احتساب قادیانیت جلد 59 · مولانا محمد حسن فیضی
Ahtasab-e-Qadyaniat · Vol. 59 · Maulana Muhammad Hassan Faizi
PDF 1

رَدِّ قادیانیّت

رسائل

احتساب قادیانیت

جلد ٥٩

عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت

حضوری باغ روڈ ، ملتان - فون : 4783486-061

PDF 2

رَدّ قادیانیت

رسائل

احتساب قادیانیت

٥٩

حضرت مولانا محمد حسن فیضی

حضرت مولانا اصغر علی روحی

حضرت مولانا ثناء اللہ امرتسری

حضرت مولانا حکیم غنیمت حسین

حضرت مولانا قاضی ظفر الدین

حضرت مولانا سید محمد علی مونگیری

حضرت مولانا سید محمد ربانی

عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت

صفحہ ٢

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

نام کتاب : احتساب قادیانیت جلد انسٹھ (٥٩)

مصنفین : حضرت مولانا محمد حسن فیضیؒ حضرت مولانا ثناء اللہ امرتسریؒ حضرت مولانا قاضی ظفر الدینؒ حضرت مولانا اصغر علی روحیؒ حضرت مولانا حکیم غنیمت حسینؒ حضرت مولانا سید محمد علی مونگیریؒ حضرت مولانا میر محمد ربانیؒ

صفحات : ٥٩٢

قیمت : ٤٠٠ روپے

مطبع : ناصر آرٹ پریس لاہور

طبع اول : نومبر ٢٠١٣ء

ناشر : عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت حضوری باغ روڈ ملتان

Ph: 061-4783486

صفحہ ٣

بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

فہرست رسائل مشمولہ ...... احتساب قادیانیت جلد ٥٩

متعلقہ نشان آسمانی میعادی سہ سالہ“

صفحہ ٥

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

عرض مرتب

الحمد للّٰہ وکفٰی وسلام علٰی عبادہ الذین اصطفٰی ۔ امابعد! مرزا قادیانی نے ”قصیدہ اعجازیہ“ لکھا جس کا دوسرا نام ”اعجاز احمدی“ اور تیسرا نام ”ضمیمہ نزول المسیح“ بھی ہے۔ گویا ایک میں تین اور تین میں ایک یعنی تثلیث نصاریٰ کا مصداق ہے۔ مرزا قادیانی کو اس کی زندگی میں چار حضرات نے چیلنج دیا کہ آئیں میدان میں اور قصیدہ کا جواب لیں۔ ان میں: (١) مولانا محمد حسن فیضیؒ (٢) مولانا ثناء اللہ امرتسریؒ (٣) مولانا اصغر علی روحیؒ (٤) مولانا حاجی محمد یونسؒ بتاولی شامل تھے۔ مرزا قادیانی نے سامنے کیا آنا تھا، اس لئے کہ چمگادڑ کبھی سورج کا سامنا کرنے کا حوصلہ نہ کر پایا ہے نہ کر پائے گا۔ اسی طرح چار حضرات نے مرزا قادیانی کے قصیدہ کا جواب لکھا۔ (١) مولانا قاضی ظفر الدینؒ (٢) مولانا اصغر علی روحیؒ (٣) مولانا حکیم غنیمت حسین اشرفیؒ (٤) مولانا میر محمد ربانیؒ۔ باقی جن حضرات نے مرزا قادیانی کے قصیدہ کی اغلاط جمع کیں وہ تو بہت سارے ہیں۔ اس اجمال کی تفصیل یہ ہے:

مولانا محمد حسن فیضیؒ چکوال کے معروف قدیمی قصبہ ”بھون“ میں ١٨٦٠ء میں پیدا ہوئے۔ مولانا محمد حسن فیضیؒ نے اپنے چچا زاد بھائی مولانا کرم الدینؒ کے ساتھ مل کر تعلیم دین حاصل کی۔ مولانا احمد علی محدث سہارنپوریؒ، مولانا فیض الحسن سہارنپوریؒ اور مولانا قاضی حمید الدین لاہوریؒ ایسے حضرات کے آپ شاگرد تھے۔ مولانا محمد حسن صاحبؒ عربی زبان پر کامل دسترس رکھتے تھے۔ بے نقط عربی نظم ونثر لکھنے پر قادر تھے۔ اس لئے ”فیضی“ کے نام سے موسوم ہوئے۔ مولانا فیضیؒ مدرسہ نعمانیہ لاہور میں علوم عربیہ کے اعلیٰ درجہ کے ایک عرصہ تک مدرس رہے۔ مولانا سید پیر مہر علی شاہ گولڑویؒ کے عقیدت مندوں میں شامل تھے۔ ١٨؍اکتوبر ١٩٠١ء جمعہ کے روز وصال فرمایا۔ مرزا قادیانی کے قصیدہ اعجازیہ (اعجاز احمدی) لکھنے سے چار سال قبل مولانا فیضیؒ مسجد حسام الدین سیالکوٹ میں ١٣؍فروری ١٨٩٩ء کو مرزا غلام احمد قادیانی سے ملے اور یہ قصیدہ پیش کیا۔ جسے دیکھ کر مرزا قادیانی کے حواس کی سٹی گم ہوگئی۔ ایسے مخبوط العقل ہوا کہ ”یَتَخَبَّطُہُ الشَّیْطَانُ مِنَ الْمَسِّ“ کا مصداق ہو گیا۔ اس کی تفصیل قصیدہ کے شروع میں مصنف کے ہاتھ سے لکھی ہوئی موجود ہے۔ وہاں ملاحظہ کی جاسکتی ہے۔

حضرت مولانا ثناء اللہ امرتسریؒ کا رسالہ ”الہامات مرزا“ قادیانی کی زندگی میں شائع ہوا۔ پہلی بار ١٩٠١ء میں یہ رسالہ امرتسر میں شائع ہوا۔ اس میں اس پیشین گوئی پر ص ٧٢ سے ص ٨١ تک جو ہم نے شائع کیا یہ جولائی ١٩٢٨ء کی طبع ہشتم تھی۔ الہامات مرزا جس کو زیر بحث لایا گیا ہے۔ ”چھٹی پیشین گوئی متعلقہ نشان آسمانی“ میں مرزا قادیانی کے رسالہ اعجاز احمدی کے قصیدہ پر بحث کی گئی ہے اسے ”الہامات مرزا“ سے نقل کر کے ہم دوبارہ یہاں شائع کر رہے ہیں کہ ”اعجاز احمدی“ کے رد میں جو لکھا گیا وہ یکجا ہو جائے۔ اس سلسلہ

یہ امر قابل توجہ ہے کہ مولانا ثناء اللہ صاحبؒ نے خود مرزا قادیانی کے مقابلہ میں خود مرزا قادیانی کے روبرو، دو بدو، زانو بہ زانو، شانہ بشانہ بیٹھ کر اغلاط پیش کروں۔ مرزا ان کی تصحیح کرے، پھر میں اسی جگہ مرتب کر پیش کردوں گا۔ لیکن مرزا قادیانی کو جرات نہ ہوئی کہ وہ سامنا کرتا۔ مولانا ثناء اللہ امرتسریؒ جون ١٨٦٨ء میں امرتسر میں پیدا ہوئے۔ خاندان کشمیری پنڈتوں کی شاخ منٹو سے تعلق تھا۔ یہ اننت ناگ کے والد جناب خضر صاحب پشمینہ کے تاجر تھے۔ مولانا ثناء اللہ امرتسریؒ کا انتقال ہو گیا تو بڑے بھائی کے ساتھ رفو گری پر لگ گئے۔ اچھے رفوگر تھے۔ مولانا احمد اللہ امرتسریؒ سے پڑھنا شروع کیا۔ پھر مولانا عبد السلامؒ سید نذیر حسین دہلویؒ کو مولانا عبد المنانؒ کی سند دکھا کر ان سے پڑھا۔ پھر دار العلوم دیوبند میں حضرت شیخ الہند مولانا محمود حسنؒ کے پاس حدیث شریف کی بھی یہاں تعلیم پائی۔ پھر کانپور مدرسہ فیض عام سے سند حاصل کی۔ فراغت کے بعد مختلف مدارس میں پڑھاتے رہے احمد اللہ امرتسریؒ کی زیر نگرانی امرتسر میں پڑھانا شروع کیا۔ یہاں سے باقاعدہ شروع ہوا۔ آپ بہت ذہین مناظر اسلام تھے۔ آپ

صفحہ ٥

......٢ رسالہ ”الہامات مرزا“ سے ”چھٹی پیش گوئی متعلقہ نشان آسمانی میعادی سہ سالہ“: حضرت مولانا ثناء اللہ امرتسری کا رسالہ ”الہامات مرزا“ احتساب قادیانیت جلد ہشتم کے ص ٩ سے ١٤٥ تک شائع ہوا تھا۔ یہ فروری ٢٠٠٣ء کی بات ہے۔ ”الہامات مرزا“ تین بار خود مرزا قادیانی کی زندگی میں شائع ہوا۔ پہلی بار ١٩٠١ء میں یہ رسالہ شائع ہوا۔ دوسرا ایڈیشن ١٩٠٤ء میں شائع ہوا۔ اس میں اس پیشین گوئی پر ص ٧٢ سے ص ٨١ تک تبصرہ موجود تھا۔ احتساب میں جو ہم نے شائع کیا یہ جولائی ١٩٢٨ء کی طبع ششم تھی۔ الہامات مرزا میں مرزا قادیانی کی پیشین گوئیوں کو زیر بحث لایا گیا ہے۔ ”چھٹی پیشین گوئی متعلقہ نشان آسمانی میعادی سہ سالہ“ ہے جس میں مرزا قادیانی کے رسالہ اعجاز احمدی کے قصیدہ پر بحث کی گئی ہے۔ اس پیشین گوئی والے حصہ کو ”الہامات مرزا“ سے نقل کر کے ہم دوبارہ یہاں شائع کر رہے ہیں تا کہ مرزا قادیانی کے قصیدہ ”اعجاز احمدی“ کے رد میں جو لکھا گیا وہ یکجا ہو جائے۔ اس سلسلہ میں خصوصیت کے ساتھ یہ بات قابل توجہ ہے کہ مولانا ثناء اللہ صاحب نے خود مرزا قادیانی کو چیلنج کیا تھا کہ مجھے موقعہ دیا جائے ۔ میں خود مرزا قادیانی کے روبرو، دو بدو، زانو بہ زانو، شانہ بشانہ بیٹھ کر مرزا قادیانی کے قصیدہ کے اغلاط پیش کروں۔ مرزا ان کی تصحیح کرے، پھر میں اسی جگہ مرزا کے قصیدہ کا جواب بھی قصیدہ عربی لکھ کر پیش کر دوں گا۔ لیکن مرزا قادیانی کو جرأت نہ ہوئی کہ وہ مولانا امرتسری مرحوم کے چیلنج کو قبول کرتا۔ مولانا ثناء اللہ امرتسری جون ١٨٦٨ء میں امرتسر میں پیدا ہوئے۔ والد کا نام محمد خضر تھا۔ کشمیری پنڈتوں کی شاخ منٹو سے تعلق تھا۔ یہ اصلاً ناگ کشمیر سے امرتسر آگئے تھے۔ امرتسر میں جناب خضر صاحب پشمینہ کے تاجر تھے۔ مولانا ثناء اللہ امرتسری کے بچپن میں والد صاحب کا وصال ہو گیا تو بڑے بھائی کے ساتھ رفوگری پر لگ گئے۔ اچھے خاصے کاریگر تھے۔ اسی زمانہ میں مولانا احمد اللہ امرتسری سے پڑھنا شروع کیا۔ پھر مولانا عبد المنان وزیر آباد کے پاس چلے گئے۔ مولانا نذیر حسین دہلوی کو مولانا عبد المنان کی سند دکھا کر ان سے اعزازی سند لی، سہارنپور بھی گئے۔ پھر دار العلوم دیوبند میں حضرت شیخ الہند مولانا محمود حسن کے سامنے زانو تلمذ تہ کیا۔ دورہ حدیث شریف کی بھی یہاں تعلیم پائی۔ پھر کانپور مدرسہ فیض عام میں مولانا احمد حسن سے بھی تعلیم حاصل کی۔ فراغت کے بعد مختلف مدارس میں پڑھاتے رہے۔ پھر اپنے استاذ اوّل مولانا احمد اللہ امرتسری کی زیر نگرانی امرتسر میں پڑھانا شروع کیا۔ یہاں سے ملک بھر میں وعظ و تبلیغ کا سلسلہ شروع ہوا۔ آپ بہت ذہین مناظر اسلام تھے۔ آپ نے رد قادیانیت کے لئے وہ خدمات

صفحہ ٧

سرانجام دیں جو قابل رشک ہیں۔ قادیانیت ہی نہیں بلکہ اس کا بانی مرزا قادیانی بھی آپ کے نام سے اس طرح کانپتا تھا جس طرح شیطان، سیدنا فاروق اعظمؓ کے نام سے لرزاں ترساں ہو کر بھاگ جاتا تھا۔ آپ نے مرزا قادیانی کے قصیدہ اعجازیہ کے جو لتے لئے وہ حصہ ”الہامات مرزا“ سے اس جلد میں شائع کر رہے ہیں۔ مولانا کا وصال ١٥؍ مارچ ١٩٢٨ء کو سرگودھا میں ہوا۔ فقیر کو مجاہد ملت حضرت مولانا محمد اکرم طوفانی مدظلہ کے ہمراہ مولانا ثناء اللہ امرتسریؒ کے مرقد پر ایصال ثواب کی غرض سے حاضری کی سعادت نصیب بھی ہوئی ہے اور بس۔

......٣ قصیدہ رائیہ بجواب قصیدہ مرزائیہ:

اس قصیدہ کے مؤلف مولانا قاضی ظفر الدین احمد کا نسب نامہ اس طرح ہے۔ قاضی ظفر الدین بن قاضی محمد امام الدین بن قاضی نور محمد بن قاضی فیض رحیم۔ حضرت قاضی صاحب کے آباء و اجداد جموں کشمیر سے آ کر گوجرانوالہ میں آباد ہوئے۔ گوجرانوالہ سے شمال مغرب میں ایک قصبہ کوٹ قاضی کے نام سے موسوم ہے۔ قاضی ظفر الدین کے اجداد ”قاضی“ کے منصب پر فائز رہے۔ اس لئے ان کے رہائشی گاؤں کا نام ”کوٹ قاضی“ قرار پایا۔ اسی ”کوٹ قاضی“ میں ١٨٧٥ء میں قاضی ظفر الدین پیدا ہوئے۔ پھر ”کوٹ قاضی سے جنڈیالہ باغ والا“ میں منتقل ہو گئے۔ مغلیہ عہد میں گوجرانوالہ ”ایمن آباد“ کے تحت ”کوٹ قاضی“ میں منصب قضاء پر یہ خاندان فائز تھا۔ قاضی ظفر الدین کے والد گرامی عالم، فاضل تھے۔ آپ نے انہیں سے عربی تعلیم حاصل کی۔ آپ نے والد گرامی اور دیگر اساتذہ سے حدیث، تفسیر، طب، ادب، معقولات، فقہ اور اصول کی تعلیم حاصل کی۔

پنجاب یونیورسٹی سے آپ نے فاضل عربی، مولوی فاضل کی ڈگری حاصل کی۔ پھر اورینٹل عربی کالج لاہور میں ١٨٨١ء سے آخری دور حیات تک تعلیم دیتے رہے۔ اس طرح حکومتی دوسرے تعلیمی اداروں میں بھی آپ کے لیکچرز ہوتے تھے۔ ١٨٩٦ء میں مدرسہ حمیدیہ لاہور میں پہلے ناظم مقرر ہوئے۔ جامعہ حمیدیہ، انجمن حمایت اسلام لاہور کے زیر اہتمام تھا۔ جامعہ حمیدیہ کو قاضی حمید الدین رئیس حمایت اسلام لاہور کے نام پر قائم کیا گیا تھا۔

جب مدرسہ حمیدیہ کے ناظم قاضی ظفر الدین مقرر ہوئے تو آپ نے ندوۃ العلماء، پنجاب یونیورسٹی اور جامعہ ازہر کے نصاب ہائے تعلیم سے مدرسہ حمیدیہ کا نصاب ترتیب دے کر رائج کیا جو دینی و دنیوی تعلیمی ضروریات کو پورا کرتا تھا۔ قاضی ظفر الدین صاحب کی حصول تعلیم اور

تدریسی سرگرمیوں کا تمام وقت لاہور میں گزرا۔ اس س سے مصروف ہوئے۔ ١٩٠٤ء میں آپ کی صحت گر گوجرانوالہ میں منتقل ہو گئے۔ حتیٰ کہ ١٣٢٢ھ آپ کا یہاں وصال ہوا۔ یہ عجیب اتفاق ہے کہ آپ جمعرات کو ہوا۔ آپ نے سینتالیس سال عمر پائی۔ قاض سے کسب علم کا شرف حاصل کیا۔ ان میں:

معروف ہیں۔ ان اساتذہ کرام کے حالات جاننے اپنے دور میں یگانہ روزگار شخصیات تھیں۔ ان سے مولا ان کے علوم کے ناشر و شارح قرار پائے۔ مولانا قاضی روحیؒ (وفات: مئی ١٩٥٣ء) ایسے نامور علماء و مشائخ احباب میں:

ایسے اہل علم حضرات، نامور شخصیات، ع دوستوں کی فہرست پر سرسری نظر ڈالیں تو پتہ چلتا ہے شخص تھے۔ حسن المعاشرت، منکسر المزاج، شریف باعث بڑے بڑے ہمعصر علماء اور اکابر آپ کو مخدو

فضل اللہ یوتیه من یشاء!

صفحہ ٧

تدریسی سرگرمیوں کا تمام وقت لاہور میں گزرا۔ اس لئے وہ ”قاضی ظفر الدین لاہوری“ کے نام سے معروف ہوئے۔ ١٩٠٤ء میں آپ کی صحت گرنے لگی تو آپ رہائشی قصبہ جنڈیالہ باغ گوجرانوالہ میں منتقل ہو گئے۔ حتیٰ کہ ١٣٢٢ھ ٢٩ ماہ رمضان المبارک، مطابق یکم دسمبر ١٩٠٤ء کو آپ کا یہاں وصال ہوا۔ یہ عجیب اتفاق ہے کہ آپ کی پیدائش جمعہ کے روز ہوئی اور وصال جمعرات کو ہوا۔ آپ نے سینتالیس سال عمر پائی۔ قاضی ظفر الدین مرحوم نے جبال العلم اساتذہ سے کسب علم کا شرف حاصل کیا۔ ان میں:

معروف ہیں۔ ان اساتذہ کرام کے حالات جاننے والوں پر یہ مخفی نہیں کہ یہ تمام حضرات اپنے اپنے دور میں یگانہ روزگار شخصیات تھیں۔ ان سے مولانا قاضی ظفر الدینؒ نے کسب فیض کیا اور پھر ان کے علوم کے ناشر و شارح قرار پائے۔ مولانا قاضی ظفر الدینؒ کے شاگردوں میں مولانا اصغر علی روحیؒ (وفات: مئی ١٩٥٣ء) ایسے نامور علماء و مشائخ شامل تھے۔ مولانا قاضی ظفر الدینؒ کے حلقہ احباب میں:

ایسے اہل علم حضرات، نامور شخصیات، علماء و مشائخ شامل تھے۔ آپ کے اساتذہ اور دوستوں کی فہرست پر سرسری نظر ڈالیں تو پتہ چلتا ہے کہ مولانا قاضی ظفر الدینؒ کتنے بڑے فاضل شخص تھے۔ حسن المعاشرت، منکسر المزاج، شریف الطبع، علامہ، فہامہ تھے۔ انہیں خوبیوں کے باعث بڑے بڑے ہمعصر علماء اور اکابر آپ کو مخدوم کے خطاب سے یاد فرماتے تھے۔ ذالک فضل اللہ یؤتیہ من یشاء!

صفحہ ٩

انجمن اسلامیہ پنجاب، انجمن حمایت اسلام لاہور، محمدیہ ایسوسی ایشن، جامعہ حمیدیہ، اورینٹل کالج، انجمن ہمدردان اسلام، انجمن مستشار العلماء، انجمن معاونین محمدی برادران، ندوۃ العلماء جیسی تنظیمات و اداروں میں آپ نے خدمات سرانجام دیں۔ آپ اپنے دور میں انسانیت کے خادم اور مسلمانوں کے بہت بڑے خیر خواہ شمار ہوتے تھے۔ آپ کی تصنیفات میں:

پر نظر ڈالنے سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ بہت فاضل شخص تھے۔ تمام علوم پر کامل دسترس تھی۔ لیکن عربی لغت وعربی ادب میں آپ کو مثالی درک حاصل تھا۔ بجا طور پر آپ عربی کے ماہر وممتاز شاعر سمجھے جاتے تھے۔

مولانا قاضی ظفر الدینؒ اور ردّ قادیانیت

مولانا قاضی ظفر الدین صاحب دفاع عن الاسلام، تردید فرق باطلہ میں نمایاں مقام رکھتے تھے۔ رد قادیانیت میں آپ کو تحریک ختم نبوت کے نامور جرنیل کا مقام حاصل تھا۔ چنانچہ یہی وجہ ہے کہ جب جھوٹے مدعی نبوت، کذاب قادیان مرزا غلام احمد قادیانی نے مولانا پیر مہر علی شاہ گولڑویؒ کو جامع بادشاہی مسجد لاہور میں مناظرہ و تفسیر نویسی کا چیلنج دیا جسے پیر مہر علی شاہ گولڑویؒ نے قبول فرمایا اور لاہور مقررہ تاریخ ٢٥؍ اگست ١٩٠٠ء کو تشریف لائے۔ آپ کے ساتھ ٨٦ جید علماء کرام کی جماعت تھی جس میں سینتالیسویں نمبر پر مولانا قاضی ظفر الدین کا اسم گرامی تھا اور جب مرزا قادیانی نے قصیدہ اعجازیہ یعنی ’’اعجاز احمدی‘‘ لکھا جہاں اس میں اور حضرات کو مخاطب کیا۔ وہاں مرزا قادیانی نے مولانا قاضی ظفر الدین صاحب کو مخاطب کیا۔ (اعجاز احمدی ص ٤٩، ٨٦، خزائن ج ١٩ ص ١٦٠، ١٩٩) پر مرزا قادیانی نے جل بھن کر مولانا قاضی ظفر الدین کے نام کو اپنے مقابلہ کے لئے پکارا ہے۔ کذاب قادیان نے اعجاز احمدی میں شامل عربی قصیدہ لکھ کر شائع کیا اور مخالفین کو کہا کہ بیس دن میں جواب لکھ کر شائع کر کے مجھے پہنچاؤ۔ اس ملعون سے کوئی پوچھے کہ اگر یہ اعجاز ہے تو جواب کے لئے بیس دن کی قید کیوں؟ حالانکہ دنیا جانتی ہے کہ اس قصیدہ سے قبل مرزا قادیانی کے مولانا پیر

مہر علی شاہ کے مقابلہ میں نہ آنے کے باعث اگست ١٩٠٠ء مرزا قادیانی کو قابل مخاطب نہ سمجھا جائے۔ اسے معلوم تھا قرارداد جو اس قصیدہ سے دو سال قبل منظور ہو چکی تھی علماء اس

مرزا قادیانی ڈینگ و پینگ کا بازار گرم کر چکا تھا۔ تب عل قصیدہ اعجازیہ بھی قرار دیا اور بیس دن جواب کی قید بھی ل اعجاز عنقاء ہو جائے گا؟ لیجئے ! جن جن حضرات کو خطاب میں پٹہ گھنٹی سمیت باندھ دیا تا کہ اس کذاب کا ’باؤلا پن ان حضرات میں سے ایک حضرت مولا

مرزا قادیانی کے قصیدہ کے مقابلہ میں ”قصیدہ رائیہ جوابیہ مرزا قادیانی کے چیلنج کو صرف قبول ہی نہ کیا تا کہ جھوٹے کو گھر پہنچانا اور جھوٹے کو ہی نہیں اس کی مال سامنے آجائے۔ مرزا قادیانی کے قرض کو اتار چکے۔ لیک سے اپنے آبائی قصبہ جنڈیالہ باغ گوجرانوالہ آگئے۔ وہا جمع کیا گیا تو یہ قصیدہ بھی ملا۔ مولانا قاضی ظفر الدین دوسرے استاذ اور مولانا قاضی ظفر الدین کے دوست اسے آپ شائع کردیں۔ مولانا ثناء اللہ امرتسری نے اشاعت ١١، ١٨، ٢٥؍جنوری، یکم، ١٥، ٢٢؍فروری اور اقساط میں یہ قصیدہ مکمل طور پر شائع ہو گیا۔

رب کریم جل جلالہ کے اپنے فیصلے ہوتے مرزا قادیانی کی زندگی میں مصنف قصیدہ رائیہ جوابیہ قصیدہ تحریر کیا۔ مصنف اپنی زندگی میں شائع نہ کر پای کے عرصہ بعد ایسے وقت میں مکمل شائع کرا دیا۔ جب مرنے سے قبل جواب کا چھپ جانا اور اس قصیدہ ک

صفحہ ٩

مہر علی شاہ کے مقابلہ میں نہ آنے کے باعث اگست ١٩٠٠ء میں علماء نے قرارداد منظور کی تھی کہ اب مرزا قادیانی کو قابل مخاطب نہ سمجھا جائے۔ اسے معلوم تھا کہ علماء اس کے جواب کے لئے حسب قرارداد جو اس قصیدہ سے دو سال قبل منظور ہو چکی تھی علماء اسے مخاطب کے لائق نہیں سمجھتے۔

مرزا قادیانی ڈینگ ڈونگ کا بازار گرم کر چکا تھا۔ تب علماء پر منکشف ہوا کہ اس ملعون نے اسے قصیدہ اعجازیہ بھی قرار دیا اور بیس دن جواب کی قید بھی لگا دی۔ کیا بیس دن کے بعد اس قصیدہ کا اعجاز عنقاء ہو جائے گا؟ لیجئے! جن جن حضرات کو خطاب کیا۔ ان سب نے مرزا قادیانی کے گلے میں پٹہ، گھنٹی سمیت باندھ دیا تا کہ اس کذاب کا ”باؤلا پن“ دنیا پر واضح ہو جائے۔

ان حضرات میں سے ایک حضرت مولانا قاضی ظفر الدین تھے۔ انہوں نے مرزا قادیانی کے قصیدہ کے مقابلہ میں ”قصیدہ رائیہ جوابیہ“ تحریر کیا۔ مرزا قادیانی کے چیلنج کو صرف قبول ہی نہ کیا بلکہ جھوٹے کو اس کی ماں کے گھر پہنچا دیا۔ تا کہ جھوٹے کو گھر پہنچانا اور جھوٹے کو ہی نہیں اس کی ماں کو مارنا، دونوں مثالوں کا مشار الیہ قوم کے سامنے آجائے۔ مرزا قادیانی کے قرض کو اتار چکے۔ لیکن ابھی اس قصیدہ کو شائع نہ کیا تھا کہ لاہور سے اپنے آبائی قصبہ جنڈیالہ باغ گوجرانوالہ آ گئے۔ وفات کے بعد آپ کے مسودات اور کتب کو جمع کیا گیا تو یہ قصیدہ بھی ملا۔ مولانا قاضی ظفر الدین کے شاگرد رشید مولانا محمد داؤد نے اپنے دوسرے استاذ اور مولانا قاضی ظفر الدین کے دوست مولانا ثناء اللہ امرتسری کو قصیدہ رائیہ دیا کہ اسے آپ شائع کر دیں۔ مولانا ثناء اللہ امرتسری نے اپنے ہفتہ وار اخبار اہل حدیث امرتسر کی اشاعت ١١، ١٨، ٢٥؍جنوری، یکم، ١٥، ٢٢؍فروری اور ٨؍مارچ ١٩٠٧ء میں شائع کیا۔ گویا سات اقساط میں یہ قصیدہ مکمل طور پر شائع ہو گیا۔

رب کریم جل جلالہ کے اپنے فیصلے ہوتے ہیں۔ اس ذات کی ہر وقت شان نرالی ہے۔ مرزا قادیانی کی زندگی میں مصنف قصیدہ رائیہ جوابیہ نے مرزا قادیانی کے قصیدہ کے جواب میں قصیدہ تحریر کیا۔ مصنف اپنی زندگی میں شائع نہ کر پائے۔ لیکن رب کریم نے مصنف کے وصال کے عرصہ بعد ایسے وقت میں مکمل شائع کرا دیا۔ جب مرزا قادیانی ابھی زندہ تھا۔ مرزا قادیانی کے مرنے سے قبل جواب کا چھپ جانا اور اس قصیدہ کے چھپنے کے بعد مرزا قادیانی کا سال بھر زندہ

صفحہ ١٠

رہتا اور اپنے رد میں قصیدہ کا جواب الجواب نہ لکھتا۔ ”مرزا کی بولتی بند ہوگئی۔“ بولورام ہو گیا۔ ”جیتے جی نمونہ عبرت بن گیا“ کہ ایسا دم بخود ہوا کہ یہ قصیدہ ”درّہ عمر کا مقرع“ ، ”قاضی ظفر کا خنجر برگلوئے مرزا.....“ ثابت ہوا۔ اسے کہتے ہیں کہ ”جادو وہ جو سر چڑھ کر بولے۔“

عرصہ ہوتا ہے کہ فقیر نے احتساب قادیانیت کے نام پر رد قادیانیت پر اکابر کے رشحات قلم کو یکجا کرنا شروع کیا۔ اس دوران میں مرزا قادیانی کے قصیدہ کے جواب میں تمام قصائد کو جمع کرنے کا خیال ہوا کہ ان سب کو ایک مجلد میں جمع کر دیا جائے۔

اب حضرت مولانا قاضی ظفر الدین کے قصیدہ رائیہ جوابیہ کی تلاش شروع ہوئی۔ اوائل ١٩٠٧ء کے پرچہ کی تلاش ایک سو سال بعد شروع ہوئی۔ اخبار جو پڑھنے کے بعد ٹھکانے لگ جاتے ہیں۔ سو سال بعد ان کی تلاش، جوئے شیر لانے کے مترادف تھی۔ فقیر نے سالہا سال اس کی تلاش میں در، در کی ہوا کھائی۔ احتساب جلد اوّل سے شروع ہو کر جلد ٥٨ تک شائع ہو گئیں۔ ایک عرصہ بیت گیا۔ چہار جانب تلاش کے باوجود قصیدہ نہ ملا اور قریباً ملنے سے مایوسی ہو چلی۔ اب اس خیال نے جڑ پکڑنا شروع کی کہ احتساب قادیانیت کے کام کو قصائد کی جلد کے بغیر سمیٹ اور لپیٹ دیا جائے۔ اس دوران میں ایک دن بورے والا سے جناب محمد سہیل صاحب کا فون آیا کہ قصیدہ رائیہ جوابیہ مکمل مل گیا ہے۔ فرمائیں تو ای میل سے بھجوا دوں۔ فقیر نے عرض کیا کہ چند دنوں تک خود لینے کے لئے حاضر ہوں گا۔ وہاڑی میں جمعہ پڑھانا تھا۔ جمعہ کے بعد بورے والا گیا۔ اس قصیدہ کی فوٹو لایا۔ قصیدہ کا کیا ملا؟ سالہا سال کی گم شدہ متاع عزیز حاصل ہو گئی۔ فقیر کو جناب ڈاکٹر بہاء الدین صاحب مؤلف تحریک ختم نبوت کی طرف سے اس قصیدہ کی کمپوزنگ کا پرنٹ بھی مل گیا۔

شعبان ١٤٣٥ھ میں سالانہ ختم نبوت کورس کے موقعہ پر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے تحت قائم مدرسہ عربیہ ختم نبوت مسلم کالونی چناب نگر کے صدر مدرس حضرت مولانا غلام رسول صاحب دین پوری دامت برکاتہم نے فقیر کی درخواست پر اس قصیدہ کا ترجمہ کر دیا۔ بعد میں جناب ڈاکٹر محمود الحسن عارف پروفیسر پنجاب یونیورسٹی اور مولانا محمد عبداللہ مہتمم نے بھی اس پر نظر ثانی اور اعراب لگا دیئے۔ رمضان المبارک میں حجاز مقدس اور شوال میں یو۔کے کا سفر درپیش تھا۔ اس دوران میں برادر عدنان سیال نے کمپوزنگ کا کام مکمل کر دیا۔ یوں سالہا سال بعد کی جدوجہد سے اس قصیدہ کو کتابی شکل میں شائع کرنے کی سعادت حاصل ہو رہی ہے۔ فقیر کے جسم کا رواں رواں رب کریم بے نیاز کے دروازہ پر سراپا عجز و نیاز ہے۔ بڑھاپے میں سیدنا زکریا علیہ السلام کو

١١ سیدنا یحییٰ علیہ السلام جیسا بیٹا دیا۔ فقیر کو یہ قصیدہ کیا سراپا شکر بنا دیا۔ فالحمد للہ علیٰ ذالک!

مولانا اصغر علی روحیؒ راجپوت برادری قاضی شمس الدین تھا۔ سلسلہ نسب یوں ہے۔ مولا بن رکن الدین بن حامد بن عیسیٰ۔ سیالکوٹ کے والد قاضی شمس الدین کا ہمانوالہ ضلع سیالکوٹ سے جی ٹی روڈ کے قریب قصبہ کٹھالہ چناب میں تشری اسٹیشن بھی ہے۔ وزیر آباد سے چھ سات میل پر ضلع اصغر علی روحیؒ کے مولد ہونے کا اعزاز حاصل ہے مولانا اصغر علیؒ کے والد گرامی کا انتقال ١٨٧٩ء اصغر علیؒ کی عمر آٹھ سال تھی۔ آپ چار بھائی تھے والد گرامی نے ابتدائی کتب آپ کو نہ صرف پڑھا والد صاحب مرحوم کے وصال کے بعد گجرات زمانہ میں دہلی ولاہور علم کے مراکز سمجھے جاتے تھ کے حصول کے لئے جانا چاہتے تھے۔ مگر والدہ سے اجازت ملی تو ٹرین کے ذریعہ لاہور آئے جہاں مولانا عبدالوہاب نام کے نابینا بزرگ ال مِلے۔ اپنی بپتا سنائی اور یہ بھی بتایا کہ میں نے امتحان دیا جواب درست تھے تو مولانا عبدالوہا داخل کر لیا۔ ١٨٨١ء میں منشی کا اورینٹل کالج میں سال میں منشی، منشی فاضل، مولوی فاضل، بی۔ای حاصل کر لیں۔ ہمیشہ یونیورسٹی بھر میں اوّل یا دو مولانا عبدالحکیم کلانوری، مولانا غلا مفتی محمد عبداللہ ٹونکی، مولانا نذیر حسین دہلوی،

صفحہ ١١

سیدنا یحییٰ علیہ السلام جیسا بیٹا دیا۔ فقیر کو یہ قصیدہ کیا ملا کہ حی و قیوم نے بڑھاپے میں اس نعمت سے سراپا شکر بنا دیا۔ فلحمد لله علیٰ ذالک!

مولانا اصغر علی روحی راجپوت برادری سے تعلق رکھتے تھے۔ آپ کے والد گرامی کا نام قاضی شمس الدین تھا۔ سلسلہ نسب یوں ہے: مولانا اصغر علی روحی بن قاضی شمس الدین بن محمد بخش بن رکن الدین بن حامد بن عیسیٰ ۔ سیالکوٹ کے موضع کاہنوالہ کے رہنے والے تھے۔ آپ کے والد قاضی شمس الدین کاہنوالہ ضلع سیالکوٹ سے ترک وطن کر کے دریائے چناب کے کنارے جی۔ ٹی روڈ کے قریب قصبہ کٹھالہ چناب میں تشریف لائے۔ یہاں کٹھالہ کے نام سے ریلوے اسٹیشن بھی ہے۔ وزیر آباد سے چھ سات میل پر ضلع گجرات میں یہ قصبہ واقع ہے۔ اسی کٹھالہ کو مولانا اصغر علی روحی کے مولد ہونے کا اعزاز حاصل ہے۔ ١٨٧١ء کے اوائل میں مولانا کی پیدائش ہوئی۔ مولانا اصغر علی کے والد گرامی کا انتقال ١٨٧٩ء میں ہوا۔ والد صاحب کی وفات کے وقت مولانا اصغر علی کی عمر آٹھ سال تھی۔ آپ چار بھائی تھے۔ سب سے چھوٹے آپ تھے۔ اس چھوٹی عمر میں والد گرامی نے ابتدائی کتب آپ کو نہ صرف پڑھادی تھیں بلکہ بعض کتابیں ازبر بھی کرادی تھیں۔ والد صاحب مرحوم کے وصال کے بعد گجرات کے بعض مدارس میں سلسلۂ تعلیم کو جاری رکھا۔ اس زمانہ میں دہلی و لاہور علم کے مراکز سمجھے جاتے تھے۔ مولانا اصغر علی اس چھوٹی عمر میں ہی لاہور تعلیم کے حصول کے لئے جانا چاہتے تھے۔ مگر والدہ سے اجازت نہ ملتی تھی۔ بار بار کے اصرار پر والدہ سے اجازت ملی تو ٹرین کے ذریعہ لاہور آئے۔ لوہاری منڈی مسجد پٹولیاں میں پہلی نماز ادا کی۔ جہاں مولانا عبد الوہاب نام کے نابینا بزرگ امام تھے۔ علیحدگی میں مولانا اصغر علی روحی ان سے ملے۔ اپنی بپتا سنائی اور یہ بھی بتایا کہ میں نے صرف نحو کی چند کتب والد مرحوم سے پڑھی ہیں۔ امتحان دیا جواب درست تھے تو مولانا عبد الوہاب نے صرف نحو پڑھنے کے لئے زمرہ طلباء میں داخل کر لیا۔ ١٨٨١ء میں منشی کلاس اورینٹل کالج میں داخلہ بھی لے لیا۔ پھر ١٨٨٢ء سے ١٨٩٢ء تک دس سال میں منشی، منشی فاضل، مولوی فاضل، بی۔ اے، ایم۔ اے تک دس سال میں گیارہ ڈگریاں حاصل کر لیں۔ ہمیشہ یونیورسٹی بھر میں اول یا دوم آتے رہے۔

مولانا عبدالحکیم کلانوری، مولانا غلام قادر بھیروی، مولانا فیض الحسن سہارنپوری، مولانا مفتی محمد عبداللہ ٹونکی، مولانا نذیر حسین دہلوی رحمہم اللہ تعالیٰ ایسے یگانہ روزگار حضرات سے مولانا

صفحہ ١٣

روحی نے اکتساب علم کیا۔ آپ یونیورسٹی میں اوّل آتے رہے تو آپ کو وظیفہ ملنا شروع ہوا۔ پھر ملازمت بھی مل گئی۔ ١٨٩٢ء میں ہی اورینٹل کالج کے پروفیسر لگ گئے۔ آپ نے یتیمی کے دور میں بڑی مشقت سے تعلیم حاصل کی۔ جب ان واقعات کا اولاد کے سامنے تذکرہ کرتے تو آنسو بھر لاتے۔ تمام بھائیوں اور والدہ کی خدمت کی۔ سالانہ رخصت کا عرصہ ہمیشہ والدہ کے پاس کٹھالہ گاؤں میں گزارتے۔

آپ نے فارسی وعربی ادب میں اتنا رسوخ حاصل کر لیا کہ ان زبانوں میں شعر گوئی شروع کر دی۔ انجمن حمایت اسلام لاہور کے جلسوں میں مولانا محمد حسین آزاد، مولانا حالی، مولانا شبلی، نواب بہاول پور، علامہ اقبال، نواب محسن الملک سے رابطہ ہوا تو آپ کے علم کے جوہر کھلنے لگے اور شعر گوئی نے شہرت حاصل کرلی۔

جناب محمد ذوالفقار رانا نے پنجاب یونیورسٹی سے ١٩٨٣ء میں پی ایچ ڈی کے لئے ”مولانا اصغر علی روحی احوال و آثار اور ان کے عربی دیوان شعر کی جمع و ترتیب“ کے عنوان پر چار جلدوں میں مقالہ لکھا۔ جس میں مولانا روحی کا عربی کلام سارا جمع ہو گیا۔ فارسی دیوان بھی مولانا روحی کے بیٹے ڈاکٹر محمد ضیاء الحق صوفی صدر شعبہ عربی و اسلامیات گورنمنٹ کالج لاہور کے پاس موجود تھا۔ مولانا روحی ١٨٩٢ء سے پروفیسر لگے۔ ١٩٣١ء میں ریٹائرڈ ہوئے۔ اسلامیہ کالج کی تعمیر میں چھ بلاک بنے تو ایک بلاک کو ”روحی بلاک“ کا نام دیا گیا۔ میاں امیر الدین، جناب حمید نظامی، چوہدری رحمت علی، خلیفہ شجاع الدین، مولانا غلام رسول مہر، شفاء الملک، حکیم محمد حسن قریشی، چوہدری محمد علی (سابق وزیر اعظم پاکستان) ایسے سینکڑوں نامور شخصیات کو آپ کے شاگرد ہونے کا اعزاز حاصل تھا۔ انجمن حمایت اسلام کے اکتوبر ١٨٩٧ء میں مدرسہ حمیدیہ کے سربراہ بنے۔ انجمن نعمانیہ ١٣٠٤ھ میں قائم ہوئی۔ اس میں بھی آپ نے خدمات سرانجام دیں۔ غرض سرکاری وغیر سرکاری تعلیمی اداروں میں آپ مختلف ممتاز عہدوں پر سرفراز رہ کر تعلیمی خدمات سرانجام دیتے رہے۔ آپ کی شہرت کے باعث ملک بھر کی دینی، تعلیمی، اسلامی، قومی کانفرنسوں میں بھی آپ شریک ہوتے رہے۔

سر میاں محمد شفیع، سر فضل حسین، سر عبدالقادر، سر شہاب الدین، مولانا سید انور شاہ کشمیری، مولانا ظفر علی خان، ڈاکٹر علامہ اقبال، مولانا احمد علی لاہوری ایسے حضرات سے آپ کا دوستانہ تھا اور یہ سبھی حضرات آپ کو دل و جان سے احترام دیتے تھے۔ حضرت لاہوریؒ کے بہت

سارے رسائل پر مولانا اصغر علی روحی کی تقریظات ہیں

جب افتتاحی تقریب منعقد ہوئی تو مولانا احمد علی لاہو موقع پر مولانا اصغر علی روحی نے ”بنائے قاسم العلوم“ کے عربی دیوان میں موجود ہے۔ مولانا اصغر علی روحی ابوالرشید عبدالعزیز خطیب مزنگ ان دو حضرات کے میرا جنازہ پڑھائیں۔ چنانچہ مولانا احمد علی لاہوری نے مدرس جامعہ فتحیہ اچھرہ والوں کو آگے کر دیا۔ ٣٠ مئی ١٩ میں آپ کا لاہور میں وصال ہوا اور وصیت کے م ہوئے۔ تراسی سال آپ نے عمر پائی۔ آپ کی وفات آپ کی تاریخ وفات کہی۔ اس کے آخری مصرعہ سے

بمرگ عالم دیں مثل روحی فوت عالم شد
بطاعات خدا و مصطفیٰ عمرے بسر کردہ
بسال انتقال آں یگانہ عالم و فاضل

آپ کے فرزند ڈاکٹر محمد ضیاء الحق صوفی لیکن ایک تاریخ جو رباعی کی شکل میں حسب ذیل ہے یوم وفات یعنی ٢٧ رمضان کا ذکر بھی موجود ہے ؎

بیدار چو شد فتنہ و چوں امن بخفت
تاریخ وفاتش چو زہاتف جستم

وفات کے وقت اتفاقاً آپ کے سب کراچی سے سرحد کی طرف دورہ کے لئے جا رہے صاحب کی خیریت معلوم کرنے کے لئے ٹھہرے۔ نماز پر بٹھایا گیا تو آپ دو رکعتیں ادا کرنے کے بعد نے عرض کیا کہ عصر کی چار رکعتیں پڑھنی چاہئے تھیں

صفحہ ١٣

سارے رسائل پر مولانا اصغر علی روحی کی تقریظات ہیں۔ مدرسہ قاسم العلوم شیرانوالہ باغ لاہور کی جب افتتاحی تقریب منعقد ہوئی تو مولانا احمد علی لاہوری نے مولانا اصغر علی روحی کو مدعو کیا۔ اس موقع پر مولانا اصغر علی روحی نے ”بنائے قاسم العلوم“ پر عربی میں ارتجالاً نظم بھی لکھ کر سنائی جو آپ کے عربی دیوان میں موجود ہے۔ مولانا اصغر علی روحی نے مولانا احمد علی لاہوری شیرانوالہ اور مولانا ابوالرشید عبدالعزیز خطیب مزنگ ان دو حضرات کے متعلق وصیت بھی کی تھی کہ ان دو میں سے کوئی میرا جنازہ پڑھائیں۔ چنانچہ مولانا احمد علی لاہوری نے جنازہ پر اپنے نمائندہ کے طور پر مولانا مہر محمد مدرس جامعہ فتحیہ اچھرہ والوں کو آگے کر دیا۔ ٣٠ مئی ١٩٥٤ء مطابق ٢٧ رمضان المبارک ١٣٧٣ھ میں آپ کا لاہور میں وصال ہوا اور وصیت کے مطابق اپنے گاؤں کٹھالہ گجرات میں مدفون ہوئے۔ تراسی سال آپ نے عمر پائی۔ آپ کی وفات پر آپ کے شاگرد مولانا غلام دستگیر نامی نے آپ کی تاریخ وفات کہی۔ اس کے آخری مصرعہ سے ١٩٥٤ء کا سال نکلتا ہے۔

بزرگ عالم دیں مثل روحی فوت عالم شد ہمی گفتند چوں ناگاہ شد اصغر علی روحی
بطاعات خدا و مصطفیٰ عمرے بسر کردہ سوئے جنت بعز و جاہ شد اصغر علی روحی
بسال انتقال آں یگانہ عالم و فاضل بگفتا می جدا اے آہ شد اصغر علی روحی

(١٩٥٤ء)

آپ کے فرزند ڈاکٹر محمد ضیاء الحق صوفی نے ان کی متعدد تاریخ ہائے وفات نکالی ہیں۔ لیکن ایک تاریخ جو رباعی کی شکل میں حسب ذیل ہے اس میں خوبی یہ ہے کہ سال ہجری کے ساتھ یوم وفات یعنی ٢٧؍ رمضان کا ذکر بھی موجود ہے۔

بیدار چو شد فتنہ و چوں امن بخفت روحی ز جہاں زیر زمیں روئے نہفت
تاریخ وفاتش چو زہاتف جستم سہ یوم چو ماندہ زمہ رمضان گفت

(١٣٧٣ھ)

وفات کے وقت اتفاقاً آپ کے سب سے بڑے صاحبزادہ مولوی فضل حق مرحوم کراچی سے سرحد کی طرف دورہ کے لئے جارہے تھے کہ ایک رات کے لئے لاہور آئے اور والد صاحب کی خیریت معلوم کرنے کے لئے ٹھہرے۔ اسی روز جب آپ کو عصر کی نماز کے لئے جائے نماز پر بٹھایا گیا تو آپ دو رکعتیں ادا کرنے کے بعد جائے نماز پر ہی لیٹ گئے۔ ان کے صاحبزادہ نے عرض کیا کہ عصر کی چار رکعتیں پڑھنی چاہئے تھیں لیکن آپ نے دو رکعتیں پڑھ کر ہی سلام پھیر

صفحہ ١٥

دیا ہے۔ اس پر مولانا نے ہاتھ کے اشارے سے سمجھایا کہ خاموش رہو۔ جائے نماز پر لیٹتے ہی جان رحمت حق کے سپرد کر دی۔ سفری نماز دو رکعت پڑھ کر سفر آخرت پر روانہ ہوئے۔ خوب! مولانا اصغر علی روحی ایک ماہوار رسالہ شائع کرتے تھے۔ جس کا نام ”الہدیٰ“ تھا۔ اس میں مرزا قادیانی کے سابق مرید جو بعد میں مرزا قادیانی کے اعلیٰ درجہ کے مخالفین میں شامل ہو گئے تھے۔ انہوں نے مرزا قادیانی کے رد میں ”الذکر الحکیم نمبر ٦“ شائع کیا۔ اس پر مولانا روحی نے تقریظ لکھی جو یہ ہے۔

تقریظ ...... ”الذکر الحکیم“

”ڈاکٹر عبدالحکیم خاں صاحب ایم۔ بی اسسٹنٹ سرجن فرسٹ گریڈ ریاست پٹیالہ نے مرزا قادیانی کے مقابلہ میں ”الذکر الحکیم“ کے نام سے ایک رسالہ نمبر ٦ شائع کیا ہے۔ اس رسالہ میں انہوں نے نہایت محنت کے ساتھ مرزا قادیانی کی عیاریوں کا تار و پود کھول کر دکھایا ہے۔ چونکہ واقعات مندرجہ بر بنائے عینی شہادت کے قلمبند ہوئے ہیں۔ اس لئے ان میں عدم صحت کا گمان نہیں چل سکتا۔ یہ رسالہ بالخصوص ان کم استعداد لوگوں کے لئے جو اس شخص کے دعاوی پر پھسل جایا کرتے ہیں اور اس کے مریدوں کو جواب دینے پر معذور ہو جاتے ہیں۔ ایک نہایت مفید آلہ ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ مرزا قادیانی کے مرید یا تو سرے سے پڑھنے کی تکلیف ہی نہ اٹھائیں گے۔ یا پڑھ کر دیوار پر دے ماریں گے اور دو چار صلواتیں سنا دیں گے۔ جو ان لوگوں کا شیوہ قدیم ہے۔ مگر ہم کہتے ہیں کہ یہی امر اس رسالہ کی صداقت کی دلیل ہے۔ ڈاکٹر صاحب کو چاہئے کہ اس کے جواب کی امید نہ رکھیں۔ قل موتوا بغیظکم پر عمل کریں۔ مرزا اور مرزائیوں نے آج تک نہ تو کسی کا جواب دیا ہے نہ دے سکتے ہیں۔ مگر یقین سمجھ لیں کہ ایسے رسالہ کا اثر عام طبائع پر نہایت مفید ثابت ہوتا ہے۔ فجزاہ اللہ خیر الجزاء! رسالہ مذکورہ قیمت چار آنے علاوہ محصول ڈاک منیجر صاحب مطبع عزیزی تراوڑی ضلع کرنال سے مل سکتا ہے۔“

(الہدیٰ ج ٥ نمبر ٢ ص ٤٥)

یہ رسالہ انشاء اللہ العزیز احتساب قادیانیت کی جلد ٢٠ میں شائع ہو رہا ہے۔

نزول مسیح علیہ السلام کی احادیث اور مرزا قادیانی

اسی ماہوار رسالہ (الہدیٰ ج ٤ نمبر ٦ ص ٣٧ تا ٣٩) پر مولانا روحی کا یہ فتویٰ شائع ہوا۔

سوال...... کیا نزول مسیح کی حدیث مرزا قادیانی کی مؤید ہے؟ جواب...... جو امر نص آیت یا نص حدیث یا اجماع علمائے امت مرحومہ سے پایہ ثبوت تک پہنچ

جائے۔ اس میں ایماندار کو چون و چرا کرنے کا کوئی موقع بروئے اصول عربیت موازنہ کر کے صحیح معنی کا استنباط کر معیار جو علمائے اصول نے قرار دیا ہے، مدنظر رہنا چاہئے مرکز اصول سے نہ ہٹنے دینا چاہئے۔ کیونکہ یہ یقیناً صحیح ہے بھاگا کرتے ہیں اور اگر کہیں اصول ان کے موافق پڑتا ہے کے لئے تیار ہوتے ہیں۔ مثلاً یہ اصول کہ الفاظ ہمیشہ اپ اس صورت میں کہ معنی حقیقی کے لینے سے کسی دیگر نص یا اج کے رو سے کوئی محال لازم آتا ہو۔ کیونکہ اس صورت میں پڑے گا اور وہ معنی مجازی منجملہ ان اقسام مجاز کے ہوں گے ہے۔ مثلاً نزول مسیح کی حدیث میں مسیح علیہ السلام کے متعل السلام صلیب کو توڑیں گے ) وارد ہے۔ مگر قادیانی یہ معنی نہیں۔ بلکہ مسیح بروزی مراد ہے۔ یعنی ایسا شخص جس میں گے۔ کسر صلیب سے مراد یہ ہے کہ وہ نصاریٰ کو دلائل س سوال کیا جائے کہ کسر صلیب کو حقیقی معنی پر محول کرنے پیغمبر ﷺ نے مکہ فتح کیا تو بیت اللہ کے اندر جس قدر بت کے تمام آثار مٹا دیئے۔ اسی طرح اگر مسیح علیہ السلام ناز میں کون سی خرابی لازم آتی ہے۔ اگر کسر صلیب سے دلائل کی نئی بات ہے؟ کیونکہ شروع اسلام سے آج تک علمائے رد لکھتے رہے ہیں اور اس قدر لکھا ہے کہ اب نہ تو کوئی نیا اع نیا جواب دینا ہے۔ نصاریٰ کے اعتراضات اسلام و بانی ا اور ان کے جوابات اظہر من الشمس ہیں۔ چنانچہ اہل علم انہیں چند ایک چبائے ہوئے مضمون کو بار بار چبایا کرتے نہیں سنا جس کو بزرگان سلف نے نہایت زور کے ساتھ رد کئی ایک بزرگواروں نے عیسائیوں کا ایسا ناک میں دم بن صورت نظر نہیں آئی۔ شیخ الاسلام ابن تیمیہ کی کتاب ”الجو

صفحہ ١٥

جائے۔ اس میں ایماندار کو چون و چرا کرنے کا کوئی موقع نہیں ہونا چاہئے۔ ہاں آیت و حدیث کا بروئے اصول عربیت موازنہ کر کے صحیح معنی کا استنباط کرنا ضروری ہے اور علیٰ ہذا اجماع کی صحت کا معیار جو علمائے اصول نے قرار دیا ہے، مدنظر رہنا چاہئے اور اگر مخالف کجروی کرنے لگے تو اسے مرکز اصول سے نہ ہٹنے دینا چاہئے۔ کیونکہ یہ یقیناً سچ ہے کہ تمام اہل بدعت و ہوا ہمیشہ اصول سے بھاگا کرتے ہیں اور اگر کہیں اصول ان کے موافق پڑتا ہے تو وہاں شیر کی طرح اہل حق کے مقابلہ کے لئے تیار ہوتے ہیں۔ مثلاً یہ اصول کہ الفاظ ہمیشہ اپنے معانی حقیقت پر محمول ہوں گے۔ الا اس صورت میں کہ معنی حقیقی کے لینے سے کسی دیگر نص یا اجماع کی مخالفت لازم آئے یا صریح عقل کے رو سے کوئی محال لازم آتا ہو۔ کیونکہ اس صورت میں ضرورتاً ہمیں لفظ کو مجازی معنی پر محمول کرنا پڑے گا اور وہ معنی مجازی منجملہ ان اقسام مجاز کے ہوں گے۔ جن کی تفصیل کتب اصول میں مندرج ہے۔ مثلاً نزول مسیح کی حدیث میں مسیح علیہ السلام کے متعلق ”یکسر الصلیب“ (یعنی مسیح علیہ السلام صلیب کو توڑیں گے) وارد ہے۔ مگر قادیانی یہ معنی لیتا ہے۔ لفظ مسیح سے مسیح ابن مریم مراد نہیں۔ بلکہ مسیح بروزی مراد ہے۔ یعنی ایسا شخص جس میں مسیح علیہ السلام کے کمالات جلوہ گر ہوں گے۔ کسر صلیب سے مراد یہ ہے کہ وہ نصاریٰ کو دلائل کے رو سے مغلوب کرے گا۔ مگر جب یہ سوال کیا جائے کہ کسر صلیب کو حقیقی معنی پر محمول کرنے سے کون سا امر مانع ہے؟ دیکھو جب پیغمبر ﷺ نے مکہ فتح کیا تو بیت اللہ کے اندر جس قدر بت تھے سب کو پاش پاش کر دیا اور شرک کے تمام آثار مٹا دیئے۔ اسی طرح اگر مسیح علیہ السلام نازل ہو کر کفر کے آثار کو مٹائیں گے تو اس میں کون سی خرابی لازم آتی ہے۔ اگر کسر صلیب سے دلائل کے ساتھ مغلوب کرنا مراد ہے تو یہ کون سی نئی بات ہے؟ کیونکہ شروع اسلام سے آج تک علمائے امت دلائل قاطعہ کے ساتھ نصاریٰ کا رد لکھتے رہے ہیں اور اس قدر لکھا ہے کہ اب نہ تو کوئی نیا اعتراض پیش ہوتا ہے اور نہ اس کا کوئی شخص نیا جواب دیتا ہے۔ نصاریٰ کے اعتراضات اسلام و بانی اسلام کے برخلاف مشہور و معروف ہیں اور ان کے جوابات اظہر من الشمس ہیں۔ چنانچہ اہل علم خوب واقف ہیں کہ پادری لوگ ہمیشہ انہیں چند ایک چبائے ہوئے مضمون کو بار بار چبایا کرتے ہیں۔ ہم نے آج تک کوئی نیا اعتراض نہیں سنا جس کو بزرگان سلف نے نہایت زور کے ساتھ رد نہ کر دیا ہو اور موجودہ صدی کے علماء میں کئی ایک بزرگواروں نے عیسائیوں کا ایسا ناک میں دم کیا ہے کہ بجز گریز کے عیسائیوں کو کوئی صورت نظر نہیں آئی۔ شیخ الاسلام ابن تیمیہؒ کی کتاب ’الجواب الصحیح لمن بدل دین

صفحہ ١٧

المسیح“ کیا اہل کتاب کے رد میں کچھ کم ہے؟ علامہ ابن حزم کی ملل ونحل نے جو خامہ فرسائی کی ہے اور جو جو الزامات نصاریٰ پر قائم کئے کیا نصاریٰ کی شکست کے لئے کافی نہیں؟ موجودہ زمانہ میں علامہ آلوسی بغدادی اور مولوی رحمت اللہ مہاجر کرانوی مرحوم کے مباحثات ایسے نہیں کہ عیسائیوں کے مقابلہ میں ہمیں کوئی نئی تیاری کرنی پڑے؟ انہیں جوابات کو کانٹ چھانٹ کر کے موجودہ علماء نصاریٰ کی تردید بخوبی کر سکتے ہیں۔ اہل یورپ کا فتنہ و فساد جو مذہب اسلام میں رخنہ انداز ہو رہا ہے سوائے نصاریٰ سے کچھ تعلق نہیں۔ بلکہ وہ علوم جدیدہ کے رو سے حملے کیا کرتے ہیں اور وہ حملے مقدس اسلام کی نسبت مسیحیت پر سب سے پہلے عائد ہوتے ہیں اور علوم فلسفہ تو ہمیشہ مذہب کے پہلو بہ پہلو چلا کئے ہیں۔ مگر مذہب ہی ہمیشہ غالب رہا۔

سچ ہے آدمی جب جھوٹ بولتا ہے تو اسے جھوٹ کو سچ بنانے کے لئے کئی ایک اور جھوٹ گانٹھنے پڑتے ہیں۔ قادیانی نے جب اپنے تئیں بروزی مسیح قرار دیا تو یہ سوچا کہ مسیح کے کمالات میں مردوں کو زندہ کرنا اور کوڑھیوں، اندھوں کا تندرست کرنا بھی قرآن میں مذکور ہے۔ مخالفین معجزہ کی استدعا کریں گے تو نہایت بے باکی کے ساتھ الفاظ کو ان کے غیر مقصود معانی پر حمل کیا اور یہ ظاہر کیا کہ اس سے دل کے اندھوں اور کوڑھیوں کا تندرست کرنا مقصود ہے۔ ورنہ در حقیقت مسیح معجزہ نہیں دکھاتے تھے۔ مگر ساتھ ہی اس کے یہ بھی کہتا ہے کہ وہ مسمریزم کا عمل کیا کرتے تھے۔ اگر میں اس عمل کو حقیر نہ سمجھتا تو مسیح سے کم نہ تھا۔ (عجیب تناقض یہ کہ) ہم کہتے ہیں کہ علمائے امت نے بدلائل ثابت کر دیا ہے کہ کاذب خرق عادات کا حامل نہیں ہے۔ ”کتب اللہ لا غلبن انا ورسلی“ دیکھو کہ ہر ایک زمانہ کا فلسفہ اپنے اپنے وقت میں مذہب کا مقابلہ کرتا رہا۔ مگر مذہب بدستور اسی حالت پر قائم رہا۔ اس کے اصول میں سرِ مو فرق نہیں آیا۔ اس لئے مرزا کا یہ کہنا کہ وہ عیسائیت کو توڑ ڈالے گا۔ دعویٰ بلا دلیل ہے۔ جو ہرگز قابل سماعت نہیں۔ کیونکہ مرزا کی اس قدر خامہ فرسائی سے عیسائیت میں کچھ فرق نہیں آیا۔ عیسائی بدستور اپنی کاروائی کئے جا رہے ہیں اور اگر کہا جائے ”فی حد ذاتہ“ حق کو باطل سے علیحدہ کر کے دکھانا مقصود ہے۔ خواہ عیسائی مانیں یا نہ مانیں تو ہم کہتے ہیں کہ یہ کام تو قرآن مجید نے بزمانہ حیاتِ نبویؐ پورا کر دکھایا تھا اور بعد ازاں علماء اسلام ہمیشہ ایسا کرتے رہے۔ مرزا نے کون سی نئی بات کی جس سے وہ مستحق نبوت ہو گیا؟ ہاں یہ بات ضرور ہے کہ آنے والا مسیح تمام اختلاف کو دور کر کے مختلف فرقوں کو ایک بنا دے گا۔ مگر مرزا نے مسلمانوں میں ایسی تفریق پیدا کر دی کہ سلام، طعام، کلام وغیرہ سب کچھ مریدوں

سے چھڑوا دیا۔ چنانچہ اب انہیں مسلمانوں سے کسی قسم کا تعلق نہیں رہا۔ ”انا للہ وانا الیہ راجعون“

بہرصورت حدیث نزول مسیح علیہ السلام کو تاویلات رکیکہ وہ پیش کرتا ہے محض بے جوڑ باتیں ہیں

مرزا قادیانی کی تاریخ وفات

مولانا اصغر علی روحی کے شاگرد مولانا غلا وفات کے عنوان سے مرزا غلام احمد کی تاریخ ہائے وف ہیں۔ ان میں سب سے پہلے ان کی اپنی نکالی ہوئی تار

ہوا فی النار ایک مرد شریر
فتنے اور تفرقے مٹے سارے
بہم گشت خواہشے پیدا
گفت نامی ز
مر گیا قادیان

١ + ١٣٢٥ھ

اس کے بعد پیر جماعت علی شاہ صاحب ”لقد دخل فی قع ٢٦ ھ

قاضی فضل حق (پروفیسر گورنمنٹ کالج لا ”مورزا بھینگا ٢٦ ھ

غلام حیدر صاحب کی کہی ہوئی تاریخ: ”چشم ما روشن ہ ٢٦ ھ

اور سب سے آخر مولانا اصغر علی روحی کی

صفحہ ١٧

سے چھڑوا دیا۔ چنانچہ اب انہیں مسلمانوں سے کسی قسم کا تعلق نہیں رہا۔ ’’انا للہ وانا الیہ راجعون‘‘

بہر صورت حدیث نزول مسیح علیہ السلام کو مرزا قادیانی سے کسی قسم کا تعلق نہیں اور جو تاویلات رکیکہ وہ پیش کرتا ہے محض بے جوڑ باتیں ہیں۔ جن کی تائید کسی طرح نہیں ہو سکتی۔

مرزا قادیانی کی تاریخ وفات

مولانا اصغر علی روحی کے شاگرد مولانا غلام محمد نامی صاحب نے قادیانی کی تاریخ وفات کے عنوان سے مرزا غلام احمد کی تاریخ ہائے وفات جو مختلف اصحاب نے نکالی تھیں نقل کی ہیں۔ ان میں سب سے پہلے ان کی اپنی نکالی ہوئی تاریخ ہے۔ جو یہ ہے۔

ہوا فی النار ایک مرد شریر کیوں نہ شیطان آج ہوں دلگیر
فتنے اور تفرقے مٹے سارے پائے مفسد میں پڑ گئی زنجیر
بدلم چوں خواستم پیدا کہ کنم سال فوت او تحریر
گفت نامی زروئے الہامے
مر گیا قادیان کا خنزیر

.................................... ١٣٢٦ھ = ١٣٢٥ + ١

اس کے بعد پیر جماعت علی شاہ صاحب کی نکالی ہوئی تاریخ یہ لکھی ہے:

”لقد دخل فی قعر جہنم“

١٣٢٦ھ

قاضی فضل حق (پروفیسر گورنمنٹ کالج لاہور) کی نکالی ہوئی تاریخ:

”میرزا بھینگه بمرد“

١٣٢٦ھ

غلام حیدر صاحب کی کہی ہوئی تاریخ:

”چشم ما روشن و دل ماشاد“

١٣٢٦ھ

اور سب سے آخر مولانا اصغر علی روحیؒ کی نکالی ہوئی دو تاریخیں لکھی گئی ہیں:

صفحہ ١٨

١...... ”دجال قادیانی کا اب خاتمہ ہو گیا۔“ ٢...... ”روح خبیث“ ١٣٢٦ھ ١٣٢٦ھ

ان سب سے ١٣٢٦ھ کا سال برآمد ہوتا ہے۔

قادیانیت کا تعاقب

مولانا اصغر علی روحی عمر بھر فرق باطلہ کے خلاف برسرپیکار رہے۔ قادیانیت کی تردید آپ کی زندگی کا عظیم مشن تھا۔ ابوالقاسم رفیق دلاوری اپنی گراں قدر کتاب ”آئمہ تلبیس“، ص ٢٨٣ (طبع عالمی مجلس ملتان مئی ٢٠١٠ء) میں ابوالطیب احمد بن حسین متنبّی کے حالات بعنوان ”دعویٰ نبوت و امساک باران کا معجزہ“ میں لکھتے ہیں: ”ہمارے مرزا غلام احمد قادیانی نے از راہ نادانی اپنے رسالہ اعجاز احمدیہ کو معجزہ کی حیثیت سے پیش کر کے علمائے امت سے اس کا جواب لکھنے کا مطالبہ کیا تھا۔ اس چیلنج کے جواب میں قاضی ظفر الدین مرحوم جو ہمارے ضلع گوجرانوالہ کے رہنے والے تھے اور مولانا اصغر علی روحی اور بعض دوسرے علماء نے اس سے کہیں بہتر عربی قصائد لکھ کر شائع کر دیئے۔ حضرت پیر مہر علی شاہ گولڑویؒ نے دوسرے علمائے حق کی طرح کوئی قصیدہ تو نہ لکھا البتہ ایک مہتمم بالشان کارنامہ یہ انجام دیا کہ سیف چشتیائی میں ”اعجاز المسیح“ کے اغلاط اور مسروقات کا انبار لگا کر مرزائی عربی دانی کی دھجیاں بکھیر دیں۔“

قصیدہ کے مقابلہ میں قاضی ظفر الدین مرحوم سابق پروفیسر اورینٹل کالج لاہور جو ہمارے ضلع گوجرانوالہ کے رہنے والے تھے۔ ایک قصیدہ بنام ”قصیدہ رائیہ“ شائع کیا جس کے ١٦٢ اشعار صوفیا کتاب ”الہامات مرزا ص ١٠٣ تا ١٠٥“ میں نقل کئے گئے ہیں۔ اعجاز احمدی کے جواب میں مولانا غنیمت حسین مونگیری نے بھی ایک کتاب ”ابطال اعجاز مرزا“ دوحصوں میں لکھی۔ پہلے حصہ میں مرزائی نظم کے اغلاط ظاہر کئے اور دوسرے حصہ میں سوا چھ سو اشعار کا نہایت فصیح و بلیغ عربی قصیدہ لکھا۔ یہ رسالہ چھپ چکا ہے اور پنجاب میں بعض حضرات کے پاس موجود ہے۔ مولانا اصغر علی سابق پروفیسر اسلامیہ کالج لاہور نے بھی اعجاز احمدی کے جواب میں ایک قصیدہ شائع کیا۔ اس قصیدہ کا مطلع یہ تھا؎

تسير الى ربع الحبيب الزوامل فمالک شوقا هيجته المنازل

(اونٹنیاں منزل حبیب کی طرف جا رہی ہیں۔ اللہ رے وہ شوق جس کو منازل نے ابھارا ہے۔)“ (آئمہ تلبیس ص ٢٦٧، ٢٦٨، طبع مئی ٢٠١٠ء، عالمی مجلس ملتان بعنوان مسیح قادیان کی عربی دانی)

١٩

پھر آگے چل کر لکھتے ہیں: ”ایک مرتبہ انہوں نے شرمناک قسم کی غلطیاں نکال کر مرزا قادیانی کو لکھ بھیجیں۔ مر ١٩٠٣ء ص ٥ قادیان میں یہ لکھ کر ان سے پیچھا چھڑایا کہ نہ میں ایک دفعہ انہوں نے مرزا کے رسالہ ”حمامۃ البشریٰ“ کی غلط خواجہ کمال الدین کو خفا کر دیا تھا۔“

باب ٥٨ میں ”حکیم نورالدین سے مولانا اصغر علی روحی کی ایک واقعہ درج ہے: ”قادیانی صاحب سخن سازی اور پروپیگنڈہ علمی استعداد سے ایک بڑی حد تک بے نصیب تھے۔ البتہ احسن امروہی مرزائیوں میں ذی علم اور صاحب استعداد ت شہتیر تھے جن کے سہارے الہامی صاحب اتنا زمانہ فضائے دونوں میں حکیم نورالدین کو خاص اہمیت حاصل تھی۔ بلکہ اص کے بانی و مؤسس تھے اور مرزا قادیانی تو محض آلہ کار اور صاحب پیچھے سے ڈوری کھینچتے تو یہ پتلی حرکت میں آجاتی۔ لاہور تشریف لائے اور کشمیری دروازہ میں محرم علی چشتی کے حکیم صاحب کی پرانی دوستی تھی۔ ایک نہایت معمر طبیب ج میں حکیم نورالدین کے رفیق کار تھے۔ مجھے بتایا کہ حکیم نور جموں سے خارج کئے گئے تھے۔

جب حکیم صاحب لاہور آ کر مولوی محرم علی چشتی روحی سابق پروفیسر اسلامیہ کالج لاہور ان کے دیکھنے کے ل عنفوان شباب تھا۔ ان کے جانے سے پیشتر مولوی زین الع دروازہ شیرانوالہ لاہور جو مولوی غلام رسول ساکن قلعہ میاں س تھے۔ حکیم صاحب سے گفتگو کر رہے تھے۔ مولوی زین العابد سوال کے جواب میں مولوی زین العابدین نے کہا کہ اس س نورالدین نے کہا کہ ترجیح بلامرجح تو محض منطقیوں کا ایک ڈ مولوی زین العابدین نے پوچھا وہ کیسے؟ حکیم صاحب نے وج

صفحہ ١٩

پھر آگے چل کر لکھتے ہیں: ”ایک مرتبہ انہوں نے مرزا کی بعض عربی کتب میں سے شرمناک قسم کی غلطیاں نکال کر مرزا قادیانی کو لکھ بھیجیں۔ مرزا قادیانی نے اخبار الحکم ١٧ اکتوبر ١٩٠٣ء ص ٥ قادیان میں یہ لکھ کر ان سے پیچھا چھڑایا کہ نہ میں عربی کا عالم ہوں اور نہ شاعر ہوں۔ ایک دفعہ انہوں نے مرزا کے رسالہ ”حمامۃ البشریٰ“ کی غلطیاں نکال کر مرزا قادیانی کے حواری خواجہ کمال الدین کو خفا کر دیا تھا۔“

(ائمہ تلبیس ص ٢٦٨ طبع ملتان)

باب ٥٨ میں ”حکیم نور الدین سے مولانا اصغر علی روحی کی ایک علمی جھڑپ“ حسب ذیل دلچسپ واقعہ درج ہے: ”قادیانی صاحب سخن سازی اور پروپیگنڈا بازی کے فن میں تو طاق تھے۔ لیکن علمی استعداد سے ایک بڑی حد تک بے نصیب تھے۔ البتہ مولوی حکیم نور الدین اور مولوی محمد احسن امروہی مرزائیوں میں ذی علم اور صاحب استعداد ہستیاں مانی جاتی تھیں اور یہی وہ دو شہتیر تھے جن کے سہارے الہامی صاحب اتنا زمانہ فضائے تعلّی میں پرواز کرتے رہے۔ پھر ان دونوں میں حکیم نور الدین کو خاص اہمیت حاصل تھی۔ بلکہ اصل یہ ہے کہ وہی مرزائیت کی عمارت کے بانی و مؤسس تھے اور مرزا قادیانی تو محض آلۂ کار اور کٹھ پتلی کا حکم رکھتے تھے۔ جب حکیم صاحب پیچھے سے ڈوری کھینچتے تو یہ پتلی حرکت میں آ جاتی۔ ایک مرتبہ بانی سلسلہ حکیم نور الدین لاہور تشریف لائے اور کشمیری دروازہ میں محرم علی چشتی کے مکان پر ٹھہرے۔ مولوی محرم علی سے حکیم صاحب کی پرانی دوستی تھی۔ ایک نہایت معمر طبیب نے جو مہاراجہ جموں و کشمیر کی ملازمت میں حکیم نور الدین کے رفیق کار تھے۔ مجھے بتایا کہ حکیم نور الدین اور مولوی محرم علی ایک ساتھ جموں سے خارج کئے گئے تھے۔

جب حکیم صاحب لاہور آ کر مولوی محرم علی چشتی کے مکان میں ٹھہرے تو مولانا اصغر علی روحی سابق پروفیسر اسلامیہ کالج لاہور ان کے دیکھنے کے لئے گئے۔ اس وقت مولانا اصغر علی کا عنفوان شباب تھا۔ ان کے جانے سے پیشتر مولوی زین العابدین مدرس عربی اسلامیہ ہائی سکول دروازہ شیرانوالہ لاہور جو مولوی غلام رسول ساکن قلعہ میاں سنگھ ضلع گوجرانوالہ کے اقرباء میں سے تھے۔ حکیم صاحب سے گفتگو کر رہے تھے۔ مولوی زین العابدین اچھے لسان اور مقرر نہیں تھے۔ ایک سوال کے جواب میں مولوی زین العابدین نے کہا کہ اس سے تو ترجیح بلامرجح لازم آئے گی۔ حکیم نور الدین نے کہا کہ ترجیح بلامرجح تو محض منطقیوں کا ایک ڈھکوسلہ ہے۔ ترجیح بلامرجح جائز ہے۔ مولوی زین العابدین نے پوچھا وہ کیسے؟ حکیم صاحب نے دو روپے جیب سے نکال کر ہاتھ پر رکھے

صفحہ ٢١

اور مولوی صاحب سے کہا ایک اٹھا لیجئے۔ انہوں نے ایک روپیہ اٹھا لیا۔ پوچھا اس دوسرے کو کیوں نہیں اٹھایا؟ مولوی زین العابدین سے کچھ جواب نہ بن پڑا۔ مولانا اصغر علی ایک طرف بیٹھے تھے۔ مولوی زین العابدین سے کہنے لگے مولوی صاحب کہہ دیجئے کہ ارادہ ازلی اس کے اٹھانے سے متعلق تھا۔ دوسرے سے متعلق نہیں تھا۔ یہی وجہ ترجیح ہے۔ حکیم نور الدین نے کہا بس صاحب یہ ٹھیک نہیں۔ یا یہ بولیں یا آپ خود گفتگو کر لیں۔ مولوی زین العابدین، روحی صاحب سے کہنے لگے اچھا آپ آکر گفتگو فرمائیے۔ اس مجلس میں فقیر جلال الدین مرحوم مجسٹریٹ بھی موجود تھے۔ وہ بولے ہاں مولوی صاحب آپ آئیے اور گفتگو فرمائیے۔ غرض مولانا روحی کو زبردستی ان کے مقابل کر دیا۔ اس سے پیشتر حکیم صاحب بہت لافیں مار چکے تھے کہ ہم نے مصر سے منطق کی ایک نئی کتاب منگوائی ہے۔ جس میں منطقیوں کی متعدد تعبیریں غلط اور باطل ثابت کی گئی ہیں اور اس سلسلہ گفتگو میں وہ امام غزالی اور امام رازی پر بھی ہاتھ صاف کر گئے تھے۔ روحی صاحب نے سوال کیا کہ آپ نے منطق کو باطل کہا ہے۔ کیا ساری منطق باطل ہے یا اس کے کوئی خاص قواعد یا اس کا کوئی حصہ؟ حکیم نور الدین نے کہا یہ بتانا تو مشکل ہے کہ منطق کا کتنا حصہ باطل اور کتنا صحیح ہے۔ مولانا اصغر علی نے فرمایا کہ اگر یہ نہیں بتلا سکتے تو ممکن ہے کہ آپ اثنائے گفتگو میں کسی سوال کے جواب میں کہہ دیں کہ یہ غلط اصول پر مبنی ہے۔ میں اس کو نہیں مانتا۔ اس لئے جب تک یہ مسئلہ صاف نہ ہو جائے کہ آپ کون کون سے اصول مانتے ہیں اور کون کون سے نہیں مانتے۔ اس وقت تک گفتگو بیکار ہے۔ حکیم صاحب لاجواب ہو گئے اور سوچنے لگے۔ ان ایام میں مولانا روحی کی رگوں میں جوانی کا خون دوڑ رہا تھا۔ جب دیکھا کہ حکیم صاحب کے منہ پر بالکل مہر سکوت لگ گئی تو جوش میں آکر کہنے لگے۔ اسی برتے پر آپ نے امام غزالی اور امام رازی پر حملہ کر دیا تھا۔ یہی آپ کی استعداد ہے؟ آپ کو تو مڈل والے لڑکوں کے برابر بھی لیاقت نہیں۔ یہ سن کر مولوی عمر علی چشتی اور فقیر جلال الدین کہنے لگے۔ نہیں مولوی صاحب جانے دیجئے ایسا نہیں ہے۔ چونکہ نماز عصر کا وقت قریب تھا۔ یہ لوگ کہنے لگے اچھا کسی دوسرے موقع پر گفتگو ہوگی۔ مولانا روحی چلے آئے اور یہ خبر بجلی کی رو کی طرح شہر میں پھیل گئی کہ روحی صاحب نے حکیم نور الدین کو پچھاڑ دیا۔ پھر دوسری مرتبہ حکیم نور الدین حویلی کابلی مل میں آکر اقامت پذیر ہوئے۔ صوفی غلام محی الدین وکیل انجمن حمایت اسلام لاہور اور مولوی زین العابدین مذکور روحی صاحب کے مکان پر گئے اور کہا کہ حکیم نور الدین آئے ہوئے ہیں۔ آپ چل کر مرزا کے دعاوی کے متعلق ان سے گفتگو کیجئے۔ روحی صاحب نے کہا: اغلب ہے کہ حکیم صاحب گفتگو پر راضی نہیں ہوں گے۔ مولانا روحی نے ان کے کہنے پر حکیم صاحب کو رقعہ لکھا کہ مرزا

کے دعاوی باطلہ کے متعلق میں آپ سے گفتگو کرنا چا چونکہ آپ میرے پیر کی توہین کرتے ہیں اس لئے م شاید ١٩١٥ء میں حکیم صاحب لاہور آئے۔ روحی صا آئے ہوئے ہیں۔ اگر آپ ان سے گفتگو کرنا چاہیں نے کہا ہاں جا کر پوچھو۔ وہ گیا اور قاضی ظہور الدین ا اظہار کیا۔ قاضی ظہور الدین کہنے لگے واقعی مولوی ہاں واقعی چاہتے ہیں۔ قاضی ظہور الدین نے حکیم ص کسی مولوی سے گفتگو کرنا نہیں چاہتے۔ اصغر علی ہو جو کئی سال تک مرزائی بلکہ مرزا کے خاص حواری ر ایک رسالہ چھپوایا تھا اور وہ شہر بھر میں مفت تقسیم کرار

بعنوان ”بارہواں مقابلہ ١٩٠٢ء جنگ نجیب دانی“ ش

”جب مرزائیوں کو مقدمہ میں شکست فا میں تک بندی لگانی شروع کر دی۔ فرط جوش غضب میں مولوی ثناء اللہ صاحب کو دل کھول کر گالیاں دینی شروع کر دی۔ اخیر میں جب اس سے مولوی اصغر علی صاحب روحی وغیرہ کو کوسنا شروع کی مگر اس قدر شاعرانہ انداز سے گرا ہوا ہے کہ اگر کو کر کوئی مصالحہ موزوں نہ ہوگا۔ بایں ہمہ مرزا قاد لوگوں کو بڑی عجلت کے ساتھ ویسا ہی جواب لکھنے پر روحی اور دیگر بزرگوں نے لکھا اور اخبارات میں نظر انداز کر دیا کہ غلط اشعار کا جواب کیا دیا جائے

پھر اسی کتاب میں آسی صاحب ١٢٢ اشعار نقل کئے ہیں اور ان کی غلطیاں نکالی کا نام آتا ہے۔ یعنی مولوی محمد حسین بٹالوی، مرحوم۔ وہ شعر یہ ہے۔

صفحہ ٢١

کے دعاوی باطلہ کے متعلق میں آپ سے گفتگو کرنا چاہتا ہوں۔ حکیم صاحب نے جواب میں لکھا کہ چونکہ آپ میرے پیر کی توہین کرتے ہیں اس لئے میں آپ سے گفتگو نہیں کرنا چاہتا۔ اس کے بعد شاید ١٩١٥ء میں حکیم صاحب لاہور آئے۔ روحی صاحب کے ایک شاگرد نے کہا کہ حکیم نورالدین آئے ہوئے ہیں۔ اگر آپ ان سے گفتگو کرنا چاہیں تو میں جا کر دریافت کروں؟ مولوی صاحب نے کہا ہاں جا کر پوچھو۔ وہ گیا اور قاضی ظہورالدین اکمل مرزائی متوطن گولیکی سے جا کر اس خواہش کا اظہار کیا۔ قاضی ظہورالدین کہنے لگے واقعی مولوی اصغر علی مناظرہ کرنا چاہتے ہیں؟ شاگرد نے کہا ہاں واقعی چاہتے ہیں۔ قاضی ظہورالدین نے حکیم صاحب سے اس کا ذکر کیا۔ انہوں نے فرمایا ہم کسی مولوی سے گفتگو کرنا نہیں چاہتے۔ اصغر علی ہو یا کوئی اور۔ اس وقت بابو عبد الحق اکاونٹنٹ نے جو کئی سال تک مرزائی بلکہ مرزا کے خاص حواری رہ کر تائب ہوئے تھے۔ مرزا قادیانی کے رد میں ایک رسالہ چھپوایا تھا اور وہ شہر بھر میں مفت تقسیم کر رہے تھے۔

بعنوان ”بارھواں مقابلہ ١٩٠٢ء جنگ غیب دانی“ میں لکھتے ہیں۔

”جب مرزائیوں کو مکہ میں شکست فاش ہوئی تو مرزا قادیانی کو بڑا طیش آیا اور عربی نظم میں بکواس بکنی شروع کر دی۔ فرط جوش غضب میں پانچ سو سے زیادہ شعر لکھ مارے۔ جن میں مولوی ثناء اللہ صاحب کو دل کھول کر گالیاں دیں اور جب وہ بخار نکل گیا تو اپنے دعاوی کی رٹ لگانی شروع کر دی۔ اخیر میں جب اس سے فارغ ہوئے تو پیر صاحب اور سید علی حائری اور مولوی اصغر علی صاحب روحی وغیرہ کو کوسنا شروع کر دیا...... یہ قصیدہ نام کو تو الہامیہ اور اعجازیہ ہے۔ مگر اس قدر شاعرانہ انداز سے گرا ہوا ہے کہ اگر کسی غلط شعر کا حوالہ دینا ہو تو اس قصیدے سے بڑھ کر کوئی مصالحہ موزوں نہ ہوگا۔ بایں ہمہ مرزا قادیانی نے اپنی ہمہ دانی کا یوں غرور دکھلایا تھا کہ لوگوں کو بڑی عجلت کے ساتھ ویسا ہی جواب لکھنے پر دعوت دی جس کا جواب مولوی اصغر علی صاحب روحی اور دیگر بزرگوں نے لکھا اور اخبارات میں شائع کیا اور عموماً اہل علم نے اس کو اس لئے نظر انداز کر دیا کہ غلط اشعار کا جواب کیا دیا جائے۔“

پھر اسی کتاب میں آسی صاحب نے میرزا صاحب کے قصیدۂ اعجازیہ سے ١٢٢ اشعار نقل کئے ہیں اور ان کی غلطیاں نکالی ہیں۔ ان اشعار میں شعر نمبر ٧٩ میں تین بزرگوں کا نام آتا ہے۔ یعنی مولوی محمد حسین بٹالوی، قاضی ظفر الدین مرحوم اور مولانا اصغر علی روحی مرحوم ۔ وہ شعر یہ ہے۔

صفحہ ٢٣
تفکر بجهدک خمس عشرة ليلة فتناد حسينا او ظفرا او اصغرا

مرزا غلام احمد قادیانی اپنے مخالفین کو اپنی مختلف تحریروں کے ذریعے خوب کوستے اور گالیاں تک بھی دیا کرتے تھے۔ چنانچہ اپنی کتاب انجام آتھم میں لکھتے ہیں: ”اب ہم ان مولوی صاحبوں کے نام ذیل میں لکھتے ہیں جن میں سے بعض تو اس عاجز کو کافر بھی کہتے ہیں اور مفتری بھی اور بعض کافر کہنے سے تو سکوت اختیار کرتے ہیں۔ مگر مفتری اور کذاب اور دجال نام رکھتے ہیں۔ بہرحال یہ تمام منکرین اور مکذبین مباہلہ کے لئے بلائے گئے ہیں اور ان کے ساتھ وہ سجادہ نشین بھی ہیں جو منکر یا مکذب ہیں۔ وہ لوگ جو مباہلہ کے لئے مخاطب کئے گئے ہیں یہ ہیں: مولوی نذیر حسین دہلوی، شیخ محمد حسین بٹالوی، مولوی رشید احمد گنگوہی، مولوی عبدالحق حقانی مفسر دہلوی، مولوی ثناء اللہ امرتسری، مولوی عبدالجبار غزنوی، مولوی اصغر علی لاہوری، مولوی عبدالواحد غزنوی، مولوی عبدالحق غزنوی، مولوی عبداللہ ٹونکی، حافظ عبدالمنان وزیر آبادی، مولوی دلدار علی الوری۔ یہ کل ٥٨ نام ہیں جن میں مولانا روحی کا نام نمبر ١٩ پر ہے۔ اس کے بعد سجادہ نشینوں کے ٤٨ نام ہیں جن میں ظہور الحسین صاحب گدی نشین بٹالہ، صادق علی صاحب گدی نشین وتر چہتر، مہر علی شاہ سجادہ نشین گولڑہ بھی شامل ہیں۔ اس کے بعد ایک خط شروع ہوتا ہے جو (انجام آتھم ص ٢٧٢ تا ٢٧٦) پر شائع ہوا۔ جو عربی میں ہے اور اس کے نیچے بین السطور فارسی ترجمہ کیا گیا ہے۔

اس خط کا عنوان یہ ہے: ”المکتوب الیٰ علماء الهند ومشائخ هذه البلاد وغيرها من البلاد الاسلامیہ“ اس کے بعد ایک ہمز یہ قصیدہ ہے۔ اس خط میں ”تسعة رهط من الاشرار“ کے زیر عنوان بعض علماء کو برا بھلا کہا گیا ہے۔ جن میں سے چند کے نام یہ ہیں:

مولوی رسل بابا پر دو صفحے (انجام آتھم ص ٢٣٦، ٢٣٧)، مولوی اصغر علی پر تین صفحے (انجام آتھم ص ٢٣٨ تا ٢٤٠)، مولوی محمد حسین پر ساڑھے دس صفحے (انجام آتھم ص ٢٤١ تا ٢٥١) اس کے بعد باقیوں پر ایک ایک یا دو دو سطریں دی گئی ہیں۔“

(ملاحظہ ہو انجام آتھم ص ٢٤١ تا ٢٥٢)

اس سلسلہ میں مرزا قادیانی نے مولانا اصغر کتاب (انجام آتھم ص ٢٣٨ تا ٢٤٠) پر موجود ہے۔ جس کا میں نے اشارہ کیا تھا ان میں سے ایک حقیر و ذلیل وہ آ آپ کو بڑا تصور کرتا ہے اور مجھ پر افتراء و ترک حیاء کی میں مجھ پر گالم گلوچ کرتا ہے۔ سو عنقریب اسے پتہ چل میں شمار کر لیا گیا ہے۔ وہ اپنی خواہشات کا پیروکار ہے سکتا۔ وہ چاہتا ہے کہ خواہشات کی مہروں کو توڑ دے، لذتوں کے پھلوں کو چن لے۔ اگرچہ حرام کردہ چیزوں کا ہے کہ اس کے رفقاء اس کے پاس جمع رہتے ہیں اور منافق گھٹیا طبیعتوں میں اور مستحکم ہو جاتا ہے۔ یہاں تک کہ جہ گیا ہے اور جس حربہ کے اختیار کرنے سے اس کا شیطان اس کا امتحان لوں، سو میں اس کی طرف محاربہ کے متلاشی (عالم) کے درمیان فرق واضح ہو جائے اور لڑائی کے ب آرزو کو پورا کرنے کے لئے ہم اسے خوش کرتے ہیں۔ ا مخاطب بنایا تھا۔ تاکہ اس کے دل پر آئے ہوئے بادل ک پاس ایسے آ، جیسے پانی اور گھاس کا متلاشی (جانور) ہوتا ہ ہم نے اگر تجھے تھوڑے سے برسنے والے بادل کی طر بلاغت ثابت ہوئی تو ہم تجھ پر اور تیرے حسن بیان پر یقین تیری عالی شان صفات ہم شائع کر کے پھیلا دیں گے۔ لئے جائز ہے کہ تو ہماری اور ہماری تحریر کی غلطیوں پر گر غافل سمجھتے ہیں۔ علاوہ ازیں ہم تجھے فصیح زبان کا مالک آپ کے لئے نکتہ چینی کی اجازت ہے۔ آپ کے علاوہ مجھ پر اور میری تحریر پر عیب جوئی اور طعنہ زنی کر سکتا ہے۔ میری تحریر کی غلطیاں نکالے گا) تو تجھے لوگوں کے مابین جائے گی۔ لیکن آپ یہ عیب جوئی تب کر سکتے ہیں کہ یہ لہٰذا یہ کمینے آدمی کا لباس ہو سکتا ہے جو حیاء سے نکل جاتا

صفحہ ٢٣

اس سلسلہ میں مرزا قادیانی نے مولانا اصغر علی روحی کے متعلق جو بدکلامی کی وہ اس کی کتاب (انجام آتھم ص ٢٣٨ تا ٢٤٠) پر موجود ہے۔ جس کا ترجمہ یہ ہے: ”اور جن نو آدمیوں کی طرف میں نے اشارہ کیا تھا ان میں سے ایک حقیر و ذلیل وہ آدمی ہے جس کا نام اصغر علی ہے اور وہ اپنے آپ کو بڑا تصور کرتا ہے اور مجھ پر افتراء اور ترک حیاء کی بناء پر عیب لگاتا ہے اور بھری مجالس و محافل میں مجھ پر گالم گلوچ کرتا ہے۔ سو عنقریب اسے پتہ چل جائے گا کہ (مجھے) کس طرح حقیر لوگوں میں شمار کر لیا گیا ہے۔ وہ اپنی خواہشات کا پیروکار ہے۔ ایک قدم بھی تقویٰ کے ساتھ نہیں چل سکتا۔ وہ چاہتا ہے کہ خواہشات کی مہروں کو توڑ دے۔ اگر چہ وہ گناہوں سے کیوں نہ ٹوٹیں اور لذتوں کے پھلوں کو چن لے۔ اگر چہ حرام کردہ چیزوں کا ارتکاب کر کے انہیں چنا جائے اور یہی وجہ ہے کہ اس کے رفقاء اس کے پاس جمع رہتے ہیں اور منافقوں کی صحبت سے تو نفاق ہی بڑھتا ہے اور گھٹیا طبیعتوں میں اور مستحکم ہو جاتا ہے۔ یہاں تک کہ چغل خوری میں اپنے بھائیوں سے آگے نکل گیا ہے اور جس حربہ کے اختیار کرنے سے اس کا شیطان دور ہو سکتا ہے۔ میں نے یہ اختیار کیا کہ اس کا امتحان لوں، سو میں اس کی طرف محاربہ کے متلاشی کی طرح متوجہ ہوا تا کہ جاہل اور فاضل (عالم) کے درمیان فرق واضح ہو جائے اور لڑائی کے لئے مجھے وہ خود بلا رہا ہے۔ لہٰذا آج اس کی آرزو کو پورا کرنے کے لئے ہم اسے خوش کرتے ہیں۔ جب کہ چند سال قبل بھی میں نے اسے اپنا مخاطب بنایا تھا۔ تا کہ اس کے دل پر آئے ہوئے بادل کو ہٹا دوں۔ سو میں نے اسے کہا کہ میرے پاس ایسے آ، جیسے پانی اور گھاس کا متلاشی (جانور) ہوتا ہے اور ہمارے دستر خوان سے نفع اٹھا، پھر ہم نے اگر تجھے تھوڑے سے برسنے والے بادل کی طرح پایا، یا تجھ سے قوت لا یموت جتنی بھی بلاغت ثابت ہوئی تو ہم تجھ پر اور تیرے حسن بیان پر یقین کر لیں گے اور ایمان لے آئیں گے اور تیری عالی شان صفات ہم شائع کر کے پھیلا دیں گے۔ اس (تمام تر تقریر) کے بعد اب تیرے لئے جائز ہے کہ تو ہماری اور ہماری تحریر کی غلطیوں پر گرفت کرے۔ جیسا کہ آپ ہمیں جاہل اور غافل سمجھتے ہیں۔ علاوہ ازیں ہم تجھے فصیح زبان کا مالک، اور عربی گفتگو میں یکتا سمجھتے ہیں۔ تبھی آپ کے لئے نکتہ چینی کی اجازت ہے۔ آپ کے علاوہ کسی اور کے لئے اجازت نہیں۔ لہٰذا تو ہی مجھ پر اور میری تحریر پر عیب جوئی اور طعنہ زنی کر سکتا ہے۔ اگر تو نے ایسا کیا (یعنی میرے عیوب اور میری تحریر کی غلطیاں نکالے گا) تو تجھے لوگوں کے مابین فاضل اور ادیب سمجھ کر تیری تعریف کی جائے گی۔ لیکن آپ یہ عیب جوئی تب کر سکتے ہیں کہ پہلے اپنا علم اور اپنی برتری تو ثابت کریں۔ لہٰذا یہ کمینے آدمی کا لباس ہو سکتا ہے جو حیاء سے نکل جاتا ہے اور نابینا کی عادت ہے کہ روشنی کو بھی

صفحہ ٢٥

نہیں دیکھ سکتا۔ وہ روشن دن کو بھی تاریک سمجھتا ہے اور بہت بڑی بارش کو بے پانی کا بادل شمار کرتا ہے۔ اگر تو اس میدان کے لوگوں میں سے ہے اور اس گھر کے خاص لوگوں میں سے ہے تو ہم پر نکتہ چینی کرنے سے پہلے اپنی انشاء پردازی کا کمال دکھا اور اس جیسی کتاب لے آ۔ پھر میرے اور اپنے درمیان کوئی بہت بڑا عقل مند آدمی منصف مقرر کر، پھر اگر وہ منصف تیرے کمال اور تیرے حسن بیان پر گواہی دے دے اور یقین کرائے کہ واقعی تیرا کلام میرے کلام سے عمدہ ہے اور تو اپنا نظام میرے نظام سے اچھا ثابت کر دکھائے تو پھر اس کے بعد تجھے اختیار ہوگا کہ تو میرے کلام کی حقیقت کو ایک بے کار فعل سمجھے اور بتلائے اور میرے خالص سونے کو کھوٹا سمجھے اور تجھے اختیار ہوگا کہ میرے چمکدار موتی کو رات کی تاریکی کی طرح تصور کرے اور میرے واضح بیان کو مٹے ہوئے راستے کی طرح خیال کرے اور میری لغزشوں کو کائنات عالم میں پھیلا دے اور اگر اس طرح نہ کر سکا اور ہرگز نہیں کر سکے گا تو پھر لعنت کرنے والوں کی لعنت سے ڈر۔

خبردار رہ! مجھ پر کمینے جنگجو کی طرح عیب مت لگا ...... اگر تو میرے ساتھ جنگ کرنے پر آمادہ ہے تو میدان جنگ میں نکل آ۔

اور بے شک تو مجھے تحقیر کرنے والے کی طرح یاد کرتا رہتا ہے...... اور ہر وقت ستانے والے کی طرح تو میری عیب گیری کرتا رہتا ہے۔

اور ہم تمام وہ باتیں سن لیتے ہیں جو تو ازراہ تکبر بیان کرتا ہے...... کیا تو میرے سبزہ کو خشک گھاس کی طرح گمان کرتا ہے۔

اور میں نہیں چاہتا کہ تو مجھ پر حملہ کرے لیکن تو نے مجھے خود دعوت دی ...... اور پتہ چلا کہ تو تو مجھ پر گرم سوئی چبھونے والے کی طرح عیب گیری کرتا ہے۔

اور اے تکبر کے بیٹے اس معاملہ میں جو تو حد سے گزر گیا کوئی نیکی نہیں ...... اور میرا خدا کمینے جنگ کرنے والے کو اندھا کر دیتا ہے۔

پس ہلاک کرنے والے نفس کو مضبوط پکڑ ...... اور ان اندھا پن کی راہوں سے بچ جو ایک چیز کے جدا ہونے کی طرح اچانک تجھے پکڑے گی۔

پس گمراہی کے راستے کو اختیار مت کر ...... اور اس مصیبت سے جو تجھ پر آنے والی ہے غمگین ہو اور پختہ دل سے توبہ کر۔“

(ترجمہ عربی عبارت از قلم مرزا قادیانی مندرجہ انجام آتھم ص ٢٤٨ تا ٢٦٠، خزائن ج ١١ ص ایضاً)

کتاب (انجام آتھم ص ١٦٣، ١٦٢) پر یہ عبارت پائی جاتی ہے: ”فان یبق احد منکم

سالماً الى سنة فاقر باني كاذب واجهنكم وا الأمر بخلوص نية واحسب انكم من الصاد ”پھر اگر تم میں سے کوئی ایک بھی ایک میں جھوٹا ہوں اور میں عاجزی و توبہ لے کر تمہارے س گا اور اس فیصلہ کو خلوص نیت کے ساتھ میں شائع کر دوں مولانا اصغر علی روحی ایسے بزرگ رہنما و بدزبانی و بدکلامی مرزا قادیانی نے کی اس کا آپ مطا احمدی ص ٣٩، ٨٦، خزائن ج ١٩ ص ١٦٠، ص ١٩٩) پر بھی مر لکھنے کا چیلنج دیا۔ مولانا اصغر علی روحی نے قلم اٹھایا ا بعنوان ”وقال فی بعض المتعنتین“ لکھ دیا۔

جناب رانا محمد ذو الفقار صاحب نے اہ تک اس قصیدہ کو جمع کر دیا ہے۔ یہاں پر پہنچ کر ما امیر اور حضرت قطب الارشاد شاہ عبد القادر رائے بہت ہی اور بے تحاشا یاد آ رہے ہیں۔ آپ نے اپن مرکزی لائبریری کے لئے عنایت فرمائی اور پھر فقیر ک محمود الحسن عارف سے کہہ کر ارسال فرمایا۔ سالہا سال رکھے رہے۔ ”قصیدہ رائیہ“ مولانا ظفر الدین بہا اب استاذ (حضرت مولانا قاضی ظفر الدین) ان قصیدوں کو اس جلد میں شائع کرنے کی سعادت سے اَوَّلاً وَّ آخِراً!

حضرت مولانا شاہ حکیم غنیمت حسین اش مولانا سید محمد علی مونگیری کے قائم کردہ رحمانیہ پری کے نام سے کتاب شائع ہوئی۔ اس میں مرزا قادی کئی غلطیاں نکال کر مرزا قادیانی کے اعجاز کو باطل ث کرنے کی سعادت حاصل کر رہے ہیں۔

صفحہ ٢٥

سالما الى سنة فاقر بانی كاذب واجيئكم بعجز وتوبة واحرق كتبى واشيع هذا الأمر بخلوص نية واحسب انكم من الصادقين“

”پھر اگر تم میں سے کوئی ایک بھی ایک سال تک زندہ رہ گیا تو میں اقرار کرلوں گا کہ میں جھوٹا ہوں اور میں عاجزی و توبہ لے کر تمہارے سامنے آجاؤں گا اور اپنی تمام کتابیں جلا ڈالوں گا اور اس فیصلہ کو خلوص نیت کے ساتھ میں شائع کر دوں گا اور میں یقیناً سمجھوں گا کہ تم سچے ہو۔“

مولانا اصغر علی روحی ایسے بزرگ رہنما، عالم ربانی اور فاضل اجل علامہ کے خلاف جو ہذیانی و بد کلامی مرزا قادیانی نے کی اس کا آپ مطالعہ کر چکے۔ مرزا قادیانی نے اپنے قصیدہ (اعجاز احمدی ص ٣٩، ٨٦، خزائن ج ١٩ ص ١٦٠، ص ١٩٨) پر بھی مولانا اصغر علی کو بھی اپنے قصیدہ کے مقابلہ قصیدہ لکھنے کا چیلنج دیا۔ مولانا اصغر علی روحی نے قلم اٹھایا اور ارتجالاً ایک سو سات اشعار پر مشتمل قصیدہ بعنوان ”وقال فى بعض المتنبئين “ لکھ دیا۔

جناب رانا محمد ذوالفقار صاحب نے اپنے پی ایچ ڈی کے مقالہ کی ج ٢ ص ٣٥٧ تا ٣٦١ تک اس قصیدہ کو جمع کر دیا ہے۔ یہاں پر پہنچ کر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے بزرگ رہنما و نائب امیر اور حضرت قطب الارشاد شاہ عبدالقادر رائے پوری کے خلیفہ اجل، حضرت سید نفیس الحسینی بہت ہی آج بے تحاشا یاد آ رہے ہیں۔ آپ نے اس مقالہ کی مکمل فوٹو کاپی مجلس تحفظ ختم نبوت کی مرکزی لائبریری کے لئے عنایت فرمائی اور پھر فقیر کی درخواست پر اس قصیدہ کا ترجمہ حضرت ڈاکٹر محمود الحسن عارف سے کرا کر ارسال فرمایا۔ سالہا سال سے یہ قصیدہ اور اس کے ترجمہ کے کاغذات رکے رہے ۔ ”قصیدہ رائیہ “ مولانا ظفر الدین پروفیسر اورینٹل کالج لاہور کی تلاش تھی۔ وہ ملا تو، اب استاذ (حضرت مولانا قاضی ظفر الدین) اور شاگرد (حضرت مولانا اصغر علی روحی) کے قصیدوں کو اس جلد میں شائع کرنے کی سعادت سے سرفراز ہو رہے ہیں۔ فالحمد لله تعالیٰ اولاً وآخراً!

حضرت مولانا شاہ حکیم نعمت حسین اشرفی ساکن مخدوم مونگیر کی ١٣٣٣ھ میں حضرت مولانا سید محمد علی مونگیری کے قائم کردہ رحمانیہ پریس مونگیر سے ”ابطال اعجاز مرزا (حصہ اوّل)“ کے نام سے کتاب شائع ہوئی۔ اس میں مرزا قادیانی کے قصیدہ اعجازیہ کے ایک ایک شعر سے کئی کئی غلطیاں نکال کر مرزا قادیانی کے اعجاز کو باطل کر دیا گیا ہے۔ یہ کتاب بھی اس جلد میں شائع کرنے کی سعادت حاصل کر رہے ہیں۔

صفحہ ٢٧

یہ کتاب بھی حضرت مولانا شاہ غنیمت حسین اشرفی ساکن چک مخدوم مونگیر کی ہے جو ١٣٣١ھ میں لکھی گئی اور ١٣٣٧ھ میں مطبع انتظامی کانپور سے شائع ہوئی۔ مصنف نے ٹائٹل پر خود اس کا یہ تعارف تحریر فرمایا ہے: ”اس کتاب میں مرزا غلام احمد قادیانی کے قصیدہ اعجازیہ کے مقابلہ میں حسب وعدہ ایک عربی میں فصیح و بلیغ قصیدہ جوابیہ پیش کیا گیا ہے۔ جسے حضرات اہل علم ملاحظہ فرما کر خوش ہوں گے اور مرزا کے جھوٹے اعجاز کی داد دیں گے اور تمہید میں مرزا قادیانی کے موٹے موٹے اور سیاہ جھوٹ دکھائے گئے ہیں۔ جسے دیکھ کر ناظرین خیال کر سکتے ہیں کہ ایک مدعی نبوت کے شان کے یہ کس قدر بعید اور خلاف ہے۔ پھر اس کے بعد دکھایا گیا ہے کہ کن وجوہ سے یہ قصیدہ مرزا قادیانی کے قصیدہ پر فائق ہے۔“ مولانا حکیم شاہ غنیمت حسین کے تفصیلی حالات نہ مل سکے۔ جس کا افسوس ہے۔ ملنے پر آئندہ اشاعت میں تلافی کی جائے گی۔

یہ رسالہ ١٣٣٦ھ میں پہلی بار شائع ہوا۔ آج ان سطور کی تحریر کے وقت ١٤٣٥ھ ٹھیک ایک سو سال بعد پھر اس رسالہ کی اشاعت ثالث کا اہتمام ہو رہا ہے۔ اس کی اشاعت ثانی (احتساب قادیانیت ج٧ ص ٤٥٣ سے ٤٦٣) تک ہوئی تھی۔ اب دوبارہ احتساب کی اس جلد میں تلخیص قلیل کے بعد شامل کیا جا رہا ہے۔ تاکہ ”کذاب قادیان“ کے قصیدہ کے جواب میں جو کچھ لکھا گیا وہ ایک ساتھ محفوظ ہو جائے۔

یہ رسالہ حضرت مولانا سید محمد علی مونگیری کی تصنیف لطیف ہے۔ حضرت مونگیری سادات میں سے تھے۔ آپ کا سلسلہ نسب پچیسویں پشت میں حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی سے ملتا ہے۔ حضرت شاہ بہاء الحق ملتانی کے صاحبزادہ شاہ ابوبکر چرم پوش تھے۔ جو ہندوستان کے ضلع مظفر نگر کے قصبہ کھتولی میں آ کر آباد ہوئے۔ شاہ ابوبکر چرم پوش آسمان ولایت کے نیر تاباں تھے۔ وہ فرماتے تھے کہ میری نسل کبھی ولایت سے خالی نہ ہوگی۔ شاہ ابوبکر سے سید محمد علی مونگیری تک تو یہ بات سو فیصد چشم حقیقت سے دنیا نے دیکھی۔ شاہ ابوبکر، حضرت مونگیری کے گیارھویں جد امجد ہیں۔ حضرت مونگیری ٣؍ شعبان ١٢٦٢ھ مطابق ٢٨؍ جولائی ١٨٤٦ء کو کانپور میں سید عبدالعلی کے گھر پیدا ہوئے۔ ولادت کے دو سال بعد والد گرامی کا وصال ہو گیا۔ آپ کے دادا سید شاہ غوث علی ابتدائی زمانہ میں آپ کے کفیل رہے۔ قرآن مجید اپنے چچا سید ظہور علی سے پڑھا۔

ابتدائی فارسی کتب سید عبدالواحد بلگرامی سے پڑھیں۔ در (م:١٣٣٤ھ) جو استاذ الاساتذہ ہند تھے اور مولانا ا (م:١٢٧٩ھ) سے کی۔ دورہ حدیث شریف مولانا احمد مختلف حضرات کے زیر صحبت رہے۔ بیعت حضرت مولا ایک بار گھوڑے پر حضرت شاہ فضل الرحمٰن کو ملنے گئے۔ پکا جو ہے بھجوا دو۔ چند سیر چنے کچے آئے۔ حضرت شاہ ف میں تین لپیں چنوں کی بھر کر ڈالیں اور فرمایا کہ یہ دنیا ہم حضرت گنج مراد آبادیؒ نے چاہا پھر حضرت مونگیریؒ کو د دیا۔ حضرت مولانا شاہ فضل الرحمٰن گنج مراد آبادی سے احمد علی محدث سہارنپوریؒ سے کیا۔ پھر شاہ فضل الرحمٰن نقشبندیہ قادریہ میں خلافت سے بھی سرفراز فرمایا۔ حضرت مونگیریؒ نے عرصہ تک پڑھایا۔ ط العلماء کے بانی تھے۔ آپ نے بڑا کتب خانہ تیار کیا ۔ کا صدقہ جاریہ ہے۔ ندوۃ العلماء کا قیام ١٨٩٢ء کے مونگیریؒ اس ندوۃ العلماء کے ناظم اعلیٰ قرار پائے۔ مرزا قادیانی نے ١٩٠٢ء میں رسالہ تحفۃ ال مونگیر و بھاگل پور کے اضلاع میں قادیانیوں نے سر ا یورش بڑھی۔ اب ندوۃ العلماء سے فراغت حاصل کر ١٩١١ء میں یہاں قادیانیوں سے مناظرہ ہوا۔ علامہ ا علامہ شبیر احمد عثمانی، مولانا عبدالوہاب بہاری، مولا جماعت مونگیر آئی۔ خانقاہ مونگیر میں علماء کی یہ برات نور الدین، سرور شاہ، روشن علی شاہ ملاعنہ ثلاثہ آئے مناظر قرار پائے۔ مناظرہ شروع ہوا۔ حضرت مونگیر کی پہلی تقریر کے بعد قادیانی کرسیاں سروں پر اٹھا تب حضرت مونگیریؒ نے سجدہ سے سر اٹھایا۔ اب حضرت کام کو تیز کر دیا۔ قادیانیت کے خلاف کام کرنے کو آ

صفحہ ٢٧

ابتدائی فارسی کتب سید عبد الواحد بلگرامی سے پڑھیں۔ درسیات کی تکمیل مولانا لطف اللہ علی گڑھی (م: ١٣٣٤ھ) جو استاذ الاساتذہ ہند تھے اور مولانا عنایت احمد کاکوروی مصنف علم الصیغہ (م: ١٢٧٩ھ) سے کی۔ دورہ حدیث شریف مولانا احمد علی سہارنپوریؒ (م: ١٢٩٧ھ) سے کیا۔ مختلف حضرات کے زیر صحبت رہے۔ بیعت حضرت مولانا شاہ فضل الرحمٰن گنج مراد آبادیؒ سے کی۔ ایک بار گھوڑے پر حضرت شاہ فضل الرحمٰنؒ کو ملنے گئے۔ واپسی پر آپ نے گھر پیغام بھیجا کہ کچھ کچا یا پکا جو ہے بھجوا دو۔ چند سیر چنے کچے آئے۔ حضرت شاہ فضل الرحمٰنؒ نے حضرت مونگیریؒ کے رومال میں تین لپیں چنوں کی بھر کر ڈالیں اور فرمایا کہ یہ دنیا ہم نے آپ کو دی اور پھر پان منگوایا۔ پہلے خود حضرت گنج مراد آبادیؒ نے چبایا پھر حضرت مونگیریؒ کو دیا اور پھر فرمایا کہ یہ پان عرفان تھا جو آپ کو دیا۔ حضرت مولانا شاہ فضل الرحمٰن گنج مراد آبادیؒ سے بیعت کے بعد دورہ حدیث شریف مولانا احمد علی محدث سہارنپوریؒ سے کیا۔ پھر شاہ فضل الرحمٰنؒ نے بھی حدیث کی اجازت دی اور سلسلہ نقشبندیہ قادریہ میں خلافت سے بھی سرفراز فرمایا۔

حضرت مونگیریؒ نے عرصہ تک پڑھایا۔ طالب علموں کا خوب رجوع ہوا۔ آپ ندوۃ العلماء کے بانی تھے۔ آپ نے بڑا کتب خانہ تیار کیا۔ جو اب دارالعلوم ندوۃ العلماء لکھنؤ میں آپ کا صدقہ جاریہ ہے۔ ندوۃ العلماء کا قیام ١٨٩٢ء کے جلسہ مدرسہ فیض عام کانپور میں ہوا۔ مولانا مونگیریؒ اس ندوۃ العلماء کے ناظم اعلیٰ قرار پائے۔

مرزا قادیانی نے ١٩٠٢ء میں رسالہ تحفۃ الندوہ لکھا۔ حضرت مونگیریؒ نے توجہ نہ دی۔ مونگیر، بھاگل پور کے اضلاع میں قادیانیوں نے سرگرمیاں دکھائیں اور پھر بہار میں بھی قادیانی یورش بڑھی۔ اب ندوۃ العلماء سے فراغت حاصل کر کے حضرت مونگیریؒ مونگیر تشریف لائے۔ ١٩١١ء میں یہاں قادیانیوں سے مناظرہ ہوا۔ علامہ انور شاہ کشمیریؒ، مولانا مرتضیٰ حسن چاند پوریؒ، علامہ شبیر احمد عثمانیؒ، مولانا عبد الوہاب بہاریؒ، مولانا ابراہیم میر سیالکوٹیؒ ایسے چالیس علماء کی جماعت مونگیر آئی۔ خانقاہ مونگیر میں علماء کی یہ برات، عجیب رنگ تھا۔ قادیانیوں کی طرف سے نور الدین، سرور شاہ، روشن علی شاہ ملاعین ثلاثہ آئے۔ اہل اسلام کی جانب سے مولانا مرتضیٰ حسن مناظر قرار پائے۔ مناظرہ شروع ہوا۔ حضرت مونگیریؒ نے سر سجدہ میں رکھ دیا۔ مولانا مرتضیٰ حسن کی پہلی تقریر کے بعد قادیانی کرسیاں سروں پر اٹھائے لوٹ گئے۔ اہل اسلام کو جب فتح ہوئی۔ تب حضرت مونگیریؒ نے سجدہ سے سر اٹھایا۔ اب حضرت مونگیریؒ نے دن رات قادیانیت کے خلاف کام کو تیز کر دیا۔ قادیانیت کے خلاف کام کرنے کو آپ جہاد بالسیف کے برابر قرار دیتے تھے۔ تہجد

صفحہ ٢٩

کا وقت بھی قادیانیت کے خلاف کتابوں کی تصنیف و تالیف میں صرف ہونے لگا۔

خطوط کے ذریعہ تمام مریدین کو اس کام کی طرف متوجہ فرمایا۔ مولانا فرماتے تھے کہ قادیانیت کے خلاف اتنا لکھو اور طبع کراؤ اور اس طرح تقسیم کرو کہ ہر مسلمان جب صبح سو کر اٹھے تو اپنے سرہانے رد قادیانیت کی کتاب پائے۔ حق یہ ہے کہ مولانا نے اس پر عمل کر کے دکھایا۔ ان کے جہاد مسلسل نے قادیانیت کو وہ چرکے لگائے کہ قادیانیت تلملا اٹھی۔ فقیر راقم، اللہ رب العزت کے حضور سجدہ شکر بجالاتا ہے کہ فقیر راقم نے احتساب کی دو جلدوں میں حضرت مونگیریؒ کے اور پھر مختلف جلدوں میں خانقاہ مونگیر کے قریباً تمام رسائل کو دوبارہ شائع کرنے کی سعادت حاصل کی ہے۔ ٩ ربیع الاول ١٤٠٦ھ مطابق ١٣ ستمبر ١٩٨٥ء زوال آفتاب کے قریب آپ کا آفتاب زندگی غروب ہوا۔ فقیر کی سعادت ہے کہ اب اس جلد میں ”حقیقت رسائل اعجازیہ“ کے نام کا پمفلٹ دوبارہ طبع ہو رہا ہے۔ مکمل جلد سات میں موجود ہے۔

٨/٩....... شہباز محمدی بجواب اعجاز احمدی:

مولانا میر محمد ربانی کا ارائیں فیملی سے تعلق تھا۔ والد کا نام مولانا غلام رسول تھا۔ ١٩٠٣ء میں بستی ارائیں موضع ہیراں بیلہ حاجی پور نزد ظاہر پیر ضلع رحیم یار خان میں پیدا ہوئے۔ علاقہ کے عالم دین مولانا غلام محمد لاشاری سے ابتدائی تعلیم حاصل کی۔ صرف و نحو حضرت مولانا اللہ بخش میانوالی شیخاں سے پڑھی جو امام الصرف والنحو مولانا غلام رسول پونوی کے شاگرد تھے۔ وسطانی تعلیم مولانا قادر بخش صاحب بستی کالونزد کچی عباسیاں سے حاصل کی۔ مولانا قادر بخش، حضرت مدنی الہند کے شاگرد تھے۔ مولانا میر محمد ربانی دین پور شریف بھی پڑھتے رہے۔ پھر اعلیٰ تعلیم کے لئے جامعہ عباسیہ بہاول پور میں داخلہ لیا اور جامعہ عباسیہ کی سب سے اعلیٰ ڈگری ”علامہ“ حاصل کی۔

جامعہ عباسیہ میں مولانا غلام محمد گھوٹوی، مولانا محمد صادق بہاول پوری، مولانا احمد علی بہاول پوری ایسے یگانہ روزگار حضرات سے آپ نے کسب فیض کیا۔ فراغت کے بعد پھر یہاں پڑھانے لگ گئے۔ کہتے ہیں کہ اگست ١٩٣٢ء میں قادیانی، مسلم کیس میں بیان دینے کے لئے جب مولانا سید محمد انور شاہ کشمیریؒ بہاول پور تشریف لائے تو جامعہ عباسیہ کے اساتذہ حضرات نے مولانا رحمت اللہ ارشد کے ساتھ مولانا میر محمد ربانی کی بھی ڈیوٹی لگائی تھی اور آپ نے بھی حضرت شاہ صاحب کا عدالت میں بیان قلمبند فرمایا تھا۔

جامعہ عباسیہ سے ”علامہ“ پنجاب یونیورسٹی سے ”منشی فاضل“ اور ”مولوی فاضل“ کے امتحانات پاس کئے۔ طب یونانی اور ہومیو پیتھی کے بھی کورس کئے۔ ہارون آباد، ترنڈہ سوائے خاں،

رکن پور وغیرہ کے سکولوں میں پڑھاتے رہے۔ ١٩٥٧ء میں ہوئے۔ بڑے کامیاب مدرس تھے۔ عربی ادب ان کا خاص ذوق خواجہ ابو طالب کی آپ نے شرح لکھی۔

مرزا قادیان کی کتاب اعجاز احمدی کے مقابلہ میں اپنی حیات میں فقیر راقم کو فون کیا کہ یہ قصیدہ حضرت مولانا محمد ہے۔ اسے شائع کرانا ہے۔ فقیر نے نامعلوم کیا جواب د فرمائیں۔ کچھ عرصہ بعد معلوم ہوا کہ وہ اس کی کتابت کرار آپ وصال فرما گئے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون! کسی جلسہ پر ان ک سے ملاقات ہوئی تو ان سے عرض کیا کہ وہ مسودہ بھجوا دیں تو فق کیا کہ وقت مقرر کریں کتنے عرصہ میں شائع کریں گے؟ فقی ہمارے لئے مشکل امر ہے۔ آپ مسودہ دے دیں۔ محفوظ رہ بھی ہو جائے گا۔ اس پر وہ آمادہ نہ ہوئے۔

اس پر بہت عرصہ بیت گیا۔ پھر کہیں ملاقات ہوئی ت نے اس کا فوٹو کرایا۔ پھر عرصہ بعد دوبارہ انہوں نے اصل م واپس کر دیا ہے۔ وہ فرمائیں کہ نہیں۔ ایک دن ان کے تکرار پ میں وہ مسودہ مل گیا۔ موصوف کو بھجوا دیا۔ فوٹو کاپی تو موجود تھی ا قصیدہ کے جواب میں امت نے جو قصائد لکھے ہیں وہ تمام ا گے تاکہ مرزا قادیانی کے قصیدہ کے جوابات ایک جلد میں محفو کر دیا جائے کہ قادیانیوں کی بولتی ہی نہیں تھوتھنی بھی بند کر دی جا تمام قصائد یکجا ہو گئے تھے۔ البتہ حضرت مولانا م رانیہ بجواب قصیدہ مردانیہ“ کی اقساط مکمل نہ ہو رہی تھیں۔ با نے کرم فرمایا۔ وہ بھی مل گیا تو اب تمام قصائد کو ترتیب دی۔ م کے حوالہ سے آخری قصیدہ ہے تو اس کتاب میں سب سے آ حاصل ہو رہی ہے۔ اس قصیدہ کو آپ ”مسک الختام“ قرار دی

صفحہ ٢٩

رکن پور وغیرہ کے سکولوں میں پڑھاتے رہے۔ ١٩٥٧ء میں مڈل سکول رکن پور سے ریٹائر ہوئے۔ بڑے کامیاب مدرس تھے۔ عربی ادب ان کا خاص ذوق تھا۔ دیوان حسان اور قصیدہ لامیہ خواجہ ابوطالب کی آپ نے شرح لکھی۔

مرزا قادیانی کی کتاب اعجاز احمدی کے مقابلہ میں قصیدہ لکھا اور کمال کر دیا۔ آپ نے اپنی حیات میں فقیر راقم کو فون کیا کہ یہ قصیدہ حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی نے ملاحظہ فرمالیا ہے۔ اسے شائع کرانا ہے۔ فقیر نے نامعلوم کیا جواب ہانکا ہوگا۔ اللہ رب العزت معاف فرمائیں۔ کچھ عرصہ بعد معلوم ہوا کہ وہ اس کی کتابت کرا رہے ہیں۔ اتنے میں ٦ دسمبر ١٩٩٢ء کو آپ وصال فرما گئے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون کسی جلسہ پر ان کے صاحبزادہ غالباً حافظ مشتاق الحسن سے ملاقات ہوئی تو ان سے عرض کیا کہ وہ مسودہ بھجوا دیں تو شائع کر دیں گے۔ انہوں نے اصرار کیا کہ وقت مقرر کریں کتنے عرصہ میں شائع کریں گے؟ فقیر نے عرض کیا کہ مشروط اشاعت تو ہمارے لئے مشکل امر ہے۔ آپ مسودہ دے دیں۔ محفوظ رہے گا۔ اللہ تعالیٰ کو منظور ہے تو شائع بھی ہو جائے گا۔ اس پر وہ آمادہ نہ ہوئے۔

اس پر بہت عرصہ بیت گیا۔ پھر کہیں ملاقات ہوئی تو انہوں نے وہ مسودہ بھجوا دیا۔ فقیر نے اس کا فوٹو کر لیا۔ پھر عرصہ بعد دوبارہ انہوں نے اصل مسودہ طلب کیا۔ فقیر کا خیال تھا کہ وہ واپس کر دیا ہے۔ وہ فرمائیں کہ نہیں۔ ایک دن ان کے تکرار و اصرار پر تلاش شروع کی تو مسودات میں وہ مسودہ مل گیا۔ موصوف کو بھجوا دیا۔ فوٹو کاپی تو موجود تھی۔ خیال یہی تھا کہ مرزا قادیانی کے قصیدہ کے جواب میں امت نے جو قصائد لکھے ہیں وہ تمام جمع ہو جائیں تو ان کو یکجا شائع کریں گے تا کہ مرزا قادیانی کے قصیدہ کے جوابات ایک جلد میں محفوظ ہو جائیں اور پھر یہ باب ایسے مکمل کر دیا جائے کہ قادیانیوں کی بولتی ہی نہیں تھوتھنی بھی بند کر دی جائے۔

تمام قصائد یکجا ہو گئے تھے۔ البتہ حضرت مولانا قاضی ظفر الدین صاحب کا ”قصیدہ رائیہ بجواب قصیدہ مرزائیہ“ کی اقساط مکمل نہ ہو رہی تھیں۔ بلا مبالغہ اس پر بہت وقت لگا۔ حق تعالیٰ نے کرم فرمایا۔ وہ بھی مل گیا تو اب تمام قصائد کو ترتیب دی۔ مولانا میر محمد ربانی کا قصیدہ سن تصنیف کے حوالہ سے آخری قصیدہ ہے تو اس کتاب میں سب سے آخر پر اسے شائع کرنے کی سعادت حاصل ہو رہی ہے۔ اس قصیدہ کو آپ ”مسک الختام“ قرار دے سکتے ہیں کہ یہ اس کا حق ہے۔

صفحہ ٣٠

اب جب قصائد کی دوبارہ کمپوزنگ کرائی تو مولانا میر محمد ربانی کے حالات معلوم کرنے کی ضرورت پیش آئی۔ استاذ العلماء شیخ التفسیر حضرت مولانا منظور احمد نعمانی ظاہر پیر والوں کے صاحبزادہ مولانا محمد ساجد صاحب نے کمال مہربانی سے ایک ورق پر مشتمل معلومات مہیا کر دیں۔ فللہ الحمد للہ !

دیکھئے ! جب جوانی تھی تو ظاہر پیر جا کر مولانا میر محمد صاحب ربانی کی قبر مبارک پر حاضر نہیں ہو سکا۔ اب بڑھاپا ہے تو ان سطور کو تحریر کرتے وقت دل مضطرب ہے۔ اللہ رب العزت کو منظور ہے تو ان کے ایصال ثواب ودعا کے لئے ان کے مزار مبارک پر حاضر ہوں گا۔ نہ جا سکا تو آخرت میں تو ملنا یقینی ہوگا کہ ان کی علمی تصنیف پہلی بار اہل علم کی خدمت میں پیش کرنے کی سعادت، اللہ تعالیٰ نے نصیب فرمادی ہے۔ مؤلف مرحوم سے یہی نسبت انشاء اللہ فقیر کے لئے توشئہ آخرت ہے۔ شہباز محمدی کے علاوہ ”مکتوبات ربانیہ“ جو قادیانیت کے رد پر مشتمل ہے وہ بھی اسی شہباز محمدی میں مصنف نے سمودی ہے۔

احتساب قادیانی کی جلد نمبر ٥٩ میں ذیل کے حضرات کے اس ترتیب سے رسائل جمع ہو گئے:

....................................................................................... گویا کل سات حضرات کے ٨ قصائد ورسائل

اس جلد میں جمع ہو گئے ہیں۔ یاد رہے کہ مولانا پیر مہر علی شاہ گولڑویؒ نے مرزا قادیانی کے قصیدہ کی مستقل تصنیف میں کیا درگت بنائی کہ مرزا کو دن میں تارے نظر آنے لگے۔ وہ کتاب عام مل جاتی ہے۔ دیگر حضرات نے بھی مرزا قادیانی کے قصیدہ کی اغلاط پر خامہ فرسائی کی۔ سب کو جمع کرنا تو مشکل تھا، جتنا یکجا ہو گیا اسے اپنے لئے سعادت سمجھتا ہوں۔ حق تعالیٰ شانہ اپنے لطف وکرم سے اس خدمت کو شرف قبولیت سے سرفراز فرمائیں۔ امین بحرمۃ النبی الکریم!

محتاج دعاء: فقیر اللہ وسایا ! ١٢/ ذی الحجہ ١٤٣٥ھ بمطابق ٨/ اکتوبر ٢٠١٤ء

خاتم النبیین

میں آخری نبی ہوں، میرے

مولانا فیضی

قصیدہ

حضرت مولانا محمد

PDF 32

خاتم النبيين لا نبي بعدي

صلی اللہ علی النبی الامی وآلہ وسلم

مولانا فیضی کا

قصیدہ مہملہ

حضرت مولانا محمد حسن فیضیؒ

صفحہ ٣٣

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

قصیدہ مہملہ منظومہ مولانا فیضی مرحوم

موضع بھیں تحصیل و ضلع چکوال میں ایک بے نظیر فاضل ابوالفیض مولوی محمد حسن صاحب فیضی تھے۔ جن کی پیدائش ١٨٦٠ء ہے۔ بھیں کو آپ کے مولد ہونے کا اعزاز حاصل ہے۔ حضرت مولانا قاضی کرم الدین دبیر کے چچا زاد بھائی اور بہنوئی تھے۔ علوم عقلی و نقلی کے بحر طمطام تھے۔ حق تعالیٰ نے جملہ علوم عربیہ کا آپ کو فاضل بنایا تھا۔ عربی زبان پر اتنی بھر پور دسترس تھی کہ سن کر عقل دنگ ہوتی ہے۔ مرزا قادیانی کے بقول اس کا قصیدہ ”اعجاز احمدی“ موضع امرتسر کے مناظرہ اکتوبر ١٩٠٢ء کے بعد لکھا گیا۔ جب کہ مولانا محمد حسن فیضی مرزا قادیانی کو ١٣؍ فروری ١٨٩٩ء (گویا اعجاز احمدی کی طباعت سے ٤ سال قبل) میں عربی دانی میں چیلنج کر کے ذلت آمیز شکست سے دوچار کر چکے تھے۔ مولانا کرم الدین دبیرؒ نے اپنی شہرہ آفاق کتاب ”تازیانہ عبرت“ میں اس سلسلہ کی تفصیلات قلم بند کی ہیں جو یہ ہیں: ”مولوی (محمد حسن فیضی) صاحب موصوف تقدیر الٰہی سے ١٨ اکتوبر ١٩٠١ء کو اس جہان فانی سے راہی عالم جاودانی ہوگئے۔ جب مرزا قادیانی کو فاضل مرحوم کی وفات کی خبر پہنچی تو آپ حسب عادت خلاف واقعہ علمی دنیا میں ڈینگ مارنے لگے کہ فاضل مرحوم ان کی بددعا سے بہت بری موت فوت ہوئے ہیں اور مرزا قادیانی کی پیش گوئی اور الہام کا نشانہ ہوئے ہیں۔ یہ مضامین آپ نے ”کشتی نوح، تحفہ ندوہ، نزول المسیح“ اپنی تصانیف میں خود بھی شائع کئے اور اپنے راسخ الاعتقاد مرید ایڈیٹر الحکم قادیاں سے بھی اخبار میں شائع کرائے۔“

فاضل مرحوم سے مرزا قادیانی کی ناراضگی

یہ امر کہ مرزا قادیانی کا فاضل مرحوم نے کیا نقصان کیا تھا؟ اور کیوں ان کو بلاوجہ ہدف دشنام بنایا؟ اور کیوں ان کو برا بھلا کہنے پر مستعد ہوئے۔ واضح ہو کہ فاضل مرحوم ایک مہذب اور عالی ظرف تھے۔ باوجود اس کے کہ مرزا قادیانی کے عقائد کے مخالف تھے۔ کبھی کسی تحریر یا تقریر میں آپ نے مرزا قادیانی سے اختلاف ظاہر کرتے ہوئے کبھی بھی سخت کلامی نہ کی تھی۔ ان سے قصور صرف یہ سرزد ہوا کہ ایک دفعہ حسب تجویز چند اکابر اسلام آپ سیالکوٹ میں مرزا قادیانی سے جاملے اور آپ (مرزا) کے علمی کمالات (جن کا ان کو ہمیشہ دعویٰ رہتا تھا) کی قلعی یوں کھولی کہ ایک بے نقط قصیدہ عربیہ منظومہ خود مرزا قادیانی کے پیش کیا کہ آپ اس کا جواب دیں۔ مرزا قادیانی سخت ٢

گھبرائے اور کچھ نہ سمجھ سکے کہ قصیدہ میں کیا لکھا ہے، نہ کوئی مرحوم مرزا قادیانی سے بے اعتقاد ہوکر واپس آئے اور اخبا دی اور وہ قصیدہ بھی ایک اسلامی رسالہ انجمن نعمانیہ لاہور قریباً ٦ سال کا عرصہ گزر چکا ہے۔ اب تک مرزا قادیانی یا طاقت نہ ہوئی اور نہ ہی اس کیفیت کی جو اخبارات میں شا (سچی بات کی تردید کیا کرتے؟) ہم مناسب سمجھتے ہیں کہ وہ ناظرین، مرحوم کی علمی فضیلت کا اندازہ اس قصیدہ سے لگا کے مدعی اعجازی کلام کے قصائد سے مقابلہ کرنے سے ہر دو و بلاغت میں وزن کر سکیں گے اور بمصداق ”مشک آن است خود اس کی شہادت دے گا کہ مرزا قادیانی اس کے جواب دینا اس کے امکان سے باہر ہے اور پیشتر اس کے کہ وہ ١٨٩٩ء سے ہم وہ مضمون نقل کرتے ہیں جو کہ فیضی مر سے لکھ کر اخبار مذکور میں شائع کرائی تھی۔ وھو ھذا

نقل مضمون سراج الاخبار ٩ مئی ١٨٩٩ء مشتہرہ محمد حسن فیضی

”ناظرین! مرزا قادیانی کی حالت پر نہایت تاسف ہے۔ باوجودیکہ آپ اپنے آپ کو کس قدر علمی بھی جیسا کہ چاہئے، نہیں رکھتے۔ کس قدر قرآن وحدیث کے معانی میں تحریف کرتے ہیں، کیا وجہ نیک احباب جانتے ہوں گے کہ ١٣؍ فروری ١٨٩٩ء کو جب کہ میں سیالکوٹ گیا تھا اور حکیم حسام الدین صاحب کے مکان پر میں مرزا قادیانی سے ملا تو ایک قصیدہ عربی بے نقط کا ان کے سامنے میں نے پیش کیا جس کا ترجمہ نہیں کیا ہوا تھا۔ اس لئے تاکہ مرزا قادیانی کے علمی کمالات کا اندازہ ہو۔ جس وقت حاضر محفل تھے، آپ ماشاء اللہ فاضل ہیں اور قصیدہ بے نقط کا جواب آپ ہی لکھ سکتے ہیں۔ اس میں یہ بھی لکھا تھا کہ اگر آپ کو الہام ہوتا ہے تو مجھے اس کا جواب الہام سے لکھ کر دیں۔ تاکہ اس قصیدہ کا مطلب حاضرین مجلس کو واضح سنا دیں۔ مگر مرزا قادیانی نے کوئی جواب نہ دیا۔ باوجودیکہ عربی خوش خط لکھا ہوا تھا۔ آخر میں نے خود ہی اس کا مطلب حاضرین کو سنایا اور بعد ملاحظہ فرمانے لگے کہ اس کا ہم کو تو پتہ نہیں ملتا۔ آپ ترجمہ کر دیں تو ہم جواب دیں۔ میں نے ترجمہ زبانی کر کے سنا دیا اور پھر زبان سے عرض کیا تو مرزا قادیانی کلمہ شہادت پڑھنے لگے۔ اس پر میں نے ٣

صفحہ ٣٣

گھبرائے اور کچھ نہ سمجھ سکے کہ قصیدہ میں کیا لکھا ہے، نہ کوئی جواب دے سکے۔ مولوی صاحب مرحوم مرزا قادیانی سے بے اعتقاد ہو کر واپس آئے اور اخبارات کے ذریعہ ساری کیفیت کھول دی اور وہ قصیدہ بھی ایک اسلامی رسالہ انجمن نعمانیہ لاہور میں شائع کر دیا۔ جس کو شائع ہوئے قریباً ٦ سال کا عرصہ گزر چکا ہے۔ اب تک مرزا قادیانی یا ان کے کسی حواری کو جواب لکھنے کی طاقت نہ ہوئی اور نہ ہی اس کیفیت کی جو اخبارات میں شائع ہوئی کسی مرزائی نے تردید لکھی۔ (سچی بات کی تردید کیا کرتے؟) ہم مناسب سمجھتے ہیں کہ وہ قصیدہ ہدیہ ناظرین کر دیں۔ اہل علم ناظرین، مرحوم کی علمی فضیلت کا اندازہ اس قصیدہ سے لگا سکیں گے اور اس قصیدہ کو مرزا قادیانی کے مدعی اعجازی کلام کے قصائد سے مقابلہ کرنے سے ہر دو صاحبان کی قادرالکلامی اور فصاحت و بلاغت میں وزن کر سکیں گے اور فحوائے ”مشک آن است کہ خود ببوید نہ کہ عطار بگوید“ قصیدہ خود اس کی شہادت دے گا کہ مرزا قادیانی اس کے جواب دینے سے عاجز ہے اور اس کا جواب دینا اس کے امکان سے باہر ہے اور پیشتر اس کے کہ وہ قصیدہ لکھا جائے۔ سراج الاخبار ٩ مئی ١٨٩٩ء ص ٧ سے ہم وہ مضمون نقل کرتے ہیں جو کہ فیضی مرحوم نے سیالکوٹ والی کیفیت اپنے قلم سے لکھ کر اخبار مذکور میں شائع کرائی تھی۔ وھو ھذا

نقل مضمون سراج الاخبار ٩ مئی ١٨٩٩ء مشتہرہ فیضی مرحوم

”ناظرین! مرزا قادیانی کی حالت پر نہایت ہی افسوس آتا ہے کہ وہ باوجودیکہ لیاقت علمی بھی جیسا کہ چاہئے نہیں رکھتے۔ کس قدر قرآن وحدیث کا بگاڑ کر رہے ہیں۔ سیالکوٹ کے کئی ایک احباب جانتے ہوں گے کہ ١٣ فروری ١٨٩٩ء کو جب یہ خاکسار سیالکوٹ میں مسجد حکیم حسام الدین صاحب میں مرزا قادیانی سے ملا تو ایک قصیدہ عربی بے نقط منظومہ خود مرزا قادیانی کے ہدیہ کیا۔ جس کا ترجمہ نہیں کیا ہوا تھا۔ اس لئے کہ مرزا قادیانی خود بھی عالم ہیں اور ان کے حواری بھی جو اس وقت حاضر محفل تھے، ماشاء اللہ فاضل ہیں اور قصیدہ میں ایسا غریب لفظ بھی کوئی نہیں تھا اور پھر اس میں یہ بھی لکھا تھا کہ اگر آپ کو الہام ہوتا ہے تو مجھے آپ کی تصدیق الہام کے لئے یہی کافی ہے کہ اس قصیدہ کا مطلب حاضرین مجلس کو واضح سنادیں۔ مزید برآں مسائل متحدثہ مرزا قادیانی کی نسبت استفسار تھا۔ مرزا قادیانی اس کو بہت دیر تک چپکے دیکھتے رہے اور مرزا قادیانی کو اس کی عبارت بھی نہ آئی۔ باوجودیکہ عربی خوش خط لکھا ہوا تھا۔ پھر انہوں نے ایک فاضل حواری کو دیا جو بعد ملاحظہ فرمانے لگے کہ اس کا ہم کو تو پتہ نہیں ملتا۔ آپ ترجمہ کر کے دیں۔ خاکسار نے واپس لے لیا۔ پھر زبان سے عرض کیا تو مرزا قادیانی کلمہ شہادت اور آمنت باللہ الخ مجھے سناتے رہے اور ٣

صفحہ ٣٥

فرما رہے کہ میں نبی نہیں، نہ رسول ہوں، نہ میں نے یہ دعویٰ کیا۔ فرشتوں کو، لیلۃ القدر کو، معراج کو، احادیث کو اور قرآن کریم کو مانتا ہوں۔ مزید برآں عقائد اسلامیہ کا اقرار کرتے رہے۔ دوسرے دن حضرت مسیح کی وفات کی نسبت دلیل مانگی تو آیت ”فلما توفیتنی“ اور ”انی متوفیک“ پڑھ کر سنائی۔ معنے کے وقت علم عربی سے عجز ظاہر ہوا۔ یہ پوچھا گیا کہ آپ کیوں مثیل مسیح موعود ہیں؟ آپ سے بہتر آج کل بھی اور پہلے کئی ایک ولی عالم گزرے ہیں۔ وہ کیوں نہیں؟ اور آپ کیوں ہیں؟ تو فرمایا میں گندم گوں ہوں اور میرے بال سیدھے ہیں۔ جیسے کہ مسیح اللہ کا حلیہ ہے۔ افسوس اس لیاقت پر یہ غل؟ مرزا قادیانی دجال وقت ہے۔ توبہ کر لیجئے۔ اخیر پر میں مرزا قادیانی کو اشتہار دیتا ہوں کہ اگر وہ اپنے عقائد میں سچے ہوں تو آئیں۔ صدر جہلم میں کسی مقام پر مجھ سے مباحثہ کریں۔ میں حاضر ہوں۔ تحریری کریں یا تقریری! اگر تحریری ہو تو مشتہر کریں۔ یا بقلم خود عربی یا فارسی یا اردو۔ آیئے سنئے اور سنائیے۔“ راقم: ابوالفیض محمد حسن فیضی حنفی ساکن بھیں ضلع جہلم

اب بھی ہم دیکھنا چاہتے ہیں کہ مرزا قادیانی اس قصیدہ کا جواب اس صنعت کے عربی قصیدہ کے ذریعہ ایک ماہ تک لکھنے کی طاقت رکھتے ہیں یا نہیں؟ ہر دو قصائد کا موازنہ پبلک خود کر لے گی۔ لیکن تہذیب ومتانت سے جواب دیا جائے۔

اس کے بعد پھر دوسری خطا فیضی مرحوم سے یہ ہوئی کہ ایک مطبوعہ چٹھی کے ذریعہ مرزا قادیانی کو بڑی متانت سے ان کے اس ادعاء پر کہ ان کے کلام میں قرآن کریم جیسا اعجاز ہے متنبہ کیا کہ آپ کا دعویٰ بوجہ وجوہ غلط ہے اور نیز چیلنج کیا کہ اگر آپ میں عربی لکھنے کی طاقت ہے تو جہاں آپ مجھے بلائیں۔ مقابلہ کے لئے حاضر ہوں۔ اس چٹھی کا جواب بھی مرزا قادیانی کی طرف سے فیضی مرحوم کی زندگی میں ہرگز نہ ملا۔ نہ مرزا قادیانی کی طاقت مقابلہ ہوئی۔ وہ چٹھی بھی سراج الاخبار میں چھپی جس کی نقل درج ذیل ہے۔

نقل چٹھی فیضی مرحوم مطبوعہ ”سراج الاخبار“ ١٣؍ اگست ١٩٠٠ء ص ٦

مکرمی مرزا قادیانی زید اشفاقہ!

والسلام علیٰ من اتبع الہدیٰ! آپ ٢٠؍ جولائی ١٩٠٠ء کے مطبوعہ اشتہار اور اس کے ضمیمہ (مجموعہ اشتہارات ج٣) کے ذریعہ پیر مہر علی شاہ صاحب سجادہ نشین گولڑہ شریف اور دیگر علماء کو یہ دعوت کرتے ہیں کہ لاہور میں آ کر میرے ساتھ بہ پابندی شرائط مخصوصہ، فصیح و بلیغ عربی میں قرآن کریم کی چالیس آیات یا اس قدر سورۃ کی تفسیر لکھیں۔ فریقین کو ٧ گھنٹہ سے زیادہ وقت نہ ملے اور ہر دو تحریرات ٢٠ اوراق سے کم نہ ہوں۔ آپ تجویز کرتے ہیں کہ ان ہر دو تحریرات کو تین

٤

بے تعلق علماء کے حوالے کر دیا جائے گا۔ جس تحریر کو وہ علماء دوسرا جھوٹا ہوگا۔ آپ یہ بھی فرماتے ہیں کہ ہر دو فریق کی وہ سہو ونسیان پر محمول نہیں کی جائیں گی۔ بلکہ واقعی اس فر گی۔ مجھے آپ کے اس معیار صداقت پر بعض شکوک ہیں

وفصاحت کی دوسری عبارت معارضہ کے طور پر نہیں لکھ خاصہ تھا۔ بشر کا کلام اعجاز کے حد پر نہیں پہنچ سکتا۔ حتیٰ بھی اپنے کلام کی نسبت یہ دعویٰ نہیں کیا اور نہ معارضہ جائے کہ بجز کلام خدا کے دوسرے کلام بھی حد اعجاز تک بندہ کے کلام میں ما بہ الامتیاز کیا رہا؟

عربی میں موجود ہیں اور ان کے عربی قصائد اور نثر ام ایک غیر مسلم عالم قرآن کریم کے حافظ گزرے ہیں۔ ج میں نے اپنے ایک مضمون میں دیئے ہیں۔ جو ٩٩ ”چودہویں صدی“ کے کئی پرچوں میں چھپا ہے۔

ایک عالم بھی آپ کے لئے کافی ہے اور یوں تو چال جائیں تو دنیا کے علماء آپ کے دعویٰ کی تصدیق نہیں رسالت کا معیار ”عربی نویسی“ کسی طرح بھی تسلیم نہیں

مقابلہ کے وقت پر جو عربی تفسیر لکھی جائیں گی۔ ان گی۔ مگر افسوس کہ آپ خود ان اشتہارات میں لفظ ’ کے علاوہ ایک معمولی اور مشہور لفظ ہے۔ دو دفعہ ص ٢٤٦، ٢٣٦) ’ص، ض‘ کی تمیز نہ ہونا، اتنے بڑ نشان ہے۔ یہ لفظ اگر ایک دفعہ غلط لکھا ہوتا تو شاید س شرط ٹھہراتے ہیں کہ دوسروں کی غلطیوں کو سہو اور نسیا

٥

صفحہ ٣٥

بے تعلق علماء کے حوالے کر دیا جائے گا۔ جس تحریر کو وہ حلفاً فصیح و بلیغ کہہ دیں گے وہ فریق سچا، اور دوسرا جھوٹا ہوگا۔ آپ یہ بھی فرماتے ہیں کہ ہر دو فریق کی تحریرات کے اندر جس قدر غلطیاں نکلیں گی وہ سہو ونسیان پر محمول نہیں کی جائیں گی۔ بلکہ واقعی اس فریق کی نادانی اور جہالت پر محمول کی جائیں گی۔ مجھے آپ کے اس معیار صداقت پر بعض شکوک ہیں۔ جن کو میں ذیل میں درج کرتا ہوں ۔

١...... کسی عربی عبارت کے متعلق یہ دعویٰ کرنا کہ اس کے مقابلہ میں کوئی شخص اس انداز وفصاحت کی دوسری عبارت معارضہ کے طور پر نہیں لکھ سکتا ۔ آج سے پہلے صرف قرآنی عبارت کا خاصہ تھا۔ بشر کا کلام اعجاز کے حد پر نہیں پہنچ سکتا۔ حتیٰ کہ افصح العرب حضرت سید الرسل ﷺ نے بھی اپنے کلام کی نسبت یہ دعویٰ نہیں کیا اور نہ معارضہ کے لئے فصحائے عرب کو بلایا۔ اگر مان لیا جائے کہ بجز کلام خدا کے دوسرے کلام بھی حد اعجاز تک پہنچ جاتے ہیں تو پھر فرمائیے کہ الٰہی کلام اور بندہ کے کلام میں مابہ الامتیاز کیا رہا ؟

٢....... ہزار ہا عربی کے غیر مسلم اعلیٰ درجہ کے فاضل اور منشی گزرے ہیں اور ان کی تصانیف عربی میں موجود ہیں اور ان کے عربی قصائد اور نثر اعلیٰ درجہ کے فصیح اور بلیغ مانے گئے ہیں۔ کئی ایک غیر مسلم عالم قرآن کریم کے حافظ گزرے ہیں۔ بعض غیر مسلم شاعروں کے قصائد کے نمونے میں نے اپنے ایک مضمون میں دیئے ہیں۔ جو ١٨٩٩ء کے رسالہ انجمن نعمانیہ میں، پھر اخبار ”چودہویں صدی“ کے کئی پرچوں میں چھپا ہے۔

٣....... مجھے سمجھ نہیں آئی کہ چالیس علماء کی کیا خصوصیت ہے۔ اگر یہ الہامی شرط ہے تو خیر ورنہ ایک عالم بھی آپ کے لئے کافی ہے اور یوں تو چالیس علماء بھی بالفرض آپ کے مقابلہ میں ہار جائیں تو دنیا کے علماء آپ کے دعویٰ کی تصدیق نہیں کریں گے۔ کیونکہ مجددیت، محدثیت اور رسالت کا معیار ”عربی نویسی“ کسی طرح بھی تسلیم نہیں ہو سکے گی۔

٤....... تعجب کی بات یہ ہے کہ آپ اپنے اس اشتہار کے ضمیمہ کے ص ١١ پر تحریر فرماتے ہیں کہ مقابلہ کے وقت پر جو عربی تفسیر لکھی جائیں گی۔ ان میں کوئی غلطی سہو ونسیان پر حمل نہیں کی جائے گی۔ مگر افسوس کہ آپ خود ان اشتہارات میں لفظ ”محصنات“ کو جو قرآن کریم میں مذکور ہونے کے علاوہ ایک معمولی اور مشہور لفظ ہے۔ دو دفعہ ”محسنات“ لکھتے ہیں۔ (مجموعہ اشتہارات ج٣ ص ٣٤٦، ٣٣٦) ’ص، س‘ کی تمیز نہ ہونا، اتنے بڑے دعوے دار عربیت کے حق میں سخت ذلت کا نشان ہے۔ یہ لفظ اگر ایک دفعہ غلط لکھا ہوتا تو شاید سہو پر حمل کیا جاسکتا۔ مگر دو دفعہ غلط لکھا اور پھر یہ شرط ٹھہراتے ہیں کہ دوسروں کی غلطیوں کو سہو اور نسیان پر حمل نہیں کیا جائے گا۔

٥

صفحہ ٣٦

اخیر میں میری التماس ہے کہ میں آپ کے ساتھ ہر ایک مناسب شرط پر عربی نظم ونثر لکھنے کو تیار ہوں۔ تاریخ کا تقرر آپ ہی کر دیجئے اور مجھے اطلاع کر دیجئے کہ میں آپ کے سامنے اپنے آپ کو حاضر کروں۔ مگر یاد رہے کہ کسی طرح بھی عربی نویسی کو مجددیت یا نبوت کا معیار تسلیم نہیں کیا گیا۔ والسلام علیٰ من اتبع الھدٰی‘‘

راقم : محمد حسن حنفی، بھین ضلع جہلم تحصیل چکوال، مدرس دار العلوم نعمانیہ لاہور ٥؍ اگست ١٩٠٠ء

علاوہ ازیں فیضی صاحب مرحوم سے مرزا قادیانی کی ناراضگی کی یہ بھی وجہ تھی کہ جب مرزا قادیانی کے چیلنج تفسیر نویسی کے مطابق حضرت پیر صاحب گولڑوی مدظلہ العالی بمعہ بہت سے جلیل القدر علماء و فضلاء کے لاہور تشریف لے گئے اور باوجود دعوت پر دعوت ہونے کے مرزا قادیانی کو اپنے بیت الامن کی چار دیواری سے باہر نکلنے کی جرأت نہ ہوئی تھی۔ بالآخر شاہی مسجد میں علماء و فضلاء کا جلسہ ہوا۔ جس میں مسلمانانِ لاہور بھی کثرت سے شامل تھے۔ اس جلسہ میں علامہ فیضی مرحوم نے مناسب حال حسب ذیل تقریر کی۔ جو روئیداد جلسہ میں چھپی ہوئی ہے۔

حضرت مولانا ابوالفیض مولوی محمد حسن صاحب فیضی،

مدرس دار العلوم نعمانیہ لاہور کی تقریر

حضرات ناظرین! مرزا غلام احمد قادیانی نے ایک مطبوعہ چٹھی بصورت اشتہار مطبوعہ ٢٠؍ جولائی ١٩٠٠ء بذریعہ رجسٹری مولانا المعظم ومطاعنا المکرم عالی جناب حضرت خواجہ سید مہر علی شاہ صاحب چشتی سجادہ نشین گولڑہ شریف ضلع راولپنڈی کے نام نامی پر بشمولیت دیگر علماء کرام و مشائخ عظام ”ایدہم اللہ تعالیٰ و کثرہم“ کو بھیجی۔ جس کے پہلے دو صفحوں پر مرزا قادیانی نے اپنی عادت کے مطابق اپنے مرسل، مامور من اللہ اور پھر ”مجدد مہدی، مسیح“ ہونے کے ثبوت میں بخیالِ خود یا خود دلائل پیش کئے اور عالی جناب حضرت پیر صاحب موصوف اور دیگر علماء وفضلاء اسلام کو لکھا کہ میرے دعاوی کی تردید میں کوئی دلیل اگر آپ کے پاس ہے تو کیوں پیش نہیں کرتے ہو۔ اس وقت مفاسد بڑھ گئے ہیں۔ اس لئے مجھے مصلح کے عہدہ میں بھیجا گیا ہے۔ اخیر پر آپ تحریر فرماتے ہیں کہ اگر پیر صاحب ضد سے باز نہیں آتے۔ یعنی نہ وہ میرے دعاوی کی تردید میں کوئی دلیل پیش کرتے ہیں اور نہ مجھے مسیح وغیرہ مانتے ہیں تو اس ضدیت کے رفع کرنے کے واسطے ایک طریق فیصلہ کی طرف دعوت کرتا ہوں اور وہ طریق یہ ہے کہ پیر صاحب میرے مقابلہ پر دارالسلطنت پنجاب (لاہور) میں چالیس آیاتِ قرآنی کی عربی تفسیر لکھیں اور ان چالیس آیات قرآنی کا انتخاب بذریعہ قرعہ اندازی کر لیا جائے۔ یہ تفسیر فصیح عربی میں سات گھنٹوں کے اندر بیس ورق پر لکھی جائے اور میں

٦

صفحہ ٣٧

(مرزا قادیانی) بھی ان ہی شرائط سے چالیس آیات کی تفسیر لکھوں گا۔ ہر دو تفسیریں تین ایسے علماء کی خدمت میں فیصلہ کے لئے پیش کی جائیں۔ جو فریقین سے ارادت و عقیدت کا ربط و تعلق نہ رکھتے ہوں۔ ان علماء سے فیصلہ سنانے سے پہلے وہ مغلظ حلف لیا جائے جو قذف محصنات کے بارے میں مذکور ہے۔ اس حلف کے بعد جو فیصلہ یہ ہر سہ علماء فریقین کے تفسیروں کی بابت صادر فرمائیں۔ وہ فریقین کو منظور ہوگا۔ ان ہر سہ علماء کو جو حکم تجویز ہوں گے۔ فریقین کی تفسیروں کے متعلق یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ قرآن کے معارف اور نکات کس کی تفسیر میں صحیح اور زیادہ ہیں اور عربی عبارت کس کی با محاورہ اور فصیح ہے۔ اگر پیر صاحب خود یہ مقابلہ نہ کریں تو اور چالیس علماء مل کر میرے مقابلہ پر شرائط مذکورہ سے تفسیر لکھیں، تو ان کی چالیس تفسیریں، اور میری ایک تفسیر، اسی طرح تین علماء کو فیصلہ کے لئے دی جائیں گی۔ مرزا قادیانی کی یہ چٹھی تو ١٤ صفحہ کی ہے۔ مگر اس کی دلخراش گالیاں، ناجائز نامشروع اور بیہودہ بدظنیوں کو حذف کر دیا جائے تو اس کا تمام ماحصل اور خلاصہ صرف یہی ہے جو اوپر کی چند سطروں میں لکھا گیا ہے۔ ہمیں نہ الہام کا دعویٰ ہے نہ وحی کا۔ مگر یہ قیاس غالب ہے کہ اس خط میں حضرت پیر صاحب کو علی الخصوص مخاطب کرنا دو وجہ سے تھا۔

اول...... یہ کہ صوفیائے کرام کا طریق و مشرب مرنج و مرنجان کا ہوتا ہے۔ یہ لوگ گوشہ تنہائی میں عمر کا بسر کرنا غنیمت سمجھتے ہیں۔ کسی کی دل شکنی انہیں منظور نہیں ہوتی۔ پھر حضرت صاحب ممدوح کے دینی مشاغل و مصروفیت سے بھی یہی قیاس ہو سکتا تھا کہ آپ عزلت نشینی اور علمی مصروفیت کو ہر طرح سے ترجیح دیں گے اور اس طریق فیصلہ کو جو حقیقتاً مرزا قادیانی کے دعاوی کی تصدیق کا فیصلہ نہیں تھا۔ پسند نہیں فرمائیں گے جو ظاہر بینوں کی نظروں میں مرزا قادیانی کی فتح یابی کا نشان ہوگا۔ نیز دوسرے علماء کرام کے ساتھ تحریری معارضہ کو چالیس والی شرط کے ساتھ گانٹھنا یہی راز رکھتا تھا۔ کوئی بتا سکتا ہے کہ مرزا قادیانی چالیس سے کم علماء کے ساتھ کیوں ایسا تحریری مباحثہ نہیں کرتا؟ اس کی وجہ صرف یہی ہے کہ اس کو جھوٹی شیخی اور بیہودہ تعلی دکھانی مطلوب تھی۔ ورنہ اگر صرف تصدیق دعویٰ اور ہدایت علماء مقصود ہوتی تو اس خاکسار نے جو ١٣؍ اگست ١٩٠٠ء کو سراج الاخبار جہلم میں بہ تسلیم جملہ شرائط مرزا قادیانی کو میدان مباحثہ میں بلایا تھا اور بعد ازاں خط بھی ارسال کیا تھا اور صاف لکھا تھا کہ مجھے بلا کم و کاست آپ کی جملہ شرائط منظور ہیں۔ آئیے! جس صورت پر چاہئے مقابلہ کر لیجئے۔ اس کے جواب میں مرزا قادیانی ایسے بے خود ہوئے کہ اب تک کروٹ نہیں بدلی۔ وہ مضمون ہی اڑا دیا اور وہ خط ہی غائب کر دیا۔

دوم...... یہ کہ مرزا قادیانی حسب عادت مستمرہ خود (اس لئے کہ فقط اس کو اپنی شہرت ہی مطلوب

٧

صفحہ ٣٩

ہے ) ہمیشہ نامی اشخاص کے مقابلہ میں مباحثہ کا اشتہار دے دیا کرتا ہے اور اس طور پر دوسرے اشخاص کے مصارف سے اپنی شہرت کروا لیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس چٹھی میں بھی حضرت صاحب موصوف سے استدعا کرتا ہے کہ وہ جوابی چٹھی کی پانچ ہزار کاپیاں چھپوا کر اس مباحثہ کی شہرت دور دراز ملکوں میں کرا دیں اور یہ کاپیاں مختلف اطراف میں بھجوا دیں۔

لیکن فخر الاصفیاء والعلماء حضرت پیر صاحب نے ایسے نازک وقت میں کہ اسلام کو ایک خطرناک مصیبت کا سامنا تھا۔ مرزا قادیانی کے مقابلہ میں آنے کو عزلت نشینی پر ترجیح دی اور حسب الدرخواست مرزا قادیانی جواب قبولیت دعوت بصورت اشتہار ٢٥؍ جولائی ١٩٠٠ء کو طبع کرا کر بذریعہ رجسٹری بتاریخ ٤؍ اگست ١٩٠٠ء ارسال فرمایا اور لکھ دیا کہ وہ خود ٢٥؍ اگست ١٩٠٠ء کو (اس لئے کہ مرزا قادیانی نے تقرر تاریخ کا اختیار حضرت پیر صاحب کو دیا تھا) لاہور آجائیں گے آپ بھی تاریخ مقررہ پر تشریف لے آئیں۔ چونکہ مرزا قادیانی نے ٢٠؍ جولائی ١٩٠٠ء کی چٹھی میں اس طریق فیصلہ کی طرف دعوت کرنے سے پہلے اپنے دعاویٰ پر اور کئی استدلال پیش کئے تھے۔ چنانچہ آپ نے لکھا ہے کہ کسی حدیث سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ کبھی اور کسی زمانہ میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام جسم عصری کے ساتھ آسمان پر چڑھ گئے تھے۔ یا کسی آخری زمانہ میں جسم عصری کے ساتھ نازل ہوں گے۔ اگر لکھا ہے تو کیوں۔ ایسی حدیث پیش نہیں کرتے۔ ناحق نزول کے لفظ کے الٹے معنی کرتے ہیں۔ ’’انا انزلنہ فی لیلۃ القدر‘‘ اور ’’ذکرا رسولا‘‘ کا مراد نہیں سمجھتے۔ میری مسیحیت ومہدویت رمضان میں کسوف وخسوف کا دیکھ چکے ہیں۔ پھر نہیں مانتے۔ صدی سے ستر سال گزر چکے ہیں۔ پھر مجھے مجدد نہیں مانتے۔ یہ تمام استدلالات مرزا قادیانی نے اس طریق فیصلہ کی طرف دعوت کرنے سے پہلے اسی چٹھی میں تحریر کئے ہیں اور صرف ایک ہی فیصلہ پر اکتفاء نہیں کیا۔ بلکہ ہر دو باتیں علی الترتیب پیش کی ہیں۔ اس لئے حضرت ممدوح نے بھی ہر دو طریق فیصلہ کو علیٰ الترتیب ہی تسلیم کیا اور پسند فرمایا کہ مرزا قادیانی اسے اس کے اپنے استدلالات جو اس نے اپنی چٹھی میں تحریری فیصلہ سے پہلے پیش کئے ہیں۔ سن لئے جائیں اور مسیح علیہ السلام کا جسم عصری کے ساتھ آسمان پر جانے کی بابت حدیث بلکہ قرآن کریم کی دلالت نص پیش کی جائے کہ اگر مسیح کا بجسدہ العنصری آسمان پر جانا قرآن کریم کی نص صریح سے ثابت نہ ہو تو پھر کیا کرنا چاہئے۔ حدیث ہی کی جستجو کی جائے یا کیا؟ نیز سمجھ میں نہیں آتا تھا کہ نزول کے وہ معنی جواب تک تیرہ سو سال سے مجتہدین اور محدثین بلکہ صحابہ کرام اور اہل بیت نے نہیں سمجھے۔ وہ کیا ہوں گے اور یہ بھی سمجھ نہیں آتا کہ رمضان میں کسوف وخسوف جن تاریخوں میں ہوا ہے وہ کیونکر آپ کی ٨

مسیحیت کا نشان ہے؟ یہ سب امور احقاق حق کی غرض سے زبانی سننا ضروری خیال کرتے تھے اور بعد ازاں یہ قرار داد جائے اور مرزا قادیانی کی قرار داد شرائط کے موافق تفسیر لکھی

اس عرصہ میں آج تک مرزا قادیانی کی طرف سے حواریوں کی طرف سے اشتہارات نکلے اور شائع ہوئے کہ تقر ان تحریرات کو اس لئے بے معنی خیال کیا گیا تھا کہ خود مرزا قادیا ١٩٠٠ء میں جیسا کہ اوپر ذکر ہوا ہے۔ ہر دو امور فیصلہ علی التر میں مولوی غازی صاحب نے صاف طور پر مرزائی جماعت کو صورت میں قلم اٹھائیں گے یا کوئی مباحثہ کریں گے جب کہ آوے یا کچھ تحریر کرے، ورنہ نہیں۔ پس حضرت پیر صاحب خاص مرزا قادیانی کے نام پر تھی۔ بصورت انکار مرزا کو ہذا ا نے باوجود انقضائے عرصہ مدید ایک ماہ کے کوئی انکار شائع نہیں تسلیم کر لیا کہ وہ اس امر پر راضی ہے کہ ہر دو طرح سے مباحثہ

اس کے بعد حافظ محمد الدین صاحب تاجر کتب لاہور نے ایک ضروری چٹھی رجسٹری شدہ مرزا قادیانی کے کے نام پر بھیجی اور عام مشتہر بھی کی۔ اس کے بھی کچھ جواب نہ نمبر ٢ اور چھاپ کر مرزا قادیانی کو روانہ کی اور عام تقسیم کر دی کہ کچھ جواب دیتا؟

تاہم اس رہا سہا عذر دفع کرنے کے لئے حکیم نے (جس کی طرف سے پہلے بھی متعلق مباحثہ کئی ایک اشتہا اشتہار بذریعہ جوابی رجسٹری مرزا قادیانی کے پاس ارسال کیا مرزا قادیانی کی علمی وعملی کمزوریاں اس کو اپنی من گھڑت شرا اور اسے ضد ہے کہ تم ان ہماری ہی پیش کردہ شرائط کو تسلیم کر لو یہ بھی سہی۔ ٩

صفحہ ٣٩

مسیحیت کا نشان ہے؟ یہ سب امور احقاق حق کی غرض سے حضرت ممدوح ۔ مرزا قادیانی کی اپنی زبانی سننا ضروری خیال کرتے تھے اور بعد ازاں یہ قرار داد تھی کہ تحریری فیصلہ کی طرف رجوع کر لیا جائے اور مرزا قادیانی کی قرار داد شرائط کے موافق تفسیر لکھی جائے۔

اس عرصہ میں آج تک مرزا قادیانی کی طرف سے کوئی جواب نہ نکلا۔ البتہ ان کے بعض حواریوں کی طرف سے اشتہارات نکلے اور شائع ہوئے کہ تقریری مباحثہ کی کوئی شرط نہیں تھی۔ لیکن ان تحریرات کو اس لئے بے معنی خیال کیا گیا تھا کہ خود مرزا قادیانی نے اپنے اشتہار مشتہرہ ٢٠؍ جولائی ١٩٠٠ء میں جیسا کہ اوپر ذکر ہوا ہے۔ ہر دو امور فیصلہ علی الترتیب مطلوب تھے اور پہلے ایک اشتہار میں مولوی غازی صاحب نے صاف طور پر مرزائی جماعت کو مطلع کر دیا تھا کہ پیر صاحب صرف اس صورت میں قلم اٹھائیں گے یا کوئی مباحثہ کریں گے جب کہ بالمقابل مرزا قادیانی خود میدان میں آوے یا کچھ تحریر کرے، ورنہ نہیں۔ پس حضرت پیر صاحب کی جوابی چٹھی مطبوعہ ٢٥؍ جولائی ١٩٠٠ء خاص مرزا قادیانی کے نام پر تھی۔ بصورت انکار مرزا کو بذات خود جواب دینا چاہئے تھا۔ لیکن اس نے باوجود انقضائے عرصہ مدید ایک ماہ کے کوئی انکار شائع نہیں کرایا۔ بلکہ اپنے طریق عمل سے یہ تسلیم کر لیا کہ وہ اس امر پر راضی ہے کہ ہر دو طرح سے مباحثہ ہو جائے۔

اس کے بعد حافظ محمد الدین صاحب تاجر کتب مالک و مہتمم کارخانہ مصطفائی پریس لاہور نے ایک ضروری چٹھی رجسٹری شدہ مرزا قادیانی کے سکوت پر چھاپ کر خاص مرزا قادیانی کے نام پر بھیجی اور عام مشتہر بھی کی۔ اس کے بھی کچھ جواب نہ آنے پر انہوں نے رجسٹری شدہ چٹھی نمبر ٢ اور چھاپ کر مرزا قادیانی کو روانہ کی اور عام تقسیم کر دی۔ مگر مرزا قادیانی کو کہاں ہوش و تاب کہ کچھ جواب دیتا؟

تاہم اس رہا سہا عذر دفع کرنے کے لئے حکیم سلطان محمود صاحب ساکن حال پنڈی نے (جس کی طرف سے پہلے بھی متعلق مباحثہ کئی ایک اشتہارات شائع ہوئے تھے) ایک مطبوعہ اشتہار بذریعہ جوابی رجسٹری مرزا قادیانی کے پاس ارسال کر دیا۔ جس کا آخری مضمون یہ تھا کہ اگر مرزا قادیانی کی علمی و عملی کمزوریاں اس کو اپنی من گھڑت شرائط کے احاطہ سے باہر نہیں نکلنے دیتیں اور اسے ضد ہے کہ تم ان ہماری ہی پیش کردہ شرائط کو تسلیم کرو تو ہم بحث کریں گے ورنہ نہیں تو خیر۔ لو یہ بھی سہی۔

٩

صفحہ ٤٠

پیر صاحب تمہاری سب پیش کردہ شرطیں بعینہ جس طرح سے تم نے پیش کی ہیں۔ منظور کر کے تمہیں چیلنج کرتے ہیں کہ تم مقررہ تاریخ ٢٥ اگست ١٩٠٠ء کو لاہور آجاؤ۔ یہ اعلان عام طور پر مشتہر کر دیا گیا تھا۔ علاوہ اس اعلان کے جناب پیر صاحب نے بنظر تاکید مزید حافظ محمد دین صاحب مالک مطبع مصطفائی پریس لاہور کو بھی ایسا فرما دیا کہ ہماری طرف سے مرزا قادیانی کی شرائط کی منظوری کا اعلان کر دو۔ چنانچہ حافظ صاحب موصوف نے بذریعہ اشتہار مطبوعہ ٢٤ اگست ١٩٠٠ء مشتہر کر دیا کہ آج بروز جمعہ ٤ بجے شام کی ٹرین میں بوجہ ہمدردی اسلام پیر صاحب مرزا قادیانی کی تمام شرائط منظور کر کے لاہور تشریف فرما ہوں گے اور محمڈن ہال انجمن اسلامیہ واقع موچی دروازہ لاہور میں بغرض انتظار مرزا قادیانی قیام فرمائیں گے۔ چنانچہ وہ اسی شام کی گاڑی میں معہ دو تین سو علماء و مشائخ وغیرہ ہمراہیان کے تشریف فرما لاہور ہوئے۔

حضرت ممدوح کی زیارت واستقبال کے لئے اس شوق و ولولہ سے لوگ گئے کہ اسٹیشن لاہور اور بادامی باغ پر شانہ سے شانہ چھلتا تھا۔ شوق دیدار سے لوگ دوڑتے اور ایک دوسرے پر گرتے چلے جاتے تھے۔ حضرت ممدوح اسٹیشن سے باہر ایک باغ میں چند منٹ استراحت کر کے محمڈن ہال موچی دروازہ میں مقیم ہوئے۔ لاہور کے علمائے کرام جو آپ کی تشریف آوری کے منتظر تھے۔ آپ کے ساتھ شامل ہو گئے۔ نیز اور بھی علماء مشائخ ومعززین اسلام اضلاع پشاور، پنڈی، جہلم، سیالکوٹ، ملتان، ڈیرہ جات، شاہ پور، گجرات، گوجرانوالہ، امرتسر وغیرہ وغیرہ مقامات سے بغرض شمولیت مجلس مناظرہ مصارف کثیرہ کے متحمل ہو کر آپہنچے۔ مرزا کے لاہوری پیروؤں ١؎ نے مرزا قادیانی کے نام خطوط تاریں اور ضروری قاصد روانہ کئے۔ مگر بعض گرمجوش چیلے نہایت مضطرب حالت میں قادیان پہنچے اور ہر چند اپنے پیرو مرشد مرزا قادیانی کو لاہور لانے کے لئے منت و سماجت کی۔ پاؤں پکڑے۔ مگر مرزا قادیانی کی دلی کمزوری نے ان کو اپنے خدائی پیروؤں کی درخواست منظور کرنے کی طرف مائل نہ کیا اور وہ بیت الفکر میں ہی داخل دفتر رہا۔

١؎ اس سے مراد لاہور میں رہنے والے مرزا قادیانی کے متبعین ہیں، نہ کہ مستقل مرزائیوں کا ”لاہوری فرقہ“ کیونکہ ”لاہوری مرزائیوں“ نے ١٩١٤ء میں اپنا گروپ تشکیل دیا تھا اور یہ خطاب ١٩٠٠ء کا ہے۔ اس گروپ کے بانی مولوی محمد علی لاہوری تھے۔ اس گروپ نے اختلاف کے بعد اپنا عقیدہ تبدیل کیا کہ مرزا قادیانی ”نبی“ نہیں بلکہ ”مجدد“ ہیں۔ تاہم یہ تبدیلی ان کو کفر کے حصار سے نہ نکال سکی۔ کیونکہ حضور ﷺ کے بعد کسی مدعی نبوت کو ”ولی“ ماننا بھی کفر ہے۔ اس لئے ١٩٧٤ء کے آئین پاکستان میں ان دونوں گروہوں کو کافر قرار دیا گیا ہے۔

١٠

صفحہ ٤١

حضرت پیر صاحب ٢٤ اگست سے آج تک لاہور میں رونق افروز ہیں اور مرزا قادیانی کا ہر ایک ٹرین میں بڑے شوق سے انتظار ہو رہا ہے۔ مگر ادھر سے صدائے برنخواست کا معاملہ ہوا۔ یہ حقیقت میں خود مرزا قادیانی کے اپنے قول کے مطابق ایک الٰہی عظمت و جلال کا کھلا کھلا نشان تھا۔ جس نے مرزا قادیانی کی جھوٹی و بے جا شیخی کو کچل ڈالا اور آپ کے حواس کی وہ گت ہوئی کہ مقابلہ ومباحثہ لاہور تو درکنار آپ کو سوائے اپنے بیت المقدس کے تمام دنیا ومافیہا کی خبر نہ رہی اور ”وقذف فی قلوبهم الرعب بما کفروا“ کا مضمون دوبارہ دنیا کے صفحہ پر معرض وجود میں آیا۔ برخلاف اس کے حضور پر نور حضرت پیر صاحب ممدوح کے دست مبارک پر خداوند کریم نے وہ نشان ظاہر کر دیا۔ جس کی آیت ”وکان حقاً علینا نصر المؤمنین“ میں وعدہ دیا گیا تھا۔ خداوند عالم نے حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کی مقدس و بابرکت ذات پر نبوت اور رسالت کے تمام مدارج ختم کر دیئے ہیں۔ جس طرح پہلے سینکڑوں جھوٹے رسولوں کو الٰہی غیرت اور ان کے اپنے کفر وغرور نے ذلیل وخوار کر دیا ہے۔ ایسا ہی اس نے مرزا قادیانی کی جھوٹی مہدویت رسالت و مسیحیت کا بھی خاتمہ کر دیا اور آج دنیا پر بخوبی روشن ہو گیا کہ سیدنا ومولانا محمد رسول اللہ ﷺ کے مخصوص مناصب اور مفروضہ مراتب کے اندر بے جا مداخلت کرنے والا اس طرح سے علی رؤس الاشہاد رو سیاہ ہوتا ہے اور اپنے ہاتھوں خود ذبح ہو جاتا ہے۔ کیا غور وعبرت کا مقام نہیں ہے کہ مرزا قادیانی نے بلا کسی تحریک کے خود بخود حضرت پیر صاحب اور نیز ہند و پنجاب کے تمام مسلم الثبوت مشائخ وعلماء کو تحریری اور تقریری مباحثہ کی دعوت کا وہ اعلان کیا۔ جس کی ہزارہا کاپیاں ہند و پنجاب کے تمام اضلاع واطراف میں مرزا قادیانی نے خود تقسیم کیں اور اپنی عربی وقرآن دانی میں وہ لاف زنی کی جس کا وہ خواب میں بھی خیال کرنے کا مستحق نہیں تھا۔ اس نے اپنے ہاتھوں سے لکھا کہ اگر میں پیر صاحب اور علماء کے مقابلہ پر لاہور نہ پہنچوں تو پھر میں مردود جھوٹا اور مخذول ہوں۔ (مجموعہ اشتہارات ج٣ ص٤٣٠، ٤٣١) اس شدومد کے اشتہار کے بعد جب اس کو پیر صاحب اور دیگر علمائے کرام نے بمنظوری شرائط لاہور میں طلب کیا تو مرزا قادیانی کی طرف سے سوائے بہانہ گریز کے اور کوئی کاروائی ظہور میں نہ آئی۔ سخت افسوس کا موقعہ ہے کہ مرزا قادیانی کے مرید انہی دنوں میں جب کہ پیر صاحب خاص لاہور میں سینکڑوں علماء فقراء اور ہزاروں مریدوں کے ساتھ تشریف رکھتے ہیں۔ اس قسم کے اشتہارات شائع کر رہے ہیں کہ پیر صاحب مباحثہ سے بھاگ گئے اور شرائط سے انکار کر گئے۔ سبحان اللہ ! ڈھٹائی اور بے شرمی ہو تو ایسی کہ دروغ گویم بر روئے شما۔

١١

صفحہ ٤٣

اس موقعہ پر مرزا قادیانی کی مسیحی تعلیم پر سخت افسوس ہوتا ہے۔ کیا امام زمان کی تعلیم کا یہی اثر ہونا چاہئے کہ ایسا سفید جھوٹ لکھ کر مشتہر کیا جائے؟ اور زیادہ افسوس اس پر ہے کہ ہندو اخبارات بھی مرزائیوں کی اس ناشائستہ حرکت پر نفرین کر رہے ہیں اور ہنسی اڑا رہے ہیں۔ میں از جانب اہالیان جلسہ جن کی تعداد کئی ہزار ہے اور پنجاب کے مختلف اضلاع کے رہنے والے ہیں۔ اس امر کا صدق دل سے اعتراف کرتا ہوں کہ پیر صاحب نے مع ان علمائے کرام اور مشائخ عظام کے جو آپ کے ساتھ شامل ہیں اسلام کی ایک بے بہا خدمت کی ہے اور مسلمانوں کو بے انتہاء مشکور فرمایا ہے اور ہزار ہزار شکر ہے کہ آئندہ کو بہت سے مسلمان بھائی مرزا قادیانی کے اس سلسلہ حرکات سے ان کی دام تزویر میں گرفتار ہونے سے بچ گئے۔

آخر میں مولانا صاحب نے ایک پرزور تقریر میں بالتفصیل یہ بھی بیان کیا کہ جو بوجہ طوالت یہاں درج نہیں ہو سکا۔ جس کا ماحصل یہ ہے کہ اس سے پہلے بھی دنیا میں مرزا قادیانی جیسے بلکہ اس سے بڑھ کر بہت سے جھوٹے نبی، مسیح، مہدی بننے کا دعویٰ کرنے والے پیدا ہو کر اور اپنے کیفر کردار کو پہنچ کر حرف غلط کی طرح صفحہ ہستی سے مٹ چکے ہیں۔ مرزا قادیانی کا بھی یہی حشر ہوگا۔ ...... اس کے بعد مولوی تاج الدین احمد صاحب جو ہیڈ کلرک چیف کورٹ پنجاب سیکرٹری انجمن نعمانیہ نے مولانا مولوی محمد حسن صاحب کی تائید کی اور مرزا قادیانی کے چند اشتہارات سے ان کی اس قسم کی کارروائیوں پر نہایت تہذیب اور شائستگی سے نکتہ چینی کی۔"

("سراج الاخبار" کا مضمون ختم ہوا)

یہ بے نقط قصیدہ جس نے بے مثال طور پر مرزائے قادیان کو ذلت آمیز شکست سے دو چار کیا۔ احتساب کی اس جلد میں اشاعت پذیر ہے تا کہ مرزا قادیانی کی "عربی دانی" کے دعویٰ کے بطلان پر قدرت کی طرف سے نشان کے طور پر گواہ رہے۔

نقل قصیدہ عربیہ مہملہ منظومہ فیضی مرحوم

مشتہرہ رسالہ انجمن نعمانیہ لاہور (مطبوعہ فروری ١٨٩٩ء)

لمالک ملکه حمد سلام علی مرسوله علم الکمال

انتہاء کو پہنچا۔

حمود احمد و محمد و طهور مع اولاد و ال

سمیت پاک ہیں۔ ١٢

اماملوک احمد اهل علم والهـ
لودک کم مدی همع الدموع وطـ
علی مر المدیٰ وکع الموده وحـمـ

میں ڈال دیا گیا۔

هواک الدهر مادار السماء ورامک

طرح تیرے اردگرد گھومتے رہے۔

اطاعک عالم طوعاً وسهلا رواک

سمجھتے رہے۔

محامدک الا واسع هم اصالح وطور
هداک الله مسلک اهل ود واعلـ
وکم مر اسعوا ورا واحلاک وکررو

والے لوگوں نے تم سے کتنا اظہار محبت کیا، جہیں کتا

وکم مدحوک لماهم اطاعو الـی

کو تیرے دعویٰ کی اطاعت کی دعوت دیتے رہے۔

حکو الملاحم الکلم المدلل مکار

١٣

صفحہ ٤٤
اماملوک احمد اهل علم والهام وحلال السوال
لودک کم مدی همع الدموع وطاطا راس اعلام غوال
علی مر المدی وکع الموده وحمل اهلها ادعی الحمال

میں ڈال دیا گیا۔

هواک الدهر مادار السماء ورامک اهله روم العسال

طرح تیرے ارد گرد بھنبھناتے رہے۔

اطاعک عالم طوعاً وسهلا رواک ملهماً سهل المال

سمجھتے رہے۔

محامدک الا واسع هم امالح وطوراً كلها ملعسل حال
هداک الله مسلک اهل ود واعلم كل اسرار الكمال
وكم مراسعوا ورا و احلاک وكبروا دوک معدوه موالو صلا

والے لوگوں نے تم سے کتنا اظہار محبت کیا، تمہیں کتنا چاہا۔

وكم مدحوک لماهم اطاعو الی دعواک الولا كدال

کو تیرے دعویٰ کی اطاعت کی دعوت دیتے رہے۔

حكو الملائح الكلم المدلل مکار مک المها السماء معال

١٣

صفحہ ٤٥
رسائل حبر واسطر و احلاک وعدوک المدبر اولی اوال

بہترین لوگوں میں شمار کرتے رہے۔

وهم علموك موعود الرسول وملهم مالک متولی الموال

کا مخاطب) قرار دیا۔

امام الدهر مرسول الاله ومصلح اهل عصر ملحاک
دعوا اعلے الدعاء الا هلموا روا الموعود مسعود المآل
رسائلک الرسائل للهداء لهم ولمنهم مرا اک سال

تکمیل کے لئے مفید تھا۔

کلامک للادواء لهم دواء مروع ما للروع ماک

کی کوئی انتہاء نہیں۔

وما ارواحهم الا ودادک على اسمک ورد کل کل حال
وهم رهط اولو ورع وحلم عمائد اهل کرم و الکمال
وکم عادوک ماوالوک اصلاً وکم لا موک ملوم الملال

پر ملامت کی۔

راوا الهامک الولع الموسوس وعدوک الملح لطمع مال

میں بہت زیادہ اصرار کرنے والا پایا۔

١٤

وسموک الخاذل للصرائح و

قرار دیا اور پہلے مسلمانوں کے مسلمہ امور کو ٹھکرانے والا

وهاکم لهواراء العدول الـ
عدوک مرسلی المسعود سهل م

تعلیمات جھگڑالو لوگوں کے لئے سمجھنا بھی نہا

ومحمود عطاء العالم اسماً

میں بڑے باہمت ہیں۔

اوائله الكرام امام سلم

ریت کے ذروں کی تعداد میں ہیں۔

علومهم كامطار الدهور

(یعنی سب انہیں کے علم سے سیراب ہوے

تراب دارهم كحل المدارک

مشتمل ہو۔

عصامهم الحسام لكل عدو

امن و سلامتی قائم کرنے کے لئے ہے۔

مدی اعماله اعلام علم
ممد للاولاء العلوم

١٥

صفحہ ٤٥
وسموك الماؤل للصرائح وراد مسلم الرهط الاوال

قرار دیا اور پہلے مسلمانوں کے مسلمہ امور کو ٹھکرانے والا قرار دیا۔

وهاكم لهواراء العدول الى كم لطم دأماء المحال
عدوك مرسلى المسعود سهل موارده امام اولى المحال

تعلیمات جھگڑالو لوگوں کے لئے سمجھنا بھی نہایت آسان ہے۔

ومحمود عطاء العالم اسماً همام اهل امر والعدال

میں بڑے باہمت ہیں۔

اوائله الكرام امام سلم مكارمهم كاعداد الرمال

ریت کے ذروں کی تعداد میں ہیں۔

علومهم كامطار الدهور وعلم الدهر طراً كالطلال

(یعنی سب انہیں کے علم سے سیراب ہوتے ہیں)

تراب دارهم كحل المدارك وكحل سوائهم دك الهلال

پر مشتمل ہو۔

عصامهم الحسام لكل عدو حسامهم السلام لكل حال

امن وسلامتی قائم کرنے کے لئے ہے۔

مدي اعماله اعلام علم واعلاء الهدى وسط الضلال
ممد للاولاء العلوم ومعط اهلها اعداد رمال

١٥

صفحہ ٤٦

نوازتے ہیں۔

اما والله اسئلک المسائل اسل هلم سلاولى السوال
الاهل صار دعواک الرسالہ کموحى الله معصوم المحال

سے معصوم ہو۔

ام اصطادوا ام عادوک هواء اصلهم الهوئے سوء المآل

برے انجام سے دوچار کر دیا ہے۔

وما املاکہ ملک العلوم وملهم واحد وهدئے کسال

کو ہدایت دینے والا ہے۔

وهل كلم الرسولہ اصول علم كمسطور الاله على الاصال

اللہ کے اصل میں تحریر کردہ ہیں۔

وهل كلم الهدئ مدلولها ما درے العلماء ملمع الدلال
ام اسرار ومسلکہ معنے وما اطلع العوام على المثال
كلام الله هل محوى العلوم اهداها الاله لكل وال

کیا ہے۔

كما ادراک ام لا علم کلا سوئے العلام محمود وعال

بڑے عالم ) جو قابل تعریف اور بلند یوں والا ہے اس کے سوا کوئی دینے والا نہیں۔

١٦

رسالہ ”الہامـ

چھٹی پـ

(نشان آسمانی میعـ

حضرت مولانا ثناء

PDF 48

خاتم النبيين لا نبي بعدي

میں آخری نبی ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں۔

رسالۂ ”الہامات مرزا“ سے

چھٹی پیش گوئی

(نشان آسمانی میعادی سہ سالہ)

حضرت مولانا ثناء اللہ امرتسریؒ

صفحہ ٤٩

چند الہامات للتحقیق

رسالہ الہامات مرزا کی چھٹی پیش گوئی متعلقہ ”نشان آسمانی میعادی سہ سالہ“ یہ پیش گوئی ایک دعا کے طور پر بڑے دو ورقوں میں مرقوم ہے۔ جن کا اصل مطلب یہ ہے۔ مرزا قادیانی لکھتے ہیں: ”اے میرے مولا! قادر خدا اب مجھے راہ بتا۔ (آمین)...... اگر میں تیری جناب میں مستجاب الدعوات ہوں تو ایسا کر کہ جنوری ١٩٠٠ء سے اخیر دسمبر ١٩٠٢ء تک میرے لئے کوئی اور نشان دکھلا اور اپنے بندے کے لئے گواہی دے جس کو زبانوں سے کچلا گیا ہے۔ دیکھ میں تیری جناب میں عاجزانہ ہاتھ اٹھاتا ہوں کہ تو ایسا ہی کر۔ اگر میں تیرے حضور میں سچا ہوں اور جیسا کہ خیال کیا گیا ہے کافر اور کاذب نہیں ہوں تو ان تین سال میں جو اخیر دسمبر ١٩٠٢ء تک ختم ہو جائیں گے کوئی ایسا نشان دکھلا کہ جو انسانی ہاتھوں سے بالاتر ہو۔“

(اشتہار مورخہ ٥ نومبر ١٨٩٩ء مجموعہ اشتہارات ج٣ ص١٧٥، ١٧٨)

گو یہ الفاظ دعائیہ ہیں۔ مگر مرزا قادیانی اپنے رسالہ (اعجاز احمدی ص٨٨، خزائن ج١٩ ص٢٠٣) پر اس دعا کو پیش گوئی قرار دیتے ہیں۔ پھر हमारा کیا حق ہے کہ ہم اس کی نسبت یہ گمان کریں کہ یہ صرف دعا ہی دعا ہے۔ جس کی قبولیت قطعی نہیں۔ اس لئے کہ ایک تو مرزا قادیانی کی دعا ہے، کسی معمولی آدمی کی نہیں۔ مرزا قادیانی تو اپنی دعا کی بابت اسی اشتہار کے ص٤ پر فرماتے ہیں: ”جب کہ تو نے مجھے مخاطب کر کے کہا کہ میں تیری ہر دعا قبول کروں گا۔“

(اشتہار مورخہ ٥ نومبر ١٨٩٩ء مجموعہ اشتہارات ج٣ ص١٧١)

میں سچ کہتا ہوں کہ جب سے مجھے اشتہار مذکور ملا ہے آسمان کی طرف سے ہر روز تاکتا رہتا تھا کہ دیکھیں مرزا قادیانی کے مخالفوں کے فیصلہ کے لئے کیا نشان ظاہر ہوتا ہے؟ جس کے دیکھنے کے بعد لوگوں کو ان کی نسبت جو خیالات ہورہے ہیں، رفع دفع ہو جائیں۔ کیونکہ یہ نشان کوئی معمولی نشان نہ تھا۔ بلکہ ایک عظیم الشان نشان ہے۔ جس کو سلطان کہتے ہیں۔ جس کی بابت خود مرزا قادیانی لکھتے ہیں: ”سلطان عربی زبان میں ہر ایک قسم کی دلیل کو نہیں کہتے۔ بلکہ ایسی دلیل کو کہتے ہیں کہ جو اپنی قبولیت اور روشنی کی وجہ سے دلوں پر قبضہ کرلے۔“ (٢٤ اکتوبر ١٨٩٩ء) پس جو تعریف مرزا قادیانی نے سلطان کی کی ہے وہی مرزا قادیانی کے اس مطلوبہ نشان کی ہے جس کے نہ ہونے پر آپ فیصلہ دیتے ہیں: ”اگر تو (اے خدا) تین برس کے اندر جو ٢

جنوری ١٩٠٠ء عیسوی سے شروع ہو کر دسمبر ١٩٠٢ء عیسوی تک میں اور میری تصدیق میں کوئی نشان نہ دکھلائے اور اپنے بند نظر میں شریر اور پلید اور بے دین اور کذاب اور دجال اور ہوں کہ میں اپنے تئیں صادق نہیں سمجھوں گا اور ان تمام تہمتوں تئیں مصداق سمجھوں گا جو میرے پر لگائے جاتے ہیں..... کہ اگر میری یہ دعا قبول نہ ہو تو میں ایسا ہی مردود اور ملعون جیسا کہ مجھے سمجھا گیا ہے۔“

افسوس مرزا قادیانی نے ناحق ہمیں تین سال تک آنکھیں پتھرا گئیں۔ کان بھی سُن ہو گئے۔ مگر کوئی نشان ایسا ظاہر نہیں ہوا جس سے مرزا قادیانی اور ان کے مخالفوں کا فیصلہ (نوٹ) طبع اوّل کے وقت بوجوہ بے خبری کے چند ایک نشان کابل کی وفات۔ پریذیڈنٹ امریکہ کی موت یا ملکہ معظمہ رحلت مگر افسوس کہ مرزا قادیانی کی پارلیمنٹ الہامیہ نے فرمایا۔ بلکہ ایک نئے نشان کی نشاندہی کی فکر میں لگ کر اس طرح ”کوہ کندن و کاہ برآوردن“ کا مصداق بنایا۔ چنانچہ

دس ہزار روپیہ کا اشتہار

”یہ اشتہار خدا تعالیٰ کے اس نشان کے اظہار کی طرح ایک پیش گوئی کو پورا کرے گا۔ یعنی یہ بھی وہ نقد دسمبر ١٩٠٢ء تک ظہور میں آجائے گا۔“

تفصیل اس اجمال کی یہ ہے کہ موضع مڈھل ضلع ان لوگوں نے لاہور ایک آدمی بھیجا کہ وہاں سے کسی عالم کے مشورے سے ”قرعہ فال بنام من دیوانہ زدند“ ایک آدمی آ پہنچا کہ چلئے، ورنہ گاؤں کا گاؤں بلکہ اطراف جائیں گے۔

خاکسار چار و ناچار موضع مذکور میں پہنچا۔ مگر ٣

صفحہ ٤٩

جنوری ١٩٠٠ء عیسوی سے شروع ہو کر دسمبر ١٩٠٢ء عیسوی تک پورے ہو جائیں گے۔ میری تائید میں اور میری تصدیق میں کوئی نشان نہ دکھلائے اور اپنے بندہ کو ان لوگوں کی طرح رد کرے جو تیری نظر میں شریر اور پلید اور بے دین اور کذاب اور دجال اور خائن اور مفسد ہیں تو میں تجھے گواہ کرتا ہوں کہ میں اپنے تئیں صادق نہیں سمجھوں گا اور ان تمام تہمتوں اور الزاموں اور بہتانوں کا اپنے تئیں مصداق سمجھوں گا جو میرے پر لگائے جاتے ہیں ...... میں نے اپنے لئے یہ قطعی فیصلہ کر لیا ہے کہ اگر میری یہ دعا قبول نہ ہو تو میں ایسا ہی مردود اور ملعون اور کافر اور بے دین اور خائن ہوں۔ جیسا کہ مجھے سمجھا گیا ہے۔“

(مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ١٧٧، ١٧٨)

افسوس مرزا قادیانی نے ناحق ہمیں تین سال تک انتظار میں رکھا۔ دیکھتے دیکھتے ہماری آنکھیں پتھرا گئیں۔ کان بھی سن ہو گئے۔ مگر کوئی آواز ہمارے کانوں تک نہ آئی کہ فلاں ایسا نشان ظاہر ہوا ہے جس سے مرزا قادیانی اور ان کے مخالفوں کا فیصلہ ہو گیا۔ ہم نے کتاب ہٰذا (الہامات مرزا) طبع اوّل کے وقت بوجوہ بے خبری کے چند ایک نشان پیش کئے تھے۔ یعنی امیر صاحب والی کابل کی وفات۔ پریزیڈنٹ امریکہ کی موت یا ملکہ معظمہ قیصر ہند کا انتقال یا بیگم صاحبہ بھوپال کی رحلت مگر افسوس کہ مرزا قادیانی کی پارلیمنٹ الہامیہ نے ان میں سے کسی ایک نشان کو قبول نہ فرمایا۔ بلکہ ایک نئے نشان کی نشاندہی کی فکر میں لگ کر اس پیش گوئی کو بھی سابقہ پیش گوئیوں کی طرح ”کوہ کندن و کاہ برآوردن“ کا مصداق بنایا۔ چنانچہ فرماتے ہیں۔

دس ہزار روپیہ کا اشتہار

”یہ اشتہار خدا تعالیٰ کے اس نشان کے اظہار کے لئے شائع کیا جاتا ہے جو اور نشانوں کی طرح ایک پیش گوئی کو پورا کرے گا۔ یعنی یہ بھی وہ نشان ہے جس کی نسبت وعدہ تھا کہ وہ اخیر دسمبر ١٩٠٢ء تک ظہور میں آ جائے گا۔“

(رسالہ اعجاز احمدی ص ٨٨، خزائن ج ١٩ ص ٢٠٢)

تفصیل اس اجمال کی یہ ہے کہ موضع مدھل ضلع امرتسر میں مرزائیوں نے شور و شغب کیا تو ان لوگوں نے لاہور ایک آدمی بھیجا کہ وہاں سے کسی عالم کو لاؤ کہ ان سے مباحثہ کریں۔ اہالی لاہور کے مشورے سے ”قرعہ فال بنام من دیوانہ زدند“ ایک تار آیا اور صبح ہوتے ہی جھٹ سے ایک آدمی آ پہنچا کہ چلئے، ورنہ گاؤں کا گاؤں بلکہ اطراف کے لوگ بھی سب کے سب گمراہ ہو جائیں گے۔

خاکسار چار و ناچار موضع مذکور میں پہنچا۔ مباحثہ ہوا۔ خیر اس مباحثہ کی روئیداد تو ضمیمہ

٣

صفحہ ٥١

شحنہ ہند مورخہ ٢٤ نومبر ١٩٠٢ء میں اہالی مذکور نے شائع کرادی۔ مگر مرزا قادیانی کو ان کے فرستادوں نے ایسا کچھ ڈرایا اور اپنی ذلت کا حال سنایا کہ مرزا قادیانی آپے سے باہر ہوگئے اور جھٹ سے ایک رسالہ ”اعجاز احمدی“ نصف اردو اور نصف عربی نظم لکھ کر خاکسار کے نام مبلغ دس ہزار روپیہ کے انعام کا اشتہار دیا کہ اگر مولوی ثناء اللہ امرتسری اتنی ہی ضخامت کا رسالہ اردو عربی نظم جیسا میں نے بنایا ہے پانچ روز میں بنادے تو میں دس ہزار روپیہ ان کو انعام دوں گا اور اس قصیدہ کا نام ”قصیدہ اعجازیہ“ رکھا۔ یعنی یہ قصیدہ ایسا فصیح و بلیغ ہے جیسا کہ قرآن، آنحضرت کا معجزہ ہے یہ میرا معجزہ ہے۔ اس قصیدے کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ مولوی ثناء اللہ (خاکسار) کے اس قسم کے قصیدے کے لکھنے سے عاجز رہنے سے میری وہ پیش گوئی جو سہ سالہ میعاد کی میں نے طلب کی ہوئی ہے پوری ہو جائے گی۔ یعنی یہی وہ نشان ہے جس کی بابت مرزا قادیانی نے خدا سے اتنے بڑے لمبے چوڑے دانت پیس پیس کر سوال کئے تھے۔

مرزا قادیانی کا چیلنج قبول

اب اس سوال کے متعلق میری کارروائی بھی سنئے۔ میں نے ٢١ نومبر ١٩٠٢ء کو ایک اشتہار دیا جس کا خلاصہ ٢٩ نومبر کے پیسہ اخبار لاہور میں چھپا تھا کہ: ”آپ پہلے ایک مجلس میں اس قصیدے اعجازیہ کو ان غلطیوں سے جو میں پیش کروں صاف کر دیں تو پھر میں آپ سے زانو بزانو بیٹھ کر عربی نویسی کروں گا۔ یہ کیا بات ہے کہ آپ گھر سے تمام زور لگا کر ایک مضمون اچھی خاصی مدت میں لکھیں اور مخاطب کو جسے آپ کی مہلت کا کوئی علم نہیں محدود وقت کا پابند کریں۔ اگر واقعی آپ خدا کی طرف سے ہیں اور جدھر آپ کا منہ ہے ادھر ہی خدا کا منہ ہے۔ (جیسا کہ آپ کا دعویٰ ہے) تو کوئی وجہ نہیں کہ آپ میدان میں طبع آزمائی نہ کریں۔ بلکہ بقول حکیم سلطان محمود ساکن راولپنڈی ۔

بنائی آڑ کیوں دیوار گھر کی
نکل ! دیکھیں تیری ہم شعر خوانی

حرم سرائے ہی سے گولہ باری کریں۔ اس کا جواب باصواب آج تک نہ آیا کہ ہاں ہم میدان میں آنے کو تیار ہیں۔ چونکہ میں نے اس اشتہار میں یہ بھی لکھا تھا کہ اگر آپ مجلس میں اغلاط نہ سنیں گے تو میں اپنے رسالہ میں ان کا ذکر کر دوں گا۔ اس لئے آج میں اس وعدے کا ایفاء کرتا ہوں۔

٤

قصیدہ اعجازیہ

آپ تو اس کا نام ”قصیدہ اعجازیہ“ رکھتے ہیں کے ایسے اعلیٰ مرتبہ پر ہے کہ کوئی شخص اس جیسا لکھ نہیں بھی اس اعجاز کا یقین نہیں۔ بھلا اگر یقین ہوتا تو بیس رو شریف کے اظہار اعجاز کے لئے بھی کوئی تحدید ہے؟ ہے کہ اتنے دنوں میں یا اتنے مہینوں میں اس کی مثل ب دنوں سے زائد ایام گزرے تو ردی میں پھینک دیا جائے

پھر طرفہ یہ کہ صرف بیس روز کی تصنیف کے معیار ہے کوئی شخص مرزا قادیانی کو جیت نہیں سکتا۔ بلکہ ہے کہ وہ مضمون چھاپ کر کتاب تیار کر کے حضرت کی م کہ نہ کسی مولوی صاحب کے ہاں مرزا قادیانی کی طر آپ سے مبلغات (وہ بھی روحانی اور معنوی) لے ن معجزہ کا جزو بنایا جاتا ہے؟ تاکہ اگر کسی صاحب میں اس کے پاس پریس کا انتظام ایسا نہیں جو قادیانی پری ہو۔ تو بس اس کی لیاقت بھی ملیا میٹ ضائع اور برب لے۔ کیونکہ اس کے پاس پریس نہیں اور مرزا قادیانی

ناظرین! یہ ہیں مرزا غلام احمد قادیانی کی ہو سکتے ہیں۔ خیر ہمیں اس سے بحث نہیں ہم ان کی ح کے اعجازی قصیدے کا عجز بتلاتے ہیں۔ آپ کے قصی عروضی وغیرہ۔

آپ کے قصیدے کا مجرٰی (حرکت روی

ایھا ارض مد قد دفاک مدمر

حالانکہ مندرجہ ذیل اشعار میں اقوالاز کسرہ ہو جاتی ہے اور اقوا سخت عیب ہے۔ محیط الدائ

٥

صفحہ ٥١

قصیدہ اعجازیہ

آپ تو اس کا نام ”قصیدہ اعجازیہ“ رکھتے ہیں جس کے معنی یہ ہیں کہ فصاحت و بلاغت کے ایسے اعلیٰ مرتبہ پر ہے کہ کوئی شخص اس جیسا لکھ نہیں سکتا۔ مگر غور سے دیکھا جائے تو خود آپ کو بھی اس اعجاز کا یقین نہیں۔ بھلا اگر یقین ہوتا تو بیس روز کی مدت کی کیوں قید لگاتے۔ کیا قرآن شریف کے اظہار اعجاز کے لئے بھی کوئی تحدید ہے؟ کسی آیت تحدی میں کفار مخالفین سے کہا گیا ہے کہ اتنے دنوں میں یا اتنے مہینوں میں اس کی مثل لاؤ گے تو مقابلہ سمجھا جائے گا اور ”اگر اتنے دنوں سے زائد ایام گزرے تو ردی میں پھینک دیا جائے گا۔“ (اعجاز احمدی ص ٩٠، خزائن ج ١٩ ص ٢٠٥)

پھر طرفہ یہ کہ صرف بیس روز کی تصنیف کے قلمی مضمون سے جو مصنف کی اصل لیاقت کا معیار ہے کوئی شخص مرزا قادیانی کو جیت نہیں سکتا۔ بلکہ اس معجز نمائی میں لکڑی اور لوہے کو بھی دخل ہے کہ وہ مضمون چھاپ کر کتاب تیار کر کے حضرت کی خدمت میں پہنچا دے۔ جس سے یہ مراد ہے کہ نہ کسی مولوی صاحب کے ہاں مرزا قادیانی کی طرح پریس اور منشی گھر کے ہوں گے اور نہ کوئی آپ سے مبلغات (وہ بھی روحانی اور معنوی) لے سکے گا۔ کیا ہی معجزہ ہے کہ پریس کے کام کو بھی معجزہ کا جزو بنایا جاتا ہے؟ تا کہ اگر کسی صاحب میں ذاتی لیاقت وقابلیت ہو بھی تو بوجہ اس کے کہ اس کے پاس پریس کا انتظام ایسا نہیں جو قادیانی پریس کی طرح صرف مرزا قادیانی ہی کا کام کرتا ہو۔ تو بس اس کی لیاقت بھی ملیا میٹ ضائع اور برباد ہے۔ وہ بھی مرزا قادیانی کو مسیح موعود مان لے۔ کیونکہ اس کے پاس پریس نہیں اور مرزا قادیانی کے پاس پریس ایک نہیں دو تین ہیں۔

ناظرین ! یہ ہیں مرزا غلام احمد قادیانی کی بھول بھلیاں۔ جن سے بہت کم لوگ واقف ہو سکتے ہیں۔ خیر ہمیں اس سے بحث نہیں ہم ان کی حقیقت کو اچھی طرح جانتے ہیں۔ اب ہم آپ کے اعجازی قصیدے کا عجز بتلاتے ہیں۔ آپ کے قصیدے میں ہر قسم کی غلطیاں ہیں۔ صرفی، نحوی، عروضی وغیرہ۔

آپ کے قصیدے کا مجری (حرکت روی) ضمہ ہے۔ چنانچہ پہلا شعر آپ کا یہ ہے:

ایا ارض مذ قد دفاک مذعر دارداک صلصل واعزاک موغر

حالانکہ مندرجہ ذیل اشعار میں اقوا لازم آتا ہے۔ یعنی اخیر کی حرکت بجائے ضمہ کے کسرہ ہو جاتی ہے اور اقوا سخت عیب ہے۔ محیط الدائرہ میں ہے: ”ان تغیر المجری الی

٥

صفحہ ٥٣

حركة قريبة كما اذا ابدلت الضمة كسرة والكسرة ضمة فهو عيب فى القافية يسمى اقواء (ص١٠٦) “

اور عروض المفتاح میں ہے : ” عیب اختلاف الوصل ويسمى مثل منزلو مع منزلى اقواء ومثل منزلا مع منزلو ومنزلى اصرافا وهو عيب “ (یعنی اقواء اور اصراف اشعار میں عیب ہے)

اب سنئے مرزا قادیانی کے اشعار میں اقواء

دعوه ليبتهلن لموت مزور مضل ولم يسكت ولم يتحسر
ايا محسنى بالحمق والجهل والرغا رويدك لا تبطل صنيعك واحذر
وان كنت قد ساء تك امر خلافتى فسل مرسلى ما ساء قلبك واحصر
سئمنا تكاليف التطاول من عدا تمادت ليالى الجور يا ربى انصر
وجئتك كالموتى فاحى امورنا نخرا مسامك كالمساكين فاغفر
تعال حبيبى انت روحى وراحتى وان كنت قد انست ذنبى فستر
بفضلك انا قد عصمنا من العدا وان جمالك قاتلى فات وانظر
وفرج كروبى يا الهى ونجنى ومزق خصيمى يانصيرى وظفر
وان كان لا يستطيع ابطال ايتى فقل خذ مزامير الضلالة وازمر
اذا نحن بارزنا فاين حنينكم وان كنت تحمده فاعلن واخبر
ثلثة اشخاص به قد رأيت هم ومنهم الهى بخش فاسمع وذكر
رموا كل صخر كان فى اذيا لهم بغيظ فلم افلق ولم اتحير
فاوصيك ياردن الحسين ابا الوفا انب واتق الله المحاسب واحذر
الا تتقى الرحمان عند تصنع ومن كان اتقى لا ابالك يحذر
فوافيت مجمع كيدهم وقتلتهم بضرب ولم اكسل ولم اتحسر
امكفر مهلا بعض هذا لتهكم وخف قهر رب قال لا تقف فاحذر
فان تبغنى فى خلقة السلم تلقنى وان تطلبنى فى الميادين احضر
وارسلنى ربى لاصلاح خلقه فياصاح لا تنطق هوى وتصبر
وكنت امرأ ابغى الخمول من العباء معى ياتنى من زائرين اصغر

٦

فاخرجنى من حجرتى حكم مالكى
وانى لاختار مقام وموقف
ولست بتواق الى جمع العدا
الا ان حسن الناس فى حسن خلقهم
شعرنا مآل المفسدين ومن يعش
فتب واتق القهار ربك يا على
اريناك ايات فلا عذر بعدها
اردت بمد ذيبتى فريتها
وانى لعمر الله لست بجائر
وهذا العهد قد تقرر بيننا

مرزا قادیانی ان اشعار کے بحر کی تمام آپ نے رفع کئے ہیں جس سے معلوم ہوتا ہے کھاتے ہیں ۔ مگر آپ کا رفع لکھا ہوا اگر صحیح سمجھا جا مذہبی امور میں تو آپ اپنے ناواقف معتقدین کو ہیں کہ جو حدیث میرے دعویٰ کے خلاف ہو وہ غلط نہیں کہ جو حکم چاہیں لگا ئیں ۔

اس عیب کے علاوہ مندرجہ ذیل اشعا عیب ہے۔ جس کی بابت محیط الدائرہ میں ہے : ” كما اذا ابدلت الضمة فتحة او بالعك واسرافا (ص ١١٠) “

عروض المفتاح میں ہے وهو عيب ()

(ص ٤٨، شعر ٦) ” دعوا حبه الصهبا يصبح مسكر “ کیونکہ مسکر بوجہ بحر کی مرفوع ہے۔

صفحہ ٥٤
فاخرجنى من حجرتى حكم مالكى فقمت ولم اعرض ولم اتعذر
وانى لاختار مقام وموقف لدى شان فرقان عظيم معزر
ولست بتواق الى جمع العدا ولكن متى يستحضر القوم احضر
الا ان حسن الناس فى حسن خلقهم ومن يقصد التحقير خبثا يحقر
شعرنا مآل المفسدين ومن يعش الى برهة من بعد ذالك يشعر
لعب واثق القهار ربك يا على وان كنت قد ازمعت حربى فاحضر
اريناك ايات فلا عذر بعدها وان خلتها تخفى على الناس تظهر
اردت بمد ذلتي فبريتها ومن لم يوقر صادقا لا يوقر
وانى لعمر الله لست بجائر وان كنت تابى بالصواب فادبر
وهذا العهد قد تقرر بيننا بمد فلم ننكث ولم نتغير

مرزا قادیانی! ان اشعار کے مجرٰی کا اعراب ہم نے آپ ہی کا لگایا ہوا لکھا ہے۔ عموماً آپ نے رفع لکھے ہیں جس سے معلوم ہوتا ہے کہ اقوا کی قوت سے آپ بھی دبتے اور خوف کھاتے ہیں۔ مگر آپ کا رفع لکھا ہوا اگر صحیح سمجھا جائے تو صرفی اور نحوی قاعدہ کے خلاف ہوتا ہے۔ مذہبی امور میں تو آپ اپنے ناواقف معتقدین کو اپنا حکم ہونا بتلایا کرتے ہیں اور دعویٰ کیا کرتے ہیں کہ جو حدیث میرے دعویٰ کے خلاف ہو وہ غلط۔ مگر صرفی اور نحوی اصول میں تو آپ حکم یا موجد نہیں کہ جو حکم چاہیں لگائیں۔

اس عیب کے علاوہ مندرجہ ذیل اشعار میں اصراف لازم آتا ہے جو اس سے بھی سخت عیب ہے۔ جس کی بابت محیط الدائرہ میں ہے: "ان تغییر المجریٰ الی حرکۃ بعیدۃ کما اذا ابدلت الضمۃ فتحۃ او بالعکس فھو عیب فی القافیۃ یسمی اصرافا واسرافا (ص ١١٠)"

عروض المفتاح میں ہے وہو عیب (کامر آنفا) پس سنو!

(ص ٤٨، شعر ٦) "دعوا حب دنیاکم وحب تعصب...... ومن یشرب الصہبا یصبح مسکر" کیونکہ مسکر بوجہ خبر ہونے یصبح کے منصوب ہے۔ حالانکہ قصیدے کا مجرٰی مرفوع ہے۔

٧

صفحہ ٥٤

(ص ٤٩، شعر ٥) ”وان کان شان الامر ارفع عند کم...... فابن بھذا الوقت من شان جولر“ کیونکہ جولر بوجہ شان کے مفعول بہ ہونے کے منصوب چاہئے اور مجریٰ رفع ہے۔

(ص ٥٢، شعر ٦) ”وسموا وآذونی بانواع سہم ...... وسمون دجالا وسمونی ابتر“ ابتر بوجہ مفعول ثانی ہونے سموا کے منصوب چاہئے جو مجریٰ سے خلاف ہے۔

(ص ٥٦، شعر١) ”وقد کان صحف قبلہ مثل خارج...... فجاء لتکمیل الوریٰ لیعزر“ لیعزر لام کے بعد ان ناصبہ مقدر ہونے کی وجہ سے منصوب ہوگا جو مجریٰ کے خلاف ہے۔

(ص٦٢، شعر٨) ”وکیف عصوا واللہ لم یدر سرھا...... وکان سنا برق من الشمس اظہر“ اظہر بوجہ خبر ہونے کان کے منصوب چاہئے۔

(ص٦٥، شعر١٠) ”وکم من عدو کان من اکبر العدا...... فلما اتانی صاغرا صرت اصغر“ اصغر بوجہ خبر ہونے صرت کے منصوب چاہئے جو مجریٰ کے مخالف ہے۔

(ص ٦٨، شعر ١١) ”اکان جمیع الفضل الرسل کلھم ...... اکان شفیع الانبیاء ومؤثر“ مؤثر بوجہ معطوف ہونے شفیع کے کان کی خبر منصوب ہے۔

(ص ٧٠، شعر ٩) ”اتزعم ان رسولنا سید الوریٰ ...... علیٰ رغم شانہ توفی ابتر“ ابتر بوجہ حال ہونے توفی کی ضمیر کے منصوب ہے۔ آپ نے مرفوع بنایا ہے۔

(ص ٧٨، شعر ٨) ”آاخیت ذئبا عابثا او ابالوفا...... او رأیت امرئسر“ امرئسر بوجہ مفعول بہ یا حسب ترجمہ مصنف مفعول فیہ ہونے کے منصوب ہے۔ نیز ہمزہ سے ثقل آتا ہے۔ گرانا جائز نہیں چونکہ قطعی ہے۔

(ص ٨٣، شعر ٢) ”وصبت علیٰ رأس النبی مصیبۃ...... ودقوا علیہ من السیوف المغفر“ المغفر بوجہ مفعول بہ ہونے دقوا کے منصوب ہے۔ آپ نے مرفوع بنایا ہے۔

(ص ٨٤، شعر ٧) ”وکنت اذا خیرت للبحث والوغا ...... سطوت علینا شاتما لتوفر“ لتوفر بوجہ مقدر ہونے ان ناصبہ کے منصوب چاہئے جو مجریٰ کے خلاف ہے۔

(ص ٨٦، شعر ١) ”ففکر بجھدک خمس عشرۃ لیلۃ...... وناد حینا اظفرا واصفر“ اصفر بوجہ معطوف ہونے مفعول بہ کے منصوب ہے۔

(ص ٨٧، شعر ٧) ”رمیت لاغتالن وما کنت رامیا ...... ولکن رماہ اللہ ربی لیظہر“ لیظہر بوجہ ان مقدرہ کے منصوب ہے۔

٨

صفحہ ٥٥

اقوا اور اصراف گو بعض شعراء کے کلاموں میں آئے ہیں۔ مگر ناقدین نے ان کو معیوب گنا ہے۔ چنانچہ عبارات کتب عروض اوپر گزر چکی ہیں۔

علاوہ اس کے مندرجہ ذیل اشعار میں سقم معنوی بھی ہے:

(ص٤٨، شعر٩) ”تسل ایہا القاری اخاک ابا الوفا...... لما يخدع الحمقى وقد جاء منذر“ عام مخاطب کو جس میں اپنی جماعت کے افراد ناقصہ اور کاملہ بھی داخل ہیں۔ ابوالوفاء کا بھائی یعنی مثیل بنایا ہے اور ابوالوفا کو خدع سے موصوف کیا ہے۔ حالانکہ ایہا القاری بحیثیت عموم کے خدع سے موصوف نہیں ہو سکتا۔

(ص٥٠، شعر٨) ”وان قضاء الله ما يخطى الفتى...... له خائبات لا يراها مفکر“ لا یراہا کا فاعل مفکر کو بنایا ہے۔ حالانکہ مفکر کا کام رؤیت نہیں بلکہ فکر ہے اور اگر افعال قلوب سے کہیں تو دوسرا مفعول ندارد ہے جو ضروری ہے۔

(ص٥٦، شعر٥) ”ولو ان قومی السوی لطالب...... دعوة ليعطوا عين عقل وبصروا“ وبصروا کا عطف دعوت پر مراد نہیں اور یعطوا پر صحیح نہیں۔

(ص٧٤، شعر٤) ”ابا عابد الحرمين اياك والظنی...... ومالك تغتر السعير وتشعر“ میں واو غلط ہے۔ کیونکہ مضارع حال ہو تو صرف ضمیر سے آتا ہے۔ کافیہ میں ہے۔ ”والمضارع المثبت بالضمير وحده“ اور تغتر پر عطف مراد نہیں۔ کما لا يخفى!

(ص٧٥، شعر١١) ”فقلت الك الويلات يا ارض جولوا...... لعنت بملعون فانت تدمر“ انت ضمیر مؤنث مخاطب ہے اور تدمر صیغہ مذکر مخاطب ہے اور اگر تدمرین ہو تو نہ وزن درست رہے گا اور نہ قافیہ بے عیب۔ حقیقت میں یہ پیر صاحب گولڑوی (جن کی اس شعر میں ہجو کی گئی ہے) کی گویا کرامت ہے۔

(ص٧٧، شعر٦) ”فیاتی من الله العليم معلم...... ويهدى الى اسرارها ويفسر“ اسرار ہا میں ضمیر مؤنث اللہ جل شانہ کی طرف پھیری ہے۔ (کیوں نہ ہو بازی، بازی باریش بابا بازی)

(ص٨٢، شعر٤) ”وان كان هذا الشرك في الدين جائزا...... فيا لغو رسل الله في الناس يعثر“ یہ شعر بعینہ اور ہو بہو ص٨٠ کا گیارھواں شعر ہے۔

٩

صفحہ ٥٦

(ص٨٧،شعر٨) "نری برکات نزلوھا من السماء...... لنا کاللواقح والکلام ینصر " نزلوھا میں ضمیر فاعل کا مرجع پہلے مذکور نہیں۔

بتلائیے! جس چھوٹے سے قصیدے میں سرسری نظر سے اتنی غلطیاں لفظی اور معنوی ہوں وہ بھی اس قابل ہوسکتا ہے کہ اعجازیہ کا معزز لقب پاسکے اور اس کو بے مثل کہا جائے۔ ہاں! اگر بے مثل کے یہ معنے ہیں کہ اس جیسا غلط کلام اور قصیدہ دنیا بھر میں کوئی نہیں تو ہمیں بھی مسلم ہے۔

مرزا قادیانی کے قصیدہ کا حال تو معلوم ہو چکا۔ اب ان کے مقابلہ میں ایک قصیدہ سنئے جو قاضی ظفر الدین صاحب مرحوم پروفیسر اورینٹل کالج لاہور نے مرزا قادیانی کے جواب میں لکھا تھا۔ واضح ہو کہ قاضی صاحب کو مرزا قادیانی نے اپنے قصیدے کے جواب کے لئے طلب فرمایا تھا۔

(ملاحظہ ہو اعجاز احمدی ص ٨٦،خزائن ج١٩ص١٩٩)

(قصیدہ رائیہ یہاں سے حذف کر رہے ہیں۔ اس لئے کہ اسی کتاب میں دوسرے مقام پر وہ مکمل شامل ہے۔ مرتب!)

مرزا قادیانی کی قصیدہ خوانی کا جواب تو ہو لیا۔ ہمیں افسوس ہے کہ حکیم صاحب نے بھی اس پیش گوئی کے متعلق بالکل معمولی معمولی باتوں میں وقت ضائع کیا ہے۔ اصل بات کی طرف توجہ نہیں کی۔ گو ان معمولی باتوں میں بھی وہ کامیاب نہیں ہوئے۔ اصل بات تو یہ ہے کہ قصیدہ اعجازیہ اس پیش گوئی کا مصداق نہیں ہوسکتا۔ کیونکہ یہ پیش گوئی بہت زیادہ وزن رکھتی ہے اور قصیدہ مذکورہ درصورت واقعی اعلیٰ ہونے کے بھی اس پیش گوئی کا مصداق نہیں۔ کیونکہ اس قسم کی اعجاز نمائی مرزا قادیانی کو اس پیش گوئی کے پہلے بھی حاصل تھی۔ اس سوال کا جواب حکیم صاحب اور ان کی کمپنی نے نہیں دیا۔ دیتے بھی کیا؟ جو کام مشکل ہو وہ کون کرے؟ حکیم صاحب تو اس مصیبت میں بزبان حال گویا یوں گویا ہیں ۔

بلبل کو دیا نالہ تو پروانہ کو جلنا غم ہم کو دیا سب سے جو مشکل نظر آیا

ناظرین! اس آسمانی نشان کے متعلق واقعات صحیحہ کو سامنے رکھیں اور مرزا قادیانی کے "الفاظ طیبہ" کو دیکھیں جو مکرر درج ذیل ہیں: "میں نے اپنے لئے یہ قطعی فیصلہ کر لیا ہے کہ اگر میری یہ دعا قبول نہ ہو تو میں ایسا ہی مردود اور ملعون اور کافر اور بے دین اور خائن ہوں۔ جیسا مجھے سمجھا گیا ۔"

(اشتہار مورخہ ٥؍نومبر ١٨٩٩ء ص ١٣،مجموعہ اشتہارات ج٣ ص١٧٨)

پس ہمارا بھی اسی پر صاد ہے کہ درصورت دعا قبول نہ ہونے کے آپ کو ایسا ہی ہونا چاہئے ۔ فاکتبنا مع الشاھدین!

(مقولہ از کمالات مرزا مشمولہ احتساب ج ٨ ص ١٠٦ تا ١٢٠)

١٠

PDF 58

خاتم النبیین لا نبی بعدی

سبحانک لا علم لنا الا ما علمتنا انک انت العلیم الحکیم

قصیدہ رائیہ

بجواب

قصیدہ مرزائیہ

پروفیسر حضرت مولانا قاضی ظفر الدینؒ

(صدر شعبہ عربی، اورینٹل کالج، لاہور)

ترجمہ: حضرت مولانا غلام رسول دین پوری مدظلہ

وجناب پروفیسر ڈاکٹر مولانا محمود الحسن عارف مدظلہ

صفحہ ٥٨ ٥٩

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

قصیدہ رائیہ بمقابلہ قصیدہ مرزائیہ

ہفت روزہ اخبار اہلحدیث امرتسر ١٩٠٧ء کے شمارہ جات (١١؍جنوری، ١٨؍جنوری، ٢٥؍جنوری، یکم؍فروری، ١٥؍فروری، ٢٢؍فروری، ٨؍مارچ) میں درج بالا اشعار اس قصیدہ کے موجود ہیں، یہ شمارے فوٹو کی صورت میں علی گڑھ اور گوجرانوالہ سے حاصل ہوئے تھے، اور کاغذ خستہ اور پرانا ہونے کی وجہ سے فوٹو بھی اچھی نہیں آئی، اس لئے اسے پڑھنا کارے دارد ہے۔ تاہم جیسا کچھ مجھ سے پڑھا جاسکا ہے، نقل کر دیا ہے اور درخواست ہے کہ اگر کوئی صاحب علم اس کی تصحیح میں میری مدد فرمانا چاہیں تو رابطہ کئے جانے پر انتہائی ممنون ہوں گا اور بعد تصحیح اسے کسی دوسری جگہ نقل کر دیا جائے گا۔ ان شاء اللہ۔

حضرت مولانا ثناء اللہ امرتسریؒ لکھتے ہیں:

ناظرین آگاہ ہونگے کہ مرزا قادیانی نے ایک رسالہ ’’اعجازِ احمدی‘‘ لکھا تھا جس میں ایک قصیدہ عربی بھی تھا۔ اُس کا نام مرزا قادیانی نے ’’قصیدہ اعجازیہ‘‘ رکھا تھا۔ بایں زعم کہ اُس کے مقابلہ کا کسی سے بن نہیں سکے گا۔ خاکسار نے اُس قصیدہ کی کسی قدر اغلاط رسالہ ’’الہامات مرزا‘‘ میں لکھی ہیں جن کا جواب آج تک نہ مرزا قادیانی سے اور نہ اُن کے کسی حواری سے ہوسکا۔

جن احباب نے رسالہ مذکورہ نہ دیکھا ہو، ان کی اطلاع کے لئے قصیدہ مذکورہ کے دو تین شعر لکھے جاتے ہیں۔ مطلع قصیدہ کا یہ ہے:

أَيَا أَرْضُ مُدَّ قَدْ دَفَاكِ مُدَمِّرُ وَأَرْدَاكِ ضِلِّيْلٌ وَاَغْرَاكِ مُؤْثِرُ

باوجودیکہ مجریٰ اس کا رفع ہے۔ تاہم بہت سے اشعار ایسے بھی ہیں جن میں نہ نحو کا لحاظ ہے نہ عروض کا پاس۔ چنانچہ:

اَأَعْمَيْتَ ذِئْبًا عَائِفًا أَوْ أَبَا لْوَفَاءِ أَوْ أَعْمَيْتَ مُدًّا أَوْ رُعَيْتَ اَمْرَ نَسْرُ

اس شعر میں امر نسر۔ رویت کا مفعول بہ ہونے کی وجہ سے منصوب چاہئے تھا۔ مگر قادیانی مسیح نے اپنی اعجاز سے اُسے مرفوع کر دیا۔ اور سنئے!

وَلَمَّا اعْتَدَى اَلْاَمْرُ تَسَرَّىٰ بِمَكَائِدِهِ وَأَغْرَىٰ عَلَى صَحْبِيْ لِئَامًا وَكُفَّرُوْا

اس شعر کا ترجمہ ہی اس کی خوبی کا مظہر ہے جو حضرت نے خود ہی کیا ہے۔ فرماتے ہیں:

’’اور جب ثناء اللہ اپنے فریبوں سے حد سے گذر گیا اور لوگوں کو میرے دوستوں پر برانگیختہ کیا۔‘‘

٢

اس ترجمہ میں یہ چالا کی ہے کہ نہ تو لئاماً کا اظہار ہوتا ہے علاوہ اِس شعر میں جو ما حرف شرط ہے اس کی جزا اور دوسری

فَقَالُوْا لِيُوْسُفَ مَا نَرَى الْخَيْرَ هٰهُنَا

لَمَّا کی جزا ء پر ف آنا جائز نہیں۔ قرآن قُلُوْبُهُمْ غرض اِسی قسم کی سینکڑوں لفظی اور معنوی غل نے اِس کے مقابلہ میں قصیدہ لکھنے کی ضرورت نہ سمجھی۔ ت کے بے جا غرور کو توڑنا تھا، اس لئے خدا نے قاضی ظفر

توجہ دلائی تو مرحوم نے ایک قصیدہ لکھا لیکن طبع ہونے کا لیک کہا اور قصیدہ کہیں مسودہ جات کے انبار ہی میں پڑا

آخر کار مرحوم کے اور میرے ایک شاگرد رش کہا کہ اس قصیدہ کو چھپوا دیا جائے تاکہ مصنف کی محنت صورت میں چھاپنے میں خرچ ہوگا اور اشاعت بھی کم کردیا جاویگا۔ چنانچہ آج سے شروع کیا جاتا ہے۔ نا

سامی کے لئے دعاء خیر فرما دینگے۔ بہر حال قصیدہ مذکور

قِفَا نَبْكِ مِنْ ذِكْرَىٰ عُلُوْمٍ تُبَعْثَرُ

مضطرب ہو جاتے ہیں اور اس شخص کو خواہشات نفسانیہ ال

تَذَكُّرُهَا عَوْدًا إِلَى الْبَدْءِ يُثْوِرُ

ہوگی جس دن قبریں اکھیڑی جائیں گی (اور مردوں کو ق

وَأَهْلٌ لَّهَا أَضْحَوْا رَمِيْمًا وَأَقْفَرَتْ

دانش گاہیں خالی ہو گئیں اور وہ ان مکانات کو چھوڑ کر ج

مَعَ الدَّهْرِ أَخْلَاقًا حِسَانًا وَكُلُّهُمْ

نے ہر چیز کو چمکا یا پھر چھپ گئے اور گہری نیند سو گئے،

٣

صفحہ ٥٩

اس ترجمہ میں یہ چالاکی ہے کہ نہ تو لِماماً کا اظہار ہوتا ہے نہ کفروا کا ترجمہ لکھتا ہے۔ اس کے علاوہ اس شعر میں جو ما حرف شرط ہے اس کی جزاء دوسرے شعر میں نکلتی ہے جو یہ ہے ۔

فَقَالُوا لَيُوسُفُ مَا نَرَى الْخَيْرَ ههُنَا وَلكِنَّهُ مِنْ قَوْمِهِ كَانَ يَحْذَرُ

لِمَا کی جزاء پر ف کا آنا جائز نہیں۔ قرآن شریف میں لَمَّا زَاغُوا أَزَاغَ اللهُ قلوبهم غرض اسی قسم کی سینکڑوں لفظی اور معنوی غلطیوں سے یہ قصیدہ پُر تھا اس لئے کسی اہل علم نے اس کے مقابلہ میں قصیدہ لکھنے کی ضرورت نہ سمجھی ۔ تاہم اللہ تعالیٰ نے چونکہ مرزا قادیانی قادیانی کے بے جا غرور کو توڑنا تھا، اس لئے خدا نے قاضی ظفر الدین مرحوم پروفیسر اورینٹل کالج لاہور کو توجہ دلائی تو مرحوم نے ایک قصیدہ لکھا لیکن طبع ہونے تک نوبت نہ آئی تھی کہ مرحوم نے پیغام الہی کو لبیک کہا اور قصیدہ کہیں مسودہ جات کے انبار ہی میں پڑا رہا۔

آخر کار مرحوم کے اور میرے ایک شاگرد رشید مولوی محمد داؤد مولوی فاضل نے مجھ سے کہا کہ اس قصیدہ کو چھپوا دیا جائے تا کہ مصنف کی محنت ضائع نہ ہو۔ میں نے خیال کیا کہ رسالہ کی صورت میں چھاپنے میں خرچ ہوگا اور اشاعت بھی کم ہوگی ، اس لئے اخبار میں ایک کالم میں پورا کر دیا جاوے گا۔ چنانچہ آج سے شروع کیا جاتا ہے۔ ناظرین سے امید ہے کہ قصیدہ کے مصنف اور ساعی کے لئے دعاء خیر فرماوینگے۔ بہر حال قصیدہ مذکورہ یہ ہے۔

( ثناء اللہ امرتسری )

قِفَا نَبْكِ مِنْ ذِكْرى عُلُوْمٍ تَبَعْثَرُ قُلُوْبًا أَمَاتَتُهُ الْهَوى وَ تُدَمِّرُ

مضطرب ہو جاتے ہیں اور اس شخص کو خواہشات نفسانیہ اور مباحثوں نے موت کے گھاٹ اتار دیا ہے۔

تُذَكِّرُهَا عَوْدًا إِلَى الْبَدْءِ لِلْوَرى وَلُقْيَانَ ذَاتِ اللّٰهِ يَوْمَ تُبَعْثَرُ

ہوگی جس دن قبریں اکھیڑی جائیں گی (اور مردوں کو قبروں سے نکالا جائے گا )

وَأَهْلٌ لَّهَا أَضْحَوْا رَمِيْمًا وَأَقْفَرَتْ مَنَازِلُ عِلْمٍ الَّذِيْنَ مِنْهُمُ وَسُمِّرُوْا

دانش گاہیں خالی ہوگئیں اور وہ ان مکانات کو چھوڑ کر چل بسے۔

مَعَ السَّهَرِ أَخْلَاقُهَا حِسَانًا وَكُلُّهُمْ نُجُومٌ أَضَاءَتْ ثُمَّ غَابُوا وَغُوِّرُوْا

نے ہر چیز کو چمکایا پھر چھپ گئے اور گہری نیند سوگئے۔

٣

صفحہ ٦٠
كَأَنِّي إِذَا مَا أَذْكُرُ الْمَهْدِيَّ وَالْهُدَى أَهِيْمُ بِرُؤْيَا قَدْ تَلُوْحُ وَتَسْتُرُ

چمک اتنی بلند اور اونچی ہے جو کبھی نمودار ہوتی اور کبھی چھپ جاتی ہے۔

وَصَحْبِيْ قِيَامٌ فِيْ مَقَامٍ نَصِيْحَةٍ يَقُوْلُوْنَ لَا تَحْزَنْ فَإِنَّكَ تُوْجَرُ

ہیں ۔ غم مت کھا یقینا تجھے اجر دیا جائے گا۔

وَإِنَّ شِفَائِيْ سُنَّةٌ نَّبَوِيَّةٌ فَهَلْ مِنْ كَرِيمٍ يَرْتَضِيْهَا وَيُؤْثِرُ

شریف النفس ہے جو اسے اختیار کرے اور اس کی اتباع کرے۔

أَلَارُبَّ يَوْمٍ كَانَ يَوْمًا مُبَارَكًا وَلَا سِيَّمَا يَوْمٌ بِهِيْ مُنَوَّرُ
لَهُمْ فِيْهِ نُصْحٌ لِلْبَرِيَّةِ وَالْوَرَى بِتَذْكَارِ يَوْمٍ كُلُّنَا فِيْهِ يُحْشَرُ

سب کو جمع کیا جائے گا۔ (یعنی یوم حشر )

بِتَذْكَارِ يَوْمٍ لَيْسَ يَخْفَى عَلَى الْوَرَى بِهِ اللّٰهُ يُعْطِيْ مَنْ يَّشَاءُ وَيُحْسِرُ

چاہیں محروم فرمائیں گے۔

بِهِ اللّٰهُ يُصْمِيْ مَنْ أَتَى مُتَكَبِّرًا بِهِ اللّٰهُ يُرْدِيْ كَيْدَ مَنْ هُوَ يَفْخَرُ

اور اس دن جو شخص شیخی بگھارتا ہوا آئے گا اس کی تدبیر کو لچر اور کمزور کر دیں گے۔

بِهِ اللّٰهُ يَقْضِيْ بَيْنَنَا كُلَّ أَمْرِنَا وَيَفْتَحُ مَهْمَا فَتْحُهُ مُتَعَسِّرُ

ہو گا اسے کھول دیں گے۔

وَيَوْمَ عَقَرْنَا فِيْهِ لَيْلَ نُفُوْسِنَا إِلَى كُلِّ مَا يَفْنَى وَمَا يَتَغَيَّرُ
وَمِلْنَا إِلَى بَاقٍ وَّخَيْرِ ذَخِيْرَةٍ وَنَبْغِيْ رِضَاءَ اللّٰهِ فِيْمَا يُدَّخَرُ

٤

والا ہے، اور ہر اس عمل میں اللہ کی رضا کو مقصود بنا لی

فَأَوَّلُ مَا يَعْلُوْ بِهِ الْمَرْءُ فِي الْوَرَى

ہے جو کہ عظیم الشان معبود ہے۔

وَتَسْلِيْمُ أَحْكَامٍ أَتَتْ فِيْ كِتَابِهِ

روشن کتاب (قرآن مجید) ہے۔

مُرَادِيْ بِهِ مَا قَدْ تَرَاهُ مُفَصَّلًا

مسلمانوں کے ہاتھوں میں ہے، اور ہر مسلمان اس

وَكَيْفَ يُرِيْدُوْنَ الْأُنَاسُ بِهِ فَهُمُ

لئے برابر ہے کہ وہ عہد و پیمان کریں یا اپنا بچاؤ کر

فَمَنْ كَانَ مِنْهُمْ مُرْسَلًا كَانَ مُرْسَلًا

طرف سے یہ بات مشکل ہے۔

وَذَاكَ لِأَنَّ الْغَيْرَ أَيْضًا كَمِثْلِهِ

مأمور (حکم دیا ہوا) بھی ہے۔

وَمَأْمُوْرُهُمْ أَيْضًا بِكِتَابٍ وَآمِرُ

اس بات سے برگشتگی گمراہی ہے۔

وَإِعْثَارُ شَيْءٍ نَفْسُهُ مِثْلَ مَامَضَى

ہے، اس جیسا فعل آسان کام نہیں ہے۔

صفحہ ٦١

١٤....... (اب) ہم اس عمل کی طرف راغب ہو گئے ہیں جو باقی رہنے والا اور عمدہ ذخیرہ بننے والا ہے، اور ہر اس عمل میں اللہ کی رضا کو مقصود بنالیں گے جس کا ذخیرہ بنایا جاسکتا ہے۔

فَأَوَّلُ مَا يَعْلُوْ بِهِ الْمَرْءُ فِي الْوَرى قَبُوْلٌ لِّمَا قَالَ الْاِلٰهُ الْمُكَبَّرُ

١٥....... سب سے پہلا وہ کام جس سے آدمی بلند و برتر ہو جاتا ہے وہ اس اللہ کے حکم کو قبول کرنا ہے جو کہ عظیم الشان معبود ہے۔

وَتَسْلِيْمُ اَحْكَامٍ اَتَتْ فِيْ كِتَابِهِ مُرَادِىْ بِهِ ذَاكَ الْكِتَابُ الْمُنَوَّرُ

١٦....... اور تمام ان احکام کو ماننا ہے جو اس کی کتاب میں مذکور ہیں۔ اس کتاب سے میری مراد روشن کتاب (قرآن مجید) ہے۔

مُرَادِىْ بِهِ مَا قَدْ تَرَاهُ مُفَصَّلًا بِاَيْدِى الْكِرَامِ الْمُسْلِمِيْنَ وَيُزْبَرُ

١٧....... اس کتاب سے میری مراد وہی کتاب ہے جسے تو واضح طور پر دیکھتا ہے جو معزز مسلمانوں کے ہاتھوں میں ہے اور ہر مسلمان اس کی زیارت کرتا ہے۔

وَكَيْفَ يَأْسِرُوْنَ الْاُنَاسَ بِهِ فَهُمْ سَوَاءٌ عَلَيْهِمْ اَنْذَرُوْا اَمْ تَنَاذَرُوْا

١٨....... اور اس کتاب کے ہوتے ہوئے لوگوں کو کیسے (گرفتار کرنا) چاہیں گے۔ لہٰذا ان کے لئے برابر ہے کہ وہ عہد و پیمان کریں یا اپنا بچاؤ کریں۔

فَمَنْ كَانَ مِنْهُمْ مُّرْسَلًا كَانَ مُرْسَلًا اِلَى نَفْسِهِ اَوْ غَيْرِهِ ذَاكَ يُعْسِرُ

١٩....... جو بھی ان میں رسول ہے تو وہ اللہ کا فرستادہ ہے۔ اس کی اپنی طرف سے یا دوسروں کی طرف سے یہ بات مشکل ہے۔

وَذَاكَ لِاَنَّ الْغَيْرَ اَيْضًا كَمِثْلِهِ فَمَنْ كَانَ مِنْهُمْ آمِرًا كَانَ يُؤْمَرُ

٢٠....... اور یہ اس وجہ سے کہ غیر بھی تو اسی کی طرح ہے۔ لہٰذا جو آمر (حکم چلانے والا) ہے تو وہ مأمور (حکم دیا ہوا) بھی ہے۔

وَمَأْمُوْرُهُمْ اَيْضًا بِكِتَابٍ وَآمِرٌ لِاَمْرٍ حَقًّا كَذٰلِكَ يُعْذَرُ

٢١....... اور جس کا حکم دیا گیا ہے وہ کتاب (قرآن) ہے اور حکم دینے والے کا حکم برحق ہے۔ اس بات سے بر گشتگی گمراہی ہے۔

وَإِعْثَارُ فِيْهِ نَفْسَهُ مِثْلَ مَا مَضى عَسِيْرٌ مُّحَالٌ مِّثْلُهُ لَا يُيَسَّرُ

٢٢....... اور کسی کا اپنے آپ کو لغزش میں ڈالنا جیسا کہ ابھی بیان ہوا بہت ہی دشوار اور ناممکن ہے، اس جیسا فعل آسان کام نہیں ہے۔

٥

صفحہ ٦٣
رَجَعْنَا إِلَى مَا قَدْ هَوَيْنَاهُ أَوَّلًا وَقُلْنَا أَرَدْنَا مِنْهُ مَا هُوَ مُؤْثِرُ

٢٣...... اب ہم اسی بات کی طرف آتے ہیں۔ جسے ہم نے پہلے بیان کیا اور ہماری مراد وہی کتاب ہے جس کی زیارت کی جاتی ہے۔

بِكِتَابٍ حَوَى مَا يَبْغِيْهِ أُولُو النُّهَى مِنَ الْهُدَى وَالْعِلْمُ الَّذِي هُوَ الْبَحْرُ

٢٤...... یعنی وہ کتاب جو ہدایت اور علم کے (ناپیدا کنار) سمندر پر مشتمل ہے اور ارباب عقل اس کی پیروی کرتے ہیں۔

فَلَوْلَاهُ كُنَّا فِي الضَّلَالِ كَغَيْرِنَا وَذُقْنَا كَمَا ذَاقُوْا اَمْ هُوَ اَكْثَرُ

٢٥...... اگر وہ کتاب نہ ہوتی تو غیر لوگوں کی طرح ہم بھی گمراہی میں ہوتے اور ہم بھی ان کی طرح گمراہی کا وبال چکھتے یا وہ غالب ہوتے۔

بِكِتَابٍ شِفَاءٌ لِلصُّدُورِ وَنَالَهُ مِنَ الْخَيْرِ وَالْفَضْلِ الَّذِي لَا يُقَدَّرُ

٢٦...... وہ ایسی کتاب ہے جو سینوں کے (امراض) کے لئے شفاء (کا کام دیتی) ہے اور اس قدر خیر وفضل (ربانی) کو لئے ہوئے ہے۔ جس کی تہہ تک غوطہ نہیں لگایا جاسکتا۔

بِكِتَابٍ هَدَانَا حُسْنَ أَخْلَاقِ رَبِّنَا بِكِتَابٍ هَدَاهُ خَبَرَكُمْ لَا يُغَادِرُ

٢٧...... وہ ایسی کتاب ہے جو ہمارے رب کے (عطاء کردہ) حسن اخلاق کی طرف رہنمائی کرتی ہے۔ وہ ایسی کتاب ہے جس نے تمہاری خبر بتلائی اور بتلانے میں کوئی کمی باقی نہیں رکھی۔

بِكِتَابٍ هَدَانَا أَنَّ فَجَّ رَسُولِهِ هُوَ الْمَلِكُ الْأَبْهَى السَّنِيُّ الْمُطَهَّرُ

٢٨...... وہ ایسی کتاب ہے جس نے ہمیں بتلایا کہ اللہ کے رسول ہی (کی شریعت) کشادہ راستہ ہے، اور وہ خوبصورت چہرے والے بادشاہ ہیں جن کے مرتبہ کی بلندی ظاہر ہے۔

بِكِتَابٍ هَدَانَا الْإِجْمَاعَ فَلَا نَرَى عَلَى الْحَقِّ مَنْ وَافَى إِلَيْنَا يُبَحْثِرُ

٢٩...... وہ ایسی کتاب ہے جس نے ہماری حق پر مجتمع رہنے کی رہنمائی کی۔ سو اب جو ہمارے پاس بحث ومباحثہ کے لئے آئے اسے ہم حق پر نہیں سمجھتے۔

يُفَرِّقُ شَمْلَ الْمُسْلِمِينَ بِقَوْلِهِ أَنَا الْمُقْتَدَى الْحَبْرُ الْإِمَامُ الْمُوَزِّرُ

٣٠...... جس نے اپنے ان الفاظ کے ساتھ مسلمانوں کی جملہ جماعتوں کی اتحاد کو پارہ پارہ کیا اب میں ہی اقتداء کے لائق سب کو کھینچنے اور سب کا بوجھ اٹھانے والا امام ہوں۔

أَنَا الْحُجَّةُ الْبَيْضَاءُ فِي كُلِّ سَاعَةٍ أَغُوصُ عَلَى عِلْمِ عَلِيمٍ وَأَصْدِرُ

٣١...... (کہتا ہے) میں ہی ہر لمحہ (بحیثیت) روشن دلیل (کام دیتا) ہوں اور میں اللہ کے علم

٦

میں غوطہ لگاتا اور اس کی حقیقت ظاہر کرتا ہوں۔

بِسِرٍّ بَهِيٍّ ذِي سَنَاءٍ فَلَا تَرَى

٣٢...... (کہتا ہے کہ میں) بلندی والا خوبصورت اس کے مثل جو انہوں نے دیکھا اور دکھایا۔

(مرزا قادیانی نے دعویٰ کرتے ہوئے کہا)

فَإِنِّي أَنَا الْمَوْعُودُ لِلنَّاسِ فِي الدُّنْيَا

٣٣...... بے شک دنیا میں لوگوں کے لئے میں ہی مسیح

عَلَى أَنَّهُ يَهْدِي الْأَنَاسَ عَلَى السَّوَاءِ

٣٤...... اور وہ مسلسل اور برابر لوگوں کو اس بات کی ہو گیا ہے۔ لہٰذا تم سوچو اور غور وفکر کرو۔

فَأَيُّ كِتَابِ اللَّهِ يَنْطِقُ هَكَذَا

٣٥...... کتب سماویہ میں سے کون سی کتاب اس طرح سے سب سے بہتر ہستی (یعنی رسول اللہ ﷺ) کا قول (و

وَلَسْتُ نَبِيًّا بِالْأَصَالَةِ لِلْوَرَى

٣٦...... میں لوگوں کے لئے بالاصالہ (حقیقی) نبی بلکہ ظلی نبی ہوں۔ خدا کا شکر ہے۔

فَعُوْا وَاسْمَعُوا مِنْ كَلَامِي فَإِنَّنِي

٣٧...... پس متوجہ ہوں اور میرا کلام سنو! کیونکہ (صاحب بصیرت) پسند کرتا ہے۔

لَئِنْ مَاتَ عِيسَى فَالرُّجُوعُ مُحَرَّمٌ

٣٨...... اس لئے کہ عیسیٰ (علیہ السلام) تو فوت ہے۔ یہ بات اللہ کے ہاں پختہ ہے۔

فَكَيْفَ يَقُولُ الْمَرْءُ إِنِّي خَلِيفَةٌ

٣٩...... یہ آدمی (مرزا کانا) کیسے دعویٰ رکھتا ہے قادیان میں چھپا رکھا ہے۔

وَإِنْ كَانَ حَقًّا فَالْجَوَابُ مُيَسَّرٌ

٧

صفحہ ٦٣

میں غوطہ لگاتا اور اس کی حقیقت ظاہر کرتا ہوں۔

بَدْرٌ بَهِيٌّ ذِيْ سَنَاءٍ فَلَا تَرى مِثَالًا لَهُ فِيْمَا يَرَوْنَ وَأَبْصَرُوْا

اس کے مثل جو انہوں نے دیکھا اور دکھایا۔ (مرزا قادیانی نے دعویٰ کرتے ہوئے کہا)

فَإِنِّي أَنَا الْمَوْعُودُ لِلنَّاسِ فِي الدُّنْيَا مَسِيحٌ وَمَهْدِيٌّ تَعَالَوْا فَتَنْظُرُوْا
عَلَى أَنَّهُ يَهْدِي الْأَنَاسَ عَلَى السَّوَاءِ لَقَدْ مَاتَ عِيْسَى فَانْظُرُوْا وَتَفَكَّرُوْا

ہو گیا ہے۔ لہذا تم سوچو اور غور و فکر کرو۔

فَأَيُّ كِتَابِ اللّٰهِ يَنْطِقُ هٰكَذَا كَذَا قَوْلُ خَيْرِ النَّاسِ يَهْدِي فَفَكِّرُوْا

سے سب سے بہتر ہستی (یعنی رسول اللہ ﷺ) کا قول (حدیث) بھی یہی بتلاتا ہے۔ تم سوچو تو سہی۔

وَلَسْتُ نَبِيًّا بِالْأَصَالَةِ لِلْوَرى أَنَا الظِّلُّ لَا الْأَصْلُ الْأَصِيْلُ وَاشْكُرُ

بلکہ ظلی نبی ہوں۔ خدا کا شکر ہے۔

فَعُوْا وَاسْمَعُوْا مِنْ كَلَامِي فَإِنَّنِي أُرِيْدُ جَوَابًا يَرْتَضِيْهِ مُبَصِّرُ

(صاحب بصیرت) پسند کرتا ہے۔

لِأَنَّ مَاتَ عِيْسَى فَالرُّجُوْعُ مُحَرَّمٌ إِلَى هٰذِهِ الدُّنْيَا لَدَيْهِمْ مُقَرَّرُ

ہے۔ یہ بات اللہ کے ہاں پختہ ہے۔

فَكَيْفَ يَقُوْلُ الْمَرْءُ إِنِّي خَلِيْفَةٌ مَسِيْحٌ لَهُ فِي الْقَادِيَانَ تَسَتُّرُ

قادیان میں چھپا رکھا ہے۔

وَإِنْ كَانَ حَيًّا فَالْجَوَابُ مُيَسَّرٌ وَسَهْلٌ عَلَى مَنْ كَانَ يُعْطَى وَيُعْذِرُ

٧

صفحہ ٦٥

کرتا ہے اس کے لئے اس جواب کا سمجھنا آسان ہے۔

بِأَنْ لَّيْسَ هَذَا ذَاكَ قَطْعًا بِلَا مِرًا فَكَيْفَ يَكُونُ الْغِرُّ حُرًّا يُوَقَّرُ

نہیں جس کی تعظیم کی جائے۔

وَإِنْ كَانَ دَعْوَاهُ بِأَنِّيْ مَثِيلُهُ فَمَا قَوْلُهُ قَدْ مَاتَ عِيسَى فَأَبْشِرُوا

غلط ہے تم خوش ہو جاؤ۔

إِنَّ مَثِيلَ الْأَمْرِ لَا يَقْتَضِي وَلَا يُدْنِيْ لِإِعْدَامِ الْمُمَثَّلِ فَاحْذَرُوا

نہ اس کے قریب۔ لہٰذا (ایسے جھوٹے مدعی سے) تم اپنا بچاؤ کرو۔

عَلَى أَنَّ خَتْمَ الْأَنْبِيَاءِ يُقِيمُنَا عَلَى مَنْهَجِ حَقٍّ سَوِيٍّ يُقَدَّرُ

رکھا۔ یہ بات (اور دعویٰ) غلط اور بے کار ہے۔

إِذَا تَمَّ مِضْمَارُ النُّبُوَّةِ فِي الْوَرَى فَمَا قَوْلُ شِبْهِ مِثْلِ عِيسَى فَأَبْصِرُوا
مَتَى لَمْ يَكُنْ أَمْرٌ لِأَمْرٍ مُشَارِكًا فَمَاذَا وَمَا ذَاكَ انْظُرُوا وَتَدَبَّرُوا
لِأَنَّ مَثِيلَ الشَّيْءِ يَأْتِي مُشَارِكًا لَهُ فِيْ أُمُورِ الذَّاتِ وَهُوَ مُقَرَّرُ

اصول پختہ اور ثابت شدہ ہے۔

عَلَى أَنَّ هَذَا جَاءَ مِنْ حِصَصٍ لَّهُ وَذَاكَ لَهُ نَوْعٌ كَذَالِكَ يُؤْثَرُ

حاصل ہے۔ لہٰذا اسے اختیار کیا جائے۔

وَلَيْسَ نَبِيٌّ بَعْدَ حَضْرَتِهِ وَلَا يَحُومُ عَلَى الْإِنْكَارِ إِلَّا مُقَذَّرُ

٨

بد بخت ہی کر سکتا ہے

فَكَيْفَ يَقُولُ الْمَرْءُ إِنِّي مَسِيحُكُمْ

میں بھی شریک نہیں جو (لوگوں کو) ڈرائے۔

فَإِنْ قَالَ إِنِّي ظِلُّهُ لَا أَصِيلُهُ

ہے، جسے حقیر سمجھا جاتا ہے۔

فَهَذَا هُوَ الْمَحْرُومُ مِنْ نُوْرِ شَمْسِهِ

(آفتابِ نبوت) سراپا نور ہے اور پورے عالم میں ر

يُبَايِنُ هَذَا ذَاكَ حَقًّا بِلَا مِرًا

کھاتا) بلکہ یہ تو خام اور ردی سامان ہے جسے گرایا جا

وَذَاكَ مَحَلٌّ قَائِمٌ بِأُصُولِهِ

ایسی مضبوط عمارت ہے جس کا تصور نہیں کیا جا سکتا

فَإِنْ كَانَ هَذَا مِثْلَهُ أَوْ مَثِيلَهُ

پہلو بہ پہلو ہونے کی تو مخبر صادق نے خبر دی ہے۔

فَقَالَ نَبِيُّ اللّٰهِ إِنِّي مِثْلُكُمْ

انسان معزز نبی نہیں بن گئے؟ کچھ تو سوچو!

