتا ہے۔ پہلے ”رواداری“ کا
مظاہرہ خاکہ نگاری کے ذریعے چند مغربی اخبارات نے کیا تھا، اب عالمی سطح پر انٹرنیٹ کے ذریعے ان خاکوں کو پھیلایا جارہا ہے، ملعون امریکی کارٹونسٹ مولی نورس کی جانب سے حضور اکرم ﷺ کی شان میں گستاخانہ خاکے بنانے کی مہم اہل اسلام کے جذبات کو مجروح کرنے کے لیے معروف سوشل نیٹ ورک فیس بک کے ذریعے جاری ہے۔ 20 مئی کو EVERY" "BODY DRAW MUHAMMAD DAY منایا گیا۔ ایک پورا شیطانی غول اس امریکی کارٹونسٹ کی پشت پر ہے۔ ریاستی دہشت گردی کے بعد ابلاغی دہشت گردی میں بھی امریکا سرفہرست ہے۔ مولی نورس نے ایک شیطانی گروپ CITIZEN AGAINST HOUNOUR (عزت و حرمت کے خلاف لوگ) تشکیل دیا ہے جس کا مقصد یہ ہے کہ آزادی اظہار کے نام پر ہر شخص کو یہ ”حق“ دلایا جائے کہ وہ حضور اکرم ﷺ سمیت ہر نبی کا خاکہ بنا سکے۔ مولی نورس کی جاری کردہ دعوت نامے میں گلاس کپ اور دوسری اشیا کے خاکے بنائے گئے ہیں اور ان کے نیچے لکھا گیا ہے، جس طرح ان اشیا کی تصاویر اور خاکے بنانا معمول کی بات ہے، اسی طرح ...... کے خاکے بنانے میں بھی کوئی حرج نہیں۔ (نعوذ باللہ)!
شاتمان رسول کو انجام تک پہنچانے والوں کی فہرست برصغیر میں غازی علم الدین سے شروع ہوتی ہے جنہوں نے پیغمبر اسلام ﷺ کی ناموس کے لیے تختہ دار پر جھولنا اپنے لیے اعزاز سمجھا۔ ڈینش فلم ساز تھیوان جوگ نے ایک فلم میں مذاق اڑایا تو اسے ایک ڈینش مسلمان نوجوان نے چاقو کے وار کر کے واصل جہنم کیا، عامر چیمہ شہید بھی ایک شاتم کو انجام تک پہنچانے کی سعی کرتا ہوا جام شہادت نوش کر گیا۔ سلمان رشدی اور تسلیمہ نسرین جیسے ملعونوں کو پناہ دینے والے یہی ”مہذب لوگ“ ہیں۔ بکواس مولی نورس نے ان الفاظ میں کی ہے ”امریکی حکومت میرے ساتھ ہے اور مجھے سرکاری تحفظ کی ضمانت دی گئی ہے۔“
مغربی میڈیا اس مہم کی سرپرستی کر رہا ہے۔ ہمارا میڈیا جو بال کی کھال نکالنے میں ید طولیٰ رکھتا ہے، اس اہم معاملے پر یہ سطور تحریر کرنے تک خاموش تماشائی کا کردار ادا کر رہا ہے۔ میڈیا کے اینکر پرسنز کی لسانی شمشیروں کا رخ مولی نورس اور اس کی حلیف قوتوں کی جانب کیوں نہیں ہے؟ فیس بک، ناپاک مہم چلانے والوں کو مکمل سہولت فراہم کر رہی ہے جبکہ اس کے جواب میں چلائی جانے والی مسلمانوں کی مہم کو یکسر نظر انداز کیا جا رہا ہے۔ دنیا بھر سے
لاکھوں مسلمان فیس بک پر اپنا احتجاج لکھ چکے ہیں مگر ویب سائٹ انتظامیہ نے یہ تمام صفحات ہٹا دیے ہیں جبکہ توہین رسالت کے تمام صفحات دکھائے جا رہے ہیں، فیس بک انتظامیہ کا اپنا بنایا ہوا قانون ہے، جس کے مطابق فیس بک انتظامیہ اس وقت کسی بھی صفحے کو ختم کرنے پر مجبور ہو جاتی ہے جب اس کے خلاف رپورٹس کی تعداد بڑھ جائے، یعنی حامی کم ہو جائیں اور مخالف زیادہ ہو جائیں۔ مگر فیس بک انتظامیہ توہین رسالت پر مبنی صفحات کے خلاف بننے والے صفحات کو خاموشی سے ہٹا رہی ہے۔ فیس بک انتظامیہ کو اپنے قانون کے تحت اس توہین آمیز سلسلے کو بند کرنا چاہیے تھا جب اس کی مخالفت میں بننے والے صفحات زیادہ ہو چکے تھے مگر وہ برابر اس مہم کو آگے بڑھانے میں ملعونوں کی مکمل معاونت کر رہی ہے۔ مخالفانہ صفحات ہٹانے کے باوجود، ہیلپ می ریموونگ دی پیج ایوری باڈی ڈرا محمد ڈے Help me removing the page every body draw Mohammad day صرف دو دن سے بنائے جانے والے صفحے پر صرف دو دن میں 50 ہزار سے زائد افراد آکر رجسٹرڈ ہو چکے تھے، گستاخانہ صفحے پر رجسٹرڈ ملعونوں کی تعداد ایک گھنٹے میں سو بھی نہیں جبکہ مخالفت میں یہ تعداد 6 ہزار فی گھنٹہ سے متجاوز ہے۔ مسلمان فیس بک کو استعمال کر کے 5 بلین ڈالرز اور پاکستانی 4 بلین روپے کمپنی کو بزنس دے رہے ہیں۔
پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (PTA) جو پاکستان بھر میں ٹیلی کمیونیکیشن اور انٹرنیٹ سروس فراہم کرنے والی کمپنیوں کے لیے قواعد و ضوابط بناتی اور اس پر عمل کرواتی ہے، اس نے بھی اس معاملے میں روایتی سستی کا مظاہرہ کیا۔ وزارت خارجہ کو ایسے معاملات کی طرف توجہ دینی چاہیے مگر یہ اس وقت ممکن ہے جب مذہبی اور قومی حمیت موجود ہو۔ عالمی سطح پر اس کیس کو اٹھایا جانا چاہیے تھا مگر ہمارے حکمرانوں اور سیاست دانوں کو اس کی فکر کہاں؟ انہیں اپنے اقتدار و اختیار کو طول دینے اور ساتھیوں کو معافی دینے سے فرصت ملے تو وہ اس طرف توجہ دیں۔ ویسے بھی وہ ”روشن خیالی“ کے دیے جلانے میں مصروف ہیں، اس لیے وہ اپنے آقاؤں کی پیشانیوں پر سلوٹیں کیسے دیکھ سکتے ہیں؟ اور وہ ایک عرصے سے خود آقاؤں کے اشاروں پر عمل کرنے کے لیے توہین رسالت کے قانون کے خاتمے کی کئی کوششیں کر چکے ہیں البتہ اسلامک لائرز موومنٹ اور لاہور ہائی کورٹ نے قوم کی امنگوں کی عکاسی کی۔ جسٹس اعجاز چودھری کے حکم پر PTA نے رپورٹ دی کہ خاکوں کی حد تک ویب سائٹ کو بند کر دیا گیا مگر
جب وکلا اور مذہبی نمائندوں نے عدالت عالیہ کو بتایا کہ یہ سائٹ تاحال چل رہی ہے تو عدالت نے اسے فوراً 31 مئی تک بند کرنے کا حکم دیا۔ اس موقع پر ڈائریکٹر پی ٹی اے نے ڈھٹائی کا مظاہرہ کرتے ہوئے یہ موقف اختیار کیا کہ اگر فیس بک کو بند کر دیا گیا تو پاکستان کو معاشی نقصان ہوگا اور پاکستان کا امیج ”پوری دنیا“ میں متاثر ہوگا جس پر عدالت عالیہ کو بتایا گیا کہ چین، متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب سمیت متعدد ممالک میں فیس بک پر پابندی لگا رکھی ہے، چنانچہ جسٹس اعجاز نے اسے فوراً بند کرنے اور اس کا مستقل حل ڈھونڈنے کا حکم دیا ہے۔
شاتمان رسولؐ کے لیے نرم گوشہ رکھنے والے بھی انہی ملعونوں کی صف میں شامل ہیں۔ ڈیڑھ ارب مسلمان راکھ کے ڈھیر سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتے۔ حضور ﷺ کی محبت کا دم بھرنے اور ان کی ناموس پر قربان ہونے کے دعوے کرنے والے کہاں ہیں؟ صاحبان جبہ و دستار کے میدان عمل میں نکلنے کا وقت کب آئے گا؟ حکمران اور قائدین حمیت کا مظاہرہ کب کریں گے؟ علما فروعی و مسلکی اختلافات کے دائرے سے کب باہر نکلیں گے، او آئی سی اور مسلم حکمران کب تک سوئے رہیں گے؟ اگر اس وقت کوئی متفقہ دینی، سیاسی، سفارتی اور اقتصادی ردعمل سامنے نہ آیا تو ”مہذب دنیا“، ”رواداری“ کے نمونے نت نئے انداز میں دکھا کر ہمارے زخموں پر نمک پاشی کرتی رہے گی۔ رواداری کے آئینے میں جہاں مہذب دنیا کا چہرہ نظر آتا ہے، وہاں اپنوں کے بھی کئی چہرے نظر آتے ہیں۔
عرفان صدیقی
در دل مسلم مقام مصطفیٰ ﷺ است
شاید نامردی کی گھاٹیوں میں بھٹکتے یہ سیاہ بخت اور تیرہ باطن لوگ نہیں جانتے کہ ہر مسلمان کے دل و دماغ میں محمد عربی ﷺ کا درجہ و مقام کیا ہے؟ یا شاید وہ بہت اچھی طرح جانتے ہیں اور اسی آگہی کی بنیاد پر آئے دن ایسی مکروہ سازشوں کے جال بنتے رہتے ہیں تاکہ مسلمانوں کے لہو میں بارود بویا جائے، انہیں اُس ہستی کے حوالے سے مشتعل کیا جائے جس سے محبت و عقیدت کو وہ اپنی جان، اپنے مال اور اپنی اولاد سے کہیں زیادہ گراں قیمت اثاثہ خیال کرتے ہیں۔ فتنے اٹھانے، نہایت ہنرمندی کے ساتھ چنگاریوں کو ہوا دینے، خاص طور پر مسلم نوجوانوں کے دل و دماغ میں تلاطم بپا کرنے، نفرتوں کے الاؤ بھڑکانے اور ماحول کو آتش ناک بنا کر اپنی خون خواری کے جواز تلاش کرنے والے یہ لوگ انتہائی مذموم اور مکروہ اہداف کے لیے توہین رسالت کو ایک حربے کے طور پر استعمال کرتے اور ایک بڑا تماشہ لگانے سے پہلے مرضی کا ماحول بناتے ہیں۔
لیکن شاید وہ اس ازلی و ابدی حقیقت سے نا آشنا ہیں کہ راہ گم کردہ اور سوختہ لوگ چودہ صدیوں سے ایسے متعفن حربوں میں ملوث رہے ہیں۔ وہ آسمان کی طرف منہ کر کے تھوکتے اور خود اپنا چہرہ غلیظ کرتے رہے۔ اسم محمد ﷺ کی آب و تاب میں کوئی کمی نہیں۔ دہر میں اس کا اجالا نکھرتا جا رہا ہے۔ عشق کی لو تیز تر ہو رہی ہے۔ عقیدت کی سرمستیاں بڑھ رہی ہیں۔ مدینہ کی کشش فزوں ہو رہی ہے۔ سبز گنبد کی آغوش افق تا افق پھیلتی جا رہی ہے۔ اسلام دنیا میں انتہائی سرعت سے پھیلنے والا دین بن چکا ہے اور مغرب کی تمام تر مکروہات کا واحد نتیجہ یہ نکلا ہے کہ اسلام سے وابستگی بڑھ رہی ہے اور محمد عربی ﷺ کی محبت و عقیدت کا رنگ گہرا ہوتا چلا جا رہا ہے۔
کسی فیس بک پیج پر میرے حضور ﷺ کو خاکہ کشی کا موضوع بنانے والی عورت، جو
کوئی بھی ہے، اس لائق نہیں کہ اعلان کیا۔ ردعمل دیکھ کر وہ پسپا حوالے سے مسلمانوں کے نازک ذہن و فکر کی غلاظتوں کے لیے سے زیادہ توانا آواز پاکستان م کیا۔ میڈیا کو توجہ دلائی۔ ہمارے حضور گستاخی کو بھی مالی مفادات وقت رویہ عمل آئے جب لاہو بک اور ویب سائٹ اب بھی ا نہیں؟ جامی نے کہا تھا:
جملہ
(آپ ﷺ کا دنیا آپ ﷺ کے غلام کا درجہ والے عظیم عاشق رسول ﷺ سلجھانے اور بڑے بڑے علمی جالکتا اور شہر جاناں کا رُخ کرتا
آبروے
بوریا
تاج
در شبستان
قوم
درنگاہ
با
کوئی بھی ہے، اس لائق نہیں کہ میں نوک قلم پر اس کا نام لاؤں۔ اس نے اس حیا باختہ مہم کا اعلان کیا۔ ردعمل دیکھ کر وہ پسپا ہو گئی لیکن اہل اسلام سے بغض رکھنے اور محمد عربی ﷺ کے حوالے سے مسلمانوں کے نازک ترین جذبات پر ضرب لگانے والوں کی کمی نہیں۔ انہیں اپنے ذہن و فکر کی غلاظتوں کے لیے ایک کوڑا دان چاہیے۔ اس ناپاک مہم پر ردعمل فطری تھا۔ سب سے زیادہ توانا آواز پاکستان میں اٹھی۔ نوجوانوں نے پرجوش مہم چلائی۔ رائے عامہ کو بیدار کیا۔ میڈیا کو توجہ دلائی۔ ہمارے حکمرانوں کی ترجیحات ذرا مختلف ہوتی ہیں۔ وہ محمد ﷺ کے حضور گستاخی کو بھی مالی مفادات اور بین الاقوامی تعلقات کی عینک سے دیکھتے ہیں۔ وہ اس وقت رو بہ عمل آئے جب لاہور ہائی کورٹ نے ایک حکم جاری کر دیا۔ کہا جاتا ہے کہ مذکورہ فیس بک اور ویب سائٹ اب بھی بلیک بیری فونز پر دستیاب ہے۔ کیا اس کا کوئی بھی سد باب ممکن نہیں؟ جامی نے کہا تھا:
جملہ عالم بندگان و خواجہ اوست
(آپ ﷺ کتاب دو جہاں کا دیباچہ ہیں۔ آقا صرف آپ ﷺ ہیں اور ساری دنیا آپ ﷺ کے غلام کا درجہ رکھتی ہے۔) اور مشرق و مغرب کی درگاہوں سے سیراب ہونے والے عظیم عاشق رسول ﷺ علامہ اقبالؒ کا کلام کیا گداز پیدا کر دیتا ہے، فلسفے کی گتھیاں سلجھانے اور بڑے بڑے علمی مسائل کی گرہ کشائی کرنے والا شاعر جب سر زمین حجاز کی طرف جا نکلتا اور شہر جاناں کا رُخ کرتا ہے تو اس پر کیسی کیفیت طاری ہو جاتی ہے:
آبروئے ما ز نام مصطفی (ﷺ) ست
بوریا ممنون خواب راحتش
تاج کسری زیر پائے امتش
در شبستان حرا خلوت گزید
قوم و آئین و حکومت آفرید
در نگاہ او یکے بالا و پست
با غلام خویش بر یک خواں نشست
در جہاں ہم پردہ دار ماست او
ما کہ از قید وطن بیگانہ ایم
چوں نگاہ نور دو چشمیم و یکیم
من چہ گویم از تولاش کہ چیست
خشک چوبے در فراق او گریست
خاک یثرب از دو عالم خوش تر است
اے خنک شہرے کہ آں جا دلبر است
(مصطفیٰ ﷺ کا مقام مسلمان کے دل میں ہے۔ ہماری عزت و آبرو آپ ﷺ کے اسم مبارک سے ہے۔ آپ ﷺ راحت و آرام کے لیے ایک خستہ حال بوریے پر احسان فرماتے تھے اور کسریٰ (شہنشاہ ایران) کا تاج آپ کی امت کے پاؤں تلے رُلتا تھا۔ آپ ﷺ نے غار حرا میں خلوت گزینی اختیار کی اور پھر ایک ملت، ایک آئین اور ایک حکومت تخلیق فرمائی۔ آپ ﷺ کی نگاہوں میں نہ کوئی بالا تھا نہ پست۔ سب ایک تھے۔ اور وہ اپنے غلام کے ساتھ بیٹھ کر ایک ہی دستر خوان پہ کھانا کھاتے تھے۔ قیامت کے دن ہمیں آپ ﷺ ہی کی شفاعت پہ اعتبار ہو گا اور اس جہان میں بھی ہمارے گناہوں کی پردہ پوشی کرنے والے آپ ﷺ ہی ہیں۔ ہم مسلمان ہیں اور ہم وطن کی حد بندیوں سے آزاد ہیں جس طرح وہ الگ الگ آنکھوں کا نور ایک ہی ہوتا ہے۔ میں آپ ﷺ سے اپنی محبت و عقیدت کے بارے میں کیا عرض کروں۔ آپ ﷺ تو وہ ہیں جس کے فراق میں سوکھی ہوئی لکڑی کا تنا بھی گریہ و زاری کرنے لگا تھا۔ میرے لیے یثرب کی خاک دونوں جہانوں سے بہتر ہے۔ آہ! کیا دل و نگاہ کو ٹھنڈک دینے والا شہر ہے! کہ جہاں میرا محبوب محو خواب ہے۔۔۔۔۔)
محمد عربی ﷺ سے ہمارا رشتہ کیا نزاکتیں رکھتا ہے؟ اقبالؒ ہی نے رب العالمین کے حضور عرضی گزاری تھی:
روز محشر عذر ہائے من پذیر
از نگاہِ مصطفیٰ ﷺ پنہاں بگیر
(اے رب ذوالجلال! تیری ذات اقدس دونوں جہانوں سے غنی ہے اور میں ایک فقیر خستہ جاں ہوں۔ حشر کے دن تو میری گذارشات کو پذیرائی بخشتے ہوئے میری معافی قبول فرما لینا۔ اگر میرے نامہ اعمال کو دیکھنا لازم ہی ٹھہرے تو مجھ پہ اتنا کرم کرنا کہ محمد مصطفیٰ ﷺ کی نظروں سے چھپائے رکھنا)۔
اقبال کے یہ دو جاودانی اشعار، ان کی کسی کتاب میں ہیں نہ کلیات میں یہ ایک الگ کہانی ہے جو میں کسی دن بیان کروں گا، لیکن اس عرضی کی کتنی ہی تفسیریں لکھی جائیں، تشنگی باقی رہے گی۔ یہی ہے مسلمان کے قلب و نظر میں محمد عربی ﷺ کا مقام۔ شاید مغرب کے یہ بدخواہ اور بدسرشت لوگ اس حقیقت سے آگاہ نہیں اور یا پھر وہ آگاہ ہیں اور جان بوجھ کر تہذیبوں کے تصادم کی فضا پیدا کرنا چاہتے ہیں تاکہ اُن کی اسلحہ سازی کی صنعت جوان رہے اور مسلمانوں پہ پیہم ضربیں لگاتے رہنے کے جواز فراہم ہوتے رہیں۔ شاید وقت آگیا ہے کہ انفرادی کوششوں اور جزوی احتجاجی مظاہروں سے آگے نکل کر ایک جامع حکمت عملی تیار کی جائے۔ اس موضوع پر اسلامی کانفرنس کو متحرک کیا جائے۔ آخر وہ کس مرض کی دوا ہے؟ تمام اسلامی ممالک جمع ہوں۔ ایک جامع قرارداد اور مربوط لائحہ عمل مرتب کیا جائے۔ اقوام متحدہ کو بتایا جائے کہ اگر وہ واقعی امن عالم سے دلچسپی رکھتی ہے تو بارود پاشی کرنے والے عناصر کو لگام ڈالنے کا اہتمام کرے۔ اظہار رائے کی آزادی کا مطلب کسی کو گالی دینے اور اُس کے جذبات بھڑکانے کی کھلی چھٹی دینا نہیں۔ امریکہ سمیت ایک دنیا ہماری پشت پر انتہا پسندی کے تازیانے برسا رہی ہے ہمارے دینی مدارس کو دہشت گردی کے سرچشمے قرار دیا جا رہا ہے لیکن کوئی بتائے کہ مغرب کے اس رویے کو کیا نام دیا جائے جو آئے روز، دانستہ طور پر مسلمانوں کی دل آزاری کے لیے کوئی نہ کوئی مکروہ سرکس لگاتا رہتا ہے؟ مسلم ممالک کو مشترکہ حکمت عملی اپناتے ہوئے اس نکتے پر بھی غور کرنا چاہیے کہ ایسے مکروہات میں ملوث ممالک کے معاشی مفادات پر کس طرح ضرب لگائی جاسکتی ہے۔
یاسر محمد خان
اتنی بے بسی کیوں؟
میں پچھلے ایک ہفتے سے شدید ذہنی اضطراب کا شکار ہوں۔ میں جس اخبار کا مطالعہ کرتا ہوں، جو خبر دیکھتا ہوں، میری روح کانپ اٹھتی ہے۔ میری ریڑھ کی ہڈی میں ایک شعلہ بلند ہوتا ہے اور میرے دماغ میں ایک طوفان برپا ہو جاتا ہے۔ میرے ساتھ ایسا کیوں ہو رہا ہے؟ ایسی صورت حال کا کیوں شکار ہوں؟ میں آپ کو یہ بتانے سے پہلے فرانسیسی صدر نکولس سرکوزی کے حوالے سے بات کرنا چاہتا ہوں۔ یہ 25 جنوری 2007ء کا دن تھا۔ نکولس سرکوزی بھارت کے دو روزہ دورے پر ممبئی پہنچے تھے۔ یہ نکولس سرکوزی کا بھارت کا پہلا دورہ تھا۔ ہم اس دورے پر بات کرنے سے پہلے نکولس سرکوزی کے حوالے سے تھوڑا سا جان لیتے ہیں۔ سرکوزی 28 جنوری 1955 کو فرانس میں پیدا ہوئے تھے۔ ان کے والد پال سرکوزی کا تعلق ہنگری سے تھا۔ 1944ء میں ان کے والد جرمنی چلے گئے اور وہاں سے فرانس آگئے۔ ان کے والد نے 1949ء میں اینڈری مالہ سے شادی کی اور اس شادی سے نکولس سرکوزی پیدا ہوئے۔ پال سرکوزی اور اینڈری مالہ بعد ازاں اختلافات کا شکار ہو گئے اور سرکوزی کے والد ان کی ماں کو چھوڑ کر چلے گئے۔ دورانِ تعلیم سرکوزی اچھے طالب علم ثابت نہیں ہوئے۔ وہ مختلف اسکولوں اور کالجوں سے پاس، فیل ہوتے ہوئے یونیورسٹی آف پیرس پہنچ گئے۔ انہوں نے بزنس لا کی ڈگری حاصل کی اور بعد ازاں انہوں نے سیاسیات کے انسٹیٹیوٹ میں داخلہ لے لیا۔ ان کی انگریزی کمزور تھی۔ لہٰذا وہ فیل ہو گئے۔ اس کے بعد وہ قانون کی تعلیم کے لیے نکل کھڑے ہوئے۔ انہوں نے بار کا امتحان پاس کیا اور وکیل بن گئے۔ سرکوزی نے 1982ء میں پہلی شادی کی اور 1996ء میں بیوی کو طلاق دے دی۔ اسی سال انہوں نے دوسری شادی کی لیکن مارچ 2005ء میں انہوں نے دوسری بیوی کو بھی طلاق دے دی۔ سرکوزی نے 22 سال کی عمر میں سیاست شروع کی۔ وہ پیرس شہر کی ایک مضافاتی بستی کے کونسلر بنے۔ وہ چند
برسوں بعد اس بستی ک وہ فرانس کی قومی اسمبل اور کابینہ کے ایگزیکٹو نے 2002ء میں سر حیثیت سے فرائض وزیر داخلہ تھے۔ جبکہ صدارتی امیدوار منتخ کامیاب ہوئے اور گلوکارہ کے ساتھ اف کے اس سے قبل ہنگا کے سابق وزیر اعظم فرینڈز‘‘ میں شمار ہو شمار ممالک کے دور ہوتلکو نے دعویٰ کیا میں شادی کا اعلا ہے۔ سرکوزی 25 کارلا برونی نے بھ چاہتی تھی اور اس کو صدر کے سات بھارتی حکومت بھارت میں ک اگر اس نے فرا دوم، فرانسیسی کارلا برونی کو ا میں اگر کارلا ب
برسوں بعد اس بستی کے میئر منتخب ہوئے۔ وہ فرانس کے نوجوان ترین میئر تھے۔ 1988ء میں وہ فرانس کی قومی اسمبلی کے ڈپٹی اسپیکر منتخب ہو گئے۔ بعد ازاں 1993ء میں وہ بجٹ کے وزیر اور کابینہ کے ایگزیکٹو بن گئے۔ وہ یاک شیراک کے اسسٹنٹ بھی رہے اور صدر یاک شیراک نے 2002ء میں سرکوزی کو وزیر داخلہ بنا دیا۔ وہ 2004ء اور 2005ء میں وزیر داخلہ کی حیثیت سے فرائض انجام دیتے رہے۔ نکولس سرکوزی فرانس کی تاریخ کے مقبول ترین وزیر داخلہ تھے۔ جبکہ سرکوزی کو ان کی سیاسی جماعت (یو ایم پی) نے 14 جنوری 2007ء کو اپنا صدارتی امیدوار منتخب کر لیا تھا۔ سرکوزی نے 16 مئی 2007ء کے الیکشن میں حصہ لیا۔ وہ کامیاب ہوئے اور فرانس کے صدر منتخب ہو گئے۔ گزشتہ سال ان کا ایک سابق سپر ماڈل اور گلوکارہ کے ساتھ افیئر چلا اور وہ بارہا ”کارلا برونی“ کے ساتھ دیکھے جانے لگے۔ کارلا برونی کے اس سے قبل میک جاگر، اریک کلیپٹن، کیون کوسٹنر، ونسنٹ پریز، ڈونلڈ ٹرمپ اور فرانس کے سابق وزیر اعظم لورینٹ فیس سے بھی تعلقات رہے تھے اور یہ لوگ اس کے ”بوائے فرینڈز“ میں شمار ہوتے تھے۔ اسی دوران کارلا برونی نے فرانسیسی صدر سرکوزی کے ساتھ بے شمار ممالک کے دورے کیے۔ 2008ء کے شروع میں فرانس کے چند اخبارات اور ٹیلی ویژن چینلز نے دعویٰ کیا کہ نکولس سرکوزی کارلا برونی کے ساتھ شادی کر چکے ہیں اور وہ چند ہی دنوں میں شادی کا اعلان کرنے والے ہیں۔ تاہم یہ خبر ابھی تک افواہوں اور سرگوشیوں تک محدود ہے۔ سرکوزی 25 اور 26 جنوری 2008ء کو بھارت کے سرکاری دورے پر آئے تھے اور کارلا برونی نے بھی صدر کے ساتھ بھارت جانے کا فیصلہ کیا تھا۔ وہ آگرہ میں تاج محل دیکھنا چاہتی تھی اور اس کے سامنے کھڑے ہو کر تصویر کھنچوانا چاہتی تھی۔ فرانسیسی حکومت نے بھارت کو صدر کے ساتھ کارلا برونی کی آمد کی اطلاع دے دی۔ یہ اطلاع جوں ہی بھارت پہنچی، بھارتی حکومت پریشان ہو گئی۔ بھارتی حکومت کی پریشانی کی دو بڑی وجوہات تھیں۔ اول، بھارت میں کبھی کوئی صدر اپنی گرل فرینڈ کے ساتھ نہیں آیا تھا اور بھارتی حکومت کا خیال تھا اگر اس نے فرانسیسی صدر کی گرل فرینڈ کو سرکاری پروٹوکول دیا تو عوام ناراض ہو جائیں گے۔ دوم، فرانسیسی صدر کارلا برونی کو اہلیہ سے زیادہ اہمیت دیتے ہیں۔ لہٰذا اگر بھارت نے کارلا برونی کو ”فرسٹ لیڈی“ کا پروٹوکول نہ دیا تو یہ سفارتی بددیانتی ہو گی جبکہ دوسری صورت میں اگر کارلا برونی کو پروٹوکول نہیں دیا جاتا تو صدر نکولس سرکوزی ناراض ہو سکتے تھے۔ بھارت
کی وزارت خارجہ نے چند دن اس مسئلے پر سوچا اور اس کے بعد کارلا برونی کو بھارت اترنے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا۔ چنانچہ سرکوزی اپنی محبوب گرل فرینڈ کو پیرس چھوڑ کر 25 جنوری کو بھارت پہنچ گئے۔ بات بہت طویل ہو گئی لیکن آپ کو اس نکتے پر لانا چاہتا تھا اور اب میں اصل موضوع کی طرف آتا ہوں۔
23 فروری کو ڈنمارک کے ایک اخبار نے نبی کریم ﷺ کی شان میں گستاخی کرتے ہوئے 29 خاکے شائع کیے۔ یہ خاکے 2005ء میں بھی شائع ہوئے تھے۔ ان خاکوں کی اشاعت کے بعد درجنوں یورپی اخبارات نے اسے اظہار آزادی کا نام دیا تھا اور ان خاکوں کو چھاپنا شروع کر دیا تھا۔ یہاں تک کہ یورپ کے درجنوں اخبارات و جرائد نے ان خاکوں کو بار بار شائع کیا تھا اور مسلمانوں کو اشتعال دلانے کی کوشش کی تھی۔ دنیا بھر کے مسلمان ان خاکوں کے خلاف سراپا احتجاج بن گئے تھے۔ جس کے بعد اخبار کے ایڈیٹر نے اس پر معافی مانگی تھی اور معاملہ کچھ عرصہ کے لیے ٹھنڈا ہو گیا تھا۔ 2006ء میں ایک بار پھر اسی اخبار نے دوبارہ ان خاکوں کو شائع کیا تھا اور اس اخبار کی سپورٹ میں دیگر یورپی اخبارات نے ایک بار پھر خاکے شائع کر دیے تھے اور اس گستاخی پر ایک پاکستانی نوجوان عامر چیمہ اخبار کے دفتر پہنچا تھا۔ اس نے اخبار کے ایڈیٹر کو قتل کرنے کی کوشش کی لیکن قبل اس کے کہ وہ اپنے مقصد میں کامیاب ہوتا، سیکورٹی اہلکاروں نے اسے گرفتار کر لیا۔ 3 مئی 2006ء کو عامر چیمہ نے جرمنی کے بدترین قید خانے موآبٹ جیل میں اذیتیں سہہ کر جان جان آفریں کے سپرد کر دی۔ عامر چیمہ کی شہادت اور خاکوں کی اشاعت پر پوری اسلامی دنیا بالخصوص پاکستان میں زبردست احتجاج ہوا تھا اور یہ معاملہ ایک بار پھر سرد خانے کی نذر ہو گیا تھا۔ گزشتہ ہفتے ڈنمارک کے اخبارات نے تیسری بار گستاخی کرتے ہوئے نبی کریم ﷺ کی ذات اقدس کے خلاف 29 خاکے شائع کیے اور ان خاکوں کے ردعمل میں عالم اسلام میں ایک بار پھر وہی احتجاج کا سلسلہ جاری ہے۔ کویت، بحرین اور سوڈان نے ڈنمارک کی مصنوعات کا بائیکاٹ کر دیا ہے جبکہ دیگر اسلامی ممالک میں چھوٹے موٹے احتجاجی جلسے اور ریلیاں نکالی جا رہی ہیں۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ عالم کفر بار بار یہ خاکے کیوں شائع کرتا ہے اور وہ ان خاکوں کی اشاعت سے کون سے مقاصد حاصل کرنا چاہتا ہے؟ میرے جیسا عام فہم شخص بھی بخوبی جانتا ہے کہ عالم کفر عالم اسلام کی غیرت ایمانی اور محبت رسول ﷺ کو پرکھنا چاہتا ہے۔ وہ ان خاکوں کی اشاعت سے یہ جاننے کی کوشش کرتا ہے اس طرف سے کسی قسم کا ردعمل سامنے آ نازیبا حرکات کر کے امت مسلمہ کو غ یہودیوں کو اس وقت بے تحاشا خو تڑپ رہا ہو۔ چنانچہ عیسائی اور یہو پہنچانا چاہتے ہیں اور دوسری طر حقیقت ہے کہ عالم کفر امت مسل درجنوں اخبارات ان خاکوں کو شا حال میں کیا کر رہے ہیں؟
کیا سو، سوا دو سو، ط دیتے ہیں؟ کیا نبی کریم ﷺ ک
آپ اندازہ لگائیں اس وقت د اسلامی ممالک میں سعودی عرب دبئی جیسے بڑے بڑے ممالک 33 لاکھ سے زائد مسلمان آبا کے لحاظ سے عیسائیوں، یہود کا ڈیٹا نکالیں۔ ان میں ہما حیرت ہوگی مسلمان اس دنی کے باوجود ہم کمزور، مجبو اندازہ لگائیں، دنیا کی سب مستقبل قریب کی تیسری بڑ اس کے باوجود ہم عاجز او ریگولر فوجیں ہیں۔ اگر طا 76 ہزار 8 سو 80 فوجی ا روپے خرچ کرتے ہیں ا
سے یہ جاننے کی کوشش کرتا ہے امت مسلمہ کی ایمانی حالت کیا ہے اور اس پر مسلمانوں کی طرف سے کسی قسم کا ردعمل سامنے آئے گا جبکہ اس کی ایک دوسری وجہ بھی ہے۔ عالم کفر ایسی نازیبا حرکات کرکے امت مسلمہ کو تکلیف دینا چاہتا ہے۔ میں نے کہیں پڑھا تھا عیسائیوں اور یہودیوں کو اس وقت بے تحاشا خوشی محسوس ہوتی ہے جب کوئی مسلمان تکلیف میں مبتلا ہو یا وہ تڑپ رہا ہو۔ چنانچہ عیسائی اور یہودی یہ خاکے شائع کرکے ایک طرف مسلمانوں کو ذہنی تکلیف پہنچانا چاہتے ہیں اور دوسری طرف ان کی غیرت ایمانی کا جائزہ لیتے رہتے ہیں۔ یہ بات تو حقیقت ہے کہ عالم کفر امت مسلمہ کے خلاف متحد ہے اور ایک اخبار کی سپورٹ کے لیے درجنوں اخبارات ان خاکوں کو شائع کرتے ہیں لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ہم ایسی صورت حال میں کیا کر رہے ہیں؟
کیا سو، سو اور دو، دو سو لوگوں کی ریلیاں نکال کر ہم محبت رسول ﷺ کا حق ادا کر دیتے ہیں؟ کیا نبی کریم ﷺ سے محبت کا یہی تقاضا ہے اور کیا ہم صرف اتنا ہی کر سکتے ہیں؟ آپ اندازہ لگائیں اس وقت دنیا کے 245 ممالک میں سے 62 اسلامی ملک ہیں۔ ان 62 اسلامی ممالک میں سعودی عرب، کویت، مصر، ترکی، انڈونیشیا، ملائشیا، ایران، پاکستان، قطر اور دبئی جیسے بڑے بڑے ممالک شامل ہیں۔ ان 62 اسلامی ممالک میں ایک ارب 47 کروڑ اور 33 لاکھ سے زائد مسلمان آباد ہیں۔ اس وقت دنیا کی کل چھ ارب آبادی میں مسلمان تعداد کے لحاظ سے عیسائیوں، یہودیوں اور بدھ متوں سے زیادہ ہیں۔ آپ اگر دنیا کے تمام ممالک کا ڈیٹا نکالیں۔ ان میں بدھ مت، عیسائی اور یہودی ممالک کو علیحدہ کریں تو آپ کو یہ جان کر حیرت ہوگی مسلمان اس وقت آبادی کے لحاظ سے دنیا کی سب سے بڑی قوم ہیں۔ لیکن اس کے باوجود ہم کمزور، مجبور اور لاچار ہیں۔ کیوں، آخر کیوں؟ آپ اسلامی دنیا کے ذخائر کا اندازہ لگائیں، دنیا کی سب سے بڑی دولت تیل اور سونا ہے، یہ دونوں ہمارے پاس ہیں، پانی مستقبل قریب کی تیسری بڑی دولت ہوگی، ہمارے پاس پانی کے بے پناہ ذخائر ہیں۔ لیکن اس کے باوجود ہم عاجز اور بے بس ہیں۔ اس وقت 62 اسلامی ممالک میں سے 56 کے پاس ریگولر فوجیں ہیں۔ اگر 56 ممالک کی فوجوں کی ایک فوج بنالی جائے تو ان کی تعداد 70 لاکھ 76 ہزار 8 سو 80 فوجی بنتی ہے۔ یہ 56 ممالک اپنی فوجوں پر ہر سال 78 بلین 9 سو 70 ملین روپے خرچ کرتے ہیں ۔ ان ممالک میں سعودی عرب کا دفاعی بجٹ 22 بلین 9 سو 80 ملین
ڈالر ہے۔ ترکی کا ساڑھے دس بلین ڈالر، ایران کا پونے چھ بلین ڈالر، پاکستان کا ساڑھے تین بلین ڈالر، کویت کا سوا تین، ایتھوپیا کا سوا تین، الجیریا کا تین، مصر کا پونے تین اور مراکش، قطر اور عمان کا دو، دو بلین ڈالر ہے۔ آپ اندازہ لگائیں اسلامی دنیا کے 10 ہزار مجاہدین نے دنیا کے دس بڑے ممالک کی فوجوں کو ناکوں چنے چبوا رکھے ہیں جبکہ 70 لاکھ، 76 ہزار 8 سو 80 فوجیوں، دو سو ایٹم بموں، ہزاروں میزائلوں، راکٹوں، ٹینکوں اور توپوں کے مالک 62 اسلامی ممالک دم سادھے بیٹھے ہیں، کیوں، آخر کیوں؟ عالم کفر ہمارے ایمان اور ہماری غیرت کو للکار رہا ہے اور ہم شتر مرغ کی طرح ریت میں گردن دبائے بیٹھے ہیں۔ کیا یہی ہماری نبی کریم ﷺ سے محبت کا تقاضا ہے، کیا یہی مومن کی پہچان ہے اور کیا یہی ہماری غیرت ایمانی ہے۔ میں آپ کو یہاں نبی کریم ﷺ کا ایک بہت ہی خوبصورت قول مبارک سنانا چاہتا ہوں۔ آپ ﷺ کا ارشاد پاک ہے: ”تم میں سے کوئی بھی شخص اس وقت تک مسلمان نہیں ہو سکتا جب تک میں اس کے ماں، باپ اور اس کے تمام عزیزوں سے محبوب نہ ہو جاؤں۔“ اور آپ حضرت عمرؓ کی رسول اللہ ﷺ سے محبت کا ایک جلوہ بھی دیکھ لیجیے۔ حضرت عمر فاروقؓ ایک بار بارگاہِ مصطفوی ﷺ میں حاضر ہوئے، عرض کی: ”یا رسول اللہ ﷺ! آپ مجھے اپنی جان کے سوا تمام چیزوں سے محبوب ہیں۔“ سرکار دوعالم ﷺ مسکرائے اور مسکرا کر ارشاد فرمایا: ”نہیں عمرؓ! یہاں تک کہ میں تیری جان سے بھی زیادہ عزیز نہ ہو جاؤں“، حضرت عمرؓ نے دوبارہ عرض کیا: ”یا رسول اللہ ﷺ! اللہ کی قسم آپ میرے لیے میری جان سے بھی زیادہ عزیز ہیں۔“ آپ ﷺ نے تبسم فرمایا اور اس کے بعد حضرت عمرؓ سے ارشاد فرمایا: ”ہاں عمرؓ! اب تمہارا ایمان کامل ہے۔“ اسی طرح حضرت علیؓ سے مروی ہے: ”ایک عورت آپ ﷺ کو گالیاں دیا کرتی تھی اور آپ ﷺ پر کیچڑ اچھالا کرتی تھی، ایک شخص نے اسے ایسے کرتے دیکھا تو اس کا گلا دبا کر مار دیا۔ جب یہ خبر بارگاہِ مصطفوی ﷺ میں پہنچی تو آپ ﷺ نے اس عورت کے خون کو مباح قرار دے دیا۔“ یعنی اس کو مارا جانا جائز تھا اور اس پر کوئی گرفت نہیں۔ چنانچہ نبی اکرم ﷺ کے قول اور ان دو واقعات سے معلوم ہوتا ہے مومن کے لیے سب سے بنیادی چیز محبت رسول ﷺ اور ناموس رسالت کا تحفظ ہے اور مومن کی یہ پہچان ہے وہ اپنے نبی ﷺ کے خلاف کوئی بات سننا پسند نہیں کرتا اور آج جب میں امت مسلمہ کو خاموش دیکھتا ہوں تو مجھے محسوس ہوتا ہے عالم کفر ان ناپاک حرکات سے ہمارے ایمان کو ٹٹول
رہا ہے اور ہم اور ہمارے حکمران ”دوستیوں“ اور ”دانشمندیوں“ کے چکروں میں پڑے ہیں۔
میں نے شروع میں آپ کو سرکوزی کا ایک واقعہ سنایا تھا۔ اب میں دوبارہ اس واقعے کی طرف آتا ہوں۔ میں نے آپ سے عرض کیا تھا بھارت نے فرانسیسی صدر کو اس کی گرل فرینڈ ساتھ لانے سے صاف انکار کر دیا تھا۔ بھارت نے یہ انکار کیوں کیا تھا اس کی وجہ بڑی دلچسپ تھی۔ بھارت کا کہنا تھا ہم مشرقی لوگ ہیں اور ہمارے ملک میں گرل فرینڈ اور بوائے فرینڈ کے تعلق کو معیوب سمجھا جاتا ہے۔ چنانچہ سرکوزی اپنی گرل فرینڈ کو ساتھ نہ لائیں۔ یہ بھارت جیسے تیسرے درجے کے غیر اسلامی ملک کی فرانس جیسے امیر ملک کی ٹھیک ٹھاک توہین تھی۔ لیکن بھارتی حکومت نے اپنی روایات اور اصولوں پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا۔ لیکن دوسری طرف ہم مسلمان ہیں۔ عالم کفر ہمیں جوتیاں مار رہا ہے اور ہم اس کی مالا جپنے میں مصروف ہیں۔ ہم اس کے گیت گا رہے ہیں۔ یقین کریں آج اگر امت مسلمہ متحد ہو جائے، وہ یورپ کا بائیکاٹ کر دے، یورپ کی ایکسپورٹ روک دے، یورپی مصنوعات کے استعمال پر پابندی لگا دے اور یورپ کے ساتھ کسی قسم کا تعاون نہ کرنے کا فیصلہ کر لے تو کوئی وجہ نہیں یورپ ہمارے قدموں میں نہ آ جائے لیکن یہ سب کرے کون......؟ کیونکہ ہمارے حکمران جب پیدا ہوتے ہیں تو ان کی پہلی گھٹی آب زم زم نہیں واشنگٹن، نیو یارک اور لندن کے پانی کی ڈالی جاتی ہے اور اس گھٹی کا اثر ہے ہمارے حکمران اللہ اور اس کے رسول ﷺ سے محبت کی بجائے بش اور بلیئر کے گن گاتے رہتے ہیں۔ آج میں جب بھارت کو دیکھتا ہوں اور اس کے بعد امت مسلمہ کی حالت پر نظر دوڑاتا ہوں تو مجھے امت مسلمہ اور اسلامی حکمرانوں کی حالت پر رونا آتا ہے اور میں پچھلے چند دنوں سے اسی اضطراب کا شکار رہا ہوں کہ نہ جانے ہمارے حکمرانوں کی غیرت ایمانی کب جاگے گی اور وہ دیوار کے اس پار کب دیکھیں گے؟ میں مسلم امہ اور مسلم حکمرانوں کی اس خاموشی پر اور زیادہ کیا کہوں بس آئیے! ہم اپنے مردہ ضمیروں اور خالی خولی ایمانوں کو جگانے کی فکر کریں ورنہ ہمارا حشر خراب ہونے والا ہے۔
❁ ❁ ❁
ڈاکٹر عامر لیاقت حسین
اپنے نام میں موجود محمد ﷺ کے میم کی لاج رکھ لیجیے
اگر یہ سچ ہے کہ آپ سید ہیں، اگر یہ سچ ہے کہ آپ سادات ستاروں میں سے ایک چمکتے ستارے ہیں، اگر یہ سچ ہے کہ آپ کا شجرہ نسب نورانی شاخوں سے سفر کرتا ہوا ختمی مرتبت سید الانبیا حضرت محمد ﷺ کی ذات اقدس پر جا کر ختم ہوتا ہے اور اگر یہ سچ ہے کہ آپ کے نام میں موجود ”میم“ محمد ﷺ کے ”دو میم“ کا صدقہ ہے تو اللہ جل مجدہ، کے واسطے! اپنی نسبت کی لاج رکھ لیجیے۔۔۔۔۔ کرسی صدارت رہے یا نا رہے، آیت الکرسی والے کے محبوب کی شان میں اہانت کے مرتکب ملک سے ہمارے سبز ہلالی پرچم کا تعلق ختم کر دیجیے اور اپنے نانا کریم ﷺ سے محبت کا یہ فرض ادا کیجیے!۔۔۔۔۔ مغرب کے پیچھے بھاگتے بھاگتے غروب ہونے سے کہیں بہتر ہے کہ صرف ایک بار افقِ ایمان پر عقیدت کی بھر پور کرنوں کے ساتھ طلوع ہو جائیں!۔۔۔۔۔ آج آپ میں موجود ”میم“ آپ سے ”مرد حق“ ہونے کی سچائی مانگ رہا ہے اور محمد ﷺ کی محبت میں یہ ”میم“ اگر مرد سے نہ جڑا تو خدا کی قسم آپ یہاں تو ”رد“ ہیں ہی وہاں بھی ”رد“ ہو جائیں گے!۔۔۔۔۔ یہ ”میم“ اگر آپ کے حاکم ہونے کی گواہی ہے تو یہ بھی یاد رکھیے کہ میم سے محمد ﷺ کی توہین پر مصلحتاً خاموشی میم کے حاکم اور میم سے حکومت کی تباہی ہے! ہر احسان مند اولاد کی طرح یقیناً آپ کو بھی اپنی ماں سے بہت پیار ہوگا۔ ذرا غور کیجیے تو اس ماں میں بھی ”میم“ ہے، اس کی ممتا کا مطلب بھی محمد ﷺ ہی نے تو بتلایا ہے، تو پھر اپنے نام میں اس ”میم“ کے ہونے کا ہی کچھ حق ادا کیجیے، میرے پاس تو استعفے کے سوا کوئی چارہ نہ تھا۔ لہٰذا میں نے تو یوں اپنے نام میں موجود ”میم“ کی آبرو رکھ لی، پر آپ تو بڑے چارہ گر، بااثر اور باخبر ہیں۔ دنیا آپ کی بڑی سنتی ہے، بدترینوں سے بہترین تعلقات ہیں، بدطینتوں سے کچھ کھلے، کچھ چھپے پراسرار معاملات ہیں تاہم مجھ جیسے ”جذباتی پاکستانیوں“ کو ایسی تمام باتوں سے کوئی سروکار نہیں، ہم آپ کی مجبوریاں سمجھتے ہیں اور اگر آپ سید نہ ہوتے تو رب کی عزت کی قسم! آپ سے ایسی کوئی
امید بھی نہ باندھے ...... ہم تو اس گھرانہ نور کے نوکر اور حجرۂ مصطفیٰ ﷺ کی ڈیوڑھی کو اپنی زبان سے چاٹ کر صاف کرنے والے غلام ہیں! اس لیے بڑے ادب سے ایک سید سے ملتمس ہیں، انتہائی عاجزی سے ایک نواسے سے ملتجی ہیں کہ اے محترم سید زادے! ہم نوکروں سے آقا ﷺ کی شان میں گستاخی برداشت نہیں ہورہی، کلیجہ پھٹا جا رہا ہے، لہو عشق کا لاوا بن کر عقیدے کے آتش فشاں سے ابل پڑنے کو بے تاب ہے ...... ہم تو وہ ہیں جو اُن کا نام لینے سے قبل وضو کرتے ہیں اور آپ وہ ہیں جن کا حق ہے جب جی چاہے اُن کا نام لے لیں پھر یہ بے اعتنائی کیسی؟ ...... ہم تو اُن کے سبب مشرف بہ اسلام ہونے کا احسان بھی چکانے سے قاصر ہیں اور آپ اُن سے پشت در پشت مشرف ہو کر بھی پشت کیے بیٹھے ہیں! ..... گناہ کبیر کے مرتکب ملک کا منحوس سفیر ہماری پاک سر زمین پر اٹھلاتا اور اتراتا پھر رہا ہے اور ہمارا اپنا سفیر اُس ناپاک ملک میں آداب ایمان گنوا کر آداب سفارت کاری نبھا رہا ہے ...... آخر کیوں؟
آٹھ برس کی صدارت کیا اتنی مہنگی ہے کہ اس کے بدلے آخرت کا سودا کر لیا جائے؟ جن کے سبب سے ہمارا نسب ہے، اُن کی شان میں گستاخی کے تازیانے سہہ کر اپنی ہی کعبہ خاک کو کہیں اس حد تک داغ دار نہ کر لیں کہ روز حشر ماؤں کے نام سے پکارے جانے والوں کی فہرست میں ہمارا نام ہی نہ ہو ...... تف ہے اس پر کہ ہم کس پستی میں جی رہے ہیں! اللہ سے بگاڑنے والوں کو حکومت بنانے کی اور مسجد اجاڑنے والوں کو اقتدار سے چمٹے رہنے کی فکر تو ہے مگر آخرت کی فکر نہیں! عالم نزع میں بھی ”اقتدار والے“ کہلانا چاہتے ہیں مگر لطف رضا میں ”اختیار والے“ کے حکم پر سر تسلیم خم کرنے پر آمادہ نہیں، کل ڈنمارک میں گستاخی ہوئی، کبھی ملعون رشدی کج کلاہی کا مظاہرہ کرتا ہے۔ آج جرمنی نے توہین آمیز خاکوں کی اشاعت کو ”اظہار رائے کی آزادی“ قرار دے دیا اور شاید آنے والے کل میں ڈنمارک کا ایک رکن پارلیمنٹ قرآن کے خلاف بنائی جانے والی فلم (نعوذ باللہ) ”فتنہ“ ریلیز بھی کردے مگر ہمارے اراکین پارلیمنٹ حکومت سازی ہی میں ”نمازی“ بنے رہیں گے ..... !!! ہم بے بس عشاق کو ”سید حاکم“ سے تو اب کوئی امید نہیں اور نہ ہی آنے والوں سے کچھ اچھی توقع ہے، بس جس کا محبوب ہے، اُسی پروردگار کی بارگاہ میں التجا ہے کہ اے ہر اول سے پہلے اول اور ہر آخر کے بعد آخر!
تو نے اپنے پیارے سے وعدہ کیا ہے کہ حبیب جو تیرا نہیں وہ میرا نہیں، ایسوں پر آپ لعنت نہ کیجیے کیونکہ اُن پر تو آپ کے رب کی لعنت ہے اور سورۃ الحجر کی آیت 95 سے یہی آواز تو آ رہی ہے کہ (ترجمہ) ”جو لوگ آپ کا مذاق اڑاتے ہیں اُن سے نمٹنے کے لیے
ہم کافی ہیں۔" اور اے قادر مطلق! تیرا یہ گناہ گار، خطا کار اور سیاہ کار بندہ جانتا ہے کہ جب ولید بن مغیرہ نے تیرے حبیب کا نام "محمد" کے بجائے (معاذ اللہ) "مذمم" لیا تو تجھے اس قدر جلال آیا کہ تو نے سورۃ القلم کی آیات 10 سے 16 تک اُسے 9 برے الفاظ سے مخاطب کیا اور 9 جواب دے کر بھی جب تیرا جی نہ بھرا تو میرے مولیٰ تو نے اسے "نطفہ حرام" قرار دے دیا۔ اپنے احمد کی محبت میں تیرا غضب یوں کلام کرنے لگا کہ (ترجمہ): "آپ کسی ایسے شخص کی بات نہ مانیں جو بہت قسمیں کھانے والا انتہائی ذلیل ہے O (جو) طعنہ زن، عیب جو (ہے اور) لوگوں میں فساد انگیزی کے لیے چغل خوری کرتا پھرتا ہے O (جو) بھلائی کے کام سے بہت روکنے والا بخیل، حد سے بڑھنے والا سرکش (اور) سخت گناہ گار ہے O (جو) بدمزاج دُرشت خو ہے، مزید براں بد اصل (بھی) ہے O اس لیے (اس کی بات کو اہمیت نہ دیں) کہ وہ مال دار اور صاحب اولاد ہے جب اس پر ہماری آیتیں تلاوت کی جائیں (تو) کہتا ہے (یہ تو) پہلے لوگوں کے افسانے ہیں O قریب ہے کہ ہم اس کی سُور کی سی تھوتھنی پر داغ دیں گے" O حضرت عبداللہ ابن عباسؓ فرماتے ہیں کہ "باری تعالیٰ نے جتنے ذلت آمیز القاب اس بدبخت کو دیے، آج تک کلام الٰہی میں کسی اور کے لیے استعمال نہیں ہوئے"، صرف محبوب کا نام بگاڑ کر لینے والے کی مذمت اتنی شدید فرمائی کہ اُسے "حرام کا نطفہ" قرار دے کر عالم الغیب نے اُس بدبخت، منکر اور دشمن اسلام کے نطفے کی حرمت کا پردہ فاش کردیا....... ولید جانتا تھا کہ مصطفیٰ ﷺ صادق ہیں، اور جب اللہ نے ان کی زبانی یہ فرما دیا کہ "تو حرام کا نطفہ ہے" تو اب باقی کیا رہ گیا، دوڑا دوڑا گھر گیا، دروازہ بند کیا اور ماں پہ تلوار تان کر کہا کہ "سچ بتا کہ میں کس کا نطفہ ہوں؟" ماں نے پوچھا "ماجرا کیا ہے؟" اس بدبخت نے کہا کہ "پیغمبر اسلام نے مجھے یہ کہہ دیا ہے۔" تب اس کی ماں نے کہا کہ: "اُنہوں نے سچ ہی کہا ہے، چونکہ تیرے باپ سے اولاد نہیں ہو سکتی تھی۔ لہٰذا میں اپنے آزاد کردہ گلہ بان غلام کے ساتھ جب سوئی تب تو پیدا ہوا"....... تو اے بدبخت Rose Flemming! اور اے ناہنجار Morgen Visen! اور اے نطفہ حرام Westergaard Kert! اگر تمہاری مائیں زندہ ہیں تو اُن سے جا کر اپنے اپنے اصلی باپوں کا نام ضرور پوچھنا اور یہ بھی پوچھنا کہ اُن باپوں سے تم باپوں تک اور کتنے نطفے تمہاری غلیظ تخلیق میں مددگار ثابت ہوئے؟....... جناب صدر! کیا اب بھی ان حرام کے نطفوں کو تیار کرنے والی فیکٹری ڈنمارک کے سفیر کو پاکستان سے نہیں نکالیں گے؟؟؟
۞.......۞.......۞
ڈاکٹر عامر لیاقت حسین
بتلا دو گستاخ نبی ﷺ کو غیرت مسلم زندہ ہے!
یارسول اللہ ﷺ! آپ کی حرمت کی الفت میں جب اتنی چاشنی ہے کہ تمام مسالک ”نقطہ عشق“ پر متفق ہو گئے تو سوچتا ہوں کہ آقا کریم! آپ بذات خود کتنے میٹھے ہوں گے۔ سرکار! آپ دیکھ رہے ہیں نا کہ آج کسی کو کسی سے کوئی اختلاف نہیں، کیا ہوا جو مساجد کے رنگ مختلف ہیں لیکن آپ کے دیوانے، آپ کی محبت کے ایک ہی رنگ میں رنگے ناموس رسالت ﷺ پر اپنی جانیں تک قربان کرنے کے لیے تیار ہیں اور کیوں نہ ہوں؟ یہ جان تو اللہ اور اس کے حبیب ﷺ ہی کی امانت ہے۔...... نفرت کے چیلے گلے پھاڑ کر الحاد کی گود میں پرورش پانے والے کیا جانیں کہ خود سپردگی میں کتنا مزہ ہے، ان کے چہرے تو ”چہرے کی کتاب“ (facebook) میں واضح ہیں اور ہم اپنے ہاتھوں میں خنجر خون تھامے اس ساعت کے منتظر ہیں جب ان گستاخوں سے رب ذوالجلال دریافت کرے گا کہ ”لِمَنِ المُلک؟“ اور پھر ایک طویل خاموشی میں اقرار جرم کی چیخیں سنائی دیں گی۔ آپ نے کبھی غور کیا کہ facebook کا کیپٹل (F) کیوں نہیں ہے؟ وہ اس لیے کہ پھر ”صلیب“ کیسے بنے گی!
میں آج بھی facebook کی حمایت کرنے والوں سے صرف اتنا پوچھنا چاہوں گا کہ اگر آپ کے پڑوس میں کوئی گستاخ رہتا ہو اور وہ دن رات آپ کے سیدی، مرشدی احمد مجتبیٰ ﷺ کی شان ارفع واعلیٰ میں (معاذ اللہ) ہذیان بکتا ہو تو آپ اسے پڑوس میں رہنے دیں گے یا اس کے پڑوسی بن کر رہیں گے؟ یقیناً آپ کا جواب ”نفی“ میں ہی ہو گا تو پھر مجھے بتائیے کہ ایک ایسی غلیظ سائٹ پر ”سماجی تعلق“ کے نام پر اپنا صفحہ بنانے کی ضرورت ہی کیا ہے جس میں گستاخ پڑوسیوں کے بدبودار نظریات کی سڑاند سے دماغ پھٹ جائے....... محبت رسول ﷺ اس امر کی متقاضی نہیں کہ اس ویب سائٹ پہ جا کر نبی عظیم ﷺ کا دفاع کیا جائے بلکہ مظہر عقیدت تو یہی ہے کہ ہمیشہ کے لیے اس ویب سائٹ سے اپنا تعلق توڑ لیا جائے!...... نفس تو
روکے گا، حیلے بہانوں سے دامن بھی کھینچے گا اور مثبت پہلوؤں کی منظر کشی بھی کرے گا مگر یاد رکھیے کہ جس عظیم المرتبت ہستی پر اللہ اور اس کے ملائکہ درود پڑھتے ہوں انہیں ہم گناہ گاروں کے ایسے کسی دفاع کی ضرورت نہیں کہ جس کے سبب شیطان آنکھوں سے دماغ میں گھس جائے...... ہم فیس بک کے خلاف احتجاج کر کے یہودی گھرانوں کو نقصان نہیں پہنچا سکتے، وہ تو ہمارے اس عمل سے لطف اندوز ہوتے ہیں کہ ”دیکھو تو سہی مسلمان کیسے سیخ پا ہو رہے ہیں، انگاروں پہ لوٹ رہے ہیں اور ماہی بے آب کی طرح تڑپ رہے ہیں، انہیں اور تڑپاؤ، ایسے کئی مقابلے منعقد کراؤ اور انہیں پرتشدد ردعمل پر ابھارو تا کہ محمد ﷺ کے پروانوں کو ہم دہشت گرد ثابت کر سکیں۔“ حالانکہ ہم ان دنیا پرستوں کو ”بائیکاٹ“ کے ذریعے وہ سبق سکھا سکتے ہیں کہ یہ ناک رگڑنے پر مجبور ہو جائیں۔ بی بی سی کا کہنا ہے کہ دنیا بھر میں facebook استعمال کرنے والوں کی تعداد 46 کروڑ 92 لاکھ 21 ہزار ہے اور ان کی آمدنی کم و بیش ایک بلین ڈالر سے بھی زیادہ ہے یعنی ہر صارف سے اوسطاً انہیں ڈھائی ڈالر ملتے ہیں اور پاکستانی صارفین سے انہیں کم و بیش 56 لاکھ 31 ہزار 282 ڈالرز کی رقم حاصل ہوتی ہے جبکہ تمام اسلامی ممالک 47.5% کی شرح سے تقریباً 51 کروڑ 70 لاکھ ڈالرز facebook ”عطا“ کرتے ہیں۔ ذرا غور فرمائیے! بار بار احتجاج کے نام پر اس خبیث سائٹ کو Click کرنے کے بجائے اگر ہم سب اپنے اپنے اکاؤنٹس ختم کر کے وہاں جانا ہی چھوڑ دیں تو یہ دولت کے پجاری زمین چاٹنے پر مجبور ہو جائیں گے۔ اچھا یوں سوچیے کہ میری اور آپ کی ماں کو اگر ہمارے ہی کسی رشتے دار کے گھر میں گالی دی جائے یا اس پر رکیک الزامات لگائے جائیں تو ہم جذبات کی زبان میں یہ تک کہہ ڈالتے ہیں کہ ”آج سے ہم آپ کے گھر میں تھوکیں گے بھی نہیں!“ اور اگر یہی معاملہ کوئی غیر کرے تو اس گھر میں دوبارہ جانا تو درکنار ہم تو مرنے مارنے پر تل جاتے ہیں کہ اس ناہنجار نے میری ماں کی شان میں گستاخی کی جرأت ہی کیسے کی؟ تو پھر یہ حدیث مبارکہ کیسے بھول گئے کہ ”تم میں سے کوئی اس وقت تک مومن نہیں ہو سکتا جب تک کہ میں اسے اس کی جان، اولاد، والدین اور سب انسانوں سے بڑھ کر عزیز نہ ہو جاؤں۔“ اپنی ماں کے لیے تو ہم دشمن کی گلی سے گزرنا بھی چھوڑ دیں اور ماں کو ماں بتلانے والی ہستی کے لیے ایک facebook چھوڑنے کو تیار نہیں؟ دلیلیں دے کے کیچڑ میں دفاع کی سبیلیں نہ لگائیے، یہ ازل سے پیاسے ہیں اور اس پیاس کو کھولتا ہوا خون اور ابلتی ہوئی پیپ ہی بجھا سکتی ہے وہ جس
کے محبوب ہیں، اسے پیارے کی توہین پر اپنے بندوں سے زیادہ اذیت پہنچتی ہے۔ چنانچہ اس معاملے میں ”عبد المطلب“ بن جایئے کہ ”اے ابرہہ! یہ کعبہ جس کا ہے وہی اس کی حفاظت کرے گا، میں تو اپنے اونٹ لینے آیا ہوں۔“ لہٰذا رسول کریم ﷺ کے ساتھ استہزا کرنے والوں کے لیے تو اللہ ہی کافی ہے، ہم سب تو بس اپنے ایمان کی فکر کریں اور ہمیشہ کے لیے فیس بک کا بائیکاٹ کریں اور پھر ویسے بھی خاکے تو خاکیوں کے بنتے ہیں، پیرہن بشری میں پوشیدہ نور کا خاکہ کبھی بنا ہے اور نہ ہی کبھی بنے گا۔ بزبان مصطفی ﷺ کہ ”نجانے یہ کس کو (معاذ اللہ) مذمم کہہ رہے ہیں، میرا نام تو محمد ﷺ ہے“.......
کتنے پیارے ہیں وہ جو غزوۂ بدر میں طویل سجدے کرتے ہیں، جن کی حیات اور زندگی کی رب نے قسم کھائی ہے اور جو اپنے رب کو قسمیں دیتے ہیں....... ہم کیوں نہ ان سے پیار کریں جو مٹھی بھر مٹی پھینک دیں تو برکات کا ظہور ہو جائے، جس کو لاٹھی یا کھجور کی چھڑی عطا کریں تو وہ تلوار بن جائے، قتادہ بن نعمان کی آنکھ نکل کر گر پڑے تو دست مبارک سے اسے وہیں واپس رکھ دیں، وہ جو ترکش کے تیر کو کنویں کے پیٹ میں گاڑ دیں تو قلیب حدیبیہ سے میٹھا پانی ابل پڑے، جن کے ہاتھوں کی برکت سے 1400 صحابہ ایک ہی پیالے سے وضو کر لیں، جن کی مبارک انگلیوں سے کئی مرتبہ پانی کے چشمے جاری ہوئے ہوں اور جن کا لعاب دہن ہر مرض میں شفا ہو، جن کی کلی کی مٹھاس شہد سے زیادہ میٹھی اور کستوری سے زیادہ خوشبودار ہو، اور وہ جو آسمان کی جانب اگر چہرہ مبارک کرلیں تو بادل احتراماً رم جھم کے نغمے گنگنائیں، انبیائے کرام نے جن کے مژدے دیے ہوں، جن کی تشریف آوری پر اصنام اور بت منہ کے بل گر جائیں، ایوان کسری میں زلزلہ آجائے اور کنگورے زمیں بوس ہو جائیں، جن کا پسینہ سب خوشبوؤں سے زیادہ پاکیزہ خوشبو والا ہو اور جو ام معبد کی خشک تھن والی بکری کے لیے دعا کریں تو بکری دودھ دینے لگے، جن کی اطاعت اور فرماں برداری کے لیے درخت چل کر آتے ہوں، جو قبروں کے پاس سے گزر جائیں تو عذاب ٹل جائیں اور کھجور کے خوشے کو بلائیں تو وہ دیوانہ وار آپ کی جانب لپکے اور پھر آپ کی اجازت سے واپس اپنی جگہ چلا جائے، جن کی بارگاہ میں اونٹ اپنے مالک کی شکایت کرے اور آپ اس کی سفارش فرمائیں، جن کے گھر سے باہر چلے جانے پر ہرن بے چین رہتا ہو، وہی سب کے سرکار جنہوں نے سرخ چڑیا کی شکایت کا ازالہ کیا ہو اور جن سے ہرنی نے کلام کیا ہو، جن کی رسالت کی شہادت گوہ اور
بھیڑیے بھی دیں اور جو شیر کو اپنے غلام سفینہؓ کے لیے مسخر کر دیں، جو ہجرت کرنے والی عورت کے مردہ بیٹے کو رب کے حکم سے زندہ کر دیں، مقتول بن مسیلمہ کی میت جنہیں دیکھ کر کلمہ شہادت پڑھے اور دودھ پیتے بچے اور گونگے جن کی نبوت کی گواہی دیں، جن کے فراق میں کھجور کا سوکھا تنا بچوں کی طرح رونے لگے اور پھر جب آپ اسے گلے سے لگائیں تو وہ چپ ہو جائے، جن کی دعا پر دروازے کی چوکھٹیں اور در و دیوار آمین کہیں اور جو پیٹھ پیچھے سے اپنے اصحاب کو دیکھ لیں، جن کے لعاب دہن کی برکت سے سیدنا ابوبکرؓ کا زخم سیدنا علیؓ کی آنکھ اور محمد بن حاطبؓ کا جلا ہوا بازو ٹھیک ہو جائے، جو شعیب جعفیؓ کی رسولی پر اپنی ہتھیلی رکھیں اور رسولی ختم ہو جائے اور جو خبیب بن اسافؓ کے زخم پر پھونک ماریں تو زخم کا نام ونشاں تک نہ رہے، جن کے قدمین کی ٹھوکر سے کانپتا ہوا اُحد ٹھہر جائے...... اور جن کے گستاخوں پر رب کو قہر آئے، ہاں ہمیں اسی مصطفیٰ ﷺ سے پیار ہے.......!!!
ڈاکٹر عامر لیاقت حسین
عاشق کے ہاتھوں گستاخ کی درگت
بے عزتی کا ٹھیکرا آنکھوں پر رکھے، وہ ”آزادی اظہار“ کے نشے میں جھومتا لیکچر دینے کے لیے یونیورسٹی کے آڈیٹوریم میں داخل ہوا ...... اس بے ننگ و ناموس کی نگاہوں میں بلا کی بے حیائی اور نسب سے ناواقفیت کے سبب چہرے پر ”ڈھیٹ پن“ کی پھٹکار عیاں تھی ...... اور کیوں نہ ہو کہ ہوس کا عمل جب حمل ٹھہرا دے تو پھر عقیدت ومحبت سے نفرت کرنے والے بدبو دار اور غلیظ وجود ہی فرش عالم پر داغ بنا کرتے ہیں ...... اسٹاک ہوم کا لارس ولکس بھی ایک ایسا ہی ”گناہ“ ہے جس نے اپنے ”ان دیکھے باپ“ کے خاکے بنا کر انہیں کائنات کی سب سے زیادہ چاہی جانے والی ہستی ، یعنی میرے اور آپ کے مرشدی سیدنا محمد علیہ الصلوٰۃ والسلام سے (معاذ اللہ) منسوب کر دیا ...... سویڈن میں کوڑے کے ڈھیر میں جنم لینے والا یہ گستاخ کارٹونسٹ، پیار اور عشق سے شدید نفرت کرتا ہے، اسے ہر ”جائز“ وجود سے چڑ ہے، کسی کو پیار کرتا دیکھ کر اس کی بوٹی بوٹی کانپ اٹھتی ہے ...... ”میں ہڈیوں کا مزہ چکھنے والا“ یہ ناہنجار اپنے ہر خاکے میں شاید اسی لیے کتوں کی شبیہ کا سہارا لیتا ہے کیونکہ وہ آزادانہ ادھر ادھر منہ مارتے پھرتے ہیں اور یہ بھی اسی قبیل اور نظریے کا داعی اور محافظ ہے ...... اسے یقین ہی نہیں کہ ”بن دیکھے“ کسی پر فدا ہو جانا حقیقت ہے، یہ مانتا ہی نہیں کہ کوئی بنا چھوئے کوئے محبوب میں صرف دیدار کے لیے دیوانہ وار پھر سکتا ہے ...... یہ نابلد جان ہی نہیں سکتا کہ ”لَا أُقْسِمُ بِهَذَا الْبَلَدِ“ کہنے والا اپنے احمد کو کس قدر عزیز رکھتا ہے ...... یہ تو صرف اتنا ہی جانتا ہے کہ جس طرح کتے، شہوت سے بے قرار ہو کر کتیا کے پیچھے دوڑ لگاتے ہیں اور حصول مقصد کے بعد ”جائے گناہ“ سے بھونکتے ہوئے واپس بھاگتے ہیں، شاید یہی ”پیار“ ہے اور اسی لیے یہ بے فکر پینترے مارے بیٹھا ہے کہ الفت وعشق کے فلسفے جائیں بھاڑ میں، مجھے تو کتوں کی ادائے دل نوازی بھا گئی ہے اور میں تو بس اسی انداز پر فدا ہوں۔ منگل کے روز سویڈن کی اپسالا یونیورسٹی میں اس
ملعون کو خطاب کی دعوت دی گئی۔ اس مردود نے اللہ کے محبوب کی شان ارفع واعلیٰ میں پھر توہین کی اور ایک ایسی متنازعہ فلم دکھانے کی کوشش کی جس میں معاذ اللہ سرکار العالمین کو ایک ایسے مقام پر جاتے ہوئے دکھایا گیا ہے جسے قلم بند کرنے کی کم از کم مجھ گناہ گار میں تو ہمت نہیں، بس پھر کیا تھا۔ چند دیوانے، پروانے اور عشق مصطفیٰ ﷺ پر مر مٹ جانے والے اٹھے، اسٹیج پر چڑھے اور اس نطفۂ ابو جہل پر لاتوں، مکوں اور ٹھڈوں کی برسات کر دی، یہ بدبخت چشمۂ رحمت سے تو پہلے ہی کوسوں دور تھا، اب عاشقوں نے اس کا چشمہ بھی توڑ ڈالا، بھاگا اور اسٹیج کے پیچھے جا کر چھپ گیا جہاں سے اسے اس کی حفاظت پر مامور کمانڈوز اور یونیورسٹی کی انتظامیہ نے بڑی مشکل سے نکالا ...... حاضرین کی پہلی صف میں موجود ”محمد المانی“ سب سے پہلے آگے بڑھے اور اس بے ادب کا منہ سجا دیا ...... پولیس کا کہنا ہے کہ یہ ”بے شرم“ بچ تو گیا ہے مگر شدید قسم کے صدمے سے دوچار ہے حالانکہ کچھ عرصے قبل ہی ایک انٹرویو میں لارس ولکس نے یہ دعویٰ کیا تھا کہ ”میں مسلمان حملہ آوروں سے ہرگز نہیں ڈرتا اور ہر وقت اپنے پاس ایک کلہاڑا رکھتا ہوں تاکہ اپنے اوپر حملہ کرنے والے کا سر کاٹ دوں۔“ لیکن اسٹاک ہوم کے اخبارات لکھتے ہیں کہ ”کلہاڑے سے مسلمانوں کا سر کاٹنے کا دعویٰ کرنے والے اس کارٹونسٹ کی حالت، حملے کے بعد قابل دید تھی، چشمہ ٹوٹ چکا تھا، چلا جا نہیں رہا تھا اور چہرے پر چھپی ہوئی انگلیوں کے نشانات چھپا کر پڑمردگی کی حالت میں یہ ”بہادر“ لڑکھڑاتا ہوا لیکچر ہال سے باہر نکلا ...... لارس ولکس کے ساتھ یہ سلوک دیکھ کر یونیورسٹی کی انتظامیہ کو بھی ہوش آیا اور انہوں نے اعلان کر دیا کہ آئندہ اس شخص کو کسی بھی تقریب میں مدعو نہیں کیا جائے گا۔ ولکس نے اظہار رائے کے نام پر انتہائی متنازعہ فلم دکھائی جس سے یونیورسٹی کا ماحول متاثر ہوا اور دوسری جانب محمد المانی نے جنہیں ”مرچوں کا اسپرے“ کر کے قابو کیا گیا، ضمانت پر رہا ہونے کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ”شاتم رسول ﷺ، لارس ولکس کا یہی علاج ہے، میں اپنے نبی کریم ﷺ کی شان میں گستاخی برداشت نہیں کر سکتا، مجھے ان سے بے انتہا پیار ہے، پوچھا تو اس شیطان سے جائے کہ اسے ایسی کس چیز نے اکسایا کہ وہ ہمارے رسول ﷺ کی شان میں گستاخی کرے۔“
حضرت علیؓ سے پوچھا گیا کہ آپ لوگوں (صحابہ) کی محبت نبی کریم ﷺ کے ساتھ کیسی تھی؟ تو آپ نے فرمایا کہ ”اللہ کی قسم! آپ ﷺ کی ذات گرامی ہمارے نزدیک
ہمارے اموال، اولاد، ماں باپ اور پیاسے کے لیے ٹھنڈا پانی جتنا عزیز ہوتا ہے اس سے بھی زیادہ محبوب تھی۔ حضرت بلالؓ کی وفات کا وقت قریب آیا تو ان کی زوجہ آپ کے سرہانے بیٹھی ہوئی تھیں اور شدت غم سے ان کی زبان سے نکلا ”واحزباہ“ (ہائے اس کا غم) حضرت بلالؓ نے فرمایا کہ یہ مت کہو بلکہ کہو ”واطرباہ ...... غداً القی الاحبه محمداً وصحبه“ (کتنا خوشی کا وقت ہے کہ کل اپنے احباب یعنی حضرت محمد ﷺ اور آپ کے صحابہؓ سے ملاقات کروں گا)...... ایک عورت ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہؓ کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور عرض کیا کہ مہربانی فرما کر حضور ﷺ کی قبر اطہر سے چادر ہٹائیے...... آپ نے جیسے ہی چادر ہٹائی تو خاتون پر اس قدر گریہ طاری ہوا اور آپ خاموشی کے ساتھ اتنا روئیں کہ روح پرواز کر گئی...... یہ ہیں مظاہر محبت، اگر میں لکھتا چلا جاؤں تو شاید ورق کے ورق بھر جائیں مگر حبّ رسول ﷺ کے واقعات ختم نہ ہوں...... محمد المانی نے تو وہی کیا جو صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین کا راستہ تھا اور یہ لارس ولکس جیسے غیر مہذب کیا جانیں کہ محبت کیا ہوتی ہے اور محبوب کے لیے فنا ہو جانا کسے کہتے ہیں؟ ہمیں تو آقا ﷺ سے جتنا بھی پیار ہے، اس پیار نے استاد بن کر یہی سکھایا ہے کہ ”بے ادبوں کو بچ کر جانے نہ دو!“ ذرا سوچئے! کہ مصطفیٰ ﷺ سے اصل پیار تو ان کا رب کرتا ہے، ہمارے محبوب تو وہ بعد میں ہیں پہلے تو معبود نے اپنے اس بے عیب عبد کو اپنا پیارا بنالیا ہے، تو پھر اس ”مجرم“ کا بدلہ کیا ہی درد ناک ہوگا!!! آئس لینڈ کے آتش فشاں سے راکھ نکلنے یا گلیشئرز پگھلنے کا خوف ہو، اس نے تو حبیب کی شان میں گستاخی اور انہیں ایذا پہنچانے پر ہر عاص بن وائل کی ”نسل کاٹنے“ کا وعدہ کیا ہے اور بے شک اس سے بہتر کوئی نہیں جو وعدہ پورا کرے اور یقیناً اس کا وعدہ پورا ہو کر رہے گا...... بے حسی تو ہم پر طاری ہے، دنیا پرستی کے مرض میں تو ہم مبتلا ہیں، خواہشات کے ٹکڑے تو ہم چاٹ رہے ہیں ورنہ عشق کی شمع تو مدتوں سے کائنات کے آنگن میں جل رہی ہے۔ نہ جانے پروانے کہاں چلے گئے کہ انہیں روشن لو ہی نظر نہیں آرہی...... لارس ولکس کے تو مقدر میں رسوائی لکھ دی گئی ہے، قلم خشک ہو گئے ہیں اور ان جیسے تمام بے ادب بلاشبہ تڑپا دینے والے عذاب کا مزہ چکھیں گے مگر ہم جو کہ غلامی اور اتباع کے دعوے کرتے ہیں، کیا اپنی ذمے داریاں نبھا چکے؟ ثانیہ اور شعیب کی شادی پر بھارتی گانے دکھانے والے میڈیا کو یہ واقعہ کیوں دکھائی نہیں دیا، نشریاتی اداروں کو ثانیہ کے پاؤں میں لگی مہندی تو نظر آجاتی ہے مگر ایک عاشق رسول کے
ہاتھوں گستاخ کی درگت بنتی ہوئی دکھائی نہیں دیتی...... شاید دنیا کے ساتھ اب یہی ایک مسئلہ ہے کہ احمق اور جھوٹے پُر اعتماد ہیں اور دانشور شک میں مبتلا ہیں کہ کیا جائے البتہ سیدنا عبد اللہ ابن عمرؓ کو کبھی شک نہیں ہوا، ایک مرتبہ آپ کے پاؤں میں شدید درد ہوا تو کسی نے کہا آپ کو جس سے سب سے زیادہ پیار ہے اسی کا نام لیجیے، درد دور ہو جائے گا، انہوں نے کہا ”یا محمد ﷺ!“ اور عبد اللہ ابن عمرؓ کا درد دور ہو گیا......!!!
مفتی ابولبابہ شاہ منصور
کرنے کے تین کام
اس کی آنکھوں میں آنسو تھے۔
آنسو میری آنکھوں میں بھی تھے لیکن میں ان کو بالجبر پی گیا تھا۔ میرے فلسفے کے مطابق اگر آنسو بہہ جائیں تو اندر کا غبار دھل جاتا ہے اور انسان جواباً کچھ کرنے کا نہیں رہتا۔ آنسوؤں کا گھٹ گھٹ کر دل پر گرنا اس سے کچھ کروا کر چھوڑتا ہے۔
نوجوان کی آواز رندھی ہوئی تھی۔ آنکھوں میں نمی اور سرخی تھی۔ ستا ہوا چہرہ اندر اٹھتے طوفان کی نشاندہی کر رہا تھا۔
”مجھے سمجھ نہیں آتا ہمارے ساتھ کیا ہو رہا ہے؟ کبھی رسالت مآب ﷺ کی شان میں گستاخی، کبھی قرآن کریم کی بے ادبی، کبھی ہمارا قتل عام، کبھی الٹا ہم پر الزامات..... اور کبھی.....“
”بھائی! ہم اپنی شامت اعمال کی بنا پر زوال کے جس دور سے گزر رہے ہیں، اس میں اسلام جب اپنا معجزہ دکھائے گا تو دشمن یونہی بدحواس اور برافروختہ ہو کر احمقانہ حرکتیں کرے گا۔“
واہ مولوی صاحب! آپ نے بھی خوب کہی۔ یہاں معجزوں کا کیا ذکر اور بدحواسی کا عمل دخل کیسے اور کیونکر؟“
”دیکھو بھائی! ہم مسلمان تو من حیث المجموع شکست کھا چکے تھے۔ ہم نہ تو مغرب کو اخلاق و کردار سے اسلام کی دعوت دے سکے اور نہ تلوار اور توپ سے اپنا دفاع یا ان کو مغلوب کر سکے۔ ایسے میں اسلام نے اپنی معجزانہ شان کو ایک بار پھر منوایا اور یورپ کے دل میں گھر کر کے ثابت کیا کہ اس مذہب کے پیچھے قدرت کی طاقت کارفرما ہے اور یہ قیامت تک رہنے کے لیے آیا ہے۔ سارے مسلمان مل کر بھی اس سے بے وفائی کریں تب بھی مسلمانوں کو
شکست دی جاسکتی ہے، اسلام کو شکست دینا کسی کے بس میں نہیں۔“
”لیکن یہ گستاخیاں! یہ دل آزار حرکتیں! یہ ناروا اقدامات! آپ نے سنا ہے کہ بیس تاریخ کو ایک اور فلم آرہی ہے؟“
”اسی کو تو یورپ کے چند انسانیت دشمنوں کی بدحواسی کہہ رہا ہوں۔ جب انہوں نے دیکھا کہ ہر طرح کے حربوں کے باوجود اور مسلمانوں کو بری طرح روندنے کے باوجود مسلمانوں کے پاس ان کا قرآن اور نبی ﷺ کی سیرت محفوظ ہے جبکہ وہ خود ان دونوں چیزوں سے محروم ہیں۔ نہ ان کے پاس اصل زبان میں تورات وانجیل کا پوری دنیا میں ایک نسخہ ہے نہ سیدنا حضرت موسیٰؑ وحضرت عیسیٰؑ کی پاکیزہ سیرت ان کے پاس محفوظ ہے۔ دوسری طرف اسلام کو بدنام اور مسلمانوں کو مطعون کرنے کا کوئی موقع ضائع نہ کرنے کے باوجود خود یورپ اور امریکہ میں اسلام لوگوں کے دل میں مجنونانہ طور پر جگہ بنا رہا ہے تو انہوں نے یہ انسانیت سوز، غیر اخلاقی حرکتیں شروع کردیں۔“
”لیکن اس سے دنیا، اسلام سے متنفر تو ہو رہی ہے؟“
”بھائی! اس فلم میں ہے ہی کیا؟ شکست سے خوفزدہ اور ایک فریب خوردہ شخص کی چھچھوری حرکتوں کے سوا؟“
”شکست خوردہ کس مطلب میں کہہ رہے ہیں آپ اس کو؟“
”بھائی! اسے بھی یقین تھا کہ اگر میں نے شیخ سدیس کی قرأت اصل لب و لہجے میں دنیا کو سنائی تو دنیا قرآن کے ملکوتی ترنم کو سن کر دل دے بیٹھے گی۔ قرآن آخر قرآن ہے۔ اسے پڑھے جانے کا انداز ہی نرالا ہے۔ تب ہی تو اس نے تلاوت کی اصل آواز کو بگاڑا ہے۔ اس سے کہیں: اگر تمہیں ماں نے حلالی جنا ہے تو تم مخالفت میں سہی، لیکن تلاوت کی اصل آواز سنوا کر دیکھو۔ یورپ کے لوگ متنفر ہونے کی بجائے قرآن کے گرویدہ اور عاشق نہ ہوئے تو جو مرضی کہنا!“
”یہ آپ کیسے کہہ سکتے ہیں؟“
”بھائی! ہم ناشکروں کے دل پر ناقدری کے سبب تالے پڑے ہیں ورنہ جس قرآن کریم نے مشرکین مکہ کو سحر زدہ کردیا تھا، وہ آج بھی ویسا ہی تر و تازہ اور تاثیر سے مالا مال ہے جیسا صدیوں پہلے مکہ مکرمہ میں تھا۔“
”لیکن اس فلم میں اُٹھائے گئے اعتراضات کا جواب تو ہونا چاہیے؟“
”بھائی! کیوں اپنے آپ کو کمتری کے احساس میں مبتلا کرتے ہو؟ ہم مجرم ہیں کہ صفائی دیتے پھریں؟ ہم تو منصف اور داعی ہیں۔ ہم دنیا کے قائد اور مربی ہیں۔ دنیا کو حق کی دعوت دینے کے ذمہ دار بنائے گئے ہیں۔ ہم کیوں دفاعی پوزیشن میں جائیں اور ساتھ میں قرآن کریم سے ہمدردی کرتے ہوئے اسے بھی محل بحث بنائیں۔ مغرب کے پروپیگنڈا بازوں کے اپنے دامن میں ہے کیا کہ وہ ہم سے قرآن پر اعتراضات کا جواب مانگنے کی جرأت کرتے ہیں؟ قرآن کو زیر بحث لانے کے بجائے آپ تورات اور انجیل کو زیر بحث لائیں اور ان کو دفاعی کارنر میں گھیر کر سوالات کی ایسی بوچھاڑ کر دیں جیسے محمد علی کلے مد مقابل کو گھیر کر رائٹ اور لیفٹ کی سوغاتیں تقسیم کرتا تھا۔“
”آپ کی باتیں سننے سے مزا آتا ہے، اگرچہ انہیں سمجھنا کافی دشوار ہے۔“
”کوئی دشواری نہیں! بالکل سامنے کی بات ہے۔ آپ ان سے کہیں کہ قرآن کریم کی ان آیتوں میں حق کی سربلندی کی خاطر لڑنے بلکہ لڑنے کا حق ادا کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ آپ ہمیں بتائیں کہ دنیا کی کون سی قوم یا مذہب کے نزدیک ایسا کرنا جرم ہے؟ اگر جرم ہے تو تو پھر تورات و انجیل میں تو دشمن سے اس سے زیادہ سخت سلوک کا حکم ہے۔ قرآن کریم میں تو مد مقابل سے بہت نرمی اور دلداری ہے۔ اہل مغرب تورات و انجیل کی ان آیات کا جو جواب ہمیں دیں گے، وہی جواب ہم سے قرآن کریم پر کیے گئے اشکالات کی تردید کے طور پر پیشگی لے لیں۔“
”کیا وہ لوگ اپنی مذہبی کتابیں نہیں پڑھتے؟“
”وہ لوگ مذہب اور روحانیت سے بہت دور جاچکے ہیں۔ ہر چیز کو منطق اور سائنس پر پرکھتے ہیں، لیکن اس سے ہمارا کام اور آسان ہو جاتا ہے۔“
”وہ کیسے؟“
”وہ اس طرح کہ ہم تھوڑی سی محنت کر کے اعداد و شمار جمع کریں اور تاریخ کے آئینے میں انہیں ان کا چہرہ دکھائیں کہ امریکہ میں ریڈ انڈین کی نسل کشی اور برصغیر میں ہندی مسلمانوں کے قتل عام سے لے کر جنگ عظیم اول و دوم اور ہیروشیما و ناگاساکی تک اور پھر ویت نام سے افغانستان اور عراق سے فلسطین تک خود انہوں نے کیا کیا کارنامے کیے ہیں؟
ان کی قتل و غارت گری اور خونریزیوں کے سامنے مسلمان اپنی جنگوں کے مقتولین کے اعتبار سے آٹے میں نمک جتنے قصوروار بھی نہیں ۔"
واقعہ یہ ہے کہ جیسا کہ حضرت استاذ محترم شیخ الاسلام مفتی محمد تقی عثمانی صاحب دامت برکاتہم نے کراچی کے تاجروں کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا (یہ نبی کریم ﷺ کی محبوبیت کا معجزہ تھا کہ بندہ نے اس اجتماع میں ان ارب پتی تاجروں کو دھوپ میں سڑک پر کھڑے ہو کر علمائے کرام کے بیانات سنتے دیکھا جن کو کسی اجتماع میں بلانے کے لیے سوسو جتن کیے جائیں تب بھی وہ مل کر نہ دیں) کہ مسلمانوں کو اس وقت تین پہلوؤں سے تین مختلف سطح پر کام کرنے کی ضرورت ہے۔ ذیل میں ان کی گفتگو کا خلاصہ اپنے الفاظ میں عرض کرتا ہوں ۔ اس میں کمی بیشی ہو تو اس کا قصوروار بندہ ہے۔ حضرت الاستاذ اس سے بری ہیں :
- 1- اقوام متحدہ اور ایمنسٹی انٹرنیشنل جیسے بین الاقوامی ادارے آخر کس مرض کی دوا ہیں؟
مسلم ممالک کی طرف سے ایک ایسی سیاسی اور سفارتی مہم چلائی جانی چاہیے جس کے ذریعے مقدس شخصیات اور مقدس کتابوں کی توہین بین الاقوامی طور پر جرم قرار دی جائے جیسا کہ یہودیوں نے ہولو کاسٹ پر تحقیق اور اس کی نفی کو جرم قرار دلوایا ہے حالانکہ ہولوکاسٹ کا افسانہ تاریخ دانوں کے نزدیک متفقہ طور پر محض ڈھکوسلا ہے۔ اس چیز کی ذمہ داری مسلمان حکمرانوں، عرب فرمانرواؤں، مسلمانوں کے عالمی اداروں (او آئی سی، عرب لیگ، رابطہ عالم اسلامی وغیرہ) پر ہے۔
- 2- یورپ کی مادہ پرست ملٹی نیشنل کمپنیاں پیسے کی پجاری ہیں۔ اگر ان کا جاندار
بائیکاٹ ہو تو انہیں دن میں تارے نظر آ جائیں گے اور یہ سب مل کر ان گستاخوں پر پابندی کا مطالبہ کریں گی جن کی احمقانہ حرکتوں کی بنا پر انہیں مالی نقصان اٹھانا پڑا۔ اس میں زیادہ گہرائی میں جانے کی بجائے چند مشہور کمپنیوں کو لے لیا جائے اور ان کا ایسا بائیکاٹ کیا جائے کہ وہ دوسروں کے لیے نمونہ عبرت بن جائیں۔ مثلاً: شیل کے پٹرول پمپ سے کوئی پٹرول نہ خریدے۔ فلپس کی مصنوعات کے قریب نہ پھٹکا جائے۔ والز کی موسیقی بجاتی گاڑیوں سے آئس کریم لینا خود پر حرام کر لیا جائے۔ یونی لیور کی جگہ دوسری کمپنیوں کی مصنوعات استعمال کی جائیں تو یہ کمپنیاں نہ صرف یہ کہ مسلمانوں سے معافی مانگیں گی بلکہ گستاخ زبانوں پر پابندی لگوانے کی مہم چلا کر انہیں اپنے جامے میں رہنے پر مجبور کر دیں گی۔ اس چیز کی ذمہ داری
مسلمانوں تاجروں، درآمد و برآمد اور اپنے گھر میں ان چند کمپنیوں
- 3- اس میں شبہ نہیں کہ
اسلام کی خوبیوں سے انہیں مت ارتکاب کیا ہے۔ اب یہ وقت آ مندی کے ساتھ اہل مغرب کو کردار اور چیز ہے اور اسلام بددل ہوں، نہ مغرب کے جانبداری سے اسلام کی دعو سمجھنے کی کوشش کرنے والے سے اہم ذمہ داری علمائے کرا اللہ کرے کہ ان کی ذمہ داریاں نبھانے کی تو مدد کرے۔ آمین!
مسلمانوں تاجروں، درآمد و برآمد کنندگان اور تمام صارفین پر ہے کہ وہ اپنی تجارت، اپنی دکان اور اپنے گھر میں ان چند کمپنیوں کی مصنوعات کا داخلہ ممنوع قرار دے دیں۔
- 3- اس میں شبہ نہیں کہ مغرب کے عام انسانوں تک اسلام کی اصل حقیقت پہنچانے اور
اسلام کی خوبیوں سے انہیں متعارف کروانے میں ہم نے (ہم سب نے) مجرمانہ کوتاہی کا ارتکاب کیا ہے۔ اب یہ وقت ہے کہ ہم اس غفلت کا تدارک کریں اور بہت سلیقے اور دانش مندی کے ساتھ اہل مغرب کو اسلام سے روشناس کراتے ہوئے یہ باور کرائیں کہ مسلمانوں کا کردار اور چیز ہے اور اسلام کے خدوخال کچھ اور ہیں۔ اہلِ مغرب مسلمانوں کے اعمال سے بددل ہوں، نہ مغرب کے متعصب پروپیگنڈہ بازوں کی بات پر کان دھریں۔ وہ تو غیر جانبداری سے اسلام کی دعوت کو سمجھیں۔ اسلام میں یہ مقناطیسی تاثیر ہے کہ وہ کھلے دل سے سمجھنے کی کوشش کرنے والے کو اپنے سحر میں لیے بغیر نہیں جانے دیتا۔ اس حوالے سے سب سے اہم ذمہ داری علمائے کرام پر عائد ہوتی ہے۔
اللہ کرے کہ ان نازک حالات میں ہم سب وقت کی پکار سمجھیں اور اپنے اپنے حصے کی ذمہ داریاں نبھانے کی کوشش کریں۔ نیکی کی توفیق دینے والا خدائے بزرگ و برتر ہماری مدد کرے۔ آمین!
