احتساب قادیانیت جلد 57 · مولانا شوکت اللہ میرٹھی
Ahtasab-e-Qadyaniat · Vol. 57 · Maulana Shaukatullah Meeruthi
PDF 1

رَدِّ قادیانیَّت

رسائل

• مولانا شوکت اللہ میرٹھی رحمۃ اللہ

احتسابِ قادیانیَّت

جلد ٥٧

عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت

حضوری باغ روڈ ، ملتان - فون : 4783486-061

PDF 2

ردّ قادیانیت

رسائل

احتساب قادیانیت

٥٧

● مولانا شوکت اللہ میرٹھی رحمہ اللہ

عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت

صفحہ ٣

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

نام کتاب : احتساب قادیانیت جلد ستاون (٥٧)

مصنف : مولانا شوکت اللہ میرٹھی

صفحات : ٧٦٨

قیمت : ٤٥٠ روپے

مطبع : ناصر زین پریس لاہور

طبع اوّل : ستمبر ٢٠١٤ء

ناشر : عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت حضوری باغ روڈ ملتان

Ph: 061-4783486

فہرست

ضمیمہ شحنہ ہند میرٹھ ...... شمارہ ٢٢ ...... ١٨؍ جو

ضمیمہ شحنہ ہند میرٹھ ...... شمارہ ٤ ...... ٢٤؍ رجب

ضمیمہ شحنہ ہند میرٹھ ...... شمارہ ٥ ...... یکم ربیع

ضمیمہ شحنہ ہند میرٹھ ...... شمارہ ٦ ...... ٨؍ فرو

مرزا قادیانی کا مقابلہ پر نہ آنا ایک مکتو

ضمیمہ شحنہ ہند میرٹھ ...... شمارہ ٧، ٨، ٩ ...... ٣

صفحہ ٣

فہرست

ضمیمہ شحنۂ ہند میرٹھ ...... شمارہ ٢٢ ...... ٨؍ جون ١٩٠١ء

١...... پنجابی رسول کی امت کا انکار اد! ٢٣ ٢...... مقابلہ چند اوصاف عبدالکریم! ٢٩

ضمیمہ شحنۂ ہند میرٹھ ...... شمارہ ٤ ...... ٢٤؍ جنوری ١٩٠٢ء

١...... تصویر پرستی مولانا شوکت اللہ میرٹھی! ٣٦ ٢...... الہام بے معنی مولانا شوکت اللہ میرٹھی! ٣٨

ضمیمہ شحنۂ ہند میرٹھ ...... شمارہ ٥ ...... یکم؍ فروری ١٩٠٢ء

١...... بقیہ بے معنی الہام مولانا شوکت اللہ میرٹھی! ٤١ ٢...... منارۃ المسیح مولانا شوکت اللہ میرٹھی! ٤٤ ٣...... مرزا قادیانی اور ان کے چیلوں کی لیاقت مولانا شوکت اللہ میرٹھی! ٤٥ ٤...... اسلامی علماء سے ضروری التجاء مولانا شوکت اللہ میرٹھی! ٤٦ ٥...... مرزائی الہام مولانا شوکت اللہ میرٹھی! ٤٨ ٦...... خونی مہدی مولانا شوکت اللہ میرٹھی! ٤٩

ضمیمہ شحنۂ ہند میرٹھ ...... شمارہ ٦ ...... ٨؍ فروری ١٩٠٢ء

١...... مولوی نور احمد ساکن لکھوکھا کے روبرو غلام حسن صاحب ، سب رجسٹرار پشاور حواری مرزا قادیانی کا مقابلہ پر نہ آنا ایک محقق! ٥١ ٢...... مرزائیوں کی بے ایمانی اور دھوکے بازی ایک محقق! ٥٢ ٣...... سختی اور نرمی اپنے اپنے محل پر عین مصلحت وتہذیب ہے ج، ن! ٥٢ ٤...... توجہ طلب گورنمنٹ اور قادیان کے مرزا صاحب امام دین از لاہور! ٥٤ ٥...... نرالی عزت اور انوکھی ذلت ا، د، گجراتی! ٥٩ ٦...... استغناء سید محمد عمر، ایک فوجی، گجرات! ٦٢

ضمیمہ شحنۂ ہند میرٹھ ...... شمارہ ٧، ٨، ٩ ...... ٢٤؍ فروری ١٩٠٢ء

١...... استیصال الالحاد بجواب رقیمۃ الوداد ٦٢

صفحہ ٤

ضمیمہ شحنہ ہند میرٹھ ...... شمارہ ١٠ ...... ٨/ مارچ ١٩٠٢ء

ضمیمہ شحنہ ہند میرٹھ ...... شمارہ ١١ ...... ١٤/ مارچ ١٩٠٢ء

ضمیمہ شحنہ ہند میرٹھ ...... شمارہ ١٢ ...... ٢٤/ مارچ ١٩٠٢ء

ضمیمہ شحنہ ہند میرٹھ ...... شمارہ ١٣، ١٤، ١٥ ...... یکم تا ١٥/ اپریل ١٩٠٢ء

ضمیمہ شحنہ ہند میرٹھ ...... شمارہ ١٦ ...... ٢٤/ اپریل ١٩٠٢ء

٥

ضمیمہ شحنہ ہند میرٹھ ...... شمارہ ١٧ ...... یکم

ضمیمہ شحنہ ہند میرٹھ ...... شمارہ ١٨، ١٩ ...... ٨

ضمیمہ شحنہ ہند میرٹھ ...... شمارہ ٢٠ ...... ٢٤

ضمیمہ شحنہ ہند میرٹھ ...... شمارہ ٢١ ...... ١

صفحہ ٥

شماره ١٠ ...... ٨/ مارچ ١٩٠٢ء

تا اد گجراتی! ٩٧ ع.ع سیالکوٹ! ١٠٠ ١٠٣ ابو الحسن غلام مصطفیٰ امرتسری! ١٠٥ مولانا شوکت اللہ! ١٠٦ مولانا شوکت اللہ! ١٠٦

شماره ١١ ...... ١٤/ مارچ ١٩٠٢ء

لوازم النبی محقق گجراتی! ١٠٧

شماره ١٢ ...... ٢٤/ مارچ ١٩٠٢ء

اد گجراتی! ١١٧ امام دین از لاہور! ١٢٣ بند کر دیں گے مولانا شوکت اللہ! ١٢٤ ١٢٦

شماره ١٣، ١٤، ١٥ ...... یکم تا ١٥/ اپریل ١٩٠٢ء

١٢٨ ١٣٣ محمد عبداللہ از ملتان! ١٣٩ مولانا شوکت اللہ! ١٤٠ رقابت مولانا شوکت اللہ! ١٤١

شماره ١٦ ...... ٢٤/ اپریل ١٩٠٢ء

١٤٤ ١٤٥

٣...... تصویر پرستی مولانا شوکت اللہ! ١٤٦ ٤...... مسلمانوں کو وہابی کہنا تنزیل حیثیت ہے مولانا شوکت اللہ! ١٤٩ ٥...... عصائے موسیٰ کے جواب سے مرزائیوں کا عجز ایک محقق! ١٥١

ضمیمہ شحنہ ہند میرٹھ ...... شماره ١٧ ...... یکم مئی ١٩٠٢ء

١...... ٹاپا خالی کرو مولانا شوکت اللہ! ١٥٤ ٢...... مسیح علیہ السلام کو دشنام مولانا شوکت اللہ! ١٥٥ ٣...... بقیہ عصائے موسیٰ کے جواب سے مرزائیوں کا عجز۔ ایک محقق! ١٥٧

ضمیمہ شحنہ ہند میرٹھ ...... شماره ١٨، ١٩ ...... ٨ تا ١٥/ مئی ١٩٠٢ء

١...... شکی اور مذبذب مرزائیوں کی تسلی اور آخری فیصلہ کے لئے خود مرزا کا اشتہار ١٦٣ ٢...... بقیہ عصائے موسیٰ کے جواب سے مرزائیوں کا عجز ایک محقق! ١٦٤ ٣...... لیجئے مرزا خود اقبال کرتا ہے کہ میں شیطان مجسم ہوں پ۔ل۔ش ١٦٨ ٤...... بقیہ کتاب عصائے موسیٰ کے جواب سے مرزائیوں کا عجز امام دین از لاہور! ١٧٠ ٥...... اخبار الحکم کی ایمانداری مولانا شوکت اللہ! ١٧٣

ضمیمہ شحنہ ہند میرٹھ ...... شماره ٢٠ ...... ٢٤/ مئی ١٩٠٢ء

١...... فاعتبروا یا اولی الابصار . ایک سائل! ١٧٥ ٢...... قادیانی اور اس کے چیلوں کے اخلاق حمیدہ ا۔د۔ از مقام گ! ١٧٦ ٣...... وزیر آبادی نامہ نگار کی بربادی ا۔و۔ گجراتی! ١٧٨ ٤...... مرزا قادیانی اب وہ معجزات دکھائیں گے مالیری! ١٨١ ٥...... پنجابی رسول کی مالیری امت مالیری! ١٨٢ ٦...... بقیہ کتاب عصائے موسیٰ کے جواب سے مرزائیوں کا عجز ایک محقق! ١٨٢

ضمیمہ شحنہ ہند میرٹھ ...... شماره ٢١ ...... یکم / جون ١٩٠٢ء

١...... بقیہ کتاب عصائے موسیٰ کے جواب سے مرزائیوں کا عجز ایک محقق! ١٨٥ ٢...... اصلی اور نقلی کشتی میں تمیز مولانا شوکت اللہ! ١٩٢

صفحہ ٧

ضمیمہ شحنہ ہند میرٹھ ...... شمارہ ٢٢ ...... ٨؍ جون ١٩٠٢ء

ضمیمہ شحنہ ہند میرٹھ ...... شمارہ ٢٣ ...... ١٦؍ جون ١٩٠٢ء

ضمیمہ شحنہ ہند میرٹھ ...... شمارہ ٢٤، ٢٥ ...... ٢٤؍ جون ١٩٠٢ء

ضمیمہ شحنہ ہند میرٹھ ...... شمارہ ٢٦ ...... ٨؍ جولائی ١٩٠٢ء

ضمیمہ شحنہ ہند میرٹھ ...... شمارہ ٢٧ ...... ١٦؍ جولائی ١٩٠٢ء

ضمیمہ شحنہ ہند میرٹھ ...... شمارہ ٢٨ ...... ٢٤؍ جو

بری راقم : م.

ضمیمہ شحنہ ہند میرٹھ ...... شمارہ ٢٩ ...... یکم؍ اگس

الفصیح لاعجاز المسیح مولانا شو

ضمیمہ شحنہ ہند میرٹھ ...... شمارہ ٣٠ ...... ٨؍ اگس

ضمیمہ شحنہ ہند میرٹھ ...... شمارہ ٣١ ...... ١٦؍ اگس

صفحہ ٧

ضمیمہ شحنۂ ہند میرٹھ ....... شماره ٢٨ ....... ٢٤؍ جولائی ١٩٠٢ء

یریٰ راقم: م۔ ح! ٢٤٦

ضمیمہ شحنۂ ہند میرٹھ ....... شماره ٢٩ ....... یکم اگست ١٩٠٢ء

التنقیح لاعجاز المسیح مولانا شوکت اللہ! ٢٥٧

ضمیمہ شحنۂ ہند میرٹھ ....... شماره ٣٠ ....... ٨؍ اگست ١٩٠٢ء

ضمیمہ شحنۂ ہند میرٹھ ....... شماره ٣١ ....... ١٦؍ اگست ١٩٠٢ء

صفحہ ٨

ضمیمہ شحنہ ہند میرٹھ ...... شمارہ ٣٢ ...... ٢٤؍ اگست ١٩٠٢ء

ضمیمہ شحنہ ہند میرٹھ ...... شمارہ ٣٣ ...... یکم ستمبر ١٩٠٢ء

ضمیمہ شحنہ ہند میرٹھ ...... شمارہ ٣٤ ...... ٨؍ ستمبر ١٩٠٢ء

ضمیمہ شحنہ ہند میرٹھ ...... شمارہ ٣٥ ...... ١٦؍ ستمبر ١٩٠٢ء

اس لئے مرزائی ہوجاتے ہیں اکثر خاص وعام ج،ن! ٣٢٠

ضمیمہ شحنہ ہند میرٹھ ...... شمارہ ٣٦ ...... ٢٤؍ ستمبر ١٩٠٢ء

٩

ضمیمہ شحنہ ہند میرٹھ ...... شمارہ ٣٧ ...... یکم ا

وعام ج،ن!

ضمیمہ شحنہ ہند میرٹھ ...... شمارہ ٣٨ ...... یکم نو

کا مختصر نوٹ ہے۔

صفحہ ٩

....... شمارہ ٣٢ ....... ٢٢؍ اگست ١٩٠٢ء اقوال وافعال میں تخالف از مرزا! ٢٨١ ....... مولانا شوکت اللہ! ٢٨٦ ب ....... مولانا شوکت اللہ! ٢٨٨ ت ....... مولانا شوکت اللہ! ٢٨٩ ....... مولانا شوکت اللہ! ٢٩٠ ....... شمارہ ٣٣ ....... یکم ستمبر ١٩٠٢ء کا لیکچر مولانا شوکت اللہ! ٢٩٢ ....... شمارہ ٣٤ ....... ٨؍ستمبر ١٩٠٢ء کا لیکچر مولانا شوکت اللہ! ٣٠١ بلا اعیننو یا رجال الغیب خادم: م م د، لاہوری! ٣٠٥ ....... مولانا شوکت اللہ! ٣٠٨ ....... ج ن! ٣٠٩ ....... ج ن! ٣١٠ ثانی ....... ج ن! ٣١٠ ....... ج د! ٣١١ ....... شمارہ ٣٥ ....... ١٦؍ستمبر ١٩٠٢ء طوفان میں شاکر از قلعہ ارجمراٹ! ٣١٢ ....... مولانا شوکت اللہ! ٣١٤ کا لیکچر مولانا شوکت اللہ! ٣١٦ مذہب کا نام ...... آخر خاص وعام ....... ج ن! ٣٢٠ ....... شمارہ ٣٦ ....... ٢٤؍ستمبر ١٩٠٢ء ....... مولانا شوکت اللہ! ٣٢٣

ضمیمہ شحنہ ہند میرٹھ ....... شمارہ ٣٧ ....... یکم؍اکتوبر ١٩٠٢ء

و عام ج ن! ٣٤٠

ضمیمہ شحنہ ہند میرٹھ ....... شمارہ ٤١ ....... یکم، ٨؍جنوری ١٩٠٣ء

کا تبصرہ نوٹ ہے۔ ٣٥٢

صفحہ ١١

شوکت اللہ ایڈیٹر کے ہیں۔

ضمیمہ شحنہ ہند میرٹھ ...... شمارہ ٤ ...... ٢٤؍ جنوری ١٩٠٣ء

نصرۃ السنۃ امرتسر کا تحریر کردہ ہے۔ ٣٦٠

تحریر کردہ ہیں۔ ٣٦٦

ضمیمہ شحنہ ہند میرٹھ ...... شمارہ ٥ ...... یکم ؍ فروری ١٩٠٣ء

ضمیمہ شحنہ ہند میرٹھ ...... شمارہ ٦ ...... ٨؍ فروری ١٩٠٣ء

آخری نہ مل سکا۔

ضمیمہ شحنہ ہند میرٹھ ...... شمارہ ٧ ...... ١٦؍ فرور

اس شمارہ کا پہلا صفحہ غائب ہے۔ مجبوراً ص ٢ کے مضمون کو فہرست میں ل

ضمیمہ شحنہ ہند میرٹھ ...... شمارہ ٨ ...... ٢٤؍ فرو

ضمیمہ شحنہ ہند میرٹھ ...... شمارہ ٩ ...... یکم ؍ مار

صفحہ ١١

آخری نہ مل سکا۔

ضمیمہ شحنہ ہند میرٹھ ...... شمارہ ٧ ...... ١٦؍ فروری ١٩٠٣ء اس شمارہ کا پہلا صفحہ غائب ہے۔ مجبوراً اس ٧ کے مضمون کو فہرست میں ایک نمبر دیا ہے۔

ضمیمہ شحنہ ہند میرٹھ ...... شمارہ ٨ ...... ٢٤؍ فروری ١٩٠٣ء

ضمیمہ شحنہ ہند میرٹھ ...... شمارہ ٩ ...... یکم؍ مارچ ١٩٠٣ء

صفحہ ١٣

ضمیمہ شحنہ ہند میرٹھ ...... شمارہ ١٠ ...... ٨؍مارچ ١٩٠٣ء

نوٹ ...... اس شمارہ میں ایک کھلی چٹھی واحد علی صاحب ملتان بابت ”دافع البلاء“ کتاب مرزا کے شائع ہوئی ۔ ہم نے وہ خارج کر دی اس لئے کہ وہ احتساب ج ٥٣ میں شائع ہو چکی ہے۔ ٤١٨

ضمیمہ شحنہ ہند میرٹھ ...... شمارہ ١١ ...... ١٦؍مارچ ١٩٠٣ء

ضمیمہ شحنہ ہند میرٹھ ...... شمارہ ١٢ ...... ٢٤؍مارچ ١٩٠٣ء

ضمیمہ شحنہ ہند میرٹھ ...... شمارہ ١٣،١٤ ...... یکم ، ٨؍اپریل ١٩٠٣ء

ضمیمہ شحنہ ہند میرٹھ ...... شمارہ ١٥ ...... ١٦؍اپریل

ضمیمہ شحنہ ہند میرٹھ ...... شمارہ ١٦ ...... ٢٤؍اپریل

ضمیمہ شحنہ ہند میرٹھ ...... شمارہ ١٧ ...... یکم مئی

ضمیمہ شحنہ ہند میرٹھ ...... شمارہ ١٨ ...... ٨؍مئی

ضمیمہ شحنہ ہند میرٹھ ...... شمارہ ١٩ ...... ١٦؍مئی

صفحہ ١٣

مولانا شوکت اللہ میرٹھی! ٤١٢ مولانا شوکت اللہ میرٹھی! ٤١٢ ٨/مارچ ١٩٠٣ء عبدالکریم ولد محمد صادق پشاوری! ٤١٣ مولانا شوکت اللہ میرٹھی! ٤١٧ البلاء‘ کتاب مرزا کے شائع میں شائع ہوچکی ہے۔ ٤١٨ ١٦/مارچ ١٩٠٣ء مولانا شوکت اللہ میرٹھی! ٤٢٠ امام الدین لاہوری! ٤٢١ مولانا شوکت اللہ میرٹھی! ٤٢٦ مولانا شوکت اللہ میرٹھی! ٤٢٧ مولانا شوکت اللہ میرٹھی! ٤٢٩ ٢٤/مارچ ١٩٠٣ء مولانا شوکت اللہ میرٹھی! ٤٣٠ ج۔ن ٤٣٢ ج۔ن ٤٣٢ مولانا شوکت اللہ میرٹھی! ٤٣٣ مولانا شوکت اللہ میرٹھی! ٤٣٦ مولانا شوکت اللہ میرٹھی! ٤٤٠ یکم، ٨/اپریل ١٩٠٣ء مولانا شوکت اللہ میرٹھی! ٤٤١ مولانا شوکت اللہ میرٹھی! ٤٤٣ مولانا شوکت اللہ میرٹھی! ٤٤٥

٤ ...... میری کتابیں دیکھو۔ مولانا شوکت اللہ میرٹھی! ٤٤٧ ٥ ...... مرزائیوں کی تعداد۔ مولانا شوکت اللہ میرٹھی! ٤٤٨ ٦ ...... مرزائیوں سے سوال و جواب۔ مولانا شوکت اللہ میرٹھی! ٤٤٩ ضمیمہ شحنہ ہند میرٹھ ...... شمارہ ١٥ ...... ١٦/اپریل ١٩٠٣ء ١ ...... مرزا قادیانی کا الہامی قصیدہ اور ان کے مخالفین کے اعتراضات۔ ڈاکٹر جمال الدین پشاوری! ٤٥١ ٢ ...... عیسیٰ موجود اور اتباع کتاب وسنت۔ مولانا شوکت اللہ میرٹھی! ٤٥٤ ٣ ...... وحی بے معنی الہام۔ مولانا شوکت اللہ میرٹھی! ٤٥٦ ٤ ...... ایمان کو چھپاؤ۔ مولانا شوکت اللہ میرٹھی! ٤٥٧ ٥ ...... مرزا قادیانی کے عیسیٰ مسیح ہو، آصف کی قبر سری نگر کشمیر میں۔ مسیحی نامہ نگار رسالہ ترقی لاہور! ٤٥٩ ضمیمہ شحنہ ہند میرٹھ ...... شمارہ ١٦ ...... ٢٤/اپریل ١٩٠٣ء ١ ...... ہندوستان میں صدیوں سے جہاد کا نام ونشان نہیں از: ک.ا. گجرات! ٤٦١ ٢ ...... مرزا قادیانی ترقی کریں۔ مولانا شوکت اللہ میرٹھی! ٤٦٥ ٣ ...... اخبار الحکم اور البدر قادیان مولانا شوکت اللہ میرٹھی! ٤٦٦ ٤ ...... وما یستوی الاعمیٰ والبصیر ولا الظلمت ولا النور از لدھیانہ! ٤٦٧ ٥ ...... مادہ تاریخ از لدھیانہ! ٤٧٢ ضمیمہ شحنہ ہند میرٹھ ...... شمارہ ١٧ ...... یکم مئی ١٩٠٣ء ١ ...... لعنتی رزق مولانا شوکت اللہ میرٹھی! ٤٧٣ ٢ ...... قلعہ صوبہ سنگھ تحصیل پسرور میں مباحثہ مابین اہل سنت والجماعت و مرزائیاں۔ ٤٧٥ ضمیمہ شحنہ ہند میرٹھ ...... شمارہ ١٨ ...... ٨/مئی ١٩٠٣ء ١ ...... قادیانی نبی کا کلمہ۔ مولانا شوکت اللہ میرٹھی! ٤٧٩ ٢ ...... عقائد مرزا اور حضرت عیسیٰ کی قبر کا افتراء۔ مولانا حکیم محمد الدین امرتسر! ٤٨٠ ٣ ...... مرزا قادیانی کے مقدمات۔ مولانا شوکت اللہ میرٹھی! ٤٨٦ ٤ ...... معجزہ کسے کہتے ہیں؟ مولانا شوکت اللہ میرٹھی! ٤٨٧ ضمیمہ شحنہ ہند میرٹھ ...... شمارہ ١٩ ...... ١٦/مئی ١٩٠٣ء ١ ...... بیعت سے انکار۔ تفضل حسین اٹاوہ! ٤٨٩

صفحہ ١٥

......٢ طیر ابابیل اور منارہ ۔ مولانا شوکت اللہ میرٹھی! ٤٩٠ ......٣ طاعونی نبوت۔ مولانا شوکت اللہ میرٹھی! ٤٩١ ......٤ چور کی بلی اور جلبیوں کی رکھوالی۔ مولانا شوکت اللہ میرٹھی! ٤٩٢ ......٥ حدیثیں کشفی طور پر صحیح ہو جاتی ہیں۔ مولانا شوکت اللہ میرٹھی! ٤٩٥ ......٦ دین مرزائی ۔ مولانا شوکت اللہ میرٹھی! ٤٩٧ ضمیمہ شحنہ ہند میرٹھ ...... شمارہ ٢٠ ...... ٢٤ مئی ١٩٠٣ء ......١ کلام کی تاویل سے متکلم کی توہین ہوتی ہے۔ مولانا شوکت اللہ میرٹھی! ٤٩٩ ......٢ قادیانی گھنٹہ گھر ۔ ج ، ن پشاور ! ٥٠١ ......٣ مرزائیوں کا تعصب۔ محمد ظہور خان سوداگر شاہجہاں پور ٥٠٢ ......٤ کمشنر مردم شماری کا غضب ناک فقرہ مولانا شوکت اللہ میرٹھی! ٥٠٣ ......٥ امروہی صاحب سنت رسول کی بظاہر کیوں حمایت کرتے ہیں؟ مولانا شوکت اللہ میرٹھی! ٥٠٤ ......٦ مرزا قادیانی کے فتوے۔ مولانا شوکت اللہ میرٹھی! ٥٠٥ ......٧ لندنی مسیح اور قادیانی۔ مولانا شوکت اللہ میرٹھی! ٥٠٧ ضمیمہ شحنہ ہند میرٹھ ...... شمارہ ٢١ ...... یکم جون ١٩٠٣ء ......١ الہام اور پیشینگوئی۔ مولانا شوکت اللہ میرٹھی! ٥٠٨ ......٢ عیسیٰ مسیح کے معجزات سے انکار بھی اور اقرار بھی۔ مولانا شوکت اللہ میرٹھی! ٥١١ ......٣ وہی منارہ مرزائیوں کا ٹھا کر دوارہ۔ مولانا شوکت اللہ میرٹھی! ٥١٣ ......٤ نبی ہے یا قہر الٰہی ۔ مولانا شوکت اللہ میرٹھی! ٥١٥ ......٥ الہام کی تعریف۔ ٥١٧ ضمیمہ شحنہ ہند میرٹھ ...... شمارہ ٢٢ ...... یکم جون ١٩٠٣ء ......١ حضرت مجدد الف ثانیؒ پر مرزائیوں کا بہتان ۔ ولی محمد لدھیانوی! ٥١٩ ......٢ مرزائی اشعار کا ترکی بہ ترکی جواب۔ حکیم محمد ناصر خان لدھیانوی! ٥٢٠ ......٣ پیشینگوئیاں پیشانی کا دھبا بن گئیں۔ مولانا شوکت اللہ میرٹھی! ٥٢٢ ......٤ تحریف لفظی و معنوی۔ محمد احسن اٹاوہ! ٥٢٥

......٥ اعجاز احمدی کا جواب ۔ ......٦ ضمیر کا اثر ۔ ......٧ نیچریت، مرزائیت، عیسائیت ضمیمہ شحنہ ہند میرٹھ ...... شمارہ ٢٣ ...... ......١ مرزا قادیانی کے دعاوی ۔ ......٢ مرزائی دیانت ۔ ......٣ وہی جعلی بیعت اور فرضی فہرست ۔ ......٤ نبی بننے کا ارمان ۔ ......٥ جعلی بیعت ۔ ......٦ ایضاً از جانب کلو چمار ۔ ضمیمہ شحنہ ہند میرٹھ ...... شمارہ ٢٤ ...... ......١ انجیل مقدس کی عجیب پیشینگوئی ۔ ......٢ پشاور میں مرزائیت کا دھڑتوت گیا۔ ......٣ وہی منارہ مرزائیوں کا ٹھا کر دوارہ۔ ......٤ نبی اور مجدد میں فرق ۔ ......٥ ایک بھیدی نے لنکا ڈھادی ۔ ......٦ مرزائیوں کی کارستانیاں ۔ ضمیمہ شحنہ ہند میرٹھ ...... شمارہ ٢٥ ...... ......١ ایک طویل مراسلت نورالدین قادیانی کی بنام استاذ مولانا الخ ضمیمہ شحنہ ہند میرٹھ ...... شمارہ ٢٦ ...... ......١ ”صومالی مہدی اور مرزا قادیانی کے دولاکھ والنٹیر“ ازم رہ جاتا ہے جو یہ ہے۔

صفحہ ١٥

ضمیمہ شحنہ ہند میرٹھ ...... شمارہ ٢٣ ...... ١٦؍جون ١٩٠٣ء

ضمیمہ شحنہ ہند میرٹھ ...... شمارہ ٢٤ ...... ٢٤؍جون ١٩٠٣ء

ضمیمہ شحنہ ہند میرٹھ ...... شمارہ ٢٥ ...... یکم؍جولائی ١٩٠٣ء

ضمیمہ شحنہ ہند میرٹھ ...... شمارہ ٢٦ ...... ٨؍جولائی ١٩٠٣ء

رہ جاتا ہے جو یہ ہے۔ ٥٦٨

صفحہ ١٧

ضمیمہ شحنہ ہند میرٹھ ....... شمارہ ٢٧ ...... ١٦؍ جولائی ١٩٠٣ء

ضمیمہ شحنہ ہند میرٹھ ....... شمارہ ٢٨، ٢٩ ...... ٢٤؍ جولائی و یکم؍ اگست ١٩٠٣ء

ضمیمہ شحنہ ہند میرٹھ ....... شمارہ ٣٠ ...... ١٨؍ اگست ١٩٠٣ء

ضمیمہ شحنہ ہند میرٹھ ....... شمارہ ٣١ ...... ١٦؍ اگست ١٩٠٣ء

ضمیمہ شحنہ ہند میرٹھ ....... شمارہ ٣٢ ..

ضمیمہ شحنہ ہند میرٹھ ....... شمارہ ٣٣

ضمیمہ شحنہ ہند میرٹھ ....... شمارہ ٣٤

صفحہ ١٧

ضمیمہ شحنہ ہند میرٹھ ...... شمارہ ٣٢ ...... ٢٤؍ اگست ١٩٠٣ء

ضمیمہ شحنہ ہند میرٹھ ...... شمارہ ٣٣ ...... یکم ستمبر ١٩٠٣ء

ضمیمہ شحنہ ہند میرٹھ ...... شمارہ ٣٤ ...... ٨؍ستمبر ١٩٠٣ء

صفحہ ١٩

ضمیمہ شحنہ ہند میرٹھ ...... شمارہ ٣٥ ...... ١٦؍ ستمبر ١٩٠٣ء

ضمیمہ شحنہ ہند میرٹھ ...... شمارہ ٣٦ ...... ٢٤؍ ستمبر ١٩٠٣ء

ضمیمہ شحنہ ہند میرٹھ ...... شمارہ ٣٧ ...... یکم؍ اکتوبر ١٩٠٣ء

ضمیمہ شحنہ ہند میرٹھ ...... شمارہ ٣٨ ...... ٨؍ اکتوبر ١٩٠٣ء

ضمیمہ شحنہ ہند کے شمارہ ٣٨ میں رفعت اللہ خان مسلمان اور شرافت خان قادیانی کے درمیان شاہجہان پور میں ہونے والے مباحثہ کی رپورٹ شائع ہوئی۔ اس کا بقیہ ١٦؍ اکتوبر کے شمارہ نمبر ٣٩؍ اور ٢٤؍ اکتوبر کے شمارہ نمبر ٤٠؍ میں بھی شائع ہوا۔ ٦٦٣

ضمیمہ شحنہ ہند میرٹھ ...... شمارہ ٣٩ ...... ١٦؍ اکتوبر ١٩٠٣ء

کردی۔ اس شمارہ ٣٩؍ کا ایک مضمون باقی بچا۔ ’’مدعیانِ نبوت‘‘ جو مولانا شوکت اللہ میرٹھی کا مرتب کردہ ہے۔ پیشِ خدمت ہے۔ ٦٨٧

ضمیمہ شحنہ ہند میرٹھ ...... شمارہ ٤٠

ضمیمہ شحنہ ہند میرٹھ ...... شمارہ ٤١

اس شمارہ میں ایک مسلمان اور مرزائی کے درمیان میں شائع ہوئی۔ اسے آگے یکجا کر رہے ہیں۔ اس اسمِ اعظم۔ مولانا شوکت اللہ میرٹھی اور ٢؍ مرزا جیو نگار پیسہ اخبار لاہور کے حوالے سے پیش کئے گئے۔

ضمیمہ شحنہ ہند میرٹھ ...... شمارہ ٤١

اس شمارہ سے جناب رفعت اللہ صاحب کی اپنے کی اشاعت کا سلسلہ شروع ہوا جو شمارہ ٤٢، پھر شما سے ٤٥؍ تک ماسوائے ٤٣؍ کے ان تمام اقساط کو یہ

ضمیمہ شحنہ ہند میرٹھ ...... شمارہ ٤٢

ضمیمہ شحنہ ہند میرٹھ ...... شمارہ ٤٣

ضمیمہ شحنہ ہند میرٹھ ...... شمارہ ٤٤

صفحہ ١٩

ضمیمہ شحنہ ہند میرٹھ ...... شمارہ ٤٠ ...... ٢٤؍ اکتوبر ١٩٠٣ء

ضمیمہ شحنہ ہند میرٹھ ...... شمارہ ٤١ ...... یکم؍ نومبر ١٩٠٣ء

اس شمارہ میں ایک مسلمان اور مرزائی کے درمیان طویل مراسلت تھی جو کئی شماروں میں شائع ہوئی۔ اسے آگے یکجا کر رہے ہیں۔ اس کے علاوہ مضمون/ مرزا قادیانی کا اسم اعظم۔ مولانا شوکت اللہ میرٹھی اور ٢/ مرزائیوں کے گورداسپور کے مقدمات نامہ نگار پیسہ اخبار لاہور کے حوالے سے پیش کئے گئے۔ ٦٩٤

ضمیمہ شحنہ ہند میرٹھ ...... شمارہ ٤١ ...... یکم؍ نومبر ١٩٠٣ء

اس شمارہ سے جناب رفعت اللہ صاحب کی اپنے چچا جو قادیانی تھے ان سے مراسلت کی اشاعت کا سلسلہ شروع ہوا جو شمارہ ٤٢، پھر شمارہ ٤٤، پھر ٤٥ تک جاری رہا۔ ٤١/ سے ٤٥/ تک ماسوائے ٤٣/ کے ان تمام اقساط کو یہاں یکجا کر دیا ہے۔ ٦٩٧

ضمیمہ شحنہ ہند میرٹھ ...... شمارہ ٤٢ ...... ٨؍ نومبر ١٩٠٣ء

ضمیمہ شحنہ ہند میرٹھ ...... شمارہ ٤٣ ...... ١٦؍ نومبر ١٩٠٣ء

ضمیمہ شحنہ ہند میرٹھ ...... شمارہ ٤٤ ...... ٢٤؍ نومبر ١٩٠٣ء

صفحہ ٢١

ضمیمہ شحنۂ ہند میرٹھ ...... شمارہ ٤٥ ...... یکم دسمبر ١٩٠٣ء

ضمیمہ شحنۂ ہند میرٹھ ...... شمارہ ٤٦ ...... ٨ دسمبر ١٩٠٣ء

ضمیمہ شحنۂ ہند میرٹھ ...... شمارہ ٤٧ ...... ١٦ دسمبر ١٩٠٣ء

ضمیمہ شحنۂ ہند میرٹھ ...... شمارہ ٤٨ ...... ٢٤ دسمبر ١٩٠٣ء

۞ ...... ۞ ...... ۞

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

عرض مرتب

الحمد لله وكفى وسلام على عباده الذين اصطفی !

١٩٠١ء مرزا قادیانی کے کفر بواح کے عروج کا سال تھا۔ کیونکہ اس سال اس نے باقاعدہ نبوت کا دعویٰ کیا۔ کذاب قادیان کے دعویٰ نبوت کو جس مرد مجاہد نے سب سے پہلے چیلنج کیا اور تردید کا بیڑا اٹھایا تھا وہ امت کی طرف سے شکریہ کے مستحق ہیں۔ ان میں سے ایک مولانا شوکت اللہ میرٹھی تھے۔ (ان کا اصل اللہ نے آپ کو مرزا قادیانی کے مقابلہ میں مجددانہ وار 'شحنہ ہند' شائع کیا کرتے تھے۔ آپ نے چار وار شحنہ ہند' کا ہفتہ وار ضمیمہ شائع کرنا شروع کیا جو عموماً ہوا اور چار سال قادیانی رسائل کے جواب میں اپنی

ہے اور شمارہ نمبر اس کا بائیس ٢٢ ہے۔ یہ شمارہ اسی دارالعلوم دیوبند سے ارسال فرمایا۔

ہم انہیں مسلسل نمبرات کو سامنے رکھیں تو ١٩٠٢ء ا (شمارہ نمبر ٢١ تا ٤٢ شمار ہوتے ہیں) اسی طرح ص ٧٧ ا تاریخ ایک ہے۔ گویا شمارہ نمبر ١٧، ١٨ اور ١٩، ایک سات

صفحہ ٢١

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

عرض مرتب

الحمدللّٰہ و کفیٰ و سلام علیٰ عبادہ الذین اصطفیٰ ، اما بعد !

١٩٠١ء مرزا قادیانی کے کفر بواح کے عروج کا دور ہے۔ اسی سال کذاب قادیان نے نبوت کا دعویٰ کیا۔ کذاب قادیان کے دعویٰ نبوت کے دور میں جن لوگوں نے مرزا قادیانی کی تردید کا بیڑا اٹھایا تھا وہ امت کی طرف سے شکریہ کے مستحق ہیں۔ انہیں خوش نصیب حضرات میں سے ایک مولانا شوکت اللہ میرٹھی تھے۔ (ان کا اصل نام مولانا محمد احسن میرٹھی تھا) مولانا شوکت اللہ اپنے آپ کو مرزا قادیانی کے مقابلہ میں مجدد السنۃ مشرقیہ بھی کہتے ہیں۔ موصوف میرٹھ سے ہفتہ وار ”شحنہ ہند“ شائع کیا کرتے تھے۔ آپ نے چار سال ابتدائے ١٩٠١ء سے دسمبر ١٩٠٤ء تک ہفتہ وار شحنہ ہند کا ہفتہ وار ضمیمہ شائع کرنا شروع کیا جو عموماً آٹھ صفحات پر مشتمل ہوتا تھا۔ یہ مسلسل شائع ہوا اور چار سال قادیانی رسائل کے جواب میں اپنی مثال آپ تھا۔

ہے اور شمارہ نمبر اس کا بائیس ٢٢ ہے۔ یہ شمارہ ای میل کے ذریعہ مولانا شاہ عالم گورکھپوری نے دارالعلوم دیوبند سے ارسال فرمایا۔

ہم انہیں مسلسل نمبرات کو سامنے رکھیں تو ١٩٠٢ء کی فائل کا ص ١ سے ص ٥٦ تک موجود نہیں۔ گویا (شمارہ نمبر ١، ٢، ٣، شارٹ ہیں) اسی طرح ص ٧٧ سے ص ١٠٠ تک کے صفحات موجود ہیں۔ ان پر تاریخ ایک ہے۔ گویا شمارہ نمبر ٧، ٨، اور ٩، ایک ساتھ شائع ہوئے۔ شمارہ نمبر ١٠، ١١، ١٢ ص ١٠١ تا ١٢٤

صفحہ ٢٣

تک شائع ہوئے۔ البتہ ص ١٢٥ سے ١٢٨ صفحات موجود نہیں۔ لیکن یہ سہو ہے۔ ورنہ شمارہ نمبر ١٣ ص ١٢٩ پر موجود ہے۔ اس کا معنی یہ ہے کوئی شمارہ شارٹ نہیں۔ البتہ صفحات پر سہو ہوا۔ شمارہ نمبر ١٣ ص ١٢٩ سے شروع ہو کر ص ١٤٠ چلا گیا ہے۔ پھر ص ١٤١ پر شمارہ نمبر ١٢ درج ہے۔ گویا کوئی صفحہ شارٹ نہیں۔ البتہ شمارہ نمبر ١٣، ١٤، ١٥ ایک ساتھ ص ١٢٩ سے ص ١٤٠ پر مشتمل ہیں۔ پھر ص ١٤١ سے ص ٣٠٨ تک شمارہ نمبر ١٦ سے ٤٧ تمام شمارہ جات اس جلد میں موجود ہیں۔

خلاصہ یہ کہ سن ١٩٠٢ء کے شمارہ نمبر ١، ٢، ٣ ص ١، سے ص ٥٦ تک شارٹ ہیں اور پھر ص ٣٠٩ سے آخر تک۔ گویا شمارہ نمبر ٤٨ سے آخر جلد تک موجود نہیں۔ یعنی ہمیں دستیاب نہ ہوئے۔ جس بندہ خدا کو ١٩٠٢ء کے شمارہ نمبر ١، ٢، ٣، پھر شمارہ ٤٨ سے آخر تک مل جائیں تو وہ اس فائل کو مکمل کر سکتا ہے۔

شارٹ ہے۔ تو وہیں نوٹ دے دیا، ورنہ مکمل ہے۔

جلد ٥٨ پر شائع ہوگی۔

گویا احتساب کی ان دونوں جلدوں ٥٧، ٥٨ ضمیمہ شحنہ ہند کے چار سالوں ١٩٠١ء سے ١٩٠٢ء کے جو شمارہ میسر آئے۔ یعنی ١٩٠١ء کا صرف ایک شمارہ اور ١٩٠٢ء نامکمل اور ١٩٠٣ء اور ١٩٠٤ء کے مکمل فائل ان جلدوں میں آگئے ہیں۔ اس پر اللہ تعالیٰ کا جتنا شکر ادا کیا جائے کم ہے۔

فالحمد لله !

محتاج دعاء: فقیر اللہ وسایا!

٢٥ مئی ٢٠١٤ء

ضمیمہ شحنہ

١٩٠١

مولانا شوکت

PDF 24

خاتم النبیین لا نبی بعدی

میں آخری نبی ہوں میرے بعد کوئی نبی نہیں

ضمیمہ شحنۂ ہند میرٹھ

١٩٠١ء

مولانا شوکت اللہ میرٹھی

صفحہ ٢٤ ٢٥

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

تعارف مضامین ...... ضمیمہ شحنہ ہند میرٹھ

٨؍ جون ١٩٠١ء کے شمارہ نمبر ٢٢ کے مضامین

ا...... پنجابی رسول کی امت کا انکار

سال اول معارب آمد سال دیگر خوجہ شد
غلہ گرانزاں شود امسال سیدی شود

مرزا غلام احمد قادیانی کی جماعت کے حتمی ممبر جو بمصداق ”یؤمنون بالغیب“ بلا سوچے سمجھے ایمان لائے ہیں۔ ہر چند ان کی خدمت میں عرض کی جاتی ہے اور حضرت موصوف کی خاص تحریریں ان کو دکھائی جاتی ہیں کہ مرزا قادیانی نے صاف صاف نبوت کا اسی طرح دعویٰ کیا ہے جس طرح پہلے بھی بہت سے اشخاص کر چکے ہیں۔ مگر وہ بیچارے ابھی تک پیر و پیغمبر میں تمیز نہیں کر سکتے اور الٹا یہ جواب دیتے ہیں کہ ہم راستی پر ہیں اور موعوج کے بارے میں تمہیں مغالطہ ہوا ہے۔

پس ہم علماء اسلام زمانہ حال کی خدمت میں نہایت ادب کے ساتھ گزارش کرتے ہیں کہ چند منٹ کے لئے ہماری ان ناچیز سطور پر توجہ فرماویں۔ مگر بفرض محال ہم غلطی پر ہیں اور ختم نبوت کے بعد بھی سلسلۂ نبوت جاری ہے تو کوئی بزرگ اسلام ہماری غلطی رفع فرما کر خداوند تعالیٰ کی پاک درگاہ سے اجر عظیم کے مستحق ہوں۔

کیا ان علامات اور دعاوی کے سوا جو نیچے عرض کئے جاتے ہیں (معاذ اللہ) پیغمبروں کے سرخاب کا پر لگا ہوتا ہے۔ جس سے وہ شناخت کئے جاتے ہیں۔ روحانیت اور فیوض الہی جو انبیاء علیہم السلام واولیاء کرام کی ذات والاصفات سے فواروں کی طرح جوش زن ہوا کرتے ہیں ان کو مرزا قادیانی کی ذات میں سمجھنا اور ان سے برکات حاصل کرنے کی توقع رکھنا بناء فاسد علی الفاسد ہے۔ مگر دعویٰ نبوت کے لئے تفصیل ذیل علامات جو مرزا قادیانی اپنی نسبت تحریر فرماتے ٢ ہیں کیا ان سے بڑھ کر کوئی علامت بیان کی جاسکتی ہے اگرچہ میں کچھ بھی کلام نہ ہو۔

اس میں ذرہ بھر شک نہیں کہ مرزا قادیانی کو قرآ چونکہ ان کو رسول بننے کا خیال از حد دامنگیر ہے۔ اس لئے ہیں اور کیا تعجب ہے کہ اپنے منامات اور اضغاث میں بھی ا ..................... تصدیقات مریدین وغیرہ کو پبلک کے سامن

دعویٰ کیا۔

محاورات میں انبیاء علیہم السلام کی شان میں بولے جاتے ہی ھاد٭ ان من امة الا خلا فیھا نذیر “ انہیں دونوں مسیح یہی عاجز ہے اور کہا: ”دنیا میں ایک نذیر آیا کسی نے اس مرزا قادیانی کے یہ الہامات سب سے بڑھ کر

جو خاص حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کی ذات مگر مرزا قادیانی اس کو اپنی شان میں الہام ہونا فرماتے ہی

ترجمہ..... ”(اے مرزا قادیانی) جو آپ کی مرضی ہو کر کا یہ الہام ایسا ہے کہ کسی سچے رسول کو کبھی نہ ہوا ہوگا۔ اس ہوگئی ہے جو چاہیں سو کریں۔ شاید اس وسعت اخلاق درفشانیاں کی ہیں جن کی ردیف وار ”ڈکشنریاں“ بن رہی فانی قد غفرت لک“ کی بدولت ہوں۔

والسلام‘ جو انبیاء علیہم السلام کے لئے محفوظ تھا مرزا قادی دکتابت اور اخباروں وغیرہ میں بے دھڑک مرزا قادیانی ٣

صفحہ ٢٥

ہیں کیا ان سے بڑھ کر کوئی علامت بیان کی جاسکتی ہے اگر چہ اس دعویٰ کے دروغ بے فروغ ہونے میں کچھ بھی کلام نہ ہو۔

اس میں ذرہ بھر شک نہیں کہ مرزا قادیانی کو قرآن شریف کے مطالعہ میں توغل ہے اور چونکہ ان کو رسول بننے کا خیال از حد دامنگیر ہے۔ اس لئے ہر ایک آیت پر اسی پہلو سے تدبر کرتے ہیں اور کیا تعجب ہے کہ اپنے منامات اور اضغاث میں بھی اپنی ذات کو رسول اور نبی دیکھتے ہوں۔ ................... و تصدیقات مریدین وغیرہ کو پبلک کے سامنے نمبر وار پیش کرتے ہیں۔

دعویٰ کیا۔

محاورات میں انبیاء علیہم السلام کی شان میں بولے جاتے ہیں۔ مثلاً: ”انت منذر و لکل قوم ہاد * ان من امۃ الا خلا فیہا نذیر“ انہیں دونوں کتابوں میں صاف صاف لکھ دیا کہ موعود مسیح یہی عاجز ہے اور کہا: ”دنیا میں ایک نذیر آیا کسی نے اس کو نہ مانا۔ مگر خدا اس کو قبول کرے گا۔“ مرزا قادیانی کے یہ الہامات سب سے بڑھ کر ہیں۔ یعنی:

(براہین احمدیہ ص٥٠٦)

جو خاص حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کی ذات مبارک کے لئے خداوند تعالیٰ نے فرمایا۔ مگر مرزا قادیانی اس کو اپنی شان میں الہام ہونا فرماتے ہیں اور:

(براہین احمدیہ ص٥٦٠)

ترجمہ....... ”(اے مرزا قادیانی) جو آپ کی مرضی ہو کرو میری طرف سے آپ بخشے گئے ۔“ مرزا کا یہ الہام اُمّیانہ ہے کہ کسی سچے رسول کو کبھی نہ ہوا ہوگا۔ اس الہام سے مرزا قادیانی کو بالکل چھٹی ہو گئی ہے جو چاہیں سو کریں۔ شاید اس وسعت اخلاق سے جو بحق انام دنیا حضرت اقدس نے درفشانیاں کی ہیں جن کی ردیف وار ”دشنامیاں“ بن رہی ہیں وہ اسی الہام ”اعمل ماشئت فانی قد غفرت لک“ کی بدولت ہوں۔

والسلام“ جو انبیاء علیہم السلام کے لئے محفوظ تھا مرزا قادیانی کے مریدان باصفا اپنی بول چال خط و کتابت اور اخباروں وغیرہ میں بے دھڑک مرزا قادیانی کے مناقب میں لکھتے پڑھتے ہیں۔

٣

صفحہ ٢٧

على الدین کله" "مبشراً برسول یاتی من بعدی اسمه احمد فلما جاءهم بالبینات قالوا هذا سحر مبین"

(ازالہ اوہام ص ٦٧٣،٦٧٥)

ترجمہ ...... "وہ وہی تو ہے جس نے اپنے رسول (محمد ﷺ) کو ہدایت اور دین حق کے ساتھ بھیجا کہ دنیا کے کل ادیان پر اس کو غالب کرے۔"

(حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی زبان سے) "میں ایک پیغمبر کی خوشخبری دینے والا ہوں جو میرے بعد آنے والا ہے جس کا نام احمد ہے۔ پھر جب کہ وہ آیات کھلی نشانیاں لے کر آئے تو انہوں نے کہا کہ یہ تو صریح جادو ہے۔" جو خاص حضرت رسول مقبول ﷺ کی شان میں اتری ہیں اور جن میں سے دوسری آیت آنحضرت ﷺ کے حق میں پیشین گوئی ہے۔ مرزا قادیانی الہاماً بیان فرماتے ہیں کہ خاص میری شان میں ہیں۔

کا نتیجہ ہیں۔ سوا ان کتابوں کے الہامی لکھا جائے کہ یہ آیات بھی مرزا قادیانی کی شان میں درج ہیں۔ "یا حسرة على العباد مایاتيهم من رسول الا کانوا به يستهزؤن" (اے افسوس بندوں پر ان کی طرف کوئی ایسا رسول نہ آیا جس پر انہوں نے استہزاء نہ کیا ہو)

صدیق اور حضرت عمر فاروق) سے کہیں بڑھ کر ہیں جن کی شان میں کئی آیات قرآنی وارد ہیں اور جن میں سے آخرالذکر کی بابت رسول ﷺ کا فرمان ہے کہ اگر میرے بعد کوئی نبی ہوتا تو عمر ہوتا۔

ناظرین! غور فرماویں کہ مذکورہ بالا خلفاء سے سوائے حضرت رسول کریم ﷺ کے کون بڑھ کر ہو سکتا ہے۔

ہی ایمان ہے جیسا قرآن شریف پر۔ (دیکھو مرزا قادیانی کی کتاب اربعین) گویا مرزا قادیانی کو اپنے زعم میں قرآن شریف اور ان کے تراشیدہ الہاموں میں کچھ بھی تمیز نہیں۔

راقم ...... اے مرزا قادیانی آپ اور آپ کے مرید ہم کو کیسے ہی برے خطابوں سے یاد کریں۔ مگر آپ کی اس قسم کی باتیں سن کر ہمارے دل کو سخت صدمہ ہوتا ہے۔

٤

بلند پکارتے ہیں کہ براہین احمدیہ کے الہامات اور قرآن ا الامتیاز نہیں۔ یعنی ان میں مساوات کا درجہ ہے۔

دونوں ایک سے حربے اور ہتھیار لے کر آئے ہیں تو کیا جاوے۔"

"مرزا قادیانی پر ایمان لانا ایسا ہے جیسا رسول کریم ﷺ پر

مانتے ہیں۔" چنانچہ مریدان باصفا، ان کو بمنزلہ حضرت عا ملقب کرتے ہیں۔

اسلام میں آنحضرت ﷺ نے دین کی اشاعت میں کوش الخلفاء کا خطاب (مولوی صاحب مذکور سے) حاصل کیا ا نہیں ۔"

ذكرك" (اور رکھ لیا ہم نے بوجھ تجھ سے وہ بوجھ جس ہم نے تیرے ذکر کو بلند کیا) یہ آیت بھی جو خاص آنحضر وحی کی ہے مرزا قادیانی اپنی ذات کو اس کا مورد و محل بتاتے

آنحضرت ﷺ کے دونوں بروز یعنی محمد واحمد بتاتے ہیں۔

(اے مرزا قادیانی) ان نعمتوں کو یاد کرو۔ جو تجھے دی گئیں دی۔

راقم ...... اے ناظرین اخبار ! غور فرمائیے کہ سب جہانو السلام کے کس کو ہو سکتی ہے؟ کیا مرزا قادیانی کو جو انجم مکھن ا اور جب پیشین گوئیاں غلط ہوتی ہیں تو قرآن شریف پر الزام

٥

صفحہ ٢٧

بلند پکارتے ہیں کہ براہین احمدیہ کے الہامات اور قرآن شریف کی کئی سورتوں میں کچھ بھی مابہ الامتیاز نہیں۔ یعنی ان میں مساوات کا درجہ ہے۔

(اخبار الحکم مورخہ ٢٤؍اکتوبر ١٩٠٠ء)

دونوں ایک سے حربے اور ہتھیار لے کر آئے ہیں تو کیا وجہ ہے کہ ایک کو دوسرے پر ترجیح دی جاوے۔“

(اخبار الحکم مورخہ اگست ١٩٠٠ء)

”مرزا قادیانی پر ایمان لانا ایسا ہے جیسا رسول کریم ﷺ پر۔“

(اخبار الحکم ماہ ستمبر ١٩٠٠ء)

مائیں ہیں۔“ چنانچہ مریدان باصفاء ان کو بمنزلہ حضرت عائشہ صدیقہ تسلیم کر کے ام المؤمنین سے ملقب کرتے ہیں۔

اسلام میں آنحضرت ﷺ نے دین کی اشاعت میں کوشش کی یا آخر میں مرزا قادیانی نے خاتم الخلفاء کا خطاب (مولوی صاحب مذکور سے) حاصل کیا اور ان دونوں زمانوں کے بیچ میں کچھ بھی نہیں۔“

(اخبار الحکم مورخہ ١٠؍مئی ١٩٠١ء)

ذکرک“ (اور رکھ لیا ہم نے بوجھ تجھ سے وہ بوجھ جس سے تیری پیٹھ بھاری تھی اور تیرے لئے ہم نے تیرے ذکر کو بلند کیا) یہ آیت بھی جو خاص آنحضرت ﷺ کی ذات پاک کے لئے خدا نے وحی کی ہے مرزا قادیانی اپنی ذات کو اس کا مورد ومحل بتاتے ہیں۔

آنحضرت ﷺ کے دونوں بروز یعنی محمد واحمد بتاتے ہیں۔

(اخبار الحکم مورخہ ٢٣؍اکتوبر ١٩٠١ء)

(اے مرزا قادیانی) ان نعمتوں کو یاد کرو۔ جو تجھے دی گئیں۔ میں نے سب جہانوں پر تجھے فضیلت دی۔

السلام کے کس کو ہو سکتی ہے؟ کیا مرزا قادیانی کو جو انکم ٹیکس وغیرہ سے بچنے کے لئے حیلے تراشتے ہیں اور جب پیشین گوئیاں غلط ہوتی ہیں تو قرآن شریف پر الزام لگاتے ہیں۔

٥

صفحہ ٢٩

کی شان میں ہے۔ مرزا قادیانی زبردستی اپنی طرف لگاتے ہیں۔

يحببکم الله“ کہہ دے اے محمد کہ اگر تم اللہ سے محبت رکھنا چاہتے ہو تو میرا اتباع کرو تاکہ خداوند تعالیٰ تم سے محبت کرے۔ پھر مرزا قادیانی اس آیت کا شان نزول بھی اپنی ہی طرف فرماتے ہیں۔ اب برخلاف حکم خدا و رسول، رسول کی اتباع سے لوگوں کو ہٹا کر یہ کہنا کہ میرا اتباع کرو۔ شرک فی النبوۃ نہیں تو کیا ہے۔ شرک فی النبوۃ کے سر میں کیا سینگ ہوا کرتے ہیں؟

دینکم“ کے بعد وحی منقطع ہوگئی اور نبوۃ ختم ہوچکی۔ گو اس کا فیض تاقیامت جاری رہے گا۔

”انی رسولاً من الله“ یہ دونوں الہام مرزا قادیانی کے (جو اصل میں قرآن شریف کی آیات ہیں) ایسے ہیں کہ سوا آنحضرت ﷺ کے کسی نبی اور رسول کو ان کی عزت حاصل نہیں ہوئی۔ ان الہاموں کا مورد و محل مرزا قادیانی اپنے کو بتاتے ہیں۔ سچ ہے۔

بت کریں آرزو خدائی کی
شان ہے تیری کبریائی کی

بالآخر ہماری گزارش ہے کہ ارباب فہم و فراست ان سب آیات کو بہیئت مجموعی دل میں جمع کر کے اپنے کانشنس سے فیصلہ لیں کہ یہ دعویٰ نبوت ہے یا نہیں؟ اور جو نتائج اس سے نکل سکتے ہیں۔ ارشاد فرما کر ہماری غلطی کو رفع کریں۔ راقم: ابو!

ایڈیٹر...... سبحان اللہ سبحان اللہ! مولانا! کس خلوص اور سچی ہمدردی سے اسلام کی تائید اور ایک ملحد کے ہفوات واباطیل کی تردید فرمارہے ہیں۔ امید ہے کہ ہمارے علماء کرام ناظرین ضمیمہ اخبار و مفتیان پٹنہ و ہند مولانا ممدوح کا ہاتھ نصرت اسلام میں بٹائیں گے۔ مولانا جس تحقیق و تدقیق سے جعلی مہدی اور نبی کاذب کے دعاوی کا استیصال فرمارہے ہیں۔ مرزا قادیانی اور اس کے حواری کے پاس ان کا جواب ہی کیا ہے اور جواب دینے کا کیا منہ رکھتے ہیں۔ کیوں چوہوں کی طرح

کونوں کھدروں میں چھپے بیٹھے ہیں۔ کیوں مقابلے پر نہیں حضرت اقدس (مرزا قادیانی) کی بات کا کوئی جواب نہیں ہند اور اس کے رجال الغیب نے چند ہی روز میں کاذب مہا مشین کے کیل پرزے توڑ ڈالے۔ عصائے موسیٰ، قطع الوتین ضمیمہ کے مختصر سے آرٹکلوں کا جواب بھی نہیں بن پڑتا اور نہ مرزا قادیانی کے تمام دعاوی سے معاذ اللہ آخ فضول اور عبث ٹھہرتی ہے اور درحقیقت مرزا قادیانی اور مرز مرزا قادیانی کے مقابلے میں نہیں۔ بھلا غضب خدا کا چا مسلمان تسلیم کرسکتا ہے کہ قرآن بجائے آنحضرت ﷺ ۔ یہ کہ میں عیسائیت وغیرہ کا رد کرنے کو دنیا میں اترا ہوں۔ مذہب اسلام کے مٹانے کو آیا ہوں۔ ایسے ملحد کا اثر غیر مذ غیر والے خوب جانتے ہیں کہ پیغمبر اسلام حضرت محمد ﷺ کرے یا تو فریبی اور مکار ہے یا جنونی اور خبط الحواس۔ اس مہر علی شاہ صاحب نے بذریعہ اسلامی انجمن اس امر کا قطعی مذاہب غیر کے مقابلے میں لکھتا اور کارروائیاں کرتا ہے کیونکہ ان سے مقدس مذہب اسلام کی توہین ہوتی ہے او کرے وہ اہل اسلام سے نہیں۔

معلوم نہیں ہمارے ہم عصر اسلامی اخبارا انہوں نے مرزا قادیانی کو مسیح موعود اور نبی برحق تسلیم کر بذریعہ اخبارات تصدیق و تائید کریں اور تسلیم نہیں کیا تو خا کے ان پر یہ الزام وارد ہوگا کہ ”الساكت عن الحق اظہار سے چپ رہنے والا گونگا شیطان ہے۔ اب چاہو ا ہے کہ ہندو اخبارات تو قادیانی کے اقاویل باطلہ کی ترد اسلام کی تردید نہ کریں۔

موعود مسیح کہتا ہے کہ مجھ پر یہ الہام ہوا کہ : ”ان ٧

صفحہ ٢٩

کونوں کھدروں میں چھپے بیٹھے ہیں۔ کیوں مقابلے پر نہیں آتے یا تو یہ لمبے لمبے دعوے تھے کہ حضرت اقدس (مرزا قادیانی) کی بات کا کوئی جواب نہیں دیتا۔ یا اب یہ کیفیت ہوگئی کہ ضمیمہ شحنہ ہند اور اس کے رجال الغیب نے چند ہی روز میں کاذب مہدویت اور جعلی مسیحیت اور ملحد بنانے کی مشین کے کیل پرزے توڑ ڈالے۔ عصائے موسیٰ، قطع الوتین وغیرہ کتابوں کا جواب تو کیا دیں گے ضمیمہ کے مختصر سے آرٹکلوں کا جواب بھی نہیں بن پڑتا اور نہ بن پڑے گا۔ انشاء اللہ تعالیٰ!

مرزا قادیانی کے تمام دعاوی سے معاذ اللہ آنحضرت ﷺ کی بعثت و رسالت بالکل فضول اور عبث ٹھہرتی ہے اور درحقیقت مرزا قادیانی اور مرزائیوں کے نزدیک کوئی وقعت کسی نبی کی مرزا قادیانی کے مقابلے میں نہیں۔ بھلا غضب خدا کا چند خود غرض الو کے پٹھوں کے سوا کون مسلمان تسلیم کر سکتا ہے کہ قرآن بجائے آنحضرت ﷺ کے مرزا قادیانی پر نازل ہوا ہے۔ دعویٰ تو یہ کہ میں عیسائیت وغیرہ کا رد کرنے کو دنیا میں اترا ہوں۔ مگر افعال سے یہ ثابت کیا جاتا ہے کہ مذہب اسلام کے مٹانے کو آیا ہوں۔ ایسے ملحد کا اثر غیر مذاہب پر بھی نہیں پڑ سکتا۔ کیونکہ مذاہب غیر والے خوب جانتے ہیں کہ پیغمبر اسلام حضرت محمد ﷺ ہیں اور دوسرا شخص جو نبی بننے کا دعویٰ کرے یا تو فریبی اور مکار ہے یا جنونی اور خبط الحواس۔ اس لئے گولڑہ ضلع راولپنڈی میں جناب پیر مہر علی شاہ صاحب نے بذریعہ اسلامی انجمن اس امر کا قطعی فیصلہ فرما دیا ہے کہ مرزا قادیانی جو کچھ مذاہب غیر کے مقابلے میں لکھتا اور کارروائیاں کرتا ہے وہ اسلام کی طرف سے نہ سمجھی جائیں۔ کیونکہ ان سے مقدس مذہب اسلام کی توہین ہوتی ہے اور جو شخص اسلام اور بانی اسلام کی توہین کرے وہ اہل اسلام سے نہیں۔

معلوم نہیں ہمارے ہم عصر اسلامی اخبارات اب تک کیوں خاموش ہیں۔ کیا انہوں نے مرزا قادیانی کو مسیح موعود اور نبی برحق تسلیم کر لیا ہے۔ اگر در حقیقت تسلیم کر لیا ہے تو بذریعہ اخبارات تصدیق و تائید کریں اور تسلیم نہیں کیا تو تردید کریں ورنہ در صورت ساکت رہنے کے ان پر یہ الزام وارد ہوگا کہ ”الساكت عن الحق شيطان اخرس“ یعنی حق الامر کے اظہار سے چپ رہنے والا گونگا شیطان ہے۔ اب چاہو شیطان بنو چاہو نیکی کے فرشتے بنو۔ تعجب ہے کہ ہندو اخبارات تو قادیانی کے اقاویل باطلہ کی تردید کریں اور اسلامی اخبارات اس دشمن اسلام کی تردید نہ کریں۔

٢....... مقابلہ چند اوصاف

موعود مسیح کہتا ہے کہ مجھ پر یہ الہام ہوا کہ: ”انت اشد مناسبة“ پس ارباب فضل

٧

صفحہ ٣١

بکمال ان مناسبتوں میں غور فرمائیں۔ برائے رہنمائی عوام ظاہر فرمادیں۔ ہم نے فی الحال چند باتیں جو دونوں میں ثابت ہوئی ہیں بیان کرتے ہیں۔

اصلی مسیح موعود مسیح

(اخبار الحکم مورخہ ٢٤؍ اپریل ١٩٠١ء)

موعود مسیح کے والد کو اکثر اضلاع پنجاب کے لوگ جانتے ہیں جنہوں نے موعود کو لکھایا پڑھایا اور بہت مدت اس کے سر پر سلامت رہے۔

موعود مسیح کا مشن خاص مسلمانوں کی طرف ہے جن کا ایمان توحید ورسالت حضرت رسول کریم ﷺ پر ہے اور جو اہل قبلہ ہیں اور موعود ان کو ملعون اور شیطان اور بے ایمان اور یہودی کہتا ہے۔

موعود مسیح کی تازگی پسند طبیعت نے اپنی پرانی بی بی کو علیحدہ کیا اور ایک نیا نکاح دہلی سے کیا۔ اس پر بھی قانع نہ ہوا اور بایں عالم پیری اب تک بھی الہامی بی بی کا شوق ہے جو افسوس ہے کہ پورا ہوتا نظر نہیں آتا۔

موعود مسیح مال و دولت دنیا کا عاشق ہے۔

موعود مسیح لطائف الحیل سے زر و مال جمع کر کے اپنی بی بی کے نام فرضی رہن کرتا ہے۔

موعود مسیح تازہ رسالے اور اخبارات واشتہارات جاری کرتا ہے۔ جن میں سب دشنام ولعنتیں وغیرہ ہوتی ہیں۔

کرتے تھے۔ موعود مسیح دیگر اشخاص کو تو کیا اچھا کرتے اپنے وزیر اعظم کی آنکھ کا ٹینڈ نکال سکے نہ ٹانگ کا لنگ اور سر کی گنجلی مٹا سکے۔

موعود مسیح نے جب سے لدھیانہ اور دہلی سے شکست کھائی کبھی گھر سے باہر قدم نکالنے کا نام تک نہ لیا اور باوجودیکہ پیر مہر علی شاہ صاحب گولڑہ والے حسب الطلب مثیل بمقام لاہور آئے ۔ مگر مثیل یا موعود مسیح نے اپنے مارے جانے کے خوف سے اپنے بیت الفکر سے باہر آنا منظور نہ کیا۔

٨

کیا۔ موعود مسیح اللہ کہتا

گوئیاں پوری ہوئیں۔ مثیل با

نقلی مس مطلب

مثیل

مکان نہیں بنایا۔ نقلی مس ہے۔

پیدا نہیں کی۔ نقلی مس مالک

طمانچہ مارے تو بایاں بھی رکھ دو۔ نقلی م اور گال

پوشاک کے لئے ٹاٹ مل جائے تو اسی پر قناعت کرو۔ نقلی م دم کے ہیں اور

نقلی م

بیعت نہیں لی۔ نقلی م ہے

نقلی م

علماء وقت نقلی مسیح کو طرح طرح کے کتے خنزیر کیڑے وغیرہ کہہ کر اپنا غصہ نکالتا ہے جس کا فیصلہ قیامت

کابل میں ’امام الزمان‘ کا مشن

ایک صاحب براہ خلوص وارادت مجھے تحر ایک روز کے لئے بھی کابل ہو آئیں اور اپنے دعوٰی کی امداد میں دینے کو تیار ہیں اور امیر صاحب افغانستان ب الزمان پر الہام ہوا ہے کہ ان کی حفاظت خدا کے ہاتھ کس طرح یقین نہیں کہ ہندوستان میں تو امام الزمان

٩

صفحہ ٣١

(٩) اصلی مسیح نے نقلی یا موعود مسیح کے بارے میں کچھ نہیں کیا۔ موعود مسیح نے اصلی مسیح کو مغلظ گالیوں سے پکارا اور (معاذ اللہ) کتا اور بدمعاش وغیرہ کہا۔ (نورالقرآن حصہ دوم ص ٢)

(١٠) اصلی مسیح چونکہ اولوالعزم رسول تھے۔ ان کی پیشین گوئیاں پوری ہوئیں۔ مثیل یا نقلی مسیح کی کوئی پیشین گوئی پوری نہ ہوئی۔

(١١) اصلی مسیح نے توریت کی تصدیق کی۔ نقلی مسیح نے قرآن شریف کی آیات کو توڑ کر اپنے مطلب کے مطابق بنایا۔

(١٢) اصلی مسیح انبیاء علیہم السلام کے سلسلہ خاندان سے ہے مثیل یا نقلی مسیح مغلوں کے خاندان سے ہے۔

(١٣) اصلی مسیح نے اپنی سکونت یا رہائش کے لئے کوئی مکان نہیں بنایا۔ نقلی مسیح نے محل بنائے اور اب مینارۃ المسیح تیار ہونے لگا ہے۔

(١٤) اصلی مسیح نے کوئی حقیقت میں (اراضی وغیرہ) پیدا نہیں کی۔ نقلی مسیح حارث اور خارص ہیں اور اراضی و باغ کے مالک۔

(١٥) اصلی مسیح نے کہا۔ اگر کوئی تمہارے دائیں گال پر طمانچہ مارے تو بایاں بھی رکھ دو۔ نقلی مسیح ناحق بے موجب نیک اور پاک لوگوں کو ستاتا اور گالیاں دیتا ہے۔

(١٦) اصلی مسیح نے کہا۔ اگر کھانے کے لئے کالا نمک اور پوشاک کے لئے ٹاٹ مل جائے تو اسی پر قناعت کرو۔ نقلی مسیح کے یہاں سیروں کستوری اور بادام روغن میں دم کئے ہوئے پلاؤ اور یاقوتیاں استعمال میں لائی جاتی ہیں اور اسباب عشرت کا ایک سٹور جمع ہوتا ہے۔

(١٧) اصلی مسیح ابن مریم علیہ السلام کے نام سے مشہور ہیں۔ نقلی مسیح کو لوگ ابن....... کے نام سے نامزد کرتے ہیں۔

(١٨) اصلی مسیح نے باوجود رسول ہونے کے کسی سے بیعت نہیں لی۔ نقلی مسیح روبروئے حاکمان وقت لوگوں سے بیعت لیتا ہے۔

(١٩) اصلی مسیح مردوں کو زندہ کرتے تھے۔ نقلی مسیح زندوں کو مارنے کی آرزو میں ہے۔

علماء وقت نقلی مسیح کو منع کرتے ہیں کہ الحاد سے باز آؤ۔ وہ ان کو بدذات اور گوہ کے کیڑے وغیرہ کہہ کر اپنا غصہ نکالتا ہے جس کا فیصلہ قیامت کو ہوگا۔ راقم : ا.و !

کابل میں ”امام الزمان“ کا مشن

ایک صاحب براہ خلوص وارادت مجھے تحریر فرماتے ہیں کہ اگر آپ کے امام الزمان ایک روز کے لئے بھی کابل ہو آئیں اور اپنے دعویٰ کی منادی کریں تو راقم تین لاکھ روپیہ سلسلہ کی امداد میں دینے کو تیار ہیں اور امیر صاحب افغانستان جو کچھ نذر کریں وہ علیحدہ ہیں۔ جب کہ امام الزمان پر الہام ہوا ہے کہ ان کی حفاظت خدا کے ہاتھ میں ہے تو اب کس بات کا خوف ہے اور یہ کس طرح یقین نہیں کہ ہندوستان میں تو امام الزمان کا خدا ساتھ رہے اور کابل میں ان کا ساتھ

٩

صفحہ ٣٣

چھوڑ دے۔ ایسا خدا کس کام کا؟ انگلش علمداری میں تو مرزا قادیانی کا عذر لنگ فضول ہے۔ کیونکہ یہاں کسی کا بال تک بیکا نہیں ہوتا۔ جس قدر انبیاء علیہم السلام دنیا میں آئے ہیں انہوں نے مخالفوں ہی میں اپنا بعثت کا اظہار کیا ہے اور جب کہ ”مثیل مسیح“ دشمنوں کے ہاتھوں صلیب پر کھینچے گئے۔ اگر ”مثیل مسیح“ بھی کابل میں پھانسی دیئے جائیں تو زہے قسمت۔ مماثلت تامہ ہو جائے گی۔ ورنہ مثیل مسیح ہونے کا دعویٰ غلط ہوگا۔ مرزا قادیانی کا تو فرض عین ہے کہ کابل جائیں اور سر کے ختنہ ہو جانے کی بالکل پروا نہ کریں۔ یقین ہے کہ مرزا قادیانی کا یہ دل گردہ دیکھ کر پبلک ان کو ضرور امام الزمان تسلیم کرلے گی۔

راقم: مرزا قادیانی کا پہلا معتقد!

مرزائیوں کا عجز

ناظرین ضمیمہ کو مژدہ ہو کہ اس نے اپنا وہ فوری اثر دکھایا کہ مرزائیوں کے پاؤں اکھڑ گئے۔ آج کل ان کو قادیان میں اپنے حواری کے سنبھالنے کی فکر کے سوا دوسرا مشغلہ نہیں۔ چنانچہ گزشتہ اخبار الحکم میں یہ عبارت درج ہے۔ ”اللہ تعالیٰ میرے اور آپ کے دل میں پاک صحابہ کی سی پاک تاثیر ڈالے۔ امام کی دعاؤں اور تاثیر میں کوئی قصور نہیں۔ ہم کو اپنے اپنے ظروف کے موافق اس سے پانی لینا ہے۔ اس لئے ہمیشہ دعاؤں میں لگے رہو کہ خدا ایسا کرے کہ اب اس کشتی سے نہ اتارے۔ اس دنیا میں ذلت، بدعہدی، عہد شکنی کا کلنک نہ لگے۔ کیونکہ ساری توفیقوں کا مخزن خدا ہی ہے۔“

راقم: عبدالکریم!

اور مرزا قادیانی کا فرمان الحکم میں یہ ہے۔ ”جو انعامات اور طاقتیں بزرگ نبیوں کو ملی تھیں وہ سب میں لے کر آیا ہوں اور جس جگہ میں بیٹھا ہوں اگر آج اسی جگہ حضرت موسیٰ یا حضرت مسیح ہوتے تو وہ بھی اسی نظر سے دیکھے جاتے۔ جس نظر سے میں دیکھا جاتا ہوں اور کوئی گالی نہیں جو ہم کو نہیں دی گئی۔ کوئی صورت ایذا رسانی کی نہیں جو ہمارے لئے نہیں نکالی گئی۔ مگر ہم ان ساری بدزبانیوں کو سہتے ہیں اور ان ساری تکلیفوں کی برداشت کرنے کو ہر وقت آمادہ ہیں۔“

اس پر ہماری التماس

اجی مرزا قادیانی آپ کو کیا ہو گیا ہے۔ میں بھی آپ کی پارٹی میں ہوں۔ مگر آپ کے روزمرہ نئے نئے دعوے دیکھ کر حیران ہوں۔ میں ہی نہیں بلکہ آپ کے بہت سے مرید دل میں قطعاً آپ سے متنفر اور بیزار ہیں۔ آپ کے اس ارشاد کی مطلق تعمیل نہیں کرتے کہ دوسرے مسلمانوں کے پیچھے نماز نہ پڑھو۔ میں دیکھتا ہوں کہ تمام مرید مسجدوں میں آ کر برابر دوسرے امام کے پیچھے نماز پڑھتے ہیں۔ البتہ بعض جہلاء ہٹ کرتے ہیں۔ یہ جھنجھل شاید اس لئے ہے کہ آپ

١٠

پر اور آپ کی جماعت پر تمام عالموں اور اماموں نے ملحد لئے اور بھی بددل ہورہے ہیں کہ آپ سے تصویر پرستی جھوٹی پیشین گوئیوں کے الزامات کا کچھ جواب نہیں شرمندہ ہوتے ہیں۔ کیونکہ وہ صاف صاف معاملات میں

مرزا قادیانی کا ایک چیلا

ضمیمہ کے دھواں دھار اور لاجواب مضامین چھوٹ رہے ہیں۔ ریاست بھٹنڈا سے ایک چیلے نے منگوایا۔ ہم نے حسب قاعدہ ٨ آنے بھیج دیئے اور لکھ د درج رجسٹر ہو کر ضمیمہ جاری ہو جائے۔ مگر بعد میں معلوم ہـ کو ضمیمہ منگوایا ہے۔ ہم نے ایک خط لکھا کہ آپ کس اسلام کو مٹانا اور تصویر پرستی وغیرہ ممنوعات و محرمات شرعـ بننا چاہئے نہ کہ مرزائی۔ یہ شرک فی الرسالۃ ہے۔ ہماـ معلوم ہوتا ہے کہ وہ جواب حاصل کرنے کو قادیان بھیج اسکول کے بچے بھی اس پر قہقہہ اڑا سکتے ہیں کہ کتب طبـ نے فتویٰ دے دیا ہے کہ ایسی تصویروں کا بنوانا اور رکھنا مرزا قادیانی میڈیکل رفارمر اور سرجن جنرل بھی ہیں۔ حاصل کیا ہے۔ ندوۃ العلماء پر بالکل اتہام ہے۔ وہ تـ کتابوں میں جو تصویریں ہیں ان کی ایسی ہی عظمت کی اور کیا وہ علیحدہ علیحدہ اسی طرح فروخت ہوتی ہیں۔ کتابوں میں تو برہنہ تصویریں ہوتی ہیں۔ جن میں داخلہ دکھایا جاتا ہے۔ کیا ان تصویروں کو بھی کوئی اسی طرح بوـ مرزا قادیانی کی تصویر کو بوسہ دیتے ہیں۔ کیا مرزا قادیانـ نہ ہونا چاہئے۔ جس طرح ہنود اور ان کی عورتیں مہادیو کـ کرتی ہیں۔ اسی طرح جس قدر عقیدت بڑھتی جائے گی بھی تمام مرید اور مریدنیاں پوجا کرنے لگیں گی۔ پھر مـ

١١

صفحہ ٣٣

پر اور آپ کی جماعت پر تمام عالموں اور اماموں نے ملحد اور کافر ہونے کا فتویٰ لگا دیا ہے۔ مرید اس لئے اور بھی بددل ہورہے ہیں کہ آپ سے تصویر پرستی، مریدوں کی تعداد، علمی غلطیوں، بدزبانی، جھوٹی پیشین گوئیوں کے الزامات کا کچھ جواب نہیں بن سکا وہ دوسرے مسلمانوں کے سامنے شرمندہ ہوتے ہیں۔ کیونکہ وہ صاف صاف معاملات میں آپ کی طرح تاویل کرنا نہیں جانتے۔

راقم: پہلا مرزائی!

مرزا قادیانی کا ایک چیلا

ضمیمہ کے دھواں دھار اور لاجواب مضامین سے مرزائیوں کے پیٹوں میں باؤ گولے چھوٹ رہے ہیں۔ ریاست بھٹنڈا سے ایک چیلے نے بڑے شوق سے دو تین کارڈ بھیج کر ضمیمہ منگوایا۔ ہم نے حسب قاعدہ ٨ پرچے بھیج دیئے اور لکھ دیا کہ چار روپے بھیج دیجئے تاکہ آپ کا نام درج رجسٹر ہو کر ضمیمہ جاری ہو جائے۔ مگر بعد میں معلوم ہوا کہ وہ خالی مرزائی ہیں۔ صرف تاڑ دیکھنے کو ضمیمہ منگوایا ہے۔ ہم نے ایک خط لکھا کہ آپ کس خبط میں پڑے ہیں۔ مرزا قادیانی تو دین اسلام کو مٹانا اور تصویر پرستی وغیرہ ممنوعات و محرمات شرعیہ کو رواج دینا چاہتے ہیں اور آپ کو محمدی بننا چاہئے نہ کہ مرزائی۔ یہ شرک فی الرسالت ہے۔ ہمارے خط کا جواب کوئی دو ہفتے کے بعد آیا۔ معلوم ہوتا ہے کہ وہ جواب حاصل کرنے کو قادیان بھیجا گیا تھا۔ مگر جواب کیا نور علیٰ نور آیا ہے کہ اسکول کے بچے بھی اس پر قہقہہ اڑا سکتے ہیں کہ کتب طبیہ میں تصویریں موجود ہیں اور ندوۃ العلماء نے فتویٰ دے دیا ہے کہ ایسی تصویروں کا بنوانا اور رکھنا جائز ہے۔ کیا خوب! یہ ابھی معلوم ہوا کہ مرزا قادیانی میڈیکل رفارمر اور سرجن جنرل بھی ہیں۔ مگر معلوم نہیں ڈپلوما کون سے طبی کالج سے حاصل کیا ہے۔ ندوۃ العلماء پر بالکل اتہام ہے۔ وہ تصویر پرستی کو ہرگز جائز نہیں کر سکتا۔ کیا طبی کتابوں میں جو تصویریں ہیں ان کی ایسی ہی عظمت کی جاتی ہے۔ جیسی مرزا قادیانی کی تصویر کی، اور کیا وہ علیحدہ علیحدہ اسی طرح فروخت ہوتی ہیں۔ جس طرح مرزا قادیانی کی تصویریں، طبی کتابوں میں تو برہنہ تصویریں ہوتی ہیں۔ جن میں واشگاف طور پر عضو مخصوص اور ان کا پیمانہ وغیرہ دکھایا جاتا ہے۔ کیا ان تصویروں کو بھی کوئی اسی طرح بوسے دیتا ہے۔ جس طرح مرید اور مریدنیاں مرزا قادیانی کی تصویر کو بوسہ دیتے ہیں۔ کیا مرزا قادیانی کی تصویر بھی برہنہ ہوتی ہے۔ لیکن ناامید نہ ہونا چاہئے۔ جس طرح ہنود اور ان کی عورتیں مہادیوجی کی ننگی تصویر اور ان کے عضو خاص کی پوجا کرتی ہیں۔ اسی طرح جس قدر عقیدت بڑھتی جائے گی چند روز میں مرزا قادیانی کی برہنہ تصویر کی بھی تمام مرید اور مریدنیاں پوجا کرنے لگیں گی۔ پھر طبی تصویریں بنانے کا اسلامی شریعت نے

١١

صفحہ ٣٤

کہاں حکم دیا ہے۔ مگر اب تو مرزائی شریعت پر عمل ہے۔ اسلامی شریعت ہے۔ کیا چیز؟ ایڈیٹر!

طویلہ کی بلا بندر کے سر

غریب اپاہج عبدالکریم ہی کو سب نے مہرے پر رکھ دیا ہے اور مثیل المسیح نے بھی اسی کو اپنی بدعملیوں کے کفارے میں چڑھا دیا ہے۔ یہی مسلمانوں کو گالیاں دیتا اور گالیاں کھاتا ہے اور اس فخر ومباہات پر ناز کرتا ہے۔ جس طرح کبوتر بازوں میں کئی کبوتر ہوتا ہے کہ کبوتر باز اس کی دم اور پر نوچ کر اچھالتے ہیں اور یہ غریب پھڑ پھڑا کر زمین پر گر جاتا ہے۔ اس سے کبوتر بازوں کا یہ مطلب ہوتا ہے کہ دوسرے کبوتر اس کو دیکھ کر آئیں۔ یہی گت سب نے مل کر بیچارے عبدالکریم کی کر رکھی ہے۔ تعجب ہے کہ امام الزمان کی جو خدمت یہ عطائی کر رہا ہے اور ثواب اور نجات کے بورے سمیٹ رہا ہے دوسرے حواریوں کا دل کیوں نہیں للچاتا اور وہ کیوں یہ سعادت اور فخر حاصل کرنا نہیں چاہتے۔ حکیم نورالدین، مولوی محمد یعقوب، پیر جی سراج الحق وغیرہ بھی تو اس نعمت کے حصہ دار تھے۔ جس کو صرف عبدالکریم نے محض تنہا خوری سے سب کی آنکھوں میں خاک جھونک کر چھین لیا اور ہڑپ کر بیٹھا۔ ایڈیٹر!

مرزا قادیانی کی دھونس

شروع بعثت میں تو مسیح موعود نے وہ قہر وغضب کی تلوار میان سے نکالی کہ الہی توبہ۔ جو شخص مجھ پر ایمان نہ لائے گا۔ مارا جائے گا۔ دھرا جائے گا۔ فلاں شخص جس نے میری آسمانی جورو چھین لی ہے۔ اتنے دنوں میں ہلاک ہوگا اور فلاں شخص جس نے میری توہین کی ہے۔ اتنے عرصہ میں زندہ درگور ہوگا۔ یہ بھنک گورنمنٹ کے کان میں بھی جا پہنچی۔ تخویف مجرمانہ کے شکنجے میں کھینچے گئے۔ مسیح موعود اور اس کا خدا دونوں مارے خوف کے کانپ گئے۔ پھر کیا تھا ملکہ معظمہ کی دہائی اور بڑے لاٹھ صاحب کی تہائی اور چھوٹے لاٹھ صاحب اور حکام وقت کی چوتھائی۔ لگی ہونے ، خطا ہوئی۔ قصور ہوا۔ گناہ ہوا۔ للہ معاف کیجئے۔ جوں توں کر کے قانونی اڑگڑے سے نکلے۔ اب دھونس اور تخویف تو آسمانی باپ کے پاس تشریف لے گئے کہ عطاء تو بلقاء تو ۔ صرف گالیاں اور کوسنے باقی رہ گئے۔ یہ بھی چند روز میں ولایت تشریف لے جائیں گے۔ بھلا اصیل المسیح نے بھی کبھی کسی پر دھونس ڈالی ہے۔ اس نے تو یہ حکم دیا کہ دشمنوں کو بھی پیار کرو۔ یہ آسمانی باپ کا علاقی بیٹا مثیل المسیح کیسا ہے کہ سب کو ایک ہی کند چھری سے ذبح کرنا چاہتا ہے۔ کسی نے کیا خوب کہا ہے۔

مردوں کو زندہ کرتے تھے جو وہ تو مر گئے زندوں کے قتل کو یہ مسیح الزمان ہوئے

ایڈیٹر!