لِأَنَّهُمُ مِثْلُ النَّبِيِّ لِكَوْنِهِمْ

السلام) کی طرح بشر ہیں۔ لہٰذا جواب دو۔

فَمَا قَاسَ مَرْدُودٌ بِقَوْلِ أُفُولِهِ
صفحہ ٦٥

بدبخت ہی کرسکتا ہے

فَكَيْفَ يَقُولُ الْمَرْءُ إِنِّي مَسِيْحُكُمْ وَلَيْسَ شَرِيْكًا فِي النُّبُوَّةِ يُنْذِرُ

٥٠...... کیسے دعویٰ کرتا ہے آدمی (بد بخت قادیانی) کہ میں تمہارا مسیح ہوں۔ حالانکہ وہ نبوت میں بھی شریک نہیں جو (لوگوں کو) ڈرائے۔

فَإِنْ قَالَ إِنِّي ظِلُّهُ لَا أُصِيلُهُ فَمَا الظِّلُّ إِلَّا ضِدُّهُ الْمُسْتَحْقَرُ

٥١...... اگر وہ کہتا ہے کہ میں ظلی نبی ہوں، حقیقی نبی نہیں ہوں تو یاد رکھیں: کہ سایہ تو اصل کی ضد ہے۔ جسے حقیر سمجھا جاتا ہے۔

فَهٰذَا هُوَ الْمَحْرُومُ مِنْ نُورِ شَمْسِهِ وَذَاكَ مُضِيءٌ نَيِّرٌ مُتَنَوِّرُ

٥٢...... یہ (بد بخت) تو (چمگادڑ) کی طرح آفتاب نبوت کی روشنی سے بھی محروم ہے۔ جو (آفتاب نبوت) سراپا نور ہے اور پورے عالم میں روشنی پھیلا رہا ہے۔

يُبَايِنُ هٰذَا ذَاكَ حَقًّا بِلَا مِرًا فَهٰذَا هُوَ الْعَرَضُ الَّذِي يَتَهَوَّرُ

٥٣...... یہ (بد بخت) آفتاب نبوت سے بلاشک و شبہ مختلف اور مباین ہے (جو بالکل میل نہیں کھاتا) بلکہ یہ تو خام اور ردی سامان ہے جسے گرایا جاتا ہے۔

وَذَاكَ مَحَلٌّ قَائِمٌ بِاُصُولِهِ بِنَاءٌ قَوِيٌّ اَمْرُهُ لَا يُصَوَّرُ

٥٤...... اور وہ (آفتاب نبوت) تو ایسا مضبوط محل ہے جو اپنی پختہ بنیادوں پر قائم ہے۔ یعنی وہ ایسی مضبوط عمارت ہے جس کا تصور نہیں کیا جاسکتا۔

فَإِنْ كَانَ هٰذَا مِثْلَهُ أَوْ مَثِيْلَهُ فَقُلْ كُلُّنَا الْاَمْثَالُ وَاْلحَالُ مُخْبِرُ

٥٥...... اگر یہ (ملعون قادیانی) اس کا مثل یا اس کا مثیل ہے تو تم کہہ دو! کہ ہم سبھی مثل ہیں اور پہلو بہ پہلو ہونے کی تو مخبر صادق نے خبر دی ہے۔

فَقَالَ نَبِيُّ اللّٰهِ إِنِّي مِثْلُكُمْ وَلَيْسُوْا النَّبِيِّيْنَ الْكِرَامَ فَفَكِّرُوْا

٥٦...... سو اللہ کے نبی (ﷺ) نے فرمایا۔ بے شک میں تمہاری طرح ہوں۔ حالانکہ سبھی انسان معزز نبی نہیں بن گئے؟ کچھ تو سوچو!

لِاَنَّهُمُ مِثْلُ النَّبِيِّ لِكَوْنِهِمْ اُنَاسًا كَمَا كَانَ النَّبِيُّ فَحَرِّرُوْا

٥٧...... کیونکہ وہ سب انسان (بشریت میں) نبی کے مثل ہیں۔ اس لئے کہ وہ بھی تو نبی (علیہ السلام) کی طرح بشر ہیں۔ لہٰذا جواب دو۔

فَمَا قَاسَ مَرْدُوْدٌ بِقَوْلٍ أَقُوْلُهُ فَقَدْ قُلْتُ مَافِيْهِ الْكِفَايَةُ فَاشْكُرُوا

٩

صفحہ ٦٧

اس کے متعلق ضروری اور کام کی بات کرتا ہوں۔ پس شکر بجا لاؤ۔

وَلَيْسَ نَبِيٌّ خَصْمَنَا وَخَصِيْمَنَا بَلِ الْخَصْمُ ضِدٌّ لِلنَّبِيِّ مُقَرَّرُ

کے منافی ہے۔ یہ پختہ اصول ہے۔

بَرَاهِمَةُ الْهِنْدِ الَّذِيْنَ نَرَاهُمُ حِيَارَى يَرَوْنَ مَا يُرَاهُ وَيَأْمُرُ

جس کو (ان کا گرو) دیکھتا اور جس چیز کا حکم کرتا ہے۔

بِأَنَّ الْأُنَاسَ الْمَسَاكِيْنَ عَلَى الثَّرَى جَمِيعًا صَحِيْفَاتُ عَنِ الرَّبِّ تَذْكُرُ

مستوی کی طرح ہیں۔

فَلَيْسَ بِكِتَابٍ نَاطِقًا عَنْ حُقُوقِهِ وَكُلُّهُمُ فِي الْوَحْيِ يَسْوِى وَيُخْبَرُ

ایک اللہ کی وحی میں برابر ہے اور اس میں ایک کی جانچ اور امتحان ہے۔

وَلَيْسَ نَبِيٌّ خَاتِمًا لِنُبُوَّةٍ وَلَيْسَ كِتَابٌ نَازِلٌ جَاءَ يُنْذِرُ

لے کر ڈرانے والا بن کر آیا ہو۔

عَجِيْبٌ عَلَى أَهْلِ الذَّكَاوَةِ وَالنُّهَى إِذَا مَا دَرَوْا أَنَّ النُّبُوَّةَ تَعْسِرُ

نئی نبوت دشوار ہے۔

يُحَطِّمُ النُّبُوَّاةِ الْبَهِيَّةِ عِنْدَمَا أَمَاتَ الْكَرِيمَ حَيَّ مَنْ جَاءَ يُنْذِرُ

شریف آدمی اور حیادار کی حیا کو موت ہے۔

تَوَجُّهُمُ نَحْوَ الْعَلَامَاتِ وَهِيَ لَا تُفِيْدُ إِذَا لِلْأَصْلِ كَانَ تَهَوُّرُ

عمارت کو منہدم کرنے والی ہیں۔

١٠

فَمَاذَا حِرَابُ الْقَوْمِ بَعْدَ رَسُوْلِنَا

کیا تو مسلمانوں نے کس طرح نیزہ بازی کر کے اسے

وَمَاذَا اِتِّفَاقُ الْقَوْمِ بَعْدَ رَسُوْلِنَا

کالے جائیں گے۔ (کیونکہ ختم نبوت امت مسلمہ کا

وَلَيْسَ بِبُرْهَانٍ عَلَى مَنْ دَعَاهُ مِنْ

پاس اس (دعویٰ) پر کوئی دلیل نہیں۔ لہٰذا ہوشیار ہو جا

وَلَيْسَ بِمُغْنِي مَنْ دَعَاهُ مِنَ النُّصُوصِ

حال ہے (کہ ہر وقت قلابازیاں کھاتا رہتا ہے) لہٰذا

عَجِبْتُ عَلَيْنَا الْمُسْلِمِينَ اتِّبَاعُهُ

کریں۔ اگر چہ وہ اپنے لباس میں اتراتا ہوا ناز و فخر

عَجِبْتُ عَلَيْنَا بَعْدَ إِقْرَارِنَا بِمَا

اور آپ کی ختم نبوت کے اقرار کے بعد کہ ہم اس جھو

أَيُتْرَكُ ذَاكَ الْعَذْبُ سَاغَ حَلَالُهُ

ہے کہ مسلمان آدمی اسے موجیں مارتا ہوا دریا تصور

تَلَوَّنَ فِي رِقْرَاقٍ وَكَانَ

اور دھوکہ باز عورتوں کی جماعت طرح طرح کے ر

سَمِعْنَا وَأَقْرَرْنَا بِأَنَّ ثَلَاثَةَ
صفحہ ٦٧
فَمَاذَا حِرَابُ الْقَوْمِ بَعْدَ رَسُوْلِنَا مُسَيْلَمَةُ الْكَذَّابِ اِذْ جَاءَ يَامُرُ

٦٧....... جب مسیلمۃ الکذاب نے ہمارے پیغمبر (حضورﷺ) کی ختم نبوت کے بعد دعوٰی نبوت کیا تو مسلمانوں نے کس طرح نیزہ بازی کر کے اسے ٹھکانے لگایا۔

وَمَاذَا اتِّفَاقُ الْقَوْمِ بَعْدَ رَسُوْلِنَا عَلَى اَنَّ هَامَ الْوَرَى لَا يُهَزْمَرُ

٦٨....... ہمارے پیغمبر (ﷺ) کے بعد مسلمانوں نے کیسا اتفاق کر لیا کہ اب مخلوق کے سر نہیں کاٹے جائیں گے۔ (کیونکہ ختم نبوت امت مسلمہ کا اعزاز ہے)

وَلَيْسَ بِبُرْهَانٍ عَلَى مَنْ دَعَاهُ مِنْ كِرَامِ خَلِيْفَةُ الْكَرِيْمِ فَذَكِّرُوْا

٦٩....... معزز لوگوں میں جو اسے (مرزا قادیانی کو) خلیفہ یا شریف آدمی سمجھتا ہے ان کے پاس اس (دعوٰی) پر کوئی دلیل نہیں۔ لہٰذا ہوشیار ہو جاؤ۔

وَلَيْسَ بِمُغْنِى مَنْ دَعَاهُ مِنَ النُّصُوْصِ بَلْ اَمْرُهُ اَمْرٌ عَجِيْبٌ فَيُهْجَرُ

٧٠....... اور نہ ہی نصوص قطعیہ اس کے دعوٰی (کاذب) پر کام آسکتی ہیں۔ بلکہ اس کا عجیب حال ہے (کہ ہر وقت قلابازیاں کھاتا رہتا ہے) لہٰذا اسے یکسر ترک کر دیا جائے۔

عَجِبْتُ عَلَيْنَا الْمُسْلِمِيْنَ اتِّبَاعُهُ وَلَوْ جَاءَ فِى اَثْوَابِ يَتَبَخْتَرُ

٧١....... تعجب ہے ہم مسلمانوں پر کہ (اس کے جھوٹا ثابت ہونے کے بعد) بھی اس کی اتباع کریں۔ اگرچہ وہ اپنے لباس میں اتراتا ہوا ناز و فخر سے چل کر آئے۔

عَجِبْتُ عَلَيْنَا بَعْدَ اَقْرَارِنَا بِمَا اٰتَانَا بِهِ ذَاكَ النَّبِيُّ الْمُطَهَّرُ

٧٢....... ہم پر تعجب ہے کہ پاک پیغمبر (ﷺ) کی شریعت جو آپ ہمارے پاس لے کر آئے اور آپ کی ختم نبوت کے اقرار کے بعد کہ ہم اس جھوٹے کی اتباع کریں۔

اَيُتْرَكُ ذَاكَ الْعَذْبُ سَاغَ حَلَالُهُ بِحَالٍ رَآهُ الْمَرْءُ كَالنَّهْرِ يَسْجُرُ

٧٣....... کیا ایسے میٹھے پانی کو چھوڑا جاسکتا ہے جس کا پینا حلال اور خوشگوار ہے۔ اس کا حال تو یہ ہے کہ مسلمان آدمی اسے موجیں مارتا ہوا دریا تصور کرتا ہے۔

تَلَوَّنَ فِى رُقْرَاقٍ وَّكَاَنَّ تَلَوُّنَ غُوْلٍ عَهْدُهُنَّ تَغْيِيرُ

٧٤....... دھوکہ دہی کی چمک میں طرح طرح کے رنگ بدلتا ہے۔ جیسا کہ شیطانوں، بھیڑیوں اور دھوکہ باز عورتوں کی جماعت طرح طرح کے رنگ بدل کر دھوکہ دیتی ہیں۔

سَمِعْنَا وَاَقْرَرْنَا بِاَنَّ ثَلَاثَةً مِنَ الْاَوْجُهِ اللّٰتِى تَلُوْحُ وَتَزْهَرُ

٧٥....... ہم نے سنا اور مان لیا کہ تین قسم کے چہرے ہیں جو چمکتے اور گلاب کی طرح

١١

صفحہ ٦٩

نکھرے ہوئے ہوتے ہیں۔

تَكُوْنُ بَرَاهِيْنًا لِمَنْ قَدْ أَتَى بِهَا فَمَنْ لَّمْ يُسَلِّمْهَا يُعَابُ وَيُؤْتَرُ

جو کوئی ان کو نہیں مانے گا وہ معیوب سمجھا جائے گا اور وہ اکیلا ہو جائے گا۔

فَمِنْهُنَّ إِحْسَاسٌ سَلِيْمٌ وَبَعْدَذَا يُعَدُّوْنَ أَخْبَارًا بِصِدْقٍ يُشَهَّرُ

کیا جاتا ہے۔ وہ خبر صادق جس کے ذریعے مخلوق کو خبر دار کیا جاتا ہے۔

وَثَالِثُهَا عَقْلٌ وَتَمَّ جَمِيْعُهَا وَلَيْسَ سِوَاهَا وَجْهَةً يُحْشَرُ

جس کے لئے سفر کیا جائے۔

فَقَوْلُ إِلَهِ الْخَلْقِ ثُمَّ نَبِيِّهِ يَعُمُّهُمَا الْأَخْبَارُ بِالصِّدْقِ فَاشْكُرُوا

وحدیث) دونوں کی خبریں بھر پور سچائی پر مشتمل ہیں سو تم شکر بجالاؤ۔

وَ كَذَلِكَ اَخْبَارُ الْاَنَاسِ كَثِيرُهُمْ إِذَا اَخْبَرُونَا بِالتَّوَاتُرِ فَأْثُرُوْا

اور دفاع کرو۔

يُضِلُّ بِهِ مَنْ كَانَ فِيهِ مُسَلِّكًا يَقُوْلُ اَلَا يَالَيْتَ قَوْمِي يَشْعُرُ

کہ میری قوم سمجھ لے اور اسے پتہ چل جائے۔

بِأَنِّي فَضَلَّ ضَلَّ عَنْ مَسْلَكِيْ فَلَا مَسْلَكُ يَهْدِينِي الطَّرِيْقَ وَيُشْكَرُ

سیدھی راہ پر پہنچاوے اور اس کی قدر کی جائے۔

يُقَيِّدُ طَوْرًا لَغْوُهُ بِزِيَادَةٍ وَأُخْرَى بِنَقْضٍ فَهُوَ هَذَيَانُ يَصْفِرُ

دوسرا اسی ادھیڑ بن میں لگا ہوا آہستہ آہستہ نکلتا جا رہا ہے۔

يَفُوْرُ كَتَنُّوْرٍ مِرَارًا وَّ رُبَّمَا يَفُوْرُ كَخَاضٍ رَبُّهُ يَتَضَوَّرُ

١٢

چیختا ہے اور اپنے مالک پر حملہ کر کے اس کو نقصان پہنچاتا

أَلَمْ يَدْرِ أَنَّ الإِطْلَاعَ عَلَى الْمُغِيْبِ

سے ہمکنار ہونے والا نہ ہو۔

إِذَا كَانَ مِمَّا لَيْسَ يَعْوِرُهُ عَلَى

دیتا ہے۔ (اگر کوئی پھر بھی زبردستی اس اطلاع کا دعویٰ ک

وَذَلِكَ مُخْتَصٌّ بِمُخْتَارِ ذِي الْعُلَا

ساتھ مختص ہے۔ جسے چاہتا ہے دیتا ہے اور جسے چاہتا ہ

وَإِلَّا فَدَعْ قَالَهُ لِنَبِيِّنَا

انکار صرف ضدی ہی کر سکتا ہے۔

جِهَارًا بِلَا شَكٍّ وَحَرْبٍ وَرِدَّةٍ

روبرو چھوٹے بچے نے (لفظ دع) کہا۔

وَلَيْسَ نَبِيًّا عِنْدَنَا بَلْ مُحَقَّرُ

سنجیدہ پن اور ٹھہراؤ بھی نہیں تھا۔

وَلَيْسَ وَلِيًّا قَائِمًا بِمُحَبَّبِهِ

ہو وہ تو خود شعبدہ باز اور گم کردہ راہ تھا۔

بَلْ شَکَّ فِي إِسْلَامِهِ وَوَفَائِهِ

بات کو محفوظ بھی کیا جا رہا ہے اور نقل بھی۔

١٣

صفحہ ٦٩

چیتا ہے اور اپنے مالک پر حملہ کر کے اس کو نقصان پہنچاتا ہے۔

أَلَمْ يَدْرِ أَنَّ الإِطْلَاعَ عَلَى الْغَيْبِ لَا يَنْفَعُ الْمَرْءَ الَّذِي لَا يُعْذِرُ

سے ہمکنار ہونے والا نہ ہو۔

إِذَا كَانَ مِمَّا لَيْسَ يُخْبِرُهُ عَلَى مَشَارِعِ لِلشَّرْعِ الْجَدِيدِ فَيُخْبِرُ

دیتا ہے۔ (اگر کوئی پھر بھی زبردستی اس اطلاع کا دعویٰ کرے تو رسوا ہو جاتا ہے)

وَذَلِكَ مُخْتَصٌّ بِمُخْتَارِ ذِي الْعُلَا تَبَارَكَ وَيُعْطِي مَنْ يَّشَاءُ وَيَقْدِرُ

ساتھ مختص ہے۔ جسے چاہتا ہے دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے نہیں دیتا۔

وَإِلَّا فَدُخٌّ قَالَهُ لِنَبِيِّنَا جِهَارًا فَلَمْ يُنْكِرْهُ إِلَّا الْمُعَنِّتُ

انکار صرف ضدی ہی کر سکتا ہے۔

جِهَارًا بِلَا شَكٍّ وَّمِرْيَةٍ بِمَحْضَرِ أَصْحَابٍ صُغَيْرٍ مُصَغَّرُ

روبرو چھوٹے بچے نے (لفظ دخ) کہا۔

وَلَيْسَ نَبِيًّا عِنْدَنَا بَلْ مُحَقَّرٌ صَبِيٌّ وَفِيْ أَمْرِهِ لَا يُوَقَّرُ

سنجیدہ پن اور ٹھہراؤ بھی نہیں تھا۔

وَلَيْسَ وَلِيًّا قَائِمًا بِمَحَبَّةٍ لِأَمْرِ إِلَهِ الْحَقِّ ذَاكَ الْمُشَعْبِذُ

ہو وہ تو خود شعبدہ باز اور گم کردہ راہ تھا۔

بَلْ شَكٌّ فِيْ إِسْلَامِهِ وَوَفَاتِهِ سَوَاءٌ وَذَا يُرْوَى وَيُوعَى وَيُؤْثَرُ

بات کو محفوظ بھی کیا جا رہا ہے اور نقل بھی۔

١٣

صفحہ ٧٠
عَلَى أَنَّ أَخْبَارًا بِرَيْبٍ يُمِيتُهَا وَمَخْرَقَةُ الرِّيَابِ أَمْرٌ مُسْتَعْوَرُ

مشکوک کر دیا اور اس کا ڈراوا حد سے بڑھ گیا گویا وہ دھوکے باز جیسا ہے۔

وَلَيْسَ مِنَ الْحَقِّ الْحَقِيقِ لَدَى الْوَرَى وَلَا مِثْلُهُ يُجْنَى وَيُوْعَى وَيُؤْثَرُ

جیسی بات کو حاصل کیا جاتا ہے اور نہ محفوظ کر کے اسے نقل کیا جاتا ہے۔

وَدَعْوَى الْمَسِيحِ الْقَادِيَانِيِّ إِنَّنِي أَقُولُ عَلَى عِلْمٍ هَبَاءُ مُبَعْثَرُ

ہوئی دھوکے باز غبار ہے۔

فَقَدْ أَبْطَلُوْا دَعْوَاهُ مِنْ غَيْرِ رِيْبَةٍ مِرَارًا لَمْ يُنْكِرْهُ إِلَّا الْمُنْكِرُ

باطل اور لچر کیا۔ اس حقیقت کا انکار سوائے منکر اور ضدی کے اور کوئی نہیں کرتا۔

عَجِبْتُ لِقَوْمِيْ كَيْفَ زَالَ عُقُولُهُمْ يَهْذُوْنَ أَمَّا أَمْرُهُ لَا يُبْصَرُ

ڈالنے والے فسادی آدمی کے راستہ پر چلنا چاہتے ہیں جس کا حال سنجیدہ نہیں ہے۔

أَلَمْ يَنْظُرُوْا أَنَّ الْفِرَاسَةَ حَقُّنَا إِذَا حَصَلَتْ فِينَا بِهِ نَتَدَخَّرُ

ہمارے اندر آتی ہے تو ہم ضرورت کے وقت تک کے لئے اس کو ذخیرہ کر لیتے ہیں۔

فَنُخْبِرُ طَوْرًا أَنَّ هَذَا يَضُرُّنَا وَهذَا يُفِيدُ الْقَوْمَ حَقًّا وَيَنْصُرُ

یہ حق اور سچ ہے جو قوم (مسلمانوں) کے لئے مفید ہے۔ لہٰذا اس کی مدد کی جائے۔

وَهذَا يَرُومُ الْعِلْمَ وَالدِّينَ وَالْهُدَى وَهَذَا الْمُشْمَخِرُّ الْغَرُورُ يُقْفِرُ

یہ شخص متکبر بڑا دھوکے باز اور بے آب و گیاہ زمین کی طرح ہے (جو ہرقسم کے نفع پہنچانے سے خالی ہے)

وَهذَا يُقِيمُ الْخَلْقَ عَنْ نَهْجِ الْعَمى وَهذَا يُزَكِّيهِمْ وَهذَا يُطَهِّرُ

١٤

پر کھڑا کرتا ہے اور یہ ان کا تزکیہ کرتا ہے اور یہ

وَهذَا يَبْذُوهُمُ الْهُجْرَ فِي طَلَبِ الْعُلَى

بکتا اور بے آبرو کرتا ہے۔

وَهذَا الْعَلِيْلُ الجِسْمِ يَرْتَادُ مَوْتَهُ

مقدر ہے۔ موت سے بچ کر کہیں جائیں گے

وَهذَا الزَّكِيُّ الطَّاهِرُ الْأَصْلُ قَدْ حَوى

یہ ہے کہ اللہ کی مخلوق کو وہ خوش رکھتا ہے اور لوگ

عَلَى أَنَّ أَحْوَالَ الْوَرى لَا يَعْلَمُهَا

وکتاب میں بڑا ماہر بھی نہیں۔ گن سکتا اور نہ ش

وَلَا يَعْلَمُ الاحْوَالَ إِلَّا مَلِيكُنَا

اس سے بھی بہت چھوٹی چیز کی خبر رکھتا ہے۔

عَلِيمٌ بِأَدْوَاءِ الْوَرَى وَدَوَائِهِمْ

ہے۔ سو اب جو چاہے ایمان لائے اور جو چا

فَمَكَّةُ أَهْلُهَا وَسُكَانُهَا بِهَا

خاندانوں اور خانہ بدوشوں سب کو وہ (علیم

أَلَمْ تَرَ جَعْفَرَ الْكِرَامِ وَقَدْ أَتَى

جیسا) شیطان آ کر غیب کی (جھوٹی) خبریں

وَأَخْبَرَ جِهْرًا أَنَّ يَوْمَ وَفَاتِهِ
صفحہ ٧١

پر کھڑا کرتا ہے اور یہ ان کا تزکیہ کرتا ہے اور یہ ان کو پاک وصاف کرتا ہے۔

وَهُذَا يُدِيْمُ النَّظَرَ فِي طَلَبِ الْعُلٰى وَهُذَاكَ يُغْوِي وَهُذَا يُشَنْطِرُ

١٠٢....... اور یہ شخص بلندیوں کے حصول میں ہمیشہ سوچتا رہتا ہے اور یہ گمراہ کرتا ہے اور یہ گالیاں بکتا اور بے آبرو کرتا ہے۔

وَهُذَا الْعَلِيْلُ الْجِسْمِ يُرْتَادُ مَوْتَهُ فَلَا يَبْعُدُوْنَ الْمَوْتَ فَهُوَ مُقَدَّرُ

١٠٣....... اور یہ بیمار جسم ہے جسے اس کی موت ہلاکت کے گڑھے میں ڈالے گی تو موت ان کا مقدر ہے۔ موت سے بچ کر کہیں جا نہیں سکتے۔

وَهُذَا الزَّكِيُّ الطَّاهِرُ الْأَصْلِ قَدْ حَوَى عُلُوْمًا فَيَرْضَى الْخَلْقَ وَهُوَ مُوَقَّرُ

١٠٤....... اور یہ صاف ستھرا، پاکیزہ اور اصلی ہے جس نے کئی علوم محفوظ کر رکھے ہیں۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ اللہ کی مخلوق کو وہ خوش رکھتا ہے اور لوگوں کے ہاں وہ معزز ہے۔

عَلٰى أَنَّ أَحْوَالَ الْوَرٰى لَا يَعُدُّهَا خَبِيْرُ أُنَاسٍ بِالْحِسَابِ مُبَرِّزُ

١٠٥....... علاوہ ازیں لوگوں کے احوال کو انسانوں میں سے بہت زیادہ خبر رکھنے والا اور حساب وکتاب میں بڑا ماہر بھی نہیں گن سکتا اور نہ شمار کر سکتا ہے۔

وَلَا يَعْلَمُ الْأَحْوَالَ إِلَّا مَلِيْكُنَا خَبِيرٌ بِقِطْمِيْرٍ وَمَا هُوَ أَصْغَرُ

١٠٦....... اور نہیں جانتا جملہ احوال کو مگر ہمارا مالک و بادشاہ جو کھجور کی گٹھلی کے باریک چھلکے اور جو اس سے بھی بہت چھوٹی چیز کی خبر رکھتا ہے۔

عَلِيْمٌ بِأَدْوَاءِ الْوَرٰى وَدَوَائِهِمْ فَمَنْ شَاءَ فَلْيُؤْمِنْ وَمَنْ شَاءَ يَكْفُرُ

١٠٧....... جو لوگوں کی بیماریوں ( کفر و شرک وغیرہ) اور ان کی دواؤں اور علاجوں کو بھی جانتا ہے۔ سو اب جو چاہے ایمان لائے اور جو چاہے کفر اختیار کرے۔

فَمَكَّةُ أَهْلُهَا وَسُكَّانُهَا بِهَا لَأَدْرَى بِمَا فِيْهَا فِجَاجًا وَأَجْرَزُ

١٠٨....... سو اہل مکہ اور اس کے باشندوں کو نیز اس (مکہ) میں رہنے والے بڑے قبیلوں اور خاندانوں اور خانہ بدوشوں سب کو وہ (علیم) بخوبی جانتا ہے۔

أَلَمْ تَرَ جَعْفَرَ الْكِرَامِ وَقَدْ أَتٰى خَبِيْثٌ رَشِيْدًا بِالْمُغَيَّبَاتِ يُخْبِرُ

١٠٩....... کیا تو نہیں دیکھتا کہ ایک معزز آدمی جو کہ بہت سمجھدار ہے کے پاس (مرزے لعین جیسا) شیطان آکر غیب کی (جھوٹی) خبریں دیتا ہے۔

وَأَخْبَرَ جَهْرًا أَنَّ يَوْمَ وَفَاتِهِ قَرِيْبٌ بِلَا رَيْبٍ وَذَا سَوْفَ يَظْهَرُ

١٥

صفحہ ٧٢

فلاں عنقریب قبر میں دفنایا جائے گا۔

فَأَخْبَرْتُهُمْ هَذَا وَضَاقَ صُدُورُهُمْ وَقَامُوا عَلَى بَحْرٍ يُخَافُ وَيُحْذَرُ

حال یہ ہے کہ ان کے سینے تنگ ہونے لگتے ہیں۔ حالانکہ وہ دہکتی اور گرم آگ پہ کھڑے ہیں جس سے ڈرا اور بچا جائے۔

عَلَاهُ بِسَيْفٍ ثُمَّ قَالَ أَيَا فَتَى كَمِ الْعُمْرُ بَاقٍ وَهُوَ خَزْيَانُ يُنْظَرُ
فَقَالَ لَعُمْرِي مُدَّتِي لَمَدِيْدَةٌ فَأَحْمَاهُ ذَاكَ وَالْحُرُّ ذَاكَ وَالْغَضَنْفَرُ

اسے فلاں جواں مرد اور شیر جری نے۔

فَسَّرَ أَمِيْرُ الْمُؤْمِنِيْنَ بِفِعْلِهِ وَزَالَ هُمُومٌ قَدْ أَتَتْ تَتَكَدَّرُ

اور جن افکار و خیالات میں گدلا پن اور میلا پن آ گیا تھا وہ صاف اور زائل ہو گیا۔

دَرَى أَنَّ مَرْدًا عَاجِزًا كَيْفَ يَدَّعِيْ بِأَخْبَارِ أَمْرٍ دَائِمًا عَنْهُ يُحْذَرُ

طور پر بچنا چاہئے۔

فَإِنَّ حَيَاتَنَا وَمَوْتَ جَمِيْعِنَا بِأَمْرِ إِلَهِ الْخَلْقِ حَقًّا مُقَدَّرُ

قائم، حق اور سچ اور ایک وقت مقرر کے ساتھ ہے۔

فَنَحْنُ عَلَى جَهْلٍ بِمِقْدَارِ حَظِّنَا عَنِ الْعُمْرِ فِي دَارِ الْفَنَاءِ نُعْذَرُ

سلسلہ) میں کسی بھی دعویٰ سے ہم معذور ہیں۔

أَصَاحِ تَرَى نُورًا مُزِيْلًا عَنِ الْعَمَى مُضِيْئًا مُنِيْرًا نَيِّرًا يَتَنَوَّرُ

اندھیرے) کو ختم کرنے والی ہے اور وہ بہت روشن اور چمکانے والا چاند (حضور ﷺ) ہے جس

١٦

سے روشنی حاصل کی جاتی ہے۔

عَنِ الْأَحْرُفِ اللَّاتِي حَوَاهَا تَلَالُؤُ

میں جمع اور سمٹے رہتے ہیں جو اطراف میں روش ہوتے۔ بلکہ جگمگاتے رہتے ہیں۔

تُضِيْئُ طَرِيْقًا مُسْتَقِيْمًا مَسْلَكًا

تک کہ اس (دجال قادیان) کا دعویٰ اڑتی ہوئی

وَمَا يَدَّعِيْ مِنْ كَوْنِ عِيسَى مَيْتًا

مجدد اسلام ہو کر آیا ہوں یہ جھوٹ اور جھوٹے مذہب

فَإِنَّ الْأَمِيْرَ السَّيِّدَ الْهِنْدِيَّ نَبِيٌّ لَّهُمْ
وَمَا مَاتَ إِلَّا مِنْ سِنِيْنَ قَلَائِلُ

(مرزا دجال) طویل زمانہ زندہ رہے گا۔ اس کا

عَلَى أَنَّهُ لَمَّا تَلَاشَى بِنُورِهِ

ہو گیا ہوں (تو تم کس کا انتظار کر رہے ہو) حال

فَمَا النَّفْعُ فِي إِثْبَاتِ قَبْرٍ ثَوَى بِهِ

ہونے کا دعویٰ کیا جائے اور نہ ہی اس کی عکسی تص

بِأَخْبَارِ مَنْ يُزْرَى عَلَيْهِ بِلَا مُرَاءِ

وہ منقول احادیث دیکھیں جن میں ان کے اق

نَعَمْ قَوْلُهُ مِنْ بَعْدِ ذَالِكَ إِنَّنِي
صفحہ ٧٣

سے روشنی حاصل کی جاتی ہے۔

عَنِ الْاَحْرُفِ اللَّاتِي حَوَاهَا تَلَالُؤٌ نُجُوْمٌ اَضَاءَتْ لَا تَغُوْرُ وَتَزْهَرُ

١١٩....... اس کے اطراف میں چمکتے ہوئے اور روشن ستارے (یعنی صحابہؓ) ہیں جو ان اطراف

میں جمع اور سمٹے رہتے ہیں جو اطراف میں روشنی پھیلاتے ہیں۔ وہ ستارے چھپتے اور غروب نہیں ہوتے۔ بلکہ جگمگاتے رہتے ہیں۔

تُضِيْئُ طَرِيْقًا مُسْتَقِيْمًا مَسْلَكًا إِلٰى اَنْ دَعْوَاهُ هَبَاءً تُعْتَبَرُ

١٢٠....... وہ ستارے سیدھی راہ کو جو چلنے کے لائق ہے (اس وقت تک) روشن رکھیں گے یہاں

تک کہ اس (دجال قادیان) کا دعویٰ اڑتی ہوئی غبار بن جائے۔

وَمَا يُدَّعٰى مِنْ كَوْنِ عِيسٰى مَيْتًا بِتَجْدِيْدِهِ هٰذَا الْمُحَالُ مُقَرَّرُ

١٢١....... اور اس (مرزا قادیانی) نے جو دعویٰ کیا کہ (حضرت) عیسیٰ علیہ السلام فوت ہو گئے اور میں

مجدد اسلام ہو کر آیا ہوں یہ جھوٹ اور جھوٹے مذہب کی طرف جانا ہے ترک کر دینے کے قابل لائق ہے۔

فَاِنَّ الْاَمِيْرَ السَّيِّدَ الْهِنْدِىَّ يَبْنِى لَهُمْ بِنَاءً رَفِيْعًا قَوْلُهُ ذَاکَ اَشْهَرُ

١٢٢....... اس لئے کہ ہندوستانی امیر اور سردار نے ان کے لئے اونچی عمارت بنائی یہ اس کا مشہور قول ہے۔

وَمَا مَاتَ اِلَّا مِنْ سِنِيْنَ قَلَائِلَ وَعَاشَ طَوِيْلًا اَمْرُهُ لَا يُسْتَتَرُ

١٢٣....... اور تھوڑے سال ہوئے ہیں کہ وہ (عیسیٰ علیہ السلام) فوت ہو گیا ہے اور یہ

(مرزا دجال) طویل زمانہ زندہ رہے گا۔ اس کا حال کسی سے ڈھکا چھپا نہیں ہوگا۔

عَلَى اَنَّهُ لَمَّا تَلَالَاءَ بِنُوْرِى بِآيَاتِ صِدْقٍ اَنَّ عِيسَاهُ يُقْبَرُ

١٢٤....... علاوہ ازیں یہ دعویٰ کیا کہ جب لوگوں کے لئے سچائی کے نشانات کے ساتھ میں روشن

ہو گیا ہوں (تو تم کس کا انتظار کر رہے ہو) حالانکہ عیسیٰ علیہ السلام تو مدفون ہو چکا ہے۔

فَمَا النَّفْعُ فِى اِثْبَاتِ قَبْرٍ ثَوَى بِهِ وَلِتَصْوِيْرِهِ الْجَلِى لِلنَّاسِ فَانْظُرُوْ

١٢٥....... لوگوں کے لئے ایسی قبر ثابت کرنے کا کوئی فائدہ نہیں جس میں حضرت عیسیٰ کے مدفون

ہونے کا دعویٰ کیا جائے اور نہ ہی اس کی عکسی تصویر کا (کوئی فائدہ ہے) کچھ تو سوچو۔

بِاَخْبَارِ مَنْ يُزْرٰى عَلَيْهِ بِلَا مِرَاءٍ اَحَادِيْثَ جَاءَتْ مِنْ خُرَافَةٍ تُؤْثَرُ

١٢٦....... اور اس (عیسیٰ) کے متعلق اخبار (باتیں) دیکھو جس کی بلاشبہ مخالفت کی جا رہی ہے اور

وہ منقول احادیث دیکھیں جن میں ان کے انوکھے کارنامے بیان کئے گئے ہیں۔

نَعَمْ قَوْلُهُ مِنْ بَعْدِ ذَالِکَ اِنَّنِى مَسِيحٌ جَدِيْدٌ بَعْدَ مَا صَارَ يُقْبَرُ

١٧

صفحہ ٧٤

مدفون ہونے کے بعد میں نیا مسیح ہوں۔

نَعَمْ قَوْلُهُ أَنَّ التَّصَاوِيْرَ لِلْوَرٰى اُبِيْحَتْ بِدِيْنٍ لَّيْسَ فِيْهَا يُحَذَّرُ

گئی ہیں۔ ان (کے بنوانے) میں کوئی خوف وخطرہ نہیں ہے۔

عَلٰى أَنَّ تَصْوِيْرَ الْجَلِيْلِ مَقَامُهُ يُزَارُ وَلَا يَرْعَاهُ إِلَّا مُطَهَّرُ

ہے جس کی زیارت کی جاتی ہے اور اس کی محافظت صرف پاک آدمی ہی کر سکتا ہے۔

نَعَمْ قَوْلُهُ لَا تَقْتَدُوْا أَحَدًا سِوَا أُنَاسٍ حَوَاهُمْ فَضْلُهُ الْمُتَكَبِّرُ

ہے کسی کے پیچھے مت چلو۔

حِيْدُوْا فَلَيْسُوْا مُقْتَدِيْنَ سِوَاهُمُ فَمَا بَالُهُمْ خَانُوْا وَخَابُوْا وَخَسَّرُوْا

ان کا جنہوں نے خیانت کی اور شکست خوردہ ہوئے اور نقصان اٹھایا۔

فَمَنْ يَعْتَرِفُ مِنْهُمْ مُقِيْمًا بِأَجْرِهِ يُصَلِّيْ إِذَا مَا النَّاسُ أَقَرُّوْا وَيَجْحَدُوْا

پڑھے گا جب لوگ ادا کریں گے اور مکر جائیں گے۔

وَإِلَّا فَيَعْرُوْهُ مَلَالٌ فَيَبْتَغِيْ مَذَاهِبَ لِمَغْشَاهَا وَيَشْخُرُ

کی نیند سوئے گا۔

يُعَلِّکُ طَوْرًا بِالسِّوَاكِ وَتَارَةً بِذَاكَ الْأَعْضَاءُ تُضِيْءُ وَتُزْهَرُ

اور چمکنے لگ جاتے ہیں۔

يَقُوْلُ تَرَكْتُ الْأَمْرَ وَهُوَ مُحَتَّمٌ عَلَىَّ فَرَبِّيْ بِالْجَمَاعَةِ يَأْمُرُ

کے ساتھ ادا کرنے کا حکم دیتا ہے۔

١٨

صفحہ ٧٥
وَلَكِنَّنِيْ لَا عَيْبَ فِيَّ تَرْكِهَا بِأَمْرِ مَسِيْحِ الْقَادِيَانِ وَحُذَّرُ

١٣٦...... اور لیکن میرے لئے قادیان کے مسیح کے حکم کی وجہ سے اور اپنے بچاؤ کی وجہ سے ترک جماعت میں کوئی عیب نہیں۔

يَمُنُّ إِلَهُ الْخَلْقِ طُرًّا بِأَنَّهُ يُؤَلِّفُ بَيْنَنَا وَذَاكَ مُقَرَّرُ

١٣٧...... مخلوق کا معبود اکٹھا کر کے احسان فرماتا ہے۔ اس طرح کہ ہمارے درمیان الفت پیدا کرتا ہے اور (انسانوں کے آپس میں تعلق کا) یہ اصول پختہ ہے۔

وَهَذَا يُفَرِّقُ الْجَمِيْعَ بِقَوْلِهِ وَيَفْعَلُ لَهُ حَتَّى يُخَافُ وَيُحْذَرُ

١٣٨...... اور اس (بدبخت مرزا قادیانی) نے اپنے دعویٰ کے ساتھ سب میں تفریق کر دی اور اس دعویٰ کے لئے جو کارنامے انجام دیئے ان سے ڈرنا اور بچنا چاہئے۔

فَكَيْفَ يَهْجُرُ الْمَرْءُ مَا يَقْتَدِى بِهِ بِغَيْرِ تُقَاةٍ وَهُوَ أَمْرٌ مُحَقَّرُ

١٣٩...... آدمی جس چیز کی پیروی کرتا ہے بالقصد چھوڑنے کا ارادہ کئے بغیر اسے کیسے چھوڑ سکتا ہے؟ یہ حقیر عمل ہے۔

هَذَا هُوَ الْأَمْرُ الَّذِي يَبْتَغِيْهِ مَنْ يَقْبَلُهُ فِيمَا يَقُوْلُ وَيُزْوَرُ

١٤٠...... یہی وہ چیز ہے جس کو وہ آدمی ڈھونڈتا اور طلب کرتا ہے جو اس کو اس کے دعویٰ اور اس کے جھوٹ سمیت قبول کرنا چاہتا ہے۔

لِيَصُدَّ عَنِ الْجَمْعِ الْجَمِيْعَ وَنَفْسُهُ يَصُدُّ فَمَنْ مَّحْمِيٌّ وَمَنْ هُوَ يَفِرُّ

١٤١...... اس لئے کہ وہ چیز تمام انسانوں کو اکٹھا ہونے سے روک دے اور خود (مرزا قادیانی) بھی روکنا چاہتا ہے۔ سو کون بچ سکتا ہے اور کون بھاگ سکتا ہے؟

نَعَمْ جَاءَ مِنْهُ أَنَّهُمْ يُجْزَوْنَهُ بِأَسْمَاءِ أَوْلَادٍ لَّهُمْ ثُمَّ يُأْمَرُ

١٤٢...... جی ہاں! اس کی طرف سے اس بات کا اہتمام ہوگا کہ انہیں (قادیانیوں کو) ان کی اولاد کا نام لے کر بدلہ دیا جائے گا پھر ان کو۔

لَهُمْ بِإِزْدِوَاجٍ أَوْ فِرَاقٍ فَكُلُّهُمْ أَسِيْرٌ لَدَيْهِ أَمْرُهُ لَا يُغَيَّرُ

١٤٣...... ملانے یا علیحدہ کرنے کا حکم دے گا۔ سو سب کے سب اس کے سامنے قیدی ہوں گے۔ اس کا حکم یہ بدلے گا نہیں۔

سَوَاءٌ عَلَيْهِمْ قَطْعُ رَحْمٍ وَوَصْلِهَا إِذَا مَا أَتَاهُمْ مَا يُرَاهُ وَ يُؤْثَرُ

١٤٤...... ان پر برابر ہو گا قطع رحمی کرنا اور صلہ رحمی کرنا جب ان پر وہ (عذاب) آئے گا جسے دیکھے

١٩

صفحہ ٧٦

گا اور جسے (قرآن وحدیث میں ) ذکر کیا جاتا ہے۔

نَعَمْ جَدَّ مِنْهُ اَلْهَمُّ يُخَبِّرُوْنَهُ بِإِيْرَادِ لَفْظِ الْاَحْمَدِيِّ لِمَا فَخَرْ

١٤٥...... ہاں! اس (اللہ) کی طرف سے اس بات کا بھی اہتمام ہوگا کہ انہیں (اپنے ساتھ ) ”احمدی“ لفظ‘ لانے کی سزا دی جائے گی۔ پھر (سب پر) آشکارا ہو جائے گا (کہ یہ جھوٹے لوگ ہیں)

لِتَرْكِهِمُ مُخْتَارَ صِدْقٍ ذِى الْعُلَاءِ وَسَمَّاكُمُ عَمَّا ذَكَرْتُ يُذَكَّرُ

١٤٦...... جنہوں نے اللہ عالیشان کے سچے برگزیدہ پیغمبر کو چھوڑ دیا اور تمہارا وہی نام رکھا اور یاد کرتا رہا جو میں نے بتلایا۔

نَعَمْ جَدَّ مِنْهُ اَلْهَمُّ يُجَنِّبُوْنَهُ إِذَا مَا دَنَا يَوْمٌ عَصِيْبٌ مُشَمَّرُ

١٤٧...... ہاں، ہاں! اس (اللہ) کی طرف سے اس حقیقت کا بھی اہتمام ہے کہ وہ اس سے امید و بیم کی حالت میں ہوں گے۔ اس وقت جب سخت دن قریب ہوگا جس کی سختی بہت زیادہ ہوگی۔

وَيَاتُوْهُ مَنْ يَأْتِيْهِ هُرًّا مُشَمِّرًا وَمُسْتَنْجِدًا فِيْمَا وَهَاهُ مُخَدَّرُ

١٤٨...... اور آئیں گے اس کے پاس تو یاد رکھیں! جو اس کے پاس آئے گا وہ غمگین تیز رفتار اور اپنی گھبراہٹ میں مدد مانگتا ہوا آئے گا۔ جس سے بچنا چاہئے۔

يُشَمِّرُ كَالرِّئْمَانِ ضَلَّ سَبِيْلَهُ إِلَيْهِ وَيُهْدِيْهِ فَيَنْبِشُ وَيُحْفَرُ

١٤٩...... اور خوفزدہ ہو کر دوڑے گا۔ جیسے بھٹکا ہوا اونٹ راستہ بھول جاتا ہے پھر اسے راہ سجھاتا ہے اور وہ صحیح راستے کی خبر پا کر اس طرف چل پڑتا ہے۔

نَعَمْ جَدَّ مِنْهُ اَلْهَمُّ يُجَنِّبُوْنَهُ فَيَاتُوْنَهُ وَالشَّيْءُ بِالشَّيْءِ يُذْكَرُ

١٥٠...... جی ہاں! یہ بھی اس کی طرف سے بتلایا ہوا سچ اور حقیقت ہے کہ وہ اس سے دور ہوتے ہیں۔ سو اب اس کے پاس آئیں گے۔ اور ضابطہ ہے کہ ایک چیز کو دیکھنے سے کبھی کبھی (اس سے متعلق ) دوسری چیز یاد آتی ہے۔

فَمَنْ لَّمْ يُؤَدِّ الْمَالَ وَهُوَ يُحَتَّمُ عَلَيْهِ فَذَا يُقْلِيْ وَيَشْنَا وَيَهْجُرُ

١٥١...... جو شخص مال کا حق ادا نہیں کرتا حالانکہ اس پر (ادائیگی) فرض اور ضروری ہے تو وہ نفرت کرتا ہے اور دشمنی رکھتا ہے اور قطع رحمی کرتا ہے۔

وَلَوْ لَمْ اَخَفْ رَبِّيْ تَعَالٰى وَهَوْلَهُ وَاَكْرَمَ مَنْ يَهْدِي الْوَرى وَيُذَكِّرُ

١٥٢...... اور اگر مجھے اپنے رب کا ڈر نہ ہوتا جس کے امور اور احوال عالیشان ہیں اس طرح کہ جو مخلوق کی رہبری اور انہیں وعظ ونصیحت کرتا رہتا ہے۔ اسے عزت سے نوازتا ہے۔

٢٠

وَقَالَ بَعْضُ پروفیسر حضر ترجمہ: پروفیسر ڈاکٹر

PDF 78

انا خاتم النبيين لا نبي بعدي

میں آخری نبی ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں

وقال بعض المتنبئين

پروفیسر حضرت مولانا اصغر علی روحیؒ

(صدر شعبہ عربی، اورینٹل کالج لاہور)

ترجمہ: پروفیسر ڈاکٹر مولانا محمود الحسن عارف مدظلہ

صفحہ ٧٩

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وقال في بعض المتنبئين

تسير الى ربع الحبيب الزوامل فيالك شوقاً هيجته المنازل

.......١ میری محبوبہ کے مکان کی طرف مجھے سواریاں لئے جا رہی ہیں۔ اے محبوبہ سے ملنے کا شوق ! جسے راستے کی منزلوں نے اور زیادہ بھڑکا دیا ہے۔

منازل سلمى لا تكاد ترى بها أنيسا يراعيها فماذا تحاول

.......٢ (تیری محبوبہ) سلمیٰ کے گھر کے اجڑے ہوئے نشانات ہیں۔ کسی ایسے انسان کو دیکھنا، جو ان کا خیال رکھتا یا اس کی حفاظت کرتا ہو۔ ممکن نہیں، پس تو وہاں کس لئے جا رہا ہے؟

منازل من لو كان حبى يهزه الى لكان الطيف منه يواصل

.......٣ یہ اس ہستی کے مکانات ہیں، اگر میری محبت اسے میری طرف حرکت نہ دیتی تو دل میں آنے والا خیال اس سے ملا دیتا۔

بفرقتنا نادى الغراب فبينا نروح ونغدوا والديار اواهل

.......٤ ہماری جدائی کے متعلق کوا بول پڑا،...... اس حالت میں کہ ہم شام اور صبح کو چلتے ہیں اور ہمارے گھر واہمہ کی مانند ہوتے ہیں۔

اذا بصروف الدهر هبت رياحها فابدى السبا كانت لقل تماثل

.......٥ جب زمانے کی گردشوں کی ہوائیں چل پڑیں،....... تو ”سبا کی ہلاکتوں“ کی مثالیں بہت کم ہوگئیں۔

فدع ذكر سلمى ان سلمى لخدعة اذا هى قد بانت وشطت مراحل

.......٦ (اے شاعر) تو سلمیٰ کا تذکرہ چھوڑ ، سلمیٰ تو محض ایک فریب ہے....... اس لئے کہ وہ کب کی جدا ہو گئی اور اس کے مکان بہت دور رہ گئے ہیں۔

يذكرنى خير القرون خصالهم كريح الخزامى طيبتها الاصائل

.......٧ مجھے ان کی عادتیں خیر القرون کی یاد دلاتی ہیں۔ جیسے ”خزامی“ نامی پودے کی خوشبو، جسے غروب آفتاب کے وقت نے زیادہ عمدہ بنا دیا ہو۔

وكانت ربوع الدين مخضلة الثَّرى فهذى مغانيه وهذى المواحل

.......٨ اور ”دین“ کی چار دیواریاں...... بڑی پرنم تھیں،....... پس یہی اس کے لازمی حصے ہیں

٢

اور یہی اس کی بچھڑ والی جگہیں ہیں۔

تعافينا الاحداث تبرى عظامنا

.......٩ ہماری ہڈیوں کو کمزور کرنے کے لئے خود سے لڑائی کے ذریعہ دور نہیں کر سکتے

لحا الله حدثان الزمان وريبه

.......١٠ اللہ تعالیٰ زمانے کے حوادث اور اس طاری ہونے والے ہر معاملے سے

هبطنا ورب البيت حتى انتهى بنا

.......١١ ہم تنزل کا شکار ہو گئے اور ”بیت الـ والی چیز، ہم سے نیچے ہونے میں تجا

لقد ساء لى ما قد تضعضع من علا

.......١٢ مجھے وہ بات بہت بری لگی کہ جس طرح ہو گئے ہیں جنہیں بڑی بڑی

ترى خيل أقوام تسابق غاية

.......١٣ تو دیکھتا ہے کہ قوموں کے گھوڑے بڑھنے کی کوشش کر رہے ہیں، لیکن

يباهون في النادى اذا ما تألفوا

.......١٤ وہ مجالس میں ایک دوسرے سے مجـ ہیں۔ کاش انہیں ان کی مائیں ان

غواة قصارى همهم في حماتهم

.......١٥ وہ ایسے گمراہ لوگ ہیں کہ ان کی سونے کی ڈلیوں کے ڈھیر ہیں، یـ

احابيش دانت بينهم كأس قرفف

.......١٦ وہ ایسی متفرق جماعتیں ہیں جنہیں جیسے اوباش لوگوں پر پلید زہرہ خوامخو

كسالى اذا ماجاهد القوم في العلىٰ
صفحہ ٧٩

اور یہی اس کی کیچڑ والی جگہیں ہیں۔

تغالبنا الاحداث تبرى عظامنا فلا نستطيع الذب عنا نقاتل

خود سے لڑائی کے ذریعہ دور نہیں کر سکتے۔

لحا الله حدثان الزمان وريبه نخاف الردى من كل خطب ينازل

طاری ہونے والے ہر معاملے سے ہلاکت کا خوف رکھتے ہیں۔

هبطنا ورب البيت حتى انتهى بنا صغار الى مالا يجاوز سافل

والی چیز ، ہم سے نیچے ہونے میں تجاوز نہیں کر سکتی۔

لقد ساءنى ما قد تضعضع من علا ونحن كموتى غيبتهم جنادل

طرح ہو گئے ہیں جنہیں بڑی بڑی چٹانیں غائب کر دیتی ہیں۔

ترى خيل أقوام تسابق غاية ولكن جياد المسلمين جوافل

بڑھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ لیکن مسلمانوں کے گھوڑے بدک رہے ہیں۔

يباهون فى النادى اذا ما تآلفوا ألا ثكلتهم بالبقاء الثواكل

ہیں۔ کاش انہیں ان کی مائیں ان کے گم ہونے پر روتیں۔

غواة قصارى همهم في حياتهم قناطير تبر أو حسان شواغل

سونے کی ڈلیوں کے ڈھیر ہیں، یا ایسا مال ہیں جو (تجارت وغیرہ میں) مشغول ہو۔

احابيش دانت بينهم كأس قرقف تدير على الاوشاب غيد جمائل

جیسے اوباش لوگوں پر ایک نرم و خوبصورت گردن والا شخص پیالہ لے کر گھومتا ہے۔

كسالى اذا ما جاهد القوم فى العلى توانوا فحظ القوم منهم رذائل

٣

صفحہ ٨١

رہے ہیں ۔ وہ کمزور پڑ گئے تو انہیں لوگوں میں پستیاں بطور حصہ ملیں ۔

نفوس اذا ما بالخبيث تضلعت قضت ما استطاعت في الفراش تشاغل

ہیں ، تو حتی الامکان زمین پر خشک ہونے والے کیچڑ سے دل بہلاتے ہوتے ہیں ۔

وتلبس من خز خلاعاً سنية وتهجع ليلاً في الحشايا تثاقل

پر ( بھی ) رات کو بے آرام رہتے ہیں ۔

قوارع دهر قد وردن عيونهم فعادت كوهل رنقته المزابل

ہیں ، جسے گردوغبار نے بھاری بنا دیا ہو ۔

اذا اجتمعت امراء هم في مقامة تراهم تخالهم لئام تفاضل

لوگوں ( کی ) طرح ہیں جو ایک دوسرے پر برتری جتاتے ہیں ۔

اذا مارأوا أدنى المخافة دونها علتهم بايام المصيف الافاكل

آن لیتا ہے ۔

ذواعف ما يأتو له من محارم ألا قد سقوا وهى السموم القواتل

ہیں ، تو وہ اسے ( یہ زہر ) پلا دیتے ہیں ۔ وہ تو قاتل زہر ہیں ۔

اذا فزعوا يوماً تقاعس همهم وان فرقوا يوماً علتهم غوائل

دوسرے سے الگ ہوتے ہیں تو انہیں وحشتیں بیمار کر دیتی ہیں ۔

تعدوا حدودا لا تكاد تعدها فليست لهم عما أتوه مزاحل

کرتے ہیں تھکاوٹ نہیں ہوتی ۔

٤

دنى من اولى مستوقد الناس والحصا

حملہ کرنے سے رحم نہ کھائے گی ۔

الا لا تغرن الحيوة اولئكم

کی تلاش میں ہیں ۔

فياويلتى ماذا تريد من الهوى

قوموں کو اندر سے ہلاک کر چکی ہیں ۔

تعود ولا تخشى بوادر نقمة

بھیڑیئے کی طرح حملہ کرتی ہیں ۔ جس

معاذيرها لا تحظى بفعالها

گناہوں کے ساتھ کم ہی خطا کرتے ہیـ

فهلا تلافى القوم ذلا يبيدهم

رسوا کن کاموں سے ، جو انہیں مشکل مـ

فلولا ذوو الأحلام قاموا بنصره

کمزور پڑ رہی ہے ۔

لقد نام اهل العلم طراً عَنِ التُقى

انہوں نے غیرت والے کی پکڑ کو چـ

ألاليت شعرى ما يلم بسافل
صفحہ ٨١
دنى من اولیٰ مستوقد الناس والحصا جهنم لا تبقی علیهم تصاول

٢٦...... وہ لوگوں اور کوڑے کرکٹ کے جلنے کی جگہ کے قریب ہو گئے۔ یعنی جہنم کے، جو ان پر حملہ کرنے سے رحم نہ کھائے گی۔

الا لا تغرن الحیوة اولئکم فان المنایا جندهن مخاتل

٢٧...... خبردار ان لوگوں کو دنیوی زندگی دھوکے میں نہ ڈالے۔ اس لئے کہ موت کے لشکر، ان کی تلاش میں ہیں۔

فیاویلتی ماذا ترید من الهویٰ وقد اهلک الأقوام قدماً دخائل

٢٨...... ہائے افسوس، وہ (ان) خواہشوں سے کیا چاہتے ہیں؟ وہ تو پرانے زمانے سے کئی قوموں کو اندر سے ہلاک کر چکی ہیں۔

تعود ولا تخشیٰ بوادر نقمة تصول کطاوی الذئب والمرء غافل

٢٩...... وہ (خواہشیں) لوٹ کر آتی ہیں وہ مصیبتوں کے انتقام سے نہیں ڈرتیں۔ وہ بھوکے بھیڑیئے کی طرح حملہ کرتی ہیں۔ جب کہ بندہ غافل ہوتا ہے۔

معاذیرها لا تحظیٰ بغنائها اذا حجها یوم الحساب المسائل

٣٠...... جب حساب کے دن سوالات ان پر غالب آ جاتے ہیں، تو ان کے بہانے ان کے گناہوں کے سامنے کام نہیں آتے ہیں۔

فهلا تلافیٰ القوم ذلاً یبیدهم وهلا تجافیٰ عن مخاز تشاكل

٣١...... پس لوگ اس ذلت کا، جو ان کو ہلاک کئے دیتی ہے، تدارک کیوں نہیں کرتے، اور ان رسوا کن کاموں سے، جو انہیں مشکل میں ڈالتے ہیں، دور کیوں نہیں رہتے۔

فلولا ذوو الأحلام قاموا بنصره اذا ما رأوا أن الهدیٰ متضائل

٣٢...... پس کیوں نہ عقل والے لوگ ان کی مدد کو اٹھے، جب انہوں نے یہ دیکھ لیا کہ ہدایت کمزور پڑ رہی ہے۔

لقد نام اهل العلم طراً عن التقیٰ فها قد نسوا بطش الغیور یعاجل

٣٣...... سارے اہل علم (لوگوں کو) تقویٰ کی ترغیب دینے سے غافل ہو گئے...... افسوس انہوں نے غیرت والے کی پکڑ کو بھلا دیا۔ جو انہیں جلد آ لے گی۔

ألا لیت شعری ما یلم بسافل اذا ما توانیٰ عن معالیٰ الافاضل

٣٤...... اے کاش وہ اتنی پستی میں نہ اترتے، جب فضیلت و بزرگی والے لوگ بڑائی والے کاموں سے دور رہتے ہیں۔

٥

صفحہ ٨٢

کاموں سے دور چلے گئے۔

ولولم يكن رزء النفاق مساوراً لقام برأب الثأی منا حلاجل

لئے ضرور اٹھ کھڑا ہوتا۔

اذا مارأى الايغال فى الهول غمة تظلل مسراه الرماح العواسل

رفتار سے چلتا۔

وما زال منّا قائد بعد قائد صبور كريم هبرزى مجاسل

صورت و حسین سیرت والا تھا۔

ينادى باعلى الصوت فى حومة الوغى وللبيض فى فضل الضوافى مداخل

الگ ہونے والے حلقوں کے ذریعے ہی داخلہ ہوتا ہے۔ (اس سے حضرت ابو بکرؓ مراد ہیں)

ثقيل على الاعداء والحرب خلسة خفيف على الاحباب والفقر هائل

پر نرم تھا۔ جب کہ محتاجی تباہ کرنے والی ہوتی۔

كريم المحیّا يبتغى حمد حامد اذا ما تعيّا بالمواعيد نائل

وعدوں کے حصول میں ناکام ہو جاتا (تو وہ اس کی مدد کرتا) (اس سے حضرت عمرؓ مراد ہیں)

ويغضى حياء والغنى متواضع ويفرح جودا والندى متجاهل

اسے فیاضی اور سخاوت کر کے خوشی ہوتی جب کہ مجلس والے ناواقف ہوتے۔

(یہ حضرت عثمانؓ کا تذکرہ ہے)

شديد القوى لا تزدهيه مطامع كثير التقى لا ترتجيه الحلائل

والا، عورتیں (بیویاں) اس کی امید نہ رکھتیں۔

٦

الى كل ذى مجد يروح ويغتدی

کی بناء پر قبائل اس کی پناہ لیتے۔ (

الا حبّذا أيامنا قبل ما سطا

ہوتا، اور زمانہ تو سوالی ہوتا ہے۔

أبت غيرة الاسلام الا تسامياً

جس کی چڑھائی میں قلعے بھی حائل

اذا ما نقضنا ما النبى أمّره

اللہ تعالیٰ کے لطف و کرم کے اسبا

فتی اروع ذاک عریق سمیدع

ساتھی اور بہادر تھے۔ (یہاں سے

حبانا بمالم يسمع الدهر باذلا

اور شکر گزاری حاصل کرنے وال

كريم له فى كل شرق ومغرب

عطیات کا سلسلہ وسیع رہتا۔

يناجيه جبريل الامين كرامة

کرتے....... پس آپ کو صبح کے والا بھی امیدوار رہتا۔

يلوذبه الابرار من كل بلد
صفحہ ٨٣
الى كل ذى مجد يروح ويغتدى بفضل الهدى تأوى اليه القبائل

کی بناء پر قبائل اس کی پناہ لیتے ۔ (حضرت علیؓ کی وصف کی گئی ہے )

الا حبذا أيامنا قبل ما سطا على القوم ريب الدهر والدهر مائل

ہوتا ، اور زمانہ تو مائل ہوتا ہے۔

أبت غيرة الاسلام ألا تسامياً لمجد تحامت مرتقاه المعاقل

جس کی چڑھائی میں قلعے بھی حائل نہ ہوں ، ہر صورت کا انکار کرتی ہے۔

اذا ما نقضنا ما النهى أمره تصرّم من لطف الاله حبائل

اللہ تعالیٰ کے لطف وکرم کے اسباب منقطع ہو گئے ۔

فتى اروع زاك عريق سميدع اخو ثقة حامى الذمار مباسل

ساتھی اور بہادر تھے۔ (یہاں سے نبی اکرم ﷺ کی صفت شروع ہو رہی ہے )

حبانا بما لم يسمع الدهر باذلا فشكراً على المعروف والشكر نائل

اور شکر گزاری حاصل کرنے والے تھے۔

كريم له فى كل شرق ومغرب عطايا كامطار الربيع شوامل

عطیات کا سلسلہ وسیع رہتا ۔

يناجيه جبريل الامين كرامة فمصبحه خاش وممساه امل

کرتے...... پس آپ کو صبح کے وقت دیکھنے والا بھی سیر ہوتا اور شام کے وقت آنے والا بھی امیدوار رہتا ۔

يلوذ به الابرار من كل بلدة ومن لم يلذ فالدهر بالسوء عاجل

٧

PDF 85

٥١....... ہر شہر سے نیک لوگ آپ کی پناہ لیتے اور جو شخص آپ کی پناہ میں نہ آتا، تو زمانہ (اس کے ساتھ ) برائی کرنے میں جلدی کرتا۔

واطول خلق فى السماحة والندى وامثل ناس حين عد الأماثل

٥٢....... آپ زمانے بھر میں مہربانی کرنے اور سخاوت کرنے میں سب سے زیادہ فضیلت رکھتے تھے اور جب برگزیدہ لوگوں کا شمار کیا جاتا تو آپ تمام لوگوں میں سب سے بہتر تھے۔

وقد علقت امالنا بلقائه تشد من الأقصى اليه الرواحل

٥٣....... ہماری امیدیں، آپ کی ملاقات کے ساتھ مشروط ہیں ...... دنیا کے گوشہ گوشہ سے، سواریاں، اسی جانب سفر کے لئے تیار کی جاتی ہیں۔

الى طيبة الغرّاء مثوى نبينا هناك مزايا جمّة و فواضل

٥٤....... روشن طیبہ (مدینہ منورہ) میں ہمارے نبی (ﷺ) کی آرام گاہ ہے، وہاں شرافت و نجابت اور فضیلتوں کا خزانہ ہے۔

سقى الله تلك الارض ارض كرامة غيوث الغوادى المدجنات الهواطل

٥٥....... اللہ تعالیٰ اس سر زمین کو جو عزت و شرافت والی سر زمین ہے۔ صبح کے وقت آنے والے موسلا دھار اور مسلسل بارشیں برسانے والے بادلوں سے سیراب کرے۔

اتانا باذن الله حين ترافعت عن القوم اخلاق الرجال الجزائل

٥٦....... آپ ہمارے پاس اللہ کی اجازت سے اس وقت آئے، جب امارت نے، لوگوں کے اخلاق بگاڑ دیئے تھے۔

فللّه قلب لا يزال بناره من الشوق يغلى حيث تغلى مراجل

٥٧....... اللہ تعالیٰ ہی کے لئے اس دل کی خوبی ہے، جو شوق کی آگ میں اس طرح مسلسل جوش مارتا ہے۔ جیسے کہ ہنڈیاں پکتے ہوئے جوش مارتی ہیں۔

ولله عين فى هواه تتابعت بمنهل دمع والشؤون تساجل

٥٨....... اور اللہ ہی کے لئے، خوبی ہے، اس آنکھ میں جو آپ کی محبت میں، تسلسل کے ساتھ آنسو بہاتی ہے، جب کہ مصیبتیں (آنے کے لئے یا پریشان کرنے کے لئے) ایک دوسرے سے مقابلہ کرتی ہیں۔

مننت على الاقوام طرّاً كأنها اياديك تكفيها العيال الجزائل

٨

٥٩....... (اے نبی ﷺ) آپ نے تمام (پورے) خاندان کے لئے بڑے

فاصبحت فى المجد الاثيل ارومة

٦٠....... آپ بزرگی میں (دوسروں کے جس کے حصول سے، بڑے بڑے

وشقت كل الاشرار منك مجاهداً

٦١....... آپ کے جہاد سے، تمام شریروں اور دُبلی اور تیز رفتار اونٹنیوں (پر س

قد اخضر وجه الارض حتى كأنها

٦٢....... آپ کی آمد کی برکت سے زمین ساری زمین باغ ہو، جو علم کی نہر

يا نصرة الرحمن ابطأت والتقى

٦٣....... اے پروردگار کی مدد ! تو نے آ (علاج) کے لئے تھی، اور قوم بـ

لقد سفهت احلام معشر فتية

٦٤....... ایک جماعت کی عقلیں کمزور ہو

صبرنا وكان الصبر منا سجية

٦٥....... ان کمینہ خصلت لوگوں کی طرف کرنا ہماری عادت ہے۔

أتانا كلام من غبى مخاطـ

٦٦....... ہمیں ایک کند ذہن اور طالع پہنچا ہے جو بے تکا کلام ہے موازنہ کرے۔ (اس کے بعد

كلام له في كل لفظ فواحش

٦٧....... اس کا کلام ایسا ہے کہ ہر لفظ صفت لوگ ....... بکواس کرتے

صفحہ ٨٥

٥٩....... (اے نبی ﷺ ) آپ نے تمام اقوام پر احسان کیا....... آپ کے بخشے ہوئے عطیات (پورے) خاندان کے لئے بڑے بڑے عطیات سے کفایت کرتے ہیں۔

فاصبحت فی المجد الاثيل ارومة تقاصرت الاكباش عنه تطاول

٦٠....... آپ بزرگی میں (دوسروں کے لئے ) ایک بنیاد (اصل) ہوگئے ہیں، ایسی بزرگی کہ جس کے حصول سے، بڑے بڑے سردار جو اپنی گردنیں اٹھاتے تھے، قاصر رہ گئے۔

وشقت كل الاشرار منك مجاهداً اذا ما تلاقوا مرهفات معاجل

٦١....... آپ کے جہاد سے، تمام شریر لوگ مشقت میں جاپڑے۔ جب انہوں نے تیز رفتار اور دبلی اور تیز رفتار اونٹنیوں (پر سوار ہوکر) آپ سے مقابلہ کیا۔

قد اخضر وجه الارض حتی كأنها رياض لها من ماء علم جداول

٦٢....... آپ کی آمد کی برکت سے زمین کا چہرہ اس طرح سرسبز و شاداب ہوگیا، گویا ساری ساری زمین باغ ہو، جو علم کی نہروں سے (سیراب ہوتے ) ہوں۔

أيا نصرة الرحمن ابطأت والتقی تدين لغی القوم والقوم غافل

٦٣....... اے پروردگار کی مدد ! تو نے آنے میں دیر کردی اور پرہیزگاری تو قوم کی گمراہی کے (علاج) کے لئے تھی، اور قوم غافل تھی۔

لقد سفهت أحلام معشر فتنة مساعير نيران الضلال تشاعل

٦٤....... ایک جماعت کی عقلیں کمزور ہوگئیں ہیں جو بطور فتنہ گمراہی کی آگ بھڑکا رہی ہیں۔

صبرنا وكان الصبر منا سجية علی ما دهانا من لئام تحامل

٦٥....... ان کمینہ خصلت لوگوں کی طرف سے ہمیں مشقت میں ڈالنے پر ہم نے صبر کیا اور صبر کرنا ہماری عادت ہے۔

أتانا كلام من غبی مخاطر هراء فمن لی بالعدول يعادل

٦٦....... ہمیں ایک کند ذہن اور طالع آزما....... (یا خود کو ہلاکت میں ڈالنے والے) کا کلام پہنچا ہے جو بے تکا کلام ہے ....... پس کوئی ہے ایسا انصاف پسند جو اس کے کلام کا موازنہ کرے۔ (اس کے بعد کے تمام اشعار مرزا قادیانی کے بارے میں ہیں )

كلام له فی كل لفظ فواحش كما قد هذی فی السوق قوم اراذل

٦٧....... اس کا کلام ایسا ہے کہ ہر لفظ میں کھلی بے حیائیاں ہیں....... جیسے کہ بازار میں، کمینہ صفت لوگ ....... بکواس کرتے ہیں۔

٩

صفحہ ٨٦
معاذاً غناه لا يليق بما ادعى من الوحى والالهام والدهر دائل

اور زمانہ ..... جلد گھوم جانے والا ہے۔

الهفى على لفظ كريه سماعه واف لمعنى تزدريه البواطل

باطل مقاصد کا اظہار کرتا ہے۔

تشاعر فى ارض الجهالة مفسد يسب كرام المسلمين مخاتل

مسلمانوں کو گالی دیتا اور دھوکے باز ہے۔

وكيف يجوز اللعن ممن هدى الورى وكيف يوالى السوء بالحسن قائل

اور جو شخص اچھائی کا دعویدار ہو اس کے لئے برائی کے ساتھ بدلہ دینا کیسے صحیح ہے؟

يبارى فحول الجاهلية فاخراً بمسروقة السفساف والأمر هائل

ہوئے مقابلہ کرتا ہے۔..... اور معاملہ..... خطرناک ہے۔

تزيا بزى المفلقين سفاهة فيا عجبا ماذا تمناه باقل

جس کی تمنا رکھتا ہے اس میں وہ پرلے درجے کا بے وقوف (باقل) ہے۔

لقد خاطب الاعلام من ليس عنده من العلم والاداب ما هو كامل

فنون میں کامل تھے۔

يفاخرهم فى الشعر جهلا وشعره على كل طبع مستنير يثاقل

روشن طبع شخص پر گراں گزرتے ہیں۔

ومستبضع تمراً الى اهل خيبر يلام على ما يجتنى وهو قافل

١٠

صفحہ ٨٧

٧٦...... وہ اپنی حماقت کی بناء پر اہل خیبر کو چند کھجوریں، بطور سامان دینے والا ہے...... وہ جو شے چنتا ہے اس پر اسے ملامت کی جاتی ہے۔ جب کہ وہ واپس پلٹنے والا ہو۔ (حماقت کے لئے یہ ضرب المثل تھی، اس لئے کہ خیبر کا علاقہ کھجوروں کا مرکز ہے اور کوئی شخص وہاں جا کر کسی کو کھجوریں بطور تحفہ دے تو اسے احمق سمجھا جاتا تھا)

فواهاً بهاث الطير تصطاد بازيا يغامض تحقيراً لها ويغافل

٧٧...... تعجب ہے کہ غیر شکاری جانور...... ”عقاب“ کا شکار کر رہے ہیں۔ وہ اپنے دل میں ان کے لئے حقارت چھپائے رکھتا ہے اور غافل ہے۔

وكم شاعر يدعى وليس بشاعر ولكنما الداعون قوم اباطل

٧٨...... کتنے ہی شاعر ایسے ہیں جو شاعر ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں۔ مگر حقیقت میں شاعر نہیں ہیں۔ وہ بے اصل اور بیہودہ کاموں کی دعوت دینے والے لوگ ہیں۔

يفاخر بالسفساف شعراً وانما يفاخر بالسفساف من هو جاهل

٧٩...... وہ شعروں کی صورت میں یاوہ گوئی کر کے اظہار فخر کرتا ہے اور یاوہ گوئی پر وہی فخر کرتا ہے جو بذات خود جاہل ہو۔

وما الفخر بالشعر الردئ على الورى ولكن بشعر يصطفيه الأفاضل

٨٠...... کسی نکمے شعر کے ذریعے لوگوں پر اظہار فخر کرنا درست نہیں ہے۔ البتہ کوئی ایسا شعر ہو جس کا علم فضل رکھنے والے لوگ انتخاب کریں (اور اس سے فخر کیا جائے تو اور بات ہے)

يصبح أهل الجاهلية غانما فيوقع مغوارا على من يقابل

٨١...... جاہل لوگوں پر صبح کے وقت حملہ کر کے غنیمت لوٹتا ہے۔ وہ اپنے مقابلہ کرنے والے پر، اپنے تیز حملہ کرنے والے گھوڑے کے ذریعے حملہ کرتا ہے۔

لو اتخذ الرحمن شعراً بحجة على الخلق مافات النبي بفاضل

٨٢...... اگر اللہ تعالیٰ نے اشعار کو (انبیاء کے لئے) حجت بنایا ہوتا تو نبی ﷺ کی ذات میں یہ فضیلت والی شے ہرگز چھپی نہ رہتی۔

فسبحانه قد قال ما ينبغى له فهل حجة يبغى له متغافل

٨٣...... اللہ تعالیٰ کی ذات پاک ہے کہ جس نے یہ فرمایا: ”پیغمبر کے لئے (شعر گوئی) مناسب نہیں ہے، تو کوئی ایسی حجت (دلیل) ہو سکتی ہے جو آپ کے لئے چاہئے ہوتی اور آپ اس سے غافل ہوتے۔“

١١

صفحہ ٨٨
ولا خير فى دعوى اذا لم يكن لها على الصدق من ربّ السماء الدلائل

سے دلائل موجود نہ ہوں۔

اذا افتخر الكردى يوماً بما لغى فهاك قطوف من عزاب يهازل

سواری ضرور اس کا مذاق اڑائے گی۔

ونحن اناس لا نجرد بيضنا اذا ما امنا الحيف ممّن يعادل

سے ظلم و جور کا اندیشہ ہو جو انصاف کرنے والے ہیں۔

ولكننا اسد اللّقاء لدى الوغى اذ انطق العوراء خصم محاول
ولولا ضياع العمر فيما يعيبنا لسارت مطايا الشعر منّا تجاول

ہماری شعروں کی سواریاں ...... ایک دوسرے سے سبقت لے جا رہی ہوتیں۔

ونحن نجيب الشعر يوماً اذا دعا فنمضى كسيف والغبى يشاقل

جاتے ہیں۔ جب کہ کند ذہن شخص پر شعر کہنا گراں ہوتا ہے۔

وليس القطا مثل القطى اذا هما تطاير فى جوّ السماء تعاجل

اڑان میں ایک دوسرے سے مقابلہ کر رہے ہوں۔ (قطا ایک تیز رفتار پرندہ ہے اور قطی سست رفتار پرندے کا نام ہے۔ مطلب یہ ہے کہ مرزا ایک عام مسلمان عالم سے بھی مقابلہ نہیں کر سکتا)

فهل يدّعى الآداب من ليس عنده من العلم مالا بالهباء نكايل

گرد و غبار سے بھی موازنہ کیا جاسکے۔

١٢

ومبلغه اغلوطة فى بيان

گمراہی والی باتیں ہیں۔

فما يستوى عذب المياه وملحه

برابر ہو سکتے ہیں۔

تسترت كالمحتال بالوحى كاذ

جس کی اسے مختلف مجالس سے

نعم هكذا من ليس يأمن جان

ٹانگیں آنے والے خوف کے

ومن ليس فى شئ من الحرب ينظ

طرح ایک شریف زادی ج

تنبأت يا مغرور بعد مح

جھوٹے اور حیلے باز مسیلم مبارکہ کے آخری ایام میں خالد بن ولید کی قیادت میں

عجزت عن الاعجاز مثل مسيل

رہا تو تو نے کہا کہ معجزہ دکھا

فلا قبل ذامن يفترى الكذب هـ

ایک دیوانہ) ہے، لہٰذا اس کے

صفحہ ٨٩
ومبلغه اغلوطة فى بيانه ومجهوده فيما اتاه الغوائل

گمراہی والی باتیں ہیں۔

فما يستوى عذب المياه وملحها ولا ما ادعى خصمان حق باطل

برابر ہو سکتے ہیں۔

تسترت كالمحتال بالوحى كاذباً واعرضت عن بحث دعته المحافل

جس کی اسے مختلف مجالس سے دعوت دی جاتی ہے، کنی کترا جاتا ہے۔

نعم هكذا من ليس يأمن جاشه تخاذل رجلاه لهول ينازل

ٹانگیں آنے والے خوف کے خیال سے لرزتی ہوں۔

ومن ليس فى شى من الحرب يتقى كما تتقى الفحل الفيق الحوامل

طرح ایک شریف نر اونٹ حاملہ اونٹنیوں سے بچتا ہے۔

تنبأت يا مغرور بعد محمد فمه يا مسيلمة الكذوب المحاول

جھوٹے اور حیلے باز مسیلمہ کذاب۔ (مسیلمہ کذاب نے نبی اکرم ﷺ کی حیات مبارکہ کے آخری ایام میں نبوت کا دعویٰ کیا تھا۔ اس کا تعلق بنو حنیفہ سے تھا۔ حضرت خالد بن ولید کی قیادت میں مسلم افواج نے اس کو اور اس کے ماننے والوں کا قلع قمع کیا)

عجزت عن الاعجاز مثل مسيحنا فقلت هل الاعجاز الا المشاغل

رہا تو تو نے کہا کہ معجزہ دکھانا تو بس مشغلے کے سوا کچھ نہیں۔

فلا قبل ذامن يفترى الكذب هائماً كذاك فلا يغتر بالكذب جاهل

ایک دیوانہ) ہے، لہٰذا اس کے جھوٹ سے کوئی ناواقف شخص دھوکے میں نہ آئے۔

١٣

صفحہ ٩٠
وتذكر اثار الفتى بعد ما مضى فتمدح منه اوتذم الشمائل

اور ان کی بناء پر اس کی تعریف کی جاتی ہے یا اس کی عادتوں کی مذمت کی جاتی ہے۔

اأنت لنا المهدئ من صلب جنکز ومهدينا فى آل زهراء اجل

مہدی تو حضرت فاطمہؓ کی اولاد سے بعد میں آنے والا ہے۔ (مرزا قادیانی کا نسلی تعلق مغلوں سے تھا۔ جو اپنا سلسلہ چنگیز خان سے ملاتے ہیں۔ جب کہ نبی اکرم ﷺ نے یہ خبر دی ہے کہ امام مہدی کا تعلق فاطمہؓ کی اولاد سے ہوگا)

فأوّلت ماقال النبى بضده لشقت عصا الاجماع منک الطوائل

عداوت و دشمنی کا اظہار ہونے کی بناء پر تو نے اجماع و اتفاق کی لاٹھی کو پھاڑ دیا ہے۔

تحیّرت فیما قد اتيت فلا ارى لقولک وجهاً ثابتاً لا يزايل

دیر پا وجہ نہیں دیکھتا۔

فلو كنت فی ایّام دولة مسلم لانسيت کالماضى وذکرک خامل

تیری یاد بھی بجھ چکی ہوتی۔

ولكنه قد خیّلت لک حيلة تخیلتها والكفر فى القوم دائل

(کفار کی حکومت تھی)

اذا استنسرت فى ارض جهل بغاثها فلا غرو ممّا يدّعيه الاسافل

نہیں، جو کمینہ لوگ دعوے کرتے ہیں۔

نرى كل ماتبنى بناء على شفا اخاديد هدّتها السيول الشوائل

والی تلواروں نے دھماکے سے گرا دیا ہو۔

١٤

ابطال

حضرت مولا

PDF 92

خاتم النبيين لا نبي بعدي

میں آخری نبی ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں

ابطال اعجاز مرزا

(حصہ اوّل)

حضرت مولانا حکیم غنیمت حسین اشرفیؒ

صفحہ ٩٢

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ مرزا قادیانی نے جس قصیدہ کے اعجاز کا دعویٰ کیا ہے۔ اس کتاب ”ابطال اعجاز“ مرزا کے پہلے حصہ میں مرزا قادیانی کے قصیدہ کی غلطیاں دکھائی ہیں کہ اس میں ایسی موٹی موٹی اور صاف صاف غلطیاں ہیں جو مستعد طلباء پر پوشیدہ نہیں رہ سکتیں۔ علاوہ صرفی نحوی عروضی غلطیوں کے محاورات کی غلطی اور الفاظ کا غلط استعمال جو مرزا قادیانی نے اس قصیدہ میں کیا ہے۔ اسی سے ظاہر کیا ہے اور دکھایا ہے کہ یہ قصیدہ فصیح اور بلیغ تو کیا صحیح بھی نہیں ہے۔ پھر ایسے کلام کو معجزہ کہنا بجز جہل مرکب کے اور کیا کہا جائے؟ اسی وجہ سے اہل کمال نے اس طرف توجہ نہیں کی تھی۔ اب جماعت احمدیہ کی خیر خواہی کے خیال سے اس کے جواب میں قصیدہ بھی لکھا گیا ہے جو اس کے دوسرے حصہ میں عنقریب شائع ہوگا۔ اہل علم دیکھ لیں گے کہ ہمارا قصیدہ مرزا قادیانی کے قصیدہ سے ہر طرح عمدہ ہے۔

تمہید

انا فتحنالک فتحاً مبیناً نحمدہ ونصلی علٰی سید المرسلین خاتم النبیین وآلہ وصحبہ اجمعین بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

مرزا قادیانی کا قصیدہ جس کا نام انہوں نے ”اعجاز احمدی“ اور ”القصیدۃ الاعجازیہ“ رکھا تھا اور علمائے کرام سے بیس دن میں اس کے مقابلہ کا قصیدہ مع ترجمہ طلب فرمایا تھا۔ نہ اس قصیدہ میں اعجاز کی کوئی شان ہے اور نہ فصاحت اور بلاغت میں وہ انسانی طاقت سے بالاتر ہے۔ بلکہ وہ ایک محض معمولی قصیدہ ہے اور اس سے کہیں بڑھے چڑھے اور فصاحت و بلاغت میں اعلیٰ علمائے ہند کے قصائد موجود ہیں۔ جس طرح بارہویں صدی کے حسان الہند سید غلام علی آزاد بلگرامی کے صرف قصائد میں ایک کتاب ہے جس کا نام ”تسلیۃ الفواد فی قصائد الزاد“ ہے اور سات دیوان عربی میں آپ کے ہیں۔ جن کا نام ”سبع سیارہ“ ہے اور اس میں قصائد کے سوا انواع اور اقسام کے کلام ہیں۔ اس کے سوا اور بھی متعدد تصانیف آپ کی عربی میں اور ہزاروں اشعار ہیں۔ فارسی میں بھی آپ کا کلام نہایت پاکیزہ ہوتا ہے۔ چنانچہ جب سفر حج میں آپ لوٹے گئے

٢

اور ڈاکوؤں نے سوا چشمہ اور تھوڑا پارہ (جو مہار نے شاہ دکن کو عریضہ لکھا جس کے سرنامہ پر یہ شع

عینکے وپارہ سیما
چشم بیخواب و دل

اس کے بعد حکیم الامتہ شاہ ولی ال عربیہ ہیں اور فخر الادباء والمتکلمین مولانا فی الفضلاء مفتی محمد عباس مرحوم کے قصائد وغیرہ جواب کی طرف توجہ نہ کی اور خیال فرمایا کہ ائ عوام بھی ہر سحر سامری کو اعجاز موسوی سمجھنے لگیں سے باز رکھا۔ لیکن زمانہ کی نیرنگیاں قدرت ک غنیمت سمجھ کر اپنی ڈیڑھ اینٹ کی اعجازی مسج میں کسی نے ایسا قصیدہ نہ لکھا اور نہ کوئی لکھ سکت

حاجی محمد یونس رئیس دتاولی کی طرف

مگر مرزا قادیانی کی جانفشانی او ہوا۔ مولوی حاجی محمد یونس رئیس دتاولی ضلع م اعلان دیا تھا جس کو میں بعینہ نقل کرتا ہوں۔

”مخدوم مکرم بندہ! ایڈیٹر صاح مطبوعہ ٢٢؍نومبر ١٩٠٢ء میں ایک مضمون مر چالاکی سے اس میں بھی باز نہ آئے۔ یعنی دیتے ہیں اور پیسہ اخبار ہفتہ وار میں مضموں ہوا۔ ناظرین کے پاس بھیجنے کے واسطے بھی ہے۔ لیجئے وقت ختم اور مرزا قادیانی کے دع اس میں وہ سب پہلو پہلے سے سوچ لیتے ہ

اس کے بعد مولوی صاحب م ہوئے یوں لکھتے ہیں: ”پھر تماشا یہ کہ وہ

صفحہ ٩٣

اور ڈاکوؤں نے سوا چشمہ اور تھوڑا پارہ (جو مبوہی کے لئے ساتھ رہتا تھا) کے کچھ نہ چھوڑا تو آپ نے شاہ دکن کو عریضہ لکھا جس کے سرنامہ پر یہ شعر تھا۔

عینکے و پارہ سیماب باما مانده است
چشم بیخواب و دل بیتاب باما مانده است

اس کے بعد حکیم الامتہ شاہ ولی اللہ مرحوم محدث دہلوی کا قصیدہ نعتیہ اور دیگر تصانیف عربیہ ہیں اور فخر الادباء والمتکلمین مولانا فضل الحق خیر آبادی کے قصائد میمیہ وغیرہ اور اسوۃ الفضلاء مفتی محمد عباس مرحوم کے قصائد وغیرہ وغیرہ اسی وجہ سے علمائے کرام نے اس کی تنقید اور جواب کی طرف توجہ نہ کی اور خیال فرمایا کہ ابھی ہندوستان کی جہالت اس درجہ پر نہیں پہنچی ہے کہ عوام بھی ہر سحر سامری کو اعجاز موسوی سمجھنے لگیں۔ یہی وجہ تھی جس نے ان کو اس کی طرف توجہ کرنے سے باز رکھا۔ لیکن زمانہ کی نیرنگیاں قدرت کا تماشا ہیں۔ مرزا قادیانی اور ان کے اتباع نے اس کو غنیمت سمجھ کر اپنی ڈیڑھ اینٹ کی اعجازی مسجد الگ کھڑی کر کے تمام شور مچا دیا کہ دیکھو مدت معینہ میں کسی نے ایسا قصیدہ نہ لکھا اور نہ کوئی لکھ سکتا ہے۔

حاجی محمد یونس رئیس دتاولی کی طرف سے چیلنج قبول

مگر مرزا قادیانی کی جانفشانی اور حرمانی پر افسوس کرنا چاہئے کہ یہ خیال بھی ان کا غلط ہوا۔ مولوی حاجی محمد یونس رئیس دتاولی ضلع علی گڑھ نے ١٢/دسمبر ١٩٠٢ء میں مرزا قادیانی کے نام یہ اعلان دیا تھا جس کو میں بعینہ نقل کرتا ہوں۔

"مخدوم مکرم بندہ ایڈیٹر صاحب پیسہ اخبار سلمہ اللہ ، السلام علیکم ورحمۃ اللہ! پیسہ اخبار مطبوعہ ٢٢/نومبر ١٩٠٢ء میں ایک مضمون مرزا قادیانی کا دیکھنے میں آیا۔ مرزا قادیانی اپنی معمولی چالاکی سے اس میں بھی باز نہ آئے۔ یعنی میعاد قصیدہ عربی لکھنے والے کو صرف بیس دن کی مہلت دیتے ہیں اور پیسہ اخبار ہفتہ وار میں مضمون شائع کرایا ہے جو ١٦/نومبر کا لکھا ہوا ، ٢٢/نومبر کو شائع ہوا۔ ناظرین کے پاس پہنچنے کے واسطے بھی کچھ عرصہ چاہئے۔ پھر اشعار کا بنانا بھی ایک وقت چاہتا ہے۔ لیجئے وقت ختم اور مرزا قادیانی کے داؤ پیچ کی جیت رہی۔ جب کسی انعام کا اشتہار دیتے ہیں تو اس میں وہ سب پہلو پہلے سے سوچ لیتے ہیں کہ ایک کوڑی گرہ سے نہجائے۔"

اس کے بعد مولوی صاحب موصوف قصیدہ اور قرآن مجید کے اعجاز کا مقابلہ دکھاتے ہوئے یوں لکھتے ہیں: ”پھر تماشا یہ کہ وہ عربی قصیدہ چھاپ کر اپنے پاس رکھ لیا ہے۔ پیسہ اخبار

٣

صفحہ ٩٤

میں شائع تک نہ کیا تا کہ ناظرین کو موقع طبع آزمائی کا ملتا۔ اس پر یہ فیاضی ہے کہ تمام علمائے ہند کو اذن عام دیا جاتا ہے کہ آپس میں مشورہ کر کے اس کا جواب لکھیں۔ حالانکہ ان لوگوں کی نگاہ سے ہنوز قصیدہ ہی نہیں گزرا۔ اب میں بذریعہ تحریر ہذا مرزا قادیانی سے گذارش کرتا ہوں کہ آپ فوراً قصیدہ مذکور میرے نام روانہ فرمائیں۔ یا اخبار میں شائع فرماویں اور اپنے اعجاز کے زمانے کو ذراسی وسعت بخشیں۔ جس دن وہ قصیدہ میرے پاس پہنچے گا اس سے بیس دن کے اندر انشاء اللہ تعالیٰ اس سے بہتر جواب آپ کی خدمت میں حاضر کیا جائے گا۔“

(پیسہ اخبار مورخہ ١٤؍ نومبر ١٩٠٢ء، الہامات مرزا ص ٩٤)

اس کا جواب شاید مرزا قادیانی کی طرف سے یہ دیا جائے کہ دس دسمبر تک بیس دن کی میعاد ختم ہو گئی ۔ اس کے بعد وہ کسی کے کہنے سننے کو نہیں سن سکتے۔

مولانا ثناء اللہ کی طرف سے چیلنج قبول

تو ہماری طرف سے اس کا جواب الجواب یہ ہے کہ میعاد کے اندر مولوی ثناء اللہ صاحب نے ٢١؍ نومبر ١٩٠٢ء کو ایک اشتہار دیا جس کا خلاصہ ٢٩؍ نومبر کے پیسہ اخبار لاہور میں بھی چھپا تھا کہ: ”آپ ایک مجلس میں اس قصیدہ اعجازیہ کو ان غلطیوں سے جو میں پیش کروں صاف کر دیں تو پھر میں آپ سے زانو بزانو بیٹھ کر عربی نویسی کروں گا۔ یہ کیا بات ہے کہ آپ گھر سے تمام زور لگا کر ایک مضمون اچھی خاصی مدت میں لکھیں اور مخاطب کو جسے آپ کی مہلت کا کوئی علم نہیں محدود وقت کا پابند کریں۔ اگر واقعی آپ خدا کی طرف سے ہیں اور جدھر آپ کا منہ ہے ادھر ہی خدا کا منہ ہے (جیسا کہ آپ کا دعویٰ ہے) تو کوئی وجہ نہیں کہ آپ میدان میں آ کر طبع آزمائی نہ کریں بلکہ بقول حکیم سلطان محمود ساکن راولپنڈی؎

بنایا آڑ کیوں جورو کا چرخہ
نکل! دیکھیں تری ہم شعر خوانی

حرم سرائی سے گولہ باری کریں۔ اس کا جواب باصواب آج تک نہ آیا کہ ہم میدان میں آنے کو تیار ہیں۔“

(الہامات مرزا ص ٨٧)

سعید طرابلسی؟

اس کے سوا مجھے بعض اشخاص سے معلوم ہوا ہے کہ مرزا قادیانی نے اس قصیدہ کو مبلغ پانچ سو روپیہ اجرت دے کر ایک عرب طرابلسی سے لکھوایا ہے۔ وہ عرب عرصہ تک حیدر آباد دکن

٤

صفحہ ٩٥

میں تھا۔ لیکن میں اس عرب کو اس کے ایمان اور اسلام پر مبارک باد دیتا ہوں کہ روپیہ لے کر قصیدہ تو لکھ دیا مگر اس میں عمداً ایسے اغلاط کو بھر دیا جسے ناظرین آئندہ چل کر ملاحظہ فرمائیں گے اور اس کی تائید ترجمہ کی غلطی سے بھی ہوتی ہے۔ کیونکہ اگر مؤلف اور مترجم ایک ہی شخص ہے تو ترجمہ میں غلطی کا ہونا ناممکن ہے اور پھر وہ بھی ایک دو جگہ نہیں بلکہ متعدد اور متواتر ہے۔ جیسا آگے معلوم ہوگا۔ اب تنقید سے پہلے میں دکھانا چاہتا ہوں کہ مرزا قادیانی کو اس قصیدہ پر کتنا ناز تھا اور وہ اسے کیا خیال فرماتے تھے۔ مرزا قادیانی (قصیدہ اعجاز احمدی ص ٧١، خزائن ج١٩ ص١٨٣) میں یوں فرماتے ہیں:

وکان کلام معجزاً آیة له
کذلک لی قول علی الکل یقہر

اور اس کے معجزات میں سے معجزانہ کلام بھی تھا ...... اسی طرح مجھے وہ کلام دیا گیا جو سب پر غالب ہے۔

اس سے معلوم ہوا کہ جس طرح جناب ختم المرسلین ﷺ کو قرآن کلام الہی معجزہ دیا گیا تھا مرزا قادیانی کا قصیدہ بھی کلام الہی اور معجزہ ہے۔ بلکہ قرآن پر بھی غالب ہے اور (اعجاز احمدی ضمیمہ نزول المسیح ص٣٦، خزائن ج١٩ص ١٤٦) میں یوں ہے : ”سو میں نے دعا کی کہ اے خدائے قدیر مجھے نشان کے طور پر توفیق دے کہ ایسا قصیدہ بناؤں اور وہ دعا میری منظور ہوگئی اور روح القدس سے ایک خارق عادۃ مجھے تائید ملی اور وہ قصیدہ پانچ دن میں ہی میں نے ختم کر لیا ۔“ اور اس کے بعد فرماتے ہیں کہ: ”یہ ایک عظیم الشان نشان ہے۔“ پھر (اعجاز احمدی ص ٣٧، خزائن ج ١٩ص ١٤٨) میں قصیدہ کو اپنی صداقت کی دلیل ٹھہراتے ہوئے یوں رقمطراز ہیں کہ : ”آج کی تاریخ سے اس نشان پر حصر رکھتا ہوں۔ اگر میں صادق ہوں اور خدائے تعالیٰ جانتا ہے کہ میں صادق ہوں تو کبھی ممکن نہیں ہوگا کہ مولوی ثناء اللہ اور ان کے تمام مولوی پانچ دن میں ایسا قصیدہ بنا سکیں اور اردو مضمون کا رد لکھ سکیں۔ کیونکہ خدائے تعالیٰ ان کے قلموں کو توڑ دے گا اور ان کے دلوں کو غبی کر دے گا۔“

پھر (اعجاز احمدی ص ٨٩، خزائن ج ١٩ص ٢٠٤) میں اردو مضمون اور قصیدہ کی نسبت فرماتے ہیں: ”اور وہ دونوں بصیغہ مجموعی خدا تعالیٰ کی طرف سے ایک نشان ہیں۔“

اور (اسی صفحہ ٨٩، خزائن ج ١٩ص ٢٠٤) میں یوں لکھتے ہیں : ” پس میرا حق ہے کہ جس قدر خارق عادت وقت میں یہ اردو عبارت اور قصیدہ تیار ہوگئے ہیں۔ میں اسی وقت تک نظیر

٥

صفحہ ٩٦

پیش کرنے کا ان لوگوں سے مطالبہ کروں کہ جو ان تحریرات کو انسان کا افتراء خیال کرتے ہیں اور معجزہ قرار نہیں دیتے۔“

ان تمام اقوال سے ہر ذی فہم جس کو خدا نے عقل سلیم دی ہوگی۔ حسب ذیل امور سمجھ سکتا ہے۔

اور ان کی صداقت کی دلیل ہے۔

تنقید میں معلوم ہوگا کہ یہ معجزہ ہے یا نہیں؟ اور دوسرے کے بارہ میں میں پہلے عرض کرچکا ہوں کہ مولوی حامی یونس اور مولوی ثناء اللہ صاحبان نے مرزا قادیانی کو لکھا۔ لیکن جہاں تک مجھے علم ہے جواب سکوت کے سوا نہیں ملا۔

یہاں ایک بات اور قابل توجہ یہ ہے کہ جب مرزا قادیانی نے عربی میں دعویٰ اعجاز نمائی اور تحدّی کی اور یہ فرمایا کہ مثل قرآن مجید کے یہ میرا معجزہ ہے تو قرآن شریف کی تحدّی اور اہل اسلام کا قرناً بعد قرنٍ یہ عقیدہ کہ قرآن ہی کا مثل محال ہے۔ نعوذ باللہ! تارِ عنکبوت سے بھی کمزور ہوگیا۔ ہر مخالف اسلام یہ کہہ سکتا ہے کہ چونکہ مرزا قادیانی نے قرآن کے مثل تحدّی کی اور ممکن ہے کہ پھر تیسرا شخص تحدّی کرے۔ اس لئے دونوں تحدّیاں باطل ہیں اور قرآن کا دعویٰ غلط۔

اگر واقعی مرزا قادیانی نے اس اوٹ میں قرآنی تحدّی کو توڑنا چاہا ہے تو ناظرین سمجھ لیں کہ کبھی حق کی صداقت پر نفسانی خباثت غالب نہیں آسکتی۔ ”واللہ متم نورہ“ جیسا آگے چل کر تنقید میں آپ کو خود روزِ روشن کی طرح ظاہر ہوجائے گا۔

ہاں یہاں مرزا قادیانی کی طرف سے ایک سخت دھوکا یہ دیا جاتا ہے کہ چونکہ میں خاتم النبیین کا ظل اور سایہ ہوں اور سایہ کبھی اپنے اصل سے علیحدہ نہیں ہوسکتا۔ اس لئے ضرور ہے کہ جس طرح آپ کے لئے کلام الٰہی معجزہ ہے اور اس کے لئے بھی کوئی کلام معجزہ ہو اور حقیقت میں یہ معجزہ بھی خاتم النبیین کا ہے اور قرآن مجید کی تحدّی ہرگز اس سے نہیں ٹوٹ سکتی بلکہ اس کی تحدّی کے لئے یہ زندہ مثال ہے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ یہ محض فریب اور سادہ لوحوں کے لئے دھوکے کی ٹٹی ہے۔ جب کہ مرزا قادیانی کا دعویٰ افضلیت اس قصیدہ میں موجود ہے۔

له خسف القمر المنير وان لی
غسا القمران لشرقان النکر

٦

صفحہ ٩٧

اس کے (محمد) لئے چاند کے خسوف کا نشان ظاہر ہوا اور میرے لئے چاند اور سورج دونوں کا۔ اب کیا تو انکار کرے گا۔

(اعجاز احمدی ضمیمہ نزول المسیح ص ٧١، خزائن ج ١٩ ص ١٨٣)

اگر اس سے بھی واضح اور کھلے دعویٰ افضلیت کی ضرورت ہے تو سنئے۔

(کتاب البریہ ص ٧٧، خزائن ج ١٣ ص ١٠٣) میں فرماتے ہیں: ”اور تمام دنیا پر مجھے بزرگی ہے۔“

(حقیقت الوحی ص ٨٩، خزائن ج ٢٢ ص ٩٢) میں اپنی نسبت یوں رقمطراز ہیں: ”دنیا میں کئی تخت اترے پر تیرا تخت سب سے اونچا بچھایا گیا۔“

(استفتاء ص ٨٧، خزائن ج ٢٢ ص ٧٠٦) میں یوں کہتے ہیں: ”وانی اعطیت مالم یؤت احد من العالمین یعنی مجھے وہ ملا جو تمام دنیا میں کسی کو نہیں دیا گیا۔“

کہاں تک لکھوں یہ مشتے نمونہ از خروارے ہے۔ اس کے سوا مرزا قادیانی اپنے کو نبی صاحب شریعت کہتے ہیں۔ جیسا (اربعین نمبر ٤ ص ٦، خزائن ج ١٧ ص ٤٣٥) میں فرماتے ہیں: ”ماسوا اس کے یہ بھی تو سمجھو کہ شریعت کیا چیز ہے۔ جس نے اپنی وحی کے ذریعہ سے چند امر ونہی بیان کئے اور اپنی امت کے لئے قانون مقرر کیا وہی صاحب الشریعت ہو گیا۔ پس اس تعریف کے رو سے بھی ہمارے مخالف ملزم ہیں۔ کیونکہ میری وحی میں امر بھی ہیں اور نہی بھی۔“

اب حضرات ناظرین غور سے سنیں کہ جو شخص نبی صاحب شریعت ہونے کا دعویٰ کرے اور اپنے کو تمام انبیاء بلکہ افضل الرسل ﷺ پر فضیلت جزئی ہی نہیں بلکہ فضیلت کلی دے کیا ایسا شخص کسی نبی کا ظل ہو سکتا ہے؟

اور اگر ظلیت یہی ہے جو اصل سے کہیں زیادہ اور بڑھ کر ہے تو داڑھی سے مونچھ بڑھ گئی۔ اس کے علاوہ قرآن مجید اور احادیث صحیحہ میں ظلی اور بروزی نبی کہاں ہے؟ اگر کہیں ہے تو مرزائی صاحبان اس کو پیش کریں۔ میں بھی سننے کا مشتاق ہوں۔ لیکن یہ یاد رہے کہ میں زید وعمر کے قول کو نہیں مانوں گا۔ قرآن وحدیث کے قطعی الدلالۃ الفاظ سے اگر اس کو ثابت کر دکھائیں تو میں بھی قبول کرنے کو حاضر ہوں۔

اب میں کلام معجز کی تعریف پر قرآن مجید کا اور مرزا قادیانی کے اعجاز کا موازنہ کرتا ہوں جس سے حضرات ناظرین خود یہ فیصلہ کرلیں گے کہ ایسا قصیدہ معجزہ ہو سکتا ہے یا نہیں اور قرآن مجید کا اعجاز کیا ہے؟ علم بیان میں کلام معجز اسے کہتے ہیں جو بلاغت کے انتہائی رتبہ پر پہنچ کر انسانی طاقتوں سے نکل کر لوگوں کو اپنے معارضہ سے عاجز کردے۔ ”ولھا للبلاغۃ طرفان اعلٰی الیہ

٧

صفحہ ٩٨

ينتهى البلاغة وهو حد الاعجاز وهو ان يرتقي الكلام فى بلاغته الى ان يخرج عن طوق البشر ويعجزهم عن معارضته

(مطول)

مکہ کے قریب نخلہ اور طائف کے مابین ایک صحرا تھا جسے عرب عکاظ کہتے تھے۔ ہر سال ذوالقعدہ میں بیس دن تک وہاں میلہ لگتا تھا اور عرب کے مشاہیر خطیب اور لکچرار لکچر دیتے تھے اور بڑے بڑے شعراء اپنا اپنا کلام پڑھتے تھے۔ آنحضرت ﷺ کے زمانہ میں لبید ابن ابی ربیعہ، طرفہ ابن العبد، حسان ابن ثابت وغیرہ اس مجلس کے نامور ارکان تھے اور قدردانی یہ تھی کہ جس کا کلام اس میں مقبول ہوتا تھا عرب کے بچہ بچہ کے نوک زبان ہوتا اور شہری گلیوں سے لے کر معمولی قریہ کے لوگوں میں اس کی قبولیت کا عام تذکرہ ہوتا اور یہی ان کا سرمایہ فخر اور ناز تھا۔ ہزاروں آدمی کو اسی فصاحت اور بلاغت کے زور سے وہ ابھار کر لڑا دیتے اور جو کام نیزہ اور تلوار سے نہ ہوتا وہ ان کی زبان کرتی تھی۔ اپنی فصاحت وبلاغت کے گھمنڈ میں غیر ملک والوں کو عجمی (گونگا) کہتے تھے۔ مسدس

تھے گرچہ علم وفضل وہدایت سے بے نصیب لیکن ہر ایک باغ فصاحت کا عندلیب
ترکیب ان کی بولی کی واقع ہوئی عجیب جادو اگر نہیں ہے تو جادو کے ہے قریب
وہ دل کو موہ لیتے تھے طرز بیان سے
باتوں میں پھول جھڑتے تھے ان کی زبان سے

ایسے زمانہ میں ایک امی محض فرشتہ صورت آتا ہے اور ان مشاہیر خطباء اور شعراء کے سامنے کلام معجز کا ایک مجموعہ ایک سو چودہ سورتوں کا پیش کر کے تمام عرب کو للکارتا ہے کہ اگر ہمت وحمیت ہے تو اس کے مثل صرف ایک ہی سورۃ بنالاؤ۔ جس کی چھوٹی سورہ ایک معمولی سطر کے برابر ہے اور اس طرح غیرت دلاتا ہے کہ یاد رکھو کہ اگر تم سب مل کر بھی کوشش کرو گے تو یہ کام نہ اس وقت تمہارے بس کا ہے نہ آئندہ قیامت تک ہوگا۔ چنانچہ اسی کلام معجز قرآن مجید کی پہلی سورہ بقرہ کے تیسرے رکوع میں اس کا اعلان اس طرح دیا گیا ۔” وان كنتم في ريب مما نزلنا على عبدنا فاتوا بسورة من مثله وادعوا شهداء كم من دون الله ان كنتم صادقين ہ فان لم تفعلوا ولن تفعلوا فاتقوا النار التي وقودها الناس والحجارة اعدت للكافرين“ یعنی وہ جو ہم نے اپنے بندے محمد ﷺ پر قرآن اتارا ہے اگر تم کو اس میں شک ہو اور یہ سمجھتے ہو کہ یہ کتاب خدا کی نہیں بلکہ آدمی کی بنائی ہوئی ہے اور اپنے اس دعوے میں اگر سچے ہو تو

٨

اسی طرح کی ایک سورۃ تم بھی بنالاؤ اور اللہ پس اگر اتنی بات بھی نہ کر سکو اور ہرگز نہ کر سکو اور پتھر ہوں گے اور وہ منکروں کے لئے رکھی ان آیتوں سے چند باتیں معلوم

آئندہ کا بھی اعلان ہے۔ جیسا ابھی ظاہر ہو

محض ہے نہ لکھنا نہ پڑھانا، امی کی استادی اس کے تم سب پرانے مشاق لکھے پڑھے اور یہی تمہارا سرمایہ ناز ہے۔

میں ہے کہ جن اور انسان دونوں مل کر اس

غیرت کا یہ حال تھا کہ بات بات پر مر مٹنے

گے۔ یہاں زمانہ حال اور استقبال دونوں ساتھ قیامت تک کے لئے نفی ہے کہ آ

لگا کر دیکھ لیں کہ یہ قرآن انسانی طاقت خدا کے کلام معجز پر ایمان نہ لائے تو اس اس کا ایندھن پتھر اور آدمی ہیں۔ سبحان اللہ! کیسے پرزور ا دعویٰ اعجاز کیا گیا ہے کہ انسان کے تص بشری چالا کی نہیں ہے۔

صفحہ ٩٩

اسی طرح کی ایک سورۃ تم بھی بنالاؤ اور اللہ کے سوا جو تمہاری حمایت کو آموجود ہوں ان کو بھی بلالو۔ پس اگر اتنی بات بھی نہ کر سکو اور ہرگز نہ کر سکو گے تو دوزخ کی آگ سے ڈرو جس کے ایندھن آدمی اور پتھر ہوں گے اور وہ منکروں کے لئے دھکی دھکائی تیار ہے۔

ان آیتوں سے چند باتیں معلوم ہوتی ہیں:

آئندہ کا بھی اعلان ہے۔ جیسا ابھی ظاہر ہوگا۔

محض ہے نہ لکھنا نہ پڑھا نہ کبھی کسی استاد کے سامنے زانوئے ادب کو سبق کے لئے تہ کیا۔ بخلاف اس کے تم سب پرانے مشاق لکھے پڑھے میدان فصاحت اور بلاغت کے اعلیٰ شہسواری کے مدعی اور یہی تمہارا سرمایہ ناز ہے۔

میں ہے کہ جن اور انسان دونوں مل کر اس کے معارضہ کے لئے اجتماعی قوت سے کام لیں۔

غیرت کا یہ حال تھا کہ بات بات پر مر مٹتے تھے۔

گے۔ یہاں زمانہ حال اور استقبال دونوں میں معارضہ کی نفی ہے۔ بلکہ زمانہ استقبال میں تاکید کے ساتھ قیامت تک کے لئے نفی ہے کہ آئندہ بھی ہرگز نہ کر سکوگے۔

لگاکر دیکھ لیں کہ یہ قرآن انسانی طاقت سے بالاتر ہے یا نہیں۔ یوں ارشاد ہوا کہ اگر اس پر بھی تم خدا کے کلام معجز پر ایمان نہ لائے تو اس آگ سے ڈرو جو منکروں کے لئے پہلے سے تیار ہے اور اس کا ایندھن پتھر اور آدمی ہیں۔

سبحان اللہ! کیسے پر زور الفاظ اور بہترین پیرایہ میں بلا کسی پس و پیش کے ایسا کھلا ہوا دعویٰ اعجاز کیا گیا ہے کہ انسان کے تصور میں بھی پہلے نہ تھا اور کیوں نہ ہو۔ یہ کوئی انسانی افتراء اور بشری چالاکی نہیں ہے۔

٩

صفحہ ١٠٠

چنانچہ اس کو تیرہ سو برس سے زیادہ عرصہ ہوا لیکن کسی مخالف اسلام کی مجال نہ ہوئی کہ اس کے معارضہ کے لئے ایک چھوٹی سی سورہ بنا لاتا اور جس وقت عربی کی فصاحت و بلاغت کا بازار عکاظ میں گرم تھا جب اس وقت اس کا معارضہ نہ ہوا تو اب کیا ہوگا؟ مگر حق یہ ہے کہ وہ مشرکین عرب اہل زبان تھے۔ سمجھتے تھے کہ اس کا معارضہ ہماری طاقت سے بالا تر ہے۔ اس لئے بعض ایمان لائے اور بعض جو ضد میں اڑ گئے وہ نیزہ و تلوار سے لڑے۔ جانیں دیں لیکن معارضہ نہ کیا۔

یہ تھا قرآن مجید کا اعلان اور دعوئی اعجاز اب اس کے مقابلہ میں ذرا مرزا قادیانی کے دعویٰ پر نظر ڈالئے۔ مرزا قادیانی لکھے پڑھے عربی دان تھے اور سامنے بڑا کتب خانہ اس پر دیکھنے کا شوق تھا اور دس سال سے عربی میں اعجاز نمائی کا دعویٰ تھا اور تحدی عربی میں ہندوستان میں کی گئی اور ایسے وقت میں جب کہ علمائے ہند کو نہ عربی نویسی کا دعویٰ، نہ اس طرف توجہ، نہ عربی نظم و نثر لکھنے کا شوق نہ اس سے دلچسپی تھی۔ اگر مرزا قادیانی واقعی نبی تھے تو ان کا اعجاز اردو میں ہونا چاہئے تھا۔ جیسا کہ قرآن سے ثابت ہے: ”وما ارسلنا من رسول الا بلسان قومہ لیبین لہم“ اور جب کبھی ہم نے کوئی پیغمبر بھیجا تو اس کی قومی زبان میں تا کہ وہ ان کو سمجھا سکے۔

لیکن مرزا قادیانی بڑے ہوشیار تھے وہ سمجھتے تھے کہ اردو میں اعجاز کا دعویٰ کیا جائے گا تو اس کا حال تمام پر ظاہر ہو جائے گا۔ علاوہ ازیں مرزا قادیانی کی اردو کا حال ترجمہ سے بھی معلوم ہوگا کہ کیسے فصیح لکھتے ہیں۔

مرزا قادیانی (اعجاز احمدی ضمیمہ نزول المسیح ص٣٦، خزائن ج١٩ ص١٤٦) میں فرماتے ہیں:

”یہ (اعجاز احمدی) ایک عظیم الشان نشان ہے جس کے گواہ خود مولوی ثناء اللہ صاحب ہیں۔ کیونکہ قصیدہ سے خود ثابت ہے کہ یہ ان کے مباحثہ کے بعد بنایا گیا ہے اور مباحثہ ٢٩ اور ٣٠؍ اکتوبر ١٩٠٢ء کو ہوا تھا اور ہمارے دوستوں کے واپس آنے پر ٨؍ نومبر ١٩٠٢ء کو اس قصیدہ کو بنانا شروع کیا گیا اور ١٢؍ نومبر ١٩٠٢ء کو مع اس اردو عبارت کے ختم ہو چکا تھا۔“

پھر (ص٤٧، خزائن ج١٩ ص١٤٨) میں لکھتے ہیں: ”اور مولوی ثناء اللہ کو اس بدگمانی کی طرف راہ نہیں ہے کہ وہ یہ کہے کہ قصیدہ پہلے سے بنا رکھا تھا۔ کیونکہ وہ ذرا آنکھ کھول کر دیکھے کہ مباحثہ مدّ کا اس میں ذکر ہے۔ پس اگر میں نے پہلے بنایا تھا تو انہیں ماننا چاہئے کہ میں عالم الغیب ہوں۔“ (کیا خوب مرزا قادیانی کی شان میں کسی نے کہا ہے: ”گاہ موسیٰ، گاہ عیسیٰ، گاہ فخر انبیاء...... گاہ ابن اللہ گاہے خود خدا خواہد شدن“)

١٠

صفحہ ١٠١

مرزا قادیانی کے مذکورہ بالا اقوال سے دو باتیں نکلتی ہیں۔ اولاً یہ قصیدہ معہ اردو ترجمہ پانچ دن میں لکھا گیا۔ ثانیاً چونکہ اس میں مد کے مباحثہ کا ذکر ہے۔ اس لئے ممکن نہیں کہ پہلے لکھا گیا ہو، مرزا قادیانی نے تمام دنیا کے چشم بصیرت پر خاک ڈالنا چاہا ہے۔ ناظرین! اس ابلہ فریبی کو ملاحظہ فرمائیں کہ جب مرزا قادیانی کے مخاطب اس قصیدہ اور اردو مضمون میں مولوی محمد حسین اور مولوی ثناء اللہ اور مولوی علی حائری اور پیر مہر علی شاہ صاحبان وغیرہ ہیں۔ جن سے مرزا قادیانی کی ہمیشہ تحریری چھیڑ برسوں پہلے سے چلی آتی تھی اور قصیدہ کے اشعار پانچ سو سے کچھ زیادہ ہیں جن میں گنتی کے تھوڑے اشعار میں مباحثہ مد کا بھی ذکر ہے۔ تو کیا یہ ممکن نہیں ہے کہ برسوں پہلے سے قصیدہ اور اردو مضمون تیار کیا گیا ہو اور پانچ دن میں کچھ اشعار اور اردو مضمون مد کے مناظرہ کے متعلق اس میں ضم کر کے لکھ دیا گیا۔ نہ پانچ دن میں سارا کا سارا لکھ مارا ہے۔ بلکہ ٢٢ نومبر ١٩٠٢ء کے پیسہ اخبار میں آپ کا یہ اعلان کہ ”عرصہ دس سال سے میرا دعویٰ عربی میں اعجاز نمائی کا ہے۔“

(الہامات مرزا ص ٩٤)

یہ اعلان اس شبہ کو اور قوی کرتا ہے۔ ثانیاً جب کہ مناظرہ ٢٩، ٣٠ اکتوبر کو ہوا اور اپنے دوستوں کے واپس آنے پر مرزا قادیانی نے ٨ نومبر کو قصیدہ اور مضمون بنانا شروع کیا تو کیا یہ بخوبی ممکن نہیں ہے کہ ایک یا دو دن میں مرزا قادیانی کے احباب واپس آگئے ہوں اور ٢ یا ٣ نومبر کو مرزا قادیانی نے لکھنا شروع کر دیا ہو اور اس حساب سے ١٢ نومبر تک دس دن ہوتے ہیں اور یہ اس کے تالیف کے لئے اچھی خاصی مدت ہے۔

اور مرزا قادیانی (اعجاز احمدی ضمیمہ نزول المسیح ص ٣٦، خزائن ج ١٩ ص ١٤٧) میں فرماتے ہیں:

”پس اگر اس تاریخ سے کہ یہ قصیدہ اور اردو عبارت ان کے پاس پہنچے چودھویں دن تک اسی قدر اشعار بلیغ و فصیح جو اس مقدار اور تعداد سے کم نہ ہوں شائع کر دیں تو میں دس ہزار روپیہ ان کو انعام دے دوں گا۔“

اور (اعجاز احمدی ص ٩٠، خزائن ج ١٩ ص ٢٠٥) میں یوں ارشاد ہوتا ہے: ”اب ان کی میعاد ٢٠ نومبر سے شروع ہوگی۔ پس اس طرح پر ١٠ دسمبر ١٩٠٢ء تک اس میعاد کا خاتمہ ہو جائے گا۔ پھر اگر بیس دن میں جو دسمبر ١٩٠٢ء کے دسویں کے دن کی شام تک ختم ہو جائے گی۔ الخ“

اب ناظرین ذرا مرزا قادیانی کے اس پس و پیش پر غور کریں کہ پہلے قول کے رو سے چودھویں دن میں جواب طلب کیا جاتا ہے اور دوسرے میں بیس دنوں کی مہلت دی جاتی ہے۔

١١

صفحہ ١٠٣

واقعی مرزا قادیانی کو اپنے عجز اور اعجاز کی پوری حقیقت معلوم تھی اور دل میں خائف تھے اور معارضہ کے خیال ہی سے ان کا دل دھڑکتا تھا اور ہمیشہ اس کے جواب کا خوف دامنگیر رہتا تھا۔ پھر (ضمیمہ نزول المسیح اعجاز احمدی ص ٨٩ خزائن ج ١٩ ص ٢٠٣) میں اس کے متعلق یہ فرماتے ہیں: ”یہ شرط ضروری ہے کہ جو شخص بالمقابل لکھے وہ ساتھ ہی اس اردو کا رد بھی لکھے جو میری وجوہات کو توڑ سکے جس کی عبارت ہماری عبارت سے کم نہ ہو۔“ یہاں مرزا قادیانی نے عبارت کم نہ ہونے کی ایک ہی کہی۔ اگر کوئی مختصر عبارت میں ان کے وجوہات کو توڑ دے تو مرزا قادیانی کے فہم سلیم کے موافق اس کا جواب نہ ہوگا۔ مرزائیو! یہ ہے آپ کے نبی صاحب کا فلسفہ؟ اور (اعجاز احمدی ص ٩٠ خزائن ج ١٩ ص ٢٠٤) میں یوں ہے: ”مگر چاہئے کہ میرے قصیدہ کی طرح ہر ایک بیت کے نیچے اردو ترجمہ لکھیں اور منجملہ شرائط کے اس کو بھی ایک شرط سمجھ لیں۔“ اس حواس باختگی کا کچھ ٹھکانا ہے؟ اگر کوئی شخص بین السطور نہیں۔ بلکہ حاشیہ پر ترجمہ لکھ دے تو مرزا قادیانی کی اس شرط کے مطابق شرائط پورے نہ ہوئے۔ کیوں صاحبو! بیت کے نیچے اردو کا ترجمہ لکھنا بھی کوئی اعجاز کی شان ہے؟ یہاں میں مرزا قادیانی کے عجز اور قرآن پاک کے اعجاز کو مقابلہ سے دکھاتا ہوں۔ ناظرین سے انصاف کی توقع ہے۔

مرزا قادیانی کا عجز قرآن پاک کا اعجاز

اجازت ہے۔

اشعار ہوں اور اردو مضمون کی عبارت بھی مرزا قادیانی سے کم نہ ہو۔

سورہ کی مثل بنالاؤ۔

اور بظاہر معارضہ کلام نثر کا نظم سے سہل ہوتا ہے

مشغلہ اور نہ ان کی زبان۔

بے مثل اور دعوٰی اس سے بھی زیادہ اور یہی ان کا مشغلہ اور سرمایہ فخر تھا اور مادری زبان تھی۔

١٢

زمانہ تک کتب بینی کی۔ اس پر دس سال سے عربی میں اعجاز نمائی کا دعویٰ۔ (پیسہ اخبار مورخہ ٢٢ نومبر ١٩٠٢ء)

اس کے سوا جس قصیدہ میں سینکڑوں غلط عروض، قافیہ کی ہوں۔ پھر اس پر سرقات بلکہ بعض جـ جیسا کہ عنقریب تنقید سے ظاہر ہوگا۔ اب حضرات تا معجزہ ہوسکتا؟ نہیں ہرگز نہیں۔ ہاں اگر مرزا قادیانی کـ اس پر میرا بھی صاد ہے۔ کیونکہ لامشاحة فی مضمون کا اس وجہ سے جواب نہیں لکھا کہ اس میں مر ہیں جسے بار بار وہ اپنے تالیفات میں بیان فرمایا کر علمائے کرام کی طرف سے متعدد بار دیا جا چکا ہے۔ ا کوئی نفع نہیں۔ البتہ ایک بات نئی یہ ہے کہ مرزا قادیـ میں فرماتے ہیں: ”میں نے اس قصیدہ میں جو امام حـ کی نسبت بیان کیا ہے، یہ انسانی کارروائی نہیں۔ خد راست بازوں پر زبان دراز کرتا ہے۔ میں یقین رکـ جیسے راست باز پر بدزبانی کر کے ایک رات بھی زند دست بدست اس کو پکڑ لیتا ہے۔“

مجھے مرزا قادیانی کے علم اور سمجھ پر افسو ہنسی آتی ہے۔ اولاً تاریخ شاہد ہے کہ خدا کو گالی د لوگ صحیح و سالم عرصہ تک زندہ رہے تو ولی پر بدزبا حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو صلیب کے لئے گرفتار کر اور حضرت امام حسینؓ کا قاتل عرصہ تک زندہ رہـ نفسانی خواہش سے ان دونوں راست بازوں پر بـ ہے کہ خدا بھی راست بازوں پر بدزبانی کرتا ہے چاہا تو خدا ہی پر اتہام کیا۔ ”ہر چہ برخود نہ پسندی بـ مپسند۔ یہاں شاید مرزائی صاحبان یہ فرمائیں کـ

صفحہ ١٠٣

٥......تحدی ہی وہ کرتا ہے جس نے لکھا، پڑھا اور ایک زمانہ تک کتب بینی کی۔ اس پر دس سال سے عربی میں اعجاز نمائی کا دعوٰی۔ (پیسہ اخبار مورخہ ٢٢؍ نومبر ١٩٠٢ء)

٥......مدعی امّی محض (فداہ ابی وامی) اور دعوٰی یہ کہ انا بشر مثلکم میں تمہیں جیسا بشر ہوں۔

اس کے سوا جس قصیدہ میں سینکڑوں غلطیاں صرف، نحو، ادب، بیان، لغت، املاء، عروض، قافیہ کی ہوں۔ پھر اس پر سرقات بلکہ بعض جگہ تو اساتذہ کا پورا مصرعہ اٹھا کر رکھ دیا ہے۔ جیسا کہ عنقریب تنقید سے ظاہر ہوگا۔ اب حضرات ناظرین انصاف سے مجھے بتائیں کہ ایسا قصیدہ معجزہ ہو سکتا؟ نہیں ہرگز نہیں۔ ہاں اگر مرزا قادیانی کی اصطلاح میں مجموعہ اغلاط ہی کا نام معجزہ ہو تو اس پر میرا بھی صاد ہے۔ کیونکہ لامشاحۃ فی الاصطلاح میں نے مرزا قادیانی کے اردو مضمون کا اس وجہ سے جواب نہیں لکھا کہ اس میں مرزا قادیانی نے وہی اپنے سب معجزات گنوائے ہیں جسے بارہا وہ اپنے تالیفات میں بیان فرمایا کرتے ہیں جس کا جواب اس وقت تک ہمارے علمائے کرام کی طرف سے متعدد بار دیا جا چکا ہے۔ اس کے اعادہ سے اس مختصر میں طوالت کے سوا کوئی نفع نہیں۔ البتہ ایک بات نئی یہ ہے کہ مرزا قادیانی (ضمیمہ نزول المسیح ص ٣٨، خزائن ج ١٩ ص ١٤٨) میں فرماتے ہیں: ”میں نے اس قصیدہ میں جو امام حسینؓ کی نسبت لکھا ہے یا حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی نسبت بیان کیا ہے، یہ انسانی کارروائی نہیں۔ خبیث ہے وہ انسان جو اپنے نفس سے کاملوں اور راست بازوں پر زبان دراز کرتا ہے۔ میں یقین رکھتا ہوں کہ کوئی انسان حسینؓ جیسے یا حضرت عیسیٰؑ جیسے راست باز پر بدزبانی کر کے ایک رات بھی زندہ نہیں رہ سکتا اور وعید ”من عادا ولیاً“ کی دست بدست اس کو پکڑ لیتا ہے۔“

مجھے مرزا قادیانی کے علم اور سمجھ پر افسوس ہے کہ ایسی باتیں فرماتے ہیں کہ جن کو سن کر ہنسی آتی ہے۔ اولاً تاریخ شاہد ہے کہ خدا کو گالی دے کر اور انبیاء علیہم السلام کو قتل کر کے دنیا میں لوگ صحیح و سالم عرصہ تک زندہ رہے تو ولی پر بدزبانی کر کے زندہ رہنا ایک معمولی بات ہے۔ خود حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو صلیب کے لئے گرفتار کرنے والے اور ایذائیں دینے والے زندہ رہے اور حضرت امام حسینؓ کا قاتل عرصہ تک زندہ رہا۔ ثانیاً اگر یہ مان لیا جائے کہ مرزا قادیانی نے نفسانی خواہش سے ان دونوں راست بازوں پر بدزبانی نہیں کی۔ بلکہ خدا نے کی۔ تو سخت افسوس ہے کہ خدا بھی راست بازوں پر بدزبانی کرتا ہے؟ مرزا قادیانی نے اپنی ذات سے اگر الزام اٹھانا چاہا تو خدا ہی پر اتہام کیا۔ ”ہر چہ بر خود نہ پسندی بردیگراں مپسند“ تعالیٰ اللّٰہ عن ذالک علواً کبیرا۔ یہاں شاید مرزائی صاحبان یہ فرمائیں کہ تنقید تو لکھ دی لیکن اس کے مقابلہ کا کوئی قصیدہ نہ

١٣

صفحہ ١٠٥

کہا تو مجھ سے سن لیں کہ جب مرزائیوں کے علمی مذاق کا یہ حال ہے کہ وہ مرزا قادیانی کے قصیدہ کو اعجاز سمجھتے ہیں تو بقول شخصے: ”اندھے کے آگے روئے اور اپنے دیدے کھوئے ۔“ اس کے سوا کیا حاصل۔ ورنہ مرزائیوں میں اگر اس کا مذاق ہوتا اور وہ رطب و یابس میں فرق کرتے تو ضرور اہل علم نے اس طرف توجہ کی ہوتی۔ مگر بقول ...... تابد را بدرقہ باید رسانید کے موافق ایک قصیدہ تیار کیا گیا ہے جو مرزا قادیانی کے قصیدہ سے کہیں بڑھ چڑھ کر ہے۔ جس کو اہل علم جانچ سکتے ہیں۔

اب قادیانی حضرات اپنے قصیدہ کی غلطیاں تو دیکھ لیں اور معلوم کر لیں کہ کیسی کیسی شرمناک غلطیاں مرزا قادیانی نے کی ہیں۔ اس سے ان کے اعجاز کی قلعی تو اہل علم پر بخوبی کھل گئی۔ اس کے بعد بھی بعض قادیانی کہتے ہیں کہ اگر اس میں غلطیاں ہیں تو اس کے مقابل قصیدہ لکھنا زیادہ آسان ہے۔ اس کا جواب بھی ”فیصلہ آسمانی“ میں دیا گیا ہے۔ مگر میں یہ کہتا ہوں کہ اگر جواب بھی ہم لکھ دیں اور آپ کے سامنے پیش کر دیں۔ مگر یہ بتائیے کہ اس کا نتیجہ کیا ہوگا؟ آپ کے راہ راست پر آنے کی امید نہیں ہے۔ کیونکہ بارہا اس کا تجربہ ہولیا اور ایسے ایسے صریح اور بدیہی باتوں میں مرزا قادیانی کا کذب اس طرح ظاہر ہوا کہ خاص و عام کسی کو مرزا قادیانی کے کاذب ہونے میں شبہ نہیں رہا۔ مگر جس کا قلب مرزا قادیانی کی محبت سے تاریک وظلمت کدہ ہو چکا تھا وہ صاف نہ ہوا اور اس میں صداقت اور راستی کی روشنی نہ پہنچی۔ وہ اسی طرح مرزا پرست رہے۔ جس طرح بت پرست رہتے ہیں۔ اس کی چند مثالیں ملاحظہ ہوں۔

مرزا قادیانی کی پیش گوئیاں

ہیں تو قادیان میں آکر کسی پیشین گوئی کو جھوٹی تو کردیں۔“

(پھر اعجاز احمدی ص ٣٧، خزائن ج ١٩ ص ١٤٨) میں لکھتے ہیں: ”وہ قادیان میں تمام پیشین گوئیوں کی پڑتال کے لئے میرے پاس ہر گز نہیں آئیں گے۔“

اس پیشین گوئی کو دیکھا چاہے کہ نہایت زور سے مولوی صاحب کی نسبت لکھتے ہیں کہ ”وہ ہرگز نہ آئیں گے۔“ یہ پیشین گوئی ایسی ہے کہ ہر خاص و عام اس کا فیصلہ کر سکتا ہے اور اس کے جھوٹے اور سچے ہونے کی شہادت دے سکتا ہے۔ مگر نہایت صفائی سے یہ پیشین گوئی جھوٹی ہوئی اور مرزائیوں نے ایسی روشن شہادت کی طرف توجہ نہ کی۔ اس پیشین گوئی کے بعد ١٠؍جنوری ١٩٠٣ء کو مولوی (ثناء اللہ ) صاحب قادیان پہنچے اور مرزا قادیانی کو بذریعہ رقعہ کے اطلاع دی۔ ١٤٠

مگر مرزا قادیانی گھر سے باہر نہ نکلے اور گھر میں بیٹھے موجود تھے۔ جنہیں مرزا قادیانی کی مذکورہ پیشین گوئی میں خاص پیشین گوئیوں کی پڑتال کے لئے پہنچ جانا اور نہیں کہتے تھے کہ مرزا قادیانی کی پیشین گوئی غلط ہوگئی بعد اور مرزائیوں کو خبر ہوئی۔ مگر کسی نے ان کے جھوٹے رسالہ میں ہے۔ جس کے اعجاز کا دعویٰ ہو رہا ہے اور اسی رسالہ کی ایک پیشین گوئی صریح غلط ہوگئی اور کسی گوئی یعنی قصیدہ کا جواب ہونا غلط ثابت کر دیا جائے ایک پیشین گوئی کا غلط ہو جانا ان کے کاذب ہونے صداقت کی شہادت آسمانی کتابیں دے رہی ہیں، وہ کے جھوٹے ہونے کی ایک کامل دلیل ہے۔ خوب یاد سے آخر تک ملاحظہ کیجئے۔

مقدر کر رکھا ہے کہ وہ مکتوب الیہ (احمد بیگ) کی مانع دور ہونے کے بعد انجام کار اس عاجز کے نکاح

مرزا قادیانی اس کلام میں معمولی طور پر نہیں کرتے۔ بلکہ نہایت استحکام اور یقین سے اس کے دو جملوں پر نظر کی جائے۔ پہلا یہ کہ: ”خدا تعالیٰ اس کے یہی معنی ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے مرزا قادیانی کے نکاح میں آئے گی۔ اس کا لازمی بالضرور یہ کہنا پڑے گا کہ اللہ تعالیٰ عالم الغیب نہیں (نعوذ باللہ ) یا یہ کہنا ہوگا کہ مرزا قادیانی نے جھوٹ اسے علم الٰہی کہہ کر در پردہ خدا پر الزام لگایا۔ دوسرا کے بعد انجام کار اس عاجز کے نکاح میں آئے گی ٥

صفحہ ١٠٥

مگر مرزا قادیانی گھر سے باہر نہ نکلے اور گھر میں بیٹھے گالیاں دیتے رہے۔ وہاں جتنے مریدین موجود تھے۔ جنہیں مرزا قادیانی کی مذکورہ پیشین گوئی بھی معلوم تھی اور مولوی صاحب کا قادیان میں خاص پیشین گوئیوں کی پڑتال کے لئے پہنچ جانا اور خط و کتابت کرنا معائنہ کر رہے تھے۔ مگر یہ نہیں کہتے تھے کہ مرزا قادیانی کی پیشین گوئی غلط ہوئی اور مرزا قادیانی جھوٹے ہوئے۔ اس کے بعد اور مرزائیوں کو خبر ہوئی۔ مگر کسی نے ان کے جھوٹے ہونے کا اقرار نہیں کیا۔ یہ پیشین گوئی اسی رسالہ میں ہے۔ جس کے اعجاز کا دعویٰ ہو رہا ہے اور اس وقت ہم اس کی غلطی دکھا رہے ہیں۔ جب اسی رسالہ کی ایک پیشین گوئی صریح غلط ہوگئی اور کسی نے خیال بھی نہ کیا۔ اسی طرح دوسری پیشین گوئی یعنی قصیدہ کا جواب ہونا غلط ثابت کر دیا جائے گا تو بھی کچھ اثر نہ ہوگا۔ مگر اس میں شبہ نہیں کہ ایک پیشین گوئی کا غلط ہو جانا ان کے کاذب ہونے کی پختہ دلیل ہے اور ایسی دلیل ہے جس کی صداقت کی شہادت آسمانی کتابیں دے رہی ہیں۔ اس مذکورہ پیشین گوئی کا غلط ہونا مرزا قادیانی کے جھوٹے ہونے کی ایک کامل دلیل ہے۔ خوب یاد رکھئے اور اس کی تفصیل (الہامات مرزا ص ١٠٦) سے آخر تک ملاحظہ کیجئے۔

مقدر کر رکھا ہے کہ وہ مکتوب الیہ (احمد بیگ) کی دختر کلاں کو جس کی درخواست کی گئی۔ ہر ایک مانع دور ہونے کے بعد انجام کار اس عاجز کے نکاح میں لائے گا۔“

(آئینہ کمالات اسلام ص ٢٨٦، خزائن ج ٥ ص ایضاً)

مرزا قادیانی اس کلام میں معمولی طور سے اس کے نکاح میں آنے کی صرف پیشین گوئی نہیں کرتے۔ بلکہ نہایت استحکام اور یقین سے اس کے وقوع میں آنے کو بیان کرتے ہیں۔ ان کے دو جملوں پر نظر کی جائے۔ پہلا یہ کہ: ”خدا تعالیٰ نے مقدر کر رکھا ہے۔“

اس کے یہی معنی ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے علم میں قرار پاچکا ہے کہ احمد بیگ کی لڑکی مرزا قادیانی کے نکاح میں آئے گی۔ اس کا لازمی نتیجہ یہ ہے کہ اگر اس پیشین گوئی کا ظہور نہ ہو تو بالضرور یہ کہنا پڑے گا کہ اللہ تعالیٰ عالم الغیب نہیں ہے۔ اس کا علم کسی وقت غلط بھی ہوتا ہے۔ (نعوذ باللہ) یا یہ کہنا ہوگا کہ مرزا قادیانی نے جھوٹ بولا اور جو بات اس کے علم کے خلاف تھی۔ اسے علم الٰہی کہہ کر در پردہ خدا پر الزام لگایا۔ دوسرا جملہ یہ کہ: ”وہ (لڑکی) ہر ایک مانع دور ہونے کے بعد انجام کار اس عاجز کے نکاح میں آئے گی۔“

١٥

صفحہ ١٠٧

یہ جملہ آفتاب کی طرح روشن کر رہا ہے کہ اس نکاح کے جتنے موانع پیش آئیں گے وہ سب دور ہوں گے اور انجام کار یہی ہوگا کہ وہ لڑکی مرزا قادیانی کے نکاح میں آئے گی۔ مگر ایسا نہ ہوا اور نہایت مستحکم پیشین گوئی بالکل غلط ثابت ہوئی۔ یہ پیشین گوئی ١٨٨٨ء میں بذریعہ اشتہار مرزا قادیانی نے مشتہر کی تھی۔ اب اس صاف صریح اور قطعی قول کے بعد کسی شرط کو پیش کرنا یا یہ کہہ دینا کہ اس کا شوہر ڈر گیا یا ایمان لے آیا۔ کیسا صریح فریب ہے۔ بھائیو! ذرا پیشین گوئی کے الفاظ ومضمون کو ملاحظہ کرو۔ وہ کس صفائی سے ظاہر کر رہے ہیں کہ اس کے لئے شرط ہو یا نہ ہو اور اس کا شوہر ڈرے یا نہ ڈرے۔ ایمان لائے یا سرکشی کرے وہ لڑکی ہر طرح مرزا قادیانی کے نکاح میں آئے گی جو مانع پیش آئے گا۔ وہ دور ہوگا۔ اگر اس کا نکاح میں آنا کسی شرط پر موقوف ہے تو وہ شرط پائی جائے گی۔ اس کے بعد وہ نکاح میں آئے گی۔ ورنہ اگر کوئی ایسی شرط ہے جو اس کے نکاح کو مانع ہے وہ ہرگز نہ پائی جائے گی۔ اسی طرح اس کے نکاح میں آنے کے لئے اگر اس کے شوہر کا ڈرنا اور ایمان لانا نکاح کا مانع ہے تو وہ ہرگز ایمان نہ لائے گا اور اگر بالفرض کسی وقت وہ ڈرے گا تو مرزا قادیانی کی زندگی میں وہ سرکشی کرے گا اور یہ مانع دور ہوگا اور انجام کار وہ لڑکی مرزا قادیانی کے نکاح میں آئے گی۔ یہ پیشین گوئی تو اسی وقت سچی ہوسکتی ہے کہ ہر ایک مانع دور ہو کر اس کا ظہور ہو۔ یہ کہہ دینا کہ پیشین گوئی شرطی تھی یا اس کا شوہر ڈر گیا تھا۔ اس لئے وعید ٹل گیا اور اس کا شوہر نہ مرا۔ اس وجہ سے وہ وعدہ بھی ٹل گیا۔ کیسی سخت جہالت یا نہایت بدیہی مغالطہ ہے۔ کیونکہ پیشین گوئی تو یہ ہے کہ جتنی باتیں اس نکاح کی روکنے والی ہیں وہ سب دور ہوں گی اور انجام میں وہ لڑکی نکاح میں آئے گی۔ یہ نہیں ہوا۔ یہ ایسی صاف بات ہے کہ کسی جاہل پر پوشیدہ نہیں رہ سکتی۔

الغرض ایسی صریح پیشین گوئی ہوئی۔ مرزائیوں کی نظر حق بین ایسی جاتی رہی ہے کہ انہیں ایسی بدیہی بات بھی نہیں سوجھتی۔ یہ پیشین گوئی متعدد اشتہاروں اور مختلف رسالوں میں اسی قسم کے الفاظ سے شائع ہوئی ہے۔ مثلاً ١٨٩١ء میں ایک اشتہار حقانی پریس لدھیانہ میں چھپا ہے اور (ازالہ اوہام ص ٣٩٦، خزائن ج ٣ ص ٣٠٥) میں اس پیشین گوئی کو لکھا ہے اور مذکورہ الفاظ سے بھی زیادہ اس میں اس کی صراحت ہے کہ وہ لڑکی مرزا قادیانی کے نکاح میں ضرور آئے گی۔ (فیصلہ آسمانی حصہ ٣ ص ١١١) میں اس کی تفصیل ملاحظہ ہو۔ جب ایسی صاف پیشین گوئیاں غلط ہوئیں جن کی غلط ہونے کو خاص و عام نے مشاہدہ کرلیا۔ ان کا جھوٹا ہونا انہیں نظر نہ آیا یا تعصب سے اس کا اقرار نہیں کرتے تو قصیدہ کے جواب کی حالت تو ان کے مولوی بھی نہیں جان سکتے۔ اس کا اعتراف وہ کیا کریں گے۔

غنیمت حسین مخدوم چکی مونگیری!

١٦

بسم اللہ الرحمن نحمدہ حامداً ومصلیاً

مقدمہ

ہوگا اور جو کلام اس کے مطابق نہ ہوگا۔ وہ صحیح نہ ہوگا بلیغ نہ ہوگا اور جو بلیغ نہ ہو وہ معجز کیونکر ہوسکتا؟

مکرر ہے اور اس کا قافیہ، ہلم، ہتزوا، سکر وغیرہ ہے۔

قافیہ...... مصرعہ یا بیت کے آخر ساکن سے لے کر کا قافیہ کہتے ہیں جس طرح اس قصیدہ میں اوائل ب ہے۔ آخر ساکن واو اور اوّل ساکن اس سے قبل ضمہ اسی مجموعہ کو علم القوافی میں قافیہ کہتے ہیں۔

روی...... قافیہ کے حرف اصلی کو روی کہتے ہیں۔ زائدہ جیسے اضربا واضربوا، ضمیر جیسے اسبابہ وابوابہ حالت وقف میں ہا ہو جائے، نہ ہو۔

قافیہ موسس...... اگر روی کے پہلے مدہ نہ ہو بلکہ دوسر قبل الف ہو۔ جیسے اس قصیدہ میں صراصر، نبادر، میں ذیل کے جو الف ہے اسے تاسیس اور الف کے پہلے ج

عیب اجارہ...... اگر روی کسی حرف بعید المخرج سے اس قصیدہ میں حرف روی راء ہے اور بعض اشعار میں

عیب اقواء واصراف...... مجری (حرکتہ حرف ر حرکتہ متباعدہ سے بدلنے کو اصراف کہتے ہیں۔ ج مثال اس میں انصر ہے۔ جس میں رفع کسرہ سے رفع فتحہ سے بدل گیا۔

١٧

صفحہ ١٠٧

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

نحمده حامداً ومصلياً ومسلماً

مقدمہ

......١ جب کسی زبان کے قواعد مدون ہو جائیں تو اس زبان کا تمام کلام ان قواعد کے ماتحت ہوگا اور جو کلام اس کے مطابق نہ ہوگا۔ وہ صحیح نہ ہوگا اور جو صحیح نہ ہوگا فصیح نہ ہوگا اور جو فصیح نہ ہوگا وہ بلیغ نہ ہوگا اور جو بلیغ نہ ہو وہ معجز کیونکر ہو سکتا؟

......٢ یہ قصیدہ بحر طویل میں لکھا گیا ہے اور اس کا وزن سالم فعولن مفاعیلن فعولن مفاعیلن مکرر ہے اور اس کا قافیہ یظلموا، یعذروا، یسمعوا وغیرہ ہے۔

......٣ کسی غیر کے کلام کا اخذ سرقہ ہے۔ اگر اس سے بہتر نہ ہو ورنہ حسن اخذ ہے۔

قافیہ ...... مصرعہ یا بیت کے آخر ساکن سے لے کر اوّل ساکن جو اس سے قبل ہو مع متحرک ماقبل کو قافیہ کہتے ہیں جس طرح اس قصیدہ میں اوائل کے تین شعر کے آخر میں لفظ یغزوا، یعذروا، رموزوا ہے۔ آخر ساکن واو اور اوّل ساکن اس سے قبل غین، عین، واو اور متحرک ماقبل یا، یا، میم ہے۔ اسی مجموعہ کو علم القوافی میں قافیہ کہتے ہیں۔

روی ...... قافیہ کے حرف اصلی کو روی کہتے ہیں۔ بشرطیکہ نون تنوین، نون تاکید خفیفہ وثقیلہ، مدہ زائدہ جیسے اضربا واضربوا، ضمیر جیسے اسبابہ وابوابہ، تاء تانیث جیسے ضاربۃ وناضرۃ یعنی وہ تاء جو حالت وقف میں ہا ہو جائے، نہ ہو۔

قافیہ موسس ...... اگر روی کے پہلے مدہ نہ ہو بلکہ دوسرا حرف ہو خواہ وہ ساکن ہو یا متحرک۔ لیکن اس کے قبل الف ہو۔ جیسے اس قصیدہ میں صراصر، نوادر، میں حرف صاد و دال ہے تو اسے دخیل کہتے ہیں اور قبل دخیل کے جو الف ہے اسے تاسیس اور الف کے پہلے جو فتحہ ہے اسے رس اور قافیہ کو موسس کہتے ہیں۔

عیب اجارہ ...... اگر روی کسی حرف بعید المخرج سے مختلف ہو تو اسے عیب اجارہ کہتے ہیں۔ جس طرح اس قصیدہ میں حرف روی راء ہے اور بعض اشعار میں قافیہ سمیع ہے۔ اس کو عیب اجارہ کہیں گے۔

عیب اقواء و اصراف ...... مجریٰ (حرکۃ حرف روی) کا حرکۃ متقاربۃ سے اختلاف کو اقواء اور حرکۃ متباعدہ سے بدلنے کو اصراف کہتے ہیں۔ جس طرح اس قصیدہ کا مجریٰ رفع ہے۔ اوّل کی مثال اس میں اقصر ہے۔ جس میں رفع کسرہ سے بدل گیا اور دوسرے کی مثال تکدر ہے جس میں رفع فتحہ سے بدل گیا۔

١٧

صفحہ ١٠٨

اقواء، عیب ہے مگر واجب الاجتناب نہیں اور اصراف اور اجازہ اعیب (سخت ترین عیب) اور واجب الاجتناب ہیں۔

سناد التاسیس ....... جو عیب حرف روی سے پہلے اختلاف حروف یا حرکات کی وجہ سے ہو اسے سناد کہتے ہیں۔ اگر قافیہ غیر موسسہ موسسہ سے بدل جائے جس طرح اس قصیدہ میں نہدر کی جگہ مبادر اور صرصر کی جگہ صراصر ہے تو اسے عیب سناد التاسیس کہیں گے۔

قصیدہ میں جو سرقات دکھائے گئے ہیں ممکن ہے کہ مرزائی حضرات اس کا یہ جواب دیں کہ یہ توارد ہے اور شعراء متقدمین سے بھی ایسا ہوا ہے۔ چنانچہ امراء القیس کہتا ہے۔

وقوفا بها صحبى على مطيهم
يقولون لا تهلك اسى وتجمّل

اور طرفہ بن العبد صاحب معلقہ ثانیہ کا بھی بعینہ یہی شعر ہے۔ سوا اس کے کہ اس کا قصیدہ دالیہ ہے۔ بجائے جمل کے تجلد ہے۔ پھر اگر مرزا قادیانی سے توارد ہوا تو کیا برا ہوا۔

اس کا جواب یہ ہے کہ اگر توارد اور سرقہ کے لئے کوئی حد فاصل نہ ہو تو ہر شخص تمام اساتذہ کے کلام کو اپنا کلام کہہ کر یہ جواب دے سکتا ہے کہ توارد ہے۔ اس لئے ضرور ہوا کہ توارد کے لئے کوئی حد قائم کی جائے اور جہاں تک غور کیا گیا ہے توارد کے لئے امور ذیل حد فاصل ہیں اور ہو سکتے ہیں۔

ان کے معاصرین شعراء نے ان کو شاعر مان لیا ہو۔

اب اگر اس میزان میں ہم مرزا قادیانی کو تولیں تو وہ بالکل بے وزن ہوں گے۔ کیونکہ نہ مرزا قادیانی مشاہیر شعراء سے ہیں۔ تمام عمر میں صرف ایک قصیدہ یہ لکھا اور وہ بھی بحر طویل میں جو سہل ترین بحور سے ہے۔ اس کے سوا دو چار قصیدے دس بیس شعر کے اور بھی ہیں۔ کیا اس سے کوئی مشہور شاعر کا معزز لقب پاسکتا ہے؟ اور کیا مرزا قادیانی کو اور ان کے کلام کو شعراء معاصرین نے بلیغ مان لیا؟ ہرگز نہیں، اور جس کلام سے مرزا قادیانی نے سرقہ کیا ہے یعنی سبعہ معلقہ وغیرہ وہ اس قدر مشہور اور شائع ہے کہ عرب کیا عجم کے بھی معمولی عربی پڑھنے والے بچوں کے نوک زبان پر ہے۔

١٨

صفحہ ١٠٩

اب حضرات ناظرین اہل انصاف سے حسب ذیل سوال ہیں۔

قصیدہ میں توارد ہے؟

شعراء متقدمین نے بھی ایسا کیا ہے؟ اور توارد بھی ایک آدھ جگہ ہو تو خیر۔ صرف اس ایک قصیدہ میں متعدد اور متتابع ہے۔ میرے خیال میں کوئی سمجھدار ذی علم ایسا نہیں کہہ سکتا۔ ہاں اگر مرزائی حضرات ایسا فرمائیں تو میں اسے کہنے پر مجبور ہوں کہ مرزا قادیانی کا سارا قصیدہ میرا ہے اور یہ بھی ایک توارد ہے۔

تنقید

......ا۔ ایا ارض مـد فـيـہ دفـــائـك مـدمــر

اس میں مرزا قادیانی نے مد کے منصرف ہونے کی وجہ یہ لکھی ہے۔ ”مد عربی علم ہے عجمی نہیں۔ مسلمان جن جن ملکوں میں گئے اور جو جو انہوں نے نام رکھے وہ اکثر عربی تھے۔“

(اعجاز احمدی ص ٣٩، خزائن ج ١٩ص١٥٠)

کیا مرزا قادیانی بتا سکتے تھے کہ کس زمانہ میں کس مسلمان نے اس موضع کا نام مد رکھا تھا۔ حالانکہ مد سنسکرت زبان کا لفظ ہے۔ جس کے معنی خوشی کے ہیں اور بخوبی ممکن ہے کہ قدیم باشندوں نے اس کا نام مد رکھا ہو اور چونکہ یہ عجمہ ساکن الاوسط ہے۔ اس لئے منصرف ہے۔ جیسے نوح، لوط وغیرہ۔

......٢۔ دعوت كذوباً مفسداً صيدي الذی
كحوت غـديــر اخــذه لا يـعــزّر

مصرعہ اولیٰ میں دو غلطیاں ہیں:

ہے اور یہ معرفہ، اور نہ عطف بیان ہے۔ کیونکہ عطف بیان میں ضروری ہے کہ معطوف اور معطوف علیہ سے ایسی توضیح ہو جائے جس سے مخاطب سمجھ لے اور یہاں معلوم ہی نہیں کہ اس سے کون شخص مراد ہے۔ اگر مولوی ثناء اللہ ہیں تو مرزا قادیانی نے آگے چل کر دو شعر کے بعد ان کا نام لے کر وضاحت کی ہے۔ جس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ محض اس سے پوری توضیح نہیں ہوئی اور نہ یہ

١٩

صفحہ ١١٠

بدل ہو سکتا ہے۔ کیونکہ بدل میں متبوع مقصود نہیں ہوتا اور یہاں دونوں مقصود ہیں۔

نہیں کہ موصول کس جگہ لاتے ہیں۔

.......٣ وجائک صحبی ناصحین کاخوة
بقولون لا تبغوا هوی وتصبروا

اس میں دو غلطیاں ہیں:

فرمایا ہے۔ یعنی ”امراء القیس“ مرزا قادیانی نے اس کے جس شعر سے سرقہ کیا ہے وہ یوں ہے۔

وقوفا بها صحبى على مطيهم
يقولون لا تهلك اسى وتجمل

کہ نہایت ہی فصیح و بلیغ تھا، مہمل اور لغو ہو گیا۔ کیونکہ دوسرے مصرعہ میں امرو القیس کے ساتھی اس کو کلمات تشفی آمیز کہتے ہیں کہ غم سے ہلاک نہ ہو اور صبر کر۔ لیکن مرزا قادیانی کے اصحاب اپنی مخالفین سے کہتے ہیں کہ ہوا و ہوس کی طرف میل نہ کرو اور صبر کرو۔ صبر کی تعلیم اپنے لوگوں کو کرنا چاہئے کہ مخالفین کے ظلم پر صبر کرو نہ کہ مخالفین کو کہ ہمارے ظلم پر صبر کرو۔ بریں عقل و دانش بباید گریست!

.......٥ فجاء وابذلب بعد جهدا ذابهم
ونعنى ثناء الله منه ونظهر

اس میں دو غلطیاں ہیں:

الله منه ۔ اس کو مجذوب کی بڑ کے سوا اور کیا کہا جائے گا۔ اس کی اصلاح یوں ہو سکتی ہے۔ ”ونعنى به ابا الوفا وهو يهدرک“

.......٨ وارضى اللئام اذا دنا من ارضهم
على النار مشاهم وقد كان يظهر

٢٠

صفحہ ١١١

مصرعہ اولیٰ کا وزن فاسد ہے اور فساد دو جگہ ہے۔ تقطیع وارضل فعولن لئام اذا مفاعلين دنا من فعولن ارضهم فاعلن۔

٩...... تكلم كالا جلاف من غير فطنة
وياتيک بالاخبار من كان ينظر

اس میں کئی غلطیاں ہیں:

یہ شعر بھی انہیں اشعار سے ہے جو مرزا قادیانی کے طبع وقاد کا نتیجہ ہیں۔

ستبدى لك الايام ما كنت جاهلاً
ويأتيک بالاخبار من لم تزود

افسوس اس پر ہے کہ اس بیچارے شاعر کا مصرعہ اولیٰ بھی مرزا قادیانی کے دستبرد سے نہ بچا۔ چنانچہ کہتے ہیں۔

سيبدى لك الرحمن مقسوم حبكم

اور جن کو عربی زبان کا ذوق سلیم ہے وہ جانتے ہیں کہ دونوں مصرعوں کا اخذ کیسا بھونڈا اور قبیح ہے۔

زبان سے مصرعہ اولیٰ کی اصلاح یوں ہو سکتی ہے۔ تكلم كالزنيم من غير فطنة ،اور میں یوں عرض کرتا ہوں۔ تكلم كالا شراف من غير فتنة

١١...... فلما التقى الجمعان للبحث والوغا

التقی الجمعان کا استعمال جنگ کے لئے ہے نہ بحث کے لئے ۔ موضع مد میں جنگ و دغا تو تھا نہیں ۔ البتہ مناظرہ ومباحثہ تھا۔ قرآن مجید میں ہے۔ ”ان الذين تولوا منكم يوم التقى الجمعن (آل عمران)“ علاوہ اس کے وغٰی کا املاء غلط ہے۔

١٢...... واوجس خيفة شره بعض رفقتى
لما عرفوا من خبث قوم تنمروا

اس میں تین غلطیاں ہیں:

٢١

صفحہ ١١٢

فعولن رفقتی مفاعلن۔

بمعنی علم آتا ہے تو وہ بنفسہ متعدی ہوتا ہے۔ عرفہ ای علمہ ! یوں کہنا تھا۔ عرفوا خبث قوم۔ البتہ لام کے ساتھ بھی اس معنی میں اس کا صلہ آیا ہے۔ جیسے ”انا اعرف للمحسن والمسئ ای لا یخفی علی ذلک“

کہ مرزا قادیانی نے ترجمہ کیا ہے۔ اسی طرح مصرعہ ثانیہ کا ترجمہ غلط ہے۔ اس لئے کہ اس مصرعہ کے معنی یہ ہیں کہ درندہ قوم کے خبث کو انہوں نے معلوم کر لیا۔ نہ وہ معنی جو مرزا قادیانی نے کئے ہیں۔ یعنی قوم کی درندگی معلوم کر لی۔

وايدهم روح امين فأبشروا

اعطا دوسرے مفعول کی طرف بنفسہ متعدی ہوتا ہے من کے ساتھ اس کا صلہ نہیں آتا۔ اعطاہ شیئاً کہتے ہیں۔ من شئ نہیں بولتے۔ علاوہ اس کے روح امین کو تائید کا فاعل عامی مسلمان بھی نہیں سمجھتا، شرک ہے۔ چہ جائیکہ نبی صاحب شریعت۔

الى خطة اومى اليها المعشر

مصرعہ ثانیہ میں اگر معشر پڑھیں تو وزن فاسد، تقطیع الی خطہ فعولن طہ اومی مفاعیلن الیہل فعولن معشر فاعلن اور اگر معاشر پڑھیں تو وزن صحیح لیکن قافیہ اور املاء دونوں غلط ہیں۔

الى الجانب الغربى والجند جمروا

اس میں تین غلطیاں ہیں:

اختیار کئے۔

٢٢

صفحہ ١١٣

ای کثیر الشجر اس زمین کو کہتے ہیں جس میں بہت درخت ہوں۔ اس کی جگہ ”مکان شجر ای ذو شجر“ کہنا چاہئے۔

کس لغت سے لکھا ہے اور اس کے سوا ”جمروا“ کو ضمہ دے کر اس کا ترجمہ ”ٹھہرائے گئے“ کیا ہے حالانکہ جمع ہونے کے معنی میں لازم ہے نہ متعدی عرب کا محاورہ ہے جمـر القـوم عـلـی الامر ای تجمعوا ”ٹھہرائے گئے“ ترجمہ غلط۔

اس جگہ اور اس کے سوا میں نے ترجمہ کی غلطی کو بھی اغلاط میں اس وجہ سے شمار کیا ہے کہ مرزا قادیانی نے جو اس کی تحدی کی ہے اس میں ترجمہ کو بھی شامل کیا ہے۔ چنانچہ قصیدہ کے ص٩٠ میں فرماتے ہیں: ”مگر چاہئے کہ میرے قصیدہ کی طرح ہر ایک بیت کے نیچے اردو ترجمہ لکھیں اور منجملہ شرائط کے اس کو بھی ایک شرط سمجھ لیں۔“ اور ص ٣٦ میں ہے۔ وہ بھی ایک نشان ہے۔

١٨٦....... كان مـقـام البـحـث كـان كـاجـمـة
بـه الذئب يعوى والغضنفر يزُّر

اس میں تین غلطیاں ہیں:

غلط۔

وواد كجوف العير قفر قطعته
به الذئب يعوى كـالخليع المعيل

(نہایۃ الارب فی شرح معلقات العرب مطبوعہ مصر ص٢٥)

اور لطف یہ ہے کہ اس سے مرزا قادیانی کا سرقہ صاف ظاہر ہے۔ اگر توارد ہوتا تو بہا الذئب کہتے۔ باوجود لفظ اجمۃ مونث لانے کے پھر بہ الذئب کہنا بتا رہا ہے کہ بیچارے ”اتبـاعـاً للشبر“ یہ نقل کر رہے ہیں۔ حالانکہ شاعر کے مصرعہ اولیٰ میں وادی کا لفظ مذکر ہے۔ یہ بھی خدا کی طرف سے ان کی تکذیب کے لئے ایک نشان ہے۔ مصرعہ اولیٰ کی اصلاح ملاحظہ ہو: كـان مقـام البحث كالاجم الذى. الخ

٢٣

صفحہ ١١٤
ويغرى على صحبى لئاماً ويهذر

يغرى على صحبى غلط ہے۔ اغرا کا صلہ علی نہیں آتا اغرا بہ محاورہ ہے۔ یوں کہیئے یحض علی صحبى لئاماً ويهذر۔

وما راد نهج الحق بل كان يهعجر

افسوس مرزے نے کہاں کہاں ہاتھ بڑھایا لسان العرب میں مستکینہ کے لغت میں پورا شعر عبدة ابن الطبیب کا اس طرح نقل کیا ہے۔

وكان طوى كشحا على مستكنة
فلا هوا بداها ولم ينحجم

اس کا پورا مصرعہ اولیٰ مرزا قادیانی نے نقل کیا ہے۔ کل قیامت کو مرزا قادیانی کا دامن ہوگا اور اس شاعر کا ہاتھ۔

علاوہ اس کے ترجمہ میں بھی مرزا قادیانی نے یہ غلطی کی ہے کہ کینہ کا لفظ بڑھا دیا۔ حالانکہ شعر میں کوئی لفظ ایسا نہیں جس کا ترجمہ کینہ کیا جائے۔

ولم يرض طول البحث فالقوم سحروا

یہاں خاص مکر کا بیان ہے۔ یعنی طویل بحث سے انکار اس لئے مکر کو صرف باطلہ مکر لکھنا تھا۔

وقد ظن ان الحق يخفى ويستر

ظن اگر معروف ہے اور مرجع اس کا صحبى ہے جیسا کہ مرزا قادیانی کے ترجمہ سے ظاہر ہے تو صحبی جمع ہے اور ضمیر راجع واحد اور اگر مجہول ہے تو ترجمہ غلط ہے۔ اسی لئے پہلے عرض کیا ہے کہ مترجم اور مؤلف دو ہیں۔

فقالوا لحاك الله كيف تزور

مصرعہ اولیٰ میں دو غلطیاں ہیں:

٢٤

اونچی کرنے کو کہتے ہیں۔ اب تشاد البرج کے معن تعمیر کے معنی بنائے جانے کے۔ حاصل یہ ہوا کہ ہے مرزا قادیانی کی بلاغت۔

نکل جائیں گی۔ واو برج بھتان يبنى ويعمر

فلم يقبل الحق

تنفر جس طرح اردو میں نفرت کر ہاں ! نفر کرہ کے معنی میں آتا ہے اور اس کا صلہ عن كذا اور نفرت من صحبة فلان ای که

فلم يقبل الحـ

یعنی میرے دوست جوش میں آگیـ مضمون کتنا بلند ہو گیا۔

وفي الصدر حـ

مصرعہ ثانیہ ماخوذ ہے۔ شماخ کے ا

پورا شعر یوں ہے۔

فلما شراهـ
وفى الصدر

اور اخذ بھی قبیح کیونکہ شماخ کے مرزا قادیانی نے اسی قدر بے لطف کر دیا۔ جہ مرزا قادیانی کا نیا ایجاد کردہ محاورہ ہے۔ یـ مرزا قادیانی ہی کے دیکھا۔ یونہی کہہ دیتے نہ

وفى الصدر

صفحہ ١١٥

اونچی کرنے کو کہتے ہیں۔ اب تشاد البرج کے معنی قلعہ میں چونا وغیرہ پھیرے جانے کے ہوئے اور تعمر کے معنی بنائے جانے کے۔ حاصل یہ ہوا کہ قلعہ بنائے جانے سے پہلے سفیدی پھیری گئی۔ یہ ہے مرزا قادیانی کی بلاغت۔

نکل جائیں گی۔ واوبرج بهتان يبنی ويعمر

فلم يقبل الحمقى وصحبى تنفروا

تنفر جس طرح اردو میں نفرت کرنے کے معنی میں مستعمل ہے۔ عربی میں نہیں آتا۔ ہاں! نفر کرہ کے معنی میں آتا ہے اور اس کا صلہ عن اور من کے ساتھ لاتے ہیں۔ جیسے نفرت القوم عن کذا اور نفرت من صحبة فلان ای کرهوہ۔ یوں کہتے

فلم يقبل الحمقى وصحبى تنفروا

یعنی میرے دوست جوش میں آگئے۔ تنفر الرجل ای غلا جوفہ غضباً۔ دیکھئے مضمون کتنا بلند ہوگیا۔

وفی الصدر حزاز وفی القلب خنجر

مصرعہ ثانیہ ماخوذ ہے۔ شماخ کے مصرعہ سے لسان العرب میں حزاز کے بیان میں اس کا پورا شعر یوں ہے۔

فلما شراها فاضت العين عبرة
وفی الصدر حزاز من الهم حامز

اور اخذ بھی قبیح کیونکہ شماخ کے ہاں جو مصرعہ ثانیہ کو پہلے مصرعہ سے تناسب لطیف تھا مرزا قادیانی نے اسی قدر بے لطف کردیا۔ جیسا کہ اہل فہم سے مخفی نہیں۔ علاوہ اس کے دل میں خنجر مرزا قادیانی کا نیا ایجاد کردہ محاورہ ہے۔ ہاتھ میں، پہلو میں، بغل میں خنجر سنا تھا دل میں خنجر مرزا قادیانی ہی کے ہاں دیکھا۔ یوں ہی کہہ دیتے۔

وفی الصدر حزاز من الهم باہر

٢٥

صفحہ ١١٦

تو یہ رکاکت نہ رہتی ۔ اگر چہ تنازع کا سا تناسب تو پھر بھی نہ ہوتا۔ مگر دل سے خنجر نکل جاتا۔ اس کے سوا اس قصیدہ میں اسکانِ متحرک اس قدر ہے کہ اگر صرف اسی کا استقصاء کیا جائے تو بجائے خود ایک رسالہ ہو جائے۔ چنانچہ اس شعر میں بحث کی حا اور غلط کا لام متحرک ہے۔ دونوں کو ساکن کر دیا گیا ہے۔

٢٧......

دفاهم عصابات الاناس وحمقهم
واومد قوم والمدى قد شهروا

مصرعہ ثانیہ میں کئی غلطیاں ہیں ۔

کسی نے تلوار کو نیام سے باہر نکال لیا۔

میں دیکھا جو چھریاں نکالے ہوئے ہیں۔“ شاعر نے شہروا کی جمع کی ضمیر قوم کی طرف پھیری ہے اور مترجم نے مد کی طرف۔ من چہ می سرائم وطنبورہ من چہ می سراید۔ اسی وجہ سے میں کہہ چکا ہوں کہ شاعر اور ہے مترجم اور ۔

٢٨......

فصاروا بمد للرماح درية
ويعلمها احمد على المدبر

اس میں دو غلطیاں ہیں:

قاعدہ یہی ہے۔ یوں کہئے۔ یعلمہ ۔ ورنہ مرجع بتائیے ۔

لیکن وجہ سکون ندارد ۔ یعنی بقاعدہ عربی کوئی احمد کی دال کو ساکن کرنے والا نہیں۔ ہاں مد کے تیروں نے دال کی حرکت پر نشانہ بازی کی ہو اور اسی کو نشانہ بنایا ہو تو اسے مرزا قادیانی کے یارانِ طریقت جانتے ہوں گے جو وہاں موجود تھے۔ پھر بھی اس کا مصرعہ اولیٰ ماخوذ ہے۔ ایک تمیمی شاعر کے پہلے مصرعہ سے۔

ولقد ارانی للرماح درية

٢٦

صفحہ ١١٧

یہ شعر بھی انہیں تھوڑے اشعار سے ہے جو خاص مرزا قادیانی کے طبع وقاد کا نتیجہ ہیں ۔ کیونکہ احد عشر جس طرح اردو میں بسکون دال بولا جاتا ہے۔ اس میں بھی مرزا قادیانی اسی طرح کہہ گئے ۔

......٣١

وان لسان المرء مالم يكن له
اصاة على عوراته هو مشعر

اولاً اصاۃ کا ترجمہ مرزا قادیانی نے عقل کیا ہے۔ شاید یہ بھی کوئی الہام لغوی ہو۔ لیکن عربی لغت میں نہیں ہے۔ البتہ اساۃ جمع آسی بیشک ایک لفظ ہے جس کے معنے طبیب کے ہیں۔ ثانیاً شعر کا صلہ باء لاتے ہیں۔ نہ علی سے یشعر محاورہ ہے نہ شعر علیہ۔

......٣٢

يكلم حتى يعلم الناس كلهم
جهول فلا يدرى ولا يتبصر

اس میں دو غلطیاں ہیں:

مذکور ہے اور قاعدہ یہ ہے کہ افعال قلوب کا جب کہ ایک مفعول مذکور ہو تو دوسرے کا ذکر کرنا ضروری ہے۔ جیسا ترجمہ میں دونوں مفعول ذکر کر دیئے ہیں۔

......٣٣

فهذا علينا منة من ابى الوفا
ارى كل محجوب ضيائى فتشكر

دوسرے مصرعہ میں ارٰی ہے۔ جس کے معنے ترجمہ میں مرزا قادیانی نے ”اطلاع دی“ لکھا ہے اور ارٰی جب کہ اعلم کے معنی میں آتا ہے تو تین مفعول چاہتا ہے۔ شاعر نے دو ذکر کئے اور تیسرے کو چھوڑ دیا۔ حالانکہ قاعدہ یہ ہے کہ جب اس کا دوسرا مفعول ذکر کیا جائے تو تیسرے کا ذکر کرنا ضرور ہے۔ ورنہ دونوں کو حذف کرنا چاہئے۔

......٣٥

ارى الموت يعتام المكفر بعده
بما ظهرت آي السماء وتظهر

اس میں تین غلطیاں ہیں:

یوں ہے۔

٢٧

صفحہ ١١٨
اری الموت يعتام الكرام ويصطفى
عقيلة مال الفاحش المتشدد

لیکن اخذ نہایت ہی قبیح ہے۔ کیونکہ یعتام کے معنی پسند کرنے کے ہیں۔ طرفہ کے ہاں یہ معنی ہوئے کہ موت عموماً شریفوں اور بزرگوں کو پسند کرتی ہے۔ لیکن مرزا قادیانی فرماتے ہیں کہ موت ان کے مکر کو پسند کرتی ہے۔ سبحان اللہ ! کیا اعجاز و بلاغت ہے۔ ہاں اگر مرزا قادیانی کا مکر ہی ممدوح اور شریف ہے تو کوئی اعتراض نہیں ۔ اس پر میرا بھی صاد ہے۔

جائے گا۔ کیونکہ ہمارے غلبہ سے خدا کا نشان ظاہر ہوا۔“ یہ ترجمہ اس سے کم نہیں جو کسی نے جاء زید کا ترجمہ ”عمر کلکتہ گیا“ لکھ مارا۔

واخرى على صحبى لئاماً وكفروا

اس میں دو غلطیاں ہیں:

بسکون یا پڑھیں تو وزن صحیح ۔ مگر نحوی غلطی ہے۔

ہے۔ یوں کہہ دیجئے ۔

ولما اعتدى الامرتسرى عليهم وحض على صحبى لئاما وكفروا
ولكنه من قومه كان يحذر

اگر لیوسف بسکون فا تو وزن صحیح اور بقاعدہ نحو اعراب غلط اور لیوسف مفتوح پڑھیں تو وزن فاسد اور اعراب صحیح ہوگا۔

وقالوا حللن ارض رجز فنصبر

ارض رجز میں اضافت موصوف کی صفت کی طرف ہے اور وہ ممنوع ہے۔ ہاں کوفیوں نے اس کو جائز رکھا ہے۔ جیسے صلوۃ الاولیٰ ، لیکن ارض مونث ہے اور رجز مذکر ۔ حالانکہ صفت

٢٨

صفحہ ١١٩

موصوف میں مطابقت چاہئے۔ اس لئے یہ بھی غلط ہوا۔

.......٣٤ تجنى على ابوالوفا ابن الهوى
ليعد حمقى من جناي وبزجر

اس میں چار غلطیاں ہیں:

فعولن نلھوى فاعلن۔

فقلت لها سيرى وارخى زمامه
ولا تبعدينی من جناك المعلل

لیکن امرء القیس نے اپنے مصرعہ میں جنا کی معلل سے توضیح کر دی ہے اور مرزا قادیانی کے ہاں امہال ہے اور یہاں توضیح بہتر ہے۔ امہال سے اس لئے اخذ قبیح ہے۔

واجب الاجتناب ہوا۔

.......٣٦ وما مسه نور من العلم والهدى
فيا عجباً من بقة يستنسر

اس میں کئی غلطیاں ہیں:

میں ہے۔ لن تمسنا النار الا ایاماً معدودۃ اور ولولم تمسسه نار

بارضنا يستنسر

اور مثل میں تغیر جائز نہیں ہے۔ چنانچہ حریری نے ایک جگہ صرف لا بڑھا کر یوں کہا۔ ان البغاث بارضنا لا يستنسر ۔ اس پر ادباء کا اعتراض ہے۔ سوا اس کے بقة مؤنث اور يستنسر میں ضمیر مذکر ہے۔ تستنسر چاہئے اور اخذ میں مرزا قادیانی صیغہ کا خیال ہی نہیں فرماتے۔ مذکر کی جگہ مؤنث اور اس کے برعکس۔ اس کی مثال آگے بھی ملے گی۔ دیکھو شعر ١٨، ٢٩۔

٢٩

صفحہ ١٢٠

......٤٧

فلما اعتدى واحسن صحبى انه
يصرّ على تكذيبه لا يقصر

مصرعہ اولیٰ بے وزن ہے۔ تقطیع: فلمع فعولن، تدی واحس مفاعلتن۔

......٤٨

دعوه ليهن لموت مزور
مضل فلم يسكت ولم يتحسر

دو غلطیاں ہیں:

......٤٩

وكذب اعجاز المسيح وايه
وغلطه كذبا وكان يزور

غلط کذبا خلاف محاورہ ہے کلام عرب سے۔ اس کی سند پیش کیجئے۔ کیونکہ غلط میں ابہام نہیں ہے جو تمیز کا محتاج ہو۔ مرزا قادیانی کو یہ بھی معلوم نہیں کہ تمیز کہاں لاتے ہیں۔ اس کے سوا مصرعہ ثانیہ بھرتی کا ہے۔ ثانیاً یزور میں تکرار قافیہ ہے۔ کیونکہ اس کے اوپر چوتھے شعر میں یزور موجود ہے۔ اس کو علم القوافی میں عیوب میں شمار کیا ہے۔

......٥٠

وقيل لاملاء الكتاب كمثله
فقال كجاهل العجب انى ساسطر

مصرعہ اولیٰ بالکل خلاف قواعد ادب ہے۔ قول کا صلہ لام کے ساتھ آتا ہے۔ لیکن لام اس پر لاتے ہیں جس سے کہتے ہیں نہ اس بات پر جس کو کہنا چاہتے ہیں۔ دیکھو قرآن مجید ”واذ قلنا للملئكة اسجدوا، وقلنا لهم كونوا قردة خاسئين“ اس کی اصلاح اس طرح ہوسکتی ہے۔ وقيل له امل الكتاب بمثله۔ یا یوں کہئے۔ وقيل له هات الكتاب كمثله۔ یا یوں کہہ دیجئے۔ وقيل له ات الكتاب بمثله۔

......٥٢

وكذبنى بالبخل من كل صورة
وخطأنى فى كل وعظ اذكر

کذب کے بعد مکذب بہ (جس کی تکذیب کی جائے) آتی ہے۔ چنانچہ لغت میں ہے۔ كذب بالامر تکذیبا ای انکره وجحده اور قرآن مجید میں بھی اسی طرح ہے۔ کذبوا بالحق، كذبوا باياتنا کذاباً اور یہ ظاہر ہے کہ بخل مکذب بہ نہیں ہے۔ پھر اس پر

٣٠

مرزا قادیانی کا با لانا بجز اس کے کہ وہ محاورات کا مقصود تو یہ تھا کہ بخل کی وجہ سے نبوت کے لیکن مترجم نے با بخل کا فائدہ نہیں سمجھا۔ اس صورة “ بھی ایک ادیب کی نگاہ میں کـ کرتے۔ جس میں مرزا قادیانی نے یہاں مرزا قادیانی کے انہیں تھوڑے سے اشعار اصلاح یوں ہوسکتی ہے۔ وكذبني ولا من

......٥٣

فافردت المـ
وفى الحى صـ

معلوم نہیں مرزا قادیانی کے دمـ چھوڑ گئے۔ شاید مولوی ثناء اللہ کا ان پر اثـ زندہ درگور ہوگئے۔ جیسا کہ مرزا قادیانی نـ

......٥٤

لضدى لاليـ
وكان لحـ

کژدم کی نیش کو کینہ کی وجہ سے مرزا قادیانی کو حکیم شیرازی کا قول بھی یاد نـ

نیش عقربـ
مقتضائـ

اس کے سوا اس کے قبل تیسر ہے۔ اس کے بعد ص ٤٣ شعر ٥ کی نسبت

وحى الله تعالى جل شانه“

......٥٦

فالفت هـ
لمغزى بـ

اس پہ فضیحتی چاہئے عنـ قصور ہے۔ یہ تو ان کے خدا کی وحی ہے

صفحہ ١٢١

مرزا قادیانی کا با لانا بجز اس کے کہ وہ محاورات عرب سے ناواقف ہوں اور کوئی وجہ نہیں رکھتا۔ شاعر کا مقصود تو یہ تھا کہ بخل کی وجہ سے نبوت کے دعویٰ میں اس نے ہر صورت سے مجھے کاذب ٹھہرایا۔ لیکن مترجم نے بالبخل کا فائدہ نہیں سمجھا۔ اس لئے ترجمہ میں چھوڑ دیا۔ اس کے سوا ’’من کل صورۃ‘‘ بھی ایک ادیب کی نگاہ میں کھٹکتا ہے۔ اہل عرب صورۃ کا استعمال اس معنی میں نہیں کرتے۔ جس میں مرزا قادیانی نے یہاں کیا ہے۔ یہ اہل ہند کا محاورہ ہے۔ یہ شعر بھی غالباً مرزا قادیانی کے انہیں تھوڑے سے اشعار سے ہے جو ان کے فکر سلیم کا نتیجہ ہیں۔ مصرعہ اولیٰ کی اصلاح یوں ہوسکتی ہے۔ وکذبنی ولامنی واذلنی۔

٥٣...... فافردت افراد الحسین بکربلا
وفی الحی ضربا مثل من كان يقبر

معلوم نہیں مرزا قادیانی کے وہ اصحاب جنہوں نے رب کریم سے دعا کی تھی۔ کیوں تنہا چھوڑ گئے۔ شاید مولوی ثناء اللہ کا ان پر اثر ہوا اور انہوں نے جھوٹا سمجھ کر چھوڑ دیا اور مرزا قادیانی زندہ درگور ہو گئے۔ جیسا کہ مرزا قادیانی نے بھی دوسرے مصرعہ میں اقرار کیا ہے۔

٥٤...... تعدی لانکاری وانکار آیتی
وکان لحقد کالعقارب یابر

کژدم کی نیش کو کینہ کی وجہ سے ٹھہرانا غلطی ہے۔ بلکہ وہ اس کی طبیعت کا تقاضا ہے۔ کیا مرزا قادیانی کو حکیم شیرازی کا قول بھی یاد نہیں۔

نیش عقرب نہ از پی کین ست
مقتضائے طبیعتش این ست

اس کے سوا اس کے قبل تیسرے شعر میں بعینہ یہی مضمون ہے۔ اس لئے یہ شعر بیکار ہے۔ اس کے بعد ص ٢٢ شعر ٥ کی نسبت مرزا قادیانی یوں ارشاد فرماتے ہیں: ’’ھذا الشعر من وحی الله تعالیٰ جل شانہ‘‘

٥٦...... فألفت ھذا النظم اعنی قصیدتی
لیخزی ربی کل من کان یھذر

اعنی قصیدتی چاہئے عنی بالقول کا محاورہ ہے۔ لیکن اس میں مرزا قادیانی کا کیا قصور ہے۔ یہ تو ان کے خدا کی وحی ہے۔ تعالیٰ اللہ عن ذلک علواً کبیراً۔

٣١

صفحہ ١٢٣

.......٥٧

وهذا على اصراره في سؤاله
فكيف بهذا لمسئل الحصى وانهر

اصرار کے معنی کسی امر پر اڑ جانے کے اس وقت ہوتے ہیں جب کہ اس کا صلہ علیٰ ہو۔ جیسے امر علی الامر یعنی فلاں امر پر اڑ گیا۔ اس کا صلہ فی لانا غلط ہے۔

.......٥٨

وليس علينا في الجواب جريمة
فنهدى له كالا كل ما كان يبذر

مرزا قادیانی نے دوسرے مصرعہ کا ترجمہ غلط کیا ہے: ”اور ہم اس کو ہدیہ کے طور پر اس چیز کا پھل دیتے ہیں جو اس نے بویا تھا۔ صحیح ترجمہ یوں ہوگا اور ہم ہدیہ دیتے ہیں اس کو جو اس نے بویا تھا۔ پھلوں کی طرح۔“

.......٦٠

وهذا قضاء الله بيني وبينهم
ليظهر ايته وما كان يضمر

مصرعہ ثانیہ بے وزن ہے۔

.......٦٣

ايا محسني بالحمق والجهل والرعا
رويدك لا تبطل صنيعك واحذر

اس میں چار غلطیاں ہیں:

ہے۔ بلکہ موصول بالی ہوتا ہے۔ جیسا قرآن میں ہے: ”احسن کما احسن الله الیک“ شاعر کا مقصود تو یہ تھا کہ اے مجھ پر نیکی کرنے والے۔ لیکن وہ ادا نہ کرسکا۔ یوں کہنا تھا۔ ايها المحسن الى! اور ایا محسنی کے معنے ہوئے اے مجھے خوبصورت بنانے والے اور اپنے لئے شاید مرزا قادیانی یہ کہنا پسند نہ فرمائیں گے۔

زیداً زید کو چھوڑ دے۔ یہاں اس کا مفعول بواسطہ با لانا اور بالحمق والجہل والرعاً کہنا غلط ہے۔

بھی یاد رکھنے کے قابل ہے کہ مرزا قادیانی اپنے محسن کو احمق۔ جاہل وغیرہ وغیرہ خطاب سے یاد کر ٣٢

کے عزت افزائی کرتے ہیں۔ ”من لم یشکر ا سمجھتا کہ شاعر کا مخاطب اس شعر میں اور اس کے بعد وغیرہ کہنا کس قدر سوء ادبی ہے۔ نعوذ باللہ! اور اگر م اور ان کی بخشش کی تعریف کرنے کے کیا معنے۔ جیسا ک

الشتم بعد الغون
اتنسى ندى مدوم

.......٦٥

ترى كيف اغبرت
اذا القوم آذونى ب

اس میں دو غلطیاں ہیں:

صحیح ۔ لیکن معنی غلط ۔

ہوئی۔ شاعر نے اس کو ہا کے ساتھ متعدی کر کے پ اس کے ایسے موقع میں عرب غبروا کا استعمال نہی

.......٦٦

فلا تسخرن منه
ولا تبخلن بعف

مصرعہ ثانیہ میں عیب اقواء ہے۔ بخل کون ہے۔

.......٦٨

يا جيفة الاشوا
بما قلمت من

مصرعہ اولی کا ترجمہ مرزا قادیانی یو تمہارے گھر آئے ہیں“۔ فا کے معنے گھر نہیں يا جيفة الاشواق فناء كم ”ترجمہ: سائبان میں۔ اب حضرات ناظرین مجھے بتائی جتنا موجود ہے تو پھر مختصر کے تکرار سے کیا فائدہ

صفحہ ١٢٣

کے عزت افزائی کرتے ہیں۔ ”من لم یشکر الناس لم یشکر اللہ“ اس کے سوا میں نہیں سمجھتا کہ شاعر کا مخاطب اس شعر میں اور اس کے بعد کون ہے۔ اگر خدا ہے تو رویدک باحمق واجہل وغیرہ کہنا کس قدر سوء ادبی ہے۔ نعوذ باللہ! اور اگر مولوی ثناء اللہ ہیں تو ان کو معین، منان، ناصر کہنا اور ان کی بخشش کی تعریف کرنے کے کیا معنے۔ جیسا کہ اس کے بعد ہے۔

الشتم بعد العون والمن والندی
اتنسی ندی مد وما کنت تنصر
.......٦٥ تری کیف اغبرت السماء بآبہا
اذا القوم آذونی وعابوا وغبروا

اس میں دو غلطیاں ہیں:

صحیح ۔ لیکن معنی غلط ۔

ہوئی ۔ شاعر نے اس کو با کے ساتھ متعدی کر کے بآبہا کہا۔ اس کی سند چاہیے۔ ورنہ غلط ہے۔ سوا اس کے ایسے موقع میں عرب غبروا کا استعمال نہیں کرتے۔ عجمی محاورہ ہے۔

.......٦٦ فلا تغترر بجہل غی وہقوة
ولا تبخلن بعد النوال وفکز

مصرعہ ثانیہ میں عیب اقواء ہے۔ فکز ہوگا اور معلوم نہیں مرزا قادیانی کا مخاطب یہاں کون ہے۔

.......٦٨ باجنحة الاشواق جئنا فناء کم
بنما علمت منکم عطایا فنحضر

مصرعہ اولیٰ کا ترجمہ مرزا قادیانی یوں کرتے ہیں: ”ہم شوق کے بازوؤں کے ساتھ تمہارے گھر آئے ہیں۔“ فناء کے معنے گھر نہیں۔ بلکہ سائبان ہیں۔ عبارت یوں ہوئی ۔ ”جئنا باجنحة الاشواق فناء کم“ ترجمہ: صحیح یوں ہوا۔ ہم لائے شوق کے بازوؤں کو تمہارے سائباں میں۔ اب حضرات ناظرین مجھے بتائیں کہ اس مجذوب کے بڑ کا حاصل کیا ہوا۔ ثانیاً جب جئنا موجود ہے تو پھر حضر کے تکرار سے کیا فائدہ ہوا۔

٣٣

صفحہ ١٢٣

......٦٩

وان كنت قد ساء تک امر خلافتے
فسل مرسلی ماساء قلبک واحصر

اولاً پہلا مصرعہ ماخوذ ہے امرء القیس کے مصرعہ اولیٰ سے۔

وان تک قد ساء تک منی خلیقة
فسلی ثیابی من ثیابک تنسل

لیکن افسوس ہے کہ مرزا قادیانی نے اپنی عادت کے موافق اس اخذ میں تذکیر اور تانیث کا خیال نہ فرمایا اور ان کے خدا نے بھی بذریعہ وحی ان کو اس کی خبر نہ دی۔ امرء القیس کے مصرعہ میں خلیقۃ مونث ہے۔ اس لئے ساءت بھی صیغہ مونث لایا گیا۔ مرزا قادیانی کے ہاں امر مذکر اور صیغہ مونث۔

بدوزد طمع دیدۂ ہوشمند

یونہی کہہ دیتے۔

وان كنت قد ساء تک منی خلافتی

ثانیاً دوسرے مصرعہ میں عجیب اقواء ہے۔ ہاں ترجمہ کی لطافت کو بھی ناظرین ملاحظہ فرمائیں۔ ”اگر تجھے میری خلافت بری معلوم ہوئی ہے تو میرے بھیجنے والے کو بہت اصرار سے پوچھ کہ کیوں ایسا کیا“

......٧٠

اتنکر نی والله نوّر دعوتی
اللعن من هو مثل بدر منور

مصرعہ ثانیہ بے وزن ہے۔ تقطیع اللع فعول ن من ہو مث مفاعلتن ل بدر فعولن منور مفاعلن۔

......٧١

وانی قتیل الحب فاعشوا قتیله
ولا تحسبونی مثل نعش ینکر

مرزا قادیانی نے مصرعہ ثانیہ کا ترجمہ یوں کیا ہے: ”اور مجھے اس جنازہ کی طرح مت سمجھ لو جس کی ہیئت بدل گئی اور وہ شناخت نہ کیا جائے ۔“

مدعی نبوت نے نعش کے معنی جنازہ لکھا ہے۔ اردو میں نعش بمعنی جنازہ آتا ہو۔ لیکن عربی میں نہیں آتا۔ نعش اس پلنگ کو کہتے ہیں جس پر جنازہ لے جاتے ہیں۔ کیا اس پلنگ کی بھی ہیئت بدلتی ہے اور پہچانی نہیں جاتی۔ جب آئمہ لغت کی اصطلاح کی مرزا قادیانی کو خبر نہیں تو

٣٤

آسمانی وحی کا خدا حافظ ہے۔

تو کارے
کہ با آ

اس کی اصلاح یوں ہو سکتی ہے۔

یہ بات کھٹکتی ہے کہ مرزا قادیانی خواہ قتیل دو مرنے کے بعد بھی بھوت بن کر لوگوں کو ستائیں

......٧٣

اطوف لمرض
واسعے وال

مصرعہ اولیٰ میں اگر مرضات بفتح لمرضا حل چاہئے اور بسکون را پڑھیں تو وزن

......٧٤

اذا بت محبته
وهبت علی

مصرعہ اولیٰ کا وزن فاسد ہے۔ خو

......٧٥

ذرو لحرص ق
غبار عظام

اس میں تین غلطیاں ہیں:

......١

حرص کا صلہ علیٰ اور تفتیش کا صلہ عن

الشی محاورہ ہے۔ عبارت یوں ہونی چاہئیے

......٢

غبار عظامی میں خبر مقدم کی ضر درست ہوتا ہے۔ اس کے سوا غبار جو یہاں یقینا صراصر ہے۔

......٣

بقاعدہ علم القوافی صراصر کا قافیہ

......٧٧

دعانی حس
وهولی عل

کیا مرزا قادیانی کو مولوی ثناء ال اس سے تو معلوم ہوتا ہے کہ یہ حسام فولاد کی

صفحہ ١٢٥

آسمانی وحی کا خدا حافظ ہے۔

تو کارے زمین را نکو ساختی
کہ با آسمان نیز پرداختی

اس کی اصلاح یوں ہو سکتی ہے۔ ولا تحسبونی مثل میت ینکر ۔ علاوہ اس کے یہ بات کھٹکتی ہے کہ مرزا قادیانی خواہ قتیل دوست ہی سہی لیکن مردہ سے خوف کی کوئی وجہ نہیں۔ کیا مرنے کے بعد بھی بھوت بن کر لوگوں کو ستائیں گے جو خوف دلا رہے ہیں۔

......٧٣ اطوف لمرضات الحبیب کھائم
واسعی الی مستهام ومغبر

مصرعہ اولیٰ میں اگر مرضات بفتح الراء پڑھیں تو وزن فاسد ہے۔ تقطیع اطوف فعول لمرضا فعل چاہیے اور بسکون را پڑھیں تو وزن صحیح مگر لفظ غلط ہے۔

......٧٤ اذا بثت محبته عظامی جمیعها
وهبت علی نفسی ریاح تکسر

مصرعہ اولیٰ کا وزن فاسد ہے۔ خط کھینچ دیا ہے تقطیع کر کے کہاں تک بتاؤں۔

......٧٥ ذرو لحرص تفتیشے فانی مغیّب
غبار عظامی قد سفتها صراصر

اس میں تین غلطیاں ہیں:

الشی محاورہ ہے۔ عبارت یوں ہونی چاہئے: ”ذرو الحرص علی التفتیش عنی“

درست ہوتا ہے۔ اس کے سوا غبار جو یہاں موصوف ہے اپنی صفت سے بھی قریب ہوگا۔ جو ”قد سفتها صراصر“ ہے۔

......٧٧ دعانی حسام لا یؤخر وقعه
وصولی علیٰ اعداء ربی مفقّر

کیا مرزا قادیانی کو مولوی ثناء اللہ اور محمدی بیگم کے رشتہ داروں کے لئے بددعا یاد نہیں۔ اس سے تو معلوم ہوتا ہے کہ یہ حسام فولاد کی نہیں بلکہ کاٹھ کی نمائش ہے۔

٣٥

صفحہ ١٢٦

......٧٨

وإني ابلغ عن مليكى رسالة
وإني على الحق المنير ونير

اگر ابلغ بسکون غین پڑھیں تو وزن درست ۔ لیکن لفظ اور معنی فاسد ہوں گے اور صحیح ابلِغ پڑھیں تو وزن فاسد۔ ثانیاً مرزا قادیانی نے مصرعہ ثانیہ کا جو ترجمہ کیا ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ علی الحق کو ان کی خبر سمجھا ہے۔ حالانکہ یہ غلط ہے۔ ان کی خبر یہاں محذوف ہے۔ ”علی الحق المنیر“ خبر نہیں بن سکتی۔ یہاں سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ مؤلف اور مترجم دو شخص ہیں۔

......٨٠

مكين امين مقبل عند ربه
مخلص دين الحق مما يحشر

مرزا قادیانی نے مصرعہ اولیٰ کے ترجمہ میں مقبل کے لفظ کا ترجمہ چھوڑ دیا اور فی الواقع یہ لفظ یہاں مہمل ہے۔ شاید مرزا قادیانی نے مقبل کو مقبول کے معنی میں سمجھا اور لکھ گئے۔ لیکن مقبل بمعنی مقبول نہیں آتا۔

......٨١

ومن فتن يخشیٰ علی الدین شرها
ومن محن كانت كصغر تكبر

خشی لازم ہے۔ قرآن مجید میں ہے۔ ”فخشينا ان يرهقهما طغيانا وكفرا“ اس کا مجہول یخشیٰ کیونکر ہو گیا۔ ہاں تخشیہ متعدی ہے۔ جس کے معنی ڈرانے کے ہیں تو ”یخشیٰ“ چاہئے لیکن اس وقت مصرعہ بے وزن ہوگا۔

......٨٢

ارى اية عظمى ونجت از دوکم
فهل فاتک او ضيغم او اخبر

دوسرا مصرعہ بے وزن ہے۔ اس کے سوا شعر مہمل جنکا کچھ حاصل نہیں۔ نہ معلوم مرزا قادیانی کو شیر، بھیڑیے وغیرہ کی کیوں تلاش ہے۔ وہ بن میں جا کر تلاش کریں سب ملیں گے۔

......٨٣

وقال ثناء الله لى انت كاذب
فقلت لك الويلات انت ستحسر

اور مجھے مولوی ثناء اللہ نے کہا کہ تو جھوٹا ہے ...... میں نے کہا کہ تیرے پر واویلا ہے تو عنقریب ہلاک کیا جائے گا ۔

دوسرا مصرعہ ماخوذ ہے۔ امرء القیس کے مصرعہ ثانیہ سے پورا شعر یوں ہے۔

٣٦

ويوم دخلت ال
فقالت لك ال

لیکن اخذ قبیح بلکہ اقبح ہے۔ اس سـ اے امرء القیس تجھ پر خرابیاں ہیں۔ کیونکہ تو اللہ کو مخاطب کر کے کہتا ہے کہ تجھ پر واویلا ہـ ہونے میں شاعر کا کیا نفع اور کیا شوق ہے ۔

......٨٤

تعالوا جميعـ
واملوا كمثـ

اولاً مصرع اولیٰ کا وزن فاسد ہـ صحیح ترجمہ یوں ہے۔ مجھے چھوڑو اور با اختیار کر

......٨٦

وخیر خصال
فتوبوا الى الـ

جب کہ انسان کے عمدہ خصائل میـ چاہئے۔ مرزا قادیانی دوسرے مصرعہ میں تو بـ بجائے خوف کے خوشی مناتے ہیں۔ معلوم نہیـ مکر و فریب کا کارخانہ ہی کیوں چلتا ۔

......٨٧

سئمنا تکالـ
تمادت لیالـ

اس میں کئی غلطیاں ہیں:

......١

مصرعہ اولیٰ ماخوذ ہے۔ لبید ابن الـ

ولقد سئمت
وسوال هذا

یا اس شعر سے

سئمنا تکالـ
ثمانين حو

سئم الشئ . اور سئم من الشـ

صفحہ ١٢٧
ويوم دخلت الخدر خدر عنيزة
فقالت لک الويلات انک مرجلی

لیکن اخذ قبیح بلکہ اقبح ہے۔ اس لئے کہ امرء القیس کی محبوبہ عنیزہ اس سے کہتی ہے کہ اے امرء القیس تجھ پر خرابیاں ہیں۔ کیونکہ تو مجھے پیدل کرنے والا ہے اور یہاں شاعر مولوی ثناء اللہ کو مخاطب کر کے کہتا ہے کہ تجھ پر واویلا ہے۔ عنقریب ننگا کیا جائے گا۔ نہ معلوم ان کے ننگا ہونے میں شاعر کا کیا نفع اور کیا شوق ہے۔

تعالوا جميعاً والحقوا اللامكم
واملوا كمثلی اوذرونی وخيّروا

اولاً مصرع اولیٰ کا وزن فاسد ہے۔ ثانیاً خیر کے معنی با اختیار کرنا ہے نہ با اختیار سمجھنا۔ صحیح ترجمہ یوں ہے۔ مجھے چھوڑو اور با اختیار کرو۔

وخير خصال المرء خوف وتوبة
فتوبوا الی اللہ الكريم وابشروا

جب کہ انسان کے عمدہ خصائل میں خوف اور توبہ ہے تو پھر انسان کو دونوں کا پابند ہونا چاہئے۔ مرزا قادیانی دوسرے مصرعہ میں توبہ کی نصیحت کرتے ہیں اور خوف نہیں کرتے۔ بلکہ بجائے خوف کے خوشی مناتے ہیں۔ معلوم نہیں خوف کیوں اڑا دیا۔ ہاں! اگر خوف ہوتا تو پھر یہ مکر و فریب کا کارخانہ ہی کیوں چلتا۔

سئمنا تكاليف التطاول من عدا
تمادت لیالی الجور یاربی انصر

اس میں کئی غلطیاں ہیں:

ولقد سئمت من الحياة وطولها
وسوال ھذا الناس كيف لبيد

یا اس شعر سے

سئمنا تكاليف الحيوة ومن يعش
ثمانين حولا لا ابالك يسئم

سئم الشی اور سئم من الشی محاورہ ہے۔ چنانچہ دونوں کی مثال دونوں شعر میں

٣٧

صفحہ ١٢٨

ہے۔ لیکن جناب مرزا قادیانی نے دونوں محاوروں کو ایک ہی جگہ جمع کر کے یوں فرمادیا۔

سئمنا تكاليف التطاول من عدا
٨٨...... وجئتك كالموتی فاحیی امورنا
نحن امامک كالمساكين فاغفر

دو غلطیاں ہیں:

٩٠...... طردنا لوجهك من مجالس قومنا
فأنت لنا حب فريد وموثر
٩١...... الهی بوجهک ادرک العبد رحمة
وليس لنا باب سواک ومعبر

ان دونوں شعر کا حال شعر ماقبل کا سا ہے یا وزن فاسد یا خلاف قاعدہ۔

٩٢...... الی ای باب یا الهی تردنی
ومن جئته بالرفق يزرو يصعر

عیب اقواء ہے ۔ یصعر ہوگا۔

٩٣...... صبرنا على جور الخلائق كلهم
ولكن على هجر سطا لا نصبر

مصرعہ ثانیہ بے وزن ہے۔

٩٤...... تعال حبیبی انت روحی وراحتی
وان كنت قد الست ذنبى فسقر

اولاً تسقیر کے معنی معاف کرنے کے کس لغت میں ہیں۔ کیا یہ بھی کوئی الہام لغوی ہے۔

٩٥...... بفضلك انقذ وعصمنا من العدا
وان جمالك قاتلی فأت وانظر

٣٨

صفحہ ١٢٩

اولاً دوسرے مصرعہ کا وزن فاسد ہے۔ ثانیاً عیب اقواء ہے۔ اس پر العدیٰ کا املا غلط۔

سوا اس کے یہ بھی یاد رہے کہ مرزا قادیانی کے خدا کو کسی امر کے دیکھنے کے لئے وہاں جانے کی حاجت ہے۔ مسلمانوں کا خدا اس سے بے نیاز ہے۔

٩٦...... وفرج کروبی یا الهی ونجنی
ومزق خصیمی یا نصیری وعفر

عیب اقواء ہے۔

٩٨...... انا المنذر العریان یامعشر الوری
اذکرکم ایام ربی فابصروا

معلوم ہوتا ہے کہ قصیدہ کرایہ کا ہے اور ترجمہ مرزا قادیانی کا۔ اس لئے ایام ربی کا ترجمہ خدا کے دن کیا۔ ورنہ واقف کار اس پر استہزاء کرتے ہیں۔ ایام اللہ ایک خاص محاورہ ہے۔ جس کے معنی عذاب الہی اور نعمت الہی کے ہیں۔

١٠٠...... دعوا حب دنیاکم وحب تعصب
ومن یشرب الصهباء یصبح مسکر

یصبح افعال ناقصہ سے ہے۔ خبر کو نصب کرتا ہے۔ اس لئے مسکراً ہوگا اور قصیدہ کا مجریٰ رفع ہے۔ اسی کو علم القوافی میں اصراف کہتے ہیں۔ یہ بھی سخت ترین عیب ہے اور واجب الاجتناب ہے۔ اس کے سوا مصرعہ ثانیہ کا یہ ترجمہ (کہ جو شخص رات کو شراب پیئے گا وہ صبح خمار کی تکلیف اٹھائے گا) غلط ہے۔ صحیح ترجمہ یوں ہے۔ ”جو شراب پیئے گا اسے نشہ ہوگا۔ بھلا جب قصیدہ بھاڑے کا مستعار ہوا اور ترجمہ خود ایجاد، تو دونوں میں جوڑ مشکل ہے۔“

١٠١...... وکم من هموم قد رئینا لاجلکم
ونضرم فی قلب اضطراباً ونضجر

مصرعہ ثانیہ کا وزن فاسد ہے۔

١٠٢...... اصیح وقد فاضت دموعی تالماً
وقلبی لکم فی کل ان یوغر

ترجمہ..... میں آواز مارتا ہوں اور میرے آنسو درد سے جاری ہیں۔

مرزا قادیانی نے ترجمہ غلط کیا ہے۔ واؤ حالیہ ہے۔ عاطفہ نہیں۔ صحیح ترجمہ یوں ہے۔

”میں چیختا ہوں جب کہ درد سے آنسو جاری ہیں ۔“ یہ رونا چلانا بے صبری صفت مذمومہ ہے۔ البتہ

٣٩

صفحہ ١٣٠

درد کے وقت صبر کرنا صفات محمودہ میں سے ہے۔ عرب بھی روتے تھے اور ان کے بھی آنسو بہتے تھے۔ مگر کبھی کسی معشوق کے فرط اشتیاق میں وغیرہ وغیرہ جیسا کہ امرء القیس کہتا ہے۔

ففاضت دموع العين منى صبابة
على النحر حتى بل دمعى محملي

غالباً یہ مرزا قادیانی کا مصرعہ بھی اسی سے ماخوذ ہے۔

.......١٠٣ فسل ايها القارى اخاك ابا الوفا
لما يخدع الحمقى وقد جاء منذر

اگر مرزا قادیانی ہوتے تو میں پوچھتا کہ کیا ہر قاری مولوی ثناء اللہ کا بھائی ہے۔ مرزائی بھی؟ ہرگز نہیں مرزا قادیانی کو یوں فرمانا تھا۔ اے مولوی ثناء اللہ کے طرفدار! اپنے بھائی ثناء اللہ سے پوچھ۔ کیا دعوٰی اعجاز اور بلاغت یہی ہے کہ اپنا مطلب بھی نہیں ادا کر سکے۔ اس کے سوا سوال کا صلہ عن آتا ہے نہ لام۔ جیسا کہ اس میں سوال کا صلہ لام ہے۔

.......١٠٤ الارب خصم قد رايت وجداله
وما ان رئينا مثله من يزور

پہلا مصرعہ امرء القیس کے مصرعہ سے ماخوذ ہے۔

الارب خصم فيك الوى رددته

معلقہ اولیٰ، ایک ظریف طبع کہہ سکتا ہے کہ شاعر نے اپنے زمانہ میں بہت سے خصم دیکھے۔ مگر مولوی ثناء اللہ ان کا بڑا خصم تھا۔ جس نے ناک میں دم کر ڈالا۔

.......١٠٥ عجبت لمبحثه الى ثلث ساعة
اكان محل البحث او كان ميسر

مصرعہ ثانیہ میں عیب اسراف واجب الاجتناب ہے۔ میسر آخر ہو گا۔

.......١٠٨ فما الخوف في هذا الوغايا ابا الوفا
لمثل حسين او طفلا واصغر

اولیٰ وغیٰ مونث ہے۔ ہذہ الوغیٰ ہوگا۔ اس وقت مصرعہ کا وزن فاسد ہوگا۔ ثانیاً وغیٰ کا املا غلط ہے۔ ثالثاً مصرعہ ثانیہ بے وزن ہے۔

.......١٠٩ واني ارى رأسهم دود نخوة

اور میں ان کے سر میں تکبر کے کیڑے دیکھتا ہوں۔ یہ شعر بھی غالباً حضرت

٤٠

(مرزا قادیانی) کا ہے۔ اس لئے کہ عرب کے

.......١١٠ وان كان شان
فاين بهذا لو

اس میں دو غلطیاں ہیں:

.......١١١ امیت بقبرا
ومن كان له

عجیب اقواء ہے۔ مجرور ہوگا۔

.......١١٢ فقل خلمن

اولا زمر کے معنی گانے کے ہیں

.......١١٣ اغلط اعج
وهيئات ما

اس میں کئی غلطیاں ہیں:

ہے سحر کا۔ لہذا منصوب ہوگا نہ مرفوع۔ دوم یہاں ظرف اور عامل ظرف کے درمیان اعجاز اور بلاغت پر۔

.......١١٤ وان كان في
فمالك لاتـ

مصرعہ اولیٰ محاورہ کے خلاف ہ

وان كان في
كما قال المتنبي
صفحہ ١٣١

(مرزا قادیانی) کا ہے۔ اس لئے کہ عرب کے ایسے خیالات نہیں یہ کسی ہندی کا کلام ہے۔

١١٠...... وان كان شان الامرا رفع عندكم
فاين بهذا لوقت من شان جولر

اس میں دو غلطیاں ہیں:

١١١...... اميت بقبر الغي لا ينبرى لنا
ومن كان ليثاً لا محالة يزئر

عیب اقواء ہے۔ یزئر ہوگا۔

١١٢...... فقل خذمز امير الضلالة وازمر

اولاً زمر کے معنی گانے کے ہیں نہ بجانے کے۔ ثانیاً عیب اقواء ہے۔

١١٣...... اغلط اعجازى حسين بعلمه
وهيات ماحول الجهول يتسخر

اس میں کئی غلطیاں ہیں:

ہے تسخر کا۔ لہذا منصوب ہوگا نہ مرفوع ۔ دوسرے ہمزہ استفہام کو صدر کلام میں ہونا لازمی ہے اور یہاں ظرف اور عامل ظرف کے درمیان میں ہے۔ افسوس ہے جناب مرزا قادیانی کے اس اعجاز اور بلاغت پر۔

١١٤...... وان كان في شئ يعلم حسينكم
فمالك لاتدعوه والخصم يحصر

مصرعہ اولیٰ محاورہ کے خلاف ہے۔ صحیح محاورہ یوں ہے۔

وان كان في شئ من العلم حسينكم
كما قال الحمصى ليس من الشرف فى شئ وان هلا

٤١

صفحہ ١٣٢
ونحسبه كالحوت فات بنظمہ

......١١٥

”اور ہم تو اس کو ایک مچھلی کی طرح سمجھتے ہیں پس اس کی نظم سن کر ۔“ فات بنظمہ کا ترجمہ ملاحظہ ہو۔ کیا اب بھی معزز ناظرین یہی فرمائیں گے کہ مؤلف اور مترجم ایک ہی صاحب ہیں۔ مرزا قادیانی نے دوسرے مصرعہ میں فرمایا ہے کہ: ”جب وہ شعر کے بحروں میں سے کسی بحر میں داخل ہوگا تو ہم اس کو شکار کر لیں گے اور پکڑ لیں گے ۔“ لیکن مجھے افسوس ہے مرزا قادیانی کی قسمت پر کہ خود ہی بحر طویل میں شکار ہو گئے۔

اذا ما ابتلاه الله بالارض سخطۃ

......١١٧

بلابل قالوا مکرم ومعزر

اولاً سخطہ لفظ صحیح ہے سخطۃ ۔ ثانیاً مرزا قادیانی نے جس دلیل سے مکہ کو شروع قصیدہ میں منصرف کہا ہے اس سے بلابل بھی منصرف ہوگا۔ بلائل مونث چاہیے ۔ اس وقت مصرعہ بے وزن ہوگا۔

وما العز الا بالضروع والتقى

......١١٨

وبعد من الدنيا وقلب مطهر

عیب اقواء ہے۔ سوا اس کے مرزا قادیانی نے اس کا ترجمہ یوں کیا ہے: ”اور عزت تو پرہیز گاروں کے ساتھ ہوتی ہے۔ اور دنیا سے علیحدہ ہوتے اور دل پاک کرتے ہیں۔“ حضرات ناظرین! ذرا ترجمہ کو دیکھئے اور داد دیجئے اسی لئے میں نے نہایت صحیح عرض کیا ہے کہ مؤلف اور مترجم میں پچھم اور پورب کا فرق ہے۔

وان حیات الغافلين لذلة

......١١٩

فسل قلبه زاد الصفا او تكدر

اولاً حیاۃ کا املا صحیح یہ ہے نہ بتاء طویل۔ ثانیاً تکدر ماضی مبنی علی الفتح ہے۔ اس میں عیب اصراف واجب الاجتناب ہے۔

اذا نحن بارزنا فباین حسینکم

......١٢٠

وان كنت تحمده فاعلن واخبر

اس میں دو غلطیاں ہیں:

٤٢

وان قط

......١٢٣

لہ خیـ

۔ یری اسے اگر رؤیت عینی افعال قلوب سے یریٰ ہے تو اس کا مـ کا املاء غلط ، اس پر بھی مصرعہ ادنیٰ ما

لعمرک
فيسقـ

......١٢٧

نسيم ا

اولاً دوسرا مصرعہ ماخوذ بـ

اذا قامـ
نسیم ا

اور اخذ میں کوئی بات نـ تعطر چاہئے۔

ثلثة ا

......١٣٢

ومنهم

عیب اقواء ہے۔

وكيف

......١٣٧

يعز

نفس مونث ہے تصریـ

وان کـ

......١٣٨

فکید

مصرعہ ثانیہ کا وزن فا

عقر

......١٤٠

بـ

کیا مرزا قادیانی کا پر اسی مغلوب خدا کی وحی آتی ہے

صفحہ ١٣٣

......١٢٣

وان قضاء الله ما يخطئ الفتى
له خافيات لا يراها مفكر

یرا سے اگر رؤیت عینی مراد ہے تو مفکر کا کام تو فکر ہے نہ آنکھوں سے دیکھنا اور اگر افعال قلوب سے یریٰ ہے تو اس کا دوسرا مفعول جس کا ذکر ضروری ہے۔ ندارد۔ علاوہ اس کے یریٰ کا املاء غلط، اس پر بھی مصرعہ اولیٰ ماخوذ ہے طرفۃ بن العبد کے مصرعہ سے۔

لعمرك ان الموت ما اخطأ الفتى

......١٢٧

فيسقونه مياه الطهارة والعفى
نسيم الصبا تأتى بريا يعطر

اولاً دوسرا مصرعہ ماخوذ ہے۔ امرء القیس کے مصرعہ ثانیہ سے، پورا شعر یوں ہے۔

اذا قامتا تضوع المسك منهما
نسيم الصبا جأت بريا القرنفل

اور اخذ میں کوئی بات بھی نہیں۔ ثانیاً الریا مونث ہے۔ والريا الرائحة الطيبة تعطر چاہئے۔

......١٣٢

ثلثة اشخاص به قد رايتهم
ومنهم الهی بخش فاسمع وذكر

عجیب اقواء ہے۔

......١٣٧

وكيف ترى نفس حقيقة وحينا
يصرّ على كذب وبالسوء يجهر

نفس مونث ہے تصر وتجہر چاہئے۔

......١٣٨

وان كنت كذابا كما هو زعمكم
فكيدوا جميعا لى ولا تستاخروا

مصرعہ ثانیہ کا وزن فاسد ہے۔ ہاں تاخر، اگر اس کی جگہ ہو تو وزن صحیح ہوگا۔

......١٤٠

عققت بعد صحبتى يا ابا الوفا
بسبّ وتوهين لربّى سيقهر

کیا مرزا قادیانی کا خدا پہلے سے مغلوب ہے جو بعد میں غالب ہوگا۔ کیا مرزا قادیانی پر اسی مغلوب خدا کی وحی آتی ہے۔

٤٤

صفحہ ١٣٤
١٤٢...... الیک ارد محامدی ردت کلها

اولاً وزن فاسد، تقطیع الیک فعول ارد محامفا علتن۔ ثانیاً ردت کا ترجمہ: میں قصد کرتا ہوں۔ غلط ہے۔ صحیح ترجمہ یوں ہے۔ میں نے طلب کیا۔

١٤٤...... ولو کنت کذاباً لما کنت بعده
کمثل يهودی ومن يتنصر

ترجمہ: ”اور اگر میں جھوٹا ہوتا تو پھر اس کے بعد میں ایک یہودی اور مرتد نصرانی کے مانند بھی نہ ہوتا۔“ سچ ہے: جادو وہ جو سر چڑھ کے بولے۔

یہاں تو صحیح بات زبان سے بے اختیار نکل گئی اور مرزا قادیانی نے اپنے یہودی اور نصرانی ہونے کا اقرار کر ہی لیا۔ کیونکہ اس شعر کا مطلب یہ ہے کہ میں چونکہ جھوٹا نہیں اس لئے یہودی اور نصرانی ہوں اور یہ اس لئے کہ حرف لو جو شرط کے لئے ہے وہ اگر ماضی پر آئے تو اس کے معنی یہ ہیں کہ جزا نہیں پائی گئی۔ کیونکہ شرط نہ تھی اور مرزا قادیانی کے شعر میں جزا منفی ہے۔ جیسا کہ ترجمہ سے بھی ظاہر ہے تو منفی کا انتفاء ثبوت ہوگا۔ یعنی مرزا قادیانی کا یہودی اور نصرانی ہونا تو حاصل یہ ہوا کہ مرزا قادیانی یہودی اور نصرانی ہیں کیونکہ جھوٹے نہیں۔

١٤٥...... ولکننی من امر ربی خلیفة
مسيح سمعتم وعده فتفكروا

مسیح موصوف ہے اور سمعتم وعدہ اس کی صفت۔ اب اگر وعدہ کی ضمیر رب کی طرف پھرے تو خلاف قاعدہ نحو ہے۔ کیونکہ اس جملہ میں ایسے ضمیر کا ہونا ضروری ہے جو موصوف کی طرف راجع ہو اور بلا ضمیر کے جملہ صفت نہیں ہو سکتا اور اگر وعدہ کی ضمیر کا مرجع مسیح ہے تو مسیح موعود ہے نہ وعدہ کرنے والا۔

١٤٦...... من القول قول نبينا فتدبروا

بے وزن ہے۔

١٤٨...... ومن يكتمن شهادة كان عنده

اولاً بے وزن۔ ثانیاً کان میں ضمیر مذکر ہے جو شہادت مونث کی طرف پھیری گئی ہے۔

١٤٩...... فلا تجعلوا كذباً عليكم عقوبة

اگر ذال کو کذبا میں ساکن پڑھیں تو وزن صحیح لفظ غلط اور متحرک پڑھیں تو لفظ صحیح وزن فاسد ہوگا۔

٤٤٤

صفحہ ١٣٥
تركت طريق كرام قوم وخلقهم

......١٥٠

هجوت بمدٍ عامداً لتحقر

اولاً مصرع اولیٰ بے وزن ہے۔ ثانیاً لتحقر ہوگا۔ عیب اصراف واجب الاجتناب ہے۔

فجئت خصيماً ايها المستكبر

......١٥٢

بے وزن ہے۔ المتکبر کہئے وزن اور معنی دونوں درست ہوجائیں گے۔

وتلعن من هو مرسل وموقّر

......١٥٣

وزن فاسد ہے۔

وكل امرء من قوله يستفسر

......١٥٤

وزن صحیح نہیں۔

صبرنا على سب به اذیعنا

......١٥٥

ولكن على ما تفترى لا نصبر

دونوں مصرعے بے وزن ہے۔ مصرعہ ثانیہ کی یوں صلاح ہوسکتی ہے: ”ولكن على ماتفترى كيف نصبر“

ولو كنت كذابا شقيا لضرنى

......١٥٧

عداوة قوم كذبونى وكفروا

کیا مرزا قادیانی نے تاریخ ملاحظہ نہیں فرمائی۔ ہم سے سنو۔ حضرت آپ سے پہلے بہت سے جھوٹے گزرے ہیں اور اہل اللہ نے ان سے مخالفت کی عداوت کی۔ مگر ان کے سر میں درد بھی نہ ہوا تو کچھ تعجب نہیں کہ آپ بھی جھوٹے ہیں اور عداوت سے آپ کو کوئی نقصان نہیں ہوا۔ اس کے سوا پہلا مصرعہ ماخوذ ہے۔ ایک شاعر کے مصرعہ سے: فلو كنت رغدا فى الرجال نصرنى

على وكيف رموا سهاماً وجمروا

......١٥٨

بے وزن ہے۔

رموا كل صخر كان فى اذيا لهم

......١٥٩

بغيظ فلم افلق ولم اتحير

مصرعہ اولیٰ کا وزن فاسد ہے اور ثانیہ میں عیب اقواء ہے لم اتحیّر ہوگا۔

٤٥

صفحہ ١٣٦
والقى من سب الى الخنجر

اولاً القاء الخنجر محاورہ نہیں۔ ثانیاً اگر قافیہ کو خنجر پڑھیں تو وزن غلط اور ختار پڑھنے میں عیب سناد التاسیس ہے۔

وقالوا كذوب مفند غير صادق
فقلنا اخسوا ان الخفايا ستظهر

یہ شعر واقعی الہامی ہے۔ کیونکہ اس میں پیش گوئی ہے کہ مخفی حقیقت ظاہر ہو جائے گی۔ سچ ہے کہ جب جھوٹا سچے کے روبرو ہلاک ہو گیا تو پھر آگے کیا رہ گیا؟ وہ راز طشت از بام ہو گیا۔

وسمون دجالاً وسمون ابتر

ابتر مفعول ہے۔ اس لئے منصوب ہوگا۔ یہ عیب اصراف واجب الاجتناب ہوا۔

على حصوا زمع الاناس وثوروا

حُصُو کوئی لفظ نہیں البتہ حِصْو صحیح اور یہی مقتضائے مقام ہے۔ لیکن اس وقت وزن فاسد ہے۔

انی واثق الله المحاسب واحذر

عیب اقواء ہے۔ واحذر ہوگا۔

ولا تلهک الدنيا عن الدين والهوى

اس میں تعقید ہے۔ کیونکہ اصل عبارت یوں ہے:۔

لا تلهک الدنيا والهوى عن الدين

یوں کہتے: ولا تلهكم عن ذكره الحرص والهوى

ولا تحسب الدنيا كنا طف ناطفى
ا تدرى بليل مسرة كيف تصبح

مرزا قادیانی نے پہلے مصرعہ کا یوں ترجمہ فرمایا ہے: ”اور دنیا کو شیرینی کی طرح مت سمجھ جو شیرینی بنانے والا تیار کرتا ہے۔“ صرف یہی شعر شاعر کی جہالت کا عمدہ نمونہ ہے۔ اس میں تین غلطیاں ہیں:

میں یا کیسی ہے۔ کیا یائے نسبت ہے؟ یہ واقعی مرزا قادیانی کی جدت ہے کہ الہام سے ایک لفظ گڑھ لیا اور یائے نسبت لگا کر شیرینی بنانے والے کے معنی بنالئے۔ سبحان اللہ! علاوہ اس کے

٤٦

ناطفی پر تنوین پڑھیں تو وزن فاسد ورنہ خلاف محاورہ

ترین عیب اور واجب الاجتناب ہے۔

مسيحاً يحط

بے وزن ہے۔

ولله در مدعــ

وزن فاسد ہے۔

احاديث والســ

اولاً قرآن مذکر ہے۔ یتلیٰ ضمیر عاطفہ ہو تو کوئی معطوف علیہ نہیں اور حالیہ ہو تو

نلتم كلام
تركتم بفيض

اولاً خلف ظہور کم اہل عرب کا محاورہ ہے۔ ثانیاً ترک کا صلہ لام کے ساتھ نہیں آتا

مذار لجار

نجاۃ چاہئے املا غلط ہے۔

فهل بعده

قافیہ میں عیب سناد التاسیس ہے۔

وفاضت دمــ

اولاً یہ مصرعہ مکرر ہے۔ شعر ١٠٢ ثانیاً ماخوذ ہے امرء القیس کے مصرعہ اولیٰ بـ

ففاضت د
علی النحر

لیکن اخذ بھی قبیح بلکہ اقبح ہے ہوا کہ سینہ تر ہو گیا۔ بلکہ پر طلا بھیگ گیا

صفحہ ١٣٧

ناظماً پر تنوین پڑھیں تو وزن فاسد ورنہ خلاف نحو ہے۔

ترین عیب اور واجب الاجتناب ہے۔

بے وزن ہے۔

وزن فاسد ہے۔

اولاً قرآن مذکر ہے۔ یلغیٰ و یھجر چاہئے۔ ثانیاً والقرآن یہ جملہ صحیح نہیں۔ کیونکہ اگر واؤ عاطفہ ہو تو کوئی معطوف علیہ نہیں اور حالیہ ہو تو کوئی ذوالحال نہیں۔

ترکتم يقيناً للظنون ففكروا

اولاً خلف ظہورکم اہل عرب کا محاورہ نہیں۔ یہ پس پشت کا ترجمہ ہے جو اردو کا محاورہ ہے۔ ثانیاً ترک کا صلہ لام کے ساتھ نہیں آتا۔ سند پیش کیجئے!

نجاۃ چاہئے املا غلط ہے۔

قافیہ میں عیب سناد التأسیس ہے۔

اولاً یہ مصرعہ مکرر ہے۔ شعر ١٠٢ میں یوں ہے۔ اصبح وقد فاضت دموعی تالماً ثانیاً ماخوذ ہے امرء القیس کے مصرعہ اولیٰ سے۔

ففاضت دموع العين منى صبابة
على النحر حتى بل دمعى محملى

لیکن اخذ بھی قبیح بلکہ اقبح ہے۔ امرء القیس تو یوں کہتا ہے کہ یہاں تک آنسو جاری ہوا کہ سینہ تر ہو گیا۔ بلکہ پرتلا بھیگ گیا۔ اس پر صبابۃ اور دموع کی مناسبت کلام کتنا مستطاب ہے

٤٧

صفحہ ١٣٨

حال کے مطابق اور کس قدر بلیغ ہے۔ بخلاف مرزا قادیانی کے کہ فرما دیا: ”درد سے آنسو بہ گیا۔“ یہ اس سے کم نہیں۔

چشمان تو زہرا بر دانبد
دندان تو جمله درد هانند

اس کے ساتھ تالم اور دموع کی رکاکت بھی ملاحظہ ہو۔

١٧٨.......

عليك شطائب جاهلين وثوروا

بے وزن ہے سوا اس کے الجاہلین معرف باللام چاہئے، نکرہ مقصود نہیں۔

١٨٣.......

وقد كان صحف قبله مثل خادج
فجاء لتكميل الورى ليعزر

پہلے مصرعہ کا ترجمہ مرزا قادیانی یوں کرتے ہیں: ”اور اس سے پہلی کتابیں اس اونٹنی کی طرح تھیں جو قبل از ولادت بچہ دیتی ہیں۔“ اس میں تین غلطیاں ہیں:

وزن صحیح مگر لفظ غلط۔

وجود الشی قبل الشئے اس کو کہتے ہیں۔ یوں کہئے قبل از وقت بچہ دیتی ہیں۔

١٨٤.......

بليل كموج البحر ارخى سدوله
تجلى وادرى كل من كان يبصر

مصرعہ اولیٰ بعینہ امرء القیس کا ہے۔ مرزا قادیانی نے واؤ کی جگہ بالکھ دیا ہے۔ امرء القیس کہتا ہے۔

وليل كموج البحر ارخى سدوله
على بانواع الهموم ليبتلى

اس میں کئی غلطیاں ہیں:

”يقال ارخى الستر علی معایبه“ جیسا کہ امرء القیس نے ارخى سدوله علی کہا۔

٤٨

صفحہ ١٣٩

فاسد ہوں گے۔ معنی یہ ہوں گے کہ قرآن تاریکی کو لایا (نعوذ باللہ)۔ سوا اس کے جاء اور اس کے متعلق میں لیعور کے فعل سے تعقید ہوگی۔ جو خلاف فصاحت ہے۔

ہوا“ چاہئے۔

سہو کاتب۔

اولاً وزن فاسد ہے۔ ثانیاً قدر مونث ہے۔ یجوش وليس فيها چاہئے۔ ثالثاً تجيش چاہئے۔ جاشت القدر تجيش جيشا وجيوشا وجيشانا غلت اور جاش الرجل يجوش جوشا سار الليل کله۔اس لئے يجوش القدر بالکل غلط ہے۔ یونہی کہہ دیجئے کقدر تجيش ولیس فیها تدبر۔ وزن کے سوا اور صحیح ہے۔

العدىٰ چاہئے، املا غلط ہے۔

ایک مصرعہ میں دو جگہ فساد وزن ہے۔

بے وزن ہے۔

یہ مصرعہ ماخوذ ہے شاعر کے اس مصرعہ سے۔ سقاك بها المامون كأساً روية

وذكر ظهورى عند فتن تثوروا

دوسرا مصرعہ بے وزن ہے۔ علاوہ اس کے یہاں مرزا قادیانی نے اپنے فضائل اور ذکر ظہور کو قرآن میں آنا بیان فرمایا ہے۔ بیشک ہوسکتا ہے۔ لیکن ویسا ہی ہوگا جیسا کہ کسی مجیب ظریف نے ایک مستفتی فرائض کے جواب میں یوں گلفشانی کی تھی کہ سوا ماں کے اور کسی کو کچھ نہ ملے گا۔

٤٩

صفحہ ١٤٠

کیونکہ قرآن مجید میں ”ماں کاسب“ آیا ہے۔ یہ نعوذ باللہ ’ما کسب‘ کی خرابی ہے۔ اس کے بعد کئی شعر مدعی رسالت نے اپنے لغو دعویٰ اور بڑائی اور فخر میں کہے ہیں۔

٢١١....... واروت حدالقنا عيون تنضر

وزن فاسد ہے۔

تمام مذاہب پر مرزا قادیانی کے مذہب کی فضیلت

٢١٢....... تكدر ماء السابقين وعهدنا
الى اخر الايام لا تتكدر

اولاً یہ شعر مکرر ہے۔ بعینہ یہ شعر ٣٢٩ میں موجود ہے۔ مجھے مرزا قادیانی کے سوء حفظ پر تعجب ہے کہ ایک قصیدہ میں کئی جگہ تکرار ہے۔ شاید..... حافظہ نباشد کی مثل تو نہیں؟ ثانیاً ”ماء المرء“ منی کو کہتے ہیں: ”ماء المرء ماء دافق يقطر“ اب سمجھ لو کہ ماء السابقین کے کیا معنی ہیں اور شعر کے معنی کیا ہوئے۔ ثالثاً مرزا قادیانی مکدر کا ترجمہ ”خشک ہوگئے“ یہاں ترجمہ میں فرماتے ہیں۔ غلط ہے۔ بلکہ تکدر کے معنی گدلا ہونے کے ہیں۔ سوا اس کے کس قدر سوء ادبی ہے کہ فرماتے ہیں کہ ”پہلوں کا پانی مکدر ہو گیا اور ہمارا پانی اخیر زمانہ تک مکدر نہیں ہوگا“ یعنی مرزا قادیانی کی شریعت طبع زاد تمام ادیان کی ناسخ ہے۔ اس کی اصلاح یوں کر لیجئے۔

وجفت نهور النبيين وعهدنا
٢١٥....... وانی لشر الناس ان لم يكن لهم
جزاء اهانتهم صغار يصغر

دوسرے مصرعہ کا وزن فاسد ہے۔

٢١٦....... وابغى حياتا ما يليها تكبر

حیاتاً کا املا غلط ہے۔

٢١٨....... فلما اجزنا ساحة الكبر كلها
اتانی من الرحمن وحی يكبر

مصرعہ اولیٰ امرء القیس کے مصرعہ سے ماخوذ ہے اور اخذ میں کوئی بات بھی نہیں اس کا پورا شعر یوں ہے۔ فلما اجزنا ساحة الحى وانتحى

بنا بطن خبت ذي حقاف عقنقل

٥٠

اذا قيل انک .......٢١٩

وزن فاسد ہے۔ اس کے سوا ماح

اذا القوم قال
عنيت فلم

مگر مجھے مرزا قادیانی کی قسمت ملا۔ (عجبت لهم فى جبرنا......)

وقضو مطـ
الينا الاسن

اس میں چار غلطیاں ہیں:

طعنہ باالستان۔

على الحما
كما زلت

سبحان اللہ یہاں مؤلف قصید توڑ مروڑ کر مسخ کر کے ایک شعر بنالیا ہے تعریف کرتا ہے۔

کمیت یز
کما زلت
علی الدی
اذا جاش فی

اولاً اخذ قبیح ہے۔ کیونکہ امرء القیس چکنائی کے زین اس کے پیٹھ سے اس طر تشبیہ ہے اور مرزا قادیانی احمقوں کی تشبیہ

واہ صاحب: ”آپ کی بات نئی گات نئی

صفحہ ١٤١
اذا قيل انك مرمل خلت اننى ......٢١٩

وزن فاسد ہے۔ اس کے سوا ماخوذ ہے طرفہ کے اس شعر سے۔

اذا القوم قالوا من فتى خلت اننى
عنيت فلم اكسل ولم اتبلد

مگر مجھے مرزا قادیانی کی قسمت پر افسوس ہے کہ اخذ میں سوا فساد وزن کے اور کچھ نہ ملا۔ (عجبت لهم اذ جربونا......)

وقضو مطاعن بينهم ثم اصدروا ......٢٢٣
الينا الاسنة والخناجر شهروا

اس میں چار غلطیاں ہیں:

طعنہ بالسنان۔

على الحمق جياشون من غير فطنة ......٦٢٣
كما زلت الصفواء حين تكور

سبحان اللہ یہاں مؤلف قصیدہ نے تعجب خیز چالاکی سے امرء القیس کے دو شعر کو خوب توڑ مروڑ کر مسخ کر کے ایک شعر بنا لیا ہے۔ وہ دونوں شعر یہ ہیں۔ امرء القیس اپنے گھوڑے کی تعریف کرتا ہے۔

كميت يزل اللبد عن حال متنه
كما زلت الصفواء بالمتنزل
على الذبل جياش كان اهزامه
اذا جاش فيه حميه غلى مرجل

اولاً اخذ قبیح ہے۔ کیونکہ امرء القیس گھوڑے کی تعریف میں کہتا ہے کہ بسبب موٹائی اور چکنائی کے زین اس کے پیٹھ سے اس طرح پھسلتی ہے جیسے بارش چکنے پتھر سے۔ سبحان اللہ ! کیسی تشبیہ ہے اور مرزا قادیانی احمقوں کی تشبیہ میں فرماتے ہیں کہ جس طرح چکنا پتھر جلد نیچے کو آتا ہے واہ صاحب: ”آپ کی بات نئی گات نئی گھات نئی ۔“ ثانیاً مصرعہ ثانیہ کا ترجمہ یوں فرماتے ہیں:

٥١

صفحہ ١٤٢

”جیسا کہ ایک صاف پتھر نیچے پھینکنے سے جلد تر نیچے کو پھسل جاتا ہے“ جس پر خط کھینچ دیا گیا وہ کن الفاظ کے معنے ہیں؟ نہیں صاحب یہ المعنی فی بطن الشاعر ہے۔ ثالثاً محاورہ یہ ہے : ”تکور الشی تکوراً ای سقط“ اور اس وقت تکور ماضی مبنی علی الفتح ہوگا اور یہ اصراف واجب الاجتناب ہوا۔

.......٢٢٩ فما زلت اسقيها واسقی بلادها
من المزن حتى عاد جمر مدعثر

اولاً عبارت یوں چاہئے عادت (الحدیقۃ ) جمرہ مدعثراً اور لطف یہ ہے کہ جمر کی صفت مدعثر بالکل خلاف بلاغت ہے۔ ثانیاً اب عیب اصراف واجب الاجتناب ہوا۔

.......٢٣٠ وجاشت الى النفس من فتنة العدا

اولاً یہ مصرعہ مسروق ہے۔ طرفہ کے اس مصرعہ سے :

وجاشت اليه النفس خوفاً وخاله

ثانیاً جاشت النفس بمعنی غصّہ آنا ہے۔ جاشت الی النفس نہیں آتا۔ سوا اس کے العدی کا املا غلط ہے۔ اس پر جاشت الی النفس کا ترجمہ ”میرا دل لگنے لگا۔“ مضحکہ خیز ہے۔

.......٢٣٢ وقد كان باب اللد مركز حربهم
كلام مضل لا حسام مشهر

مؤلف اور مترجم کی شکل یہ ہے : ”من چہ می سرائم وطنبورہ من چہ می سراید“ اس کا ترجمہ مرزا قادیانی یوں کرتے ہیں۔ ”اور ان کا طرز جنگ صرف زبانی خصومت تھی۔“ یعنی محض گمراہ کرنے والی باتوں کو پیش کرتے اور مذہب کے لئے تلوار کی لڑائی نہ تھی۔ ترجمہ میں جو خط کھینچ دیا گیا ہے وہ کن الفاظ کے معنی ہیں۔ علاوہ اس کے کلام مضل کو ماقبل سے کیا تعلق ہے۔ ہاں! ”یعنی“ کے لفظ سے معلوم ہوتا ہے کہ باب اللد کی تفسیر ہے۔ اگر یہ ہے تو اوّلاً حرف تفسیر ندارد۔ ثانیاً مفسر اور مفسر میں خبر کان کا فصل کیسا؟

.......٢٣٣ فوافيت مجمع لدهم وفلقتهم
بضرب ولم اكسل ولم اتحسر

دو غلطیاں ہیں:

نقل ہے۔ دعیت فلم اکسل ولم اتبلد

٥٢

٤٣

.......٢٣٤ وانی انا الموعود

ترجمہ: ”اور میں مسیح موعود اور وہ امام ویران جنگلوں کو پھلدار کرے گا۔“ افسوس ہے کہ جنگل پھلدار ہوئے۔ ہاں اتنا ہوا کہ مسلمانوں کی ہٹا کر اپنی ڈیڑھ اینٹ کی مسجد الگ کھڑی کر دی۔

.......٢٣٤ الى ماعد يجر

یجدر کا ترجمہ مرزا قادیانی ”شہر کو بدر حضرت کا ایجاد بندہ ہو۔ عربی کا محاورہ یوں ہے۔

.......٢٣٤ واما اذا اخد ال
كفى العود من

اولاً مصرعہ اولیٰ کا وزن فاسد ہے۔ پورا شعر یوں ہے۔ حسام اذا ما كنت مفتق

كفى العود من
.......٢٣٦ فيا اسفا این
وانى ارى فسقا

التقات کا املا غلط ہے۔ صحیح املا التفات

.......٢٣٩ ودمعى يذكى

وزن فاسد ہے۔

.......٢٥٠ وارخى سديل

لیل مکدر بمعنی تاریک رات عرب کے سوا ص ١٨٤ پر یہ بلیل کموج البحر ارخ موجود ہے۔ اس لئے مکرر ہوا۔

.......٢٥٢ ارى الفاسقین

زمرہ کی جمع زمر ہے۔ جس کے مع اور بسکون میم پڑھیں تو وزن صحیح اور لفظ غلط ہو گا

صفحہ ١٤٣

ترجمہ: ”اور میں مسیح موعود اور وہ امام قائم ہوں۔ جو زمین کو عدل سے بھرے گا اور ویران جنگلوں کو پھلدار کرے گا ۔“ افسوس ہے کہ نہ تو مرزا قادیانی کی عدل سے زمین بھر گئی اور نہ جنگل پھلدار ہوئے۔ ہاں اتنا ہوا کہ مسلمانوں کی جماعت میں پھوٹ ڈال کر اور تمام امت کو کافر بنا کر اپنی ڈیڑھ اینٹ کی مسجد الگ کھڑی کر دی۔

یہندر کا ترجمہ مرزا قادیانی ”نہر کو بدن سے الگ کر دیتا ہے۔“ کرتے ہیں۔ شاید یہ حضرت کا ایجاد بندہ ہو۔ عربی کا محاورہ یوں ہے۔ ضرب یدہ بالسیف فاندرها ای اسقطها

كفى العود منه البذ ضربا وينحر

اولاً مصرعہ اولیٰ کا وزن فاسد ہے۔ ثانیاً مصرعہ ثانیہ ماخوذ ہے طرفہ کے مصرعہ ثانیہ سے پورا شعر یوں ہے۔ حسام اذا ما كنت مفتقراً به

كفى العود منه البدء ليس بمعقد
وانی ارى فسقا على الفسق يظهر

العقاب کا املا غلط ہے۔ صحیح املا العقاق ہے۔

وزن فاسد ہے۔

لیل مکدر بمعنی تاریک رات عرب کا محاورہ نہیں۔ کیا یہ بھی کوئی الہام لغوی ہے؟ اس کے سوا ص ١٨٢ ایہ: بليل كموج البحر ارخى سدوله موجود ہے۔ اس لئے تکرار ہوا۔

زمرہ کی جمع زمر ہے۔ جس کے معنے افواج ہیں۔ اگر میم بضم میم پڑھیں تو وزن فاسد اور بسکون میم پڑھیں تو وزن صحیح اور لفظ غلط ہوگا۔

٥٣

صفحہ ١٤٤

٢٥٣......

ارى عين دين الله منهم تكدرت
بها العين والارام تمشى وتعبر

مصرعہ زہیر بن ابی سلمیٰ کے اس شعر سے لیا گیا ہے۔

بها العين والارام يمشين خلفة
واطلاً وها ينهضن من كل مجثم (معلقہ)

٢٥٤......

فلما طغى الفسق المبيد بسيله

طغیٰ کا صلہ با سے نہیں آتا۔ کوئی سند ہو تو پیش کیجئے۔

٢٥٥......

وما همهم الا لحظ نفوسهم
وما جهدهم الا لحظ يوفر

دوسرے مصرعہ میں حظ کو معرف باللام لانا تھا۔ کیونکہ اس سے پہلے مصرعہ اولیٰ میں حظ نفسانی کا ذکر آچکا ہے۔

٢٦٣......

وكيف وان اكابر القوم كلهم
على حراص والحسام مشهر

مصرعہ اولیٰ بے وزن ہے اور مصرعہ ثانیہ ماخوذ ہے امراء القیس کے مصرعہ سے۔ اس کا پورا شعر یوں ہے۔

تجاوزت احراساً اليها ومعشر
على حراصاً لو يسرون مقتلى (معلقہ)

٢٦٨......

وقد ذاب قلبى من مصائب ديننا

ذاب قلبی محاورہ ذاب الرجل و ذاب قلبہ حمق آیا ہے جس کے معنی احمق ہوا۔

٢٧٨......

وكيف عصوا والله لم يدر سرّها
وكان منا برقى من الشمس اظهر

پہلے مصرعہ میں سرہ چاہئے۔ کیونکہ ضمیر عصیان کی طرف پھرتی ہے اور دوسرے مصرعہ میں عیب اصراف واجب الاجتناب ہے۔ اس لئے کہ اظہر کان کی خبر ہے۔ منصوب ہوگا۔

٢٧٩......

وكان الاقارب كالعقارب تأبر

وزن فاسد ہے۔

٥٤

٢٨٢......

ومن دابر اد

مراماة کے معنی سنگ اندازی کے

٢٨٣......

يظنون اني
بمكر و بعـ

تقول بمکر نہیں آتا۔ تقول علیہ سے آتا ہے۔ اس کی اصلاح یوں ہو سکتی ہے

٢٨٧......

امكفر مهـ
وخف قهر ربـ

١......

پہلا مصرعہ مسروق ہے۔ امرء ال

افاطم مهـ
وان كنت قـ

٢......

مصرعہ ثانیہ میں عیب اقواء ہے

٢٩١......

وكم من عـ
فلما اتانـ

صرف کی خبر ہونے کی وجہ سے الموتیٰ کا املاء غلط ہے۔

٢٩٣......

وان تطلبني

عیب اقواء ہے۔ احقر ہو گا۔

٢٩٩......

ارى الصا
واما الغو

دونوں مصرعہ کا وزن فاسد ہـ

٣٠٢......

ومن

ذوفعل کے معنی صاحب فعـ ترجمہ فعل الہی کیا ہے۔ غلط ہے۔

٣٠٣......

اذا ما عـ

عمیٰ کے میم کو مفتوح پڑھیں

صفحہ ١٤٥
ومن رادنی ادیننی اذا اللہ ینصر

......٢٨٢

مراداۃ کے معنی سنگ اندازی کے ہیں جب کہ صلہ من ہو۔ بغیر اس کے نہیں۔

یظنون انی قد تقولت عامداً

......٢٨٣

بمکر و بعض الظن اثم ومنکر

تقول بمکر نہیں آتا۔ تقول علیہ محاورہ ہے۔ یعنی با کے ساتھ اس کا صلہ نہیں آتا۔ علی سے آتا ہے۔ اس کی اصلاح یوں ہو سکتی ہے۔ علیہ وبعض الظن اثم ومنکر

امکفر مہلا بعض ہذا التہکم

......٢٨٧

وخف قہر رب قال لا تقف فاحذر

پہلا مصرعہ مسروق ہے۔ امرء القیس کے مصرعہ سے اس کا شعر یوں ہے۔

......١

افاطم مہلا بعض ہذا التدلل
وان کنت قد ازمعت صرمی فاجملي

مصرعہ ثانیہ میں عیب اقواء ہے۔

......٢

وکم من عدو کان اکبر العدا

......٢٩١

فلما اتانی صاغرا صرت اصغر

صرت کی خبر ہونے کی وجہ سے اصغر منصوب ہوگا یہی عیب اصراف ہے۔ اس کے سوا العدا کا املاء غلط ہے۔

وان تطلبنی فی المیادین احضر

......٢٩٤

عیب اقواء ہے۔ احضر ہوگا۔

ارى الصالحین یوفقون لطاعتی

......٢٩٩

واما الغوى ففی الضلالة یقبر

دونوں مصرعہ کا وزن فاسد ہے۔ خط کھینچ دیا ہے۔

ومن یک ذا فضل

......٣٠٢

ذو فضل کے معنی صاحب فضل اور فضل کرنے والے کے ہیں۔ مرزا قادیانی نے اس کا ترجمہ فضل الٰہی کیا ہے۔ غلط ہے۔

اذا ما عمى یوما بأخر ینظر

......٣٠٣

عمی کے میم کو مفتوح پڑھیں تو وزن صحیح مگر لفظ غلط اور مکسور پڑھیں تو لفظ صحیح مگر وزن فاسد

٥٥

صفحہ ١٤٦

ہوگا۔ افسوس ہے کہ بایں دعوئی اعجاز و بلاغت صیغہ بھی نہیں معلوم، جسے میزان خوان جانتے ہیں۔

٣٠٥......

أرى الظلم يبقى في الخراطيم وسمه

دو غلطیاں ہیں:

کے ساتھ آیا ہے۔ ”سنسمه علی الخرطوم“ اور شاید اسی محاورہ کو شاعر نے خراب کیا ہے۔

جمع کر کے علامتیں کر دیا۔

٣٠٨......

فکم من بلاد تهلكن وتجذر

نون ثقیلہ کا دخول چونکہ استقبال سے مخصوص ہے اور یہاں بمعنی حال ہے۔ اس لئے تھلکن پر نون ثقیلہ کا لانا صحیح نہیں۔

٣١١......

ترى كيف ترقى والحوادث جُمَّة

جمۃ بمعنی جمع نہیں آتا۔ مرزا قادیانی نے جمۃ کا ترجمہ جمع کیا ہے۔ غلط ہے۔

٣١٣......

ایاشاتماً لا شاتم اليوم مثلكم
وما ان ارى فی كفكم ما يطز

مصرعہ اولیٰ میں شاتم سے علی حائری مراد ہیں تو شاتما منادی پر تنوین صحیح نہیں۔ شاتم مضموم بلا تنوین کہنا چاہئے۔ مصرعہ ثانیہ بے وزن ہے۔

٣١٥......