مولانا محمد اسلم شیخوپوری
شرار بولہبی
کیا یہ پہلی شرارت ہے جو انسانیت کے دشمنوں نے کائنات کے عظیم ترین انسان کے خلاف کی ہے؟ کیا مسلمانوں اور اسلام کے خلاف ان کے قلب و دماغ میں رچی بسی خباثت اور عداوت کا پہلی بار اظہار ہوا ہے؟ کیا سرور دو عالم ﷺ کے خلاف گستاخانہ خاکے ڈنمارک کے یہودیوں نے پہلی بار شائع کیے ہیں؟ کیا مسلمانوں سے قرآن میں تحریف و تبدیل بلکہ آدھے قرآن سے دستبرداری کا مطالبہ صرف گیرٹ ولڈرز نے ہی کیا ہے؟
نہیں! یہ سب کچھ پہلی بار نہیں ہوا بلکہ ان شرارتوں، خباثتوں اور بغض و کینہ کے اظہار کا آغاز اسی وقت ہو گیا تھا جب کم و بیش چھ سو سال کے وقفہ کے بعد آسمان کا زمین سے رابطہ ہوا تھا اور پیغام ربانی سن کر عبداللہ کے لعل اور آمنہ کے در یتیم نے نبوت کا اعلان کیا تھا۔ مشرکین مکہ جب نہ تو اس عظیم انسان کے کردار میں کوئی خامی تلاش کر سکے (جسے وہ صدیق اور امین کا لقب دے چکے تھے) اور نہ قرآن ہی کے چیلنج کو قبول کر سکے تو وہ اوچھے ہتھکنڈوں پر اتر آئے۔ انہوں نے اپنے ترکش کا ہر تیر مسلمانوں کے خلاف آزمایا۔ معاشی اور معاشرتی بائیکاٹ بھی کیا۔ ڈنڈے، پتھر، مکّے اور کوڑے بھی برسائے۔ پروپیگنڈا کے محاذ پر ان کے خطیبوں اور شاعروں، وڈیروں اور سرداروں نے اپنی ساری توانائیاں داؤ پر لگا دیں۔ شاعر، مجنون، کاہن، ساحر، ابتر (نعوذ باللہ) اور نہ معلوم کیا کچھ کہا گیا۔ ”ابتر“ کا مطلب یہ تھا کہ آپ کا نام و نشان دنیا سے مٹ جائے گا۔ چند سالوں بعد کسی کو خبر ہی نہیں ہو گی کہ ”محمد“ نام کا کوئی شخص مکہ میں پیدا ہوا تھا اور اس نے نبوت کا دعویٰ کیا تھا۔ زمینی حالات اور قبائلی روایات کے اعتبار سے ان کی بات وزن رکھتی تھی اس لیے کہ اس شخص کا سلسلہ جاری رہتا تھا جس کی اولاد میں بیٹے ہوتے تھے۔ جبکہ سرور دو عالم ﷺ کا کوئی بیٹا بھی زندہ نہیں رہا تھا۔ مخالفین کسی کے نام کی بقا کے لیے ظاہری اسباب اور بیٹوں کا وجود ضروری سمجھتے تھے۔ روحانی اولاد کا کوئی
تصور ان کے ذہن میں نہیں تھا۔ جب انہوں نے آپ ﷺ کے متعلق یہ تبصرہ کیا تو رب العالمین نے اپنی مقدس کتاب میں فرما دیا کہ ”ابتر“ آپ نہیں بلکہ آپ کے دشمن ہیں۔ چنانچہ ایسے ہی ہوا۔ نبی کریم ﷺ کو دنیا سے پردہ فرمائے ابھی سو سال بھی گزرنے نہیں پائے تھے کہ اسلام کا پیغام اور پیغمبر اسلام ﷺ کا نام تین براعظموں میں پھیل گیا۔ صرف ایک صدی کے اندر مکی مدنی اور آقا کے غلاموں کی حکومت روم اور ایران کی حکومتوں سے کہیں زیادہ وسیع، طاقت ور اور خوشحال ہوچکی تھی۔ حضور اکرم ﷺ کا اسم گرامی بحر و بر میں گونج رہا تھا جبکہ ابوجہل اور ابولہب کا نام لینے والا پوری دنیا میں کوئی نہ تھا۔ حد یہ کہ خود ان کی نسل سے پیدا ہونے والے بھی ان کا نام لینے سے شرماتے تھے۔ یہ مطالبہ بھی سب سے پہلے قریش ہی کی طرف سے ہوا تھا کہ قرآن میں ہماری خواہش کے مطابق تبدیلی کردیں یا اس کی بجائے کوئی دوسرا قرآن لے آئیں۔ اگر ان کا یہ مطالبہ تسلیم کرلیا جاتا تو سارے اختلافات ختم ہو جاتے۔ ایمان والوں کو تختۂ مشق بننا پڑتا نہ مکہ سے ہجرت کرنا پڑتی۔ مگر یہ ایسا مطالبہ تھا جسے تسلیم کرنے کا اختیار کسی کو بھی نہ تھا حتیٰ کہ اس عظیم شخصیت ﷺ کو بھی نہیں جس کی زبان سے دنیا نے قرآن سنا تھا۔
شرارتوں اور خباثتوں کی یہ داستان اس وقت تک مکمل نہیں ہو سکتی جب تک مستشرقین کا ذکر نہ کیا جائے۔ تحریک استشراق کا اصل مقصد اسلام اور پیغمبر اسلام ﷺ کا نام و نشان دنیا سے ختم کرنا تھا۔ اس تحریک کا آغاز اس وقت ہوا جب ساتویں اور آٹھویں صدی عیسوی میں اسلام تیزی سے پھیلا۔ جتنی تیزی سے اسلام نے لاتعداد انسانوں کے دلوں کو مسخر اور متعدد تہذیبوں کو مغلوب کیا، اس نے یہود و نصاریٰ کو پریشان کر دیا۔ ان کے سامنے اپنی قومی بقا کا مسئلہ تھا۔ وہ سوچنے لگے کہ اگر اسلام کی اشاعت اسی رفتار سے جاری رہی تو گرجوں اور کلیساؤں میں خاک اُڑنے لگے گی۔ بنو اسرائیل کی شان و شوکت خاک میں مل جائے گی۔ چنانچہ انہوں نے اسلام کے راستے میں بند باندھنے کے لیے ہمہ جہت کوششیں شروع کر دیں۔ ایک طرف مسلمانوں کو عیسائی بنانے کی تگ و دو شروع ہو گئی، دوسری طرف عام لوگوں کو اسلام سے متنفر کرنے کی تدبیریں سوچی جانے لگیں۔ وہ بہت جلد اس نتیجے پر پہنچ گئے کہ مسلمانوں کی وحدت، اخوت اور قوت کا مرکز اور منبع دو ہی چیزیں ہیں: قرآن اور حضرت محمد ﷺ۔ جب تک ایمان اور روحانیت کے ان دو سرچشموں کو خشک نہیں کیا جاتا، کسی مسلمان کو مرتد کیا جاسکتا ہے اور نہ دوسروں ہی کو قبولِ اسلام سے روکا جاسکتا ہے۔
برطانیہ کے ایک سابق وزیر اعظم ”گلاڈسٹن“ نے اسلام کے متعلق اپنی قوم کو آگاہ کرتے ہوئے کہا تھا: ”جب تک مسلمانوں کے ہاتھوں میں یہ قرآن موجود ہے اس وقت تک یورپ مشرق پر اپنا تسلط قائم نہیں کر سکتا اور نہ یورپ خود ہی محفوظ ہے۔“ اسی بد طینت شخص نے برطانوی دارالعوام میں قرآن حکیم کو ہاتھ میں پکڑ کر کہا تھا: ”اسلامی ممالک میں ہماری نو آبادیوں کے لیے دو چیزیں خطرہ ہیں اور ہمارے لیے ضروری ہے کہ ہم ہر قیمت پر ان دونوں چیزوں کو صفحۂ ہستی سے مٹا دیں۔ ان میں سے ایک یہ کتاب ہے۔“ پھر وہ تھوڑی دیر خاموش رہا۔ مشرق کی طرف متوجہ ہوا اور اپنے بائیں ہاتھ سے مشرق کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: ”اور یہ کعبہ“
مشرکین مکہ نے قرآن کریم اور سرور دوعالم ﷺ کے بارے میں جو کچھ کہا وہ ان ہفوات اور لغویات کا عشر عشیر بھی نہیں جو مستشرقین کے قلم اور زبان سے ظاہر ہوئیں۔ انہوں نے اپنے آپ کو علم و تحقیق کے ماہرین اور متلاشیان حق کی شکل میں پیش کیا۔ لیکن در حقیقت ان کے ہاتھ میں قلم کی بجائے ہتھوڑے تھے جن کے ذریعے وہ اسلام کی بنیادوں کو منہدم کرنا چاہتے تھے۔ قرآن کو انسانی کلام اور بائبل کا چربہ ثابت کرنے کے لیے انہوں نے ایڑی چوٹی کا زور لگا دیا۔ ان کا خیال تھا کہ تحقیق کے نام پر کی جانے والی اس جعل سازی سے قرآن کے درس و تدریس کا سلسلہ رُک جائے گا لیکن ان کا خیال خام ثابت ہوا اور ہر آنے والا دن قرآن کی اشاعت میں اضافے کا دن ثابت ہوا۔
قرآن کے بعد انہوں نے اپنی ساری توجہ خاتم المرسلین ﷺ کی کردار کشی پر مبذول کر دی۔ مستشرقین نے ان اسلامی روایات کو جن سے حضور ﷺ کی عظمت ثابت ہوتی ہو، یہ کہہ کر مسترد کر دیا کہ یہ روایات مسلمانوں کے جوش عقیدت کی پیداوار ہیں اور کوئی بھی ایسی روایت جس سے آپ ﷺ کی کوئی کمزوری ثابت کی جا سکتی تھی اسے بخوشی قبول کر لیا۔ اگر انہیں حسب مطلب کوئی روایت نہ ملی تو انہوں نے اپنی شیطانی ذہانت اور تخیل کے زور پر از خود روایات گھڑ لیں۔ ان کی تحقیقات کے مطالعہ سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان کے نزدیک حضور اکرم ﷺ کی تحقیر کے لیے جھوٹ بولنا بھی جائز ہے۔ ان مستشرقین میں سے کسی نے آپ ﷺ کو خاندانی وجاہت سے محروم کرنے کے لیے آپ ﷺ کے نسل اسماعیل سے ہونے سے انکار کیا۔ کسی نے آپ ﷺ کا سماجی مقام کم کرنے کے لیے آپ ﷺ کی غربت، یتیمی
اور احساس محرومی کا انتہائی مکروہ انداز میں ذکر کیا۔ کسی نے آپ ﷺ کے خوف اور دہشت زدہ ہونے کے چند واقعات کو بنیاد بنایا۔ کسی نے تعداد ازواج کی آڑ میں آپ ﷺ کے اخلاق پر حملے کیے۔ کسی نے جہاد کو دہشت گردی کا نام دیا اور اسلام کی اشاعت کا سبب تلوار کے بے دریغ استعمال کو قرار دیا۔
ان ظالموں نے اس پر اکتفا نہ کیا بلکہ اپنے ڈراموں، فلموں اور تصویری کہانیوں کے ناپسندیدہ کردار کی شکل میں آپ ﷺ کو پیش کیا...... کہاں تک لکھا جائے!!! ایک مسلمان کے لیے ان کی گستاخیوں کو من وعن نقل کرنا ممکن ہی نہیں۔ غرض یہ کیا جا رہا تھا کہ گستاخانہ خاکوں کی اشاعت کی صورت میں کروڑوں دلوں پر جو نمک پاشی کی گئی ہے۔ یہ کوئی ایسی حرکت نہیں ہے جس کا ارتکاب پہلی بار کیا گیا ہو بلکہ یہ سلسلہ بہت پرانا ہے۔ اس کا آغاز ظہور اسلام کے ساتھ ہی ہو گیا تھا۔ ہر دور کے سیاہ بخت، ابولہب کا کردار ادا کرنے کی کوشش کرتے رہے اور منہ کی کھاتے رہے۔ ان میں سے کوئی زندہ جل کر مر گیا، کسی کے جسم میں کیڑے پڑ گئے، کسی کو درندوں نے چیر پھاڑ دیا۔ کسی کو عاشقان حبیب ﷺ نے موت کے گھاٹ اتار دیا۔ ان کے بڑوں کی نیندیں بھی اسلام کی اشاعت نے حرام کر رکھی تھیں اور خود انہیں بھی اسلام کی مقبولیت نے پریشان کر رکھا ہے۔ ”شرار بولہبی“ کی یہ بھڑک ”چراغ مصطفوی ﷺ“ کو گل تو کیا کر سکے گی، سورج کے ہر طلوع اور غروب کے ساتھ اس کی لو بلند سے بلند تر ہوتی جائے گی تا آنکہ دنیا کا ہر گوشہ اس کے نور سے جگمگا اُٹھے گا۔
مولانا ڈاکٹر محمد طاہر القادری
توہین آمیز خاکوں کی اشاعت
بعض یورپی اخبارات میں پیغمبر اسلام ﷺ کے بارے میں توہین آمیز اور گستاخانہ خاکوں کی اشاعت نے دنیا کو انتہائی ہیجانی اور اشتعال انگیز صورت حال سے دو چار کر دیا ہے۔ اس معاملے سے نبرد آزما ہونے میں حکومتوں کی ناکامی کے باعث دنیا بھر میں بڑھتے ہوئے اضطراب اور بے چینی کی ایسی فضا پیدا ہو گئی ہے جس کا خاتمہ ہوتا قریب قریب نظر نہیں آتا۔ اگر اس کشیدہ صورت حال کو اسی طرح بے قابو رہنے دیا گیا تو پُر امن بقائے باہمی کا تصور معرض خطر میں پڑ جائے گا اور اگر اس سے پیدا ہونے والے بگاڑ کا مداوا نہ کیا گیا تو اس امر کا امکان ہے کہ نہ صرف تہذیبیں آپس میں متصادم ہوں گی بلکہ یہ تصادم مذاہب اور معاشروں کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لے گا۔ اس مراسلے کا مقصد معاملے کو صحیح تناظر میں رکھتے ہوئے حقیقت پسندانہ اور قابل عمل اقدامات تجویز کرنا ہے جس سے سلجھاؤ کی کوئی صورت نکل سکے۔
فی الوقت ملوث اخبارات آزادی اظہار کے حق کو اس قبیح اشاعت کا جواز بنا رہے ہیں۔ اس کے دفاع میں وکالت کرنے والے آزادی تقریر کی تقدیس پر زور دے رہے ہیں جس کا علم بلند رکھنا ان کے نزدیک ضروری ہے چاہے اس کے نتائج کچھ بھی ہوں۔ تاہم فی الحقیقت یہ معاملہ آزادی اظہار کا نہیں کیونکہ یہ کوئی مطلق حق نہیں، نہ کوئی ایسا دعویٰ ہی کر سکتا ہے۔
حقوق اپنی نوعیت کے اعتبار سے باہم معکوس ہوتے ہیں اور ان کی تنفیذ کا دارومدار باہمی طور پر دیگر بنیادی حقوق پر ہوتا ہے۔ اس بات پر اصرار کرنا غلطی ہوگا کہ کوئی حق مطلق ہوتا ہے اس لیے کہ اس حق کی زد دوسروں کے بنیادی حقوق پر پڑ سکتی ہے۔ مہذب اور جمہوری دنیا کا حصہ ہونے کے دعویدار ہر ملک نے اظہار کی آزادی پر اپنے معاشرے کے مفاد میں کچھ حدود اور پابندیاں عائد کر رکھی ہیں تاکہ ایک خاص سطح کے انسانی طرز عمل کو برقرار رکھا جاسکے کو برقرار رکھا جاسکے
ایسی پابندیاں بعض اوقات مقامی رسوم و رواج اور معاشرتی روایات پر مبنی ہوتی ہیں تو بعض اوقات ثقافتی اقدار و مذہبی تعلیمات ان کی بنیاد بنتی ہیں۔ اس کی روح یہ ہے کہ وہ اپنے اخلاقی، تہذیبی، سماجی اور معاشرتی اقدار اور وقار کے تحفظ کے داعی بنیں۔
لہٰذا اس شور و غوغا کا بلند کرنا کہ مسلمانوں کے احتجاج اور مظاہروں سے آزادیٔ تقریر و تحریر پامال ہو رہی ہے حقیقت کو جھٹلانے کے مترادف ہے۔ مثال کے طور پر بچوں میں جنسی ہیجان پیدا کرنے والی آزادانہ فحش نگاری یا مذہبی و نسل پرستانہ نفرت کی میڈیا میں تشہیر کرنے پر بجا طور پر بہت سے ممالک میں پابندی لگی ہوئی ہے۔ بہت سے یورپی ملکوں میں عالمی جنگ کی تباہی سے انکار ایک جرم تصور کیا جاتا ہے۔ آسٹریا، بیلجیم، چیک ریپبلک، فرانس، جرمنی، اسرائیل، لیتھوپیا، پولینڈ، رومانیہ، سلواکیہ اور سوئٹزرلینڈ میں یہ ایک فوجداری جرم ہے جس کی سزا جرمانوں اور قید کی صورت میں دی جاتی ہے۔ ایک برطانوی اخبار (27 جنوری 2003ء) نے اسرائیلی وزیر اعظم ایریل شیرون کا کارٹون شائع کیا جس میں دکھایا گیا کہ وہ ایک فلسطینی بچے کا سر کھا رہا ہے اور کہہ رہا ہے ”اس میں کیا برائی ہے! تم نے اس سے پہلے کسی سیاستدان کو نومولود بچوں کو کبھی چباتے ہوئے نہیں دیکھا؟“ اس کارٹون نے اسرائیل سمیت دنیا بھر کی یہودی آبادیوں میں ایک طوفان برپا کر دیا۔ خاکہ حقیقت کے چاہے کتنا ہی قریب ہو یہ رد عمل اس قوم کا اپنے لیڈر کے لیے ایک فطری بات تھی۔
حال ہی میں اٹلی کے وزیر اعظم نے جب یہ بیان دیا کہ وہ رومی سیاست کے یسوع مسیح ہیں تو کلیسائے روم اور اطالوی سیاستدانوں نے اس پر گہرے غم و غصے کا اظہار کیا۔ کلیسائے روم کے اعلیٰ عہدیدار نے کہا کہ ہمیں معلوم ہے کہ وہ کہیں گے کہ انہوں نے یہ جملہ از راہ تفنن کہا لیکن اس طرح کے جملے مذاق میں بھی نہیں کہنے چاہئیں۔ یہاں بھی معاملہ آزادیٔ اظہار پر پابندی کا نہیں بلکہ تہذیبوں کی مقدس ہستیوں اور علامات کی گستاخی اور بے ادبی کے عنصر کی حوصلہ شکنی کرنا ہے۔
دنیا کے کم و بیش تمام ممالک میں ہرجانہ کے دیوانی قانون کے تحت ہتک عزت کا قانون نافذ ہے جس کے تحت کسی فرد کو کسی کی حق تلفی یا شہرت کے نقصان پر ہرجانہ ادا کرنے کی سزا دی جا سکتی ہے۔ اس طرح آزادانہ اظہار کے مطلق حق کی تحدید کسی فرد کے حقوق کو توازن عطا کرنے کے لیے عمل میں لائی جاتی ہے۔ بعینہٖ اگر کسی کا کوئی عمل ایک خاص قوم یا ملت کے
جذبات کو ٹھیس پہنچانے کا باعث بنتا ہے تو آزادی تقریر کی آڑ میں اسے کبھی جائز نہیں گردانا جاسکتا۔ مزید برآں بہت سے ملکوں میں مخصوص قومی اداروں کے دستور کی تضحیک وتوہین قانونی طور قابل گرفت ہے اور اس کی حوصلہ شکنی کی جاتی ہے۔ ان قومی اداروں میں فوج، قانونی عدالتیں یا پارلیمنٹ شامل ہیں۔ اس طرح دنیا بھر میں توہین عدالت کا قانون موجود ہے جو آزادی تقریر پر سخت پابندیاں عائد کرتا ہے۔ اس کی خلاف ورزی کرنے پر قید کی سزا دی جاسکتی ہے۔ اگر مطلق آزادی اظہار کا قانون موجود ہے تو ان قوانین پر اعتراضات کیوں نہیں اٹھائے جاتے؟ کسی فرد کی عزت و آبرو کا تحفظ ایک بنیادی انسانی حق ہے جس میں نازیبا کلمے اور گستاخانہ الفاظ کہنے اور لکھنے کی ممانعت، ہتک عزت پر پابندی اور مذہبی آزادی کا تحفظ شامل ہے۔ اقوام متحدہ کا منشور اور بہت سے ممالک کے دساتیر اور قوانین میں ان حقوق کے تحفظ کی شق موجود ہے۔
UNO چارٹر کی دفعہ 1(ii) کے مطابق اقتصادی، سماجی، ثقافتی اور انسانی بین الاقوامی مسائل کے حل اور بین الاقوامی تعاون کے حصول کی خاطر انسانی حقوق اور بنیادی آزادیوں کے احترام کی حوصلہ افزائی کرنا، سب کے لیے بلا امتیاز نسل، جنس، زبان و مذہب کی آزادی جیسے بنیادی انسانی حقوق کو تسلیم کیا گیا۔
نیز اس شق کو انسانی حقوق کے یورپی کنونشن کی دفعہ 9 میں بھی تسلیم کیا گیا ہے۔ اپنے مذہب یا عقائد کی آزادی کو ظاہر کرنے پر صرف ایسی حدود عائد کی جائیں گی جو جمہوری معاشرے میں عوام کے اجتماعی تحفظ، عوامی نظم و نسق کی بحالی، صحت یا اخلاق عامہ یا دوسروں کے حقوق اور آزادیوں کی حفاظت کے لیے ضروری ہوں اور ان کے لیے قانونی ضابطے موجود ہوں۔
”کانگرس کو قائم کرنے یا اس کی آزادی میں رخنہ اندازی کرنے یا تقریر اور پریس کی آزادی کو پابہ زنجیر کرنے، یا لوگوں کے آزادانہ اجتماع کے حق کی پاسداری اور حکومت کو شکایات کے ازالے سے روکنے کے لیے کوئی قانون وضع نہیں کرے گی۔“
بعض امریکی ریاستوں نے گستاخانہ تضحیک و تنقیص کی روک تھام کے حوالے سے قوانین اپنی قانون کی کتابوں میں درج کر رکھے ہیں۔ (باب 272، سیکشن 360)
”جو کوئی بھی خدا کے پاک نام پر دانستہ گستاخانہ اور بے ادبی کے الفاظ کہتا ہے یا خدا کے بارے میں بد زبانی، گستاخانہ زبان درازی اور یاوہ گوئی سے کام لیتا ہے یا اس کی مخلوق
مملکت یا حتمی انصاف تضحیک کرتا ہے، مقد میں قید کی سزا دی جا گستاخانہ قوانین موجود ہیں۔
- -1 آسٹریا (
- -2 فن لینڈ (
- -3 جرمنی (آ
- -4 نیدرلینڈ (
- -5 سپین (آر
- -6 آئرلینڈ (
اشاعت ایک منافرت ایک خلاف نفرت
- -7 کینیڈا (سیکشن
- -8 نیوزی لینڈ (
مثال کے طور یورپی ممالک کے دساتیر (سٹیٹ چرچ) کی مثال م ”اوینجلیکل لوتھ اس کی مدد واعانت ریاس مذکورہ بالا قوانین حق ہے مگر یہ ایک مطلق مضامین شائع ہوئے ہیں عقائد کی تضحیک کی کوشش
مملکت یا حتمی انصاف کرنے والی ہیئت مقتدرہ کو ہدف بناتا ہے یا یسوع مسیح یا مقدس روح کی تضحیک کرتا ہے، مقدس صحیفوں میں درج خدائی فرامین کی ہتک اور توہین کرتا ہے اسے جیل میں قید کی سزا دی جائے گی۔‘‘
گستاخانہ کلمات اور بے ادبی کی سزا اور حوصلہ شکنی کے لیے درج ذیل ممالک میں قوانین موجود ہیں۔
- 1- آسٹریا (آرٹیکل 188، 189 کریمینل کوڈ)
- 2- فن لینڈ (سیکشن 10 چیپٹر 17 پینل کوڈ)
- 3- جرمنی (آرٹیکل 166 کریمینل کوڈ)
- 4- نیدرلینڈ (آرٹیکل 147 کریمینل کوڈ)
- 5- سپین (آرٹیکل 525 کریمینل کوڈ)
- 6- آئرلینڈ (آئرلینڈ کے دستور کے آرٹیکل 1، 40،6،1 کے مطابق کفریہ مواد کی
اشاعت ایک جرم ہے۔ منافرت ایکٹ 1989ء کے امتناع میں ایک گروہ یا جماعت کے لیے مذہب کے خلاف نفرت بھڑکانا بھی شامل ہے۔
- 7- کینیڈا (سیکشن 296 کینیڈین کریمینل کوڈ)
- 8- نیوزی لینڈ (سیکشن 123 نیوزی لینڈ کرائمز ایکٹ 1961ء)
مثال کے طور پر عیسائی دنیا میں گرجوں کی تقدیس کو قانون کا درجہ حاصل ہے، بعض یورپی ممالک کے دساتیر میں ان کو تحفظ فراہم کیا گیا ہے۔ ڈنمارک کے دستور کی سیکشن 4 (سٹیٹ چرچ) کی مثال موجود ہے جس میں کہا گیا ہے۔
’’ایونجلیکل لوتھرن (پروٹسٹنٹ) چرچ ڈنمارک کا ریاستی قائم کردہ چرچ ہوگا اور اس کی مدد واعانت ریاست کے ذمہ ہوگی۔‘‘
مذکورہ بالا قوانین سے یہ بات ’’اظہر من الشمس‘‘ ہے کہ آزادیٔ تقریر ایک بنیادی حق ہے مگر یہ ایک مطلق حق نہیں۔ ماضی میں سینکڑوں کی تعداد میں ایسی کتابیں اور اخباری مضامین شائع ہوئے ہیں جن میں اسلام کو ہدف تنقید بنایا گیا ہے اور مسلمانوں کے بنیادی عقائد کی تضحیک کی کوشش کی گئی ہے مگر مسلمانان عالم نے کبھی اس عالمانہ بحث مباحثے پر
اعتراض نہیں کیا کیونکہ یہ بات بخوبی ان کے علم میں ہے کہ یہ اسلام پر جاری بحث مباحثے کا حصہ ہے اور یہ آزادی اظہار کے ضابطوں کے زمرے میں آتا ہے۔ لاتعداد اخباری مقالوں اور مضامین میں اسلام کو بالکل غلط رنگ میں پیش کیا جاتا ہے۔ یہاں تک کہ صریحاً جھوٹ اور مبالغہ آمیز کہانیوں پر مبنی مواد اسلام کے حوالے سے پریس میں چھاپا جاتا ہے لیکن مسلمانوں نے کبھی تحمل اور برداشت کا دامن اپنے ہاتھ سے نہیں چھوڑا۔ اسلام کے علما اور محققین نے ہمیشہ ایسے اعتراضات کا علمی اور تحقیقی جواب دینے پر ہی اکتفا کیا ہے۔ وہ یہ بات بخوبی جانتے اور سمجھتے ہیں کہ وہ ایسے معاشروں میں رہ رہے ہیں جو آزاد اور حریت پسند جمہوریتوں کا حصہ ہونے کے داعی ہیں۔ تاہم جب کبھی آزادی اظہار کے حق کا غلط اور بے جا استعمال کیا جاتا ہے اور اسلام کی مقدس ترین ہستیوں کی دیدہ دانستہ توہین کی جاتی ہے تو پھر اس معاملہ پر بے چینی، اضطراب اور غم و غصے کا پیدا ہونا ایک فطری اور قابل فہم امر ہے۔ پیغمبر اسلام نبی اکرم ﷺ کو چاقو لہراتے ہوئے دکھانا اور دستار میں بم چھپائے ہوئے ظاہر کرنا ایک بیّن گستاخی اور توہین آمیز اقدام ہے اور اس تنازعہ کو غلط رخ دے کر اس تاثر کو ہوا دینا ہے کہ وہ اور ان کے پیروکار (معاذ اللہ) پُر تشدد، دہشت گرد اور امن عالم کے دشمن ہیں۔ یہ عمل عدل و انصاف کے تمام مسلمہ ضابطوں کی دھجیاں بکھیرنے کے مترادف ہے۔ ایک دوسرے خاکے میں یوں عکاسی کی گئی ہے کہ وہ مردہ خودکش بمباروں کی حمایت میں یہ کہہ رہے ہیں ”ٹھہریے ٹھہریے!! ہمارے پاس حوریں کم پڑ گئی ہیں۔“ ایسے خاکوں کی تشہیر کو کیسے اور کیونکر آزادی صحافت اور آزادی تقریر کی آڑ میں جائز قرار دیا جا سکتا ہے؟ مزید برآں ان خاکوں کی اشاعت رواروی میں نہیں ہوئی بلکہ وہ مسلمانوں کے خلاف تعصب اور جانبداری کے خاص ماحول میں شائع کیے گئے ہیں اور نہ صرف ڈنمارک میں پائی جانے والی فضا بلکہ یورپ بھر کی آبادیوں میں مسلمانوں کے خلاف تناؤ اور مخاصمت پورے عروج پر ہے۔ ابھی کچھ عرصہ پہلے ڈنمارک کی ملکہ کے یہ متنازعہ جملے اخبار میں چھپے ہیں۔ ”ہمیں اسلام کی مخالفت کرتے ہوئے اس امر کی کوئی پروا نہیں اگر ہمارے خلاف ناپسندیدہ لیبل بھی چسپاں کر دیے جائیں کیونکہ کچھ چیزیں ایسی ہیں جن کے لیے ہمیں تحمل اور برداشت سے کام نہیں لینا۔“
مزید برآں بیشتر ملکوں نے دہشت گردوں کے خلاف قانون سازی کرتے ہوئے افراد کی شہری آزادیوں پر سخت ناروا پابندیاں عائد کر رکھی ہیں۔ یہ قانون سازی اس طرح کی
گئی ہے کہ ان کا خاص نشانہ وہاں کی مسلمان آبادی کو بنایا گیا ہے۔ اس سے ان میں یہ شدید احساس پایا جاتا ہے کہ ذرائع ابلاغ میں ایک بہت ہی بڑی اقلیت سے مسلسل بلا روک ٹوک زیادتیاں کی جاتی ہیں اور ان کی ایسی منفی تصویر کشی کی جاتی ہے جس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں۔ پھر ان کی شہری آزادیوں کو پابندیوں کی زنجیروں میں جکڑ کر ان کی روز مرہ زندگی کو اجیرن بنادیا گیا ہے۔ یہ سب کچھ تقریر کی آزادی اور قومی مفاد کے نام پر روا رکھا جاتا ہے۔ یہ امر موجب حیرت ہے کہ مسلمانوں کی مقدس ہستیوں کو آزادی تحریر و تقریر کے نام پر تضحیک کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ یہ جانتے ہوئے کہ ان کی طرف اس کا شدید ردعمل ہوگا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ان توہین آمیز خاکوں کی اشاعت کا مقصد مسلمانوں کی دل آزاری، ان کے جذبات کو مجروح کرنا اور ان کے مذہب اور ثقافت کو تضحیک کا نشانہ بنانا ہے۔
آزادی تحریر و تقریر کے بارے میں اس سوچ کو جگہ دینا کہ اس آزادی کی کوئی حدود و قیود نہیں ایک غلط مفروضہ ہے۔ کوئی قول اور فعل جو کسی طبقہ کی اخلاقی اور مذہبی اقدار کو ٹھیس پہنچاتا ہے اور جس سے اس کی سلامتی، بقا اور تقدیس پر ضرب لگانے سے امن کے لیے سنگین خطرہ پیدا ہو جاتا ہے، اسے آزادی تحریر و تقریر کا حق نہیں گردانا جاسکتا۔ اسلام تحمل اور رواداری، بقائے باہمی اور جیو اور جینے دو کے اصول کی تعلیم دیتا ہے۔ یہ دوسرے مذاہب کے معبودوں، مذہبی علامتوں کو برا کہنے کی حوصلہ شکنی کرتا ہے اور انسانیت کے احترام کا سبق دیتا ہے۔ (الانعام:108) اسلامی قانون نے بلا امتیاز دیگر مذاہب کی سلامتی، وقار و احترام اور ان کے عقائد کے احترام پر بہت زور دیا ہے۔
اگر بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ بقائے باہمی اور تحمل و برداشت کے اصولوں کو بالائے طاق رکھ دیا جائے، اخلاقی اور مذہبی اقدار کی توہین و تضحیک کی جائے تو اس صورت میں موجودہ کشیدگی میں مزید اضافہ ہوگا اور تناؤ کی فضا اور بھی سنگین ہو جائے گی۔ یورپ اپنے آپ کو ایک تعلیم یافتہ اور مہذب معاشرہ سمجھتا ہے لیکن یہ بات ماورائے فہم ہے کہ اس کا ردعمل اپنی ایک بڑی اقلیت کے مذہب کے بنیادی حق کی خلاف ورزی کے بارے میں اس قدر بے حسی اور بے عملی کا مظہر و عکاس ہوگا۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ کوئی ایسی تدبیر اور لائحہ عمل اختیار کیا جائے جس سے ایسے واقعات کو دوبارہ رونما ہونے سے روکا جاسکے جو عالمی امن کو سنگین خطرات سے دوچار
کرنے کا باعث بن رہے ہیں۔ وہ لوگ جو اس بات کی وکالت کرتے ہیں کہ آزادی تحریر و تقریر سے تعرض نہیں کرنا چاہیے اور یہ کہ اس پر کوئی قدغن عائد نہیں کی جاسکتی انہیں اپنے جمہوری معاشروں پر ایک نظر ضرور ڈال لینی چاہیے اور یہ دیکھ لینا چاہیے کہ ان کی شہری آزادیوں کو دہشت گردی کے خلاف حالیہ قانون سازی کے ذریعے کتنا کھوکھلا بنا دیا گیا ہے۔ ان کی طرف سے اٹھائے جانے والے اقدام نے افراد کے حقوق اور آزادیوں کو زنجیروں سے جکڑ دیا ہے اور اس سے پیدا ہونے والے مضمرات اس بات کا تقاضا کرتے ہیں کہ اس صورت حال کا فوری ازالہ کیا جائے۔ مسلمانوں میں اجنبیت اور نشانہ بنائے جانے کا احساس بہت شدت اختیار کر گیا ہے۔ بالخصوص جب ان کے مقدس ترین دینی شعائر اور شخصیات پر اخبارات کے ذریعے حملہ کیا جاتا ہے تو لامحالہ اس کا ردعمل بھی اتنا ہی شدید ہوگا۔
اگر اس مسئلے کو سنجیدگی سے لے کر اس صورت حال سے عہدہ برآ ہونے کے لیے مناسب اقدامات نہ کیے گئے تو پھر اس کے نتیجے میں ایسے معاشرتی، سیاسی اور اقتصادی و معاشی بحران جنم لیں گے جو تہذیبوں اور اقوام کے مابین خطرناک تصادم پیدا کرنے کا باعث ہوں گے۔
ان رسوا کن قابل مذمت خاکوں کی اشاعت سے پیدا ہونے والے غم و غصہ کے پیچھے ایسے وجوہ ہیں جو اس جرم پر حکومتوں کی بے اعتنائی اور لاپروائی کا نتیجہ ہیں۔ اس وقت دنیا بھر میں سوا ارب مسلمانوں کے مذہبی جذبات کو بری طرح ٹھیس پہنچی ہے۔ چاہیے تو یہ تھا کہ معاملے کو ٹھنڈا کیا جاتا لیکن ایسا نہیں ہوا بلکہ اس معاملے کو سلجھانے کی بجائے اس کا جواز دینے کی مسلسل کوشش کی جارہی ہے جس سے دنیا بھر میں اضطراب اور بے چینی کی کیفیت میں روز بہ روز اضافہ اور شدت پیدا ہو رہی ہے۔
٭ ٭ ٭
حافظ حسن مدنی
توہین آمیز خاکے، اسلام اور عصری قانون
مسلمان دنیا بھر میں ان دنوں توہین آمیز کارٹونوں کی اشاعت کے خلاف پُرزور احتجاج کر رہے ہیں اور اس سلسلے میں میڈیا پر ہر طرح کی خبریں، مظاہرے و مباحثے، مضامین اور مقالات شائع ہو رہے ہیں اور عملاً یہ احتجاج روز بروز بڑھتا جا رہا ہے۔ اس کے بالمقابل اس ظلم کا ارتکاب کرنے والے اپنی زیادتی پر بھی اصرار جاری رکھے ہوئے ہیں۔
ان خاکوں کی اشاعت کے لیے بہت سے اخبارات نے یہ موقف بھی اختیار کیا کہ سیکولر معاشرے کے نمائندہ ہونے کی وجہ سے وہ مذہبی نظریات کے تحفظ کے پابند نہیں۔ دوسری طرف ان ممالک کے آئین اس امر کی ضمانت بھی دیتے ہیں کہ وہ اپنے ہاں بسنے والوں میں کسی مذہبی امتیاز کو جگہ نہیں دیں گے، لیکن ان ممالک کا عملی رویہ اس دعویٰ کے برعکس ہے۔ ان ممالک میں عیسائیت اور یہودیت کو جو تحفظ حاصل ہے اور قوانین میں ان کی جو ترجیحی حیثیت موجود ہے، اسلام کو یہ تحفظ کسی مرحلہ میں بھی میسر نہیں۔
ڈنمارک اور دیگر یورپی ممالک میں یہودیوں کے جرمنی میں قتل عام کی خود ساختہ تاریخ اور ان کی مظلومیت کو پورا تحفظ دیا گیا ہے۔ اس مزعومہ قتل عام (ہولوکاسٹ) میں مقتولین کی تعداد کو 50 لاکھ سے کم بیان کرنا کسی کے مجرم بننے کے لیے کافی ہے۔ حتیٰ کہ اس کہانی کے کسی جزو کا بھی انکار کرنا 20 سال تک قید کی سزا کا مستوجب ہے۔ ان ممالک کا یہ قانون مذہبی امتیاز پر واضح دلیل اور آزادی اظہار پر صاف قدغن ہے۔ لیکن چونکہ اس سے یہودیوں کی دل شکنی ہوتی ہے، اس لیے اس کو تو قانونی تحفظ عطا کیا گیا ہے، لیکن مسلمانوں کی دنیا بھر میں اور خود ڈنمارک میں دل شکنی کوئی جرم نہیں۔ یہ تضاد مغربی لبرل ازم کا پورا پول کھولتا ہے۔.....!
برطانیہ میں حضرت عیسیٰؑ کی توہین پر موت کی سزا موجود ہے اور اس سزا کو عالمی
عدالت انصاف بھی مختلف موقعوں پر تسلیم کر چکی ہے گویا وہ برطانیہ کے اس تصور قانون کی مؤید ہے۔ غور طلب امر یہ ہے کہ حضرت عیسیٰ کی توہین کو آزادیٔ اظہار کے دائرے میں لانا کیوں برطانوی حکومت کو گوارا نہیں؟ علاوہ ازیں برطانیہ کے اس قانون کا دائرہ صرف چرچ کے تحفظ تک ہی کیوں محدود ہے؟ یہ قوانین شہریوں میں عدم مساوات اور مذہبی امتیاز کی واضح دلیل ہیں۔
حضرت عیسیٰ کی توہین کا ایک کیس آسٹریا میں بھی 1990ء میں زیر سماعت لایا گیا ہے، جس سے پتہ چلتا ہے کہ یہ قانون دیگر مغربی ممالک میں بھی موجود ہے۔ اس کیس ’اوٹو پریمنگر انسٹیٹیوٹ بنام آسٹریا‘ کے فیصلہ میں عدالت نے تحریر کیا کہ
”دفعہ 9 کے تحت مذہبی جذبات کے احترام کی جو ضمانت فراہم کی گئی ہے، اس کے مطابق کسی بھی مذہب کی توہین پر مبنی اشتعال انگیز بیانات کو بدنیتی اور مجرمانہ خلاف ورزی قرار دیا جاسکتا ہے۔ جمہوری معاشرے کے اوصاف میں یہ وصف بھی شامل ہے کہ اس نوعیت کے بیانات، اقوال یا افعال کو تحمل، بردباری اور برداشت کی روح کے منافی خیال کیا جائے اور دوسروں کے مذہبی عقائد کے احترام کو صد فی صد یقینی بنایا جائے۔“
1989ء میں ایک فلم Visions of Ecstasy کو برطانوی سنسر بورڈ نے اس بنیاد پر نمائش سے روک دیا کیونکہ اس میں چرچ کی توہین پائی جاتی تھی۔ حالانکہ بعد ازاں وہ یہ ثابت نہیں کر سکے کہ اس میں توہین آمیز اور قابل اعتراض چیزیں کہاں پائی جاتی ہیں؟
اس واقعہ میں ’ہمہ قسم کے نسلی امتیاز (یا تعصبات) کے خاتمے پر عالمی کنونشن‘ ICERD کی بھی صریحاً خلاف ورزی کی گئی ہے۔ جس کی رو سے نسلی برتری، نفرت انگیز تقاریر اور نسلی تعصب کو ابھارنے کے عمل کو غیر قانونی قرار دیا گیا ہے۔ اور اقوام متحدہ پر لازم ہے کہ اس قسم کے قابل تعزیر اقدامات کے ذمہ داروں کو قرار واقعی سزا دے۔
ایسے معاشرے جہاں مذاہب کی بنیاد پر تفریق ممنوع ہے، وہاں اسلام کو نظر انداز کر کے دیگر مذاہب کو یہ تقدس عطا کرنا بذات خود قابل مؤاخذہ اور مذہبی امتیاز کا مظہر ہے۔ یہ مغرب کی اس منافقت کا پول کھولتا ہے جو آئے روز مذہبی مساوات کا دعویٰ کرتی اور مسلم ممالک کو اس کا درس دیتی رہتی ہے۔ بالخصوص اس وقت جب جمہوری اُصولوں کی دعویدار
حکومتیں اس حقیقت کے علی الرغم اس زیادتی کا ارتکاب کریں کہ یہ دنیا میں پائے جانے والے ڈیڑھ ارب یعنی دنیا بھر کی چوتھائی آبادی کے مذہبی جذبات کا تمسخر اڑانا ہے۔
توہین آمیز خاکوں کی اشاعت کوئی وقتی مسئلہ نہیں کہ اس پر مسلمان اپنے غم و غصہ کا اظہار کر کے اپنا احتجاج ریکارڈ کرائیں اور اسے ہی کافی سمجھیں۔ بلکہ اگر صرف گزشتہ چند برس کی تاریخ کو پیش نظر رکھا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ توہین اسلام غیر مسلموں کا ایک مسلسل رویہ ہے، جس کا ارتکاب غیر مسلم ایک تسلسل سے کر رہے ہیں اور اس کو کافر حکومتیں لگا تار تحفظ عطا کرتی ہیں۔ اس جرم کے مرتکبین ان کی آنکھ کا تارا اور ان کی عنایتوں کا مرکز و محور ٹھہرتے ہیں۔
ان واقعات کے بارے میں حسب ذیل اشارے اس مسلسل رجحان کی عکاسی کرنے کے لیے کافی ہیں جس کے تدارک کے لیے اُمت مسلمہ کو سنجیدگی سے غور کرنا، اس کی وجوہات تلاش کرنا اور اس کے خاتمے کے لیے ٹھوس اقدامات بروئے کار لانا ہوں گے:
80 اور 90 کی دہائیوں میں سلمان رشدی کی شیطانی آیات اور تسلیمہ نسرین کے ناولوں کی اشاعت اور مغرب میں ان کی ریکارڈ تعداد میں فروخت، بعد ازاں ان دونوں ملعون شخصیات کو مغربی حکومتوں کا سرکاری پروٹوکول پیش کرنا اور ان کے گرد حفاظتی حصار قائم کر کے مقبول عام شخصیتوں کا درجہ دینا........... نواز شریف حکومت کے دوسرے دور میں دو مسیحیوں کا توہین رسالت کا ارتکاب اور راتوں رات انہیں جرمنی کی حکومت کے تحفظ میں دینے کے لیے پاکستانی ایئر پورٹوں سے باعزت روانگی........... جنوری 2000ء میں انٹرنیٹ پر ایک حیا باختہ لڑکی کے سامنے مسلمان نمازیوں کو اس حالت میں سجدہ میں گرا ہوا دکھایا گیا کہ وہ اس کی عبادت کر رہے ہیں۔ اس پر ہفت روزہ ’وجود‘ کراچی میں توجہ دلائی گئی........... ستمبر 2000ء میں انٹرنیٹ پر قرآن کی دو جعلی سورتیں ’دی چیلنج‘ کے عنوان سے شائع ہوئیں اور یہ دعویٰ کیا گیا کہ یہ وہ مظلوم سورتیں ہیں جنہیں مسلمانوں نے اپنے مقاصد کی راہ میں رکاوٹ سمجھتے ہوئے قرآن سے نکال باہر کیا ہے۔ معاذ اللہ !........... اکتوبر 2001ء میں ’دی رئیل فیس آف اسلام‘ نامی ویب سائٹ پر نبی کریم ﷺ سے منسوب چھ تصاویر کے ساتھ ہتک آمیز مضامین شائع کیے گئے، جس میں اسلامی تعلیمات کو مسخ کر کے یہ تاثر اُبھارا گیا کہ مسلمان اپنے سوا تمام دیگر انسانوں بالخصوص یہود و نصاریٰ کو واجب القتل سمجھتے ہیں۔ نبی کریم ﷺ سے تصاویر منسوب کر کے یہ دعویٰ کیا گیا کہ آپ دنیا میں قتل و غارت اور دہشت گردی کا سبب
ہیں ۔ نعوذ باللہ! ........نومبر 2004ء میں ہالینڈ کے شہر ہیگ میں Submission نامی فلم میں اسلامی احکامات کا مذاق اُڑایا گیا اور برہنہ فاحشہ عورتوں کی پشت پر قرآنی آیات تحریر کی گئیں۔ قرآنی احکام کو ظالمانہ قرار دینے کی منظر کشی کرتے ہوئے مغرب میں بسنے والے انسانوں کو یہ پیغام دیا گیا کہ اس دین سے کسی خیر کی توقع نہیں کی جاسکتی۔ اس کے نتیجے میں وہاں مسلم کش فسادات شروع ہو گئے۔ آخر کار ایک مراکشی نوجوان محمد بوہیری نے اس گستاخ قرآن ’وان گوغ‘ کو اس کے انجام تک پہنچایا۔ یادرہے کہ اس فلم کا سکرپٹ نائیجیریا کی سیاہ فام مرتد عورت عایان ہرشی علی نے لکھا تھا، جب یہ عورت ہالینڈ میں سکونت پذیر ہوئی تو مسلمانوں نے اس کی سرگرمیوں پر احتجاج کیا، آخر کار ڈچ حکومت نے اس عورت کے تحفظ کے لیے اسے سرکاری پروٹوکول فراہم کر دیا...........جنوری 2005ء میں فُرقان الحق نامی کتاب شائع کر کے اس کو مسلمانوں کا نیا قرآن باور کرانے کی مذموم مساعی شروع کی گئیں۔ 364 صفحات پرمشتمل اس کتاب میں 88 آیات میں خود ساختہ نظریات داخل کیے گئے جس کی قیمت 20 ڈالر رکھی گئی........... مارچ 2005ء میں امینہ ودود نامی عورت نے اسریٰ نعمانی کی معیت میں امامتِ زن کے فتنے کا آغاز کیا اور مغربی پریس نے اس کو خوب اُچھالا...........مئی 2005ء میں ”نیوز ویک“ نے امریکی فوجیوں کی گوانتاناموبے میں توہینِ قرآن کے 50 سے زائد واقعات کی رپورٹ شائع کی جس کے بعد دنیا بھر کے مسلمانوں میں اشتعال پھیل گیا...........ستمبر 2005ء میں جیلانڈ پوسٹن نامی ڈینش اخبار میں توہینِ رسول ﷺ کا ارتکاب کیا گیا۔ جس کے بعد وہاں کے کئی جرائد نے اُنہیں دوبارہ شائع کیا۔ بعدازاں فروری 2006ء میں کئی مغربی اخبارات نے ان توہین آمیز کارٹونوں کو اپنے صفحہ اوّل پر شائع کیا۔
نبی رحمت محمد عربی ﷺ کی شان میں گستاخیوں کا یہ سلسلہ ان چند سالوں پر محیط نہیں بلکہ دشمنانِ اسلام نے آپ ﷺ کی شانِ رسالت کو ہمیشہ اپنی کم ظرفی اور کمینگی کے اظہار کے لیے نشانہ بنانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ قرونِ وسطیٰ میں جان آف دمشقی (700 تا 754ء) وہ پہلا نامراد شخص ہے جس نے آپ ﷺ پر الزامات و اتہامات کا طومار باندھا اور بعدازاں اکثر و بیشتر مستشرقین نے انہی الزامات کو دہرایا۔ منٹگمری واٹ نے ’محمد ایٹ مکہ‘ میں لکھا ہے: ”مغربی مصنفین محمد (ﷺ) کے بارے میں بدترین چیز پر بھی یقین کرنے کو ہردم آمادہ رہتے ہیں۔ دوسری طرف جہاں کہیں اپنے کسی مذموم فعل کی کوئی ممکنہ توجیہ اُنہیں میسر
آئے، اسے حقیقت تسلیم کرنے میں لمحہ بھر تامل نہیں کرتے۔“ انسائیکلو پیڈیا برٹانیکا (1984) کا مقالہ نگار لکھتا ہے: ”بہت کم لوگ اتنے بدنام کیے گئے جتنا محمد (ﷺ) کو بدنام کیا گیا، قرونِ وسطیٰ کے عیسائیوں نے ان کے ساتھ ہر الزام کو روا رکھا ہے۔“ A History of Medieval کا مصنف جے جے سانڈرز لکھتا ہے: ”اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ پیغمبر عربی (ﷺ) کو عیسائیوں نے کبھی ہمدردی اور توجہ کی نظر سے نہیں دیکھا، جن کے لیے حضرت عیسیٰ کی ہستی ہی شفیق و آئیڈیل رہی ہے۔ صلیبی جنگوں سے آج تک محمد (ﷺ) کو متنازعہ حیثیت سے ہی پیش کیا جاتا رہا اور ان کے متعلق بے سروپا حکایتیں اور بے ہودہ کہانیاں پھیلائی جاتی رہیں۔“
(ص 34، 35، لندن 1965)
مذکورہ بالا واقعات کا تسلسل جہاں مغرب کی تنگ نظری اور تعصب کا آئینہ دار ہے وہاں اس میں مسلمانوں کے لیے غور و فکر کا کافی سامان بھی موجود ہے۔ کسی قوم کے مذہبی تصورات، شعائر اور مقدس شخصیات کی بے حرمتی کے لگا تار واقعات اس امر کا بین ثبوت ہیں کہ اس کا جسدِ ملی کھوکھلا ہو چکا ہے۔ اسلام جو کئی صدیاں دنیا کی قیادت کے منصب پر فائز رہا ہے، آج ایک مظلوم مذہب میں تبدیل ہو چکا ہے۔ مسلمانوں کی روز بروز بڑھتی عددی اکثریت اور ہر قسم کے وسائل سے مالا مال ہونے کے باوجود اسلام کی عالمی پیمانے پر قدر و وقعت روز بروز کم کیوں ہوتی جا رہی ہے؟ اس کی وجہ غیروں سے زیادہ خود ہمارے اپنے اندر پوشیدہ ہے۔
٭ ٭ ٭
ڈاکٹر عامر لیاقت حسین
جامِ عشق پی لیتے تو آج تنہا نہ ہوتے!
پہلے آپ بھیڑ میں رہ کر بھی تنہا دکھائی دیتے تھے اور اب ایسے تنہا ہیں کہ صرف بھیڑ ہی دکھائی دے رہی ہے، آپ کہیں نہیں!...... ایک لمحے کے لیے بھی غور کیا کہ ایسا کیوں ہوا؟ صرف ایک برس میں یہ کیا ماجرا ہو گیا؟ کسی کے خیال میں یہ آٹھ سالہ بالاج کے دل سے نکلی آہ کا اثر ہے اور کسی کو یقین کہ ”حجِ اکبر“ کی ادائیگی کے بعد 9 مارچ کو جسٹس افتخار پر توڑی گئیں مصیبتوں کا آسمانی جواب ہے...... یقیناً آہیں رنگ لاتی ہیں اور نا انصافی کی ہر لہر کا رخ سب سے بہتر انصاف کرنے والا اُسی چشمۂ رطوبت کی جانب موڑ دیتا ہے جہاں سے عداوت کے سوتے پھوٹتے ہیں۔ مگر سچ تو یہ ہے کہ رسوائی اور تنہائی کا سبب یہ نہیں! سب کو حق ہے کہ بجھے ہوئے چہرے پر پچھتاوے کی شکنوں اور کرب کی لکیروں کی تشریح اپنے اپنے علم کے مطابق کریں مگر اس شرط کے ساتھ کہ ”تنہائی“ مدنظر رہے، اور بلا کے اکیلے پن سے نگاہ نہ چوکے...... 3 جولائی 2007ء کو وزارت اور قومی اسمبلی کی رکنیت سے باعزت بریت کے بعد سے انہی کالموں میں، مسلسل لکھتا رہا، سمجھاتا رہا، کبھی تلخی سے، کبھی نرمی سے کہ میرے رسول ﷺ تنہا نہیں، اُن کے رب نے اُن کو کبھی اکیلا نہیں چھوڑا...... قرآن سے آتی ہوئی آواز بھی تلاوت کرتا رہا کہ ترجمہ : ”آپ ﷺ کے رب نے آپ کو نہیں چھوڑا اور نہ ناراض ہی ہوا ہے۔“ (سورۃ الضحیٰ، آیت 3) اُس کے باوجود میرے آقا کریم ﷺ پر استہزا کرنے والے بدسرشت اور کج قلم کو برطانیہ اعزاز سے نوازے اور آپ خاموش رہیں، گستاخانہ خاکے بنائے جائیں اور آپ کے لب سلے رہیں، قرآن کو ”فتنہ“ قرار دے کر توہین آمیز فلم تیار کی جائے اور 9 ماہ تک مذمت کا ایک لفظ بھی نہ نکلے...... اس سے کہیں اچھی تو وہ ہے جو 9 ماہ تک اپنی کوکھ میں المصور کی تصویر کشی کو لہو سے سینچ کر اُس کی معصوم قلقاری کے ذریعے اللہ کے حضور اظہار تشکر کا رنگ تو بھرتی ہے!...... اور ایک آپ ہیں کہ جن کا کھاتے ہیں، اُنہی کے غلاموں
پر غراتے ہیں....... مجھے تو اب تلک حیرت اس بات پر ہے کہ آپ کو گستاخ نبی ﷺ سے نفرت پر بھی انکار ہے....... آپ سمجھتے تھے کہ 1482 برس گزرنے کے بعد اپنے اَن گنت جاں نثاروں کے جھرمٹ میں سرکار ﷺ تنہا رہ گئے، شمع عشق میں اب محبت کی وہ ڈوری نہیں رہی جسے لبیک یا رسول اللہ ﷺ کی صدا پے جلایا جا سکے یا اب ماؤں نے اُن بچوں کو جننا ہی چھوڑ دیا ہے جو خاکِ مدینہ کو اپنی آنکھوں کا سرمہ بناتے ہیں....... نہیں! جناب والا نہیں! تنہا تو اُنہیں اُس وقت اللہ جل مجدہٗ نے نہ چھوڑا جب اُن کا ساتھ دینے والا کوئی نہ تھا، اب تو کروڑوں عشاق صرف نامِ محمد ﷺ کو اپنی جان سے کہیں زیادہ عزیز رکھتے ہیں چہ جائیکہ وجودِ محمد ﷺ! جس پر نچھاور کرنے کے لیے ہر ایک نفس کو کروڑوں جانیں چاہئیں....... جو اُنہیں تنہا سمجھے، وہ خود تنہا نہیں ہوگا تو کیا ہوگا، آپ زمین پر اللہ کے نائب ہیں، بش کے نہیں کہ بش نے مانگے اور آپ نے جہاز بھر بھر کے اپنے ہی مسلمان اُس کی گوانتاناموبے میں جھونک دیئے مگر کیا شے مانع رہی کہ ایک بار بھی عالمِ اسلام کی واحد ایٹمی قوت کا سربراہ برطانیہ سے ملعون رشدی کی حوالگی کا مطالبہ نہ کر سکا؟....... میں جانتا ہوں کہ یہود و نصاریٰ اپنے حامیوں سے ایسی جرأت کی توقع نہیں رکھتے مگر صرف ایک بار بلالؓ کی طرح مصیبت کی تپتی ہوئی ریت اور قرضوں کے بھاری پتھروں کے بوجھ تلے دب کر ”احد احد“ کہہ کر تو دیکھتے، اظہارِ ایمان آپ کا کام ہے اور ابوبکر صدیقؓ کو بھیجنا اُس کا کام ہے....... وہاں بلالؓ، اُس وقت کے امریکہ، امیہ کی غلامی سے آزاد ہوئے، یہاں آپ فکر کی غلامی سے نجات پا لیتے!....... لیکن، یہ میں بھی کیا باتیں لے بیٹھا؟ دنیا داروں، حقیقت پسندوں، منصوبہ سازوں اور عقل کی گتھیوں میں الجھے ہوئے دانشوروں کو مجھ ناکارہ قیس کی باتیں کہاں سمجھ میں آئیں گی؟ میں تو ”اپنوں“ کے بیچ 9 ماہ قبل بھی جذباتی کہلاتا تھا، مجھے کل بھی کعبے کی حفاظت سے زیادہ اپنے سرخ اونٹ پیارے تھے اور میں آج بھی جامِ عشق میں ڈوبا ہوا عقل کی کلہاڑی کے سامنے لڑکھڑاتا ایک حقیر سا لکڑی کا ٹکڑا ہوں مگر اتنا جانتا ہوں کہ ”اگر کلہاڑی میں لکڑی کا دستہ نہ ہوتا تو لکڑی کے کٹنے کا رستہ نہ ہوتا۔“
آپ جو چاہیں مجھے کہہ لیجیے، جس نام سے من چاہے پکار لیجیے مگر ہم مکتبۂ عشق میں حرفِ محبت پڑھنے والے بے کار نفوس، بن دیکھے، بن چکھے اور بن جانے ایمان لاتے ہیں، تحقیق کر کے ایمان لانے والے تحقیق پر فخر کرتے ہیں، ایمان پر نہیں اور بنا تحقیق جاں لٹانے
والے آخری ہچکی تک لٹانے والے ہی رہتے ہیں ”لوٹنے والے“ نہیں!......ممکن ہے کہ آج غیروں کے درمیان اپنوں کی تلاش میں بے چین آنکھوں کی درخواست سن کر شاید کوئی بھوکا بھٹکا ”اپنا“ اچانک کہیں سے آ جائے اور پہچان کر گلے لگ جائے مگر اُس دن، جس دن ایمان کا حلف نہیں لیا جائے گا، بس اعمال نامہ پڑھ کر سنایا جائے گا اور اُس دن کہ جس دن اپنے ہی گوشت کا ہر ریشہ اور لہو میں دوڑتی ہر بوند پہچان کر بھی نہیں پہچانے گی، شافع محشر ﷺ نے پہچاننے سے انکار کر دیا تو کیا ہوگا؟......
ڈنمارک سرزمین ناپاک کے سفیر کو پاکستان کی سرزمین پر اپنے پروں کی چھایا میں محفوظ و مامون رکھنے والے صدر محترم! مجھے اپنے رب کی عزت کی قسم! کہ حشر کے میدان میں ڈنمارک سے نہیں، مصطفیٰ ﷺ سے تعلق، بخشش کا سبب بنے گا، صرف ایک بار سوچیے تو سہی کہ آپ کی تحمل مزاجی، دین کی سکھائی ہوئی اخلاقیات اور رواداری پر مبنی نبی کریم ﷺ کی تعلیمات اُسی وقت آڑے کیوں آتی ہیں جب ہم ”جذباتی اور گمراہ مسلمان“ گستاخ ملک کے سفیر کو ملک بدر کرنے کا ”مطالبہ“ کرتے ہیں؟ یہ رواداری، اخلاقیات، معاملہ فہمی، صلح جوئی اور آپ کی پسندیدہ ”روشن خیالی اور اعتدال پسندی“ اُن دنوں کہاں تھی جب چیف جسٹس کو بالوں سے پکڑ کر شاہراہ دستور پر گھسیٹا گیا، لال مسجد کو عملاً حفاظ خواتین کے لہو سے لال کیا گیا، پیمرا کے ذریعے صحافت کے گلے میں خواہشات کا کیمرا ٹنگوا کر صرف اپنی ہی تصویر کھنچوانے پر اصرار کیا گیا اور قوم کی امنگوں کے برخلاف اسرائیل کے وزیر دفاع سے خفیہ ملاقاتیں کی گئیں...... آج، قرآن پاک کے مقدس اوراق پر غلاظت پھینکنے اور اُسے (استغفر اللہ ) فلش میں بہانے کی ناپاک جسارت کرنے والے امریکی میجر جنرل ہڈ کے پاکستان میں امریکی سفارت خانے میں دفاعی اتاشی کی حیثیت سے تقرر پر خاموشی کو کیا نام دوں؟...... مجھے یاد ہے کہ جب میں کسی امتحان میں فیل ہو جاتا، تو میری ماں مجھے چپل سے مارتیں اور پوچھتیں ”کم بخت شرم بچی ہے یا وہ بھی بیچ کھائی؟“ اور میں امی سے صرف اتنا کہہ پاتا کہ ”امی اب ایسا نہیں کروں گا!“...... کاش کہ آپ کو تعلیم کے زیور سے آراستہ کرنے والی وہ عظیم ماں جو کئی میل پیدل چل کر صرف اس لیے مشقت کرتی تھیں کہ اُن کا بیٹا پڑھ لکھ کر بڑا آدمی بن جائے۔ آج آپ سے سوال پوچھ سکتیں۔
ڈاکٹر عامر لیاقت حسین
Danks Javlar
ڈنمارک بڑا ہی عجیب و غریب ملک ہے، یہاں کی 64 فیصد آبادی آج تک اپنے صحیح باپ کا نام معلوم نہیں کر سکی، یہاں تک کہ اس ملک کے ایک بادشاہ فریڈرک پنجم جنہوں نے 13 مارچ 1723 عیسوی سے 13 جنوری 1768 عیسوی تک ڈنمارک اور ناروے پر حکومت کی، پانچ ہٹے کٹے ناجائز بچوں کا باپ ہونے کی وجہ سے بھی ”پنجم“ کہلاتے ہیں۔...... گو کہ اُن کا ”عقدِ ظاہری“ ڈیوک آف برنس وک لیونبرگ البرٹ دوم کی صاحب زادی جولیا ناماریا سے ہوا تھا۔ تاہم اپنے ملک میں حرام کی افزائش کی لاج رکھتے ہوئے بادشاہ سلامت خاتون اول کی موجودگی بالائے طاق رکھتے ہوئے ایلس ہیٹسن نامی ”خاتون دوم“ سے بھی ”خفیہ ملاقاتیں“ کرتے رہے جس کے سبب پانچ نسب ظاہر ہو گئے جن سے آگے چل کر حرام کاری کے رواج کو شاہی تقویت اور ایسے لاتعداد ناجائز بچوں کی پیدائش کو تاریخی فروغ ملا جس کا سلسلہ آج تک بلا کسی شرم و حیا ڈنمارک، سویڈن، آسٹریا، ناروے، جرمنی، ہالینڈ اور ان جیسے دیگر ممالک میں ”گوری اور سینہ زوری“ کے ساتھ جاری ہے جس کے نتیجے میں فلیمنگ روز اور کرٹ ویسٹر گارڈ جیسے ولد الزنا، بے لگام ماؤں سے دھڑا دھڑ پیدا ہو کر اپنے بدذات ہونے کی سندیں لیتے اور دیتے پھر رہے ہیں...... سچ پوچھیے تو مجھے ان جیسوں کی بڑھتی ہوئی پیدائش پر ذرا بھی حیرت نہیں کیونکہ یہ تو کائنات میں ہونے والی پہلی گستاخی یعنی آدم کو سجدے سے انکار کے روز ہی طے ہو گیا تھا کہ ”آدم“ اگر ایک بچے کا باپ کہلائے گا تو ابلیس دس بچوں کا!...... اور ظاہر ہے کہ ایک باپ سے ہونے کے لیے ایک ماں اور دس بچوں کو بیک وقت پیدا کرنے کے لیے کئی ماؤں کی ضرورت ہوتی ہے، مگر صرف ماؤں کی، باپ کون کون ہیں، یہ جاننا اور دیکھنا ضروری نہیں، کیونکہ مقابلہ تعداد کا ہے، اعداد کا نہیں...... چنانچہ وعدے کے مطابق اس سمٹتی، گھٹتی دنیا میں ایسے بے ہودہ اور شرم ناک واقعات کا ناجائز اولاد کی شکل میں ظہور پذیر ہونا کوئی اچنبھے کی بات بھی نہیں البتہ باپوں سے نا آشنا یہ نطفاتِ نا تحقیق جب ہرزہ سرائی،
ہذیان، ٹھٹھول اور استہزا پر اتر آئیں تو بہتر یہی ہے کہ مسل دیا جائے اور اگر فی الوقت یہ ممکن نہ ہو سکے تو کم از کم انہیں اس کام پر ضرور لگا دیا جانا چاہیے کہ وہ اپنے اصلی باپ کی تلاش میں اپنی اپنی ماؤں سے اُن کی زندگی کے دن اور راتوں میں وقتاً فوقتاً آنے والوں کا حلیہ پوچھ کر فی الفور ایسے خاکے بنائیں جو باپ تک پہنچنے میں اُن کی مدد کر سکیں تا کہ دنیا کو بھی تو پتہ چلے کہ اس قدر غلیظ اور بغض و نفرت کی رطوبت سے سنا ہوا یہ بچہ آخر ہے کس کا؟
گو کہ ڈنمارک میں ہر ناجائز بچہ ایک لینڈ مارک کی حیثیت رکھتا ہے مگر اس کے علاوہ بھی اس ملک کی کئی ایسی پوشیدہ خصوصیات ہیں جو صرف ان ہی کو معلوم ہیں، آپ کو اور مجھے نہیں اور ان خصوصیات ہی کی وجہ سے یہ ملک اپنی ایک علیحدہ اور منفرد شناخت رکھتا ہے......
اب اسی بات کو لے لیجیے کہ یہاں کی ساحلی پٹی جو تقریباً 7000 کلومیٹر پر محیط ہے، اس کے صرف چند کلو میٹر ”مہذب مقامات“ کو چھوڑ کر بیشتر حصوں پر جسم کے حصوں کو ڈھانپ کر چلنا معیوب اور فطرت کے تقاضوں کے برخلاف سمجھا جاتا ہے...... ڈینش قوم کی ”دانش“ کے مطابق چونکہ فطرت بے لباس ہے، اُسے کپڑوں کی حاجت نہیں۔ لہٰذا فطرت کی سب سے اعلیٰ تخلیق انسان کو کپڑوں کی کیا ضرورت؟ صرف منہ اٹھائیے (اس کا مطلب ہے کپڑے بالکل نہ اٹھائیے) اور جہاں جی چاہے ”لباس فطرت“ میں نکل جائیے، اس پر بالکل غور نہ کیجیے کہ درخت کو پتوں اور شاخوں نے ڈھانپ رکھا ہے، زمین نے گرد اور مٹی اوڑھ رکھی ہے، آسمان نے بادلوں سے حیا کو برقرار رکھا ہوا ہے، سمندر اپنے حسن کو لہروں کے جھاگ سے چھپاتا ہے اور پھل چھلکوں کی مدد سے اپنی خوب صورتی کو محفوظ رکھتا ہے، بس آپ صرف ڈنمارک کے ساحلوں، تفریحی مقامات، مخصوص باغات اور بے شرم کھدروں میں دیدہ دلیری سے ننگ دھڑنگ گھومیے، ممکن ہے کہ یونہی چلتے چلتے ابو بھی یہیں مل جائیں!...... معروف سعودی اسکالر ڈاکٹر محمد علی العارفی کا کہنا ہے کہ ”انسان اور جانور کے درمیان بڑا اور واضح فرق ایک ہی ہے اور وہ یہ کہ انسان اپنی نفسانی خواہشات پر قابو پا سکتا ہے اور جانور اس صلاحیت سے قطعاً عاری ہے۔“ اسی لیے اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے ایک مقام پر خود سر، سرکش اور ذلت کی پستی میں دھنسے ہوئے کافروں کو مخاطب کرتے ہوئے انہیں چوپائے سے بھی بدتر قرار دیا۔ چنانچہ آپ دیکھیں گے کہ ایسے انسان عبادت و ریاضت سے بے نیاز جب جی چاہتا ہے، سو جاتے ہیں اور جب من چاہتا ہے، اٹھ جاتے ہیں، ان کی زندگیاں ذکر کے کیف اور تسبیح کے سرور سے خالی اور شاید اسی بنا پر ڈنمارک کے یہ چوپائے نما انسان، قدرت و فطرت کی حدود و قیود سے بے فکر جب اور جہاں جی چاہتا منہ مار لیتے ہیں...... زنا کی خواہش مچلتی ہے، زنا کر لیتے ہیں اور جس
طرح کے جنسی تعلقات کے خواہاں ہوتے ہیں ویسے ہی قائم کر لیتے ہیں اس سے قطع نظر کہ یہ جائز ہیں یا ناجائز، حرام ہیں یا حلال، اخلاق کے دائرے میں ہیں یا بداخلاقی کے حاشیے میں، اسی وجہ سے آپ ان کے ہاں ہم جنس پرستی کے احیا اور اُسے ترقی و عروج کی منزلوں تک لے جانے کے لیے اُن میں ایک جنون پائیں گے...... ڈاکٹر محمد علی العارفی کی یہ تحقیق گفتگو آپ www.youtube.com/watch?v=5bBKK47cU61 پر سُن سکتے ہیں......
تاہم ان تمام قبیح رواجوں سے کہیں آگے ڈنمارک کا محکمہ ثقافت و سیاحت یہ بات بڑے فخر سے کہتا ہے کہ: ”ہمارے ملک میں انسانی حقوق کا تو کیا کہنا، جانوروں کے معاملے میں بھی اس حد تک آزادی ہے کہ بعض سرکاری و غیر سرکاری ادارے اُن کتوں، گدھوں، اور سُوروں کو تلاش کرتے ہیں جن کی مادہ نہیں ہے، مرگئی ہے (یا یوں سمجھ لیجیے کہ آج کل فارغ ہیں) اور پھر رضاکارانہ طور پر ہمارے ملک کی عورتیں ان سے باقاعدہ شادی کرتی ہیں، اور شادی کی دستاویزات کے مطابق آدھی جائیداد بھی ان کتوں، گدھوں اور سُوروں کا قانونی حق قرار پاتی ہے، ہمارے نزدیک جانوروں کی تنہائی دور کرنے کا اس سے بہتر طریقہ پوری دنیا میں کہیں اور رائج نہیں ہے۔“ (قارئین چاہیں تو سرچ Denmark میں جا کر ایسی ویب سائٹس اور میگزینز دیکھ سکتے ہیں جو سرکاری طور پر جانوروں کے شادی دفتر کے طور پر قائم ہیں اور ڈنمارک کی گوریاں وہیں سے اپنے دولہوں کا انتخاب کرتی ہیں) ساتھ ساتھ یہ بھی سُن لیجیے کہ ڈنمارک میں Illegitimate بچے کا ہرگز یہ مطلب نہیں ہے کہ اس بچے کی ماں، اپنے بوائے فرینڈ سے تعلقات کے باعث حاملہ ہوئی تھی...... اُن کی سرکاری ویب سائٹ کے مطابق اسپتال میں ایسی ماؤں سے ڈاکٹر کا زیادہ سوال جواب کرنا بھی خلافِ قانون ہے...... ایسے بچے کی رجسٹریشن کرتے ہوئے جب ڈاکٹر، ماں سے دریافت کرے کہ ”اس بچے کا باپ کون ہے؟“ اور اگر ماں صرف اتنے پر ہی اکتفا کرے کہ: ”مجھے نہیں معلوم!“ تو ڈاکٹر کو فوراً خاموش ہو جانا چاہیے کیونکہ ممکن ہے کہ یہ بچہ پیزا ڈلیور کرنے والے کا، کسی کمپنی کے ڈائریکٹر کا، کلرک کا یا پھر ٹیکسی ڈرائیور کا ہو۔“ ایسی صورت میں خانے میں خاموشی سے ”خانہ خراب“ لکھنے کے بعد ڈاکٹر کو ایسی ہی کسی دوسری ڈلیوری کے لیے کمرے سے باہر چلا جانا چاہیے!...... بہرحال آفرین ہے صدر پاکستان پر اور مبارک ہو ہماری وزارت خارجہ کو جو اب تک حرامستان کے سفیر کو پاکستان میں برداشت کر رہے ہیں!!!
ڈاکٹر عامر لیاقت حسین
بغل میں ڈنمارک کا سفیر اور لبوں پہ عشق کا ڈھنڈورا
گذشتہ روز وطن عزیز کے ایک بڑے مفتی صاحب نے مجھ سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے انکشاف کیا کہ آج کل ایوانِ صدر سے شاہ کے وفاداروں کے یہ پیغامات آ رہے ہیں کہ ”محترم مفتی صاحب! ربیع الاول کے مہینے میں سبز جھنڈوں کے بجائے وکلا سیاہ پرچم لہرا رہے ہیں، یہ تو سرکار العالمین حضرت محمد ﷺ کی ولادتِ باسعادت کا مہینہ ہے۔ ہمارے پیارے نبی ﷺ جو تمام جہانوں کے لیے رحمت بن کر آئے، اُن کے یوم ولادت پر کالے کوٹ اور کالے جھنڈوں کی وجہ سے رنگ میں بھنگ پڑ رہا ہے، ایسی صورت حال میں آپ کی خاموشی مناسب نہیں کیوں نا آپ کی جانب سے کوئی فتویٰ جاری ہو یا کم از کم اس پر اظہار مذمت کی ”ایک دو لائنیں“ ہی آجائیں تو کیا ہی بات ہے۔“ جس پر بقول مفتی صاحب، انہوں نے ”رکھ رکھاؤ“ سے انتہائی احتیاط کے ساتھ یہ کہہ کر معذرت کر لی کہ ”جناب عالی! میں خواہشات کو فتوے کا روپ نہیں دے سکتا، اس سے ایک نئی بحث چھڑ جائے گی اور بحثیں چھیڑنا بلکہ یوں کہیے کہ ”چھیڑنا“ میرا کام ہی نہیں۔“ اور یوں بات فون سے شروع ہو کر صبح فون پر ختم ہو گئی...... مجھے نبی کریم ﷺ سے ”عشق کا یہ اظہار“ اور ”سبز جھنڈوں سے صدرِ محترم کا یہ والہانہ پیار“ یقیناً فطری لگتا اگر اُن کی فطرت سے واقف نہ ہوتا...... جو سربراہِ مملکت نفرت انگیز ڈنمارک کے کریہہ، مذموم اور مردود سفیر کو کہ جس سے ہر عاشق رسول ﷺ کو گھن آتی ہو، اُس کی پذیرائی میں خدائی بھول جائے...... ایسا سید زادہ جس کی نسبتیں پاک صلوب میں منتقلی کا نورانی سفر طے کرتی رہی ہوں اور وہ مستند (کسی بھی قسم کے شک و شبے سے بالاتر) حرام زادوں کے ملک کے گماشتے کو پروٹوکول اور میٹھے بول کے ذریعے اپنی چھتر چھایا میں رکھے اور ملک کا ایسا نگہبان جسے کائنات کی جان کی توہین پر اب تک اپنی جان نکلتی ہوئی محسوس نہ ہوتی ہو، اُسے کم از کم سبز جھنڈوں کی حرمت کی بات قطعاً زیب نہیں دیتی!...... ابلیسی دیدہ دلیری کے ساتھ ڈنمارک کے سترہ اخبارات میں گستاخانہ خاکوں کی اشاعت اور قرآن کے
خلاف ہالینڈ کے ایک رکن پارلیمنٹ نمائش کی بے حیا جرأت پر جس اب اُس کے پینے کے لیے نہیں العزت نے آپ کو عطا کیا تھا گنوادیا!...... کبھی مجھے بھی فخر تھا شہادت تک افسوس ہی رہے گا اور جس کا خدا نہیں، خدائی اس کی سے یکا یک پیار ہو گیا ہے) جو سے نفرت اور غیظ وغضب بھی نہیں کیا جاسکتا، ہم جیسے سگِ ہیں اور رب کی عزت کی قسم مصطفیٰ ﷺ کے ساتھ رہے ہیں پڑ گیا، دراڑ آگئی، تزلزل اور بش کے آگے بچھ گیا تو سمجھ زندوں سے بدتر ہو گئے۔ صفح لیے ہے مگر گستاخ رسول ﷺ مفاد اور سیاست کی خاطر سبز سے محبت کیجیے!...... آج سیاہ اسی لیے مرے آقا ﷺ سے خاطر اور اُس کے لیے اچانک کئی مرتبہ ”اسلام آباد میں میرا کہ سبز جھنڈے لگا دیے جا تک جشنِ ولادت کے سبز کا سبزہ اب تک کیوں نہ ”بلیک فلیگ ویک“ ناکام سروکار نہیں، ہم تو عشق محمد
خلاف ہالینڈ کے ایک رکن پارلیمنٹ کی جانب سے بنائی گئی قابل اعتراض فلم کی اسی ہفتے ممکنہ نمائش کی بے حیا جرأت پر جس حاکم نے اپنے لب سی لیے ہوں، سرکار ﷺ کے عشق کا جام اب اُس کے پینے کے لیے نہیں! آخرت سنوارنے کا ایک موقع ”مکمل اختیار“ کے ساتھ رب العزت نے آپ کو عطا کیا تھا، افسوس! کہ امیج یا آرمیج کی خاطر آپ نے اسے بھی گنوا دیا! ......کبھی مجھے بھی فخر تھا کہ میں آپ کے ساتھ ہوں، پر جب سے ”حر“ بنا ہوں، شہادت تک افسوس ہی رہے گا کہ کیوں آپ کے ساتھ تھا؟ جو رسول کا نہیں، اُس کا خدا نہیں، اور جس کا خدا نہیں، خدائی اس کی کیونکر؟ جناب صدر! (اور وہ دیگر جنہیں آج کل سبز جھنڈوں سے یکا یک پیار ہو گیا ہے) جہاں حضور ﷺ سے عشق و محبت ایمان کا تقاضا ہے، وہیں گستاخ سے نفرت اور غیظ و غضب بھی ایمان کی بنیاد ہے، ان دونوں جذبوں کو ایک دوسرے سے جدا نہیں کیا جاسکتا، ہم جیسے سگِ آستانِ محمد ﷺ تو اب تک زندہ ہی اس ناموس کی برکت سے ہیں اور رب کی عزت کی قسم! جب تک اس وابستگی اور غیرتِ ایمان کا ارتباط ناموسِ مصطفیٰ ﷺ کے ساتھ رہے گا تب تک ہم بھی زندہ رہیں گے، اگر یہ رشتہ کٹ گیا، کمزور پڑ گیا، دراڑ آ گئی، تزلزل اور مصلحت کوشی کا شکار ہو گیا، آدابِ سفارت کاری میں دب گیا یا بُش کے آگے بچھ گیا تو سمجھ لیجیے کہ ایمان کمزور ہو گیا، یقین لرز گیا، عشق کا پودا جل گیا اور ہم زندوں سے بدتر ہو گئے۔ صدر محترم! شک کا فائدہ ہر ملزم کو جاتا ہے اور یہ قانون ہر جرم کے لیے ہے مگر گستاخِ رسول ﷺ کے لیے نہیں کیونکہ ناموسِ محمد ﷺ ہر شے سے عظیم تر ہے، اپنے مفاد اور سیاست کی خاطر سبز جھنڈوں سے لگاؤ کے بجائے سچے دل سے صرف سبز گنبد والے سے محبت کیجیے! ...... آج سیاہ پرچم اسی لیے برے لگ رہے ہیں نا کہ وہ آپ کے خلاف ہیں، اسی لیے مرے آقا ﷺ سے سبز پرچم ”اُدھار“ مانگ رہے ہیں، وہ بھی اُن کی خاطر نہیں، اپنی خاطر اور اُس کے لیے اچانک 12 ربیع الاول کی پرکیف گھڑیاں بھی یاد آگئیں مگر آپ نے تو کئی مرتبہ ”اسلام آباد میں سیرت کانفرنس“ کی صدارت فرمائی ہے، کبھی وہاں خیال کیوں نہ آیا کہ سبز جھنڈے لگا دیے جائیں؟ 8 سال سے ایوانِ صدر پر یکم ربیع الاول سے 12 ربیع الاول تک جشنِ ولادت کے سبز پرچم کیوں نہیں لہرائے گئے؟ وزیر اعظم ہاؤس پر نقشِ نعلین اور ایمان کا سبزہ اب تک کیوں نہ اُگ سکا؟ یہ آج اچانک محبت کیوں جاگ اُٹھی؟ صرف اس لیے کہ ”بلیک فلیگ ویک“ ناکام ہو جائے ...... ہمیں تو ویسے بھی اُن کی کامیابی اور ناکامی سے کوئی سروکار نہیں، ہم تو عشق میں جلے ہوئے ”کٹکھنے“ ہیں، چیف جسٹس جائیں یا اعتزاز احسن، نہ
ہمیں بحالی سے لینا دینا اور نہ ہی بے حالی سے دلچسپی...... خلافت کس کا حق ہے اور حاکم کون بنتا ہے؟ یہ بلال، ابوایوب، ابوذر، سلمان فارسی، حذیفہ الیمانی، جابر، عبداللہ ابن مسعود اور عمار یاسر رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین جیسے عشاق کا کبھی مسئلہ تھا نہ رہے گا...... ہم تو گستاخوں کو تلاش کر کے لاش بنانے والے در مصطفیٰ ﷺ کے فقیر ہیں جن کی آنکھوں میں لہو اور نمی یکجا ہیں، لہو اُن کے لیے جو گستاخ کی حمایت کرتے ہیں اور نمی اُن کے لیے جو عنایات کے مالک کے محبوب کے لیے یہ حقیر سی جان عنایت کرتے ہیں...... کسی چیز کو آگ پر جلا دیں تو وہ کشتہ ہو جاتی ہے، بادام کو رگڑ رگڑ کر آگ پر جلایا تو وہ کشتہ ہو گیا...... کشتہ چاندی کا بھی ہوتا ہے اور سونے کا بھی، اگر کچا ہو تو ہلاک کرتا ہے اور جل جائے تو تریاق بن جاتا ہے۔ لہٰذا عشق محمد ﷺ میں جب تک وجود جل نہ جائے زہر ہے، اللہ نے یہ زندگی عطا کی اپنے حبیب ﷺ سے محبت کے لیے ہے، اسے اُن کی محبت میں جلا دیجیے، یہ بھی کشتہ ہو جائے گی...... جناب صدر! جب تک محبت مصطفیٰ ﷺ میں کشتہ نہیں ہوں گے، Expiry Date برقرار رہے گی اور جس دن حب احمد ﷺ میں ”قلب مشرف“ کشتہ ہو گیا تو کوئی Date of Expiry نہیں رہے گی، زندگی کو تو موت ختم کرتی ہے لیکن محبت میں کشتہ تو پہلے ہی فنا ہو جاتا ہے، اُسے موت کیا مارے گی...... اللہ کے واسطے! سبز جھنڈوں سے محبت کا جھوٹا دم بھرنے کے بجائے کشتہ بن کر اپنے آپ کو فنا کر لیجیے، ادھر فنا ہونے کی دیر ہے کہ بقا اپنی لذت ہمیشہ کے لیے امر کر دے گی، اُنہیں منانے دیجیے بلیک فلیگ ویک، آپ صرف اپنے ”ویک ایمان“ کو یقین کا فلیگ بنا کر دیکھیے، یہ گزارشات بھی اسی لیے ہیں کہ کچھ وقت آپ کے ساتھ گزارا ہے، جی نہیں چاہتا کہ رسوائی آپ کا مقدر بنے، میں تو کل بھی آپ کو ستاروں کی طرح مسکراتے دیکھنا چاہتا تھا، آج بھی بادلوں کی طرح سفر کرتے دیکھنے کا خواہش مند ہوں، بس اتنا جان لیجیے کہ ستارے اور بادل آسمانوں کا مقدر ہیں، اور آسمان کے ماتھے کا ٹیکا ماہتاب ہے، اور ماہتاب کی قسم ماہتاب کے رب نے قرآن میں کھائی ہے اور یہ قسم اس لیے نہیں کھائی کہ ماہتاب حسین ہے بلکہ اس لیے کہ ”پیارے تیرا چہرہ تو بولتا ماہتاب ہے!“...... بس ایک دفعہ اُسی پیارے محمد ﷺ سے پیار کر کے دیکھیے، وہ آپ کو ”افتخار“ سے ”نواز“ دے گا......!!!
۞ ۞ ۞
ڈھیل جس کا کوئی شریک نہ وعدہ کرتا ہے۔ لہٰذا ا سکے...... ڈھیل تو وہ د کو بھی جو گناہوں کے ہے اور اُن کو بھی جن جھٹکے کہ اب تک جو اللہ کے لہجے میں غ یوں بچا کیا کہ مجرا کر گئی...... میرے ب استعمال کرنا اصل خ کے ادا کیے ہوئے ق کی رفتار پر قابو پانے چاہیے کہ ”یوم الحسا پھر بے علم اور بے خب اب منہ میں موجو مرزوق اپنے خالق رہ گئے نہیں۔...."باطل "
ڈاکٹر عامر لیاقت حسین
ڈھیل، ابابیل اور نفیل.....!
ڈھیل تو وہی دے سکتا ہے جو اس پوری کائنات کا اکیلا خالق اور مالک ہے اور جس کا کوئی شریک و ہمسر نہیں...... اور جو ”شراکت“ کے ”مہین تصور“ پر ”عذاب مہین“ کا وعدہ کرتا ہے۔ لہٰذا کسی بھی بشر، حشر یا چودھری کے بس میں نہیں کہ وہ کسی کو ڈھیل دے سکے...... ڈھیل تو دراصل اُسی نے سب کو دے رکھی ہے جو کھینچنے کی بھی طاقت رکھتا ہے...... اُن کو بھی جو گناہوں کے باوجود ہر روز نعمتوں کے حصول کے بعد یہ سمجھتے ہیں کہ اللہ اُن سے راضی ہے اور اُن کو بھی جن کے لفظوں، چہروں اور دلوں پر جھریاں پڑ چکی ہیں۔ مگر یہ گمان کرتے نہیں تھکتے کہ اب تک جوان ہیں...... تاریخ گواہ ہے کہ گوشت پوست سے بنے وجود نے جب بھی اللہ کے لہجے میں گفتگو کی کوشش کی تو پروردگار کے ”گائیڈڈ میزائلز“ نے آخری ہچکی تک اُس کا یوں پیچھا کیا کہ عبرت ناک اور سسکتی موت جزا اور سزا کا رہتی دنیا تک معیار اور پیمانہ مقرر کر گئی...... میرے خیال میں عمدہ چیز کو حاصل کر لینا کوئی خوبی نہیں بلکہ اُس کو عمدہ طریقے سے استعمال کرنا اصل خوبی ہے...... لہٰذا احتیاط کیجیے کہ اُس کی بارگاہ میں حساب کا آغاز آپ ہی کے ادا کیے ہوئے لفظوں اور جملوں سے ہوگا...... طاقت کے نشے سے جنم لینے والے اظہار نفس کی رفتار پر قابو پائیے کیونکہ تعلیم یافتہ شخص کو جاہل کے مقابل گناہوں سے یوں بھی زیادہ ڈرنا چاہیے کہ ”یوم الحساب“ اُس سے اس بات کا ضرور حساب لیا جائے گا کہ وہ باعلم اور باخبر تھا پھر بے علم اور بے خبر کیوں بن گیا......؟ مجھے یقین ہے کہ ”ڈھیل“ لفظ استعمال کرنے کے لیے اب منہ میں موجود ہڈی کے بغیر گوشت (زبان) کی حرکت حدود سے تجاوز نہیں کرے گی اور مرزوق اپنے رازق کے اختیار پر للچائی ہوئی نظریں کبھی نہیں ڈالے گا......!!
رہ گئے اللہ کے گائیڈڈ میزائلز...... تو اس میں کسی کو حیران ہونے کی ضرورت نہیں...... ”ابابیل“ اللہ کا وہ گائیڈڈ میزائل ہے جو صحیح لگا ہر نشانے پر جب اسے لگایا گیا......
شاید اِسی سبب مجھے نام نیک کے ہذیان، نسیان اور جنون سے کوئی سروکار نہیں...... حضرت عبدالمطلب نے ابرہہ سے ملاقات کے بعد خانہ کعبہ کے حلقے کو پکڑ کر اللہ جل مجدہ کی بارگاہ میں یوں فریاد کی تھی کہ
لَا يَغْلِبَنَّ صَلِيْبَهُمْ وَمَحَالُهُمْ غُدْوَامِحَالَكْ
اِنْ كُنْتَ تَارِكَهُمْ وَقِبْلَتَنَا فَاَمْرٌ مَّا بَدَاكْ
”اے اللہ! بندہ بھی اپنے کجاوے کی حفاظت کرتا ہے سو تو بھی اپنے گھر کی حفاظت فرما...... کہیں ایسا نہ ہو کہ اُن کی صلیب کل تیرے گھر پر غالب آجائے اور نصب کر دی جائے اور اگر تو اِن کو اور ہمارے قبیلے کو آزاد چھوڑنے والا ہے تو جس طرح تیری مرضی ہو تو اُسی طرح کر“...... اور پھر اس دعا کے بعد حضرت عبدالمطلب ایک پہاڑ کے غار میں چلے گئے اور ”مستجاب الدعوات“ بن گئے...... ابرہہ کے لشکر میں نفیل بن حبیب بھی موجود تھا جس نے پہلے خثعمی قبیلے کو قبائل عرب کے ساتھ ملا کر ابرہہ سے جنگ کی تھی لیکن شکست کے بعد اُس نے ابرہہ سے یہ درخواست کی کہ ”اے بادشاہ! مجھے قتل نہ کر کیونکہ میں سرزمین عرب میں تمہارے لیے رہنما کا کام کروں گا اور میں خثعم کے قبیلوں شہران اور ناہس کی جانب سے اظہارِ اطاعت کے لیے اپنے دونوں ہاتھ تیری خدمت میں پیش کرتا ہوں“...... اور یہیں ابرہہ سے وہ بھیانک غلطی ہوئی جو اُس کی اذیت ناک موت پر منتج ہوئی...... اُس نے نفیل کو معاف کر دیا اور مکہ مکرمہ کی طرف نفیل کی رہنمائی میں پیش قدمی کی...... نفیل کو عبدالمطلب کی طرح یقین تھا کہ ابرہہ اللہ کے گھر کو ڈھانے میں کبھی کامیاب نہیں ہو سکتا اس لیے جب Mammoth کے لشکر (ہاتھی والوں) نے کعبے کا رخ کیا تو نفیل نے سب سے بڑے Mammoth کا کان پکڑ کر اُس سے کہا کہ ”بیٹھ جا یا جدھر سے آیا ہے اُدھر ہی کو لوٹ جا کیونکہ اللہ کے مقدس شہر میں ہے“...... یہ سنتے ہی ہاتھی بیٹھ گیا اور نفیل دوڑتا ہوا قریبی پہاڑ کی چوٹی پر چڑھ گیا...... اِسی اثنا میں ابابیل (Guided Missiles) کی ایک ٹکڑی سمندر کی جانب سے اُڑتی ہوئی آئی...... ہر پرندے کی چونچ اور دونوں پنجوں میں ایک ایک کنکری تھی جس کی مقدار (سیرت ابن ہشام مع الروض الانف کے مطابق) چنے اور مسور کے دانوں کے برابر تھی...... جس کے سر پر وہ گرتی، اُس کے فولادی خود کو چیرتی ہوئی اُس کے جسم کے پار ہو جاتی...... نفیل پہاڑ کی چوٹی سے اللہ کے عذاب کا ہول ناک منظر اپنی آنکھوں سے دیکھ رہا تھا، اُس وقت اُس نے کہا
وَالْأَشْرَمُ الْمَغْلُوبُ لَيْسَ الْغَالِبُ
اے بھاگنے کا راستہ کہاں جبکہ اللہ تعالیٰ تمہارے تعاقب میں ہے اور ہونٹ کٹا ابرہہ مغلوب ہے، اب اسے غلبہ نصیب نہیں ہو سکتا“......
وَخِفْتُ حِجَارَةً تُلْقَى عَلَيْنَا
”میں اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا کرنے لگا جب میں نے پرندوں کے اُس جھنڈ کو دیکھا...... اور جب ہم پر سنگ باری ہو رہی تھی تو میں لرزہ براندام تھا“...... گائیڈڈ میزائلز نے ہر گستاخ کا پیچھا کیا اور جس پر پڑا، اُس کا انگ انگ گل کر یوں گر پڑا کہ جیسے کبھی اُس کے جسم کا حصہ ہی نہ تھا۔.....
میں متجدد ہوں نہ حد سے زیادہ روشن خیال...... ایک ادنیٰ، عاجز اور حقیر بندہ ہوں جو صرف یقین کرنا جانتا ہے اور عقل کی جہتوں اور شک کی سرحدوں سے ہمیشہ حدِ فاصل رکھتا ہے۔..... میرا ایمان ہے اور اللہ اِسی ایمان کے ساتھ اگر مجھے اُٹھالے تو شاید میری بخشش کا ساماں ہو جائے کہ ”حرمِ پاک کی حفاظت اور تحفظ کی ذمہ داری اُسی بے عیب اور نقائص سے مبرا ذات کی ہے جس نے آدم سے خاتم تک بیت المعمور اور کعبۃ اللہ کو عرش اور فرش کے درمیان صراطِ مستقیم کی طرح ظاہر، روشن اور یکتا رکھا“...... تو پھر ہم ایک لمحے کے لیے عبدالمطلب اور نفیل کیوں نہیں بن جاتے......؟ چاندنی رات میں جب کتا چاند سے جل کر اُس کی جانب منہ کر کے مسلسل بھونکتا ہے تب چاند کیا کرتا ہے؟ بادلوں میں چھپنے کی کوشش یا بے نیاز ہو کر تاریک راستوں کا سفر؟ تو پھر بھونکنے دیجیے چاندنی سے بیزار ایسے تمام آوارہ کتوں کو جنہیں احساسِ ذلت ہے اور نہ فکرِ ملت...... اِن گستاخ آوازوں کو صرف آپ کی توجہ چاہیے، یہ بے چین اور حالتِ تڑپ میں ہیں کہ کوئی تو اِنہیں جواب دے اور اپنے مکروہ نظریات کا تھوک اُڑاتے ہوئے رذالت کی ہر حد پار کر جائیں...... آپ نفیل کی طرح انتظار اور عبدالمطلب کی طرح دعا کیجیے...... جس کا گھر ہے وہی سنبھالے گا اور اپنے حکم کے تابع بادلوں کے دامن سے ابابیلوں کا ایک اور لشکر نکالے گا...... ہر ابرہہ کی تقدیر میں ڈھیل، ابابیل اور نفیل ہے۔..... ڈھیل جو وقت مقرر تک دی جاتی ہے۔..... اور ابابیل، جس کی کنکری لہو تک پی جاتی ہے۔ آئیے کہ نفیل بن کر یہ منظر دوبارہ دیکھیں۔.....!!!
٭ ٭ ٭
سلیم یزدانی
ڈنمارک کے اخبار کی اشتعال انگیزی
چودہ سو سال کی تاریخ گواہ ہے کہ دنیا کے کسی بھی حصے میں اگر کسی نے نبی کریم ﷺ کی شان میں گستاخی کرنے کی جسارت کی تو مسلمان دنیا کے کسی بھی گوشے میں رہتے ہوں، وہ سراپا احتجاج بن گئے۔ اس دفعہ بھی وہی ہوا کہ ڈنمارک کے اخبار Jyllands-posten نے حضور ﷺ کی شان میں جو شرمناک خاکے شائع کیے تھے، اس پر مسلمانانِ عالم نے شدید غم و غصے کا اظہار کیا اور وہ سڑکوں پر آگئے۔ اسی قسم کا ردعمل یورپ میں بھی ہوا، امریکہ میں بھی، ایشیا اور افریقہ میں بھی ہوا اور میں یہ سمجھتا ہوں کہ یہ بہت کم ہوا غم و غصہ کا جتنا بھی اظہار کیا جاتا وہ کم تھا۔ لیکن اسلام کے مخالفین کو یہ پیغام پہنچ گیا کہ آج کا مسلمان بھی نبی کریم ﷺ سے اتنی ہی محبت کرتا ہے، ان کا اتنا ہی احترام کرتا ہے، ان کی خاطر جان دینے کا وہی جذبہ اس کے اندر موجود ہے جو حضور ﷺ کے دور میں موجود تھا اور یہ جذبہ کبھی ختم نہیں ہو سکتا۔ جو معافی نامہ اخبارات میں شائع ہوا ہے، اس پر اخبار کے چیف ایڈیٹر کے دستخط نہیں۔ انہوں نے جان بوجھ کر یہ حرکت کی ہے، اس کی سزا انہیں ملنی چاہیے۔ ہمارے اس خیال کو اس سے بھی تقویت ملتی ہے کہ ڈنمارک کی اپوزیشن بھی یہ مطالبہ کر رہی ہے کہ توہین آمیز خاکوں کی اشاعت میں حکومت کے کردار کی تحقیقات کی جائے۔
دہشت گردی اور انتہا پسندی کا اسلام سے دور کا واسطہ بھی نہیں ہے۔ اسلام امن و سلامتی کا دین ہے اور یہ تاریخ سے ثابت ہے۔ عہد نبوی ﷺ کو لے لیجیے، اس میں جو غزوات ہوئے اور جو سرایا پیش آئے، ان میں 759 مخالفین ہلاک ہوئے اور 259 مسلمان شہید ہوئے۔ مخالفین جو اسلام کو دہشت گرد تصورات کا حامل کہتے ہیں، نبی کریم ﷺ کے پیروکاروں کو انتہا پسند کہتے ہیں، وہ جواب دیں کہ انتہا پسند ایسے ہوتے ہیں؟ اخبار کا ایڈیٹر کیا یورپ کی تاریخ سے بھی ناواقف ہے، کیا اسے پتہ نہیں ہے کہ اسپین پر مسلمانوں نے ایک
ہزار سال سے زیادہ حکومت کی اگر وہ انتہا پسند ہوتے تو کیا اسپین میں آج ایک بھی عیسائی یا یہودی ہوتا؟ ان کے نبی ﷺ نے تو دوسرے مذہب والوں سے بہتر سلوک کی تعلیم دی ہے۔ کیا انہیں علم نہیں کہ اسپین کے مسلمانوں نے ہی انہیں اندھیروں سے نکالا تھا؟ کیا یہودی بھول گئے کہ اسپین میں مسلمانوں کے دور میں وہ ہر لحاظ سے عروج پر تھے؟ یہ بات اہل یورپ کو اور اسلام کے مخالفین کو سمجھ لینی چاہیے کہ اس اخبار نے کسی سیاسی لیڈر، کسی ریفارمر یا کسی مسلمان بادشاہ یا حکمران کا مذاق نہیں اڑایا ہے، اس نے نبی ﷺ کی شان میں گستاخی کی ہے۔
عیسائی دنیا کی کوئی کتنی بڑی شخصیت کیوں نہ ہو وہ عیسیٰ سے بڑی اور محترم نہیں ہو سکتی۔ ان کی شخصیت و کردار کا مقابلہ کسی بھی بڑے سے بڑے انسان سے نہیں ہو سکتا۔ اسی طرح نبی کریم ﷺ کا مقام عظمت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے بعد وہ انبیا کے سردار ہیں۔ وہ ایک ایسی ہستی ہیں جن پر اللہ تعالیٰ، اس کے فرشتے درود و سلام بھیجتے ہیں اور اللہ کا حکم ہے اہل ایمان کے لیے کہ وہ بھی نبی پاک ﷺ پر خوب خوب درود و سلام بھیجیں اور اس کے ساتھ ہی انسانیت کی معراج کبریٰ اور شرف اعلیٰ نبی اکرم ﷺ کی ذات پر ختم ہو گیا۔ اگر مسلمان عوام اور حکومتیں انتہا پسند ہوتیں تو پہلے اقدام کے طور پر یورپ کے لیے تیل کی ترسیل پر پابندی لگا دیتیں، ذرا سوچیے اس وقت یورپی ملکوں کا کیا حال ہوتا! توہین آمیز خاکوں کی اشاعت پر ڈنمارک کی حکومت کا ردعمل یہ بتاتا ہے کہ وہ اس سازش میں ملوث ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس وقت اس اخبار نے یہ گھناؤنا اور قابل مذمت کام کیوں کیا؟ ایسا لگتا ہے کہ یہ ایک منصوبے کے تحت کیا گیا اس کے کچھ مقاصد تھے وہ یہ چاہتے تھے کہ یہ نازیبا حرکت کر کے اس بات کا اندازہ لگایا جائے کہ مسلمانوں میں اسلام سے کس قدر وابستگی رہ گئی ہے؟ کیا وہ اپنے رسول ﷺ سے ماضی کے مسلمانوں جیسی محبت کرتے ہیں؟ اب انہیں یہ اندازہ ہو گیا ہوگا کہ مسلمان آج بھی اپنے دین سے وابستہ ہے اور اسے اپنے نبی ﷺ سے اپنی جان سے، مال سے اور اولاد سے زیادہ محبت ہے۔ ان کا دوسرا مقصد یہ تھا کہ اس ردعمل کو دکھا کر وہ اہل دنیا کو یہ باور کراسکیں کہ مسلمان انتہا پسند ہیں، دہشت گرد سوچ رکھتے ہیں اس دین کی طرف نہ جاؤ اس لیے کہ یورپ اور امریکہ میں لوگ تیزی سے اسلام قبول کر رہے ہیں اس ردعمل نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ وہ جس دین کو قبول کرنے کے لیے آگے آ رہے ہیں، یہ سچا دین ہے اس کی یہ سچائی ہی تو ہے جو اس کے پیروکاروں کو اعلیٰ اقدار کے لیے جان تک دینے کے لیے تیار رکھتی
ہے۔ حضور نبی کریم حضرت محمد ﷺ کی ذات تمام تر سچائیوں اور خوبیوں کا مرقع ہے، تعریف و توصیف و ثنا کی ہر جہت آپ ﷺ کی ذات گرامی پر ختم ہوتی ہے۔ آج یہ ثابت ہو گیا ہے کہ مسلمانوں کی قوت کا راز ان کے جذبۂ ایمانی اور حب رسول ﷺ میں ہے، ہتھیاروں اور فوجی کثرت پر نہیں۔
رسول اکرم ﷺ کی شان میں گستاخی کا ارتکاب آزادی اظہار کا سہارا لے کر کیا گیا۔ یہ کیسی اظہار رائے کی آزادی ہے کہ برطانیہ کے معروف تاریخ دان کو صرف اس لیے جیل میں ڈال دیا گیا ہے کہ اس نے آسٹریا میں دو ایسی تقریریں کی تھیں جس میں اس نے ثابت کیا تھا کہ یہ کہنا کہ جرمنی میں 6 ملین یہودیوں کا سفاک طریقوں سے صفایا کر دیا گیا، سفید جھوٹ ہے۔ ہولو کاسٹ کا نظریہ جھوٹ اور پروپیگنڈہ ہے۔ یہ تقریریں اس نے 1989ء میں کی تھیں اور شاید اسی سے متاثر ہو کر ایرانی صدر نے یہ کہا کہ یہودیوں کے قتل عام کا نظریہ اس صدی کا سب سے بڑا جھوٹ ہے، مذکورہ تاریخ دان ان دنوں جیل میں ہیں۔ ڈیوڈ ارونگ کی عمر 67 سال ہے۔ انہیں نومبر 2005ء میں گرفتار کیا گیا تھا۔ اب انہیں تین سال کی سزا سنا دی گئی ہے۔
اسلام کے مخالفین کو وہ یورپ میں ہوں یا امریکہ میں، انہیں یہ بات سمجھ لینی چاہیے کہ اسلام کی دعوت کو سازشوں سے نہیں روکا جاسکتا، یورپ اور امریکہ میں ایک ایسی لابی موجود ہے جو اہلِ یورپ اور امریکہ والوں کو اسلام اور مسلمانوں کے خلاف اٹھانے کے لیے سازشیں کر رہے ہیں۔ وہ انہیں خوفزدہ کر رہے ہیں کہ اسلام کمیونزم سے بھی زیادہ خطرناک ہے۔ کمیونزم انسانوں کا بنایا ہوا ضابطہ اور نظریہ تھا۔ اسلام آسمانی دین ہے۔ یہ نظام اور اس کے ضابطے اللہ کے دیے ہوئے ہیں۔ حضرت عیسیٰؑ اور حضرت موسیٰؑ کے دین ان کے اپنے بنائے ہوئے نہیں تھے، ان کو جو بھی ہدایتیں ملی تھیں اور ان پر جو کچھ اتارا گیا تھا وہ اللہ کی طرف سے تھا، اسی طرح حضرت محمد ﷺ پر جو کتاب نازل کی گئی، وہ کتاب اللہ رب العزت کی طرف سے وحی کی گئی ہے، اس لیے اس سے خوفزدہ ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ قرآن تہذیبوں کے تصادم کے خلاف ہے، ظلم کے خلاف ہے، انسانوں کو انسانوں کا غلام بنانے کے خلاف ہے، انسان کے بلا جواز قتل کے خلاف ہے۔ اسلام سچائی کا مظہر ہے، میانہ روی کا دین ہے، یہ انسانوں کے احترام کا سبق دیتا ہے۔
ایک دن نبی کریم ﷺ اپنے صحابہؓ کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک جنازہ سامنے
سے گزرتا نظر آیا۔ آپ ﷺ اٹھ کر کھڑے ہو گئے۔ صحابہ کرام نے کہا حضور یہ تو کافر کا جنازہ تھا، آپ اٹھ کر کیوں کھڑے ہو گئے۔ آپ ﷺ نے فرمایا وہ ایک انسان بھی تھا۔ کچھ سال ہی گزرے ہیں ایک صاحب تھے احمد دیدات وہ ایک عیسائی پادری سے اکثر مناظرہ کیا کرتے تھے۔ وہ امریکی تھا۔ مجھے ایک ایسے مناظرے کو دیکھنے کا اتفاق ہوا، میں عمرے کے لیے گیا ہوا تھا وہاں قیام کے دوران میرے ایک دوست کلیم صدیقی نے ویڈیو ریکارڈ کیا ہوا وہ مناظرہ مجھے دکھایا۔ اس میں اس عیسائی عالم نے حضور ﷺ کی شان میں سخت گستاخانہ لہجہ اختیار کیا، میں نے ویڈیو بند کر دیا، حالانکہ میرے دوست نے اصرار کیا کہ میں اس کو دیکھوں، میں نے دیکھنے سے انکار کر دیا۔ میں نے کہا کہ اللہ اس کو ذلیل اور رسوا کرے گا اور کچھ ہی دنوں بعد امریکی پرنٹ میڈیا اس کی ذلت آمیز کہانیوں سے بھرا ہوا تھا، اللہ نے اسے ایسا ذلیل و رسوا کیا کہ آج اس کا کوئی نام لیوا بھی نہیں ہے۔
مختصر یہ ہے کہ یہ بات اب کسی شک وشبہ کے بغیر کہی جا سکتی ہے کہ ڈینش اخبار نے جو توہین آمیز کارٹون شائع کیے اس میں اس کی بدنیتی اور اسلام دشمنی کو دخل تھا، یہ سب اس لیے کیا گیا کہ مسلمانوں کو مشتعل کیا جائے اور دوسری طرف ڈنمارک کے اسلام دشمن عناصر میں اسلام کے خلاف بولنے کا حوصلہ پیدا کیا جائے جو 9/11 کے بعد سے خوفزدہ ہیں۔ پھر یہ ڈنمارک اور یورپ میں مسلمانوں کی نقل مکانی کو روکا جائے۔ ڈنمارک کے اخبار کے جو خیالات و تاثرات واشنگٹن پوسٹ نے شائع کیے ہیں، اس سے یہی ظاہر ہوتا ہے کہ وہ اپنے کیے پر نادم نہیں ہے اور یہ بجائے خود اشتعال انگیز طرز عمل ہے اگر تمام مسلمان ملک ڈنمارک سے تجارت پر پابندی لگا دیں تو ان کی عقل بہت جلد ٹھکانے آجائے گی۔
۞ ۞ ۞
پروفیسر شمیم اختر
صلیبی صیہونی ٹولے کی توہین رسالت ﷺ مہم
ڈنمارک ایک پاکٹ سائز ریاست ہے جس کی آبادی کراچی کی نصف سے بھی کم ہے اور بحیرہ بالٹک کی یہ ریاست جزیرہ نما اور چند جزائر پر مشتمل ہے جن کا مجموعی رقبہ 43074 مربع کلو میٹر ہے جس میں 62 فیصد اراضی زیر کاشت ہے۔ یورپ کے دوسرے ممالک کی طرح یہ ملک بھی زرعی اور صنعتی ہے۔ دودھ، پنیر اور گوشت (بالخصوص سور کا گوشت) دوسرے ملکوں کو برآمد کیا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ ڈنمارک سے فرنیچر اور کچھ فولاد کی اشیا بھی دوسرے ملکوں میں بھیجی جاتی ہیں۔ شرح خواندگی 99 فیصد بتائی جاتی ہے اور آئینی ملوکیت کے ساتھ ساتھ پارلیمانی جمہوریت بھی موجود ہے۔ کہنے کو اس کی آبادی کا مذہب عیسائیت ہے لیکن معاشرہ جنسی بے راہ روی کا شکار ہے جو انجیل کی تعلیمات کے سراسر منافی ہے۔ اس کا اندازہ اس بات سے بخوبی لگایا جاسکتا ہے کہ وہاں کنواری ماؤں اور کنوارے باپوں کی بہتات ہے جس کے نتیجے میں بچوں کی ولدیت کا تعین بڑا مشکل ہو جاتا ہے۔ بس یونہی سمجھ لیجئے کہ ڈنمارک مادر پدر آزاد معاشرہ ہے۔ اس کا مزید ثبوت یہ ہے کہ 1959ء کے قانون کی رو سے مرد مرد سے اور عورت عورت سے شادی کر سکتے ہیں۔ خیر شادی کیا ہوگی، بس ایک ساتھ رہنے لگتے ہیں۔ اس آزادی پر ڈینش قوم کو بڑا فخر ہے کیونکہ نہ نکاح کی پابندی نہ طلاق کے جھگڑے۔ ہر مرد اور عورت آزاد ہے، جب چاہا ساتھ رہنے لگے اور جب طبیعت سیر ہوگئی تو الگ ہوگئے۔ کیا کرے گا قاضی!! یہی معاشرہ ناروے، سویڈن اور کئی مغربی یورپی ممالک میں بھی قائم و دائم ہے۔ اسے انسانی حقوق سے مالا مال معاشرے سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ یاد رہے کہ صدر کلنٹن نے اپنے انتخابی منشور میں ایک ہی جنس کے افراد کے تعلقات کو قانونی شکل دینے کا بیڑا اٹھایا تھا۔ جبکہ ان کے جانشین جارج بش صلیبی مزاج کے پروٹسٹنٹ عیسائی ہونے کی حیثیت سے اس کے شدید مخالف ہیں۔ اس طرح وہ بنیاد پرست ہوئے۔ 1998ء
میں بیجنگ میں خواتین کی عالمی کانفرنس منعقد ہوئی جس میں اس وقت کی پاکستان کی وزیراعظم بے نظیر بھٹو نے لاطینی امریکہ اور دوسرے ممالک کے مذہبی رجحانات کے حامل سرکاری نمائندوں کے ساتھ مل کر ہم جنس افراد کے تعلقات کو انسانی حقوق کے منشور کی بنا پر تسلیم کرنے سے صاف انکار کر دیا تھا۔ اس میں لاطینی امریکہ کے کیتھولک عیسائی، بدھ مت کے پیرو اور مسلمان سبھی شامل تھے۔ حقوق نسواں کے نام پر جنسی بے راہ روی کو قانونی جواز فراہم کرنا ہر مذہب کی تعلیمات کے خلاف ہے۔ لہٰذا اسے مشرق و مغرب کا تصادم قرار دینا بالکل بے بنیاد ہے۔ اس وقت دنیا کے عوام معاشی طبقات کے علاوہ دین اور لادینیت کے متضاد رجحانات میں بٹے ہوئے ہیں۔
اس کے کئی شواہد موجود ہیں، مغرب کی جنسی اخلاقیات کا ذکر مندرجہ بالا سطور میں کیا جاچکا ہے۔ یہ کوئی نیا رجحان نظر نہیں ہے بلکہ لوط علیہ السلام کی قوم بھی اسی لعنت میں ملوث ہونے کے سبب تباہ و برباد ہوگئی تھی۔ اس کا ذکر انجیل اور قرآن دونوں میں آیا ہے۔ ساتھ ہی اس پر جو قہر خداوندی نازل ہوا، اس کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ چنانچہ ڈنمارک اور مغرب کے ہم جنس پرست اسی نسل سے تعلق رکھتے ہیں جو احکاماتِ مذہبی اور قانونِ قدرت کے خلاف انسانی حقوق کے نام پر جو علم بغاوت بلند کیے ہوئے ہیں۔ نہ انہیں خوفِ خدا ہے نہ نبیوں کا احترام۔ بھلا یہ بدبخت جو یورپی معاشرے کو ایڈز جیسی مہلک وبا میں مبتلا کر رہے ہیں، نبیوں کا مقام کیا جانیں؟ یہ تو نفس پرست ہیں، ذہنی مریض ہیں۔ ان سے بھلا یہ توقع کیونکر کی جاسکتی ہے کہ یہ نبیوں کا احترام کریں گے۔ ان کے لباس شرم و حیا سے مبرا ہیں، یہ لوگ ماں بیٹے، بھائی بہن کے رشتوں کے تقدس کو ہی نہیں مانتے، اس طرح یہ لوگ حیوانوں سے بڑی مماثلت رکھتے ہیں جن کے نزدیک نفس پرستی اور ترغیبات جنسی ہی ان کے رویوں کا تعین کرتی ہے۔
تو ڈنمارک کے ہم جنس پرستوں نے آزادیِ صحافت کا نیا تصور پیش کیا ہے یعنی جس طرح وہ مادر پدر آزاد ہیں اسی طرح وہ دوسروں کو بھی ویسا ہی بنانا چاہتے ہیں۔ اس کا ثبوت شاتم رسول ﷺ اخبار کے مدیر اور ناشر کا یہ موقف ہے کہ انہوں نے پیغمبر اسلام ﷺ کے توہین خاکے اس لیے شائع کیے کہ وہ مسلمانوں کی جانب سے ہونے والے ممکنہ ردعمل کی اصلاح چاہتے تھے یعنی کہ وہ مسلسل ہرزہ سرائی کر کے دنیا کے ایک ارب سے زائد عاشقانِ رسول ﷺ کو اس کا عادی بنا دینا چاہتے ہیں اور انہیں یہ باور کرا دینا چاہتے ہیں کہ وہ اپنے
رسول ﷺ پر اس ہتک آمیز حملے پر مشتعل نہ ہوں بلکہ اسے آزادی اظہار خیال سمجھ کر قبول کرلیں۔ یہی وجہ ہے کہ ڈنمارک کے ایک اخبار کے شائع کردہ خاکوں کو فرانس، ناروے، جرمنی، اٹلی سمیت ایک درجن یورپی ممالک کے اخبارات میں دوبارہ شائع کرایا گیا۔ اس کی وجہ یہ معلوم ہوتی ہے کہ جب یہ خاکے پہلی بار ڈنمارک میں شائع ہوئے تو اسے کسی جنونی کی حرکت سمجھ کر نظر انداز کر دیا گیا اور اس پر کوئی باضابطہ احتجاج نہیں کیا گیا۔ اس طرح یہ ناٹک رچانے والے افراد کو بڑی مایوسی ہوئی کیونکہ اس حرکت سے ان کی نیت تو مسلمانوں کو مشتعل کر کے ان پر انتہا پسندی کی چھاپ لگانا تھی تا کہ ڈنمارک، ناروے، سویڈن، فرانس، جرمنی، اٹلی برطانیہ وغیرہ میں آباد تمام مسلمان تارکین وطن کو ہراساں کر کے ان کا اخراج عمل میں لایا جائے بالکل اسی طرح جس طرح 11 ستمبر کی واردات کو عذر بنا کر ان ممالک میں رہنے والے مسلمانوں پر عرصۂ حیات تنگ کیا گیا تھا۔
ظاہر ہے کہ اگر ایک درجن اخبارات ایسی گھٹیا تحریر یا تصویر کو ”باجماعت“ شائع کرتے ہیں تو اس کی پشت پر ایک بین الاقوامی سازش کارفرما ہے۔ جب مسلم ممالک میں متوقع احتجاجی مظاہرے پھوٹ پڑے تو مغربی ممالک کی جانب سے یکساں بیانات داغے جانے لگے جن میں سب و شتم کو آزادی صحافت سے تعبیر کیا گیا اور احتجاج میں ہونے والے تشدد کے چند واقعات کی انتہائی پرزور مذمت کی گئی۔
مغرب کا یہ ردعمل ایک کورس کی صورت میں ظاہر ہوا جو متوقع تھا۔ امریکہ کی جانب سے انتہائی منافقانہ اور مضحکہ خیز بیانات، نصائح اور تادیبات کا نزول ہونے لگا۔ ایک بیان میں تو یہ بھی کہا گیا کہ یہودی ریاست کی شناخت کا محرک جذبہ سامی نژاد باشندوں سے نفرت ہے۔ جس امریکی افسر نے بھی یہ بیان دیا وہ نہ صرف احمق بلکہ جاہل ہے کیونکہ اسے یہ نہیں معلوم کہ مسلمان بالعموم اور عرب بالخصوص سامی نژاد ہیں۔ حضرت ابراہیم، حضرت اسحاق، حضرت یوسف، حضرت داؤد علیہم السلام وغیرہ سب کو اپنا پیغمبر مانتے ہیں اور ان پر نازل ہونے والی کتب مقدسہ پر ایمان بالغیب رکھتے ہیں۔ اسی طرح حضرت عیسیٰ بن مریم اور انجیل پر بھی ایمان لاتے ہیں اور ان کی شان میں گستاخی بھی اسی طرح برداشت نہیں کر سکتے جس طرح اپنے نبی کی شان میں گستاخی برداشت نہیں کر سکتے۔ ایک ارب سے زیادہ آبادی کو اشتعال دے کر اس سے یہ توقع کرنا کہ وہ اُسے پی جائے گی نادانی ہوگی۔ اور شتم رسول ﷺ
کے مہم جو نادان نہ تھے۔ انہوں نے نہ صرف اسلام بلکہ تمام دیگر مذاہب پر حملہ کیا، اس پر مستزاد یہ کہ اس سارے واقعے کو صلیبی جنگ کا رنگ دینے کی کوشش کی۔ صلیبی جنگ کو ختم ہوئے قریباً ایک ہزار سال ہو چکے ہیں لیکن استعماری ٹولہ راکھ کے اندر دبی ہوئی چنگاریوں کو بھڑکا کر جنگ کی آگ بھڑکانا چاہتا ہے اور یہ جنگ ریاستوں کے بیچ میں نہیں بلکہ مسلم اور عیسائی اقوام کے مابین ہوگی اور جس کے بڑے تباہ کن نتائج ہو سکتے ہیں۔ لیکن ہم پہلے کہہ چکے ہیں کہ یہ مسلمانوں اور عیسائیوں کی ہرگز جنگ نہیں ہے بلکہ یہ لادینیت، بے راہ روی اور شیطانی قوتوں اور ادیان عالم کے پیروؤں کے درمیان معرکہ حق و باطل ہے جس میں مسلمان عیسائی، یہودی، بدھ، جین اور ہندو مت کے لوگ متحد ہو کر اس یلغار کی مزاحمت کر رہے ہیں۔
اس کے پیچھے Samuel Huntington جیسے استعماری جنگجوؤں کا ہاتھ ہے جو اپنے باطل نظریہ ”تہذیبوں کے تصادم“ کو ثابت کرنے کے لیے اوچھے حربے استعمال کر رہے ہیں۔ اس موقع پر حکومت ہند کا رویہ قابل تعریف تھا۔ اس نے ڈنمارک کے اخبار کی نازیبا اشاعت پر سرکاری طور پر اس ملک کی حکومت کو اپنی ناپسندیدگی سے آگاہ کر دیا تھا۔ پاکستان کی غیر مسلم اقلیت جس میں ہندو، سکھ، عیسائی سبھی شامل تھے نے ڈنمارک اور مغربی یورپ کے اخبارات کی شدید مذمت کی جبکہ پاپائے روم نے بھی اسے ہدف تنقید بنایا۔ لہٰذا یہ بات تو ثابت ہوئی کہ کردار کشی کی یہ اشتعال انگیز حرکت غیر مسلم مذاہب کی جانب سے نہیں بلکہ لادین عناصر کی جانب سے کی گئی ہے جو مادر پدر آزاد اور کسی نوع کی اخلاقی اقدار کو نہیں مانتے بلکہ ان کی دھجیاں اڑاتے ہیں۔ برطانیہ کا Economist کوئی مذہبی جریدہ نہیں ہے بلکہ کٹر استعماری چیتھڑا ہے۔
اس سے بڑھ کر غیر اخلاقی حرکت اور کیا ہو سکتی ہے کہ ڈنمارک کے اخبار کے سربراہ نے اعلان کیا کہ اب ان کارٹونوں کی تاریخی حیثیت ہو گئی ہے۔ لہٰذا انہیں قومی عجائب گھر میں رکھا جائے گا، ساتھ ہی ان کو درسی کتب میں موجودہ نصاب میں داخل کیا جائے گا۔ دوسری طرف یہی بد ذات ہماری حکومت پر دباؤ ڈال رہے ہیں کہ دینی مدارس کے نصاب سے وہ مواد خارج کر دیا جائے جو غیر مذاہب کے خلاف ہے۔ یہ دہرا معیار، دوغلی پالیسی، منافقت اور بددیانتی اور ریا کاری نہیں ہے تو اور کیا ہے؟
عظیم سرور
یہ ڈنمارک والے کون ہیں؟
غالباً 1983ء کی بات ہے، میں شکاگو جا رہا تھا۔ اس مرتبہ سستا ٹکٹ اسکینڈے نیویا کی ایئر لائن کا تھا مجھے لندن رک کر شکاگو روانہ ہونا تھا۔ کراچی سے جہاز نے اسلام آباد کا رخ کیا اور پھر پورے افغانستان پر پرواز کرتا ہوا تاشقند کے اوپر سے گزرا۔ میری نشست کھڑکی پر تھی میں نے دیکھا کہ افغانستان میں پہاڑ ہی پہاڑ ہیں۔ 35 ہزار فٹ کی بلندی سے نیچے کہیں کہیں کوئی چھوٹا سا گاؤں نظر آتا تھا۔ اس وقت سوویت یونین نے اپنی فوجیں افغانستان میں اتاری ہوئی تھیں، واپس آ کر میں نے دوستوں سے کہا روس افغانستان میں کچھ بھی نہ کر سکے گا بس پہاڑوں سے ٹکرا کر لوٹ جائے گا۔ لندن جاتے ہوئے ایک گھنٹے کا پڑاؤ ڈنمارک کے شہر کوپن ہیگن کے ہوائی اڈے پر تھا۔ لندن میں 10 دن قیام کے بعد شکاگو کے لیے روانہ ہوا تو ایک بار پھر کوپن ہیگن آنا ہوا۔ اس مرتبہ ائیر لائن نے ایک دن کے لیے ہوٹل میں ٹھہرایا۔ یہ ہوٹل سچا فائیو سٹار ہوٹل تھا۔ اس کے کمرے میں دنیا بھر کا آرام اور خوبصورت کتابچہ ”ڈنمارک میں رہنے کے آداب“ رکھا تھا۔ یہ کتابچہ انگریزی، ڈینش، فرانسیسی اور جرمن زبانوں میں تھا جو ڈنمارک کے محکمہ سیاحت کی طرف سے شائع ہوا تھا۔
یہ کتابچہ بہت دلچسپ تھا اس میں ایک باب میں بہت سی ہدایات تھیں۔ کہا گیا تھا اگر آپ ڈنمارک کے قیام کے دوران میں کسی ڈینش کے گھر مہمان بن کر جائیں تو وہاں آپ کو ان باتوں کا خیال رکھنا ہوگا۔
- 1- جب آپ کو کوئی ڈینش شخص اپنے گھر بلائے اور وہاں آپ دیکھیں کہ کوئی خاتون
گھر داری کے کام میں مصروف ہے تو اپنے میزبان سے یہ مت پوچھیں کہ آپ کی شادی کو کتنا عرصہ ہو گیا؟ کیونکہ ہو سکتا ہے کہ وہ بغیر شادی کے رہ رہے ہوں۔ آپ کے اس سوال سے ان کے دل کو صدمہ پہنچے گا۔
- 2- آپ اگر خاتون خانہ سے بات کریں تو ان کو مسز فلاں کہہ کر نہ مخاطب کریں امکان
اس بات کا ہو سکتا ہے کہ وہ ان صاحب کے ساتھ ویسے ہی رہ رہی ہوں۔ آپ کی اس بات سے ان خاتون کو دکھ ہوگا اور آپ اس طرح بداخلاقی کے مرتکب ہوں گے۔
- 3- اگر آپ اپنے میزبان کے گھر میں کسی بچے کو دیکھیں تو اس بچے کی ذہانت یا شکل و
صورت کی تعریف کرتے ہوئے اپنے میزبان سے یہ نہ کہیں کہ آپ کا بچہ بہت خوبصورت ہے یا ذہین ہے کیونکہ ہو سکتا ہے کہ وہ بچہ اس میزبان کا بچہ نہ ہو بلکہ خاتون خانہ کا بچہ ہو۔ اس طرح ایک جانب آپ کے میزبان کو دلی دکھ پہنچے گا اور ہو سکتا ہے معصوم بچے کو بھی صدمہ ہو۔ اس لیے اس سلسلے میں حد درجہ احتیاط سے کام لیں۔
- 4- آپ کسی دفتر میں کسی خاتون سے ملیں تو ان سے یہ مت پوچھیے کہ آپ کے شوہر کیا
کام کرتے ہیں؟ یا آپ کے شوہر کا نام کیا ہے؟ ہو سکتا ہے وہ خاتون کسی کے بھی ساتھ ایسے ہی رہ رہی ہوں۔ آپ کے سوال کی صورت میں ان کو دکھ پہنچ سکتا ہے۔
- 5- اگر آپ کسی بزنس کے سلسلے میں کسی ڈینش سے ملیں اور وہ آپ کو کھانے وغیرہ پر
مدعو کر لے تو گفتگو میں احتیاط سے کام لیں۔ کسی سے یہ مت پوچھیں کہ کیا آپ کے والد حیات ہیں؟ ہو سکتا ہے اس کو معلوم ہی نہ ہو کہ اس کا والد کون تھا، اس صورت میں زندگی اور موت کی معلومات کیسے ہو سکتی ہیں؟ آپ یہ سوال کر کے اپنے میزبان کو ذہنی اور دلی صدمہ پہنچانے کے مرتکب ہو سکتے ہیں۔
- 6- کسی بھی ڈینش خاتون کو خط لکھتے ہوئے ان کے نام کے ساتھ مسز تحریر نہ کریں
کیونکہ اکثر خواتین مسز ہوئے بغیر مسز ہوتی ہیں آپ کے ان کے مسز لکھنے سے ان کو انتہائی صدمہ ہوگا اور وہ دکھی ہو جائیں گی۔
”ہدایت نامہ سیاح ڈنمارک“ پڑھ کر میرے اوسان خطا ہو گئے۔ الٰہی! یہ کیسا ملک ہے؟ اس ملک کے بارے میں جب یہ سنتے تھے کہ یہ سیکس فری ملک ہے تو اس قسم کا کوئی خیال کبھی نہ آیا تھا کہ معاشرے میں اکثریت ہر اخلاقی بندھن سے آزاد ہو گی۔ پھر یہ خیال آیا کہ یہ لوگ جو کسی سوشل معاہدے کے بغیر میاں بیوی کی حیثیت سے رہ رہے ہیں۔ کیا انسان کہلانے کے مستحق ہیں؟ جانوروں کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ ایسی آزادی ان کے ہاں ہوتی ہے لیکن پھر جانور ایسے معاملات میں نہ حساس ہوتے ہیں اور نہ ان کو کسی بات پر دلی
صدمہ یا دکھ ہوتا ہے۔
ڈنمارک کے 17 اخباروں نے جو خاکے شائع کیے ہیں تو ان کے بارے میں وہ اخبار دلیل یہ دیتے ہیں کہ یہ اظہار رائے کی آزادی ہے۔ اس صورت میں انہیں اس بات کی پروا نہیں کہ اس سے دنیا کی ڈیڑھ ارب آبادی کو دلی اور روحانی صدمہ پہنچتا ہے۔ ڈنمارک کی حکومت بھی اپنے اخبار والوں کو اظہار کا حق دیتے ہوئے اس بات کو کوئی اہمیت نہیں دیتی کہ اس سے دنیا کے مسلمانوں کے جذبات واحساسات کو ٹھیس پہنچے گی۔ بس انہیں اپنے جانوروں جیسی زندگی گزارنے والے لوگوں کے جذبات کا اتنا خیال ہے کہ ہر سیاح کو ”آداب ڈنمارک“ سکھاتے ہیں۔
ہمارا خیال ہے ہمیں انفرادی طور پر ڈنمارک کے سفارت خانے اور حکومت کو خط لکھ کر یہ بتانا چاہیے کہ ہم ان اخبار کے مالکان، صحافیوں اور خاکے بنانے والوں پر مقدمے دائر کرنا چاہتے ہیں اور ان مقدموں کے لیے ہمیں ان تمام لوگوں کی ولدیت کی ضرورت ہوگی۔ برائے مہربانی ان لوگوں کی ولدیت فراہم کی جائے۔ دوسری صورت میں ہم ان کے ساتھ ”ولد نامعلوم“ لکھیں گے یا نام کے ساتھ انگریزی کا حرف ”B“ یا اردو کا حرف ”ح“ لکھ دیں گے۔ پھر ہم دیکھتے ہیں ڈنمارک کے سفارت خانے اور حکومت ان خطوں کے کیا جواب دیتے ہیں؟
ہمیں یقین ہے جن لوگوں نے یہ خاکے شائع کیے ہیں، یہ سب لوگ اسی قبیل کے فرزند ہوں گے جن کے جذبات کے بارے میں ڈنمارک کا محکمہ سیاحت، ہدایت نامہ شائع کر کے ہوٹلوں اور دفتروں میں سیاحوں کے لیے رکھتا ہے۔
ایک سوال علمائے کرام سے کہ جب ڈنمارک میں اکثریت ایسے لوگوں کی ہے جو آزاد روی کی پیدائش ہیں تو کیا ایسے لوگوں کے ہاتھ کا بنایا ہوا مکھن کھانا حلال ہوگا یا حرام؟
محمد ہاشم جاوید
یہ ہے...... مغربی تہذیب
”بڈی“ کے حلق میں ایک روز چبھن سی محسوس ہوئی...... اسے یوں لگا جیسے اندر کوئی چیز پھنسی ہوئی ہے...... یا جیسے کوئی ہڈی کا ٹکڑا ہے جو حلق کی کسی دیوار کے ساتھ چپک گیا ہے...... اور تھوک نگلنے یا سانس لینے کے ہر عمل کے ساتھ وہ ٹکڑا اندر ہی اندر چبھتا ہے...... اس نے چھینک کر...... کھانس کر وہ ٹکڑا نکالنے کی کوشش کی...... لیکن کامیابی نہ ہوئی، وہ زبان باہر نکالتا تو تھوڑی دیر کے لیے آرام آ جاتا...... لیکن زبان اندر کرتے ہی دوبارہ تکلیف شروع ہوتی...... آرام تو خیر کھانستے وقت بھی آتا تھا...... چنانچہ اب زبان باہر لٹکانا اور کھانسنا اس کا معمول بن گیا...... اس کے ڈیڈی نے سینٹ لوئیس کے ڈاکٹروں کو دکھایا...... لیکن وہ مسئلہ دریافت نہ کر سکے...... مختلف قسم کے ٹیسٹ اور انکوائریاں ہوئیں، لیکن تشخیص نہ ہو سکی...... بڈی کمزور ہوتا چلا گیا...... بالآخر ایک ڈاکٹر نے مشورہ دیا کہ بڈی کو نیویارک لے جایا جائے، جہاں جدید ترین مشینوں اور ماہر ڈاکٹروں کی مدد لی جائے...... ڈیڈی ایک امیر کبیر امریکی تھے، انھوں نے جہاز چارٹر کیا اور بڈی کو لے کر نیویارک آ گئے...... بڈی کو ہسپتال لے جایا گیا...... ڈاکٹروں نے معائنہ کیا اور ڈیڈی کو بتایا کہ بڈی کو حلق کا کینسر ہے...... اس کا آپریشن ہو گا...... ڈیڈی گھبرا گئے پیسوں یا مہنگے علاج کی وجہ سے نہیں...... انھیں بڈی کی زندگی زیادہ عزیز تھی...... پیسہ تو ان کے پاس تھا ہی بہت...... بہرحال بڈی کا علاج شروع ہوا، اس کے حلق کا کامیاب آپریشن ہوا...... اس کی کیموتھراپی ہوئی اور آخر میں بڈی صحت یاب ہو کر گھر چلا گیا...... اس علاج پر ڈیڈی کا 40 ہزار ڈالر خرچ آیا......