١٢

سلسلہ مطبوعات

ضمیمہ شحنہ ہند

٩٠٢

مولانا شوکت ا

PDF 36

انا خاتم النبیین لا نبی بعدی

میں آخری نبی ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں

ضمیمہ شحنۂ ہند میرٹھ

١٩٠٢ء

مولانا شوکت اللہ میرٹھی

صفحہ ٣٦

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

تعارف مضامین ...... ضمیمہ شحنہ ہند میرٹھ

٢٤؍ جنوری ١٩٠٢ء کے شمارہ نمبر ٤ کے مضامین

١...... تصویر پرستی

مجدد کا پیدا ہونا کم از کم ہر صدی کے بعد ضروری ہے۔ جیسا کہ حدیث شریف میں وارد ہوا ہے تا کہ جو لوگ دین کے اوامر و نواہی کو بھول گئے ہیں یا احکام دین کی بجا آوری میں سستی کرتے ہیں ان کو یاد دلایا جائے اور شانے پکڑ کر ان کو جھنجھوڑا جائے اور خواب غفلت سے بیدار کیا جائے۔ اسی وجہ سے مذہب اسلام میں مجدد پیدا ہوئے اور انشاء اللہ پیدا ہوتے رہیں گے۔ مگر کسی مجدد کا یہ کام نہیں کہ اوامر و نواہی کو منسوخ کر دے یا دین میں کوئی نئی بات نکالے جس سے حدیث شریف ”من احدث فی امرنا ھذا ما لیس منہ فھو رد“ کی مخالفت لازم آئے۔ یعنی امور شرکیہ و بدعیہ جاری کرے۔ بس اسلامی شریعت کا یہی ناموس اعظم ہے اور اس ناموس کا توڑنے والا نہ صرف شریعت اسلامی بلکہ خدا اور رسول کی توہین اور ہتک کرنے والا ہے۔ مذہب اسلام میں توحید رأس الطاعات ہے اور تمام انبیاء علی نبینا وعلیہم الصلوٰۃ والسلام ۔ اسی لئے مبعوث ہوئے اور جب امتوں میں شرک اور بت پرستی اور ہوائے نفس کا طوفان برپا ہوا تو اس کو توفیق الٰہی اور جاذبہ ہدایت نامتناہی سے دور کیا۔ آنحضرت ﷺ کی بعثت سے پہلے عرب میں بت پرستی کی جو کچھ کیفیت تھی اور خاص خانہ کعبہ میں جس قدر اصنام موجود تھے اہل تحقیق پر ظاہر ہے۔ مگر ہمارے نبی امی ﷺ نے سب کی بیخ و بنیاد مستاصل کر دی اور شرک و بت پرستی کے دعائم اور آلات تک کو مٹا دیا۔ منجملہ ان کے تصویر کا بنانا یا بنوانا یا گھروں میں رکھنا یا فروخت کرنا یا ان کے بنانے اور رواج دینے میں مدد کرنا تک قطعی حرام اور ممنوع کر دیا اور فرما دیا کہ ”لعن اللہ المصور والمصور لہ“ یعنی تصویر بنانے والے اور بنوانے والے پر خدا تعالیٰ لعنت کرے۔ یہ ہمارے نبی امی خاتم المرسلین ﷺ کی بددعا ہے۔ بھلا جس شخص کے حق میں نبی بددعا کرے وہ دین و دنیا میں کیونکر ٢ فلاح و بہبود پا سکتا ہے اور جس پر خدا تعالیٰ لعنت کرے پھل پا سکتا ہے۔ مگر افسوس ہے کہ نئے نبی مرزا قادیا ہوئے ہیں تصویر پرستی کو رواج دے کر خدا تعالیٰ کے لعنتی

اب تو کھلم کھلا اخبار الحکم میں اپنے اور اپنے ہو رہا ہے اور اس حرام اور ناپاک تجارت سے خوب نفع ا پرستی کے اور کیا سینگ ہوتے ہیں۔ دھاتوں کے بت ا ہیں۔ کیونکہ شریعت محمدیہ میں ہر قسم کی تصویر حرام ہے براہمن قرار دیا وہی مرزا کی نبوت و بعثت کا اصل اصو دلیل کتنی زبردست ہے کہ یورپ والے چونکہ کسی وعادات اور خصائل معلوم کر لیتے ہیں اور مجھے یورپ نے تصویر کو رواج دیا۔ کیا سوڈان کے جھوٹے مہدی یا پیدا ہو کر نیست و نابود ہو گئے۔ ان میں سے کسی نے ہیں؟۔ لیکن وہ شیطان کی طرح شرق سے غرب تک یوگنڈا کا مہدی جو ابھی واصل جہنم ہوا ہے۔ کیا اس ۔ یورپ اور ایشیاء کے بڑے بڑے مدبر اور وزراء بغیر تص جب آپ کا یہ عذر لنگ صرف یورپ کے لئے ہے تو جاتا ہے۔ آپ کے حواری اور چیلے چانٹے جو آپ کو یہ آ کر دیدار نحوست آثار سے مستفید ہوتے ہیں وہ کیو اور نہ صرف مرزا قادیانی کی بلکہ ان کے ساتھ چند رجھاتے اور دیوث بنتے ہیں۔ سچ ہے: ”الحیاء م گھروں میں صرف مرزا قادیانی بذریعہ تصویر تشریف بھی ان کے گھروں میں وارد ہوتے ہیں اور اسی طر جدید لذیذ “

ہوائے نفس کے لئے تاویلات کا گھڑنا کی حق دوسری شے ہے۔ تاویل حق کو ناحق اور ناحق کو ح میں جو لچر اور پوچ دلائل پیش کئے جاتے ہیں ضمیمہ میں ٣

صفحہ ٣٧

فلاح و بہبود پاسکتا ہے اور جس پر خدا تعالیٰ لعنت کرے اور اس سے بیزار و متنفر ہو وہ کیونکر بھلائی کا پھل پاسکتا ہے۔ مگر افسوس ہے کہ نئے نبی مرزا قادیانی جو تمام انبیاء کے حلوں میں جلوہ افروز ہوئے ہیں تصویر پرستی کو رواج دے کر خدا تعالیٰ کے لعنتی بنتے ہیں۔

اب تو کھلم کھلا اخبار الحکم میں اپنے اور اپنے حواری کی تصویروں کی فروخت کا اعلان ہورہا ہے اور اس حرام اور ناپاک تجارت سے خوب نفع اٹھا رہے ہیں۔ بت تراشی، بت فروشی، بت پرستی کے اور کیا سینگ ہوتے ہیں۔ دھاتوں کے بت اور کاغذی بت باعتبار تصویر ہونے کے برابر ہیں۔ کیونکہ شریعت محمدیہ میں ہر قسم کی تصویر حرام ہے۔ اسلام نے جس شے کو توحید کا مخل اور رہزن قرار دیا وہی مرزا کی نبوت و بعثت کا اصل اصول اور بدرقہ بلکہ علت غائی ہے۔ آپ کی دلیل کتنی زبردست ہے کہ یورپ والے چونکہ کسی شخص کی تصویر دیکھنے سے اس کے خوارق وعادات اور خصائل معلوم کر لیتے ہیں اور مجھے یورپ میں اپنی بعثت کا اعلان مدنظر ہے۔ لہٰذا میں نے تصویر کو رواج دیا۔ کیا سوڈان کے جھوٹے مہدی جو یکے بعد دیگرے حشرات الارض کی طرح پیدا ہو کر نیست و نابود ہو گئے۔ ان میں سے کسی نے اپنی اپنی تصویریں بنوائیں اور شائع کرائی ہیں؟۔ لیکن وہ شیطان کی طرح شرق سے غرب تک مشہور ہوگئے۔ مرزا قادیانی کا علاقی بھائی یوگنڈا کا مہدی جو ابھی واصل جہنم ہوا ہے۔ کیا اس نے دنیا میں اپنی تصویریں بھیجی تھیں۔ علیٰ ہٰذا یورپ اور ایشیاء کے بڑے بڑے مدبر اور وزراء بغیر تصویر کے ساری خدائی میں مشہور ہوگئے۔ پھر جب آپ کا یہ عذر لنگ صرف یورپ کے لئے ہے تو ہندوستان میں تصویر پرستی کو کیوں رواج دیا جاتا ہے۔ آپ کے حواری اور چیلے چانٹے جو آپ کو بسا اوقات دیکھتے ہیں اور باری باری قادیان آکر دیدار نحوست آثار سے مستفید ہوتے ہیں وہ کیوں تصویریں خرید کر اپنے گھروں میں رکھتے اور نہ صرف مرزا قادیانی کی بلکہ ان کے ساتھ چند مسٹنڈوں کی تصویریں دکھا کر اپنی جوروؤں کو رجھاتے اور دیوث بنتے ہیں۔ سچ ہے: ”الحیاء من الایمان“ اس سے پہلے تو مرزائیوں کے گھروں میں صرف مرزا قادیانی بذریعہ تصویر تشریف لے جاتے تھے۔ اب تو خاص الخواص حواری بھی ان کے گھروں میں وارد ہوتے ہیں اور اسی طرح ہر نیا حواری برابر داخل ہوتا رہے گا۔ ”کل جدید لذیذ۔“

ہوائے نفس کے لئے تاویلات کا گھڑنا کچھ مشکل نہیں۔ ہر امر کی تاویل ممکن ہے مگر امر حق دوسری شے ہے۔ تاویل حق کو ناحق اور ناحق کو حق ہر گز نہیں بنا سکتی۔ پس تصویر پرستی کے جواز میں جو لچر اور پوچ دلائل پیش کئے جاتے ہیں ضمیمہ میں چند مرتبہ ان کو کاغذی تصویر کی طرح ہوا میں

٣

صفحہ ٣٩

اڑا دیا گیا ہے۔ مولانا عبداللہ ملتانی کا مضمون شائع ہوچکا ہے۔ جس کو خود مولانا نے قبل از طبع قادیان بھیجا تھا مگر تمام مرزائی مبہوت ہو کر بت اور تصویر بن گئے اور کسی کے پوٹے منہ سے جواب میں ایک حرف بھی نہ نکلا اب اس کا بقیہ حصہ بھی جلد شائع ہوگا۔ انشاء اللہ! امید کہ مولوی صاحب ممدوح بہت جلد روانہ فرمائیں گے۔ ایڈیٹر!

٢...... الہام بے معنی

آج تک ایڈیٹر الحکم نے ہماری کسی بات کا جواب نہیں دیا۔ خود مرزا قادیانی نے اپنی الہامی کتاب ”اعجاز المسیح“ میں لسان کو مؤنث لانے میں منہ کی کھائی۔ ہم نے قرآن کی سند پیش کی۔ مگر تسلیم نہ کی اور کیوں تسلیم کرتے۔ قرآن اور حدیث پرانے ہوگئے۔ اب تو نئے نبی اور اس کی نئی شریعت کا دور دورہ ہے۔ بلکہ خدا بھی پرانا ہوگیا۔ اب تو حسب فحوائے آیہ ”افرایت من اتخذ الہہ ھواہ“ ہوائے نفس کی جدت کو معبود بنایا گیا ہے۔

بیزارم ازاں کہنہ خدائے کہ تو داری
ہر لحظہ مرا تازہ خدائے دگرے ہست

مسلمانوں کے قدیم اور ازلی ابدی خدا نے تو نبی امی خاتم المرسلین ﷺ پر نزول وحی ختم کردی۔ مگر مرزا قادیانی کا نیا خدا نئے نئے بے سروپا الہام کرتا ہے۔

ہم نے لکھا تھا کہ مرزا قادیانی کا الہام ”جری اللہ فی حلل الانبیاء“ بالکل بے معنی ہے اور ایسا معلوم ہوتا ہے کہ مرزا قادیانی کا خدا زبان عرب سے محض نابلد ہے۔ یہ ہم نے اس لئے لکھا کہ مرزا قادیانی کا خدا تو پنجابی ہونا چاہئے جو پنجابی زبان میں الہام کے ڈونگرے برسائے۔ کیونکہ مرزا قادیانی کا بظاہر قرآن مجید کی اس آیہ پر ایمان ہے کہ ”ما ارسلنا من رسول الا بلسان قومہ“ یعنی ہم نے ہر نبی کو اسی کی قومی زبان کے ساتھ بھیجا ہے۔ پھر معلوم نہیں مرزا قادیانی پر زبان عرب میں کیوں الہام ہوتا ہے۔ مرزا قادیانی کا خدا مسلمانوں کے خدا کی تقلید نہیں کرتا۔ اسی لئے قدم قدم پر ٹھوکریں کھاتا ہے۔

جو کی تقلید خسرو کی تو کار کوہکن بگڑا
چلا جب چال کوّا ہنس کی اس کا چلن بگڑا

بلکہ مرزا قادیانی تو اپنے کو چینی الاصل مغل بتاتے ہیں۔ پس چینی زبان میں الہام ہونا چاہئے تھا۔ پنجابی مادری زبان اور چینی خاندانی مغلئی زبان کو چھوڑ کر مرزا قادیانی کا زبان عرب کے سنگلاخ میدان میں ٹھوکریں کھانا بدقسمتی ہے یا نہیں۔ گیدڑ کی جب شامت آتی ہے تو شہر کی جانب بھاگتا ہے۔ چونکہ مرزا قادیانی کے خدا نے زبان عرب کی تعلیم نہیں پائی۔ لہذا بیچارہ غلطیاں نہ کرے تو کیا کرے۔ مگر چونکہ اپنے نبی کے خوارق پر لٹو ہو رہا ہے اور اس کی

٤

خاطر اور فرمائش منظور ہے۔ لہذا اپنے نبی کے ساتھ ر ہر نبی پر کتابیں یا صحیفے ایک ہی زبان میں اسی زبان میں کہتا تھا۔ قرآن کی زبان بھی وہی عربی ت الہام تو عربی زبان میں ہو اور عام الہام اردو زبان می بعض سلاطین مغلیہ کے لشکری لوگوں کی زبان ہے او نبی کو جو نئے خدا کا بھیجا ہوا ہے۔ ایسی حقیر اور ذلیل زب چاہئے جس کو چمار اور ڈھیڈ اور حلال خور تک بولت چوہڑوں وغیرہ تک کا اڈہ ہے۔ جسے سن کر گھن آتی ہ یا گورمکھی میں الہام ہوتا تب بھی ہم کو صبر آجاتا۔

اس تمہید کے بعد سنئے کہ ”جری اللہ فی جس قدر ثبوت ہم نے دیئے تھے ایڈیٹر الحکم سب ک جری پر بحث کی جس کو ہم نے جرات سے ماخوذ بت نہیں بلکہ معتل اللام ہے۔ یعنی جریا و جریاناً سے ہے جرات سے بھی آتا ہے اور جریان سے بھی اور جری اور وکیل اور اجیر کے بھی۔ جیسا کہ قاموس میں ہے۔ والضامن والاجیر“ لیکن اب تو اور بھی یہ الہام لفظ کیوں الہام کیا۔ جس کے پانچ معنے ہیں اور کیو ہے کہ جری کے معنی کوئی شخص اجیر کے یا جرہ باز ک مار کر ان کو شکار کرتا ہے اور یہ دونوں مرزا قادیان معقول اجرت (شکرانہ اور نذرانہ) اینٹھ رہے ہی گھی کے پلاؤ اور قورمے اڑا رہے ہیں اور ترما پاٹھے بن کر سنڈیا رہے ہیں اور چڑیاں پھنسانے ک جال بچھا رہتا ہے۔

دوم ! مرزا قادیانی کا خدا منطق سے تو ب مرزا قادیانی اور ان کے حواری تو کیا خود ان سب ک جری کے معنی رسول کے لیتے ہیں تو اس سے اہل زبا

٥

صفحہ ٣٩

خاطر اور فرمائش منظور ہے۔ لہٰذا اپنے نبی کے ساتھ رسوا ہونے کو برا نہیں سمجھتا۔ ہر نبی پر کتابیں یا صحیفے ایک ہی زبان میں نازل ہوئے۔ یعنی ہر نبی جو کچھ کہتا تھا ایک ہی زبان میں کہتا تھا۔ قرآن کی زبان بھی وہی عربی ہے اور حدیث کی بھی عربی۔ یہ نہیں کہ خاص الہام تو عربی زبان میں ہو اور عام الہام اردو زبان میں۔ جو فی حد ذاتہ کوئی مستقل زبان نہیں اور بعض سلاطین مغلیہ کے لشکری لوگوں کی زبان ہے اور سہل انگاروں کا ایجاد کیا ہوا لٹکا ہے۔ نئے نبی کو جو نئے خدا کا بھیجا ہوا ہے۔ ایسی حقیر اور ذلیل زبان میں تکلم اور مخاطب کرنے سے شرم کرنی چاہئے جس کو چمار اور ڈھیڈ اور حلال خور تک بولتے ہیں اور جو ترکوں، انگریزوں، فرانسیسیوں، جرمنیوں وغیرہ تک کا اوٹش ہے۔ چھی چھی۔ کسم ہے منارے دی این وین گندی گل ہے۔ اگر پنجابی یا گورمکھی میں الہام ہوتا تب بھی ہم کو صبر آ جاتا۔

اس تمہید کے بعد سنئے کہ ”جری اللہ فی حلل الانبیاء“ کے بے معنی ہونے کے جس قدر ثبوت ہم نے دیئے تھے ایڈیٹر الحکم سب کو شربت کے گھونٹ سمجھ کر پی گیا۔ صرف لفظ جری پر بحث کی جس کو ہم نے جرأت سے ماخوذ بتایا تھا۔ ایڈیٹر صاحب فرماتے ہیں کہ یہ مہموز نہیں بلکہ معتل اللام ہے۔ یعنی جریا و جریانا سے ہے۔ اچھا صاحب یہی سہی کہ جری بروزن فعیل جرت سے بھی آتا ہے اور جریان سے بھی اور جری کے معنی دلیر اور شجاع کے بھی ہیں اور رسول اور وکیل اور اجیر کے بھی۔ جیسا کہ قاموس میں ہے۔ ”والجری کغنی والوكيل والرسول والضامن والاجیر“ لیکن اب تو اور بھی یہ الہام بد سے بدتر ہو گیا۔ اولاً آپ کے خدا نے ایسا لفظ کیوں الہام کیا۔ جس کے پانچ معنے ہیں اور کیوں اپنے نبی کی امت کو پریشانی میں ڈالا۔ ممکن ہے کہ جری کے معنی کوئی شخص اجیر کے یا جرہ باز کے سمجھے جو چڑیوں وغیرہ غریب جانوروں پر جھپٹا مار کر ان کو شکار کرتا ہے اور یہ دونوں مرزا قادیانی پر منطبق بھی ہیں۔ کیونکہ وہ مرزائیوں سے معقول اجرت (دکھنا اور نذرانہ) اینٹھ رہے ہیں اور روغن بادام اور زعفران اور مشک کے دم کئے ہوئے پلاؤ اور قورمے چکھ رہے ہیں اور ترمال کھا کھا کر مرزا قادیانی اور تمام مرزائی سانڈھے پٹھے بن کر سنڈیارہے ہیں اور چڑیاں کیا معنے دن دھاڑے الوؤں کا شکار کر رہے ہیں اور ہمیشہ جال بچھا رہتا ہے۔

دوم! مرزا قادیانی کا خدا منطق سے تو بالکل ہی بے بہرہ ہے۔ جو بات ہم کہیں گے مرزا قادیانی اور ان کے حواری تو کیا خود ان سب کا خدا بھی یقینا نہ سمجھ سکے گا۔ سنئے! جب آپ جری کے معنی رسول کے لیتے ہیں تو اس سے اہل میزان ومنطق کے قواعد کے موافق ایک تو مجہولیت

٥

صفحہ ٤١

ذاتیہ لازم آتی ہے جو محالات سے ہے۔ دوم تحصیل حاصل۔ اب ہم سمجھاتے ہیں کہ مجہولیت ذاتیہ اور تحصیل حاصل کس جانور کا نام ہے۔ اس کی مثال یوں ہے ۔”جعل الانسان حیوانا ناطقاً“ یعنی کیا گیا انسان حیوان ناطق۔ ماہیت میں جعل واقع ہوا۔ انسان کی ماہیت تو خود حیوان ناطق ہے تو یہ معنے ہوئے کہ حیوان ناطق حیوان ناطق کیا گیا۔ جب جری کے معنی رسول کے ہیں تو الہامی فقرے کی یہ ترکیب ہوئی۔ ”رسول فی حلل الانبیاء“ رسول اور نبی دونوں ایک ہیں۔ کلام مجید میں ہے۔ ”کان رسولاً نبیا“ یا یہ ترکیب ہوئی کہ ”نبی فی حلل الانبیاء یا رسول فی حلل الرسل“ بھلا مستقل رسول کو رسولوں کے لباس میں آنے کی کیا ضرورت۔ پھر حقانی علماء اور فضلاء اور محدثین اور صادقین سب ہدایت کرنے کے اعتبار سے رسولوں کے لباس یعنی لباس التقویٰ میں آتے ہیں۔ آپ کی کچھ تخصیص نہ رہی۔ الغرض جس ترکیب سے آپ اس بے معنی فقرے کو معنی پہنائیں گے خدا نے چاہا تو معنی کا لباس نہ پہنے گا اور ننگا ڈھڑنگا ہی رہے گا۔ غرقئ لنگوٹی بھی نصیب نہ ہوگی۔

تمام آسمانی کتابوں خصوصاً قرآن مجید کو غور سے پڑھ جاؤ کوئی آیت یا جملہ ایسا نہ پایا جائے گا کہ اجزاء جملہ محذوف ہوں۔ اب مرزا قادیانی کے ”جری اللہ فی حلل الانبیاء“ پر نظر ڈالو۔ فقرہ سے معلوم نہیں ہوتا کہ اس صفت کا موصوف زید ہے یا عمر ہے یا خالد ہے یا سوڈان کا مہدی یا یوگنڈا کا مہدی یا قادیانی مہدی ہے۔ بہر حال جزء جملہ محذوف ماننا پڑے گا کہ ”انت جری اللہ“ یا غلام احمد بیک جری اللہ یا قل انا جری اللہ۔ پس یہ فقرہ ناقص اور غیر تام ہے۔ گویا خبر ہے جس کی مبتداء نہیں۔ اگر آپ یہ کہیں کہ فی حلل الانبیاء جری شبہ فعل کے متعلق ہے تو یہ معنی ہوئے کہ بھیجا گیا ہے نبیوں کے حلوں میں علاوہ ناقص اور غیر تام ہونے کے۔ یہ خرابی ہے جری اور رسول کا صلہ فی نہیں آتا۔ بلکہ الیٰ آتا ہے۔ کلام مجید میں ہے: ”انی رسول اللہ الیکم“ اور اگر آپ یہ کہیں کہ فی حلل انبیاء جری اللہ کی صفت ہے۔ یعنی ”جری اللہ الکائن فی حلل الانبیاء“ تو اب بھی کلام ناقص ہے۔ بہر حال آپ اس کی مبتداء محذوف مانیں گے۔ یعنی انت وغیرہ مگر اس صورت میں حصر لازم آئے گا کہ مرزا قادیانی کے سوا نبیوں کے لباس میں آنے والا دوسرا رسول نہیں۔ حالانکہ دیگر انبیاء کے مبعوث ہونے اور دنیا میں آنے کے خود بدولت بھی قائل ہیں۔ اب ہم کو یہ سمجھانے کی ضرورت ہوئی کہ حصر کیوں لازم آئے گا۔ سنئے! مبتداء ہمیشہ معرفہ اور خبر ہمیشہ نکرہ ہوتی ہے اور جب دونوں معرفہ ہوں گی تو حصر ہوگا۔ اب انت مبتداء محذوف بھی معرفہ اور جری اللہ بھی معہ اپنے صفت کے معرفہ۔ تو حصر لازم آیا اور اگر آپ تقدیر الہام یوں کریں

٦

گے کہ: ”جری اللہ الذی جاء فی حلل الانبیاء ہا قدر محذوفات ماننے کے پھر بھی مبتداء اور خبر معرفہ ہی رہیں ہم تو جب جانیں کہ ایڈیٹر صاحب الحکم ہما مرزا قادیانی کے حمقاء کے خوش کرنے کو دو چار سطریں لکھ د یاد رکھئے کہ ہم مجددالنہ مشرقیہ ہیں۔ ہمارے سامنے کسی نے اب تک مائیاں مونڈی ہیں یا بوہنیں مونڈا۔ قادیانی اوٹ رہا تھا۔ پہاڑ کے نیچے سے نکلا تو قدر عافیت معلوم ہوئی۔ ا

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

تعارف مضامین ...... ضمیمہ

یکم؍ فروری ١٩٠٢ء کے شمارہ نم

اسی ترتیب سے پیش خدمت ہیں:

١....... بقیہ بے معنی

الحکم کا یہ کہنا کہ جری بمعنے رسول اللہ یا وکیل ا غیر مفید ہے۔ اس سے الہام جو بے معنی ہے بامعنی نہیں ہو ہے کہ مرزا قادیانی کے واسطے یہ الفاظ صحیح المعنے نہیں۔ شن مہمل نہ ہوگا جب بھی مہمل نہیں۔ آخر جرات کندہ کے معنے کی اضافت لفظی ہے جو اپنے معمول کی طرف ہوتی ہے

٧

صفحہ ٤١

گے کہ : ”جری اللہ الذی جاء فی حلل الانبیاء یا نزل فی حلل الانبیاء “ تو علاوہ اس قدر محذوفات ماننے کے پھر بھی مبتداء اور خبر معرفہ ہی رہیں گے اور حصر لازم۔ ہم تو جب جانیں کہ ایڈیٹر صاحب الحکم ہمارے تمام ایرادات کو اٹھائیں۔ یہ نہیں کہ مرزا قادیانی کے حمقاء کے خوش کرنے کو دو چار سطریں لکھ دیں اور کہہ دیا کہ بس جواب ہو گیا۔ خوب یاد رکھئے کہ ہم مجدد السنہ شرقیہ ہیں۔ ہمارے سامنے کسی کی پیری نہیں چل سکتی۔ انشاء اللہ! آپ نے اب تک مائیاں مونڈی ہیں بابو نہیں مونڈا۔ قادیانی اونٹ منارے کے نیچے کھڑا کڑاہیگنیاں کر رہا تھا۔ پہاڑ کے نیچے سے نکلا تو قدر عافیت معلوم ہوئی۔ باقی آئندہ، ایڈیٹر!

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

تعارف مضامین ...... ضمیمہ شحنہ ہند میرٹھ

یکم فروری ١٩٠٢ء کے شمارہ نمبر ٥ کے مضامین

اسی ترتیب سے پیش خدمت ہیں:

١...... بقیہ بے معنی الہام

الحکم کا یہ کہنا کہ جری بمعنے رسول اللہ یا وکیل اللہ ، یا نبی ہے مہمل نہیں ۔ محض لچر و پوچ اور غیر مفید ہے۔ اس سے الہام جو بے معنی ہے بامعنی نہیں ہو سکتا۔ ہماری مراد بے معنی ہونے سے یہ ہے کہ مرزا قادیانی کے واسطے یہ الفاظ صحیح المعنے نہیں۔ نہ یہ کہ خود جری اللہ بے معنی ہے۔ جری اگر مہموز ہو گا جب بھی مہمل نہیں۔ آخر جرأت کنندہ کے معنے رکھتا ہے۔ ہمارا مطلب یہ تھا کہ جری اللہ کی اضافت لفظی ہے جو اپنے معمول کی طرف ہوتی ہے۔ اگر لفظ جری کا اللہ معمول ہوگا تو وہی ٧

صفحہ ٤٣

معانی پیدا ہوں گے جو ہم نے پہلے بیان کئے اور صورت یائی ہونے کے بھی جری اضافی لفظی ہے۔ لفظ جری کا بمعنے رسول ہونا مسلم ہے۔ مگر جری اللہ کے معنی رسول من عند اللہ کس طرح ہوں گے؟۔ کیونکہ اضافت لفظی میں حرف من کا مقدر کرنا خلاف قاعدہ ہے اور جری اللہ ترکیب اضافی کسی لغت عرب میں موجود نہیں۔ ہماری بحث ترکیب اضافی پر تھی نہ کہ صرف لفظ جری پر۔ پس ”لسان العرب“ میں جری کا بمعنے رسول ہونا صاحب الہام کے واسطے مفید نہیں۔ کیونکہ رسول اللہ اور جری اللہ کی اضافت میں فرق ہے۔ بے شک رسول اللہ بمعنی من عند اللہ صحیح ہے۔ مگر اضافت جری اللہ بمعنے من عند اللہ صحیح نہیں۔ اس لئے کہ لفظ جری صفت ہے اور لفظ رسول صفت نہیں۔

بہ بیں تفاوت رہ از کجا است تا بکجا

الغرض الحکم نے تحکماً محض جہالت سے بے معنی کو بامعنی کرنا چاہا۔ مگر جو علمی تحقیق مطلوب تھی اس کو بالائے طاق رکھا۔ کیونکہ اس غریب الطائی کو علمی بحث سے کیا سروکار اور جب ہم نے جری کو بمعنی جرأت کنندہ لکھا ہے تو اس کو مہمل کس طرح کہتا ہے؟۔ بے معنی سے یہ مراد ہے کہ یہ الہام مرزا قادیانی کے حق میں بے معنی اور غیر صحیح ہے۔ لفظ جری کو اگر یائی کہیں گے اور بمعنی رسول عند اللہ قرار دیں گے تب بھی اس کا صحیح ہونا محال ہے۔ اس واسطے کہ جب آیت قرآنی ”ولکن رسول الله وخاتم النبیین“ سے آنحضرت ﷺ کا نبی خاتم الزمان ہونا تمام اہل اسلام کے نزدیک مسلم ہے اور یہ عقیدہ دین اسلام کا رکن ہے تو بعد نبی آخر الزمان کے دوسرے کا رسول من عند اللہ ہونا کب صحیح ہو سکتا ہے؟۔ نعوذ باللہ! یہ دین میں رخنہ اندازی اور زندقہ ہے۔ کوئی مسلمان اس کو صحیح اور بامعنی نہیں کہہ سکتا۔ کیونکہ بامعنی سے مراد یہی ہے کہ جو معنی لئے جائیں وہ اپنے محل پر صادق آسکیں۔ ورنہ وہ کلام مہمل ہے۔ پھر یہ لفظ معانی معدودہ پر محمول ہو سکتا ہے۔ جری بیائے مشددہ بمعنے جرأت کنندہ بھی ہو سکتا ہے۔ یعنی اللہ پر اور اللہ کے دینی احکام پر جرأت اور بے باکی کرنے والا۔ کیونکہ جری جو مہموز ہے جری بیائے مشدد حسب قاعدہ صرف ہو سکتا ہے۔ جیسا نبیء کا نبی تو اس کے لئے ایک دوسرا الہام چاہئے۔ جس سے یہ ثابت ہو کہ لفظ جری مہموز نہیں بلکہ یائی ہے۔ اس میں لسان العرب کا حوالہ کافی نہیں بلکہ لسان الحق درکار ہے اور اہل باطل کے واسطے لسان الحق کا ہونا محال ہے اور جب ایک لفظ میں دو احتمال موجود ہیں تو بحکم ”اذا جاء الاحتمال بطل الاستدلال“ قابل احتجاج واعتبار نہ رہا۔

علیٰ ہٰذا یہ کہنا کہ رسالت سے ہماری مراد رسالت ظلی اور بروزی ہے نہ کہ اصلی رسالت۔ محض لغو اور اپنی امت کو دھوکا دینا ہے۔ سب علمائے دین یہی منصب رکھتے ہیں۔ کیونکہ

٨

احکام دین محمدی کی اشاعت اور اعلاء کلمتہ اللہ میں مصروف ہیں خصوصیت نہیں اور الہام کا حجت قطعی ہونا کس کے نزدیک ہے؟ کے الفاظ ہی ہوتے ہیں۔ الہام میں غلطی کا ہونا ممکن ہے۔ اگر م بھی ایمان ہے تو وہ اقرار کریں گے کہ ان کی الہامی پیشین گوئیاں کچھ کام نہیں چلا۔ شیطان مختلف لباس میں ملبس ہو کر انسانوں ک طبائع میں پیدا ہونا بھی الہام ہے۔ جیسا کہ خود کلام مجید میں موجود فالہمہا فجورہا وتقوہا (الشمس) “ یعنی ہم نے نفس کا الہام کیا۔ خدا تعالیٰ نے نفس کی قسم کھائی ہے جس پر فجور اور تقو ممکن بلکہ یقینی ہے کہ مرزا قادیانی کے دل میں شیطان نے ”جو وسوسہ ڈالا ہو۔ ”اللہم احفظنا منہ ومن شرور انفسنا واه

اسی نمبر کے الحکم میں ایڈیٹر صاحب انہیں ردی اور لغو کے اغلاط اور اسقام کا مخزن ہے اور نہ صرف ضمیمہ تحفہ ہند بلکہ مصرعہ کی قطع و برید کی ہے۔ ڈینگیں مارتا ہوا لکھتا ہے کہ: ”اعجاز المسیح ١٤؍ جنوری ١٩٠١ء کو مرزا قادیانی پر یہ الہام ہوا۔ ”منعہ مانع م میں کوئی تیرا مقابلہ نہ کر سکے گا۔“

”اگر چہ ضمیر واحد مذکر غائب ایک شخص یعنی پیر مہر علی ہمیں سمجھایا ہے کہ اس شخص کے وجود میں تمام مخالفین کا وجود شام تاکہ اعلیٰ سے اعلیٰ اور اعظم سے اعظم معجزہ ثابت ہو۔“

مرزا قادیانی کے خدا نے پھر غلطی کی اور پھر غلط الہام ک مہر علی شاہؒ تو دور ہی سے مرزا اور مرزائیوں کی چھاتی پر مونگ دلے ہر طرح کی تحدی کا دروازہ کھٹکھٹایا اور مرزا کو بلایا اور منتظر رہے مگ گئے اور قادیان سے لاہور آتے ہوئے سوسو من کے ہو گئے۔ بھلا ہیں۔ ہیبت حق اسی کا نام ہے کہ مرزا قادیانی کا خدا بھی پیر صاحب خبردار اے برادر شغال۔ اسی شیر حق کے مقابلہ پر نہ آنا۔ اب مرزا مانع من السماء“ میں جھک مارا ہے اس کی حقیقت سنئے۔ بہت سے لوگ ہیں تو اس کے خدا نے ”منعہم“ کیوں نہ کہا۔ کیا

٩

صفحہ ٤٣

احکام دین محمدی کی اشاعت اور اعلاء کلمۃ اللہ میں مصروف رہتے ہیں۔ مرزا قادیانی کی کچھ خصوصیت نہیں اور الہام کا حجت قطعی ہونا کس کے نزدیک ہے۔ الہام سب پر ہوتا ہے اور سب کے الفاظ ہی ہوتے ہیں۔ الہام میں غلطی کا ہونا ممکن ہے۔ اگر مرزا قادیانی اور مرزائیوں میں کچھ بھی ایمان ہے تو وہ اقرار کریں گے کہ ان کی الہامی پیشین گوئیاں غلط ہوئی ہیں اور تاویلوں سے کچھ کام نہیں چلا۔ شیطان مختلف لباس میں ملبس ہو کر انسانوں کو دھوکہ دیتا ہے۔ فسق اور فجور کا طبائع میں پیدا ہونا بھی الہام ہے۔ جیسا کہ خود کلام مجید میں موجود ہے ”ونفس وما سواها فالهمها فجورها وتقوها (الشمس)“ یعنی ہم نے نفس انسان کو بدکاری اور پرہیزگاری کا الہام کیا۔ خدا تعالیٰ نے نفس کی قسم کھائی ہے جس پر فجور اور تقویٰ دونوں کا الہام ہوتا ہے۔ پس ممکن بلکہ یقینی ہے کہ مرزا قادیانی کے دل میں شیطان نے ”جری الله في حلل الانبياء“ کا وسوسہ ڈالا ہو۔ ”اللهم احفظنا منه ومن شرور انفسنا واهدنا الصراط المستقيم“

اسی نمبر کے الحکم میں ایڈیٹر صاحب انہیں ردی اور لغو اوراق (اعجاز المسیح) پر جو بروزی کے اغلاط اور اسقام کا مبرز ہے اور نہ صرف ضمیمہ شحنہ ہند بلکہ مصری اخبار المنار نے بھی ہر طرح اس کی قطع و برید کی ہے۔ ڈینگیں مارتا ہوا لکھتا ہے کہ: ”اعجاز المسیح کے اشتہار کی اشاعت کے بعد ١٢؍جنوری ١٩٠١ء کو مرزا قادیانی پر یہ الہام ہوا۔ ”منعه مانع من السماء“ یعنی اس تفسیر نویسی میں کوئی تیرا مقابلہ نہ کر سکے گا۔“

(تذکرہ ص ٤٠٤)

”اگرچہ ضمیر واحد مذکر غائب ایک شخص یعنی پیر مہر علی شاہ کی طرف ہے۔ لیکن خدا نے ہمیں سمجھایا ہے کہ اس شخص کے وجود میں تمام مخالفین کا وجود شامل کر کے ایک ہی کا حکم رکھا ہے۔ تاکہ اعلیٰ سے اعلیٰ اور اعظم سے اعظم معجزہ ثابت ہو۔“

(تذکرہ ص ٤٠٤)

مرزا قادیانی کے خدا نے پھر غلطی کی اور پھر غلط الہام کیا اور جھوٹ بھی بولا۔ حضرت پیر مہر علی شاہ تو دور ہی سے مرزا اور مرزائیوں کی چھاتی پر مونگ دلتے ہوئے لاہور تشریف لائے اور ہر طرح کی تحدی کا دروازہ کھٹکھٹایا اور مرزا کو بلایا اور منتظر رہے مگر خفتہ بختی سے مرزا کے پاؤں سو گئے اور قادیان سے لاہور آتے ہوئے سوسو من کے ہو گئے۔ بھلا باطل کے بھی کہیں پاؤں ہوتے ہیں۔ ہیبت حق اسی کا نام ہے کہ مرزا قادیانی کا خدا بھی پیر صاحب سے ڈر گیا اور الہام کر دیا کہ خبردار اے برادر شغال۔ اسی شیر حق کے مقابلہ پر نہ آنا۔ اب مرزا قادیانی کے خدا نے جو ”منعه مانع من السماء“ میں جھک مارا ہے اس کی حقیقت سنئے۔ جب مرزا قادیانی کے مقابلہ میں بہت سے لوگ ہیں تو اس کے خدا نے ”منعہم“ کیوں نہ کہا۔ کیا زبان گھس جاتی؟

٩

صفحہ ٤٥

دوم ...... اس بے معنی الہام کا ترجمہ یہ ہوا کہ روکنے والے نے آسمان سے روک دیا۔ یعنی مقابلہ کرنے کی طاقت تو تھی مگر روک دیا۔ تاکہ مرزا قادیانی جو تاب مقاومت نہیں رکھتا ذلیل نہ ہو۔ یہ تو مرزا قادیانی کے خدا نے مرزا قادیانی پر بڑا احسان کیا کہ رسوائی اور ہلاکت سے بچالیا۔ مگر مرزا قادیانی تو حد درجہ کافر نعمت ہے۔ کیوں شکریہ ادا کرنے لگا۔

سوم ....... اعجاز کا مقابلہ اعجاز سے ہوتا ہے اور تم خود اس کے قائل ہو گئے کہ تحدی کے لئے پیر صاحب کو روکنے والے نے روک دیا ورنہ وہ اپنے اعجاز سے ساری ماما متخلیاں اور روغن بادام میں دم کئے ہوئے اور زعفران اور مشک میں پکے ہوئے پلاؤ اور قورمے اسفل و اعلیٰ سے اگلوا دیتے۔ اس سے یہ نتیجہ نکلا کہ اعجاز یعنی معجزات کا وقوع ممکن ہے۔ حالانکہ معجزہ خارق فطرت ہے اور خارق فطرت ہر گز ممکنات میں داخل نہیں۔ ورنہ معجزہ معجزہ نہ رہے گا۔

لیجئے ! آپ ہی کی زبان سے ثابت ہو گیا کہ اعجاز المسیح ، اعجاز المسیح نہیں بلکہ ایک عامیانہ یا مجذوبانہ بڑ ہے۔ نہ قابل تحدی ہے۔ سمجھے بھی ہم نے کیا کہا۔ آپ کی پلید الطبعی سے تو سمجھنے کی امید نہیں۔ بس ایسے کوڑ مغزوں سے خدا ہی سمجھے۔

چہارم ...... مانع نکرہ ہے مرزا قادیانی کو اس کا علم نہیں کہ شیاطین میں سے کون سا شیطان تھا وسواس تھا یا خناس۔ الخناس تھا یا مخزب تھا۔ خدائے تعالیٰ تو قرآن مجید میں ضمیر متکلم کے ساتھ مخاطب کرتا ہے۔ مثلاً جعلناہ یا خلقناہ! پس تعجب ہے کہ مرزا قادیانی کے خدا نے منعنا ہم کا الہام نہ کیا۔ اصل یہ ہے کہ اس کو یہ لفظ نہ ملا اور نہ روکنے والے کا علم ہوا اور یوں اپنے نبی کو تاریکی میں رکھا۔ ایڈیٹر !

٢ ...... منارۃ المسیح

مرزائی اخبار الحکم کی لوح گرگٹ کی طرح رنگ بدل رہی ہے۔ ہم لکھ چکے ہیں کہ ”يكسر الصليب ويقتل الخنازير “ والی حدیث جس کو مرزا قادیانی نے اپنی مہدویت و عیسائیت کا تمغہ گردانا تھا بھول ڈالی گئی اور اب اس کی جگہ قطب صاحب کی لاٹھ اور حریصوں اور لالچیوں کے طول امل سے بھی لمبا ایک منارہ یعنی مرزائیوں کا ٹھا کر دوارہ کھڑا کیا گیا ہے۔ بھلا خر دجال کو اتنی لمبی کنوٹیاں اور خود دجال کو اتنی لمبی ناک کیوں نصیب ہونے لگی۔ یہ تو ہمارے مرزا قادیانی ہی کی شان ہے۔ پھر خیر سے منارے کے کنگرے کے کلس کی چوٹی پر صلیب بھی کھڑی کی ہے جو سوڈان اور یوگنڈا کے مہدیوں کی قبر کو دور بین لگائے تک رہی ہے۔ ” قسم ہے قادیان دے مرجادی وڈانجارہ (نظارہ) ہے ۔“ منارہ تو اس لئے تعمیر ہوا کہ تیس سال کی بعثت کے بعد اب مسیح موعود آسمان سے اس پر نزول کریں گے اور صلیب اس لئے کہ خود مرزا قادیانی مرزائیوں سمیت ١٠

گناہوں کا کفارہ بن کر اس پر کھینچے جائیں گے اور پھر گ عیسائیوں کے اعتقاد کے موافق دوزخ میں تھوڑی ہی دیر ر کیونکہ اصلی مسیح پر فوق لے جانا ضروری ہے۔ اصلی مسیح کا ت مرزائی اپنے امام کا وہاں بھی ساتھ دیں گے۔ کیونکہ وہ ا زبان پر ہر لحظہ اس شعر کی تکرار ہے۔

ساتھ تیرے ہم بھی چون سایہ مقرر جائینگے آپ

مرنے کے بعد مرزا قادیانی کے قول کے موا ہیں۔ مگر جب مثیل المسیح مریں گے تو منارے کے مندر م مرزائی اور ان کی نسلیں پوجا کرتی رہیں اور بت کا نصب ک بڑا بھاری انقضاء ہے اور مرزا قادیانی کی تو بہت ہی بڑی ب ہی میں تصویر پرستی کو رواج دیا ہے اور تمام مرزائیوں کے گھر ہے۔ پھر بھگوان کی کرپا سے مہادیو جی کی روح تو بت ف چرنوں پر چلا اور مندر میں اپنی مورتی رکھوائی اور پھر مرزا پرستش کریں گے۔ آریوں نے تو عقلمند بن کر ان سوانگوں کو کے مذہب کو زندہ کریں گے۔ کیا لغویات و واہیات اور کی ذرا شرم نہیں آتی کہ ایک دنیا دار مکار عیار اپنی خود غرضی کی تمام مرزائیوں پر شیطان نے ایسا مسمریزم دم کیا ہے کہ سر فتنة الشيطان والدجال“

مرزا قادیانی (الحکم مطبوعہ ٢٤؍ جنوری ص ٤ کالم اوّ کہ یہ طلسم ( عیسائی مذہب ) ٹوٹ جائے اور وہ بت جو صلیب جاری۔ انشاء اللہ ایسا ہی ہوگا۔ یہ منارہ صلیب کا بت نہیں جیسے مرزا اور مرزائیوں کے سروں پر شیطان ۔ منارہ کی م ہے۔ گویا عوج بن عنق کا سالا ہے۔ ایڈیٹر !

٣ ...... مرزا قادیانی اور ان کے

اس میں شک نہیں کہ داراللطفیان قادیان ک منطق ، فلسفہ، کلام، علم معانی و بیان، بلاغت و بدیع ان کو ١١

صفحہ ٤٥

گناہوں کا کفارہ بن کر اس پر کھینچے جائیں گے اور پھر جہنم میں داخل ہوں گے۔ عیسیٰ مسیح تو عیسائیوں کے اعتقاد کے موافق دوزخ میں تھوڑی ہی دیر رہے۔ مثیل المسیح ابد الآباد تک رہیں گے۔ کیونکہ اصلی مسیح پر فوق لے جانا ضروری ہے۔ اصلی مسیح کا تو دوزخ میں کسی نے ساتھ نہ دیا۔ مگر مرزائی اپنے امام کا وہاں بھی ساتھ دیں گے۔ کیونکہ وہ اس کے عشق میں ہر دم سرشار اور ان کی زبان پر ہر لحظہ اس شعر کی تکرار ہے۔

ساتھ تیرے ہم بھی چون سایہ مقرر جائینگے آگے جائیں پیچھے جائیں جائینگے پر جائینگے

مرنے کے بعد مرزا قادیانی کے قول کے موافق کشمیر میں عیسیٰ مسیح تو قبر میں مدفون ہیں۔ مگر جب مثیل المسیح مریں گے تو منارے کے مندر میں ان کا بت رکھا جائے گا۔ تاکہ تمام مرزائی اور ان کی نسلیں پوجا کرتی رہیں اور بت کا نصب کرنا موجودہ مہذب زمانے کی تہذیب کا بڑا بھاری اقتضاء ہے اور مرزا قادیانی کی تو بہت ہی بڑی یادگار ہوگی۔ کیونکہ انہوں نے اپنی زندگی ہی میں تصویر پرستی کو رواج دیا ہے اور تمام مرزائیوں کے گھروں میں ان کی ایک ایک تصویر موجود ہے۔ پھر بھگوان کی کرپا سے مہادیو جی کی روح تو بہت ہی آنند ہوگی کہ میرا اکلوتا پوت میرے چرنوں پر چلا اور مندر میں اپنی مورتی رکھوائی اور پھر مرزائی اور مرزائنیں اس کے سبھی اعضاء کی پرستش کریں گے۔ آریوں نے تو عقلمند بن کر ان سوانگوں کو چھوڑ دیا۔ مگر مرزا قادیانی اور مرزائی ہنود کے مذہب کو زندہ کریں گے۔ کیا لغویات و واہیات اور کیا حماقت آمیز خرافات ہے۔ مرزائیوں کو ذرا شرم نہیں آتی کہ ایک دنیا دار مکار عیار اپنی خود غرضی کی چالوں سے ان کو کیسا ناچ نچا رہا ہے۔ تمام مرزائیوں پر شیطان نے ایسا مسمریزم دم کیا ہے کہ سر تک نہیں ہلا سکتے۔ ”اللهم احفظنا من فتنة الشيطان والدجال“

مرزا قادیانی (الحکم مطبوعہ ٢٤؍ جنوری ١٩٠٤ء کالم اوّل) میں لکھتے ہیں: ”اب وقت آ گیا ہے کہ یہ طلسم (عیسائی مذہب) ٹوٹ جائے اور وہ بت جو صلیب کا بنایا گیا ہے گر پڑے۔“ حق بزبان جاری۔ انشاء اللہ ایسا ہی ہوگا۔ یہ منارہ صلیب کا بت نہیں تو کیا ہے جس پر صلیب یوں سوار ہے جیسے مرزا اور مرزائیوں کے سروں پر شیطان۔ منارہ کی صورت ایسی عجیب بے ہنگم اور بے ڈول ہے۔ گویا عوج بن عنق کا سالا ہے۔ ایڈیٹر!

٣....... مرزا قادیانی اور ان کے چیلوں کی لیاقت

اس میں شک نہیں کہ دارالامان قادیان حمقاء اور سفہاء اور جہلاء کا گڑھ ہے۔ منطق، فلسفہ، کلام، علم معانی و بیان، بلاغت و بدیع ان کو چھوا بھی نہیں گیا۔ عربیت کی قلعی کھل گئی۔

١١

صفحہ ٤٧

یہ بھی خبر نہیں کہ لسان مذکر ہے یا مؤنث۔ صلات اور متعلقات افعال میں سیکڑوں غلطیاں۔ من کی جگہ الی اور فی کی جگہ علی۔ ناظرین ضمیمہ پر یہ بات اچھی طرح روشن ہے۔ جری اللہ اور ظل اور بروز میں کیسی پٹخنیاں کھائیں۔ مرزا قادیانی جو لفظ بطور علم یا صفت اپنے لئے تراشتے ہیں۔ خود اس کے معنے سے ناواقف ہوتے ہیں۔ اچھا ہاتھ کنگن کو آرسی کیا ہے۔ پھر لیجئے اور بتائیے کہ آپ جو ظلی ظلی اور بروزی بروزی کی ڈونڈی پیٹ رہے ہیں تو بتائیے کہ یہ دونوں لفظ یا ان میں سے کوئی ایک لغوی مفرد مطلق ہے یا لغوی مفرد بالمرکب یا لغوی مرکب بالمفرد۔

اور ظاہر ہے کہ اصلی لغوی معنی مراد نہیں۔ پس ضرور استعارہ ہوگا۔ لیکن استعارہ ترشیحیہ ہے یا تخیلیہ یا بالکنایہ یا مجاز بالحقیقت یا حقیقت بالمجاز۔ پھر ظل اور بروز کے معنی باعتبار دلالۃ النص، اشارۃ النص، عبارۃ النص ہیں یا باعتبار اقتضاء النص یا باعتبار کلیت۔ پھر کلیت مرتبہ بشرط شے میں ہے یا بشرط لا شے یا لا بشرط شے یا لا لا بشرط شے میں یا نوع الانواع کے اعتبار سے یا عام العام کے تعلق سے۔ مرزا قادیانی اور تمام بابی، بہائی اور چیلوں چاپڑوں کی خدمت کے درمیان کے بیچوں بیچ میں عرض ہے کہ آپ مراتب مذکورہ بالا میں سے جس مرتبہ یا معنے کو اپنی ذات پر منطبق کریں اس کی تصریح مع البرہان فرمائیں۔ بینوا توجروا!

خدا نے چاہا تو مخالف ہوا کے جھونکوں سے ڈھاک کے تین پات ہی منارے کی چوٹی پر پھڑ پھڑاتے نظر آئیں گے۔ چار ہفتہ کی مہلت ہے۔ ایڈیٹر!

٤...... اسلامی علماء سے ضروری التجاء

مرزا قادیانی کو اپنی بیہودہ اور لا طائل کتاب اعجاز المسیح پر بڑا گھمنڈ ہے۔ حالانکہ وہ سورۂ الحمد کی تفسیر نہیں بلکہ خانگی خوارق اور ذاتی افعال کا کچا چٹھا اور اپنی مہدویت وعیسائیت و نبوت کا دکھڑا اور ؎

چو میرد جُتلا میرد چو خیزد جُتلا خیزد

کا آئینہ ہے۔ باایں ہمہ مرزا بار بار اعلان دیتا ہے کہ میری نبوت کا یہی کرشمہ اور یہی اعلیٰ نشان ہے اور کوئی شخص اس کی نظیر نہیں لاسکتا اور نہ لانا ممکن ہے۔ ہم کہتے ہیں کہ حماسہ، متنبیٰ خاقانی، نظامی، فردوسی، ساطع الالہام یعنی بے نقط تفسیر فیضی کی نظیر بھی کوئی نہیں لاسکتا۔ علیٰ ہٰذا! بہت سے باکمال علماء ایسے گزرے ہیں جن کی تصنیفات اور تفسیرات کے سمجھنے کی بھی مرزا اور مرزائی لیاقت نہیں رکھتے۔ ائمہ اربعہ، امام غزالی، امام رازی سبحان اللہ وبحمدہ! جن کو حجة الاسلام کہنا بجا ہے۔ کیا ان کی تصنیفات کا کوئی شخص جواب دے سکتا ہے ہرگز نہیں۔ یہ علماء اور فضلاء اور ائمہ

١٢

جامع کمالات و مجمع علوم وفنون تھے۔ ہر فن اور ہر مسئلے میں گئے ہیں۔ مگر یہ کسی نے دعویٰ نہیں کیا کہ ہمارے کلام کا جوا ہم نبی اور رسول ہیں۔ یہ لوگ علوم وفنون کے نہنگ بحر آشا دعویٰ نہیں کیا اور کیونکر کرتے کہ 'وَفَوْقَ كُلِّ ذِیْ عِلْمٍ عَلِيْمٌ کی مچھلی ہیں کہ شامت جو آتی ہے تو کنارہ حوض سے سر نکال

ہمارے زمانہ میں بھی بڑے بڑے علماء وفضلاء موجود ہیں۔ مثلاً ابوالوفاء، مولانا ثناء اللہ صاحب، مولا حسین صاحب بٹالویؒ، حضرت پیر مہر علی شاہ صاحب گولڑ وزیر آبادیؒ، مولانا حافظ محمد عبدالجبار صاحب عمر پوری حا صاحبؒ رئیس ڈیڈوان، مولانا حافظ عبداللہ صاحب غازی ہیڈ مولوی ہائی سکول لدھیانہ، مولانا محمد حسن صاحبؒ رئیس بناری، مولانا ابوالمکارم محمد علی صاحبؒ، مولانا ابوالمنظور مح فحول علماء ایسے موجود ہیں جو مرزا قادیانی کو ہر علم وفن میں میں سورۂ الحمد کی تفسیر لکھ کر مرزا اور مرزائیوں کے غرّے ڈ یہ خیال کرتے ہیں کہ علماء سلف بہت کچھ لکھ گئے ہیں اور کو کذاب کا تھوک ڈالنا بھی تو ان کا فرض ہے۔ ہم چاہتے طرز پر لکھی جائے اور اس میں مرزا قادیانی کے ان الحادا المسیح میں مندرج ہیں۔ ہم یہ فرض اپنے ذمے لے سکتے ت یعنی اخبار شحنہ ہند وطوطی ہند، ضمیمہ شحنہ ہند، شوکت التجدی فارس وعرب کی اشاعت اور ان کا اہتمام ہمارے ذمے۔

ہمارے شاگردوں میں بھی بعنایت الٰہی بعض صاحب صابر پیش امام اہل حدیث محلہ گنج ضلع بدایون، مولا پٹنی۔ اگر عزم بالجزم کیا جائے تو یہ جوابی تفسیر دو ماہ می موافق مفسر کو نذرانہ دینے کے لئے تیار ہیں۔ علیٰ ہٰذا! ہمار روپیہ کا چندہ ہوسکتا ہے۔ اسی میں سے مفسر کا حق الخدمت یہ سرمایہ فراہم ہو جائے تو تفسیر کا تیار ہو کر چھپ جانا کو

١٣

صفحہ ٤٧

جامع کمالات ومجمع علوم وفنون تھے۔ ہرفن اور ہر مسئلے میں قلم توڑ گئے ہیں۔ مخالفینِ اسلام کو عاجز کر گئے ہیں۔ مگر یہ کسی نے دعویٰ نہیں کیا کہ ہمارے کلام کا جواب دینا طاقت بشری سے خارج ہے اور ہم نبی اور رسول ہیں۔ یہ لوگ علوم وفنون کے نہنگ بحر آشام تھے۔ کبھی انہوں نے اپنے علم وفضل کا دعویٰ نہیں کیا اور کیونکر کرتے کہ ”وفوق کل ذی علم علیم“ یہ تو مرزا قادیانی ہی گندے حوض کی مچھلی ہیں کہ شامت جو آتی ہے تو کنارہ حوض سے سر نکال بیٹھے۔

ہمارے زمانہ میں بھی بڑے بڑے علماء وفضلاء ”کثرہم اللہ وایدهم اللہ تعالیٰ“ موجود ہیں۔ مثلاً ابوالوفاء، مولانا ثناء اللہ صاحب، مولانا عبدالجبار صاحب امرتسری، مولانا محمد حسین صاحب بٹالوی، حضرت پیرمہرعلی شاہ صاحب گولڑوی، مولانا محمدعبدالمنان صاحب محدث وزیرآبادی، مولانا حافظ محمد عبدالجبار صاحب عمر پوری حال وارد کلکتہ، مجتہد مطلق مولانا شمس الحق صاحب رئیس ڈیانواں، مولانا حافظ عبداللہ صاحب غازی پوری، مولانا محمدمشتاق صاحب انبیٹھوی ہیڈمولوی ہائی سکول لدھیانہ، مولانا محمدحسن صاحب رئیس اعظم لدھیانہ، مولانا محمدسعید صاحب بنارسی، مولانا ابوالمکارم محمدعلی صاحب، مولانا ابوالمنظور محمدعبدالحق صاحب سرہندی، علیٰ ہذا صدہا فحول علماء ایسے موجود ہیں جو مرزا قادیانی کو ہر علم وفن میں دس دس سال پڑھائیں۔ زبان عرب میں سورۃ الحمد کی تفسیر لکھ کر مرزا اور مرزائیوں کے عربی دانی کا بھرم کیوں نہیں توڑ ڈالتے۔ غالباً وہ یہ خیال کرتے ہیں کہ علماء سلف بہت کچھ لکھ گئے ہیں اور کوئی بات نہیں چھوڑ گئے ہیں۔ مگر ایک مدعی کذاب کا ٹھونک ڈالنا بھی تو ان کا فرض ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ کم از کم پانچ جزو کی تفسیر ایک جدید طرز پر لکھی جائے اور اس میں مرزا قادیانی کے ان الحماقات وخرافات کا بھی سدِ باب ہو جو اعجاز المسیح میں مندرج ہیں۔ ہم یہ فرض اپنے ذمے لے سکتے تھے۔ مگر ناظرین جانتے ہیں کہ تین صحیفوں یعنی اخبار ضمیمہ ہند وطوطی ہند، ضمیمہ شحنہ ہند، شوکت الاسلام یعنی رسالہ پروانہ مع مرقع حل کلام شعراء فارس وعرب کی اشاعت اور ان کا اہتمام ہمارے ذمے ہے۔ یک مرد ہزار سودا کا مضمون ہے۔

ہمارے شاگردوں میں بھی بعنایت الٰہی بعض متبحر علماء ہیں مثلاً مولانا ابویوسف حسین صاحب سابق پیش امام اہل حدیث گنور ضلع بدایون، مولانا حکیم محمدعبدالحق صاحب شاہ اسحاق پٹنی۔ اگر عزم بالجزم کیا جائے تو یہ جوابی تفسیر دو ماہ میں تیار ہوسکتی ہے۔ ہم اپنی استطاعت کے موافق مفسر کو نذرانہ دینے کے لئے تیار ہیں، علیٰ ہذا! ہمارے معاونین ہمت کریں تو کم از کم پانچ سو روپیہ کا چندہ ہوسکتا ہے۔ اسی میں سے مفسر کا حق الخدمت دیا جائے اور اسی میں چھپ بھی جائے۔ یہ سرمایہ فراہم ہو جائے تو تفسیر کا تیار ہوکر چھپ جانا کچھ مشکل نہیں۔ امید کہ ہمارے معاونین

١٣

صفحہ ٤٩

دست کرم کشادہ کریں گے اور چندے کی فہرست شائع ہونے لگے گی۔ حسبنا اللہ ونعم الوکيل۔ (ایڈیٹر)

٥....... مرزائی الہام

کروڑوں آدمی مرزا قادیانی کو جانتے بھی نہیں کہ یہ کس جانور کا نام ہے اور اس بے دال کے بوم کا گھونسلا کہاں ہے اور ہزاروں بلکہ لاکھوں آدمی جو مرزا قادیانی کے ہتھکنڈوں سے واقف ہیں۔ اس پر لعنت بھیجتے ہیں۔ ان میں سے باوصف منکر ہونے کے نہ تو کسی کی نسبت ہاویہ میں گرائے جانے کی کبھی پیشین گوئی ہوئی ہے نہ کسی قسم کے عذاب کی، نہ ہلاکت کی۔ آخر منکر تو سبھی ہیں اور اب تو دو سال سے الہام کا بالکل ڈربا ہی پھٹ گیا۔ ککڑوں کوں کی بھی آواز نہیں آئی۔ اس کی کئی وجوہ ہیں۔ اوّل تعزیرات کی دفعہ تخویف نے مرزا قادیانی کو خوف کے شکنجے میں کچھ ایسا کھینچا کہ اس کا خدا بھی بوکھلا گیا۔ سہم گیا۔ سختی میں خطا ہو گیا۔ گھگھی بندھ گئی۔ پس الہام کے نام چون بھی نہیں نکلتی۔ اسے اندیشہ ہوا کہ تخویفی الہام کے ارتکاب میں کہیں میں بھی مرزا قادیانی کے ساتھ نہ دھرا جاؤں کیونکہ برٹش گورنمنٹ بڑی سطوت و جبرت والی جبار وقہار گورنمنٹ ہے۔

دوم....... جب کوئی پیشین گوئی پوری نہ ہوئی اور تیر تکون کی وہ بھر مار ہوئی کہ ترکش خالی ہو گئے اور ایک بھی نشانہ پر نہ لگا تو مرزا مجھو مجھل میں آ کر خود اپنے خدا کو چھوڑ بیٹھا اور الہام کی ڈیوٹی سے مستعفی ہو گیا کہ چندے میں مدّتِ خدائی کر دی۔ گاؤ خراں شناختی اور بقول غالب؎

زندگی اپنی اسی طور جو گزری مرزا ہم بھی کیا یاد کریں گے کہ خدا رکھتے تھے

سوم....... مرزا قادیانی کا خدا کچھ ایسا پوچ۔ بزدلا۔ ہول دلا نکلا کہ جو سادہ لوح مسلمان موت کی پیشین گوئی کی دھمکی میں آگئے۔ ان کو تو چھاتی سے لگا لیا اور جو دھمکی کی اکڑفوں میں نہ آئے اور اٹھارہواں بچکانہ ہاتھ میں لے کر کھوپڑی کی چندیا کے سر ہو گئے۔ مرزا قادیانی کا خدا ان کے خوف سے چوہے کے بل میں جا دبکا۔ چنانچہ وہ لوگ جو مرزا قادیانی کے سبز باغ پر فریفتہ ہو کر گانٹھ کٹوا بیٹھے تھے اور پھر ہوش میں آگئے۔ اب مرزا قادیانی کے کٹے حریف ہیں مگر مرزا قادیانی کا خدا بے کس بے بس ہو کر گونگے کا گڑ کھائے بیٹھا ہے اور ان کا روان بھی نہیں اکھاڑ سکتا۔

چہارم....... مرزا قادیانی کی نبوت کا معیار صرف لوگوں کا اس کی تخویف کی دھونس میں آ جانا ہے۔ چنانچہ جب آتھم والی پیشین گوئی پٹ پڑی تو مرزا قادیانی نے یہ عذر لنگ پیش کیا کہ اس کے دل میں خوف پیدا ہوا۔ مگر مرزائی نہ بنا۔ بدستور عیسائی ہی رہا۔ تخویف کا لٹکا تو بہت خاصہ تھا۔ مگر افسوس

١٤

ہے کہ گورنمنٹ سد راہ ہو گئی اور لوگوں کو مرزائی ہونے سے دونوں پانی پی پی کر گورنمنٹ کو کوس رہے ہیں کہ منہ سے ط نہیں کر سکتے۔ بجائے اس کے کہ مرزا قادیانی کا خدا حس اس کی نسبت خوفناک پیشین گوئی کرے۔ گورنمنٹ کی فض طرح پھیلانے کا الہام کر رہا ہے۔ بھلا ایسے ڈرپوک خد چونکہ ہم مرزا اور مرزائیوں کے خیر خواہ ہیں۔ لہٰذا اصلاح سابق کی حقیقت تو کھل گئی۔ جس نے تخویف کی حکمت عم اب تر مال کیونکر ہاتھ آئے گا۔ ہم کو مرزا قادیانی کی اس نبوت جس کا مدار صرف تخویفی الہام پر تھا اس کی یوں مٹی خ پنجاب میں رمال اور نجومی کثرت سے ہیں ج قرعہ پھکواتا ہے تو وہ نہایت خوفناک پیشین گوئی کرتے ضرور مارے جاؤ گے۔ لیکن اگر دو گز سرخ کپڑا اور سوا ر سات گرہیں لا دو تو میں ستارے کا اثر زائل کر سکتا ہو ہیں۔ لہٰذا بلی کی خواب میں چھیچھڑے ہی نظر آئیں گے چاہیں گے۔ (ایڈیٹر)

٦....... خونی م

اخبار الحکم میں گورنمنٹ کو مخاطب کر کے بڑ تمام مسلمان خونی مہدی کے آنے کے منتظر ہیں۔ گویا وہ کے آنے تک دنیا کی سلطنتیں جو فتنہ اور فساد اور بدامنی پھ مہدی ان مظالم سے ان کو خلاصی دے۔

اس شررانگیز فقرے سے دو باتیں نکلیں۔ ای گورنمنٹ سے ناراض ہے اور اس کا قلع قمع کرنا چا گورنمنٹ کی بداندیش ہے۔

دوم....... یہ کہ تمام سلطنتیں ظالم اور جابر اور خواب غفل پر گھوڑے چلا رہے اور بدمستی سے ہنکار رہے ہیں کہ ہوش اور دنیا سے تمہارے نکالنے کے لئے خونی مہدی کا

١٥

صفحہ ٤٩

ہے کہ گورنمنٹ سدراہ ہوگئی اور لوگوں کو مرزائی ہونے سے بچا دیا۔ اب مرزا قادیانی اور اس کا خدا دونوں پانی پی پی کر گورنمنٹ کو کوس رہے ہیں کہ منہ سے شکار اور ترلقمہ چھین لیا۔ مگر گورنمنٹ کا کچھ نہیں کر سکتے۔ بجائے اس کے کہ مرزا قادیانی کا خدا حسب دستور مرزا قادیانی پر یہ الہام کرتا کہ اس کی نسبت خوفناک پیشین گوئی کرے۔ گورنمنٹ کی فضول اور لغو للوچپو کرنے اور اس کو چہیتے کی طرح چمکارنے کا الہام کر رہا ہے۔ بھلا ایسے ڈرپوک خدا کو مرزا قادیانی کیا چولہے میں جھونکے۔ چونکہ ہم مرزا اور مرزائیوں کے خیر خواہ ہیں۔ لہٰذا صلاح دیتے ہیں کہ دوسرا خدا تلاش کریں۔ خدا سابق کی حقیقت تو کھل گئی۔ جس نے تخویف کی حکمت عملی پر جھاڑو پھیر دی اور کسی گھر کا نہ رکھا۔ اب تر مال کیونکر ہاتھ آئے گا۔ ہم کو مرزا قادیانی کی اس حسرت پر حسرت وافسوس ہے کہ دعویٰ نبوت جس کا مدار صرف تخویفی الہام پر تھا اس کی یوں مٹی خراب ہوگئی۔

پنجاب میں رمال اور نجومی کثرت سے ہیں جو ضعیف الاعتقاد ان سے کچھ پوچھتا ہے یا قرعہ پھنکواتا ہے تو وہ نہایت خوفناک پیشین گوئی کرتے ہیں کہ تم پر فلاں ستارہ بہت سخت ہے۔ ضرور مارے جاؤ گے۔ لیکن اگر دو گز سرخ کپڑا اور سوا دو سیر اناج اور ساڑھے دو پیسے اور ہلدی کی سات گرہیں لا دو تو میں ستارے کا اثر زائل کر سکتا ہوں۔ مرزا قادیانی بھی چونکہ خاندانی رمال ہیں۔ لہٰذا بلی کی خواب میں چھیچھڑے ہی نظر آئیں گے اور وہ تخویف ہی میں اپنی روٹیاں نکالنا چاہیں گے۔ (ایڈیٹر)

٦...... خونی مہدی

اخبار الحکم میں گورنمنٹ کو مخاطب کر کے بڑے زور شور سے دوھرایا اور تہرایا جاتا ہے کہ تمام مسلمان خونی مہدی کے آنے کے منتظر ہیں۔ گویا وہ چاہتے ہیں کہ دنیا میں انقلاب ہو اور مہدی کے آنے تک دنیا کی سلطنتیں جو فتنہ اور فساد اور بدامنی پھیلا رہی ہیں اور رعایا پر ظلم کر رہی ہیں۔ خونی مہدی ان مظالم سے ان کو خلاصی دے۔

اس شررانگیز فقرے سے دو باتیں نکلیں۔ ایک یہ کہ ہر سلطنت کی مسلمان رعایا اپنی اپنی گورنمنٹ سے ناراض ہے اور اس کا قلع قمع کرنا چاہتی ہے۔ گویا بغاوت پر آمادہ اور اپنی اپنی گورنمنٹ کی بداندیش ہے۔

دوم ...... یہ کہ تمام سلطنتیں ظالم اور جابر اور خواب غفلت میں مخمور ہیں۔ مرزا قادیانی ان کی بالین پر کھڑے چلا رہے اور بدمستی سے جگا رہے ہیں کہ ہوشیار ہو جاؤ۔ مسلمان تمہارے سخت دشمن ہیں اور دنیا سے تمہارے نکالنے کے لئے خونی مہدی کا دروازہ کھٹکھٹا رہے ہیں۔ اس فقرے کے

١٥

صفحہ ٥١

پہلوؤں پر مسلمان غور فرمائیں گے تو ان کو اپنے حق میں پورا دخل نظر آئے گا۔ مرزا قادیانی نے اگر چہ اس فقرے سے مسلمانوں کے حق میں کانٹے بوئے ہیں۔ لیکن در حقیقت اپنے پاؤں پر کلہاڑی ماری ہے۔ اس کی توضیح سنئے۔ کیا خونی مہدی وہی نہیں جس کی شان میں ”یکسر الصلیب ويقتل الخنزیر“ حدیث شریف وارد ہے اور کیا اس حدیث کو آپ نے اخبار الحکم کی لوح پر اپنی مہدویت کا تمغہ نہیں بنایا۔ اگر چہ اب یہ حدیث حک کر کے لوح پر اس کی جگہ منارۃ المسیح قائم کیا گیا ہے۔ مگر نوشتۂ تقدیر مٹ نہیں سکتا وہ تو مشتہر ہو چکا۔

پردہ ہو لاکھ خنجر شمر و یزید کا ہرگز چھپے گا نہ خون تمہارے شہید کا

تو خونی مہدی خود مرزا قادیانی ٹھہرے اور اگر مرزا قادیانی وہ مہدی نہیں ہیں جو صلیب کے ٹکڑے ٹکڑے اور سوروں کو قتل کرے گا تو اپنے ہی قول سے مہدی کذاب و بطال ثابت ہوئے۔ کیونکہ حدیث میں تو اسی مہدی کے آنے کی پیشین گوئی ہے جو قاطع صلیب اور قاتل خنازیر ہوگا اور وہی سچا مہدی ہے نہ کہ وہ جو اپنے منارے پر صلیب لگائے اور سوروں (بے دینوں) کو اپنے جھونپڑے میں پناہ دے اور جھونپڑے کا نام دارالامان رکھے اور اگر آپ اپنی معمولی ہتھکنڈوں کے موافق حدیث شریف کی تاویل کریں گے اور اصل معنی مراد نہ لیں گے اور تاویل کے بعد اس حدیث کو اپنے اوپر منطبق کریں گے تو کوئی خونی مہدی نہ ہوگا جس کے آنے کے مسلمان منتظر ہیں۔ آپ کا قول پھر بھی باطل ہوگا اور ہم پھر یہی کہیں گے کہ جھوٹے کے منہ میں خاک................ اور لعنۃ اللہ علی الکاذبین!

عجیب بات ہے کہ مسلمان جس مہدی کے منتظر ہیں مرزا اس کو خونی بھی بتاتا ہے اور خود بھی وہی مہدی بنتا ہے۔ بات بات میں تناقض ہے۔ حدیث رسول اللہ سے انکار بھی ہے اور اقرار بھی۔ جدھر کی ہوا دیکھی ادھر ہی کو گڈی اڑادی اور اپنے کو پبلک میں کذب کا گڈا بنایا۔ اصلی مہدی موعود علیہ السلام کے واسطے خونی مہدی کا لقب تراشا اور جب گورنمنٹ کے خوف سے اس میں پانی مرتا دیکھا تو دم دبا کر صاف نکل گیا کہ میں وہ مہدی نہیں ہوں بلکہ قادیانی مہدی ہوں۔ (جیسا کہ سوڈانی مہدی تھا) سچ ہے دروغگو کا حافظہ جبروت الہی سلب کر لیتا ہے اور اس کو پس و پیش کی کچھ خبر نہیں رہتی۔ ہم تو جب جانیں کہ تیمور لنگ کا سالا ہمارے اعتراضات کا جواب دے۔ (ایڈیٹر) ١٦

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

تعارف مضامین ...... ضمیمہ

٨؍ فروری ١٩٠٢ء کے شمارہ نم

حواری مرزا قادیانی کا مقابلہ پر نہ آنا

اسی ترتیب سے پیش خدمت ہیں:

١...... مولوی نور احمد ساکن لکھوکھا...

سب رجسٹرار پشاور حواری مرزا

کچھ عرصہ ہوا مولوی صاحب موصوف کسی تشریف لائے تو بنام غلام حسن صاحب بعض رؤساء صاحب کا نام ہی سن کر مقابلہ پر آنے سے انکار ک صاحب کو لکھ کر دستخط کر کے حوالہ کر دیا۔ جن کے سا اس سے پہلے آپ قادیان تشریف لے گئے تھے جها کے واسطے بلایا۔ مگر دونوں صاحب گھر میں چھپ ر روز مولوی صاحب قادیان میں رہے وعظ کہا۔ چھ صاحب کے حوالہ کیا جو بطور ایک رسالہ کے طبع ہو چک ہو رہی ہے۔ ١٧

صفحہ ٥١

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

تعارف مضامین ...... ضمیمہ شحنہ ہند میرٹھ

٨؍فروری ١٩٠٢ء کے شمارہ نمبر ٦ کے مضامین

حواری مرزا قادیانی کا مقابلہ پر نہ آنا ایک محقق!

اسی ترتیب سے پیش خدمت ہیں:

١...... مولوی نور احمد ساکن لکھوکھا کے روبرو غلام حسن صاحب،

سب رجسٹرار پشاور حواری مرزا قادیانی کا مقابلہ پر نہ آنا

کچھ عرصہ ہوا مولوی صاحب موصوف کشمیر کے مرزائیوں کو شکست دے کر پشاور تشریف لائے تو بنام غلام حسن صاحب بعض رؤساء کی معرفت ایک تحریر بھیجی مگر انہوں نے مولوی صاحب کا نام ہی سن کر مقابلہ پر آنے سے انکار کیا۔ لہٰذا ایک محضر نامہ ان لوگوں نے مولوی صاحب کو لکھ کر دستخط کر کے حوالہ کر دیا۔ جن کے سامنے سب رجسٹرار صاحب نے انکار کر دیا تھا۔ اس سے پہلے آپ قادیان تشریف لے گئے تھے جہاں خود مرزا قادیانی اور حکیم نور الدین کو مقابلہ کے واسطے بلایا۔ مگر دونوں صاحب گھر میں چھپ رہے، باہر نکلنے تک کی تاب نہ لا سکے۔ لہٰذا کئی روز مولوی صاحب قادیان میں رہے وعظ کہا۔ چھ مرزائیوں نے توبہ کی اور توبہ نامہ لکھ کر مولوی صاحب کے حوالہ کیا جو بطور ایک رسالہ کے طبع ہو چکا ہے۔ اب تو جہاں دیکھو مرزائیوں کی مٹی پلید ہورہی ہے۔

راقم: ایک محقق

١٧

صفحہ ٥٣

٢...... مرزائیوں کی بے ایمانی اور دھوکے بازی

ہر ہفتہ اخبار الحکم میں کسی نہ کسی کا نام نو مریدوں میں درج کر دیا جاتا ہے اور ہر جاہل مرید کو مولوی کا خطاب مل جاتا ہے۔ چاہے وہ جاہل ہی ہو۔ تا کہ مولویوں کی تعداد بڑھ جاوے۔ گویا قادیان جاہلوں کو مولوی بنانے کی ٹکسال ہے۔ مگر جب تحقیقات کی جاتی ہے تو طرہ باز خان کا خدمت گار مسمی نتھو اور مرزا نور سخن بیگ کا سائیس میاں کلو اور فلاں کی خالا اور فلاں کی نانی وغیرہ پر زور ڈالا جاتا ہے کہ مرزائی فہرست میں نام لکھواؤ۔ ورنہ نوکری سے برخاست۔ بہت سے ایسے لوگوں کے نام ہیں جو مرزا اور اس کے مذہب سے محض ناواقف ہیں۔ اس پر بھی بس نہیں۔ پرانے پرانے گڑے دبے مردوں کے نام بھی درج کر دیئے جاتے ہیں کہ نہ وہ زندہ ہوں گے نہ مرزائیوں کی قلعی کھولیں گے۔ چنانچہ الحکم مورخہ ٣٠؍ ستمبر ١٩٠١ء میں ایک نام ’’محمد الدین امام مسجد فیروز پور پنجاب میگزین دروازہ کا معہ اہل بیت واولاد‘‘ لکھا ہے۔ حالانکہ خود محمد الدین لکھتا ہے کہ تخمینا ایک سال اس کی بی بی کو فوت ہوئے گزرے اور ٢ سال لڑکے کو مرے ہوئے گزرے۔ ہم کو ایسے واقعات سے افسوس ہوتا ہے۔ معلوم نہیں مرزائیوں کی حیا جو شعبہ ایمان ہے کہاں گئی۔ ان کے جعل اور دھوکے بازی کی کچھ انتہاء بھی ہے۔ محمد الدین مدت دراز سے مرزائی مذہب کو باطل وضلالت جانتے ہیں۔ ڈیڑھ سال سے زیادہ ہوا کہ وہ انار کلی لاہور کی مسجد میں امام اور پکے سُنی جماعت مسلمان ہیں۔ راقم: ایک محقق

٣...... سختی اور نرمی اپنے اپنے محل پر عین مصلحت وتہذیب ہے

ایک کے مقام پر دوسرے کا استعمال ناموزوں ہے۔ اس کلیہ پر تمام مذاہب اور روئے زمین کے عقلاء متفق ہیں۔ بعض صلح کل نئی روشنی کی دلدادہ یا بعض نادان صوفی جو اس کلیہ کی مخالفت کر کے مداہنت کے درجہ تک پہنچ گئی ہیں وہ قرآن مجید اور احادیث رسول اللہ ﷺ کے وہ مقامات دیکھیں جہاں سختی کا برتاؤ کیا گیا ہے۔ مثلاً: "یا ایھا النبی جاهد الکفار والمنافقین واغلظ علیهم...... الخ! ہما اشداء علی الکفار...... الخ! یا ودوا لو تدهن فیدھنون وغیرھم" آخر ان احکام کی تعمیل کا بھی تو کوئی محل ہوگا یا یہ احکام فضول ہیں؟۔ معاذ اللہ! جو حضرات سخت کلامی کو ہر جگہ ناجائز جانتے ہیں مہربانی کر کے پیغمبر خدا ﷺ کے اس قول کو بغور پڑھیں ۔"تعزی بعزاء الجاھلیة فاعنو بھن ابیہ ولا تکنوا" اور حضرت ابوبکر صدیقؓ کے اس قول کو ملاحظہ کریں جو عروہ بن مسعود ثقفی سفیر مشرکین مکہ کو روبرو رسول اللہ ﷺ کے کہا تھا۔ ’’امصص بظر اللات‘‘ جو صاحب قائل ہیں کہ ہجو کرنا کسی جگہ بھی جائز نہیں وہ آنحضرت ﷺ

١٨

کے اس قول کو دیکھیں جو آپ نے حسان بن ثابتؓ کو فرمایا اب ہم دیکھتے ہیں کہ مرزا غلام احمد قادیانی کی کارروائیا پیغمبری کیا تمام پیغمبروں کی توہین کی۔ خصوصاً عیسیٰ علیہ ا علماء ومشائخ صحابہ وائمہ دین۔ الغرض اس کے زبان و ق بزرگان دین کی نسبت استعمال نہ کی ہو۔ منشی الٰہی بخش ’’عصاء موسیٰ‘‘ لکھوائی۔ اب ان کو مغلظات گالیاں سنا ڈراتا ہے۔ یہ گالیاں اس واسطے دیتا ہے کہ کوئی اس کی تر مہار ہو کر جو چاہے سو کرے۔ یہی وجہ ہے کہ اس کے جو اپنی عزت و آبرو کو اس سے بچاتا ہے۔ پس ایسے مجسم شر بھی کسی قسم کی سختی نہ کی جاوے اور زجر وتوبیخ خلاف تہذی کون سا محل ہے۔

مرزائی جب کہ کسی مسلمان کو مخاطب کرتے سيئة بمثلھا ‘‘ بطور تادیب کچھ ایسے الفاظ لکھے کہ آئن اس فتنہ کے انسداد کے شکریہ میں ایسے شخص کی مدح کی مہذب ثابت کریں؟ افسوس ہے کہ ہمارے بڑھے سکتے۔ ایک گال پر طمانچہ کھا کر دوسرے کو پھیر دینے کی صوفیوں کو ’’خیر الامور اوسطھا‘‘ پر نظر چاہ بدلگام بننا۔ کون کہتا ہے کہ آپ زبر دستی سختی کریں۔ مگر اس پر کیوں خفا ہوں؟ آپ چاہتے ہیں کہ ضمیر خفتہ بند رہتا ہے زائل ہو جاوے اور مرزا قادیانی پھر پہلی سی شد لیں کہ ضمیمہ کی بدولت کس قدر راہ پر آ چلا ہے۔

حمیت اسلامی وغیرت ایمانی صحابہؓ میں تم رسول اللہ ﷺ کے فیصلہ کے بعد حضرتؓ سے فیصلہ بات پر عروہ بن مسعود ثقفی کو سخت فحش گالی دی۔ ایک صحابہؓ سب کی توہین ومذمت سنتے ہیں۔ مگر بجز مرزا قا نکال سکتے۔ بلکہ کوئی غیرت اسلامی سے کچھ لکھے تو دوں

١٩

صفحہ ٥٣

کے اس قول کو دیکھیں جو آپ نے حسان بن ثابتؓ کو فرمایا: ”اہجہم وروح القدس معک“ اب ہم دیکھتے ہیں کہ مرزا غلام احمد قادیانی کی کارروائیاں سختی کا محل ہیں یا نہیں۔ اس نے دعویٰ پیغمبری کیا تمام پیغمبروں کی توہین کی۔ خصوصاً عیسیٰ علیہ السلام کی نسبت کوئی فحش کلمہ اٹھا نہیں رکھا۔ علماء و مشائخ صحابہ و ائمہ دین۔ الغرض اس کے زبان و قلم سے کوئی فحش گالی نہیں بچی جو اس نے بزرگان دین کی نسبت استعمال نہ کی ہو۔ منشی الہی بخش صاحب کو خود ہی تو قسمیں دے کر کتاب ”عصاء موسیٰ“ لکھوائی۔ اب ان کو مغلظات گالیاں سناتا ہے۔ عبدالعزیز بٹالوی کو بھی گالیوں سے ڈراتا ہے۔ یہ گالیاں اس واسطے دیتا ہے کہ کوئی اس کی تردید گالیوں سے ڈر کر نہ کرے اور یہ شتر بے مہار ہو کر جو چاہے سو کرے۔ یہی وجہ ہے کہ اس کے جواب میں اپنا نام ظاہر نہیں کیا جاتا۔ ہر شخص اپنی عزت و آبرو کو اس سے بچاتا ہے۔ پس ایسے مجسم شیطان مدعی نبوت...... انبیاء و اولیاء کی نسبت بھی کسی قسم کی سختی نہ کی جاوے اور زجر و توبیخ خلاف تہذیب متصور ہو تو پھر ہم کو بتلایا جاوے کہ سختی کا کون سا محل ہے۔

مرزائی جب کہ کسی مسلمان کو مخاطب کر کے گالیاں دے اور وہ حسب آیہ ”جزاء سیئة سیئة بمثلها“ بطور تادیب کچھ ایسے الفاظ لکھے کہ آئندہ شوخی و شرارت مرزائیوں کی جاتی رہے تو اس فتنہ کے انسداد کے شکریہ میں ایسے شخص کی مدح کریں یا الٹا اس پر ناراض ہو کر اپنے کو بناوٹی مہذب ثابت کریں؟ افسوس ہے کہ ہمارے بڑھے ہوئے صوفی اتنی سختی بھی سننا گوارا نہیں کر سکتے۔ ایک گال پر طمانچہ کھا کر دوسرے کو پھیر دینے کی تعلیم سے دنیا میں امن نہیں رہ سکتا۔ ہمارے صوفیوں کو ”خیر الامور اوسطها“ پر نظر چاہئے۔ نہ کہ مداہنت اختیار کرنا اور نہ بد زبان اور بدلگام بننا۔ کون کہتا ہے کہ آپ زبردستی سختی کریں۔ مگر جو جائز طور پر سختی کے ساتھ مرزا سے بدلا لے اس پر کیوں خفا ہوں؟ آپ چاہتے ہیں کہ ضمیمہ شحنہ ہند کا خوف جو مرزا قادیانی کے دل میں ہر وقت رہتا ہے زائل ہو جاوے اور مرزا قادیانی پھر پہلی سی شوخیاں کرنے لگے۔ آپ الحکم کے طرز کو دیکھ لیں کہ ضمیمہ کی بدولت کس قدر راہ پر آچلا ہے۔

حمیت اسلامی و غیرت ایمانی صحابہ میں تھی۔ حضرت عمرؓ جنہوں نے ایک شخص کو صرف رسول اللہ ﷺ کے فیصلہ کے بعد حضرت سے فیصلہ چاہا تھا تہ تیغ کر دیا اور خلیفہ اوّل نے ذرہ سی بات پر عروہ بن مسعود ثقفی کو سخت فحش گالی دی۔ ایک ہم ہیں کہ انبیاء، اولیاء، مشائخ، ائمہ دین، صحابہ سب کی توہین و مذمت سنتے ہیں۔ مگر بجز مرزا قادیانی، حضور، آپ جناب کے زبان سے نہیں نکال سکتے۔ بلکہ کوئی غیرت اسلامی سے کچھ لکھے تو وہ بھی نہیں سن سکتے ۔ ”ببین تفاوت رہ از کجاست

١٩

صفحہ ٥٥

تابہ کجا۔” حضرت عمرؓ کی خلافت میں مرزا قادیانی ایسے دعوے کرتے اور ایسا کفر بکتے تو کیا حضرت عمرؓ اسی طرح پہلو بہ پہلو بیٹھ کر تحریری مناظرہ کرتے یا اور طرح خبر لیتے۔ ہم میں سے اگر کسی کو ماں باپ، پیر استاد کی کوئی گالی دے تو اسی طرح تہذیب سے پیش آئیں گے یا مارنے مرنے عدالت و پولیس میں جانے کو تیار ہوں گے۔ کیا غیرت اسلامی پر غیرت خاندانی کو ترجیح دینا تقویٰ و زہد ہوسکتا ہے۔ ضمیمہ شحنہ ہند میں کوئی سخت لفظ ہو تو اس کا سننا گوارا نہیں ہو سکتا۔ کیا یہ تقویٰ کی وجہ سے ہے۔ ہر گز نہیں۔ بازاروں میں اکثر فحش و گالی گلوچ بھی ہوتا ہے۔ ہم میں سے کون سا زاہد بازار جانا چھوڑ دیتا ہے یا کانوں میں انگلیاں دے دیتا ہے۔ ضمیمہ ایک مجموعہ ہے۔ مختلف آدمیوں کے خیالات کا ایک ہی شخص کے خیال کے مطابق ہونا غیر ممکن ہے۔ ایسا تحکم بیجا و ناروا ہے۔ ہاں خلاف شرع کوئی بات ضمیمہ میں نہ ہونی چاہئے۔ راقم : ج، ن

٤...... توجہ طلب گورنمنٹ اور قادیان کے مرزا صاحب

مفصلہ ذیل فقرات جن کو ایک لائق راقم مضمون نے بہ عنوان ”توجہ طلب گورنمنٹ اور قادیان کے مرزا صاحب“ مرزا قادیانی کے اشتہار ”المنار“ کا لب لباب بحوالہ الحکم مورخہ ٣٠؍ نومبر ١٩٠١ء پیسہ اخبار مورخہ ٢٨؍ دسمبر ١٩٠١ء ص ١١ کالم سوئم میں درج فرمائے ہیں۔

اصل اشتہار المنار تو ہماری نظر سے گزرا نہیں۔ مگر اس کا لب لباب جس کو لائق مضمون نویس پیسہ اخبار لاہور نے لکھا ہے یہ ہے۔ ”آج کل پھر مرزا قادیانی نے ایک تازہ مفسدانہ اور فتنہ انگیز اشتہار شائع کیا اور اپنے اخبار الحکم مطبوعہ ٣٠ نومبر ١٩٠١ء (مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٤٤٥) میں بھی یہ سرخی ”المنار“ چھپوایا ہے جس کا لب لباب یہ ہے کہ میں اور میری جماعت گورنمنٹ کی خیر خواہ اور وفادار رعایا ہے۔ باقی کل ملک یا کم از کم کل مسلمان گورنمنٹ کے بدخواہ اور باغی رعایا ہیں۔ میری اور مسلمانوں کی مخالفت کی اصل بناء جہاد ہے۔ میری تعلیم جہاد کے خلاف ہے۔ اس لئے سرگروہانِ اسلام نے ناراض ہو کر میرے کفر اور قتل کے فتوے دیئے۔ میری جدید تصنیف اعجاز المسیح میں بھی جہاد کی مخالفت تھی۔ اسی وجہ سے کل اخبارات نے اس کی مخالفت کی۔ حالانکہ غیر ممالک کے لوگوں نے میری بات تسلیم کی اور جہاد سے باز آگئے۔ الغرض مخالفت جہاد کی وجہ سے مسلمان میرے برخلاف ہیں۔ ورنہ سینکڑوں دوسرے فرق موجود ہیں۔ انہیں کوئی کچھ نہیں کہتا۔ بار ہا بے اختیار دل میں یہ گزرتا ہے کہ جس گورنمنٹ کی اطاعت اور خدمت گزاری کی نیت سے ہم نے کئی کتابیں جہاد اور گورنمنٹ کی اطاعت میں شائع کیں اور کافر وغیرہ اپنے نام رکھوائے۔ اس گورنمنٹ کو اب تک معلوم نہیں کہ ہم دن رات کیا خدمت کر رہے ہیں۔ وغیرہ!“

٢٠

اس کاذب سے کوئی پوچھے کہ تمہارے کذب ا بھی یہ کاذب مغالطہ دینے سے نہیں ٹلتا۔ معلوم نہیں اس ب بڑی دانا اور مدبر ہے۔ کیا وہ مرزا کا یہ کلام نہیں سمجھتی کہ ”ہم رات کیا خدمت کر رہے ہیں ۔“ عادل گورنمنٹ اپنی رعایا معلوم ہے کہ کون کس مطلب کے لئے نرالی چال چل رہا ہے۔ اس کاذب نے مسلمانوں پر بڑا بھاری افتراء باندھ مرزا قادیانی نے پوشیدہ رکھا ہے۔ نہ کہ جہاد۔ مگر ہم بھی مر ہیں۔ کچا چٹھا کھولے بغیر نہیں رہ سکتے ۔ اگر چہ گورنمنٹ م فہمی کا اندیشہ ہے۔ لہٰذا اس کا رفع کرنا اور گورنمنٹ کو توجہ دل

مرزا قادیانی نے کفر کے فتووں کو جو علماء اس جہاد کی مخالفت قرار دیا ہے۔ لیکن کیا وہ اپنے دعویٰ کو کفر بخوبی جانتا ہے کہ بناء مخالفت کی وجوہ کچھ اور ہیں جن دیا ہے۔ منجملہ ان کے ایک وجہ توہین انبیاء ہے۔ مرزا ق اور نبیوں کی شان میں سخت گستاخی اور بے ادبی کی ہے او جس سے گورنمنٹ کی وفادار رعایا اہل اسلام کو سخت بے ہم حضرت مسیح علیہ السلام کا ذکر کرتے ہیں۔ جن کو اہل اور قرآن شریف میں خود خداوند تعالیٰ حضرت مسیح علیہ ا علاوہ اور توصیف اور تعریف کے بار بار صدیقہ فرماتا ہ اور بچہ بچہ کو خبر ہے کہ یہ کیسے اولوالعزم رسول اور خدا کے ہی کروڑ ہا عیسائی آپ کو عزت کی نگاہوں سے دیکھتے مانتے ہیں اور عیسائیوں کو جو محبت حضرت عیسیٰ علیہ الس خاص کر ہماری گورنمنٹ عالیہ جس کے زیر سایہ ہم مرزا قادیانی بھی اس امر سے خوب واقف ہے اور گورنمنٹ ہے اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو اپنا پیشوا ما ان کو خدا کا پاک رسول سمجھتے اور مانتے ہیں اور عیسائی و راست بازی، معصومیت، پاک دامنی میں عیسائی اور م

٢١

صفحہ ٥٥

اس کاذب سے کوئی پوچھے کہ تمہارے کذب کی کوئی حد بھی ہے اور تو اور گورنمنٹ عالیہ کو بھی یہ کاذب مغالطہ دینے سے نہیں چوکتا۔ معلوم نہیں اس نے گورنمنٹ کو کیا سمجھ رکھا ہے۔ گورنمنٹ بڑی دانا اور مدبر ہے۔ کیا وہ مرزا کا یہ کلام نہیں سمجھتی کہ ”اس گورنمنٹ کو اب تک معلوم نہیں کہ ہم دن رات کیا خدمت کر رہے ہیں“ عادل گورنمنٹ اپنی رعایا کے حال سے بخوبی واقف ہے اور اس کو معلوم ہے کہ کون کس مطلب کے لئے نرالی چال چل رہا ہے اور خود غرضی اور طمع نفسی کا جال بچھا رہا ہے۔ اس کاذب نے مسلمانوں پر بڑا بھاری افتراء باندھا ہے۔ مخالفت کی اور ہی بناء ہے۔ جس کو مرزا قادیانی نے پوشیدہ رکھا ہے۔ نہ کہ جہاد۔ مگر ہم بھی مرزا قادیانی کے کوٹھی کٹھلے سے خوب واقف ہیں۔ کچا چٹھا کھولے بغیر نہیں رہ سکتے۔ اگرچہ گورنمنٹ سب کچھ جانتی ہے۔ مگر چونکہ پبلک کی غلط فہمی کا اندیشہ ہے۔ لہٰذا اس کا رفع کرنا اور گورنمنٹ کو توجہ دلانا ضرور ہے۔