فـمـا نـالـک مـن خـبـره یـا مـعـذر

اگر یہ لفظ معذر ہے۔ جیسا کہ ترجمہ سے معلوم ہوتا ہے۔ ”اے مبالغہ کرنے والے“ تو وزن غلط ہے اور اگر معتذر ہے تو وزن صحیح مگر ترجمہ غلط ہے۔ اس لئے کہ اس کا ترجمہ ”جھوٹے عذر کرنے والے“ ہیں۔

٣١٦......

تطيب ومن ماء العذابة تطهر

الماء العذب آتا ہے۔ ماء العذابۃ غلط ہے۔ سند پیش کیجئے۔ ثانیاً طہارت کے لئے طاہر پانی چاہئے نہ کہ صاف غیر طاہر۔ افسوس! نبی صاحب شریعت کو یہ مسئلہ بھی معلوم نہیں۔

٣١٧......

وافضل ما فطر القدير ويفطر

بے وزن ہے۔

٣٢٤......

تفطرن لولا وقتها مقرر

٥٦

مقرر کرنا چاہئے اس لئے کہ خبر ہے

٣٢٨......

لـنـا جـنـة سـ...

وزن فاسد ہے۔

٣٣١......

فـانـی الـبـ...

وزن صحیح نہیں۔

٣٣٣......

اربی واعص...

بے وزن ہے۔

٣٣٦......

واوعدنی ف...

دو غلطیاں ہیں:

کقولک او عدته بالضرب..... الخ وفی اقرب الموارد يقال

٣٣٨......

لا نلرقوم...

لام نہی کے بعد ان مقدر ہوتا ہ...

٣٤٠......

ارى الناس ب...
واحلی اظل...

اولاً مصرعہ اولیٰ میں وشمہا چا... جگہ فساد وزن ہے۔

٣٤٣......

فـمـا انـ...

اس کے ترجمہ میں حضرت ... مؤنث ۔ جس کو اپنی زبان میں تذکیر اور تا...

٣٤٤......

وكيف ورث...

وزن صحیح نہیں۔ ایک مصرعہ ...

٣٤٥......

اتـزعـم ان...
عـلـى زعـ...
صفحہ ١٤٧

مکررة چاہئے اس لئے کہ خبر ہے مبتدا کی۔

وزن فاسد ہے۔

وزن صحیح نہیں۔

بے وزن ہے۔

دو غلطیاں ہیں:

كقولك او عدته بالضرب....... الخ! وفى اقرب الموارد يقال اوعدنى بالسجن اى هددنى بالسجن

لام کی کے بعد ان مقدر ہوتا ہے۔ اَظْهَرَ ہوگا۔ یہ عیب اصراف واجب الاجتناب ہوا۔

واحلى أطائبها التی لا تحصر

اولاً مصرعہ اولیٰ میں دُئِمَھَا چاہئے۔ جیسا کہ ترجمہ میں ہے۔ ثانیاً دوسرے مصرعہ میں دو جگہ فساد وزن ہے۔

اس کے ترجمہ میں حضرت (مرزا) فرماتے ہیں: ”ورثہ پہنچ گئی۔“ ورثہ مذکر ہے نہ مؤنث۔ جس کو اپنی زبان میں تذکیر اور تانیث معلوم نہیں تو اس کی عربی کا خدا حافظ ہے۔

وزن صحیح نہیں۔ ایک مصرعہ میں دو جگہ فساد وزن ہے۔

على زعم شانئه توفى ابتر

٥٧

صفحہ ١٤٨

تین غلطیاں ہیں۔ مصرعہ اولیٰ میں ایک جگہ اور مصرعہ ثانیہ میں دو جگہ فساد وزن ہے۔ ثالثاً اثر چونکہ توفی کے ضمیر فاعل سے حال ہے۔ اس لئے منصوب ہوگا اور یہ عیب اصراف ہے۔

٣٤٦....... فلا والذی خلق السماء لاجلہ

بے وزن ہے۔

٣٤٨....... لہ خسف القمر المنير وان لے
غسا القمر ان المشرقان انكر

اولاً مصرعہ اولیٰ کا وزن فاسد ہے۔ ثانیاً آنحضرت ﷺ کے لئے کبھی خسوف کا نشان ظاہر نہ ہوا۔ یہ بالکل جھوٹ ہے۔ ہاں شق القمر ہوا اسے خسوف نہیں کہتے۔ ثالثاً مرزا قادیانی آنحضرت ﷺ سے افضل ہوئے۔ کیونکہ حضرت کا نشان صرف خسوف تھا اور مرزا قادیانی کا خسوف و کسوف دونوں۔ مرزا جیو! بتاؤ کیا اب بھی مرزا قادیانی کے دعویٰ افضلیت میں کوئی شبہ ہے؟

٣٤٩....... وكان كلام معجزایہ لہ
كذلك لے قبول على الكل يبهر

جب کہ مرزا قادیانی کا کلام سب پر غالب ہوا تو رسول اللہ ﷺ کے معجزانہ کلام یعنی قرآن مجید پر بھی غالب ہوا۔ اب بتاؤ دعویٰ افضلیت اور کسے کہتے ہیں؟

٣٥٢....... ومن طینہ المعصوم طینی معطر

اولاً طینی معطر خلاف قاعدہ نحو ہے۔ کیونکہ طینی معرفہ موصوف اور معطر نکرہ صفت اس کی ہے۔ دونوں میں مطابقت چاہئے۔ ثانیاً حضرت خاتم النبیین ﷺ کے ساتھ دعویٰ مساوات ہے۔ جب مرزا قادیانی نبی ٹھہرے تو پھر معصوم ہونے میں کیا شک رہا؟

٣٥٣....... وليس نبی ذو صلاح معبر

وزن صحیح نہیں۔

٣٥٥....... ومن كان ذانسب كريم ولم يكن
لہ حسب فهو الدنى المحقر

دونوں مصرعہ کا وزن فاسد ہے۔

٣٥٧....... كذلك سنن الله فی انبیائہ

بے وزن ہے۔

٥٨

٣٥٨....... فليس لذلك

وزن غلط ہے۔

٣٦١....... فقربت فر

"مشی رقابہم" کا ترجمہ مرزا قاد ہے۔ صیغہ غائب کا اور ترجمہ متکلم کر کے غل تھے کہ اس کی بھی خبر نہ رہی۔

٣٦٣....... انا العلم با

اولاً وزن فاسد، ثانیاً ترجمہ غلط ہوگا علم حقہ میں کہلایا۔ معزز ناظرین اس

٣٦٦....... قلوب نض

وزن بالکل ہی غلط ہے۔

٣٦٨....... اقلب ط

مؤلف تو کچھ کہتا ہے اور متر "میں اپنی آنکھ ہر وقت پھیر رہا ہوں" آ

٣٦٩....... فكان ف

غالباً یہاں مؤلف اور مترج مسافر تو باعزت بھی ہوتا ہے۔ البتہ مفل مسافر ہے نہ مفلس۔

٣٧٠....... وجاء کر

عامہ کی میم مخفف ہو تو وزن

٣٧١....... اناخوا ب

رئی کا املا غلط ہے رائی چاہئ

٣٧٥....... متى يسال

اولاً اصغر یہاں جزا ہونے ک بالکسر عیب اقواء ہے۔ ثانیاً کیون خلاف کلام مجید ہونا ضروری ہے؟ "وا

صفحہ ١٤٩
فليس لذلك شرط نسب فابشروا ......٣٥٨

وزن غلط ہے۔

فقربت قربانا ينجى رقابهم ......٣٦١

”منجی رقابہم“ کا ترجمہ مرزا قادیانی نے ”ان کی گردنوں کو میں نے چھوڑ دیا ۔“ کیا ہے۔ صیغہ غائب کا اور ترجمہ متکلم کر کے غلط کیا ہے مرزا قادیانی نے۔ دعویٰ میں کچھ ایسے مبہوت تھے کہ اس کی بھی خبر نہ رہی۔

انا العلم بالمتقدمين وبعدهم ......٣٦٣

اولاً وزن فاسد، ثانیاً ترجمہ غلط ”علم متقدمین کے ذریعہ سے آیا۔“ صحیح ترجمہ اس کا یہ ہوگا۔ علم متقدمین کو لایا۔ معزز ناظرین اس کو سمجھیں اور داد دیں۔

قلوب تضاهى اجمة موحوشة ......٣٦٦

وزن بالکل ہی غلط ہے۔

اقلب طرفى كل ان وانظر ......٣٦٨

مؤلف تو کچھ کہتا ہے اور حضرت مترجم کچھ فرماتے ہیں۔ ترجمہ صحیح اس کا یوں ہے۔ ”میں اپنی آنکھ ہر وقت پھیر رہا ہوں ۔“ آنکھ کیا ہے۔ تسبیح کے دانے ہیں۔

فكان غريباً بينهم لا يوقر ......٣٦٩

غالباً یہاں مؤلف اور مترجم نے غریب کے معنے مفلس لیا ہے۔ اس وجہ سے کہ مسافر تو باعزت بھی ہوتا ہے۔ البتہ مفلس کی کوئی عزت نہیں ہوتی۔ حالانکہ غریب عربی میں بمعنی مسافر ہے نہ مفلس۔

وجاء كرهط حولهم عامة الورى ......٣٧٠

عامہ کی میم مخفف ہو تو وزن صحیح ، لفظ غلط اور مشدد ہو تو لفظ صحیح ، وزن غلط ہوگا۔

اناخوا بواد ما رئی وجه حضرة ......٣٧١

رئی کا املا غلط ہے رائی چاہئے۔

متى ياتنى من زائرين اصعر ......٣٧٥

اولاً اصعر یہاں جزا ہونے کی وجہ سے ساکن۔ والساكن اذا حرك حرك بالكسر عیب اقواء ہے۔ ثانیاً کیوں حضرات ناظرین! کیا تیرھویں صدی کے مدعی نبوت کا خلق خلاف کلام مجید ہونا ضروری ہے؟ ”ولا تصعر خدك للناس ولا تمش فى الارض

٥٩

صفحہ ١٥٠

مرحاً (لقمان) ﴿ اور لوگوں سے بے رخی نہ کر اور زمین پر اترا کر نہ چل ۔ ﴾

......٣٧٦

فقمت ولم اعرض ولم اتعذر

اس میں دو غلطیاں ہیں:

معنی نہیں لئے جاتے۔ اس کا محاورہ ہے۔ اعرض عنہ ای اضرب و صد جیسا کہ قرآن مجید میں ہے۔ ”واعرض عن المشرکین“ اسی طرح تعذر کے معنی بھی ”دیر کرنے“ کے اس وقت ہیں کہ جب اس کا صلہ عن سے آئے۔ محاورہ یوں ہے۔ ”تعذر عن الامر تاخر“

......٣٨١

اذا مارئينا حائراً اجهل الورى

اجهل الوریٰ رائی کا دوسرا مفعول ہے اور ترجمہ صفت کا کیا گیا غلط ہے۔

......٣٨٦

سببت وان السب من سنن دينكم

بے وزن ہے۔

......٣٩٢

لدی شان فرقان عظیم معزّز

معزز صفت ہے فرقان کی اس لئے مکسور ہوگا۔ عیب اقواء ہے۔

......٣٨٨

وما افلح العمران من ضرب لعنكم

بے وزن ہے۔

......٣٩٣

ولست بشواق الى مجمع العدا
ولكن متى يستحضر القوم احضر

اس میں دو غلطیاں ہیں:

......٣٩٨

سيجزى المهيمن كاذبا تارك الهدى

اولاً وزن غلط ، ثانیاً کاذباً موصوف نکرہ ہے اور تارک الهدىٰ معرفہ اس کی صفت دونوں میں مطابقت چاہئے۔

......٤٠٠

وقد قيل منكم ياتين امامكم
وذلك فى القرآن نباء مكرر

٦٠

صفحہ ١٥١

اولاً وزن فاسد، ہاء کی ہا اگر ساکن ہے تو وزن صحیح لفظ غلط اور متحرک ہے تو وزن فاسد لفظ صحیح۔ ثانیاً ”یاتین امامکم منکم “ جسے مرزا قادیانی قرآن مجید میں مکرر آتا بتا رہے ہیں۔ ہرگز قرآن کی آیت نہیں، مجدد، امام، نبی آپ سب کچھ بن جائیں۔ لیکن قرآن دانی اور چیز ہے۔

......٤٠٢

فقلت لک الویلات یا ارض جولو
لعنت بملعون فانت تدمر

اولاً گولڑہ کا معرب جولرہ ہوگا۔ معلوم نہیں ۔ جولو کیونکر کیا گیا۔ اس کے سوا جولرہ میں وزن بھی صحیح تھا اور جولو میں وزن بھی صحیح نہیں۔ اس لئے غیر منصرف ہے تنوین نہ آئے گی۔ ثانیاً مؤلف قصیدہ نے قافیہ میں عیوب اقواء اصراف، اکفاء، سناد التاسیس وغیرہ کی پرواہ نہ کی تو نہ کی اب تو صیغہ کو بھی آپ نے بالا طاق رکھ دیا۔ ارض مؤنث ہے۔ تدمرین صیغہ مؤنث حاضر چاہئے۔ نہ تدمر مذکر حاضر۔ سچ ہے۔

چون خدا خواہد کہ پردہ کس درد
میلش اندر طعنہ پاکان برد

......٤٠٣

تکلم ھذا النکس کالزمع شاتماً

اگر الزمع کی میم مفتوح ہے تو لفظ صحیح وزن غلط اور ساکن ہے تو وزن صحیح لفظ غلط۔

......٤٠٨

ففروا الیّ وجانبوا البغی واحذروا

بے وزن ہے۔

......٤١٢

وان تضربن علی الصلات زجاجة

وزن فاسد ہے۔

......٤١٨

وکم من حقائق لایریٰ کیف شجّھا
کنجم بعید نورھا یتستّر

مصرعہ اولیٰ بے وزن ہے۔ مصرعہ ثانیہ میں نجم مذکر ہے نورہ چاہئے۔

......٤٣٢

اوالیت مداً اوراَیت امرتسر

اولاً وزن فاسد ثانیاً عیب اصراف ہے۔ امرتسر چونکہ مفعول ہے۔ اس لئے منصوب ہوگا۔

......٤٣٣

الا ان اھل السب یدری بلطمة
ومجرم لطم بالھراوی یکسر

مرزا قادیانی کا کیا کہنا ہے۔ کبھی آپ قرآن کی تعلیم پر بھی منہ آتے ہیں۔ یہ تعلیم آپ

٦١

صفحہ ١٥٢

کی بالکل فرمان واجب الاذعان کے خلاف ہے۔ سورہ شوریٰ میں یہ ارشاد ہے۔ ”وجزاء سیئة سیئة مثلھا فمن عفا واصلح فاجرہ علی اللہ“ (اور برائی کا بدلہ اسی کے برابر برائی ہے۔ پھر جو شخص معاف کردے اور صلح کر لے تو اس کا اجر اللہ کے ذمہ ہے) معزز ناظرین! مرزا قادیانی مسیح موعود سے کسر صلیب جب نہ ہوا تو سوٹے سے لوگوں کا سر نہ پھوڑتے تو اور کیا کرتے۔

کتبت فویل للانامل والقلم

.......٤٤٣

القلم کے میم کو ساکن پڑھیں تو وزن صحیح خلاف قواعد عرب ہے اور متحرک پڑھیں تو وزن فاسد قواعد کے موافق ہوگا۔

زمان يسح الشر عن كل فيقة

.......٤٤٦

مرزا قادیانی نے اس طرح پر اس کا ترجمہ کیا ہے۔ ”یہ وہ زمانہ ہے کہ وقتاً فوقتاً شر کے بادل سے پانی نکال رہا ہے۔“ غلط ہے صحیح ترجمہ یوں ہے۔ زمانہ ہر دودھ سے جو تھن میں ہے۔ شر کو متواتر بہاتا ہے۔ حضرات ناظرین اس صیغہ کو سمجھیں کہ کیا ہے۔ اقرب میں ہے۔ سح الماء اوالمطر اوالدمع ای سال وسح الماء صبہ صباً متتابعاً كثیراً۔ والفیقه اسم اللبن الذی یجتمع فی الضرع بین الحلبتین۔

مسیح اضل بہ النصارى وخسروا

.......٤٤٧

وزن صحیح نہیں۔

كذلك فی الاسلام عاث تشیع

.......٤٤٨

ابادوا کثیرا کاللصوص ودمروا

چور مال لیتے ہیں نہ ہلاک کرتے ہیں۔ یونہی فرما دیجئے۔ ابادو کثیرا کالذئاب ودمروا۔ دیکھئے کلام کتنا بلیغ ہو گیا۔

نرى الجاهلين تشیعوا وتنصروا

.......٤٤٩

وزن فاسد ہے۔

فتب واتق القہار ربک یا علی

.......٤٥٠

وان كنت قد ازمعت حربى فاحضر

اولاً مصرعہ اولیٰ مولوی علی حائری شیعی کی نسبت لکھا ہے۔ لیکن مجھے شاعر معجز بیان سے نہایت تعجب ہے کہ اس کا کلام کس قدر مقتضائے حال سے دور ہوتا ہے۔ پہلے تو قہار نے آپ ان کو

٦٢

ڈراتے ہیں۔ پھر ربک کہہ کر قہر کو لغو کر دیا۔ ثانیاً دوسرا مصرعہ ماخوذ ہے امر

وان كنت قد

علیٰ یا علی کی یا ساکن ہو تو وزن الضم ہوگا اور اب وزن فاسد ہوا۔

٤٥١.......

فلاهو لـ

نجا بمعنی چھڑانے اور خلاص من کسی با وغیرہ کے ساتھ آتا ہے۔ دیکھ الغم، اليوم ننجیک ببدنک“ و

٤٥٣.......

باغ السـ

پورا مصرعہ بے وزن ہے۔

٤٥٥.......

هناك تـ
شفیع الـ

اس کا ترجمہ آپ یوں کر ہو گیا۔ جس کو تم کہتے تھے کہ آنحضر تین غلطیاں ہیں:

حاضر کئے گئے۔ ضمانت لی گئی تو نہ آپ السلام کربلا میں شہید ہوئے تو ان کا مجر

ہے۔ اگر کہتے ہیں تو ان کی مستند کتا فاتقوا النار التي وقودها الناس

اگر مرزا قادیانی توہین کند ان چما کار

صفحہ ١٥٣

ڈراتے ہیں۔ پھر ربک کہہ کر قہر کو لغو کر دیا۔ یوں ہی کہہ دیجئے۔ واتق اللہ المحاسب ......الخ!

ثانیاً دوسرا مصرعہ ماخوذ ہے امرء القیس کے مصرعہ سے:۔

وان كنت قد از معت صرمی فاجملی

(معلقہ اولیٰ)

ثالثاً علی کی یا ساکن ہو تو وزن صحیح لیکن سکون کی کوئی وجہ نہیں۔ بلکہ منادیٰ معرفہ مبنی علی الضم ہوگا اور اب وزن فاسد ہوا۔

٤٥١.......

فلا هو نجاكم ولا هو ينصر

نجا بمعنی چھڑانے اور خلاص کرنے کے متعدی بدو مفعول ہوتا ہے اور دوسرا مفعول کبھی من بھی یا وغیرہ کے ساتھ آتا ہے۔ دیکھو! ”واذ نجینا کم من آل فرعون ونجيناه من الغم، اليوم ننجیک ببدنک“ وغیرہ۔

٤٥٣.......

بأخ الحسين وولده اذا احصروا

پورا مصرعہ بے وزن ہے۔

٤٥٥.......

هناك ترى عجز من تحسبونه
شفيع النبي محمد فتفكروا

اس کا ترجمہ آپ یوں کرتے ہیں۔ ”تب عجز اور ضعف اس شخص کا یعنی حسین کا ظاہر ہو گیا۔ جس کو تم کہتے تھے کہ آنحضرت ﷺ کی بھی قیامت کو وہی شفاعت کرے گا۔“ اس میں تین غلطیاں ہیں:

حاضر کئے گئے۔ ضمانت لی گئی تو نہ آپ کا عجز ظاہر ہوا اور نہ شان نبوت میں کچھ فرق آیا اور امام حسین علیہ السلام کربلا میں شہید ہوئے تو ان کا عجز ظاہر ہو گیا۔ سبحان اللہ! مرزا جی! حضرت کی سمجھ کے صدقے جاؤ۔

ہے۔ اگر کہتے ہیں تو ان کی مستند کتابوں سے محققین کا قول دکھاؤ۔ ”فان لم تفعلوا ولن تفعلوا فاتقوا النار التي وقودها الناس والحجارة“

اگر مرزا قادیانی توہین اہل بیت کے مرتکب نہ ہوتے تو ہرگز ایسی ٹھوکریں نہ کھاتے۔

کند اندیشہ روز اول گذارد کار نادانی
چرا کارے کند عاقل کہ باز آید پشیمانی

٦٣٣

صفحہ ١٥٤
٤٥٧...... فان كان هذا الشرك في الدين جائزا
فباللغو رسل الله فى الناس بعثروا

اولاً بصیغہ یہ شعر ٤٧٤ میں موجود ہے۔ مرزا قادیانی کا سوء حفظ دیکھئے کہ کس قدر قصیدہ میں تکرار ہے۔ ثانیاً بعثروا کا ترجمہ ”مبعوث شمار کئے جاتے“ غلط ہے۔ صحیح ترجمہ ”ظاہر کئے گئے یا نکالے گئے“ ہوگا۔

٤٦٢...... حدرنا سفائنكم الى اسفل الثرىٰ

وزن فاسد ہے۔

٤٦٥...... فاجرو طريقكم فان شئتم انظروا

بے وزن ہے۔

٤٧١...... لدى نفحات المسك قدر مقنطر

اس میں دو غلطیاں ہیں:

چاندی کے ڈھیر کو مقنطر کہتے ہیں۔ جیسا قرآن مجید میں ہے۔ ”القناطير المقنطرة من الذهب والفضة“ مؤلف نے قدر مقنطر کہہ دیا ہے۔ یعنی کوہ کا ڈھیر۔ گرچہ گندہ است مگر ایجاد بندہ است کی مثل پوری صادق آتی ہے۔

٤٧٤...... فصار من القتلى براز معصفر

اس میں دو غلطیاں ہیں:

آتی ہے۔ یہ براز کے معنے میدان کیونکر ہو گیا۔ کیا یہ بھی کوئی الہام لغوی ہے۔ ہاں براز بالکسرہ کے معنی میدان ہیں۔ لیکن یہ پاخانہ کے معنے میں مستعمل ہے۔

٤٧٧...... ببدر واحد قام نوع قيامة
وكان الصحابة كما لا فالين كسروا

اس میں کئی غلطیاں ہیں:

٦٤

کے خلاف ہے۔ مرزا مدعا یہ ہے آپ کے

٤٧٨...... همت مثل

ہی الماء الدمع آتا ہے۔ ہمت

جريان العيون دماء هم -
٤٨١...... ودلوا عليـ

المغتر چونکہ دلوا کا مفعول ہے فاسد ہے اور ایک ہی مصرعہ میں دو جگہ فسا

٤٨٢...... على مثلـ
وان كان عـ

مجھے یہاں مؤلف اور مترجم

٤٨٥...... وذلك دائـ

چونکہ دیکھنے والا منکر ہے۔ کیجئے یا پہلے کو بھی حذف کیجئے۔

٤٨٦...... وان خلتهـ

یہ مصرعہ زہیر بن ابی سلمیٰ کـ

ومهما تـ
وان خالهـ
ومن لا يـ
٤٩٥...... وفيهـا فـ

وزن فاسد ہے۔

٤٩٧...... سطوتـ
صفحہ ١٥٥

کے خلاف ہے۔ مرزائیو یہ ہے آپ کے نبی صاحب کی تاریخ دانی؟

همی الماء والدمع آتا ہے۔ همی الدم کی سند پیش کیجئے یا یوں کہئے۔ جرت مثل جريان العيون دماء هم۔

المغفر چونکہ دقوا کا مفعول ہے۔ اس لئے منصوب ہوگا۔ یہ عجیب انحراف ہوا۔ ثانیاً وزن فاسد ہے اور ایک ہی مصرعہ میں دو جگہ فساد ہے۔

وان كان عيسى او من الرسل آخر

مجھے یہاں مؤلف اور مترجم دونوں پر تعجب کے ساتھ افسوس ہے۔

چونکہ دیکھنے والا مفکر ہے۔ اس لئے لا یرى افعال قلوب ہو گیا تو اس کا دوسرا مفعول ذکر کیجئے یا پہلے کو بھی حذف کیجئے۔

یہ مصرعہ زہیر بن ابی سلمی کے اس شعر سے لیا گیا ہے۔

ومهما تكن عند امرئ من خليقة
وان خالها تخفى على الناس تعلم

عجیب توارد ہے اس کا سارا زہیر کے مصرعہ سے ماخوذ ہے۔ ومن لا يكبر نفسه لا يكبر

وزن فاسد ہے۔

٦٥

صفحہ ١٥٦

عیب اصراف ہے۔ لتوتر ہوگا۔

لائمی ہے لایتاخر ہوگا۔ عیب اقواء ہے۔

تحفہ آپ کا صرف قصیدہ ہے، تو بالتحائف غلط ہے۔ یوں کہئے ۔سیاتیک منی بالهدية سرور

وزن فاسد ہے اور اس کا ترجمہ تو ماشاء اللہ آپ ہی کا حصہ ہے۔

وزن فاسد ہے۔

طلاقة السن عربی کا محاورہ نہیں۔ شاید یہ بھی کوئی الہام ہو۔ ہاں اس معنی میں طلق اللسان اور لسان طلیق ذیلق آتا ہے۔

بے وزن ہے۔

وناد حسيناً او ظفرا او اصغر

دونوں مصرع کا وزن فاسد ہے۔ ثانیاً اصغر ہوگا عیب اصراف ہے۔

وزن غلط ہے۔

بے وزن ہے۔

تمشی انقضی کے معنی میں نہیں آتا۔ اس لئے اس کا ترجمہ گذرنے کا غلط ہے۔

عیب اصراف ہے۔ لیظلم چاہئے۔

٦٦

عیب اقواء ہے۔

لنا كاللوالـ

اس کا ترجمہ مرزا قادیانی نے یوں کـ آسمان سے ہمارے لئے اتری ہیں۔ ان او گئی۔‘ اس میں متعدد غلطیاں ہیں:

مزہ تو یہ ہے آپ کے مرزا قادیانی

وزن فاسد ہے۔

وانصرہ چاہئے عیب اقواء ہے۔

قطعہ تا

از: فکر لطیف ناظم خوش بیان سید

علامہ مولوی غنیمت عالم فاضل حکیم دانـ غواص بحار نظم پرویـ سحبان ولید اوستاد شـ نقاد کلام پاستا استاد بلاغت و معار

صفحہ ١٥٧

عیب اقواء ہے۔

لنا كاللوقح والكلام يمضر

اس کا ترجمہ مرزا قادیانی نے یوں کیا ہے: ”ہم ایک ایسی برکات دیکھ رہے ہیں جو آسمان سے ہمارے لئے اتری ہیں۔ ان اونٹنیوں کی طرح جو حمل دار ہوتی ہیں اور کلام تازہ کی گئی۔“ اس میں متعدد غلطیاں ہیں:

مرزائیو! یہ ہے آپ کے مرزا قادیانی کی اردو میں اعجاز نمائی۔

وزن فاسد ہے۔

و انصرہ چاہئے عیب اقواء ہے۔

قطعه تاریخ بطرز تقریظ

از: فکر لطیف ، ناظم خوش بیان سید محمد عبدالرحمن التخلص بشور عظیم آبادی مقیم مونگیر

علامۂ مولوی غنیمت کہ آلِ علی بوتراب است
عالم فاضل حکیم دانا درّ فنِ ادب کہ آفتاب است
غواص بحار نظم پروین کز درّ عروض فیضیاب است
سحبان ولید اوستادش از قس نواس بہرہ یاب است
نقاد کلام باستانی تنقید کہ می کند صواب است
استاد بلاغت و معانی در فہم کلام انتخاب است

٦٧

صفحہ ١٥٨
تنقید کلام مرزا کرد جزئش ہمہ پر ز آب و تاب ست
ہر شعر قصیدۂ مسیحا مملو از سقم بے حساب ست
ہم قافیہ اش ردی و ابتر ہم سرقۂ فاش و بے حجاب ست
ہم کذب صریح در کلامش این جرأت خانمان خراب ست
قول صادق امام منکم کاذب گوید کہ فی الکتاب ست
نے وزن صحیح نے ضمیرش پیش ہمہ خانۂ خراب ست
اعجاز کہ خواند نظم خود را این خندۂ طفل و شیخ و شاب ست
بیتی نہ ز سقم و عیب خالی این خانہ تمام آفتاب ست
دزدانہ نوشت یک قصیدہ ناقد چو عسس سر حساب ست
یک یک بنمود عیب او فاش ذلت پی سارقان عذاب ست
بنوشت رسالۂ بہ تنقید تحریر کہ کرد لا جواب ست
مرزا چو شنید شور این در گور خودش بہ پیچ و تاب ست
پاداش عمل بصورت مار تا حشر برای او عقاب ست
شادان ہمہ اہل فہم و دانا جز آنکہ عدو جگر کباب ست
این فیصلۂ بصیر ناقد تنقید کہ کرد لاجواب ست
زین پس نکند زبان درازی از بہر خلیل سد باب ست
از ہیبت نیزۂ حجازی رعشہ بجگر و زہرہ آب ست
لرزہ در جسم حامد افتاد از کردۂ خود در اضطراب ست
پیرو کہ کفر یک عزیزش دلدادۂ شوق آنجناب ست
تحلیل حرام و مولوی نام این فیض مسیح مستطاب ست
مقلوب ترازو وزارت در رود چناب چون حباب ست
این جملہ مرید با ارادت در سلک مسیح انتساب ست
اے وائے چنین مسیح و پیرو این خانہ تمام آفتاب ست
سال طبعش بہ جہد شد راست صمصام و حسام این کتاب ست

(١٣٢١ھ،١٣٢٢ھ)

٦٨

PDF 160

انا خاتم النبيين لا نبي بعدي

میں سب سے آخری نبی ہوں میرے بعد کوئی نبی نہیں ہے

ابطال اعجاز مرزا

(حصہ دوم)

حضرت مولانا حکیم غنیمت حسین اشرفیؒ

صفحہ ١٦٠

مرزا قادیانی کے ضمیمہ کتاب نزول المسیح پر ایک نظر

یعنی

قصیدہ اعجازیہ کا بے نظیر جواب

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ حامداً و مصلیاً و مسلماً انا فتحنا لک فتحاً مبیناً (خدا کا ارشاد ہے کہ ہم نے تجھے کھلی کھلی فتح دی)

مرزا قادیانی (اعجاز احمدی ص ٧، خزائن ج ١٩ص ١٠٧) میں لکھتے ہیں: ”آپ صاحبوں پر واضح ہو کہ اس مضمون کے لکھنے کی اس لئے ضرورت پیش آئی کہ موضع مدھلے امرتسر میں باصرار منشی محمد یوسف صاحب کے میرے دو مخلص دوست ایک مباحثہ میں گئے ۔ ہماری طرف سے مولوی محمد سرور صاحب مقرر ہوئے اور فریق ثانی نے مولوی ثناء اللہ کو امرتسر سے طلب کر لیا ۔ اگر مولوی ثناء اللہ صاحب اس بحث میں خیانت اور جھوٹ سے کام نہ لیتے تو اس مضمون کے لکھنے کی ضرورت پیش نہ آتی ۔ لیکن چونکہ مولوی صاحب موصوف نے میری پیشین گوئیوں کی تکذیب میں دروغ گوئی کو اپنا ایک فرض سمجھ لیا ۔ اس لئے خدا تعالیٰ نے مجھے اس مضمون کے لکھنے کی طرف توجہ دلائی ۔ تا سیاہ روئے شود ہر کہ درو غش باشد“

حضرات ناظرین! انصاف سے دیکھیں کہ اس جگہ مرزا قادیانی نے کس قدر چمکتے ہوئے جھوٹ سے کام لیا ہے اور دروغ کو پر فروغ کر کے دکھایا ہے ۔ جیسا کہ ناظرین آئندہ دیکھیں گے ۔ شاید اس جھوٹ کی وجہ یہ ہو کہ مرزا قادیانی کے خیال خام کے موافق مولوی ثناء اللہ صاحب نے مناظرہ میں جھوٹ سے کام لیا تو مرزا قادیانی کو بھی اس کے جواب میں کمر باندھے جھوٹ کا التزام کرنا پڑا ۔ مگر میں کہتا ہوں کہ اس کی یہ وجہ نہیں ہے بلکہ صرف یہی وجہ ہے جو مرزا قادیانی کی زبان سے بے اختیار نکلی ۔

تا سیہ روئے شود ہر کہ درو غش باشد

٢

صفحہ ١٦١

مرزا قادیانی کے سفید جھوٹ

مرزا قادیانی کا جھوٹ نمبر ١

مرزا قادیانی (اعجاز احمدی ص ١، خزائن ج ١٩ ص ١٠٧) میں لکھتے ہیں: ”اے منصفین ہماری کتاب نزول المسیح کے پڑھنے والوں پر جس میں ڈیڑھ سو نشان آسمانی صدہا گواہوں کی شہادت کے ساتھ لکھا گیا ہے، یہ امر پوشیدہ نہیں کہ میری تائید میں خدا کے کامل اور پاک نشان بارش کی طرح برس رہے ہیں اور اگر ان پیشین گوئیوں کے پورا ہونے کے تمام گواہ اکٹھے کئے جائیں تو میں خیال کرتا ہوں کہ وہ ساٹھ لاکھ سے بھی زیادہ ہوں گے۔“

اب جماعت احمدیہ (مرزائیہ) غور کریں کہ مرزا قادیانی کا یہ خیال خام سراسر جھوٹ اور لغو ہے۔ کیونکہ مرزا قادیانی نے جو ڈیڑھ سو نشان نزول المسیح میں گنوائے ہیں اس میں سب تو پیشین گوئی نہیں۔ اگر سو ہی مان لی جائیں اور فی پیشین گوئی کے سو ہی جھوٹے گواہ بھی ہوں تب بھی ان کی تعداد ایک لاکھ سے زیادہ نہیں ہوتی اور مرزا قادیانی تو ساٹھ لاکھ سے بھی زیادہ فرماتے ہیں۔ بالفرض اگر یہ صحیح ہے تو جماعت احمدیہ ابھی صرف ایک ہی لاکھ بلکہ دو، چار ہزار گواہوں کو جنہوں نے اس کو معائنہ کیا ہے بتفصیل بیان کرے تاکہ ہم لوگ بھی ان کو دیکھیں کہ وہ گواہ کس وزن اور قیمت کے ہیں۔ مگر اس جماعت سے یہ امید موہوم بلکہ محال ہے۔

مرزا قادیانی کا جھوٹ نمبر ٢

(اعجاز احمدی ص ٢، خزائن ج ١٩ ص ١٠٨) میں مرزا قادیانی لکھتے ہیں: ”مجھے اس خدا کی قسم ہے جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ وہ نشان جو میرے لئے ظاہر کئے گئے اور میری تائید میں ظہور میں آئے اگر ان کے گواہ ایک جگہ کھڑے کئے جائیں تو دنیا میں کوئی بادشاہ ایسا نہ ہوگا جو اس کی فوج ان گواہوں سے زیادہ ہو۔“

ناظرین! دیکھو کہ یہ کتنا صریح اور صاف جھوٹ ہے اور اس پر یہ دلیری کہ اس کو قسم کھا کر مرزا قادیانی فرماتے ہیں۔ ہاں مرزا قادیانی کو کفارہ قسم کا کیا خوف ہو سکتا ہے۔ جب کبھی اس کی نوبت آئی ایک الہام تازہ گھڑ لیا۔ سارا کفارہ گاؤ خورد ہو گیا۔ اخبار رسالت مورخہ ٢٤؍ دسمبر ١٩١٥ء میں تھا۔ ”جرمنی کے پاس ١٩١٢ء میں بیانوے لاکھ سے بھی زیادہ (فوج) تھی۔“ حضرات ناظرین دیکھیں کہ جب ١٩١٢ء میں صرف جرمنی کے پاس بیانوے لاکھ سے زیادہ فوج تھی تو اب

٣

صفحہ ١٦٢

کتنی فوج ہو گی اور زار روس کے پاس تو اس سے کہیں زیادہ فوج ہے تو کیا مرزا قادیانی کی پیشین گوئیوں کے گواہ ایک کروڑ سے زیادہ ہیں؟ اگر ایسا ہے تو بالفعل جماعت صرف ایک لاکھ بلکہ دو، چار ہزار گواہوں کو بیان کرے تاکہ ناظرین دیکھیں کہ وہ گواہ کیسے ہیں۔ جھوٹے ہیں یا سچے۔ معتبر ہیں یا نہیں۔

ناظرین! میں کہتا ہوں کہ مرزا قادیانی کے گواہ تو جو ہیں وہ ظاہر، لیکن اس میں شک نہیں کہ مرزا قادیانی کے جھوٹ تو اس قدر ہیں کہ تمام دنیا کے بادشاہوں کی فوج اس کے سامنے ہیچ۔ ”لو کان البحر مداداً لا کاذیب المرزا لنفد قبل ان تنفد اکاذیب المرزا“

مرزا قادیانی کا جھوٹ نمبر ٤٩، ٥٠

(اعجاز احمدی ص ٢٠، خزائن ج ١٩ ص ١٠٨) میں لکھتے ہیں: ”میں وہی ہوں جس کے وقت میں اونٹ بیکار ہو گئے اور پیشین گوئی آیت کریمہ: ”واذا العشار عطلت“ پوری ہوئی اور پیشین گوئی حدیث ”ویترکن القلاص فلا یسعیٰ علیھا“ نے اپنی پوری چمک دکھلا دی۔ یہاں تک کہ عرب اور عجم کے ایڈیٹران اور جرائد والے بھی اپنے پرچوں میں بول اٹھے کہ مدینہ اور مکہ کے درمیان جو ریل تیار ہو رہی ہے یہی اس پیشین گوئی کا ظہور ہے جو قرآن وحدیث میں ان لفظوں سے کی گئی تھی جو مسیح موعود کے وقت کا یہ نشان ہے۔“

یہاں مرزا قادیانی نے تین جھوٹ یکے بادیگرے جمع کر دیئے ہیں۔ میں ان کو تفصیل سے بیان کرتا ہوں۔ سب سے پہلے جو آپ نے قرآن کی آیت لکھی ہے اور خواہ مخواہ اسے پیشین گوئی فرما کر مسیح موعود کی علامت بتایا ہے۔ حالانکہ آیت کو اس سے کچھ تعلق نہیں۔ اوپر سے میں نقل کر کے اس کا مطلب اردو میں لکھتا ہوں۔ ناظرین اسے دیکھیں اور پھر مرزا قادیانی کی تفسیر کی داد دیں۔ ”اذا الشمس کورت٭ واذا النجوم انکدرت٭ واذا الجبال سیرت٭ واذا العشار عطلت٭ واذا الوحوش حشرت٭ واذا البحار سجرت٭ واذا النفوس زوجت٭ واِذا المؤودہ سئلت٭ بایّ ذنب قتلت٭ واذا الصحف نشرت٭ واذا السماء کشطت٭ واذا الجحیم سعرت٭ واذا الجنۃ ازلفت٭ علمت نفس ما احضرت“ یعنی جب آفتاب تاریک ہو جائے۔ ستاروں کی روشنی مدھم ہو جائے۔ پہاڑ حرکت میں آجائیں۔ اونٹنیاں جو جننے کے قریب ہیں بیکار چھوڑ دی جائیں۔ صحرائی جانور آبادی میں آگھریں۔ دریا پاٹ دیئے جائیں۔ مردے زندہ کئے جائیں۔ زندہ درگور بچے کی باز پرس کی ٤

صفحہ ١٦٣

جائے کہ کس گناہ میں مارے گئے۔ نامہ اعمال کھولے جائیں۔ آسمان کھینچ لیا جائے۔ دوزخ گرم کی جائے۔ جنت قریب کردی جائے تو اس وقت ہر شخص اپنے اعمال کو جان لے گا۔

اب میں جماعت احمدیہ سے پوچھتا ہوں کہ کیا یہ تمام نشانیاں مسیح موعود کی ہیں؟ اگر ایسا ہے تو بتائیں کہ ان آیات میں وہ کون سا لفظ اور جملہ ہے جس سے اس کی طرف ضعیف سا بھی اشارہ ہو؟ دوسرے یہ بتائیں کہ کیا یہ تمام چیزیں ہوگئیں اور سب کا ظہور ہوگیا؟ کیا آفتاب تاریک ہوگیا؟ کیا ستاروں کی روشنی مدھم ہوگئی؟ کیا پہاڑ حرکت میں آگئے؟ کیا صحرائی جانور آبادی میں آگھرے؟ کیا دریا بھر دیئے گئے؟ وغیرہ وغیرہ۔ اصل یہ ہے کہ یہ سب قیامت کے آثار سے ہیں۔ العشار ان اونٹنیوں کو کہتے ہیں جس کے جننے کے دن قریب ہوں۔ چونکہ عرب ان اونٹنیوں کو ایسے وقت میں عزیز رکھتے ہیں اور حفاظت کرتے ہیں اور سواری نہیں کرتے ہیں۔ خدا نے ارشاد فرمایا کہ قیامت کا دن ایسا ہولناک ہوگا اور ایسی بے خبری ہوگی کہ عرب گابھن اونٹنیوں کو بھی غیر محفوظ چھوڑ دیں گے۔

اب بتاؤ یہ گابھن اونٹنیوں کو بیکار چھوڑ دینا مسیح موعود کی نشانی کس طرح ہوگئی؟ اس لئے مرزا قادیانی کے اس کلام میں یہ پہلا جھوٹ ہے۔ اب جو شخص خدا پر افتراء کرنے میں نہ شرمائے اور خدا کی طرف وہ باتیں منسوب کرے جو خدا نے نہیں کہیں تو ایسے شخص کی بیباکی کا کیا ٹھکانا ہے۔

اب حدیث شریف کی نسبت عرض ہے۔ پہلے پوری حدیث لکھ کر اس کے معنی بیان کرتا ہوں تاکہ ناظرین کو پوری کیفیت مرزا قادیانی کے صدق کی معلوم ہو۔ ”عن ابی هریرة قال قال رسول الله ﷺ والله لينزلن ابن مريم حكماً عادلاً فليكسرن الصليب وليقتلن الخنزير وليتركن القلاص فلا يسعى عليها ولتذهبن الشحناء التباغض والتحاسد وليدعون الى المال فلا يقبله احد (رواه مسلم، مشکوۃ باب نزول عيسىٰ عليه السلام)“ حضرت ابو ہریرہؓ کہتے ہیں کہ رسول خداﷺ نے فرمایا کہ بخدا ابن مریم آسمان سے اتریں گے فیصلہ کرنے والے منصف ہوکر۔ پھر توڑیں گے صلیب کو اور ماریں گے سور کو اور موقوف کر دیں گے جزیہ (کافروں پر حفاظت کا ٹیکس) اور چھوڑی جائیں گی جوان اونٹنیاں تو ان پر سواری نہ کی جائیں گی اور عداوت و کینہ وحسد سب دور ہوجائیں گے اور لوگ مال کے لئے لوگوں کو بلائیں گے۔ مگر کوئی نہ لے گا۔

٥

صفحہ ١٦٤

حضرات ناظرین! دیکھیں کہ اس حدیث میں نزول ابن مریم علیہ السلام کا ذکر ہے اور ان کے تشریف لانے سے دنیا میں جو عدل وانصاف ہوگا اور بلائیں دور ہوں گی۔ سہولت سفر ہوگی اور جو برکات نازل ہوں گی ان کا بیان ہے۔ نہ اس میں مرزا غلام احمد قادیانی کا کوئی ذکر ہے نہ مکہ اور مدینہ کے درمیان سہولت سفر کی کوئی تخصیص ہے۔ معزز ناظرین سے میں پوچھتا ہوں کہ کیا مرزا قادیانی ابن مریم تھے؟ ہرگز نہیں۔

کیا مرزا قادیانی نے صلیب کو توڑا اور توحید کا غلبہ عیسائیت پر ہوا۔ کیا آج دنیا میں مسلمانوں بلکہ مرزائیوں کی تعداد عیسائیوں سے زیادہ ہے؟ نہیں ہرگز نہیں۔ کیا مرزا قادیانی نے کافروں سے جزیہ یعنی ٹیکس حفاظت موقوف کر دیا اور اٹھا دیا کیونکہ مسیح موعود کی ایک علامت یہ بھی ہے۔ کیونکہ وہ کافروں کو قتل کریں گے یا مسلمان بنائیں گے اور جزیہ لے کر اپنے ملک میں کافروں کو نہیں رہنے دیں گے۔ تمام مسلمان ہی مسلمان نظر آئیں گے۔ مگر مرزا قادیانی کی وجہ سے یہ سب کچھ نہیں ہوا۔ بلکہ اس کا الٹا ہوا۔ عیسائیوں نے مسلمانوں پر ٹیکس بڑھا دیا ہے۔ کیا اب اونٹنیوں پر سفر نہیں کیا جاتا ہے؟ ہرگز نہیں۔ کیا عداوت، بغض، کینہ لوگوں سے دور ہو گیا؟ نہیں ۔ بلکہ اس کا الٹا ہو گیا۔ مرزا قادیانی کے تشریف لانے سے خود مسلمانوں میں تفرقہ ہوا اور ایک نیا فرقہ مرزا قادیانی نے بنا دیا جو تمام مسلمانوں کو کافر کہتا ہے اور ان کے پیچھے نماز پڑھنے کو ناجائز بتاتا ہے۔

اور کیا مرزا قادیانی کے آنے سے لوگ ایسے امیر ہو گئے کہ ان کو روپیہ پیسہ کی حاجت نہ رہی اور کیا ان کو روپے دیئے جاتے ہیں اور وہ نہیں لیتے؟ ہرگز نہیں۔ مرزا قادیانی کے تشریف لانے سے یہ سب تو کچھ نہ ہوا۔ البتہ قحط سالی ہوئی۔ طاعون و پلیگ ہوا۔ لوگ قحط سالی کی وجہ سے مفلس ہوئے، تباہ ہوئے۔ افسوس قادیان جسے دارالامان کہا جاتا تھا اور وہ اس کے رسول کا تخت گاہ ہے۔ اس میں بھی پلیگ ہوا اور حضرات مرزائی بھی مرے۔ جس کی وجہ سے مرزا قادیانی نے اپنا جلسہ بھی ایک سال بند کیا۔ ہاں مرزا قادیانی کی وجہ سے یہ ہوا کہ تمام لوگوں پر مختلف بلائیں آسمانی اور دنیاوی آفتیں نازل ہوئیں۔ یہ ہے اس کلام میں مرزا قادیانی کا دوسرا جھوٹ۔ اب تیسرے جھوٹ کو ملاحظہ فرمائیے: ”یہاں تک کہ عرب وعجم کے ایڈیٹران اخبار اور جرائد والے بھی اپنے پرچوں میں بول اٹھے کہ مکہ اور مدینہ کے درمیان جو ریل تیار ہو رہی ہے یہی اس پیشین گوئی کا ظہور ہے جو قرآن وحدیث میں ہے۔“ مرزا قادیانی کو بتانا تھا کہ عرب اور عجم کے کن ایڈیٹروں

٦

صفحہ ١٦٥

اور صاحبان جرائد نے اس پیشین گوئی کے متعلق کیا لکھا تا کہ ناظرین اسے دیکھتے اور معلوم کرتے کہ کس طرح ان ایڈیٹروں نے اسے پیشین گوئی کا مصداق ٹھہرایا۔ اس کے سوا عرض یہ ہے کہ اگر بالفرض مان لیا جائے کہ قرآن وحدیث میں اسی پیشین گوئی کا ذکر ہے۔ جس کو مرزا قادیانی فرماتے ہیں: ”اور تمام عرب وعجم کے اخبار والے بھی ان کی تائید میں اپنے پرچوں میں بول اٹھے۔“ یہ سب کچھ ہوا اب سوال یہ ہے کہ کیا مکہ اور مدینہ کے درمیان ریل چلی اور اونٹ بیکار ہوئے؟ لیکن مرزا قادیانی کی قسمت پر سخت افسوس ہے کہ اس کا بھی جواب نفی میں دیا جاتا ہے۔ یعنی اس وقت تک مکہ معظمہ اور مدینہ طیبہ کے درمیان ریل نہ چلی اور نہ اونٹ بیکار ہوئے۔ ریل کی پٹری آئی سب سامان جدہ پہنچا مگر مرزا قادیانی کی پیشین گوئی کا یہ اثر ہوا کہ پٹری وغیرہ سارا سامان پڑا کا پڑا رہ گیا۔ یہاں تک کہ مرزا قادیانی دنیا سے رخصت ہوئے اور نہ لائن تیار ہوئی نہ ریل چلی۔ اے کاش مرزا قادیانی یہ پیشین گوئی نہ فرماتے تو خدا اسے ضرور پورا کرتا اور بیچارے حاجیوں کی تکلیف رفع ہوتی۔ مدینہ سے دمشق سینکڑوں کوس ریل چلنے لگی۔ لیکن حجاز ریلوے لائن اب تک یونہی پڑی کی پڑی رہ گئی۔ سچ ہے۔

قدم نا مبارک مسعود
گر بدریا رود برآرود دود

مرزا قادیانی کا جھوٹ نمبر ١٠٦، ١٠٧، ١٠٨، ١٠٩، ١١٠

اس کے بعد مرزا قادیانی (اعجاز احمدی ص٢، خزائن ج١٩ ص١٠٨) میں لکھتے ہیں: ”ایسا ہی خدا کی تمام کتابوں میں خبر دی گئی تھی کہ مسیح موعود کے وقت میں طاعون پھیلے گی اور حج روکا جائے گا اور ذوالسنین ستارہ نکلے گا اور ساتویں ہزار کے سر پر وہ موعود ظاہر ہوگا جو مقدر ہے جو دمشق کے شرقی سمت میں اس کا ظہور ہو اور نیز وہ صدی کے سر پر اپنے تئیں ظاہر کرے گا جب کہ صلیب کا بہت غلبہ ہوگا۔ سو آج وہ سب باتیں پوری ہوگئیں۔“

ناظرین! ان چمکتے ہوئے روشن جھوٹوں کو دیکھیں کہ: ”خدا کی تمام کتابوں میں ان سب آثار کے متعلق خبر دی گئی ہے۔“ دور نہ جاؤ قرآن شریف ہی کو لو جو ہر مسلمان دیندار کے گھر میں موجود ہے اور خدا کی تمام کتابوں میں داخل ہے۔ کیا آج کوئی ہے جو بتا سکے کہ قرآن مجید میں یہ آثارات مسیح موعود کے لئے لکھے ہیں۔ میں دعویٰ کے ساتھ کہتا ہوں کہ ہرگز اس قرآن مجید میں جو مسلمانوں کے ہاتھوں میں ہے، یہ آثارات مسیح موعود کے لئے نہیں ہیں اور نہ کوئی دکھا سکتا ہے۔

٧

صفحہ ١٦٦

ہاں ! حضرات مرزائی اگر ان آثارات کو اس قرآن مجید میں دکھا دیں تو ہو سکتا ہے جس میں ان کے مرشد نے ”اذا العشار عطلت“ کو مسیح موعود کی علامت بتایا۔ اس میں مرزا قادیانی نے چھ علامتیں بتائیں ہیں۔ اس لئے اس کلام میں ان کے یہ چھ جھوٹ ہوئے۔

مرزا قادیانی کا جھوٹ نمبر ١٢، ١٣

پھر (اعجاز احمدی ص ٢، خزائن ج ١٩ ص ١٠٨) میں لکھتے ہیں: ”اور میری تائید میں میرے ہاتھ پر خدا نے بڑے بڑے نشان دکھلائے۔ آتھم کی موت ایک بڑا نشان تھا جو پیشین گوئی کے مطابق ظہور میں آیا۔“

یہاں تو مرزا قادیانی نے نہایت ہی دیانت اور سچائی سے کام لیا اور بڑی جرات کو کام فرمایا۔ بقول شخصے دروغگویم بروئے تو۔ اولاً تو کوئی معمولی نشان بھی خدا نے مرزا قادیانی کی تائید میں نہیں دکھایا اور بڑے نشان تو بڑی بات ہے۔ اگر کوئی نشان ہے تو جماعت احمدیہ اس کو پیش کرے۔ اگر مرزا قادیانی کی پیشین گوئیاں بڑے نشان ہیں تو ان کی دھجیاں مولوی ثناء اللہ صاحب نے ”الہامات مرزا“ میں خوب اڑائیں ہیں۔ آتھم کی پیشین گوئی جس کو بڑا نشان فرمایا ہے۔ اس میں تو مرزا قادیانی کی ایسی ذلت ہوئی کہ خدا دشمن کو بھی نصیب نہ کرے۔ مگر مرزا قادیانی ہی تھے کہ زندہ رہے۔ اس کا خلاصہ یوں ہے کہ مرزا قادیانی اور آتھم عیسائی سے امرتسر میں مناظرہ ہوا اور پندرہ دن تک مناظرہ رہا۔ مناظرہ کے اختتام پر مرزا قادیانی نے یہ پیشین گوئی آتھم کے متعلق کی کہ وہ پندرہ مہینہ میں مرجائے گا۔ وہ بوڑھا آدمی مرزا قادیانی کے ہمسن تھا۔ مرزا قادیانی نے خیال فرمایا کہ اگر مر گیا تو بازی جیتی اور نہیں مرا تو پھر کوئی الہام گھڑ لیں گے۔ یہ تو گھر کی کھیتی ہے۔ چنانچہ پانچویں ستمبر ١٨٩٤ء کو اس کی میعاد ختم ہوئی اور آتھم صحیح وسالم رہا اور ٦ ستمبر کو عیسائیوں نے بڑی خوشی کی اور فیروز پور سے آتھم کو امرتسر واپس لائے اور اشتہار اور اعلان دیا۔ بعض اشعار اس کے ناظرین کے تفریح طبع کے لئے لکھتا ہوں۔

پنجہ آتھم سے مشکل ہے رہائی آپ کی توڑ ہی ڈالیں گے یہ نازک کلائی آپ کی
آتھم اب زندہ ہے آکر دیکھ لو آنکھوں سے خود بات کب یہ چھپ سکے ہے اب چھپائی آپ کی

اب خواہ مخواہ مرزا قادیانی لکھتے ہیں کہ آتھم کی موت ایک بڑا نشان تھا جو پیشین گوئی کے مطابق ظہور میں آیا۔ لیکن مرزا قادیانی کا عمل تو اس پر ہے شرم چہ ...... کہ پیش مردان بیاید۔

٨

صفحہ ١٦٧

مرزا قادیانی کا جھوٹ نمبر ١٤

پھر (اعجاز احمدی ص ٣، خزائن ج ١٩ ص ١٠٩) میں لکھتے ہیں: ”دیکھو لیکھرام کی نسبت جو پیشین گوئی کی گئی تھی اس میں صاف بتلایا گیا تھا کہ وہ چھ برس کے اندر قتل کے ذریعہ سے ہلاک کیا جائے گا اور عید کے دن سے وہ دن ملا ہوا ہوگا۔ وہ کیسی صفائی سے پوری ہوئی۔“

مرزا قادیانی کی اس پیشین گوئی کا خلاصہ یہ ہے کہ پنڈت لیکھرام پشاوری پر چھ برس کے اندر کوئی ایسا عذاب نازل ہوگا جو معمولی تکلیفوں سے نرالا اور خارق عادت ہے اور اپنے اندر ہیبت الہی رکھتا ہوگا۔ واقعہ یہ ہے کہ لیکھرام چھری سے قتل کیا گیا اور ایسے واقعات ہوا ہی کرتے ہیں۔ خصوصاً پنجاب کے علاقہ میں تو ایسی وارداتیں بکثرت ہوتی ہیں نہ یہ معمولی تکلیفوں سے نرالا ہے اور نہ خارق عادت ہے، نہ اپنے اندر ہیبت الہی رکھتا ہے۔ اگر ناظرین اس کی تفصیل دیکھنا چاہیں تو (الہامات مرزا ص ٤٥) میں دیکھیں اس پر مرزا قادیانی کا یہ فرمانا کہ کیسی صفائی سے پوری ہوئی کس قدر عبرت انگیز اور شرمناک بات ہے؟

اس کے بعد مرزا قادیانی مولویوں کو اندھا، یہودی، عیسائی بتاتے ہوئے ایک یہودی کا قول حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی پیشین گوئیوں کی نسبت نقل کر کے (اعجاز احمدی ص ٥، خزائن ج ١٩ ص ١١١) میں لکھتے ہیں: ”اب بتلاؤ کہ اس یہودی اور مولوی محمد حسین اور میاں ثناء اللہ کا دل باہم مشابہ ہیں یا نہیں۔“

مجھے مرزا قادیانی کی ذات پر سخت افسوس ہے کہ مسیح موعود ہو کر تمام عمر میں دو چار یہودیوں اور عیسائیوں کو تو مسلمان نہ کر سکے البتہ مسلمانوں کو یہودی اور نصرانی بنا چھوڑا۔ خیر مولوی ثناء اللہ اور مولوی محمد حسین صاحب کا دل تو یہودیوں سے جس طرح مشابہ ہے اسے تو میں ناظرین کے فیصلہ پر چھوڑتا ہوں۔ مگر میں یہاں یہ دکھاتا ہوں کہ جھوٹے مدعیان نبوت اور دجالوں کے حالات اکثر باہم مشابہ ہوئے۔

مدعی مہدویت شیخ محمد جونپوری اور مرزا قادیانی

چنانچہ مرزا قادیانی کے پہلے جونپور میں ایک شخص شیخ محمد ٨٤٧ھ میں پیدا ہوا۔ اس نے چونکہ یہ سنا تھا کہ مہدی کے ہاتھ پر خلق، رکن اور مقام (مکہ میں حرم محترم میں جگہ کا نام ہے) کے درمیان بیعت کرے گی۔ اس واسطے اس نے بھی اس مقام میں دعویٰ ”من اتبعنی فهو مؤمن“ (یعنی جس نے میری پیروی کی وہی مؤمن ہے) کا کیا اور میاں نظام اور قاضی علاء الدین

٩

صفحہ ١٦٨

آمَنَّا وَصَدَّقْنَا (ہم ایمان لائے اور تصدیق کی) بول کر جھٹ بیعت کر لی تاکہ یہ ٹوٹکا بھی ادا ہو جائے اور بولے کہ دو گواہ بس ہیں۔

(ہدیہ مہدویہ ص ٣٧)

شیخ محمد کا یہ پہلا دعویٰ مہدویت یا نبوت کا مکہ معظمہ حرم محترم میں سن ٩٠١ھ میں ہوا ہے اور واپس آنے پر پھر کچھ دنوں کے بعد دوسرا دعویٰ مہدویت کا سن ٩٠٣ھ میں کیا اور تیسرا دعویٰ بڑے زور کا سن ٩٠٥ھ میں کیا۔

(ہدیہ مہدویہ ص ٣٨) میں اس آخری دعویٰ کا حال اس طرح لکھا ہے: ”چونکہ مدت سے یہ مریدین شیخ کے درپے تھے کہ دعویٰ مہدویت کا کرو اور بار بار اس کے خواہاں تھے اور شیخ ہر چند ٹالتے چلے جاتے تھے۔ یہ لوگ تقاضا نہیں چھوڑتے تھے۔ چنانچہ پاس خاطر ان کے دو بار اس سے پہلے دعویٰ کیا تھا۔ لیکن بعد اس کے سکوت اختیار کیا تھا۔ اس پر چنداں اصرار نہ تھا کہ اب سب نے کمال اصرار کیا۔ شیخ بھی تیار ہو گئے اور فرمایا کہ مجھ کو اٹھارہ برس سے بار بار حکم خدا کا بلا واسطہ ہوتا ہے کہ دعویٰ کر۔ میں ٹالتا چلا جاتا ہوں۔ اب مجھ کو حکم ہوا ہے کہ اے سید محمد! دعویٰ مہدویت کہلانا ہوا۔ تو کہلا نہیں تو ظالموں میں کروں گا۔ اس واسطے میں بصحت عقل وحواس دعویٰ کرتا ہوں۔ ”انا مھدی مبین مراد الله“ اور اپنا چمڑا دونوں انگلیوں سے پکڑ کر کہا کہ جو کہ مہدویت اس ذات سے منکر ہوئے، وہ کافر ہے اور میں خدا سے بے واسطے احکام وغیرہ لیا کرتا ہوں اور فرمان حق تعالیٰ کا ہوتا ہے کہ علم اولین اور آخری کا تجھ کو دیا اور بیان معنی قرآن اور کنجی خزانہ ایمان کی تجھ کو دی ہم نے۔ تجھے جو قبول کرے وہ مومن ہے اور تیرا جو منکر ہووے وہ کافر ہے۔ اسی طرح بہت سی باتیں خدائے پاک کی طرف نسبت کیں۔ خوند میر اور تمام اصحاب کہ تین سو ساٹھ تھے۔ اپنا عین مقصود جان کر پکارے کہ امنا وصدقنا“

اب ناظرین مرزا قادیانی کے اقوال اور جونپوری کے اقوال کا مقابلہ کر کے دیکھیں کہ کس قدر مشابہ ہیں۔

مرزا غلام احمد قادیانی شیخ محمد جونپوری

(١) ”پھر میں قریباً بارہ برس تک جو ایک زمانہ دراز ہے بالکل اس سے بے خبر اور غافل رہا کہ خدائے مجھے بڑی شدومد سے براہین میں مسیح موعود قرار دیا ہے اور میں حضرت عیسیٰ کے آمد ثانی کے رسمی عقیدہ پر جما رہا۔ جب بارہ برس گزر گئے تب وہ وقت آگیا کہ میرے پر اصل حقیقت کھول دی جائے۔ تب تواتر سے اس بارہ میں الہامات شروع ہوئے کہ تو ہی مسیح موعود ہے۔“

(اعجاز احمدی ص ٧ خزائن ج ١٩ ص ١١٣)

(١) ”اور (شیخ نے) فرمایا کہ مجھ کو اٹھارہ برس سے بار بار حکم خدا کا بلاواسطہ ہوتا ہے کہ دعویٰ کر۔ میں ٹالتا چلا جاتا ہوں۔ اب مجھ کو یہ حکم ہوا کہ اے سید محمد! دعویٰ مہدویت کہلانا ہو تو کہلا نہیں تو ظالموں میں کروں گا۔“

(ہدیہ مہدویہ ص ٣٨)

١٠

(٢) ”اور تو ہی اس آیت کا مصداق ہے ۔ 'ھو الذی ارسل رسولہ بالھدی و دین الحق لیظہرہ الدین کلہ“ (اعجاز احمدی ص ایضاً) یعنی وہ عزیز اور قادر خدا ہے۔ جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور سچا دین دے کر بھیجا تاکہ تمام ادیان باطلہ پر اس رسول کو غلبہ دے۔“ اور مجھے حکم ہوا کہ ”فاصدع بما تؤمر“ یعنی جو تجھے حکم ہوتا ہے وہ کھول کر لوگوں کو سنا دے۔“

(اعجاز احمدی ص ٧ خزائن ج ١٩ ص ١١٣)

(٣) ”اب دیکھو خدا نے میری وحی اور تعلیم اور میری بیعت کو نوح کی کشتی قرار دیا اور تمام انسانوں کے لئے مدار نجات ٹھہرایا۔“

(اربعین نمبر ٤ ص ٦، خزائن ج ١٧ ص ٤٣٥)

(٤) ”ماسوا اس کے یہ بھی تو سمجھو کہ صاحب شریعت کے کیا معنے ہیں؟ جس نے اپنی وحی کے ذریعہ سے چند احکام بیان کئے اور اپنی امت کے لئے ایک قانون مقرر کیا وہی صاحب شریعت ہو گیا۔ پس اس تعریف کے رو سے بھی ہمارے مخالف ملزم ہیں۔ کیونکہ میری وحی میں امر بھی ہے اور نہی بھی۔ مثلاً یہ الہام 'قل للمؤمنین یغضوا من ابصارہم ویحفظوا فروجہم ذالک ازکی لھم“

(اربعین نمبر ٤ ص ٦، خزائن ج ١٧ ص ٤٣٥)

(٥) ”انت منی بمنزلۃ توحیدی وتفریدی“

(حقیقۃ الوحی ص ١٢٦ حاشیہ خزائن ج ٢٢ ص ١٣٠)

”انت بمنزلۃ ولدی“

(تذکرہ ص ٤٩١)

صفحہ ١٦٩

(٢) اور عالم میاں نے استفتائے کبیر میں لکھا ہے کہ سید محمد جونپوری نے جم غفیر کے سامنے دعویٰ کیا کہ حکم اللہ تعالیٰ کا اس بندہ کو ہوتا ہے کہ آیت ”افمن كان على بينة من ربه“ آخر تک خاص تیری ذات کے حق میں ہے ہم نے ، اور مراد لفظ میں سے ”افمن كان“ میں خاص ذات تیری ہے اور یہ بھی دعویٰ کیا فرمان حق تعالیٰ کا ہوتا ہے کہ آیت ”ثم اورثنا الكتاب الذين اصطفينا من عبادنا“ آخر تک تیری قوم کے حق میں ہے۔

(ہدیہ مہدویہ ص ١١٩)

میاں خوند میر داماد و جانشین شیخ جونپوری مکتوب ملتانی میں لکھتے ہیں کہ حق تعالیٰ کلام خویش خبر دادم ان علينا بيانه.

(بلسان المہدی ص ١١٨)

(٢)”اور تو ہی اس آیت کا مصداق ہے۔ ”هو الذی ارسل رسوله بالهدى ودين الحق ليظهره على الدين كله“ (اعجاز احمدی ص ایضاً) یعنی وہ عزیز اور غالب خدا ہے۔ جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور سچا دین دے کر بھیجا تا کہ تمام ادیان باطلہ پر اس رسول کو فتح دے۔“ اور مجھے حکم ہوا کہ ”فاصدع بما تؤمر“ یعنی جو تجھے حکم ہوتا ہے وہ کھول کر لوگوں کو سنا دے۔“

(اعجاز احمدی ص ٧، خزائن ج ١٩ ص ١١٤)

(٣) تصدیق مہدویت سید جونپوری کی فرض ہے اور انکار ان کی مہدویت کا کفر ہے۔

(ہدیہ مہدویہ ص ١٦، ١٧)

(٣)”اب دیکھو خدا نے میری وحی اور تعلیم اور میری بیعت کو نوح کی کشتی قرار دیا اور تمام انسانوں کے لئے مدار نجات ٹھہرایا۔“

(اربعین نمبر ٣ ص ٦، خزائن ج ١٧ ص ٤٣٥ حاشیہ)

(٤) عقیدہ شانزدہم یہ کہ (مہدویہ) شیخ محمد صاحب جونپوری کو نبی بلکہ رسول صاحب شریعت تازہ جانتے ہیں۔

(ہدیہ مہدویہ ص ٢٣)

(چنانچہ) شواہد کے تیرھویں باب میں لکھا ہے کہ مہدویت اور نبوت میں نام کا فرق ہے اور کام اور مقصود ایک ہے۔

(ہدیہ مہدویہ ص ٢٤)

(٤)”ماسوا اس کے یہ بھی تو سمجھو کہ صاحب شریعت کیا چیز ہے۔ جس نے اپنی وحی کے ذریعہ سے چند امر ونہی بیان کئے اور اپنی امت کے لئے ایک قانون مقرر کیا وہی صاحب شریعت ہو گیا۔ پس اس تعریف کی رو سے بھی ہمارے مخالف ملزم ہیں۔ کیونکہ میری وحی میں امر بھی ہے اور نہی بھی۔ مثلاً یہ الہام ”قل للمؤمنین یغضوا من ابصارهم ويحفظوا فروجهم ذالك ازكى لهم“

(اربعین نمبر ٤ ص ٦، ایضاً)

(٥) عقیدہ پنجم سید محمد جونپوری سوائے محمد ﷺ کے افضل ہیں، ابراہیم وموسیٰ وعیسیٰ ونوح و آدم اور تمام انبیاء اور مرسلین سے۔

(ہدیہ مہدویہ ص ١٧)

(٥)”انت منى بمنزلة توحيدی وتفریدی“

(حقیقت الوحی ص ٦٨ حاشیہ، خزائن ج ٢٢ ص ١٧٠)

”انت بمنزلة ولدی“

(تذکرہ ص ٥٢٦، طبع سوم)

١١

صفحہ ١٧٠

(٦) عقیدہ ہفتم یہ کہ جو احادیث رسول خدا کے اور تفاسیر قرآن اگر چہ کیسی ہی روایات صحیحہ سے مروی ہوں۔ لیکن شیخ جونپور کے بیان اور احوال سے مقابل کر کے دیکھنا اگر مطابق ان کے احوال کے ہوویں۔ صحیح جاننا ورنہ غلط جاننا۔

(ہدیہ مہدویہ ص١٧)

(٦)”مگر ہم بادب عرض کرتے ہیں کہ پھر وہ حکم کا لفظ جو مسیح موعود کی نسبت صحیح بخاری میں آیا ہے اس کے ذرا معنی تو کریں۔ ہم تو اب تک یہی سمجھتے تھے کہ حکم اس کو کہتے ہیں کہ اختلاف رفع کرنے کے لئے اس کا حکم قبول کیا جائے اور اس کا فیصلہ گو وہ ہزار حدیث کو بھی موضوع قرار دے ناطق سمجھا جائے۔“

(اعجاز احمدی ص٢٩، خزائن ج١٩ ص١٤٩)

”ہاں تائیدی طور پر ہم وہ حدیثیں بھی پیش کرتے ہیں جو قرآن شریف کے مطابق ہیں اور میری وحی کے معارض نہیں اور دوسری حدیثوں کو ہم ردی کی طرح پھینک دیتے ہیں۔“

(اعجاز احمدی ص٣٠، خزائن ج١٩ص١٤٠)

حضرات ناظرین! انصاف سے فرمائیں کہ شیخ محمد جونپوری اور ان کی جماعت اور مرزا غلام احمد قادیانی اور ان کی جماعت کا دل باہم مشابہ ہیں یا نہیں؟ ضرور ہیں۔ اور لطف یہ ہے کہ دونوں ہی حضرات اپنے کو تمام انبیاء اور مرسلین سے افضل بتاتے ہیں۔ اس کا فیصلہ مشکل ہے کہ ان دونوں میں دجل میں فاضل کون ہے اور مفضول کون۔ ”اللهم اهد قومی فانهم لا يعلمون“

مرزا قادیانی کا جھوٹ نمبر١٥، ١٦، ١٧

پھر مرزا قادیانی (اعجاز احمدی ص٥، خزائن ج١٩ ص١١٤،١١١) میں لکھتے ہیں: ”ہاں وعید کی پیشین گوئیاں جیسا کہ آتھم کی پیشین گوئی یا احمد بیگ کے داماد کی پیشین گوئی، ایسی پیشین گوئیاں ہیں جن کی قرآن اور توریت کے رو سے تاخیر بھی ہو سکتی ہے اور ان کا التواء ان کے کذب کو مستلزم نہیں۔ کیونکہ خدا اپنے وعید کے روکنے پر اختیار رکھتا ہے۔ جیسا کہ مسلمانوں اور عیسائیوں کا یہی عقیدہ ہے۔ کیونکہ یونس نبی کی پیشین گوئی جو عذاب کے لئے تھی۔ اس کے ساتھ کوئی شرط توبہ وغیرہ کی نہیں تھی۔ تب بھی عذاب ٹل گیا۔ کوئی مسلمان یا عیسائی نہیں کہہ سکتا کہ یونس جھوٹا تھا۔ دیکھو کتاب یوحنا نبی اور درمنثور۔“

اس میں مرزا قادیانی نے تین جھوٹ بولے۔ پہلا جھوٹ یہ ہے کہ وعید کی پیشین گوئیوں میں قرآن اور توریت کے رو سے تاخیر بھی ہو سکتی ہے۔ یہ کیسا گندا اور بدبودار جھوٹ ہے۔ قرآن کی کسی آیت اور توریت کے کسی باب میں یہ ہرگز نہیں ہے کہ خدا وعید کے پیش گوئیوں میں وقت سے

١٢

صفحہ ١٧١

تاخیر کر دیتا ہے۔ خصوصاً وہ پیشین گوئیاں جن کو نبی اپنی نبوت کے لئے نشان قرار دے اور معیار صداقت ٹھہرائے۔ اگر ایسا ہے تو میں جماعت احمدیہ سے پکار کر کہتا ہوں کہ وہ مرزا قادیانی کے اس دعوے کو قرآن اور توریت سے ثابت کریں۔ دوسرا جھوٹ یہ ہے کہ مسلمان اور عیسائیوں کا یہی عقیدہ ہے۔ یہ بھی کس قدر سیاہ جھوٹ ہے۔ ہرگز یہ عقیدہ کسی دیندار مسلمان کا نہیں ہے۔ بلکہ یہ عقیدہ محض مرزا قادیانی اور ان کے حواریوں کا ہے۔ تیسرا جھوٹ یہ ہے کہ حضرت یونس علیہ السلام کی پیشین گوئی جو عذاب کے لئے تھی باوجود شرط توبہ وغیرہ نہ ہونے کے بھی عذاب ٹل گیا۔ یہ بھی سفید جھوٹ ہے۔ قرآن شریف سے نہ حضرت یونس علیہ السلام کے عذاب کے لئے کوئی پیشین گوئی معلوم ہوتی ہے اور نہ پیشین گوئی کو اپنے لئے معیار صداقت بتانا معلوم ہوتا ہے۔

مرزا قادیانی کا جھوٹ نمبر ١٨، ١٩، ٢٠

پھر (اعجاز احمدی ص ٧١ خزائن ج ١٩ ص ١١٢) میں لکھتے ہیں: ”اب کس قدر تعجب کی جگہ ہے کہ میرے مخالف میرے پر وہ اعتراض کرتے ہیں جس کے رو سے ان کو اسلام ہی سے ہاتھ دھونا پڑتا ہے۔ اگر ان کے دل میں تقویٰ ہوتا تو ایسے اعتراض کبھی نہ کرتے۔ جن میں دوسرے نبی شریک غالب ہیں اور پھر تعجب یہ کہ ہزار ہا پیشین گوئیوں پر جو عین صفائی سے پوری ہو گئیں ان پر نظر نہیں ڈالتے اور اگر کوئی ایک پیشین گوئی اپنی حماقت سے سمجھ میں نہ آوے تو بار بار اس کو پیش کرتے ہیں۔ کیا یہ ایمانداری ہے۔ اگر ان کو طلب حق ہوتی تو ان کے لئے طریقہ تصفیہ آسان تھا کہ وہ خود قادیان میں آتے اور میں ان کی آمد ورفت کا خرچ بھی دے دیتا اور بطور مہمانوں کے ان کو رکھتا۔ تب وہ دل کھول کر اپنی تسلی کر لیتے۔ دور بیٹھے بغیر دریافت پوری حقیقت کے اعتراض کرنا بجز حماقت یا تعصب کے اور کیا اس کا سبب ہو سکتا ہے۔“

یہاں بھی حضرت (مرزا قادیانی) نے تین جھوٹ فرما دیئے۔ پہلا جھوٹ تو یہ ہے کہ مرزا قادیانی کی طرح سے دوسرے نبیوں کی پیشین گوئیاں بھی جھوٹی ہوئیں اور پیشین گوئیوں کے جھوٹے ہونے کا جو اعتراض مرزا قادیانی پر کیا جاتا ہے بعینہ وہی اعتراض اور انبیاء کرام پر بھی ہوتا ہے یا ہو سکتا ہے۔ لیکن میں با ادب عرض کرتا ہوں کہ ہرگز کسی نبی نے اپنی پیشین گوئی کو اپنے لئے معیار صداقت نہیں ٹھہرایا اور اگر ٹھہرایا ہو تو وہ نہایت صفائی سے پوری ہوئی۔ بخلاف مرزا قادیانی کے کہ وہ اکثر پیشین گوئیوں کو اپنے معیار صداقت ٹھہرا کر کے بھی ہمیشہ تاویلات فاسدہ سے پورا کیا کرتے ہیں۔ دوسرا جھوٹ یہ ہے کہ ہزار ہا پیشین گوئیاں جو عین صفائی سے پوری ہو گئیں۔

١٣

صفحہ ١٧٢

مجھے سخت تعجب اور افسوس ہے مرزا قادیانی کی سمجھ اور عقل پر یا دیدہ و دانستہ تمام لوگوں کے چشم بصیرت پر خاک ڈالنا چاہتے ہیں یا جھوٹ ان کا شیوہ ہو گیا ہے۔ میں دعویٰ کے ساتھ ان کی جماعت سے کہتا ہوں کہ دو چار بھی پیشین گوئیاں مرزا قادیانی کی بشرطیکہ وہ صاف ہوں اور صفائی سے اپنے وقت پر پوری بھی ہوئی ہوں۔ ثابت کریں۔ لیکن ناظرین اطمینان رکھیں کہ ہرگز وہ ایسا نہیں کر سکتے اور نہیں کریں گے۔ چنانچہ مرزا قادیانی نے قادیان کے بارہ میں پیشین گوئی کی کہ: ”یہاں طاعون نہ ہوگا۔ اُس لئے کہ یہ اس کے رسول کا تخت گاہ ہے۔“ (دافع البلاء ص ١٠، خزائن ج ١٨ ص ٢٣٠) اسی وقت سمجھدار حضرات نے کہا کہ اب ضرور قادیان میں پلیگ ہوگا۔ اس لئے کہ خدا جھوٹے کو رسوا کرتا ہے اور ایسا ہی ہوا جیسا کہ ”الہامات مرزا“ میں تفصیل سے مذکور ہے۔ تیسرا جھوٹ یہ ہے کہ وہ خود قادیان آتے۔ افسوس اس پر بھی مرزا قادیانی پورے نہ اترے۔ چنانچہ ١٠؍ جنوری ١٩٠٣ء کو مولوی ثناء اللہ صاحب قادیان پہنچے اور مرزا قادیانی کو خط لکھا کہ میں آپ کا بلایا ہوا آیا ہوں۔ مجمع میں اپنی پیشین گوئیوں کو پیش کیجئے اور جو شبہات ان پر میں ظاہر کروں اسے دفع کیجئے۔ لیکن مرزا قادیانی میدان میں نہ آئے اور گھر ہی سے کاغذی گھوڑے دوڑاتے رہے۔ چنانچہ مولوی ثناء اللہ صاحب نے سارے خطوط اپنے اور ان کے مع مرزا قادیانی کی زبان درازی اور خلق کو (الہامات مرزا ص ١٠١) میں درج کیا ہے۔ جن میں مرزا قادیانی حیرت انگیز چالاکی سے اپنی پیشین گوئیوں کے پڑتال سے بھاگتے ہیں اور فرار پر فرار کو ترجیح دیتے ہیں اور غصہ سے گالی گلوچ سے ان کی مہمان نوازی کرتے ہیں۔ جیسا کہ حالی نے اپنے اشعار میں مرزا قادیانی کی اس حالت کا نقشہ دیا ہے۔

کبھی وہ گلے کی رگیں ہیں پھلاتے کبھی جھاگ پر جھاگ ہیں منہ پہ لاتے
کبھی خوک اور سگ ہیں اس کو بتاتے کبھی مارنے کو عصا ہیں اٹھاتے
ستون چشم بد دور ہیں آپ دین کے نمونہ ہیں خلق رسول امین کے

پھر (اعجاز احمدی ص ٦، خزائن ج ١٩ ص ١١٢) میں لکھتے ہیں: ”ایسا ہی بعض مخالفوں نے حدیبیہ کے سفر پر اعتراض کیا کہ یہ پیشین گوئی پوری نہیں ہوئی اور سفر طول طویل دلالت کرتا تھا کہ آنحضرت ﷺ کی طبیعت کا رجحان اسی طرف تھا کہ ان کو کعبہ کے طواف کے لئے اجازت دی جائے گی۔ جیسا کہ پیش گوئی تھی اس پر بعض بد بخت مرتد ہو گئے اور حضرت عمرؓ چند روز ابتلاء میں رہے اور آخر اس لغزش کی معافی کے لئے کئی اعمال نیک بجالائے جیسا کہ ان کے قول سے ظاہر ہے۔“

١٤

صفحہ ١٧٣

یہاں میں پہلے حدیبیہ کے خواب کا اصل واقعہ لکھتا ہوں۔ اس کے بعد ناظرین کو مرزا قادیانی کے دجل اور جھوٹ کا پورا حال معلوم ہوگا۔

اصل واقعہ یوں ہے کہ سن چھ ہجری میں جناب رسول خدا ﷺ مع جماعت کثیرہ صحابہ کرامؓ مدینہ طیبہ سے مکہ معظمہ عمرہ کے قصد سے تشریف لے چلے۔ راستہ میں حدیبیہ (ایک جگہ کا نام ہے) پہنچ کر آپ ﷺ نے خواب دیکھا کہ ہم بے خوف وخطر مکہ معظمہ میں داخل ہوئے ہیں اور زیارت بیت اللہ سے مشرف ہوئے۔ آپ ﷺ نے اس خواب کو صحابہ کرامؓ سے بیان فرمایا۔ صحابہؓ نے آپ ﷺ کے مختصر بیان سے یہ سمجھا کہ اسی سفر میں ہم لوگ مکہ میں داخل ہو کر زیارت بیت اللہ سے مشرف ہوں گے۔ چونکہ صحابہؓ کی ایک بڑی جماعت ہتھیار بند تھی۔

مکہ کے لوگوں کو خوف ہوا اور حدیبیہ ہی میں ان لوگوں نے ان کو مکہ جانے سے روکا اور فریقین میں صلح ہوئی اور سال آئندہ آنحضرت ﷺ کا مع صحابہ کرامؓ مکہ میں داخل ہونا صلح کی ایک شرط قرار پائی۔ یہ صلح بظاہر دب کر معلوم ہوتی تھی اور چونکہ صحابہؓ عمرہ کے شوق میں چور تھے۔ اس کے سوا جماعت کثیرہ ہتھیار بند جوش شجاعت میں بھری ہوئی تھی۔ اس لئے ان کو یہ صلح ناگوار معلوم ہوتی تھی اور پاس ادب سے کچھ بول بھی نہیں سکتے تھے۔ مگر آنحضرت فداہ ابی وامی کی نتیجہ پر نظر تھی باوجود سخت شرائط کے بھی صلح منظور کرلی اور درحقیقت اس صلح سے بڑے بڑے فائدے مسلمانوں کے ہوئے۔ بلکہ اس کو فتح مکہ کا پیش خیمہ یا مقدمۃ الجیش کہنا چاہئے۔ چنانچہ پیچھے چل کر تمام صحابہؓ نے اس صلح کے فوائد پر اتفاق کیا۔ چونکہ ان کے خیال کے بموجب اصحاب کے تمام امنگوں کا خاتمہ ہوتا تھا۔ اس لئے بے مزہ ہوئے تھے۔ جب آنحضرت ﷺ نے مدینہ کی واپسی کا ارادہ کیا تو حضرت عمرؓ پیش قدمی کر کے عرض کرنے لگے کہ یا رسول اللہ ﷺ ! آپ ﷺ نے تو فرمایا تھا کہ ہم مکہ میں داخل ہو کر زیارت بیت اللہ سے مشرف ہوں گے اور طواف کریں گے۔ آپ ﷺ نے جواباً ارشاد فرمایا کہ ہاں کہا تھا مگر کیا اسی سال جانے کو کہا تھا؟ حضرت عمرؓ نے عرض کیا کہ نہیں اس سال کی تعیین نہیں فرمائی تھی تو ارشاد ہوا کہ ہم نے جانے کو کہا تھا۔ سو جاؤ گے اور طواف کرو گے۔ چنانچہ دوسرے سال میں اس پیشین گوئی کا ظہور ہوا اور آنحضرت ﷺ کے ساتھ صحابہؓ مکہ میں داخل ہوئے اور سن آٹھ ہجری میں فتح مکہ ہوا اور شجاعان اسلام یعنی صحابہ کرامؓ آنحضرت ﷺ کے ساتھ ہتھیار بند مکہ میں داخل ہوئے۔ اس واقعہ سے امور ذیل معلوم ہوئے۔

١٥

صفحہ ١٧٤

...... جب آنحضرت ﷺ سے حضرت عمرؓ نے پوچھا اور آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ ہم نے اسی سال کیا مکہ میں داخل ہونے کو کہا تھا؟ تو حضرت عمرؓ کا یہ کہنا کہ نہیں اس سال کی تعیین نہیں فرمائی تھی۔ صاف بتا رہا ہے کہ آنحضرت ﷺ کے کسی قول یا فعل یا اشارہ سے بھی اس سال کی تعیین نہیں پائی جاتی۔ ورنہ حضرت عمرؓ اس کو ضرور عرض کرتے مگر ایسا نہیں کہا تو معلوم ہوا کہ اس سال کی تعیین کا سمجھنا صحابہ کا اپنا خیال اور گمان تھا۔ یہاں مرزا قادیانی نے جھوٹ کا طومار باندھا ہے۔ ناظرین ملاحظہ فرمائیں۔

مرزا قادیانی کے جھوٹ نمبر ٢١، ٢٢، ٢٣، ٢٤، ٢٥، ٢٦

پہلا جھوٹ یہ ہے اور ایسا ہی بعض مخالفوں نے حدیبیہ کے سفر پر اعتراض کیا ہے کہ یہ پیش گوئی پوری نہیں ہوئی۔ یہ صریح جھوٹ ہے۔ پوچھا تو حضرت عمرؓ نے۔ کیا وہ مرزا قادیانی کے نزدیک مخالفین اسلام میں تھے؟ نعوذ باللہ!

دوسرا اور تیسرا جھوٹ اور سفر طول طویل دلالت کرتا تھا کہ آنحضرت ﷺ کی طبیعت کا رجحان اسی طرف تھا کہ ان کو کعبہ کے طواف کے لئے اجازت دی جائے گی۔ جیسا کہ پیش گوئی تھی۔ اوّلاً آنحضرت ﷺ کا سفر پیش گوئی کی وجہ سے نہ تھا۔ بلکہ عمرہ کے لئے تھا۔ جیسا اوپر گذرا۔ کیونکہ بقول محققین علماء خواب حدیبیہ میں حضور ﷺ نے دیکھا تو اب پیش گوئی کی بناء پر آپ ﷺ کا سفر کیونکر ہو سکتا تھا؟ البتہ سفر کے بعد حدیبیہ میں یہ پیش گوئی حضور ﷺ نے فرمائی۔ ثانیاً حضور ﷺ کی پیش گوئی ہرگز یہ نہیں تھی کہ ہم اس سال مکہ میں داخل ہوں گے۔ نہ آپ ﷺ کے کسی فعل اور اشارہ سے یہ سمجھا گیا یہ تو آنحضرت ﷺ پر اتہام ہے۔ نعوذ باللہ!

چوتھا جھوٹ ”اس پر بعض بدبخت مرتد ہو گئے“ صحابہ میں سے کوئی شخص ہرگز اس کی وجہ سے مرتد نہیں ہوا اور نہ مرتد ہونے کی کوئی وجہ تھی۔ اس لئے کہ یہاں تو سب بات صاف تھی نہ تاویل تھی نہ کوئی تازہ الہام۔ مرزا قادیانی کا یہ کہنا صحابہؓ پر اتہام ہے۔ ورنہ جماعت احمدیہ مجھے نام بتائے کہ کون صحابہؓ اس کی وجہ سے مرتد ہوئے۔

پانچواں اور چھٹا جھوٹ ”اور حضرت عمرؓ چند روز ابتلا میں رہے اور آخر اس لغزش کی معافی کے لئے کئی اعمال نیک بجالائے۔“ یہ بالکل از سر تا پا غلط اور جھوٹ ہے۔ نہ حضرت عمرؓ اس وجہ سے کبھی ابتلاء میں رہے اور نہ اس لغزش کی وجہ سے کوئی عمل نیک بجالائے۔ ہاں! چونکہ صحابہؓ آنحضرت ﷺ کا ادب بہت کرتے تھے۔ جیسا حدیثوں میں آیا ہے اور اس میں وہ آپ ہی اپنی نظیر تھے۔ اس لئے حضرت عمرؓ پیش قدمی کر کے پوچھنے سے نادم اور پشیمان ہوئے ہوں اور اس لغزش کی وجہ سے کچھ اعمال نیک بجالائے ہوں تو یہ ہو سکتا ہے۔

١٦

صفحہ ١٧٥

اصل بات یہ ہے کہ مرزا قادیانی یہ چاہتے ہیں کہ محمد رسول اللہ ﷺ کی پیشین گوئیوں (جو نہایت صفائی سے اپنے وقت معینہ پر پوری ہوئیں) پر پردہ ڈال کر اپنی جھوٹی پیشین گوئیوں (جو مرزا قادیانی کے تاویلات کے بعد بھی وقت پر پوری نہ ہوئیں) سے جا ملائیں۔ مگر یاد رکھیں کہ ۔

ایں خیال است و محال است و جنون

اگر ناظرین اس پیشین گوئی کو آنحضرت ﷺ کی تفصیل سے دیکھنا چاہیں تو (حصہ دوم فیصلۂ آسمانی ص٢٣ تا ٢٦، مطبوعہ بار دوم ) ملاحظہ فرمائیں۔

مرزا قادیانی کا جھوٹ نمبر ٢٧، ٢٨، ٢٩، ٣٠، ٣١

مرزا قادیانی (اعجاز احمدی ص ٧٦ ، خزائن ج ١٩ ص ١١٣) میں لکھتے ہیں: ”میں نے بحر کمال یقین کے جو میرے دل پر محیط ہو گیا اور مجھے نور سے بھر دیا، اس رسمی عقیدہ کو نہ چھوڑا۔ حالانکہ اسی براہین میں میرا نام عیسیٰ رکھا گیا تھا اور مجھے خاتم الخلفاء ٹھہرایا گیا تھا اور میری نسبت کہا گیا تھا کہ تو ہی کسر صلیب کرے گا اور مجھے بتلایا گیا تھا کہ تیری خبر قرآن اور حدیث میں موجود ہے اور تو ہی اس آیت کا مصداق ہے کہ ”ھو الذی ارسل رسولہ بالھدی ودین الحق لیظھرہ علی الدین کلہ “ افسوس ہے کہ مرزا قادیانی جھوٹ پر جھوٹ بکے چلے جاتے ہیں۔ نہ خلق سے شرماتے ہیں نہ خدا سے خوف کرتے ہیں۔ مرزا قادیانی کے ماں باپ نے تو ان کا نام غلام احمد رکھا تھا۔ یہ عیسیٰ نام آپ کا کس نے رکھا، خدا نے عرش پر آپ کا نام عیسیٰ رکھا۔ حضرات ناظرین اسی طرح شیخ محمد جونپوری نے بھی کہا کہ میرا نام چوتھے آسمان پر سید مبارک ہے۔

چنانچہ شواہد الولایت کے پندرھویں باب میں لکھا ہے:”میران (شیخ محمد ) نے خوند میر (داماد شیخ ) کو کہا کہ تمہاری خبر حق تعالیٰ نے اپنے کلام میں دی ہے کہ ”اللہ نور السموات والارض مثل نورہ کمشکوۃ “ سینہ خوند میر فیہا مصباح تجلی حق تعالیٰ المصباح فی زجاجہ دل خوند میر الزجاجۃ کانھا کوکب دری یوقد من شجرۃ مبارکۃ شجرۂ ذات خاص بندہ کہ چوتھے آسمان پر نام بندے کا سید مبارک ہے۔“

(ہدیہ مہدویہ ص ١٢٠)

تعجب ہے کہ شیخ نے بی بی مبارکہ کو سید مبارک کیونکر کہہ دیا۔ یہ خدا پر افتراء ہے کہ ”میرا نام عیسیٰ رکھا گیا ۔“ اس لئے اس کلام میں یہ پہلا جھوٹ ہے۔ اب دوسرا جھوٹ دیکھئے۔ ”مجھے خاتم الخلفاء ٹھہرایا گیا۔ اسی طرح ان کے شیخ جونپوری نے بھی اپنے کو خاتم الاولیاء کہا ہے۔ مگر بڑے تو بڑے چھوٹے سبحان اللہ ! انہوں نے ولایت کا خاتمہ کیا تھا تو انہوں نے خلافت ہی کا خاتمہ کر ڈالا۔ لیکن رسول اللہ ﷺ کے خلفاء نے اسلامی فتوحات کی توسیع کی دنیا میں اخلاق محمدی کو پھیلایا۔ حدود

١٧

صفحہ ٧٧

وتعزیر جاری کئے۔ ان کی صداقت اور راست بازی اور صفائی معاملات کو دیکھ کر جوق کی جوق غیر قومیں دائرہ اسلام میں داخل ہوئیں۔ لوگوں کو راحت رسانی کے اسباب مہیا کئے وغیرہ وغیرہ۔ اب مرزا قادیانی سے کوئی پوچھے کہ آپ نے اس کے سوا کیا کیا کہ مسلمانوں میں تفرقہ ڈال کر ایک جماعت اپنی بنالی۔ افسوس تھوڑی تبدیلی کے بعد مولانا روم کا یہ شعر مرزا قادیانی کے حسب حال ہے۔

گندہ کذب او جہاں را گندہ کرد
کذب او دیہائے دین را ژندہ کرد

اب تیسرے جھوٹ کو ناظرین ملاحظہ فرمائیں: ”تو ہی کسر صلیب کرے گا۔“ افسوس اگر مرزا قادیانی کی ذات سے صرف یہی کام ہوتا تو یہ کہنے کو ہوتا کہ مرزا قادیانی بھی کسی کام کے آدمی تھے۔ شیخ جونپوری نے تو درمیان رکن ومقام کے حرم محترم میں چپکے سے دو آدمی کو ساتھ لے جا کر دعوٰی کیا اور دونوں نے تصدیق کی۔ کاش مرزا قادیانی بھی ایک لکڑی کی صلیب بنا کر اسی کو توڑ لیتے اور فرماتے کہ یہی کسر صلیب ہے تو خیر ٹوٹکا تو ہو جاتا۔ مگر شیخ جونپوری سے بھی پیچھے رہ گئے۔ کیا جماعت احمدیہ بتا سکتی ہے کہ کتنے عیسائی، یہود، آریہ مرزا صاحب کے ہاتھ پر مسلمان ہوئے؟

اس سے تو علمائے اسلام اور بزرگان دین ہی اچھے ہیں کہ ان کے مبارک ہاتھوں پر سینکڑوں بلکہ ہزاروں غیر قوموں نے توبہ کی اور مسلمان ہوئے۔ کیا خاتم الخلفاء اور مکسر صلیب کا یہی کام تھا کہ تمام عمر اپنے فضول دعووں میں جھگڑتا رہے اور ہزاروں روپے مسلمانوں سے لے کر اپنے خیالات فاسدہ کی اشاعت کرتا رہے اور مسلمانوں میں پھوٹ ڈالے اور تمام مسلمانوں کی کافر وغیرہ ناشائستہ الفاظ سے توہین کرے۔

اب چوتھے جھوٹ کو دیکھئے: ”اور مجھے بتلایا گیا تھا کہ تیری خبر قرآن اور حدیث میں موجود ہے۔“ مرزا غلام احمد قادیانی کا ذکر تو قرآن اور حدیث میں کہیں بھی نہیں۔ ہاں! جب مرزا قادیانی کی یہ شان ہو۔

گاہ موسیٰ گاہ عیسیٰ گاہ فخر انبیاء
گاہ ابن اللہ گاہے خود خدا خواہد شدن

تو ان کا ذکر قرآن میں کیا تمام کتب آسمانی میں ہوسکتا ہے۔

ان سب سے بڑا اور تاریک جھوٹ مرزا قادیانی کا اس میں پانچواں ہے وہ یہ کہ جس طرح شیخ جونپوری اپنے لئے بعض آیات قرآنی کو مخصوص کرتا ہے۔ اسی طرح مرزا قادیانی جو آیت قرآن مجید میں خاص آنحضرت ﷺ کے بارے میں ہے اس کو اپنے لئے مخصوص کرتا ہے۔

١٨

”کبرت كلمة تخرج من افواههم“ بڑا بول ”اور تو ہی اس آیت کا مصداق ہے۔ ھو الذی لیظہرہ علی الدین کلہ“ یعنی وہ ایسا عزیز اور سچا دین دے کر بھیجا۔ تاکہ تمام ادیان باطلہ پر ہی اس کا مصداق ہے۔ یعنی سوا تیرے اور کوئی ام ہی کے لئے یہ آیت نازل ہوئی۔ ان کی جماعت کہ رسول بنا کر مرزا قادیانی کو بھیجا اور ان کا دین تو اسے مرزا قادیانی جیسے رسول کی حاجت نہیں۔ کے احکام کو غیر منسوخ بنا کر محمد رسول اللہ ﷺ مرزا قادیانی کا نیا ایجاد کردہ اور ساختہ ہے تو اسے ایجاد کردہ دین۔ مردود، دین اسلام پر بھی غالب فمن يبتغ غیر الاسلام ديناً فلن يقبل م دین اسلام ہی ہے جو اس کے سوا اور دین ڈھونڈ پھر مرزا قادیانی (اعجاز احمدی ص ٧، خ برس تک جو ایک زمانہ دراز ہے بالکل اس سے براہین میں مسیح موعود قرار دیا ہے اور میں حضرت برس گزر گئے تب وہ وقت آ گیا کہ میرے پر ا میں الہامات شروع ہوئے کہ تو ہی مسیح موعود ہ اور مجھے حکم ہوا۔ ”فاصدع بما تؤمر“ یعنی مجھے مرزا قادیانی پر افسوس ہے کہ

بے حیاء باش

مرزا قادیانی جیسے رسول ہیں ویس بھلا جب بارہ برس تک مرزا قادیانی نے نہ س موعود بنائے بغیر نہ رہا۔

حضرات ناظرین! دیکھیں کہ ا کو الہام ہوتا رہا کہ تو عیسیٰ، خاتم الخلفاء، رس

صفحہ ١٧٧

"كبرت كلمة تخرج من افواههم" بڑا بول ہے جو ان کے منہ سے نکلتا ہے اور یہ کہتے ہیں:

"اور تو ہی اس آیت کا مصداق ہے۔ ھو الذی ارسل رسولہ بالھدی و دین الحق

لیظھرہ علی الدین کلّٰہ" یعنی وہ ایسا عزیز اور غالب خدا ہے جس نے اپنے رسول کو ہدایت

اور سچا دین دے کر بھیجا۔ تاکہ تمام ادیان باطلہ پر اس رسول کو فتح دے اور اس پر یہ سینہ زوری کہ تو

ہی اس کا مصداق ہے۔ یعنی سوا تیرے اور کوئی اس کا مصداق نہیں۔ تیرہ سو برس پہلے مرزا قادیانی

ہی کے لئے یہ آیت نازل ہوئی۔ ان کی جماعت مجھے بتائے کہ خدا نے کس ہدایت اور دین کو دے

کر رسول بنا کر مرزا قادیانی کو بھیجا اور ان کا دین تمام ادیان پر غالب آگیا۔ اگر یہ دین اسلام ہے

تو اسے مرزا قادیانی جیسے رسول کی حاجت نہیں۔ اس کو خدا نے تیرہ سو برس پہلے کامل مکمل اور اس

کے احکام کو غیر منسوخ بنا کر محمد رسول اللہ ﷺ کو عطاء فرمایا تھا اور اگر اس کے سوا کوئی دوسرا دین

مرزا قادیانی کا نیا ایجاد کردہ اور ساختہ ہے تو اسے بتائیں اور اس کے ساتھ یہ بھی بتائیں کہ ان کا

ایجاد کردہ دین ۔ مردود، دین اسلام پر بھی غالب آ گیا۔ نعوذ باللہ! "ان الدین عند اللہ الاسلام

فمن یبتغ غیر الاسلام دینا فلن یقبل منہ" یعنی ارشاد خداوندی ہے کہ خدا کے ہاں مقبول

دین اسلام ہی ہے جو اس کے سوا اور دین ڈھونڈھے تو وہ ہرگز مقبول نہیں۔

پھر مرزا قادیانی (اعجاز احمدی ص ٧، خزائن ج ١٩ ص ١١٣) میں لکھتے ہیں: "پھر میں قریباً بارہ

برس تک جو ایک زمانہ دراز ہے بالکل اس سے بے خبر اور غافل رہا کہ خدا نے مجھے بڑی شد ومد سے

براہین میں مسیح موعود قرار دیا ہے اور میں حضرت عیسیٰ کی آمد ثانی کے رسمی عقیدہ پر جما رہا۔ جب بارہ

برس گزر گئے تب وہ وقت آ گیا کہ میرے پر اصل حقیقت کھول دی جائے۔ تب تواتر سے اس بارہ

میں الہامات شروع ہوئے کہ تو ہی مسیح موعود ہے۔ پس جب اس بارہ میں انتہاء تک خدا کی وحی پہنچی

اور مجھے حکم ہوا۔ 'فاصدع بما تؤمر' یعنی جو تجھے حکم ہوتا ہے وہ کھول کر لوگوں کو سنا دے۔"

مجھے مرزا قادیانی پر افسوس ہے کہ ان کا عمل اس پر ہے ؎

بے حیاء باش و ہر چہ خواہی گوہ

مرزا قادیانی جیسے رسول ہیں ویسا ہی ان کا خدا بھی نہ وہ اس کی سنتے ہیں نہ یہ ان کی۔

بھلا جب بارہ برس تک مرزا قادیانی نے نہ سنا تو اسے کیا پڑی تھی کہ خواہ مخواہ بھی مرزا قادیانی کو مسیح

موعود بنائے بغیر نہ رہا۔

حضرات ناظرین! دیکھیں کہ اس جھوٹ کا کچھ ٹھکانا ہے کہ بارہ برس تک مرزا قادیانی

کو الہام ہوتا رہا کہ تو عیسیٰ، خاتم الخلفاء، رسول وغیرہ وغیرہ ہے۔ یہاں تک کہ بڑی شد ومد سے حکم

١٩

صفحہ ١٧٨

ہوا کہ تو ہی مسیح موعود ہے۔ مگر مرزا قادیانی نہ مانے پر نہ مانے اور اپنے رسمی عقیدہ پر جمے رہے اور ان کا خدا خوشامدیں کرتا تھا اور کہتا تھا کہ ؎

سب کچھ سہی پر ایک نہیں کی نہیں سہی

جب خوشامد حد تواتر کو پہنچی تب آپ نے مانا۔

شاباش! مرزا قادیانی آپ کا کیا کہنا۔ یہ کیسا دروغ بے فروغ ہے۔ کیا کسی سچے نبی کی یہ شان ہو سکتی ہے کہ باوجود زمانہ دراز تک بار بار الہامات ہونے کے بھی اپنے جھوٹے اور رسمی عقیدہ پر جما رہے اور برابر بارہ برس تک یک لخت براہین میں جھوٹ کی اشاعت کرتا رہے۔

ایں کار از تو آید ومرزا چنیں کنند

اس میں یہ پہلا جھوٹ تھا۔ اب ناظرین دوسرا جھوٹ سنیں۔

مرزا قادیانی کا جھوٹ نمبر ٣٢، ٣٣

”جب اس بارہ میں انتہاء تک خدا کی وحی پہنچی ۔“ حضرات مرزا قادیانی کی اس دلیری کو دیکھیں کہ دو چار دس بیس وحی الٰہی پر وہ ایمان نہ لائے۔ جب تک انتہاء کو نہ پہنچی۔

عجب جرأت تھی اس دل میں جسارت ہو تو ایسی ہو

مگر اس کو تو بتایا ہوتا کہ ان کے نزدیک انتہاء کیا ہے۔ اگر انتہاء اس کا نام ہے جیسا وہ آگے چل کر لکھتے ہیں: ”اور میرے دل میں روز روشن کی طرح یقین بٹھا دیا گیا ۔“ (اعجاز احمدی ص٧، خزائن ج ١٩ص ١١٤) تو میں پوچھتا ہوں کہ جب دس بیس وحی میں مرزا قادیانی کو یقین نہ ہوا اور زمانہ دراز تک وسوسہ شیطانی سمجھ کر ٹالتے رہے اور رسمی عقیدہ پر جمے رہے تو اس کی کسے خبر ہے کہ اب بھی ان کا جس بات پر یقین ہے وہ بھی کہیں اضغاث احلام (خواب پریشان ) نہ ہو اور ایسا ہی ہے۔

یہاں وسوسہ شیطانی کا لفظ جو میں نے لکھا ہے وہ اپنی طرف سے نہیں لکھا ہے بلکہ ان کے بڑے مرشد مہدی موعود شیخ محمد جونپوری نے کہا ہے۔ چنانچہ مطلع الولایت میں لکھا ہے: ”اوّل بارہ برس تک امر الٰہی ہوتا رہا اور میران وسوسہ نفس و شیطانی سمجھ کر ٹالتے رہے اور بعد بارہ برس کے خطاب با عتاب ہوا کہ ہم روبرو سے فرماتے ہیں اور تو اس کو غیر اللہ سے سمجھتا ہے۔ بعد اس کے بھی شیخ موصوف اپنے عدم لیاقت وغیرہ کا عذر پیش کر کے آٹھ برس اور ٹالتے رہے۔ بعد بیس برس کے خطاب با عتاب ہوا کہ قضائے الٰہی جاری ہو چکی۔ اگر قبول کرے گا ماجور ہوگا۔ ورنہ مجبور ہوگا۔“

(ہدیہ مہدویہ ص ٣٤)

حضرات ناظرین! باہم دل کا متشابہ ہونا اسے کہتے ہیں: ”کذالک قال الذین من

٢٠

صفحہ ١٧٩

قبلهم مثل قولهم تشابهت قلوبهم قد بينا الايت لقوم يوقنون“ (اسی طرح جو لوگ ان سے پہلے گزرے ہیں انہیں جیسی باتیں وہ بھی کہا کرتے تھے ان سب کے دل ایک ہی طرح کے ہیں جو لوگ یقین رکھنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ ان کو تو ہم اپنی نشانیاں صاف طور پر دکھا چکے۔) مرزا قادیانی چودھویں صدی کے مسیح ہوشیار اور چالاک تھے۔ پہلے بارہ برس کے بعد ہی قبول کر لیا اور دوسرے آٹھ برس پر نہ ٹالا اور اپنے خدا کو زیادہ خوشامد سے رہائی دی۔ ”مــــــا قدروا الله حق قدرہ. تعالى الله على ذلک علوا كبيرا“

معزز ناظرین! اب کہاں تک میں آپ کی سمع خراشی کروں اور آپ کا عزیز وقت ضائع کروں۔ مرزا قادیانی کا تو تمام عمر یہی مشغلہ رہا۔ یہ ”مشتے نمونہ از خروارے“ ہے ورنہ صرف اس کتاب میں مرزا قادیانی نے سینکڑوں جھوٹ لکھے ہیں اور افتراء سے اس کو بھر دیا ہے۔ آپ خود خیال فرمائیں کہ جب سات صفحے میں موٹی موٹی اور سرسری نظر میں تینتیس جھوٹ ہوئے اور یہ کتاب اشتہار سمیت ٩٠ صفحے کی ہے تو اس حساب سے سینکڑوں جھوٹ اس میں کہنا بالکل صحیح ہے اور غور سے تنقیح کی جائے تو ان کا شمار انسانی طاقت سے بالا ہوگا۔

اب میں معزز ناظرین کی توجہ کو مرزا قادیانی کے قصیدہ اعجازیہ کی طرف مبذول کرنا چاہتا ہوں۔ مرزا قادیانی اپنے اس قصیدہ کے نسبت لکھتے ہیں: ”سو میں نے دعا کی کہ اے خدائے قدیر! مجھے نشان کے طور پر توفیق دے کہ ایسا قصیدہ بناؤں اور وہ دعا میری منظور ہو گئی اور روح القدس سے ایک خارق عادت مجھے تائید ملی اور وہ قصیدہ پانچ دن میں میں نے ختم کر لیا۔“

(اعجاز احمدی ص ٣٢، خزائن ج ١٩ ص ١٤٦)

اس سے دو باتیں معلوم ہوئیں:

بھی ہو گئی۔

پھر (اعجاز احمدی ص ٩٠، خزائن ج ١٩ ص ٢٠٥) میں لکھتے ہیں: ”اب ان کی اصل میعاد ٢٠؍ نومبر سے شروع ہوگی۔ پس ١٠؍ دسمبر ١٩٠٢ء تک اس میعاد کا خاتمہ ہو جائے گا۔“

حضرات ناظرین! اس کو دیکھیں کہ یہ کسی سچے نبی کی شان ہے یا مفتری انسان کا منصوبہ جس نبی کو مقبول دعا کے بعد نشان کے طور پر ایک معجزہ ملا پھر اس کو روح القدس سے ایک خارق عادت تائید بھی ملی۔ اس کے ساتھ ہی وہ اپنے مخاطبین کو جواب کے لئے زیادہ سے زیادہ ٢١

صفحہ ١٨٠

بیس دن کی مہلت دیتا ہے اور کہتا ہے کہ: ”پس میرا حق ہے کہ جس قدر خارق عادت وقت میں یہ اردو عبارت اور قصیدہ تیار ہو گیا ہے۔ میں اسی وقت تک نظیر پیش کرنے کا ان لوگوں سے مطالبہ کروں۔“

(اعجاز احمدی ص ٩٠، خزائن ج ١٩ ص ٢٠٤)

کیا مرزا قادیانی کوئی مثال انبیاء سابقین کی پیش کر سکتے ہیں کہ اتنی جدوجہد کے بعد ایسا انوکھا (مجموعہ اغلاط) معجزہ ملا ہو اور مخاطبین کو انہوں نے معارضہ کے لئے ایسے تنگ وقت کا پابند کیا ہو۔ کیا حضرت سید المرسلین ﷺ پر کوئی سورہ دو گھنٹہ میں اتری اور حضور نے مخاطبین کو معارضہ کے لئے دو یا چار گھنٹہ کا وقت دیا؟ نہیں۔

مجھے مرزا قادیانی کی سمجھ اور ان کے ماننے والوں کی عقل پر حیرت کے ساتھ افسوس ہے کہ جب ان کو نشان کے طور پر قصیدہ معجزہ دیا گیا اور روح القدس سے خارق عادت تائید ملی۔ پھر ایسی گھبراہٹ کیوں ہے کہ لوگوں کو بیس دن میں معارضہ کے لئے پابند کرتے ہیں؟ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ سارا معجزہ اور دعا اور روح القدس اور خرق عادت سب کے سب بھاڑے کے چند روزہ تھے اور مرزا قادیانی کو خوف دامنگیر تھا اور اپنی کمزوریوں کو خوب جانتے تھے اور معارضہ کے روز بد سے ان کا دل دھڑکتا تھا۔ کاش کم سے کم اپنی زندگی ہی تک وقت کی توسیع فرماتے یا مخاطبین کی حیات تک تو خیر ایک بات تھی۔ لیکن بفضلہ وقت کے اندر ہی علماء نے مرزا قادیانی کا پیچھا نہ چھوڑا۔ جیسا کہ حصہ اوّل میں دکھایا گیا ہے۔

مرزا قادیانی لکھتے ہیں: ”دیکھو میں آسمان اور زمین کو گواہ رکھ کر کہتا ہوں کہ آج کی تاریخ سے اس نشان پر حصر رکھتا ہوں۔ اگر میں صادق ہوں اور خدا تعالیٰ جانتا ہے کہ میں صادق ہوں تو کبھی ممکن نہیں ہوگا کہ مولوی ثناء اللہ اور ان کے تمام مولوی پانچ دن میں ایسا قصیدہ بناسکیں اور اردو مضمون کا رد لکھ سکیں۔ کیونکہ خدائے تعالیٰ ان کے قلموں کو توڑ دے گا اور ان کے دلوں کو غبی کردے گا۔“

(اعجاز احمدی ص ٣٧، خزائن ج ١٩ ص ١٤٨)

اب حضرات ناظرین انصاف سے دیکھیں کہ مخاطب تو تمام مولوی ہیں۔ خواہ عربی ہوں یا عجمی اور وقت ایسا تنگ صرف بیس دن میں جواب مرزا قادیانی تک پہنچنا چاہئے۔ آپ اس کی اشاعت کے لئے تمام یورپ، ایشیاء، افریقہ تینوں براعظم کو چھوڑ کر صرف ہندوستان ہی کو لے لیجئے کہ ہندوستان میں تمام مولویوں کے پاس ہر شہر اور قصبہ اور دیہات میں بیس دن میں اس رسالہ کا پہنچنا غیر ممکن ہے۔ اس پر اس کا جواب لکھنا اور چھپوانا اور مرزا قادیانی تک پہنچنا تو محال

٢٢

صفحہ ١٨١

ہے۔ اس فیاضی پر مرزا قادیانی کا کیا شکریہ ادا کیا جائے۔ ناظرین ! یہ ہیں مرزا قادیانی کی چالاکیاں جن سے وہ اپنے معجزہ اور پیشین گوئیوں کو ہمیشہ پورا کیا کرتے ہیں۔ کیا آپ سمجھتے ہیں کہ مرزا قادیانی ان دشواریوں سے ناواقف تھے؟ نہیں ہرگز نہیں بلکہ دیدہ و دانستہ انہوں نے ایسا تنگ وقت دیا تھا اور دنیا کے چشم بصیرت پر خاک ڈالنا چاہتے تھے۔ اب آپ فرمائیں کہ کیا سچے نبی اور خدا کے مبعوث مسیح کی یہ شان ہوسکتی ہے؟ نہیں۔

مرزا قادیانی لکھتے ہیں: ”اور وہ قصیدہ پانچ دن میں ہی میں نے ختم کر لیا۔ کاش اگر کوئی اور شغل مجبور نہ کرتا تو وہ قصیدہ ایک دن میں ہی ختم ہو جاتا ۔“

(اعجاز احمدی ص٣٦،خزائن ج١٩ص١٤٦)

پھر حاشیہ میں لکھتے ہیں: ”اصل تالیف کا زمانہ تو محض تین دن تھے اور دو دن باعث حرج اور زائد ہوگئے۔“

(ایضاً)

اگر مرزا قادیانی ہی کا فرمان تسلیم کیا جائے اور پانچ دن میں دو دن اور ضروریات زندگی اور حرج کے رکھے جائیں اور محض تین ہی دن میں مرزا قادیانی کا قصیدہ لکھنا مان لیا جائے۔ تب بھی اس میں اعجاز کی اور خرق عادت کی کیا بات ہے؟ اعجاز اور معجزہ تو اسے کہتے ہیں جو انسانی طاقتوں سے بالاتر ہو اور یہ کسی طرح انسان کی قدرت اور قوت سے خارج نہیں۔ اس لئے کہ آج مجھے تاریخ بتلا رہی ہے کہ عرب اور عجم میں بہت سے ایسے اساتذہ گزرے ہیں۔ جنہوں نے ارتجالاً یعنی فی البدیہہ قصیدے اور مقالات ایک مجلس میں لکھ ڈالے۔ قیس بن ساعدہ کے حالات پر نظر ڈالئے اور اس کے خطبوں پر غور فرمائیے اور خدا کی قدرت کا تماشا دیکھئے کہ کیسے کیسے پرمغز نظم ونثر ہیں اور موتیوں کی لڑی کی طرح اس کے کلمات منظم معلوم ہوتے ہیں۔ معلقات سبعہ کا آخری قصیدہ یادگار زمانہ ہے۔ جسے اس کے مؤلف نے ارتجالاً ایک ہی مجلس میں کہا ہے۔ نہ وہاں کچھ سوچنے کی ضرورت تھی۔ نہ غور و فکر کی حاجت۔ اسی طرح بدیع الزمان ہمدانی اور اس کے قرین کے حالات پر نظر ڈالئے اور عجائبات صنعت اللہ پر ایمان لائیے۔ شعراء اور خطباء نظم ونثر عرب میں ایسے ایسے ایک دو نہیں بلکہ سینکڑوں صفحہ ہستی پر موجود ہوئے اور ہوتے رہیں گے۔

مرزا قادیانی کا قصیدہ پانچ سو بتیس شعروں پر مشتمل ہے۔ اب بقول مرزا قادیانی کے اصل تالیف کا زمانہ اگر تین ہی دن خالص رکھے جائیں تو یومیہ پونے دو سو شعر ہوتا ہے اور چوبیس گھنٹہ پر اگر (١٧٧) کو تقسیم کریں تو فی گھنٹہ ساڑھے سات شعر سے کچھ کم ہی ہوتے ہیں اور چونکہ مرزا قادیانی نے اپنی دیگر ضرورتوں سے خالی کر کے تین دن بتایا ہے۔ اس لئے مجھے حساب میں پورے چوبیس گھنٹے اعتبار کرنے ضرور ہیں۔ الحاصل فی گھنٹہ ساڑھے سات شعر لکھ لینا کیا کوئی خرق

٢٣

صفحہ ١٨٢

عادت ہے یا انسانی طاقت سے بالاتر ہے؟ آپ شعراء ماہرین کے حالات پر نظر ڈالئے۔ بہت ایسے ملیں گے جنہوں نے فی البدیہ ساٹھ اور ستر بلکہ سو اور اس سے زیادہ اشعار کہہ ڈالے ہیں۔ ہندوستان اور فارس اور عرب میں اب بھی اردو، فارسی، عربی کے ایسے شعراء بہت سے موجود ہیں کہ جو فی گھنٹہ تیس چالیس شعر کہہ لیتے ہیں۔ پھر کون سی بات مرزا قادیانی نے خارج از طاقت انسانی دکھلا دی۔ جس کی بناء پر آج وہ دعویٰ نبوۃ یا اعجاز کرتے ہیں۔

ناظرین! آپ اپنے ہاں کے شعراء میر، مؤمن، آتش، ناسخ، غالب، ذوق کو دیکھئے اور ان کی قوت مہارت و فکر شعر کو دیکھئے کہ کیسے کیسے اعجوبے ان سے ظہور میں آئے۔

اگر مرزا قادیانی کا قصیدہ ان تمام اغلاط سے جو ابطال اعجاز کے حصہ اول میں دکھائے گئے ہیں۔ پاک اور منزہ بھی تھوڑی دیر کے لئے تسلیم کر لیا جائے۔ تب بھی ان کو عربی شعراء اور ادباء ماہرین کی صف اول میں کھڑے ہونے کے لئے جگہ نہیں مل سکتی اور نبوت کا مقام اور مسیحیت کی کرسی تو اس سے کہیں بالاتر ہے۔

فی گھنٹہ ساڑھے سات شعروں کا کہہ لینا اور وہ بھی کسی مشکل بحر اور مشکل قافیہ میں نہیں نہ کسی سخت ردیف پر عربی دان جسے معمولی استعداد ادب کی ہے جانتا ہے کہ حرف را، لام، میم، دال پر اشعار کہنا کس قدر سہل ہے اور وہ بھی بحر طویل اور قافیہ موجودہ میں کہ وہ آسان ترین بحروں اور قافیوں سے ہے۔ پھر اس میں ایسی مقدار میں قصیدہ لکھ لینا کیا کوئی کمال ہو سکتا ہے؟ اور بالفرض اگر کمال ہی ہو تو کیا انسانی طاقت سے خارج اور معجزہ ہو سکتا ہے؟ نہیں ہرگز نہیں۔

ناظرین اگر انصاف سے غور کریں تو کسی طرح مرزا قادیانی کو اس پلیٹ فارم پر ہرگز جگہ نہیں مل سکتی۔ جس پر کسی زمانے میں بدیع الزمان ہمدانی، صاحب بن عباد، جار اللہ زمحشری، ابو تمام طائی، فرزدق، جمیل، کثیر، جریر، نصیب وغیرہ شعراء خطباء جلوہ فرما تھے۔ کیا مرزا قادیانی ایسی ضعیف قوت شاعرانہ لے کر آج اس پارلیمنٹ کے ممبر ہو سکتے ہیں۔ جس کے نامور ارکان کسی وقت میں امرء القیس، لبید بن ابی ربیعہ، قس بن ساعدہ، طرفۃ ابن العبد، زہیر بن ابی سلمیٰ، کعب بن زہیر، حسان بن ثابت، سموّل بن عادیا وغیرہ وغیرہ تھے۔

نظم ونثر کوئی نیا فن، کوئی جدید صنعت نہیں کہ جس میں ایسے ایسے ناتواں اور کمزور بھی ہل من مبارز کا ڈنکا بجاسکیں۔ اس دشت میں تو ایسے ایسے شیر نر پہلے سے موجود چلے آتے ہیں کہ ان کے سامنے آتے ہوئے آج بڑوں کے پتے آب ہو کر بہہ جاتے ہیں اور ان بیچارے مرزا قادیانی پنجابی کی کیا حقیقت ہے؟

٢٤

صفحہ ١٨٣

بالفرض اگر مرزا قادیانی کی خاطر سے تھوڑی دیر کے لئے ہم تسلیم کریں کہ آپ عربی کے اچھے ادیب اور نثر و نظم کے ماہر ہیں اور قصیدہ بھی جلد لکھ ڈالا۔ کیونکہ کسی فن کا ماہر جس مدت میں اس فن کو عمدگی سے دکھلائے گا، دوسرا نہیں ظاہر کر سکتا تو کیا اس سے مرزا قادیانی رسول اور نبی ہو گئے اور ان کو سزاوار ہو کہ اس بناء پر وہ دعویٰ نبوت کریں؟ اور اگر ایسا ہے تو اس کے سزاوار اوّل تو وہ سرتاج ادبا و خطباء ہیں۔ جنہوں نے اس فن میں وہ کمال اور مہارت دکھلائی کہ آج اس فن کے جاننے والے ان کی پیروی کو اپنا فخر سمجھتے ہیں۔ اس کے سوا مرزا قادیانی کے قصیدہ میں اعجاز کی کیا بات ہے۔ کیا اس میں کوئی قانون شریعت ہے یا وعظ و حکمت کی باتیں ہیں۔ یہ سب کچھ بھی نہیں۔ ہاں اپنی تعلّی ہے اور دوسروں کی ہجو فلاں ایسا اور فلاں ایسا اور میں ایسا اور میں ویسا سو اس کے ناظرین دیکھ ڈالیں کہ تمام قصیدہ میں اور کیا دھرا ہے۔

خلاصہ یہ کہ نہ یہ قصیدہ معجزہ ہے نہ اس میں اعجاز کی کوئی شان ہے اور نہ اس میں اس کی قابلیت ہے۔ مگر چونکہ ابطال اعجاز کے حصہ اوّل میں قصیدہ کا وعدہ کیا گیا تھا اور جماعت احمدیہ کے اس لاف و گزاف کو جو یہ لوگ مرزا قادیانی کے قصیدہ کے متعلق کہتے ہیں۔ بند کرنا تھا۔ اس لئے میں نے ایک عجیب و غریب قصیدہ اہل علم کی خدمت میں پیش کیا ہے جو بہت سے وجوہ سے مرزا قادیانی کے قصیدہ سے برتر اور اعلیٰ ہے۔ اس کے ساتھ ہی نہ مجھے دعویٰ اعجاز ہے نہ تحدی اور نہ یہ دعویٰ ہے کہ یہ قصیدہ تمام شعراء متقدمین سے بڑھ کر ہے اور نہ آج اس کا پایہ فرزدق اور ابو تمام کے اشعار تک پہنچتا ہے۔ مگر ناظرین پر یہ ظاہر کر دینا ضرور ہے کہ مرزا قادیانی کا قصیدہ اتنی بھی وقعت ادیب کی نگاہ میں نہیں رکھتا ہے کہ جیسے معمولی قصیدے ادباء کے ہوا کرتے ہیں اور اعلیٰ درجہ کا کلام ہونا تو دور بلکہ بہت بعید ہے اور اعجاز نبوت کی تو بہت بڑی شان ہے۔

قبل اس کے کہ میں مرزا قادیانی کے قصیدہ کے مقابلہ میں اس قصیدہ کے وجوہ بلاغت اور اسباب ترجیح کو عرض کروں۔ یہ امر ظاہر کر دینا ضرور ہے کہ ہر زبان کی فصاحت اور بلاغت اور اس کے محاورات اور لغات کے علم کے لئے اسی زبان کے ماہرین اور واقفین کا قول ماننا ضرور ہے جو اس زبان کے منبع اور امام ہیں۔ نہ اس میں عقل و قیاس کو کچھ دخل ہے نہ غیر زبان والوں کو اس میں دست اندازی کا کوئی حق اور اسی طرح ہر فن اور صنعت کے لئے اس کے فن دان کے اقوال اور قوانین کا لحاظ ضروری ہے۔ جس طرح فن طبابت میں ماہر فن انجینئر کی اسی طرح بے اعتباری ہے جیسے کسی گنوار جاہل ان پڑھ کی ہوتی ہے۔

ایسا ہی عربی زباندانی میں عرب عرباء کے اقوال کو ماننا فرض اور لازم ہوگا۔ خواہ وہ

٢٥

صفحہ ١٨٤

مسلمان ہوں یا کافر، مرد ہوں یا عورت اور اسی وجہ سے متقدمین نے قواعد نحویہ صرفیہ ، لغویہ وغیرہ میں ہمیشہ انہیں عرب خالص کے اقوال سے استدلال پیش کیا ہے جو قبل از اختلاط عرب بالعجم تھے۔ کیونکہ وہی لوگ عربی زبان کے مبدا اور امام ہیں۔ ان کے بالمقابلہ زبان دانی میں گرچہ وہ کتنا ہی بڑا طبیب، فقیہ، محدث ہو کسی کا قول معتبر نہیں اور یہی راز ہے کہ مولدین عرب اگر چہ وہ ابن الرومی اور متنبی جیسے با کمال کیوں نہ ہوں۔ ادباء کے ہاں ان کے مقابلہ میں ان کی دمڑی کی بھی وقعت نہیں اور چونکہ انبیاء علیہم السلام احکام کی تعلیم اور ہدایت کے لئے بھیجے جاتے ہیں اور تہذیب اخلاق کے لئے مبعوث ہوتے ہیں۔ اس لئے انہوں نے بھی لغت یا محاورات وغیرہ میں کسی قسم کی دست اندازی نہیں کی اور یہی سر ہے کہ قرآن مجید میں فرما دیا گیا: "وما ارسلنا من رسول الا بلسان قومہ لیبین لهم" چنانچہ اساتذہ دہلی اور لکھنؤ کا اردو زبان کے محاورات میں جس طرح اعتبار کیا جائے گا۔ اگر کوئی پنجابی یا بنگالی اردو میں کوئی نثر یا نظم خلاف قواعد ان اساتذہ کے لکھے اور پھر وہ فصاحت و بلاغت کا اس کلام کے مدعی ہو تو ہرگز کوئی شخص اس کے تسلیم کے لئے آمادہ نہیں۔ اسی طرح عربی زبان میں مکہ معظمہ اور پھر اس میں قریش کی زبان اور اس میں بھی بنی ہاشم خصوصاً محمد رسول اللہ ﷺ جو امی محض تھے اور خالص زبان عربی ان کی مادری اور پدری بلکہ آبائی تھی اور انہیں کے سزاوار تھا کہ یوں کہیں! انچہ من گویم ہمان سند است۔

اب اس کے خلاف کوئی یہ کہے کہ قرآن مجید میں بھی خلاف قواعد عربیت کلام موجود ہے تو ہم ادھر عرض کریں گے کہ اپنے قواعد عربیت کو ان کے کلام معجز نظام سے درست کر لیجئے۔ قواعد کا ماخذ ان کا کلام ہے۔ ان کا کلام آپ کے قواعد کا پابند نہیں۔ حضرات ناظرین کوئی شاہزادہ دہلی یا لکھنؤ کا اردو بولے اور ایک بنگالی یا پنجابی اس پر اعتراض کرے کہ یہ خلاف قواعد اردو ہے تو اس کا جواب اس کے سوا کیا ہو سکتا ہے کہ تم اپنے قول کو ان کے کلام سے درست کر لو یہ جو کہتے ہیں یہی صحیح ہے۔ کیونکہ قواعد کا ماخذ انہیں کا کلام ہے۔ بخلاف مرزا قادیانی کے اگر ان کا کوئی کلام عربی خلاف قوانین صرف و نحو و عروض ولغت وغیرہ ہو گا جن کا ماخذ انہیں عرب کا کلام ہے تو ہرگز قابل سماعت بھی نہ ہوگا۔ چہ جائیکہ فصیح و بلیغ ہو اور معجز ہونا تو بڑی بات ہے۔

اب میں آپ کو اس قصیدہ کی فوقیت کی وجوہ کی طرف متوجہ کرتا ہوں اور خدا سے استعانت چاہتا ہوں۔ مرزا قادیانی کا قصیدہ جس بحر میں اور جس قافیہ اور حرف روی اور مجریٰ میں ہے یہ بھی اسی بحر اور قافیہ وغیرہ میں ہے۔ تا کہ ناظرین کو فیصلہ کرنے میں آسانی ہو کہ مرزا قادیانی کے قصیدہ سے یہ قصیدہ فصاحت و بلاغت وغیرہ میں کیا پایہ رکھتا ہے۔ ٢٦

نے ابطال اعجاز حصہ اول میں ملاحظہ کی جس میں عروض یعنی شرط اوّل کا جزو آخ ثانیہ چند طرح پر آتا ہے۔ مفاعیلن، مف اشعار بہت ہیں جن کا وزن فاسد ہے ضرب اور عروض میں خرابیاں موجود ہ زحافات کسی وجہ میں مباح ہوں۔ مگر ان و بلاغت اس زور سے ہوں کہ اعجاز وقت سے دعویٰ کے ساتھ کہتا ہوں کہ یہ قصید

ترین عیوب سے ہیں اور واجب الا عیوب سے ہمہ وجوہ بالکل منزہ ہے گئی ہے۔ ناظرین وہاں دیکھ لیں۔

فصاحت اور بلاغت کے علاوہ دعویٰ تفصیل حصہ اول میں ہے۔ لیکن اس

سرقہ کیا گیا ہے جن کی تفصیل حصہ ا ہے۔ ہاں جہاں کہیں کسی کا قول لیا مرزا قادیانی کے جو آخر قصیدہ عینی م بالموجب ہیں۔ وہ ممدوح ہیں۔ جب

مرزا قادیانی (اعجاز احمدی ص ٩٠، خزا کے اشعار میں واقعات کے بناء پ زیادہ اشعار لکھے ہیں۔ ہاں یہ دو برابر اشعار ہوں تو اس کا بحر خامو

صفحہ ١٨٥

نے ابطال اعجاز حصہ اوّل میں ملاحظہ کی ہوگی۔ کیونکہ بحر طویل کا وزن، فعولن مفاعیلن فعولن مفاعلن جس میں عروض یعنی شطر اوّل کا جزء آخر ہمیشہ مفاعلن بغیر یا آتا ہے اور ضرب یعنی جزء آخر مصرعہ ثانیہ چند طرح پر آتا ہے۔ مفاعیلن، مفاعلن، فعولن، فعلان وغیرہ مرزا قادیانی کے قصیدہ میں ایسے اشعار بہت ہیں جن کا وزن فاسد ہے اور بحر طویل کسی طرح پر اس کے تحمّل کے لئے تیار نہیں۔ خود ضرب اور عروض میں خرابیاں موجود ہیں اور حشو کے زحافات کا تو ٹھکانا ہی نہیں۔ اگرچہ حشو کے زحافات کسی وجہ سے مباح ہوں۔ مگر ان قصائد کے کسی طرح مناسب نہیں۔ جن میں دعویٰ فصاحت وبلاغت اس زور سے ہوں کہ اعجاز وتحدی کے درجہ تک پہنچا دیئے گئے ہوں۔ میں نہایت اطمینان سے دعویٰ کے ساتھ کہتا ہوں کہ یہ قصیدہ اس عیب سے منزہ اور پاک ہے۔ فالحمدللہ!

ترین عیوب سے ہیں اور واجب الاجتناب ہیں، موجود ہیں۔ بخلاف اس کے کہ یہ قصیدہ ان عیوب سے بفضلہ و کرمہ بالکل منزہ ہے۔ حصہ اوّل ابطال اعجاز مرزا میں ان سب کی تفصیل بیان کی گئی ہے۔ ناظرین وہاں دیکھ لیں۔

فصاحت اور بلاغت کے علاوہ دعویٰ اعجاز ہو۔ مرزا قادیانی کے قصیدہ میں یہ عیب بہت ہیں جن کی تفصیل حصہ اوّل میں ہے۔ لیکن اس قصیدہ کے تمام اشعار اس عیب سے بالکل پاک ہیں۔

سرقہ کیا گیا ہے جن کی تفصیل حصہ اوّل میں ہے۔ لیکن یہ تمام قصیدہ اس عیب سے بھی بالکل پاک ہے۔ ہاں جہاں کہیں کسی کا قول لیا گیا ہے۔ وہ قائل کی طرف منسوب کر دیا گیا ہے اور بعض اشعار مرزا قادیانی کے جو آخر قصیدہ یعنی ”الا فی سبیل الغی“ میں لئے گئے ہیں۔ وہ بطریق قول بالموجب ہیں۔ وہ ممدوح ہیں۔ جیسا کہ علم بیان میں ہے وہ سرقہ کسی طرح نہیں ہو سکتی۔

مرزا قادیانی (اعجاز احمدی ص٩٠، خزائن ج١٩ ص٢٠٢) میں لکھتے ہیں: ”اور اسی قدر قصیدہ جو اسی تعداد کے اشعار میں واقعات کے بناء پر مشتمل ہو“ اس لئے اس قصیدہ میں مرزا قادیانی کے قصیدہ سے زیادہ اشعار لکھے ہیں۔ ہاں یہ دوسری بات ہے کہ کوئی قادیانی کہے کہ مرزا قادیانی کے اشعار کے برابر اشعار ہوں تو اس کا بجز خاموشی کچھ جواب نہیں۔

٢٧

صفحہ ١٨٦

بھی کہہ سکتے ہیں۔ جیسا تعشق بمعنی میت اور ناطف بمعنی شیرینی و ملم بمعنی نبی وغیرہ۔

(دیکھو ابطال اعجاز مرزا حصہ اوّل)

بخلاف اس کے اس قصیدہ میں عموماً وہی الفاظ استعمال کئے گئے ہیں جو سلیس اور کثیر الاستعمال ہیں۔

عادت قدیمہ اور حدیثہ ہے کہ وہ ابتدائے قصیدے کو مرغوب اور خوش کن الفاظ اور مضامین دلربا سے مزین کرتے ہیں اور اسی کو حسن مطلع کہا جاتا ہے جن میں اکثر تغزل ہوتا ہے اور عشق وفراق وغیرہ کی دلفریب باتیں مذکور ہوتی ہیں۔ جس کی وجہ سے نفس کو اس کی طرف نہایت رغبت ہوتی ہے اور بغایت سننے کا مشتاق ہوتا ہے۔ عربی کے تمام مشہور قصیدے اس طرح پر لکھے گئے ہیں۔ اہل عرب اس کو کمال عظیم شمار کرتے ہیں۔ متقدمین سے لے کر متاخرین کے قصیدے ملاحظہ کیجئے۔ جس قدر اعلیٰ درجہ کے قصائد ہیں۔ کوئی اس سے خالی نہیں۔ مرزا قادیانی نے اس کا بالکل خیال نہیں کیا اور صدر قصیدہ سے الفاظ شنیعہ کا استعمال شروع کیا۔ جس سے طبیعت سلیمہ نفرت کرتی ہے۔ مثلاً وقا، مدم، ارواک، خبل، اغراء، موغر جس کے معنی زشی کو مارا، ہلاک شدہ، ہلاک کیا،سخت گمراہ، برانگیختہ کیا، غصہ دلانے والا۔

اب حضرات ناظرین دیکھیں کہ ابتدائے قصیدے سے مرزا قادیانی کی بدزبانی اور تضلیل اور ہلاکت اور ردی معلوم ہوتی ہے اور اس قسم کے الفاظ صدر قصیدہ میں معیوب شمار کئے جاتے ہیں۔ کما بین فی موضعہ۔

بخلاف اس کے یہ قصیدہ بحمد اللہ ہر دو مطلع نہایت دلچسپ تشبیب اور تغزل پر مبنی ہے جن حضرات کو مذاق ادب ہے اور اشعار عربیہ کا ذوق سلیم ہے وہ ان کے دلفریب مضامین کی داد دیتے ہوئے انشاء اللہ اس کی فوقیت کو ضرور تسلیم کریں گے۔

ہے اور جس قدر اس میں تناسب اور استحسان واقع ہوتا ہے۔ اسی قدر شاعر کا کمال اور قصیدہ کی عظمت ہوتی ہے۔ مرزا قادیانی کا قصیدہ اس سے بالکل معرّیٰ ہے اور کیونکر نہ ہو۔ جب کہ مرزا قادیانی نے صدر قصیدہ میں حسن مطلع کا لحاظ نہ کیا اور الفاظ شنیعہ سے کریہہ الصوت بنا دیا تو

٢٨

حسن تخلص کیونکر پیدا ہوتا۔ حسن تخلص تو مبنی اس مناسبت سے رجوع کرے۔ جیسے متنبّی کہتا ہے

خلیلی انی لا اری غیر شاعر
فلا تعجبان للسيوف كثيرة

اور کیا اچھا حسن تخلص ہے کہ ایک کیا ہے۔ وہ کہتا ہے:

لو دعهم والبين فينا كانم

یعنی ہم ان کو وداع کرتے ہیں ہے جو لڑائی کے دن وسط لشکر میں پڑتا ہے اس کے شاہد ہیں۔ اس قصیدہ کے ہر دو م اعلیٰ درجہ کے محاسن میں شمار کرتے ہوئے

مہذب باوقار کا کلام ہونا چاہئے۔ سلیما مرزا قادیانی کے قصیدہ کا جواب ترکی بہ مرزا قادیانی نے اپنے خصم کے لئے آ بطریق قول بالموجب ہے جو محاسن کلا

بطلان کو مختلف طریقوں سے مختصر لف مرزائیوں سے نہ ہو سکے اور بڑے بڑ میں بھر دیا گیا ہے جو کہ بلاغت کے مجم

کے ان کے اشعار ان عیوب سے پر ہیں

نبویہ اور امت محمدیہ کی نسبت قبیح اور یہ قصیدہ اس سے پاک اور خالی ہے

صفحہ ١٨٧

حسن تخلص کیونکر پیدا ہوتا۔ حسن تخلص تو مبنی اس پر ہے کہ شاعر تشبیب سے غرض کی طرف اعلیٰ درجہ کی مناسبت سے رجوع کرے۔ جیسے متنبی کہتا ہے:

خلیلی انی لا اری غیر شاعر فکم منہم الدعوی ومنی القصائد
فلا تعجبان السیوف کثیرۃ ولکن سیف الدولہ الیوم واحد

اور کیا اچھا حسن تخلص ہے کہ ایک شعر میں ابوطیب متنبی نے سیف الدولہ کی مدح میں ادا کیا ہے۔ وہ کہتا ہے:

نودعہم والبین فینا کانہ قنا ابن ابی الہیجاء فی قلب فیلق

یعنی ہم ان کو وداع کرتے ہیں۔ حالانکہ ان کا فراق ہمارے لئے سیف الدولہ کا نیزہ ہے جو لڑائی کے دن وسط لشکر میں پڑتا ہے۔ اسی طرح اور بھی قصائد ابن الرومی اور متنبی وغیرہ کے اس کے شاہد ہیں۔ اس قصیدہ کے ہر دو مطلع اعلیٰ درجہ کے تخلص پر مبنی ہیں۔ جس کو ارباب بصیرت اعلیٰ درجہ کے محاسن میں شمار کرتے ہوئے داد دیں گے۔

مہذب باوقار کا کلام ہونا چاہئے۔ سفیہانہ اور جاہلانہ طریقہ اختیار نہیں کیا گیا ہے۔ ہاں جہاں سے مرزا قادیانی کے قصیدہ کا جواب ترکی بہ ترکی دیا ہے۔ وہاں سے البتہ اسی قسم کے الفاظ لکھے گئے جو مرزا قادیانی نے اپنے خصم کے لئے لکھے تھے۔ بلکہ بہت اشعار بعینہ لوٹا دیئے گئے ہیں اور یہ بطریق قول بالموجب ہے جو محاسن کلام سے ہے۔

بطلان کو مختلف طریقوں سے مختصر لفظوں میں دکھلایا گیا ہے۔ جن کے جواب اس وقت تک مرزائیوں سے نہ ہو سکے اور بڑے بڑے مضامین کی طرف اشارہ کر دیا گیا ہے۔ گویا دریا کو کوزہ میں بھر دیا گیا ہے جو کہ بلاغت کے مبحث ایجاز کا خاص مقصد ہے۔

کے ان کے اشعار ان عیوب سے پر ہیں جن کی تفصیل ابطال اعجاز مرزا حصہ اوّل میں موجود ہے۔

نبویہ اور امت محمدیہ کی نسبت قبیح اور شنیع الفاظ استعمال کئے گئے ہیں جن کی تفصیل آگے آئے گی۔ یہ قصیدہ اس سے پاک اور خالی ہے کہیں اسلاف کرام کی شان میں ہرگز کسی قسم کی سوء ادبی نہیں کی

٢٩

صفحہ ١٨٨

گئی اور نہ مرزا قادیانی کی طرح ان کی شانِ اقدس میں کوئی گستاخی کے کلمات لکھے گئے۔

بالموجب، صنعت طباق، جناس، توجیہ وغیرہ جا بجا واقع ہوئے ہیں۔

کنایہ وغیرہ جا بجا مستعمل ہیں۔ ادیب مبصر غور کر کے نکال لے گا۔ بوجہ طوالت کے میں تفصیل کرنے سے معذور ہوں۔

اور بیسیوں مطلعوں میں رعایت استدلال مع تعریض وغیرہ موجود ہیں جن کو واقف بلاغت بہت اشعار میں پائے گا۔

گیا ہے۔ اس میں لفظی ترجمہ چھوڑ کر اشعار کے نیچے ان کا خلاصہ مطلب اردو میں بامحاورہ لکھ دیا ہے کہ ہر اردو خوان ناظرین کو سمجھنے میں آسانی ہو۔

چونکہ ”جزاء سيئة سيئة مثلہا“ پر عمل کر کے آخر قصیدہ میں جواب ترکی بہ ترکی دیا ہے۔ اس لئے ناظرین کو معذرت کے ساتھ دکھلانا چاہتا ہوں کہ مرزا قادیانی نے اپنے مضمون اور قصیدہ میں سید المرسلین ﷺ اور صحابہ کرامؓ اور علمائے اسلام اور مشائخ عظام کی شان میں کس قدر بے ادبیاں کی ہیں۔

حضرت سید المرسلین خاتم النبیین محمد ﷺ کی نسبت مرزا قادیانی کی بد زبانی

دعوٰی افضلیت ”اس کے لئے چاند کے خسوف کا

(اعجاز احمدی ص ٧١، خزائن ج ١٩ ص ١٨٣)

نشان ظاہر ہوا اور میرے لئے چاند اور سورج دونوں کا ..... کیا تو انکار کرے گا۔“

”اور اس کے معجزات میں سے معجزانہ کلام بھی تھا۔ اسی طرح مجھے وہ کلام دیا

(ایضاً)

گیا جو سب پر غالب ہے۔“

”اور میں محمد ﷺ کی طرح ذو نسبت ہوں اور

(اعجاز احمدی ص ٧١، خزائن ج ١٩ ص ١٨٣)

اس کی پاک مٹی کا مجھ میں خمیر ہے۔“

”اب ان بھلے مانسوں سے کوئی پوچھے کہ اگر تمہارے بیان میں کوئی بے ایمانی

(ایضاً)

اور جھوٹ نہیں تو وہ الہام شائع کردہ پیش کرو جس میں خدا خبر دیتا ہو کہ ضرور اب کی دفعہ لڑکا پیدا ہو گا یا یہ خبر دیتا ہو کہ لڑکی کے بعد پیدا ہونے والا وہی موعود لڑکا ہے اور کوئی اگر ہم نے یہ خیال بھی کیا ہو

٣٠

صفحہ ١٨٩

کہ شاید یہ لڑکا وہی ہے تو ہمارا خیال کیا چیز ہے۔ جب تک کھلی کھلی وحی الہی نہ ہو۔ آنحضرت ﷺ نے اپنے نفس کے خیال سے یہ گمان کیا تھا کہ یمامہ کی طرف میری ہجرت ہوگی۔ مگر وہ خیال صحیح نہ نکلا اور آخر مدینہ کی طرف ہجرت ہوئی۔‘‘

(اعجاز احمدی ص ١٠، خزائن ج ١٩ ص ١١٧)

حضرت ابو ہریرہؓ جن کی روایت سے صحاح ستہ مالا مال ہے۔ ان کی نسبت مرزا قادیانی کہتے ہیں: (اعجاز احمدی ص ١٨، خزائن ج ١٩ ص ١٢٧) ’’اور معلوم ہوتا ہے کہ بعض ایک دو کم سمجھ صحابہ کو جن کی درایت عمدہ نہیں تھی۔ عیسائیوں کے اقوال سن کر جو ارد گرد رہتے تھے پہلے کچھ یہ خیال تھا کہ عیسیٰ آسمان پر زندہ ہے۔ جیسا کہ ابو ہریرہؓ جو غبی تھا اور درایت اچھی نہیں رکھتا تھا۔‘‘

حضرت امام حسینؓ کی نسبت لکھتے ہیں

’’کیا تو اس کو تمام دنیا سے زیادہ پرہیزگار سمجھتا

(اعجاز احمدی ص ٦٩، خزائن ج ١٩ ص ١٨١)

ہے اور یہ تو بتلاؤ کہ اس سے تمہیں دینی فائدہ کیا پہنچا۔ اے مبالغہ کرنے والے۔‘‘

’’اور مجھ میں اور تمہارے حسین میں بہت فرق ہے۔ کیونکہ مجھے تو ہر ایک وقت

(ایضاً)

خدا کی تائید اور مدد مل رہی ہے۔‘‘

’’مگر حسین پس تم دشت کربلا کو یاد کرلو اب تک تم روتے ہو۔ پس سوچ لو......‘‘

(ایضاً)

’’اور بخدا! اسے مجھ سے کچھ زیادت نہیں اور

(اعجاز احمدی ص ٨١، خزائن ج ١٩ ص ١٩٣)

میرے پاس خدا کی گواہیاں ہیں۔ پس تم دیکھ لو......‘‘

’’اور میں خدا کا کشتہ ہوں۔ لیکن تمہارا حسین دشمنوں کا کشتہ ہے۔ پس فرق کھلا

(ایضاً)

کھلا اور ظاہر ہے۔‘‘

علمائے اسلام کی نسبت

’’پھر بہت کوشش کے بعد ایک بھیڑیئے کو لائے

(اعجاز احمدی ص ٣٩، خزائن ج ١٩ ص ١٥١)

اور ہماری مراد اس سے ثناء اللہ ہے اور ہم ظاہر کرتے ہیں۔‘‘

’’اس نے کمینوں کی طرح بغیر دانائی کے کلام کیا۔‘‘

(ایضاً)

’’جس میں ایک طرف بھیڑیا چیختا تھا اور ایک

(اعجاز احمدی ص ٤٠، خزائن ج ١٩ ص ١٥٢)

طرف شیر غراتا تھا۔‘‘

’’اور کھڑا ہوا ثناء اللہ اپنی جماعت کو اغوا کر رہا تھا۔‘‘

(ایضاً)

’’اور ثناء اللہ ہر ایک گھڑی ...... فساد کی آگ

(اعجاز احمدی ص ٤٢، خزائن ج ١٩ ص ١٥٤)

بھڑکاتا تھا۔‘‘

٣١

صفحہ ١٩٠

(اعجاز احمدی ص٣٤، خزائن ج١٩ ص١٥٤) ”اور ثناء اللہ نے میرے اوپر نکتہ چینی شروع کی جو ہویٰ و ہوس کا بیٹا تھا۔“

(اعجاز احمدی ص٣٤، خزائن ج١٩ ص١٥٥) ”حالانکہ ثناء اللہ کو علم اور ہدایت سے ذرا مس نہیں۔ پس تعجب ہے اس مچھر پر کہ کرگس بننا چاہتا ہے۔“

(اعجاز احمدی ص٧٥، خزائن ج١٩ ص١٨٨) ”مجھے ایک کتاب کذاب کی طرف سے پہنچی ہے۔ وہ خبیث کتاب اور بچھو کی طرح نیش زن۔“

(ایضاً) ”پس میں نے کہا کہ اے گولڑہ کی زمین تجھ پر لعنت۔ تو ملعون کے سبب سے ملعون ہوگئی۔“

(ایضاً) ”اس فرومایہ نے کمینہ لوگوں کی طرح گالی کے ساتھ بات کی ہے۔“

”اور میری طرف سے دس ہزار کے انعام کا وعدہ نہیں بلکہ وہ شریر جو گالیاں دینے سے باز نہیں آتا۔ ٹھٹھا کرنے سے نہیں رکتا۔ توہین کی عادت کو نہیں چھوڑتا اور ہر ایک مجلس میں میرے نشانوں سے انکار ہے۔ اس کو چاہئے کہ میعاد مقررہ میں اس نشان کی نظیر پیش کرے ورنہ ہمیشہ کے لئے اور دنیا کے انقطاع تک مفصلہ ذیل لعنتیں اس پر آسمان سے پڑتی رہیں گی۔ بالخصوص مولوی ثناء اللہ صاحب جو خود انہوں نے میری نسبت دعویٰ کیا ہے کہ اس شخص کا کلام معجزہ نہیں ہے۔ ان کو ڈرنا چاہئے کہ خاموش رہ کر ان لعنتوں کے نیچے کچلے نہ جائیں اور وہ لعنتیں یہ ہیں:

وتلک عشرۃ کاملۃ“

(اعجاز احمدی ص٣٨، خزائن ج١٩ ص١٤٩)

٣٢

مرزا قادیانی کے ق

بسم اللہ ا

نحمدہ ونصلی علیٰ

القصید

أَلا هَل رَسُولُ مِنْ سُعَادَ يُبَشِّرُ

کا خوف ڈراتا ہے۔

أَلا هَل لِهَيْمَانِ الْمُقِيمِ تَنَقُّضُ
أَمَا لِتَبَارِيحِ الْغَرَامِ نِهَايَةٌ
فُؤَادِي بِلَيْلَى أَنْعَمَ اللَّهُ بَالَهَا
أُعَلِّلُ نَفْسِي بِالرَّسُولِ وَأَنَّنِي

یہ امر دشوار ہے۔ یعنی یہ کہ محبوبہ

وَمَا حِيْلَةُ الْمُشْتَاقِ إِلَّا تَعَلُّلاً

مرے اور دفن ہو۔

وَكَمْ حَمَّلَتْنِي مِنْ تَبَارِيحِ نَالِهَا

قدرت سے باہر ہے۔

وَكَمْ بَاتَ قَلْبِي مِنْ رَسِيسِ غَرَامِهَا
صفحہ ١٩١

مرزا قادیانی کے قصیدہ اعجازیہ کا جواب

بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

نحمده ونصلي على خاتم النبيين وسيد المرسلين

القصيدة الجوابيه

أَلَا هَلْ رَسُوْلٌ مِّنْ سُعَادٍ يُبَشِّرُ بِاِنْجَازِ وَعْدٍ كَادَ بِالْيَاسِ يُنْذِرُ

کا خوف ڈراتا ہے۔

أَلَا هَلْ لُبَانَاتُ الْمُتَيَّمِ تَنْقَضِى وَهَلْ تَنْجَلِى عَنْهُ الْخُطُوْبُ وَتُدْحَرُ
أَمَا لِتَبَارِيحِ الْغَرَامِ نِهَايَةٌ وَمَا لِلدَّيَاجِى الصَّبِّ صُبْحٌ فَيُسْفِرُ
فُؤَادِى بِلُقْيَاهُ اَنْعَمَ اللهُ بَالَهَا مُعَنًّى وَقَلْبِى لَمْ يَزَلْ يَتَفَطَّرُ
اُعَلِّلُ نَفْسِى بِالرَّسُوْلِ وَاِنَّنِى لَاَعْلَمُ حَقًّا اَنَّهُ مُتَعَذِّرُ

یہ امر دشوار ہے۔ یعنی یہ کہ محبوبہ قاصد بھیجے۔

وَمَا حِيْلَةُ الْمُشْتَاقِ اِلَّا تَعَلُّلًا بِمَا يَرْتَجِيْهِ اَوْ يَمُوْتُ فَيُقْبَرُ

مرے اور دفن ہو۔

وَكَمْ حَمَّلَتْنِى مِنْ تَبَارِيْحِ نَائِهَا صِعَابَ اُمُوْرٍ حَمْلُهَا لَسْتُ اَقْدِرُ

قدرت سے باہر ہے۔

وَكَمْ بَاتَ قَلْبِى مِنْ رَسِيْسِ غَرَامِهَا يَذُوْقُ الْهَوَى وَالْعَيْنُ بِالدَّمْعِ تَحْدُرُ

٣٣

صفحہ ١٩٢

چکھتا تھا اور آنکھ سے آنسو جاری تھے۔

أَلَا خَبِّرُوا لَيْلَى بِحَالِي وَإِنْ غَدَتْ بِحَالِيَ أَدْرَى مِنْ فُؤَادِي وَأَخْبَرُ

زیادہ واقف اور خبردار ہے۔

أَجَلْ وَاسْأَلُوْهَا عَنْ قَتِيْلِ لِحَاظِهَا بِأَيِّ كِتَابِ لَحْظُهَا الدَّمَ يُهْدِرُ

تیر نگاہ نے عشاق کا خون مباح کر لیا ہے۔

عَجِبْتُ لَهَا تَدْرِي بِحَالِي وَبِالَّلقَا تُوَاعِدُنِي تَتْرَى وَفِي الْحَالِ تَغْدِرُ

کرتی ہے اور فوراً مکر جاتی ہے۔

وَتَزْعُمُ أَنَّ الْوَصْلَ عَيْبٌ بِشِيْمَتِهَا وَتُوْصِلُ غَيْرِي خُفْيَةً ثُمَّ تُنْكِرُ
وَأَعْجَبُ مِنْ هٰذَا نُبُوَّةُ شَاعِرٍ يَرَى الشِّعْرَ إِعْجَازًا وَبِالنَّظْمِ يَفْخَرُ
أَلَمْ يَدْرِ أَنَّ اللّٰهَ نَزَّهَ رُسُلَهُ عَنِ الشِّعْرِ فِي التَّنْزِيْلِ جَاءَ يُكَدِّرُ

سے پاک اور صاف رکھا ہے۔ یہ علم تو قرآن میں کئی جگہ ہے۔

وَقَالَتْ قُرَيْشٌ تَزْدَرِي بِنَبِيِّهَا أَتَى شَاعِرٌ يَهْدِي الْوَرَى وَيُذَكِّرُ
وَقَدْ قَالَ رَبُّ الْعَرْشِ رَدًّا لِزَعْمِهِمْ قُرْآنٌ مُبِيْنٌ لَيْسَ بِالشِّعْرِ أَجْدَرُ
وَأَقْسَمَ فِي الْأُخْرَى مِنَ الْآيِ إِنَّهُ لَقَوْلُ رَسُوْلٍ لَمْ يَكُنْ قَطُّ يَشْعُرُ
وَلَوْ لَمْ يَكُنْ نَظْمُ الْقَوَافِي مُنَافِيًا لِدَعْوَى نَبِيٍّ جَاءَ لِلْحَقِّ يَنْصُرُ

٣٢

صفحہ ١٩٣
لَمَا صَحَّ فِى الذِّكْرِ التَّقَاوُلُ بَيْنَهَا وَذَاکَ دَلِيْلٌ لِّلَّذِى يَتَدَبَّرُ

ہے کہ شاعر نبی نہیں ہوتا۔

وَقَدْ قَالَ أَهْلُ الْعَقْلِ طُرًّا بِاَنَّهُ يَشِيْنُ بِشَانِ الْعِلْمِ بَلْ هُوَ مُنْكَرُ
وَقَالَ الْاِمَامُ الشَّافِعِىُّ بِمِثْلِهِ وَذَاکَ اِمَامٌ فَاضِلٌ مُّتَبَحِّرُ
وَلَوْلَمْ يَكُنْ ذَا الشِّعْرُ يُزْرِى بِشَأْنِنَا لَفُقْتُ لَبِيْدًا حَيْثُ اِنِّى اَشْعَرُ

گوئی میں بڑھ جاتا۔

اِذَا كَانَ اَهْلُ الْعِلْمِ لَا يَرْتَضُوْنَهُ فَكَيْفَ يَرَاهُ الْاَنْبِيَاءُ وَتَفْخَرُوْا
عَلَا اَنَّهُ مَنْ يَّدَّعِى فِى كَلَامِهِ بِاِعْجَازِهِ بِاللّٰهِ لَا شَكَّ يَكْفُرُ
فَاِنَّ كَلَامَ اللّٰهِ اُنْزِلَ مُعْجِزًا لِكُلِّ بَلِيْغٍ فِى الْبَلَاغَةِ يَبْهَرُ
لَوِ اجْتَمَعَتْ اِنْسُ الْاَنَامِ وَجِنُّهُمْ عَلٰى اَنْ يُّبَارُوْهُ لَبَاؤُا وَخَسِرُوْا
فَمَا بَالُ مَنْ يَّأْتِىْ بِنَظْمٍ وَيَدَّعِىْ بِاِعْجَازِهِ فِى الْخَلْقِ هَلْ لَا يُكَفَّرُ
اَمَا هُوَ فِىْ تِلْكَ الدَّعَاوِى بِمُنْكِرٍ لِمَا جَاءَ فِى الْقُرْآنِ حَقًّا يُسَطَّرُ
وَلَا عَجَبَ مِنْ فِعْلِهِ فِى زَمَانِنَا اِذَا مَا بَدَتْ اَخْبَارُ سُوْءٍ تُزَوَّرُ
فَكَمْ قَدْ مَضٰى فِى الدَّهْرِ مِنْ قَبْلِ مُدَّعٍ كَبِدْعَوَاهُ بِالزُّوْرِ الْمُبِيْنِ يُدَغْفِرُ

٣٥

صفحہ ١٩٤

نے اپنے فریب سے خلق کو ہلاک کردیا۔

فَمِنْهُمُ عُبَيْدُ اللّٰهِ مَعَ عَبْدِ مُؤْمِنٍ كَذَا ابْنُ طَرِيْفٍ جَاءَ فِی النَّاسِ يَشْعُرُ
وَأَبْدَعَ فِیْ نَظْمِ الْكَلَامِ وَنَثْرِهِ وَقَالَ نَبِيٌّ جِئْتُ لِلْحَقِّ أَنْشُرُ
وَقَدْ تَبِعَتْهُ فِرْقَةُ السُّوْءِ وَاقْتَدَتْ بِهِ سُفَهَاءُ الْقَوْمِ حِيْنًا فَتَبَّرُوْا
وَقَدْ كَانَ يَتْلُوْ سُوْرَةً فِیْ صَلٰوتِهِمْ أَنَاسٌ مِنَ الْأَتْبَاعِ جَهْلًا فَدُمِّرُوْا

ہلاک کر دیئے گئے۔

وَدَمَّرَهُ الْمَوْلٰی وَأَتْلَفَ جُنْدَهُ وَخَلَّدَهُ فِی النَّارِ دَوْمًا تُسَعَّرُ

دیا جو دواماً جلتی رہتی ہے۔

عَلَا أَنَّهُ لَوْ صَحَّ دَعْوَاهُ أَنَّهُ مَسِيْحٌ أَتٰی يَهْدِی الْوَرٰی وَيُذَكِّرُ

کے لئے آیا ہے۔

فَمَا بَالُهُ لَا يَضَعُ الْجِزْيَةَ الَّتِیْ أَتَتْنَا بِهَا الْأَخْبَارُ حَقًّا تُسَطَّرُ
وَلَا بُدَّ مِنْ قَتْلِ الْخَنَازِيْرِ كُلِّهَا وَكَسْرِ صَلِيْبِ الْكُفْرِ لِلْحَقِّ يَنْصُرُ
وَمِنْ قَتْلِهِ الدَّجَّالَ طَبْقًا لِقَوْلِهِ مَسِيْحٌ وَإِلَّا جَاءَ زُوْرًا يُصَوَّرُ
أَقُوْلُ وَمَعَ هٰذَا فَدَعْوَىٰ نُبُوَّةٍ وَإِتْيَانُ زُوْرِ الْقَوْلِ لَا شَكَّ فَجْرُ

٣٦

وَقَدْ ثَبَتَتْ عِنْدِیْ أَكَادِيْبُ قَوْلِهِ
أَلَا أَيُّهَا الدَّجَّالُ أَنْتَ مُزَوِّرٌ
تَذَكَّرْ مَقَالًا قُلْتَهُ قَبْلَ مُدَّةٍ
فَمِنْهُ الَّذِیْ قَدْ قُلْتَهُ فِیْ أَبِی الْوَفَا

سے محفوظ رہنے میں کی۔

وَمَا قُلْتَهُ فِیْ صِهْرِ أَحْمَدَ بَيْكَ إِذْ

مفصل موجود ہیں۔

وَمَنْكُوْحَةٍ جَاءَتْ سَمَاوِيَّةً لَهُ

تھی جو مظہر العجائب ہوگا۔

وَطَاعُوْنِ بِنْجَابٍ إِلَی غَيْرِ ذٰلِكَ مِنْ

گوئیاں ہیں جو تیرے دعویٰ نبوت

وَتِلْكَ الَّتِیْ أَخْبَرْتَ عَنْ بَادِيَ الصَّبِیْ

ثبت کرنے میں بڑی جرات

وَقُلْتُ بِأَنَّ اللّٰهَ جَلَّ جَلَالُهُ
وَلَا زِلْتَ تَفْرِی الْقَوْلَ زُوْرًا وَلَمْ تَخَفْ

خوف نہیں کیا اور جرأت سے کام لیا۔

صفحہ ١٩٥
وَقَدْ ثَبَتَتْ عِنْدِيْ اَكَاذِيْبُ قَوْلِهِ صَرِيْحًا وَإِنِّيْ بَعْضَهَا سَأُحَرِّرُ
اَلَا أَيُّهَا الدَّجَّالُ أَنْتَ مُزَوِّرٌ اَكَاذِيْبَ اِلْهَامَاتِكَ الْيَوْمَ اَنْشُرُ
تَذَكَّرْ مَقَالًا قُلْتَهُ قَبْلَ مُدَّةٍ وَاَوْرَدْتَّهُ فِيْ ضِمْنِ دَعْوَاكَ تَهْذِرُ
فَمِنْهُ الَّذِيْ قَدْ قُلْتَهُ فِيْ أَبِي الْوَفَا وَفِيْ أَمْنٍ لِّلْقَادِيَانِ تُخَبِّرُ

سے محفوظ رہنے میں کی۔

وَمَا قُلْتَهُ فِيْ صِهْرِ أَحْمَدَ بَيْكَ إِذْ تَفَاصِيْلُ إِلْهَامَاتِ مِرْزَا تُفَسِّرُ

مفصل موجود ہیں۔

وَمَنْكُوْحَةٍ جَاءَتْ سَمَاوِيَّةً لَّهُ وَتَأْتِيْهِ بِابْنٍ لِّلْعَجَائِبِ يُظْهِرُ

تھی جو مظہر العجائب ہوگا۔

وَطَاعُوْنِ بُنْجَابٍ إِلَى غَيْرِ ذٰلِكَ مِنْ اَحَادِيْثِكَ اللَّاتِيْ لِدَعْوَاكَ تُنْكِرُ

گوئیاں ہیں جو تیرے دعویٰ نبوت کی تکذیب کرتی ہیں۔

وَتِلْكَ الَّتِيْ اَخْبَرْتَ عَنْ بَارِيِ السَّمَا وَاَلْصَقْتَ بَغْيًا بِالْحَدِيْثِ تُزَوِّرُ

نسبت کرنے میں بڑی جرأت اور ظلم کیا ہے۔

وَقُلْتَ بِأَنَّ اللّٰهَ جَلَّ جَلَالُهُ حَبَاكَ بِتَزْوِيْجٍ لَّدَيْهِ يُبَشِّرُ
وَلَا زِلْتَ تَفْرِي الْقَوْلَ زُوْرًا وَّلَمْ تَخَفْ مِنَ اللّٰهِ فِيْمَا تَفْتَرِيْهِ وَتَجْسُرُ

خوف نہیں کیا اور جرأت سے کام لیا۔

٣٧

صفحہ ١٩٦
وَاَرْسَلْتَ تَبْغِي الْوَصْلَ بِابْنَةِ اَحْمَدَ وَتِلْكَ الَّتِى تَزْوِيْجُهَا مُتَقَرَّرُ

پر ہو چکا تھا۔

وَقُلْتُ لَهُ زَوِّجْنِي ابْنَتَكَ الَّتِي حَبَاهَا لِيَ الْمَوْلَى وَلِيٌّ كَانَ يُؤْثِرُ

اور صرف مجھے ہی بخش دیا ہے۔

وَإِنْ لَمْ تُزَوِّجْنِيْ بِهَا تَكُ نَادِمًا وَلَاشَكَّ عَنْ قُرْبٍ جَمِيْعًا تُدَمَّرُ

خاندان تہہ و بالا ہو جائے گا ۔

فَإِنِّي قَدْ أُلْهِمْتُ اَنَّ نِكَاحَهَا تَقَرَّرَ حَقًّا لِي وَذَا لَيْسَ يُنْكَرُ
فَبَادِرْ إِلَى اِجْرَاءِ اَمْرِ اِلٰهِنَا وَلَا تَتَوَانَى فِى امْتِثَالٍ فَتَخْسَرُ

ورنہ نقصان اٹھائے گا۔

وَلَاشَكَّ إِنْ زَوَّجْتَنِيْهَا بِلَا مِرَى تَحُفُّكَ اِنْعَامَاتُ رَبِّي وَتَكْثُرُ

ہوں گے۔

فَلَمَّا انْتَهَى مَا كَانَ مِنْ أَمْرِ خِطْبَةٍ وَشَاعَتْ اَحَادِيْثُ النُّبُوَّةِ تُنْشَرُ
وَقَالُوْا نَبِيٌّ يَدَّعِي اَنَّهُ غَدًا خَلِيْفَةُ عِيْسَى سَلِّمُوْهُ وَوَقِّرُوْا

تعظیم کرو۔

وَأَظْهَرَ مِنَ إِلْهَامِهِ الْجَمِّ نُبْذَةً تُفِيْدُ نِكَاحًا فِي السَّمَاءِ يُقَرَّرُ

آسمان پر ہو چکا ہے۔ ٣٨

فَقَالَ اَبُوْهَا لَسْتُ جَاهِلَ عَصْرِهِ

چھوڑ دوں۔

رُوَيْدَكَ لَا تَعْجَلْ بِإِفْشَاءِ هَذِهِ

بکتا رہتا ہے۔

وَإِنَّ ابْنَتِي هَاتِيْكَ لِلْمَوْتِ اَجْدَرُ

عقل سے بعید۔

تَجَاوَزْ عَنِ الْفَخْرِ الَّذِي قَدِ اِدَّعٰهُ

کیونکہ جھوٹا ہلاک ہو جاتا ہے۔

فَمُتْ كَمَدًا فِي حُبِّهَا وَاجْنِ حَنْظَلَا
وَلَمَّا تَنَاهَى ذَا الْجَوَابُ بِلَفْظِهِ
تَوَقَّدَتِ النِّيْرَانُ فِي الْقَلْبِ اِذْ غَشَتْ

ٹوٹ گئی۔

فَحِيْنَئِذٍ اَغْرَاهُ اِبْلِيْسُ قَائِلًا

داروں کو موت سے ڈرا۔ تجھے م

وَقُلْ لَّهُمُ إِنْ تُنْكِحُوْهَا لِآخَرٍ
ثَلٰثُونَ شَهْرًا كَانَ مَوْعِدُهُ وَلَا
صفحہ ١٩٧
فَقَالَ اَبُوْهَا لَسْتُ جَاهِلَ عَصْرِهٖ اَصَدِّقُ ضِلِّيْلاً وَّبِاللّٰهِ اَكْفُرُ

٦٠....... اس لڑکی کے باپ نے کہا کہ میں ایسا بیوقوف نہیں ہوں کہ ایک گمراہ کو مانوں اور خدا کو چھوڑ دوں۔

رُوَيْدَكَ لَا تَعْجَلْ بِاِفْشَاءِ هٰذِهٖ مِنَ الْقَوْلِ فَالْبُهْتَانُ لَا بُدَّ يَظْهَرُ

٦١....... اے مرزا اپنے ان جھوٹے الہامات کے شائع کرنے سے باز آ۔ کیونکہ فریب ظاہر ہو کر رہتا ہے۔

وَاِنَّ ابْنَتِیْ هٰذِيْكَ لِلْمَوْتِ اَجْدَرُ وَنَيْلُكَ اِيَّاهَا مُحَالٌ سَمَهْدَرُ

٦٢....... اور کہا کہ میری اس لڑکی کو موت بہتر ہے اور تجھے اس سے فائض المرام ہونا محال اور عقل سے بعید۔

تَجَاوَزْ عَنِ الْفَخْرِ الَّذِيْ قَدْ اَتَيْتَهٗ ضَلَالاً وَّبَغْيًا فَالْكَذَّابُ يُبْتَرُ

٦٣....... اور اے مرزا قادیانی تو اپنی ان برائیوں کو چھوڑ جو گمراہی اور سرکشی سے تو کرتا ہے۔ کیونکہ جھوٹا ہلاک ہو جاتا ہے۔

فَمُتْ كَمَدًا فِىْ حُبِّهَا وَاجْنِ حَنْظَلاً فَاِنَّ اَبَاطِيْلَ الْمُنٰى لَيْسَ تُثْمِرُ

٦٤....... اور مرزا تو اس کے محبت کے غم میں مر جا اور حنظل اٹھا۔ کیونکہ بیہودہ آرزوئیں پوری نہیں ہوتیں۔

وَلَمَّا تَنَاهٰى ذَا الْجَوَابُ بِلَفْظِهٖ اِلَى الْقَادِيَانِ مِنْ اَبِيْهَا يُحَرَّرُ

٦٥....... اور جب لڑکی کے باپ کا یہ جواب قادیان میں مرزا قادیانی کو لکھا ہوا ملا۔

تَوَقَّدَتِ النِّيْرَانُ فِى الْقَلْبِ اِذْ غَشَتْ بَصِيْرَتَهٗ وَالْقَامَةَ الْهَمُّ يَهْصِرُ

٦٦....... تو مرزا قادیانی کے دل میں شعلے بھڑک اٹھے اور آنکھوں میں تاریکی چھا گئی اور کمر ٹوٹ گئی۔

فَحِيْنَئِذٍ اَغْوَاهُ اِبْلِيْسُ قَائِلاً تَوَعَّدْهُمُ بِالْهُلْكِ لَاشَكَّ تُنْصَرُ

٦٧....... اور اب اس کے شہوت کے ناپاک دیو نے اسے اس پر آمادہ کیا کہ تو لڑکی کے رشتہ داروں کو موت سے ڈرا۔ تجھے مدد ملے گی۔

وَقُلْ لَّهُمُ اِنْ تَنْكِحُوْهَا لِاٰخَرٍ فَحَتْمًا اِذَا مَا زُوِّجَ الْمَرْءُ يُقْبَرُ

٦٨....... اور کہہ دے کہ اگر اس لڑکی کا نکاح دوسرے سے ہوا تو خاوند جلد تر ہلاک ہو جائے گا۔

ثَلٰثُوْنَ شَهْرًا كَانَ مَوْعِدُهٗ وَلَا يَزِيْدُ عَلٰى مَا قُلْتُ قَطْعًا فَفَكِّرُوْا

٦٩....... اور وہ اڑھائی سال میں وہ مر جائے گا اس سے زیادہ وہ ہرگز نہیں رہ سکتا۔ اب سوچو۔

٣٩

صفحہ ١٩٨
وَإِنِّي قَدْ أُلْهِمْتُ أَنَّ مَصِيْرَهَا إِلَيَّ وَإِنَّ الزَّوْجَ لَا شَكَّ يُقْبَرُ

بلاشک مرجائے گا۔

فَأُعْلِنَتِ الْأَخْبَارُ فِيْ كُلِّ بَلْدَةٍ وَشَاعَتْ أَحَادِيْثُ الْمُهَانِ وَتُنْشَرُ
إِلَى أَنْ مَضَى الْحَوْلَانِ وَالنِّصْفُ وَانْتَهَى وَمَا مَاتَ مَنْ بِالْمَوْتِ قَدْ كَانَ يُنْذَرُ
بَلِ الْكَيْذُبَانُ مَاتَ هَمًّا وَلَمْ يَنَلْ مِنَ الْوَصْلِ مَا قَدْ كَانَ يُرْجَوْ وَيُضْمَرُ
فَمَنْ يَّكُ هَذَا شَأْنُهُ كَيْفَ يُصْطَفَى نَبِيًّا لَعَمْرِيْ إِنَّ هَذَا لَمُنْكَرُ
وَآخَرُ مِنْ إِلْهَامِهِ قَدْ تَوَاتَرَتْ إِلَيْنَا بِهِ الْأَخْبَارُ عَنْهُ تُحَرَّرُ
وَذَلِكَ مَا قَدْ قَالَهُ مُتَوَاعِدًا أَبَا الْحَسَنِ الْمَشْهُوْرَ يَتْلُوْهُ جَعْفَرُ
وَقَالَ بِأَنِّيْ أُلْهِمْتُ حَقًّا بِلَا مِرًى مِنَ الْقَادِرِ الْمُحْيِيْ يُمِيْتُ وَيُقْبِرُ
وَذَلِكَ أَنِّيْ قَدْ تَضَرَّعْتُ سَائِلًا إِلَى اللّٰهِ فِيْ تَأْيِيْدِهِ وَهُوَ يَنْصُرُ
وَقُلْتُ إِلٰهِيْ فَاقْضِ مَا بَيْنَنَا بِمَا بِهِ يُعْفُ هَذَا الْخُلْفُ وَالْحَقُّ يَظْهَرُ

اور حق غالب ہو۔

فَإِنْ كُنْتُ دَجَّالًا كَذُوْبًا مُزَوِّرًا فَعَجِّلْ بِتَدْمِيْرِيْ بِأَنِّيْ أَحْقَرُ

ہو جاؤں۔

٢٠

٩

وَإِلَّا فَدَمِّرْ مُنْكِرِيْ وَمُكَذِّبِيْ

کر کہ وہ ذلیل ہوں۔

فَأَضْحَى دُعَائِيْ مُسْتَجَابًا وَسَرَّنِيْ

مجھے خوش کر دیا۔

وَقَالَ انْتَظِرْ حَوْلًا وَشَهْرًا فَيَأْتِيْ

رسوا کروں گا اور تجھے عزت ہو گی۔

أَقُوْلُ تَقَضَّى الْحَوْلُ وَالشَّهْرُ وَانْتَهَى
وَلَمْ يَبْدُ شَيْءٌ مِنْ مَوَاعِيْدِهِ الَّتِيْ
فَقَالَ عَنِ الْمِعْلَاقِ جِئْتُ وَمَا اسْتَحَى

میں خدا سے نہیں شرماتا۔

وَكُلٌّ مِنَ الشَّخْصَيْنِ لَا زَالَ مُنْعَمًا

میں رہے کہ بے لطفی پاس بھی نہ بھٹک

بَلِ الْكَيْذُبَانُ نَفْسُهُ نَالَ ذِلَّةً
هُنَا فَتَأَمَّلْ فِيْ أَحَادِيْثِ وَحْيِهِ

ہو جائے۔

وَخُذْ غَيْرَ ذَا مِنْ مِثْلِهِ مُتَعَجِّبَا
صفحہ ١٩٩
وَإِلَّا فَلِيْفِرْ مُنْكِرِى وَمُكَذِّبِى بِمَسْكَنِهِ مَعْ ذِلَّةٍ فَيُحَقَّرُوا

کر کہ وہ ذلیل ہوں ۔

فَأَضْحى دُعَائِي مُسْتَجَابًا وَسَرَّنِي إِلهِي بِبُشْرى مِنْ لَدُنْهِ تُبَشِّرُ

مجھے خوش کر دیا ۔

وَقَالَ انْتَظِرْ حَوْلاً وَشَهْرًا فَإِنَّنِي اُهَيِّنُهُمَا بَيْنَ الْوَرَى وَتُوَقَّرُ

رسوا کروں گا اور تجھے عزت ہوگی ۔

أَقُولُ تَقَضَّى الْحَوْلُ وَالشَّهْرُ وَانْتَهى وَحَوْلٌ وَحَوْلٌ ثُمَّ حَوْلٌ وَأَشْهُرُ
وَلَمْ يَبْدُ شَيْءٌ مِنْ مَوَاعِيْدِهِ الَّتِي اِلَيْهِ بِهَا أَضْحَى اللَّعِيْنُ يُخَبِّرُ
فَقَالَ عَنِ الْخَلَّاقِ جِئْتُ وَمَا اسْتَحى مِنَ الْقَائِمِ الدَّيَّانِ فِيْمَا يُزَوِّرُ

میں خدا سے نہیں شرماتا ۔

وَكُلُّ مِنَ الشَّخْصَيْنِ لَا زَالَ مُنْعَمًا بِاَرْغَدِ عَيْشٍ لَا يُكَادُ يُكَدَّرُ

میں رہے کہ بے لطفی پاس بھی نہ بھٹکی ۔

بَلِ الْكَيْدُ بَانَ نَفْسُهُ نَالَ ذِلَّةً وَمَسْكَنَةً مِنْ قَوْمِهِ لَيْسَ تُنْكَرُ
هُنَا فَتَأَمَّلْ فِي أَحَادِيْثِ وَحْيِهِ وَالْهَامِهِ وَالْعَنْهُ لَعْنًا يُتَبَّرُ

ہو جائے ۔

وَخُذْ غَيْرَ ذَا مِنْ مِثْلِهِ مُتَعَجِّبًا فَتِلْكَ أَحَادِيْثٌ صِحَاحٌ تُشَهَّرُ

٤١

صفحہ ٢٠٠

شہرت دی گئی تھی ......

وَذٰلِكَ مَا اَمْلَاهُ فِىْ رَقِّ كُتُبٍ وَاَعْلَنَهُ فِى الْكَائِنَاتِ بِمُسْطَرِ
يَقُوْلُ دَعَوْتُ اللّٰهَ رَبِّىْ قَائِلاً اِلٰهِىْ وَرَبِّىْ خَالِقِىْ يَا مُقَدِّرُ

اور میرے حاکم۔

عِبَادُكَ طُرًّا كَذَّبُوْنِىْ وَاَرْجَفُوْا بِاَنِّىْ دَجَّالٌ كَذُوْبٌ مُّزَوِّرٌ
فَاَرْجُوْكَ اَنْ جَاءَتْ لَهُمْ مِّنْكَ اٰيَةٌ تَدُلُّ عَلٰى صِدْقِىْ يَقِيْنًا وَتُخْبِرُ
سَمَاوِيَّةٌ تَاْتِيْهِمُ بِحَقِيْقَتِىْ فَيُدْرِكُهَا كُلُّ الْاَنَامِ وَيُبْصِرُوْا

جائیں اور جانیں۔

وَلَا تَكُ مِمَّا يُصْدِرُ النَّاسُ عَادَةً وَلَا مَا عَلٰى اِيْجَادِهِ النَّاسُ يَقْدِرُوْا
فَبَشَّرَنِىْ رَبِّىْ وَاَخْبَرَ اَنَّهُ اسْتَجَابَ دُعَائِىْ وَهُوَ لَا شَكَّ يَنْصُرُ
فَلَا تَعْجَلُوْا فِىْ اَمْرِهِ وَتَرَقَّبُوْا ثَلَاثَةَ اَعْوَامٍ سَنَا الْحَقِّ يَظْهَرُ
وَقَدْ مَرَّتِ الْاَعْوَامُ تَتْرٰى وَلَمْ يَبِنْ مِّنَ الْاٰيِ شَئٌ فَارْتَدِعْ يَا مُزَوِّرُ

بھی تو اے فریبی باز آ۔

اُسَائِلُكُمْ بِاللّٰهِ هَلْ صَحَّ لِلنُّهٰى نَبِىٌّ كَذُوْبٌ فِى الْمَقَالِ مُزَوِّرُ

٤٢

وَاِنْ لَّوْ قَطَعْنَا الْفِكْرَ عَنْ كُلِّ مَامَضٰى

لیں کہ اس کے اشعار معجزہ ہیں

فَيَا لَيْتَهُ لَوْ كَانَ شِعْرًا مُّهَذَّبًا
وَاَخْلَاهُ عَنْ قُبْحِ الزِّحَافِ وَصَانَهُ

تو ہوتے۔

وَلٰكِنْ بِحَمْدِ اللّٰهِ قَدْ جَاءَ شِعْرُهُ
وَقَدْ رُمْتُ اُبْدِىْ مِنْ مَّفَاسِدِ شِعْرِهِ

اس کا جہل فاش ہو۔

اُفَرِّقُ مَا بَيْنَ السَّقِيْمِ وَعُمْدَةٍ
بَلِ الْعَيْبُ لَا يَنْفَكُّ عَنْ كُلِّ صَنْعَةٍ
وَلٰكِنَّنِىْ عِنْدَ التَّاَمُّلِ لَمْ اَجِدْ

اور غلط میں فرق کرتا۔

فَطَوْرًا لَّذِى الْمَعْنٰى وَفِى اللَّفْظِ غَلْطَةٌ
فَمِنْ ذَاكَ اَجْمَلْتُ الْكَلَامَ وَلَمْ اَبُحْ

اکتفا کیا۔

صفحہ ٢٠١
وَأَنْ لَوْ قَطَعْنَا الْفِكْرَ عَنْ كُلِّ مَا مَضٰى وَقُلْنَا نَبِيٌّ مُعْجِزٌ حِيْنَ يَشْعُرُ

لیں کہ اس کے اشعار معجزہ ہیں۔

فَيَا لَيْتَهُ لَوْ كَانَ شِعْرًا مُهَذَّبًا سَلِيْمًا عَنِ الْأَلْحَانِ لَيْسَ يُعَيَّرُ
وَأَخْلَاهُ عَنْ قُبْحِ الزِّحَافِ وَصَاغَهُ بَرِيْئًا عَنِ الْإِقْوَاءِ إِنْ كَانَ يَسْطُرُ

تو ہوتے۔

وَلٰكِنْ بِحَمْدِ اللّٰهِ قَدْ جَاءَ شِعْرُهُ رَدِيْئًا قَبِيْحًا لَا يَكَادُ يُحَرَّرُ
وَقَدْ رُمْتُ أُبْدِيْ مِنْ مَفَاسِدِ شِعْرِهِ وَأَجْمَعُهَا حَتّٰى بِهِ الْجَهْلُ يُنْشَرُ

اس کا جہل فاش ہو۔

أُفَرِّقُ مَا بَيْنَ السَّقِيْمِ وَغَيْرِهِ وَأَذْكُرُ وَجْهَ الْعَيْبِ فِيْهِ وَأُزْبِرُ
بَلِ الْعَيْبُ لَا يَنْفَكُّ عَنْ كُلِّ سَطْرَةٍ إِذَا مَا تَلَاهَا الْعَالِمُ الْمُتَبَحِّرُ
وَلٰكِنَّنِيْ عِنْدَ التَّأَمُّلِ لَمْ أَجِدْ سَلِيْمًا فَاُبْدِيَ الْغَيْرَ حِيْنَ اُقَيِّرُ

اور غلط میں فرق کرتا۔

فَطَوْرًا لَّذِي الْمَعْنَى وَفِي اللَّفْظِ تَارَةً وَفِي الْوَزْنِ أُخْرٰى كُلُّ ذَاكَ مُكَرَّرُ
فَمِنْ ذَاكَ أَجْمَلْتُ الْكَلَامَ وَلَمْ أُطِقْ تَفَاصِيْلَ مَا فِيْهَا مِنَ الْعَيْبِ يُنْظَرُ

اکتفا کیا۔

٤٤

صفحہ ٢٠٢
وَمَنْ كَانَ ذَا عِلْمٍ وَّعَقْلٍ وَفِطْنَةٍ يُرَاجِعُهَا وَالْحَقُّ بِالْحَقِّ يَظْهَرُ
عَلَا أَنَّهُ مَنْ رَامَ إِثْبَاتَ جَهْلِهِ كَفَاهُ مِنَ الْأَلْحَانِ لَحْنٌ مُّنْكَرُ

اشعار کی غلطیوں سے یہ بڑی غلطی دکھا دے۔

وَحَسْبُكَ مِنْ أَشْعَارِهِ الْغُرِّ قَوْلُهُ وَنَادِ حُسَيْنًا أَوْ ظَفَرًا أَوْ أَصْغَرُ

أَوْ ظَفَرًا أَوْ أَصْغَرُ ۔

فَإِبْدَالُ فَتْحِ الرَّاءِ ضَمًّا مُّقَبَّحٌ وَفُقْدَانُهُ لِلْوَزْنِ أَيْضًا مُعَيَّرُ

القوافی میں اصراف کہتے ہیں اور اس کے ساتھ مصرعہ کا بے وزن ہونا معیوب ہے۔

وَمَنْ يَّكُ هَذَا شَأْنُهُ ثُمَّ يَدَّعِى بَلَاغَةَ إِعْجَازٍ بِهِ الْعَجْزُ أَجْدَرُ

کرنے سے عاجز ہے۔

عَلَى أَنَّ كُتْبَ الْأَنْبِيَاءِ وَصُحْفَهُمْ وَمَا جَاءَ نَا عَنْهُمْ قَدِيمًا يُسَطَّرُ
كَذَاكَ أَحَادِيثُ النَّبِيِّ وَمَا أَتَتْ إِلَيْنَا بِهِ الرُّسُلُ الْكِرَامُ تُخَبِّرُ
نَرَى لَيْسَ فِيْهَا غَيْرُ عِلْمٍ وَّحِكْمَةٍ بِهَا يَهْتَدِى عَنْ غَيِّهِ مَنْ يُّفَكِّرُ

اور گمراہی سے بچتا ہے۔

وَهَذَا هُوَ الْمَطْلُوبُ مِنْ كُلِّ مُرْسَلٍ يُبَيِّنُ شَرْعَ اللّٰهِ حَقًّا وَيُظْهِرُ
وَأَمَّا الَّذِيْ فِيْ شِعْرِهِ قَدْ أَتَاحَهُ لِإِثْبَاتِ دَعْوَى الْحَقِّ لِلْحَقِّ يُنْكِرُ

حق کا منکر ہے۔

٤٤٠

فَمَا فِيْهِ مِنْ أَمْرِ الشَّرِيعَةِ وَالْهُدَى

کی بدبو ہو۔

نَعَمْ أَنَّهَا مَحْشُوَّةٌ بِمَدَايِحِهِ
وَمَا لَيْسَهَا بِالْحَقِّ جَاءَتْ فِرْيَةٌ
وَأَشْعَارُهُ جَاءَتْ كَمِثْلِ حَدِيقَةٍ

درختوں کی ڈال کاٹ دے۔

قَضَايَاهُ تَخْيِيْلِيَّةٌ لَّمْ تَكُنْ لَّهَا
عَلَا أَنَّ نَظْمَ الشِّعْرِ لَوْ كَانَ مُعْجِزًا

ہے یعنی نبوت۔

فَكَانَ بِهَذَا الْفَضْلِ أَوْلَى أَئِمَّةً

کے لوگ نہیں کر سکتے۔

كَلَامِيَّةِ ابْنِ الْوَرْدِ وَ الشَّنْفَرَى وَمَنْ

کے اشعار عمدہ اور فائق ہیں۔

وَشِعْرِ الْمَعَرِّيْ وَالْفَرَزْدَقِ ثُمَّ مَنْ

کو انکار نہیں ہو سکتا۔

وَنَظْمِ أَبِي تَمَّامِ نِ الْحَبْرِ وَاللَّيْـ
صفحہ ٢٠٣
فَمَا فِيْهِ مِنْ اَمْرِ الشَّرِيْعَةِ وَالْهُدَى وَلَا الدِّيْنِ شَيْءٌ مَابِهِ الْحَقُّ يُنْصَرُ

کی مدد ہو۔

نَعَمْ اَنَّهَا مَحْشُوَّةٌ بِمَدِيْحِهِ وَاَوْصَافِهِ اللَّاتِىْ بِهَا جَاءَ يَفْخَرُ
وَيَالَيْتَهَا بِالْحَقِّ جَاءَتْ قَرِيْبَةً قِيَاسَاتُ عِلْمٍ بِالْهُدَى تَتَنَوَّرُ
وَأَشْعَارُهُ جَاءَتْ كَمِثْلِ حَدِيْقَةٍ يُجَفِّفُهَا اللَّهُ وَغُصْنًا يُجَذِّرُ

درختوں کی ڈال کاٹ دے۔

قَضَايَاهُ تَخْيِيْلِيَّةٌ لَّمْ تَكُنْ لَّهَا حَقَائِقُ عَنْهَا فِي الدَّلِيْلِ تُعَبِّرُ
عَلَا اَنَّ نَظْمَ الشِّعْرِ لَوْ كَانَ مُعْجِزًا وَاَقْصَى لِدَعْوَى جَاءَهَا الْمُتَهَوِّرُ

ہے یعنی نبوت۔

فَكَانَ بِهذَا الْفَضْلِ اَوْلَى أَئِمَّةٌ بَلَاغَتُهُمْ لَمْ يَحْوِهَا الْمُتَاخِّرُ

کے لوگ نہیں کر سکتے۔

كَلَامِيَّةِ ابْنِ الْوَرْدِ وَ الشَّنْفَرَى وَمَا اَجَادَ بِهِ الْحَسَّانُ فِي النَّظْمِ يَبْهَرُ

کے اشعار عمدہ اور فائق ہیں۔

وَشِعْرُ الْمَعَرِّى وَالْفَرَزْدَقِ ثُمَّ مَنْ بَلَاغَتُهُمْ لَمْ يَنْفِهَا الْمُتَبَصِّرُ

کو انکار نہیں ہو سکتا۔

وَنَظْمِ اَبِيْ تَمَّامِ نِ الْحَبْرِ وَالَّذِي اَتَتْهُ اَبْيَاتُ الْمَعَالِيْ تُسَخَّرُ

- ٤٥ -

صفحہ ٢٠٤
وَغَيْرِهِمْ مَّنْ شَاعَ فِي النَّاسِ ذِكْرُهُمُ كَشَمْسِ الضُّحى فِي الْأُفُقِ لَا تَتَسَتَّرُ

١٣١....... اور ان کے سوا جو کہ مہر نیمروز کی طرح لوگوں میں مشہور ہیں اور عام ان کا شہرہ ہے۔

أُولئِكَ أَقْوَامٌ لَّهُمْ فِي بَلَاغَةِ الْكَلَامِ الْيَدُ الطُّوْلَى أَجَلُّ وَأَكْبَرُ

١٣٢....... یہی وہ لوگ ہیں جن کا فصاحت اور بلاغت میں اعلیٰ پایہ ہے۔

وَمَعْ ذَاكَ لَمْ يُسْمَعُ لَعَمْرِى مِنْهُمُ بِإِعْجَازِهِمْ جَاءَ النُّبُوَّةُ تَبْهَرُ

١٣٣....... اور ان فصحاء اور بلغاء نے باوجود اس فضل و کمال کے ایسے اعجاز کا دعویٰ نہیں کیا جس سے نبوت ثابت ہوتی۔

فَمَا بَالُ مَنْ لَّا يُحْسِنُ النَّظْمَ يَدَّعِي النُّبُوَّةَ وَالْإِعْجَازَ زُوْرًا وَيَهْذِرُ

١٣٤....... پھر ایسے شخص کو شرم نہیں آتی جو صحیح اشعار بھی نہیں کہہ سکتا اور اپنے غلط اشعار میں اعجاز کہہ کر نبوت کا جھوٹا دعویٰ کرے اور بیہودہ بکے۔

أَظَنَّ الْوَرى عُمْيًا عَنِ الْحَقِّ لَمْ يَكُنْ لَّهُمْ نَوْعُ إِدْرَاكٍ بِهِ يَتَبَصَّرُوا

١٣٥....... کیا اس نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ تمام آدمی حق سے ناواقف ہیں اور ان میں اتنی بھی سمجھ نہیں کہ اس کے مکر و فریب کو سمجھیں؟

أَلَمْ يَدْرِ أَنَّ الشِّعْرَ فِي كُلِّ بَلْدَةٍ لَّهُ نَاظِمٌ يَسْبِى الْعُقُوْلَ وَيَسْحَرُ

١٣٦....... کیا اسے یہ بھی معلوم نہیں کہ ہر شہر میں ایسے ایسے کاملین شعراء ہیں جو انسانی عقول کو اپنا گرویدہ اور فریفتہ کر لیتے ہیں۔

وَكَيْفَ يَظُنُّ الشِّعْرَ مِنْ مُعْجِزَاتِهِ وَإِنَّ نِسَاءَ الْحَيِّ بِالنَّظْمِ تَفْخَرُ

١٣٧....... اور تعجب ہے کہ یہ شعر کو اپنا معجزہ سمجھتا ہے۔ حالانکہ شعر کہنا ایسا آسان کام ہے جس پر عورتیں فخر کرتی ہیں۔

أَخُصَّ بِهِ دُوْنَ الْخَلَائِقِ فَاعْتَدَى بَرَاءً مِّنَ الْإِعْجَازِ أَمْ جَاءَ يَسْخَرُ

١٣٨....... کیا اس کے اشعار میں کوئی خاص جدت ہے جس کی وجہ سے وہ اپنے اشعار کو معجزہ سمجھتا ہے یا مسخرا پن ہے۔

أَلَمْ يَتَّقِ الْجَبَّارَ فِيمَا يَقُوْلُهُ ضَلَالًا وَزُوْرًا أَمْ عَلَى اللَّهِ يَجْسُرُ

١٣٩....... کیا اس قسم کی فریب اور گمراہی کی باتوں میں خدائے جبار سے خوف نہیں کرتا اور خدا پر کیسی جرات کرتا ہے۔

٤٦

فَمَنْ كَانَ ذَا عِلْمٍ وَّعَقْلٍ وَحِكْمَـ

١٤٠....... اور جو شخص علم اور عقل والا ہـ

وَمَنْ رَّامَ يَدَّعِى سُؤْدَدًا بِمَنْ قَوْ

١٤١....... اور جس شخص کی یہ خواہش ہـ افتراء سے بچے۔ ورنہ حقیر

وَمَنْ رَّامَ دَرْكَ الْمَجْدِ فَلْيَتْبَعِ الْهُد

١٤٢....... اور جو فضل و کمال کا طالب ہـ دور ہو جائے گا۔

وَمَنْ رَّامَ إِدْرَاكَ الْعُلَى بِمَـ

١٤٣....... اور جو شخص ذلیل کاموں بـ نہیں ہو سکتا۔

وَمَنْ رَّامَ تَحْصِيْلَ الْعُلُوِّ بِزُوْ

١٤٤....... اور جو مکر سے بڑائی کو حاصل

وَمَنْ حَاوَلَ الْإِعْجَازَ فِي النَّظْمِ

١٤٥....... اور اشعار میں جو معجزہ خیال

وَمَنْ شَاءَ إِصْلَاحَ الْوَرى بِكَلِـ

١٤٦....... اور جو اپنے دروغ بانی سـ

وَمَنْ ظَنَّ أَنْ يَرْقَى بِدَعْوى

١٤٧....... اور جو یہ سمجھے کہ نبوۃ کے جھو بیہودہ گو ہے۔

وَمَنْ لَّمْ يُدَنِّسُ عِرْضَهُ بِمَـ

١٤٨....... اور جس شخص کی عزت ملامت

وَمَنْ رَّامَ أَنْ يَحْيى سَعِيْدًا مُّـ

١٤٩....... اور جو شخص یہ چاہے کہ سعـ سے عقل بیزار ہو۔

صفحہ ٢٠٥
لِمَنْ كَانَ ذَا عِلْمٍ وَعَقْلٍ وَحِكْمَةٍ يَرَى الْحَقَّ حَقًّا وَالْأَبَاطِيْلَ يُنْكِرُ
وَمَنْ رَامَ يُدْعَى سَيِّدًا بَيْنَ قَوْمِهِ فَلَا يَأْتِ بِالْبُهْتَانِ فَهُوَ يُحَقَّرُ

افتراء سے بچے۔ ورنہ حقیر ہو جائے گا۔

وَمَنْ رَامَ دَرْكَ الْمَجْدِ فَلْيَتْبَعِ الْهُدَى وَإِلَّا فَدَرْكُ الْمَجْدِ عَنْهُ سَمَهْدَرُ

دور ہو جائے گا۔

وَمَنْ رَامَ إِدْرَاكَ الْعُلَى بِمَذَلَّةٍ فَذَاكَ ذَلِيْلٌ لَا يَكَادُ يُكَبَّرُ

نہیں ہو سکتا۔

وَمَنْ رَامَ تَحْصِيْلَ الْعُلُوِّ بِزُوْرٍ فَبِالزُّوْرِ تَحْصِيْلُ الْعُلَى مُتَعَذِّرُ
وَمَنْ حَاوَلَ الْإِعْجَازَ فِي النَّظْمِ إِنَّهُ كَمَنْ ظَنَّ أَنَّ فِي الْبَرِّ يُوْجَدُ صُعْقُرُ
وَمَنْ شَاءَ إِصْلَاحَ الْوَرَى بِكِذَابِهِ فَمَا هُوَ إِلَّا فِي الْأَنَامِ مُدَعْثِرُ
وَمَنْ ظَنَّ أَنْ يَرْقَى بِدَعْوَى نُبُوَّةٍ مَعَارِجَ أَوْجِ الْمَجْدِ فَهُوَ عُمَيْدَرُ

بیہودہ گو ہے۔

وَمَنْ لَمْ يُدَنِّسْ عِرْضَهُ بِمَلَامَةٍ فَذلِكَ مَهْمَا فَاهَ فِي الْقَوْلِ يَهْذِرُ
وَمَنْ رَامَ أَنْ يُحْيَى سَعِيْدًا مُهَذَّبًا فَلَا يَدَّعِي أَمْرًا لَهُ الْعَقْلُ يُنْكِرُ

سے عقل بیزار ہو۔

٤٧

صفحہ ٢٠٦
وَمَهْمَا اَرَادَ الْمَرْءُ يُخْفِيْ عُيُوْبَهُ عَلَى النَّاسِ يَوْمًا لَا مَحَالَةَ تَظْهَرُ

ہوں گے۔

وَهَاكَ عُقُوْدَ الدُّرِّ إِنِّيْ نَظَمْتُهَا نَصَائِحَ غُرًّا يَدْرِهَا الْمُتَدَبِّرُ

گوئی سے باز آ۔

فَخُذْهَا إِذَا مَا رُمْتَ تَنْجُوْ مِنَ الرَّدَى غَدَ الْحَشْرِ اِذْ فِيْهِ الْفَضَائِحُ تَبْرُزُ

میں برائیاں کھل جائیں گی۔

وَكُنْ مُسْلِمًا فِي السِّرِّ وَالْجَهْرِ وَاعْتَرِفْ بِكُلِّ نَبِيٍّ جَاءَ لِلْحَقِّ يَنْصُرُ
وَإِلَّا فَإِنَّ الْمَوْتَ لَا شَكَّ قَادِمٌ عَلَيْكَ وَيَوْمًا لَا مَحَالَةَ تُقْبَرُ
فَيَغْشَاكَ مَا يَغْشَاكَ فِيْهِ وَلَمْ يَكُنْ هُنَالِكَ اِعْجَازٌ بِهِ اَنْتَ تُنْصَرُ

سکے گا۔

وَكُلُّ الَّذِيْ قَدَّمْتَهُ الْيَوْمَ تَلْقَهُ غَدًا يَوْمَ كَشْفِ السَّاقِ وَالْخَلْقُ حُضَّرُ

جس روز تمام خلائق موجود ہوں گے۔

فَذَلِكَ يَوْمٌ قَمْطَرِيْرٌ وَشَرُّهُ غَدًا مُسْتَطِيْرٌ نَارُهُ تَتَنَوَّرُ
فَيَا رَبِّ سَهِّلْ كُرْبَنَا فِيْهِ رَحْمَةً وَلُطْفًا وَإِلَّا فَالْجَرَائِمُ تُنْذِرُ

ہمیں تو اپنے جرائم سے خوف ہے۔

وَاَصْلِحْ لَنَا الْاَعْمَالَ حَقًّا وَلَا تُزِغْ عَقَائِدَنَا حَيْثُ الشَّقَاءُ مُقَدَّرُ

٤٨

صفحہ ٢٠٧

تیرے اختیار میں ہے۔

وَيَسِّرْلَنَا حُسْنَ الْيَقِيْنِ وَهَبْ لَنَا بِحُسْنِ خِتَامٍ فِيْهِ بِالسَّعْدِ نَظْفَرُ
فَبِالْمُصْطَفٰى خَيْرِ الْأَنَامِ مُحَمَّدٍ أَتَيْنَاكَ فِيْمَا نَرْتَجِيْهِ وَنُضْمِرُ

لے کر حاضر ہوئے ہیں۔

عَلَيْهِ صَلٰوةُ اللهِ ثُمَّ سَلَامُهُ كَذَا الْآلِ وَالْأَصْحَابِ مَالَاحَ نَيِّرُ

دنیا قائم رہے۔

مطلع ثانی

تُنَازِعُكَ الْاٰمَالُ مَا لَيْسَ تَقْدِرُ فَتَقْدَمُ نَحْوَ الْمُسْتَحِيْلِ وَتَجْسُرُ

ہوئیں۔ لیکن تو ہمیشہ ایسی ہی آرزوئیں کرتا رہا۔

عَلَا أَنَّ لَيْلٰی لَمْ تَعِدْكَ بِوَصْلِهَا وَإِنْ وَعَدَتْ يَوْمًا فَبِالْخُلْفِ اَجْدَرُ

کی شان ہے۔

وَقَلْبُكَ كَمْ صَبَّرْتَهُ عَنْ طِلَابِهَا فَلَمْ يَرْضَ إِلَّا الْوَصْلَ اَوْلَا فَيَقْبَرُ

یا موت سے ایک کو پسند کر لیا۔

بَعَثْتَ لَهَا رُسُلًا وَلَمْ يَهْتَدُوْا لَهَا وَبَاءُوْا كَمَا رَاحُوْا وَبِالْيَاسِ اَنْذَرُوْا

ویسے لوٹے اور مجھے نا امیدی سے ڈرایا۔

مَنِيْعٌ حِمَاهَا لَا يُرَامُ وَإِنَّمَا يَبُوْءُ مُهَانًا كُلُّ مَنْ رَاحَ يَجْسُرُ

ناکام پھرے کچھ حاصل نہیں۔

٤٩

صفحہ ٢٠٨
وَمَنْ شَاءَ يُسْقَى مِنْ رَحِيْقِ وِصَالِهَا فَمَازَالَ فِى دَرْكِ الْمُحَالِ يُحَسِّرُ

نقصان پانے والا ہے۔

وَمَنْ ظَنَّ إِمْكَانَ الْوُصُوْلِ لِحَيِّهَا يُسَاءَلُ هَلْ فِى الْبَرِّ يُوْجَدُ صُعْتُرُ

میں مچھلی کے انڈے ہوتے ہیں۔

وَمَنْ قَالَ إِنِّىْ قَدْ ظَفِرْتُ بِوَصْلِهَا فَذلِكَ إِمَّا مُفْتَرٍ أَوْ مُعَمَّرُ
تَعَلَّقْتُ دَهْرًا بِالْغَوَانِىْ وَلَمْ أَزَلْ أُرَدِّدُ ذِكْرَاهُنَّ سِرًّا وَاَجْهَرُ
وَكَمْ عَايَنَتْ عَيْنَىَّ مَحَاسِنَ مَنْظَرٍ بِهَا الْقَلْبُ مِنْ دَاءِ الْهَوَى يَتَفَطَّرُ

پارہ پارہ ہوگیا ہے۔

وَكَمْ عَانَقَتْ عَيْنَىَّ الْعَفَافَةُ أَهْيَفًا تُنَازِعُنِىْ فِيْهِ لِمَا أَنَا أُضْمِرُ

جذبات کا مقابلہ کیا ہے۔

وَلِىْ شَاهِدٌ مِّنِّىْ عَلَىَّ اَلِفْتُهُ فَيُثْبِتُ لِى الدَّعْوى الَّذِىْ أَنَا أُنْكِرُ

میں منکر ہوں۔

لَدَى الْحِبِّ وَاللَّاحِىْ مُسَلْسَلُ اَدْمُعِىْ وَيَا لَيْتَ دَمْعِىْ عِنْدَ حِبِّىْ يُثْمِرُ

ملامت کرنے والوں کے سامنے وہ امر ثابت کرتے ہیں جس کا میں منکر ہوں یعنی محبت اور کاش یہ گواہ محبوبہ کے پاس بارآور ہوتے۔

وَمَا أَنَا إِلَّا فِى الصَّبَابَةِ مَاهِرٌ خَبِيْرٌ بِأَحْوَالِ الْحِسَانِ مُبَصِّرُ
يَخْبُرُهُمْ غَيْرِىْ وَإِنِّىْ اَكَلْتُهُمْ وَطَعْمُهُمُ بَاقٍ بِفِيَّ لَيْسَ يُنْكَرُ

٥٠

میرے منہ میں باقی ہے جس سے

فَمَا أَبْصَرَتْ عَيْنَايَ فِيْهِمْ مُهَذَّبًا

وفائی نہ کرے۔

وَلَا كَامِلاً تَصْفُوْ مَشَارِبُ وُدِّهِ

وہ کبھی مکدر ہو جاتا ہے۔

خَلِيْلَىَّ عُوْجَا بِىْ إِلَى نَحْوِ طَيْبَةٍ
فَإِنِّىْ أَرَى لِلْمَكْرُمَاتِ مَشَارِفًا

کے چاند سے روشن ہیں۔

وَفِىْ أُفْقِهَا نُوْرُ النُّبُوَّةِ سَاطِعٌ
بِنَفْسِىَ أَفْدِىْ مَنْ إِذَا عَنَّ ذِكْرُ
وَذَاكَ رَسُوْلُ اللهِ مَنْ جَاءَ رَحْمَةً
نَبِىُّ الْهُدَى خَيْرُ الْأَنَامِ مُحَمَّدٌ

جامع کمالات ہیں۔

هُوَ الْمُصْطَفَى الْمُخْتَارُ مِنْ قَبْلِ

مبعوث ہوئے اور ان سے

حَوَى جَانِبَىْ فَضْلٍ وَذَاكَ لِجُوْ
صفحہ ٢٠٩

میرے منہ میں باقی ہے جس سے انکار نہیں ہو سکتا۔

فَمَا أَبْصَرَتْ عَيْنَايَ فِيْهِمْ مُهَذَّبًا وَفِيًّا إِذَا صَاحَبْتَهُ لَيْسَ يَغْدِرُ

وفائی نہ کرے۔

وَلَا كَامِلاً تَصْفُوْ مَشَارِبُ وُدِّهِ عَنِ السُّوْءِ بَلْ لَا بُدَّ يَوْمًا تَكَدُّرُ

وہ کبھی مکدر ہو جاتا ہے۔

خَلِيْلَيَّ عُوْجَا بِيْ إِلَى نَحْوِ طَيْبَةٍ لَعَلِّيْ فِيْهَا بِالْمُؤَمَّلِ أَظْفَرُ
فَإِنِّيْ أَرَى لِلْمَكْرُمَاتِ مَشَارِقًا بِهَا وَبُدُوْرُ الْبِرِّ بِالْبِرِّ تُسْفِرُ

کے چاند سے روشن ہیں۔

وَفِيْ أُفُقِهَا نُوْرُ النُّبُوَّةِ سَاطِعٌ أَشِعَّتُهُ فِي الْكَوْنِ دَوْمًا تُنَوِّرُ
بِنَفْسِيَ أُفْدِيْ مَنْ إِذَا عَنَّ ذِكْرُهُ تَبَادَرَتِ الْأَجْفَانُ بِالدَّمْعِ تَحْدُرُ
وَذَاکَ رَسُوْلُ اللّٰهِ مَنْ جَاءَ رَحْمَةً يُبَشِّرُ بِالْفِرْدَوْسِ حَقًّا وَيُنْذِرُ
نَبِيُّ الْهُدَى خَيْرُ الْأَنَامِ مُحَمَّدٌ حَبِيْبُ إِلَهِ الْعَرْشِ لِلْفَضْلِ مَظْهَرُ

جامع کمالات ہیں۔

هُوَ الْمُصْطَفَى الْمُخْتَارُ مِنْ قَبْلِ آدَمٍ وَآخِرُ مَبْعُوْثٍ بِهِ الْحَقُّ يَظْهَرُ

مبعوث ہوئے اور ان سے حق آشکارا ہوا۔

حَوَى خَاتِمَيْ فَضْلٍ وَذَاکَ لِحِكْمَةٍ يَرَاهَا لَهُ الْمَوْلَى الْحَكِيْمُ الْمُقَدِّرُ

٥١

صفحہ ٢١٠
شَرِيعَتُهُ الْغَرَّاءُ حِينَ تَلَالاءَتْ مَصَابِيحُهَا لَمْ يَبْقَ لِلْغَيْرِ نَيِّرُ
بِهِ خُتِمَ الْاِرْسَالُ حَقًّا وَدِينُهُ هُوَ الْحَقُّ لَا يُمْحَى إِلَى يَوْمِ نُحْشَرُ
بِهِ خُتِمَ الْاِرْسَالُ حَقًّا وَلَمْ يَسُغْ لِشَخْصٍ سِوَاهُ بِالنُّبُوَّةِ يَفْخَرُ

نبوت کے دعوے پر اترائے۔

وَمَنْ جَاءَ بِالْبُهْتَانِ دَعْوَى نُبُوَّةٍ فَذٰلِكَ فِى دَعْوَاهُ لَا شَكَّ يُخْسَرُ
فَإِنَّ نَبِيَّ اللّٰهِ اٰخِرُ مُرْسَلٍ وَدَاعٍ بِهِ جَاءَ النُّبُوَّةُ تَفْخَرُ

کرتی ہے۔

وَمُذْ كَانَ خَيْرُ الْخَلْقِ لِلرُّسُلِ خَاتِمًا هِدَايَتُهُ لَاشَكَّ أَعْلَى وَاَكْبَرُ

چڑھی ہے۔

وَمِنْ ذَاکَ يُدْرَى أَنَّ تَأْثِيْرَ هَدْيِهِ بَلِيغٌ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامِ يُؤَثِّرُ

رہے گی اور تاثیر کرے گی۔

فَلَمْ تَبْقَ بَعْدَ الْمُصْطَفٰى حَاجَةٌ إِلَى نَبِيٍّ بِهِ سُبُلُ الْهِدَايَةِ تَظْهَرُ

ہدایت کے راستے واضح ہوں۔

فَذٰلِكَ يُزْرٰى بِالْكَمَالِ الَّذِي أَتَى بِهِ الْمُصْطَفٰى يَهْدِي الْوَرَى وَيُذَكِّرُ

اور نصیحت فرمائی۔

وَقَدْ صَحَّ أَنَّ الْمُصْطَفٰى جَاءَ رَحْمَةً إِلَى الْخَلْقِ طُرًّا فِى الْكِتَابِ يُسَطَّرُ

٥٢

وَهَلْ يُقْبَلُ الْعَقْلُ السَّلِيْمُ بِاَنَّهُ
وَلَوْ جَازَ بَعْدَ الْمُصْطَفٰى بَعْثُ مُرْسَلٍ
وَمَنْ لَمْ يُصَدِّقُهُ يُؤَبَّدْ فِى لَظٰى
وَهٰذَا يُنَافِى كَوْنَهُ جَاءَ رَحْمَةً
عَلَى كُلِّ حَالٍ إِنْ اٰتَى الْقَوْمَ مُرْسَلٌ

والے یا اس کے منکر ۔

وَمُنْكِرُ مَبْعُوثِ الْإِلٰهِ مُعَذَّبٌ
وَيَلْزَمُ مِنْ ذَا اِنْ يُعَذَّبَ مُؤْمِنٌ

نبی کا منکر ہو تو عذاب دیا جائ

عَلٰى اَنَّ قَوْلَ اللّٰهِ اَكْمَلْتُ دِينَكُ

طرح کی جو اور آیات قرآن

يُنَافِيْهِ بَعْثُ الرُّسُلِ بَعْدَ مُحَمَّ

پر یہ آیتیں روشن دلیل ہیں

وَذَاكَ لِأَنَّ الْبَعْثَ لِلرُّسُلِ يَقْتَضِ

آئندہ ہوگا۔

صفحہ ٢١١

١٩٧....... بلاشک آپ کی ذات تمام خلق کے لئے رحمت ہے۔ جیسا قرآن شریف میں مسطور ہے۔

وَهَلْ يَقْبَلُ الْعَقْلُ السَّلِيْمُ بِأَنَّهُ مُصَدِّقُ خَيْرِ الْخَلْقِ فِي النَّارِ يُدْحَرُ

١٩٨....... اور کیا عقل سلیم اس کو مانے گی کہ آپ کا ماننے والا دوزخ میں جلایا جائے ۔

وَلَوْ جَازَ بَعْدَ الْمُصْطَفَى بَعْثُ مُرْسَلٍ لَكَانَ عَلَى تَصْدِيقِهِ الْكُلُّ يُجْبَرُ

١٩٩....... اور آنحضرت ﷺ کے بعد اگر کوئی نبی آتا تو ہر شخص کو اس پر ایمان لانا فرض ہوتا ۔

وَمَنْ لَمْ يُصَدِّقْهُ يُؤَبَّدْ فِي لَظَى وَإِنْ لَمْ يَكُنْ لِلْمُصْطَفَى قَطُّ يُنْكِرُ

٢٠٠....... اور جو اس پر ایمان نہ لاتا دائمی جہنمی ہوتا ۔ خواہ وہ آنحضرت ﷺ پر بھی ایمان کیوں رکھتا۔

وَهَذَا يُنَافِي كَوْنَهُ جَاءَ رَحْمَةً إِلَى الْخَلْقِ طُرًّا أَيُّهَا الْمُتَدَبِّرُ

٢٠١....... اور یہ بات آنحضرت ﷺ کے رحمت للعالمین ہونے کے سراسر خلاف ہے ۔ ذرا سوچو سہی۔

عَلَى كُلِّ حَالٍ إِنْ أَتَى الْقَوْمَ مُرْسَلٌ فَلَمْ يَخْلُ إِمَّا مُؤْمِنٌ أَوْ فَمُنْكِرُ

٢٠٢....... کیونکہ اگر آپ کے بعد نبی آئے تو دو ہی قسم کے لوگ ہوں گے۔ اس پر ایمان لانے والے یا اس کے منکر ۔

وَمُنْكِرُ مَبْعُوثِ الْإِلَهِ مُعَذَّبٌ غَدَا الْحَشْرِ يَوْمَ الدِّينِ فِي النَّارِ يُسْعَرُ

٢٠٣....... اور خدا کے رسول کا منکر معذب ہے۔ ضرور قیامت میں آگ میں جلایا جائے گا ۔

وَيَلْزَمُ مِنْ ذَا اَنْ يُعَذَّبَ مُؤْمِنٌ بِخَيْرِ الْوَرَى الْمُخْتَارِ مَنْ جَاءَ يُنْذِرُ

٢٠٤....... اور اس سے ثابت ہوتا ہے کہ آنحضرت ﷺ پر ایمان لانے والا آپ کے بعد والے نبی کا منکر ہو تو عذاب دیا جائے ۔

عَدَا أَنَّ قَوْلَ اللّٰهِ اَكْمَلْتُ دِيْنَكُمْ وَمَا جَاءَ فِي نَصِّ الْكِتَابِ يُحَرَّرُ

٢٠٥....... اس کے سوا اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد کہ آنحضرت ﷺ کی شریعت کو میں نے کامل کیا اور اسی طرح کی جو اور آیات قرآن میں ہیں ۔

يُنَافِيْهِ بَعْثُ الرُّسُلِ بَعْدَ مُحَمَّدٍ وَفِيْهِ دَلِيْلٌ قَاطِعٌ لَّيْسَ يُنْكَرُ

٢٠٦....... یہ تمام آیات اس بات کے مخالف ہیں کہ آنحضرت کے بعد کوئی نبی آئے اور ختم نبوت پر یہ آیتیں روشن دلیل ہیں ۔

وَذَاكَ لِأَنَّ الْبَعْثَ لِلرُّسُلِ يَقْتَضِي لِنَقْصٍ بَدَا فِي الدِّينِ أَوْ كَادَ يَظْهَرُ

٢٠٧....... کیونکہ کسی نبی کے بعد نبی کا آنا مستلزم ہے کہ پہلے نبی کے دین میں کوئی نقصان ہو یا آئندہ ہو گا ۔

٥٣

صفحہ ٢١٢
فَيَبْعَثُ رَبِّي رُسُلَهُ كَيْ يُتَمِّمُوْا نَقَائِصَ شَرْعٍ حَسْبَمَا يَتَبَصَّرُوْا

٢٠٨ ....... اور ہمیشہ خدا ایسے ہی وقت میں رسولوں کو بھیجتا ہے تاکہ وہ اس نقصان کی جس طرح مناسب ہو تلافی کریں۔

وَمِنْ ذَاكَ قَالَ الْمُصْطَفٰى فِي حَدِيْثِهِ خُذُوا الْعِلْمَ عَنِّى أَيُّهَا الْقَوْمُ وَانْشُرُوْا

٢٠٩ ....... اور اسی لئے آنحضرت نے فرمایا کہ اے قوم! مجھ سے علم حاصل کرو اور اس کی اشاعت کرو۔

فَذَاكَ تُرَاثُ الْاَنْبِيَاءِ بَعْدَ مَوْتِهِمْ فَمَنْ نَّالَهُ حَقًّا لَهُ الْحَظُّ أَوْفَرُ

٢١٠ ....... اور انبیاء علیہم السلام کا ترکہ یہی علم ہے۔ پس جس نے اس علم کو حاصل کیا وہ خوش نصیب ہے۔

وَخِدْمَةُ أَهْلِ الْعِلْمِ فِي الْخَلْقِ أَنَّهُمْ لِيَهْدُوْا سَبِيلَ الْحَقِّ فِيْمَا يُذَكِّرُوْا

٢١١ ....... اور علماء پر خلق کی یہی خدمت ہے کہ وہ اپنے وعظ میں راہ حق بتائیں۔

وَاَوْجَبَ تَحْصِيْلَ الْعُلُومِ نَبِيُّنَا عَلَى الْكُلِّ حَتْمًا مَّا بِهِ الدِّينُ يُظْهَرُ

٢١٢ ....... اور آنحضرت نے اپنی امت پر علم کا سیکھنا فرض کر دیا جس سے دین اسلام غالب رہے۔

وَلَا زَالَ اَهْلُ الْعِلْمِ فِي كُلِّ بَلْدَةٍ وَكُلِّ زَمَانٍ لِلْهِدَايَةِ يَنْتَشِرُوْا

٢١٣ ....... اور اسی وجہ سے ہمیشہ علماء ہر جگہ اور ہر زمانہ میں ہدایت کو پھیلاتے رہے۔

فَلَمْ يَبْقَ بَعْدَ الْمُصْطَفٰى حَاجَةٌ لَّنَا لِمَبْعُوْثٍ يُّبْعَثُ اِلَى يَوْمِ نُحْشَرُ

٢١٤ ....... پس آنحضرت ﷺ کے بعد قیامت تک ہمیں کسی نبی کے آنے کی ضرورت ہی نہیں رہی۔

وَقَدْ اَخْبَرَ الْمُخْتَارُ اَنْ لَّيْسَ بَعْدَهُ نَبِيٌّ كَمَا قَدْ جَاءَ حَقًّا يُسْطَرُ

٢١٥ ....... اور آنحضرت ﷺ نے بھی فرمایا کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا جیسا کہ صحیح حدیث میں آیا ہے۔

وَلَا شَكَّ اَنَّ الْمُصْطَفٰى فِي حَدِيْثِهِ صَدُوْقٌ بِلَا رَيْبٍ وَمَنْ شَكَّ يَكْفُرُ

٢١٦ ....... اور اس میں شک نہیں ہے کہ آنحضرت ﷺ کی باتیں سچی ہیں اور جو کوئی شک و شبہ کرے وہ کافر ہے۔

وَمَنْ يَجْتَرِئُ زُوْرًا بِدَعْوَى نُبُوَّةٍ فَذَلِكَ كَذَّابٌ عَلَى اللهِ يَخْسَرُ

٢١٧ ....... اور جو شخص جھوٹی نبوت کے دعوے کی جرأت کرے تو یہ بڑا ہی جھوٹا ہے جو خدا پر جسارت کرتا ہے۔

وَنَقْلًا عَنِ الْمُخْتَارِ قَدْ صَحَّ اَنَّهُ سَيَظْهَرُ دَجَّالُوْنَ بَعْدِيْ يَدَّعُوْرُوْا

٥٤

٢١٨ ....... اور آنحضرت ﷺ سے یہ صد کرنے والے بہت جھوٹے او

وَقَدْ صَحَّ مَا قَدْ قَالَهُ حَيْثُ اَنَّ بَلَ

٢١٩ ....... اور جو آپ نے فرمایا تھا وہ ص اور ہلاک کئے گئے۔

فَفِي الْعَرَبِ مِنْهُمْ صَالِحُ بْنُ طَرِيْفِهِ

٢٢٠ ....... انہی سے صالح بن طریف مل

آتَاهُمْ بِقُرْاٰنٍ لَّهُ بَعْدَ مَا ادَّعَ

٢٢١ ....... یہی صالح دعوے نبوت کے پیروی کی۔

وَبَعْدَ اَبُوْ عِيْسَى فَقَدْ جَاءَ خَلْ

٢٢٢ ....... اور اس کے بعد اس کی اولاد ا

وَقَدْ كَانَ شَخْصٌ فِي جُوَ نْفُورَ يُدْعَ

٢٢٣ ....... ایک شخص جون پور میں بھی

وَكَمْ قَبْلَهُ اَوْ بَعْدَهُ مِنْ مُضِ

٢٢٤ ....... اور جونپوری کے پہلے اور ب کے نافرمان تھے۔

اِلَى اَنْ رَّأَيْنَا الْكَيْذَبَانَ بَعْضَ

٢٢٥ ....... اور ہمارے زمانہ میں مرزا عقل باور نہیں کرتی۔

يَقُولُ مَثِيلٌ لِلْمَسِيحِ وَالْا

٢٢٦ ....... مرزا قادیانی دعویٰ کرتا ہ اشاعت کے لئے آیا ہوں

وَمَا حَقُّهُ فِي الْاَمْرِ اِلَّا بَوَار

٢٢٧ ....... اور مرزا قادیانی کو اس فر

وَذٰلِكَ لَمَّا اَنَّ وَهْيَ الَّذِيْن
صفحہ ٢١٣

کرنے والے بہت جھوٹے اور فریبی ہوں گے جو خلق کو گمراہ کر کے ہلاک کریں گے۔

وَقَدْ صَحَّ مَا قَدْ قَالَهُ حَيْثُ اَنْ بُدَّا كَثِيرُونَ فِى مَاضِى الزَّمَانِ فَدُمِّرُوا

اور ہلاک کئے گئے۔

فَفِى الْغَرْبِ مِنْهُمْ صَالِحُ بْنُ طَرِيفِهِمُ وَ ذلِكَ فِى ثَانِى الْقُرُونِ مُقَرَّرُ
آتَاهُمْ بِقُرْآنٍ لَّهُ بَعْدَ مَا ادَّعَى نُبُوَّتَهُ حَتَّى تَوَالَاهُ عُنْصُرُ

پیروی کی۔

وَبَعْدُ اَبُوْ عِيْسَى فَقَدْ جَاءَ خَلَفُهُ بِدَعْوى ضَلَالٍ فِى الْكَلَامِ مُزَوَّرُ
وَقَدْ كَانَ شَخْصٌ فِى جَوْ نْفُورَ يَدَّعِى اَلنُّبُوَّةَ وَ الْوَحْىَ دَهَاهُ التَّكَبُّرُ
وَكَمْ قَبْلَهُ أَوْ بَعْدَهُ مِنْ مُضَلِّلٍ اَتَى يَدَّعِى الْاِرْسَالَ بِاللّٰهِ يَكْفُرُ

کے نافرمان تھے۔

اِلى اَنْ رَاَيْنَا الْكَيْدَ بَانَ بِعَصْرِنَا اَتَى يَدَّعِى اَمْرًا لَّهُ الْعَقْلُ يُنْكِرُ

عقل باور نہیں کرتی۔

يَقُولُ مَثِيلٌ لِّلْمَسِيْحِ وَ اِنَّنِى مِنَ اللّٰهِ حَقًّا جِئْتُ لِلْحَقِّ اُظْهِرُ

اشاعت کے لئے آیا ہوں۔

وَمَا حَثَّهُ فِى الْاَمْرِ اِلَّا بَوَاعِثٌ مِنَ النَّفْسِ وَالشَّيْطَانِ يُغْوِى وَيُؤْجَرُ
وَذلِكَ لَمَّا اَنْ وَهَى الدِّيْنُ اَمْرُهُ وَ اِذْ عَتُوُ الْمُفْسِدِيْنَ وَ ضَمَّرُوا

٥٥

صفحہ ٢١٤

کی سرکشی بڑھی اور انہوں نے فساد میں سعی کی۔

وَاَذْعَنَ اَهْلُ الْحَقِّ اَنْ لَّا يُرِيْحُنَا
مِنَ الْكَرْبِ اِلَّا مَنْ بِهِ الْحَقُّ يُنْصَرُ
وَذٰلِكَ هُوَ الْمَهْدِيُّ مَنْ شَاعَ ذِكْرُهُ
وَعِيْسَى نَبِيُّ اللّٰهِ مَنْ سَوْفَ يَظْهَرُ
فَحَثَّ النَّصَارَى الْكَذِبَانَ بِمَا ادَّعٰی
وَجَاءَ بِهِ بَيْنَ الْاَنَامِ يُزَوِّرُ

کاری سے اس نے کیا تھا۔

وَظَنَّ بِاَنَّ الْقَوْمَ لَا عَقْلَ عِنْدَهُمُ
وَاَنَّ لَيْسَ فِيْهِمْ مَنْ ذُرَى الْحَقِّ يُبْصَرُ

حق و باطل میں تمیز کرے۔

وَقَصْدُهُمُ اَنَّ الَّذِيْنَ تَرَبَّصُوْا
ظُهُوْرَ الْمَسِيْحِ الْيَوْمَ بِالْمِغْلِ يَظْفَرُوْا

اکتفا کریں۔

كَذٰلِكَ بِالْمَهْدِيِّ حَقًّا فَلْتَنْتَهِی
بِذٰلِكَ اَمَالُ لَهُمْ سَوْفَ تَظْهَرُ

خاتمہ ہو جائے۔

فَاِمَّا بِمَا يُبْدِيْهِ حَقًّا يُصَدِّقُوْا
وَيَرْضَوْهُ مِقْدَامًا لَهُ وَيُوَقِّرُوْا

کر اس کی عزت کریں گے۔

وَاِمَّا يَرَاهُ الْبَعْضُ حَقًّا وَبَعْضُهُمْ
ضَلَالًا فَلَا يَرْضٰی بِذَاكَ وَيُنْكِرُ

انکار کریں گے۔

فَتُوْقَعُ بَيْنَ الْمُسْلِمِيْنَ عَدَاوَةٌ
وَكَمْ فِتْنَةٍ فِى طَيِّ ذٰلِكَ تُضْمَرُ

٥٦

اور یہی کتنے فتنے اس کے تـ

وَمِنْ ثَمَّ لَمَّا جَاءَ فِي بَدْءِ اَمْـ

میں گمراہی پوشیدہ تھی۔

وَاَوْضَحَ بُرْهَانٍ عَلٰی مَا ذَكَرْ
بِاَنَّ الْمَسِيْحَ الْقَادِيَانِيَّ كَمْ

کی تحقیر ہوتی ہے۔

وَكُلُّ النَّصَارٰی يَعْلَمُوْنَ كَلَا

جانتے ہیں۔

وَلَمْ يُنْكِرُوْا يَوْمًا عَلَيْهِ وَلَـ

دشوار نہیں۔

وَعِيْسَى نَبِيُّ اللّٰهِ حَقًّا يُـ
اَلَمْ تَكُ فِيْهِمْ غَيْرَةٌ فَيُعَظِّـ

مناسب ہے۔

وَلٰكِنَّ لِأَمْرٍ مَّا اَبَا حَوَالَهُ
وَمِمَّا يُبَيَّنُ فِي مُدَّعَاهُ بِـ

خلاف ہے۔

تَعَذَّبُهٗ فِي شَانِ الْحُسَيْنِ بِـ
صفحہ ٢١٥

اور یہی کتنے فتنے اس کے تہ میں پوشیدہ ہیں۔

وَمِنْ ثَمَّ لَمَّا جَاءَ فِى بَدْءِ أَمْرِهٖ تَظَاهَرَ بِالْإِصْلَاحِ لِلْغَیِّ یُضْمِرُ

٢٣٨....... اور اس لئے مرزا قادیانی نے اوّل میں ایسے کام کئے جن سے اصلاح ظاہر ہو مگر ان میں گمراہی پوشیدہ تھی۔

وَأَوْضَحُ بُرْهَانٍ عَلٰى مَا ذَكَرْتُهٗ وَحَرَّرْتُهٗ إِنْ كُنْتَ مِمَّنْ یُّفَكِّرُ

٢٣٩....... اور اگر تو صاحب فہم اور فکر ہے تو میرے اس دعوے پر کھلی اور روشن دلیل یہ ہے۔

بِأَنَّ الْمَسِيحَ الْقَادِیَانِیَّ كَمْ لَهٗ أَقَاوِیْلُ سُوْءٍ بِالْمَسِيْحِ تُحَقِّرُ

٢٤٠....... کہ اس مسیح قادیانی کے بہت سے اقوال ایسے ناپاک ہیں۔ جن سے حضرت مسیح علیہ السلام کی تحقیر ہوتی ہے۔

وَكُلُّ النَّصَارٰى يَعْلَمُوْنَ كَلَامَهٗ وَمَا هُوَ یُبْدِى لَفْظَهٗ أَوْ يُحَرِّرُ

٢٤١....... اور تمام نصاریٰ اس کے اس کلام سے واقف ہیں یعنی جو کچھ وہ کہتا یا لکھتا ہے اسے وہ جانتے ہیں۔

وَلَمْ يُنْكِرُوْا یَوْمًا عَلَيْهِ وَإِنَّهُمْ بِأَیْدِيْهِمُ الْأَقْلَامُ لَا تَتَعَذَّرُ

٢٤٢....... اور اس پر بھی نصاریٰ نے کبھی اسے روکا نہیں۔ حالانکہ وہ صاحب قلم ہیں۔ ان کو روکنا دشوار نہیں۔

وَعِيْسٰى نَبِيُّ اللّٰهِ حَقًّا نَّبِيُّهُمْ وَمَعْبُوْدُهُمْ قِدْمًا فَلِمَ لَا يُوَقِّرُوْا

٢٤٣....... حالانکہ عیسیٰ علیہ السلام ان کے نبی ہیں بلکہ معبود بھی پھر وہ ان کی عزت کیوں نہیں کرتے۔

أَلَمْ تَكُ فِيْهِمْ غَيْرَةٌ فَيُعَظِّمُوْا نَبِيَّهُمُ إِذْ هُمْ بِذٰلِكَ أَجْدَرُ

٢٤٤....... کیا ان میں یہ حمیت نہیں ہے کہ اپنے نبی کی عظمت کریں۔ کیونکہ ان کے لئے یہ زیادہ مناسب ہے۔

وَلٰكِنْ لِّأَمْرٍ مَّا أَبَاحُوْا لَهُ الَّذِى يَفُوْهُ بِهٖ فِى شَانِهٖ حِيْنَ يَهْذِرُ

٢٤٥....... آخر اس میں کوئی وجہ ہی ہو گی جو قادیانی کی اس گستاخی کو جائز رکھا ہے جس کو وہ بیہودہ بکتا ہے۔

وَمِمَّا يُنَافِى مُدَّعَاهُ بِأَنَّهٗ مُؤَیِّدُ دِيْنِ الْحَقِّ لِلْحَقِّ مُظْهِرُ

٢٤٦....... اور نیز قادیانی کے اس دعوے کے کہ وہ حق کا طرفدار اور شائع کرنے والا ہے یہ امر بھی خلاف ہے۔

تَعَدِّيْهِ فِى شَانِ الْحُسَیْنِ بِمَا أَتٰى بِهٖ مِنْ كَلَامٍ لَّا يَكَادُ يُسَطَّرُ

٥٧

صفحہ ٢١٦

جو لکھنے کے قابل بھی نہیں۔

وَقَدْ قَالَ خَيْرُ الْخَلْقِ فِي عُظْمِ شَأْنِهِمْ مُحِبُّهُمُ يَنْجُوْ وَآخَرُ يَكْفُرُ

پانے والا اور دشمن کافر ہے۔

أَنَا حَرْبٌ مَنْ حَارَبْتُمْ وَبِعَكْسِهِ وَكَمْ غَيْرُ هَذَا فِي الْحَدِيثِ مُسَطَّرُ

بھی اس سے صلح کروں گا۔ اس کے سوا اور بھی بہت سے فضائل حدیث میں موجود ہیں۔

وَأَقْوَى دَلِيْلٍ قَامَ يُبْدِي كِذَّابَهُ وَيُنْبِئُ عَنْ زُوْرِ الْكَلَامِ وَيُخْبِرُ

ہو، یہ ہے۔

تَحَدِّيْهِ فِي تَصْدِيْقِ دَعْوَاهُ بِالَّذِي أَتَانَا بِهِ فِي النَّظْمِ وَالنَّثْرِ يَفْخَرُ

پر فخر کرتا ہے۔

يُسَاوِي كَلَامَ اللَّهِ جَهْلًا وَإِنَّهُ لَأَعْجَزُ خَلْقٍ عِنْدَ مَنْ يَتَدَبَّرُ

نزدیک وہ نظم ونثر میں عاجز ہے۔

أَلَا إِنَّمَا الْقُرْآنُ أُنْزِلَ مُعْجِزًا لِكُلِّ بَلِيْغٍ بِالْبَلَاغَةِ يَسْحَرُ
وَمَنْ يَدَّعِي الْإِعْجَازَ فِي النَّظْمِ إِنَّهُ لَمُزْرٍ بِإِعْجَازِ الْقُرْآنِ وَمُنْكِرُ

اور اس کی توہین کرتا ہے۔

وَمُنْكِرُ إِعْجَازِ الْقُرْآنِ مُكَفَّرٌ بِإِجْمَاعِ أَهْلِ الشَّرْعِ حَقًّا يُقَرَّرُ
وَأَعْجَبُ شَيْءٍ أَنَّ أَشْعَارَهُ الَّتِي يُمَنِّيْنَا بِهَا الْإِعْجَازُ لِلْعَجْزِ مَظْهَرُ

٥٨

عاجز ہونا ظاہر ہوتا ہے۔

وَلَيْسَ بِهَا شَيْءٌ مِنَ النُّصْحِ وَالْهُدَى

ایسی سود مند باتیں ہیں جن پر کوئی

كَمَا هُوَ دَابُ الْأَنْبِيَاءِ وَكُتُبِهِمْ

ہیں اور اس کا راستہ دکھاتے ہیں،

بَلَى إِنَّهَا مَحْشُوَّةٌ بِفِجَارِهِ

پر لعن طعن اور گالیاں۔

وَيَالَيْتَهُ جَاءَ الْفَصَاحَةُ عِنْدَمَا

کے پاس بھی پھٹکتا اور اعجاز تو مشک

وَيَالَيْتَ شِعْرِي لَوْ خَلَتْ عَنْ مَعَائِبٍ

تو مکروہ ہے۔

مَعَائِبُ شَتَّى لَيْسَ يُمْكِنُ جَمْعُهَا

سب کی فہرست بھی دشوار ہے۔

وَلَكِنْ سَأُبْدِي بَعْضَهَا مُتَأَسِّفًا

اگرچہ تمام کے لکھنے سے میں مع

وَأَمَّا الَّذِي قَدْ قَالَهُ فِي جَوَابِ مَنْ

معجز نہیں کیونکہ نہ ان کا وزن عرو

بِأَنَّ كَلَامِي لَا يُقَاسُ بِغَيْرِهِ
صفحہ ٢١٧

عاجز ہونا ظاہر ہوتا ہے۔

وَلَيْسَ بِهَا شَيْءٌ مِّنَ النُّصْحِ وَالْهُدَى وَلَا حِكَمٌ يَسْمُوْ بِهَا الْمُتَدَبِّرُ

ایسی سودمند باتیں ہیں جن پر کوئی سمجھدار ناز کرے۔

كَمَا هُوَ دَابُ الْأَنْبِيَاءِ وَكُتُبِهِمْ تُبَيِّنُ أَحْكَامَ الْهُدَى وَتُبَصِّرُ

ہیں اور اس کا راستہ دکھاتے ہیں۔

بَلَى إِنَّهَا مَحْشُوَّةٌ بِمَفَاخِرِهٖ وَسَبِّ الْبَرِيِّ وَاللَّعْنُ فِيْهَا مُكَرَّرُ

پر لعن طعن اور گالیاں۔

وَيَالَيْتَهُ جَاءَ الْفَصَاحَةَ عِنْدَمَا أَتَى يَدَّعِى الْإِعْجَازَ فِيْمَا يُحَرِّرُ

کے پاس بھی پھٹکتا اور اعجاز تو مشکل ہے۔

وَيَالَيْتَ شِعْرِي لَوْ خَلَتْ عَنْ مَعَائِبٍ تَمُجُّ لَدَى الْأَسْمَاعِ بَلْ وَتُنَكَّرُ

تو مکروہ ہے۔

مَعَائِبُ شَتَّى لَيْسَ يُمْكِنُ جَمْعُهَا وَإِحْصَاؤُهَا فِي النَّظْمِ قَدْ يَتَعَذَّرُ

سب کی فہرست بھی دشوار ہے۔

وَلَكِنْ سَأُبْدِيْ بَعْضَهَا مُتَأَسِّفًا وَإِنْ كُنْتُ عَنْ إِحْصَائِهَا الْيَوْمَ أَعْذِرُ

اگرچہ تمام کے لکھنے سے میں معذور ہوں۔

وَأَمَّا الَّذِي قَدْ قَالَهُ فِيْ جَوَابِ مَنْ أَبَى شِعْرَهُ فِي اللَّفْظِ وَالْوَزْنِ يُنْكِرُ

معجز نہیں کیونکہ نہ ان کا وزن ہی درست اور نہ لفظ۔

بِأَنَّ كَلَامِيْ لَا يُقَاسُ بِغَيْرِهٖ مِنَ الشِّعْرِ إِذْ شِعْرِي أَجَلُّ وَأَكْبَرُ

٥٩

صفحہ ٢١٨

٢٦٥ ....... کہا تھا کہ میرے اشعار کا دوسرے اشعار سے مقابلہ درست نہیں۔ کیونکہ میرے اشعار نہایت ہی اعلیٰ اور ارفع ہیں۔

فَشِعْرِى كَمَا الْقُرْآنُ لَيْسَ بِلَازِمٍ تُطَابِقُهُ بِالنَّحْوِ حَتّٰى أُعَيَّرُ

٢٦٦ ....... اور قرآن کی طرح میرے اشعار کے لئے ضروری نہیں کہ وہ قواعد نحوی کے پابند ہوں تاکہ اس کی مخالفت سے مجھے الزام دیا جائے۔

وَقَدْ جَاءَ فِي الْقُرْآنِ أَيْضًا مُخَالِفُ الْقَوَاعِدِ أَلْفَاظٌ فَلِمْ لَا يُعَيَّرُ

٢٦٧ ....... کیونکہ قرآن میں بھی نحوی قواعد کے خلاف عبارت ہے۔ پھر وہاں کیوں نہیں اعتراض کیا جاتا۔

فَهٰذَا جَوَابٌ لَا يُسَوِّغُ اسْتِمَاعُهُ وَمَا هُوَ إِلَّا بَاطِلٌ وَمُزَوَّرُ

٢٦٨ ....... میں کہتا ہوں کہ مرزا قادیانی کا یہ جواب ایسا لچر اور پوچ ہے کہ علماء اس پر کان بھی نہیں دھرتے۔

فَمَا مُرْسَلٌ إِلَّا أَتٰى بِلِسَانِ مَنْ أَتَاهُمْ كَمَا عَنْهُ الْكِتَابُ يُخَبِّرُ

٢٦٩ ....... کیونکہ جو کوئی نبی کسی قوم میں بھیجا گیا ہے وہ اسی کی زبان میں خدا کی وحی لایا ہے۔ چنانچہ خود قرآن بھی اس پر شاہد ہے۔

وَإِنْ لَمْ يَكُنْ يَاتِيْهِمُ بِلِسَانِهِمْ فَكَيْفَ لَهُ أَلَّا نُذَارٌ فِيْمَا يُذَكِّرُ

٢٧٠ ....... اور اگر وہ اپنے قوم کے زبان میں وحی نہ لائے گا تو کیونکر وعظ ونصیحت میں ان کو ڈرائے گا۔

وَكَيْفَ تَحَدَّى الْأَنْبِيَاءُ بِكُتُبِهِمْ لَدَى قَوْمِهِمْ مَادَامَ فِيْهَا التَّعَذُّرُ

٢٧١ ....... اور انبیاء اپنی قوم کے سامنے اپنی کتابوں کو کیونکر معجزہ قرار دے سکتے ہیں۔ جب کہ وہ ان کی زبان ہی میں نہ ہو۔

وَكَيْفَ اعْتِرَافُ الْمُنْكِرِيْنَ بِأَنَّهُ بَلِيْغٌ إِذَا لَمْ يُدْرِكُوْهُ وَيَنْظُرُوْا

٢٧٢ ....... اور قوم اس کتاب کی بلاغت اور اعجاز کا کس طرح اقرار کرتی۔ خصوصاً منکر لوگ تاوقتیکہ وہ اس کو سمجھیں نہیں۔

وَلَوْ لَمْ يَكُنْ أَمْرُ الْبَلَاغَةِ رَاجِعًا إِلَى الْعَرَبِ الْعَرْبَاءِ فِيْمَا يُحَرِّرُ

٢٧٣ ....... اور کلام عرب کی بلاغت کے جانچنے کا منصب اگر عرب العربا سے مخصوص نہ ہوتا۔

لَأَصْبَحَ كُلُّ يَدَّعِيْ فِيْ كَلَامِهِ الْبَلَاغَةَ وَالْإِعْجَازَ فِيْنَا وَيَفْخَرُ

٢٧٤ ....... تو اس وقت ہر ایک عربی لکھنے والا اپنے کلام کے اعجاز اور بلاغت کا مدعی بن بیٹھتا اور اس پر فخر کرتا۔

٦٠

صفحہ ٢١٩
وَلَكِنْ هٰذَا الْبَاطِلَ فَجَوَابُهُ كَذَالِكَ فَانْظُرْ أَيُّهَا الْمُتَدَبِّرُ
وَمَنْ ظَنَّ فِى الْقُرْاٰنِ جَهْلًا بِاَنَّهُ يُخَالِفُ كُتُبَ النَّحْوِ فَهُوَ غُمَيْدَرُ

بیہودہ ہے۔

فَاِنَّ كَلَامَ اللّٰهِ جَلَّ جَلَالُهُ يُنَزَّهُ عَمَّا قَالَهُ الْمُتَهَوِّرُ

باک نے کہا ہے۔

وَمَنْ شَكَّ اِعْرَابَ الْقُرْاٰنِ يَرُدُّهُ كَذَا كُتُبُ التَّفْسِيْرِ وَالْحَقُّ يَظْهَرُ

لکھا گیا ہے اور تفسیروں کو بھی تو اس کا یہ شک زائل ہو جائے گا۔

اِلَى هٰهُنَا قَدْ تَمَّ مَا رُمْتُ نَظْمَهُ عَلَى رَدِّ دَعْوَاهُ وَقَدْ جَاءَ يَبْهَرُ

دعوے کا بطلان۔

وَلٰكِنَّهُ مُذْ جَاءَ نَا بِقَصِيْدَةٍ يُمَارِىْ بِهَا كُلَّ الْاَنَامِ وَيَسْخَرُ

کر کے کہتا ہے۔

يَقُولُ كَلَامِىْ لَا يُمَارِيْهِ شَاعِرٌ وَاِنْ كَانَ مِمَّنْ فِى الْبَلَاغَةِ يَمْهَرُ

کوئی نہیں لا سکتا۔

تَاَمَّلْتُ هَاتِيْكَ الْقَوَافِىْ وَلَفْظَهَا وَمَا قَدْ حَوَتْهَا مِنْ مَّعَانٍ تُحَرَّرُ

اور معانی پر نظر ڈالی۔

فَلَمْ اَلْفَ فِيْهَا مَا بِهِ تَسْبِقُ السِّوَىٰ سِوَى السَّبِّ وَالشَّتْمِ الَّذِىْ لَيْسَ يُحْصَرُ

بے انتہاء گالی گلوچ کے البتہ اس میں ضرور فائق ہے۔

٦١

صفحہ ٢٢٠
وَلَفْظِ التَّعَلِّی وَالتَّكَبُّرِ وَالْبَذٰی اَتَاحَ لِاِثْبَاتِ الْكِذَابِ بِمُزْوِرِ

گڑھی ہیں۔ اس میں بھی مرزا قادیانی کا قصیدہ فائق ہے۔

رَكَاكَةُ اَلْفَاظٍ وَّلَحْنُ مُلِمٍّ وَكَسْرُ وَزَانٍ كُلُّ ذَاكَ مُكَرَّرُ
وَهٰذِى اُمُورٌ فِى الْحَقِیقَةِ اِنَّهَا لَاَبْدَعُ شَیْءٍ فِى الْكَلَامِ یُحَرَّرُ

یہ نیا اعجاز ہے۔

فَدَعْوَاهُ شِعْرِىْ لَا یُبَارٰی لَعَلَّهُ اَرَادَ بِذَا الْمَعْنٰی وَذَا لَیْسَ یُنْكَرُ

عیوب میں بے مثل ہیں تو یہ صحیح ہے۔ اس سے انکار نہیں۔

وَمِنْ اَجْلِ ذَا وَالَیْتُهُ بِقَصِیْدَةٍ حَوَتْ مِنْ شَنِیْعِ اللَّفْظِ مَا لَیْسَ یُذْكَرُ

بہت سے الفاظ شنیعہ ایسے ہیں جو مہذب بلغاء استعمال نہیں کرتے۔

وَأُفْحِمُهُ مَا عِنْدَهُ مِنْ جَوَابِهِ وَاُسْكِتُ خَرْسًا لَّمَّا هُوَ یُهْزَعُ

شیر کی طرح غراتا تھا میں گونگے شیطان کی طرح اسے ساکت کروں گا۔

وَهَا اَنَا آتِیْهِ فِیْ مُبَارَاةِ شِعْرِهِ وَاَرْدَعُهُ عَمَّا بِهِ جَاءَ یَهْذِرُ
یُعَارِضُ شِعْرِىْ كُلَّ بَیْتٍ بِشِعْرِهِ بِاَبْدَعِ اُسْلُوبٍ كَمَا سَوْفَ یَظْهَرُ
وَقَدْ زَادَ بِالتَّعْرِیْضِ حُسْنًا كَمَا تَرٰی وَهَا هُوَ هٰذَا قَدْ اَتَاكَ یُسَطَّرُ

قصیدہ سے بڑھ گیا ہے۔ میرا وہ قصیدہ یہ ہے۔

بَدْءُ الْقَصِیْدَه

اَلَا فِىْ سَبِیْلِ الْغَیِّ مَا اَنْتَ مُظْهِرُ ضَلَالٌ وَّجَهْلٌ وَافْتِرَاءٌ مُّعَبِّرُ