آپ غلط سوچ رہے ہیں...... آپ سمجھ رہے ہیں...... ڈیڈی نے اپنے بیمار بیٹے پر 40 ہزار ڈالر لگا کر شفقت پدری کا ثبوت دیا...... کاش!...... ایسا ہوتا...... کاش!...... بڈی انسان ہوتا، لیکن بڈی تو فقط ایک کتا ہے...... ایک پالتو کتا...... جسے مسٹر کیل نے ایک یونانی
جہاز ران سے خریدا تھا...... اور اسے بڈی کا نام دیا تھا...... مسٹر کیل کی کوئی اولاد نہیں...... وہ امریکا میں سپر اسٹوروں کی ایک چین کا مالک ہے...... پورے امریکا میں اس کے 85 سپر اسٹور ہیں...... وہ ہر سال اربوں ڈالر کماتا ہے...... یہ اربوں ڈالر کیل اور اس کے کتے بڈی کی ملکیت ہوتے ہیں...... لہٰذا کیل بڑی فراخدلی سے یہ رقم بڈی پر خرچ کرتا ہے...... صرف بڈی اور کیل ہی نہیں...... اس وقت امریکا میں 13 کروڑ 90 لاکھ پالتو کتے اور بلیاں ہیں...... امریکی شہری ان پالتو جانوروں کو اپنی اولاد سے زیادہ چاہتے ہیں...... ان میں سے بے شمار امریکی ان پالتو جانوروں کی وجہ سے شادی نہیں کرتے...... ان گنت لوگ پالتو جانوروں کے باعث اپنی بیویوں یا شوہروں سے طلاق لے لیتے ہیں...... لاتعداد لوگ جوان اولاد کو پالتو جانوروں کی وجہ سے گھر سے نکال دیتے ہیں...... ایسے امریکیوں کی تعداد بھی کم نہیں جو اس لیے نوکری چھوڑ دیتے ہیں...... کہ ان کے کولیگ یا افسر نے ان کے کتے یا بلی سے بدتمیزی کی تھی......
کتوں اور بلیوں سے امریکیوں کی یہ محبت دیکھتے ہوئے ملٹی نیشنل کمپنیوں نے ایک نئے کاروبار کی بنیاد رکھ دی...... وہ دھڑا دھڑ پالتو جانوروں کی چیزیں بنانے لگیں...... مثلاً آپ امریکا کے کسی بڑے اسٹور میں چلے جائیں...... آپ کو کتوں اور بلیوں کی خوراک کے لیے الگ ڈیپارٹمنٹ ملے گا...... آپ کو اس میں سینکڑوں قسم کے ڈبے...... ٹن...... اور بوتلیں ملیں گی...... جن میں کتوں اور بلیوں کے ناشتے...... لنچ...... اور ڈنر کی چیزیں ہوں گی...... ان کے لیے دودھ کی بوتلیں...... جام، مارملیڈ اور مکھن ملے گا...... ان کے لیے سوپ...... گوشت اور مرغی ملے گی...... مچھلی...... جھینگے اور کھمبیاں ہوں گی...... ہیضے اور اسہال کے امراض کے شکار کتوں کے لیے او آر ایس قسم کی چیزیں ہوں گی...... ان کتوں اور بلیوں کے لیے مختلف اقسام کے صابن...... شیمپو...... تیل...... پرفیومز...... پاؤڈر...... ٹوتھ پیسٹ...... اور لپ اسٹک ملیں گی...... ان کی دموں پر چڑھانے کے لیے چھلے...... کلپ اور ہیئر برش دستیاب ہوں گے......
کیلی فورنیا کے ایک فیشن ڈیزائنر نے دو ماہ قبل گدھوں کے لیے ایک پتلون ڈیزائن کی تھی...... جس کی بعد ازاں باقاعدہ نمائش کی گئی اور ہزاروں لوگوں نے ٹکٹ خرید کر یہ نمائش دیکھی...... جانور پروری کا یہ معاملہ اگر یہیں تک محدود رہتا تو شاید اتنی پریشانی نہ ہوتی...... لیکن شاید آپ یہ سن کر حیران ہوں گے...... کہ نیو یارک شہر میں 8 منزلہ جانوروں کا میڈیکل سینٹر ہے...... جس میں اس وقت کتوں اور بلیوں کے 185 اسپیشلسٹ کام کر رہے
ہیں...... اس ہسپتال میں کتوں ...... اور بلیوں کے دل کے امراض ...... آنکھوں ...... ناک ...... کان ...... گلے ...... پھیپھڑوں اور گردوں کا علاج کیا جاتا ہے...... اس سینٹر میں پیوند کاری سے لے کر ڈائیلاسس تک ہوتا ہے...... پلاسٹک سرجری کا شعبہ اور ہڈیوں کا ڈیپارٹمنٹ بھی موجود ہے ...... اس ہسپتال میں دانتوں اور جلدی امراض کا علاج بھی کیا جاتا ہے...... اس میں عام ہسپتالوں کی طرح ایسے ایمرجنسی اور لیبر روم بھی موجود ہیں...... جن میں ایکسیڈنٹ اور زچگی کے مریض لائے جاتے ہیں...... اس ہسپتال میں بلڈ بینک بھی موجود ہے...... جس میں کتوں اور بلیوں کا خون موجود ہوتا ہے...... خون کی اس سپلائی کے لیے سینٹر میں 13 کتے اور 26 بلیاں اور 3 نیولے ہیں...... جن سے وقتاً فوقتاً خون لیا جاتا ہے، اس ہسپتال میں ہر سال 65 ہزار مریضوں کا علاج کیا جاتا ہے...... جبکہ اس سینٹر میں اڑھائی لاکھ ڈالر کی مالیت سے ایک کڈنی سینٹر بھی بنایا گیا ہے...... جس میں جانوروں کے گردوں کا علاج ہوتا ہے۔
نیویارک...... نیویارک کا ایک دوسرے درجے کا اخبار ہے...... اس اخبار کے ایک رپورٹر برنود بلچر نے اس ہسپتال کے بارے میں بڑا دلچسپ انکشاف کیا...... اس کا کہنا ہے...... جانوروں کے میڈیکل سینٹر میں حال ہی میں غیر ملکی جانوروں کا ایک شعبہ کھولا گیا ہے...... جس میں گزشتہ دنوں پینے کے شکار ایک نیولے...... کم خوراکی کا شکار ایک اودھے...... ٹوٹی ٹانگ والے کبوتر ...... اور ٹوٹے پروں والے ایک ہمنگ برڈ کا علاج کیا گیا ہے...... جب کہ ایک خنزیر کے مثانے سے پتھری بھی نکالی گئی...... جس پر 5 ہزار ڈالر خرچ آیا...... اس شعبے میں ایک بطخ بھی زیر علاج ہے...... جس نے دھات کا ایک ٹکڑا نگل لیا تھا......
1980ء تک امریکا میں صرف 500 ویٹرنری ڈاکٹر تھے...... اور وہ بھی بھینسوں...... گائے...... اور بلیوں کا علاج کرتے تھے...... لیکن امریکا کا ایک کتا 50 ہزار زندہ انسانوں سے زیادہ قیمتی ہے...... ایک بلی تیسری دنیا کے ایک ملک کے برابر ہے...... امریکا نے اشرف المخلوقات کو جانوروں سے زیادہ حقیر کر دیا ہے...... اس وقت امریکا میں صرف کتوں اور بلیوں کے 7 ہزار اسپیشلسٹ ڈاکٹرز ہیں...... جبکہ امریکی یونیورسٹیاں ہر سال 39 طبی شعبوں میں سینکڑوں نئے ڈاکٹر تیار کر رہی ہیں...... امریکا میں اس وقت 4 لاکھ جانوروں کی ہیلتھ انشورنس ہو چکی ہے...... امریکا میں امریکی ہر سال کتوں اور بلیوں کی صحت پر 13 ارب ڈالر...... اور خوراک ...... ورزش سنٹروں ...... باتھ روموں ...... ٹریننگ ...... سوئمنگ پولوں ...... ہوٹلوں......
شاپنگ سینٹروں...... پارکوں اور فیشن شو پر 47 ارب ڈالر خرچ کرتے ہیں...... جب کہ پورے پاکستان کا سالانہ بجٹ 7 ارب ڈالر ہوتا ہے...... یعنی امریکی ہر سال 15 کروڑ پاکستانیوں سے 9 گنا زیادہ رقم کتوں اور بلیوں پر خرچ کر دیتے ہیں...... دنیا کے 28 ممالک کا سالانہ بجٹ کتوں اور بلیوں کے اس خرچ سے کم ہے...... یہ ہے امریکا کی اصل تصویر......
"پوری دنیا کے ماہرین اس بات پر متفق ہیں...... کہ اگر امریکا صرف کتوں اور بلیوں کا میڈیکل بجٹ ہی بچالے...... تو دنیا سے ایڈز جیسا مرض ختم کیا جا سکتا ہے...... کینسر کی دوا دریافت ہو سکتی ہے...... دل کے امراض میں مبتلا تمام مریضوں کا بائی پاس ہو سکتا ہے...... پورے کرہ ارض پر موجود لولوں اور لنگڑوں کو مصنوعی ہاتھ اور ٹانگیں لگا جا سکتی ہیں...... 10 لاکھ ایکڑ زمین قابل کاشت بنائی جا سکتی ہے...... امریکا سے لے کر آسٹریلیا تک سڑک بنائی جا سکتی ہے...... دنیا کے ایک چوتھائی یتیم بچوں کو تعلیم دی جا سکتی ہے...... ایک کروڑ جوانوں کی شادی کی جا سکتی ہے...... آکسفورڈ جیسی 24 یونیورسٹیاں بنائی جا سکتی ہیں...... 3 کروڑ لوگوں کو ایک سال تک خوراک فراہم کی جا سکتی ہے...... اور خوراک کی کمی کے شکار 4 کروڑ بچوں کا علاج ہو سکتا ہے۔“
انسانوں کی بقا...... انسانوں کا تحفظ...... امریکی ایجنڈے میں کسی جگہ موجود نہیں...... وہ امریکی جو افغانستان اور عراق کے شہروں پر دن رات بم گراتے ہیں...... ان کی نظروں میں کتوں اور بلیوں کی اہمیت انسانوں سے کہیں زیادہ ہے...... وہ...... بلی کی موت پر ہفتوں آنسو بہاتے ہیں...... گمشدہ کتے کو مالک کے گھر پہنچانے کے لیے تو میلوں سفر کر سکتے ہیں...... لیکن انسانوں کی موت ان کی پلک گیلی...... نہیں کرتی ہے...... اور نہ ہی سسکیوں کو ہوا دیتی ہے...... یہ کیا بے حسی...... کیسی بے رحمی ہے......؟ 1997ء میں ایک امریکی شہری نے اپنے بیٹے کو بچانے کے لیے پالتو کتے کو بلے سے مار دیا تھا...... کتے کی تصویریں اگلے روز اخبار میں شائع ہوئیں...... پورا امریکا سڑکوں پر آگیا...... قاتل گرفتار ہو گیا...... اس کے خلاف مقدمہ درج ہوا...... کیس عدالت میں پیش ہوا...... امریکا کے قانونی ماہرین گھنٹوں یہ سوچ بچار کرتے رہے اگر گھریلو کتا...... بچے پر حملہ کر دے...... تو کیا والد بچے کو بچانے کے لیے کتے کو زخمی کر سکتا ہے؟ یہ بحث امریکی میڈیا میں کئی دنوں تک موضوع بنی رہی...... آخر میں یہ فیصلہ ہوا کہ برقی آلات بنانے والی کمپنیاں ایسے آلات بنائیں کہ جو کتوں کے مالکان ہر وقت جیب میں رکھیں...... جونہی ان کے کتے وحشی ہوں وہ ان آلات کے ذریعے کتوں کو قابو کر لیں......
اس فیصلے کے چند روز بعد کتے کے قاتل کو سزا ہو گئی......
قارئین محترم! درج بالا معلومات سے آپ مغربی طرز اور ان کی تہذیب کا اندازہ لگا سکتے ہیں، ایسے لوگ قابل نفرت نہیں بلکہ قابل رحم ہیں کیونکہ انھوں نے خود کو عقل کے سپرد کر رکھا ہے اور اللہ تعالیٰ کے سچے دین اور اس کے احکامات کی روشنی سے محروم ہیں، لیکن قابل مذمت وہ لوگ ہیں جو مسلمان ہو کر اس روشنی سے آراستہ ہیں، لیکن پھر بھی دن رات اسی فکر میں دبلے ہوئے جاتے ہیں کہ ہم اپنی طرز زندگی میں ہر طرح سے مغربی معاشرہ کی ناکام نقل کریں اور نام نہاد ترقی یافتہ بننے کی کوشش میں مصروف ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو اسلامی طرز معاشرت اپنانے اور اسے ماحول میں رواج دینے کی توفیق سے نوازیں! آمین!
حافظ سجاد متقی
شاتمان رسول...... دیکھیے دیکھیے آئینہ دیکھیے!
نطفہ (SPERM) انسان کا وہ مادہ تولید ہے جسے قرآن مجید میں نطفہ کا نام دیا ہے، یہ ان گنت خوردبینی کیڑوں کا مجموعہ ہے، انہی جرثوموں کے اندر قدرت نے تناسل کی وہ اعلیٰ ترین مشینری نصب کر دی ہے جو انسان کے نوعی امتیاز اور موروثی خصوصیات کو ایک فرد سے دوسرے فرد میں منتقل کرتی رہتی ہے۔ یہ جرثومے انسانی وجود کی تخلیق کا ذریعہ ہیں، برقی خوردبینوں کے ذریعے دیکھنے والوں کو ان کیڑوں میں زندگی کے آثار نہیں ملتے اور یہ باور کرنا مشکل ہو جاتا ہے کہ یہ انسانی وجود کا بیج ہو سکتا ہے مگر درحقیقت اس سے ایک مکمل اور باشعور انسان معرض وجود میں آتا ہے، جو اللہ کی صناعی جمیلہ کا بہترین نمونہ ہے، قرآن مجید میں اسی کو ”احسن تقویم“ (بہترین ساخت) کہا گیا ہے۔
انسان کی ترکیب ایک مرکب خلیے سے ہوتی ہے، جو مرد و عورت دونوں سے حاصل ہوتا ہے، قرآن مجید میں اِنَّا خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ مِنْ نُّطْفَةٍ اَمْشَاجٍ (ہم نے ہی انسان کو مخلوط نطفہ سے پیدا کیا) میں یہی سچی حقیقت واضح کی گئی ہے۔ جرثومہ مردانہ تناسل میں کسی حرکت کا مظاہرہ نہیں کرتے، لیکن رطوبت کے اخراج کے ساتھ ہی ان میں نقل و حرکت شروع ہو جاتی ہے، عام حالت میں رطوبت کی مقدار تین سے چار کیوبک سینٹی میٹر (Cubic centimeter) ہوتی ہے اور ایک سی سی میں 40 سے 150 ملین تک جرثومہ ہائے حیات ہوتے ہیں اور ہر جرثومۂ حیات اپنے اندر ایک مکمل انسان بننے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
مرد و عورت کا جنسی ملاپ ایک فطری ضرورت ہے اور اس فطری ضرورت کو پورا کرنا انسانی جبلت کا حصہ ہے اس کے لیے اسلام نے ازدواجی زندگی کے بندھن کے قیام کے لیے نکاح کا طریقہ مقرر کیا، جس کے لیے مرد و عورت اور ان کے خاندان کے افراد کی موجودگی میں عام محفل کے اندر اس اہم امر کو انجام دیا جاتا ہے، نکاح جن عورتوں سے ناجائز ہے، اس
کی بھی وضاحت کر دی گئی ہے۔ رشتوں میں جائز اور ناجائز کی تمیز کا مقصد رشتوں کے تقدس کو برقرار رکھنا ہے، جنسی تعلق میں بھی اسلام نے جائز اور ناجائز کا فرق رکھا۔ کیونکہ ازدواجی بندھن کا فطری نتیجہ اولاد کی صورت میں نکلتا ہے۔ اولاد ازدواجی بندھن اور ازدواجی رشتے سے ہو تو اسے ”ولد الحلال“ جائز اور قانونی اولاد کو کہا جاتا ہے۔ جو مرد و عورت قانونی طور پر ازدواجی تعلقات قائم نہ کریں، ان کی اولاد غیر قانونی اور ناجائز اولاد (ولدالزنا) کہلاتی ہے۔
مغرب میں جنسی تعلقات کے لیے ازدواجی رشتہ قائم کرنا ضروری نہیں سمجھا جاتا، اسی لیے وہاں ولدیت کے خانے کا تصور نہیں.. بچے کو ماں سے منسوب کیا جاتا ہے، معاشرے کی اکثریت اخلاقی بندھنوں سے آزاد ہوتی ہے اور لوگ کسی سوشل معاہدے کے بغیر ”میاں بیوی“ کی حیثیت سے رہ رہے ہوتے ہیں۔ ایسے لوگوں کو جو جانوروں کی طرح ایک دوسرے سے اپنی ضرورت پوری کرتے ہوں، ان سے انسانیت کی توقع رکھنا ہی کار عبث ہے۔ ان کے نزدیک عزت، توقیر، ادب، احترام کوئی معنی رکھتے ہیں نہ بے عزتی، بے حسی، بے غیرتی اور توہین کا ان کے ہاں کوئی مفہوم ہے۔ جیسا بیج ہو ویسا ہی پھل ہوتا ہے، بُرے بیج سے اچھے پھل کی امید رکھنا نادانی کے سوا کچھ نہیں۔
ان دنوں توہین آمیز خاکوں کی مکرر اشاعت پر سارا عالم اسلام سراپا احتجاج ہے۔ میں سوچتا رہا کہ آخر ڈنمارک والوں کو ڈیڑھ ارب مسلمانوں کی دل آزاری اور روحانی صدمہ کا اندازہ کیوں نہیں ہو رہا، اظہار رائے کی آزادی کے نام پر نبی کریم ﷺ کی توہین کے جس فعل شنیع کے وہ مرتکب ہو رہے ہیں، اس کی وجہ کیا ہے؟ تو معلوم ہوا کہ جن کے اپنے بڑے (والد) نہ ہوں، وہ دوسروں کے بڑوں کا کیا احترام کریں گے؟ جو سر راہ ارتکاب گناہ دیکھ کر یہ کہتے ہوں کہ HAVE A NICE TIME ان سے کسی خیر کی آس لگانا بے کار ہے۔ لیکن اگر اظہار رائے کی آزادی اتنی ہی ضروری ہے تو پھر سیاحوں کو ”رہنے کے آداب“ کیوں سکھائے جاتے ہیں؟ کچھ جائز سوالات پر بھی سیاح کو بداخلاقی کا مجرم کیوں گردانا جاتا ہے؟ اور کسی میزبان، اس کے گھر میں رہنے والے بچے اور خاتون سے شادی، شوہر کے نام اور بچے کی ذہانت اور خوبصورتی کو کسی طرف منسوب کرنے سے دلی رنج، دلی دکھ اور بچے کی معصومیت پر حرف کیوں آتا ہے؟ کسی تاجر اور بزنس مین سے اس کے یا اس کی زندگی سے متعلق پوچھنے سے ذہنی صدمہ کیوں پہنچتا ہے؟ ہر مسافر یا سیاح جو کوپن ہیگن (ڈنمارک کا دارالحکومت) کے
ہوائی اڈے پر اترتا ہے، اس نے وہاں مختصر قیام کرنا ہو یا طویل اسے ایک کتابچہ تھمایا جاتا ہے، جو مقامی زبان ڈینش کے علاوہ انگریزی، فرانسیسی اور جرمن زبانوں میں ہوتا ہے اور اس میں مسافر اور سیاح کے لیے ڈنمارک میں رہنے کے لیے کچھ ہدایات کہہ لیں یا آداب، تحریر ہوتے ہیں۔ کتابچے میں ڈنمارک سے متعلق معلومات، قوانین سے آگہی، سیاحتی مقامات اور دوسرے امور کا ذکر ہونے کے ساتھ آداب مہمانی بھی ایک باب میں بیان کیے گئے ہیں کہ اگر کوئی سیاح کسی ڈینش کے گھر مہمان بن کر جائے تو اسے ان آداب کو ملحوظ رکھنا ہوگا:
- جب کوئی ڈینش شخص آپ کو اپنے گھر مدعو کرے اور آپ وہاں کسی خاتون کو
گھر داری میں مصروف دیکھیں تو میزبان سے یہ سوال مت کریں کہ آپ کی شادی کو کتنا عرصہ ہو گیا ہے؟ ہو سکتا ہے کہ وہ بغیر شادی کے رہ رہے ہوں، یہ سوال انہیں دلی صدمہ پہنچا سکتا ہے۔
- خاتون خانہ کو مسز ..... کہہ کر نہ پکاریں، ممکن ہے وہ صاحب خانہ کے ساتھ ویسے ہی
رہ رہی ہو۔ آپ کی یہ بات نہ صرف خاتون کے لیے دکھ کا باعث ہو گی بلکہ آپ بداخلاقی کے مرتکب بھی ہوں گے۔
- میزبان کے گھر میں کسی بچے کو دیکھ کر اس کی ذہانت اور شکل وصورت کی تعریف
کرتے ہوئے یہ نہ کہیں کہ آپ کا بچہ بہت ذہین اور خوبصورت ہے، کیونکہ اس بات کا امکان ہے کہ وہ بچہ میزبان کا نہ ہو بلکہ خاتون کا ہو، اس سے ایک طرف میزبان کو دکھ پہنچے گا اور دوسری طرف معصوم بچے کو صدمہ ہوگا، اس لیے اس سلسلے میں حد درجہ احتیاط ملحوظ رکھیں۔
- کسی تجارتی کام کے سلسلے میں کسی ڈینش سے ملیں اور وہ آپ کو کھانے پر بلائے تو
گفتگو میں احتیاط سے کام لیں، اس سے یہ مت پوچھیں کہ آپ کے والد زندہ ہیں؟ ہو سکتا ہے، اسے معلوم ہی نہ ہو کہ اس کا والد کون ہے؟ اس صورت میں والد کی زندگی اور موت کی معلومات اسے کیسے ہو سکتی ہیں؟ یہ سوال آپ کے میزبان کو ذہنی اور دلی صدمہ پہنچا سکتا ہے
- کسی دفتر میں کسی خاتون سے ملیں تو اس سے یہ مت دریافت کریں کہ آپ کے
شوہر کیا کام کرتے ہیں یا آپ کے شوہر کا کیا نام ہے؟ ہو سکتا ہے کہ وہ خاتون کسی
کے ساتھ ایسے ہی قیام پذیر ہو، آپ کے سوال کی صورت میں انہیں دکھ پہنچ سکتا ہے ۔
- ☆ کسی ڈینش خاتون کو خط لکھتے ہوئے مسز ان کے نام کے ساتھ نہ لگائیں کیونکہ اکثر
خواتین مسز ہوئے بغیر (شادی کے بغیر ) مسز ہوتی ہیں، انہیں مسز لکھنے سے انتہائی صدمہ ہوگا اور وہ دکھی ہو جائیں گی۔
ان ”ہدایات صادرہ“ کو پڑھ کر انسان کے چودہ طبق روشن ہو جاتے ہیں اور انسان حیران ہوتا ہے کہ جانور اور انسان میں کیا کوئی امتیاز نہیں، ولدیت اور زوجیت سے محروم لوگوں کے جذبات کے مجروح ہونے کا کتنا خیال ہے۔ یہاں اظہار رائے کی آزادی سے انسانوں کو کیوں محروم رکھا جا رہا ہے کہ وہ کسی سے ولدیت کے متعلق پوچھ سکتے ہیں نہ اہمیت کے متعلق، شوہر کے بارے میں کوئی پوچھ سکتا ہے نہ شادی کے بارے میں، مگر نبی اکرم ﷺ کی اہانت وہ بھی سترہ اخبارات میں کیسے جائز قرار پا سکتی ہے۔ ”جانوروں“ کے جذبات کی مجروحیت کے حوالے سے ہدایات جاری کرنے والوں کو اسلام کی توہین انبیا کے متعلق ہدایات کو بھی سامنے رکھنا ہوگا۔ آفتاب پر تھوکنے والوں کو ولدیت اور اہمیت کے آئینے میں اپنا چہرہ دیکھ لینا چاہیے۔
عرفان صدیقی
ملعون رشدی کا مکروہ چہرہ
جی نہیں چاہتا کہ برطانیہ کی ملکہ عالیہ کی طرف سے، بددعاؤں کے ڈسے ایک ناکار شخص کو ”سر“ کا خطاب دینے پر کچھ لکھوں...... اور لکھوں بھی کیا؟ انسانیت کی کشتِ زعفران میں ایسے لوگ خاردار زہریلی جڑی بوٹیوں کی طرح اُگتے اور پھر اپنے ہی زہر کی آگ میں بھسم ہو جاتے ہیں۔ ان کا نہ کوئی نام ہوتا ہے نہ مقام۔ نہ پس منظر نہ پیش منظر۔ پراگندہ خیالات کی بساط میں گندی سوچ انہیں نفسیاتی مریض بنا دیتی ہے۔ یہ نام آوری کے لیے مختصر راہوں کی تلاش میں بھٹکتے رہتے ہیں۔ اس خبطِ بیمار میں وہ بھول جاتے ہیں کہ نام آوری اور رسوائی میں کیا حدِ فاصل ہے؟ پذیرائی اور جگ ہنسائی میں کیا فرق ہے؟ شہرت اور ملامت کو کون سی لکیر ایک دوسرے سے جدا کرتی ہے؟ آزادیِ اظہار اور خرافات بے مہار کیونکر دو مختلف چیزیں ہیں؟ یہ اس احساس سے بے بہرہ ہوتے ہیں کہ تہذیب انسانی کن اقدار پر استوار ہے اور کون سی مکروہات، اشرف المخلوقات کو ڈھور ڈنگر بنا دیتی ہیں۔ کبھی کبھی میں سوچتا ہوں کہ یہ نامراد اور مردود لوگ جنہیں ”معاف“ کر دینا چاہیے۔ یہ وہ کوڑا دان ہیں جو غلاظتوں سے لبالب بھرے، چار سُو تعفن بکھیرتے رہتے ہیں لیکن بستیوں کو یہ سب کچھ برداشت کرنا پڑتا ہے اور یہ گندگی سے بھری وہ نالیاں اور بدرَویں ہیں جو گندے پانی کے نکاس کے لیے ضروری ہوتی ہیں۔ کوڑا دان پر گلدان کی سنہری پنی لگا دینے سے وہ عرقِ گلاب کا مٹکا نہیں بن جاتا اور کالے ملغوبے والے گندے نالوں کو نیلگوں پانیوں والی شفاف نہریں قرار دینے سے ان میں سرو و سمن کے عکس نہیں جھلملانے لگتے۔ اس سے صرف ان لوگوں کے فکری اپاہج پن کا اندازہ ہوتا ہے جن کے حواس خمسہ تعصب کی گرفت میں نہیں ہوتے ہیں اور جن کی تہذیب نفرتوں سے نمو پاتی ہے۔
میں اس لیے بھی پراگندہ خیالی کی اس رپورٹ پر کچھ لکھنا نہیں چاہتا تھا کہ میرے
محمد ﷺ کی شان ایسی بدکلامیوں سے عظمت و رفعت پر کوئی آنچ نہیں آتی۔ دور دور تک پھیلے کرۂ ارض پر رینگنے والے حشرات الارض سے کوئی بھونچال نہیں آتا۔ بے کراں آسمانوں کی لامحدود وسعتوں میں کسی چمگادڑ کے پھڑپھڑانے سے کوئی ارتعاش پیدا نہیں ہوتا۔ کوئی حدود اربعہ نہ رکھنے والے کسی بے ننگ و نام شخص کے قلم کی ابکائی سے اس روحِ کون و مکاں کی شان میں کیا کمی آ سکتی ہے جس کے ذکر کی بلندی کی ضمانت خالقِ ارض و سما نے دی جس پر درود و سلام کی مشکبار صدائیں پیہم فضاؤں میں بسی رہتی ہیں۔
میں اس لیے بھی اس موضوع سے گریز کر رہا تھا کہ برطانیہ نے کوئی نیا کام نہیں کیا۔ یہ لوگ کتنے ہی عالم فاضل ہو جائیں۔ سائنس اور ٹیکنالوجی کی کتنی ہی بلندیاں سر کر لیں۔ جمہوری قرینوں کے کتنے ہی مبلغ بن جائیں۔ انسانی حقوق کی پاسداری کے کیسے کیسے دعوے کریں۔ امن و خیرسگالی کے کیسے ہی چیمپین بنیں۔ ”پرامن بقائے باہمی“ کے کتنے ہی گیت گائیں۔ ”بین المذاہب رواداری“ پر کیسے کیسے سرکس سجائیں۔ ان کے اسکالر بنی سنوری زبان میں کیسے کیسے خطبہ ہائے شیریں ارشاد فرمائیں۔ ان کے مذہبی پیشوا باہمی اخلاص و محبت کے کیسے کیسے نغمے الاپیں۔ ...... ان سب کے دلوں میں ایک کالی مورتی بیٹھی ہے جس کا نام ہے ”خبثِ باطن!“
سو اگر ملکہ برطانیہ نے ایک بدروح کے گلے میں ”سر“ کا خطاب ڈال ہی دیا ہے تو اس میں حیرت کی کوئی بات نہیں۔ دنیا بھر میں مروّج دستور کے تحت یہ ”حسن انتخاب“ ٹونی بلیئر نامی شخص کا ہے جو رسوائیوں کا پشتارہ پیٹھ پر لادے گھر جا رہا ہے اور جاتے جاتے یہ سوغات اپنے جانشین کو سونپ گیا ہے۔ قلمکاری کو سیاہ کاری بنا دینے والے شخص نے جو کچھ لکھا اسے دنیا کا کوئی مستند نقاد، ادب کا شہ پارہ تو کیا، ذوقِ لطیف کو آسودگی بخشنے والا اوسط درجے کا نثر پارہ بھی تسلیم نہیں کرتا۔ جس ملک میں شیکسپیئر، ڈکنز، ہارڈی، جین آسٹن، جارج ایلیٹ، ورڈز ورتھ، بائرن اور براؤننگ جیسے دیو قامت قلمکار ہو گزرے ہوں، وہاں ”شیطانی آیات“ ”مڈ نائٹ چلڈرن“ ”شیم .....“ ”گراؤنڈ بینتھ ہر فیٹ“ اور بے آب و رنگ کہانیوں کی کیا اوقات ہو سکتی ہے؟ ایسی یاوہ گوئیاں نقد و نظر کی کسی بھی میزان پر معیاری ادبی تحریریں قرار نہیں پاتیں۔ تو پھر اس کوڑا کباڑ کو انعامات سے کیوں نوازا گیا؟ یہ کتابیں ”بیسٹ سیلر“ کیوں بنیں؟ سیاہ کار قلمکار کو کمال فن کے درجنوں اعزازات کیوں عطا ہوئے؟ صرف اس لیے کہ اس نے
مسلمانوں جیسا نام ہوتے ہوئے نبی آخرالزماں ﷺ، اُمہات المومنین اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے دامانِ پاک پر چھینٹے ڈالنے کی ناپاک جسارت کی؟ صرف اس لیے کہ اس نے اسلامی تہذیب و فکر اور پاکستان کو نشانہ بنایا۔ صرف اس لیے کہ اس نے ان علامتوں پر سنگ زنی کی جو ڈیڑھ ارب مسلمانوں کی محبت و عقیدت کا مرکز و محور ہیں۔ تابکاری کو قلمکاری سمجھ لینے والے، بھٹکے ہوئے شخص کو سر آنکھوں پر بٹھانے کی وجہ سے اس کا ہنر نہیں اس کا شر ہے۔ اسلام اور مسلمانوں سے بغض رکھنے والوں کو ایسے نابغوں کی ضرورت رہتی ہے جو اپنے اسلامی نام کے لبادے میں اسلام، اسلامی تعلیمات، اسلامی شخصیات، اسلامی عقائد اور اسلامی تہذیب کا تمسخر اڑا سکیں۔ بنگال کی ملعونہ تسلیمہ نسرین ہو یا ممبئی کا رشدی اسی لیے ان کا دل کا سرور اور آنکھوں کا نور ہیں کہ وہ ان کے خبیث باطن کو تسکین دیتے ہیں۔
کبھی جارج بش، کبھی پاپائے روم، کبھی ڈنمارک کے کارٹونسٹ اور کبھی ملکہ عالیہ! یہ لوگ کیا چاہتے ہیں؟ برطانیہ نے گالی بکے ایک شخص کو سر کا خطاب دے کر کیا کمایا ہے؟ کیا اسے خبر نہیں کہ اس سے ڈیڑھ ارب مسلمانوں کے دلوں پر کیا گزرے گی؟ کیا وہ نہیں جانتا کہ 1988ء میں ”شیطانی آیات“ کی اشاعت پر عالمِ اسلام نے کیا ردعمل ظاہر کیا تھا؟ کیا وہ بھول گیا کہ 1989ء میں ایران کے فتوے کی روشنی میں نو برس تک ایران برطانیہ سفارتی تعلقات منقطع رہے تھے؟ یہ شخص تب سے چوہے کی طرح دبکا ہوا ہے۔ برطانوی شہریت رکھنے کے باوجود اس کا زیادہ وقت امریکہ میں گزرتا ہے۔ اس نے عراق و افغانستان پر امریکی و برطانوی قہر کی حمایت کی۔ اس نے نبی کریم ﷺ کے توہین آمیز خاکوں کو حق بجانب قرار دیا۔ اس کی ساری تحریریں، حسن و لطافت سے عاری، غلیظ، فحش کلامی کا شرمناک نمونہ ہیں۔
ہمیں انتہا پسند کہا جاتا ہے، بنیاد پرست اور دہشت گرد، گردانا جاتا ہے۔ بے لچک، اُجڈ، جاہل اور گنوار سمجھا جاتا ہے...... لیکن ہمارا کوئی سنجیدہ قلم کار، کسی بھی مذہب کے بارے میں ایسی بدبودار سوچ کا تصور بھی نہیں کر سکتا اور ہمیں مذہب کا درس اور روشن خیالی کے آداب سکھانے والوں کی فطرت دیکھیے کہ بنی نوع انسان کے دلوں کے حساس ترین گوشوں پر نشتر چلا رہے ہیں۔ اسامہ بن لادن، ایمن الظواہری اور ملا محمد عمر مجاہد کا کسی طور پر ملعون رشدی سے موازنہ نہیں کیا جاسکتا۔ ان کے اعزازات و خطابات کا تعین اس دن ہو گا جس دن شہنشاہ کون و مکاں کا دربار سجے گا لیکن پل بھر کو سوچیے اگر امریکہ اور برطانیہ کے دل میں کانٹے کی طرح
کھٹکنے والی ان شخصیات میں سے کسی کو بھی اسلامی ملک کی طرف سے کوئی سرکاری اعزاز دے دیا جائے یا کوئی مسلم این جی او ہی انہیں ”رئیس المجاہدین“ اور ”افتخار المومنین“ جیسا کوئی خطاب دے دے تو امریکہ، برطانیہ اور یورپ پر کیا گزرے گی؟
یقین جانیے! میں اس موضوع پر کچھ لکھنا نہیں چاہتا تھا لیکن پورا کالم ہو گیا۔ ملامت کے کسی پیکر کی گردن میں لعنت کا ایک اور طوق ڈال دینے سے کیا ہوتا ہے اور زمانوں کو روشنی کی سوغات دینے والے آفتاب جہاں تاب کی طرف منہ کر کے تھوکنے سے کیا فرق پڑتا ہے؟ سوائے اس کے کہ کسی ملعون کا اپنا مکروہ چہرہ لتھڑ جائے۔ جہنم کی آگ سمیٹنے والوں کو انگاروں کا کاروبار کرنے دیں اور آئیں ذرا دیر کو آنکھیں بند کر کے مدینے چلتے ہیں...... روتے ہوئے، پکارتے ہوئے ؎
گنبد آبگینہ رنگ، تیرے محیط میں حباب
عالم آب و خاک میں تیرے ظہور سے فروغ
ذرۂ ریگ کو دیا، تو نے طلوع آفتاب
شوکت سنجر و سلیم، تیرے جلال کی نمود
فقر جنید و بایزید، تیرا جمال بے نقاب
شوق ترا اگر نہ ہو میری نماز کا امام
میرا قیام بھی حجاب، میرا سجود بھی حجاب
تری نگاہ ناز سے دونوں مراد پا گئے
عقل غیاب و جستجو، عشق حضور و اضطراب
تیرہ و تار ہے جہاں گردش آفتاب سے
طبع زمانہ تازہ گر، جلوۂ بے حجاب سے
خالد عمران
ملعون رشدی کے معاملے پر چوٹی کی چار شخصیات کا ردعمل
پاکستان کی پارلیمانی تاریخ میں پہلی مرتبہ اپنی مدت پوری کرنے والی قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے آخری بجٹ اجلاس جاری ہیں۔ اس بار بھی ان اسمبلیوں کی مدت اگر پوری نہ ہوئی تو بھی طویل ترین مدت پانے کا اعزاز بہرحال یہ اسمبلیاں حاصل کر ہی چکی ہیں۔ قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے بجٹ اجلاسوں کے دوران ایک موقع ایسا آیا جب اسمبلیوں میں موجود تمام کے تمام ارکان کسی ایک بات، کسی ایک مسئلے پر متفق ہوئے۔ وہ بات اور مسئلہ ہے ملکہ برطانیہ کی طرف سے ملعون رشدی کو سر کا خطاب دیے جانے کا۔ اس حوالے سے پیپلز پارٹی کے دو ارکان قومی اسمبلی فوزیہ وہاب اور مخدوم شاہ محمود قریشی نے مختلف ردعمل کا اظہار کیا۔ فوزیہ وہاب کا موقف تھا کہ ملعون رشدی کے خلاف وسیع پیمانے پر احتجاج سے اسے مزید تشہیر اور اہمیت ملے گی جبکہ مخدوم شاہ محمود قریشی سے منسوب بیان شائع ہوا کہ برطانیہ کا اندرونی معاملہ ہے تاہم بعد ازاں دونوں ارکان نے امت مسلمہ کے جذبات کی تائید کی۔
وفاقی وزیر مذہبی امور اعجاز الحق نے اس حوالے سے قومی اسمبلی میں اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے اول اول وہی طرز اپنایا جو ایک مسلمان کے شایان شان ہے۔ لیکن بعد ازاں جمہوری اور پارلیمانی آداب کی مجبوریاں آڑے آئیں اور انہوں نے ذاتی وضاحت کے عنوان سے اپنی بات کو نرم کر لیا۔ انور چراغ کا کہنا ہے کہ اعجاز الحق کی رگوں میں دوڑتے ضیاء شہید کے خون نے جوش مارا تھا لیکن پھر روشن خیال جمہوریت کے تقاضوں نے انہیں ذاتی وضاحت پر مجبور کر دیا۔
اعجاز الحق کے پہلے بیان کی آڑ میں پیپلز پارٹی کی چیئر پرسن سابق وزیراعظم محترمہ بے نظیر بھٹو، حال مقیم دبئی، لندن وغیرہ خود ساختہ جلاوطن نے ملعون رشدی کو سر کا خطاب دیے جانے پر جس موقف کا اظہار کیا ہے اس کے متعلق انور چراغ کا کہنا ہے کہ محترمہ مغرب کی چاپلوسی اور مسلمانوں کا دل دکھانے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتیں۔
قومی و صوبائی اسمبلیوں اور سینیٹ میں متفقہ قراردادوں کے ذریعے برطانیہ کے اس اقدام کی مذمت کی گئی ہے۔ قومی اسمبلی نے تو دوسری قرارداد میں یہ خطاب واپس لینے کا مطالبہ بھی کیا ہے۔ ملعون رشدی کو ملکہ برطانیہ کی طرف سے سر کا خطاب دیے جانے پر اسلام آباد میں متعین برطانوی سفیر کو وزارت خارجہ طلب کر کے سخت احتجاج کیا گیا۔ وزیر اعلیٰ سندھ ڈاکٹر ارباب غلام رحیم نے سب سے پہلے اس مسئلے پر شدید ردعمل کا اظہار کیا پھر انہوں نے اپنے دادا اور چچا کو ملنے والے خطاب اور تمغوں کی واپسی کا بھی اعلان کیا۔ مسلم لیگ ق کے صدر چوہدری شجاعت حسین، وزیر اعظم شوکت عزیز اور بہت سے حکومتی قائدین نے بھی اس مسئلے پر بیان جاری کیے۔ اسپیکر پنجاب اسمبلی افضل ساہی نے کہا کہ اگر ملعون رشدی میرے سامنے آجائے تو میں اسے اپنے ہاتھ سے قتل کروں گا۔
وزیر اعلیٰ سندھ نے صوبے میں مختلف جماعتوں اور تنظیموں کو اس حوالے سے احتجاج، اجتماعات اور ریلیوں کی عام اجازت دی تاہم سرکاری اور نجی املاک، شہریوں کے جان و مال کو نقصان پہنچانے والوں سے نمٹنے کا انتباہ بھی کیا۔ جمعہ 22 جون کو آزاد کشمیر سمیت ملک بھر میں متحدہ مجلس عمل کی اپیل پر یوم احتجاج منایا گیا۔ ملک کے بڑے چھوٹے شہروں میں جمعہ کے اجتماعات، جلسوں، جلوسوں اور قراردادوں کے ذریعے برطانیہ کے اس اقدام کی مذمت اور رشدی کو دیا گیا خطاب واپس لینے کا مطالبہ کیا گیا۔ برطانیہ کے مسلمانوں میں بھی اس سلسلے میں زبردست اضطراب پایا جاتا ہے۔
برطانیہ کے سفیر نے اسلام آباد میں ذرائع ابلاغ کو جاری کیے گئے بیان میں کہا کہ اسلام برطانیہ کا دوسرا بڑا مذہب ہے۔ رشدی کو سر کا خطاب دیے جانے پر مسلمانوں کے جذبات مجروح ہونے پر معذرت کرتے ہوئے سفیر موصوف نے واضح کیا کہ رشدی ملعون کو اس کی ادبی خدمات پر سر کا خطاب دیا گیا ہے۔ مسلمانوں کے دینی جذبات کو مجروح کرنے اور ان کے ایمانی تقاضوں کو چیلنج کرنے کے لیے مغرب کی طرف سے گاہے بگاہے ایسے اقدامات کرنا کوئی نئی بات نہیں بلکہ کفر کے ملت واحد ہونے کی وجہ سے ایسا کرنا اس کی مجبوری ہے۔ ملعون رشدی ایک فرد کا نہیں بلکہ اس ناسور کا نام ہے جو بہت مدت سے امت کی وحدت کو چیلنج کر رہا ہے۔ ملعون رشدی دراصل گستاخ رسالت و توہین امہات المومنین اور قدح صحابہ کی وہ علامت ہے جس کے پیچھے صدیوں کی بیمار ذہنیت ہے اس بیمار ذہنیت نے مسلمانوں
کو ہمیشہ نقصان پہنچایا اور بار ہا کاری زخم لگائے۔ جب تک اس بیمار ذہنیت کا مکمل خاتمہ نہیں کیا جاتا اور اس کی علامتوں کو مٹایا نہیں جاتا۔ امت مسلمہ اپنا کھویا ہوا عروج حاصل نہیں کر سکتی۔
گزشتہ ڈیڑھ دو صدیوں میں برطانیہ نے ایسے گستاخوں کی نہ صرف مکمل سر پرستی کی بلکہ اسلام دشمنی کے ایک منصوبے کے تحت گستاخی اور توہین کے پورے پورے سلسلوں کا آغاز کیا گیا۔ برصغیر میں قادیانیت کا وجود اس کی بدترین مثال ہے۔ شجر اسلام پر ایسی آکاس بیلیں عالم کفر پہلے بھی پھینکتا رہا ہے لیکن انہیں مسلنے کے لیے ہر دور میں اسلام کے فرزند جان کی بازی لگاتے رہے ہیں۔ رحمت اللعالمین محمد کریم ﷺ کی عظمت کا سورج لازوال ہے اور یہ ہمیشہ نصف النہار پر رہ کر انسانیت کی رہنمائی کرتا رہے گا۔ اپنے ذہنی اور ایمانی جذبات کا مظاہرہ کر کے دراصل مسلمان ہر دور میں اپنی نجات کا راستہ آسان کرتے رہے ہیں اور یہ سلسلہ قیامت تک جاری رہے گا۔
اس وقت پورا پاکستان اضطراب اور اشتعال میں ہے لیکن چوٹی کے چار افراد کا رویہ بہت سے سوالات ذہنوں میں پیدا کر رہا ہے۔ پہلے نمبر پر برطانیہ کی طرف سے سر کا خطاب پانے والے سندھی وڈیرے کی پوتی، قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے والے وزیر اعظم بھٹو کی بیٹی اور خود دو مرتبہ پاکستان کی وزیر اعظم بننے والی بے نظیر بھٹو، جو اقتدار کے وصال میں تڑپ تڑپ کر ہر اُس در پر سجدہ ریز ہیں جہاں سے انہیں اقتدار کی ہلکی سی روشنی بھی نظر آتی ہے۔
دوسرے میاں نواز شریف جو ایک مذہبی پس منظر کے حامل مشرقی خاندان کے چشم و چراغ ہیں اور کسی دور میں اسلامیان پاکستان کی امنگوں کے ترجمان سیاستدان کے طور پر اسلامی جمہوری اتحاد کے سربراہ بنے تھے۔ 1988-89ء میں جب پاکستان میں پہلی دفعہ سابق وفاقی وزیر مذہبی امور کوثر نیازی مرحوم نے رشدی ملعون کے خلاف آواز بلند کی اور ”شیطانی آیات“ کے مصنف رشدی ملعون اور ناشر ادارے پینگوئن کے خلاف متحدہ اپوزیشن سی او پی کے رہنماؤں کو متوجہ کیا، پھر ملک بھر میں تحریک شروع ہوئی تو اس وقت پنجاب کے وزیر اعلیٰ میاں محمد نواز شریف نے اس تحریک کی بھر پور حمایت کی تھی۔
تحریک کا نقطۂ عروج اسلام آباد کا وہ مظاہرہ تھا جس پر فائرنگ کے نتیجے میں غالباً سات افراد شہید ہوئے اور آنسو گیس کی شیلنگ سے مولانا فضل الرحمن اور نوابزادہ نصر اللہ خان سمیت کئی رہنما شدید متاثر ہوئے تھے۔ اس وقت بے نظیر بھٹو نے قوم سے معافی مانگی تھی اور
فائرنگ کی تحقیقات کا حکم دیا تھا دیا گیا ہے تو بے نظیر بھٹو اور نواز اختیار کیا ہے اس پر انور چراغ میں تحفظ رشدی کی شق تو شامل تیسری شخصیت اس اور نواز شریف کی پارٹیوں کے بلند کی ہے لیکن برطانیہ کے اس نہیں آیا۔ کیا ایسا کر کے متحدہ ہے کہ کراچی کے عوام کی اکثر نہیں؟ اور پاکستان کے سینہ جذبات امت مسلمہ سے ہم آہنگ اور قارئین کرام ! رائے دینا وہ اپنا حق اور خاموشی بہت ہی معنی خیز ہے بے نظیر کا بولنا تو جمہوری، روشن خیال اور خاموش ہیں؟ کیا انہیں لمحہ فکریہ ہے جواب ان کے لیے ہیں جس کی رہبری برطانیہ کا
فائرنگ کی تحقیقات کا حکم دیا تھا۔ آج ملعون رشدی کو جب برطانیہ کی طرف سے سر کا خطاب دیا گیا ہے تو بے نظیر بھٹو اور نواز شریف نے عوام کی ترجمانی کا حق ادا کرنے کی بجائے جو رویہ اختیار کیا ہے اس پر انور چراغ کا کہنا ہے کہ میثاق جمہوریت کو دوبارہ چیک کیا جائے کہیں اس میں تحفظ رشدی کی شق تو شامل نہیں۔
تیسری شخصیت اس حوالے سے خود ساختہ جلا وطن الطاف حسین کی ہے۔ بے نظیر بھٹو اور نواز شریف کی پارٹیوں کے اہم رہنماؤں نے تو پارلیمنٹ کے اندر اور باہر اس مسئلے پر آواز بلند کی ہے لیکن برطانیہ کے اس اقدام کے خلاف متحدہ قومی موومنٹ کے کسی اہم رہنما کا بیان نہیں آیا۔ کیا ایسا کر کے متحدہ قومی موومنٹ کی قیادت اپنے میزبانوں پر یہ ثابت کرنا چاہتی ہے کہ کراچی کے عوام کی اکثریت میں ملعون رشدی کو سر کا خطاب دیے جانے پر کوئی بے چینی نہیں؟ اور پاکستان کے سب سے زیادہ باشعور اور پڑھے لکھے شہر کی غالب اکثریت کے دینی جذبات امت مسلمہ سے ہم آہنگ نہیں ہیں۔
اور قارئین کرام ! چوتھی شخصیت ہے صدر جنرل پرویز مشرف جو دنیا کے ہر مسئلے پر رائے دینا وہ اپنا حق اور فرض منصبی سمجھتے ہیں لیکن اس مسئلے پر صدر صاحب کی طرف سے خاموشی بہت ہی معنی خیز ہے۔
بے نظیر کا بولنا جنرل پرویز مشرف اور الطاف حسین کا خاموش رہنا تو شاید ان کی جمہوری، روشن خیال اور اعتدال پسند مجبوریوں کی وجہ سے ہو لیکن میاں نواز شریف کیوں خاموش ہیں؟ کیا انہیں لندن بدری کا خوف ہے یا بے نظیر کی اس سیاسی رفاقت سے محرومی کا ڈر ہے جو اب ان کے لیے ایک بوجھ بنتی جا رہی ہے یا وہ ابھی اس روشن خیال قافلے کے مسافر ہیں جس کی رہبری برطانیہ اور امریکہ کے ہاتھوں میں ہے۔
سیف اللہ خالد
یہ بے نظیر کو کیا ہوا؟
الزام لگانا اور بات ہے ورنہ کسی مسلمان سے توقع کیونکر رکھی جاسکتی ہے کہ وہ شیطان رشدی کے لیے پریشان ہوگا اور اس کے خلاف بولنے والوں کے مقابل آنے کی جرات کرے گا۔ کمزور ایمان اور روشن خیالی کی چکا چوند کے باوجود یہ تصور بھی محال ہے کہ اسلام سے وابستگی بھی ہو اور پھر آقائے دو جہاں ﷺ کے دشمن کی خیر خواہی بھی۔ یہ دونوں صفات ایک دل میں اکٹھی نہیں ہوسکتیں۔ قطعی طور پر نہیں۔ ہاں اسلام میں نقب لگانے والے ختم نبوت کے ڈاکوؤں اور چند صریحاً گمراہ لوگوں کی بات دوسری ہے۔ مگر محترمہ بے نظیر بھٹو، وہ یقیناً ان میں سے نہیں۔ مغربی بود و باش، دین سے دوری اور سیکولرازم کی دلدادہ ہونے کے باوجود ان پر یہ الزام لگانا مشکل ہے کہ وہ آقائے دو جہاں ﷺ کے دشمنوں کی جنگ لڑ رہی ہیں یا ان کی طرفداری کی مرتکب ہیں کہ ان کے والد ذوالفقار علی بھٹو تمام تر روشن خیالی کے باوجود اپنی زندگی کے آخری ایام میں قادیانیوں کو کافر قرار دلوانے کے فیصلہ پر ناز کرتے اور اسے اپنی نجات کا ذریعہ خیال کرتے تھے۔ بھٹو کے آخری ایام کے شاہد اور تنہائیوں کے ساتھی کرنل رفیع نے اپنی کتاب "بھٹو کے آخری 323 دن" میں لکھا ہے کہ "قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دینے کا ذکر آیا تو بھٹو نے میز پر سے اپنی ٹانگیں سمیٹیں اور مودب ہو کر کہا کرنل رفیع میں نے اپنی پوری زندگی میں کام ہی یہ ایک کیا ہے۔ وہ ہمارے نبی ﷺ کے بعد بھی کسی کو نبی مانتے ہیں۔ میں انہیں مسلمان کیسے مان لوں۔ اور پھر کہا یہ (قادیانی) پاکستان میں وہی مقام چاہتے ہیں جو امریکہ میں یہودیوں کو حاصل ہے۔"
اقتباس طویل ہے اور حقائق کو طشت از بام کرتا ہے۔ یہی بھٹو جب 1974ء میں قادیانیوں کو کافر قرار دینے کی قرارداد پاس ہونے کے بعد اسمبلی سے مخاطب ہوئے تو خوشی سے سرشار تھے۔
ختم نبوت آقائے دو جہاں محمد مصطفیٰ ﷺ کی عزت، حرمت اور تقدس کی خاطر واضح موقف اختیار کرنے اور عشق رسول ﷺ کی جنگ کو منطقی انجام تک پہنچانے والے بھٹو کی بیٹی شیطان رشدی کے خلاف بولنے والوں پر برس پڑے گی، سمجھ میں نہ آنے والی بات ہے۔ مگر ایسا ہوا ہے۔ انہوں نے وفاقی وزیر کی اس بات کا برا منایا جس میں کہا گیا تھا کہ ”شیطان کو سر کا خطاب دینے پر اگر کوئی مسلمان مشتعل ہو کر خودکش حملہ کردے تو وہ حق بجانب ہوگا۔“ کیا اقتدار کی محبت نے بھٹو کی بیٹی کو نظریاتی افلاس کی اس حد سے ہمکنار کر دیا ہے کہ وہ عقیدے اور ایمان سے عاری ہو کر نبی ﷺ کے دشمنوں کے لیے استعمال ہونے لگی ہیں۔ یقیناً بقائمی ہوش و حواس وہ ایسا نہیں کر سکتیں۔ وہ کسی بہت بڑے نفسیاتی عارضہ کا شکار ہیں یا کسی نے انہیں مغالطہ میں ڈال رکھا ہے۔ ورنہ ایمان اور عشق کے مسئلہ کو سیاست کی سان پر چڑھانے کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ لیکن اگر ایمان اقتدار عشق اختیارات سے ہو تو .....؟ مگر کیا وہ نہیں جانتیں کہ قوم آقائے دو جہاں ﷺ کے شہر مدینہ کی خاک کی توہین بھی برداشت نہیں کر سکتی۔ جب معاملہ مدینے والے کا آجائے تو پھر سیاست کیا ہوتی ہے۔ خونی رشتے، جان، مال، اولاد سب کچھ قربان کر دینا ہی سعادت ہے۔ عامر چیمہ، غازی علم الدین شہید، غازی عبدالقیوم، ایک طویل سلسلہ ہے۔ جو عشاق کی رگ جاں کے لہو سے روشن راستوں کا پتہ دیتا ہے۔
کیا بے نظیر بھول چکیں؟ کہ شیطان رشدی کی ہفوات کے خلاف عالمی احتجاج انہی کے دورِ اول میں ہوا تھا۔ وہ بھول سکتی ہیں مگر قوم کے حافظہ پر نقش ہے کہ اسلام آباد میں مولانا فضل الرحمٰن، قاضی حسین احمد، نوابزادہ نصر اللہ خان، مولانا نورانی، مولانا عبدالستار نیازی کے زیر قیادت جلوس پر ان کی حکومت نے گولی چلوائی تھی اور 6 جوانوں نے ناموس رسالت ﷺ پر اپنی زندگیاں قربان کر دی تھیں۔
تکلیف دہ سوال ہے کہ آخر اس میں کیا منطق ہے؟ شیطان رشدی کے خلاف اسلام آباد میں جلوس نکلے تو وزیر اعظم بے نظیر کی حکومت قتل عام لکھ دیتی ہے اور آج 17 برس بعد جب اس خبیث روح کے خلاف پھر احتجاج کی لہر جاری ہے تو بے نظیر خود کو اس کے دفاع سے باز نہ رکھ سکیں۔ اور یہ بھی خیال نہ کیا کہ ان کے باپ کی ناموس رسالت ﷺ کے تحفظ کے سلسلہ میں وہ خدمات ہیں کہ جن کا ذکر آنے پر مخالفین بھی سر جھکا دیتے ہیں۔
کاش کوئی ہو جو محترمہ کو بتائے کہ برطانیہ کی کاشتہ جعلی نبوت کو امت نے جوتے کی نوک پر رکھا اور یوں نکال باہر پھینکا جیسے سمندر مردار کو نکال پھینکتا ہے۔ ایسے میں ناموس رسالت ﷺ کی قیمت پر ملنے والا اقتدار کیسے چل سکے گا کہ یہ قوم اس معاملہ میں کوئی دوسری رائے قطعی نہیں رکھتی۔
بے نظیر کے مسلمان ہونے پر شبہ نہیں، ان کے ایمان سے بحث نہیں۔ ان کے اعمال سے تعلق نہیں مگر وہ شیطان رشدی کا دفاع کریں گی تو گرفت ہوگی، بلکہ بے نظیر پر جان نچھاور کرنے والا کارکن بھی یہ برداشت نہیں کر پائے گا۔ ایسا رویہ اختیار کر کے وہ برطانیہ کی حمایت تو حاصل کر سکتی ہیں۔ رشدی کو سالانہ ڈنر میں بلا کر ایوارڈ دینے والی امریکن جیوش کانگرس سے تحسین پا سکتی ہیں مگر اپنی پارٹی تک سے ہاتھ دھو بیٹھیں گی۔ ناموس رسالت ﷺ کے دشمنوں کی حمایت سراسر خسارے کا سودا ہے۔ برطانیہ سے سر کا خطاب پانے کے بعد بھی رشدی سراپا شر ہے اور رہے گا۔ اس میں قطعی کوئی دو آرا نہیں کہ مغرب مسلمانوں کو دیوار سے لگا رہا ہے جب ان کے عقیدے اور ایمان کے دشمنوں کو محترم گردانا جائے، جب ان کی اقدار کو پامال کیا جائے، جذبات کو کچلا جائے۔ پیغمبر اسلام ﷺ (معاذ اللہ) کو گالی دینا باعث اعزاز قرار دیا جائے تو پھر دنیا کے سوا ارب مسلمانوں کے پاس اور کیا رستہ بچتا ہے کہ وہ اپنی جانوں کو ہتھیار بنالیں۔
بے نظیر ادھر نہیں، ادھر کا رخ کریں۔ اپنے ممدوحین کو سمجھائیں قائل کریں کہ آج بھی مسلمان مکالمہ چاہتا ہے۔ وہ دین پر اعتراض سننے اور جواب دینے کو تیار ہے مگر اس نام پر گالی اور دھونس برداشت کرنے کو تیار نہیں۔ کسی بھی قیمت پر نہیں۔
۞ ...... ۞ ...... ۞
مریم گیلانی
اگر سلمان رشدی کو مار دیا ہوتا!
یہ گستاخانہ کارٹون جو ڈنمارک میں شائع ہوئے اور انہیں ڈنمارک اپنے میڈیا کی آزادی کا تمغہ بنا کر سینے پر لگائے گھوم رہا ہے، کبھی شائع نہ ہو سکتے تھے اگر سلمان رشدی کو کسی جانباز نے مار دیا ہوتا۔ یہ سارا غم وغصہ، یہ سارا دکھ، یہ ساری اذیت کبھی ہماری زندگیوں کا حصہ نہ بنتی اگر ہم نے آج سے چند سال قبل سلمان رشدی کو عبرت کی تصویر بنا دیا ہوتا۔ ایک ایسا شخص جس نے ”شیطانی آیات“ کے نام سے کتاب لکھی، جس کے خلاف اس وقت ایران میں آیت اللہ خمینی نے فتویٰ دیا کہ اسے مار دیا جانا چاہیے وہ شخص برطانیہ میں رہا اور مسلمانوں کے جذبات سرد پڑ جانے کے بعد منظر عام پر دکھائی دیتا رہا۔ اس شخص کو اگر آج سے چند سال پہلے کسی بہادر نڈر مسلمان نے موت کے گھاٹ اتار دیا ہوتا تو سارے یورپ کو آئندہ کئی سو سال تک ایسی ہمت کبھی نہ ہوتی۔ کبھی کوئی ملک میڈیا کی آزادی کا یوں علمبردار بننے کی جرات نہ کر سکتا۔ کبھی کسی میں ایسی کوئی خواہش جنم نہ لیتی اگر ایک روز سلمان رشدی کو سڑک پر جاتے ہوئے موت کے گھاٹ اتار دیا جاتا، کبھی کسی روز کوئی اس کی گاڑی کو بم سے اڑا دیتا اور اس کے جسم کے ٹکڑے چننے میں پولیس کو گھنٹوں صرف کرنے پڑتے۔ کبھی ایسی کسی ہمت کی کوئی خواہش جنم نہ لیتی اگر سلمان رشدی کو عبرت کی مثال بنا دیا جاتا۔
یہ گستاخانہ کارٹون جو اب شائع ہوئے ہیں ان کا بیج تو تب ہم نے خود ہی پنپنے کا موقع دیا جب دنیا کے باون مسلمان ممالک اور ایک بلین مسلمان مل کر سلمان رشدی کو نہ مار سکے۔ بلکہ اس قدر کمزور ہے کہ اسے کسی عدالت میں موت کی سزا نہ دلوا سکے اور ایسے بے حس رہے کہ چند مہینوں میں یہ سب بھول گئے کہ وہ شخص واجب القتل تھا۔ اس سب کی آزادی تو اس دنیا کے ہر پانچویں شخص نے تبھی دے دی تھی جب سلمان رشدی مختلف عورتوں کی معیت میں مختلف پارٹیوں میں اپنے چہرے پر خباثت بھری مسکان سجائے نظر آنے لگا تھا اور
لوگوں نے اس کے قتل ہو جانے کی خواہش دلوں میں رکھی چھوڑ دی تھی، تبھی یہ کارٹون کہیں فضا میں آس پاس موجود تھے، تبھی یہ ہمت جنم لینے لگی تھی کہ ناموس رسالت ﷺ کی شان میں گستاخی کے بعد بھی دنیا میں آرام سے زندہ رہا جا سکتا ہے کیونکہ وہ جو حفاظت کرنے والے تھے، وہ تو مردہ ہیں، وہ خاموش ہیں، وہ بے حس ہیں، ان کے جذبوں پر کس قدر بھی کاری وار کیا جائے کچھ عرصے میں سب بھول جاتے ہیں، انہیں کیسی بھی ٹھیس پہنچائی جائے یہ چند دن تو خوب چیختے چلاتے ہیں، فتوے دیتے ہیں، اپنے ہی ملکوں میں آگ لگاتے ہیں، پھر خاموش ہو جاتے ہیں اور امریکہ، برطانیہ سے دوستی کے حیلے ڈھونڈنے لگتے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جو اپنے نبی ﷺ کی عزت میں گستاخی کرنے والوں کو سزا نہیں دے سکتے لیکن ان سے محبت کی نعتیں بہت لہک لہک کر پڑھتے ہیں، یہ وہ لوگ ہیں جو شان رسول ﷺ میں گستاخی کرنے والوں کو گریبان سے پکڑ کر کسی گلی کسی چوراہے میں لا کر ان کے ٹکڑے ٹکڑے نہیں کر سکتے۔ لیکن رسول ﷺ سے محبت کے علم ہاتھوں میں لیے گھومتے ہیں، یہ وہ لوگ ہیں جنہیں اتنا بھی معلوم نہیں کہ سلمان رشدی کو ایک بار بھول جانا ہی توہین رسالت ﷺ ہے، اور آج ڈنمارک کے خلاف متحد نہ ہو سکنا بھی توہین رسالت ﷺ ہے، وہ تو یہ سمجھ ہی نہیں پائے کہ کسی سولی پر اگر سلمان رشدی کی لاش لٹکتی ہوتی تو آج ڈنمارک کا میڈیا آزاد نہ ہو پایا ہوتا۔
اگر آج ہم میں ایک غازی علم دین شہید جیسا ہوتا تو صدیاں کبھی ایسا شخص پیدا نہ کر سکتیں جو رسول اللہ ﷺ کی شان میں گستاخ ہونے کا سوچ بھی سکتا۔ آج تک برصغیر میں دوبارہ کسی کو ایسا کچھ بھی کرنے کی ہمت نہیں ہوسکی جبکہ یہاں ہندو بھی بستے ہیں، عیسائی بھی، یہاں بھی ترقی پسندی اور آزادی کی خواہش پر کوئی روک نہیں۔ یہاں بھی لوگ مغرب کے رنگ میں رنگ جانا چاہتے ہیں۔ لیکن یہاں ایک غازی علم دین تھا جو ناموس رسالت ﷺ کی راہ میں جان کی بازی لگا گیا اور افسوس کہ اس کے بعد امت مسلمہ ہی بانجھ ہوگئی، کوئی ناموس رسالت ﷺ کا پروانہ ہی جنم نہ لے سکا، کوئی ایسا جی دار ہی پیدا نہ ہوا جو سلمان رشدی کے حلق کا پھندا بن سکتا، کوئی اتنا طاقت ور ہی نہ ہوا کہ کسی ڈنمارک کے اس اخبار کے منہ پر تیزاب پھینک سکتا۔ افسوس کہ پھر اس امت نے کوئی جی دار پیدا نہ کیا، افسوس کہ پھر اس امت میں کوئی زندہ بچہ ہی نہ جنا گیا کہ مردوں کی بات چھوڑیں کوئی مسلمان عورت ہی اگر پیدا ہوئی ہوتی تو شاید ناموس رسالت ﷺ کے لیے جان کی بازی لگا گئی ہوتی، افسوس کہ اس امت پر
گود میں صرف میں اور آپ والے اور پھر آرام سے گھروں جھوٹے ، ہم کیا امت مسلمہ گھرانوں میں پیدا کیا لیکن ا ڈال سکی کہ ہم میں سے کوئی ا زندہ نہ ہوتا اور ڈنمارک کے ا نکلنے کا راستہ نہ مل رہا ہوتا، کاش
گود میں صرف میں اور آپ ہیں، چھوٹے قد کے جھوٹے لوگ، جلسوں میں نعرے لگانے والے اور پھر آرام سے گھروں میں جا کر پڑ کر سو رہنے والے، سب مردے، سب منافق، سب جھوٹے، ہم کیا امت مسلمہ ہوگئے، ہم تو اس لیے ایک بلین ہیں کہ ہمیں قدرت نے مسلمان گھرانوں میں پیدا کیا لیکن جانے کیوں قدرت ہمارے دلوں میں رسول ﷺ کی محبت نہ ڈال سکی کہ ہم میں سے کوئی ایک ہی رسول ﷺ کا ایسا شیدائی ہو جاتا کہ آج سلمان رشدی زندہ نہ ہوتا اور ڈنمارک کے اخبار کا دفتر دھڑا دھڑ جل رہا ہوتا اور اس کے ایڈیٹر کو دفتر سے باہر نکلنے کا راستہ نہ مل رہا ہوتا، کاش کہ ہم زندہ ہوتے اور مسلمان ہوتے!
مولانا محمد شفیع چترالی
جاہل کو اگر جہل کا انعام دیا جائے......
اپنی شیطانی کتاب کے ذریعے دنیا بھر کے مسلمانوں کی دل آزاری کرنے والا ملعون سلمان رشدی اپنے مغربی آقاؤں کی گود میں بیٹھ کر آج تک مسلمانوں کے ہاتھوں اپنی اصل سزا پانے سے تو بچا رہا لیکن قدرت نے اب اسے ایک ایسی سزا دی ہے کہ جس سے اس کو اور اس کے آقاؤں کو صحیح معنوں میں آٹے دال کا بھاؤ معلوم ہونے لگا ہے۔ اور چشم عبرت رکھنے والوں کے لیے یہ منظر بڑا ہی عبرت انگیز ہے کہ اپنی شیطانی کتاب کے ذریعے دنیا کے ڈیڑھ ارب مسلمانوں کی دل آزاری کرنے والا ملعون آج خود اپنے بارے میں لکھی جانے والی ایک کتاب کے حوالے سے ”دل آزاری“ کا واویلا کر رہا ہے اور آزادی اظہار کے نام پر اس کی حمایت اور پشت پناہی کرنے والے مغربی حلقے بھی کتاب کے ناشرین کو آزادی اظہار کے ”درست استعمال“ کی تلقین کر رہے ہیں، جس پر وہ اب تک مسلمانوں کا مذاق اڑایا کرتے تھے۔ گویا بی مینڈکی کو بھی زکام ہو گیا ہے اور قدرت نے ”میاں کی جوتی میاں کے سر“ کے مصداق نام نہاد آزادی اظہار کا مسلمانوں اور شعائر اسلام کے خلاف استعمال ہونے والا ہتھیار ہی ملعون رشدی اور اس کے سرپرستوں کے سر پر دے مارا ہے، اسے میرے آقا ﷺ کا ایک اور معجزہ اور اسلام کی حقانیت کا ایک اور بین ثبوت ہی کہا جا سکتا ہے کہ جس پہلو سے میرے آقا ﷺ کی حرمت و ناموس پر حملے کی کوشش کی گئی، اسی پہلو پر اللہ تعالیٰ نے ان کم بخت و کم نصیب گستاخوں کی مزید ذلت و رسوائی کا سامان کرا دیا اور ایک بار پھر شان ”و رفعنا لک ذکرک“ دنیا کو دکھا دی گئی، یہ صرف ہم نہیں کہتے خود مغربی حلقے بھی اس صورت حال پر حیرت میں مبتلا ہیں۔ ایک اخباری رپورٹ کے مطابق معروف اسکاٹس اخبار ”دی اسکاٹس مین“ نے اپنی اشاعت میں سلمان رشدی کے حوالے سامنے آنے والے بعض اہم واقعات کے حوالے سے لکھا ہے کہ مسلمانوں کے خلاف کتابیں لکھنے والے سلمان رشدی کو آج ایک ایسی
کتاب نے پریشان اور مشتعل کر دیا محافظ نے لب کشائی کی ہے۔ ” مسلمانوں کے خلاف اور قرآنی آ والا سلمان رشدی یہ کیوں کہہ رہا ہ محافظ رون ایونس، آزادی اظہار کے اس قصے کا قصہ یہ ہ جانب سے ماہر اور کہنہ مشق محا ڈرائیور رون ایونس (Evans کہتا ہے کہ وہ اپنے کام میں ب وزیر اعظم جان میجر کے ڈرائیور سلمان رشدی کے حوالے سے بھ دوران گزرے ایام کے دلچسپ م سے ایک کتاب لکھی ہے، جس م بات کو محسوس کیا کہ مسلمانوں کی اپنی عادات و خوارق میں ایک ن بد دماغ ہے، برطانوی کمانڈو ن جو رواں ماہ منظر عام پر آ رہی ہ نے اسے ایک انتہائی بھونڈا ا فطرت کا اظہار کرنا تھا، جبکہ ب ہو جاتا تھا کہ ہمیں بلاوجہ اما ہمیں ہاتھ پیر باندھ کر کسی نا پڑتا تھا۔ جس کے بعد اس ک کے بعد کھول کر آزاد کر دیا گ ملعون سلمان رش سابق ڈرائیور محافظ رون ا
کتاب نے پریشان اور مشتعل کر دیا ہے جس میں خود اس کے کرتوتوں کے متعلق اسی کے سابق محافظ نے لب کشائی کی ہے۔ ”دی اسکاٹس مین“ نے اپنی اشاعت میں سوال اٹھایا ہے کہ مسلمانوں کے خلاف اور قرآنی آیات کے خلاف اپنی تحریروں کے باعث موت کا فتویٰ پانے والا سلمان رشدی یہ کیوں کہہ رہا ہے کہ اس کی زندگی کے پہلوؤں کو اجاگر کر کے اس کا سابق محافظ رون ایونس، آزادی اظہار کے اصولوں کی خلاف ورزی کا مرتکب ہوا ہے؟
اس قضیے کا قصہ یہ ہے کہ ملعون سلمان رشدی کی حفاظت پر برطانوی حکومت کی جانب سے ماہر اور کہنہ مشق محافظین کو تعینات کیا گیا تھا، جن میں سے ایک محافظ اور کمانڈو ڈرائیور رون ایونس (Ron Evans) بھی تھا، رون ایونس کے حوالے سے برطانوی میڈیا کا کہنا ہے کہ وہ اپنے کام میں پیشہ ورانہ مہارت رکھتا تھا...... اور اس نے سابق برطانوی وزیر اعظم جان میجر کے ڈرائیور کی حیثیت سے بھی خدمات انجام دی ہیں، اس لیے اس کے سلمان رشدی کے حوالے سے تجربات کافی اہم ہیں۔ رون نے سلمان رشدی کی حفاظت کے دوران گزرے ایام کے دلچسپ تجربات پر On Her Majesty's Service کے نام سے ایک کتاب لکھی ہے، جس میں رون نے ملعون سلمان رشدی کی حفاظت کے دوران اس بات کو محسوس کیا کہ مسلمانوں کی مقدس ترین کتاب کے خلاف دل آزار کتاب لکھنے والا لکھاری اپنی عادات و اطوار میں ایک گندہ آدمی ہے، جو اپنی طبیعت میں انتہائی خسیس اور بے حد بددماغ ہے، برطانوی کمانڈو اور ملعون رشدی کے ڈرائیور رون نے اپنی تازہ ترین کتاب میں جو رواں ماہ منظر عام پر آ رہی ہے، لکھا ہے کہ سلمان رشدی کی حفاظت کے دوران انہوں نے اسے ایک انتہائی بھدا اور پلید شخص پایا، جو کھانے پینے اور رہنے سہنے میں بھی اپنی بری فطرت کا اظہار کرتا تھا، جبکہ وہ مسلمانوں کے ممکنہ حملوں سے بعض اوقات اس قدر پریشان ہو جاتا تھا کہ ہمیں بلاوجہ ادھر ادھر دوڑا دیتا تھا اور کبھی تو حالات اس قدر تنگ کر دیتا تھا کہ ہمیں ہاتھ پیر باندھ کر کسی الماری یا سیڑھیوں کے نیچے بنے ہوئے احاطے میں اسے ڈال دینا پڑتا تھا۔ جس کے بعد اس کی جسمانی اور ذہنی حالت میں بہتری آ جاتی تھی اور ہم اسے کچھ دیر کے بعد کھول کر آزاد کر دیا کرتے تھے۔
ملعون سلمان رشدی کا برطانوی اخبارات سے بات چیت میں کہنا تھا کہ اس کے سابق ڈرائیور محافظ رون ایونس کی کتاب میں اسے ایک کاہل الوجود، بددماغ، خسیس، پلید، پلید،
بھدے اور بدوضع شخص کے طور پر ظاہر کیا گیا ہے، جو میری ”بے عزتی“ کے مترادف ہے، اس حرکت پر میں رون کے خلاف قانونی کارروائی کا حق محفوظ رکھتا ہوں اور میں نے اپنے وکیل Mark Stephens کے ذریعے اس کتاب کی ناشر کمپنی John Blake Publishing Ltd. اور رون کو قانونی نوٹس بھیجا ہے، جس میں اسے کتاب میں سے متنازع ابواب نکال دینے کو کہا ہے۔
رپورٹ کے مطابق معروف برطانوی اخبار گارجین نے اپنی تازہ اشاعت میں سلمان رشدی کے حوالے سے لکھا ہے کہ مسلمانوں کے خلاف ایک متنازع کتاب لکھنے والا سلمان رشدی آج خود بھی ایک متنازع کتاب کا شکار بن چکا ہے، جس میں اسے کاہل، بدمزاج، خسیس اور کئی دیگر القابات سے نوازا گیا ہے۔ گارجین کا کہنا تھا کہ کتاب متنازع ضرور ہے لیکن اس کے مخاطب مسلمان اور الفاظ سلمان رشدی کے نہیں بلکہ اس کا مخاطب وہ خود اور الفاظ اس کی حفاظت پر تعینات اس کے محافظ کے ہیں۔ گارجین کا کہنا ہے کہ یہ تو نہیں کہا جاسکتا ہے کہ وہ اس کتاب سے اتنا ہی ناراض ہے؟ جتنا اس کتاب سے مسلمان ناراض تھے، لیکن یہ ضرور کہا جاسکتا ہے کہ اپنے محافظ کی کتاب سے وہ کافی ناراض ہے اور اس نے محافظ رون ایونس کو قانونی خط ارسال کیا ہے جس میں اس سے متنازعہ ابواب واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ سلمان رشدی کا استدلال تھا کہ اس کتاب میں اس کی کردار کشی کر کے اس کے سابق محافظ نے آزادیٔ اظہار کا غلط فائدہ اٹھایا ہے، جس پر اسے معذرت طلب کرنی چاہیے۔
برطانوی محافظ رون ایونس کا کہنا تھا کہ سلمان رشدی کی حفاظت پر تعینات محافظین اسے اس کی حرکات اور بلاوجہ حکم چلانے کے سبب ”کاہل“ اور ”واہیات آدمی“ کے نام سے پکارتے تھے۔ اپنی معرکۃ الآرا کتاب ”On Her Majesty's Servic“ میں سلمان رشدی کا گھر قسم ہا قسم کی شرابوں سے بھرا رہتا ہے اور وہ خود بھی شراب کا رسیا اور ”دھتی“ ہے، لیکن اعلیٰ درجے کی شراب کی وافر مقدار میں ہونے کے باوجود وہ اس قدر گھٹیا اور خسیس آدمی تھا کہ جب کبھی ہم محافظین اس سے شراب کا مطالبہ کرتے تھے، تو وہ ہم سے اس کی قیمت وصول کرتا تھا اور کہتا کہ تم شراب خانے جاکر بھی تو شراب کے لیے رقم ادا کرو گے، اس لیے بہتر ہے کہ مجھ سے شراب لے کر پیو لیکن اس کی قیمت ادا کرو، جو برطانوی 45 پونڈ اور امریکی 95 ڈالر بنتی تھی۔ رون کا کہنا تھا کہ سلمان رشدی اس بات کا بھی لحاظ نہیں رکھتا تھا کہ جو آفیسرز
اس سے ایک آدھ پیگ کا مطالبہ کر رہے ہیں وہ برطانوی حکومت کی جانب سے خود اس کی حفاظت کے لیے تعینات کیے گئے ہیں۔ رون کے مطابق سلمان رشدی میں مروت نام کو بھی نہ تھی۔
اپنی تہلکہ خیز کتاب میں برطانوی اسپیشل برانچ کے کمانڈو ڈرائیور رون ایونس نے لکھا ہے کہ ملکہ برطانیہ سے ”نائٹ“ کا خطاب پانے والا سلمان رشدی اس قدر خسیس اور بددماغ ہوگا، اس کا انہیں اندازہ نہ تھا، رون نے اپنی تلخ یادداشتوں کو مجتمع کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ایک بار سلمان رشدی کی حفاظت کی ذمہ داریاں پوری کرنے والے چند افسران کو رات گھر جانے میں دیر ہوگئی اور انہوں نے وہ رات اس کے گھر میں گزاری تو سلمان رشدی نے ان سے اس رات کا کرایہ طلب کر لیا اور افسران کی جانب سے اس کرائے کی ادائیگی سے انکار کے بعد اس نے لندن میٹرو پولیٹن پولیس ڈیپارٹمنٹ کو ایک خط لکھا اور اس سے ان افسران کی جانب سے اپنے گھر میں رات بسر کرنے کا کرایہ مانگ لیا، جو فی کس 40 پونڈ تھا۔ رون کا استدلال تھا کہ یہ وہی افسران تھے جو برطانوی حکومت کی جانب سے اس کی حفاظت کے لیے تعینات کیے گئے تھے۔ رون کا کہنا تھا کہ یہ بات برطانوی ٹیکس گزاروں کے سوچنے کی ہے کہ وہ اپنی حکومت کو کیا صرف اس لیے ٹیکس ادا کرتے ہیں کہ وہ سلمان رشدی جیسے خسیس، بددماغ اور کاہل الوجود لکھاریوں کی حفاظت کرتی پھرے؟
رون کو برطانوی حکومت کی جانب سے رشدی جیسے پلید آدمی کی صرف حفاظت پر برطانوی ٹیکس دہندگان کی کمائی صرف کرنے پر اعتراض ہے جبکہ برطانیہ کی ملکہ معظمہ گزشتہ دنوں مذکورہ بالا ”اوصاف“ کے حامل ملعون رشدی کو باقاعدہ نائٹ ہڈ یعنی ”سر“ کے خطاب سے نواز چکی ہیں، بکنگھم پیلس میں جب رشدی کو ایوارڈ دیا گیا تو اس وقت بھی اس ملعون نے دل آزاری سے گریز نہیں کیا اور کہا کہ اپنی شیطانی کتاب پر انہیں کوئی شرمندگی نہیں ہے۔ رون کی تازہ کتاب کے مندرجات کے سامنے آنے کے بعد یہ امر برطانوی حکومت کے لیے بھی باعث شرم ہونا چاہیے کہ اس نے ایسے شخص کو برطانیہ کا اہم اعزاز دیا جس میں انسانیت نام کی چیز نہیں ہے، انگریزی ادب میں رشدی کے ناولوں کی حیثیت کا پول بھی ماہرین کھول چکے ہیں اور یہ بات ثابت ہو چکی ہے کہ رشدی ملعون کی کتابیں بنیادی انگریزی گرامر کے لحاظ سے بھی پرے ہیں۔ اسے ”سر“ کا خطاب دینے کی واحد وجہ اس کی اسلام دشمنی ہی ہے اور تازہ انکشافات کے مطابق تو وہ انسانیت کا بھی دشمن ہے، اس کی گندی طبیعت اور غلیظ
ذہنیت کے باعث اب تک اس کو تین بیویاں ”طلاق“ دے چکی ہیں لیکن کمال ہے کہ اس کے باوجود ”ملکہ معظمہ“ نے اپنے محل میں بلا کر ”سر“ کا خطاب دیا، اس پر یہی کہا جاسکتا ہے کہ؎
اس حادثۂ وقت کو کیا نام دیا جائے
میخانے کی توہین ہے رندوں کی ہتک ہے
کم ظرف کے ہاتھوں میں اگر جام دیا جائے
عبدالغفور ندیم
ہمیں کہاں لے جایا جا رہا ہے؟
اسلامی جمہوریہ پاکستان کے صدر جناب پرویز مشرف سے گزشتہ روز فرانس کے ایک انسٹی ٹیوٹ آف انٹرنیشنل ریلیشنز سے خطاب کے دوران ایک سوال کیا گیا کہ جامعہ الازہر نے اسلام چھوڑ کر عیسائیت قبول کرنے والے ایک شخص کے خلاف فتویٰ دیا ہے جبکہ کئی عیسائی اسلام قبول کرتے ہیں، کیا یہ فتویٰ روشن خیالی اور اعتدال پسندی کے خلاف نہیں ہے؟ اس پر صدر پرویز نے کہا کہ میں نے فتویٰ نہیں دیکھا تاہم اگر ایسا فتویٰ جاری ہوا ہے تو میں اس کی مذمت کرتا ہوں۔ انھوں نے کہا کہ پاکستان میں مکمل مذہبی آزادی ہے، کئی عیسائی مشنریز عیسائیت کی تبلیغ کرتی ہیں، میں خود کراچی کے ایک کرسچین اسکول اور ایف سی کالج لاہور میں پڑھا ہوں۔ (روزنامہ جنگ کراچی 23 جنوری)
ایک اور سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ بسنت مجھے پسند ہے۔ کچھ انتہا پسند اس تفریح کو بھی غیر اسلامی کہتے ہیں اور اسے منانے کی اجازت نہیں دیتے۔ صدر نے کہا کہ آپ لاہور گئے ہیں۔ وہاں لوگ کس طرح بسنت مناتے ہیں، کوئی وہاں انتہا پسندوں کی بات نہیں سنتا۔ (روزنامہ ایکسپریس کراچی، مورخہ 23 جنوری 2008ء)
مندرجہ بالا دونوں بیانات اُس ملک کے سربراہ کے ہیں جس کو اسلامی جمہوریہ پاکستان کہا جاتا ہے اور اس کے حصول کے لیے بلاشبہ لاکھوں مسلمانوں نے محض اس لیے جان و مال اور عزت و آبرو کی قربانیاں دی تھیں کہ اس میں ہم اپنی اسلامی تہذیب کو فروغ دیں گے اور غیر اسلامی تہذیب اور اغیار کی رسومات سے نجات پائیں گے لیکن آج ہم اس قدر ذہنی پستی کا شکار ہو چکے ہیں کہ تحریک پاکستان میں اپنی جانوں کے نذرانے پیش کرنے والے لاکھوں شہدا کو نہ صرف بھول چکے ہیں بلکہ ان کے خون شہادت سے غداری کر رہے ہیں۔ دنیا کے سب سے بڑے اسلامی ملک کے سربراہ کی اسلامی معلومات مسلمانان پاکستان کے لیے
کس قدر خفت کا باعث ہیں کہ انھوں نے جس کو اپنا صدر بنا رکھا ہے اسے یہ تک معلوم نہیں کہ کسی مسلمان کا عیسائی ہو جانا یا کسی بھی دوسرے مذہب کو قبول کر لینا ارتداد کا باعث ہے اور مرتد کی سزا جناب رسول اللہ ﷺ نے قتل بتائی ہے جو صحیح احادیث سے ثابت ہے۔ جامعہ الازہر نے عیسائیت قبول کرنے والے کے خلاف نہ جانے کیا فتویٰ دیا ہے جس کی وضاحت نہیں کی گئی لیکن صدر صاحب فقط اتنا سننے کے بعد کہ جامعہ نے عیسائیت قبول کرنے والے کے خلاف فتویٰ دیا ہے، فوراً مذمت کرنے کو تیار ہو گئے۔ یہ بھی سوچنا گوارا نہ کیا کہ یہ ایک دینی مسئلہ ہے، جامعہ کے مفتی نے یقیناً قرآن وسنت کی روشنی میں فتویٰ دیا ہوگا بلکہ آؤ دیکھا نہ تاؤ، فوراً فتوے کی مذمت کر کے اپنا نامۂ اعمال سیاہ کرنا ضروری سمجھا بلکہ فتوے کا مذاق اڑاتے ہوئے یہ بتانا بھی ضروری سمجھ لیا کہ میں خود کراچی کے ایک عیسائی اسکول میں پڑھ چکا ہوں۔
پھر دوسرے سوال کا جواب بھی ماشاء اللہ بہت دلچسپ ہے کہ میں بسنت کو پسند کرتا ہوں اور انتہا پسند اس تفریح کو بھی غیر اسلامی کہتے ہیں اور اس کو منانے کی اجازت نہیں دیتے۔ دونوں سوالوں کے جواب میں ایک بات مشترک ہے کہ میں خود بھی عیسائی اسکول میں پڑھا ہوں اور بسنت کو پسند کرتا ہوں تو مذکورہ دونوں چیزیں جب میری پسندیدہ ہیں تو بھلا غیر اسلامی کیسے ہو سکتی ہیں؟ ان چیزوں کو غیر اسلامی کہنے والے تو انتہا پسند ہیں اور وہ لوگ سچے مسلمان ہیں جو ہندوؤں کے ساتھ اظہار یکجہتی کرتے ہوئے بڑے ٹھاٹھ سے بسنت مناتے ہیں اور عیسائیت قبول کرنے والے مرتدوں کو بھی محبت کی نظر سے دیکھتے ہیں اور ان کے خلاف فتویٰ دینے والوں کی مذمت کرتے ہیں۔ اے کاش! ہمارے صدر محترم کو کوئی یہ بتا دیتا کہ آپ کی اس مذمت کا نشانہ ذاتِ رسالت ﷺ بن رہی ہے، اس لیے کہ آپ ﷺ نے ہی ارشاد فرمایا ہے کہ ”جس نے اپنا دین (اسلام) تبدیل کر دیا اسے قتل کر دو۔“ سرور کونین ﷺ تو رحمت اللعالمین ہونے کے باوجود عیسائیت، یہودیت یا کوئی بھی دوسرا دین قبول کرنے والے کو اس دھرتی پر دیکھنا بھی گوارا نہیں کرتے اور اس کے قتل کا حکم صادر فرماتے ہیں جبکہ صدرِ محترم خود کو رسول اللہ ﷺ سے بھی بڑھ کر رحیم و کریم (معاذ اللہ) ثابت کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، اس سے بڑھ کر شانِ رسالت کی توہین اور کیا ہو سکتی ہے؟ پھر نہ صرف یہ کہ مرتد کے خلاف فتویٰ جناب صدر کے نزدیک قابلِ مذمت ہے بلکہ وہ اپنے ملک میں عیسائیوں کو تبلیغ کی آزادی دے کر بھی اترا رہے ہیں جن کو رسول ﷺ
اپنے دور نبوت میں نہ صرف یہ کہ تبلیغ کی اجازت نہیں دی بلکہ انھیں جزیرۃ العرب سے نکال دینے کا حکم صادر فرما دیا تھا، جس پر عمل کرتے ہوئے صحابہؓ کرام نے انھیں جزیرۃ العرب سے نکال باہر کیا۔ جن بدبختوں کو رسول اللہ ﷺ نے جزیرۃ العرب میں رہنے تک کی اجازت نہ دی ہو بلکہ صحابہؓ کرام کو حکم دیا ہو کہ انھیں عرب سے نکال باہر کرو، ہمارے صدر صاحب کس اصول اور ضابطے کے تحت ان کو اپنے مذہب کی تبلیغ کی اجازت اس ملک میں دینے پر فخر کر رہے ہیں اور ان کے مذہب کو اختیار کرنے والے مرتدین کے خلاف جامعہ الازھر جیسی عظیم دینی درسگاہ کے فتوے کو مذموم تصور کرتے ہیں؟
پیغمبر اسلام ﷺ نے یہ بھی ارشاد فرمایا ہے کہ ”جس نے کسی قوم کی مشابہت اختیار کی وہ انہی میں سے ہے۔“ تو لاہور میں اگر مسلمان ہندوؤں کی بسنت کی تفریح میں شریک ہو کر اپنی پہچان بھی ختم کرنے پر تل گئے ہیں اور پتنگیں اڑانے اور لڑانے والوں میں کوئی تمیز کرنا مشکل ہو جاتا ہے کہ ان میں ہندو کون ہیں اور مسلمان کون؟ تو اس عمل سے کیا مسلمانان پاکستان گنبد خضرا میں روح نبوت کو تڑپانے کا باعث نہیں بنتے؟ آخر قوم کو کس طرف لے جایا جا رہا ہے؟ اے کاش! ارباب اقتدار کچھ غور کریں۔
اشفاق احمد بھٹی
مرتد اور گستاخ، مغرب کی پناہ میں
حضور اکرم نور مجسم ﷺ اور قرآن مجید فرقان حمید کی توہین کر کے مسلمانوں کے دلوں کو چھلنی اور ان کی روحوں کو زخمی کرنا کفر اور مغرب کا روز اول سے وتیرہ رہا ہے۔ اسی لیے اسلام اور داعی اسلام کے خلاف خبث باطن کا اظہار مغربی مشرکین کا من پسند موضوع رہا ہے۔ جس کا اظہار وہ مختلف طریقوں سے کرتے رہتے ہیں۔ کبھی قرآن مجید کی بے حرمتی کر کے تو کبھی حضور نبی کریم ﷺ اور صحابہ کرام کے خاکے شائع کر کے۔ اس سے پہلے مغرب نے دو گستاخان رسول کو پناہ دے رکھی ہے جبکہ تیسرے عبدالرحمن کو حال ہی میں اٹلی نے پناہ دی ہے۔ عبدالرحمن کے عیسائی مذہب اختیار کر لینے پر اسے مرتد قرار دیا گیا تھا اور جب اس کی خبر مغرب تک پہنچی تو انہوں نے ہمیشہ کی طرح اس بار بھی اسلام کی توہین کرنے والے کو اپنا ہیرو سمجھتے ہوئے اور اسے آزادی رائے کے فیصلے کے خلاف سزا قرار دیتے ہوئے اس پر احتجاج کیا۔ اس ضمن میں سب سے پہلے نام نہاد جمہوریت کے چمپئن صدر بش نے عبدالرحمن کو مرتد قرار دینے کے فیصلے خلاف احتجاج کیا اور فوراً اٹلی نے اعلان کر دیا کہ وہ عبدالرحمن کو پناہ دے گا۔ بعض اطلاعات کے مطابق عبدالرحمن پہلے اٹلی پھر جرمنی میں رہائش پذیر ہوا۔ بش بہادر کے احتجاج سے افغان عدلیہ کو عبدالرحمن کی رہائی کے پلان کی منصوبہ بندی کرنا پڑی۔ سب سے پہلے عدالتوں نے اسے پاگل قرار دیا تا کہ اس کے خلاف سزا کو ساقط کیا جا سکے۔ اس کے بعد اسے خاموشی سے جہاز میں سوار کرا دیا گیا اور اگلے روز وہ اٹلی جا پہنچا اور اٹلی نے اسے پناہ دینے کا اعلان کر دیا۔ اٹلی اور اس جیسے دوسرے مغربی ممالک نہ جانے یہ کیوں بھول جاتے ہیں کہ وہ اظہار رائے اور انسانی حقوق کی آڑ میں جن لوگوں کو پناہ دے رہے ہیں، وہ تو اسلام کے مجرم ہیں۔ اس سلسلے میں آج اگر انہوں نے کوئی مؤثر قدم نہ اٹھایا تو کل کلاں ان جیسے کئی دوسرے لوگ مغرب کے اپنے مذہب اور ان کے نبی حضرت عیسیٰ کی عزت و عصمت پر بھی
ہاتھ ڈالیں گے جس کا اہل اسلام کو بھی یقیناً افسوس ہو گا کیونکہ مسلمانوں کے ہاں توہین رسالت کا قانون ایک وسیع البنیاد قانون ہے جو کسی مخصوص پیغمبر ﷺ کی گستاخی کے متعلق نہیں بلکہ تمام انبیائے کرام کی گستاخی کرنے والا اس قانون کی زد میں آتا ہے۔ انبیاء کرام اور رسل عظام کی عصمت کا تحفظ بھی کسی ایک مذہب کا مسئلہ نہیں بلکہ تمام مذاہب عالم کا مشترکہ مسئلہ ہے۔ مغربی ممالک اور امریکہ اٹھارہویں صدی عیسوی تک اس مسئلے پر مسلمانوں کے ہم خیال رہے اور وہ بھی توہین رسالت کے مجرموں کو قرار واقعی سزا دیتے رہے۔ اس ضمن میں 1579ء میں حضرت عیسیٰ کی اہانت پر ہنگری میں ایک پادری ڈیوڈ کو عمر قید کی سزا سنائی گئی۔ 1600ء میں روم میں برونو کو توہین رسالت کی سزا کے طور پر نذر آتش کر دیا گیا۔ برطانیہ میں 1553ء کے مذہبی قوانین کے مطابق پانچ افراد کو حضرت عیسیٰ کی گستاخی پر انہیں زندہ جلا دیا گیا۔ سکاٹ لینڈ میں بھی توہین رسالت اور عیسائیت کی توہین کی سزا موت مقرر تھی جبکہ امریکہ میں بھی 1611ء کے قوانین میں توہین رسالت کی سزا موت مقرر تھی مگر بدقسمتی سے اٹھارہویں صدی سے ان سزاؤں میں کمی کا رجحان پروان چڑھنا شروع ہو گیا۔ 1821ء سے لے کر 1834ء تک برطانیہ میں توہین رسالت کے مرتکب 73 افراد کو سزا دی گئی جبکہ 1838ء تک اتنے ہی افراد کو امریکہ کی مختلف ریاستوں میں اس ضمن میں سزائیں ہوئیں۔ پھر اچانک 1838ء میں امریکہ میں کامن ویلتھ بنام نی لینڈ کے مقدمہ عدالت نے یہ فیصلہ صادر کیا کہ مذہبی امور کو عدالتی اور حکومتی امور سے الگ رکھا جائے۔ اسی طرح 1883ء میں برطانیہ کے لارڈ چیف جسٹس نے پریس کی آزادی اور اظہار رائے کو اس قانون میں ترجیح دی اور یوں ان کے ہاں توہین رسالت کرنے والوں کو کھلی چھٹی مل گئی۔ برطانیہ کی دیکھا دیکھی دوسرے مغربی ممالک بھی اسی ڈگر پر چل نکلے، آج دنیا کے کسی کونے پر بھی توہین رسالت خصوصاً مسلمانوں کے عقیدے کے مطابق ملعون افراد کو یورپ پناہ دینے میں سرفہرست ہے، اس کی اولین ترجیح یہی ہوتی ہے کہ انہیں مغرب ہر طرح کا تحفظ دے اسی لیے اٹلی نے فوراً عبدالرحمٰن کو پناہ دی ہے۔ سب سے پہلے انگلینڈ نے لعنتی سلمان رشدی کو پناہ دی تھی۔
ملعون سلمان رشدی 19 جون 1947ء کو بھارت کے شہر بمبئی میں پیدا ہوا، 1989ء میں اس کی تصنیف ”شیطانی آیات“ منظر عام پر آئی جس میں ایسی غلط اور شرمناک باتیں درج تھیں جو توہین رسالت ﷺ کے زمرے میں آتی ہیں۔ توہین رسالت ﷺ کی اس
سازش پر عالم اسلام سراپا احتجاج بن گیا۔ 12 فروری 1989ء کو اسلام آباد میں اس کتاب کے خلاف مظاہرے میں پولیس سے جھڑپوں میں بارہ افراد نے جام شہادت نوش کیا۔ 14 فروری 1989ء کو ریڈیو تہران نے آیت اللہ خمینی کی جانب سے سلمان رشدی کے قتل کا فتویٰ جاری کیا اور اس کتاب کو عالم اسلام کے خلاف گہری سازش قرار دیا۔ آیت اللہ خمینی نے اسے قتل کرنے والے کو انعام دینے کا بھی اعلان کر دیا جس کی مغرب اور اسلام دشمن ممالک نے سخت مخالفت کی۔ 1989ء سے اب تک ملعون رشدی انگلینڈ میں روپوش ہے۔ رشدی کے قتل کے پرانے فتوؤں کے بعد 1999ء میں ایک ایرانی تنظیم نے اس کے سر کی قیمت 2.8 ملین ڈالر مقرر کی ہے۔ ایک اور گستاخ تسلیمہ نسرین کو بھی مغرب کی پشت پناہی حاصل ہے جو اگست 1962ء میں بنگلہ دیش میں پیدا ہوئی۔ قدامت پسند ماحول میں پرورش پانے والی اس لڑکی کو شاعری اور ادب کا خبط تھا جبکہ سائنسی علوم میں بھی اسے خاصی مہارت حاصل تھی۔ پندرہ برس کی عمر میں اس نے ادبی رسالوں میں اپنی شاعری چھپوانا شروع کر دی۔ 1978ء سے 1983ء تک وہ ایک ادبی مجلے کی ایڈیٹر بھی رہی۔ میڈیکل کالج میں وہ ادبی تنظیم کی صدر تھی اور اس ضمن میں اُس نے وہاں بہت سارے ادبی پروگرام بھی منعقد کرائے۔ 1984ء میں وہ میڈیکل کالج کی ڈگری حاصل کر کے آٹھ برس تک مختلف ہسپتالوں میں بطور سرجن اپنی ڈیوٹی دیتی رہی۔ 1986ء میں اس کی شاعری کی پہلی کتاب منظر عام پر آئی جبکہ 1989ء میں اس کی دوسری کتاب بھی مارکیٹ میں آ گئی۔ اس کے بعد اس نے کالم نگاری کے میدان میں عورتوں پر روا رکھے جانے والے مظالم اور صدیوں سے چلی آ رہی رسموں اور رواجوں پر تنقید کرنا شروع کر دی۔ مردوں کی برتری کے خلاف اس کے سخت الفاظ نے اس کے بہت سے حامی اور مخالف پیدا کر دیے، بھارتی پالیسی میکرز نے اس سلسلے میں تسلیمہ نسرین کی مزید حوصلہ افزائی کے لیے مغربی بنگال کا سب سے بڑا ایوارڈ ”آنندا“ اسے دیا۔ اس وقت تسلیمہ نسرین یہ بھارتی ایوارڈ حاصل کرنے والی پہلی بنگالی مسلمان خاتون تھی۔
1990ء کے آغاز سے ہی مسلمان عوام کی اکثریت تسلیمہ نسرین کے خیالات اور افکار پر کھلے عام تنقید کر رہی تھی۔ تسلیمہ کی بے باکی مزید تقویت پکڑ گئی۔ اس دوران مشتعل افراد نے مسلمانوں کے مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچانے پر تسلیمہ کے کالم چھاپنے والے اخبار کے دفتر پر حملہ کیا اور توڑ پھوڑ کی۔ اخبار کے ایڈیٹر اور پبلشر کے خلاف مقدمہ درج ہوا۔
1993ء میں ایک مذہبی جماعت کی جانب سے تسلیمہ نسرین کے خلاف فتویٰ بھی جاری کیا گیا اور اسلامی تعلیمات پر ہرزہ سرائی کرنے کی وجہ سے اس کے سر کی قیمت بھی مقرر کی گئی جبکہ ڈھاکہ میڈیکل کالج ہسپتال نے مذہب اسلام کو تنقید کا نشانہ بنانے پر اسے نوکری سے نکال دیا۔ تسلیمہ نسرین کی کتاب ”لجا“ (شرم) پر بنگلہ دیش میں پابندی عائد ہے جبکہ بھارتی صوبے مغربی بنگال میں اسے سب سے زیادہ فروخت ہونے والی بہترین کتاب کا اعزاز دیا گیا ہے۔
اس کتاب میں مسلمانوں کا ہندؤوں پر مظالم کا جھوٹا پروپیگنڈہ کیا گیا تھا، تسلیمہ نے کتاب میں لکھا ہے کہ نعوذ باللہ مذہبی کتابیں وقت کا ساتھ دینے قاصر ہیں اور پرانی ہوچکی ہیں اور یہ کہ انسانیت کا دوسرا نام مذہب رکھ دیا جائے۔ مذہبی تعلیمات کے بجائے ایسا ضابطہ اخلاق رائج کیا جائے جو عورتوں کو برابری اور انصاف کی مکمل ضمانت دے۔ اس کے باطل نظریات نے بنگلہ دیش کی 14 مختلف سیاسی اور مذہبی جماعتوں کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کر دیا ہے۔ تسلیمہ کی اس لغو تحریر اور اس کے نظریات سے لوگوں کے جذبات مجروح ہوئے ہیں۔ اس سے وہاں ہڑتالوں اور ہنگاموں کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ لوگوں نے تسلیمہ کے توہین رسالت ﷺ کا مرتکب ہونے پر پھانسی کا مطالبہ کیا۔ شدید عوامی ردعمل دیکھتے ہوئے حکومت نے تسلیمہ نسرین کے خلاف مقدمہ درج کر لیا اور اس کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کیے گئے۔
گرفتاری کے خوف سے تسلیمہ روپوش ہو گئی، اسی دوران اس کے خلاف ہونے والے مظاہرے شدت پکڑتے گئے۔ تب مقامی مذہبی تنظیموں نے اس کے سر کی قیمت میں اضافہ کر دیا۔
بھارت اور کئی یورپی ممالک کی انسانی حقوق کی تنظیموں نے تسلیمہ نسرین کے خلاف درج مقدمات کو اظہار آزادی رائے پر قدغن قرار دیا، اس کے حق میں پروپیگنڈا کیا اور اس کے بنگلہ دیش سے فرار کی راہ ہموار کی جانے لگی۔ نام نہاد انسانی حقوق کے علمبردار ممالک کی تنظیموں کو کشمیر، بوسنیا، چیچنیا، عراق اور افغانستان میں سسکتی انسانیت نظر نہیں آ رہی۔ مگر وہ تسلیمہ کو ملک سے فرار کروانے میں کامیاب ضرور ہوئے۔ کافی عرصہ کے بعد 1998ء میں شاتمہ رسول دوبارہ بنگلہ دیش آگئی، جب اس کے آنے کی خبر وہاں کے مقامی اخبارات میں شائع ہوئی تو لوگ دوبارہ مشتعل ہو گئے۔ انہوں نے اسے گرفتار کر کے پھانسی دینے کا مطالبہ کیا۔ تب تسلیمہ کی پشت پناہی کرنے والی طاقتیں اسے دوبارہ بحفاظت وہاں سے نکال کر لے گئیں، اُس کے بعد سے اب تک بنگلہ دیشی حکومت نے اس کے پاسپورٹ کی تجدید کرنے
سے انکار کر دیا، تب سے اب تک وہ مستقل طور پر جلاوطنی کی زندگی گزار رہی ہے۔ اسلام دشمن قوتیں اب بھی تسلیمہ نسرین کی حوصلہ افزائی اور میزبانی کے فرائض انجام دے رہی ہیں اسے اظہار رائے کی آزادی کے سمبل کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ مختلف یونیورسٹیوں کی جانب سے اسے باقاعدہ لیکچرز کے لیے دعوت دی جاتی ہے۔ مذہب کے بجائے سیکولر معاشرے کے قیام کے لیے اُس کے منشور کو وسعت اور پذیرائی سے نوازا جا رہا ہے۔ کولکتہ، سٹاک ہام اور نیویارک اس کے تین مسکن ہیں۔
اب دیکھنا یہ ہے کہ مرتد عبدالرحمٰن کے سر کی قیمت کون مقرر کرتا ہے اور ان تینوں لعینوں کو کون واصل جہنم کرتا ہے۔ اس کے برعکس مغرب کی جمہوریت کا پرچار کرنے والوں کی اب آنکھیں کھل جانی چاہئیں اور ان کو پتہ چل جانا چاہیے کہ یہود و نصارٰی کسی حال میں بھی مسلمانوں کے دوست نہیں اور نہ وہ مسلمانوں کے ہی خیر خواہ ہیں۔
جنید افتخار
اسلام مخالف متنازع فلم
امریکہ میں صدارتی الیکشن کے قریب آتے ہی یہودی تنظیموں نے امریکی شہریوں میں مسلمان مخالف جذبات ابھارنے اور الیکشن میں یہودی حمایت یافتہ امیدوار کامیاب کروانے کے لیے اسلام مخالف دستاویزی فلم (غلبہ: شدت پسند اسلام کی مغرب کے خلاف جنگ) Obsession: Radical Islam War Against the West جاری کر دی ہے۔ دستاویزی فلم امریکی الیکشن میں اثر انداز ہونے والی 14 اہم ریاستوں میں تقسیم کی جا رہی ہے۔ یہ ویڈیو یہودی ادارے ہونیسٹ رپورٹنگ نے بنائی ہے اور اس فلم کی 3 کروڑ کاپیاں کلیرین فنڈ اور ایش توراح نامی یہودی این جی اوز کے تعاون سے امریکہ بھر میں تقسیم کی گئی ہیں۔ متنازعہ دستاویزی فلم 60 منٹ دورانیے پر مبنی ہے اور فلم میں مسلمانوں کو امریکہ بھر کے کالجز میں مغرب، امریکہ اور عیسائیوں کے خلاف خفیہ منصوبے بناتے اور پُر تشدد کارروائیاں کرتے دکھایا گیا ہے۔ دستاویزی فلم میں عرب ٹی وی اور تاریخی فلموں سے حاصل کردہ حملوں کی ویڈیو بھی دکھائی گئی ہیں جبکہ فلم میں خاص طور پر اسلام مخالف رائے رکھنے والے کمنٹیٹرز جن میں مارٹن گلبرٹ، ڈینیل پائپس اور اسٹیو امرسن شامل ہیں، کے انٹرویو دکھائے گئے ہیں۔ اس فلم کو 70 سے زائد امریکی اخباروں کے ذریعے 14 ریاستوں میں تقسیم کروایا گیا ہے۔ متنازعہ فلم پہلے 2006ء میں ریلیز کی گئی تھی جبکہ ایک مرتبہ پھر اسے صدارتی الیکشن کے قریب ریلیز کیا گیا ہے۔ 2006ء میں قائم ہونے والی کلیرین فنڈ نامی این جی او کے ڈائریکٹر کینیڈین فلم میکر رافیل شور ہیں جو اس وقت اسرائیل میں رہائش پذیر ہیں۔ این جی او نے اپنی ویب سائٹ پر فلم کا مقصد بیان کرتے ہوئے لکھا ہے کہ اس فلم کا مقصد امریکیوں کو شدت پسند اسلام کے منڈلاتے ہوئے خطرات سے باخبر کرنا ہے۔ امریکی مسلمان اس متنازعہ فلم کو نومبر میں ہونے والے الیکشن میں ووٹوں کے حصول کا ذریعہ قرار دے رہے ہیں۔