مرزا قادیانی نے کفر کے فتووں کو جو علماء اسلام عرب و عجم نے اس پر لگائے ہیں تعلیم جہاد کی مخالفت قرار دیا ہے۔ لیکن کیا وہ اپنے دعویٰ کو کفر کے فتوؤں میں دکھا سکتا ہے ہرگز نہیں۔ مرزا بخوبی جانتا ہے کہ بناء مخالفت کی وجوہ کچھ اور ہیں جن کے باعث مرزا قادیانی کو کافر اور مرتد قرار دیا ہے۔ منجملہ ان کے ایک وجہ توہین انبیاء ہے۔ مرزا قادیانی نے بڑے بڑے اولوالعزم رسولوں اور نبیوں کی شان میں سخت گستاخی اور بے ادبی کی ہے اور بڑی حقارت آمیز تحریریں شائع کی ہیں۔ جس سے گورنمنٹ کی وفادار رعایا اہل اسلام کو سخت سے سخت رنج اور عظیم صدمہ پہنچا ہے۔ سردست ہم حضرت مسیح علیہ السلام کا ذکر کرتے ہیں۔ جن کو اہل اسلام خدا کا پاک رسول اور نبی مانتے ہیں اور قرآن شریف میں خود خداوند تعالیٰ حضرت مسیح علیہ السلام کی تعریف اور آپ کی والدہ ماجدہ کو علاوہ اور توصیف اور تعریف کے بار بار صدیقہ فرماتا ہے۔ الغرض ہر مسلمان کو ان کا مرتبہ معلوم ہے اور بچہ بچہ کو خبر ہے کہ یہ کیسے اولوالعزم رسول اور خدا کے پیارے نبی اور مقربین میں سے ہیں اور ایسا ہی کروڑہا عیسائی آپ کو عزت کی نگاہوں سے دیکھتے ہیں اور آپ کی توقیر کرتے ہیں اور اپنا پیشوا مانتے ہیں اور عیسائیوں کو جو محبت حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے ہے وہ بھی اظہر من الشمس ہے۔ خاص کر ہماری گورنمنٹ عالیہ جس کے زیر سایہ ہم ہر طرح آرام سے بسر کرتے ہیں اور خود مرزا قادیانی بھی اس امر سے خوب واقف ہے اور ظاہر ہے کہ ہماری گورنمنٹ ایک عیسائی گورنمنٹ ہے اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو اپنا پیشوا مانتی ہے۔ صرف اتنا تفاوت ہے کہ اہل اسلام ان کو خدا کا پاک رسول سمجھتے اور مانتے ہیں اور عیسائی ان کو خدا کا بیٹا مگر عیسیٰ علیہ السلام کی نکوکاری، راست بازی، معصومیت، پاک دامنی میں عیسائی اور مسلمان بدل و جان متفق ہیں۔ مگر اسی مسیح علیہ

٢١

صفحہ ٥٧

السلام اور خدا کے پیارے رسول کی نسبت یہ مرزا قادیانی جس کو گورنمنٹ کی خیر خواہی پر بڑا فخر ہے اور ہمیشہ اس کی خیر خواہی میں دم مارتا ہے۔ (ضمیمہ انجام آتھم حاشیہ ص ٦،٥، خزائن ج ١١ ص ٢٨٩،٢٩٠) پر اس طرح لکھتا ہے: ”یہ بھی یاد رہے کہ آپ کو (یعنی حضرت مسیح کو) کس قدر جھوٹ بولنے کی بھی عادت تھی۔ جن جن پیشین گوئیوں کا اس نے اپنی ذات کی نسبت توریت میں پایا جانا بیان فرمایا ہے ان کتابوں میں ان کا نام ونشان نہیں پایا جاتا۔ بلکہ وہ اوروں کے حق میں تھیں جو آپ کی تولد سے پہلے پوری ہو گئیں اور نہایت شرم کی بات ہے کہ آپ نے پہاڑی تعلیم کو جو انجیل کا مغز کہلاتی ہے یہودیوں کی کتاب طالمود سے چرا کر لکھا اور پھر ظاہر کیا کہ گویا یہ میری تعلیم ہے۔ لیکن جب سے یہ چوری پکڑی گئی عیسائی بہت شرمندہ ہیں۔ آپ نے یہ حرکت شاید اس لئے کی ہوگی کہ کسی عمدہ تعلیم کا نمونہ دکھلا کر رسوخ حاصل کریں۔ لیکن آپ کی اس بیجا حرکت سے عیسائیوں کی سخت روسیاہی ہوئی اور پھر افسوس یہ ہے کہ وہ تعلیم بھی کچھ عمدہ تعلیم نہیں عقل اور کانشنس دونوں اس تعلیم کے منہ پر طمانچے مار رہے ہیں۔ آپ کا ایک یہودی استاد تھا جس سے آپ نے توریت کو سبقاً سبقاً پڑھا تھا۔ معلوم ہوتا ہے یا تو قدرت نے آپ کو زیرکی کا کچھ بہت حصہ نہیں دیا، یا اس استاد کی یہ شرارت ہے کہ اس نے آپ کو محض سادہ لوح رکھا۔ بہر حال آپ علمی اور عملی قویٰ میں بہت کچے تھے۔ اسی وجہ سے آپ ایک مرتبہ شیطان کے پیچھے پیچھے چلے گئے۔“

١؎ مرزا قادیانی کا یہ کلمہ کیا قرآن پاک کی تکذیب نہیں کرتا۔ کیونکہ قرآن شریف میں تو آچکا ہے کہ وہ سچے نبی تھے۔ کیا مرزا قادیانی کا یہ کہنا کہ انہیں جھوٹ بولنے کی عادت تھی، اہل اسلام اور عیسائیوں کا سخت دلشکن اور قابل توجہ گورنمنٹ نہیں؟

٢؎ قرآن شریف میں تو خداوند تعالیٰ یہ فرماتا ہے کہ انجیل میرا کلام ہے جو حضرت مسیح علیہ السلام کو عنایت کیا تھا اور مرزا قادیانی کہتا ہے کہ مسیح نے یہودیوں کی کتاب طالمود سے چرا کر لکھا ہے۔ یہ ہے قرآن پر مرزا قادیانی کا اعتقاد۔ پھر اس کاذب کی یہ زیادتی کہ مسیح نے چرا کر اس لئے لکھا کہ پبلک میں میرا رسوخ بڑھے۔ صاف اس امر پر دلالت کرتی ہے کہ وہ خدا کے رسول نہ تھے۔ اب مرزا قادیانی کی خرافات کو مانیں یا خدا کے پاک کلام قرآن شریف کی تعلیم کو؟ مرزا شاید یہ سمجھا ہے کہ میں جس طرح ادھر ادھر سے اوروں کی کتابوں سے سرقہ کر کے لکھتا ہوں ویسا ہی مسیح نے بھی کیا ہوگا۔ پھر مرزا قادیانی پرانی بدشگونی پر اپنی ناک کاٹتا ہے۔ کیا معنے کہ جب اصل مسیح معاذ اللہ! جھوٹا ہے تو مثیل المسیح بدرجہ اولیٰ جھوٹا ہوگا۔ کیونکہ یہ ہو نہیں سکتا کہ اصل تو جھوٹی ہو اور اس کی نقل سچی ہو۔

٢٢

پناہ بخدا معاذ اللہ ! خدا کے پاک رسول اور ش مرزا قادیانی کی ایسی تحریریں اسلام کے خلاف نہیں۔ کیا پس ایسی ملحدانہ تحاریر کے باعث علماء اسلام نے مرزا قاد مخالفت ہے۔ پھر گورنمنٹ کو یہ مغالطہ دینا کہ میری اور الم کا سفید جھوٹ ہے۔ حضرت مسیح کی نسبت مذکورہ بالا حقار کمال خیرہ چشمی اور بیباکی سے دوسری جگہ اسی کتاب (ضم پر اس سے بھی بڑھ کر یوں ابراز کیا ہے: ”آپ کو (حضر الہام بھی ہوا تھا۔ چنانچہ ایک مرتبہ آپ اسی الہام سے ذ تھے۔ آپ کی انہیں حرکات سے آپ کے حقیقی بھائی سخ آپ کے دماغ میں ضرور کچھ خلل ہے اور وہ ہمیشہ چاہ علاج ہو۔ شاید خدا تعالیٰ شفا بخشے۔“

اس پیراگراف میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے ملاحظہ فرمالیا ہے۔ گویا ان پر شیطانی الہام بھی ہوت توبہ ہزار بار توبہ نقل کفر کفر نباشد! آپ پاگل بھی تھے اور ب نہ قرآن میں خبر نہ کسی حدیث رسول کریم میں ذکر ”لعم مرزا قادیانی اپنے کو مسلمان بتاتا ہے۔ یہ ہے مخالفت کی ا مسیح کے) ہاتھ میں سوا مکر اور فریب کے کچھ نہیں تھا۔ دیکھ

کیا مرزا قادیانی کی ایسی کافرانہ تحاریر دیکھ شریف پر ہے۔ بس یہی اس کی تکفیر کے باعث ہیں؛ سے جہاد کو بنام مخالفت قرار دینا کون عقلمند تسلیم کرے؟ خزائن ج ١١ ص ٢٩١) پیرا گراف دوم: ”آپ کی تین دادیا کے خون سے آپ کا وجود ظہور پذیر ہوا۔ آپ کا کنجریوں ہو کر جدی مناسبت درمیان ہے۔“

(ضمیمہ انجام آتھم حاشیہ ص ٩، خزائن ج ١١ ص ٢٩ ”پس ہم ایسے ناپاک خیال اور متکبر اور راست بازوں دے سکتے۔ چہ جائیکہ اس کو نبی قرار دیں۔“ (مرزا قاد

٢٣

صفحہ ٥٧

پناہ بخدا معاذ اللہ! خدا کے پاک رسول اور شیطان کی پیروی۔ افسوس ہزار افسوس! کیا مرزا قادیانی کی ایسی تحریریں اسلام کے خلاف نہیں۔ کیا یہ صریح قرآن شریف کی تکذیب نہیں۔ پس ایسی ملحدانہ تحاریر کے باعث علماء اسلام نے مرزا قادیانی کو کافر قرار دیا ہے اور یہی اصل بناء مخالفت ہے۔ پھر گورنمنٹ کو یہ مغالطہ دینا کہ میری اور اہل اسلام کی مخالفت کی بناء جہاد ہے۔ مرزا کا سفید جھوٹ ہے۔ حضرت مسیح کی نسبت مذکورہ بالا حقارت آمیز کلمات ہی پر اکتفاء نہیں کیا۔ بلکہ کمال خیرہ چشمی اور بیباکی سے دوسری جگہ اسی کتاب (ضمیمہ انجام آتھم حاشیہ ص ٦، خزائن ج ١١ ص ٢٩٠) پر اس سے بھی بڑھ کر یوں ابراز کیا ہے: ”آپ کو (حضرت مسیح کو) اپنی زندگی میں تین مرتبہ شیطانی الہام بھی ہوا تھا۔ چنانچہ ایک مرتبہ آپ اسی الہام سے خدا سے منکر ہونے کے لئے بھی تیار ہو گئے تھے۔ آپ کی انہیں حرکات سے آپ کے حقیقی بھائی سخت ناراض رہتے تھے۔ ان کو یقین تھا کہ آپ کے دماغ میں ضرور کچھ خلل ہے اور وہ ہمیشہ چاہتے رہے کہ کسی شفاخانہ میں آپ کا باقاعدہ علاج ہو۔ شاید خدا تعالیٰ شفا بخشے۔“

اس پیراگراف میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی نسبت جو لکھا ہے وہ پبلک اور گورنمنٹ نے ملاحظہ فرمالیا ہے۔ گویا ان پر شیطانی الہام بھی ہوئے کہ وہ خدا سے منکر ہونے کو تیار ہو گئے اور توبہ ہزار بار توبہ نقل کفر کفر نباشد! آپ پاگل بھی تھے اور پھر حضرت مسیح کے حقیقی بھائی بھی تھے جس کی نہ قرآن میں خبر نہ کسی حدیث رسول کریم میں ذکر ”لعنت الله على الكاذبين“ پھر بھی مرزا قادیانی اپنے کو مسلمان بتاتا ہے۔ یہ ہے مخالفت کی وجہ نہ کہ ......... اور لیجئے۔ آپ کے (عیسیٰ مسیح کے) ہاتھ میں سوا مکر اور فریب کے کچھ نہیں تھا۔ دیکھو (ضمیمہ انجام آتھم حاشیہ ص ٧، خزائن ج ١١ ص ٢٩١)

کیا مرزا قادیانی کی ایسی کافرانہ تحاریر دیکھ کر کوئی کہہ سکتا ہے کہ اس کا اعتقاد قرآن شریف پر ہے۔ بس یہی اس کی تکفیر کے باعث ہیں۔ اصل بناء مخالفت کو پوشیدہ کرنے کی غرض سے جہاد کو بناء مخالفت قرار دینا کون عقلمند تسلیم کرے گا اور لیجئے دیکھو (ضمیمہ انجام آتھم حاشیہ ص ٧، خزائن ج ١١ ص ٢٩١) پیراگراف دوم: ”آپ کی تین دادیاں اور نانیاں زنا کار اور کسبی عورتیں تھیں جن کے خون سے آپ کا وجود ظہور پذیر ہوا۔ آپ کا کنجریوں سے میلان اور صحبت بھی شاید اسی وجہ سے ہو کہ جدی مناسبت درمیان ہے۔“

(ضمیمہ انجام آتھم حاشیہ ص ٩، خزائن ج ١١ ص ٢٩٣) پر پھر حضرت مسیح کی نسبت لکھتا ہے: ”پس ہم ایسے ناپاک خیال اور متکبر اور راست بازوں کے دشمن کو ایک بھلا مانس آدمی بھی قرار نہیں دے سکتے۔ چہ جائیکہ اس کو نبی قرار دیں۔“ (مرزا قادیانی کی اس عبارت کا مفہوم ایسے اولوالعزم

٢٣

صفحہ ٥٩

رسول اور نبی کی نسبت قابل توجہ گورنمنٹ ہے) مرزا قادیانی کی ایسی تحریریں ہر دو مذہب کے پیشواؤں کی دلشکن ہیں اور ان سے گورنمنٹ کو بھی سخت رنج پہنچے گا۔ مذہب اسلام اپنی محسن گورنمنٹ کے ساتھ جہاد کرنے کا ہرگز حکم نہیں دیتا۔ بلکہ وہ تو عیسیٰ اور مسیحی گورنمنٹ کی اطاعت بھی لازم بتاتا ہے۔ کیا روئے زمین کے ٤٠ کروڑ مسلمانوں میں سے مرزا ہی نے اسلامی عقائد کو سمجھا ہے۔ کیا گورنمنٹ نادان ہے کہ مرزا قادیانی کی مجنونہ بات کو نہیں سمجھ سکتی۔ کیا ایسی تحریروں سے گورنمنٹ کی کروڑوں رعایا کو صدمہ پہنچانا گورنمنٹ کی خیر خواہی میں داخل ہے۔ کیا مرزا قادیانی کا ایک عیسائی کو مخاطب کر کے عیسیٰ مسیح کو چور، پاگل، کم عقل، شیطان کا پیرو کہنا اور اس کی دادیوں اور نانیوں کو کسبی عورتیں کہنا اور پھر ان کے وجود سے مسیح کا ظہور پذیر ہونا بیان کرنا اور پھر متکبر اور راست بازوں کا دشمن کہنا خدا کی اطاعت اور گورنمنٹ کی خوشنودی میں داخل ہے؟۔ پھر حضرت مسیح کے علاوہ بہت سے ولیوں، نبیوں اور رسولوں کی بھی توہین کی ہے اور بہت جگہ قرآن شریف کی آیات کو اپنے حق میں تغیر و تبدل کر کے لکھا ہے اور انہیں دنوں ایک اشتہار بہ عنوان ”ایک غلطی کا ازالہ“ شائع کیا ہے جس میں دعویٰ کیا ہے کہ میں ہی محمد اور احمد بن کر دنیا میں پیدا ہوا ہوں ۔“

اور ازالہ میں قرآن شریف کی تکذیب کر کے قادیان کو ہی مکہ قرار دیا ہے اور اس میں قرآن شریف کا نزول لکھ دیا ہے۔ غرضیکہ اس کذاب نے پیشوایان دین کی سخت توہین کی ہے۔ جس کا ایک شمہ حضرت مسیح کی نسبت معرض تحریر میں آیا۔ ادھر کتابوں میں یہ درافشانی کہ خاص ایک عیسائی کو مخاطب کر کے حضرت مسیح کو بے نقط گالیاں دینا سب عیسائیوں کے دل کو صدمہ پہنچانا ادھر گورنمنٹ کی رعایا کی دل شکنی کر کے اس کی خیر خواہی کا دم بھرنا۔

چہ دلاور است دزدے کہ بکف چراغ دارد

پس مرزا قادیانی کو حضرت مسیح علیہ السلام کی نسبت ایسا لکھنے سے جیسا کہ اوپر بیان ہوا علماء عرب وعجم نے کافر اور مرتد قرار دیا ہے اور یہی بناء مخالفت ہے نہ کہ جہاد۔ اب ہم گورنمنٹ اور پبلک کی خدمت میں امور ذیل پیش کرتے ہیں۔

کروڑ ہا سوداگر پیشہ کی مرزا قادیانی کی ایسی تحریر سے جو حضرت مسیح کی نسبت لکھی ہے۔ جیسا کہ اوپر بیان ہوا سخت دل شکنی ہوئی ہے۔

بہ باعث عیسائی ہونے کے شامل ہے۔ سخت صدمہ پہنچا ہے۔ ٢٤

عیسائی دنیا اور اسلامی دنیا کے عقائد کے موافق ہے۔

وہ اسلامی اصول کے مطابق مسلمان کہلانے کا مستحق ہ خاکسار امام الدین از لاه

......٥ نرالی عزت ا

ياايها الذين آمنوا لم تقولون مالا تفعلون الخ

قادیانی مسلمانوں کے ہزاروں روپے براہین احمدیہ ک

کے نزدیک اس کی حماقت اور دوسرے کی مکاری اور د کے بہانہ لوگوں سے پانچ سو روپیہ ڈکار جاویں تو ان ک پورا بیٹا کیا معنی تنکے جیسی بیٹی بھی نہ ہو۔

وازین سودر مانده، اور اگر مرزا قادیانی شرک فی العما اللہ کی آواز اپنے لئے سنیں تو ان کی عزت؟

لعنتیں لکھیں اور علماء اسلام کو مغلظ گالیاں لکھیں جن ک تمغہ اور اگر کوئی مسلمان جس کا ایسی خرافات سنتے سنتے سے جواب دینا چاہے تو مرزا قادیانی کے نزدیک اس

تشریف لائے۔ جہاں چھ ہزار مسلمانوں نے ان کا میدان میں بلانے کے لئے بھیجے وغیرہ تو مرزا قادیان جو مارے خوف کے دم سے چھاج باندھ کر چوہے ٢٥

صفحہ ٥٩

عیسائی دنیا اور اسلامی دنیا کے عقائد کے موافق ہے۔

وہ اسلامی اصول کے مطابق مسلمان کہلانے کا مستحق ہے۔

خاکسار امام الدین از لاہور محلہ پیر گیلانیاں، مورخہ ٣٠؍ جنوری ١٩٠٢ء

......٥ نرالی عزت اور انوکھی ذلت

یا ایہا الذین آمنوا لم تقولون ما لا تفعلون کبر مقتاً عند اللہ ان تقولوا ما لا تفعلون

قادیانی مسلمانوں کے ہزاروں روپے براہین احمدیہ کی آڑ میں ہڑپ کر جائے تو اس کی عزت؟

کے نزدیک اس کی حماقت اور دوسرے کی مکاری اور دونوں کی ذلت اور اگر مرزا قادیانی دعا کرنے کے بہانے لوگوں سے پانچ سو روپیہ ڈکار جاویں تو ان کے لئے ہنیئاً مریا اور لطف یہ کہ سال کا سا پورا بیٹا کیا معنے تنکے جیسی بیٹی بھی نہ ہو۔

وازین سو درماندہ، اور اگر مرزا قادیانی شرک فی النبوۃ کے مرتکب ہوں اور برملا یا رسول اللہ یا نبی اللہ کی آواز اپنے لئے سنیں تو ان کی عزت؟

لعنتیں گنیں اور علماء اسلام کو مغلظ گالیاں لکھیں جن کی ڈکشنریاں بن رہی ہیں تو یہ تبلیغ رسالت کا تمغہ اور اگر کوئی مسلمان جس کا ایسی خرافات سنتے سنتے جگر کباب ہو گیا ہو مرزا قادیانی کو سخت الفاظ سے جواب دینا چاہے تو مرزا قادیانی کے نزدیک اس کی ذلت؟

تشریف لائے۔ جہاں چھ ہزار مسلمانوں نے ان کا استقبال کیا اور قادیانی کو رجسٹری شدہ خطوط میدان میں بلانے کے لئے بھیجے وغیرہ تو مرزا قادیانی کے نزدیک ان کی شکست، اور مرزا قادیانی جو مارے خوف کے دم سے چھاج باندھ کر چوہے کے بل میں گھس جائیں اور قادیان سے باہر

٢٥

صفحہ ٦١

ایک قدم نہ نکالیں تو ان کی فتح ؟

داخل۔ مگر مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی کا جو سرکار دولت مدار انگلشیہ نے چار مربع زمین کے عطاء فرمائے تو یہ بزعم مرزا ان کی ذلت؟

کے فتاوے لگائے تو مرزا قادیانی کی عزت اور مرزا قادیانی نے جو بذریعہ اپنے مرید اسماعیل ڈاکٹر کے محض مکر وفریب سے جعلی استفتاء لکھا اور اس کو جعلی سائل بنایا تا کہ علماء سے کفر کے فتاووں پر دستخط کرائے تو اس میں مولوی محمد حسین بٹالوی کی ذلت؟

چاہے تو وہ دوزخ کا ایندھن اور سانپوں اور بچھوؤں کے کاٹنے کا نشانہ ۔ لیکن اگر مرزا قادیانی نے ایک کنواری کے چھیننے کے لئے ایسا کیا تو ان کی عزت کا نشان؟

اگر اپنے خاوند کے پاس آباد رہ کر صاحب اولاد ہو اور زوجناکھا والا الہام غلط ثابت ہو جائے تو کچھ مضائقہ نہیں۔

کو دکھ کی مار اور اس کا دونوں جہانوں میں منہ کالا۔ مگر مرزا قادیانی کے لئے موجب فخر ؟

اگر قادیانی کھلے طور پر معصوم اور سچے نبی مسیح علیہ السلام کو گالیاں دے تو اس میں قادیانی کی عزت؟

مرزائیوں کے نزدیک اس کی سخت ذلت اور مرزا قادیانی کی ہزاروں موٹی اور بھدی غلطیاں جو پبلک کے سامنے پیش کی گئیں اور ہمارے مولانا شوکت علی مدتوں قادیانی کے کلام فارسی اور عربی کی مرمت کرتے رہے اور اس کے سرمایہ علمی کی قلعی کھولتے رہے تو ان کی ذلت؟

نزدیک شیطانی الہام اور اگر مرزا قادیانی قرآن شریف کی آیات کو توڑے اور اپنے شیطانی الہامات بنا کر پیش کرے تو وہ رحمانی الہام؟

٢٦

ماہ مقررہ میں بچ رہنے کا اشتہار دیا اور اس کی یہ پیش گوئی ایک جہا جب مرزا قادیانی کی بڑی بڑی پیشین گوئیوں کا جن پر اس نے ل کے سامنے بیڑا غرق ہوا تو مرزا قادیانی نے اس کو اپنی عزت کا با

مرزا قادیانی بذریعہ سمن یا وارنٹ طلب کئے گئے اور ان سے کے حق میں خونی الہام اور مہلک پیشین گوئیاں نہ کروں گا وغیرہ ۔ تو اس میں قادیانی کی کمال درجہ کی عزت مگر مذکو صاحب سے بھی جو بطور گواہ طلب کئے گئے تھے یہ اقرار لکھا کر لوں گا تو اس میں مولوی صاحب کی ذلت؟

الشان اسلامی کالج علی گڑھ میں قائم کیا جس کی نظیر ہند مرزا قادیانی اس کی ذلت۔ مگر مرزا قادیانی جو منارے یا چندہ بٹور رہا ہے اور ایسی تجارت سے خسر الدنیا والا کہ یہ روپیہ پھر مریدوں کو کبھی واپس نہ دیا جاوے گا۔ جیسا کسی کو ایک جو تک بھی واپس نہ دیا تو اس میں قادیانی کی عز

وتنشق الارض وتخر الجبال هدا ان دعوا للر يتخذ ولدا، اور مرزا قادیانی اس شیطانی الہام پر لٹو کہ ”ا منی بمنزلة توحیدی وتفریدی“

اور مرزا قادیانی کو یہ الہام شیطانی ہو ”اعمل ماشئت فا یعنی اے مرزا جو تیری مرضی ہو کیا کر تو ہماری ط بیٹا جو ٹھہرا ( اور با ایں ہمہ عیسائیوں پر اعتراض ) بے شک سانڈوں کی طرح پھریں اور جس کی مولیٰ گاجر آٹا دال دیک

٢٧

صفحہ ٦١

ماہ مقررہ میں بچ رہنے کا اشتہار دیا اور اس کی یہ پیش گوئی ایک جہان کے روبرو سچ نکلی تو اس کی ذلت۔ مگر جب مرزا قادیانی کی بڑی بڑی پیشین گوئیوں کا جن پر اس نے اپنے صدق و کذب کا مدار رکھا تھا۔ سب کے سامنے بیڑا غرق ہوا تو مرزا قادیانی نے اس کو اپنی عزت کا ہار سمجھ کر گلے میں ڈال لیا۔

مرزا قادیانی بذریعہ سمن یا وارنٹ طلب کئے گئے اور ان سے ضمانت نامہ لیا گیا کہ پھر کبھی کسی شخص کے حق میں خونی الہام اور مہلک پیشین گوئیاں نہ کروں گا۔ بٹالوی کو حروف ”ط“ سے نہ لکھوں گا وغیرہ۔ تو اس میں قادیانی کی کمال درجہ کی عزت مگر مذکورۃ الصدر عدالت میں مولوی محمد حسین صاحب سے بھی جو بطور گواہ طلب کئے گئے تھے یہ اقرار نامہ لیا گیا کہ قادیان کو کاف سے نہ لکھا کروں گا تو اس میں مولوی صاحب کی ذلت؟

الشان اسلامی کالج علی گڑھ میں قائم کیا جس کی نظیر ہندوستان بھر میں نہیں تو اس میں بقول مرزا قادیانی اس کی ذلت۔ مگر مرزا قادیانی جو منارے یا گھنٹہ گھر کی آڑ میں جماعت حمقاء سے چندہ بٹور رہا ہے اور ایسی تجارت سے خسر الدنیا والآخرہ بن رہا ہے اور ہم یقین دلاتے ہیں کہ یہ روپیہ پھر مریدوں کو کبھی واپس نہ دیا جاوے گا۔ جیسا کہ براہین احمدیہ کی بدولت وصول کیا اور کسی کو ایک جو تک بھی واپس نہ دیا تو اس میں قادیانی کی عزت۔

وتنشق الارض وتخر الجبال هدا إن دعوا للرحمن ولدا وما ينبغى للرحمن ان يتخذ ولدا “ اور مرزا قادیانی اس شیطانی الہام پر لٹو کہ ”انت منى بمنزلة ولدى • انت منى بمنزلة توحيدى وتفريدى“

(تذکرہ ص٥٢٦، طبع سوم)

اور مرزا قادیانی کو یہ الہام شیطانی ہو ”اعمل ماشئت فانی قد غفرت لک“

(تذکرہ ص١٠٧، طبع سوم)

یعنی اے مرزا جو تیری مرضی ہو کیا کر تو ہماری طرف سے بخشا گیا۔ کیوں نہ ہو آخر خدا کا بیٹا جو ٹھہرا (اور با ایں ہمہ عیسائیوں پر اعتراض) بے شک مرزا قادیانی کو رخصت ہے کہ بازاری سانڈوں کی طرح پھریں اور جس کی مولی گاجر آٹا دال دیکھیں چٹ کریں۔

٢٧

صفحہ ٦٣

کے دام کہیں تو اس میں ان کا سراسر تقدس، اور اگر ملا محمد بخش کو اس قسم کا الہام ہو تو تمسخر میں ٹالا جاوے۔ کیوں مولوی محمد احسن صاحب امروہی! ”تلك اذا قسمة ضيزى“ کا مطلب درست آیا نہیں؟ ہم ان باتوں کا فیصلہ پبلک پر چھوڑتے ہیں اور مرزا قادیانی کو ناصحانہ طور پر سمجھاتے ہیں کہ عزیز من! یہ سراسر جھوٹی عزت دین و مذہب کی خانہ برانداز ہے۔ ہوش میں آؤ! اور عقل کے ناخن لو۔ والسلام علیٰ من اتبع الہدیٰ! راقم:ا۔د گجراتی

استفتاء: مرزا قادیانی نے اپنے اشتہار (ایک غلطی کا ازالہ) مطبوعہ الحکم (مجموعہ اشتہارات ج٣ ص٤٣٩) میں کہا ہے کہ جملہ انبیاء علیہم السلام کا اتفاق ہے کہ بروز میں دوئی نہیں ہوتی اور اس دعوے کے ثبوت میں امیر خسرو دہلوی کا یہ شعر نقل کیا ہے۔

من تو شدم تو من شدی من تن شدم تو جان شدی
تاکس نگوید بعد ازیں من دیگرم تو دیگری

اس میں گزارش یہ ہے کہ شعر مذکور کون سی آیت یا حدیث کا ترجمہ ہے اور توریت، زبور، انجیل، فرقان میں کون سے نبی نے فرمایا ہے؟ کیونکہ جملہ انبیاء کی نسبت لفظ بروز منسوب کیا گیا ہے۔ خود حضور اقدس کے مریدوں نے مجھ سے اصرار کیا کہ میں یہ سوال ضمیمہ شحنہ ہند میں شائع کراؤں ورنہ مجھے استفتاء کی ضرورت نہ تھی۔ سید محمد عمر ایک فوجی سپاہی، از گجرات پنجاب

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

تعارف مضامین ...... ضمیمہ شحنہ ہند میرٹھ

٢٤ / فروری ١٩٠٢ء کے شمارہ نمبر٧، ٨، ٩ کے مضامین

١....... استیصال الالحاد بجواب رقيمة الوداد

”يقولون بافواههم ماليس في قلوبهم والله اعلم بما يكتمون“ (یہ لوگ اپنے منہوں سے وہ باتیں کہتے ہیں جو ان کے دلوں میں نہیں اور جو کچھ وہ چھپاتے ہیں۔ اللہ خوب جانتا ہے )

مرزا قادیانی بڑی جسارۃ سے اپنی نبوۃ ورسالت کے اشتہارات دیتا ہے۔ اخبار میں اعلان کرتا ہے۔ چنانچہ اشتہار ٥ / نومبر ١٩٠١ء میں لکھا ہے: ”خدائے تعالیٰ کی پاک وحی جو میرے پر

٢٨

نازل ہوتی ہے۔ اس میں لفظ نبی و رسول موجود ہیں نہ کہ اِ ہے۔ ”هو الذي ارسل رسوله بالهدیٰ ودین الحق ( احمدیہ ص٤٩٨) اس میں صاف طور پر اس عاجز کو رسول کر کے الله فی حلل الانبیاء“ یعنی خدا کا رسول نبیوں کے حلے مکالمہ کے قریب ہی یہ وحی اللہ ہے: ”محمد رسول اللّٰہ رحماء بينهم“ اس وحی اللہ میں میرا نام محمد رکھا گیا اور رسول پھر وحی اللہ جو (براہین احمدیہ ص٥٥٧) میں ہے۔ قرآت یہ ہے کہ دنیا میں ایک نبی آیا اسی طرح اور کئی ج کیا گیا....... سیرت صدیقی کی کھڑکی یعنی فنا فی الرسول کی را پہنائی گئی....... میرا نام آسمان پر محمد واحمد ہے۔ میری نبوۃ ورس میرے نفس کے رو سے اور بروزی طور پر یہ نام بحیثیت فنا فی مفہوم میں فرق نہ آیا۔ لیکن عیسیٰ کے اترنے سے ضرور فرق خدا کی طرف سے اطلاع پا کر غیب کی خبر دینے والا پس ج صادق آئے گا اور نبی کا رسول ہونا شرط ہے۔ جب کہ قرین پوری ہو گئی تو میں اپنی نسبت نبی یا رسول کے نام سے کیونکر ا نے میرے یہ نام رکھے ہیں تو میں کیونکر رد کروں۔ مجھ ک اور جس پر افتراء کرنا لعنتیوں کا کام ہے کہ اس نے سچ مچ شریف کی آیات پر ایمان رکھتا ہوں۔ ایسا ہی بغیر فرق ایک ہوں جو مجھے ہوئی اور میں بیت اللہ میں کھڑے ہو کر یہ قسم ک ہے وہ اسی خدا کا کلام ہے۔ جس نے حضرت موسیٰ و عیسیٰ کیا۔ میرے لئے آسمان بھی بولا اور زمین بھی کہ میں خلیف گا۔ جیسا کہ وہ ہمیشہ اپنے رسولوں کی تائید کرتا آیا ہے۔“ صرف اس قدر معنے ہیں کہ میں صاحب شریعت نہیں ہوں اور اس میں ہو کر اور اس کے نام محمد واحمد سے مسمّے ہو کر یعن اور غیب کی خبریں پانے والا۔ میں بموجب آیت ’وآخـ طور پر وہی نبی خاتم الانبیاء ہوں اور خدا نے آج سے بیس

٢٩

صفحہ ٦٣

نازل ہوتی ہے۔ اس میں لفظ نبی ورسول موجود ہیں نہ کہ ایک دفعہ بلکہ صدہا دفعہ ایک یہ وحی اللہ ہے۔ ”ھو الذی ارسل رسولہ بالھدیٰ ودین الحق لیظھرہ علی الدین کلہ“ (براہین احمدیہ ص ٤٩٨) اس میں صاف طور پر اس عاجز کو رسول کر کے پکارا گیا۔ پھر یہ وحی اللہ ہے: ”جری اللہ فی حلل الانبیاء“ یعنی خدا کا رسول نبیوں کے حلوں میں۔ (براہین احمدیہ ص٥٠٤) پھر اس مکالمہ کے قریب ہی یہ وحی اللہ ہے: ”محمد رسول اللہ والذین معہ اشداء علی الکفار رحماء بینھم“ اس وحی اللہ میں میرا نام محمد رکھا گیا اور رسول بھی۔

پھر وحی اللہ جو (براہین احمدیہ ص٥٥٧) میں ہے۔ دنیا میں ایک نذیر آیا۔ اس کی دوسری قرأت یہ ہے کہ دنیا میں ایک نبی آیا اسی طرح اور کئی جگہ رسول کے لفظ سے اس عاجز کو یاد کیا گیا ...... سیرت صدیقی کی کھڑکی یعنی فنا فی الرسول کی رو سے ظلی طور پر نبوۃ محمدی کی چادر مجھ کو پہنائی گئی ...... میرا نام آسمان پر محمد واحمد ہے۔ میری نبوۃ ورسالہ باعتبار محمد واحمد ہونے کے ہے۔ نہ میرے نفس کے رو سے اور بروزی طور پر یہ نام بحیثیت فنا فی الرسول مجھے ملا۔ لہذا خاتم النبیین کے مفہوم میں فرق نہ آیا۔ لیکن عیسیٰ کے اترنے سے ضرور فرق آئے گا۔ نبی کے معنے لغت کے رو سے خدا کی طرف سے اطلاع پا کر غیب کی خبر دینے والا پس جہاں یہ معنی صادق آئیں گے نبی کا لفظ صادق آئے گا اور نبی کا رسول ہونا شرط ہے۔ جب کہ قریب ڈیڑھ سو پیش گوئی صاف طور پر میری پوری ہو گئی تو میں اپنی نسبت نبی یا رسول کے نام سے کیونکر انکار کر سکتا ہوں اور جب کہ خود خدا تعالیٰ نے میرے یہ نام رکھے ہیں تو میں کیونکر رد کروں۔ مجھ کو اس خدا کی قسم جس نے مجھے بھیجا ہے اور جس پر افتراء کرنا لعنتیوں کا کام ہے کہ اس نے مسیح موعود بنا کر مجھے بھیجا ہے اور میں جیسا قرآن شریف کی آیات پر ایمان رکھتا ہوں۔ ایسا ہی بغیر فرق ایک ذرہ کے اس کھلی کھلی وحی پر ایمان لاتا ہوں جو مجھے ہوئی اور میں بیت اللہ میں کھڑے ہو کر یہ قسم کھا سکتا ہوں کہ وہ وحی جو مجھ پر نازل ہوئی ہے وہ اسی خدا کا کلام ہے۔ جس نے حضرت موسیٰ وعیسیٰ وحضرت محمد مصطفیٰ ﷺ پر اپنا کلام نازل کیا۔ میرے لئے آسمان بھی بولا اور زمین بھی کہ میں خلیفۃ اللہ ہوں۔ ضرور خدا میری تائید کرے گا۔ جیسا کہ وہ ہمیشہ اپنے رسولوں کی تائید کرتا آیا ہے۔ ”میں نیستم رسول و نیاوردہ ام کتاب“ کے صرف اس قدر معنے ہیں کہ میں صاحب شریعت نہیں ہوں۔ محمد مصطفیٰ ﷺ کے واسطہ کو ملحوظ رکھ کر اور اس میں ہو کر اور اس کے نام محمد واحمد سے مسمّے ہو کر میں رسول بھی ہوں اور نبی بھی یعنی بھیجا گیا اور غیب کی خبریں پانے والا۔ میں بموجب آیت ”وآخرین منھم لما یلحقوا بھم“ بروزی طور پر وہی نبی خاتم الانبیاء ہوں اور خدا نے آج سے بیس برس پہلے براہین احمدیہ میں میرا نام محمد

٢٩

صفحہ ٦٥

واحمد رکھا اور مجھے آنحضرت ﷺ کا ہی وجود قرار دیا۔ میں ظلی طور پر محمد ﷺ ہوں۔ میں بروزی طور پر محمد ﷺ ہوں اور بروزی رنگ میں تمام کمالات محمدی معہ نبوۃ محمدیہ میرے آئینہ ظلیت میں منعکس ہیں۔

پھر کون سا الگ انسان ہوا جس نے علیحدہ طور پر نبوۃ کا دعویٰ کیا۔ آنحضرت ﷺ نے خواب میں مجھے فرمایا۔ ”سلمان منا اهل البيت على مشرب الحسين“ میرا نام سلمان رکھا۔ حدیث میں جو سلمان آیا ہے اس سے بھی میں مراد ہوں۔ ورنہ اس سلمان پر وہ مدح کی پیشین گوئی صادق نہیں آتی۔ حضرت موسیٰ کا یشوعا بروز تھا۔ ممکن ہے کہ آنحضرت ﷺ نہ ایک دفعہ بلکہ ہزار دفعہ دنیا میں بروزی رنگ میں آجائیں اور کمالات کے ساتھ اپنی نبوۃ کا بھی اظہار کریں۔ مجھے بروزی صورت نے نبی و رسول بنایا ہے۔ اسی بناء پر خدا نے بار بار میرا نام نبی اللہ و رسول اللہ رکھا۔ مگر بروزی صورت میں میرا نفس درمیان نہیں ہے۔ بلکہ محمد مصطفیٰ ﷺ ہے۔ اس لحاظ سے میرا نام محمد و احمد ہوا۔ پس نبوۃ ورسالۃ کسی دوسرے کے پاس نہیں گئی۔ محمد کی چیز محمد ہی کے پاس رہی۔ علیہ الصلوٰۃ والسلام وغیرہ۔“

(مجموعہ اشتہارات ج٣ ص٤٣١ تا ٤٣٢)

پس زور شور سے تو مرزا قادیانی نے اپنی نبوۃ ورسالت کا دعویٰ چھ صفحہ کلاں کے اشتہار میں کیا پھر اس کو ١٠؍ نومبر ١٩٠١ء کے اخبار الحکم میں شائع کیا۔ لیکن آفرین ہے امروہی کے دین و ایمان وفہم پر کہ وہ اپنے پراز الحاد و عناد بنام رسالہ شیمۃ الوداد میں اوّل تو بظاہر مرزا قادیانی کے ان تمام دعاوی سے انکار کرتا ہے اور جو کوئی کہے کہ مرزا قادیانی نے دعویٰ نبوت و رسالت کیا ہے۔ اس کو بیجا الزام لگاتا جہالت و تقویٰ اللہ کے خلاف بتایا ہے اور بعد میں وہی مرزا قادیانی کے ظلی وبروزی نبی ورسول ہونے کی حمایت میں اپنے علم وفضل کا نمونہ دکھایا ہے اور جس طرح مداریوں ناٹک و مسمریزم والوں کے معمول بہ ویسی ہی بولی بولتے ہیں جیسی ان کے عامل ۔ اسی طرح امروہی وہی مرزا والی بولی بولا ہے۔ حافظ محمد یوسف کے ساتھ اس قدر عرصہ کی ملاقات و محبت کا مقتضاء تو یہ ہونا چاہئے تھا کہ ان کے کارڈ کا جواب نرمی صبر و تحمل سے بھیجتے۔ لیکن مرزائی سلسلہ میں صبر و تحمل وانسانیت کہاں؟ اس لئے امروہی نے اپنے امام و مرشد بلکہ روحانی باپ مرزا کے تکبر شیخی و شہرۃ طلبی میں رنگین ہو کر اپنے اظہار فضیلت کے لئے اور بڑے فخر و شیخی سے اپنے خط کو اخبار الحکم ٢٤؍ نومبر ١٩٠١ء میں ص٩ سے ١٤ تک شائع کیا۔ اس میں چند فقرات مرزا قادیانی کے انکار نبوۃ مستقل کے اور اپنی طرف سے تین مقدمات دربارہ الہامات و معنی نبی ولفظ رسول اور الہامات براہین احمدیہ کے درج کر کے لکھا ہے۔

٣٠

جواب ...... آمین ثم آمین! حافظ صاحب کا تو اللہ تعالیٰ ب حمایت وتائید الٰہی قرآن مجید کے حفظ کی نعمت میسر ہوئی کے لئے دیانت و امانت سے ملازمت کرتے رہے۔ کسی چندے و قیمت کتاب وغیرہ کے بہانے سے روپیہ اینٹھ خدمت کرتے اور روپیہ دیتے رہے۔ بعد ملازمت کے باق الٰہی میں مصروف ہو گئے اور جو مؤمن مسلمان مطیع اللہ ومح ب اللہ ہوتا ہے اللہ تعالیٰ اپنے فضل وکرم سے اس کی ویسی ہی ع

یا اب ہماری ملاقات تک پسند نہیں فرماتے۔ حالانکہ عثما برغبت تمام ملتے ہیں۔

جواب ...... جو شخص خود صادق و راست باز ہوتا ہے دغاب بھی خصوصاً جب کہ وہ بہ لباس اسلام وظاہر کلمہ گو ہو ایسا یوسف صاحب کیا بہت سے مسلمان اس وقت مرزا قادیانی کے دین اسلام وقرآن مجید کی محبت و خدمت کا دعو دم مارتا تھا۔ کسی کو کیا معلوم تھا کہ مرزا قادیانی منافقانہ ان اپنی دوکان بنارہا ہے اور کام چل نکلنے پر بعد میں دین اسلا کو خود غرضی سے ترمیم و تنسیخ کر کے خود مورد و مخاطب آ اب جب مرزا قادیانی اور اس کی جماعت کے یہ عقیدے کھلے اور پکے مسلمان فوراً مرزا قادیانی سے متنفر و بیزار ہو کر تقاضا تھا۔ کیونکہ مؤمنین مسلمین تو ”الحب لله والبغ حمایتی اور اس سے موافق تھے۔ جب وہ جہت باقی نہ رہی تو ان سے ملنا سوائے ہتک اسلام و مسلمانوں کے کچھ نقصا ان کا طریق و دین الگ الگ ہے۔ حسن معاشرت و خو مرزا قادیانی اور مرتدین بہ لباس وصورۃ اسلام زبان سے مسلمانوں کو سنا کر پھر اپنے ملحدانہ نیچریانہ فلسفیانہ خیالا

٣١

صفحہ ٦٥

جواب ...... آمین ثم آمین! حافظ صاحب کا تو اللہ تعالیٰ ہمیشہ حافظ و ناصر رہا۔ ان کو ابتداء عمر میں ہدایت و تائید الٰہی قرآن مجید کے حفظ کی نعمت میسر ہوئی۔ بعد میں اپنے اور اپنے عیال و اطفال کے لئے دیانت و امانت سے ملازمت کرتے رہے۔ کسی کے دست نگر نہ ہوئے اور نہ کبھی کسی سے چندے و قیمت کتاب وغیرہ کے بہانے سے روپیہ اینٹھا۔ بلکہ خود سائلوں اور مانگنے والوں کی خدمت کرتے اور روپیہ دیتے رہے۔ بعد ملازمت کے باعزت و آبرو پینشن لے کر خانہ نشین اور یاد الٰہی میں مصروف ہو گئے اور جو مومن مسلمان مطیع اللہ و متبع رسول و سالک سبیل المومنین متوکل علی اللہ ہوتا ہے اللہ تعالیٰ اپنے فضل و کرم سے اس کی ویسی ہی حفاظت فرماتا ہے۔

یا اب ہماری ملاقات تک پسند نہیں فرماتے۔ حالانکہ مخالفین اسلام عیسائی و آریہ وغیرہ ہم سے برغبت تمام ملتے ہیں۔ جواب ...... جو شخص خود صادق و راست باز ہوتا ہے دغا و فریب کا نام نہیں جانتا وہ دوسرے شخص پر بھی خصوصاً جب کہ وہ بہ لباس اسلام و ظاہر کلمہ گو ہو ایسا ہی خیال کرتا ہے۔ اسی لئے ایک حافظ محمد یوسف صاحب کیا بہت سے مسلمان اس وقت مرزا قادیانی کے حمایتی و طرفدار تھے۔ جب کہ مرزا قادیانی دین اسلام و قرآن مجید کی محبت و خدمت کا دعویٰ کر کے مخالفین اسلام سے بحث و مباحثہ کا دم مارتا تھا۔ کسی کو کیا معلوم تھا کہ مرزا قادیانی منافقانہ اس بہانہ سے آمدنی و خوش گزرانی کے لئے اپنی دوکان بنا رہا ہے اور کام چل نکلنے پر بعد میں دین اسلام کا دشمن بن کر اس کے مسلمہ و حقہ مسائل کو خود غرضی سے ترمیم و تنسیخ کر کے خود مورد و مخاطب آیات قرآنی بن کر نبی و رسول بن بیٹھے گا۔ اب جب مرزا قادیانی اور اس کی جماعت کے یہ لچھن ظاہر ہوئے تو قدیمی اسلام کے دلدادہ سچے اور پکے مسلمان فوراً مرزا قادیانی سے متنفر و بیزار ہو کر علیحدہ ہو گئے اور یہی عین ایمان و اسلام کا تقاضا تھا۔ کیونکہ مومنین مسلمین تو ”الحب لله والبغض لله“ کی جہت سے مرزا قادیانی کے حمایتی اور اس سے موافق تھے۔ جب وہ جہت باقی نہ رہی تو پھر ملاقات و اتفاق کیا؟ رہا مخالفین اسلام سے ملنا سو اس میں اسلام و مسلمانوں کا کچھ نقصان نہیں۔ سب مسلمان جانتے ہیں کہ ہمارا ان کا طریق و دین الگ الگ ہے۔ حسن معاشرت و خوش اخلاقی کا اسلام میں حکم و تاکید ہے۔ لیکن مرزا قادیانی اور مرتدین بہ لباس و صورۃ اسلام زبان سے ”لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ“ مسلمانوں کو سنا کر پھر اپنے ملحدانہ نیچریانہ فلسفیانہ خیالات و مسائل سے قرآن مجید کی تفسیر بالرائے

٣١

صفحہ ٦٧

فاسد کر کے احادیث صحیحہ رسول اللہ ﷺ کی توہین وتحقیر کر کے فریب اور دھوکے سے مسائل مسلمہ اسلام پر تلوار چلا رہے ہیں اور اپنے زعم فاسد سے اس کی بیخ کنی کے درپے ہیں۔ اپنے اوہام باطلہ سے تراشی ہوئی ظنی و بروزی نبوۃ کا دعویٰ دے کر مرزا قادیانی جیسے مستغرق دنیا و بندہ نفس کو مخاطب آیات قرآن مجید و مردود فرمان رب حمید بنا کر اس کو بروزی محمد واحمد ورسول بنارہے ہیں۔ جس پر بعض نہایت محتاط خشیت اللہ وتقویٰ اللہ والے علماء جو مرزا قادیانی کے زبانی دعویٰ اسلام وکلمہ ”لا الہ الا اللہ“ پڑھنے کے سبب مرزا قادیانی کے کفر و ارتداد میں متامل تھے۔ اب مرزا قادیانی کا یہ اشتہار نبوۃ ورسالۃ والا دیکھ کر ان علماء کا بھی سارا تامل و تردد جاتا رہا اور جو فتوے مرزا قادیانی پر علمائے اسلام کا ہو چکا ہے اس فتوے کے وہ محتاط علمائے اسلام ہی بغیر کسی تامل کے بالکل مصدق وموافق ہو گئے۔ چونکہ مرزا قادیانی و مرتدین کو بدعقیدتی کوتاہ نظری انہماک دنیا وبے مذاقی وبدنصیبی کے سبب قدیمی و پرانے احکام اسلامی و عبادات سے کچھ مذاق باطنی نور و برکات اسلام حاصل نہ ہوئی۔ بعد اسلامی فیضان سے بکلی محروم رہ کر سوائے قیل وقال وزبانی لاف وگزاف کے کچھ حصہ نہ ملا۔ اس لئے مرزا قادیانی ومریدین اسلامی قدیمی مسائل کو الٹ پلٹ کر کے اپنے نئے تراشیدہ خلاف سلف وخلف مسائل گھڑ کر شائع کرتے رہتے ہیں تو پھر اس صورت میں بموجودگی احکام قرآن مجید ”لا يتخذ المؤمنون الكافرين اولياء من دون المؤمنين ومن يفعل ذالك فليس من الله في شى الا ان تتقوا منهم تقته٠ ولم يتخذوا من دون الله ولا رسوله ولا المؤمنين وليجه٠ يا ايها الذين آمنوا لا تتخذوا بطانة من دونكم لا يا لو نكم خبالا وڈوا ما عنتم قد بدت البغضاء من افواههم وما تخفى صدورهم اكبر قد بينا لكم الايت ان كنتم تعقلون“ کے مسلمان مؤمنین متبعان قرآن مجید ان سب احکام الٰہی کے خلاف ایسی پرحذر و خطر میل وملاقات کیونکر پسند کر سکتے ہیں۔ یہی سبب ہے کہ حافظ جی اب مرزا قادیانی ومریدین کی ملاقات پسند نہیں کرتے۔

کرایا تھا۔“

جواب....... اصل و صحیح حال نہیں لکھتے کہ ان دنوں بھی تنگی خرچ ومعیشت کے سبب لوگوں سے ٹکے وصول کرنے اور چندہ حاصل کرنے کے لئے تحذیرالمؤمنین لکھنے اور شائع کرنے کا۔ اپنی گزران کے لئے حیلہ بنالیا تھا اور بقیہ کتابیں بھی روپیہ وصول کرنے کی خاطر لے لی تھیں۔

٣٢

ثابت ہوچکی تھی۔ حافظ صاحب چونکہ عبداللہ صاحب مرزا عبداللہ صاحب کے نور دیکھنے والے کشف کے مطابق ممکن ہے وجہ سے ہو۔“

جواب....... یہ ڈھکوسلا اور افتراء ہے۔ حافظ صاحب کو رؤیا ہونے، سید عبداللہ صاحب مرحوم کے کشف میں نور نازل تحریف و تراش خراش کر کے مرزا قادیانی اپنے ہاتھ زبان ا مریدین کو خوش کر رہا ہے۔ ان کا اصلی حال اور حافظ محمد یوسف واقفیت حالات ومعاملات مرزا و بالآخر الہام سے مرزا قاد حافظ جی مرزا سے علیحدہ وبیزار ہوئے یہ سب واقعات صحیح تحریر میں شائع ہوں گے۔ جس سے بخوبی معلوم ہو جائے و بہتان مرزا قادیانی نے مریدین کو فراہم رکھنے کے لئے ا چاہئے کہ یہ سید عبداللہ کی ہی صحبت بابرکت کا اثر تھا کہ وغیرہ کے طرح طرح کے حیلہ حوالہ چاپلوسی خوشامد اور احس احباب مریدین سید عبداللہ، مرزا کے دام تزویر میں نہ پھنسے اخوت اسلامی محکم ومضبوط رکھا کہ ان کے قدم بقدم اس واتباع سبیل المؤمنین سلف وخلف صالحین کے پابند رہ منہاج کو حقارت کی نظر سے دیکھ کر بیزار ہو کر کلیتاً علیحدہ ہو

انجام دہی میں گزری۔ دینی کاموں کی طرف توجہ نہیں فرماتے رنگ کے ساتھ مصبغ نہیں ہوئی تو اب پیرانہ سالی میں ضعف کیونکر متوجہ ہو سکتے ہیں۔ یہ فضل الٰہی تو اس عاجز کے شا کے کشف حقائق دیدیہ میں مشغول و مصروف ہے اور رہے

جواب....... حافظ صاحب سرکاری ملازمت میں رہ کر بقیہ مندان گندم نما وجوفروش دراصل عاشقان مال و دولت کی صدہا روپیہ سے خدمت کرتے رہے۔ اگر حافظ جی ا آپ کی طرح ادھر ادھر کے چندوں پر ہی معاش و گزرا

٣٣

صفحہ ٦٧

ثابت ہو چکی تھی۔ حافظ صاحب چونکہ عبداللہ صاحب مرحوم کی روحانی و معنوی اولاد ہیں۔ لہٰذا عبداللہ صاحب کے نور دیکھنے والے کشف کے مطابق ممکن ہے کہ حافظ صاحب کی محرومی شاید اسی وجہ سے ہو۔“

جواب ...... یہ ڈھکوسلا اور افتراء ہے۔ حافظ صاحب کو رؤیا میں مرزا قادیانی کی صداقت ثابت ہونے ،سید عبداللہ صاحب مرحوم کے کشف میں نور نازل ہوا دیکھنے وغیرہ کی نسبت جو یہودیانہ تحریف وتراش خراش کر کے مرزا قادیانی اپنے ہاتھ زبان وقلم سے عبارت بنا کر شائع کر کے اپنے مریدین کو خوش کر رہا ہے۔ ان کا اصلی حال اور حافظ محمد یوسف صاحب کے عرصہ دراز کے تجربہ واقفیت حالات ومعاملات مرزا و بالآخر الہام سے مرزا قادیانی کی گمراہی سے آگاہ ہو کر جس طرح حافظ جی مرزا سے علیحدہ و بیزار ہوئے یہ سب واقعات صحیح صحیح انشاء اللہ العزیز بعد میں ایک علیحدہ تحریر میں شائع ہوں گے۔ جس سے بخوبی معلوم ہو جائے گا کہ ان امور میں کیا کیا کارستانیاں وبہتان مرزا قادیانی نے مریدین کو فراہم رکھنے کے لئے بنائے ہیں۔ سر دست ان کو اتنا معلوم رہنا چاہئے کہ یہ سید عبداللہ کی ہی صحبت بابرکت کا اثر تھا کہ باوجود مرزا قادیانی کے حکیم اور امروہی وغیرہ کے طرح طرح کے حیلہ حوالہ چاپلوسی خوشامد اور اصرار کرنے کے حافظ صاحب اور ان کے احباب مریدین سید عبداللہ، مرزا کے دام تزویر میں نہ پھنسے اور سید صاحب موصوف سے ایسا رشتہ اخوت اسلامی محکم و مضبوط رکھا کہ ان کے قدم بقدم اطاعت اللہ تعالیٰ اطاعت رسول اللہ ﷺ واتباع سبیل المؤمنین سلف وخلف صالحین کے پابند رہ کر مرزا قادیانی کے محدثہ طریق ودجالانہ منہاج کو حقارت کی نظر سے دیکھ کر بیزار ہوکر کلیتاً علیحدہ ہو گئے۔

انجام دہی میں گزری۔ دینی کاموں کی طرف توجہ نہیں فرمائی۔ اس لئے روحانی حالت صبغۃ اللہ کے رنگ کے ساتھ مصبغ نہیں ہوئی تو اب پیرانہ سالی میں ضعیف القویٰ ہو کر معارف وحقائق کی طرف کیونکر متوجہ ہو سکتے ہیں۔ یہ فضل الٰہی تو اس عاجز کے شامل حال ہے کہ باوجود شدت ضعف وپیری کے کشف حقائق دینیہ میں مشغول ومصروف ہے اور رہے گا۔ انشاء اللہ تعالیٰ ۔“

جواب ...... حافظ صاحب سرکاری ملازمت میں رہ کر ہی تو آپ جیسے اور مرزا قادیانی جیسے حاجت مندان گندم نما وجو فروش دراصل عاشقان مال ودولت دنیا وبظاہر زبانی دعویداران خدمت اسلام کی صدہا روپیہ سے خدمت کرتے رہے۔ اگر حافظ جی حق حلال کی ملازمت نہ کرتے اور ان کی بھی آپ کی طرح ادھر ادھر کے چندوں پر ہی معاش وگزران ہوتی تو وہ دوسرے سائلوں کی خدمت

٣٣

صفحہ ٦٩

کس طرح کرتے؟ حافظ جی نے انہی حالات اور خالص اتباع سنت رسول اللہ ﷺ سے تو کچھ اپنی جائیداد نہ بنائی۔ زیور نہ بنایا۔ تمام عمر رہنے کو ایک جھونپڑا بھی تعمیر نہ کیا۔ اب تک کرایہ کے مکان میں رہتے ہیں۔

ترک دنیا بود سنت مصطفیٰ عاشقاں کردند ایں سنت ادا

کے عامل ومتبع تو حافظ جی ہی بمقابلہ آپ کے مرشد و امام مرزا قادیانی کے کئی درجہ بڑھ کر رہے۔ فضل الٰہی شامل ہوتا تو اس کو کہتے ہیں نہ کہ اسکو کہ محتاجی وحاجت مندی کے سبب جماعت مرزا قادیانی سے چندہ ماہوار لے کر اوقات بسری ہو اور اس چندہ کے عوض ایک کاذب ودجال کی ہاں میں ہاں ملا کر اس کے بروزی وظلی نبوۃ ورسالت کی آپ حمایت کریں اور پھر اس کا نام کشف حقائق ویدیہ میں مصروف ہونا رکھ کر الٹا اپنا فخر وشیخی بگھاریں۔ نعوذ باللہ منہا! یہ تو کشف حقائق ویدیہ ہوا نہ کہ کشف حقائق اور پھر فضل الٰہی شامل حال ہونے کی یہ علامت ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے مطیع بندہ کو اس کے اخلاص انابت تبتل وتوکل کے سبب خود اس کے لئے کافی ہو کر اس کو مخلوق سے غنی کر دے نہ یہ کہ اس بندہ کو در در کا ٹکڑ گدا اور دوسروں کا دست نگر اور چندہ پر بسر کرنے والا رہنے دے۔ لیکن آپ شاید اپنے مبلغ علم سے لوگوں سے کچھ معاش کے لئے چندہ وصول ہو جانے کو ہی فضل الٰہی شامل حال ہونا جانتے اور سمجھتے ہیں؟ آپ ایک طرح سے معذور ہیں۔ آپ تھے تو غیر مقلد لیکن۔

آنکہ شیران را کند روبہ مزاج احتیاج است احتیاج است احتیاج

کے گرداب میں پھنس گئے۔ اگر ایسا نہ کریں تو کیا کریں۔ علم بے نفع کے سبب تصوف سے آپ کو خبر نہیں۔ رزاق ورب العالمین پر آپ کو توکل نہیں۔ اگر چندہ لے کر اس قدر کام بھی نہ کریں تو مرزا قادیانی اور اس کی جماعت آپ کو چندہ کس بات کا دے؟ تعجب ہے کہ اب تک تو آپ حافظ جی کی ایسی تعظیم وتکریم کرتے رہے کہ محب ومکرم لکھتے اور یوسف ایہا الصدیق کہہ کر پکارتے رہے اور اب ایسا تنزل اختیار کیا کہ ان کو نور سے محروم ودینی کاموں سے غیر متوجہ خوف خدا اور تقویٰ اللہ سے عاری وغیرہ بتانے لگے اور زیادہ تر تعجب یہ کہ آپ کا امام ومرشد مرزا قادیانی تو حافظ صاحب کو مرد صالح بے ریا متقی اور متبع سنت وغیرہ اپنی کتابوں میں لکھ چکا ہے۔ بلکہ ان کو ملہم واہل کشف اور مستجاب الدعوات مان کر لدھیانہ میں اپنی ایک حاجت و مدد میں شامل کیا تھا۔ یعنی مرزا قادیانی جب کچھ روپیہ لے کر ایک شخص کے واسطے دعا ومحنت میں مصروف تھا تو حافظ جی سے بھی اس امر میں دعا کرنے کا ملتجی ہوا تھا۔ جس پر حافظ صاحب نے کہا تھا کہ مجھ کو تو یہ معلوم ہوا ہے ٣٤

کہ ایسے مجاہدات ودعا شرک ہیں۔ پس جب آپ کا م چکا ہے تو پھر آپ کس طرح حافظ صاحب کو صبغۃ اللہ مرشد کے حقائق ومعارف کی طرف غیر متوجہ کہہ سکتے سے بڑھ کر ہے؟ یا مرزا قادیانی نے یہ سب کچھ جھوٹ رنگ کے ساتھ مصنع اور شدہ ضعف وپیری میں کشف ہے کہ آپ ماہوار کچھ چندہ ملنے کی خاطر ایسے مص مرزا قادیانی کو بروزی وظلی نبی ورسول بنا کر اپنی عاقب سکتا اور اس پر طرہ یہ کہ بایں دعویٰ علم حدیث وکشف کے دلائل وثبوت میں۔

امت احمد دو ضد دار
میتواند شد مسیحا متب

اور مولوی جامیؒ کی عاشقانہ نعت کے ابیات

زمہجوری برآمد جان عالم
زخاک اے لالہ سیراب برخیز

وغیرہ اور بھاشا میں قول۔

آمنہ پوت عبداللہ جائے

وغیرہ پیش کر رہے ہیں۔ سبحان اللہ ! آپ کا کشف حقائق وعلم حدیث۔ اس طرح تو مرزا قادیانی نے فرعون کی طرح ”یا ایھا المل ربکم الاعلیٰ“ کسی دن کہہ کر اپنے لئے سجدہ سجدہ جائز قرار دیا تو آپ بایں علم وفہم ودعویٰ کشف

گر نبودی ذات ب
آب و گل را کے ب

دلیل میں پیش کر کے مرزا قادیانی کے من شرور انفسنا ومن سیئات اعمالنا “ فرماویں کہ یہ صبغۃ اللہ کا رنگ ہوا یا صبغۃ الدجال او ٥

صفحہ ٦٩

کہ ایسے مجاہدات و دعا شرک ہیں۔ پس جب آپ کا مرشد وامام خود حافظ جی کو ملہم واہل کشف مان چکا ہے تو پھر آپ کس طرح حافظ صاحب کو صبغۃ اللہ کے ساتھ مصبغ نہیں مانتے اور برخلاف اپنے مرشد کے حقائق ومعارف کی طرف غیر متوجہ کہہ سکتے ہیں؟ کیا آپ کا فہم وعقل اپنے مرشد وامام سے بڑھ کر ہے؟ یا مرزا قادیانی نے یہ سب کچھ جھوٹ اور خلاف لکھا ہے؟ پھر آپ کا صبغۃ اللہ کے رنگ کے ساتھ مصبغ اور شدۃ ضعف و پیری میں کشف حقائق دیدیہ میں مشغول ومصروف ہونا تو یہی ہے کہ آپ ماہوار کچھ چندہ ملنے کی خاطر ایسے مصبغ ورنگین ہوئے ہیں کہ اس کے رنگ میں مرزا قادیانی کو بروزی وظلی نبی ورسول بنا کر اپنی عاقبت تباہ کر رہے ہیں جو کوئی مسلمان ہرگز نہیں کر سکتا اور اس پر طرہ یہ کہ بایں دعویٰ علم حدیث وکشف حقائق دیدیہ مرزا قادیانی کی بروزی وظلی نبوۃ کے دلائل وثبوت میں؎

امت احمد دو ضد دارد نہان اندر وجود
میتواند شد مسیحا میتواند شد یہود

اور مولوی جامیؒ کی عاشقانہ نعت کے ابیات؎

زمہجوری برآمد جان عالم ترحم یا نبی اللہ ترحم
زخاک اے لالہ سیراب برخیز چو نرگس خواب چند از خواب برخیز

وغیرہ اور بھاشا میں قول؎

آمنہ پوت عبداللہ جائے نکل وبا محمد آئے

وغیرہ پیش کر رہے ہیں۔ سبحان اللہ ! یہ مسئلہ نبوۃ ورسالت اور یہ ثبوت ودلائل اور یہ آپ کا کشف حقائق وعلم حدیث۔ اس طرح تو اللہ تعالیٰ اپنے حفظ وامان میں رکھے۔ اگر مرزا قادیانی نے فرعون کی طرح "یا ایها الملاء ما علمت لکم من اله غیری، وانا ربکم الاعلیٰ" کسی دن کہہ کر اپنے لئے سجدہ کرانے کا خواہاں ہو کر یا اشتہار دے کر اپنے لئے سجدہ جائز قرار دیا تو آپ بایں علم وفہم ودعویٰ کشف حقائق دیدیہ فوراً؎

گر نبودی ذات حق اندر وجود
آب و گل را کے ملک کردے سجود

دلیل میں پیش کر کے مرزا قادیانی کے لئے سجدہ جائز ومباح کردیں گے۔ "نعوذ بالله من شرور انفسنا ومن سیئات اعمالنا" آپ ذرا اپنی کبر سنی وعقل وفہم وعلم پر غور وفکر کر کے فرماویں کہ یہ صبغۃ اللہ کا رنگ ہوا یا صبغۃ الدجال الکذاب ہوا؟ آپ کے نقل کردہ شعر؎

٣٥

صفحہ ٧٠
امت احمد دو ضد دارد نہاں اندر وجود
میتواند شد مسیحا میتواند شد یہود

پر مرزا قادیانی نے عملدرآمد تو خوب کیا ہے۔ جس طرح یہود عزیر ابن اللہ اور یہود ونصاریٰ نحن ابناء اللہ واحباؤہ کہتے تھے۔ اسی طرح مرزا قادیانی بھی اپنے لئے ابنیت جائز کر کے یہودی بنتا ہے اور ساتھ ہی تثلیث تراش کر مسیحیت کا بھی دعویدار ہے اور بقول عیسیٰ روح دیے فرشتے۔ مرزا قادیانی کے حامی ومصدق مولوی جامیؒ کی زندگی کے وقت کی فریاد کو اب ان کی رحلت اور پانچ سو تیس برس کے بعد مرزا قادیانی کے آنے سے سنا جانا لکھ کر کہتے ہیں۔ (نعوذ باللہ نقل کفر کفر نباشد) کہ ”مرزا قادیانی نے محمد واحمد بن کر ظلی نبوۃ پا کر بروز کیا ہے۔ کیونکہ اس قرن کے ہزاروں فتن دجالیہ بغیر آنحضرت خاتم النبیین محمد مصطفیٰ احمد مجتبیٰ ﷺ کے آئے ہوئے دفع نہیں ہو سکتے۔ اس وباء عالمگیر فتن دجالیہ کے دفع کے لئے زمانہ یہ تقاضا کر رہا ہے کہ یوں کہا جاوے

آمنہ پوت عبداللہ جائے
نکل وبا محمد آئے

معاذ اللہ ونعوذ باللہ! لطف یہ کہ مرزا قادیانی تو اپنی تصانیف میں اس قرن کو بڑا بابرکت وامن وامان وعدل وانصاف وانوار وتجلیات ومشاہدات والا لکھتا ہے اور امروہی اس کو ہزاروں فتن دجالیہ وباء عالمگیر کا قرن قرار دے کر مرزا قادیانی کو بروز خاتم النبیین ﷺ بنا کر یہ ثبوت ودلائل پیش کر رہے ہیں۔ گویا مرزا قادیانی اور ہزاروں فتن دجالیہ و وباء عالمگیر والا قرن ہر دو دوش بدوش یا زانو بزانو ہیں۔

کے جواب لکھنے کی بھی شیخی کے اظہار سے رک نہیں سکے۔ لکھا ہے کہ: ”اتمام حجت کے لئے جواب لکھ رہا ہوں۔ قریب آپ کو معلوم ہوگا۔“

ادھر کر کے ٹال دیا کرتے ہیں یا بایں پیری و کبرسنی اور زبانی لب گور بیٹھنے اور قریب قریب اللہ تعالیٰ کی روبکاری میں بہت جلد پہنچنے کا خوف بیان کرنے کے جیسا کہ اس خط میں بھی لکھا ہے۔ تمسخر اور ہنسی سے باز نہیں رہ سکتے۔ آپ نے شمس الہدایۃ کا جواب ابھی لکھا تھا۔ اس کی نسبت جو اہل علم کی رائے ہے وہ بھی غور سے ملاحظہ کریں۔ ماسٹر غلام حیدر صاحب ہیڈ ماسٹر ہائی سکول چکوال جن کے ساتھ مولوی نور الدین وعبدالکریم تحریض وترغیب کی خط وکتابت کرتے رہے۔ انہوں نے مراسلہ بجواب دعوت منہاج مرزا قادیانی اپنے عشرہ کاملہ کے ص ٢٨ پر لکھا ہے کہ ”شمس الہدایۃ کا

٣٦

جواب جو امروہی صاحب نے دیا ہے اس میں تہذیب جواب کوئی نیک نتیجہ پیدا نہیں کرتے۔

یہ آپ کی تصانیف کا حال ہے جس مرتبہ ایسی نامعقول وبے تہذیب تحریر وتصنیف کا جیسی مدلل وپر تہذیب کتاب کا آپ نے لکھ کر ہوئی ایسی دل خوش کن تحاریر تو آپ کی جماعت کہ پابندی ان شرائط کے جو صاحب عصاء موسیٰ صفحہ ٤ پر لکھی ہیں کہ: ”کتاب کی پوری عبارت لک آپ جواب عصاء موسیٰ تحریر کریں تا کہ لوگ آپ بظاہر آپ جیسی طبیعت سے امید کم ہے۔ بہر حا موسیٰ کا جواب کیا دیتے ہیں اور مرزا قادیانی کے ومسائل خلاف شریعت اسلامی کی کن دلائل وب کرتے ہیں۔

کے اشتہار اول چند فقرات انکار نبوۃ تشریعی و جا الرسول ہو کر بروزی طور کا اور غیر مستقل نبی وا انکار دعویٰ نبوت مستقل موجود ہونے پر کون عاق ورسالۃ کا دعویٰ کیا ہے جس کا انکار اجماع امـ

نبوۃ ورسالۃ کا زور سے اقرار کیا ہے۔ آپ والے فقرات کو قطعاً چھوڑ کر جزوی انکار والے ثابت کیا ہے اور پیچ دار عبارت سے مرزا قاد ہونے کی پٹڑی جمائی ہے۔ فقدان بصیرت یا خ

ورسالۃ کا سلسلہ قائم رکھنا منظور الٰہی تھا تو قـ توحید ورسالۃ وغیرہ امور ضروری کے کھلے

صفحہ ٧١

جواب جو امروہی صاحب نے دیا ہے اس میں شائستگی کو بالائے طاق رکھ کر کام لیا ہے اور بے تہذیب جواب کوئی نیک نتیجہ پیدا نہیں کرتے۔ وغیرہ ۔

یہ آپ کی تصانیف کا حال ہے جس پر با شرم و باحیا اہل علم خیال و غور کر کے دوسری مرتبہ ایسی نامعقول و بے تہذیب تحریر وتصنیف کا ہرگز نام نہیں لیتے۔ سوا گر ایسا ہی جواب عصاء موسیٰ جیسی مدلل و پر تہذیب کتاب کا آپ نے لکھ کر اپنا یا مرزا اور مریدین کا دل خوش کر لیا تو کیا بات ہوئی ایسی دل خوش کن تحاریر تو آپ کی جماعت اوّل ہی سے شائع کرتی رہتی ہے۔ بات تب ہے کہ پابندی ان شرائط کے جو صاحب عصاء موسیٰ کے جواب کے لئے کتاب کے سرورق کے اخیر صفحہ پر لکھی ہیں کہ: ”کتاب کی پوری عبارت لکھ کر پھر تہذیب سے مستند و مدلل جواب تحریر کریں۔“ آپ جواب عصاء موسیٰ تحریر کریں تاکہ لوگ آپ کے علم امانت و دیانت کا اندازہ کرسکیں۔ جس کی بظاہر آپ جیسی طبیعت سے امید کم ہے۔ بہر حال لوگ منتظر ہیں کہ آپ واقعات مندرجہ عصائے موسیٰ کا جواب کیا دیتے ہیں اور مرزا قادیانی کے سب وشتم لعن وطعن مؤمنین مسلمین وغیرہ عملدرآمد و مسائل خلاف شریعت اسلامی کی کن دلائل و وجوہ سے حمایت کر کے ان کا صحیح و جائز ہونا ثابت کرتے ہیں۔

٧....... امروہی صاحب ”يحرفون الکلم عن مواضعه“ والوں کی طرح مرزا قادیانی کے اشتہار اول چند فقرات انکار نبوۃ تشریعی وجدید شریعت لانے کے لکھ کر پھر مرزا قادیانی کا فنا فی الرسول ہو کر بروزی طور کا اور غیر مستقل نبی و رسول ہونا بیان کر کے لکھتے ہیں کہ اس کثرت سے انکار دعویٰ نبوت مستقل موجود ہونے پر کون عاقل بالغ کہہ سکتا ہے کہ اس فنا فی الرسول نے اس نبوۃ و رسالت کا دعویٰ کیا ہے جس کا انکار اجماع امت کر رہا ہے۔

جواب ....... یہ ایک شتر مرغی چال ہے کہ نبوۃ مستقل کا دبی زبان سے انکار اور غیر مستقل بروزی وظلی نبوۃ و رسالت کا زور سے اقرار کیا ہے۔ آپ کی دیانت وامانت دیکھئے کہ زور وشور سے دعاوی والے فقرات کو قطعاً چھوڑ کر جزوی انکار والے فقرات لکھ کر مسلمانوں پر مرزا قادیانی کا انکار نبوت ثابت کیا ہے اور پیچ دار عبارت سے مرزا قادیانی کا فنا فی الرسول ہو کر بروزی وظلی نبی و رسول ہونے کی پٹی پڑھائی ہے۔ فقدان بصیرت یا حرص چندہ سے آپ کو یہ بھی نظر نہیں آیا کہ :

اوّل ....... اگر اسلام میں بعد ختم نبوت خاتم النبیین ﷺ کے کسی بروزی ظلی و غیر مستقل نبوۃ و رسالت کا سلسلہ قائم رکھنا منظور الٰہی تھا تو قرآن مجید میں جیسے کہ دوسرے مسائل وعقائد دربارہ توحید ورسالت وغیرہ امور ضروری کے کھلے کھلے درج ہیں۔ اسی طرح ظاہر طور پر یہ مسئلہ بروزی

٣٧

صفحہ ٧٣

ظلی غیر مستقل نبوۃ بغیر جدید شریعت کا بھی قرآن مجید میں مفصل درج ہوتا اور اس وقت سے بعد ختم نبوت کے افراد کا خیرالقرون کے جو بقول امروہی فنا فی الرسول اور فیوض خاتم النبیین سے بھرپور تھے وہ علانیہ طور پر اس کے دعویدار ہوتے اور چونکہ بقول مرزا قادیانی اور مریدین کے اس قسم کی بروزی ظلی نبوۃ ورسالت سے مسئلہ ختم نبوت میں کچھ حرج واقع نہیں ہوتا اور ختم نبوت کی مہر نہیں ٹوٹتی۔ لہٰذا کوئی مسلمان انکار بھی نہیں کرتا۔

اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنے سید الانبیاء والرسل ﷺ کی صحبت وتعلق کے لئے تمام دنیا سے منتخب کیا۔ ان کے سامنے نزول وحی ہوتا رہا۔ قرآن مجید ان کے روبرو اترتا رہا۔ وہ ملائکہ کو اپنی آنکھوں سے دیکھتے رہے اور ان فیوض و برکات صحبت سید ولد آدم ﷺ سے ایسے مالا مال و سرشار ہوئے اور ایسے فنا فی اللہ ہوئے کہ اپنی جان و مال عزت و آبرو وطن ملک املاک خویش و اقارب غرضیکہ ہر چیز کو اسلام ورضاء الٰہی واطاعت احکام شریعت پناہی ﷺ پر انہوں نے قربان کر دیا تھا۔ پس ان پیشوایان اسلام کی فہم قرآن مجید و فہم حقائق معارف اسلام و فہم مقصد و مدعاء خیر الانام ﷺ میں کون برابری کر سکتا ہے اور جو کوئی ایسا دعویٰ کرے اور زبانی سیرت صدیقی کی کھڑکی سے داخل ہو کر یا زبانی فنا فی الرسول بن کر ان اکابر کے خلاف بروزی ظلی و غیر مستقل نبوۃ و رسالت تراش کر نبی و رسول بنے اور ان کبراء امت سے بڑھ کر بول بولے وہ بے شک کذاب دجال ہے۔

مرزا نبوۃ محمدی کی چادر پہننے کا دعویٰ کرتا ہے۔ اس صدیق باوجودیکہ خود رسول اللہ ﷺ نے اپنے سامنے ان کو لوگوں کا امام بنایا۔ فرمایا کہ ابوبکرؓ کے ہوتے کسی کو لائق نہیں کہ قوم میں امام بنے۔ ایک عورت سے فرمایا کہ ہم نہ ہوں تو ابوبکرؓ سے پوچھ لینا۔ وغیرہ۔ لیکن وہ کبھی چادر نبوۃ پہننے کے دعویدار نہ ہوئے۔ بلکہ یہاں تک اس لقب نبوۃ و منصب کی تعظیم وتکریم وغیرت کی کہ اس وقت بعینہ مرزا قادیانی کی طرح زبانی توحید الٰہی ورسالت رسول اللہ ﷺ کا اقرار کر کے مسیلمہ کذاب نے جب اپنے لئے نبی کہلانا روا رکھا تو صدیق اوّل نے اس کے ساتھ تدارک کا جو معاملہ کیا وہ اظہر من الشمس ہے اور بعد ختم نبوت ہرگز روا نہ رکھا کہ کوئی کاذب جھوٹا دغا باز اس لقب و خطاب سے پکارا جاوے۔ جب یہ حال ہے تو اب کوئی مکار آئے دن طرح طرح کے دعوے کرنے والا حیلہ و تدابیر سے چندہ و روپیہ فراہم کر کے اپنی جائیداد اور زیور بنانے والا کس منہ سے سیرت صدیقی سے ہو کر چادر پہننے کا دعویٰ کر کے نبی و رسول کہلا سکتا ہے۔

٣٨

قرآن مجید نازل ہوتا رہا۔ جن کو مخبر صادق ﷺ نے ملہم و ڈرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے عمر کے دل و زبان پر حق جاری اقتداء کرو۔ ابوبکرؓ وعمرؓ کان اور آنکھ ہیں۔ فرمایا ہر نبی کے الارض سے ہوتے ہیں۔ میرے وزیر اہل السماء سے جب ابوبکرؓ وعمرؓ ہیں۔ وغیرہ۔ یہ خلیفہ دوم با وجود اس شان فد سلطنتِ اسلامی کے، فرماتے کہ عہد رسول اللہ ﷺ میں اب وحی منقطع ہو چکی ہے۔ اب ہم ظاہر اعمال سے لیتے ہ کرتے ہیں۔

ایسا ہی خلیفہ اوّل نے فرمایا تھا۔ جب بعد ر زکوٰۃ سے انکار کیا تو خلیفہ اوّل نے کہا کہ اگر ایک رسی اون تو میں ان سے جہاد کروں گا۔ اس پر جب عمرؓ نے کہا کہ ورفق کریں تو جواب میں فرمایا کہ تو جاہلیت میں ایسا جبار اور دین کامل ہو چکا میں اپنی حیات میں اس کا نقصان کی اللہ ﷺ کے جب سیدنا ابوبکرؓ وعمرؓ ام ایمنؓ کی زیارت کو ایمنؓ نے کہا کہ میں اس لئے روتی ہوں کہ آسمان سے و

پس اب غور طلب یہ ہے کہ جو لوگ حاضر الو اللہ وسنت رسول اللہ ﷺ سے ایسے ماہر وواقف تھے فرمائے۔ وہ کبرائے امت و پیشوایان دین تو فرماویں کہ مستغرق دنیا کی شیخی و بلند پروازی دیکھئے کہ کس جسارت اوصاف سفلیہ نزول وحی کا دعویدار ہے اور اپنی وحی پر مث آیات کو اپنے حق میں نازل ہونا مانتا ہے اور پھر امروہی عمی ہو کر مرزا قادیانی کی حمایت میں کہتے ہیں کہ دعویٰ کیا ہے۔ جس کا انکار اجماع امت کر رہا ہے۔ اَ

"فانها لا تعمى الابصار ولكن تعمى القلوب

٣٩

صفحہ ٧٣

چہارم ...... صدیق خلیفہ اوّل کے بعد امیر المومنین خلیفہ ثانی کی شان دیکھئے جن کی موافقت میں قرآن مجید نازل ہوتا رہا۔ جن کو مخبر صادق ﷺ نے ملہم محدث الامۃ فرمایا۔ فرمایا شیطان ، عمرؓ سے ڈرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے عمر کے دل و زبان پر حق جاری و ظاہر فرمایا ہے۔ میرے بعد ابوبکرؓ و عمرؓ کا اقتداء کرو۔ ابوبکرؓ و عمرؓ کان اور آنکھ ہیں۔ فرمایا ہر نبی کے لئے دو وزیر اہل السماء سے دو وزیر اہل الارض سے ہوتے ہیں۔ میرے وزیر اہل السماء سے جبرائیل و میکائیل ہیں اور اہل الارض سے ابوبکرؓ و عمرؓ ہیں۔ وغیرہ۔ یہ خلیفہ دوم باوجود اس شان و مرتبہ فی الدین مع عظیم الشان ظاہری سلطنت اسلامی کے، فرماتے کہ عہد رسول اللہ ﷺ میں لوگوں کا حال وحی سے معلوم ہو جاتا تھا۔ اب وحی منقطع ہو چکی ہے۔ اب ہم ظاہر اعمال سے لیتے ہیں جو ہم کو بظاہر اچھا معلوم ہو اس کا اعتبار کرتے ہیں۔

ایسا ہی خلیفہ اوّلؓ نے فرمایا تھا۔ جب بعد رسول اللہ ﷺ عرب نے مرتد ہو کر ادائے زکوٰۃ سے انکار کیا تو خلیفہ اوّلؓ نے کہا کہ اگر ایک رسی اونٹ باندھنے والی سے بھی یہ انکار کریں گے تو میں ان سے جہاد کروں گا۔ اس پر جب عمرؓ نے کہا کہ یا خلیفہ رسول ﷺ آپ لوگوں سے تالیف و رفق کریں تو جواب میں فرمایا کہ تو جاہلیت میں ایسا جبار اور اسلام میں ایسا ضعیف؟ وحی منقطع ہو گئی اور دین کامل ہو چکا میں اپنی حیات میں اس کا نقصان کیونکر گوارا کر سکتا ہوں؟ اسی طرح بعد رسول اللہ ﷺ کے جب سیدنا ابوبکرؓ و عمرؓ ام ایمنؓ کی زیارت کو گئے اور ان کے رونے کا سبب پوچھا تو ام ایمنؓ نے کہا کہ میں اس لئے روتی ہوں کہ آسمان سے وحی منقطع ہو گئی۔ (مسلم)

پس اب غور طلب یہ ہے کہ جو لوگ حاضران وحی الٰہی و مصاحب رسول اللہ ﷺ کتاب اللہ و سنت رسول اللہ ﷺ سے ایسے ماہر و واقف تھے اور جن کے یہ اوصاف مخبر صادق نے خود فرمائے۔ وہ کبرائے امت و پیشوایان دین تو فرماویں کہ وحی منقطع ہو چکی اور اب چنگیز خانی مغل مرزا مستغرق دنیا کی شیخی و بلند پروازی دیکھئے کہ کس جسارت سے ان سب کے مخالف اپنے اوپر بایں اوصاف سفلیہ نزول وحی کا دعویدار ہے اور اپنی وحی پر مثل آیات قرآن مجید ایمان رکھتا ہے۔ قرآنی آیات کو اپنے حق میں نازل ہونا مانتا ہے اور پھر امروہی صاحب آنکھیں بند کر کے صم بکم عمی ہو کر مرزا قادیانی کی حمایت میں کہتے ہیں کہ مرزا قادیانی نے اس نبوت و رسالت کا کہاں دعویٰ کیا ہے۔ جس کا انکار اجماع امت کر رہا ہے۔ افسوس ایسی سمجھ و نظر پر سچ اور بالکل صحیح ہے۔

"فانها لا تعمى الابصار ولكن تعمى القلوب التي في الصدور"

پنجم ...... بعد میں امیر المومنین سیدنا و سید المسلمین علی مرتضیٰؓ کو بوقت غزوۂ تبوک رسول اللہ ﷺ

٣٩

صفحہ ٧٥

نے مدینہ میں اپنا خلیفہ کر کے فرمایا: ”انت منی بمنزلة هارون من موسیٰ الا انه لا نبی بعدی“ جب علی مرتضیٰ نے عرض کی کہ آپ مجھ کو مستورات اور بچوں پر خلیفہ کرتے ہیں تو آپ نے فرمایا کہ تم اس بات پر راضی نہ ہوئے کہ تم میرے ساتھ اسی طرح جیسا کہ ہارون موسیٰ کے ساتھ تھے۔ یعنی جب موسیٰ کوہ طور پر گئے تھے تو ہارون علیہ السلام کو اپنی قوم پر اپنا خلیفہ کر گئے تھے۔ اصلاح قوم کے لئے۔ ایسا ہی آنحضرت ﷺ نے ابن مکتوم کو بھی امامتہ الناس کے لئے خلیفہ کیا تھا۔ پھر علی مرتضیٰ کو آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ تجھ میں عیسیٰ والی مثال ہے۔ یہود نے تو یہاں تک بغض کیا کہ ان کی والدہ صدیقہ پر بہتان باندھا اور نصاریٰ نے یہاں تک محبت کی کہ ان کو ایسی منزل پر پہنچایا جو ان کی نہ تھی۔ اسی طرح ابوذرؓ کو بھی رسول اللہ ﷺ نے اصدق اور اشبہ عیسیٰ ابن مریم فرمایا تھا۔ اب امروہی صاحب ہارون علیہ السلام والی منزلت کو شاید خلاف مدعا سمجھ کر اس سے سکوت کر کے دوسری عیسیٰ والی مثال سے خود کہتے ہیں کہ جناب علی مرتضیٰ کو بھی مسیح کا بروز رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے۔

خیر کچھ ہی ہو دیکھنا تو یہ ہے کہ باوجود ان عالی اوصاف و عظمت شان کے علی مرتضیٰ اور ابوذرؓ نہ کبھی بروزی و ظلی ہارون علیہ السلام بنے اور نہ کبھی عیسیٰ علیہ السلام و مثیل عیسیٰ علیہ السلام بنے اور نہ ابن مکتوم وغیرہ جن کو خود رسول اللہ ﷺ نے امام بنایا تھا کبھی امامت کے دعویدار ہوئے۔ عمرؓ نے کبھی نزول وحی کا دعویٰ نہ کیا۔ پس اگر بروزی ظلی غیر مستقل نبی ورسول ہونے سے ختم نبوت کی مہر نہیں ٹوٹتی تھی تو ان اکابر کو ایسا کہلانے سے کون مانع تھا؟

ششم ...... یہ اکابر صدر امتہ واقعتاً فنا فی الرسول بلکہ فنا فی اللہ تھے۔ چونکہ رسول اللہ ﷺ نے ختم نبوت ورسالت کے بارے میں ”لا نبی بعدی“ فرمایا تھا اور لفظ نبی ورسول کا کسی کے لئے علانیہ مقرر و جائز کرنا تو درکنار اپنے زعم و خیال میں بھی نبی ورسول کا لقب لانے والے یا کہنے والے کو ”كلهم يزعم انه رسول الله“ فرما کر ”دجالون کذابون“ میں داخل فرمایا تھا۔ لہٰذا ان اکابر امت نے باوجود رسول اللہ ﷺ کی زبان مبارک سے اپنے یہ اوصاف و القاب سن کر پھر بھی قرآن مجید کی آیت ختم نبوت اور رسول اللہ ﷺ کا اس بارہ میں ارشاد مدنظر رکھ کر کسی نے نبی ورسول کا لقب و خطاب نہ بروزی نہ ظلی نہ جزئی ، غیر مستقل، مثیل وغیرہ اپنے لئے کبھی جائز نہیں رکھا۔ پھر بعد خیرالقرون کے ہزاروں اولیاء اللہ فنا فی الرسول وفنا فی اللہ اس امت مرحومہ میں ہوئے۔ انہوں نے بھی ان خطابات کو اپنے لئے یا بغیر از انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام کے کسی دوسرے کے لئے بولنا یا اطلاق کرنا ہرگز گوارا نہیں کیا۔ اس طرح اب بھی فقرہ ہم اہل کشف خواہ ان کو کیسے