٦٢

صفحہ ٢٢١

ہلاک کردے گا۔

تُحَاوِلُ دَرْكَ الْمَجْدِ زُوْرًا وَتَبْتَغِيْ رُقِيًّا بِتَضْلِيْلِ الْأَنَامِ وَتَفْخَرُ

اس پر فخر کرتا ہے۔

وَتَزْعُمُ أَنَّ الْفَضْلَ فِيكَ مُقَرَّهُ وَمَا أَنْتَ إِلَّا لِلْجَهَالَةِ مَظْهَرُ

بھی نہیں۔

أَرَاكَ اتَّبَعْتَ النَّفْسَ فِيمَا ادَّعَيْتَهُ وَمَا النَّفْسُ إِلَّا بِالْفَوَاحِشِ تَأْمُرُ

برائی ہی کا حکم کرتا ہے۔

وَأَمَّكَ إِبْلِيسُ اللَّعِينُ فَلَمْ تَزَلْ تُتَابِعُهُ فِي كُلِّ مَا هُوَ يَأْمُرُ

حکم کرتا ہے۔

إِلَى أَنْ غَدَوْتَ الْيَوْمَ تُدْعَى خَلِيفَةً لِإِبْلِيْسَ حَقًّا فِي الَّذِي مِنْكَ يَصْدُرُ

میں جو تو کر رہا ہے۔

وَنَازَعْتَ عِيسَى فِي النُّبُوَّةِ قَائِلًا بِأَنِّيْ مَثِيْلٌ لِلْمَسِيحِ مُصَوَّرُ

علیہ السلام کا مثیل کہتا ہے۔

وَجِئْتَ بِآيَاتِ الضَّلَالِ مُبَرْهِنًا لِدَعْوَةِ زُوْرٍ عَنْ ضَلَالِكَ تُخْبِرُ

نشان لایا۔

فَيَا مُدَّعِيَ الْإِعْجَازِ وَالْعَجْزُ شَانُهُ لَقَدْ جِئْتَ أَمْرًا دَرْكُهُ مُتَعَذِّرُ
أَتَعْرِفُ مَا الْإِعْجَازُ أَمْ تَدَّعِي الْهَوَى أَمِ الْجَهْلُ بِالْإِعْجَازِ مِنْكَ تُعَبِّرُ

٦٣

صفحہ ٢٢٢

جہل مرکب کا نام اعجاز رکھ چھوڑا ہے۔

وَهَلْ نَاظِمُ الْأَشْعَارِ يَسْمُوْ بِنَظْمِهِ وَيُنْمَى لَهُ الْإِعْجَازُ فِيْمَا يُحَرِّرُ
وَلَوْ ذَاكَ فِي النَّظْمِ الْبَلِيْغِ الَّذِيْ بِهِ تُبَارَى أَبِيَّاتُ الْمَعَانِيْ وَتُنْحَرُ
عَلَا أَنَّ مَا أَبْدَيْتَهُ مِنْ قَصِيْدَةٍ فَلَيْسَ لَهَا حَظٌّ لَذَى الْفَنِّ يُذْكَرُ
وَقَدْ جَاءَ فِي الْقُرْآنِ (مَا يَنْبَغِيْ لَهُ) وَإِنْ هُوَ إِلَّا الذِّكْرُ وَالشِّعْرُ مُنْكَرُ

فرمائیں اور قرآن تو محض نصیحت ہے اور شعر قبیح ۔

وَشِعْرُكَ أَرْدَى الشِّعْرِ مَعْنًى وَلَفْظُهُ يُحَاكِيْ مَعَانِيْهِ كَمَا سَوْفَ يَظْهَرُ

اس کی ردائت خود ظاہر ہو جائے گی۔

وَلَمَّا أَكُنْ أَدْرِيْ أَدَعْوَى نُبُوَّةٍ تَقَوَّلْتَهَا زُوْرًا فَجِئْتُ تُنَصَّرُ

لوگوں کو نصرانی بنائے ۔

أَمِ الْخَاسِرُ الْمَلْعُوْنُ أَغْوَاكَ تَدَّعِيْ رُبُوْبِيَّةً تُرْدَى بِهَا وَتُدَمَّرُ

ہلاک ہو جائے ۔

فَإِنْ كَانَتِ الْأُوْلَى فَمَنْ رَّبُّكَ الَّذِيْ بُعِثْتَ لَنَا بِالنَّظْمِ مِنْهُ تُخَبَّرُ

بھیجا ہے۔

وَحَاشَا إِلَهِ الْعَرْشِ يَبْعَثُ شَاعِرًا إِلَيْنَا بِنَظْمِ الشِّعْرِ فِي النَّاسِ يَفْخَرُ

نظم پر لوگوں میں اتراتا پھرے۔

٦٣

وَإِنْ كُنْتَ رَبًّا فَأْتِ بِالْقُدْرَةِ الَّتِي

مخلوقات کے سوا دوسری خلق کو

عَلَى كُلِّ حَالٍ لَسْتَ تُتْرَكُ فِي الْوَرَى
فَإِنْ كُنْتَ فِرْعَوْنًا فَمُوْسَى بِعَزْمِهِ

اقسام کا مزہ چکھا کر ہلاک کر

وَإِنْ كُنْتَ مِثْلاً لِلْمَسِيْحِ فَلَا أَرَى
وَعِيْسَى نَبِيُّ اللهِ بَعْدُ نُزُوْلِهِ

حاصل کریں گے ۔

فَيَا مُدَّعِيَ الْإِعْجَازِ مَاذَا تَرُوْمُ
وَهَلْ أَنْتَ مُنْشِي الشِّعْرِ هَذَا أَمِ الَّذِي

در حقیقت وہی تیرے کام کا

أَجِبْنِيْ سَرِيْعًا إِنْ تَكُنْ عَالِمًا
وَإِنْ ضِقْتَ ذَرْعًا فِيْ طِلَابِ حَقِيْ
وَلَا شَكَّ عِنْدِيْ أَنَّكَ الْيَوْمَ مُرْ

کرتا ہے۔

تُضِلُّ عِبَادَ اللهِ بَغْيًا وَتَبْتَغِ
صفحہ ٢٢٣
وَاِنْ كُنْتَ رَبًّا فَاْتِ بِالْقُدْرَةِ الَّتِى تُرِينَا عِيَانًا غَيْرَ مَا نَحْنُ نَنْظُرُ

٣١٢...... دوسری صورت یہ ہے کہ اگر تو خدا ہے تو اپنی ایسی قدرت ہمیں دکھا جس سے ہم ان مخلوقات کے سوا دوسری خلق کو دیکھیں۔

عَلَى كُلِّ حَالٍ لَسْتَ تُتْرَكُ فِى الْوَرىٰ سُدًى بَلْ قَرِيبًا بِالْبَلَاءِ تُتَبَّرُ

٣١٣...... بہرحال تو دنیا میں خدا کے عذاب سے نہ بچے گا۔ بلکہ عنقریب بلا سے ہلاک ہوگا۔

فَاِنْ كُنْتَ فِرْعَوْنًا فَمُوسَىٰ بِعَزْمِهِ يُذِيقُكَ اَنْوَاعَ الرَّدَىٰ وَيُدَبِّرُ

٣١٤...... اور اگر تو فرعون بن بیٹھا ہے تو تیرے لئے کوئی موسٰی ہوگا جو اپنی ہمت سے تجھے انواع واقسام کا مزہ چکھا کر ہلاک کرے گا۔

وَاِنْ كُنْتَ مِثْلًا لِّلْمَسِيحِ فَلَا اَرَىٰ مَسِيحًا سِوَى الدَّجَّالِ بِاللّٰهِ يَكْفُرُ

٣١٥...... اور اگر تو مثل مسیح ہے تو میں تجھے مسیح دجال کے سوا کچھ نہیں پاتا جو خدا کا منکر ہے۔

وَعِيسَىٰ نَبِىُّ اللّٰهِ بَعْدَ نُزُولِهِ عَلَى فِئَةِ الدَّجَّالِ قَطْعًا يُظَفَّرُ

٣١٦...... اور حضرت عیسٰی علیہ السلام نبی اللہ تو اپنے نزول کے بعد ضرور دجال کے گروہ پر فتح حاصل کریں گے۔

فَيَا مُدَّعِى الْاِعْجَازِ مَاذَا تَرُومُهُ تَفَكَّرْ بِمَا ذَا تَدَّعِى حِينَ تَذْكُرُ

٣١٧...... اے اپنے دعوے سے جاہل...... سوچ تو سہی کہ تو نے کس امر کا دعویٰ کیا ہے۔

وَهَلْ اَنْتَ مُنْشِئُ الشِّعْرِ هٰذَا اَمِ الَّذِى اِقْتَدَيْتَ بِهِ اَنْشَاهُ وَهُوَ الْمُدَبِّرُ

٣١٨...... اور بتلا تو سہی کہ ان اشعار کا ناظم تو ہے یا وہ جس کی تو نے پیروی کی ہے یعنی شیطان اور در حقیقت وہی تیرے کام کا ماہر ہے۔

اَجِبْنِى سَرِيعًا اِنْ تَكُنْ عَالِمًا بِمَا تَقُولُ وَاِلَّا فَارْتَدِعْ يَا مُزَوِّرُ

٣١٩...... تو مجھے جلد بتلا اگر تجھے معلوم ہے ورنہ اے دروغگو اس سے باز آ۔

وَاِنْ ضِقْتَ ذَرْعًا فِى طِلَابِ حَقِيقَةِ الْجَوَابِ فَسَلْ اِبْلِيسَ فَهُوَ يُدَبِّرُ

٣٢٠...... اور اگر تو اصل جواب سے عاجز ہو تو پھر ابلیس لعین سے دریافت کر، وہ سوچے گا۔

وَلَا شَكَّ عِنْدِى اَنَّكَ الْيَوْمَ مُرْسَلٌ مِنَ الْمَارِدِ الْمَلْعُونِ اِبْلِيسَ تَمْكُرُ

٣٢١...... اور مجھے تو اس میں کچھ شک نہیں ہے کہ تو اس زمانہ میں ابلیس لعین کا نامہ بر ہے جو مکر کرتا ہے۔

تُضِلُّ عِبَادَ اللّٰهِ بَغْيًا وَتَبْتَغِى بِذَاكَ رِضَى اِبْلِيسَ فِيمَا تُزَوِّرُ

٦٥

صفحہ ٢٢٣

٣٢٢....... تو خدا کے بندوں کو گمراہ کرتا ہے اور اپنے اس فریب سے ابلیس کی رضامندی چاہتا ہے۔

وَلَكِنَّنِي أُرْضِيْ إِلَهِيْ وَأُغْضِبُ اللَّعِيْنَ الَّذِيْ أَغْوَاكَ فِيمَا أُحَرِّرُ

٣٢٣....... اور میں اپنی اس تحریر سے اپنے خدا کو راضی کرتا ہوں اور ابلیس کو ناراض اور غضبناک

وَأَرْجُوْ مِنَ اللَّهِ الْكَرِيمِ إِغَاثَةً لِإِيْقَادِ نَارٍ فِيْ حَشَاکَ أُسَعِّرُ

٣٢٤....... اور اللہ کریم سے اس میں مدد کا امیدوار ہوں کہ تیرے سینہ میں آگ بھڑکاؤں۔

فَدُونَكَ مِنِّيْ يَا أَخَا الْجَهْلِ رَقْمًا فَرِيْنَا بِهِ الْإِعْجَازَ وَالْعَجْزَ أَظْهَرُ

٣٢٥....... پس او جاہل! مجھ سے ان اشعار کا جواب لے جن میں تو نے ہمیں اعجاز دکھایا ہے۔ حالانکہ اس سے تیرا عجز ظاہر ہے۔

وَلَسْتُ أُبَارِيهَا بِشِعْرِى وَإِنَّمَا أُبَيِّنُ مَا فِيهَا مِنَ اللَّغْوِ يُنْظَرُ

٣٢٦....... اور میں اپنے اشعار سے اس کے قصیدہ کا مقابلہ نہیں کرتا۔ اس لئے کہ وہ اس قابل نہیں بلکہ میں ان کے لغویات کو بیان کرتا ہوں تاکہ کھل جائیں۔

فَجَهْلُکَ مِنْ صَدْرِ الْقَصِيدَةِ بَيِّنٌ يَلُوحُ لِمَنْ فِيْ لَفْظِهِ يَتَفَكَّرُ

٣٢٧....... پس تیرا جہل تو قصیدہ کے ابتدا ہی سے ظاہر ہوتا۔ جیسا کہ اس کے دیکھنے سے معلوم ہوتا ہے۔

وَثَامِنُ بَيْتٍ فِي الْقَصِيدَةِ دُلَّنِيْ عَلَى وَزْنِهِ مِنْ أَيِّ بَحْرٍ يُحَرِّرُ

٣٢٨....... اور اپنے قصیدہ کے آٹھویں شعر کو مجھے بتلا کہ کس وزن پر کس بحر میں لکھا گیا ہے۔

وَرَابِعُ بَيْتٍ بَعْدَهُ جَاءَ فَاسِدًا لِوَزْنٍ وَفِيهِ خُبْثُ قَوْمٍ تَنَمَّرُوا

٣٢٩....... اور اس کے بعد چوتھا شعر جس میں خُبْثُ قَوْمٍ تَنَمَّرُوا ہے بالکل بے وزن ہے۔

وَعُدَّ أَرْبَعًا مِنْ بَعْدِ عِشْرِيْنَ بَعْدَهُ هُنَاکَ تَرَى بَيْتًا بِجَهْلِکَ يُخْبِرُ

٣٣٠....... اور بعد اس کے چوبیسواں شعر تو ایسا ہے جو تیری جہالت کو بتلا رہا ہے۔

وَذَالِکَ فِيْ لَمَّا اعْتَدَى الْأَمْرُ فَاسِدٌ لِذِي الْوَزْنِ وَالْمَعْنَى إِذَا كُنْتَ تُبْصِرُ

٣٣١....... اور یہ شعر وہ ہے جس میں لما اعتدى الامر مری ہے۔ جس کے معنی اور وزن کا فساد دیکھنے والوں پر ظاہر ہے۔

وَسَادِسُ بَيْتٍ جَاءَ فِي اللَّفْظِ عَارِيًا عَنِ الْوَزْنِ يُرْوَى الْجَهْلَ عَنْکَ وَيَنْشُرُ

٣٣٢....... اور اس کے بعد کا چھٹا شعر بالکل بے وزن ہے۔ جو تیرے جہل کو آشکار اور شائع کر رہا ہے۔

وَقَافِيَةُ الْبَيْتِ الَّذِي جَاءَ بَعْدَهُ بِأَرْبَعَةٍ لِلْوَزْنِ ظَلَّتْ تُغَيِّرُ

٦٦

٣٣٣....... پھر اس کے چار شعر کے بعد جو ہو جاتا ہے۔

وَمَا بَعْدَهُ مِنْ غَيْرِ فَضْلٍ كَمِثْلِ

٣٣٤....... پھر اس کے بعد ہی والا شعر ش سے رجوع کرے۔

وَقَافِيَةٌ مِنْ غَيْرِ فَضْلٍ كَمِثْ

٣٣٥....... اور اس کے بعد کا شعر فاسد

كَذَلِکَ ثَانِي عَشَرَ بَيْتٍ زَال

٣٣٦....... اسی طرح اس کے بعد بار بے وزن ہے۔

وَرَفْعُکَ فِعْلَ الْأَمْرِ لَحْنُ وَذَاکَ

٣٣٧....... اور ایسا ہی فعل امر کو تیرا ر

وَمِنْ مِّثْلِ هَذَا اللَّحْنِ لَوْ رُمْتُ ع

٣٣٨....... اور اس سم کی غلطیاں اگر عاجز ہو جاؤں۔

تُحَاوِلُ إِدْرَاکَ الْبَلَاغَةِ جَا

٣٣٩....... اور اپنے آپ کو بلیغ سم بالکل جاہل ہے۔

لِسَانُکَ لَمْ تُدْرِکْهُ فَضْلًا عَنِ ا

٣٤٠....... تو تو اپنی زبان یعنی ار اندھی اونٹنی کی طرح ہا

تُفَسِّرُ بِالدَّارِ الْفِنَاءَ فَ

٣٤١....... تو نے فنا کا ترجمہ گھر کی

وَقَوْلُکَ إِنْ سَاءَ تُکَ أَمْرَ

٣٤٢....... اور تیرا قول ان ساءَ ت والے سے پوچھ کہ

صفحہ ٢٢٥

٣٣٣...... پھر اس کے چار شعر کے بعد جو شعر ہے اس کا قافیہ ایسا قبیح ہے جس سے وزن بھی خراب ہو جاتا ہے۔

وَمَا بَعْدَهُ مِنْ غَيْرِ فَصْلٍ كَمِثْلِهِ تَدَبَّرْهُ كَيْ عَنْ بَاطِلِ الْقَوْلِ تَزْجُرُ

٣٣٤...... پھر اس کے بعد ہی والا شعر مثل سابق کے بے وزن ہے ذرا سوچ سمجھ کر اپنے قول باطل سے رجوع کرے۔

وَتَالِيْهِ مِنْ غَيْرِ فَصْلٍ كَمِثْلِهِ مُضِلٌّ وَفِيْهِ اللَّحْنُ لَاشَكَّ يُنْظَرُ

٣٣٥...... اور اس کے بعد کا شعر فاسد الوزن ہے۔ گمراہ کرنے والا اور اس کی غلطی قابل دید ہے۔

كَذَلِكَ ثَانِيْ عَشَرَ بَيْتٍ رَأَيْتُهُ وَفِيْهِ قَضَاءُ اللَّهِ لِلْوَزْنِ يَكْسِرُ

٣٣٦...... اسی طرح اس کے بعد بارھواں شعر جس میں لفظ قضاء اللہ ہے (اس کا دوسرا مصرعہ) بے وزن ہے۔

وَرَفْعُكَ فِعْلَ الْأَمْرِ لَحْنٌ وَذَاكَ فِيْ رُوَيْدَكَ لَا تُبْطِلْ صَنِيْعَكَ وَاحْذَرُ

٣٣٧...... اور ایسا ہی فعل امر کو تیرا رفع دینا اس مصرعہ (رویدک لا تبطل واحذر) میں غلط ہے۔

وَمِنْ مِثْلِ هَذَا اللَّحْنِ لَوْرُمْتُ جَمْعَهُ لَاَعْجَزَنِيْ تِعْدَادُهُ الْمُتَكَثِّرُ

٣٣٨...... اور اس قسم کی غلطیاں اگر میں جمع کرنا چاہوں تو وہ اس قدر ہیں کہ میں اس کے شمار سے عاجز ہو جاؤں۔

تُحَاوِلُ إِدْرَاكَ الْبَلَاغَةِ جَاهِلًا عَنِ الْوَضْعِ وَالتَّرْكِيْبِ يَا مُتَهَوِّرُ

٣٣٩...... اور اپنے آپ کو بلیغ سمجھا ہے۔ حالانکہ تو او بے باک! وضع الفاظ اور ترکیب کلام سے بالکل جاہل ہے۔

لِسَانَكَ لَمْ تُدْرِكْهُ فَضْلًا عَنِ السِّوٰی فَتَخْبِطُ كَالْعَشْوَاءِ فِيْمَا تُفَسِّرُ

٣٤٠...... تو تو اپنی زبان یعنی اردو ہی صحیح نہیں لکھ سکتا۔ چہ جائیکہ عربی چنانچہ ترجمہ کرنے میں تو اندھی اونٹنی کی طرح ہاتھ پاؤں مارتا ہے۔

تُفَسِّرُ بِالدَّارِ الْفَنَاءَ وَلَمْ يَقُلْ بِهِ أَحَدٌ مِنْ قَبْلُ إِنْ كُنْتَ تَعْمُرُ

٣٤١...... تو نے فنا کا ترجمہ گھر کیا ہے۔ حالانکہ ایسا کسی نے تیرے سے پہلے نہیں کہا۔ اگر کہا ہو تو بتا۔

وَقَوْلُكَ إِنْ سَاءَتْكَ اَمْرُ خِلَافَتِيْ فَسَلْ مُرْسِلِيْ مَا سَاءَ قَلْبَكَ وَاحْضُرُ

٣٤٢...... اور تیرا قول ان ساءتک الخ یعنی اگر میری خلافت تجھے بری معلوم ہوئی تو میرے بھیجنے والے سے پوچھ کہ کیوں ایسا کیا۔

٦٧

صفحہ ٢٢٦
أَقُوْلُ مَعَاذَ اللّٰهِ لَيْسَتْ تَسُؤْنَا خِلَافَةُ إِبْلِيْسٍ بِمِثْلِكَ أَجْدَرُ

٣٤٣...... میں کہتا ہوں کہ معاذ اللہ برا کیوں معلوم ہونے لگا۔ آپ جیسے شخص کے لئے تو خلافت ابلیس ہی نہایت مناسب ہے۔

نَعَمْ كَوْنُ بَعْضِ النَّاسِ ضَلُّوْا بِبَعْضِ مَا تَقُوْلُهُ لَاشَكَّ اَمْرٌ يُكَدِّرُ

٣٤٤...... ہاں! بعض لوگوں کا آپ کی من گھڑت باتوں سے گمراہ ہو جانا البتہ برا معلوم ہوا۔

وَمَعْ ذَاكَ يَوْمَ الدِّيْنِ كُلٌّ مُصَدِّقٍ لِدَعْوَاكَ مَعْ إِبْلِيْسَ فِی النَّارِ يُحْشَرُ

٣٤٥...... اور اس کے ساتھ یہ بھی ہے کہ قیامت کے دن تجھ پر ایمان لانے والے ابلیس لعین کے ساتھ دوزخ میں جھونکے جائیں گے۔

وَلٰكِنَّنِيْ لَمْ اَدْرِ اَنْتَ اَمَامَهُ فَتَسْبِقُهُ لِلنَّارِ اَمْ تَتَأَخَّرُ

٣٤٦...... مگر مجھے یہ معلوم نہیں کہ دوزخ میں تو ان سے پہلے سبقت کرے گا یا پیچھے جائے گا۔

لَقَدْ طُفْتَ فِیْ مَرْضَاةِ إِبْلِيْسَ هَائِمًا تُضِلُّ عِبَادَ اللّٰهِ فِيْمَا تُزَوِّرُ

٣٤٧...... البتہ تو ابلیس کی رضا مندی میں سرگرداں گھومتا رہا اور اپنے فریب سے خدا کے بندوں کو گمراہ کرتا رہا۔

وَفِیْ حُبِّهِ ذَابَتْ عِظَامُكَ كُلُّهَا وَهَبَّتْ عَلَيْكَ الرِّيْحُ مِنْهُ تُكَسَّرُ

٣٤٨...... اور اسی ابلیس لعین کی محبت میں تیری تمام ہڈیاں پگھل گئیں اور اسی کی ہوا نے تجھے توڑ مروڑ دیا۔

وَحُبُّ الْفَتٰی لِلشَّیْءِ يُعْمِیْ فُؤَادَهُ فَلَمْ يَدْرِ فِیْ مَنْطُوْقِهِ مَا يُقَرِّرُ

٣٤٩...... اور کسی شے کی محبت آدمی کو اندھا کر دیتی ہے۔ یہاں تک کہ اپنی باتوں کو نہیں سمجھتا کہ کیا بک رہا ہے۔

وَلَا سِيَّمَا مَنْ كَانَ إِبْلِيْسُ حِبَّهُ فَذَاكَ لَهُ شَانٌ عَنِ الْغَيْرِ يُكْبَرُ

٣٥٠...... خصوصاً وہ شخص جس کا محبوب ہی ابلیس لعین ہو تو اس کی خباثت کی تو سب سے نرالی شان ہوگی۔

فَيُوْحِیْ إِلَيْهِ زُخْرُفَ الْقَوْلِ عِنْدَ مَا لَدَيْهِ لِإِلْقَاءِ مُنَاجیً وَيُحْضَرُ

٣٥١...... پھر ایسے شخص کو تو ابلیس وہ وہ مزخرفات اس کی مناجات میں وحی اور القاء کرتا ہے کہ توبہ ہی بھلی۔

فَيَامُرْسَلَ الْمَلْعُوْنِ إِبْلِيْسَ دَاعِيًا إِلَى الْغَیِّ مَا اَمْرُ الْخِلَافَةِ مُنْكَرُ

٣٥٢...... او ابلیس ملعون کے فرستادہ! گمراہی پھیلانے میں تو واقعی ابلیس کا خلیفہ ہے۔

٦٨

صفحہ ٢٢٧
دُعَاكَ حُسَامٌ لَا يُؤَخِّرُ وَقْعُهُ وَلٰكِنْ بِلَا حَوْلٍ يُّفَلُّ وَيُفْتَرُ

٣٥٣...... تیری دعا واقعی وہ تلوار ہے جس کا وار رکتا نہیں۔ مگر لاحول پڑھتے ہی کند اور بودی ہو جاتی ہے۔

وَلَا شَكَّ قَدْ بَلَّغْتَ كُلَّ ضَلَالَةٍ وَأَوْفَيْتَ إِذْ أَغْوَيْتَ مَنْ لَيْسَ يُبْصِرُ

٣٥٤...... اور بے شک دل کے اندھوں پر تو نے تمام گمراہی کی پوری تبلیغ کر دی۔

وَآيَاتُكَ الْعُظْمَى الَّتِي جِئْتَ عَامِدًا بِهَا لِدِيَارِ الْمُسْلِمِينَ تُدَمِّرُ

٣٥٥...... اور بڑی بڑی نشانیاں تیری جن کو تو نے قصداً گڑھا ہے مسلمانوں کے لئے مہلک ہیں۔

فَإِنَّ ثَنَاءَ اللّٰهِ فِيهَا لَفَاتِكٌ لَيْثٌ ضَيْغَمٌ يَوْمَ الْخِصَامِ وَأَغْبَرُ

٣٥٦...... اور بے شک مولوی ثناء اللہ مسلمانوں میں ایک دلیر شخص ہے۔ جو مناظرہ کے وقت مرزا کے لئے شیر اور بھیڑیا ہے۔

وَرَدَّ ثَنَاءَ اللّٰهِ كُلَّ فَرِيَّةٍ تَقَوَّلْتَهَا زُورًا وَقَالَ سَتُخْسَرُ

٣٥٧...... اور مولوی ثناء اللہ نے تیری تمام من گھڑت جھوٹ کو رد کر دیا اور کہہ دیا کہ عنقریب تو تباہ ہوگا۔

وَكَمْ مَّرَّةٍ قَدْ قَالَ إِنَّكَ كَاذِبٌ لَعِينٌ فَهَلَّا رَدَّ ذٰلِكَ سَرْوَرُ

٣٥٨...... اور بہت مرتبہ مناظرہ میں مولوی ثناء اللہ نے تجھے جھوٹا ملعون ثابت کیا۔ اگر یہ سچ نہ تھا تو کیوں نہیں سرور شاہ نے اس کا رد کیا۔

عَلَيْكَ مِنَ الْجَبَّارِ مَا تَسْتَحِقُّهُ مِنَ اللَّعْنِ وَالْإِذْلَالِ حَتّٰى تُدَمَّرُ

٣٥٩...... تیرے مرنے تک تجھ پر خدا کی ایسی لعنتیں اور ذلتیں ہوئیں جن کا تو مستحق تھا۔

تَقُولُ إِلٰهِي أَنْتَ خُلْدِيْ وَجَنَّتِيْ كَفَرْتَ لَكَ الْوَيْلَاتُ مِنْهَا تُتَبَّرُ

٣٦٠...... تو کہتا ہے کہ اے میرے معبود تو میری خلد اور بہشت ہے۔ لیکن اس کہنے کا کیا نفع تو نے کفران نعمت کی ہے تجھ پر تو خدا کی ایسی مار پڑے جس سے تو تباہ ہو جائے۔

تَقُولُ إِلٰهِي أَدْرِكِ الْعَبْدَ رَحْمَةً وَهَلْ رَحْمَةُ الْمَوْلَى لِمِثْلِكَ تُؤْثَرُ

٣٦١...... تو کہتا ہے کہ اے خدا! اپنے بندہ پر رحمت کر اور کیا خدا کی رحمت تجھ جیسے پر بھی کہیں ہوتی ہے؟

تَقُولُ إِلٰهِيْ أَىَّ بَابٍ تَرُدُّنِيْ إِلَيْهِ وَمَا بَابًا سِوَى النَّارِ تَعْبُرُ

٣٦٢...... کہتا ہے کہ الٰہی ! مجھے کس دروازہ کی طرف واپس کرے گا۔ حالانکہ تیرے داخل ہونے کو تو جہنم کے سوا کوئی دروازہ ہی نہیں۔

أَتُنْذِرُ بِالْإِضْلَالِ قَوْمًا هَدَاهُمُ إِلٰهُهُمُ حَتّٰى سَنَا الْحَقِ أَبْصَرُوا

٣٦٣...... کیا تو گمراہی سے ان لوگوں کو ڈراتا ہے جن کو ان کے معبود نے ہدایت کی۔ یہاں تک

٦٩

صفحہ ٢٢٨

کہ انہوں نے حق کی روشنی دیکھ لی۔

بَلَاءٌ عَلَيْكَ الْيَوْمَ دَعْوَةُ بَاطِلٍ فَتُبْ وَانْتَبِهْ فَالْمَوْتُ آتٍ مُقَدَّرُ

٣٦٤...... اب ان کو باطل کی طرف بلانا ہی تیرے لئے آفت ہے۔ پس اس سے توبہ کر اور متنبہ ہو کیونکہ موت سر پر ہے۔

وَدَعْ حُبَّكَ لِلدُّنْيَا وَنَفْسَكَ فَاعْصِهَا فَشُرْبُكَ صَهْبَاءَ الضَّلَالِ مُدَمِّرُ

٣٦٥...... اور دنیا کی محبت چھوڑ اور اپنے نفس کو ہویٰ و ہوس سے روک لے۔ کیونکہ گمراہی کی شراب کو پینا ہی تیرے لئے مہلک ہے۔

وَمَا رَأَيْتَ مِنْ هَمٍّ فَذٰلِكَ هَيِّنٌ وَلَكِنَّ يَوْمَ الْحَشْرِ هَمُّكَ أَكْبَرُ

٣٦٦...... اور تو جو مصیبتیں دنیا میں جھیلیں یہ تو آسان ہیں۔ مگر قیامت کے دن کی تیری مصیبت تو اس سے کہیں بڑھ کر ہے۔

فَسَلْ أَيُّهَا الْمَجْنُونُ شَيْخَكَ أَنَّهُ لِمَا خَدَعَ الْحَمْقَى فَبِالزُّورِ تُنْذِرُ

٣٦٧...... اور دیوانے! تو نے اپنے استاد ابلیس سے پوچھا کہ اس نے تجھ جیسے بیوقوفوں کو کیوں دھوکا دیا۔ پس تو فریب سے ڈراتا ہے۔

فَيَا مُدَّعِيَ مَعْنَى اللُّغَاتِ وَوَضْعِهَا تَرُومُ بِإِنْشَاءِ الْقَرِيضِ تُظْفَرُ

٣٦٨...... اور عربی الفاظ کے معنی سے جاہل! کیا تو چاہتا ہے کہ اشعار اپنی طرف سے گھڑ کر کامیاب ہو۔

تُفَسِّرُ مَعْنَى الْمُهْلِ بِالتَّرْكِ قَائِلًا أَمُكَفِّرُ مَهْلًا كُلَّمَا كُنْتَ تَذْكُرُ

٣٦٩...... تو نے اپنے مصرعہ (امکفر مہلا) میں اپنی جہالت سے لفظ مہلا کا ترجمہ (چھوڑ دے) کر دیا ہے۔

رَضِيْنَا بِأَنْ نَخْتَارَ فِي الْمَقِ رُفْقَةً وَإِنَّا عَلَى إِمْلَائِكُمْ لَنُعَيَّرُ

٣٧٠...... ہم اس پر راضی ہیں کہ لکھنے میں اپنے رفیقوں سے مدد لیں۔ لیکن تمہارے جیسے اجماع سے ہمیں عار ہے۔ اس لئے کہ باوجود اس کے کہ اس قصیدہ میں تم نے اجماعی قوت سے کام لیا۔ پھر بھی کلام نہایت رکیک اور خراب رہا۔

فَلَا خَوْفَ فِيْ هَذَا الْخِصَامِ أَبَا الْوَلَا فَخُذْ مِنِّيَ الْأَشْعَارَ وَالْحَقُّ يَظْهَرُ

٣٧١...... پس اے ابوالوفا! تو شاعری سے خوف نہ کر۔ بلکہ جس قدر اشعار چاہے مجھ سے لے اور حق ظاہر ہو کر رہے گا۔

فَأَفْجَعَهُمْ بِالنَّثْرِ وَالنَّظْمِ دَيْدَنِيْ وَإِنَّا بِإِذْنِ اللَّهِ فِيْهِ نُظَفَّرُ

٧٠

صفحہ ٢٢٩

کے حکم سے اس میں فتح یاب ہوں گے۔

وَمَنْ كَانَ فِيْهِ مِنْهُمُ دُوْدُ نِخْوَةٍ فَنُخْرِجُهُ قَسْراً لَّعَمْرِيْ وَنَجْذِرُ

کو کاٹ کر زبردستی نکال دیں گے۔

فَيَا مُدَّعِى الْاِعْجَازِ أَيْنَ الَّذِي بِهِ أَتَيْتَ تُبَارِيْنَا الْقَوَافِيَ وَتَفْخَرُ
أَمَيْتٌ بِقَبْرِ الْغَيِّ لَا يَنْبَرِي لَنَا أَمِ الْحَقُّ مُذْ وَافَاهُ أَبْعَدَ يَنْفِرُ

سے نفرت کرتا ہوا بھاگ گیا۔

فَهَا أَنَا قَدْ أَبْطَلْتُ آيَاتِ شِعْرِهِ بِأَحْسَنِ شِعْرٍ جَاءَ كَالدُّرِّ يُنْثَرُ

کی طرح بکھرے ہوئے ہیں۔

وَشَيْخُكَ إِبْلِيْسُ اللَّعِيْنُ وَجُنْدُهُ وَأَنْتَ بِمِزْمَارِ الضَّلَالَةِ فَازْمِرُوْا
وَأَمَّا حُسَيْنٌ لَّا مَحَالَةَ مُبْطِلٌ لِمَا تَدَّعِيْهِ بِالضَّلَالِ وَمُجْسِرُ

گمراہی سے تو نے دعویٰ کیا ہے اور اس پر دلیری کرتا ہے۔

وَزَعْمُكَ إِيَّاهُ كَمَا الْحُوْتِ كُلَّمَا أَتَى بَحْرَ شِعْرٍ تَقْتَنِصُهُ وَتَأْسِرُ

شکار کرے گا اور پکڑے گا۔

فَذٰلِكَ زَعْمٌ فَاسِدٌ لَيْسَ يَنْبَغِيْ لِغَيْرِكَ بَلْ تَشْبِيْهُهُ بِكَ أَجْدَرُ

یہ تشبیہ نہایت مناسب ہوئی۔ کیونکہ تیرے اشعار اکثر بے وزن ہیں۔ اس لئے اس بحر میں تو خود ہی شکار ہو گیا۔

فَأَيْنَ التُّقَى وَالزُّهْدُ يَا مُدَّعِى التُّقَى وَقَلْبُكَ مِنْ رِجْسِ الْهَوَىٰ لَيْسَ يَطْهُرُ

٧١

صفحہ ٢٣٠

نجاست سے بھی پاک نہ ہوا۔

تَقُوْلُ كَلَامِى صَادِقٌ قَوْلُ خَالِقِى وَمَنْ عَاشَ مِنْكُمْ بُرْهَةً سَوْفَ يَنْظُرُ
اَقُوْلُ تَعَالَى اللّٰهُ عَمَّا ادَّعَيْتَهُ وَشِعْرُكَ هٰذَا بَاطِلٌ وَمُزَوَّرُ

اور فریب ہے۔

وَلَوْ سُلِّمَ الْكَشْفُ الَّذِى تَدَّعِى بِهٖ فَذَاكَ مِنَ الشَّيْطَانِ لَوْ كُنْتَ تُبْصِرُ
تَرَكْتَ سَبِيْلَ الْحَقِّ وَالْخَوْفِ وَالْحَيَا وَجُزْتَ حُدُوْدَ الْعَدْلِ وَاللّٰهُ يَنْظُرُ

گیا۔ لیکن خدا تو دیکھتا ہے۔

سَيُصْلِيْكَ يَوْمَ الدِّيْنِ نَارًا لَهِيْبُهَا يُرِيْكَ طَرِيْقَ الْوَحْيِ مِمَّا سَتَنْظُرُ

کا راستہ دکھا دیں گی۔

تَقُوْلُ ضِيَائِيْ يَبْلُغُ الْاَرْضَ كُلَّهَا اَقُوْلُ ظَلَامُ الْغَيِّ مَالَيْسَ يُنْكَرُ

ہے۔ بلکہ گمراہی کی تاریکی ہے۔

تُفَضِّلُ يَا مَلْعُوْنُ نَفْسَكَ عَامِدًا عَلَى الْحَسَنَيْنِ النَّيِّرَيْنِ وَتَفْخَرُ

اپنے خبیث نفس کو فضیلت دیتا ہے اور فخر کرتا ہے۔

اُوْلٰئِكَ اٰلُ الْمُصْطَفٰى وَصِحَابُهٗ وَبِالْجَنَّةِ الْفِرْدَوْسِ لَا شَكَّ بُشِّرُوْا

مبشر ہیں۔

اُوْلٰئِكَ رِضْوَانُ الْجِنَانِ يُخَصُّهُمْ عَلَيْهَا وَاَنْتَ النَّارُ فِيْهَا تُسَعَّرُ

٧٢

کندہ ہوگا۔

وَاَىُّ حَدِيْثٍ جَاءَ يُخْبِرُ اَنَّ
وَاَمَّا نَبِيُّ اللّٰهِ عِيْسٰى فَلَمْ يَمُتْ
وَلَمْ يَكُ مِنْ اَعْلَى السَّمَاءِ نُزُوْلُ

یاب ہوں۔

وَدَعْوَاكَ يَا كَذَّابُ اِنَّكَ مِثْلُ

وارد ہے۔

عَلَى كُلِّ حَالٍ اَنْتَ فِيْهَا لَمُفْ
وَلَوْ كُنْتَ مِنْ رَّبِّ السَّمَاءِ مُؤَ

جرأت کرتا۔

صَبَرْنَا عَلَى دَعْوَاكَ زُوْرًا وَّ
وَاِنَّكَ كَذَّابٌ وَلَسْتَ بِمُسْ
وَلَا تَغْتَرِرْ اَنْ لَّوْ كُذِبْتَ لَحْ

نے میری تکذیب اور تکفیر

فَفِرْعَوْنُ مُذْ نَادٰى وَقَالَ اَ

وہ قوم جس نے اس کا ا

صفحہ ٢٣١

کندہ ہوگا۔

وَأَىُّ حَدِيْثٍ جَاءَ يُخْبِرُ اَنَّهُ سَيَاْتِى مَسِيحٌ شَاعِرٌ فَيُنَصِّرُ

٣٩١....... اور کس حدیث میں آیا ہے کہ مسیح شاعر آئے گا اور لوگوں کو نصرانی بنائے گا۔

وَ اَمَّا نَبِىُّ اللّٰهِ عِيْسَى فَلَمْ يَكُنْ يُغَيِّرُ شَرْعَ الْمُصْطَفٰى حِيْنَ يَظْهَرُ

٣٩٢....... لیکن حضرت عیسیٰ نبی اللہ علیہ السلام تو اپنے ظہور کے وقت کبھی شریعت محمدیہ کو نہ بدلیں گے۔

وَلَمْ يَكُ مِنْ اَعْلَى السَّمَاءِ نُزُولُهُ لِاَمْرٍ سِوَى الدَّجَّالِ بِالْفِعْلِ يُظْفَرُ

٣٩٣....... اور ان کا آسمان سے تشریف لانا تو محض اس لئے ہوگا کہ دجال کو ماریں اور اس پر فتح یاب ہوں۔

وَدَعْوَاكَ يَا كَذَّابُ اَنَّكَ مِثْلُهُ فَاَىُّ حَدِيْثٍ بِالْمَثِيْلِ مُخَبِّرُ

٣٩٤....... اور جھوٹے تیرا یہ دعویٰ کہ تو ان کا مثل ہے۔ بتا تو کون سی حدیث مثیل مسیح کی نسبت وارد ہے۔

عَلَى كُلِّ حَالٍ اَنْتَ فِيهَا لَمُفْتَرٍ عَلَى اللّٰهِ يَا مَلْعُونُ يَا مُتَهَوِّرُ

٣٩٥....... بہر حال او ملعون، بے باک! تو اپنے اس دعوے میں خدا پر افتراء کرنے والا ہے۔

وَلَوْ كُنْتَ مِنْ رَّبِّ السَّمَاءِ مُوَقَّرًا فَمَنْ ذَا عَلَيْكَ الْيَوْمَ بِاللَّعْنِ يَجْسُرُ

٣٩٦....... اور اگر تو خدا کی طرف سے معظم اور موقر ہوتا تو آج کون شخص تجھ پر لعنت کرنے کی جرات کرتا۔

صَبَرْنَا عَلَى دَعْوَاكَ زُوْرًا وَاِنَّمَا عَلَى سَبِّ الِ الْمُصْطَفٰى كَيْفَ نَصْبِرُ؟

٣٩٧....... تیرے جھوٹے دعوے پر تو ہم نے صبر کر لیا لیکن آلِ نبی علیہ السلام کی گالی پر ہم کیسے صبر کریں؟

وَاِنَّكَ كَذَّابٌ وَّلَسْتَ بِصَادِقٍ وَعَمَّا قَلِيْلٍ بِالْبَلَاءِ تُدَمَّرُ

٣٩٨....... بیشک تو جھوٹا ہے ہر گز سچا نہیں اور عنقریب تو مصیبتوں سے ہلاک ہوگا۔

وَلَا تَغْتَرِرْ اَنْ لَّوْ كَذَبْتَ لَضَرَّنِيْ عَدَاوَةُ قَوْمٍ كَذَّبُوْنِيْ وَكَفَّرُوْا

٣٩٩....... اور تو اس وجہ سے کبھی دھوکے میں نہ پڑ کہ اگر میں جھوٹا ہوتا تو اس قوم کی عداوت جنہوں نے میری تکذیب اور تکفیر کی، تجھے نقصان پہنچاتی۔

فَفِرْعَوْنُ مُذْ نَادٰى وَقَالَ اِلٰهُكُمْ فَهَلْ ضَرَّهُ قَوْمٌ لِذٰلِكَ اَنْكَرُوْا

٤٠٠....... کیونکہ فرعون نے جیسے ڈنکے کی چوٹ پکارا کہ میں تمہارا خدا ہوں تو کیا وقت مقررہ تک وہ قوم جس نے اس کا انکار کیا، کچھ ضرر پہنچا سکی؟

٧٣

صفحہ ٢٣٢
وَلٰكِنْ رَبِّيْ يُمْهِلُ الْعَبْدَ عِنْدَ مَا بِطُغْيَانِهِ يَسْعَى وَبِالْبَغْيِ يَكْبُرُ
فَإِنْ قِيلَ كَذَّابٌ فَهَا اَنْتَ مُفْتَرٍ وَإِنْ قِيلَ دَجَّالٌ فَاَنْتَ مُزَوِّرُ
وَلَا غَرْوَإِنْ سَمَّوْكَ شَيْطَانَ عَصْرِهِ وَقَالُوْا لَعِينٌ إِذْ مَقَامُكَ أَكْبَرُ

اس سے بھی بدتر ہے۔

وَقَوْلُكَ لٰكِنَّ الْهَوَانَ مَالُهُمْ وَجَاءَ تَكَ اٰیَاتٌ بِهَا الْيَوْمَ تُنْصَرُ

سے اب تو فتح پائے گا۔

فَأَيُّ هَوَانٍ نَالَنَا مِنْكَ دُلِّنِيْ وَجِئْنِيْ بِآيِ الْغَيِّ إِنْ هِيَ تَبْهَرُ
فَإِنْ كَانَ هٰذَا الشِّعْرُ جَاءَكَ آيَةً فَإِنَّ نِسَاءَ الْحَيِّ بِالنَّظْمِ تَفْخَرُ

پر فخر کرتی ہیں۔

وَيَالَيْتَ شِعْرِيْ لَوْ اَتَى الشِّعْرُ سَالِمًا عَنِ اللَّحْنِ مَا مِنْهُ الطِّبَاعُ تَنْفِرُ

نفرت کرتی ہے۔

عَلَا أَنَّهُ فِي اللَّفْظِ وَالْوَزْنِ فَاسِدٌ وَأَمَّا مَعَانِيْهِ فَبِالْجَهْلِ تُخْبِرُ

کی بھی خبر دیتے ہیں۔

وَهَا شِعْرُهُ يُنْبِيْكَ عَنْ فَرْطِ جَهْلِهِ بِوَزْنٍ وَمَعْنًى بَلْ رَوِيٌّ مُنَكَّرُ

جس کا وزن اور معنی بلکہ حرف روی بھی غلط ہے۔

وَلَا تَحْسَبِ الدُّنْيَا كَنَا ظِفِ نَاظِرٍ اَتَدْرِيْ بِلَيْلٍ مُسِرَّةٍ كَيْفَ تُصْبِحُ

٧٢

تَقَوَّلْتَ زُوْرًا هَلْ نُشَاهِدُ بَعْدَنَا

الخ! یعنی کیا تو دیکھے گا کہ میرے بعد بھر دیں گے اور لوگوں کو ڈرائیں گے

نَعَمْ أَنَّ عِيسَى سَوْفَ يَنْزِلُ هَادِيًا

گے اور بشارت سنائیں گے۔

اَتُنْکِرُ قَوْلَ الْمُصْطَفَى أَصْدَقِ الْوَرٰى

حدیث کبھی بدلنے کی نہیں۔

كَذَاكَ كَلَامُ اللّٰهِ فَهُوَ اِمَامُنَا

وہی حق ہے اور اس کا مکذب کافر

وَمَعْ ذَاکَ اِنِّيْ لَا اَرٰى فِيْهِ آيَةً
وَإِنْ كُنْتَ بِالْقُرْآنِ تُثْبِتُ دَعْوَةً

خوب سمجھتے ہیں۔

اَضَلَّ كَثِيرًا رَّبُّنَا بِكِتَابِهِ

امر ہے۔

وَأَمَّا الَّذِيْ يُوحَى إِلَيْكَ فَإِنَّهُ
تَقَوَّلْتَ أَنْ أَرْوَى عَنِ الْحَيِّ مَا أَرَى

روایت کرتے ہو۔ پھر دونوں م

صفحہ ٢٣٣
تَقُوْلُ زُوْرًا هَلْ تُشَاهِدُ بَعْدَنَا مَسِيحًا يُوَافِي الْأَرْضَ حَقًّا وَيُنْذِرُ

الخ! یعنی کیا تو دیکھے گا کہ میرے بعد مسیح علیہ السلام تشریف لا کر زمین کو عدل و انصاف سے بھر دیں گے اور لوگوں کو ڈرائیں گے۔

نَعَمْ أَنَّ عِيْسٰى سَوْفَ يَنْزِلُ هَادِيَ الْأَنَامَ بِشَرْعِ الْمُصْطَفٰى وَيُبَشِّرُ

گے اور بشارت سنائیں گے۔

أَتُنْكِرُ قَوْلَ الْمُصْطَفٰى أَصْدَقِ الْوَرٰى وَإِنَّ حَدِيْثَ الْمُصْطَفٰى لَا يُغَيَّرُ

حدیث کبھی بدلنے کی نہیں۔

كَذَاكَ كَلَامُ اللّٰهِ فَهْوَ إِمَامُنَا وَمَا فِيْهِ حَقٌّ وَالْمُكَذِّبُ يَكْفُرُ

وہی حق ہے اور اس کا مکذب کافر ہے۔

وَمَعَ ذَاكَ إِنِّيْ لَا أَرٰى فِيْهِ آيَةً تَدُلُّ عَلٰى مِثْلِ الْمَسِيْحِ وَتُخْبِرُ
وَإِنْ كُنْتَ بِالْقُرْآنِ تُثْبِتُ دَعْوَةً فَذَاكَ افْتِرَاءٌ يَدْرِهِ الْمُتَفَكِّرُ

خوب سمجھتے ہیں۔

أَضَلَّ كَثِيْرًا رَّبُّنَا بِكِتَابِهِ وَأَهْدٰى كَثِيْرًا وَالشَّقَاءُ مُقَدَّرُ

امر ہے۔

وَأَمَّا الَّذِيْ يُوْحٰى إِلَيْكَ فَإِنَّهُ أَضَالِيْلُ إِبْلِيْسَ بِهَا أَنْتَ تَهْذِرُ
تَقُوْلُ أَنَا أَرْوِيْ عَنِ الْحَيِّ مَا أَرٰى وَأَنْتُمْ عَنِ الْمَوْتٰى رَوَيْتُمْ فَفَكِّرُوْا

روایت کرتے ہو۔ پھر دونوں کا فرق سوچو۔

٧٥

صفحہ ٢٣٤
اَقُوْلُ نَبِیُّ اللّٰهِ حَیٌّ بِقَبْرِهِ وَمَنْ لَّمْ يَقُلْ حَیٌّ فَلَا شَکَّ يَفْجُرُ

بیشک فاسق ہے۔

اَقُوْلُ وَلَا اَخْشَى بِاَنَّكَ كَافِرٌ وَاِنَّكَ دَجَّالٌ كَذُوْبٌ مُزَوِّرٌ

ہے، فریبی ہے۔

وَاِنَّكَ اِبْلِيْسٌ لَّعِيْنٌ مُضِلِّلٌ وَلَوْ عِنْدَ هٰذَا الْقَوْلِ بِالسَّيْفِ اُنْحَرُ

تلوار سے ذبح کیا جاؤں۔

وَقَدْ جَاءَ فِی الْاَخْبَارِ عَنْ سَيِّدِ الْوَرٰى اَحَادِيْثُ حَقٍّ عَنْ خُرُوْجِكَ تُخْبِرُ

کی خبر دیتی ہیں۔

وَاِنَّكَ مِنْ اِبْلِيْسَ لَا شَكَّ مُرْسَلٌ لِمَا فِتْنَةُ الدَّجَّالِ فِيْنَا تَفُوْرُ

فتنہ برپا کرے۔

تَخَيَّرَكَ الْجَبَّارُ مِنْ دُوْنِ خَلْقِهٖ لِنَارِ جَحِيْمٍ سَوْفَ فِيْهَا تُسَعَّرُ

عنقریب اس میں جھونکا جائے گا۔

وَوَاللّٰهِ مَا اَفْرِیْ وَاِنِّیْ لَصَادِقٌ فَرُدَّ قَضَاءَ اللّٰهِ اِنْ كُنْتَ تَقْدِرُ

تقدیراتِ الٰہی کو لوٹا دے۔

تَرَاءَتْ لَنَا كَالشَّمْسِ اَخْبَارُ فِتْنَةٍ تَفُوْرُ بِهٰذَا الْوَقْتِ جَاءَتْ تُسَطَّرُ
وَلٰكِنَّهُ يَأْتِیْ زَمَانٌ بُعَيْدَ ذَا يُرٰى الشُّوْسُ فِيْ قَيْدِ الْهَوَانِ يُصَغَّرُ

دکھاوے گا۔

٧٦

صفحہ ٢٣٥
وَقَدْ سَرَّنِیْ مَا قَدْ ذَکَرْتَ مِنَ الَّذِیْ أَصَابَكَ فِیْ دَعْوَاكَ مِمَّا سَاَذْکُرُ

٤٢٩ ...... اور مجھے تو تیرے وہ اشعار بہت بھلے معلوم ہوئے جن میں تو نے اپنی ان مصیبتوں کا ذکر کیا ہے جو تجھے اپنے اس دعوٰی کی وجہ سے پیش آئیں۔ جن کو میں ذکر کرتا ہوں۔

بِقَوْلِكَ عَابُوْنِیْ وَآذَوْا وَزَوَّرُوْا وَحَثُّوْا عَلَیَّ الْجَاهِلِيْنَ وَفَوَّرُوْا

٤٣٠ ...... تیرے وہ اشعار یہ ہیں۔ وکلھم عابوا الخ او عیرنی الخ! یعنی میرے مخالفوں نے میری عیب جوئی کی اور دکھ دیا اور دروغ آرائی کی اور جاہلوں کو مجھ پر برا نگیختہ کیا۔

وَعَيَّرَنِي الْوَاشُوْنَ مِنْ غَيْرِ خُبْرَةٍ وَنَافَوْ ثِیَابِیْ مِنْ جُنُوْنٍ وَأَغْدَرُوْا

٤٣١ ...... اور نکتہ چینوں نے بغیر سمجھے بوجھے مجھے سرزنش کی اور دیوانہ پن سے میرے کپڑے نوچے اور اس میں مبالغہ کیا۔

فَيَالَيْتَ شِعْرِیْ لَوْ اَهَالُوْا يَدَ الْعُلَى وَسَلُّوْا سُيُوْفَ الْحَقِّ فِیْكَ وَطَهَّرُوْا

٤٣٢ ...... اور مرزا! کاش میں جان لیتا کہ انہوں نے اپنی بلند ہمتی کا ہاتھ تجھ پر دراز کیا ہے اور حق کی تلواریں میان سے نکال کر تجھ پر سونت لی ہیں۔

تَقُوْلُ اَرَى الْإِسْلَامَ مِثْلَ حَدِيْقَةٍ مُبَعَّدَةٍ مِنْ عَيْنِ مَاءٍ تُمَجَّدُ

٤٣٣ ...... تو کہتا ہے کہ میں نے اسلام کو اس باغ کی طرح دیکھا تھا جو اس چشمہ سے دور ہو جو ترو تازہ کرتا ہے۔

وَلٰكِنَّكَ الْمَحْرُوْمُ عَنْهَا وَإِنَّمَا لَكَ النَّارُ مَعْ اِبْلِيْسَ فِیْهَا تُسَعَّرُ

٤٣٤ ...... مگر تو اس باغ اسلام سے محروم ہے اور تیرے لئے تو دوزخ ہی ٹھکانا ہے۔ جس میں ابلیس لعین کے ساتھ تو جھونکا جائے گا۔

وَزَوَّرْتَ يَا عَارَ الْخَلَائِقِ وَالْوَرَى وَقُلْتَ اَنَا الْمَوْعُوْدُ فِی النَّارِ تُسْجَرُ

٤٣٥ ...... او ننگ جہان! تو نے دروغ آرائی کی اور کہا کہ میں مسیح موعود ہوں۔ خدا تجھے جہنم میں جھونکے۔

نَعَمْ إِنَّكَ الْمَوْعُوْدُ وَالْقَائِمُ الَّذِیْ يُقَالُ لَكَ الدَّجَّالُ لِلْبَغْیِ تَفْجِرُ

٤٣٦ ...... ہاں تو نے اپنے کو مسیح موعود اور امام قائم کہا ہے۔ مگر میں کہتا ہوں کہ تو وہی نامراد گمراہ کرنے والا دجال ہے۔

تَجَلَّى عَلَيْكَ الْيَوْمَ إِبْلِيْسُ قَائِلًا لِبَابِ ضَلَالِیْ كُلُّ مَنْ رَامَ يَحْضُرُ

٤٣٧ ...... اب تجھ پر شیطان سوار ہے جو یہ کہتا ہے کہ میرے گمراہی کے دروازہ پر جس کا جی چاہے، حاضر ہو۔

٧٧

صفحہ ٢٣٦
خُذُوْا حَظَّكُمْ مِنِّىْ فَإِنِّىْ إِمَامُكُمْ وَبِالنَّارِ فِىْ يَوْمِ الْقِيَامَةِ فَابْشُرُوْا
وَمَنْ قَالَ لِلْمَوْعُوْدِ لَيْسَ بِحَاجَةٍ فَإِنَّ كِتَابَ اللّٰهِ يَهْدِىْ وَيُخْبِرُ
فَذلِكَ حَقٌّ نِعْمَ مَا قَالَهُ الْفَتٰى وَمُنْكِرُهُ بَغْيًا هُوَ الْمُتَهَوِّرُ
وَقَوْلُكَ قَوْلُ اللّٰهِ بِالرُّسُلِ تَوْءَمًا وَمِنْ دُوْنِهِمْ نَهْجُ الْهُدٰى يَتَعَسَّرُ
نُسَلِّمُ أَنَّ الرُّسُلَ بَابُ هِدَايَةٍ وَمِنْ دُوْنِهِمْ دَرْكُ الْهُدٰى مُتَعَذِّرُ
فَمَا أَيُّهَا الْمَجْنُوْنُ أَىُّ هِدَايَةٍ اَتَيْتَ بِهَا أَمْ أَىُّ اٰيٍ فَيُقْهَرُ
وَأَىُّ كِتَابٍ جِئْتَ كَىْ نَقْتَدِىْ بِهِ وَإِلَّا بِهٰذَا الشِّعْرِ جِئْتَ تُزَوِّرُ
فَاَمَّا مِنَ الْقُرْاٰنِ مَا لَكَ دَعْوَةٌ وَإِيَّاكَ يَا مَلْعُوْنُ بِالزُّوْرِ تَجْسُرُ
نَبِىُّ الْوَرٰى خَيْرُ الْأَنَامِ مُحَمَّدٌ اَتَانَا بِهِ حَقًّا وَبِالْحَقِّ يُخْبِرُ
فَحَقَّ عَلَيْكَ اللَّعْنُ وَالطَّعْنُ وَالرَّدٰى بِمَا جِئْتَ بِالرُّسُلِ الْكِرَامِ تَسْخَرُ

٧٨

کے ساتھ اپنی کتابوں میں بے

أَرى ظُلُمَاتِ الْجَهْلِ لَسْتَ بِتَارِكٍ

میں اتراتا پھرتا ہے۔

وَأَىُّ بِلَادٍ حَلَّ فِيْهَا مُضَلِّلٌ

پھیلتی جائے گی۔

وَمَا جَاءَ نَا فِىْ ذَا الزَّمَانِ مُضَلِّلٌ

برائی کرتا ہو۔

وَمَا ذَاكَ إِلَّا حَظُّ نَفْسٍ أَرَدْتَهُ

اور یہی ہے۔ شیطان کو راضی کر

نَسِيْتَ طَرِيْقَ الْحَقِّ خُبْثًا وَغَفْلَةً

تو خوب جانتا ہے۔

وَمَنْ يُّرِدِ الْمَوْلٰى يَبْرَحُ ذَنْبَهُ

میں چھوڑ دیتا ہے اور عمر دراز کر

وَشَرُّ عِبَادِ اللّٰهِ مَنْ طَالَ عُمْرُهُ

افعال سے اس کا نامہ اعمال س

فَمِنْ ذَاكَ لَمْ تُقْتَلْ إِلَى الْاٰنَ لَا كَمَا

تیرا رعب موت کو دفع کرتا ہے

صفحہ ٢٣٧

کے ساتھ اپنی کتابوں میں بے ادبیاں کیں ہیں۔

أَرى ظُلُمَاتِ الْجَهْلِ لَسْتَ بِتَارِكِ ذُرَاهَا وَفِي طَيَّاتِ غَيِّكَ تَبْطَرُ

میں اتراتا پھرتا ہے۔

وَأَيُّ بِلَادٍ حَلَّ فِيْهَا مُضَلِّلٌ يَقِلُّ بِهَا الْإِصْلَاحُ وَالْغَيُّ يَكْثُرُ

پھیلتی جائے گی۔

وَمَا جَاءَنَا فِي ذَا الزَّمَانِ مُضَلِّلٌ كَمِثْلِكَ بِالْإِفْسَادِ وَالسُّوْءِ يَجْهَرُ

برائی کرتا ہو۔

وَمَا ذَاكَ إِلَّا حَظُّ نَفْسٍ أَرَدْتُّهُ وَإِرْضَائُكَ الشَّيْطَانَ فِي الْحَظِّ أَوْفَرُ

اور بھی ہے۔ شیطان کو راضی کرنا جو تیرا اعلیٰ مقصد ہے۔

نَسِيْتَ طَرِيْقَ الْحَقِّ خُبُثًا وَغَفْلَةً كَأَنَّكَ لَا تَدْرِي وَإِنَّكَ أَخْبَرُ

تو خوب جانتا ہے۔

وَمَنْ يُّرِدِ الْمَوْلٰى يُمَرِّغُ ذَنْبَهُ يُغَادِرُهُ فِي غَيِّهِ وَيُعَمِّرُ

میں چھوڑ دیتا ہے اور عمر دراز کر دیتا ہے۔

وَشَرُّ عِبَادِ اللّٰهِ مَنْ طَالَ عُمْرُهُ وَأَفْعَالُهُ بِالسُّوءِ دَوْمًا تُسَطَّرُ

افعال سے اس کا نامۂ اعمال سیاہ ہوتا رہے۔

فَمِنْ ذَاكَ لَمْ تُقْتَلْ إِلَى الْاٰنِ لَا كَمَا زَعَمْتَ بِأَنَّ الرُّعْبَ لِلْمَوْتِ يَدْحَرُ

تیرا رعب موت کو دفع کرتا ہے۔

٧٩

صفحہ ٢٣٨

وَقَدْ قَالَ رَبُّ الْعَرْشِ اَمْهِلْ فَإِنَّهُمْ بِكَيْدِىَ الْـمَتِيْنِ لَا مَحَالَةَ دُمِّرُوْا ٤٥٦....... اور بے شک خدائے آنحضرت ﷺ کو فرمایا کہ ایسے مکاروں کو ڈھیل دے۔ انجام کار تو میری مضبوط گرفت سے وہ ضرور ہلاک ہوں گے۔

تَمَنَّيْتَ لَوْ كَانَ الْوَبَاءُ مُتَبِّرًا فَقَدْ كُنْتَ لِلْمَخْلُوْقِ ذِئْبًا يُذَعِّرُ ٤٥٧....... تو نے تمنا کی کہ کاش وبا ملک میں پھیل کر ہلاک کرے تو بیشک خلائق کے لئے بھیڑیا ہے، جو ہلاک کرتا ہے۔

وَقَدْ جِئْتَ بِالطَّاعُوْنِ وَالْقَحْطِ وَالْوَبَا اَتَتْ هٰذِهِ الْآيَاتُ مِنْكَ تُتَبِّرُ ٤٥٨....... اور تو طاعون قحط وبا سب کو ساتھ لایا۔ یہی نشانیاں تیری ہیں جن سے تو لوگوں کو ہلاک کرتا ہے۔ شعر :

قدم نا مبارک و مسعود
گر بدیہا رود برآرد دود

يَقُوْلُ بِأَنِّى ظِلُّ بَدْرٍ مُّنَوِّرٍ عَجِبْنَا لَهُ بِئْسَ الْفَتٰى كَيْفَ يَجْسُرُ ٤٥٩....... مرزا کہتا ہے بیشک میں آنحضرت کا ظل ہوں۔ ہمیں تعجب ہے کہ ایسا برا شخص آنحضرت ﷺ پر کیونکر جسارت کرتا ہے۔

وَاَمَّا نَبِيُّنَا فَقَدْ جَاءَ رَحْمَةً وَلٰكِنَّهُ لِلْخَلْقِ سَبْعٌ غَضَنْفَرُ ٤٦٠....... حالانکہ ہمارے نبی کریم ﷺ تو تمام عالم کے لئے رحمت ہوئے۔ مگر مرزا قادیانی تو خلائق کے لئے درندہ شیر ہے۔

وَبَلْوٰكَ فِى الدُّنْيَا وَحُزْنُكَ هَيِّنٌ وَلٰكِنْ هَوْلُ الْـحَشْرِ اَدْهٰى وَاَكْبَرُ ٤٦١....... اور دنیا میں تیرا غم والم تو آسان ہے۔ لیکن قیامت کے مصائب بہت ہی بڑے اور سخت ہیں۔

فَرِيْقٌ مِّنَ الْاَشْرَارِ لَا يُنْكِرُوْنَ مَا تَقُوْلُ وَحِزْبُ اللّٰهِ لَا شَكَّ اَنْكَرُوْا ٤٦٢....... تو کہتا ہے کہ ایک جماعت نے میری بکواس کو مان لیا۔ مگر اللہ والوں نے بیشک انکار کر دیا۔

وَاِنَّكَ كَذَّابٌ كَمَا اَنْتَ زَاعِمٌ لِاَنَّكَ يَوْمًا لَّا مَحَالَةَ تُقْبَرُ ٤٦٣....... اور تو اپنے اس خیال خام میں کہ سچا مرتا نہیں، بیشک جھوٹا ہے کیونکہ تو ضرور ایک نہ ایک دن قبر میں داخل ہوگا۔

فَيَا مُدَّعِى الْاِعْجَازِ مَهْلًا وَلَا تَقُلْ اِنَّكَ بَرَأْتَ تَلُوْحُ وَتَبْهَرُ

٨٠

٤٦٤....... او مدعی اعجاز! ٹھہر جا اور جلد نہ بڑ ہانکے۔

وَلَا تَقْفُ أَمْرًا لَّسْتَ تُدْرِكُ كُنْهَ ٤٦٥....... اور ایسے امر کے پیچھے نہ پڑ ج اپنی رائے سے قرآن کی تفسیر

وَمَنْ لَّمْ يُدَنِّسُ عِرْضَهُ بِمَلَا ٤٦٦....... اور جس کے دامن آبرو پر ملا کی خوشی ۔

وَاِنَّ مَجَالَ السِّلْمِ وَالْحَرْبِ عِنْدَ ٤٦٧....... اور ایسے شخص کے لئے صلح او میں بیباکانہ حاضر ہوگا۔

تَظَاهَرَ بِالْاِصْلَاحِ فِى النَّاسِ سَائِلًا ٤٦٨....... بظاہر تو لوگوں میں اصلاح ک ہے جس سے گمراہی پھیلا

وَشَتَّانَ مَا بَيْنَ الضَّلَالَةِ وَالْهُدٰى ٤٦٩....... اور عاقل جو عقل سے کام لی زمین کا فرق ہے۔

وَمَا هُوَ اِلَّا كَاذِبٌ فِى ادِّعَائِ ٤٧٠....... اور قادیانی ضرور جھوٹا ہے ا

وَمَا كُنْتُ اِلَّا فِى الضَّلَالَةِ خَا ٤٧١....... اور تو نہیں ہے مگر ضلالت می

تَقُوْلُ أَنَا الْمَعْصُوْمُ يَا قَائِدَ الْأُ ٤٧٢....... او بے عقل ! تو کہتا ہے کہ م

عَلَى الْأَرْضِ قَوْمٌ كَالسُّيُوْفِ قَوٰ ٤٧٣....... زمین پر ایسی خدا پرست ق لوگ تجھے انواع و اقسام ک

صفحہ ٢٣٩

٤٧٤...... اور مدعی اعجاز! ٹھہر جا اور جلدی نہ کر اور یہ مت کہہ کہ تیرے پاس خدا کے روشن برأت نامے آئے ہیں۔

وَلَا تَقْفُ أَمْرًا لَسْتَ تُدْرِكُ كُنْهَهُ فَمَنْ قَالَ فِى الْقُرْآنِ بِالرَّأْيِ يُكْفَرُ

٤٧٥...... اور ایسے امر کے پیچھے نہ پڑ جس کے حقیقت کا تجھے علم نہیں۔ کیونکہ جس نے خلافِ امت اپنی رائے سے قرآن کی تفسیر کی، وہ کافر ہے۔

وَمَنْ لَّمْ يُدَنِّسُ عِرْضَهُ بِمَلَامَةٍ فَلَا السَّبُّ يُؤْذِيْهِ وَلَا الْمَدْحُ يُبْطِرُ

٤٧٦...... اور جس کے دامن آبرو پر ملامت کا دھبہ نہ آئے اس کو نہ گالی کی پرواہ ہے اور نہ مدح کی خوشی۔

وَإِنَّ مَجَالَ السِّلْمِ وَالْحَرْبِ عِنْدَهُ سَوَاءٌ فَفِى كُلِّ الْمَحَافِلِ يَحْضُرُ

٤٧٧...... اور ایسے شخص کے لئے صلح اور لڑائی دونوں ہی یکساں ہیں۔ اس لئے وہ تمام مجلسوں میں بیباکانہ حاضر ہوگا۔

تُظَاهِرُ بِالْإِصْلَاحِ فِى النَّاسِ سَالِكًا طَرِيْقَ ضَلَالٍ مَابِهِ الْغَيُّ يُنْشَرُ

٤٧٨...... بظاہر تو لوگوں میں اصلاح کی باتیں کرتا ہے۔ حالانکہ باطن میں ضلالت کا راستہ چلتا ہے جس سے گمراہی پھیلا ئے۔

وَشَتَّانَ مَابَيْنَ الضَّلَالَةِ وَالْهُدَى لَدَى مَنْ لَّهُ عَقْلٌ بِهِ يَتَبَصَّرُ

٤٧٩...... اور عاقل جو عقل سے کام لیتا ہے اس کے نزدیک ہدایت اور ضلالت میں آسمان اور زمین کا فرق ہے۔

وَمَا هُوَ إِلَّا كَاذِبٌ فِى ادِّعَائِهِ وَكُلُّ كَذُوْبٍ لَا مَحَالَةَ يَخْسَرُ

٤٨٠...... اور قادیانی ضرور جھوٹا ہے اور ہر جھوٹا یقیناً گھاٹے میں رہے گا۔

وَمَا كُنْتَ إِلَّا فِى الضَّلَالَةِ خَائِبًا وَمَا أَنْتَ إِلَّا ظَالِمٌ أَوْ مُخَسَّرُ

٤٨١...... اور تو نہیں ہے مگر ضلالت میں نقصان پانے والا اور نہیں ہے تو مگر ظالم یا خسارہ پانے والا۔

تَقُوْلُ أَنَا الْمَعْصُوْمُ يَا فَاقِدَ النُّهىٰ نَعَمْ أَنْتَ مَعْصُوْمٌ عَنِ الْخَيْرِ مُدْحَرُ

٤٨٢...... او بے عقل ! تو کہتا ہے کہ میں معصوم ہوں۔ ہاں بیشک تو نیکیوں سے ضرور محروم ہے۔

عَلَى الْأَرْضِ قَوْمٌ كَالسُّيُوْفِ فَإِنَّهُمْ أَذَاقُوْكَ أَنْوَاعَ الرَّدٰى فَتُبَّرُ

٤٨٣...... زمین پر ایسی خدا پرست قوم بھی موجود ہے جس کی کاٹ تلواروں کی طرح ہے۔ وہی لوگ تجھے انواع و اقسام کی ہلاکت کا مزہ چکھائیں گے تب تو ہلاک ہوگا۔

٨١

صفحہ ٢٤٠
تَجَاوَزْتَ حَدَّ اللّٰهِ فِي ابْنِ حَبِيْبِهِ كَأَنَّكَ فِي بُغْضِ الْحُسَيْنِ عَمَيْطَرُ

٤٧٤....... تو رسول اللہ ﷺ کے بیٹے سے گستاخی کر کے حد سے تجاوز کر گیا۔ گویا تو امام حسینؓ کے بغض میں عمیطر سفیانی ہے۔

اَعِنْدَكَ شَكٌّ فِي الْحُسَيْنِ وَفَضْلِهِ عَلَى الْغَيْرِ حَتّٰى فِي كَلَامِكَ تَهْذَرُ

٤٧٥....... حضرت امام حسینؓ کی فضیلت جو دوسروں پر ہے کیا اس میں او مرزا تجھے شک ہے جو اپنے کلام میں ان کی شان مبارک میں بیہودہ گوئی کرتا ہے۔

حُسَيْنُ ابْنُ بِنْتِ الْمُصْطَفٰى اَفْضَلُ الْوَرٰى سِوَى اَنْبِيَاءِ اللّٰهِ حَقًّا يُحَرَّرُ

٤٧٦....... حالانکہ حضرت امام حسینؓ تو جناب سرور کائنات ﷺ کے نواسے ہیں اور سوائے انبیاء علیہم السلام اور خلفاء راشدین کے تمام امت سے افضل ہیں۔

وَاَرْبَعَةٍ مِنْ خَيْرِ اَصْحَابِ جَدِّهِ وَفِى غَيْرِ مَنْ حَرَّرْتُهُمْ فَهُوَ اَكْبَرُ

٤٧٧....... اور وہ خلفاء راشدین چار ہیں جو ان کے نانا کے اصحاب میں سب سے بہترین ہیں اور جن کا میں نے ذکر کیا ہے۔ ان کے سوا حضرت امام حسینؓ سب سے افضل ہیں۔

فَاِنَّ حُسَيْنًا اَفْضَلُ النَّاسِ فِي الْوَرٰى وَطَهَّرَهُ الْمَوْلٰى وَمَنْ شَكَّ يَكْفُرُ

٤٧٨....... پس بیشک امام حسینؓ انبیاء کرام اور خلفاء راشدین کے سوا سب سے افضل ہیں۔ اس لئے کہ قرآن مجید میں خدا نے ان کے لئے آیت تطہیر نازل کی اور جو اس میں شک کرے، وہ کافر ہے۔

وَلَيْسَ حُسَيْنٌ اَفْضَلُ الرُّسُلِ بَلْ وَلَا اَقُوْلُ شَفِيْعٌ فِي النَّبِيِّيْنَ يُؤْثَرُ

٤٧٩....... میں نہیں کہتا کہ امام حسینؓ تمام انبیاء سے افضل ہیں اور نہ یہ کہتا ہوں کہ وہ شفیع الانبیاء ہیں۔

اَلَا لَعْنَةُ اللّٰهِ الْغَيُورِ عَلَى الَّذِي يَهِيْنُ بِاِطْرَاءٍ وَلَا يَتَدَبَّرُ

٤٨٠....... سن لو خدائے غیور کی ایسے شخص پر لعنت ہے جو اپنی مدح سرائی کر کے جھوٹ بکتا ہے اور سوچتا نہیں۔

تَقُوْلُ مَقَامِي فَاعْلَمُوْا اَنَّ خَالِقِي يُمَجِّدُنِي مِنْ عَرْشِهِ وَيُوَقِّرُ

٤٨١....... تو کہتا ہے کہ جان لو میرا مقام یہ ہے کہ میرا خدا عرش سے میری تعریف کرتا ہے اور عزت دیتا ہے۔

وَحَاشَا اِلٰه الْعَرْشِ يَمْدَحُ كَافِرًا اَعَدَّلَهُ النِّيْرَانُ فِيهَا يُسَعَّرُ

٤٨٢....... خدائے عرش اس سے پاک ہے کہ ایسے کافر کی تعریف کرے۔ جس کے لئے دوزخ

٨٢

بنایا ہے اور وہ اس میں جھو

لَكَ النَّارُ مَاوٰى يَالَعِيْنُ اَتَ

٤٨٣....... او لعین منحوس ! تیرے لئے پر فضیلت چاہتا ہے۔

تُذَكِّرُنَا عَهْدَ الْحُسَيْنِ بِكَ

٤٨٤....... تو ہمیں امام حسین کا وہ ق بیہودہ گو ہے۔

اَتَزْعُمُ اَنَّ الْقَتْلَ يُزْرِي بِفَ

٤٨٥....... کیا تیرا خیال یہ ہے کہ ہوئے ان کے جد امجد آ

تَدَبَّرْ اِذَا لَمْ تَدْرِ يَا فَاِقْدَ

٤٨٦....... او بے عقل ! سوچ سمجھ کر

فَاِنَّ حُسَيْنًا لَمْ يَكُنْ ذَا

٤٨٧....... کیونکہ حضرت امام حسی راضی ہو جاتے اور یزی

وَلَوْلَمْ تَنِلْهُ الْمُوْبِقَاتُ لَدَي

٤٨٨....... اور اگر امام حسین کو لڑا جن کا شمار نہیں ہو سکتا

فَدَعْ عَنْكَ ذَا الْجَهْلِ الْمُرَكَّبِ

٤٨٩....... پس اپنے جہل مرکب میں عنقریب تو پچھتا

وَمَا تَدَّعِي كِذْبًا بِاَنَّكَ

٤٩٠....... اور دروغ گوئی سے اصلاح کرنے وال

فَذَلِكَ زُوْرٌ وَافْتِرَاء

٤٩١....... او مغرور ! یہ دروغ آ

صفحہ ٢٤١

بنایا ہے اور وہ اس میں جھونک دیا جائے گا۔

لَكَ النَّارُ مَأوًى يَا لَعِيْنُ ابْتَغِى عَلُوًّا عَلَى ابْنِ الْمُصْطَفٰى يَا شَمَخْتَرُ

٤٨٣...... او لعین منحوس! تیرے لئے تو جہنم ہی ٹھکانا ہے۔ کیا تو رسول اللہ ﷺ کے صاحبزادے پر فضیلت چاہتا ہے۔

تُذَكِّرُنَا عَهْدَ الْحُسَيْنِ بِكَرْبَلَا وَمَا اَنْتَ اِلَّا فِى الْكَلَامِ غُمَيْدَرُ

٤٨٤...... تو ہمیں امام حسین کا وہ زمانہ یاد دلاتا ہے جو کربلا میں گزرا اور اس بات میں تو محض بیہودہ گو ہے۔

اَتَزْعُمُ اَنَّ الْقَتْلَ يُزْرِى بِشَانِهِ اَمَا تَسْتَحِى مِنْ جَدِّهِ حِيْنَ تَفْجُرُ

٤٨٥...... کیا تیرا خیال یہ ہے کہ قتل ان کے شان عالی کے خلاف ہے۔ کیا تجھے جھوٹ بکتے ہوئے ان کے جد امجد آنحضرت ﷺ سے شرم نہیں آتی؟

تُدَبِّرُ اِذَا لَمْ تَدْرِ يَا فَاقِدَ النُّهٰى وَلَا تَتَهَوَّرُ فِى الْكَلَامِ فَتَخْسَرُ

٤٨٦...... او بے عقل! سوچ سمجھ کر بات کر اور کلام میں بیباکی نہ کر۔ ورنہ خسارہ میں پڑے گا۔

فَاِنَّ حُسَيْنًا لَمْ يَكُنْ ذَا دَنَاءَةٍ لِيَرْضٰى بِدُنْيَاهُ الدَّنِيَّةِ يَفْخَرُ

٤٨٧...... کیونکہ حضرت امام حسین تیری طرح دنی الطبع نہ تھے۔ جو دنیا دنی پر فخر کرتے ہوئے راضی ہو جاتے اور یزید کی بیعت کر لیتے۔

وَلَوْ لَمْ تَنَلْهُ الْمُوْبِقَاتُ لَدَى الْوَغٰى لَمَا نَالَ فِى الْاَنْعَامِ مَا لَيْسَ يُحْصَرُ

٤٨٨...... اور اگر امام حسین کو لڑائی میں مصیبتیں پیش نہ آتیں تو انعامات کے کیونکر مستحق ہوتے۔ جن کا شمار نہیں ہو سکتا۔

فَدَعْ عَنْكَ ذَا الْجَهْلَ الْمُرَكَّبَ وَارْتَدِعْ وَاِلَّا فَفِى نَارِ الْجَحِيْمِ سَتُدْحَرُ

٤٨٩...... پس اپنے جہل مرکب کو چھوڑ اور اپنے دعویٰ باطل سے باز آ۔ ورنہ دوزخ کی آگ میں عنقریب تو پھینکا جائے گا۔

وَمَا تَدَّعِى كِذْبًا بِاَنَّكَ مُرْسَلٌ وَتُصْلِحُ قَوْمًا غَافِلِيْنَ وَتُنْذِرُ

٤٩٠...... اور دروغ گوئی سے جو اس کا دعویٰ کرتا ہے کہ تو اس لئے بھیجا گیا ہے کہ غافلوں کی اصلاح کرے اور ان کو ڈرائے۔

فَذَلِكَ زُوْرٌ وَافْتِرَاءٌ وَجُرْاَةٌ عَلَى اللّٰهِ يَا مَغْرُوْرُ سَوْفَ تُحَقَّرُ

٤٩١...... او مغرور! یہ دروغ آرائی اور افتراء اور جرأت تیری در حقیقت خدا پر ہے۔ اب تو رسوا ہوگا۔

٨٣

صفحہ ٢٤٢
وَقَوْلُكَ إِنِّيْ قَدْ وَرِثْتُ مُحَمَّدًا وَمَا أَنَا إِلَّا آلُهُ الْمُتَخَيَّرُ
كَذَبْتَ عَلَى الْمُخْتَارِ فِيْهِ فَلَا تَعُدْ إِلَى مِثْلِهِ وَاحْذَرْ يَنَالَكَ عُسْرُ

مصیبت آئے گی۔

وَهَلْ لَكَ آيَاتٌ تَدُلُّ عَلَى الَّذِي تَقُوْلُ وَإِلَّا بِالضَّلَالَةِ تَهْذِرُ

یہ تو اپنی گمراہی سے بیہودہ بکتا ہے۔

وَإِلَّا بِنَظْمِ الشِّعْرِ أُرْسِلْتَ مُعْجِزًا عَلَيْكَ مِنَ الْجَبَّارِ لَعْنٌ مُتَبَّرُ

لعنت پڑے کہ ہلاک کر ڈالے۔

عَلَى الْمُصْطَفَى فَضَّلْتَ نَفْسَكَ كَاذِبًا فَذَلِكَ تَوْهِيْنٌ وَأَنْتَ مُحَقَّرُ

ہے۔ یہ دعویٰ تیرا سردار انبیاء کی توہین ہے اور تو تو خوار ہی رہے گا۔

وَقُلْتَ كَلَامٌ مُعْجِزٌ آيَةٌ لَّهُ كَذَلِكَ لِيْ قَوْلٌ عَلَى الْكُلِّ يَبْهَرُ

بھی معجزہ ہے بلکہ سب پر غالب ہے۔

أَلَا أَيُّهَا الْمِرْزَا جَهُوْلٌ مُّزَوِّرٌ وَمَا أَنْتَ إِلَّا فِي الضَّلَالِ مُخَسَّرُ

پانے والا ہے۔

تَنَبَّئْتَ جَهْلًا يَا سَفِيْهُ وَلَمْ تَخَفْ مِنَ الْقَاهِرِ الدَّيَّانِ فِيْمَا تُحَرِّرُ

میں کچھ بھی خوف نہ کیا۔

وَتَأْتُوْنَ فِيْ نَادِيْكُمُ الْمُنْكَرَ الَّذِيْ كَمَا جَاءَ وَلِيُّ الدِّيْنِ فِي النَّاسِ يُظْهِرُ

بیان کیا تھا۔

٨٤

صفحہ ٢٤٣
عَجِبْتُ لِكَذَّابٍ وَإِبْلِيْسُ أَصْلُهُ وَصَلْصَالُهُ مِنْ طِيْنِهِ مُتَخَمِّرُ

٥٠١...... مجھے تعجب ہے کہ جس کذاب کی طینت ابلیس کی ہو اور جس کی مٹی ابلیس کے خمیر سے بنی ہو۔

يَقُوْلُ إِلَى الْمُخْتَارِ أَصْلِي يَنْتَمِيْ وَمِنْ طِيْنِهِ الْمَعْصُوْمِ طِيْنِيْ مُعَطَّرُ

٥٠٢...... وہ کیونکر کہتا ہے کہ میری اصل آنحضرت ﷺ سے ہے اور ان کی پاک مٹی کا مجھ میں خمیر ہے۔

يَقُوْلُ نَسِيْبُ الْمُصْطَفَى ثُمَّ يَدَّعِيْ خِلَافَةَ عِيْسَى إِنَّ هَذَا لَمُنْكَرُ

٥٠٣...... وہ کہتا ہے کہ میں آنحضرت ﷺ کی طرف منسوب ہوں۔ پھر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی خلافت کا دعویٰ کرتا ہے۔ یہ تو بڑی مصیبت ہے۔

يَقُوْلُ أُنَاسٌ بَايَعُوْنِيْ أَمَا دَرَى بِأَنَّهُمُ فِي النَّارِ مَعْهُ وَدُمِّرُوْا

٥٠٤...... وہ کہتا ہے کہ لوگوں نے میری بیعت کی۔ کیا یہ نہیں جانتا کہ وہ سب بھی اسی کے ساتھ دوزخ میں اکٹھے ہوں گے اور ہلاک کئے جائیں گے۔

فَأَكْبَرُ مَنْ قَدْ بَايَعُوْكَ أَشَرُّهُمْ وَأَعْقَلُهُمْ شَيْطَانُهُمْ وَهُوَ أَصْغَرُ

٥٠٥...... اور تیرے مریدوں میں جو سب سے بڑا ہے وہی زیادہ شریر ہے اور جو سب سے عاقل وہی سب کا شیطان ہے اور حقیقت میں وہ خوار ہے۔

وَهَلْ يُلْفَ فِيْهِمْ ذُوْ صَلَاحٍ وَإِنَّهُمْ طَغَوْا فِيْ بِلَادِ اللّٰهِ بَغْيًا وَأَكْثَرُوْا

٥٠٦...... کیا ان میں کوئی صالح متقی ہے؟ بیشک انہوں نے باغی ہو کر خدا کے ملک میں فساد پھیلایا اور اس میں بہت بڑھ گئے۔

إِذَا كُنْتَ مَنْ يَبْغِي الْخُمُوْلَ مِنَ الصِّبَا وَإِنْ يَّاتِكَ الزُّوَّارُ عَنْهُمْ تُصَعِّرُ

٥٠٧...... جب کہ لڑکپن سے تو گمنامی کا خواہاں تھا اور اگر تیرے پاس زائرین آئے تو تو نے ان سے منہ پھیر لیا۔

فَمُذْجَاءَ كَ الْمَلْعُوْنُ إِبْلِيْسُ زَائِرًا وَأَغْرَاكَ هَلَّا عَنْهُ أَعْرَضْتَ تَنْفِرُ

٥٠٨...... تو جب ابلیس لعین تیری زیارت کو آیا اور تجھے برانگیختہ کیا تو کیوں نہیں تو نے اس سے نفرت کر کے منہ پھیر لیا۔

وَإِلَّا لِحَظِّ النَّفْسِ بَادَرْتَ طَائِعًا وَأَظْهَرْتَ بِالْفَحْشَاءِ مَا كُنْتَ تُضْمِرُ

٥٠٩...... اور محض نفسانی خواہش سے تو نے اس کی فرمانبرداری میں جلدی کی اور تو نے وہ گندگیاں ظاہر کیں جن کو تہ دل میں چھپایا تھا۔

٨٥

صفحہ ٢٤٤
ضَلَالُكَ لَمْ يُدْرِكُهُ غَيْرِىْ وَإِنَّنِيْ سَأُبْدِي مَسَاوِيْكَ الَّتِي اَنْتَ تَسْتُرُ

کروں گا جن کو تو چھپاتا ہے۔

مَضٰی وَقْتُ نَضْوِ الْمُرْهَفَاتِ وَدَفْعِهَا وَلَكِنْ بِبُرْهَانٍ مِنَ اللّٰهِ تُنْحَرُ

ذبح کیا جائے گا۔

وَلِلّٰهِ سُلْطَانٌ وَجُنْدُ مَلَائِكٍ شِدَادٍ عَلَى مَنْ بِالرِّسَالَةِ يَكْفُرُ
إِذَا مَا عَلِيٌّ جَاءَ لِلْبَحْثِ طَالِبًا فَطَيُّكَ كُتُبَ الْبَحْثِ عَجْزُكَ يَظْهَرُ

کرنا تیری عاجزی کو ظاہر کرتا ہے۔

تَفَوَّهْتَ جَهْرًا بِالضَّلَالِ وَلَمْ تَخَفْ عِقَابًا مِنَ الْجَبَّارِ فِيمَا تُزَوِّرُ
فَيَا مُبْغِضَ ابْنَىْ بِنْتِ أَفْضَلِ مُرْسَلٍ بِمَا ذَا تُلَاقِيْ جَدَّهُ يَوْمَ تُحْشَرُ

محمد ﷺ سے کس منہ سے ملے گا۔

تَجَرَّأْتَ فِي شَتْمِ الْحُسَيْنِ وَلَمْ تَخَفْ كَأَنَّكَ غُوْلٌ فَاقِدُ الْعَقْلِ اَعْوَرُ
وَاَنْكَرْتَ قَوْلَ الْمُصْطَفٰی وَحَدِيْثَهُ وَمُنْكِرُ أَخْبَارِ النَّبِيِّ مُكَفَّرُ

کے منکر کی تکفیر صحیح اور درست ہے۔

أَلَمْ تَخْشَ رَبَّ الْخَلْقِ يَا مُدَّعِي الْهُدٰی وَأَنْتَ مُصِرٌّ بِالضَّلَالِ مُشَمِّرُ

کے پھیلانے کے لئے پوری کوشش کرتا ہے۔

وَقَدْ قُلْتَ مِنْكُمْ يَاتِيَنَّ اِمَامُكُمْ وَذٰلِكَ فِى الْقُرْآنِ نَبْاءٌ مُكَرَّرُ

٨٦

قرآن میں کئی مرتبہ آچکی ہے

اَجِبْنِيْ أَيَا إِبْلِيْسُ اَنْتَ مُعَجَّلٌ
لَقَدْ قَالَ خَيْرُ النَّاسِ بَدْرُ الدُّجٰی لَنَا

پھر خوش ہو۔

وَفَرَّقَكُمْ مِنَّا النَّبِيُّ بِجِنْسِكُمْ

ہم سے الگ ہے۔ پس سوچو

اَتَانِيْ كِتَابٌ مِنْكَ فِيْهِ قَصَائِدُ

کے لائق نہیں۔

يُبَارِىْ بِهَا أَهْلَ الْقَرِيْضِ وَيَدَّعِيْ

اس جہل مرکب پر اتراتا ب

وَلَمْ أَرَفِيْهَا مُعْجِزًا غَيْرَ مَا حَوَتْ
وَذٰلِكَ إِعْجَازٌ بِهِ أَعْجَزَ الْوَرٰی

موٹا خراب کپڑا درزی کو

تَقُوْلُ فِيْهَا أَنَّهُ جَاءَ مُنْذِرٌ

ڈرانے والا ہوں۔

وَعَمَّاهُ جَهْلٌ ثُمَّ فِسْقٌ وَفُجُوْرُ
وَمَا هُوَ إِلَّا كَاذِبٌ وَّابْنُ كَاذِبٍ
صفحہ ٢٤٥

قرآن میں کئی مرتبہ آچکی ہے۔

أَجِبْنِيْ أَيُّهَا إِبْلِيْسُ أَنْتَ مُعَجَّلًا أَهٰذَا حَدِيْثٌ أَمْ قُرْآنٌ مُطَهَّرُ
لَقَدْ قَالَ خَيْرُ النَّاسِ بَدْرُ الدُّجَى لَنَا وَمَا لِيَكُم مِّنْكُمْ إِمَامٌ فَأَبْشِرُوْا

پھر خوش ہو۔

وَفَرَّقَكُم مِّنَّا النَّبِيُّ بِمِنْكُمْ وَأَخْزَاكُمُ لَيْسُوْا بِمِنَّا فَفَكِّرُوْا

ہم سے الگ ہے۔ پس سوچو!

أَتَانِيْ كِتَابٌ مِنْكَ فِيْهِ قَصِيْدَةٌ حَوَتْ مِنْ رَدِيِّ الشِّعْرِ مَا لَيْسَ يُذْكَرُ

کے لائق نہیں۔

يُمَارِيْ بِهَا أَهْلَ الْقَرِيْضِ وَيَدَّعِيْ بِذٰلِكَ إِعْجَازًا بِهِ جَاءَ يَسْخَرُ

اس جہل مرکب پر اتراتا ہے۔

وَلَمْ أَرَ فِيْهَا مُعْجِزًا غَيْرَ مَا حَوَتْ مِنَ اللَّحْنِ وَالْأَغْلَاطِ إِذْ لَيْسَ يُحْصَرُ
وَذٰلِكَ إِعْجَازٌ بِهِ أَعْجَزَ الْوَرٰى وَقَدْ يُعْجِزُ الْخَيَّاطَ ثَوْبٌ مُدَمَّرُ

موٹا خراب کپڑا درزی کو سینے سے عاجز کر دیتا ہے۔

تَقُوْلُ فِيْهَا أَنَّهُ جَاءَ مُرْسَلًا مِنَ اللّٰهِ حَقًّا لِلْخَلَائِقِ يُنْذِرُ

ڈرانے والا ہوں۔

وَعَمَّاهُ جَهْلٌ ثُمَّ فِسْقٌ وَبَعْدَ ذَا فُجُوْرٌ وَمَالٌ ثُمَّ حِرْصٌ مُتَبَّرُ
وَمَا هُوَ إِلَّا كَاذِبٌ وَابْنُ كَاذِبٍ عَلَيْهِ مِنَ الْجَبَّارِ لَعْنٌ مُدَمِّرُ

٨٧

صفحہ ٢٤٦

٥٢٩....... مرزا قادیانی نہیں تھا مگر جھوٹا اور جھوٹے کا بیٹا۔ اس پر خدائے جبار کی طرف سے مہلک لعنت پڑے۔

تَقُولُ اِنِّی نَائِبُ اللّٰهِ فِی الْوَرٰی عَجِبْتُ لَهُ بِالْاِفْتِرَا کَیْفَ یَجْسُرُ

٥٣٠....... وہ کہتا ہے کہ میں مخلوقات کے لئے خدا کا نائب ہوں۔ مجھے اس کے افتراء پر سخت تعجب ہے۔ کیونکر ایسی دلیری کرتا ہے۔

لَنَطَقْتَ بِزُوْرٍ اَيُّهَا الْغُوْلُ شِقْوَةً اَهٰذَا هُوَ الْاِسْلَامُ يَا مُتَكَبِّرُ

٥٣١....... او دیو! تو شقاوت سے جھوٹ بکتا ہے۔ کیا یہی سچا اسلام ہے۔ او متکبر!

تَعَالَى اِلٰهُ الْعَرْشِ عَمَّا تَقُولُهُ وَ كُلُّ شَقِيٍّ لَا مَحَالَةَ يُزْجَرُ

٥٣٢....... تو جو کچھ بکتا ہے خدا اس سے برتر اور پاک ہے اور ہر شقی قیامت کے دن ڈانٹ بتایا جائے گا۔

اَاَرْسَلَكَ الشَّيْطَانُ فِي النَّاسِ نَائِبًا فَتُفْسِدُ عَنْهُ فِي الْوَرَى وَتُدَمِّرُ

٥٣٣....... کیا شیطان نے لوگوں میں تجھے اپنا نائب بنا کر بھیجا ہے۔ تا کہ تو اس کی طرف سے دنیا میں فساد پھیلا کر لوگوں کو ہلاک کرے۔

وَسَوْفَ تَرَى مَا تَدَّعِيْهِ مِنَ الْهُدَى اَيُجْدِيْكَ نَفْعًا فِی لَظَى حِيْنَ تُدْحَرُ

٥٣٤....... اور جس ہدایت کا تو دعویٰ کرتا ہے عنقریب اسے دیکھ لے گا۔ کیا اس وقت وہ تجھے کچھ نفع دے گی جب تو دوزخ میں پھینکا جائے گا۔

وَيُبْدِىْ لَكَ الرَّحْمٰنُ يَوْمَ لِقَائِهِ مَنِ الْمُدَّعِی زُوْرًا وَمَنْ ذَا الْمُطَهَّرُ

٥٣٥....... اور خدا تجھے اپنے ملنے کے دن بتا دے گا کہ کون جھوٹا ہے اور کون جھوٹ کی آلودگی سے پاک ہے۔

اَلَا اِنَّ وَقْتَ الدَّجَلِ وَالزُّوْرِ قَدْ اَتَى وَجَاءَ تْ اَمَارَاتُ الْقِيَامَةِ تَظْهَرُ

٥٣٦....... سن لو! فریب اور جھوٹ کے ظہور کا زمانہ قریب آ گیا اور قیامت کے آثار ظاہر ہونے لگے۔

فَيَا اَيُّهَا الدَّجَّالُ خَفْ رَبَّكَ الَّذِي يُشُجُّ رُءُوْسَ الْمُعْتَدِينَ وَيَقْهَرُ

٥٣٧....... او دجال! تو اس خدا سے ڈر جو غالب ہے اور قیامت میں گنہگاروں کا سر کچل دے گا۔

تَرَكْتَ طَرِيْقَ الْحَقِّ فِی ابْنَیْ مُحَمَّدٍ وَ آذَيْتَ خَيْرَ الْخَلْقِ يَا مُتَهَوِّرُ

٥٣٨....... تو نے رسول اللہ کے نواسوں کے برا کہنے میں حق کا راستہ چھوڑ دیا۔ او دلیر! تو نے خیر الخلائق آنحضرت ﷺ کو اذیت دی۔

٨٨

صفحہ ٢٤٧
فَإِيَّاكَ وَالتَّوْهِيْنَ وَالسَّبَّ وَالْقِلٰى وَمَنْ جَاءَ تَحْقِيْرًا بِهِمْ فَيُحَقَّرُ

٥٣٩...... اب بھی تو ان کی اہانت اور گالی دینے اور بغض سے باز آجا اور جو شخص اپنے خبث باطنی سے ان کی تحقیر کرے گا وہ رسوا ہوگا۔

وَحَاشَا اِلٰهِ الْخَلْقِ يُكْرَمُ فَاسِقًا اَيَا كَاذِبَ الْحَلَّافِ سَوْفَ تُقَبَّرُ

٥٤٠...... اور اللہ اس سے پاک ہے کہ کسی فاسق کی عزت کرے او جھوٹے قسم کھانے والے! تو اب تباہ ہوگا۔

وَفِی الْاَرْضِ اَشْخَاصٌ كِبَارٌ وَخَيْرُهُمْ رِجَالٌ اَهَانُوا الْكَهْذَبَانَ وَكَفَرُوْا

٥٤١...... اور دنیا میں بڑے بڑے لوگ ہیں۔ مگر سب سے بہتر وہی ہیں جنہوں نے قادیانی کی اہانت اور تکفیر کی۔

وَاَنْتَ مُصِرٌّ بِالضَّلَالِ مُكَابِرٌ وَشَرُّ خِصَالِ الْمَرْءِ كِذْبٌ يُكَرَّرُ

٥٤٢...... تو ضلالت پر مصر اور اس کو پھیلانے والا ہے اور سب سے بری خصلت انسان کی یہ ہے کہ بار بار جھوٹ بولے۔

تَخُبُّ لَكَ الْوَيْلَاتُ فِيْمَا كَتَبْتَهُ وَتَبَّتْ يَدٌ تَغْوِي الْاَنَامَ وَتَهْذِرُ

٥٤٣...... تو نے جو کچھ لکھا ہے اس میں تیرے لئے خرابیاں ہیں اور ٹوٹ جائے وہ ہاتھ جو لوگوں کو گمراہ کرے اور تو بیہودہ بکتا ہے۔

فَتُبْ وَاتَّقِ الْقَهَّارَ رَبَّكَ وَاخْشَهُ وَمَا تَدَّعِيْ زُوْرًا اِلَيْهَا لَتُعْنٰى تَخْسَرُ

٥٤٤...... تو اب توبہ کر لے اور خدائے قہار سے ڈر اور اس کے عذاب سے بچ اور جھوٹا دعویٰ نہ کر ورنہ لعنتوں سے کچلا جائے گا۔

وَلَا تَقْفُ أَمْرًا لَّسْتَ تُدْرِكُ كُنْهَهُ فَتُبْلٰى بِاَنْوَاعِ الْبَلَا وَتُتَبَّرُ

٥٤٥...... اور اس بات کے پیچھے نہ پڑ جس کی حقیقت کا تجھے علم نہیں۔ ورنہ انواع و اقسام کی بلا میں مبتلا کر کے ہلاک کیا جائے گا۔

وَلَا تَتَعَرَّضْ لِلْحُسَيْنِ فَاِنَّهُ لَيُؤْذِىْ رَسُوْلَ اللّٰهِ بِمَا تَتَهَوَّرُ

٥٤٦...... او بے باک! امام حسینؓ سے تعرض نہ کر۔ کیونکہ یہ بات رسول خداﷺ کو تکلیف دیتی ہے۔

وَدَعْوَاكَ فِيْهِ اَنَّهُ كَانَ عَاجِزًا اِلٰى عَجْزِ رَبِّ الْخَلْقِ يُفْضِىْ فَتَكْفُرُ

٥٤٧...... اور تیرا یہ دعویٰ کہ حضرت امام حسینؓ عاجز تھے، تجھے خدا کے عجز تک پہنچاتا ہے۔ دیکھ تو کافر ہوا چاہتا ہے۔

٨٩

صفحہ ٢٤٨
وَحَاشَا اِلٰهِ العَرْشِ اَنْ يَّكُ عَاجِزًا وَلٰكِنْ قَضَاءُ اللّٰهِ فِيْنَا مُقَدَّرُ

٥٤٨ ...... حالانکہ خدا کی ذات اس سے پاک اور منزّہ ہے کہ وہ عاجز ہو۔ مگر خدا کی قضا ٹلتی نہیں۔

عَلَا اَنَّهُ لِلْمَوْتِ لَمْ يَكُ كَارِهًا وَلَمْ يَكُ مَوْتُ الْمَرْءِ مِمَّا يُحَقَّرُ

٥٤٩ ...... علاوہ اس کے یہ بات بھی ہے کہ امام حسینؓ ہرگز موت سے کارہ نہ تھے اور نہ موت سے آدمی کی تحقیر ہوتی ہے۔

وَلَا سِيَّمَا مَنْ بِالشَّهَادَةِ خَصَّهُ اِلٰهٌ كَرِيْمٌ بِالْمَكَارِمِ يَغْمِرُ

٥٥٠ ...... خصوصاً اس کی موت جس کو خدائے کریم نے اپنی حسنات سے مرتبہ شہادت سے ممتاز اور مشرف کیا ہو۔

وَاَمَّا بَلَا الدُّنْيَا فَاَعْظَمُ مَا بِهِ يَنَالُ الْفَتَى اَوْجَ الْمَعَالِىْ وَيَفْخَرُ

٥٥١ ...... لیکن دنیا کی بلائیں جتنی زیادہ ہوں گی اتنا ہی نیک آدمی اس پر صبر کر کے مراتب عالیہ پائے گا اور اس پر فخر کرے گا۔

وَلَمْ يَخْلُ فِعْلُ اللّٰهِ عَنْ حِكْمَةٍ بِهَا يُضِلُّ وَيَهْدِىْ وَالشَّقَاءُ يُقَدَّرُ

٥٥٢ ...... اور اللہ تعالیٰ کے افعال حکمت سے خالی نہیں ہوتے۔ حکمت ہی سے بعضوں کو گمراہ کرتا ہے اور بعضوں کو ہدایت۔

وَحَسْبُكَ مَا اَوْرَدْتُّهُ مِنْ اَدِلَّةٍ اِذَا كُنْتَ مِمَّنْ فِى الْاُمُوْرِ يُفَكِّرُ

٥٥٣ ...... او مرزا قادیانی! اگر تجھے کچھ بھی غور و فکر کا مادہ ہے تو تیرے رد میں جو دلیلیں میں نے بیان کیں ہیں، وہ کافی ہیں۔

وَشَتَّانَ مَابَيْنَ الْحُسَيْنِ وَبَيْنَ مَنْ يُضِلُّ الْوَرَى بَغْيًا وَفِى النَّاسِ يَسْخَرُ

٥٥٤ ...... اور حضرت امام حسینؓ میں اور اس شخص میں جو بغاوت اور سحر سے لوگوں کو گمراہ کرے زمین و آسمان کا فرق ہے۔

فَاِنَّكَ يَا مَلْعُوْنُ فِى النَّارِ خَالِدٌ وَذٰلِكَ بِالْجَنَّاتِ حَقًّا مُبَشَّرُ

٥٥٥ ...... او ملعون مرزا! تو بیشک جہنم میں ہمیشہ رہنے والا ہے اور امام حسینؓ کو سچ بشارت جنت کی مل چکی ہے۔

نَسِيْتَ جَلَالَ اللّٰهِ وَالْمَجْدَ وَالْعُلٰى وَغَادَرْتَ نَهْجَ الْحَقِّ لِلْحَقِّ تُنْكِرُ

٥٥٦ ...... تو خدا کی عظمت اور بزرگی اور بلندی کو بھول گیا اور انکار کرتے ہوئے حق کے وسیع راستہ کو چھوڑ دیا۔

٩٠

صفحہ ٢٤٩
وَاِنْ كَانَ هٰذَا الزُّوْرُ فِی الدِّيْنِ جَائِزًا فَبِاللَّغْوِ رُسُلُ اللّٰهِ فِی النَّاسِ يُعْذَرُوْا

٥٥٧ ...... اور اگر یہ جھوٹ دین میں جائز ہوتا تو انبیاء علیہم السلام محض لغو و بیکار ظاہر ہوئے۔

وَاَیُّ صَلَاحٍ جِئْتَنَا بِضِيَائِہٖ وَهَلْ لِدُجَی الْاِضْلَالِ صُبْحٌ فَيُسْفِرُ

٥٥٨ ...... اور تو کون سی نیکی کی روشنی لے کر ہمارے پاس آیا ہے۔ وہ کیا گمراہ کرنے والوں کے لئے صبح ہے جو اسے روشن کر دے۔

وَكَايِنْ مِّنَ الْآيَاتِ قَدْ مَرَّ ذِكْرُهَا وَمَا هِيَ اِلَّا عَنْ ضَلَالِكَ تُخْبِرُ

٥٥٩ ...... اور بہت سی نشانیاں تیری ہیں جن کا ذکر اوپر گزرا ہے۔ مگر سب کی سب تیری گمراہی کی خبر دیتی ہیں۔

وَهَلْ مِنْ شُئُوْنِ الْاَنْبِيَاءِ بِاَنَّهُمْ بِحِيْلَةِ نَظْمِ الشِّعْرِ فِی النَّاسِ اَمْكَرُوْا

٥٦٠ ...... اور کیا انبیاء علیہم السلام کی شان کے یہ مناسب ہے کہ وہ نظم اشعار کے حیلہ سے لوگوں میں مکر کا دام پھیلائیں۔

تَقُوْلُ لَنَا بَعْدَ التَّجَارِبِ حِيْلَةً لِنَكْتُبَ اَشْعَارًا بِهَا الْاٰنَ تَشْعُرُ

٥٦١ ...... تو کہتا ہے ”فَمِنْ لَّنَا“ یعنی ہمیں بہت سے تجربوں کے بعد یہ حیلہ ہاتھ آیا ہے کہ ہم ایسے اشعار لکھیں جن سے تو نشانیوں کو معلوم کرلے۔

لِهٰذَا هُوَ التَّبْكِيْتُ مِنْ فَاطِرِ السَّمَا عَلَيْكَ وَمِنْ فَرْطِ الْعَمٰی لَيْسَ تَشْعُرُ

٥٦٢ ...... پھر تیرے اشعار میں اس قدر غلطیوں کا ہونا خدا کی طرف سے تیری شکست ہے۔ مگر تو فرطِ حماقت سے سمجھتا ہی نہیں۔

وَهٰذَا هُوَ الْاِفْحَامُ اِنْ كُنْتَ عَالِمًا بِمَعْنَی الَّذِيْ قَدْ قُلْتَہٗ حِيْنَ تَهْذِرُ

٥٦٣ ...... اور اگر تجھے اپنی بیہودہ بکواس کا کچھ علم ہے تو یہ تیری شکست فاش ہے۔

فَاِنْ عُدْتَّ لِلْعَزْوِ بِہَا يَابْنَ تَصَلُّفٍ فَهٰذَا عَلٰی بَطْنِ الْمُكَذِّبِ خَنْجَرُ

٥٦٤ ...... اے لاف زن کے بیٹے ! پھر اگر دوبارہ تو نے دروغ آرائی کی تو یاد رکھ یہ دروغ تجھ جیسے جھوٹے کے پیٹ پر خنجر ہوگا۔

وَلَعْنَةُ رَبِّيْ كُلَّ حِيْنٍ وَّسَاعَةٍ عَلٰی كُلِّ كَذَّابٍ كَمِثْلِكَ يُفْجِرُ

٥٦٥ ...... اور اس جھوٹے پر جو تیری طرح علی الاعلان جھوٹ بکے خدا کی ہزاروں لعنتیں ہر وقت اور ہر گھڑی پڑتی رہیں۔

وَاِنْ كَانَ حَقًّا كُلُّ مَاجِئْتَ تَدَّعِيْ وَمَا اَنْتَ فِیْ دَعْوَی الصَّلَاحِ مُزَوِّرُ

٩١

صفحہ ٢٥٠
فَمَا لَکَ لَا تَسْطِيْعُ تَهْدِىْ وَإِنَّهُ لِأَهْلِ الصَّلَاحِ كُلُّ عُسْرٍ مُيَسَّرُ

دشواریاں آسان ہیں۔

وَلٰكِنْ اَعْمَاکَ اَللّٰهُ عَمَّا تَقُوْلُهُ فَمَرْجِعُ مَعْنَاهُ عَلَيْکَ وَيَبْهَرُ

ہے اس کے معنے تجھی پر لوٹ آتے ہیں۔

لِعَمْرِىْ لَقَدْ شُجَّتْ قَفَاکَ رِسَالَتِیْ وَإِنْ مُتَّ لَا يَأْتِيْکَ عَوْنٌ مُّعَزَّرُ

پاس ہرگز کوئی مددگار نہ آئے گا۔

فَبَشِّرْ وَبَشِّرْ كُلَّ مَنْ بِکَ يَأْتَسِیْ بِنَارٍ لَظٰی فِيْهَا جَمِيْعًا تُسَعَّرُ

سب کے سب جھونکے جاؤ گے۔

وَإِنْ كُنْتَ فِیْ شَرْقِ الْبِلَادِ وَغَرْبِهَا تُعَدُّ أَدِيْبًا اَوْ بِشِعْرِکَ تَفْخَرُ
فَإِنِّیْ أَرَى الْأَطْفَالَ فِی الْحَیِّ وَالنِّسَا يُجِيْدُوْنَ فِیْ نَظْمِ الْقَرِيْضِ وَاَشْعَرُ

غالب آتی ہیں۔

وَمُذْ قِيْلَ إِنَّ ابْنَ اللَّئِيْمَةِ شَاعِرٌ فَيَا شِعْرُ مُتْ إِنَّ الرَّدَى بِکَ اَجْدَرُ

سے تو تیرے لئے ہلاکت بہتر ہے۔

اَشِعْرُکَ هٰذَا شِعْرُ عِلْمٍ وَحِكْمَةٍ وَإِلَّا فَيَانَغْلُ بِالْفَنِّ تَسْخَرُ

شاعروں سے سخرہ پن کرتا ہے۔

فَفِی اللَّفْظِ وَالتَّرْكِيْبِ وَالْوَزْنِ فَاسِدٌ قَبِيْحٌ وَمَعْنَاهُ رَدِىٌّ مُّعَوَّرُ

٩٢

ردی اور برے ہیں۔

وَقَوْلُکَ هٰذَا اٰيَةٌ تُفْحِمُ الْـ...

کہتا ہوں کہ اس کا الٹا ہو کی خبر دیتا ہے۔

فَدَعْ ذِكْرَکَ الْأَعْجَازَ فِی الشِّعْرِ وَالْـ...

کہتا ہوں نور قلب سے ا...

لَکَ الذُّلُّ فِی الدُّنْيَا وَاَنْفُکَ رَ...
عَلَاکَ بِسَيْفِ الْحَقِّ شِعْرِىْ مَـ...

پارہ پارہ ہو گیا۔

وَقَدْ جَاءَ نُوْرُ الْحَقِّ لِلْغَیِّ مَـ...

وہ خسارہ میں پڑ گئے۔

وَفِی النِّصْفِ مِنْ شَعْبَانَ تَمَّتْ قَـ...

اور خدا پر جسارت کی تھی

وَقَدْ طَبَعَ الْمَوْلَى عَلٰی قَلْبِکَ ...

چھاپنے میں جلدی کی بـ...

وَيَا حَبَّذَا فِيْهِ تَصَادُقُ مَـ...

اور سعادت خدا کی طرف

وَيَالِنِعْمَ مَا أَعْدَدْتُهُ مِنْ ...
صفحہ ٢٥١

ردی اور برے ہیں۔

وَقَوْلُكَ هَذَا اٰيَةٌ تُفْحِمُ الْعِدَى بِعَجْزِكَ يُنْبِيْ بَلْ بِجَهْلِكَ يُخْبِرُ

٥٧٦....... اور تیرا یہ کہنا کہ یہ قصیدہ ایسی نشانی ہے جو دشمنوں کو مغلوب اور ساکت کردے گا مگر میں کہتا ہوں کہ اس کا الٹا ہو گیا۔ یعنی یہ قصیدہ تو تیرے عجز کو بتلاتا ہے۔ بلکہ تیرے جہل کی خبر دیتا ہے۔

فَدَعْ ذِكْرَكَ الْإِعْجَازَ فِي الشِّعْرِ وَارْتَدِعْ وَفَكِّرْ بِنُوْرِ الْقَلْبِ فِيْمَا اُكَرِّرُ

٥٧٧....... اور تو جو اپنے اشعار میں اعجاز کا ذکر کرتا ہے اسے چھوڑ دے اور باز آجا اور میں جو بار بار کہتا ہوں نور قلب سے اس کو سوچ۔

لَكَ الذُّلُّ فِي الدُّنْيَا وَأَنْفُكَ رَاغِمٌ وَكُلُّ كَذُوْبٍ لَا مَحَالَةَ يُخْسَرُ

٥٧٨....... دنیا میں بھی تجھے ذلت ہے اور تو نکٹا ہے اور اسی طرح تمام جھوٹے ضرور خسارہ اٹھائیں گے۔

عَلَاكَ بِسَيْفِ الْحَقِّ شِعْرِىْ مُبَارِزًا وَقَلْبُكَ مِمَّا فِيْهِ قَطْعًا يُفَطَّرُ

٥٧٩....... میرے ان اشعار نے حق کی تلوار سے تیرا مقابلہ کیا اور اس کے زد سے یقیناً تیرا دل پارہ پارہ ہوگیا۔

وَقَدْ جَاءَ نُوْرُ الْحَقِّ يُلْغِيْ مَا جَبَا فَأَبْطَلَ سِحْرَ الْمُعْتَدِيْنَ وَخُسِّرُوْا

٥٨٠....... اور بیشک گمراہی کے مٹانے کو خدا کی روشنی پہنچ گئی اور ظالموں کے جادو کو باطل کردیا اور وہ خسارہ میں پڑ گئے۔

وَفِي النِّصْفِ مِنْ شَعْبَانَ تَمَّتْ قَصِيْدَةٌ أَتَيْتَ بِهَا زُوْرًا عَلَى اللَّهِ تَجْسُرُ

٥٨١....... اور تیرا وہ قصیدہ نصف شعبان میں تمام ہوا تھا جس میں تو نے جھوٹ کا طومار باندھا تھا اور خدا پر جسارت کی تھی۔

وَقَدْ طَبَعَ الْمَوْلَى عَلَى قَلْبِكَ الشَّقَا فَبَادَرْتَ فِيْ طَبْعِ الْقَصِيْدَةِ تَبْطَرُ

٥٨٢....... اور بے شک خدا نے تیرے دل پر مہر شقاوت لگا دی۔ اس لئے تو نے اترا کر قصیدہ کے چھاپنے میں جلدی کی۔

وَيَا حَبَّذَا فِيْهِ تَصَادُفُ طَبْعِهَا فَإِنَّ الشَّقَا وَالسَّعْدَ فِيْهِ يُقَدَّرُ

٥٨٣....... اور تیری جہالت کے اظہار کے لئے اس وقت اس کا چھپنا کیا ہی خوب ہوا۔ بیشک شقاوت اور سعادت خدا کی طرف سے ہے۔

وَيَالِغَمِّ مَا أَعْدَدْتَهُ مِنْ فَظَائِعِ لِيَوْمٍ بِهِ كُلُّ الْخَلَائِقِ تَحْضُرُ

٩٣

صفحہ ٢٥٢

٥٨٤....... اور تو نے کیا اچھا برائیوں کا انبار اس دن کے لئے تیار کر رکھا ہے جس دن تمام خلائق حاضر ہوگی۔

رَمَيْتَ لِتَغْتَالَ الْأَنَامَ بِفِتْنَةٍ وَلَكِنْ رَمَاكَ اللَّهُ وَاللَّهُ أَكْبَرُ

٥٨٥....... تو نے باطل اور جھوٹ کا جال پھینکا کہ لوگوں کو اپنے فتنہ سے ہلاک کرے۔ لیکن خدا نے اپنا تیر مار کر تجھے ہلاک کر دیا اور اللہ بہت بڑا ہے۔

وَأَقْدَرَنِي رَبِّي لِرَدِّكَ مِنَّةً فَبَادَرْتُ فِي نَظْمِ الْجَوَابِ أُحَرِّرُ

٥٨٦....... اور اللہ تعالیٰ نے مجھے اپنے فضل و احسان سے تیرے رد کرنے کی قدرت دے دی۔ پھر میں نے جلدی سے نظم میں جواب لکھ دیا۔

وَمَا أَنَا مِمَّنْ فِي الْقَرِيْضِ لَهُ يَدٌ وَلَا النَّظْمُ مِنْ دَأْبِي وَلَا أَنَا أَشْعَرُ

٥٨٧....... اور میں ان لوگوں میں نہیں ہوں۔ جن کو شاعری میں ید طولیٰ ہے اور نہ شاعری میرا شیوہ ہے اور نہ شاعر ہوں۔

وَلَكِنَّنِي مُذْ رُمْتُ رَدَّكَ لَمْ أَزَلْ بِعَوْنٍ مِنَ الرَّحْمَنِ فِي النَّظْمِ أَظْفَرُ

٥٨٨....... لیکن خدا کی مدد سے جب سے میں نے تیرے قصیدہ کا جواب نظم میں شروع کیا ہے۔ ہمیشہ فتح یاب ہوتا رہا۔

وَهذَا دَلِيلٌ لِي عَلَى صِدْقِ دَعْوَتِي وَتَكْذِيْبِ مَا أَوْرَدتَّ وَالْحَقُّ يَبْهَرُ

٥٨٩....... اور یہ میرے دعوے کے صدق اور تیرے دعوٰی کے کذب پر قوی دلیل ہے اور حق ضرور غالب ہو کر رہے گا۔

رَأَى عَارِضًا مُسْتَقْبَلَ الْحَيِّ ظَنَّهُ لَوَاقِحَ إِنْعَامٍ مِنَ اللَّهِ تَمْطَرُ

٥٩٠....... اس نے یوں ہی کچھ آتے دیکھ لیا اور سمجھ بیٹھا کہ یہ خدا کی طرف سے انعام کی اونٹنیاں ہیں۔

لَكَ الْوَيْلُ لَا تَمْرَحْ بِهَوْجَاءَ ضِمْنَهَا عَذَابٌ أَلِيْمٌ كُلَّ شَيْءٍ تُكَسِّرُ

٥٩١....... تجھ پر خرابی ہے اس آندھی پر مت اترا جس کے پہلو میں دردناک عذاب ہے جو ہر چیز کو توڑ مروڑ دے گا۔

رَأَى هَفَوَاتٍ كَاللَّوَاقِحِ أُنْزِلَتْ فَلَمْ يَدْرِ فِي تَشْبِيهِهَا مَا يُحَرِّرُ

٥٩٢....... اس نے اپنے گناہوں کو اونٹنیوں کی طرح اترتے دیکھا اور بغیر سمجھے اس کے تشبیہ میں جو چاہا، لکھ مارا۔

فَقَالَ كَمَا النُّوْقُ اللَّوَاقِحِ أُنْزِلَتْ لَنَا بَرَكَاتٌ إِنَّ هَذَا لَمُنْكَرُ

٥٩٣....... اور یوں کہہ دیا کہ ہم پر برکتیں نَا

عَلَا اَنَّهَا لَوْ بِالرِّيَاحِ تُفَسَّرُ

٥٩٤....... ہاں اس کی ہوا کے جھونکے سے

وَقَدْ تَمَّ مَا قَدْ رُمْتُ إِيْرَادَهُ عَلى

٥٩٥....... اور بے شک دجال جھوٹے ارادہ کیا تھا۔

وَأَرْجُوْ مِنَ الرَّحْمَنِ أَنْ لَّا يُغِـ

٥٩٦....... اور خدا سے امید رکھتا ہوں کا زمانہ ہے۔

وَأَسْئَلُهُ حُسْنَ الرِّضَاءِ بِعَفْـ

٥٩٧....... اور خدا سے اس کی رضا مندی

كَذَاكَ جَمِيعَ الْمُسْلِمِيْنَ بِعَفْـ

٥٩٨....... اور اسی طرح تمام مسلمانو تمام لوگ قبروں سے نکالـ

وَأَزْكَى صَلَاةٍ مَّعْ اَتَمِّ تَحِـ

٥٩٩....... اور نہایت پاکیزہ درود شر دنیا قائم رہے۔

كَذَا الْآلُ وَالْأَصْحَابُ مَا أَسْفَرَ الْهـ

٦٠٠....... اور اسی طرح آپ کے آل روشن رہے اور ضلالت کی

وَمَا قَالَ أَهْلُ الْحَقِّ فِي رَدِّ

٦٠١....... اور جب تک اللہ والے کے

وَآخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الْحَمْدُ لِـ

٦٠٢....... اور سب سے آخر بات ہـ

مرزا قادیانی کے جواب کی

مُنَاظَرَةُ الْمُونْگِيرِ أَعْظَمُ

صفحہ ٢٥٣
عَلٰی أَنَّهَا لَوْ بِالرِّيَاحِ تَفَسَّرَتْ لَصَحَّ وَلٰكِنْ جَهْلُهُ كَيْفَ يُظْهَرُ
وَتَمَّتْ بِمَا قَدَّرْتُ إِيْرَادَهُ عَلٰی قَصِيْدَةِ دَجَّالٍ كَذُوْبٍ يُؤَزَّرُ

ارادہ کیا تھا۔

وَأَرْجُوْ مِنَ الرَّحْمٰنِ أَنْ لَّا يُضِلَّنَا بِفِتْنَتِهِ فَالْوَقْتُ بِالشَّرِّ اَجْدَرُ

کا زمانہ ہے۔

وَأَسْأَلُهُ حُسْنَ الرِّضَاءِ بِعَفْوِهِ وَغُفْرَانَهُ يَوْمَ التَّلَاقِ حِيْنَ أُحْشَرُ
كَذَاكَ جَمِيْعُ الْمُسْلِمِيْنَ يَعُمُّهُمْ بِرَحْمَتِهِ الْعُظْمٰی إِذَا النَّاسُ يُنْشَرُوْا

تمام لوگ قبروں سے نکالے جائیں گے۔

وَأَزْكٰی صَلَاةٍ مَّعْ أَتَمِّ تَحِيَّةٍ تَخُصَّانِ خَيْرَ الْخَلْقِ مَا لَاحَ نَيِّرُ

دنیا قائم رہے۔

كَذَا الْآلُ وَالْأَصْحَابُ مَا أَسْفَرَ الْهُدٰی وَأَدْبَرَ دَيْجُوْرُ الضَّلَالَةِ يُدْحَرُ

روشن رہے اور ضلالت کی تاریکی دفع ہوتی رہے۔

وَمَا قَالَ أَهْلُ الْحَقِّ فِى رَدِّ كَافِرٍ أَلَا فِى سَبِيْلِ الْغَيِّ مَا أَنْتَ مُظْهِرُ
وَاٰخِرُ دَعْوَانَا أَنِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ عَطَانَاهُ وَفْقًا لِلْجَوَابِ فَنَشْكُرُ

مرزا قادیانی کے جواب کی توفیق دی اور اس پر ہم اس کا شکر کرتے ہیں۔

مُنَاظَرَةُ الْمُؤْتَفِكِ أَعْظَمُ شَأْنِهَا إِلٰی هٰذِهِ الْأَيَّامِ تَبْكُوْنَ فَانْظُرُوْا

٩٥

صفحہ ٢٥٤
وَصَلْنَا كَصَوْلِ اللَّيْثِ غَضْبًا وَحِكْمَةً اَتَانَا بِشَخْصِ اَبْكَمٍ وَهُوَ اَعْوَرُ

سے ایک شخص گونگا آیا اور وہ کانا بھی تھا۔

وَحِزْبٌ مِّنَ الْاَشْرَارِ قَامُوْا وَذَكَّرُوْا وَرَهْطٌ مِّنَ الْاَشْرَارِ ضَلُّوْا وَدَمَّرُوْا

خود تو گمراہ تھی ہی، کچھ کہہ کر اوروں کو بھی تباہ کیا۔

فَمَا زَالَ بَحْثٌ فِىْ حَيَاتِ مَسِيْحِنَا اِلَى اَنْ طَوَى الْبَحْثَ عَلِىٌّ مُدَبِّرُ

منشی قاسم علی نے بحث کو بند کر دیا۔

وَنَادَاهُ اِبْرَاهِيْمُ مِقْدَامُ صَوْلَةً اَذُكِّرُكُمْ اِذْ قَالَ اَللّٰهُ اَكْبَرُ

میں تم کو یاد دلاتا ہوں جب کہ انہوں نے نعرہ اللہ اکبر کا مارا۔

هُنَا زُلْزِلَتْ اَرْضُ الْمُنَاظَرَةِ الَّتِىْ عَلَيْهَا خَبِيْثُ الْقَوْمِ جَاءَ وَاَتْبَرُوْا

تباہ کر رہی تھی۔

فَلَمَّا تَغَشَّى الْغَمُّ وَالْهَمُّ وَالْفَجَا عَلٰى رَاسِهِ الْكُرْسِىُّ وَلَّوْا فَاَدْبَرُوْا

لے کر چلتے ہوئے پیٹھ دکھا کر بھاگ گئے۔

يَخِرُّوْنَ اِذْ جَاءَ ابْنُ سَيِّدَةِ النِّسَا وَاِنْ كُنْتُ نَقَّاشًا فَحِيْنًا اُصَوِّرُ

کے سب بھاگ گئے اور اگر میں فوٹو گرافر ہوتا تو اسی وقت ان کی تصویر کھینچ لیتا۔

وَمُخْتَارٌ وَالسَّهْوُلُ وَالْمُرْتَضٰی وَمَنْ اَتَا بَعْدَهُمْ لَا سِيَّمَا الشَّيْخُ اَنْوَرُ

اسلام تشریف لائے خصوصاً مولوی انور شاہ (کشمیری) صاحب۔

وَثَبْنَا عَلَيْهِمْ كَالْهِزَبْرِ مُبَاحِثًا بِسَاحَتِ قَوْمٍ اِذْ نَزَلْنَا وَنَخْطَرُ

٩٦

قوم میں ہوتا ہے۔

فَسَاءَ صَبَاحُ الْمُنْذِرِيْنَ اِذَا سَـ

کے لئے وہ صبح نہایت منحوس

وَاَتْمَمْتُ هٰذَا مَا وَعَدْتُ بِجُـ

”وصلی اللہ علی سیـ والہ وصحبہ اجمعین واخر دعوا

عرصہ ہوا کہ اس کے پہلـ سینکڑوں غلطیاں ہر قسم کی ہیں، طبع ہو کر وغیرہ میں اہتمام سے بذریعہ ڈاک بھیـ نے ان غلطیوں کو نہ اٹھایا اور نہ اٹھا سکتے

قصیدہ اعجازیہ سے بہتر قصیدہ جوابیہ پیش کے طبع میں دیر ہوئی۔

مرزا قادیانی نے اپنی اردو احمدی ص ٢٧، خزائن ج ١٩ ص ١٣٧) میں کتابوں میں جو حدیثیں ہیں، ان کی عـ صاحب نے توڑ دی۔ اب دوسری ٹانگ

اب حضرات ناظرین المـ اعجازیہ کو پیش نظر رکھ کر انصاف کی بـ مرزا قادیانی کے اعجاز کی رہی سہی دوسـ ان کے اعجاز کی تو اس کے پہلے حصـ قبل توڑ دی تھی۔ ایسی حالت میں مر طرح دم توڑ رہا ہے۔ بلکہ ناظرین ا ہے۔ فَلِلّٰهِ الْحَمْد!

صفحہ ٢٥٥

قوم میں ہوتا ہے۔

فَسَاءَ صَبَاحُ الْمُنْذَرِيْنَ إِذَا سَطَا جُنُوْدٌ عَلَيْهِمْ لَا يَرَاهَا الْمُلَغَّزُ

کے لئے وہ صبح نہایت منحوس ہوتی ہے۔

وَأَتْمَمْتُ هَذَا مَا وَعَدْتُ جَوَابَهُ بِحَمْدٍ وَشُكْرٍ مِّنْ لَّهُ الْحَمْدُ أَكْبَرُ

”وصلى الله على سيد المرسلين خاتم النبيين شفيع المذنبين محمد واله وصحبه اجمعين واخر دعوانا ان الحمد لله رب العالمين“

عرصہ ہوا کہ اس کے پہلے ابطال اعجاز مرزا کا پہلا حصہ جس میں مرزا قادیانی کی سینکڑوں غلطیاں ہر قسم کی ہیں، طبع ہو کر ناظرین کی خدمت میں پیش کیا جا چکا ہے۔ خصوصاً قادیان وغیرہ میں اہتمام سے بذریعہ ڈاک بھیجا گیا تھا۔ لیکن الحمد للہ! اس وقت تک کبھی مرزائی صاحبان نے ان غلطیوں کو نہ اٹھایا اور نہ اٹھا سکتے ہیں۔ اب اس حصہ میں مرزا قادیانی کے مقابلہ میں ان کے قصیدہ اعجازیہ سے بہتر قصیدہ جوابیہ پیش کیا گیا ہے جو ١٣٣١ھ میں لکھا گیا تھا۔ مگر بعض وجہ سے اس کے طبع میں دیر ہوئی۔

مرزا قادیانی نے اپنی اردو تمہید جو قصیدہ اعجازیہ کے اوّل میں لکھی ہے اس کے (اعجاز احمدی ص ٢٧، خزائن ج ١٩ ص ١٣٧) میں لکھتے ہیں: ”دیکھو ہم انصاف سے کہتے ہیں کہ متذکرہ بالا کتابوں میں جو حدیثیں ہیں، ان کی دو ٹانگیں تھیں۔ ایک ٹانگ مہدی والی سو وہ مولوی محمد حسین صاحب نے توڑ دی۔ اب دوسری ٹانگ مسیح کی آسمان سے اترنے کی ہم توڑ دیتے ہیں۔“

اب حضرات ناظرین اہل علم کی خدمت میں التماس ہے کہ مرزا قادیانی کے قصیدہ اعجازیہ کو پیش نظر رکھ کر انصاف کی عینک لگا کر بغور ملاحظہ فرمائیں اور مقابلہ کر کے دیکھیں کہ مرزا قادیانی کے اعجاز کی رہی سہی دوسری مفلوج ٹانگ اس قصیدہ جوابیہ نے توڑ دی اور ایک ٹانگ ان کے اعجاز کی تو اس کے پہلے حصہ نے صرفی، نحوی، عروضی، قوافی وغیرہ کی غلطیاں دکھا کر اس کے قبل توڑ دی تھی۔ ایسی حالت میں مرزا قادیانی کے اعجاز کا وجود موہوم اب لنجہ بیمار جان بلب کی طرح دم توڑ رہا ہے۔ بلکہ ناظرین اہل انصاف کی نظر میں سڑے اور گلے ہوئے مردہ سے بدتر ہے۔ فللّه الحمد! الملتمس غنیمت حسین مخدوم چشتی مونگیری ١٣٣٧ھ

صفحہ ٢٥٦

ضروری گزارش

حضور اقدس وانور ﷺ نے بوجہ غایت شفقت ورافت ان تمام فتنوں سے جو قیامت تک آنے والے ہیں متنبہ کر کے ان سے بچنے کی سخت تاکید فرمائی ہے۔ چنانچہ ایک فتنہ عظیم کی خبر احادیث صحیحہ میں یہ ہے کہ قیامت آنے سے پہلے میری امت میں سے بہت سے جھوٹے دجال پیدا ہوں گے جو کہیں گے ”ہم نبی ہیں“ ان سے اجتناب کرو اور بچو۔ میں آخری نبی ہوں۔ میرے بعد کوئی نبی نہ ہوگا۔ باوجود اس ارشاد نبوی ﷺ کے لوگ اس فتنہ میں مبتلا ہورہے ہیں۔ اس کی وجہ کم علمی اور نا فہمی ہے۔ جھوٹے مدعیان نبوت کا سلسلہ اوّل ہی صدی میں شروع ہو گیا تھا۔ یہ لوگ بڑے لسان و چرب زبان تھے۔ قریباً ان سب نے حضور اقدس وانور ﷺ کی رسالت و نبوت کو قائم رکھ کر اور اپنے کو حضور کا امتی ہونا ظاہر کر کے اپنے کو نبی اور رسول اور مسیح موعود اور مامور من اللہ وغیرہ قرار دیا ہے۔ تمام آیات قرآن پاک اور احادیث نبویہ جو ان کی جھوٹی نبوت ورسالت کو باطل کرتی ہیں ان کی من گھڑت معنی بنائے اور تاویلات باطلہ کر کے اپنے ادعا کو ثابت کرنے کی کوشش کی۔

خاتم النبیین کا مطلب ایسا گھڑا کہ ان کذاب نبیوں کی نبوت ان کے زعم باطل میں نہ ٹوٹے۔ غرض یہ کذاب مفتری دجال مدعیان نبوت ورسالت بہت کچھ مصالحہ تحریف مضامین قرآن پاک وتغیر مطالب احادیث صاحب لولاک ﷺ کا جمع کر گئے ہیں۔ ہر زمانہ میں جو ایسے جھوٹے مدعی نبوت ہوئے ان کی تردید حضرات علماء کرام بخوبی کرتے رہے جن کے حالات کتب تواریخ وسیر میں موجود ہیں۔ مگر زبان عربی سے اس زمانہ میں واقفیت کم ہوگئی ہے۔ اس لئے ہند کے مسلمان کم واقف ہیں اور یہ ناواقفیت اور بھی ایسے فتنوں میں پھنسنے کا سبب ہوتی ہے۔ ہمارے زمانہ میں بھی مرزائی قادیانی نے خروج کیا اور اپنے زعم باطلہ اور دعاوی فاسدہ سے مجدد، محدث، مامور من اللہ، رسول اللہ، نبی اللہ، مسیح موعود، مہدی مسعود، مثل ابن اللہ وغیرہ وغیرہ ہونے کا دعویٰ کیا اور پہلے جھوٹے نبی جو مصالحہ ومادہ تحریفات مضامین کا جمع کر گئے تھے۔ ان سے مرزا قادیانی پورے مستفید ہوئے اور ”یحرفون الکلم عن مواضعہ“ کے مصداق بنے۔ انہوں نے بجز ان طریقوں کے جو پہلے جھوٹے نبی نکال گئے تھے اور بیان کر گئے تھے، کوئی نئی بات نہیں نکالی۔ بلکہ ان کا تتبع جدید عنوانات کے ساتھ کیا ہے (جو صاحب اس کو تفصیل سے دیکھنا چاہیں وہ کتاب افادة الافہام حصہ اول مطبع انوار المعارف مدرسہ نظامیہ حیدرآباد دکن سے جو قریباً ڈھائی روپیہ کی ملے گی، منگا کر ملاحظہ کریں)

٩٨

صفحہ ٢٥٧

غرض مرزا قادیانی نے ناواقف مسلمانوں کو طرح طرح کی ترکیبوں سے اپنے فتنہ میں پھانسا۔ حضرات علماء کرام نے ان کی تردید میں کوشش بلیغ کی اور ان کا نبی کاذب ہونا ثابت کر دیا۔ جو لوگ کہ حضرات علماء کرام کی تصانیف نہیں دیکھتے یا ان کے مضامین سے واقفیت نہیں حاصل کرتے اس فتنہ میں ان کے پھنس جانے کا اندیشہ ہوسکتا ہے۔ کیونکہ جو لوگ دین میں کماحقہ آگاہی نہیں رکھتے ان کا ایسی شاطر چالوں اور فریبوں سے بچنا مشکل ہے، جو ان لوگوں کی تحریر و تقریر میں کی جاتی ہیں۔ اس لئے ان ماہرین علماء سے مدد لینے کی ضرورت ہے جنہوں نے ان کے مکر و فریبوں پر آگاہی حاصل کی ہے۔ خود مرزا قادیانی کی تصانیف میں ایسا کثیر اختلاف ان کی مزعومہ ادعا کی نسبت ہے جس سے ان کا کاذب ہونا پورے طور پر ثابت ہے۔ جنہوں نے غور سے ان کی تصانیف دیکھی ہیں اور دین سے بھی واقف ہیں۔ وہ اس کو بخوبی جانتے ہیں۔ مسلمانوں کو دین حق پر قائم رکھنے میں سعی کرنا فرض کفایہ ہے۔ اگر کسی جگہ ایک شخص بھی ایسی سعی نہ کرے اور سب غافل رہیں تو سب گنہگار ہوں گے۔ پس جہاں کہیں بھی اس دجالی فتنہ کا اثر پہنچا ہے یا پہنچنے کا اندیشہ ہے وہاں کے ذی ہمت لوگوں کو چاہئے کہ اس فرقہ باطلہ کے رد کی کتب منگائیں جہاں ایسے ذی ہمت اشخاص نہ ہوں وہاں کے مسلمانوں کو چاہئے کہ آپس میں چندہ کر کے کتب منگائیں۔ اُس خریداری کتب میں اپنا نفع بھی ہے۔ دوسرے فرقہ ضالہ کی رد میں کتب چھپنے میں مدد ہوگی جو نہایت ضروری ہے۔ اس گروہ باطلہ کی طرف سے شہر و قصبات میں مبلغین گمراہ کرنے جاتے ہیں۔ مسلمانوں کو چاہئے جہاں ان کے آنے کی خبر ہو وہاں آپس میں چندہ مصارف وغیرہ کے لئے کر کے کسی عالم حقانی کو بلا دیں تا کہ ان کے اغوا سے لوگ بچیں۔ ہم مسلمانوں کی خیر خواہی کے لئے ان حضرات علماء کے اسم گرامی درج کرتے ہیں جو اس فرقہ قادیانی کی تردید میں ہمہ تن ساعی ہیں اور بوقت ضرورت ان حضرات سے خط و کتابت کر کے کتب منگائی جائیں۔ اس فرقہ کی تردید کے لئے کسی بزرگ کو بلایا جاوے مگر مصارف وغیرہ کا انتظام پہلے کر لینا چاہئے۔

مونگیر خانقاہ رحمانی حضرت سیدنا ومولانا مولوی شاہ سید محمد علی صاحب

آپ نے کثرت سے کتب قادیانیوں کے رد میں نہایت مدلل چھپوائی ہیں جو بہت مفید ہیں۔ ان کو منگا کر دیکھنا چاہئے۔ آپ کی توجہ عالی سے بہار میں قادیانیوں کا فتنہ بہت دب گیا۔ آپ کے مرید علماء میں متعدد حضرات ایسے ہیں جو اس گروہ باطلہ کی تردید باحسن طریق کرتے ہیں۔ جہاں ضرورت ہو وہاں کے لوگوں کو چاہئے کہ حضرت سے استدعا کر کے کسی بزرگ کو بلائیں اور کتب منگائیں۔

٩٩

صفحہ ٢٥٨

لاہور بھاٹی دروازہ مولوی پیر بخش صاحب سیکرٹری انجمن تائید الاسلام

یہ انجمن خاص قادیانیوں کی تردید کے لئے قائم ہے۔ مفید کتب اس انجمن سے شائع ہوئی ہیں۔ ایک ماہوار رسالہ انجمن سے شائع ہوتا ہے۔ ایک روپیہ سالانہ قیمت ہے۔ اس کو خریدنا چاہئے۔ مولوی پیر بخش صاحب قادیانیوں سے مباحثہ کا اچھا تجربہ رکھتے ہیں اور بلایا جاوے تو غالباً جا بھی سکتے ہیں۔

لکھنؤ پاٹا نالہ مولوی محمد عبدالشکور صاحب مدیر رسالہ النجم

آپ کو مباحثہ میں خوب مہارت ہے اور بلانے پر تشریف بھی لے جاتے ہیں۔

مراد آباد مدرسہ امدادیہ مولوی سید مرتضیٰ حسن صاحب مدرس مدرسہ

اگر کسی قادیانی سے مباحثہ کی ضرورت ہو تو آپ اس کام کو اچھی طرح انجام دے سکتے ہیں اور بلانے پر تشریف بھی لے جاسکتے ہیں۔

امرتسر مولوی ثناء اللہ فاتح قادیان

آپ نے متعدد جگہ قادیانیوں سے مباحثہ کر کے فتح حاصل کی ہے اور اس فرقہ سے رقم ہرجانہ بھی لی۔ اس فرقہ کے مکر و فریب اور چال بازیوں سے خوب واقف ہیں۔ متعدد کتابیں بھی ان کی رد کی چھاپی ہیں اور ضرورت کے وقت ممکن ہوتا ہے تو جاتے ہیں۔

ریاست پٹیالہ جناب ڈاکٹر محمد عبدالحکیم خان صاحب ایم. بی

آپ نے قادیانی فتنہ کا خوب قلع قمع کیا ہے۔ آپ کی کتابیں قابل دید ہیں۔ باوجود اشتہار انعام پانچ ہزار روپیہ کے کوئی مرزائی جواب نہ دے سکا۔ الحکیم نمبر ٤، ٦ اَسجُ الدجال مرزائیوں پر قطع حجت جو بارہ آنے میں آویں گے مبارک احمد صاحب منیجر کتب ڈاکٹر عبدالحکیم صاحب ریاست پٹیالہ سے منگائیے۔

ان حضرات کے علاوہ اور بھی حضرات اس فتنہ کے دور کرنے میں ساعی ہیں۔ خدائے عزوجل سب کو جزائے خیر عطاء کریں اور اللہ پاک جل شانہ اس فتنہ و ابتلاء سے مسلمانوں کو بچاویں۔ آمین یا رب العباد! ملتمس محمد نورالحسن خان مہتمم مدرسہ جامع العلوم واقع مسجد جامع کانپور

(نوٹ: تمام متذکرہ بالا کتب بحمدہ تعالیٰ ”احتساب قادیانیت“ میں چھپ گئی ہیں۔ یہ اعلان محض اس لئے دے دیا کہ قارئین کو اس زمانہ کے حالات سے آگاہی ہو۔

فقط: فقیر اللہ وسایا

٧ محرم ١٤٣٦ھ، مطابق یکم نومبر ٢٠١٤ء ملتان)

١٠٠

PDF 260

خاتم النبيين لا نبي بعدي

سیدنا ومولانا محمد صلی اللہ علیہ وسلم

حقیقت

رسائل اعجازیہ

حضرت مولانا سید محمد علی مونگیریؒ

صفحہ ٢٦٠

بسم الله الرحمن الرحیم نحمدہ اللہ العلی العظیم ونصلی علی رسولہ الکریم!

مسلمانوں کو ہوشیار ہو کر متوجہ ہونا چاہئے کہ اس وقت کے فتنوں میں مرزا غلام احمد قادیانی کا بڑا فتنہ ہے۔ اس خاکسار نے باوجود ضعف و ناتوانی کے متعدد رسالوں میں انکا جھوٹا ہونا نہایت روشن دلیلوں سے ثابت کر کے دکھایا ہے۔ مگر دیکھتا ہوں کہ زمانے کی تاریکی اور کفر والحاد کی ظلمت نے دلوں کو تاریک کر دیا ہے۔ دینی امور کی ضرورت انہیں نظر نہیں آتی۔ اکثر حضرات کو اس طرف توجہ ہی نہیں ہے۔ بہر حال اہل علم خدا ترس کا جو فرض ہے وہ حتی الوسع ادا کیا گیا اور کیا جاتا ہے۔ رسالہ ”فیصلہ آسمانی“ میں کامل طور سے دکھایا گیا کہ مرزا قادیانی کی پیشین گوئیاں جھوٹی ہوئیں اور ایسی یقینی جھوٹی ہوئیں کہ کوئی شک وشبہ اس میں نہیں رہا۔ خصوصاً منکوحہ آسمانی والی پیشین گوئی جسے مرزا قادیانی نے اپنی صداقت کا نہایت ہی عظیم الشان نشان قرار دیا تھا اور تقریباً بیس برس تک اس کے ظہور کے متمنی رہے مگر وہ پیشین گوئی پوری نہ ہوئی اور قرآن مجید کی صریح آیتوں سے اور توریت مقدس کے صریح بیان سے مرزا قادیانی جھوٹے ثابت ہوئے۔ اس کا کامل ثبوت فیصلہ آسمانی کے سارے حصہ میں اور کچھ تیسرے حصہ میں کیا گیا ہے۔ دوسرے اور تیسرے حصہ میں ان کے رسائل اعجازیہ کا ذکر بھی آگیا تھا۔ ان کی حالت بھی دکھائی گئی اور ثابت کر دیا گیا کہ جس طرح منکوحہ آسمانی والا معجزہ جھوٹا ثابت ہوا۔ اسی طرح یہ بھی جھوٹا ہے۔ مگر چونکہ ان کی حالت ایک بڑے رسالے کے ضمن میں بیان ہوئی ہے۔ اس لئے یہ امید کم ہے کہ مسلمانوں کی پوری توجہ اس طرف ہو۔ اب میں برادران اسلام کی آسانی کے لئے اس مضمون کو علیحدہ کر کے طالبان حق کو دکھانا چاہتا ہوں۔ مرزا قادیانی نے دو رسالے لکھے ہیں ایک کا نام ”اعجاز احمدی“ اور دوسرے کا نام ”اعجاز المسیح“ ہے۔ اس سے مقصد یہ ہے کہ جس طرح جناب رسول اللہ ﷺ کا معجزہ قرآن مجید ہے کہ اس کے مثل کوئی نہیں لاسکتا۔ اسی طرح مرزا قادیانی کہتے ہیں کہ میرا معجزہ یہ دو رسالے ہیں۔ ایک نظم اور ایک نثر۔ اس رسالہ میں ان کی واقعی حالت پیش کر کے مسلمانوں کو آگاہ کیا جاتا ہے کہ جس طرح وہ ”آسمانی نکاح“ اس کے کاذب ہونے کا کامل نشان ہوا اسی طرح یہ دونوں رسالے متعدد طور سے ان کے کاذب ہونے کی دلیل ہیں اور انہیں کامل جھوٹا اور فریبی ثابت کرتے ہیں۔ براہ مہربانی تحقیق اور حق پسندی کی نظر سے ملاحظہ کریں۔

٢

ناظرین! ان دونوں رسالوں کو محض فریب دینا ہے۔ یہ دونوں رسالے مرزا قادیانی ہونے کی نہایت روشن دلیل ہیں اور ایک طر ملاحظہ کریں۔ ان دونوں رسالوں کی نسبت ک اللہ ﷺ کا معجزہ ہے کہ آپ نے عرب وعجم کے کہہ دیا کہ تم ہرگز نہ لاسکو گے اور ایسا ہی ہوا کہ ک یہ دو رسالے پیش کئے ایک نظم، دوسرا نثر اور ایسا د مناظرہ مونگیر کی کیفیت میں جو انہو مجید کی آیتیں پیش کی ہیں ان میں وہ آیت بھی میں پیش کی تھی۔ یعنی آیت ”وان کنتم فی مثلہ (بقرہ: ٢٣) “ (یعنی اللہ تعالیٰ اپنے تمام مجید کے کلام الٰہی ہونے میں شک ہے تو اس کی جناب رسول اللہ ﷺ کے وہ صفا تھے ان میں مرزا قادیانی نے کہیں برابری کا ا کلام الٰہی ہدایت خلق کے لئے پیش کیا اس کے فرما دیا کہ تم کسی وقت اور کسی طرح اس کے مثل یہ امر بھی غور کے لائق ہے کہ حضو صداقت میں پیش نہیں فرمایا۔ کیونکہ منکر متعص دینا آسان ہے اور ایسا ہی کفار نے کہا مگر اس اس میں دعویٰ کیا مگر مرزا قادیانی اپنے باطل خیا اظہار اسے مدنظر ہے۔ اس دعوے سے مرزا صرف ایک کتاب نثر میں جواب کے لئے پی جواب نہیں دے سکتا۔ یعنی میں اس میں بھی خو مرزا قادیانی کے مدعیہ اشعار اور غلامی کا دعویٰ بیان سے انہیں یہ تعجب جاتا رہے گا۔ یہاں حق مرزائی اور اعجاز محمدی میں فرق ملاحظہ کریں۔

صفحہ ٢٦١

ناظرین! ان دونوں رسالوں کو معجزہ کہنا اور ان سے اپنی صداقت ثابت کرنا، عوام کو فریب دینا ہے۔ یہ دونوں رسالے مرزا قادیانی کے لئے معجزہ ہرگز نہیں ہو سکتے۔ بلکہ ان کے جھوٹا ہونے کی نہایت روشن دلیل ہیں اور ایک طریقہ سے نہیں بلکہ کئی طریقوں سے، اہل حق غور سے ملاحظہ کریں۔ ان دونوں رسالوں کی نسبت کہا جاتا ہے کہ جس طرح قرآن مجید جناب رسول اللہ ﷺ کا معجزہ ہے کہ آپ نے عرب و عجم کے روبرو پیش کر کے فرمایا کہ اس کے مثل لاؤ اور پھر یہ کہہ دیا کہ تم ہرگز نہ لاسکو گے اور ایسا ہی ہوا کہ کوئی اس کے مثل نہ لا سکا۔ اسی طرح مرزا قادیانی نے یہ دو رسالے پیش کئے ایک نظم، دوسرا نثر اور ایسا ہی دعویٰ کیا اور کوئی ان دونوں کے مثل نہ لا سکا۔

مناظرہ مونگیر کی کیفیت میں جو انہوں نے مرزا قادیانی کی نبوت کے ثبوت میں قرآن مجید کی آیتیں پیش کی ہیں ان میں وہ آیت بھی ہے جو رسول اللہ ﷺ نے اپنی رسالت کے دعویٰ میں پیش کی تھی۔ یعنی آیت ”وان كنتم في ريب مما نزلنا على عبدنا فاتوا بسورة من مثله (بقرہ:٢٣)“ یعنی اللہ تعالیٰ اپنے تمام بندوں کو خطاب کر کے فرماتا ہے کہ اگر تمہیں قرآن مجید کے کلام الٰہی ہونے میں شک ہے تو اس کی ایک ہی سورت کی مثل تم بنالاؤ۔ ﴾

جناب رسول اللہ ﷺ کے وہ صفات کاملہ جو آپ ﷺ کی ذات مقدس سے مخصوص تھے ان میں مرزا قادیانی نے کہیں برابری کا اور کہیں تفوق کا دعویٰ کیا ہے۔ حضور انور ﷺ نے جو کلام الٰہی ہدایت خلق کے لئے پیش کیا اس کے بے مثل ہونے کا دعویٰ کیا اور یہ بھی نہایت زور سے فرمادیا کہ تم کسی وقت اور کسی طرح اس کے مثل نہیں لا سکتے۔

یہ امر بھی غور کے لائق ہے کہ حضور انور ﷺ نے کسی معجزے یا کسی پیشین گوئی کو اپنی صداقت میں پیش نہیں فرمایا۔ کیونکہ منکر متعصب ہر ایک میں احتمال نکال سکتا ہے۔ کم سے کم ساحر کہہ دینا آسان ہے اور ایسا ہی کفار نے کہا مگر اس معجزے میں کوئی جائے دم زدن نہیں ہے۔ اس لئے اس میں دعویٰ کیا مگر مرزا قادیانی اپنے باطل خیال میں اس کو غلط ثابت کرنا چاہتا ہے اور اپنے تفوق کا اظہار اسے مدنظر ہے۔ اس دعوے سے مرزا قادیانی کا مقصود یہ ہے کہ مسلمانوں کے پیغمبر نے تو صرف ایک کتاب نثر میں جواب کے لئے پیش کی تھی۔ میں نظم اور نثر دونوں پیش کرتا ہوں اور کوئی جواب نہیں دے سکتا۔ یعنی میں اس میں بھی پیغمبر اسلام سے بڑھ گیا ہوں۔ یہاں جن حضرات نے مرزا قادیانی کے مدحیہ اشعار اور غلامی کا دعویٰ دیکھا ہوگا انہیں اس بیان سے تعجب ہوگا۔ مگر آئندہ بیان سے انہیں یہ تعجب جاتا رہے گا۔ یہاں حق پسند حضرات کامل طور سے توجہ فرمائیں اور اس فریب مرزائی اور اعجاز محمدیؐ میں فرق ملاحظہ کریں۔ یہاں کئی باتیں میں کہنا چاہتا ہوں:

٣

صفحہ ٢٦٢

اہل عرب ، کلام کی فصاحت و بلاغت میں اعلیٰ درجہ کا کمال رکھتے ہیں اور شب و روز انہیں فصیح و بلیغ نظم و نثر لکھنے کا مشغلہ ہے اور مضامین لکھ کر ایک دوسرے پر فخر اور مباہات کیا کرتے ہیں اور دوسرے ملک کے لوگوں کو عجم کہتے ہیں۔ یعنی بے زبان ”گونگے“ اس لئے ایسے وقت میں ان کاملین فصحاء کے مقابلہ میں ایک ایسا شخص دعویٰ کرے جو معمولی طور سے بھی کچھ پڑھا لکھا نہ ہو اور پھر وہ فصحائے عرب جن کی حالت ابھی بیان کی گئی اس کے جواب سے عاجز ہو جائیں اور ان کی غیرت و حمیت اور اس فن میں دعویٰ فضل و کمال انہیں جواب لکھنے کی ہمت نہ دے۔

یہ بلاشک و شبہ بدیہی طور سے نہایت عظیم الشان معجزہ ہے اور ایسا معجزہ ہے کہ سخن شناس فصحاء کسی احتمال سے بھی اس کو غلط نہیں کہہ سکتے تھے۔ کیونکہ قرآن شریف کی عبارت اور اس کے مضامین عالیہ ان کے پیش نظر تھے۔ وہ مہر سکوت ان کے منہ پر لگا رہے تھے اور مرزائیوں کی طرح بے شرم بھی نہ تھے۔ پھر اس کا معجزہ ہونا ایک طور سے نہیں بلکہ کئی طور سے ہے۔

مقنن ایسی کامل ہدایت کی باتیں اور پبلک کے لئے مفید قانون نہیں بنا سکتا اور پھر وہ قانون بھی ایسا ہو جو کسی وقت لائق منسوخ ہونے کے نہ ہو۔ یہ صفت صرف قرآن مجید ہی میں ہے اور اس کا اقرار بڑے بڑے عقلاء مخالفین اسلام نے بھی کیا ہے۔ اس کے علاوہ قرآن مجید کا یہ دعویٰ کسی وقت اور کسی شخص سے خاص نہیں ہے۔ یعنی کوئی شخص خود لکھ کر پیش کرے یا کسی دوسرے کا لکھا ہوا ہو اور کسی وقت کا لکھا ہو وہ سامنے لائے یا آئندہ کوئی لکھے۔ مگر اس وقت اہل زبان نہ اپنا کلام پیش کر سکے نہ اپنی کسی گذشتہ بزرگ کی تحریر اس کے مثل دکھا سکے اور اب تیرہ سو برس سے زیادہ ہو گیا مگر کوئی مخالف اس کے مثل نہ لا سکا۔ ایسے کلام کے لئے آیت مذکورہ میں دعویٰ کیا گیا ہے۔ مرزائیوں کو شرم نہیں کہ مرزا قادیانی کے ان رسالوں کے لئے یہ آیت پیش کی جاتی ہے جن میں سینکڑوں غلطیاں الفاظ کی ہوں اور وہ دوسروں سے لکھوایا جائے۔ اس کے مقابل میں متعدد رسالے اور قصیدے ان سے نہایت اعلیٰ موجود ہیں۔

تھے اور یہ بدیہی بات ہے کہ ایسا شخص ایسی بے نظیر کتاب نہیں بنا سکتا جیسا قرآن مجید ہے۔ یہ

٤

انسانی طاقت سے باہر ہے۔ مرزا قادیانی ایسے

والے کامل طور سے جانتے تھے اور اس کے ج زبان کی فصاحت و بلاغت انسانی کمال کے لحا نے ایسا نہیں کیا۔ اگر اردو میں لکھ کر دعویٰ ک انکشاف ہو جاتا۔ اب رہی عربی کی عبارت ، اور نہ اس قدر توجہ علماء کو ہے جیسی اس وقت عربی

ہی نہ تھا بلکہ اسے مایہ فخر سمجھتے تھے۔

مرزا قادیانی کے وقت میں یہ ہرگز نہ تھا۔ اب کا ثبوت نہیں ہو سکتا۔

زیادہ کمال میں نہیں دیکھ سکتا تھا اور اپنی عمدہ نظ بعض وقت یہ دعویٰ بھی کرتے تھے کہ کوئی اس پاک کا نزول شروع ہوا ہے اس وقت اس خانہ کعبہ پر لٹکے ہوئے تھے اور جب قرآن گئے۔ اس بنیاد پر کہ قرآن مجید نے ان کی فض رہے کہ قرآن مجید کے مقابلہ میں انہیں خام ان عربوں کے مقابلہ میں جن کا مایہ ناز فصیح اور اس کے ساتھ یہ بھی کہہ دیا گیا کہ تم ہرگز وسیع رکھا گیا تھا۔ نہ اس کے لئے کوئی میعا لکھے۔ گذشتہ کا لکھا ہوا نہ ہو۔ بلکہ الفاظ آی

پیش کرو۔ (٢) یا آئندہ کسی وقت کوئی لکھے جواب ہو بلکہ اس کی ایک ہی سورت کا جواب

صفحہ ٢٦٣

والے کامل طور سے جانتے تھے اور اس کے جاننے کا انہیں دعویٰ تھا اور اس دعویٰ کے وقت اس زبان کی فصاحت و بلاغت انسانی کمال کے لحاظ سے نہایت اعلیٰ درجہ پر پہنچی ہوئی تھی۔ مرزا قادیانی نے ایسا نہیں کیا۔ اگر اردو میں لکھ کر دعویٰ کرتے تو فصحائے ہند پر بالمعائنہ ان کی فصاحت کا انکشاف ہو جاتا۔ اب رہی عربی کی عبارت، نہ اس کا حال ویسا ہے جیسا کہ عرب کی جاہلیت میں تھا اور نہ اس قدر توجہ علماء کو ہے جیسی اس وقت عرب کو تھی۔

ہی نہ تھا بلکہ اسے مایہ فخر سمجھتے تھے۔

مرزا قادیانی کے وقت میں یہ ہرگز نہ تھا۔ اب اگر ان کے رسالوں کی طرف کوئی توجہ نہ کرے تو اعجاز کا ثبوت نہیں ہو سکتا۔

زیادہ کمال میں نہیں دیکھ سکتا تھا اور اپنی عمدہ نظم و نثر کو دعویٰ کے ساتھ عام جلسوں میں پڑھتے تھے اور بعض وقت یہ دعویٰ بھی کرتے تھے کہ کوئی اس کے مثل لائے۔ جس وقت حضور انور ﷺ پر قرآن پاک کا نزول شروع ہوا ہے اس وقت اس قسم کے سات قصیدے سات شخصوں کے لکھے ہوئے خانہ کعبہ پر لٹکے ہوئے تھے اور جب قرآن مجید کی فصاحت و بلاغت کو دیکھا تو وہ قصائد اتار لئے گئے۔ اس بنیاد پر کہ قرآن مجید نے ان کی فصاحت و بلاغت کو گرد آلود کر دیا۔ اب وہ اس لائق نہ رہے کہ قرآن مجید کے مقابلہ میں انہیں خانہ کعبہ پر لٹکا کر ان پر دعویٰ کیا جائے۔ ایسے وقت میں ان عربوں کے مقابلہ میں جن کا مایہ ناز فصیح و بلیغ عبارت کا لکھنا تھا۔ قرآن مجید کا یہ دعویٰ پیش ہوا اور اس کے ساتھ یہ بھی کہہ دیا گیا کہ تم ہرگز نہ لا سکو گے۔ باوجود یکہ جواب کے لئے میدان نہایت وسیع رکھا گیا تھا۔ نہ اس کے لئے کوئی میعاد معین کی تھی نہ کسی زمانی کی تخصیص تھی کہ آئندہ کوئی لکھے۔ گذشتہ کا لکھا ہوا نہ ہو۔ بلکہ الفاظ آیت کا عموم صاف طور سے یہ مطلب بتا رہا ہے۔

پیش کرو۔ (٣) یا آئندہ کسی وقت کوئی لکھے۔ (٤) اور یہ بھی ضرور نہیں۔ (٥) کہ سارے قرآن کا جواب ہو بلکہ اس کی ایک ہی سورت کا جواب لاؤ۔ غرضیکہ قرآنی تحدّی ایسی عام ہے کہ مذکورہ پانچ

٥

صفحہ ٢٦٤

حالتیں اس میں داخل ہیں۔

اب غور کیا جائے کہ ان امور کے ساتھ ان مخالفین عرب سے جواب کا طلب کرنا کس قدر غیظ و غضب کا باعث ہو سکتا ہے اور اپنی طبعی حالت کی وجہ سے انہیں کس قدر جواب دینے کا جوش ہوا ہوگا؟ مگر چونکہ کلام کی فصاحت و بلاغت میں کامل مہارت رکھتے تھے۔ اس لئے اپنے آپ کو عاجز سمجھے، نہ خود جواب دیا اور نہ کسی دوسرے کا کلام پیش کیا اور نہ اس تیرہ سو برس کے عرصہ میں کوئی پیش کر سکا۔ تمام دنیا کے مخالفین عاجز رہے۔ اس وجہ سے قرآن مجید معجزہ باہرہ اور اعجاز بینہ ٹھہرا اور اس کے اعجاز میں کسی طرح کا شبہ نہ رہا۔ اسی لئے جناب رسول اللہ ﷺ نے اپنے دعوے کی صداقت میں اسے پیش کیا اور ارشاد خداوندی ہوا۔ ”فاتوا بسورة من مثله“ یعنی اس وقت کفار قریش سے کہا کہ اگر تمہیں قرآن کے کلام الہی ہونے میں شک ہے تو اس کی ایک ہی سورت کے مثل لے آؤ۔ مگر کوئی نہ لا سکا اور کسی طرح کا کوئی شبہ نہ کر سکا۔ اب اس آیت کو مرزا قادیانی کے رسالوں کے لئے پیش کرنا محض غلط اور صریح فریب ہے۔ ان کے اعجازی رسالوں کی حالت ملاحظہ کیجئے کہ متعدد طریقوں سے ان کا دعوی اعجاز غلط ہے اور اعلانیہ فریب ثابت ہوتا ہے۔ اوّل تو یہ دیکھا جائے کہ یہ چھ باتیں جو قرآن مجید کے دعوے کے وقت تھیں مرزا قادیانی کے وقت ان میں سے ایک بات بھی تھی؟ ہرگز نہیں۔

رسالوں کے معجزہ نہ ہونے کی پہلی دلیل

مرزا قادیانی امی نہ تھے، اچھے لکھے پڑھے تھے اور ان کے مقابلہ کے علماء جن میں ان کا نشوونما ہوا تھا انہیں عربی عبارت لکھنے کا شوق تو کیا توجہ بھی نہ تھی اور یہ تو بڑی بات تھی کہ کمال درجہ فصیح و بلیغ عبارت لکھنے کا خیال ہو اور لکھنے کا مشغلہ رکھتے ہوں۔ ایسی حالت میں اگر کسی کو عربی ادب سے طبعی مناسبت ہو تو تھوڑی توجہ سے وہ ایسی عبارت لکھ سکتا ہے کہ دوسرے نہیں لکھ سکتے۔ خصوصاً جس وقت یہ لکھنے والا دوسروں کے لئے میعاد مقرر کر دے اور وہ میعاد بھی اس قدر کم ہو کہ مشاق لکھنے والے کو بھی لکھنا اور چھپوا کر بھیج دینا اس کی وسعت سے باہر ہو۔ نہایت ظاہر ہے کہ اگر ایسی حالت میں کوئی جواب نہ دے تو اس شخص کی عربی تحریر معجزہ کسی طرح نہیں ہو سکتی۔ اس کی ایسی مثال ہے کہ ایک معمولی مولوی صاحب زبان فارسی یا اردو میں رسالہ لکھ کر اپنے قریب کے دیہات میں پیش کر کے یہ کہیں کہ ہم نے جیسا یہ رسالہ لکھا ہے تم تو ایسا لکھ دو۔ وہاں اگر چہ پڑھے لکھے اشخاص بھی ہوں۔ مگر اس طرح کا رسالہ نہیں لکھ سکتے۔ مگر اس سے اس کا اعجاز ثابت نہیں ہوسکتا۔ اب مرزا قادیانی کے رسالوں کا جواب نہ لکھنے کے متعدد وجوہ ہو سکتے ہیں۔ مثلاً:

صفحہ ٢٦٥

رسالوں کے معجزہ نہ ہونے کی دوسری وجہ

میعاد کے بعد بھیجنا بے کار سمجھے اس لئے نہیں لکھا۔ یہ ایسی بدیہی باتیں ہیں کہ کوئی صاحب عقل انکار نہیں کر سکتا۔ یہ وجہ ہے مذکورہ رسالوں کے معجزہ نہ ہونے کی اور نہایت پکی اور قوی وجہ ہے۔

ہندوستان میں عربی تحریر کا مذاق کسی ذی علم کو نہ تھا۔ مرزا قادیانی اس فن میں اس وقت کے لحاظ سے اپنا مثل نہیں رکھتے تھے۔ میری یہ غرض ہر گز نہیں ہے بلکہ اکثر اہل علم کے لحاظ سے کہا گیا ہے کہ انہیں عربی نظم ونثر کی طرف توجہ نہیں تھی۔ جن حضرات کو عربی تحریر کا مذاق ہے اور عربی نظم ونثر میں کسی قدر کمال رکھتے ہیں یا رکھتے تھے۔ وہ مرزا قادیانی کی نظم ونثر سے بدرجہا زائد عمدہ عبارت لکھتے تھے اور اب لکھ سکتے ہیں۔ ان کی توجہ نہ کرنے کی نہایت روشن وجوہ بھی موجود ہیں۔ اس میں شبہ نہیں کہ وہ توجہ اور وہ ذوق جو اہل عرب کو اس وقت تھا وہ اس وقت کسی کو نہیں ہے اور نہ اس طرح کا مشغلہ کسی کا سنا گیا۔ جیسا کہ اہل عرب کو تھا۔ مگر اس فن میں ایک حد تک کمال رکھنے والے موجود ہیں اور اس وقت بھی موجود تھے۔ مگر نہایت ظاہر ہے کہ اہل کمال جسے اس فن میں لائق نہیں سمجھتے اس کی تحریر کو ردی کی طرح پھینک دیتے ہیں اور اس طرف توجہ کرنے کو ننگ وعار سمجھتے ہیں۔ اس لئے انہوں نے توجہ نہ کی۔ البتہ یہ کہنا کہ مرزا قادیانی کے دعوے کے باطل کرنے کے لئے لکھنا ضرور تھا۔ صرف اس لئے لکھتے کہ مخلوق اس غلطی میں نہ پڑے۔ یہ کہنا میرے خیال میں کسی قدر صحیح ہے۔ مگر اس پر نظر کرنا ضرور ہے کہ یہ توجہ اسی وقت ہو سکتی ہے کہ علماء کے قلب میں مرزا قادیانی کی اور ان کے دعوے کی کوئی وقعت ہوتی، یا انہیں یہ خیال ہوتا کہ ایسے بے سروپا دعوے سے کوئی گمراہ ہوگا اور جو گمراہ ہونے والے ہیں وہ ہر طرح ہوں گے۔ نہایت ظاہر ہے کہ مرزا قادیانی کے عظیم الشان دعوے غلط ثابت کر دیئے گئے۔ پھر کسی ماننے والے نے اسے مانا؟ ہرگز نہیں۔ ایسا ہی ان رسالوں کے جواب کے بعد بھی ہوتا۔

اب خیال کیجئے کہ منکوحہ آسمانی والے نشان پر کس قدر زور تھا اور تمام عمر اس کے پورا ہونے کا دعویٰ کرتے رہے اور آخر میں تمام دنیا نے دیکھ لیا کہ وہ دعویٰ غلط تھا اور کامل طور سے مرزا قادیانی جھوٹے ثابت ہوئے۔ مگر مرزائیوں نے اس کا کچھ بھی خیال نہیں کیا۔ ایسے ہی یہاں بھی ہوتا۔ ہندوستان کے ادیب اور اہل کمال کے نزدیک مرزا قادیانی کی جو وقعت ہے وہ ذیل کے دو شاہدوں سے معلوم ہو سکتی ہے۔

٧

صفحہ ٢٦٦

مرزا کے قصیدہ اعجازیہ اور تفسیر کی مہمل غیر فصیح ہونے پر دو ادیبوں کی شہادت

پہلا شاہد

ہندوستان میں عربی کے مشہور ادیب مولوی شبلی صاحب نعمانی ہیں۔ ان سے ان دونوں رسالوں کی حالت دریافت کی گئی۔ وہ لکھتے ہیں: ”قادیانی کو عربیت سے مطلق مس نہ تھا۔ ان کا قصیدہ اور تفسیر فاتحہ میں نے خوب دیکھی ہے۔ نہایت جاہلانہ عبارت ہے۔ مصر کے مشہور رسالے نے لوگوں کے اصرار سے اس کی غلطیاں بھی نہایت کثرت سے دکھائی ہیں۔ افسوس تو یہ ہے کہ عربیت اس قدر مفقود ہے کہ قادیانی کو ایسی جرات ہو گئی۔“

(٥؍جولائی ١٩١١ء کا یہ خط ہے)

دوسرا شاہد

مولوی حکیم شاہ محمد حسین صاحب الہ آبادی بھی مشہور عالم ہیں۔ انہیں بھی عربی ادب سے پورا مذاق تھا۔ ان سے کہا گیا کہ اعجاز المسیح کا جواب لکھیں۔ انہوں نے رسالہ منگوایا اور رسالہ کو دیکھ کر کہا کہ اس کا جواب کیا لکھوں؟ جس کتاب میں نہ عمدہ مضامین ہوں، نہ اس کی عبارت فصیح و بلیغ ہو اس کے جواب میں کون ذی علم اپنے اوقات عزیز کو خراب کر سکتا ہے؟ اگر مضامین کچھ عمدہ ہوتے یا عبارت ہی فصیح و بلیغ ہوتی تو اس کے جواب دینے میں دل لگتا۔ غرضیکہ کوئی ادیب ذی علم تو اسکو عمدہ اور فصیح و بلیغ بھی نہیں کہہ سکتا اور معجزہ کہنا تو عظیم الشان بات ہے اور جن میں یہ مادہ ہی نہیں ہے کہ عمدہ مضامین اور معمولی باتوں اور فصیح وغیر فصیح عبارت میں تمیز کر سکیں، یا مرزا قادیانی کی محبت نے ان کی عقل و تمیز کو کھو دیا ہے۔ ان کے لئے اگر سو جواب لکھے جائیں گے تو وہ ہرگز نہ مانیں گے۔ جیسا کہ مرزا قادیانی کی متعدد باتوں میں تجربہ ہو رہا ہے۔ کیسے کیسے صریح اقوال انہیں کے قلم سے لکھے ہوئے ان کے کاذب ہونے کے ثبوت میں پیش کئے جاتے ہیں۔ مگر سوائے بیہودہ باتیں بنانے کے کچھ نہیں کہتے۔ پھر ایسے حضرات کی خیر خواہی میں محنت کرنا بے کار ہے۔ جواب نہ لکھنے کی یہ وجہ دوسرے حصہ میں لکھی گئی ہے۔

اس کے جواب میں حضرات مرزائی دم نہیں مارتے۔ مگر رسالوں کے اعجاز کا دعویٰ کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ کسی نے جواب نہ دیا۔ اے جناب! اگر ہم یہ مان لیں کہ جواب نہیں دیا تو اس سے اعجاز ثابت نہیں ہوتا۔ بلکہ ان رسالوں کی کمال حقارت ثابت ہوتی ہے کہ اہل کمال کے لائق توجہ نہیں ہیں۔ جب ان رسالوں کی یہ حالت ہے تو انسانی نیچر کا اقتضاء یہ ہے کہ ایسی لچر تحریر کی طرف اہل کمال کی توجہ نہ ہو۔ اگرچہ ناواقف کیسا ہی عمدہ اسے سمجھیں۔ مگر اہل کمال اس کی طرف

٨

صفحہ ٢٦٧

توجہ کرنا عار سمجھتے ہیں۔ اس لئے ان رسالوں کی طرف کسی ذی علم صاحب کمال نے توجہ نہ کی۔ یہ ایسی روشن وجہ ہے کہ کوئی حق پسند اس سے انکار نہیں کر سکتا۔ یہ دوسری وجہ ہے ان رسالوں کے جواب نہ لکھے جانے کی۔

اب انہیں معجزہ خیال کرنا کسی صاحب عقل کا کام نہیں ہے۔ یہ کہنا کہ جب یہ رسالے فصیح و بلیغ نہ تھے تو ان کا جواب لکھنا زیادہ آسان تھا۔ پھر کیوں نہ جواب دیا گیا؟ سخت نادانی ہے۔ افسوس ہے کہ جو مرزا قادیانی کے معتقد ہو گئے ہیں۔ ان کی عقل کی حالت بعینہ ایسی ہوگئی ہے۔ جیسے تثلیث پرست عیسائیوں کی کہ دنیا کی باتوں میں اگرچہ وہ کیسے ہی دانشمند اور ذی رائے ہیں۔ مگر تثلیث و کفارہ کے ماننے پر نجات کو منحصر جانتے ہیں اور کیسی ہی یقینی اور روشن دلیلوں سے اسے غلط ثابت کیا گیا اور کیا جاتا ہے۔ مگر وہ اپنے غلط اعتقاد سے ہرگز نہیں ہٹتے۔

اسی طرح مرزائیوں کا حال ہے کہ مرزا قادیانی کے کاذب ہونے کی کیسی روشن اور کھلی کھلی دلیلیں پیش ہورہی ہیں۔ مگر ایک نہیں سنتے اگر کسی کو شبہ ہو اور کسی مرزائی نے کوئی لچر اور مہمل سی بات اس کے جواب میں کہہ دی۔ اسے وہ فوراً ماننے لگتے ہیں اور اہل حق کیسی ہی سچی اور محقق بات کہے۔ مگر وہ خیال بھی نہیں کرتے۔ میں کہہ رہا ہوں کہ اہل کمال کا نیچرل اقتضاء یہ ہے کہ ایسی تحریر کی طرف ان کی توجہ نہیں ہو سکتی۔ بلکہ اس طرف توجہ کرنے کو عار سمجھتے ہیں۔ پھر وہ حضرات کیوں قلم اٹھانے لگے۔ یہی آسانی مانع ہے۔ جس کو مرزا قادیانی نے عوام کے خوش کرنے کے لئے الہام کے پیرایہ میں ظاہر کیا ہے۔ اس بے توجہی سے ان رسالوں کا معجزہ ہونا ثابت نہیں ہو سکتا۔ بلکہ کمال درجہ کی ان کی بے وقعتی ثابت کرتا ہے کہ اہل کمال نے انہیں نہایت نفرت کی نگاہ سے دیکھا اور قابل توجہ نہ سمجھا۔

رسالوں کے معجزہ نہ ہونے کی تیسری وجہ

کے اثر میں ظلمت قلب کا معائنہ کر کے ان کی تحریروں سے اجتناب کرتے ہیں اور بعض تو انہیں مجنون ہی خیال کرتے ہیں اور جو کوئی ان کے جواب کی طرف توجہ کرے اسے روکتے ہیں۔ چنانچہ مؤلف (سوانح احمدی ص ٢٣٧) میں لکھتے ہیں: ”جب یہ کتاب چھپ رہی تھی اس وقت ایک صاحب باشندہ پنجاب جو پہلے مجدد وقت ہونے کے دعویدار تھے اور اب جھٹ پٹ ترقی کر کے مسیح موعود ہونے کے دعویدار ہو بیٹھے۔ پہلے تو اس دعوے کو خلاف اپنے اعتقاد قدیم کے دیکھ کر مجھ کو بھی تعجب ہوا تھا مگر دیکھنے سے معلوم ہوا کہ مسیح موعود بنی آدم میں ایک فرد واحد ہے۔ اس کا ثانی نہ آج

٩

صفحہ ٢٦٨

تک کوئی پیدا ہوا اور نہ آئندہ پیدا ہوگا۔ ان کا یہ کہنا کہ میں مسیح موعود ہوں۔ مجھ کو قبول کرو ٹھیک ایسا ہی ہے جیسا کہ ایک دیوانہ آدمی یہ کہے کہ میں ہندوستان کا بادشاہ ہوں اور فلاں فلاں دلائل میرے دعوے کے ثبوت میں میرے پاس موجود ہیں اور فلاں فلاں حکیم اور مولوی نے میرے دعوے کو تسلیم کر لیا ہے۔ اے ناظرین صاحب بصیرت مسیح موعود بنی آدم میں ایک فرد واحد ہے اس کو اپنے ثبوت میں دلائل پیش کرنے کی ضرورت نہ ہوگی۔ یہ مدعی اگر دراصل مسیح موعود ہے تو عنقریب اس کے جلال واقبال کا نشان ساری دنیا میں پھیل جائے گا اور اگر وہ جھوٹا اور مکار اور مسیلمہ کذاب کا ہم مشرب ہے تو بہت جلد مثل کاذب دعویداران نبوت ومہدویت اور مسیحیت کے جھک مار کے تھوڑے دنوں کے بعد خود ہلاک ہو جائے گا اور ہزارہا مسلمانوں کے ایمان کو تباہ کر جائے گا۔“ ١؂

طالبین حق غور فرمائیں کہ مخصوص علماء کا یہ خیال ہے پھر وہ مرزا قادیانی کے اعجاز المسیح اور اعجاز احمدی کی طرف کیوں توجہ کریں گے اور یہ بے توجہی کسی دانشمند کے نزدیک ان کے اعجاز کا باعث نہیں ہو سکتی۔

یہ تیسری وجہ ہے ان رسالوں کے معجزہ نہ ہونے کی یہ تین وجہیں تو عام تھیں۔ جن سے بخوبی ثابت ہو گیا کہ مرزا قادیانی کا رسالہ ”اعجاز المسیح“ اور ”اعجاز احمدی“ دونوں معجزہ نہیں ہو سکتے۔ اب ہر ایک کے معجزہ نہ ہونے کے وجوہ علیحدہ علیحدہ ملاحظہ کئے جائیں۔

اعجاز المسیح کی حالت

تفسیر کے معجزہ نہ ہونے کی چوتھی وجہ

میں وہ آیت پیش کی تھی جو قرآن مجید میں حضرت سرور انبیاء علیہ السلام کے ثبوت نبوت میں پیش کی گئی ہے اور اس میں قرآن کے مثل دوسری کتاب طلب کی گئی ہے۔ جس کا ذکر اوپر کیا گیا۔ اس لئے میں نے اعجاز المسیح کے جواب میں دو کتابیں پیش کی تھیں۔ (ایک) ”مدارج السالکین“ (دوسری) ”اعجاز البیان“ یہ دونوں کتابیں سورہ فاتحہ کی عربی تفسیر ہیں۔ پہلی تفسیر دو جلدوں میں ہے اور دوسری ایک جلد میں۔

١؂ مؤلف سوانح احمدی کی یہ پیشین گوئی نہایت صحیح ثابت ہوئی۔

٢؂ اسی طرح میں دس بارہ تفسیروں کے نام بتا سکتا ہوں جو خاص سورہ فاتحہ کی تفسیر میں لکھی گئی ہیں۔ مگر جب مقابلہ میں کوئی طالب حق راست باز نہیں ہے تو کلام کو طول دینا بیکار ہے۔

١٠

صفحہ ٢٦٩

مگر ٣٥٠ صفحوں میں ہے اور ہر صفحہ میں ٢٠ سطریں ہیں اور ہر سطر میں گیارہ بارہ الفاظ ہیں۔ یہ دونوں تفسیریں مرزا قادیانی کے رسالہ ”اعجاز المسیح“ سے بہت عالی مرتبہ رکھتی ہیں اور ان کا حجم بھی ”اعجاز المسیح“ سے بہت زیادہ ہے۔ اس لئے مرزا قادیانی کا دعویٰ اعجاز اپنی تفسیر کی نسبت محض غلط ہے اور ان کے بیان سے صرف ان کے دعوے کی غلطی ہی نہیں معلوم ہوتی۔ بلکہ ان کا اعلانیہ فریب ظاہر ہوتا ہے۔ ملاحظہ ہو۔

مرزا قادیانی کا اعلانیہ فریب

مرزا قادیانی نے جو غل مچایا ہے کہ میں نے ستر دن میں ساڑھے بارہ جز لکھ دیئے۔ صریح فریب دیا ہے۔ اس کا کیا ثبوت ہے کہ ستر دن میں لکھے؟ جب ہم تفسیر کی لکھائی دیکھ کر ان کے ساڑھے بارہ جز کے دعوے کو دیکھتے ہیں تو بے اختیار دلی صداقت یہی کہتی ہے کہ صریح دھوکا دے رہے ہیں کہ تخمیناً ڈھائی جز کو موٹے موٹے حرفوں میں لکھ کر ساڑھے بارہ جز لکھنے کا دعویٰ بڑے زور سے کیا ہے۔ جب اس فریبی حالت کو ہم معائنہ کر رہے ہیں تو ان کے اس قول پر کیونکر اعتبار کریں کہ ستر دن میں لکھی؟ اس کی مفصل حالت ملاحظہ کر کے انصاف کیجئے۔

اس تفسیر کے اعلان میں دو شرطیں لگائی تھیں۔ ایک یہ کہ ستر دن میں لکھی جائے۔ دوسرے یہ کہ چار جز سے کم نہ ہو۔ اب کیونکر معلوم ہوا کہ یہ تفسیر اعلان کے بعد لکھی؟ اس کا کیا ثبوت ہے کہ یہ رسالہ اس اعلان کے پہلے کل یا اکثر نہیں لکھا گیا؟ مذکورہ فریب تو اس کی پوری تائید کرتا ہے کہ یہ رسالہ پہلے لکھا گیا۔ اس کے بعد زیادہ قابلیت دکھانے کے لئے یہ اعلان بڑے دعوے سے کیا گیا ہے کہ ہم نے اس میعاد میں ساڑھے بارہ جز لکھ دیئے اور ہمارے مخالف نے ایک ورق بھی نہ لکھا۔ اب کوئی انصاف پسند ساڑھے بارہ جز کی حالت کو دیکھے۔ اوّل تو رسالے کو دیکھا جائے کہ کیسے کیسے موٹے حرفوں میں لکھا گیا ہے۔ پھر یہ کہ صفحہ میں اصل عبارت کی دس سطریں ہیں۔ اب بنظر تحقیق حق تفسیر ”اعجاز التنزیل“ مطبوعہ دائرہ المعارف حیدرآباد دکن کی صرف لکھائی اور مقدار تحریر سے مقابلہ کیا جائے۔ اگرچہ ”اعجاز التنزیل“ بھی نہایت کشادہ لکھی گئی ہے۔ مگر اسی واضح تحریر سے اعجاز المسیح کی تحریر کا مقابلہ کیا جائے تو بالیقین معلوم ہو جائے گا کہ جنہیں ساڑھے بارہ جز کہا جاتا ہے وہ معمولی واضح تحریر سے تقریباً ڈھائی تین جز سے زیادہ نہیں ہے۔ جسے تحقیق کرنا منظور ہو وہ دونوں تفسیروں کے صفحات کے الفاظ شمار کر کے دیکھ لے اور پھر اس پر بھی نظر کرے کہ مرزا قادیانی کی تفسیر میں جو دو سو صفحوں کی مقدار ہے وہ صرف سورۂ فاتحہ کی تفسیر میں نہیں ہے۔ بلکہ شروع سے ٦٦ صفحہ تک تو تمہید ہے جس میں مرزا قادیانی نے اپنی تعریف اور

١١

صفحہ ٢٧٠

دوسرے علماء کی سختی کے ساتھ مذمت کی ہے۔ اس صفحہ پر پہنچ کر لکھتے ہیں : ”وسمیتہ اعجاز المسیح“ یعنی میں نے اس کا نام اعجاز المسیح رکھا۔ اہل علم جانتے ہیں کہ مصنفین یہ جملہ اکثر پہلے یا دوسرے صفحہ میں لکھتے ہیں۔ مگر مرزا قادیانی نے اپنی تفسیر کے بڑھانے کو چار جز فضول باتوں میں سیاہ کر کے یہ جملہ لکھا۔ اس حساب سے اصل تفسیر کے تقریباً آٹھ ہی جز ہوتے ہیں۔ اس لئے مقتضائے دیانت یہ ہے کہ اسی آٹھ جز کا اندازہ کیا جائے۔ اگر اس مقدار کا اندازہ کیا جائے گا تو فاتحہ کی تفسیر میں دو سوا دو جز سے زیادہ نہ ہوگا۔ اب اس قلیل مقدار کی تحریر کو بڑے زور سے ساڑھے بارہ جز بار بار کہا جاتا ہے۔ پھر یہ ابلہ فریبی نہیں تو کیا ہے؟ خدا کے واسطے خلیفہ صاحب یا اور اہل علم کہیں تو غور کر کے انصاف سے کہیں۔ مگر ان سے ایسا نہیں ہوسکتا۔ افسوس!

اب خیال کیا جائے کہ جب اعلانیہ بات میں ایسا صریح دھوکا دیا جاتا ہے تو اس کہنے پر کیوں کر اعتبار کر لیا جائے کہ ستر دن میں لکھی۔ جو حضرت اظہار فخر کے لئے ایسی صریح ابلہ فریبی کریں۔ ان سے ظہور اعجاز کی امید رکھنا کسی ذی عقل کا کام نہیں ہے۔ ان دونوں تفسیروں کو میں نے اس لئے پیش کیا تھا کہ یہ دونوں تفسیریں بلحاظ عمدگی مضامین اور باعتبار فصاحت و بلاغت عبارت کے اس قدر بلند پایہ ”اعجاز المسیح“ سے ہیں کہ کوئی ذی کمال ادیب ان کی فصاحت و بلاغت اور ان کے مضامین نادرہ اور مفید دیکھ کر اگر ”اعجاز المسیح“ کو دیکھے گا تو نفرتیں کرنے لگے گا اور پھر اس کی طرف نظر اٹھا کر نہ دیکھے گا۔ پھر یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ وہ اس قابل سمجھے کہ اس کا جواب دیا جائے؟

بھائیو! اگر کچھ علم و فہم ہے تو ان صریح اسباب میں غور کرو اور خدا سے ڈر کر انصاف سے کہو کہ جب ان رسالوں کی طرف توجہ نہ کرنے کے یہ اسباب ہیں تو ان کے جواب نہ لکھے جانے سے ان کا اعجاز کیونکر ثابت ہو جائے گا۔

مرزائیوں کے جواب کا رد

اس کے جواب میں بعض جہلاء یہ کہتے ہیں کہ مرزا قادیانی کے جواب میں ان کتابوں کو پیش کرنا مرے مردوں کی ہڈیاں اکھیڑنا ہے۔ ایسے ہی بیہودہ جوابوں کی وجہ سے کوئی ذی علم ان کے جواب کی طرف توجہ نہیں کرتا اور اعرض عن الجاہلین پر عمل کرتا ہے۔ مگر بعض کی خیر خواہی نے خاکسار کو کسی قدر ان کی طرف متوجہ کر دیا۔ اب جنہیں کچھ علم و فہم ہو وہ ملاحظہ کریں۔ (اعجاز المسیح کے فصیح و بلیغ ہونے کا دعویٰ کیا گیا ہے اور اسے اعجاز بتایا ہے)

(حقیقت الوحی ص ٢٧٩، خزائن ج ٢٢ ص ٣٩٣)

١٢

صفحہ ٢٧١

اسی لئے اس کا نام بھی اعجاز المسیح رکھا ہے۔ اب یہ سمجھنا چاہئے کہ کلام معجز کسے کہتے ہیں؟ اگر کسی قادیانی کو علم ہے تو علم معانی و بیان کی کتابیں دیکھے۔ ان میں کلام کی دو طرف بیان کی ہیں۔ ایک اعلیٰ، دوسری ادنیٰ، اعلیٰ مرتبہ کو اعجاز کہا ہے اور طاقت بشری سے اسے خارج بتایا ہے۔ یعنی کوئی انسان کسی وقت ویسا کلام نہیں لکھ سکتا ہے۔ اس سے ظاہر ہو گیا کہ اعجاز اور معجزہ اسی کلام کو کہیں گے جس کے مثل لانے پر انسان عاجز ہو۔ وہ نہ زمانہ گذشتہ میں اس کا مثل لکھ سکا ہو نہ حال اور آئندہ میں کوئی لکھ سکے۔ اسی تحقیق علمی کی بنیاد پر میں نے ان تفسیروں کو پیش کیا تھا۔ جس سے بالیقین ثابت ہو گیا کہ "اعجاز المسیح" کو اعجاز کہنا محض غلط ہے۔ کیونکہ اس سے ہر طرح نہایت عمدہ سورہ فاتحہ کی تفسیریں موجود ہیں۔ اب تفسیر لکھنے کی ضرورت نہیں ہے۔ بے کار وقت ضائع کرنا ہے۔ مگر چونکہ جماعت مرزائیہ علم و فہم سے بے بہرہ ہے۔ اس لئے سچے علمی جواب کو مذاق میں اڑاتی ہے اور یہ نہیں سمجھتی کہ اس جواب سے ظاہر ہو گیا کہ جن تفسیروں کا ہم نے حوالہ دیا ہے وہ مرزائی مولویوں کے نزدیک بھی ایسی ہی عمدہ اور اعجاز المسیح سے ہر طرح افضل ہیں۔ جیسے ہم بیان کرتے ہیں اور جب یہ مسلم ہے تو یقینی طور سے ثابت ہوا کہ اعجاز المسیح معجزہ ہرگز نہیں ہے۔ یہ چوتھی وجہ ہے اعجاز المسیح کے معجزہ نہ ہونے کی۔

یعنی جب اعجاز المسیح سے عمدہ تفسیریں بلحاظ عبارت اور مضمون کے پہلے سے موجود ہیں تو اہل علم کے نزدیک اعجاز المسیح معجزہ نہیں ہو سکتی۔ اسے اعجاز کہنا اور معجزہ سمجھنا محض غلط ہے۔ اب اعجاز المسیح کا شان نزول بھی ملاحظہ کرنا چاہئے۔

پیر مہر علی شاہ صاحب جو پنجاب اور خصوصاً سیالکوٹ کے نواح میں زیادہ مشہور بزرگ ہیں مرزا قادیانی نے ان سے مناظرہ کا اشتہار بڑے زور و شور سے دیا تھا۔ اس کی تفصیل علامہ فیضی کے اس خط سے معلوم ہو گی جو انہوں نے سراج الاخبار میں مشتہر کیا ہے۔ (یہاں سے وہ خط حذف کر دیا ہے۔ کیونکہ احتساب کی اسی جلد میں مولانا فیضی کا قصیدہ اور اس کا تفصیلی تعارف تذکرہ نیز وہ خط شامل اشاعت ہے۔ مرتب!)

علامہ محمد حسن فیضی

یہ وہی علامہ فیضی مرحوم ہیں جن کا ایک مضمون اسی سراج الاخبار سے نقل ہو چکا ہے۔ اس میں یہی علامہ مرحوم نے مناظرہ کا چیلنج دیا تھا اور ہر طرح مناظرہ کے لئے آمادہ تھے۔ مگر مرزا قادیانی نے دم نہیں مارا۔ اسی طرح اس خط میں مناظرہ کا چیلنج ہے۔ اس کے جواب میں بھی مرزا قادیانی مناظرہ پر آمادہ نہ ہوئے اور عربی نویسی کا اعجاز نہ دکھایا۔ اس سے ان کے اعجاز یہ

١٣

صفحہ ٢٧٢

رسالوں کی حقیقت اہل دانش سمجھ سکتے ہیں۔ ہوا یہ کہ علامہ ممدوح مرزا قادیانی کے سامنے انتقال کر گئے اور انہیں خوشیاں منانے کا موقع ملا۔ مگر جب ان کے بڑے مقابل فاتح قادیان مولانا ثناء اللہ اور ڈاکٹر عبدالحکیم صاحب ان کی آخر زندگی تک ان کی سرکوبی کرتے رہے اور اب تک ان کی روح کو مناسب ثواب پہنچاتے ہیں تو ان کی خوشیوں کی تلافی کافی طور سے ہو جاتی ہے اور جب فاتح قادیان مرزائیوں کو چیلنج دیتے ہیں تو ان کی روح تڑپ تڑپ کر رہ جاتی ہوگی۔

یہ خط تاریخ مناظرہ کے پہلے کا ہے۔ تاریخ مناظرہ لاہور ٢٥ اگست ١٩٠٠ء مقرر ہوئی تھی۔ مرزا قادیانی کے مشتہرہ مضمون میں قدرت خدا کا نمونہ یہ ہوا کہ انہوں نے اپنے تکبر کے جوش میں یہ بھی لکھ دیا تھا کہ: ”اگر میں پیر صاحب اور علماء کے مقابلہ پر لاہور نہ جاؤں تو میں ملعون جھوٹا ہوں۔“

(مجموعہ اشتہارات ج٣ ص ٣٣١)

اور اس شدومد کے اشتہار و اقرار کے بعد قدرت خدا سے صداقت کا ظہور نہایت آب و تاب سے اس طرح ہوا کہ باید و شاید اس کی مختصر کیفیت یہ ہے کہ پیر صاحب مرزا قادیانی کی تمام شرطیں منظور کر کے مناظرہ پر آمادہ ہو گئے اور ٢٥ اگست ١٩٠٠ء مناظرہ کی تاریخ مقرر ہو گئی اور پیر صاحب اپنے اقرار کے بموجب ٢٤ اگست ١٩٠٠ء کو مع دیگر علماء اور معززین اہل اسلام کے لاہور پہنچے اور ٢٩ اگست ١٩٠٠ء تک منتظر رہے۔ مگر مرزا قادیانی گھر سے باہر نہ نکلے۔ اس نواح کے مریدوں نے بہت زور لگایا۔ مگر وہ نہ آئے اور اپنے اس اشتہاری اقرار کی بھی پرواہ نہ کی جو لکھ چکے تھے کہ: ”اگر مقابلہ پر لاہور نہ جاؤں تو میں جھوٹا اور ملعون ہوں۔“ مہتممان جلسہ نے اس جلسہ کی روداد طبع کرا کے مشتہر کرائی تھی۔ اس میں ذیل کا مضمون لائق ملاحظہ ہے۔

”جملہ حاضرین جلسہ کے اتفاق رائے سے یہ قرار پایا کہ یہ شخص (یعنی مرزا غلام احمد قادیانی) مخاطب ہونے کی حیثیت نہیں رکھتا ہے اور شرمناک دروغگوئی سے اپنی دکانداری چلانا چاہتا ہے۔ اس لئے آئندہ کوئی اہل اسلام مرزا قادیانی یا اس کے حواریوں کی کسی تحریر کی پرواہ نہ کریں۔“ یہ روئیداد مسلمانوں میں بہت شائع ہوئی ہے۔ جس سے مرزا قادیانی کے دعوؤں کی حالت اظہر من الشمس ہو گئی اور اپنے پختہ اقرار سے جھوٹے اور ملعون ٹھہرے۔ اس شرمناک ذلت مٹانے کے لئے مرزا قادیانی نے تفسیر اعجاز المسیح لکھی یا لکھوائی اور پیر صاحب سے جواب طلب کیا اور ”منعہ مانع من السماء“ کا الہام بھی سنا دیا۔ کیونکہ روئیداد سے معلوم کر چکے تھے کہ پیر صاحب اور تمام علمائے حاضرین جلسہ مجمع عام میں ہزاروں معززین اسلام کے روبرو کہہ چکے ہیں کہ کوئی مسلمان مرزا قادیانی کو مخاطب نہ بنائے اور نہ ان کی کسی بات کا جواب دے اور ظاہر ہے کہ

١٤

صفحہ ٢٧٣

یہ راست باز علماء اپنے قول کے خلاف ہرگز نہ کریں گے۔ اس لئے مرزا قادیانی نے عمدہ موقع پا کر اپنی تفسیر پیش کی اور جواب طلب کیا اور پیر صاحب اور دیگر علماء نے انہیں قابل خطاب نہیں سمجھا اور اپنے اقرار کے پابند رہے اور مرزا قادیانی کی طرح بدعہد اور جھوٹا ہونا پسند نہیں فرمایا اور مرزا قادیانی نے یہ موقع پا کر اپنے اعجاز کا غل مچا دیا۔ اس میں شبہ نہیں کہ پیر صاحب اور دیگر علماء کے لئے یہ آسمانی مانع تھا۔ کیونکہ اپنے قول پر قائم رہنا آسمانی حکم ہے۔ اس لئے الہام کا مضمون بلاشبہ صحیح ہے۔ مگر مرزا قادیانی نے اصلی حالت کو پوشیدہ کر کے ایسے پیچ سے اسے بیان کیا ہے کہ مریدین اسے معجزہ سمجھ رہے ہیں۔

ایک اور راز ملاحظہ کیجئے وہ یہ ہے کہ مرزا قادیانی نے خیال کیا ہو گا کہ جو علماء اس جلسہ میں شریک تھے وہ تو اپنے عہد کے خیال سے جواب نہیں دیں گے اور دوسرے علماء جو دور دراز جگہ کے رہنے والے ہیں انہیں کیا خبر ہو گی؟ اور اگر کسی کو ہوئی بھی تو دیر میں ہو گی۔ اس لئے جواب کے لئے ستر دن کی قید لگا دی اور معلوم کر لیا کہ اوّل تو اس میعاد کے اندر دوسرے علماء کو خبر ہی نہیں ہو سکتی اور اگر کسی کو ہوئی بھی اور جوش اسلامی نے انہیں آمادہ بھی کیا تو انہیں اتنی مدت نہیں مل سکتی کہ وہ اس قدر تفسیر لکھیں اور چھپوا کر بھیج دیں۔ اس لئے یہ میعاد مقرر کر دی۔

اب اہل حق اس داؤ پیچ کے اعجاز کو ملاحظہ کریں۔ جس سے مرزا قادیانی کی حالت آفتاب کی طرح چمک رہی ہے۔ فاعتبروا یا اولی الابصار!

یہ وہ سچا بیان ہے کہ کسی مرزائی کی مجال نہیں کہ اسے غلط ثابت کر سکے۔ الغرض اس بیان سے دنیا پر دو باتیں نہایت روشن طریقے سے ثابت ہو گئیں۔ ایک یہ کہ اعجاز المسیح کے جواب نہ لکھے جانے کی اصل وجہ کیا تھی۔ دوسرے یہ کہ ان کے صریح اقرار سے یہاں بھی ان کا جھوٹا ہونا ثابت ہو گیا۔ اسی وجہ سے قدرت الہی نے انہیں مناظرہ کے لئے لاہور جانے نہ دیا اور روک لیا۔ اگر چہ جانے کے بعد بھی جھوٹے ٹھہرتے۔ مگر وہ جھوٹ دوسرے کی زبان سے ثابت ہوتا اور نہ جانے سے ان کی زبان سے ان کا جھوٹا ہونا ثابت ہوا اور ان کے دعوؤں کی حالت بھی معلوم ہو گئی۔ اس زور و شور سے مناظرہ کا اشتہار دیا اور پیر صاحب کو نہایت سخت اور توہین کے الفاظ لکھ کر انہیں آمادہ کیا اور جب وہ آمادہ ہو کر میدان میں آگئے تو گھر سے باہر نہ نکلے۔ اسی طرح ان کے بعض مریدین بھی کرتے ہیں۔

حق پرست حضرات اس واقعہ پر انصاف سے نظر کریں اور بہتر ہے کہ روئداد جلسہ اسلامیہ لاہور کو ملاحظہ کرلیں۔ پھر فرمائیں کہ خدا کے برگزیدہ رسول اس کے نیک بندے سے نہایت

١٥

صفحہ ٢٧٤

سخت کلامی کر کے عہد و پیمان کریں اور نہایت پختہ اقرار کر کے اسے پورا نہ کریں۔ ایسا ہو سکتا ہے؟ خدا کو عالم الغیب جان کر جواب دیجئے۔ کیا ممکن ہے کہ خدا کے مقبول کسی سے ایسا پختہ وعدہ کریں کہ اس کے پورا نہ ہونے پر اپنے کذب کو منحصر کر دیں اور خدا ان کی اس قدر مدد نہ کرے کہ وہ وعدہ پورا کر سکیں۔ حالانکہ ”واللہ یعصمک من الناس“ کا الہام ہو چکا ہو یہ ہرگز نہیں ہو سکتا اور سنا گیا کہ نہ جانے کا عذر مرزا قادیانی نے یہ کیا کہ مجھے الہام ہوا ہے کہ ولایتی مولوی مجھے مار ڈالیں گے۔

بھائیو! ذرا تو غور کرو کہ مرزا قادیانی نے خود ہی مناظرہ کا اشتہار دیا اور نہایت غیرت دار الفاظ لکھ کر پیر صاحب کو آمادہ کیا اور جب مناظرہ کا ٹھیک وقت آپہنچا اور مقابل سامنے آگیا۔ اس وقت یہ الہام ہوتا ہے کہ ولایتی مولوی مارنے کے لئے بلاتے ہیں۔ کیا اس عالم الغیب کو پہلے سے اس کا علم نہ تھا کہ اگر مناظرہ میں اجتماع ہوگا تو وہ مار ڈالنے کی فکر کریں گے۔ اس ملہم نے اشتہار دینے کے وقت یہ الہام نہ کیا کہ اشتہار نہ دے۔ ورنہ روکا جائے گا اور جھوٹا اور ملعون ٹھہرے گا۔ خدا تعالیٰ نے اپنے رسول کو اس فعل سے تو نہ روکا جس سے تمام خلق کے نزدیک بدعہد اور جھوٹا قرار پائے اور اس کی اس رسوائی اور کذب کو پسند کر کے اس کے بچانے کے لئے الہام کیا۔ کون صاحب عقل اسے باور کر سکتا ہے؟ مگر ان کے معتقدین خوب خیال کر لیں کہ اگر یہاں مرزا قادیانی کو سچا مانا جائے گا تو اللہ تعالیٰ کو جھوٹا اور وعدہ خلاف ماننا ہوگا۔ کیونکہ مقربین خدا خصوصاً انبیاء بغیر الہام الٰہی ایسا اعلان ہرگز نہیں کر سکتے اور اگر غلطی کریں تو انہیں فوراً اطلاع خداوندی نہ ہو یہ نہیں ہو سکتا۔ کیونکہ عام مخلوق کے روبرو وہ اپنی زبان سے جھوٹے ٹھہرتے ہیں۔ اس کے علاوہ ایسے مقام پر انبیاء کی حمایت نہ ہو اور انبیاء کو اس کی حمایت پر اعتماد نہ ہو۔ یہ بھی نہیں ہو سکتا۔ جماعت مرزائیہ انبیاء کے قتل نہ ہونے پر آیت: ”لا غلبن انا ورسلی“ پیش کرتی ہے۔ پھر کیا مرزا قادیانی کو اس وقت تک اس آیت پر نظر نہ تھی جو ولایتی مولویوں سے ڈر گئے اور یہ بھی خیال نہ کیا کہ نہ جانے سے میں جھوٹا ٹھہروں گا۔ معلوم ہوتا ہے کہ اسی خجالت مٹانے کے لئے یہ دعویٰ کیا کہ ستر دن کے اندر سورہ فاتحہ کی تفسیر ہم بھی لکھیں اور تم بھی لکھو۔ مگر چار جز سے کم نہ ہو۔ اب مرزا قادیانی لکھتے ہیں کہ ہم نے اس میعاد کے اندر تفسیر لکھی اور پیر صاحب لکھنے سے عاجز رہے۔ اس کے جواب میں ہم کہتے ہیں کہ اگر ہم مان لیں کہ یہ تفسیر خود مرزا قادیانی نے لکھی اور اسی مدت میں لکھی اور کسی دوسرے نے مدد نہیں دی۔ پھر اس میں اعجاز کیا ہوا؟ اتنی بات معلوم ہوئی کہ مرزا قادیانی کو ادب میں اس قدر مذاق تھا کہ دو ڈھائی مہینہ میں ڈھائی تین جز تفسیر کے عربی عبارت میں لکھ سکتے تھے اور وہ بھی اتنی محنت اور مشغولی کے بعد کہ نمازیں بھی بہت سی قضا کیں۔

١٢

اتنی مدت میں ایسی شدید مشغولی کے سا نہیں ہے۔ اگر شب و روز میں ایک صفحہ بھ تو معمولی طریقے سے اگر لکھی جائے تو محنت میں نمازیں قضا کر کے ایک صفحہ تف کر سکتے؟ ذرا کچھ تو انصاف کرنا چاہئے تحریر کا مذاق نہیں ہے۔ مرزا قادیانی عر لکھ سکتے۔ اس سے ان کے رسالے کا کہ مرزا قادیانی میں اتنی قابلیت تھی کہ ش وہ چند علماء جنہیں ان کے اعلان کی خبر رکھتے تھے۔ یا بوجہ مذکورہ بالا متوجہ نہ ہو الحاصل اس رسالہ کو معجزہ تصدیق خود مرزا قادیانی کا دل بھی کر لگائی۔ ورنہ اعجاز کے لئے کوئی قید نہیں رسالہ اعجاز احمدی کی حالت او ٥؍نومبر ١٨٩٩ء میں مرزا اگر میں تیری طرف سے ہوں تو ان ت ایسا نشان دکھلا جو انسانی ہاتھوں سے ب ہو کر دسمبر ١٩٠٢ء تک پورے ہو جائیں نے اپنے لئے یہ قطعی فیصلہ کر لیا ہے ک کافر اور بے دین اور خائن ہوں جیسا

١؎ فرضی طور پر یہ لکھا مرزا قادیانی سے بدرجہا عمدہ تفسیر لک ذی علم کے نہیں ہیں کہ خواہ مخواہ دوسر اپنی قابلیت کا اظہار کریں اور خصوصاً کی تحریر کو جاہلانہ عبارت سمجھتے ہیں۔

صفحہ ٢٧٥

اتنی مدت میں ایسی شدید مشغولی کے ساتھ ڈھائی تین جز عربی عبارت لکھ دینا کوئی کمال کی بات نہیں ہے۔ اگر شب و روز میں ایک صفحہ بھی لکھا جاتا تو چار جز سے زیادہ ہوتا اور مرزا قادیانی کی تفسیر تو معمولی طریقے سے اگر لکھی جائے تو تین جز سے زیادہ کسی طرح نہیں ہوتی۔ پھر شب و روز کی محنت میں نمازیں قضا کر کے ایک صفحہ تفسیر کا لکھ دینا کوئی بڑی قابلیت کی دلیل ہے کہ دوسرے نہیں کر سکتے؟ ذرا کچھ تو انصاف کرنا چاہئے اور بہت اچھا ہم نے مانا کہ اس وقت چونکہ اکثر علماء کو عربی تحریر کا مذاق نہیں ہے۔ مرزا قادیانی عربی میں ایسی عبارت اور مضمون لکھ سکتے تھے کہ دوسرے نہیں لکھ سکتے۔ اس سے ان کے رسالے کا معجزہ ہونا ثابت نہیں ہو سکتا۔ زیادہ سے زیادہ یہ معلوم ہوگا کہ مرزا قادیانی میں اتنی قابلیت تھی کہ شب و روز کی محنت میں ایک صفحہ عربی عبارت لکھ سکتے تھے اور وہ چند علماء جنہیں ان کے اعلان کی خبر بھی پہنچی مگر وہ اس لئے نہ لکھ سکے کہ عربی لکھنے کی مشق نہیں رکھتے تھے۔ یا بوجہ مذکورہ بالا متوجہ نہ ہوئے۔ اس میں مرزا قادیانی کا اعجاز کیا ہوا؟

الحاصل اس رسالہ کو معجزہ کہنا اور اس کا نام اعجاز المسیح رکھنا محض غلط ہے اور اس کی تصدیق خود مرزا قادیانی کا دل بھی کرتا تھا۔ اسی وجہ سے انہوں نے ستر دن کے اندر لکھنے کی قید لگائی۔ ورنہ اعجاز کے لئے کوئی قید نہیں ہو سکتی۔

رسالہ اعجاز احمدی کی حالت اور قصیدہ اعجازیہ کی بنیاد

٥؍نومبر ١٨٩٩ء میں مرزا قادیانی نے اس مضمون کا اشتہار دیا کہ: ”اے میرے مولیٰ اگر میں تیری طرف سے ہوں تو ان تین سال میں جو آخر دسمبر ١٩٠٢ء تک ختم ہو جائیں گے۔ کوئی ایسا نشان دکھلا جو انسانی ہاتھوں سے بالا تر ہو۔ اگر تین برس کے اندر جو جنوری ١٩٠٠ء سے شروع ہو کر دسمبر ١٩٠٢ء تک پورے ہو جائیں گے۔ میری تائید اور تصدیق میں کوئی نشان نہ دکھلائے تو میں نے اپنے لئے یہ قطعی فیصلہ کر لیا ہے کہ اگر میری یہ دعا قبول نہ ہو تو میں ایسا ہی مردود اور ملعون اور کافر اور بے دین اور خائن ہوں جیسا کہ مجھے سمجھا گیا ۔“

(ملخص مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ١٧١ تا ١٧٥)

١؂ فرضی طور پر یہ لکھا گیا ہے ورنہ اس وقت بھی جن کو عربی تحریر کا مذاق ہے وہ مرزا قادیانی سے بدرجہا عمدہ تفسیر لکھ سکتے ہیں۔ البتہ عرب کا سا مشغلہ اور ان کے سے خیالات کسی ذی علم کے نہیں ہیں کہ خواہ مخواہ دوسرے کو ذلیل کرنے کے لئے جواب لکھنے پر آمادہ ہو جائیں اور اپنی قابلیت کا اظہار کریں اور خصوصاً ایسے شخص کے مقابل میں جسے وہ لائق خطاب نہیں سمجھتے جس کی تحریر کو جاہلانہ عبارت سمجھتے ہیں۔

١٧

صفحہ ٢٧٦

مرزا قادیانی نے متعدد مقامات پر تو صرف اپنے جھوٹے ہونے کا اقرار کیا ہے۔ مثلاً احمد بیگ کے داماد کی نسبت کہا ہے کہ اگر وہ میرے روبرو نہ مرے ”تو میں بد سے بدتر ٹھہروں گا ۔“

(ضمیمہ انجام آتھم ص ٥٤، خزائن ج ١١ص ٣٣٨)

یہ بھی کہا ہے کہ : ”اگر تثلیث پرستی کے ستون کو نہ توڑ دوں تو میں جھوٹا ہوں ۔“

(اخبار بدر قادیان مورخہ ١٩؍ جولائی ١٩٠٦ء)

اور اعجاز المسیح کے شان نزول میں بیان کیا گیا کہ مرزا قادیانی نے اپنے لئے تین لقب تجویز کئے تھے اور لکھا تھا کہ : ”اگر میں علماء کے جلسہ میں نہ جاؤں تو میں مردود، ملعون، جھوٹا ہوں ۔“

(مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٤٣١)

الحمد للہ کہ اس جلسہ میں نہیں گئے اور اپنے اقرار سے ان تین صفتوں کے مستحق ہوئے۔ یہاں اپنے پانچ لقب بیان فرمائے۔ (١)مردود، (٢)ملعون، (٣)کافر، (٤)بے دین، (٥)خائن۔ خدا کا ہزار شکر ہے کہ اس نے اپنی حجت سارے خلق پر تمام کر دی اور انہیں اپنے اقرار سے جھوٹا، مردود، ملعون ثابت کر دیا۔ اس قول میں انہوں نے اپنی پانچ صفتیں بیان کیں ہیں۔ اس کا ثبوت کس طرح ہوا اس کی حالت ملاحظہ کیجئے۔ اس پیشین گوئی کے پورے ہونے کی میعاد تین برس بیان کی تھی۔

اب ظاہر ہے کہ اس نشان کے دکھانے کا خیال کس قدر ہوگا اور کیا کیا تدبیریں سوچ رہے ہوں گے؟ مگر بحمد اللہ یہ تین برس خالی گزر گئے۔ صرف ایک مہینہ باقی تھا کہ اتفاق سے اسی ١٩٠٢ء میں موضع مڈھ ضلع امرتسر میں مولوی ثناء اللہ صاحب نے مرزائیوں کو مناظرہ میں بڑی زک دی۔ اس میں مرزائی بہت ذلیل ہوئے۔ جس کی کیفیت ضمیمہ شحنہ ہند مورخہ ٢٤؍ نومبر ١٩٠٢ء میں شائع ہوئی ہے۔ (بحمدہ تعالیٰ ضمیمہ شحنہ ہند کی فائل بھی (احتساب قادیانیت ج ٥٧،٥٨) میں شائع ہو گئی ہے۔ مرتب!) جب مرزا قادیانی کو اس ذلت کا حال معلوم ہوا تو انہوں نے اپنے رسالہ اعجاز احمدی کا اشتہار دیا کہ : ”اگر مولوی ثناء اللہ صاحب امرتسری اتنی ہی ضخامت کا رسالہ اردو عربی نظم میں جیسا میں نے بنایا ہے پانچ روز میں بنادے تو میں دس ہزار روپیہ انہیں انعام دوں گا اور اگر وہ اس کے جواب سے عاجز رہے تو سمجھ لیا جائے کہ یہی قصیدہ وہ نشان ہے۔ جس کے ظہور کے لئے میں نے دعا کی تھی کہ تین سال کے اندر اس کا ظہور ہو۔“

(ضمیمہ نزول المسیح ص ٤٣، خزائن ج ١٩ص ١٤٧ملخص)

غرضیکہ اسی سہ سالہ پیشین گوئی کے پورا کرنے اور اپنے مریدوں کی رسوائی مٹانے کے لئے یہ اشتہار دیا اور اعجاز کا دعویٰ کیا۔ یہ رسالہ ساڑھے پانچ جز کا ہے۔ اس میں ٣٨ صفحوں پر اردو ١٨

عبارت ہے جس میں بہ کثرت جھوٹے جھوٹی سچی باتیں اردو زبان میں بنا دی فصاحت و بلاغت کے ساتھ مشکل ہے اب اس مرزائی اعجاز پر جوا نہیں ہے بلکہ فریب ہے۔ انہیں ملاحظہ

قصیدہ اعجازیہ کے معجزہ نہ ہونے

١....... پہلا اعتراض اس اشتہار می میں اسے پیشین گوئی قرار دیا ہے۔ بہر کہ اس دعا کے قبول ہونے پر اور اس قرار دیتے ہیں۔ اس لئے اس دعا کے تراش کر مسلمانوں کو دکھایا جائے تا کہ میں انہوں نے یہ تدبیر سوچی کہ ہندوس قصیدہ لکھوا کر اور اس کی تمہید اردو میں میں ایک عرب طرابلس کی طرف کے پھرتے رہے اور حیدرآباد میں ان کا قیا بھی شاعروں کی سی رکھتے تھے۔

قصیدہ اعجازیہ کا لکھنے والا؟ سمع

اس شہر (حیدرآباد دکن) کرا دیا اور خط و کتابت ہونے لگی۔ اس روپیہ لے کر قصیدہ لکھ دیا اس کا ثبوت نواب صدیق حسن خان صاحب نے انہیں بلوایا تھا۔ اتفاق مولوی صاحب بھی ٹھہرے تھے جوا میں میرے پاس آئے اور ان حری مرزا قادیانی کو خط لکھ رہے تھے۔ می مرزا قادیانی کو مسیح زمان لکھا تھا۔ می

صفحہ ٢٧٧

عبارت ہے جس میں بہ کثرت جھوٹے دعوے ہیں۔ اب یہ تو نہایت ظاہر ہے کہ دو تین جز میں جھوٹی سچی باتیں اردو زبان میں بنا دینا تو مشکل بات نہیں ہے۔ البتہ عربی کا قصیدہ لکھنا کمال فصاحت و بلاغت کے ساتھ مشکل ہے۔ اب اس مرزائی اعجاز پر جو اعتراضات ہوتے ہیں جن سے ظاہر ہو جائے گا کہ وہ اعجاز نہیں ہے بلکہ فریب ہے۔ انہیں ملاحظہ کیجئے۔

قصیدہ اعجازیہ کے معجزہ نہ ہونے کی پانچویں وجہ

میں اسے پیشین گوئی قرار دیا ہے۔ بہرحال وہ دعا ہے یا پیشین گوئی ہے۔ مگر ایسی عظیم الشان ہے کہ اس دعا کے قبول ہونے پر اور اس پیشین گوئی کے پورا نہ ہونے پر اپنے آپ کو مردود اور کافر قرار دیتے ہیں۔ اس لئے اس دعا کے بعد تین برس تک اس فکر و تجویز میں ضرور رہے کہ کوئی نشان تراش کر مسلمانوں کو دکھایا جائے تاکہ میں اپنے اقرار سے ملعون و کافر قرار نہ پاؤں۔ میرے خیال میں انہوں نے یہ تدبیر سوچی کہ ہندوستان میں عربی ادب کا مذاق نہیں ہے۔ اس لئے ایک عربی قصیدہ لکھوا کر اور اس کی تمہید اردو میں لکھ کر رسالہ شائع کر کے اعجاز کا دعویٰ کیا جائے۔ اسی زمانے میں ایک عرب طرابلس کی طرف کے رہنے والے ہندوستان میں آئے ہوئے تھے۔ جا بجا وہ پھرتے رہے اور حیدر آباد میں ان کا قیام زیادہ رہا ہے۔ یہ عربی کے شاعر تھے اور مزاج میں آزادی بھی شاعروں کی سی رکھتے تھے۔

قصیدہ اعجازیہ کا لکھنے والا؟ سعید طرابلسی کی کہانی

اس شہر (حیدر آباد دکن) میں مرزائی زیادہ ہیں۔ انہوں نے مرزا قادیانی سے رابطہ کرا دیا اور خط و کتابت ہونے لگی۔ انہوں نے قصیدے کی فرمائش کی عرب صاحب نے پانچ سو روپیہ لے کر قصیدہ لکھ دیا اس کا ثبوت ملاحظہ ہو۔

نواب صدیق حسن خان صاحب مرحوم کو عربی ادب سے مذاق تھا۔ اس لئے نواب صاحب نے انہیں بلوایا تھا۔ اتفاق سے جس مکان میں وہ بھوپال میں مقیم تھے اس میں ایک اور مولوی صاحب بھی ٹھہرے تھے جو اطراف امروہہ کے رہنے والے تھے۔ وہ مولوی صاحب کانپور میں میرے پاس آئے اور ان عرب کے قیام کا تذکرہ کیا۔ اس میں یہ کہا کہ ایک روز وہ مرزا قادیانی کو خط لکھ رہے تھے۔ میں قریب جا کر کھڑا ہو گیا تو دیکھا کہ خط کے عنوان پر انہوں نے مرزا قادیانی کو مسیح زمان لکھا تھا۔ میں نے دریافت کیا کہ آپ انہیں مسیح مانتے ہیں۔ انہوں نے سختی

١٩

صفحہ ٢٧٨

سے کہا کہ میں اس کو سچ کیا مانتا اس نے پانچ سو روپیہ دے کر مجھ سے قصیدہ لکھوایا ہے۔ اس لئے میں اس کی تالیف قلب کرتا ہوں۔

اس کی تائید میں دو شاہد اور ہیں مولانا غلام محمد صاحب فاضل ہوشیار پوری سے معلوم ہوا کہ سعید نامی ایک شخص طرابلس کا رہنے والا بڑا ادیب تھا۔ مگر آزاد مزاج کا شخص تھا۔ جیسے اکثر شاعر ہوتے ہیں۔ مرزا قادیانی سے اس کی خط و کتابت تھی۔ پانی پت میں آ کر اس نے بعض معقول کی کتابیں پڑھی تھیں۔ مولوی محمد سہول صاحب پورینوی بھاگلپوری کہتے ہیں کہ حیدر آباد میں میں نے اس سے ادب کی بعض کتابیں پڑھی ہیں۔ بڑا ادیب تھا کہتا تھا کہ مجھے روپیہ کی ضرورت پیش آئی تھی۔ میں نے مرزا قادیانی کو لکھا اس نے قصیدہ لکھوایا میں نے لکھ دیا۔ اس نے روپیہ مجھے دیا۔

ان تین شاہدوں کے بیان سے ثابت ہو گیا کہ یہ قصیدہ مرزا قادیانی کا لکھا ہوا نہیں ہے۔ مگر ان باتوں کو کون جانتا ہے اور جس نے جانا بھی وہ اس کے شور و غل کو سچا نہیں سمجھتا۔ مرزا قادیانی نے اپنی میعادی پیشین گوئی پوری کرنے کے لئے سامان کر لیا۔ کیونکہ سمجھتے تھے کہ ہندوستان میں ادب کا مذاق نہیں ہے اور یہ قصیدہ ایک ادیب عرب کا ہے اس کا جواب یہاں کوئی نہیں دے سکے گا۔ اس کی تمہید میں اپنی تعریف بھی بہت کچھ لکھ لی۔ اسی عرصہ میں اتفاق سے موضع مڈ میں ان کے مریدین نے مناظرہ میں بڑی شکست کھائی اور نہایت ذلیل ہوئے اور اپنے مرشد کے پاس جا کر روئے۔ یہ واقعہ اس کا محرک ہوا کہ وہ قصیدہ جو سعید طرابلسی سے لکھوایا ہے اس میں مناظرہ مڈ کے متعلق اشعار کا اضافہ کر کے مشتہر کیا جائے اور اعجاز کا دعویٰ کیا جائے۔ اس لئے اسے چھاپ کر مع اشتہار کے مولوی ثناء اللہ کے پاس بھیجا تا کہ عام مریدین اور خاص ان مریدین کو جو مناظرہ کی شکست سے نہایت افسردہ ہو گئے تھے خوش کریں۔ اس بیان سے مرزائی اعجاز کی حقیقت تو کامل طور سے منکشف ہو گئی۔ البتہ اس پر یہ شبہ ہوتا ہے کہ سعید شامی تو بڑا ادیب تھا۔ وہ ایسی غلطیاں نہیں کر سکتا۔ جیسی مرزا قادیانی کے قصیدہ میں ہیں۔ یہاں تک کہ بعض الفاظ اس میں ایسے ہیں جو عرب ہرگز نہیں بولتے۔ اس لئے یہ قصیدہ اس شامی کا نہیں ہو سکتا۔ اس کا جواب نہایت ظاہر ہے وہ یہ ہے کہ سعید مرزا کو جھوٹا جانتا تھا اور یہ بھی جانتا تھا کہ عربی ادب سے مرزا قادیانی کو مس نہیں ہے۔ اس لئے اس نے قصداً یہ غلطیاں کی ہیں تا کہ اہل علم اس سے واقف ہو کر اس کی تکذیب کریں۔ چونکہ عرصہ تک ہند میں رہا ہے اور بعض علوم عقلیہ اس نے یہاں پڑھے ہیں۔ اس لئے وہ ہندی محاورات سے بھی واقف تھا۔ مرزا قادیانی کو فریب دینے کی غرض سے بعض غلط الفاظ بھی اس میں داخل کر دیئے تا کہ اہل علم انہیں دیکھ کر اس کے اعجاز کی تکذیب کر سکیں۔

٢٠

صفحہ ٢٧٩

الحاصل یہ قصیدہ مرزا قادیانی کا اعجاز نہیں ہے۔ اگر اسے اعجاز کہا جائے تو سعید طرابلسی شامی کا اعجاز ہوگا۔ اس مضمون کی پوری شہادت اس واقعہ سے ہوتی ہے جو فاضل ابوالفیض مولوی محمد حسن فیضی مرحوم اور مرزا قادیانی سے ہوا۔ علامہ ممدوح نے جب مرزا قادیانی کی لن ترانیاں بہت کچھ سنیں اور اتفاق سے مرزا قادیانی اپنے مریدوں میں سیالکوٹ گئے ہوئے تھے۔ وہیں علامہ ممدوح پہنچے اور ایک عربی قصیدہ اپنا لکھا ہوا پیش کیا۔ اس وقت جو گفتگو ہوئی اس کی کیفیت مولانا مرحوم نے سراج الاخبار ٢؍ مئی ١٩٠٢ء میں شائع کی تھی۔ (وہ مضمون و قصیدہ مولانا محمد حسن فیضی کے حوالہ سے اس کتاب میں دوسرے مقام پر درج ہے۔ یہاں سے حذف کیا جاتا ہے۔ مرتب!)

مولانا فیضی کا قصیدہ اکتالیس شعر کا ہے۔ ناظرین ملاحظہ کریں کہ اس عربی قصیدہ کا مرزا قادیانی ترجمہ نہ کرسکے۔ پھر وہ عربی قصیدہ کیا لکھتے؟ معلوم ہوتا ہے کہ اوّل اسی واقعہ کی شرم انہیں ہوئی اور قصیدہ لکھوانے کا خیال ہوا اور لکھوایا۔ پھر مکہ کا واقعہ پیش آگیا۔ اس کے متعلق اشعار کا اضافہ کر کے قصیدہ کا اعلان کیا۔ علامہ فیضی نے صرف قصیدہ ہی پیش نہیں کیا بلکہ مناظرہ کا دعویٰ کیا اور مقابلہ کے لئے بلایا۔ مگر مرزا قادیانی دم بخود رہے۔ مولانا کے روبرو کچھ نہ کہہ سکے۔ اب حیرت ہے کہ مرزا قادیانی اس طرح علماء کے مقابلہ سے عاجز رہے ہیں۔ اس پر یہ بے شرمی ہے کہ پھر وہی دعویٰ ہے، یہ سمجھ لیا ہے کہ ہمارے اس دعوے کو بہت ایسے لوگ بھی دیکھیں گے جنہوں نے پہلا واقعہ دیکھا سنا نہ ہوگا اور ہمارے سکوت و عجز سے واقف نہ ہوں گے۔ یہی حالت ان کے مریدوں کی ہے کہ بڑے معرکہ میں نہایت ذلیل ہوتے ہیں۔ مگر دوسرے وقت وہی دعویٰ ہے۔ بہت رسائل لکھے ہوئے موجود ہیں۔ خلیفہ اوّل کے عہد میں ان کے پاس بھیجے گئے ہیں اور اب بھی بھیجے جاتے ہیں اور یہ وہ رسائل ہیں جن میں متعدد طریقے سے نہایت کامل طور سے مرزا قادیانی کا جھوٹا ہونا ثابت کیا ہے اور یہاں سے قادیان تک کوئی مرزائی جواب نہیں دے سکا۔ تمام مرزائی ان کے جواب سے عاجز ہیں۔ بایں ہمہ ان کے جاہل متبعین پکارتے ہیں کہ ہم مرزا قادیانی کی نبوت ثابت کریں گے اور جب اہل حق پکارتے ہیں کہ سامنے آؤ تو منہ چھپاتے ہیں۔

نہ اس کے پہلے کوئی لکھ سکا ہو نہ اس کے بعد لکھ سکے۔ قصیدہ مرزائیہ کے قبل تو بہت قصیدے عمدہ عمدہ لکھے گئے ہیں اور بعض چھپے ہوئے موجود ہیں۔ مثلاً شاہ ولی اللہ صاحبؒ کا قصیدہ نعتیہ دیکھا جائے۔ کیسے نادر مضامین ہیں اور اسکی تضمین جو شاہ عبدالعزیز صاحبؒ نے کی ہے اسے فن ادب کے اہل مذاق ملاحظہ کریں۔ اسی طرح مولوی فضل حق صاحب مرحوم کا قصیدہ جس میں انہوں نے

٢١

صفحہ ٢٨٠

غدر کے حالات بیان کئے ہیں قابل دید ہے۔ جنہیں اہل علم دیکھ کر مرزا قادیانی کے قصیدہ کو ردی میں پھینک دینے کے قابل سمجھیں گے۔

آزاد بلگرامی کے قصائد اہل علموں نے دیکھے ہیں۔ مگر مرزائی جہلاء کو علمی باتوں سے کیا واسطہ۔ وہ کیا جانیں کہ کون ذی علم کس فن کا زیادہ جاننے والا ہے؟ پہلے قصیدوں کے علاوہ مرزا قادیانی کا دعویٰ کے بعد بھی اس کے جواب میں قصیدے لکھے گئے ہیں۔

پہلا قصیدہ جوابیہ

قاضی ظفر الدین صاحب مرحوم نے مرزا قادیانی کی زندگی میں لکھا تھا اور ١٩٠٧ء کے شروع میں اخبار اہل حدیث میں وہ قصیدہ چھپا ہے اور پھر ١٩١٣ء کے رسالہ الہامات مرزا میں اس کے باسٹھ شعر نقل کئے گئے ہیں۔ (مکمل قصیدہ اس جلد میں دوسری جگہ موجود ہے۔ مرتب!)

دوسرا قصیدہ جوابیہ

نہایت ہی عمدہ اور لاجواب جو ١٣٣١ھ میں لکھا گیا ہے یہ قصیدہ چھ سو پچیس اشعار کا ہے۔ البتہ چھپا نہیں ہے۔ عنقریب چھپنے والا ہے۔ اہل علم اسے دیکھ کر مسرور ہوں گے۔ چند اشعار اس کے نقل کئے جاتے ہیں جن کے الفاظ و مضمون سے اہل علم مسرور ہوں گے۔ (چھپ گیا تھا ہمارے مرکزی دفتر کی لائبریری میں موجود ہے۔ احتساب قادیانیت کی جلد ہٰذا میں ابطال اعجاز مرزا کے نام سے شامل اشاعت ہے۔ مرتب!)

اہل علم اس کے اشعار کی خوبی کو ملاحظہ کریں۔ کیسا بے نظیر مضمون ان میں ہے اور جناب رسول اللہ ﷺ کے بعد نبی نہ آنے کی کیسی عمدہ وجہ بیان کی ہے اور جناب رسول اللہ ﷺ کی عظمت و شان دکھائی ہے اور مرزائیوں کی جہالت ظاہر کی ہے۔ مرزا قادیانی کے قصیدہ میں سوائے اپنی تعلی اور دوسرے علماء کی برائی کے اور کوئی مضمون نہیں ہے۔ جب یہ قصائد قصیدہ مرزائیہ سے نہایت عمدہ موجود ہیں تو مرزا قادیانی کے قصیدہ کو معجزہ کہنا آنکھوں پر پٹی باندھ کر کنوئیں میں گرنا ہے اور عوام کو فریب دینا ہے۔

کی تھی اور پھر اس قید شدید ہی پر بس نہیں کی۔ بلکہ یہ بھی لکھا کہ اسی میعاد میں رسالہ چھپوا کر اور مرتب کرا کے ہمارے پاس بھیج دیا جائے۔ یعنی اس اعجاز میں لوہے اور پتھر اور صناع اور کاریگروں کو بھی دخل ہے؟ اس لئے اس کے جواب میں بھی ان کو دخل ہونا چاہئے۔ محض قلمی لکھ کر بھیجنا کافی نہیں ہے۔ اب جن کے قلب میں کچھ بھی انصاف کی بو ہے وہ صرف ان قیدوں میں تھوڑا سا غور کر

٤٢

صفحہ ٢٨١

کے مرزا قادیانی کی حالت معلوم کر سکتے ہیں۔ کیا صادقین کی باتیں ایسی چالاکی اور عیاری کی ہوسکتی ہیں؟ اس پر نظر کی جائے کہ مرزا قادیانی اس کے جواب میں چار قیدیں لگاتے ہیں۔

ملاحظہ کریں کہ ان قیدوں کے ساتھ ظاہری اسباب کی نظر سے جواب لکھ کر بھیجا جا سکتا ہے؟ ہرگز نہیں، ساڑھے پانچ جز کا رسالہ جس کے بعض صفحوں پر ٢٢ سطریں ہوں اور بعض میں ٢١ سطر، پھر اتنے بڑے رسالے کی تالیف کرنا اور تالیف بھی معمولی نہیں ایک بڑے عیار مشاق کی باتوں کا جواب دینا اور وہ بھی صرف اردو نہیں بلکہ عربی قصیدہ بھی اس طرح کا ہو۔ جیسا کہ اس میں ہے۔ ان قیدوں کو دیکھ کر ہر ایک منصف کہہ دے گا کہ مرزا قادیانی اپنے دل میں سمجھتے ہیں کہ مولوی ثناء اللہ صاحب اس کا جواب لکھ دیں گے۔ اس لئے ایسی شرطیں لگاتے ہیں کہ ان کی وجہ سے لکھنا غیر ممکن ہو اور دام گرفتہ مرید خوش ہو جائیں۔ اب ملاحظہ کیجئے کہ مرزا قادیانی کا رسالہ ساڑھے پانچ جز میں ہے۔ ظاہر ہے کہ ہر ایک ذی علم پانچ روز میں اس کی نقل نہیں کر سکتا۔ کیونکہ زود نویسی کے عادی بہت ہی کم اہل علم ہوتے ہیں۔ جب اس مدت میں نقل نہیں ہو سکتی تو تصنیف کرنا کس طرح ہو سکتا ہے؟ اس قصیدہ کے اوّل ٣٨ صفحوں میں تو مرزا قادیانی نے اپنی جھوٹی تعلی اور دوسروں کی مذمت کی ہے اور آخر صفحہ میں عام فریبی پیرایہ سے حضرت امام حسین اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی ہجو١؎ کو الہامی بتا کر خود بری الذمہ ہوئے ہیں اور عوام کو فریب دیا ہے۔ پھر ان باتوں کا کافی جواب تو ٣٨ یا ٤٨ صفحوں میں نہیں ہو سکتا۔ اس کے لئے تو اگر آٹھ دس جز میں جواب لکھا

١؎ قصیدہ اعجازیہ میں مرزا قادیانی نے اپنی تعلی ایسی کی کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور حضرت امام حسینؓ سے اپنا تفوق اس طرح بیان کیا کہ ان حضرات کی کامل ہجو ہوگئی ہے۔ اس لئے انہیں خیال ہوا کہ مسلمان ان سے بدگمان ہوں گے۔ آخر صفحہ میں اس بدگمانی کو مٹانا چاہتے ہیں اور لکھتے ہیں کہ: ”جو کچھ میں نے لکھا ہے وہ اپنی طرف سے نہیں لکھا۔ یعنی بالہام الٰہی لکھا ہے۔ اگر میں اپنی طرف سے لکھتا تو میں وعید الٰہی میں پکڑا جاتا۔“

(اعجاز احمدی ص ٤٥، خزائن ج ١٩ ص ١٤٩)

یہاں عجب طرح کا فریب دیا ہے کہ ان بزرگوں کی کامل ہجو کرتے ہیں اور ظاہر کرتے ہیں کہ یہ لوگ خدا کے برگزیدہ حضرات میں نہیں تھے۔ ورنہ مجھ پر ضرور وعید نازل ہوتی۔ مگر بظاہر یہ ان کے نام عظمت سے لئے ہیں۔ جس سے عوام سمجھتے ہیں کہ ان کی عظمت کرتے ہیں۔ مرزا قادیانی کے فریب اسی قسم کے ہوتے ہیں۔ خدا ان سے پناہ دے۔ اپنی زبان درازی کو خدا کا الہام بتا کر انہیں مقبولان خدا سے گرا دیا۔ یہاں غور سے دیکھنا چاہئے۔

٢٣

PDF 283

جائے تو شاید کچھ جواب ہو۔ پھر دیکھا جائے کہ اتنے جز کتنے روز میں انسان تصنیف کرے گا۔ پندرہ بیس روز سے کم میں تو لکھنا غیر ممکن ہے۔ اب عربی قصیدہ کی تالیف کا اندازہ کیجئے۔

غرضیکہ بیس روز میں یہ دونوں کام ہرگز نہیں ہو سکتے۔ یہ بدیہی اور عقلی بات ہے۔ اب اس کے چھپنے کی مدت پر نظر کی جائے۔ اس کی حالت تجربہ کار اور صاحب مطبع خوب جانتے ہیں۔ اگر دوسرے کے مطبع میں چھپوایا جائے تو حسب خواہ اس قدر جلد چھپوا لینا اس کے اختیار سے باہر ہے۔ ہاں اگر خود مولوی صاحب کسی پریس کے مالک ہوں اور وہ خود لکھیں اور چھپوائیں اور درمیان میں کوئی مانع پیش نہ آئے اور پریس مشین وغیرہ صحیح وسالم رہ کر مستعدی سے کام کریں تو چھوٹے پریس میں ایک مہینہ میں اور بڑے میں غالباً بیس روز میں رسالہ تیار ہو سکتا ہے۔ اس کے بعد بھیجا جائے گا۔ غرضیکہ تخمیناً دو ماہ میں ایسے رسالے کا لکھا جانا اور چھپنا ہو سکتا ہے۔ اگر مؤلف کو کوئی بیماری یا کوئی شدید ضرورت نہ آئے۔ اس کے علاوہ رسالہ لکھے جانے کے لئے یہ بھی ضرور ہے کہ لکھنے والے کو مرزا قادیانی یا ان کے مریدین کی بات پر ایسا اعتماد ہو کہ اگر میں محنت شاقہ اٹھا کر جواب لکھوں گا تو کوئی نتیجہ اس پر مرتب ہوگا اور مرزا قادیانی خود اپنے آپ کو یا ان کے مرید انہیں جھوٹا جانیں گے۔ مگر کسی صاحب تجربہ کو اس کی امید نہیں ہو سکتی۔ بہت تجربہ ہو چکا ہے کہ بڑے معزز کی پیشین گوئیاں ان کی جھوٹی ہوئیں۔ مگر ان کے مریدین کے قلب ایسے تاریک ہو گئے ہیں کہ کسی کو ایسی علانیہ کذابی نظر ہی نہیں آتی۔ پھر عربی عبارت کا اعجاز یا عدم اعجاز مرزائی جہلاء کیا سمجھیں گے؟ انہی مشکلات پر نظر کر کے مرزا قادیانی نے ایسی قیدیں لگائیں کہ ان قیدوں کی وجہ سے جواب غیر ممکن ہو جائے اور اگر ان قیدوں کو چھوڑ کر کوئی جواب لکھے تو مرزا قادیانی کہتے ہیں کہ ہم اسے ردی کی طرح پھینک دیں گے۔

ان دنوں خلیفہ قادیان سے دریافت کیا گیا کہ اعجاز احمدی اور اعجاز المسیح کا اگر کوئی جواب دے تو وہ جواب سمجھا جائے گا یا نہیں؟ اس کا جواب مفتی محمد صادق قادیانی کے ہاتھ کا لکھا ہوا آیا، کہ: ”اعجاز احمدی کے بالمقابل لکھنے کی میعاد ١٠ دسمبر ١٩٠٢ء کو ختم ہو گئی اور اعجاز المسیح کی میعاد ٢٥ فروری ١٩٠١ء کو ختم ہو گئی۔“

١؎ اس کے ختم ہونے کی وجہ یہ ہے کہ تین برس کے اندر جو نشان دکھانے کی پیشین گوئی مرزا قادیانی نے کی تھی وہ آخر دسمبر ١٩٠٣ء تک ختم ہوتی ہے۔ اس لئے قصیدہ بنانا مرزائیوں کا فرض ہے۔ اگر نہ بنائیں تو مرزا قادیانی اپنے اقرار سے جھوٹے ہوئے جاتے ہیں۔ مگر میں کہتا ہوں کہ جب منکوحہ آسمان والی پیشین گوئی پندرہ اٹھارہ برس میں پوری نہ ہوئی اور مرزا قادیانی نے خدا کو جھوٹا قرار دیا تو اگر اس تین برس میں کوئی نشان ظاہر نہ ہوتا تو کوئی الزام قضا پر یا اپنی سمجھ پر لگا دیتا آسان تھا ایسی علانیہ غلطی اور فریب دہی کی ضرورت نہ تھی۔ ٢٢

لیجئے جناب خلیفہ قادیان مدت کے اندر محدود تھا۔ اس کے بعد وہ جواب جماعت مرزائیہ کے لائق میعاد کے اندر محدود نہیں ہو سکتا۔ اگر ہمارے روبرو پیش کرنا شیطانی وسوسہ برادرانِ اسلام نے ایسا بعد وہ اعجاز جاتا رہے۔ یہ سمجھ میں نہیں کو ہے یا نہیں؟ کیونکہ وہ اب تک ان ہیں کہ اب تک کسی نے جواب نہیں جماعت کو خبر نہ ہو۔ بلکہ ناواقفوں ک جواب نہ لکھے تو اس کا اعلان ہے جواب دیا تو فوراً کہہ دیا جائے گا کہ مرزا قادیانی کی اور ان کے متبعین کی ہرگز نہیں ہے۔ اس حد بندی کی تو میں لکھتے ہیں کہ: ”مرزا قادیانی ن میں پیش کرو۔ پس دونوں قیود سے محمد دائم نہیں بلکہ غلام احمد ہے۔۔۔۔

خلیفہ قادیان کی ایسی ب خطاب دیا گیا ہے؟ یہ تو فرمائیے ک جواب کے لئے ایسے انداز سے ق ممکن ہو۔ ادب اور غلامی کا ثبوت میں اس کا جواب دیں یا دوسرے کافی تھی۔ اس طرح کہنے سے ا بلکہ نہایت سخت اور تنگ میعاد مق اس کے علاوہ خلیفہ صاحب یہ تو ف

صفحہ ٢٨٣

لیجئے جناب خلیفہ قادیان کی تحریر سے بھی معلوم ہوا کہ ان رسالوں کا اعجاز بہت تھوڑی مدت کے اندر محدود تھا۔ اس کے بعد وہ اعجاز سلب ہو گیا۔ اب اس کے مثل اہل علم لکھ سکتے ہیں۔ مگر وہ جواب جماعت مرزائیہ کے لائق توجہ نہ ہوگا۔ البتہ اہل علم خوب جانتے ہیں کہ رحمانی اعجاز کسی میعاد کے اندر محدود نہیں ہو سکتا۔ اگر شیطانی اعجاز ایسا ہو تو ہم نہیں کہہ سکتے؟ البتہ ایسے اعجاز کو ہمارے روبرو پیش کرنا شیطانی وسوسہ ہے۔

برادران اسلام نے ایسا اعجاز نہ سنا ہوگا کہ بیس دن کے اندر تک تو معجزہ رہے اور اس کے بعد وہ اعجاز جاتا رہے۔ یہ سمجھ میں نہیں آتا کہ اس حد بندی کی اطلاع ان کے مریدین اور معتقدین کو ہے یا نہیں؟ کیونکہ وہ اب تک ان رسالوں کو جواب کے لئے پیش کرتے ہیں اور بآواز بلند کہتے ہیں کہ اب تک کسی نے جواب نہیں دیا۔ مگر جب یہ امر مشتہر ہو چکا ہے تو یہ نہیں ہو سکتا کہ ان کی جماعت کو خبر نہ ہو۔ بلکہ ناواقفوں کو دھوکا دینا انہیں مد نظر معلوم ہوتا ہے۔ غرض یہ ہے کہ اگر کوئی جواب نہ لکھے تو اس کا اعلان ہے کہ کسی نے جواب نہیں دیا۔ اعجاز ثابت ہو گیا اور اگر کسی نے جواب دیا تو فوراً کہہ دیا جائے گا کہ جواب کی تاریخ گزر گئی۔ اب توجہ کے لائق نہیں ہے۔ غرضیکہ مرزا قادیانی کی اور ان کے متبعین کی باتیں عجب پیچ در پیچ ہوتی ہیں۔ صادقوں کی سی سچائی اور صفائی ہرگز نہیں ہے۔ اس حد بندی کی توجیہ خلیفہ اول نے جو بیان کی ہے وہ لائق دید ہے۔ ص ٢٣٣ میں لکھتے ہیں کہ: ”مرزا قادیانی زمانی تحدید بھی کرتا ہے بلکہ کہتا ہے ایسا بے نظیر کلام فصیح و بلیغ عربی میں پیش کرو۔ پس دونوں قیود سے قرآن کی طرح توسیع نہیں۔ مرزا قادیانی حقیقتاً واقعی طور پر عین محمد و احمد نہیں بلکہ غلام احمد ہے۔۔۔۔ آقا کی برابری پسند نہیں کرتا۔“

خلیفہ قادیان کی ایسی باتوں کو دیکھ کر حیرت ہوتی ہے۔ کیا اسی عقل و فہم پر حکیم الامت کا خطاب دیا گیا ہے؟ یہ تو فرمائیے کہ برابری کا نہ ہونا اور ادب اور غلامی کا ثبوت اسی پر منحصر تھا کہ جواب کے لئے ایسے اعذار سے قید لگائی جائے کہ اس میعاد میں جواب لکھ کر اور چھپوا کر بھیجنا غیر ممکن ہو۔ ادب اور غلامی کا ثبوت تو اس طرح بھی ہو سکتا تھا کہ مولوی ثناء اللہ صاحب اپنی تمام عمر میں اس کا جواب دیں یا دوسرے سے لکھوائیں اس قدر قید ان کی غلامی کے ثبوت کے لئے بہت کافی تھی۔ اس طرح کہنے سے اس قول کی بڑی عظمت ہو جاتی اور غلامی بھی قائم رہتی۔ مگر یہ نہیں کیا بلکہ نہایت سخت اور تنگ میعاد مقرر کی اس کی وجہ بجز اس کے اور کوئی نہیں ہے جو ابھی بیان کی گئی۔ اس کے علاوہ خلیفہ صاحب یہ تو فرمائیں کہ اگر برابری کا دعویٰ نہیں ہے تو:

٢٥

صفحہ ٢٨٤

(تریاق القلوب ص ٦، خزائن ج ١٥ ص ١٣٣)

کس نے کہا ہے؟

اللہ ﷺ کے لئے تو صرف چاند گہن ہوا اور میرے لئے چاند گہن اور سورج گہن دونوں ہوئے۔“

(اعجاز احمدی ص ٧١، خزائن ج ١٩ ص ١٨٢)

کہئے جناب یہاں تو برابری سے گزر کر فضیلت کا دعویٰ ہے۔ یہاں غلامی کہاں چلی گئی؟

سے تین ہزار معجزے ہوئے۔“ اس کے بعد اس قول پر نظر کیجئے۔ جہاں لکھتے ہیں کہ: ”مجھ سے تین لاکھ سے زیادہ نشان ظاہر ہوئے۔“

(حقیقت الوحی ص ٦٧، خزائن ج ٢٢ ص ٧٠)

اب فرمائیے کہ یہاں سو حصے زیادہ فضیلت کا دعویٰ ہے یا نہیں؟ ضرور ہے پھر یہاں دعویٰ غلامی کہاں چلا گیا؟ اسی طرح مرزا قادیانی کے دعوے بہت ہیں۔ مگر جب جیسا موقع ان کے خیال میں آگیا ویسا دعویٰ کر دیا۔ حکیم صاحب کچھ تو ہوش کیجئے۔ آپ کہاں تک بات بنائیں گے؟ ”لن یصلح العطار ما افسد الدهر“ خلیفہ صاحب کے حال پر سخت افسوس ہے کہ باوجود واقف ہونے کے ایسی مہمل بات کہتے ہیں اور مسلمانوں کو فریب دیتے ہیں۔ اگر ان کی عقل پر ایسے پردے پڑے ہوئے نہ ہوتے تو مرزا قادیانی کے حلقہ بگوش ہرگز نہ ہوتے۔ غرضیکہ مرزا قادیانی کی باتوں نے آفتاب کی طرح روشن کر دیا کہ اس اعجاز کے دعوے سے مقصود لوگوں کو اپنی طرف متوجہ کرنا تھا اور معلوم کر لیا تھا کہ ان شرطوں کے ساتھ جواب دینا غیر ممکن ہے۔ کیونکہ جو کام اسباب ظاہری کے لحاظ سے کم سے کم ڈیڑھ دو مہینہ کا ہو وہ بیس دن میں کیونکر ہو سکتا ہے؟ مگر قدرت خدا کا نمونہ ہے کہ جماعت مرزائیہ کے پڑھے لکھے بھی ایسی موٹی بات کو نہیں سمجھتے اور ان رسالوں کو معجزہ مان رہے ہیں۔ قصیدہ اعجازیہ کی تفصیلی حالت اور اس کے اغلاط املاء، الہامات مرزا مطبوعہ بار چہارم کے ص ٩٣ سے ص ١٠٦ تک دیکھنا چاہئے۔ مولوی صاحب نے قصیدہ کی غلطیاں دکھا کر یہ بھی لکھا ہے کہ مرزا قادیانی اپنے قصیدہ کو ان اغلاط سے پاک کریں اور پھر زانو بزانو بیٹھ کر عربی تحریر کریں۔ اس وقت حال کھل جائے گا۔ مگر مرزا قادیانی نے تو اس کے جواب میں دم بھی نہ مارا۔ اگر عربیت میں دعویٰ تھا اور یہ قصیدہ خود انہوں نے لکھا تھا تو کیوں سامنے نہ آئے۔ یہ بدیہی دلیل ہے کہ قصیدہ دوسرے سے لکھوایا اور اپنے فہم کے موافق سمجھ لیا کہ مولوی ثناء اللہ صاحب وغیرہ

٢٦

ایسے ادیب نہیں ہیں جو ایسا قصیدہ عربی کی قید لگا دی اور سمجھ لیا کہ اس مدت کے بھی ہوں اس لئے ایسا دعویٰ کر دیا۔

ثانیاً ١٣٣٣ھ میں رسالہ ا رسالہ بھی احتساب کی جلد ہذا میں ش غلطیاں دکھائی ہیں اور ہر قسم کی غلطیاں تک کسی مرزائی کی مجال نہیں ہوئی کہ جو جاتا ہے شرم نہیں آتی۔ اب اس کو طالب دلیلوں سے جھوٹے ثابت ہوتے ہیں

پہلی اور دوسری دلیل کلام معجز کے لئے زمانے کی تعیین نہیں ہوتی آئندہ زمانہ کا کلام جواب میں پیش کیا جواب دیا جائے۔ ان دونوں وجہوں ہونے کی قرار پائیں۔

تیسری دلیل جس میں س جوابات پیش کر دیئے جو ان دونوں جوابات ان سے بدرجہا عمدہ موجود ہ جھوٹے ہونے کے لئے کافی دلیل ہ کے ذکر کئے گئے ہیں۔ اس سے ظاہ ہوئیں اور وہ پہلے بیان ہولیں۔ اس ب

دسویں دلیل ایک رسالہ ا صرف لفظی غلطیاں اعجاز المسیح کی دکھا جواب نہیں دے سکا۔ جو کلام اس قد ہے۔ یہ دسویں دلیل ہوئی اس کے جھو قادیانی کے سرگروہوں

صفحہ ٢٨٥

ایسے ادیب نہیں ہیں جو ایسا قصیدہ عربی میں لکھ سکیں۔ پھر بطور احتیاط بیس دن کے اندر چھپوا کر بھیجنے کی قید لگا دی اور سمجھ لیا کہ اس مدت کے اندر تو وہ لکھ کر کسی طرح بھیج ہی نہیں سکتے۔ اگر چہ وہ ادیب بھی ہوں اس لئے ایسا دعویٰ کر دیا۔

ثانیا ١٣٣٣ھ میں رسالہ ابطال اعجاز مرزا کا پہلا حصہ چھپا ہے جو ١٠٤ صفحہ کا ہے۔ (یہ رسالہ بھی احتساب کی جلد ہذا میں شامل اشاعت ہے۔ مرتب!) اس میں صرف قصیدے کی غلطیاں دکھائی ہیں اور ہر قسم کی غلطیاں ہیں اور خاص قادیان بھیجا گیا ہے۔ مگر تیسرا برس ہے۔ اب تک کسی مرزائی کی مجال نہیں ہوئی کہ جواب دے۔ پھر کیا ایسے ہی مہمل اور پر اغلاط رسالہ کو معجزہ کہا جاتا ہے شرم نہیں آتی۔ اب اس کو ملاحظہ کرنا چاہئے کہ مرزا قادیانی اس دعویٰ اعجاز کی وجہ سے کئی دلیلوں سے جھوٹے ثابت ہوتے ہیں۔

پہلی اور دوسری دلیل کلام معجز کی تعریف ان دونوں رسالوں پر صادق نہیں آتی۔ کلام معجز کے لئے زمانے کی تعیین نہیں ہوتی۔ مرزا قادیانی نے دو طرح سے زمانہ متعین کیا۔ ایک یہ کہ آئندہ زمانہ کا کلام جواب میں پیش کیا جائے۔ گذشتہ زمانہ کا کلام نہ ہو۔ دوسرے یہ کہ چند روز میں جواب دیا جائے۔ ان دونوں وجہوں سے ان کا اعجاز غلط ثابت ہوا اور یہ دو دلیلیں ان کے جھوٹے ہونے کی قرار پائیں۔

تیسری دلیل جس میں سات دلیلیں ہیں ہم نے اعجاز المسیح اور قصیدہ اعجازیہ کے جوابات پیش کر دیئے جو ان دونوں رسالوں سے بدرجہا ہر طرح سے عمدہ ہیں۔ جب ان کے جوابات ان سے بدرجہا عمدہ موجود ہیں تو وہ معجزہ نہیں ہو سکتے اور ہر ایک جواب مرزا قادیانی کے جھوٹے ہونے کے لئے کافی دلیل ہے اور بیان سابق میں پانچ جواب قصیدہ کے اور دو اعجاز المسیح کے ذکر کئے گئے ہیں۔ اس سے ظاہر ہوا کہ یہ سات دلیلیں مرزا قادیانی کے جھوٹے ہونے کی ہوئیں اور وہ پہلے بیان ہو لیں۔ اس لئے یہاں تک نو دلیلیں ہوئیں۔

دسویں دلیل ایک رسالہ اعجاز المسیح پر ریویو مطبع فیض عام لاہور میں چھپا ہے۔ اس میں صرف لفظی غلطیاں اعجاز المسیح کی دکھائی ہیں۔ کئی برس ہوئے اسے چھپے ہوئے مگر کوئی مرزائی اس کا جواب نہیں دے سکا۔ جو کلام اس قدر غلط ہو وہ فصیح و بلیغ بھی نہیں ہو سکتا اور اعجاز تو بہت بلند مرتبہ ہے۔ یہ دسویں دلیل ہوئی اس کے معجزہ نہ ہونے کی۔

قادیانی کے سرگروہوں نے اپنے جہلاء کو یہ جواب سکھا دیا ہے کہ ایسے اعتراضات تو

٢٧

صفحہ ٢٨٦

عیسائیوں نے قرآن مجید پر بھی کئے ہیں۔ مگر ہم کہتے ہیں کہ یہ صرف ابلہ فریبی ہے جو ذی علم عیسائی ہیں۔ وہ تو قرآن مجید کی فصاحت اور بلاغت کو ایسا مانتے ہیں کہ جابجا قرآن مجید کی عبارت کو سند میں پیش کرتے ہیں۔ اگر کچھ علم ہے تو ..... اقرب الموارد دیکھو اور اگر کسی جاہل عیسائی نے اعتراض کیا تو وہ قابل عیسائیوں کے اقوال سے لائق توجہ نہیں ہو سکتا۔ اس کے علاوہ ہم یہ کہتے ہیں کہ قرآن مجید پر جس قدر اعتراضات کئے گئے ہیں ان سب کے جوابات ہمارے علماء نے دیئے ہیں۔ اب اگر کسی قادیانی کا دعویٰ ہو کہ عیسائی کے کسی اعتراض کا جواب نہیں دیا گیا تو ہمارے سامنے پیش کرے۔ پھر دیکھئے کہ ہم اس کو کیسا جواب دیں گے اور پھر مرزا قادیانی پر اعتراض پیش کریں گے اور پوچھیں گے کہ اس کا جواب کس نے دیا ہے اور اگر کسی نے نہیں دیا تو اب کوئی جواب دے۔ مگر ہم یقینی پیشین گوئی کرتے ہیں کہ کوئی جواب نہیں دے سکتا۔ مؤلف (قادیانی) القاء فرماتے ہیں کہ یہ بالکل جھوٹ ہے کہ جو اعتراضات اعجاز المسیح اور اعجاز احمدی پر کئے گئے ہیں۔ اس وقت تک کوئی جواب اسکا نہیں دے سکا۔

(اس کے بعد نزول المسیح وغیرہ کا صرف حوالہ دے کر لکھتے ہیں) اگر ابواحمد صاحب کا دعویٰ علمیت ہے تو ان دونوں کتابوں پر اعتراض شائع کریں۔ انشاء اللہ! خود تجربہ ہو جائے گا کہ معاملہ کیا ہے۔ (ص١٦) مولوی صاحب جھوٹ کہہ دینا تو آسان ہے مگر اس جھوٹ کو سچا دکھا دینا مشکل ہے۔ ایک دو اعتراض کو نقل کر کے اس کا جواب نقل کیا ہوتا۔ تاکہ نمونہ دیکھتے اور جواب کی حالت دکھاتے۔ یا یوں لکھا ہوتا کہ مثلاً الہامات مرزا قادیانی میں جو اعتراض کئے گئے ہیں ان کے جوابات فلاں رسالہ میں ہیں اور پیر مہر علی شاہ صاحب نے جو اعتراضات کئے ہیں ان کا جواب فلاں رسالے میں ہے۔ رسالہ اعجاز المسیح پر ریویو میں جو اعتراضات کئے گئے ہیں ان کا جواب کامل فلاں رسالہ میں ہے۔ یہ نہیں لکھتے کیونکہ سچی اور قابل توجہ بات کہنے سے عاجز ہیں اور یوں کسی وقت کسی رسالہ میں بے تکی بات کہہ دی یا ممکن ہے کہ سو اعتراضوں میں سے کسی اعتراض کا کوئی جواب دے دیا۔ اس سے وہ رسالے اعتراضوں سے بری نہیں ہو سکتے۔ خیر ان مدت کی گزری ہوئی باتوں کو میں اس وقت نہیں چھیڑتا۔ یہ کہتا ہوں کہ تین برس ہوئے ابطال اعجاز مرزا کا پہلا حصہ ١٠٤ صفحہ پر چھپا ہے۔ جس میں قصیدہ اعجازیہ پر ہر قسم کے اعتراضات کئے گئے ہیں اور بہت شرمناک اعتراضات ہیں اور قادیان بھیجا گیا ہے۔ مگر اس وقت تک تو اس کے دو چار اعتراض کا جواب بھی دے کر ہمارے پاس نہیں بھیجا گیا۔ تاکہ ہم نمونہ دیکھتے۔ اب تو تجربہ ہو گیا

٢٨

صفحہ ٢٨٧

اور آفتاب کی طرح روشن ہو گیا کہ آپ کیا آپ کی ساری جماعت ان اعتراضوں کے جواب سے عاجز ہے۔ اب فرمائیے کہ بالکل جھوٹی بات کس کی ہے۔ چونکہ آپ کو ادب میں دخل نہیں ہے اور بے جا شغف محبت نے عقل کو سلب کر دیا ہے۔ اس لئے ایسی باتیں کہتے ہیں اور حق کو قبول نہیں کرتے۔ یہ تو فرمائیے کہ اس کے علاوہ آپ کے اس قول کے بعد کتنے رسالے مرزا قادیانی کے کاذب ہونے کے ثبوت میں لکھے گئے۔ ایک کا بھی جواب آپ نے یا آپ کی جماعت نے دیا؟ اس تجربہ کے بعد بھی تو آپ نے امر حق کو قبول نہیں کیا اور اعلانیہ کاذب کی پیروی سے علیحدہ نہیں ہوئے۔ مولوی صاحب نے اپنے مرشد سے صرف الزام اٹھانے ہی کے لئے راست بازی سے کنارہ کشی نہیں فرمائی۔ بلکہ قرآن مجید پر بھی ایسا ہی الزام لگانا چاہتے ہیں جیسا الزام انسانی تصنیف یعنی مرزا قادیانی کے رسالہ اعجاز احمدی و اعجاز المسیح پر لگائے گئے ہیں۔ چنانچہ ص ١٦ میں لکھتے ہیں کیا ابو احمد صاحب کا یہ غلط دعویٰ کبھی صحیح ہو سکتا ہے کہ مخالفین کے اعتراضات صرف معنی ہی کے لحاظ سے ہیں اور فصاحت اور بلاغت اور قواعد کے لحاظ سے مخالفین اسلام چپ ہیں۔ کیا غرائب القرآن اور مقالید وغیرہ الفاظ لے کر ان ہذان لساحران کو پیش کر کے تناقض اور اختلاف آیات بینات کو دکھا کر سورۃ اقترب الساعہ لے بعض فقرات دیوان امراء القیس کے ایک قصیدہ کا اقتباس بتا کر فصاحت اور بلاغت اور قواعد کی غلطی کا اعتراض سرقہ کا الزام مخالفین کی کتابوں میں نہیں ہے۔

اس لمبے چوڑے فقرہ کا مآل اردو کے ادیب بخوبی جان سکتے ہیں۔ مطلب صرف اس قدر ہے کہ مخالفین اسلام نے فصاحت وبلاغت اور قواعد صرفیہ و نحویہ کے لحاظ سے قرآن مجید پر اعتراض کئے ہیں اور اس کی سند میں تین لفظ لکھے ہیں۔

اب ہم مؤلف القاء سے دریافت کرتے ہیں کہ جو اعتراض آپ نے نقل کئے یہ تحقیق طلب علمائے اسلام کے شبہات ہیں جو تحقیق کی غرض سے انہوں نے کئے اور ان کے جواب دیئے گئے یا کسی خاص مخالف اسلام کے اعتراضات ہیں؟ اگر آپ کا خیال ہے کہ یہ اعتراضات مخالفین

لے قرآن مجید میں اقتربت الساعۃ ہے۔ مگر مؤلف القاء نے اقترب الساعۃ لکھا ہے۔

٢٩

صفحہ ٢٨٨

اسلام کے ہیں تو اس کو ثابت کیجئے کہ کس مخالف اسلام نے سب سے اول یہ اعتراض کیا ہے۔ مگر آپ ثابت نہیں کر سکتے کہ اعتراض کا بانی مخالف اسلام ہے۔ بلکہ اصل بات یہ ہے کہ بعض علمائے اسلام نے جو بغرض تحقیق شبہات کئے تھے اور ان کے جوابات دیئے گئے۔ مخالف نے بنظر تعصب شبہ نقل کر دیا اور جواب اڑا دیا۔ غرضیکہ مخالف کو اعتراض کرنے کا شعور نہیں ہوا۔ بلکہ دوسروں سے معلوم کر کے ایک بات کہہ دی اس سے ظاہر ہے کہ ابو احمد نے جو لکھا ہے وہ صحیح ہے۔ اس کے علاوہ یہ بتائیے کہ جو اعتراضات لفظی قرآن مجید پر کئے گئے اور ان کے جوابات ہمارے علماء نے دیئے ہیں یا نہیں۔ اگر آپ کے علم میں جوابات دیئے گئے ہیں تو وہ جواب صحیح ہیں اور آپ کے نزدیک قرآن مجید ان اغلاط سے پاک ہے یا نہیں۔ اگر آپ کے نزدیک قرآن مجید ان اغلاط سے پاک ہے تو اس بات میں ہمارا اور آپ کا اتفاق ہوا۔ اب انہیں ہمارے مقابلہ میں پیش کرنا کس قدر عوام کو دھوکا دینا ہے۔ کیونکہ جس کتاب الہی پر مخالفین نے اعتراضات کئے ہیں۔ اس کو اعتراضوں سے منزہ آپ بھی اسی طرح مانتے ہیں۔ جس طرح ہم مانتے ہیں اور ان اعتراضوں کو غلط سمجھتے ہیں جس طرح ہم غلط سمجھتے ہیں پھر اس کتاب الہی کا منزہ ہونا تو متفق علیہ ہو گیا۔ مگر جو کتاب آپ پیش کرتے ہیں۔ اسے تو صرف آپ ہی مانتے ہیں۔ اس پر جو اعتراضات ہوں ان کا جواب دینا آپ پر فرض ہے اور اس کے جواب میں مخالفین کے اعتراضات آپ پیش نہیں کر سکتے۔ البتہ اگر در پردہ آپ کے دل میں قرآن مجید پر خود شبہ ہے اور مرزا قادیانی کے رسالوں پر شبہ نہیں ہے تو جواب ملاحظہ ہو۔

جواب ...... پہلا لفظ آپ نے غرائب القرآن لکھا ہے مگر اس کی ایک مثال بھی نہیں لکھی۔ پھر ہم کس کا جواب دیں۔ اتنا کہتے ہیں کہ قرآن مجید میں کوئی لفظ ایسا نہیں ہے جو لائق اعتراض ہو۔ اگر آپ کا دعویٰ ہے تو کوئی لفظ پیش کیجئے اور پھر ہم سے جواب لیجئے۔ اگر کوئی رسالہ آپ نے دیکھا ہے تو اس کے سمجھنے میں آپ نے غلطی کی۔ جس زمانہ میں قرآن مجید نازل ہوا۔ وہ وقت زبان عربی کے کمال عروج کا تھا۔ اس وقت اس زبان کے ماہرین نے کسی لفظ کو غریب نہیں لکھا اور بہت سے اہل زبان صرف قرآن مجید سُن کر ایمان لے آئے۔ اس بیان میں رسالہ لکھا گیا ہے۔ دیکھنے والے دیکھیں گے۔ انشاء اللہ!