امریکی مسلمانوں کا کہنا ہے کہ آج کل ہر کنزرویٹو ٹاک شو میں متنازع فلم کا موضوع زیر بحث ہے۔ جبکہ امریکی نشریاتی ادارے فوکس نیوز اپنے خصوصی پرائم ٹائم شو میں یہ متنازع فلم دو ہفتوں کے دوران 9 مرتبہ دکھا چکا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ متنازع DVD صرف امریکی صدارتی انتخابات پر اثر انداز ہونے والی ریاستوں میں تقسیم کی جارہی ہے جہاں ووٹرز دونوں جماعتوں کے درمیان تقسیم ہیں اور وہ ریاستیں الیکشن کے نتائج پر اثر انداز ہوسکتی ہیں۔ امریکی ذرائع ابلاغ کا کہنا ہے کہ امریکہ کی 14 ریاستوں میں پس پردہ یہودی خیراتی ادارے Aish Hatorah کی جانب سے اسلام مخالف فلم تقسیم کی گئی ہے۔ کلیرین فنڈ نامی این جی او کے ترجمان روں Aish Hatorah کی ویب سائٹ میں فیڈرل الیکشن 2007ء کے فیڈ ریزنگ فارم میں عالمی سطح پر فنڈ ریزنگ لسٹ میں شامل ہیں۔ جبکہ مین ہٹن کی ڈائریکٹری میں بھی کلیرین فنڈ کا وہی پتہ موجود ہے جو کہ Aish Hatorah International پر ہے۔ ان تنظیموں کے باہمی گٹھ جوڑ کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ کلیرین فنڈ اور Aish HaTorah ایک تیسرے گروپ کے ساتھ منسلک ہیں جس کا نام Honest Reporting ہے جس نے اسلام مخالف ڈاکیومنٹری تیار کی ہے جبکہ کلیرین فنڈ کے دو ڈائریکٹرز کا نام 2006ء کی Aish Employes لسٹ میں شامل ہے۔ جبکہ تیسرے ڈائریکٹر ایش ایگزیکٹو کمیٹی کا ممبر ہے۔ دوسری جانب امریکی مسلمانوں نے متنازع فلم کو مسترد کر دیا ہے۔ امریکی مسلمانوں کی نمائندہ تنظیم کیئر کا کہنا ہے کہ یہ صرف ایک سیاسی چال ہے اور اس کا مقصد اسلام کے خلاف نفرت خوف پیدا کرنا اور عام پبلک کے درمیان مسلمانوں کو قومی سلامتی کے خطرہ ظاہر کرنا ہے۔ کیئر (CAIR) کے امور برائے سٹریٹجک کمیونیکیشن کے ڈائریکٹر احمد وہاب کا کہنا ہے کہ اسلام مخالف فلم کے ذریعے مسلمان دشمن قوتیں لوگوں اور ملک میں خوف اور دہشت پھیلانا چاہتی ہیں اور ایک بڑے تنازعے کو فروغ دینا چاہتی ہیں۔
یاسر محمد خان
شعائر اسلام کی توہین کیوں؟
تھیووان گوف ہالینڈ کا فلم ساز تھا۔ بچپن میں اس کے والدین نے اپنا گھر بیچ ڈالا۔ تھیووان کو اس گھر سے بہت انس تھا۔ یہ گھر ایک مسلمان تاجر نے خریدا تھا۔ تھیووان کو اپنا سابق گھر بہت یاد آتا تھا۔ وہ اپنی ماں سے واپس جانے کا اصرار کرتا۔ اس کی ماں نے زچ ہو کر اسے مسلمانوں سے متنفر کرنا شروع کر دیا۔ اس نے اسے بتایا: ”ہم سے وہ گھر ایک مسلمان نے ہتھیا لیا ہے، مسلمان بہت ظالم اور شدت پسند ہوتے ہیں، ہم اگر واپس اس گھر میں گئے تو وہ مسلمان ہمیں ذبح کردے گا، تمہیں اگر اپنی جان عزیز ہے تو تمہیں زندگی میں کبھی اس گھر کے قریب سے نہیں گزرنا چاہیے۔“ تھیووان گوف ایک حساس بچہ تھا۔ ماں کا جھوٹ اس کے دماغ میں بیٹھ گیا، وہ جوں جوں بڑا ہوتا گیا یہ جھوٹ بھی اس کے ساتھ بڑا ہوتا چلا گیا یہاں تک کہ وہ اسلام اور مسلمان دونوں سے نفرت کرنے لگا۔ ہالینڈ میں مسلمان اقلیت میں ہیں، یورپ میں سب سے زیادہ مسلمان فرانس میں آباد ہیں، وہاں ان کی آبادی 7 فیصد ہے۔ اس کی بڑی وجہ الجزائر اور وہ مسلمان افریقی ممالک ہیں جہاں فرانس قابض رہا تھا۔ ماضی میں 13 ممالک میں فرانس نے اپنی کالونیاں بنا رکھی تھیں۔ ان ممالک میں سے اکثریت مسلمان تھے۔ لہٰذا یہ مسلمان مختلف ادوار میں فرانس منتقل ہوتے گئے۔ ہالینڈ دوسرا ملک جس میں مسلمان اکثریت میں ہیں، یہاں مسلمانوں کی تعداد لگ بھگ 6 فیصد ہے۔ ان مسلمانوں کی زیادہ تعداد مراکش سے ہجرت کر کے ہالینڈ پہنچی تھی۔ مراکش ماضی میں ہالینڈ اور بلجیم کی کالونی رہا ہے۔ لہٰذا الجزائر کی طرح مراکش کے لوگ بھی بلجیم اور ہالینڈ میں منتقل ہوتے رہے۔ یوں ہالینڈ یورپ کا دوسرا بڑا ملک بن گیا جس میں مسلمانوں کی تعداد بہت زیادہ ہے۔ یہ لوگ عام زندگی میں بھی بکثرت دکھائی دیتے ہیں۔ ان لوگوں نے ہالینڈ میں اپنی مسجد، مدرسے اور کمیونٹی سینٹر بنا رکھے ہیں۔ ان کی کئی تنظیمیں ہیں جو ہالینڈ میں بڑا فعال کردار ادا کر رہی ہیں۔ 6 فیصد
ہونے کے باعث ان کا ایک سیاسی وزن بھی ہے۔ ہالینڈ کی تمام سیاسی جماعتیں ان کی حمایت حاصل کرنے کی کوشش کرتی ہیں۔ مسلمان اپنی اس سیاسی اہمیت سے پوری طرح واقف ہیں۔ لہٰذا یہ مختلف اوقات میں مختلف سیاسی جماعتوں سے مراعات بھی لیتے رہتے ہیں۔
ہاں تو عرض کر رہا تھا تھیووان گوف کو عام زندگی میں جہاں بھی کوئی مسلمان نظر آتا، اسے اپنا گھر یاد آ جاتا اور نفرت سے اس کے تن بدن میں آگ لگ جاتی۔ وہ مسلمانوں کی دکانوں سے سودا تک نہیں خریدتا تھا۔ بڑا ہو کر اس نے فلم سازی کو اپنا پیشہ بنا لیا۔ اس پیشے کے دوران بھی وہ اپنی نفرت کا کھل کر اظہار کرتا رہتا تھا۔ اس کی فلموں میں عموماً اسلام اور مسلمانوں سے نفرت جھلکتی تھی۔ پچھلے سے پچھلے سال اس کی ملاقات ایان علی سے ہو گئی۔ ایان کا تعلق صومالیہ سے تھا۔ اس کے والدین اس کی شادی اپنے خاندان میں کرنا چاہتے تھے لیکن وہ بھاگ کر ہالینڈ آ گئی اور یہاں اس نے سیاست میں حصہ لینا شروع کر دیا۔ ہالینڈ میں وہ ایک لبرل سیاستدان سمجھی جاتی تھی، ایان علی نام کی مسلمان تھی۔ اس کی ساری عادات غیر مسلموں جیسی تھیں۔ وہ شراب پیتی تھی، جوا کھیلتی تھی، حرام گوشت کھاتی تھی اور بدکاری کرتی تھی۔ کسی کلب میں تھیووان اور ایان کی ملاقات ہو گئی۔ ایان نے ہالینڈ میں اپنا نام این رکھا ہوا تھا۔ اس نام سے اس کی قومیت اور مذہب کا اندازہ نہیں ہوتا تھا۔ گفتگو کے دوران تھیووان گوف نے اپنے نظریات اور خیالات کا اظہار کیا تو ایان نے اسے بتایا ”میں ایک منحرف مسلمان ہوں، میں مسلمانوں کی مذہبی اور سماجی کمزوریوں سے پوری طرح آگاہ ہوں، اگر تم مسلمان خواتین کی سماجی زندگی پر کوئی فلم بناؤ تو میں تمہارے ساتھ پورا پورا تعاون کروں گی“۔ تھیووان کو یہ آئیڈیا بہت پسند آیا۔ اس نے اسی وقت ہاں کر دی۔ بظاہر اس گفتگو سے یہ محسوس ہوتا تھا کہ تھیو ایان کی حمایت صرف فن کی ترویج کے لیے کر رہا ہے لیکن اندرون خانہ ایان کے عزائم کچھ اور تھے۔ ایان دراصل سلمان رشدی کی طرح ایک عالمگیر ”شہرت“ چاہتی تھی اور اسے یہ شہرت کسی ایسے گھناؤنے کام سے ہی مل سکتی تھی۔
بہر حال قصہ مختصر تھیووان گوف اور ایان نے فلم بنانا شروع کر دی۔ اس فلم کا نام ”سب مشن“ رکھا گیا اور یہ ایک ایسی مسلمان لڑکی سے متعلق تھی جسے اس کے والدین نے زبردستی شادی پر مجبور کیا۔ وہ لڑکی اس مرد کے ساتھ شادی نہیں کرنا چاہتی تھی۔ لیکن اس کے والدین نے اس کی رضامندی کے بغیر اس کی شادی کر دی۔ لڑکی کا خاوند ظالم تھا۔ اس نے
اس سے زیادتیاں کرنا شروع کر دیں۔ اس فلم میں بار بار قرآن مجید کا حوالہ دے کر بتایا گیا مسلمان اپنی بچیوں کی شادیاں ان کی رضامندی کے بغیر کر دیتے ہیں اور انہیں پوری زندگی اپنی خواہشات کا گلا گھونٹ کر ناپسندیدہ مردوں کے ساتھ رہنا پڑتا ہے۔ اس دوران اگر اس سے کوئی غلطی ہو جائے تو اس پر حدود کا مقدمہ چلا کر اسے سنگسار کر دیا جاتا ہے۔ اس فلم میں یہ ثابت کیا گیا مسلمان وحشی، سنگ دل اور بداخلاق لوگ ہیں۔ آخر میں فلم کی ہیروئن پر کوئی دوسرا ”مسلمان“ حملہ کر دیتا ہے۔ اس کے ساتھ زیادتی کرتا ہے اور بعد ازاں اسے قتل کر دیتا ہے۔ اس فلم میں ایک ایسا سین دکھایا گیا جس کی اجازت دینے کا کوئی مذہب، قانون اور ضابطہ نہیں دیتا۔ فلم میں خاتون کی ننگی پشت دکھائی گئی جس پر کوڑوں کے نشانات تھے اور نشانوں کے اوپر نعوذ باللہ قرآنی آیات تحریر تھیں۔ یہ فلم اکتوبر 2004ء کے آخر میں ڈچ ٹیلی ویژن پر دکھائی گئی۔ اس فلم میں شعائر اسلام کی اس قدر توہین کی گئی تھی کہ اس سے ہالینڈ کی مسلم آبادی میں بھونچال آگیا۔ ڈچ ٹیلی ویژن کو ہزاروں کی تعداد میں ٹیلی فون کالز موصول ہوئیں جن میں اس فلم کی بھر پور مذمت کی گئی لیکن ٹیلی ویژن کی انتظامیہ نے اس پر معذرت کی اور نہ اصلاح کا اعلان کیا۔ ہالینڈ میں احتجاج شروع ہو گیا۔ اس احتجاج پر پریشان ہونے کی بجائے تھیووان گوف اور ایان نے خوشیاں منانی شروع کر دیں۔ وہ مختلف ٹیلی ویژن چینلز اور اخبارات کو انٹرویو دینے لگے۔ ان کی ان حرکات نے حالات کو مزید کشیدہ بنا دیا یہاں تک کہ نومبر 2004ء کو ایک 26 سالہ مراکشی مسلمان نے تھیووان گوف کو قتل کر دیا۔ تھیووان گوف کے قتل نے اس فلم اور اس فلم کی سٹوری کو عالمی حیثیت دے دی۔
تازہ ترین صورت حال یہ ہے ہالینڈ میں مسلمانوں اور عیسائیوں کے درمیان انتہائی خوفناک کشیدگی پائی جاتی ہے۔ ایان پولیس کی پناہ میں روپوش ہو چکی ہے۔ ڈچ ٹیلی ویژن کی عمارت کی سیکورٹی انتہائی سخت کر دی گئی ہے جبکہ چینل کے ملازمین کو اپنی حفاظت کے انتظامات سخت کرنے کے احکامات دے دیے گئے ہیں۔ انہیں دروازے بند رکھنے، اجنبیوں سے ملاقات سے پرہیز کرنے اور تفریحی مقامات سے دور رہنے کی ہدایات کر دی گئی ہیں۔ ہالینڈ کی حکومت اس مسئلے کو جلد سے جلد حل کرنے کی کوشش کر رہی ہے لیکن اس کی یہ خواہش پوری ہوتی نظر نہیں آتی کیونکہ امریکہ کے بعض یہود نواز اخبارات، جرائد اور ٹیلی ویژن چینل اس مسئلے کو بین الاقوامی شکل دینے کی کوشش کر رہے ہیں۔ وہ تھیووان گوف کے قتل کو صلیبی جنگ بنانا چاہتے
ہیں مثلاً: آپ امریکہ کے مشہور جریدے ”نیوز ویک کو لیجیے۔ قتل کو بنیاد بنا کر ثابت کرنے کی کوشش کی یہ قتل امریکہ کے ورلڈ ٹریڈ سینٹر، انڈونیشیا کے جزیرے بالی میں ہونے والے بم دھماکوں، میڈرڈ کی ٹرینوں کو بارود سے اڑائے جانے اور فلوجہ میں ہونے والی لڑائی کا حصہ ہے۔ یہ 11 ستمبر 2001ء کو شروع ہونے والی جنگ کا سلسلہ ہے۔ جریدے نے کہا ”مسلمان دنیا کے جس حصے میں بھی ہوں، وہ اسلام کے بنیادی عقائد پر سمجھوتہ کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتے۔ یہ لوگ اپنے عقائد اور شدت پسندی کے باعث قیامت تک یورپ کے لبرل ماحول میں رچ بس نہیں سکتے۔ یورپ میں سب سے زیادہ مسلمان فرانس میں آباد ہیں۔ وہاں ان کی آبادی 7 فیصد ہے۔ فرانس کے بعد ہالینڈ دوسرے نمبر پر آتا ہے جہاں 6 فیصد مسلمان آباد ہیں۔ برطانیہ، ڈنمارک اور سویڈن میں ان کی شرح 3 فیصد ہے۔ ناروے، فن لینڈ اور آئرلینڈ میں بہت کم مسلمان آباد ہیں۔ اگر دیکھا جائے تو فرانس ہو، ہالینڈ ہو، برطانیہ، ڈنمارک، سویڈن، آئرلینڈ، فن لینڈ یا پھر ناروے یورپ کے جس جس ملک میں مسلمان آباد ہیں، وہاں امن و امان کی صورت حال خراب ہے۔ وہاں مذہبی کشیدگی پائی جاتی ہے۔“ جریدے نے لکھا: آئرلینڈ، فن لینڈ اور ناروے میں مسلمانوں کی تعداد نہ ہونے کے برابر ہے لیکن یہاں بھی بعض اوقات کشیدگی پیدا ہو جاتی ہے۔ ترکی یورپ کے بالکل ساتھ ہے۔ اس کا ایک حصہ تو آتا ہی یورپ میں ہے۔ اس ملک میں 6 کروڑ 80 لاکھ مسلمان آباد ہیں۔ اگر ترکی یونین میں شامل کر لیا گیا تو یورپ میں مسلمانوں کی تعداد میں بے پناہ اضافہ ہو جائے گا جس کے نتیجے میں پورے یورپ کا امن غارت ہو جائے گا۔ مسلمان دین کو بڑی سنجیدگی سے لیتے ہیں۔ یہ لوگ انتہا پسند اور شدت پرست ہیں جبکہ یورپی معاشرہ لبرل اور آزاد ہے۔ لہٰذا یہ لوگ اس معاشرے میں رچ بس نہیں سکتے۔“ نیوزویک کے تجزیہ نگار نے لکھا: ”فرانس اور جرمنی کی مثال دی۔ تجزیہ نگار نے لکھا: ”فرانس اور جرمنی میں حکومت نے لڑکیوں کے اسکولوں میں اسکارف لینے پر پابندی لگا دی جس پر مسلمانوں نے ان دونوں ملکوں میں شدید احتجاج کیا۔ ہالینڈ میں تھیووان گوف کا قتل اس سوچ کا تسلسل ہے۔ اگرچہ ہالینڈ کی حکومت نے اس قتل کے بعد مسلمانوں کے ریڈیو اسٹیشن اور ان کی ویب سائٹس پر پابندی لگا دی ہے لیکن اس کے باوجود شدت پسندی کا یہ سلسلہ آگے بڑھے گا۔“ جریدے کے تجزیہ نگار نے آگے چل کر لکھا: ”تھیووان گوف کا قتل ورلڈ ٹریڈ سینٹر کے انہدام، جزیرہ بالی کے بم دھماکوں اور میڈرڈ
میں ٹرین دھماکوں کا تسلسل لگتا ہے، یوں محسوس ہوتا ہے یورپ میں آباد مسلمان ابوغریب اور فلوجہ کا بدلہ لے رہے ہیں۔“ نیوز ویک کی اسی اشاعت میں تھیووان گوگ کی فلم کے اس سین کی تصویر بھی شائع کی گئی جس میں برہنہ خاتون کی پشت پر نعوذ باللہ آیات درج تھیں۔ نیوز ویک کے اس شمارے نے جلتی پر تیل کا کام کیا اور پورا عالم اسلام سراپا احتجاج بن گیا۔ تمام اسلامی ممالک کے عوام نے اپنی اپنی حکومتوں سے اس شمارے پر پابندی لگانے کا مطالبہ کر دیا۔ گزشتہ روز پاکستان کی بعض مذہبی جماعتوں نے بھی حکومت پاکستان سے یہ مطالبہ کر کے عوام کے جذبات حکومت کے سامنے پیش کیے تھے۔ مقام شکر ہے کہ حکومت نے معاملے کی سنگینی کا بروقت ادراک کرتے ہوئے نیوز ویک کے اس شمارے پر پابندی عائد کر کے عوام کے احساسات اور شعائر اسلام کی حرمت کا خیال رکھا ہے لیکن مسلمانوں کو متعصب صلیبیوں کی نفسیات کا جائزہ لینے اور ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے ٹھوس اقدام کرنے کی ضرورت ہے۔
تھیووان گوگ کے واقعے نے ایک بار پھر ثابت کر دیا یورپ مسلمانوں کے خلاف صلیبی جنگ شروع ہو چکا ہے لیکن آپ مسلمانوں کی بے حسی ملاحظہ کیجیے۔ دشمن کیل کانٹے سے لیس ہو کر میدان میں اتر چکا ہے، وہ اخبار کے کاغذ سے لے کر ڈیزی کٹر بم تک ہر ہتھیار استعمال کر رہا ہے لیکن ہم لوگ خواب غفلت کے مزے لے رہے ہیں۔ ہم لوگ کبوتر کی طرح آنکھیں بند کر کے بلی کے سامنے کھڑے ہیں۔ اے مسلمان! تم کب بیدار ہو گے، تمہیں کب خبر ہوگی .....؟
۞ ۞ ۞
عرفان گیلانی
مسلمان عورت پر اشتعال انگیز فلم
ولندیزی فلم ساز، تھیووان گوگھ (Theovan Gogh) کی اسلام میں عورت کے مقام کے موضوع پر ”Submission“ نامی فلم جس میں اسلام کی تصویر کو نہایت مسخ کر کے پیش کیا گیا ہے، حال ہی میں یورپ کے ٹی وی چینلوں سے نشر ہوئی۔ یہ فلم درحقیقت 10 منٹ پر محیط تقریر پر مبنی ہے جس کی مصنفہ ڈچ پارلیمنٹ کی ممبر صومالی خاتون آیان حرصی علی (Ayaan Hirsi Ali) ہیں جو گذشتہ کئی برس سے اس تصور کو عام کرنے میں سرگرم عمل ہیں کہ اسلام عورتوں پر جبر اور ظلم و ستم کا نام ہے۔ متذکرہ فلم بھی حرصی علی کی اسی فکر کی ترجمانی کرتی ہے جس کے اشتعال انگیز مواد نے پورے یورپ کے مسلمانوں میں غم و غصے کی لہر دوڑا دی جس کا انتہائی اور شدید ترین ردعمل 2 نومبر 2004ء کو وان گوگھ کے ایک مسلمان کے ہاتھوں افسوسناک قتل کی صورت میں رونما ہوا۔
وان گوگھ کے قتل کے نتیجے میں یورپی میڈیا اور سیاسی حلقوں میں مسلمانوں کے خلاف شدید ردعمل کا اظہار ہو رہا ہے جس کے باعث فلم کے مواد، اس کے محرکات، مضمرات اور نتائج کا تجزیہ مسلمانان یورپ کے مستقبل کے لیے بڑی اہمیت کا حامل ہے۔
یہ فلم ایک خاتون کی افسانوی کہانی پر مبنی ہے جو ساری عمر با پردہ رہتی ہے اور اپنے رب کی رضا کی خاطر اپنی پاک محبت کو قربان کر کے اپنے والد کے پسند کیے ہوئے لڑکے سے 17 برس کی عمر میں محض اس لیے شادی کر لیتی ہے کہ اسلام ولی کی پسند کو تسلیم کرنے کا حکم دیتا ہے، حالانکہ لڑکی کو لڑکے کے وجود سے ہی کراہت محسوس ہوتی ہے۔ جب جب وہ خواہش کرتا ہے وہ اپنے شوہر سے خلوت بھی کرتی ہے کیونکہ نِسَاؤُكُمْ حَرْثٌ لَّكُمْ فَأْتُوا حَرْثَكُمْ أَنَّى شِئْتُمْ (البقرہ:223) کی رو سے اُس کے شوہر کو یہ حق حاصل ہے اور عورت انکار کرنے کی مجاز نہیں۔
وقت گزرتا جاتا ہے وہ خاتون نہ کہیں باہر جاتی ہے نہ کوئی مشاغل ہی رکھتی ہے۔ اُس کی زندگی کا مرکز و محور صرف اور صرف اپنے شوہر کے احکام کی تعمیل ہوتی ہے۔ اس اطاعت شعاری کے باوجود اُس کا شوہر اُس کو مارتا پیٹتا ہے۔ وہ اپنی زینت کسی پر ظاہر نہیں کرتی سوائے اپنے محرموں کے سامنے۔ اس پاکیزگی اخلاق اور احتیاط کے باوجود اس کا چچا اُس سے جبراً زنا کرتا ہے۔ وہ اپنی والدہ کے ذریعے سے اپنے والد تک یہ بات پہنچاتی ہے تاکہ اپنے چچا کے ظلم سے نجات کی کوئی سبیل بنے مگر اُس کا باپ جواباً یہ فرماتا ہے کہ اُس کے بھائی کی عزت پر شک کی نگاہ سے دیکھنے کی جرأت نہ کی جائے۔ فلم کا اختتام اس طرح ہوتا ہے کہ عورت اپنے رب کے حضور سجدے میں گر جاتی ہے، گویا کہ یہی اس کا مقدر اور منزل ہے۔
یہ کہانی اپنی جگہ یقیناً آنکھوں کے نم کر دینے اور دلوں کو دہلا دینے والی ہے لیکن حرسی علی اور وان گوگھ کا مقصد کسی مظلوم خاتون کی فریاد سنانا نہیں، بلکہ فلم کی کہانی اور پیش کش دونوں کا مقصد یہ ظاہر کرنا ہے کہ قرآن وسنت کی تعلیمات خواتین پر ظلم وستم کی ترغیب دیتے ہیں اور مردوں کے مقابلے میں عورتوں کو کوئی مقام حاصل نہیں ہے۔ مرد عورت کے ساتھ جو سلوک چاہے روا رکھے۔ گویا یہی اسلام کی تعلیمات ہیں اور یہی اسلام معاشرے کا دستور ہے۔
اس مختصر فلم کی اشتعال انگیزی کا اندازہ تو اُس کو دیکھ کر ہی لگایا جا سکتا ہے جس میں متذکرہ عورت ایسے لباس میں ملبوس ہے جس میں اُس کا جسم چھلکتا ہے اور اسی حالت میں وہ نماز ادا کر رہی ہے۔ فلم میں جہاں جہاں آیات قرآنی کی تلاوت ہوئی ہے یا کسی آیت کا حوالہ دیا گیا ہے، اُس موقع پر خاتون کے برہنہ جسم کے کسی حصے پر آیت کو لکھا دکھایا گیا ہے۔ خاتون کی تقریر شکوے کے طور پر بیان ہوئی ہے جس کا انداز طنزیہ ہے۔
اسلام آزادی اظہار کے قائل ہونے کا ہی نہیں بلکہ اس کی پُر زور اور پُر جوش حمایت کرنے کا نام ہے، تاہم اسلام اس آزادی اظہار کو اخلاقی ضابطوں کا پابند قرار دیتا ہے۔ وہ تعمیری تنقید کی اجازت ہی نہیں دیتا بلکہ دعوت دیتا ہے لیکن اشتعال انگیزی کو آزادی اظہار کا بدل ہرگز نہیں مانا جاسکتا۔ احکامِ اسلام کو شعوری طور پر سیاق وسباق سے کاٹ کر بیان کرنا ہی ایک مذموم کارروائی ہے، کجا کہ قرآن جیسی مقدس کتاب کی آیات کو برہنہ جسم پر لکھ کر پیش کرنا۔ اگرچہ فلم بالواسطہ متعدد موضوعات کو زیرِ بحث لاتی ہے، تاہم کلیدی نکتہ اسلام میں عورت کا مقام، حقوق اور کردار ہے۔
قرآن کی آیات کو برہنہ جسم پر لکھنا اپنی جگہ توہین آمیز ہے، مگر اصل مسئلہ تو اسلام میں عورت کے مقام کی حسب مرضی پیش کش اور اس کے ذریعے سے مسلمانوں کے اذہان میں اسلام کے حوالے سے شکوک و شبہات پیدا کرنا اور غیر مسلموں کو اسلام کی دعوت سے متنفر کرنے کی کوشش ہے۔ فلم میں اسلام پر جو چارج شیٹ پیش کی گئی ہے وہ کسی بھی لحاظ سے نئی نہیں ہے۔ عرصہ دراز سے مغرب اور مغرب زدہ مفکرین و مبصرین کی جانب سے مسلم خواتین اور اسلام میں اُن کے مقام کو ہدف تنقید بنایا جا رہا ہے۔ مذکورہ فلم بھی مفہوم کے اعتبار سے مختلف نہیں۔ فرق محض اتنا ہے کہ زوالِ اشتراکی روس اور 11 ستمبر کے بعد مغربی تہذیب کی اسلام اور مسلمانوں پر یلغار نے ان مسائل کو عصرِ حاضر کے سلگتے مسائل بنا دیا ہے، بالخصوص جب کہ مسلم ردِعمل اکثر جذباتی و انتقامی نوعیت کا ہوتا ہے نہ کہ مدبرانہ سوچ اور دعوت و اصلاح کے جذبے سے سرشار ، جیسا کہ وان گوگھ کے قتل سے بھی ظاہر ہوا ہے۔
وان گوگھ کے قتل کے نتیجے میں یورپ کے سیاسی و حکومتی حلقوں میں اسلام کے حوالے سے شکوک و شبہات کا اظہار بلکہ بعض مقامات پر کھلم کھلا تحقیر کی جا رہی ہے اور تقاضا کیا جا رہا ہے کہ وہ سزائے موت، رجم، پردہ وغیرہ اور سب سے بڑھ کر اللہ کی حاکمیت کے تصور سے دستبرداری کا اعلان کریں۔ جو یہ کرے وہ مہذب ہے اور جو نہ کرے وہ انتہا پسند (extremist) ہے، جس کو معاشرہ قطعاً برداشت نہیں کر سکتا۔
وان گوگھ کے قتل نے یورپی ممالک میں اس بحث کو ایک دفعہ پھر مزید قوت کے ساتھ ابھار دیا ہے کہ اسلام جمہوریت اور آزادیِ اظہار کی ضد ہے اور اگر ہم نے خود اسلام کی اصلاح (reform) کرنے کی تحریک نہ چلائی تو انتہا پسند اور دہشت گرد ہمارے معاشروں پر قبضہ کرلیں گے۔ ڈنمارک میں حکومتی پارٹی نے 21 نومبر کو اجتماع ارکان میں حرسی علی کو اُن کی فلم پر خصوصی انعام سے نوازا اور ملک کے وزیراعظم نے یہ کہا کہ ”مغربی معاشروں میں انجیل اور قرآن ہر چیز کو ہدف تنقید بنایا جاسکتا ہے اور اس بنیادی اصول سے انحراف برداشت نہیں کیا جائے گا ۔“ جرمنی سے بھی یہ تقاضا اُٹھ رہا ہے کہ مساجد کو ضابطے کے اندر رکھنے کے لیے یہ قانون نافذ کیا جائے کہ خطبہ جمعہ وغیرہ جرمنی زبان میں ہو۔ اسلام کی نام لیوا متعدد تنظیموں پر پابندی عائد کرنے کے حوالے سے زور دیا جا رہا ہے، اور وہ مسلم سیاست دان جو مغرب کے تصورِ جمہوریت وغیرہ پر ایمان نہیں لائے اور علانیہ شریعت کو نا قابلِ عمل قرار نہیں دیتے، اُن کو
سیاسی دائرے میں سے کہ یورپی یونین میں م والی بات Islam ا زکوٰۃ سے ہمیں کوئی ا تقاضوں سے ہم آہنگ ”روشن خیال اعتدال پ
برہنہ جسم پر لکھنا اپنی جگہ توہین آمیز ہے، مگر اصل مسئلہ تو اسلام کی کشش اور اس کے ذریعے سے مسلمانوں کے اذہان میں بغاوت پیدا کرنا اور غیر مسلموں کو اسلام کی دعوت سے متنفر کرنا ہے جو چارج شیٹ پیش کی گئی ہے وہ کسی بھی لحاظ سے نئی نہیں، مغرب زدہ مفکرین و مبصرین کی جانب سے مسلم خواتین کو ہدف تنقید بنایا جا رہا ہے۔ مذکورہ فلم بھی مفہوم کے اعتبار سے دراصل اشتراکی روس اور 11 ستمبر کے بعد مغربی تہذیب کی کشمکش کو عصر حاضر کے سلگتے مسائل بنا دیا ہے، بالخصوص ردعمل اس نوعیت کا ہوتا ہے نہ کہ مدبرانہ سوچ اور دعوت و اصلاح کے عمل سے بھی ظاہر ہوا ہے۔
اس میں یورپ کے سیاسی و حکومتی حلقوں میں اسلام کے بعض مقامات پر کھلم کھلا تحقیر کی جا رہی ہے اور تقاضا کیا جا رہا ہے وغیرہ اور سب سے بڑھ کر اللہ کی حاکمیت کے تصور کو جو تسلیم کرے وہ مہذب ہے اور جو نہ کرے وہ انتہا پسندی کو برداشت نہیں کر سکتا۔
ممالک میں اس بحث کو ایک دفعہ پھر مزید قوت کے ساتھ آزادی اظہار کی ضد ہے اور اگر ہم نے خود اسلام کی بات چلائی تو انتہا پسند اور دہشت گرد ہمارے معاشروں پر برطانیہ نے 21 نومبر کو اجلاس میں حزب التحریر کو اُن کی برطانوی وزیر اعظم نے یہ کہا کہ ”مغربی معاشروں میں انجیل مقدم ہے اور اس بنیادی اصول سے انحراف برداشت نہیں کیا جا سکتا ہے۔ یہ بھی طے ہے کہ مساجد کو ضابطے کے اندر رکھنے کے لیے یہ خطبات مقامی زبان میں ہوں۔ اسلام کی نام لیوا متعدد تنظیموں پر پابندی لگائی جا رہی ہے، اور وہ مسلم سیاست دان جو مغرب کے وفادار ہیں اور علانیہ شریعت کو ناقابل عمل قرار نہیں دیتے، اُن کو
سیاسی دائرے میں بے اثر کرنے یا نکالنے کا سلسلہ بھی شروع ہو گیا ہے۔ توقع کی جاسکتی ہے کہ یورپی یونین میں ترکی کی شمولیت کے مسئلے پر بھی یہ عمل اثر انداز ہوگا۔ سب سے پریشانی والی بات reforms of Islam کی ہے۔ یہ بات اب علانیہ کہی جا رہی ہے کہ صلوٰۃ و زکوٰۃ سے ہمیں کوئی اختلاف نہیں لیکن اسلام کی سیاسی و قانونی ہیئت کو بدل کر ”جدید“ تقاضوں سے ہم آہنگ کیا جائے جیسا کہ عیسائیت نے کیا ہے۔ غالباً پاکستان میں اسی کا عنوان ”روشن خیال اعتدال پسندی“ ہے۔
حضرت مولانا محب اللہ مدظلہ
فلموں میں انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام کے واقعات
ایک دن میرے لیے نہایت پریشان اور تشویشناک واقعہ پیش آیا کہ ایک صاحب نے مجھے فون کیا اور کہا: حضرت صاحب! میں بہت خوش قسمت ہوں، نجانے کونسی نیکی کام آگئی ہے۔ آج مجھے کئی انبیاء کرام کی زیارت نصیب ہوئی ہے۔ میں نے پوچھا کیا خواب میں زیارت نصیب ہوئی ہے۔ وہ صاحب کہنے لگے، نہیں حضرت صاحب! حالت بیداری میں کرم ہوا ہے۔ میں نے نہایت حیرت سے استفسار کیا، کیسے؟ کہنے لگے۔ آج کیبل پر انبیاء کرام کی زندگی اور سیرت پر فلم دیکھی ہے۔ بہت مزہ آیا۔ حضرت یوسف علیہ السلام بہت ہی خوبصورت تھے۔ میں نے ان کی بار بار زیارت کی۔ میں نے ان صاحب کو تفصیل سے بتایا کہ یہ شخص یوسف علیہ السلام نہیں بلکہ کوئی ناپاک، پلید اور کافر شخص ہے جس نے حضرت یوسف علیہ السلام کا بناوٹی اور فرضی کردار ادا کیا ہے۔ بناوٹی اور اصل شخصیت میں زمین و آسمان کا فرق ہوتا ہے۔ حضرات انبیاء کرام کی نقل اتارنا گناہ کبیرہ کے زمرے میں آتا ہے۔ ایسی فلم بنانا، دیکھنا اور دکھانا نہایت منع اور حرام ہے۔ اس پر اس شخص نے نہ صرف استغفار کیا بلکہ آئندہ ایسی فلم نہ دیکھنے کا مصمم ارادہ کیا۔
انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین اور قرآن پاک پر فلم بنانا، چلانا یہ ان حضرات مقدسہ کی توہین اور مسلمانوں کی دل آزاری کی زبردست شرارت ہے۔ اس سے کفر کا بڑا خطرہ، گناہ کبیرہ اور قطعی حرام ہے۔
تمام مسلمان اور اہل کتاب (یہود و نصاریٰ) جو انبیاء کرام یعنی حضرت موسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام، اور حضرت عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام کے ماننے والے ہیں، سب مل کر حکومت سے احتجاج کے ذریعے اس پر پابندی لگوائیں بلکہ حکومت کے ذمہ داران بھی ایمانی تقاضا کے تحت ان فلموں کو دکھانے پر پابندی لگائیں۔ اس سلسلے میں اگر کوئی شخص ان فلموں کے بارے
میں باز نہیں آتا تو اس پر توہین رسالت کا مقدمہ درج ہونا چاہیے۔ یہ ایمان کا مسئلہ ہے۔ اگر کوئی آدمی ہمارے ماں باپ پر فرضی کرداروں کے ذریعے فلم بنائے تو ہم اس کو برداشت نہیں کریں گے چہ جائیکہ توہین رسالت، توہین اسلام، توہین انبیاء کرام اور توہین کلام اللہ پر فلمیں بنائی جائیں۔
ٹی وی، وی سی آر، کیبل کا استعمال کرنا اور انٹرنیٹ، موبائل پر فلمیں (جن میں عورتیں اور غیر شرعی پروگرام آتے ہیں) دیکھنا، یہ تمام ام الخبائث (برائیوں کی اصل) ہے۔ اس کا قصداً دیکھنا حرام اور اس سے لذت لینا اور زیادہ خطرناک ہے اور انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام کی فلمیں بنانا یا چلانا یا دیکھنا اور بھی زیادہ خطرناک ہے۔ اور اس سے ایمان سلب (نکلنے) ہونے کا خطرہ ہے۔ اور ابدالآباد جہنم میں جانے کا ڈر ہے۔ اللہ تعالیٰ ایمان کے زوال سے سارے مسلمانوں کی حفاظت فرمائے۔
اگر بعض لوگ ضد میں آ کر انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام کی فلموں کا دیکھنا اور چلانا نہیں چھوڑتے اور حکومت بھی اُس کو بند نہیں کرواتی اور لوگ بھی قدرت رکھنے کے باوجود ان فلموں کو بند نہیں کرواتے تو موت سے پہلے ان پر عذاب آنے کا سخت ڈر ہے۔ جیسا کہ اس سلسلہ میں حدیث شریف میں آیا ہے۔
پہلے بھی کفریہ ممالک نے ہمارے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر فلم بنانے کی شرارت شروع کی تھی جس پر مسلمانوں کے زبردست احتجاج کرنے سے یہ سلسلہ بند اور ناکام ہو گیا تھا۔ لیکن اب انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام کی فلمیں بنانے اور دکھانے میں یہ قومی خطرہ ہے کہ جب ہم مسلمانوں کو انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام کی فلمیں بنانے اور دکھانے پر غیرت نہیں آتی تو پھر کافروں کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی فلم بنانے اور دکھانے کا موقعہ مل جائے گا۔
انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی زندگی پر فلمائی گئی اسلامی یا تبلیغی فلمیں جیسے فجر اسلام، دی میسج وغیرہ یہ سب اسلام دشمنوں کی شرارت ہے اور مسلمانوں کی مقدس شخصیات سے مذاق اور توہین کے مترادف ہے۔ اس کے جواز کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ جس نے اس کا رد کیا اور غم و غصے کا اظہار کیا، اس نے غیرت ایمانی کا ثبوت دیا اور اس قسم کی فلم بنانے والوں پر توہین رسالت کا مقدمہ درج کروانا چاہیے۔ جس ذریعے (تصویروں) پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لعنت فرمائی ہو اور حرام قرار دیا ہو، اس سے دین کا سیکھنا اور اللہ تعالیٰ کے احکامات کا جاننا نہیں ہو سکتا۔ آج تک ایک مسلمان بھی ایسا نہیں کہ جو فلم یا ٹی وی کے
ذریعہ سے اللہ تعالیٰ کے حکم اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقہ پر عمل کرنے والا بن گیا ہو۔
مکہ مکرمہ کے دارالافتاء سے بھی متفقہ فیصلہ آچکا ہے جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم پر فلم بنانے کو متفقہ طور پر حرام قرار دیا گیا ہے۔ (مجموعہ فتاویٰ و مقالات متنوعہ لابن باز رحمۃ اللہ علیہ المجلد الاول صفحہ 413)
آج کل فلم میں جو دکھایا جاتا ہے کہ ایک آدمی اپنے آپ کو یعقوب علیہ السلام یا یوسف علیہ السلام یا ابراہیم علیہ السلام یا موسیٰ علیہ السلام (جو اللہ کے برگزیدہ نبی ہیں) کے طور پر ظاہر کرتا ہے اور دیکھنے والے اس کو وہی سمجھتے ہیں۔ اس میں دو بڑی خطرناک باتیں ہیں۔
- (الف) غیر نبی کو نبی سمجھنا یہ کھلم کھلا کفر ہے۔ کردار ادا کرنے والے کے لئے بھی اور دیکھنے
والے کے لئے بھی۔
- (ب) کوئی کافر نجس ناپاک آدمی اپنے آپ کو اولوالعزم نبی کہلواتا دکھایا جاتا ہو تو دیکھنے
والے کے ذہن میں وہی منحوس شکل بیٹھ جاتی ہے۔ موسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام، یوسف علیہ الصلوٰۃ والسلام کے نام سننے سے وہی خبیث آدمی کی شکل ذہن میں آئے گی۔ یہ کتنی حسرت کی بات ہے کہ مقدس حضرات علیہم الصلوٰۃ والسلام جو خوبصورت اور خوب سیرت حضرات ہیں، ان کو اس منحوس شکل سے دکھانا یا دیکھنا یہ انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام اور مقدس حضرات کی توہین اور اسلام کا مذاق اڑانا اور مسلمانوں کی دل آزاری نہیں ہے تو اور کیا ہے؟ اگر اس پر بھی ہم مسلمانوں کی ایمانی غیرت جوش میں نہیں آتی تو پھر کب آئے گی؟
سب مسلمان مل کر حکومت کے عہدہ داروں کو جو اپنے آپ کو مسلمان سمجھتے ہیں، ساتھ شامل کر کے ہر شہر میں زبردست احتجاج کریں کہ ان فلموں کو فوری طور پر بند کر دیا جائے اور جو کیسٹیں جس کے پاس ہوں، خود باہر نکال کر ٹکڑے ٹکڑے کر کے پھینک دیں اور موبائلوں اور کمپیوٹر وغیرہ سے بھی ان فلموں کو فوراً ختم کر دیں یہ غیرت ایمانی کی دلیل ہے۔ مستقبل کے لئے اگر کوئی شخص ایسا ہو جو ان فلموں کو ضد کر کے چلائے تو اس کو توہین رسالت کے مقدمہ میں گرفتار کرنا چاہئے۔ اور اسی احتجاج میں عوام الناس کو اطلاع دینی چاہئے کہ جس نے فلم چلائی یا دکھائی وغیرہ وغیرہ سب اخلاص کے ساتھ توبہ کریں۔ سارے مسلمان کوشش کریں کہ ام الخبائث (برائیوں کی اصل) ٹی وی، وی سی آر، کیبل، تصویر والے موبائل وغیرہ گھروں سے نکال دیں۔
لی اللہ کے طریقہ پر عمل کرنے والا بن گیا ہو۔ ی حتمی متفقہ فیصلہ آچکا ہے جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ م بنانے کو متفقہ طور پر حرام قرار دیا گیا ہے۔ (مجموعہ یۃ من المجلد الاول صفحہ 413) ہے کہ ایک آدمی اپنے آپ کو یعقوب علیہ السلام موسیٰ علیہ السلام (جو اللہ کے برگزیدہ نبی ہیں) کے طور کھتے ہیں۔ اس میں دو بڑی خطرناک باتیں ہیں۔ ر ہے۔ کردار ادا کرنے والے کے لئے بھی اور دیکھنے
نے آپ کو اولوالعزم نبی کہلوانا دکھایا جاتا ہو تو دیکھنے ہو جاتی ہے۔ موسیٰ علیہ الصلوۃ والسلام، یوسف علیہ ک آدمی کی شکل ذہن میں آئے گی۔ یہ کتنی حسرت کی ام جو خوبصورت اور خوب سیرت حضرات ہیں، ان علیہم الصلوۃ والسلام اور مقدس حضرات کی توہین اور زاری نہیں ہے تو اور کیا ہے؟ اگر اس پر بھی ہم گی تو پھر کب آئے گی؟ عہدہ داروں کو جو اپنے آپ کو مسلمان سمجھتے ہیں، ش کریں کہ ان فلموں کو فوری طور پر بند کر دیا جائے میں رکھ کر گڑھے کھود کر کے پھینک دیں اور موبائلوں دیں یہ غیرت ایمانی کی دلیل ہے۔ مستقبل کے اس کے چلانے تو اس کو توہین رسالت کے مقدمہ میں حکام کو اطلاع دینی چاہئے کہ جس نے فلم چلائی یا ہوگی۔ سارے مسلمان کوشش کریں کہ ام الخبائث رکھنے والے موبائل وغیرہ گھروں سے نکال دیں۔
انھیں سے ساری برائیاں، خرابیاں اور معاشرے کا بگڑنا وجود میں آتا ہے۔ خصوصاً انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام کے فلموں کو فوراً ختم کریں۔ ان فلموں کے ساتھ ایمان بچنا مشکل ہے۔ انبیاء کرام علیہ الصلوۃ والسلام پر جتنی فلمیں بھی بنیں ہیں یہ کسی مسلمان علماء نے نہیں بنائیں بلکہ یہ کفریہ ممالک کی شرارت ہے۔ کیونکہ مسلمان یہ جراءت نہیں کر سکتا اور نہ ہی وہ یہ دعویٰ کر سکتا ہے کہ میں وہی موسیٰ ہوں جو نبی تھے۔ ایسا کرنے سے وہ کافر بن جاتا ہے ۔ اور ہماری اطلاع کے مطابق ان فلموں میں سادہ لوح مسلمانوں کا ایمان خراب کرنے کے لئے قرآنی واقعات غلط طریقے سے دکھائے جاتے ہیں۔ یہ تو ایسا ہی ہے جیسے تم دین کا کوئی مسئلہ کسی کافر سے پوچھو۔
عبدالرشید ارشد
دورِ جدید کے ابلیس کا ”الفرقان الحق“
اسلام سے غیر مسلموں کا بیر آج کی نئی بات نہیں ہے۔ یہ آغاز سے لمحہ موجود تک ہر دور کی کہانی ہے۔ نبیؐ کے ساتھ معاندانہ رویہ پر تاریخ گواہ ہے اور ہر آسمانی کتاب میں تحریف اس کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ پہلی کتب بشمول صحفِ ابراہیمی تو نایاب ہیں مگر تورات و زبور اور انجیل اپنے محرف ہونے کی ناقابل تردید گواہی کے لیے آج ہمارے سامنے موجود ہیں۔ صرف آخری نبی حضرت محمد ﷺ پر نازل شدہ آخری کتاب قرآن مجید تحریف سے محفوظ ہمارے درمیان موجود ہے۔ خالق چونکہ اپنی کتب کے حوالے سے اپنے بندوں کے ”تحریفی کارنامے“ دیکھتا چلا آرہا تھا۔ لہٰذا بنی نوع انسان کے لیے مکمل واکمل اور مدلل کتاب ہدایت کو ہر طرح کی تحریف سے محفوظ رکھنے کا خود کار نظام بھی اس کتاب میں رکھ دیا گیا اس لیے آج تک ہر کوشش ناکام رہی۔
ابلیس نے خالق کائنات کو چیلنج کیا تھا کہ میں تیرے ارضی خلیفہ کو گمراہ کرتا رہوں گا۔ لہٰذا ابلیس ہر دور میں ہر وقت ہمہ پہلو مستعد دیکھا گیا۔ یہود نے اپنی کتاب تورات میں تو تحریف کی ہی تھی۔ زبور میں من پسند چیزیں ڈالیں اور ”کڑوی“ نکال لی تھیں۔ نصاریٰ نے ناصح کا روپ دھار کر انجیل کو بھی بدل ڈالا اور پھر مختلف ادوار میں حسبِ خواہش تحریف کا عمل جاری رکھا گیا اور بڑی ڈھٹائی سے اس کا اقرار بھی کیا جاتا رہا۔ عادت سے مجبور ہونے کے سبب قرآن حکیم پر بھی طبع آزمائی کی گئی۔ مگر ساڑھے چودہ سو سال میں ہر محنت اکارت گئی۔ آج سے ربع صدی قبل یہود و نصاریٰ کی مشترکہ کاوش سے ”مصوّر قرآن کریم“ طبع ہوا جس کا آغاز پہلی وحی کی آیات سے ہوا اور آخری سورہ نصر تھی۔ اس میں جابجا تصاویر تھیں۔
یہود و نصاریٰ کی مشترکہ محنت کے باوجود ”مصوّر قرآن“ پھیل نہ سکا اور خود ہی اپنی موت مر گیا۔ مگر ابلیس ہار ماننے پر تیار نہ تھا۔ مصوّر قرآن کے بعد بڑی محنت اور عرق ریزی سے ”الفرقان الحق“ کا بت تراشا گیا۔ چونکہ امریکہ کے ذریعے یہودیت و نصرانیت مشرقِ
اوساط میں پر پرزے نکال رہی ہے۔ لہٰذا ”الفرقان الحق“ عرب ریاستوں میں دھڑا دھڑ تقسیم کیا جا رہا ہے۔ مگر بقول علامہ اقبالؒ
اگر چہ مغربیوں کا جنوں بھی تھا چالاک
”الفرقان الحق“ کے مرتبین نے جملہ حقوق محفوظ کروانے کے تمام مراحل طے کر کے یہ عملاً ثابت کر دیا کہ وہ بزدل بھی ہیں اور جاہل بھی کہ انہیں اپنی تصنیف کی صحت و حقانیت پر شرح صدر نہیں ہے۔ وہ ہر کونے سے ہونے والی تنقید سے خائف ہیں کیونکہ وہ پابندی لگاتے ہیں کہ
"All Rights reserved under international copyright convention. No part of this book is allowed to be reprinted, photocopied, in any fashion what so ever, neither display or photographed on the internet no quoted in any printed manner without a written permission."
اس کے برعکس قرآن حکیم نازل فرمانے والے خالق نے قرآن کے پیغام کو، قرآن کے الفاظ کو ہر صورت میں، ہر طریقے سے، ہر وقت پھیلانے کی اجازت دے رکھی ہے۔ اس پر کسی شخص کے لیے کوئی پابندی نہیں ہے اور بڑے واضح انداز میں یہ چیلنج بھی دیا ہے کہ جسے چاہو، مدد کے لیے ساتھ ملا لو، قرآن تو کیا اس کی ایک آیت کے برابر ایک آیت ہی بنا کر لے آؤ۔ ساڑھے چودہ سو سال سے چیلنج موجود ہے۔
”الفرقان الحق“ جس نے بھی نام تجویز کیا کچھ غلط نہیں کیا، نام سو فیصد درست ہے۔ فرقان کے معنی فرق کرنے یا فرق بتانے والے کے ہیں۔ کسی چیز کو نتھار کر کھرا کھوٹا الگ کرنے کا نام بھی فرقان ہے۔ حق کو واضح کرنے والا ہے۔ چنانچہ جب ایک عام قاری ”الفرقان الحق“ کے مندرجات پر نظر ڈالتا ہے۔ تو اس کی ایک ایک سطر اور ہر سطر کا ایک ایک لفظ مصنف یا مصنفین کے خبث باطن کی قلعی کھول دیتا ہے۔ اپنے اندر کے باطل پر یہ فرقان ہونا عملاً ثابت کر دیتا ہے۔ نہ اس فرقان الحق میں عربی زبان کی فصاحت و بلاغت دیکھنے کو ملتی ہے اور نہ قرآن کریم جیسی جامعیت اس میں ہے۔
”الفرقان الحق“ مجلس انتظامی تعارفی کلمات میں یہ وضاحت کرتی ہے کہ :
"We trust the living God that these langing can be clarified in this new document. The true Furqan."
”الفرقان الحق“ میں 77 باب یا سورتیں ہیں اور یہ 362 صفحات پر مشتمل ہے۔ 77 سورتوں پر الگ الگ تبصرہ تو ایک دگنی بڑی کتاب کا تقاضا کرتا ہے۔ لہٰذا ہم مختصراً صرف اُن سورتوں کا موازنہ آپ کے سامنے رکھیں گے۔ جن کے نام قرآن کریم میں ہمیں ملتے ہیں۔ قرآن حکیم کی سورتوں سے مماثلت رکھنے والی ”سورتیں“ مندرجہ ذیل ہیں۔
- 1 سورۃ الفاتحہ (7 پیرے یا مبینہ آیات)
- 2 سورۃ النور (7 مبینہ آیات)
- 3 سورۃ التوحید (14 پیرے یا مبینہ آیات)
- 4 سورۃ الفرقان (27 مبینہ آیات)
- 5 سورۃ القدر (11 پیرے یا مبینہ آیات)
- 6 سورۃ المومنین (7 مبینہ آیات)
- 7 سورۃ التوبہ (7 پیرے یا مبینہ آیات)
- 8 سورۃ النساء (16 مبینہ آیات)
- 9 سورۃ الطلاق (12 پیرے یا مبینہ آیات)
- 10 سورۃ المائدہ (5 مبینہ آیات)
- 11 سورۃ المنافقین (17 پیرے یا مبینہ آیات)
- 12 سورۃ الانبیاء (18 مبینہ آیات)
- 13 سورۃ الضحیٰ (10 پیرے یا مبینہ آیات)
- 14 سورۃ الاقراء (14 مبینہ آیات)
- 15 سورۃ الکافرین (12 پیرے یا مبینہ آیات)
”الفرقان الحق“ کا آغاز البسملۃ سے ہوتا ہے۔ ہم یہاں اس کا متن اس لیے درج کر رہے ہیں کہ دیگ سے چاول چکھنے کے مصداق یا ”نمونہ مشتے از خروارے“ کی طرح آپ ”فرقان الحق“ میں دیے گئے پیغام کی اصلیت کا اندازہ کر سکیں۔
البسملۃ The Blessing
- 1 قل بسم الاب الكلمة
الروح الاله واحد الا واحد
- 1 Say in the name of the Father, the
Word, the Holy Spirit, the One and only true God.
- 2 مثلث التوحيد موجد
التثليث ما تعدد
- 2 He is the Triune in unity, United in
the Trunity, indivisible as deity.
- 3 فهو اب لم يلد
- 3 He is the Father, Who has never
give birth like the race of humanity.
- 4 كلمة لم يولد
- 4 He is the Word, Who has never
been born except through virginity.
- 5 روح الم يفرد
- 5 He is the Spirit, Who has never
been seperated from the Trinity.
- 6 خلاق لم يخلق
- 6 He is the creater, who has never
been created by any entity.
- 7 فسبحان الملک الملک
والقوة المجد من ازل الازل الى ابد الاباد
- 7 Therefor, ceaseless praise is
offered to his regal sovereignty, absolute power and royal majesty is extended unto. Him, from cternity to infinty. Aameen
الفرقان الحق کی بسم اللہ آپ دیکھ چکے۔ عربی زبان دانی کا معیار آپ نے ملاحظہ فرمالیا اور اب اسی معیار پر ”فرقان الحق“ مرتب کرنے والوں کی علمیت اور بنی نوع انسان کے لیے اخلاص کا پیمانہ بھی آپ دیکھ لیجیے۔ قرآن حکیم کا آغاز بسم اللہ الرحمٰن الرحیم سے ہوتا ہے اور پھر پہلی سورہ الحمد شریف ہے۔ فرقان الحق نے بھی سورۃ فاتحہ سے آغاز کیا ہے۔ پہلی ”آیت“ کو ایک نظر دیکھ لیں اور اسی کسوٹی پر سارے الفرقان الحق کو جانچ لیں۔
وهوذا الفرقان الحق نوحيه فبلغنه للصالحين من عبادنا وللناس كافة ولا تخش القيوم المحدد
"Behold, this is the True Furqan which we inspire, declare it to whomever has gone astray from among our people and do not fear any one who may relaliate against this proclaimation."
”الفرقان الحق“ کی ایک سورۃ المعجزات (The Miracles) ہے جس کی ”آیت“ نمبر 4/5 میں یہ کہا گیا ہے۔
☆وسيقول السفها ومن الناس لوكان هذا الفرقان الحق من عندالله لابده بآية من عنده ولكنا به من المومنين (آیت نمبر 4)
The depraved people will counter the believers statement, "Had this true Furqan originated from God. He would have authanticated it with a supernatural sign from him. Then, we would have been among the believers."
☆ياايها الناس انا اتينا بايات و معجزات اقر بها الانس و الجان والشيطان و اهل الشرك و الكفران
O, people everywhere, we have indeed authanticated, it with signs and wonders. Human kind, demons, alongwith the ploythesis and infidels acknowledge that the scriptures are infallible and reliable for faith and practice.
سورۃ المعجزات کی ”آیت“ نمبر 6 میں ”الفرقان الحق“ کی صحت و حقانیت (Authanticity) کے لیے دیے گئے دلائل پر بھی ایک نظر ڈال لیں کہ ابلیس کن دلائل سے مسلمان کو گمراہ کر رہا ہے اور صاحب بصیرت کے نزدیک یہ کیسا بھونڈا اور بودا اسلوب ہے۔
☆اوما شفينا الاكمه والا برص و احينى الموتى و اشبعنا الجياع الافا؟ فبای آية بعد ذالك تطلبون؟ وبای الا يا
تکذبون؟
Respond, if you please! Did we not heat the deaf mute and the leper? Did we not raise the dead to life and feed the thousands? What other signs besides these do you demand?
”الفرقان الحق“ کو عربی فصاحت و بلاغت بھی نصیب نہ ہو سکی کہ عربی عبارت پڑھتے ہوئے ذرہ بھر لگاؤ پیدا نہیں ہوتا۔ اس کے برعکس کیسٹ سٹیون پاپ سنگر کے کان میں تلاوت قرآن یوں اتر جاتی ہے کہ وہ قرآنی دم سے یوسف اسلام بن جاتا ہے اور یہ صرف یوسف اسلام کی بات نہیں ہے۔ قرآن کریم اپنے زمانہ نزول سے دعویٰ کر رہا ہے کہ یہ کسی انسان کا کلام نہیں ہے۔ بلاشبہ اس کے مقابلے میں ایک آیت نہیں بنائی جا سکتی۔ آپ اوپر ابلیسی آیات کے نمونے دیکھ چکے ہیں۔ کیا کوئی ڈھب کا جملہ آپ پاسکتے ہیں۔ کلام الٰہی کا ابلیسی کلام سے موازنہ بھی ہمارے نزدیک گناہ ہے۔ جس طرح فقہا کے نزدیک رسول ﷺ کے بعد کسی کذاب سے اس کی نبوت کے دعوے کا ثبوت طلب کرنا اپنے ایمان بالرسالت کی نفی کرنا ہے۔ مگر ہم نے یہ مکروہ کام صرف اس لیے کرنا قبول کر لیا کہ بدقسمتی سے ملت مسلمہ کے کسی حکمران کو کسی سیاستدان کو اور کسی مذہبی راہنما کو یہ توفیق نصیب نہ ہو سکی۔ کہ وہ ”الفرقان الحق“ کے خلاف مؤثر آواز اٹھاتا، پابندی لگاتا یا پابندی لگانے کا مطالبہ کرتا۔ ستم بالائے ستم مرکز ملت کعبہ سے نہ حج سے قبل اور نہ ہی خطبہ حج کے دوران یہود و نصاریٰ کے اس فتنہ پر ملت مسلمہ کو خبردار کیا گیا۔ یہود و نصاریٰ کے یلغار سے سہمے ہمارے حکمران، سیاستدان اور علمائے کرام مفاد پرست ہیں۔ حرمین ہوں یا عالم اسلام کی دوسری مساجد ہمیں نماز روزہ کے فوائد، بزرگوں کی کرامات سنائی جا رہی ہیں۔ مگر کوئی اللہ کا بندہ یہود و نصاریٰ کے فتنہ و فساد کے ہمہ جہت اور ہمہ وقت پھیلائے جانے کے انداز سے، متوقع تباہی سے اور ہمہ پہلو جہاد کی ضرورت سے آگاہ کرنے پر تیار نہیں ماسوائے ایک آدھ آواز کے، انا للّٰہ وانا الیہ راجعون حکمران ہیں تو وائٹ ہاؤس کے سامنے سجدہ ریز ہیں۔ امریکہ کا کلمہ پڑھنا اور امریکہ کے ”الفرقان الحق“ کی حفاظت و ترویج ان کی زندگی کا نصب العین اور اقتدار کے استحکام کی ضمانت بن چکا ہے۔
حامد میر
یہ آگ کیسے ٹھنڈی ہو؟
جین مائیکل کارا دیش فرانس کا ایک معروف صحافی ہے۔ اس نے حال ہی میں پاکستان میں طالبان کے سابق سفیر ملا عبدالسلام ضعیف کی کتاب کا فرنچ زبان میں ترجمہ کیا ہے۔ یہ چھوٹی سی کتاب دو سال قبل پشتو میں شائع ہوئی تھی اور پھر اس کا فارسی ترجمہ بھی شائع ہوا۔ جین کا خیال ہے کہ بظاہر یہ کتاب ملا عبدالسلام ضعیف کی بگرام، قندھار اور گوانتاناموبے جیل میں گزری یادوں پر مشتمل ہے لیکن یہ صرف ایک قیدی کی یادیں نہیں بلکہ وہ وجوہات ہیں جن کے باعث افغانستان میں طالبان کی مزاحمت ختم ہونے میں نہیں آرہی۔ جین نے ملا عبدالسلام ضعیف کی کتاب کا ترجمہ محض اس لیے کیا ہے کہ مغرب میں رہنے والے عام لوگوں کو پتہ چلے کہ مسلمانوں کا ایک گروہ ان سے شدید نفرت کیوں کرتا ہے۔ گوانتانامو بے جیل کے قیدی نمبر تین سو چھ کی یادداشتیں پڑھ کر ہر سچے پاکستانی کا سر شرم سے جھک جاتا ہے کیونکہ ملا عبدالسلام ضعیف کی تذلیل بگرام سے نہیں بلکہ اسلام آباد اور پشاور سے شروع ہوئی تھی۔
ملا عبدالسلام ضعیف نے اپنی کتاب کا آغاز ایک خواب سے کیا ہے۔ پاکستان میں گرفتاری سے چھ دن قبل انہوں نے خواب دیکھا کہ ان کا بڑا بھائی ہاتھ میں چھری تھامے آیا اور انہیں کہا کہ وہ ذبح ہونے کے لیے تیار ہو جائیں۔ ضعیف نے بھائی کو بہت سمجھایا لیکن بھائی انہیں ذبح کرنے پر بضد تھا۔ آخر کار ضعیف اس خیال سے زمین پر لیٹ گئے کہ بھائی کے دل میں رحم آجائے گا لیکن بھائی نے ان کے گلے پر چھری پھیر دی۔ اس خواب نے ضعیف کو پریشان کر دیا۔ چھ دن کے بعد 2 جنوری 2002ء کو ملا عبدالسلام ضعیف کو اسلام آباد میں گرفتار کر لیا گیا۔ سیاہ رنگت والے ایک بھاری بھرکم فوجی افسر نے ضعیف سے کہا کہ امریکہ ایک بہت بڑی طاقت ہے، کوئی اس کا حکم ماننے سے انکار نہیں کر سکتا۔ امریکہ کو پوچھ گچھ کے لیے آپ کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ کو ہمارے ساتھ چلنا ہو گا۔ ضعیف نے اس سیاہ رنگ شخص سے بحث شروع کر دی لیکن اس ”فہیم“ شخص سے بحث کا کوئی فائدہ نہ ہوا۔ ضعیف کو گرفتار
کر کے پشاور لے جایا گیا۔ تین دن کے بعد انہیں آنکھوں پر پٹی باندھ کر ایئر پورٹ لے جایا گیا جہاں ایک ہیلی کاپٹر تیار کھڑا تھا۔ پاکستانی حکام نے اپنے قیدی کو جیسے ہی امریکیوں کے حوالے کیا تو انہوں نے ملا عبدالسلام ضعیف پر لاتوں اور گھونسوں کی بارش کر دی۔ پھر چاقوؤں سے اس باریش قیدی کے تمام کپڑے پھاڑ دیے گئے اور زمین پر الٹا لٹا کر مارا گیا۔ تشدد کے دوران ضعیف کی آنکھوں پر بندھی پٹی اتر گئی تو انہیں نظر آیا کہ ایک طرف قطار میں پاکستانی فوجی اور ان کی گاڑیاں کھڑی تھیں اور دوسری طرف امریکی انہیں بے لباس کر کے مار رہے تھے۔ ضعیف لکھتے ہیں کہ ”ان لمحات کو میں قبر تک نہیں بھول سکوں گا!“
پشاور سے بگرام لے کر جا کر ملا عبدالسلام ضعیف کو بغیر کپڑوں کے برف پر پھینک دیا گیا اور امریکی فوجی خواتین ایک بے لباس مسلمان کے سامنے کھڑے ہو کر تین گھنٹے تک گانے گاتی رہیں۔ بگرام میں کئی دن کی مار پیٹ کے بعد ضعیف کو قندھار بھجوایا گیا۔ قندھار میں ایک دفعہ پھر ضعیف اور دیگر قیدیوں کو ننگا کر کے سب کی تصاویر لی گئیں۔ ایک دن قندھار جیل میں ضعیف نماز فجر کی امامت کروا رہے تھے جیسے ہی وہ سجدے میں گئے تو ایک امریکی فوجی ان کے سر پر بیٹھ گیا۔ یہ نماز ضعیف کو دوبارہ پڑھنی پڑی۔ اپنی کتاب میں ملا عبدالسلام ضعیف لکھتے ہیں کہ امریکیوں کو جلد ہی معلوم ہو گیا کہ ہم ہر قسم کا تشدد برداشت کر لیتے ہیں لیکن قرآن مجید کی توہین برداشت نہیں کرتے۔ انہوں نے لکھا ہے کہ قندھار جیل میں امریکی فوجی (نعوذ باللہ) قرآن مجید پر پیشاب کر کے اسے ردی کی ٹوکری میں پھینک دیتے تھے اور قیدی یہ منظر دیکھ کر روتے تھے۔ آخر کار قیدیوں نے اپنے تمام قرآن اکٹھے کر کے ہلال احمر کو دے دیے تاکہ ان کی توہین نہ ہو۔ عبدالسلام ضعیف نے اپنی یادداشتوں میں لکھا ہے کہ قندھار جیل سے انہیں گوانتانا موبے جیل منتقل کیا گیا اور بدقسمتی سے یہاں بھی قرآن مجید کی توہین کا سلسلہ جاری رہا۔ اس امریکی جیل میں ساڑھے تین سالہ قید کے دوران کم از کم دس مرتبہ قرآن مجید کی توہین ہوئی۔ ضعیف کے بقول ”امریکی قرآن کی بے حرمتی کر کے مسلمانوں کو یہ پیغام دیتے تھے کہ تم ہمارے غلام اور تمہارا دین و قرآن ہمارے لیے قابل احترام نہیں۔“
گوانتانا موبے جیل میں امریکی فوجیوں کے ظلم و زیادتی کے خلاف ملا عبدالسلام ضعیف نے کئی مرتبہ بھوک ہڑتالیں کیں۔ ایک سے زائد مرتبہ کرزئی حکومت کے نمائندے انہیں ملنے جیل آئے اور مشروط رہائی کی پیشکش کی، ضعیف انکار کرتے رہے۔ آخر کار انہوں نے خود ایک تحریر لکھی...... ”میں مجرم نہیں ہوں، میں نے کبھی کوئی جرم نہیں کیا، ایک مظلوم مسلمان ہوں
جس کے ساتھ پاکستان اور امریکہ نے ظلم کیا اور چار سال قید میں رکھا میں یقین دلاتا ہوں کہ امریکہ کے خلاف سرگرمیوں میں حصہ نہیں لوں گا۔‘ اس تحریر کے بعد انہیں رہا کر کے کابل بھیج دیا گیا اور ایک سرکاری گیسٹ ہاؤس تک محدود کر دیا گیا۔ یہاں ملا عبدالسلام ضعیف نے خفیہ طور پر اپنی یادداشتیں سپرد قلم کیں اور ایک دوست کی مدد سے کتابی صورت میں شائع کروا دیں۔ آج افغان طالبان اس کتاب کے اقتباسات خود شائع کر کے اپنے ہم وطنوں میں تقسیم کرتے ہیں تاکہ انہیں باور کرایا جا سکے طالبان اور امریکہ کی اصل جنگ کیا ہے سات سال سے یہ جنگ جاری ہے اور سات سال کے بعد افغان صدر حامد کرزئی کی کوشش ہے کہ ملا عبدالسلام ضعیف کے وکیل محمد متوکل اور فضل ہادی شنواری کے ذریعے ملا محمد عمر سے مذاکرات کریں۔ اب کرزئی کو بھی یقین ہو چکا ہے کہ جب تک امریکی فوج افغانستان میں موجود ہے امن قائم نہیں ہوگا۔ پاکستانیوں کو اب یہ سوچنا ہے کہ اگر امریکی فوج افغانستان سے واپس چلی گئی تو کیا پاکستان میں امن قائم ہو جائے گا؟ ہمیں وہ وجوہات تلاش کرنے کی ضرورت ہے جن کے باعث افغانستان میں لگنے والی آگ ہمارے گھر میں بھی داخل ہو گئی۔ ہم نے اپنا گھر بچانے کے لیے ایک ملا عبدالسلام ضعیف نہیں بلکہ سینکڑوں مسلمان امریکہ کے حوالے کیے لیکن امریکہ کی تسلی نہ ہوئی۔ اس تسلی کے لیے اسلام آباد کی لال مسجد پر راکٹ برسائے گئے۔ حالات و واقعات بتاتے ہیں کہ پاکستان میں مسلمانوں کے ہاتھوں مسلمان کے قتل میں تیزی لال مسجد آپریشن کے بعد آئی۔ افغان طالبان امریکہ کے خلاف نفرت کو ہوا دینے کے لیے ملا عبدالسلام ضعیف کی کتاب سے حوالے دیتے ہیں اور پاکستانی عسکریت پسند اپنی ہی فوج کے خلاف لڑائی کے لیے لال مسجد آپریشن کو جواز بناتے ہیں۔ وقت آ گیا ہے کہ ہم خود کش حملوں کی مذمت کے ساتھ ساتھ ان غلطیوں کا اعتراف بھی کریں جن کے باعث ہم نے اپنے گھر کو خود ہی آگ لگائی۔
ہماری قیادت کو اعتراف کرنا چاہیے کہ ملا عبدالسلام ضعیف کو پشاور سے بے لباس کر کے امریکہ کے حوالے کرنا ایک غلطی تھی، وزارت داخلہ کو بے خبر رکھ کر لال مسجد میں آپریشن ایک غلطی تھی اور قبائلی علاقوں میں کارروائیوں کے دوران معصوم عورتوں اور بچوں کا مارا جانا افسوسناک تھا۔ ان تمام غلطیوں کے ذمہ دار اشخاص خواہ آج حکومت میں ہیں یا نہیں لیکن ان کے خلاف کارروائی کے بغیر پاکستان میں نفرتوں کی آگ کو ٹھنڈا کرنا بہت مشکل ہو گا۔
اشتیاق بیگ
مسلمانوں کا قتل عام...... ایک ویڈیو گیم
”امریکہ نے اسلام کے خلاف اعلان جنگ کر دیا ہے، ایک امریکی کمانڈو جو دنیا کے مہلک ترین ہتھیاروں سے لیس ہے، اسے مسلمانوں کے ملک میں اتارا گیا ہے۔ آئیے امریکہ کے اس ہیرو کا ساتھ دے کر مسلمانوں کو صفحہ ہستی سے مٹادیں۔“
ویڈیو گیم کے شروع میں بش کروسیڈ کا آغاز کرتا ہے اور کہتا ہے کہ ”دنیا میں مسلمانوں کی دہشت گردی حد سے بڑھ چکی ہے، مسلمان ایک ایسے خطرناک جراثیم ہیں جو اس وقت پوری دنیا پر حملہ آور ہیں اور اسلام دنیا کی سب سے بڑی برائی ہے، آئیے اس ویڈیو گیم کے ذریعے اس بات کو یقینی بنائیں کہ روئے زمین پر کوئی مسلمان مرد، عورت یا بچہ زندہ نہ بچے۔ تمہارا دشمن محمد، ان کے پیروکار اسامہ بن لادن، اس کے ساتھی اور پوری مسلم امہ ہیں۔ آئیے اس امریکی کمانڈو کے ساتھ مل کر ان سب کو صفحہ ہستی سے مٹادیں۔“ یہ اس ویڈیو گیم کے اقتباسات ہیں، جسے 22 سالہ ایرک واٹگن نے تیار کیا اور اسے 11/9 کی مناسبت سے 11 ستمبر 2008ء کو پوری دنیا میں ریلیز کیا گیا۔ مجھے اس ویڈیو گیم، جس کو ”مسلمانوں کا قتل عام (Muslims Massacre)“ کا نام دیا گیا ہے، کے بارے میں میرے ایک قاری جہانگیر افضل، جن کا تعلق آئی ٹی کے شعبے سے ہے، نے میری توجہ اس مذموم اور خطرناک ویڈیو گیم کی طرف مبذول کروائی اور اس ویڈیو گیم کی ایک کاپی مجھے بھیجی۔ عام طور پر ویڈیو گیمز بہت مہنگے ہوتے ہیں اور ان کی قیمت ہزاروں روپے ہوتی ہے، مگر حیرت انگیز طور پر اس ویڈیو گیم کو جو بھی کھیلنا چاہے، وہ اسے بالکل مفت ڈاؤن لوڈ کر کے مسلمانوں کے ”قتل عام“ سے لطف اندوز ہو سکتا ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مسلمانوں کے خلاف ازل سے مصروف یہودی لابی اسے مالیاتی طور پر سپورٹ کر رہی ہے۔
اس ویڈیو گیم کے پہلے حصے میں ایک امریکی کمانڈو جو راکٹ لانچر، ہینڈ گرنیڈ اور
کلاشنکوف سے مسلح ہے، کو ایک پیراشوٹ کے ذریعے مشرق وسطیٰ کے صحرا میں اتارا جاتا جو اپنے راستے میں آنے والے اسلامی روایتی لباس میں ملبوس مردوں، عورتوں اور بچوں کو قتل کرنا شروع کر دیتا ہے۔ اس مذموم اور خطرناک ویڈیو گیم کے مختلف لیول ہیں جن میں اس کمانڈو کو مسلم علاقوں میں اپنے مہلک ہتھیاروں کے ساتھ خون آشام کارروائیاں کرتے دکھایا گیا ہے۔ اس ویڈیو گیم میں جتنے زیادہ مسلمانوں کو قتل کیا جائے گا، اتنا ہی زیادہ اسکور حاصل ہوگا۔ اس طرح سب سے زیادہ مسلمانوں کو قتل کرنے والا فاتح قرار پائے گا۔ اس ویڈیو گیم کی ریلیز سے دنیا بھر کے مسلمانوں کے جذبات انتہائی مجروح ہوئے ہیں اور غم و غصے کی لہر پوری مسلم دنیا میں دوڑ گئی ہے۔
11 ستمبر 2001ء کے بعد جب صدر بش نے افغانستان پر حملے کا اعلان کیا تو اسے ”کروسیڈ“ یعنی صلیبی جنگوں کا نام دیا، بعد میں اسے زبان کی لغزش کہہ کر دل کی بات چھپانے کی کوشش کی گئی۔ لیکن بعد کے حالات و واقعات نے اسے سچ ثابت کر دیا کہ دہشت گردی کے خلاف جاری نام نہاد جنگ دراصل مسلمانوں کے خلاف جنگ ہے۔ مسلمانوں کی مقدس ترین ہستی حضرت محمد ﷺ کے گستاخانہ خاکوں کی اشاعت، تسلیمہ نسرین اور سلمان رشدی جیسے گستاخانِ رسولؐ و قرآن کو انعام و اکرام اور خطابات سے نوازنا، ابوغریب اور گوانتاناموبے اور بگرام ایئربیس کی جیلوں میں مسلمانوں پر بے پناہ تشدد اور قرآن کریم کی توہین کے لگا تار واقعات، ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی گرفتاری اور ان کے ساتھ انسانیت سوز سلوک، عراق اور افغانستان میں بے گناہ شہریوں اور ان کے معصوم بچوں کا قتل عام ثابت کرتا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کی آڑ میں مسلمانوں کی نسل کشی کا سلسلہ جاری ہے اور ان کے مذہب، عقیدے اور مقدس ہستیوں کی توہین کی جا رہی ہے۔
اس طرح کے واقعات کا تسلسل یہ ظاہر کرتا ہے کہ مغربی انتہا پسندوں کے ذہن کے کسی نہ کسی گوشے میں یہ بات موجود ہے کہ اسلام اور مسلمانوں کو صفحہ ہستی سے مٹا دیا جائے۔ امریکہ کی پیروی کرتے ہوئے بھارت بھی اس راہ پر گامزن ہے۔ بابری مسجد کی شہادت اور گجرات میں مسلمانوں کے خون سے ہولی کھیلنے کے بعد بھی یہ عمل رکا نہیں ہے۔ مقبوضہ کشمیر میں مسلمانوں کے ساتھ وحشیانہ سلوک اور ان کی نسل کشی کا سلسلہ جاری ہے اور اب یہ سلسلہ آسام اور حیدر آباد دکن تک جا پہنچا ہے۔ آسام میں مسلمانوں کے قتل عام سے مسلمان اس حد
تک تنگ آگئے ہیں کہ انہوں نے اپنے گھروں پر پاکستانی پرچم لہرا دیے ہیں اور اب وہ سیکولر انڈیا میں خود کو بھارتی کہلوانا پسند نہیں کرتے۔ حیدرآباد دکن میں 12 اکتوبر 2008ء کو مسلمانوں کو زندہ جلا دیا گیا۔ انتہا پسند ہندو لیڈر ایل کے ایڈوانی نے گزشتہ دنوں ایک تقریر میں کہا کہ بھارت پر اسلام کی گرفت مضبوط ہوتی جا رہی ہے اور حکومت کو مسجدوں میں فوج بھیجنی چاہیے۔
امریکن فلموں، ڈراموں، ناولوں اور ویڈیو گیمز کے ذریعے اپنی قوم کو یہ باور کراتے ہیں کہ امریکن دنیا کی بہادر ترین قوم ہے اور پوری دنیا پر ان کی دلیری اور جراتمندی کی دھاک ہے۔ ہالی وڈ نے امریکی کمانڈوز، فوجیوں اور دیگر افراد کی اس طرح کی فرضی بہادری پر سینکڑوں فلمیں بنائی ہیں، جن میں ریمبو، روکی اور بلیک ہاک ڈاؤن جیسی فلمیں امریکہ کی عالمی پروپیگنڈہ مہم کا حصہ ہیں، لیکن حقیقت اس کے برعکس ہے۔ صومالیہ میں سیاہ فام مسلمانوں نے امریکی فوجیوں کی وہ درگت بنائی کہ ان کی فوج کی دنیا بھر میں جگ ہنسائی ہوئی۔ بہت سے امریکی فوجیوں کو اقوام متحدہ کے امن مشن میں آئے ہوئے پاکستانی فوجیوں نے اپنی جان کو خطرے میں ڈال کر بچایا، کئی امریکی فوجی جو صومالی حریت پسندوں کے ہتھے چڑھ گئے، انہیں موغادیشو کی سڑکوں پر گھسیٹا گیا۔ امریکیوں نے صومالیہ کے اس واقعہ پر بلیک ہاک ڈاؤن نامی فلم بنائی، جس میں اپنے فوجیوں کو وہاں دلیری کے کارنامے انجام دیتے ہوئے دکھایا گیا۔
ایران میں بھی امام خمینی کے دور حکومت میں امریکہ نے ایران میں یرغمال اپنے سفارتی عملے کو نکالنے کے لیے جس آپریشن کی منصوبہ بندی کی، اس کے تحت اپنے فوجی کمانڈوز ایران کے ایک ویران علاقے میں اتارنے کی کوشش کی، لیکن گھبراہٹ میں ان کے ہیلی کاپٹر فضا میں آپس میں ٹکرا گئے، جس سے متعدد امریکی کمانڈوز مارے گئے۔ امریکہ کو اپنے کئی کمانڈوز کی جلی ہوئی لاشوں کو چھوڑ کر وہاں سے فرار ہونا پڑا۔ اسی طرح ویت نام میں امریکہ کو تاریخ کی بدترین شکست اور ذلت کا سامنا کرنا پڑا، لیکن جب آپ امریکن فلمیں دیکھتے ہیں تو اس میں امریکیوں کو ایک ہیرو کے طور پر دکھایا جاتا ہے۔
ابھی چند ہفتے قبل رمضان کے مہینے میں امریکہ نے اپنے کمانڈوز پاکستان کے قبائلی علاقے انگوراڈہ کے ایک گاؤں جلالہ خیل میں اتارے، لیکن انہیں مقامی قبائلی عوام کی شدید مزاحمت کی بنا پر راہ فرار اختیار کرنا پڑی۔ امریکی فوجی گزشتہ سات سالوں سے افغانستان میں نیٹو افواج کے ہمراہ طالبان کے خلاف برسر پیکار ہیں، لیکن ان کی شکست کے واضح آثار اب
نظر آنے لگ گئے ہیں اور جس ملا عمر کے سر کی قیمت کروڑوں ڈالر رکھی گئی تھی، اب اسی ملا عمر کو امریکی کٹھ پتلی امریکہ کی رضامندی سے اپنا بھائی کہہ رہے ہیں اور ان کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ جاری ہے۔ اب تو برطانیہ، فرانس، کینیڈا اور دیگر نیٹو ممالک کے کمانڈوز برملا کہہ رہے ہیں کہ ”ہم یہ جنگ نہیں جیت سکتے۔“ امریکہ افغانستان میں اپنی شکست کا غصہ پاکستان پر اتار رہا ہے اور بار بار پاکستان کی فضائی حدود کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔ کیونکہ امریکہ افغانستان میں جاری جنگ کو پاکستان تک لانا چاہتا ہے اور اس کی نظریں پاکستان کے ایٹمی اثاثوں پر ہیں۔
یورپ اور امریکہ مسلمانوں کی دل آزاری کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے۔ جس ویڈیو گیم کو آج میں نے اپنے کالم کا موضوع بنایا ہے، کہنے کو تو یہ ایک ویڈیو گیم ہے، مگر حقیقت میں وہ غیر مسلم طاقتوں کے عزائم کی ترجمانی کر رہا ہے۔ ویڈیو گیم اس بات کی بھی نشاندہی کرتا ہے کہ امریکہ اور یورپ اسلام کو اپنے لیے زبردست خطرہ تصور کرتے ہیں اور اسلام ان کے دل و دماغ پر سوار ہے۔
مسلمانوں کے قتل عام جیسے ویڈیو گیم کو ریلیز کر کے آنے والی نسل کے دماغ میں یہ بٹھایا جا رہا ہے کہ مسلمان تمہارے دوست نہیں بلکہ دشمن ہیں اور تہذیبوں کے درمیان تصادم کی راہ ہموار کی جا رہی ہے۔ اس ویڈیو گیم کو ایجاد کرنے والے اور دنیا میں مفت تقسیم کرنے والے شاید اس ویڈیو گیم کو کھیل کر تھوڑی دیر کے لیے لطف اندوز تو ضرور ہو سکتے ہیں، مگر انہیں یہ ذہن نشین کر لینا چاہیے کہ ایک ارب تیس کروڑ مسلمان کوئی ویڈیو گیم نہیں، جنہیں صفحہ ہستی سے مٹایا جا سکے، بلکہ اس طرح کے ہتھکنڈوں سے اسلام کی مقبولیت میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے اور روز بروز اسلام قبول کرنے والوں کی تعداد بڑھتی جا رہی ہے۔ مسلمانوں کا ”قتل عام“ نامی ویڈیو گیم یہ بھی ظاہر کرتا ہے کہ امریکہ اور یورپ اسلام فوبیا میں مبتلا ہے۔
حامد میر
گستاخان اسلام سے آمنا سامنا
لاس ویگاس کو امریکہ میں گناہوں کا شہر کہا جاتا ہے۔ چند سال پہلے تک مشرق وسطی کے شہزادے اس شہر میں کئی کئی ماہ تک مقیم رہ کر اپنی دولت لٹایا کرتے تھے۔ گیارہ ستمبر 2001ء کے بعد سے لاس ویگاس میں ان کی آمدورفت کم ہو گئی ہے اور اب گناہوں کے اس شہر میں منعقد ہونے والی اکثر کانفرنسوں کے مقررین عربوں اور مسلمانوں کو ہدف تنقید بنانا نیکی سمجھتے ہیں۔ گزشتہ ہفتے مجھے لاس ویگاس میں ایک ایسی ہی کانفرنس میں شرکت کا موقع ملا۔ یہ کانفرنس ایک ایسے ہوٹل میں منعقد ہوئی جہاں شہر کا سب سے بڑا جوا خانہ قائم ہے۔ جوا خانے سے متصل ہال میں دو روز تک جاری رہنے والی کانفرنس میں اس سوال کا جواب تلاش کرنے کی کوشش کی گئی کہ اسلامی شدت پسندی کا مقابلہ کیسے کیا جائے؟ امریکہ ٹروتھ فورم کے زیر اہتمام منعقد ہونے والی اس کانفرنس کے اکثر مقررین نے اسلامی شدت پسندی کی بجائے دین اسلام پر تنقید کی۔ یہ مقررین سات نومبر کے مڈٹرم الیکشن میں ایک مسلمان کیتھ ایلیسن کی کامیابی پر سخت غصے میں تھے۔ پہلی دفعہ مجھے یہ احساس ہوا کہ ہم پاکستانی ان امریکیوں کے مقابلے میں زیادہ مذہبی رواداری رکھتے ہیں کیونکہ پاکستان میں مسیحیت یا یہودیت کے بارے میں سرعام اس قسم کی تقریریں سننے میں نہیں آتیں۔ کانفرنس ہال کے باہر ایک سٹال پر ڈاکٹر رابرٹ موری کے لکھے ہوئے کتابچے فروخت کیے جارہے تھے جو سب کے سب نبی کریم ﷺ کے خلاف گستاخیوں اور دشنام طرازیوں سے بھرے ہوئے تھے۔ اللہ تعالیٰ کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ پاکستان میں ہمیں کہیں ایسی کوئی تحریر نہیں ملے گی جو یہودیوں یا مسیحیوں کے نبی کے خلاف جھوٹے الزامات سے بھری ہوئی ہو۔ میرے لیے یہ پہلو کافی تشویشناک تھا کہ تین دہائیوں تک سی آئی اے سمیت امریکہ کی مختلف سیکورٹی ایجنسیوں میں خدمات سرانجام دینے والے ڈاکٹر بروس ٹفٹ کی تقریر بھی اسلام کے خلاف بے بنیاد پراپیگنڈے سے لبریز تھی۔ ڈاکٹر
بروس لفت گیارہ ستمبر 2001ء کے بعد سے نیو یارک پولیس کے مشیر ہیں۔ انہوں نے اپنی تقریر میں یہ درفطنی چھوڑی کہ قرآن مسلمانوں کو سچ بولنے کی بجائے جھوٹ بولنے کی ترغیب دیتا ہے اور اس قرآنی حکم کو ”تقیہ“ کہا جاتا ہے۔ ان کی تقریر سننے کے بعد مجھے یقین ہوگیا کہ سی آئی اے سمیت امریکی پولیس اور دیگر سیکورٹی اداروں میں ایسے افراد کی کمی نہیں جو دین اسلام کے بارے میں انتہائی متعصبانہ نظریات رکھتے ہیں اور مذہبی انتہا پسندی کا شکار ہیں۔ کانفرنس میں شام سے تعلق رکھنے والی ڈاکٹر وفا سلطان کی تقریر بھی حیرت انگیز تھی۔ موصوفہ کو ”نیوزویک“ نے سال 2006ء کی سب سے طاقتور شخصیات میں سے ایک قرار دیا ہے کیونکہ انہیں مشرق وسطیٰ میں روشن خیالی اور ماڈرن ازم کی سب سے موثر آواز سمجھا جاتا ہے۔ اس روشن خیال خاتون کا کہنا تھا کہ دنیا بھر کے ڈیڑھ ارب مسلمانوں کو روشن خیال بنانے کے لیے ضروری ہے کہ مسلمانوں کے نبی ﷺ کے توہین آمیز کارٹون بار بار شائع کیے جائیں اور جب مسلمان احتجاج کرنا چھوڑ دیں گے تو تب ہمیں یقین آئے گا کہ وہ ماڈرن ہوچکے ہیں۔
پینٹا گون میں کئی مرتبہ اسلام پر لیکچر دینے والے رابرٹ سپنسر گستاخیوں کی تمام حدود سے تجاوز کر گیا۔ اس نے کہا کہ اسلام کوئی دین ہی نہیں اور قرآن کا سب سے بڑا پیغام یہ ہے کہ مسیحی اور یہودی جہاں نظر آئیں انہیں قتل کردو۔ رابرٹ سپنسر نے زور دے کر کہا کہ دنیا میں بڑھتے ہوئے تشدد کی اصل وجہ قرآن ہے۔ لہٰذا مسلم ممالک میں صرف تعلیمی نصاب کو نہیں بلکہ قرآن کو بھی تبدیل کرنا چاہیے ورنہ مسلمان کبھی روشن خیال نہ بن سکیں گے۔
اس کانفرنس میں ڈاکٹر بروس لفت، ڈاکٹر وفا سلطان اور رابرٹ سپنسر کی تقاریر کا جواب دینے کی ذمہ داری میرے کمزور کندھوں پر آپڑی تھی کیونکہ میں سب سے آخری مقرر تھا۔ مائیک سنبھالنے سے قبل یہ ذمہ داری مجھے جتنی مشکل نظر آرہی تھی، مائیک سنبھالنے کے بعد اتنی ہی آسان ہوگئی۔ میں نے صرف دو سوالات اٹھائے۔ اوّل یہ کہ قرآن بار بار مسلمانوں کو سچ بولنے کی تاکید کرتا ہے، کہیں ایک دفعہ بھی جھوٹ بولنے کی اجازت نہیں دی گئی تو پھر یہ دعویٰ کیسے کیا جاسکتا ہے کہ قرآن جھوٹ بولنے کی ترغیب دیتا ہے؟ دوم یہ کہ مسلمانوں کے پیارے نبی ﷺ نے میثاق مدینہ کے تحت خود یہودیوں کے ساتھ امن معاہدہ کیا، اسلام ایک مسلمان مرد کو مسیحی یا یہودی عورت کا مذہب تبدیل کیے بغیر اس کے ساتھ شادی کی اجازت دیتا ہے اور قرآن میں کہیں بھی غیر مسلموں کا بلا وجہ خون بہانے کی اجازت نہیں تو پھر اسلام
تشدد کا دین کیسے ہوگیا؟ میں نے بھول جاؤ کہ قرآن میں کبھی کوئی اپنے دین کا سودا نہیں کر سکتے اور ہوگا کیونکہ تمہارے خیالات فطر ہیں۔ اس موقع پر حاضرین میں ساتھیوں نے میرے خلاف نعر اکثریت نے میرا ساتھ دیا اور ب کے بعد ایک گھنٹہ تک سوالات او اور ڈاکٹر وفا سلطان مجھے غلط ثابت تو لانگ آئس لینڈ یونیورسٹی نیویا کہا کہ افسوس! ہم ایک صحافی کو پسندی کے نہیں بلکہ اس کے مذم موجود ڈاکٹر ہبو کارٹ نے ڈاکٹ کانفرنس ختم ہونے کے بعد حاضر بارے میں مزید جاننا چاہتے ہیں رابرٹ سپنسر کی نئی کتاب نظر آ رہ لکھا گیا ہے کیونکہ رابرٹ سپنسر آ کئی مسلمان اسکالرز اور کمیونٹی لیڈ امریکہ میں جگہ جگہ کانفرنسیں کر اسلام کی اصل تصویر پیش کریں بلکہ ہم مسلمانوں کی ذمہ داری ۔
تشدد کا دین کیسے ہو گیا؟ میں نے اسٹیج پر بیٹھے ہوئے رابرٹ سپنسر کو مخاطب کرتے ہوئے کہا تم بھول جاؤ کہ قرآن میں کبھی کوئی تحریف ہوگی، مسلمان امن چاہتے ہیں لیکن امن کے لیے اپنے دین کا سودا نہیں کر سکتے اور تم جیسے دانشوروں کے خیالات سے امن کو فائدہ نہیں، نقصان ہوگا کیونکہ تمہارے خیالات نفرتوں کی آگ کو کم کرنے کی بجائے مزید بھڑکانے کا باعث ہیں۔ اس موقع پر حاضرین میں موجود بھارتی وفد کے سربراہ ڈاکٹر بابو سوسیلان اور ان کے ساتھیوں نے میرے خلاف نعرے بازی کی کوشش کی لیکن غیر متوقع طور پر حاضرین کی اکثریت نے میرا ساتھ دیا اور مجھے اپنی تقریر مکمل کرنے کا موقع دیا گیا۔ میری تقریر ختم ہونے کے بعد ایک گھنٹہ تک سوالات اور جوابات کا سیشن تھا۔ اس ایک گھنٹے کے دوران رابرٹ سپنسر اور ڈاکٹر وفا سلطان مجھے غلط ثابت کرنے کی کوشش کرتے رہے لیکن جب انہیں کامیابی نہ ہوئی تو لانگ آئس لینڈ یونیورسٹی نیویارک میں قانون کے استاد ڈاکٹر ہاروی نے میرے بارے میں کہا کہ افسوس! ہم ایک صحافی کو مذہبی بحث میں الجھا کر یہ پیغام دینا چاہتے ہیں کہ ہم شدت پسندی کے نہیں بلکہ اس کے مذہب کے خلاف ہیں اور یہ قطعی نامناسب ہے۔ حاضرین میں موجود ڈاکٹر ہیو کارٹ نے ڈاکٹر ہاروی کی تائید کی اور کانفرنس کے اختتام کا اعلان کر دیا۔ کانفرنس ختم ہونے کے بعد حاضرین کی ایک بڑی تعداد نے مجھے فرداً فرداً کہا کہ وہ اسلام کے بارے میں مزید جاننا چاہتے ہیں۔ اکثر حاضرین کے ہاتھوں میں نبی کریم ﷺ کے خلاف رابرٹ سپنسر کی نئی کتاب نظر آ رہی تھی اور وہ کہہ رہے تھے کہ یقیناً اس کتاب میں سب جھوٹ لکھا گیا ہے کیونکہ رابرٹ سپنسر آج خود کو سچا ثابت نہیں کر سکا۔ نیویارک واپس پہنچ کر میں نے کئی مسلمان اسکالرز اور کمیونٹی لیڈروں سے درخواست کی کہ وہ آپس کے لڑائی جھگڑے چھوڑ کر امریکہ میں جگہ جگہ کانفرنسیں کروائیں اور معروف امریکی دانشوروں اور صحافیوں کے سامنے اسلام کی اصل تصویر پیش کریں۔ اسلام کے متعلق غلط فہمیاں دور کرنا امریکی حکومت کی نہیں، بلکہ ہم مسلمانوں کی ذمہ داری ہے۔
بشریٰ رحمن
...... اگر تم اب بھی نہ سمجھے؟
خیمے کے اندر حبشہ کا حکمران بڑے طمطراق سے فروکش تھا۔ بھاری فوج اور بے شمار اسلحہ کے ساتھ اپنی عسکری قوت پر اور اس کی ہونے والی کارکردگی پر اترا رہا تھا۔ جب مکہ کے قبیلے کا ایک عالی وقار اور عالیشان سردار اس کے خیمے میں داخل ہوا...... اور اپنے آنے کی وجہ بتاتے ہوئے نہایت وقار اور قدرتی سادگی سے گویا ہوا کہ آپ کے سپاہیوں نے میرے قبیلے کے لوگوں کے اونٹ پکڑ لیے ہیں۔ اس جنگ میں اونٹوں کا کوئی قصور نہیں ہے انہیں رہا کر دیجیے یا واپس کر دیجیے۔ بادشاہ حیران ہوا اور اکثر بادشاہ دنیا میں حیران اور پھر پریشان ہونے کے لیے ہی بھیجے جاتے ہیں۔ اس کے چہرے پر ایسے تاثرات ابھرے جیسے کوئی بے عقلی کی بات سُن کر اُبھرا کرتے ہیں۔ اسی انداز میں بولا۔ عجیب سردار ہو تم ...... ہم خانہ کعبہ پر تمہارے خدا کے گھر پر حملہ کرنے آئے ہیں۔ میرا خیال تھا تم خدا کے گھر کو بچانے کی بات کرو گے۔ مگر تم ان معمولی اونٹوں کی بازیافت کی بات کر رہے ہو۔ عرب کے بے مثال سردار نے کہا، میں قبیلے کا سردار ہوں۔ قبیلے اور اہل قبیلہ کے مال مویشیوں کی حفاظت میری ذمہ داری ہے لیکن خانہ کعبہ تو اللہ کا گھر ہے۔ وہ اپنے گھر کی خود حفاظت کرے گا۔“ تو پھر تاریخ عالم نے رقم کیا کہ باری تعالیٰ نے بہت بہتر انداز میں اپنے گھر کی حفاظت کی...... اور ان کو کر دیا گوبر اور بھوسہ کی مانند......“
امریکہ کا ایک معمولی صدارتی امیدوار بہت دور کی کوڑی لایا اور اپنی ذہنی و سیاسی ناہمواری کے باعث فوراً کہہ دیا کہ امریکہ کو بچانے کی خاطر مکہ اور مدینہ پر حملہ کیا جاسکتا ہے ...... کوئی پوچھنے والا ہوتا تو پوچھ بیٹھتا، افغانستان پر حملہ کر کے تم نے کیا پایا؟ عراق کو برباد کر کے تم نے کیا پایا؟ فلسطین کے اندر دوغلے پن نے تمہیں کتنی استقامت دی اور لبنان کے اندر دہشت گردی کروانے سے کیا حاصل ہوا...... مگر یہ سیاست بھی ایک عجیب قسم کی سائنس ہے
یہ کسی بھی بندے کو دیا تھا کہ یہ صلیبی مسلمانوں کے کہ اگر جمیع مسلما افسوسناک حقیقت سوا کو خطرہ ہے دنیا انتہائی بودا ہے۔ کو بکھیڑ کر رکھ دیا اس لیے یہ صدمہ لے......مگر عالم محبت کی پینگیں بظا ٹھیک ہے کہ ایک کیا گیا چھوٹی چھو امریکہ کا ممنون و شعاری کو فروغ د مگر فراموشیوں کی کتنی متفق ہونے کو تیا بندگی میں......
جب بھول جاتے ہیں جائے گا۔ وہ سر
یہ کسی بھی بندے کچھ بھی کہلوا سکتی ہے۔ 9/11 والے حادثے پر بش صاحب نے فوری طور پر کہہ دیا تھا کہ یہ صلیبی جنگوں کا آغاز ہے تو اس کی نفسیاتی توجیہ پر تھوڑا سا غور کرنا چاہیے۔ کیا یہ لوگ مسلمانوں کے ماضی سے ابھی تک خوفزدہ رہتے ہیں اور کیا ان کے لاشعور میں یہ خوف پختہ ہے کہ اگر جمیع مسلمان متحد ہو کر ایک بڑی طاقت بن جائیں تو عالم پر حکمرانی کر سکتے ہیں (حالانکہ افسوسناک حقیقت یہ ہے کہ مسلمان اس حقیقت سے کوسوں دور جاچکے ہیں)!
سو امریکہ کے ایک صدارتی امیدوار ٹام کروزیو نے بین السطور بتا دیا ہے کہ امریکہ کو خطرہ ہے دنیا کی اکلوتی سپر پاور کو بچانے کی ضرورت پڑ گئی ہے۔ صدارتی امیدوار کا بیان انتہائی بودا ہے۔ اس نے امریکہ کے عوام کے خوابوں کو چکنا چور کر دیا ہے اور ان کی خوابی جنت کو بکھیر کر رکھ دیا ہے اور ساری دنیا کو بتا دیا ہے کہ امریکن صرف مسلمانوں سے ڈرتے ہیں۔ اس لیے یہ صدارتی امیدوار تو ناکامیوں کی دلدل میں پھنس جائے گا۔ شاید ہی اسے کوئی ووٹ ملے۔۔۔۔ مگر عالم اسلام کو ایک پیغام ضرور مل گیا ہے۔ کوئی بھی اسلامی سلطنت امریکہ کے ساتھ محبت کی پینگیں بڑھانے سے پہلے سوچے گی کیونکہ وقت اس کو سوچ کی دہلیز پر لا رہا ہے۔ یہ ٹھیک ہے کہ ایک سوچی سمجھی سکیم کے تحت مسلمان ملکوں کو آپس میں لڑایا گیا۔ ٹکڑوں میں تقسیم کیا گیا چھوٹی چھوٹی ریاستیں بنا دی گئیں۔ ریاستوں کو بادشاہت سے مزین کیا گیا پھر ان کو امریکہ کا ممنون بنانے کے لیے ایسی مراعات کا اجرا کیا گیا۔ جس سے زباں بندی اور اطاعت شعاری کو فروغ دیا جا سکے۔ علیٰ ھذا القیاس!
مگر مسلمان کچھ بھی ہو جائیں کسی بھی اذیت ناک حالت میں کیوں نہ ہوں۔ خود فراموشیوں کی کتنی ہی وزنی زنجیریں پہن رکھی ہوں۔ ایک حقیقت ہے جس پر وہ ہمیشہ متحد اور متفق ہونے کو تیار رہتے ہیں۔ ایک ہی یقین ہے ان کی زندگی میں ایک ہی ایمان ہے ان کی بندگی میں.......
کچھ بھی ہیں لیکن تیرے محبوب ﷺ کی امت میں ہیں!
جب مدینہ منورہ اور مکہ معظمہ کی حرمت کی بات چلتی ہے تو دنیا بھر کے مسلمان یہ بھول جاتے ہیں۔ ان کا ملک غریب ہے۔ ان کا ملک مقروض ہے یا ان کے ارتقا کا سفر رک جائے گا۔ وہ سر پر کفن باندھ لیتے ہیں اور سوئے کعبہ رواں ہوجاتے ہیں۔ حالانکہ وہ بھی
جانتے ہیں کہ کعبۃ اللہ، خود اللہ کا گھر ہے اور اللہ اپنے گھر کو خود بچاتا ہے۔..... تمام عالم کے مسلمانوں کے اس جذبے کی تصدیق حج کا موسم کرتا ہے۔ حرمین شریفین میں بیک وقت پندرہ سے بیس لاکھ مسلمان نمازیں ادا کرتے ہیں۔ مگر صفوں پر کھڑے ہوئے نمازیوں نے کبھی ایک دوسرے سے نہیں پوچھا کہ برادر محترم! تم کس ملک سے ہو اور تمہارا مسلک کیا ہے؟ وہاں سب صرف مسلمان ہوتے ہیں۔ اللہ اکبر کی ایک آواز پر حرم شریف کی طرف دوڑتے ہوئے، ایک ہی ندا پر سجدہ ریز ہوتے ہوئے، رکوع میں جاتے ہوئے...... اور قیام میں جھکے ہوئے...... مکہ معظمہ سے لے کر منیٰ اور عرفات اور مزدلفہ میں...... وہاں سے مدینہ منورہ کی سنہری جالیوں تک...... سب مسلمان ایک ہوتے ہیں۔ ایک جیسے ہوتے ہیں۔ ایک جیسے معمولات کے پابند ہوتے ہیں۔ حج کے مقررہ دنوں کی نفی کوئی نہیں کرتا۔ کوئی کر ہی نہیں سکتا۔
یہ سب پندرہ سو سالوں سے ہو رہا ہے اور انشاء اللہ قیامت تک ہوتا رہے گا۔ کوئی سپر پاور، ذی الحج کے مہینے میں مسلمانوں کو حج کرنے سے نہیں روک سکتی۔ یہ ان لوگوں کو اچھی طرح سے علم ہے جو گاہے بگاہے مسلمانوں کے مذہبی جذبات مجروح کرنے کے لیے دل آزار قسم کے بیانات دیتے ہیں۔ حقیقت میں ایسی باتیں مسلمانوں کے روشن ضمیر کو جگانے کے لیے ہوتی ہیں۔ کاش مسلمان سمجھ پائیں! تھوڑی سی نعرے بازی...... تھوڑی سی توڑ پھوڑ، تھوڑی سی اپیل، ٹائر جلانا، پتلے جلانا، مردہ باد کے نعرے لگانا اور پھر گھروں میں جا کر اطمینان سے سو جانا۔ مسلمانوں کا وطیرہ بنتا جا رہا ہے۔ حالانکہ عالمِ اسلام کو بھی اپنا تھنک ٹینک ترتیب دے کر، صورتِ حال پر مسلسل غور و خوض کر کے نتائج اپنے سامنے رکھنے چاہئیں۔
اب امریکہ کا دفتر خارجہ یا پاکستان کا دفتر خارجہ یا سارے اسلامی ممالک کی خارجہ پالیسیاں کچھ بھی کہیں شیشے میں بال آ گیا ہے۔ ایک حقیقت جس سے صدارتی امیدوار کو کبھی صرفِ نظر نہیں کرنا چاہیے کہ امریکہ کے اندر لاکھوں مسلمان بستے ہیں۔ کم از کم اس بیان کے بعد ڈونلڈ ٹرمپ تمام امریکی مسلمانوں کے ووٹ سے محروم ہو گئے ہیں۔ کہتے ہیں کہ سیاست ایک ایسا کھیل ہے جس میں جیتنے کے لیے بھلی بری ہر چال چلنی چاہیے۔ مگر بعض اوقات کالے علم کی طرح ہر چال الٹ جاتی ہے۔ ہر تدبیر الٹی ہو جاتی ہے عالمِ اسلام کو بھی ایک حقیقت پیشِ نظر رکھنی چاہیے کہ آج بے شمار اسلامی ملکوں کے بیٹے اور بیٹیاں امریکہ میں بس رہے ہیں۔ جہاں جہاں کسی کا رزق لکھا ہوتا ہے اسے وہاں جانا پڑتا ہے۔ پاکستان سے بھی بہت سے بیٹے
اور بیٹیاں امریکہ جا رہے ہیں امریکہ ان کے حقوق کی حفاظت ان کے مذہبی جذبات سے کھ ہوتے ہیں۔ ہندو، یہودی، سکھ برق گر اس کا رد عمل بہ نے اسلام کی روح کو سمجھا اتنا متاثر کن نہیں رہا۔ شا جذبات کو مجروح کر کے و صاف کہہ رہا کہ اب "مکمل نام ا
اور بیٹیاں امریکہ جا بسے ہیں۔ وہاں وہ محنت کرتے ہیں اور عزت کی زندگی بسر کرتے ہیں۔ امریکہ ان کے حقوق کی حفاظت عام شہریوں کی طرح کرتا ہے۔ مگر ان کے حقوق کا بنیادی نکتہ ان کے مذہبی جذبات سے منسلک ہوتا ہے۔ ویسے تو دنیا بھر کے مذاہب کے لوگ امریکہ میں بستے ہیں۔ ہندو، یہودی، سکھ، پارسی، بدھ، زرتشت اور دیگر بے شمار...... لیکن ۔ع
اس کا ردعمل یہ ہے کہ امریکہ اور یورپ میں تیزی سے اسلام پھیل رہا ہے جس نے اسلام کی روح کو سمجھا ہے۔ وہ دائرہ اسلام میں از خود آیا ہے۔ اسلام کا موجودہ کلچر اگرچہ اتنا متاثر کن نہیں رہا۔ شاید ٹام کروڈیو کے لاشعور میں ایسا کوئی خوف تھا۔ یا مسلمانوں کے جذبات کو مجروح کر کے وہ اپنی اذیت پسندی کی تسکین کرنا چاہتا تھا ...... لیکن آنے والا زمانہ صاف کہہ رہا کہ اب
"انکل ٹام اکیلا ہے......"