٤٠

ہی الفاظ و القاب الہام رؤیاء کشف وغیرہ میں آویں ۔ کبھی ہرگز جائز اور روا نہیں رکھتے اور اہل علم واقف تصوف ایک الرسول و احکام شرعیہ و اتباع سبیل المومنین سے ہرگز قدم اجماع امتہ مرحومہ چلا آیا ہے۔ جس کے لئے شارع علیہ الـ کبھی ضلالت و گمراہی پر ہرگز اجماع نہ ہوگا۔

ہفتم ...... ”بموجب حكم وارشاد شارع علیہ امرنا هذا “ کے اسلام کا مسلمہ مسئلہ ہے کہ امر دین اسلام جس کا اثر و عملدرآمد خیرالقرون میں ثابت نہ ہو تو وہ ضلالت اب چونکہ قرآن مجید کے رو سے نبوۃ و رسالت ختم ہو چکی نبی بعدی“ فرما دیا بلکہ جو کوئی اپنے آپ کو نبی اللہ کـ کذابون“ میں داخل فرمایا ۔ صحابہ کرام صدر اسلام اللہ ﷺ کی زبان مبارک سے اوصاف والقاب سننے کے جدید شریعت لانے والا جزئی و مثیل وغیرہ کسی نے کبھی نہ نے نبی ورسول خطاب اپنے لئے کھڑے یا مقرر کئے وہ ”د کیفر کردار کو پہنچا غرض خیرالقرون میں اس کا کہیں اہل اسـ کہ جو نبی ورسول کہلایا وہ ذلیل وخوار ہوا۔ نظر بریں وجوہ اسـ خلاف قرآن مجید خلاف رسول اللہ ﷺ خلاف سلف و خلف نبی ورسول خواہ بروزی خواہ ظلی و غیرمستقل وجزئی وغیرہ ا بناء علی ہٰذا مرزا قادیانی کے یہ عام دعاوی و مماثل نبی و بنانے وغیرہ کے سراسر باطل الحاد و زندقہ ہیں اور جو کوئی الـ ہو خواہ امروہی خواہ اور کوئی وه ”و من يشاقق الرسول غير سبيل المؤمنين نوله ماتولى ونصله جهنم دائرہ اسلام سے بالکل خارج ہے اور اسی لئے سب واقـ و جماعت مرزا سے متنفرو بیزار ہو کر ”ربنا لاتزغ قلوب لدنک رحمۃ انک انت الوھاب“ پڑھتے ہیں۔

امروہی کے مرزا کو فنا فی الرسول بلکہ بروزی

٤١

صفحہ ٧٥

ہی الفاظ والقاب الہام رؤیاء کشف وغیرہ میں آویں۔ کبھی اپنے آپ پر خطاب نبی و رسول وغیرہ ہرگز جائز اور روا نہیں رکھتے اور اہل علم واقف تصوف ایک ذرہ برابر بھی اطاعت اللہ واطاعت الرسول واحکام شرعیہ واتباع سبیل المومنین سے ہرگز قدم باہر نہیں رکھتے۔ گویا اس پر آج تک اجماع امتہ مرحومہ چلا آیا ہے۔ جس کے لئے شارع علیہ الصلوٰۃ والسلام کا ارشاد ہے کہ اس امت کا کبھی ضلالت و گمراہی پر ہرگز اجماع نہ ہوگا۔

ہشتم ...... ”بموجب حکم وارشاد شارع علیہ الصلوٰۃ والسلام من احدث فی امرنا ھذا“ کے اسلام کا مسلمہ مسئلہ ہے کہ امر دین اسلام میں جو کوئی بدعت نئی چال و طرز نکالے جس کا اثر وعملدرآمد خیرالقرون میں ثابت نہ ہو تو وہ ضلالت و گمراہی ہے جس کی پاداش جہنم ہے۔ اب چونکہ قرآن مجید کے رو سے نبوۃ ورسالت ختم ہوچکی۔ رسول اللہ ﷺ نے اس بارہ میں ”لا نبی بعدی“ فرما دیا بلکہ جو کوئی اپنے آپ کو نبی اللہ کہے یا اس کو خیال کرے اسے ”دجالون کذابون“ میں داخل فرمایا۔ صحابہ کرام صدر اسلام نے بموجودگی فضائل وکمالات اور رسول اللہ ﷺ کی زبان مبارک سے اوصاف والقاب سننے کے بھی نبی ورسول بروزی ظلی غیرمستقل جدید شریعت لانے والا جزئی ومثیل وغیرہ کسی نے کبھی نہ کہلایا نہ کسی کے لئے جائز رکھا بلکہ جس نے نبی ورسول خطاب اپنے لئے گھڑے یا مقرر کئے وہ ”دجالون کذابون“ میں شمار ہوکر اپنے کیفر کردار کو پہنچا غرض خیرالقرون میں اس کا کہیں اہل اسلام میں نام ونشان نہیں۔ اگر ہے تو یہی کہ جو نبی ورسول کہلایا وہ ذلیل وخوار ہوا۔ بنابریں وجوہ اب ہرگز کسی مسلمان کو لائق وجائز نہیں کہ خلاف قرآن مجید خلاف رسول اللہ ﷺ خلاف سلف وخلف صالحین رضوان اللہ علیہم اجمعین لقب نبی ورسول خواہ بروزی خواہ ظلی وغیرمستقل وجزئی وغیرہ اپنے لئے تراش کر جائز ومباح کرے۔

بناء علی ہٰذا مرزا قادیانی کے یہ عام دعاوی ومسائل نبی ورسول کہلانے اپنی زوجہ کو ام المرزائین بنانے وغیرہ کے سراسر باطل الحاد و زندقہ ہیں اور جو کوئی ان امور ومسائل میں اس کا حامی ومصدق ہو خواہ امروہی خواہ اور کوئی وہ ”ومن یشاقق الرسول من بعد ما تبین لہ الھدیٰ ویتبع غیر سبیل المؤمنین نولہ ماتولیٰ ونصلہ جہنم وسآت مصیرا“ کا ظاہر مصداق اور دائرہ اسلام سے بالکل خارج ہے اور اسی لئے سب واقف اور دیندار مسلمان اب مرزا قادیانی وجماعت مرزا سے متنفر وبیزار ہوکر ”ربنا لاتزغ قلوبنا بعد اذ ھدیتنا وھب لنا من لدنک رحمۃ انک انت الوھاب“ پڑھتے ہیں۔

امروہی کے مرزا کو فنا فی الرسول بلکہ بروزی آنحضرت ﷺ بنانے سے تو بے اختیار

٤١

صفحہ ٧٧

ہنسی آتی ہے اور تعجب ہوتا ہے کہ کجا وہ ذات مطہر و مبارک سید الاولین والآخرین ﷺ اور کجا مرزا اسفل السافلین کجا وہ ہر وقت مصروف ذکر اللہ ورحمۃ اللعالمین ﷺ اور کجا مرزا ہر وقت مصروف سب و شتم و حاسد مؤمنین بدخواہ دشمن مخلوق رب العالمین ۔ کجا وہ مصداق و مخاطب ” انک لعلیٰ خلق عظیم“ اور کجا مرزا فوارہ لعن طعن ...... لئیم ۔ کجا وہ واخفض جناحک للمؤمنین کا عامل و بالمو منین رؤف رحیم ﷺ نرمی سے درگزر و عفو کرنے والا اور کجا مرزا فظاً غلیظ القلب بات بات پر بھڑک کر مؤمنین سے دست و گریبان ہو کر ان کو صلواتیں سنانے والا ۔ کجا وہ شیریں زبانی و عذب البیانی سے مخالف اور دشمنوں کو اپنا فرمانبردار بنانے والا اور کجا مرزا سخت درشت کلامی سے مسلمانوں کو متنفر و بیزار کرنے والا ۔ کجا وہ منبع جود و کرم و معدن سخا اور کجا مرزا اپنی خوش گزرانی ، زیور بنانے، جائیداد ملک املاک بڑھانے کے لئے ہر ایک سے حیلہ وحوالہ سے چندہ روپیہ لینے میں یکتا ۔ کجا وہ سید الزاہدین دنیا کو سجن المؤمنین و جنت الکافرین سمجھنے اور فرمانے والا اور کجا یہ مرزا مشک و عنبر ڈال کر قوۃ باہ واعصاب کے نسخے استعمال کر کے بیدمشک کیوڑا، خس کی ٹٹی پر بسر کرنے والا ۔ کجا وہ ہر امر و ہر حال میں متوکل علی اللہ اور کجا مرزا ذرا سے مقدمہ پر متوکل علی الوکلاء۔ کجا وہ سر پر شمشیر برہنہ و کشیدہ دیکھ کر و مصائب کے وقت خیر الحافظین کو حافظ و ناصر جان کر ولا حول ولا قوۃ الا باللہ پڑھنے والا اور کجا مرزا ذرا سے شک و وہم پر خوشامد و لجاجت اہل دنیا و حکام کی منافقانہ مدح و ثناء کر کے ہاتھ جوڑنے اور پاؤں پڑنے والا اور اس مضمون کے لچیدار اشتہارات ورسائل اردو وانگریزی میں نکالنے والا ۔ کجا وہ شرم و حیا و پردہ کی تعلیم دینے والا اور کجا مرزا عار ننگ و ناموس مستورات کو غیر محرم کے ساتھ ہوا کھلانے والا وغیرہ۔

سید الاولین والآخرین ﷺ کو دینی بادشاہت کے ساتھ ظاہری و دنیاوی سلطنت بھی اللہ تعالیٰ نے ایسی عطاء فرمائی تھی کہ کسی کو نصیب کہاں اور مال و دولت و غیرہ بھی بیحد و حساب آتا رہا۔ لیکن آپ اپنے گریباں میں منہ ڈال کر سوچیں کہ آنحضرت ﷺ نے بھی کبھی بی بی عائشہؓ یا اپنی لخت جگر فاطمۃ الزہراؓ کو مرزا قادیانی کی طرح ہزار ہا روپیہ کا طلائی زیور بنا دیا تھا یا وہ کبھی عمارات باغات و آراستگی وسفیدی مکانات میں مصروف ہوئے تھے؟ سید الزاہدین والمتقین کے زہد فی الدنیا وتقویٰ اللہ کے حال سے کتب سیر معمور ہیں ۔ جن کا کچھ حصہ عصاء موسیٰ میں بھی درج ہے کہ تین تین چاند دیکھے جاتے اور گھر میں کچھ نہ پکتا۔ چراغ نہ جلتا جو روپیہ و مال آتا اس وقت صدقہ للہ خرچ فرما دیتے ۔ کل کے واسطے کچھ ذخیرہ نہ رکھتے۔ ٤٢

ترک دنیا بود سنت مصطفےٰ

آنحضرت ﷺ بالکل رو بحق اور مرزا ہمہ تن پے رسول اللہ ﷺ کسی دوسرے کا اونچا بلند مکان فرمادیں ۔ سلام کا جواب نہ دیں ۔ اپنے گھر میں ایک دانا روپیہ کا زیور جائیداد رکھ کر غیروں کے مال سے دل کو وگھنٹہ گھر بنانے کی آرزو و فکر میں رہے اور بموجودگی املاک اپنے فہم و دین و ایمان میں فنا فی الرسول اور بروز محمدی کا یہی علم و حدیث دانی کا نتیجہ ہے یا حدیث شریف ” اذا ل نہم...... صدیقؓ و فاروقؓ کا حال بھی ظاہر ہے کہ ای قربان کر دیا تھا۔ کچھ پاس نہ رکھا جب اللہ تعالیٰ نے طرح قدم بقدم رسول اللہ ﷺ زاہدانہ فقیرانہ درویشا مال و اسباب زیور جائیداد نہ بنائی ۔ پس جب ان آ و جائیداد وحیلہ حوالہ کس طرح ان کی سیرۃ حاصل کر ۔ کی چادر پہننے کا مستحق و دعویدار ہو سکتا ہے ۔ فتدبر ! وہم ...... رہا لفظ بروز سو اس کے معنے لغت کے رو بھی یہ لفظ ” ولما برزوا لجالوت وجنودہ ( (نساء: ٨١) وبرزولله جميعا (ابراهیم: ٢١) ا قل لو كنتم في بيوتكم لبرز الذين كتب ع الجحيم للغوين (الشعراء: ٩١) وبرزت الج بار زون (المؤمن: ١٦) وترى الارض بار کریمہ میں انہی معنے میں آیا ہے کہ خاص وہی اشخا کی جائے گی یا زمین صاف نکلے گی ۔

لیکن جیسے معنی بروز کے مرزا لیتا ہے کہ ا ہوا یہ معنی ہر گز صحیح نہیں نہ لغت کے رو سے نہ بول چ یہ ہیں کہ محمد ﷺ خود ظاہر ہوئے اور تشریف لا ٢٥٣

صفحہ ٧٧
ترک دنیا بود سنت مصطفےٰ
عاشقان کردند ایں سنت ادا

آنحضرت ﷺ بالکل رو بحق اور مرزا ہمہ تن رو بدنیائے تجارت فراہمی چندہ کے در پے رسول اللہ ﷺ کسی دوسرے کا اونچا بلند مکان بنا ہوا دیکھ کر ناراض ہو کر اس سے اعراض فرماویں۔ سلام کا جواب نہ دیں۔ اپنے گھر میں ایک دینار و درہم بھی نہ رکھیں اور مرزا قادیانی ہزارہا روپے کا زیور جائیداد رکھ کر غیروں کے مال سے دس ہزار روپیہ کی لاگت کا اپنا یادگاری بلند مینار و گنبد گھر بنانے کی آرزو و فکر میں رہے اور بموجودگی ان حالات رویہ کے امروہی صاحب اس کو اپنے فہم و دین و ایمان میں فانی الرسول اور بروز محمدی بنا کر اس کی تصدیق و حمایت کر رہے ہیں۔ کیا یہی علم و حدیث دانی کا نتیجہ ہے یا حدیث شریف ”اذا لم تستحی فاصنع ماشئت“ پر عمل ہے؟

نہم....... صدیق و فاروق کا حال بھی ظاہر ہے کہ اول جو مال و متاع تھا وہ رضاء الٰہی و اسلام پر قربان کر دیا تھا۔ کچھ پاس نہ رکھا جب اللہ تعالیٰ نے عظیم الشان سلطنت عطاء فرمائی پھر بھی اسی طرح قدم بقدم رسول اللہ ﷺ زاہدانہ فقیرانہ درویشانہ تمام عمر بسر کی مرزا قادیانی کی طرح کبھی کوئی مال و اسباب زیور جائیداد نہ بنائی۔ پس جب ان کا یہ حال تھا تو مرزا قادیانی بایں فراہمی مال و جائیداد و حیلہ حوالہ کس طرح ان کی سیرۃ حاصل کرنے اور پھر ان سے بھی بڑھ کر نبوت و رسالت کی چادر پہننے کا مستحق و دعویدار ہو سکتا ہے۔ فتدبر!

دہم....... رہا لفظ بروز سو اس کے معنے لغت کے رو سے باہر آنا، نکلنا، ظاہر ہونا اور قرآن مجید میں بھی یہ لفظ ”ولما برزوا لجالوت وجنودہ (البقرۃ:٢٥٠) فاذا برزوا من عندک (نساء:٨١) وبرزواللہ جميعا (ابراہیم:٢١) وبرزوا للہ الواحد القھار (ابراہیم:٤٨) قل لو كنتم فى بيوتكم لبرز الذین كتب عليهم القتل (آل عمران:١٥٤) وبرزت الجحيم للغوين (الشعراء:٩١) وبرزت الجحيم لمن يرىٰ (النازعات:٣٦) يوم ہم بارزون (المؤمن:١٦) وترى الارض بارزة وحشرنہم (الکھف:٤٧)“ ان آیات کریمہ میں انہی معنے میں آیا ہے کہ خاص وہی اشخاص بذات خود نکلے یا ظاہر ہوئے یا دوزخ ظاہر کی جائے گی یا زمین صاف نکلے گی۔

لیکن جیسے معنی بروز کے مرزا لیتا ہے کہ آنحضرت ﷺ کی بجائے وہ مرزا قادیانی ظاہر ہوا یہ معنی ہرگز صحیح نہیں نہ لغت کے رو سے نہ بول چال و محاورہ کے رو سے۔ بروز محمد ﷺ کے معنی تو یہ ہیں کہ محمد ﷺ خود ظاہر ہوئے اور تشریف لائے۔ چونکہ یہ صاف کھلا تناسخ ہے۔ جس کا

٤٣

صفحہ ٧٩

مرزا قادیانی نے مخالف ہو کر رد تناسخ شائع کر چکا ہے اور امروہی صاحب بھی اس کی نفی کرتے ہیں کہ یہ سنت اللہ نہ تھی کہ خود آنحضرت ﷺ قبر مبارک سے خروج کر کے اس دنیا میں رونق افروز ہوں۔ نظر بریں حالات، لفظ بروز کا دھوکا دے کر مرزا قادیانی کا آنحضرت ﷺ بننا اور امروہی کا اس کی تصدیق وحمایت کرنا سراسر غلط بلکہ الحاد و زندقہ ہے۔

اصل کی غیبوبت واوجھل میں ظل کا وجود کہاں۔ پھر اسلامی مسئلہ ہے کہ آنحضرت ﷺ کا سایہ ہی نہ تھا۔ ایسا ہی عکس یا تو آئینہ میں یا پانی وغیرہ شفاف اجسام میں پڑتا ہے۔ مرزا ظاہری باطنی مجذوم کا جسم بایں موجود اوصاف ظاہری و باطنی اس لائق کہاں کہ ذات مقدس سید الاولین والآخرین ﷺ کا عکس اس میں ظاہر ہو؟ بالآخر ظل میں جو بے حقیقت اور محض ایک نظری و مرئی جسم ہے جس کا فی الحقیقت کچھ وجود نہیں اور اسی طرح عکس کہ جب ایک جسم کسی عکس پذیر جسم کے مقابل ہو تو وہی نظر آتا ہے۔ ورنہ کچھ حقیقت وجود نہیں رکھتا تو پھر ظل وعکس میں کل کمالات پورے اصل کے حقیقتاً کیونکر محقق ہو سکتے ہیں؟ بنا علیٰ ہذا سب الفاظ بروز ظل عکس وغیرہ مرزا کی خود غرضی کے تراشیدہ سراسر باطل اوہام ردی و نافرجام خیالات ہیں اور ہرگز قابل سماعت نہیں۔

ورسول کے معنی خدا کی طرف سے بھیجا ہوا۔ جب آپ نے مرزا قادیانی کو مجدد مان لیا تو مبعوث من جانب اللہ بھی مان لیا اور جب مبعوث تسلیم کر لیا تو ظلی رسول بھی مان لیا۔ براہین جو آپ کو مسلم ہے اس میں اس قسم کے الہام موجود ہیں۔ مولوی محمد حسین بھی ان تمام الہاموں کو تسلیم کر چکے تھے۔ بلکہ تقریظ لکھی تھی۔“

جواب ...... کذاب دجال کی صحبت کے اثر یا چندہ کے لالچ سے آپ کے فہم واعتقاد کو بھی جذام لگ گیا ہے۔ نبی ورسول کے معنے لغت میں خبر دینے والا بھیجا ہوا سہی لیکن بحث تو اس میں ہے کہ بموجب آیت قرآن مجید ”ولکن رسول الله وخاتم النبیین (احزاب: ٤٠)“ اور حدیث شریف ”لا نبی بعدی “ کے جو شخص بعد خاتم النبیین ﷺ کے یہ خطابات والقاب اپنے لئے مقرر یا جائز کرے وہ بموجب فیصلہ رسول اللہ ﷺ ”کلهم يزعم انه رسول الله يا نبی الله (ترمذی ج ٢ ص ٤٥)“ کے دجالین کذابین میں داخل ہے یا نہیں؟ اور یہ ثابت ہے کہ ایسا منہ پھٹ گستاخ ضرور دجال و کذاب ہے۔ کیونکہ سوا تیرہ سو برس میں کسی نے بھی نبی ورسول نہیں

٤٤

کہلایا؟ نہ ظلی ، نہ بروزی نہ عکسی وغیرہ ۔ حافظ محمد یوسف کے ابتداء میں دین اسلام کی طرف سے بحث ومباحثہ کر یا کبھی اس کے اپنے آپ کو مجدد اشارۃً کہنے پر خاموش رہ ہیں۔ کیا آپ کو اس قدر سمجھ بھی نہیں کہ اگر یہ مسلما مرزا قادیانی کے مریدوں میں کیوں داخل نہ ہوتے۔ چـ تو پھر انہوں نے مرزا قادیانی کو خاک مانا؟ علاوہ بریں صدقات خیرات دینے والے تھے۔ آپ کی طرح محتاج کی خیراتی وجابی دستر خوان کی مکھی بن کر اس کے ہر کفر الہامات کا براہین میں موجود ہونا یا ان کو تسلیم کرنا۔

آیت ”هو الذی ارسل رسوله بالهدیٰ “ کو کہا کـ حضرت مسیح علیہ السلام کے حق میں ہے۔ جن کے دوبار اقطار میں پھیل جائے گا اور اسی طرح آیت ”عسی ربـ کے جلالی طور پر ظاہر ہونے کا اشارہ کہا اور الہام ”جری کہ امت محمدیہ کے بعض افراد کو حلۂ انبیاء بطور مستعار ملـ امروہی وسیا لکوٹی جیسے ناعاقبت اندیش دین فروش اپاہج کی خاطر اس کے ہر کفر والحاد کی ہاں میں ہاں ملا کر اس سے ایسا دلیر ہوا ہے کہ آیات قرآنی کا مورد بن کر نبی ور لوگ کیونکر گوارا کر سکتے ہیں۔

کا تسلیم کرنا فخر سے لکھ کر لوگوں کو دھوکا دیتے ہیں اس کا اللہ ذہین وفطین محدث ہیں۔ کچھ آپ کی طرح نیم ملاں بفضلہ تعالیٰ وتقدس سید عبداللہ صاحب مرحوم کی صحبت بابر

کہہ کر شریعت محمدی پر قائم و پرہیز گار جانتے تھے اور سا دیکھو

٤٥

صفحہ ٧٩

کہلایا، نہ ظلی، نہ بروزی نہ عکسی وغیرہ۔ حافظ محمد یوسف یا اور شریف النفس مسلمان جو مرزا قادیانی کے ابتداء میں دین اسلام کی طرف سے بحث ومباحثہ کرنے کے دعوے پر اس کے ممد و حامی رہے یا کبھی اس کے اپنے آپ کو مجدد اشارۃً کہنے پر خاموش رہے تو آپ اس کو مان لینا قبول کر لینا کہتے ہیں۔ کیا آپ کو اس قدر سمجھ بھی نہیں کہ اگر یہ مسلمان حقیقتاً مرزا قادیانی کو سچا مان لیتے تو وہ مرزا قادیانی کے مریدوں میں کیوں داخل نہ ہوتے۔ چونکہ ان کا مرزا قادیانی سے کلیتاً اتفاق نہ ہوا تو پھر انہوں نے مرزا قادیانی کو خاک مانا؟ علاوہ بریں حافظ جی اور ان کے رفیق تو مرزا قادیانی کو صدقات خیرات دینے والے تھے۔ آپ کی طرح محتاج و حاجت مند نہ تھے کہ طفیل چندے پر اس کی خیراتی دجالی دستر خوان کی مکھی بن کر اس کے ہر کفر و زندقہ کے مصدق و حامی ہو جاتے۔ پھر الہامات کا براہین میں موجود ہونا یا ان کو تسلیم کرنا۔

اول ...... براہین میں مرزا قادیانی نے کہیں کسی جگہ الہامات کی بناء پر دعویٰ نبوت نہیں کیا۔ بلکہ آیت ”ھو الذی ارسل رسولہ بالھدٰی“ کو کہا کہ یہ آیت جسمانی اور سیاست ملکی کے طور پر حضرت مسیح علیہ السلام کے حق میں ہے۔ جن کے دوبارہ دنیا میں تشریف لانے پر دین اسلام جمیع اقطار میں پھیل جائے گا اور اسی طرح آیت ”عسٰی ربکم ان یرحمکم“ کو مسیح علیہ السلام کے جلالی طور پر ظاہر ہونے کا اشارہ کہا اور الہام ”جری اللّٰہ فی حلل الانبیاء“ کی نسبت لکھا کہ امت محمدیہ کے بعض افراد کو حلہ انبیاء بطور مستعار ملتا ہے۔ یہ لوگ نبی نہیں ہوتے وغیرہ ۔ یہ تو امروہی و سیالکوٹی جیسے ناعاقبت اندیش دین فروش اپاہج مرزا کو مل گئے کہ متاع الدنیا قلیل وگزران کی خاطر اس کے ہر کفر والحاد کی ہاں میں ہاں ملا کر اس کو بانس پر چڑھاتے ہیں اور وہ بھی بدبختی سے ایسا دلیر ہوا ہے کہ آیات قرآنی کا مورد بن کر نبی ورسول بننے لگا ہے۔ جس کو دین سے واقف لوگ کیونکر گوارا کر سکتے ہیں۔

دوم ...... مرزا و مریدین جو اکثر مولوی محمد حسین صاحب کا براہین پر ریویو یا تقریظ لکھنا والہامات کا تسلیم کرنا فخر سے لکھ کر لوگوں کو دھوکا دیتے ہیں اس کا حال سنئے۔ مولوی محمد حسین صاحب ماشاء اللہ ذہین و فطین محدث ہیں۔ کچھ آپ کی طرح نیم ملاں مسئلہ الہام سے ناواقف و کورے نہیں پھر بفضلہ تعالیٰ و تقدس سید عبداللہ صاحب مرحوم کی صحبت با برکت دیکھ چکے ہیں۔

سوم ...... مولوی محمد حسین صاحب نے ریویو اس وقت لکھا تھا جب وہ مرزا قادیانی کو واللہ حسیبہ کہہ کر شریعت محمدی پر قائم و پرہیز گار جانتے تھے اور ساتھ ہی کہتے تھے کہ ہم کو ذاتی تجربہ نہیں۔ دیکھو

(ریویو ص ٢٨٤)

٤٥

صفحہ ٨٠

جب مرزا قادیانی اپنے آپ کو ادنیٰ امتی سمجھتا تھا۔ (٢٦٩، ٢٧٠) جب مرزا قادیانی مذہب اسلام کی دعوت کرتا تھا اور مذہب احمدی یا مرزائی نہ بنایا تھا۔ نبوۃ کا دعویٰ نہ تھا۔ (٢٧٨) جب مرزا قادیانی کو مسیح موعود ہونے کا دعویٰ نہ تھا۔ (٢٩١) پیغمبری کا دعویٰ نہ تھا۔ جب مرزا قادیانی اپنے الہامات کو دوسروں پر حجت قطعی نہ ٹھہراتا۔ علماء اسلام کا خلاف نہ کرتا۔ الہام کو دلیل شرعی نہ جانتا تھا۔ (٢٩٨، ٢٩٩) جب مرزا قادیانی کو مہبط وحی رسالت مورد نزول قرآن مجید ہونے کا دعویٰ نہ تھا۔ جب مرزا قرآن مجید کی آیات کا مورد نزول ومخاطب انہی انبیاء علیہم السلام کو مانتا تھا۔ (٢٦٤، ٢٦٢) جن کے حق میں وہ آیات ہیں اور معنے بھی ویسے ہی کرتا تھا اور کمالات انبیاء کا دعویدار نہ تھا۔ (٢١٨، ٢٥٧، ٢٥٨) جب مرزا قادیانی کو نزول قرآن مجید وحصول کمالات انبیاء کا اپنے میں دعویٰ تھا۔ اب آنکھیں کھول کر مرزا قادیانی کے ان حالات کو خواہ منافقانہ تھے حال کے موجودہ حالات سے موازنہ کرو کہ کس قدر زمین وآسمان وکفر واسلام کا فرق ہے اور اب مرزا قادیانی نبی ورسول مع کمالات ومورد ونزول ومخاطب آیات قرآن مجید بن کر کہاں کا کہاں نکل گیا اور کہاں جا گرا ہے؟

چہارم ...... مولوی صاحب نے مرزا قادیانی کے فہم کی غلطی بیان کی ہے۔ (٢٩١) مولوی صاحب انہی الہامات کے قائل ہیں جو کتاب اللہ کے مخالف نہ ہوں۔ بلکہ مؤید وموافق ہوں اور پھر بھی ان کو دلیل شرعی نہیں جانتے۔ (٣٠٣) پھر لکھا ہے کہ تلبیس ابلیس سے وہی الہامات محفوظ ہیں جو کتاب اللہ کے مخالف نہ ہوں۔ بلکہ مؤید وموافق ہوں۔ (٣٠٤) پھر کہا کہ جو ہمیشہ وسوسہ میں رہے اور وسوسہ شیطانی کو الہام رحمانی سمجھے وہ شیطان کا بھائی کہلانے کا مستحق ہے۔ جیسا کہ آج کل مرزا قادیانی کا ظاہر حال ہے۔ (٣٠٤) فرمایا کہ نبی کا الہام شرع اور دلیل ہے۔ ولی کا الہام شرعی دلیل نہیں۔ (٣٢٣) ولی کو اپنے الہام پر یقین وعمل کرنے کی شرط موافقت کتاب اللہ وشریعت محمدیہ ہے۔ (٣٢٥) صریح دلیل کتاب وسنت کے ہوتے کشف وغیرہ کو دلیل ٹھہرانے کی حاجت نہیں۔ (٣٢٧) فرمایا کہ ہم الہام غیر نبی کو حجت نہیں جانتے۔ ہم صرف کتاب اللہ وسنت کے پیرو ہیں۔ کسی کشفی الہامی غیر نبی کے متبع ومقلد نہیں وغیرہ۔ غرض مسئلہ الہام میں مولوی محمد حسین سلف وخلف صالحین کے بالکل موافق ہیں۔ ائمہ شریعت وطریقت مثل سید پیر عبدالقادر جیلانی، امام ربانی مجدد الف ثانی، شیخ ابوالحسن شاذلی، شاہ ولی اللہ رحمہم اللہ علیہم اجمعین وغیرہ کے بھی مسئلہ الہام میں اسی کے موافق اقوال ہیں۔ سب اہل اللہ فہم اہل کشف اس امر میں متفق ہیں اور آج تک کُلہم اتباع فخر الاولین والآخرین ﷺ کو ہی اپنا فخر جانتے رہے اور جانتے ہیں۔ کبھی کوئی نبی

٤٦

صفحہ ٨١

ورسول نہیں بنا اور نہ کہلایا۔ یہ تو مرزا قادیانی پر تباہی آئی کہ بے مرشد ہونے کے سبب الہامات ظلمات کی سند پر نبی ورسول بن کر خسر الدنیا والآخرۃ کا مصداق بن رہا ہے اور آپ کے فہم وعقل پر پتھر پڑے کہ اس مسئلہ سے جاہل و بے مذاق ہونے کے سبب محض شنید و دید سے مجرد مرزا قادیانی کے کہنے پر یا چندہ کی خاطر مرزا کے ردی وخلاف شریعت تراشیدہ الہامات واوہام پر مرزا قادیانی کو بروزی ظلی وغیرہ نبی ورسول معہ کمالات مان کر اس کی تصدیق کرتے ہیں۔ ”نعوذ باللہ من شرور انفسنا ومن سیات اعمالنا“

پنجم....... بالآخر مولوی صاحب نے ریویو میں لکھا ہے کہ یہ الہامات اور ان کی تاویلات حد امکان وتجویز عقل سے خارج نہیں۔ ثبوت وتحقق الہامات کی ہم نے شہادۃ نہیں دی۔ ہم نے بالفعل اسی قدر امکانی اور تجویزی رائے دی ہے۔ ہم کو ذاتی تجربہ و مشاہدہ نہیں اور اس امکانی رائے سے بھی ہمارا مقصود الہامات انبیاء کی تائید متصور ہے۔ براہین احمدیہ کے الہامات کی تائید ہمارا اصلی مقصود نہیں ہے۔ اس کے بعد مولوی صاحب نے براہین احمدیہ کے نقائص بیان کرنے میں مرزا قادیانی کی بے علمی سخت کلامی و بدتہذیبی بیان کی ہے اور آخر کو مولوی صاحب مرزا قادیانی کے حالات دیکھ بھال کر مرزا قادیانی سے بالکل منقطع علیحدہ و بیزار ہو گئے اور اس کے حالات فتویٰ میں شائع کر دیئے جو عالمان متبعان کی شان تھی۔ پس اب آپ بعد غور بتلا دیں کہ وہ مولوی محمد حسین صاحب کی تقریظ یا ریویو کس حوصلہ وعقل سے اپنی حمایت میں آپ پیش کرتے ہیں اور اس سے آپ کو کیا فائدہ؟

ششم....... رہا حافظ محمد یوسف صاحب کا الہامات کو ماننا سو اس کا جواب نمبر ٢ کے جواب میں آچکا ہے۔ مزید براں حافظ جی اللہ تعالیٰ کے فضل وکرم سے خود ملہم واہل کشف ہیں۔ لیکن اپنے شیخ کے قدم بقدم ہمیشہ مسکنت ان پر غالب رہتی ہے۔ کبھی اپنے الہامات وحالات کی شیخی نہیں بگھارتے۔ کسی سے ظاہر نہیں کرتے اور ہر امر میں کتاب اللہ وسنت کے متبع وپابند ہیں اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے کبھی ان کا الہام وکشف غلط وخطا نہیں ہوا۔ ایک مرتبہ ایک رئیس نے بڑی الحاح سے اپنی اولاد کے لئے حافظ جی سے دعا کرائی اور ان کے دعا کرنے پر ان کو معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ دو فرزند اس رئیس کو دے گا۔ یہ بات حافظ جی نے اس کو کہہ دی۔ اس امر کو چند برس گزر گئے۔ جس پر حافظ جی تعجب کیا کرتے کہ ہم سے تو ایسا معاملہ کبھی نہیں ہوا اور اس قدر دیر بھی کبھی نہیں ہوئی۔ آخر چند برس کے بعد اللہ تعالیٰ نے دو فرزند اس شخص کے گھر عطاء کئے۔ موضع چاہل ضلع امرتسر میں جا کر دریافت کر لو۔ اب تک وہ فرزند اس کے موجود ہیں۔ اُدھر مرزا قادیانی کا ایک بھی ایسا الہام

٤٧

صفحہ ٨٣

حافظ جی نے پورا سچا ہوتا نہیں دیکھا تو پھر حافظ جی مرزا قادیانی کے گاؤ خورد الہامات کی کیا وقعت کر سکتے ہیں؟

ہفتم ....... پہلے پہل اگر حافظ جی یا ان کے رفقاء نے حسن ظن سے مرزا قادیانی کا ملہم ہونا بھی مان لیا تو کیا مضائقہ؟ مدار کار تو انجام پر ہے۔ اللہ تعالیٰ جواد کریم و شکور علیم ہے۔ کسی کی انابت و محنت ضائع نہیں فرماتا۔ عجب نہیں کہ مرزا قادیانی ابتداء میں منیب ہو اور اس انابت کے سبب اس پر کچھ واردات و حالات بھی آئے ہوں۔ چونکہ بے مرشد و بے رہبر تھا۔ اس لئے ان کو سنبھال نہ سکا اور لوگوں کی محبت وتعظیم سے تکبر تعلی و شیخی میں آن کر سبیل المومنین سے علیحدہ و متوجہ دنیا ہو کر حقہ و مسلمہ مسائل اسلامی کو الٹ پلٹ کرنے سے بموجب ارشاد ”ومن يشاقق الرسول من بعد ما تبين له الهدى ويتبع غير سبيل المؤمنين نوله ما تولى ونصله جهنم وساءت مصيرا، من كان يريد حرث الاخرة نزدله فى حرثه ومن كان يريد الدنيا نؤتة منها وما له فى الآخرة من نصيب “ وغیرہ کے ارشاد ”ولاکنہ اخلد الی الارض واتبع هواه فمثله كمثل الكلب ان تحمل عليه يلهث او تتركه يلهث ذالک مثل القوم الذين كذبوا بايتنا فاقصص القصص لعلهم يتفكرون “ کا مصداق ہو گیا۔ دیکھ لو مال و دولت آنے پر کس قدر زیور و جائیداد مرزا نے بنالی ہے اور کہاں کا کہاں چلا گیا ہے کہ تمام دنیا میں کسی کو اپنے برابر نہیں سمجھتا۔ معاذ اللہ !

ہشتم ...... آپ اگر الہامات و کشوف کے بہت قدردان وشائق ہیں تو الہامات مندرجہ عصا ء موسیٰ کو غور سے دیکھیں۔ کیونکہ وہ ایسے بے ریا ملہمین کے الہامات ہیں جو مرزا قادیانی کی طرح ہرگز تعلی، شیخی وشہرۃ پسند نہ تھے اور نہ مرزا قادیانی کی طرح ان متقین ملہمین نے الہامات و کشوف کی کبھی تمام عمر دوکان کھولی تھی اور ان میں ایسے بھی ہیں جن کو مرزا قادیانی سے کچھ غرض واسطہ نہ تھا۔ بلکہ کچھ کچھ پہلے حسن ظن رکھتے تھے اور آج کل بھی ایک فقیر کو مرزا قادیانی کی نسبت اکثر الہامات ہوتے ہیں۔ ان میں سے روز عید الفطر گوشہ کو جو الہامات ہوئے وہ یہ ہیں۔ ” كـمـا بــلــونـا اصحاب السبت جزاء لمن كان کفر “ آپ ان الہامات کو کہیں لکھ رکھیں اور دیکھیں۔ انشاء اللہ العزیز و حکیم جل شانہ و عم نوالہ کی قدرت کاملہ سے بغیر کسی مخلوق کی مداخلت کے ان کا کیسا صحیح صحیح ظہور ہوتا ہے۔ ”لاحول ولا قوة الا بالله العلى العظيم“

٩ ...... امروہی صاحب لکھتے ہیں کہ: ”حضرت عیسیٰ علیہ السلام بنی اسرائیل کے نزول کے عقیدہ سے صدہائے نقصان صدہائے مفاسد اسلام کو ضرر شدید پہنچانے والے کے ایک مفسدہ عظیم

٤٨

الشان یہ لازم آتا ہے کہ آیت ”ولکن رسول بعدی“ سب غلط ہو جاتی ہیں۔ افسوس آپ کو ایسے

جواب ....... افسوس مرزائیوں کی کج فہمی و بودے استدلال آیت قرآن مجید ”وان من اهل الـــ (نساء:١٥٩)“ کے اور متعدد صحیح احادیث رســ تھے۔ ان کے بعد تابعین، تبع تابعین پھر صدہا ائمــ عظام وغیرہ مسلمین مؤمنین جو اسی عقیدہ پر پہلے آ معرفت و تقرب الہی کے اس قدر درجات حاصل کـ ان اکابران و پیشوایان کے نزدیک تو اس عقیدہ سـ مفسدہ لازم آیا اور نہ خاتم النبیین والی آیت اور ”لـ بدبخت و بے نصیب مرزائی جماعت کا برا ہو۔ عقیـ برکات اسلام کے سبب اپنا تراشیدہ اسلام ایسا ہوا پہنچتا ہے اور ان کے خیالات و اوہام باطلہ ذرا تکذیب اور ان کو فوراً باطل کرنے پر مستعد و تیار ہو

افسوس آپ ایسے حواس باختہ ہوئے کہ خاتم النبیین ﷺ کے بعد کسی کو نبی مانے۔ تاکہ ان کے ”لا نبی بعدی“ صحیح نہ رہے۔ وہ تو بعثت خاتم منصب نبوۃ پر مبعوث ہو کر اپنا منصب بلاغ و تـ کاملہ کا نشان دکھلانے کے لئے بنی اسرائیل کو ا جیسا کہ ہر شخص زمین پر پیدا ہونے والا آخر زمیـ علیہ السلام بھی قرب قیامت میں بموجب ارشـ کا مضمون پورا کرنے کو نزول فرماویں گے اور خاتم النبیین ﷺ پر نبوۃ ختم ہو چکی۔ لہٰذا مسیح علیہ السـ موافق بقیہ عمر بسر کر کے حسب قانون الٰہی زمیـ گے۔ جیسا کہ حدیث شریف میں آیا ہے۔ یـ شریعت نہیں ہے۔ جو ہے سب اسی کے تابـ

صفحہ ٨٣

الشأن یہ لازم آتا ہے کہ آیت ”ولکن رسول الله وخاتم النبیین“ اور حدیث ”لا نبی بعدی“ سب غلط ہو جاتی ہیں۔ افسوس آپ کو ایسے عقیدہ والوں پر کچھ اشتعال پیدا نہ ہوا۔“ جواب ...... افسوس مرزائیوں کی کج فہمی وبودے عقیدہ پر کہ صدر اسلام صحابہ کرامؓ جو بموجب استدلال آیت قرآن مجید ”وان من اهل الكتاب الا ليؤمنن به قبل موته (نساء: ١٥٩)“ کے اور متعدد صحیح احادیث رسول اللہ ﷺ سے نزول مسیح پر عقیدہ رکھنے والے تھے۔ ان کے بعد تابعین، تبع تابعین پھر صدہا اہل اللہ، اولیاء اللہ، ائمہ شریعت وطریقت، صوفیاء عظام وغیرہ مسلمین مؤمنین جو اسی عقیدہ پر پہلے آئے اور برکات و فیوض اسلام سے مالا مال ہو کر معرفت و تقرب الہی کے اس قدر درجات حاصل کئے کہ ان کی نظیر کہیں دوسری طرف مل نہیں سکتی۔ ان اکابران و پیشوایان کے نزدیک تو اس عقیدہ سے کوئی ضرر خفیف بھی اسلام کو نہیں پہنچا اور نہ کوئی مفسدہ لازم آیا اور نہ خاتم النبیین والی آیت اور ”لا نبی بعدی“ والی حدیث غلط ہوئی۔ لیکن اس بدبخت و بے نصیب مرزائی جماعت کا برا ہو۔ عقیدہ فلسفیانہ و نیچریانہ خیالات کے، محرومی و مہجوری برکات اسلام کے سبب اپنا تراشیدہ اسلام ایسا ہوا کہ اس کو عقاید سلف وخلف صالحین سے ضرر شدید پہنچتا ہے اور ان کے خیالات و اوہام باطلہ ذرا سی بات پر آیات قرآن مجید و حدیث شریف کی تکذیب اور ان کو فوراً باطل کرنے پر مستعد و تیار ہو جاتے ہیں۔ ”فویل للمکذبین“

افسوس آپ ایسے حواس باختہ ہوئے ہیں کہ یہ موٹی بات بھی نہیں سمجھ سکتے کہ مسیح تو خاتم النبیین ﷺ کے بعد کے نبی نہیں۔ جو کہ ان کے دوسری دفعہ آنے پر آیت خاتم النبیین وحدیث ”لا نبی بعدی“ صحیح نہ رہے۔ وہ تو بعثت خاتم النبیین ﷺ سے چھ سو سے کچھ سال پہلے ہی اول منصب نبوۃ پر مبعوث ہو کر اپنا منصب بلاغ و خدمت الہی بجا لاچکے اور اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت کاملہ کا نشان دکھلانے کے لئے بنی اسرائیل کو ان کی ایذاء سے روک کر ان کو اپنی طرف اٹھا لیا۔ جیسا کہ ہر شخص زمین پر پیدا ہونے والا آخر زمین پر ہی فوت ہو کر وہیں دفن ہوتا ہے۔ ایسا ہی مسیح علیہ السلام بھی قرب قیامت میں بموجب ارشاد الہی کے ”لیؤمنن به قبل موته (نساء: ١٥٩)“ کا مضمون پورا کرنے کو نزول فرمادیں گے اور چونکہ ان کی حالت رفع الی اللہ میں بعثت خاتم النبیین ﷺ پر نبوۃ ختم ہوچکی۔ لہٰذا مسیح علیہ السلام اسی خاتم النبیین ﷺ کی نبوت و شریعت کے موافق بقیہ عمر بسر کر کے حسب قانون الہی زمین پر فوت ہوکر قریب رسول اللہ ﷺ کے دفن ہوں گے۔ جیسا کہ حدیث شریف میں آیا ہے۔ چونکہ شریعت خاتم النبیین ﷺ کے ہوتے کسی کی شریعت نہیں ہے۔ جو ہے سب اسی کے تابع ہے۔ جیسا کہ خاتم النبیین ﷺ نے خود فرمایا:

٤٩

صفحہ ٨٥

”لو کان موسیٰ حیا لما وسعہ الا اتباعی“ اور قاعدہ مشاہدہ مسلمہ بھی یہی ہے کہ آفتاب کے روبرو کسی ستارے و چاند کی کوئی روشنی رہتی نہیں ہے۔ نظر بریں نزول مسیح کے اعتقاد و ان کے عملدرآمد بموجب شریعت محمدی علی صاحبہ الصلوٰۃ والسلام سے نہ اسلام کو کچھ ضرر ہے اور نہ کچھ مفسدہ لازم آتا ہے اور نہ مسیح علیہ السلام کی نبوۃ میں کچھ نقصان آتا ہے اور نہ خاتم النبیین ولا نبی بعدی میں کچھ فرق۔ یہ سراسر دجالیت ہے کہ مرزا قادیانی کو نبی و رسول بنانے کی خاطر طرح طرح کے بے بنیاد ابلیسی و دجالی وسوسے مریدین مرزا امت خیرالوریٰ کے دلوں میں ڈالتے ہیں اور قرآن مجید حبل اللہ المتین وعروۃ الوثقی کی آیات محکمات وحدیث رسول اللہ ﷺ میں شکوک پیدا کر کے خود خسر الدنیا والآخرۃ کے مصداق بن رہے ہیں۔ نعوذ باللہ! مرزائی جماعت بدعقیدتی کے باعث اسلام سے بہت دور جاپڑی ہے اور قرآن مجید کی آیات کی مخالفت وتکذیب کے اکثر در پے رہتی ہے ۔دیکھئے قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ ”وما قتلوہ وما صلبوہ (نساء:١٥٧)“ میں مسیح علیہ السلام کے قتل و صلیب کی قطعاً نفی فرماتا ہے اور ایسا ہی ”واذ کففت بنی اسرائیل عنک“ میں فرماتا ہے کہ ہم نے بنی اسرائیل کو مسیح علیہ السلام کی تکلیف دہی سے بند کر رکھا تھا۔ لیکن مرزائی جماعت بڑے زور سے ان آیات کی تکذیب کر کے کہتی ہے کہ یہودیوں نے مسیح علیہ السلام کو پکڑ کر صلیب پر چڑھا کر میخیں لگا کر ان کو زخمی اور وہ زخم بعد مرہم لگانے کے اچھے ہوئے۔ وغیرہ! یہ ان کا قرآن مجید پر ایمان ہے؟ معاذ اللہ! اور پھر زبان سے مسلمان بننے اور مسلمانوں سے میل ملاقات کے خواہاں ہوتے ہیں۔

غير المغضوب عليهم ولا الضالین (فاتحہ :٧)“ کو حصول جزئی وظلی رسالت کے لئے دلیل پیش کر کے اس سوال کا کہ جب جزئی نبوۃ وظلی رسالت افراد امت مرحومہ کو بھی حاصل ہو سکتی تو پھر خلفاء اربعہ اور تابعین خیرالقرون نے لفظ نبی ورسول کا اطلاق اپنے اوپر کیوں نہیں کیا۔ خود ہی یہ جواب دیا ہے کہ خیر القرون کی توجہ مسئلہ خاتم النبیین کے استقرار کی طرف رہی اور ان کی مساعی جمیلہ سے کاذب مدعیان نبوۃ کی سرکوبی ہوئی۔ لہٰذا بمزید احتیاط کمل افراد خیر القرون کو ایسا کوئی الہام الٰہی نہ ہوا کہ وہ اپنے اوپر لفظ نبی یا رسول کا بطور ظلیت کے اطلاق کرتے۔ باوجود یکہ فیوض خاتم النبیین سے جس کو ظلی نبوۃ کہتے ہیں سب بھرپور تھے اور بغیر الہام اعلام الٰہی کے خیرالقرون ہوں یا آخرین ملہم یہ دعویٰ ظلی نبوت کا کیونکر کر سکتے ہیں اور یہاں پر (مرزا قادیانی کا) تو کوئی ایسا دعویٰ ہے ہی نہیں جو بغیر الہام اور امر الٰہی کے ہو۔“

٥٠

جواب ...... افسوس صد افسوس ایسی کج فہمی اور ضلالت پر ومخالفت مسائل اسلام ہے۔ اوّل ...... اس دعا تعلیم فرمودہ رحمان و رحیم سے جو طلب سے جزئی وظلی رسالت کا حاصل ہونا سمجھنا سراسر غلط و بیہودہ کوئی مسلمان قبول نہیں کرتا۔ پھر بخاری ومسلم کی حدیث خو اور حدیث ”شر الامور محدثاتھا وکل بدعۃ ضلالۃ“ مسلمہ مسئلہ اسلام کو کہ دین اسلام میں جو کوئی نئی چیز نکا خیرالقرون میں ثابت نہ ہوتو وہ بدعت و گمراہی ومردود ہ کے برخلاف عملدرآمد خلفاء اربعہ وتابعین خیرالقرون مرزا قادیانی کے لئے جائز کیا ہے۔ دوم ...... خدمات دینی اسلامی و استحقاق مناصب د اوّل خود اعتراف کیا ہے کہ وہ مسئلہ خاتم النبیین کے استق جمیلہ سے کاذب مدعیان نبوۃ کی سرکوبی ہوئی۔ وغیرہ! کا فیوض خاتم النبیین سے بھر پور ہونے کے آپ ان اکابر استحقاق سے محروم کر کے مرزا قادیانی کو ان صدر اسلام قرار دیتے ہیں۔ جس کا یہ مطلب ہوا کہ کام وخدمات تو وسرفرازی وخطاب والقاب مرزا کو ملے۔ اگرچہ مرزا آ اہم مسئلہ خاتم النبیین کے استقرار میں ان پیشوایان اس کیا سمجھ وفہم ہے۔ سوم ...... آپ کا یہ کہنا کہ ان اکابر کو نبی ورسول کہلان ہے ۔ کیسی جہالت ہے جس سے ذات باری پر شکوہ واعتراض وارد کیا ہے کہ جو اکابر ظلی نبوۃ کے مستحق اور فیو نہیں کیا۔ لیکن ان کے مخالف مرزا قادیانی پر کیا۔ استغفر کو سید المرسلین خاتم النبیین فخر الاولین والآخرین ﷺ بنایا۔ اپنی زبان صدق بیان سے محدث ملہم فرمایا۔ فرمایا ! جن کو بمنزلہ ہارون علیہ السلام فرمایا۔ جن کو شبیہ و مثیل

٥١

صفحہ ٨٥

جواب...... افسوس صد افسوس ایسی کج فہمی اور ضلالت پر دیکھو۔ اس بیہودہ تحریر میں کس قدر نقص و مخالفت مسائل اسلام ہے۔

اوّل...... اس دعاء تعلیم فرمودہ رحمان و رحیم سے جو طلب ہدایت صراط مستقیم کے لئے ہے۔ اس سے جزئی و ظلی رسالت کا حاصل ہونا سمجھنا سراسر غلط و بیہودہ وہم ہے۔ ایسی تفسیر خلاف سلف و خلف کوئی مسلمان قبول نہیں کرتا۔ پھر بخاری و مسلم کی حدیث شریف ”من احدث فی امرنا ھذا“ اور حدیث ”شر الامور محدثاتھا و کل بدعۃ ضلالۃ و کل ضلالۃ فی النار“ والے مسلمہ مسئلہ اسلام کو کہ دین اسلام میں جو کوئی نئی چیز نکالے یا نئی چال چلے جس کا اثر و عملدرآمد خیرالقرون میں ثابت نہ ہو تو وہ بدعت و گمراہی و مردود ہے۔ آپ نے اس کو بالکل نیست و نابود کر کے برخلاف عملدرآمد خلفاء اربعہ و تابعین خیرالقرون کے اب لفظ نبی و رسول کا اطلاق مرزا قادیانی کے لئے جائز کیا ہے۔

دوم...... خدمات دینی اسلامی و استحقاق مناصب و مراتب خلفاء اربعہ و تابعین خیرالقرون کا اوّل خود اعتراف کیا ہے کہ وہ مسئلہ خاتم النبیین کے استقرار کی طرف متوجہ رہے اور ان کی مساعی جمیلہ سے کاذب مدعیان نبوۃ کی سرکوبی ہوئی۔ وغیرہ! پھر باوجود ان خدمات و مساعی جمیلہ کے نیز فیوض خاتم النبیین سے بھرپور ہونے کے آپ ان اکابر کو ان عالی القاب نبی و رسول کہلانے کے استحقاق سے محروم کر کے مرزا قادیانی کو ان صدر اسلام کی مخالفت پر ان عالیشان القاب کا مستحق قرار دیتے ہیں۔ جس کا یہ مطلب ہوا کہ کام و خدمات تو ان اکابر نے کیں۔ لیکن اس کا صلہ انعام و سرفرازی و خطاب و القاب مرزا کو ملے۔ اگرچہ مرزا قادیانی نے اکثر مسائل اسلام میں خصوصاً اہم مسئلہ خاتم النبیین کے استقرار میں ان پیشوایان اسلام کی مخالفت دل کھول کر کی۔ سبحان اللہ! کیا سمجھ و فہم ہے۔

سوم...... آپ کا یہ کہنا کہ ان اکابر کو نبی و رسول کہلانے کا الہام نہ ہوا۔ لیکن مرزا قادیانی کو ہوا ہے۔ کیسی جہالت ہے جس سے ذات مبارک شکور علیم پر معاذ اللہ نا انصافی و ناقدردانی کا الزام و اعتراض وارد کیا ہے کہ جو اکابر ظلی نبوۃ کے مستحق اور فیوض سے بھرپور تھے۔ ان پر یہ انعام و اکرام نہیں کیا۔ لیکن ان کے مخالف مرزا قادیانی پر کیا۔ استغفر اللہ العظیم! آپ کو یہ بھی نہیں سوجھا کہ جن کو سید الصادقین خاتم النبیین فخر الاولین والآخرین ﷺ نے خود اپنے سامنے مسلمانوں کا امام بنایا۔ اپنی زبان صدق بیان سے محدث ملہم فرمایا۔ فرمایا کہ میرے بعد اگر کوئی نبی ہوتا تو یہ ہوتا۔ خود جن کو بمنزلہ ہارون علیہ السلام فرمایا۔ جن کو شبیہ و مثیل عیسیٰ علیہ السلام فرمایا وغیرہ تو اس ذات

٥١

صفحہ ٨٧

بابرکات کے فرمان سے جس کی شان میں ’’وما ينطق عن الهوی ان هو الا وحی یوحی‘‘ موجود ہے۔ جس کی اطاعت کو اللہ تعالیٰ اپنی اطاعت فرماوے جس کی تابعداری اللہ تعالیٰ کی محبوبیت کا باعث ہو۔ اس کے اپنے فرمان کے مقابل کسی امتی کا الہام وغیرہ کیا حقیقت وحیثیت رکھتا ہے؟

ناواقف ہیں۔ شریعت اسلام میں اکابر اسلام اہل الہام و کشف کا اس مسئلہ پر اتفاق ہے کہ الہامات ظنی ہیں دلیل شرعی نہیں اور مخالف کتاب، سنت ہوں تو بالکل ہی ردی مردود بلکہ الحاد زندقہ ہیں۔ لیکن افسوس کہ آپ مرزا کے بے ثمر و خسران و خذلان والے الہام و آتھم والے و نکاح آسمانی وغیرہ والے آنکھوں سے دیکھ کر بھی پھر ان کی سند پر مرزا قادیانی کو نبی ورسول بنا رہے ہیں۔ کیا آپ کو یہ بھی معلوم نہیں کہ امام الملہمین عربیؐ بعد خاتم النبیین ﷺ کے الہامات کو اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب بھی نہ کرتے اور اسی طرح بعد میں سلف صالحین الہامات کو حق مان کر کتاب اللہ وسنت رسول اللہ ﷺ کے آگے الہامات وغیرہ کی کچھ حقیقت نہیں سمجھتے رہے۔ شیخ ابوالحسن شاذلیؒ فرماتے ہیں کہ عصمت کتاب وسنت میں ہے۔ نہ کسی کے کشف الہام و مشاہدہ میں، لہٰذا کشف الہام و مشاہدے پر ہرگز عمل جائز نہیں۔ مگر بعد عرض علی الکتاب والسنۃ۔

اسی کے موافق اقوال دوسرے ائمہ طریقت وشریعت کے ہیں جن کا ذکر صاحب عصاء موسیٰ نے کیا ہے۔ اسی طرح امام ربانی مجدد الف ثانیؒ نے ایک موقع پر فرمایا ہے کہ ’’قول محمد عربی عليه وعلى اله الصلوة والسلام در کار است نه کلام محی الدین عربی وصدر الدین قونوی وعبدالرزاق کاشی مارا بنص کاریست نه بفص فتوحات مدینہ از فتوحات مکیه مستغنی ساخته است‘‘ یہ تو ملہمین واہل کشف کے اقوال ہیں جن سے جہالت و ناواقفیت سے یا کسی حرص و لالچ کے سبب آپ مرزا قادیانی کے ردی تراشیدہ ناکام الہاموں کو مرزا قادیانی کی نبوۃ ورسالت میں دلیل وسند پیش کرتے ہیں۔ افسوس!

کے صراط مستقیم پر چلنے سے وہ انعام الٰہی جو ان پر ہوئے متبع کو حسب استعداد حاصل نہ ہوں تو پھر اس اتباع سے کیا فائدہ۔‘‘

جواب...... یہی فائدہ کہ اس متبع نے مراعات ادب عبودیت و تعظیم حق ربوبیت مدنظر رکھ کر اپنے رب خالق و مالک کے احکام کی تعمیل کر کے اس کی رضامندی حاصل کی جو غایت مدعا تھا وبس۔ یہ

٥٢

ہرگز صحیح نہیں کہ جس منصب سلطنت بادشاہت کو وہ مالک اپنے عامی عبد و بندہ کو اس منصب کے واسطے اور اس کے لائق نہیں دعویٰ غیر معصوم آلودہ حرص و ہوائے بایں ریش فش اس منصب دعوے دار ہوا۔ دیکھو دنیا میں بھی یہی قاعدہ و قانون ہے کہ کوئی آدمی سے سلطان بادشاہ و یا ویسرائے کہلانے کا ہرگز مستحق نہیں و رسالت کے کوئی امتی خواہ کیسی ہی فرمانبرداری و اتباع کرے ہو سکتا اور نہ یہ معزز القاب و خطاب کسی حالت میں اپنے لئے نادان ایسا کرے گا وہ دھنیا، بھٹیارا، موچی، چمار، بھنگی، ہلال خور بادشاہزادہ و پرنس وغیرہ کہے یا کہلائے گا تو وہ بے ادب گستاخ باغی بن کر سزا پائے گا۔

رہیں گے۔‘‘

جواب...... یہ بالکل صحیح ہے۔ اس میں کبھی مسلم فیوض و برکات و منصب نبوت و رسالت کو خلط ملط کر کے ایک ہیں اور منصب نبوۃ ورسالت علیحدہ ہے۔ علاوہ ازیں بحث تو کوئی نبی و رسول ہو سکتا ہے یا کہلا سکتا؟ سو یہ ثابت و فیصلہ شدہ کے خواہ کیسے ہی انعام واکرام فیوض وبرکات کسی امتی کو و رسول نہیں بن سکتا اور نہ کہلا سکتا ہے اور ابتدائے اسلام سے آئندہ بھی قیامت تک رہے گا۔ انشاء اللہ العزیز!

رکھا ہے اس سے کیا یہی مراد ہے کہ اس سے کوئی دوسرا چراغ روشن

جواب...... آنحضرت ﷺ سے ہزاروں بلکہ لاکھوں چراغ رہیں گے۔ لیکن ان چراغوں کی نسبت اس آفتاب عالمتاب بیش بہاء برقی لمپ سے ایک ادنیٰ غریب عاجز نوکر مزدور کی چراغ کو ہوتی ہے۔ کوئی ادنیٰ ملازم اپنے کم قیمت مٹی کے یا بیش بہا برقی لمپ سے روشن کر کے ہرگز دعویٰ نہیں کر سکتا

٥٣

صفحہ ٨٧

ہرگز صحیح نہیں کہ جس منصب سلطنت بادشاہت کو وہ مالک اپنے حکم سے ختم و بند کر چکا ہے اور اس عامی عبد و بندہ کو اس منصب کے واسطے اور اس کے لائق نہیں بنایا۔ یہ متبع بندہ ناقص الفطرۃ ناقص القوی غیر معصوم آلودہ حرص و ہوائے بایں ریش و فش اس منصب سلطنت و بادشاہت کا خواہاں و دعویدار ہوا۔ دیکھو دنیا میں بھی یہی قاعدہ و قانون ہے کہ کوئی شخص عوام میں سرکاری احکام کی بجا آوری سے سلطان بادشاہ و یا ویسرائے کہلانے کا ہرگز مستحق نہیں ہو سکتا۔ اسی طرح بعد ختم نبوۃ و رسالت کے کوئی امتی خواہ کیسی ہی فرمانبرداری و اتباع کرے۔ لیکن وہ کبھی نبی و رسول ہرگز نہیں ہو سکتا اور نہ یہ معزز القاب و خطاب کسی حالت میں اپنے لئے جائز کر سکتا ہے اور اگر کوئی احمق نادان ایسا کرے گا وہ دھنیا، بھٹیارا، موچی ، چمار، بھنگی ، حلال خور ہو کر اپنے آپ کو سلطان بادشاہ یا بادشاہزادہ و پرنس وغیرہ کہے یا کہلائے گا تو وہ بے ادب گستاخ اپنی حد سے باہر نکلنے والا آپ ہی باغی بن کر سزا پائے گا۔

١٢...... امروہی صاحب کہتے ہیں کہ: ”فیوض رسالت و برکات ختم نبوۃ قیامت تک جاری رہیں گے ۔“

جواب...... یہ بالکل صحیح ہے۔ اس میں کسی مسلمان مؤمن کو انکار نہیں ۔ لیکن آپ فیوض و برکات و منصب نبوت و رسالت کو خلط ملط کر کے ایک نہ بنا دیں۔ فیوض و برکات الگ ہیں اور منصب نبوۃ و رسالت علیحدہ ہے۔ علاوہ ازیں بحث تو اس میں ہے کہ آیا بعد ختم نبوت کے کوئی نبی و رسول ہو سکتا ہے یا کہلا سکتا؟ سو یہ ثابت و فیصلہ شدہ امر ہے کہ بعد ختم نبوت و رسالت کے خواہ کیسے ہی انعام و اکرام فیوض و برکات کسی امتی کو حاصل ہوں ۔ لیکن وہ کسی طرح نبی و رسول نہیں بن سکتا اور نہ کہلا سکتا ہے اور ابتدائے اسلام سے آج تک اسی پر عملدرآمد رہا اور آئندہ بھی قیامت تک رہے گا۔ انشاء اللہ العزیز!

١٣...... امروہی کہتے ہیں کہ: ”اللہ تعالیٰ نے جو نام آنحضرت ﷺ کا قرآن مجید میں سراج منیر رکھا ہے اس سے کیا یہی مراد ہے کہ اس سے کوئی دوسرا چراغ روشن نہ ہونے پاوے؟ کلا و حاشا!“

جواب...... آنحضرت ﷺ سے ہزاروں بلکہ لاکھوں چراغ روشن ہوئے اور تا قیامت ہوتے رہیں گے۔ لیکن ان چراغوں کی نسبت اس آفتاب عالمتاب سے ایسی ہے کہ جیسے شاہی فانوس یا بیش بہاء برقی لمپ سے ایک ادنیٰ غریب عاجز نوکر مزدور یا کسی بھنگی خاکروب چمار کے مٹی کے چراغ کو ہوتی ہے۔ کوئی ادنیٰ ملازم اپنے کم قیمت مٹی کے چراغ کو کسی عالی شان شاہی فانوس یا بیش بہا برقی لمپ سے روشن کر کے ہرگز دعویٰ نہیں کر سکتا کہ میرا ناچیز میلا کچیلا چراغ بھی شاہی

٥٣

صفحہ ٨٩

فانوس و لمپ کے برابر ہو گیا ہے اور اگر کوئی احمق نامعقول ایسا کرے گا تو رسوا اور ذلیل ہوگا۔ ظاہر ہے کہ عالی شان بیش قیمت شاہی فانوس و یا بے بہا نفیس لمپ ہمیشہ عالی شان شاہی محلات و یا مصفا و نفیس مکانات ہی کے لائق ہوتے ہیں اور ایسی ہی جگہ روشن ہوتے و رکھے جاتے ہیں۔ ایسا کبھی نہیں ہو سکتا کہ یہ عالی شان عمدہ و بیش بہا فانوس و بیش قیمت لمپ کسی وقت ٹوٹے پھوٹے اجڑے ہوئے خس و خاشاک والے میلے کچیلے جھونپڑوں و یا پاخانوں میں رکھے جاویں و یا روشن کئے جاویں۔ کیونکہ ان کی ان کے باہم کوئی نسبت نہیں اور ”الطیبات للطیبین والطیبون للطیبات“ قرآن مجید کا بھی مسلمہ قاعدہ وحکم ہے۔ اسی طرح نور نبوت ومنصب رسالت بھی انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام کے ظرف عالی واجسام مطہر و مقدس کے شایان ولائق ہوتا ہے نہ کسی غیر معصوم عام امتی کے بقول۔

در تنگنائے معنی صورت چگونه گنجد
در کالبد گدایان سلطان چه کار دارد

پس اگر کوئی ادنیٰ ملازم یا بھنگی چمار بوالہوسی سے سلطانی و شاہی عالی شان فانوس ولمپ کو اپنی ناپاک پر از خس و خاشاک ٹوٹے پھوٹے جھونپڑے میں رکھنے کا خواہش مند ودعوے دار ہو گا تو خود ہی گستاخی سے مستوجب سزا ہوگا۔ انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام کی خلقت جبلت ومعصومیت دوسری عام مخلوق سے بالکل علیحدہ ارفع واعلیٰ ہوتی ہے۔ عام میں سے جو کوئی فیوض و برکات وانعام حاصل کرتا ہے اول تو بہ طفیل اتباع انبیاء علیہم السلام کے اس کو کچھ حاصل ہوتا ہے جس کی نسبت ذرہ و آفتاب کی و یا ایک برگ کی درخت سے ہوتی ہے۔ بمقابلہ انبیاء علیہم السلام کے پھر چونکہ اس عامی امتی کو وہ تقدس و معصومیت حاصل نہیں اور نہ ہی اس کا ظرف اس لائق ہے اور نہ ہی اس کی جبلت و خلقت اس عالی شان برگزیدہ رحمان کی جماعت پیشوایان کافہ انام کے برابر ہے۔ لہٰذا وہ عامی امتی کسی امر میں انبیاء علیہم السلام کی برابری تو کہاں ان کی فرمانبرداری و اتباع سے بھی باہر نہیں نکل سکتا اور جو کوئی مرزا قادیانی کی طرح از خود رفتہ ہو کر ان پیشوایان کی برابری کا دم مارے و یا گستاخی سے ان کے خاص خطاب والقاب اپنے لئے تجویز کرے وہ آپ ہی اپنی بربادی کا سامان کرے گا اور ذلیل وخوار ہو کر عذاب الٰہی کا مستحق بنے گا۔

بدعت میں باوجو د یکہ صحابہ کرامؓ سے ماثور و منقول ہیں۔ اسی طرح پر اشاعت فیوض خاتم النبیین ﷺ جو بروز محمدیہ میں موجود ہوتے ہیں ضروری وواجب ہے۔“

٥٤

جواب ...... ہر دو امر غلط و در غلط ہیں۔ تفاسیر قرآن مجید ہے ۔ اس تفسیر کے مخالف اگر کوئی خود غرض اب نئی تفسیر ہرگز قبول نہیں۔ کیونکہ جن اکابر کے روبرو قرآن مجید واقف و مفسر ہو سکتا ہے اور ان سے زیادہ کسی کی تفسیر قا القرآن والدین ” خیرۃ الخیرہ میں بھی اکابر سلف کا مرويا عن السلف وانكره ما فتح به علی ا يحرك قلوبنا لما انطقت الايما ورد عن آپ کے بھر پور تھے۔ جب ان میں سے کسی نے آج دوسرے کسی خود غرض مال مردم خور و دغا باز عہد شکن خائ

کرتے ہیں ۔“

جواب ...... افسوس صد افسوس۔ بلکہ ہزار افسوس آپ کرتے ہیں۔ جس کی نسبت ملاعلی قاری ہرویؒ نے لک والزركشي والعسقلاني ” پھر امام شوکانی رح ”قال ابن حجر والزركشي لا اصل له وکائنات ہے ۔ ” انا للہ وانا الیہ راجعون “ مر یہ حال ہے۔ ”نسأل الله السلامة لنا ولا خوان

ہی شیث، میں ہی نوح، میں ہی ابراہیم، میں ہی مو اپنی طرف سے نکتہ بیان کرتے ہیں کہ بایزید بسطا طرف سے خاص ان کی نسبت کوئی بشارت نہیں۔ ب موعود کا نام محمد و احمد رکھا ہے۔ ”یواطی اسمہ اس جواب ...... آپ کا صدق و علم تو اوپر حدیث موضو راقم آپ کو مرفوع القلم و یا کچھ اور سمجھ کر قابل خط قدر لکھ کر اپنی تضیع اوقات پر افسوس کرتا ہے۔ لیک کرنے کے لئے کچھ اور لکھتا ہے کہ :

٥

صفحہ ٨٩

جواب ...... ہر دو امر غلط در غلط ہیں۔ تفاسیر قرآن مجید جو آنحضرت ﷺ وصحابہ کرامؓ سے مروی ہے۔ اس تفسیر کے مخالف اگر کوئی خود غرض اب نئی تفسیر کے مسائل مسلمہ کو ردو بدل کرے وہ تفسیر ہرگز قبول نہیں۔ کیونکہ جن اکابر کے روبرو قرآن مجید نازل ہوا ان سے بڑھ کر قرآن مجید کا کون واقف و مفسر ہوسکتا ہے اور ان سے زیادہ کسی کی تفسیر قابل قبول ہوسکتی ہے؟ ”ایاکم والقیاس فی القرآن والدین“ خیرۃ الخیرہ میں بھی اکابر سلف کا قول لکھا ہے: ”اسلم التفسیر ماکان مرویا عن السلف وانکرہ ما فتح بہ علی القلوب فی کل عصر ولولا محرک یحرک قلوبنا لما انطقت الا بما ورد عن السلف“ فیوض خاتم النبیین سے جو بقول آپ کے بھر پور تھے۔ جب ان میں سے کسی نے آج تک نبی ورسول کہلانے کی جرأت نہیں کی تو اب دوسرے کسی خود غرض مال مردم خور دغا باز عہد شکن خائن غدار کو کب جائز ہے کہ نبی ورسول کہلاوے۔

١٥...... امروہی صاحب: ”ظلی نبوت کے لئے حدیث علماء امتی کا نبیاء بنی اسرائیل پیش کرتے ہیں۔“

جواب...... افسوس صد افسوس۔ بلکہ ہزار افسوس آپ بایں دعویٰ علم کے ایک موضوع حدیث پیش کرتے ہیں۔ جس کی نسبت ملا علی قاری ہرویؒ نے لکھا ہے: ”لا اصل لہ کما قال الدمیری والزرکشی والعسقلانی“ پھر امام شوکانیؒ نے اپنے موضوعات میں اس کی نسبت لکھا ہے۔ ”قال ابن حجر والزرکشی لا اصل لہ“ آپ کے علم و شیخی و مرزائی دلائل کی یہ حقیقت و کائنات ہے۔ ”انا للہ وانا الیہ راجعون“ مرزا قادیانی اور مرزا کے حمائتیوں کے علم و دلائل کا یہ حال ہے۔ ”نسأل اللہ السلامۃ لنا ولاخواننا المسلمین فی الدنیا والآخرۃ“

١٦...... امروہی: ”بروز کے دعویٰ و دلیل میں بایزید بسطامیؒ کا قول کہ میں ہی آدم ہوں۔ میں ہی شیث، میں ہی نوح، میں ہی ابراہیم، میں ہی موسیٰ، میں ہی عیسیٰ، میں ہی محمد ہوں۔ پیش کر کے اپنی طرف سے نکتہ بیان کرتے ہیں کہ بایزید بسطامیؒ نے خود بروز کا دعویٰ کیا ہے۔ مخبر صادق کی طرف سے خاص ان کی نسبت کوئی بشارت نہیں۔ لیکن یہاں پر خود آنحضرت ﷺ نے اس مہدی موعود کا نام محمد واحمد رکھا ہے۔ ”یواطی اسمہ اسمی“ وغیرہ۔

جواب...... آپ کا صدق و علم تو اوپر حدیث موضوع پیش کرنے سے معلوم ہو چکا ہے۔ جس سے راقم آپ کو مرفوع القلم و یا کچھ اور سمجھ کر قابل خطاب نہیں جانتا۔ بلکہ آپ کی تحریر کے رد میں اس قدر لکھ کر اپنی تضیع اوقات پر افسوس کرتا ہے۔ لیکن بنظر اظہار حق و نفع مخلوق الٰہی کے اپنی تحریر کو ختم کرنے کے لئے کچھ اور لکھتا ہے کہ:

٥٥

صفحہ ٩١

ثبوت و بے سند اقوال پیش کریں۔ کیونکہ اسلام جیسے صادق مدلل و دین قیم میں ایسے بے سند اقوال کون سنتا ہے۔ دیکھو نمبر ١٠ کا جواب ضمن چہارم۔

سکر وحالات دیوانگی و سکر کے کلمات ہرگز قابل سند نہیں۔ امام ربانی مجدد الف ثانیؒ فرماتے ہیں۔ منصور اگر انا الحق گوید و بسطامی سبحانی معذور اند و مغلوب اند در غلبات احوال امّا ایں قسم کلام مبنی بر احوال آنست تعلق بعلم دارد و مستند بتاویل عبد را نمی شاید و ہیچ تاویل درین مقام مقبول نیست ’’فان کلام السکاریٰ یحمل ویصرف عن الظاھر لا غیر ‘‘ یہ قول امام ربانیؒ کا گویا مرزا ہی کی ایسی لغو تاویلات کے جواب میں تھا۔ کیونکہ مرزا قادیانی یہی اپنی شدو بود بے نفع علم کے زور سے ایسی بیہودہ تاویلات دن رات کرتا رہتا ہے اور اس کو صحبت و مجلس میں جہاں زہد و ریاضت و ذکر اللہ کا نام و نشان نہیں۔ بلکہ خوش گزرانی کے سبب خشک فلسفی و نیچریانہ خیالات قیل و قال لاطائل بحث و مباحثات غیبت و گالی گلوچ کا دن رات مشغلہ ہو۔ وہاں سکر و غلبہ حالات کہاں؟

فرماتے ہیں کہ بایزیدؒ پر بہت جھوٹ لوگوں نے باندھے ہیں۔ ان میں سے ایک یہ ہے کہ میں نے آسمان پر جا کر عرش پر خیمہ لگایا۔ ابوعلی جوزجانی فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ بایزید پر رحم کرے۔ ہم ان کے حال کو تسلیم کرتے ہیں۔ شاید انہوں نے ایسا کلام عذر غلبہ یا حال سکر میں کیا ہوگا۔

مضمون ہو بھی تب بھی غلبہ حال و بے اختیاری کا ہے اور ہرگز قابل ذکر و سند نہیں۔ اسی کتاب میں کہہ رہے کہ ایک دفعہ خلوت میں ان کی زبان سے نکل گیا۔ ’’سبحانی ما اعظم شانی‘‘ جب ہوش میں آئے مریدین نے ان سے کہا کہ تم نے ایسے الفاظ بولے ہیں۔ آپ نے فرمایا اللہ تعالیٰ تمہارا دشمن ہو۔ اگر ایک بار ایسا سنو اور مجھ کو ٹکڑے ٹکڑے نہ کرو۔ ادھر مریدوں کو کہا کہ اگر وہی الفاظ پھر دوسرے وقت وہ سنے تو ٹکڑے ٹکڑے کر دے۔ اس سے صاف ظاہر ہے کہ ان الفاظ کی خود بایزید بسطامیؒ کو خبر نہ تھی اور ان کو پسند بھی نہ کرتے تھے۔ لیکن حالت سکر و بے خبری میں انسان معذور و مرفوع القلم ہے۔

بادشاہان دنیا کی نہیں ہے کہ یکبارگی وہاں پہنچ سکیں۔ اس سال حج نہ کر سکے۔ مدینہ منورہ نہ گئے۔ کہا

٥٦

ہمت نہیں۔ دوسرے سال مدینہ منورہ گئے۔ راستہ میں ایک شخـ دیکھا یہ کون ہیں۔ لوگوں نے کہا یہ آپ کی مجلس چاہتے ہیں۔ اس میرے سبب اپنے سے محجوب نہ کرنا۔ پھر اپنی محبت ان کے دلو ان کی طرف دیکھ کر کہا: ’’انی انا اللہ لا الہ الا انا فاعبدون‘‘ یـ سب نے پیچھا چھوڑ دیا۔ مصنف فرماتے ہیں کہ شیخ نے اس وقـ پڑھی تھی جس طرح منبر پر چڑھ کر پڑھتے ہیں۔ حکایۃً عن ربہٖ۔ جـ استقبال کو آئے تو رمضان شریف میں سفر میں لوگوں کے روبرو ر گے۔ یہ دیکھ کر سب لوگ واپس ہوگئے۔ بایزیدؒ احکام شرعی کـ تھے۔ اب مرزا قادیانی کا حال دیکھئے کہ حج و مدینہ منورہ کو یاد تـ اہل وسعت کوئی مرید جائے اور خود بلا بلا کر اشتہارات دے کـ حیلہ و حوالہ سے ان کے دلوں میں اپنی تعظیم وتکریم ڈال کر خود کـ اپنی بیوی کو ام المومنین کہلائیں۔

قبلہ کی طرف تھوکا۔ یہ اسی وقت واپس آگئے اور کہا کہ اگـ شریعت کا خلاف اتنا بھی نہ کرتا۔ آپ دروازہ مسجد پر پہنچ کـ کہتے کہ میں عورت مستحاضہ کی طرح ڈرتا ہوں کہ اندر مسجد کـ زبانی ہے کہ ایک رات صحراء میں سر لپیٹ کر پڑے ہوئے ان کـ کرنا چاہا نفس نے کاہلی کی اور کہا کہ صبر کر آفتاب نکلنے کے بـ نے جانا نماز قضا ہو گئی۔ پس اسی طرح معہ لباس یخ توڑ کر غـ مرزا کے شغل و بہانہ پر کئی کئی دن نماز و روزہ بالائے طاق۔

میں جب کہ تمام جہان آرام میں تھا۔ مجھ پر ایک حالت غلـ درگاہ بایں عظمت و جلال و کارخانہ بایں عجائبات و پنہاں۔ اس کـ کہ کوئی آتا نہیں اور ہر ناشستہ رو لائق اس درگاہ کے نہیں ہـ کے لئے دعا کروں۔ پھر دل میں آیا کہ مقام شفاعت محمـ نگاہ رکھنے پر مجھ کو خطاب سلطان العارفین بایزید کا ملا جـ

٥٧

صفحہ ٩١

ہمت نہیں۔ دوسرے سال مدینہ منورہ گئے۔ راستہ میں ایک شہر میں انبوہ خلقت پیچھے ہولیا پھر کر دیکھا یہ کون ہیں۔ لوگوں نے کہا یہ آپ کی مجلس چاہتے ہیں۔ اسی وقت متوجہ ہو کر کہا یا الہی خلقت کو میرے سبب اپنے سے محجوب نہ کرنا۔ پھر اپنی محبت ان کے دلوں سے نکالنے کے لئے بعد نماز صبح ان کی طرف دیکھ کر کہا: ”انی انا اللہ لا الہ الا انا فاعبدون“ لوگوں نے کہا کہ یہ دیوانہ ہے اور سب نے پیچھا چھوڑ دیا۔ مصنف فرماتے ہیں کہ شیخ نے اس جگہ یہ آیت بزبان خدائے عزوجل پڑھی تھی جس طرح منبر پر چڑھ کر پڑھتے ہیں۔ حکایۃ عن ربہ، اسی طرح ایک مرتبہ لوگ ان کے استقبال کو آئے تو رمضان شریف میں سفر میں لوگوں کے روبرو ایک دوکان سے روٹی لے کر کھانے لگے۔ یہ دیکھ کر سب لوگ واپس ہو گئے۔ بایزید احکام شرعی کے ایسے عامل اور لوگوں سے ایسے متنفر تھے۔ اب مرزا قادیانی کا حال دیکھئے کہ حج و مدینہ منورہ کو باوجود استطاعت نہ خود جائیں نہ ان کا اہل وسعت کوئی مرید جائے اور خود بلا بلا کر اشتہارات دے کر لوگوں کو اپنے پاس جمع کریں اور حیلہ وحوالہ سے ان کے دلوں میں اپنی تعظیم وتکریم ڈال کر خود کو حضرت اقدس علیہ الصلوٰۃ والسلام اور اپنی بیوی کو ام المومنین کہلائیں۔

ششم...... بایزید شریعت کا اس قدر ادب وتعظیم کرتے کہ ایک مرتبہ ایک شیخ کو ملنے گئے۔ اس نے قبلہ کی طرف تھوکا۔ یہ اسی وقت واپس آگئے اور کہا کہ اگر طریقت میں اس کا کوئی قدم ہوتا تو شریعت کا خلاف اتنا کبھی نہ کرتا۔ آپ دروازہ مسجد پر پہنچ کر ٹھہر جاتے اور روتے۔ کوئی پوچھتا تو کہتے کہ میں عورت مستحاضہ کی طرح ڈرتا ہوں کہ اندر مسجد کے جا کر اس کو آلودہ نہ کروں۔ ان کی زبانی ہے کہ ایک رات صحراء میں سر لپیٹ کر پڑے ہوئے احتلام ہو گیا۔ رات نہایت سرد تھی۔ غسل کرنا چاہا نفس نے کاہلی کی اور کہا کہ صبر کر آفتاب نکلنے کے بعد غسل کرنا۔ اس کاہلی نفس سے میں نے جانا نماز قضا ہوگی۔ پس اسی طرح معہ لباس یخ توڑ کر میں نے غسل کر لیا کہاں مرزا قادیانی کی ذرا سے شغل و بہانہ پر کئی کئی دن نماز و روزہ بالائے طاق۔

ہفتم...... رسول اللہ ﷺ کا ادب وتعظیم اس قدر بایزید کو تھا۔ فرماتے ہیں کہ ایک شب ماہتاب میں جب کہ تمام جہان آرام میں تھا۔ مجھ پر ایک حالت غالب ہوئی۔ میں نے عرض کی یا الہی تیری درگاہ بایں عظمت و خالی و کارخانہ بایں عجائبات و پنہاں۔ اس پر آواز آئی کہ درگاہ اس لئے خالی ہے کہ کوئی آتا نہیں اور ہر ناشستہ رو لائق اس درگاہ کے نہیں۔ اس پر میں نے نیت کی کہ تمام خلائق کے لئے دعا کروں۔ پھر دل میں آیا کہ مقام شفاعت محمد علیہ الصلوٰۃ والسلام کا ہے۔ اس ادب کے نگاہ رکھنے پر مجھ کو خطاب سلطان العارفین بایزید کا ملا چار ہزار وادی قطع کر کے میں نہایت درجہ

٥٧

صفحہ ٩٣

اولیاء پر پہنچا۔ نگاہ کی تو اپنے کو ابتدائی (قدم آگے) درجہ انبیاء علیہم السلام میں دیکھا۔ اس لئے تنہائی میں میں نے کہا کہ کوئی اس درجہ پر نہیں پہنچا اور اس سے بالاتر مقام نہ ہوگا۔ لیکن بنظر غور نگاہ کی تو اپنا سر ایک نبی کے کف پائے پر دیکھا۔ معلوم ہوا کہ نہایت حال اولیاء کا، بدایت حال انبیاء کا ہے اور انبیاء کے نہایت کو نہایت نہیں۔ پس میری روح تمام ملکوت سے گزری۔ بہشت و دوزخ دکھلائی گئی۔ کسی طرف التفات نہ کی۔ ہر پیغمبر کی جان پر سلام کیا۔ جب بجان مصطفیٰ پہنچا تو صد ہزار سال کا دریائے آتشی بے نہایت و ہزار حجاب نور کا دیکھا کہ اگر اوّل دریا میں ایک قدم رکھتا تو جل جاتا وبرباد ہو جاتا۔ لاچار ہیبت و وحشت سے ایسا مدہوش ہوا کہ کچھ ہوش نہ رہا۔ ہر چند میں چاہتا کہ خیمہ محمد رسول اللہ ﷺ کو دیکھ سکوں۔ لیکن محمد ﷺ تک پہنچنے کی تاب نہ رہتی۔ باوجودیکہ میں حق تعالیٰ تک پہنچ گیا۔ یعنی ہر شخص بقدر خود اللہ تعالیٰ تک پہنچ سکتا ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ سب کے ساتھ ہے۔ لیکن محمد ﷺ ایک صدر خاص میں ہے۔ لاجرم تا وادی لا الہ الا اللہ تو قطع نہ کرے۔ وادی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو پہنچ نہیں سکتا۔ الٰہی جو کچھ میں نے دیکھا وہ سب میں تھا۔ میری خودی کے ہوتے مجھ کو تیری طرف راہ نہیں ہے اور میری خودی سے مجھ کو عبور نہیں۔ میں کیا کروں؟ فرمان آیا کہ خودی سے مخلصی ہمارے دوست محمد علیہ الصلوٰۃ والسلام کی متابعت میں ہے۔ اس کے خاک قدم کو سرمہ بنا اور ہمیشہ اس کی متابعت میں رہ۔

مصنف کتاب فرماتے ہیں کہ جس شخص کو تعظیم نبوۃ اس قدر ہو اس کی نسبت تعجب ہے کہ لوگ اس کے خلاف باتیں کریں اور اس کے قول کے معنے نہ سمجھیں۔ آپ ذرا ان حالات کو بھی تذکرۃ الاولیاء میں دیکھتے اور امانت و دیانت سے ان کو بھی اپنے رقیمۃ الوداد میں درج کرتے اور غور بھی کرتے کہ بایزید بسطامیؒ کا تو رسول اللہ ﷺ سے یہ ادب اور یہ تعظیم، اور مرزا کا یہ حال کہ لیلۃ القدر، یاجوج ماجوج دابۃ الارض دجال و خر دجال کا حقیقت شناس اپنے آپ کو رسول اللہ ﷺ سے زیادہ جانتا ہے۔ کتابوں میں خود لکھ کر شائع کرتا ہے۔ رسول اللہ ﷺ کی حرام کی ہوئی تصویر کو دلیری سے چھپواتا مباح کرتا اور اس کی تعظیم و تکریم کرتا اور رکھتا ہے وغیرہ ۔ نعوذ باللہ من ھذہ العقیدۃ الفاسدۃ الباطلۃ۔

ہشتم...... بایزیدؒ کا ذکر ہے کہ ایک شب ذوق عبادۃ کا ہوا خادم سے کہا کہ دیکھو گھر میں کیا چیز ہے۔ جب دیکھا تو خوشہ انگور ملا۔ فرمایا کہ کسی کو دیدو ہمارا گھر بقال کی دکان نہیں ہے۔

مولوی امروہی ذرا سوچیں اور دیکھیں کہ آپ کا مرشد وامام کس قدر انبار کنجیوں (کلید ہا) کا ہر وقت اپنے پاس رکھتا ہے اور مربہ اچار وغیرہ کھانے کی چیزیں بھی کس طرح قفل بند

٥٨

اپنے قبضہ میں رکھتا ہے۔ بایزیدؒ کے ہاتھ پر ان کے حالات دیکھ ادھر مرزا عبداللہ آتھم وسراج الدین عیسائیان و دیگر ہندؤوں ہم درکنار، اپنی بیوی کے قریبی بھائی سعید اور اپنے مرید یوسف خاں سکا۔ بایزیدؒ نے ایک حالت میں ایک بوڑھی عورت کا بوجھ اٹھا کر ا عورت سے پوچھا کہ تو شہر پہنچ کر کیا کہے گی تو اس عورت نے کہا تو کام کے لئے مکلف نہیں بنایا تو نے اس کو تکلیف دی اور پھر یہ چا کر کہ شیر تیرا مطیع ہے۔ تجھ کو صاحب کرامت جانیں۔ اس با بوڑھیہ کو اپنا پیر مانا۔ ادھر مرزا کو دیکھ کہ خرق عادت وغیرہ کی طرف دعاوی کرامات وشیخی سے کبھی باز نہیں آتا۔ اگر چہ ہر موقعہ پر خف کبھی کسی کو نہیں مانتا بلکہ اپنے تئیں اپنی زبانی تمام جہان کا پیر وامام کہ محمد واحمد ﷺ بنتا ہے۔ معاذ اللہ! بایزیدؒ فرماتے ہیں۔ مجھ ک چاہتا۔ ادھر مرزا جھوٹ موٹ فرضی کرامات بنا کر مشہور کرتا اور ا دھوکا دے کر اپنی طرف کھینچنے میں مصروف ہے۔ بایزیدؒ کو کہتے ہ دیئے کہ لکڑی بھی پانی پر چلتی ہے۔ جب کہتے کہ تم ہوا میں اڑت اڑتے ہیں۔ کہا کہ ایک رات میں تم کعبہ جاتے ہو کہا جادوگر ایک ہیں۔ کہتے کہ پھر کارمردان کیا ہے؟ تو کہا کہ دل سوائے اللہ عزا جھوٹ موٹ ہوائی باتیں کرتا ہے کہ لومردہ زندہ ہوگیا۔ فلاں ایسے واہیات بے سروپا لغویات مشتہر کرتا ہے اور دل گنجینہ مکرو بدخواہی و تباہی مخلوق الٰہی، دشنام وبد دعا بحق ناموافقین۔ تدبیر د ومعتقدیں۔ منصوبے جنگ وجدال ہادیان روئے زمین۔ منا فطین۔ بایزیدؒ کہتے کہ اگر فرعون گرسنہ ہوتا تو انا ربکم الاعلیٰ ہرگز و زردہ و روغن بادام مشک وعنبر وغیرہ مقوی باہ واعصاب کے نسخہ ہا اور یہی سبب ہے کہ اب اس حالت میں نبوۃ ورسالت و آنحضر سوجھتے ہیں۔ پہلی تنگدستی و محتاجی کی حالت میں جب ادھر ادھ اس وقت یہ بلند پروازی و گستاخی کبھی نہ سوجھی اور نہ کبھی کوئی و مولا نا رومؒ نے۔