دوسرا لفظ آپ نے مقالید لکھا ہے۔ مگر اس کی نسبت کیا اعتراض ہے اسے نہیں لکھا۔ اگر یہ شبہ ہے کہ یہ فارسی لفظ ہے تو محض غلط ہے۔ کیونکہ لفظ مقالید جمع ہے۔ مقلد کی اور یہ لفظ مختلف ٣٠

صفحہ ٢٨٩

معنوں میں مختلف طور سے شائع ہے۔ (لسان العرب ج ٤ ص ٢٦٧) ملاحظہ کیجئے۔ عرب میں جو مشہور شاعر الاعشی ہے۔ اس کا شعر بھی اس لفظ کی سند میں لکھا ہے۔ پھر جس کسی نے اس کو فارسی لفظ سمجھا ہے۔ یہ اس کی نادانی ہے اور یہ بھی معلوم کر لیجئے کہ جس کتاب میں اس کے فارسی ہونے کا شبہ بیان کیا گیا ہے۔ اس میں اس کے جواب بھی لکھے ہیں۔ ایک جواب یہ ہے: ”قال ابن جرير ماورد عن ابن عباس وغيره من تفسير الفاظ من القرآن انها بالفارسية او الحبشية او النبطية او نحو ذلك انما اتفق فيها توارد اللغات فيتكلم بها العرب والفرس والحبشة بلفظ واحد (اتقان)“

اس کا حاصل یہ ہے کہ قرآن مجید کے جس لفظ کو فارسی وغیرہ کا لفظ کہہ دیا گیا ہے۔ اس کا یہ مطلب ہے کہ یہ لفظ عربی کے سوا فارسی وغیرہ میں بھی ہے۔ اب فرمائیے کہ مقالید کو اگر کسی نے فارسی لکھا ہو تو قرآن پر کیا اعتراض ہوا اور یہ فرمائیے کہ یہ اعتراض کس مخالف اسلام نے کیا ہے؟ آپ تو مخالف اسلام کے اعتراض دیکھنا چاہتے ہیں۔

تیسرا جملہ : ”ان ھذان لساحران“ یہ جملہ آپ نے لکھا مگر اس پر آپ کا کیا اعتراض ہے؟ اسے آپ نے کچھ تو بیان کیا ہوتا۔ اب ہم آپ سے کہتے ہیں کہ شاید قرآن مجید آپ کی تلاوت میں نہیں رہتا ہے۔ آپ کو جدید نبی کی تصانیف کے دیکھنے سے فرصت نہیں ملتی ہوگی اور جو ان پر اعتراضات کئے گئے ہیں ان کے جواب سوچنے میں غلطان و پیچان رہتے ہوں گے یا مناسبت طبعی کی وجہ سے کاذب کی تصانیف زیادہ پسند ہیں۔ قرآن مجید جو ہندوستان میں مشہور ہے اس میں تو مذکورہ جملہ کا لفظ ان مخفف ہے۔ مشدد نہیں ہے۔ اس لئے قرآن مجید میں جو الفاظ ہیں وہ بالکل قاعدہ کے موافق ہیں۔ اگر علم سے ممارست ہے تو آپ کو انکار نہیں ہو سکتا۔

غرضیکہ قرآن مجید پر کچھ اعتراض نہیں ہے اور جس نے ان پر تشدید کیا ہے اس کے متعلق متعدد جواب بھی دیئے ہیں۔ تفاسیر اور رسالہ شرح شذور الذہب فی معرفۃ کلام العرب کا ص ١٤ ملاحظہ کیجئے۔

مؤلف صاحب کے لفظی اعتراضات کا تو خاتمہ ہو لیا۔ اب ص ١٧ میں ان لفظی اعتراضات کی مثال میں پادری فنڈر کے اعتراضات نقل کرتے ہیں وہ چند اعتراض ہیں۔ ایک یہ کہ یونانی وغیرہ زبانوں میں ایسی کتابیں لکھی گئی ہیں۔ جن کی عبارت قرآن مجید سے عمدہ ہے۔ اب مولوی صاحب سے دریافت کیا جائے کہ یہ معترض عربی اور یونانی کا بڑا ادیب ہے جو دونوں کا

٣١

صفحہ ٢٩٠

مقابلہ کر کے فیصلہ کرتا ہے؟ ہرگز نہیں۔ پھر اس جاہل متعصب کے قول کو پیش کرنا جہالت کے سوا اور کیا ہے؟ اس کے علاوہ اب آپ تو لفظی اغلاط کا ثبوت دے رہے ہیں۔ پھر کیا پادری کا یہ قول کوئی لفظی اعتراض ہے؟ ہوش کر کے جواب دیجئے۔ بفرض محال اگر دوسری زبان میں کوئی کتاب عمدہ ہو تو اس سے قرآن شریف کے کسی لفظ یا جملہ پر اعتراض نہیں ہو سکتا۔ دوسری کتاب کی عبارت عمدہ ہونے سے قرآن کی فصاحت و بلاغت پر کوئی حرف نہیں آتا۔ نہ اس پر خلاف قاعدہ کا کوئی الزام ہو سکتا ہے۔ پھر اس کو فصاحت و بلاغت اور قواعد کی غلطی کی مثال میں پیش کرنا ان کے علم وعقل کے سلب ہو جانے کی دلیل ہے۔

دوسرا یہ کہ بعض عیسائیوں نے مقامات حریری اور مقامات ہمدانی کی عبارت کو قرآن مجید کے برابر بلکہ افضل کہا ہے۔ اس اعتراض سے بھی قرآن کی کوئی لفظی غلطی ثابت نہیں ہو سکتی۔ باقی رہا مقامات کی عبارت قرآن مجید سے افضل کہنا ان کی جہالت ہے۔ صرف کچھ عربی پڑھ لینے سے عبارت کی کمال فصاحت و بلاغت ہرگز معلوم نہیں کر سکتا۔ نہایت ظاہر بات ہے کہ ان مقامات کے لکھنے والے ایسے بڑے ادیب اور عربی زبان کے ماہر تھے کہ ان کی کتاب ایسی فصیح وبلیغ ہے کہ عیسائی پادری اسے قرآن کے مثل سمجھ گئے۔ مگر یہ خیال نہ کیا کہ ان کتابوں کے مصنف باوجود اس قدر ماہر ہونے کے اس پر ان کا ایمان ہے کہ قرآن مجید کے مثل کوئی کتاب عربی میں نہیں لکھ سکتا اور اپنی کتابوں کی حالت اور ان کی عمدگی سے ان عیسائیوں سے بدر جہا زائد واقف ہیں۔ مگر پھر بھی اپنی کتابوں کو اس کے مقابلہ میں کچھ نہیں سمجھتے۔

تیسرا اعتراض یہ ہے کہ مردار معتزلی نے یہ کہا ہے کہ انسان اس پر قادر ہے کہ جیسا فصیح وبلیغ قرآن مجید ہے۔ اسی طرح کا فصیح وبلیغ وہ کلام لکھے۔

یہاں مولوی صاحب سے ہم دریافت کرتے ہیں کہ آپ تو اس کے مدعی ہیں کہ مخالفین اسلام نے قرآن مجید کے الفاظ میں غلطیاں دکھائی ہیں اور فصاحت وبلاغت میں کلام کیا ہے۔ اس کے ثبوت میں فنڈر کا یہ قول نقل کیا ہے۔ اب آپ کو یہ بتانا چاہئے کہ اس قول سے قرآن مجید کے کسی لفظ یا جملہ کا غلط ہونا ثابت ہو گیا یا یہ معلوم ہوا کہ اس کی عبارت فصیح وبلیغ نہیں ہے؟ ہرگز نہیں بلکہ اس قول کا تو صاف مطلب یہ ہے کہ قرآن مجید نہایت فصیح وبلیغ ہے۔ مگر یہ فصاحت وبلاغت ایسی نہیں ہے کہ انسانی قوت سے باہر ہو۔ جب یہ مطلب ہے تو مولوی صاحب کے علم پر افسوس ہے کہ لفظی غلطی کی مثال میں مردار کے قول کو سمجھتے ہیں اور ہمارے سامنے پیش کرتے ہیں۔

٣٢

صفحہ ٢٩١

یہ بھی معلوم کر لینا چاہئے کہ اس قول سے یہ بھی ثابت نہیں ہوتا کہ مردار معتزلی قرآن کے اعجاز کا منکر ہے۔ کیونکہ تمام معتزلی اعجاز قرآنی کو مانتے ہیں۔ مگر چونکہ قرآن مجید کا دعویٰ اعجاز عام الفاظ میں ہے اور یہ کہا گیا ہے کہ اس کے مثل لے آؤ۔ اس کا ذکر نہیں ہے کہ کس بات میں مثل ہو۔ یعنی مرزا قادیانی تو بار بار کہتے ہیں کہ ایسا فصیح و بلیغ ہو جیسا ہمارا رسالہ ہے۔ اس سے ظاہر ہے کہ فصاحت و بلاغت میں اس کے مثل ہو۔ قرآن مجید کس بات میں بے مثل ہے۔ بعض کہتے ہیں کہ اس میں متعدد باتیں ہیں۔ مثلاً کمال درجہ کا فصیح و بلیغ ہے۔ خلق کی ہدایت کے لئے اس میں نہایت مفید احکام و ہدایات ہیں۔ اس میں گذشتہ اور آئندہ کی ایسی خبریں ہیں کہ کسی کی عقل و فہم انہیں معلوم نہیں کر سکتی اور کسی علم کے ذریعہ سے وہ باتیں معلوم نہیں ہو سکتیں۔ مثلاً قیامت کے حالات اور جنت و دوزخ کی خبریں، ان باتوں میں وہ بے نظیر ہے۔ انسان کی طاقت نہیں ہے کہ ایسی کتاب بنائے جس میں یہ باتیں ہوں۔ بعض صرف احکام و ہدایات کی وجہ سے معجزہ کہتے ہیں۔ فصاحت و بلاغت کی وجہ سے نہیں یعنی اگرچہ اس کی فصاحت و بلاغت اعلیٰ مرتبہ کی ہے۔ مگر یہ نہیں ہے کہ اس کے مثل کوئی نہ لاسکے۔ یہ ایک طویل بحث ہے جس کو بعض تفسیروں اور عقائد کی بڑی کتابوں میں لکھا ہے۔ پادری فنڈر تو ہمارے علوم سے جاہل ہے۔ اس نے اپنی جہالت سے اس قول کو پیش کر دیا اور سمجھ لیا کہ اس قول سے قرآن کا اعجاز غلط ہو گیا۔ افسوس یہ ہے کہ مؤلف القاء قادیانی اس کی اس جہالت میں شریک ہو گئے۔ میں اہل حق سے پھر کہتا ہوں کہ کسی مخالف ماہر زبان عرب نے قرآن مجید کی فصاحت و بلاغت پر اعتراض نہیں کیا اور اس میں صرف و نحو اور محاورات کی غلطیاں نہیں بتائیں۔ جس کو دعویٰ ہو وہ مخالف عربی کے ادیب کا کلام پیش کرے اور جہلاء نے جو اعتراض کئے اس کے جواب دیئے گئے ہیں۔ مؤلف القاء (عبدالماجد قادیانی) نے جو اعتراض پیش کئے تھے ان کے جواب دیئے گئے اور مرزا قادیانی پر جو اعتراضات کئے گئے ہیں اور خاص رسالے اس میں لکھے گئے ہیں ان کا جواب نہیں دیا گیا۔ اگر کسی نے دیا ہو تو ہمارے سامنے پیش کرے۔ پہلے بہت غل مچاتے تھے۔ اب سامنے نہیں آتے۔ جن کتابوں کا حوالہ دیا گیا ہے ان میں ہمارے اعتراضوں کے جواب نہیں ہیں۔

ناظرین! مؤلف القاء کی علمی حالت ملاحظہ کیجئے کہ ایک صفحہ میں آٹھ غلطیاں کی ہیں۔ بالجملہ بہت بڑی قابلیت کا دعویٰ ہے۔ اہل حق کے اعتراضوں کا جواب دینے کا دعویٰ کرتے ہیں۔ مگر اہل انصاف غور فرمائیں کہ جو اپنی تحریر میں اس قدر غلطیاں کرے وہ کسی قابل کے

٣٣

صفحہ ٢٩٢

اعتراضوں کا جواب دے سکتا ہے؟ ہرگز نہیں۔

پہلی غلطی

دعویٰ تو یہ ہے کہ مخالفین اسلام نے الفاظ قرآن پر اعتراض کئے ہیں اور اس کے ثبوت میں صرف دو لفظ اپنی طرف سے پیش کئے اور کسی مخالف کا قول نقل نہیں کیا کہ اس مخالف نے یہ اعتراض کیا ہے۔

دوسری غلطی

یہ کہ جن کتابوں سے انہوں نے یہ دو لفظ نقل کئے ان کے مصنفین کے مطلب کو نہیں سمجھے۔ یعنی ان کا مقصد تو ان الفاظ کی تحقیق ہے اور جس ناواقف کو شبہ ہو اس کے شبہ کا دور کرنا ہے۔ مگر مؤلف القاء اسے اعتراض سمجھ کر ہمارے رو برو پیش کرتے ہیں۔ الحمدللہ ! ہم نے جواب دے دیا۔ اب ان اعتراضوں کا جواب دیجئے جو آپ کے نبی پر کئے گئے ہیں۔

تیسری غلطی

ہمارے قرآن میں ”ان هذان لساحران“ ہے۔ اس جملہ میں لفظ ان مخففہ ہے۔.... اس پر کوئی اعتراض قاعدہ کے رو سے نہیں ہے۔ پھر آپ کا اعتراض محض غلط ہے۔ مگر آپ موٹی غلطی کو بھی نہیں سمجھتے۔

چوتھی غلطی

دعویٰ تو صرف الفاظ کی غلطی کا ہے اور اس میں تناقض واختلاف کو بھی پیش کرتے ہیں۔ مؤلف صاحب کو شاید یہ بھی خبر نہیں کہ تناقض معانی میں ہوتا ہے الفاظ میں نہیں ہوتا۔

پانچویں غلطی

پادری فنڈر کے تین اعتراض نقل کئے۔ ان تینوں اعتراضوں کو لفظی غلطی یا فصاحت وبلاغت کے نقص میں کچھ دخل نہیں ہے۔ کیونکہ پادری کی جھوٹی بات کو اگر مان لیا جائے کہ یونانی زبان میں کوئی عمدہ کتاب ہے تو اس سے قرآن مجید کے الفاظ پر اور ان کی فصاحت و بلاغت پر کیا اعتراض ہوا۔ قرآن مجید عربی زبان میں ہے۔ عربیت کے قواعد سے اس پر کوئی اعتراض نہیں ہے

١؎ انہیں مولوی صاحب کے رسالہ القاء کے ایک ورق میں ٣١ غلطیاں دکھائی گئی ہیں۔ رسالہ اغلاط ماجدیہ (صحائف رحمانیہ نمبر ١٠، ١١، ١٢، احتساب قادیانیت جلد پنجم) ملاحظہ کیا جائے۔ اس کے سوا متعدد رسالے ان کے اغلاط میں لکھے گئے ہیں۔

٣٤

صفحہ ٢٩٣

اور پادری کا جھوٹا ہونا اس لئے ظاہر ہے کہ اُن کی آسمانی کتاب انجیل یونانی میں ہے وہ بھی قرآن مجید سے افضل نہیں ہے۔ پھر دوسری انسانی تالیف اس سے افضل کیا ہو گی؟ یہ پانچویں غلطی ہوئی۔

چھٹی غلطی

یہ ہے کہ انہوں نے فنڈر کا یہ اعتراض لفظی غلطی کے ثبوت میں پیش کیا کہ مقامات کی عبارت مثل قرآن مجید کے ہے یا اس سے افضل ہے۔ اب ظاہر ہے کہ معترض مقامات کی عبارت کو اغلاط سے پاک اور کامل فصیح و بلیغ سمجھتا ہے اور اس کتاب کو قرآن مجید کے مثل قرار دیتا ہے۔ اس سے صاف ظاہر ہے کہ قرآن مجید کو بھی وہ اغلاط سے پاک سمجھتا ہے۔ پھر اس اعتراض کو لفظی غلطیوں کے ثبوت میں پیش کرنا کیسی صریح غلطی ہے اور پادری کے اعتراض کا جواب دیا گیا۔

ساتویں غلطی

یہ ہے کہ مزدار کے قول کو پیش کر کے قرآن مجید کی فصاحت و بلاغت پر اعتراض کرنا چاہتے ہیں اور اس کے الفاظ پر اعتراض کرتے ہیں۔ اس غلط فہمی پر افسوس ہے۔ مزدار نہ قرآن کی فصاحت و بلاغت پر کوئی شبہ کرتا ہے نہ اس کے الفاظ پر بلکہ اسے نہایت فصیح و بلیغ مانتا ہے۔ مگر یہ کہتا ہے کہ فصاحت و بلاغت ایسی نہیں ہے کہ انسانی قوت سے باہر ہو۔ پھر اس سے مؤلف القاء کا مدعاء کیونکر ثابت ہوا۔ مزدار کو قرآن مجید کے اعجاز سے انکار ہرگز نہیں ہے۔ مگر اعجاز کی وجہ مؤلف القاء کے قول کے بموجب وہ دوسری بیان کرتا ہے اور کہتا ہے کہ فصاحت و بلاغت زبان کی اہل زبان کی وجہ سے ہوتی ہے۔ اس میں وہ کیا عاجز ہوں گے مگر قرآن مجید کا معجزہ یہ ہے کہ باوجود اہل زبان کے قادر ہونے کے پھر وہ اس کے مثیل نہ لا سکے۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے ان کی قدرت کو سلب کر لیا اور قرآن کے مثل نہ لا سکے۔ یہ اعلانیہ معجزہ ہے جو انسانی طاقت سے باہر ہے۔ یہ ان کی آٹھویں غلطی ہے کہ مزدار کے اصل مدعاء کو نہیں سمجھے اور اس کے مدعاء کے خلاف اسے الزام دینے لگے یا یوں کہا جائے کہ ایک ناواقف الزام دینے والے کے ہم زبان ہو گئے۔

اب مؤلف القاء متوجہ ہوں کہ یہ جو آپ نے اور آپ کے ہم مشربوں نے عوام مرزائیوں سے کہہ دیا ہے کہ مرزا قادیانی کے اعجازیہ رسائل پر اعتراضات ایسے ہی ہیں جیسے قرآن مجید پر مخالفین اسلام نے کئے ہیں۔ یہ بالکل فریب ہے۔ قرآن مجید پر کوئی ایسا اعتراض نہیں ہے جس کا جواب نہ دیا گیا ہو۔ اس وقت نمونہ اس کا آپ نے ملاحظہ کر لیا کہ جو اعتراض آپ نے کئے تھے ان کا کافی جواب دیا گیا۔ مرزا قادیانی کے رسالوں پر جو اعتراضات کئے گئے اور کئے جاتے ہیں ان کے جواب نہیں دیئے گئے۔ میں ان کا نمونہ پیش کرتا ہوں ۔ اس کا جواب دیجئے۔

٣٥

صفحہ ٢٩٤

مرزائی قصیدہ کی بعض لاجواب غلطیاں

پہلی غلطی

سولہویں شعر کا مصرعہ اور اس کا ترجمہ یہ ہے: "لحر ولهذا البهت ارضا شجرۃ" اور بحث کے لئے ایک زمین اختیار کی گئی جس میں ایک درخت تھا۔ یہاں شجرۃ کے معنے ایک درخت لکھتے ہیں اور یہ موضع بد کی زمین کا بیان ہے۔ اسے ان کے مریدین معائنہ کر کے آئے تھے۔ انہوں نے آکر بیان کیا ہو گا کہ وہاں ایک درخت ہے اس کو مرزا قادیانی شجرہ کہتے ہیں۔ مگر یہ لفظ اس معنی میں غلطی ہے۔ شجیرہ اس زمین کو کہتے ہیں۔ جہاں بہت درخت ہوں۔ (لسان العرب ملاحظہ ہو) اس شعر میں اور بھی غلطیاں ہیں۔

(دیکھو ابطال اعجاز ص ١٧)

دوسری غلطی

٩٤ شعر کا دوسرا مصرعہ اور اس کا ترجمہ یہ ہے: "وان كنت قد اتیت ذنبی فسفع" اگر تو نے میرا کوئی گناہ دیکھا ہے تو معاف کر۔ اس مصرعہ میں کئی غلطیاں ہیں:

سفع محض غلط ہے۔

آفتاب کی تیزی سے دماغ اور چہرے کا جھلس جانا۔ جب اس لفظ کے یہ معنی ہیں تو بالضرور یہ معنی مرزا قادیانی کے مقصود کے خلاف ہوں گے۔

تیسری غلطی

١٧٩ شعر کا دوسرا مصرعہ ہے: "و آياته مقطوعة لا تغير" اس کی آیتیں قطعی ہیں جو بدلتی نہیں۔ آیات کو مقطوعہ کہنا محض غلط ہے۔ آیات قاطعہ عرب بولتے ہیں۔ رسالہ ابطال اعجاز میں قصیدہ مرزائیہ کی کئی سو غلطیاں دکھائی ہیں اور اس کی تمہید میں سینکڑوں ان کے جھوٹ صراحتاً اور کنایتاً بتائے ہیں۔ میں نے بغرض نمونہ تین لفظی غلطیاں پیش کی ہیں۔ مؤلف القاء اس کا جواب دیں یا اس کتاب کا نام اور صفحہ بتائیں جس میں ان کا جواب دیا ہو۔ مگر مؤلف القاء اور ان کی جماعت سر رگڑ کر مرزا قادیانی کے ساتھ جاملیں۔ مگر کچھ

٣٦

صفحہ ٢٩٥

نہیں کر سکتے اور ہم انہیں حلف دیتے ہیں کہ قرآن مجید پر کوئی ایسا اعترض وہ اپنا یا کسی مخالف اسلام کا پیش کریں جس کا جواب نہ دیا گیا ہو اور ہم نہ دے سکیں۔ مگر ہم قطعی اور یقینی طور سے کہتے ہیں کہ کوئی ایسا اعتراض جماعت مرزائیہ پیش نہیں کر سکتی۔ پھر مرزا قادیانی کے قصیدہ کے اعتراضوں کو ایسا ہی بتانا جیسے قرآن مجید پر اعتراض کئے گئے ہیں۔ کس قدر جھوٹ اور اعلانیہ فریب ہے۔ اے نادانو! اے فریب دینے والو! تواریخ شاہد ہیں کہ سچے اور جھوٹے ہر قسم کے مدعیوں پر اعتراضات کئے گئے ہیں۔ پھر کیا اس لفظی اشتراک سے جھوٹے سچے ہو جائیں گے اور مطلق اعتراض کا ہونا صداقت کا معیار ہو جائے گا۔ جیسا مرزا جی کہہ رہے ہیں۔ اگر ایسا ہو تو کوئی جھوٹا مدعی کسی وقت دنیا میں نہ پایا جائے گا اور یہ اعلانیہ صحیح حدیثوں کے خلاف ہے۔ یہ ہرگز نہیں ہو سکتا۔

مسیلمہ کذاب پر اعتراضات کئے گئے۔ مگر وہ اور اس کی جماعت ان اعتراضوں کے جواب سے عاجز رہ کر واصل جہنم ہوئے اور حضرت سرور انبیاء علیہ الصلوٰۃ والسلام پر اعتراض کرنے والے اپنے اعتراضوں کا جواب سن کر ہمیشہ کی ندامت اور تکلیف میں پہنچے اور ان کے ماننے والے ان اعتراضوں کے جواب سے عاجز رہے۔ یہی مرزا قادیانی کی حالت ہے۔ اب ان کے پیروؤں کی بھی وہی حالت ہونی چاہئے جو مسیلمہ وغیرہ کے پیروؤں کی ہوئی۔ یہ ضمنی بیان درمیان میں آگیا۔ ورنہ اصل مقصود رسائل اعجازیہ کے جھوٹے ہونے کے دلائل پیش کرنا ہے۔ دس دلیلیں تو بیان ہو لیں۔

گیارھویں دلیل

یہ ہے کہ اعجاز المسیح دو تین جز کا رسالہ ہے اور اسے فریب سے ساڑھے بارہ جز کہتے ہیں۔ پھر ایسے شخص سے معجزہ ہو سکتا ہے؟ ہرگز نہیں۔ اگر ایسے فریبی شخص سے معجزہ ہو تو انبیائے صادقین سے اعتبار اٹھ جائے۔

بارھویں دلیل

اعجاز المسیح کے شان نزول میں بیان کیا گیا ہے کہ مرزا قادیانی باوجود سخت وعدے کے پیر مہر علی شاہ صاحب کے مقابلہ پر نہیں آئے۔ اس شرم کے مٹانے کو مرزا قادیانی نے اپنی تفسیر ان کے پاس بھیجی۔ پیر صاحب چونکہ جلسہ عام میں عہد کر چکے تھے کہ اب مرزا قادیانی سے خطاب نہ کریں گے اس لئے سکوت کیا اور مرزا قادیانی کو فریب دینے کا موقع ملا اور ”منعه مانع من السماء“ کا الہام بنا کر مریدوں کو خوش کر دیا۔ یہ اعلانیہ فریب ان کے جھوٹے ہونے کو آفتاب کی طرح چمکا رہا ہے۔

٣٧

صفحہ ٢٩٦

تیرہویں دلیل

جواب لکھنے کی میعاد ایسی کم مقرر کی کہ اس میں لکھنا اور چھپوا کر بھیجنا غیر ممکن تھا۔ خصوصاً علماء کی حالت کے لحاظ سے اس لئے نہایت ظاہر ہے کہ یہ دعویٰ اعلانیہ مرزا قادیانی کا فریب ہے۔ اوّل تو مدت معین کرنا ہی اعجاز کے خلاف ہے۔ اس کے علاوہ ایسی کم مدت مقرر کر کے اس کا جواب طلب کرنا عوام کو فریب دینا ہے۔

چودھویں دلیل

میں نے شاہدوں کی شہادت سے ثابت کر دیا کہ یہ دونوں رسالے معجزہ کیا ہوتے فصیح و بلیغ بھی نہیں ہیں اور متعدد رسالوں سے اس کا ثبوت بھی ہو گیا۔ الحاصل مرزا قادیانی کا یہ عجب طرح کا اعجاز تھا جس کی وجہ سے ہم نے چودہ دلیلیں ان کے جھوٹے ہونے کی قائم کر دیں اور ایک آئندہ بیان کی جائے گی۔

جماعت مرزائی کا عاجز ہونا

ان سب باتوں سے قطع نظر اگر اب بھی خلیفہ صاحب کو اور اس جماعت کے دوسرے ذی علموں کو اس کے اعجاز کا دعویٰ ہے اور سمجھتے ہیں کہ وہ ایسے فصیح و بلیغ ہیں کہ دوسرا کوئی نہیں لکھ سکتا تو اس کا اعلان دیں کہ اگر کوئی عالم ایسا قصیدہ یا ایسی تفسیر سورہ فاتحہ لکھ دے گا تو ہم مرزا قادیانی کو کاذب سمجھیں گے۔ اس کے بعد وہ دیکھیں کہ ان کا جواب کس زور و شور سے ہوتا ہے۔ اگر اس کے لئے میعاد معین کریں تو اوّل اس بات کو ثابت کر دیں کہ اعجاز میں ایسی قیدیں ہو سکتی ہے؟ اس کے بعد ایسی میعاد مقرر کریں جسے چند اہل علم تجربہ کار مجیب کی حالت پر نظر کر کے کہہ دیں کہ اتنے دنوں میں تالیف اور طبع ہو کر خلیفہ صاحب تک پہنچ سکتا ہے۔ مرزا قادیانی کی طرح قید نہ لگائی جائے۔ جس میں لکھا جانا اور چھپ کر ان کے پاس بھیجنا غیر ممکن ہو اس کے سوا یہ بھی بتائیں کہ اس کا فیصلہ کون ذی علم ادیب منصف مزاج کرے گا کہ مرزا قادیانی کا قصیدہ اور تفسیر عمدہ ہے یا ان کا جواب ہر طرح فائق اور بدرجہا زائد عمدہ ہے۔ اگر ایسا اعلان ایک ماہ کے اندر نہ دیا جائے گا تو معلوم ہوگا کہ اعجاز کا دعویٰ غلط ہے۔

یہ کتابی اعلان ١٣٣٢ھ میں چھپ کر مشتہر ہوا ہے اور اب ١٣٣٥ھ کا آخر ہے۔ اس وقت تک کسی مرزائی کی مجال نہ ہوئی کہ اس مضمون کا اعلان دے اس سے بخوبی ثابت ہو گیا کہ پنجاب اور بنگال اور حیدرآباد وغیرہ ہر جگہ کے مرزائی دل میں جان گئے ہیں کہ مرزا قادیانی کا دعویٰ

٣٨

صفحہ ٢٩٧

غلط ہے اور مرزا قادیانی جھوٹا ہے۔ مگر کچھ تو حرام خوری کی وجہ سے خاموش ہیں۔ جس طرح بعض پادریوں نے رسالہ پیغام محمدی کا مطالعہ کر کے کہا کہ لاجواب رسالہ ہے۔ ہمارے تمام شبہات کا جواب اس نے دے دیا۔ اس کے جواب میں ہمارے ایک برادر نے کہا کہ پھر اب توبہ کرنے میں کیوں دیر ہے۔ جواب دیا کہ سو روپے ماہوار کون دے گا۔ لڑکے بالوں کی پرورش کس طرح ہوگی۔ بعض کو اپنی بات کی پاس داری ہے۔ افسوس اس فہم و عقل پر۔

مرزا قادیانی کی عربی دانی کا نمونہ

مرزا قادیانی کے اعجاز کا تو خاتمہ ہو لیا اور ان کے رسالوں کی غلطیاں چھپ کر مشتہر ہو چکی ہیں۔ میں اس کی تائید میں مرزا قادیانی کی ایک عبارت نقل کر کے ان کی عربی دانی کا نمونہ ان حضرات کو دکھاؤں جنہیں زبان عربی میں کچھ دخل ہے یا انگریزی میں پورے قابل ہیں اور قرآن وحدیث کا مطالعہ کرتے ہیں۔ اعجاز المسیح کی لوح پر مرزا قادیانی نے عربی عبارت لکھی ہے جس میں اس رسالہ کی نسبت لکھا ہے : ”ھذا رد علی الذین یجھلوننا“ یعنی یہ ان لوگوں کا رد ہے جو ہمیں جاہل بتاتے ہیں اس کے بعد لکھتے ہیں: ”وانی سمیته اعجاز المسیح وقد طبع فی مطبع ضیاء الاسلام فی سبعین یوما من شهر الصیام وکان من الهجرة ١٣١٨ه ومن شهر النصاری ٢٠/ فروری ١٩٠١ء مقام الطبع قادیان“

(اعجاز المسیح ٹائٹل ، خزائن ج ١٨ ص ١ ٹائٹل)

جن کو علم و فہم سے اللہ تعالیٰ نے کچھ حصہ دیا ہے وہ غور فرمائیں کہ کیسی لچر عبارت ہے اور جو نہایت معمولی مضمون مرزا قادیانی ادا کرنا چاہتے تھے وہ عربی عبارت میں ادا نہ کر سکے اور بہت غلطیاں کیں۔ اس عبارت سے مقصود تو مرزا قادیانی کا یہ ہے کہ اس رسالہ کا نام میں نے اعجاز المسیح رکھا اور مطبع ضیاء الاسلام قادیان میں یہ رسالہ ستر دن میں چھاپا گیا اور اس کی ابتداء ماہ رمضان سے ہوئی اور ہجری ١٣١٨ھ تھا اور عیسوی ٢٠ فروری ١٩٠١ء تھا۔ اب قدرت خدائی اور اس ہادی مطلق کی رہنمائی کا یہ عجب نمونہ ہے کہ وہ رسالہ جس کی فصاحت و بلاغت کو مرزا قادیانی اعجاز سمجھتے ہیں اس کی لوح کی دو سطر عبارت صحیح نہ لکھ سکے اور جو مضمون لکھنا چاہتے تھے وہ عربی عبارت میں ادا نہ ہو سکا۔ ایسا شخص چار پانچ جز یا بارہ جز معجز نما عربی عبارت کیا لکھے گا ؟

اگرچہ اس مضمون کو صحیح طور سے ادا کر دینا بڑی قابلیت کی دلیل نہ تھی۔ مگر اس قادر کریم کی قدرت کا نمونہ ہے کہ جس مدعی نے اپنے متکبرانہ خیال میں اپنے آپ کو علمی کمال کی نظر سے ایسا بلند پایہ سمجھ لیا ہو کہ ایک مضمون میرا لکھا ہوا معجزہ ہو سکتا ہے اور اسی خیال سے اس نے رسالہ لکھا

٣٩

صفحہ ٢٩٨

ہو۔ اس کے اوّل صفحہ میں دوسطرمعمولی مضمون کی عبارت صحیح نہ لکھے اور ایسی غلطی کرے جو کم فہم بھی یقینی طور سے معلوم کرسکیں۔ جن کوعربی صرف ونحو سے واقفیت ہے اور جنتریاں دیکھ لیا کرتے ہیں۔ وہ ملاحظہ کریں۔ مرزا قادیانی کا مطلب تو یہ ہے کہ اعجاز المسیح میں نے ستر دن میں لکھی اور انہیں دنوں میں وہ طبع بھی ہوئی اور ستر دن کی ابتداء وانتہاء بھی بیان کرنا چاہتے ہیں۔ مگر منقولہ عبارت کا یہ مطلب کسی طرح نہیں ہوسکتا۔ غلطیاں ملاحظہ ہوں:

میں چھاپی گئی اس عبارت سے یہ کسی طرح نہیں سمجھا جاتا کہ ان ایام میں تصنیف اور طبع دونوں کام ہوئے۔ اس مطلب کے لئے ضرور تھا کہ صنف کا لفظ زیادہ کیا جاتا۔

یہ ہوگا کہ ماہ صیام ستر دن سے زیادہ کا ہے۔ اب ناظرین اس غلط بیانی کو دیکھ لیں۔ میں نے اس غلطی سے چشم پوشی کرکے دوسرے پہلو سے ترجمہ کیا ہے۔

قرار دیا جائے کہ ماہ صیام سے رسالہ کی تالیف کی ابتداء کی گئی تو ضرور تھا کہ تاریخ بھی لکھتے۔ کیونکہ اس بات کو ظاہر کرنا مقصود ہے کہ ستر دن میں ہم نے لکھا۔ یہ اسی وقت ہوسکتا ہے کہ بیان مہینے کے ساتھ تاریخ بھی لکھی جائے۔

غرضیکہ یہ تین غلطیاں ہوئیں۔ اب اگر تیسری غلطی سے چشم پوشی کی جائے اور مرزا قادیانی کی دوسری عبارت سے تاریخ معین کرنے کی نوبت آئے تو بھی کوئی تاریخ متعین نہیں ہوتی۔ سارے احتمالات غلط ہیں اس کی وجہ ملاحظہ ہو۔

مہینے اور تاریخ کے بیان کرنا چاہتے ہیں اور لکھتے ہیں: ”و كان من الهجرة ١٣١٨ه و من شهر النصاریٰ، ٢٠/فروری ١٩٠١ء“

اس عبارت سے معلوم ہوا کہ جس ماہ صیام سے رسالہ لکھنے کی ابتداء ہوئی وہ ماہ صیام ١٣١٨ھ کا تھا۔ اس عبارت کا ناقص ہونا نہایت ظاہر ہے۔ کیونکہ مہینہ کی تعیین کے ساتھ یہاں تاریخ کا معین کرنا ضرور تھا تاکہ ستر دن کی ابتداء معلوم ہوتی۔ مگر ایسا نہیں ہوا۔ یہ چوتھی غلطی ہے۔

٤٠

٢٣؍ رمضان کے قبل نہیں ہوئی۔ اس رمضان کی ٢٣؍ مطابق ہے۔ کے بعد ١٦، ١٧ کو ہوئی۔ اس کے کا مقتضا یہ ہے کہ جس طرح پہلے جملہ میں عیسوی ماہ اور سنہ کا بیان بیان کر کے عیسوی مہینہ اور سنہ ک خلاف مرزا قادیانی اس جملہ میں سے ظاہر ہے۔ یہ پانچویں غلطی ہے

لئے یہ بیان بالکل غلط ہے۔ کیونک ابتداء ہے اور یہ ماہ صیام ٢٣؍ دسمب کو ختم ہو گیا۔ اس لئے فروری کی اس کی ابتداء رمضان کی کسی تاری دن فروری کے بعد یکم/ مارچ کو سے ہے تو اس کا اختتام مارچ ک دوشنبہ سہ شنبہ چہارشنبہ کو ہوگا۔ غرض یہ چھٹی غلطی ہے اور سلب کردی ہے تا کہ ان کے دعویٰ ہے کہ ٢٠/ فروری ١٩٠١ء کو رسالہ

”خدا تعالیٰ نے ستر دن کے اندر

صفحہ ٢٩٩

٢٣؍ رمضان کے قبل نہیں ہوئی۔ بلکہ بعد ہوئی ہے مگر بعد کی کوئی تاریخ یہاں بھی بیان نہیں کی اور اس رمضان کی ٢٣؍ مطابق ہے۔ ١٥؍ جنوری ١٩٠١ء کے اس لئے لکھنے کی ابتداء ١٥؍ جنوری یا اس کے بعد ١٦، ١٧ کو ہوگی۔ اس کے بعد یہ جملہ ہے من شہر النصاریٰ ٢٠؍ فروری ١٩٠١ء عربی کی طرز تحریر کا مقتضا یہ ہے کہ جس طرح پہلے جملہ میں لکھنے کی ابتداء نبوی ماہ اور سنہ سے بیان کی گئی ہے۔ اس جملہ میں عیسوی ماہ اور سنہ کا بیان ہو۔ یہ طرز بالکل مطابق ہے۔ اردو طرز کے کہ اکثر ہجری سنہ کو بیان کر کے عیسوی مہینہ اور سنہ کی مطابقت لکھا کرتے ہیں۔ مگر سوق عبارت اور عرف عام کے خلاف مرزا قادیانی اس جملہ میں انتہائے تحریر کا زمانہ بتاتے ہیں۔ جیسا کہ لوح کے دوسرے صفحہ سے ظاہر ہے۔

یہ پانچویں غلطی ہے قاعدہ عربیت کے لحاظ سے مگر افسوس ہے اس پر بھی بس نہیں ہے۔

لئے یہ بیان بالکل غلط ہے۔ کیونکہ پہلے بیان سے معلوم ہوا کہ ١٣١٨ھ کے ماہ صیام سے رسالہ کی ابتداء ہے اور یہ ماہ صیام ٢٢؍ نومبر ١٩٠٠ء روز دوشنبہ سے شروع ہے اور ٢١؍ جنوری ١٩٠١ء روز دوشنبہ کو ختم ہو گیا۔ اس لئے فروری کی کسی تاریخ سے ابتداء نہیں ہوئی اور اگر ختم کی تاریخ کا بیان ہے تو اس کی ابتداء رمضان کی کسی تاریخ سے نہیں ہو سکتی۔ کیونکہ اگر پہلی تاریخ سے فرض کریں تو آخری دن فروری کے بعد یکم؍ مارچ کو ہوگا۔ ٢٠؍ فروری نہیں ہو سکتی اور اگر ابتداء ٢٣ یا ٢٤ یا ٢٥ ماہ صیام سے ہے تو اس کا اختتام مارچ کی ٢٥، ٢٦ یا ٢٧ تاریخ مطابق ٤، ٥، ٦؍ تاریخ ذوالحجہ ١٣١٨ھ روز دوشنبہ سہ شنبہ چہار شنبہ کو ہوگا۔ غرضیکہ ٢٠؍ فروری کو انتہاء بھی کسی طرح نہیں ہو سکتی۔

یہ چھٹی غلطی ہے اور ایسی غلطی ہے جس سے بخوبی عیاں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کی عقل سلب کر دی ہے تا کہ ان کے دعوے کی غلطی ادنیٰ ذی علم بھی معلوم کر سکے۔ یہ امر بھی لحاظ کے لائق ہے کہ ٢٠؍ فروری ١٩٠١ء کو رسالہ کا ختم ہونا کئی مقام پر لکھتے ہیں۔

”خدا تعالیٰ نے ستر دن کے اندر ٢٠؍ فروری ١٩٠١ء کو اس رسالہ کو اپنے فضل و کرم سے پورا کر دیا۔“

(اعجاز المسیح ص ٢، خزائن ج ١٨ ص ٢)

٤)

Wait, the reference line needs to be corrected to:

(اعجاز المسیح ص ٢، خزائن ج ١٨ ص ٢)

Let me adjust that output cleanly.

٢٣؍ رمضان کے قبل نہیں ہوئی۔ بلکہ بعد ہوئی ہے مگر بعد کی کوئی تاریخ یہاں بھی بیان نہیں کی اور اس رمضان کی ٢٣؍ مطابق ہے۔ ١٥؍ جنوری ١٩٠١ء کے اس لئے لکھنے کی ابتداء ١٥؍ جنوری یا اس کے بعد ١٦، ١٧ کو ہوگی۔ اس کے بعد یہ جملہ ہے من شہر النصاریٰ ٢٠؍ فروری ١٩٠١ء عربی کی طرز تحریر کا مقتضا یہ ہے کہ جس طرح پہلے جملہ میں لکھنے کی ابتداء نبوی ماہ اور سنہ سے بیان کی گئی ہے۔ اس جملہ میں عیسوی ماہ اور سنہ کا بیان ہو۔ یہ طرز بالکل مطابق ہے۔ اردو طرز کے کہ اکثر ہجری سنہ کو بیان کر کے عیسوی مہینہ اور سنہ کی مطابقت لکھا کرتے ہیں۔ مگر سوق عبارت اور عرف عام کے خلاف مرزا قادیانی اس جملہ میں انتہائے تحریر کا زمانہ بتاتے ہیں۔ جیسا کہ لوح کے دوسرے صفحہ سے ظاہر ہے۔

یہ پانچویں غلطی ہے قاعدہ عربیت کے لحاظ سے مگر افسوس ہے اس پر بھی بس نہیں ہے۔

لئے یہ بیان بالکل غلط ہے۔ کیونکہ پہلے بیان سے معلوم ہوا کہ ١٣١٨ھ کے ماہ صیام سے رسالہ کی ابتداء ہے اور یہ ماہ صیام ٢٢؍ نومبر ١٩٠٠ء روز دوشنبہ سے شروع ہے اور ٢١؍ جنوری ١٩٠١ء روز دوشنبہ کو ختم ہو گیا۔ اس لئے فروری کی کسی تاریخ سے ابتداء نہیں ہوئی اور اگر ختم کی تاریخ کا بیان ہے تو اس کی ابتداء رمضان کی کسی تاریخ سے نہیں ہو سکتی۔ کیونکہ اگر پہلی تاریخ سے فرض کریں تو آخری دن فروری کے بعد یکم؍ مارچ کو ہوگا۔ ٢٠؍ فروری نہیں ہو سکتی اور اگر ابتداء ٢٣ یا ٢٤ یا ٢٥ ماہ صیام سے ہے تو اس کا اختتام مارچ کی ٢٥، ٢٦ یا ٢٧ تاریخ مطابق ٤، ٥، ٦؍ تاریخ ذوالحجہ ١٣١٨ھ روز دوشنبہ سہ شنبہ چہار شنبہ کو ہوگا۔ غرضیکہ ٢٠؍ فروری کو انتہاء بھی کسی طرح نہیں ہو سکتی۔

یہ چھٹی غلطی ہے اور ایسی غلطی ہے جس سے بخوبی عیاں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کی عقل سلب کر دی ہے تا کہ ان کے دعوے کی غلطی ادنیٰ ذی علم بھی معلوم کر سکے۔ یہ امر بھی لحاظ کے لائق ہے کہ ٢٠؍ فروری ١٩٠١ء کو رسالہ کا ختم ہونا کئی مقام پر لکھتے ہیں۔

”خدا تعالیٰ نے ستر دن کے اندر ٢٠؍ فروری ١٩٠١ء کو اس رسالہ کو اپنے فضل و کرم سے پورا کر دیا۔“

(اعجاز المسیح ص ٢، خزائن ج ١٨ ص ٢)

٤١) Wait, the 2 is missing. I will re-output everything clean.

صفحہ ٣٠٠

کے پہلے صفحہ پر بھی یہی تاریخ ہے اور اس رسالہ کے آخر ص ٢٠٠ میں لکھتے ہیں۔ ”قــد طبــع بفضلک فی مدۃ عدۃ العیدین فی یوم الجمعۃ وفی شھر مبارک بین العیدین“

(اعجاز المسیح ص ٢٠٢، خزائن ج ١٨ ص ٢٠٤)

میرے فضل سے یہ کتاب عیدین کے عدد کی مدت میں جمعہ کے دن اور مبارک مہینے میں دو عیدوں کے درمیان چھاپی گئی۔ اس سے تین باتیں ظاہر ہیں۔

اب دیکھا جائے کہ ٢٠؍فروری ١٩٠١ء کو رسالہ کا اختتام ہے تو روز جمعہ نہیں ہو سکتا۔ کیونکہ یہ تاریخ روز چہارشنبہ ٣٠؍شوال ١٣١٨ھ کو ہے۔

اب کہئے کہ ٢٠؍فروری کو صحیح مانا جائے یا روز جمعہ کو غرضیکہ اسی طرح اس عبارت میں اور بھی اغلاط ہیں۔ سب کے بیان میں بے کار تقریر کا طول دینا ہے۔ جن کو حق طلبی ہے۔ ان کے لئے اتنا ہی کافی ہے کہ وہ رسالہ جس کی نسبت یہ دعویٰ بڑے زور سے ہو رہا ہے کہ اس کی عبارت ایسی فصیح و بلیغ ہے کہ اس کے مثل کوئی نہ لا سکا اور نہ لا سکے گا۔ اس کے لوح کی دو سطر عبارت نہایت خبط اور محض غلط ہے۔ پھر ایسا شخص فصیح و بلیغ عبارت کیا لکھے گا؟ اور اگر لکھ سکتا تھا مگر یہاں ایسی غلطیاں ہو گئیں تو یہ روشن دلیل ہے کہ خدا تعالیٰ نے ایسے مدعی کے دعوے کے غلط کرنے کو اس عبارت کے لکھنے کے وقت اس کے حواس سلب کر دیئے کہ ایسی مہمل عبارت لکھی کہ ادنیٰ طالب علم ادب پڑھنے والا نہ لکھے گا۔ یہ پندرھویں دلیل ہے۔ مرزا قادیانی کے جھوٹے ہونے پر اب افسوس یہ ہے کہ کذب کے ایسے بین ثبوت موجود ہیں مگر ماننے والے کچھ نہیں دیکھتے۔ اس کے بعد میں مرزا قادیانی کے اس دعوے کی نسبت ایک عظیم الشان بات کہنا چاہتا ہوں جو حضرات علم و دانش سے حصہ رکھتے ہیں اور خوف خدا سے کسی وقت ان کے دل لرزنے لگتے ہیں۔ وہ متوجہ ہو کر غور فرمائیں۔

٤٢

صفحہ ٣٠١

اعجاز المسیح اور اعجاز احمدی کے معجزہ کہنے پر گہری نظر

اور مرزا قادیانی کی اندرونی حالت کا اظہار

حضرت سرور انبیاء محمد مصطفیٰ ﷺ سے بہت معجزات ظاہر ہوئے اور کثرت سے پیشین گوئیاں آپ ﷺ نے کیں اور جن کے پورا ہونے کے وقت گذر چکا وہ پوری ہوئیں اور کسی کے پورا ہونے میں سرمو فرق نہیں ہوا۔ مگر حضور انور ﷺ نے بجز قرآن مجید کے کسی کو اپنے دعوئی نبوت کے ثبوت میں پیش نہیں کیا اور کفار کے معجزہ طلب کرنے کے وقت آپ نے یہ نہیں فرمایا کہ میں نے فلاں فلاں معجزہ دکھایا ہے۔ اس پر نظر کرو۔ صرف قرآن مجید ہی کو پیش کر کے کہا : ”فاتوا بسورة من مثله وادعوا شهداء كم من دون الله ان كنتم صادقين ٭ فان لم تفعلوا ولن تفعلوا فاتقوا النار التى وقودها الناس والحجارة (بقرہ:٢٣،٢٤) “ ”یعنی اگر تم (مجھ پر الزام دینے میں) سچے ہو تو قرآن مجید کی ایک سورت کے مثل لے آؤ اور اللہ کے سوا اپنے معین اور مددگاروں کو بلاؤ اور اگر نہ لاسکو اور ہرگز نہ لا سکو گے تو جہنم کی آگ سے ڈرو۔﴾ (اس فرمانے کے ساتھ یہ پیشین گوئی بھی کر دی کہ تم اس کے مثل ہرگز نہ لاسکو گے۔ یہ دعویٰ قرآن مجید سے مخصوص ہے۔ کسی آسمانی کتاب کے واسطے ایسا نہیں کہا گیا) مرزا قادیانی اپنے زبانی معجزوں کو ہر جگہ پیش کرتے ہیں اور انہیں تین لاکھ سے زیادہ بتاتے ہیں۔ اب جناب رسول اللہ ﷺ کی عاقلانہ روش پر نظر کی جائے اور مرزا قادیانی کی لن ترانیوں کو دیکھا جائے اس کے علاوہ اپنے رسالوں کو اپنی تصنیف کہتے ہیں۔ مگر بعینہ وہی دعویٰ اپنے دونوں رسالوں کی نسبت کرتے ہیں جو قرآن مجید میں کلام الٰہی کی نسبت کیا گیا۔ اگرچہ قید لگا کر کہا مگر عوام کو قید کا خیال کب رہتا ہے۔ اب میں اہل دل حقانی حضرات سے ملتجی ہوں کہ اس بیان میں محققانہ طور سے غور فرمائیں اور ملاحظہ کریں کہ جب مرزا قادیانی نے اپنے رسالوں کی نسبت بے مثل ہونے کا ویسا ہی دعویٰ کیا جیسا کہ قرآن مجید میں کیا گیا تھا اور اس کے مثل نہ لانے پر اسی طرح پیشین گوئی کر دی جس طرح قرآن مجید کے مثل نہ لانے پر کی گئی تھی اور جماعت مرزائیہ اس پر ایمان لے آئی اور اسے مرزا قادیانی کا معجزہ سمجھی تو نہایت صفائی سے ثابت ہوا کہ مرزا قادیانی کے رسالے ان کے خیال کے بموجب ویسے ہی بے مثل ہیں جیسے قرآن مجید بے مثل ہے۔ اسی وجہ سے مرزا قادیانی کی صداقت میں قرآن مجید کی وہی آیت پیش کرتے ہیں جو کلام الٰہی نے حضرت سرور انبیاء علیہ

٤٣

PDF 303

السلام کی صداقت میں پیش کی ہے۔ جب اس خاص صفت میں یعنی مثل ہونے میں وہ رسالے اور قرآن مجید یکساں ہوئے اور قرآن مجید کی خصوصیت نہ رہی تو اس کا لازمی نتیجہ یہ ہے کہ یہ رسالے قرآن مجید کے مثل ہیں۔ اس لئے قرآن مجید کا یہ دعویٰ کہ اس کے مثل کوئی نہیں لا سکے گا۔ غلط ٹھہرا اور جناب رسول اللہ ﷺ کا وہ عظیم الشان معجزہ جسے حضور انور ﷺ نے اپنے دعویٰ نبوت میں پیش کیا تھا۔ مرزا قادیانی کے قول کے بموجب باطل ہوا۔ (نعوذ باللہ) اب اس کا فیصلہ ناظرین اہل علم پر چھوڑتا ہوں کہ جس دعویٰ کا انجام یہ ہے جو ابھی بیان کیا گیا۔ کس غرض سے کیا گیا۔ ایسے دعوے کرنے والے کا دلی منشاء کیا معلوم ہوتا ہے؟ آپ ہی فرمائیں میں اپنی زبان سے کچھ نہیں کہتا۔

اس کے علاوہ اس پر بھی نظر کی جائے کہ رسول اللہ ﷺ نے صرف قرآن مجید اپنے دعویٰ کے ثبوت میں پیش کیا۔ جو عربی نثر میں ہے۔ مرزا قادیانی اسی طرح کے دو رسالے پیش کرتے ہیں۔ ایک نظم اور دوسرا نثر ہے اس کا نتیجہ بالضرور یہ ہے کہ مرزا قادیانی نے نظم ونثر میں دونوں طرح کے رسالے لکھ کر مخالفوں کے سامنے پیش کئے اور تمام مخالفین عاجز رہے۔ اس لئے ہمارا اعجاز بڑھ گیا۔

اے اسلام کے سچے بہی خواہو! مرزا قادیانی کی باتوں پر خوب غور کرو۔ میں نہایت خیر خواہی سے تمہیں متنبہ کرتا ہوں۔ اس بیان پر روشنی ڈالنے کے لئے اور بھی چند باتیں آپ کے روبرو پیش کرتا ہوں۔ انصاف دلی سے ان پر آپ نظر کریں۔ تاکہ آپ کو یقینی طور سے معلوم ہو جائے کہ مرزا قادیانی دراصل مذہب اسلام کی بے وقعتی ثابت کرنا چاہتا ہے۔ مگر ایسے طریقے سے کہ مسلمان ماننے والے برہم نہ ہو جائیں۔ اس کے ثبوت میں مذکورہ بیان کے علاوہ امور ذیل ملاحظہ کئے جائیں۔

کیا ہے کہ اس مذمت کو الہام الہی بتایا ہے۔ یعنی یہ مذمت میں نے نہیں کی۔ بلکہ اللہ تعالیٰ نے کی ہے۔

(اعجاز احمدی ص ٣٨ خزائن ج ١٩ ص ١٤٩)

اس مذمت کا نمونہ میں نے ”حقیقت المسیح“ اور ”دعویٰ نبوت مرزا“ میں دکھایا ہے اور ان کے اقوال اعجاز احمدی سے نقل کئے ہیں۔ پھر کیا عاشق رسول اللہ ﷺ امت محمدی ہو کر ایسا کہہ سکتا ہے؟ ہرگز نہیں۔ اس ہجو سے ان کی دلی حالت معلوم ہوتی ہے کہ انہیں جناب رسول اللہ ﷺ سے کیسا اعتقاد تھا۔ حضرت سرور انبیاء ﷺ کی اولاد کی تو بڑی شان ہے۔ کوئی سچا مرید اپنے مرشد

٤٤

کی اولاد سے ایسا بدگمان نہیں ہوتا اور ان کی ہجو نہیں امام کی مدح میں ان کے اشعار پڑھ کر عوام کو فر الزام غلط ہے کہ وہ امام صاحب کی مذمت کرت امام کی مدح ہے۔ ہم کہتے ہیں کہ یہی تو تمہارے خیال ظاہر کر کے دوسری جگہ اس پر روغن قاز ملتے ونادان بھی اس چال کو سمجھ جائے گا کہ ایک جگہ نہا الہامی بتا کر دوسری جگہ ان کی تعریف کرنا نادانستہ الہامی بیان کیا ہے۔ اب ان اشعار کی نسبت یہ کہ مقابلہ میں ان کا کچھ اعتبار نہیں ہو سکتا۔ غرضیکہ ا ہے اور اس کی تائید میں مرزا قادیانی کے وہ فقر ابتداء میں لکھتے ہیں جس سے معلوم ہوتا ہے کہ ی اس زور سے بیان کرتے ہیں کہ کوئی سچا مسلمان ا

میرے نشانات ومعجزات جناب سید المرسلین علیہ یہ تو فضیلت کلی کا دعویٰ ہے۔ اس دعوے کا ثبوت اپنے باب میں ایک فیصلہ شائع کیا میں لکھتے ہیں : ” جو میرے لئے نشانات ظاہر ہو

”اور کوئی مہینہ نشانوں سے خالی نہیں تعجب ہے کہ ابھی تو یہ دعویٰ تھا کہ ی حاصل یہ ہے کہ پیدائش کے روز سے مرنے ت نشانات اور عمر کے ایام حساب کر کے دیکھ لو۔ ک آپ کو مرتبہ سے گرا دینا ہے۔ ان نشانوں میں ا

گئے اور دس مہینے حاملہ رہے۔ (٣) پھر وضع حمل

صفحہ ٣٠٣

کی اولاد سے ایسا بدگمان نہیں ہوتا اور ان کی ہجو نہیں کرتا۔ اس کے جواب میں بعض مرزائی حضرات امام کی مدح میں ان کے اشعار پڑھ کر عوام کو فریب دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ مرزا قادیانی پر یہ الزام غلط ہے کہ وہ امام صاحب کی مذمت کرتے ہیں۔ بلکہ ان کے یہ اشعار ہیں جن میں حضرت امام کی مدح ہے۔ ہم کہتے ہیں کہ یہی تو تمہارے جھوٹے امام کی ابلہ فریبی ہے کہ ایک جگہ اپنا دلی خیال ظاہر کر کے دوسری جگہ اس پر روغن قاز ملتے ہیں اور مسلمانوں کو فریب دیتے ہیں۔ مگر احمق و نادان بھی اس چال کو سمجھ جائے گا کہ ایک جگہ نہایت برے طور سے مذمت کر کے اور اس مذمت کو الہامی بتا کر دوسری جگہ ان کی تعریف کرنا ناواقفوں کو فریب دینا ہے۔ کیونکہ مذمت کو تو انہوں نے الہامی بیان کیا ہے۔ اب ان اشعار کی نسبت یہ کہا جائے گا کہ الہامی نہیں ہیں۔ اس لئے الہام کے مقابلہ میں ان کا کچھ اعتبار نہیں ہوسکتا۔ غرضیکہ اس سے بھی ہر ایک فہمیدہ ان کا ایک فریب سمجھ سکتا ہے اور اس کی تائید میں مرزا قادیانی کے وہ نعتیہ اشعار وقصیدے ملاحظہ کیجئے جو براہین احمدیہ کی ابتداء میں لکھے ہیں جس سے معلوم ہوتا ہے کہ بڑے عاشق رسول ہیں اور دوسری جگہ اپنی فضیلت اس زور سے بیان کرتے ہیں کہ کوئی سچا مسلمان اسے سن نہیں سکتا۔ اس کا نمونہ ملاحظہ ہو۔

میرے نشانات ومعجزات جناب سیدالمرسلین علیہ الصلوٰۃ والسلام سے سو حصے زیادہ ہیں؟ ہرگز نہیں۔ یہ تو فضیلت کلی کا دعویٰ ہے۔ اس دعوے کا ثبوت ملاحظہ ہو۔

اپنے باب میں ایک فیصلہ شائع کیا ہے۔ اس فیصلہ کا عنوان ملاحظہ ہو۔ اس کی تمہید میں لکھتے ہیں: ”جو میرے لئے نشانات ظاہر ہوئے وہ تین لاکھ سے زیادہ ہیں۔“

(حقیقت الوحی ص ٦٧، خزائن ج ٢٢ ص ٧٠)

”اور کوئی مہینہ نشانوں سے خالی نہیں گزرتا۔“

(اخبار بدر مورخہ ١٩ جولائی ١٩٠٦ء)

تعجب ہے کہ ابھی تو یہ دعویٰ تھا کہ تین لاکھ سے زیادہ میرے نشانات ہوئے۔ جس کا حاصل یہ ہے کہ پیدائش کے روز سے مرنے کے دن تک بارہ تیرہ نشان روز صادر ہوتے تھے۔ نشانات اور عمر کے ایام حساب کر کے دیکھ لو۔ پھر اب ایک مہینہ میں چند نشانوں کا دعویٰ کرنا اپنے آپ کو مرتبہ سے گرا دینا ہے۔ ان نشانوں میں نہایت عظیم الشان نشان یہ ہوں گے کہ مرزا قادیانی (١) مرد سے عورت بنے۔ یعنی غلام احمد سے مریم ہو گئے۔ (٢) اور بغیر مرد کے صحبت کے حاملہ ہو گئے اور دس مہینے حاملہ رہے۔ (٣) پھر وضع حمل اس طرح ہوا کہ گھر کے کسی عورت و مرد نے نہیں

٤٥

صفحہ ٣٠٤

دیکھا۔ بلکہ ظاہر میں اس مرزائی صورت میں نظر آتے رہے اور اس سے مسیح پیدا ہوئے۔ (٤) پھر عجب نشان یہ ہوا کہ مرزائی مریم کا پیٹ ایسا وسیع ہوا کہ جوان لڑکا داڑھی مونچھ والا نکل آیا اس کے بعد۔ (٥) پانچواں نشان عجیب و غریب ہوا کہ یہ سب کچھ ہوا مگر عادت اللہ اور سنت اللہ کے خلاف کچھ نہ ہوا۔ کیونکہ مرزا قادیانی تو سنت اللہ کے خلاف کو غیر ممکن سمجھتے ہیں۔ اسی وجہ سے پہلی تاریخ کے چاند گہن کو غیر ممکن خیال کرتے ہیں۔ (٦) چھٹا نشان یہ ہوا کہ صرف لفظ استعارہ کہہ دینے سے واقعی عالم میں مرزا قادیانی مجسم ابن مریم ہو گئے اور حدیث کے مصداق بن گئے۔ ایسے نشانات کا کیا ٹھکانا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مرزائی حضرات اس وقت کو روشن ضمیری کا زمانہ کہتے ہیں۔ (ایسے وقت میں مرزا قادیانی کے ان خرافات پر ایمان لانا بڑی روشن ضمیری ہے)

اس تعداد بیان کرنے سے معلوم ہوا کہ مرزا قادیانی اپنے نشانات کے شمار کا رجسٹر رکھتے تھے اور وہ تعداد اپنی صداقت کے جوش کے وقت مشتہر کی جاتی تھی۔ اب ہم دریافت کرتے ہیں کہ مرزا قادیانی کو اور مرزائیوں کو یہ دعویٰ ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ کے اتباع و پیروی سے یہ رتبہ انہیں ملا اور ظلی اور بروزی اور اصلی نبی ہو گئے۔ مگر وہ یہ بتا سکتے ہیں کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے اپنی تمام عمر میں ایک مرتبہ بھی ایسا دعویٰ کیا کہ میرے اس قدر نشانات و معجزات ہوئے؟ کوئی ثابت نہیں کر سکتا۔ پھر بھی اتباع سنت اور رسول اللہ ﷺ کی پیروی ہے؟ ہاں! مرزا قادیانی حضور انور ﷺ کے معجزات شمار کر کے لکھتے ہیں کہ: ”تین ہزار معجزے ہمارے نبی ﷺ سے ظہور میں آئے ۔“

(تحفہ گولڑویہ ص ٤٠، خزائن ج ١٧ ص ١٥٣)

یہاں تین ہزار سے زیادہ ایک کا بھی اضافہ مرزا قادیانی بیان نہیں کرتے۔ مگر اپنے تین لاکھ نشانوں سے بھی بے تعداد اضافہ بیان کرتے ہیں۔ اب اس پر غور کیجئے کہ معجزہ خاص خدا کی طرف سے رسول کی عظمت ظاہر کرنے کے لئے ہوتا ہے۔ اب جس قدر نشانات اور معجزات زیادہ ظاہر ہوں گے اسی قدر اس رسول کی عظمت اور مرتبت زیادہ ہوگی۔

اب مرزا قادیانی اپنے تین لاکھ سے زیادہ معجزات بیان کرتے ہیں اور جناب رسول اللہ ﷺ کے تین ہزار۔ اس سے نہایت ظاہر ہے کہ مرزا قادیانی اپنی عظمت اور مقبولیت کو حضور انور ﷺ سے سو حصے زیادہ بلکہ سواسو حصے سے بھی زیادہ بتاتے ہیں اور ان کے پیرو اس پر آمنا کہہ رہے ہیں۔ اس ایمان پر غور سے نظر کی جائے۔

بھائیو! اس پر غور کرو جو رسول اللہ سید الاولین و الآخرین ہو۔ جس پر نبوت کا خاتمہ ہو گیا ہو۔ خدا تعالیٰ نے قطعی طور سے جسے آخر الانبیاء قرار دیا ہو اور اسے عالم کے لئے رحمت فرمایا ہو اس

٤٦

صفحہ ٣٠٥

کے بعد اس کی امت میں کوئی نبی آئے۔ وہ سرور انبیاء علیہ الصلوٰۃ والسلام سے سو حصے زیادہ عظمت رکھتا ہو۔ یہ ہو سکتا ہے کسی مسلمان کا دل اسے باور کر سکتا ہے؟ ہر گز نہیں، ہر گز نہیں۔ اس کا حاصل تو یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ افضل الانبیاء نہیں ہیں۔ بلکہ مرزا قادیانی ہیں۔ (استغفر اللہ ) اب غور کرو کہ مرزا قادیانی کا خیال جناب رسول اللہ ﷺ سے کیسا ہے اور ان کی مدح کرنے کا کیا منشاء ہے۔ اس کی تائید میں ان کا الہام ملاحظہ کیجئے۔

الافلاک“، یعنی مرزا قادیانی کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے میری مدح میں مجھ سے خطاب کر کے فرمایا کہ اگر میں تجھے پیدا نہ کرتا ، تو آسمان زمین کچھ پیدا نہ کرتا۔ اس کا حاصل یہ ہوا کہ دنیا میں جس قدر مخلوقات پیدا کی گئی وہ سب مرزا قادیانی کا طفیل ہے۔ اگر مرزا قادیانی کا وجود شریف نہ ہوتا تو اس عالم کا وجود نہ ہوتا۔ دنیا کے تمام اولیاء انبیاء اور ان کے کمالات نبوت وغیرہ سب مرزا قادیانی کے طفیلی ہیں۔ انہیں کے طفیل سے تمام انبیائے کرام اور حضرت سید الانام کا وجود شریف ظہور میں آیا اور انہیں کی ذلہ ربانی سے انہیں کمالات نبوت ملے۔ اب یہ فریب دیا جاتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی پیروی سے مرزا قادیانی کو نبوت ملی اور ان کے اس اعلانیہ دعویٰ پر نظر نہیں کی جاتی۔ جس میں وہ حضور انور ﷺ کو اپنا طفیلی بنارہے ہیں۔ (استغفر اللہ نعوذ باللہ)

بھائیو! اس تعلی کی کچھ انتہاء ہے۔ سچے مسلمان کے لئے یہ تعلیاں کیسی صدمہ رساں ہیں۔ اب ان دعوؤں کو دیکھ کر ان کے نعتیہ اشعار کو جو ذی فہم دیکھے گا وہ قطعی فیصلہ کرے گا کہ مرزا قادیانی نے سادہ لوح مسلمانوں کو فریب دیا ہے۔

(اعجاز احمدی ص ٥٨ ، خزائن ج ١٩ ص ١٧٠)

اس شعر میں سابقین جمع ہے اور اس پر الف اور لام استغراق یا جنس کا آیا ہے۔ اس لئے اس کے معنی یہ ہوئے کہ جتنے اولیاء اور انبیاء پہلے گزر گئے۔ ان کے فیض کا پانی میلا اور مکدر ہو گیا اور میرا چشمہ کبھی میلا نہ ہوگا۔ یہ نہایت بدیہی دعویٰ ہے تمام انبیائے کرام پر فضیلت کا۔ جس میں جناب رسول اللہ ﷺ بھی شامل ہیں اور اپنے خاتم الانبیاء ہونے کا اور اپنی نبوت قیامت تک باقی رہنے کا دعویٰ ہے۔ چنانچہ مرزا قادیانی کے مریدین مرزا قادیانی کو خاتم الانبیاء اپنے اخباروں میں لکھتے ہیں۔ اسی طرح اور بھی فضیلتیں مرزا قادیانی نے اپنی بیان کی ہیں جس سے ان کا دلی راز اہل دانش معلوم کر سکتے ہیں۔

م ٤٧

صفحہ ٣٠٦

السلام کی نسبت ایسے بیہودہ اور سخت کلمات زبان سے نکالے جیسے مرزا قادیانی نے ضمیمہ انجام آتھم وغیرہ میں نکالے ہیں اور ایک اولوالعزم نبی کی بے حرمتی کی ہے۔ ہرگز نہیں کسی مسلمان کی زبان یا قلم سے ایسے الفاظ نہیں نکل سکتے۔ بلکہ قوی الاسلام ان الفاظ کو سن نہیں سکتا۔ اس کا دل لرز جاتا ہے۔ اگر کوئی دہریہ خدا کے ساتھ گستاخی کرے یا کوئی مردود، حضرت سرور انبیاء ﷺ کی نسبت زبان سے بے ادبانہ کلمات نکالے تو کسی مسلمان سے یہ نہیں ہو سکتا کہ اس کے جواب میں خدا تعالیٰ یا کسی برگزیدۂ خدا تعالیٰ کو گالیاں دینے لگے۔

١؎ (ضمیمہ انجام آتھم حاشیہ ص ٢٩٤، خزائن ج ١١ ص ٢٨٨ تا ٢٩٣) دیکھا جائے کہ کیسے سخت اور فحش کلمات لکھے ہیں۔ جب یہ حاشیہ پیش کیا جاتا ہے تو نادانوں سے کہہ دیتے ہیں کہ یہ کلمات یسوع کو کہے ہیں۔ جب ان کے رسالہ (توضیح المرام ص ٣، خزائن ج ٣ ص ٥٢) سے دکھایا جاتا ہے کہ خود مرزا قادیانی، حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور یسوع کو ایک بتاتے ہیں تو اور بیہودہ باتیں کہنے لگتے ہیں۔ کبھی کہتے ہیں کہ الزاماً ایسا کہا ہے کبھی کہتے ہیں کہ توہین کی نیت نہ تھی۔ مگر یہ سب فریب ہے۔ الزام دینا ہم بھی جانتے ہیں اور ہم نے بھی الزام دیئے ہیں۔ مگر جس طرز سے مرزا قادیانی نے حضرت مسیح علیہ السلام کی بے حرمتی کی ہے کوئی مسلمان کسی طرح نہیں کر سکتا اور نہ شریعت محمدیہ سے اسے اس طرح کہنا جائز ہے۔ اس واقعہ کو یاد کرنا چاہئے جسے (امام بخاری ج ٢ ص ٩٢٥) نے روایت کیا ہے کہ ایک صحابی اور یہودی سے لڑائی ہوئی اور یہودی نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو سارے جہاں پر ترجیح دی اور صحابی نے جناب رسول اللہ ﷺ کو اور اس یہودی کو ایک طمانچہ مارا اور یہودی جناب رسول اللہ ﷺ کے پاس فریاد لے گیا اور حضور ﷺ نے اس یہودی کے سامنے فرمایا کہ: ”لا تفضلونی علی موسیٰ“ یعنی موسیٰ علیہ السلام پر مجھے نہ بڑھاؤ۔ پھر غور کیا جائے کہ صحابی نے کوئی لفظ بے ادبی کا حضرت موسیٰ علیہ السلام کی شان میں نہیں کہا تھا۔ صرف جناب رسول اللہ ﷺ کو فضیلت دی تھی اور وہ بھی یہودی کے مقابلہ میں الزاماً کہا تھا اور سچی بات تھی۔ مگر حضور ﷺ نے اس کو بھی جائز نہ رکھا اور فرمایا کہ مجھے موسیٰ پر نہ بڑھاؤ۔ اس کو حقیقت المسیح میں دیکھنا چاہئے۔ جب رسول اللہ ﷺ نے صرف یہود کے مقابلہ میں اپنی فضیلت کو منع فرمایا تو ایسی بیہودہ گوئی اور بے حد گستاخی پادری کے مقابلہ میں کیونکر جائز ہو سکتی ہے۔ جیسے مرزا قادیانی نے حضرت مسیح علیہ السلام کی کی ہے۔ یہی رسول اللہ ﷺ کی پیروی کا دعویٰ ہے۔ اسی کی وجہ سے نبوت کا مرتبہ مل گیا؟ یہ کہتے ہوئے شرم نہیں آتی۔ اس کے علاوہ دافع البلاء کے آخر میں تو کسی پادری کے مقابلہ میں نہیں لکھتے۔ بلکہ قرآن مجید کا حوالہ دے کر مسلمانوں سے خطاب کر کے حضرت مسیح علیہ السلام کو شرمناک الزام دیا ہے۔ اب خلیفہ صاحب فرمائیں کہ جن کی عظمت و شان قرآن مجید میں بار بار بیان کی گئی ہے۔ جن کو اللہ تعالیٰ نے اپنا برگزیدہ رسول فرمایا ہے۔ ان کی نسبت کوئی مسلمان ایسے خیالات کر سکتا ہے جیسے مرزا قادیانی نے دافع البلاء کے آخر میں کئے ہیں؟ ہرگز نہیں۔ یہ وہ باتیں ہیں جن سے ان کی دہریت ثابت ہوتی ہے۔

٤٨

صفحہ ٣٠٧

یہ باتیں نہایت صفائی سے ثابت ہو رہی ہیں کہ مرزا قادیانی کے قلب میں حضرات انبیاء کی عظمت نہیں ہے۔ وہ دہریوں کی طرح کسی نبی کو نہیں مانتے۔ اپنے مطلب کے لئے کسی وقت کسی کی تعریف کر دی۔ یہ نہایت ظاہر باتیں ہیں۔ اگر صاف دل ہو کر میرے بیان میں غور کیجئے گا تو خدا کے فضل سے پوری امید ہے کہ جو کچھ میں نے کہا ہے اس کی تصدیق آپ کے دل میں ہو جائے گی۔ اب جناب رسول اللہ ﷺ کی مدح سرائی اور ان کی اتباع اور ظلیت کا دعویٰ اس غرض سے معلوم ہوتا ہے کہ مسلمان ان کی طرف متوجہ ہوں۔ کیونکہ باوجود بے انتہاء کوشش کے کوئی گروہ، ہندو، عیسائی یا دوسرے مذہب کا ان کی طرف متوجہ نہیں ہوا۔ اب اگر حضرت سرور انبیاء علیہ الصلوٰۃ والسلام کی مدح نہ کرتے اور ان کے اتباع وظلیت کا دعویٰ مسلمانوں پر ظاہر نہ کرتے تو کوئی مسلمان بھی ان کی طرف متوجہ نہ ہوتا۔ اس لئے اوّل انہوں نے دین اسلام کی کچھ تائید کی اور رسول اللہ ﷺ کی مدح سرائی کی پھر اپنی مدح سرائی اور ضمناً اپنے بیان اور الہامات میں اپنا تفوق جابجا ظاہر کیا۔ پھر حضرت سرور انبیاء علیہ الصلوٰۃ والسلام کے نہایت عظیم الشان معجزہ کا اس انداز سے ابطال کیا کہ مسلمان برہم نہ ہوں۔ یہ سب تمہید آئندہ اپنے مقصود کے اظہار کے لئے کی، جس طرح عبداللہ چکڑالوی پہلے مقلد حنفی تھا۔ اس وقت اس نے لوگوں کو اپنا معتقد اور پیرو بنایا۔ پھر وہ غیر مقلد ہو کر اہل حدیث بنا اور اپنے تئیں حدیث کا پیرو بتایا اور اپنے معتقدین کو غیر مقلد بنایا۔ پھر کچھ عرصہ کے بعد احادیث نبویہ علی صاحبہا الصلوٰۃ والسلام سے بالکل منہ پھیر لیا اور تمام حدیثوں کو غلط اور جھوٹی کہنے لگا۔ جب اس کے معتقدین نے اس سے کہا کہ پہلے آپ مقلد تھے اور ہم سے آپ نے تقلید کی ضرورت اور تعریف کی تھی۔ پھر آپ نے غیر مقلد ہو کر عمل بالحدیث کی طرف ہمیں متوجہ کیا۔ اب آپ اس کی مذمت کرتے ہیں اور حدیثوں کو جھوٹی اور موضوع بتاتے ہیں اور صرف قرآن پر عمل کرنے کو کہتے ہیں۔ یہ کیا بات ہے؟ اس نے جواب دیا کہ اگر میں آہستہ آہستہ تمہیں بتدریج راہ پر نہ لاتا تو تم ہرگز میری بات کو نہ مانتے۔ میرا شروع سے یہی خیال تھا جو میں اب کہہ رہا ہوں۔ چونکہ اس کے معتقدین کا اعتقاد راسخ ہو چکا تھا۔ اس لئے وہ اس کے پیرو رہے اور جو اس نے کہا انہوں نے اسے مانا۔ یہ واقعہ مرزا قادیانی کی حالت پر پوری روشنی ڈالتا ہے اور طالبین حق کے لئے آفتاب کی طرح مرزا قادیانی کی حالت کو دکھا رہا ہے۔ مرزا قادیانی نے پہلے مجدد اور محدث ہونے کا دعویٰ کیا اور مثیل مسیح بنے اور نہایت صفائی سے مسیح موعود ہونے سے انکار کیا۔

(ازالۃ الاوہام ص ١٩٠، خزائن ج ٣ ص ١٩٢)

پھر بڑے زور سے مسیح موعود ہونے کا دعویٰ کیا۔ اس کی وجہ یہ معلوم ہوتی ہے کہ اہل اسلام حضرت مسیح علیہ السلام کے منتظر تھے اور اس نازک وقت میں ان کا بہت زیادہ انتظار تھا۔ اس

٤٩

صفحہ ٣٠٨

لئے بعض نیک دل مولوی بھی ان کے معتقد ہوگئے۔ پھر افضل الانبیاء ہونے کا بھی دعویٰ کیا اور خدائی اختیارات ملنے کے بھی مدعی ہوئے۔ (صحیفہ رحمانیہ نمبر ٧ ملاحظہ ہو) اور کشفی طور سے خدا ہوگئے اور آسمان وزمین بنایا۔ مگر وہ ابھی تک اپنے اصلی مدعا پر کامیاب نہ ہوئے تھے اور مصلحت اعلانیہ دعویٰ خدائی سے مانع تھی کہ یکبارگی اس جہان فانی سے رحلت کر گئے۔ مگر اپنے اصلی مقصد یعنی مذاہب کی بیخ کنی کے لئے تخم پاشی کرتے رہے اور بہت سادہ دل حضرات اس سے بے خبر رہے۔ جب ان کے بعض مقلدین نے ان کے اختلاف اقوال کی نسبت دریافت کیا تو جب کوئی بات نہ بنی تو کہہ دیا کہ جس طرح مجھ پر خدا کی طرف سے ظاہر کیا گیا۔ ویسا ہی میں نے کہا۔ اب یہاں تک نوبت پہنچی کہ انہوں نے خدا تعالیٰ پر جھوٹ اور وعدہ خلافی کا الزام اور خدا کے رسولوں پر نا سمجھی اور غلط فہمی کی تہمت لگا کر اپنے آپ کو الزاموں سے بچایا اور شریعت الٰہی اور قرآن مجید کو غیر معتبر ٹھہرایا۔ کیونکہ جب خدا تعالیٰ جھوٹ بولتا ہے تو اس کے کسی کلام پر اعتبار نہیں ہوسکتا۔ جب وہ وعدہ خلافی کرتا ہے تو قرآن مجید میں جس قدر وعدے مسلمانوں کے لئے ہیں اور منکروں کے لئے وعیدیں ہیں سب بے کار ہیں۔ کوئی لائق اعتبار نہیں۔ اسی طرح جب انبیاء کسی وقت وحی کو نہیں سمجھتے یا غلط سمجھتے ہیں اور وہی غلط مطلب مخلوق سے بیان کرتے ہیں تو تمام وحی قرآنی لائق اعتبار نہ رہی۔ کیونکہ ہر وحی پر غلطی کا احتمال ہے۔ یہ ہے مرزا قادیانی کا مدعا اور راز دلی یعنی خدا اور رسول اور اس کا کوئی کلام لائق توجہ اور قابل اعتبار نہیں ہے۔ مگر مرزا قادیانی کے خیال میں ابھی تک مریدین کی وہ حالت نہ پہنچی تھی کہ ان کے اعلانیہ کہنے سے یہ لوگ حضرت سرور انبیاء علیہ الصلوٰۃ والسلام سے انکار کر کے میرے پیرو ہو جائیں گے۔ اس لئے درپردہ ایسی باتیں کہیں تاکہ آئندہ کسی وقت اصلی منشاء کے اظہار کا موقع رہے اور جب وقت آجائے تو صاف طور سے کہہ دیں کہ فلاں فلاں بات اس لئے کہی تھی۔ مگر چونکہ تمہاری طرف سے پورا اطمینان نہ تھا۔ اس لئے صاف طور سے نہیں کہا۔

برادران اسلام! اس رسالے کو مکرر ملاحظہ کریں اور دیکھیں کہ مرزا قادیانی نے کیسے کیسے جھوٹ بولے ہیں اور فریب دیئے ہیں۔ مگر الحمدللہ! انہی کے بیان سے ان کے جھوٹے ہونے کی پندرہ دلیلیں بیان کی گئیں اور آخر میں ان کا درپردہ منکر اسلام اور دہریہ ہونا نہایت روشن کرکے دکھا دیا گیا۔ اب تو مسلمانوں کو ضرور ہے کہ ان سے پرہیز کریں اور ان بندہ درہم ودینار کی باتوں کو نہ سنیں جو ایسے جھوٹے اور فریبی کو ظلی نبی یا خدا کا رسول کہتے ہیں اور دوسروں سے منوانا چاہتے ہیں۔ مرتبہ نبوت تو بہت بڑی چیز ہے میں نے تو ثابت کردیا کہ ایسا شخص تو مسلمان بھی نہیں ہوسکتا وہ تو درحقیقت منکر خدا اور رسول ہے۔ ”واللہ الموفق والمعین واخر دعوانا ان الحمد للہ رب العالمین“

(خاکسار ابواحمد رحمانی)

٥٠

شہید

اعجاز

مولانا حکیم

PDF 310

انا خاتم النبیین لا نبی بعدی

حضور نے فرمایا میں آخری نبی ہوں میرے بعد کوئی نبی نہیں

شہباز محمدی

بجواب

اعجاز احمدی

مولانا حکیم میر محمد ربانی صاحبؒ

صفحہ ٣١٠

فہرست مضامین

عنوانات صفحہ نمبر علمائے کرام ومشائخ عظام کی تصدیقات وآراء ٣١٥ تالیف کتاب کے اسباب ٣٢٢ سبب اوّل مرزا قادیانی کے بلانے کا جواب ٣٢٢ مرزائی اشعار دعوت کے لئے جوابی اشعار ٣٢٤ تالیف کتاب کا سبب دوم، میرے چند اہم خطوط کی اشاعت ٣٢٦ کتاب کی وجہ تسمیہ جس کا ماخذ ایک مرزائی عربی شعر ہے ٣٢٧ میرے اعدادی استدلالات ٣٢٨ حروف تہجی کے اعداد ٣٢٨ مرزا قادیانی کے نام واجزائے نام کے اعداد ٣٢٨ مرزائی اعجاز کی حقیقت کے خلاف چھ وجوہات ٣٢٩ پہلی وجہ ٣٢٩ دوسری وجہ ٣٢٩ تیسری وجہ ٣٣٠ چوتھی وجہ ٣٣٠ پانچویں وجہ ٣٣١ چھٹی وجہ ٣٣٣ شدت کا جواب شدت سے ٣٣٤ مرزائی عذرات اور محمدی جوابات ٣٣٦ عذر اوّل ٣٣٦ عذر اوّل کا جواب اوّل ٣٣٦ جواب دوم ٣٣٧ چند محمدی نشانات ٣٣٧ نشان اوّل ٣٣٧ نشان دوم ٣٣٨ نشان سوم نشان چہارم نشان پنجم عذر دوم قرآن مجید کی چند آیات انجیل متی اور دانیال کی شہادت عذر سوم جواب اوّل جواب دوم جواب سوم عذر چہارم عذر پنجم چند محمدی پیش گوئیاں پیش گوئی اوّل دربارہ لفظ توفی محمدی چیلنج بنام خلیفہ آف ربوہ (جناب محمود) پیش گوئی دوم دربارہ ابوالعطاء مرزائی پیش گوئی سوم دربارہ روشن دین تنویر مدیر روز پیش گوئی چہارم دربارہ تاج محمود زانی پیش گوئی پنجم دربارہ قاضی محمد نذیر شیخوپورہ عذر ششم عذر ہفتم میرے نام جلال الدین شمس کا ایک خط عذر ہشتم عذر نہم عذر دہم عذر یازدہم عذر دوازدہم ٢

صفحہ ٣١١

صفحہ نمبر ٣١٥ ٣٢٢ ٣٢٢ ٣٢٤ ٣٢٦ ٣٢٧ ٣٢٨ ٣٢٨ ٣٢٨ ٣٢٩ ٣٢٩ ٣٢٩ ٣٣٠ ٣٣٠ ٣٣١ ٣٣٣ ٣٣٤ ٣٣٦ ٣٣٦ ٣٣٦ ٣٣٧ ٣٣٧ ٣٣٧ ٣٣٨

نشان سوم ٣٣٨ نشان چہارم ٣٣٨ نشان پنجم ٣٣٩ عذر دوم ٣٤٠ قرآن مجید کی چند آیات ٣٤٠ انجیل متی اور دانیال کی شہادت ٣٤٣ عذر سوم ٣٤٤ جواب اوّل ٣٤٤ جواب دوم ٣٤٤ جواب سوم ٣٤٥ عذر چہارم ٣٤٥ عذر پنجم ٣٥٢ چند محمدی پیش گوئیاں ٣٥٨ پیش گوئی اوّل در بارہ لفظ توفی ٣٥٨ محمدی چیلنج بنام خلیفہ آف ربوہ (چناب نگر) ٣٦٤ پیش گوئی دوم در بارہ ابو العطاء مرزائی ٣٦٥ پیش گوئی سوم در بارہ روشن دین توبہ مدیر روزنامہ الفضل ربوہ (چناب نگر) ٣٦٧ پیش گوئی چہارم در بارہ تاج محمد مرزائی ٣٦٩ پیش گوئی پنجم در بارہ قاضی محمد نذیر شیخ مبارک احمد مرزائیان ٣٧٠ عذر ششم ٣٧١ عذر ہفتم ٣٧٣ میرے نام جلال الدین شمس کا ایک خط ٣٧٤ عذر ہشتم ٣٧٦ عذر نہم ٣٧٧ عذر دہم ٣٧٧ عذر یازدہم ٣٧٨ عذر دوازدہم ٣٧٩

٣

صفحہ ٣١٢

عذر سیزدہم ٣٨٠ عذر چہاردہم ٣٨١ عذر پانزدہم ٣٨٢ مولوی ثناء اللہ کے ساتھ آخری فیصلہ ٣٨٣ ہلاکت مرزا کے سال کے اعدادی الفاظ اور ایک آیت قرآن ٣٨٤ عذر شانزدہم ٣٨٥ عذر ہفدہم ٣٨٨ عذر ہجدہم ٣٩٠ ابوالعطاء جالندھری کے نام ایک خط اور علامات مسیح کا بیان ٣٩٢ حضرت حسان کے دو اشعار کا مفہوم ٣٩٧ عذر نہدہم ٣٩٨ ربوہ کے مفہوم کے متعلق فارسی اشعار ٣٩٩ یوز آصف اور اس کے مقبرہ کی حقیقت اور فارسی اشعار ٤٠١ عذر بست و یکم ٤٠٢ عذر بست و دوم ٤٠٥ مولوی عبداللطیف بہاول پوری کے نام ایک خط ٤٠٥ مولوی عبداللطیف مذکور کی ہلاکت کے لئے فارسی اشعار میں پیش گوئی ٤٠٨ عذر بست و سوم ٤٠٩ اردو نظم کا جواب اردو قصیدہ میں ٤١٢ عذر بست و چہارم ٤١٤ علمی و ادبی نشانات محمدیہ ٤١٥ نشان اوّل دربارہ مسیح ومہدی ٤١٥ نشان دوم دربارہ حضرت خواجہ غلام فرید صاحب چاچڑائی ٤١٩ مرزائی مساجد کی تعمیر کا مسئلہ اور مسجد ضرار اور فارسی اشعار ٤٢٣ اُردو قصیدہ بنام مرزائیت رسیدہ ٤٢٤ نشان سوم دربارہ بہائی فرقہ ٤٢٧ نشان چہارم ٤٢٩

٤

تردید بہائیت کے متعلق فارسی اشعار نشان پنجم دربارہ جنگ بھارت نشان ششم : دربارہ حیات مسیح نشان ہفتم دربارہ مفہوم توفی نشان ہشتم دربارہ فاتحہ خلف الامام وغیرہ دس ہزاری اشتہار جواب باصواب مرزائی تعلیات اور مجددی جوابات پہلی تعلی خلافت صدیق اور کارصدیق دوسری تعلی تیسری تعلی چوتھی تعلی پانچویں تعلی چھٹی تعلی ساتویں تعلی آٹھویں تعلی نویں تعلی دسویں تعلی گیارہویں تعلی مرزائی قصیدہ کے عیوب ونقائص مرزائی عقیدہ کے چند ابتدائی اشعار کی تصحیح درمیان قصیدہ سے چار اشعار کی تصحیح مرزائی قصیدہ کے چند مشہور نقائص میری آخری گذارش مرزائی شتمیات اور مجددی جوابات پہلی گالی دوسری گالی

صفحہ ٣١٣

تردید بہائیت کے متعلق فارسی اشعار ٤٣١ نشان پنجم دربارہ جنگ بھارت ٤٣٨ نشان ششم دربارہ حیات مسیح ٤٣٩ نشان ہفتم دربارہ مفہوم توفی ٤٤٥ نشان ہشتم دربارہ فاتحہ خلف الامام وغیرہ ٤٤٧ دس ہزاری اشتہار جواب باصواب ٤٥٠ مرزائی تعلیات اور محمدی جوابات ٤٥١ پہلی تعلی ٤٥١ خلافت صدیق اور کار صدیق ٤٥٤ دوسری تعلی ٤٥٦ تیسری تعلی ٤٦٨ چوتھی تعلی ٤٧٠ پانچویں تعلی ٤٧١ چھٹی تعلی ٤٧٥ ساتویں تعلی ٤٧٦ آٹھویں تعلی ٤٧٨ نویں تعلی ٤٨٠ دسویں تعلی ٤٨٤ گیارھویں تعلی ٤٨٥ مرزائی قصیدہ کے عیوب ونقائص ٤٨٧ مرزائی قصیدہ کے چند ابتدائی اشعار کی تصحیح ٤٨٩ درمیان قصیدہ سے چار اشعار کی تصحیح ٤٩٤ مرزائی قصیدہ کے چند مشہور نقائص ٤٩٦ میری آخری گذارش ٤٩٧ مرزائی شتمیات اور محمدی جوابات ٤٩٨ پہلی گالی ٤٩٨ دوسری گالی ٥٠١

٥

صفحہ ٣١٤

تیسری گالی ٥٠٢ چوتھی گالی ٥٠٥ پانچویں گالی ٥٠٨ چھٹی گالی ٥٠٩ اعدادی ضربات پر مرزا ومرازائیات ٥١٠ قصیدۃ اللام علیٰ عقیدۃ الغلام ٥٢٠ حمد خدا اور ثنائے مصطفیٰ ﷺ کے بارے میں ٥٢٠ فی الآل والاصحاب (آل واصحاب کے بارے میں) ٥٢٣ فی الغلام الھندی والمبحث المدی (غلام احمد اور مباحثہ مد کے بارے میں) ٥٢٦ فی ختم النبوۃ واجرائھا (ختم نبوت اور اجرائے نبوت کے بارے میں) ٥٣٢ فی الغلام وبراعۃ الصحراء (غلام احمد اور صحرائی جنگو کے بارے میں) ٥٣٩ فی ابوۃ النبی روحاً وامومته نبوته ديناً (نبی کی روحانی پدریت اور نبوت محمدی کی دینی مادریت میں) ٥٤٢ فی خلوص الاسلام وغشاشه دين الغلام (اسلام کے خالص ہونے اور مرزائیت کے غیر خالص ہونے میں) ٥٤٥ فی الغلام ونبوۃ الظلّیۃ (غلام احمد کی ظلی نبوت کے بارے میں) ٥٤٨ فی الغلام وجھاد الاسلام (غلام احمد کے منکر جہاد ہونے میں) ٥٥٠ فی الغلام واعداد الحروف (غلام احمد کے بارے میں اعدادی حروف) ٥٥٣ فی الغلام والحکیم السروی (غلام احمد اور حکیم بھیروی کے بارے میں) ٥٦١ فی الغلام والافرنج (غلام احمد اور برطانوی یورپ کے بارے میں) ٥٦٣ فی الغلام واتباعه اللئام (غلام احمد اور اس کے مریدین کے بارے میں) ٥٦٤ فی الغلام والشیخ الجولوی (غلام احمد اور پیر مہر علی شاہ کے بارے میں) ٥٦٧ فی الغلام والحرباء (غلام احمد اور گرگٹ کے بارے میں) ٥٧٣ فی تلخیص الکلام وموت الغلام (خلاصہ کلام اور غلام احمد کی ہلاکت کے بارے میں) ٥٧٤ دس ہزاری اشتہار اور جواب اشعار با اشعار ٥٧٦ میرزاغ (بڑا کوّا) ٥٧٨ مرزائی محاکمہ پر محمدی محاکمہ ٥٧٩ قلت جواباً لاشعاره ٥٨١ حدیث وسنت کا مفہوم ٥٨٢

٦

صفحہ ٣١٥

رائے وقیع

از: صاحب قلم حضرت مولانا محمد یوسف صاحب لدھیانوی، مدیر ماہنامہ بینات کراچی

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

الحمد للہ وسلام علی عبادہ الذین اصطفی!

مرزا غلام احمد قادیانی کے ہفوات باطلہ میں سے کوئی بات ایسی نہیں جس کا مسکت اور دندان شکن جواب، علمائے امت کی طرف سے نہ دیا گیا ہو۔ لیکن ہدایت اللہ تعالیٰ کے قبضہ میں ہے۔ ”ومن یضلل اللہ فلا ھادی لہ“

ہمارے مخدوم جناب مولانا حکیم میر محمد ربانی مدظلہ العالی نے زیر نظر کتاب ”شہباز محمدی“ مرزا قادیانی کی کتاب ”اعجاز احمدی“ کے جواب میں رقم فرمائی ہے۔ اس ناکارہ کو اس کے مسودہ کے چند صفحات دیکھنے کا اتفاق ہوا ہے۔ یہ دیکھ کر حیرت ہوئی کہ ایک گمنام محقق نے بتوفیق ایزدی کس طرح نام نہاد ”اعجاز احمدی“ کے پرخچے اڑا دیئے ہیں۔ کتاب کی خوبی یہ ہے کہ اس میں قادیانی علم الکلام کا اسی کے انداز میں ترکی بہ ترکی جواب دیا گیا ہے۔ مولانا موصوف نے علم الاعداد اور نشان نمائی کے قادیانی ہتھیار کو بطور خاص استعمال کر کے یہ ثابت کیا ہے کہ اگر یہ چیزیں مرزا قادیانی اپنی صداقت میں پیش کر سکتا ہے تو ٹھیک انہی اصولوں پر مرزا قادیانی کا کذب و دجل اظہر من الشمس ہے۔

چونکہ مصنف کے پاس کتابیں نہیں تھیں۔ انہوں نے جو کچھ لکھا ہے اپنے ذہن و حافظہ اور عقل خداداد کی روشنی میں لکھا ہے۔ اس لئے کہیں کہیں لائق اصلاح چیزیں بھی نظر پڑیں اور اس ناکارہ نے ان کے بارے میں اپنا مشورہ عرض کر دیا ہے۔ امید ہے کہ نظر ثانی میں ان کی اصلاح کر دی جائے گی۔ اس ناکارہ کا احساس یہ ہے کہ یہ کتاب شائع ہو جائے تو انشاء اللہ اپنے موضوع پر نہایت دلچسپ، منفرد اور فکر انگیز کتاب ہوگی۔ حق تعالیٰ شانہ، اسے قبول فرمائیں اور اسے ہدایت و نجات کا ذریعہ بنائیں۔ آمین!

ناکارہ: محمد یوسف لدھیانوی! مدیر ماہنامہ بینات، کراچی، مورخہ یکم شوال ١٤٠٤ھ

٧

صفحہ ٣١٦

رائے متین

از: محقق عصر حضرت علامہ مولانا مفتی محمد تقی عثمانی مدظلہ العالی، مدیر دارالعلوم کراچی (پاکستان)

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

الحمد لله وكفى وسلام على عباده الذين اصطفى!

مولانا حکیم میر محمد ربانی صاحب نے اپنی تازہ تالیف ”شہباز محمدی“ کا مسودہ احقر کو عنایت فرمایا۔ اس کتاب میں موصوف نے مرزا غلام احمد قادیانی کی کتاب ”اعجاز احمدی“ کا جواب تحریر فرمایا ہے۔

مرزا غلام احمد قادیانی کا دعویٰ نبوت اس عہد کے سنگین ترین فتنوں میں سے ہے، اور الحمد للہ امت مسلمہ نے اس گمراہی کے سدباب کے لئے ہر پہلو سے ایسا لٹریچر تیار کر دیا ہے جو ایک منصف مزاج اور حق کے طالب کے لئے بالکل کافی ہے۔ مرزائیت نے عقیدۂ ختم نبوت اور حیات مسیح علیہ السلام جیسے مسائل پر جو مغالطے پیدا کئے تھے ان کا علمائے امت نے ہر ممکن طریقے سے کافی وشافی رد فرما دیا ہے۔ لیکن خود مرزا غلام احمد قادیانی کی کتابوں پر لفظ بہ لفظ تبصرہ اور اس کی کتابوں کو موضوع بنا کر ان کی مفصل تردید اب تک احقر کی نظر سے نہیں گزری تھی۔

مولانا میر محمد ربانی نے زیر نظر کتاب میں مرزا غلام احمد قادیانی کی کتاب ”اعجاز احمدی“ کا لفظ بہ لفظ جواب تحریر فرمایا ہے۔ ان کی ایک ایک بات پر تبصرہ کیا ہے اور پھر ان کے قصیدے کا جواب قصیدے ہی کی زبان میں دیا ہے۔

احقر کو پوری کتاب کے مطالعے کا موقع نہیں مل سکا۔ جستہ جستہ مقامات سے سرسری طور پر دیکھا ہے۔ میری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کو مفید، نافع اور لوگوں کے لئے ذریعہ ہدایت بنائیں۔ آمین !

احقر: محمد تقی عثمانی عفی عنہ خادم طلبہ دارالعلوم کراچی، مورخہ ٢٩؍ رمضان المبارک ١٤٠٤ھ

٨

صفحہ ٣١٧

رائے گرامی

از: حضرت مولانا محمد یوسف صاحب، مدیر مدرسہ عربیہ دارالعلوم عثمانیہ رحیم یار خان

بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

الحمد لله وكفى والصلوة والسلام علی عباده الذین اصطفی خصوصاً علی افضل المرسلین وخاتم الانبیاء وعلی آله واصحابه اجمعین ٭ وبعد!

"شہباز محمدی بجواب اعجاز احمدی" کے شستہ شستہ مقامات پر نظر پڑی تو زبان سے بے ساختہ نکلا "لکل فرعون موسیٰ" اور واقعی خداوند ذوالجلال کی قدرت کے نمونے ہیں کہ مچھر سے نمرود جیسے طاغوتوں کو تہ و بالا کر دیتا ہے۔

مولانا مصنف "شہباز محمدی" موصوف باوجود یکہ ایک مستور شخصیت ہیں۔ دین حق کی صداقت اور محمد ﷺ کا بین اعجاز ہے کہ: "انا لننصر رسلنا والذین آمنوا معه"

جزاه الله تعالیٰ ونفعه وسائر المسلمین في الدنیا والآخرة

احقر الی اللہ تعالیٰ ابوالفتح محمد یوسف عفی عنہ مورخہ ١٣ ربیع الثانی ١٤٠٤ھ

رائے متین

از: حضرت مولانا منظور احمد نعمانی صاحب، مدیر مدرسہ عربیہ احیاء العلوم ظاہر پیر

بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

الحمد لله وحده والصلوة والسلام علی من لا نبي بعده اما بعد! فقد سرحت نظری فی کتاب المذکور الربانی فوجدته شهاباً ثاقباً علی المتنبی القادیانی! ورجماً طارداً اهل الردة والطغیان وسیفاً صارماً اعناق اولیاء الشیطان ومطرقاً قامعاً جماجم اصحاب الربوة والقادیان ٭ ادعوا من الرحمن ان یفیض علی المؤلف شآبیب الفضل والاحسان وارجوا من الاخوان ان یتناولوه تناول القبول والتبیان ویعاونوا المؤلف فی اشاعته بالاموال والاثمان ٭ تعاونوا علی البر والتقوی ولا تعاونوا علی الاثم والعدوان!

خادم العلم والعلماء: منظور احمد نعمانی

٩

صفحہ ٣١٨

اردو ترجمہ : خدائے واحد کی حمد وثناء اور خاتم النبیین پر درود وسلام کے بعد واضح رہے کہ میں نے ڈاکٹر ربانی کی کتاب میں اپنی نظر کو دوڑایا۔ جس پر میں نے اس کتاب کو قادیانی متنبّی پر گرنے والا ستارہ اور مرتد گمراہ لوگوں کو بھگانے والا ڈنڈا اور اولیاء شیطان کی گردنوں کو کاٹنے والی تلوار اور اصحاب ربوہ وقادیان کی کھوپڑیوں کو پھوڑنے والا ہتھوڑا پایا۔

اور میں خدائے رحمٰن سے دعاء مانگتا ہوں کہ وہ مصنف کتاب پر اپنے فضل واحسان کے چشمے جاری کر دے اور میں اپنے مسلم بھائیوں سے امید رکھتا ہوں کہ وہ کتاب ہذا کی نشر واشاعت میں اپنے مال وزر کے ساتھ مؤلف کتاب سے پورا پورا تعاون کریں۔ کیونکہ فرمان خداوندی ہے کہ نیکی اور بھلائی میں ایک دوسرے کی مدد کرو۔ لیکن گناہ اور حد شکنی میں تعاون نہ کرو۔

رائے گرامی

حضرت مولانا شفیق الرحمٰن درخواستی، شیخ الحدیث و مدیر اعلیٰ جامعہ عبداللہ بن مسعودؓ، خان پور ضلع رحیم یار خان

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ الحمد للہ وکفی والصلوۃ والسلام علیٰ عبادہ الذین اصطفی! فقیر نے کتاب ”شہباز محمدی بجواب اعجاز احمدی“ مصنفہ محترم ڈاکٹر میر محمد ربانی صاحب مدظلہ کو اگرچہ مکمل نہیں دیکھا۔ مگر اہم مقامات دیکھے ہیں۔ بحمداللہ مصنف نے مذہبی خدمت کا فرض اہم طریق پر سرانجام دیا ہے۔ یہ کتاب قابل قدر ہے اور شاہکار کی حیثیت رکھتی ہے۔ اس میں مرزا قادیانی کی الزام تراشیوں کا مسکت اور دندان شکن جواب ہے اور اس میں ان کی فریب کاریوں کا پردہ چاک کیا گیا ہے۔ جس سے مسلمان کے لئے سامانِ ہدایت ملتا ہے۔

دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کتاب کو مصنف کے لئے ذخیرۂ آخرت اور مسلمانوں کے لئے سامان ہدایت بنائے۔ ہر مسلمان کا فرض ہے کہ اس دورِ فتن میں اس کتاب کو خود بھی پڑھے اور دوسروں تک پہنچانے کے لئے معاون ثابت ہو۔ والسلام! احقر ابی الرحمٰن شفیق الرحمٰن درخواستی، مورخہ ٨ ربیع الاوّل ١٤٠٢ھ ١٠

صفحہ ٣١٩

رائے وقیع

حضرت مولانا حافظ ارشاد احمد صاحب دیوبندی ، اسلامی دواخانہ ظاہر پیر ضلع رحیم یار خان

بسم اللہ حسن الابتداء
ونسئلہ الرضاء فی الانتهاء

ہمارے اکابرین علمائے دیوبند کثر اللہ سوادہم کا طریق اپنے مخالفین کے بارے میں بڑا نرم اور سنجیدہ رہا ہے اور وہ ہمیشہ اعتدال و میانہ روی کے جو طریق صواب بھی ہے اور طریق سلف بھی ہے پابند رہے ہیں۔ جس شخص میں ننانوے حصے کفر تھا مگر ایک حصہ اسلام کا بھی وہ اپنے پہلو میں رکھتا تھا تو ہمارے اکابرین نے احتیاطاً ان پر کبھی بھی کفر کا فتویٰ صادر نہیں فرمایا ...... مگر جب مرزا قادیانی نے بتدریج انگریز سامراج کے ایماء پر نبوت کا اعلان کر دیا تو ہمارے اکابرین کے سینہ بے کینہ میں آگ کے شعلے بھڑک اٹھے اور انہوں نے مردانہ وار اس مرتد فرقے کے خلاف اعلان جہاد کر دیا۔ اکابرین دیوبند کا یہ جہاد متعدد اقسام پر مشتمل تھا۔ جانی، مالی، تحریری، تقریری وغیرہ وغیرہ ۔ الغرض مرزائیت نے بفضل رب ذوالجلال ہر محاذ پر اکابرین سے شکست فاش کھائی۔ یہ کتاب ”شہباز محمدی“ بھی اسی سلسلہ کی ایک کڑی ہے۔ جسے ہمارے علاقہ کے العلامۃ الفاضل حضرت مولانا میر محمد ربانی صاحب نے ترتیب دیا ہے۔

ممدوح حضرت الفاضل ایک بڑے وسیع علمی ذوق کے مالک ہیں۔ قدرت نے آپ کے اندر علمی جواہرات کا ایک بڑا خزینہ ودیعت فرما رکھا ہے۔ مذہب، علوم وفنون، ادب، انشاء، شاعری وغیرہ ۔ یعنی کوئی وادی ایسی نہیں ہے جس کی بے شمار راہیں مبداء فیاض نے آپ کے دماغ پر نہ کھول دی ہوں۔ غرضیکہ علم وادب سے آپ کا دامن مالا مال ہے۔ آپ بھی حضرت امام الہند مولانا ابوالکلام آزاد کی طرح بالکل بجا فرما سکتے ہیں کہ: ”جس ہاتھ نے فکر ونظر کی ان دولتوں سے گراں بار کیا۔ اس نے شاید بے سروسامانی کے لحاظ سے تہی دست ہی رکھنا چاہا۔ میری زندگی کا سارا ماتم یہ ہے کہ اس عہد ومحل کا آدمی نہ تھا۔ مگر اس کے حوالے کر دیا گیا ۔“

(ابوالکلام آزاد)

حضرت العلامۃ الفاضل مصنف کتاب ہذا نے اپنی یہ کتاب مرزا قادیانی علیہ ماعلیہ کی تصنیف ”اعجاز احمدی“ کے رد میں لکھی ہے جو علماء طلباء اور عام قارئین حضرات کے ذوق مطالعہ کی تسکین کے لئے پوری تحقیق اور بڑے عجائب وغرائب دلائل کے ساتھ لکھی گئی ہے۔ حضرت

١١

صفحہ ٣٢٠

العلامۃ الفاضل نے مرزا قادیانی کی اس کتاب کا رد بڑی تفصیل سے لکھا ہے۔ بلکہ آپ نے نظم کا جواب نظم میں، نثر کا نثر میں، حتیٰ کہ جملے جملے اور لفظ لفظ کے دندان شکن جوابات دے کر پوری امت مرزائیہ کو بے بس اور عاجز کر دیا ہے۔ ایک مفکر کا قول ہے کہ: ”اعتراف عظمت کے لئے بھی باعظمت انسان ہونا ضروری ہے۔“

مگر افسوس کہ اس مخصوص گروہ میں جنہیں یہ پاک وصاف آئینہ دکھایا گیا ہے قلوب میں انابت کی کوئی رمق بھی باقی نہیں ہے۔ ورنہ ان کو اس کتاب کا اعتراف کر کے اپنے باطل مذہب سے ہندو ہریجنوں کی طرح ”یدخلون فی دین اللہ افواجاً“ مرزائیت ترک کرنے میں کوئی تامل نہ ہو۔ تاہم پھر بھی نا امیدی نہیں ہے۔ اس کتاب کے میدانِ عمل میں آنے سے بفضل الہٰی دلوں کی سیاہی دور ہونے کے کافی حقائق موجود ہیں۔ اس لئے کہ سورج جب نکل آئے تو لوگوں سے کبھی یہ نہیں کہا جاتا کہ لو جی وہ سورج نکل آیا ہے۔ بلکہ ہر شخص اسے خود بخود دیکھ لیتا ہے اور کسی شخص کو اس کے وجود سے انکار کی جرأت نہیں ہو سکتی اور تو اور آنکھوں کی بینائی سے محروم لوگ بھی اگرچہ اسے دیکھ نہیں سکتے۔ مگر اس کی حرارت کو محسوس کر کے اس کے وجود سے منکر نہیں ہوتے۔ ہاں! اگر صرف ایک روایتی جانور یا پرندہ یا آپ اس کو جس سے بھی موسوم کریں سورج سے انکار کر دے تو یہ سورج کا قصور نہیں ہے۔

گر نہ بیند بروز شبپرہ چشم چشمۂ آفتاب را چہ گناہ

بلکہ ”آفتاب آمد، دلیل آفتاب“ سورج اپنے وجود کے لئے خود ایک بڑی دلیل ہے۔

احقر راقم عفا اللہ عنہ نے حضرت مولانا ممدوح مدظلہ کی اس کتاب کا مکمل مطالعہ کیا ہے۔ میں اس کتاب کی نشر واشاعت کو پاکستان اور ان ممالک کے لئے جہاں جہاں یہ فرقہ ارتداد پھیلا رہا ہو بہت ہی اہم یقین کرتا ہوں۔ بلکہ اس کتاب کی گھر گھر میں موجودگی کو بہت ضروری سمجھتا ہوں۔

آخر میں میری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ مصنف کتاب ہٰذا کو اس کی محنت کا اجر عظیم عطاء فرمائے اور مسلمان بھائیوں سے استدعاء کرتا ہوں کہ وہ اس کتاب کو بہت زیادہ ہاتھوں تک پہنچا کر عنداللہ ماجور ہوں۔ انشاء اللہ تعالیٰ یہ کتاب مرزائیت زدہ معاشرہ کے لئے ایک مذہبی تریاق کا کام دے گی۔ ”وما علینا الا البلاغ“ حافظ ارشاد احمد دیوبندی عفا اللہ عنہ

١٢

صفحہ ٣٢١

رائے گرامی

فاضل اجل حضرت مولانا حکیم محمد عبداللہ صاحب اعوان، مراد پور (تعلقہ رکن پور ضلع رحیم یار خان)

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ الحمد لله وكفى والصلوة والسلام على سيد الرسل وخاتم الانبياء سيدنا ومولانا محمد وعلى اله واصحابه اجمعين ٠ اما بعد!

بندہ نے کتاب ”شہباز محمدی بجواب اعجاز احمدی“ کے اکثر مقامات کا مطالعہ کیا ہے۔ میں اس لائق نہیں ہوں کہ اس کتاب پر جسے میرے محسن استاذ المکرم حضرت علامہ مولانا حکیم میر محمد ربانی مدظلہ العالیٰ نے تالیف و تصنیف فرمایا ہے۔ اس پر اپنی ادنیٰ رائے کا اظہار کروں۔ ایک شاگرد کی حیثیت سے ”چہ نسبت خاک را بعالم پاک“۔ اس مقام پر اس وقت ہمارے آقا مربی وشفیق استاذ العلماء شیخ الحدیث حضرت علامہ مولانا محمد یوسف صاحب بنوریؒ یا حضرت العلامہ مولانا سید عطاء اللہ شاہ صاحب بخاریؒ یا حضرت مولانا احمد علی صاحب لاہوریؒ ہوتے تو اس قدر محنت کی داد اور دعا دیتے۔

قدر زر، زرگر بد اند، قدر جوہر جوہری

ایک بار حضرت بنوریؒ حرم پاک مدینہ منورہ میں تھے۔ اچانک آپ کی نگاہ ایک شخص پر پڑی۔ فرمایا وہ ایک بزرگ بیٹھے ہیں۔ بندہ نے عرض کی کہ یہ میرے استاذ محترم مولانا حبیب اللہ صاحب گانوئیؒ ہیں۔ آپ نے گلے سے لگایا۔ معانقہ فرمایا۔ تھوڑی دیر محو گفتگو ہوئے۔ پھر بازار سے چند تحائف خرید کر بندہ کو دیئے کہ مولانا کی خدمت میں پہنچا دو۔ بندہ نے تعمیل ارشاد کی۔ میری گزارش یہ ہے کہ داد دینے والے اکثر بزرگ عالم بقاء کو تشریف لے گئے ہیں۔ پھر بھی علمائے حقہ کی کمی نہیں ہے۔ مصنف نے ہر طریقہ سے نظم، نثر اور عربی، اردو، فارسی، ہر زبان میں دندان شکن اور مسکت جوابات سے باطل کو شکست فاش دی ہے۔

ہر مسلم ہمدرد کا فرض ہے کہ اس کی اشاعت میں تعاون کرے۔ اللہ سے دعا ہے کہ اس کتاب کو عالم اسلام کے لئے مفید اور بھٹکے ہوئے لوگوں کے لئے باعث ہدایت بنائے ۔ آمین !

احقر العباد : حکیم محمد عبداللہ اعوان ، فاضل عربی ، فاضل السنہ شرقیہ

١٣

صفحہ ٣٢٢

بسم الله الرحمن الرحیم نحمده ونصلى على رسوله الكريم ٠ رب يسر ولا تعسر وتمم بالخير ٠ ربنا لا تزغ قلوبنا بعد اذ هديتنا وهب لنا من لدنك رحمة ٠ انک انت الوهاب

تالیف کتاب کے اسباب

سبب اوّل

یہ ہے کہ چند ایام ہوتے ہیں کہ میں حسن اتفاق سے قصبہ ظاہر پیر ،ضلع رحیم یار خان کے مشہور مدرسہ عربیہ احیاء العلوم کے اندر اوقات فرصت بسر کرنے کے لئے چلا گیا۔ اساتذہ مدرسہ سے ملاقات ہوئی اور کچھ قدر گفتگو کے بعد خیال پیدا ہوا کہ مدرسہ کی لائبریری سے کوئی کتاب حاصل کر کے ضیافت طبع کا سامان مہیا کیا جائے۔ اس پر میں نے کتب خانہ کا دروازہ کھلوایا اور کمرہ کے اندر آ گیا اور حسب منشاء کتاب کی تلاش شروع کردی۔ ایک الماری میں چند مرزائی کتب بھی موجود تھیں۔ ان پر طائرانہ نظر ڈالنے سے مشہور مرزائی کتاب ”اعجاز احمدی“ میرے سامنے آگئی۔ میں نے اسے اٹھا لیا اور اس کو کھول کر دیکھنے لگا۔ اچانک میری اس کے ”قصیدہ اعجازیہ“ کے درج ذیل دو شعروں پر آنکھ ٹھہرگئی۔

تعالوا جميعا وانحتوا اقلامکم واملوا کمثلی او ذرونی وخبروا

تم سب آجاؤ اور قلمیں تیار کرو اور میری مانند لکھو یا مجھے چھوڑ دو اور اختیار دے دو۔ اور پھر متکبرانہ انداز کے اندر اپنے مخاطبین کو نجاست و غلاظت قرار دیتے ہوئے کہا کہ:

واعطيت آيات فلا تقبلونها فلا تلطخوا ارضى وبالموت طهروا

میں نے نشانات دیئے اور تم ان کو قبول نہیں کرتے۔ پس میری زمین کو نجاست سے آلودہ مت کرو اور اپنے مرنے سے اس کو پاک کرو۔

(اعجاز احمدی ص ٤٧، خزائن ج ١٩ ص ١٥٨)

گویا کہ مرزا قادیانی نے ان دونوں اشعار کی وساطت سے مولوی ثناء اللہ صاحب اور سید پیر مہر علی شاہ صاحب وغیرہ کو جواباً اسی نوعیت کے قصیدہ لکھنے کی دعوت دی اور کہا کہ اگر مولوی صاحب مذکور بمعہ اپنے یاران طریقت کے ایسا قصیدہ لکھ کر شائع نہیں کرے گا تو اس پر موت آئے گی اور مرزا قادیانی کی زندگی میں مرے گا۔ لیکن مرزائی بددعا کے برعکس اور مرزائی دعوت کے

١٤

صفحہ ٣٢٣

برخلاف مرزا قادیانی کے دونوں کٹر مخالفین نے نہ کوئی جوابی عربی قصیدہ لکھا اور نہ موت کا شکار ہوئے۔ بلکہ خود مرزا قادیانی بوجہ دجال ہونے کے اپنی بددعا کا خود شکار ہو گیا اور اس بددعا کے چھ سال بعد کاذب ہلاک ہو گیا۔ کیونکہ یہ قصیدہ ١٩٠٢ء کو تحریر ہوا اور مرزا قادیانی ١٩٠٨ء کو ہلاک ہوا اور پھر طرفہ ترہات یہ ہے کہ مرزا قادیانی کے چار بڑے مخالفین مولوی ثناء اللہ صاحب اور مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی اور پھر مہر علی شاہ صاحب گولڑوی اور علی حائری شیعہ لاہوری عرصہ دراز تک بخیر وعافیت زندہ رہے۔ ان حالات کے پیش نظر مرزا قادیانی خود ہی ارض خدا پر ایک قرار یافتہ نجاست تھا اور زمین لاہور کے اندر جو پاکستان بننے والی تھی ہلاک ہوا۔ لیکن اس ارض پاک نے اس ناپاک لاش کو قبول نہ کیا اور اس کو ہندوستان کی طرف دھکیل دیا اور وہ لاش اپنے آبائی قصبہ قادیان میں مدفون ہوئی اور ”شُذَّ فِی النَّارِ“ ١٣٢٦ء میں گئی اور مرزا غلام احمد ١٣٢٧ء سے لپٹ گئی اور مفہوم یہ رہا کہ مرزا غلام احمد مر کر آگ میں گر گیا۔ جیسا کہ اعداد ابطور ذیل ہے۔ (مرزا غلام احمد) ١٣٢٧ ”شُذَّ فِی النَّارِ“ ١٣٢٧ء یعنی مرزا غلام احمد آگ میں گر گیا۔ چونکہ مرزا قادیانی نے اپنے مندرجہ بالا دونوں اشعار میں مولوی ثناء اللہ وغیرہ کی معیت میں دیگر اہل علم فضل کو بھی جواب لکھنے کی دعوت دی ہے۔ اس لئے مجھ پر بھی جب کہ میں بھی عربیت سے قدرے شغف رکھتا ہوں۔ یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ حسب استطاعت اس کا موزوں و مناسب جواب لکھ کر شائع کروں تا کہ جواب خشت بمشت یا جواب خشت بسنگ ثابت ہو اور پھر مجھ کو بھی سخت و کرخت جواب لکھنے کی بھی اجازت رہے گی۔ کیونکہ مرزائی شعر اوّل کے فقرہ ”و املوا کمثلی“ کے دو مفہوم ہو سکتے ہیں:

مفہوم اوّل : یہ کہ تم میری مانند ایسی کتاب لکھو جس میں میرے اردو مضمون کی تردید اردو مضمون میں اور عربی قصیدہ کا جواب عربی قصیدہ میں ہو۔

مفہوم دوم: یہ ہے کہ جس طرح میں نے اپنی کتاب کے اندر اپنے مخالفین ومعاندین کو سبّ وشتم اور گالی گلوچ کا نشانہ بنایا ہے۔ اسی طرح تم بھی مجھے اپنی گالی گلوچ اور سبّ وشتم اور غیر مہذب الفاظ سے موسوم ومخاطب کر سکتے ہو۔ گویا کہ ہمیں مرزا قادیانی کی جانب سے اجازت مل چکی ہے کہ ہم بھی مرزائی گالیوں کا جواب گالیوں میں اور بکواس کا جواب بکواس سے پیش کریں۔ اس پر فریق ثانی کو ناراض ہونے اور برا منانے کا حق و جواز نہیں ہو گا۔ چنانچہ مرزا قادیانی نے اپنے مخالفین ومخاصمین کو زمین پر چلنے پھرنے والی نجاست ونحوست قرار دے کر کہا ہے : ”فلا تلطخوا

١٥

صفحہ ٣٢٤

ارضی ”تم میری زمین کو پلید نہ کرو۔ اس پر ہم بھی اس کو اعداداً ”نجس فی الارض“ بمعنی زمین کا ایک پلید و نجس آدمی کہہ سکتے ہیں۔ کیونکہ (غلام احمد قادیانی) /١١٢٣، اور ”نجس ارض /١١٢٤“ کے اعداد حروف یکساں ہیں۔ جو صحیح طور پر ١١٢٤ بنتے ہیں: جس سے وہ ارضِ خدا پر ایک پلید آدمی قرار پاتا ہے۔ کیونکہ وہ انگریزوں کے ناپاک نظام حکومت کا داعی رہا۔

قلت جواباً لشعريه المذكورين

اتيناكم باقلام نحنا فنملی مثلکم او بالفضال
فنهجوكم كما انتم هجوتم ونهديكم نعالاً بالنعال

کا ہدیہ جوتوں سے دیں گے۔

وان تأتوا كاشراف الينا نعاملكم نوالاً بالنوال

شرافت سے کریں گے۔

وان تأتوا كاجلاف علينا نكايلكم كيالاً بالكيال

پیش کریں گے۔

وعند الله انتم مثل قذر ويُمحى كل قذر بالكمال
ولما كنتم قذراً بارض محاكم رب ارض بالعجال
حسين مع ثناء الله كانا طهورين تحيا بالجلال
كذا مهر على عند رب طهور ثم عال ثم جال

١٦

كذا ايضاً على حائرى
يحيى بعد هذا ظفر دين
مضى قذر بقى فينا طهار

فیصلہ ہے۔

الم انتم تكونوا مثل قذر
ومنا قد محيتم مثل قذر
ومن ارض محاكم رب ارض
وابقى بعدكم اطهار قوم
غواة انتم جئتم بغي
اتاكم ذا غداء من فرنج
ومنكم قد اتانا ذا كتاب
رأيناه يؤذى مثل صل

بن کر ایذاء دیتی ہے۔

رأيناه يؤذينا كصل
صفحہ ٣٢٥
كذا ايضاً علی حائری تحيی بعد هذا بين ال
تحيی بعد هذا ظفر دين وروحی علی فی معال
مضی قذر بقی فينا طهار وهذا فصل ربّ بالعدال

فیصلہ ہے۔

ألم انتم تكونوا مثل قذر نعم كنتم كقذر فی الاصال
ومنّا قد محيتم مثل قذر وفی لاهور متم بالثمال
ومن ارض محاكم ربّ ارض والقاكم بهند ذی نكال
وابقی بعدكم اطهار قوم الی السنوات اذوات الطوال
غواة انتم جئتم بهدی وأغذيتم بغی والضلال
اتاكم ذا غذاء من فرنج فهم آباء كم انتم كآل
ومنكم قد اتانا ذا كتاب يؤذی ختم نبأ ذا كمال
رأيناه يؤذی مثل صلّ ويؤذی ختم نبأ كالضلال

بن کر ایذا دیتی ہے۔

رأيناه يؤذينا كصلّ ويؤذينا باسباب لقال

١٧

صفحہ ٣٢٦

سے ہم کو دکھاتی ہے۔

كشجر انت مغروس لكفر وكفر فوقكم مثل الضلال
واعنى انت مغروس نبيّاً من الفرنج كذوب ذى دجال
فافرنج لكم اباء بطل وانتم مثل اولاد البطال
مضى من بيننا نجس ارض وفينا قد بقى مهر مُعال
فبقى فينا ثناء الله ايضاً الى السنوات فى أهل وال

تالیف کتاب کا دوسرا سبب

یہ ہے کہ میں نے متعدد مشہور و نامور مرزائی علماء و فضلاء کے ساتھ اختلافی مسائل وعقائد پر خط و کتابت کی ہے۔ جس پر وہ لاجواب و ساکت ہو کر سلسلہ کو ختم کر کے بیٹھ گئے اور میرے بار بار بلانے پر بھی وہ مرد میدان بن کر سامنے نہ آئے اور نہ اس بارے میں کوئی معقول عذر پیش کیا۔ چنانچہ اس سلسلہ میں میرے مخاطبین میں سے مسٹر جلال الدین شمس قادیانی مبلغ ممالک عربیہ اور مولوی ابوالعطاء جالندھری قادیانی مدیر ماہنامہ ”الفرقان“ ربوہ اور قاضی محمد نذیر لائل پوری قادیانی اور شیخ مبارک احمد قادیانی مدیر تالیفات ربوہ اور روشن دین تنویر قادیانی مدیر روز نامہ الفضل ربوہ خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔

چونکہ اس خط و کتابت کے بیشتر خطوط بے حد اہمیت کے متحمل تھے اور ان کی نشر واشاعت دینی اعتبار سے قابل قدر اور وقت کی ایک اہم ضرورت تھی۔ اس لئے میری دلی تمنا تھی کہ کسی نہ کسی طرح یہ خطوط زیور اشاعت سے آراستہ ہو جائیں اور دینی ذوق رکھنے والے حضرات ان سے استفادہ کرسکیں۔ چنانچہ میں انشاء اللہ تعالیٰ موقع بموقع ان خطوط کو اپنی اس کتاب میں درج کر کے ناظرین حضرات کے لئے ایک دینی خدمت بجالاؤں گا اور پھر یہی خطوط میری جوابی

١٨

کتاب کا ایک اہم حصہ قرار پائیں گے۔ بہرحال لئے آمادہ کیا ہے اور میں نے بفضل خدا اسی ا...

السعى منى وا...

میری کتاب کی وجہ تسمیہ

میں نے مرزا قادیانی کی کتاب ”ا... کو اپنے مخالفین پر گرنے والا باز کہا ہے اور مخالفی...

وانى انا البازى المطل على العدا...

اور میں وہ باز ہوں جو دشمنوں پر ج...

چونکہ ایک باز کا مقابلہ صرف شہباز کا نام ”شہباز محمدی“ تجویز کیا ہے۔ تاکہ ایک اور پھر میں نے مرزا قادیانی کے شعر بالا کا جواب

كتابی مثل شهباز مُطِلّ
كتاب المضل يوذى مثل غول
وانى صرت شهباز لغول

کتاب شہباز محمدی کی عظمت و رفعت

میں مورخہ یکم شوال المکرم ١٤٠٤... صاحب لدھیانوی مدیر ماہنامہ بینات کراچی ان کے آگے رکھا اور عرض کی کہ اسی کتاب کو رائے کو قلم بندی میں لائیں اور اس کے مضامی... میں خود بھی ان کے مکان پر ان کا مہمان رہا حوالہ کی اور میں کھانا کھا کر سو گیا اور انہوں نے

صفحہ ٣٢٧

کتاب کا ایک اہم حصہ قرار پائیں گے۔ بہرحال ان خطوط کی اشاعت نے مجھ کو تالیف کتاب کے لئے آمادہ کیا ہے اور میں نے بفضل خدا اسی اہم دینی کام کو رواں کر دیا ہے۔ السعی منی والاتمام من اللہ تعالیٰ!

میری کتاب کی وجہ تسمیہ

میں نے مرزا قادیانی کی کتاب ”اعجاز احمدی“ کے اندر دیکھا ہے کہ اس نے اپنے آپ کو اپنے مخالفین پر گرنے والا باز کہا ہے اور مخالفین کو شکار باز گردانا ہے۔ جیسا کہ ذیل میں ہے:۔

وانى انا البازى المطل على العدا وانى معان من معين بكترو

اور میں وہ باز ہوں جو دشمنوں پر جا پڑتا ہے اور میں خدا تعالیٰ سے مدد دیا گیا ہوں۔

(اعجاز احمدی ص ٨٥، خزائن ج ١٩ ص ١٩٨)

چونکہ ایک باز کا مقابلہ صرف شہباز ہی کر سکتا ہے۔ اس لئے میں نے اپنی جوابی کتاب کا نام ”شہباز محمدی“ تجویز کیا ہے۔ تا کہ ایک باز کو ایک شہباز کی وساطت سے شکست دی جاسکے اور پھر میں نے مرزا قادیانی کے شعر بالا کا جواب اپنے تین درج ذیل اشعار سے دیا ہے۔

كتابى مثل شهباز مُطِلّ على مغل مخل فى المغال

٢٦....... میری کتاب شہباز کی مانند ایسے مغل پر گرتی ہے جو غول گاہ کے اندر ایک کھوٹا آدمی ہے۔

كتاب المغل يوذى مثل غول ختام النبأ فى دار المغال

٢٧....... مغل کی کتاب مغلوں کے گھر کے اندر غول کی مانند۔ ختم نبوت کو دکھ دیتی ہے۔

وانى صرتُ شهباز لغول مضل ذوالغواء والضلال

٢٨....... اور میں ایک کھوٹے اور گمراہ شیطان کے لئے شہباز بن گیا ہوں۔

کتاب شہباز محمدی کی عظمت و رفعت

میں مورخہ یکم شوال المکرم ١٤٠٤ھ کو کسی تقریب سعید کے سلسلہ میں مولانا محمد یوسف صاحب لدھیانویؒ مدیر ماہنامہ بینات کراچی کے ہاں پہنچا اور اپنی اسی کتاب کو تصحیح وتنقیح کے لئے ان کے آگے رکھا اور عرض کی کہ اسی کتاب کو اپنی نظر اشرف سے سرفراز فرما کر اس پر اپنی تصدیقی رائے کو قلم بندی میں لائیں اور اس کے مضامین کی صحت وسقامت سے متعلق بھی آگاہی بخشیں اور میں خود بھی ان کے مکان پر ان کا مہمان رہا اور میں نے اپنی یہی کتاب بعد نماز مغرب ان کے حوالہ کی اور میں کھانا کھا کر سو گیا اور انہوں نے نماز صبح سے قبل مجھے بیدار کیا اور کتاب مذکور واپس کر

١٩

صفحہ ٣٢٨

کے فرمایا کہ یہ کتاب ایسی مدلل اور مبنی بر حقیقت ہے کہ اس نے مجھے ساری رات بیدار رکھا اور میں اس کا قاری بنا رہا اور اپنی نیند سے بے نیاز ہو کر اسی کا نیازمند بنا رہا۔ انہوں نے مجھے اس محنت پر پانچ سو روپے نقد بطور انعام کے عنایت کئے اور میں نے اس رقم کو عطیہ ایزدی سمجھ کر قبول کر لیا اور اپنی طرف سے ان کو شکریہ پیش کیا۔ کیونکہ ”ان الله يرزق من يشاء ويهدي من يشاء“

میرے اعدادی استدلالات

میں نے اپنی جوابی کتاب کے اندر بعض مقامات پر اعداد حروف کو بطور الزامی استدلالات کے استعمال کر کے تردید مرزائیت کی ہے۔ کیونکہ مرزا قادیانی بھی اپنی صداقت کو بھی اعداد حروف کے بل بوتے پر استوار کیا ہے اور اپنے نام ”غلام احمد قادیانی ١٣٠٠“ کے تیرہ صد اعداد نکال کر اسی بات کو اپنا ایک نشان قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ خدا تعالیٰ نے میرے زمانہ کو میرے نام کے اندر چھپا کر مجھے اطلاع دے دی ہے۔ جب کہ میں نے ١٢٩٠ھ میں اپنے مسیح ومہدی ہونے کا دعویٰ کیا ہے۔

جاننا چاہئے کہ میں نے بھی اپنی کتاب کے اندر اسی طور وطریق کے اعدادی استدلالات استعمال کئے ہیں اور اس کو کاذب و دجال اور غدار الدین وغیرہ ثابت کیا ہے۔ بنا بریں ضروری معلوم ہوتا ہے کہ یہاں پر حروف تہجی کے اعداد اور مرزا قادیانی کے نام واجزائے نام کے اعداد درج کر دیئے جائیں تاکہ فریقین کے اعدادی استدلالات کو سمجھنے کے لئے کسی قسم کی دقت ومشقت کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

ا ۔ ب ۔ ج ۔ د ۔ ہ ۔ و ۔ ز ۔ ح ۔ ط ۔ ی ۔ ک ۔ ل ۔ م ۔ ن ۔ س ۔ ع ۔ ف ۔ ص ۔ ق ۔ ر ۔ ١۔ ٢۔ ٣۔٤۔٥۔٦۔٧۔٨۔ ٩۔١٠۔٢٠۔٣٠۔٤٠۔٥٠۔٦٠۔٧٠۔٨٠۔٩٠۔١٠٠۔٢٠٠۔ ش ۔ ت ۔ ث ۔ خ ۔ ذ ۔ ض ۔ ظ ۔ غ ٣٠٠۔٤٠٠۔٥٠٠۔٦٠٠۔٧٠٠۔٨٠٠۔٩٠٠۔١٠٠٠

مرزا قادیانی کے نام واجزائے نام کے اعداد

مرزاغلام احمد قادیانی.......غلام احمد قادیانی.......مرزاغلام احمد.......غلام احمد ١٥٤٨ ١٣٠٠ ١٣٧٢ ١١٢٤

مرزا.......میرزا.......غلام قادیان.......غلام قادیانی.......قادیان.......قادیانی ٢٤٨ ٢٦١ ١٢٣٧ ١٢٤٧ ١٦٦ ١٧٦

صفحہ ٣٢٩

مرزائی اعجاز کی حقیقت کے خلاف چھ وجوہات

مرزا قادیانی کا دعویٰ ہے کہ اس نے کتاب ”اعجاز احمدی“ کا اردو مضمون اور عربی قصیدہ اور اشتہار انعام اور مولوی محمد حسین بٹالوی ومولوی عبداللہ چکڑالوی کے باہمی مباحثہ پر ریویو صرف پانچ ایام میں لکھا ہے۔ گویا کہ یہی سالم کتاب جو ایک سو گیارہ صفحات پر پھیلی ہوئی ہے۔ ٨ نومبر ١٩٠٢ء سے شروع ہوکر ١٢ نومبر ١٩٠٢ء کو پانچ ایام کے اندر ختم کر لی گئی ہے اور اگر یہی بات ہے اور اس کا مؤلف ایک صاحب اعجاز آدمی بن سکتا ہے۔ تو واقعات اس کے خلاف شہادت مہیا کرتے ہیں۔ جیسا کہ چند وجوہات بطور ذیل ہیں۔

اولاً...... یہ کہ مرزا قادیانی نے یہ کتاب ١٥ نومبر ١٩٠٥ء کو مطبع ضیاء الاسلام قادیان سے تین دن کے اندر چھپوا کر شائع کر دی۔ گویا کہ قادیان کے اسی مطبع نے سالم کتاب مذکور کو تین ایام کے اندر اپنے کاتب سے لکھوا کر چھپوا کر دی۔ یعنی کتاب مذکور کا سالم مضمون مرزا قادیانی نے پانچ ایام میں تالیف کر لیا اور مطبع مذکور نے کتاب کے سالم مضمون کو صرف تین ایام میں لکھوا کر چھاپ لیا۔ لہٰذا مرزائی مطبع خود مرزا قادیانی سے دو قدم آگے نکل گیا اور اس کو عبرتناک ہزیمت میں گرا کر دم لیا۔ ان حالات کے پیش نظر معجزہ قائم کرنے کا دعویٰ مطبع ضیاء الاسلام ہی کر سکتا ہے۔ مرزا قادیانی نہیں کر سکتا اور مسیح موعود بھی مطبع قادیان ہی بن سکتا ہے۔ مرزا قادیانی نہیں بن سکتا۔ دراصل بات یہ ہے کہ نہ مرزا قادیانی نے یہ کتاب پانچ ایام میں لکھی ہے اور نہ اس کے مطبع نے تین دن کے اندر سالم کتاب لکھوا کر چھاپی ہے۔ بلکہ کتاب مذکور کی تالیف و ترتیب پر مؤلف کتاب نے کافی مدت صرف کی ہے اور اس کی طباعت واشاعت پر بھی ایک طویل عرصہ صرف ہوا ہے۔ لیکن از راہ خیانت کافی مدت کو قلیل مدت میں اور طویل عرصہ کو قلیل عرصہ میں ظاہر کیا گیا ہے۔

ثانیاً...... یہ کہ اس کتاب کا اکثر حصہ پہلے سے لکھا ہوا مرزا قادیانی کے پاس موجود تھا اور اس کو اس حصہ کے شائع کرنے کا موزوں ومناسب موقعہ میسر نہ تھا اور وہ اس کی تلاش میں مضطرب تھا کہ اتفاق سے اس کو مباحثہ مد کا موقعہ مل گیا۔ جس پر اس نے پیشتر لکھے ہوئے حصہ کو واقعات مد سے پیوستہ کر کے شائع کر دیا۔

وجہ یہ ہے کہ اسی مناظرہ مد میں صرف مولانا ثناء اللہ صاحب موجود تھے۔ باقی زیر تنقید علماء وفضلاء از قسم سید مہر علی شاہ صاحب گولڑوی، علی حائری صاحب، مولوی اصغر علی روحی اور قاضی ظفر الدین صاحب اور مولوی محمد حسین بٹالوی صاحب حاضرین مباحثہ میں سے نہیں تھے۔ بلکہ یہ

٢١

صفحہ ٣٣٠

لوگ دوران مناظرہ اپنے اپنے گھروں میں تھے۔ ان سے متعلقہ عربی اشعار پہلے سے تیار شدہ اس کے پاس مہیا تھے۔ جن کو اس نے شامل قصیدہ کر لیا۔ ورنہ اس کو قطعاً یہ جواز نہ تھا کہ وہ غیر متعلق اشخاص کو زیر تنقید لا کر قصیدہ کے اندر لاتا اور ان کو اپنی سب وشتم کا نشانہ بناتا۔

ثالثاً...... یہ کہ زیر جواب کتاب کے متعلق دس ہزاری اشتہار سے یہ بات ثابت نہیں ہوتی کہ مولوی ثناء اللہ صاحب و دیگر مخاطبین کو کتاب مذکورہ میعاد مقررہ کے اندر پہنچادی گئی تھی ایسا قطعاً نہیں ہوا۔ بلکہ مرزا قادیانی کی طرف سے بروقت کتاب پہنچانے میں بالضرور تخلف واقع ہو گیا اور مخاطبین پابند جواب نہ رہے۔

رابعاً...... یہ کہ کتاب مذکور کی تردید میں جوابی کتاب کو پانچ ایام میں لکھنے کا مطالبہ خلاف قرآن ہے۔ کیونکہ جب مرزا قادیانی نے اپنی کتاب کو معجزہ سمجھ کر مثیل قرآن قرار دے دیا اور پھر اس کی مثال لانے کا مطالبہ کر دیا تو اس پر لازم تھا کہ وہ اپنے مطالبہ کو غیر محدود اور بلا میعاد چھوڑتا۔ کیونکہ قرآن عزیز نے اپنی مثال لانے والے پر پانچ ایام یا پانچ ماہ یا پانچ سال کی کوئی پابندی عائد نہیں کی۔ بلکہ ان کو آزادی دے کر کہا ہے کہ میری مثال لانے والے جب چاہیں میری مثال لا کر میرا مطالبہ پورا کریں اور مرد میدان بن کر میری تغلیط وتردید میں اپنا زور اور بلاغت فصاحت دکھائیں۔ چنانچہ قرآن مجید نے پہلے پہل مکمل قرآن کی مثال لانے کو کہا جیسا کہ بطور ذیل ہے۔

”قل لئن اجتمعت الانس والجن على ان یاتوا بمثل هذا القرآن لا یاتون بمثله ولو كان بعضهم لبعض ظهیراً (بنی اسرائیل: ٨٨)“ ﴿کہہ دیجئے کہ اگر تمام انسان وجنات اس قرآن کی مثال لانے پر جمع ہو جائیں تو اس کی مثال نہیں لا سکیں گے۔ اگر چہ وہ ایک دوسرے کے مددگار بھی بن جائیں۔﴾

جب مخالفین قرآن نے ایک مدت تک یہی مطالبہ قرآن پورا نہ کیا تو قرآن حکیم نے اپنے مطالبہ میں تخفیف کر کے کہا: ”ام یقولون افتراه قل فاتوا بعشر سور مثله مفتریات وادعوا من استطعتم من دون الله ان كنتم صادقین (یونس: ١٤)“ ﴿کیا وہ کہتے ہیں کہ آپ ﷺ نے قرآن کو خود بنایا ہے کہہ دیجئے کہ تم اس جیسی خود بنائی ہوئی دس سورتیں لاؤ اور خدا تعالیٰ کے بغیر جس کو بلا سکتے ہو بلا لاؤ۔ اگر تم اپنے دعوے میں سچے ہو۔﴾

لیکن جب دوسری مدت تک بھی یہ مطالبہ لاجواب رہا تو پھر قرآن عزیز نے اپنے مطالبہ میں مزید کمی کر دی اور فرمایا: ”وان كنتم فی ریب مما نزلنا على عبدنا فاتوا بسورة من

٢٢

صفحہ ٣٣١

مثلہ وادعوا شهداء كم من دون الله ان كنتم صدقين (بقره: ٢٣) ”اگر تم لوگ اس کتاب پر شک وشبہ رکھتے ہو جو ہم نے اپنے عبد کو دی ہے تو تم اس جیسی ایک سورت لے آؤ اور خدا تعالیٰ کے بغیر اپنے حاضر فضلاء کو بھی بلا لاؤ۔ اگر تم اپنے دعویٰ میں سچے ہو۔“

چنانچہ مخالفین قرآن نے قرآن مجید کا یہ خفیف اور ہلکا سا مطالبہ بھی پورا نہ کر سکے جس پر قرآن حکیم لاجواب رہا اور اس کا معجزہ ہونا ثابت ہو گیا۔ ان حالات میں اگر مرزا قادیانی عامل قرآن اور عالم قرآن تھا۔ جیسا کہ اس کا دعویٰ ہے تو وہ بھی قرآن کی اتباع میں اپنے مطالبہ کو تین اقساط میں تقسیم کر کے پہلے پہل مکمل کتاب کی مثال لانے کو کہتا۔ اگر اس کے مخاطبین و معاندین اس سے عاجز و ناتواں رہتے تو پھر ان کو نصف کتاب کی مثال لانے کی فرمائش کرتا۔ اگر وہ اس سے بھی قاصر رہتے تو پھر ان کو تہائی کتاب کی مثال لانے کو کہا جاتا۔ اگر وہ اب بھی ناکام و نامراد رہتے تو پھر یہ کتاب ایک اعجازی کتاب بن جاتی اور مرزا قادیانی صاحب اعجاز قرار پاتا۔ لیکن اس نے اس لطیف تجویز سے انحراف کر کے اپنے کو تارک قرآن ثابت کر دیا۔ ”آنکہ خود گم ست کرا رہبری کند“ والا معاملہ ہے۔

مرزا قادیانی نے اپنی اس کتاب کے اندر مولوی ثناء اللہ وغیرہ کو متعدد بار تارک قرآن کا خطاب دیا ہے۔ لیکن دراصل خود یہی شخص تارک قرآن اور محرف عن القرآن ہے۔

خامساً ..... یہ کہ مرزا قادیانی نے اپنی کتاب کے اندر اسلامی جہاد بالسیف سے انکار کر کے صاف طور پر لکھ دیا ہے کہ:

کے خیال کو دلوں سے مٹا دیا جاوے اور ایسے خون ریز مہدی اور خون ریز مسیح سے انکار کیا جائے۔“

(اعجاز احمدی ص٣٣، خزائن ج ١٩ ص ١٤٢)

مضى وقت ضرب المرهفات ودفوها وانا ببرهان من الله ننحر

ہیں۔

(اعجاز احمدی ص٧٣، خزائن ج ١٩ ص ١٨٦)

چنانچہ جب حوالہ جات بالا کے پیش نظر جہاد اسلام حرام و قبیح ہو کر قابل عمل نہیں رہا تو پھر مرزا قادیانی نے اپنے قصیدہ کے اندر جہاد سیفی سے متعلقہ الفاظ کو اپنے اوپر اور اپنے قصیدہ کے اوپر کیوں استعمال کیا ہے؟ حالانکہ حرام شدہ چیز کے تمام متعلقات بھی حرام و ممنوع قرار پاتے ہیں

٢٣:

صفحہ ٣٣٢

اور قابل استعمال نہیں رہتے۔ چنانچہ جب بذریعہ قرآن مجید شراب کی حرمت آگئی تو مسلمانوں نے مٹکوں اور بوتلوں وغیرہ میں موجود شراب کو زمین پر گرا دیا اور شراب کی بھٹیاں توڑ پھوڑ دیں اور شراب کے مٹکوں اور بوتلوں کو ریزہ ریزہ کر دیا۔ لیکن مرزا قادیانی نے جہاد سیفی کو حرام و قبیح کہہ کر جہاد سے متعلقہ الفاظ از قسم سیف بمعنی تلوار اور رمی (بمعنی تیر چلانا) کو اپنے قصیدہ کے اندر بار بار استعمال کیا ہے اور فخریہ طور پر اپنے آپ کو سیاف (تلوار چلانے والا) اور رامی (تیر پھینکنے والا) قرار دیا ہے۔ جیسا کہ بطور ذیل لکھا ہے ۔

وجئناك يا صيد الردى بهديّة ونهدى اليك المرهفات ونعقر

اور اے وبال کے شکار (ثناء اللہ ) ہم تیرے پاس ایک ہدیہ لے کر آئے ہیں اور ہم تیز تلواروں کا یعنی لاجواب قصیدہ کا تجھے ہدیہ دیتے ہیں۔

(اعجاز احمدی ص٨٤، خزائن ج١٩ص١٩٧)

علونا بسيف الله خصماً ابا الوفا فنملی ثناء الله شكراً ونسطو

ہم نے اپنے دشمن ابوالوفا ء کو خدا کی تلوار (قصیدہ) سے مار لیا۔ پس ہم خدا کی تعریف از روئے شکر کے لکھتے ہیں۔

(اعجاز احمدی ص٨٧، خزائن ج١٩ص٢٠٠)

الست ترى يرمى القنا من عندكم جهول ولا يدرى العلوم وأكفر

کیا تو نہیں دیکھتا کہ وہ شخص تم پر نیزے چلا رہا ہے۔ جو تمہارے نزدیک بے علم اور کافر ہے۔

(اعجاز احمدی ص٨٥، خزائن ج١٩ص١٩٨)

جاننا چاہئے کہ حالات کے پیش نظر صاف طور پر عیاں ہے کہ جہاد سیفی کو حرام و قبیح کہنے والا مرزا قادیانی جہاد سے متعلقہ الفاظ کو قطعاً استعمال نہیں کر سکتا۔ ورنہ اس کو حرام خور یا مردار کھانے والا کہا جائے گا۔ حالانکہ اس کو چاہئے تھا کہ وہ حرام و ممنوع چیز کے اپنانے سے کوسوں دور بھاگتا اور اپنے مفہوم و مطلب کو دیگر جائز الفاظ کی وساطت سے بیان کرتا۔ جب کہ اس کا بیان کردہ مقصد بطور ذیل اور بطریق احسن بیان ہو سکتا ہے تو اس نے حرام خوری اور مردار خوارگی کی راہ کیوں اختیار کی ہے اور عمداً و بنی شرارت کے اندر اپنے کو کیوں ملوث کیا ہے۔ دیکھئے اس کا مطلب میرے نزدیک یوں ادا ہو سکتا ہے اور بہتر طور و طریقہ سے بیان ہو جاتا ہے کہ :

وجئناك يا صيد الردى بقصيدة بها الله يعلينی واياك يصغر

٢٩...... اور اے وبال کے شکار ہم تیرے پاس ایک قصیدہ لائے ہیں۔ خدا تعالیٰ مجھے اس کی مدد سے اونچا کرے گا اور تجھے ذلیل کرے گا۔

٢٤

صفحہ ٣٣٤
علوناک یا عبد الھویٰ بقصیدۃ فنملی ثناء اللہ ربی و نشکر

٣٠...... اے ہوا و ہوس کے بندے! ہم اپنے قصیدہ کی مدد سے تجھ پر غالب آگئے۔ پس ہم اپنے رب کی تعریف لکھتے ہیں اور شکر کرتے ہیں۔

علاکم بفضل اللہ من کان عندکم جھولاً وفضل اللہ ایاہ یظھر

٣١...... بفضل خدا وہ شخص تم پر غالب آگیا جو تمہارے نزدیک جاہل تھا اور فضل خدا اس کو غالب بنا رہا ہے۔

ان حالات کے پیش نظر کہ مرزا قادیانی نے جہاد اسلام کو حرام و قبیح کہہ کر اس سے متعلقہ الفاظ کو اپنے اور اپنے قصیدہ میں استعمال کیا ہے۔ یہ کہنا بجا اور حق بجانب ہے کہ مرزا قادیانی اس کلب کی مانند ہے جو قے کرنے کے بعد اپنے قے کردہ گندے اور غلیظ مواد کو بلا کراہت ونفرت کھا جاتا ہے اور ذرہ بھر بھی نہ شرماتا ہے اور نہ ہچکچاتا ہے۔ چنانچہ ایک حدیث میں وارد ہے کہ جو واہب شخص اپنے موہوب لہ آدمی سے ہبہ کردہ چیز کو واپس لے لیتا ہے وہ اس کتے کی مانند قرار پاتا ہے جو قے کر کے اپنی قے کردہ مکروہ و نجس مواد کو کھا جاتا ہے۔

"الواہب العائد فی ھبتہ کالکلب العائد فی قیئہ" اپنے ہبہ کو واپس لینے والا واہب شخص ایک کتا ہے جو قے کر کے اپنی قے کو کھا جاتا ہے۔

خلاصۃ الباب یہ ہے کہ مرزا قادیانی جہاد اسلام کی تنسیخ کا فتویٰ دینے کے بعد اس کے متعلقہ الفاظ کو اپنے اور اپنے قصیدہ کے لئے استعمال کر کے یقیناً اس کلب کی مانند ہے جو قے کر کے اپنی قے کھا جاتا ہے اور کسی قسم کی کراہت و نفرت کو محسوس نہیں کرتا اور بغیر ڈکار لئے ہضم کر جاتا ہے۔ جیسا کہ اعداداً ثابت ہے۔ (غلام احمد قادیانی /١٣٠٠) کلب الاغیار آباء یعنی غلام احمد قادیانی اپنے آباء واجداد سے اغیار کا کتا ہے۔ (یا مرزا قادیانی /٤٢٤) "کلب الکفار بالجد /٤٢٤" یعنی مرزا قادیانی صحیح طور پر کلب کفار ہے۔

سادساً...... یہ کہ مرزا قادیانی نے مولوی محمد حسین بٹالوی و مولوی عبداللہ چکڑالوی کے مابین مباحثہ پر اپنا ریویو بلا جواز شامل کتاب کر کے ثابت کر دیا ہے کہ اسی ریویو کی مانند بہت سا ایسا مواد بھی موجود ہے جو حجم کتاب کو بڑھانے کے لئے بلا وجہ بطور ضمیمہ یا اضافہ کے کتاب میں چسپاں کیا گیا ہے۔ ورنہ اصل مضمون بہت تھوڑا ہے جو اظہار کردہ مدت میں لکھا جاسکتا ہے اور پھر ہر مؤلف و مصنف ایسا مضمون اسی قدر عرصہ میں لکھ سکتا ہے۔ بنا براں مرزا قادیانی کی موجودہ تعلی خالی ڈھول کا مقام رکھتی ہے اور حقیقت سے ڈھولک کی مانند خالی ہے۔

٢٥

صفحہ ٣٣٤

شدت کا جواب شدت سے

مرزا قادیانی نے اپنی زیر جواب کتاب کے اندر اپنے مخاطب علماء و فضلاء کے علمی مقام اور ذاتی وقار کا قطعا لحاظ نہیں کیا۔ بلکہ ان کو کمینہ اور فرومایہ اور اوباش اور گانڈو اور مفعول تک بھی کہہ دیا۔ مرزا قادیانی کا یہ کردار اور غیر مہذب اور غیر شریفانہ ہے۔ چنانچہ اس قسم کے کردار کا مالک آدمی ایک دجال و بطال شخص تو ہو سکتا ہے۔ لیکن وہ نبی و رسول یا مہدی و مسیح ہرگز نہیں ہو سکتا۔ جیسا کہ اس کو اعداداً بطور ذیل کہا جا سکتا ہے۔

(غلام احمد / ١١٣٣) ”البطال العظیم / ١١٤٤“ اور ”مرزا قادیانی /٢٤٣٤“، ”المسیح المردود /٢٤٣٤“ یعنی غلام احمد بڑا بطال ہے اور مرزا قادیانی مردود مسیح ہے۔

میں قبل ازیں بتا چکا ہوں کہ مرزا قادیانی کے مقولہ بالاشعر کے فقرہ ’وامــــلــــوا کــــمـثــــلـی‘ سے ہمیں صاف طور پر اجازت میسر ہے کہ ہم بھی اس کو اس کی مانند لکھیں اور گالی کا جواب گالی میں اور بکواس کا جواب بکواس سے پیش کریں۔ کیونکہ اس نے بلا ریب یہی کہا ہے کہ تم بھی میری طرح تحریر کرو اور میرے نقش قدم پر گامزن ہو جاؤ اور پھر اس مرزائی اجازت کے علاوہ قرآن عظیم بھی ہم کو یہ اجازت اور جواز دیتا ہے کہ ہم بھی شدت کا جواب شدت سے دیں اور سختی کا بدلہ سختی سے پیش کریں اور گالیوں کے عوض گالیاں سنائیں۔ جیسا کہ فرمایا گیا ہے:

عليماً (النساء:١٤٨) " خدا تعالیٰ بری بات کے علانیہ کہنے کو پسند نہیں کرتا۔ لیکن مظلوم کے لئے ایسا کرنے کو پسند کرتا ہے اور اللہ اس کی سنتا اور جانتا ہے۔ ﴾

یعنی اگر مظلوم کی طرف سے بری باتوں اور گالیوں کا برملا اظہار ہو جائے تو وہ عنداللہ قابل گرفت نہیں ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ اس کی مظلومیت اور ستم رسیدگی کو بخوبی سنتا اور جانتا ہے کہ یہ مظلوم آدمی مجبور ہو کر اپنے فطرتی تقاضا سے ایسا کرنے پر اتر آیا ہے اور اس نے اپنے مظلوم ومغموم دل کی بھڑاس نکال کر قدرے آرام و سکون پایا ہے اور مظلوم آدمی کا سکون و آرام عنداللہ پسندیدہ اور محبوب و مرغوب عمل ہے۔

والاذن بالاذن والسن بالسن والجروح قصاص (مائده: ٤٥) " ہم نے تورات کے اندر ان پر لکھ دیا ہے کہ جان کے عوض جان، آنکھ کے عوض آنکھ، ناک کے عوض ناک، کان کے عوض کان اور دانت کے عوض دانت توڑا جائے اور زخموں کا بدلہ بھی لیا جائے۔ ﴾

٢٦

صفحہ ٣٣٥

جاننا چاہئے کہ کسی شخص کا اپنی زبان سے کسی شخص کو سب و شتم کرنا اور گالی گلوچ دینا اخلاقاً وشرعاً ایک کاری زخم شمار ہوتا ہے۔ جیسا کہ ایک عربی شعر کہتا ہے ۔

جراحات السنان لها التیام ولا يلتام ما جرح اللسان

نیزوں کے زخم اچھے ہو جاتے ہیں لیکن زبان کا زخم اچھا نہیں ہوتا۔

ج ...... "ولمن انتصر بعد ظلمه فاولئك ما عليهم من سبيل ه انما السبيل على الذين يظلمون الناس ويبغون في الارض بغير الحق ه اولئك لهم عذاب اليم ولمن صبر وغفران ذلك لمن عزم الامور (شوری: ٤١ تا ٤٣) ”جس نے اپنی مظلومیت کے بعد اپنا بدلہ لے لیا ان پر کوئی راہ ملامت نہیں ہے۔ راہ ملامت صرف ان لوگوں پر ہے جو لوگوں پر ظلم کرتے ہیں اور زمین کے اندر بلا جواز سرکشی کرتے ہیں۔ ان کے لئے عذاب الیم ہے اور جس نے ظلم پر صبر کر لیا اور ظلم کو بخش دیا یہ ان کی بڑی ہمت کا کام ہے۔ ﴾

و ...... "وان عاقبتم فعاقبوا بمثل ما عوقبتم به ولئن صبرتم لهو خير للصبرين (النحل: ١٢٦) ” اگر تم کسی کو سزا دینا چاہو تو اسی قدر سزا دو جس قدر تم کو سزا دی گئی ہے اور اگر تم صبر کر لو تو یہ بات صابرین کے لئے بہتر ہے۔ ﴾

ر ....... "فمن اعتدى عليكم فاعتدوا عليه بمثل ما اعتدى عليكم واتقوا الله واعلموا ان الله مع المتقين (بقره:١٩٤) ”پس جس شخص نے تم پر زیادتی کی ہے تم بھی اس پر اتنی زیادتی کرو جس قدر اس نے تم پر زیادتی کی ہے اور اللہ سے ڈرتے رہو اور جان لو کہ اللہ متقین کے ساتھ ہے۔ ﴾

س ..... "ولا تجادلوا اهل الكتب الا بالتی هی احسن الا الذين ظلموا منهم (عنکبوت : ٤٦) ” تم اہل کتاب کے ساتھ احسن طریق سے جھگڑو۔ لیکن ان کے ظالمین کے ساتھ شدت اختیار کرو۔﴾

آیات بالا صراحۃً وضاحت کرتی ہیں کہ اگر مظلوم شخص ظالم کی جانب سے ہونے والے مظالم کا بدلہ لے لے تو ایسا کرنا اس کے لئے جائز ہے اور وہ اس میں حق بجانب ہے۔ مگر شرط یہ ہے کہ وہ حتی المقدور زیادتی کرنے سے گریز کرے اور حدود و مظالم تک اپنا بدلہ حاصل کرے اور اپنی مظلومیت کے برابر ظالم پر سزا قائم کرے۔ چنانچہ مظلوم تھپڑ کے بدلے تھپڑ اور ڈنڈے کے بدلے ڈنڈا جوتا کے عوض جوتا مارے اور گالی کے عوض گالی دے اور بکواس کے بدلے

٢٧

صفحہ ٣٣٦

بکواس کرے۔ بالجملہ ظلم کا جواب ظلم سے دینا عنداللہ قابل گرفت نہیں ہے۔ ہاں اگر مظلوم آدمی ظالم کو معافی دے دے اور اس کا قصور بخش دے اور ظالم آدمی آئندہ کے لئے ظلم کرنے سے باز آجائے تو یہ ایک بڑی ہمت اور وسعت قلب کا کام ہے اور عنداللہ موجب ثواب ہے۔ ورنہ مظلوم آدمی کو ہر حالت میں ظالم سے اپنا بدلہ چکانے کی ہر وقت اجازت ہے۔

چونکہ مرزا قادیانی نے اخلاق و شائستگی سے الگ ہو کر علمائے کرام اور سادات کرام کو اپنی بازاری گالیوں اور فاحش سب وشتم کا نشانہ بنایا ہے۔ اس لئے ہم بھی اپنی کتاب میں اس کو معاف نہیں کرتے اور گالیوں کا جواب گالیوں سے اور بکواس کا جواب بکواس سے دیں گے اور اسکی شدت بیان کے مقابلہ میں شدت بیان اور سخت کلامی پیش کی جائے گی تاکہ اس کو چھٹی کا دودھ یاد آجائے۔

مرزائی عذرات اور محمدی جوابات

عذر اوّل

یہ ہے کہ مرزا قادیانی کا دعویٰ ہے کہ اس کی تائید وتصدیق کے لئے ڈیڑھ صد نشانات واقع ہو چکے ہیں جو اس کو مہدی و مسیح اور نبی ورسول اور مجدد احمد ثانی بناتے ہیں۔ جیسا کہ بطور ذیل متکبرانہ انداز میں لکھا گیا ہے۔

"ہماری کتاب نزول المسیح کے پڑھنے والوں پر جس میں ڈیڑھ سو نشان آسمانی صدہا گواہوں کے ساتھ لکھا گیا ہے۔ یہ امر پوشیدہ نہیں کہ میری تائید میں خدا کے کامل اور پاک نشان بارش کی طرح برس رہے ہیں۔"

(اعجاز احمدی ص ٧١، خزائن ج ١٩ ص ١٠٧)

جواب اوّلاً

یہ ہے کہ خدائے تعالیٰ کے پاک نشانات ایک صالح اور پارسا شخص کی تائید وتصدیق میں بھی مہیا ہو سکتے ہیں۔ لیکن یہ کہنا کہ نشانات آسمانی کا ظہور ایک شخص کو نبی ورسول یا مہدی و مسیح بنا دیتا ہے۔ غلط اور بے بنیاد دعویٰ ہے۔ چنانچہ صحابہ کرامؓ اور اولیائے عظامؒ سے صدہا نشانات ظاہر ہوئے۔ لیکن ان میں سے کسی ایک نے بھی نشانات کی بنیاد پر اپنے کو نبی ورسول قرار نہیں دیا۔ جیسا کہ مرزا قادیانی نے ظہور نشانات کے بل بوتے پر اپنے کو نبی ورسول اور مسیح و مہدی بنالیا۔ اب خلاصۃ الکلام یہ ہے کہ ہر نبی ورسول سے نشانات ظاہر ہوئے ہیں۔ لیکن انہوں نے اپنے دعویٰ نبوت ورسالت کی عمارت کو ظہور نشانات کی بنیاد پر کھڑا نہیں کیا۔ بلکہ انہوں نے اپنی نبوت ورسالت

٢٨

صفحہ ٣٣٧

کو عطائے ربانی اور موہبت آسمانی کہا ہے اور ظہور نشانات کو نبوت ورسالت کا نتیجہ اور ثمر گردانا ہے۔ دیکھئے بی بی مریم طاہرہ اور آصف بن برخیا وزیر سلیمان علیہ السلام سے باوجود غیر نبی و غیر رسول ہونے کے نشانات ظاہر ہوئے۔ لیکن انہوں نے ان نشانات کی بنیاد پر اپنے کو نبی ورسول نہیں کہا۔ بنا برآں مرزا قادیانی کا ظہور نشانات کی بنیاد پر اپنے کو نبی و رسول اور مسیح و مہدی کہنا صحیح نہیں ہے۔

ثانیاً...... یہ کہ مجھ ناکارہ اور کمتر خادم اسلام کی تائید میں چند ایسے نشانات ظاہر ہوئے ہیں جو مرزا قادیانی کے نشانات سے بدرجہا بالاتر اور زیادہ عبرتناک ہیں۔ ان کے مقابلے میں مرزائی نشانات ایک ردی کی ٹوکری کا سرمایہ ہیں۔ قارئین کرام دونوں نشانات کو پڑھیں اور انصاف کے ساتھ ان کا موازنہ کریں۔

چند محمدی نشانات اور ان کے نتائج

نشان اوّل

یہ ہے کہ ہمارے علاقہ کے ایک نامور عالم و فاضل اور اس کے ایک ادیب و شاعر شاگرد کے ساتھ (جن کے ناموں کا اظہار میں نے مناسب و موزوں نہیں سمجھا) کسی ادبی بات پر میری خط و کتابت شروع ہوگئی۔ یہ واقعہ اس وقت کا ہے جب کہ میں سال ١٩٢٥ء میں جامعہ عباسیہ بہاول پور میں زیر تعلیم تھا اور ادبی جھگڑوں سے الگ تھلگ رہ کر خاموش زندگی بسر کر رہا تھا۔ جب ہماری یہی ادبی مکاتبت طول پکڑ گئی اور دونوں، استاذ و شاگرد بالکل ساکت ولا جواب ہوگئے تو انہوں نے مجھے گلستان سعدی کے درج ذیل دو اشعار لکھ کر بھجوا دیئے اور خط و کتابت بند کردی۔

توانم اینکہ نیازارم اندرون کسے
ولے حسود را چہ کنم کہ زخود برنج در ست
میں یہ کر سکتا ہوں کہ کسی کا دل نہ دکھاؤں
لیکن حاسد کو کیا کروں کہ وہ خود تکلیف میں ہے
بمیر تا برہی اے حسود کیں رنجیست
کہ از مشقت او جز بمرگ نتواں رست
اے حاسد مر جا کیونکہ حسد ایسا دکھ ہے
کہ مرے بغیر اس کی مشقت سے چھٹکارا نہیں

میں ان کا یہ آخری خط پڑھ کر بہت پریشان ہوا اور سمجھ گیا کہ یہ دونوں بزرگان مجھے اپنا حاسد سمجھتے ہیں اور اپنی موجودگی میں میری موت کے متمنی ہیں۔ میں نے اللہ تعالیٰ پر توکل کرتے ہوئے ان کو درج ذیل شعر لکھ کر بھجوا دیا اور خدا تعالیٰ کے فیصلہ کی انتظار کرنے لگا۔

مردماں میر، میری گویند
من نہ میرم مردماں میرند

٢٩

صفحہ ٣٣٨
لوگ مجھے کہتے ہیں کہ مرجا، مرجا لیکن میں نہیں مروں گا یہی لوگ مریں گے

خدا تعالیٰ کی طرف سے نتیجہ یہ برآمد ہوا کہ وہ دونوں استاد، شاگرد میرے آخری خط کے قلیل عرصہ بعد فوت ہو گئے اور میں اب تک بفضل خدا زندہ ہوں اور تردید مرزائیت میں اپنی زیر تحریر کتاب کی تکمیل و ترتیب میں مشغول ہوں۔

من نہ مردم حاسدانم مردہ اند زانکہ بہرم حسد خود آوردہ اند
میں نہیں مرا میرے حاسد مر گئے ہیں کیونکہ وہ میرے لئے اپنا حسد لائے ہیں

نشان دوم

یہ ہے کہ میرے والد بزرگوار نے ایک ہندو مالک اراضی سے کچھ رقبہ خرید کیا اور انتقال منظور کرا لیا۔ اس میں سے چار کنال رقبہ پر ہمارا ایک قریبی رشتہ دار قابض تھا۔ والد مرحوم نے اس کو قبضہ چھوڑنے کے لئے کہا۔ لیکن وہ رضامند نہ ہوا اور قبضہ پر ڈٹا رہا۔ والد محترم نے اپنے بیٹوں اور عزیزوں کی مدد سے مقبوضہ رقبہ پر زبردستی قبضہ کر لیا۔ ہمارے قابض رشتہ دار نے میرے والد سمیت آٹھ افراد پر فوجداری مقدمہ دائر کر دیا۔ کچھ عرصہ مقدمہ چلتا رہا اور پیشی در پیشی ہوتی رہی۔ میں نے ایک رات خواب میں دیکھا جب کہ میں اس رشتہ دار کے گھر کے پاس سے گزر رہا تھا کہ ایک سانپ میرے آگے آگیا۔ میں نے خواب کے اندر اس سانپ کو ایک ڈنڈے سے ہلاک کر دیا۔ بیداری پر میں نے سانپ کی ہلاکت کو مقدمہ کے اخراج میں تعبیر کیا اور زیر مقدمہ افراد کو اطلاع دی کہ پیشی پر مقدمہ خارج ہو جائے گا اور ملزمان بری ہو جائیں گے۔ چنانچہ پیشی آنے پر میری تعبیر صحیح ثابت ہوئی اور میرا ایک نشان قرار پائی۔ کیونکہ مقدمہ ہذا پیشی پر خارج ہو گیا۔

نشان سوم

یہ ہے کہ میرے والد مرحوم و مغفور کی وفات سال ١٣٦٦ھ کو واقع ہوئی۔ میں نے چاہا کہ آپ کے سال وفات کو قرآن کی کسی آیت سے بطریق اعداد حروف کے اخذ کیا جائے۔ میں اسی سوچ بچار میں پوری طرح منہمک ہو گیا اور کافی دیر تک سوچنے کے بعد آیت ذیل میرے دل دماغ پر محیط ہو گئی۔

”وظن داؤد انما فتناہ فاستغفر ربہ وخر راکعاً واناب ہ فغفرنا لہ ذلک (ص: ٢٤) ” داؤد علیہ السلام نے گمان کر لیا کہ ہم نے اس کو فتنہ میں ڈال دیا ہے۔ اس پر اس نے اپنے رب سے معافی مانگی اور جھکتے ہوئے گر گیا اور پشیمان ہوا۔ اس پر ہم نے اس کو معافی دے دی۔“

٣٠

میں نے آیت ہذا کو بغور و خوض میرے والد مرحوم کے نام ”غلام رسول“ دونوں مقامات سے والد کا سال وفات برا کے اعداد حروف نکالے تو فقرہ آیت کے سال وفات ہے اور والد کے نام کے اعد خیال کیا کہ فقرۂ آیت مرکب تام ہے اور لہٰذا یہاں پر ایک حرف کو کم کرنا ہوگا اور وہ ح پر برخاستہ زبر کے ساتھ ”غلامِ رَسُول“ آتا ہے۔ نتیجہ یہ رہا کہ آپ کی تمام زندگی مغفرت خداوندی پر ہوئی اور میرا اعدادی ا

نشان چہارم

یہ ہے کہ میرا بھتیجا حافظ عبدالمجی کی ماں مر گئی اور اس کی خالہ اس کو اٹھا کر ت ہو گیا تو اس کو بندش پیشاب کا عارضہ پیدا ہ طور پر افاقہ نہ ہوا اور ہمیں سخت پریشانی لاحق

میری بیوی ایک صالحہ اور پابند ایک سفید ریش سبز پوش بزرگ دیکھنے میں کے اندر دیکھنے میں آئے تو اسے میرا سلام لئے بالضرور علاج دریافت کر لینا۔ میری ب خواب کے شیخ وقت سے گفتگو ہوئی اور علا باترکیب خاص تیار کر کے استعمال کرانے پتھری ریت بن کر بذریعہ پیشاب خارج ہ اور حافظ القرآن مرد ہے اور اس کی بچگانہ کی۔ چونکہ میں اس بزرگ کی ہدایت کا عام

نشان پنجم

یہ ہے کہ میں نے طالب علمی ک

صفحہ ٣٣٩

میں نے آیت ہٰذا کو بغور و خوض پڑھا اور یقین کر لیا کہ چونکہ فقرہ: ”غفرنا لہ“ اور میرے والد مرحوم کے نام ”غلام رسول“ کا پہلا حرف ”غ“ دونوں جگہوں موجود ہے۔ اس لئے دونوں مقامات سے والد کا سال وفات برآمد ہونا ممکن ہے۔ چنانچہ جب میں نے دونوں مقامات کے اعداد حروف نکالے تو فقرہ آیت کے اعداد پورے تیرہ صد چھیاسٹھ (١٣٦٦) نکلے جو والد کا سال وفات ہے اور والد کے نام کے اعداد تیرہ صد ستاسٹھ (١٣٦٧) برآمد ہوئے۔ پھر میں نے خیال کیا کہ فقرۂ آیت مرکب تام ہے اور والد کا نام مرکب ناقص ہے۔ کیونکہ مرکب اضافی ہے۔ لہٰذا یہاں پر ایک حرف کو کم کرنا ہو گا اور وہ حرف الف ہے۔ اب اگر اس نام کو قرآنی رسم الخط کی بناء پر کھڑی زبر کے ساتھ ”غُلٰمُ رَّسُوْلٍ“ لکھا جائے تو پھر بھی آپ کا سال وفات (١٣٦٦) نکل آتا ہے۔ نتیجہ یہ رہا کہ آپ کی تمام زندگی رسول اللہ ﷺ کی غلامی میں گزری اور آپ کی وفات مغفرت خداوندی پر ہوئی اور میرا اعدادی استدلال میرا ایک نشان بن گیا۔

نشان چہارم

یہ ہے کہ میرا بھتیجا حافظ عبدالمجید اپنی پیدائش کے تین دن بعد یتیم الام ہو گیا۔ یعنی اس کی ماں مر گئی اور اس کی خالہ اس کو اٹھا کر تربیت کے لئے اپنے گھر لے گئی۔ جب بچہ تین سال کا ہو گیا تو اس کو بندش پیشاب کا عارضہ پیدا ہو گیا۔ متعدد ڈاکٹروں اور اطباء کے زیر علاج آیا۔ مگر صحیح طور پر افاقہ نہ ہوا اور ہمیں سخت پریشانی لاحق ہوئی۔

میری بیوی ایک صالحہ اور پابند صوم وصلاۃ عورت تھی۔ بعض دفعہ اس کو خواب کے اندر ایک سفید ریش سبز پوش بزرگ دیکھنے میں آتا تھا۔ میں نے بیوی سے کہا کہ اگر وہی بزرگ خواب کے اندر دیکھنے میں آئے تو اسے میرا سلام کہہ کر بچے کی تکلیف بیان کر دینا اور پھر رفع تکلیف کے لئے بالضرور علاج دریافت کر لینا۔ میری ہدایت پر میری بیوی کی خواب کے اندر اس مرد صالح اور خواب کے شیخ وقت سے گفتگو ہوئی اور علاج دریافت کیا گیا تو اس بزرگ نے ”نمک ٹھوّا“ کو بترکیب خاص تیار کر کے استعمال کرانے کی ہدایت کی۔ میں نے حسب ہدایت تعمیل کی اور بچے کی پتھری ریت بن کر بذریعہ پیشاب خارج ہو گئی اور بچہ تندرست ہو گیا اور وہ آج کل ایک نوجوان اور حافظ القرآن مرد ہے اور اس کی بچگانہ تکلیف نے کبھی بھی اس میں عود کرنے کی جرأت نہیں کی۔ چونکہ میں اس بزرگ کی ہدایت کا عامل بنا اس لئے میں بھی شریک نشان رہا۔

نشان پنجم

یہ ہے کہ میں نے طالب علمی کے وقت میں دیوان حسانؓ کے چند قصائد کی عربی شرح

٣١

صفحہ ٣٤٠

بنام ”مختار البیان فی شرح دیوان الحسان“ اور ساتھ ہی ”لامیہ ابی طالب“ کی عربی شرح بنام ”مختار المطالب فی شرح اللامیہ ابی طالب“ لکھی اور ان میں سے کسی ایک شرح کی طباعت واشاعت کے لئے جدوجہد کی ،مگر ناکام رہا۔ صدر ایوب خان کے دورِ صدارت میں ان سے رابطہ قائم کیا۔ صدر صاحب نے ہر دو غیر مطبوعہ کتابیں طلب کیں۔ مگر چند ایام کے بعد دونوں کتابیں مجھے واپس کر دی گئیں اور مجھے اس نے اپنے نام پر انتساب کرنے سے روک دیا۔ اس کارروائی پر مجھے سخت قلبی رنج پہنچا اور یقین کرلیا کہ جس شخص نے آنحضرت ﷺ کی شان وعظمت میں لکھی گئی کتابوں کی تحقیر کی ہے۔ وہ پاکستان جیسے عظیم مسلم ملک کا صدر نہیں رہ سکتا اور اسی وقت میرے دل ودماغ پر لفظ ”خاب وخاب“ آگئے۔ یعنی وہ ناکام رہا اور چھپ گیا۔ اس کا نتیجہ یہ رہا کہ چند ہفتوں کے بعد طلبہ وعوام نے صدر ایوب کے خلاف بغاوت کردی اور وہ عہدہٴ صدارت کو چھوڑ کر اپنے گھر میں جا چھپا اور اس کی تحقیر عبرت کا نشان بن گئی۔

عذر دوم

یہ ہے کہ: ”آسمان نے میرے لئے گواہی دی اور زمین نے بھی۔ مگر دنیا کے اکثر لوگوں نے مجھے قبول نہیں کیا ۔“

(اعجاز احمدی ص ٢، خزائن ج ١٩ ص ١٠٨)

جواب....... یہ ہے کہ آسمان اور زمین دونوں نے مرزا قادیانی کے خلاف شہادت دی ہے اور اس کو کاذب ودجال ظاہر کیا ہے۔ لیکن چونکہ یہ شخص عیار اور فریب کار آدمی تھا۔ اس لئے اس نے اپنے خلاف زمین وآسمان کی شہادت کو موڑ توڑ کر اپنے حق میں پیش کر دیا۔ حالانکہ واقعات بتاتے ہیں کہ آسمان وزمین کے نزدیک اس کا کذب ودجل عیاں اور اس کی بطلانیت ایک مسلمہ حقیقت ہے۔ چنانچہ آسمان کی جانب سے آسمانی کتابیں اور زمین کی طرف سے زمینی واقعات اس کو بطال وکذاب ٹھہراتے ہیں۔ جن کی قدرے تفصیل بطور ذیل مذکور ہے۔

قرآن مجید کی چند آیات

کہ میں اور میرے رسول یقیناً غالب رہیں گے ۔﴾

یہ آیت صاف طور پر ظاہر کرتی ہے کہ خدا تعالیٰ کا یہ مکتوبہ اور تحریری فیصلہ ہے کہ ایک رسول دعویِٰ رسالت کے بعد ضرور بالضرور اپنی غالبیت اور اقتدار کو پیدا کر لیتا ہے اور اس کا بے اقتدار رہ کر غلام کفار رہنا بروئے آیت ہذا بالکل غیر معقول اور سراسر خلافِ آیت ہے۔ لیکن

٣٢

١

مرزا قادیانی خلافِ آیت اپنی تمام زندگی میں ایـ رہا۔ بلکہ اپنی غلامی ومحکومی کو اپنی سعادت ورفعـ ایجنسی کا کاروبار سرانجام دیتا رہا اور پھر طرفہ تر جماعت کو انگریز کی رضا کار اور بے دام کام کر میرزاغلام احمد /١٣٨٢ ”غلیب الـ اور پھر قرآن عزیز نے خدا اور رسولانِ خدا کی ہے کہ جس مدعی رسالت نے دعویِٰ رسالت کـ اور نہ اس نے اس بارے میں سرتوڑ اور جاں کاذب ومفتری علی اللہ ہے۔ کیونکہ خدا کی معیت اور غلامی پر راضی رہا اور یہی حال مرزا قادیانی کـ

کو باذن اللہ مطاع ومقتدر بنانے کے لئے بھیجـ

یہ آیت بھی آیت سابق کی تائید غلام ومحکوم رہنے کے لئے نہیں بھیجا۔ بلکہ اس کـ ومنکرین خدا پر اقتدار اعلیٰ حاصل کر کے ان کو ا کو غلام ومحکوم رکھ کر کفار کے اقتدار کی حمایت وکوشاں بنتا ہے وہ رسول خدا نہیں بلکہ دجال و ہے۔ (مرزاغلام احمد /١٤٧٢) ”هو غیر الـ

عمران: ١٢) ”﴿کفار کو کہہ دیجئے کہ تم مـ دوزخ ایک بری جگہ ہے۔﴾

اس آیت میں بطورِ قبل از وقت جہنمی بتایا گیا ہے۔ کیونکہ فقرہ ”ستغلبـ (١٥٤٨) ہیں۔ جیسا کہ مرزاغلام احمد قادیانـ قرآن مجید نے آج سے چودہ سو سال قبل اعـ

صفحہ ٣٤١

مرزا قادیانی خلاف آیت اپنی تمام زندگی میں اپنے دعویٰ رسالت کے بعد محکوم برطانیہ اور غلام کفار رہا۔ بلکہ اپنی غلامی ومحکومی کو اپنی سعادت ورفعت سمجھتا رہا اور انگریزوں کے ماتحت رہ کر ان کی ایجنسی کا کاروبار سرانجام دیتا رہا اور پھر طرفہ تر یہ کہ وہ تادم زیست اپنے آپ کو اور اپنی پیدا کردہ جماعت کو انگریز کی رضا کار اور بے دام کام کرنے والی فوج قرار دیتا رہا۔ جیسا کہ اعداد یوں ہے: میرزاغلام احمد /١٣٨٢ ”غلیب الکفار ابداً /١٣٨٢“ یعنی وہ دائمی مغلوب کفار ہے

اور پھر قرآن عزیز نے خدا اور رسولان خدا کی غالبیّت کو یکجا اور ملا کر بیان کرنے سے یہ اشارہ کیا ہے کہ جس مدعی رسالت نے دعویٰ رسالت کے بعد اپنی غالبیّت اور اقتدار علی الکفار کو مہیا نہیں کیا اور نہ اس نے اس بارے میں سرتوڑ اور جاں گداز کوشش کی ہے وہ قطعاً رسول خدا نہیں ہے بلکہ کاذب ومفتری علی اللہ ہے۔ کیونکہ خدا کی معیت سے استفادہ کر کے اس نے اقتدار حاصل نہیں کیا اور غلامی پر راضی رہا اور یہی حال مرزا قادیانی کا ہے۔

کو باذن اللہ مطاع ومقتدر بنانے کے لئے بھیجا ہے۔﴾

یہ آیت بھی آیت سابق کی تائید وتوثیق کرتی ہے کہ خدا تعالیٰ نے اپنے کسی رسول کو غلام ومحکوم رہنے کے لئے نہیں بھیجا۔ بلکہ اس کو اس لئے بھیجا ہے کہ وہ اپنے زورِ رسالت سے کفار ومنکرین خدا پر اقتدار اعلیٰ حاصل کر کے ان کو اپنا غلام ومحکوم رکھے۔ بنابرآں جو مدعی رسالت اپنے کو غلام ومحکوم رکھ کر کفار کے اقتدار کی حمایت کرتا ہے اور اس کے بقاء واستحکام کے لئے ساعی وکوشاں بنتا ہے وہ رسول خدا نہیں بلکہ دجال وبطال ہے۔ جیسا کہ وہ اعداداً غیر المطاع اور محکوم بنتا ہے۔ (مرزاغلام احمد /١٣٧٢) ”هو غیر المطاع /١٣٧٢“ یعنی وہ غیر مطاع اور محکوم ہے۔

عمران: ١٢) ”کفار کو کہہ دیجئے کہ تم مغلوب رہو گے اور دوزخ کی طرف دھکیلے جاؤ گے اور دوزخ ایک بری جگہ ہے۔﴾

اس آیت میں بطور قبل از وقت پیش گوئی کے مرزا قادیانی کو کافر اور مغلوب کافر اور جہنمی بتایا گیا ہے۔ کیونکہ فقرۂ ”ستغلبون / ١٥٤٨“ کے اعداد حروف پندرہ صد اڑتالیس (١٥٤٨) ہیں۔ جیسا کہ مرزاغلام احمد قادیانی / ١٥٤٨ کے پندرہ صد اڑتالیس اعداد ہیں۔ چنانچہ قرآن مجید نے آج سے چودہ سو سال قبل اعدادی صورت میں خبر دے دی کہ مرزاغلام احمد قادیانی

٣٣

صفحہ ٣٤٢

اپنی تمام زندگی میں مغلوب کفار اور محکوم فرنگ رہ کر غلامی ومحکومی کی جہنم میں پڑا رہے گا اور اس سے نکلنے کی کوشش نہیں کرے گا۔ بنا بر آں مرزا قادیانی نے اپنی تمام زندگی محکومی میں گزار کر آیت بالا کی حرف بحرف تصدیق کر دی۔ جیسا کہ مساوات ہائے ذیل سے وضاحت ملتی ہے۔ (غلام احمد قادیانی / ١٣٠٠) ”جندی الغرب / ١٣٠٠“ یعنی غلام احمد قادیانی یورپ کا فوجی ہے یا ”مسجاد الغرب / ١٣٠٠“ یعنی وہ یورپ کا ساجد ہے یا مرزا قادیانی / ٤٢٤ ”مَطِی الافرنج / ٤٢٤“ یعنی مرزا قادیانی یورپ کی سواری ہے۔

و...... ”فاما الذین فی قلوبہم زیغ فیتبعون ماتشابہ منہ ابتغاء الفتنۃ وابتغاء تأویلہ (آل عمران:٧)“ ﴿جن لوگوں کے دلوں میں کجی ہے وہ مسیح کے متعلق متشابہ بات کے پیچھے صرف تلاش فتنہ اور طلب تاویل کے لئے چلتے ہیں۔﴾

آیت ہذا میں بھی بطور اعداد حروف کے مرزا قادیانی کی پیدا کردہ تحریک مرزائیت کے متعلق پیش گوئی کی گئی ہے۔ کیونکہ اس مذموم تحریک کی بنیاد فتنہ اور تاویلات پر رکھی گئی ہے اور اعداداً اس تحریک کا سال آغاز بھی بیان کر دیا گیا ہے۔ چنانچہ مرزا قادیانی نے اپنی تحریک کی داغ بیل اور اس کا خاکہ سال ١٢٩٠ھ میں تیار کیا جیسا کہ وہ خود بیانی ہے کہ: ”ٹھیک ١٢٩٠ھ پر خدا تعالیٰ کی طرف سے یہ عاجز شرف مکالمہ ومخاطبہ پا چکا تھا۔“

(حقیقت الوحی ص ٢٠٠، خزائن ج ٢٢ ص ٢٠٨)

اور جیسا کہ قرآن حکیم نے آیت بالا کے فقرہ ”فی قلوبہم زیغ / ١٢٩٠“ میں بھی اس تحریک کا سال آغاز بعینہ یہی بتایا ہے۔ کیونکہ اس فقرہ کے اعداد حروف پورے بارہ صد نوے (١٢٩٠) ہیں جو مرزائی تحریک کو تحریک زیغ بتاتے ہیں۔

بنا بر آں ”مرزا غلام احمد قادیانی / ١٥٤٨“ اعداداً ”فتان زیغ / ١٥٤٨“ یعنی وہ کجی کا فتنہ باز ہے اور غلام احمد / ١١٢٤، اعداداً ”قائد زیاغ / ١١٢٤“ بمعنی کجرو رہنما بن جاتا ہے اور آیت بالا کا مصدق و مؤید بن کر سامنے آتا ہے۔

ر...... ”فلما زاغوا ازاغ اللّٰہ قلوبہم واللّٰہ لا یہدی القوم الفسقین (الصف:٥) “ ﴿جب انہوں نے کجی اختیار کی تو خدا نے ان کے دلوں کو ٹیڑھا بنا دیا اور خدا تعالیٰ فاسق قوم کو ہدایت یاب اور مہدی نہیں بنائے گا۔﴾

آیت ہذا بھی اعدادی طور پر مرزائی تحریک کی طرف اشارہ کرتی ہے اور اس کو تحریک زیغ کا نام دیتی ہے۔ وجہ یہ ہے کہ فقرہ ”ازاغ اللّٰہ قلوبہم“ کے اعداد حروف بارہ صد اٹھاون

٣٤

(١٢٥٨) برآمد ہوتے ہیں اور یہی اعداد مرز میر زاغ / ١٢٥٨ کے اعداد بن جاتے ہیں اور ا ہیں اور نتیجہ یہ ہے کہ آیت بالا کے اندر دیگر کفا تحریک زیغ چلانے والا کہا گیا ہے۔

انجیل متی اور دانیال کی شہادت

الف...... چونکہ احادیث نبویہ میں تیس دجالوں بعد دعویٰ نبوت ورسالت اور دعویٰ مسیحیت ومہد متی باب ٢٤ آیت ٢٤ میں جھوٹے مسیحوں اور کا ”اگر کوئی تم سے کہے کہ دیکھو مسیح یہ مسیح اور جھوٹے نبی اٹھ کھڑے ہوں گے اور ا ممکن ہو تو برگزیدوں کو بھی گمراہ کر لیں۔“

مرزا قادیانی بھی چونکہ اپنے مسیح ونب کاذب نبی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ کاذب مسیحوں عجیب کام دکھانے کا دعویٰ کرتا ہے اور یہی وجہ ہے ابداً / ١٤٠٠“ بمعنی ہمیشہ کا خبیث مسیح ثابت ہو صد (١٣٠٠) ہیں اور غلام احمد قادیانی / ١٣٠٠ مسیح کاذب اور نبی کاذب ہے۔ جیسا کہ اعداداً ”ھو مسیح کاذب دائم شرعاً الی الابد جھوٹا نبی ہے۔ غلام احمد / ١١٢٤ ”ھو نبی ک حقیقتاً جھوٹا نبی ہے۔ (مرزا غلام احمد / ١٣٧٢) ” طور پر غیر نبی ہے اور نبی نہیں ہے۔

ب...... دانیال نبی کی پیش گوئی بطور ذیل ہے:- گی اور وہ اجاڑنے والی مکروہ چیز نصب کی جائے اس پیش گوئی میں دن سے مراد سال دن کی شکل میں بیان کیا جاتا ہے اور دائمی قربانی

صفحہ ٣٤٤

(١٢٥٨) برآمد ہوتے ہیں اور یہی اعداد مرزا قادیانی کے نام میرزا غلام احمد کے ابتدائی حصہ میرزاغ / ١٢٥٨ کے اعداد بن جاتے ہیں اور اس کے ہجری سال پیدائش (١٢٥٨) کو ظاہر کرتے ہیں اور نتیجہ یہ ہے کہ آیت بالا کے اندر دیگر کفار کے ساتھ میرزاغ صاحب کو بھی زائغ القلب اور تحریک زیغ چلانے والا کہا گیا ہے۔

انجیل متی اور دانیال کی شہادت

الف....... چونکہ احادیث نبویہ میں تیس دجالوں کے آنے کا ذکر موجود ہے جو آنحضرت ﷺ کے بعد دعویٰ نبوت ورسالت اور دعویٰ مسیحیت ومہدویت کرنے والے ہوں گے۔ اسی طرح پر انجیل متی باب ٢٤ آیت ٢٤ میں جھوٹے مسیحوں اور کاذب نبیوں کا آنا بطور ذیل مذکور ہے۔

”اگر کوئی تم سے کہے کہ دیکھو مسیح یہاں ہے یا وہاں ہے تو یقین نہ کرنا۔ کیونکہ جھوٹے مسیح اور جھوٹے نبی اٹھ کھڑے ہوں گے اور ایسے بڑے نشان اور عجیب کام دکھائیں گے کہ اگر ممکن ہو تو برگزیدوں کو بھی گمراہ کرلیں ۔“

مرزا قادیانی بھی چونکہ اپنے مسیح و نبی ہونے کا مدعی ہے اس لئے بروئے بیان متی وہ کاذب نبی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ کاذب مسیحوں اور کاذب نبیوں کی مانند بڑے بڑے نشانات اور عجیب کام دکھانے کا دعویٰ کرتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ وہ اعداد ”المسيح الخبيث ابداً / ١٣٠٠ “ بمعنی ہمیشہ کا خبیث مسیح ثابت ہوتا ہے۔ کیونکہ اس فقرہ کے اعداد حروف پورے تیرہ صد (١٣٠٠) ہیں اور غلام احمد قادیانی /١٣٠٠ کے اعداد سے برابری کر لیتے ہیں اور پھر وہ اعداداً مسیح کاذب اور نبی کاذب ہے۔ جیسا کہ اعداد بطور ذیل ہے۔ (مرزا غلام احمد قادیانی / ١٥٤٨) ”هو مسيح كاذب دائم شرعاً الى الابد / ١٥٤٨“ یعنی مرزا غلام احمد قادیانی شرعاً ہمیشہ کا جھوٹا نبی ہے۔ غلام احمد / ١١٢٤ ”هو نبي كاذب بالحقيقة والله / ١١٢٤“ یعنی بخدا غلام احمد حقیقتاً جھوٹا نبی ہے۔ (مرزا غلام احمد / ١٣٧٢) ”غير النبى بجد / ١٣٧٢“ یعنی مرزا غلام احمد صحیح طور پر غیر نبی ہے اور نبی نہیں ہے۔

ب....... دانیال نبی کی پیش گوئی بطور ذیل ہے۔ ”جس وقت سے دائمی قربانی موقوف کی جائے گی اور وہ اجاڑنے والی مکروہ چیز نصب کی جائے گی۔ ایک ہزار دوسونوے دن ہوں گے۔“

اس پیش گوئی میں دن سے مراد سال ہے۔ کیونکہ الہامی کتابوں میں بعض دفعہ سال کو دن کی شکل میں بیان کیا جاتا ہے اور دائمی قربانی کے موقوف ہونے سے مراد تنسیخ جہاد ہے۔ جس کو

٣٥

صفحہ ٣٤٤

مرزا قادیانی نے حرام و قبیح قرار دے کر منسوخ کر دیا۔ کیونکہ جہاد میں عام طور پر جان کی قربانی دینی پڑتی ہے اور پھر بظاہر ایک مکروہ چیز سے مراد تحریک مرزائیت کا اجراء و نفاذ ہے۔ کیونکہ اسی تحریک کی بنیاد تنسیخ جہاد اور انکار ختم نبوت پر کھڑی کی گئی ہے اور پھر اس تحریک کا سال آغاز بھی بموجب اقرار مرزا ١٢٩٠ھ بتایا گیا ہے۔ جیسا کہ سابقاً آچکا ہے۔ جاننا چاہئے کہ آسمانی کتابوں کی طرح زمین نے بھی مرزا قادیانی کے خلاف شہادت دی ہے۔ کیونکہ وہ دارالحرب ہندوستان میں نبی و مسیح بنا اور اسی دارالحرب میں مر کر مدفون ہوا اور اس کو بذریعہ جہاد اسی دارالحرب کو دارالاسلام میں تبدیل کرنے کی توفیق نہ ملی۔

عذر سوم

یہ ہے کہ: ”وہی ہوں جس کے وقت میں اونٹ بیکار ہو گئے اور پیش گوئی آیت کریمہ ”واذا العشار عطلت“ پوری ہوئی اور پیش گوئی حدیث ”ولیترکن القلاص فلا یسعی علیها“ نے اپنی پوری پوری چمک دکھادی۔“

(اعجاز احمدی ص ٢، خزائن ج ١٩ ص ١٠٨)

جواب اوّلاً

یہ ہے کہ مرزا قادیانی نے لفظ عشار کا معنی اونٹ کیا ہے۔ جو غلط ہے اور لغات عرب کے خلاف ہے۔ کیونکہ اس لفظ کا معنی لغۃً دس ماہ کی حاملہ اونٹنیاں ہے اور بمعنی اونٹ نہیں ہے جیسا کہ المنجد میں ہے: ”العشار جمع عشراء والعشراء من النوق التی مضی لحملها عشرة اشهر“ عشار عشراء کی جمع ہے اور عشراء اس اونٹنی کو کہا جاتا ہے جو دس ماہ کی حاملہ ہو۔

ثانیاً

یہ ہے کہ آیت مذکورہ بالا کا وہ مفہوم صحیح نہیں ہے جو مرزا قادیانی نے سمجھا ہے بلکہ درست مفہوم یہ ہے کہ قرب قیامت میں دس ماہ کی حاملہ اونٹنیاں کے حمل بوجہ رعب قیامت گر جائیں گے اور آئندہ کے لئے ان میں حاملہ ہونے کی صلاحیت باقی نہیں رہے گی اور پھر منقولہ حدیث کا بھی یہی مفہوم ہے کہ سفید رنگ کی نوجوان اونٹنیاں بیکار اور ناقابل حمل ہو جائیں گی اور ان کے حاملہ کرنے کی کوشش نہیں کی جائے گی۔ کیونکہ قیامت کے رعب و خوف سے ان کے حاملہ ہونے اور رہنے کی صلاحیت مفقود ہو جائے گی اور وہ اولاد پیدا کرنے سے بیکار ہو جائیں گی۔ چنانچہ قلاص لغۃً قلوصۃ کی جمع ہے اور معنی لمبی ٹانگوں والی جوان اونٹنی ہے۔ جیسا کہ قرآن عزیز کی آیت ذیل تصریح و توضیح کرتی ہے اور آیت بالا و حدیث بالا کی تائید کرتی ہے۔

٣٦

صفحہ ٣٤٥

"يوم ترونها تذهل كل مرضعة عما ارضعت وتضع كل ذات حمل حملها (الحج:٢)'' ﴿اس دن تم دیکھو گے کہ ہر دودھ پلانے والی مادہ اپنے شیر خوار بچے سے غافل ہو جائے گی اور ہر حاملہ اپنے حمل کو گرا دے گی۔﴾

ثالثاً

یہ ہے کہ مرزا قادیانی کا زیر جواب آیت وحدیث کو مکہ معظمہ اور مدینہ منورہ کے درمیان بننے والی ریلوے لائن پر محمول کرنا بھی درست نہیں ہے۔ واقعات نے ثابت کر دیا کہ مرزا قادیانی کے زمانہ میں وہ مکمل نہ ہو پائی۔

عذر چہارم

یہ ہے کہ : ” مسیح موعود کے وقت میں طاعون پھیلے گی اور حج روکا جائے گا اور ذوالسنین ستارہ نکلے گا اور ساتویں ہزار کے سر پر وہ موجود ظاہر ہو گا اور دمشق کی مشرقی سمت میں اس کا ظہور ہو گا اور صدی کے سر پر اپنے تئیں ظاہر کرے گا ۔“

(اعجاز احمدی ص٢، خزائن ج ١٩ص ١٠٨)

جواب...... یہ ہے کہ طاعون کا پھیلنا علامت دجال تو ہو سکتا ہے۔ علامت مسیح موعود نہیں ہو سکتا۔ جیسا کہ حدیث ذیل سے مترشح ہوتا ہے۔ جس میں دجال کے ساتھ طاعون کو ذکر کیا گیا ہے۔ "على انقاب المدينة ملائكة لا يدخلها الدجال ولا الطاعون “ ﴿مدینہ کے راستوں پر فرشتے ہوں گے جن کی وجہ سے دجال اور طاعون دونوں مدینہ میں داخل نہیں ہوں گے۔﴾

حدیث ہذا میں دجال و طاعون کو یکجا ذکر کرنے سے پتہ چلتا ہے کہ طاعون رفیق دجال ہے اور دجال رفیق طاعون ہے۔ کیونکہ

کند ہم جنس باہم جنس پرواز
کبوتر با کبوتر باز با باز

اور پھر حدیث ہذا میں مذکور لفظ الدجال سے مراد خود مرزا قادیانی ہے کیونکہ بقول اس کے اس کی پیدائش سال ١٨٣٩ء یا ١٨٤٠ء میں ہوئی۔ جیسا کہ لکھا ہے: ”میری پیدائش ١٨٣٩ء یا ١٨٤٠ء میں سکھوں کے آخری عہد میں ہوئی اور ١٨٥٧ء میں میں سولہ برس یا سترھویں برس میں تھا۔“

(کتاب البریہ ص١٤٩، خزائن ج ١٣ص١٧٧)

اور اس کی وفات باتفاق اہل مرزا سال ١٩٠٨ء میں واقع ہوئی۔ بنا برآں اس کی عمر یا

٢٧

صفحہ ٣٤٦

٦٨ سال (١٩٠٨ء-١٨٤٠ء=٦٨) ہے اور یا ٦٩ سال (١٩٠٨-١٨٣٩=٦٩) ہے۔ اب جاننا چاہیے کہ لفظ الدجال کے اعداد حروف پورے ٦٩ ہیں اور پھر ہر اسم صفت میں اس کی مصدر موجود ہوتی ہے۔ جیسے ”العلام“ میں ”العلم“ اور ”الظلام“ کے اندر ”الظلم“ موجود ہے اور اسی پر ”الدجال“ کے اندر بھی اس کی مصدر ”الدجل“ مستور ہو کر موجود ہے جس کے اعداد ٦٨ ہیں۔ بنا برآں تشریح بالا کا خلاصہ یہ ہے کہ حدیث زیر بحث کے اندر لفظ ”الدجال“ سے مراد خود مرزا قادیانی ہے۔ کیونکہ بصورت ظاہر اس کے اعداد حروف مرزا قادیانی کی ٦٩ سال عمر اور بصورت باطن اس کی مصدر ”الدجل“ سے اس کی ٦٨ سال عمر برآمد ہوتی ہے۔ نتیجہ یہ رہا کہ زیر بحث حدیث میں مذکور لفظ ”الدجال“ مرزا قادیانی ہے اور لفظ ”الطاعون“ سے مراد وہ طاعون ہے جس کو مرزا قادیانی اپنا نشان قرار دیتا ہے اور بروئے حدیث مذکور یہی دونوں مرزا و طاعون مدینہ منورہ میں نہیں جا سکے اور مذکورہ بالا حدیث کی پیش گوئی صحیح ثابت ہوئی۔

حج کے متعلق جواب اوّلاً یہ ہے کہ انگریزی دور اقتدار میں بوجہ مرزا قادیانی ہندوستان کے اندر کبھی بھی حج کی رکاوٹ نہیں ہوئی۔ لہٰذا بیان مرزا غلط اور غیر صحیح ہے۔

جواب ثانیاً

یہ کہ حج کی رکاوٹ ایک برائی اور جرم عظیم ہے جو علامت دجال اور نشان بطال ہے اور مسیح موعود اس قسم کی رکاوٹوں کو اٹھا دے گا۔

جواب ثالثاً

یہ کہ حج کی رکاوٹ خود مرزا قادیانی نے پیدا کی ہے۔ کیونکہ اس نے قادیان کو ارض حرم اور اس کے سالانہ جلسہ کو حج قادیان قرار دے کر کہا ہے

زمین قادیان اب محترم ہے ہجوم خلق سے ارض حرم ہے

(درثمین اردو ص ٥٢)

اور اس نے اپنے تابعین و مریدین کے اندر یہ تاثر پیدا کیا کہ قادیان کے سالانہ جلسہ میں حاضر ہونے والا حاجی ہے اور حج کے برکات و فضائل کو حاصل کرنے والا ہے۔ چنانچہ اس شخص نے اپنی تحریرات واشتہارات کی طاقت سے حج کو روکنے کی اسی طرح سے کوشش کی جیسے یمن کے ابرہہ نامی شخص نے اپنی فوجی طاقت کے بل بوتے پر حج بیت اللہ کو روکنا چاہا اور مرزا قادیانی کی مانند ہیضہ سے ہلاک ہوا۔ چونکہ ان دونوں آدمیوں کا کردار حج کے روکنے میں برابر ہے۔ اس لئے

٣٨

صفحہ ٣٤٧

مرزا قادیانی کو اگر ابرہۃ الہند کہا جائے تو بجا اور روا ہے۔ جیسا کہ اعداداً بطور ذیل ہے۔ مرزا قادیانی ٤٤٤ ”ابرہۃ الہند بآباء حقاً ٤٤٤“ یعنی مرزا قادیانی حقیقتاً اپنے آباء و اجداد کے ساتھ ابرہۃ الہند ہے۔

میں نے مرزائی اشعار کے جواب میں بطور ذیل کہا ہے۔

زمین قادیان اب بے بھرم ہے کہ آیا اس پہ ہندو کا قدم ہے
بنی جب سے ہے وہ ہندو رعایا گیا انگریز ہندو اس پہ چھایا
کیا ہندو نے اس کو زیر اپنے نہیں دیتا ہے حق اس کو پنپنے
ہے ڈنڈا اس پہ ہندو کا ہمیشہ لگاتا چوٹ ہے ڈنڈا ہمیشہ
کہا مرزا نے یہ ارض حرم ہے بنی لیکن وہ اب ارض صنم ہے
نکالا مل گیا جلسہ کو یاں سے گیا حج اس کا اس کی قادیاں سے
بنی یہ قادیاں ہندو کا گھر ہے نہ یاں حج ہے نہ حج کی کڑوفر ہے
ہوئے مرزا کے اندازے غلط یاں ہوا جلسہ یہاں کا داستاں یاں
گئی اولاد اس کی قادیاں سے نکالا مل گیا ان کو یہاں سے
ملی کافر کو کافر کی زمیں ہے اگر ہو شک تو وہ اس میں دفیں ہے
ملی تانیث اس کی قادیاں کو ملا تحفہ یہی اردو زباں کو
ہوئی اردو زبان اس سے ملوث کہ یہ چلتی ہے اردو میں مؤنث
ہوئی پیدا مؤنث سے مؤنث نہیں بلکہ مؤنث ہے مخنث
ہوا پیدا وہ اپنی قادیاں سے ملی تانیث اس کو بھی یہاں سے
رہا مرزا مؤنث قادیاں میں یہی تاثیر ہے دارالاماں میں
اگائی قادیاں نے ایک مریم یہ مریم بن گئی پھر ابن مریم
یہی ہے شعبدہ مرزا کا نادر کہ ہے جنات کے کرتب پہ قادر
وہ تھا خنثیٰ مشکل قادیاں میں کہ تھا وہ مرد وزن اپنے مکاں میں
وہ تھا جماع زن مجموع مرداں کہ خنثیٰ مشکل است او بیگماں

ذوالسنین ستارہ کا نکلنا اگر کبھی بوقت مرزا وقوع میں آیا ہے تو یہ اس کی ہلاکت کا نشاں ہے۔ کیونکہ بعض منجمین اس ستارہ کو ذوالاسنان (دانتوں والا ستارہ) کہتے ہیں اور دیگر بعض منجمین

٣٩

صفحہ ٣٤٨

اس کو ذوالسنین (متعدد سالوں کے بعد نکلنے والا ستارہ) کا نام دیتے ہیں۔ پہلے نام کی بنا پر وہ کسی عظیم دجال کو یا عظیم فتنہ کو کھا جاتا ہے اور دوسرے نام کی بنیاد پر وہ کسی عظیم شخصیت کو عمر طویل اور بقائے دراز عطاء کرتا ہے۔ لہٰذا یہ ستارہ بحق مرزا ذوالاسنان تھا کہ مرزا قادیانی کو بہر جواب کتاب کی اشاعت کے چھ سال بعد ہلاک کر گیا اور اپنے دانتوں سے اس کو کھا گیا اور مولوی ثناء اللہ و پیر مہر علی شاہ صاحبان وغیرہ مخالفین مرزا کے حق میں ذوالسنین ثابت ہوا کہ ان لوگوں کو ہلاکت مرزا کے بعد چالیس سال تک زندہ رکھا۔

ساتویں ہزار کے سر پر مرزا قادیانی کا آنا بھی غلط ہے۔ کیونکہ اس ہزار کے سر پر مبعوث ہونے والی شخصیت صرف آنحضرت ﷺ ہیں مرزا قادیانی نہیں ہے۔ وجہ یہ ہے کہ خلقت آدم علیہ السلام سے لے کر موسیٰ علیہ السلام تک چار ہزار سال بنتے ہیں اور موسیٰ علیہ السلام سے لے کر آنحضرت ﷺ تک دو ہزار سال ہوتے ہیں۔ اس حساب سے آپ ﷺ کی بعثت ٹھیک ساتویں ہزار کے سر پر ہوئی ہے جس کی تائید سورۃ فاتحہ کی سات آیتوں سے ملتی ہے۔ کیونکہ یہی سات آیتیں یہ اشارہ بھی کرتی ہیں کہ یہی سورت ساتویں ہزار کے سر پر نازل ہوئی ہے۔ چنانچہ اس سورت کے نام ”الفاتحہ“ کا مطلب دو طرح پر ہے۔ ایک ”فاتحة الالف السابع“ بمعنی ساتویں ہزار کو شروع کرنے والی سورت ہے اور دوسرا مفہوم ”فاتحة المنازل السبعة القرآنیہ“ یعنی قرآن کی سات منازل کو شروع کرنے والی سورت ہے۔ جیسا کہ آیت ذیل سے اس مفہوم کا اشارہ ملتا ہے۔

”ولقد اتیناک سبعاً من المثانی والقرآن العظیم (الحجر:٨٧)“ ﴿ہم نے آپ کو دو طرفہ تعلق کی سات آیتیں اور قرآن عظیم عطاء کیا ہے۔﴾

یہاں پر لفظ ”المثانی“ سے مراد دو طرفہ تعلق ہے۔ کیونکہ یہی سات آیتیں ساتویں ہزار سال اور سات منازل قرآن سے متعلق ہیں اور وضاحت کرتی ہیں کہ یہی سات آیتیں آنحضرت ﷺ کو ساتویں ہزار کے شروع میں ملی ہیں۔ بنا بر آں ساتویں ہزار کے سر پر آنے والا مرزا نہیں ہے۔ بلکہ آنحضرت ﷺ ہیں۔ جیسا کہ ایک طویل حدیث سے جس کے راوی ضحاک ابن نوفل ہیں۔ ثابت ہے کہ آپ ﷺ ساتویں ہزار کے سر پر مبعوث ہوئے اور یہی حدیث بیہقی میں مذکور ہے اور الفاظ حدیث یہ ہیں ۔

”فالدنیا سبعة الاف سنة وانا فی اخرھا ایضاً“ ﴿یعنی دنیا کی موجودہ عمر سات

٤٠

صفحہ ٣٤٩

ہزار سال ہے اور میں آخری ہزار میں ہوں اور مفہوم یہ ہے کہ میں ساتویں ہزار میں ہوں۔ ﴾ اور مرزا قادیانی تقریباً نویں ہزار سال کے ثلث گذرنے پر مدعی نبوت و مسیحیت بنا ہے۔ کیونکہ اس کی پیدائش ١٢٥٨ھ میں ہوئی اور اس نے ٣٢ سال بعد ١٢٩٠ھ میں دعویٰ نبوت ور سالت کیا۔ بنا بر آں مرزا قادیانی آٹھویں ہزار سال کی تہائی گذرنے پر مدعی نبوت ورسالت بنا اور وہ نو ہزار سال کی پیداوار قرار پایا اور پھر اس شخص کا ادّعا تیرھویں صدی عیسوی کے آخری حصہ کی پیداوار ہے۔ جیسا کہ میں قبل ازیں اس کی خود نوشتہ تحریرات سے بتا چکا ہوں کہ اس نے خود لکھا ہے کہ: ”مجھ پر مکالمات الٰہیہ کا سلسلہ ٹھیک سال ١٢٩٠ھ سے شروع ہوا ہے۔“

(حقیقت الوحی ص ٢٠٠، خزائن ج ٢٢ ص ٢٠٨)

اور پھر اس کے نام غلام احمد قادیانی کے پورے تیرہ صد اعداد بھی یہی ظاہر کرتے ہیں کہ یہ شخص چودھویں صدی کی بجائے تیرھویں کی پیداوار ہے۔ اگرچہ اس نے چودھویں صدی کا ابتدائی حصہ بھی پایا ہے۔ کیونکہ اس کی وفات سال ١٣٢٦ھ میں ہوئی ہے جو لفظ ”خبیث روح / ١٣٢٦“ اور لفظ ”ذریۃ الشیطین / ١٣٢٦“ سے بطریق اعداد حروف برآمد ہوتی ہے اور پھر ”سبعاً من المثانی“ کا یہ مطلب بھی لیا جا سکتا ہے کہ آپ ﷺ کو دو دفعہ اترنے والی آیات میں سے سورۃ فاتحہ کی سات آیات بھی ملی ہیں۔ چنانچہ سورۃ فاتحہ مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ دونوں مقامات پر اتری ہے اور دو نزول حاصل کرنے والی سورت ہے۔

اور بروئے حدیث شریف مرزا قادیانی اس مسیح موعود کا غیر ہے جو دمشق میں نازل ہونے والا ہے۔ وجوہات بطور ذیل ہیں۔

بفرض محال اس کو مسیح ابن مریم بننے کا شوق ہے تو پھر اس کو ”ذریۃ البغایا“ اور بن باپ بننا پڑے گا اور غلام مرتضیٰ کی ولدیت سے علیحدگی اختیار کرنی ہوگی۔ کیونکہ یہ شخص بجائے مسیح و معالج کے مریض و علیل ہے اور مراق و کثرت بول کی دو خطرناک امراض میں مبتلا ہے اور ایک مرد غلام مرتضیٰ کو چھوڑ کر مریم نامی عورت کا بیٹا بنتا ہے اور حضرت مسیح علیہ السلام کی طرح بن باپ ہو کر ظہور کرتا ہے۔ الفاظ حدیث درج ذیل ہیں:

”اذ بعث الله المسيح بن مريم فينزل عند المنارة البيضاء شرقي دمشق بين مهرودتين واضعاً كفيه على اجنحة ملكين (الحديث)“ ﴿جب خدا تعالیٰ

٤١

صفحہ ٣٥٠

مسیح ابن مریم کو برپا کرے گا تو وہ دمشق کے شرقی حصہ کے سفید مینار کے پاس دو زرد چادریں پہن کر اور دو فرشتوں کے پروں پر دو ہاتھ رکھ کر نزول کرے گا۔﴾

پہلے سے دمشق کے شرقی حصہ میں موجود ہوگا اور بعد میں مسیح علیہ السلام اس کے قرب میں نزول کرے گا۔ لیکن اس شخص نے دعویٰ مسیحیت پہلے کر لیا اور بعد میں چندہ کر کے مینار سفید تعمیر کرایا۔ اس کی مثال ایسی ہے جیسا کہ اس نے پانی سے استنجا پہلے کر لیا اور بعد میں ٹٹی کرنے بیت الخلاء میں چلا گیا اور ہمیشہ پلید اور نجس رہا۔ (غلام احمد /١١٢٤) ’’نجیس ارض /١١٢٤‘‘ یعنی غلام احمد زمین کا ایک پلید آدمی ہے۔

اور حج یا عمرہ کے ارادہ سے نازل ہوگا۔ لیکن اس شخص نے حج و عمرہ سے متنفر ہو کر احرام کی دو زرد چادروں کو اپنی دو بیماریاں بنا لیا اور بجائے مسیح کے مریض بن کر ہمارے سامنے خم ٹھونک کر نمودار ہوا اور ہم نے اس کو ڈنڈا مار کر بھگا دیا۔

کہ ایک جنگی ہوائی جہاز میں سے ایک فوجی اپنے دو ہاتھوں میں دو ہوائی چھتریاں لے کر نیچے اترتا ہے اور جنگ میں شامل ہو جاتا ہے۔ چنانچہ مسیح علیہ السلام بھی بعد النزول میدان جنگ کے اندر دجال لعین کے خلاف اعلان جنگ کر کے شامل جہاد اور قائد مجاہدین بن جائے گا۔ لیکن مرزا قادیانی اپنی ساری زندگی میں منکر جہاد بن کر ایسے انگریز حکمران کی حمایت کرتا رہا جس کو وہ خود ہی دجال کہتا تھا۔ اب خلاصہ یہ رہا کہ مسیح علیہ السلام دجال کے خلاف جہاد کرے گا اور اس شخص نے خود گفتہ دجال کی حمایت کی اور اس کا ایک سپاہی بن کر زندہ رہا۔

فرشتے اس کے مکین ہیں اور یہاں پر لفظ نزول اپنے حقیقی معنی میں مستعمل ہے جو اوپر سے نیچے کو آنا ہے اور بعثت کے مفہوم میں استعمال نہیں ہوا۔ مرزا قادیانی چودھویں صدی کے سر پر آنے والا مجدد اسلام بھی نہیں بن سکتا۔ کیونکہ میں سابقاً بتا چکا ہوں کہ یہ شخص تیرھویں صدی کے آخری حصہ کی پیداوار ہے۔ اگرچہ اس نے چہار دہم صدی کا ابتدائی حصہ بھی پایا ہے۔ وجہ یہ ہے کہ اس نے اپنی تحریرات میں صاف طور پر اقرار کیا ہے کہ اس کے ایزدی مخاطبات و مکالمات کی ابتداء سال

٤٢

صفحہ ٣٥١

١٢٩٠ھ سے ہوئی ہے۔ جو تیرھویں صدی کا آخری حصہ ہے اور پھر اس کے نام ”غلام احمد قادیانی“ کے تیرہ صد (١٣٠٠) اعداد بھی اس کو تیرھویں صدی کا ”غدار الدین / ١٣٠٠“ اور غدار بالنبی / ١٣٠٠ ظاہر کرتے ہیں اور ”اخبث القادیان / ١٣٠٠“ بتاتے ہیں۔ دراصل مجدد دین کا مفہوم یہ ہے کہ دین کے اصول واحکامات پر غل وغش اور میل کچیل آچکی ہے۔ اس کو دور کر کے دین اسلام کو صاف ستھرا بنانے والا ہی مجدد اسلام ہے۔ لیکن دین اسلام کے اندر ترمیم وتنسیخ یا کمی بیشی کرنے والا مجدد اسلام نہیں ہے۔ بلکہ ایسا شخص محدد اسلام اور مخرب دین ہے۔ ان حالات میں مرزا قادیانی کا جہاد اسلام کو منسوخ اور حرام وقبیح قرار دینا اور کامل ختم نبوت کو ناقص سمجھنا اور انگریز حکمران کی اطاعت وغلامی کو نصف اسلام کہنا اور اپنی جماعت کو انگریز کی وفادار فوج بتانا ایک عظیم گمراہی اور بے پردہ ضلالت ہے اور اس کو مجدد اسلام کے جلیل القدر اعزاز سے کوسوں دور بھگاتی ہے۔ اب یہاں پر وہ حدیث بھی نقل کی جاتی ہے جو ہمارے اور اس کے درمیان محل نزاع ہے۔ ”ان الله يبعث لهذه الامة على رأس كل مائة سنة من يجددلها دينها (الحدیث) ”بلاشبہ خدا تعالیٰ ہر صدی کے سر پر ایک ایسے شخص کو اس امت کے لئے برپا کرے گا جو اس کے دین کی تجدید کرے گا۔“

برُوئے لغات عربیہ لفظ تجدید کا معنی کسی چیز کی میل کچیل کو دور کر کے اس کو صاف ستھرا اور نئے سرے سے پہلی شکل وصورت کے اندر پیش کرنا ہے۔ اس میں تراش وخراش کر کے اس کی پہلی شکل وصورت کو بگاڑنا یا اس کے کسی جزو کو اس سے نکال دینا یا کسی دیگر جزو کا اس میں اضافہ کرنا نہیں ہے۔ چنانچہ ابتداء اسلام سے امت محمدیہ کا دین وعقیدہ جہاد سیفی اور عقیدہ کامل ختم نبوت اور حریت اسلام وغیرہ پر مشتمل تھا۔ لیکن اس شخص نے ان عقائد حقہ کی تجدید اور ان کا تصفیہ وتزکیہ نہیں کیا۔ بلکہ ان کی تخریب وتنسیخ اور ترمیم کی ہے اور ان میں کمی بیشی کا ارتکاب کیا ہے۔ آپ کو معلوم ہے کہ حکومت پاکستان ہر سال ریڈیو استعمال کرنے والوں کو ہدایت کرتی ہے کہ میعاد لائسنس ختم ہونے پر وہ اپنے لائسنسوں کی تجدید کرالیں۔ ورنہ خلاف ورزی کرنے پر ان کو جرمانہ ہوگا یا سزا ملے گی اور مطلب یہ ہوتا ہے کہ سابقہ سال کی طرح فیس ادا کر کے سابقہ فارم پر سابقہ شکل وصورت کا لائسنس بنوالیا جائے۔ اب اگر ایک لائسنسدار بیس روپے فیس کی بجائے دس روپے پر اپنا لائسنس بنوانا چاہے تو نہیں بنے گا۔ کیونکہ یہ تجدید لائسنس نہیں ہے۔ بلکہ تخریب وتنقیص لائسنس ہے اور حکومت کے قانون کی توہین وتحقیر ہے۔ یہی حال مرزا قادیانی کا ہے ٤٣٤

صفحہ ٣٥٢

کیونکہ اس شخص نے دین اسلام کے اصول واحکامات کے اندر شکست وریخت اور کمی بیشی کر کے اسلام کی تجدید نہیں کی ہے۔ بلکہ اس کی تحقیر وتنقیص اور تخریب کی ہے اور اس کو اپنے باغیانہ خیالات کا تختہ مشق بنایا ہے۔ جیسا کہ اعداداً ثابت ہے۔ (غلام احمد =١١٤٢) ”مخرب دین حقیقی =١١٤٢“ یعنی غلام احمد قادیانی دین حق کا مخرب ہے اور پھر وہ صدی چہار دہم کے سر پر نہیں آیا بلکہ تیرھویں صدی کے آخری حصہ کی پیداوار ہے۔ کیونکہ ١٢٩٠ھ کو اپنے مہدی ہونے کا دعویٰ کیا ہے۔ جیسا کہ قبل ازیں لکھا گیا ہے۔

عذر پنجم

یہ ہے کہ: ”عبداللہ آتھم کی موت پیش گوئی کے مطابق واقع ہوئی ہے۔“

(اعجاز احمدی ص ٢، خزائن ج ١٩ ص ١٠٨)

اور ”لیکھرام بھی بموجب پیش گوئی چھ سال کے اندر مقتول ہوا ہے اور اس کا یوم قتل یوم عید سے ملا ہوا تھا۔“

(اعجاز احمدی ص ٣، خزائن ج ١٩ ص ١١٠)

جواب....... عرض ہے کہ پیش گوئی اوّل کی حقیقت یہ ہے کہ جب مرزا قادیانی آتھم کے ساتھ مناظرہ توحید وتثلیث میں فاتح وکامران نہ ہوسکا اور اس کو لاجواب و ساکت بنا کر کامیابی کا تمغہ نہ جیت سکا تو آتھم کے ہاویہ میں گرنے کی پیش گوئی کر دی اور ساتھ ہی تقریباً ساٹھ نامور علماء ومشائخ کو مباہلہ کرنے کا نوٹس بذریعہ رجسٹری دے دیا۔ جن میں حضرت خواجہ غلام فرید صاحبؒ بھی شامل تھے۔ حالانکہ اس کی مذکورہ دونوں باتیں خلاف قرآن وسنت تھیں اور اس کو ایسا کرنے کا قطعاً جواز میسر نہ تھا۔ کیونکہ قرآن حکیم اور آنحضرت ﷺ کا عمل صرف جھوٹے اور ضدی مناظر سے مباہلہ کرنے کی اجازت دیتا ہے اور غیر متعلق اشخاص خصوصاً ایک مسلمان کے ساتھ مباہلہ کرنے کی اجازت نہیں دیتا۔ بلکہ ایسا کرنے سے روکتا ہے اور پھر یہ بھی ضروری ہے کہ مباہلہ کے اندر فریقین مباہلہ کی تعداد برابر ہو اور مباہلہ میں دونوں کے اہل وعیال اور بیوی بچے بھی شامل ہوں۔ قال تعالیٰ: ”فمن حاجك فيه من بعد ماجاء ك من العلم فقل تعالوا ندع ابناء نا وابناء كم ونساء نا ونساء كم وانفسنا وانفسكم ثم نبتهل فنجعل لعنة الله على الكاذبين (آل عمران: ٦١) ”علم ویقین آجانے کے بعد جو شخص دربارہ مسیح تجھ سے جھگڑتا ہے تو اس کو کہہ دیجئے کہ آجاؤ۔ ہم اپنے بیٹوں اور تمہارے بیٹوں کو اور اپنی عورتوں اور تمہاری عورتوں کو اور ہم اپنے کو اور تم کو بلالیں اور مباہلہ کریں اور کاذبین پر خدا کی لعنت ڈالیں۔“ ﴾

٤ ٤ ڈالیں۔“ ﴾

٤٤

صفحہ ٣٥٣

آیت ہذا سے بالصراحت واضح ہے کہ مباہلہ اتمام حجت اور اقامت براہین کے بعد ہونا چاہئے اور پھر فریقین مباہلہ کی تعداد برابر ہو اور مباہلہ میں فریقین مباہلہ کے بیوی بچے بھی شامل مباہلہ ہوں۔ کیونکہ ان کے شامل کرنے سے جھوٹا فریق بالضرور مرعوب ومغلوب ہو جاتا ہے اور سچا فریق فاتح وفائق رہتا ہے اور مباہلہ صرف مباحثہ میں حصہ لینے والے اشخاص ہی کر سکتے ہیں اور غیر متعلق اشخاص کو شامل مباہلہ کرنا بھی درست نہیں ہے اور ان کے خلاف کسی قسم کی انذاری وتہدیدی کارروائی کرنا بھی آداب مباہلہ میں شامل نہیں ہے۔ بنا برآں اگر مرزا قادیانی کو شوق مباہلہ دامن گیر تھا تو وہ صرف فریق مباحثہ عبداللہ آتھم اور اس کے معاونین سے کر سکتا تھا۔ غیر متعلق علماء وشیوخ کو دعوت مباہلہ دینا خلاف قرآن وسنت ہے اور پھر مباہلہ میں فریق مباہلہ بننا بھی صحیح نہیں ہے اور پھر مباہلہ سے اپنے بیوی بچوں کو الگ رکھنا بھی آداب مباہلہ سے عدم واقفیت کا نتیجہ ہے۔ بہرحال مرزا قادیانی نے اپنے اپنائے ہوئے کردار مباہلہ سے ثابت کر دیا ہے کہ وہ اسرار قرآن اور معارف فرقان کا آشنا اور شناسا نہیں ہے۔ ورنہ وہ ایسا کرنے سے ضرور بالضرور گریز کرتا۔

اب ہم اصل پیش گوئی کی طرف آتے ہیں اور اس کا صحیح تجزیہ پیش کرتے ہیں۔ پیش گوئی کی عبارت بطرز ذیل ہے: ”اس بحث میں دونوں فریقوں میں سے جو فریق عمداً جھوٹ کو اختیار کر رہا ہے اور سچے خدا کو چھوڑ رہا ہے اور عاجز انسان کو خدا بنا رہا ہے۔ وہ انہی دنوں مباحثہ کے لحاظ سے یعنی فی دن ایک مہینہ لے کر یعنی پندرہ ماہ تک ہاویہ میں گرایا جائے گا اور اس کو سخت ذلت پہنچے گی۔ بشرطیکہ حق کی طرف رجوع نہ کرے۔“

(جنگ مقدس ص ١٨٩، خزائن ج ٦ ص ٢٩٢)

چنانچہ اس عبارت سے یہ پایا جاتا ہے کہ مرزا اور آتھم کے مابین موضوع بحث صرف توحید وتثلیث تھا اور مرزا قادیانی کا دعویٰ تھا کہ توحید حق ہے اور تثلیث باطل ہے اور آتھم توحید کو باطل اور تثلیث کو حق ثابت کرنے والا تھا۔ بنا برآں مرزائی پیش گوئی کا یہ مطلب تھا کہ اگر آتھم نے تثلیث کو چھوڑ کر توحید کی طرف رجوع نہ کیا۔ جب کہ وہ ایک مدت سے توحید کا قائل تھا تو وہ ذلت کے گڑھے میں گرایا جائے گا۔ یعنی وہ پندرہ ماہ کے اندر ضرور بالضرور ذلیل ہوگا۔ مگر آتھم نے نہ توحید خداوندی کی طرف رجوع کیا اور نہ اس کو کسی قسم کی ذلت کا سامنا کرنا پڑا۔ بلکہ مرزائی پیش گوئی غلط ثابت ہوئی۔ کیونکہ وہ عمر بھر منکر توحید رہ کر قائل تثلیث رہا اور بھلی صحت وسلامت سے زندہ رہا۔

صفحہ ٣٥٤

مرزا قادیانی نے اپنی پیش گوئی کی حج میں یہ عذر پیش کیا ہے کہ آتھم نے اپنی کتاب اندرونہ بائبل میں نعوذ باللہ آنحضرت ﷺ کو بلفظ دجال ذکر کیا ہے اور مرزائی پیش گوئی کے اندر رجوع الی الحق سے مراد آتھم کا لفظ دجال کو واپس لینا ہی ہے۔ مگر میرے نزدیک یہ عذر پیش کرنا قطعاً صحیح نہیں ہے۔ کیونکہ دوران مباحثہ یہ لفظ زیر بحث نہیں آیا۔ بلکہ صرف توحید و تثلیث ہی موضوع مباحثہ رہے۔ ان حالات میں رجوع الی الحق کو لفظ دجال کے واپس لینے پر چسپاں کرنا درست اور حق بجانب نہ رہا۔ بلکہ پیش گوئی کے لئے رجوع الی الحق سے مراد قبول توحید رہا جس کو آتھم نے مرتے دم تک قبول نہیں کیا اور وہ بدستور قائل تثلیث رہا اور مرزائی پیش گوئی کی مکمل طور پر تغلیط و تضلیل کر گیا۔ بنا بر آں پیش گوئی کے لفظ رجوع الی الحق کو لفظ دجال سے چسپاں و مرتبط بتانا بلاوجہ کی سینہ زوری اور بے مطلب شوراشوری ہے۔

باقی رہا آتھم کے قسم کھانے کا معاملہ جس کو اس نے رد کر دیا اور قسم نہ کھائی قابل تصفیہ ہے۔ دراصل بات یہ ہے کہ آتھم مرزا قادیانی کی طرح حریص زر اور عاشق دولت نہیں تھا کہ وہ مرزائی چکر میں آجاتا اور قسم کھا کر مرزا قادیانی سے چار ہزار روپے کی خطیر رقم بٹور لیتا۔ مگر وہ اس کی مانند زر پرست اور لالچی نہیں تھا۔ بلکہ وہ صاحب جائیداد اور باتمیز شخص تھا۔ جس نے لالچ پر قسم کھانے سے گریز کیا۔

پیش گوئی دوم متعلقہ لیکھ رام کے متعلق عرض یہ ہے کہ وہ ایک آریہ سماجی شخص تھا اور گوسالہ پرستی کا منکر اور توحید کا قائل تھا۔ مرزا قادیانی سے اس کا اختلاف صرف رسالت محمدیہ کے بارے میں تھا۔ کیونکہ وہ آنحضرت ﷺ کی بجائے رشی دیانند کی رسالت کا معتقد تھا اور اسی کا پیروکار اور مقلد تھا اور محمدی تعلیم و تقلید سے منحرف تھا۔ اس پر مرزا قادیانی نے اس کو اپنے نشانات دکھلانے کے لئے قادیان آنے کی دعوت دی اور وہ بے خوف و خطر قادیان میں آگیا اور مرزائی نشانات دکھلانے کے لئے ایک مدت تک انتظار کی۔ مگر مرزا قادیانی اس کو اپنا ایک نشان بھی نہ دکھلا سکا اور بے حد رسوا اور پریشان ہوا اور حیلے بہانے تراشنے شروع کر دیئے۔ چنانچہ اپنی پریشان کن رسوائی اور ہوش ربا خجالت کو مٹانے اور اس پر پردہ ڈالنے کے لئے اپنا درج ذیل الہام شائع کر دیا۔ "عجل جسداً له خوار له نصب وعذاب" "جسم بچھڑا بن کر ڈکارتا ہے۔ اس کے واسطے تھکن اور دکھ ہے۔"

(تذکره ص ٢٨١ بطبع سوم)

٤٦

صفحہ ٣٥٥

جواب اوّلاً

یہ ہے کہ یہ الہام خلاف واقعہ ہے۔ کیونکہ اس میں ایک ایسے شخص کو بچھڑا کہا گیا ہے جو بچھڑا پرستی اور الوہیت گوسالہ کا منکر تھا اور اس کے خلاف قلمی و زبانی تردید کیا کرتا تھا۔ پھر بھی اگر بزعم مرزا یہی الہام خدا تعالیٰ کی طرف سے ہے تو پھر اس سے خدا تعالیٰ پر یہ الزام عائد ہوتا ہے کہ وہ اپنے دوست و دشمن کے امتیاز سے بالکل غافل اور ساہی ہے۔ کیونکہ اس نے بچھڑا پرستی کے مخالف کو بچھڑا کہہ کر اس کی بے توقیری اور اپنی بے تدبیری کا ثبوت بہم پہنچایا ہے جو شانِ خداوندی کو زیب نہیں دیتا۔

ثانیاً

یہ کہ الہام ہذا کے فقرہ اوّل سے تو یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ وہ ڈکارنے والے بچھڑے کی طرح زندہ رہے گا اور بچھڑے کے ڈکارنے کی مانند بے مطلب اور لایعنی بکواسیں کرتا رہے گا۔

ثالثاً

یہ کہ الہام ہذا کے دوسرے حصہ سے صرف اسی قدر ثابت ہوتا ہے کہ وہ زندہ رہ کر بحالت زندگی ایک قسم کا رنج اور دکھ پائے گا۔ اس کے مرنے یا قتل ہونے کے لئے یہاں پر کوئی لفظ موجود نہیں ہے جو مرزا کے مطلب کی تائید و توثیق کر سکے۔ ہاں! اگر یہی الہام بطور ذیل ہوتا اور اس میں لفظ ”نار“ کا اضافہ کر دیا جاتا تو پھر اس سے مرزا کے مطلب کی تصدیق ہو جاتی اور الفاظاً دونوں فقرے برابر رہتے۔

”عجل جسداً لہ خوار لہ نصب وعذاب ونار “ جسم بچھڑا ڈکارتے ہوئے تھکن دکھ اور ہلاکت پائے گا۔

مگر چونکہ یہ الہام رحمانی نہیں تھا بلکہ شیطانی تھا۔ اس لئے اس میں مناسب لفظ کی کمی ہو گئی اور الہام مذکور مرزا کے مقصد کا مؤید و مصدق نہ بن سکا۔

رابعاً

یہ کہ الہام ہذا سے یہ نہیں پایا جاتا، کہ وہ چھ سال کے عرصہ میں مرے گا یا قتل ہوگا۔ چھ سال کی تحدید مرزا قادیانی کی خود ساختہ ہے اور بعد کا اضافہ ہے۔

مزید برآں مرزا قادیانی نے اپنے درج ذیل عربی شعر سے بھی لیکھرام کی موت بالقتل پر استدلال کیا ہے اور کہا ہے:

٤٧

صفحہ ٣٥٦
وبشرنی ربی وقال مبشراً ستعرف يوم العيد والعيد اقرب

(حقیقۃ الوحی ص ٢٨٦ ، خزائن ج ٢٢ ص ٢٩٩)

اللہ تعالیٰ نے مجھے بشارت دی اور بشارت دیتے ہوئے کہا کہ تو عنقریب روز عید کو جان لے گا اور عید بہت قریب ہے۔ استدلال یوں کیا گیا ہے کہ یوم العید سے مراد مسلمانوں کا روز عید ہے اور ”والعید اقرب“ سے مراد لیکھرام کے قتل کا روز عید ہے اور مطلب یہ ہے کہ لیکھرام کے قتل کا روز عید مسلمانوں کے روز عید سے ملا ہوا ہوگا۔ چنانچہ لیکھرام رمضان شریف کی عید کے بعد آنے والے دن یکم شوال کو مقتول ہوا جو ٦ مارچ ١٨٩٧ء کا دن تھا۔

الجواب اوّلاً

یہ ہے کہ جب شعر ہذا کے سیاق و سباق میں لیکھرام کا ذکر موجود نہیں ہے تو پھر اس شعر کے اندر لیکھرام کو لے آنا اور غیر موجود کو موجود بتانا قطعاً درست نہیں ہے۔

ثانیاً

یہ کہ جب ایک معرّف باللام لفظ کو دوبارہ معرّف باللام لایا جائے تو دونوں جگہ پر اسی لفظ کا ایک ہی مفہوم و مطلب ہوگا۔ جیسے : ”اشتريت الفرس ثم بعت الفرس“ میں نے گھوڑے کو خریدا اور پھر گھوڑے کو فروخت کر دیا۔ بنا بر آں اس فقرہ کا مفہوم و مطلب یہ ہے کہ خرید ہونے والا گھوڑا اور بکنے والا گھوڑا ایک ہے دو نہیں ہیں۔ چونکہ مرزا قادیانی نے اپنے شعر بالا میں یوم العید سے مسلمانوں کا روز عید مراد لیا ہے۔ اس لئے فقرہ ”والعید اقرب“ سے بھی مسلمانوں کا روز عید مراد ہوگا اور مفہوم یہ ہوگا کہ تو عنقریب مسلمانوں کے روز عید کو جان لے گا اور مسلمانوں کا روز عید بہت قریب ہے۔ اسی طرح اگر بقول مرزا لیکھرام کے روز قتل کو دوسرے ”العید“ سے مراد لیا جاوے تو پھر اس کو ”یوم العید“ میں قتل ہونا تھا جو نہیں ہوا۔ کیونکہ بظاہر متبادر لفظ ”العید“ سے مراد ایک ہی روز عید ہے۔ جس میں مسلمانان ہند نماز عید پڑھیں گے اور لیکھرام قتل ہوگا۔ مگر لیکھرام عید رمضان کے دن میں مقتول نہیں ہوا۔ بلکہ اس سے اگلے دن میں مارا گیا۔

ثالثاً

یہ ہے کہ اگر مرزا قادیانی کو بذریعہ شعر پیش گوئی کرنی تھی اور مرزائی ملہم نے مرزا قادیانی کو صحیح طور پر بشارت دینی تھی تو زیر نزاع شعر بطور ذیل ہونا چاہئے تھا۔

وبشرنی ربی بان عدو حق سیقتل بعد العيد والقتل اقرب

٤٨

صفحہ ٣٥٧

اور خدا تعالیٰ نے مجھے بشارت دی ہے کہ حق کا دشمن (لیکھرام) عید کے بعد قتل ہوگا اور اس کا قتل عید سے بہت قریب تر ہے۔

لیکن اس شعر کے بالمقابل مرزائی شعر جس پر مرزا قادیانی کو ناز وافتخار ہے بالکل حامل پیش گوئی نہیں بن سکتا اور نہ اس کو کوئی عقلمند اور سلیم الفطرت آدمی پیش گوئی کا نام دے سکتا ہے۔ کیونکہ اس میں قاتل ومقتول دونوں کے لئے کوئی اشارہ موجود نہیں ہے جیسا کہ میرے شعر سے سمجھا جاتا ہے۔ کیونکہ عدد حق لیکھرام ہے اور پھر لفظ سیقتل سے ضمناً قاتل بھی ذہن میں آجاتا ہے۔

دراصل بات یہ ہے کہ مرزا قادیانی نے اپنی کتاب (نزول المسیح ص ١٨٤، ١٨٥، خزائن ج ١٨ ص ٥٦٢، ٥٦٣) کے اندر لیکھرام والی پیش گوئی کے لئے ایک ساتھ دو تاریخیں (٢٠ فروری ١٨٨٦ء، ٢٠ فروری ١٨٩٣ء) لکھی ہیں۔ حالانکہ ایک تاریخ ہونی چاہئے تھی اور پھر دونوں تاریخوں کے درمیان سات سال فاصلہ حائل ہے اور ایسا کیوں کیا گیا ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ دال میں کچھ کالا کالا ضرور ہے۔

اصل واقعہ یہ ہے کہ مرزا قادیانی نے ٢٠ فروری ١٨٨٦ء کو بذریعہ اشتہار ہلاکت لیکھرام کی پیش گوئی شائع کر کے اس کو آگاہ کیا کہ تو چھ سال کے عرصہ تک کسی ہولناک عذاب میں مبتلا ہوگا۔ مگر وہ اس عرصہ میں کسی قسم کے درد اور عذاب میں گرفتار نہ ہوا۔ بلکہ بخیر وسلامتی زندہ رہا اور اپنے مشاغل میں مشغول رہا۔ چنانچہ اس کو بروئے پیش گوئی مرزا ٢٠ فروری ١٨٩٢ء تک معذب بعذاب ہونا تھا۔ مگر وہ نہ ہوا اور مرزا قادیانی کو اس سے سخت رسوائی اور ندامت اٹھانی پڑی اور احباب واغیار کے سامنے سخت تر رسوا اور پریشان رہا اور اس سے ایک سال تک چھیڑ چھاڑ بند کردی اور اپنی زبان بندی وخاموشی کا پابند ہو گیا اور پھر از سرنو ٧ سال کے بعد مورخہ ٢٠ فروری ١٨٩٣ء کو دوبارہ ٦ سال کے اندر ہلاکت لیکھرام کی پیش گوئی کا ایک اشتہار شائع کر دیا اور وہ اسی اشتہار کے مطابق ہلاک ہو کر جہنم رسید ہوا۔ لیکن کبھی کبھی ایک جھوٹے آدمی سے بھی سچی بات کہی جاسکتی ہے۔ جیسا کہ بطور ضرب المثل کہا گیا ہے: ”قد يصدق الكذوب“ کبھی جھوٹا آدمی سچی بات کہہ دیتا ہے۔ بنا برآں دوسری تاریخ اس کو سچا نہیں بناسکتی۔ جب کہ پہلی تاریخ نے اس کو جھوٹا کاذب ثابت کر دیا ہے۔ بہرحال چونکہ پہلے اشتہار سے اس کا کذب وبطلان ثابت ہو چکا تھا۔ اس لئے وہ کذب وبطلان کا داغ سے حتماً داغدار بن گیا اور بعد کی صفائی ستھرائی بے کار اور غیر مفید رہی۔

٤٩

صفحہ ٣٥٨

ہاں! مرزا قادیانی بذات خود اپنی بدنام اور اذیت ناک کتاب ”اعجاز احمدی“ کی اشاعت کے بعد چھ سال کے عرصہ میں ضرور ہلاک ہوا ہے۔ کیونکہ یہ کتاب سال ١٩٠٢ء میں مرتب ہوکر شائع ہوئی اور مرزا قادیانی اشاعت کتاب کے چھ سال بعد ١٩٠٨ء میں شہر لاہور کے اندر ہلاک ہو کر اپنے پیدائشی قصبہ قادیان میں مدفون خاک ہوا۔ سچ ہے۔

”چاہ کن را چاہ در پیش“ یا ”کردنی خویش آمدنی پیش“ یا ”جیسی کرنی ویسی بھرنی“ مشہور مثالیں ہیں۔ چنانچہ لیکھرام کو چھ سال کے اندر مارنے والا مرزا خود چھ سال کے اندر ہلاک ہو گیا اور اپنے موضوعان پیش گوئی عبداللہ آتھم اور لیکھرام کو لا جواب اور ساکت نہ کر سکا۔ جس سے اس کی سخت تر اور فضیح تر رسوائی ہوئی اور اپنے دوستاں ودشمناں کے آگے سر اٹھانے کے قابل نہ رہا اور مرتے دم تک اپنی دونوں پیش گوئیوں کی تصحیح میں ہیرا پھیری اور حیلے بہانے تراشتا رہا۔ لیکن ان کا تسلی بخش دفاع نہ کر سکا اور آخر دم تک کڑھتا رہا۔ اب میں ان مرزائی پیش گوئیوں کے بالمقابل اپنی چند پیش گوئیاں اور چند درخشاں نشانات پیش کرتا ہوں تا کہ قارئین حضرات فریقین کی پیش گوئیوں اور نشانات کا موازنہ کر سکیں اور مرزائی الہام اور قادیانی کشوف سازی کی حقیقت کھل کر سامنے آجائے۔

چند محمدی پیش گوئیاں

پیش گوئی اوّل در بارہ لفظ توفی

پیش گوئی اوّل یہ ہے کہ مرزائیت کا ایک مشہور اور نامور مبلغ جلال الدین شمس نامی ایک شخص تھا جس سے میں اس وقت متعارف ہوا جب کہ یہ شخص بہاول پور کے مشہور مقدمہ تنسیخ نکاح (مسماۃ عائشہ) بنام عبدالرزاق مرزائی میں بطور گواہ مدعا علیہ کے عدالت سول جج بہاول پور میں پیش ہوا اور مرزا واہل مرزا کو مسلمان ثابت کرنے کے لئے اپنا زبانی وتحریری بیان پیش عدالت کیا۔ میں نے اس کو بذریعہ ایک خط مسجل (رجسٹرڈ) کے اطلاع دی کہ اگر میں مرزا قادیانی کے چیلنج لفظ ”توفی“ اور لفظ ”الدجال“ کو دلائل و براہین سے غلط ثابت کردوں تو کیا آپ لوگ مجھ کو دونوں موجودہ انعامات ادا کرو گے یا نہیں۔ ان کی جانب سے مجھے اطلاع ملی کہ چیلنج اوّل کے کشتہ کرنے پر آپ کو متعلقہ موجودہ انعام دے دیا جائے گا۔ لیکن چیلنج دوم کے متعلق خاموشی اور سکوت اختیار کیا گیا اور مجھ سے مطالبہ کیا گیا کہ میں اپنی چیلنج شکن مثال ان کے سامنے لاؤں تا کہ ان کو مثال کی

٥٠

صفحہ ٣٥٩

صحت وستقامت کا اندازہ ہو سکے۔ میں نے ان کو درج ذیل آیت قرآن بمعہ مختصر تشریح کے بھجوادی اور ان سے ان کے فیصلہ کی ترسیل کا مطالبہ کیا۔ قال تعالیٰ:

"یٰعیسیٰ انی متوفیک ورافعک الیٰ ومطہرک من الذین کفروا (آل عمران:٥٥) "اے عیسیٰ! میں تجھے پورا وصول کرنے والا اور تجھے اپنی طرف اٹھانے والا اور تجھے کافروں سے پاک کرنے والا ہوں۔"

چونکہ مرزا قادیانی کا چیلنج یہ تھا کہ: "اگر کوئی شخص قرآن کریم یا حدیث رسول اللہ سے یا اشعار وقصائد نظم ونثر قدیم وجدید عرب سے یہ ثبوت پیش کرے کہ کسی جگہ "توفی" کا لفظ خدا تعالیٰ کا فعل ہونے کی حالت میں جو ذوی الروح کی نسبت استعمال کیا گیا ہو وہ بجز قبض روح اور وفات دینے کے کسی اور معنی پر بھی اطلاق پا گیا ہے یعنی قبض جسم کے معنوں میں بھی استعمال ہوا ہے تو میں اللہ جل شانہ کی قسم کھا کر اقرار صحیح شرعی کرتا ہوں کہ میں ایسے شخص کو اپنا کوئی حصہ ملکیت کا فروخت کر کے مبلغ ایک ہزار روپیہ نقد دوں گا اور آئندہ کے لئے اس کے کمالات حدیث دانی اور قرآن دانی کا اقرار کرلوں گا۔"

(ازالہ اوہام ص ٩١٩، خزائن ج ٣ ص ٦٠٣)

اس لئے میں نے مذکورہ بالا پیش کردہ آیت کی یہ تشریح وتوضیح پیش کی کہ فقرہ جارہ مجرور "من الذین کفروا" علیٰ سبیل التنازع جو علمائے نحو کا ایک مشہور نحوی مسئلہ ہے۔ اپنے ماقبل کے تینوں الفاظ "متوفیک" اور "رافعک الیٰ" اور "ومطہرک" کے ساتھ متعلق ہے اور آیت ہذا کی اصل عبارت بطور ذیل ہے: "یٰعیسیٰ انی متوفیک من الذین کفروا ورافعک الیٰ من الذین کفروا ومطہرک من الذین کفروا"

اور اس پر میرا استدلال یہ ہے کہ بصورت بالا لفظ "توفی" کا فاعل خدا تعالیٰ اور مفعول ذی روح انسان (حضرت عیسیٰ) ہے اور معنی قبض جسم اور پورا پورا وصول کرنا ہے۔ مارنا اور وفات دینا نہیں ہے۔ چنانچہ اب معنی آیت بصورت بالا یوں ہے کہ: "اے عیسیٰ! میں تجھ کو کفار سے پورا پورا وصول کرنے والا ہوں اور تجھ کو کفار میں سے اپنی طرف اٹھانے والا ہوں اور کفار سے تیری تطہیر کرنے والا ہوں۔"

ان حالات میں جب لفظ "توفی" کا صلہ حرف من واقع ہو جیسا کہ میری توجیہ کے مطابق آیت بالا میں موجود ہے تو اس لفظ کا معنی صرف قبض جسم اور پورا پورا وصول کرنا ہے۔ جیسا کہ لغت کی مشہور کتاب "المنجد" میں مذکور ہے۔

٥١

صفحہ ٣٦٠

”توفیت من فلان مالی علیہ “ میں نے فلاں آدمی سے اپنا پورا مال وصول کر لیا جو اس کے ذمہ تھا۔

بنا برآں میں نے بفضلہ تعالیٰ اور بتائید قرآن مجید مرزا قادیانی کا چیلنج لفظ ”توفی“ غلط ثابت کر دیا ہے اور اب میں موعودہ انعام لینے کا مستحق قرار پا چکا ہوں اور پھر میری توجیہہ میرا ایک علمی نشان ہے۔ کیونکہ دیگر کسی مفسر نے اسی توجیہہ کو اپنی تفسیر میں نہیں لیا۔ قلت:

بهر عیسیٰ دعوئی قرآن چیست قبض جسم و تا قیامت زندگیست

اور قیامت تک کی زندگی دینا ہے۔

معنی لفظ توفی نزد او اخذ عيسى وافياً ای کله
میرزا از فهم آیه دور ماند که نجات از موت را خود موت خواند
موت عیسیٰ زو سراسر افترا است نزد قرآن مفتری خود میرزا است

مرزا قادیانی ہی مفتری بنتا ہے۔

اے جلال الدین دین او واگذر که زقرآن دین او دارد فرار
دین او از آیه قرآن رفت که زآیه دین او را شد شکست

ہو گئی ہے۔

بے خبر از راز ایں آیہ مشو برپے او ہمچو بے چشماں مرو
میرزا در قعر ایں آیہ نرفت ہیچ از آیہ بوے مایہ نرفت

نہیں ملا۔

٥٢

ماند بر ساحل تہ دریا

قد توفاه من الكفار ”خدا تعالیٰ نے اس کو کا فرق جانتا ہے۔ جاننا چاہئے کہ میری لاجواب ہو گیا اور اس کی جلالت ا طرف سے یہ عذر پیش کیا گیا کہ م ابطال چیلنج کے لئے دیگر آیت با خط کا جواب نہیں ملے گا۔ میں نے اور لکھا کہ مرزائی چیلنج میں نہ کسی قس دیا گیا ہے۔ بلکہ چیلنج شکن مثال ہ

عذر تو از راہ حق معقول
گر تو داری خوف حق اے
عذر تو ایں جا یقیناً با

ہو چکی ہے۔

غور کن ایں جا کہ عقلت ک

نہیں ہے۔

دانم عذرت را کہ او

شگاف آ گیا ہے۔

صفحہ ٣٦١
ماند بر ساحل بہ دریا نرفت ہند را ورزید و در بطحا نرفت
قد توفاه من الکفار چہست گر تو دانی فرق را در موت و زیست

"خدا تعالیٰ نے اس کو کفار سے وصول کرلیا" کا کیا مطلب ہے۔ اگر تو موت اور زندگی کا فرق جانتا ہے۔

جاننا چاہئے کہ میری مذکورہ بالا توجیہہ کے پیش ہونے پر جلال الدین شمس بالکل لاجواب ہوگیا اور اس کی جلالت الٹ کر خجالت کی صورت اختیار کر گئی اور بحالت گھبراہٹ اس کی طرف سے یہ عذر پیش کیا گیا کہ چونکہ آیت زیر بحث فریقین کے درمیان متنازعہ فیہ ہے۔ اس لئے ابطال چیلنج کے لئے دیگر آیت یا کوئی حدیث یا کوئی عربی شعر پیش کیا جاوے۔ ورنہ تمہیں تمہارے خط کا جواب نہیں ملے گا۔ میں نے اسے اسی عذر کے جواب میں درج ذیل اشعار لکھ کر بھجوا دیئے اور لکھا کہ مرزائی چیلنج میں نہ کسی قسم کی تحدید وتخصیص موجود ہے اور نہ کسی آیت وحدیث کو مستثنیٰ قرار دیا گیا ہے۔ بلکہ چیلنج شکن مثال کے مطالبہ کو عمومیت کا مقام دیا گیا ہے۔ قلت:

عذر تو از راہ حق معقول نیست کہ برت احوال او مجہول نیست
گر تو داری خوف حق اندر دلت زود بیرون آر خود را زین گلت
عذر تو ایں جا یقیناً بے پرست پیش تیرم مرگ او لازم ترست

ہوچکی ہے۔

غور کن ایں جا کہ عقلت لنگ نیست گامزن کہ راہ بر تو تنگ نیست

نہیں ہے۔

دانم عذرت را کہ او مدقوق شد و از تعصب قلب تو مشقوق شد

شگاف آگیا ہے۔

٥٣

صفحہ ٣٦٢
من فریسم آیہ قرآن ترا کوز آیات نزاع باشد ورا
لیک چورو باہ داری صد حیل باحیل کے دور باشی از علیل

بیماری سے دور نہیں رہے گا۔

چوں غراب حیلہ ساز ومکر باز حیلہ ہاؤ مکرہا داری دراز
کیست بہر صحت وسقمش کفیل کہ توئی در فن خود دانا جمیل

باز ہے۔

حیلہ ہارا دور کن صحت بخواہ کہ بقرآن مرض تو جوید پناہ

پناہ لیتی ہے۔

جہد کن ایں آیہ را بر چشم نہ کہنہ مرض خویش را زو ساز بہ
من دوائے تو ز قرآن جستہ ام ہم بقرآن علتت را کشتہ ام

بیماری کو قتل کر دیا ہے۔

ہست قرآن شافی اسقام ما او دوائے روح ما اجسام ما

علاج ہے۔

ایں کتاب ماست شمشیر صقیل بہر کشتن کذب ہائے ہر دجیل

میرے اسی خط کے پہنچنے پر جلال الدین شمس نے میرے ساتھ خط و کتابت کا سلسلہ بند کر دیا اور اس پر یہ عذر لنگ پیش کیا کہ تم مرزا قادیانی کو سخت سست کہتے ہو اور ان کے احترام کو پیش ٥٤

صفحہ ٣٦٣

نظر نہیں رکھتے۔ حالانکہ اس کا یہی الزام باطل تھا اور فرار کر جانے کا ایک ناروا حیلہ تھا۔ بحالات بالا میں نے اس کو متعدد بار لکھا کہ آپ راہ گریز اختیار نہ کریں اور خط و کتابت کے رواں سلسلہ کو درمیان سے نہ کاٹیں۔ تا کہ مسئلہ توفی کسی نتیجہ خیز مرحلہ پر پہنچ سکے۔ مگر اس شخص نے مردگان کی سی خاموشی اپنائی اور اپنے کئے ہوئے تمام وعدوں سے منحرف ہو گیا۔ اس پر میں نے مجبور ہو کر بطریق حرف آخر کے اس کو درج ذیل اشعار لکھ کر بھجوادیئے اور نتیجہ کی انتظار میں منتظر رہنے لگا۔ قلت:

تو حقائق را دہ نام شتام ہم شتامت را نگو قول سلام
قول من را شتم گفتہ نہ مرو گر تو مردی قول حق از من شنو
از من واز قول من یابی حیات گر روی از من روی اندر ممات

چلا جائے گا۔

قول من جویان حق را حق نمود ہر کہ از حق رفت شد قوم ثمود
قول من حق است قول حق بگیر ورنہ اندر کذب رو در کذب میر
از من مسکین نور دیں بگیر گر نگیری تا ابد مانی ضریر

بے بصر رہے گا۔

دامن مرزا ات جملہ تیرگی است شمس را تقلید بندہ خیرگی است
گر جلال دین خواہی از خدا خویش را از دین مرزا کن رہا
نزد ایں مرزا جلال دین کجاست کہ جلال دین از بندہ جداست

٥٥

صفحہ ٣٦٤

واضح ہونا چاہئے کہ میرے اشعار بالا میں جلال الدین شمس کے بارے میں ایک واضح پیش گوئی تھی کہ اگر وہ میرے پیش کردہ حق (حیات مسیح) کو دل سے تسلیم نہیں کرے گا تو اس پر اتمام حجت قائم ہونے کے بعد موت آ جائے گی۔ جیسا کہ اشعار بالا میں وضاحت ہو چکی ہے۔ لیکن چونکہ اس نے میری درخواست حق کو قبول نہ کیا۔ اس لئے بحالت گھبراہٹ وحواس باختگی ربوہ (چناب نگر) چھوڑ کر اپنے گھر واقع سرگودھا میں چلا گیا اور صاحب فراش ہو کر اپنی موت کی انتظار کرنے لگا۔ چنانچہ یہ شخص میرے خط کے گیارہ دن بعد مورخہ ١٥، ١٦؍نومبر ١٩٦٦ء کی درمیانی شب کو ہلاک ہو کر وفات پا گیا اور میری پیش گوئی صاف طور پر اور جلد تر پوری ہو گئی۔ اس پر میں نے مورخہ ٢٨؍مارچ ١٩٦٧ء کو قاضی محمد نذیر لائل پوری اور شیخ مبارک احمد کو بطور خاص خط لکھ کر ان سے استصواب رائے اور وقوع پیش گوئی کے بارے میں ان کی آراء دریافت کی۔ مگر دونوں فاضلان نے خاموشی اختیار کر کے میری پیش گوئی کی تصدیق کر دی اور اس کو صحیح اور تیر بہدف تسلیم کر لیا اور پھر میں نے مرزائی چیلنج کے توڑنے پر ان سے ایک ہزار روپیہ انعام کا بھجوانے کے لئے کئی دفعہ خط لکھا۔ مگر وہ ہمیشہ کے لئے خاموش ہو گئے اور ہلاکت میں چلے گئے۔

محمدی چیلنج بنام خلیفہ آف ربوہ

میں نے بفضلہ تعالیٰ اور بکرم ایزدی مرزا قادیانی کے چیلنج لفظ ”توفی“ کو اپنی پیش کردہ آیت ”یٰعیسیٰ انی متوفیک“ سے شکستہ اور ریزہ ریزہ کر کے اس کے ذرات ہوا میں اڑا دیئے ہیں۔ جن کو آج تک امت مرزائیہ جمع نہیں کر سکی۔ بلکہ اپنے چیلنج کے دفاع سے عاجز آ کر خاموشی سے یارا نہ گانٹھ لیا ہے اور طوعاً و کرہاً میری غالبیت کو اور اپنی مغلوبیت کو مان چکی ہے۔ ”فللہ الحمد“ اب میں اپنی طرف سے آپ کے سامنے اسی لفظ توفی کے بارے میں ایک چیلنج پیش کر کے عارض ہوں کہ:

اگر آپ یا آپ کی جماعت کا کوئی فاضل و عالم قرآن حکیم یا احادیث نبویہ یا اشعار واثار عرب میں سے ایک ایسی مثال پیش کر دے کہ لفظ ”توفی“ اور لفظ ”رفع“ دونوں اکٹھے بصلہ حرف ”من“ استعمال ہو کر وفات دینے اور رفع روحی ہونے کا معنی رکھتے ہوں اور ان کا فاعل خدا تعالیٰ اور مفعول ذی روح انسان ہو تو میں ایسے شخص کو ایک ہزار روپیہ نقد ادا کروں گا اور اس کے تبحر علمی کو مان لوں گا یا وہ شخص حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بغیر کسی دیگر نبی و رسول کے لئے جو عند الفریقین طبعی موت سے وفات پا چکا ہے۔ لفظ ”توفی من الکفار“ اور ”رفع من الکفار“ کا

٥٦

استعمال بطریق بالا ثابت کر دے لازمی طور پر ادا کرنی ہوگی۔ اگر بغرض محال آپ تو پھر آپ کو اپنی ہار مان کر مرزائیہ پیش گوئی دوم دربارہ ابوال یہ ہے کہ ایک عرصہ مدیر ”الفرقان ربوہ“ سے بذریعہ دولت اطمینان سے نوازیں تو والے ہوں گے۔ مدیر مذکور نے مکرم جناب حکیم صا خط کے جواب میں رہیں انشاء اللہ جواب دیا جاتا ر میں نے اسے سوال ”کیف انتم اذ کیسے خوش قسمت ہو گے جب ا اور میں نے اس می القاب نہیں ہیں۔ جیسا کہ مرز وجوہات میں سے صرف پہلی و اور میری وجہ اول یہ ہے کہ حدی لفظ ”منکم“ مذکور ہے اور قا کرتا ہے۔ جیسے ”الماء فی ال الگ چیزیں ہیں اور پھر اس ہے۔ جیسے ”الخاتم من ف دونوں ہم جنس اشیاء ہیں اور ای چاندی کو انگوٹھی کی شکل دیتا ہ اندر دونوں مفہوم یکجا جمع ہوت

صفحہ ٣٦٥

استعمال بطریق بالا ثابت کردے تو پھر وہ ایک ہزار روپیہ نقد انعام پانے کا مستحق ہوگا اور مجھے یہ رقم لازمی طور پر ادا کرنی ہوگی۔ اگر بفرض محال آپ لوگ ایسی مثال پیش نہ کر سکیں اور انشاء اللہ تعالیٰ پیش نہیں کر سکیں گے تو پھر آپ کو اپنی ہار مان کر مرزائیت سے توبہ کرنی ہوگی اور از سر نو مسلمان ہونے کا اعلان کرنا ہوگا۔

پیش گوئی دوم درباره ابوالعطاء مرزائی

یہ ہے کہ ایک عرصہ کی بات ہے کہ میں نے مشہور مرزائی مبلغ مولوی ابوالعطاء جالندھری مدیر ”الفرقان ربوہ“ سے بذریعہ ایک خط استدعا کی کہ اگر وہ میرے چند شبہات کا ازالہ کر کے مجھے دولت اطمینان سے نوازیں تو میں بیحد ممنون و مشکور ہوں گا اور وہ اس کوشش میں اجر عظیم پانے والے ہوں گے۔ مدیر مذکور نے میری استدعا کو قبول کرتے ہوئے اطلاعاً مجھے درج ذیل خط لکھا:

مکرم جناب حکیم صاحب السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ خط کے جواب میں دیر کے لئے معذرت خواہ ہوں۔ آپ ایک ایک سوال بھجواتے رہیں انشاء اللہ جواب دیا جاتا رہے گا۔ وباللہ التوفیق! ابوالعطاء جالندھری!