٭ ٭ ٭
عرفان صدیقی
یہ کیسے لوگ ہیں؟
ریاست ہائے متحدہ امریکہ کی صدارتی مہم میں شریک، دو امیدواروں نے ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کے لیے جو کچھ کہا، مجھے اس پر کوئی حیرت نہیں ہوئی۔ زہر میں بجھے ان متعفن اور مکروہ بیانات پر ایسے کسی بھی پاکستانی کو تعجب نہیں ہوا ہوگا جو جانتا ہے کہ امریکہ اور مغرب کا خمیر کس مٹی سے اٹھا ہے اور جسے خبر ہے کہ سفید چمڑی والوں کی رگوں میں دوڑتے سفید لہو کی بوند بوند میں اسلام دشمنی اور مسلم بے زاری کے جرثومے کلبلارہے ہیں۔ پہلے ڈیموکریٹ پارٹی کے متوقع صدارتی امیدوار بارک اوباما نے ولسن انٹرنیشنل سینٹر فار سکالرز میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا ”پاکستان نہ صرف لاکھوں ڈالر کی امریکی امداد سے محروم کر دیا جائے گا بلکہ اسے براہ راست امریکی حملے کا بھی سامنا ہوگا۔“ ابھی اوباما کی پھنکار فضا میں موجود تھی کہ ری پبلکن پارٹی کے ایک صدارتی امیدوار ٹام ٹین کریڈو نے زہر افشانی کرتے ہوئے کہا ”دہشت گردوں کے جوہری حملوں سے بچنے کا بہتر راستہ یہ ہے کہ مقدس اسلامی مقامات پر حملوں کی دھمکی دی جائے۔“ میرے خیال میں ہماری سرزمین پر جوہری حملوں کا جواب صرف اسی شکل میں دیا جاسکتا ہے کہ مکہ مدینہ پر بھی جوابی حملہ کر دیا جائے۔“
یہ افکار، امریکہ کی دو سب سے بڑی سیاسی جماعتوں کے متوقع صدارتی امیدواروں کے ہیں۔ ان سے بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ بظاہر ایک دوسرے کی حریف اور داخلی و خارجی معاملات میں جداگانہ نقطہ ہائے نظر رکھنے والی دونوں جماعتیں، اسلام دشمنی اور مسلم آزاری پر کس طرح متفق ہیں اور یکسو ہیں۔ اس سے یہ اندازہ لگانا بھی مشکل نہیں کہ عام امریکی کس نوع کی قیادت کو برسر اقتدار دیکھنا چاہتے ہیں۔ اگر ری پبلکن اور ڈیموکریٹ دونوں جماعتوں کے متوقع صدارتی امیدوار ایک دوسرے سے بڑھ کر مسلمانوں کے جذبات سے کھیل رہے ہیں اور اس نوع کی تلخ نوائی کو امریکی عوام میں پذیرائی کا ذریعہ خیال کر رہے ہیں تو قیاس کیا جاسکتا ہے کہ امریکی عوام کی اجتماعی سوچ کیا ہے؟
بارک اوباما او حکومتی عہدیدار، انٹیلی جنس کرتے رہتے ہیں۔ شاید سایا ہے اور جو عالی شان کے ایک ایک خلیے میں جانے کی مذموم کوشش، ا نزاکتوں سے بیگانہ ہے ہے۔ ستاروں پہ کمندیں کہ سوا ارب مسلمان مکہ اور ہیں۔ اہل حرم کے کعبہ رحمتوں، برکتوں، عظمتوں بھر کے مسلمانوں کا قبلہ مدینہ منورہ میں وہ ہستی محو عقیدت ہر مسلمان کا سرما لیتے ہوئے بھی ہزار بار بعد بپھرے ہوئے عفر ”کروسیڈ“ شروع ہو رہا مسلمان طاقت آزمائی کی اقدس میں گستاخی کیوں ”کلمات شیطانی“ کے ا اسلام اور دہشت گردی کی طرح کھٹکتا ہے؟ اس کیوں اُن کے سینوں پر دھر لیے گئے ہیں؟ پاکستا
ان سوالات ک ہے کہ یہ سب کچھ جاننے
بارک اوباما اور ٹام ٹین کریڈو کے علاوہ بھی امریکی سیاستدان، ارکان کانگرس، حکومتی عہدیدار، انٹیلی جنس ایجنسیوں کے اہلکار، دانشور اور ذرائع ابلاغ اس نوع کی ہرزہ سرائی کرتے رہتے ہیں۔ شاید یہ لوگ اس خبیث باطن کے ہاتھوں مجبور ہیں جو ان کی رگ رگ میں سمایا ہے اور جو عالی شان درس گاہوں اور اعلیٰ ترین تعلیم و تحقیق کے باوجود اُن کے ذہن و فکر کے ایک ایک خلیے میں خیمہ زن ہے۔ اپنی مکروہ سوچ کو مکہ مدینہ جیسی مشکبو بستیوں تک لے جانے کی مذموم کوشش، اس امر کا اشارہ بھی ہے کہ امریکہ، مسلمانوں کے جذبہ و احساس کی نزاکتوں سے بیگانہ ہے یا پھر وہ جان بوجھ کر ہمارے زخموں پر نمک پاشی کر کے لطف اٹھاتا ہے۔ ستاروں پہ کمندیں ڈالنے اور چاند پر چہل قدمی کرنے والوں کو ابھی تک اندازہ نہیں ہوسکا کہ سوا ارب مسلمان مکہ اور مدینہ کو اپنی جان، اپنے مال اور اپنی اولاد سے بھی زیادہ عزیز رکھتے ہیں۔ اہل حرم کے مکتبہ فکر میں یہ دو شہر، اینٹ گارے کی عمارتوں پر مشتمل دو بستیاں نہیں، رحمتوں، برکتوں، عظمتوں اور فضیلتوں کا گہوارہ ہیں۔ مکہ معظمہ کے قلب میں واقع حرم کعبہ دنیا بھر کے مسلمانوں کا قبلہ ہے جس کی طرف رُخ کر کے وہ پانچ وقت سجدہ ریز ہوتے ہیں اور مدینہ منورہ میں وہ ہستی محو خواب ہے جس کے لیے ارض و سما تخلیق ہوئے اور جس سے محبت و عقیدت ہر مسلمان کا سرمایہ حیات ہے۔ ٹام ٹین کریڈو جیسے بے سروپا شخص کو ان بستیوں کا نام لیتے ہوئے بھی ہزار بار سوچنا چاہیے۔ مسئلہ کیا ہے؟ جارج ڈبلیو بش نے نائن الیون کے فوراً بعد بپھرے ہوئے عفریت کی طرح منہ سے کف نکالتے ہوئے کیوں کہا تھا کہ ایک نیا ”کروسیڈ“ شروع ہو رہا ہے؟ پاپائے روم نے کیوں کہا تھا کہ اسلام تلوار کے زور پر پھیلا اور مسلمان طاقت آزمائی کی نفسیات پر یقین رکھتے ہیں؟ آئے دن پیغمبر اسلام ﷺ کی بارگاہِ اقدس میں گستاخی کیوں کی جاتی ہے؟ توہین آمیز خاکے اور کارٹون کیوں بنائے جاتے ہیں؟ ”کلمات شیطانی“ کے ابلیس صفت مصنف کی چھاتی پر اعزازات کیوں سجائے جاتے ہیں؟ اسلام اور دہشت گردی کو کیوں ہم معنی بنا دیا گیا ہے؟ پاکستان اُن کے دلوں میں کیوں کانٹے کی طرح کھٹکتا ہے؟ اُس کی ایٹمی صلاحیت کیوں ہضم نہیں ہو رہی ہے؟ ڈاکٹر عبدالقدیر خان کیوں اُن کے سینوں پر انگارہ بن کر دہک رہا ہے؟ پاکستان کے دینی مدارس کیوں نشانے پر دھر لیے گئے ہیں؟ پاکستان پر براہِ راست حملہ کرنے کی گردان کیوں تھمنے میں نہیں آ رہی؟
ان سوالات کا جواب تلاش کرنا مشکل نہیں لیکن ہزار سوالوں کے برابر ایک سوال یہ ہے کہ یہ سب کچھ جاننے، یہ سب کچھ دیکھتے ہوئے نیل کے ساحل سے کاشغر کی خاک تک
کوئی ارتعاش کیوں پیدا نہیں ہو رہا؟ ستاون اسلامی ممالک کے سربراہ مٹی کی مورتیاں بنے بیٹھے ہیں۔ خوئے غلامی اور احساسِ کمتری میں جکڑے ہوئے یہ لوگ قوتِ گویائی تک سے محروم ہو چکے ہیں۔ سوا ارب مسلمانوں کے حکمرانوں کے سر قصرِ سفید کی چوکھٹ پر خم ہیں۔ عہدوں، منصبوں کے مختلف نام اور مختلف القابات رکھنے والے یہ فرمانروا اپنے اقتدار کے تسلسل کے لیے امریکی خوشنودی کے کھونٹے سے بندھے، کٹھ پتلیوں کا کردار اپنائے ہوئے ہیں۔ وہ اپنے عوام کو صبح و شام صرف اس لیے انتہا پسندی کی گالی دیتے ہیں کہ امریکہ خوش ہو جائے۔ وہ اس لیے خود اپنے لوگوں پر بم برساتے، انہیں قتل کرتے، انہیں کال کوٹھڑیوں میں ڈالتے، اُن کے حقوق غصب کرتے اور ان کی پشت پر پیہم تازیانے لگاتے ہیں کہ امریکہ اُن کی کرسی کی نگہبانی کرتا رہے۔ انہوں نے اپنے ”آقا“ کی خوشنودی کے لیے آقائے نامدار ﷺ کی محبت و عقیدت کے تقاضوں کو بھی پسِ پشت ڈال دیا۔ امریکہ نے انہیں اپنے اپنے عوام پر ”آقائی“ کی اجازت دے رکھی ہے۔ یہ بخوشی اسلام کے فرزندوں کو پکڑ پکڑ کر امریکیوں کے حوالے کر رہے ہیں۔ انہی کی وجہ سے امریکہ اور مغرب کو یہ حوصلہ ملا ہے کہ وہ اُٹھتے بیٹھتے مسلمانوں کی مقدس ہستیوں، متبرک شعائر اور محترم علاقوں کو نشانہ بناتے رہیں۔
امریکہ، عصرِ حاضر کا سب سے بڑا انتہا پسند، سب سے خونخوار اور دہشت گرد ہے۔ اُسے کچھ پاس و لحاظ نہیں کہ دنیا میں بسنے والے دوسرے لوگوں کے بھی کچھ حقوق ہیں۔ ایک طرف وہ اپنی ہلاکت آفریں ٹیکنالوجی کے ساتھ دنیا بھر پر حملہ آور ہے۔ اسلامی ممالک اس کا خصوصی ہدف ہیں۔ نائن الیون کا لقمہ بننے والے تین ہزار امریکیوں کا انتقام لینے کے لیے وہ اب تک عراق و افغانستان کے سات لاکھ انسانوں کا لہو پی چکا ہے لیکن ابھی تک شکم سیر نہیں ہوا۔ اس کھلی دہشت گردی کے ساتھ ساتھ وہ اہلِ اسلام کے جذبات و احساسات پر بھی پیہم چرکے لگا رہا ہے۔ ہر روز ایک نیا شوشہ چھوڑ دیا جاتا ہے اور پھر بڑی سادگی سے پوچھا جاتا ہے کہ ”لوگ امریکہ سے نفرت کیوں کرتے ہیں؟“ کیا وہ نہیں جانتے کہ بارود کی بارشوں سے بھسم ہو جانے والے لوگ تمہیں پھولوں کے گلدستے نہیں بھیج سکتے اور کیا انہیں خبر نہیں کہ اگر وہ مکہ، مدینہ کے بارے میں ہرزہ سرائی کریں گے تو واشنگٹن اور لندن کے لیے دعاؤں کی سوغاتیں نہیں ارسال کی جائیں گی؟ یہ کیسے لوگ ہیں جو اخلاقیات کے ادنیٰ ترین قرینوں سے بھی عاری ہیں اور ہمیں روشن خیالی کا درس دیتے نہیں تھکتے۔
مسلم سجاد
توہینِ سنّتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم
ماہنامہ ہیرالڈ کراچی (مارچ 2006ء) میں سید شعیب حسن کی رپورٹ کے مطابق ایئر چیف مارشل (اب سبکدوش) کلیم سعادت کے ذاتی حکم پر اسکواڈرن لیڈر محسن حیات رانجھا کو 12 اکتوبر 2005ء کو جبری طور پر قبل از وقت ریٹائر کر دیا گیا ہے۔ وہ فضائیہ کے نہایت قیمتی اور باصلاحیت پائلٹ تھے اور حال ہی میں امریکہ سے تربیت مکمل کر کے واپس آئے تھے۔ اُن کا قصور یہ تھا کہ انھوں نے ڈاڑھی منڈوانے سے انکار کر دیا۔ اسی رپورٹ کے مطابق چار دیگر آفیسر بھی زیرِ عتاب ہیں، ان کے نام یہ ہیں: اسکواڈرن لیڈر نوید ریاض، فلائٹ لیفٹیننٹ ثاقب، فلائٹ لیفٹیننٹ اجمل اور فلائٹ لیفٹیننٹ فضل ربی۔ انہیں بھی گراؤنڈ کر دیا گیا ہے، یعنی کام کرنے سے روک دیا گیا ہے اور اُن کے خلاف بھی قبل از وقت ریٹائرمنٹ کی کارروائی شروع کر دی گئی ہے۔ اُن کا قصور بھی یہی ہے کہ وہ ڈاڑھی رکھتے ہیں اور منڈوانے سے انکاری ہیں۔ فلائٹ لیفٹیننٹ عاطف کو بھی جبری ریٹائر کر دیا گیا ہے، محض اس لیے کہ انہوں نے دیگر افسران میں آیاتِ قرآنی اور احادیث تقسیم کی تھیں۔ ہمارے حکمرانوں کا پاکستان کا سافٹ امیج پیش کرنے کا شوق دیوانگی کی جن حدود کو چھو رہا ہے، اُس کا مظہر یہ کارروائی ہے۔
ہمارے معاشرے میں شاہ سے زیادہ شاہ کے وفاداروں کی یہ نسل اپنی حرکتوں سے باز آنے پر تیار نہیں۔ ہمارے حکمران اعلیٰ کے ہیرو کمال اتاترک کے ملک میں اسکارف لینے والی خواتین کو تعلیمی اداروں میں داخلہ نہیں دیا جاتا تھا۔ پارلیمنٹ کے اسکارف لے کر آنے والی ممبر کو رکنیت سے محروم ہونا پڑا۔ جب امریکہ میں کسی کانگریس کمیٹی میں یہ معاملہ پیش ہوا اور وہاں ترکی کے کمانڈر انچیف بھی موجود تھے، تو امریکی ارکان یہ سمجھنے سے قاصر تھے کہ ذاتی آزادی کے اتنے رائی جیسے معاملے کو پہاڑ کیوں بنا دیا گیا ہے۔
ان دنوں ڈنمارک کے اخبار کے خاکوں نے جو شعلہ انگیز فضا بنائی ہے، ان میں فضائیہ کا یہ کارنامہ جلتی پر تیل کی حیثیت رکھتا ہے۔ توہین رسالت ﷺ کے لیے کارٹون بنا کر چھاپنا ضروری نہیں۔ کیا اس سے بھی زیادہ توہین رسالت ﷺ ہوسکتی ہے کہ ڈاڑھی کو جو سنتِ رسول ﷺ اور شعائرِ اسلام ہے، منڈوانے پر مجبور کیا جائے ورنہ ملازمت سے برطرف کر دیا جائے۔ اگر یہ کارروائی امریکہ یا انگلینڈ میں ہو تو ہم احتجاجی مظاہرہ کر کے اپنے غم و غصے کا اظہار کرنے کے مکلف ہیں لیکن اپنے ملک میں اگر یہ کارنامہ کیا جائے تو اس ملک کے شہریوں کا اور ہر باغیرت مسلمان کا کیا فرض ہے؟ کیا یہ بتانے کی ضرورت ہے؟
جیسا کچھ بھی دستور نافذ ہے، اُس میں قرارداد مقاصد موجود ہے۔ حکومت کی یہ دستوری ذمہ داری ہے کہ وہ معاشرے کو کتاب و سنت کی ہدایات کی روشنی میں چلائے۔ ہر طرح کی خلاف ورزیاں برداشت کی جا رہی ہیں، لیکن کیا پاکستانی قوم ان پانچ پائلٹوں کے حق میں کھڑے ہو کر ایک ہی دفعہ فیصلہ نہیں کرسکتی کہ اس ملک میں سنتِ رسول ﷺ کے ساتھ یہ رویہ نہ صرف فضائیہ میں بلکہ کسی بھی ادارے میں اور کسی بھی سطح پر برداشت نہیں کیا جائے گا۔
ہم عدلیہ سے کوئی توقع نہیں رکھتے لیکن اتنا ضرور ہے کہ وہ کچھ خبروں کا اور تبصروں کا موضوع بنتی ہے۔ اس حوالے سے کچھ فرض شناس وکلا کو یہ جائزہ لینا چاہیے کہ کیا اس اقدام کے خلاف توہینِ رسالت ﷺ کے قانون کے تحت مقدمہ درج کرایا جا سکتا ہے؟ اس ایکٹ کے حق میں ایک دلیل یہ بھی دی جاتی ہے کہ اگر یہ ایکٹ نہ ہو یا مؤثر نہ ہو تو پھر ایک عام مسلمان کو یہ حق مل جاتا ہے کہ وہ غیرت ایمانی کا مظاہرہ کرتے ہوئے خود ہی مجرموں کو سزا دے۔
۞......۞......۞
عبدالمجیب
سابق مشیر حکومتِ سعودی عرب
رسول اکرم ﷺ کے خلاف جھوٹ کا پلندہ
ماہنامہ ”روحانی ڈائجسٹ“ کراچی (اپریل 2005ء) کا شمارہ بطور ”فخرِ موجودات ﷺ نمبر“ شائع ہوا ہے۔ اس کے صفحات 41 تا 60 پر ایک طویل مگر ناپاک مضمون بعنوان ”پیغمبر اسلام ﷺ کا دارالامارات“ (از محمد ذیشان خان) شائع ہوا ہے۔ اس لمبی زہریلی تحریر کا نچوڑ یہ ہے کہ نبی کریم ﷺ بڑے شاہانہ و سرمایہ دارانہ ٹھاٹھ باٹھ اور نمود و نمائش کے ساتھ مسرفانہ زندگی بسر کرتے تھے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ خاتم النبیین ﷺ نعوذ باللہ قرآن مجید کی کھلی خلاف ورزیاں کر کے مسلسل اسراف کیا کرتے تھے یعنی اُن ﷺ کی سنت و سیرت نعوذ باللہ سادہ اور صاف ستھری نہ تھی بلکہ تصنع اور تعیش والی تھی۔ بالفاظِ دیگر محمد الرسول اللہ ﷺ (مبلغ قرآن) کا اُسوہ عکس قرآن نہ تھا بلکہ برعکس قرآن تھا۔ استغفر اللہ ولعنۃ اللہ علی الکاذبین!! یہ مضمون قطعاً اور یقیناً قانون توہین رسالت ﷺ کی زد میں آتا ہے، لہٰذا قانوناً سزائے موت کا متقاضی ہے۔
اب مذکورہ نجس مضمون کا جوہری خلاصہ پیش کیا جاتا ہے جس میں بیشتر الفاظ بھی متنِ مضمون سے ہی لیے گئے ہیں۔ لیکن پہلے مضمون نگار کی نیتِ بد اور جہالت کے صرف ایک نمونہ کی نشاندہی ضروری ہے۔ اس جاہل نے ہر جگہ (عنوان سے لے کر اختتامِ مضمون تک) عربی لفظ ”دار“ کے معنی ”محل“ بتایا ہے، حالانکہ ”دار“ کے معنی ”مکان“ ہوتا ہے ”محل“ نہیں۔ محل کے لیے تو عربی لفظ ”قصر“ ہوتا ہے نہ کہ ”دار“۔ اس شیطانی گھپلے کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے اب ملاحظہ کریں اس کی ابلیسی تحریر کی خرافات کے صرف چند نکات کا خلاصہ :
- 1- رسول اکرم ﷺ نے مدینہ میں اپنا پہلا قیام ابوایوب انصاریؓ کے دو (2) منزلہ
”محل“ میں کیا تھا جو شاہِ تبع کا محل تھا۔ (یعنی مضمون کا سب سے پہلا نکتہ ہی جھوٹ
کا شاہکار ہے)
- -2 اُس ”محل“ کے پاس والی زمین پر نبی کریم ﷺ نے ”دارالامارات / جی۔ ایچ۔
کیو“ بنایا (کتنی چالا کی سے مسجد نبوی ﷺ کا نام بھی تبدیل کر دیا گیا)۔
- -3 مسجد نبوی کے اردگرد تمام محل ازواج مطہراتؓ کے لیے مخصوص ہو گئے تھے۔ ان
محلات کے علاوہ بھی رسول اکرم ﷺ کے دیگر محلات بھی تھے جن کی تعداد بارہ (12) تھی اور رسول ﷺ کے تمام ہی محلوں میں باغات بھی تھے۔ (مطلب یہ کہ محمد ﷺ کا رہن سہن بھی دنیا دار بادشاہوں کی طرح ہی تھا۔ نعوذ باللہ!)
- -4 نبی کریم ﷺ کی ملکیت میں ایسی وسیع وعریض اراضی بھی تھی جس میں سات (7)
چاردیواریوں کے اندر سات (7) باغات تھے اور ان باغات کے اندر کئی کئی منزلہ سات (7) بڑی بڑی حویلیاں تھیں۔ (مطلب یہ ہوا کہ محمد ﷺ وقت کے سب سے بڑے جاگیردار اور سرمایہ دار تھے)۔
- -5 خیبر اور فدک کے باغات بھی رسول اللہ ﷺ کی ملکیت میں تھے۔ (یعنی محمد ﷺ
صرف بڑے جاگیردار اور سرمایہ دار ہی نہ تھے بڑے زمیندار بھی تو تھے۔ (استغفر اللہ)!
- -6 نبی کریم ﷺ کی کچھ اراضی معدنی وسائل سے بھی مالا مال تھی جن میں ایک سونے کی
کان بھی تھی (یعنی ذاتی زمینداری، سرمایہ داری اور جاگیرداری کی کوئی حد ہی نہ تھی)۔
- -7 رسول اکرم ﷺ نہایت شاہانہ اور قیمتی لباس پہنتے تھے۔ ان کے صرف ایک جوڑا
لباس کی قیمت ساڑھے سات کروڑ روپے کے برابر تھی۔ (اسے تہمت اور بہتان کا پہاڑ کہتے ہیں)۔
- -8 خاتم النبین ﷺ نے خالص ریشم سے تیار شدہ جبہ (اوورکوٹ) بھی زیب تن کیا تھا
(حالانکہ ریشم تو مردوں پر حرام ہوتا ہے)۔
- -9 نبی کریم ﷺ نے ایک سونے کی انگوٹھی خاص طور پر بنوائی تھی اور پہنی بھی تھی
(یعنی ایک اور خلاف اسلام کام کیا۔ نعوذ باللہ)۔
- -10 رسول اکرم ﷺ کے پاس ایک چمڑے کا بیلٹ ایسا بھی تھا جس میں چاندی کی
کڑیاں لگی ہوئی تھیں (بالفاظ دیگر محمد ﷺ سونے اور چاندی کے استعمال کے بڑے حریص تھے)۔ (نعوذ باللہ)!
- -11 خاتم النبین ﷺ
بھی تھا جس وقت چار (4)
- -12 فتح مکہ کے
چاندی کا کام
- -13 رسول اکرم ﷺ
حلقے چاندی تھے)۔
- -14 نبی کریم ﷺ
یہ استعمال س
- -15 خاتم النبین ﷺ
اونٹنیاں، بھیڑ گدھا تھے کے برابر تھی
- -16 نبی کریم ﷺ
چراگاہ کے
- -17 رسول اکرم ﷺ
- -18 رسول اللہ ﷺ
(محمد ﷺ
- -19 خاتم النبین ﷺ
کل تعداد وہ ان میں ایک
- -20 ضروریات
مالیت آج تھی (باوضو
- -11 خاتم النبیین ﷺ کے محل میں متعدد کھانے کے برتنوں میں ایک طشت بڑا دیگ ایسا
بھی تھا جس پر تین (3) چاندی کے کڑے لگے ہوئے تھے اور جس کی قیمت اس وقت چار (4) لاکھ درہم تھی (برابر کروڑوں روپے کی تھی۔ اللہ اللہ !)
- -12 فتح مکہ کے موقع پر رسول اللہ ﷺ نے جو تلوار باندھی ہوئی تھی اس پر سونے اور
چاندی کا کام کیا ہوا تھا (جھوٹ کی انتہا ہے)۔
- -13 رسول اکرم ﷺ کے پاس متعدد زرہ تھیں جن میں سے ایک ایسی بھی تھی جس کے
حلقے چاندی کے تھے (مطلب یہ کہ محمد ﷺ تو بس سونے، چاندی اور ریشم کے رسیا تھے)۔
- -14 نبی کریم ﷺ مختلف ڈیزائن کے چمڑے کے جوتے استعمال کیا کرتے تھے (یعنی
یہ استعمال سونے، چاندی اور ریشم کے استعمال کا تکملہ تھا)۔
- -15 خاتم النبیین ﷺ کے اصطبل میں پندرہ (15) گھوڑے، چار (4) سواری والی
اونٹنیاں، بیس (20) دودھ والی اونٹنیاں، سو (100) بکریاں، دو (2) خچر اور ایک گدھا تھے۔ ان میں سے ایک اونٹنی ایسی بھی تھی جس کی قیمت ایک کروڑ روپے کے برابر تھی۔ (جھوٹ کی انتہا ہے۔ نعوذ باللہ)!
- -16 نبی کریم ﷺ کے پاس بقیع کے مقام پر ایک وسیع اور عریض اراضی تھی جو صرف
چراگاہ کے طور پر مخصوص تھی (یعنی وڈیرہ شاہی کے لیے تو ایسا ہونا ہی تھا)۔
- -17 رسول اکرم ﷺ کے پاس کچھ شکاری کتے بھی تھے۔ (استغفر اللہ)۔
- -18 رسول اللہ ﷺ کے کھیتوں اور باغات سے کئی ٹن اناج (غلہ) اور میوہ آتا رہتا تھا
(محمد ﷺ بڑے وڈیرے جو تھے۔ معاذ اللہ)۔
- -19 خاتم النبیین ﷺ اور ان کی ازواج مطہرات کے لیے ذاتی نوکروں (خادموں) کی
کل تعداد دو سو سات (207) بنتی تھی۔ ان میں مرد بھی تھے اور خواتین بھی تھیں اور ان میں ایک یہودی بھی تھا اور ایک پارسی بھی تھا۔
- -20 ضروریات زندگی کے لیے ازواج مطہرات کو جو چیزیں ملتی تھیں ان کی سالانہ
مالیت آج کے حساب سے ہر ایک زوجہ کے لیے چار لاکھ اٹھارہ ہزار روپے ہوتی تھی (بادشاہ وقت کی ہر ایک زوجہ ملکہ ہی تو تھی)۔
- 21- رسول اکرم ﷺ اپنی تمام صاحبزادیوں کے لیے نرم و ملائم اور ریشمی لباس بنوا کر
دیا کرتے تھے (یعنی وہ شاہ کی شاہزادیاں تھیں)۔
- 22- خاتم النبیین ﷺ کے مرکزی محل کو ”ایوان صدر“ کی حیثیت حاصل تھی۔ یہ محل محض
نام کا محل نہیں تھا اور نہ کوئی فقر و فاقہ ہی کا مسکن تھا۔ یہ محل تو کئی منزلہ محل تھا جہاں بیک وقت درجنوں خدام اور خادمائیں مختلف کاموں میں مصروف عمل رہتے تھے (مطلب یہ کہ رسول اللہ ﷺ کا یہ ”ایوان صدر“ نعوذ باللہ دنیا پرستی کا شاہکار عظیم تھا نعوذ بالله. لعنة الله على الكاذبين!)
درج بالا محض ان نکات کا خلاصہ ہے، محولہ بالا مضمون کا جو ماہنامہ ”روحانی ڈائجسٹ“ میں شائع ہوا ہے ورنہ اس میں تو بہت کچھ اور بھی اول فول ہے۔ تاہم اس مختصر خلاصے سے بھی وہ غلاظت ابل پڑتی ہے۔ جو تین بدروحوں (قلم کار، ایڈیٹر اور چیف ایڈیٹر) نے ملی بھگت سے رسول آخر الزماں ﷺ کے اجلے دامن پر اگل دی ہے۔ لہٰذا غلاظت کی مکمل صفائی کے لیے اب لازم ہے کہ اس صریح توہین رسالت ﷺ کا ازالہ فوراً بذریعہ قانون توہین رسالت ﷺ کرایا جائے۔ عوام ہوں یا خواص، افراد ابلاغ عامہ ہوں یا اصحاب تعلیم، اہل دانش ہوں یا حکمران پاکستان اور ماہرین قانون ہوں یا منصفین عدلیہ، غرضیکہ ہر امتی محمد ﷺ اپنے اپنے دائرۂ عمل میں مذکورہ عیارانہ، ظالمانہ اور گھناؤنے جرم کی پاداش میں تینوں مجرموں کو قانوناً سزائے موت دلوانے کے لیے بلا تاخیر قدم بڑھائیں۔ ان تین اموات کے ساتھ چوتھی موت بھی واجب ہے اور وہ یہ کہ ”روحانی ڈائجسٹ“ کی بدروح بھی ہمیشہ کے لیے قانوناً ضبط کر لی جائے۔ توہین رسالت ﷺ کے مرتکبین جرم کے اس حتمی انجام سے نہ صرف پاک سرزمین اس ناپاک مجرم سے پاک ہو جائے گی بلکہ پاکستان کے باقی ماندہ چھپے ہوئے منحرفین، منافقین اور مرتدین بھی اس عبرت انگیز انجام کو دیکھ کر اپنی موت آپ ہی مر جائیں گے۔ ان شاء اللہ!
آخر میں وفاداران محمد ﷺ کی یاد دہانی کے لیے بزبان اقبال اللہ تعالیٰ کا فرمان بھی حاضر ہے۔
یہ جہاں چیز ہے کیا، لوح و قلم تیرے ہیں
صاحبزادیوں کے لیے نرم و ملائم اور ریشمی لباس بنوا کر کی شاہزادیاں تھیں)۔ یہی محل گو ”ایوانِ صدر“ کی حیثیت حاصل تھی۔ یہ محل محض فقر و فاقہ ہی کا مسکن تھا۔ یہ محل تو کئی منزلہ محل تھا جہاں اور خادمائیں مختلف کاموں میں مصروف عمل رہتے تھے ﷺ کا یہ ”ایوانِ صدر“ نعوذ باللہ دنیا پرستی کا شاہکار عظیم علی الکاذبین!)
کا خلاصہ ہے، محولہ بالا مضمون کا جو ماہنامہ ”روحانی میں تو بہت کچھ اور بھی اول فول ہے۔ تاہم اس مختصر ہے۔ جو تین بدروحوں (قلم کار، ایڈیٹر اور چیف ایڈیٹر) کے اپنے دامن پر اگل دی ہے۔ لہٰذا غلاظت کی مکمل گستاخ توہین رسالت ﷺ کا ازالہ فوراً بذریعہ قانون عوام یا خواص، افراد ابلاغ عامہ ہوں یا اصحاب تعلیم، اہل قانون ہوں یا منصفین عدلیہ، غرضیکہ ہر امتی محمد ﷺ ظالمانہ اور گھناؤنے جرم کی پاداش میں تینوں مجرموں کو کیفر کردار تک پہنچائیں۔ ان تین اموات کے ساتھ چوتھی ڈائجسٹ“ کی بدروح بھی ہمیشہ کے لیے قانوناً ضبط کر لی مہم کے اس حتمی انجام سے نہ صرف پاک سرزمین اس طوفان کے باقی ماندہ چھپے ہوئے منکرین، منافقین اور اپنی موت آپ ہی مر جائیں گے۔ ان شاء اللہ! یاد دہانی کے لیے بزبانِ اقبال اللہ تعالیٰ کا فرمان بھی
لوح و قلم تیرے ہیں
ابن خالد
آستین کے سانپ
خلیفہ ہارون الرشید نے امام مالک سے شاتم رسول ﷺ کی سزا کے متعلق دریافت کیا اور کہا کہ عراق کے کچھ فقہا نے اس کو درے لگانا تجویز کیا ہے۔ امام مالک غضبناک ہو گئے اور فرمایا کہ ”اے امیر المومنین! اس امت کو زندہ رہنے کا کیا حق ہے جب اس کے رسول ﷺ کو گالیاں دی جائیں۔ پس اس شخص کو قتل کر دو جو رسول اللہ ﷺ کو برا کہے اور اس کے درے لگاؤ جو آپ کے صحابہ کو برا بھلا کہے۔“
(قاضی عیاض، الشفا، جلد دوم)
ملعون رشدی توہین رسالت کا ثابت شدہ مجرم ہے اور امت مسلمہ نے ملعون کو برطانوی اعزاز سے نوازے جانے کے بعد اپنے بھرپور احتجاج سے ایک مرتبہ پھر یہ ثابت کر دیا ہے کہ ”توہین رسالت“ کوئی عام جرم نہیں بلکہ یہ پوری امت کے لیے دین و ایمان کا مسئلہ ہے اور مسلمان خواہ ان کا تعلق کسی بھی رنگ و نسل سے ہو، وہ کوئی بھی زبان بولتے ہوں، دنیا کے کسی بھی خطے کے رہائشی ہوں، مذہبی طور پر ان کا کوئی بھی مسلک ہو، وہ توہین رسالت کے ایشو پر سب ہم آواز ہیں اور اس جرم قبیح پر سب کا موقف ایک ہے۔ ملعون رشدی کو سر کا خطاب ملنے کے حوالے سے پاکستان میں سرکاری اور غیر سرکاری سطح پر جو احتجاج ہوا اور پوری قوم نے جس طرح اپنے جذبات کا اظہار کیا، اس کا حکومت برطانیہ پر کوئی خاطر خواہ اثر ہو یا نہ ہو حکمرانوں کی ان مذموم کوششوں کو زبردست جھٹکا لگا ہے جو کہ وہ پاکستان میں توہین رسالت ﷺ کی سزا کو غیر موثر کرنے کے لیے تواتر کے ساتھ کر رہے تھے۔ اور اس حوالے سے کچھ حکومتی ذمہ داران نے لب کشائی بھی کی تھی۔ کچھ عرصہ قبل حکمران لیگ کے جنرل سیکریٹری مشاہد حسین نے فرانس میں ایک سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ حکومت قانون توہین رسالت میں الیکشن کے بعد ترامیم کرے گی۔
ملعون رشدی کے حوالے سے قوم کے منظم احتجاج نے ان ساری کوششوں کو خاک
میں ملا دیا ہے اور مجھے یقین ہے کہ ایک طویل عرصے تک کسی باوردی یا سویلین حکمران اور اس کے حواریوں کو توہین رسالت کے قانون میں من مانی ترامیم کے حوالے سے زبان کھولنے کی بھی جرات نہیں ہو گی۔ تاہم ہمیں ان نام نہاد دانشوروں پر کڑی نظر رکھنا ہوگی جو آستین کے سانپوں کا کردار ادا کر رہے ہیں اور روشن خیالی اور جدت پسندی کی آڑ میں نہ صرف اسلام کے بنیادی عقائد پر حملے کر رہے ہیں بلکہ الیکٹرانک میڈیا کے پروگرامات اور اپنی تحریروں کے ذریعہ مسلمانوں کو چودہ سو سال سے متفقہ معاملات پر کنفیوز کر رہے ہیں۔ ملعون رشدی کی تیسری کتاب Satanic Verses میں توہین رسالت پر مبنی انتہائی دل آزار مواد شامل تھا جس کی بنا پر اسے گردن زنی قرار دیا گیا تھا لیکن آج پاکستان میں جاوید غامدی اور اس کے شاگرد ایسی کتب دھڑلے سے لکھ اور چھاپ رہے ہیں جن میں توہین رسالت کو سرے سے کوئی جرم ماننے سے انکار کیا گیا ہے۔ اور مسلمانوں کو یہ باور کروانے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ شریعت میں توہین رسالت کی سرے سے کوئی سزا ہی نہیں ہے۔ آپ خود سوچیے کہ اگر ان نام نہاد دانشوروں کی شریعت میں توہین رسالت جیسے قبیح جرم کی کوئی سزا ہی نہیں ہے تو پھر ملعون رشدی کے خلاف دنیا بھر کے مسلمانوں کو احتجاج کی کیا ضرورت ہے۔ شاید آپ میں سے اکثر کو اس بات پر یقین نہ آئے کہ غامدی اور ان کے شاگرد توہین رسالت کو شرعی طور پر قابل سزا جرم تسلیم نہیں کرتے۔ لہٰذا ملاحظہ کیجیے کہ شاگرد رشید معز امجد کی کتاب ”رسول اللہ ﷺ پر ایمان کے تقاضے“، سے ایک اقتباس۔
”مسلمانوں کے لیے محمد ﷺ کا احترام محض ایک عقلی اور ایمانی چیز ہی نہیں ہے، بلکہ یہ ایک جذباتی چیز بھی ہے۔ اس وجہ سے یہ بالکل فطری بات ہے کہ اگر کوئی شخص مسلمانوں کی اس محبوب ترین اور محترم ترین ہستی کے بارے میں ناشائستہ رویہ اختیار کرے تو اس پر مسلمانوں کا خون کھول اٹھتا ہے۔ اس حقیقت کو تسلیم کر لینے کے باوجود ہمارے لیے یہ ضروری ہے کہ ہم ہر قسم کی عصبیت کو بالائے طاق رکھ کر یہ جاننے کی کوشش کریں کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی شریعت میں ایسے شخص کی کیا سزا رکھی ہے جو محمد ﷺ کے بارے میں اہانت آمیز رویہ اختیار کرے۔ قرآن مجید میں مشرکین قریش، یہود اور نصاریٰ کے اس قسم کے رویوں کا بھی بار بار ذکر ہوا ہے اور منافقین کو بھی اس طرح کے رویے پر جگہ جگہ تنبیہ کی گئی ہے۔ یہ واضح ہے کہ منافقین عام طور پر مسلمان ہی سمجھے جاتے تھے اور انہیں یثرب میں وہ تمام حقوق بھی حاصل
تھے جو دوسرے مسلمان شہریوں کو حاصل تھے۔ مگر اس حوالے سے یہ ایک عجیب بات ہے کہ مشرکین قریش، یہود، نصاریٰ اور منافقین کے اس قسم کے رویے پر قرآن نے تنقید تو خوب کی ہے، مگر کسی ایک مقام پر بھی اللہ تعالیٰ نے نہ صرف یہ کہ یہ بیان نہیں فرمایا کہ اگر کوئی شخص مسلم یا غیر مسلم پیغمبر ﷺ کے بارے میں اس قسم کا رویہ اختیار کرے تو ایک اسلامی ریاست میں اسے کیا سزا دینی چاہیے بلکہ اس سے آگے بڑھ کر یہ اعلان کر دیا ہے کہ اس قسم کے لوگوں کے خلاف پیغمبر ﷺ یا آپ ﷺ کے ساتھیوں کو کوئی کارروائی نہیں کرنی ہے۔ جیسا کہ ہم پہلے بھی بیان کر چکے ہیں، قرآن نے دو ٹوک الفاظ میں یہ اعلان کر دیا ہے کہ پیغمبر ﷺ کو اذیت پہنچانا، دراصل اللہ کو اذیت پہنچانا ہے۔ چنانچہ جو لوگ یہ حرکت کر رہے ہیں، اللہ ان سے خود نمٹ لے گا۔ مشرکین کے حوالے سے ارشاد ہے: تو جو کچھ تمہیں حکم ملا ہے، اس کو کھلے طریقے سے سنا دو اور ان مشرکوں سے اعراض کرو، ہم ان مذاق اڑانے والوں کے مقابلے میں تمہاری طرف سے نمٹنے کے لیے کافی ہیں۔ (الحجر 15: 95,94)
یہود، نصاریٰ اور منافقین کے اس قسم کے رویے کی بھی قرآن نے نشاندہی کی ہے قرآن مجید کے ان مقامات پر بھی ان ناہنجاروں کو دنیا اور آخرت میں عذاب کی وعید تو سنائی ہے، لیکن کسی ایک مقام پر بھی، خاص اس جرم کی وجہ سے، ایسے لوگوں کے خلاف مسلمانوں کو کوئی کارروائی کرنے کا حکم نہیں دیا گیا ہے۔ یہی معاملہ ہے نبی کریم ﷺ سے منسوب روایات کا بھی ہے۔ ایسی کوئی ایک صحیح روایت بھی اب تک ہمارے سامنے نہیں آئی جس میں نبی کریم ﷺ نے یہ حکم دیا ہو کہ آپ ﷺ کے ساتھ اہانت آمیز رویہ اختیار کرنے کی دنیوی قانون میں کیا سزا ہے۔ اس سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی شریعت میں نبی ﷺ کے بارے میں اہانت آمیز رویہ رکھنے کی دنیوی قانون کے لیے کوئی سزا متعین نہیں فرمائی۔ (رسول اللہ ﷺ پر ایمان کے تقاضے، معز امجد، ناشر مکتبہ دانش سرا، لاہور صفحہ 53,54)
مجھے یقین ہے کہ درج بالا اقتباس کو پڑھ کر آپ خود فیصلہ کر لیں گے کہ جنرل پرویز مشرف کی زیر پرستی الیکٹرونک میڈیا اور اسلامی نظریاتی کونسل پر چھایا ہوا یہ گروہ اسلام کے نام پر اسلام کا کیا حشر کر رہا ہے۔ علمائے کرام کو وطن عزیز میں اس طرح کے لٹریچر کی اشاعت اور کھلے عام فروخت کا سخت نوٹس لینا چاہیے۔
۞ ۞ ۞
خاور چوہدری
ایک گمراہ کا ذکر......!
”کتنی عورتیں ہوں گی جنہیں اس کی طرح انقلابی اسلام کا تجربہ ہوا ہوگا؟ اور ان میں سے کتنی ہوں گی جو اپنی اپنی کہانیاں بیان کریں گی اور ان میں سے بھی کتنی ہوں گی جو اتنے واضح انداز اور شعور کے ساتھ انہیں بیان کر سکیں گی۔ اس لیے یہ ایک منفرد مصنفہ کی منفرد کتاب ہے اور دونوں آگے جانے کے لائق ہیں۔“ یہ تبصرہ واشنگٹن پوسٹ نے Infidel نامی کتاب پر کیا ہے۔ کتاب کی مصنفہ صومالی نژاد Ayaan Hirsi Ali ہے۔ 37 سالہ ”عیان ہرسی علی“ صومالی انقلاب کی سرکردہ شخصیت ہرسی مغان علی کی بیٹی ہے۔ صومالیہ میں پیدا ہونے والی یہ عورت جب شعور کو جانچنے کے لیے نکلی تو شعور کی بھول بھلیوں میں گم ہو کر رہ گئی اور یوں اس کا کچا ذہن بھٹک گیا۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یہ دور نکلتی گئی اور پھر ایک ایسا وقت آیا جب اس نے Caged Virgins کے نام سے اپنی پہلی کتاب لکھی۔ کیجڈ ورجنز کی شہرت ہوتے ہی اس کے لیے ہالینڈ کی فضا بھی تنگ ہونے لگی تھی۔ جس گھٹیا انداز سے اس نے اس کتاب میں اسلامی تعلیمات اور اسلام کے خلاف اظہار خیال کیا تھا، وہ اس کے لیے مشکلات کا باعث بنا۔ جب ہالینڈ میں اس کی شہریت کے خاتمہ کا مسئلہ کھڑا ہوا تو اس نے اپنے رشتہ داروں سے رابطہ کیا مگر انہوں نے اس کی اسلام دشمنی کی بنا پر اسے قبول نہ کیا۔ اپنوں سے دوری اور ان کی طرف سے دھتکار دیے جانے کا غم اس کی زندگی کا حصہ بن گیا اور وہ چاہتے ہوئے بھی اس غم سے چھٹکارا نہ پاسکی۔ 1992ء میں جب اسے ہالینڈ کی شہریت ملی تھی تو تب اسے صومالیہ، ایتھوپیا، سعودی عرب اور کینیا کا ماحول متشدد دکھائی دینے لگا تھا۔ اسے ان معاشروں کی ہر قدر اور خوبی، خرابی دکھائی دینے لگی تھی بلکہ وہ تو کھلم کھلا اسلامی تعلیمات کے ہی خلاف ہو گئی تھی۔ اس کا اسلام پر بنیادی اعتراض یہ ہے کہ ”اس کے ماننے والے خواتین پر ظلم کرتے ہیں اور یہ سب (نعوذ باللہ) قرآن سکھاتا ہے۔“ اپنی پہلی کتاب
Caged Virgins (دوشیزہ) میں اس نے ایسی کئی باتیں لکھیں۔ سلمان رشدی کی طرز فکر رکھنے والی اس لڑکی کو ہالینڈ نے نہ صرف اپنے یہاں پناہ دی بلکہ اس کی دروغ گوئی کے باوجود اسے پارلیمنٹ کا ممبر بھی چن لیا۔ 2004ء میں عیان نے ایک قدم آگے بڑھاتے ہوئے وہ کام کر دیا جس سے اس کی زندگی مسلسل خطروں میں گھر گئی۔ اس نے تھیون وان گوگ کی اس فلم کا سکرپٹ لکھا جو اسلام کے خلاف تھی۔ ”سبمشن“ نامی یہ فلم ہالینڈ میں ٹی وی پر دکھائی گئی۔ اس فلم میں چار نیم برہنہ مسلمان خواتین کا کردار دکھایا گیا جن کے جسموں پر قرآنی آیات واضح لکھی ہوئی تھیں۔ اس فلم میں مسلم معاشروں میں خواتین پر تشدد حتیٰ کہ قریبی اور مقدس رشتوں کی طرف سے جنسی تشدد بھی دکھایا گیا۔ جب یہ فلم نشر ہوئی تو فلم کے ڈائریکٹر تھیون وان گوگ کو ایک ڈچ مسلمان نے ایمسٹرڈیم میں واصل جہنم کر دیا اور مسلمانوں کے نام پر دھبہ اس عورت کو قتل کرنے کی دھمکی بھی دی۔ جولائی 2005ء میں ہالینڈ میں پیدا ہونے والے 26 سالہ اس مراکشی نوجوان (غازی) محمد بویری کو عمر قید کی سزا سنا دی گئی۔ محمد بویری نے عدالت میں اعتراف قتل کرتے ہوئے کہا تھا کہ اگر اسے دوبارہ موقع ملا تو وہ پھر بھی ایسا ہی کرے گا۔ ملعون تھیون وان گوگ کے جسم میں چاقو کے ساتھ اس غازی نے جو پیغام چھوڑا تھا، وہ اسی عیان کے لیے تھا۔ لبرل پارٹی کی نائب اور اس وقت کی رکن پارلیمان عیان ہرسی علی جس نے اپنے والدین کی طرف سے اس کے لیے پسند کیے گئے شوہر کو نہ صرف چھوڑ دیا تھا بلکہ اس شوہر کے مبینہ ظلم کی بنا پر وہ اسلام سے ہی منکر ہو گئی تھی، اب اپنی زندگی کو بچانے کے لیے پولیس کی نگرانی میں تھی۔ اسے یقین تھا کہ ہالینڈ میں مقیم ایک ملین مسلمانوں میں سے کوئی ایک غازی ضرور اس سے زندگی کی ڈور چھین لے گا۔ مگر ابھی قدرت کی طرف سے اسے ڈھیل مل رہی تھی۔ وہ اپنی شیطانیوں میں آگے ہی آگے بڑھتی گئی۔
جب ڈنمارک کے ایک اخبار نے توہین آمیز کارٹون شائع کیے تو اس نے رکن پارلیمنٹ ہونے کی حیثیت سے ان کی اشاعت کو خوش کن قرار دیا۔ 9 فروری 2006ء کو جرمنی کے شہر برلن میں گفتگو کرتے ہوئے اس نے کہا تھا کہ ”مذکورہ کارٹون کی پہلی اشاعت کا فیصلہ غلط نہیں تھا اور دوبارہ اشاعت کا فیصلہ بھی صحیح ہے۔“ عیان نے یہ بھی کہا تھا کہ ”یورپی لیڈرز کو ڈنمارک کے اخبار کی حمایت کرنا چاہیے تھی مگر یہ انتہا پسندوں کو خوش کرنے میں مصروف ہیں۔“ یکم مارچ 2006ء کو جب ایک فرانسیسی اخبار میں کارٹونوں سے متعلق اسلام دشمن 12 مصنفین
کا مشترکہ بیان چھپا تو عیان کا نام بھی ان میں شامل تھا۔ ان اسلام دشمنوں میں سلمان رشدی، بنگلہ دیشی مصنفہ تسلیمہ نسرین، شہلا شفیق، مریم نمازی اور ارشاد مانجی بھی تھے۔ اس بیان میں ان ملعونین نے کہا تھا "ہم نازی دور، سٹالن کے دور اور فاشزم کے خطرات سے پہلے نمٹ چکے ہیں لیکن اب دنیا کو ایک بڑے خطرے کا سامنا ہے جو کہ اسلامزم ہے۔ ہم مطالبہ کرتے ہیں اس مذہبی آمریت کو روکا جائے۔" عیان اپنی شیطانی عادات کے باعث اپنے خاندان اور رشتہ داروں سے پہلے ہی دور ہو چکی تھی مگر اسے اپنے کیے پر ندامت نہ ہوئی۔ جب ہالینڈ میں اسے شہریت ملی اور وہاں کے پارلیمان کی رکن منتخب ہو گئی تو بھی اس کا من نہ دھلا۔ یہاں ایک بار پھر اسے دھتکار دیا گیا۔ اس پر الزام لگایا گیا کہ اس نے شہریت کے حصول کے وقت غلط بیانی سے کام لیا تھا۔ اس الزام کو اس نے قبول کرتے ہوئے اپنی غلطی کا اعتراف بھی کیا مگر اس کی شہریت ختم کر دی گئی۔ جب یہ ملعونہ پارلیمنٹ کی رکنیت سے مستعفی ہو رہی تھی تو اس نے کہا "شہریت ختم ہو جانے سے قبل ہی مجھے احساس ہونے لگا تھا کہ مجھے آنے جانے میں مکمل آزادی حاصل نہیں اور میں رکن پارلیمان کی حیثیت سے اپنے فرائض پوری طرح نہیں انجام دے پا رہی۔" ہالینڈ نے ولندیزیوں کے برابر دیے گئے حقوق اس سے چھین لیے تھے۔ تب وہاں کے ڈچ اخبارات نے لکھا تھا "اب عیان ہرسی علی واشنگٹن میں کنزرویٹو نظریات کے لیے کام کرنے والے ایک تھنک ٹینک کے لیے کام کرے گی۔ خود کو منحرف مسلمان کہنے اور اسلام میں عورتوں کے مرتبے پر تنقید کرنے اور ہم جنس پرستی کو جائز سمجھنے والی ملعونہ کو ندامت اور شرمندگی کے احساس کے ساتھ ہالینڈ چھوڑنا پڑا۔ مگر کہتے ہیں جن لوگوں کے دماغوں میں شیطان سما جائے انہیں کہیں چین نہیں ملتا۔ اس کے ساتھ بھی یہی کچھ ہو رہا ہے۔ اب اس نے Infidel (بے دین) کے نام سے کتاب لکھ دی۔ اس کتاب کو اس نے اپنی خودنوشت سوانح قرار دیا ہے۔ کتاب لندن سے شائع ہوئی ہے اور "واشنگٹن پوسٹ" جیسے اخبار نے جب اس کتاب کی "پذیرائی" کی ہے تو یقیناً یہ کتاب اسلام کے خلاف بہت سی باتوں سے بھری ہوئی ہوگی۔
بے دین نامی اس کتاب کے مندرجات ابھی ظاہر نہیں ہوئے ہیں مگر امکان یہی ہے کہ جس طرح عیان ہرسی نے اپنی پہلی کتاب کیجڈ ورجنز میں اپنی خرافات سے اسلامی اقدار کو نشانہ بنایا تھا یہی کچھ Infidel میں بھی ہوگا۔ اسلام سے پھرنے والے لوگوں کی تعداد انگلیوں پر گنی جا سکتی ہے اور جب ایسے لوگ یورپ کے ہاتھ لگتے ہیں تو یقیناً مغرب ان سے
پورا کام لیتا ہے، وہی پورا کام جو ”ٹوائلٹ پیپر“ سے لیا جاتا ہے۔ پھر ان کی وقعت ختم ہو جاتی ہے۔ ان سے شہریت چھین لی جاتی ہے یا پھر انہیں سیکورٹی رسک قرار دے کر نظر بند کر دیا جاتا ہے، جہاں یہ جانوروں کی طرح پنجروں میں قید رہتے ہیں۔ انہیں ان کا زعم لے ڈوبتا ہے اور ہمیشہ کی طرح اندھیروں میں بھٹکتے رہتے ہیں۔ زندگی میں تو یہ گمراہ لوگ نفرت کا نشانہ بنتے ہی ہیں مرنے کے بعد بھی لوگ ان کی قبروں پر تھوکتے ہیں۔ حق تو یہ ہے کہ گمراہوں کے ساتھ ایسا ہی ہونا چاہیے۔
٭ ٭ ٭
مولانا سعید احمد جلال پوری
مقدس ناموں کی توہین
تجربہ اور مشاہدہ گواہ ہے کہ کتا جب بھی کسی غیر مانوس انسان کو دیکھتا ہے تو ضرور بھونکتا ہے اور جب تک انسان اس کے سامنے رہتا ہے، وہ چپ نہیں ہوتا، اس لیے کہ یہ اس کی خصلت و طبیعت کی مجبوری ہے کہ وہ کسی نامانوس انسان کو دیکھ کر چپ نہیں رہ سکتا۔ اسی طرح وہ لوگ جو کتا خصلت ہوں وہ بھی اپنی طبیعت و عادت سے مجبور ہوتے ہیں۔ غالباً اسی بنا پر پیغمبر اسلام ﷺ نے ابتدا میں مسلمانوں کو کتوں سے نفرت کا حکم دیا کہ کہیں مسلمانوں میں کتوں کی خصلت نہ آجائے...... اور یہ حقیقت ہے کہ ساتھ رہنے سے انسانوں پر جانوروں کی اور جانوروں پر انسانوں کی طبیعت کے اثرات مرتب ہوتے ہیں۔
جس طرح کتے کی یہ طبیعت و خصلت ہے، اسی طرح کتوں کے ساتھ رہنے والے کتا خصلت، مغربی اور امریکی عیسائیوں اور یہودیوں کا بھی یہی حال ہے کہ وہ کسی مسلمان کو دیکھ کر خاموش نہیں رہ سکتے، بلکہ وہ مسلمانوں کے تصور سے بھی بھونک اٹھتے ہیں۔ مسلمان چاہے کتنا ہی ان کو قریب کریں یا ان کے قریب ہوں، مگر وہ اپنی خصلت سے مجبور ہیں۔ شاید مسلمانوں کو بھونکے بغیر ان کی روٹی ہضم نہیں ہوتی۔
اس پر کسی سیدھے سادے مسلمان کے ذہن میں یہ خیال آسکتا ہے کہ ہم نے تو آج تک کسی یورپی، امریکی اور مغرب کے کسی یہودی اور عیسائی کو بھونکتے نہیں دیکھا۔ اس سلسلہ میں عرض ہے کہ جس طرح اصلی کتے اور کتا خصلت انسان کی شکل میں فرق ہوتا ہے، اسی طرح ان کی بھونک میں فرق ہوتا ہے، چنانچہ اصلی کتے کی بھونک کسی زبان و لغت کی پابند نہیں ہوتی، جبکہ انسان نما کتوں یا کتا خصلت انسانوں کی بھونک کسی نہ کسی زبان لغت یا حروف و الفاظ کے سانچے میں ڈھلی ہوئی ہوتی ہے۔ لہٰذا کبھی تو ان کی بھونک تقریر و بیان کی صورت میں ہوتی ہے اور کبھی تحریر و خاکوں کی شکل میں پھر ان کی بھونک کے ہدف بھی مختلف
ہوتے ہیں، مثلاً: کبھی وہ اسلام کو بھونکتے ہیں تو کبھی پیغمبر اسلام کو، کبھی وہ مسلمانوں کو بھونکتے ہیں تو کبھی ان کے شعائر کو، کبھی وہ قرآن کریم کو بھونکتے ہیں تو کبھی کعبۃ اللہ کو، کبھی وہ براہ راست خود یہ کام کرتے ہیں تو کبھی یہ خدمت اپنے غلاموں سے لیتے ہیں۔ اس کے لیے کبھی وہ ٹی وی کا سہارا لیتے ہیں تو کبھی اخبارات کا، کبھی اس کے لیے ویب سائٹ کا کندھا تلاش کرتے ہیں تو کبھی فلم اسکرین کا، کبھی تحریر کا تو کبھی تقریر کا، اور یہ سلسلہ آج کا نہیں بلکہ پچھلے چودہ سو سال سے یہ شرمناک کھیل کھیلا جا رہا ہے اور یہ بات ہے کہ جب تک مسلمانوں میں ملی غیرت اور دینی حمیت باقی تھی۔ اس وقت تک یہ سلسلہ محدود اور بہت محدود تھا، لیکن جب سے مغرب کو یقین ہو گیا کہ مسلمانوں میں اب پہلے جیسی دینی حمیت و غیرت نہیں رہی، بلکہ نام نہاد مسلمان بھی اب ہماری ہاں میں ہاں ملانے لگے ہیں تو انہوں نے اس مہم کو شدت سے اٹھانا شروع کر دیا۔
جیسا کہ عرض کیا گیا جہاں ضرورت ہو وہ خود یہ خدمت انجام دیتے ہیں اور جہاں ان کے لیے مشکلات ہوں، وہاں وہ اپنے زرخرید غلاموں اور باج گزاروں سے یہ خدمت لیتے ہیں۔ یوں یہ سلسلہ روز افزوں ہے۔ چنانچہ اگر کبھی انہوں نے راجپال ملعون کو اس کام کے لیے منتخب کیا تھا تو کبھی مرزا غلام احمد قادیانی کو، کبھی انہوں نے ملعون رشدی کو اس کے لیے چنا، تو کبھی تسلیمہ نسرین کو، کبھی فلم ”دی مسیج“ کے کرداروں کو تو کبھی فلم ”خدا کے لیے“ اور ”بول“ کے بانی شعیب منصور کو۔ کہیں ڈنمارک کے یہودی اخبار نے آنحضرت ﷺ کے خلاف توہین آمیز خاکے شائع کر کے یہ خدمت انجام دی، تو کہیں امریکی صدارتی امیدوار نے بیت اللہ پر بمباری کا عندیہ دے کر یہ کام کیا، کہیں حدود اللہ کے خلاف آواز اٹھا کر پاکستان کے ملحدوں نے ان کی خواہش کی تکمیل کی تو کہیں قانون توہین رسالت کے خلاف ہرزہ سرائی کر کے یہ کام کیا گیا، کہیں جہاد اور مجاہدوں کے خلاف فضا بنا کر اس منصوبہ کی تکمیل کی گئی تو کہیں اسلام اور مسلمانوں کو دہشت گرد باور کرا کر اس پروگرام کو عملی جامہ پہنایا گیا۔
غرض یہ سب ان کتا خصلت یہودی اور عیسائیوں کی انسان اور مسلمان دشمنی کے شاہکار اور ان کی ہرزہ سرائیوں کے نشانات ہیں۔
اب تازہ ترین صورت حال یہ ہے کہ ان کتا خصلت امریکیوں کی ایک جوتا ساز کمپنی ALDO......الڈو...... نے یہ کام اپنے ذمہ لے کر نعوذ باللہ! مسلمانوں کے مقدس ناموں پر بھونکنا شروع کر دیا ہے۔ اس عنوان پر اپنی طرف سے کچھ لکھنے سے بہتر ہوگا کہ
روزنامہ ”امت“ کراچی 28 دسمبر 2007ء میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ قارئین کی خدمت میں پیش کر دی جائے، ملاحظہ ہو:
”سوڈان کے دارالحکومت خرطوم کے برطانوی عیسائی مشنری اسکول کی شاتم رسول ٹیچر کی جانب سے (نعوذ باللہ)......... کا نام ”محمد“ رکھے جانے کے دلدوز واقعے کی بازگشت ابھی ختم بھی نہ ہوئی تھی کہ امریکی صف اول کی جوتا بنانے والی کمپنی ”Aldoshoes“ کی جانب سے اصحاب اہل بیت، اللہ کے صفاتی ناموں اور پیغمبر اسلام ﷺ کے ناموں پر مشتمل جوتوں کو فروخت کے لیے مارکیٹ میں پیش کر دیا گیا ہے۔
اس دلدوز واقعے کی خبر سب سے پہلے مختلف امریکی ریاستوں میں موجود پاکستانی مسلمانوں نے ای میل کے ذریعے دی، جنہوں نے بتایا کہ مختلف امریکی ریاستوں میں امریکی جوتے بنانے والی معروف کمپنی ”Aldo“ نے اپنی نئے جوتوں کی تشہیری مہم کا آغاز کرتے ہوئے فخریہ طور پر کہا ہے کہ انہوں نے خواتین اور مردوں کے لیے دلکش جوتوں کی وسیع رینج تیار کی ہے۔ مختلف ٹی وی چینلوں اور ”Aldo“ کی آفیشل ویب سائٹ پر ان جوتوں کو اسلامی ناموں کے ساتھ پیش کیا گیا ہے۔ جو مسلمانان عالم کے لیے انتہائی دل آزار اور باعث اشتعال ہے۔ امریکہ میں مقیم مسلمانوں اور کمپنی کی ویب سائٹ سے پتا چلا ہے کہ ان جوتوں کے لیے مقدس ہستیوں کا اسم استعمال کیا گیا ہے، جن میں اللہ کا صفاتی نام ”جلیل“، پیغمبر اسلام حضرت سلیمانؑ، پیغمبر اسلام حضرت محمد ﷺ کے والد گرامی کا نام ”عبداللہ“ اور آپ ﷺ کی صاحبزادی کا اسم گرامی ”فاطمہؓ“ ظاہر کیا گیا ہے۔ (اللہ تعالیٰ ایسی خباثت کرنے والوں پر بے شمار لعنت برسائے)!
امت کی تحقیق اور تلاش کے نتیجے میں اس امر کی تصدیق کی گئی ہے کہ امریکی جوتے بنانے والی کمپنی ”Aldo“ نے جان بوجھ کر اس فعل بد کا ارتکاب کیا ہے اور تمام جوتوں کے ناموں کو بطور خاص ویب سائٹ پر پیش کیا گیا ہے ان جوتوں کی تصاویر اور ان کے رکھے گئے ناموں کو دیکھنے کے لیے ملاحظہ کیجیے:
http://wwwZappas.com/n/p/dp/19967740.html, http://www.aldoshoes.com/eng/storesection/redirect.cfm
شائع ہونے والی ایک رپورٹ قارئین کی
وی عیسائی مشنری اسکول کی شاتم رسول ٹیچر جانے کے دلدوز واقعے کی بازگشت ابھی ختم گئی ”Aldoshoes“ کی جانب سے اسلام ﷺ کے ناموں پر مشتمل جوتوں کو
ف امریکی ریاستوں میں موجود پاکستانی یا کہ مختلف امریکی ریاستوں میں امریکی ے جوتوں کی تشہیری مہم کا آغاز کرتے روں کے لیے دلکش جوتوں کی وسیع رینج کی آفیشل ویب سائٹ پر ان جوتوں کو عالم کے لیے انتہائی دل آزار اور باعث ب سائٹ سے پتا چلا ہے کہ ان جوتوں میں اللہ کا صفاتی نام ”جلیل“، پیغمبر والد گرامی کا نام ”عبداللہ“ اور آپ ہے ۔ (اللہ تعالیٰ ایسی خباثت کرنے
ز کی تصدیق کی گئی ہے کہ امریکی جوتے کا ارتکاب کیا ہے اور تمام جوتوں کے توں کی تصاویر اور ان کے رکھے گئے
http://www.Zappos. http://www.aldoshoes.com
امریکی ریاست فلاڈلفیا میں مقیم پاکستانی نوجوان عباس نے اپنے تاثرات بیان کرتے ہوئے کہا کہ جوتے بنانے والی کمپنی ”Aldo shoes“ کا یہ اقدام لاعلمی کے زمرے میں نہیں آتا۔ کمپنی کے حکام اور مالک کو اچھی طرح علم ہوگا کہ پیغمبر اسلام ﷺ اور اہل بیت کے نام کیا ہیں، وہ اعلیٰ تعلیم یافتہ لوگ ہیں جبکہ اس دل آزار عمل میں امریکی محکمہ رجسٹریشن کے حکام بھی برابر کے شریک ہیں، کیونکہ انہیں ہر نام رجسٹر اور پیٹنٹ کرنے سے پہلے دیکھنا پڑتا ہے کہ اس نام کا مذہبی، سیاسی اور معاشرتی پہلو کیا ہے؟ عباس کا استدلال تھا کہ کمپنی کے بنائے ہوئے جوتے کے ہزاروں ناموں میں ایک نام بھی بش یا ریگن نہیں ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ کمپنی اور جوتوں کا نام رجسٹر اور پیش کرنے والے افراد کے ذہن میں یہ بات واضح تھی کہ وہ کس قسم کے نام رکھنے اور رجسٹر کرنے جارہے ہیں۔ عباس نے کمپنی سے مطالبہ کیا کہ وہ معافی مانگے اور ایسے تمام جوتے واپس لے۔
ادھر یہ بات بھی انتہائی اہم ہے کہ کراچی میں بھی سینکڑوں شہریوں کو اس حوالے سے SMS کیے گئے ہیں، جس میں امریکی شو کمپنی ”Aldo shoes“ کی طرف سے کی جانے والی ناپاک جسارت پر اظہار غم وغصہ کرنے کے ساتھ ساتھ Aldo shoes کا فون نمبر 2536-326-800-1 دیا گیا کہ صاحب استطاعت مسلمان امریکہ فون کر کے کمپنی سے براہ راست احتجاج کریں اور جو لوگ براہ راست فون نہیں کر سکتے وہ کمپنی کی ویب پر جا کر اپنا تحریری احتجاج Comments@aldogroup.com پر پیش کریں یا اپنی آئی ڈی سے اس ای میل ایڈریس پر میل بھیجیں۔
تازہ ترین خبروں سے پتا چلا ہے کہ جوتے بنانے والی امریکی کمپنی Aldo shoes نے اپنی آفیشل ویب سائٹ سے مقدس اسمائے گرامی والے جوتوں کی تصاویر ہٹانا شروع کر دی ہیں، آخری اطلاعات آنے تک Aldo shoes نے حضرت عبداللہ کا اسم مبارک ظاہر کرنے والا ”ویب پیج“ Remove کر دیا ہے۔
پشاور سے آن لائن احتجاج ریکارڈ کرانے والے نیاز گل نے اپنی ای میل میں مسلمانان عالم سے اپیل کی ہے کہ وہ امریکی جوتا کمپنی کے خلاف اپنا احتجاج ریکارڈ کرائیں۔ ادھر کمپنی کی ویب سائٹ سے پتا چلا ہے کہ ”جلیل، فاطمہ، سلیمان“ جیسے مقدس ناموں کے
حامل بنائے گئے جوتوں کو اب بھی Display پر رکھا گیا ہے اور ویب سائٹ پر انہیں تاحال Remove نہیں کیا گیا ہے۔
امریکی مسلمانوں نے اپنے احتجاج کا سلسلہ کمپنی کے خلاف ای میل بھیج کر اور ٹیلیفون کر کے جاری رکھا ہوا ہے۔ ان کا موقف ہے کہ امریکی کمپنیاں اس قسم کی حرکتیں جان بوجھ کر کرتی ہیں، جس کا واضح مقصد مسلمانوں کے جذبات کو برانگیختہ کرنا ہے۔
امریکی مسلمانوں کی تنظیم ”CARE“ نے بھی اس حرکت کا نوٹس لیا ہے اور کہا ہے کہ ان کے قانونی ماہرین اس سلسلے میں تنظیم کی طرف سے کارروائی کا جائزہ لے رہے ہیں اور جلد ہی اس معاملے کا جائزہ لے کر Aldo shoes کے خلاف قانونی مہم کا آغاز کیا جائے گا۔
واضح رہے کہ Aldo shoes نامی یہ امریکی کمپنی امریکہ کے علاوہ برطانیہ، آئرلینڈ اور کینیڈا سمیت 35 ممالک میں آن لائن جوتے فروخت کرتی ہے، اس کمپنی کا ہیڈکوارٹر نیویارک میں ہے جبکہ لندن، میلان، پیرس، ٹوکیو اور دیگر بڑے بڑے عالمی شہروں میں اس کے کسٹمر سروس سینٹروں کی تعداد 329 ہے۔ Aldo shoes کے مالک اور بانی کا نام Ado Bensadown ہے، کمپنی مردانہ اور زنانہ جوتوں کے علاوہ پتلون، بیلٹ، خواتین کے پرس اور دیگر اشیا بھی بناتی ہے۔ Aldo کمپنی 1985ء سے ایڈز کے مرض کے خلاف کام کر رہی ہے اور اس سال بھی کمپنی نے Youth ایڈز کے پروگرام میں کئی ملین ڈالر دیے ہیں۔
کمپنی کی ویب سائٹ کے مطابق (نقل کفر، کفر نہ باشد) سلیمان نام والے جوتے کی قیمت 140 ڈالر، فاطمہ نام والے جوتے کی قیمت 99.95 ڈالر، جلیل نام والے جوتے کی قیمت 160 ڈالر اور عبداللہ نام والے جوتے کی قیمت 140 ڈالر رکھی گئی ہے۔
ادھر اسلامی ویب سائٹوں اور دیگر بلاگس (سائیٹس) پر مسلمانوں کی طرف سے امریکی کمپنی کے خلاف آن لائن احتجاج کا سلسلہ جاری ہے جبکہ مختلف ممالک اور شہروں سے ملنے والی اطلاعات سے پتا چلتا ہے کہ کمپنی کے خلاف احتجاجی مراسلوں اور ایس ایم ایس سمیت احتجاجی ای میلز کا سلسلہ وسعت پا رہا ہے۔ (روزنامہ ”امت“ کراچی، 28 دسمبر 2007ء)
ان تفصیلات کے بعد کیا کہا جائے کہ یہ شرمناک فعل اور ہرزہ سرائی اسی اسلام دشمنی کا تسلسل نہیں جو روز اول سے مغرب کو اسلام، مسلمانوں اور ان کی مقدس شخصیات اور ان
کے مقدس شعائر سے ہے؟ اگر نہیں تو کیا وجہ ہے کہ وہ بد باطن یہ نام کسی ریگن، بش یا الزبتھ کے نام پر کیوں نہیں رکھتے؟ کیا کہا جائے کہ کوئی انسان کسی انسان سے ایسی عداوت رکھ سکتا ہے؟ یا یہ کتا خصلت انسانوں کی اس عداوت کا مظہر ہے جو کسی کتے کو انسان سے ہو سکتی ہے؟ اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو ہمت، جرأت اور ملی غیرت سے نوازے اور ان کتوں کو ڈنڈا دکھانے کی توفیق عطا فرمائے! اگر مسلمانوں اور ان کے نام نہاد حکمرانوں نے ان کتا خصلت مغرب اور امریکیوں کی چاپلوسی ترک نہ کی تو نہ معلوم آئندہ ہمیں کیا کچھ دیکھنا پڑے گا؟
و صلی اللہ تعالیٰ علیٰ خیر خلقہ سیدنا محمد و آلہ و اصحابہ اجمعین
سلطان محمود
اسلام کے خلاف مغرب کا منفی پراپیگنڈا
مغربی دنیا میں اسلام کے خلاف ہمہ گیر منفی پروپیگنڈہ اور گمراہ کن تاویلوں نے ایک جانکاہ وبا کی شکل اختیار کر رکھی ہے اور ایک گہری سازش کے تحت اسلام کے پیغام حق کے ساتھ ساتھ مسلمانوں کی بلا جواز تضحیک پورے عروج پر دکھائی دیتی ہے۔ حالیہ حالات اس طرف واضح اشارہ کر رہے ہیں کہ مغرب کے متعصب اسلام دشمن عناصر دانستہ طور پر مسلمانوں کی دل آزاری اپنے لیے دل پسند تفریح تصور کرتے ہیں اور دکھ تو اس بات کا ہے کہ بعض مغربی تہذیب و ثقافت کے دلدادہ نام نہاد مسلمان اسلام کے خلاف زہر افشانی کے سلسلہ میں اسلام دشمن گوروں سے بھی دو ہاتھ آگے ہیں۔ یہ ننگ دین بد بخت نام نہاد مسلمان اپنے مخصوص مفادات کے لیے اپنے گورے آقاؤں کو خوش کرنے کے لیے اسلام کے خلاف ہرزہ سرائی کے ذریعہ مغربی دنیا میں حق پرست مسلمانوں کو ناحق بدنام کر کے ماحول کو اینٹی اسلام بنانے کی سازشوں میں نہایت بے شرمی سے منہمک ہیں اور ان کی چیرہ دستیاں ہم مسلمانوں کی جھولیوں میں گوروں کی نفرت و منافرت انڈیل رہی ہیں۔
اس قبیلہ جہنم زار کا ایک سرخیل تو شاتم رسول ﷺ ”سلمان رشدی“ ہے جس کی رسوائے زمانہ تصنیف ”شیطانی آیات“ اسلام دشمن قوتوں کے شر انگیز تعاون سے اسلام کے خلاف ایک دلفگار سازش تھی۔ اپنی اس غلاظت آمیز اور کفر آلود کتاب کے پس منظر میں یہ لعنتی راتوں رات مغربی دنیا اور بالخصوص برطانیہ اور امریکہ میں اسلام دشمن طاقتوں کی آنکھ کا تارا بن گیا ..... لیکن عالم اسلام کی نظروں میں وہ مستقلاً ملعون قرار پا گیا۔ اس کی ہرزہ سرائی سے اسلام سے خار کھانے والے متعصب گوروں کے سینوں میں کس قدر ٹھنڈ پڑی تھی۔ اس کا اندازہ اس حقیقت سے لگایا جا سکتا ہے کہ ان اسلام بیزار گوروں کے زبردست مطالبہ پر برطانوی حکومت نے اس لعنتی کی حفاظت کے لیے چوبیس گھنٹے مسلح گارڈز فراہم کر دیے تاکہ یہ
ذلیل مسلمانوں کے شوق انتقام کے نشانہ سے محفوظ رہے۔ اتنے سال گزرنے کے بعد آج بھی مسلح گارڈز اس کی حفاظت پر مامور ہیں اور اس حفاظتی بندوبست پر برطانوی ٹیکس دہندگان کے لاکھوں پونڈز ( کروڑوں روپے) سالانہ برباد ہو رہے ہیں لیکن یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ جس بدبخت نے بھی سرور کائنات، محسن کون و مکان، ہمارے آقائے نامدار صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی ناموس پاک پر بری نظر ڈالنے کی جسارت کی ہے۔ قدرت نے ہمیشہ اس سے بڑا بھیانک انتقام لیا ہے کہ حضور انور صلی اللّٰہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ کے محبوب ترین رسول و پاک نبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم ہیں۔ اور اللہ تعالیٰ کو اپنے اس محبوب نبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی شان اقدس میں ذرا سی بھی گستاخی گوارا نہیں، اس حوالے سے یہ امر طے ہے کہ ”سلمان رشدی“ جس کے متعلق تازہ ترین اطلاع یہ ہے کہ اپنی عمر سے کئی سال چھوٹی ایک ہندو ناری ”پدما لکشمی“ سے شادی کے بعد اس نے ہندو دھرم اختیار کرلیا ہے۔ خدا کے عذاب سے بچ نہیں سکے گا۔ ویسے ہر وقت خوف و ہراس کے ماحول میں وہ چھپ چھپ کر جس قسم کی زندگی بتا رہا ہے، یہ اس کے لیے کچھ کم سزا نہیں ہے کہ اسے ہر وقت اپنی جان کے لالے پڑے رہتے ہیں اور وہ ہر روز ایک نئی موت مرتا ہے۔
جو شخص بھی اسلام کے خلاف اول فول بکتا ہے مغربی دنیا کی نظروں میں وہ ”ہیرو“ بن جاتا ہے اور وہ آناً فاناً مغربی ذرائع ابلاغ کا پسندیدہ موضوع بن جاتا ہے۔ آج کل ہالینڈ کے سب سے بڑے شہر ”ایمسٹرڈیم“ کی رہائشی ایک 34 سالہ صومالی نژاد ڈچ، بے حیا خاتون ہرسی علی (Hirsi Ali) کو مغربی ذرائع ابلاغ نے محبت و ستائش بھرے انداز میں سر پر اٹھا رکھا ہے۔ اور اس کمینی کو ”آزادی اظہار شخصی حقوق“ اور جرأت مندی کی شان قرار دیا جارہا ہے اور مغربی پریس اس پر داد کے ڈونگرے یوں ارزاں کر رہا ہے کہ اس نے اسلام اور رحمت للعالمین صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے خلاف کذب بیانی اور بہتان تراشی کو اپنا پروفیشن بنا رکھا ہے اور اسلام کے خلاف منفی پروپیگنڈہ اہل مغرب کے لیے ہمیشہ طرب آفریں نغمہ ہوتا ہے۔ چنانچہ ہالینڈ کے علاوہ تقریباً تمام یورپی ممالک میں بھی اُس کی بڑی واہ واہ ہو رہی ہے اور اسے حقوق نسواں کی زبردست مبلغ گردانا جا رہا ہے، یہاں حقوق نسواں سے مراد مسلمان لڑکیوں کو اپنی من مانیوں پر شرانگیز انداز میں اکسانا ہے۔
”بی بی ہرسی علی“ جو خیر سے ہالینڈ کی پارلیمنٹ کی منتخب رکن ہے، نے صومالیہ کے ایک اسلام پسند مذہبی گھرانے میں جنم لیا تھا۔ جب اس نے جوانی کی دہلیز پر دستک دی تو اس
کے والدین نے اپنے اسلامی معاشرتی طور طریقوں کے مطابق اس کی ایک جگہ شادی طے کردی۔ ”ہری“ اُس شادی کے خلاف تھی اور وہ کسی بھی حالت میں اپنی شادی کے بارے میں فیصلے کا اختیار اپنے والدین کو دینے پر آمادہ نہ تھی۔ نہ جانے مغربی تہذیب کے جراثیم نے اس کا گھیراؤ کیسے کرلیا۔ وہ مغربی دنیا کی لڑکیوں کی طرح اپنی زندگی کے سب فیصلے خود کرنا چاہتی تھی، جب ماں باپ کا دباؤ تلخیوں کا روپ دھار گیا تو اس نے بغاوت کردی اور گھر سے فرار ہوکر کسی طرح ہالینڈ پہنچنے میں کامیاب ہوگئی اور یہاں آکر اس نے دہائی دینا شروع کردی کہ اسلامی ممالک میں لڑکیوں پر بڑا ظلم ہورہا ہے، اُن کی کوئی قدر ومنزلت نہیں، والدین اپنی مرضی سے جہاں چاہتے ہیں، انہیں بیاہ دیتے ہیں اور اگر کوئی لڑکی اپنے ماں باپ کی پسند کی شادی سے انکار کردے تو اس پر ظلم و بربریت کی اس قدر بجلیاں گرائی جاتی ہیں کہ اکثر اس بیچاری کی زندگی کی شمع ہی گل ہوجاتی ہے۔ ”ہری علی“ کے اس پروپیگنڈہ سے گویا ”ڈچ پریس“ کی عید ہوگئی اور اس نے اس باغی لڑکی کو اپنی خبروں میں آگے رکھ لیا۔
ہالینڈ میں بیٹھ کر اپنی معاشرتی قدروں کے بخیے ادھیڑنے اور اسلامی اوصاف کا کھلم کھلا مذاق اڑانے کا ایک فائدہ تو ”ہری“ کو یہ پہنچا کہ اسے وہاں بغیر کسی قباحت کے سیاسی پناہ مل گئی اور دوسری طرف مقامی اسلام مخالف عناصر نے ہر سطح پر اُس کی حوصلہ افزائی کو اپنا مقصد حیات بنالیا۔ مقامی پریس تو پہلے ہی اُس کی پیٹھ ٹھونک رہا تھا۔ اپنے آپ کو ڈچ لوگوں میں مزید مقبول بنانے کی کوشش میں اس نے ایک پرہجوم پریس کانفرنس میں اسلام سے ”تائب“ ہونے کا اعلان کردیا اس نے کہا کہ نہ جانے میں ایک مسلم گھرانے میں کیوں پیدا ہوئی تھی۔ یہ مذہب (نعوذ باللہ) عورتوں پر مردوں کو ظلم کرنے کی اجازت دیتا ہے۔ میں اس انتہا پسند...... اذیت پسند مذہب سے اپنا دامن ہمیشہ کے لیے چھڑا رہی ہوں۔ آج کے بعد اگر کسی نے مجھے مسلمان سمجھا یا ایک مسلمان عورت کے روپ میں دیکھا تو یہ عمل میرے لیے ایک غلیظ گالی کے مترادف ہوگا۔ اسی پریس کانفرنس میں اس گستاخ مرتد عورت نے ہمارے نبی کریم ﷺ کی ذات پاک پر ذاتی نوعیت کے انتہائی رکیک حملے بھی کیے۔ جو کچھ اس نے بکواس کی میں اسے یہاں لکھ کر اپنے گناہوں کی فہرست میں اضافہ کا متحمل نہیں ہوسکتا۔
مرتدہ ہری کے اسلام پر جارحانہ حملوں اور بالخصوص نبی کریم ﷺ کے خلاف بہتان تراشی سے لامحالہ عالمِ اسلام کے تن بدن پر گویا آگ لگ گئی اور ہالینڈ کے طبع
رسالت ﷺ کے پروانوں نے اس گستاخ کو اپنے نشانہ پر رکھ لیا لیکن یہ شیطان کی لونڈی اب تک اپنے عبرتناک انجام سے یوں بچی ہوئی ہے کہ ہالینڈ کی حکومت نے اس کی شبانہ روز حفاظت کے لیے مسلح پولیس تعینات کر رکھی ہے۔ اہل مغرب کی اسلام بیزاری کا اندازہ اس حقیقت سے لگایا جاسکتا ہے کہ جو بھی شخص اسلام کے خلاف علم بغاوت بلند کرتا ہے تو حکومت اخراجات کی پروا کیے بغیر فوراً اُس کی ہمہ وقت حفاظت کا بندوبست کر دیتی ہے اور مسلمانوں کے جذبات کو لہولہان کرنے والوں کو نہ صرف مغربی ممالک میں فوراً سیاسی پناہ مل جاتی ہے بلکہ آزادی اظہار و گفتار کی آڑ میں ایسے مردودوں کی ہر سطح پر حوصلہ افزائی کی جاتی ہے تا کہ وہ پہلے سے بھی بڑھ چڑھ کر اسلام کے خلاف باتیں کر کے مسلمانوں کو دل گرفتہ کریں۔ ”ہری“ نے پولیس کی زیر حفاظت کے تمام دورانیہ میں اپنے خفیہ ٹھکانوں سے اسلامی طرزِ زندگی کو زہریلی تنقید کا مسلسل ہدف بنا رکھا ہے اور شیطان کی اس لے پالک کے گمراہ کن اور سراسر خلاف حقیقت پروپیگنڈہ سے اسلام کے خلاف کینہ رکھنے والے گورے خوشی کے شادیانے بجاتے نہیں تھک رہے ہیں۔
”پم فورٹ مین“ ہالینڈ میں دائیں بازو کا ایک مشہور قومی سیاست دان تھا اور وہ اپنے ملک کا آئندہ وزیر اعظم بننے کے خواب دیکھ رہا تھا اور عین ممکن ہے کہ اس کے اس خواب میں حقیقت کے رنگ بھر بھی جاتے کیونکہ وہ اپنی بے راہ روی کی وجہ سے عوامی حلقوں میں کافی ہر دلعزیز تھا۔ اُس کی عوامی مقبولیت و پذیرائی کی ایک اہم وجہ اس کی ڈنکے کی چوٹ اسلام دشمنی تھی۔ وہ ہالینڈ میں نہ صرف مزید مسلمانوں کے داخلہ کا کٹر مخالف تھا بلکہ وہ پہلے سے یہاں سالہا سال سے رہائش پذیر مسلمانوں کو دیس نکالا (ڈی پورٹ) دینے کا بھی حامی تھا اور اس نے اپنے عوام سے وعدہ کر رکھا تھا کہ انتخابی کامیابی کی صورت میں وہ اپنے ملک کو مسلمانوں سے ”آزاد“ کروانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑے گا۔ یہود و نصاریٰ کا پرستار یہ انتہا پسند متعصب ڈچ سیاستدان اپنے ہر انتخابی جلسے جلوس میں اسلام کے خلاف بدزبانی کو اپنا منشور قرار دیا کرتا اور وہ ”اسلامی فلسفہ جہاد“ کا نہایت بھونڈے انداز میں مذاق اڑایا کرتا تھا اور میرے معزز قارئین کے لیے یہ انکشاف حیرانی کا سبب نہیں ہونا چاہیے کہ ”ہری علی“ اس کی زبردست ثنا خواں اور حاشیہ بردار تھی اور اسلام کے بارے میں اُلٹی سیدھی باتوں سے اس ”ہم جنس پرست“ سیاستدان کے ذہن کو بھی مرتد خاتون پراگندہ کیا کرتی تھی۔
یہ تو قانون قدرت ہے کہ جب ظلم حد سے بڑھ جاتا ہے تو یہ ایک دن خود مٹ جاتا ہے۔ روس کی مثال ہمارے سامنے ہے۔ ایک سپر پاور ہونے کے تکبر و غرور میں اس نے ایک اودھم مچا رکھا تھا اور افغانستان کو صفحہ ہستی سے مٹانے (قبضہ کرنے) کی مہم پر نکل پڑا۔ اس کا یہ ناجائز اقدام ظلم کی انتہا تھی...... چنانچہ قدرت نے خود اسے مٹا کر رکھ دیا اور آج جو اس کی حالت ہے، وہ ہم سب کے سامنے ہے۔ ابھی تک کل کی یہ سپر پاور اپنے زخم چاٹ رہی ہے اور آگے چل کر ایسا ہی انجام امریکہ کا بھی مقدر ہوگا کیونکہ وہ بھی آج کل مسلمانوں پر مظالم کی تمام حدود پھلانگ رہا ہے۔ جب آوارہ خیال ”پم فورٹ مین“ کی اسلام دشمنی حد سے تجاوز کرگئی تو مالک کائنات نے اُس کی زبان بندی کے لیے ایک مراکشی نژاد نوجوان مسلمان کو غازی علم دین بنا کر بھیج دیا اور اس عاشق رسول ﷺ نے غیرت ملی اور اسلامی حمیت کے جذبات کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایمسٹرڈیم کے مرکزی علاقہ میں بے پناہ لوگوں کے سامنے جون 2002ء میں دن دیہاڑے اس منہ پھٹ سیاستدان کو قتل کر دیا۔ اور بعد ازاں اس نے خوشی خوشی پولیس کو اپنی گرفتاری دے دی۔ ”مرتد ہرسی علی“ نے حال ہی میں ایک ڈچ فلم میکر (پروڈیوسر) کے تعاون اور اشتراک سے ”پم فورٹ مین“ کی زندگی کے بارے میں ایک ڈاکومنٹری فلم مکمل کی ہے اس فلم میں آنجہانی پم کو انسانیت کا ”مسیحا“ ثابت کرنے کی کوشش کی گئی ہے اور اسے مسلمان عورت کے حقوق (آزادی، بے پردگی اور من پسند شادی) کا چیمپئن قرار دیا گیا ہے۔ یہ فلم بہت جلد ہالینڈ کے قومی ٹیلی ویژن نیٹ ورک پر دکھائی جانے والی ہے۔
فلم پروڈیوسر اور ڈائریکٹر 47 سالہ فان جوخ (Fwan Gogh) جو کہ 19 ویں صدی کے عالمی شہرت یافتہ ڈچ آرٹسٹ اور پینٹر ونسنٹ جوخ (Whenment Gogh) کا پڑپوتا ہے نے پچھلے دنوں سب مشن (Submission) کے ٹائٹل سے گیارہ منٹ دورانیہ کی ایک دستاویزی فلم بنائی جس کا سکرپٹ اسی شیطان کی داشتہ ”ہرسی علی“ نے لکھا تھا اور اسی کی آواز میں ڈب کی گئی تھی۔ یہ متنازعہ اور اسلامی نقطہ نگاہ سے انتہائی اشتعال انگیز فلم 2004ء اگست کے مہینے میں ہالینڈ کے قومی ٹیلی ویژن نیٹ ورک پر ٹیلی کاسٹ کی گئی اور یورپ بھر میں دیکھی گئی، جس کی وجہ سے اسلامی اوصاف کے بارے میں کئی غلط فہمیوں نے جنم لیا ہے۔ یہ فلم بلا مبالغہ اسلام کے خلاف ایک گہری سازش کی ترجمان تھی جس میں ملعون ”ہرسی علی“ نے دل کھول کر نہایت وحشیانہ انداز میں اسلامی عظمت اور معاشرتی حسن پر کیچڑ اچھالا ہے۔
فلم ساز ”فان جوخ“ اور سکرپٹ رائٹر ”ہرسی“ نے اس مکروہ فلم کے توسط سے
اسلامی طرز زندگی کا مذاق اڑاتے ہوئے یہ مفروضہ عام کرنے کی گستاخی کی ہے کہ اسلام میں ایک عورت کی ذرا بھر بھی قدر اور اہمیت نہیں ہے اور یہ مذہب (نعوذ باللہ) ایک مرد کو عورت پر ہر قسم کے مظالم روا رکھنے کی کھلی اجازت دیتا ہے۔ اگر ایک مرد عورت پر تشدد کرتا ہے تو یہ اس کا حق بنتا ہے۔ اس فلم کے ذریعہ مسلمان لڑکیوں کو ”ارینج میرج“ کے خلاف اُٹھ کھڑے ہونے کی تحریک دی گئی ہے۔ اس فلم کے ٹیلی کاسٹ ہونے کی دیر تھی کہ ہالینڈ کے مسلمان غم و غصہ سے آگ بگولہ ہو گئے۔ یہاں آپ کو بتاتا چلوں کہ ہالینڈ کی کل آبادی 18 ملین ہے۔ اور وہاں مسلمانوں کی تعداد ایک ملین (دس لاکھ) سے کچھ زیادہ ہے اور ان فرزندان اسلام میں تقریباً 80 ہزار پاکستانی بھی شامل ہیں اس فلم کی وجہ سے ظاہر ہے مسلمانوں کے مذہبی جذبات کو بہت ٹھیس پہنچی تھی اور پولیس کو یقین تھا کہ مسلمان انتقام لینے سے ہرگز نہیں ٹلیں گے۔ چنانچہ پولیس حکام نے ”فان جوخ“ کو اس کی حفاظت کی پیش کش کی جسے اس نے احساس تفاخر سے یہ کہتے ہوئے مسترد کر دیا کہ ”میری یہ فلم ہی میری حفاظت کے لیے کافی ہے“ 2 نومبر صبح کے نو بجے وہ اپنی سائیکل پر ایمسٹرڈیم کے کونسل ہاؤس کے سامنے سے گزر رہا تھا کہ ایک 26 سالہ مراکشی نوجوان مسلمان نے اس پر گولی چلا دی وہ اپنی جان بچانے کے لیے ایک قریبی پارک کی طرف بھاگا لیکن اس ”مجاہد اسلام“ نے اس کا تعاقب کرتے ہوئے اُسے جا پکڑا اور نیچے گرا کر اُس کے جسم پر خنجر کے اس قدر زیادہ وار کیے کہ اُس کا جسم گہرے زخموں سے چور چور ہو گیا اور چند ہی لمحات میں اُس نے اِس دنیا سے دامن جھاڑ لیا۔ بعد ازاں اس عاشق رسول ﷺ نے بڑے اطمینان سے ایک تحریر لکھ کر اس کے مردہ جسم پر چسپاں کردی جس کا متن یہ تھا ”اے دنیا والو! یاد رکھو! جس نے بھی اسلام پر گند اُچھالا، اس کا یہی حشر ہوگا۔“ اس کے بعد اس نے پولیس کو اپنی گرفتاری دے دی۔
”فان جوخ“ کے قتل کے ردعمل کے طور پر اسلام دشمن عناصر نے ہالینڈ کے طول و عرض میں مساجد اور اسلامی درس گاہوں پر حملوں کا سلسلہ شروع کر دیا اور یہ سلسلہ آج جبکہ میں یہ سطور سپرد قلم کر رہا ہوں، جاری ہے۔ تعصب میں اندھے گورے جو چاہیں کر لیں ہر ”شاتم اسلام“ کے لیے ہر دور میں کوئی نہ کوئی ”غازی علم دین“ پیدا ہوتا رہے گا کہ اسلام اللہ کا پسندیدہ دین ہے اور اللہ اسلام کی شان میں گستاخی کرنے والوں کو کبھی معاف نہیں کرتا۔
اشتیاق بیگ
بدنام زمانہ امریکی جنرل کی پاکستان میں تعیناتی
گوانتا نامو بے جیل کا شمار دنیا کی خطرناک ترین جیلوں میں ہوتا ہے یہ جیل کیوبا کے ایک جزیرے گوانتانامو میں واقع ہے۔ جہاں امریکی قبضہ ہے۔ صدر بش کو گوانتانامو بے جیل میں مسلمان قیدیوں کو قید کرنے کا مشورہ اس لیے دیا گیا تھا کہ یہاں بین الاقوامی اور امریکی قانون کا اطلاق نہیں ہوتا، اس جیل کا مکمل کنٹرول امریکی فوجیوں کے ہاتھ میں ہے۔ وہ جس پر جس طرح چاہے تشدد کریں اور سزا دیں اور اس سزا کے خلاف اپیل کا کوئی حق نہیں۔ یہ وہ جگہ ہے جہاں امریکی فوجی تفتیش کار ہیں۔ فوجی ہی وکیل صفائی، وکیل استغاثہ اور جج بھی فوجی ہیں۔ اگر کسی قیدی کو سزائے موت دی جائے تو جلاد کا کام بھی امریکی فوجی انجام دیتے ہیں۔ گویا یہ ایک جنگل ہے اور امریکی فوج اس جنگل کی بادشاہ ہے۔ یہ ایک ایسی جیل ہے جہاں پر بربریت کی ایسی کہانیاں رقم ہیں کہ جس کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا۔ جیل میں بنے ہوئے 6x6 فٹ کے کمرے جس کی دیواریں، فرش، چھت، پلنگ، ٹوائلٹ، واش بیسن سب لوہے کے ہیں۔ یہاں کوئی کھڑکی نہیں جہاں سے سورج کی روشنی یا تازہ ہوا اندر آ سکے۔ یہ کمرہ نہیں گویا آہنی قبر ہے۔ جس میں سینکڑوں مسلمان قید ہیں اور موت سے بدتر زندگی گزار رہے ہیں۔ اس جیل کی سیکورٹی اتنی سخت ہے جیسے کسی جوہری پلانٹ کی ہوتی ہے۔ یہاں مسلمان قیدیوں کے ساتھ اس طرح کا تشدد کیا جاتا ہے کہ جسے سن کر روح بھی کانپ اٹھتی ہے۔ ایک امریکی انسانی حقوق کی کارکن سنڈی شیہان نے اس جیل کے بارے میں یہ کہا کہ امریکہ میں انسان تو انسان اگر جانوروں کے ساتھ بھی اس طرح کا برتاؤ کیا جائے جس طرح امریکی فوجی گوانتانامو بے میں مسلمانوں کے ساتھ غیر انسانی، ظالمانہ اور وحشیانہ سلوک کر رہے ہیں تو یہ جانور بھی حکومت کے خلاف اٹھ کھڑے ہونگے اور وہ بھی بغاوت پر اتر آئیں گے۔ امریکہ کا دعویٰ ہے کہ گوانتانامو بے میں قید افراد جنگی قیدیوں کے زمرے میں نہیں
آتے۔ اس لیے ان کے ساتھ جنیوا کنونشن کے تحت سلوک نہیں کیا جا سکتا۔ اس لیے امریکہ نے ان قیدیوں کو غیر قانونی جنگجو دشمن قرار دیا ہے۔ بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیموں کے کارکنان اور رشتہ داروں کو قیدیوں سے ملنے کی اجازت نہیں دی جاتی۔ گوانتاناموبے میں قیدیوں کے ساتھ کس طرح کا سلوک کیا جاتا ہوگا۔ اس کا اندازہ امریکی بریگیڈیئر جنرل جینس کارپنسکی کے اس اعتراف سے لگایا جاسکتا ہے جس میں انہوں نے بتایا کہ عراق کی ابو غریب جیل میں انہیں امریکی حکام بالا نے یہ ہدایت کی کہ ان قیدیوں کے ساتھ کتے کی طرح کا سلوک کرو جیسا کہ گوانتاناموبے جیل میں کیا جاتا ہے۔
گوانتاناموبے میں قید بیشتر افراد صدر بش کو صدر مشرف کا تحفہ ہیں۔ اس وقت بھی 65 پاکستانی گوانتاناموبے میں قید ہیں جو زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا ہیں۔ جیل سے رہا ہونے والے ایک قیدی شفیق رسول نے بتایا کہ ان کے ہاتھوں اور پیروں میں بیڑیاں باندھ کر انہیں پنجروں میں بند کر دیا جاتا۔ انہیں رفع حاجت کے لیے جانے کی بھی اجازت نہیں تھی۔ کئی مرتبہ حاجت سے کپڑوں میں فراغت ہو جاتی۔ امریکی فوجی قیدیوں کے سامنے اسلام اور قرآن کی تضحیک کرتے ہیں۔ اگر جیل میں کوئی قرآن مجید کی باآواز بلند تلاوت کرے تو اس کا منہ ماسکنگ ٹیپ لگا کر بند کر دیا جاتا ہے۔ یہاں پر ہونے والے مظالم میں بجلی کے جھٹکے دینا، پانی کے ٹینک میں ڈبو دینا، پانی اور خوراک سے محروم رکھنا، ہتھکڑیوں میں باندھ کر چھت سے لٹکا دینا عام ہے۔ ایک پاکستانی بزنس مین سعود میمن جسے امریکہ نے گوانتاناموبے جیل میں کئی سال قید رکھا اور اس پر بے پناہ تشدد کیا جب امریکیوں کو یقین ہو گیا کہ وہ چند دنوں کا مہمان ہے تو اسے ایک ڈھانچے کی شکل میں پاکستان بھیج دیا گیا۔ جہاں کچھ عرصے بعد اس کی موت واقع ہوگئی۔ گوانتاناموبے کے موضوع پر ایرک سار اور واویجاکوک نے ایک کتاب لکھی ہے جس میں ایک امریکی سپاہی کے حوالے سے لکھا کہ گوانتاناموبے میں خواتین اہلکار تفتیش کے دوران ان کے سامنے برہنہ ہوجاتی ہیں۔ ایک امریکی فوجی عورت نے ایک قیدی کے لباس سے اپنے مخصوص ایام کا خون صاف کیا تاکہ وہ قیدی اپنی نماز ادا نہ کر سکے۔ امریکی ان قیدیوں سے کہتے ہیں کہ بلاؤ اپنے خدا کو وہ تمہاری مدد کو کیوں نہیں آتا؟ زیر حراست قیدی قید تنہائی میں رکھے جاتے ہیں، ان کی آنکھوں پر پٹی بندھی ہوتی ہے تاکہ وہ ایک دوسرے کو نہ دیکھ سکیں انہیں اجازت نہیں کہ وہ ایک دوسرے سے بات کرسکیں۔
13 مارچ 2008ء دنیا بھر کے مسلمانوں بالخصوص پاکستانیوں کے لیے شرمناک دن تھا۔ اس دن امریکی محکمہ دفاع نے میجر جنرل جے ڈبلیو ہڈ کو پاکستان میں امریکی سفارت خانے میں اپنا دفاعی نمائندہ مقرر کرنے کے احکامات جاری کیے۔ جے ہڈ وہی کمانڈر ہے جس کے دور میں مسلمان قیدیوں پر مظالم کے پہاڑ توڑے گئے اور اسی کے دور میں مبینہ طور پر قرآن کی بے حرمتی کی گئی۔ وہ اس وقت شدید تنقید کا نشانہ بنے جب ان کے دور میں مسلمان قیدیوں پر مظالم ڈھائے گئے اور قرآن مجید کی بے حرمتی کے کئی واقعات رونما ہوئے۔ امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ نے اپنی 4 جون 2005ء کی اشاعت میں واضح طور پر یہ خبر شائع کی تھی کہ جے ہڈ جب گوانتانامو بے جیل کے انچارج تھے تو امریکی فوجیوں اور تفتیش کاروں نے قرآن مجید کو ٹھوکریں ماریں اور تفتیش کے دوران وہ قرآن مجید کے اُوپر کھڑے ہو گئے اور انہوں نے قرآن مجید پر وہ غلاظت پھینکی جس کا نام لکھنا یہاں قلم گوارا نہیں کرتا اور اس کے بعد اس ظالم امریکی فوجی نے قرآن کریم کو فلش میں بہایا (نعوذ باللہ)! اخبار کے اس انکشاف کے بعد پینٹاگون میں جاری کردہ تحقیقات کے مطابق جے ہڈ کے دور میں گوانتانامو بے جیل میں مبینہ طور امریکیوں نے کم از کم پانچ بار قرآن مجید کی بے حرمتی کی۔ جنرل جے ہڈ نے اپنے دفاع میں یہ کہا کہ گوانتانامو بے جیل میں اس طرح کے واقعات دانستہ نہیں بلکہ نادانستہ طور پر ہوئے ہیں۔ دنیا بھر کے مسلمانوں نے اس بے حرمتی پر سخت احتجاج کیا اور اس احتجاج کے دوران 16 مسلمان شہید ہوئے۔ جنرل جے ہڈ کو پاکستان میں اس عہدے کے لیے امریکی فوج نے نامزد کیا اور اعلیٰ امریکی حکام کی منظوری سے ان کی تعیناتی عمل میں آئی۔ اس تقرر کو خفیہ رکھا گیا۔ مگر جب یہ خبر فاش ہوئی تو امریکیوں نے یہ کہہ کر اپنی خفت مٹائی کہ پاکستان میں جنرل ہڈ کی تقرری کا ان کی گوانتانامو بے میں کئی سال تعیناتی سے کوئی تعلق نہیں بلکہ یہ اس وجہ سے عمل آئی ہے کہ وہ ایک نمایاں سینئر فوجی افسر ہیں اور ایک سینئر امریکی فوجی افسر کی اس عہدے پر پاکستان میں تعیناتی امریکہ اور پاکستان کے درمیان پائی جانے والی مفاہمت کا نتیجہ ہے۔
پاکستانیوں کے لیے یہ انتہائی افسوس کا مقام ہے کہ امریکہ نے ایک ایسے متنازع شخص کو پاکستان میں اپنا چیف دفاعی نمائندہ مقرر کیا ہے جس کی یونیفارم مسلمانوں کے خون سے داغ دار ہے اور جو مسلمانوں کی مقدس کتاب جو اُنہیں اپنی جان اور آبرو سے زیادہ عزیز ہے، کی بے حرمتی کا مرتکب ہوا ہے۔ اس طرح کے شخص کی تعیناتی کر کے امریکہ نے 16 کروڑ
پاکستانیوں کی دل آزاری کی ہے۔ اس خبر کی اشاعت سے پاکستانیوں کی رائے ہے کہ ایک ایسے وقت میں جب ڈنمارک اور ہالینڈ کے اخبارات و رسائل میں حضور اکرم ﷺ کے خلاف اہانت آمیز خاکوں کی اشاعت اور ہالینڈ کے گیرٹ ولڈر کی قرآن کریم کے خلاف توہین آمیز فلم کے اجرا سے مسلمانوں کے جذبات مشتعل اور دل زخمی ہیں۔ ایسے موقع پر جنرل ہڈ کی پاکستان میں تعیناتی پاکستان کے مسلمانوں کے زخموں پر نمک پاشی کے مترادف ہے۔ پاکستان کو بین الاقوامی سفارتی قوانین کے تحت یہ حق حاصل ہے کہ وہ کسی بھی متنازعہ شخص کی اپنے ملک میں تعیناتی سے انکار کر سکتا ہے۔ اب جبکہ نئی جمہوری حکومت نے حلف اٹھا لیا ہے تو لوگ یہ توقع کرتے ہیں کہ نئی جمہوری حکومت امریکی دباؤ میں آئے بغیر جنرل جے ہڈ کی پاکستان میں تعیناتی کے فیصلے سے انکار کر دے گی۔ ہم جنرل ہڈ کو گوانتانامو میں قرآن کی بے حرمتی سے تو نہیں روک سکے لیکن ہم پاکستانی اسے اپنے ملک میں آنے سے ضرور روک سکتے ہیں۔
ماہم رجا
ہماری ذمہ داری کیا ہے؟
”اگر ہالینڈ میں مسلمانوں کو اسی طرح مذہبی آزادی حاصل رہی تو اگلے چند سالوں میں یہاں چرچ کم اور مساجد زیادہ نظر آئیں گی۔ اسلام (نعوذ باللہ) کوئی مذہب نہیں ہے۔ اگر مسلمانوں کو ہالینڈ میں رہنا ہے تو انہیں قرآن شریف سے دستبردار ہونا پڑے گا۔ قرآن (نعوذ باللہ ) فتنوں کی کتاب ہے۔“
اسلام اور قرآن کے بارے میں اس شخص کی خباثتیں وقتاً فوقتاً الیکٹرونک اور پرنٹ میڈیا میں زیر بحث آتی رہتی ہیں۔ یہ کون ہے؟ آئیے! سب سے پہلے یہ جانتے ہیں۔ جرمنی اور بلجیم کی سرحدوں کو چھوتا، مغرب اور شمال کی طرف سے لہروں کے تھپیڑے برداشت کرتا ملک ہالینڈ اس کی جائے پیدائش ہے۔ اس نے چھ ستمبر 1963ء میں لمبرگ کے شہر وینلو میں رومن کیتھولک کے سائے میں آنکھیں کھولیں۔ اس کا باپ کاغذ بنانے والی کمپنی میں ایک عہدے پر فائز تھا۔ اس نے وینلو کے مشہور تھامس کالج سے تعلیم حاصل کی۔ ایمسٹرڈیم میں ہیلتھ انشورنس کورس کا سرٹیفکیٹ حاصل کیا۔ ڈچ اوپن یونیورسٹی سے قانون کی تعلیم حاصل کی اور ہیلتھ انشورنس کمپنی سے وابستہ ہو گیا۔ 1989ء میں وہ ہالینڈ کی سیاسی جماعت میں شامل ہوا اور 1990ء میں اس نے ملازمت سے استعفیٰ دے دیا اور باقاعدہ سیاست کے میدان میں قدم رکھ دیا۔ میونسپل کونسل کے انتخابات میں شامل ہونے کے بعد سخت جدوجہد کرتے ہوئے اس نے 1997ء میں صوبائی اسمبلی کا پہلا انتخاب لڑا اور ایک سال بعد وہ قومی اسمبلی کے ممبرز میں شامل تھا۔ تقریباً نو سال بعد اس نے پارٹی سے استعفیٰ دے کر اپنی ایک الگ سیاسی پارٹی کی بنیاد رکھ دی۔ اس وقت ہمارا موضوع اس کا سیاسی کیرئیر نہیں، سو ہم یہاں سے لانگ جمپ لگاتے ہیں اور اس کے مذہبی رجحان کی طرف آتے ہیں۔ عقیدے اور مذہب کے لحاظ سے وہ ایک رومن کیتھولک عیسائی ہے لیکن بنیادی طور پر وہ یہودیت اور اسرائیل کا سپورٹر ہے۔ وہ
یہودیت کو عالمی مذہب اشاعت و ترویج کے لیے اسرائیل کی حمایت اور دفعہ اسرائیل کا دورہ کیا اس سے بہت گہرے ہمیشہ آواز اٹھانے والے سے کچھ فاصلے پر واقع کے لیے اپنی زندگی کے سے جانتی ہے جو کہ سرا اب آئے پانچ سال سے تقریباً دان، پروفیسر دانشور کریم کی بے ادبی کر سرائی کرتا ہے اور ہال عرب سے لے کر پاک ہیں۔ پرچم جلاتے ہیں جلاتے ہیں، نعرے لیتے ہیں۔ جتنے خلی جاری ہے۔ وہ ہال والے مسلمان تمام آتے ہیں ان سا لیڈر شپ، یہود و میں وہ مسلمان بھی ان میں تماشا دیکھنے والے
یہودیت کو عالمی مذہب مانتا ہے۔ یہودیوں کی بالا دستی دنیا میں تسلیم کروانا چاہتا ہے اور اس کی اشاعت و ترویج کے لیے ہر اقدام کو جائز سمجھتا ہے۔ ہالینڈ کی پارلیمنٹ میں بھی اس نے ہمیشہ اسرائیل کی حمایت اور مسلمانوں کے خلاف آواز بلند کی۔ گزشتہ پچیس سالوں میں اس نے 40 دفعہ اسرائیل کا دورہ کیا۔ ایریل شیرون، ایہود اولمرٹ کے دوستانہ تعلقات ہیں اور موساد کے اس سے بہت گہرے تعلقات ہیں۔ ڈچ پارلیمنٹ میں یہودیوں اور اسرائیل کی حمایت میں ہمیشہ آواز اٹھانے والے اس شخص کو ہدایتیں اسرائیل ایمبیسی سے ملتی ہیں جو کہ ڈچ پارلیمنٹ سے کچھ فاصلے پر واقع ہے۔ یہودیت اور اسرائیل کی کامیابی اور اسلام اور مسلمانوں کی تباہی کے لیے اپنی زندگی کے شب و روز وقف کرنے پر اس انسان کو دنیا گریٹ ولڈر کے نام سے سے جانتی ہے جو کہ سراسر انسانیت کے نام پر دھبہ ہے۔
اب آتے ہیں دوسری طرف اسلام اور مسلمانوں کی توہین و اہانت کا سلسلہ گزشتہ پانچ سال سے تقریباً تسلسل سے جاری ہے۔ مغربی ممالک سے کوئی نام نہاد صحافی، سیاست دان، پروفیسر دانشور، مذہبی رہنما اٹھتا ہے۔ ہمارے نبی کریم ﷺ کی اہانت کرتا ہے۔ صحابہ کرامؓ کی بے ادبی کرتا ہے۔ اسلام اور مسلمانوں کی توہین کرتا ہے۔ قرآن کے خلاف ہرزہ سرائی کرتا ہے اور پس منظر میں چلا جاتا ہے۔ ردعمل کے طور پر مسلمان اٹھتے ہیں۔ سعودی عرب سے لے کر پاکستان تک افریقہ سے لے کر برما تک، تمام اسلامی ممالک احتجاج کرتے ہیں۔ پرچم جلاتے ہیں۔ ان اشخاص کے ان ممالک کے مصنوعی جنازے نکالتے ہیں، پتلے جلاتے ہیں، نعرے لگاتے ہیں، جلوس نکالتے ہیں، ہڑتال کرتے ہیں اور اپنے گھروں کی راہ لیتے ہیں۔ جتنے تسلسل سے توہین و اہانت کا سلسلہ جاری ہے۔ اسی تسلسل سے یہ سلسلہ بھی جاری ہے۔ وہ پس منظر میں جاتے ہیں مسلمان بھی بیٹھ جاتے ہیں۔ یہ تمام احتجاج کرنے والے مسلمان تمام مسلمانوں کے صرف 20 فیصد اور زیادہ سے زیادہ 40 فیصد ہوتے ہیں۔ اب آتے ہیں ان ساٹھ فیصد کی طرف، ان ساٹھ فیصد مسلمانوں میں تمام اسلامی ممالک کی لیڈر شپ، بیوروکریسی، انٹیلی جنس، سیاستدان، معروف بزنس مین بھی شامل ہیں۔ ان ساٹھ فیصد میں وہ مسلمان بھی شامل ہیں جو احتجاج کرتے ہیں نہ کسی مظاہرے ہی میں شریک ہوتے ہیں۔ ان بیس فیصد احتجاج کرنے والے مسلمانوں اور ساٹھ فیصد گھروں میں بیٹھ کر ان کا تماشا دیکھنے والے مسلمانوں میں دو باتیں مشترک ہیں، جذباتیت اور لائحہ عمل کا فقدان، ہم ان
تمام باتوں کو فی الحال یہیں ختم کرتے ہیں اور ابھی کی بات کرتے ہیں۔ گریٹ ولڈر نے تقریباً دو سال پہلے اسلام اور قرآن کے خلاف ایک ڈاکومنٹری فلم بنائی، مگر مسلمانوں کے احتجاج کے پیش نظر وہ ریلیز نہیں ہوسکی، 2008ء کے آغاز میں اس نے اعلان کیا کہ اس سال وہ یہ فلم سنیما میں پیش کردے گا، گزشتہ ڈیڑھ مہینے سے الیکٹرانک میڈیا، پرنٹ میڈیا اور انٹرنیٹ پر اس کی پبلسٹی جاری تھی اور 3 مارچ کو مسلمانوں کو کھلا چیلنج کرتے ہوئے وہ فلم ریلیز کردی گئی، یہ فلم 51 منٹ کے دورانیہ پر مشتمل ہے، جس کا نام ”فتنہ“ رکھا گیا ہے اور فتنہ نعوذ باللہ قرآن کو کہا گیا ہے۔
اب آپ ذرا سوچ کر بتائیں چاہے آپ کا تعلق ان بیس فیصد مسلمانوں سے ہے یا آپ ان ساٹھ فیصد مسلمانوں کا طرز عمل صحیح سمجھتے ہوں۔ گزشتہ ڈیڑھ مہینے سے آپ کی نظروں سے کتنی بار اس فلم کا ٹریلر گزرا؟ کتنے پیجز پر آپ نے اس کا اشتہار دیکھا؟ کتنی بار آپ نے سوچا کہ اس فلم کو روکنے کے لیے میں کیا کرسکتا ہوں یا بحیثیت مسلمان اس صورت حال میں میرا کیا ردّعمل ہونا چاہیے؟ یا اس سے پہلے ہونے والی تمام گستاخیاں چاہے وہ اخبارات میں خاکوں کی اشاعت ہو یا شعائر اسلام کی توہین کا سلسلہ اس پر میرا اور آپ کا کیا ردّعمل تھا اور کیا ہونا چاہیے تھا؟ اگر ہم میں ذرا سا بھی شعور باقی ہے۔ اگر ہمارے لہو میں غیرت نام کی کوئی شے بھی باقی ہے۔ اگر ہم عزت نام کے کسی لفظ کے معنی ومفہوم سمجھتے ہیں۔ اگر ہم سوچنے سمجھنے کا ذرا بھی ادراک رکھتے ہیں تو کیا یہ مذہب کے نام پر مسلمانوں کے بھڑکنے والے جذبات کو ہمیشہ کے لیے ٹھنڈا کرنے کی سازش نہیں؟ کیا یہ ہمارے لیے ایک ٹیسٹ کیس نہیں؟ ہم کیا کرسکتے ہیں اور ہمیں کیا کرنا چاہیے؟ ہم یہ سوچ رہے ہیں لیکن سوچنے کی بات تو یہ ہے کہ اگر کوئی میری اور آپ کی عزت یوں سرِ بازار اچھالتا تو کیا ہم تب بھی سوچتے اور لائحہ عمل طے کرتے؟
مولانا محمد اسلم شیخوپوری
فتنہ پرور
کیا ریسرچ اور تحقیق، آزادی اظہار رائے اور انسانی حقوق کی پاسداری اسی کا نام ہے کہ ایسی کتاب کو ”فتنہ“ کا نام دیا جائے جس نے اربوں انسانوں کو درندگی اور حیوانیت کی تاریک غاروں سے نکال کر انسانیت، رحم دلی اور رشد و ہدایت کی روشنی میں لا کھڑا کیا؟ اس بے مثال کتاب نے انہیں بالکل بدل کر رکھ دیا۔ ایسا معلوم ہوتا تھا انہوں نے نیا جنم لیا ہے۔ ان کا ناک نقشہ، ہاتھ پاؤں اور شکل و صورت تو وہی تھے مگر وہ اندر سے بالکل بدل گئے تھے اور انسان میں اصل تبدیلی اندر ہی سے آتی ہے۔ جن لوگوں کی خوں آشامی، جذبہء انتقام، شراب نوشی اور رہزنی کی مثالیں دی جاتی تھیں، ان کے عفو و درگزر، عفت و عصمت اور قناعت و استغنا کے چرچے گھر گھر ہونے لگے۔
پوری انسانی تاریخ میں کوئی ایک کتاب بھی ایسی نہیں جس نے انسانوں کے عقائد، اخلاق، معاملات، سیرت و کردار اور شب و روز میں وہ انقلاب برپا کر دیا۔ تیرہ سالہ مکی زندگی میں تو قرآن کی خوشبو کو پھیلنے کی اجازت ہی نہ دی گئی۔ مدینہ کی دس سالہ زندگی میں قرآنی علوم و معارف کھل کر سامنے آئے اور اتنی تیزی سے ان کی اشاعت ہوئی کہ ہر سال کم از کم ایک لاکھ مربع میل میں قرآن کا جھنڈا لہرانے لگا۔
ایک ایسی کتاب جو دنیا میں سب سے زیادہ پڑھی اور پڑھائی جاتی ہے۔ جو بے شمار سینوں میں محفوظ ہے۔ جسے افریقہ کا حبشی اور امریکہ کا گورا ایک ہی زبان میں پڑھتا ہے۔ جس کی آیات میں پوشیدہ مقناطیسیت اپنے قاری اور سامع کو جکڑ لیتی ہے۔ جس کی تلاوت سے رونگٹے کھڑے ہو جاتے اور آنکھیں پُر نم ہو جاتی ہیں۔ جس میں تدبر اور اس میں بوئے گل کی طرح چھپی ہوئی تاثیر آج بھی دل و دماغ کو تہ و بالا اور زندگیوں کو بدلنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ ایسی عظیم اور محترم کتاب کو ”فتنہ“ کہنے کے لیے لبادہ انسانیت کو تار تار کرنا ضروری ہے
اور لبادہ انسانیت تار تار کرنے کے لیے جس ماحول کی ضرورت ہے وہ مغرب کے صنم خانوں کے علاوہ کہیں میسر نہیں آسکتا۔
”فتنہ“ کے نام سے بنائی جانے والی فلم کا پروڈیوسر اور مصنف گریٹ ولڈرز کہتا ہے ”قرآن انتہائی ناقابل برداشت کتاب ہے۔ یہ قابل نفرت مواد اور خون خرابے پر مشتمل ہے۔ یہ کتاب دہشت کا سبق دیتی ہے اور حضرت محمد ﷺ (نعوذ باللہ ثم نعوذ باللہ) دہشت گرد تھے۔“ یہ شخص مسلمانوں کو مشورہ دیتا ہے کہ وہ کم از کم نصف قرآن کو ختم کردیں ورنہ اس کتاب پر پابندی لگا دی جائے گی۔ گریٹ ولڈرز اہل مغرب کو بیدار کرتے ہوئے کہتا ہے : ”اپنے آپ کو بچانے کے لیے ہوشیار ہو جاؤ ورنہ وہ وقت آنے والا ہے جب پوری دنیا میں چرچوں سے زیادہ مساجد ہوں گی۔“ اس شخص نے 15 دسمبر 2007ء کو کہا تھا ”میں ریڈیو پر اتنا کچھ کہوں گا کہ تمام لوگ اسلام کے بارے میں اپنا نظریہ تبدیل کرنے پر مجبور ہو جائیں گے۔“
ولڈرز نے یہ فتنہ خیز آواز آج نہیں اٹھائی بلکہ وہ کئی سالوں سے اس مذموم مہم میں معروف ہے۔ 1998ء میں اس شخص نے اپنی پارٹی بنائی۔ پارلیمنٹ کا ممبر منتخب ہوا اور اس نے یہ مطالبہ کیا کہ قرآن پر پابندی لگا دی جائے۔ یہ شخص ہالینڈ کا وزیر داخلہ بھی رہا ہے۔ شاتمین رسول ﷺ کا تعلق کسی بھی ملک سے کیوں نہ ہو، یہ ان کا سب سے بڑا حامی رہا ہے۔ یکم فروری 2008ء میں اس نے اپنی ویب سائٹ پر توہین آمیز خاکے شائع کیے تھے۔
سوال یہ ہے کہ کیا ولڈرز جیسے کینہ پرور دشمنوں کے مشورہ سے کوئی بھی مسلمان قرآن کریم میں کسی بھی قسم کی تبدیلی کے لیے آمادہ ہو جائے گا؟ یہ مشورہ اس وقت بھی دیا گیا تھا جب قرآن نازل ہورہا تھا۔ اگر اس مشورہ کو مان لیا جاتا تو مسلمانوں کو مشرکین کے ظلم وستم کا سامنا نہ کرنا پڑتا۔ کسی کو گلیوں میں گھسیٹا جاتا، نہ دہکتے انگاروں پر لٹایا جاتا اور نہ اہل ایمان کو اپنے آبائی وطن سے ہجرت کرنا پڑتی۔ اس کتاب مقدس کی کسی سورت، کسی آیت کسی جملے اور کسی لفظ میں تبدیلی کا اختیار خود حضرت محمد ﷺ کو بھی نہیں تھا۔ کسی دوسرے کو اس کا اختیار کیسے حاصل ہو سکتا ہے؟ یہ کتاب ویسے ہی پڑھی اور پڑھائی جاتی رہے گی جیسے جزیرۃ العرب میں نازل ہوئی تھی۔ یہ کوئی بائبل نہیں ہے جس میں اس کے ماننے والوں نے من چاہی تبدیلیاں کر کے اس کا حلیہ بگاڑ دیا ہے اور جسے اس کی زبان نزول میں پڑھنے والا کوئی ایک فرد بھی روئے زمین پر موجود نہیں۔
کیا ”گریٹ“ کے شور شرابا سے اسلام کی اشاعت اور مقبولیت میں کمی واقع ہو جائے گی؟ اللہ نے دین اسلام کو غالب آنے کے لیے نازل فرمایا ہے۔ یہ دب سکتا ہے نہ مٹ سکتا ہے۔ قرآن کا نام لینے والے اپنی حرکتوں، کمزور کردار، گروہی تعصبات، ذاتی مفادات، مغرب کی غلامی اور دین سے دوری کی وجہ سے وقتی طور پر مغلوب ہو سکتے ہیں مگر حجت اور برہان، تاثیر اور مقبولیت کے میدان میں قرآن پہلے کبھی مغلوب ہوا نہ آئندہ مغلوب ہو سکتا ہے۔
ایک ریڈیو اسٹیشن تو کیا، گریٹ اور اس کے لاکھوں ہمنوا میڈیا کے سارے ذرائع اور چینل بھی استعمال کر لیں تو اسلام کو ذرہ برابر نقصان نہیں پہنچا سکتے۔ حق بالآخر اپنے آپ کو منوا ہی لیتا ہے۔ باطل مٹنے کے لیے آیا ہے اور مٹ کر ہی رہے گا۔ مغربی ممالک میں قرآن کی روز افزوں طلب اور اس کی طرف بے تحاشا رجوع دیکھ کر اسلام دشمن اوچھے ہتھکنڈوں پر اُتر آئے ہیں۔ مادی وسائل پر اسلحہ کے زور پر قابض ہو جانے والے لٹیروں کی حرکتوں اور سازشوں کے نتیجے میں دنیا میں جہاں کہیں بھی دہشت گردی کا کوئی واقعہ پیش آیا ہے وہ اس کا ذمہ دار قرآن مجید کو ٹھہراتے ہیں۔
قرآن تو چودہ سو سال سے دنیا میں موجود ہے اور تاریخ گواہ ہے کہ جب تک دنیا میں اس کے پیروکار غالب رہے، دنیا میں امن وسکون رہا۔ تین سو سال ہوئے ہیں جب مغربی تہذیب کو عروج حاصل ہوا۔ تب سے آج تک اس کرۂ ارض پر بسنے والوں کو ایک دن بھی امن اور سکون نصیب نہیں ہو سکا۔ اگر قرآن کو صرف اس لیے دہشت گردی کا سبب قرار دیا جاتا ہے کہ اس میں جہاد اور قتال کی آیات آئی ہیں تو بتائیے وہ کون سا مذہب اور کون سی آسمانی کتاب ہے جس میں جنگ کا تصور نہیں؟ کیا توریت اور انجیل میں دشمنوں کے ساتھ لڑنے اور انھیں مار ڈالنے کا کوئی حکم نہیں؟ اگر آپ کا جواب نفی میں ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ نے توریت کا مطالعہ کیا ہے نہ انجیل کا۔
جنگ تو ہر ملک اور ہر زمانے میں ہوتی رہی ہے۔ مشہور مورخ ٹائن بی کے مطابق دنیا کی معلوم تاریخ کے ساڑھے چھ ہزار سال میں سے چھ ہزار سال انسانوں نے جنگ و جدل میں گزارے ہیں۔ اصل چیز جو دیکھنے کی ہے وہ یہ کہ جنگ کے مقاصد کیا ہیں؟ اگر جنگ کا مقصد سسکتی ہوئی انسانیت کو جور و جفا سے نجات دلانا، فتنہ اور شرارت کا خاتمہ، اپنا دفاع اور سامراجی طاقتوں کی سرکوبی ہے تو جنگ اچھی چیز ہے۔ اگر اس کا مقصد اپنی انانیت کی تسکین،
ساحلوں، ملکوں، زمینوں اور رزق کے وسائل پر قبضہ اور غلبہ کا عروج ہے تو جنگ قابل نفرت عمل ہے۔ قرآن پہلی قسم کی جنگ کو 'جہاد' کہتا ہے اور اس کی اجازت دیتا ہے جبکہ دوسری قسم کی جنگ کو 'فتنہ' قرار دیتا ہے اور اس سے منع کرتا ہے۔ آج کی معلوم دنیا میں جہاں کہیں بھی فتنہ پرور جنگ کے شعلے دکھائی دیتے ہیں اس کے پیچھے کسی نہ کسی مغربی ملک کا ہاتھ ہوتا ہے۔ دل آزار خاکوں کی اشاعت اور ڈیڑھ ارب کے قریب انسانوں کو مشتعل کرنے والی فلموں اور ڈراموں کا مقصد بھی فتنے کا فروغ ہے۔ جب تک شیطان صفت انسانوں کے ہاتھوں ایسی حرکتوں کا ارتکاب ہوتا رہے گا، فتنوں کی آگ بھڑکتی رہے گی۔
یہ بات حیرت اور تعجب کے ساتھ پڑھی اور سنی جائے گی کہ جو کتاب امن اور سلامتی کا پیغام دیتی اور رضائے الٰہی کا راستہ دکھاتی ہے اسے فتنہ قرار دیا جائے اور وہ لوگ جن کی تہذیب، جن کے نظریات، جن کی مساعی کا ہدف اور جن کی معاشرت اور ثقافت فتنہ پروری کے لیے وقف ہے، انہیں انسانیت کے بہی خواہوں اور اس کے علمبرداروں کے طور پر پیش کیا جائے۔ کیا یہ بات بذات خود عظیم ترین فتنہ نہیں؟
ملک احمد سرور
اہل صلیب کے گھٹیا ہتھکنڈوں کا مقابلہ کیسے کیا جائے؟
پوپس کے پیروکار صلیبی آئے روز اپنے گھٹیا اور خبیث ہتھکنڈوں سے نبی کریم ﷺ کی توہین کا ارتکاب کر کے مسلمانوں کو ذہنی اذیت دیتے رہتے ہیں۔ آزادی اظہار کے نام پر دوسروں کو دکھ دینا یا دوسروں کی کردار کشی کرنا صلیبی مذہب میں کار ثواب ہو سکتا ہے۔ لیکن عدل و انصاف کے کسی بھی فورم میں اسے حق بجانب ثابت نہیں کیا جا سکتا۔ گرگٹ صفت صلیبیوں کے اصول اور اخلاقی پیمانے اپنے مفادات کے لیے اس تیزی سے بدلتے ہیں کہ گرگٹ بھی اس رفتار سے اپنا رنگ نہیں بدل سکتا۔ روس کے خلاف افغان جنگ جہاد کہلائی مگر کشمیر پر بھارتی قبضہ، منڈاناؤ پر فلپائنی قبضہ، فلسطین پر اسرائیلی قبضہ، افغانستان و عراق پر امریکی قبضہ، اراکان پر برمی قبضہ، مشرقی ترکستان پر چینی قبضہ اور بہت سے دیگر ممالک پر صلیبیوں کے قبضہ کے خلاف جنگ آزادی صلیبی لغت کے تازہ ایڈیشن میں ”دہشت گردی“ بن چکی ہے۔ کٹھ پتلی ڈکٹیٹر خواہ وہ کتنے ہی سفاک کیوں نہ ہوں، مغرب کے پسندیدہ ہیں مگر آزاد خیال اور اپنے دین اور قوم کے مفادات کا تحفظ کرنے والے خواہ 80 فیصد سے زیادہ ووٹ لے کر منتخب ہوں، وہ انہیں قبول نہیں۔ ان کے نزدیک سلامتی کونسل کی صرف وہی قراردادیں قابل عمل ہیں جو ان کے مفاد میں ہیں یا پھر مسلمانوں کے خلاف ہیں۔ طالبان اگر جاسوسوں کو بھی تفتیش کے لیے پکڑتے تھے تو انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہوتی تھی، یہ ویزے کے ساتھ آنے والوں کو ننگے کر کے تلاشیاں لیں یا جس بے گناہ کو چاہیں پکڑ کر سالوں اندر رکھیں، وہاں انہیں انسانی حقوق یاد نہیں آتے۔ یہ اہلِ صلیب انتہا کے بے اصول اور خود غرض ہیں، اس لیے ان کے ساتھ مکالمہ کر کے وقتی طور پر کوئی بات منوا بھی لیں تو زیادہ دیر ان پر اعتبار نہیں کیا جا سکتا۔ لہٰذا ان کے گھٹیا شیطانی ہتھکنڈوں کا مقابلہ کرنے کے لیے کسی ٹھوس لائحہ عمل کی ضرورت ہے۔
تا حال ہم نے احتجاج کے لائحہ عمل ہی کو اپنایا ہوا ہے۔ بلاشبہ احتجاج اپنی جگہ اہم ہے مگر ذرا سوچیے کہ جب سے اہل صلیب کٹھ پتلیوں کے ذریعے مسلم ممالک پر قابض ہیں، کبھی کسی احتجاج کے نتیجے میں انہوں نے اپنی پالیسی بدلی یا ہمارے مطالبات مانے؟ افغانستان اور عراق کے مسئلہ پر کتنا احتجاج ہوا، کیا حملے رکے؟ اس پر بھی غور کریں کہ احتجاج کے ہم نے جو طریقے اپنائے ہوئے ہیں اس میں کسی کا نقصان ہوتا ہے۔ ہڑتالوں، شٹر ڈاؤن اور ایسے ہی دوسرے طریقوں سے امریکہ و یورپ کا کوئی نقصان نہیں ہوتا، ہمارے اپنے ہی بزنس کو اربوں کا نقصان پہنچتا ہے۔ لہذا احتجاج کے طریقوں کو بدلنے کی ضرورت ہے۔ ہمارے پاس لاکھوں مسجدیں ہیں، لاکھوں خطیب ہیں، ان خطیبوں کو بیدار اور منظم کریں۔ احتجاج یا جلسے جلوس کی کال ہو اور اگر یہ لوگ ہر مسجد سے احتجاج کرتے ہوئے باہر نکل آئیں تو مؤثر ترین احتجاج نظر آئے گا۔ اسی طرح تاجروں، دکانداروں اور صنعت کاروں کے ساتھ مل بیٹھ کر احتجاج کا طریقہ وضع کیا جاسکتا ہے۔ باہم مشاورت سے طے کرلیا جائے کہ جب توہین رسالت یا اس طرح کا کوئی دوسرا مسئلہ ہو، ملک کی دینی جماعتیں متفقہ طور پر کال دیں تو جلسے جلوسوں میں شرکت کی خاطر دو یا تین گھنٹوں کے لیے کاروبار بند کردیں۔ یہ تجویز دینے کا مقصد یہ ہے کہ ایسے طریقے اختیار کریں جن میں ہمارا نقصان نہ ہو یا کم ہو۔ اگر اپنی حکومت کے خلاف ہڑتالیں ہوں، شٹر ڈاؤن ہوں یا پہیہ جام ہو تو حکومت کو فرق پڑتا ہے مگر باہر کے ممالک کو کوئی فرق نہیں پڑتا۔ لہذا مقامی اور عالمی مسائل کے احتجاج میں فرق ہونا چاہیے۔
چونکہ صلیبی جنگ جاری ہے لہذا توہین قرآن اور توہین رسالت ﷺ کا سلسلہ بھی جاری رہے گا، اس لیے ضرورت اس امر کی ہے کہ اہل صلیب کے گھٹیا ہتھکنڈوں کا مقابلہ کرنے کے لیے ادارے قائم کیے جائیں، تھنک ٹینکس تشکیل دیے جائیں۔ ان کے لیے بڑے سرمائے کی ضرورت ہے۔ دکانداروں، صنعت کاروں، تاجروں وغیرہ سے کہا جائے کہ وہ سال میں دو یا تین دن کا منافع ان اداروں کے قیام کے لیے وقف کریں۔ اہل صلیب سائنس اور علم کے دیگر شعبوں میں ہم سے بہت آگے ہیں، اس لیے تعلیم میں محنت درکار ہے۔ کٹھ پتلی حکمرانوں کی موجودگی میں ہم یہ نہیں کر سکتے، اگر اتفاق سے کوئی فرد عبدالقدیر خان بن بھی گیا تو قید ہوجائے گا۔ لہذا کٹھ پتلیوں سے نجات کی ضرورت ہے۔ آج دینی مدارس کے نصاب میں سائنسی علوم زبردستی داخل کرائے جارہے ہیں، اگر کٹھ پتلی حکمران موجود رہے تو دیں
پندرہ سال بعد دینی مدارس کو مجبور کیا جائے گا کہ آپ سائنسی علوم نہیں پڑھا سکتے کیونکہ دس پندرہ سال بعد جب دینی مدارس سے راسخ العقیدہ سائنس دان نکلنا شروع ہوں گے تو اہلِ صلیب پریشان ہو جائیں گے اور وہ کٹھ پتلی حکمرانوں کو مجبور کریں گے کہ دینی مدارس میں سائنسی علوم کی تدریس بند کی جائے۔ اس لیے کٹھ پتلی حکمرانوں کی موجودگی میں ہماری محنت و مشقت ملت اسلامیہ کو کوئی فائدہ نہیں پہنچا سکتی۔
توہین رسالت کے احتجاجی پروگراموں میں O.I.C سے بڑے مطالبات کیے جا رہے ہیں حالانکہ یہ حقیقت اب کسی سے پوشیدہ نہیں کہ او۔آئی۔سی امریکہ و یورپ کے مفادات کا نگہبان ادارہ بن چکا ہے۔ جب کٹھ پتلی اس کے ارکان ہوں گے تو وہی کام کریں گے جو ڈور ہلانے والا چاہے گا۔ مسلمانوں کے احتجاج کے دباؤ میں آکر او۔آئی۔سی کا کوئی اجلاس ہوتا بھی ہے تو اگر یورپی ممالک سے کوئی متفقہ درخواست کرے گا تو احتجاج کرنے والوں پر بھی تنقید کرے گا۔ وہ کوئی ایسا لائحہ عمل طے نہیں کرے گا جس سے امریکہ و یورپ کو کوئی نقصان پہنچ سکتا ہو۔ او۔آئی۔سی اگر واقعی ایک آزاد اور خود مختار ادارے کے طور پر اپنی حیثیت دکھانا چاہتی ہے تو پھر اسے متفقہ طور پر مطالبہ کرنا چاہیے کہ کارٹون بنانے اور شائع کرنے والوں کو O.I.C کے حوالے کیا جائے، اگر ایسا نہیں کیا جاتا تو O.I.C کے رکن ممالک کارٹون شائع کرنے والے ممالک سے سفارتی و تجارتی ہر طرح کے تعلقات منقطع کرلیں گے۔ ہمارا گمان یہ ہے کہ O.I.C کا کسی بھی سطح کا اجلاس ایسا مطالبہ نہیں کرے گا۔ حالات و واقعات کی شہادتوں کی بنیاد پر اعتماد سے کہا جاسکتا ہے کہ اگر توہین آمیز خاکے بنانے والوں اور ڈنمارک کے اخبار جیلنڈز پوسٹن کے ایڈیٹر سے کسی آزاد مسلم ملک کی کوئی ایجنسی تفتیش کرے تو بڑے ملزموں بلکہ مجرموں کے طور پر بش اور ویٹی کن چرچ کے نام سامنے آئیں گے، اس لیے ہم پھر اپنی بات دہرائیں گے کہ او۔آئی۔سی کو ایک مؤثر فورم بنانے کے لیے بھی کٹھ پتلیوں سے نجات ضروری ہے۔
احتجاج کرنے والوں کا اقوام متحدہ سے مطالبات کرنا بھی ہماری سمجھ سے باہر ہے۔ اقوام متحدہ کی پوری تاریخ پڑھ لیں، یہ بھی امریکہ و یورپ اور غیر مسلم ممالک کے مفادات کا نگران ادارہ ہے۔ مسلم ممالک کی طرف سے کیے گئے مطالبات ماضی میں بھی "Recyle Bin" (کمپیوٹر میں ردی کی ٹوکری) میں ہی گئے اور آئندہ بھی اسی پر عمل ہوگا۔ اس لیے اقوام
متحدہ سے مطالبات کرنے یا اسے یادداشتیں پیش کرنے کے بجائے اسے Condemn کریں اور اس بات کا زیادہ سے زیادہ پراپیگنڈہ کریں کہ یہ غیر مسلموں کے مفادات کا نگران ادارہ ہے، مسلم ممالک کو اس سے نکل جانا چاہیے۔
امریکہ و یورپ کی مصنوعات کے بائیکاٹ کے نعرے بھی بلند کیے جاتے ہیں مگر پاکستان میں اس پر عمل درآمد کبھی نہیں ہوا۔ مجھے یاد ہے کہ الحمرا ہال میں ایک بڑی تقریب ہو رہی تھی اور غیر ملکی مصنوعات کے بائیکاٹ کا بھی تقریروں میں ذکر ہو رہا تھا مگر مقررین کے سامنے میز پر نیسلے کی بوتلیں پڑی تھیں۔ ہمارے سیاستدانوں اور امیر طبقے کے لیے پرتعیش زندگی کو چھوڑنا بڑا مشکل ہے۔ متوسط طبقے کے گھروں میں بھی باہر ہی کا سامان نظر آتا ہے۔ تو پھر بائیکاٹ کون کرے گا؟ اسی لیے بائیکاٹ کی مہم کبھی نعرے سے آگے نہیں بڑھ سکی۔ اگر تحفظ ناموس رسالت ﷺ کی قیادت یورپی مصنوعات کا دل سے بائیکاٹ چاہتی ہے تو سب سے پہلے اپنے گھروں سے غیر ملکی سامان باہر پھینکے اور احتجاجی پروگراموں میں اللہ تعالیٰ کو گواہ بنا کر اعلان کرے کہ ہمارے گھروں میں آئندہ کوئی یورپی چیز نہیں آئے گی۔ پرتعیش زندگی کی عادی ہماری قیادت ایسا کبھی نہیں کرے گی۔ لہذا نا قابل عمل نعرے بھی نہ دیے جائیں، ایسے نعرے اچھی خاصی احتجاجی تحریک کو غیر مؤثر بنا دیتے ہیں۔
اگر اہل یورپ کو احساس دلانا ہی ہے تو پھر احتجاج کے وہ طریقے اختیار کریں جن سے انہیں نقصان اور اذیت ہو۔ مغربی طرز زندگی کے بجائے مشرقی طرز زندگی کو اپنائیں، اسلامی رسوم کو رواج دیں، حجاب اور ڈاڑھی سے اہل صلیب چڑتے ہیں، اس کو پھیلائیں، یورپ کے صلیبی تہواروں کو نشانہ تضحیک بنائیں، ان کے وفود پاکستان میں آئیں تو ان سے انگریزی یا ان کی کسی دوسری زبان میں گفتگو نہ کریں کیونکہ وہ اپنی زبان سے بڑی محبت کرتے ہیں، میرا تھان کے بجائے دوسرے صحت مند کھیلوں کو رواج دیں، خاندانی منصوبہ بندی ان کی اہم تحریک ہے، احتجاجی پروگراموں میں اس کے خلاف شرکاء سے عہد لیں، شراب اور سُور کا گوشت ان کی پسندیدہ چیزیں ہیں، ان کے خلاف نعرے بازی کریں، اسامہ سے انہیں نفرت ہے، اسامہ کی تصویر یا نام والی شرٹس پہنیں اور گلیوں بازاروں کو اس کی تصویروں والے سٹکرز سے بھر دیں۔ تحفظ ناموس رسالت ﷺ تحریک کی قیادت ریٹائرڈ ججوں پر مشتمل عدالت تشکیل دے جو گستاخان رسول ﷺ کے مقدمہ کی سماعت کر کے ملزمان کو سزا سنائے۔ ایسی ہی عدالتیں
یونیورسٹیوں، کالجوں اور سکولوں میں لگنی چاہئیں۔ اس طرح جب آپ سوچ بچار کریں گے تو بے شمار باتیں سامنے آئیں گی جن پر عمل کر کے آپ اہل یورپ کو احساس دلا سکتے ہیں۔
تحفظ ناموس رسالت ﷺ تحریک کے قائدین کو چاہیے کہ احتجاج کے ساتھ ساتھ مغربی میڈیا کے پراپیگنڈہ کا مقابلہ کرنے کے لیے بھی جامع پروگرام بنائیں کیونکہ میڈیا کی صلیبی جنگ دوسری جنگ سے کہیں زیادہ مشکل اور طویل ہوگی۔ مسلم دنیا کے روشن خیال دانشوروں کو سمجھانے کی ضرورت ہے۔ کیونکہ یورپ کا یہ پروگرام ہے کہ جس طرح مسلمانوں کے مختلف مسلکی گروہ آپس میں لڑ رہے ہیں، اسی طرح میڈیا میں بھی یہ آپس میں لڑیں۔ چونکہ اہل صلیب روشن خیالوں کو ہی اپنے مذموم مقاصد کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔ اس لیے انہیں اپنا راستہ بدلنا ہوگا۔ ڈنمارک کے اخبار جیلنڈز پوسٹن کے ایڈیٹر نے یہ راز فاش کر دیا ہے کہ ”میرے اخبار کی یہ پالیسی رہی ہے کہ وہ اعتدال پسند مسلمانوں کو جرات گویائی دے۔ اب بحث ڈنمارک حکومت اور مسلمانوں کے درمیان نہیں رہی بلکہ انتہا پسند اور اعتدال پسند مسلمانوں کے درمیان ہے۔“ اس انکشاف کے بعد روشن خیالوں اور اعتدال پسندوں کو اپنی مغرب نواز پالیسی پر نظر ثانی کرنی چاہیے۔
۞ ۞ ۞
جناب جسٹس (ر) سجاد علی شاہ
غازی علم الدین شہیدؒ اور حالیہ خاکے!