٥٩

صفحہ ٩٣

اپنے قبضہ میں رکھتا ہے۔ بایزید کے ہاتھ پر ان کے حالات دیکھ کر کئی گبر وغیرہ مسلمان ہوئے۔ ادھر مرزا عبداللہ آتھم وسراج الدین عیسائیان و دیگر ہندوؤں ہم مجلس و ہمسائیگان کو مسلمان کرنا تو درکنار، اپنی بیوی کے قریبی بھائی سعید اور اپنے مرید یوسف خان کو بھی عیسائی ہونے سے نہ روک سکا۔ بایزید نے ایک حالت میں ایک بوڑھی عورت کا بوجھ اشارت کر کے ایک شیر پر رکھ دیا جب عورت سے پوچھا کہ تو شہر پہنچ کر کیا کہے گی تو اس عورت نے کہا تو ظالم ہے۔ اللہ تعالیٰ نے شیر کو اس کام کے لئے مکلف نہیں بنایا تو نے اس کو تکلیف دی اور پھر یہ چاہتا ہے کہ اہل شہر اس بات کو جان کر کہ شیر تیرا مطیع ہے۔ تجھ کو صاحب کرامت جانیں۔ اس بات پر بایزید نے توبہ کی اور اس بوڑھیہ کو اپنا پیر مانا۔ ادھر مرزا کو دیکھو کہ خرق عادت وغیرہ کی طرف سے تو پلہ میں خاک بھی نہیں۔ مگر دعاوی کرامات و شیخی سے کبھی باز نہیں آتا۔ اگرچہ ہر موقعہ پر خجل و خواری ہوتا ہے اور دنیا میں پیر بھی کسی کو نہیں مانتا بلکہ اپنے تئیں اپنی زبانی تمام جہان کا پیر و امام بلکہ بعض انبیاء سے افضل بیان کر کے محمد و احمد ﷺ بنتا ہے۔ معاذ اللہ! بایزید فرماتے ہیں۔ مجھ کو کریم چاہئے۔ میں کرامت نہیں چاہتا۔ ادھر مرزا جھوٹ موٹ فرضی کرامات بنا کر مشہور کرتا اور لوگوں کو دن رات کرامت نمائی کا دھوکا دے کر اپنی طرف کھینچنے میں مصروف ہے۔ بایزید کو کہتے ہیں کہ تم بر سر آب چلتے ہو تو جواب دیتے کہ لکڑی بھی پانی پر چلتی ہے۔ جب کہتے کہ تم ہوا میں اڑتے ہو تو فرماتے کہ مرغ بھی ہوا میں اڑتے ہیں۔ کہا کہ ایک رات میں تم کعبہ جاتے ہو کہا جادوگر ایک رات میں ہند سے دماوند جاتے ہیں۔ کہتے کہ پھر کار مردان کیا ہے؟ تو کہا کہ دل سوائے اللہ عزوجل کے کسے نہ لگائے اور مرزا جھوٹ موٹ ہوائی باتیں کرتا ہے کہ لو مردہ زندہ ہو گیا۔ فلاں مخالف ذلیل ہوا۔ فلاں مرگیا اور ایسے واہیات بے سروپا لغویات مشتہر کرتا ہے اور دل گنجینہ مکر و مغلظات ہر وقت مستغرق خیالات بدخواہی و تباہی مخلوق الٰہی ، دشنام وبددعا بحق ناموافقین۔ تدبیر دست اندازی در کیسہ ہائے موافقین و معتقدین۔ منصوبے جنگ وجدال با دیان روئے زمین۔ منافقانہ خوشامد و دم بازی حکام ذہین فطین۔ بایزید کہتے کہ اگر فرعون گرسنہ ہوتا تو انا ربکم الاعلیٰ ہرگز ہرگز نہ کہتا۔ ادھر مرزا ہر وقت پلاؤ وزردہ وروغن بادام مشک وعنبر وغیرہ مقوی باہ واعصاب کے نسخہ بنانے واستعمال کرنے کے شغل میں اور یہی سبب ہے کہ اب اس حالت میں نبوۃ و رسالت و آنحضرت ﷺ بننے کے دعاوی دن رات سوجھتے ہیں۔ پہلی تنگدستی ومحتاجی کی حالت میں جب ادھر ادھر سے قرضہ لے کر بسر کرتے تھے۔ اس وقت یہ بلند پروازی وگستاخی کبھی نہ سوجھی اور نہ کبھی کوئی دعوے زبان پر لائے۔ سچ کہا ہے۔ مولانا روم نے۔

٥٩

صفحہ ٩٥
گنج جاویدی گداے بے نوا رو بگرداند چو فرعون از خدا

بایزیدؒ سے کسی نے پوچھا سنت و فرض کیا ہے۔ کہا سنت ترک دنیا بتمامہا اور فرض صحبت مع اللہ۔ ادھر مرزا کو دیکھ لو کہ کس فرض وسنت میں مشغول ہے۔ فراہمی دنیا بتمامہا کے لئے دن رات چندہ طلبی تیاری زیورات و ملک املاک۔ بایزیدؒ کو ایک شخص نے دروازہ گھر پر آواز دی۔ آپ نے پوچھا کس کو بلاتے ہو۔ اس نے کہا کہ بایزیدؒ کو۔ آپ نے جواب دیا کہ تیس سال ہوئے کہ میں بیچارہ یزید کو تلاش کرتا ہوں۔ لیکن اس کا نام ونشان نہیں پاتا۔ ادھر مرزا ایسا عاشق شہرت کہ دن رات اشتہار بازی ورسالہ بازی ولایت تک انگریزی میں ترجمہ کرا کر پہنچاتا ہے۔ بایزیدؒ فرماتے ہیں کہ بعد ریاضات چہل سال ایک رات حجاب دور ہوا۔ میں نے زاری کی کہ مجھے راہ ملے۔ خطاب ہوا کہ کوزہ شکستہ و پوستین کا تجھ کو بوجھ نہیں۔ اس پر میں نے کوزہ و پوستین پھینک دی۔ ندا سنی کہ بایزیدؒ ان مدعیان کو کہہ دے کہ بایزیدؒ نے چہل سال مجاہدہ وریاضت باکوزہ شکستہ اور پوستین پارہ پارہ کی جب تک ان کو نہیں پھینکا۔ اس کو راہ نہیں ملا۔ پس تم با چندیں علائق جن میں اپنے آپ کو جکڑا ہوا ہے اور طریقہ کو دام و دانہ ہوائے نفس بنایا ہوا ہے۔ کلاوحاشا ہرگز راہ نہ پاؤگے۔ ادھر مرزا بلا ریاضت و باین علائق زمینداری باغات جائیداد زیور اسباب ومال وغیرہ کے سب سے بڑھ کر اپنے منہ سے خدا رسیدہ۔ بایزیدؒ سے لوگ دعا چاہتے تو وہ مناجات کرتے۔ خداوندا یہ خلقت تیری ہے تو ان کا خالق ہے۔ میں کون کہ تیرے اور تیرے خلق میں واسطہ ہوں۔ پھر اپنے آپ کو کہتے کہ وہ دانائے اسرار ہے۔ مجھ کو اس فضولی سے کیا کام؟ ادھر مرزا کو دیکھئے کہ دعاؤں وکرامتوں والہاموں وکشفوں کی دوکان کھولی ہوئی ہے۔ لوگوں سے پیشگی پانچ پانچ سو روپیہ لے کر وعدے اقرار کرتے ہیں۔ جھوٹے ہوتے ہیں۔ لیکن باز نہیں آتے۔ بایزیدؒ نے ایک امام کے پیچھے نماز پڑھی۔ بعد نماز امام نے ان سے پوچھا کہ تم کوئی کسب نہیں کرتے اور نہ کسی سے سوال کرتے ہو تم کہاں سے کھاتے ہو؟ بایزیدؒ نے کہا کہ ذرا ٹھہرو۔ مجھے نماز قضا پڑھ لینے دو۔ کیونکہ جو شخص روزی دہندہ کو نجانے اس کے پیچھے نماز نہیں ہوتی۔ ادھر مرزا قادیانی کا رزاق پر ایسا اعتماد ہے کہ اوّل محرری کرتے رہے۔ قانونی وکالت کے امتحان میں فیل ہونے پر سلسلہ کتاب فروشی شروع کیا ہزاروں روپیہ طرح طرح کے وعدے واقرار کر کے لے لے کر ہضم کیا۔ اب امامت، مجددیت، مسیحیت اور آخر نبوۃ ورسالت کی گدی بنا کر دن رات اشتہارات دے کر مخلوق الٰہی کی جیب خالی کر کے اپنی جائیداد بنا رہے ہیں۔ بایزیدؒ کے حالات میں ہے کہ وہ تمام خلائق کے لئے رحمت طلب کرتے۔ حتیٰ کہ ابلیس کے لئے بھی رحمت کی درخواست کی۔ جس پر جواب ملا کہ وہ آگ سے بنا

٦٠

ہے۔ لہٰذا آتشی کے لئے آتش چاہئے۔ ادھر مرزا کو دیکھئے کہ دوزخی بنا کر خوش ہوتا ہے۔ بایزیدؒ فرماتے کہ آدمی تب متواضع و حال نہ دیکھے اور اعتقاد کرے کہ خلق میں اس سے کوئی زیادہ تمام مخلوق میں کسی کو اپنے برابر نہیں جانتا۔

آپ اگر ان حالات بایزیدؒ کو تذکرۃ الاولیاء میں سے بھی مقابلہ کرتے تو ضرور ان کو بایزیدؒ کا قول مرزا کی بروز ہوئے کچھ تو شرم آتی۔ لیکن جاہ و مراتب و چندہ کے سبب وہ

خود آنحضرت ﷺ نے اس مہدی موعود کا نام محمد واحمد رکھا ہے کان آنکھ کھول کر دیکھیں اور سنیں کہ جن اکابر کو میں اپنے روبرو اپنی زبان صدق بیان سے بمنزلہ ہارونؑ پہلے نمبر کے جواب میں ہوا ہے۔ اس سے بڑھ کر اور کون ہو نہ کہلایا تو اب مرزا بایں اوصاف کیونکر ایسا ہو گیا کہ بھلا کسی خدا سے بڑھ جائے؟

جب آوے گا وہ بھی نبی ورسول ہرگز نہ کہلاوے گا۔ ہاں امام لائق ومستحق نہیں۔ مسیح کی نسبت خود ہی مرزا کہہ چکا ہے کہ: ’’ جس پر احادیث کے الفاظ مطابق ہوں۔‘‘

(ازالہ اوہام) ١

الفاظ والا مسیح ومہدی اب تک نہیں آیا۔ الہامات کا ذکر ہو کے امام کی بحث عصاء موسیٰ میں مفصل ہے۔ وہاں غور سے پڑھو

آنحضرت ﷺ سے معانقہ کر کے غائب ہو جانا اور سوائے حال بھی ثبوت و دلیل بروز میں پیش کر کے کہتے ہیں کہ اس

جواب...... مولوی محمد حسین صاحب کی تصدیق وحمایت مر ہے کہ مرزائی جماعت کے دلائل وثبوت خواب وخیال و غلط موٹی وعام بات بھی نہیں سمجھ سکے کہ جس طرح آفتاب کے

٦١

صفحہ ٩٥

ہے ۔ لہٰذا آتشی کے لئے آتش چاہئے ۔ ادھر مرزا کو دیکھئے تمام مخلوق کو معہ مسلمین مومنین جہنمی دوزخی بنا کر خوش ہوتا ہے۔ بایزیدؒ فرماتے کہ آدمی تب متواضع ہوتا ہے کہ اپنے نفس کا کوئی مقام و حال نہ دیکھے اور اعتقاد کرے کہ خلق میں اس سے کوئی زیادہ برا نہیں۔ ادھر مرزا اسکے بالکل برعکس تمام مخلوق میں کسی کو اپنے برابر نہیں جانتا۔

آپ اگر ان حالات بایزیدؒ کو تذکرۃ الاولیاء میں غور سے دیکھتے اور مرزا کے حالات سے بھی مقابلہ کرتے تو ضرور ان کو بایزیدؒ کا قول مرزا کی بروزی نبوۃ کی دلیل وسند میں پیش کرتے ہوئے کچھ تو شرم آتی۔ لیکن ماہوار راتب و چندہ کے سبب وہ بیچارے معذور ہیں۔

نہم...... بالآخر آپ اپنے اس نکتہ کی نسبت کہ: ’’بایزیدؒ نے دعوے بروز خود کیا۔ لیکن یہاں پر خود آنحضرت ﷺ نے اس مہدی موعود کا نام محمد واحمد رکھا ہے۔‘‘

کان آنکھ کھول کر دیکھیں اور سنیں کہ جن اکابر کو آنحضرت ﷺ نے اپنے عہد مبارک میں اپنے روبرو اپنی زبان صدق بیان سے بمنزلہ ہارون شبیہ عیسیٰ وامام وغیرہ بنایا تھا۔ جن کا ذکر پہلے نمبر کے جواب میں ہوا ہے۔ اس سے بڑھ کر اور کون ہو سکتا ہے۔ جب انہوں نے نبی ورسول نہ کہلایا تو اب مرزا بایں اوصاف کیونکر ایسا ہو گیا کہ بلا کسی خدمت ومحنت ولیاقت کے ان سب اکابر سے بڑھ جائے؟

دہم...... احادیث کا مصداق مہدی موعود قریش میں سے ہے۔ نہ کہ چنگیز خانی مغلوں میں سے جب آوے گا وہ بھی نبی ورسول ہرگز نہ کہلاوے گا۔ ہاں امام بیشک ہوگا۔ جس کا مرزا بالکل و ہرگز لائق ومستحق نہیں۔ مسیح کی نسبت خود ہی مرزا کہہ چکا ہے کہ: ’’ممکن ہے کہ کوئی ایسا مسیح بھی آجاوے جس پر احادیث کے الفاظ مطابق ہوں۔‘‘ (ازالہ اوہام) اس سے صاف ظاہر ہے کہ حدیث کے الفاظ والا مسیح ومہدی اب تک نہیں آیا۔ الہامات کا ذکر ہو چکا ہے۔ ان کی حقیقت و غلام احمد مرزا کے امام کی بحث عصاء موسیٰ میں مفصل ہے۔ وہاں غور سے پڑھو۔

١٧...... امروہی صاحب: ’’محی الدین بن العربی کے فتوحات میں خواب میں ابن حزم کا آنحضرت ﷺ سے معانقہ کر کے غائب ہو جانا اور سوائے آنحضرت ﷺ کے دوسرا نظر نہ آنے کا حال بھی ثبوت و دلیل بروز میں پیش کر کے کہتے ہیں کہ اس کو مولوی محمد حسین تصدیق کر چکے ہیں۔‘‘

جواب...... مولوی محمد حسین صاحب کی تصدیق وحمایت مرزا کا حال اوپر بیان ہو چکا ہے۔ افسوس ہے کہ مرزائی جماعت کے دلائل وثبوت خواب و خیال ورطب ویابس اقوال رہ گئے ہیں۔ آپ یہ موٹی وعام بات بھی نہیں سمجھ سکے کہ جس طرح آفتاب کے سامنے ستارگان کا وجود غائب ہو جاتا

٦١

صفحہ ٩٦

ہے۔ اسی طرح رسول اللہ ﷺ کے وجود مسعود و مطہر و مقدس کے آگے ابن حزم کا وجود کیونکر غائب نہ ہو جاتا اور پھر سمندر کے آگے قطرہ کی اور درخت کے آگے ایک برگ یا پتی کی کیا حقیقت وہستی ہے؟

پر از عناد و الحاد کو ختم کرتے کرتے بھی ایک قدیمی اسلامی مسلمہ مسئلہ کو نیست و نابود کرنا چاہا ہے۔ اس طرح کہ حسب فحوائے حدیث شریف متفق علیہ ”ما بین بیتی و منبری روضۃ من ریاض الجنہ و منبری علی حوضی“ کو جو ایک قطعہ زمین کا مسجد مبارک نبوی ﷺ میں نشان لگا کر ممیز کیا ہوا ہے اور عام و خاص مسلمان مؤمن حصول ثواب و برکات کے لئے اس جگہ پر عمداً و ارادۃً نماز پڑھتے ہیں اور مؤمنین صالحین عابدین سے وہ جگہ کسی وقت بھی خالی نہیں ہوتی ہے۔ گویا کہ سوا تیرہ سو برس سے مسلمانوں کا اس قطعہ زمین کی فضیلت پر اتفاق واجماع چلا آتا ہے۔ اب امروہی صاحب اس اتفاق واجماع سلف وخلف کے مقابل بمخالف بڑی دلیری و شیخی سے اس حدیث شریف کی ملحدانہ تفسیر کر کے اس قطعہ زمین مبارک کی فضیلت کو اڑاتے ہیں۔ کہتے ہیں کہ:

”آنحضرت ﷺ کا مطلب یہ ہے کہ جس طرح پر ایک تخم سے صدہا اشجار و بار پیدا ہوتے ہیں۔ اسی طرح پر مجھ سے احمد و محمد پیدا ہوں گے۔ خصوصاً آخری زمانہ میں تو ایک مہدی ایسا احمد و محمد پیدا ہوگا جو مجھ میں اور اس میں کچھ بھی فرق نہ ہوگا۔ جیسا کہ تخم کے پیدا شدہ پھلوں میں اصل تخم سے کوئی فرق نہیں ہوتا اور جو لوگ اس روضہ جنت میں سے دنیا میں تمتع حاصل کریں گے وہی روضہ جنت میں داخل ہوں گے ۔“

اس ملحدانہ تفسیر پر بڑا فخر کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ ان کو ہدایت کرے۔ مرزائی جماعت کا دین و ایمان ایسا ابتر ہوا ہے کہ آیت قرآن مجید ”اتخذوا احبارهم ورهبانهم اربابا من دون الله“ تو ان کو بالکل فراموش ہی ہو گئی اور اس امر کی حس ہی نہیں رہی کہ یشاقق الرسول و غیر سبیل المؤمنین پر چلنے کی پاداش جہنم ہے۔ یہ سب ایسے بیخوف و گستاخ ہوئے ہیں کہ ہر قدیمی مسلمہ مسئلہ اسلامی کو خواہ مخواہ بے ضرورت ضروری زور لگا کر الٹ پلٹ کر کے اپنا نفسانی ناقص و ردی مسئلہ اس قدیمی مسئلہ کی جگہ قائم کرتے ہیں۔ نعوذ باللہ! امروہی یہ تو خیال کریں کہ جب احادیث شریف رسول اللہ ﷺ کے تخم پاک سے جب مہدی موعود بنی فاطمہ سے آوے گا تو وہ ضرور احادیث ”یواطی اسمه اسمی“ کے موافق محمد واحمد ہوگا۔ لیکن مرزا چنگیز خانی تخم کا ہے وہ بایں اوصاف کیونکر محمد واحمد بن سکتا ہے؟ امروہی بیچارے مجبور ہیں یا چندہ وامداد اور حرص مجبور کر رہی ہے۔ اللہ تعالیٰ رحم و کرم فرماوے۔ ٢١؍ جنوری ١٩٠٢ء راقم ایک مسلمان واقف حالات۔

٦٢

٩٧

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

تعارف مضامین ...... ضمیمہ شحنہ ہند

٨ / مارچ ١٩٠٢ء کے شمارہ نمبر ١٠ کے

اسی ترتیب سے پیش خدمت ہیں:

١...... لات کا بھوت بات ہ

ہاں سمند آہستہ ران اے اعر
منحرف مے تازی دشت تاریک

ہمیں تو عبد الکریم کی لیاقت متانت اور تہذیب کو خیر باد کہہ چکے تھے اور اسلامی پبلک کو اس کی کرتوتوں سے شرم ہے کہ اگر سو پڑیں تو ایک سمجھتا ہے اور ان کو پیٹھ پ ایمانداری کا یہی مبلغ ہے کہ ہماری سیکڑوں اصلاحوں کو شیر م ہمارے چودھویں صدی اخبار والے اعتراضات سے باوج خاموشی اختیار کی کہ گویا اس کے منہ سے زبان ہی جاتی رہی قادیانی میں تو آپ پر اتنی پڑیں اور پڑ رہی ہیں کہ گنج کے بے حیائی اخبار الحکم مورخہ ١٧؍ جنوری ١٩٠٢ء میں پھر اپنے قسام ازل نے آپ کی طبیعت میں گوندھے ہیں۔

ہمان دست باید کہ

٦٣

صفحہ ٩٧

بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

تعارف مضامین ...... ضمیمہ شحنہ ہند میرٹھ

٨/مارچ ١٩٠٢ء کے شمارہ نمبر ١٠ کے مضامین

اسی ترتیب سے پیش خدمت ہیں:

١....... لات کا بھوت بات سے نہیں مانتا

ہاں سمند آہستہ ران اے اعرج ناہوشمند
منحرف مے تازی پستی و تاریک است راہ

ہمیں تو عبدالکریم کی لیاقت متانت اور تہذیب نفسی کا جس قدر خیال تھا کب کے اس کو خیر باد کہہ چکے تھے اور اسلامی پبلک کو اس کی کرتوتوں سے واقف کر چکے تھے۔ مگر وہ ایسا صاحب شرم ہے کہ اگر سو پڑیں تو ایک سمجھتا ہے اور ان کو پیٹھ پیچھے کی باتیں یقین کرتا ہے۔ اس کی ایمانداری کا یہی مبلغ ہے کہ ہماری سیکڑوں اصلاحوں کو شیر مادر کی طرح پی گیا اور ڈکار تک نہ لی۔ ہمارے چودھویں صدی اخبار والے اعتراضات سے باوجود ان کو پڑھنے اور دیکھنے کے بھی ایسی خاموشی اختیار کی کہ گویا اس کے منہ سے زبان ہی جاتی رہی ہے۔ ضمیمہ شحنہ ہند الموسوم بہ نامہ اعمال قادیانی میں تو آپ پر اتنی پڑیں اور پڑ رہی ہیں کہ گنج کے کیڑے جھڑ گئے ہوں گے۔ مگر واہ رے بے حیائی اخبار الحکم مورخہ ١٧ / جنوری ١٩٠٢ء میں پھر اپنے اوصاف ثلاثہ کا کامل ثبوت دیا ہے جو قسام ازل نے آپ کی طبیعت میں گوندھے ہیں۔

ہمان دست باید که یزدان بکشت

٦٣

صفحہ ٩٩

چنانچہ آپ فرماتے ہیں: ”اے خدا سے لڑنے والے۔ (او گجراتی) کب تک یہ چھیتڑا تیری ناپاکیوں سے آلودہ ہو کر خدا کے ملائکہ مقربین کے مشام کو ایذاء دیتا رہے گا۔ یاد رکھو والعاقبۃ عند ربک للمتقین“

اے ذات شریف معلوم نہیں آپ کو کیوں اپنی طینت کی پاکی اور تہذیب نفسی کا بار بار ثبوت دیتے ہیں۔ بھلا آپ کی مزدوری اور دوروئیاں اور پاؤ بھر گوشت پر ایمان فروشی میں کسکو شک ہے۔ پھر پھکڑ بازی سے معلوم نہیں آپ کے ہاتھ کیا آتا ہے۔ ذرا خیال تو کرو جری اللہ والے ناپاک شیطانی الہام کی دھجیاں مولوی ثناء اللہ نے اڑائیں اور پبلک پر عقلی اور نقلی دلائل سے ثابت کر دیا کہ ایسا لغو اور بے معنے الہام قادیانی کو خاص ابلیس علیہ اللعنہ کی طرف سے ہوا ہے۔ آپ کو لازم تھا کہ پہلے مولانا موصوف کے روشن دلائل کو سمجھنے کی کوشش کرتے اور پھر جواب دینے پر قلم اٹھاتے۔ مگر یہ یقینی بات ہے کہ سوائے بکواس کے آپ میں اس قدر مغز ہی نہیں۔ آپ تو صرف جھوٹی مداحی سے روٹیوں کے بنجارے ہیں۔ آپ تو بجائے خود اگر مرزا کی سات پشتیں بھی چل کر آویں تو انشاء اللہ معقول جواب نہ دے سکیں گے۔ البتہ گالیاں دینا اور افتراء اور بہتان سے کام لینا دجال اور خردجال کی قسمت میں لکھا ہوا ہے۔ اس میں آپ کے ناپاک فقروں کا جواب دیتا ہوں۔ ذرا کان لگا کر سنئے۔

مفصل بیان کر چکا ہے۔ میں نے اپنے والدین کی گود میں ارکان اسلام سیکھے اور ساری عمر خداوند تعالیٰ کو ایک ماننے اور حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کو رسول برحق جاننے میں گزاری اور گزر رہی ہے۔ میں آنحضرت ﷺ کو خاتم النبیین مانتا ہوں اور ان سے برابری کرنے والوں کو پکا ملحد اور پورا مرتد یقین کرتا ہوں۔ پھر آپ دین و ایمان سے فارغ خطی حاصل کر کے کیوں مجھ پر بہتان باندھتے ہیں۔ جب آپ نے ایسا ناپاک فقرہ اپنے بدباطن اور سیاہ دل سے نکالتے وقت کوئی دلیل پیش نہیں کی تو یاد رکھو کہ یہ گندہ اور مکروہ فقرہ مجذوب کی بڑ اور گوز شتر سے زیادہ نہیں۔ اگر آپ کو کوئی روشن دلیل مل نہ سکتی تھی تو کوئی کانی، کٹی، لنگڑی دلیل ہی پیش کرتے۔

سنو! اگر آپ کی طرح ہمارا دل ناپاک ہوتا اور خداوند تعالیٰ سے (معاذ اللہ) لڑنے کا ارادہ ہو تو آپ کے مرشد اور اس کے چند بے ایمان مشیروں کی طرح ہم بھی پیشہ بنا کر دغا اور فریب سے سیدھے سادھے مسلمانوں کو ورغلانے اور چندہ سمیٹنے اور ناپاک اور مفسد لٹریچر سے مسلمانوں بالخصوص انبیاء علیہم السلام کی تضحیک کر کے اپنی عاقبت برباد کرتے۔ ماشاء اللہ کہ خداوند ٦٤

پاک جس نے اپنی قدرت کاملہ اور حکمت بالغہ سے ہم بند جو ہمارا حقیقی خالق اور مالک ہے۔ اس کے حضور سوئے اد برخلاف اس کے ہماری لڑائی تو ایسے شخص سے اخبث ہے۔ قرآن شریف کی آیات کو اپنے مطلب کے مطابق ب میں ہتک آمیز الفاظ بکتا ہے۔ پھر ان کے ساتھ برابری ک بہتان بازی کا یہ عالم ہے کہ باوجود خود علیحدہ مرتد ہونے ہے۔ حالانکہ علماء اسلام نے اس کو خود دائرہ اسلام سے خار کی یہ حد ہے کہ معاذ اللہ اپنی ذات کو خدا کا بھی ممدوح اور م اللہ ہے اور جن پیشگوئیوں پر اس کا ناز تھا وہ روز روشن می کے روبرو اس کا منہ کالا ہوا۔ مگر کیا مجال ہے کہ باتیں ب سنو! ہماری لڑائی ایسے شیطان سے ہے جو اور غیر سید ہو کر اپنی ذات کو خاندان سادات سے ظاہر کر ”علی داخل النسب وعلی خارج النسب“ ح کرتوتوں سے پبلک کو واقف کرانا نہ صرف ہمارا بلکہ کل ا مسیح کاذب یا دجال اور اس کے لنگڑے گدھے کی پش جھاڑنے سے باز نہیں آتا۔ پس وہ کس عقل کا اندھا ا سے لڑ رہے ہیں۔ بلکہ ہم تو ابلیس خبیث کے مکروں سے

پرانی چیزوں کو از سر نو تازہ کرانا چاہتے ہیں۔ کیا آپ کو سے نہایت اعزاز و اکرام کے ساتھ رخصت ہوتے وق ہوگا جو ناپاکیوں سے آلودہ ہو کر آپ کے دل میں جا گ کے موافق اپنے کرتوتوں کو اوروں کے ساتھ آپ نسب

قوت باہ کے نسخے بنانا اور یاقوتیاں اور بادام روغن می چلانا مغلوب الغضب ہو کر ذوی الارحام کو عاق کرنا وغیرہ۔ کیا ملائکہ مقربین کا یہی کام ہے ۔ ٦٥

صفحہ ٩٩

پاک جس نے اپنی قدرت کاملہ اور حکمت بالغہ سے ہم بندوں پر بے شمار انعام و احسان کئے ہیں اور جو ہمارا حقیقی خالق اور مالک ہے۔ اس کے حضور سوء ادبی کا خیال ہمارے دل میں پیدا ہو۔

برخلاف اس کے ہماری لڑائی تو ایسے شخص سے ہے جو شیطان سے بھی زیادہ خبیث اور اخبث ہے۔ قرآن شریف کی آیات کو اپنے کے مطابق بناتا ہے۔ پہلے تو انبیاء علیہم السلام کی شان میں ہتک آمیز الفاظ بکتا ہے۔ پھر ان کے ساتھ برابری کا دعویٰ کرتا ہے۔ اس کی افتراء پردازی اور بہتان بازی کا یہ عالم ہے کہ باوجود خود علیحدہ مرتد ہونے کے اسلامی دنیا کو دائرہ اسلام سے باہر بتاتا ہے۔ حالانکہ علماء اسلام نے اس کو خود دائرہ اسلام سے خارج کر دیا ہے۔ اس کی شیخی تکبر تعلی اور غرور کی یہ حد ہے کہ معاذ اللہ اپنی ذات کو خدا کا بھی ممدوح اور معبود ثابت کرتا ہے اور کذاب اور مفتری علی اللہ ہے اور جن پیشگوئیوں پر اس کا ناز تھا وہ روز روشن میں علیٰ رؤس الاشہاد غلط نکلیں اور ایک جہاں کے روبرو اس کا منہ کالا ہوا۔ مگر کیا مجال ہے کہ بایں بے شرمی و روسیاہی آنکھ بھی نیچی کی ہو۔

سنو! ہماری لڑائی ایسے شیطان سے ہے جو ختم نبوت کے بعد اپنی نبوت کا دعویٰ کرتا ہے اور غیر سید ہو کر اپنی ذات کو خاندان سادات سے ظاہر کر کے صریح جھوٹ بولتا ہے اور ”لعنة اللہ علی داخل النسب وعلی خارج النسب“ حدیث کا مصداق بنتا ہے۔ پس ایسے آدمی کے کرتوتوں سے پبلک کو واقف کرانا نہ صرف ہمارا بلکہ کل نیک دل مسلمانوں کا کام ہے اور باوجودیکہ مسیح کاذب یا دجال اور اس کے لنگڑے گدھے کی پشت پر لٹھ پر لٹھ برس رہا ہے۔ پھر بھی دولتیاں جھاڑنے سے باز نہیں آتا۔ پس وہ کس عقل کا اندھا اور گانٹھ کا پورا ہے جو یہ کہہ سکتا ہے کہ ہم خدا سے لڑ رہے ہیں۔ بلکہ ہم تو ابلیس خبیث کے مکروں سے پبلک اسلامی کو آگاہ کر رہے ہیں۔

پرانی چیزوں کو از سر نو تازہ کرانا چاہتے ہیں۔ کیا آپ کو وہ معاملہ یاد نہیں رہا جو مشن سکول کی لوئر ٹیچری سے نہایت اعزاز و اکرام کے ساتھ رخصت ہوتے وقت آپ کو پیش آیا تھا۔ غالباً یہ وہی پرانا چیتھڑا ہوگا جو ناپاکیوں سے آلودہ ہو کر آپ کے دل میں جاگزیں ہے اور ”المر يقيس علي نفسه “ کے موافق اپنے کرتوتوں کو اوروں کے ساتھ آپ نسبت کرنا چاہتے ہیں سو یہ آپ کی سخت غلطی ہے۔

قوت باہ کے نسخے بنانا اور یاقوتیاں اور بادام روغن میں دم کئے ہوئے پلاؤ اڑا کر شہوت رانی کا جہاز چلانا مغلوب الغضب ہو کر ذوی الارحام کو عاق کرنا اور اپنی بیٹیوں کو ناحق بے موجب طلاق دینا وغیرہ۔ کیا ملائکہ مقربین کا یہی کام ہے ۔

٦٥

صفحہ ١٠١
کار شیطان میکند نامش ولی
گروہی این است لعنت برولی

یاد رکھو ملائکہ مقربین کا یہ کام نہیں بلکہ اندھیرے کے بھوتوں اور خبیثوں کا کام ہے۔

کے برخلاف ہے۔ چونکہ ایک ہوائی قلعہ ہے۔ اس لئے اس کو زک پر زک پہنچ رہی ہے اور اس کی اینٹ سے اینٹ بج رہی اور عوام میں اس کی مٹی خراب اور پرلے درجے کی رسوائی ہورہی ہے اور اس دروغ کو خداوند پاک کبھی فروغ نہ دے گا اور عنقریب ہی یہ مشن بھی مثل دیگر جھوٹے مشنوں کے صفحہ ہستی سے نیست نابود ہوگا اور والعاقبة عند ربك للمتقين نئے طور پر جلوہ دکھاوے گا۔

اگر میرے مخالف کو تہذیب اور متانت سے کچھ بھی بہرہ ہوتا تو میں نے چودھویں صدی اخبار میں جس تہذیب متانت اور ادب سے کام لیا تھا وہ اس کی قدر کرتا۔ مگر خود غلط بود آنچه ماپنداشتیم۔ اس لئے جیسا مخاطب کا نیچر ہے ایسا ہی جواب عرض کیا گیا اور مقولہ جیسا منہ ویسی چپیڑ کو مدنظر رکھا اور اب پھر کہا جاتا ہے کہ اگر مخاطب میں کچھ بھی شرم ہے تو ہمارے سینکڑوں اعتراضوں کے جن کی بدولت اس جھوٹے مشن کی بنیاد بیخ و بن سے کٹ رہی ہے کسی معقول دلیل سے جواب دے۔ مگر واقعات کا جواب کہاں۔ اس لئے میاں عبدالکریم ہم کو گالیاں نکال کر اپنی اصلیت ظاہر کر رہے ہیں اور یہی قسام ازل نے ان کو نصیب کیا ہے۔ ا ۔ د ۔ گجراتی

٢...... افشاء راز قادیانی

مولانا شوکت ۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ، راقم یکے از معتقدین مرزا صاحب ہے۔ مگر خداوند تعالیٰ نے بندہ کو طبیعت کچھ ایسی عطاء فرمائی ہے کہ جو بات اچھی طرح محقق نہ ہو جاوے اس کے تسلیم کرنے کو دل نہیں چاہتا۔ میرے دل میں مرزا قادیانی کے اکثر الہامات کی بابت کچھ ایسے شک و اعتراض پیدا ہوتے رہتے ہیں۔ جن کے مطالب ہرگز سمجھ میں نہیں آتے۔ میں نے ان اعتراضات کو مرزائی جماعت کے لیڈنگ ممبروں کے سامنے اکثر پیش کیا۔ مگر نہایت افسوس سے کہتا ہوں کہ مجھے کوئی قابل اطمینان جواب نہیں ملا۔ میں نے اسی امید پر ایڈیٹر اخبار الحکم کو بھی لکھا کہ میرے سوالات کو خواہ مرزا قادیانی کی تائید میں ہوں یا تردید میں، شائع کر دیا کرے اور مجھ سے ان کی اجرت وصول کر لیا کرے۔ مگر باوجود بندہ اخبار مذکور کا خریدار بھی ہے۔ مگر جناب ایڈیٹر صاحب نے عالم تکبر تعلی غرور اور شیخی میں آکر باایں الفاظ راقم کو جواب لکھا کہ ایسے مضامین کو میں ردیات کے ٹوکرے میں پھینک دوں گا۔ پس اس طرح وہاں سے بھی مجھے پوری

٦٦

پوری مایوسی ہوئی۔ مگر اپنے رفع شکوک کے سواء کوئی چارہ میں آپ کے ضمیمہ شحنہ ہند میں مرزا قادیا وہ ایسی عمدہ اعلیٰ اور معقول ہوتی ہیں کہ بے اختیار طبع الحال میرے مندرجہ ذیل دو اعتراض جو مرزا قادیانی دلعزیز صفحے میں شائع فرماویں گے تو میں مشکور و ممنون

بٹالوی نے بھی اپنی مصنفہ کتاب حقیقت المہدی میں د

”یاصیح زوجتی“

(الحکم ج ٥ نمبر ٢ ص ٥ کالم ٢ نمبر ٣، مورخہ ٢٤/ جنوری ١٩٠١)

واضح ہو کہ خداوند تعالیٰ نے ہر ایک رحمانی مجید کو رکھا ہے اور مرزا قادیانی کا بھی اسی پر بظاہر اعتقا وغیرہ کتب صحاح ستہ کو ہم اس وقت مانتے ہیں کہ قرآ قرآن کریم کے مخالف ہو تو اس کو ہرگز نہ مانیں گے ا پیش کرتے ہیں ”ولو کان من عند غیر اللّٰہ مرزا قادیانی کے ساتھ اتفاق رائے کر کے اسی آیت سے اوّل الہام ”انت منی بمنزلة ولدی“ ( ہے: ”اے مرزا قادیانی تو میرے لئے بجائے بیٹے لئے کوئی حقیقی بیٹا مانتے۔ پھر اپنی ذات کو اس کا بمنزلہ چکا ہے تو اس کا مثیل آپ نے اپنے تئیں بنانا چا نہایت نفرت اور حقارت کی آنکھ سے دیکھ رہے ہی مرتضیٰ علیہ السلام کو بمنزلہ ہارون فرمایا ہے کہ ”یا عل اور یہ کلام آنحضرت ﷺ کا بالکل راست ہے۔ آپ بھی خدا کے لئے کوئی بیٹا مقرر نہ فرماویں بمنزل شریف پر تدبر کیا جاتا ہے اور اس پاک و بے عیب کے خلاف ہی نکلتا ہے۔

١٧

صفحہ ١٠١

پوری مایوسی ہوئی۔ مگر اپنے رفع شکوک کے سواء کوئی چارہ نہیں۔

میں آپ کے ضمیمہ شحنہ ہند میں مرزا قادیانی کی اکثر غلطیوں کی اصلاحیں دیکھتا ہوں اور وہ ایسی عمدہ اعلیٰ اور معقول ہوتی ہیں کہ بے اختیار طبیعت مان جاتی ہے۔ پس مجھے یقین ہے کہ فی الحال میرے مندرجہ ذیل دو اعتراض جو مرزا قادیانی کے دو الہاموں کی نسبت ہیں آپ اپنے ہر دلعزیز صفحے میں شائع فرما دیں گے تو میں مشکور و ممنون ہوں گا۔

بٹالوی نے بھی اپنی مصنفہ کتاب حقیقت المہدی میں درج کیا ہے۔ دیکھو ص ١٢ کتاب مذکور۔

”یا صح زوجتی“

(الحکم ج ٥ نمبر ٢ ص ٢٥، کالم نمبر ٣، مورخہ ٢٤ جنوری ١٩٠١ء، الحکم ج ٦ نمبر ٤ ص ١١ کالم نمبر ١، ٢٤ جنوری ١٩٠٢ء)

واضح ہو کہ خداوند تعالیٰ نے ہر ایک رحمانی و شیطانی کلام کی شناخت کا حقیقی معیار قرآن مجید کو رکھا ہے اور مرزا قادیانی کا بھی اسی پر بظاہر اعتقاد ہے۔ چنانچہ وہ تحریر فرماتے ہیں کہ صحیح بخاری وغیرہ کتب صحاح ستہ کو ہم اس وقت مانتے ہیں کہ قرآن کریم ان کی تائید کرے اور اگر کوئی حدیث قرآن کریم کے مخالف ہو تو اس کو ہرگز نہ مانیں گے اور اپنے اس اصول مسلمہ کی تائید میں یہ آیت پیش کرتے ہیں ”ولو کان من عند غیر الله لوجدوا فیہ اختلافا کثیراً“ پس ہم بھی مرزا قادیانی کے ساتھ اتفاق رائے کر کے اسی آیت کو ہر الہام کا معیار صداقت رکھتے ہیں اور سب سے اوّل الہام ”انت منی بمنزلة ولدی“ (تذکرہ طبع سوم ص ٥٢٦) کو لیتے ہیں جس کا ترجمہ ہے: ”اے مرزا قادیانی تو میرے لئے بجائے بیٹے کے ہے۔“ حضرت کو لازم تھا کہ پہلے خدا کے لئے کوئی حقیقی بیٹا مانتے۔ پھر اپنی ذات کو اس کا بمنزلہ بناتے۔ جس طرح ایک اصلی مسیح دنیا میں گزر چکا ہے تو اس کا مثیل آپ نے اپنے تئیں بنانا چاہا ہے۔ گو اس سے پاک لوگ مرزا قادیانی کو نہایت نفرت اور حقارت کی آنکھ سے دیکھ رہے ہیں اور جیسا کہ آنحضرت ﷺ نے جناب علی مرتضیٰ علیہ السلام کو بمنزلہ ہارون فرمایا ہے کہ ”یا علی انت منی بمنزلة ھارون من موسیٰ“ اور یہ کلام آنحضرت ﷺ کا بالکل راست ہے۔ پس بمصداق ثبت العرش ثم النقش جب تک آپ بھی خدا کے لئے کوئی بیٹا مقرر نہ فرما دیں بمنزلہ ولد خدا نہیں ہو سکتے۔ بلکہ جہاں تک قرآن شریف پر تدبر کیا جاتا ہے اور اس پاک و بے عیب کتاب سے تذکر حاصل کیا جاتا ہے سراسر اس کے خلاف ہی نکلتا ہے۔

٦٧

صفحہ ١٠٣

حکایۃً قرآن مجید میں درج ہو کر ان کے جوابات دیئے گئے ہیں جن کے یہ عقائد تھے کہ فرشتے معاذ اللہ خدا کی بیٹیاں ہیں۔ عزیر اور مسیح اس کے بیٹے ہیں۔ جیسا کہ آیات ذیل سے پایا جاتا ہے۔

بالقول وهم بامره يعملون (الانبیاء : ٢٦، ٢٧)“

يتفطرن منه وتنشق الارض وتخر الجبال هداً ان دعوا للرحمن ولدا وما ينبغى للرحمن ان يتخذ ولداً (مریم: ٨٨ تا ٩٢)“

(توبه : ٣٠)“

پس اگر مرزا قادیانی نے کفار و مشرکین ، یہود و نصاریٰ کے تتبع سے اپنی ذات کو بمنزلہ ولدی کا لقب دیا ہو تو کچھ عجیب نہیں۔ مگر اس میں ایک اور مشکل مرزا قادیانی کو پیش آوے گی یعنی ان کو مشرکین کفار وغیرہ کا ساتھی اور ہم خیال بننا پڑے گا اور مرزائی ان کی تردید کا جو دعویٰ کر رہے ہیں وہ سراسر عبث اور فضول گنا جاوے گا۔

دوسرا الہام...... مرزا قادیانی فرماتے ہیں کہ میری بی بی بیمار تھی۔ اس پر مجھے الہام ہوا کہ ”میری بی بی تندرست ہو گئی ۔“ اس سے کئی احتمالات پیدا ہوتے ہیں۔

مجید کی آیت جو تمہید میں بیان کی گئی ہیں۔ صاف صاف روکتی ہیں۔ پس تعجب پر تعجب ہے کہ الہام نمبر ١ میں تو خدا تعالیٰ مرزا قادیانی کو اپنا متبنیٰ (منہ بولا بیٹا) قرار دے اور الہام نمبر ٢ میں مرزا قادیانی کی زوجہ کو اپنی زوجہ کہہ کر پکارے۔ یعنی اپنی بہو کو زوجہ کہے ”تعالیٰ شانہ کبرت كلمة تخرج من افواههم ان يقولون الا كذباً (الكهف: ٥)“

الہاموں میں پایا جاتا ہے اور اگر مرزا قادیانی زوجتی سے اپنی زوجہ مراد لیں تو تصحیح زوجتک الہام ہونا چاہئے تھا۔ کیونکہ ملہم خدا ہے نہ کہ مرزا قادیانی اور اگر مرزا قادیانی ہی ملہم اور ملہم ہیں تو یہ الہام نہیں بلکہ اضغاث احلام ہے۔ ایڈیٹر!

٦٨

کلام نہیں تو اس بات کے ماننے میں ذرہ بھی تامل نہیں کہ یہ

مرزا قادیانی کی بی بی اس طرح خدا پر (معاذ اللہ) حلال ہ بولے بیٹے کی بی بی کو پیغمبر خدا ﷺ پر خدا نے حلال کیا او چودھویں صدی میں خدا کے ہاں بیٹا (مرزا غلام احمد قادیانی) خدا نکاح کرے گا اور اس کو زوجتی کہے گا۔ مگر سورۃ احزاب والا معاملہ تو بعد طلاق صاف اپنی زوجہ کو طلاق نہیں دی تو خدا اس کو کیونکر زوجتی کہہ سک شیطانی ہیں۔ میں نے یہ دوسرا الہام مع زوجتی والا ایک مول نے جو جواب دیا وہ بھی اس مقام پر درج کیا جاتا ہے۔ فرما کر جواب تحریر فرما دیں گے۔

٣....... قادیانی کے شیطا

جناب خان صاحب، وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ و تحریروں کو بغور تمام دیکھا۔ ٢٤؍ جنوری ١٩٠١ء میں تو اصح اور ٢٣؍ جنوری ١٩٠٢ء میں صح زوجتی۔ دونوں الہاموں می ہمزہ استفہام ہے۔ دوسرے میں نہیں اور معنوں میں تو ا پہلے الہام کے یہ معنی ہیں کہ کیا میری زوجہ تندرست ہو ج ”میری زوجہ تندرست ہو گئی۔“ گویا پہلا جملہ انشائیہ ہوا ا کفر لازم آتا ہے۔ کیونکہ اگر الہام کنندہ خدا کو فرض کیا ج جو رو اور بیٹے کے عیب سے بری اور منزہ ہے۔ چنانچہ وہ خ

اولی الابصار غور فرما سکتے ہیں کہ یہ نرا شرک ہ ہے؟ اور اس پر ملہم (الہام کنندہ) کی بے خبری اور س

٦٩

صفحہ ٦٩

کلام نہیں تو اس بات کے ماننے میں ذرہ بھی تامل نہیں کہ یہ الہامات سراسر شیطانی ہیں۔

مرزا قادیانی کی بی بی اس طرح خدا پر (معاذ اللہ) حلال ہو سکتی ہے۔ جیسے سورہ احزاب میں منہ بولے بیٹے کی بی بی کو پیغمبر خدا ﷺ پر خدا نے حلال کیا اور شاید حلال ہونے کی یہ وجہ بتا دیں کہ چودھویں صدی میں خدا کے ہاں بیٹا (مرزا غلام احمد قادیانی) ہو گا اور اس کی بی بی سے یعنی بہو سے خدا نکاح کرے گا اور اس کو زوجتی کہے گا۔

مگر سورۂ احزاب والا معاملہ تو بعد طلاق صاف ہوا۔ یہاں مرزا قادیانی نے جب تک اپنی زوجہ کو طلاق نہیں دی تو خدا اس کو کیونکر زوجتی کہہ سکتا ہے؟ نتیجہ پر ظاہر ہے کہ یہ الہامات شیطانی ہیں۔ میں نے یہ دوسرا الہام صح زوجتی والا ایک مولوی صاحب کے آگے پیش کیا۔ انہوں نے جو جواب دیا وہ بھی اس مقام پر درج کیا جاتا ہے۔ امید ہے کہ مرزا قادیانی اس پر بھی غور فرما کر جواب تحریر فرماویں گے۔ راقم: ع.ع از سیالکوٹ

٣...... قادیانی کے شیطانی الہامات

جناب خان صاحب، وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ، میں نے الحکم اخبار کی دونوں تحریروں کو بغور تمام دیکھا۔ ٢٣؍جنوری ١٩٠١ء میں اَاَصُحّ زوجتی (تذکرہ طبع سوم ص٤٠٣) مرقوم ہے اور ٢٤؍جنوری ١٩٠٢ء میں صح زوجتی۔ دونوں الہاموں میں لفظاً اور معناً اختلاف ہے۔ اوّل میں ہمزہ استفہام ہے۔ دوسرے میں نہیں اور معنوں میں تو ایک عجیب وغریب تحیّر عقلی پایا جاتا ہے۔ پہلے الہام کے یہ معنی ہیں کہ کیا میری زوجہ تندرست ہو گئی۔ دوسرے الہام کے یہ معنے ہوئے۔ ”میری زوجہ تندرست ہو گئی۔“ گویا پہلا جملہ انشائیہ ہوا اور دوسرا خبریہ مگر دونوں صورتوں میں ملہم کا کفر لازم آتا ہے۔ کیونکہ اگر الہام کنندہ خدا کو فرض کیا جاوے تو ظاہر ہے کہ وہ زوج اور ابن یعنی جورو اور بیٹے کے عیب سے بری اور منزہ ہے۔ چنانچہ وہ خود قرآن شریف میں فرماتا ہے:

اولی الابصار غور فرما سکتے ہیں کہ یہ نرا شرک اور الوہیت باری تعالیٰ کا انکار نہیں تو کیا ہے؟ اور اس پر ملہم (الہام کنندہ) کی بے خبری اور بے فہمی کا یہ عالم ہے کہ اپنی زوجہ اور صاحبہ

صفحہ ١٠٥

مفروضہ کی صحت کا استفسار کرتا ہے۔ معلوم نہیں۔ استفسار قادیانی کے زعم میں خود بذاتہ قادیانی سے ہو یا کسی اور سے۔ کیا عجب ہے کہ قادیانی نے اپنے آپ کو اقانیم ثلاثہ کا ایک اقنوم تصور کر کے اپنے سے یہ استفسار سمجھا ہو۔ جیسا کہ اس شیطانی الہام کو بھی اپنی طرف منسوب کرتا ہے۔ ”انــــــت بمنزلة ولدى “ یا کسی غیر سے استفسار کیا ہو جو ملاء اعلیٰ پر وزارت کی کرسی پر بیٹھ کر مثل خوانی کا حق رکھتا ہے۔ جس کی طرف سے مرزا قادیانی کے وارنٹ گرفتاری آ رہے ہیں۔ غیر استفہامی یعنی اختیاری صورت میں زوجہ کے عیب سے باوصف انکار کے الہام کنندہ نے اقرار کیا ہے اور یہ عجیب کیفیت ہے کہ الہام دادہ (قادیانی) تو اپنی زوجہ مریضہ کی صحت سے خوش ہوا اور الہام کنندہ (قادیانی) کا خدا اس کو اپنی زوجہ تصور فرما کر اس کی صحت کی قادیانی کو خبر دے۔ عجیب مغالطہ مناقشہ اور طرفہ معجون مرکب ہے جس کی کیفیت اور مزاج سے مطلع ہونا محال ہے۔ اگر قادیانی اور اس کا کوئی پیرو اپنی تاویل لاطائل اور لنگڑے بازوؤں سے ہاتھ پاؤں مار کر کچھ بیان کرے تو ہم ایسی تاویل کے سننے کے بڑے مشتاق ہیں۔ گو وہ تاویل گنجی یا کانی یا لنجی ہی کیوں نہ ہو۔ علاوہ بریں الہام کنندہ (قادیانی کا خدا) زبان عربی سے بھی پرلے درجہ کا نابلد ہے اور اس کے محاورات اور قواعد صرف ونحو، بدیع ومعانی سے نرا کورا اور معرا اور محض جاہل ہے جس کو اب تک یہ خبر بھی نہیں کہ یہ الہام یا اعتبار محاورہ عربی درست ہے یا غلط اور ملہم (قادیانی) بھی علیٰ ہذا القیاس بالکل ہی کودن اور ناواقف ہے جو الہام مذکور کی صحت وسقم میں تمیز نہ کر کے اپنے اخبار مورخہ ٢٤ جنوری ١٩٠١ء اور ٢٤؍ جنوری ١٩٠٢ء میں اس لغو اور غلط الہام کو شائع کر کے خاص و عام میں رسوا اور ذلیل ہو رہا ہے اور اپنے مقرب حواریوں وغیرہ کی علمیت اور لیاقت کی قلعی کھلوا رہا ہے۔ کیونکہ یہ بات تو مشن اور بورڈ سکولوں کے طلبہ پر بھی مخفی نہیں کہ (زبان عربی میں) فاعل مونث حقیقی لفظی ہو تو جب اس کی طرف فعل منسوب کیا جاوے تو اس فعل کا مؤنث ہونا لازم و واجب ہوتا ہے۔ نہ کہ مذکر جیسے کہ دونوں اصح و صح والے مخدوش الہاموں میں منقول ہے۔ ”جس صورت میں فاعل مونث حقیقی ہو تو فعل کو ہمیشہ بصیغہ مؤنث لانا چاہئے ۔“

(دیکھو کتاب مفتاح الادب حصہ سوم ص ١٨)

جب کہ زوجتی فاعل مونث حقیقی ہے تو چاہئے تھا کہ اس کا فعل مونث یعنی صحت زوجتی ہوتا۔ مگر چونکہ یہ ایک شیطانی الہام ہے۔ پس ان فاش اور فاحش غلطیوں سے اس کا مملو اور مشحون ہونا ضروری تھا۔ دوسرے پہلو پر اگر قادیانی یا اس کا کوئی معاون یہ کہے کہ دونوں الہاموں میں ضمیر ملہم (الہام کنندہ) کی جانب راجع ہے اور زوجہ مفعول ہے نہ کہ فاعل اور اعتراض مذکورہ سے کسی باطل حیلہ سے بچنا چاہے تو پھر بھی کبھی نجات اور مخلصی نہیں ہو سکتی۔ کیونکہ اس صورت میں استفہام

٧٠

اور غیر استفہام کے مطالب قادیانی پر ظاہر کرنے لازم ہوں کیسا اور پھر قیاس مذکورہ پر بھی قادیانی کی عربی دانی باطل متعدی کی تمیز حاصل نہ ہوئی۔ صح جو فعل لازمی ہے متعدی آسکتا ہے اور نہ اس کا کوئی اسم مفعول غیر متعدی کے مستقـ صحیح ہے۔ جیسا کہ حسن اور شرف لازمی افعال کا شریف او مفعول۔ صح میں تمیز کا قائل ہونا اور اس کا ملہم بنانا اور زـ نقل سے خارج ہوگا۔

اگر قادیانی اصح کے ہمزہ کو ہمزہ استفہام نہ سـ کنندہ کا مقولہ ہی نہ رہا۔ بلکہ یہ مقولہ کودن قادیانی کا ہوا ا افعال سے کلام عرب میں نہیں آیا۔ اگر اس لفظ کو اصح پڑـ صورت میں معنی یہ ہوں گے کہ میں اپنی زوجہ کو صحت دیـ ہونے میں کسی قسم کا شک نہیں۔ کیونکہ اگر یہ ملہم کا مقولہ ہو بھی کلمہ کفر ہے۔ کیونکہ صحت وسقم اڈیٹر۔ واہ مولانا کیا کـ مرزا قادیانی کے ملہم کا بالکل جھونپڑا ہی کاٹ کر رکھ دیا۔ یـ زوجہ ام المرزائیں پر ہوا ہے۔ خود بدولت مرزا جی بھی نہیں اقوال باب افعال سے ہے۔ یعنی تو پیدا کرنے والی میرـ ذرہ زور سے خوشی میں ایک تو قہقہہ لگائیے۔ قہ.....قہ.....

٤...... غلطی کا

اس عنوان کا ایک اشتہار منجانب مرزا غلام ا قادیانی نے اپنے متعلق کہا کہ میں نبی اور رسول ہوں ا کے خاتم نبوۃ ہونے کو صدمہ نہیں پہنچتا وہ یہی ہے کہ ہم مرزا اور تمام مرزائیوں سے پوچھتا ہے کہ فانی الرسول ا نبوت میں بھی خیال و گمان ہی ہو اور اگر واقعی ہے تو یہ تـ رسول کریم ﷺ سے صرف عینیت من کل الوجـ آنحضرت ﷺ اور مرزا کے آپس میں متحد ہو گئے ہیں دیگر باطل ہے۔ اوّل اس لئے کہ مرزا حضرت عبداللہ

٧١

صفحہ ١٠٥

اور غیر استفہام کے مطالب قادیانی پر ظاہر کرنے لازم ہوں گے اور جب الہام ہے تو پھر استفہام کیسا اور پھر قیاس مذکورہ پر بھی قادیانی کی عربی دانی باطل ہو جائے گی۔ گویا اس کو فعل لازم اور متعدی کی تمیز حاصل نہ ہوئی۔ اصح جو فعل لازمی ہے متعدی نہیں ہو سکتا اور نہ اس کا کوئی مفعول بہ آسکتا ہے اور نہ اس کا کوئی اسم مفعول غیر متعدی کے مستعمل ہو سکتا ہے۔ اصح کا صفت مؤنث ہونا صحیح ہے۔ جیسا کہ حسن اور شرف لازمی افعال کا شریف اور حسین مستعمل ہے اور فعل لازمی کا اسم مفعول ۔ اصح میں ممیزہ کا قائل ہونا اور اس کا ملہم بنانا اور زوجتی کی مفعولیت کا اقرار کرنا دائرہ عقل و نقل سے خارج ہوگا۔

اگر قادیانی اصح کے ہمزہ کو ہمزہ استفہام نہ سمجھیں تو اس صورت میں صح زوجتی الہام کنندہ کا مقولہ ہی نہ رہا۔ بلکہ یہ مقولہ کودن قادیانی کا ہوا اور اگر اصح ماضی مانا جائے تو اصحاح باب افعال سے کلام عرب میں نہیں آیا۔ اگر اس لفظ کو اصح پڑھا جاوے جو صیغہ واحد متکلم کا ہے تو اس صورت میں معنی یہ ہوں گے کہ میں اپنی زوجہ کو صحت دیتا ہوں۔ اس صورت میں اس کے کلمہ کفر ہونے میں کسی قسم کا شک نہیں۔ کیونکہ اگر یہ ملہم کا مقولہ ہوتا تو ملہم صاحب اگر قادیانی کا مقولہ ہے تو بھی کلمہ کفر ہے۔ کیونکہ صحت وسقم اڈیٹر ۔ واہ مولانا کیا کہنا ہے آپ دونوں صاحبوں نے مل کر تو مرزا قادیانی کے ملہم کا بالکل جھونپڑا ہی کاٹ کر رکھ دیا۔ یہ الہام مرزا جی پر نہیں ہوا۔ بلکہ مرزا جی کی زوجہ ام المرزائین پر ہوا ہے۔ خود بدولت مرزا جی بھی نہیں سمجھے جاہل ہیں ”انت بمنزلۃ ولدی “ اقوال باب افعال سے ہے۔ یعنی تو پیدا کرنے والی میرے بیٹے کی ہے اور بیٹے مرزا جی ہیں۔ اب ذرہ زور سے خوشی میں ایک تو قہقہہ لگائیے ۔ قہ ...... قہ ...... قہ ...... قہ ...... قہقہہ۔

٤...... غلطی کا ازالہ

اس عنوان کا ایک اشتہار منجانب مرزا غلام احمد قادیانی خاک کی نظر سے گزرا۔ اس میں قادیانی نے اپنے متعلق کہا کہ میں نبی اور رسول ہوں اور میرے اس دعوے سے آنحضرت ﷺ کے خاتم نبوۃ ہونے کو صدمہ نہیں پہنچتا وجہ یہی ہے کہ ہم کو فنا فی الرسول کا مرتبہ حاصل ہے۔ یہ عاجز مرزا اور تمام مرزائیوں سے پوچھتا ہے کہ فنا فی الرسول امر خیالی ہے یا واقعی۔ اگر خیالی ہے تو دعوائے نبوت میں بھی خیال و گمان ہی ہو اور اگر واقعی ہے تو یہ بتلانا ضروری ہے کہ فنا کی حالت میں مرزا کو رسول کریم ﷺ سے صرف عینیت من کل الوجوہ ہوئی ہے یا صرف اوصاف وعوارض آنحضرت ﷺ اور مرزا کے آپس میں متحد ہو گئے ہیں۔ جیسے ختم نبوت کی نقیض ہے ویسے ہی بوجہ دیگر باطل ہے۔ اول اس لئے کہ مرزا حضرت عبداللہ کا نطفہ نہیں۔ اور دوم اس لئے کہ اس کا نسب

٧١

صفحہ ١٠٧

آنحضرت ﷺ جیسا نہیں۔ رہا یہ کہ وہ باعتبار اوصاف مدعی عینیت ہے۔ یہ بھی مضحکہ طفلان سے کم نہیں۔ کیونکہ ایک شخص کے عوارض بعینہ دوسرے شخص میں ہرگز نہیں پائے جاتے۔ کہا ”لا یخفی علی العاقل“ باقی آئندہ۔ الراقم: ابوالحسن غلام مصطفیٰ بھٹی القاسمی الامرتسری

٥....... مرزا قادیانی سے فیصلہ

بارہا تجربہ ہو چکا ہے کہ جب مرزا قادیانی ہر طرح عاجز ہو جاتے ہیں تو مباہلہ کا اشتہار دیتے ہیں۔ مگر میدان میں نہیں آتے۔ الہام پارہ پارہ ہو گیا۔ جھوٹی نبوت کے پرخچے اڑ گئے۔ اب شحنہ ہند سے فیصلہ کرنے کا اعلان دیا ہے۔ اس معاملہ میں معاونان ضمیمہ کی عام رائے حسب ذیل موصول ہوئی ہے۔

فیصلہ ہو جانے میں کچھ شک ہے؟

کا جو کچھ مزید اثر ظہور میں آ رہا ہے کیا وہ عبرت کے لئے کافی نہیں؟

بگڑا۔ اب شحنہ ہند پر مباہلہ کی دھونس ڈالی جاتی ہے۔

تمام مرزائی شرائط قبول کر کے اعلان دیا ہے پہلے ان سے مباہلہ کیجئے۔ کپکپی کیوں چڑھ گئی؟

مباہلہ کو مرزا قادیانی سخت خطا قرار دے کر مباہلہ سے گریز کر چکے ہیں تو اب مباہلہ کی درخواست کیسی ہے یا تو پہلے جھوٹ بولا یا اب جھوٹ بولتا ہے۔ (عصاء موسیٰ ص١٤٨) پھر تعزیرات کی دفعہ خلاف بانی شحنہ کے اجلاس میں کیوں قائم نہ ہو۔ آج مثل پیش ہو کر حکم ہوا کہ وارنٹ گرفتاری بلا ضمانت جاری کیا جائے۔ (ایڈیٹر)

٦....... بے معنی الہام

جس طرح ضمیمے نے مرزا قادیانی کی پیشین گوئیاں بند کر دیں اسی طرح انشاء اللہ تعالیٰ الہام بھی بند کیا جائے گا اور پھر نہ بانس رہے گا نہ بانسری اور پھنک ایک پھنک دو کو بھی شحنہ پھانک جائے گا۔ بس ٹروں ٹوں مداری اور اس کی ڈگڈگی باقی رہ جائے گی۔ بے معنی الہامات کے جیسے

٧٢

کچھ پرزے اڑے۔ فی حلل الانبیاء کی جو کچھ چھتاڑ ہوئی۔ ”انت ولدی“ کی جو کچھ قلعی آج کے ضمیمے میں کھلی اس سے مرزا ڈر گی۔ مرزا قادیانی کے خدا نے انت ولدی نہیں کہا۔ کیونکہ اس کا ہی موجود تھا۔ بلکہ بمنزلہ ولدی کہا ظاہر ہے کہ اس سے اپنے کو پالک بیٹے (مرزا) کو گھٹایا۔ کیونکہ نقل سے اصل ہمیشہ بڑھی رہتی بیٹے سے بڑھاتا ہے اور اس کی ہر طرح توہین کرتا ہے۔ گویا یاتی شیئاً عجاب“ اگر مرزا کا خدا مرزا کو ولدی کہہ دیتا تو خرابی کے ایک بیٹا ہو چکا ہے تو وہ دوسرے بیٹے کا ہونا کون سا خرق عادت مرزا اور عیسائیوں کے خدا کا عین ہو جانا قیاس میں نہیں آتا۔ اپنے کو عیسائیوں کے عقیدے سے بچانا چاہا ہے۔ مگر ولدی اور دونوں ایک ہی ٹکسال کی گھڑت ہیں۔ پھر دونوں فقرے کہے۔ ولدی“ کے قضیہ حملیہ میں تو حمل صفت پر اور انت توحیدی وتفریدی جو بالکل بے معنی ہے۔ (ایڈیٹر)

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

تعارف مضامین ...... ضمیمہ شحنہ

١٤/ مارچ ١٩٠٢ء کے شمارہ نمبر ١١

......١ الشهادة الجلی فی اثبات لوازم النبی

اسی ترتیب سے پیش خدمت ہیں۔

نبوت اور اس کے لوازم

نبی کا لفظ نباء سے مشتق ہے۔ نباء کے معنے خبر اور آ کا اطلاق غیب کے متعلق ہوا ہے اور غیب سے کبھی تو حالات مستقبلہ۔ اللہ تعالیٰ کا مقصود اخبار غیب سے یہ ہے کہ اس کے لوگوں پر عائد ہوئے ہیں ان کو موجودہ اور آئندہ نسلوں کے

٧٣

صفحہ ١٠٧

کچھ پرزے اڑے۔ فی حلل الانبیاء کی جو کچھ پچھاڑ ہوئی۔ ”اصح زوجتی“ اور ”انت بمنزلۃ ولدی“ کی جو کچھ قلعی آج کے ضمیمے میں کھلی اس سے مرزا اور مرزائیوں کی آنکھیں کھل جائیں گی۔ مرزا قادیانی کے خدا نے انت ولدی نہیں کہا۔ کیونکہ اس کا ایک اکلوتا بیٹا (بزعم نصاریٰ) پہلے ہی موجود تھا۔ بلکہ بمنزلہ ولدی کہا ظاہر ہے کہ اس سے اپنے پچھلے اکلوتے بیٹے کو بڑھایا اور لے پالک بیٹے (مرزا) کو گھٹایا۔ کیونکہ نقل سے اصل ہمیشہ بڑھی رہتی ہے۔ حالانکہ مرزا اپنے کو اکلوتے بیٹے سے بڑھاتا ہے اور اس کی ہر طرح توہین کرتا ہے۔ گویا باپ بیٹوں میں تناقض ہے۔ ”هذا شیئی عجاب“ اگر مرزا کا خدا مرزا کو ولدی کہہ دیتا تو خرابی میں کون سا شہتیر ہو جاتا۔ جب خدا کے ایک بیٹا ہو چکا ہے تو وہ دوسرے بیٹے کا ہونا کون سا خرق نیچر ہے۔ ایک بیٹا جن کر یا جنوا کر مرزا اور عیسائیوں کے خدا کا عین ہو جانا قیاس میں نہیں آتا۔ بمنزلۃ ولدی سے مرزا قادیانی نے اپنے کو عیسائیوں کے عقیدے سے بچانا چاہا ہے۔ مگر ولدی اور بمنزلۃ ولدی میں کوئی فرق نہیں۔ دونوں ایک ہی ٹکسال کی گھڑت ہیں۔ پھر دونوں فقرے کتنے بے جوڑ ہیں۔ ”انت بمنزلۃ ولدی“ کے قضیہ حملیہ میں تو حمل صفت پر اور انت توحیدی و تفریدی میں حمل مصدر کا ذات پر ہے جو بالکل بے معنی ہے۔ (ایڈیٹر)

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

تعارف مضامین ...... ضمیمہ شحنہ ہند میرٹھ

١٤؍ مارچ ١٩٠٢ء کے شمارہ نمبر ١١ کے مضامین

اسی ترتیب سے پیش خدمت ہیں۔

١...... الشهادة الجلی فی اثبات لوازم النبی

نبوت اور اس کے لوازم

نبی کا لفظ نباء سے مشتق ہے۔ نباء کے معنے خبر اور آگاہی کے ہیں۔ قرآن مجید میں نباء کا اطلاق غیب کے متعلق ہوا ہے اور غیب سے بھی تو حالات ماضیہ مراد لئے گئے ہیں اور کبھی مستقبلہ۔ اللہ تعالیٰ کا مقصود انباء غیب سے یہ ہے کہ اس کے احکام کی عدم تعمیل کے جو نتائج پہلے لوگوں پر عائد ہوئے ہیں ان کو موجودہ اور آئندہ نسلوں کے واسطے کھول کر بیان کیا جائے تاکہ یہ

٧٣

صفحہ ١٠٨

حالات انہیں صراط مستقیم پر چلنے میں ممد و معاون ہوں اور اس وجہ سے مرنے کے بعد قیامت کے دن جو حالت ان کی ہونے والی ہے۔ اس سے آگاہ اور خبردار ہو جائیں۔

آیات جن میں نبا کا اطلاق حالات ماضیہ پر ہوا ہے: "کذالک نقص علیک من انباء ما قد سبق وقد اتینک من لدنا ذكراً، من اعرض عنه فانه يحمل يوم القيامة وزراً، خالدين فيه وساء لهم يوم القيامة حملاً (طٰہ)" "اسی طرح ہم واقعات گزشتہ تم کو سناتے ہیں اور ہم نے تم کو اپنے پاس سے قرآن عطاء فرمایا جن لوگوں نے اس سے منہ پھیرا۔ قیامت کے دن وہ ایک بوجھ لادے ہوں گے۔ اسی حال میں ہمیشہ رہیں گے اور یہ بوجھ قیامت کے دن ان کو بہت ہی گراں ہوگا۔"

"الم ياتكم نباء الذين كفروا من قبل فذاقوا وبال امرهم ولهم عذاب الیم (تغابن: ٥)" "کیا تم کو ان لوگوں کا حال نہیں پہنچا جنہوں نے پہلے کفر کیا۔ پھر اپنے اعمال کا مزہ چکھا اور ان کو عذاب دردناک ہوتا ہے۔"

آیات جن میں نباء کا اطلاق حالات مستقبلہ پر ہوا ہے: "فقد كذبوا بالحق لما جاءهم فسوف ياتيهم انباء ما كانوا به يستهزؤن الم يروا كم اهلكنا من قبلهم من قرن مكنهم فى الارض مالم نمكن لكم وارسلنا السماء عليهم مدراراً وجعلنا الانهر تجرى من تحتهم فاهلكناهم بذنوبهم وانشانا من بعدهم قرناً آخرین (الانعام)" چنانچہ جب حق ان کے پاس آیا اس کو بھی جھٹلا دیا۔ یہ لوگ جس چیز کی ہنسی اڑا رہے ہیں اس کی حقیقت ان کو معلوم ہو جائے گی۔ کیا ان لوگوں نے نظر نہیں کی کہ ہم نے ان سے پہلے کتنی امتوں کو ہلاک کیا جن کی ہم نے ملک میں ایسی (مضبوط) جڑ باندھ دی تھی کہ ابھی تک تمہاری ایسی جڑ نہیں باندھی اور ہم نے ان پر موسلا دھار مینہ برسایا اور ان کے نیچے سے نہریں رواں کر دیں۔ پھر ہم نے ان کے گناہوں کی سزا میں ان کو ہلاک کیا اور ان کے پیچھے اور امت نکال کھڑی کی۔"

"قل ما اسئلكم عليه من اجر وما انا من المتكلفين ان هو الا ذكر للعلمين ولتعلمن نباه بعد حين (ص: ٨٦ تا ٨٨)" "کہو کہ اس پر میں تم سے کچھ مزدوری تو مانگتا نہیں اور نہ مجھ کو تکلف کرنا آتا ہے۔ یہ دنیا جہان کے لوگوں کے لئے نصیحت ہے اور بس اور کچھ دنوں پیچھے تم کو اس کی حقیقت معلوم ہو جائے گی۔"

قرآن کریم نے نبوت اور رسالت کے لوازم صاف صاف بتلا دیئے ہیں اور مثال

٧٤

١٠٩ کے واسطے انبیاء کرام کے نام اور ان کے مختصر حالات بھی ظاہر کر میں سے چند کے بیان پر اکتفاء کیا جائے گا۔

ہوتی رہی ہے۔ دیکھو آیت ذیل "انا اوحينا اليك كما بعده واوحينا الى ابراهيم واسماعيل واسحاق وايوب ويونس وهرون وسليمن وآتينا داود زبوراً من قبل ورسلاً لم نقصصهم عليك و (النساء : ١٦٣ ، ١٦٤)" "بیشک ہم نے وحی کی تجھ کو جیسے کہ کے بعد اور وحی کی ہم نے ابراہیم اور اسماعیل اور اسحاق اور ایوب اور یونس اور ہارون اور سلیمان کو اور دی ہم نے داؤد کو زبـ اس سے پہلے تجھ پر بیان کیا اور رسول ہیں کہ ان کا حال ہم نے موسیٰ سے ایک طرح کی باتیں کرنا۔"

اس آیت میں جناب سید المرسلین کی وحی کی مثل ہے تاکہ معلوم ہو جائے کہ محض وحی کا ہونا نبوت اور رسالت شیطان کی طرف سے اس کے دوستوں کو بھی ہوتی ہے۔ جس ہے۔ دیکھو آیت ذیل: "وان الشياطين ليوحون الـ اطـعـتـمـوهـم انـکـم لـمـشـرکـون (الانعام)" "اور شیاط میں وسوسہ ڈالتے ہی رہتے ہیں تاکہ تمہارے ساتھ کج بحثی بلاشک تم (بھی) مشرک ہو ۔"

کبھی وحی نیک عورتوں کو بھی ہوتی ہے اور وہ واقع نبی نہیں ہو جاتیں۔ چنانچہ موسیٰ علیہ السلام کی والدہ محترمہ آیت ذیل میں ہے ۔ "واوحینـا الـی ام مـوسـی ان ا الیـم ولاتـخــافـی ولاتـحـزنـی انـارادوه الـ (القصص : ٧)" "اور ہم نے موسیٰ کی والدہ کی طرف وحی نسبت تم کو خوف ہو تو ان کو دریا میں ڈال دینا اور خوف نہ کـ پاس پہنچا دیں گے اور ان کو پیغمبروں میں سے بنائیں گے ۔"

٧٥

صفحہ ١٠٩

کے واسطے انبیاء کرام کے نام اور ان کے مختصر حالات بھی ظاہر کر دیئے ہیں۔ اس موقعہ پر ان لوازم میں سے چند کے بیان پر اکتفاء کیا جائے گا۔

اول ...... مدعی نبوت و رسالت پر وحی کا ہونا۔ یہ وحی اسی قسم کی ہونی چاہئے جیسی انبیاء سابقین پر ہوتی رہی ہے۔ دیکھو آیت ذیل ”انا اوحینا الیک کما اوحینا الیٰ نوح والنبیین من بعده واوحینا الیٰ ابراهیم واسماعیل واسحاق ويعقوب والاسباط وعيسىٰ وايوب ويونس وهرون وسليمن وآتينا داود زبوراً ورسلاً قد قصصناهم عليك من قبل ورسلا لم نقصصهم عليك وكلم الله موسىٰ تكليماً (النساء:١٦٣، ١٦٤) ”بیشک ہم نے وحی کی تجھ کو جیسے کہ وحی کی ہم نے نوح کو اور نبیوں کو اس کے بعد اور وحی کی ہم نے ابراہیم اور اسماعیل اور اسحاق اور یعقوب اور اس کی اولاد اور عیسیٰ اور ایوب اور یونس اور ہارون اور سلیمان کو اور دی ہم نے داؤد کو زبور اور رسول ہیں کہ ہم نے ان کا حال اس سے پہلے تجھ پر بیان کیا اور رسول ہیں کہ ان کا حال ہم نے تجھ پر بیان نہیں کیا اور بات کی اللہ نے موسیٰ سے ایک طرح کی باتیں کرنا۔“

اس آیت میں جناب سید المرسلین کی وحی کی مثل وحی انبیاء سابقین اس واسطے کہا گیا ہے تا کہ معلوم ہو جائے کہ محض وحی کا ہونا نبوت اور رسالت کے واسطے کافی نہیں۔ کیونکہ وحی کبھی شیطان کی طرف سے اس کے دوستوں کو بھی ہوتی ہے۔ جس کی اطاعت انسان کو مشرک بنا دیتی ہے۔ دیکھو آیت ذیل: ”وان الشياطين ليوحون الیٰ اوليآءهم ليجادلوكم وان اطعتموهم انکم لمشركون (الانعام) ”اور شیاطین تو اپنے ڈھب کے لوگوں کے دلوں میں وسوسہ ڈالتے ہی رہتے ہیں تا کہ تمہارے ساتھ کج بحثی کریں اور اگر تم نے ان کا کہا مان لیا تو بلاشک تم (بھی) مشرک ہو۔“

کبھی وحی نیک عورتوں کو بھی ہوتی ہے اور وہ واقعی مکالمہ الٰہی تک پہنچ جاتی ہے تو بھی وہ نبی نہیں ہو جاتیں۔ چنانچہ موسیٰ علیہ السلام کی والدہ محترمہ کے ساتھ جو مکالمہ الٰہی ہوا اس کا ذکر آیت ذیل میں ہے۔ ”واوحینا الیٰ ام موسىٰ ان ارضعيه فاذا خفت عليه فالقيه فی الیمّ ولا تخافی ولا تحزنی انا رادّوه اليك وجاعلوه من المرسلين (القصص:٧) ”اور ہم نے موسیٰ کی والدہ کی طرف وحی بھیجی کہ ان کو دودھ پلاؤ۔ پھر جب ان کی نسبت تم کو خوف ہو تو ان کو دریا میں ڈال دینا اور خوف نہ کرنا اور نہ رنج کرنا۔ ہم ان کو پھر تمہارے پاس پہنچا دیں گے اور ان کو پیغمبروں میں سے بنائیں گے۔“

٧٥

صفحہ ١١١

پھر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی والدہ محترمہ کے ساتھ مکالمہ الٰہی کا ذکر ان الفاظ میں ہے ۔ دیکھو آیت ذیل : ’’فارسلنا الیھا روحنا فتمثل لھا بشراً سویاً (مریم : ١٧)‘‘ ﴿پس ہم نے اپنے روح (القدس یعنی جبرائیل ) کو ان کی طرف بھیجا تو وہ اچھے خاصے آدمی کی شکل بن کر ان کے روبرو آکھڑے ہوئے۔﴾

’’فنادھا من تحتھا الا تحزنی قد جعل ربک تحتک سریاً و ھزی الیک بجذع النخلۃ تساقط علیک رطباً جنیاً (مریم : ٢٤، ٢٥)‘‘ ﴿پھر جبریل نے (چشمہ ) کے تلے سے ان (مریم ) کو آواز دی کہ آزردہ خاطر مت ہو ۔ تمہارے پروردگار نے تمہارے تلے ایک چشمہ بہا دیا ہے اور کھجور کی جڑ کو اپنی طرف ہلاؤ۔ تم پر پکی پکی کھجوریں جھڑ پڑیں گی ۔﴾

با ایں ہمہ مکالمات الٰہیہ یہ معزز خواتین کبھی انبیاء کی فہرست میں شمار نہیں ہوئیں ۔ باوجودیکہ کتاب اللہ نے ان مکالمات کی کھلے الفاظ میں تصدیق کی ہے۔

سکے۔ دیکھو آیت ذیل : ’’وما ارسلنا من رسول الا بلسان قومہ لیبین لھم (ابراھیم)‘‘ ﴿اور نہیں بھیجا ہم نے کوئی رسول مگر اسی قوم کی زبان میں تا کہ ان کو سمجھائے۔﴾

اس التزام میں یہ ایک لطیف حکمت ہے کہ اگر وحی غیر زبان میں جس کو نبی بہ تکلف سمجھے یا بالکل نہ سمجھ سکے تو قطع نظر اس سے کہ یہ امر سراسر اغراض نبوت (ہدایت خلق ) کے خلاف ہے۔ اللہ تعالیٰ کے علم و کمال پر اعتراض لازم آتا ہے۔ جس کا ذکر آیات ذیل میں ہے۔ ’’اللہ اعلم حیث یجعل رسالتہ (الانعام : ١٢٤)‘‘ ﴿اللہ خوب جانتا ہے کہ کس جگہ رکھے اپنی پیغمبری کو۔﴾

’’اللہ یصطفی من الملائکۃ رسلا ومن الناس ان اللہ سمیع بصیر (حج : ٧٥)‘‘ ﴿اللہ فرشتوں میں سے پہنچانے کے لئے انتخاب فرمالیتا ہے اور آدمیوں میں سے (بھی) اللہ سنتا دیکھتا ہے۔﴾

میں مخاطبین نبوت کو اس پر ایمان لانے کا حکم ہونا چاہئے اور ایمان لانے کا نتیجہ ظاہر ہونا چاہئے۔ کیونکہ جس حالت میں افضل الرسل کے واسطے یہ شرائط ضروری ہیں تو اور کون ان لوازم سے مستثنیٰ ہوسکتا ہے؟ اس کی تائید میں دیکھو آیات ذیل ۔

آیت جس میں سرور عالم ﷺ نے رسالت کا دعویٰ کیا : ’’قل یا ایھا الناس انی

٧٦

رسول اللہ الیکم جمیعاً الذی لہ ملک السمٰوات ویمیت فآمنوا باللہ ورسولہ النبی الامی الذی یؤمن تھتدون (الاعراف : ١٥٨)‘‘ ﴿کہہ دے (اے پیغمبر) پاس اللہ کا پیغام لانے والا ہوں ۔ جس کے لئے آسمانوں اور نہیں بجز اس کے جلاتا ہے اور مارتا ہے۔ پھر ایمان لاؤ ا تابعداری کرو تا کہ تم ہدایت پاؤ۔﴾

آیت جس میں انکار نبوت پر سزا تجویز کی گئی ہے۔ نذیر مبین فالذین امنوا وعملوا الصلحات لھم مغـ فی آیاتنا معاجزین اولئک اصحاب الجحیم (الـ لوگوں سے ) کہو کہ لوگو ! میں تو تم کو کھلم کھلا (عذاب خدا سے ایمان لائے اور انہوں نے نیک عمل (بھی) کئے (اس کے لـ عزت کی روزی اور جو لوگ ہماری آیتوں میں عاجز کرـ

کو اس حد تک تسلیم کیا گیا ہے کہ وحی مسلمہ (قرآن کریم ) میں محمد ﷺ کے اسم گرامی کو بھی نہ بالکنایہ بلکہ بالصراحۃ بار با

’’وما محمد الا رسول قد خلت من قـ ﴿اور محمد اور کچھ نہیں مگر ایک پیغمبر ہے۔ بیشک اس سے پہلے بہـ

’’ما کان محمد ابا احد من رجالکم (الاحزاب : ٤٠)‘‘ ﴿محمد تمہارے مردوں میں سے کسی ہیں اور (سب) پیغمبروں کے آخر میں ہیں۔﴾

’’والذین امنوا وعملوا الصلحات وا الحق من ربھم کفر عنھم سیاتھم واصلح بالھـ لائے اور انہوں نے نیک عمل (بھی) کئے اور جو محمد پر نازل وہ برحق ہے ان کے پروردگار کی طرف سے ہے۔ خدا نے ان حالت (بھی) درست کردی۔﴾

٧٧

صفحہ ١١١

رسول الله الیکم جمیعاً الذی له ملک السموات والارض لا اله الا هو یحیی ویمیت فآمنوا بالله ورسوله النبی الامی الذی یؤمن بالله وکلماته واتبعوه لعلکم تهتدون (الاعراف:١٥٨) “﴿کہہ دے (اے پیغمبر) کہ اے لوگو بے شک میں تم سب کے پاس اللہ کا پیغام لانے والا ہوں۔ جس کے لئے آسمانوں اور زمین کی بادشاہت ہے۔ کوئی معبود نہیں بجز اس کے جلاتا ہے اور مارتا ہے۔ پھر ایمان لاؤ اس پر اور اس کے کلام پر اور اس کی تابعداری کرو تا کہ تم ہدایت پاؤ۔﴾

آیت جس میں انکار نبوت پر سزا تجویز کی گئی ہے: ”قل یا ایھا الناس انما انا لکم نذیر مبین فالذین امنوا وعملوا الصلحات لهم مغفرة ورزق کریم والذین سعوا فی آیاتنا معاجزین اولئک اصحاب الجحیم (الحج:٤٩ تا ٥١) “﴿(اے پیغمبر ان لوگوں سے) کہو کہ لوگو! میں تو تم کو کھلم کھلا (عذاب خدا سے) ڈرانے والا ہوں اور بس پھر جولوگ ایمان لائے اور انہوں نے نیک عمل (بھی) کئے (اس کے صلے میں) ان کے لئے بخشش ہے اور عزت کی روزی اور جولوگ ہماری آیتوں کی ہرائی جتائی کرتے رہتے ہیں وہی دوزخی ہیں۔﴾

چہارم ...... اس وحی میں مدعی نبوت ورسالت کا نام اور درجہ بالصراحت ہونا چاہئے۔ اس ضرورت کو اس حد تک تسلیم کیا گیا ہے کہ وحی مسلمہ (قرآن کریم) میں اس جامع کمالات انسانی و چشمہ فیوض رحمانی کے اسم گرامی کو بھی نہ بالکنایہ بلکہ بالصراحۃ بار بار بیان کیا گیا ہے۔ دیکھو آیات ذیل:

”وما محمد الا رسول قد خلت من قبله الرسل (آل عمران:١٤٤) “ ﴿اور محمد اور کچھ نہیں مگر ایک پیغمبر ہے۔ بیشک اس سے پہلے بھی پیغمبر گزرے ہیں۔﴾

”ماکان محمد ابا احد من رجالکم ولکن رسول الله وخاتم النبیین (الاحزاب:٤٠) “﴿محمد تمہارے مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں ہیں۔ وہ تو اللہ کے رسول ہیں اور (سب) پیغمبروں کے آخر میں ہیں۔﴾

”والذین امنوا وعملوا الصلحات وآمنوا بما نزل علی محمد وهو الحق من ربهم کفر عنهم سیآتهم واصلح بالهم (محمد:٢) “﴿اور جولوگ ایمان لائے اور انہوں نے نیک عمل (بھی) کئے اور جو محمد پر نازل ہوا ہے اس پر (بھی ایمان لائے) اور وہ برحق ہے ان کے پروردگار کی طرف سے ہے۔ خدا نے ان کے گناہ ان سے اتار دیئے اور ان کی حالت (بھی) درست کر دی۔﴾

پنجم ...... ایسے نبی یا رسول کے پاس ایک کتاب منزل من اللہ ہونی چاہئے جو مخاطبین کے

٧٧

صفحہ ١١٢

اختلافات کا فیصلہ کرنے والی ہو اور انسانی جماعت کو اس پر عمل کرنے کی صورت میں عدل پر قائم رکھنے والی ہو۔ دیکھو آیات ذیل۔

آیت جس میں نبی کے ساتھ کتاب کا ہونا ضروری معلوم ہوتا ہے: ”كان الناس امة واحدة فبعث الله النبيين مبشرين ومنذرين وانزل معهم الكتاب بالحق ليحكم بين الناس فيما اختلفوا فيه (البقره: ٢١٣)“ ﴿سب آدمی ایک گروہ تھے۔ پھر بھیجا اللہ نے نبیوں کو بشارت دینے والے اور ڈرانے والے اور ان کے ساتھ برحق کتاب اتاری تاکہ لوگوں میں اس بات میں جس میں وہ مختلف ہو گئے ہیں حکم دیں۔﴾

آیت جس میں رسول کے ساتھ کتاب کا ہونا ضروری معلوم ہوتا ہے: ”لقد ارسلنا رسلنا بالبينات وانزلنا معهم الكتاب والميزان ليقوم الناس بالقسط (الحديد: ٢٥)“ ﴿ہم نے اپنے پیغمبروں کو کھلے کھلے معجزے دے کر بھیجا اور ان کی معرفت کتابیں اتاریں اور پیمانہ (حق وباطل) تاکہ لوگ انصاف پر قائم رہیں۔﴾

ان آیات میں جو کتاب کا لفظ ہے۔ اس کی نسبت کئی مفسروں نے صاف لکھ دیا ہے کہ اس سے ہر نبی کے واسطے کتاب کا ہونا ضروری ہے۔ اس موقعہ پر صرف ایک مفسر کی رائے کا لکھ دینا کافی ہوگا۔ وہو ہذا: ”قال القاضی ظاهر هذه الآية يدل على انه لا نبی الامعه کتاب منزل فيه بيان الحق طال ذالك الكتاب ام قصرودون ذالك ام لم يدون وكان ذالك الكتاب معجزا اولم يكن كذالك لان كون الكتاب منزلا معهم لا يقتضى شيئاً من ذالك (تفسير كبير ج ٢ ص ٢٠٩)“

کہ اس کے برخلاف یہی معیار قرآن کریم کے من جانب اللہ ہونے کا زمان رسالت سرور عالم ﷺ میں پیش کیا گیا تھا۔ دیکھو آیات ذیل: ”افلا يتدبرون القرآن ولو كان من عند غير الله لوجدوا فيه اختلافاً كثيراً (النساء: ٨٢)“ ﴿پھر کیا وہ نہیں سمجھتے قرآن کو اور اگر خدا کے سوا اور کسی کے پاس سے ہوتا تو وہ بیشک اس میں بہت اختلاف پاتے۔﴾