میں نے اسے سوال اوّل کے طور پر درج ذیل حدیث بمعہ چند وجوہات کے بھجوادی۔

”كيف انتم اذا نزل ابن مريم فيكم وامامكم منكم (متفق علیہ) “ ﴿تم کیسے خوش قسمت ہوگے جب ابن مریم تمہارے اندر نازل ہوگا اور تمہارا امام تم سے ہوگا۔﴾

اور میں نے اس میں ثابت کیا کہ ابن مریم اور امام دو اشخاص ہیں۔ ایک شخص کے دو القاب نہیں ہیں۔ جیسا کہ مرزا قادیانی واہل مرزا کہتے ہیں۔ اب میں یہاں پر اپنی پیش کردہ وجوہات میں سے صرف پہلی وجہ ذکر کرتا ہوں اور باقی وجوہات کو دیگر موقع کے لئے چھوڑتا ہوں اور میری وجہ اوّل یہ ہے کہ حدیث ہذا میں ابن مریم کے ساتھ لفظ ”فیکم“ اور امام کے پہلو میں لفظ ”منكم“ مذکور ہے اور قاعدہ یہ ہے کہ کلمہ ”فی“ اپنے ماقبل وما بعد کے متغائر ہونے پر دلالت کرتا ہے۔ جیسے ”الماء فی الکوز“ بمعنی پانی کوزے کے اندر ہے۔ چنانچہ پانی اور کوزہ دو الگ الگ چیزیں ہیں اور پھر اس کے برعکس کلمہ من اپنے ماقبل وما بعد کے متجانس ہونے پر دال ہوتا ہے۔ جیسے ”الخاتم من فضة“ بمعنی انگوٹھی چاندی کی بنی ہوئی ہے۔ چنانچہ انگوٹھی اور چاندی دونوں ہم جنس اشیاء ہیں اور ایک چیز کے دو نام ہیں۔ کیونکہ زرگر آدمی اپنے ہنر و پیشہ کی مدد سے چاندی کو انگوٹھی کی شکل دیتا ہے اور چاندی انگوٹھی کا نام حاصل کر لیتی ہے۔ تائیداً آیت ذیل کے اندر دونوں مفہوم یکجا جمع ہوتے ہیں۔

٥٧

صفحہ ٣٦٦

”ان المنافقین فی الدرک الاسفل من النار (النساء: ١٤٥)“ ﴿بلاشبہ منافقین آگ کے نچلے درجہ میں ہوں گے۔﴾

یہاں پر حرف فی منافقین اور درک اسفل کے دور ہونے کو بتاتا ہے اور حرف من درک اسفل اور نار کے ایک ہونے کو ظاہر کرتا ہے۔ بنا بر آں یقین سے کہنا پڑتا ہے کہ حدیث مذکور کے اندر حرف فی ابن مریم اور کم بمعنی محمدی مخاطبین کے باہم متغائر ہونے کو اظہار کرتا ہے اور حرف من امام اور کم بمعنی محمدی مخاطبین کے متجانس ہونے کو بتاتا ہے۔ نتیجہ یہ رہا کہ ابن مریم امتِ محمدیہ میں سے باہر کا آدمی ہوگا اور امام امت محمدیہ کا ایک جلیل القدر فرد ہوگا۔ لہٰذا مرزا و اہل مرزا کا یہ نظریہ غلط اور باطل قرار پایا کہ بطور پیش گوئی کے ابن مریم اور امام، مرزا قادیانی کے دو القاب ہیں اور اسی کو حدیث ہٰذا میں ابن مریم اور امام کہا گیا ہے۔ حالانکہ توجیہہ بالا کے مطابق یہاں پر دو اشخاص کا ذکر ہے۔

میرے اس سوال کے پہنچنے پر ابوالعطاء صاحب نے ایک گول مول جواب ضرور بھجوایا جس سے میں نے اندازہ کر لیا اور میرے دل نے فتویٰ دے دیا کہ یہ شخص آئندہ کے لئے میرے کسی خط یا سوال کا جواب نہیں دے گا اور خاموش رہنے میں اپنی خیر و سلامتی خیال کرے گا۔ اس پر میں نے اپنے حلقہ احباب واصحاب کے اندر اپنے اسی خیال و اندازے کا بھی اظہار کر دیا۔ چنانچہ یہ شخص میرے جواب الجواب کے پہنچنے پر ہمیشہ کے لئے خاموش ہو گیا۔ اس پر میں نے خیال کیا کہ وہ خط و کتابت کے مصارف ڈاک سے گھبرا گیا ہے اور جواب دینا بند کر دیا ہے۔ میں نے اس کو بیس لفافوں کی رقم اور ماہنامہ ”الفرقان ربوہ“ کے ختم نبوت نمبر کی قیمت بذریعہ منی آرڈر بھجوادی اور اس نے منی آرڈر وصول کر لیا۔ لیکن اس نے خط و کتابت کو بدستور بند رکھا اور جواب دینے کے لئے آمادہ نہ ہوا۔ مگر میں نے اس کو سوالات بھجوانے کا سلسلہ جاری رکھا اور اس نے اپنی خاموشی کو سدسکندری بنائے رکھا۔ میں نے تنگ آکر اسے ایک رجسٹرڈ خط بھجوایا۔ لیکن اس نے بذریعہ انکار میرے خط کو ڈیڈ آفس میں بھجوا دیا اور وہ خط ڈبل اجرت ادا کرنے پر مجھے واپس ملا۔ اسی طرح میں نے اسے تیرہ سوالات بھجوائے اور سوال اوّل اس کے علاوہ تھا۔ میرے ان سوالات نے اس پر کاری ضربات کا عمل کیا اور ان کی صداقت نے اس کے دل کو دہلا دیا اور اس پر دل کا دورہ پڑا اور فوری طور پر ہلاک ہو گیا اور میری فراست اور میرے دل کا فتویٰ صحیح ثابت ہوا اور اس کو اس کی مکتوبہ ”انشاء اللہ“ اور ”وباللہ التوفیق“ ہلاکت سے نہ بچا سکی۔

٥٨

صفحہ ٣٦٧

پیش گوئی سوم دربارہ روشن دین تنویر مدیر روزنامہ الفضل ربوہ (چناب نگر)

یہ ہے کہ میں نے روشن دین تنویر مدیر روزنامہ الفضل ربوہ (چناب نگر) سے بذریعہ خط و کتابت رابطہ قائم کیا اور استدعا کی کہ وہ مجھے ایک آیت قرآن کا مفہوم سمجھائیں اور اس پر میرے ایک اعتراض کا ازالہ کریں۔ تنویر صاحب نے میری التجاء کو شرف قبولیت بخشا جس پر میں نے اس کو آیت ذیل بمعہ ایک اعتراض کے بھجوادی۔

”ولقد جاء کم یوسف من قبل بالبینت فما زلتم فی شک مما جاء کم بہ حتی اذا ہلک قلتم لن یبعث اللہ من بعدہ رسولاً کذالک یضل اللہ من ہو مسرف مرتاب الذین یجادلون فی ایات اللہ (المومن:٣٤) “ بلاشبہ یوسف علیہ السلام قبل ازیں تمہارے پاس روشن نشانات لائے اور تم ان میں شک کرتے رہے حتیٰ کہ جب وہ فوت ہوا تو تم نے کہہ دیا کہ اس کے بعد خدا تعالیٰ ہرگز کسی رسول کو نہیں بھجوائے گا۔ اسی طرح خدا تعالیٰ اس شخص کو گمراہ کرے گا جو حد شکن اور شک کرنے والا ہوگا۔ یہی لوگ خداوندی آیات میں جھگڑتے ہیں۔﴾

جاننا چاہئے کہ آیات ہذا کے اندر آنحضرت ﷺ کے عہد میں موجود قوم یہود کو مخاطب کر کے کہا گیا ہے کہ جس طرح یہ لوگ جاری رسالت کو بند کر کے کافر و فاجر بنے ہیں اور گمراہ وملحد ہوئے ہیں۔ اسی طرح خدا تعالیٰ رسالت و نبوت کے معاملہ میں ایک ایسے شخص کو گمراہ وملحد بنائے گا جو حد شکن اور شک کرنے والا ہوگا۔ قرآن حکیم نے آنے والے گمراہ شخص کے لئے بطور پیش گوئی کے دو صفات (ایک صفت مسرف بمعنی حد شکن اور دوسری صفت مرتاب بمعنی شک کرنے والا) کہہ کر اس کی تلاش و گرفتاری ہم پر چھوڑ دی اور ہم نے بصد جستجوئے بسیار کے غلام احمد قادیانی کو پکڑ لیا اور یقین کر لیا کہ قرآن حکیم کا موعودہ گمراہ شخص یہی آدمی ہے۔ کیونکہ:

کے مسئلہ میں شک کرتے ہوئے اس کو وفات مسیح کا مسئلہ بنا لیا ہے۔

مرتاب“ کے اعداد بھی ١١٢٤ بنتے ہیں اور غلام احمد کو ہی مسرف و مرتاب بتاتے ہیں۔

مرزائیت کے سال آغاز بارہ سو نوے (١٢٩٠) کی طرف اشارہ کرتے ہیں اور لفظ ”ھو“ کے

٥٩

صفحہ ٣٦٨

گیارہ (١١) اعداد سے بعد حذف سینکڑہ جات (١٣٠٠) کے مرزا قادیانی کے عہد میں سال ١٣١١ھ میں ہونے والے چاند گرہن و سورج گرہن کی طرف رہنمائی ہوتی ہے اور خلاصہ یہ ہے کہ جو غلام احمد قادیانی ختم رسالت کا اور حیات مسیح علیہ السلام کا انکار کر کے سال ١٢٩٠ھ کو تحریک مرزائیت کا آغاز کرتا ہے اور سال ١٣١١ھ کے چاند و سورج گرہن کو اپنی صداقت قرار دیتا ہے۔ وہ گمراہ اور ملحد ہے۔ چنانچہ امت موسوی کے یہود نے حضرت یوسف علیہ السلام کو خاتم الرسل بنادیا اور گمراہ ہوئے اور امت محمدیہ کے یہودی صفت ”غلام احمد قادیانی“ نے آنحضرت ﷺ پر بند شدہ رسالت کی حد کو توڑ کر رسالت کو آگے بہا دیا اور سلسلۂ رسالت کو رواں کر دیا اور خود رسول بن گیا۔

رابعاً ...... یہ کہ فقرہ ”الذین یجادلون فی آیات الله“ بھی اسی شخص کو آیات اللہ کے ساتھ جدال و قتال کرنے والا قرار دیتا ہے۔ کیونکہ اوّل تو یوں ہے کہ یہ شخص ختم نبوت اور حیات مسیح کی آیات قرآنیہ کی غلط اور ٹیڑھی تاویلیں کر کے مجادل فی آیات اللہ بنتا ہے اور دوم یہ کہ عنداللہ وعند القرآن حضرت مسیح اور اس کی ماں آیات اللہ ہیں۔ کما قال اللہ تعالیٰ:

”وجعلنا ابن مریم وامہ آیۃ (المؤمنون: ٥٠)“ ﴿ہم نے ابن مریم اور اس کی ماں کو آیۃ اللہ بنایا۔﴾

اور یہ شخص ان دونوں آیات اللہ کو اپنے غلط اور فاحش الزامات کا نشانہ بنا کر صریحاً مجادل فی آیات اللہ قرار پاتا ہے۔ مذکورہ بالا چاروں وجوہات کی بنا پر آیت زیر بحث کے اندر اسی شخص کے ضلال و الحاد کا ایک نمایاں پیش گوئی کے رنگ میں تذکرہ ہوا ہے۔

تنویر صاحب نے میرے اسی سوال کے پہنچنے پر ایک لایعنی اور غیر معقول خط بھجوا کر یہ عذر پیش کیا کہ آیت ہذا میں جس گمراہ و ملحد شخص کا ذکر ہے وہ غلام احمد پرویز ہے جو احادیث نبویہ کا منکر ہے۔ غلام احمد قادیانی نہیں ہے جو احادیث نبویہ کا قائل و عامل ہے۔

میں نے تنویر صاحب کو واپس جواباً لکھا کہ اوّلاً تو دونوں آدمی احادیث نبویہ کے منکر ہیں۔ غلام احمد پرویز تمام احادیث کا اور غلام احمد قادیانی اکثر احادیث کا منکر ہے۔ جیسا کہ میں قبل ازیں بتا چکا ہوں۔

ثانیاً ..... یہ کہ اوّل الذکر آدمی احادیث کا انکار کر کے اور اسلام میں کمی کر کے منکر بنتا ہے اور ثانی الذکر ختم نبوت کی حد کو توڑ کر اسلام میں اپنی نبوت اور اپنے الہامات کا اضافہ کر کے مسرف بمعنی حد شکن ہو جاتا ہے اور قرآن مجید نے لفظ مسرف کو اختیار کر کے غلام احمد قادیانی کی تعیین کر دی ہے اور غلام احمد پرویز کو چھوڑ دیا ہے۔

٦٠

ثالثاً ..... یہ کہ دونوں ہی مسرف بمعنی احادیث نبویہ کو اسلام سے خارج کرتا ہے کا اضافہ کرتا ہے۔ خلاصہ یہ رہا کہ ایک آد اور دونوں حد شکن ہیں۔

میں نے اپنا جوابی خط بھیجتے ہو ”ہلک“ نے کچھ دیر کے لئے مجھے ا اگر تنویر صاحب نے اس قدر واضح اور رو بالضرور ہلاک ہو جائے گا اور پیش گوئی ثابت ہوگی۔ اس نے اسی مرحلہ پر خط تھوڑی سی مدت کے بعد معلوم ہوا کہ یہ شخ آدمی کے پاس چلی گئی ہے۔ بہرحال میر

پیش گوئی چہارم دربارہ تاج محمد خ

یہ ہے کہ میں سال ١٩٣٠ء س ہوں اور میں سال ١٩٥٤ء کو مڈل سکول ر کا ڈپٹی انسپکٹر تعلیم تاج محمد خان درّانی تھا اس کے مقامی مرزائی افسران سے گہر تھا اور وہ میری بجائے اپنے ایک عزیز م کے درمیان خفیف سی کشیدگی پیدا ہو گئی او ایک دن میں صبح سویرے س کی تہہ میں جا پڑا اور اوپر سے سائیکل آ کہ ہسپتال پہنچا اور سر پر مرہم پٹی کرائی۔ رخصت دے دی۔ اس پر تاج محمد خان اور میری درخواست رخصت بلا منظوری لف درخواست کیا اور درخواست واپس میری درخواست تلف کر دی اور مجھے ف

صفحہ ٣٦٩

جانا ...... یہ کہ دونوں ہی مسرف بمعنی حد شکن ہیں۔ کیونکہ پہلا آدمی اسلام کی حد کو توڑ کر احادیث نبویہ کو اسلام سے خارج کرتا ہے اور دوسرا آدمی ختم نبوت کی حد کو توڑ کر اس میں اپنی نبوت کا اضافہ کرتا ہے۔ خلاصہ یہ رہا کہ ایک آدمی اسلام کے اندر کمی کا اور دوسرا آدمی بیشی کا مرتکب ہے اور دونوں حد شکن ہیں۔

میں نے اپنا جوابی خط بھیجتے ہوئے جب آیت ہذا پر بار بار غور کیا تو آیت ہذا کے لفظ ”ھلک“ نے کچھ دیر کے لئے مجھے اپنے پاس روک رکھا اور مجھے اس خیال کی طرف موڑ دیا کہ اگر تنویر صاحب نے اس قدر واضح اور روشن پیش گوئی کو قبول نہ کیا اور بدستور مرزائیت پر ڈٹا رہا تو وہ بالضرور ہلاک ہو جائے گا اور پیش گوئی قرآن کی صداقت و وضاحت اس کے حق میں جان لیوا ثابت ہو گی۔ اس نے اسی مرحلہ پر خط و کتابت بند کر دی اور میں نتیجہ کی انتظار کرنے لگا۔ مجھے تھوڑی ہی مدت کے بعد معلوم ہوا کہ یہ شخص ہلاک ہو گیا ہے اور روزنامہ الفضل کی ادارت دوسرے آدمی کے پاس چلی گئی ہے۔ بہرحال میری فراست اور میرا اندازہ صحیح اور درست ثابت ہوا۔

پیش گوئی چہارم دربارہ تاج محمد درانی

یہ ہے کہ میں سال ١٩٣٠ء سے کافی عرصہ تک محکمہ تعلیم ریاست بہاول پور میں ملازم رہا ہوں اور میں سال ١٩٥٤ء کو مڈل سکول رکن پور میں عربی مدرس متعین تھا۔ جب کہ ضلع رحیم یار خان کا ڈپٹی انسپکٹر تعلیم تاج محمد خان درانی تھا۔ جو اندرونی طور پر مرزائیت رسیدہ اور مرزائی نواز تھا اور اس کے مقامی مرزائی افسران سے گہرے روابط تھے اور میں اس سے اپنے لئے سلیکشن گریڈ مانگتا تھا اور وہ میری بجائے اپنے ایک عزیز مرزائی ماسٹر کو دینا چاہتا تھا۔ اسی سلسلہ میں میرے اور اس کے درمیان خفیف سی کشیدگی پیدا ہو گئی اور وہ اندرونی طور پر میرا مخالف بن گیا۔

ایک دن میں صبح سویرے سائیکل پر سوار سکول جا رہا تھا کہ اچانک سائیکل سے گر کر نہر کی تہہ میں جا پڑا اور اوپر سے سائیکل آ کر گر گیا۔ جس سے میرے سر میں کافی زخم آ گیا۔ میں اٹھ کر ہسپتال پہنچا اور سر پر مرہم پٹی کرائی۔ ڈاکٹر ہسپتال کے مشورہ پر میں نے نصف ماہ کی درخواست رخصت دے دی۔ اس پر تاج محمد خان موصوف کو میرے علیحدہ کرانے کا ایک اچھا موقع میسر آ گیا اور میری درخواست رخصت بلا منظوری واپس کر دی۔ میں نے ڈاکٹری سرٹیفکیٹ حاصل کر کے لف درخواست کیا اور درخواست واپس ان کے پاس بھیج دی۔ اس نے نا انصافی کی بنا پر میری درخواست تلف کر دی اور مجھے غیر حاضر قرار دے کر ملازمت سے فارغ کرا دیا اور میری

٦١

صفحہ ٣٧٠

کارکردگی کی چند تنخواہات جو سکول میں زیر امانت تھیں واپس داخل خزانہ کر دیں۔ اس پر مجھے سخت صدمہ ہوا اور میں بے روزگار ہونے پر بے حد پریشان ہوا اور بحالی ملازمت کے لئے ضلعی دفتر تعلیم میں پہنچا اور خان صاحب موصوف کو السلام علیکم کہا۔ اس نے جواب سلام نہ دیا اور خاموش بیٹھا رہا۔ کیونکہ میں نے اسے ایک وقت میں اپنی کتاب کا ابتدائی حصہ دکھایا تھا اور وہ اسے دیکھ کر چیں بجبیں اور لال پیلا ہو گیا تھا اور آئندہ کے لئے مجھ سے سلام و کلام اور علیک سلیک بند کر دی تھی۔ میں پاس پڑی ہوئی کرسی پر بیٹھنے لگا۔ اس نے فوراً مجھے کرسی پر بیٹھنے سے روک دیا اور دفتر سے چلے جانے کو کہا۔ اس پر میرے اور اس کے درمیان تو تو میں میں پر معاملہ آ گیا۔ معا دفتر کے اہل کار اور دفتر میں موجود لوگ جمع ہو گئے اور مجھے باصرار باہر جانے کو کہا گیا۔ میں نے باہر جاتے ہوئے خان صاحب سے کہا کہ اگر آپ نے مجھے کرسی پر بیٹھنے نہیں دیا تو آپ بھی دفتری کرسی پر نہیں بیٹھیں گے۔ میں بحالت افسوس و رنجش اپنے گھر آ گیا اور نتیجہ کی انتظار کرنے لگا۔ اس پر خدا کا کرنا یہ ہوا کہ خان صاحب اسی مہینہ کے اندر اپنی ملازمت سے قبل از وقت ریٹائر ہو گیا اور دفتر پر بدستور ڈٹے رہنے کی ٹھان لی اور رضا کارانہ طور پر بلا تنخواہ کام کرنے کی محکمہ تعلیم کو پیشکش کر دی۔ مگر محکمہ تعلیم اس پر رضامند نہ ہوا اور اس کو چارج تعلیم کے چھوڑنے کا حکم دیا اور وہ نہ مانا۔ لیکن محکمہ تعلیم نے بذریعہ پولیس اس کو دفتر سے نکالا اور دفتر کا چارج دیگر آدمی کو دیا گیا۔ اسی طرح اس کی زبردست ذلت ہوئی اور وہ رسوا ہو کر اپنے گھر واقع احمد پور شرقیہ چلا گیا۔ پہلے اس کا اکلوتا بیٹا فوت ہوا اور پھر وہ خود اس صدمہ سے بیمار رہ کر ہلاک ہو گیا اور میرا قلبی صدمہ اس کو کھا گیا۔

پیش گوئی پنجم در بارہ قاضی محمد نذیر و شیخ مبارک احمد مرزائیان

میں نے ان دونوں مرزائیان کو غلام احمد کی چیلنج لفظ ”الدجال“ کے متعلق لکھا کہ اگر میں مرزا قادیانی کے اسی چیلنج کو غلط ثابت کر دوں تو کیا آپ صاحبان مجھ کو ایک ہزار روپیہ نقد جو اسی چیلنج کی تغلیط پر مقرر ہے۔ ادا کرو گے یا نہیں؟ انہوں نے جواباً لکھا کہ ہم یہ رقم ضرور بالضرور ادا کریں گے۔ میں نے ان کو بطور ذیل لکھا کہ:

مرزا قادیانی کا چیلنج یہ ہے کہ لفظ ”الدجال“ جو احادیث میں وارد ہے۔ اس سے مراد آنے والا یہودی دجال ہے۔ اب اگر کوئی اہل علم اس لفظ کا اطلاق کسی اور آدمی پر ثابت کر دے تو میں اس کو ایک ہزار روپیہ نقد دوں گا اور میرا یہی بیان مؤکد بالحلف ہے۔ میں نے اسی لفظ کا اطلاق خود مرزا قادیانی پر بطور ذیل ثابت کر کے ان کو بھجوا دیا کہ:

٦٢

مرزا قادیانی کی یافتہ عمر ٦٨ ١٩٠٨ء میں ہوئی ہے۔ اب اگر اس کو (١٨٣٩۔١٩٠٨) ہے اور اگر اس کی پید ہے۔ بنا بر آں مرزا قادیانی ٦٨ سال کی ٦٨ ہیں اور یہی لفظ الدجال میں موجود ہ ”العلام“ میں ”العلم“ اور ”المط (١٨٦٨۔١٩٠٨) ہے تو وہ صحیح طور پر ”ا بحالت بالا مرزا قادیانی دجال ہے اور ی کے پہنچنے پر وہ دونوں آدمی ہمیشہ کے لئے جواباً میں نے ان کو لکھا کہ تم دونوں آدم ہو جاؤ۔ ورنہ بہت جلد ہلاک ہو جاؤ گے وہ دونوں موت و ہلاکت کی غذا بن چکے

عذر ششم

”یہ ہے کہ حال میں ایک میرے پاس موجود ہے۔ گویا وہ کتاب یہود ہیں۔“

الجواب

یہ ہے کہ محولہ یہودی کتاب اور ان پر غیر مہذب الزامات درج ہیں اور اس کی کوئی پیش گوئی سچی نہیں نکلی مرزا قادیانی کی سینہ زوری دیکھئے کہ یہودی مؤلف کا مثیل گردانتا ہے اور دونوں بزرگان نے حضرت مسیح علیہ ال سے اس کی تطہیر و صفائی پیش کرنا اپنی یہودی مؤلف کا مثیل و رفیق قرار دیں فیصلہ قرار پائے گا۔ کیونکہ مرزا قادیانی

صفحہ ٣٧١

مرزا قادیانی کی یافتہ عمر ٦٨ یا ٦٩ سال ہے۔ کیونکہ باتفاق اہل مرزا اس کی وفات ١٩٠٨ء میں ہوئی ہے۔ اب اگر اس کی پیدائش ١٨٣٩ء میں ہوئی ہے تو اس کی عمر ٦٩ سال (١٩٠٨-١٨٣٩) ہے اور اگر اس کی پیدائش ١٨٤٠ء میں ہوئی تو اسکی عمر ٦٨ سال (١٩٠٨-١٨٤٠) ہے۔ بنا بر آں مرزا قادیانی ٦٨ سال کی عمر پا کر مکمل طور پر الدجال ہے۔ کیونکہ اس لفظ کے اعداد ٦٨ ہیں اور یہی لفظ الدجال میں موجود ہے۔ کیونکہ ہر مصدر اپنی صفت میں مستور ہوتا ہے۔ جیسے ”العلام“ میں ”العلم“ اور ”الظلام“ میں ”الظلم“ موجود ہے اور اگر اس کی عمر ٦٩ سال (١٩٠٨-١٨٣٩) ہے تو وہ صحیح طور پر ”الدجال“ ہے۔ کیونکہ اس لفظ کے اعداد ٦٩ ہیں۔ لہٰذا بحالت بالا مرزا قادیانی دجال ہے اور مسیح و مہدی اور نبی و رسول نہیں ہے۔ چنانچہ میرے اس خط کے پہنچنے پر وہ دونوں آدمی ہمیشہ کے لئے خاموش ہو گئے اور میرے اس خط کا جواب نہ دیا تو اس پر جواباً میں نے ان کو لکھا کہ تم دونوں آدمی مرزا قادیانی کو دجال قرار دے کر مرزائیت سے تائب ہو جاؤ۔ ورنہ بہت جلد ہلاک ہو جاؤ گے۔ اس کے بعد میں نے کچھ عرصہ انتظار کیا اور معلوم ہوا کہ وہ دونوں موت و ہلاکت کی غذا بن چکے ہیں اور میرا بیان صحیح اور تیر بہدف ثابت ہوا۔

عذر ششم

”یہ ہے کہ حال میں ایک یہودی شخص کی ایک تالیف شائع ہوئی ہے جو اس وقت میرے پاس موجود ہے۔ گویا وہ کتاب محمد حسین یا ثناء اللہ کی تالیف ہے اور یہ دونوں اشخاص مثیل یہود ہیں۔“

(اعجاز احمدی ص ٤، خزائن ج ١٩ ص ١١٠)

الجواب

یہ ہے کہ محولہ یہودی کتاب میں بقول مرزا قادیانی حضرت مسیح علیہ السلام کی شکایات اور ان پر غیر مہذب الزامات درج ہیں اور یہ کہ حضرت مسیح علیہ السلام سے کوئی معجزہ ظاہر نہیں ہوا اور اس کی کوئی پیش گوئی سچی نہیں نکلی اور وہی حضرت مسیح کی نسبت سخت بدزبانی کرتا ہے۔ مگر مرزا قادیانی کی سینہ زوری دیکھئے کہ وہ مولوی محمد حسین بٹالوی اور مولوی ثناء اللہ امرتسری کو اسی یہودی مؤلف کا مثیل گردانتا ہے اور اس کی یہودی تالیف کو ان کی تالیف سمجھتا ہے۔ حالانکہ ان دونوں بزرگان نے حضرت مسیح علیہ السلام پر آنے والے غلط الزامات کا دفاع کیا ہے اور ہر طرح سے اس کی تطہیر و صفائی پیش کرنا اپنا دینی فریضہ سمجھا ہے۔ دراصل اگر ہم خود مرزا قادیانی کو اسی یہودی مؤلف کا مثیل و رفیق قرار دیں تو قطعاً بیجا اور غلط الزام نہیں ہوگا۔ بلکہ ایک صحیح اور حق بجانب فیصلہ قرار پائے گا۔ کیونکہ مرزا قادیانی نے اپنی اسی زیر جواب کتاب کے اندر اسی یہودی مؤلف کی

٦٣

صفحہ ٣٧٢

مانند حضرت مسیح علیہ السلام پر بری طرح سب وشتم کیا ہے اور اس پر غیر موزوں اور سوقیانہ الزامات عائد کئے ہیں۔ چنانچہ مرزا قادیانی نے اپنی اسی کتاب کے اندر حضرت مسیح علیہ السلام پر بطور ذیل گستاخیوں کا ارتکاب کیا ہے۔

صاف طور پر جھوٹی نکلیں اور آج کون زمین پر ہے جو اس عقدہ کو حل کرسکے۔“

(اعجاز احمدی ص ١٤، خزائن ج ١٩ ص ١٢١)

(اعجاز احمدی ص ٢٤، خزائن ج ١٩ ص ١٣٣)

الہامات کو رد کر دیتے تھے۔“

(اعجاز احمدی ص ٢٤، خزائن ج ١٩ ص ١٣٣)

کی نظیر کسی نبی میں نہیں پائی جاتی۔“

(اعجاز احمدی ص ٢٥، خزائن ج ١٩ ص ١٣٥)

میں کھائے تھے۔“

(اعجاز احمدی ص ٢٦، خزائن ج ١٩ ص ١٣٥)

اب قارئین کرام ہی بتا سکتے ہیں کہ یہودی مؤلف کا ہمنوا اور اس کا خوشہ چین کون ہوسکتا ہے۔ مرزا قادیانی ہے یا اس کے زیر عتاب فاضلانِ مولوی محمد حسین ومولوی ثناء اللہ ہیں؟ صرف ہم مرزا قادیانی کو نیم یہودی نہیں کہتے۔ بلکہ زیر جواب کتاب کے اندر غیر مہذب تحریرات اس کو یہودی قرار دیتی ہیں اور اس کو بکواسی بنا کر ہمارے سامنے لاتی ہیں۔

مرزا قادیانی نے بحوالہ یہودی مؤلف کے کہا ہے کہ سچے مسیح سے قبل الیاس آئے گا جو مسلمانوں میں یوحنا کے نام سے موسوم ہے۔ غلط کہا ہے۔ حالانکہ ملاکی نبی کی کتاب میں مسیح سے قبل ایلیا کے آنے کا ذکر ہے۔ الیاس کا ذکر نہیں ہے اور ایلیا کا معنی مبشر اور مصدق ہے۔ چنانچہ حضرت یحییٰ علیہ السلام بطور مبشر ومصدق کے حضرت مسیح سے قبل ضرور آیا۔ لہٰذا یہودی مؤلف اور مرزا قادیانی دونوں غلطی پر ہیں۔ جب کہ حضرت مسیح کی کوئی خبر اور پیش گوئی غلط نہیں نکلی۔ کیونکہ قرآن حکیم اس کو ”وجیہاً فی الدنیا والآخرة“ کہہ کر دنیا وآخرت میں معزز ومحترم قرار دیتا ہے اور اس سے یہودی و مرزائی الزامات کا دفاع کرتا ہے۔

٦٣

صفحہ ٣٧٣

عذر ہفتم

یہ ہے کہ: ”مخالفین کے لئے طریقہ تصفیہ آسان تھا کہ وہ خود قادیان میں آتے اور میں ان کی آمدورفت کا خرچ بھی دیتا اور بطور مہمان کے ان کو رکھتا تب دل کھول کر اپنی تسلی کر لیتے۔“

(اعجاز احمدی ص ٦، خزائن ج ١٩ ص ١١٢)

الجواب

یہ ہے کہ مرزا قادیانی اپنے اسی بیان میں کاذب و بطال ہے۔ کیونکہ لیکھرام اس کے بلانے پر قادیان میں آ گیا تھا۔ لیکن اس نے اس کو نہ اپنی کوئی کرامت دکھائی اور نہ اس کی ضیافت کے لئے آمادگی ظاہر کی۔ بناء آں مرزا قادیانی کے مخالفین علماء وفضلاء قادیان جانے پر آمادہ نہ ہوئے۔ لیکن اگر فی الواقع یہ شخص تصفیہ اور رفع نزاع میں نیک نیت اور مخلص تھا تو خود مولوی ثناء اللہ اور مولوی محمد حسین کے پاس چلا جاتا اور ان کی تسلی میں حق تبلیغ ادا کرتا۔ مگر یہ شخص اپنے ارادہ میں مخلص نہیں تھا اور ان کے پاس جانے کو گوارا نہ کیا۔

بعینہ اسی طرح مشہور مرزائی مبلغ جلال الدین شمس نے مجھے ربوہ آنے کی دعوت دیتے ہوئے ذیل خط لکھا۔ لیکن میں لیکھرام کی مرزائی دعوت کا حال معلوم کر کے ڈر گیا اور ربوہ جانے کی مرزائی دعوت کو قبول نہ کیا اور معذرت پیش کر دی۔ محولہ خط یہ ہے:

محترمی ومکرمی جناب حکیم میر محمد ربانی صاحب

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

مکتوب گرامی ملا۔ جو کاشف حالات ہوا۔ میری دلی خواہش ہے کہ اگر آپ تکلیف فرما کر ایک دو دن کے لئے ربوہ تشریف لے آئیں تو میرے لئے باعث مسرت ہو گا تاکہ آپ یہاں قیام فرما کر اپنے معاملات مخصوصہ کے بارے میں تبادلہ خیالات بھی فرما سکیں اور اس طرح آپ کو یہاں کے ادارہ جات و حالات سے واقف کرایا جا سکے۔ نیز میرے لئے یہ امر نہایت درجہ مبارک ہو گا کہ چونکہ آں مکرم تحقیق حق کے لئے تشریف لائیں گے۔ اس لئے آپ کے اخراجات آمد و رفت اور قیام وطعام ہمارے ذمہ ہوں گے اور اگر آپ دنیاوی علائق کی وجہ سے تشریف نہ لا سکیں تو پھر آں محترم اپنے سوالات لکھ کر بھجوائیں۔ میں ان کا جواب اپنی نگرانی میں لکھوا دوں گا۔ چونکہ میرے ذمہ سلسلہ کے بہت اہم کام سپرد ہیں۔ اس لئے پورے احترام کے ساتھ آپ کے سوالات کے جوابات اپنی نگرانی میں لکھوا کر بھیج دوں گا۔ جواب سے ممنون فرمائیں۔ والسلام!

مخلص جلال الدین شمس، مورخہ ٢٨؍ اگست ١٩٦٣ء

٦٥

صفحہ ٣٧٤

میں نے اس کے وعدے پر اس کے ساتھ چیلنج لفظ ”توفی“ کے بارے میں خط و کتابت کی۔ لیکن یہ شخص غیر معقول عذر پیش کر کے اپنے وعدہ سے منحرف ہو گیا اور خط و کتابت بند کر دی اور میری پیش گوئی کے مطابق ہلاک ہو گیا۔ جیسا کہ میں قبل ازیں تفصیل سے لکھ چکا ہوں۔

عذر ہشتم

یہ ہے کہ: ”یونس نبی کی پیش گوئی جو عذاب کے لئے تھی۔ اس کے ساتھ کوئی شرط توبہ وغیرہ کی نہیں تھی تب بھی عذاب ٹل گیا۔“

(اعجاز احمدی ص ٥ خزائن ج ١٩ ص ١١٢)

الجواب

یہ ہے کہ مرزا قادیانی نے اس پیش گوئی کو نقل کر کے اپنے آپ کو یونس نبی اور آتھم لیکھرام وغیرہ کو قوم یونس قرار دیا ہے۔ لیکن قوم یونس یونس نبی پر ایمان لا کر ہلاک نہ ہوئی اور عذاب الٰہی سے بچ گئی۔ جیسا کہ قرآن حکیم خبر دیتا ہے: ”لما آمنوا كشفنا عنهم عذاب الخزى فى الحيوة الدنيا ومتعناهم الى حين“ جب وہ ایمان لائے تو ہم نے دنیاوی ذلت کا عذاب ان پر سے ہٹا لیا اور ایک وقت تک ان کو متاع زندگی دے دی۔

مگر مرزا قادیانی کے معتوب غیر مسلم آتھم لیکھرام وغیرہ اس پر ایمان نہ لا کر بھی میعادی عذاب ذلت سے بچ گئے اور ہلاک نہ ہوئے۔ حالانکہ ان لوگوں کو اس پر ایمان نہ لانے کی پاداش میں میعاد کے اندر ہلاک ہو جانا تھا۔ مگر وہ لوگ بطور پیش گوئی کے میعاد مقررہ کے اندر ہلاک نہ ہوئے۔ بنا برآں یونس نبی کی مثال اس پر صادق نہیں ہوتی۔ بلکہ اسے کاذب و بطال بنا کر چھوڑا۔ چنانچہ میں نے آتھم و لیکھرام کی پیش گوئیوں پر سابقاً پوری تفصیل سے لکھ دیا ہے۔ وہاں رجوع کیا جاوے۔

عذر نہم

یہ ہے کہ: ”بعض مخالفوں نے حدیبیہ کے سفر پر اعتراض کیا کہ یہ پیش گوئی پوری نہیں ہوئی...... اس پر بعض بدبخت مرتد ہو گئے اور حضرت عمرؓ چند روز ابتلاء میں رہے۔“

(اعجاز احمدی ص ٦ خزائن ج ١٩ ص ١١٢)

الجواب

یہ کہ آنحضرت ﷺ نے اپنے ایک خواب کی بناء پر یہ سفر اختیار کیا تھا اور تقریباً ١٥٠٠ سو

٦٦

صفحہ ٣٧٥

صحابہ کرام آپ کے رفقائے سفر تھے۔ جب قریش مکہ نے حدیبیہ کے مقام پر اس محمدی قافلہ کو روک دیا تو حاضرین قافلہ پر بالضرور رنج و غم کا اثر ہوا۔ لیکن آپ ﷺ نے اہل قافلہ یعنی اصحاب سفر کو اطلاع دی کہ گھبرانے اور پریشان ہونے کی کوئی بات نہیں ہے۔ کیونکہ خدا تعالیٰ کی طرف سے ابھی ابھی اطلاعی ہدایات آنے والی ہیں۔ ہم سب اہل قافلہ کو ان ہدایات کا انتظار کرنا لازمی ہے۔ تاکہ ہمارا اگلا قدم انہی ہدایات کے تحت اٹھے۔ ابھی اہل قافلہ سے یہی بات چیت کر رہے تھے کہ جبرائیل علیہ السلام ہدایات خداوندی کو بصورت آیت ذیل لاکر حاضر خدمت ہو گئے۔ قال تعالیٰ:

”لقد صدق الله رسوله الرؤيا بالحق لتدخلن المسجد الحرام انشآء الله امنين محلقين رؤسكم ومقصرين لا تخافون فعلم مالم تعلموا فجعل من دون ذلك فتحاً قريباً (اعجاز احمدی ص ٦، خزائن ج ١٩ ص ١١٢) ”بلا شبہ خداوند تعالیٰ نے اپنے رسول کے سچے خواب کی تصدیق کر دی ہے کہ تم لوگ انشاء اللہ بالضرور مسجد حرام میں امن کے ساتھ داخل ہو کر کے اپنے سر منڈواؤ گے اور بال کٹواؤ گے اور بے خوف رہو گے۔ تم جس بات کو نہیں جانتے۔ خدا تعالیٰ کو اس کا پورا علم ہے۔ خدا تعالیٰ نے تمہارے لئے اسی طواف کی بجائے قریب کی فتح مقرر کر دی ہے۔“

مطلب یہ تھا کہ تم گھبراؤ نہیں۔ ہمارے رسول کا خواب سچا ہے ہو کر رہے گا اور تمہارے طواف کا ارادہ ضرور پورا ہوگا۔ لیکن تمہارے خدا تعالیٰ کا منشاء یہ ہے کہ تم کعبۃ اللہ کے اندر محکوم اور پابند شرائط ہو کر نہ جاؤ۔ کیونکہ اس طرح کے داخلہ حرم سے تمہاری ذلت وخفت ہوگی اور خدا تم کو عزت و عظمت کے ساتھ اور فاتحانہ شان کی معیت میں اپنے گھر کے اندر لے جانا چاہتا ہے۔ اس لئے اس رکاوٹ کو بار خاطر نہ بناؤ اور تم بخوشی واپس لوٹ جاؤ۔ کیونکہ آئندہ سال تم کو فاتحانہ شان کے ساتھ داخلہ حرم میسر آئے گا اور تمہاری محکومی و غلامی کی تمام زنجیریں ہمیشہ کے لئے کٹ جائیں گی اور تم اس ملک کے حاکم اعلیٰ بن جاؤ گے۔ چنانچہ تمام صحابہ کرامؓ یہی آیت سن کر مطمئن ہوگئے اور واپس جانے کے لئے اٹھ کھڑے ہوئے اور پھر آئندہ سال حسب وعدہ خداوندی دس ہزار صحابہ کرامؓ کی جمعیت سے مکہ مکرمہ آن واحد میں فتح ہو گیا اور ان کو فاتحانہ شان عظمت کے ساتھ داخلہ حرم میسر آ گیا اور باشندگان مکہ کی اکثریت حلقہ بگوش اسلام ہوگئی اور معدودے چند اشخاص نے یہاں سے بھاگ کر دیگر علاقوں میں پناہ لی۔ بنا برآں مرزا قادیانی کا یہ کہنا کہ بعض صحابہ کرامؓ مرتد ہوگئے اور حضرت عمرؓ چند ایام کے اندر ابتلاء اور ایمانی کمزوری کا شکار رہے۔ بالکل افتراء اور

٦٧

صفحہ ٣٧٦

بہتان عظیم ہے۔ دراصل یہ شخص اپنی زیر بحث پیش گوئی کی ناکامی پر اپنی خجالت ورسوائی کے مٹانے کے لئے آنحضرت ﷺ اور صحابہ کرامؓ پر غلط الزام ڈالتا ہے اور ڈال رہا ہے۔

عذر دوم

یہ ہے کہ: ”براہین احمدیہ میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی دوبارہ آمد میری ذاتی رائے ہے اور اس کی وفات کا عقیدہ اپنانا الہامات خداوندی کی بناء پر ہے۔“

(اعجاز احمدی ص ٨، خزائن ج ١٩ ص ١١٤)

جواب ...... یہ ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی دوبارہ آمد کا عقیدہ جو براہین احمدیہ میں درج ہے۔ وہ صحیح اور حق بجانب ہے۔ کیونکہ:

اولاً ...... یہ ہے کہ ”قد یصدق الکذوب“ کبھی جھوٹا آدمی سچی بات کہہ دیتا ہے۔ جیسا کہ مرزا قادیانی نے براہین احمدیہ میں طوعاً کرہاً سچی بات کہہ دی ہے۔

ثانیاً ...... یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے یہی عقیدہ حلف اٹھا کر بیان فرمایا ہے اور حلف اٹھانے کے بعد بیان حلف کو من وعن تسلیم کرنا پڑتا ہے۔ اس میں کسی قسم کی ترمیم وتنسیخ اور شکست وریخت یا تاویل وتغیر کرنا بالکل ناروا اور ناجائز ہوتا ہے۔ چنانچہ آپ ﷺ کا بیان حلفی بطور ذیل احادیث نبویہ میں وارد ہے۔

”والذي نفسي بيده ليوشكن ان ينزل فيكم ابن مريم حكماً عدلاً“

(بخاری) ”مجھے اس خدا کی قسم ہے جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ ابن مریم (عیسیٰ علیہ السلام) عنقریب تمہارے اندر حَکم عادل بن کر نزول کرے گا۔“

بروئے حلف محمدی ایک محمدی شخص پر لازم ہے اور وہ حتماً اس عقیدہ کا پابند ہے کہ آخری زمانہ میں نازل ہونے والا صرف ابن مریم علیہ السلام ہے جو مریم طاہرہ کا فرزند ہو کر بنام عیسیٰ اور بلقب مسیح مشہور ہے اور وہی عیسیٰ حقیقی طور پر اور بجسد عنصری نزول کرنے والا ہے اور اس کا نزول آسمان سے زمین کی طرف ہوگا۔ اب جو شخص محمدی کہلا کر آپ ﷺ کی پیش کردہ حلف کو لغو اور غیر مؤثر گردانتا ہے وہ گمراہ اور خارج از اسلام ہے اور اس کو حرامزادہ اور ذریۃ البغایا بننے کا شوق دامنگیر ہے۔ عارف رومی حلف نبوی کی تائید میں فرماتا ہے۔

عیسیٰ و ادریس برگردوں شدند زانکہ از جنس ملائک آمدند

عیسیٰ اور ادریس دونوں آسمان پر چلے گئے۔ کیونکہ وہ دونوں ملائکہ کی جنس میں سے تھے۔

٦٨

صفحہ ٣٧٧
باز آں ہاروت ماروت از بلند جنس خاک بودند زاں زیر آمدند

ہاروت و ماروت دو فرشتے جنس خاک میں سے تھے، اس لئے وہ دونوں نیچے زمین پر آ گئے۔

ثالثاً...... یہ ہے کہ قرآن عزیز حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو مثیل آدم علیہ السلام قرار دے کر فرماتا ہے: ”ان مثل عیسیٰ عند اللہ کمثل آدم“ ﴿بلاشبہ نزد خدا رہنے والا عیسیٰ مثل آدم ہے۔﴾ چونکہ یہی آیت، آیت توفی ”یعیسیٰ انی متوفیک“ کے بعد مذکور ہے اور اسی سلسلہ میں وارد ہے۔ اس لئے حیات مسیح کے ساتھ ساتھ نزول مسیح پر دو دلائل رکھتی ہے۔

دلیل اوّل

یہ ہے کہ عیسیٰ و آدم کی باہمی مماثلت دلالت کرتی ہے کہ جیسے آدم علیہ السلام آسمان پر جاکر مقیم بہشت رہا اور پھر آسمان سے نازل ہو کر زمین پر آیا اور زمین پر طبعی موت سے وفات پائی اور زمین کے اندر مدفون ہوا۔ اسی طرح مسیح بن مریم بھی آسمان پر اٹھایا گیا ہے اور پھر آسمان سے نازل ہو کر پھر زمین پر آئے گا اور زمین پر طبعی موت سے وفات پائے گا اور زمین کے اندر مدفون ہوگا۔ ان حالات کے پیش نظر اگر ہم بزعم مرزا دونوں کے حالات حیات وممات کو بخلاف قرآن متوافق و متماثل نہیں مانیں گے تو پھر قرآن مجید کا عیسیٰ و آدم کو باہم متماثل کہنا لغو اور خلاف واقعات قرار پائے گا جو صریحاً کفر و ضلالت ہے۔

دلیل دوم

یہ ہے کہ چونکہ آیت ہذا کے اندر عیسیٰ کے ساتھ لفظ ”عند اللہ“ مذکور و موجود ہے اور آدم کے ساتھ یہ لفظ موجود و مذکور نہیں ہے۔ اس لئے یقین محکم سے کہنا پڑتا ہے کہ عیسیٰ عند اللہ بمعنی نزد خدا موجود ہے اور زندہ ہے اور آدم نزد خدا زندہ موجود نہیں ہے۔ کیونکہ قرآن عزیز کا فیصلہ ہے کہ: ”ما عندكم ينفد وما عند الله باق“ ﴿جو چیز تمہارے پاس ہے وہ فانی ہے اور جو چیز نزد خدا ہے وہ زندہ اور باقی ہے۔﴾

بناء بر آں مرزا قادیانی کا زیر جواب کتاب کا بیان بالکل غلط ہے اور صریحاً مخالفت قرآن میں جاتا ہے اور اس کو کاذب بناتا ہے اور پھر مرزا قادیانی کا آیت: ”هو الذى ارسل رسوله بالهدى ودين الحق ليظهره على الدين كله وہی خدا ہے جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور دین حق دے کر بھیجا تا کہ اس کو تمام ادیان پر غالب کردے۔“

(براہین احمدیہ، خزائن ج١)

٢٩

صفحہ ٣٧٨

کو اپنے اوپر چسپاں کر کے خود کو رسول حق بنانا بھی غلط اور سراسر بہتان عظیم ہے۔

بالاتصال واقع ہے اور تصدیق رؤیا کے لئے بطور دلیل واقعہ کے لائی گئی ہے اور کہا گیا ہے کہ فتح مکہ میسر آنے کے بعد دین حق (اسلام) کو عرب کے تمام ادیان باطلہ پر اقتدار حاصل ہو جائے گا اور دیگر سب ادیان مغلوب ہو کر محکوم اسلام ہو جائیں گے۔ مگر مرزا قادیانی مفہوم آیت کے خلاف اپنی تمام زندگی میں اپنے نام کی طرح عیسائی حکمران کا محکوم و غلام بنا رہا اور تکذیب آیت بالا کرتا رہا اور عملاً بتاتا رہا کہ نہ میں آیت ہذا کا مصداق ہوں اور نہ رسول خدا ہوں ۔ بلکہ رسول فرنگ اور جاسوس برطانیہ ہوں ۔

باللہ شہیدا“ کو ذکر نہیں کیا تو ثابت ہو گیا کہ خدا تعالیٰ اس کے رسول ہونے کی شہادت نہیں دیتا ۔

روشن پایا جاتا ہے کہ خدا تعالیٰ کا رسول مقتدر صرف حضرت محمد رسول اللہ ﷺ ہے۔ غلام احمد قادیانی نہیں ہے جب کہ وہ غلام کفار اور محکوم فرنگ ہے۔ کیونکہ :

”لکل شئی من اسمه نصیب“ ﴿ہر چیز کو اپنے نام سے بالضرور حصہ ملتا ہے۔﴾

لہٰذا غلام احمد پر انگریزوں کی غلامی سوار رہی اور وہ اس کے اشاروں پر ناچتا رہا۔

عذر یازدہم

یہ ہے کہ : ”محمدی بیگم کی پیش گوئی میں اس کا والد مقررہ میعاد کے اندر فوت ہو گیا اور پیش گوئی کا ایک حصہ پورا ہو گیا۔“

(اعجاز احمدی ص ١٠، خزائن ج ١٩ ص ١١٦)

الجواب

یہ ہے کہ مبینہ پیش گوئی کے تین اجزاء یا تین حصے ہیں:

بتاتا ہے: ”فسیکفیکہم الله ويردها الیک لا تبدیل لکلمات الله“ خدا تعالیٰ تجھ کو ان سے کافی رہے گا اور وہ مطلوبہ عورت کو تیرے پاس لوٹائے گا۔ کیونکہ خدا کے کلمات میں تبدیلی نہیں ہو سکتی اور بصورت دیگر اس پر مصیبت و ذلت آئے گی۔ جیسا کہ درج ذیل الہام سے مترشح ہوتا ہے۔ ”توبی توبی فان البلاء علیٰ عقبک“ توبہ کر توبہ کر۔ کیونکہ مصیبت تیرے پیچھے لگی ہوئی ہے۔

(اعجاز احمدی ص ١٠، خزائن ج ١٩ ص ١١٦)

٧٠

اور اگر اس الہام میں ا توبہ کر ۔ کیونکہ مصیبت تیری نواسی ( اس کی نواسی محمدی بیگم اور الہام ہذا ہے کہ نانی کے توبہ کرنے سے نواسی

اس مرزائی پیش گوئی ک مدقوق و مسلول آدمی تھا، فوت ہو گیا لیا تھا کہ وہ جلد تر مرے گا اور اس کو نہ مرزا سلطان محمد خاوند محمدی بیگم م مصیبت پڑی۔ چونکہ پیش گوئی ہ مرزا قادیانی کے نکاح میں آئی او واقفیت کے پیش نظر فیصلہ یہ ہے کہ کالمعدوم“ اور ”للاکثر حکم لہٰذا مرزا قادیانی کا یہ التفات ہے۔ علاوہ ازیں احمد بیگ ہے۔ کیونکہ بموجب پیش گوئی سلطا میعاد ہلاکت اڑھائی سال اور ثانی بنا بر آں دونوں کی مو استدلال نہیں بناتا ۔

عذر دواز دہم

یہ ہے کہ : ”مولوی ثنا حالانکہ وہ درست ثابت ہوئی ۔“

الجواب

یہ کہ مبینہ حمل سے بجا ورسوائی کی گرفت میں آگئی ۔ اس

صفحہ ٣٧٩

اور اگر اس الہام میں اس کی نانی کو خطاب ہے تو مفہوم یہ ہے کہ اے عورت! توبہ کر توبہ کر۔ کیونکہ مصیبت تیری نواسی (محمدی بیگم) پر آنے والی ہے۔ کیونکہ اس وقت عقب سے مراد اس کی نواسی محمدی بیگم اور الہام ہذا میں نانی کو نواسی کے بارے میں کہا گیا ہے۔ لیکن یہ انوکھی بات ہے کہ نانی کے توبہ کرنے سے نواسی پر آنے والی بلا ٹل جائے گی۔

اس مرزائی پیش گوئی کا نتیجہ یہ رہا کہ مرزا احمد بیگ والد محمدی بیگم جو ایک دائم المرض اور مدقوق و مسلول آدمی تھا، فوت ہو گیا۔ کیونکہ مرزا قادیانی نے اس کے پژمردہ چہرہ کو دیکھ کر اندازہ کر لیا تھا کہ وہ جلد تر مرے گا اور اس کو پیش گوئی میں شامل کر لیا اور باقی ماندہ دو آدمی زندہ رہے۔ یعنی نہ مرزا سلطان محمد خاوند محمدی بیگم مقررہ میعاد کے اندر فوت ہوا اور نہ محمدی بیگم پر کسی قسم کی بلاؤ مصیبت پڑی۔ چونکہ پیش گوئی ہذا ناکام رہی۔ بلکہ اس کا مرکزی حصہ محمدی بیگم کہ نہ تو وہ مرزا قادیانی کے نکاح میں آئی اور نہ اس کو کسی قسم کی ذلت و مصیبت پہنچی۔ بنابر آں اکثریت واقلیت کے پیش نظر فیصلہ یہ ہے کہ پیش گوئی ناکام رہ کر قابل استدلال نہ رہی۔ کیونکہ: ”القلیل کالمعدوم“ اور ”للا کثر حکم الکل“ اقلیت کالعدم ہوتی ہے۔ اکثریت کو کل کا حکم ملتا ہے۔ لہٰذا مرزا قادیانی کا یہ واویلا کہ میری پیش گوئی پوری ہوگئی ہے۔ غلط ہوکر نا قابلِ التفات ہے۔ علاوہ ازیں احمد بیگ کا سلطان محمد سے پہلے مرنا بھی پیش گوئی کی تغلیط و تکذیب کرتا ہے۔ کیونکہ بموجب پیش گوئی سلطان محمد کا احمد بیگ سے پہلے مرنا ضروری تھا۔ کیونکہ اوّل الذکر کی میعاد ہلاکت اڑھائی سال اور ثانی الذکر کی میعاد موت تین سال تھی۔

بنابر آں دونوں کی موت کا خلاف الہام ہونا بھی پیش گوئی کو داغدار کرتا ہے اور قابل استدلال نہیں بناتا۔

عذر دواز دہم

یہ ہے کہ: ”مولوی ثناء اللہ نے مدّ بحث کے اندر لڑکے والی پیش گوئی کو غلط کہا تھا۔ حالانکہ وہ درست ثابت ہوئی۔“

(اعجاز احمدی ص ١١، خزائن ج ١٩ ص ١١٧)

الجواب

یہ کہ مبینہ حمل سے بجائے لڑکا کے لڑکی پیدا ہوئی اور مرزائی پیش گوئی غلط ہو کر خجالت ورسوائی کی گرفت میں آگئی۔ اس پر مرزا قادیانی نے یہ عذر پیش کیا کہ یہ میرا ذاتی خیال تھا جو غلطی کا

٧١

صفحہ ٣٨٠

شکار ہوگیا۔ جیسا کہ انبیاء کرام کے ذاتی خیالات کبھی کبھی اغلاط سے دوچار ہوتے رہے ہیں۔ مثال کے طور پر آنحضرت ﷺ نے یمامہ کی طرف ہجرت کرنے کا ارادہ اور خیال کیا تھا۔ لیکن مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کرنے سے آپ کا پہلا خیال غلطی سے ملوث ہوگیا اور ہجرت محمدیہ خلاف ارادہ واقع ہوئی۔

ہماری طرف سے اسی مرزائی گستاخی کا جواب:

واقعہ کا کوئی وجود موجود ہے تو پھر بھی محمدی اور مرزائی واقعات میں ایک نمایاں فرق ملتا ہے۔ کیونکہ مرزا قادیانی نے اپنی خبر کو ایک اعجاز اور پیش گوئی کا نام دیا ہے اور آنحضرت ﷺ نے اپنے خیال مبارک کو بطور تحدی اور پیش گوئی کے پیش نہیں کیا تھا اور

جانے کا خیال کیا تھا۔ لیکن آپ نے ہجرت کا یہی سفر براہ ”رابغ“ اختیار کیا جو یمامہ کی نسبت سے یہی راستہ بہت ہی مختصر اور بے خطر تھا۔ نتیجہ یہ رہا کہ آپ نے قطعاً اور کبھی بھی یمامہ کو دارالہجرت بنانے کا خیال نہیں کیا تھا۔ بلکہ شروع ہی سے آپ نے مدینہ منورہ کو اپنا دارالہجرت مقرر کرلیا تھا۔ کیونکہ یہاں پر مسلمانوں کی ایک معتد بہ جماعت بن چکی تھی۔ جس نے آپ کے پر امن قیام کی ضمانت دے دی تھی اور یمامہ اس قسم کے حالات سے بالکل خالی تھا۔

عذر سیزدہم

یہ ہے کہ: ”مولوی محمد حسین نے اپنے ماہنامہ اشاعۃ السنۃ کے اندر مہدی موعود کے انکار کو کفر کہا اور گورنمنٹ برطانیہ کو خوش کرنے کے لئے مہدی موعود کا انکار کرلیا۔“

(اعجاز احمدی ص ١٢، خزائن ج ١٩ ص ١١٨)

الجواب اولاً

یہ کہ ایک با علم اور متدین شخص سے ایسا ہونا بالکل خلاف توقع ہے جب کہ ایک معمولی فہم و فراست کا آدمی بھی ایسا کرنے سے اپنے آپ کو بچاتا ہے۔ دراصل مرزا قادیانی کی طرف سے کہی بات ایک بہتان عظیم اور سوچا سمجھا منصوبہ ہے۔

الجواب ثانیاً

یہ ہے کہ اتنے بڑے بہتان کے لئے دونوں متضاد بیانوں کا یہاں پر نقل کرنا ضروری

٧ کرنا ضروری

٧٢

صفحہ ٣٨١

تھا تا کہ مولوی محمد حسین کی ہیرا پھیری سے پردہ اٹھ جاتا اور وہ ذلیل ورسوا ہوتا۔ لیکن ایسا نہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ سب کا سب منصوبہ مرزا قادیانی کی عیاری اور گہری چالاکی کا نمونہ ہے۔ ورنہ اصل واقعہ لاشئ کا درجہ رکھتا ہے جس کو موجود کا نام ومقام دیا گیا ہے۔ یعنی مولوی محمد حسین دو متضاد بیانوں کا قطعا مجرم نہیں ہے اور اس کو بلا جواز مجرم کہا گیا ہے۔

عذر چہارم ونہم

یہ ہے کہ آیت: ”اهدنا الصراط المستقيم صراط الذین انعمت عليهم“ بتاتی ہے کہ مثیل مسیح اسی امت محمدیہ سے آئے گا۔

(اعجاز احمدی ص ١٣، خزائن ج ١٩ ص ١٢٠)

الجواب اولاً

یہ ہے کہ آیت ہٰذا میں مغضوب اور گمراہ لوگوں کی راہ کے خلاف ایک راہ مستقیم کو حاصل کرنے کے لئے کہا گیا ہے۔ چنانچہ یہود نے بزعم خود حضرت مسیح کو صلیب پر لٹکا کر مارا اور نصاریٰ نے اسی صلیبی موت کو درست اور صحیح تسلیم کر لیا اور اہل اسلام نے یہود ونصاریٰ کے برعکس حضرت مسیح کو صلیبی موت کے الزام سے محفوظ رکھا اور اس کو رفع آسمانی کا اعزاز دیا۔ ان حالات میں مرزا قادیانی یہود ونصاریٰ کا مثیل بن کر حضرت مسیح کو صلیب پر چڑھانے کا قائل ہے اور راہ مستقیم کو چھوڑ کر راہ غضب وضلال کو اپنانے والا ہے۔

بنا برآں مرزا قادیانی یقیناً یہود ونصاریٰ کا مثیل ہے اور مثیل مسیح نہیں ہے۔ کیونکہ حضرت مسیح نے حکومت یہود کا محکوم ہونا قبول نہ کیا اور مرزا قادیانی نے عیسائیوں کی کافر حکومت کی غلامی قبول کر لی اور غلامی ومحکومی میں مر کر جہنم رسید ہوا۔ چنانچہ یہی وجہ ہے کہ وہ اعداداً غلام کفار یا کافر غلام ثابت ہوتا ہے۔ مرزا غلام احمد ١٣٧٢ (غلام کفار ١٣٧٢) یا غلام کافر ١٣٧٢ یعنی مرزا قادیانی برطانیہ کا غلام رہا یا وہ خود کافر غلام رہ کر مر گیا۔

لیکن یہود ونصاریٰ اور مرزا قادیانی میں فرق صرف اتنا ہے کہ یہود ونصاریٰ حضرت مسیح کو صلیب پر چڑھا کر صلیب پر مارتے ہیں اور مرزا قادیانی اس کو صلیب پر چڑھانے کے بعد بحالت بیہوشی صلیب سے اتارتا ہے اور پھر باہوش بنا کر ریاست کشمیر میں لے جاتا ہے اور وہاں پر اس کو طبعی موت سے مار کر مدفون بتاتا ہے۔ قلت:

ہر کہ عیسیٰ را دہد دار یہود
یا یہودی ہست یا یار یہود

جو شخص حضرت عیسیٰ کو صلیب یہود دیتا ہے وہ یا تو یہودی ہے اور یا وہ یہود کا یار ہے۔

٧٣

صفحہ ٣٨٢
داد او را چوں یہوداں دار ایں حیف بر کردار ایں مرد لعیں

اس نے یہود کی مانند اس کو صلیب دے دی ہے اس ملعون شخص کے اسی کام پر افسوس آتا ہے۔

می دہد ایں مرد عیسیٰ را صلیب ہست ایں کردار کردار رقیب

یہ شخص حضرت عیسیٰ کو صلیب دیتا ہے اور یہی کام ایک مخالف آدمی کا کام ہو سکتا ہے۔

کرد ایں کس خویش را مثل یہود تا شود حاصل او را وصل یہود

اس شخص نے اپنے کو یہود کا مثیل بنا لیا تا کہ اس کو یہود کا وصال میسر آ جائے۔

نیز جاننا چاہئے کہ آیت ہذا کے کسی لفظ سے یہ بات ثابت نہیں ہے کہ مسیح موعود امت محمدیہ میں سے برپا ہوگا۔ میں کچھ قدرے آگے چل کر بیان کروں گا اور قدرے بیان کر چکا ہوں۔ دراصل عبارت یوں ہے: ”الذین انعمت علیهم“ سے مراد رفعت و عظمت کی بنیاد پر آنحضرت ﷺ ہیں۔ دراصل عبارت یوں ہے: ”اهدنا الصراط المستقيم صراط محمدن الذی انعمت عليه“ یعنی ہم کو محمد ﷺ کی راہ کی ہدایت دے جو سیدھی راہ ہے۔

علاوہ ازیں فقرہ ”الذين انعمت علیهم“ کے اعداد ١٥٠٧ ہیں اور فقرہ ”محمد المنعم بختم النبوة دائماً“ کے اعداد بھی ١٥٠٧ ہیں۔ بنا براں معلوم ہو گیا کہ مذکورہ قرآنی فقرہ سے مراد آنحضرت ﷺ ہیں جن کو ختم نبوت کا انعام مل چکا ہے اور مؤمنین قرآن کو آپ ﷺ کے راستہ پر چلنے کی ہدایت کی گئی ہے جو فی الحقیقت صراط مستقیم اور راہ راست ہے۔

عذر پانزدہم

یہ ہے کہ: ”مرزا قادیانی مولوی ثناء اللہ کے ساتھ مباہلہ کرنے کو تیار ہے۔ لیکن مباہلہ کے اندر قتل کی موت کو فیصلہ کن نہ بنایا جائے۔ کیونکہ مروجہ حکومت ایسی موت کے مباہلہ سے مانع ہے۔“

(اعجاز احمدی ص ١٤، خزائن ج ١٩ ص ١٢٢)

الجواب

یہ ہے کہ مرزا قادیانی چونکہ کاذب و بطال تھا۔ اس لئے گورنمنٹ کے قانون کو بہانہ بنا کر مباہلہ قتل سے ڈر کر میدان مباہلہ میں آنے سے بھاگ نکلا۔ کیونکہ وہ مولوی ثناء اللہ صاحب کے بالمقابل آنے سے ایسے ڈرتا تھا۔ جیسے کہ ایک کوا شکاری آدمی کے ہاتھ میں تیر و کمان کو دیکھ کر فوراً بھاگ جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ اعداداً ایک عیار کوا بن کر سامنے آتا ہے۔ غلام احمد ١١٣٤، زاغ قوی ١١٣٤، وہ ایک طاقتور کوا ہے یا غلام احمد قادیانی ١٣٠٠، مرغ دون ١٣٠٠، وہ ایک کمینہ پرندہ ہے۔

٧٤

صفحہ ٣٨٣

مولوی غلام دستگیر قصوری نے مرزا قادیانی کے ساتھ شرائط مباہلہ طے کر کے کبھی بھی مباہلہ نہیں کیا۔ ہاں اس نے اس کے بارے میں صرف یہ دعا کی تھی کہ اے خدائے برتر! اس کو ہدایت و ہلاکت میں سے ایک چیز ضرور دے دے تا کہ عوام الناس میں اس کے برپا کردہ فتنہ سے بچ جائیں۔ مگر خدا تعالیٰ نے بموجب آیت: ”ويمدهم فی طغيانهم يعمهون“ ﴿اور خدا تعالیٰ ان کو سرکشی اور بے راہ روی میں ڈھیل دیتا ہے۔﴾ اس کو ڈھیل دے دی اور آنے والے وقت کے لئے اس کی ہلاکت کو ٹال دیا۔ جیسا کہ اعداد آیات ہے۔ ”ويمدهم فی طغيانهم يعمهون = ١٣٩١“ میرزا غلام احمد حقا = ١٣٩١ یعنی آیت ہذا سے مراد قرآن، حقیقتاً مرزا غلام احمد ہے۔ چنانچہ اس نے مولوی ثناء اللہ صاحب کے ساتھ چھیڑ خانی شروع کر دی اور اپنی عبرتناک ہلاکت کو بلانے کی ابتداء کرتے ہوئے ان کو آخری فیصلہ کی دعوت دے دی۔

مولوی ثناء اللہ کے ساتھ آخری فیصلہ

مرزا قادیانی نے زیر جواب کتاب کو شائع کرنے کے بعد تقریباً چار سال تک خاموشی اختیار کر لی اور مولوی صاحب سے کسی قسم کی چھیڑ خانی کا اقدام نہ کیا اور نہ ان سے بحث و مباحثہ کے لئے کسی نوع کا رابطہ پیدا کیا۔ لیکن چونکہ اس شخص کی فطرت میں فتنہ و فساد اور ہیرا پھیری کا مواد کوٹ کوٹ کر بھرا گیا تھا۔ اس لئے اس کا خاموش و ساکن رہنا ناممکنات میں سے تھا۔ یہی وجہ ہے کہ مورخہ ١٥؍ اپریل ١٩٠٧ء کو اس نے اپنی فطرت و جبلت سے مجبور ہو کر مولوی صاحب کے خلاف آخری فیصلہ کا ایک لمبا چوڑا اشتہار شائع کر دیا جس کے آخر میں درج ذیل دعائیہ فقرات لکھے: ”اے اللہ! مجھ میں اور ثناء اللہ میں سچا فیصلہ فرما اور وہ جو تیری نگاہ میں حقیقت میں مفسد اور کذاب ہے اس کو صادق کی زندگی ہی میں دنیا سے اٹھا لے یا کسی اور سخت آفت میں جو موت کے برابر ہو مبتلا کر۔ اے میرے پیارے مالک! تو ایسا ہی کر۔ امین ثم آمین۔“

(مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٥٧٩)

اور اس نے اس کے علاوہ بطور دو گواہان کے اپنے اشتہار کے شروع میں آیت: ”ويستنبؤنك احق هو قل ای وربی انه لحق“ مخالف تجھ سے پوچھتے ہیں کہ کیا وحی عذاب درست ہے تو کہہ دے ہاں! خدا کی قسم یہی عذاب درست ہے۔

(مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٥٧٨)

٧٥

صفحہ ٣٨٤

درج کی اور پھر اشتہار کے آخر میں آیت: ”ربنا افتح بيننا وبين قومنا بالحق وانت خير الفاتحين “ اے اللہ ! ہمارے اور ہماری قوم ( ثناء اللہ ) کے درمیان سچا فیصلہ دینے والا ہے۔

(مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٥٧٩)

تحریر کی اور خدا تعالیٰ سے اسی طرح کا فیصلہ مانگا جس طرح کا فیصلہ نوح اور قوم نوح کے درمیان ہو چکا تھا۔ بنا بر آں حسب استدعا مرزا خدا تعالیٰ نے مورخہ ١٣٢٦ھ مطابق ٢٦ مئی ١٩٠٨ء کو یہ فیصلہ صادر فرمایا کہ مرزا قادیانی صوبہ پنجاب کے صدر مقام لاہور کے اندر اچانک مرض ہیضہ میں مبتلا ہو کر ہلاک ہو گیا اور بروئے اشتہار خود اور موافق دعائے خود کاذب ٹھہرا اور صادق کی زندگی میں مر گیا اور قرآن حکیم کی ہر دو آیات نے بطور دو گواہان کے شہادت دے دی کہ یہی فیصلہ خدائی فیصلہ ہے اور بالکل صحیح فیصلہ ہے۔ جس طرح کا صحیح فیصلہ نوح اور قوم نوح کے درمیان ہو چکا ہے۔ چنانچہ اعداد مرزا قادیانی کا ہجری سال وفات لفظ ”روح خبیث / ١٣٢٦“ اور لفظ ”ذرية الشياطين / ١٣٢٦“ بمعنی اولاد شیطان اور فقرہ ”هو غوی هلک بلاهور / ١٣٢٦“ اور وہ گمراہ آدمی لاہور میں ہلاک ہو گیا اور ”غدار الملک / ١٣٢٦“ سے برآمد ہوتا ہے اور عیسوی سال وفات آیت:

”حقت كلمة العذاب علی الکافرین / ١٩٠٨“ کافروں پر عذاب کا فیصلہ حق ہے۔

اور لفظ ”مغضب اللہ / ١٩٠٨“ بمعنی مغضوب خدا سے نکلتا ہے اور اس کی ناری اور عذابی موت صحیح ہے اور مرزا قادیانی خود اعداداً جہنمی اور ناری بنتا ہے۔

مرزا غلام احمد / ١٣٧٢ ”شذ فی النار / ١٣٧٢“ یعنی مرزا غلام احمد قادیانی آگ میں گر گیا اور ناری بنا، اور پھر اسی کتاب (اعجاز احمدی ٹائٹل بار اول، خزائن ج ١٩ ص ١٠٥) پر ١٨ بار مکتوبہ آیت ”الیس اللہ بکاف عبدہ “ نے اس کی مدد نہ کی اور اس کو ہلاک ہونے سے نہ روکا۔

علاوہ ازیں مرزا قادیانی نے زیر جواب کتاب کے صفحہ ٢١، ٢٠ پر بھی اسی قسم کی فیصلہ کن دعا لکھی ہے اور خدائی فیصلہ مانگا ہے: ”تو ہم میں اور مخالفین ( ثناء اللہ ومحمد حسین و پیر مہر علی شاہ صاحبان ) میں فیصلہ کر دے اور وہ جو تیری نگاہ میں صادق ہے اس کو ضائع مت کر کہ صادق کے ضائع ہونے سے ایک جہاں ضائع ہو گا....... میں کیوں کر کہوں اور کیوں کر میرا دل قبول کرے کہ تو صادق کو ذلت کے ساتھ قبر میں اتارے گا اور اوباشانہ زندگی والے کیونکر فتح پائیں گے۔“

(اعجاز احمدی ص ١٦، ١٧، خزائن ج ١٩ ص ١٢٤، ١٢٥)

٧٦

صفحہ ٣٨٥

چنانچہ مرزا قادیانی اپنی اسی بددعا کے چھ سال بعد ہلاک ہو گیا اور اس کے مذکورہ مخالفین عرصہ دراز تک زندہ اور مرفه الحال رہے۔ چونکہ زیر جواب کتاب کا مؤلف (غلام احمد قادیانی) خود بذاتہ اوباش زندگی سے ہمکنار رہا۔ اس لئے اعداداً بجائے اپنے مخالفین کے وہ خود ہی اعداداً اوباش شخص ثابت ہوا اور اس کے مخالفین اوباش شخصیت کی زد سے محفوظ و مامون رہے۔ کیونکہ اعدادی طور پر صرف ”غلام احمد قادیانی /١٣٠٠“ اور ”اوباش شخص /١٣٠٠“ کے اعداد برابر ہیں جو پورے تیرہ صد (١٣٠٠) ہیں اور اس کے مخالفین اسی اعدادی اتحاد سے الگ تھلگ رہ جاتے ہیں اور اوباش اشخاص نہیں بنتے۔

عذر شانزدہم

یہ ہے کہ: ”آیت ”فلما توفیتنی“ کی موجودگی میں خدا تعالیٰ اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام دونوں (نعوذ باللہ) کاذب ٹھہرتے ہیں۔“

(اعجاز احمدی ص ١٧، خزائن ج ١٩ص ١٢٥)

الجواب

یہ ہے کہ مرزا قادیانی کی فہم و فراست آیت ہذا کے سمجھنے سے قاصر رہی ہے۔ جس سے اس کو خدا تعالیٰ اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کاذب نظر آئے۔ وجہ یہ ہے کہ امت عیسیٰ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی موجودگی میں بگڑ کر عیسیٰ پرست بن گئی تھی اور اس کو خدا یا ابن اللہ ماننے لگے تھے۔ جیسا کہ آیت ذیل: ”وکنت علیهم شهیداً ما دمت فیهم “ میں جب تک ان میں موجود رہا ان کے خلاف شاہد و نگران رہا۔ ﴾ سے واضح ہے۔ چنانچہ ”شھدت علیه“ اور ”کنت عليه شهیداً“ کا مفہوم یہ ہے کہ میری نگرانی اور دیکھ بھال اس کے خلاف رہی اور وہ میرے خلاف ارادہ و مشاہدہ کام کرتا رہا۔ جیسا کہ آیت ذیل سے وضاحت ہوتی ہے۔

”وشهدوا علیٰ انفسهم انهم كانوا کفرین“ انہوں نے اپنے خلاف یہ شہادت دی کہ وہ خود کافر ہیں۔

بنا بر آں زیر بحث آیت کا مطلب یہ رہا کہ امت عیسیٰ منشائے عیسیٰ کے خلاف کام کرتی رہی اور حضرت عیسیٰ اپنی موجودگی میں ان کی اصلاحات میں کوشاں رہے۔ مگر وہ بدستور حضرت عیسیٰ کو خدا یا ابن خدا کہتے رہے۔ جیسا کہ انجیل متی باب ١٦ آیت ١٥ سے پایا جاتا ہے۔

”اس (عیسیٰ) نے ان (شاگردوں) سے کہا مگر تم مجھے کیا کہتے ہو، شمعون پطرس نے جواب میں کہا تو زندہ خدا کا بیٹا مسیح ہے۔“

٧٧

صفحہ ٣٨٦

ان حالات کے پیش نظر مرزا قادیانی کا یہ کہنا کہ امت عیسیٰ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی موجودگی میں نہیں بگڑی۔ بلکہ اس کے جانے یا مرنے کے بعد بگڑی ہے، غلط ہے۔ کیونکہ آیت زیر بحث کا کوئی لفظ بھی مرزائی نظریہ کی تائید و تصدیق کے لئے آمادہ نہیں ہے۔ باقی یہاں پر ایک اعتراض ہو سکتا ہے کہ جب امت عیسیٰ خود حضرت عیسیٰ کی موجودگی میں بگڑی تھی اور حضرت عیسیٰ ان کا بگاڑ بچشم خود دیکھ چکے تھے تو پھر وہ بقول قرآن خدا تعالیٰ کے سامنے اپنی عدم ذمہ داری کا اظہار کیوں کریں گے۔ جب کہ وہ اپنی امت کا بگاڑ وضلال بچشم خود دیکھ چکے تھے اور ان کو اپنی موجودگی میں باز رہنے کے لئے کہتے رہے۔

جواب یہ ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے دو زمانے ہیں۔ ایک اپنی امت میں رہنے کا زمانہ ہے اور دوسرا زمانہ اپنی امت کو چھوڑ کر قیام آسمان کا زمانہ ہے۔ بنابرآں ان کی عدم ذمہ داری کا تعلق صرف قیام آسمان کے زمانے سے ہے۔ اپنی امت کے اندر رہنے کے زمانہ سے نہیں۔ یعنی حضرت عیسیٰ علیہ السلام خدا تعالیٰ کی جواب دہی پر کہیں گے کہ میں جب تک اپنی امت میں موجود رہا تو ان کے بگاڑ و فساد سے باخبر رہا اور ان کی اصلاح میں کوشاں رہا۔ لیکن جب میں ان کو چھوڑ کر آسمان پر آ گیا تو ان کے حالات کا ذمہ دار نہیں کہ انہوں نے کیا کیا اور ان پر کیا گزری۔ اب صرف تو ہی اے اللہ ان کے حالات سے باخبر اور عالم ہے۔ کیونکہ تو علیم و خبیر ہے اور عالم الغیب والشہادۃ ہے اور میں عالم الغیب نہیں ہوں۔ اب زیر بحث پوری آیت کی مختصر تشریح و تفسیر بطور ذیل ہے۔

الف ...... ”ماقلت لهم الا ما امرتنی به ان اعبدوا الله ربی وربکم “ ﴿میں نے ان کو وہی کچھ کہا جس کا تو نے مجھے حکم دیا کہ تم صرف خدا تعالیٰ کی عبادت کرو۔﴾

مطلب یہ ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے اپنی امت کو صرف توحید خالص کی تعلیم و تبلیغ کی اور تثلیث وغیرہ کا عقیدہ انہوں نے از خود گھڑ لیا۔

ب ....... ”وكنت عليهم شهيداً مادمت فيهم “ ﴿میں جب تک ان میں رہا ان کے خلاف نگران و شاہد رہا۔﴾

مطلب یہ ہے کہ جب تک عیسیٰ علیہ السلام ان میں رہے ان کے کرتوت اور عقائد دیکھتے رہے اور ان کو باز رہنے کے لئے کہتے رہے۔ مگر وہ نہ مانے اور اپنی گمراہی پر بضد قائم رہے اور بدستور حضرت عیسیٰ کو خدا یا ابن خدا کہتے رہے۔

٧٨

صفحہ ٣٨٧

ج...... "فلما توفيتنى كنت انت الرقيب عليهم وانت على كل شئ شهيد"

﴿پھر جب تو نے مجھے اپنے قبضہ میں لیا تو صرف تو ہی ان کا نگران رہا۔ کیونکہ تو ہر چیز پر حاضر وناظر ہے۔﴾

مطلب یہ ہے کہ جب خدا تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو اپنے قبضہ میں لے کر مقیم آسمان بنا لیا۔ تو حضرت عیسیٰ کی ذمہ داری ختم ہو گئی اور بجائے اسکے خدا تعالیٰ کی ذمہ داری نے چارج سنبھال لیا اور عیسیٰ علیہ السلام عنداللہ مابعد زمانہ کے جوابدہ نہ رہے۔

اب یہاں صرف لفظ "توفی" کو زیر بحث لایا جاتا ہے۔ کیونکہ یہی لفظ عند الفریقین محل نزاع ہے اور اسی لفظ پر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی حیات و ممات کا دارومدار ہے۔ جاننا چاہئے کہ کلام عرب میں لفظ "توفی" کے دو معانی مستعمل ہیں۔ ایک معنی "اخذ الشئ وافیاً" کسی چیز کا پورا پورا وصول کرنا جیسے "توفیت دراهمی من فلان" میں نے فلاں آدمی سے اپنے پیسے پورے وصول کر لئے اور جیسا کہ آیت ذیل میں ہے:

"واتقوا يوماً ترجعون فيه الى الله ثم توفى كل نفس ما كسبت وهم لا يظلمون" ﴿اور تم لوگ اس دن سے ڈرو جس میں تم خدا تعالیٰ کی طرف لوٹائے جاؤ گے اور ہر شخص کو اپنی کمائی پوری دی جائے گی اور اس میں کمی نہیں ہوگی۔﴾

اور دوسرا معنی "اماتة الشئ الحی" کسی زندہ چیز کو مارنا اور موت دینا ہے۔ جیسے

"توفاه الله على فراشه" خدا تعالیٰ نے اس کو اس کے بستر پر موت دے دی۔

بحالت بالا آیت زیر نزاع "فلما توفيتنى" میں لفظ "توفی" کا معنی اول مراد ہے۔ یعنی جب تو نے مجھ کو میری امت سے پورا پورا بمع جسم و روح کے وصول کر لیا تو میری بجائے تو ہی ان کا شاہد و نگران بن گیا۔ اگر کہا جاوے کہ لفظ توفی کا معنی پورا پورا وصول کرنا اس وقت لیا جاتا ہے جب کہ اس کا صلہ حرف من لفظاً موجود ہو۔ مگر یہاں پر جب یہ صلہ موجود نہیں ہے تو پھر یہاں پر پورا پورا لینے کا معنی نہیں لیا جا سکتا۔

جواب یہ ہے کہ یہاں پر حرف من صلۂ توفی محذوف ہے اور اصل عبارت یوں ہے۔

"فلما توفيتنى منهم" جب تو نے مجھے ان سے پورا وصول کر لیا تو تو ہی ان کا نگران رہا۔

میں نے یہاں پر حرف من کا محذوف ہونا اس لئے کہا ہے کہ میں قبل ازیں بتا چکا ہوں کہ آیت "یا عیسیٰ انی متوفیک ورافعک الی ومطهرک من الذین کفروا" میں فقرہ "من الذین کفروا" علیٰ سبیل التنازع ماقبل کے تینوں اسمائے فاعل سے متعلق ہے اور

٧٩

صفحہ ٣٨٨

اصل عبارت یوں ہے: ”یٰعیسیٰ انی متوفیک من الذین کفروا ورافعک الیٰ من الذین کفروا ومطہرک من الذین کفروا“ چنانچہ جب یہاں پر لفظ توفی کا صلہ حرف من لفظاً موجود ہے تو وہاں پر بھی لفظ توفی کا صلہ حرف من معناً اور حذفا ً موجود ہے۔

علاوہ ازیں قرآن مجید کے اندر آیت: ”اللہ یتوفی الانفس حین موتھا“ میں بھی لفظ توفی کا صلہ حرف من محذوف ہے اور اصل عبارت یوں ہے: ”اللہ یتوفی الانفس من ابدانھا حین موتھا (الآیہ)“ جب اللہ تعالیٰ بوقت موت روحوں کو ان کے ابدان سے پورا پورا وصول کرتا ہے تو مرنے والوں کی ارواح کو روک لیتا ہے۔ بقیہ کو چھوڑ دیتا ہے اور پھر وہ اپنے ابدان میں واپس آجاتی ہیں۔ چونکہ دیگر مفسرین نے مذکورہ بالا توجیہ کو صراحتاً ذکر نہیں کیا۔ اس لئے یہی توجیہہ میرا ایک علمی نشان ہے۔

عذر ہفدہم

یہ ہے کہ آیت: ”وما محمد الا رسول قد خلت من قبلہ الرسل“ کے اندر خدا نے سب نبیوں کی وفات ایک مشترک لفظ ”خلت“ میں ظاہر کر دی اور حضرت عیسیٰ کے لئے کوئی خاص لفظ استعمال نہیں کیا کہ وہ اسی لفظ میں شامل نہ رہے۔

(اعجاز احمدی ص ١٨، خزائن ج ١٩ ص ١٢٦)

الجواب اولاً

خلت کا معنی مبعث ہے نہ کہ موت۔ اگر موت معنی لیں بھی تو یہ ہے کہ آیت ہذا اکثریت کی بنیاد پر رسولوں کی وفات کا اظہار کرتی ہے۔ کیونکہ کم و بیش ایک لاکھ چوبیس ہزار انبیاء کے پیش نظر چونکہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی زندگی مقام اقلیت میں تھی۔ اس لئے اس کے لئے کوئی استثنائی لفظ نہیں لایا گیا۔ کیونکہ ”للاکثر حکم الکل“ اکثریت کو حکم کل ملتا ہے اور ”القلیل کالمعدوم“ اقلیت کالعدم سمجھی جاتی ہے۔ بنا بر آں قرآن عزیز نے اقلیت کی بناء پر موت عیسیٰ کا استثناء نہیں کیا۔

الجواب ثانیاً

یہ ہے کہ واقعی آیت ہذا بلفظ ”خلت“ تمام انبیاء کی وفات پر مشتمل ہے۔ لیکن عیسیٰ علیہ السلام کے بغیر تمام انبیاء ورسل حقیقتاً وفات یافتہ ہیں اور عیسیٰ علیہ السلام صرف حکمی مردہ بمعنی تارک وطن ہے۔ کیونکہ مدت دراز کے تارک وطن کو حکماً مردہ اور وفات یافتہ سمجھا جاتا ہے۔ جیسے

٨٠

صفحہ ٣٨٩

پاکستان کے تارکین وطن کو ہندوستان نے اور ہندوستان کے تارکین وطن کو پاکستان نے مردہ اور ہلاک قرار دے کر ان کی متروکہ جائیداد نیلام کر دی ہیں اور وہ مستحقین کو الاٹ ہو گئی ہیں۔ حالانکہ دونوں قسم کے تارکین وطن کی اکثریت حقیقتاً اب تک زندہ ہے اور شاغل بکار ہے۔ لہٰذا چونکہ عیسیٰ علیہ السلام مدت دراز کے لئے تارک وطن ہو کر بطور مہاجر کے مقیم آسمان ہیں۔ اس لئے ان کو مجازاً لفظ ”خلت“ میں شامل کیا گیا ہے۔ لیکن وہ اب تک زندہ ہیں۔

الجواب ثالثاً

یہ ہے کہ چونکہ قرآن مجید کے اندر صرف حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں نفی قتل کے بعد رفع الی اللہ کا لفظ صراحۃً مذکور تھا۔ جیسے : ”وما قتلوہ یقیناً بل رفعہ اللہ الیہ “ اور مفہوم یہ ہے کہ وہ قتل سے بچ کر مرفوع الی اللہ ہو چکے ہیں۔ اس لئے صحابہ کرامؓ نے آنحضرت ﷺ کی وفات کے وقت حضرت ابوبکر صدیقؓ کے آگے حیات عیسیٰ کا عذر پیش نہ کیا۔ جب کہ حضرت عمرؓ نے حیات عیسیٰ کی بنیاد پر وفات مصطفیٰ کا انکار کر دیا تھا۔

ہاں! یہاں ایک اعتراض باقی رہ جاتا ہے اور وہ یہ ہے کہ آیت ہٰذا میں علم البلاغہ کی ایک قسم قصر الموصوف علی الصفہ مستعمل و موجود ہے۔ جس کا مفہوم یہ ہوتا ہے کہ موصوف اپنی مذکورہ صفت کا پابند ہے اور صفت آزاد ہو کر دیگر موصوف میں بھی پائی جا سکتی ہے۔ اب آیت ہٰذا کا مطلب یہ ہے کہ حضرت محمد ﷺ کے پابند رسالت اور رسول خدا ہونے کے بعد آپ ﷺ سے پہلے اور پیچھے بھی رسولان خدا ہو سکتے ہیں۔ لہٰذا مسیلمہ کذاب اور غلام پنجاب بھی سچے رسولان خدا ہو سکتے ہیں۔ لیکن اس سوال کا جواب یہ دیا گیا ہے کہ آپ ﷺ سے قبل رسولان خدا فقرہ ”قد خلت من قبلہ الرسل“ کے پیش نظر ہو سکتے ہیں اور ہوئے ہیں اور آپ ﷺ کے بعد نہ رسولان خدا ہو سکتے ہیں اور نہ ہوں گے۔ کیونکہ اسی امکان کے لئے آیت ہٰذا میں کوئی لفظ موجود نہیں ہے۔ لہٰذا یہی آیت ختم رسالت کے بارے میں مقام صراحت کی حامل ہے۔

الجواب رابعاً

یہ ہے کہ آیت زیر بحث سے حیات مسیح کا صریح ثبوت مہیا ہوتا ہے۔ کیونکہ اگر آیت ہٰذا کو آیت: ”ما المسیح ابن مریم الا رسول قد خلت من قبلہ الرسل“ (کہ بلاشبہ مسیح ابن مریم رسول خدا ہے اور اس سے پہلے بھی رسولان خدا گزر چکے ہیں۔ (وفات پا چکے ہیں)) سے ملا کر بالترتیب قرآن محمدی آیت کو پہلے اور مسیحی آیت بعد میں رکھ کر پڑھ جائے تو دونوں آیات کا مفہوم یہ ہو گا کہ محمد ﷺ سے پہلے تمام رسول بمع عیسیٰ کے فوت ہو چکے ہیں۔ لیکن

٨١

صفحہ ٣٩٠

جب یہ کہا جائے گا کہ مسیح ابن مریم سے پہلے تمام رسولان خدا فوت ہو چکے ہیں تو عیسیٰ علیہ السلام وفات یافتہ رسولوں سے مستثنیٰ رہیں گے اور زندہ قرار پائیں گے۔ گویا محمدی آیت مستثنیٰ منہ کے مقام میں ہے اور مسیحی آیت مستثنیٰ کا درجہ رکھتی ہے۔ چنانچہ محمدی آیت نے تمام انبیاء ورسل کو بمعہ عیسیٰ کے وفات یافتہ بتایا اور مسیحی آیت نے حضرت عیسیٰ کو ان سے بصورت استثناء الگ کر لیا اور زندہ قرار دے دیا۔ جیسے ”ما جآء نی القوم الا زیداً“ کہہ کر یہ مفہوم لیا جاتا ہے کہ ساری قوم بمعہ زید کے متکلم کے پاس نہیں آئی اور زید نہ آنے والوں میں شامل رہا اور پھر زید کو قوم سے الگ کر کے کہا گیا کہ صرف زید آیا ہے۔ بنا برآں خلاصۃ الکلام یہ رہا کہ جس طرح مثال ہذا میں ساری قوم زید کی نفی کر کے صرف زید کو آنے والا ظاہر کیا گیا ہے۔ اسی طرح دونوں آیات بالا کے ملانے پر پہلے پہل آیت محمدی میں تمام رسل کو وفات یافتہ بنا کر کے آیت مسیحی میں حضرت عیسیٰ کو بطور استثناء کے زندہ ثابت کیا گیا ہے۔ میری تشریح بالا کے بعد قارئین کرام کو یہ بات ہرگز نہ بھولنی چاہئے کہ مرزا قادیانی اور مرزائی صاحبان قرآن مجید کی موجودہ تنظیم وترتیب کو جو اعجاز قرآن کا ایک اہم حصہ ہے۔ بدل کر آیت مسیحی کو پہلے اور آیت محمدی کو پیچھے رکھ لیتے ہیں اور وفات مسیح کو ثابت کر کے عوام و جہال کو مغالطہ دے کر کہتے ہیں کہ دیکھو قرآن مجید سے وفات مسیح ثابت ہے۔ حالانکہ قرآن کی موجودہ ترتیب کو بدل کر ایک غلط مفہوم نکالنا بھی تحریف قرآن کا ایک حصہ ہے۔ جس کو یہود نما مرزا اور مرزائی صاحبان انجام دیتے ہیں۔

جاننا چاہئے کہ مرزا قادیانی کا یہ مغالطہ قابل افسوس ہے کہ عیسیٰ کے مقیم آسمان ہونے اور آنحضرت ﷺ کے زیر خاک جانے سے توہین نبی ﷺ نکلتی ہے۔ حالانکہ ایک تنکہ پانی کے اوپر تیرتا ہے اور آبدار موتی پانی کی تہہ میں بیٹھتا ہے۔ کیا اس طرح پر موتی کی قدر و منزلت گھٹ جاتی ہے اور تنکہ موتی کا مقام حاصل کر لیتا ہے؟ ہرگز نہیں بلکہ موتی جہاں بھی ہو بادشاہوں کے تاج پر بیٹھتا ہے اور تنکہ جہاں بھی ہو خاک پر ڈالا جاتا ہے یا جلتی آگ میں جگہ لیتا ہے۔ کیونکہ ؎

صدر آنجا کہ نشیند صدر است
”بادشاہ جہاں بیٹھتا ہے بادشاہ رہتا ہے۔“

عذر ہجدہم

یہ ہے کہ: ”ابو ہریرہؓ ایک غبی اور کم فہم صحابی تھا جس نے آیات واحادیث میں سے حیات عیسیٰ کو صحیح سمجھا ہے۔ حالانکہ حیات عیسیٰ قرآن واحادیث سے ثابت نہیں ہے۔“

(اعجاز احمدی ص ١٨، خزائن ج ١٩ ص ١٢٧)

٨٢

صفحہ ٣٩١

الجواب

یہ ہے کہ ایک حافظ الاحادیث صحابی کو غبی اور کم فہم اور بے درایت اور بے فراست کہنا انتہاء درجہ کی گستاخی اور خطرناک گمراہی ہے۔ حالانکہ تمام مشہور صحابہ عقلائے امت تھے اور سیدنا ابو ہریرہؓ خصوصی طور پر افہم الرجال آدمی تھا۔ جیسا کہ اعترافا بطور ذیل ہے: ”(ابوہریرہ / ٤٢٩ هو عاقل الصحابة ابداً والله / ٤٤٩)“ یعنی بخدا سیدنا ابو ہریرہؓ ہمیشہ کا عقیل تر صحابی ہے اور

اس کے بالمقابل مرزا قادیانی ایک غبی اور کم فہم آدمی ہے۔ جیسا کہ اعترافا بطور ذیل ہے۔ (غلام احمد قادیانی / ١٤٠٠) ”غبی ابداً بالجد“ یعنی غلام احمد قادیانی صحیح طور پر ایک غبی آدمی ہے۔

دراصل مرزا قادیانی اس بزرگ صحابی پر اس لئے ناراض و ناخوش ہے کہ وہ حیات مسیح کی احادیث کا راوی ہے اور بالخصوص اس کی مرویات میں درج ذیل حدیث زیادہ مشہور ہے۔ جو ایک آیت قرآن پر بھی مشتمل ہے اور علامات مسیح اور رفع مسیح کے ساتھ نزول مسیح کو بھی بیان کرنے والی ہے۔

”عن ابی ھریرةؓ قال قال رسول اللہ ﷺ والذی نفسی بیدہ لیوشکن ان ینزل فیکم ابن مریم حكماً عدلاً فیکسر الصلیب ویقتل الخنزیر ویضع الحرب ویفیض المال حتى لا یقبله احد حتى تكون السجدة الواحدة خيراً من الدنیا وما فیھا ثم یقول ابوھریرة فاقرؤا ان شئتم وان من اھل الکتاب الا لیؤمنن بہ قبل موتہ “ ﴿حضرت ابو ہریرہؓ کا بیان ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ مجھے اس خدا تعالیٰ کی قسم ہے جس کے ہاتھ میں میری جان ہے۔ عنقریب تمہارے اندر ابن مریم حاکم عادل بن کر نازل ہوگا اور صلیب کو توڑے گا اور خنزیر کو قتل کرے گا اور جنگ کو بند کردے گا اور مال و زر کو بہائے گا۔ حتیٰ کہ اس کو کوئی شخص قبول نہیں کرے گا۔ یہاں تک کہ ایک سجدہ دنیا و مافیہا سے بہتر ہوگا۔ پھر ابو ہریرہؓ فرماتے ہیں کہ اگر چاہو تو یہ آیت پڑھو کہ: ”اہل کتاب میں سے ہر ایک شخص مسیح کے قبل الموت اس پر ایمان لائے گا۔“﴾

میں اس سلسلہ میں قارئین کرام کے سامنے حدیث بالا کی تشریح و تفصیل میں اپنا وہ تیسرا خط پیش کرتا ہوں جو میں نے مشہور مرزائی مبلغ ابو العطاء جالندھری مدیر ماہنامہ ”الفرقان ربوہ“ کو لکھا تھا اور وہ خاموش و ساکت رہ کر جواب دینے سے کترا گیا اور جلد تر ہلاکت کی آغوش میں چلا گیا۔ کیونکہ میرے خط کی حقانیت نے اس پر دل کا دورہ ڈال دیا اور وہ ہلاک ہو گیا۔

٨٣

صفحہ ٣٩٢

مکرمی جناب ابوالعطاء صاحب جالندھری!

السلام على من اتبع الهدى

آپ میرے سوالات کے جوابات دینے سے کترا رہے ہیں۔ حالانکہ آپ کو یہ گریز وفرار قطعاً زیبا نہیں ہے۔ بہر حال میں آپ کے سامنے حضرت ابو ہریرہؓ کی روایت کردہ وہ متفق علیہ حدیث لاتا ہوں جس میں نازل ہونے والے مسیح کی علامات مذکور ہیں۔ آنحضرت ﷺ نے علامات مسیح کے متعلق اپنے بیان کو بحلف ذکر کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ قسم بخدا! تمہارے اندر ابن مریم بالضرور اور عنقریب نازل ہوگا اور قاعدہ یہ ہے کہ حالف کے بیان کو من وعن بغیر کسی قسم کی تاویل وتغیر کے ماننا پڑتا ہے۔ ورنہ حلف بے کار اور غیر مؤثر قرار پائے گی۔ بنا برآں ابن مریم سے مریم طاہرہ کا بیٹا عیسیٰ اور نزول سے مراد اوپر سے نیچے کو آنا ہوگا۔

نیز یہ بھی پیش نظر رہے کہ حدیث بالا میں مذکور سب علامات جنگ و جہاد سے متعلق ہیں۔ جیسا کہ فقرہ: ”ويضع الحرب“ یا بروایت دیگر فقرہ ”ويضع الجزية“ سے مترشح ہوتا ہے۔ چنانچہ جب ابن مریم علیہ السلام کا نزول از آسمان ہوگا تو وہ ملک کے اندر مقام نزول کی جگہ پر جنگ وقتال کو موجود پائے گا اور شامل جہاد ہو کر میدان جنگ کو فتح کر لے گا اور جنگ کے خاتمہ کا اعلان کرے گا۔ کیونکہ جنگ کا بانی دجال لعین میدان جنگ میں مارا جائے گا اور ابن مریم دجالی فوجوں کے تمام ساز وسامان اور اسلحہ جنگ اور زر و دولت پر قبضہ کر لے گا اور مفتوحین پر کسی قسم کا جزیہ وٹیکس عائد نہیں کرے گا۔ بلکہ ان سے صرف اسلام کو ہی قبول کرے گا۔ اب علامات مسیح اور الفاظ حدیث کی تشریح بطور ذیل ہے۔

استعمال سے یہ بتانا مقصود ہے کہ ابن مریم محمدی مخاطبین کا غیر ہوگا اور ان سے باہر کا آدمی ہوگا اور ان پر حاوی وحاکم ہوگا اور وہ اس کے ماتحت و محکوم ہوں گے اور ان سب پر امام مہدی امیر وخلیفہ ہوگا۔ جیسے ”الماء فی الکوز“ پانی کوزے کے اندر ہے۔ سے یہ سمجھا جاتا ہے کہ پانی کوزے سے ایک الگ چیز ہے اور کوزہ پانی سے ایک علیحدہ شے ہے اور کوزہ اسی پانی پر حاوی وحاکم ہے اور پانی محوی ومحکوم ہے اور پھر اس فقرہ میں یہ اشارہ بھی ہے کہ جب ابن مریم کا نزول ہوگا تو وہاں پر اسلامی حکومت ہوگی اور محمدی مخاطبین حاکم و بادشاہ ہوں گے اور ابن مریم ان کے ماتحت رہ کر حاکم وفیصل ہوگا۔ ان حالات میں بطور استعارہ کے مرزا قادیانی کو ابن مریم بنانا صحیح نہیں ہے۔ کیونکہ

٨٤

صفحہ ٣٩٣

اس کے دعویٰ مسیحیت کے وقت بجائے اسلامی حکومت کے برطانیہ کی کافر حکومت قائم تھی اور یہ شخص اسی حکومت کا کاشتہ پودا بن کر اٹھا تھا۔

کہ اترنے والا صرف ماں رکھتا ہوگا اور بے پدر ہوگا اور مرزا قادیانی با مادر و پدر ہو کر ابن مریم نہیں بن سکتا۔ کیونکہ مماثلت میں جسماً و روحاً یکساں ہونا ضروری ہے۔ جیسے قرآن مجید نے آدم وعیسیٰ کو ایک دوسرے کا مکمل مماثل قرار دے کر کہا ہے: ”انّ مثل عیسیٰ عند اللہ کمثل اٰدم“ ﴿بلا شبہ حضرت عیسیٰ عنداللہ حضرت آدم کا مثیل ہے۔﴾

کیونکہ حکم شخص کو فیصلہ دینے کا کلی اختیار حاصل ہوتا ہے اور اس کا فیصلہ ایک حتمی اور آخری فیصلہ تصور کیا جاتا ہے۔ لیکن وہ حاکم نہیں ہوتا اور صرف حکم ہوتا ہے۔ نیز بجائے ”حاکماً“ کے ”حکماً“ اختیار کرنے میں یہ لطافت ملحوظ ہے کہ اس وقت مسلمانوں کا حاکم اور امیر المسلمین ابن مریم نہیں ہو گا بلکہ دیگر آدمی ہوگا جو امام مہدی کے ممتاز لقب سے موسوم ومعروف ہوگا اور ابن مریم کے پاس صرف عدالتی اختیارات اور بالواسطہ حکومت ہوگی اور مرزا قادیانی کو نہ بلا واسطہ اور نہ بالواسطہ حکومت ملی۔ بلکہ عمر بھر غلام فرنگ رہا اور ان کی کفش برداری کو اپنا کارنامہ سمجھا۔

نیز ”حکم“ سن رسیدہ شخص کو بھی کہا جاتا ہے: ”رجل حکم ای مسن“ کذا فی المنجد۔ لہٰذا اس لفظ سے قرآن کریم کے لفظ ”کھلا“ کی بھی تصدیق ہوتی ہے کہ ابن مریم بوقت نزول سن رسیدہ اور شیخ وقت ہوگا۔

بمعنی علم اور جھنڈا ہے کذا فی المنجد۔

بناء برآں مطلب یہ ہے کہ ابن مریم نازل ہونے کے فوراً بعد شامل جہاد ہو کر دجال کے فوجی علم کو توڑ کر پارہ پارہ کرے گا۔ یعنی مسیح علیہ السلام جس وقت بھی نازل ہوگا دجال کو برسر پیکار پائے گا اور شامل جہاد ہو کر پہلے پہل اس کے فوجی علم کو زیر قبضہ لائے گا اور اسے شکستہ کرے گا۔ جیسا کہ میدان جنگ کے اندر متحارب فریق کے علم پر قابض ہو کر اسے شکستہ اور ریزہ ریزہ کیا جائے۔ کیونکہ علم کے شکستہ ہونے سے عموماً اس فریق کو شکست ہو جاتی ہے۔

دجال اپنے علم کو صلیب اس لئے کہتا ہوگا کہ وہ اس قوم یہود میں سے ہوگا جو مسیح علیہ السلام کو صلیب پر مارنے کی مدعی ہے۔

٨٥

صفحہ ٣٩٤

نے اس فقرہ کا یہ مطلب لیا ہے کہ وہ جنگل کے خنزیروں کا شکار کھیل کر ان کو قتل کرے گا جو سراپا غلط اور غیر معقول مفہوم ہے۔ کیونکہ جنگل کے خنازیر کا مارنا اس کے مشن میں داخل نہیں ہوگا۔ بنا بر آں فقرہ بالا اور فقرہ ہذا کا مجموعہ یہ مطلب ہے کہ مسیح علیہ السلام دجال کے فوجی علم کو توڑ کر برسر پیکار دجال کو بھی قتل کر دے گا۔ جس سے دجالی فتنہ مکمل طور پر ختم ہو کر ہمیشہ کی نیند سو جائے گا اور اس کو کوئی بھی نہیں جگائے گا۔

ہوگا وہ ملک کے اندر جنگ وقتال کو موجود پائے گا اور حق و باطل کی افواج باہم برسر پیکار ہوں گی اور وہ آتے ہی حق کی طرف سے شامل جہاد ہو کر باطل کی فوجوں کو شکست دے گا اور پوری کامیابی سے میدان جنگ کو جیت لے گا۔

ایک دیگر روایت میں زیر بحث فقرہ کی بجائے ”ویضع الجزیۃ“ کے الفاظ آئے ہیں اور معنی یہ ہے کہ وہ جنگی ٹیکس کو ختم کر دے گا اور دجالی مفتوحین پر کسی قسم کا عسکری ٹیکس عائد نہیں کرے گا۔ بلکہ ان سے صرف اسلام کو ہی قبول کرے گا اور بصورت دیگر ان پر تلوار کو زیر استعمال لائے گا اور مرزا قادیانی کبھی بھی جنگ میں شامل نہیں ہوا۔ بلکہ جنگ و جہاد کو حرام کہتا رہا۔

یعنی وہ دجالی فوجوں سے چھینے ہوئے مال غنیمت کو صرف مجاہدین ومحتاجین پر تقسیم کرے گا اور اسکو اپنے بیت المال میں جمع نہیں ہونے دے گا۔ ان حالات میں کوئی دیانت دار آدمی انعامی چیلنجوں کے اشتہارات کو افاضۂ مال نہیں کہہ سکتا۔ کیونکہ کاغذی گھوڑے دوڑانا تقسیم زر اور افاضہ مال سے ہمنوائی اور یکسانیت نہیں رکھتا۔

نہیں کرے گا۔ یہ فقرہ افاضۂ مال کی حد وغایت ہے۔ یعنی مسیح علیہ السلام اسی فتح و کامرانی کی خوشی میں تمام مجاہدین ومحتاجین کو اس قدر مالا مال کر دے گا کہ ان کے دلوں سے جلب زر کی حرص و ہوس مٹ جائے گی اور وہ بے نیاز ہو کر قبول زر سے گریز کریں گے۔

وامتنان کا صرف ایک سجدہ ہی دنیا وما فیہا سے بہتر وبرتر سمجھا جائے گا۔ یہ فقرہ بھی افاضۂ مال کی

٨٦

دوسری حد وغایت ہے اور مطلب یہ ہے بعد بے شمار اموال غنیمت حاصل کر کے شکریہ کا صرف ایک ہی سجدہ کریں گے کہ دنیا وما فیہا کی تمام لذتوں سے بہتر و

آیت پڑھی اور سامعین کو اس کے پڑھنے قبل موتہ‘ اہل کتاب میں سے ہر ایک جاننا چاہئے کہ آیت ہذا کو ہے کہ آیت ہذا میں جس مسیح ابن مریم میں نازل از آسمان ہو کر دجال کو قتل کر ضمیر عیسیٰ کی طرف راجع نہیں ہے۔ جب ضمیر مسیح کے رفع الی اللہ کی طرف عائد قتلوہ یقینا بل رفعہ اللہ الیہ“ ( اٹھا لیا ہے۔) میں ہے۔ کیونکہ قرآن قرآن صرف مسیح کے رفع الی اللہ کو جا میں آ رہا ہے۔ چنانچہ جس سلسلہ میں ب ایسا نہ کریں تو پھر قرآن مجید پر خلط مبح دعویٰ پر ایمان با مسیح کو بطور دلیل کے پ میرے نزدیک یہ بات حق الیقین کا در مستور مصدر ”رفع الی اللہ“ کی طر للتقویٰ“ کے اندر ضمیر ”ھو فعل اعد اور پھر لفظ ”موتہ“ کی ضمیر عیسیٰ کی ایک ایسا زمانہ آئے گا کہ ہر ایک کتابی وہ عمر بھر اسی عقیدہ سے بشدت منحرف ہے کہ آیت میں مسیح کا قبل الموت

صفحہ ٣٩٥

دوسری حد وغایت ہے اور مطلب یہ ہے کہ مجاہدین اسلام اور محتاجین عوام دجالی فتنہ کو ختم کرنے کے بعد بے شمار اموال غنیمت حاصل کر کے خدا تعالیٰ کے آگے بطور شکریہ کے سر بسجود ہو جائیں گے اور شکریہ کا صرف ایک ہی سجدہ کریں گے۔ ان کو اسی ایک سجدہ میں ایسی لذت وفرحت میسر آئے گی کہ دنیا و مافیہا کی تمام لذتوں سے بہتر و بالا ہوگی۔

آیت پڑھی اور سامعین کو اس کے پڑھنے کا مشورہ دیا: ”وان من اهل الکتٰب الا لیؤمنن به قبل موته“ اہل کتاب میں سے ہر ایک شخص مسیح کے قبل الموت رفع پر ضرور ایمان لائے گا۔

جاننا چاہئے کہ آیت ہٰذا کو حدیث بالا کے ساتھ ملانے سے راویٔ حدیث کا یہ مطلب ہے کہ آیت ہٰذا میں جس مسیح ابن مریم کے رفع الی اللہ کا ذکر ہے وہی مسیح ابن مریم قرب قیامت میں نازل از آسمان ہو کر دجال کو قتل کرے گا۔ دراصل وجہ یہ ہے کہ آیت ہٰذا کے اندر لفظ ”بہ“ کی ضمیر عیسیٰ کی طرف راجع نہیں ہے۔ جیسا کہ مفسرین قرآن اور مرزا واہل مرزا کا خیال ہے۔ بلکہ یہ ضمیر مسیح کے رفع الی اللہ کی طرف عائد ہے جس کا ذکر آیت ہٰذا سے متصلاً قبل کی آیت: ”ومـــــا قتلوه یقینا بل رفعه الله الیه“ یہود نے مسیح کو قتل نہیں کیا بلکہ خدا تعالیٰ نے اس کو اپنی طرف اٹھا لیا ہے۔ میں ہے۔ کیونکہ قرآن عزیز کے پیش نظر ایمان بالمسیح کا اثبات نہیں ہے۔ بلکہ مقصود قرآن صرف مسیح کے رفع الی اللہ کو ثابت کرنا ہے۔ جس کا ذکر آیت ہٰذا سے قبل کی متعدد آیات میں آرہا ہے۔ چنانچہ جس سلسلہ میں یہ آیت آئی ہے اسی سلسلہ کا اثبات مقصود قرآن ہے۔ اگر ہم ایسا نہ کریں تو پھر قرآن مجید پر خلط مبحث کا الزام عائد ہوتا ہے۔ کیونکہ اس نے رفع الی اللہ کے دعویٰ پر ایمان بالمسیح کو بطور دلیل کے پیش کر دیا۔ جس سے دعویٰ و دلیل میں تناسب نہ رہا۔ بہر حال میرے نزدیک یہ بات حق الیقین کا درجہ رکھتی ہے کہ لفظ ”بہ“ کی ضمیر فعل ”رفعه الله“ کے اندر مستور مصدر ”رفع الی الله“ کی طرف اسی طرح پر عائد ہے جیسے آیت: ”اعدلوا ھو اقرب للتقویٰ“ کے اندر ضمیر ”ھو“ فعل ”اعدلوا“ کے اندر مستور مصدر لفظ ”عدل“ کی طرف لوٹتی ہے اور پھر لفظ ”موتہ“ کی ضمیر عیسیٰ کی طرف راجع ہے اور آیت کا مطلب یہ ہے کہ عقل و سائنس کا ایک ایسا زمانہ آئے گا کہ ہر ایک کتابی حضرت مسیح کے قبل الموت رفع کو ضرور مان لے گا۔ جب کہ وہ عمر بھر اسی عقیدہ سے بشدت منحرف و منکر رہا۔ بنا برآں آیت بالا اور حدیث بالا میں یہ مطابقت ہے کہ آیت میں مسیح کا قبل الموت رفع مذکور ہے اور حدیث زیر بحث میں اسی مسیح کا نزول قبل

٨٧

صفحہ ٣٩٦

الموت موجود ہے۔ یعنی جو ابن مریم مرنے سے قبل آسمان کی طرف مرفوع ہوا ہے۔ وہی ابن مریم قرب قیامت میں نازل از آسمان ہو کر دجال لعین کو قتل کرے گا۔ گویا کہ مرفوع الی اللہ ہونے والا اور نازل من اللہ ہونے والا ایک ہی شخص ہے اور وہ مسیح ابن مریم ہے اور اگر لفظ ”موتہ“ کی ضمیر کو کتابی کی طرف لوٹایا جائے تو پھر بھی معنی آیت یہ ہے کہ جدید مشاہدات و مکاشفات کے پیدا ہونے پر ہر ایک کتابی اپنے مرنے سے قبل مسیح کے رفع الی اللہ بالجسم کو ضرور بالضرور مان لے گا اور منکر رفع ہونے کی بجائے قائل رفع ہو جائے گا اور اگر مفسرین کی آراء کے مطابق لفظ بہ کی ضمیر کو عیسیٰ کی طرف راجع کیا جاوے تو اوّلاً آیت کا الحاق بالحدیث لایعنی اور بے ربط قرار پاتا ہے اور ثانیاً راوی حدیث حضرت ابوہریرہؓ کی رائے وقیع سے انحراف لازم آتا ہے۔ جب کہ اس کی رائے یہ ہے کہ آیت ملحقہ سے رفع مسیح بالجسم اور حدیث مرویہ سے نزول مسیح بالجسم ثابت ہے اور یہی بات اس وقت بنتی ہے جب کہ بہ کی ضمیر کے بارے میں میری رائے سے اتفاق کیا جائے۔

بہر حال میری رائے درست ہے اور راوی حدیث کی رائے سے ہمنوائی رکھتی ہے۔ ان حالات میں بفضل خدا میری رائے بہتر اور بالاتر قرار پاتی ہے اور میرا ایک علمی نشان بن جاتی ہے۔ اب میرے نزدیک حدیث کا لب لباب بطور ذیل ہے:

باتیں باہم متضاد و متصادم ہیں۔

تو پھر وہ بے پدر ہو کر خود رو پودا قرار پاتا ہے۔

کر اپنے فیصلہ جات عیسائی عدالتوں سے کراتا رہا۔

منکر رہا اور خنزیر کھانے والے انگریز کا غلام و محکوم رہا۔

منکر رہا اور خنزیر کھانے والے انگریز کا غلام و محکوم رہا۔

پر متعدد ٹیکس قائم کئے۔

٨٨

کر جلب زر میں کوشاں رہا۔

گا اور مجاہدین و محتاجین کو بے نیاز اور مالا م کی طرح نوش کر گیا اور غرباء کو کچھ نہ دیا ب

و جہاد کا منکر رہا۔

دونوں سے تصادم ہوتا ہے۔

مرزا قادیانی نے: ”حضرت کیا ہے اس سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام اپنا ایک کارنامہ سمجھتا ہے اور اس پر اتراتا

کنت السواد لناظری
من شاء بعدک فلیعم

تو اے نبی ﷺ ! میری آنکھوں چاہے میرے خواہ عیسیٰ ہو یا موسیٰ، مجھے تو

دیکھئے! مرزا قادیانی نے اپ السلام دونوں آنحضرت کی وفات تک زن السلام کو وفات نبوی تک زندہ مان لیا۔ قرب قیامت کو واپس آکر مرزائیت کی اشعار سے شاعرِ نبوت کا مقصد وہ لوگ ہی سے مرثیۃ النبی کہنے کا مطالبہ کر رہے تھے کہہ دے اور مطمع نظر یہ تھا کہ حاضرین م موت کا دھڑکا ہے اور دیگر آدمی کی موت

صفحہ ٣٩٧

کر جلب زر میں کوشاں رہا۔

گا اور مجاہدین ومحتاجین کو بے نیاز اور مالا مال کر دے گا اور مرزا قادیانی وصول کردہ چندہ جات کو پانی کی طرح نوش کر گیا اور غرباء کو کچھ نہ دیا۔

وجہاد کا منکر رہا۔

دونوں سے تصادم ہوتا ہے۔

جواب کا منتظر: حکیم میر محمد ربانی!

مرزا قادیانی نے: ”حضرت حسان بن ثابتؓ کے درج ذیل دو شعر نقل کر کے جو ترجمہ کیا ہے اس سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے ساتھ حضرت موسیٰ بھی زندہ بن جاتے ہیں اور وہ اسی کو اپنا ایک کارنامہ سمجھتا ہے اور اس پر اتراتا ہے:

کنت السواد لناظری فعمی علیک الناظر
من شاء بعدک فلیمت فعلیک کنت احاذر

تو اے نبی ﷺ میری آنکھوں کی پتلی تھا۔ میں تو تیری جدائی سے اندھا ہو گیا۔ اب جو چاہے مرے خواہ عیسیٰ ہو یا موسیٰ، مجھے تو تیری موت کا دھڑکا تھا۔“

(اعجاز احمدی ص ١٩، خزائن ج ١٩ ص ١٢٧)

دیکھئے! مرزا قادیانی نے اپنے ترجمہ سے تسلیم کر لیا ہے کہ موسیٰ علیہ السلام اور عیسیٰ علیہ السلام دونوں آنحضرت کی وفات تک زندہ تھے۔ بہر حال جب مرزا قادیانی نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو وفات نبوی تک زندہ مان لیا ہے تو پھر وہ قیامت تک بھی اس کے علیٰ الرغم زندہ ہے اور قرب قیامت کو واپس آکر مرزائیت کی ناک کاٹ لے گا۔ دراصل بات یہ ہے کہ مذکورہ بالا ہر دو اشعار سے شاعر نبوت کا مقصد وہ لوگ ہیں جو آنحضرت ﷺ کی وفات کے وقت جمع تھے اور شاعر سے مرثیۂ النبی کہنے کا مطالبہ کر رہے تھے۔ جس پر شاعر نے زیر بحث دونوں اشعار بداہتاً و ارتجالاً کہہ دئے اور مطمع نظر یہ تھا کہ حاضرین میں سے جو شخص چاہے مر سکتا ہے۔ لیکن مجھے پیارے نبی کی موت کا دھڑکا ہے اور دیگر آدمی کی موت کی ہرگز اور قطعاً پرواہ نہیں ہے۔

٨٩

PDF 399

عذر نہم دہم

یہ ہے کہ: ”خدا تعالیٰ نے واقعہ صلیب کے بعد حضرت عیسیٰ اور اس کی ماں کو ایک ٹیلہ پر جگہ دی ، جہاں صاف پانی تھا اور آرام کی جگہ تھی۔ جیسا کہ قرآن کہتا ہے: ” و اویناهما الیٰ ربوة ذات قرار ومعین “ اور وہی ٹیلہ خطہ کشمیر جنت نظیر ہے۔“

(اعجاز احمدی ص ١٩، خزائن ج ١٩ ص ١٢٧)

الجواب اوّلاً

یہ ہے کہ مرزا قادیانی نے عوام الناس کو مغالطہ دینے کی خاطر آیت ہذا کا سابق فقرہ چھوڑ دیا ہے جب کہ مکمل آیت بطور ذیل ہے:” وجعلنا ابن مریم وامه اية واوينا هما الیٰ ربوة ذات قرار وَّمعین “﴿ ہم نے ابن مریم اور اس کی ماں کو ایک نشان بنایا اور ان کو ایک آرام دہ اور چشمہ دار ٹیلہ کے پاس پناہ دی۔ ﴾

جاننا چاہئے کہ آیت بالا میں دو نشانات یا دو واقعات کا ذکر ہے۔ ایک دونوں کا نشان قدرت بننا ہے اور دوسرا معا دونوں کا ایک ٹیلہ کے پاس جگہ پانا ہے اور پھر دونوں واقعات کو بذریعہ واؤ عاطفہ یک جا لا کر یہ بتایا گیا ہے کہ دونوں واقعات ایک ہی جگہ پر اور ایک ہی وقت میں واقع ہوئے ہیں اور پھر دونوں واقعات کا وقوع یکے بعد دیگرے بالاتصال ہوا ہے اور ان دونوں کے وقوع کے درمیان ایک لمبا عرصہ اور دور دراز کا زائد علاقہ حائل نہیں تھا۔ بلکہ یہی دونوں واقعات ایک ہی جگہ پر اور ایک ہی وقت میں واقع ہوئے ہیں۔ بنابرآں آیت بالا کا مفہوم و خلاصہ یہ رہا کہ ابن مریم اور اس کی ماں کو ایک آرام دہ اور چشمہ دار ٹیلہ کے پاس اس وقت جگہ ملی جب کہ ابن مریم بے پدر پیدا ہو کر نشان قدرت بنا اور مریم طاہرہ بن خاوند بچہ جن کر نشان عظمت بن گئی۔ گویا کہ پیدائش مسیح کے فوراً بعد ان دونوں کو موصوفہ ٹیلہ مل گیا۔ بنابرآں ایسا ٹیلہ جو ان دونوں کو ایسے وقت میں ملا کہ وہ بیت المقدس کے نزدیک یا اس سے تھوڑے فاصلہ پر واقع ہونے والا ہی ہو سکتا ہے اور اس سے بہت ہی دور اور فاصلہ دراز پر واقع ہونے والا ٹیلہ بنام وادی کشمیر یا اسی نوعیت کی دیگر بعیدی وادی قطعاً نہیں ہو سکتا۔ جیسا کہ مرزا قادیانی اور اہل مرزا کا زعم باطل اور خیال عاطل ہے۔ کیونکہ آیت بالا اسی وہم و خیال کی مؤید و مصدق نہیں ہے۔

الجواب ثانیاً

یہ کہ خطہ کشمیر وادی کشمیر کے نام سے موسوم و مشہور ہے اور لفظ ربوہ لفظ وادی کے خلاف

ایک اونچی جگہ اور فرازی مقام (ٹیلہ) ربوہ سے خطہ کشمیر بمعنی وادی کشمیر مراد ” واوينا هما الى وا چشمہ دار وادی میں پناہ دی۔ ﴾ ورنہ قرآن مجید پر یہ الزام ربوہ یا ایک نیچی جگہ کو اونچی جگہ کہہ کر ایـ اور اپنے شان نظم پر ایک سیاہ داغ اور

معنی ربوہ تو وادی چما
تیری طرف سے ربوہ کا معنی
وادئ کشمیر را ربوہ
تو وادی کشمیر کو ربوہ مت کہـ
ربوہ دیگر وادی او دیگر
ربوہ اور ہے اور اس کی واد
وادی کشمیر از ربوہ جدا
وادی کشمیر ربوہ سے ایک ا
چوں نشیبے را فرازی
جب تو نے نیچ کو اونچ کہہ
ایں غلام احمدے احمد کجـ
یہ غلام احمد، احمد کب بن سـ
بنده احمد چرا چوں احمد
احمد کا بندہ احمد کی مانند کیو
واقع ہے۔
بنده را آقا شمردن کے رو
بندہ کو آقا سمجھنا کب جائـ
احمد بر ولد آدم سید
میر احمد تمام اولاد آدم کا سـ
صفحہ ٣٩٩

ایک اونچی جگہ اور فرازی مقام (ٹیلہ) کو کہا جاتا ہے۔ اگر فی الواقعہ بزعم مرزا آیت بالا کے اندر لفظ ربوہ سے خطۂ کشمیر بمعنی وادی کشمیر مراد ہے تو قرآن مجید کو بطور ذیل فرمانا چاہئے تھا۔ ”واويناهما الیٰ وادٍ ذی قرار ومعین“ ﴿ہم نے ان دونوں کو ایک آرام دہ چشمہ دار وادی میں پناہ دی۔﴾ ورنہ قرآن مجید پر یہ الزام عائد ہوگا کہ اس نے لغت عرب کے خلاف ایک وادی کو ربوہ یا ایک نیچی جگہ کو اونچی جگہ کہہ کر اپنی فصاحت و بلاغت اور اپنے اعجاز و امتیاز کو داغدار بنا دیا ہے اور اپنے شانِ تکلم پر ایک سیاہ داغ اور بد نما دھبہ ڈال دیا ہے۔ ”قلت خطأ یا للمرزا“

معنی ربوہ تو وادی چراست چونکہ وادی ضد ربوہ برملاست

تیری طرف سے ربوہ کا معنی وادی کیوں ہے۔ جب کہ علانیہ طور پر وادی ربوہ کی ایک ضد ہے۔

وادئ کشمیر را ربوہ مگو نیز در ربوہ تو وادی را مجو

تو وادئ کشمیر کو ربوہ مت کہہ اور پھر ربوہ کے اندر وادی کی تلاش مت کر۔

ربوہ دیگر وادئ او دیگر است احمد دیگر غلامش دیگر است

ربوہ اور ہے اور اس کی وادی اور ہے۔ جیسا کہ احمد اور ہے اور اس کا غلام اور ہے۔

وادئ کشمیر از ربوہ جداست در نشیبے از فرازے فرق ہاست

وادی کشمیر ربوہ سے ایک الگ چیز ہے۔ کیونکہ نشیب وفراز کے درمیان بہت فرق ہے۔

چوں نشیبے را فرازے گفتہ داں کہ از فہم حقیقت رفتہ

جب تو نے نیچ کو اونچ کہہ دیا ہے تو جان لے کہ تو اصلیت کے سمجھنے سے دور چلا گیا۔

ایں غلام احمد احمد کجاست چوں نشیبے از فراز مباعد است

یہ غلام احمد، احمد کب بن سکتا ہے۔ جب کہ نیچ ہماری اونچ سے ایک الگ چیز ہے۔

بندۂ احمد چرا چوں احمد است چوں میان بندہ و احمد حد است

احمد کا بندہ احمد کی مانند کیوں بن سکتا ہے۔ جب کہ احمد اور غلام احمد کے درمیان ایک حد واقع ہے۔

بندہ را آقا شمردن کے رواست چوں میان ایں وآں فرقے بپاست

بندہ کو آقا سمجھنا کب جائز ہو سکتا ہے۔ جب کہ اس میں اور اس میں ایک فرق موجود ہے۔

احمد ہر ولد آدم سید است غیر او را بندہ ماندن جید است

میرا احمد تمام اولاد آدم کا سردار ہے اور اس کے غیر کو بندہ رہنا اچھا ہے۔

٩١

صفحہ ٤٠٠
چوں غلام احمدے احمد نشد وادی کشمیر ہم ربوہ نشد

جب تیرا غلام احمد احمد نہیں بن سکا تو وادی کشمیر بھی ربوہ نہیں بن سکتی۔

احمدم را چوں غلام او مکن بوئے خوش را نیز چوں بد بو مکن

میرے احمد کو غلام احمد کا مثیل نہ بنا اور پھر خوشبو کو بدبو نہ بنا۔

بندگی را خواجگی گفتی چرا مردگی را زندگی کر دی چرا

تونے بندگی کو آقائی کیوں کہہ دیا ہے اور موت کو زندگی کیوں بنا دیا ہے۔

بندگی در خواجگی آمیختی وزغشاشت دین خود را ریختی

تونے بندگی کو آقائی میں ملا دیا ہے اور ملاوٹ کرنے سے اپنے دین کو گرا دیا ہے۔

ایں غشاشت نزد تو جائز چراست چونکہ غش آب در شیرے خطاست

تیرے نزدیک یہی ملاوٹ کیوں جائز ہے۔ جب کہ پانی کا دودھ میں ملانا جرم ہے۔

ایں گلم را خار گل ہر گز مخواں ایں غراب دین را بلبل مداں

میرے اس پھول کو پھول کا کانٹا مت کہہ اور دین کے اس کوے کو بلبل مت جان۔

الجواب ثالثاً

یہ کہ جب کلمہ ”الی“ کا ماقبل مابعد سے متغائر ہوتا ہے تو مابعد اپنے ماقبل کے حکم میں شامل نہیں ہوتا۔ جیسے: ”اتموا الصيام الی اللیل“ ﴿روزہ کو رات تک پورا کرو اور رات روزہ سے باہر رہے گی۔﴾ ”واويناهما الى ربوۃ“ ﴿ہم نے دونوں کو ٹیلہ تک پناہ دی اور ٹیلہ پناہ گاہ سے الگ ہوگا۔﴾

بنابرآں ثابت ہوتا ہے کہ ابن مریم اور اس کی ماں کو ایک ربوہ (ٹیلہ) کے پاس پناہ ملی۔ ربوہ کے اندر پناہ نہ ملی۔ جیسا کہ روزہ رات کے پاس جاتا ہے اور رات کے اندر داخل نہیں ہوتا۔ ان حالات کے پیش نظر کشمیر کے صدر مقام سری نگر میں جس یوز آصف نامی شخص کا مقبرہ موجود ہے۔ وہ مقبرہ عیسیٰ علیہ السلام کا نہیں ہے۔ بلکہ کسی اور شخص کا ہے۔ کیونکہ قرآن مجید حضرت ابن مریم کو ربوہ بمعنی کشمیر کے پاس لے جاتا ہے اور کشمیر کے اندر داخل نہیں کرتا۔

اب صرف یہ بات تصفیہ طلب رہ جاتی ہے کہ سری نگر کے اندر یوز آصف کا مقبرہ حضرت مسیح کے بغیر دیگر کسی شخص کا مقبرہ ہے۔ چنانچہ اسی عقدہ لانیحل کا جواب میری طرف سے یہ

٩٢

صفحہ ٩٣

دیا جاتا ہے کہ یوز آصف کا لفظ یوز اصفہان بمعنی شیر اصفہان ہے جو شہر اصفہان کے ایک شہزادہ کا لقب تھا۔ کیونکہ فارسی زبان میں یوز بمعنی شیر مستعمل ہے۔ جیسا کہ کشمیر کے اندر شیخ عبداللہ کشمیری کو بعض لوگ شیر کشمیر اور امرتسر کے مولوی ثناء اللہ صاحب کو اہل حدیث اشخاص شیر پنجاب کا لقب دیتے ہیں۔ چنانچہ شہر اصفہان کا یہی شہزادہ اپنے شہر اصفہان سے ہجرت کر کے کشمیر کے صدر مقام سری نگر میں آ کر مقیم ہو گیا اور اس نے اپنی صوفیانہ زندگی کا کثیر حصہ یہاں پر بسر کیا اور یہاں پر وفات پا کر یہیں مدفون ہوا اور یہاں پر اس نے بہت سے مرید معتقد پیدا کر لئے۔ جنہوں نے اس کی قبر پر ایک شاندار مقبرہ تعمیر کر لیا اور پھر اس کا لقب یوز اصفہان کثرت استعمال سے یوز آصف رہ گیا اور نیز یوز آصف صاحب شاہ ایران کا نبیرہ بمعنی نواسہ جو کثرت استعمال سے نبی رہ گیا اور پھر دونوں القاب باہمی امتزاج پا کر بصورت ”یوز آصف نبی“ بطور مرکب لقب کے استعمال ہونے لگا۔ چنانچہ وہی شہزادہ اہالیان کشمیر کے اندر اب تک ”یوز آصف نبی“ کے لقب سے پکارا جاتا ہے۔ لیکن مرزا قادیانی نے اپنی سادہ لوحی اور سطحی فہم کی بناء پر ”یوز آصف نبی“ کے لفظ کو جو دراصل ”یوز اصفہان نبیرۂ ایران“ تھا۔ عیسیٰ مسیح قرار دے کر اس کو وفات یافتہ بنا لیا اور دنیا میں شور وغوغا برپا کر دیا کہ عیسیٰ مسیح مر گیا ہے اور اس کی بجائے میں ہی خود مسیح یا مثیل مسیح بن گیا ہوں۔ قلت

شیخ کشمیری است شیر کاشیر ہم چنیں تو یوز آصف را بگیر

شیخ عبداللہ کشمیری شیر کشمیر ہے۔ اسی طرح تو یوز آصف کو بھی سمجھ لے۔

شیرا در اصفہان نامند یوز ہمچنیں کجے را می گویند کوز

اصفہان کے اندر شیر کو یوز کا نام دیتے ہیں اور اسی طرح ٹیڑھی چیز کو کوز کہتے ہیں۔

تو بدین خویش کوز و کج مرو وز کجی در قادیان از حج مرو

تو اپنے دین کے اندر ٹیڑھا اور کبڑا ہو کر نہ چل اور اپنی کجی کی بناء پر قادیان کے اندر حج کو نہ لیجا۔

ہمچو مکہ قادیان تو چہ است یوز آصف عین عیسیٰ از کجاست

تیرا قادیان مکہ مکرمہ کی مانند کیوں ہے اور یوز آصف عیسیٰ کی مانند کہاں سے بن گیا۔

یوز آصف بود یوز اصفہان جزو آخرا ربود اہل زمان

یوز آصف دراصل یوز اصفہان تھا اور زمانہ کے لوگ اس کے آخری حصہ کو چھین کر لے گئے۔

ایں لقب مشہور شد اورا چناں کہ زنامش محو شد نام و نشان

اس کا یہی لقب (یوز آصف) اتنا مشہور ہو گیا کہ اس کے اصلی نام کا نام و نشان مٹ گیا۔

صفحہ ٤٠٢
یوز آصف نیست عیسیٰ بالیقین ہم چنیں ایں اصفہان و فلسطین

یقیناً یوز آصف عیسیٰ نہیں ہے۔ جیسا کہ شہر اصفہان شہر فلسطین نہیں ہے۔

مولد آں بود شہر اصفہان مولد عیسیٰ فلسطین را بداں

اس کی ولادت گاہ شہر اصفہان تھا اور عیسیٰ کی ولادت گاہ کو فلسطین سمجھ لے۔

آں نبیرہ بود در ایران خویش برد در کشمیر ایں سامان خویش

وہ اپنے ایران میں شاہ ایران کا نواسہ تھا اور وہ کشمیر کے اندر اپنا یہی سامان یوز آصف لقب لے گیا۔

چوں بکشمیر آمد او از اصفہان شد نبی از گفتن اہل زماں

جب وہ اصفہان کو چھوڑ کر کشمیر میں آ گیا تو لوگوں کی گفتگو سے نبی بن گیا۔

تو نبیرہ را نبی گوئی چرا ایک فتنہ را بپا کر دی بما

تو نبیرہ کو نبی کیوں کہتا ہے۔ اے وہ شخص جس نے ہم کو فتنہ کے اندر ڈال دیا۔

یوز آصف را مکن عیسیٰ مسیح ورنہ دین خویش را کردی فضیح

تو یوز آصف کو عیسیٰ مسیح نہ بنا۔ ورنہ تو نے اپنے دین کو رسوا کر دیا۔

جلسہ ایں قادیانیت نیست حج راست قد مردے نباشد کوزہ کج

تیرے قادیان کا جلسہ حج نہیں بن سکتا اور سیدھے قد والا آدمی ٹیڑھا اور کبڑا نہیں کہلاتا۔

چونکہ مجھ سے قبل کسی عالم مؤرخ نے میری بیان کردہ توجیہہ کو ذکر نہیں کیا۔ اس لئے بفضل خدا صرف میں ہی اس میں منفرد ہوں اور یہی توجیہہ میرا ایک علمی و تاریخی نشان ہے۔

عذر بیست و نہم

یہ ہے کہ: ”آیت ”وانہ لعلم للساعۃ“ سے عیسیٰ مسیح مراد نہیں ہے۔ بلکہ اس سے آنحضرت ﷺ مراد ہیں اور پھر یہاں پر لفظ ”الساعۃ“ سے مراد روز قیامت نہیں ہے۔ بلکہ وہ موعود عذاب مراد ہے جو عیسیٰ علیہ السلام کے بعد طیطوس رومی کی طرف سے یہودیوں پر پڑا۔“

(اعجاز احمدی ص ٢٠، ٢١ خزائن ج ١٩ ص ١٢٩)

الجواب اولاً

یہ ہے کہ ”انہ“ کی ضمیر اپنے سیاق و سباق یا اپنے ما بعد وما قبل کے پیش نظر صرف حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی طرف عائد ہے۔ کیونکہ فقرہ زیر بحث سے قبل آیت ”ولما ضرب ابن مریم“ مثلاً اور اس کے بعد آیت ”ولما جاء عیسیٰ بالبینت“ موجود و مذکور ہے۔ جو

٩٤

صفحہ ٤٠٣

متنازعہ فیہ ضمیر کے مرجوع کو متعین کرتی ہے۔ گویا کہ سیاق و سباق دونوں تائید کرتے ہیں کہ اسی ضمیر کا مرجع صرف عیسیٰ علیہ السلام ہی بن سکتے ہیں۔ اگر بفرض محال بزعم مرزا آیت ”وانه لعلم للساعة“ کی ضمیر کا مرجع آنحضرت ﷺ کو قرار دیا جاوے۔ جب کہ آپ کا ذکر شریف اسی سارے رکوع میں نہیں ہے تو قرآن مجید پر خلط مبحث کا الزام عائد ہوتا ہے کہ اس نے حالات عیسیٰ کو بیان کرتے ہوئے درمیان میں ایک غیر متعلق فقرہ کو لا کر سامعین کے دماغوں کو مشوش اور پریشان کر دیا ہے۔ کیونکہ بیان ہونے والے سلسلۂ حالات کے ٹوٹنے سے سامعین پر برا اثر پڑتا ہے اور وہ فوراً اپنے متکلم پر خبطی ہونے کا فتویٰ لگا دیتے ہیں۔ بہرحال مرزا قادیانی کا نظریہ سراسر غلط اور بے بنیاد ہے۔ جس سے وہ خود خبطی اور کج الفہم قرار پاتا ہے۔

الجواب ثانیاً

یہ کہ یہاں پر لفظ ”الساعة“ سے مراد روز قیامت ہے اور مطلب یہ ہے کہ بلاشبہ عیسیٰ علیہ السلام علم قیامت بمعنی نشان قیامت اور علامات قیامت ہے۔ پس تم لوگ اس روز قیامت پر شک نہ کرو جس سے قبل حضرت عیسیٰ بطور نشان قیامت کے نازل ہوگا۔

جاننا چاہئے کہ قرآن مجید کی اصطلاح میں لفظ ”الساعة“ سے مراد روز قیامت اور عذاب قیامت ہی ہے۔ جیسا کہ خود آیت متنازعہ ”وانه لعلم للساعة“ کے تھوڑے فاصلہ کے بعد آیت ذیل: ”وان الساعة آتية لا ريب فيها وان الله يبعث من فى القبور“ ﴿یقیناً اور بلا ریب قیامت آنے والی ہے اور یقیناً خدا تعالیٰ قبروں سے مردوں کو نکالنے والا ہے۔﴾ موجود ہے جس میں قیامت کا آنا اور قبروں سے مردوں کا نکلنا مذکور ہے۔

الجواب ثالثاً

یہ ہے کہ آیت زیر بحث: ”وانه لعلم للساعة“ سے قبل بالاتصال آیت ذیل موجود ہے۔ ”ولو نشاء لجعلنا منكم ملائكة فى الارض يخلفون“ ﴿اگر ہم چاہتے تو تم میں سے فرشتوں کو پیدا کر کے زمین کے اندر ٹھہرا لیتے۔﴾ جس میں ملائکہ اللہ کے ذکر کو بلا وجہ اور بلا مناسبت حالات عیسیٰ کے درمیان لایا گیا ہے جو بظاہر غیر انسب اور بے ربط معلوم ہوتا ہے اور اس طرح قرآن حکیم نے خلط مبحث کا ارتکاب کر کے اپنی فصاحت و بلاغت کو داغدار کر دیا ہے۔ میری طرف سے اسی اعتراض کا یہ جواب دیا جاسکتا ہے کہ اسی آیت کا آخری حصہ جو مشبہ بہ کا مقام رکھتا ہے بطور ایجاز الحذف جو علم البلاغت کی ایک اہم صنعت ہے۔ محذوف ہے۔ جب کہ حذفیات قرآن اعجاز قرآن کا ایک عظیم حصہ ہیں۔

٩٥

صفحہ ٤٠٤

بنابر آں قرآن مجید کی اصل عبارت بطور ذیل ہے: ”ولو نشاء لجعلنا منکم ملائکۃ فی الارض يخلفون. کما جعلناہ منہم يخلف فی السماء“ ﴿اگر ہم چاہتے تو تم کو فرشتوں میں سے پیدا کر کے زمین کے اندر ٹھہراتے ۔ جیسا کہ ہم نے اس کو ان فرشتوں سے پیدا کر کے آسمان میں ٹھہرایا ہے۔﴾

جانا چاہئے کہ جس طرح عیسیٰ علیہ السلام نفخ جبریل سے پیدا ہو کر مقیم آسمان بنا۔ اسی طرح فرشتگان انسانوں سے پیدا ہو کر مقیم زمین بن سکتے ہیں۔ کیونکہ جب خدا نے پہلا کام کر لیا ہے تو دوسرا کام بھی اس کے اختیار واقتدار میں شامل ہے اور مفہوم یہ رہا کہ جب فرشتوں کا انسانوں سے بالقوہ پیدا ہو کر زمین پر رہنا عنداللہ ممکن ہے تو عیسیٰ کا جبریل کی پھونک سے بالفعل پیدا ہو کر آسمان پر رہنا بھی درست ہے۔

چنانچہ اس قسم کے حذفیات قرآن مجید میں متعدد مقامات پر موجود ہیں۔ جن کو علم البلاغۃ میں ایجاز الحذف کا نام دیا جاتا ہے اور مطلب یہ ہوتا ہے کہ کسی ایک لفظ یا جملہ کو حذف کر کے عبارت قرآن کو اختصار کا جامہ پہنایا جاتا ہے۔ تاکہ عبارت میں طوالت نہ ہو۔ جیسا کہ آیت ذیل میں شرط موجود ہے اور جزائے شرط محذوف ہے۔

”ولو تری اذوقفوا علی النار. لرأیت امراً فظیعاً“ ﴿اگر تو ان کو دیکھتا جب وہ آگ پر لائے گئے تو تو ایک ہولناک منظر کو دیکھتا۔﴾

یعنی آیت ہٰذا کا آخری جملہ ”لرأیت امراً فظیعاً“ جو جزائے شرط بننے والا ہے۔ یہاں پر محذوف ہے اور پھر آیت ذیل کا آخری جملہ جو معطوف بننے والا ہے بمعہ حرف عطف کے محذوف ہے اور صرف معطوف علیہ موجود ہے۔

”لا یستوی من انفق من قبل الفتح وقاتل (ومن انفق من بعدہ و قاتل)“ ﴿جس نے فتح مکہ سے قبل خرچ کر کے جہاد کیا اور جس نے فتح مکہ کے بعد خرچ کر کے جہاد کیا دونوں برابر نہیں ہیں۔﴾

بنابر آں میں نے آیت زیر بحث کے اندر مشبہ بہ جملہ کو بمعہ حرف تشبیہ کے محذوف قرار دے کر سلسلہ آیات کو مربوط و مدلل بنا دیا ہے۔ جس سے قرآن مجید پر خلط مبحث کرنے کا الزام ختم ہو جاتا ہے اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے متعلقہ محالات کا سلسلہ ترتیب وار بن جاتا ہے اور وہ زمین سے مرفوع ہو کر مکین آسمان قرار پاتا ہے۔ چونکہ میری بالا توجیہہ کو کسی مفسر قرآن نے

٩٦

صفحہ ٤٠٥

ذکر نہیں کیا۔ اس لئے اسی توجیہہ کو میرا ایک علمی نشان قرار دیا جا سکتا ہے۔ بہر حال میری توجیہہ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو مکین آسمان بنا کر اور پھر قبل از قیامت علم قیامت بنا کر نازل ہونے والا ثابت کر دیا ہے۔

عذر بست و یکم

یہ ہے کہ: ”آیت مثلاً: ’لبنیٰ اسرائیل‘ میں یہودیوں کے لئے ایک مثالی عذاب کا ذکر ہے۔“

(اعجاز احمدی ص ٢١، خزائن ج ١٩ ص ١٢٩)

الجواب

یہ ہے کہ سالم آیت بطور ذیل ہے جس میں مسیح بن مریم پر ہونے والے ایک عظیم انعام کا تذکرہ ہے اور پھر اس کے نشان قدرت بننے کا ذکر ہے۔ یہاں پر بزعم مرزا کسی قسم کے عذاب وعقاب کا بیان نہیں ہے۔ قال تعالیٰ : ”ان هو الا عبد انعمنا عليه وجعلناه مثلاً لبنی اسرائیل “ ﴿مسیح ابن مریم صرف ایک عبد خدا ہے جس پر ہم نے انعام واکرام کیا ہے اور جس کو ہم نے قوم بنی اسرائیل کے لئے نشان قدرت بنایا ہے۔﴾

دیکھئے کہ آیت ہذا تو حضرت مسیح کو نشان قدرت اور منعم علیہ ظاہر کرتی ہے۔ لیکن مرزا قادیانی کی بے راہ روی اس آیت کو ایک عذاب پر چسپاں کرتی ہے جو طیطوس رومی کے وقت میں یہودیوں پر آیا۔

بہ بیں تفاوت راہ از کجاست تا بکجا

میں اس وقت مناسب سمجھتا ہوں کہ اسی آیت کی تقریب کے سلسلہ میں اپنا وہ خط یہاں درج کر دوں جو کہ میں نے قادیانی عبداللطیف بہاول پوری کو لکھا تھا جو میرے ساتھ ہائی سکول رحیم یار خان میں رفیق مدرس تھا اور جو مرزائیت اختیار کر کے قادیان چلا گیا اور پھر تقسیم ہندوستان کے بعد پاکستان کے مرزائی قصبہ ربوہ میں آ گیا۔

جناب مولوی عبداللطیف صاحب بہاول پوری

السلام علیٰ من اتبع الہدیٰ!

میں نے آپ سے بذریعہ خط و کتابت ایک آیت قرآن کے سمجھنے کی استدعا کی تھی اور آپ نے میری گذارش کو شرف قبولیت سے نوازا ہے۔ میری مطلوبہ حل طلب آیت حسب ذیل ہے: ”ولما ضرب ابن مریم مثلاً اذا قومک منہ یصدون“ ﴿جب ابن مریم کو بطور نشان قدرت کے بیان کیا جاتا ہے تو تیری قوم اس کے متعلق شور و غوغا کرتی ہے۔﴾

٩٧

صفحہ ٤٠٦

یہاں پر لفظ ”قومک“ /١٦٦ کے اعداد حروف یک صد چھیاسٹھ ہیں۔ جیسا کہ مرزائی قصبہ قادیان /١٦٦ کے اعداد حروف یکصد چھیاسٹھ ہیں۔ لہٰذا اسی اعداد توافق سے ثابت ہوتا ہے کہ قرآن حکیم آج سے چودہ صد سال قبل پیش گوئی کرتا ہے کہ آئندہ زمانہ کے اندر مرزائی قصبہ قادیان سے ایک ایسی قوم برپا ہوگی جو ابن مریم کے خلاف شور و غوغا کرے گی۔ چنانچہ وہی قوم مرزا اور مرزا کی پیدا کردہ مرزائی جماعت ہے جو قادیان سے برپا ہو کر مسیح ابن مریم کے خلاف ساری دنیا میں شور و غوغا کر رہی ہے اور اس کو مردہ بتا کر مدفون کشمیر یقین کر رہی ہے اور پھر لفظ ”قومک“ بمعنی تیری قوم سے اشارہ پایا جاتا ہے کہ ایسی قوم یقیناً کافر قوم ہوگی۔ کیونکہ جہاں پر قرآن حکیم نے اسی لفظ کو آنحضرت ﷺ کے تعلق سے ذکر کیا ہے۔ اس قوم سے کافر قوم مراد لی ہے۔ بنا بر آں بقول قرآن مرزا واہل مرزا کافر اور بے ایمان لوگ ہیں اور اسی آیت کے بعد دیگر آیت یوں ہے: ”وقالوا ءاٰلہتنا خیر ام ھو ما ضربوہ لک الا جدلا“ ﴿اور انہوں نے کہا کہ کیا ہمارے معبودان اچھے ہیں یا وہی اچھا ہے؟ انہوں نے آپ سے اس کا ذکر صرف نزاع و فساد کے لئے کیا ہے۔﴾

جاننا چاہئے کہ ان کا یہی قول بطور استفہام اقراری کے ہے کہ ان کے معبودان مزعومہ مسیح ابن مریم سے بہتر ہیں اور وہ ان سے بہتر نہیں ہے۔ بلکہ کمتر سے کمترین ہے اور بدتر سے بدترین ہے۔ دراصل یہی قول مشرکین مکہ کا ہے کہ وہ اپنے اصنام باطلہ کو مسیح ابن مریم سے بہتر اور بالاتر یقین کرتے تھے اور عند اللہ کافر و ملحد قرار پائے اور بعینہ اسی قول مشرکین کے مطابق مرزا قادیانی نے بھی اپنے آپ کو حضرت مسیح سے بہتر اور بالاتر قرار دے کر کہا ہے:

ابن مریم کے ذکر کو چھوڑو اس سے بہتر غلام احمد ہے

(دافع البلاء ص ٢٠، خزائن ج ١٨ ص ٢٤٠)

چونکہ مشرکین مکہ اور مرزا قادیانی کے اقوال باہم مطابق و مترادف ہیں۔ کیونکہ اوّل الذکر نے اپنے معبودان باطلہ کو اور ثانی الذکر نے خود اپنے آپ کو حضرت مسیح سے بہتر اور بالاتر کہا ہے۔ اسی لئے مشرکین مکہ کی طرح مرزا اور مرزائی جماعت بھی کافر و ملحد ہے اور میں نے اسی مرزائی شعر کو بطور ذیل تبدیل کر دیا ہے۔

ابن مریم کے ذکر کو چھوڑو اس سے جلتا غلام احمد ہے

اور پھر مذکورہ بالا آیت کے بعد آیت ذیل موجود ہے جس میں مرزا قادیانی کو شیطان گردانا گیا ہے۔

٩٨

صفحہ ٤٠٧

”ولا یصدنکم الشیطن انه لکم عدو مبین“ ﴿اور تم کو شیطان نہ روکنے پائے۔ کیونکہ وہ تمہارا عدو مبین ہے۔﴾

کیونکہ وہ قرآن مجید کے مطابق حضرت مسیح علیہ السلام کو علم قیامت اور نشان قیامت نہیں مانتا۔ وجہ یہ ہے کہ لفظ ”الشیطن“ کے اعداد حروف پورے چار صد ہیں اور نو صد اعداد کا ایک لفظ محذوف ہے اور لفظ شیطان کے اعداد ٣٧٠ ہیں اور ٩٣٠ عدد کا لفظ ظل محذوف ہے اور ”ظل شیطان“ کے اعداد ١٣٠٠ ہیں۔ بنابر آں مسیح ابن مریم کا عدو مبین غلام احمد قادیانی ہے اور اصل عبارت قرآن یوں ہے: ”ولا یصدنکم مضلل الشیطن انه لکم عدو مبین“ ﴿اور تم کو شیطان کا گمراہ کردہ آدمی نہ روکنے پائے۔ کیونکہ وہ تمہارا علانیہ دشمن ہے۔﴾ یا یوں ہے: ”ولا یصدنکم ظل شیطن انه لکم عدو مبین“ ﴿اور تم کو ظل شیطان نہ روکے کیونکہ وہ تمہارا عدو مبین ہے۔﴾

نیز قرآن مجید کے اندر مسیح ابن مریم کے ذکر سے پہلے فرعون اور آل فرعون کا بیان ہے۔ جس میں ان کے انجام بد کی تشریح کی گئی ہے اور بذریعہ غرق دریا ان کی ہلاکت پر روشنی ڈالی گئی ہے۔ قال تعالیٰ: ”فلما اسفونا انتقمنا منهم فاغرقناهم اجمعین فجعلناهم سلفاً ومثلاً للآخرین“ ﴿جب انہوں نے ہم کو ناراض کیا تو ہم نے ان سے انتقام لیا اور ان سب کو غرق کر دیا اور ان کو گیا گذرا اور آخرین کے لئے نشان عبرت بنا دیا۔﴾

بروئے آیت ہذا فرعون وقوم فرعون کی تباہی بذریعہ غرق دریا عمل میں آئی اور ضمناً مرزا قادیانی کی ہلاکت بھی بیان کر دی گئی ہے۔ کیونکہ فعل ”اغرقنا“ کے اندر لفظ ”غرق“ بطور مصدر کے مستور و محجوب ہے۔ جس کے اعداد حروف مرزا (غلام احمد قادیانی) کے اعداد حروف کے برابر پورے تیرہ صد ہیں۔

بنابر آں دونوں نے خدا تعالیٰ کو ناراض کیا اور غرق ہوئے۔ اگر کہا جاوے کہ مرزا غلام احمد قادیانی کی ہلاکت بذریعہ غرق دریا نہیں ہوئی تو جواب یہ ہے کہ اس کی ہلاکت دریائے راوی کے کنارے شہر لاہور میں ہوئی ہے اور صرف ایک ادنیٰ اور معمولی مناسبت کی بناء پر اس کی ہلاکت کو لفظ غرق کے اندر بطریق اعداد لایا گیا ہے۔ ورنہ یہ محض غرق آب نہیں ہوا۔ بلکہ غرق ہیضہ ہوا اور پھر فرعون و مرزا قادیانی کی ہلاکت کو اس لئے ہمپلہ گردانا گیا ہے کہ فرعون نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کی نبوت ورسالت کا انکار کر کے خدا تعالیٰ کو ناراض و ناخوش کیا اور مرزا قادیانی نے

٩٩

صفحہ ٤٠٨

آنحضرت ﷺ کی ختم نبوت اور ختم رسالت کا انکار کر کے خدا تعالیٰ کو ناخوش اور برہم کیا اور فرعون کی طرح ہلاکت کے منہ میں چلا گیا اور آنے والوں کے لئے نشان عبرت بن کر رہا۔ علاوہ ازیں قرآن مجید نے فرعون اور قوم فرعون کو سلف بمعنی ہلاک اور گیا گزرا کہا۔ ”سلفاً ومثلاً للآخرین“ اور مسیح ابن مریم کو سلف بمعنی ہلاک اور گیا گزرا نہیں کہا۔ بلکہ صرف ”مثل“ بمعنی نشان قدرت کہا: ”و جعلناہ مثلاً لبنی اسرائیل“ بحالات بالا صراحۃً ثابت ہو گیا کہ فرعون بمعہ قوم فرعون کے ہلاک ہو چکا ہے۔ لیکن مسیح ابن مریم ہلاک نہیں ہوا۔ بلکہ اب تک زندہ ہے اور کسی وقت واپس آ کر مرزائیت کا منہ کالا کرے گا اور اہل مرزا کو مسلمان بنائے گا۔

مزید برآں آیت فرعون میں لفظ انتقام ہے جو ہلاکت و تباہی لاتا ہے اور آیت مسیح میں لفظ انعام مذکور ہے جو زندہ کو مارنے کی بجائے اس کو طویل زندگی دیتا ہے۔ کیونکہ زندہ آدمی کو لمبی زندگی سے نوازنا ایک انعام عظیم ہے۔

(حکیم میر محمد ربانی)

قادیانی مولوی صاحب نے میرے خط کا ایک غیر معقول اور گول مول شتم آمیز جواب ضرور بھجوایا ہے۔ لیکن میرے جواب الجواب پہنچنے پر وہ ہمیشہ کے لئے مبہوت و خاموش ہو کر رہ گیا۔ میرے جواب الجواب کے آخر میں میرے چند فارسی اشعار تھے۔ جن میں اس کی ہلاکت کے لئے ایک واضح پیش گوئی تھی اور وہ قلیل مدت میں ہلاک ہو کر میری صداقت کا نشان بن گیا۔ محولہ اشعار بطور ذیل ہیں:

چوں تو نامیدہ شدی عبداللطیف فطرت خود را ز غصہ کن خفیف

جب تیرا نام عبد اللطیف رکھا گیا ہے تو تو اپنی فطرت کو غصہ سے ہلکا کر دے۔

لطف ہائے نام خود بردی کجا چونکہ برمن آمدی زنبور سا

تو اپنے نام کی مہربانیاں کہاں لے گیا۔ جب کہ تو بھڑ بن کر مجھ پر آ گیا۔

خصلت زنبور از خود دور کن ورنہ خود را زود در تنور کن

بھڑ کی عادت کو اپنے سے دور کر دے۔ ورنہ جلد تر اپنے آپ کو تنور میں ڈال دے۔

ہر کہ بہر مومناں زنبور ماند زود تر قہر خدایم را بخواند

جو شخص مؤمنین کے لئے بھڑ بن گیا۔ اس نے جلد تر قہر خدا کو بلا لیا۔

اے برادر خوئے زنبوری فگن ورنہ آید بر تو مرگ نیش زن

اے بھائی جان! بھڑ کی عادت کو پھینک دے۔ ورنہ تم پر ڈنک مارنے والی موت آجائے گی۔

١٠٠

صفحہ ٤٠٩

عذر بست و دوم

یہ ہے کہ: ”مرزا قادیانی کے عہد میں سورج اور چاند دونوں کو گرہن لگ چکا ہے۔ لہٰذا وہ مہدی موعود ہے۔“

(اعجاز احمدی ص ٣٢، خزائن ج ١٩ ص ١٤١)

الجواب اوّلاً

یہ ہے کہ مرزا قادیانی کے عہد میں ہونے والا سورج گرہن اور چاند گرہن محولہ حدیث کے مطابق نہیں ہوا۔ بلکہ مبینہ دونوں گرہن بیان حدیث کے بالکل برعکس ہوئے ہیں اور اصل حدیث جو ہم میں اور مرزا قادیانی کے درمیان میں متنازعہ فیہ ہے وہ حسب ذیل ہے اور امام محمد بن علی (امام باقرؒ) سے مروی ہے کہ: ”ان لمہدینا ایتین لم تکونا منذ خلق السموات والارض تنکسف القمر لاوّل لیلۃ من رمضان وتنکسف الشمس فی النصف منہ ولم تکونا منذ خلق اللہ السموات والارض“ بلاشبہ ہمارے مہدی کے دو نشان ہیں جو زمین و آسمان کی پیدائش سے واقع نہیں ہوئے۔ چاند ماہ رمضان کی پہلی رات کو تاریک ہوگا اور سورج اس کے نصف میں تاریک ہوگا اور یہ دونوں نشان جب سے خدا نے آسمان و زمین کو بنایا، واقع نہیں ہوئے۔ ٭ جاننا چاہئے کہ:

اوّلاً....... حدیث ہٰذا کے مطابق چاند گرہن کا وقوع رمضان شریف کی پہلی رات کو اور سورج گرہن کا وقوع نصف رمضان کے دن کو جو پندرہ تاریخ ہوتی ہے ہونا چاہئے تھا جو نہیں ہوا اور اس کے برعکس چاند گرہن رمضان شریف کی تیرہویں رات کو اور سورج گرہن اٹھائیس رمضان کے دن کو ہوا ہے جو بیان حدیث اور الفاظ حدیث کے برخلاف ہوا ہے۔ بنا بر آں واقع ہونے والے دونوں گرہن مرزا قادیانی کے مہدی ہونے کی تائید و تصدیق نہیں کرتے۔

ثانیاً....... یہ کہ حدیث بالا میں بیان ہونے والے دونوں گرہنوں کو آیت اللہ کہا گیا ہے اور آیت اللہ اس نشان کو کہا جاتا ہے جو بطور خرق عادت اور رواج عام کے خلاف واقع ہو جیسے: ”وجعلنا ابن مریم وامہ آیۃ“ ہم نے ابن مریم اور اس کی ماں کو نشان قدرت بنایا۔ ٭

چونکہ پیدائش کا عام دستور یہ ہے کہ بچہ اپنے ماں باپ کے باہمی اجتماع سے پیدا ہوتا ہے اور بیوی اپنے شوہر کے ملنے سے بچہ جنتی ہے۔ اس لئے بے پدر بچہ کا صرف ماں سے پیدا ہونا اور ایک عورت کا بے خاوند جننا، آیت اللہ ہے اور ماں باپ رکھنے والے بچوں کی پیدائش کو آیت اللہ نہیں کہا جاتا۔ بنا بر آں مرزا قادیانی کے عہد میں ہونے والے دونوں گرہن آیت اللہ نہیں

١٠١

صفحہ ٤١٠

ہیں۔ بلکہ عادت اللہ اور سنت اللہ ہیں۔ کیونکہ یہ دونوں گرہن دستور عام اور رواج مقرر پر ہوئے ہیں اور بطور خرق عادت اور خلاف دستور نہیں ہوئے۔ لہٰذا مرزا قادیانی مہدی موعود نہیں ہے۔

ثالثاً...... یہ کہ حدیث بالا میں مذکور ہونے والے مہدی کو حضرت امام باقر نے بلفظ ”مھدینا“ بمعنی ہمارا مہدی کہا ہے اور صرف مہدی نہیں کہا۔ وجہ یہ ہے کہ امام موصوف کی طرف سے حدیث ہٰذا میں دو قسم کے مہدیوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ ایک سچا مہدی جس کو ”مھدینا“ بمعنی ہمارا مہدی بتایا گیا ہے اور اس کو خاندان سادات میں سے ایک عظیم فرد ظاہر کیا گیا ہے اور جو صراحۃً مذکور ہے اور دوسرا جھوٹا مہدی جس کو بطور مفہوم مخالف کے ضمناً اور اشارۃً ذکر کر کے بتایا گیا ہے کہ وہ ہمارا مہدی نہیں ہے بلکہ مہدی الغیر ہے اور اسلام و مسلمین کے خلاف کام کرے گا۔ یعنی امام موصوف کا مقصد وحید یہ ہے کہ جو فرد ہمارا مہدی ہو کر خاندان سادات میں سے ہو گا اس کے عہد میں ہمارے بیان کردہ دونوں گرہن واقع ہوں گے اور جو شخص ہمارا مہدی نہیں ہو گا بلکہ خاندان سادات کی بجائے دیگر خاندان سے برپا ہو گا وہ کاذب و دجال مہدی ہو گا اور اس کے عہد میں ہمارے بیان کردہ دونوں گرہن نہیں ہوں گے۔ بلکہ دیگر تاریخوں کے شمسی و قمری گرہن ہوں گے۔ چنانچہ حدیث بالا کے مطابق مرزا قادیانی کے عہد میں ہونے والے دونوں گرہن سچے مہدی والے گرہن نہیں ہیں۔ بلکہ جھوٹے مہدی والے گرہن ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ”غلام احمد قادیانی / ١٣٠٠“ اور لفظ ”مہدی الغیر / ١٣٠٠“ اور لفظ ”غیر المھدی / ١٣٠٠“ کے اعداد حروف برابر ہیں جو پورے تیرہ صد ہیں اور مطلب یہ ہے کہ غلام احمد قادیانی ہرگز ہرگز مہدی اسلام نہیں ہے۔ بلکہ غیر المہدی ہے اور پھر وہ اسلام اور اہل اسلام کا مہدی نہیں ہے۔ بلکہ مہدی الغیر ہے جس کو حکومت برطانیہ نے کھڑا کر کے مسلمانوں کے خلاف استعمال کیا۔

رابعاً...... یہ کہ حدیث بالا کے اندر بیان ہونے والے دونوں گرہنوں کے متعلق کہا گیا ہے کہ وہ زمین و آسمان کی پیدائش سے لے کر تا قیام قیامت صرف ایک بار ہوں گے بار بار نہیں ہوں گے اور عادۃ اللہ کے خسوف و کسوف ہر سال ہوا کریں گے۔ چونکہ مرزا قادیانی کے عہد میں آیت اللہ بننے والے دونوں گرہن نہیں ہوئے۔ اس لئے یہ شخص مہدی اللہ نہیں ہے بلکہ مہدی الافرنج اور مہدی الکفار ہے۔ کیونکہ عمر بھر کفار کے مفاد میں کام کرتا رہا۔

اب یہاں مرزا قادیانی کا صرف ایک سوال حل طلب رہ جاتا ہے۔ وہ یہ ہے کہ حدیث زیر بحث کے اندر خسوف قمر کا ذکر ہے۔ خسوف ہلال کا ذکر نہیں ہے اور قمر تین رات کے بعد والے چاند کو کہا جاتا ہے اور پہلی رات کے چاند کو صرف ہلال کا نام دیا جاتا ہے۔ اگر فی الواقع پیش گوئی ہٰذا

١٠٢

صفحہ ٤١١

کے اندر پہلی رات کے چاند کا گرہن مراد ہوتا تو بجائے انخساف قمر کے انخساف ہلال کا ذکر ہوتا۔ لہٰذا تیرہویں رات کا چاند گرہن مراد لینا صحیح اور درست ہے۔

الجواب اوّلاً

یہ ہے کہ قرآنی اصطلاح میں شمس کے ساتھ ہمیشہ قمر کا ہی ذکر ہوتا ہے۔ ہلال کا ذکر نہیں ہوتا۔ خواہ قمر سے ہلال ہی مراد کیوں نہ ہو۔ جیسے: ”الشمس والقمر بحسبان“ ﴿سورج اور چاند سے گنتی کا حساب ہوتا ہے۔﴾

اور یہ بات مسلم بین الفریقین ہے کہ قمری مہینہ کا حساب ہلال سے شروع ہوتا ہے اور ہلال کی پہلی رات کو مہینہ کی پہلی تاریخ ہوتی ہے۔ بنا برآں یہاں پر لفظ قمر کو ہلال پر استعمال کیا گیا ہے۔ اور جیسے: ”هو الذی جعل الشمس ضیآء والقمر نوراً“ ﴿اسی خدا نے سورج کو روشنی اور چاند کو نور دیا۔﴾

چنانچہ ہلال سے لے کر بدر تک چاند کی سب اشکال و صور کو ذی نور اور چمکنے والا کہا گیا ہے۔ اگرچہ بدر کی نسبت ہلال کے اندر کم روشنی اور قلیل نورانیت ہوتی ہے۔ لہٰذا مرزا قادیانی کا یہ اعتراض کہ ہلال کو قمر نہیں کہا جاتا۔ غلط ہو کر بے نتیجہ حیلہ کی کوشش کی ہے۔

الجواب ثانیاً

یہ کہ یہ آیت: ”والشمس وضحھا والقمر اذا تلاھا“ ﴿قسم ہے سورج اور اس کی روشنی کی اور قسم ہے چاند کی جو سورج کے تعاقب میں رہتا ہے۔﴾ کے اندر چاند کو سورج کے پیچھے آنے والا کہا گیا ہے۔ چنانچہ پہلی رات کا چاند بصورت ہلال سورج کے غروب کے بعد ہی طلوع ہو کر نظر آتا ہے اور پندرہ کی رات کا چاند بصورت بدر سورج نکلنے کے بعد غروب ہوتا ہے۔ گویا کہ آیت ہذا میں ہلال اور بدر دونوں کو قمر کہا گیا ہے۔ لہٰذا مرزا قادیانی کا اعتراض باطل ہو کر بے نتیجہ رہا۔

جاننا چاہئے کہ بروئے انجیل متی باب: ٢٤، آیت: ٢٩، ٣٠ مذکور ہے کہ یہ دونوں نشان نزول مسیح از آسمان کے وقت میں واقع ہوں گے۔ جیسا کہ حسب ذیل ہے:

”اور فوراً ان دنوں کی مصیبت کے بعد سورج تاریک ہو جائے گا اور چاند اپنی روشنی نہ دے گا اور ستارے آسمان سے گریں گے اور آسمان کی قوتیں ہلائی جائیں گی اور اس وقت ابن آدم (مسیح) کا نشان آسمان پر دکھائی دے گا۔“

١٠٣

صفحہ ٤١٢

چونکہ مہدی اور مسیح دونوں کا زمانہ اور مشن ایک ہوگا۔ اس لئے حدیث مسلم نے یہی دونوں نشان امام مہدی کے لئے بتائے اور انجیل متی نے مسیح کے لئے کہے اور پھر یہ بھی واضح ہو گیا کہ مسیح اور مہدی دو اشخاص ہیں اور ایک شخص کے دو القاب نہیں ہیں اور یہ بھی عیاں ہے کہ مسیح کا نشان آسمان پر ظاہر ہونے سے یہ مراد ہے کہ مسیح آسمان سے اترتا ہوا دکھائی دے گا اور مہدی پہلے سے موجود ہوگا۔

(نوٹ: مرزا قادیانی نے (اعجاز احمدی ص ٧١، خزائن ج ١٩ ص ١٨١) پر دس اشعار کی ایک نظم لکھی ہے۔ ذیل میں مصنف نے ٥٥ اشعار پر مشتمل نظم سے جواب دیا ہے۔ مرتب!)

اردو نظم کا جواب اردو قصیدہ میں

آج آیا دل میں میرے یہ خیال کہ کروں اسلام کی کچھ دیکھ بھال
کیونکہ مرزا اس کے پیچھے پڑ گیا جس سے یہ رہتا ہے ہر دم پر ملال
شان و عظمت اس کی اب مجروح ہے ہو گیا کمزور اب اس کا جلال
ہے جہاں میں دین میرا ناتواں آ گیا ہے شان پر اس کی زوال
خوب تر اسلام تھا ادیان میں اب ہوا مجروح کیوں اس کا جمال
کافروں کا دین ہے اہل جہاد اس سے مبرا دین کیوں ہے خشک سال
ہر جگہ اسلام کی تذلیل ہے تحقیر ہے اس میں پیدا کیوں ہوا عزت کا کال
میں نے سوچا ہے بہت اس باب میں کہ کہاں سے آ گیا یہ اختلال
بات ساری کھل گئی ہے اسباب کی کھل گیا یہ راز سارا بالکمال
قادیان میں اک غلام احمد ہوا جس سے ہے اسلام میرا خستہ حال
یہ جہاد دین ہے دین کو عزیز ہے یہی اسلام کا عز و جلال
آ گیا اسلام میں اک گرگ دیں جب کہ تھا اسلام میں قحط الرجال
آتے ہی اس نے جہاد دین کو کر دیا موقوف یاں جنگ و قتال
دور تھی ختم نبوت شک سے لیک اس کا بھی ہوا یاں استعمال
بن گئی یہ قادیاں میدان جنگ اس میں زوروں پہ رہا جنگ و جدال
قادیان ہے ہند میں اک کربلا اس میں مرزا ہے یزید پر ضلال

١٠٢

صفحہ ٤١٣
ہو گیا مقتول یاں دینی جہاد مل گیا اس کو نبی کا اتصال
رہ گئی ختم نبوت نیم جاں نیم جاں میں درد کا آیا ابال
پیش حق مظلومہ نے فریاد کی ربنا یا ربنا عندی تعال
ہے شہید قادیان میرا جہاد اے خدا اس کو ملا تیرا وصال
وہ محافظ تھا میرا آفات میں اب کرے گا کون میری یاں سنبھال
میرا حامی چل بسا تنہا ہوں میں اب ہوا جینا مرا مجھ پر وبال
اے خدا ظالم کو میرے غرق کر اور پھر اس کا کچومر دے نکال
غادر الدین میں نہیں ہے درد دیں درد مندی ہے زباں پر ایک چال
ہے یہی غدار دین غدار حق ہیں اسی کے ساتھ سب اہل و عیال
یہ جہاد دین ہے بھائی مرا میں ہوں ہمشیرہ بلا قیل و مقال
ہے برادر کا مرے قاتل یہی اس کو اس کے قتل پر دوزخ میں ڈال
ہے سزا اس قتل کی دوزخ کی آگ آگ سے اس کو نہ تو ہرگز نکال
ہے یزید دین یہ کافر پرست دین میں ثابت ہوا ہے بد مآل
یہ دعا مظلوم کی حق نے سنی آ گئی حق کی طرف سے اس کو کال
قادیاں سے موت اس کو لے چلی جا مرا لاہور میں یہ نونہال
جب کہ تھا لاہور گھر اسلام کا کر دیا کافر کو واپس اس کا مال
قادیاں تھی کھیت اس پودے کی جب بیج تھا اس میں گیا کافر کا لال
کاشتہ پودا تھا جب کفار کا کافروں کو دے کے آئی اس کی آل
گاؤ ماتا ہند کی تھی قادیاں پیٹ میں واپس کیا اپنا اگال
اب رہی باقی یہاں گوبر فقط ہیں لئے پھرتے جسے ربوی رجال
پاس تھا مظلوم کے شیطان بھی اس نے بی بی سے کیا اٹھ کر سوال
میرزا دلال ہے میرا یہاں تو نہ اس کو بددعا سے اپنی گال
قادیاں میں میں ہوں تاجر کفر کا میں بنا ہوں سیٹھ یہ میرا دلال
میری دلالی ہے اس پر فرض عین کیونکہ میں ہوں اصل یہ میرا ظلال
اصل اپنے سایہ سے غافل نہیں مجھ کو بھی ہر وقت ہے اس کا خیال
جب سنی بی بی نے اس کی التجا کہہ دیا مجھ سے نہ کر ایسی مقال

١٠٥

صفحہ ٤١٤
بددعا میری ہے اک تیر قضا اس سے اس کا بچ نکلنا ہے محال
یہ گیا دوزخ کی جلتی آگ میں اب نہیں اس کو نکلنے کی مجال
تو ہے شیطاں ظل شیطاں ہے یہی تو ہے اس کی اصل یہ تیری نقال
دور ہو جا مجھ سے اے شیطان لعیں ورنہ تجھ پر بھی پڑے گا یہ نکال
دور بھاگا اس سے شیطان بچ گیا ورنہ اس کو گھیر لیتا یہ ابال
ہے بہشتی مقبرہ نام جہنم کا مقام کیونکہ زقوم اس میں آیا سر نکال
میں نے خود دیکھا ہے واں پر یہ درخت یہ فقط میرا نہیں ہے اک خیال
دیکھ کر زقوم کو میں نے کہا کہ یہاں پر ہے بچھا دوزخ کا جال
میں نکل آیا وہاں سے زود تر کیونکہ مجھ کو تھی ڈراتی یہ شکال
پڑھنے والو گر ہو تم کو اس میں شک جا کے خود دیکھو اسی کے خد وخال
ہے حکیم بھیروی مرزا کے ساتھ جیسے یک جا مرد ہو اور اس کی زال
مرد و بیوی ہیں یہاں پر ساتھ ساتھ تا قیامت ان کو حاصل ہے وصال

عذر بیست و سوم

یہ ہے کہ ”مولوی محمد حسین بٹالوی نے کہا کہ لفظ ’عجب‘ کا استعمال بصلہ لام نہیں آتا اور صرف بصلہ ’من‘ آتا ہے اور مرزا قادیانی نے بصلہ لام کی مثالیں دکھا کر اس کو رسوا و ذلیل کیا۔“

(اعجاز احمدی ص ٣٣، خزائن ج ١٩ ص ١٤٤)

الجواب

یہ ہے کہ غالباً مولوی صاحب کی رائے قلت و کثرت استعمال پر مبنی تھی۔ یعنی ان کا خیال تھا کہ یہ لفظ بصلہ من کثیر الاستعمال ہے اور بصلہ لام نادر الوقوع ہے اور مرزا قادیانی نے مولوی صاحب کے اسی خیال کو مکمل نفی کی شکل دے دی اور شور مچا دیا کہ مولوی محمد حسین بٹالوی عربیت سے کورا ہے اور مولویت کا صرف ایک خالی ڈھول ہے۔ حالانکہ قرآن مجید میں بھی یہی کیفیت ہے کہ: ”عجب“ بصلہ لام صرف ایک آیت میں مستعمل ہے اور بصلہ من تقریباً دو آیات میں زیر استعمال آیا ہے جیسے: ”اکان للناس عجباً ان اوحینا ٠ کانوا من ایاتنا عجباً ٠ اتعجبین من امر اللہ“ ﴿کیا ہمارا وحی کرنا لوگوں کے لئے تعجب ناک ہے۔ ان لوگوں کو ہماری آیات سے تعجب ہوتا تھا۔ کیا تجھ کو خدا تعالیٰ کے حکم سے تعجب ہوتا ہے؟﴾

١٠٦

صفحہ ٤١٥

اور پھر مرزا قادیانی کے زیر جواب قصیدہ کے اندر بھی عجب بصلہ لام قلت سے اور بصلہ من کثرت سے استعمال کیا گیا ہے۔ جیسا کہ قاری صاحبان قصیدہ کو پڑھ کر معلوم کرلیں گے۔ نیز گورنمنٹ برطانیہ نے مولوی صاحب زیر تذکرہ کو کچھ رقبہ دے کر لوگوں کی طرح آبادکاری کے شرائط پر دے دیا۔ اس پر مرزا قادیانی جل اٹھا کہ اس کو زمین نہ ملی اور اس کے حریف کو مل گئی۔ سچ ہے۔

شور بختاں بآرزو خواہند مقبلاں را زوال نعمت و جاہ

بدبخت لوگ نیک بختوں کی شان وعظمت کے زوال کی آرزو رکھتے ہیں۔

گر نہ بیند بروز شپرہ چشم چشمۂ آفتاب راچہ گناہ

اگر چمگادڑ دن کو نہیں دیکھتا تو اس میں سورج کی روشنی کا کیا قصور ہو سکتا ہے۔

نیز مرزا قادیانی نے خود تسلیم کیا ہے کہ مولوی صاحب مذکور کی طرف سے مرزائی کتاب ”اعجاز المسیح“ کی اغلاط فاحشہ کی ایک طویل فہرست تیار کر کے اس کے علم میں لائی گئی ہے۔ بلکہ ان اغلاط کو پیش مرزا کر کے ان کی تصحیح کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ لیکن یہ شخص تصحیح اغلاط نہ کر سکا اور احباب واعداء میں رسوا ہوا۔

اسی سلسلہ میں میں ضروری سمجھتا ہوں کہ یہاں پر اپنے چند علمی وادبی نشانات لکھ دوں جن میں میں نے مرزائیوں ، عیسائیوں ، بہائیوں کو مخاطب کیا ہے اور ان کے نظریات باطلہ کی تردید کر کے ان کو ساکت و خاموش بنایا ہے اور انہوں نے میری گرفت کے آگے گھٹنے ٹیک دیئے ہیں۔

علمی وادبی نشانات محمدیہ

نشان اوّل دربارہ مسیح و مہدی

یہ کہ کراچی کی مرزائی جماعت کے مربی مولوی محمد اجمل شاہد نے میرے ساتھ حدیث: ”کیف انتم اذا نزل ابن مریم فیکم وامامکم منکم “ ﴿تم کیسے خوش قسمت ہوگے جب ابن مریم تمہارے اندر نازل ہوگا اور تمہارا امام تم میں سے برپا ہوگا۔﴾ پر بذریعہ خط و کتابت گفتگو شروع کر کے یہ مؤقف اختیار کیا کہ حدیث ہذا میں مرزا قادیانی کو ابن مریم اور امام کے لقب سے یاد کیا گیا ہے۔ میں نے جواباً اس کو مفہوم حدیث کی چند توجیہات پیش کیں۔ پہلی وہ توجیہہ ہے جو سابقاً مولوی ابوالعطاء جالندھری کے ذکر میں آچکی ہے اور باقی توجیہات بطور تکملہ تھیں۔

١٠٧

صفحہ ٤١٦

مریم فیکم و امامکم منکم“ لہٰذا نازل فی الامۃ اور باعث من الامۃ باہم متضاد ہیں۔

کیسے خوش قسمت ہوگے کہ بوقت نزول مسیح تمہارا امام برپا ہونے کے حالات میں ہوگا۔ جیسے ”جاءنی زید والشمس طالعة“ زید میرے پاس ایسے حالات میں آیا کہ سورج طلوع ہوچکا تھا۔ چنانچہ جیسے اس مثال میں زید اور سورج دو الگ الگ اشیاء ہیں۔ اسی طرح ابن مریم اور امام بھی دو الگ الگ اشخاص ہیں۔ کیونکہ حال ذوالحال کا غیر ہوتا ہے۔

بالامۃ بنا کر ”ابن مریمکم“ تمہارا ابن مریم نہیں کہا گیا۔ لہٰذا منسوب الامۃ اور غیر منسوب الامۃ باہم متغایر ہیں۔

ہے اور امام امت نہیں۔ بنابرآں امام اور ابن مریم دو اشخاص ہیں۔

اور پھر میں نے اپنے خط کے آخر میں اس کو درج ذیل فارسی اشعار لکھے جس پر وہ ہمیشہ کے لئے خاموش ہو گیا اور خط و کتابت بند کردی۔

ابن مریم از امام ما جداست آں وزیر ماست وایں فرمانرواست

ابن مریم ہمارے امام سے ایک الگ شخص ہے وہ ہمارا وزیر ہے اور یہ ہمارا امیر ہے۔

ابن مریم پیش مہدی چوں وزیر مہدی ما پیش اوہم چوں امیر

ہمارے مہدی کے آگے ابن مریم وزیر کی مانند ہے اور ہمارا مہدی اس کے آگے ایک امیر کی مانند ہے۔

من ندانم یک امیرے بے وزیر ہر امیرے راوزیرے ناگزیر

میں کسی ایک امیر کو بغیر وزیر کے نہیں جانتا۔ کیونکہ ہر امیر کے لئے وزیر ضروری ہوتا ہے۔

میرزائیت نے امیر و نے وزیر بلکہ پیش کافراں شد چوں فقیر

تیرا مرزا نہ امیر ہے اور نہ وزیر ہے۔ بلکہ کفار کے آگے ایک محتاج و فقیر کی مانند رہتا ہے۔

چوب کافر برسر او شد فراز ماند پیشش تا دم آخر دراز

کافر کا ڈنڈا اس کے سر کے اوپر بلند رہا اور وہ مرتے دم تک کافر کے آگے لیٹا رہا۔

١٠٨

از کجا ایں مرد ہندی شد ا یہ ہندی شخص کہاں سے امام ہو

ہوش کن ایں را مکن بہر ت ا اپنا ہوش سنبھال کر اس شخص ک اندر اندھا رہے گا۔

ہر کرا در دیں بود بندہ جس شخص نے اپنے دین ک مانند نامکمل رہا۔

گر توئی آزادِ آزادی اگر تو آزاد ہے تو آزادی کو

زود تر از دل غلامت را تو جلد تر غلام احمد کو اپنے دل

زیر پائے بندہ گر مانی اگر تو دیر تک ایک غلام کا پایہ

در دو عالم نیست بہرت ہیچ اگر تو محمد ﷺ کو چھوڑ کر غی کوئی بھلائی نہیں ہے۔

مرترا اندر جہاں احمد بس ا تجھے دنیا کے اندر صرف ا دھول ہے۔

پیش احمد مرزا را احمد احمد ﷺ کے آگے مرزا کو ا

بندہ بندہ مماں آزاد ایک غلام کا غلام نہ بن بلک

بندہ افرنگ را مہدی تو یورپ کے غلام کو مہدی

صفحہ ٤١٧
از کجا ایں مرد ہندی شد امام
کہ امامت را نمی زیبد غلام

یہ ہندی شخص کہاں سے امام بن گیا۔ جب کہ امامت کے لئے ایک غلام موزوں نہیں ہے۔

ہوش کن ایں را مکن بہرت امیر
ورنہ مانی تا ابد در دیں ضریر

اپنا ہوش سنبھال کر اس شخص کو اپنے لئے امیر نہ بنا، ورنہ تو ہمیشہ کے لئے اپنے دین کے اندر اندھا رہے گا۔

ہر کرا در دیں بود بندہ امام
چوں امامش دین او شد ناتمام

جس شخص نے اپنے دین کے اندر ایک غلام کو امام بنا لیا، تو اس کا دین اس کے امام کی مانند نامکمل رہا۔

گر توئی آزاد آزادی بگیر
زیر ایں بندہ تو بربادی مگیر

اگر تو آزاد ہے تو آزادی کو اپنا لے اور اس غلام کے نیچے بربادی کو نہ اپنا۔

زود تر از دل غلامت را بکن
خویش را بر پائے او ہر گز مزن

تو جلد تر غلام احمد کو اپنے دل سے نکال دے، اور اپنے آپ کو ہرگز اس کے پاؤں پر نہ ڈال۔

زیر پائے بندہ گر مانی بدیر
می کنی روباہ خود را جائے شیر

اگر تو دیر تک ایک غلام کا پابند رہے گا تو اپنے آپ کو بجائے شیر کے لومڑی بناتا ہے۔

در دو عالم نیست بہرت ہیچ خیر
گر رسیدی از محمد سوئے غیر

اگر تو محمد ﷺ کو چھوڑ کر غیر کے پاس چلا گیا ہے تو دونوں جہانوں کے اندر تیرے لئے کوئی بھلائی نہیں ہے۔

مرترا اندر جہاں احمد بس است
کہ بجز احمد ہمہ خاک و خس است

تجھے دنیا کے اندر صرف احمد ﷺ ہی کافی ہے۔ کیونکہ احمد کے بغیر سب کچھ خاک و دھول ہے۔

پیش احمد مرزا را احمد مکن
بر محمد ایں ستم بے حد مکن

احمد ﷺ کے آگے مرزا کو احمد نہ بنا اور محمد ﷺ پر یہ بڑا ظلم نہ کر۔

بندہ بندہ مماں آزاد باش
بر غلام احمدت حداد باش

ایک غلام کا غلام نہ بن بلکہ آزاد بن اور پھر اپنے غلام احمد پر ایک لوہار بن جا۔

بندہ افرنگ را مہدی مکن
ورنہ دینت را کنی از بیخ و بن

تو یورپ کے غلام کو مہدی نہ بنا۔ ورنہ تو اپنے دین کو تنا سمیت جڑ سے نکال دے گا۔

١٠٩

صفحہ ٤١٨
آں مسیح تو مسیح دیں نماند کاں بزیر کفر ماند وایں نماند

تیرا وہ مسیح دین کا مسیح نہیں ہے۔ کیونکہ وہ کفر کے نیچے رہا اور یہ نہیں رہے گا۔

مہدی ما عکس مہدی شماست ایں بزیر کفر وآں بر کفر ہاست

ہمارا مہدی تمہارے مہدی کے برعکس ہے۔ کیونکہ یہ مہدی کفر کے نیچے ہے اور وہ کفر کے اوپر ہوگا۔

مہدی ما راست با کافر جہاد مہدیت راہست با او اتحاد

ہمارا مہدی کافر کے ساتھ جہاد کرنے والا ہے اور تیرا مہدی کافر کے ساتھ ایک ہو گیا۔

ہر دو مہدی ضد یک دیگر شدند چوں غلام احمد و احمد ضد اند

دونوں مہدی ایک دوسرے کی ضد ہیں۔ جیسا کہ غلام احمد اور احمد باہم ضد ہیں۔

چوں من و تو در خیال و اعتقاد من مجاہد وز تو انکار جہاد

جیسا کہ میں اور تو اپنے خیال واعتقاد میں متضاد ہیں۔ یعنی میں مجاہد ہوں اور تو جہاد کا منکر ہے۔

نزد ما آ خواجہ ما را گزیں تابیابی از خدا دنیا و دیں

ہمارے پاس آ کر ہمارے آقا کا انتخاب کر لے تا کہ خدا تعالیٰ کی طرف سے تجھ کو دین و دنیا مل جائے۔

زیر پائے بندگاں خیرت کجاست آنچہ خواہی زیر پائے مصطفیٰ است

غلاموں کے پاؤں کے نیچے تجھ کو خیرت نہیں ملے گی۔ تو جو کچھ چاہتا ہے وہ مصطفیٰ کے پاؤں کے نیچے ہے۔

از غلامان جز غلامی نایدت بر امامت مہدی ما بایدت

تجھے غلاموں کی طرف سے غلامی کے بغیر کچھ نہیں ملے گا اور امامت کے لئے ہمارے مہدی کو ہونا چاہئے۔

در غلامی خویش را رسوا مکن مہدیم را گیر و دیگر را مکن

تو اپنے آپ کو غلامی کے اندر رسوا نہ کر۔ میرے مہدی کو لے لے اور دوسرے کو مہدی نہ بنا۔

مہدی آزاد آزادی دہد مہدی افرنگ بربادی دہد

آزاد مہدی آزادی دیتا ہے اور یورپ کا مہدی بربادی دیتا ہے۔

زندگی خواہی بنزد زندہ رو نزد بندہ خویش را مآور گرو

اگر تو زندگی چاہتا ہے تو زندہ مہدی کے پاس آجا اور بندہ کے پاس اپنے کو گروی مت کر۔

١١٠

لفظ مہدی بر غلام خود مبر

تو اپنے غلام پر مہدی کا لفظ نہ لے

ایں غلامت را مسیح ما مکن

اپنے اس غلام کو ہمارا مسیح مت بنا۔

بندۂ کافر نہ شد ہر گز مسیح

کافر کے غلام کو ہرگز مسیح نہ بنا۔ کیو

از من مسکیں پند من بگیر

مجھ مسکین سے میری نصیحت کو لے

نشان دوم ، در بارہ خواجہ

اچ شریف کے مشہور مرزائی مولوی خط و کتابت، اور مرزائی تعمیر مساجد پر پہلے کا بشیر کا موقف یہ تھا کہ مرزا قادیانی اور خواجہ غلا اشارات فریدی حصہ سوم میں درج ہے وہ ص نے مرزا قادیانی کو مرد صالح اور مہدی مو غیر ممالک میں تعمیر مساجد کا سلسلہ ایک اہم او مکاتبت جعلی اور غیر واقعاتی ہے اور تعمیر مساجد رنگ سے رنگین ہے۔

پہلی بات کے متعلق اوّلاً جواب کے اندر چند ماہ رہی اور پھر بند ہو گئی بعد میں نے خواجہ صاحب کا تذکرہ کیا۔ ورنہ یہی دونو اندراج پاتیں جب کہ مزعومہ خط و کتابت اشا

الجواب ثانیاً

یہ کہ خواجہ صاحب نے اپنے مضمو ہوئے قادیانی فرقہ کو جو مرزا قادیانی کا تی

صفحہ ٤١٩
لفظ مہدی بر غلام خود مبر ورنہ اندر دین مانی بے خبر

تو اپنے غلام پر مہدی کا لفظ نہ لے جا، ورنہ تو دین کے اندر بے خبر رہے گا۔

ایں غلامت را مسیح ما مکن ہرچہ خواہی کن ولے ایں را مکن

اپنے اسی غلام کو ہمارا مسیح مت بنا۔ تو جو کچھ چاہتا ہے کر لے۔ لیکن یہی کام نہ کر۔

بندۂ کافر نہ شد ہر گز مسیح کہ مریضے نیست مانند صحیح

کافر کے غلام کو ہرگز مسیح نہ بنا۔ کیونکہ مریض آدمی تندرست آدمی کے برابر نہیں ہے۔

از من مسکیں پند من بگیر ورنہ مانی تا ابد بے من ضریر

مجھ مسکین سے میری نصیحت کو لے لے۔ ورنہ میرے بغیر قیامت تک اندھا رہے گا۔

نشان دوم، دربارہ خواجہ غلام فرید چاچڑانی رحمہ اللہ

اچ شریف کے مشہور مرزائی مولوی غلام احمد اختر کے بیٹے بشیر احمد کے ساتھ ”غلامیٔ خط و کتابت“ اور مرزائی تعمیر مساجد پر پہلے زبانی اور پھر تحریری گفتگو شروع ہوئی۔ قادیانی بشیر کا موقف یہ تھا کہ مرزا قادیانی اور خواجہ غلام فرید صاحب چاچڑانی کے درمیان جو خط و کتابت اشارات فریدی حصہ سوم میں درج ہے وہ صحیح اور واقعاتی مکاتبت ہے۔ اس میں خواجہ صاحبؒ نے مرزا قادیانی کو مرد صالح اور مہدیٔ موعود تسلیم کیا ہے اور پھر مرزا قادیانی کی طرف سے غیر ممالک میں تعمیر مساجد کا سلسلہ ایک اہم اور درخشندہ کارنامہ ہے اور میرا موقف یہ تھا کہ مذکورہ مکاتبت جعلی اور غیر واقعاتی ہے اور تعمیر مساجد کا سلسلہ مخلصانہ نہیں ہے بلکہ منافقانہ اور جاسوسانہ رنگ سے رنگین ہے۔

پہلی بات کے متعلق اوّلا جواب یہ ہے کہ مزعومہ ”غلامیٔ خط و کتابت“ سال ١٣١٣ھ کے اندر چند ماہ رہی اور پھر بند ہو گئی بعد میں خواجہ صاحبؒ نے مرزا قادیانی کا اور نہ مرزا قادیانی نے خواجہ صاحب کا تذکرہ کیا۔ ورنہ یہی دونوں باتیں اشارات فریدی حصہ چہارم میں ضرور شرف اندراج پاتیں جب کہ مزعومہ خط و کتابت اشارات فریدی حصہ سوم میں درج ہے۔

الجواب ثانیاً

یہ کہ خواجہ صاحب نے اپنے مشہور رسالہ ”فوائد فریدیہ“ کے اندر ناری فرقوں کو گنتے ہوئے قادیانی فرقہ کو جو مرزا قادیانی کا تیار کردہ فرقہ ہے۔ ٣٢ نمبر پر درج کیا ہے اور پھر اسی

١١١

صفحہ ٤٢٠

فرقہ کو ناجی فرقوں کے اندر نہیں لائے۔ بنا بر آں مزعومہ خط و کتابت کی مجعولیت درجہ ثبوت کو اپناتی ہے۔ فقط ۔

فرقہ مرزائیہ نزد فرید ہست از جملہ گروہ ہائے مزید

خواجہ صاحب کے نزدیک مرزائی فرقہ سب ملعون فرقوں میں سے ایک مردود فرقہ ہے۔

دولت ایں فرقہ شد حب فرنگ می زید ایں ربوہ از رب فرنگ

یورپ کی محبت اس فرقہ کی جائیداد ہے اور یہی ربوہ یورپ کے رب سے زندگی پاتا ہے۔

مرد افرنگی است ایں را یار غار مرد مسلم نزد او شد ہمچوں خار

فرنگی آدمی اس کا گہرا دوست ہے اور مسلمان آدمی اس کے نزدیک کانٹے کی مانند ہے۔

خار او ایں فرقہ را ہمچوں گل است زاغ او ایں را مثال بلبل است

اس فرقہ کے لئے اس کا کانٹا پھول کی مانند ہے اور اس کا کوا اس کے لئے ایک بلبل ہے۔

شیخ ما ایں فرقہ را گمراہ گفت قول او را بیں کہ او از راہ گفت

ہمارے شیخ نے اس فرقہ کو گمراہ کہہ دیا ہے۔ اس کے قول کو دیکھ لے کہ اس نے درست بات کہی ہے۔

گر ترا چشم است قول شیخ بیں ہست قول شیخ ما در ثمین

اگر تو آنکھ رکھتا ہے تو شیخ کے قول کو دیکھ لے۔ کیونکہ ہمارے شیخ کا قول ایک قیمتی موتی ہے۔

مرزا را بگذار قول شیخ گیر ورنہ تو بے شیخ مانی ضریر

تو قول شیخ کو لے کر مرزا کو چھوڑ دے۔ ورنہ تو ہمارے شیخ کے بغیر اندھا رہے گا۔

دامن شیخم پناہ ہر بلاست تخم بے دینی قبول میرزاست

میرے شیخ کا دامن ہر بلا سے پناہ دیتا ہے اور مرزا کو قبول کرنا بے دینی کا بیج ہے۔

منحرف از شیخ ما ہرگز مشو ہمچوں بے چشماں رہ مرزا مرو

تو ہمارے شیخ سے منحرف نہ بن اور اندھوں کی طرح مرزا کی راہ پر نہ چل ۔

از چہ بہرت مرزا را کردی امام اے عجب گشتی گرفتار غلام

تو نے کس طرح مرزا کو اپنا امام بنالیا ہے۔ تعجب کی بات ہے کہ ایک غلام نے تجھ کو گرفتار کر لیا ہے۔

از فریدم سوے ایں مرزا مرو ورنہ دینت رفت از دستت شنو

تو میرے فرید کو چھوڑ کر مرزا کی طرف مت جا ورنہ سن لے تیرا دین تیرے ہاتھ سے نکل گیا۔

١١٢

صفحہ ٤٢١
گر سلام دین خواہی زو گریز آبروئے دین خود پیشش مریز

اگر تو دین کی سلامتی چاہتا ہے تو اس سے بھاگ جا، اور اپنے دین کی عزت اس کے آگے نہ گرا۔

دراصل مزعومہ خط و کتابت کی حقیقت یہ ہے کہ حضرت خواجہ صاحب نے اپنا میر منشی غلام احمد اختر اوچی مذکور کو بنا رکھا تھا۔ جو خواجہ صاحب کی طرف سے لکھے جانے والے تمام مکتوبات کا نویسندہ تھا اور مرزائی کتابوں کو دیکھ کر اندرونی طور پر مرزائی دین کو قبول کر چکا تھا اور جعلی طور پر اس نے خواجہ صاحب کی طرف سے تصدیق مرزا کے لئے مرزا قادیانی کو متعدد خطوط لکھ دیئے اور خطوط مرزا کے جوابات بھجوائے اور پھر اس نے خواجہ صاحب کے ملفوظات نویس مولوی رکن دین سے سازش کر کے مزعومہ ”غلامی خط و کتابت“ اشارات فریدی حصہ سوم میں درج کرا دیا۔

اگر بفرض محال مزعومہ خط و کتابت صحیح ہے اور حقیقتاً خواجہ صاحب کی طرف سے ہوئی ہے تو پھر جواب یہ ہے کہ جب خواجہ صاحب کو یہ علم ہوا کہ مرزا قادیانی ختم نبوت کا منکر ہو کر مدعی نبوت ہے تو خواجہ صاحب نے اپنے عقیدہ تصدیق مرزا سے توبہ کر لی اور مرزا سے اپنی برأت کا اعلان کر دیا اور غلام احمد کاتب مذکور کو اس کی خاص ڈیوٹی سے الگ کر کے چاچڑاں سے نکال دیا۔ تاکہ خس کم اور مجلس پاک ہو۔ چنانچہ خواجہ صاحب اپنے دیوان کے اندر اپنی برأت کا تذکرہ بطور ذیل کرتے ہیں:

روز ازل دی گل وچ پاتم برہوں تیڈے دی ڈور

میں نے روزِ ازل سے اپنے گلے میں تیری محبت کی ڈور ڈال رکھی ہے۔

شالا مولھ سلامت نیویں راہ وچ لڑن چور

خدا کرے تو اپنی پگڑی باسلامت لے جائے۔ کیونکہ راستہ میں چور لڑتے ہیں۔

خواجہ صاحب نے ان دونوں اشعار میں مرزا قادیانی کو دزد نبوت قرار دے کر اپنے آپ کو اس دزد نبوت سے ڈرایا ہے اور کہا ہے کہ میں اس دزد نبوت سے ڈرتا ہوں کہ کہیں موقع پا کر مجھ سے عقیدہ ختم نبوت کی پگڑی نہ اتار لے اور مجھے بے پگڑی اور بے وقار نہ کر دے۔ حالانکہ میں نے روزِ ازل سے عشق نبی کی رسی اپنے گلے میں ڈال رکھی ہے اور پھر دیگر موقعہ پر دوسری کافی کے اندر تصدیق مرزا کو اپنی گندی عادت قرار دے کر اس سے توبہ اور استغفار کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

چوریوں جاریوں استغفار شالا بخشم رب غفار

١١٣

صفحہ ٤٢٢

میں نے چوری اور دوسرے گناہوں سے توبہ کر لی ہے اور توقع ہے کہ رب غفور مجھے بخش دے گا۔

گندی عادت گندڑے فعلوں توبہ توبہ لکھ لکھ وار

میں نے گندی عادت اور گندے افعال سے لاکھوں بار توبہ کر لی ہے۔

چنانچہ خواجہ صاحب نے جس گندی عادت اور جس گندے فعل سے توبہ کر لینے کا اظہار کیا ہے وہ صرف تصدیق مرزا کی عادت بد اور قبول مرزا کا فعل بد ہے۔ یہی وجہ ہے کہ خواجہ صاحب اور مرزا اعدادا ایک دوسرے کی ضد بنتے ہیں۔ (غلام احمد آباء / ١١٢٩) ضد الفرید / ١١٢٩‘ اور دوسری بات جو مرزائی تعمیر مساجد کا مسئلہ ہے۔ یقینا منافقین مدینہ کی مسجد ضرار کی ایک شاخ یا ایک کڑی ہے۔ کیونکہ مرزائی مساجد کی غرض وغایت ہو بہو اور بعینہ وہی ہے جو منافقین مدینہ کی مسجد ضرار رکھتی تھی۔ چنانچہ قرآن مجید کی درج ذیل آیت اگرچہ بظاہر مسجد ضرار کا ذکر کرتی ہے۔ لیکن ضمنا و اعدادا مرزائی مساجد ضرار کا تذکرہ بھی اس میں مل جاتا ہے۔ قال تعالیٰ! "والذين اتخذوا مسجداً ضراراً وكفراً وتفريقاً بين المؤمنين وارصاداً لمن حارب الله ورسوله من قبل ط وليحلفن ان اردنا الا الحسنىٰ والله يشهد انهم لكذبون" ﴿اور ان لوگوں نے نقصان رسانی اور کفر بنانے اور اہل ایمان کے درمیان تفریق ڈالنے اور خدا اور رسول سے لڑنے والوں کے لئے پہلے سے ایک پناہ گاہ بنانے کے لئے ایک مسجد بنالی ہے اور پھر حلف اٹھا کر کہتے ہیں کہ وہ اس مسجد کی تعمیر میں نیکی کا ارادہ رکھتے ہیں اور خدا تعالیٰ شہادت دیتا ہے کہ وہ لوگ اپنے ارادوں میں کاذب ہیں۔﴾

آیت ہذا اگرچہ بظاہر منافقین مدینہ کے عزائم ذمیمہ سے پردہ اٹھاتی ہے کہ یہ لوگ تعمیر مسجد کے سلسلہ میں مخلص اور نیک نیت نہیں ہیں۔ بلکہ وہ لوگ اس مسجد کی وساطت سے تخریب اسلام اور تفریق بین المسلمین اور مخالفین اسلام کو پناہ دینے کے عزائم بد رکھتے ہیں۔ لیکن بباطن اور در پردہ مرزا واہل مرزا کی تحریک مساجد کی طرف بھی اشارہ کرتی ہے کہ یہ تحریک بھی مدنی مسجد ضرار کی ایک شاخ ہے اور اسی کے نقش قدم پر گامزن ہے اور ہو بہو اسی کے عزائم بد رکھتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ لفظ "مسجد ضرار" کے اعداد حروف پورے تیرہ صد آٹھ (١٣٠٨) ہیں۔ جو مرزائی تحریک مساجد کا سال آغاز ہے جس میں مرزا محمود نے تحریک مساجد کا منصوبہ اپنے مبلغین کے سامنے پیش کیا اور ان سے تعمیر مساجد کے لئے چندہ جات اور عطیات کا ایک طویل سلسلہ جاری کر دیا اور

١١٤

صفحہ ٤٢٣

پھر اعداداً یہی مرزائی مسجد نقصان دہ بنتی ہے۔ ”مسجد الغلام/١٢٠٩، ضرار ابداً / ١٢٠٩“ غلام احمد کی مسجد ہمیشہ نقصان دینے والی ہے۔ یا ”مسجد الغلام الهندی / ١٣٠٨، مسجد ضرار / ١٣٠٨“ یعنی ہندی غلام کی مسجد، مسجد ضرار ہے۔

جاننا چاہئے کہ آیت مذکورہ بالا کے اندر فتنہ مرزائیت کی تحریک مساجد پر ایک زبردست پیش گوئی ہے اور بتایا گیا ہے کہ منافقین مدینہ کے بعد ایک ایسا فرقہ بپا ہو گا جو تعمیر مساجد کے پردہ میں منافقین مدینہ کے چاروں کام کرے گا اور پھر حلفاً اپنے تدین کے گیت گائے گا۔ چنانچہ جس طرح تعمیر مسجد سے مدنی منافقین کے یہ مقاصد تھے کہ اسلام کو افکار جہاد سے کمزور کیا جاوے اور کفار کی حمایت واعانت ہو اور اہل اسلام میں فرقہ بازی کو فروغ دیا جاوے اور پھر اسی مسجد کو محاربین اسلام کے لئے امن گاہ کا مقام میسر آجائے۔ اسی طرح مرزائی تحریک مساجد کے بھی یہی عزائم بد ہیں اور انہی عزائم ذمیمہ کی بناء پر قادیان کی مسجد ضرار کو مرکزی درجہ دیا گیا۔ یہی وجہ ہے کہ مرزا قادیانی نے منافقین مدینہ کی طرح حرمت جہاد کا فتویٰ دیا اور برطانوی حکومت کی اطاعت کو نصف اسلام کہا اور اہل اسلام کے اندر ایک نیا فرقہ پیدا کر کے اس کو جماعت احمدیہ کا نام دیا اور پھر اسے فوج برطانیہ کے نام سے موسوم کیا اور قادیان کی مرکزی مسجد کو برطانوی مفاد کے لئے ایک عظیم تر نشرگاہ اور قومی و فوجی اڈہ قرار دے دیا۔ قلت:

مسجد مرزاست مبنی بر ضرار بلکہ کار اوست ہمگی بر ضرار

مرزا کی مسجد نقصان رسانی کے لئے بنائی گئی ہے۔ بلکہ اس کا سب کام نقصان رسانی پر مبنی ہے۔

مسجد او راہنمائے کفر و ضر اندریں مسجد نیاید مرد حر

اس کی مسجد کی بنیاد کفر ونقصان پر رکھی گئی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس میں آزاد آدمی نہیں آتا۔

مسجدے کورا باشد بر ضرار ایں چنیں مسجد بود مفتاح نار

جس مسجد کی بنیاد نقصان رسانی پر رکھی گئی ہو تو ایسی مسجد نار جہنم کی کنجی قرار پاتی ہے۔

مسجد تو گرچہ سجدہ گاہ شد عظمت ایں مسجدت چوں کاہ شد

اگرچہ تیری مسجد ایک سجدہ گاہ ہو چکی ہے۔ لیکن اس کی عظمت ایک تنکا کے برابر بن گئی ہے۔

شد اساس مسجدت کفر و نفاق از چنیں مسجد فراق اندر فراق

تیری اسی مسجد کی بنیاد کفر و نفاق پر ہے۔ ایسی مسجد سے بہت دور رہنا چاہئے۔

مسجدت را پاک از تجسس کن دور از بام درش ابلیس کن

تو اپنی مسجد کو جاسوسی کرنے سے پاک کر دے اور اس کے درودیوار سے ابلیس کو ہٹا دے۔

١١٥ ١١٥

صفحہ ٤٢٤
بر منار مسجدت بانگ نماز زیر سقفش مرد افرنگی دراز

تیری مسجد کے مینار پر بانگ نماز ہوتی ہے اور اس کی چھت کے نیچے فرنگی شخص سویا ہوا ہے۔

مسجد ما ہست نگران حجاز مسجد تو با فرنگی در نیاز

ہماری مسجد حجاز شریف کی محافظ ہے اور تیری مسجد فرنگی آدمی سے راز و نیاز کر رہی ہے۔

مسجدت را قبلہ شد روئے فرنگ منبرت را زیب شد خوئے فرنگ

تیری مسجد کا قبلہ فرنگی آدمی کا چہرہ ہے اور فرنگی آدمی کے عادات تیرے منبر کی زینت بن گئے۔

مسجد تو مرض را در تو فزود مسجد ما مرض را از ما ربود

تیری مسجد نے تیرے اندر مرض کو بڑھا دیا اور ہماری مسجد نے مرض کو ہم سے چھین لیا۔

مسجد خود را منزہ کن ز غرض ورنہ مانی تا ابد در کفر و مرض

تو اپنی مسجد کو اغراض بد سے پاک رکھ۔ ورنہ تو ہمیشہ کے لئے کفر و مرض میں رہے گا۔

مسجدت را بہر حق تعمیر کن وز فرنگی مرورا تطہیر کن

تو اپنی مسجد کو خدا تعالیٰ کے لئے بنا اور خدارا اپنی اسی مسجد کو فرنگی سے پاک کر دے۔

از فرنگی مسجدت را دور کن ورنہ افتادی ز دیں از بیخ و بن

تو اپنی مسجد کو فرنگی شخص سے دور رکھ۔ ورنہ تو اپنے دین سے جڑ اور تنا سمیت گر گیا۔

واضح ہونا چاہئے کہ میرے مکتوب الیہ مذکور نے جب مجھ سے پیچھا چھڑانا چاہا تو اس نے میرے خلاف چند ہندی اشعار لکھ کر بھیج دیئے۔ میں نے ان اشعار کے جواب میں درج ذیل اردو قصیدہ لکھ کر اسے بھجوا دیا۔ جس پر وہ مبہوت ہو کر ساکت و لاجواب ہو گیا اور آئندہ کے لئے خط و کتابت بند کر دی اور قلیل عرصہ بعد ہلاک ہو گیا۔

اردو قصیدہ بنام مرزائیت رسیدہ

اے پیارے پیرزادہ بات سن بات کیا ہے اپنے کچھ حالات سن
تو بنا پھرتا ہے خواجہ اونچ کا نیچ اپنی کے بھی کچھ کلمات سن
اصل تیری نیچ ہے اونچی نہیں اصل اپنی کے بھی سفلیات سن
اصل تیری میں خلل آیا ہے نقص نقص اپنے کے بھی کچھ خطرات سن
میرزا کو تیری طرح تھا مراق اس نے خود لکھے ہیں قصہ جات سن
اس نے خود مانا کہ مجھ میں ہے مراق اس مراقی شخص کے بڑ بات سن

١١٦

اس سے تجھ کو حصہ رسدی مل گیا
وہ مراقی تو مراقی بن گیا
وہ بنا اس مرض سے مثل مسیح
پھنس گئے تم دونوں ہی اک مرض میں
نیچ زادہ - پیرزادہ بن گیا
تو ہے نیچا اونچ میں کیسے گیا
تو مراقی وہ مراقی سمجھ سن
قرب میں پیروں کے تیرا گھر بنا
سیم سے پیروں کے ہے تیرا ظہور
تو ہے چھلکا مغز اس میں کچھ نہیں
تیری فرعونی ہے خالی ڈھول ایک
تیرے شبہوں پر پڑی ضربیں مری
گر ہے ہمت زور اپنا دکھاوے
بھاگنا میدان سے اچھا نہیں
مات کھانا حق سے باطل کا اصول
چھوڑ دے باطل پرستی حق پہ آ
تو پھلا پھولا ہے باطل میں ضرور
تو ہے مینڈک کیچ کا اونچا نہ بن
شور مینڈک کا گیا افلاک میں
مینڈکی کا شور ہر جا مچا ہے
تو گلہری باغ مرزا کی بنی
میری جنت میں گذر تیرا نہیں
کروٹیں بدلی ہیں تو نے دین میں
مکتفی تجھ کو نہ آیا دین حق
یہ نہیں خیرات مرزا کی یہاں
علم سے بے بہرہ ہے تیرا وجود
صفحہ ٤٢٥
اس سے تجھ کو حصہ رسدی مل گیا
مرض میں دونوں کی ہے بہتات سن
وہ مراقی تو مراقی بن گیا
اپنے کچھ اس کے بھی کچھ ہفوات سن
وہ بنا اس مرض سے مثل مسیح
پیرزادہ تو بنا وہمات سن
پھنس گئے تم دونوں ہی اک مرض میں
بن گئی یہ مرض اب آفات سن
ہیچ زادہ ۔ پیرزادہ بن گیا
زبر تیری کیوں بنی رفعات سن
تو ہے نیچا اونچ میں کیسے گیا
یہ بدی کب سے بنی حسنات سن
تو مراقی وہ مراقی سچ سن
ملتی جلتی دونوں میں خصلات سن
قرب میں پیروں کے تیرا گھر بنا
سم کی پیری سے ہیں اثرات سن
سم سے پیروں کے ہے تیرا ظہور
تو ہے سیمی پیرزادہ ذات سن
تو ہے چھلکا مغز اس میں کچھ نہیں
سر سے پاؤں تک ہو ساگ و پات سن
تیری فرعونی ہے خالی ڈھول ایک
اس میں میں نے کر دیئے ہیں ہول ضربات سن
تیرے شبہوں پر پڑی ضربیں مری
ان میں ہر جا زخم در زخمات سن
گر ہے ہمت زور اپنا دکھاوے
بل میں چھپنا عادت حشرات سن
بھاگنا میدان سے اچھا نہیں
ورنہ حق سے کھا گیا تو مات سن
مات کھانا حق سے باطل کا اصول
تجھ میں باطل کی ہیں سب عادت سن
چھوڑ دے باطل پرستی حق پہ آ
حق پہ آجانا ہے اچھی بات سن
تو پھولا پھولا ہے باطل میں ضرور
اس پہ مر جانا ہے بد اموات سن
تو ہے مینڈک کیچ کا اونچا نہ بن
خانہ بخواست در جاہات سن
شور مینڈک کا گیا افلاک میں
کون سنتا ہے تری ٹرات سن
مینڈکی کا شور ہر جا ہیچ ہے
مردک ترسا ازیں فقرات سن
تو گلہری باغ مرزا کی بنی
جا کتر اس باغ کے ثمرات سن
میری جنت میں گذر تیرا نہیں
تیرا مسکن ہی نہیں جنات سن
کروٹیں بدلی ہیں تو نے دین میں
دین میں گیند ہی ہے تو دن رات سن
مکتفی تجھ کو نہ آیا دین حق
مانگ لی مرزا سے ہے خیرات سن
یہ نہیں خیرات مرزا کی یہاں
بن گئی خیرات سیئات سن
علم سے بے بہرہ ہے تیرا وجود
اس پہ تجھ کو آ گئے زعمات سن

١١٧

صفحہ ٤٢٦
آب شیریں کذب کو سمجھا ہے تو پی لئے مرزا سے کچھ جرعات سن
صدق کڑوا کذب میٹھا ہے تجھے تیری اس عادت پہ ہے ہیہات سن
تو ازل سے کذب کا غواص ہے تیری گھٹی میں پڑے کذبات سن
کذب ہے تیرا بچھونا اوڑھنا اس میں تو نے پائی ہے راحات سن
صدق سے تجھ کو عداوت ہو گئی ہو گئی اس سے تجھے نفرت سن
حمل روحانی ہے ایجاد غلام ہیں عجب تر اس کی ایجادات سن
حاملہ دس ماہ تک مرزا رہا بعد اس کے حمل کی دفعات سن
اس نے اپنے پیٹ سے خود کو جنا ایسے کرتب کرتے ہیں جنات سن
ماں بنا پھر ماں کا بچہ بن گیا کیسی نادر تر ہیں شخصیات سن
حمل روحانی تھا تیرے باپ کو اس پہ پیروں کے ہیں احسانات سن
بن گیا وہ پیر ایسے حمل سے حمل کی اس پر ہوئی برسات سن
آج کل تجھ کو بھی آیا حمل ہے جلد تر ہو جائے گا سادات سن
تم ہو آدھے مرد آدھی عورتیں ہے تعجب مرد ہیں نسوات سن
حمل گیری تیری فطرت بن گئی ہیں تیرے سب کام کج فطرات سن
مرزائی سب ہیں فطرت کے خلاف حق سے ہٹ کر ان کی ہیں حرکات سن
باپ آخر بیٹا خاطر بن گیا ہیں برابر دونوں کے خدمات سن
حمل روحانی ہے مرزا کا اصول اس سے اس کو مل گئے درجات سن
تو بھی اس میں بن گیا مرزا پرست آ گئے تجھ میں یہی برکات سن
حمل روحانی ہے طاقت کی دوا ایسی کم ہیں ہم میں ادویات سن
اس دوا سے روح پاتی ہے سکون اس سے اٹھتے ہیں بہت جذبات سن
روح تیری حاملہ اور جسم بانجھ فکر کر کیسی ہیں تخلیقات سن
یہ خوراکیں چھوڑ دے اور مرد بن ورنہ ہوں گی تیری اصلاحات سن
حق پہ آ جا اور مرزا کو بھگا اس سے تیری ہیں ترقیات سن
عید ہے نزدیک عیدی مجھ سے لے ہیں یہی اشعار عیدیات سن
میں ہوں بے زر اور بے مایہ یہاں ورنہ دیتا اور بھی سوغات سن
مجھ سے عیدی مختصر منظور کر بعد میں بھیجوں گا تحفہ جات سن

١١٨

٧

تم جہاد دین کے منکر ہو کیوں
یہ شرارت ہے تمہاری دین میں
مرزائی سب کے سب ہیں پر قصور
چھوڑ دے مرزا کو مرزائی نہ رہ

یہ شخص قصیدہ ہذا کی وصولی کے بعد جل نہ کیا۔ لیکن بعض لوگوں کا بیان ہے کہ وہ اپنے مر رکھتا تھا۔ واللہ اعلم بالصواب!

نشان سوم دربارہ عیسائی فرقہ

یہ کہ عیسائیوں نے شہر فیصل آباد جاری کیا ہوا ہے۔ جس میں بذریعہ خط و کتاب عیسائیت پر عبور حاصل کرنے کے لئے بذریعہ بھجوانے کی استدعا کی۔ مجھے اسباق کی پہلی قس تھا۔ میں نے ہر اسباق کی قسط کے آنے پر فوراً کہیں مجھے کوئی اعتراض محسوس ہوا میں نے ا لوگ عموماً میرے اعتراضات کی اکثریت کو بھجواتے رہے۔ چنانچہ یہی سلسلہ اسباق کتاب نے مجھے کامیابی کا ایک سٹیفکیٹ بھجوا دیا۔ جس تھے اور سٹیفکیٹ کا مضمون بطور ذیل ہے:

تصدیق کی جاتی ہے کہ حکیم میر محمد ر "صحائف اور زبور کی شہادت" کامیابی کے ساتھ پیش کی جاتی ہے۔ حاصل کردہ نمبر ٤٥٨/٥٠٠

اس سند کامرانی کے ملنے پر انجیل م اسباق پر بھی سلسلہ اعتراضات کو جاری رکھا۔ میں نے ان کو درج ذیل اعتراض پیش کیا اور لکھ اس (یسوع) نے ان (شاگردوں جواب میں کہا تو زندہ خدا کا بیٹا مسیح ہے۔ یسوع

صفحہ ٤٢٧
تم جہادِ دین کے منکر ہو کیوں جب کہ ہے یہ چیز دینیات سن
یہ شرارت ہے تمہاری دین میں دین میں ہو خوب بدنیات سن
میرزائی سب کے سب ہیں پر قصور کیونکہ یورپ کی ہیں ذریات سن
چھوڑ دے مرزا کو مرزائی نہ رہ ورنہ تجھ پر آئیں گے صدمات سن

یہ شخص قصیدہ ہذا کی وصولی کے بعد جلد تر ہلاک ہو گیا اور مرزائیت سے برأت کا اعلان نہ کیا۔ لیکن بعض لوگوں کا بیان ہے کہ وہ اپنے مرنے سے قبل مرزائیت کے لئے اچھی رائے نہیں رکھتا تھا۔ واللہ اعلم بالصواب!