تاریخ سے کوئی نہیں سیکھتا۔ ورنہ حقیقت تو یہ ہے کہ تاریخ میں جو واقعات قلم بند ہیں۔ ان سے بہت کچھ سیکھا جا سکتا ہے اور جو غلطیاں ہوچکی ہیں انہیں دہرانے سے گریز کیا جاسکتا ہے۔ لیکن عام رواج ہے کہ ایسا نہیں کرتے۔ کچھ عرصہ قبل اخباروں میں یہ خبر آئی تھی کہ امریکہ کی سرکاری جیل گوانتا نامو بے میں مسلمان قیدیوں کے ساتھ انسانیت سوز سلوک کیا جا رہا ہے۔ ”واشنگٹن پوسٹ“ جریدے میں ایک کتا بنایا گیا تھا۔ جس پر پاکستان لکھا گیا تھا اور اسے شاباش دی جا رہی تھی کہ عالمی دہشت گردی کے خلاف امریکہ کا بھرپور ساتھ دے رہا ہے۔ مسلمانوں کے جذبات مجروح ہوئے۔ ہلکا پھلکا احتجاج ہوا۔ لیکن نتیجہ یہ نکلا کہ ہمیں زہر کا گھونٹ پینا پڑا۔ اسی موضوع پر سوچتے مجھے ایک بہت پرانا واقعہ یاد آ گیا۔
میوہ شاہ قبرستان میں میں نے اپنی آنکھوں سے ایک مزار دیکھا جو غازی عبدالقیوم خان کا تھا۔ اور انہیں 19 مارچ 1935ء بوقت صبح پھانسی کی سزا سے شہید کیا گیا تھا۔ ان کا جرم یہ تھا کہ انہوں نے ایک غیر مسلم کو عدالت میں کیس چلنے کے دوران سب کے سامنے چاقو سے وار کر کے قتل کر دیا اور اپنے آپ کو گرفتاری کے لیے پیش کر دیا۔ ان کے لیے بیرسٹر اسلم پیش ہوئے جو بعد میں ایئرفورس سروس میں شامل ہوگئے۔ ہم نے یہ باتیں سنی ہوئی تھیں۔ عبدالقیوم نے اقبال جرم کر لیا اور بضد رہے۔ ان کو بتایا گیا کہ ان کی زندگی بچ سکتی ہے۔ اگر وہ موقف اختیار کریں کہ وہ ارادہ کر کے مارنے نہیں آئے تھے۔ لیکن عدالت میں کیس کی کارروائی کے دوران انہیں جوش آ گیا اور وہ قابو سے باہر ہو گئے اور عالم بے خودی میں انہوں نے قتل کر دیا۔
میں اس کیس کے بارے میں ہمیشہ معلومات جمع کرتا رہا۔ اور دورانِ وکالت میری بیرسٹر اسلم سے ملاقات ہوئی اور ہم دونوں قتل کے کیس میں ساتھ رہے۔ میں نے غازی
عبدالقیوم کیس کے بارے میں ان سے دریافت کیا تو انہوں نے مجھے بتایا کہ کہ قیوم نے جھوٹ بولنے سے صاف انکار کر دیا اور کہا کہ وہ ارادے کے ساتھ یہ کام سرانجام دینے آئے تھے اور اپنے نبی اکرم ﷺ پر قربان ہونا چاہتے تھے اور جھوٹ کے سہارے اپنی جان نہیں بچانا چاہتے تھے۔ ان کو سزائے موت ہوئی اور اپیل وغیرہ بھی خارج ہوگئی۔
اس بات کی تصدیق کے لیے میرے پاس دو چشم دید گواہ ہیں۔ جو عمر رسیدہ ہیں اور ابھی بھی 82 سے زیادہ ان کی عمر ہے۔ وقتاً فوقتاً میری ان سے بات چیت ہوتی رہتی ہے۔ ان میں سے ایک کا نام علی محمد کھتری جو سندھ ہائی کورٹ اور بلوچستان ہائی کورٹ کے رجسٹرار رہے ہیں۔ کھتری صاحب اس وقت شاگرد تھے اور ان کی موجودگی میں عدالت کے اندر قتل ہوا تھا۔ دوسرے صاحب کا نام غلام حسین رند ہے جو لاہوتی بھی کہلاتے ہیں اور ان کے سامنے غازی قیوم کا جنازہ لے جانے پر بہت بڑا ہنگامہ ہوا۔ فائرنگ ہوئی اور بہت سے لوگ زخمی اور قتل ہوئے تھے۔ خان بہادر اللہ بخش گبول اس وقت گورنر سندھ کے سیکرٹری تھے۔
مجھے صد افسوس اس بات کا ہے کہ جب میں وکالت کرتا تھا یا ہائی کورٹ کا جج اور چیف جسٹس تھا، اس وقت میں نے اس کیس کے ریکارڈ کو تلاش کرنے کی کوشش نہیں کی۔ اب ایسا معلوم ہوتا ہے کہ کیس کا ریکارڈ گم ہوگیا ہے۔ نام کی بھی غلطی ہوسکتی ہے۔ قبر پر لکھا ہوا ہے کہ : ”احمد غازی عبدالقیوم خان ابن عبداللہ خان“ اور کیس میں پتہ نہیں کیا لکھا تھا۔ صرف ”احمد“ تھا یا ”قیوم“ تھا یا ”عبدالقیوم“ تھا۔ بہرحال ریکارڈ نہیں ملتا اور ایسا لگتا ہے کہ گم ہوگیا ہے۔ کوشش اب بھی جاری ہے۔ اللہ رب العزت کامیابی دیں!
میرا آرٹیکل ”حالیہ روشن خیالی اور غازی عبدالقیوم کی شہادت“ کے عنوان سے نوائے وقت کے 14 مئی 2005ء کی اشاعت میں شائع ہوگیا۔ مقصد یہ تھا کہ روشن خیالی کے دائرے میں ہم آزاد خیال بنتے گئے اور ہر تذلیل اور بے عزتی کو فراخدلی سے برداشت کرتے گئے کہ کہیں مغرب ہم سے ناراض نہ ہوجائے اور ڈالر آنے بند نہ ہوجائیں۔ کچھ عرصہ کے بعد ایک بزرگ قابل احترام سینئر وکیل عبدالرؤف جو کسی وقت مرحوم خالد اسحاق کی معاونت کرتے تھے، میرے گھر پر تشریف لائے اور اس موضوع پر گفتگو کی۔ انہوں نے مجھے بتایا کہ ”رنگیلا رسول“ ایک کتاب 1927ء میں لاہور میں لکھی گئی تھی۔ جس کا شائع کرنے والا شخص ایک غیر مسلم راجپال تھا اور راجپال کو panal code u/s153 کے تحت چھ مہینے کی سزا ہوئی
تھی۔ اپیل کے بعد نظر ثانی کی درخواست لاہور ہائی کورٹ میں ہوئی فیصلہ ہوا کہ تنقید رسول خداﷺ پر ہے۔ لیکن یہ مسلمانوں پر حملہ نہیں ہے۔ (A/R 1927 Lah 590) بعد میں علم دین نے جو کہ 20-19 برس کے نوجوان تھے اور لاہور میں محلہ سریاں والہ میں رہتے تھے۔ 6 اپریل 1929ء کو راجپال کو چاقو سے وار کر کے قتل کر دیا تھا۔ عینی گواہ بھی تھے اور واردات سے تھوڑا دور گرفتار بھی ہوئے اور آلہ قتل بھی دستیاب ہوا۔ عدالت میں علم دین کے خلاف کیس چلا اور شہادت آئی۔ شہادت مضبوط تھی۔ اس لیے سزائے موت ہوئی۔ دو انگریز جج صاحبان کے سامنے علم دین کا کیس چلا۔ قائد اعظم محمد علی جناح نے علم دین کا دفاع کیا، کیس شائع ہو چکا ہے۔ علم دین بنام ایمپر (A/R 1930 Lah 157) قائد اعظم نے اس کیس میں بڑی محنت کی اور سزائے موت کو کم کرنے کے لیے بڑے دلائل دیے کہ علم دین کی عمر بہت کم تھی۔ 19 یا 20 برس کی تھی اور ان کا ذہن پختہ نہیں تھا اور ان کے پیارے نبی ﷺ پر غیر شائستہ جملہ ان کے لیے ناقابل برداشت تھا۔ اس لیے وہ بے قابو ہو گئے۔ کیونکہ یہ حملہ سارے مسلمانوں کے خلاف تھا اور ان وجوہات کو مدنظر رکھتے ہوئے علم دین کی جان بچائی اور سزا میں کمی کی جائے۔ عدالت نے سزائے موت کو قائم رکھا اور اس طرح علم دین شہید ہوئے۔ اگر راجپال کی چھ مہینے کی سزا بحال رہتی کہ اس نے مسلمانوں کے جذبات کی توہین کی ہے تو ممکن ہے کہ نوبت قتل تک نہیں پہنچتی۔
میرے خیال میں کتاب ”رنگیلا رسول“ ایک غیر مسلم نے 1927ء میں لکھی تھی اور شائع کی تھی۔ راجپال نے لاہور میں اسے شائع کیا تھا اور فروخت بھی کر رہا تھا۔ راجپال کا قتل غازی علم دین کے ہاتھوں ہوا اور ان کو سزائے موت نصیب ہوئی۔ ان کے کیسز کے فیصلے قانونی جریدے میں شائع ہو چکے ہیں۔ جن کا ذکر اوپر تفصیل سے آیا ہے۔ کتاب کا مصنف کراچی میں تھا اور قانون کے پیشہ سے منسلک تھا اور ان کے اوپر بھی 153-A پینل کوڈ کے تحت مسلمانوں کے جذبات کو مجروح کرنے کا کیس چل رہا تھا۔ عدالتی کارروائی کے دوران ان کا قتل غازی عبدالقیوم کے ہاتھوں چاقو کے وار سے ہوا۔ غازی قیوم کو بھی سزائے موت ہوئی۔ واردات پر انہوں نے گرفتاری پیش کی اور اعتراف جرم بھی کیا۔ عینی گواہ بھی موجود تھے۔ سزائے موت کو کم کرنے کے لیے اور اپنی جان بچانے کے لیے جھوٹا موقف اختیار کرنے کہ ان کا ارادہ نہ تھا اور اچانک عالم بے خودی میں قابو سے باہر ہو کر انہوں نے قتل کیا۔ غازی
قوم نے ٹھکرا دیا اور صاف انکار کیا اور شہادت کا جام نوش کیا اور اپنے نبی ﷺ پر پروانے کی طرح قربان ہو گیا۔
حضور نبی کریم ﷺ کو شدید تنقید کا نشانہ بنا کر یہ کہنا کہ یہ تنقید نبی ﷺ پر ہے اور وہ اب حیات نہیں ہیں۔ اس لیے مسلمان اسے اپنے اوپر تنقید نہیں سمجھیں، کتنا غلط اور غیر مناسب فیصلہ ہے اور ایسے فیصلے نا انصافی کے مترادف ہیں اور مذہبی جذبات پر جلتی آگ پر تیل ڈالنے کا کام کرتے ہیں۔ اگر صحیح فیصلے ہوں اور انصاف ہو اور قانون کی حکمرانی ہو تو جذبات کو آگ لگانے سے روکا جا سکتا ہے اور نقصان پر قابو پایا جا سکتا ہے۔
9/11 کو جو امریکہ میں حادثہ پیش آیا وہ ایک بہت بڑا سانحہ ہے جس میں طیارے عمارتوں سے ٹکرائے۔ بہت بڑا جانی و مالی نقصان ہوا اور اس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے۔ لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ مغرب اسلام دشمن بن جائے اور ساری دنیا کے مسلمانوں کے خلاف نفرت اور کدورت پھیلائے اور ایک قسم کی صلیبی جنگ کا آغاز کرے۔ مغربی ممالک کے ایئر پورٹس پر مسلمانوں سے جو سلوک کیا جا رہا ہے وہ شرمناک ہے۔ ہر مسلمان کو دہشت گرد سمجھا جاتا ہے۔ حکومتی وفود کے ساتھ بھی بدسلوکی کی جاتی ہے۔
تھوڑا عرصہ پہلے وزیر اعظم شوکت عزیز سرکاری وفد لے کر امریکہ گئے تھے اور ان کے وفد کے ارکان کے ساتھ جو سلوک ہوا، وہ سب نے دیکھا اور ان کی گردنیں شرم سے جھک گئیں۔ یہ سلوک امریکہ میں ہوتا ہے، اس اسلامی ملک کا جو امریکہ کا سب سے نمایاں حامی ہے۔ دہشت گردی کے خلاف عالمی اتحاد میں اور امریکہ پاکستان کے فوجی سربراہ کی تعریف کرتے کرتے تھکتا نہیں۔ وزیر اعظم کے سب سے سینئر مشیر جو وفد میں شامل تھے، ان کی تلاشی لی اور پاکستانی ٹی وی چینل پر بھی دکھایا۔ مشیر صاحب نے موقف اختیار کیا کہ تلاشی امریکی قانون کے مطابق ہے اور انہیں کوئی اعتراض نہیں ہوا اور ان کی عزت میں کوئی کمی نہیں آئی۔ روشن خیالی کے دائرے کے اندر یہ ساری باتیں اب برداشت کرنی پڑتی ہیں۔
کچھ عرصہ پہلے ڈنمارک کے اخبار میں کارٹون چھاپے گئے جن میں پیغمبر اسلام ﷺ کے خاکے بنائے گئے اور انتہا قسم کی تضحیک کی گئی۔ اس قسم کی حرکت ناروے، فرانس اور جرمنی نے بھی کی۔ اس بات کو کافی مہینے گزر چکے ہیں۔ لیکن ردعمل سامنے آنے میں کافی تاخیر ہوئی۔ اسلامی ممالک سوچ رہے تھے کہ کیا کرنا چاہیے۔ کس کو سامنے کرنا چاہیے۔
یورپی یونین نے موقف اختیار کیا کہ کارٹون بنانا کوئی خاص چیز نہیں ہے۔ یہ اظہار رائے کا ایک حصہ ہے اور یورپ کے ہر ملک میں اظہار رائے کی مکمل آزادی ہے اور یہ آزادی ایسی ہے جسے مادر پدر آزادی کہہ سکتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ حضور نبی کریم ﷺ تو کیا ہم اللہ کے کارٹون بنا سکتے ہیں۔ (نعوذ باللہ)! اس آزادی کے موضوع پر بعد میں آئیں گے۔ پہلے ہم قانون کی بات کرتے ہیں۔
تقسیم ہند 1947ء میں ہوئی۔ اس سے قبل ہندو مسلمان اور دیگر مذاہب کے لوگ متحدہ ہندوستان میں ایک ساتھ رہتے تھے۔ برٹش ایسٹ انڈیا کمپنی 1600ء میں ہندوستان کے کچھ حصوں میں وجود میں آئی اور ہم ان کی رعیت بن گئے۔ پھر 1857ء میں ہندو مسلمان لشکر نے مل کر انگریز پر حملہ کیا اور جنگ آزادی کا آغاز ہوا۔ 1858ء میں برطانیہ نے ہندوستان پر قبضہ کر لیا اور ہم برٹش کالونی بن گئے۔ برطانیہ نے فوجداری قانون نافذ کیا اور 1860ء میں جس کا نام پینل کوڈ رکھا۔ دفعہ 153 میں حکم دیا کہ کوئی بھی شخص ایسا کام نہیں کرے گا جس سے لوگوں کے جذبات مشتعل ہوں اور امن عامہ میں رخنہ پڑنے کا خدشہ ہو اور ایسی حرکت قابل سزا ہوگی۔ دفعہ 295 مذاہب کے بارے میں ہے۔ کوئی بھی ایسی حرکت نہیں ہوگی جس سے کسی کے مذہب کی توہین یا بے عزتی ہو۔ ایسے جرم کی سزا دو سال تک قید یا جرمانہ یا دونوں ہو سکتی ہیں۔ یہ سزا انگریزوں نے خود رکھی ہے اور وہ بھی 1600ء میں۔ اب تو سزا اور بھی زیادہ ہو گئی ہے۔ اس قانون کا مطلب یہ تھا کہ سب کے مذاہب، عبادت گاہوں اور عقیدوں کا احترام کیا جائے اور کسی کے بھی مذہبی جذبات کو مجروح نہ کیا جائے۔
اب یورپ کے ممالک کیسے کہتے ہیں کہ اظہار رائے کی آزادی اتنی وسیع ہے کہ اس پر کوئی قانون لاگو نہیں ہوتا جس سے آزادی کی حدود مقرر کی جائے اور اس حد کو پار نہ کیا جائے۔ یہ تو ایسی آزادی ہوئی کہ کوئی بھی آدمی راستے پر کھڑا ہو کر کسی کو بھی چاہے وہ وزیر اعظم ہو، ملکہ یا پوپ ہو، غلیظ گالیاں دے اور کہے کہ ہمیں اظہار رائے کی مادر پدر آزادی ہے اور قانون اور اس کے پاسدار بے بسی سے دیکھتے رہیں اور کچھ بھی نہ کر سکیں۔ انسان اور جانور میں فرق صرف اتنا ہے کہ اللہ نے انسان کو عقل دی ہے اور وہ صحیح اور غلط میں تمیز کر سکتا ہے۔ یہ تمیز سب سے پہلے مذہب سکھاتا ہے کہ گناہ کیا ہے اور ثواب کیا ہے۔
ورنہ جنگل کے جانور کو یہ عقل نہیں کہ صحیح کیا اور غلط کیا ہے۔ ان کو صرف ایک فرق
معلوم ہے کہ نر کون ہے اور مادہ کون ہے۔ باقی ان کے پاس کوئی رشتے نہیں ہیں۔ نہ ماں نہ باپ ہے۔ نہ بھائی ہے نہ بہن ہے۔ وہاں جنگل کا قانون ہے جو طاقت میں زیادہ ہے اسے سب کچھ ملے گا۔ ہر ملک میں آئین ہوتا ہے اور آئین میں نظام حکومت کا خاکہ ہوتا ہے۔ ادارے ہوتے ہیں اور ان کے دائرہ اختیار ہوتے ہیں۔ انسانی حقوق ہوتے ہیں اور قانون سازی آئین اور انسانی حقوق کے متصادم نہیں ہوتی۔ ہر آزادی پر جس کا تعلق انسانی حقوق سے ہوتا ہے قانون کی پابندیاں ڈالی جاتی ہیں۔ تاکہ اس کا ناجائز استعمال نہ ہو۔ کسی کی دل آزاری نہ ہو۔ کسی کے مذہبی جذبات کی توہین نہ ہو۔ کوئی یہ نہ سمجھے کہ اس کے مذہب یا اس کے رسول پر تنقید یا تضحیک ہو رہی ہے اور وہ ایسی حرکت نہ کرے جس سے کسی کا کوئی ناقابل تلافی نقصان ہو۔
ہمیں پتہ ہے کہ آج کل مغرب اسلام دشمنی کھل کر کر رہا ہے۔ مغرب اس بات پر فخر کرتا ہے کہ جدید علم حاصل کرو اور اقتصادی اور معاشی خوشحالی حاصل کرو۔ دین کو دنیا کی حکومت سے دور رکھو۔ اسلام مکمل ضابطہ حیات ہے۔ اس لیے اسلام کا مذاق اڑاؤ اور نیچا دکھاؤ۔ اسلام کی توہین کرو۔ مسلمان جدیدیت اور معاشی خوشحالی کی طلب کی وجہ سے سر نیچا کر کے کھڑے رہیں گے اور کچھ بھی نہیں کریں گے۔ مغرب والے مسلمان ملکوں کو سیکولر ہونے کی ترغیب دیتے ہیں۔ جدیدیت کے شوق میں مغربی ممالک میں شرافت اور غیرت نام کی کوئی چیز نہیں ہے۔ شادی اور فیملی کنسیپٹ ختم ہو رہا ہے۔ لڑکے اور لڑکیاں شادی کے بغیر ایک ساتھ رہتے ہیں اور بچے پیدا کر رہے ہیں۔ ہم جنس پرستی کی یلغار ہے۔ مرد مرد سے اور عورت عورت سے شادی کر رہی ہے۔ یہ مغربیت اور جدیدیت کا پھل ہے۔ یہ سب قیامت کی نشانیاں ہیں۔ یا اللہ! اسلام کو کامیابی عطا کر! میں یہ مضمون شاعر مشرق علامہ اقبالؒ کے اس شعر پر ختم کرتا ہوں کہ:
جو قلب کو گرما دے اور روح کو تڑپا دے
ریاض احمد فاروقی
تاریخ پھر دہرائی جارہی ہے؟
کہتے ہیں تاریخ اپنے آپ کو دہراتی ہے۔ یقیناً ایسا ہوتا ہوگا جبھی سب لوگ اس حقیقت کو مانتے بھی ہیں اور ماننے کا برملا اعتراف بھی کرتے ہیں۔
حضور اقدس ﷺ کی پیدائش سے چند سال پہلے نجران کی یہودی حکومت نے حضرت عیسیٰؑ پر ایمان لانے کے جرم میں بیس ہزار افراد کو خندقیں کھود کر زندہ جلا دیا۔ صرف ایک عیسائی زندہ بچا اور اس نے قیصر روم سے اپنے لیے مدد طلب کی۔ قیصر روم نے حبشہ کے نجاشی کے نام خط لکھا کہ ان لوگوں کی مدد کی جائے۔ نجاشی نے تعمیل حکم کرتے ہوئے بھاری فوج ابرہہ کی سرکردگی میں یمن (جو یہودی حکومت کا دارالسلطنت تھا) اور نجران کی سرکوبی کے لیے بھیجی۔ ابرہہ اور حبشی افواج نے یمن کے دارالسلطنت صنعا کی اینٹ سے اینٹ بجا دی۔ یہودی حکومت کا خاتمہ کر دیا اور یمن سے نجران تک عیسائی حکومت کا پرچم لہرا دیا۔
عرب کے اتنے بڑے خطے پر حکومت مستحکم کرنے کے بعد ابرہہ کے دماغ پر بھوت سوار ہوا کہ سرزمین عرب پر نہ صرف اس کا راج ہو بلکہ دوسرے مذاہب اپنی شناخت ختم کر کے سرزمین عرب کی اکلوتی مستحکم حکومت کا عقیدہ و مذہب اختیار کرلیں۔ چنانچہ ابرہہ نے عرب سرزمین کے لیے ایک نیو ورلڈ آرڈر کا اعلان کیا جس کے تحت فوجی و عسکری، سیاسی و اقتصادی مرکزیت کے ساتھ ساتھ مذہبی مرکزیت کے لیے بھی یمن کی اطاعت شعاری کو لازم قرار دیا گیا اور فرمان جاری ہوا کہ دوسرے مذہبی مراکز سے عرب لوگ اپنا ناتا توڑ لیں۔
اس مقصد کے لیے ابرہہ نے صنعا میں ایک نہایت بلند و بالا گرجا تعمیر کیا۔ یہ گرجا اس قدر بلند اور اونچا تھا کہ اس کی اونچائی کو دیکھتے ہوئے لوگوں کی ٹوپیاں گر جاتی تھیں۔ اس وجہ سے عربوں نے اس گرجے کا نام ہی القلیس (ٹوپیاں گرانے والا) رکھ دیا۔ ابرہہ نے اس گرجے کی تعمیر پر بے پناہ دولت خرچ کی۔ لکڑی، پتھر، زر و جواہر اور مینا کاری سے آراستہ یہ
بلند و بالا گرجا نہ صرف عیسائی مذہب کا عبادت خانہ تھا بلکہ اپنے دور کے فن تعمیر کا بھی نہایت عظیم الشان اور عدیم المثال شاہکار تھا۔ اپنے زمانے کی یہ دس منزلہ عمارت آج کے دور کی ایک سو دس منزلہ عمارت ورلڈ ٹریڈ سنٹر جیسی بلند تھی کیونکہ اس زمانے میں تعمیر موٹے پتھروں سے ہوتی تھی۔ دیواریں موٹی، چھتیں اونچی اور مضبوط ہوتی تھیں۔
یہ کلیسا تعمیر کرنے کے بعد ابرہہ نے آرڈر جاری کیا کہ آج کے بعد مکہ والے کعبہ کا طواف کرنے عرب نہیں جائیں گے، آج سے سب لوگ صنعا والے کلیسا کا طواف کریں گے۔
دھرتی پہ اللہ کے نام سے اللہ کی عبادت و رضا جوئی کی خاطر تعمیر شدہ اکلوتا گھر کعبہ ہی رہ گیا تھا وگرنہ پوری دھرتی حق پرستی اور شعائر اللہ سے خالی ہو چکی تھی لیکن عرب سر زمین پر اکیلے دندناتے سپر طاقت ابرہہ کو اب اللہ کی آخری نشانی بھی کھٹکنے لگی تھی۔ وہ اسے بے آباد کرنے پر تل چکا تھا۔
ادھر دین ابراہیمی سے دور ہونے کے باوجود عرب بیت اللہ کے بارے میں نہایت جذباتی تھے، وہ کسی طور پر بیت اللہ شریف کی حرمت پر کوئی سودا کرنے کو تیار نہ تھے، چنانچہ ابرہہ کے مذکورہ بالا آرڈر پر جذباتی رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے کسی قریشی عرب نے صنعا جا کر ”القلیس“ میں غلاظت کر دی اور غلاظت کو پورے گرجے کی دیواروں کے ساتھ مل دیا۔ اپنے گرجا کی یہ توہین دیکھ کر ابرہہ آگ بگولہ ہو گیا اور اس نے بیت اللہ کی اینٹ سے اینٹ بجانے کا فیصلہ کر لیا۔
کچھ ہی دنوں بعد ”القلیس“ میں پراسرار آتشزدگی ہوئی جس کے نتیجے میں آسمان سے باتیں کرتی یہ بلند و بالا عمارت دیکھتے ہی دیکھتے راکھ کا ڈھیر بن کر زمین بوس ہو گئی۔
یہ تو معلوم نہ ہو سکا کہ اتنی بڑی آگ جس سے اپنے عہد کی بلند و بالا عمارت زمین پر آ گری، کہاں سے لگی؟ البتہ یمن کی سپر پاور نے اس کا الزام حجازی عربوں پر رکھتے ہوئے اعلان کر دیا کہ اپنے کلیسا کا انتقام لینے کے لیے ہم بیت اللہ کی اینٹ سے اینٹ بجا دیں گے۔
جس طرح شعائر اللہ پر حملہ کرنے کے لیے کل ابرہہ نے یک طرفہ ڈگری جاری کرتے ہوئے عربوں پر حملہ کیا آج امریکہ کے ابرہہ نے بھی دور حاضر کے ”القلیس“ (ورلڈ ٹریڈ سنٹر) کی آتشزدگی پر یک طرفہ طور پر عرب مسلمانوں پر الزام عائد کر کے افغانستان کی محض اس لیے اینٹ سے اینٹ بجا دینے کا اعلان کیا کہ وہ چند عرب مسلمانوں کا میزبان
ہے اور انہیں محض سازشی الزامات کے تحت دشمن کے حوالے کرنے کے لیے تیار نہیں۔
جس طرح اپنے دور کی سب سے اونچی عمارت (القلیس) ایک سازشی آگ سے جل کر دیکھتے ہی دیکھتے بھسم ہوگئی، اسی طرح ورلڈ ٹریڈ سنٹر بھی اپنے زمانے کی سب سے اونچی اور مضبوط و محفوظ ہونے کے باوجود دیکھتے ہی دیکھتے چند منٹوں میں راکھ کا ڈھیر بن گئی۔
یوں لگتا ہے اپنے اپنے زمانے میں یہ دونوں بلند و بالا عمارات عیسائی دنیا نے تعمیر ہی اس لیے کی تھیں کہ ان کو آگ لگا کر دھرتی کے امن کے خرمن میں بھی فتنہ و فساد اور جنگ و جدل کی آگ بھڑکا دیں۔
ابرہہ جب اپنی طاقت و فوج لے کر نکلا تو پورا عرب اندر سے شدید کرب و الم کا شکار تھا لیکن منتشر ہونے اور ایک جھنڈے یا مضبوط قیادت تلے نہ ہونے کی وجہ سے وہ اس کا مقابلہ نہیں کر سکتے تھے۔ اس لیے اکثر عرب قبائل تو سرے سے ہی خاموش رہے اور جن چند قبائل نے غیرت وحمیت کا مظاہرہ کرتے ہوئے تھوڑا بہت مقابلہ کیا ان بے چاروں نے نہ صرف یہ کہ منہ کی کھائی بلکہ ان تقریباً سبھی سرداروں کو قیدی بنا کر ابرہہ اپنی فوج کے ساتھ مکہ تک لے آیا۔
جن لوگوں نے ابرہہ کا مقابلہ کیا اور شکست ہوئی، تاریخ ان کا نام غیرت مندوں کی صف میں شمار کرتی ہے۔ جو خاموش رہے بول نہ سکے، اندر ہی اندر گھلتے رہے تاریخ انہیں بے بس اور مجبور قرار دے کر ان سے صرف نظر کرتی ہے لیکن اس پورے واقعے میں تاریخ طاقت والوں کو معاف کرتی ہے اور نہ ان کا نام کسی اچھی صف میں شمار کرنا پسند کرتی ہے۔
صنعا یمن سے مکہ آتے ہوئے پہلے آخری شہر جس کی سرحدیں مکہ معظمہ سے ملتی ہیں، طائف ہے۔ دور دراز کے قبائل ابرہہ کی مزاحمت کرتے یا نہ کرتے، اہل مکہ کو سب سے زیادہ توقعات تھیں تو اہل طائف سے تھیں کہ شاید یہ لوگ ہم سے تعاون کریں تو ہم مل کر اس کافر فوج کا مقابلہ کرسکیں لیکن تعاون یا مدد کرنا تو درکنار اہل طائف نے تو خاموش تماشائی بننا بھی گوارا نہ کیا بلکہ طائف کے بنوثقیف نے آگے بڑھ کر ابرہہ کا استقبال کیا۔
اس سے یہ وعدہ لیا کہ آپ طائف کو اور وہاں کے بڑے بت خانہ (لات کے بت خانے کو ) نقصان نہیں پہنچائیں گے۔ اور لاجسٹک اور انٹیلی جنس سپورٹ فراہم کرتے ہوئے اپنے آدمی ساتھ روانہ کیے تا کہ بیرونی افواج کو مکہ مکرمہ پہنچنے میں کوئی دشواری پیش نہ آئے۔
یہ بالکل اسی طرح کی صورت تھی جیسے امریکہ کے مقابلے میں آج تمام اسلامی ممالک اندر ہی اندر کڑھ تو رہے ہیں لیکن کسی میں نہ اس کا مقابلہ کرنے کی ہمت و جرات ہے نہ کوئی اونچی آواز نکال سکتا ہے۔ اور اگر چند مسلح گروپوں نے کہیں کہیں سر اٹھایا اور آج کے ابرہہ کا مقابلہ کیا تو انہیں شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ افغانستان پر جب امریکہ نے چڑھائی کی تو اہل طائف کی طرح افغانستان کے پڑوسی ممالک نے اپنے تحفظ کی بھیک مانگ کر نہ صرف یہ کہ امریکہ کو لاجسٹک اور انٹیلی جنس سپورٹ فراہم کی بلکہ اپنے تمام ائیر پورٹ اس کے حوالے کر دیے اور طائف والوں کی طرح ”سب سے پہلے پاکستان!“ کا نعرہ لگا کر افغانستان کے اہل اسلام کو نصرانی فوج کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا جس طرح طائف والوں نے اپنا بت خانہ اور وطن بچانے کے لیے بیت اللہ کو قربان کر دیا تھا بالکل اسی طرح ہم نے پاکستان کے تحفظ کا نعرہ لگا کر افغانستان کو قربانی کا بکرا بنایا اور اسلامی خلافت کو ذبح کر دیا۔
جب کوئی قوم ضمیر فروشی پر اتر آتی ہے تو پھر اخلاق و انصاف کا کوئی ضابطہ اسے جھنجھوڑ سکتا ہے نہ کوئی اور روایات اس کی آنکھوں سے بے ضمیری کی پٹی اتار پاتی ہے۔ چنانچہ اہل طائف نے نہ صرف ”سب سے پہلے طائف!“ کا نعرہ لگایا بلکہ افواج ابرہہ کی رہنمائی کی بلکہ ”ابو رغال“ نے اپنا معتمد آدمی بھی ساتھ روانہ کیا تاکہ انہیں طائف کے پہاڑوں سے مکہ کی وادی تک اترنے کے لیے آسان اور مختصر راستوں سے لے جا سکے۔ ابرہہ کے لشکر نے جب حملہ کیا اور مکہ سے بھی کوئی مزاحمت کرنے والا سپوت کھڑا نہ ہوسکا تو اللہ نے چھوٹے چھوٹے پرندوں کی کچھ ٹولیاں بھیج کر سپر پاور کی فوج اور اس کے ہاتھی، گھوڑوں پر کیمیکل بموں کا ایسا زور دار حملہ کروایا کہ ان پرندوں کی چونچوں اور پنجوں سے جو بم گرتا وہ اپنے ہدف کے پورے وجود سے آر پار ہو جاتا اور جس کو لگتا اس کے پورے بدن پر آبلے اور پھنسیاں نکلنا شروع ہو جاتیں اور اس کا گوشت اور جوڑ کٹ کٹ کر اس کے وجود سے الگ ہونا شروع ہو جاتے۔ چنانچہ ساری فوج چاروں اطراف میں بھاگنے اور پناہ تلاش کرنے لگی مگر اللہ کے عذاب سے کون پناہ دے سکتا ہے اور کہاں پناہ مل سکتی ہے!!!
ابرہہ وادی محسّر سے بھاگتا ہوا صنعا واپس پہنچ گیا، اس وقت اس کے جسم سے گوشت کٹ کٹ کر گر رہا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے عبرت کا نشان بنانے کے لیے چند ہمراہیوں کے ساتھ اپنے دارالحکومت تک پہنچنے اور وہاں پہنچ کر اپنی قوم کے سامنے سسک سسک کر دم
توڑنے کا موقع دیا تا کہ قوم کو بھی معلوم ہو جائے کہ محض دنیاوی طاقت کے نشے سے مخمور ہو کر اللہ کی نشانیوں سے ٹکر لینے اور انہیں مٹا ڈالنے کی ڈینگیں مارنے والوں کا کیا حشر ہوتا ہے۔ ابرہہ اور اس کی فوج کا جو حشر ہوا سو ہوا، اس کے ساتھ مخلصانہ غلامی اور محروم حمیت چاپلوسی کی اکلوتی مثال ابورغال کو بھی جو دشمن فوج کی آمد پر نہ صرف خاموش رہا بلکہ انہیں اپنی قوم کی نمائندگی کرتے ہوئے راستہ دکھا رہا تھا، بیت اللہ سے غداری اور ابرہہ کی فوج کو انٹیلی جنس سپورٹ فراہم کرنے کے جرم میں اللہ تعالیٰ نے رہتی دنیا تک کے لیے عبرت کا نشان بنا دیا اور تاریخ کے بدترین انجام سے دو چار کیا۔
اللہ کے نبی ﷺ کی نبوت کا نور ابھی نہیں چمکا تھا، لوگوں کو نہ ایمان وکفر کے معنی سے واقفیت تھی، نہ فسق و تقویٰ کے مفہوم سے کوئی آشنا تھا۔ اس زمانے میں اللہ تعالیٰ نے مشرکین عرب کی زبانوں پر اس بدکردار و بدنہاد شخص کو گالی بنا کے رکھ دیا۔ چنانچہ تمام عرب اس کو ”ابورغال فاسق“ کہنے لگے اور جنگل کی آگ کی طرح یہ نام پورے عرب میں مشہور ہوگیا حالانکہ یہ شخص زمانہ جاہلیت میں گزرا ہے جب ”فاسق“ کا لفظ دور دور تک استعمال ہوتا دکھائی نہیں دیتا۔
ابورغال جب حملہ آور سپر پاور کی فوج کو لے کر وادی مغمس میں پہنچا تو کسی نامعلوم کا پھینکا ہوا پتھر اس کے سر کے پچھلے حصے میں لگا جس سے وہ موقع پر ہی جہنم واصل ہوگیا اور اسے وہیں دفن کردیا گیا۔ انسانی تاریخ میں ہمیں کوئی واقعہ ایسا نہیں ملتا کہ کبھی کسی شخص کے مرنے کے بعد لوگوں نے اس کی قبر کو سنگسار کیا ہو اور یہ تو کبھی سوچا بھی نہیں جاسکتا کہ پوری قوم کسی شخص کی قبر کو سنگسار کرنے پر متفق ہوجائے اور اس سنگساری کو ایک اچھے عمل کے طور پر اپنایا جائے۔ ہاں پوری تاریخ میں صرف ”ابورغال فاسق“ وہ بدکردار شخص ہے جس کے بارے میں تاریخ پورے دھڑلے سے یہ بتاتی ہے کہ طویل عرصہ تک اہل عرب اس کی قبر کو کار ثواب سمجھ کر سنگسار کیا کرتے تھے۔ ہمارے زمانے میں ابورغال کا کردار کون ادا کر رہا ہے؟ ہر شخص اپنے گریبان میں خود جھانک لے اور نامعلوم پتھر کا انتظار کرے کہ یہ قدرت خداوندی کا تاریخی فیصلہ اور سنت الہیہ ہے۔
ڈاکٹر عامر لیاقت حسین
پھر گستاخانہ خاکے !
تین برس قبل سویڈن کے ایک چوپایوں سے بھی بدتر انسان نے جو شاید اپنی ماں کے بطن ہی میں بدبخت قرار دے دیا گیا تھا کیونکہ رسول ﷺ نے فرمایا ہے ... الشقی من شقی فی بطن اُمہ اصل بدبخت وہ ہے جو ماں کے پیٹ ہی میں بدبخت ہو اور یقیناً جس کا انجام کعب بن اشرف سے بھی زیادہ عبرت ناک ہوگا، اُس نے میرے اور آپ کے آقا و مولیٰ حضرت محمد ﷺ کی شانِ ارفع و اعلیٰ میں غلیظ ترین گستاخی کرتے ہوئے، بغض و عداوت کی خبیث سیاہی سے ایک خاکہ تخلیق کیا ، وہ خاکہ کیا تھا اور اُس کے پس پردہ کون سے عوامل کار فرما تھے؟ کم از کم مجھ گناہ گار میں اتنی سکت اور طاقت نہیں کہ میں اُسے ضبط تحریر میں لاسکوں۔ البتہ 10 مارچ کو آئرلینڈ میں اُن 7 مسلمانوں کی گرفتاری کے بعد جو اس سویڈش کارٹونسٹ لارس ولکس کو جہنم روانہ کرنے کا منصوبہ بنا رہے تھے۔ 11 مارچ کی صبح سویڈن کے تمام ہی کثیر الاشاعت اخبارات نے ایک بار پھر نبی کریم ﷺ کے گستاخانہ خاکے شائع کیے ہیں اور اپنے ادارتی نوٹ میں لکھا ہے کہ ”(بدبخت) ولکس اکیلا نہیں، پوری سویڈش قوم اس کے ساتھ ہے“ ... دوسری جانب واشنگٹن کی ایک گرانڈ جیوری نے ایک امریکی خاتون، کولین رینی لا روز کو آئرلینڈ میں گرفتار کیے جانے والے 7 مسلمانوں کی ”اہم ساتھی“ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اپنے آپ کو ”جہاد جین“ اور ”فاطمہ لا روز“ کہنے والی یہ ”خطرناک عورت“ اگست 2009 میں صرف اس لیے آئرلینڈ گئی تھی تا کہ گرفتار کیے گئے 7 افراد سے لارس ولکس کے قتل کے منصوبے پر گفتگو کر سکے ... عدالت کو یہ بھی بتایا گیا کہ 30 ستمبر 2009 میں اس خاتون نے لارس ولکس کے مبینہ قتل کے منصوبے کی سازش میں شریک ایک شخص کو ای میل میں لکھا تھا کہ ”میرے لیے یہ ایک اعزاز اور اطمینان کا باعث ہوگا کہ میں اس شخص کو قتل کرتے ہوئے ماری جاؤں جس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا گستاخانہ خاکہ بنایا ہے۔“
تہذیب و اخلاق سے عاری کسی ننگ دھڑنگ یا یوں کہا جائے تو زیادہ بہتر ہوگا کہ ننگوں کے ملک میں اپنی ننگ و ناموس کو خیر باد کہنے والے کسی ننگ ملت، ننگ دیں یا ننگ وطن کا پیدا ہونا اتنا حیران کن امر بھی نہیں... لواطت پرست لارس ولکس کے کردار سے اس قدر بدبو اُٹھتی ہے کہ تحقیق کی خاطر فائل کھولتے ہوئے بھی اُلٹی آجائے ... مذہب سے یہودی بلکہ ”مرحب سے یہ یہودی“ لارس ولکس سویڈن کے شہر اسٹاک ہوم میں اپنی ”مرد بیوی“ کے ساتھ رہتا ہے (یہ اس کا ماننا ہے کہ ”وہ“ بیوی ہے، اب خدا جانے ان دو مَردوں میں سے کون کس کا شوہر اور کون کس کی بیوی ہے) ... اس ”فطرتی جنسی“ اور ”خلقیتی سہیلی“ یعنی مستند بچے کے بارے میں ایک معروف لکھاری پیٹرک جانسن نے 10 مارچ کو اپنی تحریر میں واضح کیا ہے کہ تحمل اور برداشت کا دم بھرنے والا یورپی معاشرہ کب تک ولکس جیسے ”گستاخوں“ کی وکالت کرتا رہے گا جن کے بے معنی وجود کے سبب ایک کے بعد ایک دہشت گردی کے منصوبے بن رہے ہیں“ ... وہ یہ بھی لکھتا ہے کہ اپنے آپ کو ”آرٹسٹ“ کہلوانے والا رات کو اپنے بستر کے نیچے کلہاڑی رکھ کے کیوں سوتا ہے اور مکان کی بالائی منزل پر واقع اپنے کمرے کو کسی خوف زدہ شخص کے غار میں کیوں تبدیل کر دیا ہے؟ پیٹرک جانسن نے یورپی ممالک کے دہرے کردار پر کڑی تنقید کرتے ہوئے یہ بھی لکھا ہے کہ ایک طرف تو یہ ممالک آزادی اظہار کی بات کرتے ہیں جو غیر مسیحیوں سے شروع ہو کر اُن ہی پر ختم ہو جاتا ہے مگر جہاں مسیحیوں کی بات آتی ہے، وہاں ہولوکوسٹ پر تنقید کرنے والے اُس مسیحی کو بھی برداشت نہیں کرتے جس نے اس متنازعہ داستان پر چند علمی سوالات اُٹھائے تھے اور اُسے گستاخی کا مرتکب قرار دے دیا گیا...
ویسے تو سویڈن میں ولکس جیسے بچوں کی پیدائش معمول کی بات ہے، یہ ایک ایسا ملک ہے جہاں مادر پدر آزاد جنسی تعلق پر تنقید کرنے والے کو حیرت سے نہیں، نفرت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے، اُسے انسان ہی نہیں سمجھا جاتا جو مرد کے مرد سے اور عورت کے عورت سے تعلق کو غیر فطری قرار دے، یہاں وسعت قلب (معاف کیجیے گا) خباثتِ عقل سے ایسے تمام رشتوں کو قبول کیا جاتا ہے جو ایک ہی جنس سے دور تک جڑے بلکہ مُڑے مُڑے ہوتے ہیں... یہاں شادیوں کی تقریبات بڑی منفرد ہوتی ہیں، ذرا تصور کیجیے کہ دولہا کے برابر میں ایک اور دولہا کیسا لگے گا؟ ویسے تو اچھا لگے گا بس یہ نہ پوچھ لیجیے گا کہ ”دلہن کہاں ہے“؟ کم بخت ایسی
کھا جانے والی نظروں سے آپ کو دیکھیں گے کہ جیسے کہہ رہے ہوں ”اے دقیانوسی! یہاں سے فوراً چلا جا، ورنہ تجھے بھی دولہا بنانے میں دیر نہیں لگائیں گے“... اُنہیں کتوں کی ہر ادا سے پیار ہے، اِسی لیے یہ بھی اپنے شہر کی گندی گلیوں اور تاریک کونوں میں کتوں کی طرح ایک دوسرے سے بوس و کنار کرتے ہوئے آپ کو بآسانی دکھائی دیں گے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ جانوروں کے برعکس یہ محبت میں اِس قدر آگے نکل گئے ہیں کہ اِس خواہش کے لیے مرد ہو یا عورت، اب یہ اہتمام بھی ضروری نہیں سمجھتے... بس پیاس پوری ہو، بھینگی ہو اور کہیں بھی ہو... چاہے کوئی دیکھ رہا ہو یا نہ دیکھ رہا ہو... اگر دیکھ رہا ہے تو اچھا ہے سویڈن میں ”تہذیب“ سے رہنا سیکھ جائے گا اور اگر نہیں دیکھ رہا تو ظالم حسد کی آگ میں جل رہا ہے کہ اُسے ایسا ساتھی کیوں نہ ملا؟... میرا ذاتی خیال ہے (کیونکہ لارس ولکس کے ماں باپ کا کوئی اتا پتا نہیں) کہ لارس ولکس بھی اسٹاک ہوم کی ایسی ہی کسی گندی اور بدبو دار گلی کے کونے میں بڑے کوڑے دان کے ڈھیر میں ناجائز تعلق کے بعد پھینکا جانے والا گوشت کا وہ لوتھڑا ہے جسے اپنے گمنام ماں باپ کی شکلیں اپنے ہی بنائے ہوئے خاکوں میں دکھائی دیتی ہیں... اب یہ الگ بات ہے کہ اپنے اوپر ”ناجائز اور نطفہ حرام“ کا لیبل چسپاں ہونے کے سبب وہ کارٹون کو کوئی بھی نام دیتا پھرے، دراصل ہے تو وہ اُسی کا عکس...
15 اکتوبر 2009 کو تہذیب و تمدن اور اخلاقیات کے علمبردار اِس ملک کے ایک ”ٹیچر“ کو رنگے ہاتھوں اُس وقت گرفتار کیا گیا جب وہ اپنے شاگردوں کو (اُن کی مرضی و منشا کے مطابق) مناسب رقم کے عوض جنسی تعلق قائم کرانے کے لیے ”اعلیٰ شخصیات“ کے پاس بھجوانے کا ”دھندہ“ مدّتوں سے بلاخوف و خطر کر رہا تھا... موصوف پکڑے اِس وجہ سے گئے کہ ایک 17 سالہ لڑکی کو بھی اُنہوں نے اُس کی خواہش کے مطابق کسی ممتاز کاروباری شخصیت کے پاس بھجوا دیا اور وہ سویڈن کے آزاد جنسی قانون کے مطابق متعین حد سے ایک برس کم کی نکلی... بس ٹیچر صاحب اِسی جرم میں پکڑے گئے، عدالت میں جرمانہ بھرا اور واپس اسکول آ کر ”پڑھانے“ لگے اور اسکول نے بھی اِس دلیل کے ساتھ عظیم معلم کو دوبارہ قبول کر لیا کہ ”قصور لڑکی کا تھا، اُسے بتانا چاہیے تھا کہ وہ 17 سال کی ہے، 18 کی نہیں، لہٰذا ٹیچر صاحب، آپ کی کوئی غلطی نہیں، تشریف لائیے اور یونہی بچیاں بیچتے رہیے“... واہ سویڈن واہ! جہاں ایسے اُستاد ہوں گے، وہاں لارس ولکس جیسے بچے جنم نہیں لیں گے تو اور کون پیدا ہوگا؟
ویسے تو اس خبیث کو دیکھ کر جنگل کے جانور بھی اسی طرز پر دعا مانگتے ہوں گے کہ شیر بارگاہ میں عرض کرتا ہوگا کہ حمد اُس رب کی جس نے مجھے شیر بنایا چیتا نہیں بنایا ... چیتا کہتا ہوگا، حمد اُس رب کی جس نے مجھے چیتا بنایا گیدڑ نہیں بنایا ... گیدڑ کی بھی کچھ ایسی ہی التجا ہوگی کہ حمد اُس رب کی جس نے مجھے گیدڑ بنایا، کتا نہیں بنایا ... اور کتا تو یقیناً یوں شکر ادا کرتا ہوگا کہ حمد اُس پروردگار کی جس نے مجھے کتا بنایا سؤر نہیں بنایا ... اب رہ گیا سؤر تو بلاشبہ وہ اس سے بہتر کوئی اور دعا مانگ ہی نہیں سکتا کہ ... حمد اُس مالک ومختار کی جس نے مجھے سؤر بنایا، سلمان رشدی، لارس ولکس، گیرٹ ولڈر یا کرٹ ویسٹر گارڈ نہیں بنایا ...!!
گو کہ سؤر سے بھی بدتر گستاخوں کی فہرست کافی طویل ہے، پھر کوئی گستاخی کر کے دیکھے، عاشق بھی نام لکھنے سے باز نہیں آئے گا (انشاء اللہ ) ...!!!
ڈاکٹر عامر لیاقت حسین
ملعون سلمان کے بعد ایک ”بے“ وفا سلطان!
مجھے آج بھی یاد ہے جب اُس نے الجزیرہ چینل پر 54 منٹ کے بعد مذاکرے کے دوران اپنے لیے مختص کردہ چھ منٹ اسلام اور پیغمبر اسلام ﷺ کی (معاذ اللہ ) ہجو، بدگوئی اور استہزا میں صرف کر دیے تھے ...... اس کا بس نہیں چل رہا تھا کہ وہ لاس اینجلس سے اڑتی ہوئی آتی اور مذاکرے میں شریک ابراہیم الخولی کو کچا ہی چبا ڈالتی ...... شام کے شہر بنی یاس کے ایک روایتی مسلمان گھرانے میں جنم لینے والی وفا سلطان، اپنے وطن کی شہریت ترک کرنے کے بعد اتنی بے وفا ہو جائے گی یہ اسلام اور پیغمبر اسلام ﷺ کو تو برسوں سے معلوم تھا مگر ہم میں سے بعض آج بھی سانپوں سے الفت پر یقین رکھتے ہیں ...... 21 فروری 2006 کے بعد سے وہ اچانک غائب ہو گئی تھی گو کہ اپنے باغیانہ اور جارحانہ نظریات کی بنا پر اُسے یہودی دنیا میں بڑا سراہا گیا، اُس کے اعزاز میں تقاریب منعقد ہوئیں، کعب بن اشرف کی اولادوں نے اُسے اپنے سر پر بٹھایا، خلعتِ فاخرہ عطا کی، مال دیا، حفاظت کی قسمیں کھائیں، اسناد و ایوارڈز سے نوازا، کتابیں چھاپیں یہاں تک کہ اپنے بغض کے سبب جو کچھ کر سکتے تھے وہ کیا ...... سورہ آل عمران کی 118 ویں آیت میں اللہ جل جلالہ یوں فرماتا ہے کہ ”ان کے دل کا بغض ان کے منہ سے نکلا پڑتا ہے اور جو کچھ وہ اپنے سینوں میں چھپائے ہوئے ہیں وہ اس سے شدید تر ہے“ ...... اللہ اکبر ...... کس قدر صاف صاف کلام ہے، کیا ہی کھلی ہوئی آیات ہیں، وضاحت کی کیسی تیز روشنی میں خالق نے اپنے بندوں کو لا کھڑا کیا ہے مگر افسوس ہے اُن پر جو آنکھ تو رکھتے ہیں مگر دیکھ نہیں سکتے اور کان تو موجود ہیں مگر سننے سے قاصر ہیں ...... آخر ہمارے ”دانش مند“ کب سمجھیں گے کہ خیبر و تبوک سے ذلت کے ساتھ نکالی گئی غزوان و مرحب کی نسلیں ہمیشہ اُن ہی خوارج کو سینے سے لگاتی ہیں جن کے قول و فعل سے بس اسلام کو نقصان پہنچے، بانہیں پھیلا کر ایسے پھوڑوں اور ناسوروں کا استقبال کیا جاتا ہے اور پھر اُن کے ہاتھوں میں قلم اور سامنے مجمع
بٹھا کر یہ کہا جاتا ہے لکھو اور بولو ہم تمہارے ساتھ ہیں...... اس کے باوجود نہ جانے ”اہل عقل“ منافرت کی ایسی شدید ہواؤں کو مکالمے کے جھونکوں سے تعبیر کرنے پر کیوں بضد ہیں۔......
ایک ہفتے قبل، جب لارس ولکس کے بنائے ہوئے گستاخانہ خاکے سویڈن کے تمام اخبارات کی ”زینت“ بنے، عین اُسی دن کینیڈا کے شہر ٹورنٹو کے ایک صومعے میں اس مرتدہ کو یہودی رابیوں نے ”علمی خطاب“ کے لیے مدعو کیا...... وہ ”بد بلی“ ہرزہ سرائی اور رذالت کی حدوں کو بھی آلودہ کرتے ہوئے نبی کریم ﷺ کی شان میں گستاخی (نعوذ باللہ ) کرتی رہی، حقارت آمیز لہجے میں اسلام کو للکارتی رہی اور اُس کے جملوں کی بدبو سے وہی لطف اندوز ہوتے رہے جن کی بد عہدی کے عبرت انگیز قصوں سے قرآن پاک بھرا ہوا ہے۔...... وہ بد بخت بکتی رہی یہ مغضوب ہنستے رہے، وہ دختر عتبہ نفرت سے تھوک اُڑاتی رہی اور یہ پسرانِ یہود مکاری سے اُسے اپنے عقیدے کے منہ پر ملتے رہے۔...... رب کعبہ کی قسم ! کہ مجھ میں اتنی سکت نہیں کہ وہ جملے یہاں نقل کر سکوں جو اس ملعونہ نے صومعے (Synagogue) میں ابلیسی رنگ میں رنگ کر کہے لیکن اتنا جان لیجیے کہ جس توہین کی جرات شاید عتبہ اور شیبہ میں بھی نہ تھی، اس چنڈال نے اُس سے کہیں بڑھ کر استہزا کا زہر اُگلا...... ایسوں کے درد ناک انجام کے بارے میں خبر دی گئی ہے لہٰذا مجھے پریشانی نہیں۔...... اور ویسے بھی وہ جس کے محبوب ہیں بے شک یہ اُسی کی کائنات ہے، کوئی بچ کر جائے گا بھی تو کہاں جا سکتا ہے۔...... خوف کی لکیریں کھینچ کر جب زمین تنگ کر دی جاتی ہے تو گستاخ کا ایک ایک عضو اُس غلیظ روح کو کوستا ہے کہ جس کی پلیدگی کے سبب وہ بھی آلودۂ عصیاں ہے۔...... مگر...... مجھے دُکھ ہے تو اس بات کا کہ اسلام اور آقا کریم ﷺ کو (معاذ اللہ ) برا بھلا کہنے والوں کو اگر پناہ ملی بھی تو یہودیوں کے عبادت کدے میں! کیا اب بھی کچھ ثابت کرنے کو باقی بچا ہے؟...... دنیا پرستوں کے درمیان رہتے رہتے اور مغرب کی کھوکھلی تہذیب سے متاثر کم زور مسلمانوں کے ساتھ مکالمہ کرتے کرتے کہ جنہیں کلمہ گو ہونے کے باوجود اب تک ”مدینے والے“ سے محبت نہیں ہوسکی، تکلیف دہ وقت گزارنے کا عادی ہو چکا ہوں اور یہی وجہ ہے کہ اب مجھے اپنی ہی صفوں میں موجود کالی بھیڑوں (حد درجے آزاد خیال مسلمانوں) کی پوچ گفتگو متاثر نہیں کرتی، بلکہ میں اُسے خاطر ہی میں نہیں لاتا البتہ جب شامی نژاد ”بے“ وفا سلطان کی ہرزہ سرائی کے بعد ٹورنٹو کے اُسی صومعے میں موجود یہودی مقررین پروفیسر پائپس اور ایوی بین لولو نے اس امر
پر مسلمانوں کی تعریف و توصیف کی کہ ”عہد حاضر کے بعض روشن خیال مسلمان کھلے انتہا پسندی کے خلاف سخت مؤقف رکھتے ہیں“، تو میرا دل تڑپ اٹھا کہ ”دیکھو تو سہی! ان منصوبہ سازوں کو، جن کے گھروں میں خود کش حملہ آور جیسے فتنے اور جنونی درندے اسی لیے پیدا نہیں ہوتے کیونکہ ایسی فصلوں کے سارے بیج ان کی اپنی مٹھی میں ہیں۔۔۔۔ یہ جہاں چاہتے ہیں وہاں نفرت کی فصل اُگا دیتے ہیں، انہیں معلوم ہے کہ مسلمان اپنے نبی ﷺ سے شدید عقیدت و محبت رکھتے ہیں اور اسی بنا پر یہ دھتکارے ہوؤں کو خرید کر پہلے اُن سے سرکار ﷺ کی (معاذ اللہ ) توہین کراتے ہیں تاکہ کوئی عاشق اور محمد ﷺ کا دیوانہ سامنے آئے، حملہ کرے یا اپنے دینی جذبات کا اظہار کرے اور یہ پوری دنیا میں پروپیگنڈہ شروع کردیں کہ ”دیکھو! یہ ہے اسلام کا اصلی چہرہ“۔۔۔۔ انبیا کے قاتلوں سے اور توقع ہی کیا کی جاسکتی ہے، جنہوں نے مقدسہ مریم علیہا السلام کے جگر گوشہ اور اللہ سبحانہ و تعالیٰ کے مقرب نبی مسیحؑ اور اُن کی والدہ پر تہمتیں لگائی ہوں، ایک دن میں 70 نبیوں کو قتل کیا ہو، حضرت موسیٰ علیہ السلام کو لہو کے آنسو رُلائے ہوں اور جن کے ہر عمل کی مذمت میں قرآن گواہ رہا ہو اُن سے کسی بھی قسم کی توقع کی جاسکتی ہے۔۔۔۔ اور ۔۔۔۔ بلاشبہ کی جانی چاہیے۔۔۔۔۔
مجھے ”بے وفا“ سلطان کی اس دریدہ دہنی پر حیرانی نہیں ہوئی جب اُس نے یہ کہا کہ ”میں نے یہ طے کرلیا ہے کہ میں اسلام سے لڑوں گی، برائے مہربانی میرے بیان پر توجہ دیجیے، جی ہاں! میں اسلام سے لڑنے کا فیصلہ کرچکی ہوں۔۔۔۔۔ سیاسی اسلام سے نہیں، عسکری اسلام سے نہیں، رجعت پسند اسلام سے نہیں اور وہابی اسلام سے نہیں۔۔۔۔۔
ہاں بذات خود اسلام سے۔۔۔۔۔ میں نے اسلام کو سمجھنے میں کبھی غلطی نہیں کی، اسلام ایک مسئلہ ہے اور مسلمانوں کو اب یہ احساس ہوجانا چاہیے کہ اب اُن کے پاس دو ہی راستے ہیں یا تو بدل جائیں یا تباہ ہونے کے لیے تیار ہوجائیں۔۔۔۔ بلکہ حیرت تو یہ زہریلے جملے ادا کیے جانے والے مقام پر ہوئی جسے کہا تو ”صومعہ“ جاتا ہے اور جہاں لوگ عبادت کے لیے جمع ہوتے ہیں لیکن اُن اُگلے جملوں اور حسد سے اُبلتے قلوب نے یہ راز بھی فاش کردیا کہ سیدنا سلیمان علیہ السلام کے نام پر تعمیر کیے گئے ان صومعوں میں یہ درحقیقت کس شیطان کا ”مان“ رکھتے ہیں۔۔۔۔۔ اس چڑیل کا انجام تو یقیناً اللہ کی کتاب میں واضح ہے اور اُس نے اللہ کے رسول ﷺ کی شان میں گستاخی ۔۔۔۔۔ کہیں پہلے ”خدا جو نفرت کرتا ہے“(نعوذ باللہ )۔۔۔۔۔ نامی
کتاب لکھ کر شانِ الوہیت میں (معاذ اللہ) تحقیر کے ذریعے جہنم کے دروازے از خود کھول لیے ہیں۔ مگر میں یہاں مرحب کی موت سے کچھ دیر پہلے کا حال لکھ کر کالم اس دعا پر ختم کروں گا کہ ”اگر میری اس حال سے اس ”حال“ میں ذرہ برابر بھی نسبت ہے تو اللہ اپنے کرم سے اسے مکمل فرمائے (آمین)“...... سیرت النبی ﷺ کے موضوع پر قاضی محمد سلیمان منصور پوری کی مشہور زمانہ کتاب ”رحمۃ اللعالمین“ میں درج ہے کہ ...... ”حضرت علی مرتضیٰ نے قلعہ ناعم پر جنگ کی طرح ڈالی، مقابلے کے لیے قلعے کا مشہور سردار مرحب میدان میں نکلا، یہ اپنے آپ کو ہزار بہادروں کے برابر کہا کرتا تھا...... اس نے آتے ہی یہ رجز پڑھنا شروع کر دیا ”خیبر جانتا ہے کہ میں ہتھیار سجانے والا بہادر تجربہ کار مرحب ہوں، جب لوگوں کے ہوش اُڑ جاتے ہیں تو میں بہادری دکھایا کرتا ہوں“ جواباً حضرت عامرؓ نے کہا کہ ”خیبر جانتا ہے کہ میں ہتھیار چلانے میں اُستاد نبرد آزما تلخ ہوں، میرا نام عامر ہے“...... مرحب نے اُن پر تلوار سے وار کیا، عامرؓ نے اُسے ڈھال پر روکا اور مرحب کے حصہ زیریں وار چلایا، مگر اُن کی تلوار جو لمبائی میں چھوٹی تھی، اُن کے گھٹنے پر لگی اور وہ شہید ہو گئے...... ”مرحب کی موت صرف اور صرف سیدنا علیؓ کے ہاتھوں میں لکھی ہے، یہی ہوا اور یہی ہوگا...... مگر رن میں شیرِ خداؓ کی آمد سے قبل وقت کے ہر مرحب کو للکارنے کے لیے اسلام کے دامن میں ”عامروں“ کی کمی نہیں...... کل وہ میدان میں خود آئے تھے، آج اُن کے غلام موجود ہیں......!!!
۞......۞......۞
حافظ سجاد ستی
توہین قرآن کا ایک اور سانحہ......