”وانزلنا الیک الكتاب بالحق مصدقاً لما بين يديه من الكتاب ومهيمنا عليه (المائده: ٤٨)“ ﴿اور بھیجی ہے ۔ ہم نے تیرے پاس کتاب برحق ۔ سچا بتاتی ہے۔ اس کو جو اس کے آگے ہے کتاب سے (یعنی تورات وانجیل سے) اور اس کی محافظ ہے۔﴾

٧٨

اپنے درجے سے گر جاتا ہے۔ دیکھو آیت ذیل:

”يا ايها الرسول بلغ ما انزل رسالته والله يعصمك من الناس (المائده کچھ کہ بھیجا گیا ہے تیرے پاس تیرے پروردگار پہنچایا اور اللہ بچائے گا تجھ کو آدمیوں سے۔ ﴾

”وما كان لنبی ان يغل ومن نفس ما كسبت وهم لا يظلمون (آل عـ کرے گا آئے گا اس چیز سمیت جس کو غبن کیا۔ ہر ایک شخص کو اس کی جو اس نے کمایا ہے اور ان پر

دیکھو ان تینوں امور کے متعلق آیات

غفور رحيم (آل عمران: ٣١) “ ﴿کہہ میری تابعداری کرو۔ اللہ تم کو دوست رکھے گا ا ہے بڑا مہربان۔﴾

ما لا تفعلون (الصف: ٢، ٣) “ ﴿مسلمانو! تـ دکھاتے۔ اللہ کو سخت ناپسند ہے کہ کہو اور کرو نہیں

يعلمون (الجاثيه: ١٨) “ ﴿پھر ہم نے تم کو اور ان لوگوں کی خواہشوں پر نہ چلو جن کو علم نہیں

”قل انی امرت ان اعبدالـ المسلمين قل اني اخاف ان عصيت کہو کہ مجھ کو حکم ملا ہے کہ میں خالص خدا کی فر

صفحہ ١١٣

اپنے درجے سے گر جاتا ہے۔ دیکھو آیت ذیل جس میں رسول اکرم ﷺ مخاطب ہیں۔

”ياايها الرسول بلغ ما انزل اليك من ربك فان لم تفعل فما بلغت رسالته والله يعصمك من الناس (المائده:٦٧) “ ﴿اے پیغمبر پہنچا دے (لوگوں میں) جو کچھ کہ بھیجا گیا ہے تیرے پاس تیرے پروردگار سے اور اگر تو نہ کرے تو تو نے اس کا پیغام نہیں پہنچایا اور اللہ بچائے گا تجھ کو آدمیوں سے۔﴾

”وما كان لنبى ان يغل ومن يغلل يات بما غل يوم القيمة ثم توفى كل نفس ماكسبت وهم لا يظلمون (آل عمران: ١٦١) “ ﴿اور کسی نبی کے لائق نہیں کہ غبن کرے گا آئے گا اس چیز سمیت جس کو غبن کیا ہے۔ قیامت کے دن پھر پوری دی جائے گی (سزا) ہر ایک شخص کو اس کی جو اس نے کمایا ہے اور ان پر ظلم نہ کیا جائے گا۔﴾

دیکھو ان تینوں امور کے متعلق آیات ذیل:

غفور رحيم (آل عمران:٣١) “ ﴿کہہ دے (اے پیغمبر) کہ اگر تم اللہ کو دوست رکھتے ہو تو میری تابعداری کرو۔ اللہ تم کو دوست رکھے گا اور تمہارے گناہ بخش دے گا اور اللہ بخش دینے والا ہے بڑا مہربان۔﴾

ما لا تفعلون (الصف:٢، ٣) “ ﴿مسلمانو! تم ایسی بات کیوں کہہ بیٹھا کرتے ہو جو تم کر کے نہیں دکھاتے۔ اللہ کو سخت ناپسند ہے کہ کہو اور کرو نہیں۔﴾

يعلمون (الجاثيه:١٨) “ ﴿پھر ہم نے تم کو دین کی شریعت سے لگا دیا ہے۔ تو تم اسی پر چلے جاؤ اور ان لوگوں کی خواہشوں پر نہ چلو جن کو علم نہیں۔﴾

”قل انى امرت ان اعبدالله مخلصاله الدين وامرت لان اكون اوّل المسلمين قل انى اخاف ان عصيت ربى عذاب يوم عظيم (الزمر: ١١ تا ١٣) “ ﴿کہو کہ مجھ کو حکم ملا ہے کہ میں خالص خدا کی فرمانبرداری کو مدنظر رکھ کر اسی کی عبادت کیا کروں اور

٧٩

صفحہ ١١٥

(نیز) مجھ کو یہ حکم ملا ہے کہ میں سب سے پہلا مسلمان بنوں۔ کہو کہ میں اپنے پروردگار کی نافرمانی کروں تو مجھے بڑے دن کے عذاب سے ڈر لگتا ہے۔ ﴾

نہم...... نبی کے لئے اپنی زندگی کے ہر حصہ میں صادق ہونا شرط ہے۔ جناب اصدق الصادقین ﷺ نے اپنی نبوت ورسالت کی حقانیت کا مدار علیہ یہ نشانِ عظیم بھی قرار دیا ہے۔ دیکھو آیات ذیل: ”قل لو شاء الله ما تلوته عليكم ولا ادراكم به فقد لبثت فيكم عمرا من قبله افلا تعقلون فمن اظلم ممن افترى على الله كذبا او كذّب باياته انه لا يفلح المجرمون (يونس: ١٦، ١٧)“ ﴿کہہ دے (اے پیغمبر) اگر چاہتا اللہ تو میں نہ پڑھتا تمہارے سامنے اور (خدا) تم کو اس سے خبردار نہ کرتا۔ پھر بے شک میں رہا تم میں ایک عمر اس سے پہلے کیا تم نہیں سمجھتے۔ پھر کون بڑا ظالم ہے۔ اس شخص سے جو باندھ لیوے اللہ پر جھوٹ یا جھٹلاوے اس کی نشانیوں کو ٹھیک بات یہ ہے کہ نہیں فلاح پائیں گے گنہگار۔ ﴾

دہم...... نبی یا رسول کی دعوت حکمت اور موعظہ حسنہ پر مبنی ہونی چاہئے نہ کہ سختی پر اور اگر جدال کی صورت پیش آجائے تو مستحسن طریق اختیار کرنا چاہئے۔ دیکھو آیات ذیل: ”ادع الى سبيل ربك بالحكمة والموعظة الحسنة وجادلهم بالتي هي احسن ان ربك هو اعلم بمن ضل عن سبيله وهو اعلم بالمهتدين (النحل: ١٢٥)“ ﴿بلا اپنے پروردگار کی راہ کی طرف حکمت اور نیک نصیحت کے ساتھ اور بحث کر ان سے اس طریق میں کہ وہی سب سے اچھا ہے۔ بیشک تیرا پروردگار وہ خوب جاننے والا ہے۔ اس کو جو گمراہ ہوا اور وہ خوب جاننے والا ہے راہ پانے والوں کو۔ ﴾

”ولا تسبوا الذين يدعون من دون الله فيسبوا الله عدواً بغير علم (الانعام) “ ﴿اور مت گالی دو ان لوگوں کو جو پکارتے ہیں (اور کسی کو) اللہ کے سوا پھر وہ اللہ کو گالی دیں گے بے سمجھے۔ ﴾

”اذهبا الى فرعون انه طغى فقولا له قولاً لينا لعلّه يتذكر او يخشى (طه: ٤٣، ٤٤) “ ﴿دونوں فرعون کے پاس جاؤ اس نے بہت سر اٹھا رکھا ہے۔ پھر اس سے نرمی سے بات کرو شاید وہ سمجھ جائے یا (ہمارے عذاب سے) ڈرے۔ ﴾

یاز دہم...... احکام الٰہی کی تبلیغ کرنے اور وحی الٰہی کو سنا دینے سے نبی یا رسول کا فرض پورا ہو جاتا ہے۔ اس کے منصب عالی کو قوم کے تسلیم کرنے یا نہ کرنے سے کوئی تعلق نہیں۔

”فهل على الرسل الا البلاغ المبين (النحل: ٣٥)“ ﴿پھر رسولوں پر کچھ ذمہ

٨٠

نہیں بجز صاف صاف (حکم) پہنچا دینے کے۔ ﴾

”فلعلك باخع نفسك على آثارهم انا جعلنا ما على الارض زينة لها لنبلوهم ﴿(اے پیغمبر) اگر (یہ لوگ) اس بات کو نہ مانیں تو شایـ جان ہلاک کر ڈالو گے جو (کچھ) زمین پر ہم نے اس کو تا کہ ہم لوگوں کو آزمائیں کہ ان میں کون اچھے عمل کرتا ہے

”انا انزلنا عليك الكتاب للناس بالـ فانما يضل عليها وما انت عليهم بوكيل (الـ لوگوں کے (فائدے کے) لئے تم پر اتاری ہے (اور ) رو براہ ہوا وہ اپنے خاص (بھلے کے) لئے اور جو بھٹک (پڑے گا) اور تم کچھ ان کے وکیل تو نہیں۔ ﴾

دوازدہم...... تبلیغ کے بعد نبی یا رسول کا کام یہ ہے کـ جوش کے) مخالفین اور موافقین کے افعال ذمیمہ اور اعما یہ ہے کہ اس کے فرمانبرداروں کی عزت ہوتی ہے اور ذیل: ”واصبر وما صبرك الا بالله ولا تحـ يمكرون ان الله مع الذين اتقوا والذين هم محـ صبر کر اور نہیں تیرا صبر مگر اللہ کی مدد سے اور مت غم کھا ا کرتے ہیں۔ بے شک اللہ ان لوگوں کے ساتھ ہے جـ جو نیکی کرنے والے ہیں۔ ﴾

”فاصبر كما صبر اولوا العزم من يرون مايوعدون لم يلبثوا الا ساعة من نهار (الاحقاف: ٣٥) “ ﴿(اے پیغمبر) جس طرح (او صبر کیا تم بھی صبر کرو اور ان کے لئے (عذاب کی) جـ گے جس کا ان سے وعدہ کیا جاتا ہے تو (ان کو ایسا معلـ ہوں گے تو (سارے) دن میں سے ایک گھڑی بھر (ان (اب اس کے بعد جو) لوگ نافرمان ہوں گے وہی ہلا

٨١

صفحہ ١١٥

نہیں بجز صاف صاف (حکم) پہنچا دینے کے۔﴾

”فلعلک باخع نفسک علیٰ آثارھم ان لم یؤمنوا بھٰذا الحدیث اسفاً انا جعلنا ما علی الارض زینة لھا لنبلوھم ایھم احسن عملاً (الکھف:٦،٧)“ ﴿ (اے پیغمبر) اگر (یہ لوگ) اس بات کو نہ مانیں تو شاید تم مارے افسوس کے ان کے پیچھے اپنی جان ہلاک کر ڈالو گے جو (کچھ) زمین پر ہم نے اس کو زمین کی رونق (کا موجب) بنایا ہے۔ تاکہ ہم لوگوں کو آزمائیں کہ ان میں کون اچھے عمل کرتا ہے۔﴾

”انا انزلنا علیک الکتاب للناس بالحق فمن اھتدیٰ فلنفسہ ومن ضلّ فانھا یضل علیھا وما انت علیھم بوکیل (الزمر:٤١)“﴿بیشک (یہ) کتاب ہم نے لوگوں کے (فائدے کے) لئے تم پر اتاری ہے (اور) اس میں (دین) حق (کی تعلیم) ہے جو روبراہ ہوا وہ اپنے خاص (بھلے کے) لئے اور جو بھٹکا تو اس کے بھٹکنے کا وبال (بھی) اسی پر (پڑے گا) اور تم کچھ ان کے وکیل تو ہو نہیں۔﴾

دوازدہم ...... تبلیغ کے بعد نبی یا رسول کا کام یہ ہے کہ صبر کے ساتھ (بغیر کسی قسم کے مضطربانہ جوش کے) مخالفین اور موافقین کے افعالِ ذمیمہ اور اعمالِ حسنہ کے نتیجے دیکھے۔ کیونکہ قانونِ الٰہی یہ ہے کہ اس کے فرمانبرداروں کی عزت ہوتی ہے اور نافرمانوں کو ذلت ملتی ہے۔ دیکھو آیاتِ ذیل: ”واصبر وما صبرک الا باللہ ولا تحزن علیھم ولاتک فی ضیق مما یمکرون ان اللّٰہ مع الذین اتقوا والذین ھم محسنون (النحل:١٢٧، ١٢٨)“ ﴿اور صبر کر اور نہیں تیرا صبر مگر اللہ کی مدد سے اور مت غم کھا ان پر اور مت ہو تنگ دل اس سے جو وہ مکر کرتے ہیں۔ بے شک اللہ ان لوگوں کے ساتھ ہے جو پرہیزگار ہیں اور ان لوگوں کے ساتھ ہے جو نیکی کرنے والے ہیں۔﴾

”فاصبر کما صبر اولوا العزم من الرسل ولا تستعجل لھم کانھم یوم یرون مایوعدون لم یلبثوا الا ساعة من نھار بلغ فھل یھلک الا القوم الفاسقون (الاحقاف:٣٥)“﴿ (اے پیغمبر) جس طرح (اور) ہمت والے پیغمبروں نے (ایذاؤں پر) صبر کیا تم بھی صبر کرو اور ان کے لئے (عذاب کی) جلدی نہ مچاؤ جس دن (قیامت کو) دیکھ لیں گے جس کا ان سے وعدہ کیا جاتا ہے تو (ان کو ایسا معلوم ہوگا کہ) گویا وہ (دنیا میں) نہیں رہے ہوں گے تو (سارے) دن میں سے ایک گھڑی بھر (لوگوں کو حکمِ خدا کا) پہنچانا تھا سو پہنچا دیا گیا۔ سو (اب اس کے بعد جو) لوگ نافرمان ہوں گے وہی ہلاک ہوں گے۔﴾

٨١

صفحہ ١١٧

”ولله العزة ولرسوله وللمؤمنين ولكن المنافقين لا يعلمون (المنافقون: ٨) ”حالانکہ (اصلی) عزت اللہ کی اور اس کے رسول کی اور مسلمانوں کی ہے مگر منافق (اس بات سے) واقف نہیں۔“ قرآن کریم نے آئندہ نبوت اور صحف آسمانی کی ضرورت کو اعلان عام کے ذریعے سے رفع کر دیا ہے۔ آئندہ نبی کی ضرورت تو اس طرح پر اٹھا دی گئی ہے کہ جناب سرور کائنات ﷺ کی رسالت کے مقاصد کسی خاص قوم میں محدود نہیں رکھے۔ بلکہ وہ تمام انسانوں کے واسطے ہیں اور آئندہ صحف آسمانی کی ضرورت کو اس طرح رفع کیا ہے کہ وہ کتاب جو اس ہادی عالم ﷺ پر اتاری گئی ہے۔ انسان کی جسمانی اور روحانی فلاح کے واسطے کافی و وافی ہے۔ اس کی موجودگی میں کسی اور صحیفہ کا خواہشمند ہونا ایک خطرناک اور قابل ملامت خواہش ہے۔ آیات جن میں آئندہ نبی کی ضرورت کو رفع کیا گیا ہے: ”وما ارسلناك الا كافة للناس بشيراً ونذيراً ولكن اكثر الناس لا يعلمون (السبا: ٢٨) ”اور (اے پیغمبر) ہم نے تم کو تمام (دنیا کے) لوگوں کی طرف (پیغمبر بنا کر) بھیجا ہے کہ (ان کو ایمان لانے پر ہماری خوشنودی کی) خوشخبری سنا دو اور (کفر کرنے پر ہمارے عذاب سے) ڈرا دو مگر اکثر لوگ نہیں سمجھتے۔“ ”ماكان محمد ابا احد من رجالكم ولكن رسول الله وخاتم النبيين (الاحزاب: ٤٠) ”محمد تمہارے مردوں میں سے کسی کے باپ نہیں ہیں۔ وہ تو اللہ کے رسول ہیں اور سب پیغمبروں کے آخر میں ہیں۔“ آیات جن میں آئندہ صحف آسمانی کی خواہش کو ایک خطرناک خواہش بتلایا گیا ہے۔ ”فما لهم عن التذكرة معرضين كانهم حمر مستنفرة فرت من قسورة بل يريد كل امرى منهم ان يوتى صحفاً منشرة كلا بل لا يخافون الآخرة كلا انه تذكرة فمن شاء ذكره (المدثر : ٤٩ تا ٥٥) ”(مگر) ان لوگوں کو کیا (بلا مار گئی) ہے کہ نصیحت سے اس طرح روگردانی کرتے ہیں کہ گویا وہ (جنگلی) گدھے ہیں (اور) شیر (کی صورت) سے بدک کر بھاگتے ہیں۔ بلکہ ان کے تو یہ حوصلے ہیں کہ ان میں سے ہر شخص کو کھلے ہوئے آسمانی صحیفے دیئے جائیں سو یہ تو ہونا نہیں بلکہ (بات یہ ہے کہ یہ لوگ) آخرت ہی سے نہیں ڈرتے۔ سو یہ جھک مارنے کی بات ہے۔ کیونکہ یہی قرآن (سراسر) نصیحت ہے تو جو چاہے اس کو سوچے (سمجھے)۔“ محقق گجراتی!

٨٢

ایڈیٹر ...... سبحان اللہ! مولانا محقق گجراتی نے کس محقق آیات کا انتخاب پیش کیا ہے اور کیسا صاف و شفاف جمل کہ صل علی، مگر وہاں تو خدا کی عنایت سے ہٹے کی پھو جب خود نبی امی خاتم المرسلین ﷺ کو نہیں مانتے تو جو قر لگے۔ ہاں! ان آیات کو مانیں گے جن کی نسبت یہ کہتے ہوئیں۔ بلکہ میرے باب میں نازل ہوئی ہیں۔ یہ منداد کئے ہوئے پولاؤ کا منہا منہ بھرا ہوا تو برا۔ چند گدھے ٹاپتے پھریں اور طویلے کے عراقیوں میں کتوتیاں دباد فرمائشی دولتیاں اور پیشنگین جھاڑی جائیں کہ اگاڑی پچ بدھو نفری رہ جائے اور سب اڑنچھو ہو جائیں۔

بسم اللہ الرحمٰن تعارف مضامین ...... ٢٤ / مارچ ١٩٠٢ء کے شمار

اسی ترتیب سے پیش خدمت ہیں:

عبدالکریم نے ١٤ / فروری ١٩٠٢ء کے اخ کے جواب میں لکھے ہیں۔ یہ مکالمہ سید محمد عمر صاحب تھا اور ہمیں اور مولانا شوکت مجد دالنہ مشرقیہ کو اس کے لئے اسے ہماری طرف منسوب کرتا ہے۔ جوا ہے۔ مگر پڑھ کر دیکھو تو کوہ کندن و کاہ برآوردن والی

٨٣

صفحہ ١١٧

ایڈیٹر ...... سبحان اللہ ! مولانا محقق گجراتی نے کس تحقیق اور ترتیب و تہذیب سے کلام مجید کی آیات کا انتخاب پیش کیا ہے اور کیسا صاف و شفاف جھلکتا ہوا آئینہ مرزا اور مرزائیوں کو دکھایا ہے کہ صل علی ، مگر وہاں تو خدا کی عنایت سے ہیے کی پھوٹے ہوؤں چوپٹ اندھوں کی محفل ہے۔ وہ جب خود نبی امی خاتم المرسلین ﷺ کو نہیں مانتے تو جو قرآن ان پر نازل ہوا ہے اسے کیوں ماننے لگے۔ ہاں! ان آیات کو مانیں گے جن کی نسبت یہ کہتے ہیں کہ محمد ﷺ کے باب میں نازل نہیں ہوئیں ۔ بلکہ میرے باب میں نازل ہوئی ہیں۔ یہ منہ اور گرم مسالا۔ یہ شیخی اور روغن بادام میں دم کئے ہوئے پلاؤ کا منہا منہ بھرا ہوا تو برا۔ چند گدھے راتب اور آزوقہ نہ پائیں تو بے گھانس دانے ٹاپتے پھریں اور طویلے کے عراقیوں میں کنوتیاں دبا دبا کر وہ لتیاڑ ہو کہ گھٹنوں مزہ آ جائے اور وہ فرمائشی دولتیاں اور پشتنگیں جھاڑی جائیں کہ اگاڑی پچھاڑی تھامنی دو بھر ہو جائے۔ پھر کانا ٹٹو اور بدھو نفری رہ جائے اور سب اڑ چھو ہو جائیں۔

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

تعارف مضامین ...... ضمیمہ شحنہ ہند میرٹھ

٢٤ / مارچ ١٩٠٢ء کے شمارہ نمبر ١٢ کے مضامین

اسی ترتیب سے پیش خدمت ہیں:

١...... خدا پر قادیانی بہتان

عبدالکریم نے ١٤/ فروری ١٩٠٢ء کے اخبار الحکم میں پورے نو کالم مندرجہ عنوان مضمون کے جواب میں لکھے ہیں۔ یہ مکالمہ سید محمد عمر صاحب گجراتی اور برہان الدین مرزائی کے مابین ہوا تھا اور ہمیں اور مولانا شوکت مجلۃ السنہ مشرقیہ کو اس سے کچھ تعلق نہیں۔ مگر عبدالکریم ہم کو برا بھلا کہنے کے لئے اسے ہماری طرف منسوب کرتا ہے۔ جواب یوں تو شیطان کی آنت کی طرح بہت طویل ہے۔ مگر پڑھ کر دیکھو تو کوہ کندن و موش برآوردن والی مثل صادق آتی ہے۔

٨٣

صفحہ ١١٩
از برون چون گور کافر پر خلل
وز اندرون قہر خدائے عزوجل

عبدالکریم کے اس جواب کی فہرست حسب ذیل ہے۔

پورے تین کالم۔

یہ تحریر ہم نے اس بزرگ کو پڑھ کر سنا دی جس نے میاں برہان الدین جہلمی (قادیانی) سے مکالمہ کیا تھا۔ جس میں برہان الدین مذکور کو منہ کی کھانی پڑی۔ اس بزرگ نے صاف کہہ دیا کہ عبدالکریم نے بیشک وہاں تک کا زور لگایا مگر دھنس کر دلدل میں بیٹھ گیا اور نہ نکل سکا۔ اعتراض یہ تھا کہ لفظ حمد کا اطلاق خداوند تعالیٰ کی پاک ذات کے سوا قرآن مجید میں کسی اور پر بھی ہوا ہے یا نہیں اور پھر اس حالت میں کہ خاص خدائے تعالیٰ (معاذ اللہ) کسی کی حمد گاتا ہو۔

میں لکھا ہے۔ ایڈیٹر ) جس کے معنے ستودہ شدہ کے ہیں۔“ سبحان اللہ کیا کہنا! آپ اتنا بھی نہیں سوچ سکتے کہ یہ مبارک اسم (محمد) قرآن مجید میں گرامر کے صیغے چھانٹنے کے لئے نہیں دیا گیا۔ بلکہ اسم معرفہ کی حیثیت سے وارد ہوا ہے اور قرآن مجید میں چار جگہ یہ پیارا نام موجود ہے۔

(الاحزاب:٤٠)“

وھو الحق من ربھم (محمد:٢)“

ان چاروں آیات میں لفظ محمد صاف صاف اسم معرفہ ہے اور وہی مبارک اور مقدس اسم ہے جو آنحضرت ﷺ کے والدین نے تولد کے وقت رکھا تھا۔ جیسے دیگر انبیاء علیہم السلام کے نام قرآن شریف میں موجود ہیں۔ یعنی آدم، موسیٰ، عیسیٰ، نوح، یوسف، یعقوب، یونس، ایوب،

٨٤

ابراہیم، اسماعیل، اسحاق (علیہم السلام) وغیرہ اور کرنے کے لئے رکھ دیتی ہے اور یہ نہیں جانتی کہ وامراء۔ پس ان اسماء معرفہ کی گرامر چھانٹنا اور ال ان ناموں کے رکھنے والوں کا۔ کیا عبدالکریم ان مدعا کے موافق کر سکتے ہیں۔ مثلاً پہلی آیت کو ہی ل محمد ایک رسول ہیں اور ان سے پہلے بھی رسول گز کے نہیں کہ ستودہ شدہ ایک رسول ہے اور اس ۔ آیتوں کی نسبت قیاس کر لو۔ مرزائے قادیانی جو چھانٹتے ہیں تو یہ سراسر بے محل ہے۔ علیٰ ہذا سورۃ کہہ دیں گے کہ سورہ صف خاص میری نسبت ناز میں ہوں۔ عبدالکریم اور اس کا مرشد کیا ایسے اس الحقیقت خداوند تعالیٰ (معاذ اللہ) عرش بریں پر رطب اللسان اور عذاب البیان ہے۔ ”کبرت ہم ان سب آیات کو جن میں حمد کا کے سامنے پیش کرتے ہیں۔ عبدالکریم کو مناسب کرے جس سے یہ پایا جاتا ہو کہ خداوند تعا مرزائیوں کا اپنے اصول پر ایمان ہے کہ قرآن گا تو اب لفظ حمد کے بارہ میں کوئی حدیث یا کوئی وہ آیات قرآنی جن میں حمد کا لفظ

(الاعراف:٤٣)“

صفحہ ١١٩

ابراہیم، اسماعیل، اسحاق (علیہم السلام) وغیرہ اور جیسے کل دنیا اپنی اولاد کے نام دوسروں سے تمیز کرنے کے لئے رکھ دیتی ہے اور یہ نہیں جانتی کہ یہ بچے آخر کو اولیاء ہوں گے یا انبیاء یا سلاطین وامراء۔ پس ان اسماء معرفہ کی گرامر چھانٹنا اور ان کے صیغے نکالنا خداوند تعالیٰ کا مطلب ہے۔ نہ ان ناموں کے رکھنے والوں کا۔ کیا عبدالکریم ان چاروں آیتوں میں سے کسی آیت کے معنے اپنے مدعا کے موافق کر سکتے ہیں۔ مثلاً پہلی آیت کو ہی لو جس کے یہ معنی ہوں گے۔ ”سوا اس کے نہیں کہ محمد ایک رسول ہیں اور ان سے پہلے بھی رسول گزر چکے ہیں“ یا بقول عبدالکریم یہ معنے (سوا اس کے نہیں کہ ستودہ شدہ ایک رسول ہے اور اس کے پہلے بھی رسول گزر چکے ہیں) ایسا ہی باقی تین آیتوں کی نسبت قیاس کرلو۔ مرزائے قادیانی جو چند مشربوں کے تتبع سے ناموں کی فلسفی اور گرامر چھانٹتے ہیں تو یہ سراسر بے محل ہے۔ علیٰ ہٰذا سورۃ صف میں بھی لفظ احمد اسم معرفہ ہے۔ مرزا قادیانی کہہ دیں گے کہ سورہ صف خاص میری نسبت نازل ہوئی ہے اور وہ اسم معرفہ احمد میں غلام احمد بیگ میں ہوں۔ عبدالکریم اور اس کا مرشد کیا ایسے اسماء کے پیش کرنے سے بری الذمہ ہو سکتے ہیں کہ فی الحقیقت خداوند تعالیٰ (معاذ اللہ) عرش بریں پر ہر وقت مرزا کی تعریف و توصیف اور حمد گانے میں رطب اللسان اور عذب البیان ہے۔ ”كبرت كلمة تخرج من افواههم“

ہم ان سب آیات کو جن میں حمد کا لفظ خاص خدا کے واسطے ہے آگے چل کر ناظرین کے سامنے پیش کرتے ہیں۔ عبدالکریم کو مناسب ہے کہ قرآن شریف سے ہی کوئی ایسی آیت پیش کرے جس سے یہ پایا جاتا ہو کہ خداوند تعالیٰ مرزا یا کسی اور کی حمد کرتا ہے۔ (جب مرزا اور مرزائیوں کا اپنے اصول پر ایمان ہے کہ قرآن کے مقابلہ میں کوئی حدیث یا کسی کا قول نہ مانا جائے گا تو اب لفظ حمد کے بارہ میں کوئی حدیث یا کوئی قول پیش کرنا آپ اپنے کان اینٹھنا ہے۔ ایڈیٹر)

وہ آیات قرآنی جن میں حمد کا لفظ صرف خدا کے لئے ہے۔

(الاعراف: ٤٣)“

٨٥

صفحہ ١٢١

الآيه (بنى اسرائيل:١١١)“

(الكهف:١)“

كثير من عباده المومنين (النمل:١٥)“

(الروم:١٨)“

الآخرة وهو الحكيم الخبير (سبا:١)“

العالمين (الزمر:٧٥)“

(الجاثيه:٣٦)“

٨٦

غروبها (طٰه:١٣٠)“

ربهم وهم لا يستكبرون (السجدة:١٥)“

(المؤمن:٧)“

والابكار (المؤمن:٥٥)“

(الشورىٰ:٥)“

(الطور:٤٨)“

اسرائيل:٥٢)“

باقی رہا جری اللہ والا شیطانی الہام اس مؤلف نے کوئی کسر باقی نہیں رکھی اور ہر ایک پہلو سے نسبت کچھ لکھنے کی چنداں ضرورت نہیں۔

٨٧

صفحہ ١٢١

غروبها (طٰہٰ:١٣٠)“

ربھم وھم لا یستکبرون (السجدة:١٥)“

(المؤمن:٧)“

والابکار (المؤمن:٥٥)“

(الشوریٰ:٥)“

(الطور:٤٨)“

اسرائیل:٥٢)“

باقی رہا جری اللّٰہ والا شیطانی الہام اس کی قلعی کھولنے اور دھجیاں اڑانے میں مولانا شوکت نے کوئی کسر باقی نہیں رکھی اور ہر ایک پہلو سے اس کو لچر اور پوچ ثابت کر دیا ہے۔ اس کی نسبت کچھ لکھنے کی چنداں ضرورت نہیں۔

٨٧

صفحہ ١٢٢

قادیانی جو اپنی مزخرفات پر ایمان رکھتا ہے تو اختیار ہے کہ اپنی وحی کو قرآن جانے یا اس سے بڑھ کر مانے ۔ مگر قرآنی آیات تو ایسی شیطانی وحی پر لعنت بھیجتی ہیں ۔

اگر مولوی محمد حسین بٹالوی نے دھوکا اور فریب کھا کر براہین احمد یہ جیسی لغو اور بیہودہ کتاب کا ریویو کیا تو اس کے کفارہ میں قادیانی مشن کا بھی سرے سے بھانڈا پھوڑا اور ایسی گندی اور پر از الحاد کتاب پر سینکڑوں دفعہ تھوکا اور جھوٹے کو گھر تک پہنچا کر چھوڑا۔ علاوہ بریں مولوی محمد حسین جو معمولی مولویوں میں سے ہے ہم اس کی اتنی ہی مدح کر سکتے ہیں کہ قادیانی گورکھ دھندے سے سستا چھوٹا اور اس کا ایمان سلامت رہا۔

عبدالکریم ہم کو مباہلہ کے لئے طلب کرتا ہے۔ ہم صاف کہتے ہیں کہ جس نے ”یحمدک اللہ من عرشہ“ والے شیطانی الہام پر ضمیمہ میں جرح کی تھی وہ ایک سید آل رسول ہے اور پہلے ہی سے ہم کو مرزا کے کوڑھی ہونے کی خبریں دور دور سے پہنچ رہی ہیں۔ اگر سید آل رسول سے آپ نے مباہلہ کی ٹھانی تو وہی سہی جماعت کا بھی یہی حال ہوگا اور ہم کو تو قادیانی کی مکاری اور افتراء علی اللہ کا پورا یقین ہو چکا ہے۔ پس جس کو آپ کے مشن پر حسن ظن ہے یا جو آپ کی طرح کوڑھی ہو اس سے مباہلہ کرو۔ عبدالکریم نے ناحق اتنے مرزائیوں کے نام لکھ کر اپنے اخبار کا منہ کالا کیا۔ اگر اتنے مولوی تمہارے قبضہ میں ہیں تو آج تک اس قصیدہ کی غلطیاں کیوں کسی نے نہ نکالیں۔ ویسا لکھنا تو آپ لوگوں سے کہاں ہو سکتا ہے۔ وہ قصیدہ ہمارے مولانا شوکت نے بطور تحدی ضمیمہ میں دیا تھا اور قادیانی کی عربی، فارسی اور اردو نظموں کی جو درگت مولانا موصوف نے اخبار شحنہ ہند میں کئی ماہ تک کی اور قادیانی کو ایک کودن اور طفل مکتب ثابت کیا وہ جہاں میں مشہور ہو گیا۔

عبدالکریم نے ہم کو یہ بھی دھمکی دی ہے کہ مولوی اسماعیل علی گڑھی ، مولوی غلام رسول دستگیر قصوری، مولوی محمد حسن ابوالفیض فیضی اس لئے فوت ہوئے کہ عبدالکریم کے مرشد کو مفتری کہتے تھے۔ اگر احیاء اور اماتت قادیانی کے اختیار میں ہے تو سب سے اوّل وہ الہامی زوجہ کے خاوند کو ہی مارتا جو قادیانی کی چھاتی پر مونگ دل رہا ہے۔ پھر مرزا مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی، ابوالحسن تبتی، ملا محمد بخش کو ہلاک کرتا جو کھلم کھلا اس کے مشن کے پرخچے اڑا رہے ہیں۔ پھر ان ١٢٠ کتابوں کے مصنفوں بالخصوص مصنف عصاء موسیٰ اور صاحب قطع الوتین کو شہید کرتا جنہوں نے اس مشن کے پنہانی رازوں کو اپنی کتابوں میں طشت از بام کیا ہے اور پھر ضمیمہ شحنہ ہند کے ایڈیٹر اور اس کے نامہ نگاروں کا ہی کچھ اکھاڑتا۔

٨٨

٢٣ عبدالکریم ! یاد رکھے کہ جب تک قادیا تعالیٰ پیچھا نہ چھوڑیں گے۔

دست از طلب ندارم
یا جان رسد بجانان

جب ضمیمہ شحنہ ہند کی دھواں دھار زبر مرید بیعت پر تبرا کہہ کر کھسکنے شروع ہوئے اور دکا غم والم میں ہزار ہا تدابیر سوچیں۔ مگر ضمیر کی صداق جی کے خانہ ساز پرچہ اخبار الحکم نے دھڑادھڑ بیع ادھر تاک جھانک کر یہ چال اختیار کی کہ انہیں م نادانی جہالت اور ہٹ دھرمی سے دام تزویر میں ہیرا پھیری سے مکرر سہ کرر بلکہ چو کرر پبلک کو مغال ظاہر ہو کہ بیعت کنندوں کی تعداد ہفتہ وار رو بترق دیکھئے مفصلہ ذیل اشخاص کے نام الحکم مورخہ ١٤ ا شائع کر کے چھ ہی دن کے بعد الحکم مورخہ ٢١ فر مولوی محمد صاحب ساکن پیل، شیخ ڈومن، محبوب ماہیا ساکنان ڈھولن ضلع سیالکوٹ، مولوی برہا افریقہ، شیخ فرزند علی شاہجہانپور، عبداللہ ساکن کنگ ١٤ فروری میں اس طرح لکھے گئے کہ اوّل و آخر ایک دوسرے کے بعد درج کئے گئے اور پھر الح ناموں سے شروع کی گئی۔ مگر نو نام متواتر لکھ کر دو پر لکھا ہے تا کہ مرزا کی اس بے ایمانی کو کوئی پہچا چیل کی نگاہ رکھتے ہیں۔

مرزا قادیانی اسی کرتوت پر فخریہ کہتا اور پیشین گوئی کرتا ہے کہ آئندہ سال اس قدر

صفحہ ١٢٣

عبدالکریم ! یادرکھے کہ جب تک قادیانی مشن کو زندہ درگور نہ کر لیں گے ہم انشاء اللہ تعالیٰ پیچھا نہ چھوڑیں گے۔

دست از طلب ندارم تا کام من برآید
یا جان رسد بجانان یا جان زتن برآید

ا۔ د، گجراتی!

٢....... این گل دیگر شگفت

جب ضمیمہ شحنہ ہند کی دھواں دھار زبردست اور مؤثر تحریروں سے مرزا کے بہت سے مرید بیعت پر تبرا کہہ کر کھسکنے شروع ہوئے اور دکان پھیکی پڑنے لگی۔ یا یوں کہئے کہ ٹوٹ گئی تو اس غم والم میں ہزار ہا تدابیر سوچیں۔ مگر ضمیمہ کی صداقت کے سامنے کچھ بھی پیش نہ چلی۔ ناچار میاں جی کے خانہ ساز پرچہ اخبار الحکم نے دھڑا دھڑ بیعت کنندوں کی زیادہ تعداد دکھانے کے لئے ادھر ادھر تاک جھانک کر یہ چال اختیار کی کہ انہیں معدودے چند مریدوں کے نام جو ابھی تک اپنی نادانی جہالت اور ہٹ دھرمی سے دام تزویر میں پھنسے ہوئے ہیں۔ نوبت بہ نوبت دنوں کی ہیرا پھیری سے مکرر سہ کرر بلکہ چو کرر پبلک کو مغالطہ دینے کے لئے شائع کئے جاتے ہیں۔ تاکہ یہ ظاہر ہو کہ بیعت کنندوں کی تعداد ہفتہ وار رو بترقی ہے کیا یہ صریح کذب بیانی اور بے ایمانی نہیں۔ دیکھئے مفصلہ ذیل اشخاص کے نام الحکم مورخہ ١٤ فروری ١٩٠٢ء میں بیعت کنندوں کی فہرست میں شائع کر کے چھ ہی دن کے بعد الحکم مورخہ ٢١ فروری ١٩٠٢ء میں وہی نام پھر شائع کئے گئے۔ یعنی مولوی محمد صاحب ساکن چیل، شیخ ڈومن ، محبوب عالم رنگ محل لاہور، امام بخش، عبدالکریم، میاں ماہیا ساکنان ڈھولن ضلع سیالکوٹ، مولوی برہان الدین ساکن بورا ضلع گجرات، امام الدین افریقہ، شیخ فرزند علی شاہجہانپور، عبداللہ ساکن کنکنہ ضلع ہوشیار پور، وہی نام نہایت چالاکی سے الحکم ١٤ فروری میں اس طرح لکھے گئے کہ اوّل و آخر چند اور نام لکھ کر بیچ میں مذکورہ بالا دس نام متواتر ایک دوسرے کے بعد درج کئے گئے اور پھر الحکم مورخہ ٢١ فروری ١٩٠٢ء میں ابتداء انہیں دس ناموں سے شروع کی گئی۔ مگر نو نام متواتر لکھ کر دو اور نام درج کر کے پھر وہ دسواں نام بارھویں نمبر پر لکھا ہے تا کہ مرزا کی اس بے ایمانی کو کوئی پہچان نہ سکے۔ مگر آپ جانتے ہیں۔ پہچاننے والے تو چیل کی نگاہ رکھتے ہیں۔

مرزا قادیانی اسی کرتوت پر فخریہ کہتا ہے کہ میرے مریدوں کی تعداد ہزار در ہزار ہے اور پیشین گوئی کرتا ہے کہ آئندہ سال اس قدر مرید بڑھ جاویں گے۔ بیشک بڑھ جائیں گے۔

٨٩

صفحہ ١٢٥

کیونکہ تیلی کے بیل کی طرح ہیرا پھیری کا حساب پہلے ہی لگا لیا ہے۔ جس سے سال بھر میں لاکھوں مریدوں کی قطار محض کاغذ پر صف باندھ کر کھڑی ہو سکتی ہے۔ مگر کاغذی ناؤ دنیا کے سمندر میں کب تک چل سکتی ہے۔ اگر اس تعداد کے ساتھ مرزا قادیانی الہامی قوت سے فقط ایک صفر بڑھا دیں جو آپ کی شان سے بعید نہیں تو چند روز میں پو بارہ ہو جائیں۔ خدا کے لئے مرزائیو غور کرو اور اس کذاب سے بچو اور الحکم کے مذکورہ بالا دونوں پرچے سامنے رکھو اور دھوکہ بازی کو تولو اور کہو لعنت اللہ علیٰ الکاذبین!

(امام الدین از لاہور محلہ پیر گیلانیاں، مورخہ ١٣/ مارچ ١٩٠٢ء)

٣....... ہم مرزا قادیانی کے خدا کا الہام بند کر دیں گے

مجددان مشرقیہ کی پیشین گوئیاں ضرور پوری ہوں گی اور ہو رہی ہیں۔ انشاء اللہ ! یہ مرزا قادیانی کی پیشین گوئیاں نباشد کہ ایک بھی پوری نہ ہو اور سب کی سب ہوا میں اڑ جائیں۔ ہم نے جس سبجیکٹ کا سلسلہ بعنوان ( بے معنی الہام ) جاری کر رکھا ہے وہ برابر جاری رہے گا۔ جب تک مرزا قادیانی پر الہامات کی بوچھاڑ بند نہ ہو جائے۔ ابر تو پھٹ گیا ہے بادل بھی رائی کائی ہو گئے ہیں۔ کچھ کچھ پھوار سی پڑ رہی ہے۔ معاونین ضمیمہ کے قدسی انفاس کی ہوا ان کو ابھی ابھی گھڑی کی چوتھائی میں اڑائے دیتی ہے۔ خود مرزا قادیانی کی ٹھنڈی ٹھنڈی سانسیں ہی الہام کی گرمجوشیوں کی سرد کر دیں گی۔ انشاء اللہ !

فاضل گجراتی نے ”انت بمنزلة ولدی“ والے الہام کی ہر پہلو سے خوب خوب چھٹائی کی ہے۔ اب ہم ان چھیتھڑوں کے چھیتھڑے کر کے منارہ کی چوٹی پر لٹکائے دیتے ہیں تاکہ زائرین کو دور سے نظر آئیں۔

اگر ”انت بمنزلة ولدی“ کی جگہ صرف ”انت ولدی“ کا الہام ہوتا تو معاملہ صاف تھا۔ مرزا قادیانی ابن اللہ بن جاتے اور تمام مرزائی عیسائی اور پھر جدید مشن کے قائم کرنے اور خاص یورپ میں آسمانی باپ کی بادشاہی کی منادی کے پاپڑ بیلنے اور مرزا قادیانی کو اپنی تصویر کے بھیجنے کی مطلق ضرورت نہ پڑتی اور اگر یہ کہو کہ خدا کا ایک بیٹا ( عیسیٰ مسیح ) تو پہلے ہی موجود ہے تو اس کا جواب یوں ہے کہ کیا ایک باپ کے دو یا زیادہ بیٹے نہیں ہوتے۔ کیا ایک بیٹا جنوا کر باپ (خدا) عنین ہو گیا ہے۔ اجی حضرت جب سلسلہ ہی جاری ہو گیا ہے اور خدا کی اولاد کی بم پھوٹ گئی ہے تو بیٹوں کی کیا کمی اور ابھی کیا ہے۔ دیکھئے مرزا قادیانی کے بعد کتنے بیٹے ہوتے ہیں۔ عیسائیوں کا یہ محض خبط ہے کہ اکلوتا بیٹا صرف عیسیٰ مسیح ہے اور مرزا قادیانی کا خبط عیسائیوں سے بھی

٩٠

بڑھ کر ہے کہ ان کے بعد خدا دوسرا بیٹا پیدا نہ کر سکے گا۔ جب تیں اولادیں ہوتی ہیں تو کیا مرزا قادیانی کا خدا انسانوں بلکہ جانوروں سے بھی گیا گزرا۔ ہر مچھلی ایک جھول میں سینکڑوں بچے نکلتے ہیں۔ مگر اب چونکہ مرزا قادیانی کے نزدیک ان کا ہے تو مرزا قادیانی کو اس نے مجبوراً بمنزلہ یعنی لے پالک بن بیٹا (عیسیٰ مسیح) پہلے ہی موجود تھا مگر مرزا قادیانی کے خدا کی کو دیکھ کر بڑھی کہ ان کے تو اتنے بیٹے اور میرے ایک ہی ایک لے پالک بنانے کی ضرورت پڑی اور یہ ضرورت مرز پہلا بیٹا ناخلف تھا۔ کذاب تھا۔ ایسا تھا اور ویسا تھا۔ اسی ۔ میں ہی خلف ارجمند ہوں اور مجھی سے خدا کی نسل جاری ہو مسیح نے اسی لئے کسی عورت سے نکاح نہیں کیا کہ وہ ع مضمون تھا۔ (معاذ اللہ)

الہام کا پہلا فقرہ تو ”انت بمنزلة ولدی وتفریدی“ ہے۔ چونکہ پہلے فقرے پر یہ اعتراض پڑس ہوا تو توحید وتفرید کہاں رہی اور چونکہ مسلمانوں کے خدا ۔ یولد“ بتائی ہے اور مرزا قادیانی بھی اپنے کو بظاہر مسلما مسلمانوں سے پیچھا چھڑانا مشکل پڑ جائے گا۔ لہٰذا اپنے توحیدی وتفریدی“ کا دم چھلا لگانا پڑا۔ حالانکہ اب کہ بمنزلہ کی تولید بھی اور پھر توحید وتفرید بھی۔

اب ذرا دونوں فقروں کا تسلسل اور تال میل د یعنی جب آپ بمنزلہ ہیں تو توحید و تفرید بمنزلہ کیوں نہیں حقیقی اور اصلی۔ یا تو دوسرے فقرہ میں بمنزلہ لگائیے یا پہلا صلبی بیٹا بنائیے تاکہ تعارض و تناقض اٹھ جائے۔ پھر فقر توحید و تفرید مصدر۔ اگر مبالغہ پر محمول کیا جائے کہ تو میر لفظ تولید آنا چاہئے ۔ یعنی تو میری مجسم تولید ہے۔ اس م

٩١

صفحہ ١٢٥

بڑھ کر ہے کہ ان کے بعد خدا دوسرا بیٹا پیدا نہ کرسکے گا۔ جب ایک ایک انسان کے بیس بیس اور تیس تیس اولادیں ہوتی ہیں تو کیا مرزا قادیانی کا خدا انسانوں بلکہ حیوانوں، حشرات الارض اور دریائی جانوروں سے بھی گیا گزرا۔ ہر مچھلی ایک جھول میں سینکڑوں انڈے دیتی ہے جن سے ہزاروں بچے نکلتے ہیں۔ مگر اب چونکہ مرزا قادیانی کے نزدیک ان کا خدا ایک بیٹا نکلوا کر عنین اور عقیم ہوگیا ہے تو مرزا قادیانی کو اس نے مجبورا بمنزلہ یعنی لے پالک بیٹا بنالیا ہے۔ اگرچہ ایک حقیقی اور صلبی بیٹا (عیسیٰ مسیح) پہلے ہی موجود تھا مگر مرزا قادیانی کے خدا کی ہوس اور بھی انسانوں اور حیوانوں کو دیکھ کر بڑھی کہ ان کے تو اتنے بیٹے اور میرے ایک ہی۔ پس غریب خدا کو بیسیویں صدی میں ایک لے پالک بنانے کی ضرورت پڑی اور یہ ضرورت مرزا قادیانی کے دعوٰی سے معلوم ہوئی کہ پہلا بیٹا ناخلف تھا۔ کذاب تھا۔ ایسا تھا اور ویسا تھا۔ اسی لئے مجھے خدا نے لے پالک بنایا۔ پس میں ہی خلف ارجمند ہوں اور مجھی سے خدا کی نسل جاری ہوگی اور یہودی بھی یہی کہتے ہیں کہ عیسیٰ مسیح نے اسی لئے کسی عورت سے نکاح نہیں کیا کہ وہ عنین تھا اور عصمت بی بی از بچادری کا مضمون تھا۔ (معاذ اللہ)

الہام کا پہلا فقرہ تو ”انت بمنزلۃ ولدی“ اور دوسرا فقرہ ”انت توحیدی وتفریدی“ ہے۔ چونکہ پہلے فقرے پر یہ اعتراض پڑتا تھا کہ جب خدا کے صلبی یا لے پالک بیٹا ہوا تو توحید وتفرید کہاں رہی اور چونکہ مسلمانوں کے خدا نے قرآن میں اپنی صفت ”لم یلد ولم یولد“ بتائی ہے اور مرزا قادیانی بھی اپنے کو بظاہر مسلمان ہی کہتے ہیں۔ لہٰذا ان کو خوف ہوا کہ مسلمانوں سے پیچھا چھڑانا مشکل پڑ جائے گا۔ لہٰذا اپنے الہام کے ساتھ بطور دفع دخل ”انت توحیدی وتفریدی“ کا دم چھلا لگانا پڑا۔ حالانکہ اب وہ بھی بد سے بدتر اور اجتماع نقیضین ہوگیا کہ بمنزلہ کی تولید بھی اور پھر توحید وتفرید بھی۔

اب ذرا دونوں فقروں کا تسلسل اور تال میل اور تیل باتر بوز ایجاد بندہ ملاحظہ فرمائیے۔ یعنی جب آپ بمنزلہ ہیں تو توحید وتفرید بمنزلہ کیوں نہیں۔ بیٹا تو بمنزلہ یعنی مجازی اور توحید وتفرید حقیقی اور اصلی۔ یا تو دوسرے فقرہ میں بمنزلہ لگائیے یا پہلے فقرہ سے بمنزلہ کو اڑائیے اور اپنے کو خدا کا صلبی بیٹا بنائیے تاکہ تعارض وتناقض اٹھ جائے۔ پھر فقرہ اولیٰ میں تولید صفت اور فقرہ ثانیہ میں توحید وتفرید مصدر۔ اگر مبالغہ پر محمول کیا جائے کہ تو میری مجسم توحید وتفرید ہے تو فقرہ اولیٰ میں بھی لفظ تولید آنا چاہئے۔ یعنی تو میری مجسم تولید ہے۔ اس صورت میں دونوں پلڑے چاروں چول برابر

٩١

صفحہ ١٢٧

ہو کر تقابل اور وزن کے کانٹے میں تل جائیں گے۔ یعنی ”انت تولیدی و انت توحیدی و تفریدی“ یہ ہے۔ مرزا قادیانی کے خدا کا الہام جس کی اصلاح مجدد السنہ شرقیہ کر رہا ہے۔ مجدد تو نہ مرزا قادیانی کا بدخواہ ہے نہ مرزا قادیانی کے خدا کا۔ وہ تو صرف اپنی تجدید کا کرشمہ دکھا رہا ہے۔ اب بھی مرزا اور ان کا خدا مجدد پر ایمان نہ لائے تو اس سے زیادہ نہ کوئی نا انصافی اور ظلم ہے نہ کوئی تعصب اور اندھیر ہے۔

واضح ہو کہ شحنہ ہند اور پروانہ مشرقی لٹریچر کی یونیورسٹیاں ہیں۔ جب تک کوئی ناظم و ناشر اس میں پاس نہ ہولے کیا طاقت ہے کہ منہ کھول سکے۔ پس مرزا قادیانی اور ان کے حواری کو اس یونیورسٹی کی سند حاصل کرنا چاہئے۔ ورنہ وہ ٹکسالی ناظم و ناشر نہ کہلائیں گے۔ بلکہ کھوٹے پیسے بن کر ٹکسال باہر سمجھے جائیں گے۔ ایڈیٹر !

٤....... نشان آسمانی

ظاہر ہے کہ مرزائی مذہب انیسویں صدی کے فلاسفہ سے تراشا گیا ہے جو خود آسمان ہی کے قائل نہیں اور کہتے ہیں کہ دنیا پر چھایا ہوا جو نیلگوں جسم ہم کو نظر آ رہا ہے۔ اس کا کوئی واقعی وجود نہیں۔ یہ محض انتہاء نظر ہے۔ پھر ہم حیران ہیں کہ جب خود آسمان کا وجود نہیں تو آسمانی نشان کیسا۔ بات یہ ہے کہ اگر مرزا قادیانی آسمانوں کے وجود کا کھلم کھلا انکار کریں تو جو حمقاء دام میں پھنسے ہوئے ہیں۔ وہ موقع پا کر پھر سے اڑ جائیں اور لاسا اور پنجرہ اور پھندا سب دھرے رہ جائیں۔

مرزا اور مرزائیوں کا یہ تکیہ کلام ہو گیا ہے کہ نیا نبی آسمانی نشان لے کر آیا ہے۔ بہت سے نشانات ظاہر ہو چکے ہیں اور بہت سے ظاہر ہونے والے ہیں۔ لیکن یہ سب نشانات مرزائیوں ہی کو نظر آتے ہیں۔ مخالفوں کو نظر نہیں آتے۔ حالانکہ انبیاء نے اپنے معجزات صرف مخالفوں کو دکھائے ہیں۔ کیونکہ موافقوں کو کسی آسمانی نشان یا معجزات دکھانے کی کیا ضرورت ہے۔ کلام مجید میں تو سچے مومنوں کی صفت ”یؤمنون بالغیب“ ہے۔ معجزہ طلب کرنا یا معجزات دیکھ کر کسی نبی پر ایمان لانا ضعف ارادت و عقیدت کی علامت ہے۔ اگر معجزہ ایمان لانے کی قوی دلیل اور ذریعہ ہوتا تو آنحضرت ﷺ پر سب سے پہلے ابو جہل ہی ایمان لاتا۔

گر چہ گاہے از پئے بوجہلاں لازم است ماہ را دو نیم نمودن سنگ را زر داشتن
از کرامت عار آید مرد را کانصاف نیست دیدہ از معشوق بر بستن بزیور داشتن

٩٢

چرخ اگر گردد بفرمانت بر آن ہم دل بند اے بـ
خود کرامت شو کرامت چند جوئی زان وایں تاتوانی
شہد جو یا شہد شو خوشتر کدام انصاف دہ طمع
چیست با اعجاز کارت گر توئی شیدائے ذات زشت

ہم کو مندرجہ بالا اشعار کا مطلب سمجھانا بھی ضرو معلوم ۔ مطلب یہ ہے کہ ”اگرچہ کبھی کبھی ”بوجہل جیسے لوگو اور پتھر کو سونا بنانا لازم ہے۔ لیکن مردان الٰہی کو کرامت اور معجـ کیونکہ اس کے یہ معنے ہیں کہ معشوق کے اصلی اور ذاتی حسن اگر آسمان بھی تیرے حکم پر پھرنے لگے تو فریفتہ نہ ہو کیونـ پھراتے رہتے ہیں۔ ایں و آن زید و عمرو سے کب تک کرامت ہی کو اپنا سامان بنا بھلا دیکھ تو سہی وہ شخص اچھا ہے جو شہد کا طا ہے۔ اگر تو انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام کے حسن ذات کا شیدا کے لئے دو خاوندوں کا ہونا نہایت مکروہ ہے۔“ مگر یہا ہیں۔ حالانکہ ایک بھی پوری نہ ہوئی۔ فلاں مارا جائے گا فلا مرزا قادیانی سے سوء عقیدت رکھتا تھا۔ کیا یہ نبی کا کام ہـ سے بھی گیا گزرا۔ رمضان میں کسوف وخسوف ہوا۔ یہ تـ شہاب ثاقب ٹوٹتے رہتے ہیں تو یہ بھی مسیح موعود کے آسـ بڑی ہو گئی تھیں اور ہم دعوے سے کہتے ہیں کہ اب گرمیوں کے مقدم کی نشانیاں ہیں۔ طاعون ملعون پھیلا یہ بھی مسیح جی بتائیں کہ یہ مسیح موعود کے قدوم کا تشائم ہے یا تفاول مرزا قادیانی نے پیشین گوئی کی تھی کہ تمام ہندوستان میں ریل کی پٹڑی بچھی تھی تو مرزا قادیانی نے کہہ دیا تھا کہ یـ نشانات ہیں۔ دریں چہ شک۔

٩٣

صفحہ ١٢٧
چرخ اگر گردد بفرمانت بر آن ہم دل بند
اے برادر کار طفلان است فرفر داشتن
خود کرامت شو کرامت چند جوئی زاں وایں
تا توانی برگ بے برگی میسر داشتن
شہد جو یا شہد شو خوشتر کدام انصاف دہ
طعم شکر داشتن یا طمع شکر داشتن
چیست با اعجاز کارت گر توئی شیداے ذات
زشت باشد نوعروسے را دو شوہر داشتن

ہم کو مندرجہ بالا اشعار کا مطلب سمجھانا بھی ضروری ہوا۔ کیونکہ سخن فہمی مرزا و مرزائیاں معلوم۔ مطلب یہ ہے کہ ”اگرچہ کبھی کبھی ابوجہل جیسے لوگوں کے لئے چاند کے دوٹکڑے کر ڈالنا اور پتھر کو سونا بنانا لازم ہے۔ لیکن مردان الہیٰ کو کرامت اور معجزہ طلب کرنے سے عار آنی چاہئے۔ کیونکہ اس کے یہ معنے ہیں کہ معشوق کے اصلی اور ذاتی حسن پر تو نظر نہیں۔ صرف زیور پر نظر ہے۔ اگر آسمان بھی تیرے حکم پر پھرنے لگے تو فریفتہ نہ ہو کیونکہ بچے چمڑے کی بہت سی پھرکیاں پھراتے رہتے ہیں۔ ایں و آں زید و عمرو سے کب تک کرامت ڈھونڈھتا پھرے گا تو بے سرو سامانی ہی کو اپنا سامان بنا بھلا دیکھ تو سہی وہ شخص اچھا ہے جو شہد کا طالب ہے یا وہ اچھا ہے جو خود شہد بن گیا ہے۔ اگر تو انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام کے حسن ذات کا شیدا ہے تو تجھے معجزے سے کیا کام۔ نو عروس کے لئے دو خاوندوں کا ہونا نہایت مکروہ ہے۔“ مگر یہاں تو آسمانی نشان صرف پیشین گوئیاں ہیں۔ حالانکہ ایک بھی پوری نہ ہوئی۔ فلاں مارا جائے گا فلاں دھرا جائے گا اور فلاں شخص جو مر گیا تو مرزا قادیانی سے سوء عقیدت رکھتا تھا۔ کیا یہ نبی کا کام ہے۔ یہ تو مداری کے پھٹک ایک پھٹک دو سے بھی گیا گزرا۔ رمضان میں کسوف وخسوف ہوا۔ یہ مسیح موعود کا آسمانی نشان ہے۔ شب کو جو شہاب ثاقب ٹوٹتے رہتے ہیں تو یہ بھی مسیح موعود کے آسمانی نشان ہیں۔ پچھلے جاڑوں میں راتیں بڑی ہو گئی تھیں اور ہم دعوے سے کہتے ہیں کہ اب گرمیوں میں راتیں چھوٹی ہوں گی تو یہ مسیح موعود کے مقدم کی نشانیاں ہیں۔ طاعون ملعون پھیلا یہ بھی مسیح موعود کے ظہور کی برکات ہیں۔ ہم کو مرزا جی بتائیں کہ یہ مسیح موعود کے قدوم کا تشائم ہے یا تفاؤل اور جب بمبئی وغیرہ میں طاعون پھیلا تھا تو مرزا قادیانی نے پیشین گوئی کی تھی کہ تمام ہندوستان میں پھیلے گا اور جب ممالک مغربی و شمالی میں ریل کی پٹری بچھی تھی تو مرزا قادیانی نے کہہ دیا تھا کہ پنجاب میں بھی ضرور بچھے گی۔ پس یہ آسمانی نشانات ہیں۔ دریں چہ شک۔

٩٣

صفحہ ١٢٩

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

تعارف مضامین ...... ضمیمہ شحنہ ہند میرٹھ

یکم تا ١٥ اپریل ١٩٠٢ء کے شمارہ نمبر ١٣، ١٤، ١٥ کے مضامین

اسی ترتیب سے پیش خدمت ہیں۔

١...... عصائے موسیٰ کا جواب

یہ امر تسلیم کر لیا گیا ہے کہ مرزائی کارخانہ کو تہ و بالا اور برباد کرنے کے لئے ”عصائے موسیٰ“ جیسی کتاب آج تک شائع نہیں ہوئی۔ یہ کتاب ضرور تائید غیبی سے لکھی اور شائع کی گئی ہے۔ اس کتاب کو شائع ہوئے تقریباً ڈیڑھ سال گزر گیا باوجود اس کے کہ مرزا قادیانی کو اس کی نسبت فی الفور الہام ہوا تھا کہ گیارہ منٹ یا گیارہ گھنٹہ یا گیارہ ہفتہ یا گیارہ ماہ (پیشین گوئی کیا ہے تشکیک کی خالہ اور تذبذب کی نانی ہے۔ جہنمی تو یہ علامہ فہامہ اپنے لگوں سگوں سمیت جہنم واصل ہو گئے۔ اب حواری بعد از جنگ اپنے منہ پر تھپڑ مارنے کو تلے ہیں۔ مشکوک پیشین گوئیاں تو دم دبا کر یکے بعد دیگرے کذاب کا منہ کالا کر گئیں۔ اب دیکھیں عصائے موسیٰ کے جواب کی منارے کے گنبد سے کیا صدا نکلتی ہے۔ ان انکر الاصوات لصوت الحمیر ۔ ایڈیٹر ) میں اس کے مصنف کو ذلت وعذاب ہوگا اور کتاب نے جو آگ لگائی ہے وہ بجھ جاوے گی۔ مصنف عصائے موسیٰ تو بفضلہ تعالیٰ بدستور عزت اور آرام کی زندگی بسر کر رہا ہے اور ہر وقت ارحم الراحمین کے رحم کا طلبگار ہے۔ دنیاوی عزت جس کے لئے مرزا دیوانہ رہتا ہے اور شاید اسی کو کامیابی ہی کا معیار قرار دیتا ہے وہ بھی مصنف عصائے موسیٰ کو اس طرح نصیب ہوئی کہ بغیر کوشش کے ان کی ملازمت میں توسیع ہو گئی۔ اس کے مقابلے میں مرزائی کارخانہ کو جو نقصان اور ذلت نصیب ہوئی وہ اظہر من الشمس ہے۔ اس کے شیوع کے بعد سینکڑوں مرزائی مرزا سے متنفر ہو گئے۔ ہزاروں مذبذب طبیعت ٩٤

والوں کی تشفی ہوگئی اور سب نے کتاب کو پسند اور لاجواب کہا۔ اس کے مقابلے میں مرزا کے مخالف رسالے بھی زیادہ شائع ہوئے۔ ضمیمہ شحنہ ہند میرٹھ، شحنہ ہند، شمس الاخبار، نیر اعظم رامپور۔ کئی حضرات نے مرزا قادیانی کو مقابلے کے لئے للکارا مگر کسی کی بھی ہمت نہ پڑی کہ اُف کر سکے۔ مرزا قادیانی اس ڈیڑھ سال میں باوجود اس الہام کے کوئی جواب شائع نہ کر سکا۔ سوائے تفسیر فاتحہ کے جو بقول ایڈیٹر الحکم الہام سے لکھی گئی ہے اور جس کے الہام اور پیشین گوئیوں کی قلعی بھی کھل گئی۔ باقی رہی سہی کسر اودھ پنچ اخبار نے خاطر خواہ نکال دی۔ اخبار دارالعلوم نے ایک مضمون میں مرزا قادیانی کے عقائد اور خیالات کی تردید کا بیڑا اٹھایا۔ اس عرصہ میں مرزا قادیانی نے کوئی نیا الہام نہیں گھڑا اور جو نئے شگوفے چھوڑے وہ ہم بعد میں بغور دیکھیں گے۔

فی الحال عصائے موسیٰ کے جواب کے متعلق ایک بزرگ مرزا قادیانی سے ایک سوال پیش کرتے ہیں۔ ہاں ہم اتنا پوچھنا بھول گئے کہ کیوں صاحب آپ کے مسیح موعود کو اپنے الہام کے غلط ثابت ہو جانے کا کیا جواب دینا ہے۔ کیا کوئی نیا الہام تو نہیں ہوا اور وارثان مسماۃ محمدی نے کیا کہا تھا یا کچھ اور؟ مہربانی فرما کر ان سب باتوں کی تصدیق کرایئے۔ کیونکہ گیارہ مہینہ بھی عرصہ معینہ سے گزر گئے۔ یہ تو طے ہو چکا کہ آپ اربعین میں ملاحظہ کرلیں۔ بزرگوار مصنف صاحب نے بھی تو یہی کہا تھا۔

بزرگ کا خط

مرزا قادیانی کے اصرار و تاکید پر جب عصائے موسیٰ شائع ہوئی تو مرزائی شیخی بگھارا کرتے تھے کہ عصائے موسیٰ کے نکلنے کی دیر ہے کہ اس کا جواب بھی شائع کیا جاوے گا۔ جب عصائے موسیٰ بحول اللہ وقوتہ شائع ہو گئی اور سب نے دیکھا تو گو مرزا قادیانی اور اس کے خیراتی دسترخوان کے پروردہ حواریوں نے عصائے موسیٰ کو بے ضرورت، فضول، بے حیثیت، گندی گالیوں سے پُر وغیرہ وغیرہ قرار دے کر اپنے دل کو تسلی دی ہو مگر حق تو یہ ہے کہ منصف مزاج لوگوں کو عصائے موسیٰ کے مطالعہ سے سخت حیرت ہوئی اور اس کی صداقت کا نور آفتاب کی طرح ظاہر ہوئے بغیر نہیں رہا۔ اس لئے باوجود اس کے کہ وہ کتاب مخالفین مرزا قادیانی اور قدیمی دین اسلام کے شیدائیوں نے مسائل مندرجہ عصائے موسیٰ کا ایک ایک حرف بغور دیکھ کر اس سے متاثر و مستفیض ہو کر مرزا قادیانی سے استفسار کیا کہ مرزا کیا جواب دے گا۔ چنانچہ ان کی تفصیل ضمیمہ شحنہ ہند میں ہم نے شائع کر دی ہے۔ ٩٥

صفحہ ١٢٩

والوں کی تشفی ہوگئی اور سب نے کتاب کو پسند اور لاجواب تسلیم کیا۔ مرزا کے برخلاف بہ نسبت سابق رسالے بھی زیادہ شائع ہوئے۔ ضمیمہ شحنہ ہند ہفتہ وار ڈبل شائع ہونے لگا۔ بمصداق ہر فرعون را موسیٰ۔ کئی حضرات نے مرزا قادیانی کو مقابلہ کے لئے بلایا مگر چوہے کے بل میں دم ایسی الجھ گئی کہ نکل نہ سکا۔ مرزا قادیانی اس ڈیڑھ سال میں باوجود بار بار اشتہار دینے کے ایک کتاب بھی شائع نہ کر سکا۔ سوائے تفسیر فاتحہ کے جو بقول ایڈیٹر المنار سہ گھنٹہ کا کام بھی نہیں۔ اس عرصہ میں الہام اور پیشین گوئیوں کی کل بھی بم ٹھس ہوگئی نہ کوئی پچھلا الہام پورا ہو سکا۔ پیسہ اخبار جیسے پبلک اوپینین اخبار نے خاطر خواہ قلعی کھولی۔ اخبار دارالعلوم نے نہایت معقولیت سے مرزا قادیانی کے عقائد اور خیالات کی تردید کا بیڑا اٹھایا۔ اس عرصہ میں مرزا قادیانی کے جو ہوش و حواس باختہ رہے اور اس نے نئے شگوفے چھوڑے وہ ہم بعد میں بعنوان ”انتخاب الحکم“ پیش کرتے رہیں گے فی الحال عصائے موسیٰ کے جواب کے متعلق ایک بزرگ اور مصنف عصائے موسیٰ کے خطوط کا انتخاب پیش کرتے ہیں۔ ہاں ہم اتنا پوچھنا بھول گئے کہ کیوں بھئی مرزائیو عصائے موسیٰ کی نسبت مرزا اپنے الہام کے غٹ ربود ہو جانے کا کیا جواب دیتا ہے۔ وہی رجوع الی الحق جو عبداللہ آتھم عیسائی اور وارثان مسماۃ محمدی نے کیا تھا یا کچھ اور؟ مہربانی فرما کر اس الہام کی تاویل مرزا سے ضرور شائع کرائیے۔ کیونکہ گیارہ مہینہ بھی عرصہ معینہ سے گزر چکے۔ اگر مرزا کے الہام کی تلاش ہو تو الحکم اور اربعین میں ملاحظہ کرلیں۔ بزرگ اور مصنف صاحب کے خطوط حسب ذیل ہیں۔

بزرگ کا خط

مرزا قادیانی کے اصرار و تاکید پر جب عصائے موسیٰ زیر طبع تھا تو مرزا قادیانی کے مرید شیخی بگھارا کرتے تھے کہ عصائے موسیٰ کے نکلنے کی دیر ہے۔ ایک ہفتہ کے اندر اندر اس کا جواب شائع کیا جاوے گا۔ جب عصائے موسیٰ بحول اللہ وقوتہ مرزا و مریدین کے روبرو ہوا اور سب نے دیکھا تو گو مرزا قادیانی اور اس کے خیراتی دستر خوان کی کانی بلی نے محض فاقد البصیرتی سے عصائے موسیٰ کو بے ضرورت، فضول، بے حیثیت، گندی و ناشدنی نا قابل التفات کتاب کہہ کر اپنے منہ سے لوگوں کو عصائے موسیٰ کے مطالعہ سے سخت ممانعت کی۔ لیکن حق کبھی مغلوب نہیں ہوتا اور نور آفتاب ظاہر ہوئے بغیر نہیں رہتا۔ اس لئے باوجود ممانعت کے بہت سے سعید الفطرۃ پرانے اور قدیمی دین اسلام کے گرویدوں نے مسائل مندرجہ عصائے موسیٰ کو مدلل بقرآن مجید و حدیث شریف دیکھ کر اس سے موثر و مستفیض ہو کر مرزا قادیانی کے عقائد و مسائل باطلہ سے بیزاری و علیحدگی اختیار کی جن کی تفصیل ضمیمہ شحنہ ہند میں ہوتی رہتی ہے۔ چنانچہ مرزا قادیانی کا اپنا اشتہار

٩٥

صفحہ ١٣١

مورخہ ٥ نومبر ١٩٠١ء جو الحکم مورخہ ١٠ نومبر ١٩٠١ء میں شائع ہوا ہے اس میں تقویٰ اللہ کو بالائے طاق رکھ کر نہایت جسارت و دلیری سے خم ٹھونک کر نبی و رسول بلکہ بروزی طور پر معہ جملہ کمالات محمد واحمد آنحضرت سید الاولین والآخرین ﷺ بنا ہے۔ اس اشتہار کو دیکھ کر کوئی بد بخت اور ازلی شقی ہوگا جو آنکھیں نہ کھولے اور توبہ توبہ نہ کرے اور اس کاذب مدعی نبوت سے بیزار و علیحدہ نہ ہو۔ تعجب تو یہ ہے کہ مرزا قادیانی کے دام افتادہ کس عقل و ہوش و بصیرت کے لوگ ہیں اور دن دہاڑے ان کی آنکھیں پٹم ہوگئی ہیں کہ مرزا قادیانی کی کھلی چال بازی اور دھوکا دہی کو نہیں سمجھتے۔ دیکھتے نہیں کہ یا تو بحالت لاجواب ہونے کے کتاب عصائے موسیٰ بے حیثیت ناقابل ملاحظہ والتفات تھی یا اب مریدین کا پھسلنا اور اپنی دوکان کی بے رونقی وسرد بازاری دیکھ کر چلا چلا کر دن رات عصائے موسیٰ کے جواب شائع ہونے کے لئے فراہمی چندہ کے اشتہار جاری ہورہے ہیں۔ پہلے ٥ نومبر ١٩٠١ء کے اشتہار میں مرزا قادیانی نے خود لکھا کہ: ”عصائے موسیٰ کے رد میں مکرمی مولوی سید محمد احسن صاحب نے قابل قدر کتاب لکھی ہے۔ چھپنے کے لئے اس طرح سرمایہ جمع ہو کہ ہر ایک خریدار ایک روپیہ بطور پیشگی روانہ کرے۔ (مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٤٢٢ ملخص) ( کیونکہ چندہ دینے والے مرید مرتد اور فرار ہورہے ہیں ) یہ خواہش ہے کہ جلد تر کتاب چھپ جائے۔“

پھر یہی اشتہار الحکم مورخہ ١٠ نومبر ١٩٠١ء میں نکلا۔ پھر الحکم ٢٤ نومبر ١٩٠١ء کے ص ٩ پر ایڈیٹر نے تاکید و تحریک کی کہ اس کا جلد شائع ہونا ضروری ہے۔ نہ ہمارے نزدیک بلکہ حضرت اقدس کے نزدیک حضرت اقدس کی عین آرزو ہے کہ جس قدر جلد ممکن ہو یہ کتاب شائع ہو جائے۔ پھر ص ١٠ پر امروہوی بڑے فخر سے کہتے ہیں کہ میں آیات الرحمٰن جواب عصائے موسیٰ لکھ رہا ہوں۔

پھر ص ١٦ میں لکھا ہے کہ: ”یہ منشی الٰہی بخش لاہوری کی کتاب عصائے موسیٰ کا ایک لطیف و لاجواب جواب ہے۔ حضرت اقدس کا منشاء ہے کہ بہت جلد طبع ہو۔ ہر شخص کو اس لاجواب کتاب کا خریدار ہونا چاہئے اور فی الفور ایک روپیہ بذریعہ منی آرڈر مولوی سید محمد احسن صاحب کو بمقام قادیان روانہ کرے۔“

کوئی مرید نہیں پوچھتا کہ عصائے موسیٰ جب بے حیثیت بے ضرورت ناقابل التفات ہے اور مرزا قادیانی اور اراکین مریدین و حوارین نے بھی اس کو بے حیثیت سمجھ کر اب تک جواب نہیں لکھا تو اب کیا بلا نازل ہوئی اور کیا مصیبت پڑی کہ اس کے جواب کا یہ اہتمام ہورہا ہے اور وہ جواب اپنے گھر میں لاجواب لطیف اور قابل قدر شمار کیا جاتا ہے؟ اور کسی کو تو ضرورت نہیں لیکن

٩٦

جس کا کارخانہ برباد ہورہا ہے چندہ دینے والے بھاگ ر پوچھیں کہ کیسی اشد ضرورت ہے۔

اب جواب لکھنے والے کا حال سنئے کہ یہ حضر لکھتے ہیں۔ لیکن طبیعت وحاجات دنیوی سے معذور و مجبور

نہ محقق شود نہ دانشمند چا

والا معاملہ ہے۔ اہل اللہ فقراء غلبہ عبودیت و اعراض وغفلت ماسوی اللہ کے باعث باوجود کبرسنی و پیرانہ سر باز نہیں آتے۔ ان کی ہر تصنیف سے یہ امر بخوبی ثابت ہ ہے کہ جہاں سے کچھ وصول ہوتا نظر آتا اور معاش کی ص وہیں کے رنگ میں رنگین ہوگئے۔ نواب صدیق حسن رسالہ رد مقلدین میں لکھ کر پیش کیا وہاں ریاست میں سے اپنے رسالہ پر کچھ تقریظ لکھوائی اس میں آپ نے حس رسالہ کے ساتھ طبع کرالیا۔ نواب صاحب مرحوم کا انتخا روز بروز چمکتی دیکھی۔ ریاست سے برطرف ہونے پر ا ہیں۔ دو اہلیہ اور بال بچے ہیں۔ معاش کی کوئی صورت ہے۔ جب چندہ میں کچھ دیر والتوا ہوتا ہے تو کشیدہ و د آتے ہیں۔ اپنا حساب و کتاب جس طرح ہوسکے پورا کر کے چندہ پر ہی بایں عیش و عشرت و آسودگی بسر کر رہے ہوتے ہیں۔ لیکن لاچاری و مجبوری سے نبھا رہے ہیں ایسی خدمت بھی ان سے لے لیتے ہیں۔ پیر مہر علی شاہ سے لکھوایا تھا۔ جس کی نسبت ماسٹر غلام حیدر صاحب ب ناشائستہ روکھا اور بے تہذیب و بد نتیجہ تھا۔ ایک معتبر عصائے موسیٰ جب طبع ہو کر قادیان پہنچی تو مرزا قادیانی جواب کی داد دی۔ اس وقت سے مولوی صاحب اس کو ایک خط میں فرماتے ہیں کہ اب جواب لکھنا ضرور ہ سب کچھ کراتا ہے۔ دیکھ لیجئے مرزا قادیانی کے دستہ

٩٧

صفحہ ١٤١

جس کا کارخانہ برباد ہو رہا ہے چندہ دینے والے بھاگ رہے ہیں۔ اس کے دل سے آپ ضرور پوچھیں کہ کیسی اشد ضرورت ہے۔

اب جواب لکھنے والے کا حال سنئے کہ یہ حضرت اپنے قلم سے اپنے آپ کو سید تو ضرور لکھتے ہیں۔ لیکن طبیعت و حاجات دنیوی سے معذور و مجبور ہیں۔ عربی کچھ پڑھی ہے لیکن ؎

نہ محقق شود نہ دانشمند چار پایہ برو کتابی چند

والا معاملہ ہے۔ اہل اللہ فقراء غلبہ عبودیت و خشیت اللہ والوں کی صحبت سے محرومی۔ اعراض و غفلت ذکر اللہ کے باعث باوجود کبرسنی و پیرانہ سالی کے اب تک تمسخر ہنسی ہزل مذاق سے باز نہیں آتے۔ ان کی ہر تصنیف سے یہ امر بخوبی ثابت ہے۔ پھر ابتداء سے آپ کا یہی حال رہا ہے کہ جہاں سے کچھ وصول ہوتا نظر آتا اور معاش کی صورت ہوئی وہاں ناخواندہ آن کودے اور وہیں کے رنگ میں رنگین ہوگئے۔ نواب صدیق حسن خان صاحب مرحوم کی خدمت میں ایک رسالہ رد مقلدین میں لکھ کر پیش کیا وہاں ریاست میں ملازم ہوگئے۔ شیخ عبید اللہ صاحب مرحوم سے اپنے رسالہ پر کچھ تقریظ لکھوائی اس میں آپ نے حسب مدعا تراش و خراش کرکے اپنے مصنفہ رسالہ کے ساتھ طبع کرالیا۔ نواب صاحب مرحوم کا انتقال ہوگیا۔ ادھر مرزا قادیانی کی دکانداری روز بروز چمکتی دیکھی۔ ریاست سے برطرف ہونے پر مرزا قادیانی سے ملے۔ بیچارے عیال دار ہیں۔ دو اہلیہ اور بال بچے ہیں۔ معاش کی کوئی صورت نہیں۔ مرزا و مریدین سے ماہوار چندہ ملتا ہے۔ جب چندہ میں کچھ دیر و التوا ہوتا ہے تو کشیدہ و درہم برہم ہو جاتے ہیں۔ قادیان خود چلے آتے ہیں۔ اپنا حساب و کتاب جس طرح ہو سکے پورا کرلیتے ہیں۔ چونکہ مرزا قادیانی خود مریدین کے چندہ پر ہی بایں عیش و عشرت و آسودگی بسر کر رہے ہیں۔ کبھی ان کے چندہ دینے میں تنگ بھی ہوتے ہیں۔ لیکن لاچاری و مجبوری سے نبھا رہے ہیں اور جب ضرورت پڑتی ہے تو بعوض چندہ ایسی خدمت بھی ان سے لے لیتے ہیں۔ پیر مہر علی شاہ صاحب کے شمس الہدایہ کا جواب بھی انہی سے لکھوایا تھا۔ جس کی نسبت ماسٹر غلام حیدر صاحب نے اپنے عشرہ کاملہ میں لکھا ہے کہ وہ جواب نا شائستہ روکھا اور بے تہذیب و بدنتیجہ تھا۔ ایک معتبر مرید مرزا قادیانی کی زبانی ہے کہ کتاب عصائے موسیٰ جب طبع ہوکر قادیان پہنچی تو مرزا قادیانی نے اوّل چند روز دیکھ کر محمد احسن کو واسطے جواب کے دے دی۔ اس وقت سے مولوی صاحب اس پر مصروف ہیں۔ لیکن اپنا فقر و شیخی جتانے کو ایک خط میں فرماتے ہیں کہ اب جواب لکھنا شروع کیا ہے۔ پیٹ اور حاجت کیسی شے ہے۔ سب کچھ کراتا ہے۔ دیکھ لیجئے مرزا قادیانی کے دست نگر اپانچ اس کے دستر خوان پر بسر کرنے

٩٧

صفحہ ١٣٢

والے یا اس سے نقد چندہ لینے والے ہی اس کو خواہ مخواہ کچھ کا کچھ بناتے ۔ اس کی ہاں میں ہاں ملاتے اور اس کے عقائد ومسائل باطلہ وتراشیدہ کی حمایت میں کتابیں لکھ کر شائع کرتے ہیں۔ لیکن جو مرزا قادیانی کے دست نگر اور اس کے محتاج نہیں ۔ وہ ایسی ضمیر وایمان فروشی پر آمادہ نہیں ہوتے ۔ نظر بریں حالات جواب عصائے موسیٰ کا کچھ پتہ وحال تو معلوم وظاہر ہو رہا ہے۔ تاہم طبع ہو کر نکلنے پر مصنف کی خصوصاً اور مرزا ومریدین کی ادعائیہ راست بازی دیانت وامانت کا حال زیادہ معلوم ہو جائے گا۔ جس طرح منشی الٰہی بخش صاحب نے مرزا قادیانی کی ”ضرورۃ الامام“ کی پوری عبارت بلا کم و کاست لکھ کر متانت سے بدلائل قرآن مجید وحدیث شریف اس کے تراشیدہ عقائد و مسائل کا رد کیا ہے۔ اگر اسی طرح عصاء موسیٰ کی پوری عبارت لکھ کر معقول طور پر ویسی ہی متانت سے عصاء موسیٰ کی جملہ عبارات کا حرف بحرف جواب ہوا۔ جس کا مطالبہ خود صاحب عصائے موسیٰ نے کیا ہے تو خود بخود ہی لوگوں کو مصنف جواب کا حال معلوم ہو جائے گا۔ لوگ منتظر ہیں کہ امروہی صاحب بدعویٰ سیادۃ وعلم حدیث مرزا کے عملدرآمد مسائل مخالف اسلام وحدیث رسول اللہ ﷺ جیسا کہ اپنی اور مریدین کی طرح طرح کی تصاویر کھنچا کر عام مریدین میں شائع کرنا۔ جبرائیل علیہ السلام کا ہیڈکوارٹر قادیان مقرر کرنا زمین پر ملائکہ کے اترنے اور ان کی رؤیت سے انکار کرنا بتاویل خود ہی مسئلہ نزول مسیح عند المنارہ کو لغو کہنا اور پھر بصرف مال کثیر اپنا یادگاری مینار بنام منارۃ المسیح بنوانا۔ شرعی وجائز وارثوں کو محروم الارث کرنے کے لئے برائے نام اپنی بیوی کے پاس تیس برس تک جائیداد رہن رکھ کر رجسٹری کرا دینا۔ خلاف حال وقال رسول اللہ ﷺ ہزار ہا روپیہ کا زیور وجائیداد بنوانا زہد فی الدنیا اور حکم رسول اللہ ﷺ ”ایاکم والتنعم“ وغیرہ کی کچھ پرواہ نہ کرنا بلکہ مشک عنبر مقوی باہ اشیاء کیوڑا وبید مشک وغیرہ کے استعمال کے بغیر نہ رہنا اور پھر بعض انبیاء علیہم السلام سے اپنے کو افضل جاننا۔ اپنے کو لیلۃ القدر یاجوج ماجوج دجال دابۃ الارض وغیرہ کا حقیقت شناس۔ سید الاولین والآخرین ﷺ سے زیادہ کہنا۔ مسیح علیہ السلام کو معاذ اللہ فحش گالیاں دینا۔ اکابر صحابہ وجملہ مسلمین ومؤمنین کی توہین اور لعن وطعن اور سب وشتم کرنا سوائے اپنے گروہ کے دیگر تمام ”لا الہ الا اللہ“ کہنے والوں حج کرنے والوں زکوٰۃ دینے والوں صوم وصلوٰۃ کے پابندوں الغرض تمام مسلمین ومؤمنین کو کافر جاننا۔ امانت میں خیانت، عہد کا خلاف، خصومت میں گالی گلوج، بات میں ہمیشہ چال وغیرہ جن سے مرزا قادیانی کی تصانیف لبالب ہیں۔ دیکھئے امروہی صاحب کس امانت ودیانت وصداقت وراستی سے ان سب امور کی حمایت وتائید کرتے اور جواب لکھتے ہیں۔ اگر چہ مرزا قادیانی کے دعویٰ بروزی نبوت ورسالت کی

٩٨

صفحہ ١٣٣

حمایت سے لوگوں کو مولوی امروہی کے علم و فہم کا حال بخوبی معلوم ہوچکا ہے۔ لیکن اس کا انتظار ہے کہ اخیر دم تک بھی وہ آنکھیں کھول کر ہوش سنبھالتے ہیں یا نہیں اور اپنے ادعائے علم معرفت حدیث کا کس طرح استعمال واظہار کرتے ہیں؟ اللہ تعالیٰ سب مومنین کا ہادی وحافظ وناصر رہے۔ بالآخر عصائے موسیٰ کے جواب لکھے جانے کی خبر سن کر صاحب عصاء موسیٰ نے اپنے ایک دوست کو جو کچھ لکھا ہے وہ بھی ہدیہ ناظرین ہے۔ باقی آئندہ!