نشان سوم دربارہ عیسائی فرقہ

یہ کہ عیسائیوں نے شہر فیصل آباد میں ایک سکول بنام ”بائبل کارسپانڈنس سکول“ جاری کیا ہوا ہے۔ جس میں بذریعہ خط و کتابت عیسائیت کی تعلیم دی جاتی ہے۔ میں نے عیسائیت پر عبور حاصل کرنے کے لئے بذریعہ درخواست سکول ہذا میں داخلہ لے لیا اور اسباق بھجوانے کی استدعا کی۔ مجھے اسباق کی پہلی قسط بھجوا دی گئی۔ جس پر میرا داخلہ نمبر ٠٦٣٢ درج تھا۔ میں نے ہر اسباق کی قسط کے آنے پر فوری جواب بھجوانے کا سلسلہ شروع کر دیا اور جہاں کہیں مجھے کوئی اعتراض محسوس ہوا میں نے اس کو اپنے جواب میں استجواباً لکھ دیا۔ اس پر وہ لوگ عموماً میرے اعتراضات کی اکثریت کو چھوڑ کر حسب منشاء بعض سوالات کے جوابات بھجواتے رہے۔ چنانچہ یہی سلسلہ اسباق کتاب تورات پر جاری رہ کر ختم ہو گیا اور اس پر انہوں نے مجھے کامیابی کا ایک سرٹیفکیٹ بھجوا دیا۔ جس پر میری کامیابی کے نمبرات ٤٨٨، ٥٠٠ درج تھے اور سرٹیفکیٹ کا مضمون بطور ذیل ہے:

تصدیق کی جاتی ہے کہ حکیم میر محمد ربانی کو سکول ہذا کا کورس بنام : ”تورات انبیاء کے صحائف اور زبور کی شہادت“ کامیابی کے ساتھ پاس کرنے پر یہ سند آج مورخہ ١٥؍نومبر ١٩٧٦ء کو پیش کی جاتی ہے۔ حاصل کردہ نمبر ٤٨٨/٥٠٠۔ دستخط پرنسپل

اس سند کامرانی کے ملنے پر انجیل متی کے اسباق آنے شروع ہوگئے۔ میں نے ان اسباق پر بھی سلسلہ اعتراضات کو جاری رکھا۔ جب سلسلہ اسباق انجیل متی کے باب ١٦ پر پہنچا تو میں نے ان کو درج ذیل اعتراض پیش کیا اور لکھا کہ آیات ١٥ تا ١٨۔

اس (یسوع) نے ان (شاگردوں) سے کہا مگر تم مجھے کیا کہتے ہو۔ شمعون پطرس نے جواب میں کہا تو زندہ خدا کا بیٹا مسیح ہے۔ یسوع نے جواب میں اس سے کہا مبارک ہے تو شمعون

١١٩

صفحہ ٤٢٨

بر یونا، کیونکہ یہ بات گوشت اور خون نے نہیں بلکہ میرے باپ نے جو آسمان پر ہے، تجھ پر ظاہر کی اور میں بھی تجھ کو کہتا ہوں کہ تو پطرس ہے۔ اور آیات ٢١ تا ٢٣:

اس وقت سے یسوع اپنے شاگردوں پر ظاہر کرنے لگا کہ اسے ضرور ہے کہ یروشلم کو جائے اور بزرگوں اور سردار کاہنوں اور فقیہوں کی طرف سے بہت دکھ اٹھائے اور قتل کیا جاوے اور تیسرے دن جی اٹھے۔ اس پر پطرس اس کو الگ لے جا کر ملامت کرنے لگا کہ اے خداوند! خدا نہ کرے یہ تجھ پر ہرگز نہیں آنے کا۔ اس نے پھر کر پطرس سے کہا: اے شیطان میرے سامنے سے دور ہو تو میرے لئے ٹھوکر کا باعث ہے۔ کیونکہ تو خدا کی باتوں کا نہیں بلکہ آدمیوں کی باتوں کا خیال رکھتا ہے۔

ایک دوسرے کی مخالفت میں جاتی ہیں اور کھلے طور پر باہمی تضاد و تصادم رکھتی ہیں۔ کیونکہ ایک یہ کہ مسیح نے اوّل آیات میں پطرس کو مبارک اور ملہم من اللہ کہا اور دوم آیات میں اس کو شیطان کہا اور دوسرا یہ کہ:

عقیدہ ایک شیطانی عقیدہ بن گیا اور شیطانی عقیدہ کو ماننے والا بالضرور اور لامحالہ شیطان ہے۔

اقانیمت باقی رہی۔ یعنی یہ کہ کائنات کے مالک ومختار صرف دو اقنوم یا دو اجزاء رہ گئے۔ ایک جزو خدا تعالیٰ اور دوسرا جزو، مریم طاہرہ ہے۔ جو عیسائیت میں زوجۃ اللہ کا مقام رکھتی ہے۔

طاہرہ نے جنم دیا۔ بنا بر ایں جب ثابت ہو گیا کہ مسیح کے ابن اللہ ہونے کا عقیدہ بروئے انجیل متی ایک شیطانی عقیدہ ہے تو مریم طاہرہ کے زوجۃ اللہ ہونے کا عقیدہ بھی ایک شیطانی عقیدہ رہا۔ کیونکہ ملزوم ولازم کا ایک ہی حکم ہوتا ہے۔

اب صرف توحید بمعنی خدا تعالیٰ کا ایک ہو کر وحدہ لاشریک ہونا باقی رہا جو عند القرآن وعند الانجیل توحید خالص ہے۔ خلاصۃ الباب یہ رہا کہ بروئے قرآن وانجیل تثلیث باطل ہے اور توحید حق ہو کر ثابت ہے۔

١٢٠

صفحہ ٤٢٩

جب میرا یہی سبق واپس عیسائی سکول کے اندر عیسائی پرنسپل اور پروفیسران کے پاس پہنچا تو انہوں نے اسباق بھیجنے کا سلسلہ بند کر دیا اور میرا نام سکول سے خارج کر دیا۔ لیکن مجھے اخراج نام کی اطلاع نہ دی گئی۔ جب ان کی اسی خاموشی کو چند ایام گزر گئے اور ان کی طرف سے میرے پاس کوئی سبق نہ پہنچا تو میں نے یقین کر لیا کہ میرے شاندار اعتراض نے ان کی کمر ہمت توڑ دی ہے اور اب یہ لوگ مجھ کو اپنے ساتھ منسلک نہیں رکھ سکتے۔ چنانچہ میں نے انہیں متعدد خطوط بطور یاددہانی کے لکھے۔ مگر انہوں نے خاموش رہنے میں اپنی خیر سمجھی۔

انہی حالات کے پیش نظر تمام عیسائی اساتذہ بمعہ اپنے پرنسپل کے مبہوت ہو کر رہ گئے اور بروئے انجیل بجائے توحید خداوندی کے تثلیث کو ثابت نہ کر سکے۔ لہٰذا ان کی بے بس خاموشی میری صداقت کا ایک نشان بن گئی۔ لیکن مرزا قادیانی آتھم عیسائی کے سامنے پندرہ ایام کے مناظرہ میں تثلیث کو شکستہ کر کے توحید کو ثابت نہ کر سکا اور اپنے اعداء واحباب میں ذلیل و رسوا ہوا اور پھر اس نے اپنی ذلت و خجالت کو مٹانے کے لئے اس کے خلاف پندرہ ماہ کے اندر ہلاک ہونے کی پیش گوئی کر دی جو بری طرح ناکام رہی۔ جیسا کہ قبل ازیں اسی پیش گوئی پر میری تنقید وتردید آچکی ہے۔

نشان چہارم

یہ کہ ہندوستان کی مرزائی تحریک کی مانند ایران کے اندر بہائی تحریک نے جنم لیا۔ جس کا بانی اوّل علی محمد الباب تھا اور اس کا مستقل قائد اور پرماننٹ انچارج مرزا حسین علی بن گیا۔ جو بعد میں بہاء اللہ کا لقب اختیار کر کے اس تحریک کا سربراہ قرار پایا اور پھر بہائی مشن نے تقسیم ہندوستان پر پاکستان کے اندر بھی داخلہ لے کر لاہور میں بہائی تحریک کو چلانے کے لئے ایک ماہنامہ بنام ”بہائی میگزین“ جاری کر دیا اور اس کی ادارت سید محفوظ الحق علمی کے سپرد ہوئی جو پہلے مرزائی تھا اور پھر بہائیت اختیار کر کے ماہنامہ ہٰذا کا مدیر بن گیا۔ میں نے اس سے رابطہ پیدا کر کے لکھا کہ مجھے تحریک بہائیت سے قدرے دلچسپی ہے۔ اگر آپ میرے چند شبہات کا ازالہ کر دیں تو میں آپ کی تبلیغی مساعی پر بہت ممنون و مشکور ہوں گا۔ اس پر علمی صاحب نے حل طلب سوالات بھجوانے کی اجازت دے دی اور میں نے اسے اپنا پہلا سوال بطور ذیل بھجوایا۔

جناب علمی صاحب مجھے اتفاقاً آپ کے ماہنامہ ماہ دسمبر ١٩٦٧ء کا پرچہ ملا ہے جس میں بہائی شریعت کے مطابق ایک مردہ شخص کی متروکہ جائیداد کو بیالیس حصص پر تقسیم کیا گیا ہے جس کی تفصیل بطور ذیل لکھی گئی ہے۔

١٢١

صفحہ ٤٣٠

میزان ٤٢ حصے

آپ کو معلوم ہونا چاہئے کہ بہاء اللہ اور بہائی مذہب کی مذکورہ بالا تقسیم وراثت سراسر باطل ہے اور اس کا موجد و بانی بالکل بطال شخص ہے۔ کیونکہ اسی تقسیم وراثت میں بہت سے یک جدی ورثاء (دادا، اور چچا) کو محروم الارث اور غیر جدی شخص (معلم) کو وارث قرار دیا گیا ہے اور پھر ایک جگہ پر مذکر و مونث کو برابر گردانا گیا ہے۔ جیسے بیٹا اور بیٹی میں سے ہر ایک کو ١٨ حصے دیئے گئے ہیں اور جیسے شوہر اور بیوی میں سے ہر ایک کو ساڑھے چھ حصے ملتے ہیں اور دوسری جگہ پر مذکر ومؤنث میں تفریق اور کمی بیشی اختیار کی گئی ہے۔ جیسے بھائی کو ساڑھے تین اور بہن کو اڑھائی حصے ملتے ہیں اور باپ کو ساڑھے پانچ حصے اور ماں کو ساڑھے چار حصے دیئے گئے ہیں۔ میں نے جب ان حالات وراثت کے پیش نظر لفظ ”باطل“ اور لفظ ”بطال“ کے اعداد حروف کی طرف توجہ کی تو دونوں کے اعداد پورے بیالیس (٤٢) برآمد ہوئے جس پر مجھے یقین ہو گیا کہ بہاء اللہ کی مذکورہ بالا تقسیم وراثت (٤٢) حصے باطل ہے اور اس کا بانی وموجد بہاء اللہ ایرانی بطال شخص ہے۔ کیونکہ:

”كل اناء يترشح بما فيه“ ﴿ہر برتن سے وہی کچھ ٹپکتا ہے جو اس میں ہوتا ہے۔﴾

بنابرآں بطال شخص (بہاء اللہ) نے وراثت کے بیالیس (٤٢) حصص ایجاد کر لئے جو اعداداً باطل (٤٢) ہو کر سامنے آتے ہیں۔ میں نے یہی تفصیلی بات اپنی طرف سے نہیں کہی۔ بلکہ قرآن عزیز بھی میرے اعدادی استدلال کی تائید میں فرماتا ہے:”جَاءَ الْحَقُّ وَزَهَقَ الْبَاطِلُ اِنَّ الْبَاطِلَ كَانَ زَهُوْقًا “ ﴿حق آ گیا اور باطل مٹ گیا۔ بلاشبہ باطل ایک مٹنے والی چیز ہے۔﴾

آیت ہذا میں حق و باطل کا تقابل قائم کر کے بتایا گیا ہے کہ حق بمعنی وراثت کا اسلامی

١٢٢

صفحہ ٤٣١

طریقہ زندہ اور باقی رہنے والا ہے اور باطل بمعنی تقسیم وراثت کا بہائی طریقہ زاہق اور مٹنے والا ہے۔ قلت:

ہست دین ایں بہا بے مغز پوست کہ درو میراث مردہ چہل دو ست

اسی بہاء اللہ کا دین مغز کے بغیر صرف چھلکا ہے۔ کیونکہ اس دین میں مردہ کی میراث بیالیس حصص پر ہے۔

چہل و دویش از نشان باطل است ہر کہ باطل را گزیند جاہل است

اس کے بیالیس حصص باطل کی علامت ہیں، اور جو شخص باطل کو اختیار کرتا ہے وہ جاہل ہے۔

دور شو از باطل و بطال خویش ورنہ چوں بطال بینی حال خویش

تو اپنے باطل اور بطال سے دور ہو جا، ورنہ بطال کی مانند اپنی حالت کو دیکھے گا۔

چہل و دو اعداد در باطل زدند ہمچو او بطال را ماثل زدند

بیالیس کے عدد کو باطل کے اندر رکھا گیا ہے اور اسی کی مانند بطال کو اعداد میں برابر کیا گیا ہے۔

باطل و بطال نزد من یکے است چوں بہاء باب با یکدیگرے است

میرے نزدیک باطل و بطال ایک چیز ہیں۔ جیسا کہ بہاء اللہ اور علی محمد باب ایک دوسرے کے برابر ہیں۔

طور تقسیم بہائی باطل است موجد ایں طور از حق عاطل است

تقسیم میراث کا بہائی طریقہ باطل ہے اور اس طریقہ کا موجد حق سے خالی ہے۔

چوں بہاء اللہ شد باطل نواز ہمچو او بر جادۂ باطل متاز

جب بہاء اللہ باطل نواز بن چکا ہے تو تو اس کی مانند باطل کی راہ پر نہ دوڑ۔

باطل و بطال را بر سر فگن جائے شاں بر جادۂ حق گام زن

تو باطل اور بطال کو سر کے بل گرا دے اور ان کی بجائے راہ حق پر چلتا رہ۔

میرے اسی خط کے پہنچنے پر علمی صاحب مبہوت ہو کر خاموش ہو گیا اور اس کی خاموشی میرا ایک علمی نشان بن گئی۔ چند ایام کے بعد یہی ماہنامہ لاہور سے کراچی منتقل ہو گیا اور اس کا مدیر بجائے محفوظ الحق علمی کے غالباً صدیق الحسن نامی دیگر شخص مقرر ہو گیا۔ جس پر میں نے اپنی خط و کتابت کا رخ اسی شخص کی طرف موڑ دیا اور اس کو ایک طویل خط لکھا جس کا مفہوم بطور ذیل تھا۔ بہائی تحریک کے اندر (٩) اور (١٩) کے اعداد کو بہت اہمیت حاصل ہے۔ کیونکہ لفظ

١٢٣٣

صفحہ ٤٣٢

بہاء کے ١٩ اعداد پر اہل بہاء نے اپنے مرکزی ادارہ ”بیت العدل“ کے صرف ٩ ممبران مقرر کئے ہیں جو ضرورۃً دین بہائی میں ترمیم و تنسیخ کرنے اور ممبران تحریک کے باہمی نزاعات پر فیصلہ دینے کا اختیار رکھتے ہیں اور پھر لفظ ”بہائی“ کے ١٩ اعداد پر سال کے ١٩ مہینے اور ہر مہینہ کے ١٩ دن اور مالی جائیداد پر زکوٰۃ مال انیسواں حصہ مقرر ہوئی اور بہاء اللہ کی پیدائش اور وفات انیسویں صدی میں واقع ہوئی اور شہر عکہ جس میں بہاء اللہ کی قبر ہے کہ پچانوے (٩٥) اعداد ١٩ پر تقسیم ہو جاتے ہیں۔ اسی طرح لفظ دجال کے ٣٨ اعداد بھی ١٩ پر پورے تقسیم ہو جاتے ہیں۔ ان حالات میں نتیجہ یہ ہے کہ (١٩) کے عدد کو تحریک بہائی میں اپنانے والا شخص (بہاء اللہ ) دجال ہے۔ مسیح موعود یا رسول خدا نہیں ہے۔

اس کے علاوہ قرآن حکیم بطور پیش گوئی کے بہائی ادارہ (بیت العدل) کو جس کے ممبران ٩ اشخاص بنتے ہیں۔ ایک مفسد اور فتنہ باز ادارہ قرار دیتا ہے۔ کیونکہ یہی ادارہ اس طور وطریق پر بناء ہے۔ جس طرح صالح علیہ السلام کے خلاف قوم صالح کے ٩ شریر اشخاص کا ایک ادارہ ترتیب دیا گیا تھا۔ جنہوں نے دین صالح علیہ السلام کے بالمقابل ایک نیا دین بنالیا اور موقع پا کر ناقۃ اللہ کی ٹانگ بڑی بے دردی اور بے رحمی سے کاٹ دی اور حضرت صالح علیہ السلام کی بددعاء سے ہلاک ہو گئے۔ قال تعالٰی: ”و كان في المدينة تسعة رهط يفسدون في الارض ولا يصلحون“ صالح نبی کے شہر میں نو اشخاص تھے جو زمین میں فساد کرتے تھے اور قوم کے سدھارنے والے نہیں تھے۔

بنابر آں بروئے آیت بالا کفار مکہ نے قوم ثمود کے طور وطریقہ پر مکہ معظمہ کے اندر دار الندوہ کے نام سے ٩ اشخاص کا ایک ادارہ بنایا جس میں ابو جہل و عتبہ و ربیعہ وغیرہ بطور ارکان وممبران کے شامل ادارہ تھے اور خلاف اسلام وبانی اسلام خطرناک منصوبے تیار کر کے ان پر عمل پیرا رہا کرتے تھے اور پھر یہی سب ارکان ندوہ جنگ بدر میں لڑتے ہوئے ہلاک ہوئے۔

کفار مکہ کے تیرہ صد سال بعد مرزا بہاء اللہ ایرانی نے بھی دارالندوہ کے طرز پر ٩ ارکان پر مشتمل ادارہ بنام ”بیت العدل“ کے ایک ادارہ ترتیب دیا جو خلاف اسلام ایک مفسد اور شرپسند ادارہ ثابت ہوا اور بہاء اللہ سمیت یہی نو ارکان عمر بھر قید میں رہ کر مرے اور بعد الموت ان کی لاشوں کو قید خانہ سے نکالا گیا۔ بہر حال قوم ثمود اور کفار مکہ اور ایرانی بہائیوں کے ہر سہ ادارے باہم ملتے جلتے ہیں اور اپنے مقاصد میں ہمنوا اور یکرنگ ہیں اور برابر کی سزاؤں سے سزایاب ہوئے۔

١٢٢

صفحہ ٤٣٤

مزید برآں قرآن حکیم انیس کے عدد کو علامات دوزخ میں ایک منحوس عدد ظاہر کرتا ہے اور فرماتا ہے: ”وما ادراک ما سقر لا تبقی ولا تذر لواحة للبشر علیہا تسعة عشر“ ﴿کیا تو جانتا ہے کہ دوزخ کیا چیز ہے اور وہ کسی چیز کو نہ باقی رکھے گی اور نہ چھوڑے گی اور انسان کی کھال اتارنے والی ہے۔ اس پر انیس فرشتے ہیں۔﴾

آیت ہذا تین طرح سے بہاء اللہ کو اپنا مصداق ٹھہراتی ہے۔

”سقار“ بنتا ہے جس کے اعداد حروف پورے تین صد اکسٹھ (٣٦١) ہیں اور یہی اعداد بہائی سال کے ایام ہیں۔ کیونکہ بہائی سال کے انیس ماہ اور ہر ماہ کے ١٩ دن ہیں۔ ١٩×١٩=٣٦١ ہوتے ہیں۔ لہٰذا ثابت ہوا کہ بہائی سال ساقر اور دوزخی سال ہے۔

تیار کرنے والا ہے جب کہ ”لواحة“ کا معنی لوح ساز اور لوح سوز دونوں طرح کا ہے۔ چنانچہ دوزخ مجرم انسانوں کے لئے ناری الواح تیار کرے گی اور بہاء اللہ اہل بہاء کے لئے ملعون لوحیں تالیف کرنے والا ہے۔ چنانچہ بہاء اللہ کی مؤلفہ شش الواح کتابیں تحریک بہائی میں شہرت کا مقام رکھتی ہیں۔

کے انیس ملعون ایام ہیں اور بہائی دین کے اندر انیس کے عدد کو بڑی اہمیت حاصل ہے۔ لہٰذا دوزخ اور دین بہائی میں انجام و نتیجہ کے اعتبار سے یکسانیت اور اتحاد پایا جاتا ہے۔

علاوہ ازیں بہاء اللہ کا پیروکار بہائی کہلاتا ہے اور اعداد میں انیس عدد کا حامل ہے اور اپنے محمولہ عدد پر فخر کرتا ہے اور اتراتا ہے۔ حالانکہ ہر ایک بہائی نصف دجال ہے۔ کیونکہ لفظ دجال کے اعداد (٣٨) ہیں اور اڑتیس کا نصف انیس ہے اور انیس کا عدد ہی لفظ بہائی کے اعداد ہیں اور دو دجال مل کر ایک بہاء اللہ بنتا ہے۔ یعنی ١٩+١٩=٣٨، ٣٨+٣٨=٧٦ ہے اور بحساب قمری بہاء اللہ کی یافتہ عمر ٧٦ سال ہے۔ اگرچہ بحساب شمسی اس کی عمر ٧٥ سال ہے۔ بنا برآں نیز یہ کہنا صحیح ہے کہ ایک بہائی اعدادی طور پر نصف دجال ہے اور دو بہائی مل کر ایک دجال بنتا ہے اور دو دجال مل کر ایک بہاء اللہ بن کر سامنے آتا ہے۔

بہاء اللہ کے دجال اکبر بننے کی وجہ یہ ہے کہ وہ مخالف قرآن اور معاند اسلام بن کر حلت سود اور حرمت صدقات کا فتویٰ دیتا ہے اور کہتا ہے کہ سودی کاروبار کرنے والا آدمی ہر حالت

١٢٥

صفحہ ٤٣٤

میں دین دار اور قوم پرست شخص ہے اور مسکین ومحتاج آدمی کو صدقات وخیرات دینے والا محض دین بھائی کا بدخواہ اور ملت بہائیہ کا دشمن ہے۔ حالانکہ قرآن حکیم اس کے دونوں مسائل کے بارے میں اس ملحد و بے دین کی مخالفت میں جاتا ہے اور اس کو دوزخی اور اصحاب النار میں شمار کرتا ہے۔ قال تعالیٰ : ”يمحق الله الربوا ويربى الصدقات احل الله البيع وحرم الربوا “ ( خدا تعالیٰ سود کو مٹاتا ہے اور صدقات کو بڑھاتا ہے۔ خدا تعالیٰ نے خرید و فروخت بمعنی تجارت کو حلال اور سود کو حرام کر دیا ہے۔ )

چنانچہ حرمت سود کے آنے کے بعد مسلمانوں سے کہا گیا کہ تم لوگ فوراً ہی سودی کاروبار سے توبہ کر لو اور آئندہ کے لئے اس کام سے باز آ جاؤ۔ خدا تعالیٰ تمہیں پہلے کے سودی کاروبار پر گرفت نہیں کرے گا اور مغفرت کر دے گا۔ لیکن جس مسلمان نے نزول حرمت سود کے بعد از سر نو یہی شغل اختیار کیا تو وہ جہنمی ہے اور عنداللہ ملعون و مجرم ہو کر ناری ہے۔ قال تعالیٰ : ”فمن جاءه موعظة من ربه فانتهى فله ما سلف وامره الى الله ومن عاد فاولئک اصحب النار هم فيها خالدون “ ( پس جس شخص کے پاس نصیحت خداوندی آ گئی اور وہ سودی کاروبار سے رک گیا اس کو گذشتہ گناہ معاف ہے اور اس کا معاملہ خدا تعالیٰ کے ہاں چلا گیا اور جو شخص اسی کام کی طرف لوٹ آیا وہ ہمیشہ کا ناری اور جہنمی ہے۔ )

آیت ہذا میں بہاءاللہ کے خلاف دو طرح کی اعدادی پیش گوئی موجود ہے۔ اوّل ...... یہ کہ لفظ ”عـــاد“ کے اعداد حروف ٧٥ ہیں۔ جیسا کہ بحساب شمسی بہاءاللہ کی یافتہ عمر ٧٥ سال ہے اور بحساب قمری اس کی عمر ٧٦ سال ہے جو فعل ”عاد“ کے اسم فاعل ”عــائد“ کے اعداد ٧٦ کے برابر ہے۔

چنانچہ آیت ہذا کے اندر سود کی طرف لوٹ آنے والے شخص سے مراد قرآن، بہاءاللہ ہے۔ کیونکہ وہ جواز سود کا فتویٰ دے کر عائد الی الربوا قرار پایا اور احطب الجنت کو چھوڑ کر اصحاب النار میں داخل ہو گیا۔ دوم ...... یہ کہ لفظ ”اولئک اصحاب النار“ کے اعداد حروف ٤٤١ بنتے ہیں۔ جیسا کہ بہاء اللہ نوری عکی کے اعداد حروف ٤٤١ ہیں۔ جب کہ بہاءاللہ قصبہ نور میں پیدا ہوا اور شہر عکہ میں مر کر مدفون ہوا۔ نتیجہ یہ رہا کہ بہاءاللہ حلت سود اور حرمت صدقات کا فتویٰ دے کر نوری سے ناری بن گیا۔ قلت: ١٢٦

از عدد باشد جہنم نوز
اعداد میں سے انیس کا عدد دوزخ
نوزدہ آمد علامات
انیس کا عدد دوزخ کا نشان
ہست اعداد بہائی نوز
لفظ بہائی کے اعداد انیس ہیں
ہر بہائی نوزدہ برسر
ہر بہائی اپنے سر کے اوپر انی
اے بہائی نوزدہ از س
اے بہائی تو انیس کے عدد ک
اے بہائی نوزدہ بہر توثیق
اے بہائی انیس کا عدد تی

یہاں پر مت ٹھہر۔

نوزدہ ہم نہ برایت خوب نی
انیس کا نحس عدد تیرے ل
مرترا ایں نوزدہ سویش
انیس کا عدد تجھے دوزخ ک

پاس چلا گیا۔

ہم چوں من تو زیں عدد فرار
میری طرح تو اسی عدد سے
نود و دو شد مایہ من در دو
دونوں جہانوں میں میرا

میں چلا گیا۔

از محمد دور گشتن سود
محمد ﷺ سے دور ہونا سو
صفحہ ٤٣٥
از عدد باشد جہنم نوزدہ گر گرفتی نوزدہ رفتی بچہ

اعداد میں سے انیس کا عدد دوزخ بن گیا، اگر تو نے انیس کو لے لیا ہے تو تو کنوئیں میں گر گیا۔

نوزدہ آمد علامات سقر ہر بہائی را سقر آمد مقر

انیس کا عدد دوزخ کا نشان ہے اور ہر بہائی کا ٹھکانہ دوزخ میں ہے۔

ہست اعداد بہائی نوزدہ زیں سبب او در جہنم شد زدہ

لفظ بہائی کے اعداد انیس ہیں اور اسی وجہ سے وہ دوزخ میں گرایا گیا ہے۔

ہر بہائی نوزدہ برسر نہد روز و شب اندر سقر او می جہد

ہر بہائی اپنے سر کے اوپر انیس کا عدد رکھتا ہے اور رات دن دوزخ کے اندر اچھلتا ہے۔

اے بہائی نوزدہ از سر فگن ورنہ افتادی بدوزخ بے محن

اے بہائی تو انیس کے عدد کو اپنے سر سے گرا دے، ورنہ تو بلا محنت دوزخ میں گر گیا۔

اے بہائی نوزدہ بہر تو نیست بہر دوزخ ہست ایں اینجا مایست

اے بہائی انیس کا عدد تیرے لئے نہیں ہے۔ کیونکہ یہ عدد دوزخ کے لئے ہے تو یہاں پر مت ٹھہر۔

نوزدہ و نہ برائت خوب نیست نیک مردے را سقر مرغوب نیست

انیس اور نو کا عدد تیرے لئے اچھا نہیں ہے۔ کیونکہ نیک مرد کو دوزخ پسند نہیں ہے۔

مر ترا ایں نوزدہ سویش کشید نزد جنت رفت ہر کو زو دوید

انیس کا عدد تجھے دوزخ کی طرف کھینچ کر لے گیا اور جو انیس سے بھاگا وہ بہشت کے پاس چلا گیا۔

ہم چوں من تو زیں عدد فرار باش در پناہ مصطفیٰ قرار باش

میری طرح تو اسی عدد سے بھاگ جا اور مصطفیٰ ﷺ کی پناہ میں ٹھہرنے والا بن جا۔

نود و دو شد مایہ من در دو کون گر ازیں رفتی بشنو رفتی بہون

دونوں جہانوں میں میرا سرمایہ ٩٢ کا عدد ہے۔ اگر تو اس کو چھوڑ گیا تو سن لے کہ تو ذلت میں چلا گیا۔

از محمد دور گشتن سود نیست کہ بجز او ہیچ کس بے دود نیست

محمد ﷺ سے دور ہونا سود مند نہیں ہے۔ کیونکہ اس کے بغیر کوئی شخص بے داغ نہیں ہے۔

١٢٧

صفحہ ٤٣٦
دین او در دین و دنیا پر وقاست ہر کہ غیرش را گزیند پر خطاست

دین و دنیا کے اندر اس کا دین وفادار ہے اور جو شخص اس کے غیر کو اختیار کرتا ہے وہ خطا کار ہے۔

دور شو از عکہ سوئے مکہ رو ورنہ در آفاتہا مانی گرو

تو عکہ کو چھوڑ کر مکہ کی طرف چل۔ ورنہ تو آفات میں پھنسا رہے گا۔

عکہ دارد نوزده در خود نہاں تا توانی خویش را کن زود واں

عکہ اپنے اندر انیس کے عدد کو چھپا کر رکھتا ہے۔ جہاں تک ہو سکے تو خود کو اس سے بھگا کر لے جا۔

ہر بہائی را جدائی از خداست کہ جدائی و بہائی ہمنواست

ہر بہائی کو خدا سے جدائی ملی ہے۔ کیونکہ جدائی اور بہائی (اعداد میں) ہمنوا ہیں۔

عکہ تو نوزدہ را مامنے است بر سر تو ہر کجا زد دامنے است

تیرا عکہ انیس کے عدد کے لئے جائے امن ہے اور تیرے سر پر ہر جگہ اس کا دامن پڑا ہوا ہے۔

ایں بہاء تیرگی ہمچوں بہاست کہ بہاء گردہا درایں بہاست

اس بہاء اللہ کے لئے گرد و غبار جیسی سیاہی مقدر ہے۔ کیونکہ اسی بہاء اللہ کے اندر گردو غبار ہے۔

گر بہارا مقلب سازی بہاست ور بہارا واژگوں گردی بہاست

اگر تو بہاء کو الٹا کر دے تو ہباء بن جاتا ہے اور اگر تو بہاء کو اوندھا کر دے تو ہباء موجود ہے۔

نوزده در نوزده شد سال او در حقیقت دور شد احوال او

انیس کو انیس میں ضرب دینے سے اس کا ایک سال بنتا ہے۔ کیونکہ اس کی حالت حقیقت سے دور چلی گئی ہے۔

نوزده شد روز ہاؤ ماہ ہاش وز خدا شد منحرف ایں راہ ہاش

اس کے مہینوں کے ایام اور مہینے انیس ہیں اور اس کی یہی راہیں خدا تعالیٰ سے منہ موڑ چکی ہیں۔

دور شو از نوزده بہر خدا ورنہ مانی از خدائے خود جدا

تو خدا کے لئے انیس کے عدد سے دور ہو جا، ورنہ تو اپنے خدا سے جدا رہے گا۔

بر بہائی روز و شب قہر خداست وز خدائے او برائے او سزاست

بہائی کے اوپر رات دن خدا تعالیٰ کا قہر ہے اور اس کو خدا تعالیٰ کی طرف سے سزا مل رہی ہے۔

١٢٨

بر سر او نوزده زد ضرب

انیس کے عدد نے اس کے خارش بن گیا ہے۔

نوزده او را قریب شر

انیس کا عدد اس کو شرارت کے

ایں بہاء اللہ ہباء اللہ

یہی بہاء اللہ ہباء اللہ بن گیا

نوزده صد عیسوی میلاد او

انیسویں صدی عیسوی میں شورا شوری ہے۔

ماند ایں صد بہر از منحوس

یہی صدی اس کے لئے نحو

نوزده صد گشت عہد ایں بہاء از

انیسویں صدی تیرے بہا

خار ناری در دل نوری

آگ کا کانٹا نوری کے دل

مر تورا ایں نوزده بر نار

انیس کا عدد اس کو آگ پر

بر بہائی نوزده ضربت

انیس کے عدد نے بہائی پر چ

دو بہائی جمع شد دجال

دو بہائی جمع ہو کر کے ایک د

نوزده با نوزده شد سی و

انیس اور انیس مل کر اڑتیس

گر کنی تجزیہ در دجال

اگر تو اسی دینی دجال کا تج

صفحہ ٤٣٧
بر سر او نوزده زد ضرب ہا
نوزده در دین او شد جرب ہا

انیس کے عدد نے اس کے سر پر چوٹیں لگادیں ہیں اور انیس کا عدد اس کے دین میں خارش بن گیا ہے۔

نوزده او را قریب شر نمود
وز گل و ازہا بر اخگر نمود

انیس کا عدد اس کو شرارت کے پاس لے گیا اور اس کو پھولوں سے ہٹا کر انگارے پر ڈال دیا۔

ایں بہاء اللہ بہاء اللہ گشت
وز عطاء اللہ خطاء اللہ گشت

یہی بہاء اللہ ہباء اللہ بن گیا اور عطاء اللہ سے خطاء اللہ بن گیا۔

نوزده صد عیسوی میلاد اوست
ہم دریں صد مرگ او را ہا وہوست

انیسویں صدی عیسوی میں اس کی پیدائش ہے اور نیز اسی صدی میں اس کی موت کی شور اشوری ہے۔

ماند ایں صد بہر او منحوس تر
کہ کشید ایں صدورا نزد سقر

یہی صدی اس کے لئے منحوس تر رہی۔ کیونکہ یہ صدی اس کو دوزخ کے پاس لے گئی۔

نوزده صد گشت عہد ایں بہاء است
ہم دریں صد رفت در قعر ممات

انیسویں صدی تیرے بہاء اللہ کا زمانہ ہے اور پھر وہ اسی صدی میں مر کر قبر میں چلا گیا۔

خار ناری در دل نوری خلید
نوری تو بر در نارے رسید

آگ کا کانٹا نوری کے دل میں چبھ گیا اور تیرا نوری آگ کے دروازہ پر پہنچ گیا۔

مرورا ایں نوزده برنار برد
وز گل و ازہار سوئے خار برد

انیس کا عدد اس کو آگ پر لے گیا اور اس کو پھولوں سے ہٹا کر کانٹے کی طرف لے گیا۔

بر بہائی نوزده ضربت فگند
وز سقر اوراست روز و شب گزند

انیس کے عدد نے بہائی پر چوٹ لگادی اور اس کو دوزخ کی طرف سے رات دن کا دکھ آیا ہے۔

دو بہائی جمع شد دجال شد
دین بہائی از خدا بطال شد

دو بہائی جمع ہوکر کے ایک دجال بن گیا اور یہی بہائی خدا تعالیٰ کی طرف سے جھوٹا قرار پایا۔

نوزده بانوزده شد سی و ہشت
دیں عدد در دو بہائی کرد گشت

انیس اور انیس مل کر اڑتیس بن گئے اور یہی عدد ٣٨ دو بہائیوں میں گشت کرنے لگا۔

گر کنی تجزیہ در دجال دین
بینی دو دجال اندر وے کمین

اگر تو اسی دینی دجال کا تجزیہ کرے گا تو تو اس کے اندر دو دجالوں کو مقیم پائے گا۔

١٢٩

صفحہ ٤٣٨
ہر بہائی نیم دجال از بہاست وز بہاء اللہ اورا ایں عطاست

تو بہاء اللہ کی طرف سے ہر بہائی کو آدھا دجال پائے گا اور اس کو بہاء اللہ کی طرف سے یہی عطیہ ملا ہے۔

گرکنی مجموع دو دجال را پیش خود بینی ہمیں بطال را

اگر تو اعداد دو دجالوں کو جمع کرے گا تو تو اپنے آگے اسی باطل نواز (بہاء اللہ) کو دیکھے گا۔

وارہ ازیں بطال خویش تانہ بینی نزد خود دجال خویش

تو اسی بطال سے کنارہ کش ہو جا تا کہ تو اپنے آگے اپنے دجال (بہاء اللہ) کو نہ دیکھ سکے۔

از بہاء اللہ دینت خوب نیست زانکہ دینت نزد حق مرغوب نیست

بہاء اللہ کی طرف سے آیا ہوا تیرا دین اچھا نہیں ہے۔ کیونکہ خدا تعالیٰ کے نزدیک تیرا دین پسندیدہ نہیں ہے۔

از محمد دین خود را زود گیر تاشوی در دین و دنیا مستنیر

تو اپنا دین محمد ﷺ سے حاصل کر۔ تا کہ تو دین و دنیا میں چمک دار بن جائے۔

میرے اسی خط کے پہنچنے پر مسٹر صدیق الحسن مبہوت ہو کر خاموش ہو گیا اور اس کی خاموشی ولا جوابی علمی طور پر میرا ایک درخشاں نشان بن گئی۔

نشان پنجم دربارہ جنگ بھارت

یہ ہے کہ سال ١٩٦٥ء کو جب بھارت نے پاکستان کے خلاف جارحانہ جنگ کا اقدام کیا تو میں نے قاضی محمد نذیر لائل پوری کو جو شعبہ تالیفات ربوہ کا انچارج تھا بذریعہ ایک مکشوف خط کے اطلاع دی کہ: ”معلوم ہوتا ہے کہ آپ لوگ موجودہ جنگ بھارت کے حل و جواز پر دلائل سوچ رہے ہیں۔ حالانکہ آپ کے پیر مغاں نے حرمت جہاد کا فتویٰ دے رکھا ہے۔ لیکن آپ لوگ ہندوستان کی حمایت واعانت کرنے والے ہیں۔ کیونکہ باوجود انکار جہاد کے کفر کا ساتھ دینا آپ صاحبان کا قدیم شیوہ ہے۔“

چنانچہ میرا یہی خط ایک قسم کی پیش گوئی پر مشتمل تھا کہ اہل مرزا یقیناً ہندوستان کی حمایت کا اعلان کریں گے اور وہ بدل و جان ہندوستان کا ساتھ دے کر پاکستان کے خلاف شامل جنگ ہو جائیں گے۔ ابھی میرے خط کو پہنچے ہوئے چند ایام گزرے تھے کہ ہندوستانی مرزائیوں نے خلیفہ آف ربوہ کے ایماء وارشاد پر حکومت ہند کی حمایت واعانت کا اعلان کر دیا جو ہندی اخبارات کے لئے زینت اشاعت بنا اور اہل مرزا کھلے طور پر بطور رضا کاران ہند بھارتی فوج میں بھرتی ہو گئے

١٣٠

صفحہ ٤٣٩

اور پاکستان کے خلاف ہندو افواج کے شانہ بشانہ لڑتے رہے اور پھر انہوں نے خطیر رقومات سے بھارت کی جنگی امداد بھی کی اور میری پیش از وقت اطلاع کو صحیح ثابت کر دیا۔

نشان ششم دربارہ حیات مسیح

یہ کہ لاہوری مرزائیوں کے ہفت روزہ اخبار ”پیغام صلح“ کے عبوری مدیر پروفیسر خلیل الرحمن کے ساتھ حیات مسیح کے مسئلہ پر میری گفتگو شروع ہوئی۔ میں نے اس کو اپنے دوسرے خط میں حیات مسیح کے اثبات پر آیت ذیل مع ضروری تشریحات کے لکھ کر بھجوائی۔

”اذ قالت الملائکة یا مریم ان الله یبشرک بکلمة منه اسمه المسیح عیسی ابن مریم وجیهاً فی الدنیا والآخرة ومن المقربین ویکلم الناس فی المهد وکھلاً ومن الصلحین“ (جب فرشتگان نے کہا: اے مریم ! خدا تعالیٰ تجھے اپنے ایک کلمہ کی بشارت دیتا ہے جس کا نام مسیح ابن مریم ہے جو دنیا و آخرت میں محترم ہے اور نزد خدا رہنے والوں میں سے ایک ہے اور جو لوگوں کے ساتھ پنگوڑے اور بڑھاپے میں کلام کرے گا اور نیک لوگوں میں سے ہوگا ۔)

آیت ہذا میں حیات مسیح کے اثبات پر سات عدد اشارات و دلائل موجود ہیں ۔ ایک لفظ ”کلمہ“ دوسرا ”مسیح“ تیسرا لفظ ”عیسیٰ“ چوتھا لفظ ”وجیهاً فی الدنیا والآخرة“ پانچواں لفظ ”من المقربین“ چھٹا لفظ ”کھلا“ اور ساتواں لفظ ”من الصلحین“ ہے۔ اب ہر ایک لفظ کی مختصر تشریح پیش کی جاتی ہے۔

لفظ ”کلمة منه“ سے کلمۃ اللہ مراد ہے جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا ایک لقب ہے۔ کیونکہ ”منه“ کی ضمیر اللہ تعالیٰ کی طرف راجع ہے اور بصورت اضافہ یہ لفظ ”کلمة الله“ ہو جائے گا اور دیگر کلمات اللہ کی طرح طویل زندگی دیر پا بقاء اور صعود الیٰ السماء حاصل کرے گا۔ قال تعالیٰ: ”كلمة الله هى العليا اليه يصعد الكلم الطيب“ (خدا کا کلمہ ہی اونچا رہتا ہے۔ پاک کلمات خدا کی طرف صعود کرتے ہیں ۔) قلت:

کلمۃ اللہ ہی العلیا بخواں کہ برد عیسیٰ را بر آسماں

تو آیت کلمۃ اللہ ہی العلیا کو پڑھ لے۔ کیونکہ وہ عیسیٰ کو آسمان پر بھیجتی ہے۔

کلمۃ اللہ عیسیٰ را قرآن گفت بہر کلمہ ہاست پر وبال چست

قرآن مجید نے عیسیٰ علیہ السلام کو کلمۃ اللہ کہہ دیا ہے اور کلمات خدا میں پرواز کے لئے پروں کی چستی موجود ہے۔

١٤١

صفحہ ٤٤٠
از چہ تو ایں کلمہ را بے پر کنی دین خود را بے ثمر بے پرکنی

تو کلمۃ اللہ (عیسیٰ) کو بے پر کیوں کرتا ہے اور اپنے دین کو بے پھل اور بے ثمر کیوں بناتا ہے۔

ہست عیسیٰ کلمۃ اللہ نزد ما رفت چوں کلمات حق نزد خدا

ہمارے نزدیک عیسیٰ علیہ السلام کلمۃ اللہ ہے جو دیگر کلمات اللہ کی طرح خدا تعالیٰ کے پاس چلا گیا۔

لفظ ”مسیح“ کا معنی لمبا اور طویل سفر کرنے والا ہے جب کہ یہ لفظ صفت فاعلیہ کا مفہوم رکھتا ہے اور یا بمعنی مرہم قدسی یا روغن قدسی مالیدہ ہے۔ جبکہ یہ لفظ ”صفت مفعولیہ“ کے مفہوم میں لیا گیا ہو۔ جیسا کہ مولوی محمد علی لاہوری نے اپنی انگریزی تفسیر القرآن میں لکھا ہے۔

بنا برآں معنی اوّل کے پیش نظر حضرت مسیح نے آسمان کی طرف لمبا سفر کیا ہے اور کشمیر کی طرف لمبا اور بعید سفر نہیں کیا۔ کیونکہ اس کا کلمۃ اللہ ہونا صعود و رفع کو چاہتا ہے۔ جب کہ تمام کلمات اللہ صعود الی اللہ کی فطرت رکھتے ہیں اور دوسرے معنی کی بنا پر حضرت مسیح کو عمر دراز حاصل ہے۔ کیونکہ اس کے مرہم قدسی یا روغن قدسی ملنے پر اس کی زندگی جلد تر فنا ہونے سے محفوظ و مامون ہوگئی۔ جیسا کہ ایک لاش سائنسی مرہم و روغن ملنے پر بگڑنے اور گلنے سڑنے سے محفوظ ہو جاتی ہے۔

قلت:

مرہم قدسی برو مالیدہ اند کہ اورا بہر سماہا چیدہ اند

فرشتگان نے اس پر مرہم قدسی مل دیا ہے۔ کیونکہ انہوں نے اس کو آسمان کے لئے انتخاب کر لیا ہے۔

مرہم قدسی دہد پروازہا می پراند تیز چوں آوازہا

پاک مرہم عیسیٰ کو ایک ایسی اڑان دیتا ہے جیسا کہ آوازیں پرواز کرتی ہیں۔

ہر کہ را زیں مرہمے مالش دہند از زمین بر آسمانہا مے برند

جس انسان کو فرشتے ایسی مرہم کی مالش دیتے ہیں تو وہ اس کو زمین سے آسمانوں پر لے جاتے ہیں۔

ہر کہ را ایں مرہم قدسی رسید از نشیبے برفرازے اوپرید

جس شخص کو یہی پاک مرہم پہنچ گیا ۔ تو وہ نیچ سے اونچ کی طرف پرواز کر گیا۔

ایں مسیح ماز مرہم یافت پر رفت ازما بر سما قرآن نگر

١٣٢

قرآن مجید کو دیکھ لے کہ ہمار کہ آسمان پر چلا گیا۔

تو چرا رفتی زمرہم ہائے قدس

تو کیوں پاک مرہموں کو چھو کیوں اختیار کیا ہے۔

برد اورا روغن قدسی ز

پاک مرہم اس کو ہم سے الگ

چوں مسیح ماست ممسوح ملئک

جب ہمارا مسیح فرشتوں کی طر خدائے قدوس کی طرف چلا گیا۔

لفظ ”عیسیٰ“ دراصل عبرانی زبان میں بہرحال عبرانی زبان میں تفاؤل و تبرک کا ایک اور حضرت مسیح کا نام عیسیٰ ایک الہامی نا منجانب اللہ بتایا گیا تھا۔

واضح ہونا چاہئے کہ انسانوں ہوسکتا۔ لیکن ملہم من اللہ نام ہرگز بے معنی نہیں بروزن کسریٰ و ضیزی بمعنی غرور و تمرد و کے اندر ایک ہی معنی رکھتا ہو تو ایسے استع زبان سے منتقل ہو کر کسی دوسری ز بن جاتا ہے۔ قلت:

عیسیٰ و عیسیٰ بیک معنی شد

عیسیٰ اور عیسیٰ کا ایک ہی معنی ہ

ہمچوں عیسیٰ عیسیٰ را مفہوم

لفظ عیسیٰ کا مفہوم عیسیٰ کی مانن

عیسیٰ عبرانی است نزد علماء
صفحہ ٤٤١

قرآن مجید کو دیکھ لے کہ ہمارے اسی مسیح نے مرہم سے پر حاصل کرلئے اور ہمیں چھوڑ کر آسمان پر چلا گیا۔

تو چرا رفتی زمرہم ہائے قدس یعنی ورزیدی چرا غم ہائے قدس

تو کیوں پاک مرہموں کو چھوڑ گیا ہے۔ یعنی تو نے عالم قدس کے بارے میں رنج و غم کو کیوں اختیار کیا ہے۔

برد او را روغن قدسی زما شد میسر مرورا قرب خدا

پاک مرہم اس کو ہم سے الگ کر کے لے گیا اور پھر اس کو قرب خدا حاصل ہو گیا ۔

چوں مسیح ماست ممسوح ملک رفت ازما سوئے قدوس فلک

جب ہمارا مسیح فرشتوں کی طرف سے مالش یافتہ ہے تو پھر وہ ہمیں چھوڑ کر آسمان کے خدائے قدوس کی طرف چلا گیا۔

لفظ ”عیسیٰ“ دراصل عبرانی زبان میں لفظ یشوع تھا جو بمعنی عمر دراز پانے والا ہے۔ جیسا کہ بہاول پوری زبان میں تفاؤلاً و تبرکاً ایک بچہ کا نام عمر وڈہ یا فارسی زبان میں عمر دراز رکھ لیتے ہیں اور حضرت مسیح کا نام عیسیٰ ایک الہامی نام تھا جو حضرت زکریا علیہ السلام کو بذریعہ وحی والہام منجانب اللہ بتایا گیا تھا۔

واضح ہونا چاہئے کہ انسانوں کا تجویز کردہ نام عمر وڈہ و عمر دراز موت وفنا سے محفوظ نہیں ہو سکتا۔ لیکن ملہم من اللہ نام پر جلد تر فنا کی کیفیت طاری نہیں ہوگی اور عربی زبان میں یہی لفظ ”عیسیٰ“ بروزن کسرٰی و ضیزیٰ بمعنی عمر وڈہ و عمر دراز مستعمل ہے۔ ان حالات میں اگر ایک لفظ دو زبانوں کے اندر ایک ہی معنی رکھتا ہو تو ایسے استعمال کو توارد کا نام دیا جاتا ہے۔ لیکن جب یہی لفظ عبرانی زبان سے منتقل ہو کر کے آنحضرت ﷺ کے عہد میں عربی زبان میں آیا تو یشوع سے بدل کر عیسیٰ بن گیا۔ فقط :

عیسیٰ و یشوع بیک معنی شدند زانکہ در شکل توارد آمدند

عیسیٰ اور یشوع کا ایک ہی معنی ہے۔ کیونکہ ان دونوں نے توارد کی شکل لے لی ہے۔

ہمچوں یشوع عیسیٰ را مفہوم شد کز لغت ہا ایں چنیں معلوم شد

لفظ عیسیٰ کا مفہوم یشوع کی مانند بن گیا۔ کیونکہ لغات سے ایسا ہی معلوم ہوا ہے۔

عیسیٰ عبرانی است نزد ماؤ تو معنی او دیرپا بے گفتگو

١٣٣

صفحہ ٤٤٣

ہمارے اور تیرے نزدیک عیسیٰ ایک عبرانی لفظ ہے اور بلا قیل وقال اس کا معنی دیر پا اور نہ مرنے والا ہے۔

عیسیٰ را مفہوم شد زندہ دراز گر ندانی بیں لغت ہائے حجاز

لفظ عیسیٰ کا معنی دیر تک زندہ رہنے والا ہے۔ اگر تجھے علم نہیں تو پھر عربی لغات کو دیکھ لے۔

تو مگر ایں را دہی عمر قلیل بعد ازاں میرانی او را بے دلیل

مگر تو اس عیسیٰ کو تھوڑی عمر دیتا ہے اور پھر تو بلا دلیل اس کو موت دیتا ہے۔

لفظ ”وجیهاً فی الدنیا والآخرة“ سے مراد قرآن یہ ہے کہ وہ اپنی پہلی اور پچھلی زندگی کے اندر معزز و محترم رہے گا اور کسی قسم کی ذلت و رسوائی سے دوچار نہیں ہوگا۔ بنا بر ایں یہاں پر لفظ دنیا اور آخرت کا اصطلاحی معنی دار دنیا اور دار آخرت مراد نہیں ہے۔ بلکہ لغوی معنی زندگی اوّل اور زندگی آخر مراد ہے اور اصل عبارت یوں ہے: ”وجیهاً فی الحیوة الاولیٰ و فی الحیوة الاخرة“ یعنی وہ اپنی پہلی اور پچھلی زندگی کے اندر معزز و محترم ہوگا۔

لفظ ”ومن المقربین“ کا مطلب یہ ہے کہ وہ مقرب فرشتگان کی جماعت میں سے ایک مقرب ہوگا۔ وجہ یہ ہے کہ نفخ جبریل سے پیدا ہو کر حضرت مسیح کے اندر ملائکۃ اللہ میں رہنے کی صلاحیت پیدا ہو گئی تھی۔ یہی وجہ ہے کہ آیت ذیل: ”لن یستنکف المسیح ان یکون عبد الله ولا الملائکۃ المقربون “ میں مسیح اور مقرب ملائکہ کو عبد خدا ہونے میں قطعاً کوئی اعتراض وعار نہیں ہے۔ آیت کے اندر حضرت مسیح اور ملائکۃ اللہ کو یک جا لایا جا کر عبد خدا ہونے سے یاد کیا گیا ہے۔ مثنوی:

شد مقیم بر فلک اندر ملک تا زید ہمچوں ملک اندر ملک

میرا مسیح آسمان پر جا کر فرشتگان میں شامل ہو گیا۔ تا کہ فرشتوں کے اندر فرشتوں کی سی زندگی گزارے۔

نسبت ملکی اورا بالا کشید یعنی مقناطیس آہن را کشید

فرشتگان کے تعلق نے اوپر کھینچ لیا۔ یعنی مقناطیس نے لوہے کو کشید کر لیا۔

با ملائک شد مسیح ما مقیم تا شود ہمچوں ملائک او طعیم

ہمارا مسیح فرشتوں کے ساتھ اقامت پذیر ہو گیا۔ تا کہ وہ فرشتوں کی خوراک کھاتا رہے۔

خورد او رزق ملائک زندہ ماند رزق او تسبیح حق پائندہ ماند

١٤٣

اس نے فرشتوں کی خورا سے پائیدار ہو گیا۔

لفظ ”ویکلم الناس فی بڑھاپے میں اعجازاً کلام کرے گا۔ چن اور کہل سے مراد اس کی پچھلی زندگی ہ بنیاد پر لفظ مہد سے جوانی کی زندگی ا مراد ہے۔ مولوی محمد علی لاہوری نے دونوں زمانے باہم متغائر ہوں گے۔ کلام کا فرق ہے۔

جاننا چاہئے کہ قرآن حکیم وکھلا“ کہہ کر یہ بتایا ہے اور واضح ہے۔ بلکہ دونوں عہدوں کے درمیان ٣١ سال کی عمر میں ہوا جس سے کہولت

نتیجہ یہ رہا کہ مسیح علیہ السلام آسمانی قیام کے اندر اس کی زندگی پر مرفوع ہوا ہے اسی شکل وصورت میں یکساں ہوگا۔ لہٰذا کلام فی الکہولت اور عہد مہد سے کلام کہولت مراد نہیں۔

بود اندر مہد ایں عیسیٰ

یہ عیسیٰ بچپن میں پنگوڑے

گفت او آیندگاں را

اس نے آنے والوں ۔

بر زمیں شد کہل ہمچوں کہل

وہ زمین پر نیم بوڑھا ہو کر

باز اورا آسماں آواز

پھر اس کو آسمان نے آوا

صفحہ ٤٤٣

اس نے فرشتوں کی خوراک کھائی اور زندہ رہا۔ اس کی خوراک ذکر خدا تھی اور وہ اس سے پائیدار ہو گیا۔

لفظ ”ویکلم الناس فی المهد و کھلاً“ کا یہ مطلب ہے کہ وہ پنگوڑے اور بڑھاپے میں اعجازاً کلام کرے گا۔ چنانچہ مہد سے مراد اس کی پہلی زندگی ہے جو قبل از رفع گزری۔ اور کہل سے مراد اس کی پچھلی زندگی ہے جو بعد النزول ہوگی اور یہاں پر ذکر الجزء وارادة الکل کی بنیاد پر لفظ مہد سے جوانی کی زندگی اور لفظ کہل بمعنی شروع بڑھاپے سے جوانی کے بعد کی زندگی مراد ہے۔ مولوی محمد علی لاہوری نے لفظ کہل کو ٣٠ تا ٥٠ سال تک کی زندگی کے لئے کہا ہے اور دونوں زمانے باہم متغائر ہوں گے۔ جیسا کہ لفظ مہد و کہل ہیں۔ صرف معرف باللام اور غیر معرف باللام کا فرق ہے۔

جاننا چاہئے کہ قرآن حکیم نے ”فی المهد والکھل“ کی بجائے ”فی المهد و کھلاً“ کہہ کر یہ بتایا ہے اور واضح کیا ہے کہ مسیح کا مہد طفولیت اور عہد کہولیت باہم ملا ہوا نہیں ہے۔ بلکہ دونوں عہدوں کے درمیان ایک طویل مدت حائل ہوگی۔ چنانچہ مسیح کا رفع الی السماء ٣١ سال کی عمر میں ہوا جس سے کہولت و ادھیڑ پن کا آغاز ہوتا ہے۔

نتیجہ یہ رہا کہ مسیح علیہ السلام اپنے نیم بڑھاپے کے شروع میں مرفوع الی اللہ ہوا ہے اور آسمانی قیام کے اندر اس کی زندگی پر کوئی تغیر و تبدل نہیں آئے گا۔ بلکہ وہ جس شکل و صورت میں مرفوع ہوا ہے اسی شکل و صورت میں نزول کرے گا اور اس کا سن کہولت قبل الرفع اور بعد النزول یکساں ہوگا۔ لہٰذا کلام فی الکہولت سے مراد قرآن، مسیح کا وہ کلام کہولت ہے جو بعد النزول ہوگا اور عہد مہد سے کلام کہولت مراد نہیں ہے۔ کیونکہ اس قسم کا کلام کہولت تو ہر شخص کرتا ہے۔ قلت:

بود اندر مہد ایں عیسیٰ تکلیم کرد ہمچوں بالغاں گفت فہیم

یہ عیسیٰ بچپن میں پنگوڑے کے اندر بولنے والا بن گیا اور بالغوں کی طرح سمجھدار بات کہی۔

گفت او آیندگاں را السلام باز با پرسند گاں شد ہم کلام

اس نے آنے والوں سے السلام علیکم کہا اور پھر پوچھنے والوں سے باتیں کرنے لگا۔

بر زمیں شد کہل ہمچوں کہل ماند زندگی خویش ہمچوں کہل راند

وہ زمین پر نیم بوڑھا ہو گیا اور نیم بوڑھا رہا اور ایک نیم بوڑھے کی طرح اپنی زندگی گزاری۔

باز او را آسماں آواز داد رفت ہمچوں کہل بالا ہمچوں باد

پھر اس کو آسمان نے آواز دی اور وہ ایک نیم بوڑھے کی طرح ہوا کی مانند اوپر چلا گیا۔

١٣٥

PDF 445
ماند اندر آسماں چوں کہل او زانکہ شد ایں زیستن را اہل او

وہ ایک نیم بوڑھے کی شکل میں آسمان کے اندر رہا۔ کیونکہ وہ ایسے جینے کا اہل بن چکا تھا۔

چوں قیامت خواہد آمد از خدا آید او چوں کہل برما و شما

جب خدا تعالیٰ کی طرف سے قیامت آ جائے گی تو وہ نیم بوڑھے کی طرح ہم پر اور تم پر آ جائے گا۔

باشد او چوں کہل گویا و فہیم تا شود بر ما از و لطف عمیم

وہ نیم بوڑھے کی طرح بولنے والا اور سمجھدار ہوگا، تا کہ وہ ہم پر لطفِ عمیم کرتا رہے۔

لفظ ”من الصالحین“ سے مراد قرآن یہ ہے کہ وہ صالح انسانوں میں سے ایک ہوگا اور یہاں پر اس کو ”نبياً من الصالحین“ نہیں کہا گیا۔ کیونکہ وہ اپنے بعد النزول دور کے اندر نبی نہیں ہوگا۔ بلکہ صرف صالح انسان ہوگا۔ اس کی نبوت محمدی دور کے اندر آ کر اس طرح پر مستور و محجوب ہو جائے گی جیسا کہ طلوعِ آفتاب سے چاند اور ستاروں کی روشنی در پردہ اور زیرِ حجاب آ جاتی ہے۔ ان حالات سے معلوم ہوتا ہے کہ مسیح بقولِ قرآنِ مرا نہیں۔ بلکہ زندہ ہے اور ایک ایسا دور اس پر آنے والا ہے جس میں وہ صرف صالح انسان ہوگا اور نبی ورسول نہیں ہوگا۔ چنانچہ یہی وجہ ہے کہ قرآنِ مجید نے حضرت یحییٰ علیہ السلام کو ”نبياً من الصالحین“ کہا ہے اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو نہیں کہا اور اسے صرف ”من الصالحین“ کہا تا کہ یہ فرق و امتیاز نمایاں رہے کہ دورِ محمدی پانے والا عیسیٰ نبی نہ رہا اور صالح انسان بن گیا اور دورِ محمدی نہ پانے والا یحییٰ نبی بدستور نبی رہا۔ قلت:

عیسیٰ پیشِ مصطفےٰ ناید نبی ہر کہ گوید عکسِ ایں باشد غبی

حضرت عیسیٰ علیہ السلام حضرت مصطفیٰ ﷺ کے آگے نبی بن کر نہیں آئے گا اور جو شخص اس کے برعکس کہتا ہے وہ غبی ہے۔

اختران تابند روشن پیش مہر نیست زندہ پیشِ موسیٰ جملہ سحر

ستارے سورج کے آگے روشن نہیں رہتے اور سب جادو حضرت موسیٰ کے آگے زندہ نہ رہے۔

چوبِ موسیٰ مارہائے سحر کشت احمد ما ہر نبوت را بشست

موسیٰ کی لاٹھی نے جادو کے سب سانپ مار دیئے اور ہمارے احمد ﷺ نے ہر نبوت کو دھو ڈالا۔

دین احمد دین عیسیٰ را بخورد تا شود آں دین دین شیخ و خرد

احمد ﷺ کا دین دین عیسیٰ کو کھا گیا۔ تا کہ یہی دین ہر چھوٹے بڑے کا دین بن جائے۔

١٣٦

عیسیٰ پیشِ مصطفیٰ شد مردِ نیک

عیسیٰ علیہ السلام حضرت مصطفیٰ کے اندر عیسیٰ علیہ السلام مردِ نیک بنا ہوا ہے

گفت قرآن مرد صالح ہست او

جب عیسیٰ علیہ السلام میرے نبی صرف مرد صالح کہا ہے۔

نیست بعدش موسیٰ و عیسیٰ نبی

آپ کے بعد موسیٰ علیہ السلام کہہ دیا ہے کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں ہے۔ میرے مذکورہ بالا خط کے پیش خاموشی میری صداقت کا ایک علمی و ادبی نشا

نشانِ ہشتم دربارہ مفہوم توفی

یہ کہ آیت: ”توفی (بصیغہ ممکن توجیہ گذشتہ صفحات میں آ چکی ہے او سامنے لائی جاتی ہیں۔

الف ...... جاننا چاہئے کہ باب تفعل اپنے بصورت فعل لازم ”بتعد“ اور ”تجنب“ الاثم وصار صالحاً “ وہ گناہ سے دور ہو الہجود وصار یا قظاً“ وہ نیند سے بید تجنب کی خاصیت ہے۔ جیسے ”توفاہ اللہ مرنے اور وفات پانے سے دور رکھا۔ بنا ب لفظ ”متوفیک“ میں بھی ”مُبْعِد“ اور تجھے مرنے اور وفات پانے سے دور رکھنے تیری حسی تطہیر کرنے والا ہوں ۔“

جاننا چاہئے کہ یہاں پر یحییٰ علیہ اسی مفہوم کی تائید وتصدیق کرتا ہے۔ سیاق

صفحہ ٤٤٥
عیسیٰ پیش مصطفیٰ شد مرد نیک کہ بقرآن عیسیٰ شد خود مرد نیک

عیسیٰ علیہ السلام حضرت مصطفیٰ ﷺ کے آگے مرد نیک بن گیا۔ کیونکہ خود قرآن مجید کے اندر عیسیٰ علیہ السلام مرد نیک بنا ہوا ہے۔

گفت قرآن مرد صالح ہست او چوں بدور مصطفایم رفت او

جب عیسیٰ علیہ السلام میرے مصطفیٰ ﷺ کے دور میں چلا گیا تو قرآن مجید نے اس کو صرف مرد صالح کہا ہے۔

نیست بعدش موسیٰ و عیسیٰ نبی ازانکہ او خود گفت بعدی لانبی

آپ کے بعد موسیٰ علیہ السلام اور عیسیٰ علیہ السلام نبی نہیں رہے۔ کیونکہ خود آپ نے کہہ دیا ہے کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں ہے۔

میرے مذکورہ بالا خط کے پہنچنے پر مدیر مذکور ساکت ولا جواب ہو گیا اور اس کی یہی خاموشی میری صداقت کا ایک علمی وادبی نشان بن گئی۔

نشان ہفتم دربارہ مفہوم توفی

یہ کہ آیت: ”توفی (یٰعیسٰی انّی متوفیک)“ کی ایک قابل اعتماد اور مرزائیت شکن توجیہ گذشتہ صفحات میں آچکی ہے اور اب اس کی باقیماندہ دو توجیہات قارئین کرام کے سامنے لائی جاتی ہیں۔

الف....... جاننا چاہئے کہ باب تفعل اپنے اندر متعدد خواص رکھتا ہے جن میں سے ایک اہم خاصہ بصورت فعل لازم ”بعد“ اور ”تجنب“ ہے۔ جیسے ”تأثّم زید فصلح“ بمعنی ”تبعد عن الإثم وصار صالحاً“ وہ گناہ سے دور ہو گیا اور نیک بن گیا اور جیسے ”تہجّد“ بمعنی ”تبعد عن الہجود وصار یقظاً“ وہ نیند سے الگ رہا اور بیدار ہو گیا اور بصورت فعل متعدی تجنیب اور تبعید کی خاصیت ہے۔ جیسے ”توفاہ اللہ“ بمعنی ”بعدہ عن الوفات“ خدا تعالیٰ نے اس کو مرنے اور وفات پانے سے دور رکھا۔ بنابرآں اسی اہم خاصہ تفعل کی بنیاد پر آیت زیر نزاع کے لفظ ”متوفیک“ میں بھی ”تبعید“ اور تجنیب واقع ہے اور معنی آیت یہ ہے کہ: ”اے عیسیٰ میں تجھے مرنے اور وفات پانے سے دور رکھنے والا ہوں اور اپنی طرف اٹھانے والا ہوں اور کفار سے تیری جسمی تطہیر کرنے والا ہوں ۔“

جاننا چاہئے کہ یہاں پر یہی مفہوم لینا اس لئے ضروری ہے کہ آیت ہٰذا کا سباق وسیاق اسی مفہوم کی تائید وتصدیق کرتا ہے۔ سباق میں آیت ذیل واقع ہے: ”ومکروا ومکر اللہ واللہ

١٣٧

صفحہ ٤٤٦

خير الماكرين ﴿یہود نے مسیح کو مارنے کی اور خدا تعالیٰ نے اس کو بچانے کی تدبیر کی اور خدا تعالیٰ بہتر مدبر ہے۔﴾

اسی آیت کی موجودگی میں اگر ہم فقرہ: ”یعیسیٰ انی متوفیک“ کا یہ مفہوم لیں کہ اے عیسیٰ! میں تجھے مارنے والا ہوں۔ تو خدا تعالیٰ (نعوذ باللہ) بجائے ”خیر الماكرين“ کے ”شر الماکرین“ ٹھہرتا ہے۔ کیونکہ اس نے یہود کی موافقت میں عیسیٰ کو مارنے کا اظہار کر دیا۔ حالانکہ اس کو یہود کی مخالفت میں عیسیٰ کے بچانے کا اظہار کرنا تھا جو نہیں کیا اور پھر اگر ہم لفظ ”انی متوفیک“ کا معنی یہ کردیں کہ میں تجھے مارنے والا ہوں تو یہی معنی جملہ ”ومکر الله“ کی مخالفت میں چلا جاتا ہے۔ کیونکہ پہلے یہ کہا گیا کہ خدا تعالیٰ نے ”خیر الماکرین“ بن کر عیسیٰ کے بچانے کی تدبیر کر لی ہے اور پھر کہہ دیا کہ اے عیسیٰ میں ”شر الماكرين“ بن کر تجھے مارنے والا ہوں اور یہ ایک قسم کا تضاد ہے اور قرآن مجید ایسے تضادات سے پاک ہے۔ لہٰذا ماننا پڑتا ہے کہ یہاں لفظ ”توفی“ کا معنی بچانا ہے اور مارنا نہیں ہے اور سیاق میں فقرہ ذیل موجود ہے۔

”ومطهرك من الذين كفروا“ ﴿اور میں تجھے کافروں سے بچانے والا ہوں۔﴾ جو صراحتاً حضرت عیسیٰ کی تطہیر جسمانی کا اظہار کرتا ہے۔ کیونکہ کہا جاتا ہے کہ: ”طهرت زیداً من اعدائه“ ﴿میں نے زید کو اس کے دشمنوں سے بچالیا۔﴾

بنا بر آں میری رائے کے مطابق بطور سلب و تبعید کے آیت زیر نزاع کا یہ معنی ہے کہ اے عیسیٰ! میں تجھے وفات وموت سے دور رکھ کر اپنی طرف اٹھاتا ہوں اور تیری تطہیر جسمانی کرتا ہوں۔

ہاں! یہاں پر ایک اعتراض باقی رہ جاتا ہے کہ بخاری شریف کے اندر بقول ابن عباسؓ لفظ ”متوفیک“ کا معنی بلفظ ”ممیتک“ موجود ہے اور جس کا معنی یہ ہے کہ اے عیسیٰ! میں تجھے وفات وموت دینے والا ہوں۔ لہٰذا آیت زیر نزاع میں سلب و تبعید کا طریقہ جاری نہیں ہو سکتا۔

جواب یہ ہے کہ لفظ ”ممیتک“ باب افعال سے اسم فاعل ہے اور بعض اوقات باب افعال کے اندر ہمزہ سلب اور تبعید کے لئے آتا ہے۔ جیسے: ”اشکیت المریض فصح“ ﴿میں نے مریض کی شکایت اور بیماری دُور کر دی۔ پس وہ تندرست ہو گیا۔﴾

اور پھر اسی ہمزہ سلب کا استعمال قرآن مجید کے اندر بھی موجود ہے۔ جیسے: ”وعلی الذین یطیقونہ فدیة طعام مسکین“ ﴿اور جن لوگوں میں روزہ رکھنے کی طاقت مسلوب ہے۔ ان پر ایک مسکین کا کھانا بطور ہرجانہ کے مقرر ہے۔﴾

١٣٨

صفحہ ٤٤٧

اور اس فقرہ کی اصل عبارت یوں ہے: ”وعلى الذين يسلب عنهم طوق الصوم فدية طعام مسكين“ ﴿ یعنی جن لوگوں سے روزہ رکھنے کی طاقت چھن جائے گی ان پر ایک مسکین کے کھانے کا ہرجانہ ہے۔﴾

اور پھر مرزا قادیانی بمنزلہ عزیر علیہ السلام کے واقعہ میں آنے والی آیت: ”فاماته الله مائة عام ثم بعثه“ ﴿خدا تعالیٰ نے اس کو سو سال تک موت سے الگ رکھا اور پھر اس کو کھڑا کر دیا۔﴾ میں ہمزہ سلب و تبعید کا قرار دے کر جملہ ”اماتہ اللہ“ کا یہ مفہوم لیتے ہیں کہ خدا تعالیٰ نے اس کو موت سے دور رکھا اور بے ہوشی کو مجازاً موت کہہ دیا گیا ہے اور وہ سو سال تک بے ہوش رہا۔ بنا بر آں مذکورہ بالا اعتراض بالکل کالعدم ہو گیا اور میرا ماخوذ مفہوم باقی رہا۔

ب ....... یہ کہ آیت زیر نزاع کے اندر لفظ ”توفی“ لفظ ”توفیہ“ کا مطاوع اور اس کا اثر لینے والا لفظ ہے۔ جیسے: ”کسرت الزجاج فتكسر وفيت زيدا ماله فتوفاه منی“ ﴿میں نے شیشہ کو توڑ دیا اور وہ ٹوٹ گیا۔ میں نے زید کو اس کا پورا مال دے دیا اور اس نے مجھ سے اپنا پورا مال لے لیا۔﴾

چونکہ آیت زیر نزاع کے بعد آیت ذیل: ”واما الذين امنوا وعملوا الصالحات فيوفيهم اجورهم“ ﴿جو لوگ مؤمن بنے اور اعمال صالحہ کئے خدا تعالیٰ ان کو پورا پورا ثواب دے گا۔﴾ موجود ہے اور توفی کے معنی کو متعین کرتی ہے۔ کیونکہ یہاں پر توفیہ بمعنی پورا دینا کے ہے اور آیت زیر نزاع میں توفی بمعنی پورا لینا کے ہی ہو سکتا ہے اور پھر دونوں جگہوں پر دونوں الفاظ کا فاعل بھی خدا تعالیٰ ہے۔ بنا بر آں یہاں پر خدا تعالیٰ نے مؤمنین کو پورا پورا اجر وثواب دینے کا اظہار کیا اور وہاں پر حضرت عیسیٰ کو کفار سے پورا پورا وصول کرنے کا وعدہ کیا ان حالات میں لفظ توفی کو بمعنی مارنا اور وفات دینا کے سمجھنا صحیح نہیں ہے۔

نشان ہشتم در بارہ فاتحہ خلف الامام وغیرہ

یہ کہ غیر مقلدین کے نزدیک فاتحہ خلف الامام اور رفع الیدین عند الرکوع اور آمین بالجہر تین اہم مسائل ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ان پر عمل کئے بغیر نماز نہیں ہوتی۔ میں نے ان مسائل پر ان سے خط و کتابت کی ہے اور لکھا ہے کہ نماز کے اندر یہی ہر سہ کام متروک ہو چکے ہیں۔ مسئلہ اوّل کے متعلق مولوی محمد اشرف صاحب فیصل آبادی کو استدلالاً بطور ذیل لکھا ہے:

الف ....... سورۃ فاتحہ قرآن مجید کے شروع میں اور آیت ”واذا قرئ القرآن“ سورت اعراف کے آخر میں واقع ہے اور ہر دو کے درمیان کافی فاصلہ حائل ہے اور عند الفریقین یہ بات اتفاق کا

١٣٩

صفحہ ٤٤٨

درجہ رکھتی ہے کہ قرآن مجید کی موجودہ ترتیب آسمانی اور الہامی ہونے کی وجہ سے ناقابل تبدیل ہے اور بوقت استدلال اسی ترتیب کو بحال رکھا جائے گا اور پھر سورۃ فاتحہ قرآن مجید کا ایک اہم جزو اور غیر منفک حصہ ہے۔ بنابر آں چونکہ سورۃ فاتحہ اور آیت مذکورہ میں تقدم اور تاخر واقع ہے۔ اس لئے آیت بالا نے قرأت فاتحہ خلف الامام کو روک دیا اور مقتدی پر خاموش رہنے کی پابندی عائد ہو گئی۔ کیونکہ اعرافی آیت نے بتا دیا کہ جب قرآن پڑھا جائے خواہ وہ سورۃ فاتحہ ہی کیوں نہ ہو ہم اس کو سنو اور چپ رہو تاکہ رحمت خداوندی کے مستحق بن جاؤ۔

نزول اول درج قرآن ہوا اور دوسرا نزول درج قرآن نہ ہوا۔ چنانچہ قرأت فاتحہ خلف الامام کا حکم رکھنے والی احادیث سورۃ فاتحہ کے مکی نزول سے متعلق ہیں اور ترک فاتحہ خلف الامام کے حکم پر مشتمل احادیث سورۃ فاتحہ کے مدنی نزول سے وابستہ ہیں اور مطلب یہ ہے کہ ہجرت نبویہ سے قبل قرأت فاتحہ خلف الامام پر عمل ہوتا رہا۔ کیونکہ تعلیماً یہی عمل ضروری تھا اور ہجرت نبویہ کے بعد یہ عمل بند ہو کر متروک ہو گیا۔ کیونکہ کتب احادیث کے اندر قرأت فاتحہ خلف الامام اور ترک فاتحہ خلف الامام کے متعلق احادیث موجود ہیں جو تضاد و تصادم کو اپناتی ہیں اور میرے نزدیک ان کے درمیان یوں توفیق و تطبیق کی جاسکتی ہے۔ جیسا کہ میں نے اوپر لکھ دیا ہے۔ ورنہ آنحضرت ﷺ سے متضاد و متصادم اقوال کا ثابت ہونا ناممکنات میں سے ہے اور پھر کتب احادیث کے اندر قرأت فاتحہ خلف الامام کی احادیث پہلے اور ترک فاتحہ خلف الامام کی احادیث بعد میں مذکور ہیں۔ لہذا اسی طرز بیان کا یہ نتیجہ ہے کہ کچھ عرصہ تک قرأت فاتحہ کا حکم رہا اور بعد میں یہ حکم متروک ہو گیا اور مولوی بہادر بیک راولپنڈی والے نے مسئلہ دوم کے بارے میں بطرز ذیل لکھا:

حکیم فرماتا ہے: ”حافظوا علی الصلوت والصلوۃ الوسطی وقوموا لله قانتین“ (تمام نمازوں کی عموماً اور درمیانی نماز کی خصوصاً حفاظت کرو اور خدا را سکون و آرام سے قیام نماز کو ادا کرو۔) یہ آیت مدنی النزول ہے اور قیام نماز کو بالسکون ادا کرنے کی ہدایت کرتی ہے اور قیام نماز کی حالت میں رفع الیدین کرنا ایک قسم کی حرکت ہے اور سکون و آرام کے خلاف ہے۔ بنابر آں مفہوم آیت یہ ہے کہ تم اپنی نماز کے قیام بمعنی قومہ کو سکون و آرام سے ادا کرو اور اس میں رفع الیدین کی حرکت سے اجتناب کرو ورنہ تم اپنی نماز کے محافظ و پاسبان نہیں رہوگے۔ بلکہ اس کے مخرب و معطل بن جاؤ گے اور وجہ یہ کہ یہاں پر قنوت بمعنی سکون ہے اور بمعنی سکوت نہیں ہے۔

١٤٠

صفحہ ٤٤٩

کسی نماز کے اندر رفع الیدین کر رہے ہیں۔ اس پر بطور تحقیر ونفرت کے فرمایا: "مالی اراکم رافعی ایدیکم کانها اذناب خیل شمس اسکنوا فی الصلوۃ (رواه مسلم عن جابر ابن سمرہ)" ﴿ کیا وجہ ہے کہ میں تم کو اس طرح پر ہاتھ اٹھانے والا دیکھتا ہوں جیسا کہ ٹٹو گھوڑے اپنی دموں کو اٹھاتے ہیں۔ تم اپنی نماز میں سکون و آرام سے رہو۔ ﴾

حدیث ہذا میں بیان شدہ تشبیہ وتمثیل سے بالکل واضح ہوتا ہے کہ نماز کے اندر رفع الیدین کرنا سکون فی الصلوٰۃ کے خلاف ہے اور آداب نماز کے منافی ہے۔ گویا کہ نماز کے اندر رفع الیدین کرنے والا شخص ایک ٹٹو گھوڑا ہے جو اپنے دونوں ہاتھوں کو بلا وجہ اور بے مطلب اسی طرح اوپر نیچے کرتا ہے جس طرح ایک ٹٹو گھوڑا بے غرض وغایت اپنی دم کو اوپر نیچے مارتا ہے۔ بہر حال آنحضرت ﷺ نے نماز کے اندر رفع الیدین کرنے کو بنظر حقارت ونفرت دیکھا ہے اور اس کو نماز کے اندر خشوع وخضوع اور سکون و آرام کے خلاف قرار دیا ہے اور پھر حدیث مذکور میں استفہام انکاری ہے جو فعل نہی کے مفہوم میں ہوتا ہے اور اصل عبارت یوں ہے:

"لا ترفعوا ایدیکم کاذناب خیل شمس بل اسکنوا فی الصلوٰۃ" ﴿ تم ٹٹو گھوڑوں کی طرح اپنے ہاتھ مت اٹھاؤ بلکہ نماز کے اندر سکون و آرام سے رہو۔﴾

اور مولوی چراغ الدین گوجرانوالہ نے آمین بالجہر کے مسئلہ پر بطور ذیل تحریر لکھا :

نہیں لایا گیا تو پھر نمازی کا آمین بالجہر کرنا قرآن عزیز کی مخالفت میں جاتا ہے۔ کیونکہ جو لفظ عند القرآن مستور ومخفی ہے اس کا بالجہر ادا کرنا آداب قرآن کے خلاف ہے۔ قال تعالیٰ:

"ان هذا القرآن يهدي للتي هي اقوم" ﴿ بلاشبہ یہی قرآن اک ایسی راہ کی رہنمائی کرتا ہے جو بالکل سیدھی ہوتی ہے۔ ﴾

بنابر آں آمین بالجہر کا عمل جو غیر مقلدین میں رواج پذیر ہے وہ ہدایت قرآن اور دستور قرآن کے برعکس پڑتا ہے۔

نظر دہرایا جاتا ہے۔ کیونکہ اس لفظ کا معنی "اللهم تقبل دعائی" ﴿ اے خدا میری دعا قبول فرما۔﴾ ہے اور مفہوم یہ ہے کہ اے اللہ! میری مطلوبہ دعا کو قبول فرما اور پھر دعا کے متعلق قرآن مجید کی ہدایت یہ ہے کہ اسے اخفاء اور تضرع سے ادا کیا جائے۔ قال تعالیٰ:

١٤١

صفحہ ٤٥٠

”ادعوا ربكم تضرعاً وخفية انه لا يحب المعتدين“ ﴿تم اپنے رب کو خشوع واخفاء سے پکارو اور خدا تعالیٰ حد شکنوں کو پسند نہیں کرتا ۔﴾

آیت ہذا نے دعا کے لئے تضرع اور اخفاء کو بطور دو حدود کے ذکر کیا ہے اور بتایا ہے کہ ان دو حدود کے اندر رہ کر دعا مانگی جائے اور جو شخص اخفاء کو چھوڑ کر زور سے اور بالجہر دعا کرتا ہے وہ قرآن کی قائم کردہ حدود کو توڑنے والا ہے۔ کیونکہ بلند آواز سے دعا مانگنا تضرع اور اخفاء دونوں کے برعکس ہے اور ایسا شخص عندالقرآن متعدی اور حد شکن ہے۔ ان حالات میں چونکہ آمین بالجہر کہنا اور اخفاء دونوں کی مخالفت میں جاتا ہے۔ اس لئے آمین بالجہر کرنے والا نمازی یقیناً متعدی اور حد شکن ہے اور قرآن حکیم کی مخالفت پر گامزن ہے۔

تأمين الملائكة غفر له ما تقدم من ذنبه“ ﴿جب امام نماز آمین کہے تو تم بھی آمین کہو۔ کیونکہ جس مقتدی کا آمین کہنا فرشتگان کے آمین کہنے کے موافق رہا تو نماز کے اندر اس کی ہوئی غلطی مغفرت پاگئی۔﴾

اس حدیث نے صراحۃً وضاحت کر دی کہ آمین کہنے کا صحیح اور شرعی طریقہ وہ ہے جس کو باجماعت نماز کے وقت فرشتگان خدا نے اپنایا ہے اور یہ طریقہ آمین بالاخفاء ہے اور آمین بالجہر نہیں ہے اور چونکہ فرشتے آمین بالاخفاء کے عامل ہیں اور آمین بالجہر کے عامل نہیں ہیں اس لئے امام نماز اور اس کے مقتدیوں کو چاہئے کہ وہ آمین بالجہر کو چھوڑ کر آمین بالاخفاء پر عمل کریں تاکہ عمل کے اندر ان کی ہونے والی کوتاہیاں مغفرت خداوندی کو حاصل کر سکیں۔ ورنہ فرشتگان کی مخالفت سے ان کی مغفرت نہیں ہوگی۔

میرے ان تین خطوط کے پہنچنے پر صرف میرے پہلے مکتوب الیہ نے ایک غیر متقی اور غیر شافی جواب بھجوایا اور باقی دو صاحبان خاموش ہو گئے اور خاموشی میں اپنی خیر سمجھی۔

دس ہزاری اشتہار جواب باصواب

ہے غلط ہے اور دجالی ڈینگ ہے۔ کیونکہ اس نے اسی کتاب کو چھ ایام میں لکھا ہے۔ جب کہ اس نے ایک یا دو ابتدائی اشعار مورخہ ٧؍ نومبر ١٩٠٢ء کو بٹالہ شہر کو جاتے ہوئے لکھے اور باقی اردو مضمون اور عربی قصیدہ ٨؍ نومبر ١٩٠٢ء کو شروع کر کے ١٢؍ نومبر کو پانچ ایام کے اندر ختم کر لیا۔“

(اعجاز احمدی ص ٣٦، خزائن ج ١٩ ص ١٤٦)

١٤٢

صفحہ ٤٥١

گویا کہ یہی سالم کتاب پانچ ایام کی بجائے چھ ایام میں تیار ہوئی اور مرزا قادیانی کا چھ ایام کو پانچ ایام کہنا غلط رہا اور وہ کاذب قرار پایا اور کاذب آدمی نبی ورسول اور مہدی و مسیح نہیں بن سکتا۔

لکھنے سے باقی نہ رہا۔

(اعجاز احمدی ص ٣٦، خزائن ج ١٩ ص ١٤٦)

بنابر آں مرزا قادیانی کا یہ کہنا کہ: ”خدا تعالیٰ کا وعدہ ہے کہ یہ کتاب نشان اخیر دسمبر ١٩٠٢ء تک ظاہر ہوگا۔“

(اعجاز احمدی ص ٣٦، خزائن ج ١٩ ص ١٤٧)

غلط رہا کیونکہ کتاب مذکور ١٢ نومبر ١٩٠٢ء کو مکمل ہو گئی اور اخیر دسمبر کو نہ پاسکی اور اس کو اس کا موعود ملہم صحیح تاریخ نہ بتا سکا۔

لیکن حقیقتاً یہی میعاد ٢١ یوم بنتی ہے۔ کیونکہ ٢٠ نومبر سے ١٠ دسمبر تک بجائے ٢٠ ایام کے ٢١ ایام بنتے ہیں جو مرزا قادیانی کو غلط نویس بنا دیتے ہیں اور غلط نویس آدمی مہدی و مسیح اور نبی ورسول نہیں بن سکتا۔ کیونکہ جب اس کی ایک یا دو غلطیاں ثابت ہو گئیں تو وہ قابل اعتماد نہ رہا اور مرزا قادیانی کے دونوں اشعار کو بطور ذیل تبدیل کر دیا گیا ہے۔

مرزا کا کاروبار ہی بے ثمر رہا کیونکہ اس نے جو بھی کہا بے اثر رہا
کافر ہی تھا دین سے اپنے بے خبر رہا مرا تو اپنی مٹی میں زیر و زبر رہا

مرزائی تعلیات اور محمدی جوابات

پہلی تعلی: یہ ہے کہ مرزا قادیانی اپنے کو خلیفہ ومسیح قرار دے کر کہتا ہے کہ: ”ولکننی من امر ربی خليفة مسيح سمعتم وعده فتفكروا مگر میں خدا کے حکم سے خلیفہ اور مسیح موعود ہوں۔ اب تم سوچ لو۔“

(اعجاز احمدی ص ٥٢، خزائن ج ١٩ ص ١٦٤)

الجواب: یہ ہے کہ مرزا قادیانی نہ خلیفہ اسلام ہے اور نہ مسیح محمدی ہے۔ بلکہ یہ شخص اصطلاحات اسلام سے استہزاء اور ٹھٹھا مخول کر رہا ہے۔ کیونکہ بروئے لغات عرب خلیفہ اس حکمران اعظم کو کہا جاتا ہے جس کے نیچے چھوٹی چھوٹی حکومتیں ہوں اور اس کے اوپر دیگر حکمران نہ ہو۔ جیسا کہ المنجد میں ہے: ”الخليفة امام ليس فوقه امام“ خلیفہ وہ امام ہے جس کے اوپر دیگر امام بمعنی حکمران نہ ہو، اور مرزا قادیانی عمر بھر غلام فرنگ اور محکوم برطانیہ رہا۔ لہٰذا محکوم وغلام آدمی کا اپنے کو خلیفہ سمجھ لینا ایک بد نما حماقت ہے۔

١٤٣

صفحہ ٤٥٢

اور لفظ مسیح بروئے قرآن مجید حضرت عیسیٰ ابن مریم کا لقب ہے جو بعد النزول من السماء امام مہدی کا وزیر مملکت اور مشیر حکومت ہوگا۔ بنا بر آں غلام احمد قادیانی نہ خلیفۃ اسلام ہے اور نہ مسیح موعود ہے۔ بلکہ خلیفہ شیطان اور مسیح کفران ہے۔ جیسا کہ اعداد ابطور ذیل ہے۔

(غلام احمد / ١١٣٤) ”ھو خلیفۃ شیاطین ابداً / ١١٣٤“ وہ ہمیشہ کے لئے شیاطین کا خلیفہ اور جانشین ہے۔ (میرزا غلام احمد / ١٤٨٢) ”ھو متضاد مسیح ابداً / ١٤٨٢“ وہ ہمیشہ کے لئے حضرت مسیح سے متضاد اور برعکس ہے۔ (مرزا غلام احمد قادیانی / ١٥٤٨) ”ھو ضد خلیفۃ ابداً / ١٥٤٨“ یعنی مرزا قادیانی ہمیشہ کے لئے ضد خلیفہ ہے۔ کیونکہ مسیح بعد النزول مملکت اسلام کا با اقتدار وزیر اعظم ہوگا اور یہ شخص غلام کفار رہا اور شعر بالا کو بطور ذیل تبدیل کر دیا۔

ولكنه من امر ربى خليفة وعبد بلاشك ومراً مكفر

کیونکہ خدا تعالیٰ نے امت محمدیہ کو مقتدر خلافت اور با عظمت حکومت و سیاست دینے کا وعدہ تو ضرور بالضرور کیا ہے اور اس کے برعکس کبھی بھی نبوت و رسالت دینے کا وعدہ نہیں کیا۔ جیسا کہ آیت ذیل سے مترشح ہوتا ہے: ”وعد الله الذين امنوا منكم وعملوا الصلحت لیستخلفنهم فى الارض كما استخلف الذين من قبلهم وليمكنن دينهم الذى ارتضى لهم وليبدلنهم من بعد خوفهم امناً يعبدوننى ولا يشركون بى شيئاً ومن کفر بعد ذلک فاولئک ھم الکفرون“ ﴿خدا تعالیٰ نے تم میں سے اہل ایمان اور اعمال صالحہ کرنے والوں سے وعدہ کیا ہے کہ وہ ان کو بالضرور زمین کے اندر اقتدار و حکمرانی دے گا۔ جیسا کہ اس نے سابقہ امم کو دی تھی اور ان کے خوف و خطر کو امن و سلامتی میں تبدیل کرے گا اور جس شخص نے اس خدائی وعدہ کے بعد کفر کو اختیار کیا وہ فاسق و فاجر ہوگا۔﴾

یہ آیت صاف طور پر وضاحت کرتی ہے کہ کامل مؤمنین سے خدائی وعدہ صرف خلافت و حکمرانی دینے کا ہے۔ نبوت و رسالت دینے کا نہیں ہے۔ کیونکہ قرآنی اصطلاح میں خلافت فی الارض سے مراد حکومت و فرمانروائی ہے۔ بے اقتدار نبوت اور غلام کفار رسالت مراد نہیں ہے۔ جیسا کہ قرآن حکیم حضرت داؤد علیہ السلام کو خطاب کرتے ہوئے فرماتا ہے: ”یا داؤد انا جعلنک خليفة فى الارض فاحكم بين الناس بالحق“ ﴿اے داؤد ہم نے تجھے زمین کے اندر حکمران بنا دیا۔ پس تو لوگوں کے درمیان حاکم بن کر اپنا صحیح حکم چلا۔﴾

بنا بر آں مذکورہ بالا دونوں آیات کے ملانے سے یہ نتیجہ برآمد ہوا کہ خدا تعالیٰ نے صالح مؤمنین سے اسی طرح کی حکمرانی و فرمانروائی دینے کا وعدہ کیا جس طرح امم سابقہ کے اندر

١٤٤٢

حضرت داؤد وغیرہ علیہم السلام وجہ ہے کہ موجودہ خلافت والی و زکوٰۃ کا حکم ہے۔ قال تعالیٰ: ترحمون“ ﴿اور تم اے تا کہ تم رحمت خداوندی سے نوار

اگر بفرض محال ام کے اندر بجائے خلافت کے نبو

منكم وعملوا الصلحت ﴿خدا تعالیٰ نے تم میں سے نیک جیسا کہ پہلے لوگوں کو اس نے

چونکہ خدا تعالیٰ کو دیا گیا ہے۔ اس لئے آیت ق ہے۔ بنا بر آں یہی آیت ختم علیہ حدیث میں مذکور ہے کہ تھیں اور امت محمدیہ کے ان بروایت ابی ہریرہؓ الفاظ حد

كلما هلك نبى خلفه فما تأمرنا قال فواب

پاس تھی جب ایک نبی وفات نہیں ہے اور عنقریب خلفاء کو آپ کا کیا فرمان ہے۔ آ اوّل رہنے والے کی بیعت ا

حدیث ہٰذا کے

سر انجام دیا تا کہ آنے وال

صفحہ ٤٥٣

حضرت داؤد وغیرہ علیہم السلام کو خلافت فی الارض بمعنی حکومت وملوکیت حاصل ہوئی۔ چنانچہ یہی وجہ ہے کہ موعودہ خلافت والی آیت کے بعد موعود خلفائے امت کو صرف اطاعت رسول اور نماز وزکوٰۃ کا حکم ہے۔ قال تعالیٰ: "واقیموا الصلوٰۃ واتوا الزکوٰۃ واطیعوا الرسول لعلکم ترحمون" ﴿اور تم اے خلفائے امت نماز کو قائم کرو اور زکوٰۃ دو اور رسول خدا کی اطاعت کرو تاکہ تم رحمت خداوندی سے نوازے جاؤ۔﴾

اگر بفرض محال امت محمدیہ سے خدا تعالیٰ کا وعدہ نبوت دینے کا ہوتا تو آیت زیر بحث کے اندر بجائے خلافت کے نبوت کا وعدہ ہوتا اور آیت بطور ذیل ہوتی: "وعد اللہ الذین امنوا منکم وعملوا الصٰلحٰت لیستنبئنهم فی الارض کما استنبأ الذین من قبلهم" ﴿خدا تعالیٰ نے تم میں سے نیکو کار مؤمنین کے ساتھ نبوت فی الارض دینے کا اسی طرح وعدہ کیا ہے جیسا کہ پہلے لوگوں کو اس نے نبوت دی تھی۔﴾

چونکہ خدا تعالیٰ کی طرف سے نبوت فی الارض کو چھوڑ کر خلافت فی الارض کا وعدہ دیا گیا ہے۔ اس لئے آیت خلافت کے اندر خلافت فی الارض سے مراد صرف حکومت وملوکیت ہے۔ بنا برآں یہی آیت ختم نبوت کے بارے میں حرف آخر کا مقام رکھتی ہے۔ چنانچہ ایک متفق علیہ حدیث میں مذکور ہے کہ امم سابقہ کے اندر نبوت وحکومت دونوں چیزیں انبیاء کرام کے پاس تھیں اور امت محمدیہ کے اندر نبوت ختم ہو کر صرف حکومت وخلافت جاری رہے گی۔ جیسا کہ بروایت ابی ہریرہؓ الفاظ حدیث بطور ذیل ہیں: "کانت بنوا اسرائیل تسوسهم الانبیاء كلما هلك نبي خلفه نبي وانه لا نبي بعدي وسيكون خلفاء فيكثرون قالوا فما تأمرنا قال فوا ببیعۃ الاول فالاول" ﴿بنی اسرائیل کی سیاست وحکومت انبیاء کے پاس تھی جب ایک نبی وفات پاتا تو دوسرا نبی اس کا جانشین بن جاتا اور یقیناً میرے بعد کوئی نبی نہیں ہے اور عنقریب خلفاء ہوں گے اور کثرت سے ہوں گے۔ صحابہ کرامؓ نے عرض کی کہ اب ہم کو آپ کا کیا فرمان ہے۔ فرمایا کہ پہلے خلیفہ کی بیعت کر کے اس کے وفادار بنو اور اس کے بعد اوّل رہنے والے کی بیعت کرو۔﴾

حدیث ہذا کے اندر تین اہم باتوں کا تذکرہ ہے:

سرانجام دیا تاکہ آنے والے سب خلفاء اسی کی تقلید میں اسی کے کئے ہوئے کام کی پابندی کریں۔

١٤٥

صفحہ ٤٥٤

سوم ...... یہ کہ ختم نبوت کے بعد انبیاء کا آنا بند ہے اور صرف خلفاء بمعنی حکام وامراء رہیں گے۔ لیکن مرزا قادیانی نہ خلیفہ ہے اور نہ مسیح موعود ہے۔ جب کہ اعداد ابجد ٹوٹل ہے۔ (مرزا غلام احمد قادیانی / ١٥٤٨) ” وهو ضد خليفة ابداً / ١٥٤٨“ وہ ہمیشہ سے خلیفہ کی ضد ہے۔ یا (مرزا غلام احمد / ١٣٨٢) ” هو متضاد مسیح ابداً /١٣٨٢“ وہ ہمیشہ سے متضاد مسیح ہے۔ (مرزا غلام احمد مسیلمۃ الہند بطالاً ظاہر و باطن / ١٣٨٢)

خلافت صدیقؓ اور کارصدیق

بروئے حدیث ہذا خلیفہ اوّل حضرت ابوبکر الصدیقؓ ہے کیونکہ فقرہ ” فوا بيعة الاوّل “ کے اندر لفظ ”فوا“ بصیغہ جمع وارد ہے اور اس کا واحد فقرہ ”ف بيعة الاوّل “ بنتا ہے جو ہر امتی کو خلیفہ اوّل کی وفاداری کا حکم دیتا ہے۔ اب اگر فقرہ ”ف بيعة الاوّل /٢٣٥“ اور حضرت ابوبکرؓ کے لقب الصدیق / ٢٣٥ کے اعداد پر غور کیا جاوے تو دونوں کے اعداد پورے ٢٣٥ بنتے ہیں اور پھر یہی اعدادی استدلال ہمیں یہی نتیجہ دیتا ہے کہ بروئے فرمان نبی خلیفہ اوّل صرف اور صرف ابوبکر صدیقؓ ہے اور جس کی وفاداری کا ہر ایک امتی پابند ہے اور اسے کہا گیا ہے کہ اے مسلمان! تو خلیفہ اوّل سیدنا صدیقؓ کا وفادار رہ۔

ان حالات میں شیعہ حضرات کا سیدنا علیؓ کو خلیفہ اوّل بنانا فرمان نبوی کی مخالفت میں جاتا ہے اور ان کو گمراہ اور منحرف عن الحدیث قرار دیتا ہے۔

حضرت ابوبکر صدیقؓ نے بطور خلیفہ اوّل کے جو پہلا اہم کام کیا وہ مسیلمہ کذاب مدعی نبوت کے خلاف جہاد اسلام تھا اور اس کی نبوت کاذبہ کا ابطال وافناء تھا۔

بنا برآں ہر آنے والا خلیفہ مدعی نبوت بننے کی بجائے مدعیان نبوت سے جہاد وقتال کرنے کا پابند رہے گا اور پھر ہر خلیفہ اسلام کے عہد خلافت کے اندر ہر مدعی نبوت واجب القتل قرار پائے گا۔

حدیث ہذا کے لفظ ”فالاوّل “ کا اصل تھوڑے سے تغیر کے ساتھ بصورت واحد ”فف بيعة الاوّل “ ہے جس کے اعداد حروف پورے ٣١٠ ہیں۔ جیسا کہ خلیفہ ثانی کے نام نامی لفظ عمر کے اعداد پورے ٣١٠ بنتے ہیں اور نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ حدیث بالا میں دوسرے لفظ ”الاوّل“ سے مراد حضرت عمر فاروقؓ بنتا ہے جو خلیفہ اوّل کے بعد دوسرے نمبر پر آکر خلیفہ ثانی بن جاتا ہے اور شیعہ صاحبان کی مزعومہ خلافت کو توڑ کر رکھ دیتا ہے۔

١٣٦

صفحہ ٤٥٥

پھر زیر نزاع شعر کے اندر مرزا قادیانی کا دوسرا دعویٰ مسیح موعود بننے کا ہے۔ لیکن یہ دعویٰ بھی غلط اور باطل ہے۔ کیونکہ جب وہ بروئے قرآن وحدیث خلیفتہ فی الارض ثابت نہیں ہو سکتا تو اس کا مسیح موعود ہونا بھی باطل ہے۔ کیونکہ مسیح موعود حاکم عادل اور امام مہدی اس کا وزیر مقتدر ہوگا۔ یہی وجہ ہے کہ ”میرزا قادیانی /٤٣٤“ اور لفظ ”المسیح المردود /٤٣٤“ یا لفظ ”المسیح المرید /٤٣٤“ کے اعداد حروف برابر ہیں جو چار صد چونتیس بنتے ہیں اور اس کو بجائے مسیح موعود کے مسیح مردود ثابت کرتے ہیں۔ پھر مرزا قادیانی نے مذکورہ بالا شعر کے بعد آنے والے ایک شعر کے اندر ایک صحیح حدیث کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا ہے کہ : ”حدیث صحیح عندکم تقرأونه فلا تكتموا ما تعلمون واظهروا تمہارے پاس ایک صحیح حدیث ہے جس کو تم پڑھتے ہو۔ پس جو کچھ جانتے ہو مت چھپاؤ اور اس کو ظاہر کرو۔“

(اعجاز احمدی ص ٥٢، خزائن ج ١٩ ص ١٦٢)

لیکن حاشیہ کتاب پر محولہ حدیث کو تحریر نہیں کیا گیا۔ تا کہ ہمیں بھی اس کا علم ہو جاتا اور ہم اس پر غور و فکر کرتے۔ بہر حال میرے اندازہ کے مطابق وہی محولہ حدیث بطور ذیل ہے۔ ”کیف انتم اذا نزل ابن مريم فيكم وامامكم منكم“ ﴿”تم کیسے خوش قسمت ہو گے جب ابن مریم تمہارے اندر ایسی حالت میں نازل ہوگا کہ تمہارا امام تم میں سے ہوگا۔﴾ مرزا قادیانی نے اس حدیث سے ابن مریم اور امام مہدی کے ایک ہونے پر استدلال کر کے اپنے آپ کو ان دونوں کا مصداق ٹھہرایا ہے۔ میں نے جواباً اسی حدیث کی ایک قابل اعتماد توجیہ سابقہ صفحات میں ذکر کر دی ہے اور اس کی چند جوابی توجیہات حسب ذیل ہیں۔

ظاہر کر کے اسے ”امامکم منکم“ ”تمہارا امام تم میں سے ہوگا کہا گیا ہے۔ لہٰذا متعلق امت آدمی غیر متعلق آدمی سے الگ رہا۔

دے کر اس کا صرف کنیاتی نام لایا گیا ہے۔ لہٰذا بے منصب آدمی با منصب آدمی سے الگ رہا۔

میرے پاس اس وقت آیا جب کہ سورج طلوع کر چکا تھا۔﴾

اور حدیث بالا میں بھی یہی صورت کارفرما ہے کہ دوسرا فقرہ ”وامامكم منکم“ پہلے فقرہ ”اذا نزل ابن مريم فيكم“ سے حال واقع ہوا ہے اور مطلب یہ ہے کہ تم کیسے خوش قسمت

١٤٧

صفحہ ٤٥٦

ہو۔ جب ابن مریم تمہارے اندر ایسے حالات میں نازل ہوگا کہ تمہارا امام تم میں برپا ہو چکا ہوگا۔ بنا برآں ان حالات کے پیش نظر ابن مریم اور امام کے دو ہونے پر مذکورہ چار قرائن موجود ہیں اور بقول مرزا دونوں کے ایک ہونے پر حدیث ہذا کے اندر ایک جلی یا خفی اشارہ بھی موجود نہیں ہے اور میں نے مذکورہ بالا مرزائی اشعار کو بطور ذیل تبدیل و ترمیم کر دیا۔

”ولكنه من امر ربي جليفة مطاتحت الفرنج وعبد محقر “ لیکن وہ میرے رب کے حکم سے ایک فرومایہ آدمی ہے جو فرنگیوں کے نیچے سواری بن کر چلتا رہا اور ایک حقیر غلام ہے۔

”ذكرت حديثاً فى كتابي وانه حديث صحيح ثم خبر مشتہر “ میں نے اپنی کتاب کے اندر ایک حدیث ذکر کی ہے اور بلاشبہ وہ ایک صحیح اور مشہور حدیث ہے۔

”فكذبه هذا الحديث لا نه كذوب بدعواه وديناً مخسر“ پس اس حدیث نے اس کو کاذب بنادیا۔ کیونکہ وہ اپنے دعویٰ میں جھوٹا اور دینی طور پر زیاں کار ہے۔

اور پھر یہی شخص اعداداً بطور ذیل جلیف ولئیم ثابت ہوتا ہے۔ (غلام احمد قادیانی / ١٣٠٠) ”هو جليف ابد مطاتحت کافر / ١٣٠٠“ یعنی غلام احمد قادیانی ایک کمینہ آدمی ہے جو کافر برطانیہ کے نیچے سواری بنا رہا۔

دوسری تعلی : یہ ہے کہ اس نے کہا ہے کہ قرآن مجید کے اندر اس کے محامد وفضائل اور اس کے ظہور کا ذکر موجود ہے۔ جیسا کہ لکھا گیا ہے: ”وقد جاء نی القرآن ذكر فضائلى وذكر ظهورى عند فتن تفور “ قرآن میں میرے فضائل کا ذکر آگیا اور خطرناک فتنوں کے وقت میرے ظہور کا تذکرہ موجود ہے۔

(اعجاز احمدی ص ٥٨ ، خزائن ج ١٩ ص ١٧٠)

الجواب: یہ ہے کہ قرآن مجید کے اندر مرزائی محامد وفضائل کو بہت تلاش کیا ہے۔ لیکن مجھے اس کی ایک فضیلت بھی نہیں ملی بلکہ بجائے اس کے بے شمار ذمائم ورذائل میرے سامنے آئے ہیں۔

چنانچہ اب میں اسی سلسلہ میں قرآن واحادیث میں سے اس کے کاذب ومطلبی ہونے کے چند نشانات وعلامات پیش کرتا ہوں اور اس کے چند ذمائم درج ذیل ہیں۔

فاهبط منها فما يكون لك ان تتكبر فيها فاخرج انك من الصاغرين“ ﴿خدا تعالیٰ نے شیطان کو فرمایا کہ بہشت سے نکل جا۔ کیونکہ تجھے زیبا نہ تھا کہ تو اس کے اندر غرور کرتا۔ پس تو نکل جا کیونکہ تو رذیلوں میں سے ایک ہے۔﴾

١٣٨

صفحہ ٤٥٧

جاننا چاہئے کہ لفظ ”صاغرین“ / ١٢٩٠ کا واحد ”صاغر“ ہے جس کا معنی رذیل اور فرومایہ اور کمینہ ہے اور جس کے اعداد حروف پورے ١٢٩٠ بنتے ہیں اور ابلیس کے انکار سجدہ کے سال وقوع کی طرف بصورت اعداد اشارہ کرتے ہیں اور اس اشارہ کا مفہوم یہ ہے کہ ابلیس لعین نے تخلیق جنات کے بعد ٹھیک ١٢٩٠ جنی میں سجدۂ آدم سے انکار کیا تھا اور جیسا کہ مرزا قادیانی کی طرف سے اجرائے نبوت اور وفات مسیح کا فتنہ ٹھیک ١٢٩٠ھ کو اٹھایا گیا اور امت محمدیہ کے اندر ظلی و بروزی نبوت کی داغ بیل ڈالی گئی۔ کیونکہ اس شخص نے اپنی کتاب (حقیقت الوحی ص ١٩٩، خزائن ج ٢٢ ص ٢٠٨) پر لکھا ہے کہ وہ اسی سال (١٢٩٠) کے اندر مکالمہ الہیہ سے شرف پا چکا تھا۔ وجہ یہ ہے کہ ہم نے مرزا قادیانی کو لفظ ”صاغرین“ میں شامل مان کر اس لئے ”صاغر“ قرار دیا ہے کہ وہ خود اپنے آپ کو زیر جواب قصیدہ کے اندر لفظ ”اصغر“ بمعنی رذیل تر سے یاد کرتے ہوئے لکھتا ہے: ”وکم من عدو کان من اکبر العدیٰ فلما اتانی صاغراً کنت اصغر“ بہت لوگ میرے سخت دشمن ہیں جب دشمن صاغر بن کر آتا ہے تو میں اصغر بن جاتا ہوں۔

اور بظاہر شعر ہذا کا مطلب یہ ہے کہ جب میرا دشمن رذیل بن کر میرے ساتھ دشمنی کرتا ہے تو میں رذیل تر بن کر اس کا مقابلہ کرتا ہوں اور اس کو دشمنی کرنے کا مزہ چکھاتا ہوں۔

نیز عربی زبان کے اندر ”صغر“ مصدر کی دو صفات مستعمل ہیں: ایک ”صاغر“ اور دوسری ”صغیر“ ہے۔ چنانچہ جب قرآن مجید نے شیطان کو ”صاغر“ کہہ دیا تو دلالت التزامی کے طور پر مرزا قادیانی کو ”صغیر“ قرار دے دیا۔ کیونکہ دونوں لفظ ایک ہی مصدر ”صغر“ سے بنی ہوئی صفات ہیں اور پھر ”غلام احمد قادیانی“ اور ”صغیر“ کے اعداد حروف پورے ١٣٠٠ ہیں جن سے یہ شخص اعدادی طور پر صغیر بمعنی رذیل ثابت ہوتا ہے۔

کرتے ہوئے فرماتا ہے: ”اما الذین فی قلوبہم زیغ فیتبعون ما تشابہ منہ ابتغاء الفتنة وابتغاء تاویلہ“ ﴿جن لوگوں کے دلوں میں کجی ہے وہ فتنہ و تاویل کی خواہش میں متشابہ بات کا اتباع کرتے ہیں۔﴾

اس آیت میں کج رو اشخاص کی ایک خاص علامت بیان کی گئی ہے کہ وہ فتنہ بازی اور تاویل سازی کے خیال سے ایک متشابہ اور غیر واضح بات کے پیچھے پڑ جاتے ہیں اور لوگوں کے اندر گمراہی کو فروغ دیتے ہیں اور یہی علامت مرزا قادیانی میں پائی جاتی ہے کہ اس نے حضرت مسیح علیہ السلام کے مزعومہ واقعہ قتل و صلب کو اپنے مذہب کی بنیاد بنالیا۔ حالانکہ یہی واقعہ از قسم متشابہات

١٤٩

صفحہ ٤٥٨

ہے ۔ جیسا کہ قرآن حکیم فرماتا ہے: ”وما قتلوہ وما صلبوہ ولکن شبہ لهم“ ﴿یہود نے نہ حضرت مسیح کو قتل کیا ہے اور نہ صلیب پر لٹکایا ہے ۔ بلکہ یہی واقعہ ان پر مشتبہ رہا ۔﴾ مرزا قادیانی نے اسی مشتبہ واقعہ کو اپنی بہت سی کتابوں میں درج کر کے اپنا زورِ قلم نمایاں کیا ہے اور اپنے آپ کو اسی آیت زیغ کا بروز اور مصداق ومورد بنالیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مرزائی تحریک کا سال آغاز بارہ صد نوے اعدادی طور پر فقرہ ”فی قلوبهم زیغ /١٢٩٠“ سے برآمد ہو کر مرزا قادیانی کو کجرو اور زائغ القلب بنالیتا ہے اور پھر وہ اعداداً ”غدار انبیاء /١٢٩٠“ بمعنی غدار الانبیاء بھی ہے اور پھر قرآن مجید کی تائید وتوثیق میں دانیال نبی نے بھی مرزائی تحریک کا سال آغاز بیان کر دیا ہے اور اسے ایک مکروہ اور اجاڑنے والی تحریک قرار دیا ہے۔ چنانچہ کتاب دانیال باب: ١٢، آیت: ١٢ میں مذکور ہے کہ: ”جس وقت سے دائمی قربانی موقوف کی جائے گی اور وہ اجاڑنے والی مکروہ چیز نصب کی جائے گی ۔ ١٢٩٠ دن ہوں گے۔“

چونکہ بعض دفعہ الہامی کتابوں میں ایام سے سال مراد ہوتے ہیں ۔ اس لئے یہاں پر ١٢٩٠ دن سے ١٢٩٠ سال مراد ہیں جو مرزائی تحریک کا سال آغاز ہے اور پھر یہاں پر دائمی قربانی کے موقوف ہونے سے تنسیخ جہاد مراد ہے اور اجاڑنے والی مکروہ چیز سے مراد اجرائے نبوت ہے جو مرزائی تحریک کے مطلوب کفر مسائل ہیں ۔

﴿اے پیغمبر! کفار کو کہہ دیجئے کہ تم مغلوب رہو گے اور دوزخ کی طرف لائے جاؤ گے۔ جو برا ٹھکانا ہے۔﴾ اس آیت میں کفار کی مغلوبیت ومحکومیت اور ان کے حشر بد کا بیان ہے اور پھر اعدادی طور پر اس میں مرزا قادیانی کی محکومیت ومغلوبیت کا بھی اشارہ ملتا ہے۔ کیونکہ جملہ ”ستغلبون“ اور ”مرزا غلام احمد قادیانی“ کے اعداد برابر ہیں جو ١٥٤٨ ہیں جس سے قرآن مجید کی چودہ صد سال قبل کی اعدادی پیش گوئی صحیح طور پر پوری ہوگئی اور مرزا قادیانی عمر بھر انگریز کافر کا محکوم وغلام اور ان کا بندۂ بے دام بنا رہا اور وہ ہمیشہ مغلوب الکافرین رہا۔ جیسا کہ اعداداً ثابت ہے۔ (مرزا غلام احمد قادیانی /١٥٤٨) ”مغلوب الکفرین الی الابد/ ١٥٤٨“

اس آیت میں اعدادی طور پر مرزا قادیانی کو غاوی اور گمراہ کہا گیا ہے۔ کیونکہ اس آیت کے اعداد حروف ١٢٥٨ بنتے ہیں اور مرزا قادیانی کے نام ”میرزا غلام احمد“ کے ابتدائی حصہ ”میرزاغ/ ١٢٥٨“ کے اعداد بھی یہی ہیں جس سے وہ اعداداً ایک گمراہ اور غاوی شخص قرار پاتا

١٥٠

صفحہ ٤٥٩

ہے اور پھر اس کا ہجری سال پیدائش بھی ١٢٥٨ ہے۔ دراصل یہی فقرہ بلعم باعوراء کے متعلق ہے۔ جو امت موسیٰ علیہ السلام کا ایک ممتاز و مشہور آدمی تھا اور انکار جہاد کر کے فرعونی فوج میں بھرتی ہو گیا تھا اور موسیٰ علیہ السلام کے خلاف جنگ کرنا اسکا معمول ہو گیا تھا۔ چونکہ مرزا قادیانی بھی منکر جہاد ہو کر اور اسلام کے مجاہدین آزادی کو چھوڑ کر انگریزوں کا حامی بن گیا۔ اس لئے قرآن حکیم نے بظاہر بلعم باعوراء کو غاوی و گمراہ کہا ہے اور اعدادی طور پر مرزا قادیانی کو غوایت و گمراہی میں بلعم باعوراء کا رفیق و سہیم گردانا گیا ہے۔

ر...... ”فلما زاغوا ازاغ الله قلوبهم“ ﴿جب انہوں نے کجی کو اختیار کیا تو خدا تعالیٰ نے ان کے دلوں کو کج بنا دیا۔﴾

اس آیت میں بظاہر قوم موسیٰ کی کج روی کا بیان ہے کہ وہ جنگ پر جاتے ہوئے انکار جہاد کر کے راستہ میں بیٹھ گئے اور صاف کہہ دیا کہ: ”فاذهب انت وربك فقاتلا انا ههنا قاعدون“ ﴿اے موسیٰ تو اور تیرا رب جا کر لڑو اور ہم یہاں بیٹھنے والے ہیں۔﴾

اور اعداداً مرزا قادیانی کو بھی اس آیت کا مورد و مصداق بنایا گیا ہے۔ کیونکہ فقرہ ”ازاغ الله قلوبهم“ اور مرزا قادیانی کے نام ”میرزا غلام احمد“ کے ابتدائی حصہ ”میرزا غ“ کے اعداد برابر ہیں جو ١٢٥٨ ہیں۔ جس سے مرزا قادیانی بھی بلعم باعوراء کی مانند منکر جہاد اور کفار برطانیہ کا حامی و ناصر بن کر سامنے آتا ہے۔ گویا کہ جس طرح بلعم باعوراء نے انکار جہاد کر کے اپنی ایک جماعت بنائی تھی اور اپنی جماعت کو فرعونی فوج کا ایک حصہ قرار دے دیا تھا۔ اسی طرح پر مرزا قادیانی نے بھی انکار جہاد کی بنیاد پر جماعت مرزائیہ بنائی اور پھر اپنی جماعت کو فوج برطانیہ کا نام دیا۔ جیسا کہ لکھا ہے: ”ہر ایک شخص جو میری بیعت کرتا ہے اور مجھ کو مسیح موعود مانتا ہے اسی روز سے اس کو یہ عقیدہ رکھنا پڑتا ہے کہ اس زمانہ میں جہاد قطعاً حرام ہے۔ کیونکہ مسیح آچکا۔“

(ضمیمہ جہاد ص١٩، مجموعہ اشتہارات ج٣ ص ٤٣٧)

اور پھر ”بلعم باعوراء / ٤٢٤“ اور ”مرزا قادیانی / ٤٢٤“ اعداد میں برابر ہیں اور نظریات میں ہمنوا اور متحد العقیدہ ہیں۔

س...... ایک حدیث شریف میں وارد ہے کہ آنحضرت ﷺ نے آنے والے فتنوں کا ذکر کرتے ہوئے ”فتنة الاحلاس“ کا بھی ذکر فرمایا۔ اس پر ایک سائل نے دریافت کیا کہ یہ فتنہ کس نوعیت کا ہوگا۔ آپ نے جواباً فرمایا: ”وهی هرب وحرب“ یہ جملہ اگرچہ بظاہر کسی خاص علامت کا اظہار نہیں کرتا۔ کیونکہ متبادر اس کا یہ مفہوم ہے کہ وہی لوگ بھاگنے والے اور جنگ و قتال

١٥١

PDF 461

کرنے والے ہوں گے اور مطلب یہ ہے کہ وہی لوگ مفاد پرست ہوں گے۔ چنانچہ جب شامل جہاد ہونے سے ان کا مفاد ضائع ہوتا ہوگا تو وہ انکار جہاد پر عمل کریں گے اور اگر شامل جہاد ہونے سے ان کو دنیاوی مفاد ملنے کی توقع ہوگی تو وہ فی الفور اعلان جہاد کر کے شامل جہاد ہو جائیں گے۔ گویا وہ دو رنگی چال کو اپنا کر منافقین اسلام کا جامہ اوڑھ لیں گے اور یہی حال مرزا غلام احمد قادیانی کا تھا کہ وہ قلمی جہاد کا قائل و عامل تھا اور سیفی جہاد کا منکر تھا اور یہی حال موجودہ مرزائیوں کا رہا کہ پاک و ہند کی جنگ میں ہندوستانی مرزائیوں نے اعلان جہاد کر کے پاکستان کے خلاف جنگ کی اور بھارتی افواج کے شانہ بشانہ لڑتے رہے اور پاکستانی مرزائیوں نے انکار جہاد کر کے غیر جانبدار پالیسی کو اپنا لیا اور پاکستانی افواج کے ساتھ مل کر بھارت کے خلاف جنگ نہ کی اور اپنے گھروں میں بیٹھ کر شکست پاکستان کی دعائیں مانگتے رہے۔

علاوہ ازیں فقرہ حدیث کی ایک وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے کہ یہاں پر حرف واؤ کو حرف ”من“ کی بجائے استعمال کیا گیا ہے اور اصل عبارت یوں ہے: ”وھی ھوب من حرب“ وہ جنگ و جہاد سے بھاگنے والے ہوں گے۔ یعنی وہی لوگ جہادِ اسلام کو حرام و قبیح کہنے والے ہوں گے اور اپنے مکانوں کے اندر پڑے ہوئے ٹاٹوں کی طرح اپنے گھروں سے باہر نہیں نکلیں گے اور ایک ٹاٹ کی مانند غلامی و محکومی کی ذلیل زندگی کو رائج و لائق قرار دیں گے اور ٹاٹ کی طرح احساس کمتری سے بالکل کورے رہیں گے۔

اب اگر زیر بحث فقرہ ”ھی ھوب من حرب“ کے اعداد حروف پر غور کیا جاوے تو اس کے اعداد پورے ٤٢٣ برآمد ہوتے ہیں۔ جیسا کہ ”مرزا قدنی“ اور اس کے پیغامجی مسٹر ”ٹپچی“ کے اعداد ٤٢٣ بنتے ہیں اور مطلب یہ ہے کہ مرزا قدنی نے اپنے پیغامجی مسٹر ”ٹپچی“ کے فرمان پر انکار جہاد کا شریر و خبیث فتویٰ جاری کیا اور بقول نبی ”فتنة الاحلاس“ بمعنی ٹاٹوں کا فتنہ قرار پایا۔

ص:...... ایک حدیث میں یہ الفاظ وارد ہیں ۔ ”ھلکة امتی علی یدی غلمة من قریش “ ﴿میری امت کی ہلاکت بجائے قریش کے ایک غلمہ کے ہاتھوں پر ہوگی ۔ ﴾

حدیث ہٰذا کے اندر حرف من بدل اور عوض کے مفہوم میں آیا ہے۔ جیسے: ”ارضیتم بالحیوۃ الدنیا من الآخرۃ“ ﴿کیا تم آخرت کے عوض میں حیات دنیا پر راضی ہو چکے ہو۔﴾ اور پھر لفظ ”غلمہ“ غلام احمد کا عرف عام اور مختصر نام ہے۔ جیسا کہ عرف عام میں گل احمد کو گلہ اور کریم بخش کو کریمہ کہا جاتا ہے۔ بنا بر آں مفہوم حدیث یہ ہے کہ قریش کی بجائے غلام احمد ہی اپنے ہاتھوں سے میری امت کو ہلاکت و تباہی میں گرائے گا۔ چونکہ تالیف و تصنیف کا

١٥٢

کام دو ہاتھوں سے کیا جاتا ہے۔ کیونکہ دو کاغذ کو تھاما جاتا ہے۔ اس لئے مطلب یہ قبیح اور ختم نبوت کو ناقص و ناتمام کہہ کر میر مسیح بنا کر قدرت خداوندی اور ترقیات ان لمتہ کی ہلاکت قریشی بننے والے ایک غلام میں سے بتلانا تھا۔

ط...... ایک حدیث میں وارد ہے: ”ال عبارت بطور ذیل ہے: ”الآيات بعد ا ظاہر ہوں گے۔﴿

یہاں پر آیات کا معنی علامات و ہوں۔ چنانچہ بارہ صد ہجری کے بعد علی محمد تنسیخ اسلام کا خبیث و شریر نظریہ پیش کیا اور محمد واحمد وغیرہ کے متعدد دعاوی کا ارتکاب نے کتاب ہٰذا کے اندر متعدد مقامات قادیانی /١٣٠٠ھ ہی غدار الدین اور غدار اور پھر یہ شخص اپنی یافتہ عمر ٧٦ سال کے اخت نے پوری جدوجہد اور تاریخی کیلنڈر کی مدد کیونکہ دجال / ٣٨+ دجال / ٣٨ کی میز ٧٦ سال ہے۔ حالات بالا کے مطابق ایک

درین غاشی ہجری دو قرآں خواہد بو

یہاں پر لفظ ’غاشی‘ کے گرہن و چاند گرہن ایک مہینہ میں واقع ہو دونوں نشانات مہدی کو چھوڑ کر دجال کا نش یہی بات لفظ ’غاشی‘ سے برآمد ہوتی معنی کھوٹا اور غدار شخص ہے اور جس کی دور غاشی بن گیا۔ جیسے لفظ حاج کو حاجی بنالیا

صفحہ ٤٦١

کام دو ہاتھوں سے کیا جاتا ہے۔ کیونکہ وقت تحریر دائیں ہاتھ میں قلم ہوتا ہے اور بائیں ہاتھ سے کاغذ کو تھاما جاتا ہے۔ اس لئے مطلب یہ ہے کہ وہ اپنے زور تحریر وتالیف سے جہاد اسلام کو حرام قبیح اور ختم نبوت کو ناقص و ناتمام کہہ کر میری امت کو گمراہ اور ملحد بنائے گا اور حیات مسیح کو وفات مسیح بنا کر قدرت خداوندی اور ترقیات انسانیہ کا انکار کرے گا اور یہ مفہوم بھی ہو سکتا ہے کہ میری امۃ کی ہلاکت قریشی بننے والے ایک غلام کے دو ہاتھوں پر ہوگی ۔ کیونکہ مرزا قادیانی خود کو قریش میں سے بتلاتا تھا۔

عبارت بطور ذیل ہے:”الآیات بعد المائتین والالف “ بارہ صد ہجری کے بعد نشانات ظاہر ہوں گے۔

یہاں پر آیات کا معنی علامات ونشانات ہے۔ خواہ وہ علامات حقہ ہوں یا علامات باطلہ ہوں۔ چنانچہ بارہ صد ہجری کے بعد علی محمد باب اور حسین علی بہاء اللہ نے مہدی و مسیح کا دعویٰ کر کے تنسیخ اسلام کا خبیث و شریر نظریہ پیش کیا اور غلام احمد قادیانی نے مہدی و مسیح اور نبی و رسول اور بروز محمد واحمد وغیرہ کے متعدد دعاوی کا ارتکاب کیا اور جہاد اسلام کی تحریم و تقبیح کا فتویٰ صادر کیا اور میں نے کتاب ہذا کے اندر متعدد مقامات پر ثابت کیا ہے کہ بروئے اعداد حروف ”غلام احمد قادیانی /١٣٠٠“ ہی غدار الدین اور غدار باطنی اور غدار ملکہ اور غیر المہدی اور مہدی الغیر بنتا ہے اور پھر یہ شخص اپنی یافتہ عمر ٧٦ سال کے اعتبار سے جس کو اس کے فرزند ارجمند مرزا بشیر احمد صاحب نے پوری جدوجہد اور تاریخی کیلنڈر کی مدد سے صحیح اور درست بتایا ہے۔ ڈبل دجال بن جاتا ہے۔ کیونکہ دجال / ٣٨ + دجال / ٣٨ کی میزان ٧٦ بنتی ہے جو مرزا قادیانی کی یافتہ اور مصدقہ عمر ٧٦ سال ہے۔ حالات بالا کے مطابق ایک شاعر نے بالکل درست کہا ہے کہ:

در سن غاشی ہجری دو قرآں خواہد بود از پئے مہدی و دجال نشان خواہد بود

یہاں پر لفظ ”غاشی“ کے ١٣١١ اعداد ہیں اور مطلب یہ ہے کہ ١٣١١ کے سال کو سورج گرہن و چاند گرہن ایک مہینہ میں واقع ہو کر مہدی اور دجال کا نشان قرار پائیں گے۔ یعنی یہی دونوں نشانات مہدی کو چھوڑ کر دجال کا نشان بنیں گے اور مہدی کا نشان نہیں بن سکیں گے۔ کیونکہ یہی بات لفظ ”غاشی“ سے برآمد ہوتی ہے۔ کیونکہ یہی لفظ دراصل بصورت غاشش تھا۔ جس کا معنی کھوٹا اور غدار شخص ہے اور جس کی دوسری ش حرف ”ی“ میں تبدیل ہوگئی اور یہ لفظ غاشش سے غاشی بن گیا۔ جیسے لفظ حاجش کو حاجی بنالیا گیا ہے۔

١٥٣

صفحہ ٤٦٢

بنابر آں شعر زیر بحث کا مفہوم یہ ہے کہ ہجرت کے ایک غاشی اور کھوٹے سال کے اندر دو اجتماع و قران ہوں گے۔ ایک اجتماع و قران سورج گرہن اور چاند گرہن کا ہوگا جو ماہ رمضان میں واقع ہوگا اور دوسرا اجتماع وقران مہدی اور دجال کا ہوگا جو غلام احمد قادیانی کے وجود میں سکونت پذیر ہوگا اور مطلب یہ ہے کہ پہلے اجتماع کا نشان غلام احمد قادیانی کے لئے ہوگا جس میں مہدی و دجال کا اجتماع ہوگا اور خود کو مہدی کہتا ہوگا۔ لیکن در حقیقت وہ دجال ہوگا۔ جیسا کہ اعداداً بطور ذیل ثابت ہے: (غلام احمد / ١١٣٢) دجال عظیم و دانا / ١١٣٢، وہ دینی طور پر بڑا دجال ہے اور ”البطال العظیم“ اور غلام احمد قادیانی / ١٣٠٠ ”غیر المهدی / ١٣٠٠“ وہ غیر المہدی ہے اور مہدی نہیں ہے بلکہ بطال عظیم ہے۔ میں نے شعر بالا کے جواب میں بطور ذیل کہا ہے:

قرن غاشی ہجری مہر و ماہ در مہ رمضان شد ہر دو سیاہ

ہجرت کے غاشی سال میں چاند اور سورج دونوں سیاہ اور بے نور ہو گئے۔

ایں نشان ہا بہر آں بطال بود گفت خود را مہدی و دجال بود

یہ دونوں نشانات اس بطال آدمی کے لئے ہوئے جس نے خود کو مہدی کہا۔ حالانکہ وہ دجال تھا۔

مهدی و دجال ایں جا یک کس است فہم کن از من کہ ایں بہر تو بس است

اس جگہ پر مہدی اور دجال ایک شخص کو کہا گیا ہے۔ یہی بات مجھ سے سمجھ لے کہ تیرے لئے کافی ہے۔ چنانچہ اعدادی طور پر یہی شخص غاشی اور خبیث الہند بنتا ہے۔ (غاشی / ١٣١١) خبیث الهند حقاً / ١٣١١ = (هو غلام احمد قادیانی / ١٣١١) یعنی غلام احمد قادیانی ایک کھوٹا اور صحیح خبیث الہند ہے۔ ی...... ”فی قلوبهم مرض فزادهم الله مرضاً“ ﴿ان کے دلوں میں بیماری ہے اور خدا نے ان کی بیماری کو بڑھا دیا۔﴾ جاننا چاہئے کہ آیت ہذا ایسے لوگوں کے متعلق ہے جن کے دلوں میں کفر و نفاق کی بیماری ہے اور وہی بیماری ہر آن اپنے اندر قوت و شدت پیدا کر رہی ہے اور مرزا قادیانی بھی ضمناً اس بیماری کا مریض ہے۔ کیونکہ آیت ہذا بصورت واحد یوں ہے۔ ١٥٤

”فی قلبه مرض فزاده الله اس کی بیماری کو زیادہ کر دیا ہے اور مرزا قاد کہ مساوات ہائے ذیل سے عیاں ہے۔

(غلام قادیانی بابه)

بجد / ١٢٦٧ ”اپنے باپ کے ساتھ اپنے (غلام احمد / ١٢٦٧) ”زادہ ا دیا ہے اور وہ لاعلاج ہے۔ ف...... ”واقصد في مشیک و لصوت الحمير“ ﴿تو اپنی رفتار میں آواز گدھا کی آواز ہے۔﴾ یہی آیت بظاہر حضرت لقمان رفتاری سے چلتا تھا اور مکروہ اونچی آواز رکھتا باپ نے بروئے آیت ہذا اس کو نصیحت کی لوگوں کی نفرت و کراہت کا نشانہ نہ بنارہے بھی مراد قرآن ہے۔ کیونکہ یہ شخص بھی فرز آواز سے بولتا تھا۔ گویا کہ اس کی رفتار رفتار اعداداً بطور ذیل ثابت ہے:

(الحمير / ٢٨٩) = (الم

برابر ہیں۔

(صوت الحمير / ٧٨٥) =

آواز کے برابر ہے۔

(مشی الحمير / ٦٣٩) =

سے ملتی جلتی ہے۔ ق...... ”وما لهم عن التذکر قسورة“ ﴿وہ یادگاری بات سے کیوں بھاگ گئے۔﴾

صفحہ ٤٦٣

”فی قلبہ مرض فزادہ اللہ مرضا“ اس کے دل میں بیماری ہے اور خدا تعالیٰ نے اس کی بیماری کو زیادہ کر دیا ہے اور مرزا قادیانی اعداد ان دونوں واحد فقرات میں مستور ہے۔ جیسا کہ مساوات ہائے ذیل سے عیاں ہے۔

(غلام قادیانی بابیہ) =(فی قلبہ مرض) ”وهو غلام قادیانی بجد / ١٤٦٧“ اپنے باپ کے ساتھ اپنے دل میں کفر و نفاق کی بیماری رکھتا ہے۔

(غلام احمد / ١٤٦٧) ”زادہ اللہ مرضا / ١٤٦٧“ خدا نے اس کی بیماری کو زیادہ کر دیا ہے اور وہ لا علاج ہے۔

ق...... ”واقصد في مشيك واغضض من صوتك ان انكر الاصوات لصوت الحمير “ ﴿تو اپنی رفتار میں درمیانہ رہ اور اپنی آواز کو نیچا رکھ۔ کیونکہ سب سے بری آواز گدھا کی آواز ہے۔﴾

یہی آیت بظاہر حضرت لقمان نبی کے بیٹے سے متعلق ہے۔ کیونکہ وہ بے ڈھنگی تیز رفتاری سے چلتا تھا اور مکروہ اونچی آواز رکھتا تھا جس کو باپ اور عوام پسند نہیں کرتے تھے۔ بنا برآں باپ نے بروئے آیت ہذا اس کو نصیحت کی کہ تو اپنی رفتار کو میانہ رکھ اور اپنی آواز کو پست رکھ تاکہ تو لوگوں کی نفرت وکراہت کا نشانہ نہ بنارہے اور آیت ہذا کے دونوں فقرات میں ضمناً مرزا قادیانی بھی مراد قرآن ہے۔ کیونکہ یہ شخص بھی فرزند لقمان کی مانند بے ڈھنگی رفتار سے چلتا تھا اور مکروہ آواز سے بولتا تھا۔ گویا کہ اس کی رفتار رفتار خر تھی اور اس کی گفتار گفتار خر معلوم ہوتی تھی۔ جیسا کہ اعدادا بطور ذیل ثابت ہے:

(الحمير / ٢٨٩) =(المیرزا / ٢٨٩) یعنی گدھا اور میرزا اپنی گفتار و رفتار میں برابر ہیں۔

(صوت الحمير / ٧٨٥) =(صوت المیرزا / ٧٨٥) یعنی مرزا کی آواز گدھا کی آواز کے برابر ہے۔

(مشی الحمير / ٦٣٩) =(مشی المیرزا / ٦٣٩) یعنی مرزا کی رفتار گدھا کی رفتار سے ملتی جلتی ہے۔

ق...... ”وما لهم عن التذكرة معرضين كانهم حمر مستنفرة فرت من قسورة“ ﴿وہ یادگاری بات سے کیوں روگردان ہیں۔ گویا کہ وہ وحشی گدھے ہیں جو شیر سے بھاگ گئے ۔﴾

١٥٥

صفحہ ٤٦٤

جاننا چاہئے کہ میرے نزدیک قرآن مجید کے یہی تین فقرات ایک قبل از وقت پیش گوئی پر مشتمل ہیں اور یہی پیش گوئی وہ علمی مناظرہ ہے جو مرزا غلام احمد قادیانی اور پیر مہر علی شاہ گولڑویؒ کے درمیان حیات و وفات مسیح کے مسئلہ پر لاہور کی شاہی مسجد میں قرار پایا تھا۔ پیر مہر علی شاہ گولڑویؒ انتظار مرزا میں شاہی مسجد کے اندر متعدد ایام مقیم رہے۔ لیکن مرزا قادیانی ایک دن کے لئے لاہور میں نہ آیا اور مجلس مناظرہ میں شریک نہ ہوا۔ چنانچہ آیات بالا میں اسی مناظرہ کو بلفظ ”تذکرہ“ ذکر کیا گیا ہے اور مناظرہ سے بھاگنے والے مرزا کو معرض عن التذکرہ اور بھاگنے والا گدھا اور پیر مہر علی شاہ صاحب کو شیر کہا گیا ہے اور مفہوم یہ لیا گیا ہے کہ مرزا قادیانی پیر صاحب کے رعب وخوف سے اس طرح بھاگ نکلا۔ جس طرح ایک گدھا شیر کو دیکھ کر بھاگ جاتا ہے۔ چنانچہ اعداد مرزا قادیانی گدھا اور پیر مہر علی شاہ صاحب شیر ثابت ہوتا ہے۔ جیسا کہ بطور ذیل ہے:

(حمر/٢٤٨) = (مرزا/٢٤٨) یعنی مرزا قادیانی چند گدھوں کے مجموعہ سے بنتا ہے اور گدھا بن کر اہل اسلام کے خلاف ہینکتا ہے اور پیر صاحب شیر بن کر اسی گدھا کو بھگاتا ہے۔

(قسورۃ/٣٧١) = (مہر علی ابداً/٣٧١) یعنی مہر علی شاہ صحیح طور پر ہمیشہ کا شیر ہے جس نے قادیانی گدھا کو بھگا دیا۔

کہ ....... ”حتی اذا ادرکہ الغرق قال اسلمت انه لا اله الا الذی امنت بہ بنوا اسرائیل“ ﴿حتی کہ جب غرق آبی نے اس کو پکڑ لیا تو اس نے کہا کہ اس خدا کے بغیر خدا نہیں ہے۔ جس کو ابناء بنی اسرائیل نے مانا ہے۔﴾

جاننا چاہئے کہ آیت ہذا میں فرعون مصر کے غرق آب ہونے اور خدائے اسرائیل کو ماننے کا بیان ہے۔ لیکن اس نے اس وقت بھی موسیٰ علیہ السلام کو رسول خدا نہیں مانا۔ ورنہ بطور ذیل کہتا: ”اسلمت انه لا اله الا الذی امن بہ موسیٰ“ اور پھر ضمناً مرزا بھی آیت ہذا میں مذکور ہے۔ کیونکہ لفظ ”غرق /١٣٠٠“ اور ”غلام احمد قادیانی /١٣٠٠“ کے اعداد برابر ہیں جو پورے ١٣٠٠ ہیں۔ یعنی قرآن مجید نے بظاہر لفظ غرق سے فرعون مصر کی تباہی اور ضمناً بصورت اعداد غلام احمد قادیانی کی تباہی بھی بیان کر دی ہے۔ کیونکہ مرزا قادیانی خود کو فرعون قادیان اور آمر قادیان خیال کرتا تھا اور پھر اس کو اپنی تباہی سے ایک سال قبل درج ذیل الہام ہوا تھا۔ ”کمترین کا بیڑا غرق ہو گیا۔“ اور مفہوم یہ ہے کہ میں کمترین تباہ ہو گیا۔ کیونکہ اردو زبان میں بیڑا غرق ہونے سے عام تباہی مراد ہوتی ہے۔ خواہ وہ تباہی غرق آب سے ہو، یا خشکی پر کسی حادثہ سے ہو۔ چنانچہ

١٥٦

صفحہ ٤٦٥

مرزا قادیانی بروئے الہام خود لاہور کی احمدیہ بلڈنگس میں بمرض ہیضہ ہلاک ہو گیا اور اس کو بوقتِ مرگ کلمہ طیبہ و کلمہ شہادت پڑھنے کی توفیق نہ ملی اور وہ گمراہ اور اوباش شخص دجال بن کر مرا۔ جیسا کہ اعداد اُس کی ہجری تاریخ وفات بطور ذیل ہے: (شخص اوباش / ١٣٢٦) اور ”ھو غوی ھلک بلاھور / ١٣٢٦“ اور ”روح خبیث / ١٣٢٦“ اور ”ذریة الشیاطین / ١٣٢٦“ اور ”غدار الملک / ١٣٢٦“ اور اس کا عیسوی سال وفات بطور ذیل ہے: ”حقت کلمة العذاب علی الکفرین / ١٩٠٨“ ل....... ”ومن اظلم ممن ذکر بآیات ربہ فاعرض عنھا انا من المجرمین منتقمون“ ﴿اس شخص سے زیادہ ظالم کون ہو سکتا ہے جس کو خدا کی آیات یاد دلائی گئیں اور اس نے ان سے اعراض کر لیا اور ہم مجرمین سے انتقام لیں گے۔﴾

آیت ہٰذا میں ایسے اشخاص کا تذکرہ ہے جن کو دینی مسائل میں آیاتِ قرآن پیش کی گئیں۔ لیکن انہوں نے ان آیات کو نہ مانا اور وہ خلافِ آیات کام کرتے رہے اور نتیجتاً عند اللہ گناہ گار اور مجرم قرار پائے اور قابلِ گرفت و تعزیر بنے۔ چنانچہ مرزا قادیانی بھی اسی آیت کی زد میں آتا ہے اور قابلِ تعزیر مجرم بنتا ہے۔ کیونکہ جب وہ وفاتِ مسیح اور اجرائے نبوت کا قائل و معتقد بنا تو علمائے اسلام نے اس کے سامنے حیاتِ مسیح اور ختمِ نبوت کی آیات رکھیں۔ لیکن اس نے ان آیات کی غلط تفسیریں و تاویلیں کر کے ان کے ماننے سے انکار کر دیا اور اپنے غلط عقیدہ اور باطل نظریہ پر بضد ڈٹا رہا اور عند اللہ مجرم و جارح قرار پایا۔ جیسا کہ وہ اعدادِ آیات بالا کے تحت میں آتا ہے اور معرض عن الآیات اور قابلِ انتقام مجرم بنتا ہے۔

”اعرض عنھا اباءً / ١٢٠٢“ اور ”انا من المجرمین منتقمون / ١٢٠٢“ = ”الغلام الھندی / ١٢٠٢“ اور ”غلام احمد ھندی بجد / ١٢٠٢“ اور ”خبیث الھند / ١٢٠٢“، یعنی آیاتِ قرآن سے اعراض کر کے قابلِ انتقام مجرم بننے والا غلام ہندی اور خبیث الہند آدمی ہے اور وہ غلام احمد ہندی ہے جیسا کہ بطور ذیل ہے:

”ان اللّٰہ لا یھدی من ھو کاذب کفار“ بلاشبہ خدا تعالیٰ جھوٹے کافر کو مہدی نہیں بنائے گا۔ جاننا چاہئے کہ آیت ہٰذا مرزا غلام احمد قادیانی کے بارے میں ہے اور تائیدی وجوہات ذیل ہیں۔

اوّل...... یہ کہ وہ اپنے مہدی ہونے کا مدعی ہے اور فعل (لا یھدی) اس کے مہدی ہونے کی نفی کرتا ہے۔ یعنی خدا تعالیٰ نہ اس کو مہدی بنائے گا اور نہ اس کو ہدایت کی طرف آنے دے گا۔ کیونکہ

١٥٧

صفحہ ٤٦٦

اس میں کذب وکفر کے دو خطرناک امر ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وہ اعداداً ”غیر المہدی ، یا مہدی الغیر“ بنتا ہے۔ (غلام احمد قادیانی / ١٣٠٠) ، غیر المہدی / ١٣٠٠ یا مہدی الغیر / ١٣٠٠ یعنی وہ غیر المہدی ہے یا مہدی الغیر ہے اور حکومت برطانیہ نے اس کو مہدی بنایا ہے۔

کو کاذب کہا ہے اور دوسرا مسئلہ اجرائے نبوت ہے جس میں قرآن مجید کی طرف سے اس کو کافر کہا گیا ہے۔

(غلام احمد / ١١٢٤) ”من هو کذب کفار / ١١٢٤“ یعنی غلام احمد جھوٹا کافر ہے۔ کیونکہ وہ بجائے حیات مسیح اور ختم نبوت کے وفات مسیح اور اجرائے نبوت کا قائل و معتقد ہے۔

ن ...... ”قُلْ هَلْ اُنَبِّئُكُمْ عَلَىٰ مَن تَنَزَّلُ الشَّيَاطِينُ تَنَزَّلُ عَلَىٰ كُلِّ أَفَّاكٍ أَثِيمٍ“ ﴿کہہ دیجئے کہ کیا میں تم کو بتا دوں کہ شیاطین کا نزول کس شخص پر ہوتا ہے۔ شیاطین کا نزول ہر جھوٹے بدکار آدمی پر ہوتا ہے۔﴾ واضح ہو جانا چاہئے کہ کسی صحابی نے آپ ﷺ سے جب نزول شیاطین کے بارے میں دریافت کیا تو آپ ﷺ خاموش ہو گئے اور وحی آنے کا انتظار کیا اور تھوڑی دیر بعد آیت بالا نازل ہو گئی جس میں بتایا گیا کہ نزول شیاطین ہر کذاب و بدکار آدمی پر ہوتا ہے اور سچے و نیکوکار آدمی پر نہیں ہوتا۔ بنا بر آں چونکہ فقرہ ”وتنزّل على افاک اثیم“ کے اعداد پورے تیرہ صد ہیں اور غلام احمد قادیانی کے بھی یہی اعداد ہیں۔ اس لئے معلوم ہو گیا کہ یہی شخص بروئے فقرہ ”هذا افاک و اثیم“ ہے اور اس پر بجائے وحی الٰہی کے نزول شیاطین ہوا ہے۔ چنانچہ وہ وفات مسیح کے مسئلہ میں افاک وکذاب ہے اور اجرائے نبوت کے سلسلہ میں بدکار واثیم ہے اور کذاب واثیم آدمی کبھی راست باز، مہدی اور مسیح نہیں ہو سکتا۔

بنابرآں میں نے اس کے زیر بحث شعر کے جواب میں بطور ذیل کہا ہے:

وقد جاء فی القران ذکر ضلاله فـقـرانـنـا هذا الغلام يكفر

قرآن مجید کے اندر اس کی گمراہی کا ذکر آ گیا ہے۔ پس ہمارا قرآن اس غلام احمد کو کافر کہتا ہے۔

رأيـنـاه حـقـا مغرقاً بضلالـه وهـذا قـضـاء الله فـيـه مـقـدّر

ہم نے سچ مچ اس کو گمراہی میں ڈوبا ہوا دیکھا ہے اور خدا تعالیٰ کا یہی فیصلہ اس کے لئے مقدر ہو چکا ہے۔

الغلام تجنّى على القران من غير فطنة وقرانـنـا يقضـى عـلـيـه ويقـدر

١٥٨

صفحہ ٤٦٧

اس نے بلا فہم قرآن مجید پر نکتہ چینی کی ہے اور ہمارا قرآن اس کے خلاف فیصلہ دینے پر قادر ہے۔

فقرآننا افتیٰ علیہ بکفرہ فہذا لدیہ ملحد ومکفر

ہمارے قرآن مجید نے اس پر کفر کا فتویٰ دے دیا ہے۔ پس یہ شخص قرآن کے نزدیک ملحد و کافر ہے۔

اور پھر اعداداً بھی یہ شخص انبیائے صادقین کا غیر ہے۔ جیسا کہ بطور ذیل ہے: (مرزا غلام احمد قادیانی / ١٥٤٨) = ”غیر النبی الصادق ابداً / ١٥٤٨“ وہ ہمیشہ سے سچے نبی کا غیر ہے۔ (مرزا غلام احمد /١٣٧٢) ”غیر النبیین بجد /١٣٧٢“ وہ صحیح طور پر غیر الانبیاء ہے۔

نیز یہ بھی معلوم رہے کہ قرآن مجید نے مسلمانوں کو کفار ومشرکین اور یہود ونصاریٰ کی دوستی سے علی الاعلان منع کیا ہے اور بتایا ہے کہ ان لوگوں سے دوستی و ہمدردی کا رابطہ مت رکھو اور ہر حالت میں ان سے بچ کر رہو۔ مگر مرزا قادیانی نے ہدایات قرآنیہ کو پس پشت ڈال کر حکومت برطانیہ کا ساتھ دیا اور اس سے ہمدردانہ تعاون کیا اور مسلمانوں سے بدخواہی اور غداری کا برتاؤ کیا۔ چنانچہ قرآن مجید کی ہدایات بحق اہل اسلام بطور ذیل ہیں:

”لا يتخذ المؤمنون الکافرين اوليآء من دون المؤمنین ومن یفعل ذلک فليس من الله فی شیئ“ ﴿مؤمنین کو چاہئے کہ وہ مؤمنین کو چھوڑ کر کافروں کو اپنا دوست مت بنائیں اور جس نے ایسا کر لیا وہ خدا تعالیٰ سے بے تعلق ہو گیا۔﴾

”یایها الذین آمنوا لا تتخذوا بطانة من دونکم لا يالونکم خبالاً “ ﴿اے ایمان والو! اپنوں کو چھوڑ کر کسی کو بھی اپنا قلبی دوست مت بناؤ۔ کیونکہ وہ تم کو دکھ دینے میں کوتاہی نہیں کریں گے۔﴾

”یایها الذین آمنوا لا تتخذوا الکٰفرین اولیآء من دون المؤمنین“ ﴿اے ایمان والو! تم مؤمنین کو چھوڑ کر کافروں کو اپنا دوست مت بناؤ۔﴾

”بشر المنافقين بان لہم عذاباً اليماً الذين يتخذون الكافرين اوليآء من دون المؤمنین“ ﴿اے پیغمبر اسلام! ان منافقین کو عذاب الیم کی خبر دے دو جو مؤمنین کو چھوڑ کر کافروں کو اپنا دوست بنا لیتے ہیں۔﴾

١٥٩

صفحہ ٤٦٨

مذکورہ بالا چاروں آیات کے اندر مؤمنین و مسلمین کو عمومی کفار کی دوستی سے روکا گیا ہے۔ خواہ وہی کفار مشرکین عرب ہوں یا مرزا و اہل مرزا ہوں یا یہود و نصاریٰ ہوں۔ کیونکہ ان لوگوں سے بحق اہل اسلام کبھی بھی خیر خواہی و ہمدردی نہیں ہو سکتی۔ بلکہ یہ لوگ ہر حالت میں مسلمانوں کے لئے بدخواہ اور شر پسند ثابت ہوں گے۔

اور پھر قرآن مجید نے خصوصی طور پر یہود و نصاریٰ کی دوستی سے اہل اسلام کو روکتے ہوئے فرمایا ہے: ”یایہا الذین امنوا لا تتخذوا الیہود والنصارٰی اولیاء بعضہم اولیاء بعض ومن یتولہم منکم فانہ منہم ان اللہ لا یہدی القوم الظلمین“ ﴿اے ایمان والو! یہود و نصاریٰ کو اپنا دوست مت بناؤ۔ کیونکہ وہ ایک دوسرے کے دوست ہیں۔ (تمہارے دوست نہیں ہیں) اور تم میں سے جس نے ان کو اپنا دوست بنالیا تو وہ ان میں شامل رہے گا اور خدا تعالیٰ ایسے ظالم آدمی کو راہ یاب نہیں کرتا۔﴾

اور پھر قرآن مجید نے تاکیداً تمام اہل کتاب بمعنی یہود و نصاریٰ اور تمام کفار عرب و عجم کی دوستی سے اہل اسلام کو روکتے ہوئے صراحۃً فرمایا ہے: ”یایہا الذین امنوا لا تتخذوا الذین اتخذوا دینکم ہزوا ولعباً من الذین اوتوا الکتب من قبلکم والکفار اولیاء واتقوا اللہ ان کنتم مؤمنین“ ﴿اے ایمان والو! تم اپنے سے پہلے اہل کتاب (یہود و نصاریٰ) اور کفار کو اپنا دوست مت بناؤ۔ جنہوں نے تمہارے دین کو ٹھٹھا مخول بنالیا اور تم ان کو دوست بنانے میں خدا تعالیٰ سے ڈرو۔ اگر تم اپنے اندر ایمان رکھتے ہو۔﴾

اب قرآن مجید نے مذکورہ بالا ممنوعہ دوستی کے انجام کی خبر دیتے ہوئے آگاہ کیا ہے کہ ایسا شخص دائرہ اسلام سے خارج ہے اور کفر و فسق کے احاطہ میں داخل ہو چکا ہے اور عنداللہ ظالم و کافر اور غیر مؤمن ہے۔

”ولو کانوا یؤمنون باللہ والنبی وما انزل الیہ ما اتخذوہم اولیاء ولکن کثیراً منہم فاسقون“ ﴿اگر یہ لوگ خدا اور رسول اور منزل من اللہ قرآن پر ایمان رکھتے تو ان کو اپنا دوست نہ بناتیں۔ لیکن ان کی اکثریت فاسق ہے۔﴾

بنا برآں مرزا قادیانی قرآن مجید کے فتویٰ پر کافر و فاسق ہے اور مؤمن و مسلم نہیں ہے۔

تیسری تعلّی: یہ ہے کہ وہ اپنے آپ کو رسول خدا قرار دیتے ہوئے کہتا ہے:

وما انا الا مرسل عند فتنة فرد قضاء اللہ ان کنت تقدر

١٦٠

صفحہ ٤٦٩

میں بوقت فتنہ ایک رسول ہوں۔ اگر تو قدرت رکھتا ہے تو خدا کے فیصلہ کو رد کر دے۔

(اعجاز احمدی ص ٥٨ ، خزائن ج ١٩ ص ١٧٠)

پھر تین اشعار کے بعد انبیائے سابقین کی توہین وتنقیص کرتے ہوئے لکھتا ہے:

تكدر ماء السابقين وعيننا الى آخر الايام لا تتكدر

انبیائے سابقین کا پانی گدلا ہو گیا اور ہمارا چشمہ آخر ایام تک گدلا نہیں ہوگا۔

الجواب: یہ کہ یہ شخص نہ رسول ہے اور نہ خدا تعالیٰ کے فیصلہ نے اس کو رسول بنایا ہے۔ بلکہ اس کو انگریزی حکومت نے رسول بنا کر کھڑا کر دیا۔ تا کہ مسلمانان ہند میں افتراق و شقاق پیدا کر کے ان کی وحدت ملی کو پارہ پارہ کر دے اور اہل ہند عموماً اور اہل اسلام خصوصاً حکومت برطانیہ کے خلاف سر نہ اٹھا سکیں اور غلام کفار رہیں اور پھر اس نے اسی شعر میں رسول خدا کے پانی کو گدلا کہہ دیا ہے۔ دراصل رسول خدا وہ شخص ہو سکتا ہے جو اپنی رسالت کے بل بوتے پر اپنے لائے ہوئے دین کو مقتدر اور حاکم وقت بنادے۔ جیسا کہ قرآن حکیم کا ارشاد ہے: ”كتب الله لاغلبن انا ورسلی“ ﴿خدا تعالیٰ نے لکھ دیا ہے کہ میں اور میرے رسول غالب رہیں گے۔﴾ ”وما ارسلنا من رسول الا ليطاع باذن الله “ ﴿اور ہم نے ہر رسول کو باذن اللہ مطاع اور مقتدر بنایا ہے۔﴾

چنانچہ ہر دو آیات خدا کا مفہوم یہ ہے کہ خدا کا ہر رسول باذن خدا ضرور بالضرور اپنے مخالفین پر اقتدار وتغلب پیدا کر لیتا ہے اور وہ ہر حالت میں آزادی پسند اور حریت نواز ہوتا ہے۔ مگر مرزا قادیانی عمر بھر انگریزی حکومت کا غلام اور بندۂ بے دام بنا رہا اور اپنی ساری زندگی ان کی کفش برداری میں بسر کی۔ (مرزا غلام احمد ١٤/٧٢) ”هو غير المطاع“ وہ غیر مطاع اور غیر مقتدر رہا۔

بنابر آں میں نے اس کے ہر سہ اشعار بالا کو بطور ذیل تبدیل کر دیا ہے۔

وما هو الا ذو فساد وفتنة وهذا قضاء الله فيه مقدر

وہ صرف ایک فسادی اور فتنہ باز شخص ہے اور اس بارے میں خدا تعالیٰ کا یہی فیصلہ مقدر ہو چکا ہے۔

اتى زائغاً في الدين فينا وفاتنا كما الله يبديه لذا فينا ويظهر

وہ ہمارے اندر زائغ فی الدین اور فتنہ باز بن کر آیا۔ جیسا کہ خدا تعالیٰ اس کو ہمارے پاس لا کر ظاہر کرتا ہے۔

١٦١

صفحہ ٤٧٠
تصفی عيون الانبياء وعينه الى ما بقت ايامنا تتكدر

انبیاء علیہم السلام کے چشمے صاف رہے اور اس کا چشمہ جب تک ہمارے ایام باقی ہیں گدلا رہے گا۔

اور اعداد اتوں ثابت ہے:

(مرزا غلام احمد قادیانی / ١٥٤٨) ”مغلوب الكافرين الى الابد / ١٥٤٨“

مرزا غلام احمد ہمیشہ کے لئے مغلوب کفار رہا۔ ”هو غير الرسول / ١٥٤٨“ اور ”غیر مرسل ایضاً / ١٥٤٨“ وہ ہمیشہ سے غیر مرسل ہے۔

چوتھی تعلی: یہ ہے کہ مرزا قادیانی نے اپنے آپ کو حضرات حسنینؓ سے افضل واعلیٰ سمجھ کر بطور ذیل کہا ہے:

وقالوا على الحسنين فضل نفسه أقول نعم والله ربى سيظهر

انہوں نے کہا کہ یہ شخص اپنے کو حسنین سے افضل کہتا ہے۔ میں کہتا ہوں ہاں! میرا خدا اس فضیلت کو ظاہر کرے گا۔

(اعجاز احمدی ص ٥٢، خزائن ج ١٩ ص ١٦٤)

جواب....... یہ ہے کہ یہ شخص اپنے قول میں بالکل کاذب ومفتری ہے۔ کیونکہ دونوں شہزادے عند القرآن نبی کے اہل بیت میں سے ہو کر حباً ونسباً پاک وطاہر اور مطہر ومقدس ہیں۔ جیسا کہ ارشادِ قرآن ہے: ”انما يريد الله ليذهب عنكم الرجس اهل البيت ويطهركم تطهيراً “ اے اہل بیت! خدا تعالیٰ کا منشا یہ ہے کہ تمہاری ناپاکی کو دور کر دے اور تم کو طاہر ومطہر بنا دے۔ ﴿

اگرچہ آیت ہٰذا کے سیاق وسباق کی بنیاد پر آیت ہٰذا کے اندر ازواج مطہرات رسول کا ذکر ہے اور انہی کی تطہیر وتقدیس کا بیان ہے۔ لیکن ضمناً آنحضرت ﷺ کا تمام خاندان از قسم ازواج رسول اور بنات رسول اور اسباط رسول سب اسی میں شامل ہیں اور سب کے سب تطہیر وتقدیس کے مالک ہیں۔

جاننا چاہئے کہ مرزا قادیانی اپنے ایک شعر میں جو شعر بالا سے اوپر واقع ہے اپنے آپ کو گوبر بمعنی خفیف اور ہلکی نجاست قرار دیتے ہوئے صاف طور پر کہتا ہے:

ارد الیک محامد ردت کلّها وما انا الا مثل ذرق يعفر

میں اپنی سب خوبیوں کو جن کا میں خواہاں ہوں تیری طرف لوٹاتا ہوں۔ کیونکہ میں تو ایک گوبر ہوں جو مٹی میں ملایا جاتا ہے۔

(اعجاز احمدی ص ٥٢، خزائن ج ١٩ ص ١٦٤)

١٦٢

صفحہ ٤٧١

بنابر آں یہ شخص بقول خود ایک گوبر و سرگین ہو کر حضرات حسنینؓ سے کسی طرح پر بھی افضل و بالا تر نہیں ہو سکتا۔ جن سے قرآن حکیم نے نجاست و گندگی کو دور کر دیا ہے اور ان کو ہمیشہ کے لئے طاہر و مطہر بنا دیا ہے۔ سچ ہے کہ : ”الانسان یؤخذ باقراره“ انسان اپنے قول و اقرار سے پکڑا جاتا ہے۔

چنانچہ مرزا قادیانی نے اپنی مذکورہ بالا غیر محمود تعلی کو خود اپنے شاعرانہ قول سے رد کر دیا ہے اور ہمیں اس کی تردید و تضلیل کی ضرورت نہیں رہی۔ کیونکہ بقول خود گوبر بننے والا شخص کبھی بھی طاہر و مطہر سادات کرام سے افضل و برتر نہیں ہو سکتا۔ دراصل یہ حضرات حسنین کریمینؓ کی زندہ کرامت ہے کہ اس شقی ناصاف نے ان کا دامن خود اپنے شعر بالا سے دھو ڈالا اور ہمیں اس کے دھونے کی ضرورت نہ رہی۔

بنابر آں جو شخص بقول خود گوبر و سرگین ہے وہ کسی طرح بھی حضرات حسنینؓ سے بالاتر اور مطہر قرار نہیں دیا جا سکتا۔ بلکہ اس کا یہ دعویٰ اعلیٰ درجہ حماقت بنتا ہے۔ جیسا کہ بطور ذیل ہے:

”فضل نفسه علیٰ حسنین بحمقه /١٥٤٨“

(غلام احمد قادیانی /١٥٤٨)

مرزا قادیانی نے خود کو اپنی حماقت سے حضرات حسنینؓ سے برتر کیا۔ اور زیر بحث مرزائی اشعار کو بطور ذیل تبدیل کیا گیا ہے:

وقلنا لدی الحسنين ھذا کذرقة کما شعره افشیٰ و شعری یظهر

ہم نے کہہ دیا ہے کہ یہ شخص حضرات حسنین کے آگے گوبر کی مانند ہے۔ جیسا کہ اس کے شعر نے ظاہر کیا اور میرا شعر ظاہر کرتا ہے:

رددنا مساویہ علیہ بعجلة فھذا لدینا مثل ذرق یعفر

ہم نے جلدی سے اس کی برائیوں کو اسی پر لوٹا دیا ہے۔ بنابر آں یہ شخص ہمارے نزدیک ایک خاک آلود گوبر ہے۔

پانچویں تعلی: یہ ہے کہ مرزا قادیانی جہاد سیفی کا منکر ہو کر صرف دلائل و برہان کی جنگ کا قائل ہے۔ جیسا کہ بطور ذیل ہے:

مضیٰ وقت ضرب المرهفات ودلوھا وانا ببرھان من الله ننحر

تلواروں کے چلانے و استعمال کرنے کا وقت گزر گیا اور ہم خدائی دلائل سے ذبح کرتے ہیں۔

(اعجاز احمدی ص ٧٣، خزائن ج ١٩ ص ١٨٦)

١٦٣

صفحہ ٤٧٢

الجواب اولاً : یہ ہے کہ مرزا قادیانی بقول خود اپنی اسی تعلی میں کاذب و دجال ثابت ہوتا ہے۔ کیونکہ وہ اپنے قصیدہ میں تسلیم کر چکا ہے کہ قرآنی حقائق تا قیامت غیر متبدل ہو کر ہر قسم کے تغیر وتصرف سے مامون و محفوظ ہیں تو پھر وہ قرآن مجید کے فریضہ جہاد اور سلسلۂ غزوات کو منسوخ و باطل قرار نہیں دے سکتا۔ جیسا کہ اس نے صراحۃً بطور ذیل لکھا ہے:

والله فى القرآن كل حقيقة
وآياته مقطوعة لا تغير

خدا کی قسم! قرآن مجید کے اندر سب حقیقت ہے اور اس کی آیات قطعی ہو کر غیر متغیر ہیں ۔

(اعجاز احمدی ص ٥٥ ،خزائن ج١٩ ص١٦٧)

الجواب ثانیاً : یہ ہے کہ جب مذکورہ بالا زیر بحث شعر قرآن واحادیث کی مخالفت میں جاتا ہے اور اسلام کے ایک قطعی و مشروع حکم کی تنسیخ کرتا ہے تو پھر یہی شعر صراحۃً ایک واضح اور غیر مشتبہ گمراہی کا حامل ہے اور قابل رد ہے۔ وجہ یہ ہے کہ قرآن مجید فریضہ جہاد کو ایک ایسی دینی تجارت قرار دیتا ہے۔ جس میں متعدد مفادات مستور و مضمر ہیں۔ جیسا کہ ارشاد قرآن ہے:

"يايها الذين آمنوا هل ادلكم على تجارة تنجيكم من عذاب اليم . تؤمنون بالله ورسوله وتجاهدون فى سبيل الله باموالكم وانفسكم ذلكم خير لكم ان كنتم تعلمون (الصف)" "اے ایمان والو! کیا میں تم کو ایک ایسی تجارت کی راہنمائی کر دوں جو تم کو عذاب الیم سے بچائے گی۔ وہ تجارت یہ ہے کہ تم خدا و رسول پر ایمان لاؤ اور خدا کی راہ میں مال و جان سے جہاد کرو۔ اگر تم جانتے ہو تو اسی میں تمہاری خیریت ہے۔﴾

قرآن حکیم نے آیت ہذا کے اندر ایمان باللہ و بالرسول اور جہاد اسلام کو ایک دینی تجارت قرار دیا ہے۔ دراصل دینی تجارت صرف جہاد اسلام ہے اور یہاں پر ایمان باللہ و بالرسول کو صرف تبرکاً و تبعاً لایا گیا ہے۔ کیونکہ تجارت کے اندر سامان اور سرمایہ کو لانا پڑتا ہے اور جہاد اسلام کے اندر بھی مجاہدین کے اموال کے ساتھ ساتھ ان کی جانیں بھی کام آتی ہیں اور ایمان باللہ و بالرسول کے اندر صرف اقرار باللسان اور تصدیق بالقلب کی ضرورت ہوتی ہے اور پھر آیت ہذا میں مؤمنین کو خطاب ہے جو ایمان باللہ و بالرسول کے پہلے سے قائل ہیں۔ بہر حال قرآن مجید نے جہاد اسلام کو ایک دینی تجارت قرار دیا ہے جو تا قیامت نافذ العمل اور جاری رہے گا اور اس کو منسوخ و حرام کہنے والا کاذب و دجال ہے۔ کیونکہ آنحضرت ﷺ کا صاف ارشاد ہے: "الجهاد ماض الى يوم القيامة" ﴿جہاد قیامت تک جاری رہنے والا ہے۔﴾

١٦٤

صفحہ ٤٧٣

کیونکہ کہا جاتا ہے: ”مضٰی علی الامر اذا دوامہ وفعلہ علی الدوام“ لہٰذا بروئے حدیث شریف جہاد اسلام ہمیشہ رہنے والا عمل ہے۔

اور پھر جہاد کو تجارت کہنے میں یہ مفہوم مراد قرآن ہے کہ مالی تجارت کی مانند جانی تجارت (جہاد) بھی قیامت تک جاری رہے گی اور اسی جانی تجارت کو حرام کہنے والا غلام احمد قادیانی خود حرامی ہے۔ جیسا کہ اعداد بطور ذیل ہے:

(غلام احمد / ١١٢٤) = ”حرامی اوّل و آخر بابہ ١١٢٤“ یعنی غلام احمد اپنے باپ کے ساتھ اوّل و آخر کا حرامی ہے۔

بحالات بالا میں نے زیر بحث مرزائی شعر کو بطور ذیل تبدیل کر دیا ہے:

اتٰی وقت برهان وسیف کليهما فانا ببرهان وسیف نبارز

دلیل اور تلوار دونوں کا وقت آگیا۔ یہی وجہ ہے کہ ہم دلیل اور تلوار دونوں کی مدد سے جنگ کرتے ہیں۔

مضٰی وقت برهان ولا سیف بعده فانا بسیف بعد برهاننا ننحر

اس برہان کا وقت گذر گیا۔ جس کے بعد تلوار نہ ہو اور ہم اپنے برہان کے بعد تلوار سے ذبح کرتے ہیں۔

نحرنا ببرهان غلاما وکفره فبرهاننا للكفر سيف مشهر

ہم نے برہان کی مدد سے غلام احمد اور اس کے کفر کو ذبح کر دیا ہے اور ہمارا برہان کفر کے لئے ایک تیز تلوار ہے۔

پند تو بر کافران ناید درست تانه پیش شان نهی سیف از نخست

تیری نصیحت کافروں پر درست نہیں رہے گی۔ جب تک تو پہلے سے ان کے آگے تلوار نہیں رکھے گا۔

برسر کافر بیاور پند وسیف تانیاید برسرت زوبار حیف

تو کافر کے سر پر نصیحت اور تلوار دونوں کو لے آ، تا کہ اس کی طرف سے تیرے سر پر افسوس کا بوجھ نہ آجائے۔

اوّلاً او را به پندت رام کن ورنہ تو شمشیر را در کام کن

تو پہلے پہل اس کو اپنی نصیحت سے مطیع کرلے، ورنہ تو اپنی تلوار کو استعمال کر۔

١٦٥

صفحہ ٤٧٤
پند و سیفے از نبی مارسید سیف بے پندے ہست کار آں یزید

نصیحت اور تلوار دونوں چیزیں ہمیں نبی علیہ السلام سے ملی ہیں اور نصیحت کے بغیر تلوار چلانا اسی یزید کا کام ہے۔

از یزید شام پند او نرفت رفت سیف او فقط در وسط دشت

یزید شامی کی نصیحت روانہ نہ ہوئی۔ صرف اس کی تلوار دشت کربلا میں چلی گئی۔

گر از و پندے رسیدے بر حسین نامدے ازوے گزندے برحسین

اگر امام حسین کے پاس اس کی نصیحت چلی جاتی تو اس کی طرف سے امام حسین پر کوئی تکلیف نہ آتی۔

شد حسین ما بشمشیرش شهید لیک نامد هیچ پندی از یزید

ہمارا حسین اس کی تلوار سے شہید ہو گیا۔ لیکن یزید کی طرف سے کسی قسم کی نصیحت نہ آئی۔

اے یزید قادیان یک رو مرو هر دو را در کار کن از من شنو

اے یزید قادیان تو یک رخہ مت چل۔ بلکہ مجھ سے سُن کر دونوں کو استعمال کر۔

اب بحالات بالا یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ جب مرزا قادیانی اور اہل مرزا جہاد اسلام اور فوجی کارروائی کو حرام کہتے ہیں تو پھر اہل مرزا نے محکمہ جہاد اور ادارہ افواج میں سرکاری ملازمتیں حاصل کر کے حرام خوری کو کیوں اپنا رکھا ہے اور بزعم خود حرام محکمہ (جہاد) کے ملازمین کیوں بنے ہوئے ہیں اور پھر پاکستان کا محکمہ افواج و جہاد بھی یہ نہیں سمجھتا کہ جو فوجی ملازم اسی محکمہ کو حرامی محکمہ کہتا ہے اس سے اسی محکمہ کے لئے کسی قسم کی بھلائی کی امید نہیں ہو سکتی اور وہ جہادی ضرورت پڑنے پر یقیناً اپنے محکمہ سے غداری کرے گا۔

بنا بر آں اسی مرزائی فوجی پر میرا یہ فتویٰ ہے کہ جہاد و فوجیت کو حرام کہنے والا مرزا اور اہل مرزا دونوں حرامی ہیں اور حرام خور ہیں۔ جیسا کہ اعداد بطور ذیل ہے:

(میرزا غلام احمد قادیانی /١٥٤٨) ”هو حــرامـــی ظــاهــراً وبــاطــنــاً بـالجـدوالله /١٥٤٨‘ یعنی بخدا یہ مرزا غلام احمد قادیانی اپنے باپ کے ساتھ ظاہر و باطن کا حرامی ہے اور حرام خور ہے۔ کیونکہ وہ جہاد اسلام کو حرام کہتا ہے۔

(غلام احمد /١١٢٤)= ”ہو حرامی اوّل و آخر بابيه /١١٢٤“ یعنی یہی آدمی اپنے باپ کے ساتھ اوّل و آخر کا حرامی ہے اور حرام خور ہے۔ کیونکہ وہ جہاد اسلام کو حرام کہتا ہے۔

١٦٦

(مرزائی /٦٥٩) = ”حرامی وافواج میں ملازم بن کر حرام روزی کماتا ہے (المرزائی)= ”حرامی بـ ابدی حرامی شخص ہے۔ کیونکہ وہ جہاد اسلام ”المیرزائی بابيه /٣٣٦ ہے اور اس کے بالمقابل سنی آدمی حلال خو ”السنی /١٥١“=”اکل بنا بر آں ہر مرزائی فوجی پر لا پر حرامی ہونے کا فتویٰ صادر کرے تاکہ بجانب قرار پائے اور یا وہ اسی فوجی ملازم ما نقول و کمل“ چھٹی تسلی : یہ ہے کہ مرزا قادیانی مدعی اذا القوم قالوا یدعی الوحی عاما جب قوم نے کہا کہ یہ شخص روشن بدر کامل ہوں۔ جواب:...... یہ ہے کہ بروئے قرآن واح وضلالت ہے اور ختم نبوت کے انکار پر م ”وان الشیطین لیوح انكم لمشرکون “ بلاشبہ شیاطین سے جدال و نزاع کریں۔ اب اگر تم ان آیت ہذا بتاتی ہے کہ وحی ش ٹکراتی ہے اور شرک بن کر سامنے آتی۔ ”ولقد اوحی الیک عملک ولتكونن من الخسرين گئی ہے اگر تو نے شرک فی الوحی کیا تو تیر

صفحہ ٤٧٥

(مرزائی/٢٥٩)= ”حرامی /٢٥٩“ یعنی ہر مرزائی حرامی آدمی ہے۔ کیونکہ وہ محکمہ جہاد وافواج میں ملازم بن کر حرام روزی کماتا ہے اور حرام خور بنا ہوا ہے اور پھر جہاد اسلام کو حرام کہتا ہے۔

(المرزائی)= ”حرامی بآباء اجداداً“ یعنی مرزائی اپنے آبا واجداد کے ساتھ ایک ابدی حرامی شخص ہے۔ کیونکہ وہ جہاد اسلام کو حرام کہتا ہے۔

”المیرزائی بابیہ /٣٣١“ = ”آکل الحرام /٣٣١“ یعنی بابی مرزائی حرام خور ہے اور اس کے بالمقابل سنی آدمی حلال خور ہے۔

”السنی /١٥١“ = ”آکل الحلال /١٥١“ یعنی سنی آدمی حلال خور ہے۔

بنا برآں ہر مرزائی فوجی پر لازم ہے کہ وہ یا تو جہاد اسلام کو صحیح مان لے اور مرزا قادیانی پر حرامی ہونے کا فتویٰ صادر کرے تاکہ اس کی یہی ملازمت جائز رہے اور اس کی یہی روزی حق بجانب قرار پائے اور یا وہ اسی فوجی ملازمت کو فوراً ترک کر دے اور حرام خور نہ بنے۔ ”واللہ علیٰ ما نقول وکیل“

چھٹی تعلی: یہ ہے کہ مرزا قادیانی مدعی وحی بن کر کہتا ہے کہ:

اذا القوم قالوا یدعی الوحی عامداً عجبت فانی ظل بدر ینور

جب قوم نے کہا کہ یہ شخص جان بوجھ کر مدعی وحی ہے تو میں نے تعجب کیا کیونکہ میں روشن بدر کا ظل ہوں۔

(اعجاز احمدی ص ٧١، خزائن ج ١٩ص ١٨٣)

جواب ...... یہ ہے کہ بروئے قرآن واحادیث آنحضرت ﷺ کے بعد نزول وحی کا عقیدہ رکھنا کفر وضلالت ہے اور ختم نبوت کے انکار پر منتج ہوتا ہے۔ چنانچہ ارشاد قرآن ہے کہ:

”وان الشیطین لیوحون الیٰ اولیآءھم لیجادلوکم وان اطعتموھم انکم لمشرکون“ ﴿بلاشبہ شیاطین اپنے دوستوں کی طرف اس لئے وحی بھیجتے ہیں تاکہ وہ تم سے جدال ونزاع کریں۔ اب اگر تم ان کا کہنا مانو گے تو تم مشرک و کافر بن جاؤ گے۔﴾

آیت ہذا بتاتی ہے کہ وحی شیاطین اہل اسلام کی وحی سے جو قرآن مجید ہے۔ صراحۃً ٹکراتی ہے اور شرک بن کر سامنے آتی ہے۔

”ولقد اوحی الیک والى الذین من قبلک لئن اشرکت لیحبطن عملک ولتکونن من الخسرین“ ﴿بلاشبہ تیری طرف اور تجھ سے قبل انبیاء کی طرف وحی بھیجی گئی ہے اگر تو نے شرک فی الوحی کیا تو تیرا یہی کام ضائع ہوگا اور تو خاسرین میں سے ہو جائے گا۔﴾

١٦٧

صفحہ ٤٧٦

آیت ہذا بھی صراحتاً وضاحت کرتی ہے کہ بطور تعریض کے آنحضرت ﷺ کو بظاہر مخاطب کر کے بباطن امت محمدیہ کو کہا گیا ہے کہ تم آنحضرت ﷺ کے بعد کی وحی کا عقیدہ مت رکھو۔ ورنہ تمہارے اعمال صالحہ خاکستر بن جائیں گے اور تم خاسرین میں ہو جاؤ گے۔ بہرحال آیت ہذا میں وحی محمدی اور وحی اسرائیلی کے علاوہ وحی کو جو آنحضرت ﷺ سے بعد کی وحی ہو سکتی ہے۔ شرک و کفر کہا گیا ہے اور نتیجہ یہ ہے کہ مرزا قادیانی وحی محمدی کے بعد مدعی وحی بن کر کافر و مشرک بن گیا ہے اور حابطین اعمال اور خاسرین حسنات میں شامل ہو گیا ہے۔ علاوہ ازیں یہ شخص قطعاً ظلِ بدر نہیں ہے۔ بلکہ ظلِ شیطان ہے۔ جیسا کہ مساوات ذیل سے ثابت ہے۔

(غلام احمد قادیانی / ١٣٠٠) = ”ظل شیطان / ١٣٠٠“ ہے۔ وجہ یہ ہے کہ بدر منیر کا قطعاً سایہ نہیں ہوتا۔ کیونکہ سایہ سیاہ ہوتا ہے اور بدر منیر میں روشنی ہوتی ہے اور سیاہی نہیں ہوتی اور پھر مرزا قادیانی اور شیطان میں یوں یکسانیت ہے کہ مرزا خود کو بدر منیر اور اپنے مخالفین علماء و سادات کو شب سیاہ کہتا ہے اور شیطان خود کو روشن آگ اور سیدنا آدم کو خاک سیاہ کہتا ہے۔

”انا خیر منہ خلقتنی من نار وخلقته من طین“ یعنی میں آدم سے بہتر ہوں۔ کیونکہ میں آگ سے اور وہ خاک سیاہ سے مخلوق ہوا۔ ”قلت جواباً لشعرہ“

وقلنا غلام يدعى الوحی كاذباً ويفرى على القران بغياً ويجسر

اور ہم نے کہہ دیا ہے کہ غلام احمد جھوٹا مدعی وحی ہے، اور وہ بغاوتاً قرآن مجید پر افتراء کی جسارت کرتا ہے۔

ومع كل شيئ ظل شيئ ملازم وفى قاديان ظل شيطانه حاضر

اور ہر چیز کے ساتھ اس کا سایہ چمٹا رہتا ہے اور قادیان کے اندر ظل شیطان حاضر ہے۔

اتى ظل شيطان الينا بوحيه فقلنا له ادفع وانت مكفر

ظل شیطان (غلام احمد قادیانی) ہمارے پاس وحی لے کر آگیا۔ پس ہم نے اس کو کہا کہ دور ہو جا جب کہ تو کفر رسیدہ ہے۔

وانى لمغل ان يفارق كفره فكفر على مغل يلوح ويبهر

اس مغل سے یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ وہ اپنے کفر سے الگ رہے۔ پس اسی مغل پر کفر چمکتا دمکتا رہتا ہے۔

ساتویں تعلی: یہ ہے کہ مرزا قادیانی کے وقت کا طاعون اس کی آرزو اور اس کے بلانے پر آیا ہے۔ جیسا کہ اس نے کہا ہے:

١٦٨

صفحہ ٤٧٧
ولما طغى الفسق المبيد بسيله تمنيت لو كان الوباء المتبر
جب ہلاک کنندہ فسق کا سیلاب حد سے بڑھ گیا تو میں نے آرزو کی کہ ہلاک کنندہ
طاعون آجائے۔
فان هلاك الناس عند اولى النهى احب واولى من ضلال يدمر
کیونکہ عقلمندوں کے نزدیک ہلاک کنندہ گمراہی سے لوگوں کا ہلاک ہونا پسندیدہ تر اور

بہتر ہے۔

(اعجاز احمدی ص ٦٢، خزائن ج ١٩ ص ١٧٤)

جواب ...... یہ ہے کہ مرزا قادیانی اپنی اسی تمنا کی وجہ سے دجال لعنت وزحمت تو ہو سکتا ہے لیکن رسول رحمت وشفقت قطعاً نہیں ہو سکتا۔ کیونکہ ملک کے اندر ہلاکت و بربادی کی تمنا کرنا اور مہلک طاعون کو نوع انسانی پر لانا ایک ملعون دجال کا کام ہے اور ایک مہربان اور شفیق رسول کے فرائض ہدایت سے نہیں ہے۔

دراصل ملک کے اندر طاعون و وبا کا آنا بروئے احادیث ایک دجال کی واضح علامت ہے۔ چنانچہ مدینہ منورہ کے فضائل میں وارد ہے کہ: ”على انقاب المدينة ملائكة لا يدخلها الدجال ولا الطاعون“ مدینہ شریف کے پھاٹکوں پر فرشتے نگہبان ہوں گے جس سے دجال اور طاعون کو مدینہ کا داخلہ نہیں ملے گا۔

حدیث ہذا کے اندر لفظ ”الدجال“ سے خود مرزا قادیانی اور لفظ ”الطاعون“ سے اس کا مطلوبہ طاعون مراد ہے۔ چنانچہ نہ مرزا قادیانی مدینہ منورہ کے اندر جا سکا ہے اور نہ اس کے مطلوبہ طاعون کو حرم نبوی میں داخلہ کی سعادت ملی ہے۔ کیونکہ اسی زمانہ میں مدینہ منورہ کے اندر کوئی طاعونی موت واقع نہیں ہوئی اور نہ مرزا قادیانی اپنی زندگی میں زیارت حرمین شریفین کی زیارت وعزت حاصل کر سکا اور پھر وہ اعدادا دینی طور پر دجال عظیم ہے۔

(غلام احمد / ١١٢٤) = ”دجال عظیم دیاناً / ١١٢٤“

علاوہ ازیں مرزا قادیانی کی یافتہ عمر بروئے تحریرات خود ٦٨ سال یا ٦٩ سال ہے۔ چنانچہ اس کی ٦٩ سال عمر لفظ ”الدجال“ کے اعداد ٦٩ کے برابر بنتی ہے اور پھر ”الدجال“ کے اندر مستور مصدر ”الدجل“ کے اعداد (٦٨) کے ساتھ اس کی عمر ٦٨ سال سے یکساں ہو جاتی ہے۔ جس سے وہ پکا طاعونی دجال قرار پاتا ہے۔ بنابرآں ہمارے استدلال کے مطابق حدیث کے اندر مذکور ”الدجال“ سے مراد خود مرزا قادیانی اور ”الطاعون“ سے مراد مرزا قادیانی کا مطلوبہ طاعون ہے۔ میں نے مرزائی اشعار کو بطور ذیل تبدیل کر دیا ہے:

١٦٩

صفحہ ٤٧٨
وباء ودجال لدى الهند ولدة وهذا من الله العليم مقدر

وبا اور دجال اسی ہندوستان کے بچے ہیں اور یہی بات خدائے علیم کی طرف سے فیصلہ شدہ امر ہے۔

هنا توء ما هند وهند كهندة فهند من ابنیه کمهب مضرر

وہ دونوں ہندوستان کے جڑواں بچے ہیں اور ہندوستان ان کی ماں ہندہ ہے اور ہندوستان اپنے دونوں بیٹوں سے آفت رسیدہ ہے۔

قلت جواباً لهجائه وتمناہ علیٰ وزن قصیدتی

اتیٰ طاعون دجال الینا فاوذینا بهند من مغال

ہمارے پاس ایک دجال کا طاعون آ گیا۔ پس ہم ہندوستان کے اندر مغلوں کی طرف سے ستائے گئے۔

ومن فينا دعا طاعون موت فايقناه فينا ذا دجال

جس شخص نے ہمارے اندر موت کی وبا کو دعوت دی تو ہم نے اپنے اندر اس کو ایک دجال یقین کر لیا۔

وعندی ليس ذاحقاً مسيحاً ولكن ذا مسيخ ذو غلال

میرے نزدیک یہ شخص سچا مسیح نہیں ہے، بلکہ یہ شخص ایک کھوٹا مسیح ہے۔

القیٰ فينا بطاعون مبيد فطاعون اشر من الضلال

وہ ہمارے اندر ہلاک کنندہ طاعون کو لے آیا۔ پس طاعون گمراہ سے زیادہ بدتر ہے۔

لان هدایته الضلال خير واحسن عند ربي من دبال

کیونکہ گمراہ لوگوں کا راہ یاب ہونا عنداللہ ہلاکت و بربادی سے بہتر اور خوبتر ہے۔

ولکن عند دجال لئيم هلاك الناس خير من ضلال

لیکن ایک فرومایہ دجال کے نزدیک لوگوں کا ہلاک ہونا گمراہی سے بہتر ہے۔

آٹھویں تعلی: یہ ہے کہ مرزا قادیانی اپنے زمانہ کے اندر چاند گرہن اور سورج گرہن دونوں کا مدعی ہے اور آنحضرت ﷺ کے وقت میں صرف چاند گرہن کو مانتا ہے اور سورج گرہن کو نہیں مانتا۔ جیسا کہ کہتا ہے:

وانا ورثنا مثل ولد متاعه فای ثبوت بعد ذلك يحضر

١٧٠

٧٩

اور ہم نے اولاد کی طرح اس کی وراث پیش کیا جاوے۔

له خسف القمر المنير وان لي

اس کے لئے چاند کے خسوف کا نشان گرہن ہوا کیا تو انکار کر سکتا ہے؟

الجواب اولاً: یہ ہے کہ مرزا قادیانی نے آنحضر (چاند گرہن) بتائی ہے اور اپنی متاع صداقت ک بنا برآں یہ شخص آنحضرت ﷺ کا صحیح اور جائز و خسوف قمر ہوتا اور کسوف شمس نہ ہوتا۔ کیونکہ وارث کی متروکہ جائیداد ہوتی ہے۔ بنا برآں یہ شخص آنحضر وارث ہے جس نے اس کو دونوں گرہن دیئے ہیں تو اس کا وارث النبی ہونے کا دعویٰ درست رہتا۔ ثانیاً: یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ کے عہد میں چاند گ مرزا قادیانی از راہ خیانت عہد نبوی کے سورج گرہ اس کے تفوق و تفضل میں کسی قسم کا رکاوٹ پیدا نہ ہ السلام کے لئے خسوف قمر اور کسوف شمس کا ذکر ہ ”عن عائشة ان رسول الله ﷺ كان يصل رکعات واربع سجدات “ (حضرت عائ چاند گرہن کے وقت میں چار رکعات اور چار سجدے چونکہ رکعت کا معنی رکوع الصلوٰۃ اور رس حدیث میں چار رکعات سے مراد دو رکوع والی دون نے سورج گرہن اور چاند گرہن کے وقت میں دو رکوع اور چار سجدے تھے۔ جیسا کہ ابن عمرؓ کی روای دونوں گرہنوں کے وقت میں باقی نمازوں کی طر سجدے تھے اور یہی احناف کرام کا مسلک ہے ہ ثابت نہیں ہے۔ میں نے مرزائی اشعار کو بطور ذیل

١٧١

صفحہ ٤٧٩

اور ہم نے اولاد کی طرح اس کی وراثت پائی ہے۔ اس سے بڑھ کر اور کون سا ثبوت پیش کیا جاوے۔

له خسف القمر المنير وان لى غسا القمران المشرقان التنكر

اس کے لئے چاند کے خسوف کا نشان ظاہر ہوا اور میرے لئے چاند اور سورج دونوں کا گرہن ہوا کیا تو انکار کرسکتا ہے؟

(اعجاز احمدی ص ٧١، خزائن ج ١٩ ص ١٨٣)

الجواب اولاً : یہ ہے کہ مرزا قادیانی نے آنحضرت ﷺ کی متاع صداقت صرف خسوف قمر (چاند گرہن) بتائی ہے اور اپنی متاع صداقت چاند گرہن اور سورج گرہن دونوں کو بتایا ہے۔ بناء آں یہ شخص آنحضرت ﷺ کا صحیح اور جائز وارث نہیں ہے۔ ورنہ اس کے پاس بھی صرف خسوف قمر ہوتا اور کسوف شمس نہ ہوتا۔ کیونکہ وارث کو اپنے مورث سے وہی جائیداد ملتی ہے جو اس کی متروکہ جائیداد ہوتی ہے۔ بناء آں یہ شخص آنحضرت ﷺ کا وارث نہیں ہے بلکہ کسی اور شخص کا وارث ہے جس نے اس کو دونوں گرہن دیئے ہیں۔ ہاں ! اگر اس کے پاس صرف چاند گرہن ہوتا تو اس کا وارث النبی ہونے کا دعویٰ درست رہتا۔

ثانیاً: یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ کے عہد میں چاند گرہن اور سورج گرہن دونوں ہوئے ہیں۔ لیکن مرزا قادیانی از راہ خیانت عہد نبوی کے سورج گرہن سے اس لئے انکار کرتا ہے کہ ذات نبوی پر اس کے تفوق و تفضل میں کسی قسم کی رکاوٹ پیدا نہ ہونے پائے۔ چنانچہ طبرانی میں جہاں مہدی علیہ السلام کے لئے خسوف قمر اور کسوف شمس کا ذکر ہے۔ وہاں پر درج ذیل حدیث بھی موجود ہے : "عن عائشة ان رسول الله ﷺ كان يصلى فى كسوف الشمس والقمر اربع ركعات واربع سجدات" حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ سورج گرہن اور چاند گرہن کے وقت میں چار رکعات اور چار سجدے پڑھا کرتے تھے۔

چونکہ رکعت کا معنی رکوع الصلوٰۃ اور رکعۃ الصلوٰۃ دونوں طرح سے ہوتا ہے۔ اس لئے حدیث میں چار رکعات سے مراد دو رکوع والی دو رکعات ہیں اور مطلب یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے سورج گرہن اور چاند گرہن کے وقت میں دو رکوع والی دو رکعت نماز نفل پڑھی جس میں دو رکوع اور چار سجدے تھے۔ جیسا کہ ابن عمرؓ کی روایت میں صراحۃً مذکور ہے کہ آپ ﷺ نے ان دونوں گرہنوں کے وقت میں باقی نمازوں کی طرح دو رکعت نماز پڑھی جس میں دو رکوع اور چار سجدے تھے اور یہی احناف کرام کا مسلک ہے۔ لیکن مرزا قادیانی سے ان خسوفی نمازوں کا پڑھنا ثابت نہیں ہے۔ میں نے مرزائی اشعار کو بطور ذیل تبدیل کردیا ہے :

١٧١

صفحہ ٤٨٠
وذا لم يرثه مثل ولد متاعه
ولكنه غصاب شخص وغادر

یہ شخص اولاد کی مانند آنحضرت ﷺ کا وارث نہیں بنا۔ بلکہ وہ ایک غاصب وغدار شخص ہے۔

له كسفت شمس وقمر كلاهما
ولكن ذا من كسف شمس له ينكر

آپ کے لئے سورج گرہن اور چاند گرہن دونوں ہوئے ہیں۔ لیکن یہ شخص آپ ﷺ کے سورج گرہن سے انکار کرتا ہے۔

ثالثاً : یہ کہ یہی شخص خود کو آنحضرت ﷺ سے افضل قرار دیتا ہے اور آپ ﷺ کو مفضول بناتا ہے۔

نویں تعلی : یہ ہے کہ مرزا قادیانی خود کو آل النبی بنا کر خود کو وارث النبی قرار دیتے ہوئے کہتا ہے :

وانی ورثت المال مال محمد
فما انا الّا آلہ المتخیر

میں محمدؐ کے مال کا وارث بن گیا ہوں، پس میں ہی اس کی برگزیدہ اولاد ہوں۔

وكيف ورثت ولست من ابناءہ
ففكر وهل فى حزبكم متفكروا

میں کسی طرح اس کا وارث بن گیا۔ حالانکہ میں اس کا بیٹا نہیں ہوں۔ پس اس کو سوچ لے کیا تم میں کوئی سوچنے والا ہے؟

(اعجاز احمدی ص ٧٠، خزائن ج ١٩ ص ١٨٢)

جاننا چاہئے کہ دوسرے شعر کے پہلے مصرعہ کا وزن صحیح نہیں ہے۔ بنابرآں صحیح اور موزوں شعر بطور ذیل ہے :

وكيف ورثناه ولسنا بنیہ
ففكرو هل فى حزبكم متفكروا

الجواب اوّلاً : یہ ہے کہ جب مرزا قادیانی آنحضرت ﷺ کا بیٹا نہیں ہے تو پھر وہ آل النبی کس طرح بن سکتا ہے؟ جب کہ ایک بیٹا ہی اپنے باپ کی آل و اولاد بنتا ہے اور اپنے باپ کی متروکہ جائیداد پاتا ہے۔ بنابرآں یہ شخص نہ آلِ نبی ہے اور نہ نبی کی متروکہ جائیداد حاصل کر سکتا ہے۔ اگر فی الواقع اس کے پاس نبوی جائیداد موجود ہے تو پھر وہ غاصب جائیداد ہے وارث جائیداد نہیں۔

ثانیاً : یہ ہے کہ اگر بفرض محال یہ شخص آل نبی اور اولاد نبی ہے اور روحانی طور پر آپ کا بیٹا بنتا ہے تو پھر یہ شخص اپنی روحانی ماں کا ناکح ثابت ہوتا ہے۔ وجہ یہ ہے کہ نسبی اولاد کی طرح روحانی اولاد بھی روحانی ماں باپ سے بنتی ہے اور اپنے کو روحانی اولاد و ذیلی آل کہلاتی ہے۔ بنابرآں آنحضرت ﷺ مرزا قادیانی کے روحانی باپ اور آپ کی نبوت اس کی روحانی ماں بنی اور وہ خود ان دونوں کا روحانی بیٹا بنا اور مطلب یہ ہے کہ مرزا قادیانی کا روحانی وجود اور دینی جثہ و بدن آنحضرت ﷺ اور آپ کی نبوت کی تصدیق و توثیق سے تیار ہوا۔ چنانچہ آپ کا ہر امتی آپ کی

١٧٢

صفحہ ٤٨١

روحانی اولاد ہے اور آپ اور آپ کی نبوت اس کے روحانی ماں باپ ہیں۔ اس قدر معلوم ہو جانے کے بعد یہ بھی جاننا چاہئے کہ مرزا قادیانی نے جس نبوت کا دعویٰ کیا ہے وہ نبوت محمدیہ کا عین اور وجود واحد ہے۔ اب مطلب یہ رہا کہ نبوت محمدیہ جب آنحضرت ﷺ کے پاس تھی وہ مرزا قادیانی کی روحانی ماں تھی اور یہ شخص اسی ماں کا روحانی بیٹا بن کر ایک امتی قرار پاتا تھا۔ لیکن جب اس نے اپنی مبتدعہ نبوت کو نبوت محمدیہ کا عین اور وجود واحد قرار دے دیا اور اسی سے فرقہ مرزائیہ کو پیدا کیا تو واضح طور پر یہ شخص اپنی روحانی ماں سے نکاح و زنا کرنے کا مرتکب ہو گیا۔ یہی وجہ ہے کہ یہ شخص اپنے کو امتی نبی کہتا ہے۔ یعنی جب اس نے نبوت محمدیہ کی تصدیق کی تو امتی بنا اور جب اس نے اسی نبوت محمدیہ کو اپنے اوپر چسپاں کیا تو نبی بن گیا اور وہ روحانی طور پر آدھا امتی اور آدھا نبی بن کر شتر مرغ بن گیا۔ یہی وجہ ہے کہ یہی شخص اعداداً کمینہ پرندہ ثابت ہوتا ہے۔ جیسا کہ: (غلام احمد قادیانی / ١٣٠٠) = (مرغ دون / ١٣٠٠) یعنی غلام احمد قادیانی کمینہ پرندہ ہے اور پھر اس نے نبوت محمدیہ کو بطور روحانی بیوی کے اپنے گھر میں آباد کیا اور اس سے فرقہ مرزائیہ پیدا کیا تو یہ شخص اپنی روحانی ماں کا ناکح و زانی قرار پایا اور فرقہ مرزائیہ اس کی حرامی اولاد ثابت ہوئی۔ یہی وجہ ہے کہ اعداداً لفظ ”مرزائی / ٢٥٩“ اور لفظ ”حرامی / ٢٥٩“ برابر ہیں اور پھر اعداداً مرزا اپنی اڑسٹھ سال عمر کے اعتبار سے ”زانی / ٦٨“ اور اپنی انہتر سال عمر کے لحاظ سے ”زانئ / ٦٩“ ثابت ہوتا ہے اور پھر خود ”میرزا / ٢٥٨“ اعدادی طور پر ”مادر چود / ٢٥٨“ بن کر سامنے آتا ہے جب کہ دونوں کے اعداد ٢٥٨ ہیں اور آپس میں گھل مل جاتے ہیں۔ اب میں نے زیر بحث مرزائی اشعار کو بطور ذیل تبدیل کر دیا ہے اور مرزا بزباں خود کہتا ہے:

وانی غصبت المال مال محمد فما انا الا غاصب مفتخر

میں نے محمد ﷺ کا مال غصب کر لیا ہے۔ پس میں ہی غاصب اور فریب کار ہوں۔

ولما غصبت المال منه بغدرة انی غاصب فیكم ومغل مغادر

جب میں نے غداری سے آپ کا مال غصب کر لیا تو تمہارے اندر ایک غاصب اور غدار مغل آ گیا۔

نیز چونکہ مرزا قادیانی نبوت محمدیہ کو اغوا کر کے اپنے گھر میں لے آیا ہے اور اس سے فرقہ مرزائیہ پیدا کیا ہے۔ اس لئے ”غلام احمد قادیانی“ اعدادی طور پر ”فرد غوی / ١٣٠٠“ اور ”مرید مغو / ١٣٠٠“ بن کر سامنے آتا ہے اور نبوت محمدیہ کے اغوا کرنے کا اقرار کر لیتا ہے۔

١٧٣

صفحہ ٤٨٢

چونکہ مرزا قادیانی نے اپنے اشعار بالا میں وارث النبی بن کر ہمیں اسی معاملہ میں غور وفکر کرنے کی دعوت دی ہے۔ اس لئے میں نے کافی غور وفکر کے بعد ایک بات پہلے ذکر کر دی اور دوسری بات بطور ذیل ذکر کی جاتی ہے۔ تا کہ مرزائیت کے خدوخال نمایاں ہو کر موجب عبرت ونصیحت بن جائیں۔ چنانچہ دوسری بات مجھے یوں معلوم ہوئی ہے:

کہ چونکہ اہل مرزا ایک ہی وقت میں آنحضرت ﷺ اور مرزا قادیانی دونوں کو نبی مانتے ہیں اور دونوں کی اطاعت وتقلید کے مدعی ہیں۔ اس لئے یہ لوگ روحانی طور پر اور دینی اعتبار سے دو پدرے قرار پاتے ہیں جو ایک معیوب و مذموم عمل ہے۔ کیونکہ جب نسب وخاندانیت میں ایک شخص کا دو پدرہ ہونا معیوب اور قابل مذمت امر ہے تو دین و روحانیت میں بھی اہل مرزا کا دو پدرہ ہونا ضرور بالضرور مذموم اور قابل نفرت و حقارت رہے گا۔ لہٰذا ان سے میرا ناصحانہ مشورہ یہی ہے کہ وہ فوراً مرزائیت سے تائب ہو کر دیناً ومذہباً یک پدرہ بن جائیں اور آنحضرت ﷺ کے واحد دینی باپ ہونے پر اکتفا کرلیں۔ ورنہ ہر ایک مرزائی بطور ذیل میرا مخاطب ہے:

دو پدر مر خویش را در دیں مکن ورنہ دینت اوفتاد از بیخ و بن

تو دین کے اندر اپنے لئے دو باپ نہ بنا۔ ورنہ تیرا دین جڑ اور تہہ سمیت گر گیا۔

گر تو خود را دو پدر ورزیں دیں مر ترا و دین را ناید بہی

اگر تو دین کے اندر اپنے کو دو باپ دے گا تو تیرے میں اور تیرے دین میں کوئی خوبی نہیں آئے گی۔

دین تو از دو پدر گردد لعین گرندانی پرس از مولائے دین

تیرا دین دو باپوں سے ملعون بن جائے گا۔ اگر تو نہیں جانتا تو آقائے دین سے دریافت کرلے۔

مصطفیٰ در دین من پدر وحید ہست ملعون آنکہ زیں پدرم دوید

میرے دین کے اندر حضرت مصطفیٰ ہی اکیلا باپ ہے جو شخص میرے اسی باپ سے بھاگا وہ ملعون ہے۔

اے برادر یک پدر دین را بدہ بر محمد پدر دیگر رامنہ

اے بھائی جان! اپنے دین کو ایک باپ دے اور محمد ﷺ کے علاوہ دوسرا باپ نہ ڈال۔

پدر دیگر بر محمد گر نہی در بدی ہا اوفتادی از بہی

اگر تو محمد ﷺ پر دوسرا باپ رکھے گا تو تو نیکی کو چھوڑ کر برائیوں میں گر پڑا۔ ١٧٤١

خواہش پدر دگر در تو چراست

تیرے اندر دوسرے باپ کی خواہش والا کہاں ہے۔

بہر من در دین پدرم مصطفیٰ است

میرے لئے میرا دینی باپ حضرت ناجائز ہے۔

در نسب چوں یک پدر داری بہ پیش

جب تو نسب کے اندر اپنے آگے ایک

در دین خود را دو پدر گردادہ

اگر تو نے اپنے دین کو دو باپ دے

گر پدر در نسب بہر تو یکیست

اگر نسب کے اندر تیرا ایک باپ ہے

دین را از دو پدر رسوا مکن

تو اپنے دین کو دو باپوں سے رسوا نہ کر

خویش را از دو پدر بد خو مکن

تو اپنے آپ کو دو باپوں سے بری عاد

مصطفیٰ را ہر کہ نا کافی شمرد

جس شخص نے حضرت مصطفیٰ کو نا کافی

ہر کہ در دیں دو پدر بہرش گرفت

جس شخص نے دین کے اندر اپنے غیرت کو چھوڑ گیا۔

ایں دیاثت بر دین خود مہند

تو اسی بے غیرتی کو اپنے دین کے سر

تو مشو دیوث اندر دین خویش

تو اپنے دین کے اندر بے غیرت

دین مارا از دیوث لوث نیست
صفحہ ٤٨٤
خواہش پدر دگر در تو چراست جز محمد لائق پدری کجاست

تیرے اندر دوسرے باپ کی خواہش کیوں ہے، حضرت محمد ﷺ کے ماسوا باپ بننے والا کہاں ہے۔

بہر من در دین پدرم مصطفاست کہ بجز او پدر دینم نارواست

میرے لئے میرا دینی باپ حضرت مصطفیٰ ﷺ ہے۔ کیونکہ اس کے سوا میرا دینی باپ ناجائز ہے۔

در نسب چوں یک پدر داری بہ پیش دین را ہم یک پدر کن بہر خویش

جب تو نسب کے اندر اپنے آگے ایک باپ رکھتا ہے تو اپنے دین کو بھی ایک باپ دے۔

در دین خود را دو پدر گردادۂ ایں چنیں در نسب خود آمادۂ

اگر تو نے اپنے دین کو دو باپ دے دیئے ہیں تو نسب کے اندر بھی تو اسی بات پر آمادہ ہے۔

گر پدر در نسب بہر تو یکیست از چرا در دین پدر تو دوئیست

اگر نسب کے اندر تیرا ایک باپ ہے تو تیرے دین کے دو باپ کیوں ہیں۔

دین را از دو پدر رسوا مکن ہرچہ خواہی کن ولے ایں را مکن

تو اپنے دین کو دو باپوں سے رسوا نہ کر، جو کچھ چاہتا ہے کر لے لیکن یہی کام نہ کر۔

خویش را از دو پدر بد خو مکن وزایں خو تیرہ آب رو مکن

تو اپنے آپ کو دو باپوں سے بری عادت والا نہ بنا، اور اسی عادت سے اپنی آبرو کو کالا نہ کر۔

مصطفی را ہر کہ نا کافی شمرد رفت اندر کفر و چوں کافر بمرد

جس شخص نے حضرت مصطفیٰ کو ناکافی سمجھا، وہ کفر میں چلا گیا اور کافر کی مانند مر چلا۔

ہر کہ در دیں دو پدر بہرش گرفت ہست دیوث و حمیت را بہشت

جس شخص نے دین کے اندر اپنے لئے دو باپ بنالئے وہ بے غیرت آدمی ہے اور اپنی غیرت کو چھوڑ گیا۔

ایں دیوثت را بدین خود مبند ورنہ دین خویش را دادی گزند

تو ایسی بے غیرتی کو اپنے دین کے ساتھ نہ باندھ، ورنہ تو نے اپنے دین کو ایک دکھ دے دیا۔

تو مشو دیوث اندر دین خویش ورنہ دینت از دیوثت گشت ریش

تو اپنے دین کے اندر بے غیرت نہ بن، ورنہ تیرا دین بے غیرتی سے زخمی ہوگیا۔

دین مارا از دیوثت لوث نیست کہ بدینم جز محمد غوث نیست

١٧٥

صفحہ ٤٨٥

ہمارے دین کے لئے بے غیرتی کا دھبہ نہیں ہے۔ کیونکہ میرے دین میں حضرت محمد ﷺ کے بغیر کوئی فریاد رس نہیں ہے۔

دسویں تعلی: یہ ہے کہ مرزا قادیانی نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ عیسائیت کے مقابلہ میں کاسر الصلیب بمعنی صلیب کو توڑنے والا بن کر آیا ہے اور صلیب پرستی کو پاش پاش کرنا اس کا عظیم مشن ہے جیسا کہ کہتا ہے:

وابغی من المولیٰ نعیماً يسرنی وما هو الا فی صلیب یکسر

میں خدا تعالیٰ سے خوش کرنے والی نعمت چاہتا ہوں اور وہ خواہش صرف صلیب کو توڑنا ہے۔

وذلك فردوسی وخلدی وجنتی فادخلن ربی جنتی انا اضجر

یہ خواہش میرا فردوس میری بہشت اور میری جنت ہے۔ اے خدا مجھے اسی جنت میں داخل کر میں بے قرار ہوں۔

(اعجاز احمدی ص ٧٠، خزائن ج ١٩ ص ١٨٢)

الجواب: یہ ہے کہ مرزا قادیانی کی یہی تعلی خلاف واقعہ ہے اور چھوٹے منہ سے بڑی بات کا مظاہرہ ہے۔ کیونکہ اس نے صلیب کے واقعہ کی تغلیط وتضلیل نہیں کی۔ بلکہ یہود ونصاریٰ کی موافقت میں اس کی تصحیح و توثیق میں اپنا پورا زور قلم دکھایا ہے اور کہا ہے کہ مسیح علیہ السلام صلیب پر لٹکایا گیا ہے اور اس کو یہود نے اتنی دیر تک لٹکائے رکھا کہ ان کو پوری طرح یقین ہو گیا کہ مسیح صلیب پر مر چکا ہے اور بدن سے اس کی جان پرواز کر گئی ہے۔ لیکن مرزا قادیانی کہتا ہے کہ مسیح صلیب پر مرا نہیں تھا۔ بلکہ بے ہوش ہو کر کالمیت بن گیا تھا اور نیچے اتارے جانے پر وہ ہوش میں آ گیا اور کشمیر کی طرف بھاگ نکلا۔ بنا برآں اس رائے خبیث کے ہوتے ہوئے مرزا قادیانی اور یہود فلسطین میں کچھ زیادہ فرق نہیں ہے۔ بلکہ دونوں ہی مسیح علیہ السلام کو صلیب پر لٹکاتے ہیں۔ لیکن اوّل الذکر اس کو صلیب سے بحالت بیہوشی اتارتا ہے اور ثانی الذکر اس کو موت دے کر اتارتا ہے۔ ان حالات میں اگر مرزا قادیانی خوش قسمتی سے مکمل اور پورا یہودی نہیں ہے تو نصف یہودی ضرور بالضرور ہے۔ کیونکہ مسیح کو صلیب پر لٹکانے اور اس پر صلیبی کارروائی کرنے میں دونوں یکساں طور پر مجرم ہیں اور صرف صلیب سے اتار کر بعد کی کارروائی میں دونوں فریق مختلف راہ پر قدم مارتے ہیں۔ مرزا قادیانی اس کو کشمیر کی طرف دوڑاتا ہے اور یہود اس کو وہیں پر دفن کر دیتے ہیں۔ حالانکہ بروئے قرآن مجید حضرت مسیح نہ صلیب پر لٹکایا گیا ہے اور نہ مقتول ہوا ہے۔ جیسا کہ ارشاد قرآن ہے: ”وما قتلوه وما صلبوه ولكن شبه لهم“ (یہود نے نہ اس کو قتل کیا اور نہ صلیب پر لٹکایا۔ لیکن انہیں اس بارے میں شبہ ہو گیا۔)

١٧٦

چونکہ لفظ ”قتل“، ”قتل بالسلاح اور قتل بالصلب“ نے دونوں ذرائع قتل کی نفی کر دی ہے اور مفہوم یہ تلوار اور صلیب دونوں سے قتل نہیں کیا اور اب ص صلبوہ “ نے اس کی بھی نفی کر کے کہہ دی مرزا قادیانی یہود ونصاریٰ کی تائید میں کہتا ہے کہ م مرزا قادیانی قرآن مجید کی مخالفت کرنے پر آدھا ی کیونکہ یہود ونصاریٰ حضرت مسیح کو صلیب پر مردہ ق اس کو بے ہوشی و نیمردگی کی حالت میں نیچے اتارے اسے صلیب پر لٹکانے میں سارے بے ایمان برابر اب میں نے مرزا کے اشعار کو بطور ذیل

ویسعی صلیباً للمسیح لانه

اور وہ مسیح علیہ السلام کے لئے صلیب ک سے مسرور ہوتا ہے۔

فهذا لعين ملحد من بلوغه

پس یہی شخص اپنے بالغ ہونے سے ملعون

ولم يقتل ولم يصلب مسيح

اور مسیح علیہ السلام نہ قتل ہوا اور نہ صلیب نے ظاہر کیا ہے۔

گیارھویں تعلی: یہ ہے کہ مرزا قادیانی نے ا بٹالوی مجھ پر ایمان لا کر صدق دل سے میری تصد ہو جائے گا اور پھر اس کی یہ پیش گوئی خدا تعالیٰ سے کو مخاطب کر کے کہا گیا ہے اور حلفاً کہا گیا ہے:

اتحسبه حياً وتالله اننی

کیا تو اس کو زندہ خیال کرتا ہے اور قسم والے کی طرح دیکھتا ہوں۔

وان کلامی صادق قول خالقی

١٧٧

صفحہ ٤٨٥

چونکہ لفظ "قتل" قتل بالاسلحہ اور قتل بالصلیب دونوں کو شامل ہے اور لفظ "ما قتلوہ" نے دونوں ذرائع قتل کی نفی کر دی ہے اور مفہوم یہ رہا کہ یہود بے بہبود نے حضرت مسیح علیہ السلام کو تلوار اور صلیب دونوں سے قتل نہیں کیا اور اب مسیح کا سولی پر لٹکانا باقی رہ گیا۔ اس لئے لفظ "مـــــا صلبـــــوہ" نے اس کی بھی نفی کر کے کہہ دیا کہ یہود نے مسیح کو صلیب پر بھی نہیں لٹکایا۔ لیکن مرزا قادیانی یہود ونصاریٰ کی تائید میں کہتا ہے کہ مسیح علیہ السلام صلیب پر لٹکایا گیا ہے۔ بنا بر آں مرزا قادیانی قرآن مجید کی مخالفت کرنے پر آدھا یہودی اور آدھا نصرانی بن کر سامنے آتا ہے۔ کیونکہ یہود ونصاریٰ حضرت مسیح کو صلیب پر مردہ قرار دے کر نیچے اتارتے ہیں اور مرزا و اہل مرزا اس کو بے ہوشی و نیمردگی کی حالت میں نیچے اتارتے ہیں اور پھر اسے کشمیر کی طرف بھگاتے ہیں اور اسے صلیب پر لٹکانے میں سارے بے ایمان برابر ہیں۔

اب میں نے مرزا کے اشعار کو بطور ذیل تبدیل کر دیا ہے:

ويبغى صليباً للمسيح لانه
حظيظ به قلباً به يتسرر

اور وہ مسیح علیہ السلام کے لئے صلیب کو چاہتا ہے۔ کیونکہ وہ تہہ دل سے محظوظ اور اس سے مسرور ہوتا ہے۔

فهذا لعين ملحد من بلوغه
ومات ملعوناً لذاهو اجدر

پس یہی شخص اپنے بالغ ہونے سے ملعون اور ملحد ہے اور وہ ملعون ہو کر مرا ولہٰذا وہ اسی کا اہل ہے۔

ولم يقتل ولم يصلب مسيح
كما قرآننا انبأ وخبر يظهر

اور مسیح علیہ السلام نہ قتل ہوا اور نہ صلیب پر لٹکایا گیا۔ جیسا کہ ہمارے قرآن وحدیث نے ظاہر کیا ہے۔

گیارھویں تعلی: یہ ہے کہ مرزا قادیانی نے اپنے قصیدہ کے اندر دعویٰ کیا ہے کہ مولوی محمد حسینؒ بٹالوی مجھ پر ایمان لا کر صدق دل سے میری تصدیق کرے گا اور میرے ماننے والوں میں شامل ہو جائے گا اور پھر اس کی یہ پیش گوئی خدا تعالیٰ سے اطلاع پا کر لکھی گئی ہے۔ جیسا کہ مولوی ثناء اللہؒ کو مخاطب کر کے کہا گیا ہے اور حلفاً کہا گیا ہے:

اتحسبه حیّاً والله اننی
اراه كمن يدفىٰ ويفنى ويقبر

کیا تو اس کو زندہ خیال کرتا ہے اور قسم بخدا میں اس کو مرنے والے اور قبر میں جانے والے کی طرح دیکھتا ہوں۔

وان کلامی صادق قول خالقی
ومن عاش منكم برهة فسينظر

١٧٧

صفحہ ٤٨٦

اور میرا کلام سچا ہے اور میرے خالق کا قول ہے اور تم میں جو شخص کچھ زمانہ زندہ رہے گا وہ ضرور دیکھ لے گا۔

وما قلته من عند نفسی کراجم اریت ومن امر القضا اتعجب

اور میں نے اپنے دل کی اٹکل سے بات نہیں کی۔ بلکہ کشفاً مجھے دکھلایا گیا ہے اور میں تقدیر کے فیصلہ سے حیران ہوں۔

(اعجاز احمدی ص ٥٠، خزائن ج ١٩ ص ١٦٦)

الجواب: اِینکہ مرزا قادیانی کی یہی متکبرانہ تعلّی اور متکبرانہ پیش گوئی غلط ثابت ہوئی اور مولوی محمد حسین صاحب بٹالویؒ وفات مرزا کے بعد کافی عرصہ تک زندہ رہا اور اس کی تغلیط وتضلیل کرتا رہا۔ لیکن اس کے برعکس میری وہ پیش گوئی جو جلال الدین شمس کے متعلق کی گئی تھی، بالکل قلیل عرصہ میں پوری ہوگئی اور میرے لئے نشان صداقت بن گئی۔ اب میں نے مرزائی اشعار بالا کے جواب میں بطور ذیل کہا ہے:

ولم یؤمن بذا المرزا حسین ولم یعدده من خیر الرجال

مولوی محمد حسین نہ مرزا پر ایمان لایا، اور نہ اس کو اچھے لوگوں سے شمار کیا۔

وهذا لم یصدقه یقیناً ولم یحضره یوماً فی مجال

اور اس نے اس کی یقیناً تصدیق نہیں کی اور وہ کسی دن اس کے پاس اس کی غول گاہ میں حاضر نہیں ہوا۔

بقی کل عمر من عداه ولم یؤمن به وقتا ببال

وہ اپنی ساری زندگی میں اس کے اعداء میں سے رہا اور کسی وقت بھی اس کو دل سے نہیں مانا۔

بل افتی ان ذا حقاً کذوب وحقاً ان ذا شر المغال

بلکہ اس نے فتویٰ دے دیا کہ یہ شخص سچ مچ کذاب ہے اور وہ درست طور پر مغلوں میں سے ایک شریر شخص ہے۔

حسین عاش من بعد المریزا زماناً ذا عراض ذاطوال

مولوی محمد حسین مرزا قادیانی کے بعد ایک عریض وطویل زمانہ تک زندہ رہا۔

بقی بعد ذا اخیراً سلیماً ولم یعلمه الا ذا دجال

وہ اس کے بعد باخیریت وسلامتی زندہ رہا اور اس نے اس کو دجال ہی یقین کیا۔

وسماه غراب الزمن دیناً یباغی الدین زاغاً بالمحال

اور دینی طور پر اس نے اس کا نام غرابِ زمن رکھا، جو باحیلہ زاغ بن کر دین سے لڑتا ہے۔

١٧٨

صفحہ ٤٨٧

جاننا چاہئے کہ میں نے یہاں پر مرزا قادیانی کی صرف گیارہ تعلیاں مع جوابات ذکر کی ہیں ۔ ورنہ زیر جواب قصیدہ ان سے زیادہ تعلیات پر حاوی ہے اور پھر طرفہ تر بات یہ ہے کہ مذکورہ تعلیات کے باوجود مرزا قادیانی نے حلفاً لکھ دیا کہ میں نے اپنے قصیدہ کے اندر کسی قسم کی تعلی کو استعمال نہیں کیا۔ جیسا کہ صاف لکھا گیا ہے:

وواللہ انی ما ادعیت تعلیاً وابغی حیاتا ما یلھا التکبر

اور بخدا میں نے کسی تعلی کا دعویٰ نہیں کیا اور میں ایسی زندگی چاہتا ہوں جس کے پیچھے تکبر وغرور نہ ہو۔

(اعجاز احمدی ص ٥٩، خزائن ج ١٩ ص ١٧٠)

بنا برآں! اب قارئین کرام خود فیصلہ کرلیں کہ تعلیات کر لینے کے بعد مرزا قادیانی کا حلفاً کہہ دینا کہ میں نے کسی قسم کی تعلی کو اپنے لئے استعمال نہیں کیا۔ ایک سفید جھوٹ نہیں تو اور کیا ہے؟ اور پھر اس قسم کی جھوٹی قسم اس پر لعنت بھیجتی ہے اور اس کو حلاف کاذب ثابت کرتی ہے۔

مرزائی قصیدہ کے عیوب ونقائص

مرزا قادیانی نے اپنے قصیدہ کے بارہ میں دعویٰ کیا ہے کہ یہ قصیدہ مع اردو مضمون کے صرف پانچ ایام میں خدا تعالیٰ کی تائید و توفیق اور روح القدس کی مدد وعنایت سے لکھا گیا ہے۔ اگر فی الواقع مرزائی دعویٰ صحیح ہے تو پھر اس میں کسی قسم کا عیب ونقص نہ ہونا چاہئے تھا۔ کیونکہ انسان تو خطاء ونسیان کا پتلا ہے۔ اس سے اغلاط ونقائص کا ہونا از قسم ممکنات ہے۔ لیکن خدا وروح القدس سے اغلاط ونقائص کا ہونا از قبیل محالات ہے۔ جیسا کہ یہ حقیقت اظہر من الشمس ہے۔ بایں ہمہ مرزائی قصیدہ کے اندر بہت سے غیر موزوں اور غیر معقول عیوب ونقائص موجود ہیں جو قصیدہ کے منجانب اللہ ومن جانب القدس ہونے کی تغلیط وتضحیک کرتے ہیں اور علی الاعلان بتاتے ہیں کہ یہ قصیدہ شیطان لعین یا کسی خبیث روح کے اشارات پر لکھا گیا ہے۔ ورنہ اس میں عیوب ونقائص کا ہونا بعید از قیاس ہے۔ انہی حالات کے پیش نظر مرزائی قصیدہ کے چند عیوب ونقائص کو صرف قصیدہ اعجازیہ کے پہلے ابتدائی اشعار سے منتخب کر کے تحریر کرتا ہوں اور صحت وسقم کا فیصلہ قارئین کرام پر چھوڑتا ہوں اور باقی ماندہ اشعار کے عیوب ونقائص کو بخوف طوالت کتاب ترک کرتا ہوں۔

قصیدہ ہذا کے عیوب ونقائص کو سمجھانے اور سمجھنے کے لئے چند تمہیدی امور کو بطور مقدمۃ الجیش کے ذکر کیا جاتا ہے۔ تا کہ میرا نظریہ بلاکسی اشکال ودقت کے سمجھا جاسکے اور میری کہی ہوئی بات قارئین کرام کے اذہان میں بیٹھ جائے اور وہ اس سے محظوظ و مسرور ہوسکیں۔

١٧٩

صفحہ ٩

جاننا چاہئے کہ ایک قصیدہ یا نظم چند اشعار سے مرتب ہوتی ہے اور پھر ہر ایک شعر کے دو برابر مصرعے یا دو برابر حصے ہوتے ہیں اور پھر ہر شعر کے پہلے مصرعہ کو صدر اور دوسرے مصرعہ کو عجز کہا جاتا ہے اور پھر پہلے مصرعہ کی آخری جزو کو عروض اور دوسرے مصرعہ کی آخری جزو کو ضرب اور باقی اجزاء کو حشویات کا نام دیا جاتا ہے۔ چنانچہ زیر جواب قصیدہ کا پہلا شعر بطور ذیل ہے:

ایا ارض مد قد دفاک مدمر
وار داک ضلیل واغبراک موغو

یہی قصیدہ اپنے عروض و ضرب میں تھوڑے سے تغیر کے بعد بحر طویل کے وزن پر آیا ہے اور بحر طویل کا وزن بطور ذیل ہے:

فعولن مفاعیلن فعولن مفاعیلن
فعولن مفاعیلن فعولن مفاعیلن

اور تغیر صرف یہ ہے کہ ہر شعر کا عروض و ضرب بجائے مفاعیلن کے مفاعلن کے وزن پر آیا ہے۔ چنانچہ شعر بالا کا عروض لفظ ”مدمر“ بروزن ”مفاعلن“ ہے اور اس کی ضرب لفظ ”کموغو“ بھی اسی وزن ”مفاعلن“ پر ہے اور باقی اجزاء بنام حشویات موسوم ہیں۔

نیز یہ بھی ذہن نشین رہے کہ عروض و ضرب کا یہی وزن ”مفاعلن“ لازمی طور پر شروع قصیدہ سے تا آخر قصیدہ جائے گا اور اس میں دیگر تغیر نہیں آ سکے گا۔ ورنہ قصیدہ داغدار اور معیوب قرار پائے گا۔ لیکن اجزائے حشویہ کا ہر تغیر غیر لازمی ہو کر یکے بعد دیگرے بھی آئے گا اور کبھی نہیں آئے گا۔

نیز ہر قصیدہ کا ایک قافیہ ہوتا ہے جو اس کے ہر شعر کی آخری جزو میں ہوتا ہے اور وہ بالالتزام آخر قصیدہ تک جاتا ہے۔ چنانچہ قصیدہ ہذا کا قافیہ پہلے شعر کے اندر لفظ ”موغو“ ہے۔ کیونکہ قافیہ ہر شعر کے آخری حرف ساکن سے شروع ہو کر اس قریبی متحرک تک جاتا ہے جس کے بعد حرف ساکن موجود ہو۔ جیسے لفظ ”موغو“ میں قافیہ واؤ اشباعیہ سے شروع ہو کر حرف ”م“ تک جاتا ہے جس کے بعد واؤ ساکنہ موجود ہے۔ یہی قافیہ قصیدہ کے آخر تک جائے گا اور پھر قافیہ کا آخری حرف روی حرف ”ر“ ہے اور قصیدہ کو قصیدہ رائیہ کہا جائے گا۔ چنانچہ قصیدہ ہذا کا حرف روی حرف ”ر“ ہے اور قصیدہ کو قصیدہ رائیہ کہا جائے گا اور قصیدہ ہذا کا حرف روی مضموم ہے اور اس کا ضمہ آخر قصیدہ تک جائے گا۔ اگر اس کے کسی شعر میں حرف روی کا ضمہ کسرہ یا فتحہ یا جزم سے تبدیل ہوگا اور یہ عیب قصیدہ ہے اور قافیہ داغدار ہے۔ جیسا کہ ص ٥٢ پر لفظ ”واحذر“ لکھا اور پڑھا گیا ہے اور جزم کو ضمہ سے بدلا گیا ہے اور اگر حرف روی کسی دوسرے حرف سے بدل جائے تو یہ بھی عیب قافیہ ہے۔ جیسا کہ ص ٦٢ پر لفظ تصح ہے جس کی روی بجائے حرف ”ر“ کے حرف ”ح“ آگئی

١٨٠

ہے جو عیب قصیدہ کا نام پاتی ہے اور پھر قافیہ کا ل کہلاتا ہے۔ چنانچہ قصیدہ ہذا کا حرف روی حرف ر

مرزائی قصیدہ کے چ

جاننا چاہئے کہ مرزائی قصیدہ کے بیشت اور پھر واقعیت اور حقیقت سے عمداً گریز و احترا صاحب کو بازاری الفاظ و القاب سے دل کھول ضروری سمجھا ہے کہ نمونۃً مرزائی قصیدہ کے ابت مرزائی خرافات و شتائم کا اندازہ ہو سکے اور وہ دف سکیں۔ میرا نمونہ تصحیح بطور ذیل ہے:

وہ ایک صحت مند اور حق پرست اور صاف دل آ

ایا ارض مد قد اتاک معمر
اے زمین مڈ ! تیرے پاس ایک آ

باخبر آدمی نے زندہ کر دیا۔

وہ ایک محقق اور صلح کن آدمی تھا اور کسی کے قابو م

دعوت لثنا علامة متبحراً
اے زمین مڈ! تو نے ہمارے لئے

جس کا پکڑنا مشکل ہے۔

حالانکہ وہ بحث و مناظرہ کرنے کے لئے فریق تصحیح بطور ذیل ہے:

اجاء ک فیه صاحباه بعجلة
اور تیرے پاس اس کی طرف سے

نہیں چاہتے اور صبر کرتے ہیں۔

صفحہ ٤٨٩

ہے جو عیب قصیدہ کا نام پاتی ہے اور پھر قافیہ کا آخری حرف جس پر قصیدہ مبنی ہوتا ہے حرف روی کہلاتا ہے۔ چنانچہ قصیدہ ہذا کا حرف روی حرف را ہے اور قصیدہ کو قصیدہ رائیہ کہا جائے گا۔

مرزائی قصیدہ کے چند ابتدائی اشعار کی تصحیح

جاننا چاہئے کہ مرزائی قصیدہ کے بیشتر اشعار میں غلط بیانی اور بدگمانی سے کام لیا گیا ہے اور پھر واقعیت اور حقیقت سے عمداً گریز و احتراز کو اپنایا گیا ہے اور بالخصوص مولوی ثناء اللہ امرتسریؒ صاحب کو بازاری الفاظ و القاب سے دل کھول کر مضروب و مجروح کیا گیا ہے۔ بنا بر آں میں نے ضروری سمجھا ہے کہ نمونۃً مرزائی قصیدہ کے ابتدائی اور درمیانی اشعار کی تصحیح کر دی تاکہ قارئین کو مرزائی خرافات و ذمائم کا اندازہ ہو سکے اور وہ دیگر اشعار پر میرے نمونہ کے مطابق خود تنقیح و تصحیح کر سکیں۔ میرا نمونۂ تصحیح بطور ذیل ہے:

وہ ایک صحت مند اور حق پرست اور صاف دل آدمی تھا۔ میری تصحیح بطور ذیل ہے:

ایھا ارض مکہ قد اتاک معمر وارضاک علیم وحیاک خبیرا

اے زمین مکہ! تیرے پاس ایک آباد کار آ گیا اور تجھے ایک علامہ نے خوش اور ایک باخبر آدمی نے زندہ کر دیا۔

وہ ایک محقق اور صلح کل آدمی تھا اور کسی کے قابو میں آنے والا نہیں تھا۔ میری تصحیح بطور ذیل ہے:

دعوت لنا علامۃ متبحراً وذا حوت بحر اخذه متعذر

اے زمین مکہ! تو نے ہمارے لئے ایک تبحر علامہ کو بلا لیا ہے اور یہ سمندر کی مچھلی ہے جس کا پکڑنا مشکل ہے۔

حالانکہ وہ بحث و مناظرہ کرنے کے لئے فریق مخالف بن کر مقام مکہ میں وارد ہوئے تھے اور میری تصحیح بطور ذیل ہے:

اجاءک منہ صاحباہ بعجلۃ وقالاک لانبغی فسادا ونصبر

اور تیرے پاس اس کی طرف سے بعجلہ اس کے دو ساتھی آئے، اور تجھ کو کہا کہ ہم فساد نہیں چاہتے اور صبر کرتے ہیں۔

١٨١

صفحہ ٤٩٠

کا نام دیا گیا ہے۔ حالانکہ اہل مدینہ احرار اور قید و بند سے آزاد تھے اور مولوی صاحب ایک بے شر علامہ تھے اور اونچے مناظر اسلام تھے۔ میری تصحیح بطور ذیل ہے:

وكان اهاليك اهالى حقيقة دعوا ليث فنجاب لهم هو حيدر

تیرے باشندگان اہل حقیقت ہیں اور انہوں نے اپنے لئے شیر پنجاب کو دعوت دی جو ایک بہادر آدمی تھا۔

تھا۔ میری تصحیح بطور ذیل ہے:

وجئنا بليث بعد جهد اذابنا وهذا ثناء الله حقاً غضنفر

اور ہم بہت کوشش کے بعد ایک شیر کو لے آئے اور یہی شیر حقیقتاً مولوی ثناء اللہ ہی ہے۔

استہزاء کیا گیا ہے اور میری تصحیح بطور ذیل ہے:

فلما اتاهم سرهم بعلومه وقال بفضل الله اني مظفر

جب مولوی صاحب ان کے پاس آیا تو ان کو اپنے علوم سے خوش کر دیا اور کہا کہ میں بفضل خدا کامیاب ہوں۔

گے۔ بلکہ مجلس مناظرہ میں کھل کر بحث کرنے کو تشریف لائے تھے اور مجلس مناظرہ سے بھاگ جانے کے لئے نہیں آئے تھے اور میری تصحیح بطور ذیل ہے:

وقال لهم لا تستروني واعلنوا وقولوا لاعدائى جميعاً تحضروا

اور اس نے ان سے کہہ دیا کہ مجھے مت چھپاؤ اور اعلان کر کے میرے سب دشمنوں کو کہہ دو کہ حاضر ہو جاؤ۔

کیا گیا ہے۔ حالانکہ وہ لوگ شریف اور باوقار لوگ تھے اور بہشتی کردار کے مالک تھے۔ میری تصحیح بطور ذیل ہے:

وارضى اهالى مدنا بمجيئه وقال لهم نصر من الله حاضر

اور اس نے اپنے آنے سے اہل مدینہ کو خوش کر دیا اور ان سے کہا کہ خدا کی مدد حاضر ہو چکی ہے۔

١٨٢

باشعور انسان تھے۔ میری تصحیح بطور ذیل ہے

تكلم كالاشراف فهماً وفطنة

اور اس نے شرفاء کی مانند فہم و فراس

شک ہے تو اہل مدینہ سے پوچھ لے۔ جنہو مرزائی مناظر سرور شاہ ناکام رہا تھا۔ میری

وان كنت في شك بعظمة علم

اور اگر تو اس کے علم کی عظمت کومدینہ میں مناظرہ کرتے دیکھا ہے۔

فلما التقى الجمعان للبحث في مبحث

جب دونوں جماعتیں بحث اجازت دے کر کہا کہ لوگو! حاضر ہو جاؤ۔

وہ لوگ صلح پسند افراد تھے اور ان کی مجلس مناظر

علا علمه فوق المرازى جميعهم

اس کا علم سب مرزائیوں پر غا

حالانکہ وہ اپنی کمزوری سے پریشان تھا او میری تصحیح بطور ذیل ہے۔

فانزل من رب السماء سكين

پس ہمارے شیر پر رب آسمان ک

بروح اللہ کہا ہے۔ حالانکہ دوران مناظرہ قاطعہ غالب رہے اور میری تصحیح بطور ذیل

صفحہ ٤٩١

باشعور انسان تھے۔ میری تصحیح بطور ذیل ہے:

تكلم كالاشراف فهماً وفطنة كما قد اتانا بحثه المتشهر

اور اس نے شرفاء کی مانند فہم وفراست سے بات کی۔ جیسا کہ ہم کو اس کی مشہور بحث آچکی ہے۔

شک ہے تو اہل مکہ سے پوچھ لے۔ جنہوں نے اس کو اپنا مناظر بنایا ہے۔ حالانکہ مناظرہ میں مرزائی مناظر سرور شاہ ناکام رہا تھا۔ میری تصحیح بطور ذیل ہے:

وان كنت فى شك بعظمة علمه فسل من رأى هذا بمكة يناظر

اور اگر تو اس کے علم کی عظمت میں شک کرتا ہے تو اس شخص سے پوچھ لے جس نے اس کو مکہ میں مناظرہ کرتے دیکھا ہے۔

فلما التقى الجمعان للبحث فى معترك اجازا وقالا ايها الناس احضروا

جب دونوں جماعتیں بحث کے لئے میدان جنگ میں جمع ہوئیں تو انہوں نے اجازت دے کر کہا کہ لوگو! حاضر ہو جاؤ۔

وہ لوگ صلح پسند افراد تھے اور ان کی مجلس مناظرہ باہمی مصالحت کی کوشش تھی۔ میری تصحیح بطور ذیل ہے:

علا علمه فوق المرازی جميعهم ومن خاف من ذا عالم هو سرور

اس کا علم سب مرزائیوں پر غالب آگیا اور جو شخص اس عالم سے ڈر گیا وہ سرور شاہ تھا۔

حالانکہ وہ اپنی کمزوری سے پریشان تھا اور مولوی صاحب اپنے دلائل پر پرسکون اور مطمئن تھے اور میری تصحیح بطور ذیل ہے۔

فانزل من رب السماء سكينة على اسدنا والله اياه ينصر

پس ہمارے شیر پر رب آسمان کی طرف سے سکون اترایا اور خدا تعالیٰ اس کی مدد کرتا رہتا ہے۔

بروح اللہ کہا ہے۔ حالانکہ دوران مناظرہ اس کے دلائل کمزور تھے اور مولوی صاحب کے براہین قاطعہ غالب رہے اور میری تصحیح بطور ذیل ہے:

١٨٣

صفحہ ٤٩٢
واعطاه رحمٰن له قوة الوغیٰ وایده روح امین مطهر

اور اسے اس کے رحمٰن نے لڑائی کی قوت دے دی اور باامن پاک روح نے اس کی تائید کردی۔

نے میدان مناظرہ کو متعین کیا تھا۔ بنا بر آں شعر ہٰذا کا آخری لفظ بجائے ”المعشر“ کے ”المعاشر“ ہونا چاہئے اور اس طرح پر ضرب کا وزن مفاعل بھی پورا رہتا ہے اور میری تصحیح بطور ذیل ہے:

وکان جدال طرد القوم بالضحیٰ الی خطة اوی الیها المعاشر

لڑائی قوم کو بوقت چاشت ایسے علاقہ کی طرف لے گئی جس کی طرف سب گروہوں نے اشارہ کیا تھا۔

کیا گیا تھا۔

تحروا لهٰذا البحث ارضاً شجیرةً لکی یا منوا من حر شمس تحرر

انہوں نے اسی بحث کے لئے سایہ دار میدان کو سوچ لیا تا کہ وہ گرم کنندہ سورج کی گرمی سے امن میں رہیں۔

عبارت بطور ذیل ہے:

وکان ثناء الله من اهل سنة ومن اهل مرزا للتخاصم سرور

اور بحث کے لئے مولوی ثناء اللہ اہل سنت کی طرف سے اور اہل مرزا کی طرف سے سرور شاہ تھا۔

ہے۔ حالانکہ اصل معاملہ برعکس تھا۔ کیونکہ مولوی صاحب شیر پنجاب کے لقب سے مشہور تھا اور اس کے نمائندہ کا یہ لقب نہ تھا اور پھر لفظ ”اجمة“ لفظاً مؤنث ہے اور اس کی طرف مذکر ضمیر یہ لوٹائی گئی ہے۔ جو غلط ہے اور میری تصحیح بطور ذیل ہے۔

کان مقام البحث کان کاجمةٍ بھا ذئبه یعوی واسدی یزاءر

گویا کہ مقام بحث ایک جھاڑی کی مانند تھا جس میں اس کا بھیڑیا چیختا تھا اور میرا شیر دھاڑتا تھا۔

١٨٤

گیا۔ حالانکہ اس نے اپنی جماعت کی تصحیح کہا گیا ہے اور میری تصحیح بطور ذیل ہے:

وقام ثناء الله یدعو مرزا بہ

مولوی ثناء اللہ کھڑا ہو کر مرزا کیلئے

صاحب صاف دل اور حق گو آدمی تھے۔ میر

وکان ثناء الله قلباً مصلیا

اور ثناء اللہ قلبی طور پر صاف آدمی تھ

بجائے خود مرزا قادیانی نمائندہ مکار شاہ مکا

سعیٰ سعی حق فی ھدایة سرور

مولوی صاحب نے سرور شاہ کو حق

درست ہے اور درست بات کہنے والے کو بجائے مولوی صاحب کو مکار کہا ہے اور میری

واظهر حقاً بالوضاح لسرور

مولوی صاحب نے سرور شاہ کو حق کو چھپا دیتی ہے۔

لوگ طوالت پسند ہوتے ہیں اور میری تصحیح بط

فشق علیٰ صحب لمرزا اختصاره

پس اصحاب مرزا پر اختصار بحث شا

مرزا کی نمائندہ تھا اور میری تصحیح بطور ذیل ہے

صفحہ ٤٩٣

گیا۔ حالانکہ اس نے اپنی جماعت کی صحیح رہنمائی کی تھی اور پھر اہل السنۃ والجماعۃ کے لوگوں کو کمینہ کہا گیا ہے اور میری تصحیح بطور ذیل ہے:

وقام ثناء الله يدعو مرزاباً الى الحق لكن كلهم منه انكروا

مولوی ثناء اللہ کھڑا ہو کر مرزائیوں کو حق کی طرف بلاتا ہے۔ لیکن وہ سب حق کے منکر ہو گئے۔

صاحب صاف دل اور حق گو آدمی تھے۔ میری تصحیح بطور ذیل ہے:

وكان ثناء الله قلباً مصافياً وراد صراط الحق والحق ينصر

اور ثناء اللہ قلبی طور پر صاف آدمی تھا اور اس نے راہ حق کو اختیار کیا اور حق ضرور مدد کر جاتا ہے۔

بجائے خود مرزا قادیانی نمائندہ مکار شاہ مکار اور فتان آدمی تھا اور میری تصحیح بطور ذیل ہے۔

سعىٰ سعى حق فى هداية سرور ولكن لهذا فى الضلال تحجر

مولوی صاحب نے سرور شاہ کو حق دکھانے کی پوری کوشش کی لیکن گمراہی میں وہ پھنسا ہوا ہے۔

درست ہے اور درست بات کہنے والے کو مکار حیلہ جو نہیں کہا جاسکتا۔ لیکن مرزا قادیانی نے اپنی بجائے مولوی صاحب کو مکار کہا ہے اور میری تصحیح بطور ذیل ہے۔

واظهر حقاً بالوضاح لسرور وقال طوال البحث للحق مستر

مولوی صاحب نے سرور شاہ کو حق بات وضاحت سے کہہ کر کے کہا کہ بحث کی طوالت حق کو چھپا دیتی ہے۔

لوگ طوالت پسند ہوتے ہیں اور میری تصحیح بطور ذیل ہے۔

فشق علىٰ صحب لمرزا اختصاره لبحث وطول البحث فيهم محشم

پس اصحاب مرزا پر اختصار بحث شاق گزرا اور ان میں بحث کی طوالت باعث برکت ہوتی ہے۔

مرزائی نمائندہ تھا اور میری تصحیح بطور ذیل ہے:

١٨٥

صفحہ ٤٩٤
اتیٰ سرور بالبحث عند غضنفر فقال حاک اللہ یا متسرور

سرور شاہ شیر پنجاب کے پاس غلط بات لایا۔ پس اس نے کہا اے سرور شاہ بننے والے! تجھ پر خدا کی پھٹکار ہو۔

سب اہل فہم وفراست تھے۔ میری تصحیح بطور ذیل ہے:

اقل زمان البحث مقدار ساعة فلم يرضها ليث وصحب تحضروا

بحث کا کم تر وقت بقدر ایک گھنٹہ ہے۔ پس اس کو شیر پنجاب اور حاضر ساتھیوں نے قبول نہ کیا۔

اور سیف وخنجر کو باقی رکھا گیا ہے۔ حالانکہ رضامندی کے تمام خدشات وخطرات کو دور کر دیتی ہے۔ میری تصحیح بطور ذیل ہے:

رضوا بعد تکرار بثلث ساعة فامن اتىٰ فيهم وفرت خناجر

وہ بحث وتکرار کے بعد تہائی گھنٹہ پر راضی ہو گئے اور ان میں امن آ گیا اور خنجریں بھاگ گئیں۔

درمیان قصیدہ سے چار اشعار کی تصحیح

کی گئی کہ وہ مناظرہ مکہ کے ایک سال بعد ہلاک ہو جائے گا۔ لیکن یہ پیش گوئی غلط رہی۔ کیونکہ مولوی صاحب مناظرہ مکہ کے بعد تقریباً چالیس سال تک بخیر و عافیت زندہ رہا اور خود مرزا قادیانی اسی مناظرہ کے بعد سال ششم میں ہلاک ہو گیا۔ اصل شعر بطور ذیل ہے:

ارى الموت يعتام المكفر بعده بما ظهرت اى السمآء وتظهر

میں موت کو دیکھتا ہوں کہ وہ مناظرہ کے ایک سال بعد میرے مکفر کو ہلاک کرے گی۔ کیونکہ نشانات آسمان ظاہر ہیں اور ظاہر ہوں گے۔

وجہ یہ ہے کہ لغۃً کہا جاتا ہے: ”اعتامہ الموت“ موت نے اس کو ایک سال میں ہلاک کر دیا اور مولوی صاحب اس پیش گوئی کے مطابق ایک سال میں مناظرہ مکہ کے بعد ہلاک نہ ہوا۔ بلکہ مدت دراز تک زندہ رہا اور خود مرزا قادیانی چھ سال کے بعد ہلاک ہو گیا اور میں نے جواباً بطور ذیل کہا ہے:

رأيت الموت اهلک ذا غلاماً بعام سادس بعد النزاع

میں نے موت کو دیکھا ہے کہ اس نے اسی غلام کو مناظرہ مکہ کے بعد چھٹے سال میں ہلاک کر دیا۔

١٨٦

صفحہ ٤٩٥
وهذا كان من عباد كفر وعبد الكفر من سقط المتاع

اور یہ شخص کفر پرستوں میں سے ایک تھا اور کفر کا غلام ردی سامان میں شمار ہوتا ہے۔

وقيل لا ملا الكتاب كمثله فقال كاهل العجب انى ساسطروا

اور اسے ثناء اللہ کہا گیا کہ اعجاز المسیح جیسی کتاب لکھ، اس نے مغروروں کی طرح کہہ دیا کہ میں بالضرور لکھ لوں گا۔ جاننا چاہئے کہ یہی شعر چند وجوہ سے غلط اور معیوب ہے۔

صرف امر غائب ومتکلم پر آتا ہے۔

تحریر کرنا اور لکھنا نہیں ہے۔ بلکہ لکھنا اور تحریر کرنے کا معنی صرف ”املا“ معتل اللام کا ہے اور وہ بشکل ”امل“ لکھا جاتا ہے۔

نہیں آتا۔ صحیح شعر بطور ذیل ہے:

وقيل له امل الكتب كمثله فقال كاهل العجب انى ساسطر
فقد سرنى فى هذه الصورة صورة ليدفع ربى كلما كان يحشر

مجھے ان صورتوں میں ایک صورت نے خوش کر دیا تاکہ رب تعالیٰ اس کے اٹھائے ہوئے بہتان کو دور کردے۔

جاننا چاہئے کہ یہی شعر باوجود الہامی ہونے کے چند وجوہ سے معیوب اور قابل اصلاح ہے۔

انتخاب کیا جاسکے۔

لقد سرنى ربى بايحاء صورة دفعنا بها ماذا علىّ يسطر

خدا تعالیٰ نے مجھے ایک ایسی صورت بتا کر خوش کر دیا کہ جس سے ہم نے اس کے لکھے جانے والے بہتان کو دور کر دیا۔

١٨٧

صفحہ ٤٩٦
ارضعت من سعلی الفلایا ابو الوفاء فمالک لا تخشی ولا تتفکر

اے ابوالوفاء! کیا تجھے غول کا دودھ پلایا گیا ہے۔ تجھ کو کیا ہو گیا کہ تو نہ ڈرتا ہے اور نہ فکر کرتا ہے۔

اور اصل شعر میں یہ غلطی ہے کہ مرزا قادیانی نے اپنے شعر میں لفظ ”غول“ استعمال کیا ہے اور غول بمعنی دیو اور شیطان مذکر ہوتا ہے اور دودھ نہیں دیتا اور دودھ اس کی مؤنث سعلی دیتی ہے۔ جب کہ وہ حاملہ بنتی ہے اور بچہ جنتی ہے اور دودھ دیتی ہے۔ لیکن مرزا قادیانی چونکہ خنثیٰ مشکل تھا اور مردانہ وزنانہ آلات تناسل رکھتا تھا اور اس کے دونوں پستان سے دودھ نکلتا تھا۔ اسلئے اس نے غول کو اپنے اوپر قیاس کر لیا اور اسے دودھ دینے والا بنا دیا اور سعلی کو چھوڑ کر غول لکھ دیا۔

مرزائی قصیدہ کے چند مشہور نقائص

نظم میں اکفاء کا نام دیا جاتا ہے۔ جیسا کہ قصیدہ کے چھٹے صفحہ کا لفظ ”لم یتحسر“ ہے اور مجزوم الراء ہے۔ لیکن اس کو مرفوع الراء لکھا گیا ہے۔ حالانکہ لفظ : ”لا یتحسر “ (نہیں تھکتا) لکھا جا سکتا تھا اور یہی عیب ونقص بہت سے مقامات پر موجود ہے۔ چنانچہ قصیدہ کا آخری شعر بھی اسی عیب ونقص سے معیوب ہے اور ”انصر“ کو ”انصرو“ لکھا گیا ہے۔ جیسا کہ بطور ذیل ہے:

ویارب ان ارسلتنی بعنایۃ فاید وکمل کل ماقلت وانصروا

اے اللہ ! اگر تو نے مجھ کو اپنی عنایت سے رسول بنایا ہے تو میری تائید ومدد کر اور میری کہی ہوئی بات کو کامل کر۔

تو یہ بھی عیب قصیدہ اور نقص نظم ہے۔ جیسا کہ قصیدہ کے اٹھارویں صفحہ پر بجائے ”لسحر“ کے ”تصبح“ لکھا گیا ہے اور ”ر“ کو ”ح“ سے بدلا گیا ہے۔

جاتا ہے۔ جیسا کہ قصیدہ کے آخری صفحہ کے قبل صفحہ میں ”لیظھر“ کو ”لیظہر“ لکھا اور پڑھا گیا ہے اور فتحہ کو ضمہ سے بدلا گیا ہے۔

قصیدہ ہے جو ایطاء کہلاتا ہے۔ جیسا کہ قصیدہ کے ساتویں صفحہ پر دو متصل شعر بطور ذیل ہیں:

١٨٨

صفحہ ٤٩٧
قطعنا بہذا دابر القوم کلہم وغادرہم ربی کغصن تجذر
اری ارض مكة قد ارید تبارہا وغادرہم ربی کغصن تجذر

جاننا چاہئے کہ مندرجہ بالا دونوں اشعار میں ایک غلطی تو یہ ہے کہ دونوں کا آخری مصرعہ یا دونوں کا قافیہ ایک ہے جو عیب قصیدہ ہے اور ایطاء کہلاتا ہے اور دوسری غلطی یہ ہے کہ ”غصن تجذر“ میں موصوف مذکر اور صفت مؤنث ہے۔ حالانکہ موصوف وصفت تذکیر و تانیث میں برابر ہوتے ہیں۔ لیکن چونکہ مرزا قادیانی بالہام خود خنثیٰ مشکل تھا اور دونوں آلات تناسل رکھتا تھا۔ اس لئے یہاں پر اس نے موصوف وصفت کو بھی اپنی مانند خنثیٰ مشکل بنادیا۔ حالانکہ اصل لفظ ’غصن مجذر“ ہونا تھا۔

میری آخری گذارش

جاننا چاہئے کہ مرزا قادیانی کا اعجازی قصیدہ تقریباً پانچ سو بتیس اشعار پر مشتمل ہے اور میں نے شروع قصیدہ سے ١٢٦ اشعار کی اور درمیان سے چار اشعار کی تصحیح کی ہے اور باقی اشعار کی تصحیح قارئین کتاب پر چھوڑ دی ہے۔ کیونکہ قصیدہ کے اشعار کی اکثریت کسی نہ کسی عیب و نقص میں ضرور بالضرور مبتلا ہے اور میں اسی بار گراں کا متحمل نہیں ہوں۔ لیکن میرے قصیدہ کے اندر اس قدر فاحش اور غیر معقول عیوب و نقائص نہیں ملیں گے اور اگر ملیں گے تو ان کے اندر معقولیت بالکل کم درجہ کی ہوگی اور میں نے اپنے قصیدہ کو بحر رمل کے وزن پر ترتیب دیا ہے اور بحر رمل کا اصل وزن بطور ذیل ہے:

فاعلان فاعلات فاعلات فاعلات فاعلات فاعلات

لیکن میرے قصیدہ کے اندر ہر مصرعہ کی پہلی جزو ’فعولن“ کے وزن پر آئی ہے اور میرا قصیدہ لامیہ ہے اور میں نے اپنے قصیدہ کو چند عناوین پر تقسیم کر دیا ہے تاکہ ہر عنوان کے تحت آنے والے اشعار کے سمجھنے میں دقت مشقت کا سامنا نہ ہو اور خلط مبحث کی شکایت نہ ہو۔ جیسا کہ مرزائی قصیدہ میں خلط مبحث کی شکایت بکثرت موجود ہے اور قارئین حضرات کو پریشان اور بے ذوق کرنے والی ثابت ہوئی ہے اور پھر مناظرہ مکہ کے بارے میں صرف چند اشعار ہیں اور باقی اشعار ادھر ادھر کی غیر متعلق باتوں کے بارے میں ہیں۔ لیکن میں نے اپنے عربی قصیدہ میں مرزا قادیانی اور مرزائیت سے غیر متعلق باتوں کا تذکرہ تاحد امکان ہرگز نہیں کیا اور میرا قصیدہ از اول تا آخر مربوط اور با ترتیب ہے اور ہر عنوان کے تحت غیر متعلق اشعار کو لانے سے گریز کیا گیا ہے۔ تاکہ قارئین کرام کو بے ذوقی اور بدمزگی سے دوچار نہ ہونا پڑے اور میرے قصیدہ کے عنوانات بمعہ تعداد اشعار حسب ذیل ہیں:

١٨٩

صفحہ ٤٩٨

نمبر شمار | عنوانات | تعداد اشعار ١ | حمد خدا اور ثنائے مصطفےٰ کے بارے میں | ٣٧ ٢ | آل واصحاب کے بارے میں | ٢٧ ٣ | مناظرۂ ٹنڈو کے بارے میں | ٧٢ ٤ | ختم نبوت واجرائے نبوت کے بارے میں | ٩٠ ٥ | غلام احمد اور چگنو کے بارے میں | ٣٦ ٦ | دینی باپ اور دینی ماں کے بارے میں | ٢٣ ٧ | خالص دین اور مغشوش دین کے بارے میں | ٣٩ ٨ | ظلی نبوت اور اصلی نبوت کے بارے میں | ٤٢ ٩ | جہاد اسلام کے بارے میں | ٣٥ ١٠ | اعداد حروف کے بارے میں | ١٠٠ ١١ | حکیم بھیروی کے بارے میں | ١٤ ١٢ | یورپ کے بارے میں | ٢١ ١٣ | اہل مرزا کے بارے میں | ٤٠ ١٤ | شیخ گولڑوی کے بارے میں | ٦٢ ١٥ | گرگٹ اور مرزا کے بارے میں | ١٩ ١٦ | علی حائری کے بارے میں | ٧ ١٧ | موت مرزا کے بارے میں | ٢١

مرزائی شتمیات اور محمدی جوابات

مرزا قادیانی نے زیر جواب کتاب کے اندر بالخصوص اپنے عربی قصیدہ میں بزرگان دین، علمائے کرام اور سادات عظام کو بری طرح سب وشتم کیا ہے اور اپنی بازاری گالیوں کا نشانہ بنایا ہے۔ میں یہاں پر بطور نمونہ کے چند مرزائی مغلظات بمعہ محمدی جوابات کے درج کرتا ہوں۔ قارئین کرام ان کو پڑھ کر لطف اٹھائیں اور داد انصاف دیں۔

پہلی گالی: یہ ہے کہ مرزا قادیانی نے مولوی ثناء اللہ صاحب کو گانڈو قرار دیتے ہوئے بطور ذیل لکھا ہے:

١٩٠

صفحہ ٤٩٩
الا لاتنمي عار النسآء ابا الوفاء الام كفتيان الوغا تتنمر

اے عورتوں کے عار (گانڈو) ثناء اللہ، تو کب تک مردان جنگ کی طرح پلنگی دکھائے گا۔

(اعجاز احمدی ص ٨٢، خزائن ج ١٩ ص ١٩٦)

اور مطلب یہ لیا ہے کہ مولوی ثناء اللہ ایک عار النساء بمعنی عورتوں کو شرمانے والا ایک شخص ہے۔ یعنی ثناء اللہ ایک ایسا گانڈو اور مفعول شخص ہے کہ قرب وجوار کی عورتیں اس کی یہی بدکاری سن کر شرماتی ہیں اور اسے نفرت وحقارت کی نظر سے دیکھتی ہیں۔

الجواب: یہ ہے کہ مولوی صاحب کو گانڈو ومفعول کہنے والا مرزا بروئے الہام خود گانڈو اور مفعول ثابت ہوتا ہے اور اس کا ملہم خود اس کو درج ذیل الہام کی وساطت سے اسی طور وطرز کا گانڈو آدمی ظاہر کرتا ہے اور بری طرح پر اس کی توہین وتذلیل کرتے ہوئے کہتا ہے:

”یا مریم اسکن انت وزوجک الجنة “ اے مریم ! تو اور تیرا شوہر دونوں بہشت میں رہائش رکھو۔﴾

وجہ یہ ہے کہ لفظ ”زوج“ جو ایک عربی لفظ ہے اور اضدادی الفاظ میں سے ایک مشہور ومعروف کلمہ ہے۔ بیوی اور شوہر دونوں کے لئے استعمال ہوتا ہے۔ چنانچہ ہر دو مفاہیم میں سے ایک مفہوم کی تعیین وتخصیص کے لئے قرینہ مخصصہ ہوتا ہے کہ اگر عورت کے ذکر کے بعد لفظ زوج کو لایا جائے تو اس کا معنی شوہر و خاوند کا ہوتا ہے۔ جیسا کہ قرآن فرمایا ہے:

”لقد سمع الله قول التي تجادلك في زوجها “ خدا تعالیٰ نے اس عورت کی بات سن لی جو اپنے شوہر کے متعلق تجھ سے جھگڑا کرتی تھی۔﴾

بنا بر آں آیت ہذا میں لفظ ”زوج“ بمعنی شوہر اور خاوند ہے جو اپنے گھر کے اندر اپنی بیوی کے نزدیک موضوع نزاع تھا اور اس کی بیوی نے دربار نبوت میں اس کی بدسلوکی کے بارے میں شکایت پیش کی تھی اور اگر مرد کے ذکر کے بعد لفظ زوج کو لایا جائے تو اس سے اسی مرد کی بیوی کا مفہوم مراد ہوتا ہے جیسے:

”یا ادم اسکن انت وزوجک الجنة “ اے آدم ! تو اور تیری بیوی دونوں بہشت کے اندر سکونت رکھو۔﴾ یہاں پر لفظ زوج بمعنی بیوی ہے اور آدم علیہ السلام کی بیگم وخاتون مراد ہے۔ لہٰذا بحالات بالا مرزا قادیانی کے الہام میں لفظ ”زوج“ سے مراد شوہر اور خاوند ہے۔ جس نے اسی مریم کو اپنی بیوی کے طور پر استعمال کیا۔ چونکہ یہی الہام مرزا قادیانی کو خود اپنے

١٩١

صفحہ ٥٠٠

بارے میں ہوا ہے۔ اس لئے مرزائی ملہم نے مرزا قادیانی کو مریم قرار دے کر اس کے لئے ایک شوہر ثابت کیا ہے جو اس کو بطور بیوی اور بیگم کے زیر استعمال رکھتا ہے یا اس کو مفعول اور گانڈو بنا کر چھوڑتا ہے۔ میرے خیال میں یہ الہام منجانب اللہ نہیں ہے۔ بلکہ من جانب الشیطان ہے۔ جس نے آیت قرآن کے اندر لفظ آدم کو ہٹا کر بجائے لفظ مریم کو رکھ دیا اور مرزا کو کہہ دیا کہ یہ تیرا الہام ہے جس میں میں نے تجھ کو مریم بنا کر ایک موٹا اور لحیم وشحیم شوہر دے دیا ہے۔ دونوں مل جل کر رہو اور عیش وعشرت کی زندگی بسر کرو۔

میرے نزدیک مذکورہ بالا مرزائی الہام اس لئے شیطانی الہام ہے کہ اس میں لفظی طور پر ایک فاحش غلطی کا ارتکاب موجود ہے۔ کیونکہ مریم کے لئے بجائے ”اسکنی“ کے ”اسکن“ لایا گیا ہے جو ایک شیطانی لغزش ہے اور خدا تعالیٰ کی طرف سے اس قسم کی لغزش از قسم ناممکنات ہے۔ بہرحال شیطان نے مرزا قادیانی کو مریم بنا کر اور پھر اس کو ایک شوہر دے کر مفعول و گانڈو ثابت کر دیا اور بری طرح پر اس کی تضحیک کر دی۔ قلت جواباً لشعره

غلام الهند عار ثم عار لنسوات الرجال والرجال

ہندی غلام مردوں اور عورتوں دونوں کے لئے عار در عار ( گانڈو) بن گیا ہے۔

اتیٰ فینا کنسوات یقیناً بزوج ذی فسادٍ ذی ضلال

وہ ہمارے اندر یقینی طور پر عورتوں کی مانند ایک فسادی اور گمراہ خاوند لے کر آگیا۔

علمنا ان نور الدین زوج لھذا المغل امثال البغال

ہمیں علم ہے کہ نور الدین اسی مغل کا شوہروں کی مانند ایک شوہر ہے ( اور یہ گانڈو ہے)

فلمناہ علیٰ بعلٍ وقلنا لماذا انت ترضیٰ بالوصال

ہم نے اس کو خاوند رکھنے پر ملامت کی اور کہہ دیا کہ تو خاوند کے وصال پر کیوں راضی ہے۔

فقالت مریم ھدیٰ بواءٍ رضينا بالفحال بالبوال

پس اس مریم نے خوشی سے کہہ دیا کہ ہم تہہ دل سے اپنے شوہر کے ساتھ خوش ہیں۔

دعتنا مرةً اخریٰ لدیھا وقالت لنا بعجل وارتجال

اس مریم نے ہمیں دوسری دفعہ اپنے پاس بلایا اور جلد بازی و حاضر جوابی سے کہا۔

رضينا اننا زوجان حقاً بروضات المغال بالمهال

سچ مچ ہم دونوں میاں بیوی بن کر غول گاہ کے اندر مغلوں کی جنت میں خوش ہیں۔

١٩٢

اور یوں بھی ہو سکتا جیسا کہ اس کے اسی الہام سے کیا گیا ہے اور جیسا کہ وہ اعداد یعنی مرزا قادیانی عورت ہے۔ کیـ (میرزاغلام احمد قاد مرزا قادیانی دونوں آلات تناسل جو دونوں آلات تناسل رکھتا ہو۔ الرجال یعنی ہندی غلام ا دونوں گانڈو تھے۔

دوسری گالی: یہ ہے کہ مرزا قا جیسے بدترین لفظ سے مخاطب کر کے فدع ایھا المغوی حسب اے اغوا کرنے والـ مقابل پر ایک رات کا ذکر کرتا ہے

الجواب : چونکہ مولوی ثناء اللہ اس قسم کے واقعات میں حصہ فعل کا مرتکب ثابت ہوا ہے اور بمعنی اغوا کنندہ کہہ دیا ہے۔ دو کوششیں اس وقت شروع کی تی اور ذلت ورسوائی سے بدنام ہو رشتہ دینے سے انکار کر دیا اور بذریعہ اغواء جو ایک اوباش شخص پر مولوی ثناء اللہ صاحب کو علم گوئی متعلقہ محمدی بیگم کو سچا دکھ کامیاب ہو جائے گی اور وہ پـ

صفحہ ٥٠١

اور یوں بھی ہو سکتا ہے کہ مرزا قادیانی مردانہ وزنانہ دونوں آلات تناسل رکھتا تھا۔ جیسا کہ اس کے اسی الہام سے عیاں ہے کہ اس کو مریم کہہ کر اس کے لئے زنانہ آلہ تناسل ثابت کیا گیا ہے اور جیسا کہ وہ اعداداً عورت بھی ثابت ہوتا ہے۔ (مرزا/٢٤٨) = ”امرأۃ/٢٤٨“ یعنی مرزا قادیانی عورت ہے۔ کیونکہ زنانہ آلہ تناسل رکھتا ہے اور جیسا کہ اعداداً بطور ذیل ہے: (میرزا غلام احمد قادیانی /١٥٥٨) = ”خنثیٰ مشکل ابداً /١٥٥٨“ یعنی مرزا قادیانی دونوں آلات تناسل کی وجہ سے خنثیٰ مشکل ہے اور خنثیٰ مشکل اس شخص کو کہا جاتا ہے۔ جو دونوں آلات تناسل رکھتا ہو۔ جیسا کہ اعداداً بطور ذیل ہے۔ غلام الھند بنابیہ مفعول الرجال یعنی ہندی غلام اپنے باپ کے ساتھ مردوں کا مفعول ہے۔ کیونکہ وہ اور اس کا باپ دونوں گانڈو تھے۔

دوسری گالی: یہ ہے کہ مرزا قادیانی نے مولوی ثناء اللہ صاحب کو زیر جواب قصیدہ کے اندر مغوی جیسے بدترین لفظ سے مخاطب کر کے کہا ہے:

فدع ايها المغوی حسيناً وذكره اتذكر ليلاً عند شمس تنور

اے اغوا کرنے والے (ثناء اللہ) محمد حسین کے ذکر کو چھوڑ دے کیا تو روشن سورج کے مقابل پر ایک رات کا ذکر کرتا ہے۔

(اعجاز احمدی ص ٥٧، خزائن ج١٩ ص١٦٩)

الجواب: یہ کہ مولوی ثناء اللہ صاحب نے کبھی بھی اغوا جیسے بدترین جرم کا ارتکاب نہیں کیا اور نہ اس قسم کے واقعات میں حصہ لینے کی کوشش کی ہے۔ بلکہ برعکس خود مرزا قادیانی اغواء جیسے مذموم فعل کا مرتکب ثابت ہوا ہے اور اپنے اغوائی جرم کو چھپانے کے لئے بلاوجہ مولوی صاحب کو مغوی بمعنی اغوا کنندہ کہہ دیا ہے۔ دراصل وجہ یہ ہے کہ مرزا قادیانی نے محمدی بیگم کے اغواء کرنے کی کوششیں اس وقت شروع کی تھیں جب کہ وہ بذریعہ گفتگو اس کے حاصل کرنے میں ناکام ہو گیا اور ذلت ورسوائی سے بدنام ہوا۔ چنانچہ جب مصالحانہ ذرائع سے محمدی بیگم کے والد احمد بیگ نے رشتہ دینے سے انکار کر دیا اور دنیوی لالچ پیش کرنے پر بھی رضامند نہ ہوا تو مرزا قادیانی نے بذریعہ اغواء جو ایک اوباش شخص کا کام ہے محمدی بیگم کے اغواء کرنے کی تحریک شروع کر دی۔ اس پر مولوی ثناء اللہ صاحب کو علم ہو گیا کہ مرزا قادیانی بذریعہ اغواء محمدی بیگم کو حاصل کر کے اپنی پیش گوئی متعلقہ محمدی بیگم کو سچا دکھانا چاہتا ہے اور چاہتا ہے کہ محمدی بیگم کے اغواء سے اس کی پیش گوئی کامیاب ہو جائے گی اور وہ شہرت تامہ کا مالک بن جائے گا۔ ان حالات کے پیش نظر مولوی

١٩٣

صفحہ ٥٠٢

صاحب نے فوراً مرزا احمد بیگ والد محمدی بیگم اور اس کے دیگر رشتہ داران سے رابطہ پیدا کر کے مرزا قادیانی کے عزائم مذمومہ سے ان کو بروقت آگاہ کر دیا۔ جس پر مرزائی تحریک اغواء ناکام ہو گئی اور مرزا قادیانی ذلیل و رسوا ہو کر سخت بدنام ہو گیا۔

یہی وجہ ہے کہ مرزا قادیانی خود کو چھوڑ کر مولوی صاحب کو مغوی کہہ کر اس کی عزت و عظمت کو داغدار کرتا ہے۔ حالانکہ اعداداً یہی شخص ہی مغوی ثابت ہوتا ہے۔ کیونکہ لفظ ”مرد مغوی“ اور غلام احمد قادیانی کے اعداد یکساں اور برابر ہو کر رونما ہوتے ہیں اور وہ پورے ١٣٠٠ ہیں اور غلام احمد قادیانی کو مغوی ثابت کرتے ہیں۔ قلت جواباً لشعره

علمنا ان ذا مغو مريد يريد الفوز فيها بالمحال

ہم کو علم ہے کہ یہ شخص مردود و مغوی ہے۔ جو حیلوں سے اس عورت میں کامیابی چاہتا ہے۔

ولكن لم يفز فيها يقيناً فنال الذل فيها بالخجال

لیکن وہ یقیناً اس عورت میں کامیاب نہ ہوا، اور ذلت و خجالت کو پا گیا۔

ولما كان كذاباً لعيناً فبقى فى الخجال والذلال

لیکن جب وہ کذاب و لعین تھا، تو خجالت و ذلت کے اندر زندہ رہا۔

سمعنا انه ما فاز فيها مضى فى قبره فى ذا الخيال

ہم نے سنا ہے کہ وہ اس عورت میں کامیاب نہ ہوا اور یہی خیال لے کر اپنی قبر میں چلا گیا۔

تیسری گالی: یہ ہے کہ مولوی ثناء اللہ صاحب کو کتا اور اس کے بیان و کلام کو کتے کا بھونکنا قرار دیتے ہوئے کہا گیا ہے:

ارى منطقاً ما ينبح الكلب مثله وفى قلبه كان الهوى يتذخر

اس نے ایسی باتیں کیں کہ ایک کتا اس طرح کی آواز نہیں نکالے گا اور اس کے دل میں ہوا و ہوس جوش مار رہی تھی۔

(اعجاز احمدی ص٢٤، خزائن ج١٩ ص١٥٣)

مطلب یہ ہے کہ مولوی صاحب کی وہ تقریر جو اس نے مقام مڈ کے بحث میں کی ایک کتے کے بھونکنے کی آواز تھی۔

جواب:....... یہ ہے کہ جب خشت بمشت کے طور پر ہمیں بھی جواز ملتا ہے کہ ہم بھی کسی مرزائی الہام کو سامنے رکھ کر مرزا قادیانی کو کلب ثابت کریں ۔ کیونکہ: ”لا يفلح الحديد الا بالحديد“ لوہا صرف لوہے سے ہی کاٹا جاتا ہے۔

١٩٤

بنا بر آں مرزا قادیانی کا ایک نوشت تشریح و تفصیل کے ساتھ بطور نذر قا اعداد پر مرے گا۔ ”ایک شخص کی موت کی نسبـ ہے کہ ”كلب يموت على كلب“ دلالت کر رہے ہیں۔ یعنی اس کی عمر باو اندر قدم دھرے گا تب اسی سال کے اند

میری تحقیق کے اندر یہی خیـ کے متعلق ہوا ہے اور مرزائی ملہم نے خو مرزا قادیانی کا خود بیان ہے کہ: ”بسا اوقـ اپنا ہی نفس ہوتا ہے۔“ اور پھر لکھا ہے کہ: ”بلاغت

میں اس وقت چاہتا ہوں کـ قارئین کرام کو بھی تحفظ و تلطف میں حصـ خوردہ ہماں بہ کہ یاراں خو اچھی خوراک وہ ہے جو دوستـ جو تنہا اور اکیلے کھائی جائے۔ آئیے! میری ذیلی تشریحا

درج کیا ہے اور یہی کتاب ١٨٩١ء کے اور ساتھ ساتھ یہ بھی پیش نظر رہے کـ ہوئی۔ (کتاب البریہ ص١٤٦، خزائن ج واشاعت کے وقت مرزا قادیانی کی عمـ

صفحہ ٥٠٣

بنا بر آں مرزا قادیانی کا ایک مشہور الہام اس کی مشہور کتاب ازالہ اوہام میں اس کی خود نوشت تشریح وتفصیل کے ساتھ یوں مذکور ہے: ”کلب یموت علیٰ کلب“ ایک کتا کلب کے اعداد پر مرے گا۔

”ایک شخص کی موت کی نسبت خدا تعالیٰ نے اعداد تہجی میں مجھے خبر دی جس کا ماحصل یہ ہے کہ ”کلب یموت علیٰ کلب“ یعنی وہ کتا ہے اور کتے کے عدد پر مرے گا جو باون سال پر دلالت کر رہے ہیں۔ یعنی اس کی عمر باون سال سے تجاوز نہیں کرے گی۔ جب وہ باون سال کے اندر قدم دھرے گا تب اسی سال کے اندر اندر راہی ملک بقاء ہوگا۔“

(ازالہ اوہام ص ١٨٧، خزائن ج ٣ ص ١٩٠)

میری تحقیق کے اندر یہی خبیث ورذیل الہام خود مرزا قادیانی کو اپنی ذات وشخصیت کے متعلق ہوا ہے اور مرزائی ملہم نے خود اسی کو کلب اور کلب کی موت مرنے والا کہا ہے۔ کیونکہ مرزا قادیانی کا خود بیان ہے کہ: ”بسا اوقات انسان دوسرے کو دیکھتا ہے اور اس سے مراد خود اس کا اپنا ہی نفس ہوتا ہے۔“

(ازالہ اوہام ص ٥٧٨، خزائن ج ٣ ص ٥٧٨)

اور پھر لکھا ہے کہ: ”بلاغت کا مدار استعارات لطیفہ پر ہوتا ہے۔“

(توضیح المرام ص ٥٨، خزائن ج ٣ ص ٥٨)

میں اس وقت چاہتا ہوں کہ الہام مذکور کے مشمولہ لطیف استعارات کو واضح کر کے قارئین کرام کو بھی تلذذ وتلطف میں حصہ دار بناؤں۔ کیونکہ:

خوردہ ہماں بہ کہ یاراں خوری حیف برآں خوردہ کہ تنہا خوری

اچھی خوراک وہ ہے جو دوستوں سے مل کر کھائی جائے۔ اس خوراک پر افسوس ہوتا ہے جو تنہا اور اکیلے کھائی جائے۔

آئیے! میری ذیلی تصریحات سنئے اور ان پر تحسین وتکبیر کے نعرہ جات بلند کیجئے:

درج کیا ہے اور یہی کتاب ١٨٩١ء کے اواخر میں طبع ہوئی اور ١٨٩٢ء میں لوگوں کے اندر تقسیم ہوئی اور ساتھ ساتھ یہ بھی پیش نظر رہے کہ بقول مرزا قادیانی اس کی پیدائش ١٨٣٩ء یا ١٨٤٠ء میں ہوئی۔ (کتاب البریہ ص ١٤٦، خزائن ج ١٣ ص ١٧٧) لہٰذا بحالات بالا کتاب مذکور کی طباعت واشاعت کے وقت مرزا قادیانی کی عمر کلب کے اعداد پر باون سال تھی۔ جیسا کہ حسب ذیل ہے:

١٩٥

صفحہ ٥٠٤

(١٨٣٩-١٨٩١ = ٥٢) اور (١٨٤٠-١٨٩٢ = ٥٢) یعنی مرزا قادیانی ازالہ اوہام کی طباعت واشاعت کے وقت کلب اور کتا تھا۔

البریہ ص ١٤٦، خزائن ج ١٣ ص ١٧٧) اب اگر اس کی خود نوشت یافتہ عمر ٦٨ سال سے ١٦ یا ٦٩ سال سے ١٧ تفریق کرلیں تو ہر حالت میں ٥٢ باقی رہ جاتے ہیں جو اعداد کلب ہیں۔ جس سے صراحۃً ثابت ہوتا ہے کہ مرزا قادیانی کی ساری عمر بلوغ ایک کلب کی طرح ہاؤ ہو کرتے گذری ہے اور علمائے کرام اور سادات عظام کو سب وشتم کرتے بسر ہوئی ہے۔

تو ٢٦ کا عدد برآمد ہوتا ہے جس سے اس کے روز وفات ٢٦ مئی ١٩٠٨ء یا ہجری سال وفات ١٣٢٦ھ کی طرف اشارہ ملتا ہے اور الہام ہذا خود اسی پر بیٹھتا ہے۔

اشارہ ملتا ہے کہ صاحب الہام کلب کے عدد کا فاصلہ طے کر کے ہلاک ہوگا اور پھر یہی فاصلہ طے کر کے اس کی میت کو دفن کیا جائے گا۔ چنانچہ وہ قادیان سے چل کر لاہور میں مرا اور لاہور سے اس کی لاش واپس قادیان میں دفن ہوئی۔

ہلاک ہوتا ہے۔ چنانچہ جب مرزا قادیانی پر عقیدہ وفات مسیح اور عقیدہ اجرائے نبوت کا جنون سوار ہوا اور وہ حد دیوانگی تک جا پہنچا تو وہ اس کی اشاعت کے لئے دیوانہ وار لاہور کے اندر جا دھمکا اور اپنے گھر قادیان سے دور ہلاک ہو گیا۔

یہی مدت برآمد ہوئی۔ کیونکہ وہ ٢٤ مئی ١٩٠٨ء کو لاہور میں پہنچا اور بالکل تندرست اور باسلامت تھا اور پیسہ اخبار کے ایڈیٹر کو ایک لمبا چوڑا خط لکھا اور ٢٤ مئی ١٩٠٨ء کی شب کو اچانک بمرض ہیضہ بیمار ہوا اور پورے ٥٢ گھنٹوں کے اندر احمدیہ بلڈنگس کے مکان نمبر ٥٢ میں ہلاک ہو گیا۔

چنانچہ مرزا قادیانی اور اس کی ماں بیگم چراغ بی بی دونوں کلب اغیار ثابت ہوتے ہیں۔ جیسا کہ اعداد بطور ذیل ہے:

(غلام احمد قادیانی/١٣٠٠) ”کلب الاغیار اباہ/١٣٠٠“ وہ اپنے آباء سے اغیار (برطانیہ) کا کتا تھا اور علمائے اسلام کو بھونکتا تھا۔

١٩٦

صفحہ ٥٠٥

(بیگم چراغ بی بی /١٣٠٠) ”کلبۃ الاغیار /١٣٠٠“ وہ اغیار (برطانیہ) کی کتیا تھی اور اپنے بیٹے کی ہم خیال تھی اور علمائے اسلام کو بھونکتی تھی۔

چوتھی گالی: یہ ہے کہ اس نے حضرت پیر مہر علی شاہ صاحب گولڑوی کے متعلق اپنے بہت سے اشعار میں بالکل بازاری اور سوقیانہ الفاظ اور مغلظات استعمال کی ہیں۔ بطور نمونہ چند اشعار مندرجہ ذیل ہیں:

اتانی کتاب من کذوب مزور کتاب خبیث کالعقارب یابر

مجھے ایک کذاب کی طرف سے کتاب پہنچی ہے وہ خبیث کتاب بچھو کی طرح نیش زن ہے۔

فقلت لک الویلات یا ارض جولر لعنت بملعون وانت تدمر

پس میں نے کہا اے گولڑہ کی زمین تجھ پر لعنت ہے تو ایک ملعون کے سبب سے ملعون ہو گئی اور تو ہلاکت میں پڑے گی۔

تکلم ھذا لنکس کالزمع شاتماً وکل امرأ عند التخاصم یسبر

اس فرومایہ نے کمینوں کی طرح گالی سے بات کی ہے اور ہر ایک آدمی خصومت کے وقت آزمایا جاتا ہے۔

نطقت بکذب ایھا الغول شقوۃً خف اللّٰه یا صید الردی کیف تجسر

اے دیو تو نے بدبختی کی وجہ سے جھوٹ بولا، اے موت کے شکار خدا سے ڈر۔ کیوں دلیری کرتا ہے۔

(اعجاز احمدی ص ٧٥، ٧٦، خزائن ج ١٩ ص ١٨٨ و ١٨٩)

الجواب اولاً: یہ ہے کہ چونکہ ان اشعار میں مرزا قادیانی نے ایک سید آل رسول اور شیخ وقت کو کاذب و ملعون، کمینہ، غول اور شقی وغیرہ جیسے بدترین الفاظ سے مخاطب کیا ہے اور بروئے حدیث شریف ایک سچا مومن فحاشی اور لعان نہیں ہوتا۔ اس لئے اس شخص نے اپنی بے ایمانی اور اپنے فسق و فجور سے خود پردہ اٹھا دیا ہے اور ثابت کر کے دکھا دیا ہے کہ غلام احمد قادیانی /١٣٠٠، ایک اوباش شخص /١٣٠٠ ہے۔ کیونکہ عددی طور پر دونوں یکساں اور برابر ہیں۔ جب کہ دونوں کے اعداد حروف پورے (١٣٠٠) ہیں اور اسے اوباش بتاتے ہیں۔

ثانیاً: یہ ہے کہ مرزا قادیانی تادم آخر شاہ صاحب کی کتاب ”سیف چشتیائی“ کا جواب نہیں دے سکا اور گالیاں دے کر اپنے دل کی بھڑاس نکالی ہے۔

ثالثاً: یہ ہے کہ یہ شاہ صاحب کی زندہ کرامت ہے کہ مرزا قادیانی نے اپنا دوسرا شعر غلط لکھ دیا ہے۔ کیونکہ لفظ ”ارض“ عربی زبان میں مؤنث سماعی ہے اور شعر ہذا میں اس کے لئے مذکر صیغہ

١٩٧

صفحہ ٥٠٦

"وانت تدعو" استعمال کیا گیا ہے۔ حالانکہ یہی جملہ دراصل "وانت تدعوین" ہونا چاہئے تھا۔ جس سے ثابت ہوا کہ شاہ صاحب اور ان کے شہر گولڑہ شریف کا ملعون ہونا غلط اور مرزائی بکواس ہے۔ ہاں اگر ارض کی بجائے "بلد" کا لفظ لکھا جاتا تو شعر ہذا لفظی غلطی سے بچ جاتا۔ لیکن شاہ صاحب کی کرامت وعظمت نے اسے اس طرف نہ آنے دیا اور صحیح شعر بطور ذیل تھا۔

فقلت لك الويلات يا بلد جولر لعنت بملعون وانت تدمر

رابعاً: یہ ہے کہ دراصل مرزا قادیانی اور اس کا شہر قادیان دونوں ہی ملعون اور راندۂ خدا ہیں۔ کیونکہ دونوں پر ایک کافر حکومت قائم ہے اور دارالحرب ان پر سایہ فگن ہے اور اس کے بالمقابل شاہ صاحب کا مزار شریف گولڑہ شریف میں واقع ہے جو دارالاسلام پاکستان کا ایک مقدس اور متبرک شہر مانا جاتا ہے۔

خامساً: یہ ہے کہ مرزا قادیانی نے اپنے چوتھے شعر کے اندر حضرت شاہ صاحب کو "صید الردی" کہہ کر اپنی زندگی میں ہلاک ہونے والا ظاہر کیا ہے۔ لیکن اس کی بددعا کے خلاف خود مرزا قادیانی چھ سال کے اندر ہلاک ہو گیا اور شاہ صاحب ہلاکت مرزا کے بعد چالیس سال تک بخیر وعافیت زندہ رہے اور صداقت کا ایک عظیم نشان ثابت ہوا۔ کیونکہ مرزا قادیانی نے زیر جواب کتاب کے اندر بالصراحت خود کہہ دیا ہے کہ:

وان تضربن على الصلات زجاجة فلا الصخر بل ان الزجاجة تكسر

اگر تو پتھر پر شیشہ مارے گا تو پتھر نہیں بلکہ شیشہ ٹوٹے گا۔

(اعجاز احمدی ص ٧٦، خزائن ج ١٩ ص ١٨٩)

ان حالات میں حضرت شاہ صاحب اسلام کی ایک مضبوط چٹان تھے اور مرزا قادیانی بذریعہ مخالفت در دین ان پر گر کر ہلاک ہو گیا اور شاہ صاحب عرصہ دراز تک زندہ رہے اور مرزائیت پر ضربات لگاتے رہے۔

سادساً: یہ ہے کہ مرزا قادیانی بقول خود "خنازیر الفلا" (جنگل کا سور) اور اس کی والدہ "کلبة الاغیار" ثابت ہوتی ہے۔ جب کہ اس نے اپنے مخالفین کے بارے میں عموماً اور شاہ صاحب وغیرہ کے متعلق خصوصاً کہا ہے کہ:

ان العدی صاروا خنازير الفلا ونساء هم من دونهن الاكلب

بلاشبہ میرے دشمن جنگل کے سور بن گئے اور ان کی عورتیں کتوں سے بدتر ہیں۔

(نجم الہدی ص ٥٣، خزائن ج ١٤ ص ٥٣)

١٩٨

صفحہ ٥٠٧

مرزا قادیانی نے اس شعر میں بظاہر اپنے مخالفین کو جن میں حضرت مہر علی شاہ صاحبؒ اور مولوی ثناء اللہ صاحب اور مولوی محمد حسین بٹالوی صاحب بھی شامل ہیں ”خنازیر الفلا“ بمعنی جنگل کا سور کہا ہے۔ لیکن بباطن اور درپردہ وہ اپنے آپ کو بھی خنزیر الفلا کہہ گیا ہے۔ کیونکہ فقرہ ”صاروا خنازیر الفلا“ کا واحد جملہ ”صار خنزیر الفلا“ ہے جس کے اعداد حروف غلام احمد قادیانی کے اعداد کی طرح پورے ١٣٠٠ ہیں اور نتیجہ یہ ہے کہ سادات عظام اور علمائے کرام کو خنازیر الفلا کہنے والا خود خنزیر الفلا ہے۔ جیسا کہ میں نے اسی حقیقت حال پر کہا ہے:

نفى حباً على مهر دين الى السنوات حقاً بالجلال
وماتت قبله ليلات كفر واعنى ذالغلام من الليال
ردى هذا غلام تحت كفر باليات وسهلات طوال

اور ان بزرگان دین کی عورتوں کو کتیوں سے بدتر کہنے والے کی ماں بیگم چراغ بی بی ١٣٠٠، اعداداً ”كلبة الاغيار/ ١٣٠٠“ بمعنی غیروں کی کتیا بن جاتی ہے۔ کیونکہ بیگم چراغ بی بی اور ”كلبة الاغيار“ دونوں کے اعداد پورے (١٣٠٠) ہیں اور ساتھ ہی یہی بی بی اعداداً ”غدارة الهند / ١٣٠٠“ بھی ثابت ہو کر کے ظاہر کرتی ہے کہ ایک غدارۃ الہند / ١٣٠٠ عورت نے ”غلام احمد قادیانی / ١٣٠٠“ جیسے ”غدار الدین / ١٣٠٠“ اور ”غدار النبی / ١٣٠٠“ شخص کو جنم دیا جس نے دین اسلام سے فریضۂ جہاد کو خارج کیا اور نبی اسلام کی کامل ختمِ نبوت کو ناقص و ناتمام بتایا۔

میں نے اگرچہ مرزا قادیانی اور اس کی والدہ کو اعدادی طور پر غیر مہذب اور توہین آمیز الفاظ سے منسوب کیا ہے۔ لیکن بروئے آیت ذیل: ”ولمن انتصر بعد ظلمه فاولئك ما عليهم من سبيل“ (جس نے اپنی مظلومیت کے بعد اپنا بدلہ لے لیا اس پر کوئی ملامت اور طعن نہیں ہے۔) ہمیں ایسا کرنے کا جواز حاصل ہے۔ کیونکہ برا کہنے والے کو برا کہنے میں شرعاً وقانوناً کسی قسم کی گرفت نہیں ہے۔

نیز مرزا قادیانی نے اپنی کتاب ”آئینہ کمالاتِ اسلام“ میں یہ لکھ کر اپنی شرارت کا اظہار کیا ہے: ”کل مسلم يصدقنی ويقبل دعوتي الا ذرية البغايا سوائے حرامزادیوں کے سب مسلمان میری تصدیق کریں گے اور میری دعوت کو قبول کریں گے۔“

(آئینہ کمالاتِ اسلام ص ٥٤٧، خزائن ج ٥ ص ایضاً)

١٩٩

صفحہ ٥٠٨

وجہ یہ ہے کہ لفظ ”البغایا“ لفظ ”البغی“ کی جمع ہے اور بغی لغۃً ایک زانیہ و فاجرہ عورت کو کہا جاتا ہے۔ جیسا کہ آیت قرآن ہے: ”وما کانت امک بغیاً“ ﴿اور تیری ماں زانیہ فاجرہ عورت نہ تھی۔﴾

اور جیسا کہ المنجد میں ہے: ”البغی المرأۃ الزانیۃ الفاجرۃ والجمع بغایا“ بنابرآں ذریۃ البغایا کا معنی زانیہ عورتوں کی اولاد اور حرامزادے لوگ بنتا ہے۔ دراصل مذکورہ بالا عبارت میں مولوی ثناء اللہ صاحب امرتسریؒ اور مولوی محمد حسین صاحب بٹالویؒ اور پیر مہر علی شاہ صاحب گولڑویؒ اور علی حائری صاحب لاہوری کو اشارۃً و کنایۃً ذریۃ البغایا بمعنی حرامزادے کہا گیا ہے۔ حالانکہ مرزا قادیانی خود بھی اعداداً اسی قسم کے الفاظ سے متصف ثابت ہوتا ہے۔ کیونکہ ”ذریۃ الزانیۃ والزانی“ / ١١٢٤ اور پھر ”الولید البغی“ / ١١٢٤ اور ”الولید الغبی“ / ١١٢٤ اور غلام احمد / ١١٢٤ کے اعداد پورے ١١٢٤ برآمد ہوتے ہیں جن سے یہ شخص بھی جیسی کرنی ویسی بھرنی کا مصداق و مورد بن جاتا ہے اور اعداداً مذکورہ بالا گندے القاب حاصل کرتا ہے۔

پانچویں گالی: یہ ہے کہ مرزا قادیانی نے مولوی ثناء اللہ صاحب پر دس لعنتیں ڈالی گئی ہیں اور اسے دس لعنتوں کا ملعون گردانا ہے اور پھر ان دس لعنتوں کو لمبا کر کے دس دفعہ بطور ذیل لکھا ہے: ”لعنت“ اور آخر میں آیت ”تلک عشرۃ کاملۃ“ لکھی ہے۔

(اعجاز احمدی ص ٣٩، خزائن ج ١٩ ص ١٤٩)

الجواب اولاً: یہ ہے کہ مرزا قادیانی نے دس لعنتوں پر آیت قرآن کو استعمال کر کے اپنی گستاخی و شرارت کا اظہار کیا ہے۔ کیونکہ قرآن نے اس آیت کو دس روزوں پر استعمال کیا ہے جو ایک حاجی بعد ادائے حج رکھا کرتا ہے اور اس شخص نے اسی آیت قرآن کو دس لعنتوں پر استعمال کر کے اپنی بے راہ روی سے پردہ اٹھایا ہے اور خود کو بزبان خود اعداداً بے راہ رو ثابت کیا ہے۔ کیونکہ ”مرزا قادیانی“ / ٤٢٤ اور لفظ ”بے راہ رو“ / ٤٢٤ کے اعداد برابر ہیں اور نتیجتاً وہ غلط راہ پر چلنے والا بنتا ہے۔

الجواب ثانیاً: یہ کہ مرزا قادیانی خود ہی اپنی دس لعنتوں کا مستحق ٹھہرتا ہے۔ کیونکہ لفظ ”لعنت“ ایک عربی لفظ ہے اور عربی رسم الخط میں اس کو بشکل ”لعنۃ“ لکھا جاتا ہے اور اس کے اعداد حروف ١٥٥ بنتے ہیں اور دس لعنتوں کے اعداد (١٥٥٠) ہو جاتے ہیں اور ہمیشہ کی دس لعنتوں کے اعداد بھی (١٥٥٨) ہیں اور ”میرزا غلام احمد قادیانی“ کے اعداد بھی یہی ہیں۔ جیسا کہ بطور ذیل ہے:

٢٠٠

صفحہ ٥٠٩

(لعنت+لعنت+لعنت+لعنت+لعنت+لعنت+لعنت+لعنت+لعنت+لعنت)=(مرزا غلام احمد قادیانی) یعنی ہمیشہ کی دس لعنتوں کا مجموعہ (مرزا غلام احمد قادیانی) بنتا ہے اور مولوی ثناء اللہ امرتسری نہیں بنتا۔ علاوہ ازیں مرزا قادیانی نے اپنے اسی قصیدہ کے شعر مندرجہ ذیل میں خود کو بزبان خود ملعون و مردود ثابت کیا ہے۔

وما افلت العمران من ضرب لعنكم مثلى لهذا اللعن احرى واجدر

حضرات صدیق و عمر تمہاری لعنت کی چوٹ سے نہیں بچے اور مجھ جیسا آدمی اس لعنت کا زیادہ حقدار اور موزوں تر ہے۔ چنانچہ مرزا قادیانی نے اسی شعر میں علی حائری لاہوری شیعہ کو مخاطب کیا ہے اور عمرین پر ڈالی گئی لعنت کا خود کو مستحق گردانا ہے اور خود علی حائری کو ملعون و مردود نہیں کہا۔ بلکہ اس نے خود اپنے آپ کو ملعون و مردود کہا ہے۔ اس لئے کہ وہ خود ملعون تھا۔ حالانکہ دراصل علی حائری کی ڈالی گئی لعنت کا مستحق خود علی حائری تھا اور اسی کو ملعون کہنا تھا اور یہی شعر بطور ذیل ہونا چاہئے تھا تا کہ اس کی گرائی ہوئی لعنت خود اسی پر پڑتی اور وہی ملعون ہوتا۔

وما افلت العمران من ضرب لعنكم وانتم لهذا اللعن احرى واجدر

حضرات صدیق و عمر تمہاری لعنت کی چوٹ سے نہیں بچ سکے۔ حالانکہ تم ہی اسی لعنت کے حقدار اور مستحق ہو۔

چھٹی گالی: یہ ہے کہ مرزا قادیانی نے اپنے بہت اشعار میں علی حائری شیعہ لاہوری کو اپنی بے شمار گالیوں کا نشانہ بنایا ہے۔ جیسا کہ دو اشعار بطور ذیل ہیں:

اذا ما رأينا حائراً أجهل الورى طوينا كتاب البحث والآى اظهر

جب ہم نے لوگوں کے جاہل تر علی حائری کو دیکھا تو ہم نے بحث و نزاع کی کتاب کو لپیٹ دیا۔ کیونکہ نشانات ظاہر ہیں۔

(اعجاز احمدی ص ٧٤، خزائن ج ١٩ ص ١٨٦)

ترى سقم نفسى ما ترى آى ربنا كأنك غول فاقد العين اعور

تو میرا عیب دیکھتا ہے اور خدائی نشانات نہیں دیکھتا۔ گویا کہ تو کانا یک چشم شیطان ہے۔

الجواب: یہ ہے کہ علی حائری اگر چہ غالی اور سبی شیعہ تھا۔ لیکن اس میں یہ خوبی موجود تھی کہ وہ ختم نبوت اور حیات مسیح کا بشدت قائل و عامل تھا اور ہم اہل السنۃ والجماعۃ کے لوگ اس کی اس خوبی کی قدر کرتے ہیں اور وہ اپنے دیگر اعمال قبیحہ کا خود مسئول و کفیل ہے اور میں نے اس کے متعلق بطور ذیل کہا ہے:

٢٠١

صفحہ ٥١٠
عـلـی حـائـری قـال حـقـاً رسول الله خـتـام الـرسـال

علی حائری نے درست کہا ہے کہ رسول اللہ ﷺ خاتم الرسالۃ ہیں۔

وایـضـاً قـال ذا خـتـام نـبـإ اصـیـل ذی شـراع ذی ظـلال

اور اس نے یہ بھی کہا ہے کہ آپ ﷺ اصلی شرعی اور ظلی نبوت کے خاتم ہیں۔

وروح الله عیـســـــــانــــا نـبــــی وحـــی فـــی ســـمـــوت عـــوال

اور ہمارا عیسیٰ روح اللہ نبی ہے اور اونچے آسمانوں میں زندہ موجود ہے۔

ویــأتــی مــن ســمــاء ذی عــلاء عـــلـــی ارض بشـــان ذی جـــلال

اور وہ اونچے آسمان سے زمین پر بڑی شان سے آئے گا۔

فـهــذا لــمــرأ ســنــی لــدیــنــا بهـــاتـــیـــن فــقــط فـــی كـــل حـــال

پس بہر حال یہی آدمی ہمارے نزدیک صرف ان دو مسائل ( ختم نبوت اور حیات مسیح ) میں سُنی ہے۔

وان هـــذا مـضـی ســبـاب صـحــب مـــســـئ مـــرأ مـــســـی ذو ضـــلال

اور اگر یہ شخص صحابہ کو سب کرتے ہوئے مرا ہے تو ایک بدکار اور گمراہ آدمی مرا ہے۔

لــــه مـــنـــا ومـــن بـــاریــــه لــعــن الـــی یــــوم الــقـیــــامــة بـــالـتـــوال

اس کے لئے ہماری طرف سے اور اس کے خالق کی طرف سے قیامت تک لگاتار لعنت ہے۔

الجواب ثالثاً: یہ کہ مرزائی دس لعنتوں کے جواب میں مرزا قادیانی کو مندرجہ ذیل اعدادی ضربات کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ تا کہ اس کی حقیقت کھل کر سامنے آجائے اور وہ اہل دنیا کے لئے نشان عبرت و نفرت بن جائے۔

اعدادی ضربات بر مرزا و مرزائیات

ملعون ہے۔ ہجڑا ہے۔ کیونکہ کفار برطانیہ کے نیچے مخنث بن کر رہا۔

وہ اپنے آباء واجداد سے ظاہر و باطن کا شیطان ہے۔

٢٠٢

(میرزاغلام احمد قادیانی)/ والله“ /١٥٥٨، بخدا وہ صحیح طور پر ظاہر ہ

غدار ہے۔ کیونکہ اس کے آیات میں ہیرا

اہل اسلام کے محمد کا غدار ہے۔ کیونکہ اس

خنثیٰ مشکل ہے۔ کیونکہ وہ مردانہ وزنا وضاحت ہوچکی ہے۔

(میرزاغلام احمد قادیانی)/ گالیاں دینے والا ہے۔ جیسے کہ اس کا قص

ختم نبوت کی بجائے اجرائے نبوت کو اپنا

قرآنی لفظ میں مرزا واہل مرزا کو مغلوب ک

سے اسلام کا غدار ہے۔ کیونکہ اسلام سے

مثیل ہے۔ کیونکہ وہ ہمیشہ مناظرات سے

المسلمین (مہدی) کا غدار ہے۔ کیونکہ اس

ہے۔ کیونکہ قرآن وحدیث دونوں اس کی

رسول ہے۔ کیونکہ غلام کفار کبھی بھی رسول

صفحہ ٥١١

(میرزا غلام احمد قادیانی) / ١٥٥٨ = ”هو حرامی ظاهراً وباطناً بالجد واللہ“ / ١٥٥٨، بخدا وہ صحیح طور پر ظاہر و باطن کا حرامی ہے۔ کیونکہ جہاد اسلام کو حرام کہتا ہے۔

غدار ہے۔ کیونکہ اس کے آیات میں ہیرا پھیری کرتا رہا ہے۔

اہل اسلام کے محمد کا غدار ہے۔ کیونکہ اس کی ختم نبوت کا منکر ہے۔

خنثی مشکل ہے۔ کیونکہ وہ مردانہ و زنانہ دونوں آلات رکھتا تھا۔ جیسا کہ اس کے الہام سے وضاحت ہو چکی ہے۔

(میرزا غلام احمد قادیانی) / ١٥٥٨ = ”شتوم اخیار“ / ١٥٥٨، وہ نیک اشخاص کو گالیاں دینے والا ہے۔ جیسے کہ اس کا قصیدہ اسے سباب و شاتم بناتا ہے۔

ختم نبوت کی بجائے اجرائے نبوت کو اپناتا ہے۔

قرآنی لفظ میں مرزا واہل مرزا کو مغلوب کہا گیا ہے۔

سے اسلام کا غدار ہے۔ کیونکہ اسلام سے جہاد کو خارج کرتا ہے۔

مثیل ہے۔ کیونکہ وہ ہمیشہ مناظرات سے بھاگتا رہا ہے۔

المسلمین (مہدی) کا غدار ہے۔ کیونکہ اس کا انکار کر کے خود مہدی بن گیا۔

ہے۔ کیونکہ قرآن وحدیث دونوں اس کو رسول خدا نہیں مانتے۔

رسول ہے۔ کیونکہ غلام کفار کبھی بھی رسول خدا نہیں بن سکتا۔

٢٠٣

صفحہ ٥١٢

چھوٹا خنزیر ہے۔ کیونکہ علمائے اسلام کو خنزیر کہتا ہے۔

حقیقتاً ہمیشہ کا غیر نبی ہے۔ کیونکہ غلام کفار رہا ہے۔

غیر خلیفہ ہے۔ کیونکہ غلام کفار بنا رہا۔

ضد ہے۔ کیونکہ ہمیشہ غلام قادر رہا۔

ابداً " / ١٥٤٨، اس نے ہمیشہ آیات قرآن میں خیانت کی ہے اور ان کا غلط مفہوم لیا ہے۔

دجلاً " / ١٥٤٨، وہ اپنی دجالیت کی وجہ سے احادیث رسول کا خائن ہے۔ کیونکہ ان کا غلط مفہوم لیتا ہے۔

حدیث نبی میں خیانت کی ہے۔ کیونکہ ان کا غلط مفہوم لیتا ہے۔

ہمیشہ سے سچے نبی کا غیر ہے۔ کیونکہ سچا نبی غلام کفار نہیں رہتا۔

علیہ السلام کی ضد ہے۔ کیونکہ مسیح بن باپ کے ہے اور یہ با پدر ہے۔

برطانیہ کا شیطان ہے۔ کیونکہ ان کے مفادات میں کام کرتا ہے۔

مناظرین اسلام سے گوہ کی مانند بھاگ جاتا ہے۔

کیونکہ اس کی قوم ختم نبوت اور حیات مسیح کی قائل ہے اور یہ شخص نہیں ہے۔

٢٠٤

ہے۔ کیونکہ غلام کفار رہا، اور سچا نبی غلام ک

احادیث نبویہ کی مخالفت کی ہے۔ کیونکہ ا

اور آزادی کی کوشش نہ کی۔

کفریہ عقائد رکھتا ہے۔

کافر ہے۔ کیونکہ کفریہ عقائد رکھتا ہے۔

ہے۔ کیونکہ آپ کی مانند آزادی پسند نہیں

ہے۔ کیونکہ یہی مسیح انگریزی مفادات ک

اس کے عقائد باطلہ اس کو نار جہنم میں

ہے۔ کیونکہ اسی کے مفاد میں کام کرتا رہ

زبان ہے۔ کیونکہ حرام خوری کا عادی ہے

اپنے آباؤ اجداد سے گمراہ شیطان ہے،

مطاع ہے۔ کیونکہ ہمیشہ مطیع برطانیہ رہ

صفحہ ٥١٣

ہے۔ کیونکہ غلام کفار رہا، اور سچا نبی غلام کفار نہیں رہتا۔

احادیث نبویہ کی مخالفت کی ہے۔ کیونکہ اس نے احادیث کا غلط مفہوم لیا ہے۔

اور آزادی کی کوشش نہ کی۔

کفریہ عقائد رکھتا ہے۔

کافر ہے۔ کیونکہ کفریہ عقائد رکھتا ہے۔

ہے۔ کیونکہ آپ کی مانند آزادی پسند نہیں ہے۔

ہے۔ کیونکہ یہی مسجد انگریزی مفادات کا کام کرتی رہی ہے۔

اس کے عقائد باطلہ اس کو نار جہنم میں لے گئے۔

ہے۔ کیونکہ اسی کے مفاد میں کام کرتا رہا ہے۔

زمان ہے۔ کیونکہ حرام خوری کا عادی ہے۔

اپنے آبا و اجداد سے گمراہ شیطان ہے۔

مطاع ہے۔ کیونکہ ہمیشہ مطیع برطانیہ رہا۔

٢٠٥

صفحہ ٥١٤

خدا کا غدار ہے۔ کیونکہ اس کی ختم نبوت کا منکر ہے۔

انبیاء کا متضاد آدمی ہے۔ کیونکہ اس نے ان کی مانند اقتدار پیدا نہیں کیا۔

شیطان ہے۔

اونچا مخنث اور نامرد ہے۔

شیطان کی اولاد ہے۔

غیر المہدی ہے۔

اغیار (برطانیہ) کا مہدی ہے۔

اپنے ملک کا غدار ہے۔

تیس دجالوں میں سے ایک دجال ہے۔

گمراہ کردہ آدمی ہے۔

وفادار ہے۔

خبیث تر آدمی ہے۔

٢٠٦

السلام کا مخالف آدمی ہے۔

کیونکہ کفریہ عقائد کو اپناتا ہے۔

کیونکہ خلاف اسلام کام کرتا ہے۔

کیونکہ وہ......

ہے۔ کیونکہ فرامین نبویہ کے خلاف

کیونکہ اس نے آزادی ملک کی کو

غداری کی ہے۔ کیونکہ سے اپنی ا

کیونکہ وہ غلام احمد ہو کر خود احمد ب

گیا۔ کیونکہ علمائے اسلام کو خنازی

دجالوں میں سے ایک دجال ہے

ہے۔ کیونکہ سب ادیان کو ملغوبہ

واجداد سے ہمیشہ کا زاغ قوم ہے

آنے والا مہدی مقتدر ہوگا اور

صفحہ ٥١٥

السلام کا متخالف آدمی ہے۔

کیونکہ خلاف اسلام کام کرتا ہے۔

کیونکہ کفریہ عقائد کو اپناتا ہے۔

ہے۔ کیونکہ فرامین نبویہ کے خلاف ہے۔

کیونکہ اس نے آزادی ملک کی کوشش نہ کی۔

غداری کی ہے۔ کیونکہ اسے اپنی مانند غلام کفار رکھا۔

کیونکہ وہ غلام احمد ہو کر خود احمد بن گیا۔

گیا۔ کیونکہ علمائے اسلام کو خنزیر کہتا ہے۔

دجالوں میں سے ایک دجال ہے۔ کیونکہ ان کی مانند مدعی نبوت ہے۔

ہے۔ کیونکہ سب ادیان کو ٹھونگتا ہے اور ان کے عیوب نکالتا ہے۔

واجداد سے ہمیشہ کا زاغ قوم ہے۔

آنے والا مہدی مقتدر ہوگا اور یہ شخص ہمیشہ غلام برطانیہ رہا۔

٢٠٧

صفحہ ٥١٦

کیونکہ حکومت برطانیہ نے اسے مہدی بنا کر کھڑا کیا تھا۔

کے ساتھ مشہور کذاب ہے۔

آدمی ہے۔ کیونکہ وہ آپ ﷺ کی مانند مقتدر نہ بنا اور غلام کفار رہا۔

کیونکہ اس کے عقائد خلاف اسلام ہو کر اوباشانہ ہیں۔

کیونکہ وہ ختم نبوت اور حیات مسیح سے اندھا رہا۔

کیونکہ اس کو حرام خوری کی عادت رہی ہے اور انگریز کا نمک خوار ہے۔

حرام خوری کرتا رہا ہے۔

نبوت کا منکر ہے اور اجرائے نبوت کا قائل ہے۔

ابالیس میں سے بڑا ابلیس ہے۔ کیونکہ جہاد اسلام کو حرام کہتا ہے۔

محمدی بیگم کے اغوا کی کوشش کرتا رہا اور ناکام رہا۔

کیونکہ شیطان ابتدائے نبوت کا اور یہ ختم نبوت کا منکر رہا۔

ہمیشہ غلام کفار رہا اور آزادی کی کوشش نہ کی۔

شیطانی عقائد رکھتا ہے۔

٢٠٨

خبیث مسیح ہے۔ کیونکہ وہ سچے مسیح ال

آدمی ہے۔ کیونکہ مدعی نبوت ہو کر ش

بالجحد‘‘/ ١٣٠٠، اس نے انکار او

کا زائغ القلب آدمی ہے۔

آدمی ہے۔ کیونکہ شیطانی عقائد کو ا

سے مختلف ہے۔ کیونکہ کافر اقتدار ک

کیونکہ اسی کے مفاد میں کام کرتا ہ

احادیث و آیات میں بے دھڑک

کیونکہ اسی کو اپنا خدا مانتا ہے اور اس

آبائی زاغ بطال ہے۔ کیونکہ باطل

ہے اور اہل اسلام کا غدار ہے۔

گمراہ شیطان ہے۔

واحادیث میں ٹیڑھی تاویلات کر

صفحہ ٥١٧

خبیث مسیح ہے۔ کیونکہ وہ سچے مسیح ابن مریم کا مخالف ہے۔

آدمی ہے۔ کیونکہ مدعی نبوت ہو کر ختم نبوت کا منکر ہے۔

بالجد“ / ١٣٠٠، اس نے انکار اور تکبر کیا اور وہ صحیح طور پر کافر ہے۔

کا زائغ القلب آدمی ہے۔

آدمی ہے۔ کیونکہ شیطانی عقائد کو اپناتا ہے۔

سے مختلف ہے۔ کیونکہ کافر اقتدار کا حامی ہے اور نازل ہونے والا مسیح ایسا نہیں ہوگا۔

کیونکہ اسی کے مفاد میں کام کرتا ہے اور مفاد اسلام کا مخالف ہے۔

احادیث و آیات میں بے دھڑک ہیرا پھیری کرتا ہے۔

کیونکہ اسی کو اپنا خدا مانتا ہے اور اس کے ہر حکم کی تعمیل کرتا ہے۔

آبائی زاغ بطال ہے۔ کیونکہ باطل عقائد کا موجد ہے۔

ہے اور اہل اسلام کا غدار ہے۔

گمراہ شیطان ہے۔

واحادیث میں ٹیڑھی تاویلات کرتا ہے اور ان کو غلط لکھتا ہے۔

٢٠٩

صفحہ ٥١٨

ساتھ اوّل وآخر کا حرامی آدمی ہے۔ کیونکہ جہاد اسلام کو حرام کہتا ہے۔

ٹھونگتا ہے اور ان کے عیوب نکالتا ہے۔

کا بیٹا ہے۔ کیونکہ وہ اپنے باپ کی داشتہ عورت چراغ بی بی کا بیٹا ہے۔

داشتہ عورت چراغ بی بی کا فرزند ہے۔

اسلام کو حرام کہتا ہے۔

آدمی ہے۔ کیونکہ وہ سب عقائد خبیثہ کا موجد ہے۔

کیونکہ علمائے اسلام کو پلید کہتا ہے۔

کیونکہ پلید عقائد کا موجد ہے۔

عقائد ضالہ کا موجد ہے۔

مردود عقائد کا موجد ہے۔

اس کے اشارات پر چلتا ہے۔

ہ)“ ٣٢٤/، وہ ہمیشہ کا ابلیس رجیم ہے یا اپنے آباؤ اجداد سے سخت تر ابلیس ہے۔

٢١٠

یورپ اس پر سوار ہے۔

شیطان ہے۔

ہے۔ کیونکہ کفریہ عقائد رکھتا ہے۔

نہیں ہے۔

کے خلاف بھونکتا ہے اور بکواس کرتا ہے۔

موجد ہے۔

ابداءً ٢٥٩/، یعنی مرزا کا پیروکار حرا

دوزخی آدمی ہے۔

ساتھ حرامی ہے۔ کیونکہ وہ جہاد اسلام

صفحہ ٥١٩

١٠٣......(مرزا قادیانی) /٤٤٤= ”بے راہ رَو“ /٤٤٤، ہے۔ کیونکہ صحیح راستہ سے ہٹ کر چلتا ہے۔

١٠٤......(مرزا قادیانی) /٤٤٤= ”مَطِی الافرنج“/٤٤٤، وہ یورپ کی سواری ہے اور یورپ اس پر سوار رہا ہے۔

١٠٥......(مرزا قادیانی) /٤٤٤= ”شیطان بآلہ و ابائہ“ /٤٤٤، وہ اپنی اولاد و آباء سے شیطان ہے۔

١٠٦...... (مرزا قادیانی) /٤٤٤ = ”مسیح کفور“ /٤٤٤، وہ کافر مسیح ہے اور مسیح اسلام نہیں ہے۔ کیونکہ کفریہ عقائد رکھتا ہے۔

١٠٧...... (میرزا) /٢٥٨ = ”بروز بطلاء“ /٢٥٨، وہ بطال لوگوں کا بروز ہے اور بروز نبی نہیں ہے۔

١٠٨...... (میرزا) /٢٥٨ = ”حمیر“ /٢٥٨، وہ گدھا ہے۔ کیونکہ سادات اور علمائے اسلام کے خلاف بھونکتا ہے اور بکواس کرتا ہے۔

١٠٩...... (میرزا) /٢٥٨ = ”نار ابد“ /٢٥٨، وہ ہمیشہ کی آگ ہے۔ کیونکہ ناری عقائد کا موجد ہے۔

١١٠...... (مرزائی) /٢٥٩ = ”(حرامی) /٢٥٩ یا (حماری) /٢٥٩ یا (نار ابداً) /٢٥٩“ یعنی مرزا کا پیروکار حرامی ہے یا حماری ہے یا ناری ابدی ہے۔

١١١...... (میرزائی) /٢٦٩ = ”ناری ابداً“ /٢٦٩، یعنی مرزائی آدمی ہمیشہ کا ناری اور دوزخی آدمی ہے۔

١١٢...... (المرزائی) /٢٩٠ = ”هو منافق ابداً“ /٢٩٠ یعنی مرزائی آدمی ہمیشہ کا منافق ہے۔

١١٣...... (الرزائی) /٢٩٠ = ”هو حرامی بابیہ“ /٢٩٠ یعنی مرزائی آدمی اپنے باپ کے ساتھ حرامی ہے۔ کیونکہ وہ جہاد اسلام کو حرام کہتا ہے۔

١١٤...... (المرزائی) /٣٠٠= ”هو نار الابد“ /٣٠٠ ہر مرزائی ہمیشہ کی آگ ہے۔

٢١١

صفحہ ٥٢٠

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

”رب اشرح لى صدرى ويسر لى امرى واحلل عقدة من لسانى يفقهوا قولى“

شہبازِ محمدی

قصيدة اللام على عقيدة الغلام

غلام احمد قادیانی کے عقیدہ کے خلاف ایک لامیہ قصیدہ

”فى حمد الله تعالى وثناء رسوله المصطفے“

خدائے اعلیٰ کی تعریف اور رسول مصطفےٰ کی مدح و ثناء میں

تعالى ربنا رب الجلال ونعلى المصطفى زُبّ الجمال

١...... ہم اپنے رب جلال پروردگار کو بالاترین کہتے ہیں اور حسن و جمال کے خلاصہ مصطفیٰ کو بالاتر مانتے ہیں۔

تعالى الله من كل سواه وبعد الله محمود معال

٢...... خدا تعالیٰ اپنے ماسوا ہر ایک چیز سے بالاتر ہے اور اللہ کے بعد حضرت محمود ہی بالاتر ہے۔

على ربنا فى كل وصف ومحمودٌ ١؎ على فى الرسال

٣...... ہمارا رب اپنی ہر ایک صفت میں اونچا ہے اور حضرت محمود اپنی رسالت میں اونچے ہیں۔

هو الله المليك لكل خلق وعلام الخفايا والجوال

٤...... وہی خدا اپنی سب مخلوق کا مالک ومختار ہے اور سب خفی وجلی اشیاء کا جاننے والا ہے۔

وحضار بربوات و وادٍ ونظار السوافل والعوال

٥...... وہ ہر اونچ اور نیچ میں حاضر ہے اور ہر پست و اونچ کو دیکھنے والا ہے۔

هو الخلاق للمخلوق جمعاً ومنهم احمد المختار عال

٦...... وہی خدا اپنی ساری مخلوق کا خالق ہے اور ان میں سے برگزیدہ احمد بالاتر ہے۔

نبى حامد محمود رب ومحبوب السجايا والخصال

٧...... آپ نبی ہو کر اپنے پروردگار کے حامد ومحمود ہیں اور پیارے عادات و شمائل رکھنے والے ہیں۔

علا مخلوق رب فى جمال وحسن ثم اوصاف الكمال

١؎ محمود آنحضرت ﷺ کا صفاتی نام اور پھر محمود و محمد تقریباً مترادف المعنی ہیں۔

٢١٢

٨...... وہ اپنے حسن و جمال اور اوصاف کمال

لهدى قد اتانا نور رب

٩...... ہماری رہنمائی کے لئے روشن نشاں

ومحمود نبى الخلق جمعاً

١٠...... حضرت محمود سب مخلوقات کے نبی

اتاهم بعد فتر من نباء

١١...... آپ ختم نبوت کے بعد اولین و آخر

الى من بعد نباء جميعاً

١٢...... بغیر کسی گفتگو کے آپ تمام انبیاء

رضينا انما بختام نبأ

١٣...... بلاشبہ ہم ختم نبوت پر راضی ہیں۔

وما هذا بختم النبأ قال

١٤...... صرف یہی شخص ختم نبوت کا بدخواہ

ومن الغى ختام النبأ ديناً

١٥...... جس شخص نے دین کے اندر ختم نبوت میں سے ایک ہے۔

فباديهم مسيلمة كذوب

١٦...... پس ان کا قائد مسیلمہ کذاب ہے

ولكن المسيلم مثل ال

١٧...... لیکن مسیلمہ کذاب اولاد کی مانند

نبى المصطفى شمس لنبأ

١٨...... ہمارے نبی مصطفیٰ ﷺ نبوت کے

وغير المصطفى من انبياء

١٩...... اور مصطفیٰ ﷺ کے بغیر تمام انبیاء

ونباء اضوا منه جميعاً
صفحہ ٥٢١
لهدی قد اتانا نور رب بايات براهين جوال
ومحمود نبی الخلق جمعاً ومرسول المهم بالجلال
اتاہم بعد فتر من نباء بحسنات الاواخر والاوال
اتی من بعد نباء جميعاً بختم النبأ من غير مقال
رضاء النبا بختام نباً ولكن ذا غلام فيه قال
وما ہذا بختم النبأ قال فقط بل قوم ہذا من قوال
ومن الغی ختام النبأ ديناً فذا فی الدين اصحاب الضلال

میں سے ایک ہے۔

فبادیہم مسيلمة کذوب وتاليہم مغل من مغال
ولکن المسيلم مثل ال وہذا مثل اباء لآل
نبی المصطفی شمس لنبأ تجلت بالرفاع والمعال
وغير المصطفی من انبیاء نجوم للنباء والرسال
ونباء اضوا منہ جميعاً وفاتوا غیر عیسی فی معال

٢١٣

صفحہ ٥٢٢

٢٠...... اور آپ کی جانب سے سب انبیاء نبی بن کر چکے اور اوج میں رہنے والے عیسیٰ کے بغیر سب فوت ہو گئے۔

حديث المصطفى افشاه حياً وافشاه بقياً بالآصال

٢١...... حدیث مصطفیٰ ﷺ نے اس کو زندہ ظاہر کیا ہے اور اس کو اصلیت کے ساتھ باقی رہنے والا ظاہر کیا ہے۔

بل ابقاه بقياً ثم حياً لنفخات لجبريل معال

٢٢...... بلکہ اسے بالا تر جبریل کی پھونکوں نے باقی رہنے والا اور پھر زندہ رکھا۔

ولما يأت نجماً بعد شمس يكن مرأ كأمثال الرجال

٢٣...... اور جب وہ آفتاب نبوت کے بعد ستارہ بن کر آئے گا تو وہ مردوں کی طرح ایک مرد ہوگا۔

ضياء الشمس يطفى نور نجم ونبأ المصطفى اطفى الرسال

٢٤...... سورج کی روشنی ستارے کی روشنی کو بجھا دیتی ہے اور مصطفیٰ ﷺ کی نبوت رسالت کو بجھانے والی ہے۔

تجلى بعد نباء جمعاً كشمس بعد انجام الليال

٢٥...... آپ ﷺ تمام انبیاء کے بعد اس طرح روشن ہوئے جس طرح رات کے ستاروں کے بعد سورج چمکتا ہے۔

خفت انجمها من نور شمس وهم من نبأ محمود المعال

٢٦...... راتوں کے ستارے سورج کے نور سے چھپ گئے اور وہ انبیاء حضرت محمود ﷺ کی بالا تر نبوت سے مستور ہوئے۔

له خلق عظيم من اله ورحم رأفة خير الخلال

٢٧...... آپ ﷺ کو خدا تعالیٰ کی طرف سے خلق عظیم رحم و شفقت جیسے بہترین عادات حاصل ہوئے۔

كسيف خلقه قتال كفر ردى من خلقه كفر بآل

٢٨...... آپ کا خلق تلوار کی مانند قاتل کفر ہے اور کفر اپنی آل سمیت اخلاق نبی سے ہلاک ہو گیا۔

نبي فاق نباء جميعاً بعادات واخلاق جمال

٢٩...... آپ نبی بن کر تمام انبیاء سے اپنے حسین عادات و اخلاق کی وجہ سے فائق رہے۔

على اتباع رحما رؤف الى وقت تلا القرآن تال

٣٠...... جس وقت تک قرآن کا قاری قرآن پڑھے گا، آپ اپنے تابعین پر رحیم و رؤف رہیں گے۔

٢١٤

نبي يختم البناء جمعاً

٣١...... آپ نبی بن کر سب انبیاء کو خت...

ومحمود الاله رسول ر...

٣٢...... خدا تعالیٰ کا محمود ﷺ نبی اور...

ومن في ارضنا او فوق ارض...

٣٣...... اور ان انسانوں اور پہاڑی حیو...

ومن هم تحت عرش في سم...

٣٤...... اور عزرائیل و جبریل اور میکائیل...

على محمودنا منا صلو...

٣٥...... ہماری طرف سے حضرت محمو...

له من ربنا ايضاً صلو...

٣٦...... ہمارے رب کی طرف سے بھی...

وايضاً من ملائك ثم نام...

٣٧...... نیز آپ ﷺ پر ملائکہ اور پھر...

في الا...

آل رسول اور...

ومن رب صلوة مع سلا...

٣٨...... آپ ﷺ کے پاک آل وا...

هما عينان للاسلام حنف...

٣٩...... سچ مچ وہ دونوں آل واصحاب...

روشنیاں ہیں۔

وفی الاسلام ال ثم صحب...

١ معال دراصل معالی بضرورت... ٢ رسال جمع رسالہ بمعنی... ٣ لیال جمع لیل بمعنی... ٤ خلال جمع خلت بمعنی...

صفحہ ٥٢٣
نبى يختم الانباء جمعاً كما القرآن ختام الملال١
ومحمود الاله رسول رب الى اهل الاسافل والاعال
ومن فى ارضنا او فوق ارض من انسان وحيوان الجبال
ومن هم تحت عرش فى سماء كعزريل وجبريل مكال
على محمودنا منا صلوٰة سلام باللسان والبوآل٢
له من ربنا ايضاً صلوٰة سلام دائماً بالتوال
وايضاً من ملاك ثم ناس صلوٰة مع سلامات زلال٣

فى الآل والاصحاب

آل رسول اور اصحابِ رسول کے بارے میں

ومن رب صلوٰة مع سلام على ال واصحاب كمال٤
هما عينان للاسلام حقاً ونوران لدين ذى كمال

روشنیاں ہیں۔

وفى الاسلام ال ثم صحب جناحان لدين فى الاصال

٢١٥

صفحہ ٥٢٤
فاسلام بهذین طیر باجلال على رأس الملال
وان کسرتم منه جناحاً جعلتم دینکم دین العطال
فدینی ذو جناحین یقیناً ودین الشیع هاو فی الوبال
ومن من مسلم عادى صحاباً هوى في نار غى والضلال
فآل ثم اصحاب جميعاً عدول في وفاء في عمال
فمن ال حسين ذو معال وبوبكر من الاصحاب عال
فعمر ثم عثمان على كما فازوا بدرجات الدوال
وقد افشى نبى ان قرنى خيار من قرون ١؎ من جيال
علمنا ان قرنى قد اشارت الى الخلفاء من بعد الرسال
ففي قرنی هنا قاف وراء ونون ثم ياء بالزلال
فمن صديقنا قاف هناكم ومن عمر هنا راء الجلال
ومن عثمان نون وسط قرنی وياء من على ذى معال

١؎ یہ شعر ایک حدیث نبی سے لیا گیا ہے۔ خیر القرون قرنی ۔الخ!

٢١٦

صفحہ ٥٢٥
فمن قرنى تجلى امر حق وامر الحق حق للمقال
فمن من بعد قرنى ضل عمداً ردى فى نار كذب بالسهال
فبايع قاف صديق بصدق وبايع راء ذا عمر ببال

تابع بن جا۔

وبايع نون عثمان غنى وياء من على ذى كمال
على خاتم الخلفاء حقاً وباديهم ابوبكر معال
فحب الآل والاصحاب جمعاً لنا دين من الاديان عال
ومن منا خلا عن حب آل مضى فى تيه غى بالكمال
ومن منا تنحى عن صحب صلى فى نار غى والضلال
لهذا حب ال حب صحب لنا نوراً عيون كل حال
لاسلام هما عينان حقاً فاسلام بصير بالجلال
فمن من مسلم عادى صحاباً فهم عوران دين فى الاصال
ايا اعداء اصحاب كرام بصحب فوارجعاً بالهوال
ام العجلان للاسلام عرياناً بلا عجليه ذا آل العطال

٢١٧

صفحہ ٥٢٦

٦٥....... یا بطور گاڑی کے اسلام کے دو پہیے ہیں، دو پہیوں کے بغیر یہی گاڑی بیکاری کا آلہ ہے۔

فى الغلام الهندى والمبحث المذى

ہندی غلام احمد اور موضع مد کی بحث گاہ کے بارے میں

سـمـعـنـا المـدمـدت لـلـجـدال عـلـى رفـعـات عـيـسـى بـالـجـلال

٦٦....... ہم نے قصبہ مد کے بارے میں سنا کہ وہ عیسیٰ کے شاندار رفع پر مناظرہ کرنے کے لئے مقرر کیا گیا۔

اتـى فـيـهـا ثـنـاء الله مـنـا وضـلـيـلان جـاء مـن بـطـال

٦٧....... اس میں ہماری طرف سے مولوی ثناء اللہ آیا اور باطل کی طرف سے دو گمراہ آدمی آگئے۔

فـريـق قـد رأى قـالـيـه فـيـهـا بـنـظـرات وابـصـار قـوال

٦٨....... اس میں ایک فریق نے اپنے دشمنوں کو دشمن نظروں اور آنکھوں سے دیکھا۔

اتـى فـيـهـا فـريـقـان بـكـتـب وقـرطـاس واقـلام طـوال

٦٩....... اس میں دونوں فریق اپنی کتابیں کاغذات اور لمبی قلمیں لے کر کے آگئے۔

تـمـنّـى كـل نـفـس فـوز نـفـس بـرهـانـات عـقـل او نـقـال

٧٠....... ہر شخص نے عقلی یا نقلی دلائل کے ساتھ اپنی کامیابی کی تمنا کرلی۔

تـمـنـا ان يـكـون ظـفـيـر ثـان ولـان عـنـده غـاو وقـال

٧١....... ہر ایک نے تمنا کی کہ وہ دوسرے سے کامیاب ہو جائے اور دوسرا اس کے نزدیک گمراہ اور بدخواہ رہا۔

اتـوا فـى سـاحـة مـنـهـا بـبـعـد عـلـيـهـا ظـل شـجـرات ظـلال

٧٢....... وہ سب آدمی مد سے دور ایک میدان میں آگئے۔ جس پر سایہ دار درختوں کا سایہ تھا۔

اتـى فـى سـاحـة خـلـق كـثـيـر لـسـمـع الـبـحـث مـن صـحـب المـقـال

٧٣....... میدان کے اندر بہت سے لوگ گفتگو کرنے والوں سے بحث سننے کے لئے آگئے۔

جـرى بـحـث الـى الـيـومـيـن فـيـهـا بـسـئـلات واجـوبـة سـوال

٧٤....... تسلی بخش سوالات و جوابات کے ساتھ اس میں دو دنوں تک بحث جاری رہی۔

ثـنـاء الله اهـوى جـادلـيـه بـرهـان عـلـم او عـقـال

٧٥....... ثناء اللہ نے اپنے دونوں جھگڑالوؤں کو علمی یا عقلی دلائل سے گرا دیا۔

تـجـلّـى فـلـج حـق مـن ثـنـاء وهـزم قـد هـوى فـوق الـبـطـال

٧٦....... ثناء اللہ کی طرف سے حق کی

فـقـامـا ثـم فـرا بـعـد هـ

٧٧....... پس شکست کے بعد دونوں فر

مـشـى فـى خـلـفـهـم خـلـق كثيـ

٧٨....... ان کے پیچھے اونچی تالیوں اور

عـلـت فـى خـلـفـهـم نـعـرات هـ

٧٩....... ان کے پیچھے شکست کے نعر

ولـمـا عـايـنـاه مـن قـريـب

٨٠....... جب ان دونوں نے قریب سے

بـكـوا فـى حـضـره غـمـا وهـمـ

٨١....... اس کے سامنے غم و ہم سے رو

فـبـاتـوا حـيـراً مـن ذل هـز

٨٢....... پس انہوں نے ہزیمت کی ذل آرام نہ کیا۔

ولانـا مـوا عـلـى الافـراش ليـل

٨٣....... وہ نہ رات کو بستروں پر سوئے

وايـاهـم رأو غـرقـى بـنـدمـ

٨٤....... انہوں نے اپنے آپ کو ندامت

فـلـمـا انـجـلـت شـمـس بصـبـح

٨٥....... جب صبح کو سورج روشن ہوا تو ا

افـاقـوا بـعـد مـا بـاتـوا كـمـيـت

٨٦....... بلا کلام ان کو اپنے بستروں پر ا

اتـى النـمـرزا بـمـفـكـره سـريـع

٨٧....... مرزا قادیانی فریب و مکر یا کھوٹ

تـحـرى مـخـلـصـاً مـن ذا بـداه

٨٨....... اس نے بعد وقت کو چھوڑ کر فر

صفحہ ٥٢٧
فقامـا ثـم فـرا بعـد هـزم الـى الـمـرزا بنـدم والـذلال
مشـى فـى خـلـفهـم خـلـق كـثيـر بصـفقـات ومـكـات عـوال
علـت فـى خـلـفهم نعـرات هـزم وسـعـلات واصـوات الـسـعـال
ولمـا عـايـنـاه مـن قـريـب تـحـنـا لـلـسـلام والمـقـال
بكـوا فـى حـضـره غـمـا وهـمـاً وافـشـوا هـزمهـم فـي ذا الـجـدال
فـبـاتـوا حـيـراً مـن ذل هـزم ومـا قـالـوا نـهـاراً مـن خـجـال

آرام نہ کیا۔

ولانـامـوا عـلـى الافـراش ليـلاً ولا ارتـاحـوا بـزوجـات وال
وايـاهـم رأو غـرقـى بـنـدم وحـرقـى وسـط نـيـران الخـجـال
فـلمـا انـجلـت شـمـس بصـبح افـاقـوا ثـم خـاضـوا فـى الحـبـال
افـاقـوا بعـدمـا بـاتـوا كـمـيـت عـلـى افـراشهـم مـن غـيـر قـال
اتـى الـمـرزا بـمـفـكـره سـريعـاً لـفـكـر الـمـكـر او فـكـر الفـلال
تـحـرى مـخـلـصـاً مـن ذا بـنـدام بـوقـت عـاجـل لاذى عـجـال

٢١٩

صفحہ ٥٢٨
وهــذا الـيــوم اضــحــى مـثــل عــام عــلــيــه او كــجــبــل مــن جــبــال
فــكــان الــغــم يــلــقــيــه لــوجــه ويــمــطــوه كــركــبــان الــبــغــال
ويــمــشــيــه الــى غــرب وشــرق ويــعــديــه بــجــنــب او شــمــال
ويــرقــيــه كــقــرد او كــدب ويــلــقــيــه بــتــرب او رمــال
ويــقــعــيــه بــوقــت ثــم وقــتــا يــرقــيــه كــعــاص مــن طــفــال
ويــلــهــيــه بــوقــت فــی كــتــاب وفــی وقــت بــطــفــل او عــيــال
ووقــتــاً فــی ســبــاب ابــی وفــاء ووقــتــاً فــی حــســيــن ذی كــمــال
ووقــتــاً فــی عــلــی جــولــری فــقــيــه عــالــم اهــل الــعــمــال
ووقــتــاً فــی عــلــی حــائــری فــقــيــه جــعــفــری بــالــمــلال
ووقــتــاً فــی نــذيــر دهــلــوی شــهــيــر فــی احــاديــث الــرســال
ووقــتــاً ســب ظــفــر الــديــن حــمــقــاً ووقــتــاً ســب روحــی الــفــعــال

کو سب وشتم کیا۔

ولــمــا مــل مــن ســب وشــتــم امــال الــنــفــس فــی مــحــو الــخــجــال
فــبــل الــقــلــم فــی حــبــر غــضــوبــاً وقــال الــمــلــمــات لــلــخــيــال

٢٢٠

ولامــد کــمــا هــذا وهـ

ساتھ جنگ کی ہے۔

بــل الـمـد لـنـا حـصـن
اتــى فـيـهـا كـل وبـاء مـ
فــكــانــا عــنــدنــا جــوتــی

جوتی بن گیا۔

قــصــیــدا مــن ثــنــاء الل
ثــنــاء اللـه ســمــاک
فــکــذابــان فــی مــد
هــزام فـیـهـمـا قـتـل لـ
هــمــا قــد اغـلـبـا فـی قـ
هــوى مــغــل بــقــدر ال
غــلــى فــی قــدر هـم
لــه قــد صــارهــم ق
صفحہ ٥٢٩

١٠١....... پھر غضبناک ہو کر قلم کو سیاہی میں ڈبو دیا اور کہا کہ قصیدہ کو فساد کے لئے مقرر کیا گیا ہے۔

ولا مد كما هذا وغاها باشعار وانثار صلال

١٠٢....... اور قصیدہ ایسا نہیں ہے جیسا کہ اس شخص نے اپنے سانپ نما اشعار ونثر سے اس کے ساتھ جنگ کی ہے۔

بل المدلنا حصن حصين يحامينا يوافينا يوالى

١٠٣....... بلکہ قصیدہ ہمارے لئے ایک مضبوط قلعہ ہے جو ہمارا حامی و وفادار اور دوست ہے۔

اتى فيها كذوباه صباحاً بكذب او خداع او دجال

١٠٤....... اس میں صبح سویرے اس کے دو کذاب جھوٹ یا فریب ومکاری لے کر کے آگئے۔

فكانا عندنا حوتی غدير وصار المد حوضا للبطال

١٠٥....... پس وہ دونوں ہمارے نزدیک حوض کی دو مچھلیاں بن گئیں اور قصیدہ بطالوں کے لئے حوض بن گیا۔

فصيدا من ثناء الله حقا بضربات البراهين الثقال

١٠٦....... سچ مچ وہ دونوں ثناء اللہ کی طرف سے بھاری دلائل کی چوٹوں سے شکار ہو گئے۔

ثناء الله سماك بمد بشبكات الدلائل والشكال

١٠٧....... مولوی ثناء اللہ دلائل کے جال اور رسیوں کے ساتھ مد کے اندر ایک مچھلی گیر ہے۔

فكذابان فى مد اصيدا بايات احاديث جوال

١٠٨....... دونوں کذاب مد کے اندر روشن آیات واحادیث سے شکار کر لئے گئے۔

هزام فيهما قتل لحوت وحوت ميت فى القدر غال

١٠٩....... ان دونوں کی شکست ایک مچھلی کا قتل ہے اور مردہ مچھلی ہانڈی میں ابلنے والی شئی ہے۔

هما قد اغليا فى قدر هزم وفى ذا القدر هذا من غوال

١١٠....... وہ دونوں ہزیمت کی ہانڈی میں ابالے گئے اور اسی ہانڈی میں یہ بھی ابلنے والوں سے بن گئے۔

هوى مغل بقدر الهزم ذلا وذل الهزم قتل للمغال

١١١....... ایک مغل ذلت کے ساتھ شکست کی ہانڈی میں گر گیا اور شکست کی ذلت مغلوں کا قتل ہوتا ہے۔

غلى فى قدر هزم ثم غم الى موت اليم بالدمال

١١٢....... یہ شخص شکست کے غم سے اپنی ہیضہ والی دردناک موت تک ابلتا رہا۔

له قد صار هم ثم هزم كثوبی كفنه عند الغسال

٢٢١

صفحہ ٥٣٠
مضى فى قبره بهما سريعاً وهذا فيهما فى القبر صال
غلام هازم فى القبر بال وهزم فوق قبر غير بال
ثناء الله فى مد كاسد وغولا الميرزا مثل الثعال
اتى فى مدنا غولا غلام الى صراع غول فى الجدال
هوى هذان فى بحث بمد واسد المد عال فى مقال
هما نالا هزاماً فى مقال ونال الفوز اسد بالسهال
مطاعم الهزام على غلام كما يمطوا لركوب على البغال
غلام احمد بالهزم مترع وفى بحث من الفوزات خال
هزام فيه قبل الموت حى وهذا فيه بعد الموت صال
وما هذا فقط فيه بصال بل الامغال فيه من صوال
علا هذا الثناء بلا خلاف على غوليه فى كسر البطال
فتراها رمين الى مغال بندمات وخجلات ثقال

٢٢٢

بھاگ نکلے۔

الم تعلم بان الغول مـ
سمعنا ان غولاً من فـ
اتى فى غيله ليلاً بطـ
الم تعلم بان جهاد
اتى من قاديان غول کـ
دجال فيه قبل الموت حـ
ثناء الله من فوز محـ
وفى مد ثناء الله ا
دعا اسد شغاليه ليـ

کے لئے دعوت دی۔

جرى فى مدنا بحث و
مضى يومان فى بحث مـ
الا غولا غلام احـ
صفحہ ٥٣١

بھاگ گئے۔

الم تعلم بان الغول عادٍ لولدان واطفال علال
سمعنا ان غولاً من فلاۃ بلیل صاد طفلاً باغتیال
اتی فی غیله لیلاً بطفل فارداه بسعلیٰ والشبال
الم تعلم بان جهاد دین لاسلام کآل واولاد وال
اتی من قادیان غول کفر فاردی ذا جهاداً بالدجال
دجال فیه قبل الموت حیّ وبعد الموت فی اهل وآل
ثناء الله من فوز محلّیٰ وهذا من فواز غیر حال
وفی مدّ لثناء الله اسد وغولاه بمدّ کالشغال
دعا اسد شغالیه لبحث علیٰ رفع بعیسیٰ ذی معال

کے لئے دعوت دی۔

جریٰ فی مدّنا بحث ووعظ من اصباح الیٰ عتم الاصال
مضیٰ یومان فی بحث وجدل وما فی بحثه اسد ینال
الا غولا غلام عند اسد کما یألو طفل من رجال

٢٢٣

صفحہ ٥٣٢

١٣٧...... شیر کے سامنے غلام احمد کے دونوں غول عاجز رہے۔ جیسا کہ جوانمردوں سے چھوٹا بچہ عاجز رہتا ہے۔

تسوّی غول فلو مع غلام وهذا قادیان مع مغال

١٣٨...... جنگل کا غول غلام احمد کے برابر ہے اور یہی قادیان غول گاہ کے برابر رہا۔

فى ختم النبوة واجرائها

ختم نبوت اور اجزائے نبوت کے بارے میں

وان المصطفےٰ شمس لنبأ اخافت کل نبآت جوال

١٣٩...... بلاشبہ حضرت مصطفیٰ نبوت کا سورج ہے جس نے تمام چمکدار نبوتوں کو چھپادیا۔

واما غیرہ من انبیاء کانجام ضوئات اللیالی

١٤٠...... اور اس کے بغیر دیگر انبیاء کرام راتوں کے چمکدار ستاروں کی مانند ہیں۔

فلما شمس نبآت تجلت خفت انـجـام نبأ بالكمال

١٤١...... جب نبوتوں کا سورج چمکا تو نبوت کے ستارے مکمل طور پر چھپ گئے۔

ولما نبآ نبآت تجلّی خفت نبأتهم تحت الخمال

١٤٢...... اور جب نبوتوں کی نبوت چمک اٹھی تو ان کی نبوتیں گمنامی کے تحت چھپ گئیں۔

فنباء خفوا منه جميعاً فما من بعده احد بحال

١٤٣...... آپ ﷺ کے آنے سے تمام انبیاء چھپ گئے۔ پس آپ ﷺ کے بعد کوئی بھی نبوت میں چمکدار نہ رہا۔

واما بعده عیسٰی فمرء فیأتی بعده مثل الرجال

١٤٤...... لیکن آپ کے بعد عیسیٰ علیہ السلام صرف ایک مرد ہے۔ پس وہ آپ کے بعد مردوں کی مانند آئے گا۔

ولا یأتی نبیاً او رسولاً الى ارض لنا بعد النزال

١٤٥...... وہ نزول کے بعد ہماری زمین کی طرف، نبی یا رسول بن کر نہیں آئے گا۔

ویأتی تابعاً قرآن حق ولا تورة موسٰی لا اذال

١٤٦...... وہ سچے قرآن کا تابعدار بن کر آئے گا اور تورات و اناجیل کا متبع نہیں ہوگا۔

نبی المصطفےٰ ختام نبأ کما القـرآن ختام الملل

١٤٧...... نبی مصطفیٰ نبوت کے خاتم ہیں۔ جیسا کہ قرآن مجید ادیان کا خاتم ہے۔

٢٤٤

صفحہ ٥٣٣
وفى القرآن ذا ختام نبأ وماذا فيه ختام الرجال

١٤٨...... آپ قرآن مجید میں خاتم النبوت ہیں اور اس میں خاتم الرجال نہیں ہیں۔

فعيسى بعده يأتى كمرأ ولا يأتى كنباء عوال

١٤٩...... پس عیسیٰ علیہ السلام آپ کے بعد ایک مرد کی مانند آئے گا اور بالاتر انبیاء کی مانند نہیں آئے گا۔

قرأنا هكذا فى دين حق وقرآن حديث ذى معال

١٥٠...... ہم نے دین حق اور قرآن مجید اور مرفوع حدیث میں اسی طرح پڑھا ہے۔

فعيسى نازل فينا كعيسى ولا كمثل عيسى ذى رسال

١٥١...... پس عیسیٰ علیہ السلام ہم میں ایک عیسیٰ کی مانند اترنے والا ہے اور عیسیٰ رسول کی مانند نہیں ہوگا۔

الم تعلم بان رسول حق بحق قال فى عيسى معال

١٥٢...... کیا تو نہیں جانتا کہ سچے رسول نے اونچا رہنے والے عیسیٰ کے متعلق بالکل سچ کہا ہے۔

نبى قال حلفاً ثم حقاً وفيكم نازل عيسى كوال

١٥٣...... میرے نبی نے قسم کھا کر سچ کہا ہے کہ عیسیٰ تمہارے اندر ایک والی و حاکم کی مانند نازل ہوگا۔

واما ذا غلام عند حق فدجال الثلثين الدجال

١٥٤...... لیکن خدا تعالیٰ کے نزدیک یہی غلام تیس دجالوں میں سے ایک دجال ہے۔

اتى فينا بدجل من فرنج والفرنج شروا هذا بمال

١٥٥...... وہ فرنگیوں سے فریب لے کر کے ہم میں آ گیا اور فرنگیوں نے اس کو مال و زر کے ساتھ خرید لیا۔

فهذا مشترى منهم بنقد وفى رجليه نقد كالعقال

١٥٦...... یہ شخص نقدی کے ساتھ خریدا ہوا مال ہے، اور نقدی اس کے دونوں پاؤں میں لگی ہوئی ایک رسی ہے۔

اتى فينا لتفريق شديد لآباء من ابناء وآل

١٥٧...... وہ ہم میں باپوں کو بیٹوں اور اولاد سے جدا کرنے کے لئے آ گیا۔

عوى فينا كذئب او ككلب على ختام نبأ والرسال

١٥٨...... وہ ہم میں آ کر بھیڑیے یا کتے کی مانند نبوت و رسالت کے خاتم پر چیخا چلایا۔

ختام النبأ عندى مع رسال وليدان لاسلام عوال

١٥٩...... میرے نزدیک ختم نبوت بمعہ ختم رسالت کے، بالاتراسلام کے دو بچے ہیں۔

٢٢٥

صفحہ ٥٣٤
هـمـا قـد او ذيـا من ناب ذئب كـنـاب عـنـدنـا قـلـم المـغـال

ایک کچلی ہے۔

أذيـان هـمـا فـى قـاديـان وهـذا قـاديـان كـالمـغـال
غـلام كـافـر مـا كـان عيـسى وعيـسـى ذو جـهـاد ذو قـتـال
غـلام قـد نـهـانـا عن جهـاد بـفـقـد العـقـل او ذوق الجهال
وعيـسـى قـائـل بـجهـاد ديـن وقـتـال لا صـحـاب الـدجـال
وعيـسـى قـائـل بـخـتـام نـبـأ وهـذا عـن خـتـام الـنـبـأ خـال
وهـذا فـى خـتـام الـنـبـأ مـوذ وعـاد ثـم بـاغ ثـم قـال
وعيـسـى فـى خـتـام الـنـبـأ واف وصـاف ثـم واق ثـم وال
سـيـأتـى وافـيـاً بـخـتـام نـبـأ ووقـاء لـه فـى كـل حـال
يـعـادى كـل مـن يـجـرى نـبـوة ويـقـلـيـه بـقـال ثـم بـال
ويـأتـى عـنـدنـا حـكـمـاً وعـدلاً وفـصـال المـجـادل بـالعـدال
وقـسـام الـغـنـائـم بـعـد حـرب بـعـدل فـى غـزاة بـالنـبـال

والا بن کر آئے گا۔

٢٢٦

وكـتـاراً لإ عـلام صـ

عادت ہوتی ہے۔

وقـتـالاً لـخـنـزيـر عـ
ووضـاع الجـزيـا عـن ز
ولـكـن ذا غـلام عـبـد كـ
مـشـى يـومـاً وليـلاً تـحـت
عـلـيـه قـد عـلا حـكـام
فـمـشـوه كـخـيـل او حـ
كـعيـسـى لـم يـكـن هـذا و
وهـذا جـاء نـا مـركـوب
اهـذا مـثـل عيـسـى او
عـلـمـنـا انـه غـا
عـلـمـنـا خـتـم نـبـأ
خـتـام الـنـبـأ رأس الـديـ
صفحہ ٥٣٥
وكـسّـاراً لإِعلام صلاب كمـاذا داب غـزاء الـجـدال

عادت ہوتی ہے۔

وقـتـالاً لـخـنـزيـر عـويـر كـمـاذا داب غـزاء الـجـدال
ووضـاع الجـزا يـا عن رقـاب وقبـالاً لـديـن ذي كـمـال
ولـكـن ذا غـلام عـبـد كفر ومـاش تـحت كفـر كـالنمال
مشـى يـومـاً وليـلاً تحـت كفر كنعـل تـحـت رجلات الرجـال
عليـه قـد عـلا حـكـام كـفـر كـسواس عـلا متـن البـغـال
فـمشوه كـخـيـل او حـمـار بقـهـر القـول او نهـر الجـلال
كـعيسـى لم يـكن هـذا وعيـسـى سيـأتـي من سمـوتٍ عـوال
وهـذا جـاء نـا مـر كـوب كـفـر الـى ان مـات مـوتـاً بـالـوبـال
اهـذا مثـل عيسـى او مسـيح او المـهـدى لا بـل مـن دجـال
عـلـمـنـا انـه غـاو ومغـو وهـاو فـي دجـال او ضـلال
عـلـمـنـا خـتـم نبـأ ختـم ديـن ونقـض الخـتـم وقـع فـي الـوبـال
ختـام النبـأ رأس الـديـن حقـاً وقـطع الـرأس جـرم كـالـقتـال

٢٢٧

صفحہ ٥٣٦
الم تعلم بان غلام هند ازال الرأس عن دين الكمال
فهذا دينه من غير رأس وذافى دينه ميت المآل
لما ذا اختار ذا ديناً مويتاً ودين ميت دين العطال
واخبرنا بان ختم نبأ كعقد الذهب في جيد الغزال

میں ہوتا ہے۔

ازال العقد عن دين بدجل فهذا سارق في الدين عال
جزاء السرق في الاسلام قطع وذا فى الدين مقطوع الفعال
ختام النبأ عندى بدرتم وعند الغير بدر كالهلال
بل ابدوا خبث نفس ثم قالوا بدين ختم نبأ كالثفال
تحلى ديننا بختام نبأ ودين الغير من ذا غير حال
ختام النبأ من حليات دين ودين الغير دين ذو عطال
ختام النبأ عندى نور شمس ومن عاداه خفاش المقال
ختام النبأ ماء ذو شفاء وهذا عند اغيار كآل

٢٢٨

وعند الغير ختم النب...
وان الأل دجال لعظ...
كما انا بامواه جم...
فمن منا خلا عن خت...
ختام النبأ لى مال ع...
ختام النبأ للكفار...
ختام النبأ لى دين ج...
وللاسلام ختم النب...
لدين ختم نبأ عين بـ...
فيا لعينين اسلام بـ...
رأيناه بعينه بـ...

سے خالی ہے۔

هوى عن ذين فى حفر...

میں گرتا ہے۔

صفحہ ٥٣٧
وعند الغير ختم النبأ آل وعندى مثل ماءٍ ذى زلال
وان الآل دجال لعطشى واذائى ختم نبأ ذو دجال
كما انا بامواه حيينا كذا دينى بختم النبأ جال
فمن منا خلا عن ختم نبأ فذا حقاً عن الاسلام خال
ختام النبأ لى مال عزيز وهذا سارق عالٍ لمالى
ختام النبأ للكفار نار وذائى النار غالٍ ثم صال
ختام النبأ لى دين جلى وهذا ملحد فيه محال
وللاسلام ختم النبأ عين ودين دونه ميت المقال
لدين ختم نبأ عين يمنىٰ ويسرىٰ عينه ختم الرسال
فبالعينين اسلام بصير ودين الغير اعمى كل حال
رأيناه بعينه بصيراً ودين الميرزا عن ذين خال

سے خالی ہے۔

هوىٰ عن ذين فى حفرات كفر كهاوٍ فى حفار من جبال

میں گرتا ہے۔

٢٢٩

احمد

صفحہ ٥٣٨
الم تعلم بان غلام کفر لختم النبأ عاد لم قال
نهانا الدين عن اجراء نبأ كنهى الشرك فى رب التعال
ومن فى ديننا اجرى نباء مضى منه بعباد العجال
غلام احمد زاغ قوى بغى فى ختم نبأ بالمقال
باقوال وغاه ثم قلم الى ان صید من ايدى الوبال

ہاتھوں شکار ہوا۔

وان فكرت فى هذا بعدد اتى زاغ قوى بالحبال
وهذا قلمه منقار زاغ بمنقار يواغى بالنوال
ويوذى ختم نبأ كنمل ويعسوب وزنبور العسال
ختام النبأ معضوض شديد وذا فى عضه فوق النمال

چیونٹیوں سے اوپر ہے۔

لافرنج تسوّى مثل عسل وفى ختام نبأ كالنحال

مانند ہے۔

اتى فيهم ببال ذى صفاء وفينا بالغشاش والقلال
الم تعلم بان ختام نبأ حسين قد تأذى فى مقال

٢٤٠

غلام قدوغى فى خت
غلام احمد فيه ب‍

جنگ کرتا ہے۔

ومشى عن ختام النب‍
لسانى ثم قلمى سيف
ماجزى فى غزاه الح‍
لانى فى غزاء الكف‍
غزاء الكفر عندى فر‍

نہیں ہوں۔

كشهباز غزینا م‍

کے بل گرا دیا۔

فى
يراعات ضويات
رأیناهـا طوائر ف‍
صفحہ ٥٣٩
غلام قد وغی فی ختم نبأ بقلم ذی دجال ذی بطال
غلام احمد فیه یزید یواغیه بقلم او مقال

جنگ کرتا ہے۔

ومنی عن ختام النبأ دفع باشعار احد من النصال
لسانی ثم قلمی سیف حق یواغی فی مجال بالمقال
ساجزی فی غزاء الحق یوماً بخیرات مع اباء وال
لانی فی غزاء الکفر غاز وفی ختم النباء مثل وال
غزاء الکفر عندی فرض عین وانی فی غزاء غیرال

نہیں ہوں۔

کشهباز غزینا مع غلام فالقيناه رأساً فی المصال

کے بل گرا دیا۔

فی الغلام ویراعة الصحراء

غلام احمد اور صحرائی جگنو کے بارے میں

یراعات حویات رأینا بليلات باجواء خوال
رأیناها طوائر فی طیور فقلناها الی ارض تعالی
صفحہ ٥٤٠
لانا فی سوال ذی صعاب فهلّی ذا سوالاً بالـعـقـال

٢٣١....... کیونکہ ہم ایک سخت سوال کے اندر مبتلا ہیں۔ پس تو اس سوال کو معقولیت سے حل کر دے۔

قـفـی فـیـنـا الـیٰ وقـتٍ قـلـیـلٍ وقـولـیـنـا عـلـیٰ وفـق السوال

٢٣٢....... تو تھوڑے وقت تک ہمارے اندر ٹھہر جا اور ہمارے ساتھ سوال کے مطابق بات چیت کر۔

فـاحـدیٰ مـن یـراعـات تـهـوّت الـیٰ ارض وقـامـت فـی مـجـال

٢٣٣....... پس جگنوؤں میں سے ایک جگنوزمین کی طرف گری اور سوال گاہ میں کھڑی ہوگئی۔

فـقـلـنـاهـا کـسـوال بـعـجـز اجـیـبـیـنـا عـن ســوال

٢٣٤....... ہم نے سائلین کی طرح نیاز مندی سے اس کو کہا۔ اے جگنو! ہمیں سوال کا جواب دے۔

لــمــاذا لا نــرآک فـی نـهــار وفــی لـیــلٍ نــراک مــن جــوال

٢٣٥....... کیا وجہ ہے کہ ہم تجھ کو دن کے اندر نہیں دیکھتے اور تجھے رات کو چمکداروں کے اندر دیکھتے ہیں۔

نـرآک فــی لـیـالٍ ذات ضــوءٍ وفی اضواء شـمـسٍ فـی حـجـال

٢٣٦....... ہم تجھ کو راتوں کے اندر چمکتا دیکھتے ہیں اور سورج کی روشنی کے اندر پردوں میں دیکھتے ہیں۔

عـلـی الـرجـلـیـن قـامـت فـی حـجـاب وقـالـتـنـا بـعـجـلٍ وارتـجـال

٢٣٧....... وہ جواب گاہ کے اندر دونوں پاؤں پر کھڑی ہوگئی اور اس نے بعجلت اور حاضر جوابی کے ساتھ ہم سے کہا۔

نــعــم انــی ضــوی فــی لـیــالٍ ولــکــن فــی نـهــارٍ لا اجــالــی

٢٣٨....... ہاں! میں راتوں کے اندر چمکتی ہوں۔ لیکن میں دن کو نہیں چمکتی۔

لان الشـمـس یـسـرقـی بـضـوء ی ونـوری فـی نـهـار غـیـر جـالـی

٢٣٩....... کیونکہ سورج میری روشنی کو فناء کر دیتا ہے اور میری روشنی دن کے اندر نہیں چمکتی۔

ایـهـا اهـل الـمـریـزا انـظـروهـا اجـابـتـنـا بـضـوء اتٍ عـقـال

٢٤٠....... اے مرزائیو! اسے دیکھو کہ اس نے اپنی عقلمند روشنیوں سے ہم کو جواب دیا ہے۔

وافـشــانــا غــلام ذو کــفــار بــعــجــب ثــم غــر واخـتـیـال

٢٤١....... اور کافر غلام احمد نے عجب وغرور اور تکبر سے ہم پر ظاہر کر دیا ہے کہ

بـانـی مـرسـل ایـضـاً نـبـی لـدیٰ شـمـس النباء والـرسـال

٢٤٢....... میں آفتاب نبوت ورسالت کے پاس رسول بھی ہوں اور نبی بھی۔

٢٣٢

ضیاء الشمس لایطفی ضیائی

٢٤٣....... آفتاب نبوت حضرت محمد کی روشنی چمکدار ہوں۔

ختام النبأ یعطینی نبأه

٢٤٤....... ختم نبوت مجھے نبوت عطا کرتی ہے۔

وهذا منه بهتان عظیم

٢٤٥....... اس کی طرف سے کامل آفتاب

لان ختام نبات قوی

٢٤٦....... کیونکہ ختم نبوت جھوٹی نبوتوں کے

فهذا والمسیلم کاذبان

٢٤٧....... پس یہ شخص اور مسیلمہ دونوں اپنی

هما کانا کذیبین لعانا

٢٤٨....... وہ دونوں جھوٹے تھے اور لعنت

هما ماتا وغابافی هلاکـت

٢٤٩....... وہ دونوں مرگئے اور تلوار و ہیضہ

غلام الکفر ادنیٰ من یـراع

٢٥٠....... کفر کا غلام جواب دینے اور حل

یـراع مـن غـلام کـان اوعـیٰ

٢٥١....... چھوٹا جگنو دلائل کے ساتھ مسائـ

وهذا دودة نتناء دین

٢٥٢....... یہ شخص دین کا بدبودار کیڑا ہے

وفی الاسلام هذا دود قلم

٢٥٣....... یہ شخص اسلام کے اندر نجاست آجاتے ہیں۔

وفی تخریب دین ذا کذب
صفحہ ٥٤١
ضياء الشمس لا يطفى ضيائی وانى عندها ضياء وجال

چمکدار ہوں۔

ختام النبوة يعطينى نبوة وانى بعده نبى الظلال
وهذا منه بهتان عظيم ومسخرات على شمس الكمال
لان ختام نبوة قوى على اطفاء انباء محال
فهذا والمسيلم كاذبان بدعوات وانباء جعال
هما كانا كذابين لغابا بظلمات اللعان والوبال
هما ماتا وغابا فى هلاك بشبات وموتات الدمال
غلام الكفر ادنى من بويع بتجويف وتحليل السوال
بويع من غلام كان اوعى بترديد المسائل بالدلال
وهذا دودة عفناء دين واعنى من خنافس الدجال
وفى الاسلام هذا دود قذر توالد الدود من قلم المغال

آجاتے ہیں۔

وفى تخريب دين ذا كدود واعنيه كدودات الضلال

٢٣٣

صفحہ ٥٤٢

کے کیڑوں میں سے ایک ہے۔

مضل لئيم ضلال يقيناً ودجال باقوال دغال
وعندى ذا كخفاش عمى يرى ختم النباء بالحوال
وفى اجراء نبأ ذا غوى يغوى الناس عن ختم الرسال
يرى اجراء نبأت جويزاً بنظرات وابصار حوال
ولكن لا يرى ختام نبأ بختمات النباء ذا كمال
يراه ناقصاً في ختم نبأ بنقص العقل او فسق الخيال
يراعات رأت انوار شمس لانوار ختماً بالكمال
ولكن عند هذا شمس نبأ بختم النباء قصار وان
غلام احمد خفاش دين ووطواط المقال بالمقال
كخفاش يرى من عين عمى نهار النبأ ظلمات الليال

في ابوة النبي روحاً وامومة نبوته ديناً نبی کے روحانی باپ ہونے اور اس کی نبوت کے دینی ماں ہونے کے بارے میں

ابونا احمد فى الدين حقاً وامنا امه ام لمعالى

٢٤٤

رضیناه ابا دين بم
وانا آله المختار ق
فامنا به حقا وصد
فهذان لنا ابوان دي

لئے بچوں کی مانند ہیں۔

ابونا واحد فى دين
كذاك الام ووحدى وسل
كفى فينا اب ام بم

دونوں سے خالی ہے۔

لهم ابوان والامان دي
لهم ابوان محمود وم

مائیں ہیں۔

فدوا لابوين مرزائی و
علمنا احمد المحمو
رسالات لمحموم
صفحہ ٥٤٣
رضيناه ابا دين بحق فصرناه كاولاد وال
وانا آله المختار ديناً وهذا والد ديناً موال
فامنا به حقاً وصدقاً وصرناه كابناء الحلال
فهذان لنا ابوان ديناً وللابوين انا كالطفال

لئے بچوں کی مانند ہیں۔

ابونا واحد فى دين حق وما من مسلم عنه بوال
كذاك الام ووحدى وسط دين لنا حتى الممات والاجال
كفى فينا اب ام بدين ولكن دينهم عن ذين خال

دونوں سے خالی ہے۔

لهم ابوان وامان ديناً هووا هم فى حرام من حلال
لهم ابوان محمود و مرزا ونبوتين اماهم بدونى

مائیں ہیں۔

فذوا لابوين مرزائى ومرزا لذا هذا لعين ذوالوبال
علمنا احمد المحمود فينا اباً فى ديننا لا فى النسال
رسالات لمحمود كامّ فاغواها غلام بالضلال

٢٣٥

صفحہ ٥٤٤
علمنا ان ذا زناء ام وزانی الام غلام الرذال
ومن یأت بخبث ام دین یکن في الدین خباث الازال
الى هذا بخبث ام دین کما قد جاء نا خبر معال
وهم قد زوجوه ام دین وهذا منهم شر الخصال
غلام کافر زواج ام ومنها مولد ولد البطال
غلام هندی مغو مرید وزواج بام بالضلال
فان هم صدقوا زناء ام زنوا هم مثله ام الملال
علیکم اهل مرزا ان توبوا بصدق عن غلام من مغال
والا انتم من اهل کفر وقعتم من سلام في وبال
هویتم قعر نار من جنان ومن دین صفي في ضلال

٢٣٦

فی خلوص

اسلام کے خا

و دینی خالص اصلاً و
غلام الهند مهدی وم
ایاه قد نفى هذا م
وللمهدی اب بع

میرے لئے ہے۔

وعيسى قد اتى فين
وهذا غش دین فی
غلام الهند غشاش ص
وایقنا هما مراین
فمهدی امیر لی ب
متى ينزل يطع مهد
يصلى خلف مهدی
هما امران فینا فی ح
صفحہ ٥٤٥

فی خلوص الاسلام وغشاشة دین الغلام

اسلام کے خالص ہونے اور دین غلام کے کھوٹا پن کے بارے میں

ودینی خالص اصلاً وفرعاً ودین الغیر مغشوش الاصال
غلام الهند مهدی ومسیح وهذا غش سهل بالمحال
اباه قد نفى هذا مسیحاً ومهدی من آباء كال
وللمهدی ام بعد ابو كما للناس خلقاً او کمالی
وعیسی قد اتى فينا بام بلا ابو بلا طور النسال
وهذا غش دين في غلام بجهل او حماق او غفال
غلام الهند غشاش صریحاً بمهدى وعيسانا المعال
وايقنا هما مر این حقاً بلا ريب وتشکیک ببال
فمهدی امير لى بحق وعیسی خلف مهدی کنال
متى ينزل يطع مهدی دین بـحـال ثـم قـال کـل حـال
يصلى خلف مهدی یقیناً ويـقـفـوا اثـره مثـل العـوال
هما مرآن فـيـنـا فـي حـديث رویناه باسناد لقال

٢٤٧

صفحہ ٥٤٦
ولكن عند ذا مـتـران مـرء وعندى ظنه ظن الخبال
فـيـعـلـوا بـعـد نـزل فـى دمـشـق عـلـى دجــال يـهـود بالقتال
فـيـفـنـيـه بـبـاب الـلـد هـراً بـسـهـم او بـاسـيـاف سـلال
لـعـيـسـى مـعـجـزات مـن الـه وهـذا ظـنـهـا عـمـل الـرمـال
احـيـاء لـمـيـت عـمـل رمـل وقـد كـانـت عـظـامـات بـوال
عـلـمـنـا ان عـيـسـى فـى سـمـاء سـيـأتـى مـن سـمـاء بـالـجـلال
ولـمـا كـان هـذا روح حـق تـأوى فــى سـمـوات عـوال
وروح الله أوفــى ســمـــاء وقـالـوا انـه فـى الـقـبـر بـال
وغـشـوا فـى نـبـي امـتـى كـمـا غـشـوا حـلـيـبـاً بـالـزلال
نـبـيـاً امـتـيـاً ان اتــــاهـــم اتـى فـيـهـم ظـلـيـم بـالـدلال

٢٣٨

وان هـم قـدر قـوالـيـه ر...
غـلام قـد تـسـوى مـع ظـ...

برابر ہو گیا۔

هـمـا سـيـان فـى الـمـفـهـوم مـ...
وهـذا مـن نـبـي امـتـ...
لـه فـى ديـنـه شـبـهـا ظـ...
وان الـنـقـل طـبـاق لـاصـ...
لـذا حـقـاً سـوى مـع ظـلـ...
وجـدنـاه ظـلـيـم الـديـن حـ...
ولـمـا جـاء كـم هـذا ظـلـيـم...

سے باندھ لے۔

وان هـذا اتـاكـم مـثـل بـ...
والا طـار مـنـكـم مـثـل...
عـلـمـنـا انـه غـشـاش فـ...
صفحہ ٥٤٧
وان هم قد ترقوا فیه رقاءً اتیٰ بغل لدیهم من بغال

٣١٠....... اگر انہوں نے اس شخص میں ترقی کرلی ہے تو پھر ان کے پاس ایک خچر آگیا ہے۔

غلام قد تسوّی مع ظلیم کما هقل تسوّی مع هقال

٣١١....... غلام احمد شتر مرغ کے ساتھ برابر ہو گیا ہے۔ جیسا کہ شتر مرغ شتر مرغوں کے ساتھ برابر ہو گیا۔

هما سیان فی المفهوم حقاً وهذا القول قول للقبال

٣١٢....... وہ دونوں سچ مچ اپنے مفہوم میں برابر ہیں اور یہی بات قبول کر لینے کی بات ہے۔

وهذا من نبی امتی وبغل من اتان والخیال

٣١٣....... غلام احمد نبی اور امتی سے مل کر بنا، اور خچر، گدھی اور گھوڑوں سے مل کر بنتا ہے۔

له فی دینه شبها ظلیم لذا اصل وذا کالنقال

٣١٣....... اس کے لئے دین کے اندر شتر مرغ کی دو نسبتیں ہیں۔ پس یہ اصل ہے اور وہ نقل ہے۔

وان النقل طباق لاصل ونقل مثل اصل فی الشکال

٣١٥....... بلاشبہ نقل اصل کے مطابق ہے اور نقل شکل وصورت میں اصل کی مانند ہوتی ہے۔

لذا حقاً سویٰ مع ظلیم کما نقل سویٰ مع اصال

٣١٦....... پس یہ شخص سچ مچ شتر مرغ کے برابر ہے۔ جیسا کہ نقل اپنے اصل کے برابر ہوتی ہے۔

وجدناه ظلیم الدین حقاً وتالوه لدیه کالرئال

٣١٧....... ہم نے حقیقتاً اسے دین کا شتر مرغ پایا ہے اور اس کے تابعین اس کے اردگرد شتر مرغ بچے ہیں۔

ولما جاء کم هذا ظلیماً فقیدوه بقفص او عقال

٣١٨....... اور جب یہ شخص تمہارے پاس شتر مرغ بن کر آیا ہے تو اس کو پنجرے میں یا رسی سے باندھ لے۔

وان هذا اتاکم مثل بغل فربطه برسن او عقال

٣١٩....... اور اگر یہ شخص تمہارے پاس خچر کی مانند آیا ہے تو تو اس کو رسی یا عقال سے پابند کرلے۔

وإلا طار منکم مثل زاغ ام السعلاة فرّت من حبال

٣٢٠....... وگرنہ وہ تم سے کوے کی مانند اڑ گیا۔ یا ایک غولہ رسیوں سے بھاگ گئی۔

علمنا انه غشاش دین وغش الدین من شر الفعال

٣٢١....... ہمیں علم ہے کہ یہ شخص دین میں ملاوٹ کرنے والا ہے اور دین میں ملاوٹ کرنا ایک برا فعل ہے۔

٢٣٩

صفحہ ٥٤٨
وان الغش فى الاسلام اثم وهذا الغش من خبث الخصال
وان الغش فى دين الانام عظيم عند عظام الرجال
فمرزا كم فلج النصف ديناً وانتم خلف مفلوج الفعال

پیچھے چل رہے ہو۔

دعوا مفلوج دين واحذروه وعودونا باهليكم وال

پاس آجاؤ۔

فى الغلام ونبوته الظلّية

غلام احمد اور اس کی ظلی نبوت کے بارے میں

وهذا ادّعى ظلّی نبأ وما ذا ظلّ محمود الفعال
ولكن ظلّ شيطان /١٣٠٠ لعين لذا هذا بهيل من بهال
وهذا ظلّ شيطان /١٣٠٠ عداداً كما قد قال عداد النعال
فشيطان تسرّی فيه ظلّاً فافشاه نبياً ذا ظلال
تسوّى ظل شيطان غلاماً لذا هذا نفى ختم الرسال ١
نفى ايضاً ختام النبأ جزواً وهذا منه تنقيص الكمال

کی تنقیص ہے۔

وايضاً قد نفى من دين حقٍ جهاد الدين فى شوق الضلال

٢٤٠

نفى الابليس بدأ النبأ حتم
فابليس لبدأ النبأ بان
وابليس بآدم فى غی
وخلفی آدم شقّت علی
وابليس بنادم فى شق
شقی هذان فى امر وحی
فابليس بهذا النبأ لئ
بداء النبأ مع الختام لم
فابليس ومرزا من خفا
وعندى ان ذان من وطب
ختام نبأ شاك من غو
اردنا ان نجلّی ذا غلا
وايضاً قد اتيناه بمج
صفحہ ٥٤٩
نفی الابلیس بدأ النبأ حقاً وهذا عن ختام النبأ خال
فابلیس لهذا النبأ ناف وذا فى ختم نبأ غير مال
وابليس بآدم فى غزاء ولى المحمود هذا فى قتال
وخلفی آدم شقت عليه وختم النبأ مشق للمغال
وابليس بآدم فى شقاء واوباش بختم النبأ قال
شقى هذان فى امر وحيد وذا بدا وختم للرسال
فابليس بهذا النبأ قال وذا فى ختم نبأ من قوال
بداء النبأ مع اختتام نبأ كنورين من انوار عوال
فابليس ومرزا من خفاش وخفاش عن الانوار جال
وعندى ان ذان من وطواط ووطواط عن الانظار خال
ختام نبأ شاك من غلام وبدأ النبأ من هبط الهبال
اردنا ان نحلى ذا غلاماً لجاماً مثل فرس او بغال
وايضاً قد البناه بمخلى بمخلى ذا على فيه المخال

٢٤١

صفحہ ٥٥٠

پر لگائیں گے۔

لعلّ الله ينهاه بذين عن الافساد فى ختم الرسال
بانف المغل انا قد زممنا زمامين كازمام الجمال
علمنا ان ذين يمنعاه عن التخريب فى دين الكمال
عليه لعنة من دين حق الى يوم القيامة فى مقال

فی الغلام وجهاد الاسلام

غلام احمد اور جہاد اسلام کے بارے میں

جهاد الدين مقتول بهند واهل الهند قتّال القتال
واعنى قد اتى هذا قتيلاً بقلم ذى ضلال من مغل
غلام الهند غول من مغل فاردى ذا جهادًا بافتعال
مضى هذا جهاد بعد قتل الى رب مغيث كلّ حال
فلما انتهى الى عرش رب بكى فيه باصوات عوال
بكى فيه لدى رب رحيم وادوام عليه فى السيال
فقال الرب من انتم بعرش وما عرش لدون الله حال

٢٣٢

صفحہ ٥٥١

لئے خالی نہیں ہے۔

لما ذا قد اتيتم عرش رب انا الله بعرش الله جال

٣٥٧...... تم لوگ خدا کے عرش پر کیوں آگئے ہو۔ میں خدا عرش خدا پر جلوہ نما ہوں۔

فهذا مستغيث قد تبكى بلا رأس لدى رب الجلال

٣٥٨...... اس پر یہ فریادی بغیر سر کے رب جلال کے آگے رو پڑا۔

فقال الله لا تبكى وقل لى وعند الله من بعد تعال

٣٥٩...... اس پر خدا تعالیٰ نے فرمایا کہ نہ رو اور مجھ سے بات کر اور دوری کو چھوڑ کر خدا کے پاس آ جا۔

فلما انتهى فى قرب رب تبكى عرش رب بالعوال

٣٦٠...... جب وہی جہاد قرب خدا میں پہنچا تو خدا کا عرش دھاڑیں مار کر رو دیا۔

تبكى ذا جهاد ثم يبكى ملاكاً فى سموتٍ عوال

٣٦١...... یہ جہاد خود رویا پھر اس نے اونچے آسمانوں کے فرشتوں کو رلا دیا۔

فقال الله صبراً فى البلايا وصبر فى البلايا كالحلال

٣٦٢...... اس پر خدا تعالیٰ نے کہا کہ مصیبتوں کے اندر صبر کرو۔ کیونکہ مصائب میں صبر کرنا حل مشکلات ہے۔

فقتيل الغول اشتكى عند رب صبرنا ربنا صبر الجمال

٣٦٣...... غول کے مقتول نے خدا تعالیٰ کے سامنے ظاہر کیا کہ اے خدا ہم نے صبر جمیل کو اپنا لیا ہے۔

ولكن انتقم من ذا غلام وموته بموت فى الاوحال

٣٦٤...... لیکن اسی غلام احمد سے انتقام لے اور اسے گوبر میں مرنے کی دعوت دے۔

بلاحق قتلنا من غلام رنا انا قتلنا فى المغال

٣٦٥...... ہم بلا جواز غلام احمد سے مقتول ہو گئے ۔ ہمیں دیکھ لے کہ ہم غول گاہ کے اندر قتل ہو گئے۔

غلام الهند قطاع لرأسى ورأسى فى كتابات المغال

٣٦٦...... ہندی غلام میرے سر کا کاٹنے والا ہے اور میرا سر مغلوں کی کتابوں کے اندر موجود ہے۔

فقال الله انا قد رأينا قتلتم يا جهادى بالختال

٣٦٧...... اس پر خدا تعالیٰ نے کہا کہ ہم نے دیکھ لیا ہے کہ اے میرے جہاد ! تم دغاً و فریب سے مقتول ہوئے ہو۔

قتلتم يا جهادى من غلام بلاحق وقتل بالاغتيال

٢٤٣

صفحہ ٥٥٢

٣٦٨...... اور میرے جہاد اتم غلام احمد کی جانب سے بلاوجہ اور بغیر قتل یا قتال کے مقتول ہوئے ہو۔

فماذا سائل منى جهادى سلوا تعطوا جواباً للسؤال

٣٦٩...... اے میرے جہاد ! تم مجھ سے کیا مانگتے ہو۔ سوال کرو تم کو سوال کا جواب مل جائے گا۔

فافشى ذا جهاد عند رب اماته فى مغاط او مبال

٣٧٠...... اس جہاد نے خدا تعالیٰ کے سامنے ظاہر کیا کہ اسے ٹٹی گاہ میں یا پیشاب گاہ میں موت دے۔

فاعطى ربه ما سال منه بعجلات بلا وعد المهال

٣٧١...... اس پر خدا تعالیٰ نے اس کو بلا مہلت جلدی سے دے دیا جو کچھ اس نے خدا سے مانگا تھا۔

تهوى ذا غلام فى هلاك بلاهور بقى واسهال

٣٧٢...... یہی غلام احمد لاہور کے اندر قے اور اسہال کے ساتھ ہلاکت میں گر گیا۔

مضى هذا شقى فى هلاك و واراه مغال فى مغال

٣٧٣...... یہی بد بخت ہلاکت میں چلا گیا اور مغلوں نے اسے غول گاہ میں دفن کر دیا۔

وما لاهور طابت بنعش فالقتہ الى ارض البطال

٣٧٤...... جب ہمارا لاہور اس لاش سے خوش نہ ہوا تو اس کو ارض کاذبین کی طرف پھینک دیا۔

فدار الحرب وارت نعش غول بقبر عند شجرات ظلال

٣٧٥...... اس پر دارالحرب نے غول کی لاش کو، سایہ دار درختوں کے پاس ایک قبر میں چھپا دیا۔

مضى روح خبيث تحت ارض بكذبات وامكار الضلال

٣٧٦...... خبیث روح اپنی گمراہی کے اکاذیب وفریبات کو لے کر زمین کے نیچے چلی گئی۔

ولما ارضعته دار كفر دعته بعد موت للوصال

٣٧٧...... جب دار الکفر نے اسے دودھ پلایا تھا تو مرنے کے بعد ملاقات کے لئے اسے بلا لیا۔

وكانت دار حرب ام هذا رثت ام على ولد وال

٣٧٨...... جب دارالحرب اس شخص کی ماں تھی تو ماں نے اپنی آل واولاد پر ماتم کیا۔

جلت عن ھنده ام بغم وجاءت ام اخرى للظلال

٣٧٩...... ایک ماں غم کے ساتھ اس کے ہندوستان سے چلی گئی اور اس پر سایہ کرنے کے لئے دوسری ماں آ گئی۔

مضت افرنج هند عن مغول فظلتهم هنود بالدوال

٣٨٠...... جب ہندوستان کے فرنگی مغلوں کو چھوڑ کر چلے گئے تو ہندوؤں نے ان پر اپنی حکومت کا

٢٢٤٢

سایہ ڈال دیا۔

مجئ کفر اتى كفر عليهـ

٣٨١...... ایک کفر چلا گیا تو دوسرا کفر ا رضامند ہو گئے۔

غلام کفر راض بکفر

٣٨٢...... کافر غلام اپنے کفر کے ساتھ خوش

اتى کفر علیه مغل رکـ

٣٨٣...... کفر سواروں کی طرح اس پر سـ

اتى هذا كمر كوب لكفـ

٣٨٤...... یہ شخص کفر کی سواری بن کر آ گـ

فى الغلام

غلام احمد اور

غلام الهند هناد بكفـ

٣٨٥...... ہندی غلام کفر کا عاشق ہے اور ا

فرنج قد مضوا فیه بمـ

٣٨٦...... فرنگی لوگ اس میں مال کی مد

اتت الفرنج هند مثل هنـ

٣٨٧...... ہندوستان کے فرنگی ہندومور

هم رئوه فيهم مغل ال

٣٨٨...... انہوں نے اس شخص کو اپنے بـ کی مالک بنی۔

مضى عن هند هم الفرنج هنـ

٣٨٩...... ہندوستان کے فرنگی اپنی ہندے

مضوا عن مال هند مغل جـ

٣٩٠...... یہ لوگ ایک جلاوطن آدمی کـ اموال سے جلاوطن نہیں رہا۔

صفحہ ٥٥٣

سایہ ڈال دیا۔

مَضٰی کُفْرٌ اَتٰی کُفْرٌ عَلَیْہِمْ رَضُوْا فِی الْکُفْرِ جَمْعاً بِالْوَالِ

رضامند ہو گئے۔

غُلاَمُ کُفْرٍ رَاضٍ بِکُفْرٍ وَفِی الْمَثْوٰی بِہٖ رَاضٍ وَسَالِ
اَتٰی کُفْرٌ عَلَیْہِ مِثْلَ رَکْبٍ وَہٰذَا تَحْتَ کُفْرٍ کَالْبِغَالِ
اَتٰی ہٰذَا کَمَرْکُوْبٍ لِکُفْرٍ وَرَکْبٍ فَوْقَہٗ مِثْلَ الْجِلَالِ

فِی الْغُلاَمِ وَاَعْدَادِ الْحُرُوْفِ

غلام احمد اور اعداد حروف کے بارے میں

غُلاَمُ الْہِنْدِ ہِنْدَاءٌ بِکُفْرٍ وَکُفْرُہُ ہِنْدَۃٌ ذَاتُ الْجَمَالِ
فَرَنْجٌ قَدْ مَضَوْا فِیْہِ بِمَالٍ وَہٰذَا قَدْ مَضٰی فِیْہِمْ بِبَالٍ
اَتَتِ الْفَرَنْجُ ہِنْدٌ مِثْلَ ہِنْدٍ فَاَفْرَنْجٌ وَذَا اُمٌّ وَآلٌ
ہُمْ رَبَّوْہُ فِیْہِمْ مِثْلَ آلٍ وَآلٌ بَعْدَہُمْ وَآلٌ لِمَالٍ

کی مالک بنی۔

مَضٰی عَنْ ہِنْدِ ہِمُ الْفَرَنْجُ ہِنْدٍ وَذَا مِنْ مَالِہَا الْمَتْرُوْکِ مَالٍ
مَضَوْا عَنْ مَالِ ہِنْدٍ مِثْلَ جَالٍ وَمِنْ اَمْوَالِہِمْ ذَا غَیْرُ جَالٍ

اموال سے جلاوطن نہیں رہا۔

٢٤٥

صفحہ ٥٥٤
ولما كان ذا فيهم كآل اتى آل لاموال كوال
الى هذا لهم وال لمال ومن اموالهم ذا غير خال
غلام كافر آل لكفر وآل الكفر تحت الكفر سال
بقي آل لكفر في حيوة مضى آلا له بعد الرجال
وهذا ظل شيطان / ١٣٠٠ بدين وفى هذين اني في جدال
وانى خائف من ذين حقاً بلاريب وشبهات بال
اذا لشيطن مع ظل بلاء لآبائي واخوانى وآلی
علمنا ان ظلاً مثل ميت وما ظل لشيطان بآل
وهذا الظل في ديني كحي يعاديني وديني كل حال
رأينا كل ظل غير قال وهذا الظل كالاعداء قال
ولكن ظل شيطان عدوى وفى ديني بنار الحقد صال
علمنا ظل شيطان كمغل مغل في كلام الله عال

٢٤٦

فریب کار ہے۔

اتى ذا ظل شيطان المهند
اتی فینا ولد للبغايا
وهذا قد اتي خيلا لكفر
فخلاه فرنج مثل خيل
غزا هذا بدين الله خيلا
وهم ربوه فيهم مثل ابن
تربى فيهم ابنا عزيزا

اور یہ شخص اولاد کی مانند ہے۔

وذا اوباش شخص عند ديني

جھگڑا رکھتا ہے۔

اتى في ديننا اوباش شخص ٤٠٠
بتأويل واحيال بواغي
رأيناه بواغی ختم نبي
بواغى ختم نبات يقينا
صفحہ ٥٥٥

فریب کار ہے۔

اتى ذا ظل شيطان الينا وشيطان له حام وآل
اتى فينا وليد للبغايا له ذا قاديان كالمجال
وهذا قد اتى خيلا لكفر وهذا قاديان كالمخال
فخلاه فرنج مثل خيل واغزوه باسلامى المعال
غزا هذا بدين الله خيلا ووطى منه ختمات الرسال
وهم ربّوه فيهم مثل ابن فانشوه نبياً ذا ضلال
تربّى فيهم ابناً عزيزاً فهم اباء ذا هذا كال

اور یہ شخص اولاد کی مانند ہے۔

وذا اوباش شخص عند دينى ودينى فيه من اهل الجدال

جھگڑا رکھتا ہے۔

اتى فى ديننا اوباش شخص / ١٣٠٠ يواغيه بقلمات سلال
بتاويل واحيال يواغى فمفكره مكاد او محال
رأيناه يواغى ختم نبا بقلمات كحيات صلال
يواغى ختم نبات يقيناً بامكار واحيال محال

٢٤٧

صفحہ ٥٥٦
ولمايات عيسانا الينا يواغ اهل كفر مع دجال
ليفنى سيفه خنزير دجل قهاراً فى شعابات الجبال
ويفشى ختم حرب فى مصال ويأتى من جبال فى سهال
ويقسم فى غزاة مال غنم بعجل بعد اختتام القتال
ولكن ذا وبش القوم لما اتى فينا بدخل مع غلال
تظنّى دين حق دار حرب بخبث النفس او ذوق الجهال
وغى فيه جهاد الدين حمقاً باقلام واقوال ضلال
فاردى ذا غلام ذا جهاداً والقاه كميت فى مغال
ولما ظنه من اهل حرب لذا القاه ميتاً فى المصال
جهاد الدين عند الغول صيد وقتل الصيد من عمل الحلال
غلام عندنا زاغ قوى / ١١٣٢ لقور ختم نبأ باحتيال

٢٤٨

صفحہ ٥٥٧
اتی زاغاً قویاً من فرنج وهم للزاغ استاذ الحيال

٤٢٦...... وہ فرنگی کی طرف سے زاغ قوی بن کر آ گیا اور وہ اسی کوے کے استاد حیلہ ہیں۔

فربوه علی قذرات دجل وقووه بجيفات الدغال

٤٢٧...... پس انہوں نے فریب کی غلاظت پر اس کی تربیت کی اور اسے دغا کے مردار سے طاقتور بنا دیا۔

مشی هذا كزاغ فی مزاغ بغنجات غرورات دلال

٤٢٨...... یہ شخص زاغ گاہ کے اندر ناز و ادا اور غرور و تکبر سے چلنے لگا۔

اتی هذا علی ختمات نبأ بمنقار حديد للجدال

٤٢٩...... یہ شخص لڑنے کے لئے ختم نبوت پر اپنی تیز چونچ لے کر کے آ گیا۔

فقلم الغول منقار لزاغ بذا زاغ اتاه للقتال

٤٣٠...... پس غول کا قلم ایک زاغ کی چونچ ہے اور کوا یہی چونچ لے کر لڑائی کرنے کے لئے ختم نبوت کے پاس آ دھمکا۔

وغی ختم النبوة مثل زاغ بمنقار حديد والمغال

٤٣١...... یہ شخص کوے کی طرح اپنی تیز چونچ اور تیز پنجوں کے ساتھ ختم نبوت سے لڑ پڑا۔

وانی مثل شهباز لزاغ وغاز فی مغال بالمغال

٤٣٢...... یقیناً میں اسی کوے کے لئے ایک شہباز کی مانند ہوں اور غول گاہ کے اندر مغلوں سے لڑنے والا ہوں۔

وهذا غادر الدين / ١٣٠٠ بحق وغدار لانبأ بآل

٤٣٣...... اور یہ شخص سچ مچ دین کا غدار ہے اور اپنی آل و اولاد کے ساتھ تمام نبوتوں کا غدار ہے۔

وایقناه غدار الدين / ١٣٠٠ وملک ثم قوم ذی معال

٤٣٤...... ہم نے اس کو دین اور ملک کا اور پھر بالا تر قوم (مسلمانوں) کا غدار یقین کر لیا ہے۔

وذا بالآل والاهلين جمعاً مغل فی ختام النبأ عال

٤٣٥...... اور یہ شخص اپنے سب اہل وعیال کے ساتھ ختم نبوت کے بارے میں ایک اونچا گھٹیا آدمی ہے۔

قلی ختم النبوة فی کمال ولتنقيص الكمال كالضلال

٤٣٦...... اس نے ختم نبوت کے کمال سے بدخواہی کی ہے اور کمال کی تنقیص کرنا گمراہی کی مانند ہے۔

غلام الهند هناد بنقص ونقص الکاملین کالمحال

٤٣٧...... ہندی غلام نقصان کا عاشق ہے اور کاملین کا ناقص ہونا محال ہے۔

٢٤٩

صفحہ ٥٥٨
وما هذا بـراض مـن كـمـال ولا سـال بـاوصـاف كـمـال
ولمّا كان نقـاصـاً بـديـن تسـلّی فى نقـاص او اوذال
فـابـقـى ديـنـه عـبـداً لـكـفـر واِيّـــاه كـحـمـر او بـغـال
ولـم يـجـهـد عـلـى تـحـريـر نـفـس ولا تـحـريـر ديـن ذى كـمـال
ولـكـن قـد مـلا عـبـداً لـكـفـر وعـاذاً لافـرنـج وغـال
اتـئ غـدار قـوم ثـم مـلـكٍ بـذوق الـغـدر او فـقـد الـعـقـال
غـلام غـادر فـى الـديـن حـقـاً وديـن اللـه لـلـغـدّار قـال
ومـن مـنـا وفـئ غـدار ديـن وفـى دجـال ديـن بـالـعـمـال
ومـن امـسـئ وفيـاً فـى غـلام تـردّى مـن سـلام فـى وبـال
وفـاء الـغـادريـن غـدر ديـن وغـدر فـى وفـى مـن مـقـال
وفـاء فـى غـلام مـن الـام وبـعـد عـنـه مـن خـيـر الخـلال
غـلام الهـنـد هـنـاد بـغـدر وغـدر الـديـن مهـنـود الـفـعـال
بـقـى غـدار اسـلام عـلـى الـئ مـاكـان حـيـاً فـى مـغـال

٢٥٠

ولـكـن قـد وفـى الـفـرنـج
غـلام هـنـدى عـشـيـق
وذا فـرد غـوى / ١٣٠٠ عـبـد
انـى فـرداً غـويـاً مـن

ہلاک کر دیا۔

وايـضـاً ذاهـبـا مـغـو مـريـد

کو اغوا کر لیا۔

نـبـوات لـمـحـمـود كـ
وان ذا بـعـد مـحـمـود تـ
يـكـن زوّاج ام ذات ام
فـزوج الـبـطـل زواج بـا

شادی کرنے والا ہے۔

ولـمّـا كـان ذا مـن غـيـر
وان كـان نـفـاة جـهـ
وهـم كـانـوا ذوى جـهـد
صفحہ ٥٥٩
ولكن قلوفى الفرنج هنيد بقول ثم فعل ثم بـال

٤٥١...... لیکن وہ اپنے قول وفعل اور اپنے دل سے ہندی فرنگی کا وفادار رہا۔

غلام هندى عشيق غلٍ ولكن فى فرنج منه خال

٤٥٢...... ہندی غلام کھوٹ کا عاشق ہے۔ لیکن فرنگی کے متعلق کھوٹ سے خالی ہے۔

وذا فرد غوى / ١٣٠٠ عند دين ردى من دين حق فى ضلال

٤٥٣...... اور یہ شخص دین کے نزدیک ایک گمراہ آدمی ہے جو دین حق کو چھوڑ کر گمراہی میں ہلاک ہوا۔

اتى فرداً غوياً من غواية واردى ختم نبأ كـالـغـوال

٤٥٤...... یہ شخص گمراہوں میں سے ایک گمراہ آدمی بن کر آگیا اور ختم نبوت کو غولوں کی مانند ہلاک کر دیا۔

وايضاً ذا هنا مغو مريد / ١٣٠٠ فـاغـوى امّ ديـن ذى مـحـال

٤٥٥...... اور نیز یہ شخص یہاں پر ایک مردود و مغوی ہے۔ پس اس نے بالا تر دین کی ماں (نبوت) کو اغوا کر لیا۔

نبـوّات لـمـحـمـود كـاُمّ وانـا مـثـل ولـدان الـحـلال

٤٥٦...... حضرت محمود کی نبوت ماں کی مانند ہے اور ہم حلالی بیٹوں کی مانند ہیں۔

وان ذا بـعـد مـحـمـود لـنـبـی بـنـبـا ذى بـروز ذى ظـلال

٤٥٧...... اور اگر اس شخص نے حضرت محمود کے بعد ظلی اور بروزی نبوت کا دعویٰ کیا ہے۔

يكـن زوّاج امّ ذات اصـل لان الظـل نـقـش لـلاصـال

٤٥٨...... تو اپنی اصلی ماں سے شادی رچانے والا ہے۔ کیونکہ ظل اپنے اصل کا نقش ہوتا ہے۔

فـزوج الظـل زواج بـاصـل وزوج الاصـل زواج الـظـلال

٤٥٩...... پس ظل کا شوہر اصل کے ساتھ شادی کرنے والا ہے اور اصل کا شوہر اپنے ظل سے بھی شادی کرنے والا ہے۔

ولـمـا كـان ذا مـن غيـر شـرع يـلـج فـى عـكـس شـارع مـحـال

٤٦٠...... جب یہ شخص شریعت سے خالی ہے تو بالا تر شارع کے عکس میں داخل ہو جاتا ہے۔

وان كـان نـفـاءً جـهـاداً يـصـيـر عـكـسـاً لانـبـيـاء جـلال

٤٦١...... اور جب یہ شخص جہاد کی نفی کرنے والا ہے تو وہ جلیل القدر انبیاء کا عکس بن جاتا ہے۔

وهـم كـانـوا ذوى جـهـد وغـزو وذا نـاف جـهـاداً بـالـعـمـال

٢٥١

صفحہ ٥٦٠

٤٦٢........ وہ جہاد و جنگ کرنے والے تھے اور یہ شخص اپنے عمل و کردار سے جہاد کی نفی کرتا ہے۔

لذا انا علمنا ان ہذا اتی عکساً لمولانا المعال

٤٦٣........ اسی لئے ہمیں معلوم ہو گیا کہ یہ شخص ہمارے بالا تر آقا کا عکس بن کر آ گیا۔

غلام احمد فتان زیغ / ١٥٤٨ وزیغ الدین فیہ بالکمال

٤٦٤........ غلام احمد کجی کا فتنہ ساز ہے اور دین کی کجی اس میں بالکمال موجود ہے۔

الیٰ فتان دین من فرنج فہم قوّادہ ذا کالتوال

٤٦٥........ وہ فرنگی کی طرف سے دین کا فتنہ باز ہو کر آیا۔ پس وہ اس کے قائد ہیں اور یہ تابعداروں کی مانند ہے۔

کزاغ قد اتٰی فتان دین فہذا مثل زاغ ذو حيال

٤٦٦........ یہ شخص کوے کی مانند دین کا فتنہ باز بن کر آیا۔ پس یہ شخص کوے کی طرح حیلہ باز ہے۔

وایضاً عندنا مقوال غول کمقوال الغراب فی البطال

٤٦٧........ اور نیز ہمارے نزدیک جھوٹ کے اندر ایک غول کی زبان کوے کی زبان کی طرح ہے۔

غراب الزمن / ١٤٠٠ ہذا قد اتانا بلا الفٍ و لامٍ من مقال

٤٦٨........ یہ شخص غول گاہ کی طرف سے بغیر الف و لام کے غراب زمن بن کر آ گیا۔

وہذا بالنبی غادر / ١٤٠٠ من فساد الفہم او ذوق الجہال

٤٦٩........ یہ شخص اپنے فساد فہم یا جہالت کے ذوق سے غادر بالنبی ہو گیا ہے۔

نفیٰ من ختم نبأ ذی علاء کمال الختم من شوق الضلال

٤٧٠........ اس نے بالا تر نبوت کی خاتمیت سے بوجہ اپنے شوق ضلال کے خاتمیت کے کامل ہونے کی نفی کر دی۔

فقالوا ختم نبأ ختم شرع بلا شرع جریٰ نبأ الظلال

٤٧١........ اس پر انہوں نے کہہ دیا کہ ختم نبوت سے مراد ختم شریعت ہے۔ بغیر شریعت کے ظلی نبوت جاری ہے۔

وہذا منہم تغلیط قوم وتبطیل لنبأ ذی کمال

٤٧٢........ ان کی جانب سے یہی بات قوم کی تغلیط اور کامل نبوت کی تکذیب ہے۔

الم تعلم بان الاصل فینا بظلٍ واحدٍ عند العقال

٤٧٣........ کیا تو نہیں جانتا کہ اصل اپنے ظل کے ساتھ ہمارے اندر عقلمندوں کے ہاں ایک چیز ہوتا ہے۔

٢٥٢

فلا اصل بلا ظلّ ولاذا

٤٧٤........ اے دغا بازو! اسی لئے نہ اصل ہے نہ

اذا ختمتم نبات اصلٍ

٤٧٥........ جب تم نے اصلی نبوتوں کو ختم کر

وان اختمتم نبات شرعٍ

٤٧٦........ اگر تم نے شرعی نبوت کو ختم کر دیا

لان الظل جوّال باصلٍ

٤٧٧........ کیونکہ ظل اپنے اصل کے ساتھ ہو

مضیٰ من بعد محمود نبأ

٤٧٨........ حضرت محمود کے بعد شرعی بروز

مطیّ الکفر مخلیً بکفرٍ

٤٧٩........ کفر کی سواری کو کفر کا چارہ کھلایا

فاخلوہ بفضلاتٍ وذہب

٤٨٠........ پس انہوں نے اسے چاندی اور

اتانا قائد زَیاغ دین

٤٨١........ ہمارے پاس دین کا ایک کجرو قا

دجال الکہربا یردی طیوراً

٤٨٢........ کیمیائی کھاد پرندوں کو ہلاک کر

دجال الکہربا من غیر جرمٍ

٤٨٣........ کیمیائی کھاد کا کوئی جرم نہیں ہے

جزی اللہ لنا فی ذا جہادٍ

٤٨٤........ خدا تعالیٰ ہمیں اپنے فضل و رحم اور

فی الغلام ا

غلام احمد اور

وہذا مریم رعناء وحیاً

٤٨٥........ یہ شخص اپنی وحی کے اندر خوبصور

صفحہ ٥٦١
فلا اصل بلا ظل ولاذا بلا اصل ايا اهل الدغال

٤٧٤....... اے دغا بازو! اس لئے نہ اصل بغیر ظل کے اور نہ ظل بغیر اصل کے موجود ہوتا ہے۔

اذا ختمتم نبات اصل معاً ختمتم نبأ الظلال

٤٧٥....... جب تم نے اصلی نبوتوں کو ختم کر دیا ہے تو اس کے ساتھ نبائے ظلیت تم نے ختم کر دی۔

وان اختمتم نبات فرع ختمتم نبأ برزات ضلال

٤٧٦....... اگر تم نے شرعی نبوت کو ختم کر دیا ہے تو بروزی اور ظلی نبوت کو ختم کر دیا ہے۔

لان الظل جوّال باصل بلا اصل کميت فى مجال

٤٧٧....... کیونکہ ظل اپنے اصل کے ساتھ دوڑتا ہے اور اپنے اصل کے بغیر وہ مردہ کی مانند ہوتا ہے۔

مضى من بعد محمود نبأ بشرعات بروزات ظلال

٤٧٨....... حضرت محمودؒ کے بعد شرعی بروزی اور ظلی نبوت گذر گئی۔

مطىّ الكفر مخلىً بكفر ومخلىً بكفر لايعالى

٤٧٩....... کفر کی سواری کو کفر کا چارہ کھلایا گیا ہے اور چارہ خوردہ سواری بالا تر نہیں ہو سکتی۔

فاخلوه بفضات وذهب وربوه كبغل بالمخال

٤٨٠....... پس انہوں نے اسے چاندی اور سونے کی گھاس کھلائی اور اسے خچر کی طرح پالا پوسا۔

اتانا قائد زيّاغ دين وذافى زيغه بطل معال

٤٨١....... ہمارے پاس دین کا ایک بگڑا قائد آگیا اور یہ شخص اپنی کجی میں ایک اونچا بہادر ہے۔

دجال الكهربا يردى طيوراً وذا اردى جهاداً ذا جلال

٤٨٢....... کیمیائی کھاد پرندوں کو ہلاک کرتی ہے اور اس شخص نے باعظمت جہاد کو ہلاک کر دیا۔

دجال الكهربا من غير جرم وهذا مجرم فى الدين عال

٤٨٣....... کیمیائی کھاد کا کوئی جرم نہیں ہے اور یہ شخص دین کے اندر ایک اونچا مجرم ہے۔

جزى الله لينا فى ذا جهاد بفضل ثم رحم والنوال

٤٨٤....... خدا تعالیٰ ہمیں اپنے فضل و رحم اور بخشش کے ساتھ اس جہاد میں جزائے خیر دے۔ (آمین)

فى الغلام والحكيم البيروى

غلام احمد اور حکیم بھیروی کے بارے میں

وهذا مريم رعناء وحياً ونور الدين زوج للوصال

٤٨٥....... یہ شخص اپنی وحی کے اندر خوبصورت مریم ہے اور نورالدین وصال و جماع کا شوہر ہے۔

٢٥٣

صفحہ ٥٦٢
غلام احمد زوج لنور ونور الدين زوّاج الرجال

٤٨٦....... غلام احمد نورالدین کی بیوی ہے اور نورالدین مردوں کا شوہر ہے۔

أتى فى قاديان قوم لوط فجآؤا بالمآثم للمعال

٤٨٧....... قادیان کے اندر قوم لوط آگئی۔ پس وہ مغلوں کے لئے روحانی برائیاں لے آئی۔

وهذا بعلة حسناء وحياً ونور الدين بعل من بعال

٤٨٨....... اور یہ شخص اپنی وحی میں خوبصورت بیوی ہے اور نورالدین اس کے شوہروں میں سے ایک شوہر ہے۔

هما زوجان الالهام حقاً وحق القول ممرور المقال

٤٨٩....... وہ دونوں اپنے الہام کے اندر سچ مچ میاں بیوی ہیں اور حق بات کہنے میں کڑوی ہوتی ہے۔

دعت ذی مریم نوراً لحمل ونور الدين بعل من بعال

٤٩٠....... اسی مریم نے نورالدین کو حمل کے لئے بلا لیا اور نورالدین اسی کا نطفہ دینے والا بن گیا۔

بقت حبلى شهوراً ثم صارت وليداً ماشياً فوق السهال

٤٩١....... وہ چند ماہ حاملہ رہی پھر وہ میدانوں پر چلنے والا بچہ بن گئی۔

وكانت هذه وحياً سجاح ونور الدين مقطار الحبال

٤٩٢....... یہی عورت اپنی وحی میں سجاح بن گئی اور نورالدین حمل کا قطرہ افگن بن گیا۔

وفى الهام هذا قد رأينا نساء ات يقمن على الرجال

٤٩٣....... ہم نے اس شخص کے الہام کے اندر عورتوں کو دیکھا جو مردوں پر کنٹرول رکھتی ہیں۔

نبى كان مرءً دواماً وهذا من نساء من رجال

٤٩٤....... نبی ہمیشہ ایک مرد ہوتا ہے اور یہ شخص عورتوں اور مردوں کا معجون مرکب ہے۔

له نصف من المرأة وحياً ونصف امرأ في كل حال

٤٩٥....... بطور وحی کے اس کا نصف حصہ عورت ہے اور ہر حالت میں اس کا نصف حصہ مرد ہے۔

أتى خنثى بدين الله حقاً له عضو النساء والرجال

٤٩٦....... یہ شخص دین خدا کے اندر سچ مچ خنثیٰ بن کر آیا۔ کیونکہ وہ عورت و مرد دونوں کے عضو رکھتا تھا۔

لهذا ذا كمرأت لكفر وللاسلام مرء للجدال

٤٩٧....... اسی لئے یہ شخص کفر کے لئے ایک عورت ہے اور اسلام کے ساتھ لڑنے میں ایک مرد ہے۔

كمرأتٍ مشى ذا لتحت كفرٍ وللاسلام مرء للقتال

٢٥٤

٤٩٨....... یہ شخص کفر کے نیچے عورتوں کی

فذا حقاً كمرأت لكف

٤٩٩....... بنا برآں یہ شخص حقیقتاً کفر کے

فی
وذا قد قال الفرنج دجـ

٥٠٠....... اس نے کہا کہ فرنگی لوگ دجا

عليه قد مطى الفرنج مـ

٥٠١....... اس پر ہندوستان کے فرنگی یو

والفرنج مطوا هذا مطی

٥٠٢....... اور فرنگی لوگ اسے سواری گھوڑے کی مانند ہے۔

وهذا تحتهم مثل المطـ

٥٠٣....... یہ شخص ان کے نیچے سواریوں ک

والفرنج عليه مثل ركـ

٥٠٤....... فرنگی لوگ اس کے اوپر سوار

مشى ذالتحتهم من غير تعـ

٥٠٥....... وہ بغیر تھکان کے ان کے نـ

مطايا الكفر طاوعة لكـ

٥٠٦....... کفر کی سواریاں کفر کی فرمانبر

لهم هذا مطى كالمطـ

٥٠٧....... یہ شخص ان کے لئے سواریوں ک

يوالى كافراً ينفى جهـ

٥٠٨....... وہ کافروں کا دوست بن کر

غلاماً قد أتى وبقى غلا

٥٠٩....... غلام بن کر آیا غلام بن کر ر

فوارثه غلاماً دار حـ
صفحہ ٥٦٣
فذا حقاً كمرأت لكفر وللاسلام مراً ذوالبطال

في الغلام والافرنج

وذا قد قال افرنج دجال فذا حمال احمال الدجال
عليه قد مطى افرنج هند كجمال مطاعن الجمال
والفرنج مطوا هذا مطيّا وذا فيهم كخيل من مخال

گھوڑے کی مانند ہے۔

وهذا تحتهم مثل المطايا بهم يمطو مطى بالرقال
والفرنج عليه مثل ركب وذا مركوب افرنج دجال
مشى ذا تحتهم من غير تعب ولم يلحقه شئ من كلال
مطايا الكفر طاوعة لكفر وهذا كالمطايا تحتهم سال
لهم هذا مطى كالمطايا بهم يمطوا بترب او رمال
يوالى كافراً ينفى جهاداً ويصلى من سيوفات سلال
غلاماً قد اتى وبقى غلاماً غلاماً قد مضى ذا بالدمال
فواراه غلاماً دار حرب بقبر بئس اقبار ضلال

٢٥٥

صفحہ ٥٦٤
مطيع الكفر كفار يقيناً وطوع الكفر دين للمغال
تولّى اهل كفر من شقاء تولى الكفر كفر بالاصال
وقلنا هم تنحوا عن فرنج والا صرتم صيد الدجال
وهذا ما نتهى عن فرنج وايضاً لم يفارقهم ببال
فصادوه بفضات وذهب وكالوه بها صيع الكمال

بھر کر دے دی۔

علمنا انه صيد لكفر وفى رجليه نقد كالعقال
ولما صيد من كفر حيالاً الى تخليصه عقد الشكال
بقى في قفصهم ابداً اسيراً وظن القفص قصراً من لآل
ولما جاءه ملک الموت تمنى موته في ذا الظلال
فعزريل له قد قال جهراً سريعاً مت ورح بين الصوال

فی الغلام واتباعه اللئام

غلام احمد اور اس کے بڑے مریدوں کے بارے میں

رضيتم بالغلام غلام كفر وخلتم انه مولى الموالى

٢٥ ہے۔

٢٥٦

صفحہ ٥٦٥
غلام الکفر میت تحت کفر ویلقی مثل ھذا فی المبال

٥٢٢...... کفر کا غلام کفر کے نیچے ایک مردہ آدمی ہے اور اس جیسا آدمی پیشاب گاہ میں گرایا جاتا ہے۔

غلاماً قد اتی ومضی غلاماً وتحت الکفر عاش کالنعال

٥٢٣...... وہ غلام بن کر آیا اور غلام بن کر چلا گیا اور کفر کے نیچے جوتوں کی طرح جیتا رہا۔

الم تعلم بان غلام کفر کزوج تحت فخذات البغال

٥٢٤...... کیا تجھے علم ہے کہ کفر کا غلام اس کی بیوی کی مانند ہے جو اپنے شوہر کے رانوں کے نیچے ہو جاتی ہے۔

یکون النعل تحت الرجل نعلاً وقلتم انہ تاج الجلال

٥٢٥...... ایک جوتا پاؤں کے نیچے جوتا رہتا ہے اور تم نے کہہ دیا کہ یہی جوتا تاج عظمت ہے۔

مشی کالنعل تحت الکفر نعلاً ولم یمسسہ شی من ذلال

٥٢٦...... وہ کفر کے نیچے جوتا بن کر جوتے کی طرح چلتا رہا اور اسے کچھ ذلت نہ پہنچی۔

تسوّی ذوقکم مرّاً وحلوا فذقتم مرکم امثال حال

٥٢٧...... بطور کڑوا اور میٹھا ہونے تمہارا چسکا برابر ہو گیا ہے۔ اس پر تم نے کڑوے کو میٹھا کی طرح چکھا ہے۔

غلام عندکم حرّ اصیل وحرّ الاصل فیکم کالزبال

٥٢٨...... اصلی آزاد شخص تمہارے نزدیک ایک غلام ہے اور تمہارے اندر اصل کا آزاد آدمی گوبر کی مانند ہے۔

غلام ھندی فیکم مریض بمرضین المراق والبول

٥٢٩...... تمہارے اندر غلام احمد مراق و بول کی دو بیماریوں کا مریض ہے۔

علیکم ان تتنحّوا عن مریض والا قد ھویتم فی مبال

٥٣٠...... تم پر لازم ہے کہ اس مریض سے ہٹ جاؤ، ورنہ تم ایک پیشاب گاہ میں گر گئے ہو۔

مسیح المرض لایأتی مریضاً ولا مرض یداوی بالعلال

٥٣١...... بیماری کا مسیح مریض بن کر نہیں آتا اور نہ بیماری کا بیماری سے علاج کیا جاتا ہے۔

رأینا فی کتاب ان ھذا مراقی ومکثار البوال

٥٣٢...... ہم نے ایک کتاب کے اندر دیکھا ہے کہ یہ شخص مراقی اور کثرت بول کا بیمار ہے۔

مراق فیہ من کثرات بول وکثر البول من مرق العقال

٢٥٧

صفحہ ٥٦٦

٥٣٣....... اس کا مراق کثرت بول کی وجہ سے ہے اور کثرت بول کا بیمار ہے۔

وفی حلات نبا بالاعلا وعل البوال من عل الخیال

٥٣٤....... اس نے نبوت کے حلوں میں بوجہ بیماری کے پیشاب کر دیا اور پیشاب کی بیماری خیال کی بیماری سے پیدا ہوئی ہے۔

جری اللہ فی حلات نبا فعلا بال فی تلک الحلال

٥٣٥....... وہ نبوت کے حلوں میں ہگنے والا آدمی ہے۔ پس بیماری کی وجہ سے اس نے ان حلوں میں پیشاب کر دیا۔

ومن ابوالہ بلت حلال حسسنا فوقہا اثر البلال

٥٣٦....... اس کے پیشاب سے یہ حلے تر ہیں۔ ہم نے ان کے اوپر تری کا اثر محسوس کر لیا ہے۔

جری اللہ من جریان بول ولا من اثر شجيع والقتال

٥٣٧....... وہ اپنے بول کے بہاؤ سے جری اللہ بن گیا، شجاعت اور بہادری کے اثر سے نہیں بنا۔

علمناہ جری اللہ بولاً لان البول منہ فی السیال

٥٣٨....... ہم نے اسے جریان بول کی وجہ سے جری اللہ سمجھا ہے، کیونکہ اس کا پیشاب بہاؤ میں رہتا ہے۔

کثیر البول علال دواماً لذا ہذا بدعواہ کآل

٥٣٩....... کثیر البول آدمی ہمیشہ کا بیمار ہے، اسی لئے یہی شخص اپنے دعویٰ میں ایک عاجز کی مانند ہے۔

مریض الجسم لا یأتی مسیحاً وما ہذا بمہدی معال

٥٤٠....... جسم کا مریض مسیح بن کر نہیں آتا ، اور یہ شخص بالا تر مہدی نہیں ہے۔

وہذا عندنا مفلوج دین وانتم خلف مفلوج الملال

٥٤١....... یہ شخص ہمارے نزدیک دین کا مفلوج آدمی ہے اور تم ایک مفلوج الدین آدمی کے پیچھے ہو۔

ترکتم دین اسلام صحیح وخرتم دین فاتر الخیال

٥٤٢....... تم نے صحت مند دین اسلام چھوڑ دیا ہے اور ایک فاتر الخیال آدمی کے دین کو اختیار کر لیا ہے۔

دعوا مفلوج دین واحذروہ وعودونا بوقت ذی عجال

٥٤٣....... تم مفلوج دین کو چھوڑ دو اور اس سے بچ کر رہو اور جلد تر آنے والے وقت میں ہمارے پاس آجاؤ۔

وان انتم ابیتم من دعائی فعندی انتم شر المعال

٥٤٤....... اور اگر تم نے میری دعوت سے انکار کر دیا ہے تو تم میرے نزدیک بد انجام ہو۔

٢٥٨

غلام الہند فی دیـ

٥٤٥....... ہندی غلام دین کے

وہذا قادیان جعـ

٥٤٦....... یہ قادیان ایک گوٹھ

وانتم اہل مرزا خـ

٥٤٧....... اے اہل مرزا! تم ایک

علمنا انہ مـ

٥٤٨....... ہمیں علم ہے کہ یہ والی عورت ہے۔

وذا فی فنہ حـ

٥٤٩....... یہ شخص اپنے فن میـ

غلام الہند احیل مـ

٥٥٠....... ہندی غلام کی ہوس بـ

فذا المرزا مقبل الطـ

٥٥١....... بنا بر آں یہی مرزا مـ

لان مقبل ضبـ

٥٥٢....... کیونکہ یہی غلام مطیـ

غلام ذامثیل الضـ

٥٥٣....... یہی غلام بہرے زنـ

غلام احمد مرزا مـ

٥٥٤....... یقیناً مرزا غلام احمد

فی الـ

دعاہ ضیغما مہـ

٥٥٥....... ہمارے شجاع مہدی نـ

بـلاہـور الـی مہـ

صفحہ ٥٦٧
غلام الهند في دين كضب وانتم خلف ضب كالحسال

٥٤٥ ....... ہندی غلام دین کے اندر ایک گوہ کی مانند ہے اور تم گوہ کے پیچھے اس کے بچوں کی مانند ہو۔

وهذا قاديان جحر ضب وضب فيه مكثار الجوال

٥٤٦ ....... یہ قادیان ایک گوہ کا بل ہے اور گوہ اس کے اندر کثرت سے دوڑتی بھاگتی ہے۔

وانتم اهل مرزا خلف ضب وضب عندكم مرأ الكمال

٥٤٧ ....... اے اہل مرزا! تم ایک گوہ کے پیچھے رہتے ہو اور ایک گوہ تمہارے نزدیک ایک کامل مرد ہے۔

علمنا انه مرأ بجسم وروحاً مرأة تحت الرجال

٥٤٨ ....... ہمیں علم ہے کہ یہ شخص اپنے جسم میں مرد ہے اور روحانی طور پر مردوں کے نیچے چلنے والی عورت ہے۔

وذا في فنه حيال شخص فذا فى الدين ضب ذو حبال

٥٤٩ ....... یہ شخص اپنے فن میں ایک حیلہ باز شخص ہے۔ پس یہ شخص دین کے اندر ایک حیلہ باز گوہ ہے۔

غلام الهند احيل من ضباب واقوى من ضباب في دجال

٥٥٠ ....... ہندی غلام گوہوں سے زیادہ حیلہ باز ہے اور وہ مکر و فریب میں گوہوں سے زیادہ طاقتور ہے۔

فذا المرزا مثيل الضب حقاً وهذا القول حق للقبال

٥٥١ ....... بنابر آں یہی مرزا حقیقتاً گوہ کا مثیل ہے اور یہی بات قبولیت کا حق رکھتی ہے۔

لان مثيل ضب ذا غلام كما قد قال عداد معال

٥٥٢ ....... کیونکہ یہی غلام مثیل گوہ ہے۔ جیسا کہ ایک اونچے عداد نے کہا ہے۔

غلام ذا مثيل الضب عندى اذا اتلفت الفاً بالكمال

٥٥٣ ....... یہی غلام میرے نزدیک مثیل گوہ ہے جب کہ میں اس کے الف کو مکمل طور پر مٹا دوں۔

غلام احمد مرزا يقيناً مثيل لضب بالسراع والعجال

٥٥٤ ....... یقیناً مرزا غلام احمد جلد تر مثیل گوہ بن جاتا ہے۔

فى الغلام الهندى والشيخ الجولرى

ہندی غلام اور شیخ گولڑوی کے بارے میں

دعاه شيخنا مهر لبحث على محيا مسيح ذي معال

٥٥٥ ....... ہمارے شیخ مہر علی شاہ نے اس کو اونچے مرتبے والے مسیح کی حیات پر بحث کرنے کے لئے بلایا۔

بلاهور اتى مهر على ولكن فر عن شمس ليال

٢٥٩

صفحہ ٥٦٨

٥٥٦...... مہر علی شاہ لاہور کے اندر آگیا، لیکن سورج سے راتیں بھاگ گئیں۔

وهذا فر من مهر على ولكن فر عن شمس ليال

٥٥٧...... یہ شخص مہر علی شاہ سے بھاگ گیا۔ جیسے سورج سے راتیں بھاگ گئیں۔

ازال الموت عن عيسى على ببرهان واجوبة سوال

٥٥٨...... مہر علی شاہ نے حضرت عیسیٰ سے موت کو تسلی بخش دلائل و جوابات سے ہٹا دیا۔

ومهر قام فى لاهور شهراً وهذا غاب منه كالشغال

٥٥٩...... مہر علی شاہ لاہور کے اندر ایک ماہ رہا اور یہ شخص گیدڑ کی طرح اس سے غائب ہو گیا۔

على قد علا دجال هند كطيرات علت صحب الفيال

٥٦٠...... مہر علی شاہ ہندی دجال پر اس طرح غالب رہا، جیسا کہ پرندے اصحاب فیل پر غالب رہے۔

لهذا مات هذا قبل مهر ومهر بعده حى وجال

٥٦١...... اسی لئے یہ شخص مہر علی شاہ سے پہلے مر گیا اور سورج (مہر علی شاہ) اس کے بعد زندہ اور روشن رہا۔

اهذا عندكم مهدىّ ربّ توارى من على كالثعال

٥٦٢...... کیا تمہارے نزدیک یہی مہدی خدا ہے جو مہر علی شاہ سے لومڑی کی طرح چھپ گیا۔

له ضرط وريح من دبار ومن فيه زفيرات عوال

٥٦٣...... اس کے پیچھے سے باد اور ریح نکل رہی تھی اور اس کے منہ سے اونچی دھاڑیں تھیں۔

بكى قدام افرنج ضريعاً كما يبكى وليد من سعال

٥٦٤...... وہ فرنگی کے آگے زار و زار رویا، جیسا کہ چھوٹا بچہ بھوتنیوں سے ڈر کر روتا ہے۔

فآووه بفور من علي وليد من علي ذي معال

٥٦٥...... اس پر انہوں نے اس کو فوراً مہر علی شاہ سے پناہ دی جو بالآخر علی مرتضیٰ کا بیٹا ہے۔

بقوا فى عونه امثال حصن وهذا فيه مامون بآل

٥٦٦...... وہ ایک قلعہ کی مانند اس کے مددگار رہے اور یہ شخص اپنی آل واولاد کے ساتھ اس میں محفوظ رہا۔

غلام ماغزا كفار هند وما غزواً نوى يوماً ببال

٥٦٧...... غلام احمد نے ہندی کافروں سے جہاد نہیں کیا اور نہ دل سے کسی دن جہاد کا ارادہ کیا۔

وقد افتى حديث ان هذا لديه ذو نفاق بالفعال

٥٦٨...... ایک حدیث نے فتویٰ دے دیا ہے کہ یہ شخص اس حدیث کے نزدیک اپنے کردار سے منافق ہے۔

ومهدى يغازى اهل كفر ومهدى لهم وال ببال

٢٦٠

٥٦٩...... ایک مہدی اہل کفر سے...

فمهدى لكم عباد...

٥٧٠...... پس تمہارا مہدی کفر کا...

يعادى ابن مريم فى...

٥٧١...... یہ شخص زندگی کے بارے... کشمیر میں دفن کر دیا۔

ومن واراه فى الكشمـ...

٥٧٢...... اور جس شخص نے اسے...

وعندى بين مهديـ...

٥٧٣...... اور میرے نزدیک دو...

فمهدى لدين زوجـ...

٥٧٤...... پس ایک مہدی دین کے...

غلام فى جهاد ذو قـ...

٥٧٥...... غلام احمد جہاد کا قائل...

واهداه على سيف جـ...

٥٧٦...... مہر علی شاہ نے اسے کتا... ناک کاٹنے والی ہے۔

وهذا من علي سيف جـ...

٥٧٧...... مہر علی شاہ کی طرف سے...

ولما كان هذا ذا دجـ...

٥٧٨...... اور جب یہ شخص دجال آ...

وعندى سيف چشت مثل...

٥٧٩...... میرے نزدیک سیف... کی طرح بھن گیا۔

علمنا ان نظمى لم فـ...

٥٨٠...... ہمیں علم ہے کہ میری ش...

صفحہ ٥٦٩

٥٦٩...... ایک مہدی اہل کفر سے جہاد کرے گا اور ایک مہدی اپنے آل کے ساتھ ان کا وفادار ہے۔

فمہدی لکم عباد کفر ومہدی لنا للکفر قال

٥٧٠...... پس تمہارا مہدی کفر کا پرستار ہے اور ہمارا مہدی کفر کا دشمن ہے۔

یعادی ابن مریم فی حیاۃ فواراہ بکشمیر الطلال

٥٧١...... یہ شخص زندگی کے بارے میں ابن مریم کا دشمن ہے۔ پس اس نے اس کو بارشوں والے کشمیر میں دفن کر دیا۔

ومن واراہ فی الکشمیر موتاً حرامی الاواخر والاوائل

٥٧٢...... اور جس شخص نے اسے مار کر کشمیر میں دفن کیا ہے۔ وہ اوّل و آخر کا حرامی شخص ہے۔

وعندی بین مہدیین فرق باحوال واقوال جوال

٥٧٣...... اور میرے نزدیک روشن حالات واقوال سے دونوں مہدیوں کے درمیان فرق ہے۔

فمہدی لدین ذو جہاد ومہدی بدین ذو قتال

٥٧٤...... پس ایک مہدی دین کے لئے جہاد کرتا ہے اور ایک مہدی دین کے ساتھ قتال کرتا ہے۔

غلام فی جہاد ذو قتال وفی ختم النبأ ذو جدال

٥٧٥...... غلام احمد جہاد کا قاتل ہے اور ختم نبوت کے اندر جھگڑا کرتا ہے۔

واہداہ علی سیف جشت جدوع انف اسفار المغال

٥٧٦...... مہر علی شاہ نے اسے کتاب سیف چشتیائی بطور ہدیہ کے دی، جو مغلوں کی کتابوں کی ناک کاٹنے والی ہے۔

وہذا من علی سیف جشت اتاہ جادعاً انف البطال

٥٧٧...... مہر علی شاہ کی طرف سے اس کے پاس سیف چشتیائی آگئی جو جھوٹ کی ناک کاٹنے والی ہے۔

ولما کان ہذا ذا دجال صلی من سیف جشت مثل صال

٥٧٨...... اور جب یہ شخص دجال آدمی تھا تو جلنے والے کی طرح سیف چشتیائی سے جل گیا۔

وعندی سیف جشت مثل مقلی قلی فیہ کلحم او بقال

٥٧٩...... میرے نزدیک سیف چشتیائی ایک کڑاہی کی مانند ہے جس میں یہ شخص گوشت یا سبزی کی طرح بھن گیا۔

علمنا ان نظمی ثم شعری کسیف الجشت ایاہ مقال

٥٨٠...... ہمیں علم ہے کہ میری نظم اور پھر میرا شعر ، سیف چشتیائی کی طرح اس کو بھوننے والا ہے۔

٢٦١

صفحہ ٥٧٠
وشعرى مثل سيف الجشت حقاً كمقلاة وذا فيها كقال

والے کی طرح ہے۔

وان هذا قلى فى سيف جشتِ ولكن ان قلبى فيه سال
وذا فى سيف جشت غير سال بقلب بل بقلب فيه صال

میں جلنے والا ہے۔

وعندى جولر للشيخ وطن بقى من بعده فيه بآل

واولاد کے ساتھ زندہ رہا۔

ولكن قبل مهر ممات مرزا بقيئاتٍ وسهلات طوال
بقى من بعده شيخ علي باهليه وولدان عوال
وهذا الشيخ فينا شمس علم اضوت فينا بنهره الليال
غلام الهند وطواط لشمس عمى مثل عميان البال
كخفاش سعى عن نور شمس الى اهل وآل فى مغال
سعى فى خلفه اصوات هزم ونعرات واصوات السعال
عدى من خوف مهر ذى علاء الى اهليه فى دار العيال
بكى فى اهله من نور مهر بدمعاتٍ وزفراتٍ عوال

٢٦٢

علاه نور مهر ذی ع...
كنكس او كزمع قذال...
وما نائب الله ال...
كما ناب لذئب وسط...
فكلم مثل ناب فى ي...
على معز كذئب صال...
تأسفنا على معز وقل...
رأيناه كذئب الدين ل...
اتى فى ديننا هذا كذ...
جهاد الله من ذئب قت...

جہاد روشن اور چمکدار ہے۔

رأيناه كذئب فى دين الام...

کے اندر آتا ہے۔

رأيناه كذئب او كك...
صفحہ ٥٧١

٥٩٢...... وہ اپنے گھر والوں میں آنسوؤں اور اونچی چیخوں کے ساتھ فوراً نقاب سے رو پڑا۔

عــلاه نــــور مهـــــر ذی عــــلاء ودا مـــــــن نـــــــوره عــــــــــام وَالِ

٥٩٣...... بالا تر آفتاب کا نور اس پر غالب آگیا، اور یہ شخص اس کی روشنی سے نابینا اور عاجز رہا۔

كـنــكـــس او كـزمـع قـد اتـانـا بـــــعـــــــادات واخـــــلاق رذال

٥٩٤...... یہ شخص رذیل عادات واخلاق سے، ایک رذیل ودنی آدمی کی طرح ہم میں آگیا۔

ومــــا ذانــــائــــب الله الـيــنــــا بـــل الـــذئــــب بــنـــاب ذی قـتـــال

٥٩٥...... یہ شخص ہماری طرف نائب خدا نہیں ہے۔ بلکہ قتل کرنے والی کچلی کے ساتھ ایک بھیڑیا ہے۔

كـــمــا نــــاب لــذئــب وســط فـيــه كـــذا قــلـــم بــكـفــات الــمـغـــال

٥٩٦...... جیسا کہ بھیڑیے کے منہ میں کچلی ہوتی ہے، اسی طرح پر مغلوں کی ہتھیلیوں میں قلم ہوتا ہے۔

فــقــلــم مـثــل نــاب فــی یــدیـــه وخـتـــم الــنبــأ مـعـز فــی الـجــدال

٥٩٧...... پس لڑائی کے اندر اس کے دو ہاتھوں میں ایک قلم کچلی کی مانند اور ختم نبوت ایک بھیڑ ہے۔

عــلــی مـعـز كـذئـب صـال هـذا فـــالــقـــاه جــريــحـــاً فــی مـصـــال

٥٩٨...... اسی شخص نے بھیڑیے کی طرح بھیڑ پر حملہ کیا اور اسے زخمی کرکے حملہ گاہ کے اندر گرا دیا۔

تــأســفــنــا عـلـی مـعـز وَقـلـنــا لـــذئـــب لــعــن رب ذی جـــلال

٥٩٩...... ہم نے بھیڑ پر افسوس کیا اور کہا کہ بھیڑیے کے لئے رب جلیل کی لعنت مقدر ہے۔

رأيــنـــاه كــذئـــب الـديـن فـيـنــا وذئـــب الـــديـــن مـلـعــون بـــآلِ

٦٠٠...... ہم نے اسے دین کے اندر ایک بھیڑیا دیکھا ہے اور دین کا بھیڑیا اپنی آل کے ساتھ ملعون ہے۔

اتــی فــی ديــنــنــــا هـذا كــذئـب يــعـــادى خـتـــم نـبـــأ ذی مــعـــال

٦٠١...... یہ شخص ہمارے دین کے اندر ایسے بھیڑیا کی مانند آگیا جو بالا تر ختم نبوت کو بھونکتا ہے۔

جـهــاد الله مـــن ذئـــــب قـتـيـــل وفـــى الــقـــران ذا ضـــاء وجـــال

٦٠٢...... خدا تعالیٰ کا جہاد ایک بھیڑیے کی طرف سے مقتول ہو گیا۔ حالانکہ قرآن مجید میں یہی جہاد روشن اور چمکدار ہے۔

رأيـنــاه كــذئـــب فــى ديـن الاسـلام كــذئـــب فـــی مـعـيــز او غـــزال

٦٠٣...... ہم نے اسے دین اسلام کے اندر ایک ایسے بھیڑیے کی طرح دیکھا جو بھیڑوں یا ہرنوں کے اندر آتا ہے۔

رأيــنــــاه كــذئـــب او كـكـلـب عـــوى عـبـثـــاً بـــأقــمــــار الـلـيـــال

٢٦٣

PDF 573
عوىٰ هذا علىٰ مهرٍ عليٍّ كعاوٍ فوق قمراتٍ جوالِ
وذا شتام شيخ جولريٍّ عليٍّ ذی علاءٍ ذی کمالِ
اياشيخ الضلالة دع ضلالاً وكن من تابعى شيخ مُعالِ
وهذا شيخنا شيخ عليٌّ فكن فيه كتالٍ لا كوالِ
وانا كلنا خدام شيخ باقوالٍ وتصديق البالِ
وهذا شيخنا فينا امام وانا خلف شيخ من توالِ
عليٌّ مثل قمرٍ ذی معالٍ وهذا دون قمرٍ كالليالِ
عليٌّ سيد اصلاً وفرعاً وذا مغل مغلىّ في الاصالِ
غلام تحت افرنج مطی ومهر قد امتطاهم بالجلالِ
وفى هذين فى دينٍ فراق كارضٍ مع سمواتٍ عوالِ

ساتھ فرق ہے۔

على فوقنا مهر منير وهذا تحت كفرٍ كالبغالِ
عليٌّ مثل جمالٍ لكفرٍ وهذا تحت كفر كالجمالِ

٢٦٤

وانتم اهل مرزا قد رضيتم
دعوا عبداً واختاروا شيخ حقٍ
والا انتم متم بكفر
فمتم كافرين بذا غلامٍ
فى الغلا

غلام احمد اور کـ

حرابي الصحارى قد رأينا
رأينا ها زحاف تحت شمس
فمن احدى حرابي سألنا
فوقتاً انت في لون حمر
ووقتاً في خضار او سوادِ
فهذا منك دجلٌ في صحارِ
على الرجلين قامت ثم قالت
بالوان فرينا اهل رملٍ
صفحہ ٥٧٣
وانتم اهل مرزا قد رضيتم بعبد تحت احمال ثقال

٦١٧....... اور اے اہل مرزا! تم لوگ ایک ایسے غلام پر رضامند ہو گئے ہو جو بھاری بوجھوں کے نیچے ہے۔

دعوا عبداً وخيروا شيخ حق ينجيكم من اخطار هوال

٦١٨....... غلام کو چھوڑو اور شیخ حق کو اختیار کرو۔ یہی شیخ تمہیں ہولناک خطرات سے بچا لے گا۔

والا انتم متم بكفر وكفر فيكم مرض معال

٦١٩....... ورنہ تم کفر کے ساتھ مر گئے اور کفر تمہارے اندر ایک اونچی بیماری ہے۔

فمتم كافرين بذا غلام كماذا كافر والله عال

٦٢٠....... پس تم اسی غلام کی وجہ سے کافر ہو کر مرے، جیسا کہ وہ عنداللہ اونچا کافر ہے۔

فى الغلام والحرباء

غلام احمد اور گرگٹ کے بارے میں

حرابئ الصحارى قد راينا بصحراء على تلّ الرمال

٦٢١....... ہم نے ریتوں کے ٹیلے پر اور صحراء کے اندر، صحرائی گرگٹوں کو دیکھا۔

رأيناها زحائف تحت شمس على ابطانها فوق التلال

٦٢٢....... ہم نے ان کو ٹیلوں کے اوپر سورج کے نیچے پیٹ کے سہارے چلتے دیکھا۔

فمن احدى حرابى سألنا لماذا فيك الوان الدجال

٦٢٣....... اس پر ہم نے ایک گرگٹ سے پوچھا، کہ تمہارے اندر فریب کے کئی رنگ کیوں ہیں۔

فوقتاً انت فى لون حمير ووقتاً فى صفار بالكمال

٦٢٤....... پس تو ایک وقت سرخ رنگ میں ہوتی ہے اور تو ایک وقت مکمل زردی میں ہوتی ہے۔

ووقتاً في خضار او سواد ووقتاً انت بيضاء بآل

٦٢٥....... اور ایک وقت تو سبزی میں یا سیاہی میں اور ایک وقت تو اپنے بچوں سمیت سفید ہوتی ہے۔

فهذا منك دجل فى صحار وخدع منك فى اهل الرمال

٦٢٦....... پس یہی بات اہل صحراء میں صحراؤں کے اندر تیرا ایک مکر و فریب ہے۔

على الرجلين قامت ثم قالت نعم انى دجيل من دجال

٦٢٧....... وہ اپنے دو پاؤں پر کھڑی ہو گئی اور کہا ہاں! میں یقیناً فریب کاروں میں سے ایک فریبی ہوں۔

بالوان فرينا اهل رمل ومرزا كم بالقاب جعال

٦٢٨....... ہم نے اہل صحراء کو اپنے رنگوں سے اور تمہارے مرزا نے اپنے جعلی القاب سے فریب دیا ہے۔

٢٦٥

صفحہ ٥٧٤
اتى فيكم كمهدى بوقت ووقتاً مثل عيسى ذي معال
ووقتاً امتى مع نبى ووقتاً مرسل الله عال
ووقتاً مع سرائل ووقتاً على ذو معال ذو جمال
ووقتاً ذا حسين ثم حسن ووقتاً احمد المختار عال
ووقتاً كرشن من قوم هند ووقتاً ابن مريم بالمثال

پر ابن مریم ہے۔

ووقتاً بعلة حسناء وقتاً كبعل فوقها مثل البعال

شوہر سوار ہے۔

ووقتاً مريم بهواء وقتاً لها ابن حسين فى الشكال
ووقتاً مثل موسى ذى جلال ووقتاً ذابراهيم معال
علمتم ان مرزاكم وانا سويان بدجل والدغال
لانا من دجاجيل الصحارى وهذا من دجاجيل السهال
فقولوه وقولونا جمعاً كدجالين في سهل وآل

فى تلخيص الكلام وموت الغلام

غلام الهند عباد لكفر وكفار اله للمغال

٢٦٦

صفحہ ٥٧٥

٦٤٠...... ہندی غلام کفر پرست ہے اور کافر لوگ مغلوں کے معبود بنے ہوئے ہیں۔

اتی فینا مطیّاً تحت کفرٍ وکفر قد مطاہ کالجلال

٦٤١...... وہ کفر کے نیچے سواری بن کر ہمارے اندر آ گیا اور کفر جلوں کی مانند اس پر سوار ہو گیا۔

مطیّ الکفر لا یأتی مسیحاً ولا مہدی قوم ذی جلال

٦٤٢...... کفر کی سواری بننے والا شخص باعزت قوم کا نہ مسیح بن سکتا ہے اور نہ مہدی۔

ومن یمش مطیّاً تحت کفرٍ یکن عندی کعبد ذی ذلال

٦٤٣...... اور جو شخص کفر کے نیچے سواری بن کر چلتا ہے وہ میرے نزدیک ذلیل نوکر کی مانند ہے۔

أتانا طائعاً افرنج ہند فہم آباءہ ھذا عیال

٦٤٤...... وہ ہندوستان کے فرنگی کا اطاعت گزار بن کر ہمارے پاس آیا۔ پس وہ لوگ اس کے آباؤ اجداد ہیں اور یہ شخص ان کی اولاد ہے۔

وہم فیہ اولو امرٍ یقیناً وذا مأمور افرنج دغال

٦٤٥...... وہ لوگ اس کے بارے میں یقیناً صاحب الامر حاکم ہیں اور یہ شخص دغا باز فرنگیوں کا محکوم ہے۔

وعند المغل طوع الکفر دینٌ ودین المغل مشروب الضلال

٦٤٦...... کفر کی اطاعت میں رہنا ایک مغل کا دین ہے اور مغل کا دین گمراہی کا ایک شربت ہے۔

اتی فی دینہ مطواع کفرٍ وکفر فوقہ تاج الحلال

٦٤٧...... وہ اپنے دین کے اندر کفر کا مطیع بن کر آیا اور کفر اس کے اوپر بزرگی کا تاج ہے۔

مضی کفرٌ اتی کفرٌ علیہ فذا فی قبرہ مال بمال

٦٤٨...... ایک کفر گیا اور اس پر دوسرا کفر آ گیا۔ پس یہ شخص بجان و دل اپنی قبر کے اندر مطمئن ہے۔

اتی غدار قوم ثم دینٍ وولّاء الافرنج بطال

٦٤٩...... وہ قوم و دین کا غدار اور جھوٹے فرنگی کا وفادار بن کر آ گیا۔

اتی مغروس افرنجٍ بحقٍ فمووہ بنقداتٍ ومال

٦٥٠...... وہ حقیقت میں فرنگی کا کاشتہ پودا بن کر آیا۔ پس انہوں نے اس کو نقدی اور مال کا پانی دے دیا۔

علیہ امطروا امطار نقدٍ فہم فیہ کاسحابٍ ہطال

٦٥١...... انہوں نے اس پر نقدی کی بارشیں برسا دیں اور وہ لوگ اس کے حق میں برسنے والے بادل بن گئے۔

دعا ھذا النداء الله یوماً لفصل الخزی لا البھال

٢٦٧

صفحہ ٥٧٦

فلم يقبل ثناء الله هذا ولم يحضره يوماً للفصال

ولما صار مايوساً ثناء اتى فى باب رب ذي جلال

دعا من ربه يا رب انى فقير عاجز من قوة خال

ثناء الله ظلام علينا وانى منه قصار وآل

امت ياربنا من كان منا كذوباً ذا فساد ذا دجال

امته قبل صديق بفور ولا تمهله امداً ذا طوال

يحيى بوفاء مات هذا وهذا فصل رب بالعدال

وفي روح خبيث ستر موت وهذا الموت من سوء المآل

ردى هذا بلاهور فجاءة بقيئات واسهال الدّمال

دس ہزاری اشتہار اور جواب اشعار با اشعار

خدا کا کام ہی ہرجا عیاں ہے مگر کافر کی آنکھوں سے نہاں ہے
ہوا کافر کا بیڑا غرق اپنا مگر سمجھا کہ یہ اس کا نشان ہے
رہا زندہ ثناء اللہ یہاں پر گئی کھا اس کو خاک قادیاں ہے
پڑی اس پر خدا کی مار ایسی کہ اب ہندو ہی اس پر حکمراں ہے

٢٦٨

صفحہ ٥٧٧
رہا کافر کے بچے زندگی میں مرا تو کفر اس پہ سائباں ہے
ثناء اللہ مسلماں تھا خدا کا ملا ملک مسلماں اس کو یاں ہے
ملی کافر کو کافر کی زمیں ہے یہی خود فیصلہ از آسماں ہے
رہا صادق مرا کاذب یہاں پر یہی اس کی زباں کا ہی بیاں ہے

مرزا قادیانی کا دعویٰ ہے کہ اس نے اپنی کتاب ”اعجاز احمدی“ پانچ ایام میں لکھی ہے اور تین دنوں کے اندر مطبع ضیاء الاسلام سے چھپوا کر شائع کر دی ہے۔ حالانکہ اس شخص کا یہی دعویٰ سراسر باطل اور جھوٹ ہے۔ کیونکہ کتاب ہذا کے اندر مباحثہ مڈ کے متعلق صرف گنتی کے چند اشعار ہیں اور کچھ قدر اردو عبارت ہے اور باقی اشعار و عبارت میں یا تو اس نے میاں منظور کی سچی مدح وثناء کی ہے یا غیر متعلق وغیر موجود علماء و فضلاء کو اپنی سب وشتم کا نشانہ بنایا ہے یا مسیح علیہ السلام کے بارے میں ناشائستہ اور غیر موزوں باتیں درج کی ہیں اور ضروری باتوں سے صرف نظر کر کے غیر ضروری امور پر اپنا بیشتر وقت ضائع کیا ہے۔ ان حالات میں اس پر لازم یہ تھا کہ وہ صرف دو دن کے مباحثہ میں زیر بحث آنے والے دلائل وبراہین کا ذکر کرتا تاکہ پتہ چل جاتا کہ بروئے دلائل میدان مناظرہ کس فریق کے ہاتھ رہا اور کون سا فریق اس میدان میں ہزیمت کا شکار ہوا۔ ایسا نہ کرنے سے دال میں کچھ کالا ضرور ہے۔

میں نے ہمت کر کے بحمدہ تعالیٰ مرزائی کتاب کا جواب بنام ”شہباز محمدی“ ترتیب دیا ہے جو انشاء اللہ تعالیٰ قابل قدر و قابل اعتماد تحریر ثابت ہوگا۔ میں نے مرزا قادیانی کے قصیدہ اعجازیہ کے بالمقابل بطور جواب کے ایک عربی قصیدہ لکھا ہے جو تقریباً (٦٠٠) چھ سو اشعار پر مشتمل ہے اور اس کی لغویات کا دندان شکن اور مسکت جواب ہے۔ میرے عربی قصیدہ کے اندر چند اہم مضامین پر بحث کی گئی ہے اور ہر مضمون کو بدلائل ثابت کیا گیا ہے۔ لیکن مرزا قادیانی کا عربی قصیدہ اس کے پراگندہ خیالات کا مجموعہ ہے۔ کسی خاص مضمون پر مستقل تنقید و تبصرہ پیش نہیں کیا۔ بلکہ قصیدہ کے اکثر اشعار یا خود ثنائی کا شکار ہیں یا سب وشتم اور گالی گلوچ سے ملوث ہیں۔

اب میں بحالات بالا اپنی کتاب کو خلیفہ آف ربوہ کے سامنے پیش کر کے خواہش رکھتا ہوں کہ اگر ان کا کوئی فاضل عربی ایک ماہ کے اندر میری کتاب کا جواب اردو عبارت کا اردو عبارت میں، اردو نظم کا اردو نظم میں اور عربی قصیدہ کا عربی قصیدہ میں پیش کر دے اور ایک ثالث کمیٹی اس جوابی کتاب کو صحیح قرار دے دے تو میں اس مصنف کو دس ہزار روپیہ نقد بطور انعام پیش کر دوں گا اور اس کی علمی قابلیت کا اقرار کر لوں گا اور اگر اس نے میرے اس علمی مطالبہ کو پورا نہ کیا اور بفضلہ

٢٦٩

صفحہ ٥٧٨

تعالیٰ پورا نہیں کرے گا تو مرزا قادیانی کی دس لعنتیں جو اس نے مولوی ثناء اللہ صاحب پر ڈالی ہیں واپس مرزا واہلِ مرزا پر ڈالی جائیں گی جو انہیں بالطیب خاطر گوارا ہوں گی اور اپنے منحوس سرمایہ کو واپس لینے پر بخوشی رضامند ہوں گے اور کسی قسم کی ہچکچاہٹ محسوس نہیں کریں گے۔

میرزاغ

مرزا قادیانی نے اپنے دس ہزاری اشتہار کے آخر میں اپنا نام ”میرزا غلام احمد“ بھی لکھا ہے۔ اگر اس نام کو بطور ترخیم کے جو علم النحو کا ایک مشہور طریق اختصار ہے مختصر کیا جاوے تو یہ نام ”میرزاغ“ بن جاتا ہے اور میرزاغ کا معنی بڑا کوا ہے۔ جیسا کہ بڑے منشی کو میر منشی بمعنی ہیڈ کلرک کہا جاتا ہے جو اپنے دفتر کے تمام منشیوں اور کلرکوں کا افسر ہوتا ہے۔ بنا برآں ”میرزاغ“ کا مفہوم یہ ہوگا کہ وہ بہت سے کووں اور زاغوں کا امیر و قائد ہے اور اس کے ماتحت زاغوں کی ایک بڑی جماعت کام کرتی ہے۔ چنانچہ مرزا قادیانی کے مخالف علماء و فضلاء اس کو کہا کرتے تھے کہ یہ شخص بڑا کائیاں آدمی ہے اور یہی مفہوم لفظ ”میرزاغ“ کا ہے جو اسے بڑا کائیاں ثابت کر رہا ہے اور اس کا نام اس کے کائیاں ہونے پر دلیل بن رہا ہے۔ سچ ہے۔

زاغ دیں آمد دلیل زاغ دیں
گر ندانی نام مرزا را ببیں

دین کا کوا دین کے کوے کی دلیل ہے۔ اگر تو نہیں جانتا تو مرزا قادیانی کے نام کو دیکھ لے۔

نام او آمد دلیل میرزاغ
مے کند در نام خود او کاغ کاغ

اس کا نام اس کے زاغ اکبر ہونے کی دلیل ہے اور وہ اپنے نام کے اندر کائیں کائیں کرتا ہے۔

زاغ دین را در دیار زاغ کن
ورنہ دینت او فتاد از بیخ و بن

دین کے زاغ کو ملک زاغ کے اندر بھیج دے، ورنہ تیرا دین جڑ اور تنے سے اکھڑ کر گر گیا۔

می کند ایں زاغ کار زاغہا
مے دہد ایں زاغ دیں را داغہا

یہ کوا کووں کا کام کرتا ہے اور یہ کوا دین کو بہت سے داغ دیتا ہے۔

عرصہ کی بات ہے کہ مجھے ایک عالم دین سے ملنے کا اتفاق ہوا اور اس نے دوران گفتگو مجھے درج ذیل عربی شعر سنایا:

اذا کان الغراب دلیل قوم
سيهديهم طريق الهالكينا

جب کوا کسی قوم کا رہبر بن جاتا ہے تو وہ قوم کو مرنے والوں کی راہ دکھاتا ہے۔

اور ملاقات ختم ہونے کے بعد میں اپنے گھر چلا آیا اور سوچتا رہا کہ کیا ایک کوا کسی قوم کا

٢٧٠

صفحہ ٥٧٩

قائد و ہادی بن سکتا ہے ہرگز نہیں، لیکن جب میں نے کسی وجہ سے مرزا قادیانی کے نام ”میرزا غلام احمد“ کا تجزیہ کیا اور اس پر بطور مذکورہ بالا عمل ترخیم جاری کیا تو میرا لاینحل عقدہ فوراً حل ہو گیا اور میں سمجھ گیا کہ مرزائی جماعت زاغوں کا ایک ٹولہ ہے جس کی قیادت ”میرزاغ“ صاحب انجام دے رہے ہیں اور اپنی جماعت کو ہلاکت کی راہ پر لے جا رہے ہیں۔ گویا کہ یہی شعر کہنے والے شاعر کی طرف سے ایک قسم کی قبل از وقت پیش گوئی ہے جو مرزا قادیانی اور اس کی جماعت پر حرف بحرف منطبق ہو جاتی ہے اور پھر یہی وجہ ہے کہ ”غلام احمد قادیانی“ اور ”غراب زمن“ اور ”مرغ دون“ کے اعداد حروف برابر ہو جاتے ہیں جو پورے ١٣٠٠ ہیں اور اسے زاغ دین ثابت کرتے ہیں اور اس کے علاوہ مرزا قادیانی کے نام ”غلام احمد“ اور ”زاغ قومی“ کے اعداد بھی برابر ہیں جو ١١٢٣ بنتے ہیں اور اسے زاغ قومی بنا دیتے ہیں۔

(ہومیو ڈاکٹر محمد ربانی)

حامداً ومصلياً

مرزائی محاکمہ پر محمدی محاکمہ

مرزا قادیانی نے مولوی محمد حسین بٹالوی اور مولوی عبداللہ چکڑالوی کے مذہبی خیالات اور دینی رجحانات پر اظہار الرائے کرتے ہوئے اوّل الذکر کو مریض افراط اور ثانی الذکر کو مبتلائے تفریط بتایا۔ یعنی پہلا آدمی احادیث نبویہ کو قرآنِ عزیز پر حاکم و قاضی سمجھتا ہے اور دوسرا آدمی احادیث کا منکر ہو کر گستاخ ہے۔ گویا کہ ایک غالی ہے جو حد اعتدال کو گرا کر آگے نکل گیا ہے اور دوسرا گستاخ و بے ادب ہے جو اپنے رسول کے فرامین کو قابلِ عمل نہیں سمجھتا۔

اب ہم نے یہاں پر یہ فیصلہ دینا ہے کہ مرزا قادیانی بذات خود اور بخیال خود کس فریق کی حمایت کا دم بھرتا ہے اور کس فریق سے پہلو تہی کرتا ہے یا ان دونوں نظریات کے علاوہ کسی تیسری راہ پر قدم مارتا ہے۔ جاننا چاہئے کہ میں نے اس کی زیر نظر کتاب کو پڑھ کر جو رائے قائم کی ہے وہ یہ ہے کہ یہ شخص اندرونی طور پر مولوی عبداللہ چکڑالوی کا ہم خیال ہے اور منکر احادیث ہے۔ جیسا کہ وہ صریحاً رقم طراز ہے:

وقد مزق الاخبار كل ممزق فكل بما هو عنده يستبشر

اور حدیثیں تو ٹکڑے ٹکڑے ہو گئیں اور ہر گروہ اپنی حدیثوں سے خوش ہو رہا ہے۔

(اعجاز احمدی ص ٥٧، خزائن ج ١٩ ص ١٦٨)

ولا تذكروا الاخبار عندى فانها كجذذة بيت العنكبوت تكسر

٢٧١

صفحہ ٥٨٠

میرے پاس حدیثوں کا ذکر مت کرو، کیونکہ وہ عنکبوت کے گھر کی طرح توڑی جاسکتی ہے۔

(اعجاز احمدی ص ٧٤، خزائن ج ١٩ ص ١٨٧)

یہی دونوں اشعار اس کے منکر الاحادیث ہونے کو بصراحت بیان کرتے ہیں اور بتاتے ہیں کہ اس کے نزدیک احادیث نبویہ کی قدر و قیمت مکڑی کے جالا سے بیشتر اور بالاتر نہیں ہے اور پھر وہ احادیث سننے پر بھی آمادہ نظر نہیں آتا۔ کیونکہ احادیث الرسول اس کے نزدیک ردی کاغذ کی مانند چاک کر کے پھینک دی گئیں اور اب ان سے کسی قسم کا استدلال نہیں ہوسکتا۔ اس شخص نے اس پر بس نہیں کی بلکہ مولوی ثناء اللہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہہ دیا کہ:

ذكرت بفہ عند بحثك بالهوى احادیث والقرآن تلغی وتھجر

تو نے مقام مد میں بوقت بحث کہا تھا کہ ہمارے پاس احادیث ہیں اور تو قرآن کو لغو وباطل ٹھہراتا ہے۔

(اعجاز احمدی ص ٥٥، خزائن ج ١٩ ص ١٦٦)

اس شخص نے اس شعر میں بھی احادیث نبویہ سے اپنی حقارت ونفرت کا اظہار کیا ہے اور مولوی صاحب پر یہ الزام عائد کیا ہے کہ وہ احادیث کو پیش کر کے قرآن مجید کا منکر بنتا ہے۔ ان حالات سے یہ نتیجہ اخذ ہوتا ہے کہ مرزا قادیانی احادیث سے منحرف ہے یا کم از کم احادیث نبویہ کو قابل اعتماد و قابل استدلال نہیں سمجھتا۔ جیسا کہ مولوی عبداللہ چکڑالوی کا نظریہ ہے۔ بناء برآں مولوی عبداللہ چکڑالوی اور مرزا قادیانی دونوں ایک ہی تھیلی کے چٹے بٹے ہیں اور انکار احادیث کے معاملہ میں ایک ہی ماں کے دو جڑواں بچے ہیں۔ یا مرزا قادیانی عبداللہ چکڑالوی کا ظل و بروز ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اعدادی طور پر ”مرزا قادیانی/ ٤١٦“ اور عبداللہ چکڑالوی/ ٤١٢ دو جڑواں عدد بن جاتے ہیں۔

(مرزا غلام احمد قادیانی / ١٥٤٨) = ”خوان باحادیث الرسول دجلاً / ١٥٤٨“

وہ اپنی دجالیت سے احادیث رسول کا خائن ہے۔

(مرزا غلام احمد / ١٣٧٢) = ”مخالف بالاحادیث النبویۃ / ١٣٧٢“ اس نے احادیث نبی کی مخالفت کی ہے۔

میں نے مذکورہ بالا تینوں اشعار کو بطور ذیل ترمیم کردیا ہے:

وقد عظم الاخبار كل عظامة فانا بها فى كل بحث نذاكر

احادیث کو کامل عظمت دی گئی ہے۔ اسی بناء پر ہم ہر بحث کے اندر ان سے مذاکرہ کرتے ہیں۔

علمنا احاديث الرسول كعصمة ودينى بها حقاً بحصن مظفر

٢٧٢

صفحہ ٥٨١

ہم نے احادیث رسول کو ایک قلعہ کی مانند جان لیا ہے اور میرا دین ان کی وجہ سے قلعہ بند بن گیا ہے۔

ومن قالها بيت العناكب انه جهول ودجال كذوب وكافر

جس شخص نے ان کو مکڑی کا گھر کہا، وہ یقیناً جاہل، دجال، کاذب اور کافر ہے۔

قلت جواباً لاشعاره

احاديث وايات لدينا كابوين لدين ذي كمال

ہمارے نزدیک احادیث و آیات کامل دین کے ماں باپ کی مانند ہیں۔

فإسلام لدين مثل ابن حسين بالشمائل والشكال

پس اسلام ان دونوں کے لئے شکل وسیرت کے خوبصورت بیٹے کی مانند ہے۔

فمن منكم تلهى عن حديث حرامي وشيطان الظلال

پس تم میں سے جو شخص حدیث سے ہٹ گیا وہ حرامی اور ظلی شیطان ہے۔

وديني دونها من غير شك يتيم الام ديناً في الاصال

بلاشبہ اور دراصل میرا دین حدیث کے بغیر دینی طور پر ماں کا یتیم ہے۔

عليكم ان تعودوا في حديث وقولوه بمقال ثم حال

تم پر لازم ہے کہ حدیث کی طرف لوٹ آؤ اور حال وقال سے اس کے قائل بن جاؤ۔

والا انتم اشرار قوم هويتم من سلام في وبال

ورنہ تم ایک شریر قوم ہو اور سلامتی کو چھوڑ کر ہلاکت میں گر چکے ہو۔

احاديث وايات لدين كعينيه بلا قيل وقال

بلا قیل وقال احادیث و آیات دین کے لئے اس کی دو آنکھوں کی مانند ہیں۔

فيسرى عينه فيه حديث ويمنى عينه آى عوال

حدیث شریف دین اسلام کی بایاں آنکھ ہے اور بالاتر آیات اس کی دایاں آنکھ ہیں۔

فإسلام بلا عين حديث كعوران النساء والرجال

اسی بناء پر دین اسلام احادیث کے بغیر کانی عورتوں اور کانے مردوں کی مانند ہے۔

وان انتم مضيتم عن حديث جعلتم دينكم عور المقال

اور اگر تم لوگ حدیث کو چھوڑ کر چل دیئے ہو تو تم نے اپنے دین کو کانا بنالیا ہے۔

بآيات احاديث رضينا الى يوم القيامة بالموال

٢٧٣

صفحہ ٥٨٢

ہم قیامت تک تہہ دل سے آیات واحادیث پر راضی ہو چکے ہیں۔

مرزا قادیانی کی دورنگی دیکھئے کہ اس نے اپنے قصیدہ کے اندر احادیث نبویہ پر اپنی نفرت وحقارت کا اظہار کیا ہے اور ان کو مکڑی کا جالا قرار دیا ہے اور پھر ان کو ظنیات کا انبار سمجھا ہے۔ لیکن اس نے اپنے اسی محاکمہ کے اندر قدرے نرم رویہ اختیار کیا ہے اور اپنی جماعت کو تلقین ونصیحت کی ہے کہ وہ اہل حدیث فرقہ کے قریب رہ کر مولوی عبداللہ چکڑالوی سے اجتناب کریں اور ان کے عقائد واعمال سے محترز رہیں۔ ان حالات کے پیش نظر مرزا قادیانی احادیث نبویہ کی اکثریت کا منکر ہے اور انکار حدیث کے بارے میں مولوی عبداللہ چکڑالوی کے بعد دوسرے نمبر پر آتا ہے اور اس کا ظل و بروز قرار پاتا ہے۔

حدیث وسنت کا مفہوم

اب باقی تصفیہ طلب بات صرف یہ رہ جاتی ہے کہ کیا حدیث وسنت دونوں کا مفہوم ایک ہے یا ان میں وہ فرق صحیح ہے جو مرزا قادیانی نے اختیار کر کے بیان کیا ہے۔ دراصل بات یہ ہے کہ فقہائے اسلام کی ایک اصطلاح میں لفظ سنت آنحضرت ﷺ کے اقوال وافعال اور سکوت پر اطلاق ہوتا ہے۔ جیسا کہ نور الانوار کے اندر اقسام سنت کے تحت میں مذکور ہے اور محدثین کے نزدیک لفظ حدیث مذکورہ تین امور پر مشتمل ہے۔ جیسا کہ شیخ عبدالحق محدث دہلوی نے مقدمۃ المشکوٰۃ کے شروع میں تحریر کیا ہے۔ اس طرح واضح ہو گیا کہ لفظ حدیث وسنت تقریباً مترادف المفہوم ہیں، یا کم از کم لازم وملزوم یا ملزوم ولازم ہیں۔ جیسا کہ حدیث ذیل سے مترشح ہوتا ہے۔

"ترکت فیکم امرین کتاب اللہ وسنتی ما ان تمسکتم بھما لن تضلوا بعدی" ﴿میں نے تمہارے اندر دو چیزیں چھوڑی ہیں۔ ایک کتاب اللہ اور دوسرے اپنی سنت، تم جب تک ان سے چمٹے رہو گے میرے بعد ہرگز گمراہ نہیں ہو گے۔﴾

آپ ﷺ کی یہی نصیحت دوران مرض الموت میں فرمائی گئی ہے۔ یہاں پر لفظ سنت سے آپ ﷺ کے اقوال وافعال اور سکوت تینوں امور مراد ہیں اور مطلب یہ ہے کہ تم کتاب اللہ کے ساتھ ساتھ میرے افعال واقوال اور میرے ما علیہ السکوت کے بھی پابند رہو اور یہ مطلب قطعاً نہیں ہے کہ تم صرف میرے کئے ہوئے کاموں پر عمل کرو اور میرے اقوال وفرامین پر عمل کرنا تمہارے لئے ضروری نہیں ہے۔ بنا بر آں واضح ہو گیا کہ لفظ حدیث وسنت باہم مترادف المفہوم اور ہم معنی ہیں اور مرزا کی تفریق سراسر باطل ہے۔ نیز مرزا قادیانی نے زیر بحث محاکمہ کے اندر

٢٧٤

صفحہ ٥٨٣

مسئلہ ختم نبوت اور مسئلہ احادیث کو ملتا جلتا اور باہم متشابہ قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ جس طرح بعض احادیث قابل قبول اور قابل عمل ہیں اور بعض دیگر احادیث قابل رد اور قابل انکار ہیں۔ اسی طرح عقیدہ ختم نبوت کے پیش نظر بعض نبوتیں قابل قبول اور قابل اتباع ہیں اور بعض دیگر نبوتیں قابل انکار اور قابل رد ہیں۔ یعنی آنحضرت ﷺ کو خاتم النبیین مانتے ہوئے آپ کے بعد نبوت ظلیہ و نبوت بروزیہ و نبوت غیر شرعیہ کا دعویٰ کرنا درست اور صحیح ہے اور صرف نبوت شرعیہ اور نبوت غیر امتیہ کا دعویٰ کرنا باطل وغلط ہے۔ چونکہ مرزا قادیانی امتی نبوت اور غیر شرعی نبوت کا مدعی ہے۔ اس لئے وہ ایسی نبوتوں کے ادعاء کو قابل قبول گردانتا ہے۔ لیکن اس شخص کا یہی خیال ایک قسم کی گمراہی و بطالت ہے۔ مرزا قادیانی نے اپنے خیال بالا کی تائید میں آیت خاتم النبیین کو پیش کر کے اس کا غلط مفہوم لیا ہے اور اہل اسلام کو غلط اور غیر صحیح راہ پر لے جانے کی کوشش کی ہے۔ آیت ہذا کا صحیح اور اسلامی مفہوم مجھ سے سنئے اور اپنائیے۔

قال تعالیٰ : ”ما کان محمد ابا احدٍ من رجالکم ولکن رسول اللّٰہ وخاتم النبیین و کان اللّٰہ بکل شئی علیما (احزاب:٤٠)“ ﴿محمد ﷺ تمہارے مردوں میں سے کسی ایک کے باپ نہیں ہیں۔ لیکن اللہ کے رسول اور انبیاء کے خاتم ہیں اور اللہ تعالیٰ ہر ایک چیز کا عالم ہے۔﴾

آیت ہذا سے مندرجہ ذیل باتیں بالصراحت مترشح ہوتی ہیں اور ہر قسم کی نبوت کو کلی طور پر منقطع ظاہر کرتی ہیں:

اول الذکر کا معنی انگوٹھی یا مہر ہے اور ثانی الذکر کا معنی ختم کرنے والا ہے یا سب کے آخر میں آنے والا ہے۔ جیسے:”زید خاتم الاولاد او خاتمھم لابویہ“ ﴿زید اپنے ماں باپ کی اولاد کی مہر ہے یا اولاد کا خاتم ہے۔﴾

اور مطلب یہ ہے کہ زید اپنے ماں باپ کی اولاد کا آخری بیٹا ہے۔ زید کے بعد اس کے ماں باپ کو کوئی اولاد نہیں ہوئی اور خود مرزا قادیانی نے بھی خاتم الاولاد کا یہی مفہوم لیا ہے کہ وہ اپنے ماں باپ کا آخری بیٹا ہے اور اس کی ولادت کے بعد اس کے ماں باپ کو کوئی اولاد نہیں ہوئی۔ بنا بر آں آیت زیر بحث کے اندر لفظ ”خاتم النبیین“ کا بھی یہی مفہوم ہے کہ آنحضرت ﷺ مادر فطرت کی آخری اولاد ہے اور سلسلۂ انبیاء کی آخری کڑی ہیں۔ چنانچہ آنحضرت ﷺ نے بھی تیس دجال والی حدیث میں لفظ ”خاتم النبیین“ کا معنی بلفظ ”لانبی

٢٧٥

صفحہ ٥٨٤

بعدی ”میرے بعد کوئی نبی نہیں ہے“ ارشاد فرمایا ہے۔ اب اگر کوئی شخص نبوی مفہوم ومعنی کو چھوڑ کر اس لفظ کا معنی نبی تراش یا نبی ساز کر دے تو وہ یقیناً شیطان لعین کا فریب خوردہ ہے۔

لئے آتا ہے۔ جیسے: ”جاء نی زید ولکن لم یجی عمرو“ (میرے پاس زید آ گیا لیکن عمرو نہیں آیا۔)

چنانچہ حرف ”لکن“ کے ماقبل فقرہ سے یہ وہم پیدا ہوتا ہے کہ زید کے ساتھ عمرو بھی متکلم کے پاس آ گیا ہے۔ کیونکہ وہ دونوں اکٹھے رہتے ہیں اور سفر وحضر میں اکٹھے چلتے ہیں۔ حالانکہ وہ متکلم کے پاس نہیں آیا تھا اور اپنے گھر پر مقیم تھا۔ اسی محتمل وہم کے دفعیہ کے لئے ”لکن“ کے بعد کا فقرہ لا کر بتایا گیا کہ عمرو متکلم کے پاس نہیں آیا۔ صرف زید آیا ہے۔ بنا برآں آیت بالا میں بھی یہی کیفیت موجود ہے کہ فقرہ ”ما کان محمد ابا احد من رجالکم“ سے یکے بعد دیگرے ترتیب وار دو سوال پیدا ہوتے ہیں۔

اس کے روحانی باپ بھی نہیں بن سکتے۔ حالانکہ آپ بحیثیت رسول اللہ ﷺ ہونے کے رجال امت کے روحانی باپ ہیں اور رجال امت آپ کی روحانی اولاد ہیں۔ کیونکہ ہر نبی اپنی امت کا روحانی باپ ہوتا ہے اور اس کی امت اس کی روحانی اولاد ہوتی ہے اور بظاہر و متبادر یہ بات درست اور حق بجانب معلوم ہوتی ہے کہ جیسے آپ اپنی امت کے رجال امت کے نسبی باپ نہیں ہیں۔ اسی طرح ان کے روحانی باپ بھی نہیں بن سکتے۔

یکے بعد دیگرے اصلی وظلی انبیاء اور شرعی وغیر شرعی انبیاء اور بروزی وغیر بروزی انبیاء ہوتے اور آتے رہے ہیں۔ اسی طرح آنحضرت ﷺ کے بعد بھی سلسلۂ نبوت ورسالت جاری وساری ہونا چاہئے اور امت محمدیہ کے رجال امت کو یہ جواز ملنا چاہئے کہ وہ آپ ﷺ کے بعد بلا روک ٹوک ہر قسم کی نبوت رسالت کا دعویٰ کر سکیں اور شرعاً ان پر کسی قسم کی تعزیر وگرفت نہ ڈالی جاسکے۔ جیسا کہ مسیلمہ کذاب اور غلام پنجاب نے متفرق اقسام کی نبوتوں کے دعاوی کئے اور عوام الناس کو گمراہ کیا۔

ان دونوں محتمل سوالوں کے جواب میں لفظ ”رسول اللہ“ اور لفظ ”خاتم النبیین“ کو لایا گیا ہے۔ لفظ اوّل سوال اوّل کا اور لفظ ثانی سوال ثانی کا جواب ہے۔ لفظ رسول اللہ سے سوال اوّل کا یہ جواب دیا گیا ہے کہ اگرچہ آپ ﷺ اپنے رجال امت کے نسبی باپ نہیں ہیں اور وہ آپ

٢٧٢

صفحہ ٥٨٥

کی نسبی اولاد نہیں ہیں۔ لیکن آپ ان کے روحانی باپ ضرور بالضرور ہیں۔ کیونکہ ہر رسول اپنی امت کا روحانی باپ ہوتا ہے اور اس کی امت اس کی روحانی اولاد ہوتی ہے اور لفظ ”خاتم النبیین“ سے سوالِ دوم کا یہ جواب دیا گیا ہے کہ آپ تمام محتمل انبیاء ورسل کے خاتم ہیں۔ کیونکہ کامل رسول اللہ کے آنے کے بعد رسالت ونبوت کے جاری رکھنے کی ضرورت نہیں رہی۔ لہٰذا رجال امت میں سے کوئی شخص بھی دعویٰ رسالت ونبوت نہیں کر سکتا۔ ورنہ ماننا پڑے گا کہ العیاذ باللہ رسول اللہ ﷺ ایک ناقص رسول ہے جس کے بعد دیگر رسولوں کے آنے کی ضرورت وحاجت باقی ہے۔

چاہئے تھا۔ لیکن اس لفظ کو چھوڑ کر لفظ ”خاتم النبیین“ لایا گیا ہے جو بظاہر اور بادی النظر میں غیر موزوں اور بے ربط معلوم ہوتا ہے۔ کیونکہ لفظ رسول اللہ سے جس دعویٰ کا اثبات مطلوب ہے اسی کو مختتم و مسدود بتایا جاتا۔ تا کہ آئندہ کے لئے کوئی شخص مدعی رسالت نہ بن سکتا۔ جیسا کہ بہاء اللہ ایرانی نے دعویٰ رسالت کر کے یہ دلیل پیش کی ہے کہ آیت زیر بحث کے اندر لفظ خاتم المرسلین نہیں ہے اور صرف خاتم النبیین ہے۔ لہٰذا دعویٰ رسالت کرنے میں کوئی امر مانع نہیں ہے اور نبوت کا دعویٰ کرنے میں یہ لفظ ایک عظیم و شدید رکاوٹ ہے۔

جواب...... یہ ہے کہ لفظ ”خاتم النبیین“ ہی نبوت ورسالت دونوں کے دعویٰ کرنے میں مزاحم ہے۔ کیونکہ لفظ رسول لفظ خاص ہو کر صاحب کتاب پیغمبر کو کہا جاتا ہے اور کتاب ایک جدید شریعت مشتمل ہوتی ہے یا سابقہ شریعت کا ایک ضمیمہ ہو کر اس کی مؤید ہوتی ہے اور لفظ نبی لفظ عام ہو کر صاحب کتاب یا بے کتاب پیغمبر دونوں پر بولا جاتا ہے اور پھر خاص کی نفی سے عام کی نفی نہیں ہوتی۔ لیکن عام کی نفی سے خاص بالضرور منتفی ہو جاتا ہے۔ جیسا فرضاً کہا جاوے۔

”زید انسان وخاتم الناس“ ﴿زید انسان ہے اور انسانوں کو ختم کرنے والا ہے۔﴾

مطلب یہ ہے کہ زید انسان ہو کر تمام انسانوں کا خاتم ہے۔ یعنی وہ نوع انسانی کا آخری فرد ہے اور اس کے بعد کسی انسان نے وجود میں نہیں آنا ہے اور اسی جملہ کو بطور ذیل کہا جائے کہ:

”زید انسان وخاتم الحیوانات“ ﴿زید انسان ہے اور تمام جانداروں کا خاتم ہے۔﴾

تو مطلب یہ ہوگا کہ زید انسان ہو کر تمام جانداروں کا ایک آخری فرد ہے اور اس کے بعد کوئی جاندار بھی وجود میں نہیں آئے گا۔ بنا برآں پہلے جملہ میں صرف انسانیت کی ختمیت ثابت ہوگی اور دیگر قسم کے جاندار آتے رہیں گے اور دوسرے جملہ میں تمام جانداروں کی ختمیت برآمد ہوگی۔ خواہ وہ انسان ہوں یا غیر انسان ہوں۔ چنانچہ آیت زیر بحث کے اندر بھی یہی کیفیت ہے کہ آپ ﷺ کو

٢٧٧

صفحہ ٥٨٦

رسول اللہ کہہ کر خاتم النبیین بتایا گیا ہے اور مطلب یہ ہے کہ آپ رسول خدا بننے کے بعد تمام صاحب کتاب اور بے کتاب اور صاحب شریعت اور بے شریعت انبیاء ورسل کے خاتم ہیں۔ یعنی آپ ﷺ تمام شرعی اور غیر شرعی اصلی اور فرعی ، بروزی وغیر بروزی سب انبیاء و مرسلین کے آخری فرد ہیں۔ گویا کہ آپ کے بعد کسی شخص نے بحیثیت ایک نبی ورسول کے مبعوث نہیں ہونا ہے۔

غلط اور دجالانہ تاویل وتفسیر ہے۔ کیونکہ اگر خاتم کا معنی مہر لگانے والا کیا جائے تو پھر مطلب یہ ہوگا کہ آپ انبیاء کو مہر لگانے والے ہیں۔ یعنی ان کے مصدق ہیں اور یہ مطلب قطعا نہیں ہے کہ آپ انبیاء تراش یا انبیاء ساز ہیں۔ کیونکہ وہ مہر لگانے سے قبل انبیاء بن چکے تھے اور محمدی مہر ان پر بعد میں لگی۔ جس نے ان کی تصدیق و تائید کا فریضہ انجام دیا اور اگر بفرض محال یہاں پر مرزائی مفہوم مراد ہوتا تو پھر یہ لفظ بجائے ”خاتم النبیین“ کے ”صانع النبیین“ (انبیاء ساز) یا ”خالق النبیین“ (انبیاء تراش) ہوتا۔

الرجال“ نہیں کہا گیا۔ اس لئے آپ کے بعد انبیاء ورسل کا آنا ممنوع ہے۔ لیکن رجال صالحین کا آنا ممنوع نہیں ہے۔ چنانچہ عیسیٰ علیہ السلام آپ کے بعد مرد صالح کے طور پر آئیں گے اور بحیثیت نبی ورسول کے نہیں آئیں گے۔ کیونکہ نبوت محمدیہ کے سامنے اس کی نبوت ورسالت اس طرح مستور و محجوب رہے گی۔ جیسا کہ آفتاب کا طلوع ستاروں اور سیاروں کو محجوب و مستور کر دیتا ہے۔

الصدیقین“ اور ”خاتم الشھداء“ اور ”خاتم الصالحین“ نہیں کہا گیا۔ اس لئے ثابت وواضح ہو گیا کہ آپ کے بعد نبوت کی ہمہ اقسام ختم اور بند ہیں اور صرف صداقت وشہادت وصلاحت ساری وجاری ہیں۔ یعنی نبوت ورسالت کے علاوہ امت محمدیہ پر تمام انعامات و فضائل کشادہ اور قابل عطاء ہیں۔ بلکہ عطاء ہورہے ہیں اور ہوتے رہیں گے۔ لیکن حصول نبوت ورسالت ممتنع رہے گا۔ ورنہ انعامات اربعہ (نبوت وصداقت وشہادت وصلاحت) میں سے صرف ختم نبوت کی تخصیص الذکر بیکار اور بے محل قرار پائے گی۔

کہ انگوٹھی ایک حلقہ اور ایک نگینہ پر مشتمل ہوتی ہے اور مطلب یہ ہے کہ جیسے انگوٹھی کا حلقہ لابس انگلی کو محیط ہوتا ہے اور انگلی اس میں محاط و محصور ہوتی ہے اسی طرح آپ ﷺ پر بھی تمام انبیاء ورسل کو

٢٧٨

صفحہ ٥٨٧

محیط ہیں اور انبیاء ورسل سب کے سب اسی احاطہ ودائرہ میں محاط ومحصور ہیں۔ کیونکہ آپ خلقت روحی کی بناء پر اوّل الانبیاء ہیں اور خلقت جسمانی و بعثت نبوی کی بنیاد پر آخر الانبیاء ہیں۔ جیسا کہ فرمایا گیا ہے: ”انا اوّل الانبیاء خلقاً وآخرہم بعثاً“ ﴿میں خلقت میں اوّل الانبیاء اور بعثت میں آخر الانبیاء ہوں۔﴾

اور اگر اس لفظ کو بمعنی مہر مانا جائے تو پھر خاتم النبیین کا یہ مطلب ہے کہ آپ نے تمام انبیاء کے آخر میں آکر مہر کا فریضہ انجام دیا۔ کیونکہ جس طرح مضمون کے ختم ہو جانے کے بعد مضمون کے آخر میں تصدیقی مہر لگائی جاتی ہے۔ تاکہ نوشتہ مضمون میں کسی قسم کی کمی بیشی نہ کی جاسکے۔ اسی طرح پر آپ نے بھی تمام انبیاء ورسل کے آخر میں مبعوث ہوکر سلسلۂ نبوت ورسالت کے اندر کسی دیگر نبی ورسول کے اضافہ یا کم کرنے کو روک دیا اور اسی سلسلہ کی مہر ثابت ہوکر اسے سر بمہر کر دیا تاکہ مسیلمہ کذاب اور غلام پنجاب اور بہاء اللہ ایرانی جیسے جعلی اور شیطان کاشتہ متنبیاں باہر رہیں۔ نیز مہر کا یہ مطلب بھی ہوسکتا ہے کہ جیسے انگوٹھی کے حلقہ کی نقرئی یا طلائی تار کے دونوں سروں کو ملا کر اس پر نگینہ فٹ کر دیا جاتا ہے۔ اسی طرح آپ نے بھی سلسلۂ نبوت ورسالت کی ابتداء وانتہاء کو ملا کر اس کے اوپر محمد رسول اللہ ﷺ کی مہر لگادی تاکہ اس سلسلہ میں نہ کوئی جعلی نبی داخل ہوسکے اور نہ کسی راست باز اور سچے نبی کو باہر نکالا جاسکے۔

کے اندر ایک وعیدی اور انذاری پیش گوئی کا ذکر کیا ہے اور بتایا ہے کہ امت محمدیہ کے اندر بعض ایسے لوگ بھی پیدا ہوں گے جو حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کو کامل خاتم النبیین نہیں مانیں گے اور آپ کی ختم نبوت کے اندر طرح طرح کی تاویلیں اور غیر موزوں تعبیریں وتفسیریں پیدا کریں گے اور خدا تعالیٰ ان کی بکواسوں کو جاننے والا ہے اور ان کاذب و بطال متنبیان کا علم رکھتا ہے۔ ان کو ان کے خلاف اسلام کردار پر ضرور بالضرور سزا دے گا۔

جاننا چاہئے کہ لفظ ”خاتم النبیین“ کے بعد فقرہ بالا کو لانے کی مثال ایسی ہے جیسا کہ ایک صالح اور شریف باپ کا عاق و بے فرمان بیٹا جب اپنے باپ کے سامنے سے گزرتا ہے تو باپ اسے دیکھ کر کہتا ہے کہ میں سب کچھ جانتا ہوں اور یہی فقرہ وہ اونچی آواز سے کہتا ہے تاکہ بیٹا اسے سن لے اور اس طور بیان سے باپ کا یہ مطلب ہوتا ہے کہ میں تیری عیاشی و بد معاشی کو بخوبی جانتا ہوں اور مناسب موقعہ ملنے پر میں تمہیں ضرور اور لا محالہ سزا دوں گا۔ بنا برآں فقرہ بالا کے اندر قرآن عزیز کا بھی یہی انداز بیان ہے کہ وہ خدا تعالیٰ کی جانب سے اظہار کرتا ہے کہ خدا تعالیٰ

٢٧٩

صفحہ ٥٨٨

منکرین ختم نبوت اور مدعیان نبوت کاذبہ کو بخوبی جانتا ہے اور مکمل طور پر ان کا علم رکھتا ہے۔ ان لوگوں کو ان کی بکواسوں پر یقیناً سزا دے گا اور ان پر ان کا انجام بد ضرور لائے گا۔ چنانچہ مسیلمہ کذاب مجاہدین اسلام کی بے نیام تلواروں سے مقتول ہوا اور مرزا قادیانی لاہور کے اندر احمدیہ بلڈنگس کے درمیان میں مرض ہیضہ کا شکار بنا اور قے ودست کرتا ہوا ہلاک ہوا اور پسماندگان کے لئے اس کی ہلاکت نے ایک عبرت ناک نقشہ پیش کیا۔

مرزا قادیانی نے یہاں پر اپنے فٹ نوٹ کے اندر تیس دجال والی حدیث کا حوالہ دیتے ہوئے بطور استہزاء و تمسخر کے آنحضرت ﷺ کے وعید وانذار کو بلفظ تبشیر و خوشخبری ذکر کیا اور خود کو تیس دجالوں میں سے نکالنا چاہا۔ مگر وہ نہ نکل سکا۔ کیونکہ محولہ حدیث کے اندر تیس دجالوں کی یہ علامت مذکور ہے کہ وہ ختم نبوت کی مہر ایزدی کو توڑ کر اپنے کو نبی اللہ قرار دے دیں گے اور یہی چیز مرزا قادیانی کے اندر نمایاں طور پر موجود ہے۔ کیونکہ وہ بھی اپنے کو نبی اللہ کہہ کر عملاً آنحضرت ﷺ کی کامل ختم نبوت سے منحرف ہے اور پھر وہ اعداداً بھی تیس دجالوں کے زمرہ میں آ جاتا ہے۔ جیسے: ”ھو دجال کان من ثلثین / ١٣٠٠“ ﴿وہ تیس دجالوں میں سے ایک دجال ہے۔﴾

جب کہ ”غلام احمد قادیانی /١٣٠٠“ کے اعداد بھی اسی قدر برآمد ہوتے ہیں اور اس کو آسانی سے تیس دجالوں کی قطار میں لے آتے ہیں۔

پھر مرزا قادیانی نے باتحریر خود ٦٨ سال یا ٦٩ سال عمر پائی ہے جو اعداداً بالترتیب لفظ ”الدجیل /٦٨“ اور لفظ ”الدجال /٦٩“ سے برآمد ہوتی ہے۔ جیسا کہ میں قبل ازیں بتا چکا ہوں۔ بہر حال مرزا قادیانی اپنے آپ کو دجال ہونے سے نہیں بچا سکتا۔ علاوہ ازیں اہل مرزا نے عموماً اور مرزا بشیر احمد ابن المرزا نے خصوصاً پوری تحقیق و تدقیق سے مرزا کی عمر تقریباً ٧٦ سال ثابت کی ہے جو مرزا قادیانی کو ڈبل دجال بنا کر چھوڑتی ہے۔ کیونکہ دجال / ٣٨ + دجال / ٣٨ کے اعداد حروف پورے ٧٦ سال بنتے ہیں۔ بنا برآں یہ شخص بتائید فرزند خود سنگل دجال نہیں۔ بلکہ ڈبل دجال ہے۔

رجال امت کے ساتھ ساتھ اطفال امت اور نساء امت سے آنحضرت ﷺ کے نسبی باپ ہونے کی کلیتاً نفی کی گئی ہے اور بتایا گیا ہے کہ آپ اپنی امت کے کسی مرد، کسی بچہ اور کسی عورت کے باپ نہیں ہیں۔ کیونکہ زنان واطفال اپنے رجال ومردان کے ماتحت ہوتے ہیں اور رہتے ہیں۔

اور فقرۂ دوم ”ولکن رسول اللہ وخاتم النبیین“ کے اندر آپ ﷺ کو رسول اللہ کہہ کر آپ کو تمام امت کا روحانی باپ ہونا ثابت کیا گیا ہے اور ”خاتم النبیین“ کہہ کر آپ کو ہر

٢٨٠

قسم کے روحانی آباء یعنی انبیاء ورسل امت کے نسبی باپ نہیں ہیں اور قرآ آپ ﷺ کے رسول اللہ بن جانے پر بن سکتا۔ چونکہ آیت ہذا کے دونوں فقر ہوتا ہے کہ جب آپ اپنی امت کے بھی کوئی چھوٹا بڑا اور شرعی وغیر شرعی ا خلاف قرآن ہے۔ بہر حال قرآن ح آپ کی امت کا کوئی شخص روحانی باپ باپ نہیں ہو سکتے تو روحاً و دیناً بھی قانون کے خلاف چلنے والا ایک دیوث

ہستی پر دورہ پڑا تھا اور اہل مکہ کی اکثر در اصل ابن حارث تھا اور آنحضرت ﷺ خطاب عام اور مفہوم خاص کے طور پر آپ کا نسبی بیٹا ہے۔ بلکہ آپ صرف اور عزیز امتی ہے اور پھر لفظ ”خاتم حارث کا کوئی شخص روحانی باپ نہیں ہ برپا ہونے کا سلسلہ ختم ہو چکا ہے۔ چن النبوۃ المحمدیہ ہونے کی درخواست کی ت حارث کو حکم دیا کہ اس کو میرے سامنے اظہار کیا اور کہا کہ مظہر نام کا آدمی کس آدمی کو امت محمدیہ کا روحانی باپ تسلیم ن

خلاصہ

یہ ہے کہ آیت زیر بحث روحانیت دونوں کی نفی کر کے کہا گیا کہ بن سکتے اور پھر فقرۂ دوم میں آپ کے

صفحہ ٥٨٩

قسم کے روحانی آباؤ یعنی انبیاء و رسل کا خاتم گردانا گیا ہے۔ یعنی جس طرح آپ ﷺ تمام افراد امت کے نسبی باپ نہیں ہیں اور تمام افراد امت آپ کی نسبی اولاد نہیں ہے۔ اسی طرح پر آپ ﷺ کے رسول اللہ بن جانے پر بھی کوئی شخص امت محمدیہ کا روحانی باپ بمعنی نبی و رسول نہیں بن سکتا۔ چونکہ آیت ہٰذا کے دونوں فقرے باہم متقابل واقع ہوئے ہیں۔ اس لئے صراحۃً واضح ہوتا ہے کہ جب آپ اپنی امت کے کسی بڑے چھوٹے فرد کے نسبی باپ نہیں ہیں تو آپ کے بعد بھی کوئی چھوٹا بڑا اور شرعی و غیر شرعی اور امتی و غیر امتی نبی نہیں ہو سکتا۔ ورنہ تقابل نہیں رہے گا جو خلافِ قرآن ہے۔ بہرحال قرآن عزیز کا منشا یہ ہے کہ نہ آپ اپنی امت کے نسبی باپ ہیں اور نہ آپ کی امت کا کوئی شخص روحانی باپ بمعنی نبی و رسول بن سکتا ہے۔ یعنی جب نسباً ایک شخص کے دو باپ نہیں ہو سکتے تو روحاً و دیناً بھی اس کے دو روحانی باپ ثابت کرنا جرم عظیم ہے۔ ورنہ اس قانون کے خلاف چلنے والا ایک دیوث اور بے غیرت آدمی ہے۔ جیسا کہ مرزا واہل مرزا ہیں۔

بمعنی پروردہ بیٹا تھا اور اہل مکہ کی اکثریت اسے ابن محمد اور فرزند احمد کہہ کر پکارتی تھی۔ حالانکہ وہ دراصل ابن حارث تھا اور آنحضرت ﷺ کا صرف ربیب اور پروردہ تھا۔ بنا بر آں آیت ہٰذا نے خطاب عام اور مفہوم خاص کے طور پر بتا دیا کہ حضرت محمد ﷺ نہ زید کے نسبی باپ ہیں اور نہ زید آپ کا نسبی بیٹا ہے۔ بلکہ آپ صرف اس کے روحانی باپ بمعنی رسول اللہ ہیں اور وہ آپ کا پیارا اور عزیز امتی ہے اور پھر لفظ ”خاتم النبیین“ کو لا کر بتایا گیا کہ آنحضرت ﷺ کے بغیر زید بن حارث کا کوئی شخص روحانی باپ نہیں۔ کیونکہ امت محمدیہ کے لئے روحانی آباء (بمعنی انبیاء) کے برپا ہونے کا سلسلہ ختم ہو چکا ہے۔ چنانچہ جب مسیلمہ کذاب نے دربار نبوت میں آکر شریک فی النبوۃ المحمدیہ ہونے کی درخواست کی تو اس پر آپ نے اس کی درخواست کو مسترد کر دیا اور زیدؓ بن حارث کو حکم دیا کہ اس کو میرے سامنے سے الگ کر دو۔ حضرت زیدؓ نے فوراً تعمیل کی اور خوشنودی کا اظہار کیا اور کہا کہ مسیلمہ نام کا آدمی کبھی بھی روحانی باپ بننے کی صلاحیت نہیں رکھتا اور نہ میں ایسے آدمی کو امت محمدیہ کا روحانی باپ تسلیم کر سکتا ہوں۔

خلاصہ

یہ ہے کہ آیت زیر بحث کے فقرۂ اوّل میں آنحضرت ﷺ سے ابوت نسبیہ و ابوت روحانیہ دونوں کی نفی کر کے کہا گیا کہ آپ اپنی امت کے کسی فرد کے نسبی باپ اور روحانی باپ نہیں بن سکتے اور پھر فقرۂ دوم میں آپ کے لئے صرف ابوت روحانیہ بلفظ رسول اللہ ثابت کر کے آئندہ

٢٨١

صفحہ ٥٩٠

کے بلفظ خاتم النبیین ابوت روحانیہ بمعنی اجرائے نبوت کا سلسلہ بند کر دیا گیا اور بتایا گیا کہ آئندہ کے لئے نوع انسانی کے روحانی باپ بمعنی رسول اللہ صرف آپ ہی رہیں گے۔ کیونکہ ایک کامل روحانی باپ کی موجودگی میں ایک ناقص روحانی باپ کو لے آنا بڑی حماقت ہے۔ ان حالات کے پیش نظر مرزا قادیانی کا یہ کہنا کہ آنحضرت ﷺ کے بعد غیر شرعی اور ظلی و بروزی انبیاء اور امتی پیغمبران آ سکتے ہیں۔ باطل اور غلط ہے کیونکہ یہی عقیدہ آیت زیر بحث کے کسی لفظ سے مستنبط نہیں ہوسکتا۔ ورنہ اس کو اپنے شرعی نسبی باپ غلام مرتضیٰ کے بالمقابل اپنا ایک غیر شرعی نبی باپ بھی بنانا پڑے گا۔ کیونکہ جب ابوت روحانیہ کی چند اقسام جو اس نے تجویز کر رکھی ہیں بنائی جاسکتی ہیں تو پھر ابوت نسبیہ کی بھی یہی اقسام وضع کی جاسکتی ہیں اور اس کو حرامزادہ بنایا جاسکتا ہے۔

مرزا قادیانی نے حاشیہ پر اپنا ایک الہام بطور ذیل لکھا ہے: ”خسف القمر والشمس فی رمضان فبای آلاء ربکما تکذبان“ رمضان میں چاند اور سورج کو گرہن لگ چکا ہے۔ پس تم خدا کی نعمتوں کی کیوں تکذیب کرتے ہو۔

(ریویو بر مباحثہ بٹالوی و چکڑالوی ص ٤، خزائن ج ١٩ ص ٢٠٩ حاشیہ)

اور پھر کہا ہے کہ الہام ہٰذا کے اندر ”آلاء“ بمعنی نعمت سے مراد خود میں ہی ہوں۔

الجواب اوّلاً

یہ ہے کہ الہام ہٰذا کا پہلا فقرہ مرزا قادیانی کا خود ساختہ ہے اور دوسرا فقرہ ایک آیت قرآن ہے۔ لیکن مرزائی ملہم نے ان دونوں فقروں کو ملا کر اپنی ناسمجھی کا اظہار کیا ہے۔ کیونکہ جب چاند اور سورج کا گرہن زوالِ نعمت ہے اور ان دونوں کا روشن رہنا ایک بہت بڑی نعمت ہے تو پھر آیت قرآن سے ان کو نعمت قرار دینا ایک بین حماقت ہے۔ دراصل احادیث میں سورج گرہن اور چاند گرہن کو نشانات عبرت اور آیاتِ قدرت کہا گیا ہے۔ بنا بر آں اگر الہام مذکور بطور ذیل ہوتا تو قدرے صحت میں رہتا۔ لیکن اس کی موجودہ صورت بالکل غیر مربوط اور بے جوڑ ہے اور قائل کی حماقت پر دال ہے کہ وہ زوال نعمت کو عطائے نعمت کہتا ہے۔

”خسف القمر والشمس فی رمضان، فبای آلاء ربکما تکذبان“ ﴿رمضان میں چاند اور سورج کو گرہن لگ چکا ہے۔ پس تم دونوں خداتعالیٰ کے کس نشان کی تکذیب کرو گے۔﴾

الجواب ثانیاً

یہ ہے کہ بقول مرزا خود مرزا کو نعمت قرار دینا بھی غلط ہے۔ کیونکہ اس نے عمر بھر اسلام کو

٢٨٢

صفحہ ٥٩١

غلام فرنگ رکھنے کی پوری کوشش جاری رکھی اور کبھی بھی آزادی اور حریت کے لئے کام نہ کیا۔ بنابرآں اس شخص کا وجود اسلام اور اہل اسلام کے لئے بجائے نعمت کے ایک لعنت وزحمت بنا رہا اور برعکس نہند نام زنگی کافور والا معاملہ ہے۔

الجواب ثالثاً

یہ کہ بنظر مرزا دونوں فقروں کا قرآن مجید میں ہو کر وہاں سے نقل ہونا بھی الہام مذکور کو مخدوش ومجہول قرار دیتا ہے جب کہ فقرہ اوّل قرآن مجید میں نہیں ہے۔

مرزا قادیانی کا یہ کہنا کہ ہر پیغمبر خدا کے الہامات کا اپنی قوم کی زبان میں ہونا ضروری نہیں ہے۔ غلط ہے اور اس کے نبی ورسول ہونے کی تکذیب کرتا ہے۔ کیونکہ اگر اس کے الہامات غیر قومی زبان میں ہوں گے تو وہ اپنی قوم کے آگے اپنے الہامات کو پوری ذہن نشین وضاحت سے پیش نہیں کر سکے گا اور نہ اس کی قوم ان الہامات سے پوری طرح پر مستفید ہو سکے گی۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن مجید نے سچے رسول کی یہ علامت بتائی ہے کہ اس کے الہامات اس کی قومی اور مادری زبان میں ہوں گے۔ جیسا کہ ارشاد ہے: ”وما ارسلنا من رسول الا بلسان قومہ لیبین لھم (١٤:٤)“

﴿ہم نے ہر رسول کو اس کی قومی زبان میں رسول بنا کر بھیج ہے تاکہ وہ ان کو اپنا مقصد سمجھا سکے۔﴾

مطلب یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کی طرف سے ہر رسول اپنی قومی زبان میں پیغامات خدا لایا ہے تاکہ وہ اپنی قوم کے آگے پیغامات خدا کی صحیح اور دل نشین وضاحت کر سکے۔ ان حالات میں جس نبی ورسول کے الہامات اس کی مادری وقومی زبان میں نہیں ہوں گے وہ سچا رسول نہیں ہے۔ بلکہ کاذب ودجال ہے۔ چونکہ مرزا قادیانی کے تمام الہامات غیر مادری اور غیر قومی زبانوں میں ہیں اور پنجابی زبان میں اس کا کوئی الہام نہیں ہے۔ اس لئے یہ شخص نبی ورسول نہیں ہے بلکہ بطال ودجال ہے۔

جاننا چاہئے کہ آیت بالا میں بلاغت وفصاحت کے اعتبار سے ”قصر الموصوف فی الصفة“ ہے۔ جس کا مفہوم یہ ہے کہ ہر رسول رسالت پانے میں اپنی قومی زبان کا پابند ہے اور اس کی قومی زبان رسول میں پابند نہیں ہے۔ بلکہ وہ زبان رسول اور اس کی قوم اور دیگر افراد میں بھی پائی جائے گی۔ لیکن سچا رسول الہامات خدا لینے میں اپنی قومی زبان کا پابند رہے گا۔ یہ پابندی اس لئے لگائی گئی ہے تاکہ رسول سمجھ سکے کہ اس کو ملنے والے الہامات رحمانی ہیں، یا یہ الہامات شیطانی سازش کا نتیجہ ہیں۔ چونکہ مرزا قادیانی آیت ہٰذا کے معیار صداقت پر پورا نہیں اترا۔ اس لئے یہ شخص شیطان کا فریب خوردہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ”غلام احمد قادیانی /١٣٠٠“ اور ”ذریة شیطانیہ/١٣٠٠“ کے اعداد حروف برابر ہیں۔ جس سے وہ فرزند ابلیس بنتا ہے۔

٢٨٣

صفحہ ٥٩٢

اور پھر مرزا قادیانی کا خود کو امتی نبی بنانا قابل اعتراض ہے۔ کیونکہ وہ اس طرح ایک شتر مرغ یا تیتر اور بٹیر کا ایک مرکب بن کر سامنے آتا ہے۔ یعنی جس طرح شتر مرغ آدھا مرغ اور آدھا اونٹ ہوتا ہے یا بصورت پرندہ آدھا تیتر اور آدھا بٹیر ہوتا ہے۔ اسی طرح یہ شخص بھی آدھا امتی اور آدھا جعلی نبی ہے اور روحانی طور پر ایک مکمل شتر مرغ ہے یا صحیح طور پر ایک ناقص مرکب ہے۔ کیونکہ یہ شخص نہ پورا اور مکمل نبی ہے اور نہ مکمل اور پورا امتی ہے۔ بلکہ اس کے روحانی وجود کا بالائی حصہ امتی اور زیریں حصہ مزعومہ نبی ہے اور وہ اس طرح ایک روحانی شتر مرغ بن کر نمودار ہو گیا ہے۔

چوں شتر مرغ است مرزا نزد من کہ نبی و امتی گردد بمن

میرے نزدیک مرزا ایک شتر مرغ ہے۔ کیونکہ وہ اپنی فریب کاری سے امتی نبی بن جاتا ہے۔

نصف او ہم چوں نبی مقتداست نصف دیگر امتی در اقتداست

اس کا آدھا حصہ نبی متبوع کی مانند ہے اور دوسرا حصہ امتی بن کر اس کی اتباع کرتا ہے۔

تابع ومتبوع اندر دین بماند بعد ازیں او کلمہ افرنگ خواند

یہ شخص دین کے اندر مامور و آمر بنا رہا اور اس کے بعد اس نے یورپ کا کلمہ پڑھ لیا۔

چوں شتر مرغیست ناقص ایں غلام کہ غلام آمد ہمیشہ ناتمام

یہی غلام شتر مرغ کی طرح ناقص ہے۔ کیونکہ غلام ہمیشہ ناقص و ناتمام رہتا ہے۔

مرد بینا از چنیں کس نافر است زانکہ یار کافراں ہم کافر است

آنکھوں والا آدمی ایسے شخص سے متنفر ہوتا ہے۔ کیونکہ کافروں کا یار بھی کافر ہوتا ہے۔

کافر افرنگ او را رنگ کرد زیں سبب باجنگ دیں او جنگ کرد

یورپ کے کافر نے اس کو رنگین کیا، اسی وجہ سے اس نے جہاد دین سے جنگ کی (اور حرام کہا)

او جہاد دین را گوید حرام کہ حرامی شد چوں کافر ایں غلام

وہ شخص جہاد دین کو حرام کہتا ہے۔ کیونکہ کافر کی طرح یہی غلام احمد حرامی ہے۔

حکیم میر محمد ربانی، مولوی فاضل منشی فاضل پنجاب یونیورسٹی علامہ، عباسیہ یونیورسٹی بہاول پور، پاکستان

٢٨٤