کرہ ہوائی نچلی تہوں (زمین کے قریب) میں کثیف آبی قطرات کی موجودگی دھند کہلاتی ہے، جب نامساوی طور پر گرم شدہ ہوا سے اس کی کثافت مختلف ہوتی ہے تو روشنی کا غیر مساوی انعطاف واقع ہوتا ہے جس سے منظر دھندلا جاتا ہے۔ دھند عموماً صبح کے وقت چھاتی ہے اور اس کے چھا جانے سے دور دور تک کچھ نظر نہیں آتا ، ہوا میں جتنے خاکی ذرات زیادہ ہوں گے، اسی قدر دھند گہری ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بڑے بڑے صنعتی شہروں اور قصبوں میں اکثر دھند پیدا ہوتی ہے لیکن جوں جوں سورج نکلتا ہے تو دھند غائب ہو جاتی ہے۔
مغرب کی صنعتی ترقی نے مغرب کے اصل روپ کو دھند میں لپیٹ رکھا تھا اور مشرق پر اس کی صنعتی ترقی کی دھند ایسی چھائی کہ اس کے باسیوں کو دور دور تک کچھ نظر نہیں آ رہا تھا۔ مغرب پلٹ لوگ وہاں کے انصاف اور اقدار کا اس طرح تذکرہ کرتے کہ سننے والے اس میں محو ہو جاتے ،اپنے ملک اور اس میں جاری اقدار کو کوسنے دیتے، مسلمان ہو کر جھوٹ بولنا، ملاوٹ کرنا، وقت کی پابندی کا خیال نہ رکھنا، بے انصافی کرنا، دھوکا، فریب کاری کرنا اور رواداری و برداشت کا نہ ہونا، جبکہ مغرب میں سچ کے رواج ، خالص اشیا کا ملنا، وقت کے ضیاع سے بچنا، انصاف کی یقینی فراہمی اور معاملات کی صفائی کا تقابل کر کے مغرب کی برتری کے گن گائے جاتے اور مغرب کی مخالفت میں دلائل کے ساتھ کی جانے والی گفتگو کو بھی درخور اعتنا نہ سمجھا جاتا، مگر جب سے ”نائن الیون“ کا ”سورج“ طلوع ہوا ہے دھند یکسر چھٹ گئی ہے اور چیزیں اپنی اصلیت کے ساتھ نظر آنے لگی ہیں۔ اب سچ افغانستان سے عراق تک بول رہا ہے، کیمیاوی ہتھیاروں کی عراق میں موجودگی کے ”ثبوت“ ساری دنیا نے دیکھے، انصاف کا بول بالا بھی کسی سے ڈھکا چھپا نہیں، جس کے مناظر گوانتانامو بے سے ابوغریب تک ہر طرف نظر آ رہے ہیں، رواداری اور برداشت کی داستانیں 6x6 فٹ کی ان آہنی قبروں میں دیکھی جاسکتی
ہیں جو گوانتاناموبے کے عقوبت خانے کی پہچان ہے، قرآن مجید کو ٹھوکریں مارنا (نعوذ باللہ) اس پر کھڑا ہونا، اس پر غلاظت پھینکنا، غلاظت صاف کرنا اور اسے فلش میں بہانا، سب اسی رواداری کا مظہر ہیں۔ میجر جنرل جے ڈبلیو ہڈجس کا حال ہی میں (10 مئی کو) پاکستان میں تقرر منسوخ ہوا، امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ (4 جون 2005ء) کی خبر کے مطابق جنرل ہڈ گوانتانا موبے میں رواداری کے ان تمام مظاہر کے دوران انچارج کے فرائض انجام دے رہا تھا۔
ان دنوں ”رواداری“ کے ایک اور واقعے کی بازگشت عالمی میڈیا میں سنائی دے رہی ہے، جو بغداد کے نواحی علاقے رضوانیہ (RIDHVANIA) میں پیش آیا، ایک ملعون سارجنٹ جس کا تعلق امریکہ کی 64 ویں آرمرڈ رجمنٹ سے تھا اور وہ اس رجمنٹ کے اسنائپر گروپ کا سربراہ تھا، اپنی نشانہ بازی کی مشق کے دوران (نعوذ باللہ) قرآن پاک کے نسخے کو اپنی اسنائپر (دور مار) رائفل کی گولیوں کا ہدف بناتا۔ واقعہ کے شاہد مقامی قصبے رضوانیہ کے باشندے حاجی ابراہیم کا کہنا ہے:
”امریکی ملعون فوجی اپنی روز مرہ کی مشق کے دوران قرآن پاک کے نسخے کو اپنے کیمپ کے سامنے (نعوذ باللہ) بطور ہدف رکھ دیتا اور کئی سو میٹر فاصلے سے اس پر اپنی اسنائپر رائفل سے گولیاں برساتا، ابتدا میں ہم نے اس معاملے پر زیادہ غور نہیں کیا، کیونکہ قرآن مجید کا نسخہ عام افراد دیکھ نہیں پائے تھے، وہ اسے گتے کا ٹکڑا سمجھ رہے تھے۔ جب رضوانیہ کے پولیس اسٹیشن کے ملحقہ فائرنگ رینج کے اندر جانے کا موقع ملا اور سب نے دیکھا کہ عراقی فوجی قرآن پاک کو جس پر بے تحاشا گولیوں کے نشان تھے وہاں سے اٹھا رہے تھے۔“
امریکہ اور عالمی پریس کے نمائندوں نے ایک عراقی پولیس اہلکار کی جانب سے پیش کیے جانے والے قرآن پاک کے شہید نسخے کو ملاحظہ کر کے اعلیٰ حکام کو دکھایا، اس کے بعد امریکی حکام کو مطلع کیا گیا جنہوں نے ملٹری انویسٹی گیشن کے ذریعے اس کا فارنزک ٹیسٹ کیا۔ جس سے اس بات کا ثبوت مل گیا کہ اس نسخے پر امریکی فوجی نے ہی گولیاں چلائی ہیں۔ امریکی انویسٹی گیشن ٹیم کے سوال پر اسٹاف سارجنٹ نے کہا کہ اسے یہ معلوم نہ تھا کہ یہ کتاب قرآن پاک ہے۔ قرائن کی روشنی میں اس دعوے کو رد کر دیا گیا۔ رضوانیہ کے قبائلی رہنماؤں کو اس کا علم ہوا تو انہوں نے پولیس اسٹیشن اور امریکی فوجی کیمپ کے باہر مظاہرہ کیا، مذمتی بینر اٹھائے مظاہرین نے امریکہ کے خلاف اور قرآن کے حق میں نعرے لگائے۔
مظاہرین کا کہنا تھا کہ امریکی سارجنٹ کی طرف سے قرآن پاک کو نشانہ بنانے کا عمل اس بات کا اظہار ہے کہ امریکی ہمارے دین اسلام کے دشمن ہیں۔ مقامی قبائلی راہنما شیخ حمدی القرطانی نے اپنے خطاب میں کہا کہ امریکیوں کو ہمارے ملک سے نکل جانا چاہیے، کیونکہ وہ ہمارے دین اور قرآن کے دشمن ہیں۔
سوچنے کی بات یہ ہے کہ قرآن حکیم کی بے حرمتی اور نبی اکرم ﷺ کی توہین کے واقعات تسلسل کے ساتھ کیوں ہو رہے ہیں؟ اب تک ہونے والے تمام واقعات میں مغربی صحافی، مغربی سیاست دان، مغربی فوجی اور مغربی حکومتوں کے سوا کوئی ملوث نہیں۔ جب یہ سوال اٹھایا جاتا ہے کہ لوگ ہم سے کیوں نفرت کرتے ہیں تو پھر ان واقعات کو سامنے رکھنا ضروری ہوتا ہے، جب کسی دین، کتاب اور ان کے راہنما کی تضحیک اور توہین کی جائے گی تو اس سے محبت بڑھنے سے تو رہی، ایسے سانحات نفرت میں اضافہ ہی کریں گے۔ یہی رویہ مسلمانوں اور مغرب میں خلیج کا بڑا سبب ہے۔ اس کے مقابلے میں مسلم ممالک میں کہیں بھی تورات، انجیل اور زبور کی توہین کا کوئی ایک واقعہ بھی رونما نہیں ہوا، حالانکہ قرآن کے علاوہ کوئی آسمانی کتاب محفوظ نہیں، ان میں تحریف ہو چکی ہے، اس کے باوجود مسلمان انہیں آسمانی کتب سمجھتے ہیں، وہ ان کتب کی توہین کرنا تو درکنار ان کی توہین کا سوچ بھی نہیں سکتے، وجہ یہ ہے کہ تمام تر تنزل کے باوجود مسلمانوں میں رشتوں اور اقدار کا تقدس موجود ہے جبکہ مغرب تمام تر صنعتی اور مادی ترقی کے باوجود ان سے عاری ہے۔ مے خواری، بدکاری، سود خوری، عیش پرستی، مادہ پرستی، اغلام بازی اور الحاد نے پاکیزہ رشتوں کو بھی تار تار کر دیا ہے، اس کی مثال سو فیصد خواندگی کی شرح رکھنے والے ملک آسٹریلیا سے آنے والی وہ خبر ہے جس کے مطابق جوزف فرٹزل (باپ) نے اپنی سگی بیٹی ایلزبتھ کی 24 سال تک عصمت دری کی اور اس سے سات بچوں نے جنم لیا، جب انسانیت اور حیوانیت میں تمیز ختم ہو جائے تو ایسے لوگوں سے کیسے توقع کی جاسکتی ہے کہ وہ نبی کریم ﷺ اور قرآن کا احترام کریں گے۔ ”نائن الیون“ نے دوپہر کی کڑی دھوپ کی طرح مغرب کے چہرے پر جتنے غازے تھے وہ اتار پھینکے ہیں ۔
حسن کے چہرے پر جو غازہ ہے اتر جائے گا
ابوشراجیل
توہین رسالت ﷺ کی ایک اور ناپاک جسارت
کفر بپھرا پڑا ہے اور ہر محاذ پر حملہ آور ہے۔ مسلمانان عالم ابتلا و آزمائش کے تکلیف دہ مرحلوں سے دوچار ہیں۔ ایک طرف خون ناحق بہہ رہا ہے تو دوسری طرف دین اسلام کے بنیادی عقائد، شعائر دینیہ اور مقدس شخصیات بالخصوص سرور دو عالم ﷺ کی ذات والا صفات یہود و نصاریٰ کی توہین و تضحیک آمیز مہم کی زد میں ہے۔ اہل اسلام کے خلاف جاری اس فکری، نظریاتی اور حربی جنگ میں امریکہ، برطانیہ کلیدی کردار ادا کر رہے ہیں۔ دنیا کی کوئی اسلامی مملکت بھی ان کی یلغار سے خالی نہیں۔ چند روز پہلے امریکی ٹیلی ویژن ”سی این این“ اور برطانوی ٹی وی ”بی بی سی“ پر ایک ایسی اندوہناک خبر سننے کو ملی ہے جس نے عالم اسلام کے غیور مسلمانوں کو ایک بار پھر شدید رنج و غم سے دوچار کردیا ہے۔ ”مورلن گبون“ (Morlin Gibbone) نامی ایک بدبخت برطانوی خاتون نے جو ”سوڈان“ میں قائم برطانوی مشنری سکول میں بطور استاد تعینات ہے، توہین رسالت ﷺ کی مرتکب ہوئی ہے۔ 27 نومبر کو ملنے والی اطلاعات کے مطابق ”مورلن گبون“ نے طلبا سے ”ٹیڈی بیئر“ (ریچھ کے بچے) کا نام رکھنے کی فرمائش کی اور پھر معاذ اللہ سرور دو عالم ﷺ کی ذات والا صفات کا اسم گرامی منسوب کرنے کی جسارت کی۔ واضح رہے کہ اس مشنری سکول میں دیگر اسلامی ممالک کی طرح مسلم طلبا کی ایک بڑی تعداد زیر تعلیم ہے جنہوں نے اس واقعہ کا تذکرہ اپنے والدین سے کیا جن کے شدید احتجاج پر توہین رسالت ﷺ کے شرمناک واقعہ کی تفصیلات حکومت سوڈان تک پہنچائی گئیں اور حکومت سوڈان نے فوری طور پر ملعون استانی کو گرفتار کیا اور اس کے خلاف قوانین کے مطابق توہین رسالت ﷺ کا مقدمہ درج کرلیا گیا۔ امریکی و مغربی ذرائع ابلاغ اس گستاخ رسول کی گرفتاری پر جو مذموم تبصرے اور تجزیے پیش کر رہے ہیں، وہ اپنی جگہ اسلام دشمنی کا کھلا تاثر پیش کرتے ہیں۔ برطانوی اخبارات ”مورلن گبون“ کی بڑی بڑی تصاویر کے ساتھ معاملہ کو اچھال
رہے ہیں۔ معروف برطانوی اخبار ”The Sun“ میں It's terrible mistake. She is 100% Innocent. School Boss Defends Teacher Facing Lash. کے عنوان سے پورے صفحہ کا مضمون اس کی حمایت و صفائی میں شائع کیا گیا ہے ”گیون“ کے حامیوں کا کہنا ہے کہ وہ ایک سیدھی سادی استاد ہے جو بچوں کو بڑی توجہ سے پڑھانے کا فریضہ انجام دیتی رہی ہے اس کے بارے میں آج تک اسلام یا مسلمانوں کے خلاف اس قسم کا متعصب رویہ اختیار کرنے کی کوئی شکایت نہیں ملی۔ یہ واقعہ یقیناً مسلمانوں کے لیے ناقابل برداشت ہوگا لیکن ”مورلن گیون“ اس میں سو فیصد بے گناہ ہے، اس نے شاید سوال و جواب کے دوران مذاق میں کوئی ایسا جملہ کہہ دیا ہوگا ورنہ دانستہ طور پر توہین رسالت ﷺ کا اس کا کوئی ارادہ نہیں تھا۔ یہ ایک تکلیف دہ غلطی ہے۔ تاہم خاتون استاد سو فیصد بے قصور ہے، یاد رہے کہ سوڈانی قانون کے مطابق توہین رسالت ﷺ کے جرم میں کم از کم 40 سال قید یا سزائے موت ہو سکتی ہے۔ سوڈان میں اس وقت شدید عوامی مظاہرے جاری ہیں اور گستاخ رسول ﷺ کو سزائے موت دینے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے لیکن دوسری طرف امریکی و برطانوی حکومتیں سوڈان پر دباؤ ڈال رہی ہیں کہ وہ ”مورلن گیون“ کو معافی دے کر رہا کر دے تاکہ وہ اپنے وطن لوٹ سکے۔ ”مورلن گیون“ کے ایک کالج فیلو ”رک وڈوسن“ (Rick Wodowson) کا کہنا کہ ”مورلن“ کو اتنی بڑی سزا نہیں ملنی چاہیے، وہ ایک اچھی خاتون اور تعلیم سے محبت کرنے والی استاد ہے، اگر ایسا کوئی واقعہ ہوا بھی ہے تو اس پر شدید ردعمل نہیں ہونا چاہیے، ایک اور برطانوی اخبار نے ”مورلن گیون“ کی تصویر کے ساتھ پورے صفحہ پر اس عنوان سے مضمون شائع کیا ہے۔ Teddy Bear Teacher Faces Lashes for Insulting Islam مضمون نگار نے ”مورلن گیون“ کو بے گناہ ثابت کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ایسے انتہا پسندانہ رویوں کی وجہ سے ہی اہل مغرب کو مسلمانوں سے شکایات ہیں۔ ”مورلن گیون“ نے دانستہ کسی کا مذاق نہیں اڑایا نہ کسی کی توہین کی۔ اس نے از راہ مذاق بچوں کے سامنے ٹیڈی بیئر کا نام رکھا تھا۔ ورنہ اس کی کوئی غلط سوچ نہیں تھی۔ ادھر سوڈان میں ایک طالب علم رہنما ابوبکر عبداللہ نے احتجاجی مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے اس
واقعہ کو مغرب کی واضح اسلام دشمنی کا نمونہ قرار دیا ہے۔ ابوبکر عبداللہ نے مزید کہا کہ سوڈان کے خلاف ڈارفر کے علاقہ میں امریکی و برطانوی سرپرستی میں ہونے والی عیسائیوں کی شر انگیزی اور پھر اہل اسلام اور اسلامی ممالک کے خلاف کھلی جنگ ہے۔ ابوبکر عبداللہ نے حکومت سوڈان سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ توہین رسالت ﷺ کی مرتکب عیسائی ٹیچر ”مورلن گیون“ کو قانون کے مطابق سخت سے سخت سزا دے اور اس حوالہ سے کسی قسم کے عالمی دباؤ کو خاطر میں نہ لایا جائے۔ یہ عجیب بات ہے کہ توہین رسالت ﷺ کے تمام واقعات میں ملوث افراد کو امریکہ اور برطانیہ سمیت دیگر یورپی ممالک کی مکمل حمایت حاصل ہو جاتی ہے حالانکہ وہ ایک ایسی شخصیت کے خلاف ہرزہ سرائی یا کسی دوسرے عمل سے توہین کے مرتکب ہوتے ہیں جو پونے دو ارب مسلمانوں کے نزدیک کائنات کی سب سے محترم و مکرم شخصیت ہیں۔ بھارتی نژاد سلمان رشدی، بنگلہ دیشی تسلیمہ نسرین، ہالینڈ کے وان گوخ، صومالیہ کی آیان ہرسی علی، ڈنمارک اور سویڈن کے جیلنڈز پوسٹن کے کارٹونسٹوں، پروفیسر جرم کے علاوہ امریکہ میں خاتون امام مسجد بننے والی امینہ داؤد سمیت دیگر کئی ابلیس فطرت لوگوں کو توہین رسالت ﷺ کا مرتکب ہونے پر سرکاری پروٹوکول اور تحفظات مہیا کیے گئے ہیں۔ جو بجائے خود اسلام اور مسلمان دشمنی کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔ اہل اسلام کی بدبختی یہ ہے کہ وہ ایسے حاکموں کے زیر نگیں ہیں جو اپنی تمام تر وفاداریاں اہل کفر کو سونپ چکے ہیں اور اب ایک طرح سے ان کے آلۂ کار بنے مسلمانوں پر مظالم ڈھانے میں برابر کے شریک ہیں۔
اس قسم کے واقعات پر جب دینی غیرت و حمیت سے سرشار مسلمان احتجاج کرتے ہیں تو انہیں لاٹھی گولی سے دبانے کی کوشش کی جاتی ہے اور بعض کو انتہا پسندی، دہشت گردی اور عسکریت پسندی کے الزامات کے تحت ذلیل و رسوا کر کے معاشرے میں اچھوت بنانے کے ساتھ ساتھ انہیں پابند سلاسل کر دیا جاتا ہے لیکن کسی اسلامی مملکت کی جانب سے ان دریدہ دہنوں کے خلاف عالمی برادری سے حکومتی سطح پر کوئی احتجاج یا سد باب کا مطالبہ نہیں کیا جاتا۔ یہ ایک ایسی افسوسناک صورت حال ہے جس کا خاتمہ صرف اجتماعی جدوجہد سے ہی کیا جاسکتا ہے بصورت دیگر اہل کفر کی دست درازیوں اور دریدہ دہنی میں اضافہ ہوتا چلا جائے گا۔
حافظ سجاد ستی
بیت اللہ، اللہ کا گھر ہے۔ اسے بیت العتیق بھی کہتے ہیں، جس کے معنی پرانا اور قدیم گھر کے ہیں۔ اسے کعبہ بھی کہا جاتا ہے، یہ مسجد الحرام کے وسط میں ایک چوکور عمارت ہے جو مختلف سائز کے ہلکے نیلے رنگ کے بڑے پتھروں سے تعمیر کی گئی ہے اس میں ایک دروازہ ہے جو حرم شریف کی عام سطح سے 7 فٹ بلند ہے۔ بیت اللہ عبادت الٰہی کے لیے دنیا کا سب سے پہلا مقام ہے جسے حضرت آدم علیہ السلام نے تعمیر کیا، طوفانِ نوح سے بیت اللہ کو نقصان پہنچا تو اللہ کے حکم سے حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنے بیٹے حضرت اسماعیل کے ساتھ مل کر اس کی دوبارہ تعمیر کی۔ حضرت اسماعیل علیہ السلام کے انتقال کے بعد کعبہ ایک ہزار سال تک قبیلہ بنو جرہم کی تولیت میں رہا، اس کے بعد بنو خزاعہ 300 برس تک اس کے متولی رہے، اس دوران کعبہ دو بار بارشوں سے منہدم ہوا اور قصی بن کلاب نے اسے تعمیر کیا۔ اس تعمیر تک کعبہ پر کوئی چھت نہ تھی، اب چھت بھی ڈالی گئی۔ قصی کے زمانہ سے کعبہ کی تولیت قریش کے پاس آئی جو تاحال جاری ہے۔ بعثت نبویؐ سے قبل جب ایک عورت نے کعبہ کو دھونی دی تو ایک شرارہ نے کعبہ کے غلاف کو آگ لگا دی جس سے کعبہ کی عمارت کو نقصان پہنچا۔ قریش نے کعبہ کی تعمیر نو کے لیے حلال آمدنی کی شرط لگائی تو حلال آمدن کم ہونے کی وجہ سے ایک طرف سے چھ ہاتھ کے قریب چھوڑ دیا کہ بعد میں تعمیر کرلیں گے لیکن وہ ایسا نہ کر سکے۔ نبی اکرم ﷺ کی خواہش تھی کہ اسے تعمیر ابراہیمی کے مطابق بنائیں مگر بوجوہ ایسا نہ کر سکے۔ جب یزید کے عہد میں حصین بن نمیر نے عبداللہ بن زبیرؓ کو راستے سے ہٹانے کے لیے مسجد حرام پر منجنیق سے آگ برسائی تو دھماکوں سے خانہ کعبہ کی دیوار کا کچھ حصہ گرا اور چھت کی لکڑیاں جل گئیں۔ یزید کی موت پر جب افواج واپس چلی گئیں تو عبداللہ بن زبیرؓ نے تمام دیواروں کو گرایا، جب حضرت ابراہیم علیہ السلام کی بنیاد ظاہر ہوئی تو اس بنیاد پر کعبہ کی تعمیر ہوئی۔ جو
زمین پہلے باہر رہ گئی تھی اسے خانہ کعبہ میں داخل کر کے خواہش نبوی کو عملی جامہ پہنایا۔ اس کے بعد حجاج بن یوسف نے کعبہ کی تعمیر کی۔ آخری بار سلاطین آل عثمان میں سے سلطان مراد چہارم نے 1040ھ میں کعبہ کی تعمیر کی۔ بعد کے ادوار میں کعبہ کی مرمت اور حرم شریف کی توسیع میں مختلف مسلمان خلفا اور بادشاہوں نے حصہ لیا۔ توریت میں اسے ”بیت جمیل“ کہا گیا ہے۔ قرآن مجید کے مطابق ”سب سے پہلا گھر جو لوگوں ( کی عبادت) کے لیے بنایا گیا، وہ جو مکہ میں ہے، برکت والا اور سب جہانوں کے لیے ہدایت کا ذریعہ ہے ۔“ (آل عمران : 96) بیت اللہ مسلمانوں کا سب سے مقدس ترین مقام اور قبلہ ہے اور جس کی طرف مسلمان رُخ کر کے بارگاہ الٰہی میں سجدہ ریز ہوتے ہیں۔ کعبہ جس شہر میں واقع ہے، وہ مکہ معظمہ کہلاتا ہے۔ یہ سعودی عرب کا اہم ترین شہر ہے جو جدہ سے 80 کلو میٹر دوری پر واقع ہے۔ اس کی آبادی (2000ء) ساڑھے آٹھ لاکھ کے لگ بھگ ہے۔ یہاں ہر سال لاکھوں مسلمان اسلام کے ارکان میں سے اہم رکن حج کی ادائیگی کے لیے جاتے ہیں۔ قرآن مجید میں اس شہر کا ذکر مختلف انداز میں کئی مقامات پر آیا ہے، کہیں اس شہر کی قسم اٹھائی گئی، کسی جگہ اسے بلدالامین (امن والا شہر) کہا گیا ، کسی مقام پر اسے ”بکۃ“ (آل عمران) کے نام سے یاد کیا گیا ہے۔ بائبل میں تحریفات کے باوجود اللہ کی قدرت ہے کہ وادیٔ مکہ کا ذکر رہ گیا، اس میں بھی مکہ کو بکہ کے نام سے لکھا گیا ہے کہ ”وہ بکہ کی وادی میں گزرتے ہوئے اسے ایک کنواں بناتے ۔“ (زبور ۔ 6:84) بائبل کے قدیم مترجمین اپنی تحریف کی عادت مستمرہ کے مطابق بکہ کو علم کی بجائے اسم نکرہ قرار دے کر اس کا ترجمہ رونے والی وادی کرتے رہے، صدیوں بعد انہیں اپنی غلطی ماننی پڑی، اب جیوش انسائیکلو پیڈیا میں یہ اقرار ہے کہ یہ ایک مخصوص بے آب وادی کا نام ہے۔ (جیوش 415 ، جلد 2۔ بحوالہ تفسیر ماجدی۔ ص 146)
قرآن مجید میں جہاں سورۂ ابراہیم میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کی دعاؤں کا ذکر ہے ان میں ایک دعا یہ ہے: ”اے میرے پروردگار ! میں نے اپنی کچھ اولاد کو ایک بے آب و گیاہ وادی میں ٹھہرایا ہے تیرے محترم گھر کے قریب ۔“ (آیت نمبر 37) بائبل میں بے آب و گیاہ وادی مکہ کا تذکرہ قرآن کے اس بیان کی تصدیق کر رہا ہے۔ انبیائے اسرائیل بھی حج کے لیے اپنے اپنے زمانوں میں بیت اللہ تشریف لاتے رہے، نبی اکرم ﷺ کی ولادت بھی اسی شہر مکہ میں ہوئی۔ نبی اکرم ﷺ کی بعثت تک تقریباً اڑھائی ہزار سال کے عرصہ تک (خانہ کعبہ
کی وجہ سے) مکہ مکرمہ کو عزت وتکریم کا مرتبہ حاصل رہا ہے۔ جسے بھی خانہ کعبہ کی تولیت ملی اسے عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا۔ خاندان قریش کو بھی جزیرۃ العرب میں اسی تولیت کے باعث ایک خصوصی عظمت حاصل تھی۔ حضرت اسماعیل علیہ السلام کی اولاد میں سے فہر بن مالک نے قریش کا لقب اختیار کر کے خاندان قریش کی بنیاد ڈالی۔ رسول اللہ ﷺ اسی قبیلہ قریش کے ایک خاندان بنو ہاشم میں پیدا ہوئے۔
رسول اکرم ﷺ کی ولادت سے کچھ عرصہ پیشتر 571ء میں ہاتھیوں کے ایک لشکر نے مکہ کا رخ کیا جو حبشہ (ایتھوپیا) سے آیا تھا۔ ایتھوپیا شمال مشرقی افریقہ کا ایک ملک ہے۔ چوتھی صدی عیسوی میں یہاں کے قبطی حکمران نے عیسائیت اختیار کی۔ کفار مکہ نے جب مسلمانوں پر عرصہ حیات تنگ کیا تو مسلمانوں کی ایک جماعت نے حکم نبوی پر حبشہ کی طرف ہجرت کی جو تاریخ میں ہجرت حبشہ کے نام سے یاد کی جاتی ہے۔ نجاشی شاہ حبشہ نے مسلم مہاجرین کے ساتھ بہت اچھا سلوک کیا۔ حضرت جعفر طیارؓ نے مہاجرین کی قیادت کرتے ہوئے شاہ حبشہ کے دربار میں ایسی دلفریب تقریر کی جو ادب کا شہ پارہ اور اسلام کا خلاصہ تصور کی جاتی ہے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے متعلق سورۂ مریم کی روشنی میں اسلام کے افکار کی وضاحت فرمائی۔ ابرہہ کا تعلق اسی حبشہ (ایتھوپیا) سے تھا، وہ ایک بازنطینی تاجر کا عیسائی غلام تھا۔ حادثاتی طور پر وہ فوج میں گیا اور اپنی بہادری کے سبب کمانڈر بن گیا۔ جب شاہ حبشہ نے 525ء میں مسیحی شہنشاہ قسطنطنیہ کے ایما پر یمن اس لیے فوج بھیجی کہ وہاں کے یہودی بادشاہ ذونواس نے نجران کے عیسائیوں کو آگ میں جلایا تھا۔ لہٰذا ابرہہ کو ایک لشکر دے کر یمن روانہ کیا گیا جس نے یمن کو فتح کیا۔ بعد ازاں شاہ حبشہ کے مقرر کردہ حاکم سمیفع کو قتل کرنے کے بعد ابرہہ یمن کا حکمران بن گیا۔ پہلے اس نے خود کو عذلی (نائب السلطنت) قرار دیا پھر علی ملکن (جلالۃ الملک) کے لقب سے خود کو ملقب کیا۔
ابرہہ نے ایران کے خلاف بھی کئی مہمیں شروع کیں۔ ابرہہ نے صنعا (Sana,a) (جو کہ آج کل شمالی یمن کا دارالحکومت ہے) میں جابجا گرجے تعمیر کرائے اور ایک بڑا عظیم الشان گرجا ”القلیس“ بنوایا تاکہ خانہ کعبہ کی عظمت کو کم کر کے اسے مرکزی عبادت گاہ کا درجہ دیا جاسکے اور لوگ بیت اللہ کی بجائے اس کا رخ کریں مگر اہل عرب نے اس طرف کوئی توجہ نہ دی۔ تب اس نے کعبہ کو منہدم کرنے کے لیے کعبہ پر چڑھائی کا ارادہ کیا۔ ابن اسحاق کے مطابق اس نے شاہ
حبشہ کو لکھا ”میں عربوں کا حج کعبہ سے اس کلیسا کی طرف موڑے بغیر نہ رہوں گا۔“ اس پر عرب مشتعل ہو گئے تو اس نے قسم اٹھائی کہ وہ اب کعبہ کو گرائے بغیر دم نہیں لے گا۔ چنانچہ وہ 60 ہزار فوج لے کر روانہ ہوا، جس میں تیرہ ہاتھی بھی تھے۔ جب وہ طائف کے نزدیک پہنچا تو ایک شخص ابورغال نے جس کا تعلق بنوثقیف سے تھا، مکہ کی طرف اس کی رہنمائی کی، مکہ سے تین کوس کے فاصلے پر ابورغال مر گیا ، عرب ابورغال کی قبر پر نفرت سے سنگ باری کرتے ہیں۔ ابرہہ نے ایک قاصد کے ذریعے اہل مکہ کو پیغام دیا کہ میں تمہارے ساتھ لڑنے نہیں صرف کعبہ کو گرانے آیا ہوں۔ حضور اکرم ﷺ کے دادا حضرت عبدالمطلب نے جو اس وقت مکہ کے سردار تھے، ابرہہ کو اس کام سے باز رکھنے کی کوشش کی لیکن ناکام رہے۔ ابرہہ نے عبدالمطلب کے اونٹ اپنے سپاہیوں کے ذریعے ہانک لیے، وہ ابرہہ کے پاس گئے اور اونٹوں کا مطالبہ کیا تو کہا گیا کہ آپ کو متولی کعبہ ہونے کی وجہ سے کعبہ کی فکر کرنی چاہیے تھی مگر آپ تو اپنے اونٹوں کے لیے فکرمند ہیں؟ عبدالمطلب نے فرمایا ”میں اونٹوں کا مالک ہوں۔ لہٰذا ان کی فکر کرتا ہوں اور جو اس گھر کا مالک ہے وہ اس کی حفاظت پر قادر ہے۔“ عبدالمطلب واپس تشریف لائے تو در کعبہ کو پکڑ کر یہ دعا مانگی ”اے اللہ! بندہ اپنے گھر کی حفاظت کرتا ہے تو بھی اپنے گھر کی حفاظت فرما، ہم ابرہہ سے لڑنے کی طاقت نہیں رکھتے ۔“ وہی ضعف و ناتوانی آج مسلم امہ کا مقدر ہے۔ مسلم قائدین وقت کے ابرہہ کے ہم رکاب ہیں اور بے طاقتی کا یہ عالم ہے۔
ہوئے ناتواں ایسے کہ جینا بھی بھاری ہے
ابابیل ایک چھوٹا سا پرندہ جس کے پر سیاہی مائل نیلگوں، سینہ سفید، پیشانی اور گلا سرخی مائل چھوٹی سیاہ چونچ، بازو بڑے اور دُم لمبی، تقریباً تمام دنیا میں پایا جاتا ہے۔ مٹی کا گھونسلہ چھجے سے باہر لٹکتا ہے، شدید سردی میں نقل مکانی کر کے مرطوب علاقوں کا رخ کرتا ہے، فضا میں اڑتے ہوئے کیڑے مکوڑے کھاتا ہے۔ قرآن مجید میں سورۃ الفیل میں ”طیراً ابابیل“ کے الفاظ استعمال ہوئے ہیں، اس لیے عموماً اردو دان طبقہ ابابیل اس خاص پرندے کو سمجھتا ہے جس کا تذکرہ سطور بالا میں ہوا۔ مولانا عبدالماجد دریا آبادی فرماتے ہیں۔ قرآن مجید میں لغت قریش سے باہر کے لفظ بہت کم آتے ہیں جو معدودے چند آئے ہیں، ان میں سے ایک لفظ ابابیل ہے جس کے معنی جھنڈ کے ہیں۔ یعنی پرندوں کے بہت سے گروہ
جو پے در پے مختلف سمتوں سے آئیں، ان پرندوں سے مخصوص ”ابابیل“ مراد ہوں یا مختلف پرندوں کے گروہ اس بات پر سب کا اتفاق کیا ہے کہ ان کی چونچوں میں ایک ایک اور پنجوں میں دو دو کنکر تھے۔ وہ مٹر کے چھوٹے دانے یا چلغوزے کے برابر تھے، پرندوں کے یہ غول یا ٹڈی دل بحر احمر کی طرف سے آئے۔
فیل ہاتھی کو کہا جاتا ہے، عربوں نے کسی جنگی لشکر میں پہلی بار ہاتھیوں کو دیکھا تھا۔ اس لیے انہوں نے اس لشکر کو اصحاب الفیل (ہاتھی والے) اس سال کو عام الفیل (ہاتھی کا سال) قرار دیا۔ سورۃ الفیل قرآن مجید کی 105 ویں سورت ہے، یہ مکہ معظمہ میں نازل ہوئی، اس سورت میں ابرہہ کی فوج کشی کے اس تاریخی واقعہ کا ذکر ان الفاظ میں کیا گیا ہے۔
”کیا آپ کو معلوم نہیں کہ آپ کے پروردگار نے ہاتھی والوں کے ساتھ کیا معاملہ کیا، کیا ہم نے ان کا داؤ بالکل الٹ نہیں دیا اور ان پر جھنڈ کے جھنڈ پرندے بھیجے جو ان پر کنکریاں پھینکتے تھے پھر ان کو کھائے ہوئے بھوسہ کی طرح کر دیا۔“
ہوا یہ کہ حضرت عبدالمطلب نے کعبہ کا دروازہ پکڑ کر پروردگار کے سامنے اپنی کمزوری اور ناتوانی کا اظہار کیا، بیت اللہ کی حفاظت کی درخواست کی اور پھر اپنے ساتھیوں کے ساتھ پہاڑوں پر چلے گئے، دوسرے دن ابرہہ مکہ میں داخل ہونے کے لیے بڑھا تو اس کا ہاتھی جس کا نام ابن ہشام کے مطابق، محمود تھا یکا یک بیٹھ گیا، اسے مارا گیا مگر وہ نہ ہلا، اتنے میں پرندوں نے یکبارگی کنکروں سے ابرہہ کے لشکر پر حملہ کر دیا۔ وہ کنکریاں جسے لگ جاتیں اس کا بدن پھٹ جاتا اور وہ تڑپ تڑپ کر مر جاتا۔ یوں ابرہہ اور اس کی فوج تباہ و برباد ہو گئی، ابرہہ بھی بھاگا لیکن وہ بھی موت سے نہ بچ سکا۔
یہ واقعہ رسول اللہ ﷺ کی ولادت سے 50, 55 روز پہلے کا ہے۔ یہ واقعہ اپنی تفصیلات کے ساتھ اس دور کے مورخین نے محفوظ کیا البتہ عیسائی مورخین اور مستشرقین لکھتے ہیں کہ واقعہ صرف یہ ہے کہ ابرہہ رومیوں کی مدد کے لیے فوج لے کر نکلا، راستے میں اس کی فوج چیچک کی وبا کا شکار ہو کر برباد ہوئی۔ تاریخ یہ بھی بتاتی ہے کہ صرف ابرہہ کا لشکر ہی تباہ نہیں ہوا بلکہ چار سال کے اندر حبشہ اور یمن کی حکومت بھی ختم ہو گئی۔ ابرہہ کی فوج جہاں تباہ ہوئی، وہ وادی محسر کہلاتی ہے۔ اس واقعے کا قریش پر اثر ہوا کہ حضرت زبیر بن عوام فرماتے ہیں کہ کعبہ میں 360 بتوں کی تنصیب کے باوجود حضور اکرم ﷺ کے فرمان کے مطابق
”قریش نے دس سال تک اللہ وحدہ لاشریک کے سوا کسی کی عبادت نہ کی۔“
اس وقت ابرہہ کے فرزند ایک بار پھر اپنی طاقت اور قوت کے نشے میں مخمور بیت اللہ پر یلغار کرنے کی دھمکیاں دے رہے ہیں تو اس میں اچنبھے کی کوئی بات نہیں۔ ابلیس اور اس کے گماشتوں کی نظروں میں ہمیشہ بیت اللہ خار کی طرح کھٹکتا رہا۔ وہ ہمہ وقت اس کوشش میں مصروف رہے کہ مسلمانوں کے مقامات مقدسہ کو نقصان پہنچایا جائے۔ اس کے لیے عیسائی حکمران نہ صرف خود کوشاں رہے بلکہ انہوں نے دوسروں کو بھی استعمال کرنے کی بھرپور مساعی کیں لیکن اللہ نے ان کی ہر کوشش کو ناکام بنا دیا۔ فتنہ تاتار سے ہر ذی شعور واقف ہے، چنگیز خان نے سروں کے مینار بنائے اور 84 لاکھ انسانوں کا قتل عام کیا۔ ہلاکو خان، چنگیز خان کا پوتا تھا، اپنے بڑے بھائی منگو قاآن کے حکم سے ایران پر حملہ کیا اور ایران پر قبضہ کر کے ایل خانی خاندان کی سلطنت کی بنیاد رکھی۔ 1256ء میں حسن بن صباح (حشیشین فرقہ کے بانی) کے قلعہ الموت کو ہلاکو خان نے فتح کیا، جن سے ان کی سیاسی قوت مکمل طور پر ختم ہوگئی۔ 1258ء میں ہلاکو خان نے ایک لاکھ فوج کے ساتھ بغداد پر حملہ کر کے اس پر قبضہ کر لیا اور اسے تاخت و تاراج کر ڈالا۔ مسلم مورخین کے مطابق 20 لاکھ مسلمان، مرد و زن، بچے اور بوڑھے قتل کیے گئے۔ یوں منگولیا سے چنگیز خان کی شکل میں عالم اسلام کی پکی ہوئی کھیتی کو اجاڑنے کے لیے جو زرد و گرم طوفان اٹھا وہ ہلاکو کی صورت میں خوفناک اور خونبار آندھی بن چکا تھا کہ جہاں سے گزرے راکھ اور کھنڈر عقب میں چھوڑتی جائے، یورپ کے صلیبیوں نے ہلاکو خان کو زیر دام لانے کے لیے ایک عیسائی عورت کو اس کے حرم میں داخل کر دیا، اس نے اپنی دلربا اداؤں سے اس کا دل مٹھی میں کیا اور پھر اس کی خواہش پر ہلاکو خان نے اسلامی طاقت کو مٹانے کا عزم کیا۔
مسیحی، مسلمانوں سے صلیبی جنگوں میں اپنی ہزیمت کا بدلہ چکانا چاہتے تھے، یورپی اقوام اور پاپائے روم نے ہلاکو خان کو مسلسل کمک فراہم کی اور بغداد پر حملے کے وقت عیسائی فوجی، تاتاریوں کے شانہ بشانہ مسلمانوں کے قتل عام اور لوٹ مار میں شریک تھے، دریائے دجلہ خون سے سرخ ہو گیا، نسطوری عیسائیوں نے جو ہلاکو خان کے ہمرکاب تھے، اسلامی خلافت کے مرکز کو تباہ کرنے کے بعد طاقت کے طوفان کو مکہ معظمہ اور مدینہ منورہ کی طرف موڑا، خلیفہ وقت مستعصم باللہ کو قتل کرنے کے بعد ہلاکو اگلے مشن خانہ کعبہ کو مسمار کرنے کی
طرف بڑھا، وہ عیسائیوں کا پڑھایا ہوا یہ آموختہ دہرا رہا تھا کہ ”مسلمانوں کے قبلہ کو مسمار کرنے کے بعد میں ان کا (نعوذباللہ) خدا ہو جاؤں گا ۔“ بظاہر میدان اس کے لیے صاف تھا اس کے ابلیسی عزم کے سامنے کھڑی ہونے والی کوئی قوت موجود نہ تھی، صرف ایک مصری حکومت تھی مگر وہ بھی انتشار کے باعث اس سیلاب بلا کو روکنے کی طاقت اسباب کی دنیا میں نہیں رکھتی تھی مگر اللہ نے ایک آنکھ سے محروم بازار سے خریدے گئے غلام رکن الدین بیبرس اول (1233-1277ء) جسے اس دعوے کے سبب کہ وہ تاتاریوں کو شکست دے سکتا ہے، استہزا کا نشانہ بنایا جاتا تھا، اس غلام سے وہ کام لیا جو بڑے بڑے حکمران نہ کر سکے۔
1260ء میں عین جالوت کی جنگ میں ہلاکو کو شکست فاش دی، وہ صرف 17 برس حکمران رہا، بیبرس نے تاتاریوں کو 9 بار، صلیبی مہم جوؤں کو 21 بار بری طرح ہزیمت دی پھر عباسی خاندان کے ایک شہزادے کو قاہرہ میں خلیفہ بنا کر مسند خلافت از سر نو قائم کر دی اور خلافت کا یہ سلسلہ 1517ء تک قائم رہا۔ بیبرس کی فتوحات نے نہ صرف یورش تاتار کا قلع قمع کیا بلکہ صلیبیوں کی بھی کمر توڑ کر رکھ دی۔ حرمین شریفین کے خلاف ان کے مذموم اور ناپاک ارادے خاک میں مل گئے، ابرہہ کی فوج کی طرح ہلاکو خان اور صلیبی افواج کے ہاتھ ناکامی و نامرادی کے سوا کچھ بھی نہ آیا۔ چنگیز خان کے پوتے برکائی خان نے اسلام قبول کیا تو اس نے 1262ء میں ہلاکو خان کو ایسی شکست دی کہ وہ اسی صدمے سے چل بسا۔ ابرہہ کی طرح تاتاری لشکر بھی تباہ و برباد ہوا اور ان کی عظمت کا آفتاب بھی غروب ہو گیا۔ امت مسلمہ پر اگر ایک طرف صلیبی یلغار کر رہے ہیں تو دوسری طرف عملیت پسندی اور اعتدال پسندی کے نام پر ہمارے روشن خیال کالم نگار طنزیہ انداز میں قلمی ابکائیاں کر رہے ہیں کہ امریکہ کی طاقت اور قوت لامتناہی کے مقابلے میں مسلمان ابابیلوں کا انتظار کر رہے ہیں لیکن تاریخ شاہد ہے کہ اسلام کے مقدس مقامات پر حملے کی باتیں کرنے والوں کی راہ روکنے کے لیے اللہ نے ایسا بندوبست کیا کہ وہ بے بسی کی تصویر بن گئے۔ تاتاریوں کو اللہ نے اسلام کے دامن سے وابستہ کر کے اسلام کی فتح کے جھنڈے گاڑنے پر مامور کیا۔ یورپ اور امریکہ میں اسلام کی تیزی سے مقبولیت امید ہے کہ ایسا ہی منظر تخلیق کرے گی:
پاسباں مل گئے کعبے کو صنم خانے سے
حافظ سجاد ستی
دور حیات آئے گا ”قاتل“ قضا کے بعد
کولوریڈو (COLORADO) ریاستہائے متحدہ امریکہ کی پچاس ریاستوں میں سے ایک ہے جو مغربی امریکہ میں واقع ہے۔ کولوریڈو 1876ء میں 38ویں ریاست کی حیثیت سے امریکہ میں شامل ہوئی۔ یہ ریاست 104,242 مربع میل علاقے پر مشتمل ہے۔ اس کی آبادی ساڑھے تیس لاکھ نفوس سے زائد ہے اس کا دارالحکومت ڈینور ہے۔ دوسرے بڑے شہر پویبلو، کالوراڈو اور بولڈر ہیں۔ زرعی اجناس آلو، شکر قندی اور پھل ، معدنیات میں کوئلہ، یورینیم، ریڈیم، مولیڈینیم، وینیڈیم، سونا چاندی یہاں پائے جاتے ہیں۔ کولوریڈو سیاحت کے اعتبار سے اہم ہے۔ دلچسپی کے مقامات پائکس پیک (کوہستان راکی کا نیشنل پارک) میساورڈ، نیشنل پارک، 14 قومی یادگاریں، سنٹرل کالوراڈو پلیٹ آرکنسو اور ریور گرینٹ، تمام دریا پہاڑوں سے نکلتے ہیں۔ سونے کی دریافت (1809ء) کے بعد کولوریڈو کو بہت عروج حاصل ہوا۔ زراعت کے فروغ اور قدرتی وسائل کو استعمال کرنے کے لیے آبی اور برقی وسائل کو بہت ترقی دی گئی ہے۔
ٹام ٹین کریڈو کی 20 ستمبر 1945 کو اسی ریاست کولوریڈو کے دارالحکومت ڈینور (DENVER) میں پیدائش ہوئی۔ اس کا پورا نام تھامس گریڈ ٹین کریڈو (THOMAS GERARD TANCRE) ہے۔ اس کے والدین کیتھولک عیسائی اور اٹلی سے تعلق رکھتے تھے۔ اس نے یونیورسٹی آف نارتھ کولوریڈو سے گریجوایشن اور پولیٹیکل سائنس میں ڈگری حاصل کی۔ وہ طالب علمی کے دور سے سیاست میں حصہ لیتا رہا۔ 1976ء میں اس نے عملی سیاست میں حصہ لیا اور مقامی اسمبلی کا رکن بنا۔ مدت پوری کرنے کے بعد 1980ء سے 1992ء تک تدریسی شعبہ سے وابستہ رہا، ٹام کی بیوی نام جیکل ٹین کریڈو (Jackie Tancredo) ہے۔ بعد ازاں اس نے جارج بش سینئر اور جونیئر دونوں کے ساتھ کام کیا۔
ٹام 1979ء سے امریکی ایوان نمائندگان کا رکن ہے۔ اس نے 2006ء کے الیکشن میں ڈیموکریٹک کے معروف لیڈر بل ونٹر (BILL WINTER) کو چیلنج کر کے 59 فیصد ووٹ لے کر ہرایا۔ اس کے حلقے میں یہودی ووٹ کافی تعداد میں ہیں۔ اسلام دشمنی اسے دادا اور والد کی طرف سے وراثت میں ملی ہے، اس کے ساتھ وہ وسیع یہودی حلقہ احباب رکھنے کے باعث اسرائیلی حلقوں میں اعتماد اور احترام کی نظر سے دیکھا جاتا ہے۔ پدری ورثے اور صیہونیت کی رفاقت نے اس کی اسلام دشمنی کو دو آتشہ کر دیا۔ وہ اسلام اور مسلمانوں کے خلاف ہرزہ سرائی کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتا۔ 2 اگست 2007ء کو ٹام نے بدباطنی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہا:
”اگر امریکہ کو دہشت گردوں کی جانب سے کسی قسم کے حملے کا خطرہ ہے تو پھر امریکی صدر اور حکام کو چاہیے کہ وہ مسلمانوں کے مقدس مقامات مکہ اور مدینہ کو ایٹمی ہتھیاروں سے نشانہ بنائیں۔ امریکہ کو محفوظ بنانے کا یہ واحد راستہ ہے۔ دہشت گردوں کو معلوم ہونا چاہیے کہ ان کے مقامات مقدسہ کی طرح امریکی سرزمین ہمارے لیے مقدس ہے، اسی بیان کا اعادہ اس نے 3 اگست کو ایک عوامی اجتماع میں بھی کیا۔ ٹام ٹین کریڈو ایک برس قبل بھی اس قسم کی دریدہ دہنی کا مظاہرہ کر چکا ہے۔ جولائی 2005ء میں ٹام ٹین کریڈو نے ایک مشہور ریڈیو ٹاک شو AM540 میں شرکت کی۔ اس ریڈیو کا نام WFLA-AMO RLANDO ہے۔ ٹاک شو کا میزبان پیٹ کیمبل (PAT CAMPBLE) تھا۔ ٹام نے اس ٹاک شو میں اپنے خبیث باطن کا اظہار ان الفاظ میں کیا ”امریکہ کو مسلمانوں کے مذہبی مقامات مکہ اور مدینہ پر جوہری ہتھیاروں سے حملہ کر دینا چاہیے اور اس حملے میں ان دونوں شہروں کو ہیروشیما اور ناگاساکی بنا دینا چاہیے۔“ کیمبل یہ سن کر حیران رہ گیا، اس نے حیرت سے ٹام سے پوچھا ”کیا واقعی آپ کا کہنا یہ ہے کہ مسلمانوں کے مقدس مقامات خانہ کعبہ اور مدینہ پر بم گرائے جائیں؟“ تو اس نے مسکراتے ہوئے کہا کہ ”ہاں میں یہی کہہ رہا ہوں۔“ ٹام صرف ایک عام سینیٹر نہیں بلکہ بش کے جن لوگوں کے ساتھ خصوصی تعلقات ہیں، ان میں سے ٹام ٹین کریڈو کو اہم ترین فرد سمجھا جاتا ہے اور وہ مستقبل کا صدارتی امیدوار بننے کا خواہشمند ہے۔ ٹام کا حالیہ بیان مغرب میں چلنے والی اس مہم کا حصہ جس کا مقصد اسلام، پیغمبر، قرآن اور اس کے احکام، اسلامی شعائر اور تعلیمات کا مذاق اڑانا ہے۔ یورپی اخبارات میں توہین رسالت ﷺ کی
واردات، پوپ بینی ڈکٹ کا اسلام اور پیغمبر اسلام پر براہ راست حملہ، ہالینڈ میں قرآنی احکامات کا فلم کے ذریعے مضحکہ اڑانا، فرانس میں اسکارف اور حجاب پر پابندی، برطانیہ میں پردے کی تضحیک اور اسکارف اوڑھنے والی اساتذہ و طالبات کا تعاقب، جرمنی اور اٹلی سمیت مختلف یورپی ممالک میں مساجد کی تعمیر پر تنازعات کی بھر مار، گوانتاناموبے، ابو غریب اور بگرام میں اوراق قرآنی کی توہین، قیدیوں کے ساتھ ہتک آمیز سلوک اور اب مکہ اور مدینہ پر براہ راست حملوں کی دھمکیاں صلیبی صہیونی گٹھ جوڑ کا واضح ثبوت ہے۔ مغربی حکمران کوئی بھی ہو، ان کا ہدف امت مسلمہ ہے۔ مسلم امہ ابھی بھی خوش فہمی میں مبتلا ہے، کبھی ایک سے امید باندھی جاتی ہے کبھی دوسرے سے۔ امریکہ اور اس کے اتحادیوں کا ایک ہی مشن ہے کہ مسلمانوں کو صفحہ سے مٹا دیا جائے۔ ہم اپنے ہدف کو بھلا بیٹھے ہیں وہ نہیں۔ وہاں کوئی بھی حکمران ہو، اس سے خیر کی توقع رکھنا کار عبث ہے۔ امریکہ میں ڈیموکریٹک برسر اقتدار آئیں یا ری پبلکن، صلیبی جنگ جاری رہے گی۔ وہ مسلمانوں کے خلاف جنگ کا اسلوب بدل سکتے ہیں، ہدف نہیں۔ جہاں تک بش اور اس کے قبیلے کا تعلق ہے تو اس کا بڑا ابرہہ بھی ایسی خباثت کا عملی مظاہرہ کرنے پر قہر خداوندی کا شکار ہو کر اپنے بدترین انجام کو پہنچ چکا ہے اور یہ سلسلہ اس کے بعد بھی جاری رہا، جس میں ہلاکو خان جیسا سفاک تاتاری بھی شامل ہے۔
قارئین کے لیے یہ بات حیران کن ہوگی کہ مغرب کے دو نامور مسیحی کرداروں کو ایسی ہی حرکتیں کرنے پر اللہ نے عبرتناک انجام تک پہنچایا۔ ان میں سے ایک اٹلی کا آمر بینیٹو ایمیل کراینڈریا مسولینی ہے جو ایک لوہار کا بیٹا تھا۔ جب حکومت کی باگ ڈور اس کے ہاتھ میں آئی تو اس نے اٹلی کے اندر اور باہر اپنی طاقت کا بے روک و ٹوک مظاہرہ کیا۔ حبشہ اور البانیہ پر قبضہ کر لیا اور دوسری جنگ عظیم میں ہٹلر کا ساتھ دیا۔ مگر بالآخر وہ شکست سے دوچار ہوا۔ اس نے بھی طاقت کے نشے میں مقدس مقامات کے خلاف ہرزہ سرائی کی اور مکہ و مدینہ پر فوج کشی کا ارادہ ظاہر کیا تھا۔ اپریل 1945ء میں اسے اٹلی کے وطن پرستوں نے گرفتار کر کے قتل کیا تو لوگ اس کی لاش پر تھوک رہے تھے اور ہفتہ بھر اس کی لاش سرعام لٹکتی رہی۔ اس طرح 18ویں صدی عیسوی کا ایک مسیحی جرنیل لارڈ کچنر جس کا تعلق برطانیہ سے تھا، اس نے بھی بارہا اس بات کا اظہار کیا کہ وہ مکہ و مدینہ کو بمباری کا نشانہ بنا کر (نعوذ باللہ) اصطبل بنا دے گا۔ لارڈ کچنر کے یہ بیانات 1914ء اور 1915ء کے برطانوی اور امریکی اخبارات میں شائع
ہوئے یکم مئی 1915ء کو لارڈ کچنر ایک مضبوط جہاز لوسی ٹاینا میں نیویارک سے برطانوی بندرگاہ لیور پول کے لیے روانہ ہوا اس جہاز میں 1959 مسافر تھے۔ یہ لوسی ٹاینا کا 202 واں سفر تھا جس کا باقاعدہ اعلان کیا گیا۔ 7 مئی کو یہ جہاز جنوبی آئرلینڈ کے قریب پہنچا تو ایک جرمن آبدوز کی جانب سے تارپیڈو چلایا گیا اور کئی تارپیڈو اسے آ کر لگے اور ایک دھماکے کے بعد لوسی ٹاینا ڈوب گیا۔ حیران کن امر یہ ہے کہ جرمن حکام نے بعد میں ایک دستاویز میں بتایا کہ ان کی آبدوز سے صرف ایک تارپیڈو چلایا گیا انہیں معلوم نہیں باقی تارپیڈو کس نے چلائے کیونکہ اس وقت آئرلینڈ کے ساحل پر کوئی دوسرا جہاز یا آبدوز موجود نہیں تھی۔ بہرحال! لوسی ٹاینا میں لارڈ کچنر اپنے انجام کو پہنچ گیا۔ خدا کی قدرت کے آگے کسی کا بس نہیں چلتا فرعون، ہامان، نمرود اور شداد کی مثالیں تاریخ میں موجود ہیں جنہوں نے طاقت کے نشہ میں خدا بننے کی کوششیں کیں مگر بے بسی کی تصویر بنے اس دنیا سے چلے گئے، دجال جس کی آمد کے صیہونی اور صلیبی منتظر ہیں، حضور اکرم ﷺ کے فرمان کے مطابق وہ تمام دنیا فتح کرے گا مگر مکہ و مدینہ منورہ پر قبضہ نہ کرسکے گا۔ اس کے بعد حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نزول ہوگا اور دجال اور اس کے حواری اپنے انجام کو پہنچیں گے اور ہر طرف اسلام کا بول بالا ہوگا۔ ابرہہ کے فرزند یاد رکھیں۔
ہے ابتدا ہماری انتہا کے بعد
جاوید چودھری
افغانستان کو دیکھ لیجیے !!!
آپ اگر اسلام کو سمجھنا چاہتے ہیں تو آپ نومسلموں کی کہانیاں پڑھیں، آپ کو اسلام کے ایسے پہلو دکھائی دیں گے جو آپ کو اسلامی کتابوں میں نظر نہیں آتے، یہ لوگ ذہنی، روحانی، اخلاقی اور نفسیاتی لحاظ سے ہم سے زیادہ پکے اور مضبوط مسلمان ہوتے ہیں اور ہم نے اگر اسلام سیکھنا ہو تو ہمیں کسی پڑھے لکھے نومسلم سے رابطہ کرنا چاہیے، یہ ہمیں اسلام کے وہ وہ زاویے دکھائے گا جو ہمیں درجنوں عالم مل کر نہیں بتا سکتے۔ مجھے سپین میں ایک ایسے ہی نومسلم سے ملاقات کا موقع ملا تھا۔ یہ مشرقی یورپ کے کسی ملک سے تعلق رکھتا تھا۔ یہ اسلام قبول کرنے سے پہلے موسیقار تھا اور کسی بڑے بینڈ میں گٹار بجاتا تھا۔ اس نے غالباً پراگ سے موسیقی میں ایم اے بھی کر رکھا تھا لیکن پھر یہ مسلمان ہو گیا، اس نے داڑھی رکھ لی، اسلام کا مطالعہ شروع کر دیا اور یہ اب قرطبہ اور غرناطہ کی سیر کے لیے آیا تھا۔ میری ملاقات اس سے قرطبہ کے قدیم محلات مدینۃ الزہرہ میں ہوئی۔ یہ شاہی دربار کی تصویریں لے رہا تھا اور ساتھ ساتھ ڈائری میں نوٹس لیتا جا رہا تھا۔ میں اس کے انہماک سے متاثر ہو گیا اور میں نے اس کے ساتھ علیک سلیک شروع کر دی۔ گپ شپ شروع ہوئی تو لمبی ہوتی چلی گئی، یہاں تک کہ ہم اگلے دو دن تک ایک دوسرے سے ملتے رہے، ہم مسجد قرطبہ بھی گئے، ہم نے قرطبہ کے قدیم محلے بھی دیکھے اور ہم وادی الکبیر کے کناروں پر بھی پھرتے رہے۔ مجھے اس نے ان ملاقاتوں کے دوران اسلام قبول کرنے کا واقعہ سنایا، مجھے اس واقعے نے حیران کر دیا۔
وہ بولا، اس کے تین شوق تھے، گٹار بجانا، لڑکیوں کو متاثر کرنا اور شراب پینا۔ وہ گٹار بجاتا تھا، ایک آدھ لڑکی کو متاثر کرتا تھا، اسے ساتھ لے کر کسی پب میں بیٹھ جاتا تھا اور آخری پہر تک اس کے ساتھ شراب پیتا تھا اور اگلے دن یہ دونوں کسی پارک، سڑک کے کنارے، ہوٹل کے کسی کمرے یا پھر اپنے فلیٹ میں پائے جاتے تھے۔ یہ اس کی معمول کی
زندگی تھی لیکن پھر اس کا ٹکراؤ ایک مسلمان شرابی سے ہو گیا۔ یہ دونوں پب میں شراب پیتے تھے۔ وہ مسلمان نوجوان مصر سے تعلق رکھتا تھا۔ وہ پڑھائی کے سلسلے میں مشرقی یورپ آیا، پڑھائی کے دوران کسی حسینہ کے چکر میں پڑ گیا، لڑکی کچھ عرصہ اس کے ساتھ رہی اور پھر کسی دوسری شاخ پر جا بیٹھی۔ لڑکی کی بے وفائی نے مصری نوجوان کو تباہ کر کے رکھ دیا، وہ شراب کے نشے میں ڈوب گیا، اس نرم خودکشی نے اس کی پڑھائی چھڑا دی۔ وہ اب شام کو پب میں بیٹھتا، صبح تک شراب پیتا اور سارا دن ہاسٹل میں سو کر گزار دیتا، اس کا امیر والد اسے پیسے بھجواتا رہتا تھا۔ یہ موسیقار پب میں اس سے ملا اور دونوں کی دوستی ہو گئی۔ یہ دونوں مذہب کے باغی تھے، موسیقار دنیا کے تمام مذاہب کو فراڈ سمجھتا تھا، مصری نوجوان بھی مذہبی روایات کے خلاف تھا۔ اس کا خیال تھا کہ مذہب نے انسانوں کو تقسیم کر رکھا ہے۔ اگر لوگوں کے درمیان سے عیسائی، یہودی، اسلام، ہندو اور بدھ کی سرحدیں ختم کر دی جائیں تو انسان زیادہ امن اور زیادہ خوشی سے رہ سکتا ہے، یہ دونوں پب میں بیٹھ کر مذہب پر گفتگو شروع کرتے اور جب تک ہوش میں رہتے، بات کرتے رہتے، ان ملاقاتوں کے درمیان موسیقار نے ایک عجیب بات نوٹ کی، اس نے دیکھا مصری نوجوان گفتگو کے شروع میں اللہ، نبی اکرم ﷺ اور قرآن مجید کے حوالے دیتا تھا لیکن یہ جونہی شراب کا پیک اٹھاتا تھا، نبی اکرم ﷺ اور قرآن کا ذکر نہیں کرتا تھا، یہ بحث کو عالمی مذاہب کی طرف موڑ دیتا تھا، موسیقار بحث کو قرآن مجید اور نبی اکرم ﷺ کی طرف لانے کی کوشش کرتا تھا لیکن یہ منہ سے ایک لفظ نہیں نکالتا تھا، اس کی یہ عادت اس قدر پکی تھی کہ نشے کی انتہا پر پہنچ کر بھی اس کی زبان پر یہ دو لفظ نہیں آتے تھے، موسیقار نے ایک دن اس سے اس کی وجہ پوچھ لی، وہ اس وقت نارمل تھے اور کافی شاپ میں کافی پی رہے تھے، مصری نوجوان نے اس سوال کا عجیب جواب دیا، اس کا کہنا تھا شراب پینے کے بعد میری زبان پلید ہو جاتی ہے اور میں پلید زبان سے قرآن مجید اور نبی اکرم ﷺ کا نام کیسے لے سکتا ہوں؟ میں دوسرے دن اٹھتا ہوں، سب سے پہلے برش کرتا ہوں، اپنا منہ، اپنی زبان صاف کرتا ہوں اور اس کے بعد اللہ، رسول ﷺ اور قرآن کا لفظ بولتا ہوں۔ یہ عقیدت میرے ایمان کا حصہ ہے اور مسلمان خواہ کتنا ہی برا کیوں نہ ہو جائے، یہ عقیدت اس کے دل میں رہتی ہے، یہ لفظ، لفظ نہیں تھے یہ تیر تھے اور یہ تیر اس موسیقار کے دل پر لگ گیا، وہ بازار گیا، اس نے قرآن مجید کا ترجمہ خریدا اور پڑھنا شروع کر دیا۔ یہ قرآن مجید کو جوں جوں پڑھتا گیا، اس
کی کایا پلٹتی گئی یہاں تک کہ یہ اسلام کی حقانیت کے رنگ میں رنگ گیا، اس نے مغربی حلیہ چھوڑا، موسیقی جو اس کی روح کا حصہ تھی وہ چھوڑی، اپنا مذہب چھوڑا اور ہدایت کے راستے پر چل نکلا۔ میں نے وادی الکبیر کے کنارے چلتے چلتے اس سے پوچھا: ”تمہیں اسلام کی کس چیز نے سب سے زیادہ متاثر کیا۔“ اس نے مسکرا کر جواب دیا: ”عقیدت“۔ اس کا کہنا تھا اسلام دنیا کا واحد مذہب ہے جو کلمہ پڑھنے کے ساتھ ہی انسان کے اندر عقیدت کا ایک قلعہ تعمیر کر دیتا ہے، دنیا کی کوئی طاقت اس قلعے کو مسمار نہیں کر سکتی، مسلمان ظالم ہو سکتا ہے، یہ جاہل اور بے ایمان بھی ہو سکتا ہے، یہ زندگی میں ہر چیز پر سمجھوتہ کر سکتا ہے لیکن جونہی نبی اکرم ﷺ اور قرآن مجید کا معاملہ آئے۔ یہ دنیا کے بڑے سے بڑے فرعون سے ٹکرا جائے گا اور دنیا کا کوئی لالچ، کوئی خوف اور کوئی ثقافتی یلغار اس کی اس خو کو تبدیل نہیں کر سکتی، یہ خو ”بلٹ ان“ ہوتی ہے اور یہ کلمہ پڑھنے کے ساتھ ہی مسلمان کے اندر پیدا ہو جاتی ہے۔
میرے لیے اسلام کا یہ زاویہ نیا تھا، میں بڑے عرصے تک اسلام کو اس زاویے سے دیکھتا رہا اور مجھے ہر بار یہ پہلو سچا دکھائی دیا، یہ وہ پہلو جس کی وجہ سے عام سا مزدور غازی علم دین شہید بن جاتا ہے، جس کی وجہ سے اسامہ بن لادن جیسا یورپی تعلیم یافتہ عرب رئیس اچانک دنیا کا سب سے بڑا باغی بن جاتا ہے، جس کی وجہ سے وہ 19 نوجوان سامنے آتے ہیں جنہوں نے امریکہ اور یورپ سے تعلیم حاصل کی تھی، جو دنیا کی تقریباً تمام مکروہات کا شکار تھے لیکن پھر انہوں نے اچانک نائن الیون جیسا دھماکہ کر دیا، جس کی وجہ سے ایمل کانسی موسٹ وانٹڈ بن جاتا ہے اور یہی وہ پہلو ہے جس کی وجہ سے عامر چیمہ جیسا نوجوان جرمنی میں رہ کر گستاخ رسول سے ٹکرا جاتا ہے، یہ کیا ہے؟ یہ رسول ﷺ اور قرآن مجید کی وہ محبت ہے جو ہر مسلمان کے دل میں ہوتی ہے اور دنیا کی کوئی طاقت اس محبت کو مٹا نہیں سکتی۔ آپ اس کی طاقت کا تازہ ترین نمونہ افغانستان میں دیکھ لیجیے۔ 21 فروری کو بگرام ائیر بیس کے اندر چند امریکی فوجیوں نے قرآن مجید کے نسخوں کو آگ لگا دی تھی، انہوں نے قرآن مجید کی بے حرمتی بھی کی، قرآن مجید کے یہ اوراق بگرام ائیر بیس کے اندر کام کرنے والے افغان مزدوروں نے دیکھ لیے، انہوں نے اسی وقت احتجاج شروع کر دیا۔ یہ احتجاج ائیر بیس سے باہر نکلا اور تین دن میں پورے افغانستان میں پھیل گیا اور آج نہ صرف امریکی صدر بارک اوباما، وزیر دفاع لیون پنیٹا اور وزیر خارجہ ہیلری کلنٹن افغان قوم سے معافی مانگ رہی ہیں بلکہ فرانس اور برطانیہ
نے اپنا سفارتی عملہ بھی افغانستان سے واپس بلا لیا ہے۔ آپ دیکھ لیجیے پچھلے دس برسوں میں افغانوں نے نیٹو حملے برداشت کر لیے، یہ گوانتا ناموبے کے قید خانے بھی برداشت کر گئے اور یہ امریکی غلامی بھی برداشت کر گئے لیکن جوں ہی قرآن کا معاملہ آیا تو پورا افغانستان تڑپ اٹھا اور آج امریکی نژاد افغان پارلیمنٹ میں بھی امریکہ مردہ باد کے نعرے لگ رہے ہیں۔ امریکی نواز صدر حامد کرزئی بھی امریکہ کی مذمت کر رہا ہے اور ڈرے سہمے افغان باشندوں نے بھی بلا خوف نیٹو ہیڈ کوارٹر، امریکہ، فرانس اور ناروے کی ملٹری بیسوں کا محاصرہ کر رکھا ہے جبکہ قندوز میں اقوام متحدہ کے دفتر کو آگ بھی لگا دی گئی ہے، یہ کیا ہے اور کیوں ہے؟ یہ صرف اور صرف قرآن اور رسول اکرم ﷺ کی وہ محبت ہے جسے دنیا کی کوئی طاقت کسی مسلمان کے دل سے خارج نہیں کر سکتی اور یہ محبت جب بھی انگڑائی لیتی ہے، یہ طاقت کے بڑے بڑے بت پاش پاش کر دیتی ہے، یہ ابابیلوں کی طرح ہاتھیوں کے لشکروں کو بھس بھرے کھلونے بنا دیتی ہے۔ آپ کو یقین نہ آئے تو آپ آج کا افغانستان دیکھ لیجیے، یہ افغانستان چیخ چیخ کر اعلان کر رہا ہے کہ کلمہ گو کا دل حضور نبی اکرم ﷺ اور قرآن مجید کی محبت سے خالی نہیں ہو سکتا اور جس دل میں یہ محبت موجود ہو، آپ اس دل کو زیادہ دیر تک غلام نہیں رکھ سکتے۔
ام سعد
ہم جنس پرستی اور اے آروائی کی مجرمانہ پیش رفت
”میں آپ کے مؤقر روزنامے کی وساطت سے پاکستانی قوم کو روشن خیال اعتدال پسندی میں حد سے گزر جانے والے ایک ٹی وی پروگرام سے آگاہ کرنا چاہتی ہوں۔ یہ پروگرام اے آروائی ڈیجیٹل سے مورخہ 10 جنوری کو Talking Divas کے نام سے نشر کیا گیا۔ اس پورے پروگرام میں تین کمپیئر خواتین اور دو مہمانان جن میں سے ایک ثمینہ توقیر نامی خاتون اور دوسرے عدنان علی نامی مرد شامل تھے۔ اس پروگرام میں ڈسکشن کا موضوع ”ہم جنسی“ تھا۔ مہمان اس بات کو ثابت کرنے کی کوشش کر رہے تھے کہ ہم جنسی کی جڑیں بہت گہری ہیں، یہ ایک تاریخی اور عالمی عمل ہے۔ یہ ہماری اقدار کے خلاف بھی نہیں ہے۔ اشرف المخلوقات ہونے کا مطلب ایک دوسرے کا خیال رکھنا اور ایک دوسرے سے محبت کرنا ہے اور ہم جنس افراد بھی یہی کام کرتے ہیں۔ معاشرے کے اسکالرز کو آگے آ کر اس موضوع پر بات کرنا چاہیے اور اسے ایک قابل قبول رویہ قرار دینا چاہیے۔ دو ہم جنس افراد بچوں کو ایڈاپٹ کر کے ایک نارمل زندگی گزار سکتے ہیں۔ ہمیں شوبز، کھلاڑیوں اور دیگر فیلڈ سے اس طریقے سے عامل افراد کو رول ماڈل بنا کر آگے لانا چاہیے تاکہ معاشرے میں چھپ کر یہ کام کرنے والوں کی جھجک ختم ہو اور وہ اپنے رویہ کو سب کے سامنے ظاہر کر سکیں۔ حد تو یہ ہے کہ جب میزبان نے تاریخی حوالے مانگے تو ثمینہ نے کہا کہ رابعہ بصری ساری عمر تنہا رہیں اور عدنان نے کہا کہ ہمارے پیغمبر ﷺ بھی بغیر باپ کے پرورش پاتے رہے ہیں۔ اتنے ناپاک عمل کے لیے اتنے عظیم پاک افراد کی مثالیں دینے میں نہ انہیں کوئی شرم آئی اور نہ ہی کمپیئر نے اس پر ٹوکا بلکہ ایک جگہ ایک کمپیئر نے کہا کہ یہ عمل جانوروں خصوصاً بندروں میں بھی پایا جاتا ہے اور دوسری کمپیئر نے کہا کہ ہم بھی چونکہ بندروں کی نسل سے ہیں۔ اس لیے ہم میں بھی یہ اثرات آئے ہیں۔ پروگرام میں ثمینہ نے ایک کتاب ”عشق“ کے نام سے دکھائی جس کے لیے کہا
گیا کہ اس میں Gay مقصد یہی سمجھ میں آ اس موضوع پر بحث معاشرہ میں مقبولیت سے محض یہ سوال کر پاکستان میں پھلتا پھ کرنے والوں اور ا گے؟ پوری پاکستانی ق کو پتھر مار چکے ہیں ت عذاب کے پتھر برسا کی نشانیاں بتا کر قو اُسی فلاح کی طرف ہے، وہ آپ کے قر سے معذرت طلب جسارت کراچی، 5
گیا کہ اس میں Gay اور Lesbians بچوں کے متعلق جانکاری شامل ہے۔ تمام پروگرام کا مقصد یہی سمجھ میں آ رہا تھا کہ پاکستانی معاشرہ میں اس عمل کی کراہت کے تصور کو ختم کیا جائے، اس موضوع پر بحث کو عام کیا جائے، ایسا کرنے والوں کو روشن خیال سمجھا جائے اور انہیں معاشرہ میں مقبولیت کا درجہ حاصل ہو جائے۔ میں پاکستان میں خوف خدا رکھنے والے لوگوں سے محض یہ سوال کرنا چاہتی ہوں کہ جس عمل پر پوری قوم لوط تباہ کر دی گئی، کیا آپ اسی عمل کو پاکستان میں پھلتا پھولتا دیکھنا چاہتے ہیں؟، کیا آپ اس چینل کے مالکان اور اس پروگرام کے کرنے والوں اور اسے حد درجہ ڈھٹائی کے ساتھ پیش کرنے والوں کا احتساب نہیں کریں گے؟ پوری پاکستانی قوم حق رکھتی ہے کہ حاجی یعقوب صاحب سے سوال کرے کہ آپ شیطان کو پتھر مار چکے ہیں لیکن قوم کو اپنے پروگرامز سے ایسا درس کیوں دے رہے ہیں کہ اللہ اس پر عذاب کے پتھر برسائے اور ڈاکٹر شاہد مسعود صاحب سے بھی سوال کا حق رکھتی ہے کہ قیامت کی نشانیاں بتا کر قوم کو فلاح کی طرف پلٹنے کا جو درس آپ دیتے رہے ہیں، کیا یہ پروگرام بھی اُسی فلاح کی طرف جانے والا راستہ ہے؟ آپ کے پروگرام میں اسلام کا جو درس محسوس ہوتا ہے، وہ آپ کے چینل کی پالیسی میں نظر کیوں نہیں آتا؟ اے آر وائی کے تمام مالکان پوری قوم سے معذرت طلب کریں اور آئندہ اس گندگی کو اچھالنے سے پرہیز کریں۔ (روزنامہ
جسارت کراچی، 15 جنوری 2007ء)
مولانا عبدالرؤف فاروقی
سانحہ گوجرہ کے تناظر میں
کلیسیا پاکستان کے نام کھلا خط
محترم ذمہ داران کلیسیا پاکستان
آداب و تسلیمات!
سانحہ گوجرہ پر میں نے آئی جی پنجاب جناب سلیم ڈوگر کی بلائی ہوئی میٹنگ میں چیف سیکرٹری پنجاب، دیگر افسران اور اراکین امن کمیٹی کی موجودگی میں آپ سے براہ راست اور آپ کی وساطت سے پوری مسیحی برادری سے تعزیت کی تھی اور گوجرہ میں ہونے والے نقصان پر پوری ملت اسلامیہ کی طرف سے اظہار افسوس کیا تھا، یہ ہمارا اخلاقی فرض تھا، اس تاریخی حقیقت کے باوجود کہ کوسووو، افغانستان، عراق، کشمیر، مشرقی تیمور اور دیگر علاقوں میں عیسائی عالم سامراج کی طرف سے مسلمانوں کے قتل عام پر کلیسیا نے کبھی رسمی طور پر بھی اظہار افسوس کی روایت قائم نہیں کی....... بہرحال ہم نے اپنی زندہ روایت کے مطابق اپنا اخلاقی فرض ادا کیا۔ اس بحث اور تفصیل میں جائے بغیر کہ اس سانحہ کے ابتدائی اسباب کیا تھے؟ اور اس کی اصل ذمہ داری کن لوگوں پر عائد ہوتی ہے۔ اسلامی جمہوریہ پاکستان میں بسنے والی اکثریتی مسلم آبادی کی طرف سے اس سانحہ پر مسیحی اقلیتی برادری سے ہمدردی کا اظہار ہماری اخلاقی روایات کا حصہ ہے۔ بلاشبہ سانحہ گوجرہ میں ضائع ہونے والی انسانی جانوں کو لوٹایا نہیں جا سکتا۔ تاہم وفاقی و صوبائی حکومتوں، پنجاب پولیس و دیگر انتظامی اداروں، بیورو کریٹ آفیسران اور مذہبی و سیاسی تنظیموں نے حتی الامکان بلکہ ضرورت سے کہیں بڑھ چڑھ کر مسیحی برادری کے نقصانات کی تلافی کرنے کی کوشش کی ہے اور اس کا برملا اعتراف کرنا آپ کی بھی اخلاقی ذمہ داری ہے کہ اس طرح کے واقعات کا راستہ ہمیشہ کے لیے بند کرنے کی سنجیدہ کوشش کریں۔ میں اس سلسلہ میں حقائق پر مبنی مسائل کی نشاندہی کرنا چاہتا ہوں۔
سانحہ گوجرہ پر کسی قسم کا تبصرہ کرنے سے دانستہ گریز کرتے ہوئے کہ ہائیکورٹ کے تحقیقاتی ٹربیونل کی رپورٹ آنے تک اس پر رائے زنی کرنا میں عدالت کی توہین سمجھتا ہوں۔ شانتی نگر خانیوال، سانگلہ ہل اور دوسرے جن مقامات پر اس طرح کے بڑے واقعات پیش آئے۔ ان میں مبینہ طور پر مسیحی برادری کے افراد کی طرف سے قرآن مجید یا پھر پیغمبر اسلام ﷺ کی توہین کی گئی اور بات بڑھ کر ایک انسانی المیے تک پہنچ گئی۔ کیا یہ توہین بجائے خود ایک سانحہ اور المیہ نہیں ہے؟ میں بھی جانتا ہوں اور آپ بھی، کہ قرآن اور مسلمانوں کی مقدس شخصیات آپ کے نزدیک اعتقادی طور پر قابل احترام نہیں ہیں۔ آپ اگر کسی مشترکہ مجلس میں ان سے متعلق اچھے الفاظ استعمال کرتے ہیں، وہ منافقت ہوتی ہے یا پھر اکثریت کا خوف! اور یا پھر اخلاقی رواداری، ورنہ آپ کا عقیدہ آپ کا ایمان اور مسیحی علم کلام ان کے بارے میں اچھے جذبات نہیں رکھتا بلکہ ان کو جھوٹ، کذب و افترا اور کذاب و مفتری سمجھتا ہے۔ (نعوذ باللہ!) لیکن کیا ضروری ہے کہ مسلمانوں کی دل آزاری اور ان کے جذبات کو برانگیختہ کرنے کے لیے اپنے اس عقیدے کا اظہار کھلے عام کیا جائے تاکہ خانہ جنگی کی کیفیت پیدا ہو۔ کیا یہ ان جاہل نادان مسیحی عوام کا عمل ہے، یا اس کی پشت پر پاکستانی کلیسیا یا مسیحی سیاست کاروں کا گہرا منصوبہ ہے؟ میرا دل یہ بھی گواہی دیتا ہے کہ کلیسیا اور مسیحی سیاست کاروں کے درمیان منصوبہ بندی پوری طرح باہمی مشاورت سے طے ہوتی ہے اور یہ نہیں کہا جاسکتا کہ جو کچھ سیاست کار کر رہے ہیں، کلیسیا اس سے بے خبر ہے یا کوئی اختلاف رکھتا ہے۔ کیا ایسا تو نہیں کہ مذہبی اور سیاسی مسیحی رہنماؤں کی مشاورت اور منصوبہ بندی سے جان بوجھ کر ایسے حالات پیدا کیے جاتے ہوں تاکہ ایک طرف عالمی برادری میں پاکستان...... اقلیتوں کے حقوق سے متعلق بدنام ہو دوسری طرف کچی مسیحی آبادیوں کو آگ لگائی جائے اور پھر حکومت وہ گھر پختہ بنا کر دے اور تیسری طرف مسلمانوں اور مسیحیوں کے درمیان خانہ جنگی کی کیفیت پیدا ہو اور اس طرح مطالبات کے ذریعہ مسیحیوں کو کسی ایک جگہ حفاظت کے نام پر منتقل کرایا جائے تاکہ پاکستان کے اندر ایک مسیحی ریاست کا راستہ ہموار ہو جو مسیحی رہنماؤں کی دیرینہ خواہش ہے۔ یا پھر عام انتخابات میں مسلم نمائندوں کو مسیحی ووٹوں کے نام پر بلیک میل کیا جاسکے اور اس طرح ایسے مطالبات منوائے جائیں جن کی اجازت عام حالات میں نہیں دی جاسکتی نیز عام انتخابات میں مسیحی نمائندوں کی کامیابی کے لیے راہ ہموار کی جاسکے۔
محترم! یہ معاملہ تو مسیحی کچی آبادیوں کے ان افراد کا ہے جو نہ اپنے مذہب کے بارے میں کچھ جانتے ہیں اور نہ دین اسلام کے بارے میں۔ اور مسیحی مذہبی رہنما انہیں مسلسل اندھیرے میں ہی رکھنا چاہتے ہیں۔ لیکن ان کے علاوہ مسیحی اداروں کی ویب سائٹس نے انٹرنیٹ پر جو اودھم مچا رکھا ہے، میں نہیں سمجھتا کہ آپ اس سے بے خبر ہیں۔ اسلام، قرآن، پیغمبر اسلام ﷺ، اسلام کے تصور جہاد، اسلام کی مقدس شخصیات اور مسلمانوں کے مقدس مراکز کے بارے میں جو زبان استعمال کی گئی ہے اسے کسی طرح بھی شائستہ اور منصفانہ قرار نہیں دیا جا سکتا۔ کیا آپ ان سلسلوں کو اخلاق، قانون، اعلیٰ روایات اور دوسرے مذاہب کے حقوق کی بنا پر بند نہیں کراسکتے؟ تاکہ خون ریز فسادات، بلوہ اور آبادیوں کو آگ لگانے جیسے ناخوشگوار واقعات کا سدباب ہو سکے۔ اگر آپ اس کے لیے سنجیدہ اور فوری کوشش نہ کریں گے تو پھر اگر کوئی مسلمان ادارہ یا تنظیم علاج بالمثل کے طور پر اسی طرح کی زبان اور اسی طرح کا قلم آپ کے مقدسین کے بارے میں استعمال کرے تو آپ کوئی واویلا تو نہیں کریں گے، ہمارے علم میں ہے کہ بعض پادری حضرات کہتے ہیں کہ مسلمان جب علم اور دلیل سے اپنے رسول کا دفاع نہیں کر سکتے تو قانون اور حکومت کے سامنے فریاد کرتے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ پادری یہ تاثر دیتے ہیں کہ رسولوں کی توہین پر سزائے موت کا قانون مسلمانوں کی علمی شکست کی علامت ہے۔...... چنانچہ آپ بھی کہیں قانون اور حکومت کے سامنے یہ واویلا تو نہیں کریں گے کہ مسیحی مقدسین کی توہین کی جارہی ہے۔
محترم! میں آپ کو یہ احساس دلانا چاہوں گا کہ اگر ادھر سے یہ سلسلہ شروع کیا گیا تو مسیحی علم کلام اور مسیحی مذہب کی ساری عمارت ایک دم سے زمین بوس ہو جائے گی۔ بائبل جیسی کیسی ہے، آپ بھی جانتے ہیں اور میں بھی! لیکن آج تک مسلمانوں کی طرف سے اس کی توہین کا کوئی واقعہ پیش نہیں آیا .... نہ کبھی اس کے اوراق کو شادی کی تقریبات میں کرنسی نوٹوں کے ساتھ اچھالا گیا نہ انہیں ٹائلٹ پیپر کے طور پر استعمال کیا گیا اور نہ انہیں پھاڑ کر پاؤں تلے روندا گیا۔ حالانکہ یہ حقیقت ہے کہ اس میں رسولوں کی توہین کے مضامین موجود ہیں۔ اللہ کے نبیوں کو زانی، شرابی، بددیانت، دھوکے باز، بے حیا اور بت پرست عورتوں کے عشق میں مبتلا ہو کر بت پرست بن جانے والا ثابت کیا گیا ہے۔ پھر یہودیت اور مسیحیت میں شراب نوشی، زنا کاری، ناچ گانے، دھوکہ دہی، جھوٹ وفریب اور اس طرح کے جنسی اور اخلاقی جرائم کی
بنیاد بائبل نے فراہم کی ہے۔ لیکن کیا کبھی کسی مسلم مذہبی رہنما نے بائبل کی توہین کرنے یا اس کے اوراق کو ٹائلٹ پیپر کے طور پر استعمال کرنے کے لیے اپنے عوام کی ذہن سازی کی؟ رسولوں کی توہین پر سزائے موت کے قانون 295 سی کو ختم کرانے کے لیے آپ کے مطالبات کے پیچھے کہیں یہ خوف تو پوشیدہ نہیں کہ اگر کسی مسلمان کی توجہ ہوگئی اور اس نے بائبل کی ان عبارتوں کی بنیاد پر کوئی ریفرنس عدالت عظمیٰ میں پیش کر دیا کہ بائبل میں رسولوں کی توہین کے مضامین موجود ہیں، اس سے جہاں توہین رسالت کے ناپاک جذبے کو تحریک ملتی ہے، وہاں اخلاقی و جنسی جرائم کے لیے بھی حوصلے بلند ہوتے ہیں، اس پر پابندی لگائی جائے اور پاکستان میں اس کی اشاعت، تبلیغ، خرید و فروخت اور تقسیم کو جرم قرار دیا جائے تو مسیحی اس کا علمی و قانونی کیا جواب دے سکیں گے؟
اسی طرح محترم! میں اور آپ جانتے ہیں کہ سیدہ مریم اور حضرت مسیح کے بارے میں مسلم، مسیحی عقائد اور اختلاف المشرقین ہونے کے باوجود ہمارے اور آپ کے یہاں ان کا احترام موجود ہے۔ بلاشبہ پیغمبر اسلام علیہ السلام کی توہین مسیحی عقائد کا حصہ ہے تو حضرت مسیح علیہ السلام کا احترام اسلامی عقائد کا حصہ ہے، لیکن جناب پولوس اور اس کے جانشین تو ہمارے یہاں قابل احترام نہیں ہیں، پھر بھی کسی مسلمان نے نہ کبھی انہیں گالی دی، نہ ان کا کارٹون بنایا نہ ان کے توہین آمیز خاکے شائع کیے، اگر کبھی کوئی مسلمان کارٹونسٹ اور مصور جناب پولوس پر اس طرح کا کام کرے یا کوئی پاکستانی مسلمان کسی ویب سائیٹ پر سیدہ مریم کے متعلق وہ سب کچھ جاری کردے جو یہودیوں نے ان 20 صدیوں میں ان کے بارے میں کہا اور اس جسارت کا نام علم و تحقیق رکھ دے، تو آپ کے اور مسیحی برادری کے جذبات کیا ہوں گے؟
محترم! مسیحیت کی طرف سے اسلام، پیغمبر اسلام ﷺ اور قرآن مجید پر ہونے والے دس پندرہ اعتراضات اور رکیک حملوں کا جواب چودہ صدیوں میں بارہا دیا گیا ہے اور علمی میدان میں ہمیشہ عیسائیت نے اسلام سے شکست کھائی ہے لیکن اب بھی جوابات سے آنکھیں بند کر کے اعتراضات کو پھیلانے کا سلسلہ جاری ہے اور اسے کلیسیا کی مکمل پشت پناہی اور سرپرستی حاصل ہے۔ اس کا واضح ثبوت یہ ہے کہ یہ سب کچھ پادری اور کلیسیا سے متعلق افراد کر رہے ہیں، میری استدعا ہے کہ خدارا اس سلسلے کو بند کر دیجئے، اگر یہ راستہ کھلا رہا تو کہیں اس کے اردگرد کے ایسے مزید راستے نہ کھل جائیں جو سب کے لیے ناخوشگوار ہوں۔
محترم! رہا معاملہ ناخوشگوار حادثات کے بعد قانون ناموس رسالت ﷺ کو ختم
کرنے کے مطالبے کا، تو کبھی آپ نے سنجیدگی کے ساتھ اس پر غور کیا کہ یہ قانون جہاں رسولوں کی حرمت کی ضمانت دیتا ہے وہاں اقلیتوں کی جان، مال کی حفاظت کا ضامن بھی ہے۔ اسے اقلیتوں کے سر پر لٹکتی ہوئی تلوار، اور ان کے آزادی اظہار رائے پر قدغن، قرار دینا کس حد تک قرین انصاف ہے؟۔
ہو سکتا ہے کہ مسیحی علم کلام میں رسولوں کی حرمت کا کوئی تصور نہ ہو، انہیں گالیاں دینا اور ان کی توہین کرنا عام سی بات ہو اور یہ بھی مسیحی عوام کے بنیادی حقوق میں شامل ہو۔ لیکن مسلمانوں کے یہاں یہ ایک ناقابل معافی جرم ہے۔ مسیحی اقلیت کا مسلمانوں سے توہین رسالت کا ”حق“ طلب کرنا کیا رنگ لائے گا؟۔ قادیانی اقلیت اور ملحد و بے دین لوگ حضرت آدم علیہ السلام سے حضرت مسیح علیہ السلام تک تمام انبیا کا تقدس پامال کر کے رکھ دیں گے۔ اور جب مسلمان دیکھیں گے کہ قانون ایسے بدترین مجرموں کے لیے بھی کوئی سزا تجویز نہیں کرتا تو وہ اپنے ہاتھوں سے اس مجرم کو کیفر کردار تک پہنچائیں گے اور یوں کشت و خون کا بازار گرم ہو جائے گا، کیا یہ بھیانک سلسلہ عیسائی اقلیت کے لیے کوئی بہتر سلسلہ ہوگا؟
اس کی تازہ ترین مثال سانحہ سمبڑیال ہے، سانحہ یہ تھا کہ ایک عیسائی نوجوان نے ایک مسلمان لڑکی کو اپنی جنسی ہوس کا نشانہ بنانے کے لیے اسے ورغلانے کی کوشش کی اور لڑکی کی طرف سے انکار بلکہ مزاحمت پر اس مسیحی نوجوان نے لڑکی کے ہاتھ سے قرآن مجید کا پارہ چھین کر گندے نالے میں پھینک دیا۔ مسلمان مشتعل ہوئے تو ساری حکومتی مشینری حرکت میں آگئی، مسیحی نوجوان گرفتار ہوا اور پھر سیالکوٹ جیل میں قتل ہو گیا، یہ واقعہ اس بات کا ثبوت ہے کہ اگر مقدس کتابوں اور رسولوں کی توہین کرنے والے کسی بد بخت کے لیے قانون میں کوئی سزا موجود نہ ہوئی تو مسلمان قانون کو اپنے ہاتھ میں لے کر خود سزا کا فیصلہ کریں گے اور اس طرح کے حالات سے ممکن ہے کہ اس کے منصوبوں کی تکمیل کا راستہ کشادہ ہو جائے لیکن کلیسیا کا اس طرح انسانی لاشوں پر سیاسی عزائم کی تکمیل کا عمل انسانیت کے لیے انتہائی خطرناک اور نقصان دہ ہو گا، تاہم میری تشویش یہ ہے کہ ...... کیا وجہ ہے کہ قرآن مجید یا پیغمبر اسلام ﷺ کی توہین کے کسی واقعہ کی کلیسیا نے کبھی مذمت نہیں کی اور نہ کبھی یہ اعلان کیا کہ اگر کوئی عیسائی ایسا کرے گا تو یہ اس کا ذاتی فعل ہو گا اور کلیسیا یا کلیسیا سے متعلق سیاسی و مذہبی ادارے اس کی کوئی حمایت اور امداد نہیں کریں گے، اسے اپنے اس ذاتی فعل پر نتائج کا سامنا ذاتی طور پر کرنا ہوگا۔......
نیز کسی افسوسناک واقعہ کے بعد کلیسیا نے یہ مطالبہ تو کیا کہ گرجا جلائے جانے کے واقعہ کی تحقیق کی جائے اور ملزموں کو سزا دی جائے لیکن کبھی یہ مطالبہ نہیں کیا کہ قرآن مجید یا پیغمبر اسلام کی توہین کے واقعہ کی تحقیق کی جائے اور ارتکاب کرنے والوں کو عبرت ناک سزا دی جائے۔
محترم! کہیں ایسا تو نہیں کہ آپ کے یہاں اس بھیانک سلسلہ کے لیے منصوبہ بندی کی گئی ہو کہ توہین رسالت ﷺ پر سزائے موت کا قانون ختم ہو جائے اور عیسائی وقادیانی عوام، رسولوں کی توہین کا سلسلہ شروع کردیں، جب قانون موجود نہ ہوگا تو مسلمان از خود انتقام پر اُتر آئیں گے اور یہ کلیسیائے پاکستان کے لیے سنہری موقع ہوگا کہ اقوامِ عالم، سلامتی کونسل اور عالمی عیسائی برادری کو مداخلت کے لیے فریاد کر کے آپ پاکستان کے اندر عیسائی اقلیت کے لیے مراعات اور تحفظ کے نام پر وہ سب کچھ حاصل کرسکیں جو آپ کی چھپی ہوئی دیرینہ خواہش بھی ہے اور اسلام کے نام پر بننے والی اس مملکت کا نظریاتی تشخص مجروح کرنا آپ کا اعتقادی ونظریاتی مطمح نظر بھی۔
محترم! مذکورہ بالا تمام گزارشات اور اپنے خیالات کا برملا اظہار سے میرا مقصد یہ ہے کہ جہاں اسلامی جمہوریہ پاکستان کی مسلم اکثریت سے آپ بجا طور پر یہ توقع رکھتے ہیں کہ وہ اقلیتوں کے حقوق اور ان کی جان و مال، عزت و آبرو کا تحفظ کرے، وہاں مسلم اکثریت بھی عیسائی اقلیت سے یہ توقع رکھنے میں حق بجانب ہے کہ اس کے حقوق کا لحاظ رکھا جائے، اقلیتیں اپنے قانونی متعین دائرے کو توڑ کر اکثریت کے لیے دل آزاری کا باعث نہ بنیں اور بطور خاص اکثریت کے عقائد ونظریات اور مقدسات کے بارے میں شائستہ لب ولہجہ اختیار کیا جائے، اور کوئی ایسا کھیل نہ کھیلا جائے جو اکثریت کو قانونی دائرے توڑنے پر مجبور کرتا ہو۔
اگر آپ اپنے مذہبی اور اخلاقی منصب اور اس منصب کے تقاضوں کی طرف میری ان گزارشات کی روشنی میں توجہ فرمائیں گے تو مجھے اللہ تعالیٰ کے فضل وکرم سے پورا یقین ہے کہ آئندہ شانتی نگر، سانگلہ ہل اور گوجرہ جیسے روح فرسا اور افسوسناک سانحے کبھی پیش نہیں آئیں گے۔ آئیے اس ملک اور اس قوم کے امن وسلامتی کے لیے صحیح سمت میں فیصلے کرنے کی روایت قائم کریں۔ اللہ تعالیٰ رواداری، ہمدردی، انصاف، ایثار اور اخلاق حسنہ کے ساتھ ہمیں ایک پُرامن مستقبل کی تعمیر کے لیے پورے اخلاص کے ساتھ کوشش کرنے کی توفیق عطا فرمائے!
امام کعبہ کا توہین رسالت پر خطبہء جمعہ
تلخیص و ترجمہ: اکرم فضل
اللہ تعالیٰ کی حمد وثنا اور آنحضور ﷺ پر درود و سلام کے بعد امام کعبہ نے کہا: اللہ کے بندو! ڈنمارک ایک یورپی ملک ہے۔ ہمارے اور ان کے درمیان سفارتی تعلقات، تجارتی معاملات اور بین الاقوامی معاہدات ہیں۔ ہم نے انہیں کوئی اذیت نہیں پہنچائی اور نہ ان پر کسی قسم کی زیادتی کی ہے۔ ماضی قریب و بعید میں ہم نے انہیں کوئی نقصان نہیں پہنچایا، لیکن سارا عالم کفر، ملت واحد ہے۔ ان کے دل مسلمانوں کے خلاف حسد و عداوت اور بغض ونفرت سے بھرے ہوئے ہیں۔ قرآن مجید میں کئی ایک مقامات پر اللہ رب العزت نے ان کے مکر وفریب اور اسلام کے خلاف ان کی دسیسہ کاریوں کا تذکرہ فرمایا ہے۔
آخر آج کل ڈنمارک، ہالینڈ، فرانس اور جرمنی میں اسلام اور مسلمانوں کے خلاف حالیہ نفرت انگیز مہم کی ضرورت کیوں پیش آگئی؟ ڈنمارک اور ہالینڈ ڈھٹائی پر کیوں اتر آئے؟ اس کا جواب یہ ہے:
- (1) انہوں نے سنا جیسا کہ تمام دنیا والوں نے سنا کہ آج دنیا کے چاروں کونوں میں
پھیلے ہوئے مسلمان کس بری طرح پنجہء ظلم و استبداد میں جکڑے ہوئے ہیں۔ وہ قوم جس کا مقام عزت و رفعت، عظمت و سربلندی تھا، آج بری طرح ذلت و رسوائی سے دوچار ہے۔
- (2) انہیں ہمارے فلسطین اور مسجد اقصیٰ کے متعلق خبریں پہنچیں کہ کس طرح مسلمان
وہاں بے سرو سامانی کی حالت میں محض پتھروں کے ذریعے مسجد اقصیٰ کا دفاع کرنے کی جستجو میں لگے ہوئے ہیں اور اپنے سینوں پر گولیاں کھا رہے ہیں جبکہ دوسری طرف ان کے مسلمان ساتھی انہیں فراموش کیے بیٹھے ہیں۔
- (3) انہوں نے سنا کہ مسلمانوں نے کس طرح اپنی مسلمان پاک دامن بہنوں کو چیچنیا
اور بوسنیا میں ان کی مدد نہ کر کے انہیں شرمندہ کیا۔
- (4) مسلمانوں کی
کی گئی لیکن بعد زندگی ا
- (5) عصر حاضر میں
مقبولیت کا امریکہ اور کوئی تعجب توحید ان کی
- (6) جب انہوں
شیطانی طاق کے ساتھ عالم لہراتا ذات اقدس پھیلاؤ و اہانت وج جانوروں کا خاص کی ظاہری چمک دمک وہ رحمت عالم، محسن نشانہ بنا رہے ہیں وہ کس انسان، جو صورت ہونے والے، اح اطاعت محبت اور برادران دلدل میں ڈوب
- (4) مسلمانوں کی مقدس کتاب کو ٹائلٹ میں بہایا گیا، جلایا گیا، قرآن مجید کی بے حرمتی
کی گئی لیکن مسلمانوں نے کیا کر لیا؟ سوائے چند دن کے شور و غوغا کے! اس کے بعد زندگی اپنے معمول کے مطابق رواں دواں ہو گئی۔
- (5) عصر حاضر میں عالم کفر کی طرف سے مسلمانوں پر شدید مظالم کے باوجود اسلام کی
مقبولیت کا پوری دنیا بالخصوص یورپی ممالک میں بڑھنا ان کے سامنے ہے۔ آج امریکہ اور یورپ کے کئی ممالک میں اسلام وہاں کا دوسرا بڑا دین بن چکا ہے اور کوئی تعجب نہیں کیونکہ تمام انسانوں کی پیدائش اسلام اور توحید پر ہوتی ہے اس لیے توحید ان کی فطرت میں شامل ہے جس طرح ”عہد الست“ سے واضح ہے۔
- (6) جب انہوں نے اسلام کو مسلسل پھیلتا دیکھا، جس میں انہیں اپنی باطل قوتوں اور
شیطانی طاقتوں کے شیرازے بکھرتے نظر آئے۔ اسلام کا سورج پوری آب و تاب کے ساتھ چڑھتا اور توحید کا آوازہ گونجتا دکھائی دیا اور اسلام کا پھریرا چہار دانگ عالم لہراتا ہوا نظر آیا تو انہوں نے مسلمانوں کے رہبر و رہنما جناب محمد ﷺ کی ذات اقدس پر کیچڑ اچھالنا شروع کر دیا (نعوذباللہ) اور اسلام کا وسیع پیمانے پر پھیلاؤ دیکھ کر وہ بری طرح خوفزدگی اور جھنجلاہٹ کا شکار ہو گئے ہیں۔
اہانت و بدگوئی، فحش کاری اور دریدہ دہنی امریکہ اور یورپ کے نام نہاد تہذیب یافتہ جانوروں کا خاص شیوہ ہے۔ آج جو لوگ ترقی کی اوج کمال پر براجمان نظر آتے ہیں اور جن کی ظاہری چمک دمک آنکھوں کو خیرہ کیے دیتی ہے، وہ اپنے باطن کی غلاظت اگل رہے ہیں۔ وہ رحمت عالم، محسن انسانیت اور خاتم النبیین سیدنا محمد ﷺ کی ذات اقدس کو طعن و تشنیع کا نشانہ بنا رہے ہیں۔
وہ کس کی گستاخی کر رہے ہیں؟ وہ رسول محترم ﷺ جو دنیا کے سب سے عظیم انسان، جو صورت میں اجمل، سیرت میں اکمل، نبیوں اور رسولوں کے سردار، مقام محمود پر فائز ہونے والے، اسراء و معراج سے مشرف ہونے والے، جو دنیا میں نور کا محور، ایمان، مرکز اطاعت و محبت اور مرجع ہدایت ہیں۔
برادران اسلام! مسلمان اپنے علم و عمل میں کمزور ہو سکتا ہے، وہ گناہوں اور معصیتوں کی دلدل میں ڈوب سکتا ہے مگر اس کے دل میں کلمہ ”لا اله الا الله محمد رسول الله“ نے پیغمبر
اسلام سے محبت اور وارفتگی کا جو بیج بو دیا ہے، اسے نکالا نہیں جاسکتا۔ کوئی دم بریدہ سگ کوئے غلاظت آپ ﷺ کی شان میں ہرزہ سرائی اور دشنام طرازی کرے اور مسلمان چین کی نیند سوئے یہ ممکن نہیں ...... اس کی تو دین و دنیا کی بھلائی ہی آپ ﷺ کی ذات سے وابستہ ہے۔
اللہ کے بندو! یاد رکھو، ان کا علاج کل بھی جہاد تھا اور آج بھی جہاد ہے۔ دیر یا بدیر یہ اسی علاج ہی سے بالآخر درست ہوں گے۔ کل کے ابوجہلوں کا بھی یہی علاج تھا اور آج کے ابوجہلوں کا بھی یہی علاج ہے۔ جس چیز نے ان کے غیظ و غضب کو بھڑکایا وہ یہ تھی کہ نبی محمد ﷺ کے جانثاروں کی تعداد میں باوجود مسلمانوں کی توہین و تذلیل، تنقیص و تحقیر کے دن بدن اضافہ ہو رہا ہے۔ انہیں اور ان کے اتحادیوں اور منافقوں کو، جو ہمارے درمیان رہتے ہیں، اغیار کے لیے اپنے ملکوں کے دروازے کھول کر ان کا پرجوش استقبال اور ان کی طرف سے عطا کردہ سہولتوں کا فائدہ اٹھاتے ہیں۔ اسلام قبول کرنے والوں کی کثیر تعداد نے انہیں آگ بگولہ کر دیا ہے۔ ان خاکوں سے یہ باور کروانے کی مذموم کوشش کی گئی ہے کہ اسلام اعلیٰ دین نہیں، مسلمانوں کے نبی محمد ﷺ معاذ اللہ تخریب کار تھے۔ یہ قتل و غارت گری کرنے والوں کا گروہ ہے جو (نقل کفر کفر نہ باشد) نعوذ باللہ ایک قاتل، لٹیرے، مجنوں پیغمبر کی مجنونانہ باتوں کی پیروی کرتا ہے، جس نے ایک دہشت ناک معبود بنایا جس کا نام ”اللہ“ رکھا ہے۔ آخر یہ کافر اس بات کو کیوں بھول گئے کہ محمد رسول اللہ ﷺ جرنیل المجاہدین تھے اور آپ ﷺ کے جانثاروں کی سب سے بڑی تمنا، آرزو اور خواہش شہادت فی سبیل اللہ کا حصول ہے۔ خود رسول اللہ ﷺ کا ارشاد مبارک ہے: ”اس ذات کی قسم! جس کے ہاتھ میں میری جان ہے میں بھرپور تمنا رکھتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کی راہ میں شہید ہو جاؤں، پھر دوبارہ زندہ کیا جاؤں، پھر شہید ہو جاؤں، پھر زندہ کیا جاؤں اور پھر شہید کیا جاؤں، پھر زندہ کیا جاؤں، پھر شہید ہو جاؤں۔“ (صحیح بخاری)
برادران اسلام! ڈنمارک اور ہالینڈ کے جن جرائد نے نبی پاک ﷺ کے توہین آمیز خاکوں میں رسول اللہ ﷺ کی جس طرح توہین کی ہے، اسے کوئی ادنیٰ سے ادنیٰ اور گنہگار ترین مسلمان بھی برداشت نہیں کرسکتا۔ یہ کیسے ممکن ہے کہ کافر کھلم کھلا دیدہ دلیری کے ساتھ ہمارے پیغمبر ﷺ کی توہین کریں اور ہم کہیں کہ اسلام شدت پسندی، تخریب کاری، دہشت گردی، قتل و غارت گری اور فساد پھیلانے کا حکم نہیں دیتا۔ اسلام روشن خیالی، رواداری،
عفو و درگزر اور معاملات کو سلجھانے کے لیے نرمی برتنے کا حکم دیتا ہے۔ کیا اللہ تعالیٰ نے نبی اکرم ﷺ اور صحابہ کرامؓ کی شان یوں بیان نہیں فرمائی:
’’اشدآء علی الکفار‘‘ (وہ کافروں پر سخت ہیں۔ الفتح: 29)
اللہ کی قسم! اگر یہ سنگین معاملہ سلامتی کے ساتھ گزر گیا تو اس سے بڑی ذلت اور رسوائی والی بات کوئی اور نہ ہوگی۔ جو امت اپنے قائد کا دفاع کرنے کی طاقت نہیں رکھتی وہ کبھی بھی اپنے دشمنوں پر فتح و نصرت اور غلبہ حاصل نہیں کر سکتی۔ بتائیے! آج ہم نے تحفظ حرمت رسول ﷺ کے لیے کیا قربانی پیش کی ہے کہ جسے بطور علامت ہم قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے روبرو پیش کرسکیں گے؟ آج کافر ہمارا مذاق اڑاتے ہیں، مسلمانوں کا قتل عام کرتے ہیں۔ قرآن مجید کو قدموں تلے روند کر بے حرمتی کرتے ہیں۔ پیغمبر اسلام محمد ﷺ کی شان میں گستاخی کرتے ہیں اور پھر ’الٹا چور کوتوال کو ڈانٹے‘، ’چوری اور اوپر سے سینہ زوری‘ کے مصداق مسلمانوں کو دہشت گرد، تخریب کار اور انتہا پسند کہتے ہیں۔
ہمیں بتائیں کہ اتنا کچھ ہونے کے بعد یہ یہود و نصاریٰ ہمیں کیسا دیکھنا چاہتے ہیں کہ ہم ان کے سامنے منہ کے بل لیٹ جائیں اور یہ ہمارے چہروں کو اپنے قدموں تلے روندتے پھریں؟ کیا یہ ہم سے یہی چاہتے ہیں؟ یورپ میں ایک عام بدکار ترین شخص کی توہین بھی جرم ہے لیکن آزادی اظہار کے تقاضے پورے کرنے کے لیے صرف اسلام ہی ان کا تختہ مشق رہ گیا ہے؟
اے امت محمد ﷺ کہو! کل جب تم نبی اکرم ﷺ کے پاس حوض کوثر پر جاؤ گے تو امام الانبیاء حبیب رب کبریا تم سے پوچھیں گے بتاؤ! دشمنان اسلام نے میری عزت و حرمت پر ڈاکے ڈالے۔ مجھے خوب اذیتیں پہنچائیں تو تم نے میری عزت و آبرو، حرمت و ناموس کے دفاع میں کیا کردار ادا کیا؟
اس موقع پر عالم اسلام کے مسلمان حکمرانوں کو ہوش کے ناخن لیتے ہوئے اسلامی غیرت و حمیت کا مظاہرہ کرنا چاہیے اور کسی بھی قسم کی مصلحت اور مفادات سے بالاتر ہو کر ان ممالک کا مکمل سفارتی اور معاشی بائیکاٹ کرنا چاہیے اور جب تک مجرموں کو سزا نہیں دی جاتی، عالم اسلام ان ممالک کے ساتھ سفارتی تعلقات بحال نہ کرے تا کہ عالم کفر کو معلوم ہو جائے کہ مسلمان اپنے پیغمبر ﷺ کی شان میں کسی گستاخی کو برداشت کر سکتے ہیں اور نہ اس مذموم فعل کی معافی کا کوئی سوال ہے۔
٭ ٭ ٭
مفتی ابولبابہ
اسرائیل سے قادیان تک پھیلی ہوئی ابلیسی تحریک
یہ جولائی 2007ء کی بات ہے۔ لاہور کا ایک خوبرو نوجوان شہزاد، ملک کے ایک مشہور و معروف قومی اخبار کا مطالعہ کر رہا تھا۔ اخبار کے ورق الٹتے ہوئے اچانک اس کی نظر کلاسیفائیڈ اشتہارات پر پڑی۔ پھر ان میں سے ایک اشتہار پر اس کی نگاہیں گڑ کر رہ گئیں۔ ”دوستیاں کیجیے...... کامیاب بنیے!!“ اشتہار میں بتایا گیا تھا کہ ہر نوجوان دیے گئے رابطہ نمبروں پر کال کر کے نئے دوست تلاش کر سکتا ہے۔ جو لڑکے بھی ہو سکتے ہیں اور لڑکیاں بھی...... یہ نئے تعلقات اس کی زندگی میں نئی جان ڈال دیں گے۔
شہزاد ان دنوں ویسے بھی فارغ تھا۔ اس کی زندگی بے مزہ سی گزر رہی تھی۔ ایسے اشتہارات اس نے پہلے بھی دیکھے تھے مگر اب اس نے پہلی بار انھیں آزمانے کا ارادہ کیا۔ اس نے اشتہار میں دیے گئے نمبروں پر رابطہ کیا۔ اس رابطے کے نتیجے میں اسے کئی لڑکوں اور لڑکیوں کا تعارف کرایا گیا۔ ان کے فون نمبرز دیے گئے۔ شہزاد نے ان میں سے ایک لڑکی ”روحی“ کو دوستی کے لیے منتخب کیا اور اس کے نمبر پر کال کی۔ دونوں میں ہیلو ہائے ہوئی۔ پھر باقاعدہ ملاقات کے لیے جگہ کا تعین ہوا۔ لڑکی نے خود بتایا کہ وہ لاہور کے فلاں جوس سینٹر میں مل سکتی ہے۔ شہزاد وہاں پہنچ گیا۔ اس طرح روحی سے اس کی پہلی ملاقات ہوئی۔ اس ملاقات نے اسے ایک نئی دنیا کی سیر کرائی۔ عیش و عیاشی کی دنیا، رنگ رلیوں کی دنیا، جہاں شرم و حیا نامی کوئی شے نہیں ہوتی۔ روحی اس دنیا میں داخلے کا دروازہ تھی۔ آگے لڑکیوں کی ایک لمبی قطار تھی۔ شہزاد کی دوستیاں بڑھتی چلی گئیں۔ اسے ہوش تب آیا جب اسے جسم میں شدید توڑ پھوڑ کا احساس ہوا۔ اس نے ڈاکٹروں سے معائنہ کروایا تو پتا چلا کہ وہ ایڈز کا مریض بن چکا ہے۔ شہزاد کے پاس اتنی رقم نہیں تھی کہ وہ اپنا علاج کراتا۔ تب اسی گروہ کے سرکردہ افراد نے علاج کی پیش کش کی مگر شرط یہ تھی کہ وہ ان کے گروہ کے لیے کام کرے۔ شہزاد کو موت سامنے نظر آ
رہی تھی۔ وہ ہر خطرناک سے خطرناک اور ناجائز سے ناجائز کام کے لیے تیار ہو گیا۔ ویسے بھی حلال وحرام کا فرق تو وہ کب کا بھول چکا تھا۔
گروہ کے منتظمین خود سات پردوں میں تھے۔ وہ شہزاد کو اپنی لڑکیوں کے ذریعے مختلف کام بتاتے تھے۔ یہ کام عجیب وغریب تھے۔ شہزاد ایک پڑھا لکھا اور ذہین نوجوان تھا۔ جلد ہی وہ گروہ کے کاموں کو خاصی حد تک سمجھ گیا۔ گروہ کے منصوبے آہستہ آہستہ اس پر عیاں ہونے لگے۔ یہ منصوبے بے حد خوفناک تھے۔ یہ گروہ ملک میں ایڈز کا وائرس پھیلا رہا تھا۔ ہیپاٹائٹس سی کی بیماری کو فروغ دے رہا تھا۔ ہزاروں افراد اس کا نشانہ بن چکے تھے۔ آزاد خیال نوجوان، ہسپتالوں کے مریض اور جیلوں کے قیدی اس کا خاص ہدف تھے۔ آزاد خیال نوجوانوں کو دوستی کے اشتہارات کے ذریعے پھنسایا جاتا تھا۔ یہ اشتہارات میڈیا میں مختلف عنوانات سے آ رہے تھے۔ ان کے ذریعے نوجوانوں کا تعلق جن لڑکیوں سے ہوتا تھا، وہ ایڈز اور دوسری مہلک بیماریوں میں مبتلا تھیں۔ ان سراپا بیمار عورتوں کو مختلف این جی اوز سے اکٹھا کیا گیا تھا۔ ان عورتوں کی بیماری اس درجے کی تھی کہ ان کے ساتھ اختلاط سے بھی انسان ایڈز میں مبتلا ہو سکتا تھا، مگر گروہ کے لوگ اس پر اکتفا نہیں کرتے تھے۔ ان کا انتظام اتنا پختہ تھا کہ لڑکی سے پہلی ملاقات کے وقت نوجوان جو مشروب (جوس، کولڈ ڈرنک یا شراب) پیتا تھا، اس میں پہلے سے خطرناک جراثیم ملا دیے جاتے تھے۔ ایڈز کی کئی مریضائیں معقول علاج، بہتر معاوضے اور عیش وعشرت کی چند گھڑیوں کے عوض اس گروہ کے لیے یہ کام کرتی تھیں، جبکہ بہت سی عورتیں جو زمانے سے انتقام لینا چاہتی تھیں، رضا کارانہ طور پر سرگرم تھیں۔ ان میں سے کئی ایک کا تعلق بھارت سے تھا۔ بہت سی عورتیں مجبور ہو کر یہ کام کر رہی تھیں کیونکہ ان کے بچے اس گروہ کے قبضے میں تھے، ان سے وعدہ کیا گیا تھا کہ اگر وہ احکام کی تعمیل کرتی رہیں، ایڈز پھیلاتی رہیں تو ان کے بچوں کو اعلیٰ تعلیم دلوا کر ان کا مستقبل شاندار بنا دیا جائے گا۔
ان بے فکرے نوجوانوں کے علاوہ ہسپتالوں، پاگل خانوں اور جیل خانوں کے مریض ان کا دوسرا ہدف تھے۔ یہ گروہ پاکستان کے طول وعرض میں ایسی لاکھوں سرنجیں پھیلا رہا تھا جو ایڈز یا ہیپاٹائٹس سی کے مریضوں کے خون سے آلودہ ہوتی تھیں۔ کئی بڑے ہسپتالوں میں اس گروہ کے ایجنٹ موجود تھے۔ وہاں آنے والی سرنجوں میں یہ ایڈز اور ہیپاٹائٹس زدہ سرنجیں ایک مخصوص تناسب سے ملی ہوتی تھیں۔ اتنی سرنجوں کو آلودہ کرنے کے
لیے گروہ نے پاگل خانوں میں سرگرم اپنے ایجنٹوں کے ذریعے پاگل افراد کو اپنا نشانہ بنایا ہوا تھا۔ ان کو ایڈز یا ہیپاٹائٹس سی میں مبتلا کرنے کے بعد ان کا خون بڑی مقدار میں نکالتے رہنے کا سلسلہ جاری رہتا تھا۔
گروہ کا تیسرا ہدف جیل کے قیدی تھے۔ ان میں سے کم مدت کی سزا پانے والے حد درجے منفی اور لادینی ذہنیت رکھنے والے قیدیوں کو خاص تجزیے کے بعد منتخب کر کے علاج کے بہانے ایڈز زدہ کر دیا جاتا تھا۔ جب یہ قیدی رہا ہوتے تو بیماری کے باعث ان کا کوئی مستقبل نہ ہوتا تھا۔ یہ گروہ ان سے رابطہ کر کے انھیں اپنا رضا کار بنا لیتا تھا۔ یہ قیدی ویسے ہی تخریبی ذہن کے مالک ہوتے تھے۔ اپنی محرومیوں کا دنیا سے بدلہ لینے کے لیے وہ ایڈز پھیلانے پر آمادہ ہو جاتے تھے۔ انھیں کانوں کان یہ معلوم نہ ہوتا تھا کہ انھیں ایڈز میں مبتلا کرنے والے ”مہربان“ یہی ہیں۔
گروہ کا ایک خاص کام دوسرے لوگوں کی اسناد کو اپنے کارکنوں کے لیے استعمال کرنا تھا۔ اس مقصد کے لیے اخبارات میں تبدیلی نام اور ولدیت کے اشتہارات شائع کر دیے جاتے۔ گروہ کے کسی کارکن کو کسی ملازمت کے لیے جو مطلوبہ سند درکار ہوتی، اس کا انتظام اس طرح ہوتا تھا کہ پہلے کمپیوٹر پر اپنے کارکن کی ولدیت سے ملتے جلتے نام والی ولدیت سرچ کی جاتی۔ مثلاً: ظفر ولد جمیل کو کہیں بھرتی کرانا ہوتا تو نیٹ سے جمیل نام کی ولدیت رکھنے والے افراد کی فہرست حاصل کر لی جاتی۔ پھر ظفر کا تبدیلی نام کا اشتہار شائع کرا کے تبدیل کر دیا جاتا۔ اس طریقے سے گروہ کے ان گنت افراد کو ڈپلی کیٹ اسناد دلوا کر پولیس، خفیہ ایجنسیوں اور فوج میں بھرتی کیا جا رہا تھا۔ جیل خانوں، ہسپتالوں اور پاگل خانوں میں بھی ان کی خاصی تعداد پہنچا دی گئی تھی۔ گروہ کی آمدن کے کئی ذرائع تھے۔ شہزاد کو اتنا معلوم ہو سکا کہ بڑی گرانٹ اسے باہر سے ملتی ہے۔ دیگر ذرائع خفیہ تھے۔ البتہ ایک ذریعہ آمدن بہت واضح تھا۔ وہ ایڈز اور دوسرے مہلک امراض کی ادویہ کی تجارت کا۔ ایک طرف تو خود یہ گروہ ان امراض کو پھیلا رہا تھا اور دوسری طرف ان کی ادویات منہ مانگے داموں فروخت کر کے بے تحاشا دولت کما رہا تھا۔
ایک مدت تک شہزاد بھی اپنا دین و ایمان بھول کر اس گروہ کے لیے کام کرتا رہا۔ یہاں تک کہ وہ ان کے قابل اعتماد کارکنوں میں شامل ہو گیا۔ تب ایک دن گروہ کے سرکردہ
افراد نے اسے طلب کیا اور حیرت انگیز حد تک پرکشش مراعات کی پیش کش کی مگر ساتھ ہی ایک غیر متوقع مطالبہ بھی کیا۔ ”تم قادیانی بن جاؤ۔ مرزا غلام احمد قادیانی کو آخری نبی مان لو۔“ شہزاد ہکا بکا رہ گیا۔ آج اسے معلوم ہوا کہ یہ گروہ قادیانی ہے۔ اس نے سوچنے کی مہلت طلب کی اور اس کے بعد مزید کھوج میں لگ گیا۔ اس جستجو میں گروہ کی ایک پرانی کارکن ”روبینہ“ نے اس کی مدد کی۔ روبینہ نے جو انکشافات کیے، وہ شہزاد کے لیے کسی ایٹمی دھماکے سے کم نہیں تھے۔ اس نے بتایا: ”بلاشبہ یہ قادیانی گروہ ہے مگر اکیلا نہیں۔ یہ ایک بیرونی خفیہ ایجنسی کی سرپرستی میں کام کر رہا ہے۔ یہ کام ایک وسیع جنگ کے تناظر میں ہو رہا ہے۔ اسے ہم حیاتیاتی جنگ (Biological war) کہہ سکتے ہیں۔“
شہزاد کی یہ سچی کہانی چند روز قبل ہی سامنے آئی ہے۔ اسے پڑھ کر میں لرز گیا ہوں۔ میں اس پر یقین نہ کرتا شاید آپ بھی اسے سچ ماننے میں متذبذب ہوں کیونکہ یہ بات حلق سے اترنا واقعی مشکل ہے کہ آیا کوئی گروہ بلا تفریق لاکھوں کروڑوں پاکستانیوں کو اس طرح خفیہ انداز میں قتل کرنا کیوں چاہے گا؟ امریکا کی جنگ تو مجاہدین سے ہے۔ قادیانیوں کی لڑائی تو علما اور ختم نبوت والوں سے ہے۔ انہیں عوام کے اس قتل عام سے کیا حاصل ہوگا؟ شہزاد کی کہانی میں اس کا جواب نہیں ملتا، مگر اس کا جواب خود یورپی میڈیا پر آنے والی رپورٹوں سے مل سکتا ہے۔ ان رپورٹوں کے مطابق اس وقت یورپ اور امریکا میں انسانی آبادی تیزی سے مٹنے کا خطرہ واضح طور پر محسوس ہو رہا ہے۔ وہاں کے ”فری سیکس“ معاشرے میں اب کوئی عورت ماں بننا چاہتی ہے نہ کوئی مرد باپ۔ تقریباً ہر فرد کا یہ ذہن بن چکا ہے جب جنسی تسکین کے لیے آزاد راستے موجود ہیں تو شادی کا بندھن اور بچوں کا جھنجھٹ سر کیوں لیا جائے؟ اس بظاہر پُر فریب خیال کے پیچھے اجتماعی خودکشی کا طوفان چلا آ رہا ہے۔ جس قوم کے اکثر لوگ بچے پیدا نہ کرنا چاہتے ہوں وہاں شرح پیدائش کیوں کم نہ ہوگی؟ چنانچہ وہاں اب آبادی تیزی سے سمٹنے لگی ہے۔ سابق امریکی صدارتی امیدوار پیٹرک جے بیوکانن نے واضح طور پر لکھا ہے: ”2050ء تک یورپ سے دس کروڑ افراد صرف اس لیے کم ہو جائیں گے کہ متبادل نئی نسل پیدا نہیں ہوگی۔“ اس نے لکھا ہے: ”2050ء تک جرمنی کی آبادی 8 کروڑ سے گھٹ کر 5 کروڑ 90 لاکھ رہ جائے گی۔ اٹلی کی آبادی 5 کروڑ سے کم ہو کر صرف 4 کروڑ رہ جائے گی۔ اسپین کی آبادی میں 25 فیصد کمی ہو جائے گی۔“
یہ وہ صورت حال ہے جس سے گھبرا کر مغربی دنیا کی حکومتیں عوام کو افزائش نسل کی ترغیبات دینے پر مجبور ہوگئی ہیں مگر کتے بلیوں کی طرح آزادانہ جنسی ملاپ کے عادی گورے اب کسی بھی قیمت پر یہ آزادی کھونا نہیں چاہتے۔ کوئی بڑے سے بڑا انعام انھیں بچے پالنے کی ذمہ داری قبول کرنے کے لیے سنجیدہ نہیں بنا سکتا۔ یہ بات درجہ یقین کو پہنچ گئی ہے کہ اس صورت حال کا تدارک نہ ہونے کے باعث 60,50 سال بعد دنیا میں عیسائی اقلیت میں رہ جائیں گے اور کرہ ارض پر 60 سے 65 فیصد آبادی مسلمانوں کی ہوگی جو اپنی نسل مسلسل بڑھا رہے ہیں۔ خود یورپی ممالک میں کئی بڑے بڑے شہروں میں مسلم آبادی 50 فیصد کے لگ بھگ آ جائے گی۔ اس صورت حال میں مغربی طاقتوں نے اپنے ہاں افزائش نسل سے زیادہ توجہ مسلم دنیا کی نسل کشی پر دینا شروع کر دی ہے۔ پاکستان کو اس مقصد کے لیے پہلا ہدف اس لیے بنایا گیا ہے کہ یہ مسلم دنیا میں آبادی کے لحاظ سے تین بڑے ملکوں میں سے ایک ہے۔ پھر یہاں کی آبادی اپنی اسلام پسندی، علماء و مدارس کی کثرت اور جہادی پس منظر کی وجہ سے پہلے ہی مغرب کا خاص ہدف ہے۔ اس کے علاوہ یہاں مغرب کے مددگار قادیانیوں کا مضبوط نیٹ ورک ہے۔ چنانچہ یہودی لابی اس مقصد کے لیے متحرک ہو گئی ہے۔ اس کے لیے پاکستان کے قادیانی ان کے شریک کار بن گئے ہیں۔ شہزاد جیسے ہزاروں لڑکے اور رومی جیسی ہزاروں لڑکیاں ان کے چنگل میں ہیں۔ اپنے ایڈز زدہ جسموں کے ساتھ وہ طوعاً و کرہاً ان کے لیے کام کر رہے ہیں۔ شہزاد کے بیان کے مطابق قادیانی گروہ ایک بیرونی خفیہ ایجنسی کے اس تعاون کو پاکستان کے سیکورٹی اہداف کے خلاف بھی استعمال کر رہا ہے۔ جراثیم زدہ لڑکیوں کا نیٹ ورک ملٹری فورسز اور دوسرے خفیہ اداروں کے محب وطن افراد تک پھیلانے کی کوششیں پوری سرگرمی سے جاری ہیں جن کا نوٹس لینا ضروری ہے۔
مجھے یہ حساس ترین معلومات دیتے ہوئے شہزاد نے واضح طور پر آگاہ کیا کہ اسے اپنی جان کا خطرہ لاحق ہو چکا ہے۔ قادیانیوں نے اسے مرزا قادیانی پر ایمان لانے کی پیشکش کر کے اس کی سوئی ہوئی ایمانی غیرت کو جھنجھوڑ دیا تھا۔ شہزاد نے ان کی پیش کش ان کے منہ پر دے ماری اور اس گروہ کی جڑوں کو کھود کر ان کا کچا چٹھا صحافی برادری تک پہنچا دیا۔ شہزاد اپنا کام کر چکا، اب اس کا جو بھی انجام ہو وہ بھگتنے کے لیے تیار ہے۔ میں اپنا فرض سمجھتے ہوئے یہ حقائق آپ تک پہنچا رہا ہوں۔
ہم چیف جسٹس، چیف آف آرمی اسٹاف اور آئی ایس آئی کے سربراہ سے بطور خاص گزارش کرتے ہیں کہ اس بارے میں تحقیقات کر کے پاکستانیوں کی نسل کشی کے اس خوفناک منصوبے کو ناکام بنائیں، ورنہ مستقبل میں جہاں آبادی سے محروم یورپ و امریکا خودکشی کریں گے، وہاں پاکستان بھی لق و دق صحرا بن کر اپنی پہچان سے محروم ہو جائے گا۔ اللہ تعالیٰ اس برے وقت سے پہلے ہمیں سنبھلنے کی توفیق عطا فرمائے! قارئین سے گزارش ہے کہ اخبارات اور چینلوں پر آنے والے دوستی کے اشتہارات پر نظر رکھیں اور ان کے خطرات سے اپنے متعلقہ احباب کو خبردار کریں۔“
شہزاد کی یہ کہانی مجھے ملک کے ایک معروف لکھاری اور مصنف نے لکھ کر بھیجی کہ آپ کے موضوع سے تعلق رکھتی ہے، اسے شائع کر دیجیے۔ میں نے ان سے اصرار کیا کہ میں کہانی کے اصل کردار اور راوی سے ملنا چاہتا ہوں۔ انھوں نے تلاش کے بعد بتایا کہ وہ رابطے میں نہیں ہے۔ بھیس بدل کر مفروروں جیسی زندگی گزار رہا ہے۔ اس پر میں نے مطالبہ کیا کہ اس کا اصل خط بھیجا جائے۔ انھوں نے اصل خط روانہ کر دیا۔ میں نے بنظر غائر کئی مرتبہ اس کا مطالعہ کیا اور قیافہ شناسی کے جو گر آتے تھے، انھیں بروئے کار لاتے ہوئے نقل واصل میں فرق اور داستان و زیب داستان میں امتیاز کی بھر پور کوشش کی۔ سچ کا پلڑا بھاری محسوس ہوتا تھا...... لیکن مبینہ حقائق و واقعات اتنے تہلکہ خیز تھے اور بہت سے ایسے چہروں سے پردہ اٹھتا کہ زلزلہ آ جاتا۔ زلزلے کے یہ جھٹکے اتنے لطف آور اور حوصلہ آزما ہوتے کہ ان کا دیا ہوا جھولا جھولنے کی پہلے سے تیاری ضروری قرار پاتی تھی۔ لہٰذا بندہ نے یہ خط لاہور بھیج دیا۔ وہاں کے کچھ اللہ والوں نے جب خط میں نشان زدہ جگہوں کا گشت کیا تو انھیں بھی حقیقت کا شبہ، گمان کے اندیشے پر غالب محسوس ہوا۔ اس پر میں نے یہ فیصلہ کیا کہ خود موقع واردات پر جانا چاہیے اور جائے وقوعہ پر پہنچ کر شواہد و قرائن اکٹھے کرنے چاہئیں تاکہ سند رہیں اور بوقت ضرورت کام آئیں۔ کہانی کی سچائی کو زمینی حقائق کی کسوٹی پر پرکھنے کا عمل بھڑوں کے چھتے میں ہاتھ ڈالنے کے مترادف تھا...... لیکن اسلام اور پاکستان کے خلاف مصروف کار ان بھڑوں کا ڈنک اس کے بغیر نکالنا بھی ممکن نہ تھا لہٰذا بندہ نے اللہ کا نام لیا، رخت سفر باندھا اور لاہور جا پہنچا۔ شہر زندہ دلان لاہور میں کیا کچھ بدتمیزیاں ہو رہی تھیں اور کیسی کچھ بدتہذیبی کا طوفان برپا کیا گیا تھا، یہ داستان المناک بھی ہے اور توجہ طلب بھی۔ اگر ایمان کی رمق انسان میں باقی ہو اور
غیرت کی چنگاری بالکل بجھ نہ گئی ہو تو یہ پڑھنے سننے والے کو اس داستان کے مکروہ کرداروں کے خلاف اپنے حصے کا کام کرنا چاہیے۔ یہ ہمارے ایمان و غیرت کا تقاضا بھی ہے اور ہمارے تحفظ و بقا کا مسئلہ بھی۔ میں نے واردات کے عینی مشاہدے کے بعد کیا کچھ دیکھا؟ یہ آپ کو پوری طرح سمجھ نہ آئے گا جب تک آپ اس گمنام نوجوان کا خط نہ پڑھ لیں۔ لہٰذا پہلے یہ خط ملاحظہ کیجیے پھر چند مشاہداتی اطلاعات جو اہلِ وطن کا امتحان ہیں اور ان کے سامنے ایک زبردست چیلنج کی حیثیت رکھتے ہیں۔
٭ ٭ ٭
محمد ہاشم جاوید
فتنہ زید زمان (زید حامد)
ابوالحسنین محمد یوسف علی 1949ء کو جڑانوالہ میں پیدا ہوا اور پنجاب یونیورسٹی لاہور سے اسلامیات میں ایم اے کیا۔ 1970ء سے قبل وہ پاک آرمی میں تھا اور بعد ازاں کیپٹن کے عہدے سے استعفیٰ دے کر جدہ چلا گیا اور دو سال بعد لاہور شادمان میں رہائش پذیر ہوا اور بعد میں 218 کیو بلاک ڈیفنس میں رہائش پذیر ہوا۔ یوسف کذاب نے ”ورلڈ اسمبلی فار مسلم یوتھ“ کی بنیاد رکھی جو کاغذی تنظیم تھی۔ وہ خود ہی اس کا صدر اور ڈائریکٹر جنرل تھا اور گھر میں ہی اس کا دفتر تھا۔ ایک روزنامہ کے ادارتی صفحہ پر کالم ”تعمیر ملت“ لکھتا رہا۔ اس نے 500 روپے فی جمعہ کے حساب سے مسجد بیت الرضا میں خطبہ جمعہ دینا شروع کیا اور جمعہ کے بعد مسجد سے ملحقہ حجرہ میں محفل لگانا شروع کردی۔ یہیں مختلف لوگوں کو بشارتیں دیتا کہ آپ کا اس وقت تک انتقال نہیں ہوگا جب تک رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے باقاعدہ ملاقات نہیں کرتے اور دعویٰ کرتا کہ وہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے کسی کی بھی ملاقات کروا سکتا ہے۔ لوگ سن کر خوش ہو جاتے اور اپنی جان نچھاور کرتے۔ یہ ان لوگوں کو درود شریف پڑھنے پر لگا دیتا اور ملاقات کے لیے مختلف شرائط رکھتا کسی کو کہتا کہ آپ ساری دولت مجھے دے دیں۔ کسی کے گھر کی رجسٹری مانگ لیتا۔ جس کی بیوی خوبصورت ہو اسے کہتا کہ اپنی بیوی کو طلاق دو تاکہ باقی زندگی حضور (یوسف کذاب) کی ہمرکابی میں گزارے۔ اس کا طریقہ کار یہ تھا کہ زبان سے کہہ دیتا کہ فلاں لڑکی آج سے اس کی بیوی ہے۔ بغیر نکاح کے کئی عورتوں کی زندگیاں خراب کیں۔
جب یوسف کذاب دیکھتا کہ کوئی شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دیدار کے لیے مضطرب ہے تو اس کو کمرے میں لے جاتا اور پھر اس کو کہتا کہ آنکھیں بند کرو اور درود شریف پڑھو، پھر کہتا کہ آنکھیں کھولو اور پوچھتا کہ دیدار ہوا؟ سامنے بیٹھا شخص حیرت سے ادھر ادھر دیکھتا کہ کمرے میں یوسف کذاب کے علاوہ کوئی موجود نہیں تو پریشان ہو جاتا، جس پر یوسف
کذاب اسے کہتا ”انا محمد“ (میں ہی محمد ہوں) میرا یہ راز کسی کو مت بتائیے گا، درود شریف پڑھتے رہیے گا اور مجھ پر بھیجتے رہیے گا۔ جلد ہی ہم دنیا میں اپنا آپ ظاہر کریں گے۔
یوسف کذاب نے جن افراد کو اس انداز میں اپنا دیدار کرواتے ہوئے خود کو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کہا، ان میں کراچی کے ایک ریٹائرڈ ایئر کموڈور، ایک بریگیڈئر ڈاکٹر، ایک سکواڈرن لیڈر، ایک فارمسٹ اور متعدد تعلیم یافتہ اچھے گھرانوں کے کاروباری افراد شامل ہیں۔ ان تمام افراد نے تھانہ ملت پارک لاہور پولیس کے سابق ایس ایچ او ملک خوشی محمد کو اپنے انفرادی بیانوں میں یہ بتایا اور تحریری طور پر بھی لکھ کر دیا ہے کہ وہ تمام افراد یوسف کذاب کا بطور ”محمد“ دیدار کر چکے ہیں۔
یوسف کذاب کے دعاوی و عقائد
یوسف کذاب نے ابتداء میں خود کو مرشد کامل، مرد کامل، حضرت، امام وقت، اللہ تعالیٰ اور خاتم النبیین حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا نائب و سفیر بنا کر پیش کیا۔ سٹیٹ بنام یوسف علی سیشن کیس نمبر 60 آف 1998 میں پیش کردہ یوسف کذاب کی آڈیو، ویڈیو، تحریریں، ڈائری اور کتابوں سے اس کے دعاوی و عقائد لیے گئے ہیں۔ اور ان سب کا مطالعہ آپ www.endofprophethood.com پر کر سکتے ہیں۔ اس کے غلیظ اور خطرناک عقائد درج ذیل ہیں:۔
- (1) یوسف کذاب نے مرد کامل ہونے کا دعویٰ کیا اور کہا کہ مرد کامل درحقیقت محمد صلی
اللہ علیہ وسلم کی شاندار شکل ہوتی ہے۔ (از بانگ قلندری، مرد کامل کا وصیت نامہ اور ڈائری یوسف کذاب)
- (2) یوسف کذاب نے کہا کہ وہ امام وقت ہے اور دعویٰ کیا کہ جب اللہ اور محمد صلی اللہ
علیہ وسلم کسی فرد پر نزول کرتے ہیں وہ رسول یا امام وقت ہو جاتا ہے۔ (از کالم تعمیر ملت، ڈائری یوسف کذاب)
- (3) یوسف کذاب کا دعویٰ ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم جسمانی طور پر اب تک زندہ ہیں
ان کی پہلی شکل آدم تھے اور موجودہ شکل محمد یوسف علی ہے۔ (ڈائری یوسف کذاب و چشم دید گواہوں کے عدالتی بیانات)
- (4) یوسف کذاب کا عقیدہ تھا کہ اللہ تعالیٰ طبعی جسم رکھتا ہے اور اس نے دعویٰ کیا کہ
رب اس کے اندر بول رہا ہے اور اس کے چیلوں نے لکھا ہے کہ یوسف علی ہی رب دو جہاں ہے۔ (ویڈیو کیسٹ یوسف کذاب، علی نامہ، ڈائری یوسف کذاب)
- (5) یوسف کذاب نے کہا کہ ”محمد“ ہر لحاظ سے عین اللہ تعالیٰ کی مثل ہے اور یہ دعویٰ کیا
کہ اللہ محمد ﷺ ایک ہی ہیں اور جو اپنے آپ کو اللہ محمد ﷺ کے علاوہ سمجھ رہا ہے، مشرک ہے۔ (ڈائری یوسف کذاب، آڈیو کیسٹ)
- (6) یوسف کذاب نے دعویٰ کیا کہ قرآن پاک کے تمام ترجمے غلط ہیں اور تمام تفسیریں
غلط ہیں۔ (آڈیو کیسٹ، ویڈیو کیسٹ یوسف کذاب)
- (7) یوسف کذاب نے دعویٰ کیا کہ اس کی قیام گاہ غار حرا ہے۔ حج وعمرہ کے لیے وہاں جانے
کی کیا ضرورت ہے، یہاں کرا دیتے ہیں۔ ( تقریر 28 فروری 1997ء آڈیو کیسٹ)
- (8) یوسف کذاب نے دعویٰ کیا کہ یوسف علی رسول اور اس کے مصاحب صحابہ ہیں۔
( تقریر 28 فروری 1997ء آڈیو کیسٹ)
یوسف کذاب پر مقدمہ: یوسف کذاب کی خرافات کا مکمل جائزہ لے کر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی طرف سے S.S.P لاہور کو تحریری طور پر درخواست دی گئی کہ یوسف علی توہین رسالت ﷺ کا مرتکب ہوا ہے۔ اس لیے قانون کے مطابق اسے سزا دی جائے۔ 25 مارچ 1997ء کو پولیس نے یوسف کذاب کو اس کے گھر سے گرفتار کیا، بیان لیا اور کارروائی مکمل کر کے اسے گھر جانے دیا۔ مدعی حضرت مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی صاحب کی درخواست پر F.I.R درج ہوئی اور تھانہ ملت پارک پولیس نے یوسف کذاب کو گرفتار کر کے 14 دن کا ریمانڈ لیا۔ پولیس نے اپنی تفتیش مکمل کر لی اور اسے گستاخ رسول ﷺ قرار دیا اور پھر اسے جیل بھیج دیا گیا۔
عدالتی کارروائی شروع ہوئی، استغاثہ کے 14 گواہ لاہور، ملتان، کراچی سے طویل سفر کر کے گواہی کے لیے پیش ہوئے اور گواہی دی۔ یوسف کذاب اپنی صفائی میں اپنے سوا کوئی دوسرا گواہ پیش نہ کر سکا۔ کم از کم یوسف کذاب کے ”صحابی“ زید زمان (زید حامد) کو تو ضرور عدالت میں آنا چاہیے تھا۔ کیونکہ اس نے چوک یتیم خانہ لاہور کی مسجد بیت الرضا میں 28 فروری 1997ء کو کذاب کی طرف سے اپنے بطور ”صحابی“ تعارف کرائے جانے پر
کھڑے ہو کر مجمع کے سامنے اس اعزاز پر یوسف کذاب کا شکریہ ادا کیا تھا۔ جس کی کیسٹیں عدالت کے ریکارڈ میں محفوظ ہیں۔
عدالتی کارروائی مکمل ہونے کے بعد 05 اگست 2000ء کو سیشن جج لاہور جناب میاں محمد جہانگیر نے ملزم یوسف کذاب کو مجرم قرار دیتے ہوئے سزائے موت اور 35 سال قید کی سزا کے حکم پر دستخط کر دیئے۔ جج صاحب نے اپنے تفصیلی فیصلہ میں لکھا: ”ملزم یوسف نے اپنی تقریر میں کئی ایسے الفاظ کہے کہ ان سے واضح طور پر پیغمبر اسلام ﷺ اہل بیت اور صحابہ کرامؓ کی بے حرمتی ہوئی ہے۔ یہاں تک کہ ملزم نے قرآن حکیم کے بارے میں بھی توہین آمیز بات کی۔ مثال کے طور پر آڈیو کیسٹ پی 1 کا ٹرانسکرپٹ ایگزیبٹ پی 10 یہ ظاہر کرتا ہے کہ اس نے عبدالواحد اور زید زمان کے ”صحابی رسول“ ہونے کا اعلان کیا۔ اس نے سامعین میں کم از کم سو افراد کے ”اصحاب رسول“ ہونے کا بھی اعلان کیا۔“
جج صاحب اپنے تفصیلی فیصلہ کے آخر میں لکھتے ہیں کہ ”کذاب سے کسی قسم کا نرم رویہ اختیار کیے جانے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا اس کا کافر اور مرتد ہونا ثابت ہو گیا ہے اس لیے کسی قسم کی توبہ کی گنجائش بھی نہیں رہتی۔“
کل کا زید زمان ...... آج کا زید حامد یوسف علی کذاب کا چیلا ہے۔ یوسف کذاب گستاخ رسول اور بدکردار شخص تھا جس نے نبوت کا دعویٰ کیا اور اس جرم میں عدالت سے موت کی سزا پائی اور جیل ہی میں ایک عاشق رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھوں مردار ہو کر جہنم رسید ہوا۔
ملعون یوسف کذاب نے 28 فروری 1997ء کو اپنی نام نہاد ”ورلڈ اسمبلی آف مسلم یوتھ“ کے اجلاس میں اپنا تعارف ”پیغمبر اسلام“ کے طور پر کراتے ہوئے دو افراد عبدالواحد اور زید زمان کا تعارف اپنے صحابی کی حیثیت سے کرایا۔ یوسف کذاب نے برکس کمپنی کے منیجر زید زمان (زید حامد) کو اپنا صحابی اور خلیفہ اول قرار دیا۔ اس وقت زید زمان (زید حامد) سٹیج پر بیٹھا تھا اور بعد میں اس نے یوسف کذاب کے حق میں تقریر بھی کی۔
اس اجتماع میں یوسف کذاب نے اپنے پیغمبر ہونے کا دعویٰ کیا اور اپنے مرید زید زمان (زید حامد) کے صحابی ہونے کا اعلان کیا۔
یوسف کذاب اور اس کے اہل خانہ کی حفاظت کی ذمہ داری زید زمان (زید حامد) نے برکس کمپنی کو دی گئی۔
یوسف کذاب کے نمائندے کی حیثیت سے زید زمان (زید حامد) پیغام لے کر ”خبریں“ کے دفتر گیا اور اصرار کرتا رہا کہ یوسف کذاب کا مسئلہ عدالت کی بجائے علما بورڈ میں حل کیا جائے۔ نیٹ پر وڈیو موجود ہے۔
زید زمان (زید حامد) نے مولانا عبدالستار خان نیازیؒ کو دھوکہ دینے کی بھی کوشش کی۔ مولانا عبدالستار نیازیؒ نے کہا کہ ”زید نامی کوئی لڑکا چند افراد کے ساتھ ان کے پاس آیا اور بتایا کہ بعض افراد اور تحریک تحفظ ختم نبوت کے بعض اکابرین ایک صحیح العقیدہ مسلمان اور رسول کریم ﷺ کے شیدائی کو کافر قرار دے کر جیل کی سلاخوں کے پیچھے بند کروا چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مجھے صحیح صورت حال کا علم نہیں تھا۔“
زید زمان (زید حامد) مولانا محمد اسماعیل شجاع آبادی صاحب کو لالچ کا جھانسہ دینے کی ناکام کوشش کی اور پھر دھمکیاں دیتا رہا کہ آپ اپنے انجام سے باخبر رہیں۔
یوسف کذاب کی اہلیہ نے بعض کاغذات جب یوسف کذاب کو جیل میں پہنچائے تو اس نے یہ کاغذات اپنے خاص صحابی زید زمان (زید حامد) اور سہیل کے ذریعے امریکی قونصلیٹ کو بھجوائے۔
اسی زید زمان (زید حامد) نے یوسف کذاب کو ملک سے فرار کروانے کے لیے حقوق انسانی کی تنظیموں اور غیر ملکی سفارت خانوں سے بھی رابطے کیے۔
جب یوسف کذاب کے خلاف گستاخی رسولؐ اور دعویٰ نبوت کی بنیاد پر سزائے موت کا عدالتی فیصلہ آیا تو 13 اگست 2000ء کو زید زمان (زید حامد) کا روزنامہ ”ڈان“ میں ردعمل آیا کہ یہ عدل وانصاف کا خون ہے۔
زید زمان (زید حامد) یوسف کذاب کی رہائی کے سلسلہ میں سرگرم رہا اور عدالت میں ہر تاریخ پر موجود ہوتا تھا۔
ہمارا دعویٰ اور چیلنج ہے کہ کل کا زید زمان آج کا زید حامد، یوسف علی مرتد، کذاب، دجال اور ملعون کے کفر اور دجل کا تسلسل ہے۔ کافی عرصہ تک یہ لوگوں کو دھوکہ دیتا رہا کہ میں یوسف کذاب کو نہیں جانتا۔ ہاں اگر وہ یہ کہتا کہ میرا اس سے تعلق تھا، مگر اب میں نے اس کے عقائد و نظریات سے توبہ کر لی ہے، پھر اپنی توبہ کے ثبوت کے طور پر توبہ نامہ اور توبہ کے گواہ پیش کر دیتا ہوں تو کسی کو کیا حق پہنچ سکتا تھا کہ وہ کسی توبہ کرنے والے کی توبہ کو قبول نہ کرتا؟
وہ یوسف کذاب کے ھ حضور صلی اللہ علیہ وسلم چاہے کتنا ہی خوبیاں ہو نا قابل برداشت ہے کے سحر میں گرفتار ہیں
آپ youtube پر زید حامد کی وڈیو دیکھیں جس میں زید خود مانتا ہے کہ کل کا زید زمان ہی آج کا زید حامد ہے۔
نجی محفلوں میں نوجوانوں کو کل کے زید زمان آج کے زید حامد نے کہا کہ لوگ مجھ سے پوچھتے ہیں کہ تم یوسف کذاب کو جانتے ہو تو میں کہتا ہوں کہ میں نہیں جانتا۔ زید زمان (زید حامد) کا کہنا ہے کہ میں یہ صحیح کہتا ہوں کیونکہ میں 1992ء سے یوسف علی کو جانتا ہوں یوسف کذاب کو نہیں۔ نیٹ پر موجود اس وڈیو میں یہ خود ہی مان گیا ہے کہ کل کا زید زمان ہی آج کا زید حامد ہے۔
کل کا زید زمان آج کا زید حامد نوجوانوں سے نجی نشستوں میں کہتا پھرتا ہے کہ یوسف کذاب شرعی تقاضوں کے مطابق گناہگار نہیں اگر وہ واقعی گناہگار ہوتا تو میں پہلا بندہ ہوتا جو اس پر لعنت بھیجتا۔ لیکن میں یہ بات پبلک میں نہیں کر سکتا۔ جس نے بات کرنی ہے میرے پاس آکر کرلے۔ جب یہ بات طے ہے کہ کل کے زید زمان اور آج کے زید حامد نے یوسف علی کذاب کے عقائد ونظریات سے توبہ نہیں کی، بلکہ وہ آج بھی اس کے خلاف عدالتی فیصلہ کو انصاف کا خون کہتا ہے تو یقیناً آج بھی وہ یوسف کذاب کی روش، اس کے مشن اور عقائد ونظریات کا حامی و داعی ہے، فرق صرف اتنا ہے کہ کل تک وہ کھل کر اس کا جانبدار اور وکیل صفائی تھا مگر اب وہ حالات کا دھارا دیکھ کر وقتی اور عارضی طور پر اس کی وکالت اور ترجمانی سے کنارہ کش، خاموش اور حالات کے سازگار ہونے کا منتظر ہے۔
الغرض ہماری معلومات اور تحقیق کے اعتبار سے زید حامد یوسف کذاب کا ”خلیفہ اول“، اس کا جانشین، اس کا ”صحابی“، اس کے عقائد ونظریات کا داعی، علمبردار اور اس کی فکر و فلسفہ کا پرچارک ہے اور آج بھی انہیں خطوط پر گامزن ہے جن پر مدعی نبوت یوسف کذاب اسے چھوڑ گیا تھا، فرق صرف یہ ہے کہ یوسف کذاب کی زندگی میں وہ کھل کر اس کا حامی تھا، اب جب اس نے دیکھ لیا کہ حالات سازگار نہیں ہیں تو اس نے باطنیوں کی طرح اپنے عزائم و منصوبوں کی تکمیل کے لیے اپنی تحریک کو زیر زمین کر دیا ہے اور اس نے اپنی حکمت عملی کسی قدر تبدیل کر لی ہے۔ تفصیلات کے لیے www.endofprophethood.com دیکھیں۔
جناب زید زمان (زید حامد) آج اپنے ان عقائد ونظریات سے توبہ کرلے، یا یوسف کذاب پر دو حرف بھیج دے تو تمام مسلمان اس کو گلے لگانے کو تیار ہیں۔ تاہم جب تک
وہ یوسف کذاب کے عقائد و نظریات سے منسلک ہے یا اس سے برأت کا اعلان نہیں کرتا، وہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا باغی اور غدار ہے اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا باغی و غدار، اپنے اندر چاہے کتنا ہی خوبیاں اور کمالات کیوں نہ رکھتا ہو، وہ ہمارے اور کسی سچے مسلمان کے لیے ناقابل برداشت ہے۔ افسوس تو یہ ہے کہ ہماری نئی نسل اور بعض دین دار زید زمان (زید حامد) کے سحر میں گرفتار ہیں، بہرحال ہمارا فرض ہے کہ ہم امت کو اس کی فتنہ سامانی سے بچائیں۔
عبدالقدوس محمدی
قادیانی وفد کی وزیر مذہبی امور سے ملاقات
پاکستان کے آئین میں موجود تین چیزیں استعماری قوتوں اور ان کے گماشتوں کی نظر میں ہمیشہ سے کھٹکتی رہی ہیں۔ امتناع قادیانیت آرڈیننس، انسداد توہین رسالت ایکٹ اور حدود آرڈیننس۔ حدود آرڈیننس کے ساتھ پرویز مشرف کے دور میں جو کچھ ہوا وہ کسی سے مخفی نہیں۔ ایک بد نصیب میڈیا گروپ کی معاونت سے جس طرح پروپیگنڈہ مہم چلائی گئی، این جی اوز نے جس طرح آسمان سر پر اٹھائے رکھا اور پھر بالآخر تحفظ حقوق نسواں بل کے خوشنما نام پر حدود اللہ کی دھجیاں بکھیر دی گئیں اس کی تفصیلات یقیناً ابھی تک قارئین کے حافظے سے محو نہیں ہوئی ہوں گی۔ حدود آرڈیننس پر یہ وار بنیادی طور پر ان تینوں چیزوں کو ہدف بنانے کے سلسلے میں پہلی کڑی اور ٹیسٹ کیس کے طور پر تھا، کیونکہ ناموس رسالت اور قادیانیت کے مسئلے پر مسلمان بہت حساس، غیرت مند اور بیدار واقع ہوئے ہیں، اس لیے ان قوتوں نے سب سے پہلے حدود آرڈیننس کو نشانے پر رکھا۔ حدود آرڈیننس کو دو خانوں میں منقسم کیا گیا اور پھر اسے آمرانہ خرافات قرار دے کر مشق ستم بنا دیا گیا۔
طاغوتی طاقتوں کے اس مشن کی تکمیل کے بعد ان کا اگلا ہدف امتناع قادیانیت آرڈیننس اور انسداد توہین رسالت تھا۔ آپ نے دیکھا ہو گا کہ گزشتہ کچھ عرصے کے دوران ان دونوں معاملات میں اچھی خاصی سرگرمی دیکھنے میں آئی۔ انسداد توہین رسالت کے قانون میں تبدیلی کے حوالے سے گورنر پنجاب سلمان تاثیر جبکہ قادیانیوں کی پشت پناہی کے لیے الطاف حسین زیادہ سرگرم دکھائی دیے۔ گورنر پنجاب کی بیان بازی پر یونیورسٹیز کے غیور نوجوانوں نے جو احتجاج ریکارڈ کروایا اس کی وجہ سے سلمان تاثیر کی امیدوں پر اوس پڑ گئی، ورنہ وہ اس معاملے میں بہت کھل کر سامنے آگئے تھے۔ گورنر پنجاب کے علاوہ وفاقی وزیر برائے اقلیتی امور شہباز بھٹی بھی اس قانون کے خاتمے کے لیے سرگرم عمل ہو گئے تھے۔ انہوں نے کئی جگہ
اس قانون کے خاتمے کی با سے ملاقات کے دوران الغرض اس قانون کے حوا پنجاب اور دیگر کے بیانا کی ایک لہر سی دوڑ گئی ۔ یہ نہ ہو پائی تاہم شنید ہے کہ رکھے ہوئے ہیں۔
تیسرا مرحلہ حوالے سے صرف 7 ستمبر کو وہ امتناع قادیانیت آئینی حیثیت کو تبدیل کر ہے لیکن قادیانیوں کے ل سنگ میل بھی آیا تھا۔ لیے اہل اسلام کو ایک پس منظر کچھ یوں سرگرمیاں جاری ر کی آنکھوں میں دھو رہے، اپنے گھروں م سر عام اذان دیتے رہ تلبیس کی بدترین ش مابین فرق واضح کر اور صاف صاف کہتا دل نہ مانے وہ نہ م قرار دے کر لوگوں ک بچتا ہے تو اگرچہ ی
اس قانون کے خاتمے کی بات کی حتیٰ کہ وہ صدر پاکستان کو ویٹی کن سٹی لے گئے جہاں پوپ سے ملاقات کے دوران بھی آصف علی زرداری نے اس قانون پر نظر ثانی کا عندیہ دیا۔ الغرض اس قانون کے حوالے سے اندر کھاتے جو کھچڑی پک رہی تھی اس کی کچھ کچھ بو گورنر پنجاب اور دیگر کے بیانات کے ذریعے باہر آنے لگی اور پورے ملک میں تشویش و اضطراب کی ایک لہر سی دوڑ گئی۔ تاہم عملی طور پر اس حوالے سے دشمن کے عزائم کی اگر چہ فوری تکمیل تو نہ ہو پائی تاہم شنید ہے کہ اس قانون کے خلاف سرگرم عمل قوتیں اب بھی اپنی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں۔
تیسرا معاملہ قادیانیوں کا ہے۔ ہمارے اکثر دوست یہ سمجھتے ہیں کہ قادیانیوں کے حوالے سے صرف 7 ستمبر 1974ء کو آئینی طور پر غیر مسلم اقلیت قرار دینے کا فیصلہ ہی ہوا، اس کو وہ امتناع قادیانیت قرار دیتے ہیں اور یہ سمجھتے ہیں کہ قادیانی اسی فیصلے کے حوالے سے اپنی آئینی حیثیت کو تبدیل کرنے کے لیے سرگرم عمل ہیں۔ بلاشبہ قادیانیوں کا اصل ہدف تو وہی ہے لیکن قادیانیوں کے حوالے سے ہماری ملکی اور آئینی تاریخ 1974ء کے بعد 1984ء کا اہم سنگ میل بھی آیا تھا، جب امتناع قادیانیت آرڈیننس جاری ہوا۔ اس آرڈیننس کے اجرا کے لیے اہل اسلام کو ایک مستقل تحریک چلانی پڑی اور اس پر بھر پور محنت کی گئی۔ اس آرڈیننس کا پس منظر کچھ یوں ہے کہ قادیانیوں نے غیر مسلم اقلیت قرار دیے جانے کے باوجود اپنی سرگرمیاں جاری رکھیں، انہوں نے شعائر اسلام کے بے دریغ استعمال کے ذریعے مسلمانوں کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کا سلسلہ جاری رکھا، وہ اپنی عبادت گاہوں کو مساجد قرار دیتے رہے، اپنے گھروں پر کلمہ طیبہ کے کتبے آویزاں کرتے، سینوں پر کلمے والے بیجز لگاتے اور سرعام اذان دیتے رہے اور ساتھ ساتھ اپنی مسلمانی کا اظہار اور پروپیگنڈہ بھی جاری رکھا جو تلبیس کی بدترین شکل تھی۔ حضرت لدھیانوی شہید نے قادیانیوں اور دوسرے کافروں کے مابین فرق واضح کرنے کے لیے دو مثالیں ذکر فرمائی تھیں کہ ایک شخص خنزیر کا گوشت بیچتا ہے اور صاف صاف کہتا ہے کہ میں خنزیر کا گوشت بیچ رہا ہوں جس کا دل چاہے لے لے اور جس کا دل نہ مانے وہ نہ لے جبکہ دوسرا شخص گوشت تو خنزیر کا بیچ رہا ہے لیکن اسے بکرے کا گوشت قرار دے کر لوگوں کو دھوکہ دیتا ہے۔ اسی طرح ایک شخص شراب بیچتا ہے اور اسے شراب کہہ کر بیچتا ہے تو اگر چہ مجرم وہ بھی ہے لیکن جو شخص شراب پر آب زم زم کا لیبل لگا کر بیچتا ہے وہ
شراب اور خنزیر کی فروخت کے ساتھ دھوکہ دہی کا بھی مجرم ہے۔ قادیانیوں کی مثال اس شخص کی سی ہے جو خنزیر کے گوشت کو بکرے کا گوشت قرار دے اور جو شراب پر آب زم زم کا لیبل لگا کر اسے فروخت کرے۔ یہ صورتحال اسلام کے لیے بہت تشویشناک تھی، کیونکہ آپ نے دیکھا ہوگا کہ کوئی آدمی کسی کمپنی کا نام اور مونوگرام وغیرہ استعمال نہیں کر سکتا، کیونکہ یہ سب قانوناً جرم ہے، جبکہ کتنے افسوس کا مقام تھا کہ قادیانی، مرزا غلام احمد قادیانی کو معاذ اللہ نبی و رسول، اس کی بیویوں کو امہات المومنین، اس کے چیلوں کو صحابہ کرام قرار دیتے تھے اور کلمہ و نماز امور مسجد واذان سمیت جملہ معاملات میں شعائر اسلامی اور اصطلاحات اسلامی کا بڑی بے دردی سے استعمال کر رہے تھے، جس کی روک تھام اور اسلام و کفر میں تمیز کے لیے امتناع قادیانیت آرڈیننس جاری کیا گیا۔ اس آرڈیننس پر جنرل ضیاء الحق نے جس قلم سے دستخط کیے تھے وہ مولانا عبداللہ شہید نے لے لیا تھا اور مولانا کے بعد وہ قلم ان کے اہل خانہ کے پاس موجود و محفوظ ہے۔
قادیانیوں کی اصل کوشش اور خواہش تو یہ ہے کہ وہ کسی طرح اپنی 7 ستمبر 1974ء سے قبل والی پوزیشن بحال کروالیں لیکن وہ یہ سمجھتے ہیں کہ شاید وہ مرحلہ سر کرنا نسبتاً مشکل ہو، اس لیے ان کا فوری ہدف امتناع قادیانیت آرڈیننس ہے۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ قادیانیوں کو قائد عوام ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں غیر مسلم اقلیت قرار دیا گیا اور مرد مومن مرد حق ضیاء الحق کے دور میں امتناع قادیانیت آرڈیننس جاری ہوا۔ پی پی کی حکومت میں ضیاء الحق کو گالی دینا آسان ہے، اس لیے قادیانی لابی آئین کو آمریت کے دور کی ”خرافات“ سے پاک کرنے کی مہم پر نکلی ہوئی ہے اور آئین میں اصلاحات کا غلغلہ بلند ہوتے ہی قادیانیوں نے اس موقع کو اپنے لیے غنیمت سمجھتے ہوئے تن من دھن کی بازی لگا رکھی ہے۔
ایک بہادر اور مستعد رپورٹر عمر فاروق کی رپورٹ کے مطابق سلیم الدین کی قیادت میں قادیانی وفد کی وفاقی وزیر مذہبی امور سے ملاقات، امتناع قادیانیت اور انسداد توہین رسالت آرڈیننس میں نرمی اور ترمیم کے مطالبات دراصل اسی مہم کا حصہ ہیں۔ قادیانیت نواز مہروں، روشن خیال اور سیکولر مزاج لوگوں کو تو پہلے ہی قادیانی لابی نے آگے لگا رکھا ہے، اب وفاقی وزیر مذہبی امور سے ان کی ملاقات ان کی دیدہ دلیری کی انتہا ہے۔ وفاقی وزیر مذہبی امور حامد سعید کاظمی ایک معروف خانوادے کے چشم و چراغ ہیں اور وہ خود کو بریلوی مکتب فکر کی
طرف نہ صرف یہ کہ منسوب کرتے ہیں، بلکہ بریلوی مکتب فکر کی قیادت کے دعویدار بھی ہیں اور ان کا شمار ان لوگوں میں ہوتا ہے جو عشق رسالت پر اجارہ داری کے زعم میں مبتلا ہیں۔ ان کی طرف سے قادیانی وفد سے ملاقات پر پاکستان کے تمام مکاتب فکر کے مسلمانوں بالخصوص بریلوی مکتب فکر کے وابستگان کو شدید دھچکا لگا ہے۔ وفاقی وزیر یا تو اس وفد سے ملاقات ہی نہ کرتے یا ان کے سامنے جرات و غیرت اور محبتِ نبوی کا اظہار کرتے تو کیا ہی اچھا ہوتا لیکن رپورٹ کے مطابق وفاقی وزیر نے اسلامی نظریاتی کونسل کو قادیانیوں کے ساتھ نرمی کرنے کے سلسلے میں خط لکھ دیا اور ان دونوں قوانین کے طریقہ کار کی تبدیلی اور غلط استعمال کی روک تھام کا عندیہ ظاہر کر کے قادیانی لابی کی ہاں میں ہاں ملائی ہے، جس پر پوری قوم کو شدید دکھ اور نہایت افسوس ہوا ہے۔
وفاقی وزیر مذہبی امور سے تو رویت ہلال کمیٹی کے چیئرمین مفتی منیب الرحمٰن اچھے رہے، جنہوں نے یوسف کذاب کے سیکرٹری اور مولانا سعید جلالپوری کے قاتل زید حامد سے ملاقات کرنے سے انکار کر کے زید حامد کی طرف سے بریلوی دیوبندی تقسیم کی کوشش کو ناکام بنا دیا۔ وفاقی وزیر مذہبی امور کے موجودہ دور میں وزارت کی طرف سے قادیانیوں کو حج کوٹے کا اجراء تاریخ میں پہلی مرتبہ قادیانیوں کے پورے گروپ کی حج کے لیے روانگی اور اب آئینی اصلاحات کے شور میں قادیانی وفد کی وزیر مذہبی امور سے ملاقات ......