٢...... ایک مرزائی اخبار کی اپیل

ایک جدید مرزائی اخبار اپنے کو پنچ مشہور کرتا ہے۔ حالانکہ اس میں پنچ ہونے کی کوئی بات نہیں اور ہم دعوٰی سے کہتے ہیں کہ اس کو در حقیقت پنچ کی ماہیت ہی معلوم نہیں کہ پنچ کے لئے جامعیت علوم وفنون درکار ہے اور ظرافت دراصل حکماء اور فلاسفروں کا کام ہے نہ کہ عوام کا۔ یورپ خصوصاً لندن کے پنچ اخبارات لندن پنچ اور فن وغیرہ اور ہندوستان کے پنچ اخبارات پارسی پنچ اور چیری وری کے دیکھنے سے معلوم ہوسکتا ہے کہ پنچ کے لئے کیا کیا قابلیت اور معلومات درکار ہے۔ ادنیٰ یہ ہے کہ وہ ملک کے ورنیکولر اور فصیح وبلیغ ٹھیٹھ لکچر پر قادر ہو۔ اچھے اچھے چیدہ ناظموں اور ناثروں کا ناطقہ بند کرسکے۔ اس کے لطائف وظرائف اور کارٹون کا ظاہری پیرایہ اگرچہ ظرافت ومذاق ہو۔ مگر در حقیقت عبرت دلانے والا۔ سوتوں کو جگانے والا۔ ہنستوں کو رولانے والا اور روتوں کو ہنسانے والا ہو۔ جو باتیں رات دن ہماری نظر سے گزرتی ہیں اور جن کو ہم خفیف اور سبک سمجھتے ہیں جب ایک دانا اور حکیم پنچ ان کی تصویر اپنے آئینے میں دکھائے گا تو بہت ہی سنگین نظر آئے گی۔ بتایئے ہندوستان میں ان صفات کا کون سا پنچ اخبار ہے۔ یہاں کے پنچ اخبارات تو یورپین پنچوں کے پورے نقال بھی نہیں۔ کیونکہ نقل کو بھی آخر کچھ تو عقل چاہئے۔ پنچ کے لئے جیسے اعلیٰ درجے کے ٹکسالی لٹریچر کی ضرورت ہے۔ اسی طرح مہذب مذاق کی بھی ضرورت ہے۔ تا کہ پولیٹکل اور سوشل بدعنوانیوں کی اصلاح کرسکے اور ایک صاف و شفاف مجلیٰ آئینہ دکھاسکے۔ جس میں دلربا خط وخال یا چہرے مہرے کی بد نما رسولیاں اور بھونڈے مسے نظر آجائیں۔

مذکورہ بالا نوزاد پرچے کو جب کامیابی نہ ہوئی تو اس نے اپنا فروغ شحنہ ہند کو مد مقابل بنانے میں سمجھا اور ٢٤؍مارچ کے پرچے میں اپنے مرزائی بھائیوں کے حضور زار نالی اور دہائی اور تہائی مچائی کہ لکچرو دوڑیو چلیو۔ ضمیمہ شحنہ ہند نے حضرت اقدس کے طلسم کا تار وپود توڑ پھوڑ کر مکڑی کا جالا بنا دیا ۔ اب میں دوسرا جالا تازہ بتازہ نو بنو پورتا ہوں۔ پس جہاں تک ممکن ہو مجھے مدد دو۔ اچھا صاحب یہ بھی کر دیکھو۔ مگر یاد رہے کہ شحنہ ہند کا مقابلہ کرنے والے مر گئے ، مٹ گئے۔ شحنہ ہند کو

٩٩

صفحہ ١٣٥

بحمایت الہی اپنی تجدید پر پورا بھروسا ہے۔ شحنہ ہند اگر چاہے تو مذاق کے پیرایہ میں فلسفہ اور منطق اور کلام اور علم معانی و بیان کے غوامض و دقائق اور وہ نکات دکھا سکتا ہے کہ مرزا قادیانی اور ان کے تمام حواری چکر میں نہ آ جائیں تو جبھی کہنا۔ ہاں ہاں کچھ منہ سے بولے سر سے کھیلے۔ اگر پنچوں کا کاسہ لیس ہے تو شحنہ بھی اس حیض بیض کے لئے ہر طرح لیس ہے۔ شحنہ ہند سے اس قسم کے نوزاد پرچوں کا مقابلہ ایسا ہی ہے جیسے میل ٹرین سے اونٹ گاڑیوں اور محکمہ جات صفائی کے کوڑا کرکٹ لے جانے والے بھینسے اپنی رفتار کا مقابلہ یا ٹرین کی مزاحمت کریں کہ ہڈی پسلی سرمہ ہو جائے اور پھر چار طرف چیلیں اور گد منڈلا کر اپنی لمبی لمبی نوکدار اور خمدار چونچوں سے بوٹیاں نوچ نوچ کر نرا پنجر اور ڈھانچا ہی باقی چھوڑیں اور ہڈیوں کا گودا اور فاسفورس تک چٹ کر جائیں اور ڈاکٹر لوگوں کو اپنے فاسفوڈین بنانے کے بھی لالے پڑ جائیں ۔ کسم ہے منارے دی بس یہی ٹھیکم ٹھیک گل ہے۔

ایڈیٹر صاحب الحکم جنہوں نے ہر مذہب کے پیشواؤں اور اپنے مخالفوں کو مغلظات دینے میں کوئی دقیقہ باقی نہیں رکھا اور کالے سر کا کوئی نہیں چھوڑا۔ اب بھلے مانس بنتے ہیں اور شحنہ ہند کو غیر مہذب بتاتے ہیں۔ چہ خوش و خنکا۔ ستر چوہے کھا کے بلی میاؤں میاؤں کرتی حج کو چلی۔ اصل یہ ہے کہ وہ شحنہ ہند کا لوہا مانگتے ہیں۔ نوزاد پرچہ کو ابھی تجربہ نہیں ہوا۔ ہماری رائے میں نوزاد پرچہ کے ایڈیٹر کو حسب الحکم حضرت اقدس ٹکا سا جواب مل چکا ہے کہ شحنہ ہند اور ضمیر والے قابل خطاب نہیں۔ اب دیکھیں نوزاد پرچہ اپنے جدید نبی کی نافرمانی کر کے عاق بنتا ہے یا مطیع اور فرمانبردار ثابت ہوتا ہے۔

اسی نوزاد اخبار نے اپنے گزشتہ پرچے میں لکھا کہ مؤلف مجدد مائتہ حاضرہ ہونے کا دعویٰ کرتا ہے۔ بے شک اس دعویٰ کو بیس سال کے عرصہ میں کوئی نہیں توڑ سکا۔ مجدد کو موجودہ شعراء کی قابلیت کا بخوبی علم ہو گیا ہے۔ مجدد تمام شعراء سلف وخلف کے کلام کو پرکھتا ہے۔ ناقص کے نقص اور کامل کے کمال کو جانچتا ہے۔ فساد شعر کی اصلاح کرتا ہے۔ حالانکہ موجودہ شعراء اشعار کا نفس مطلب بھی نہیں سمجھ سکتے ۔ مجدد فارس یا عرب کے کسی شاعر کے کلام پر جو اعتراض یا جرح کرتا اس کو کوئی اٹھا نہیں سکتا۔ حال کو حجت نہیں۔ لیجئے متنبی اپنے ایک قصیدے کی تشبیب میں مزعومہ معشوقہ کی تعریف کرتے ہوئے لکھتا ہے:

نہ کہ کسی دنیوی لالچ فضیلت نمائی و خود فروشی کی خاطر کتاب ھذا لکھی اور جس کو جواد کریم نے بری خواہشوں سے محفوظ رکھ کر یدِ علیا عطاء فرمایا۔ آپ نے چندوں خیرات و تحصیل ناجائز پر اس کی گزران نہیں تو اس کو کسی خود غرض حاجت مند کی تصنیف پر کیوں درد ہونے لگا؟ کیا

١٠٠

کتاب فروش کی آمدنی میں خسارہ ہوگا۔ مرید پھسل جاویں گے؟ الحمد للہ والمنہ کہ ان میں سے ایک بات بھی نہیں ہے تو مرزا قادیانی ایسا فاسد خیال کر سکتے تھے۔ پھر مرزائی جو بھی کہتے ہیں۔ (دروغ بر گردن راوی) کہ اجیر صاحب نے کی ترتیب تفہیم و معانی میں اپنی خوش فہمی کے موافق ترا کتاب کے شروع میں جب تک مرزا قادیانی اپنا اس مضمون فہم و فراست وفن تمسخر و استہزاء ہماری فہم و فراست وفن الہام اور اس لئے ہم اس کو اپنا مکرم مولوی و سید کہتے ہیں اور اس تب تک وہ کتاب مریدوں میں کسی قدر وقعت نیچے اجیر مصنف صاحب بھی جلی قلم سے یہ اعلان دیں کہ کے بارہ میں اپنے اشتہار ٧ اگست ١٨٩٧ء میں لکھا ہے جو ملہم اپنے بیان کرے اور ملہم کے بیان کردہ معنوں پر کسی وغیرہ۔“

(جس کا حوالہ عصائے موسیٰ کے ص ٨٨ پر ۔

ردی اور دیوانوں کی بڑ اور پاگلوں کی بکواس سے زیادہ نہیں کو ہرگز لائق التفات نہ سمجھو۔ وغیرہ! کیونکہ جب تک الہامات کی تفسیر و معانی اپنی رائے وفہم سے کر کے اپنی آ ہے کہ اس میں عاجز کے ایسے خطوط تقویم پارینہ کا حوالہ مطابق مرزا قادیانی کی اس پہلی حالت کی تعریف کی تھی ۔ اسلام کے ساتھ حقیقت اسلام و قرآن مجید ثابت کرنے اور ایسی طفل تسلی سے بڑھ کر نہیں جیسی مرزا قادیانی نے چنانچہ اب تک بیدل اور مذبذب مریدین کو ایسی ہی تسلی کے پتے یہ تو دیکھیں کہ مرزا قادیانی نے تو خود براہین ۔ فقط الہام ہی آفتاب نور نما ہے۔ اس کے بغیر عقل اندھیر صحت الہام سے ہی معلوم ہوسکتی ہے۔ پس اگر عاجز ۔

١٠١

صفحہ ١٣٥

کتاب فروشی کی آمدنی میں خسارہ ہوگا۔ مرید پھسل جاویں گے۔ چندہ اور خیرات صدقات نہ دیں گے؟ الحمدللہ والمنہ کہ ان میں سے ایک بات بھی نہیں ہے۔ ہاں اگر ایسی کمائی پر عاجز کا مدار کار ہوتا تو مرزا قادیانی ایسا فاسد خیال کر سکتے تھے۔ پھر مرزائی جماعت کتاب امروہوی کی تعریف میں یہ بھی کہتے ہیں۔ (دروغ بر گردن راوی) کہ اجیر صاحب نے الہامات مندرجہ کتاب عصائے موسیٰ کی ترتیب تفہیم ومعانی میں اپنی خوش فہمی کے موافق تراش وخراش کی ہے۔ اگر یہ سچ ہے تو اس کتاب کے شروع میں جب تک مرزا قادیانی اپنا اس مضمون کا کوئی اشتہار نہ دیں کہ ”اجیر مولوی کا فہم وفراست وفن تسخر و استہزاء ہماری فہم وفراست وفن الہام سے زیادہ معتبر۔ مرجح وقابل سند ہے اور اس لئے ہم اس کو اپنا مکرم مولوی وسید کہتے ہیں اور اس کی تحریر کو سند مانتے ہیں۔“

تب تک وہ کتاب مریدوں میں کسی قدر وقعت کی نہ ہونی چاہئے اور اشتہار مرزا کے نیچے اجیر مصنف صاحب بھی جلی قلم سے یہ اعلان دیں کہ مرزا قادیانی نے جو تشریح وفہم والہامات کے بارہ میں اپنے اشتہار ٧ اگست ١٩٠٧ء میں لکھا ہے کہ: ”الہام کے وہ معنے ٹھیک ہوتے ہیں جو ملہم اپنے بیان کرے اور ملہم کے بیان کردہ معنوں پر کسی اور کی تشریح وتفسیر ہرگز فوقیت نہیں رکھتی وغیرہ۔“

(مجموعہ اشتہارات ج ١ ص ١٤٢)

(جس کا حوالہ عصائے موسیٰ کے ص ٨٨ پر ہے) یہ قرارداد مرزا قادیانی بالکل غلط اور ردی اور دیوانوں کی بڑ اور پاگلوں کی بکواس سے زیادہ نہیں نری جھک جھک اور بک بک ہے۔ اس کو ہرگز لائق التفات نہ سمجھو۔ وغیرہ! کیونکہ جب تک ایسا نہ کریں وہ کیونکر دوسرے ملہم کے الہامات کی تفسیر ومعانی اپنی رائے وفہم سے کر کے اپنی کتاب کو معتبر وصحیح کہہ سکتے ہیں۔ یہ بھی سنا ہے کہ اس میں عاجز کے ایسے خطوط تقویم پارینہ کا حوالہ ہوگا جن میں عاجز نے اپنی عقل ناقص کے مطابق مرزا قادیانی کی اس پہلی حالت کی تعریف کی تھی جب کہ وہ مسلمانوں کی طرف سے مخالفین اسلام کے ساتھ حقیقت اسلام وقرآن مجید ثابت کرنے کے دعویدار تھے۔ یہ عجیب استدلال ہے اور ایسی طفل تسلی سے بڑھ کر نہیں جیسی مرزا قادیانی نے اپنے الہامی پسر بشیر کے مرنے پر کی تھی۔ چنانچہ اب تک بیدل اور مذبذب مریدین کو ایسی ہی تقریروں سے تسلی دی جاتی ہے۔ کاش یہ عقل کے پتلے یہ تو دیکھیں کہ مرزا قادیانی نے تو خود براہین میں بار بار زور دیا ہے کہ عقل کچھ چیز نہیں۔ فقط الہام ہی آفتاب نور نما ہے۔ اس کے بغیر عقل اندھیرے میں ٹٹولتی ہے۔ معاملات وحالات کی صحت الہام سے ہی معلوم ہوسکتی ہے۔ پس اگر عاجز نے بھی اس مرزا قادیانی کے قاعدہ وقرارداد

١٠١

صفحہ ١٣٧

کے موافق اسی مرزا قادیانی والی اندھیارے میں ٹٹولنے کی حالت میں مرزا قادیانی کی اس وقت کی ظاہر داری اچھی دیکھ کر لٹوائے۔

ہر کہ راجامہ پارسا بینی
پارسا دان و نیک مرد انگار

بلحاظ دعوے خدمت اسلامی کے بلاکسی الہام کے مرزا قادیانی کو ایک ولی یا مجدد جس کا وجود افراد امت محمدیہ علی صاحبہا الصلوٰۃ والتحیۃ میں ممکنات سے ہے ۔ محض تخمین وحسن ظن سے بانظار ظہور حق خیال کر لیا اور اس حسن ظنی میں ان کی صفات بہیمیہ و خصائل ذمیمہ نفس پروری دست بوجا سے بے خبر ہو کر ( کیونکہ علم غیب غلام الغیوب کا ہی خاصہ ہے ) اور ان کو حاجت مند و محل خیرات و صدقات سمجھ کر صدہا روپیہ دیا جو شامت ناسپاسی سے اب ان کو یاد ہی نہیں تو کیا مضائقہ؟ اور بعد میں حسب قاعدہ مرزا قادیانی جب الہام کی روشنی سے مرزا قادیانی کی اصلیت و حقیقت پر اطلاع ہوئی تو محض لوجہ اللہ و بخوف مواخذہ عاقبت فورا ان سے علیحدگی و بریت کر لی تو کیا حرج؟

”الحمد لله الذی هدانا لهذا وما کنا لنهتدی لولا ان هدانا الله (الاعراف: ٤٣)“ امید کامل ہے کہ شکور علیم ان خدمات کا اجر بھی ضائع نہ فرمادے گا۔ کیونکہ ”انما الاعمال بالنیات (الحدیث)“ چنانچہ اس بارہ میں بھی الہامی جواب کتاب کے صفحہ ٨٢ میں موجود ہے۔ یعنی ”سيقول السفهاء من الناس ماولهم عن قبلتهم التي كانوا عليها قل لله المشرق والمغرب، اينما تولوا فثم وجه الله“ اور الحمد للہ کہ مرزا قادیانی کے سچ یا پیغمبر ہونے کا خطرہ ووسوسہ تو کبھی دل میں گزرا ہی نہیں اور نہ ان کے دعویٰ الہام کے قطعی ہونے سے اتفاق کیا اور اسی لئے عاجز و رفقاء نے ان سے بیعت نہ کی۔ حسن ظنی تو اخلاق حمیدہ میں سے ہے۔ لیکن بیچارے مریدین بوجہ نا واقفیت یہاں تک بہکے اور گئے گزرے کہ پیغمبر ماننا تو در کنار آیت کریمہ ”اتخذوا احبارهم ورهبانهم ارباباً من دون الله“ کے پورے مصداق بن گئے۔ نعوذ باللہ اور نہ فقط ان کی تحلیل حرام و تحریم حلال کو مانتے ہیں۔ بلکہ ان کو اپنا روحانی پروردگار تکیہ گاہ ۔ کفیل حاجات اور مرقی کا سانچہ بنانے والا یقین کرتے ہیں جس کا ذکر عصائے موسیٰ کے صفحہ ١٧٥ پر ہے۔ حالانکہ دراصل مرزا قادیانی اپنی حاجتیں مریدوں سے پوری کرواتے ہیں۔ ہادی المضلین اس گمراہی و ضلالت سے بچاوے۔

علاوہ ازیں اگر کوئی مجرد عقل و سمجھ سے ہی کسی کی ظاہر داری اچھی دیکھ کر اس کو خاصہ نیک مسلمان خیال کرے اور بعد میں اس کے اندرونی خباثت

١٠٢

کہ خبث نفس نگردد بسالہا

ظاہر ہونے پر اور اس کے علانیہ ارتداد اور مخالفت بریت و نفرت ظاہر کرے۔ تب بھی کچھ محل اعتراض نہیں ۔ ا الہام کو قطعی وحی اور یقینی مثل قرآن مجید کے سمجھے۔ نبوت و رسالت کہ مرزا قادیانی کرتے ہیں اور پھر ہر بات اس کے قرار داد کذاب ہونے پر دلیل و شاہد صادق ہو جاوے اور اس کو اپنی پچھتانا پڑے۔ جس طرح مرزا قادیانی نے اپنی ضرورۃ الامام عاجز کو بے شر انسان ۔ نیک بخت ، متقی، پرہیزگار اور کلمات ا مرزا قادیانی کے ممدوح نے باصرار مرزا قادیانی ضرورۃ الامام حسرت و پشیمانی سے اپنی تحریر پر ندامت اٹھانا اور دردانگیز الراحمین مرزا قادیانی کو ہدایت فرمادے اور اس عذاب جہنم

گو الہامات ”فیمت وهو کافر“ ردت الیہ کی رو سے تو امید نہیں کہ ان کو توفیق توبہ و ہدایت نصیب ہو ۔ بحالت گواہ ہے۔ لیکن عاجز بمتابعت سنت خیر خواہ دشمنان، ان کے لئے دعا ہی کرتا ہے۔ اگرچہ جواب مایوسی کے ملتے الہام ہوا۔ ”هل نثوب الكفار ماکانوا يفعلون“ کیو عاجز کی سرشت ایسی نہیں بنائی کہ مرزا قادیانی کی طرح اپنے بدخواہی وگرفتاری عذاب میں راضی و خوش ہوں۔ فالحمد

پھر یہ بھی سنا ہے کہ خط و کتابت کے بہم پہنچانے جو موقعہ موافقت سے پہلے مرزا قادیانی کے حالات خانگی ۔ واقف و مطلع ہو کر عاجز کو مرزا قادیانی کی نسبت ہمیشہ بیگا (مرزا قادیانی) شیطان کا مجسمہ ہے یا اس کا ( مرزا قادیانی جوا بازی سے منع کرتا تھا غرضیکہ وہ مرزا قادیانی سے بوجہ کہ مرزا قادیانی کے نام پر لاحول پڑھتے تھے۔ لیکن اللہ تعا ستاذہ، ہمزادہ، وجہ ثانی یا ثالث (غالباً ثالث) کے وقت مر مقدمہ میں مرزا قادیانی نے بخالفت دیگر ملاء اس دوست

١٠٣

صفحہ ١٣٧
کہ خبث نفس نگردد بسالہا معلوم

ظاہر ہونے پر اور اس کے علانیہ ارتداد اور مخالفت شریعت اسلامی کے سبب اس سے بریت ونفرت ظاہر کرے۔ تب بھی کچھ محل اعتراض نہیں۔ اعتراض وافرین کا محل تو وہ ہے کہ اپنے الہام کو قطعی وحی اور یقینی مثل قرآن مجید کے سمجھے۔ نبوت ورسالت وغیب دانی کا دعویٰ کرے۔ جیسا کہ مرزا قادیانی کرتے ہیں اور پھر ہر بات اس کے قرار داد کی مخالف واقعہ ہو کر اس کے دجال کذاب ہونے پر دلیل وشاہد صادق ہو جاوے اور اس کو اپنی پہلی بات وقرار داد سے رجوع کرنا اور پچھتانا پڑے۔ جس طرح مرزا قادیانی نے اپنی ضرورۃ الامام ص ٢١، خزائن ج ١٣ ص ٤٩٧ میں عاجز کو بے شر انسان۔ نیک بخت، متقی، پرہیزگار اور کلمات الٰہیہ سے مشرف قبول کیا اور جب اسی مرزا قادیانی کے ممدوح نے باصرار مرزا قادیانی ضرورۃ الامام کا جواب نکالا تو مرزا قادیانی کو بڑی حسرت وپشیمانی سے اپنی تحریر پر ندامت اٹھانا اور درد انگیز عذاب خذلان محسوس کرنا پڑا۔ ارحم الراحمین مرزا قادیانی کو ہدایت فرمادے اور اس عذاب مہین سے بچادے۔ آمین!

گو الہامات ”فبُہت وهو كافر ردت اليه لعانه “ مندرجہ ص ١٥٢ عصائے موسیٰ کی رو سے تو امید نہیں کہ ان کو توفیق توبہ وہدایت نصیب ہو جس پر ان کی روز افزوں سرتابی وابتری حالت گواہ ہے۔ لیکن عاجز بمتابعہ سنت خیر خواہ دشمناں، اعنی انبیاء الرحمان علیہم الصلوٰۃ والسلام ان کے لئے دعا ہی کرتا ہے۔ اگرچہ جواب مایوسی کے ملتے ہیں۔ جیسے ماہ رمضان المبارک میں یہ الہام ہوا۔ ”هل ثوب الكفار ما كانوا يفعلون “ کیونکہ خالق رحیم نے اپنے فضل وکرم سے عاجز کی سرشت ایسی نہیں بنائی کہ مرزا قادیانی کی طرح اپنے الہام کی تصدیق کی خاطر مخلوق الٰہی کی بدخواہی وگرفتاری عذاب میں راضی وخوش ہوں۔ فالحمد لله على ذالك!

پھر یہ بھی سنا ہے کہ خط وکتابت کے بہم پہنچانے والے عاجز کے ایک ایسے دوست ہیں جو موقعہ موافقت سے پہلے مرزا قادیانی کے حالات خانگی سے بوجہ ہمسائیگی دیوار بدیوار ہونے کے واقف ومطلع ہو کر عاجز کو مرزا قادیانی کی نسبت ہمیشہ یہی لکھا کرتے تھے (انگریزی) ترجمہ وہ (مرزا قادیانی) شیطان کا پیرو ہے یا اس کا (مرزا قادیانی کا) شیطان رہنما ہے اور عاجز ان کو اس جرأت بازی سے منع کرتا تھا غرضیکہ وہ مرزا قادیانی سے بوجہ واقفیت حالات اندرونی ایسے بیزار تھے کہ مرزا قادیانی کے نام پر لاحول پڑھتے تھے۔ لیکن اللہ تعالیٰ کی شان کہ اس دوست کے یکا یکی تنازعہ ہمزلفہ (زوجہ ثانی یا جائیداد (غالباً ثالث) کے وقت مرزا قادیانی بھی وہاں جا پہنچے اور دوران مقدمہ میں مرزا قادیانی نے بخلاف دیگر علماء اس دوست کی طرفداری کو اپنا فخر خیال کر کے ان کی

١٠٣

صفحہ ١٣٩

موافقت کا دم مارا جس سے وہ دوست ایسے رام ہوئے کہ اس خود خواندہ چیلہ شیطان پر قربان ہونے اور مرید کا دم بھرنے لگے۔ خیر اس خط و کتابت کے شائع ہونے میں تو کچھ مضائقہ نہیں۔ مگر جن دیانتداروں کے سپرد ہوئی ہے۔ انہوں نے اخبار میں مشتہر کیا ہے کہ مناسب صورت میں شائع ہوگی۔ جس کے بظاہر یہی معنے ہیں کہ تراش خراش و تحریف سے کام لیا جاوے گا۔ مثلاً اغلب ہے کہ مرزا قادیانی کی نسبت اس دوست کا مذکورہ بالا قول جو میرے اکثر خطوط میں ہے ہضم کر جائیں یا بعض خطوط مطلق نہ چھاپیں۔ جیسے ١٨٩٢ء کا وہ خط جس میں میں نے بحالت موافقت خود دونوں صاحبوں کو خیر خواہانہ لکھا تھا کہ مرزا قادیانی کے سالانہ جلسہ میں شراکت سے حذر کریں۔ کیونکہ ان کی صحبت میں سوائے غیبت شیخی و مخاصمت کوئی روحانی فیض نہیں۔ یا میرا مفصل خط مورخہ ٢١؍ فروری ١٩٠١ء نظر انداز کر دیں۔ جس میں ان کو ان کے اپنے تجربہ کردہ حالات و نظائر سے متنبہ کیا گیا تھا۔ یعنی جب وہ اثناء سفر ریل میں ایک اجنبیہ کو دیکھ کر بموجب بیان خود فریفتہ ہو گئے اور خیال فاسد دل میں پیدا ہوا کہ امرتسر (جہاں دونوں کو اترنا تھا) پہنچ کر اور اوّل مولوی حیات گل صاحب سے نسخہ ورود سر (جس کے لئے سفر اختیار کیا تھا) لاکر دل کے ارمان نکال لیں گے۔ تو سید عبداللہ غزنویؒ کی مسجد کے دروازے میں داخل ہوتے ہی اس خیال فاسد کا ایسا قلع و قمع ہوا اور حالت ایسی دگرگوں ہوئی کہ آہ و زاری طاری اور کلمہ یا ارحم الراحمین ارحم زبان پر جاری ہوا۔ یا اب مرزا قادیانی کے تعلق اور مریدی میں یہ فیضان ہوا کہ ایک شوہر دار پوربی گھسیارن (جس کو زوجہ دوم و سوم کی طرح علیحدہ کر چکے ہیں) سے جو دو چار ہو گئے تو اس کے حصول میں کیا کیا ناگفتہ بہ افعال عمل میں آئے۔ خدا کرے میرا یہ خط بعینہ تمام و کمال شائع ہوتا کہ ولی الرحمان و ولی الشیطان کی صحبت کی تاثیرات کے موازنہ کا ناظرین کو موقعہ ملے اور ان کو تفریق میں اولیاء الرحمان واولیاء الشیطان کی تمیز حاصل ہو۔

بالآخر یہ بات قابل اظہار ہے کہ اگر وہ اس خط و کتابت میں خیانت وتحریف کریں تو ہم پر لازم ہوگا کہ ان کا مفصل حال معہ نظم لطیف مصنفہ میر ناصر نواب صاحب جس میں مرزا قادیانی اور ان کی جماعت کے حالات کا پورا مرقع فوٹو ہے شائع کریں۔ وہ نظم بہت ہی لطیف ہے۔ چنانچہ اس دوست کی تعریف میں پہلا شعر اس طرز کا ہے۔

نت نئی بیوی کی ہے اس کو تلاش
ہے وہ ایسا باحیا و خوش معاش

ہادی المضلین اس دوست کی دستگیری کرے۔ آمین!

١٠٤

پہلے تو یہ غریب مزاج سیدھے سادھے خلوت پڑھ کر اطمینان دل حاصل کرتے تھے۔ لیکن اب مرزا خصائل قبیحہ ان میں سرایت کر گئے ہیں۔ حتیٰ کہ اب ا بصارت و بصیرت کے معنے نہیں جانتے اور نہ الف و ایسے بیزار ہوئے ہیں کہ خواہ نخواہ بے ضرورت غیر مذک متمنی اور ان سے اشیاؤں کی معرفت اسلام (یا تو و اختیار محذوف رہ گیا ہے) کرنے کی اجازت مانگت وزحمت سے مخلصی بخشے۔ آمین!

قولہ....... ’’جناب عائشہ صدیقہ کی تصویر پیغمبر علیہ الـ تھے۔‘‘

اقول....... حضرت قدوس کا وہ فعل مبارک پیغمبر علیہ ا اپنے ہاتھوں کی کرتوتوں سے سوائے خذلان کے کیا مل

قولہ....... ’’حضرت عائشہ صدیقہ سیدنا کے گھر گڑیوں

اقول....... وہ گڑیاں حیوان یا انسان کی مورتیں نہ تـ ہے۔ اگر آنحضرت ﷺ کے گھر میں انسان و حیوان کـ ہوتے۔ اپنے وجود کی خباثت سے بزرگوں کو متہم نہ کر

قولہ....... ’’تصویر پرستش کے واسطے بنانی منع ہے ۔

اقول....... ذی روح کی مورت بنانی مطلق حرام ہے ایک تصویر دار کپڑا خریدا تھا۔ آپ ﷺ نے مکروہ جان لتقعد علیہا‘‘ نص موجود ہے۔ محض پرستش کے وا مقامات مظہری میں حضرت شاہ غلام علیؒ کے حالات مـ مدینہ منورہ بحکم حضرت ﷺ حاضر شدہ بودند۔ بحکم حـ اندر بقعہ آمدہ عرض نمودند۔ اگر چہ برکات حضرت رسـ موجود است۔ تحقیق شد کہ تصاویر بعض اکابر در انجا بـ بر آوردند۔ اولیاء الشیطان اور اولیاء الرحمان میں ضرو

١٠٥

صفحہ ١٣٩

پہلے تو یہ غریب مزاج سیدھے سادھے خلوت پسند تھے اور اردو ترجمہ کیمیا سعادت کا پڑھ کر اطمینان دل حاصل کرتے تھے۔ لیکن اب مرزا کی نسبت انانیت شوخی پندار و سرکشی و دیگر خصائل قبیحہ ان میں سرایت کر گئے ہیں۔ حتیٰ کہ اب اپنے تئیں اہل بصیرت لکھتے ہیں۔ اگر چہ بصارت و بصیرت کے معنے نہیں جانتے اور نہ الف و باء میں تمیز کر سکتے ہیں اور خلوت سے تو ایسے بیزار ہوئے ہیں کہ خواہ نخواہ بے ضرورت غیر مذاہب اہل ثروت و حکومت کی چاپلوسی سے متمنی اور ان سے اشناؤں کی معرفت اسلام (یا تو دوست کا مطلب سلام ہے یا بعد میں لفظ اختیار محذوف رہ گیا ہے) کرنے کی اجازت مانگتے ہیں۔ ارحم الراحمین اس مہلک نسبت و زحمت سے مخلصی بخشے۔ آمین!

٣...... تصویر پرستی

قولہ ...... ”جناب عائشہ صدیقہ کی تصویر پیغمبر علیہ السلام کی خدمت میں حضرت جبرائیل لائے تھے۔“

اقول ...... حضرت قدوس کا وہ فعل مبارک پیغمبر علیہ السلام کی پیشین گوئی کا صادق نشان تھا۔ ہم کو اپنے ہاتھوں کی کرتوتوں سے سوائے خذلان کے کیا مل سکتا ہے۔

قولہ ...... ”حضرت عائشہ صدیقہ سیدنا کے گھر گڑیوں سے کھیلتیں تھیں۔“

اقول ...... وہ گڑیاں حیوان یا انسان کی مورتیں نہ تھیں۔ گھوڑے کی روایت موضوع اور باطل ہے۔ اگر آنحضرت ﷺ کے گھر میں انسان وحیوان کی مورتیں ہوتیں تو روح القدس ہرگز نازل نہ ہوتے۔ اپنے وجود کی خباثت سے بزرگوں کو متہم نہ کرو۔

قولہ ...... ”تصویر پرستش کے واسطے بنانی منع ہے۔“

اقول ...... ذی روح کی مورت بنانی مطلق حرام ہے۔ حضرت عائشہ صدیقہؓ نے آپ کے واسطے ایک تصویر دار کپڑا خریدا تھا۔ آپ ﷺ نے مکروہ جانا اور منظور نہ کیا۔ ”اشتریت ہذا الثوب لتقعد علیہا “ نص موجود ہے۔ محض پرستش کے واسطے حرام سمجھنا قول فاسد اور مردود ہے۔ ضمیمہ مقامات مظہری میں حضرت شاہ غلام علیؒ کے حالات بابرکات میں مرقوم ہے کہ سید اسماعیل مدنی از مدینہ منورہ بحکم حضرت ﷺ حاضر شدہ بودند۔ بحکم حضرت ایشان آثار نبویہ کہ در جامع مسجد نہادہ اند دہلی آمدہ عرض نمودند۔ اگر چہ برکات حضرت رسالت محسوس میشوند لیکن ظلمت کفر نیز درانجا موجود است۔ تحقیق شد کہ تصاویر بعض اکابر درانجا بودند۔ درین مقدمہ بہ بہادر شاہ نوشتند تصاویر بر آوردند۔ اولیاء الشیطان اور اولیاء الرحمان میں ضرور فرق ہونا چاہئے۔

١٠٥

صفحہ ١٤١

قولہ ...... ”آنجناب نے اپنی تصویر شاہ روم کے پاس بھجوائی تھی۔“

(الحکم)

اقول ...... یہ کذب صریح آپ ﷺ پر مرزا قادیانی کے چیلوں نے باندھا ہے۔ ”تبوء مقعدھم فی النار“ ہاں شاہ قیصر کے پاس نبیوں کی تصویریں موجود تھیں۔ حدیث میں آیا ہے کہ حضرت جبرائیل علیہ السلام، آدم علیہ السلام کے پاس لائے تھے۔ یہ با حکمت فعل صدق نبوت پر نص قطعی ہے۔ ہزار ہا سال قبل پیدائش کے نشان صداقت موجود تھے۔ ہم کو اپنے منکرات سے کیا فائدہ ہے؟

قولہ ...... ”آئینہ میں منہ دیکھتے ہو۔ عکسی تصویر ہر گھر میں موجود ہے۔“ اقول ...... انبیاء اصفیاء خاص و عام آئینہ میں منہ دیکھتے ہیں۔ بلکہ تمام اشیاء مصفا سے بالمقابل چیزیں نظر آتی ہیں۔ آئینہ کو آئینہ، تلوار کو تلوار، پانی کو پانی کہتے ہیں۔ یہ بھی قدرتی نظارہ ہے کسی کے ہاتھ کی بنائی ہوئی تصویر نہیں۔

قولہ ...... ”ملہمین مجبور ہیں۔ ان پر مواخذہ نہیں ہوتا۔“ اقول ...... صادقوں کے الہامات سچے ہیں۔

قولہ ...... مرزا قادیانی فرماتے ہیں: ”ہم نے تصویر یورپین کے واسطے بنائی ہے۔“ اقول ...... کیا انبیاء اور صلحاء نے اپنی صورتوں سے اسلام پھیلایا تھا۔ انوار تجلیات حضرت قدوس ذوالجلال مقدسوں کے مبارک چہروں پر تابان تھے۔ جن سے اب تک تمام عالم پر نور ہے۔ اب بھی غلامان سیدنا پر انوار الہی جلوہ گر ہیں۔ خدا کے قہر شدید سے ڈرو اور شرک پھیلانے سے باز آؤ۔

قولہ ...... ”قرآن سے تصویر کی حرمت ثابت نہیں۔“ اقول ...... فرمان عالیشان جناب پیغمبر علیہ السلام مثل قرآن کے ہے۔ ”وما ينطق عن الهوى“ اور ”الا انی اوتیت القرآن ومثلہ معہ الحدیث“ شاہد ناطق ہے۔ ہر امر کو نص کتاب اللہ سے ثابت کرنا مشکلات میں پھنس جانا ہے۔ مرزا قادیانی کا نام ونشان قرآن وحدیث میں کہیں نہیں۔ نہ صحابہ، اہل بیت اور سلف صالحین سے ثابت ہے۔ محمد عبداللہ، از ملتان!

٤...... چڑیاں دام سے نکل گئیں

پیر جی سراج الحق صاحب جو اس سے پہلے جمالی تھے اور اب مرزائی ہو گئے ہیں۔ اپنے وطن مالوفہ قصبہ سرساوہ ضلع سہارنپور میں تشریف لائے اور مرزا قادیانی کی بعثت اور رسالت ونبوت کی منادی بہت زور شور سے کی اور خوب ہی روغن قاز اور مسالے دار آب پیاز مل کر لوگوں کو ١٠٦

گانٹھنا چاہا۔ قریب تھا کہ بعض ضعیف الاعتقاد جہلاء نئے نبی کے مسلمانوں کی خوش قسمتی سے پیر جی صاحب کے بہنوئی اور ہم زلف صاحب رامپوری آن پہنچے۔ عشرہ محرم کے ایام تھے۔ حافظ صاحب نے دشت کربلا رضوان اللہ علیہم اجمعین کا ذکر پڑھا۔ لوگ بکثرت جمع ذکر شہادت پڑھنے اور لوگوں کو اس کے سننے سے بڑی زجر و توبیخ فرمائے۔

چنانچہ ایک صاحب وہیں کے عجب چال چلے کہ پیر جی کو اپنی فرزانگی سے مات دی ۔ یعنی اسی مجمع میں پیر جی سے سوال کیا کہ حضرت اقدس اور میرزا غلام احمد مدعی عیسیٰ الاصل حال وارد قادیان میں ہمارے حضرت اقدس علیہ الصلوۃ والسلام ہی کا مرتبہ بڑا ہے یا ان کا ۔ اور پھر کیا تھا۔ سب کے سب لاحول پڑھتے ہوئے اٹھ گئے جیسے کسی عاشق کا دل معشوق کے چاہ غبغب میں ۔ ہر چند تحقیر ہوئی اور اب پیر جی سے لوگوں کو ایسی نفرت ہے جیسے انگریزوں سے۔

٥....... انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام

واقعات شہادت دے رہے ہیں کہ مرزا قادیانی ان کے خوفناک رقیب رہے ہیں اور لوگوں کے دلوں سے ان کی عظمت مٹانا چاہتے ہیں۔ آپ مثیل مسیح ہیں۔ مگر مسیح علیہ السلام بدحواسی میں اپنی ہی ناک پر کلہاڑا چلاتے ہیں۔ کیا معنی کہ جو اصل برا ہے تو اس کی نقل یا اس کا مثیل بدرجہ اولیٰ لائق سب ولعن ہوگا۔ اگر عیسائیوں نے عیسیٰ مسیح کو ابن اللہ ٹھہرا لیا تو مرزا قادیانی نے محض خود غرضی کی حماقت سے اپنے بچاؤ مسیح پر طرح طرح کے اتہام لگائے اور یہ سمجھا کہ تمام اہل اسلام کی طرح عیسائیوں سے معارضہ کر رہا ہوں۔ مگر استغفراللہ بھلا کوئی سچا مسلمان اسے سنتا ہے اور اس کا ایمان کیونکر گوارا کر سکتا ہے؟ پس مرزا قادیانی کا ملعون ہونا اچھی طرح ثابت ہو گیا۔ ١٠٧

صفحہ ١٤١

گانٹھنا چاہا۔ قریب تھا کہ بعض ضعیف الاعتقاد جہلاء نئے نبی کے کلمہ گو اور امتی ہو جائیں۔ مگر مسلمانوں کی خوش قسمتی سے پیر جی صاحب کے بہنوئی اور ہمارے شاگرد رشید حافظ محمد جان صاحب رامپوری آن پہنچے۔ عشرۂ محرم کے ایام تھے۔ حافظ صاحب نے حسب دستور شہیدان دشت کربلا رضوان اللہ علیہم اجمعین کا ذکر پڑھا۔ لوگ بکثرت جمع ہوئے۔ پیر جی بھی آدھمکے اور ذکر شہادت پڑھنے اور لوگوں کو اس کے سننے سے بڑی زجر و توبیخ کے ساتھ روکا مگر حافظ صاحب حسب مقولہ

جہاں کے آپ ہیں صاحب وہیں کے ہم بھی ہیں

عجیب چال چلے کہ پیر جی کو اپنی فرزانگی سے فرزین کی ایک ہی چال میں مات دے دی۔ یعنی اسی مجمع میں پیر جی سے سوال کیا کہ حضرت امام حسین علیہ السلام کا مرتبہ بڑا ہے یا جناب اقدس مرزا غلام احمد بیگ چینی الاصل حال وارد قادیان کا؟ پیر جی جواب میں فرماتے کیا ہیں کہ ہمارے حضرت اقدس علیہ الصلوٰۃ والسلام ہی کا مرتبہ بڑا ہے۔ عوام کا یہ سننا تھا کہ ان تلوں تیل ہی نہ رہا اور پھر کیا تھا۔ سب کے سب لاحول پڑھتے ہوئے اڑنچھو ہو گئے اور پیر جی ایسے کھوئے گئے جیسے کسی عاشق کا دل معشوق کے چاہ غبغب میں۔ ہر چند غل مچایا، ہوا باندھی مگر سب کارستانی ہوا ہو گئی اور اب پیر جی سے لوگوں کو ایسی نفرت ہے جیسے انگریزوں کو بوئروں کے کروگر سے۔ ایڈیٹر!

٥...... انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام سے رقابت

واقعات شہادت دے رہے ہیں کہ مرزا قادیانی اپنی جعلی نبوت سے تمام انبیاء ورسل کے خوفناک رقیب رہے ہیں اور لوگوں کے دلوں سے ان کی عظمت کو گھٹانا اور اپنی جھوٹی عظمت کا بڑھانا چاہتے ہیں۔ آپ مثیل مسیح ہیں۔ مگر مسیح علیہ السلام کو گالیاں دیتے ہیں۔ اگرچہ پرائی بدشگونی میں اپنی ہی ناک پر کلہاڑا چلاتے ہیں۔ کیا معنی کہ جب اصل مسیح جھوٹا اور لائق سب ولعن ہے تو اس کی نقل یا اس کا مثیل بدرجہ اولیٰ لائق سب ولعن ہوگا۔

اگر عیسائیوں نے عیسیٰ مسیح کو ابن اللہ ٹھہرا لیا تو اس میں عیسیٰ مسیح کا کیا قصور۔ مگر مرزا قادیانی نے محض خود غرضی کی حماقت سے اپنے چیلے چانٹوں کے خوش کرنے کے لئے عیسیٰ مسیح پر طرح طرح کے اتہام لگائے اور یہ سمجھا کہ تمام اہل اسلام بھی خوش ہوں گے۔ کیونکہ میں عیسائیوں سے معارضہ کر رہا ہوں۔ مگر استغفر اللہ بھلا کوئی سچا مسلمان کسی نبی کی توہین کیونکر سن سکتا ہے اور اس کا ایمان کیونکر گوارا کر سکتا ہے؟ پس مرزا قادیانی نے تمام مسلمانوں پر اپنا مرتد اور ملحد اور ملعون ہونا اچھی طرح ثابت کر دیا۔

١٠٧

صفحہ ١٤٣

اب آنحضرت ﷺ پر بھی حملے شروع ہو گئے ہیں۔ الحکم میں بار بار یہ گوہ اچھالا جاتا ہے کہ آنحضرت ﷺ کے اقوال وافعال میرے اور میری امت کے لئے واجب العمل نہیں۔ جب تک وہ قرآن سے ثابت نہ ہو جائیں۔ کوئی پوچھے کہ قرآن آخر کس پر اترا ہے۔ کیا آنحضرت ﷺ قرآن کے خلاف کوئی فعل کر سکتے تھے؟ مرزا قادیانی کہہ دیں گے کہ قرآن مجھ پر اترا ہے اور میرے ہی اقوال وافعال قرآن کے موافق ہیں۔ پس جو کچھ میں کہوں اس پر عمل کرو۔

حدیث رسول اللہ ﷺ میں تو (معاذ اللہ) بہت کچھ خرافات ولغویات بھری ہیں۔ مثلاً تصویر پرستی اور تصویر بنانے کی ممانعت۔ جو میری بعثت وخروج کا بڑا بھاری آلہ ہے۔ ہم کہتے ہیں کہ کیا مرزا قادیانی قرآن پر عمل کرتے ہیں۔ قرآن میں تو ہر ذی استطاعت مسلمان پر حج فرض ہے۔ کیا آپ یہ فرض ادا کر چکے ہیں؟ مرزا قادیانی کہہ دیں گے کہ میں جدید رسول ہوں۔ مجھ پر حج خانہ کعبہ فرض نہیں۔ میری جدید آزاد شریعت نے اسلام کے پرانے احکام منسوخ کر دیئے۔ میں مذہب اسلام کی ترمیم اور تنسیخ کے لئے آیا ہوں۔ میرا جھونپڑا یا ٹاپا یا مسکن (قادیان) مکہ اور مدینہ سے بڑھ کر ہے اور میرا لوٹیمر منارہ تمام مقدس مقامات کا قبلہ گاہ ہے۔ پس لوگ میری زیارت اور میرے منارے کا طواف کریں۔ دقیانوسی وحشی مسلمانوں کے لئے پرانا کعبہ اور میرے جدید مہذب مرزائیوں کے لئے تازہ بتازہ نیا کھڑا ہوا منارہ ہے۔ (منارۃ یا جہنم کا شرارہ) قرآن نے عیسیٰ مسیح کو کلمۃ اللہ اور روح اللہ قرار دیا۔ میں اس کو معاذ اللہ طوائف زادہ اور کذاب قرار دیتا ہوں۔ یہ مرزا قادیانی کا قرآن پر بمقابلہ حدیث رسول اللہ ﷺ عمل ہے۔ انبیاء علی نبینا وعلیہم الصلوٰۃ والسلام دنیا میں کچھ اور ہی شان لے کر آئے تھے جو دوسرے انبیاء کی عظمت کرتے تھے۔ آنحضرت ﷺ کی عجیب رحیمی شان تھی کہ تمام انبیاء کی یکساں عظمت کرنے کا مسلمانوں کو حکم دیا۔ وہ آپ ہی کا نفس مطمئنہ تھا کہ سخت تہدید کے ساتھ فرمایا: ”لا تخيروا في انبیاء اللہ“ یعنی خدا کے نبیوں میں تخیر نہ کرو۔ (ایک کو دوسرے پر ترجیح اور فضیلت نہ دو) اور فرمایا: ”لا تفضلونی علی یونس بن متی“ یعنی مجھے حضرت یونس علیہ السلام پر بھی فضیلت نہ دو۔ کیا نبی بننا کسی دنیا دار کا کام ہے جو لوگوں کے دلوں میں اپنی دھاک بٹھانے کو تمام انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام کو گالیاں دیتا ہے۔ خوارق وہ، اخلاق وہ، عادات وہ کہ ایک ادنیٰ صفات کا آدمی بھی ان سے عار کرے۔

مرزا قادیانی کے کلمہ گو تو لے دے کر ہزار پانچ سو ہی ہوں گے۔ ١٣ سو برس میں تو ایسے ایسے مکار عیار مہدیان کذاب پیدا ہو چکے ہیں جن کے ساتھ لاکھوں حمقاء ہوئے ہیں۔ مگر وہ

١٠٨

برسات کے اولا دالزنا (حشرات الارض) کی طرح جـ میں مرزا قادیانی اور اس کے گروہ کا بھی یہی حال ہوگا۔

واقعات شاہد ہیں کہ کیسے کیسے مقدس اور ہوگئے۔ یہ وہ لوگ ہیں کہ اگر مرزا قادیانی میں کچھ بھی سے یوں علیحدہ اور بیزار ہوتے کہ اب اس کے نام کا کتا سینکڑوں روپیہ کے اکارت اور فضول جانے پر افسوس چند روز میں افسوس کریں گے۔ انشاء اللہ تعالیٰ!

مرزا قادیانی نے اپنے خوارق سے صاف خوفناک حریف اور آنحضرت ﷺ کا کٹا رقیب ہے باوصف ختم نبوت ورسالت کے نبی اور رسول بننے کا مد سابقین کی عظمت باقی رہے وہ تو ہر طرح اپنے ہی کو اور خود غرض گروہ جسے اس کو اور بھی چھیلنے کی طرح پھا آسمان سر پر اٹھائیں گے۔ دیکھ لو مرزا قادیانی کی رقـ بننے سے عار ہے اور انہوں نے احمدی (مرزائی) بننا نہیں بلکہ سخت عداوت ہے اور جس طرح آنحضرت ﷺ حيا لمـا وسـعـه الا اتباعی“ اسی طرح چند رو لا يمكنه الا اقتدائی “ کیونکہ مرزا قادیانی نے قر میں تحریف کر کے اپنی جانب منسوب کرنے ہی کا نام ہر عالم جو زبان عرب سے کچھ بھی مس رکھتا ہے۔ مرزا ہے جو اس نے اپنے جعلی الہامات میں گھڑے ہیں۔ پورا دعوٰی ظاہر نہیں کیا۔ مگر اطمینان رکھنا چاہئے کہ چند بنائے گا اور جس طرح خود مثیل مسیح سے عیسیٰ مسیح کو مہدی بنا کر خود ان کا جانشین ہوا ہے۔ اسی طرح آ خاتم النبیین بنے گا قرآن کی آیتوں کا اپنی جانب

دیکھتے جائیے کیا کیا ہوتا ہے۔ ابھی چیونٹی کے پر ا ہیں۔ ایڈ یٹر!

١٠٩

صفحہ ١٤٣

برسات کے اولادالزنا (حشرات الارض) کی طرح جہاں سے نکلے تھے وہیں گھس گئے۔ چند روز میں مرزا قادیانی اور اس کے گروہ کا بھی یہی حال ہوگا۔ انشاء اللہ تعالیٰ!

واقعات شاہد ہیں کہ کیسے کیسے مقدس اور خالص باخدا لوگ مرزا قادیانی سے علیحدہ ہوگئے۔ یہ وہ لوگ ہیں کہ اگر مرزا قادیانی میں کچھ بھی للٰہیت اور خلوص پاتے تو غیر ممکن تھا کہ اس سے یوں علیحدہ اور بیزار ہوتے کہ اب اس کے نام کا کتا بھی نہیں پالتے اور جس طرح وہ اب اپنے سینکڑوں روپیہ کے اکارت اور فضول جانے پر افسوس کرتے ہیں۔ اسی طرح دوسرے نو گرفتار بھی چند روز میں افسوس کریں گے۔ انشاء اللہ تعالیٰ!

مرزا قادیانی نے اپنے خوارق سے صاف ثابت کردیا ہے کہ وہ مذہب اسلام کا ایک خوفناک حریف اور آنحضرت ﷺ کا کٹا رقیب ہے اور ظاہر ہے کہ جب کوئی عیار اور سادھو باوصف ختم نبوت ورسالت کے نبی اور رسول بننے کا مدعی ہو گا تو ممکن نہیں کہ اس کے دل میں انبیاء سابقین کی عظمت باقی رہے وہ تو ہر طرح اپنے ہی کو سب سے نو ہتھ لمبا بتائے گا۔ پھر غلام گردش اور خود غرض گرد گھسے اس کو اور بھی خیمے کی طرح پھلائیں گے اور نبی اور رسول بنانے کے لئے آسمان سر پر اٹھائیں گے۔ دیکھ لو مرزا قادیانی کی رقیبانہ تعلیم وتلقین کے موافق مرزائیوں کو محمدی بننے سے عار ہے اور انہوں نے احمدی (مرزائی) بننا پسند کیا ہے۔ یہ آنحضرت ﷺ سے رقابت نہیں بلکہ سخت عداوت ہے اور جس طرح آنحضرت ﷺ نے یہ فرمایا ہے کہ: ”لو كان موسیٰ حيا لما وسعه الا اتباعی“ اسی طرح چند روز میں مرزا کہے گا۔ ”لو كان محمد حياً لا يمكنه الا اقتدائی“ کیونکہ مرزا قادیانی نے قرآن وحدیث کے الفاظ بدلنے یا یوں کہو کہ ان میں تحریف کرکے اپنی جانب منسوب کرنے ہی کا نام الہام رکھا ہے اور اس کا برابر تجربہ ہورہا ہے۔ ہر عالم جو زبان عرب سے کچھ بھی مس رکھتا ہے۔ مرزا قادیانی کے جملوں سے کہیں بہتر جملے گھڑ سکتا ہے جو اس نے اپنے جعلی الہامات میں گھڑے ہیں۔ اس سے ثابت ہے کہ ابھی مرزا قادیانی نے پورا دعویٰ ظاہر نہیں کیا۔ مگر اطمینان رکھنا چاہئے کہ چند روز میں ظاہر کرے گا اور اپنے کو خاتم النبیین بنائے گا اور جس طرح خود مثیل مسیح نے عیسیٰ مسیح کو مار کر کشمیر میں دفن کیا ہے اور مہدی موعود کو خونی مہدی بنا کر خود ان کا جانشین ہوا ہے۔ اسی طرح آنحضرت ﷺ میں عیوب اور نقص نکال کر خود خاتم النبیین بنے گا قرآن کی آیتوں کا اپنی جانب منسوب کرنا اسی امر کی تمہید اور توطیہ ہے۔ ذرا دیکھتے جائیے کیا کیا ہوتا ہے۔ ابھی چیونٹی کے پر اچھی طرح نہیں نکلے چند روز میں نکلنے والے ہیں۔ ایڈیٹر!

١٠٩

صفحہ ١٤٥

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

تعارف مضامین ...... ضمیمہ شحنہ ہند میرٹھ

٢٤؍ اپریل ١٩٠٢ء کے شمارہ نمبر ١٦ کے مضامین

....... ١ مرزا اور طاعون

....... ٢ ایک لطیفہ

....... ٣ تصویر پرستی مولانا شوکت اللہ!

....... ٤ مسلمانوں کو وہابی کہنا بڑی خباثت ہے۔ مولانا شوکت اللہ!

....... ٥ عصائے موسیٰ کے جواب میں مرزائیوں کا عجز ایک محقق!

اسی ترتیب سے پیش خدمت ہیں:

١...... مرزا اور طاعون

مرزا قادیانی کے ملحدانہ عقائد کا زہریلا اثر وباء روحانی ہے اور وباء طاعون کا اثر جسمانی۔ یہ دنیا تک محدود اور وہ عاقبت تک بھی پیچھا چھوڑنے والا نہیں۔ دیکھئے دونوں میں کتنا تفاوت ہے۔

پٹیالہ سے نامہ نگار نے لکھا کہ علاوہ ضمیمہ ہذا اور اس کے معاونوں کی قوت قدسیہ کے خداوند کریم نے عالم غیب سے کچھ ایسے سامان مہیا کر دیئے ہیں کہ مرزائی عقائد کا اثر روز بروز زندہ درگور ہورہا ہے۔ مولانا محمد علی صاحب واعظ پنجاب کے وعظ نے برکات اور ہدایات عامہ کے وہ انوار پھیلائے ہیں کہ الحاد اور شرک و بدعت چمگادڑوں کی طرح کونوں کھدروں میں چھپتے پھرتے ہیں۔ جو لوگ اب تک تذبذب اور گومگو تھے اور مکھیوں کی طرح ادھر ادھر بھنکاتے پھرتے تھے اور مرزائی عقائد کے عنکبوت نے ان پر اچھی طرح لعاب اور جالا نہ تنا تھا۔ وہ مولانا ممدوح کے اثر وعظ سے شہباز بن کر اور تزویر کا تار و پود توڑ تاڑ کر مرزا قادیانی کے دام فریب سے نکل گئے اور دین اسلام کی وسعت آباد فضاء میں آگئے۔ علاوہ ان کے اور لوگ بھی جو رات دن بدعات میں مستغرق رہتے تھے ہدایت پا کر متبع سنت خیر الوریٰ ﷺ ہو گئے۔ الغرض مولانا مشار الیہ کا وعظ زور شور سے جاری رہا اور لوگ جوق در جوق ”یدخلون فی دین اللہ افواجاً“ کے مصداق ہوئے۔ حمد و شکر ۔ اس وعظ کے بعد طاعون ملعون کے دفعیہ کی دعا ہوتی رہی ۔ یقیناً یہ مولوی صاحب ہی کی

١١٠

برکت اور دعا کا اثر ہے کہ خاص پٹیالہ میں طاعون مداخلت نہیں موجود رہا۔ مولوی صاحب کے وعظ نے روحانی طبیب بن کر اگر مریضوں نے بے اعتدالی نہ کی اور طبیب کی ہدایتوں پر (مرزائی) طاعون کا دورہ ہوگا نہ پلیگ (جسمانی) طاعون کا۔ ا

٢...... ایک لطیفہ

نامہ نگار نے لکھا کہ محکمہ نہر اٹاوہ کے اہلکار منشی عب آپ جانتے ہیں فرزند کا داغ بہت سخت ہوتا ہے۔ منشی صاحب میں مرزا قادیانی کو لکھا کہ آپ عمل کشف قبور کے عامل ہی میرے فرزند کا حال معلوم کر کے تشفی فرمائیے کہ اس سے جنا کی روح راحت میں ہے یا تکلیف میں۔ اس کا جواب مرزا نے یہ دیا کہ تم صبر کرو۔ حضرت کے ١١ بچے فوت ہوئے۔ ا (کہ) تھا وہ سہو کتابت سے رہ گیا اور ١١ بچے کی (ج) کے نقط گیا۔ الغرض یہ عبارت یوں پڑھی گئی کہ حضرت (مرزا قادیان حیرت ہوئی کہ مرزا قادیانی کی بیماری کی خبر نہ الحکم نے لکھی میں آیا۔ یہ کیا معاملہ ہے۔ پھر خیال ہوا کہ پنجاب میں طا مرزا قادیانی اس کی بھینٹ چڑھ گئے ہوں اور تمام مرزائیو کیونکہ وہ مثیل مسیح ہیں۔ عیسیٰ مسیح بھی تو صلیب پر چڑھ کر ا ازل تا ابد کفارہ بن گئے ہیں۔ ورنہ مماثلت ہو نہیں سکتی۔ تعزیت نامہ بھیجا گیا جس میں مرزا قادیانی کی وفات پر بہو رہا ہوئے بس است۔ گالیوں کا منہ منہ بھر اجواب آیا کہ ہما آتش حسد کے زہر آلود دود ہیں۔ بے ہودہ ہیں۔ ناقص ا مرزا قادیانی کے جبرائیل سے یہ ایسی غلطی ہوئی ہے کہ کبھی خدا کا کام ہے کہ اسے فوراً معزول کرے۔ ورنہ یہ بھی نا کشف قبر کے معاملہ میں مرزا قادیانی نے جو چوچو کا مربہ جواب از ریسماں ہو کر چار طرف قہقہے اور مسخرے کا گڈا بن ہو گیا کہ مرزائیوں کا خدا کتنے پانی میں ہے۔

١١١

صفحہ ١٤٥

برکت اور دعا کا اثر ہے کہ خاص پٹیالہ میں طاعون مداخلت نہیں کر سکا۔ حالانکہ پٹیالہ کے ارد گرد موجود رہا۔ مولوی صاحب کے وعظ نے روحانی طبیب بن کر وجدانی بیماریوں کو بالکل دفع کر دیا۔ اگر مریضوں نے بے اعتدالی نہ کی اور طبیب کی ہدایتوں پر کاربند رہے تو پٹیالہ میں نہ روحانی (مرزائی) طاعون کا دورہ ہو گا نہ پلیگ (جسمانی) طاعون کا۔ انشاء اللہ تعالیٰ!

٢...... ایک لطیفہ

نامہ نگار نے لکھا کہ محکمہ نہر اٹاوہ کے اہلکار منشی عبدالرحیم صاحب کا لڑکا فوت ہو گیا۔ آپ جانتے ہیں فرزند کا داغ بہت سخت ہوتا ہے۔ منشی صاحب نے سخت اضطرار اور رنج کی حالت میں مرزا قادیانی کو لکھا کہ آپ عمل کشف قبور کے عامل ہیں۔ براہ عنایت از روئے عمل کشف میرے فرزند کا حال معلوم کر کے تشفی فرمائیے کہ اس سے جناب باری نے کیا معاملہ کیا اور اب اس کی روح راحت میں ہے یا تکلیف میں۔ اس کا جواب مرزا قادیانی کے جبرائیل میاں عبدالکریم نے یہ دیا کہ تم صبر کرو۔ حضرت کے ١١ بچے فوت ہوئے۔ اس عبارت میں علیہ السلام کے بعد جو (کے) تھا وہ سہواً کتابت سے رہ گیا اور ١١ بچے کی (بچ) کے نقطے ندارد ہوئے۔ صرف ایک نقطہ پڑھا گیا۔ الغرض یہ عبارت یوں پڑھی گئی کہ حضرت (مرزا قادیانی) ١١ بچے فوت ہوئے۔ منشی صاحب کو حیرت ہوئی کہ مرزا قادیانی کی بیماری کی خبر نہ الحکم نے لکھی نہ کسی اور اخبار نے نہ کوئی خط اس بارہ میں آیا۔ یہ کیا معاملہ ہے۔ پھر خیال ہوا کہ پنجاب میں طاعون پھیلا ہوا ہے۔ کیا عجب ہے کہ مرزا قادیانی اس کی بھینٹ چڑھ گئے ہوں اور تمام مرزائیوں کے گناہوں کا کفارہ بن گئے ہوں۔ کیونکہ وہ مثیل مسیح ہیں۔ عیسیٰ مسیح بھی تو صلیب پر چڑھ کر آسمانی باپ کی تمام اولاد کے گناہوں کا از ازل تا ابد کفارہ بن گئے ہیں۔ ورنہ مماثلت ہو نہیں سکتی۔ بہر نہج میاں عبدالکریم کے نام ایک تعزیت نامہ بھیجا گیا جس میں مرزا قادیانی کی وفات پر بہت کچھ افسوس کیا گیا۔ پھر کیا تھا۔ دیوانہ را بوئے بس است۔ گالیوں کا منہ منہ بھرا جواب آیا کہ ہمارے حاسدین مردود ہیں۔ مطرود ہیں۔ آتش حسد کے زہر آلود دود ہیں۔ بے ہودہ ہیں۔ ناقص الوجود ہیں۔ وغیرہ! ہماری رائے میں مرزا قادیانی کے جبرائیل سے یہ ایسی غلطی ہوئی ہے کہ کسی طرح قابل معافی نہیں۔ مرزائیوں کے خدا کا کام ہے کہ اسے فوراً معزول کرے۔ ورنہ یہ کبھی نہ کبھی اپنے خدا کو ضرور مروا کر رہے گا اور کشف قبر کے معاملہ میں مرزا قادیانی نے جو چوچو ہا ہا، پھڑکتا جواب بھیجا وہ تو سوال از آسمان جواب از ریسمان ہو کر چار طرف قہقہے اور مضحکے کا گڈا بن گیا اور منشی صاحب کا اچھی طرح اطمینان ہو گیا کہ مرزائیوں کا خدا کتنے پانی میں ہے۔

١١١

صفحہ ١٤٧

٣....... تصویر پرستی

نوزاد مرزائی اخبار نے ایک مضمون بعنوان (تصویر کے فوائد) شائع کیا ہے اور وہی لچر اور لغو دلائل خلاف مذہب اسلام لکھے ہیں جن کا الہام مرزا قادیانی اور مرزائیوں پر ان کے خدا کی طرف سے ہو چکا ہے۔ وہ لکھتا ہے کہ : ”تصویر اور فن تصویر کشی کی نسبت علماء کی مختلف رائیں ہیں ۔“ علماء اسلام کی رائیں تو ہرگز مختلف نہیں۔ تصویر کا کھینچنا اور کھنچوانا اور گھروں میں رکھنا اور اپنی عورتوں کو نامحرم کی تصویر دکھانا علماء سلف وخلف کے نزدیک بالاتفاق حرام ہے اور یہ کام اور اسکے فاعل خدا اور رسول کے نزدیک قطعی ملعون (دوزخی) ہیں۔ شاید مرزائی اخبار کی مراد علماء سے علماء یہود و مجوس و نصاریٰ یا علماء ہنود پنڈت وغیرہ ہیں۔ وہ لکھتا ہے کہ نیک نیتی سے تصویر کھینچنا یا کھنچوانا ناجائز نہیں محرمات میں، اور نیت کوئی چوری یا رہزنی اس نیت سے کرے کہ میں لوگوں کو لوٹ کر مسجد بناؤں گا۔ یا یتیم خانہ یا مدرسہ جاری کروں گا تو ایسی نیت سے چوری اور رہزنی کیونکر جائز ہو سکتی ہے؟ مرزا قادیانی کی تو یہ نیت ہے کہ مرزائی اور مرزائنیں مجھ سے محبت رکھیں۔ مجھے پہچانیں۔ میرے چہرے مہرے خط و خال کو گھوریں۔ میری مورتی کی ڈنڈوت کریں۔ میری عظمت کریں جو در حقیقت پرستش ہے۔

بہت سے مسلمان تصویریں بناتے اور بنواتے ہیں اور اپنے گھروں میں رکھتے اور ان سے مکانات کو سجاتے ہیں۔ لیکن ان سے ایماناً پوچھ دیکھو وہ کبھی اس کو مستحسن اور جائز نہ بتائیں گے۔ بلکہ حرام مطلق کہیں گے اور اپنے گناہ کے معترف ہوں گے۔ خوفناک یہ امر ہے کہ مرزا قادیانی اپنے آپ کو مسلمان کہلا کر امور خلاف اسلام کو جائز اور مباح بلکہ ایک صورت میں واجب اور فرض بتاتا ہے اور حتی الوسع یہ ثابت کرنا چاہتا ہے کہ مذہب اسلام نے ان کو جائز اور بعض صورتوں میں واجب اور فرض قرار دیا ہے۔

ان جہلاء کی بڑی دلیلیں دو ہیں۔ اولاً خدائے تعالیٰ خود مصور ہے۔ دوم تصویر دار سکہ ہر وقت لوگ اپنے پاس رکھتے ہیں۔ اب ذرا غور سے دونوں دلیلوں کی دھجیاں اڑتی ہوئی دیکھئے۔ اگرچہ یہ تو کسی طرح یقین نہیں کہ آپ اپنے دعوے سے باز آئیں۔ خدائے تعالیٰ کی صفت تو صرف ”المصور“ ہے۔ بلکہ اس کے توقیفی اسماء صفات ٩٩ ہیں۔ کیا مرزا قادیانی اور مرزائی سب خدائے تعالیٰ کی صفات میں مشارکت چاہتے ہیں۔ وہ خالق السموات والارض ہے۔ وہ جاعل الظلمات والنور ہے۔ وہ ازل سے ابد تک حی اور قیوم ہے۔ اس کی صفت محیی ہے۔ اس کی صفت نمرود جیسے سرکش خدائی کا دعویٰ کرنے والے (مرزا نے تو ابھی نبوت ہی کا دعویٰ کیا ہے) کے سامنے حضرت ١١٢

ابراہیم علیہ السلام نے یہ دلیل فرمائی۔ ”فان اللہ یا المغرب فبهت الذى كفر (البقره:٢٥٨)“ ہے۔ اگر تو کچھ قدرت رکھتا ہے تو مغرب سے آفتا ہو گیا۔ دیکھئے نمرود تک کو ایسی مسکت دلیل نے منارے کی طرح نمرود سے بھی کئی منزل اونچی ۔ طفلانہ توہم ہے کہ انسان کی آنکھ میں آئینے میں اس لئے تصویر بنانا جائز ہے۔ کوئی پوچھے تو ش مصنوعات کو قیاس کیا جو شیطان کی صفت ہے۔

چھوڑ قیاس
اول من

کیا مذہب اسلام نے ایسا حکم دیا ہے میں عکس پڑتا ہے۔ لہٰذا تم بھی تصویریں بناؤ۔ ا ہے۔ پتھر یا سونے چاندی تانبے وغیرہ دھاتوں ہے جو رحم مادر میں بنتی ہے۔ جس کی تعریف میں دوسرا شاعر نہیں لکھ سکتا:

دہد نطفہ را
کہ کرداست بر

انسان کی تصویر صانع مطلق نے پانی ایک حرف تو پانی پر کھینچ دیں۔ ”الحق یصور فی کا تو معاذ اللہ حکم دیا۔ مگر حج کرنے کا حکم نہیں دیا اور مرزا قادیانی کا نام غلام احمد تھا۔ پس اگر مر کو بجائے احمدی بنانے کے غلام ہی بناتا جو نام کا پ قدرت الٰہی کا یہی التزام ہے۔ مگر مرزا قادیانی معنیٰ جعل کیا۔ اب رہا تصویر دار سکہ ۔ مذہب اس صندوقوں اور ہمیانیوں اور خزانوں میں محفوظ رک

صفحہ ١٤٧

ابراہیم علیہ السلام نے یہ بیان فرمائی ۔ ’فان اللہ یاتی بالشمس من المشرق فات بھا من المغرب فبھت الذی کفر (البقرہ:٢٥٨)‘ یعنی میرا خدا وہ ہے جو آفتاب کو مشرق سے نکالتا ہے۔ اگر تو کچھ قدرت رکھتا ہے تو مغرب سے آفتاب نکال ۔ یہ سن کر نمرود حیرت زدہ ہو کر خاموش ہو گیا۔ دیکھئے نمرود تک کو ایسی مسکت دلیل نے بت بنا دیا۔ مگر مرزا قادیانی کی گردن تو اپنے منارے کی طرح نمرود سے بھی کئی منزل اونچی ہے۔ کیوں مبہوت ہونے لگی ۔ کس قدر احمقانہ اور طفلانہ توہم ہے کہ انسان کی آنکھ میں آئینے میں پانی میں عکس پڑتا ہے اور انسان خود تصویر ہے۔ اس لئے تصویر بنانا جائز ہے۔ کوئی پوچھے تو تم نے قدرتی مصنوعات پر اپنے ہاتھ کی بنائی مصنوعات کو قیاس کیا جو شیطان کی صفت ہے ؎

چھوڑ قیاس کی تو تلبیس
اول من قاس ابلیس

کیا مذہب اسلام نے ایسا حکم دیا ہے کہ چونکہ آئینے اور پانی وغیرہ تمام شفاف چیزوں میں عکس پڑتا ہے۔ لہٰذا تم بھی تصویریں بناؤ۔ انسان بے شک صانع مطلق کی بنائی ہوئی تصویر ہے۔ پتھر یا سونے چاندی تانبے وغیرہ دھاتوں کی بنائی یا کاغذ پر کھنچی ہوئی تصویر نہیں وہ ایسی تصویر ہے جو رحم مادر میں بنتی ہے۔ جس کی تعریف میں حضرت سعدی علیہ الرحمۃ نے ایسا شعر لکھا ہے کہ دوسرا شاعر نہیں لکھ سکتا:

دہد نطفہ را چوں صورت پری
کہ کرد است بر آب صورت گری

انسان کی تصویر صانع مطلق نے پانی پر کھینچی ہے۔ بھلا مرزا اور تمام مرزائی فراہم ہو کر ایک حرف تو پانی پر کھینچ دیں ۔ ’الحق یصور فی الارحام کیف یشاء‘ خدا نے تصویر بنانے کا تو معاذ اللہ حکم دیا۔ مگر حج کرنے کا حکم نہیں دیا۔ آنحضرت ﷺ کا مفرد پیارا نام محمد اور احمد ہے اور مرزا قادیانی کا نام غلام احمد بیگ ۔ پس اگر مرزا قادیانی کے خدا کو کچھ بھی عقل ہوتی تو مرزائیوں کو بجائے احمدی بنانے کے غلامی بناتا جو نام کا جزو اوّل ہے۔ جیسے موسائی ، عیسائی ، محمدی وغیرہ اور قدرت الٰہی کا یہی التزام ہے۔ مگر مرزا قادیانی نے قدرت الٰہی کا تعامل چھوڑ دیا اور اس میں بے معنے جعل کیا۔

اب رہا تصویر دارسکہ۔ مذہب اسلام میں کہاں حکم ہے کہ تصویر دار سکہ گھروں میں صندوقوں اور ہمیانیوں اور خزانوں میں محفوظ رکھو جس طرح مرزا طرح طرح کے حیلے سے کثیر رقم

١١٣

صفحہ ١٤٩

اپنے فنڈ میں جمع رکھتا ہے نہ حج کو جاتا ہے نہ زکوٰۃ نکالتا ہے۔ شارع اسلام نے تو یہ حکم دیا ہے کہ ’’الکنز کی من النار‘‘ یعنی خزانہ آگ کا داغ ہے۔ خدائے تعالیٰ فرماتا ہے: ’’یوم یحمی علیھا فی نار جھنم فتکوی بھا جباھھم و جنوبھم و ظھورھم ھذا ما کنزتم لا نفسکم فذوقوا ما کنتم تکنزون (توبہ: ٣٥)‘‘ ﴿جبکہ سونا چاندی دوزخ کی آگ میں تپائے جائیں گے اور پیشانیوں اور پسلیوں اور پشتوں پر ان سے داغ دیئے جائیں گے اور کہا جاوے گا کہ یہ ہے وہ جس کو تم اپنے نفسوں کے واسطے جمع کرتے تھے۔ پس جو کچھ جمع کرتے تھے اس کا عذاب چکھو۔﴾ مگر دوسرے احکام شریعت کی طرح اس زجر و توبیخ اور وعید کو بھی مرزا اور مرزائی کیوں ماننے لگے وہ تو جدید الہام اور جدید نبی کو مانیں گے جو شریعت محمدی کی ترمیم و تنسیخ کر رہا ہے۔

کوئی سچا مسلمان تصویر دار سکہ کو ہرگز پسند نہیں کرتا اور محتاط اور متقی لوگ ہرگز سکے اپنے پاس نہیں رکھتے۔ چونکہ تمام مسلمان ایک غیر مذہب یا یوں کہو کہ باعتبار حکمرانی کے ایک لامذہب گورنمنٹ کے تابع ہیں۔ لہٰذا اس کا حکم مانتے ہیں۔ مرزا قادیانی کو اپنی اور مرزائیان مقرب کی تصویر اور اس کی پرستش کرانے پر کس نے مجبور کیا ہے؟ صرف ہوائے نفس اور تکبر اور نمود اور دنیا طلبی نے۔ شراب ام الخبائث ہے۔ حالت مرض میں بھی جو ایک مجبورانہ حالت ہے آنحضرت ﷺ نے اس کے استعمال کی ممانعت فرمائی کہ ’’بل ھو داء‘‘ یعنی شراب دوا نہیں۔ بلکہ خود مرض ہے۔ پس احکام شریعت کے مقابلہ میں کوئی مجبوری کیونکر چل سکتی ہے۔ مرزا قادیانی یہ جواب دیں گے کہ میں چونکہ نیا نبی اور مذہب اسلام کا مجدد اور رفارمر اور مرمم اور ناسخ ہوں۔ لہٰذا میرے خدا نے جو تصویر بنوانے اور شائع کرانے کا مجھے حکم دیا ہے میں اس کی تبلیغ و ترویج کے لئے مجبور اور مقہور ہوں۔ بیشک مرزا قادیانی کا خدا ایسا حکم دے سکتا ہے۔ مگر خدائے اسلام اور اس کا نبی ایسا حکم نہیں دے سکتا اور یہ تعارض اس کی شان کے خلاف ہے۔ کہ پہلے تو تصویر بنانے والے پر لعنت بھیجے اور اب اس کو جائز کردے۔

پھر کیا مسلمان تصویر دار سکہ کی کچھ عظمت کرتے ہیں وہ تو اس میں سولہ آنے کی چاندی دیکھ کر بیع و شرا کے کام میں لاتے ہیں۔ روپیہ پیسے کی عظمت کوئی شخص تصویر دار سکہ ہونے کی وجہ سے نہیں کرتا بلکہ کاروبار تمدن و معاشرت کا اس کو آلہ سمجھتا ہے۔ مرزا قادیانی نے تو تصویروں کی اشاعت کو اپنی نبوت کا جزء اعظم قرار دیا ہے۔ وہ خود لکھتے ہیں کہ میں نے یورپ میں مرزائی مذہب کی اشاعت کے لئے تصویروں کو رواج دیا ہے۔ چونکہ نبوت کے لئے اشاعت اور ابلاغ و تبلیغ

١١٤

لازم ہے۔ لہٰذا تصویر پرستی مرزائی مذہب کا بڑا رکن ٹھہری

ہم حیران ہیں کہ جب مرزائی مذہب میں تصو کھنچوائی جاتی ہے۔ دھات کی مورتیں تیار کرا کر مرزائیوں بھیجی جاتیں۔ کیا کاغذی تصویر اور دھات کی تصویر میں ک صرف عکسی تصویر کی اشاعت کا حکم دیا ہے تو بڑی غلطی کی ا سڑ جاتی ہے کرم خوردہ ہو جاتی ہے۔ دھات کی تصویر ا ہزاروں سال تک قائم رہ سکتی ہے اور کاغذی تصویر کچ گی۔ ادھر تصویر کو استحکام ادھر فنڈ بھر پور۔ دو دو اور چا مذہب کی پوری اشاعت کرتے ہوئے جھجکتے ہیں۔ کیو لگیں گے۔ دھات کی تصویریں بھی چند روز میں شائع ہ دیکھو۔ ایڈیٹر!

مرزائی پنچ مطبوعہ یکم اپریل ١٩٠٢ء میں علماء بازار اور مولانا عبدالاحد کی نسبت علاوہ دوسرے دل استعمال کیا گیا ہے۔ یعنی ان کو وہابی اور رئیس الوہابین ب کو بھی جی بھر کے گالیاں دی گئی ہیں۔ جیسا کہ مرزائیوں گروہ وہابی نہیں۔ سنی مسلمان تو یہی حنفی، شافعی، مالکی، ح ایک گروہ متبعین کتاب وسنت ہے۔ جو اہل حدیث کے کون سا گروہ ہے؟ غالباً وہ ہوگا جو نہ قرآن وحدیث خصوصاً حضرت عیسیٰ مسیح علیہ السلام کو گالیاں دیتا ہے ب مسیح کی نانیوں اور دادیوں کو کسبیاں قرار دیتا ہے۔ خ کرتا ہے اور اپنے گروہ کے علاوہ مسلمانوں کے تمام ف حرمین شریفین سے بڑھ کر اپنے مسکن اور منارہ کو مطاف

وہاب خدائے تعالیٰ کا نام ہے۔ اس لحاظ لیکن مسلمانوں کو اس لقب سے ملقب کرنے والوں ک چل کر کریں گے اور اگر یہ لفظ ایک شخص عبدالوہاب ن

١١٥

صفحہ ١٤٩

لازم ہے۔ لہٰذا تصویر پرستی مرزائی مذہب کا بڑا رکن ٹھہری۔

ہم حیران ہیں کہ جب مرزائی مذہب میں تصویر اک نعمتِ عظمیٰ ہے تو محض کاغذ پر کیوں کھچوائی جاتی ہے۔ دھات کی مورتیں تیار کرا کر مرزائیوں اور مرزائیوں کے گھروں میں کیوں نہیں بھیجی جاتیں۔ کیا کاغذی تصویر اور دھات کی تصویر میں کچھ فرق ہے۔ اگر مرزا قادیانی کے خدا نے صرف عکسی تصویر کی اشاعت کا حکم دیا ہے تو بڑی غلطی کی ہے۔ کیونکہ کاغذی تصویر تو چند روز میں گل سڑ جاتی ہے کرم خوردہ ہو جاتی ہے۔ دھات کی تصویر کو ہر طرح استحکام ہے۔ ایک ایک مورتی ہزاروں سال تک قائم رہ سکتی ہے اور کاغذی تصویر کے مقابلے میں اس کی قیمت بھی زیادہ اٹھے گی۔ ادھر تصویر کو استحکام ادھر فنڈ بھر پور۔ دو دو اور چپڑی، بات یہ ہے کہ ابھی مرزا قادیانی اپنے مذہب کی پوری اشاعت کرتے ہوئے جھجکتے ہیں۔ کیونکہ کچے ہیں۔ پختہ مغز ہو کر کبھی کچھ کرنے لگیں گے۔ دھات کی تصویریں بھی چند روز میں شائع ہونے لگیں گی۔ ذرا تیل دیکھو تیل کی دھار دیکھو۔ ایڈیٹر!

٤....... مسلمانوں کو وہابی کہنا مرزائی شریعت ہے

مرزائی پنچ مطبوعہ یکم اپریل ١٩٠٢ء میں علماء راولپنڈی مولانا ہدایت اللہ امام مسجد صدر بازار اور مولانا عبد الاحد کی نسبت علاوہ دوسرے دل شکن الفاظ اور سب وشتم کے لفظ وہابی کا استعمال کیا گیا ہے۔ یعنی ان کو وہابی اور رئیس الوہابین بنایا گیا ہے اور حضرت پیر مہر علی شاہ صاحبؒ کو بھی جی بھر کے گالیاں دی گئی ہیں۔ جیسا کہ مرزائیوں کا دستور ہے۔ حالانکہ مسلمانوں میں کوئی گروہ وہابی نہیں۔ سنی مسلمان تو یہی حنفی، شافعی، مالکی، حنبلی ہیں جو چاروں اماموں کے مقلد ہیں۔ ایک گروہ متبعین کتاب وسنت ہے۔ جو اہل حدیث کے لقب سے ملقب ہے۔ ہم نہیں جانتے وہابی کون سا گروہ ہے؟ غالباً وہ ہوگا جو نہ قرآن وحدیث کو مانتا ہے نہ کسی نبی اور ولی کو۔ بلکہ انبیاء خصوصاً حضرت عیسیٰ مسیح علیہ السلام کو گالیاں دیتا ہے۔ ان کو جھوٹا اور بغی زادہ بتاتا ہے۔ یعنی عیسیٰ مسیح کی نانیوں اور دادیوں کو کنجریاں قرار دیتا ہے۔ خلاف کتاب وسنت نیا مذہب اور نیا نبی قائم کرتا ہے اور اپنے گروہ کے علاوہ مسلمانوں کے تمام فرقوں کو جہنمی اور گردن زدنی قرار دیتا ہے۔ حرمین شریفین سے بڑھ کر اپنے مسکن اور منارہ کو مطاف ٹھہراتا ہے۔

وہاب خدائے تعالیٰ کا نام ہے۔ اس لحاظ سے تو ہر مسلمان وہابی کہلانے کو فخر سمجھے گا۔ لیکن مسلمانوں کو اس لقب سے ملقب کرنے والوں کی نیت کچھ اور ہے۔ جس کی تفصیل ہم آگے چل کر کریں گے اور اگر یہ لفظ ایک شخص عبد الوہاب نامی کے نام سے منسوب ہے تو وہ نہ کوئی امام

١١٥

صفحہ ١٥٠

تھا، نہ مجتہد، بلکہ حنبل مقلد تھا۔ پس اس کی جانب نہ کوئی مسلمان آج تک منسوب ہوا نہ منسوب ہونے کو پسند کرے گا۔ ورنہ اگر وہ امام ومجتہد ہوتا تو خانہ کعبہ میں ایک پانچواں مصلیٰ اس کے نام کا بھی ضرور قائم کیا جاتا۔

پس معلوم ہوا کہ یہ لفظ ویسا ہی موہن اور دلشکن ہے جیسا شیعہ کے لئے رافضی اور سنیوں کے لئے خارجی۔ صرف اتنا فرق ہے کہ گورنمنٹ ہند نے مذکورہ بالا القاب سے ملقب کرنے کی ممانعت نہیں فرمائی اور لفظ وہابی کے استعمال کی از روئے سرکلر ممانعت کر دی ہے۔ کیونکہ مخالفوں کی مراد لفظ وہابی سے باغی وبدخواہ سرکار ہے۔ حالانکہ ہندوستان میں نہ صرف مسلمانوں کا بلکہ دیگر اقوام کا کوئی گروہ بھی برٹش گورنمنٹ کا باغی اور بدخواہ نہیں۔ سب کے سب اس کے سایہ عاطفت میں آزادی اور امن سے بسر کرنے کے باعث آزاد اور عادل گورنمنٹ کے ممنون ہیں۔ چونکہ ایسے لفظ کا زبان پر لانا بھی قرین مصلحت نہیں۔ لہٰذا گورنمنٹ نے اس کی نسبت مندرجہ ذیل کارروائی فرمائی ہے۔

نمبر ٣٧٦...... آف ١٨٨٨ء...... پولیٹکل ڈیپارٹمنٹ ممالک مغربی شمالی واودھ ۔ مورخہ ٢٠؍ جولائی ١٨٨٨ء، مقام نینی تال آفس میمورینڈم

عرضی مرسلہ مولوی ابوسعید محمد حسین لاہوری ،مورخہ ٢٦؍ مئی گزشتہ پیش ہوئی۔ مشعر اس کے کہ استعمال لفظ وہابی کا ان ممالک میں کاغذات سرکاری میں ممنوع فرما دیا جائے۔

حکم

سائل کو اطلاع دی جائے کہ حضور نواب لیفٹیننٹ گورنر و چیف کمشنر نے ہدایتیں نافذ فرما دی ہیں کہ کاغذات سرکاری میں لفظ وہابی کا استعمال ترک کر دیا جائے۔

دستخط: انڈرسیکرٹری گورنمنٹ، مغربی شمالی واودھ

اب ہم مرزائی پنج سے پوچھتے ہیں کہ اگر راولپنڈی کے علماء اس لائیبل کی چارہ جوئی عدالت سے کریں تو کتنے گھروں میں ماتم ہو۔ پس جو لوگ بے تحاشا مسلمانوں کو وہابی کہہ دیا کرتے ہیں ان کو متنبہ ہونا اور ایسے دلشکن لفظ کے استعمال سے بچنا چاہئے۔ ملک متوسط اور بنگال میں لفظ وہابی کا استعمال کرنے والوں کو سزائیں مل چکی ہیں۔ عادل گورنمنٹ دوسرے موہن القاب کا چنداں خیال نہیں کرتی۔ مگر لفظ وہابی جس کے استعمال کا اثر گورنمنٹ تک پہنچتا ہے اس کا ضرور خیال کرے گی۔ ایڈیٹر!