عبدالقدوس محمدی
وفاقی وزیر برائے مذہبی امور سے چند سوالات
وفاقی وزیر برائے مذہبی امور جناب حامد سعید کاظمی کی قادیانی وفد سے ملاقات اور بعد ازاں ان کی طرف سے اسلامی نظریاتی کونسل کو امتناع قادیانیت اور انسداد توہین رسالت کے قوانین میں ترامیم اور نرمی سے متعلق لکھے گئے خط کے حوالے سے بالآخر وزیر محترم نے مہر سکوت توڑ کر ایک وضاحتی بیان جاری کیا ہے۔ اسے وضاحتی بیان سے زیادہ اعترافی بیان قرار دیا جائے تو زیادہ مناسب ہو گا۔ اس بیان میں وزیر محترم نے ملاقات سے متعلق چار امور ذکر کیے ہیں۔ (1) ملاقات آج سے نو ماہ قبل ہوئی۔ (2) قادیانیوں اور انسداد توہین رسالت کے قانون کے بارے میں کسی قسم کی سازش نہیں ہو رہی۔ (3) میں نے وزارت داخلہ کو کوئی خط نہیں لکھا۔ ان چاروں پہلوؤں سے وزیر محترم نے حقائق مسخ کرنے کی کوشش کی ہے۔ ہم صرف وضاحت، ریکارڈ کی درستی اور اپنی تسلی و تشفی کے لیے ان کی خدمت میں چند سوالات پیش کرنے کی جسارت کر رہے ہیں۔ امید ہے کہ ان سوالات کے ذریعے اس معاملے کا حقیقی پس منظر سمجھنے میں مدد ملے گی۔
- ☆ پہلے پہل پاکستان میں مذہبی امور، اقلیتی امور اور زکوٰۃ و عشر کے لیے ایک ہی
وزارت تھی لیکن موجودہ دور میں اس وزرت کے تین ٹکڑے کر دیے گئے ہیں، چنانچہ اس وقت حامد سعید کاظمی مذہبی امور کے وزیر ہیں، شہباز بھٹی اقلیتی امور جبکہ پیر نور الحق قادری زکوٰۃ وعشر کے وزیر ہیں۔ اس تفریق و تقسیم کے بعد یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ حامد سعید کاظمی کا تعلق صرف مذہبی معاملات اور وہ بھی مسلمانوں کے مذہبی معاملات سے ہے۔ قادیانیوں اور ان کے معاملات کا وزیر مذہبی امور سے کوئی تعلق نہیں، کیونکہ قادیانی 7 ستمبر 1974ء کو پاکستان پیپلز پارٹی کے دور حکومت میں پارلیمنٹ سے مذہبی، آئینی، قانونی اور تاریخی ہر لحاظ سے غیر مسلم اقلیت قرار دیے جاچکے ہیں، اس لیے اب ان کے معاملات کا تعلق شہباز بھٹی سے ہے
نہ کہ حامد سعید کاظمی سے۔ اس لیے حامد سعید کاظمی ایک اور بیان کے ذریعے یہ وضاحت فرما دیں کہ انہوں نے قادیانیوں سے کس حیثیت سے ملاقات کی؟
- ☆ ہم آئے روز مختلف وفود کی وزیروں، مشیروں سے ملاقات کی خبریں اور تصویریں
دیکھتے رہتے ہیں بلکہ محترم حامد سعید کاظمی کے علاج معالجہ اور بیرون ممالک آمدورفت سمیت جملہ سرگرمیوں کی پل پل خبر میڈیا کے ذریعے ہمیں ملتی رہتی ہے، اس کے علاوہ ان کی طرف سے وقتاً فوقتاً میڈیا کے لیے پریس ریلیزز جاری ہوتی ہیں، ان کی بہت سے صحافیوں کے ساتھ دوستی بلکہ بے تکلفی کا تعلق ہے لیکن اس کے باوجود ایک اہم اور حساس ترین معاملے کو وہ نو ماہ تک کیسے پردہ اخفا میں رکھنے میں کامیاب ہوئے؟ اور خود قادیانیوں کے اخبارات، ٹی وی چینلز اور دیگر خبری ذرائع نے کیسے اور کیوں اس خبر کو نو ماہ تک چھپائے رکھا؟ اس راز داری کی وجہ سے کیا عوام یہ سوچنے میں حق بجانب نہیں کہ ”کچھ تو ہے جس کی پردہ داری ہے!“
- ☆ وزیر موصوف نے اس ملاقات کو معمول کی ملاقات اور رسمی اجلاس قرار دیا، جبکہ
آثار قرائن بتاتے ہیں کہ یہ ملاقات اتفاقی ہرگز نہ تھی، بلکہ انتہائی باوثوق ذرائع کے مطابق اس ملاقات سے قبل قادیانیوں اور وزارت مذہبی امور کے درمیان خط کتابت کا سلسلہ جاری رہا۔ کسی بھی وزیر کے ساتھ اتفاقیہ ملاقات کے لیے آنے والے اشخاص اور وفود کی ملاقات کے موقع پر وزارت داخلہ کے افسران موجود نہیں ہوا کرتے، جبکہ اس ملاقات میں وزارت مذہبی امور کے ذمہ دار افسران اور وزارت داخلہ کے ارباب اختیار کی موجودگی اور شرکت کو یقینی بنانے کا اہتمام کیوں کیا گیا اور اتنا بڑا قدم اٹھانے سے قبل قومی سلامتی کے اداروں کو اعتماد میں لینے کی ضرورت کیوں محسوس نہیں کی گئی؟
- ☆ اطلاعات کے مطابق بعض غیور اور سچے مسلمان افسران کی طرف سے وزیر مذہبی
امور کو اس ملاقات اور بعد ازاں اسلامی نظریاتی کونسل کو خط لکھنے سے روکنے کی کوشش کی گئی لیکن اس کے باوجود انہوں نے اپنا ”وعدہ“ کیوں پورا کیا؟ اب ہم سمجھنے سے قاصر ہیں کہ اس پری پلان اور اہم اجلاس کو محض رسمی ملاقات کہہ دیا جائے یا کسی سوچے سمجھے منصوبے کا حصہ؟ اسے معمول کی ایک خبر سمجھ کر نظر انداز کر دیا جائے یا امتناع قادیانیت آرڈیننس اور انسداد توہین رسالت کے حوالے سے استعماری قوتوں کے عزائم کی ایک جھلک قرار دیا جائے؟ اور ان لوگوں کو کیا کہا جائے جو وزیر مذہبی امور کے برطانیہ علاج اور قادیانیوں سے ان کے گٹھ جوڑ
کے ڈانڈے آپس میں جوڑنے کی کوشش کرتے ہیں؟
- وفاقی وزیر برائے مذہبی امور نے اپنے وضاحتی بیان میں یہ بھی ارشاد فرمایا کہ ان
کے والد نے سب سے پہلے قادیانیوں کے کافر ہونے کی قرارداد پیش کی۔ ان کے اس دعوے نے تاریخ کے طلبا کو چکرا کر رکھ دیا ہے، کیونکہ تاریخی حقائق تو یہ بتاتے ہیں کہ قادیانیوں پر سب سے پہلا کفر کا فتویٰ علمائے لدھیانہ کی طرف سے آیا تھا، جبکہ فتنہ قادیانیت کے تعاقب کو اپنی زندگی کا نصب العین قرار دینے والی ہستیوں میں علامہ انور شاہ کشمیری سے سید عطاء اللہ شاہ بخاری تک اور مولانا ثناء اللہ امرتسری سے لے کر مولانا ابوالحسنات قادری تک اور مولانا مودودی سے مولانا عبدالستار نیازی تک بہت سی ہستیوں کے نام آتے ہیں۔ اسی طرح 1974ء کے تاریخ ساز مرحلہ پر مولانا مفتی محمود، مولانا غلام غوث ہزاروی، مولانا سید محمد یوسف بنوری، مولانا شاہ احمد نورانی اور پروفیسر غفور احمد سمیت بہت سے مجاہدین ختم نبوت نے کردار ادا کیا۔ اگر تاریخ میں موجود ان ہستیوں کی خدمات کی تفصیلات غلط ہیں تو وزیر موصوف ریکارڈ کی درستی کے لیے مزید وضاحت فرما دیں کہ ان کے والد مکرم نے کب اور کہاں قادیانیوں کے غیر مسلم ہونے کی قرارداد سب سے پہلے پیش کی؟ اور اگر وزیر موصوف کا ان کے والد گرامی کے بارے میں دعویٰ مان بھی لیا جائے تب بھی یہ سوال اپنی جگہ موجود رہتا ہے کہ کیا ایسے باپ کا بیٹا ہو کر قادیانیوں کے ساتھ گٹھ جوڑ انہیں زیب دیتا ہے؟
- اسی طرح یہ بھی مناسب معلوم ہوتا ہے کہ یہاں لگے ہاتھوں وزیر محترم سے یہ بھی
پوچھ لیا جائے کہ قادیانیوں کو جاری ہونے والے حج کوٹے کا معاملہ کیا تھا؟ کیونکہ آج حج کوٹہ اندھے کی ریوڑیوں کی مانند ہے، جس میں کمیشن، رشوت اور پیسے کا لین دین بہت عام ہو چکا ہے۔ یہ پاکستانی تاریخ کا پہلا موقع ہے جب قادیانیوں کو حج کوٹہ جاری کیا گیا۔ جناب وزیر محترم یہ بھی وضاحت فرما دیں کہ تاریخ میں پہلی مرتبہ انہیں کے دور میں قادیانیوں کو حج کوٹہ کیوں جاری ہوا؟ وزیر مذہبی امور جانتے ہیں کہ قیام پاکستان سے لے کر آج تک کسی بھی ”فاسق و فاجر“ وزیر نے بھی ایسی جسارت نہیں کی لیکن ”غزالی دوراں“ کے بیٹے اور ایک ”عظیم عاشق رسول“ کی موجودگی میں یہ سب کچھ کیا اور کیوں ہو رہا ہے؟
۞ ۞ ۞
شبیر احمد
حویلی کا راز
نواب راحت سعید خان چھتاری 1940ء کی دہائی میں ہندوستان کے صوبے اترپردیش کے گورنر رہے۔ انگریز حکومت نے انہیں یہ اہم عہدہ اس لیے عطا کیا کہ وہ مسلم لیگ اور کانگریس کی سیاست سے لاتعلق رہ کر انگریزوں کی وفاداری کا دم بھرتے تھے۔ نواب چھتاری اپنی یادداشتیں لکھتے ہوئے انکشاف کرتے ہیں کہ ایک بار انہیں سرکاری ڈیوٹی پر لندن بلایا گیا۔ ان کے ایک پکے انگریز دوست نے جو ہندوستان میں کلکٹر رہ چکا تھا، نواب صاحب سے کہا ’’آئیے! آپ کو ایک ایسی جگہ کی سیر کراؤں جہاں میرے خیال میں آج تک کوئی ہندوستانی نہیں گیا۔‘‘
نواب صاحب خوش ہو گئے۔ انگریز کلکٹر نے پھر نواب صاحب سے پاسپورٹ مانگا کہ وہ جگہ دیکھنے کے لیے حکومت سے تحریری اجازت لینی ضروری تھی۔ دو روز بعد کلکٹر اجازت نامہ ساتھ لے کر آیا اور کہا ’’ہم کل صبح چلیں گے، لیکن میری موٹر میں، سرکاری موٹر وہاں لے جانے کی اجازت نہیں۔‘‘
اگلی صبح نواب صاحب اور وہ انگریز منزل کی طرف روانہ ہوئے۔ شہر سے باہر نکل کر بائیں طرف جنگل شروع ہو گیا۔ جنگل میں ایک پتلی سی سڑک موجود تھی۔ جوں جوں چلتے گئے، جنگل گھنا ہوتا گیا۔ سڑک کے دونوں جانب نہ کوئی ٹریفک تھا نہ کوئی پیدل مسافر! نواب صاحب حیران بیٹھے اِدھر اُدھر دیکھ رہے تھے۔ موٹر چلتے چلتے آدھے گھنٹے سے زیادہ وقت گزر گیا۔ تھوڑی دیر بعد ایک بہت بڑا دروازہ نظر آیا، پھر دور سامنے ایک نہایت وسیع و عریض عمارت دکھائی دی۔ اس کے چاروں طرف کانٹے دار جھاڑیوں اور درختوں کی ایسی دیوار تھی جسے عبور کرنا ممکن نہ تھا۔ عمارت کے چاروں طرف زبردست فوجی پہرہ تھا۔
اس عمارت کے باہر فوجیوں نے پاسپورٹ اور تحریری اجازت نامہ غور سے دیکھا اور حکم دیا کہ اپنی موٹر وہیں چھوڑ دیں اور آگے جو فوجی موٹر کھڑی ہے، اس میں سوار ہو جائیں۔ نواب صاحب اور انگریز کلکٹر پہرے داروں کی موٹر میں بیٹھ گئے۔ اب پھر اس پتلی سڑک پر سفر شروع ہوا۔ وہی گھنا جنگل اور دونوں طرف جنگلی درختوں کی دیواریں! نواب صاحب گھبرانے لگے، تو انگریز نے کہا: ”یہاں سے آگے آپ صرف پیدل جاسکتے ہیں۔“ راستے میں کلکٹر نے نواب صاحب سے کہا ”یاد رکھیں، کہ آپ یہاں صرف دیکھنے آئے ہیں، بولنے یا سوال کرنے کی بالکل اجازت نہیں۔“
عمارت کے شروع میں وسیع دالان تھا۔ اس کے پیچھے متعدد کمرے تھے۔ دالان میں داخل ہوئے تو ایک باریش نوجوان عربی کپڑے پہنے، سر پر عربی رومال لپیٹے ایک کمرے سے نکلا۔ دوسرے کمرے سے ایسے ہی دو نوجوان اور نکلے۔
پہلے نے عربی لہجے میں ”السلام علیکم“ کہا۔
دوسرے نے کہا ”وعلیکم السلام! کیا حال ہے؟“
نواب صاحب یہ منظر دیکھ کر حیران رہ گئے۔ کچھ پوچھنا چاہتے تھے، لیکن انگریز نے فوراً اشارے سے منع کر دیا۔ چلتے چلتے ایک کمرے کے دروازے پر پہنچے۔ دیکھا کہ اندر مسجد جیسا فرش بچھا ہے۔ عربی لباس میں ملبوس متعدد طلبہ فرش پر بیٹھے ہیں۔ ان کے سامنے استاد بالکل اسی طرح بیٹھے سبق پڑھا رہے ہیں، جیسے اسلامی مدرسوں میں پڑھاتے ہیں۔ طلبا عربی اور کبھی انگریزی میں استاد سے سوال بھی کرتے ہیں۔
نواب صاحب نے دیکھا کہ کسی کمرے میں قرآن مجید پڑھایا جا رہا ہے، کہیں قرأت سکھائی جا رہی ہے، کہیں تفسیر کا درس ہو رہا ہے، کسی جگہ بخاری شریف کا درس دیا جا رہا ہے اور کہیں مسلم شریف کا۔ ایک کمرے میں مسلمانوں اور مسیحیوں کے درمیان مناظرہ ہو رہا تھا۔ ایک اور کمرے میں فقہی مسائل پر بات ہو رہی تھی۔ سب سے بڑے کمرے میں قرآن کا ترجمہ مختلف زبانوں میں سکھایا جا رہا تھا۔
انہوں نے نوٹ کیا کہ ہر جگہ باریک مسئلے مسائل پر زور ہے۔ مثلاً غسل کا طریقہ، وضو، روزے، نماز اور سجدہ سہو کے مسائل، وراثت اور رضاعت کے جھگڑے، لباس اور ڈاڑھی کی وضع قطع، گا گا کر آیات پڑھنا، غسل خانے کے آداب، گھر سے باہر جانا، لونڈی غلاموں
کے مسائل، حج کے منا اور قضا نمازوں کی بحث پہننا جائز ہے یا ناجائز، تھی یا جسمانی؟ امام کے کے دوران وضو ٹوٹ جائے
ایک استاد ”جماعت اب یہ بتائے پینتیس چالی پھر عربی میں یہی جواب
ایک طالب لوگوں کا حج بدل کیسے
استاد بو ایمان پکا کرو۔ ستاروں
یہ شب و دینی مدرسے کو آپ نے
انگریز ب تعلیم مکمل ہونے پر ان جاتا ہے۔ وہاں پہنچ ک یورپی مسلمان ہیں، میں اتنے اسلامی عقائ کھانا، سر چھپانے کی کے طور پر اپنی خدمات جمعہ کے خطبے تک رٹ
نواب ص کے بنیادی اہداف ب
کے مسائل، حج کے مناسک، بکرا، دنبہ کیسا ہو، چھری کیسی ہو، دنبہ حلال ہے یا حرام؟ حج بدل اور قضا نمازوں کی بحث، عید کا دن کیسے طے کیا جائے اور حج کا کیسے؟ میز پر بیٹھ کر کھانا، پتلون پہننا جائز ہے یا ناجائز، عورت کی پاکی اور ناپاکی کے جھگڑے، حضور ﷺ کی معراج روحانی تھی یا جسمانی؟ امام کے پیچھے سورۃ فاتحہ پڑھی جائے یا نہیں؟ تراویح آٹھ ہیں یا بیس؟ نماز کے دوران وضو ٹوٹ جائے تو آدمی کیا کرے؟ سود مفرد جائز ہے یا ناجائز وغیرہ؟
ایک استاد نے سوال کیا، پہلے عربی پھر انگریزی اور بعد میں نہایت شستہ اُردو میں! ”جماعت اب یہ بتائے کہ جادو ٹونہ، نظر بد، تعویذ گنڈہ آسیب کا سایہ برحق ہے یا نہیں؟“
پینتیس چالیس کی جماعت بیک آواز پہلے انگریزی میں بولی "TRUE, TRUE" پھر عربی میں یہی جواب دیا اور پھر اُردو میں!
ایک طالب علم نے کھڑے ہو کر سوال کیا۔ ”حج کے لیے نیت ضروری ہے تو مردہ لوگوں کا حج بدل کیسے ہو سکتا ہے؟ قرآن تو کہتا ہے ہر شخص اپنے اعمال کا ذمہ دار ہے۔“
استاد بولے ”قرآن کی بات مت کرو، روایات، ورد اور استخارے میں مسلمانوں کا ایمان پکا کرو۔ ستاروں، ہاتھ کی لکیروں، مقدر اور نصیب میں انہیں الجھاؤ۔“
یہ سب دیکھ کر واپس ہوئے تو نواب چھتاری نے انگریز کلکٹر سے پوچھا ”اتنے عظیم دینی مدرسے کو آپ نے کیوں چھپا رکھا ہے؟“
انگریز نے کہا: ”ارے بھئی! ان سب میں کوئی مسلمان نہیں، یہ سب عیسائی ہیں۔ تعلیم مکمل ہونے پر انہیں مسلمان ملکوں خصوصاً مشرقِ وسطیٰ، ترکی، ایران، اور ہندوستان بھیج دیا جاتا ہے۔ وہاں پہنچ کر یہ کسی بڑی مسجد میں نماز پڑھتے ہیں۔ پھر نمازیوں سے کہتے ہیں کہ وہ یورپی مسلمان ہیں۔ انہوں نے مصر کی جامعہ الازہر میں تعلیم پائی ہے اور مکمل عالم ہیں۔ یورپ میں اتنے اسلامی ادارے موجود نہیں کہ وہ تعلیم دے سکیں۔ وہ سر دست تنخواہ نہیں چاہتے، صرف کھانا، سر چھپانے کی جگہ درکار ہے۔ پھر وہ مؤذن، پیش امام، بچوں کے لیے قرآن پڑھانے کے طور پر اپنی خدمات پیش کرتے ہیں۔ تعلیمی ادارہ ہو تو اس میں استاد مقرر ہو جاتے ہیں۔ جمعہ کے خطبے تک دیتے ہیں۔“
نواب صاحب کے انگریز مہمان نے انہیں یہ بتا کر حیران کر دیا کہ عظیم مدرسے کے بنیادی اہداف یہ ہیں:
- مسلمانوں کو روایات، ذکر کے وظیفوں اور نظری مسائل میں الجھا کر قرآن سے دور
رکھا جائے۔
- حضور اکرم کا درجہ جس طرح بھی ہو سکے، گھٹایا جائے۔ کبھی یہ کہو کہ آپ (نعوذ
باللہ) رجل مسحور یعنی جادو زدہ تھے۔
اس انگریز نے یہ انکشاف بھی کیا کہ 1920ء میں (رنگیلا رسول) نامی کتاب راجپال سے اسی ادارے نے لکھوائی تھی۔ اس طرح کئی برس پہلے مرزا غلام احمد قادیانی کو جھوٹا نبی بنا کر کھڑا کرنے والا یہی ادارہ تھا۔ ان کی کتابوں کی بنیاد لندن کی اسی عمارت سے تیار ہو کر جاتی تھی۔ خبر ہے کہ سلمان رشدی کی کتاب لکھوانے میں بھی اسی ادارے کا ہاتھ ہے۔
ہے فتنہ پرور نظام عالم تو اپنے مسلم کی لاج رکھ لے
اب ”جنگل کی حویلی“ کے ایک مکین سے ملاقات کیجیے۔ یہ واقعہ میرے دوست، حسین امیر فرہاد کے ساتھ کویت میں پیش آیا۔ واقعہ انہی کی زبانی سنیے!
یہ 1979ء کا واقعہ ہے، ان دنوں میں کویت کی ایک کمپنی میں مندوب تعلقات العامہ (افسر تعلقات عامہ) تھا۔ ہماری کمپنی کے ڈائریکٹر نے سری لنکا سے گھر کے کام کاج کے لیے ایک خادمہ منگائی۔ دوسرے دن مجھ سے کہا ”اس خادمہ کو واپس بھیج دو۔ وہ ہمارے کسی کام کی نہیں کیونکہ عربی جانتی ہے نہ انگریزی۔“ میں اس کی دستاویزات لے کر متعلقہ جگہ پہنچا تو پتہ چلا کہ فی الحال سری لنکن سفارت موجود نہیں البتہ برطانوی، سری لنکن باشندوں کے معاملات دیکھتے ہیں۔
برٹش کونسل میں استقبالیہ کلرک نے میرا کارڈ دیکھا تو مسٹر ولسن سے ملایا۔ وہ بڑے تپاک سے ملے اور بٹھایا۔ جب اس نے اندازہ لگایا کہ میں بھارتی یا پاکستانی ہوں، تو اُردو میں کہا ”میں کیا خدمت کر سکتا ہوں؟“
میں نے سری لنکن خادمہ کے متعلق بتایا، تو اس نے کہا ”کوئی مسئلہ نہیں، اسے ہم رکھ لیں گے۔ آپ کا جو خرچ آیا، وہ ہم ادا کر دیں گے۔ یہ بتاؤ کہاں کے رہنے والے ہو؟“
میں نے کہا ”پاکستان“۔
وہ بولا ”وہ تو بہت بڑا ملک ہے۔“
میں نے کہا ”پشاور کا رہنے والا ہوں۔“
پشتو میں پوچھا: ”کون سی جگہ؟“
میں نے بتایا ”نوشہرہ۔“
جب میں نے گاؤں کا نام بتایا تو اس کی آنکھوں میں عجیب چمک پیدا ہو گئی۔ پھر وہ مختلف لوگوں کا پوچھنے لگا۔ میں نے بتایا کہ کون مر گیا ہے اور کون زندہ ہے۔ میں نے سوچا، ہو سکتا ہے یہ نوشہرہ چھاؤنی میں ملازمت کرتا رہا ہو، لیکن اس کی عمر زیادہ نہیں تھی۔
لیکن اس نے کچھ اور کہانی سنائی۔ پہلے اس نے کافی منگائی پھر انٹر کام پر کلرک سے کہا کہ اس کے پاس کسی کو مت بھیجنا۔ وہ اتنا خوش تھا کہ میں بیان نہیں کر سکتا۔ کافی کے دوران اس نے بتایا ”میں آپ کے گاؤں، محلہ عیسیٰ خیل میں چار سال تک امام رہا ہوں۔“
میں نے پوچھا ”کیا آپ مسلمان ہیں؟“
وہ بولا ”میں نے چار سال تک آپ کے گاؤں کا نمک کھایا ہے۔ آپ کے گاؤں والوں نے مجھے بڑی عزت دی۔ میں آپ سے جھوٹ نہیں بولوں گا۔ میں عیسائی ہوں۔ یعنی اہل کتاب۔“
اس کے بعد میرا اس کے ہاں آنا جانا رہا۔ وہ مجھے اپنا ہم وطن سمجھتا رہا اور تقریباً میرا ہم عمر تھا۔ تعجب کی بات یہ ہے کہ وہ ہمارے ہاں پاکستان بننے کے بعد رہا تھا۔ ایک دن میں نے پوچھا ”آپ پٹھانوں کا کھانا کیسے کھاتے رہے؟“
وہ کہنے لگا ”آپ لوگوں کا کھانا اتنا مزیدار ہوتا ہے کہ میں یہاں آج بھی گھر جاتے ہوئے ایرانی تندور سے روٹی لے کر موٹر میں روکھی کھاتا ہوں۔“
جب میں کویت سے پاکستان آ رہا تھا تو میں نے اس سے وہی سوال پوچھا جسے وہ ہمیشہ ٹالتا رہا تھا۔ میں نے دریافت کیا ”اب تو بتا دو کہ تم عیسائی ہو کر پٹھانوں کے گاؤں میں روکھی سوکھی کھاتے اور پیش امام کی خدمات انجام دیتے رہے...... آخر کیوں؟“
وہ کافی دیر سر جھکائے سوچتا رہا پھر سر اٹھا کر میری آنکھوں میں جھانکا اور کہا: ”ہمیں اپنے ملک کے مفادات کی خاطر بعض اوقات بہت کچھ کرنا پڑتا ہے۔ ہمارے ہاں لندن کے مضافات میں ایک مرکز ہے جہاں شکل و شباہت دیکھ کر انگریزوں کو بیرونی مذاہب اور زبانوں کی تعلیم دی جاتی ہے۔ وہاں سے فارغ التحصیل ہو کر پھر ہمیں مختلف علاقوں میں بھیجا جاتا ہے۔“
گاؤں آکر میں نے محلہ عیسیٰ خیل کے بزرگوں کو یہ واقعہ سنایا تو ایک بوڑھے طالب گل نے کہا: ”مجھے شک پڑا تھا، مگر سب کہہ رہے تھے کہ یہ چترالی ہے۔“ وہاں اکثر چترالی مولوی پیش امام ہیں۔ وہ بھی گورے ہیں بالکل انگریزوں کی طرح۔ پھر طالب گل نے کہا ”چلو بھائی، اب چار سال کی نمازیں لوٹائیں جو ہم نے انگریز کے پیچھے پڑھیں...... خانہ خراب ہو اس کا۔“
جب میں نے جنگل کی حویلی کے متعلق پڑھا تو مجھے یقین ہو گیا کہ مسٹر ولسن ضرور جنگل کی حویلی کا پروردہ تھا۔
مولانا عبدالرشید انصاری
کمال سپننگ مل والوں کا کمال با زوال
اللہ تعالیٰ کی کتاب قرآن کریم، اس کے آخری پیغمبر نبی کریم ﷺ کی ذات گرامی اور آپ ﷺ کا نام نامی اسم ”محمد ﷺ“ کائنات کی ہر ہستی ہر چیز غرضیکہ تمام مخلوقات سے بلند بالا ہے۔
بعد از خدا بزرگ توئی قصہ مختصر
گزشتہ سال ڈنمارک اور ناروے کے اسلام دشمن عناصر نے پیغمبر اسلام کے گستاخانہ خاکے شائع کر کے ہیجان کفر کا مظاہرہ کیا تھا۔ حبیب کبریا ﷺ کے رخ انور کا روپ دھار کر شیطان کسی کے خواب میں بھی نہیں آسکتا، اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب ﷺ کی صورت اصلیہ کو معاندین و کافرین کی نظروں سے اوجھل رکھا ہے مگر انھوں نے آپ ﷺ کی شبیہ کے خاکے بنا کر اپنے کفر کی بھڑاس نکالی اور اہل اسلام کے دلوں پر خنجر چلا دیے۔ فیصل آباد کھرڑیانوالہ کمال سپننگ ملز میں بستر کی چادروں پر حبیب کبریا خاتم الانبیا ﷺ کا اسم گرامی بار بار پرنٹ کیا گیا، مسلمان مشتعل ہوئے، مل کو آگ لگانے کی کوشش کی گئی اور مالکان کے خلاف توہین رسالت کے الزام میں مقدمہ بھی درج ہوا مگر کسی طرح معاملہ رفع دفع ہو گیا۔ اب ایک بار پھر اسم ”محمد“ کو اسٹائل کے ساتھ بگاڑ کر پرنٹ کیا گیا۔ جس پر مل مالکان نے مفتیان کرام سے جواز کا فتویٰ حاصل کر لیا، جو قرآن و حدیث یا ائمہ مجتہدین سلف کی رائے یا کسی دلیل کے بغیر محض اپنی رائے پر مبنی تھا۔ اس کی بنا پر ملزمان مل مالکان کو تحفظ فراہم ہوا۔ انھوں نے قانون کی گرفت میں آنے سے بچنے کی پوری کوشش کی بلکہ آئندہ کے لیے انھیں اس طرح کی جسارتیں جاری رکھنے کی چھٹی مل گئی۔ ”جامعہ امدادیہ کے مفتی عالمگیر صاحب اور ان کے رفقا مفتیان کرام نے تحریر کیا ہے کہ کسی ڈیزائن وغیرہ میں اس طرح کا مقدس لفظ بننا
ہے یا نہیں بذات خود شرعی مسئلہ نہیں ہے بلکہ یہ مشاہدہ کا معاملہ ہے جو کوئی بھی مسلمان کر سکتا ہے۔“ (ایسا فتویٰ دینے والوں پر اللہ تعالیٰ کی کروڑ ہا لعنت، مرتب) چنانچہ ”نور علیٰ نور“ نے پرانی اور نئی چادروں پر پرنٹڈ اسمائے حبیب کبریا ﷺ کا عکس شائع کر کے مشاہدے کے لیے معاملہ تمام مسلمانوں کے سامنے رکھ دیا ہے۔ ہمارے نزدیک پیغمبر اعظم ﷺ کا اسم مقدس ہی نہیں بلکہ اس کی شبیہ در شبیہ بھی ایسے کپڑے پر پرنٹ کرنا جس پر پیر رکھے جائیں گے، کتے بیٹھیں گے، شراب نوشی ہو گی، بدکاریاں کی جائیں گی، غیرت ایمانی کے منافی ہے۔ کوئی بھی سچا عاشق رسول اور کھرا مسلمان اسم محمد ﷺ یا اس کی شبیہ کی توہین برداشت نہیں کر سکتا۔ ایک صاحب نے ہمیں دھمکی آمیز لہجے میں کہا تھا تم کچھ بھی کر لو، کمال سپننگ مل کے مالکان کے خلاف تمہارا پرچہ درج نہیں ہو گا مگر ہم نے ”نور علیٰ نور“ کے صفحات پر یہ سطور رقم کر کے رب کائنات کی عدالت میں پرچہ درج کروا دیا ہے، اللہ تعالیٰ خود اپنے دین، قرآن کریم اور نبی کریم کی عزت و آبرو کا سب سے بڑا محافظ ہے۔ چنانچہ ایڈیشنل سیشن جج چوہدری عبدالستار کو اللہ رب العالمین نے توفیق عطا فرمائی کہ انھوں نے 6 مارچ کو متعلقہ پولیس کو حکم دیا ہے کہ ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کیا جائے۔ مل مالکان کا کہنا ہے کہ ہم نے یہ کام اپنے ایک ملازم مفتی کی تصدیق سے کیا ہے، چنانچہ اس نے مل مالکان کے حق میں مختلف اداروں سے فتوے حاصل کیے، پریس کانفرنس کی اور اسم محمد ﷺ کی حرمت و تقدیس کی بات کرنے والوں کو شر پسند اور امن دشمن قرار دیا۔ اب معاملہ آخرت کا رہ گیا ہے، جبکہ دولت کے بھوکے سرمایہ داروں، اور ان کی دعوتیں اڑانے والوں کو آخرت کا دھیان ہے نہ خوف۔ دکھ اور افسوس کی بات یہ ہے کہ دولت سے تجوریاں بھرنے کے خواہاں سرمایہ داروں مل اونروں نے توہین رسالت کا ارتکاب کیا تو انھیں بچانے کے لیے ان کے دفاع میں بڑے بڑے تاجر اور سرمایہ دار اور ان کے پیٹی بھائی مل مالکان سرگرم عمل ہو گئے مگر صد حیف! کہ وجہ تخلیق کائنات، محسن انسانیت حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کے نام نامی اسم گرامی کی عزت و حرمت مجروح کی گئی تو دین کے نام پر گزر بسر کرنے والے بڑے بڑے تقدس مآب شرعی دکان دار ملزمان کا ساتھ دیتے ہوئے ان کی صف میں نظر آئے۔ چند دیوانے تھے جن کو نام نہاد زعمائے ملت نے دشمنان امن اور شر پسند کے القابات سے نوازا، وہ اپنی بے سروسامانی کے ساتھ حب نبی ﷺ کے جذبے سے سرشار ہو کر نتائج کی پروا کیے بغیر اٹھ کھڑے ہوئے، اللہ تعالیٰ اہل حق کا حامی و
ناصر ہے، چنانچہ جب ملزمان کے وکیل نے عدالت میں کہا کہ بڑے بڑے مفتیان کرام نے فتوے جاری کیے ہیں جو میں ساتھ لایا ہوں کہ بیڈشیٹوں کے کپڑے پر جو لفظ پرنٹ کیا گیا ہے وہ اسم محمد نہیں بنتا، اس پر ہمارے وکیل جناب محمد آصف ایڈووکیٹ نے جواباً کہا جناب والا! یہ فتوے لائے ہیں جبکہ ان کے خلاف فیصل آباد کے علمائے کرام اور مفتیانِ عظام خود عدالت کے دروازے پر تشریف لائے ہیں کہ انھیں طلب کیا جائے اور اندر آنے کی اجازت دی جائے، ان کے بیان سے معلوم ہو جائے گا کہ ملزمان نے کیا لکھا ہے اور کیسے سنگین اور ایمان سوز جرم کا ارتکاب کیا ہے۔
بہرکیف! مقدمہ کے اندراج سے معاملہ عدالت میں جا رہا ہے، جہاں انشاء اللہ تعالیٰ، پروانگانِ شمع رسالت علمائے کرام اور وکلا حضرات دلائل سے ثابت کریں گے کہ ہیر پھیر اور بزدلانہ گستاخانہ عمل سے اسم محمد کی توہین کر کے قانون کی زد اور سزا سے ملزمان نہیں بچ سکتے، جہاں تک مفادات کے بندوں اور مصلحتوں کی دھوپ چھاؤں میں پلنے والے شرمی نونہالوں کا تعلق ہے، اللہ تعالیٰ ان کی چکا چوند اداؤں، پر فریب نخروں اور دل آویز حرکتوں سے امت کو بچائے!
میں علیل ہوں، لاچار ہوں، بڑھاپے کی چوکھٹ میں داخل ہو چکا ہوں، مگر دشمنانِ ناموسِ رسالت ﷺ اور اعدائے دین و وطن کے خلاف عمرِ رفتہ کے تجربات سے لیس آج بھی اسی طرح شمشیر بکف ہوں، جیسے 30,25 سال پہلے عہد شباب میں ہوا کرتا تھا۔
بگڑتا کچھ نہیں یارب نگہباں جب ہے تُو میرا
۞ ۞ ۞
محمد ہاشم جاوید
توہین آمیز خاکے اور قادیانی
ستمبر 2005ء میں قادیانیوں کا سالانہ جلسہ ڈنمارک میں ہوا جس میں قادیانیوں کے مرکزی ذمہ داران نے شرکت کی۔ اس موقع پر قادیانیوں کے ایک وفد نے ڈینش وزیر سے ملاقات کے دوران جہاد کے موضوع پر گفتگو کرتے ہوئے انھیں بتایا کہ وہی اسلام کی حقیقی تعلیمات کے علمبردار ہیں اور ان کے نبی مرزا غلام احمد قادیانی (نعوذ باللہ من ذالک) نے جہاد کو منسوخ قرار دے دیا ہے۔ مرزا قادیانی نے اسلامی احکامات تبدیل کر دیے ہیں، اس لیے کہ محمد ﷺ کی تعلیمات اور ان کا عہد ختم ہو چکا ہے (نعوذ باللہ من ذالک) ان کی اس یقین دہانی پر کہ محمد ﷺ کے پیروکار صرف سعودی عرب تک محدود ہیں۔ 30 ستمبر کو ڈینش اخبار نے محمد ﷺ کے حوالے سے بارہ کارٹون شائع کیے جن کا مرکزی نکتہ فلسفہ جہاد پر حملہ کرنا تھا۔ اعلیٰ ڈینش افسر نے کہا کہ ہمیں جنوری کے آغاز تک اس بات کا یقین تھا کہ قادیانیوں کا دعویٰ سچا تھا کیونکہ جنوری تک سوائے سعودی عرب کے کسی اسلامی ملک نے ہم سے باقاعدہ احتجاج نہیں کیا تھا۔ او آئی سی کی خاموشی ہمارے یقین کو پختہ کر رہی تھی۔ اس ذمہ دار آفیسر نے اس ملاقات کی ویڈیو ٹیپ بھی سنائی جس میں ڈینش، اردو اور انگریزی زبان میں گفتگو ریکارڈ تھی۔ دریں اثنا ایک سروے میں جس میں تین دنوں کے اندر پندرہ سو ڈینش لوگوں کے خیالات معلوم کیے گئے یہ بات سامنے آئی کہ 90 فیصد ڈینش لوگوں کے خیال میں ڈنمارک کے اخبار نے محمد ﷺ کے بارے کارٹون شائع کر کے غیر ذمہ داری کا ثبوت دیا ہے۔ 74 فیصد لوگوں کے مطابق ذمہ داریوں کا تعین کیے بغیر آزادی ممکن نہیں اور پریس کے لیے ذمہ داریوں کا تعین کرنے کے لیے قانون سازی کا اہم ترین تقاضا ہے۔ 91 فیصد لوگوں کے مطابق اس مسئلہ کا حل صرف یہ ہے کہ اہل اسلام ڈینش حکومت اور متعلقہ اخبار کی معذرت قبول کر لیں۔ جن لوگوں کو اظہار خیال کی دعوت دی گئی تھی ان میں کاروباری افراد، طالب علم، سیاسی
کارکنان، اخبار نویس، جبکہ خود یہ نکتہ سامنے لے کر آئے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی عائد کر کے فرم کو بند کر دیا کے کارٹون شائع کرنے پر ڈینش ٹیچرز یونین نے ا عیسائیت کے ساتھ اسلا عیسائیت کا موازنہ کر سکیں
کارکنان، اخبار نویس، ٹیکسی ڈرائیور اور ملازمت پیشہ افراد شامل تھے۔ لوگوں کی اکثریت از خود یہ نکتہ سامنے لے کر آئی کہ چند ماہ قبل جب جوتے بنانے والی ایک فرم نے اپنے جوتوں پر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی تصویر شائع کی تو ڈینش حکومت نے ان جوتوں کی فروخت پر پابندی عائد کر کے فرم کو بند کر دیا۔ اگر حضرت عیسیٰؑ کی تصویر پر یہ کارروائی ہو سکتی ہے تو پھر محمد ﷺ کے کارٹون شائع کرنے پر متعلقہ اخبار کے خلاف کارروائی کیوں ممکن نہیں ہے؟ علاوہ ازیں ڈینش ٹیچرز یونین نے اپنے ایک اجلاس میں اتفاق رائے سے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ عیسائیت کے ساتھ اسلام کو بھی لازمی مذہبی تعلیم قرار دیا جائے تا کہ مستقبل کے ورثا اسلام اور عیسائیت کا موازنہ کر سکیں۔
* * *
منظور راجپوت ایڈووکیٹ (کراچی)
نامعلوم دہشت گرد
یہ ستمبر 1998ء کی ایک دوپہر تھی۔ میں سینئر سول جج کی عدالت کے سامنے کوریڈور سے گزر رہا تھا۔ میں نے دیکھا کہ ایک انگریز عورت چھوٹے سے پنگھوڑے میں انگوٹھا چوستے ہوئے بچے کے قریب کھڑی سگریٹ کے کش لگاتی اور دھواں اس معصوم بچے کے منہ پر چھوڑ دیتی۔ دھوئیں کی وجہ سے بچے کی آنکھوں سے پانی بہہ رہا تھا۔ مجھے اس کی حرکت پر تعجب ہوا۔ میں نے رک کر اس سے تعارف چاہا تو اس نے اپنا نام کینانا چارلس (Canata Charles) اور بچے کے بارے میں معلوم ہوا کہ وہ اس کو گود لے رہی ہے اور اس کی درخواست سول کورٹ میں منظوری کے لیے پیش ہے۔ میں مڑ کر عدالت میں داخل ہوا تو وہاں اسی طرح کے چھ پنگھوڑوں میں نومولود بچے اور ان کے پیچھے قطار میں چھ گوری عورتیں اور دو مرد کھڑے تھے۔ جج صاحب اپنی کرسی پر براجمان دو معروف وکیلوں سے خوش گپیوں میں مصروف تھے۔ میرے اندر آنے پر سب نے چونک کر مجھے دیکھا اور جج صاحب نے بے تکلفی سے پوچھا: ”کہیے ! منظور صاحب کیسے آنا ہوا؟“
میں نے پنگھوڑوں میں لیٹے بچوں اور قطار میں کھڑے گورے مرد و عورتوں کی طرف اشارہ کر کے استفسار کیا: ”یہ کیا چکر ہے؟“ جج صاحب نے بلا جھجک بتایا کہ یہ لاوارث بچے ہیں اور ان لوگوں نے بچوں کو گود لینے کے لیے درخواست دی ہے۔
میں نے پوچھا: ”یہ بچے کہاں سے آئے ہیں اور کس کے ہیں؟“ ساتھ کھڑے ایک وکیل نے بتایا کہ یہ بچے ایک چرچ نے دیے ہیں۔ یہ چرچ ناصری کالونی نیو کراچی سیکٹر 1-5 میں واقع ہے۔ میں نے جج صاحب سے کہا: ”یہ بچے پاکستانی ہیں اور مسلمانوں کے بچے ہیں۔ اس لیے کوئی غیر ملکی خصوصاً جبکہ وہ غیر مسلم بھی ہو، ان بچوں کو گود نہیں لے سکتا۔ ان
بچوں کو پالنے کی ذمہ داری پاکستانی حکومت کی ہے یا پھر کوئی پاکستانی مسلمان ان کو قبول کرے۔ آئین اور قانون یہی کہتا ہے۔ ساتھ ہی میں نے متعلقہ قانون کا حوالہ دیا۔ جج نے کہا کہ: ”ان کا تو کوئی والی وارث بننے کے لیے تیار نہیں۔“ میں نے کہا: ”میں ان بچوں کو گود لینے کے لیے تیار ہوں اور ابھی باقاعدہ درخواست بھی آپ کی خدمت میں پیش کر دیتا ہوں۔“ ساتھ کھڑے وکیلوں نے مجھے سو پچاس پونڈ دے کر اس معاملے سے باز رکھنے کی کوشش کی تو میں نے حقارت سے ان کا ہاتھ جھٹک دیا اور تھوڑی دیر میں درخواست لکھ کر عدالت میں پیش کر دی۔ اس درخواست میں، میں نے یہ مؤقف اختیار کیا کہ ”میں پاکستانی ہوں، دوسرا مسلمان ہوں اور تیسرا یہ کہ میں لاولد ہوں۔ اس لیے سب سے پہلے ان بچوں پر میرا حق بنتا ہے اور پھر عدالت اس بات کی مجاز نہیں ہے کہ ان بچوں کو ایسے لوگوں کے سپرد کرے جو انھیں دوسرے ممالک لے جائیں اور عدالت ان سے کبھی باز پرس نہ کر سکے۔ عدالت میں کھڑے گورے مرد و عورتوں اور ان کے وکیلوں کے چہروں پر مردنی چھا گئی۔ میں درخواست دے کر بار روم میں آ بیٹھا۔ تھوڑی دیر بعد دونوں وکیل بھی بار روم میں آ گئے اور بے تکلفی سے کہنے لگے: ”یار تم نے خوامخواہ پھڈا ڈال دیا۔ ہماری روزی پر بھی لات مار رہے ہو اور خود بھی فضول پنگا لے رہے ہو۔ تم نے سات بچے لے کر کیا کرنے ہیں؟“ میں نے کہا: ”میری دینی غیرت یہ گوارا نہیں کرتی کہ مسلمانوں کے یہ بچے باقی عمر عیسائی بن کر جئیں ۔“
دونوں نے مجھے اپنے مؤقف سے دستبردار کرنے کے لیے مالی پیش کش میں اضافہ کر دیا۔ وہ اچانک ہزاروں سے لاکھوں میں آ گئے۔ میں نے کہا: ”یہ مال کا مسئلہ نہیں، ایمان کا مسئلہ ہے۔“ میری درخواست کی سماعت اور مقدمے کی کارروائی بڑھی تو تحقیق حال سے پتہ چلا کہ اس سے پہلے بھی 9 بچے اسی عدالت کے ذریعے یہی لوگ لے کر جا چکے ہیں۔
یہ لوگ مالٹا (افریقہ) کی ایک عیسائی این جی او کے نمائندے ہیں اور یہی کام کرتے ہیں۔ جس چرچ کے متعلق یہ کہا گیا تھا کہ بچے اس کے باہر پڑے پائے گئے۔ تفتیش میں اس چرچ کا وجود ہی سرے سے نہیں تھا۔ عدالت میں دو پیشیوں کے بعد یہ گورے مدعی غائب ہو گئے، ان کے درج شدہ پتے پر چھاپہ مارا گیا تو وہ بھی ایک خالی پلاٹ نکلا۔ یہ خالی پلاٹ ڈیفنس ہاؤسنگ سوسائٹی میں واقع تھا۔ گویا پورا سلسلہ ہی فراڈ پر مبنی تھا لیکن ان گوروں کی
پیروی کرنے والے وکیلوں نے حق خدمت ادا کرنے کے لیے مجھ پر ہر طرح کا دباؤ ڈالنا شروع کر دیا۔ جس میں لالچ بھی تھا اور دھونس بھی۔ میرے ایک قریبی بے تکلف دوست نے ایک دن مجھے گھر بلایا اور کہا: ”یار! زندگی میں یہ مواقع بار بار نہیں آیا کرتے۔ کہاں ساری عمر تھانے کچہری میں جوتیاں چٹخاتے پھرو گے۔ تین کروڑ روپے اور امریکی ویزا لو اور موجاں مارو! لوگ تو ان دونوں میں سے کسی ایک کے لیے جان لٹانے کو تیار رہتے ہیں لیکن مجھے پتہ ہے مولویوں کے ساتھ رہ کر تمہارا دماغ خراب ہو گیا ہے، تمہاری کھوپڑی میں سوراخ بھی ہو سکتا ہے۔“ دوست کی ان باتوں میں تفکر بھی تھا، تشویش بھی اور تحریص بھی تھی اور معاملے کی سنگینی کا اظہار بھی۔ میرے سامنے سرخ رنگ کا سوالیہ نشان سا بن کھڑا ہوا.......
میں نے کہا: ”تم درست کہتے ہو۔ یہ میرے دماغ کی خرابی ہے کہ میں تین کروڑ روپے اور امریکی ویزے کو ٹھکرا رہا ہوں۔ مجھے یہ بات تسلیم ہے کہ میں ساری عمر کی محنت کے بعد بھی تین کروڑ روپے جمع نہیں کر سکتا لیکن مجھے یہ بات کھائے جا رہی ہے کہ ہم اپنے ہاتھوں سے مسلمان بچوں کو عیسائیوں کے حوالے کر رہے ہیں اور یہ بھی یقینی ہے کہ بڑے ہو کر یہ بچے عیسائی ہی ہوں گے۔ یہ سوچ کر میرا دماغ پھٹتا ہے اور پھر ٹھکانے پر نہیں رہتا۔ اس لیے اب لالچ یا خوف مجھے اس سے روک نہیں سکتا۔“ میرے دوست نے ٹھنڈا سانس بھرا اور کہا: ”کیا تم اس بات میں سنجیدہ ہو کہ تم ان سات بچوں کو گود لے لو گے۔ ایک یا دو بچوں کو سنبھالنا بھی بڑا مشکل ہوتا ہے چہ جائیکہ سات بچے ایک عمر کے۔ کیا تم نے اپنی اہلیہ سے مشورہ کیا ہے؟“ میں نے کہا: ”ہاں! میری اہلیہ نے ہی میری حوصلہ افزائی کی ہے۔“
مقدمہ کی کارروائی تین سال چلتی رہی۔ اصل مدعی فرار ہو گئے، کیونکہ یہ بات سامنے آ چکی تھی کہ ڈینس چارلس اور کیتھا چارلس یہ دونوں میاں بیوی (بظاہر) جو مالٹا میں ایک نام نہاد این جی او چلا رہے ہیں، حقیقت میں بردہ فروش ہیں، اور اس کی آڑ میں غریب ملکوں کے مسلمان بچوں کی تجارت کرتے ہیں۔ یہ محض الزام نہیں ہے اس لیے یہ بات بھی سول جج نے مجھے خود ہی بتا دی تھی کہ یہی لوگ اس سے پہلے بھی 9 بچے اسی عدالت کے توسط سے لے جا چکے ہیں اور اس حقیقت کے کھل جانے کے خوف سے انھیں راہ فرار اختیار کرنی پڑی۔ یہ نو بچے بھی انھیں اس چرچ نے فراہم کیے تھے جس کا وجود دنیا میں نہیں تھا۔ ان میاں
بیوی کا دیا ہوا ایڈریس بھی بوگس ثابت ہوا۔
اس تین سالہ عدالتی کارروائی کے دوران اور بھی حیران کن انکشافات ہوئے۔ میں نے جب مزید عدالتوں سے ایسے لاوارث بچوں کا ریکارڈ جمع کرنا شروع کیا تو یہ دیکھ کر میری آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں کہ گزشتہ دس پندرہ برسوں میں تیس ہزار (23,000) لاوارث بچے غیر ملکی N.G.O's یا ان کے ایجنٹوں کے حوالے کیے گئے ہیں۔ یہ تیس ہزار بچے ایک سماجی تنظیم نے مہیا کیے تھے۔ بچے اکٹھے کرنے کے لیے یہ سماجی تنظیم بڑے شہروں میں پبلک مقامات پر پنگھوڑے اور جھولے رکھتی ہے۔ ان جھولوں پر واضح طور پر لکھا ہوتا ہے کہ ”قتل نہ کریں اپنا بچہ یہاں ڈال دیں!“ (کیا یہ زنا، فحاشی اور حرام کاری کی سرپرستی اور پشت پناہی نہیں ہے؟)
اس انکشاف پر ان کو بھی عدالت میں طلب کیا گیا۔ ان کی دیدہ دلیری دیکھیے کہ انھوں نے عدالت میں کھڑے ہو کر مجھے دھمکانا شروع کر دیا۔ جس پر جج نے انھیں ڈانٹا، مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ عدالت ان کا کچھ نہیں بگاڑ سکی۔ ان سے یہ نہ پوچھا جا سکا کہ انھوں نے 23 ہزار بچے کتنے میں فروخت کیے؟ یقیناً ان کی پشت پر ایسے لوگ یا تنظیمیں موجود ہیں جو سات بچوں کی سودا بازی میں تین کروڑ روپے کی پیشکش کر سکتی ہیں۔ اس سے آپ ان کی طاقت اور اس کالے دھن کا اندازہ لگائیے۔ جس پر انکم ٹیکس کی شرح لاگو نہیں ہوتی۔
آئیے اب غور کیجیے ان ہوش ربا نتائج پر جو ان بچوں کی خرید و فروخت پر مرتب ہوتے ہیں۔ آپ سوچیے! یہ بچے کہاں گئے؟ یہ کسی طبی تحقیق کی بھینٹ تو نہیں چڑھ گئے؟ کیا ان کے اعضا فروخت کیے جاتے ہیں؟ کیا ان سے حرام کاری کا پیشہ کرایا جاتا ہے؟ کیا ان کو گندی فلموں میں استعمال کیا جاتا ہے؟ کیا ان سے عیسائیت کی تبلیغ یا فحاشی کی ترویج کروائی جاتی ہے؟
کیا وہ یہی دہشت گرد تو نہیں ہیں جن کو ضرورت پڑنے پر خودکش حملوں میں استعمال کر کے نامعلوم حملہ آور قرار دے دیا جاتا ہے۔ پھر حسب منشا ان کا کھرا پاکستان بھی پہنچ جاتا ہے کیونکہ ڈی این اے ٹیسٹ میں وہ پاکستانی ثابت ہو جاتے ہیں۔ کیا کبھی عدالتوں نے ان کا کھوج لگایا؟ اور وہ کھوج لگا بھی کیسے سکتی ہیں کہ اب وہ بچے ان کے دائرہ اختیار سے باہر ہیں حالانکہ پاکستان کی کسی عدالت کو یہ اختیار ہی نہیں ہے کہ وہ پاکستانی بچے کسی ایسے فرد یا تنظیم کے حوالے کرے جس کو چیک نہ کیا جا سکے۔ چلو یہ نہ سہی تو انہی بچوں کا حال احوال معلوم کر لیا جائے
جو ایس او ایس ویلج میں پرورش پا رہے ہیں کہ بالغ ہونے کے بعد ان کی سرگرمیاں کیا ہیں؟ حکومت کو اپنے ذرائع سے اس کا سراغ لگانا چاہیے کہ یہ مسلمانوں خصوصاً پاکستان کے خلاف دھماکوں اور ہنگاموں کی بنیاد پر جو الزامات لگ کر عالمی سطح پر اس کو اچھالا جاتا ہے، یہ جو نامعلوم حملہ آوروں کی ناقابل شناخت لاشیں ملتی ہیں کہیں ان معصوم لاوارث بچوں کی نہ ہوں، جن کو بے حس اور بے غیرت لوگوں نے ڈالروں کے لالچ میں فروخت کر دیا۔ دینی مدرسوں اور مسجدوں میں دہشت گردی کے عوامل کو تلاش کرنے کی بجائے ان N.G.O's کو کھنگالا جائے، جنھوں نے 23 ہزار بچوں کو فروخت کیا ہے۔ جرأت اور ہمت سے کام لیا جائے تو بہت کچھ سامنے آ سکتا ہے۔
محمد عمر
ہالینڈ کے رکن پارلیمنٹ کی ہرزہ سرائی
مغرب کے غلاظت کدہ نے ایک اور رشدی اگل دیا۔ ہالینڈ کے رکن پارلیمنٹ اور اپنی جماعت کے سربراہ ”گرٹ ولڈر“ نے اسلام، قرآن اور حضرت محمد ﷺ کی توہین کو وتیرہ بنا لیا ہے۔ نومبر 2006ء میں لبرل پارٹی سے الگ ہونے والے گرٹ نے اسلام کے خلاف تمام تر توانائیاں صرف کرتے ہوئے باقاعدہ محاذ کھول لیا ہے۔ یورپ کے اس غلیظ انسان نے انٹرویو، بکواسیات اور اخبارات میں مضامین کے ذریعے اپنے خبث باطن کے اظہار کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے۔ برطانوی اخبار ڈیلی گراف کے مطابق گرٹ نے کہا ہے کہ اسلام سونامی طوفان کی طرح یورپ کی طرف بڑھ رہا ہے اور اس کا سدباب نہ کیا گیا تو اسلام یورپ پر چھا جائے گا۔ بدبخت نے کہا ہے کہ اسلام دراصل ایک مسئلہ ہے کیونکہ اسلام ایک متشدد مذہب ہے۔ ہالینڈ کے اس خبیث انسان نے رسول اللہ ﷺ کی توہین کرتے ہوئے انھیں بھی متشدد قرار دیا اور کہا کہ ”اس نے قرآن پڑھا ہے وہ بھی تشدد کی تعلیم دیتا ہے، ہم مسلمانوں کو صرف ایک صورت میں برداشت کر سکتے ہیں بشرطیکہ وہ آدھا قرآن پھاڑ پھینکیں (نعوذ باللہ) اور اس سے قطع تعلقی کرتے ہوئے اپنے آئمہ سے سنیں بھی نہ۔“ مسٹر گرٹ پردہ کے خلاف شدید مہم چلا رہے ہیں اور اسے بربریت کی علامت قرار دے رہے ہیں۔ دریں اثناء اپنے ایک تازہ ترین انٹرویو میں گرٹ نے یورپی شہریوں کو اسلام سے متنفر کرنے اور مسلمانوں کے خلاف تشدد پر اکسانے کی خاطر کہا ہے کہ جلد ایسا وقت آنے والا ہے جب ہمارے معاشرہ میں مساجد کی تعداد چرچوں سے زیادہ ہو گی۔ ملعون گرٹ نے رسول اللہ ﷺ کے حوالہ سے اپنی خباثت کا مظاہرہ یوں کیا ہے کہ ”اگر آج مسلمانوں کے رسول ﷺ زندہ ہوتے تو میں انھیں ہالینڈ نہ گھسنے دیتا بلکہ خود ہالینڈ سے باہر نکال کر آتا۔“ مسلمانوں کے حوالہ سے رائے عامہ ہموار کرتے ہوئے مسٹر گرٹ نے کہا ہے کہ مسلمان ہماری روایات کا خیال نہیں رکھتے۔ ”ایسے
لوگ جو فاشسٹ مذہب اسلام کے حامی ہیں کسی حق کے مستحق نہیں اور نہ ہی کسی قانون کا جواز ہے انھیں فوری طور پر کسی جج یا عدالت کے سامنے پیش کیے بغیر انھیں گرفتار کر کے نکال باہر پھینکنا چاہیے۔‘‘ اپنے ایک دوسرے انٹرویو میں مسٹر گرٹ نے کہا ہے کہ مسلمان فاشسٹ اور ٹھگ ہیں انھیں فوری طور پر قبل از وقت گرفتار کر کے باہر نکال دینا چاہیے۔
ڈچ بدبخت گرٹ ولڈر کو رسول اللہ ﷺ کی توہین پر پہلے ہی قتل کی دھمکیاں مل چکی ہیں جس کے بعد سے مسٹر گرٹ چوہے کی زندگی گزارنے پر مجبور ہے۔ وہ اپنے پارلیمنٹ چیمبر میں بھی پولیس کی معیت میں بیٹھتا ہے اور ہر رات کسی نئی جگہ گزارتا ہے۔ یہاں تک کہ اس کی بیوی بھی شوہر کے جائے قیام سے آگاہ نہیں ہوتی۔ اسے بھی ہفتہ میں 2 بار کڑی سکیورٹی میں ملاقات کے لیے لایا جاتا ہے۔ بدبخت سے ملاقات کرنے والوں سے بال پوائنٹ تک لے لیا جاتا ہے۔
توہین رسالت ﷺ کے قانون میں ترمیم کی کوشش؟
منگل کو اقلیتی رکن قومی اسمبلی ایم پی بھنڈارا نے تحریک پیش کی کہ انہیں مجموعہ تعزیرات پاکستان 1860ء اور مجموعہ ضابطہ فوجداری 1898ء میں مزید ترمیم کردہ بل توہین رسالت (فوجداری قوانین) (ترمیمی) بل 2007ء پیش کرنے کی اجازت دی جائے اس پر اسپیکر چودھری امیر حسین نے وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور ڈاکٹر شیر افگن نیازی کو فلور دیا تو انہوں نے ایم پی بھنڈارا کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ انہیں یہ بل اسمبلی میں پیش نہیں کرنا چاہیے تھا، شیر افگن نے کہا کہ پاکستان ایک اسلامی جمہوریہ ہے اور ہم توہین رسالت جیسے حساس مسئلے پر کوئی بات برداشت نہیں کر سکتے۔ توہین رسالت کا مسئلہ بہت حساس اور نازک ہے اسے اول تو قومی اسمبلی کے ایجنڈے پر لانے کی بھی اجازت نہیں دی جانی چاہیے تھی اور اگر اجازت مل گئی تو ایم پی بھنڈارا کو کچھ خیال کرنا چاہیے تھا، انہیں مسلمانوں کے جذبات کا احترام کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ہم جیسے کیسے بھی مسلمان ہیں، حضور اکرم ﷺ کی ذات کے معاملے پر بہت حساس لوگ ہیں۔ پاکستانی قوم توہین رسالت ﷺ کے قانون میں تبدیلی کسی صورت برداشت نہیں کر سکتی۔ اس کے جواب میں ایم پی بھنڈارا نے کہا کہ مجھے شیر افگن نیازی کی باتوں پر افسوس اور صدمہ ہوا ہے کہ انہیں اپنے الفاظ واپس لینے چاہئیں، آئین پاکستان میں سب کے لیے برابری کا ذکر ہے اور قائد اعظم نے بھی یہی تعلیمات دی تھیں۔ مجلس عمل کے رکن قومی اسمبلی ڈاکٹر فرید احمد پراچہ نے کہا کہ پاکستانی آئین کے تحت خلاف قرآن وسنت کوئی بل قومی اسمبلی میں پیش نہیں کیا جاسکتا نہ پارلیمنٹ خلاف قرآن وسنت کسی قانون میں تبدیلی کا اختیار رکھتی ہے۔ ایم پی بھنڈارا کے بل کو قومی اسمبلی کے ایجنڈے پر بھی نہیں آنا چاہیے تھا۔ بعد ازاں جب اسپیکر نے بل ووٹنگ کے لیے پیش کیا تو ایوان نے بھاری اکثریت سے بل کو مسترد کردیا۔
برصغیر میں برطانوی سامراج سے آزادی کی تحریک کے دوران بعض مسلم زعما نے
مسلمانوں کے لیے علیحدہ ریاست کا مطالبہ اس بنیاد پر کیا تھا کہ وہ ایک آزاد اور خودمختار ریاست میں اسلامی تعلیمات کے مطابق زندگی گزار سکیں۔ تحریک پاکستان کے قائدین نے تحریک کے دوران بارہا اس بات کا واضح طور پر اعلان کیا کہ مسلمانوں کے لیے آزاد مملکت میں اسلامی قوانین کا نفاذ ہوگا اور اسلامی تعلیمات کے مطابق معاشرے کی تشکیل ہوگی۔ چنانچہ اس نظریے کی بنا پر پاکستان معرض وجود میں تو آ گیا لیکن آزادی کے بعد مسلمانوں سے کیے گئے وعدوں سے انحراف کیا گیا اور دین بیزار اور انگریز کے تربیت یافتہ اور مراعات یافتہ طبقے کی یہ بھر پور کوشش رہی کہ پاکستان کو ایک سیکولر اسٹیٹ قرار دلوایا جائے لیکن تحریک پاکستان میں مرکزی کردار ادا کرنے والے علمائے کرام نے اپنی جدوجہد سے قرارداد مقاصد منظور کروا کر ان کی یہ مذموم سازش ناکام بنا دی اور پاکستان کو اسلامی اسٹیٹ قرار دے دیا گیا۔ لیکن قرارداد مقاصد کے تقاضوں اور قرآن و سنت کے مطابق قانون سازی نہ ہوسکی جس کے دو اہم عوامل تھے، ایک طرف سیکولر طبقے کی یہ برابر کوشش رہی کہ قرآن و سنت کے مطابق قانون سازی نہ ہو، دوسری طرف سیاسی بزرجمہروں و فوجی آمروں نے بار بار قانون ساز اسمبلی توڑ کر اور بنائے جانے والے قوانین کو معطل کر کے بھی اس کے راستے میں رکاوٹ پیدا کی۔ 1973ء کے متفقہ آئین میں اسلامی دفعات شامل کی گئیں اور بعد میں کچھ ترامیم کے ذریعے بھی اسلامی قانون سازی کی طرف پیش رفت کی گئی۔ لیکن مغرب زدہ، دین بیزار اور سیکولر عناصر نے اپنے مغربی آقاؤں کے ایما پر ان اسلامی دفعات کے خلاف پروپیگنڈہ جاری رکھا مگر انہیں اپنے مذموم مقاصد میں کامیابی حاصل نہ ہوسکی۔
نائین الیون کے بعد نام نہاد دہشت گردی کے خلاف امریکی جنگ میں شرکت کا فیصلہ کیا ہوا کہ اس نے ہر چیز کو بدل کر رکھ دیا۔ روشن خیالی اور اعتدال پسندی کے نام پر اسلامی تعلیمات، دینی مدارس اور نصاب تعلیم سے متعلق ایسے فیصلے کیے گئے جن کا اس سے پہلے تصور بھی نہیں کیا جا سکتا تھا۔ روشن خیال حکمرانوں کے روشن خیالات و اقدامات کی بدولت ہر طبقے اور پورے ملک میں ہر سو ”روشنی“ پھیلنے لگی، پھر نوبت اسلامی قوانین میں ترامیم تک آ پہنچی۔ چنانچہ سب سے پہلے حدود آرڈیننس کو نشانہ بنایا گیا اور ”تحفظ حقوق نسواں“ کے نام پر قرآن و سنت کے صریح خلاف بل منظور کرا کے باقاعدہ ایکٹ کی صورت دے دی گئی اور ملک کے تمام طبقات کی طرف سے کی گئی مخالفت اور احتجاج کو قابل اعتنا نہ سمجھا گیا۔ تحفظ نسواں بل کی
منظوری کے بعد یہ خبریں گردش کرنے لگی تھیں کہ دوسرے مرحلے میں قانون توہین رسالت ﷺ میں بھی ترمیمی بل لایا جائے گا۔ چنانچہ اب اقلیتی رکن ایم پی بھنڈارا کی طرف سے اس قانون میں ترامیم کا بل اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ سیکولر عناصر اسلامی قوانین کو ختم کرانے پر تلے ہوئے ہیں اور انہوں نے اپنی کوششیں جاری رکھی ہوئی ہیں۔
وفاقی وزیر پارلیمانی امور کی مخالفت اور حکومتی اور اپوزیشن ارکان قومی اسمبلی کی طرف سے اس بل کو مسترد کیا جانا خوش آئند اور اطمینان بخش امر ہے اور اس امر کی دلیل ہے کہ حکومتی یا اپوزیشن ارکان میں سے کوئی بھی اس اہم اور حساس قانون میں ترمیم کرنے اور توہین رسالت ﷺ کے معاملے میں کسی قسم کا کوئی سمجھوتہ کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں اور ابھی اس حد تک "روشن خیال" نہیں ہوئے کہ امریکی آقاؤں کی خوشنودی اور اقتدار کی خاطر اپنا ایمان بھی گنوا بیٹھیں۔
اگرچہ قانون توہین رسالت ﷺ سے متعلق بل کو متفقہ طور پر مسترد کر دیا گیا ہے لیکن اس بل کو قومی اسمبلی کے ایجنڈے میں شامل کیا جانا اس بات کی علامت ہے کہ شاید پہلے مرحلے میں اس پر بحث کرتے ہوئے اس کے حق میں میڈیا کے ذریعے رائے عامہ ہموار کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ جس طرح تحفظ نسواں بل کے لیے بتدریج میدان ہموار کیا گیا تھا۔ اس لیے ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومتی اور اپوزیشن ارکان اپنے اختلافات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے متفقہ طور پر اس کے خلاف قرارداد مذمت اسمبلی سے منظور کروائیں اور پریس کانفرنس کے ذریعے برملا اس بات کا عزم کریں کہ وہ آئندہ ایسے کسی بل کو اسمبلی کے ایجنڈے میں ہرگز آنے دیں گے اور نہ قرآن وسنت کے خلاف قانون سازی کی حمایت کریں گے تاکہ دشمنان اسلام اور پاکستان کے اسلامی تشخص کو مٹانے کے درپے عناصر کو آئندہ اس طرح کے کسی اقدام کی جرأت نہ ہو۔
تحفظ حقوق نسواں بل کے باقاعدہ ایکٹ بننے کے بعد قومی اسمبلی میں قانون توہین رسالت ﷺ میں ترمیم کا بل پیش کرنے کی کوشش دینی قیادت اور تمام مکاتب فکر کے علمائے کرام کے لیے لمحہ فکریہ ہے۔ اسلام دشمن عناصر کی جرات اس قدر بڑھ گئی ہے کہ وہ قانون توہین رسالت ﷺ کے خاتمے کے دیرینہ مغربی ایجنڈے کو پایہ تکمیل تک پہنچانا چاہتے ہیں۔ دینی سیاسی قیادت اور علمائے کرام کو اس بات کا ادراک کرنا ہوگا کہ اقلیتی رکن کی جانب سے
ترمیمی بل پیش کرنے کی کوشش ایک ٹیسٹ کیس ہے، جسے اگرچہ مسترد کر دیا گیا ہے لیکن یہ معاملہ یہاں تک رکنے والا نہیں ہے بلکہ سیکولر اور دین بیزار عناصر بتدریج مغربی ایجنڈے کو آگے بڑھا رہے ہیں، اس لیے اس سیلاب کے سدّ باب اور پاکستان کے اسلامی تشخص کی بقا اور اسلامی قوانین کے تحفظ کے لیے ٹھوس بنیادوں پر لائحہ عمل اختیار کرنا ہوگا اور مذہبی اور سیاسی مفادات اور اختلافات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے وطن عزیز کے تمام حلقوں کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کر کے اپنی جدوجہد کو آگے بڑھانا ہوگا۔ پاکستان میں بڑھتے ہوئے امریکی اثر و رسوخ، ملک و دین دشمن عناصر اور روشن خیالی کے نام پر سیاسی گٹھ جوڑ کر کے پاکستان کے اسلامی تشخص کے خاتمے کے مذموم عزائم رکھنے والے عناصر کا راستہ اسی طرح روکا جا سکتا ہے۔
سیرت النبی ﷺ یا گوتم بدھ کا تذکرہ؟
- ابھی قوم کا پاسپورٹ میں مذہب کے خانہ کا زخم مندمل نہ ہوا تھا کہ حکومت نے
جماعت ہشتم کے نصاب کی اردو کی کتاب سے چھ اسلامی اور سیرت النبی ﷺ کے مضامین کو حذف کر کے ان کی جگہ گوتم بدھ کی تعلیمات کو شامل کر کے اسلامی شعائر اور اقدار کا قتل کر دیا ہے۔ ظلم یہ ہے کہ امریکی خوشنودی اور بھارت سے متاثر ہو کر نوجوان نسل کو اسلام سے دور کرنے کی سازش کی جا رہی ہے۔ اردو کی ساتویں کلاس کی کتاب جو کہ نظامت تحقیق و ترقی نصاب آزاد حکومت ریاست جموں و کشمیر مظفر آباد کے زیر اہتمام شائع ہوئی۔ اس کی مدیرہ مسز جمیلہ فضل ہیں اور اسے مسز تنویر لطیف ناظم اعلیٰ نظامت تحقیق و ترقی نصاب کی زیر نگرانی شائع کیا گیا ہے۔ اس میں گوتم بدھ کے مجسمہ کی تصویر شامل کی گئی ہے اور ان کی تعلیمات کو اسلام کے قریب ترین ظاہر کیا گیا ہے۔ مصنفہ لکھتی ہے کہ آپ کی تعلیمات کے کچھ اصول اسلام کے اصولوں سے ملتے جلتے ہیں۔ بدھ مت میں تشدد کی کوئی گنجائش نہیں ایک امن پسند مذہب کے بانی کی حیثیت سے گوتم بدھ کا نام ہمیشہ زندہ رہے گا۔ ان کی تعلیمات لوگ دور دور سے حاصل کرنے کے لیے آتے تھے اس وجہ سے مذہب تیزی سے پھیلتا رہا۔ مصنفہ شاید لکھتے ہوئے یہ بھول گئی کہ وہ اسلام اور نوجوان نسل سے کتنی بڑی زیادتی کی مرتکب ہو رہی ہے۔ اس بات کا اعتراف دنیا بھر نے کیا کہ امن کے پیامبر حضور اکرم ﷺ ہیں اور دنیا میں سب سے زیادہ امن و آشتی کا درس دینے والا دین اسلام ہے۔ دشمنانِ اسلام کی طرف سے ایسے اعترافات کے ہوتے ہوئے مسلمان نسل کو غیر مسلم امن پسندوں کی اہمیت جتانا اور انہیں نمایاں کردار کے ساتھ پیش کرنا بذات خود ایک افسوس ناک امر ہے چہ جائے کہ یہ تذکرہ نبی کریم ﷺ کی سیرت طیبہ کو حذف کر کے کیا جائے۔ پھر حکومت آزاد کشمیر کی سرپرستی میں یہ مذموم کھیل کھیلا جا رہا ہے۔ آخر یہ لوگ نوجوان نسل کو کس چیز کی تعلیم دینا چاہتے ہیں؟ وقت اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ آنے والی نسل کو تاریخ اسلام سے روشناس کرایا جائے تا کہ وہ
آنے والے دور میں اسلام کی محافظ اور نگہبان ثابت ہو۔ لیکن ہمارے نام نہاد دانشور وطن کے نونہالوں کے ذہنوں میں ایسا زہر گھول رہے ہیں جس سے وہ مسلمانوں کو اسلام اور جہاد سے دور کر دیں۔ ہر ذی شعور جانتا ہے کہ ملک بھر میں اعتدال پسندی اور روشن خیالی کے کیا نتائج نکل رہے ہیں۔ حتیٰ کہ ایک اعلیٰ حکومتی وزیر نے پاکستان میں نائٹ کلبوں کے کھولنے پر بھی اعتراض نہ کیا بلکہ حمایت کی۔ نعوذ باللہ ہم کس راہ پر گامزن ہیں! کیا ایسے افراد کو تاریخ معاف کرے گی؟ ہمارے ملک کے وزیر اعظم شوکت عزیز نے بھی کچھ عرصہ قبل کہا تھا کہ پاکستان میں گوتم بدھ کی یاد میں ہفتہ بدھ مت منایا جائے گا۔ افسوس کی بات ہے کہ ایک ایسا مذہب جس کو ترقی یافتہ قومیں تسلیم تک نہیں کر رہی پھر ہمارے تعلیمی نصاب میں اس کی شمولیت کی کیا وجہ ہے اور اس کو اس قدر دلچسپی کے ساتھ کیوں اُجاگر کیا جا رہا ہے؟ سیرت النبیؐ کو ترک کر کے گوتم بدھ کی جانب رغبت کیوں پیدا کی جا رہی ہے؟ ہمارا تعلق ایک نظریاتی مملکت سے ہے جس کو خدا، اس کے رسولؐ اور اسلامی تعلیمات کے تحت حاصل کیا گیا۔ اور آج نوجوان نسل کو ایسے مضامین پڑھائے جا رہے ہیں جو کہ اسلام کے نفی اور اس کی تعلیمات کے مخالف ہیں۔ گوتم بدھ کی تعلیمات کو اسلام کے نزدیک ترین لکھنے والی مصنفہ مسز جمیلہ فضل یہ مضمون لکھ کر اسرا نعمانی، امینہ ودود، سلمان رشدی، تسلیمہ نسرین کی صف میں شامل ہوگئی ہیں۔ اصحابِ اقتدار کو چاہیے کہ وہ اس کا نوٹس لیتے ہوئے گوتم بدھ کی تبلیغ کو بند کرائے اور اسلامی مضامین کو دوبارہ نصاب میں شامل کیا جائے۔
۞......۞......۞
ور نگہبان ثابت ہو۔ لیکن ہمارے نام نہاد دانشور وطن کے جا رہے ہیں جس سے وہ مسلمانوں کو اسلام اور جہاد سے ملک بھر میں اعتدال پسندی اور روشن خیالی کے کیا نتائج تی وزیر نے پاکستان میں نائٹ کلبوں کے کھولنے پر بھی ہم کس راہ پر گامزن ہیں! کیا ایسے افراد کو تاریخ معاف م شوکت عزیز نے بھی کچھ عرصہ قبل کہا تھا کہ پاکستان مٹایا جائے گا۔ افسوس کی بات ہے کہ ایک ایسا مذہب ری پھر ہمارے تعلیمی نصاب میں اس کی شمولیت کی کیا کہ کیوں اُجاگر کیا جا رہا ہے؟ سیرت النبی کو ترک کر کے ا جا رہی ہے؟ ہمارا تعلق ایک نظریاتی مملکت سے ہے حمایت کے تحت حاصل کیا گیا۔ اور آج نوجوان نسل کو ہ اسلام کے نفی اور اس کی تعلیمات کے مخالف ہیں۔ ترین لکھنے والی مصنفہ مسز جمیلہ فضل یہ مضمون لکھ کر اسرا رین کی صف میں شامل ہو گئی ہیں۔ اصحاب اقتدار کو بدھ کی تبلیغ کو بند کرائے اور اسلامی مضامین کو دوبارہ
حضرت حسان بن ثابتؓ
اے رسول خدا ﷺ کے دشمن
اے اللہ کے محبوب! میری آنکھ نے آج تک
تجھ سے زیادہ حسین نہ دیکھا ہے، (نہ دیکھے گی)
اور کسی عورت نے تجھ سے زیادہ جمیل بچہ پیدا نہیں کیا
تجھے ہر عیب سے پاک اور مبرا پیدا کیا گیا ہے
گویا کہ آپ کی تخلیق اس طرح کی گئی جیسے آپ کی مرضی تھی
اے رسول خدا ﷺ کے دشمن! تو نے بُرائی کی ہے، کس
کی؟ محمد ﷺ کی، جو سرتاپا کرم اور نوازش ہیں
جس نے ہر ایک پر مہربانی کی ہے، جو اللہ کا رسول ﷺ
ہے، اور جس کی عادت پاک ہی وفا کرنے کی ہے
اے آمنہ کے لال، میں نے تیری تمنا کی ہے،
میں محبت کرنے والا ہوں اور ہر محبت
کرنے والے کی ایک تمنا ہوتی ہے
اثر جون پوری
مگر تنقید آقا ﷺ پر گوارا نہیں کر سکتا
کہ حملہ ذات عالی پر گوارا کر نہیں سکتا
گو اپنی ذات پر تو ہر ستم سہ جائے گا مسلم
مگر تنقید آقا ﷺ پر گوارا کر نہیں سکتا
چھبے سرکار ﷺ کے پیروں میں گر کانٹا بھی تو مومن
سلامت رکھے اپنا سر، گوارا کر نہیں سکتا
دل نقاد آقا ﷺ کی شقاوت، قابل ماتم
کہ ایسی بات تو پتھر، گوارا کر نہیں سکتا
رہے گو زیر خنجر سر میرا، تسلیم ہے لیکن
عقیدت پر چلے نشتر، گوارا کر نہیں سکتا
نشانہ رطب و یابس کا بنائے شاہ بطحا کو
وہی جو خود پہ خشک و تر، گوارا کر نہیں سکتا
خود اپنی موت کو روباہ بزدل نے پکارا ہے
کہ یہ للکار شیر نر، گوارا کر نہیں سکتا
میں اپنی جان لٹا سکتا ہوں ناموس رسالت ﷺ پر
مگر گستاخی سرور ﷺ گوارا کر نہیں سکتا
امام الانبیاء ﷺ کی شان اقدس ﷺ میں یہ بے باکی
صحافت اس قدر خود سر، گوارا کر نہیں سکتا
اثر میں جسم خاکی کو تو کرسکتا ہوں زیر خاک
مگر گرد رخ انور، گوارا کر نہیں سکتا
اثر جون پوری
کھیل نہ جذبات سے
پر نہیں مایوس ہیں وقتی و جزوی بات سے
ہے بڑی امید وابستہ خدا کی ذات سے
بڑھنا مت اے دشمنان مصطفیٰ ﷺ اوقات سے
کھیلنا مت اہل ایمان کے کبھی جذبات سے
اسم تو عزت سے لیا کرتے ہو تم
برملا تضحیک نبیوں کی کیا کرتے ہو تم
کیا خدا خوش ہوگا، خود سوچو، تمہاری بات سے
کھیلنا مت اہل ایمان کے کبھی جذبات سے
بدتر از انعام ہو تم، اور وہ خیر الانام ﷺ
کیا صحافت اس قدر ہوتی ہے اب بے لگام
نابلد ہو تم تو اس اعلیٰ ارفع ذات سے
کھیلنا مت اہل ایمان کے کبھی جذبات سے
اہل ایمان کی ذرا تاریخ اُٹھا کر دیکھ لو
مر مٹیں گے دین حق پر، آزما کر دیکھ لو
طمع، لالچ، دھونس، دھمکی، مال سے، آلات سے
کھیلنا مت اہل ایمان کے کبھی جذبات سے
فرحت عباس شاہ
تو پھر کم ظرف کون ہوا......؟
ہم ترقی پسند دانشور
مسلمانوں سے گلہ کرتے رہے
ہم جو اپنے آپ کو لبرل ازم اور آزادی اظہار
کے
داعی سمجھتے ہوئے
مسلمانوں کو انتہا پسند ثابت کرتے آئے ہیں
ہم جو مغرب سے پیسے لے کر
انسانی حقوق کے حق میں آواز بلند کرتے ہیں
ہم NGO زدہ
مغربی ایجنسیوں کے ٹکڑوں پر پلنے والے
بڑے بڑے دانشور
اب کسے منہ دکھائیں
دوسروں کے جھوٹے خداؤں کی بھی عزت کرنے والے
ہم مسلمان تو بڑے مظلوم اور معصوم نکلے
ہماری کوتاہیاں اپنی جگہ
نادانیاں بھی اپنی جگہ
لیکن
جس نے دنیا کے جاہل ترین قبیلوں کو
انسانیت کا درس دیا
اور بیٹیوں کی عزت کرنا سکھائی
اور تمام ناجائز امتیازات کو ادھیڑ کر رکھ دیا
اور صرف اچھائی کی حیثیت تسلیم کی
جس نے غلاموں کو سینے سے لگایا
اور مفتوحہ علاقوں کے سبز درختوں
کی حفاظت کا اور ان کو پناہ میں لینے کا حکم دیا
وہ محمد ﷺ
جس نے انسانیت کی حقیقی روح کو اجاگر کیا
اور بھائی چارے کی سچائی کا اظہار کیا
وہ محمد ﷺ جس نے
محبت کی عالم گیریت کا سبق دیا
اور انصاف کی تاریخ رقم کی
کیا ہم نے عیسیٰ کی عزت نہیں کی
کیا ہم نے موسیٰ کا احترام نہیں کیا
ہم تو شیکسپئر اور
فرائیڈ کو بھی قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں
تو پھر انتہا پسند
بنیاد پرست
اور کم ظرف کون ہوا؟
............................................
امریکہ کے ”انصاف“ اور
بش نے
ڈنمارک کے وزیر اعظم کو
فون کیا اور توہین آمیز
خاکوں کی اشاعت پر
آنے والے ردعمل سے
نہ ڈرنے کی تلقین کی
اور اپنی پوری مدد کا یقین دلایا
اور اس کے بعد
پاکستان کے دورے پر آنے کی
یقین دہانی کروائی
صدر مشرف کی تعریف کی
اور کہا کہ ہم پاکستان کے صدر
جنرل مشرف سے بہت خوش ہیں......
اس دفعہ میرے آنسوؤں کی خواہش
میری آنکھوں کے صحراؤں پر
بہت کھل کر ہنس دی ہے
صلی اللہ علیہ وسلم
صلی اللہ علیہ وسلم
ناموس رسالت
کے خلاف
مغرب کی شَّرانگیزیاں
مغرب کی اسلام دشمنی اور مسلمانوں سے معاندانہ رویے پر مبنی تحقیقی دستاویز
ناقابل تردید حقائق، تہلکہ خیز واقعات، ہوش رُبا انکشافات
محمّد متین خالد
f
CNN
BBC
FOX
NEWS
Channel
You Tube
Newsweek
t
TIME
ناموس رسالتﷺ
کے خلاف
مغرب کی شر انگیزیاں
محمد متین خالد
مغرب کی اسلام دشمنی اور مسلمانوں سے معاندانہ رویے پر مبنی تحقیقی دستاویز ناقابلِ تردید حقائق، تہلکہ خیز واقعات، ہوش رُبا انکشافات
- آزادی اظہار کے نام پر مغرب کی اسلام دشمنی
- ملعون لوگوں کی ناپاک داستانیں
- گستاخان رسول کے شیطانی چہروں کی رونمائی
- تہہ در تہہ سازشیں بے نقاب ہوتی ہیں!
علم و عرفان پبلشرز
الحمد مارکیٹ، 40- اُردو بازار، لاہور۔ فون: 37232336'37352332 فیکس: 37223584
design by FAZEEL KIANI