١١٦

صفحہ ١٥١

٥....... عصائے موسیٰ کے جواب سے مرزائیوں کا عجز

ملمع اور باطل ظاہر بینوں کی آنکھ کو اپنی چمک دمک سے چند روز کے لئے دھوکا دے کر اصل اور حق کے مقابل کھڑا ہونے کی کیسی ہی کوشش کرے۔ لیکن آخر الامر بمصداق آیہ کریمہ ”قل جاء الحق وزھق الباطل ان الباطل کان زھوقا (بنی اسرائیل: ٨١) “ اُس کا ملمع کافور ہو جاتا ہے۔ یہی حال مرزا کے دعاوی باطلہ کا ہو رہا ہے۔ صاحب عصاء موسیٰ نے قرآن مجید اور احادیث شریف اور اقوال و معتقدات کبراء سلف صالحین کے موافق دلائل ساطعہ اور براہین قاطعہ سے مرزا کے خانہ زاد عقائد کو توڑ پھوڑ کر رکھ دیا۔ صاحب ”قطع الوتین باظہار کید المفترین“ نے مرزا اور اس کے مریدوں کو مبہوت کر دیا۔ جناب پیر مہر علی شاہ صاحب چشتی کے مقابلہ پر لاہور میں نہ آنے سے جو ذلت و شکست جماعت قادیانی کو ہوئی ضمیمہ شحنہ ہند نے جو کچھ دھوئیں بکھیرے ان سب کے مقابلہ میں مرزا قادیانی سے کچھ بھی بن نہ پڑا اور نہ کبھی بن سکے۔ انشاء اللہ تعالیٰ کیونکہ واقعات اور دلائل بینہ شرعیہ کا جواب ہی کیا؟ پس بقول شخصے مرتا کیا نہ کرتا۔ شرم و حیاء کو بالائے طاق رکھ کر اور بے حیائی کا لباس پہن کر ”فاذا لم تستحی فاصنع ما شئت“ ہر عشرہ یا پندرہ روزہ گزرنے پر مرزا اور اس کے مریدین کی طرف سے کوئی نہ کوئی تحریر یا اشتہار حسب عادت مستمرہ گالیوں سے بھرا ہوا نکل ہی آتا ہے۔ جس میں پیر مہر علی شاہ، منشی الٰہی بخش صاحب اور دیگر بزرگان دین کو دل کھول کر کوسا جاتا ہے اور بمصداق ”واذا خلوا عضوا علیکم الانامل من الغیض“ اپنے ہاتھ کاٹتے ہیں۔ کتاب عصائے موسیٰ کو بے حیثیت ناشدنی مرزائی سلسلہ کو نقصان پہنچانے والی وغیرہ بتا کر اپنا جوش ٹھنڈا اور مریدین کو اس کے مطالعہ سے ممانعت کرتے ہیں۔ بات تو جب تھی کہ شریفانہ اور منصفانہ اور محققانہ مسلک پر کسی ایک ہی اعتراض کا جواب دیتے۔ مگر جن فلاکت زدوں اور اپاہجوں کی وجہ معاش اسی سلسلہ پر ہو وہ ایسا نہ کریں تو کیا کریں۔ پیر مہر علی شاہ صاحبؒ کے نام کا اشتہار راقم کی نظر سے نہیں گزرا۔ ہاں عبد الکریم کا اشتہار مجریہ ٣٠؍ اپریل ١٩٠١ء جو اخیر ماہ مئی ١٩٠١ء کو لاہور میں شائع ہوا نظر سے گزرا۔ مبلغ ایمانداری یہ کہ مکتوب الیہ کے پاس حسب معمول پہنچا ہی نہیں۔ بلکہ کسی دوست نے دکھایا جس کے لغو اور نکمے اعتراضات کی مفصلہ ذیل پچھاڑ ہدیہ ناظرین ہے۔ سہولت کے واسطے عبد الکریم کے اشتہار کی عبارت کو بلفظہ اعتراض اور اپنے دلائل کو تردید کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے۔ ”والله المستعان وعلیه التکلان“

اعتراض...... ”دونوں نام مہدی و مسیح جو اپنا کام کر رہے ہیں۔ ایک عالم عملی طور پر ان کی

١١٧

صفحہ ١٥٢

کارروائیوں کے صدق کی نسبت گواہی دے اٹھا ہے۔“

تردید ...... مسلمانوں میں تفرقہ ڈالنا اور ”الذین فرقوا دینھم “ کا مصداق بننا انبیاء علیہم السلام کی توہین، خلاف شریعت اسلامی کرنا خانہ زاد الحاد کو رواج دینا۔ ذوی الارحام یعنی شرعی وارثوں کو محروم الارث کرنے کے لئے جعلی طور پر اپنی جائیداد کو بی بی کے نام رہن کی رجسٹری کرانا۔ یادگاری مینار گھنٹہ گھر کیلئے جماعت حمقاء سے چندہ بٹورنا۔ اپنی تصاویر کھنچوا کر فدائیوں کے ہاتھ بیچنا۔ اہل قبلہ اور پابند صوم وصلوٰۃ، حج، زکوٰۃ، خادمان قرآن مجید واحادیث نبوی علیٰ صاحبہ الصلوٰۃ والسلام کو لعن وطعن کرنا اور غیر مذاہب والوں کی منافقانہ طور پر مدح سرائی کرنا جس کا ذکر کتاب عصائے موسیٰ میں درج ہے۔

خونی پیش گوئیوں سے حکام اور غیر مذاہب والوں کو مسلمانوں پر بدظن کرنا، وغیرہ۔ یہ سب خوبیاں جو آپ کے مذاق اور جبلت کے موافق ہیں بیشک ایک عالم نے عملی طور پر دیکھ لی ہیں۔ ورنہ دوسرے مسلمان تو ایسے کاموں کا نام لینا بھی کفر سمجھتے ہیں۔ پس آپ لوگ جو ان دونوں ناموں مہدی و مسیح کی تضحیک اور توہین کر رہے ہیں اگر خداوند تعالیٰ نے چاہا تو آپ اس کی مکافات کو پہنچیں گے۔

اعتراض ...... ”ہزاروں نام کے مسلمان جو دجال کی خدائی طاقتوں کے قائل تھے اور حضرت مسیح کو خالق، محی، شافی، عالم الغیب اور زندہ جاوید مانتے تھے اور اس مشرکانہ اعتقاد سے قرآن کریم کا ابطال کرنے سے مشرکین نصاریٰ کو قوت دینے اور رسول کریم ﷺ کی توہین میں نصاریٰ کے دست بازو بنے ہوئے تھے۔ اب اس مہدی موعود کے ارشاد و ہدایت سے مہتدین میں داخل ہو گئے ہیں۔“

تردید ...... مرزا اور اس کی جماعت کا اعتقاد اور ایمان ایسا ہوگا تمام مسلمان تو اوّل ہی سے اللہ تعالیٰ کے سوا کسی دوسرے کو خالق، محی، شافی، عالم الغیب زندہ جاوید وحی قیوم نہیں جانتے۔ بلکہ ان صفات الٰہی میں کسی کو شریک کرنا کفر وبے ایمانی سمجھتے ہیں اور ایسا ہی جو شخص رسول کریم سید الاولین والآخرین ﷺ کی توہین کرے۔ اپنے کو یاجوج ماجوج، دجال اور خر دجال کا حقیقت شناس رسول ﷺ سے زیادہ جانے اور غیر مذاہب کے معبودان و اعیان کو خلاف تعلیم اسلام برا بھلا کہہ کر رسول ﷺ کی شان میں بے ادبی وگستاخی کرائے۔ جیسا کہ مرزا اور اس کی جماعت کا عملدرآمد ہے۔ ایسے امور کو بھی مسلمان خلاف تعلیم اسلام کفر وزندقہ والحاد اور پرلے درجہ کی بے ایمانی جانتے ہیں۔ مشتہر جو مرزا کا غالی مداح ہے اپنے پیر طریقت کی تعلیم پر فکر و تدبر کر کے سوچے

١١٨

١٥٣

کہ خود مرزا اور اس کی جماعت کے لوگ قرآن مجید کا ابطا ہیں یا معاذ اللہ دیگر مسلمان؟

اعتراض ...... ”خدا تعالیٰ کے نئے نئے اقتداری ن ظاہر ہوئے خدا تعالیٰ پر ان کو نیا ایمان حاصل ہوا ۔“

تردید ...... جن کے پاس پہلے ایمان نہ تھا ان کو نیا ایما نبوت کے تلے (ختم نبوت کے بعد) آگئے۔ ان کے سارا وبال اور نکال مرزا اور اس کے مشیروں کی گردن پ حاصل ہونا مان بھی لیا جائے تو ان کو بموجب ان کے ”قال رسول اللہ ﷺ ثلث اذا خرجن لا ین قبل او کسبت فی ایمانھا خیرا ٠ طلوع ال الارض“ یعنی جب آفتاب مغرب سے طلوع ہو۔ دا کا ایمان نفع نہ دے گا۔ مرزا اور اس کے مریدوں کے کہتے ہیں کہ فرنگستان یورپ میں اسلام کا چرچا ہو رہا ہ دجال پادری لوگ ہیں اور دابۃ الارض علماء دور، ایس کسوف وخسوف وغیرہ کی نسبت کہتے ہیں کہ یہ ظاہر ہ موافق یہ سب واقعات ہو چکے تو اب ان کو بموجب لہٰذا صریح طور پر یہ لوگ خسر الدنیا والآخرۃ ہو گئے۔ ا تو آپ نے ایک ہی کہی؟ ذرا عصائے موسیٰ میں تفص اقتداری نشانوں سے مباحثہ امرتسر الموسوم بہ جنگ مق کے خیال پر معجزات سیدنا مسیح علیہ السلام ودیگر انبیاء داخل کرتا ہے۔ لیکن مرزا قادیانی کو غالی مشتہر بانس پر ا کی پیش گوئی جو مرزا کا خاص رقیب بن کر اس کی چھا کا نشان جو باوجود بوڑھا ہونے کے میعاد مقررہ مرزا مولوی محمد حسین بٹالوی، ملا محمد بخش، ابوالحسن تیجی وغیر نہیں پڑی۔ ضرور پڑی ہے۔ مگر روٹیوں اور بوٹیوں

١١٩

صفحہ ١٥٣

کہ خود مرزا اور اس کی جماعت کے لوگ قرآن مجید کا ابطال کر کے مشرکین کا دست بازو بن رہے ہیں یا معاذ اللہ دیگر مسلمان؟

اعتراض ...... ”خدائے تعالیٰ کے نئے نئے اقتداری نشانوں کو دیکھ کر جو حضرت موعود کے ہاتھ پر ظاہر ہوئے خدا تعالیٰ پر ان کو نیا ایمان حاصل ہوا۔“

تردید ...... جن کے پاس پہلے ایمان نہ تھا ان کو نیا ایمان حاصل ہوا ہوگا اور جو لوگ اس ادعائی نبوت کے تلے (ختم نبوت کے بعد) آگئے۔ ان کے رہے سہے ایمان بھی غارت گئے۔ جن کا سارا وبال اور نکال مرزا اور اس کے مشیروں کی گردن پر ہے۔ اگر بطور تنزل مرزائیوں کو نیا ایمان حاصل ہونا مان بھی لیا جائے تو ان کو بموجب ان کے اپنے اعتقادات کے کچھ فائدہ نہیں۔ کیونکہ ”قال رسول اللہ ﷺ ثلث اذا خرجن لا ينفع نفساً ايمانها ٠ لم تكن آمنت من قبل او كسبت فى ايمانها خيرا ٠ طلوع الشمس من مغربها ٠ والدجال ودابة الارض“ یعنی جب آفتاب مغرب سے طلوع ہو۔ دجال اور دابۃ الارض نکل آویں اس وقت کسی کا ایمان نفع نہ دے گا۔ مرزا اور اس کے مریدوں کے نزدیک یہ تینوں علامتیں ظاہر ہوچکی ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ فرنگستان یورپ میں اسلام کا چرچا ہورہا ہے اور یہی آفتاب کا مغرب سے نکلنا ہے۔ دجال پادری لوگ ہیں اور دابۃ الارض علماء سوء، ایسا ہی دیگر علامات قیامت یاجوج اور ماجوج کسوف وخسوف وغیرہ کی نسبت کہتے ہیں کہ یہ ظاہر ہوچکے۔ پس جب کہ ان کے اعتقادات کے موافق یہ سب واقعات ہو چکے تو اب ان کو بموجب حدیث شریف ایمان کا ذرہ بھر بھی نفع نہیں۔ لہٰذا صریح طور پر یہ لوگ خسر الدنیا والآخرۃ ہوگئے۔ اس پر غور وفکر کریں اور نشانوں کے دکھانے کی تو آپ نے ایک ہی کہی؟ ذرا عصائے موسیٰ میں تفصیل دیکھئے۔ تعجب پر تعجب ہے کہ خود مرزا تو اقتداری نشانوں سے مباحثہ امرتسر الموسوم بہ جنگ مقدس میں انکار کرتا ہے۔ بلکہ اپنی بے بضاعتی کے خیال پر معجزات سیدنا مسیح علیہ السلام ودیگر انبیاء علیہم السلام کو بھی مسمریزم اور عقلی چالاکی میں داخل کرتا ہے۔ لیکن مرزا کودن کو غالی مشتہر بانس پر چڑھاتا ہے۔ مرزا احمد بیگ کے داماد کی موت کی پیش گوئی جو مرزا کا خاص رقیب بن کر اس کی چھاتی پر مونگ دل رہا ہے۔ عبداللہ آتھم کی موت کا نشان جو باوجود بوڑھا ہونے کے میعاد مقررہ مرزا سے ڈیڑھ برس بعد اپنی موت سے مرا۔ علی ہذا مولوی محمد حسین بٹالوی، ملا محمد بخش، ابوالحسن تبتی وغیرہ والی پیشین گوئیوں پر غالی مشتہر کی نگاہ کیوں نہیں پڑی۔ ضرور پڑی ہے۔ مگر روٹیوں اور بوٹیوں کی چربی آنکھوں پر چھاگئی ہے۔ (باقی آئندہ)

١١٩

صفحہ ١٥٥

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

تعارف مضامین ...... ضمیمہ شحنہ ہند میرٹھ

یکم مئی ١٩٠٢ء کے شمارہ نمبر ١٧ کے مضامین

اسی ترتیب سے پیش خدمت ہیں:

١....... ٹاپا خالی کرو

بایزید بسطامیؒ کے حالات میں لکھا ہے جو خود حضرت مرحوم کی زبانی ہے کہ میری روح ایک مرتبہ دوزخ میں چلی گئی تو اس کو بالکل سرد پایا۔ میں نے تعجب سے پوچھا کہ اے دوزخ تیری آگ کا یہ شہرہ ہے کہ اگر دنیا میں اس کی ایک بھی چنگاری آ جائے تو تمام طبقات الارض اور افلاک جل کر بھسم ہو جائیں اور یہاں یہ کیفیت۔ یا تو وہ شورشیں یا یہ بے نمکی۔ یہ کیا معاملہ ہے۔ دوزخ نے جواب دیا کہ اے نادان مجھ میں آگ کہاں۔ جو آئے گا اپنی آگ ساتھ لائے گا۔ یہی کیفیت مرزا قادیانی کی ہو رہی ہے کہ جو شخص آپ کا چیلا ہو کر کان چھدواتا اور کوڑیا غلام بنتا ہے۔ اس سے کہا جاتا ہے کہ لنگر خانہ کے لئے آزوقہ پیدا کرو۔ ورنہ ٹاپا خالی کرو۔ حال میں مرزا قادیانی نے ایسا ہی اشتہار دیا ہے کہ جو چیلے چاپڑ لنگر خانہ کی جھولی میں کوڑی پیسہ نہ ڈالیں گے مریدی سے عاق اور مرزائیوں کے دفتر سے ان کا نام خارج ہوگا۔ بات بھی ٹھیک ہے۔ آخر آوے کس باوا کے گھر سے۔ چند اپاہج جو اصطبل میں کھڑے دانہ چگ رہے ہیں۔ جن کی کمروں میں بوجھ کھینچتے کھینچتے غار پڑ گئے ہیں۔ سم گر گئے ہیں۔ دم جھڑ گئی ہے۔ آخر وہ کس کے ماتھے جائیں۔ پھر چند ساٹھے پاٹھے جو یاقوتیاں اور قوت باہ کی معجونیں جن میں مشک اور عنبر اور ریگ ماہی اور سقنقور کا بھیجا ڈالا جاتا ہے اور روغن بادام اور زعفران میں دم کئے ہوئے پلاؤ اور بریانی کھا کھا کر بھنبھنا رہے ہیں۔ ان کا جوش کیونکر نکلے۔ پھر خاص مرزا قادیانی جو آسمانی جورو کے ملنے کی تیاریاں کر رہے ہیں اور بقول ؎ پیر یکہ دم ز عشق زند بس غنیمت ہست، قوت باہ کے نسخے اور تر بتر مرغن اور چٹپٹے حلوے اور موہن بھوگ ڈکار کر کیل کانٹے سے چست اور نوک پلک سے درست بنے بیٹھے ہیں۔ یہ سب مذکورہ بالا

١٢٠

مسالے ہی کی بدولت تو ہے۔ وہ طرح طرح کے چند ہیں اور ان کے گاڑھے خون سے اپنا خون پتلا کر کے رہے ہیں۔ اگر چندہ نہ آئے تو سب کے سب سوکھ سا لگانی بھول جائیں۔ حیوانی حرارتیں کافور ہو جائیں۔ ب ہو کر مجھے مسیح موعود اور مہدی مسعود اور فرمائشی نبی اور رسو لنگر خانے کا نام سن کر الٹے پیٹ پلٹانے۔ میں نے تو یہ چیل چاپڑ قارون کے سگے بن کر خالی خولی دم ہلاتے ا دیتے۔ وہ در حقیقت بڑے ظالم ہیں۔ ان سے زیادہ کو

سنو سنو جب کہ میں ہر طرح بانس پر چڑھ تھے) اور مجھے تمہیں نے بانس پر چڑھایا ہے۔ ورنہ مجھ جب کہ تم نے اپنے گلے میں منادی کی ڈھولکی ڈال کر دی ہے اور جب کہ تم میری خاطر دنیا سے لڑ رہے ہو ا خود مذہب اسلام کو خیر باد کہہ چکے ہو تو اب لنگر خانے میں کیوں بیٹھے جاتے ہو۔ مرزا قادیانی ایسے اور مرزا قادیانی ظلی اور بروزی رسول۔ مگر گرہ سے ٹکا خر باچھیں سکڑ کر اندر دھنس جاتی اور غائب ہو جاتی ہیں خطابوں کو کیا بھاڑ میں جھونکوں۔ میں اس دم چھلے سے چندہ دو اور اگر مجھے اپنی توہین کا چنداں خیال نہ ہوتا تو ا

مرا نان بده

سنو سنو! روپیہ نیچر کی بڑی کرامات ہے۔ یاد رکھو اگر تم فی الفور سے بھی پہلے لنگر خانہ کی تھیلیاں ا درمیان کے بیچوں بیچ میں سر کر کے سب کو پارہ پتھر ب کہ میرے بھائی لال گرو نے بھی نہ ماری ہوگی۔ ایڈیٹ

......٢ مسیح علیہ ال

الحکم مطبوعہ ٢٤ اپریل ١٩٠٢ء میں مرزا قاد غضبناک ہیں کہ انہوں نے آنحضرت ﷺ کی

١٢١

صفحہ ١٥٥

مسالے ہی کی بدولت تو ہے۔ وہ طرح طرح کے چندوں سے اپنے چیلوں کی چندیا گنجی کر رہے ہیں اور ان کے گاڑھے خون سے اپنا خون پتلا کر کے اس میں حیوانی اور شہوانی جوش و خروش بڑھا رہے ہیں۔ اگر چندہ نہ آئے تو سب کے سب سوکھ ساکھ کر مچھر بن جائیں اور لنگور کی سی زقندیں لگانی بھول جائیں۔ حیوانی حرارتیں کافور ہو جائیں۔ اچھی کہی۔ ہونہہ ۔ تمہیں سب نے تو متفق ہو کر مجھے مسیح موعود اور مہدی مسعود اور فرمائشی نبی اور رسول بنایا اور اب تمہیں چپاتی شکم بن گئے اور لنگر خانے کا نام سن کر لگے پیٹ پھلانے ۔ میں نے تو یہ شکرہ تمہارے ہی بھروسے پالا ہے۔ اب جو چیل چاپڑ قارون کے سگے بن کر خالی خولی دم ہلاتے ہیں اور دینے کے نام گھر کے کواڑ بھی نہیں دیتے۔ وہ درحقیقت بڑے ظالم ہیں۔ ان سے زیادہ کون ظالم ہو گا کہ وقت پر دغا دیتے ہیں۔

سنو سنو جب کہ میں ہر طرح بانس پر چڑھ گیا ہوں۔ (کیونکہ اصل مسیح سولی پر چڑھے تھے ) اور مجھے تمہیں نے بانس پر چڑھایا ہے۔ ورنہ میں تو خس سے زیادہ خسیس بلکہ اخس تھا اور جب کہ تم نے اپنے گلے میں منادی کی ڈھولکی ڈال کر میری مہدویت اور عیسویت کی ڈونڈی پیٹ دی ہے اور جب کہ تم میری خاطر دنیا سے لڑ رہے ہو اور جب کہ تم میرے کارن خدا اور رسول اور خود مذہب اسلام کو خیر باد کہہ چکے ہو تو اب لنگر خانے کے نام سے خر لنگ کی طرح پڑاوے کی تاپئی میں کیوں بیٹھے جاتے ہو۔ مرزا قادیانی ایسے اور مرزا قادیانی ویسے۔ مرزا جی الہامی نبی ۔ مرزا قادیانی ظلی اور بروزی رسول ۔ مگر گرہ سے ٹکا خرچ کرتے۔ تمہارے ہڈوں اور پسلیوں کی بوٹیاں سکڑ کر اندر دھنس جاتی اور غائب ہو جاتی ہیں۔ میں تمہارے عطا کئے ہوئے خالی خولی خطابوں کو کیا بھاڑ میں جھونکوں ۔ میں اس دم چھلے سے درگزرا۔ لنڈورا ہی بھلا۔ عطاء تو بلقاء تو ، مگر تم چندہ دو اور اگر مجھے اپنی توہین کا چنداں خیال نہ ہوتا تو یوں کہتا؎

مرا نان بدہ کفش بر سر زن

سنو سنو! روپیہ ٹھیکر کی بڑی کرامات ہے ۔ یہ نہ ہو تو مہدویت و مسیحیت سب ٹھیں ٹھیں ۔ یاد رکھو اگر تم فی الفور سے بھی پہلے لنگر خانہ کی تھیلیاں کھنا کھن اور چھنا چھن نہ بھرو گے تو کانوں کے درمیان کے بیچوں بیچ میں سر پکڑ کے سب کو بارہ پتھر باہر نکال دوں گا اور منہ پر ایسی جھاڑو ماروں گا کہ میرے بھائی لال گرو نے بھی نہ ماری ہوگی۔ ایڈیٹر !

٢...... مسیح علیہ السلام کو دشنام

الحکم مطبوعہ ٢٤ اپریل ١٩٠٢ء میں مرزا قادیانی عیسائیوں خصوصا لاہور کے لارڈ بشپ پر غضبناک ہیں کہ انہوں نے آنحضرت ﷺ کی توہین کی ان کو غیر معصوم وغیرہ بتایا۔ بیشک

١٢١

صفحہ ١٥٧

عیسائیوں کی یہ حرکت خلاف انسانیت اور خلاف تعلیم عیسیٰ مسیح علیہ السلام ہے۔ لیکن کیا یہ اسلام اور اہلِ اسلام کی شان ہے کہ ہم اس کے پاداش میں عیسیٰ مسیح کو برا کہیں۔ کوئی آگ کھائے انگارے اگلے۔ ہم کو کیا۔ ہمارا کام ہے کہ تمام انبیاء کی یکساں تعظیم کریں اور مخالفوں کے اتہاموں اور بہتانوں کو خدا پر چھوڑیں۔ یہ نہیں کہ مرزا قادیانی کی طرح عیسیٰ مسیح کو گالیاں دیں اور قرآن وحدیث کی مخالفت کر کے اپنی گور انگاروں سے بھریں۔ مرزا قادیانی تو تمام انبیاء کے رقیب ہیں۔ ان کو اسلام اور پیغمبر اسلام سے مطلق ہمدردی نہیں۔ نہ ان کو آنحضرت ﷺ سے محبت۔ ان کا مقصد تو عیسیٰ مسیح کی توہین کرنا اور مخلوق کے دلوں سے ان کی عظمت گھٹانا ہے۔ کیونکہ مرزا قادیانی خود مثیل مسیح اور چودھویں صدی کے نبی اور رسول بنے ہیں اور اس لئے نہ صرف مسیح بلکہ تمام انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام کی عظمت ان کے دل میں کھٹکتی ہے۔ عیسیٰ مسیح کی معصومیت اور نبوت کی قرآن تصدیق کرے۔ حدیث تصدیق کرے اور ایک ملحد ان کو گالیاں دے کر قرآن و حدیث دونوں کو جھٹلائے۔

کیا آنحضرت ﷺ نے کبھی نہ صرف عیسیٰ مسیح بلکہ کسی نبی کی شان میں کوئی لفظ خلافِ داب ادب منہ سے نکالا ہے یا اپنے کو کسی کا رقیب بنایا ہے؟ وہاں تو محض خلوص اور صداقت اور للہیت سے کام تھا جو ایک سچے نبی کی نبوت کی شان ہے۔

لارڈ بشپ نے جو ناہنجار حرکت کی۔ مرزا قادیانی بتائیں کہ آخر مسلمان اس کے مقابلے میں کیا کرتے۔ مرزا قادیانی کا غالباً یہ منشاء ہے کہ ان سے لڑتے کُشت خون کرتے۔ کیا مرزا قادیانی کے قبضے میں ہزار پانچ سو آدمی نہیں ہیں۔ انہوں نے اپنا عندیہ کیوں پورا نہ کیا اور اپنی فوج کو ان کے مقابلے پر کیوں نہ بھیجا۔ فدائیوں میں اپنی دھاک بٹھانے کو پھوہڑ عورت کی طرح یوں جھوٹھل نکالی کہ عیسیٰ مسیح کا مردوں کو زندہ کرنا غلط ہے۔ یہ تو مرزا قادیانی نے آپ اپنی ناک کاٹی اور اپنے کو دائرہ اسلام سے خارج کیا۔

دہریے بھی یہی تاویل کرتے ہیں کہ احیاء سے دلوں کو زندہ کرنا یعنی قوم کی اصلاح مراد ہے اور معجزہ خارقِ فطرت ہے۔ جس کا ظہور محال ہے۔ ہم کہتے ہیں اصلاح تو علماء بھی کر سکتے ہیں اور کر رہے ہیں۔ لیکن علماء اور انبیاء میں کیا فرق رہا۔ عیسیٰ مسیح کا تو قرآن مجید میں یہ قول ہے: ”واحيي الموتىٰ باذن اللہ“ یعنی میں خدا کے حکم سے مردے کو زندہ کرتا ہوں نہ کہ اپنی طاقت اور حکم سے۔ اس سے معلوم ہوا کہ مرزا قادیانی کے نزدیک خدائے تعالیٰ بھی مردوں کو زندہ نہیں کر سکتا۔ یہ الحاد و ارتداد اور دہریت نہیں تو کیا ہے؟ مرزا قادیانی جو تاویلیں کر رہے ہیں وہ عام

١٢٢

جہلاء کے ناخنوں میں پڑی ہیں۔ آریہ اور دہریے تو مرزا قاد ہیں۔ ایڈیٹر!

اعتراض....... ”مسیح کی موت، قبر، اور مرہم عیسیٰ، کے زہرہ خ لگائے ہیں۔ ابھی تین ہفتوں کا ذکر ہے کہ لاہور مشن کالج ک حضرت نے بڑی قوت وتحدی سے فرمایا کہ میں خدا تعالیٰ کی طاقتیں لے کر آیا ہوں جو پہلے بزرگ نبیوں کو ملی ہیں اور مسیح قرآن وانجیل ثابت کی۔ آخر میں آپ کی قبر کی نسبت گفتگو کی

تردید....... زبانی جمع خرچ پورا کرنا اور تنکے کو پہاڑ بنا کر دکھا پہلے بزرگ نبیوں کے اقتداری نشانات اور لازوال طاقتیں ا کیا عمدہ موقع تھا کہ ان عیسائی مشنریوں کے سامنے ان نبیو السلام کے انعامات اور اقتداری طاقتوں کو استعمال میں لاتے ہفتم رکوع پنجم میں اس طرح ہے کہ ”اللہ تعالیٰ نے ان کو روح کی حالت میں لوگوں سے باتیں کرتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے ان سکھائی تھی۔ وہ اذنِ الٰہی کی مدد کے ساتھ كهيئۃ الطير ج مادر زاد اندھوں اور برص والوں کو باذنِ ربی تندرست اور مرد بنی اسرائیل کو ان کی ایذا دہی سے روک رکھا تھا“ ایک مرزا مقابلہ کر کے یہ کہا ہے کہ ان کو یہود نے پکڑ کر صلیب پر چڑھا كبرت كلمة تخرج من افواههم ان يقولون الا كذبا “ م آئے تو نہ ماننے والے کافروں نے کہا کہ یہ تو ایک کھلا جا کے معجزات باہرات کو مسمریزم اور شعبدہ وغیرہ بتا کر اپنی ع آنحضرت ﷺ والی طاقت و برکت کا ہی کچھ اثر دکھاتے۔ بیماروں کا دست مبارک سے درست ہو جانے کا ذِکر خود آدمیوں کی ٹانگ اور پنڈلی وغیرہ ٹوٹی ہوئی کو صرف دست کامل ہو جانے کا حال مفصل معجزات و کرامات ”عصاء م بالفرض مرزا قادیانی کے پاس اس وقت کوئی مادر زاد اندھا

١٢٣

صفحہ ١٥٧

جہلاء کے ناخنوں میں پڑی ہیں۔ آریا اور دہریے تو مرزا قادیانی سے کہیں بڑھ کر تاویل کرتے ہیں ۔ ایڈیٹر!

٣....... بقیہ عصائے موسیٰ کے جواب سے مرزائیوں کا عجز

اعتراض ..... "مسیح کی موت قبر، اور مرہم عیسیٰ، کے زہرہ گداز حربہ نے نصرانیت کو زخم کاری لگائے ہیں۔ ابھی تین ہفتوں کا ذکر ہے کہ لاہور مشن کالج کے تین پادری قادیان میں آئے۔ حضرت نے بڑی قوت و تحدی سے فرمایا کہ میں خدا تعالیٰ کی طرف سے وہ سب انعامات اور طاقتیں لے کر آیا ہوں جو پہلے بزرگ نبیوں کو ملی ہیں اور مسیح کی موت بڑی شدومد سے بروئے قرآن وانجیل ثابت کی۔ آخر میں آپ کی قبر کی نسبت گفتگو کی جو کشمیر میں واقع ہے۔"

تردید...... زبانی جمع خرچ پورا کرنا اور تنکے کو پہاڑ بنا کر دکھانا تو مرزا قادیانی کا نیچر ہے۔ اگر وہ پہلے بزرگ نبیوں کے اقتداری نشانات اور لازوال طاقتیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے لائے ہیں تو یہ کیا عمدہ موقع تھا کہ ان عیسائی مشنریوں کے سامنے ان نبیوں یا کم از کم صرف ایک نبی مسیح علیہ السلام کے انعامات اور اقتداری طاقتوں کو استعمال میں لاتے جن کا ذکر قرآن مجید سورہ مائدہ پارہ ہفتم رکوع پنجم میں اس طرح ہے کہ 'اللہ تعالیٰ نے ان کو روح القدس سے مدد دی تھی ۔ وہ مہد و کہل کی حالت میں لوگوں سے باتیں کرتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو خود کتاب وحکمت وتوریت وانجیل سکھائی تھی۔ وہ اذن الہی کی مدد کے ساتھ كهيئة الطير جانور بنا کر اس میں روح پھونکتے تھے۔ مادر زاد اندھوں اور برص والوں کو باذن ربی تندرست اور مردوں کو زندہ کرتے تھے اور اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو ان کی ایذا دہی سے روک رکھا تھا۔' ایک مرزا قادیانی ہیں جنہوں نے اس کا انکار اور مقابلہ کر کے یہ کہا ہے کہ ان کو یہود نے پکڑ کر صلیب پر چڑھایا اور زخم لگائے۔ معاذ اللہ ! " كبرت كلمة تخرج من افواههم ان يقولون الا كذبا “ پھر جب کہ مسیح علیہ السلام ان کے پاس آئے تو نہ ماننے والے کافروں نے کہا کہ یہ تو ایک کھلا جادو ہے۔ اسی طرح مرزا مسیح علیہ السلام کے معجزات باہرہ کو مسمریزم اور شعبدہ وغیرہ بتا کر اپنی عاقبت خوار کر رہا ہے۔ اب مرزا قادیانی آنحضرت ﷺ والی طاقت و برکت کا ہی کچھ اثر دکھاتے۔ جیسا ایک صحابیؓ کے آنکھوں کے ڈھیلے باہر نکلے ہوئے کا دست مبارک سے درست ہو جانے کا ذکر خود مرزا قادیانی نے کیا ہے اور ایسا ہی تین آدمیوں کی ٹانگ اور پنڈلی وغیرہ ٹوٹی ہوئی کو صرف دست مبارک لگانے اور پھونکنے سے صحت کامل ہو جانے کا حال مفصل معجزات وکرامات ”عصاء موسیٰ“ میں وضاحت سے ہوا ہے۔ اگر بالفرض مرزا قادیانی کے پاس اس وقت کوئی مادر زاد اندھا، برص والا، ٹوٹی ہوئی پنڈلی یا ٹانگ والا

١٢٣٣

صفحہ ١٥٩

موجود نہ تھا تو کیا عاجز عبدالکریم بھی موجود نہ تھا۔ جس کی ایک آنکھ، سر کا گنجہ پن، پھوڑے پھنسیاں اور ایک ٹانگ علاج طلب ہے۔ اگر مرزا قادیانی یہ کہہ کر اپنا پنڈ چھڑانا چاہیں کہ ؎

زیک چشمی جمالت را زیان نیست
کہ زیباتر بود تصویر یک چشم

تو مخالفین کا اس سے اطمینان نہیں ہوسکتا۔ ادھر عاجز عبدالکریم صحیح و سالم، عینک لگانے اور لاٹھی اٹھانے کی زحمت سے بری ہو جاتا ہے۔ ادھر مرزا قادیانی کے عقائد کے سبب گو مسلمان ان کو کچھ ہی کہتے۔ ادھر مشنری عیسائیوں پر بھی کچھ اثر پڑ کر عجب نہ تھا کہ ان کی ہدایت کا باعث ہوتا اور ادھر مرزا قادیانی کے مرید یوسف خان اور مرزا قادیانی کی بی بی کا قریبی رشتہ دار بھائی سعید جو امرتسر والے مباحثہ کے بعد عیسائی ہو گئے تھے۔ ان کے عوض ایک دو عیسائی مسلمان ہو کر کچھ تو مکافات ہو جاتی اور کچھ نہیں تو مرزا قادیانی کو مستجاب الدعوات ہو کر نتیجہ کا کچھ نام و نشان ظاہر نہیں ہوا۔ اس موقعہ پر شیخی بھگارنے کا موقع دیتا۔ گو مسلمان جب بھی کہتے کہ وہ مجیب الدعوات خالق و مالک رؤف رحیم، بلا لحاظ ملت و مذہب کے ہر مضطر اور درماندہ عاجز مخلوق کی دعا بموجب ارشاد باری تعالیٰ ”ام من یجیب المضطر اذا دعاہ“ اور ”ادعونی استجب لکم“ سنتا اور قبول کرتا ہے۔ لیکن افسوس کہ بجز زبانی تقریروں اور شیخی اور چنیں چناں کے نہ آج تک مرزا سے کچھ ہوا نہ آئندہ کچھ ہونے کی امید۔ انشاء اللہ ! مرزا قادیانی برخلاف عقائد سلف و خلف کے مسیح علیہ السلام کی قبر کشمیر میں مقرر کرنے پر محض خود غرضی سے جان کنی اور محنت تو بہت کرتے ہیں۔ لیکن مسلمان جب دلائل قرآنی اور واقعات پیش کرتے ہیں تو مرزا قادیانی سے بجز معمولی بد زبانی سب و شتم، موت کی دھمکیوں وغیرہ کے کچھ بن نہیں پڑتا۔ رہا قبر کا حال۔ اوّل تو آپ نے اس کو بیت المقدس میں مقرر کیا ہے۔ پھر (ازالہ اوہام ص ٤٧٣، خزائن ج ٣ ص ٣٥٣) میں کہا: ”یہ تو سچ ہے کہ مسیح اپنے وطن گلیل میں جا کر فوت ہوا۔ اب حکیم نورالدین کی حمایت سے مسیح علیہ السلام کی قبر کشمیر محلہ یار خان میں مقرر کرتے ہیں اور ابھی قبر مذکور والا سلسلہ خیال جو کسور عشاریہ کی کسر متوالی یا شیطان کی آنت سے کم نہیں۔ دیکھئے کہاں تک پہنچے۔ کیونکہ ابھی تک یہ خود غرضانہ اور مجنونانہ تحقیقات درپیش ہے۔

محرری کی آسامی سے چل کر درجہ بدرجہ رسالت تک ہاتھ پاؤں مارے۔ اب دعوٰی خدائی باقی ہے۔ تھوڑا عرصہ ہوا اسی (قبر کی) تحقیقات و سراغ لگانے کے بہانے چندہ ہو کر دو تین سادہ لوح مرید برائے نام تیار ہو کر گریہ وزاری اور آہ و بکا سے ایک دوسرے کے گلے مل کر قادیان سے بظاہر رخصت ہوئے تھے۔ مگر اشک شوئی اور چندہ مذکور ہضم ہونے پر یہ بات گاؤ خورد ہوگئی۔“ ١٤٢

مرہم عیسیٰ بھی جس پر اس قدر ناز کیا جاتا ہے، انسان تھے اور بموجب آیت کریمہ ”کانا یاکلان ال سے علیحدہ نہ تھے۔ لہٰذا اگر کسی پھوڑے پھنسی کے لئے اِس استعمال کر کے شفایاب ہو جانا ثابت بھی ہو جاوے۔ تو ہے نہ کہ موت۔ دیکھو مرزا قادیانی خود جو سو سو روپیہ تولہ کیا ہوا اپنی بیماری اور ضعف اعصاب اور باہ کے نسخوں سے اس کی حیات ثابت ہوتی ہے یا ممات۔ یہ نرالی م بیماری کے دور کرنے والی اشیاء سے استعمال کنندہ کی م

اوّل تو اسی مرہم کا استعمال مسیح علیہ السلام کے لئے ثابت جس طرح کلونجی، حنا، عسل وغیرہ بیشمار ادویہ کی تعریف طرح آپ اس مرہم کا ذکر بھی ضرور فرماتے۔ خصوصاً ا استعمال کر کے شفایاب بھی ہو چکے ہوں۔ لیکن چونکہ ای نہیں ملتا۔ لہٰذا ایسا معلوم ہوتا ہے کہ عیار طبیب نے اس ایسا نام رکھ دیا۔ جیسے آج کل کے اشتہار طبیب اپنی تعریفوں کے پل اشتہاروں میں باندھ دیتے ہیں اور ج تریاق الہٰی رکھا ہے۔ بالآخر مرزا قادیانی اور اس کی ج کس مقام پر اس زہرہ گداز مرہم کے حربہ کے اثر سے لو عیسائی مسلمان ہوئے ہیں۔

اعتراض ...... ”(اشتہار ص ٣) غرض یہ خدا کا موع کہ یہ ....... کا موعود تو ٹھیک وقت پر آیا اور کام مفوضہ سوال یہ ہے کہ میاں الہٰی بخش صاحب جنہوں نے ای تعالیٰ انبیاء قرآن وحدیث کی کس کس نص و خبر واثر کے تردید ...... زبانی موعود بننے والے تو پہلے بھی بہت سے کتاب عصائے موسٰی اور رسالہ قطع الوتین میں ہما سے کام کرنے کا کہ کیسی جان کنی مشقت و بے خوفی اپنی دکان چند روزہ گزران کو بنایا اور چلایا ہے۔ اسلا ١٢٥

صفحہ ١٥٩

مرہم عیسیٰ بھی جس پر اس قدر ناز کیا جاتا ہے۔ ایک ڈھکوسلا ہے۔ مسیح علیہ السلام چونکہ انسان تھے اور بموجب آیت کریمہ ”کانا یاکلان الطعام“ کھاتے پیتے تھے اور لوازم بشری سے علیحدہ نہ تھے۔ لہٰذا اگر کسی پھوڑے پھنسی کے لئے اس مرہم کا انہیں کے لئے تیار ہونا اور اس کا استعمال کر کے شفایاب ہو جانا ثابت بھی ہو جاوے۔ تو اس سے ان کی صحت و سلامتی ثابت ہوتی ہے نہ کہ موت۔ دیکھو مرزا قادیانی خود جو سوسوروپے تولہ والا عنبر و مشک خالص کا ست ولایت کا تیار کیا ہوا اپنی بیماری اور ضعف اعصاب اور باہ کے نسخوں میں استعمال کر کے فائدہ اٹھاتا ہے تو اس سے اس کی حیات ثابت ہوتی ہے یا ممات۔ یہ نرالی منطق اور اچھنبے کی فلاسفی ہے کہ کسی درد اور بیماری کے دور کرنے والی اشیاء سے استعمال کنندہ کی موت پر دلیل قائم کی جاوے۔ واہ کیا کہنا۔ اوّل تو اسی مرہم کا استعمال مسیح علیہ السلام کے لئے ثابت نہیں۔ کیونکہ اگر ایسا ہوتا تو رسول ﷺ نے جس طرح کلونجی، حنا، عسل وغیرہ بیشمار ادویہ کی تعریف اور ان کے استعمال کی ترغیب فرمائی۔ اس طرح آپ اس مرہم کا ذکر بھی ضرور فرماتے۔ خصوصاً ایسی حالت میں کہ ایک اولوالعزم نبی اس کو استعمال کر کے شفایاب بھی ہوچکے ہوں۔ لیکن چونکہ اس کا نام و نشان بھی کتب سیر و طب نبوی میں نہیں ملتا۔ لہٰذا ایسا معلوم ہوتا ہے کہ عیار طبیب نے اس کا کچھ تجربہ کر کے تعریف وشہرت کے لئے ایسا نام رکھ دیا۔ جیسے آج کل کے اشتہاری طبیب اپنی ادویات کے لمبے چوڑے نام رکھ کر ان کی تعریفوں کے پل اشتہاروں میں باندھ دیتے ہیں اور خود مرزا قادیانی نے بھی اس عنبر والی دوا کا نام تریاق الٰہی رکھا ہے۔ بالآخر مرزا قادیانی اور اس کی جماعت پتہ ونشان بتاویں کہ کس ولایت کے کس مقام پر اس زہرہ گداز مرہم کے حربہ کے اثر سے نصرانیت کو کیا کیا نقصان پہنچے ہیں اور کس قدر عیسائی مسلمان ہوئے ہیں۔

اعتراض...... ” (اشتہار ص٣) غرض یہ خدا کا موعود صحف انبیاء کا موعود قرآن کا موعود رسول کریم ﷺ کا موعود تو ٹھیک وقت پر آیا اور کام مفوضہ تابڑ توڑ بڑی خوبی سے کر رہا ہے۔ مگر اب سوال یہ ہے کہ میاں الٰہی بخش صاحب جنہوں نے اپنا نام موسیٰ رکھا ہے کیا کام کر رہے ہیں اور خدا تعالیٰ انبیاء قرآن وحدیث کی کس کس نص وخبر واثر کے موعود ہیں؟“

تردید...... زبانی موعود بننے والے تو پہلے بھی بہت گزرے ہیں جن کا ذکر معتبر اسلامی تواریخوں سے کتاب عصائے موسیٰ اور رسالہ قطع الوتین میں ہوچکا ہے اور مرزا قادیانی کے تابڑ توڑ بڑی خوبی سے کام کرنے کا کہ کیسی جان کنی مشقت و بے خوفی سے اشتہاریوں کی طرح اشتہار دے دے کر اپنی دکان چند روزہ گزران کو بنایا اور چلایا ہے۔ اسکا بھی صحیح حال عصائے موسیٰ میں ملاحظہ کیجئے۔

١٢٥

صفحہ ١٦١

رہا میاں الہی بخش کی نسبت سو ان کو کسی قسم کا دعویٰ نہیں۔ الہامی خطاب موسیٰ کے بارے میں خوب تشریح سے انہوں نے کتاب میں لکھا ہے کہ ایسے خطابوں اور ناموں کے الہام میں آ جانے سے ہر گز کوئی امتی ملہم نبی اور پیغمبر نہیں بن جاتا اور مرزا قادیانی کا چونکہ سلوک میں کوئی پیر و مرشد نہ تھا۔ لہٰذا اس نے ٹھوکر کھائی۔ اگر سہواً اور نادانستہ کیا اور اگر عمداً ایسا دعویٰ کیا تو اس کا بھی وہی حال ہے جو دوسرے جھوٹے مدعیان نبوت کا ہوا۔ منشی الہی بخش نے تو موسیٰ علیہ السلام و دیگر انبیاء علیہم السلام کی کسی وصف کی برابری کرنے سے بھی توبہ واستغفار کر کے اپنی کتاب میں خوب اپنی بریت کی ہے اور اگر ایسا نہ کرتے اور وہ بھی مرزا قادیانی کی طرح مسند نبوت پر تکیہ لگانا چاہتا یا نبوت کا حیلہ و بہانہ کا ایچ پیچ لگا کر کچھ بھی دعویدار بننے کی ٹھانتا تو اہل اسلام اور علماء اسلام اس کی بھی ویسی ہی خبر لیتے جیسی مرزا قادیانی کی لی ہے اور اب تو علماء اسلام نے کتاب دیکھ کر لکھ دیا ہے کہ: ”جو تشریحات دربارۂ الہامات منشی الہی بخش نے اپنی کتاب میں لکھ دی ہیں ان سے مصنف کا کوئی دعویٰ نہیں پایا جاتا اور اس لئے اس پر کسی قسم کا شرعی مواخذہ نہیں ۔“

خدا سے مدد پا کر منشی الہی بخش نے جو کام کیا ہے وہ ظاہر ہے کہ مرزا قادیانی کے ملحدانہ خلاف شرع مسائل کو بدلائل قرآن مجید وحدیث شریف ایسا نیست و نابود کیا ہے کہ اب تک اس کے جواب میں مرزائیوں سے کچھ نہیں بن آیا اور نہ بن آئے گا۔ انشاء اللہ تعالیٰ ! چونکہ اللہ تعالیٰ غنی و جواد نے اپنے فضل و کرم سے منشی الہی بخش کو معاش میں غنی و آسودہ حال رکھا ہے اور وہ مرزا قادیانی کی طرح کبھی تنگدست اور تنگ گزران نہیں ہوئے اور نہ وہ مشتہر کی طرح فلاکت زدہ اور محتاج ہوئے تو پھر وہ جھوٹ موٹ مرزا قادیانی کی طرح تقویٰ اللہ و خشیت اللہ کو خیر باد کہہ کر خواہ مخواہ دھینگا مشتی اور بغیر کسی لیاقت و بضاعت کے بدبختی سے امت سے نکل کر اللہ تعالیٰ انبیاء قرآن وحدیث شریف کی کسی نص و خبر واثر کے موعود کیوں بنتے ۔ یہ تو پیٹ پالنے کے دھندے ہیں جو بیچارے محتاج حاجت مند یا بندگان نفس دین و دنیا کے مواخذہ سے بے خوف ہو کر کرتے ہیں۔ بالآخر یہ تو ظاہر ہے کہ منشی الہی بخش کسی نص و خبر کے موعود نہیں ۔ لیکن ”لکل فرعون موسیٰ“ کے مصداق بیشک ہیں۔

اعتراض ..... ”میاں الہی بخش کس ضرورت کے وقت آپ تشریف لائے ہیں اور اس ضرورت کے پورا ہونے کا کون سا سامان اور مواد ساتھ لائے ہیں ۔“

تردید ..... ظاہر ہے کہ فتنہ قادیانی کے شر سے جو فی الحقیقت خناس کا اثر ہے لوگوں کو متنبہ و مطلع کرنے کو تشریف لائے ہیں اور اس ضرورت کو ایسا پورا کیا کہ با وجود عادت خاموشی و خلوت نشینی کے محض الہی بخش اور اس کے فضل و توفیق سے ایسی کتاب پر از سامان دلائل قرآن مجید وحدیث

١٢٦

شریف شائع کی کہ بہت سے مرزائیوں کے لئے خفت کا باعث ہوئی اور اس کتاب کا جواب اب تک مرزائیہ انشاء اللہ ! کیونکہ واقعات اور صداقت کا جواب ہی نہیں ہو سکتا ۔ خواہ کوئی کیسی ہی دھاندلی کرے ۔

اعتراض ...... ”انہوں (الہی بخش) نے اپنی کتاب نہ کسی اصلاح کی ضرورت ہے ۔ جس طرح بات بے محل اسلام کو نہ کسی بیرونی حملہ کا خوف ہے نہ اس کے دفع کرنے کا ۔ پس میاں الہی بخش کا وجود بے ضرورت اور بے مصرف “

تردید ..... منشی الہی بخش اسلام کو سچا اور کامل دین مانتے ہیں اور یقین کرتے ہیں کہ قیامت تک اس میں اگر کوئی شخص دین اسلام کا سچا اور وفادار خادم بن کر بموجب احکام کتاب اللہ وارشاد حدیث رسول اللہ کی خدمت کرے تو یہ اس کی اپنی سعادت ہے ، کوئی ناقص فطرت اس کو روک نہیں سکتا ۔ خواہ کیسے ہی بیہودہ بکے اور نہ کچھ بگاڑ سکے ۔ جب کہ اس مالک نے نحن نزلنا الذکر وانا لہ لحافظون ۔ پس نادانی اور بداعتقادی سے اسلام کو مخلوط اور گو مگو یا مسلمہ و محکمہ مسائل کو قابل ترمیم و تنسیخ وغیرہ قرار دینا آخرت کو برباد و تباہ کرنا ہے ۔ یہ کچھ آج کل ہی کا ذخیرہ پہلے سے ہی چلا آتا ہے ۔ جب کبھی کسی خود غرض نے ایسا کیا تو فوراً اسی وقت بندگان الہی اور امت رسالت مآب نے فتنہ و فساد کی ایسی قلعی کھولی کہ سب کو معلوم ہو گیا کہ یہ کیا ہے ۔ اسی طرح آج کل بعض شقی طینت بندگان میں بد عقیدگی اور الحاد اپنا عمل دخل کر گیا ہے ۔ جن کی نسبت خود غرضی سے اپنے ملحدانہ اور نامعقول خیالات کو پھیلانے کی کوشش کرتے ہیں ۔

صفحہ ١٦١

شریف شائع کی کہ بہت سے مرزائیوں کے لئے خصوصاً اور عام مسلمانوں کے لئے عموماً ہدایت کا باعث ہوئی اور اس کتاب کا جواب اب تک مرزائیوں سے خاک بھی بن نہیں آیا اور نہ بن پڑے گا انشاء اللہ! کیونکہ واقعات اور صداقت کا جواب ہی کیا ہو سکتا ہے۔ معلوم نہیں اس سے بڑھ کر مواد ساتھ لانا اور ضرورت کو پورا کرنا اور کیا ہوتا ہے۔

اعتراض...... ”انہوں (الٰہی بخش) نے اپنی کتاب میں اعتراف کیا ہے کہ اسلام میں کوئی فتنہ نہیں نہ کسی اصلاح کی ضرورت ہے۔ جس طرح بات مخلوط اور گونگو چلی آتی ہے۔ سراسر درست ہے۔ اسلام کو نہ کسی بیرونی حملہ کا خوف ہے نہ اس کے دفاع کی ضرورت ہے۔ اس اعتراض سے ثابت ہوا کہ میاں الٰہی بخش کا وجود بے ضرورت اور بے مصرف محض ہے۔“

تردید...... منشی الٰہی بخش اسلام کو سچا اور کامل دین اور قرآن مجید کو مکمل کلام الٰہی اور قانون ربانی مانتے ہیں اور یقین کرتے ہیں کہ قیامت تک اس میں کسی نئی اصلاح کی ہرگز ضرورت نہیں۔ (ہاں اگر کوئی شخص دینِ اسلام کا سچا اور وفادار خادم بن کر سلف صالحین کی روش و طریق کا پابند ہو کر بموجب احکام کتاب اللہ و ارشاد حدیث رسول اللہ ﷺ اپنی بہتری و بہبودی کے لئے اسلام کی خدمت کرے تو یہ اس کی اپنی سعادت ہے) کوئی نادان دنیا پرست حملہ آور جو اپنی کج مغزی اور ناقص فطرت کو روک نہیں سکتا۔ خواہ کیسے ہی بیہودہ اور بے بنیاد حملے کرے۔ اسلام کا کچھ بھی بگاڑ نہیں سکتا اور کیونکر بگاڑ سکے۔ جب کہ اس مالک حقیقی نے صاف صاف بیان فرما دیا ہے۔ ”اِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّکْرَ وَ اِنَّا لَہٗ لَحٰفِظُوْنَ“ پس افسوس ہے ایسے شخص کے حال پر جو اپنی کمزوری، نادانی اور بد اعتقادی سے اسلام کو مخلوط اور گونگو یا کسی اور طرح سے ناقص اور نامکمل سمجھ کر اس کے مسلمہ و محکمہ مسائل کو قابلِ ترمیم و تنسیخ وغیرہ قرار دے اور ایسا سمجھنے اور قرار دینے سے اپنی دنیا و آخرت کو برباد و تباہ کرے۔ یہ کچھ آج کل ہی کی بات نہیں ہے۔ مفتریوں اور ناعاقبت اندیشوں کا ذخیرہ پہلے سے ہی چلا آتا ہے۔ جب کبھی کسی خود غرض مفتری نے اسلام میں کچھ فتنہ اور فساد برپا کیا تو فوراً اسی وقت بندگانِ الٰہی اور امتِ رسالت پناہی میں سے خادمانہ طور پر بعون اللہ تعالیٰ اس فتنہ و فساد کی ایسی قلعی کھولی کہ سب کو معلوم ہو گیا کہ دین اسلام سب عیوب سے بری اور صحیح و سالم ہے۔ اسی طرح آج کل بعض شکی طبیعت بندگانِ نفس اور دل دادگانِ ہوا و ہوس نے جن کی طبائع میں بدعقیدگی اور الحاد اپنا عمل دخل کر گیا ہے۔ جب اسلامی روشن و مضبوط و حقانی معتقدات و مسائل کی نسبت خود غرضی سے اپنے ملحدانہ اور نامعقول خیالات ظاہر اور شائع کئے تو منشی الٰہی بخش نے باوجود کم فرصتی کے ان ردی اور مخالف اسلام خیالات کا خداوند تعالیٰ سے مدد پا کر ایسا قلع و قمع کیا

١٤٧

صفحہ ١٦٣

کہ وہ کمزور و بدعقیدہ لوگ حیران سرگردان اور پرلے درجہ کے مبہوت ہو گئے اور کئی ایک ان میں کے بہ توفیق ربانی آنکھیں کھول کر راہ راست پر آگئے ہیں اور مذبذبین اور بے خبر لوگوں کو ان مسائل کی نسبت احکام قرآن مجید و ہدایات رسول ﷺ کے معلوم ہو گئے ہیں۔ فللہ الحمد۔

اے خدا قربان احسانت شوم
ایں چہ احسانست قربانت شوم

اور خدا کی درگاہ سے امید واثق اور یقین کامل ہے کہ اسی طرح وہ آئندہ کے فتنہ سے بھی بچ کر مامون ہو جاویں گے۔ پس جب کہ یہ حال ہے تو منشی الٰہی بخش جو بفضل الٰہی بالکل صحیح وسالم ہیں اور تندرست اور خدانخواستہ وہ کانے، لنگڑے اور گنجے نہیں۔ نہ انہوں نے کوئی مشن سکول میں فتور برپا کیا یا کسی کے کاغذات چرائے۔ نہ یہ نوبت پہنچی جو اپاہج بن کر کسی کی خیراتی روٹیوں کے منتظر رہتے۔ پھر کوئی بتا سکتا ہے کہ ان کا وجود بے ضرورت بے مصرف محض ہے؟ اگر کوئی ناقص الفطرۃ، کور چشم، بے مغز، کسی اپنی ذاتی غرض وعلت کے سبب ان کے حق میں ایسا کہے اور خیال کرے تو اس میں منشی صاحب کا کیا قصور ہے۔ سعدی؎

گر نہ بیند بروز شپرہ چشم چشمۂ آفتاب را چہ گناہ
راست خواہی ہزار چشم چناں کور بہتر کہ آفتاب سیاہ

(باقی آئندہ)

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

تعارف مضامین ...... ضمیمہ شحنہ ہند میرٹھ

٨/١٥ مئی ١٩٠٢ء کے شمارہ نمبر ١٨، ١٩ کے مضامین

اسی ترتیب سے پیش خدمت ہیں:

١٢٨

١...... شکی اور مذبذب مرزائیوں کی تسلی اور آخری

قبل اس کے کہ ہم الحکم کا انتخاب ناظرین کے مرزا قادیانی کے ایک اشتہار کی نقل پیش کی جاوے۔ جب جھوٹی ثابت ہوئیں۔ نہ صرف مخالفین بلکہ مرزا قادیانی کے کی نسبت پیش گوئی غلط نکلی۔ آسمانی منکوحہ بیوی کا الہام پو وغیرہ مخالفین کی نسبت بھی مرزا قادیانی کی دعا نامقبول او حیران و پریشان ہوئے اور عجب مصیبت پیش آئی۔ ندامت ان کو تسلی دینے کے لئے جھٹ سے ایک تازہ پیش گوئی کر اشتہار کی میعاد معینہ کے چھ سات ماہ باقی ہیں۔ مگر مرزا قاد ودو میں رہتے ہیں کہ اس اشتہار کے سچا ہونے کے لئے کئی ہے کہ جہاں ڈھائی برس اس پیش گوئی کو گزر گئے۔ بقیہ چھ ہے کہ مرزا قادیانی اپنی اقرار کے بموجب ہرگز اپنے کو جھ دست بردار نہ ہوگا۔

مرزا آج کل طاعون کو بار بار اپنا نشان قرار دے ہی اس اشتہار کی پیش گوئی کا نشان قرار دے کر اپنا پیچھا چھڑ اور بھی حماقت ہوگی۔ ہم طاعون کی نسبت مفصل بحث علیحدہ بصد اصرار استدعا کرتے ہیں کہ وہ یہ نوٹ اور مرزا کے ام درج فرمائیں۔ تاکہ عام طور پر مرزا قادیانی کے کذب کا ضدی مرزائیوں سے ہر شخص اس پیش گوئی کا مطالبہ کرے مرزائیوں سے کہے کہ جھوٹے کے منہ میں وہ ......... درخواست کرتے ہیں کہ وہ اس اشتہار کو ضرور اپنے اپنے ال کے اس دعویٰ کا حال ہر ایک کو معلوم ہو جاوے اور مرزا قاد شک نہ رہے۔ وہ اشتہار یہ ہے:

(مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٧١٤ تا ٧١٦ اپری

حذف کر دیا ہے۔ مرتب)

١٢٩

صفحہ ١٦٣

قبل اس کے کہ ہم الحکم کا انتخاب ناظرین کے پیش کریں ضروری معلوم ہوتا ہے کہ مرزا قادیانی کے ایک اشتہار کی نقل پیش کی جاوے۔ جب مرزا قادیانی کی پیش گوئیاں عام طور پر جھوٹی ثابت ہوئیں۔ نہ صرف مخالفین بلکہ مرزا قادیانی کے اپنے مریدین بھی برملا چلا اٹھے کہ آتھم کی نسبت پیش گوئی غلط نکلی۔ آسمانی منکوحہ بیوی کا الہام پورا نہ ہوا۔ مولوی محمد حسین اور جعفر زٹلی وغیرہ مخالفین کی نسبت بھی مرزا قادیانی کی دعا نامقبول اور الہام جھوٹا نکلا تو مرزا قادیانی سخت حیران و پریشان ہوئے اور عجب مصیبت پیش آئی۔ ندامت مٹانے اور برگشتہ مریدوں کو روکنے اور ان کو تسلی دینے کے لئے جھٹ سے ایک تازہ پیش گوئی کا اشتہار شائع کر دیا۔ اگرچہ ابھی اس اشتہار کی میعاد معینہ کے چھ سات ماہ باقی ہیں۔ مگر مرزا قادیانی سب کام بھول کر ہر وقت اسی تگ ودو میں رہتے ہیں کہ اس اشتہار کے سچا ہونے کے لئے کئی حجت یا تاویل تراشی جاوے۔ یہ تو ظاہر ہے کہ جہاں ڈھائی برس اس پیش گوئی کو گزر گئے۔ بقیہ چھ ماہ بھی گزر جاویں گے مگر یہ بھی یقین ہے کہ مرزا قادیانی اپنے اقرار کے بموجب ہرگز اپنے کو جھوٹا نہ سمجھے گا اور اپنے دعویٰ سے ہرگز دست بردار نہ ہوگا۔

مرزا آج کل طاعون کو بار بار اپنا نشان قرار دے رہا ہے۔ ممکن ہے کہ آخر کار طاعون کو ہی اس اشتہار کی پیش گوئی کا نشان قرار دے کر اپنا پیچھا چھڑاوے۔ مگر طاعون کو اپنا نشان قرار دینا اور بھی حماقت ہوگی۔ ہم طاعون کی نسبت مفصل بحث علیحدہ کریں گے۔ اپنے ہمعصر اخبارات سے بصد اصرار استدعا کرتے ہیں کہ وہ یہ نوٹ اور مرزا کے اشتہار کی نقل اپنے اپنے اخبار میں ضرور درج فرمائیں۔ تاکہ عام طور پر مرزا قادیانی کے کذب کا حال معلوم ہو جاوے اور متعصب اور ضدی مرزائیوں سے ہر شخص اس پیش گوئی کا مطالبہ کرے اور یہ اشتہار لفظ بلفظ سنا کر مرزا اور مرزائیوں سے کہے کہ جھوٹے کے منہ میں وہ ......... ہم پھر قومی اور غیر قومی اخبارات سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ اس اشتہار کو ضرور اپنے اپنے اخبار میں شائع کریں۔ تاکہ مرزا قادیانی کے اس دعویٰ کا حال ہر ایک کو معلوم ہو جاوے اور مرزا قادیانی کو جھوٹا خیال کرنے میں کسی فرد بشر کو شک نہ رہے۔ وہ اشتہار یہ ہے:

(مجموعہ اشتہارات ج٣ ص١٧٤ تا ١٧٩ پر دیکھا جاسکتا ہے۔ یہاں سے ہم نے حذف کردیا ہے۔ مرتب)

١٢٩

صفحہ ٦٥

٢...... بقیہ کتاب عصائے موسیٰ کے جواب سے مرزائیوں کا عجز

اعتراض...... "(اشتہار ص٤) یا یوں کہو کہ زمانہ کی کوئی ضرورت نہ انہیں (الٰہی بخش کو) بلاتی ہے نہ کسی مسند پر جگہ دیتی ہے۔ وہ اس بے بہار بادل کی طرح ہیں جس میں مفسدہ اور خرابی کے سواء کچھ نہیں۔"

تردید...... ضرورت کا جواب گزر چکا ہے۔ بے شک منشی الٰہی بخش اسلام کو مکمل یقین کر کے آنحضرت ﷺ کے بعد کسی ضرورت واصلاح کے ردو بدل کے قائل اور معتقد نہیں اور نہ وہ کسی حاجت مند عاشق دنیا کی طرح نفسانی اغراض کے لئے مسند شیخی "انا خیر منہ" پر بیٹھنے کے خواہاں ہیں۔ وہ تو ہر حالت و وضع میں مطیع احکام شریعت رہ کر "ربنا ظلمنا انفسنا وان لم تغفر لنا وترحمنا لنكونن من الخاسرين" پڑھنا پسند کرتے ہیں۔ معترض کی معرفت علوم قرآنی ملاحظہ ہو کہ خوبی قسمت سے اس کو اللہ تعالیٰ کی مخلوق میں بے بہار بادلوں وغیرہ میں مفسدہ و خرابی کے سواء کچھ نظر نہیں آتا۔ یہ اپنی اپنی قسمت ہے۔ لیکن اگر وہ غیور مسلمانوں کی طرح تدبر و تفکر کرتا اور تذکر لیتا تو اسکو معلوم ہوتا کہ عقائد اسلام کے موافق اس حکیم علی الاطلاق نے کوئی چیز عبث اور باطل اور محض شر خلائق پیدا نہیں کی۔ چنانچہ آیات قرآنی شاہد حال ہیں۔

السموات والارض ربنا ما خلقت ھذا باطلا سبحانک فقنا عذاب النار (آل عمران:١٩١)"

فویل للذین کفروا من النار"

اور ہر شے کی پیدائش میں اس حکیم قدر کے لا تحصی ولا تعد فائدے اور حکمتیں بھری پڑی ہیں جن کو انسان بے بنیان کی کیا ہستی و طاقت ہے کہ بہ تمامہ سمجھ سکے۔ الا ماشاء اللہ! دیکھو بادل اور آندھیاں جب آتی ہیں تو ان میں ہزار ہا فوائد و منافع بھی ہوتے ہیں۔ تعفن و بد بو دور ہوتی ہے۔ ہوا صاف ہو جاتی ہے۔ کئی قسم کی بیماریاں دور ہو جاتی ہیں۔ وغیرہ اور ایسا ہی بادل اور بارش کا حال ہے۔ پس بڑی بھاری بے ادبی اور پرلے درجہ کی کور چشمی اور ناحق پرستی ہے کہ متکبر و جاہل انسان قصور نظر اور ناقص فہم سے کام لے کر بادلوں اور انسانوں اور دیگر مخلوقات الٰہی کے وجود کو مفسدہ خرابی اور لا طائل سمجھے اور مذکورہ بالا آیات قرآنی کی کچھ بھی تعظیم و تکریم نہ کرے۔ یہ

١٣٠

دین اسلام کا پاک اور سچا مسئلہ ہے کہ اس حکیم عزیز فرمائی۔ دیکھو مخلوق الٰہی میں کئی اندھے، کانے، لنگڑے بدلگام و بدزبان ہیں جو غریب مسلمانوں کو دن رات آزار لوگوں کا نہ ہونا بظاہر ہونے سے اچھا معلوم ہو سے بھی دوسری مخلوق کے لئے کئی طرح کے فائدے عبرت پکڑتے ہیں۔ ڈرتے اور توبہ کرتے ہیں۔ شکر بجالاتے ہیں۔ وغیرہ!

جو بشنوی سخن اہل
سخن شناس نہ

اعتراض...... "پھر انہوں نے آپ سے آپ ایک عرصہ سے جب سے آپ کو خواب بینی کا دعویٰ جواب ہمارے نزدیک اور اسلام کے ہر سچے ہمد محض بے سود ہے اور آپ نے اب تک کچھ نہیں ک

تردید...... آپ کی یہ تقریر جیسی غلط بیہودہ اور لغو ارشاد الٰہی : "ولا تقف مالیس لک بہ علم آپ کچھ نہیں کہا دنیا جانتی ہے کہ وہ ایسا چپ چاپ کو ہاتھ لگانے والا نہیں۔ کتاب عصائے موسیٰ ک سب مشیت تقدیر اور ارادہ و تحریک ربانی سے ہ اشاعت ہوئی۔ حتی کہ اس نے اللہ جل جلالہ کی ت کے گلے کا ہار ہو گیا کہ مخالف الہامات کو ضرور ہی ہونے کا۔ پھر منشی الٰہی بخش کا اس میں کیا قصور دوسری طرف کی آپ کو کیا خبر۔ اسی طرح الہام کچھ اپنی تراش خراش اور بناوٹ نہیں۔ وہ مرز نہیں۔ آپ جو خوف خدا کو چھوڑ کر ہٹ دھرمی، یہ نہایت حیرت انگیز اور تعجب خیز ہے۔ آپ کا ط الٰہیہ سے مشرف ہونا تسلیم کر کے ضرورۃ الامام

صفحہ ١٦٥

دین اسلام کا پاک اور سچا مسئلہ ہے کہ اس حکیم عزیز و قدیر جل جلالہ نے کوئی شے شر محض پیدا نہیں فرمائی۔ دیکھو مخلوق الٰہی میں کئی اندھے، کانے ،لنگڑے، گنجے وغیرہ امراض والے موجود ہیں اور کئی بدلگام و بد زبان ہیں جو غریب مسلمانوں کو دن رات برا بھلا کہتے ہیں۔ اگر چہ ایسے تکلیف دہ مردم آزار لوگوں کا نہ ہونا بظاہر ہونے سے اچھا معلوم ہوتا ہے۔ لیکن ان کا وجود بھی محض شر نہیں۔ بلکہ ان سے بھی دوسری مخلوق کے لئے کئی طرح کے فائدے ہیں۔ ان کے حال و مال کو دیکھ کر عقلمند لوگ عبرت پکڑتے ہیں۔ ڈرتے اور توبہ کرتے ہیں۔ منیب ہو کر اللہ تعالیٰ کے انعامات و احسانات کا شکر بجالاتے ہیں۔ وغیرہ!؎

جو بشنوی سخن اہل دل مگو کہ خطاست
سخن شناس نہ ای جان من خطا اینجاست

اعتراض ...... ”پھر انہوں نے آپ سے آپ خدا کے بلائے اور ماموریت کے بغیر کام کیا اور ایک عرصہ سے جب سے آپ کو خواب بینی کا دعویٰ ہے۔ قوم اور اسلام کو کیا فائدہ پہنچایا ہے۔ اس کا جواب ہمارے نزدیک اور اسلام کے ہر سچے ہمدرد کے نزدیک اس کے سوا کچھ نہیں کہ آپ کا وجود محض بے سود ہے اور آپ نے اب تک کچھ نہیں کیا۔“

تردید ...... آپ کی یہ تقریر جیسی غلط بیہودہ اور لغو ہے ویسی ہی افتراء اور بہتان سے خالی نہیں اور ارشاد الٰہی : ”ولا تقف مالیس لک بہ علم“ کے برخلاف ہے۔ منشی الٰہی بخش نے آپ سے آپ کچھ نہیں کیا دنیا جانتی ہے کہ وہ ایسا چپ چاپ، کم گو اور خلوت پسند آدمی ہے کہ ہرگز فضول کام کو ہاتھ لگانے والا نہیں۔ کتاب عصائے موسیٰ کی تالیف اور اشاعت میں بھی جو کچھ اس نے کیا یہ سب مشیت تقدیر اور ارادہ و تحریک ربانی سے ہوا اور مرزائے قادیانی خود اس کا محرک اور باعث اشاعت ہوا۔ حتیٰ کہ اس نے اللہ جل جلالہ کی قسمیں دلا دلا کر بھی بہت اصرار کیا اور منشی صاحب کے گلے کا ہار ہو گیا کہ مخالف الہامات کو ضرور شائع کرو۔ سو یہی باعث تھا کتاب مذکور کے شائع ہونے کا۔ پھر منشی الٰہی بخش کا اس میں کیا قصور ہے۔ چونکہ آپ کو ایک طرف سے نظر آتا ہے تو دوسری طرف کی آپ کو کیا خبر ۔ اسی طرح الہامات کے بارے میں بھی منشی الٰہی بخش کی ہرگز ہرگز کچھ اپنی تراش خراش اور بناوٹ نہیں۔ وہ مرزا قادیانی کی طرح اس مزاج اور جوڑ توڑ کا آدمی نہیں۔ آپ جو خوف خدا کو چھوڑ کر ہٹ دھرمی سے ان کے الہامات کو خواب بینی کا دعویٰ کہتے ہیں۔ یہ نہایت حیرت انگیز اور تعجب خیز ہے۔ آپ کا پیر و مرشد مرزا قادیانی تو خود منشی الٰہی بخش کا مکالمات الٰہیہ سے مشرف ہونا تسلیم کر کے ضرورۃ الامام میں ان کو نیک بخت، بے شر انسان، متقی، پرہیزگار

١٤١

صفحہ ١٦٧

وغیرہ لکھ چکا ہے۔ پس آپ اپنے گریبان میں منہ ڈال کر سوچیں کہ مرزا قادیانی نے جو منشی الہی بخش کی نسبت یہ تعریف لکھی ہے وہ حق اور راست ہے یا آپ اپنے مرشد و امام کی اس تحریر کو لغو جھوٹ اور بیہودہ سمجھ کر منشی صاحب اور ان کے الہامات کی تحقیر و تنقیص کر رہے ہیں۔

افسوس ہے۔ آپ کی عقل پر۔ منشی الہی بخش کی اس قومی و اسلامی خدمت یعنی اشاعت کتاب عصائے موسیٰ سے جو بیشمار فائدے مسلمانوں کو ہوئے اور ان فوائد سے جو علماء اہل سنت والجماعت و ہمدردان قوم واقف ہیں ان کی تحریریں ابھی تک گم نہیں ہوئیں۔ البتہ کسی بے مذاق رنجور دل اور ملحدانہ خیالات والے کو جو نقص بصارت اور فقدان بصیرت یا پیٹ پالنے کی خاطر کسی خود غرض عیار کو سب انبیاء کا مثیل و لب لباب اوڑا کر ختم نبوت کا منکر ہوا ایسے اندھے کو اگر یہ امور و فوائد نظر نہ آویں تو دوسری بات ہے۔

بالآخر آپ کے پیر و مرشد (قادیانی) نے جو نام نہاد قیمت براہین، وطبع رسالہ سراج منیر اور ترجمہ رسالہ امریکہ وغیرہ صدہا روپیہ کا منشی الہی بخش صاحب سے فائدہ اٹھایا جس کا اقبال و ذکر مرزا قادیانی نے خود کئی اشخاص سے کیا ہے۔ آپ اس فائدہ کو بھی احسان فراموشوں کی طرح فراموش نہ کریں۔

اعتراض ...... ”دوستو! یہ کتاب محض لغو اور نکمی اور ایسی بیہودہ باتوں کا مجموعہ ہے جنہیں سچی تہذیب اور اصلاح خلق سے کوئی تعلق نہیں ۔“

تردید......

چشم بدانندیش کہ برکندہ باد عیب نماید ہنرش در نظر

تعجب پر تعجب ہے کہ عصائے موسیٰ کا ہر مسئلہ بدلائل قرآن وحدیث رسول اللہ ﷺ و اقوال کبراء امت سلف و خلف صالحین مدلل ہے اور آپ اس کو لغو اور بیہودہ باتوں کا مجموعہ بتلاتے ہیں۔ معلوم نہیں آپ کا دل پتھر ہے یا قساوت میں اس سے بھی اشد۔ ورنہ مسلمانوں کا تو یہ زہرہ ہرگز نہیں کہ جو کلام قرآنی شہادات اور احادیث نبوی علیٰ صاحبہا الصلوٰۃ والسلام کے تطبیق و تائید سے لکھا جاوے۔ اس کو لغو اور بیہودہ کہا جاوے۔ سو یہ آپ ہی کے مشن کی خوبی ہے۔ حالانکہ سب دنیا حتیٰ کہ غیر مذاہب والے بھی بعد غور تفحص اس امر کے قائل ہو گئے ہیں کہ قرآن مجید اور رسول ﷺ سے ہی دنیا میں اصلاح خلق اور سچی تہذیب قائم اور اس کی اشاعت ہوئی۔ افسوس ہے، ایسے ایمان اور عقل پر کہ جس کتاب میں جابجا آیات قرآن مجید و احادیث شارع اسلام درج ہوں اور جس کی نسبت وہ بدعویٰ اسلام ایسے الفاظ توہین و حقارت کے بولے۔ مگر ایسے آدمی پر جس کی شکم

١٣٢

پروری اور مراقبہ داری میں فرق آتا ہو اور جس کے جھ و خیالات کی قلعی کھلتی اور پرخچے اڑتے ہوں اور ج اختیار کر لی ہو وہ عصائے موسیٰ جیسی پُر از متانت و ت

افسوس ہے۔ جب قرآن مجید جیسی پاک اور بے عی مطابق بناتے اور اس کی پرلے درجہ کی توہین کرتے و قطار میں ہے۔

اعتراض ...... ”بہت سا حصہ اس کا حضرت مسیح موعو کیا گیا ہے اور ان ہی باتوں کو اختیار کیا گیا ہے جو ب نے اولوالعزم نبیوں کی ذات پاک پر نکتہ چینی کرتے کے کوئی حقائق و معارف اور نکات بیان نہیں کئے جو ا

تردید...... مرزا قادیانی کے تکبر و تعلی اور مخالفت م زبان درازی سے سب کو سب و شتم کرنے کے باع علیہم السلام والی نکتہ چینی واعتراضوں سے نسبت کر

وہ جاہلیت کا مبلغ علم ۔ سنو! یہ وہ اعتراضات اور نکتہ چی انبیاء علیہم السلام نے جھوٹے اور کاذب مدعیان نبو کذابین پر کئے تھے۔ جن کا جواب ابھی تک ان م کچھ نہ دے سکے اور نہ آئندہ قیامت تک دے سکیں والے جاہلوں اور نادانوں نے وہ اعتراض اولوالعزم ان کے جواب میں اہل حق اہل اسلام نے بتوفیق ا بنیاد اور لغو تھے۔ بلکہ جن کو وہ ضعیف نظری اور بے ج دلائل بینہ سے ثابت کر دی۔ پس آپ بھی اسی طر و رسائل مسلمین کو کسی دلیل سے رد کر کے دکھلاتے تو باعث واقعات ہونے کے ان اعتراضات کا جوا واقعی اعتراضوں سے انکار نہیں کر سکتے اور بغیر معقول کوئی سچا مسلمان پر مگس کی برابر بھی وقعت نہیں کر س مجددیانہ بڑ ہانکا کرو اور اپنے چند دام افتادہ فدائیوں

١٣٣

صفحہ ١٦٧

پروری اور مرتبہ داری میں فرق آتا ہو اور جس کے جعلی اور مصنوعی خود غرضانہ اور خود تراشیدہ مشن وخیالات کی قلعی کھلتی اور پر خچے اڑتے ہوں اور جس نے موجودہ اسلام سے پہلے ہی علیحدگی اختیار کر لی ہو وہ عصائے موسیٰ جیسی پر از متانت و تہذیب کتاب کو لغو اور بیہودہ کہے تو اس پر کیا افسوس ہے۔ جب قرآن مجید جیسی پاک اور بے عیب کتاب کی آیات توڑ کر اپنے مطلب کے مطابق بناتے اور اس کی پرلے درجہ کی توہین کرتے ہو تو عصائے موسیٰ آپ کے نزدیک کس شمار وقطار میں ہے۔

اعتراض ....... ”بہت سا حصہ اس کا حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) کی ذات کی نکتہ چینی پر وقف کیا گیا ہے اور ان ہی باتوں کو اختیار کیا گیا ہے جو یہودیوں، نصرانیوں، آریوں اور دیگر مشرکین نے اولوالعزم نبیوں کی ذات پاک پر نکتہ چینی کرتے وقت اختیار کیں۔ اس کے سواء قرآن کریم کے کوئی حقائق ومعارف اور نکات بیان نہیں کئے جو ایک طالب حق کے دل کو سیراب کر سکیں ۔“

تردید....... مرزا قادیانی کے تکبر و تعلی اور مخالفت مسائل مسلمہ شریعت اور اس کی بدتہذیبی اور زبان درازی سے سب کو سب وشتم کرنے کے باعث جو نکتہ چینی واعتراضات ہوئے ان کو انبیاء علیہم السلام والی نکتہ چینی و اعتراضوں سے نسبت کرنا بالکل غلط اور بے دلیل ہے اور یک چشمی و دجالیت کا مبلغ علم ۔ سنو! یہ وہ اعتراضات اور نکتہ چینیاں ہیں جو علماء اسلام اور فضلاء عظام و متبعین انبیاء علیہم السلام نے جھوٹے اور کاذب مدعیان نبوت مثلاً مسیلمہ کذاب، اسود عنسی وغیرہ دجالین کذابین پر کئے تھے۔ جن کا جواب ابھی تک ان مفتریوں کے حمایتی اور پراپیگنڈہ والے فدائی کچھ نہ دے سکے اور نہ آئندہ قیامت تک دے سکیں گے ۔ برخلاف اس کے نقص بصارت و بصیرة والے جاہلوں اور نادانوں نے وہ اعتراض اولوالعزم انبیاء علیہم السلام کی ذات والا صفات پر کئے۔ ان کے جواب میں اہل حق اہل اسلام نے بتوفیق الہی ثابت و ظاہر کر دیا کہ وہ اعتراض محض بے بنیاد اور لغو تھے ۔ بلکہ جن کو وہ ضعیف نظری اور بے سمجھی سے عیب و اعتراض سمجھتے تھے۔ ان کی خوبی دلائل بینہ سے ثابت کر دی ۔ پس آپ بھی اسی طرح اعتراضات مندرجہ عصائے موسیٰ و دیگر کتب ورسائل مسلمین کو کسی دلیل سے رد کر کے دکھلاتے تو معلوم ہوتا ۔ لیکن آپ پر مصیبت تو یہ پڑی کہ بباعث واہیات ہونے کے ان اعتراضات کا جواب آپ کے پاس کچھ بھی نہیں۔ بلکہ آپ ان واقعی اعتراضوں سے انکار نہیں کر سکتے اور بغیر معقول ومدلل رد و جواب کے آپ کی بیہودہ بکواس کی کوئی سچا مسلمان پر مگس کی برابر بھی وقعت نہیں کر سکتا ۔ ہاں! آپ کو اختیار ہے کہ گھر میں بیٹھ کر مجددانہ بڑ ہانکا کرو اور اپنے چند دام افتادہ فدائیوں کو فراہم رکھنے اور ان کی اشک شوئی کرنے کے

١٣٣

صفحہ ١٦٩

لئے ان کے دل خوش کیا کرو۔ اب رہے قرآن مجید کے حقائق و معارف اور نکات۔ سو وہ جیسے اور جس طرح رسول ﷺ، صحابہ کرام، تابعین و تبع تابعین اور سلف و خلف صالحینؒ نے بیان فرمائے ان سے سب مسلمانوں اور سچے مومنوں کے دل سیراب ہیں اور مسلمان ان کو کافی و وافی سمجھتے ہیں۔ ان کے مخالف آج کل جو دھوکے باز خود غرضانہ، ملحدانہ، قرآن مجید کے برائے نام حقائق و معارف و نکات بیان کرے۔ جیسا کہ مرزا قادیانی اور اس کی جماعت دنیا و دین میں اپنی رسوائی اور سیاہ روئی خرید رہی ہے۔ مسلمان ان سے بصد نفرت بیزار ہیں اور معترض نادان مسلمانوں کے گھر پیدا ہو کر اور اس قدر عرصہ مسلمانوں میں رہ کر بد نصیبی سے اب تک ناقص فطرتی کے سبب ان سے سیراب نہیں ہوا اور بیچارہ اب تک طالب حق ہے۔ مرزائی ملحدانہ بیخ کن دین و ایمان برائے نام حقائق و معارف و نکات۔ جس میں مرزا لیلۃ القدر کو ظلمت کا زمانہ کہتا ہے اور آفتاب کو جبریل علیہ السلام کا ہیڈ کوارٹر مقرر کرتا ہے۔ اپنی طرف سے تثلیث گھڑ کر انت بمنزلۃ ولدی والے الہام سے جو سراسر شیطانی وہم ہے اپنی ذات کو ابن اللہ بناتا ہے۔ دجال، یاجوج ماجوج و دابۃ الارض وغیرہ کی لاطائل تاویلیں کرتا ہے۔ اپنے تئیں، رسول اللہ ﷺ سے زیادہ ترحق شناس جتاتا ہے۔ معجزات مسیح علیہ السلام کو مسمریزم کہتا ہے۔ اس معصوم رسول کی جو ایک اولوالعزم سفیر ہے۔ تحقیر کر کے اس کے حق میں تیرا بازی کرتا ہو وغیرہ۔ سو ایسے حقائق و معارف و نکات برعکس نہند نام زنگی کافور گو ہمارے معترض جیسے اندھے اور رنجور دلوں کو سیراب کرنے والے ہوں۔ مگر سچے مسلمانوں کو تو یہ ہرگز ہرگز مطلوب و مرغوب نہیں۔ (باقی آئندہ)

ہماری نظروں سے مرزا قادیانی کی ایک فضول سی بکواس گزری، جس کو آپ نے ’’دافع البلاء و معیار اہل الاصطفاء‘‘ کے نام سے منسوب کر کے ٢٤ صفحہ پر ختم کیا ہے۔ اس میں بھی وہی حسب معمول لمبے چوڑے دعوے باندھے گئے ہیں۔ مگر خیر نال پورا ہوتا ایک بھی نظر نہیں آتا۔ کیونکہ جب بنیاد ہی محض ریت پر قائم ہے تو عمارت کیا ٹھہرے۔ چنانچہ آپ بڑے زور کے ساتھ پیشین گوئی کرتے ہیں کہ نہ تو قادیان میں طاعون آئی اور نہ آئے گی اور یہی اس کے دارالامان ہونے اور میرے مسیح موعود ہونے کا پکا ثبوت ہے۔ خیر ہمیں اس سے کیا ایسے دعویٰ نہ تو کبھی پورے ہوئے نہ انشاء اللہ پورے ہوں گے۔ لیکن رسالہ مذکور کے دیباچہ میں آپ فرماتے ہیں: ’’ہم مسیح ابن مریم کو بیشک ایک راست باز آدمی جانتے ہیں کہ اپنے زمانہ کے اکثر لوگوں سے البتہ اچھا تھا۔ واللہ اعلم!‘‘

١٣٤

اس کے ساتھ حاشیہ بھی جو اس پر چڑھایا گیا راست بازی اپنے زمانہ میں دوسرے راست بازوں سے پر ایک فضیلت ہے۔ کیونکہ وہ شراب نہیں پیتا تھا اور کبھی کمائی کے مال سے اس کے سر پر عطر ملا تھا یا ہاتھوں اور پا تھا یا کوئی بے تعلق جوان عورت اس کی خدمت کرتی تھی۔

اس کے ساتھ وہ ناظرین جن کے پاس ضمیمہ لیں۔ جس میں مرزا قادیانی نے حضرت مسیح کی شان مبار الفاظ استعمال کئے ہیں۔ لیکن چونکہ ایسے فضول اور گند بجواب اوہام غلام قادیانی ص ١١ تا ٦٣) میں کافی طور پر دے پہلو پر غور کریں گے۔ بالفرض مرزا صاحب واقعی مسیح موع وغیرہ ہیں تو اس میں بہادری کیا ہوئی۔ جب کہ آپ مکر و فریب کے کچھ بھی نہ تھا اور جن کا خاندان بقول مر ہے۔ یعنی ان کی تین دادیاں اور نانیاں زنا کار اور کسبی ت کنجروں سے محض اسی بناء پر تھا کہ جدی مناسبت قائم رہ اب ذرا عقل کو کام میں لا کر غور فرمائیں کہ ج وغیرہ ہے اور انہیں کاموں سے زمانہ میں اپنا نام رکھتا ہ بھلا مجھے کیا غرض پڑی ہے کہ میں سب سے فرداً فرداً پ نام کیا چاہتا ہے۔ وہ وہ نہیں ہے۔ بلکہ وہ تو میں ہوں۔ ب نام کو چھوڑ کر اپنا نام لیتا ہے اور یہ اس کی بھول ہے۔

بس یہی حال مرزا قادیانی کا ہے کہ آپ مسیح بھی کہہ دیتے ہیں کہ وہ تو نقل تھا یا ایک نمونہ اور میں ہو تھا تو مجھ میں چالیس من ہے۔ گویا آپ صاف طور پر ظا بھی کسی نہ کسی طرح سے جتلا ہی دیتے ہیں کہ: ’’میں ا زانی یا زانیوں کا نانا اور کسبیوں کے خاندان سے ہوں بھی کہہ سکتے ہیں۔ اب مرزا کی چوٹی میں کوئی سرخاب

١٣٥

صفحہ ١٦٩

اس کے ساتھ حاشیہ بھی جو اس پر چڑھایا گیا ہے۔ آخر میں ملاحظہ ہو: ”لیکن مسیح کی راست بازی اپنے زمانہ میں دوسرے راست بازوں سے بڑھ کر ثابت نہیں ہوتی۔ بلکہ یحییٰ کو اس پر ایک فضیلت ہے۔ کیونکہ وہ شراب نہیں پیتا تھا اور کبھی نہیں سنا گیا کہ کسی فاحشہ عورت نے اپنی کمائی کے مال سے اس کے سر پر عطر ملا تھا یا ہاتھوں اور اپنے سر کے بالوں سے اس کے بدن کو چھوا تھا یا کوئی بے تعلق جوان عورت اس کی خدمت کرتی تھی۔“

(خزائن ج ١٨ ص ٢١٩)

اس کے ساتھ وہ ناظرین جن کے پاس ضمیمہ انجام آتھم ہے۔ اس کے ص ٧ کو خود دیکھ لیں۔ جس میں مرزا قادیانی نے حضرت مسیح کی شان مبارک میں اس سے بھی بڑھ بڑھ کر گندے الفاظ استعمال کئے ہیں۔ لیکن چونکہ ایسے فضول اور گندے الفاظ کا جواب کتاب (کلمہ فضل رحمانی بجواب اوہام غلام قادیانی ص ٦١ تا ٦٣) میں کافی طور پر دے دیا گیا ہے۔ اس لئے ہم اس سے دوسرے پہلو پر غور کریں گے۔ بالفرض مرزا صاحب واقعی مسیح موعود، مثیل مسیح، مسیح الزمان اور خاتم النبیین وغیرہ ہیں تو اس میں بہادری کیا ہوئی۔ جب کہ آپ کے نزدیک مسیح کے ہاتھ میں سوائے مکر و فریب کے کچھ بھی نہ تھا اور جن کا خاندان بقول مرزا قادیانی شروع سے گندہ اور نجس چلا آیا ہے۔ یعنی ان کی تین دادیاں اور نانیاں زنا کار اور کسبی (توبہ توبہ) تھیں اور جن کا میلان اور صحبت کنجروں سے محض اسی بناء پر تھا کہ جدی مناسبت قائم رہے۔

اب ذرا عقل کو کام میں لا کر غور فرمائیں کہ جب ایک شخص بہت ہی مکار، زانی اور فریبی وغیرہ ہے اور انہیں کاموں سے زمانہ میں اپنا نام رکھتا ہے اور اکثر انہیں کو مایہ ناز تصور کرتا ہے۔ تو بھلا مجھے کیا غرض پڑی ہے کہ میں سب سے فردا فردا کہتا پھروں کہ وہ شخص جو ان کاموں سے اپنا نام کمانا چاہتا ہے۔ وہ وہ نہیں ہے۔ بلکہ وہ تو میں ہوں۔ لیکن وہ صرف اپنی ناموری کی خاطر میرے نام کو چھوڑ کر اپنا نام لیتا ہے اور یہ اس کی بھول ہے۔

بس یہی حال مرزا قادیانی کا ہے کہ آپ مسیح کو گنہگار سے گنہگار قرار دیتے ہیں۔ لیکن یہ بھی کہہ دیتے ہیں کہ وہ تو نقل تھا یا ایک نمونہ اور میں ہوں اصل مسیح۔ یعنی اگر مسیح میں پاؤ رتی کھوٹ تھا تو مجھ میں چالیس من ہے۔ گویا آپ صاف طور پر ظاہر کرتے ہوئے کچھ شرماتے ہیں۔ لیکن پھر بھی کسی نہ کسی طرح سے جتلا ہی دیتے ہیں کہ: ”میں ایک مکار سے مکار، فریبی کا فریبی، زانیوں کا زانی یا زانیوں کا نانا اور کسبیوں کے خاندان سے ہوں۔“ جس کو ہم دوسرے الفاظ میں ولد الحرام بھی کہہ سکتے ہیں اب مرزا کی چوٹی میں کوئی سرخاب کا پر تو لگا نہیں کہ کوئی خواہ مخواہ اس کے پیچھے

١٣٥

صفحہ ١٧٠

لگ کر اپنے سر پر عذاب لے۔ کیونکہ وہ خود ہی اقبال کرتا ہے کہ اس کا خاندان گھناؤنا اور عادات نکمے ہیں۔

بھئی مرزا جیو ! خدا لگتی کہنا کہ جو شخص خود اقبال کرتا ہے کہ میں مجسم شیطان ہوں تو وہ تمہارا وسیلہ کیونکر ٹھہر سکتا ہے اور کس طریق پر تمہاری دین کی راہ میں مدد کر سکتا ہے۔ لو اب بھی کہنا مان جاؤ اور اپنا نام اس شیطانی لشکر سے جس میں تم اندھے ہو کر شامل ہوئے ہو کٹوا ڈالو۔ نہیں تو بارگاہ ایزدی میں ناک کٹوانی ہو گی۔ کیونکہ اگر کوئی آدمی دلدل میں پھنسا ہو اور کسی ذریعہ سے باہر نکل آئے تو شرم کی بات نہیں۔ شرم تو جب ہے کہ دلدل سے نکلنے کی کوشش نہ کرے۔ ہم ذمہ اٹھاتے ہیں کہ کوئی کچھ نہ کہے گا۔ بلکہ چاروں طرف سے خوشی کے نعرے بلند ہوں گے۔ اچھا گڈ بائی! انشاء اللہ آئندہ ہفتے پھر ملاقات ہوگی۔ راقم: پ۔ل۔ش

٤....... بقیہ کتاب عصائے موسیٰ کے جواب سے مرزائیوں کا عجز

اعتراض ....... ”(اشتہار ص ٥) اپنی طرف سے نئی بات اور مخصوص بات کچھ الہامات پیش کئے ہیں جو اپنے الفاظ میں صامت اور اخرس ہیں۔ مگر ان کی تفسیر کے وقت ملہم صاحب زور سے اعتراف کرتے ہیں کہ مجھے ان کی تفسیر پر کوئی وثوق نہیں۔ یوں اپنے ہاتھ سے اپنی ساری کارروائی کی مٹی پلید اور اپنا ساختہ پرداختہ برباد کرتے ہیں ۔ “ تردید ...... دروغگورا حافظہ نباشد۔ کیوں صاحب؟ ابھی تو آپ منشی الٰہی بخش صاحب کو خواب میں بتا رہے تھے اور اب ان کو ملہم کہہ کر ان کے الہامات کے قائل ہوتے ہو۔ الہامات کا مسئلہ قدیم سے اسلام میں یہی چلا آتا ہے کہ سواء انبیاء علیہم السلام کے الہام کے باقی سب کے سب ظنی ہونے کے سبب کسی پر حجت و دلیل شرعی نہیں ہیں۔ ہر چند کہ غریب مسلمان متقیان غلبہ عبودیت و مسکنت والوں کے الہامات سچے ہوتے ہیں۔ جیسا کہ منشی الٰہی بخش صاحب کے الہامات کہ کیسے اصلی اور صحیح حالات مرزا قادیانی کے ان سے ظاہر ہوئے۔ لیکن پھر بھی وہ الہامات سے شیخی تعلی و تفاخر میں نہیں آتے اور ان پر غرّہ نہیں ہوتے اور سوائے احکامات و اتباع شریعت و سبیل المؤمنین کے دوسری طرف التفات نہیں کرتے اور یہی تعلیم و روش سید الاولین والآخرین وسلف صالحین کی تھی کہ باوجود انعامات بیکراں و وعدہ ہائے رحمت فراوان اللہ تعالیٰ عزوجل کے اور سرداری دنیا و دین کے ہمیشہ مسکنت و عبودیت میں رہ کر ’’اللهم انت ربى لا اله الا انت خلقتنی وانا عبدك وانا على عهدك ووعدك ما استطعت اعوذ بك من شر ما صنعت ابوء لك بنعمتك على وابوء بذنبي فاغفرلى فانه لا يغفر الذنوب الا انت “ کا ورد ١٣٦

١٧١ فرماتے ہیں۔ سبحان اللہ ! کیسی اعلیٰ و ارفع و اولیٰ تعلیم و نسبت والہامات پر نازاں و غرّہ ہونا جامہ سے باہر ہو کر کم حوصلہ کمینوں کا ہے۔ یہ سب ناواقفان تصوف کم ظرف اور اوچھوں کا طریق لہٰذا مؤمنین اس کو پسند نہیں کرتے۔ منشی الٰہی بخش بھی اپنے کو ان کا آنحضرت ﷺ کی پاک اور مبارک تعلیم کی پیروی واعتراف قصور نفس پر عمل درآمد ہے۔ برخلاف اس کے جو کہ مخالف ہو کر اپنے الہامات کو قطعی یقینی کہہ کر خلاف ہدایات اسلاف اور باتباع ہواء و ہوس ونفس امارہ کوئی نئی راہ نکالتا ہے۔ وہ اپنا ساختہ پرداختہ برباد کرتا ہے۔ جیسا کہ مرزا قادیانی کی اگر بصیرت ظاہری و باطنی درست ہوتی اور اس مسئلہ کو سوچتا اور سمجھ کر چلنے سے کیسا برا حال ہوا کہ جس چیز کو مقابلہ پر اپنے صدق کے خلاف ظاہر ہو کر اس کے کاذب ہونے پر دلیل ہو گئی۔ لیکن جس پر یہ وعید ”فمن لم يجعل الله له نوراً فماله من نور “ تا وقتیکہ اپنی سرکشی سے رجوع اور توبہ نہ کرے۔ بالآخر منشی الٰہی بخش بیان و ظاہر کرنے والے نہیں۔ یہ سب کچھ مرزا قادیانی کا ہے۔ منشی صاحب موصوف کا اس میں کچھ واسطہ نہیں۔

اعتراض ....... ”اگر اس کی کچھ قبولیت ہوتی اور قلوب میں اس کی وقعت ہوتی معلوم ہوتا ہے کہ یہ کتاب ایک بے حیثیت محض ثابت ہوئی ہے اس لئے اس کو “ تردید ...... استغفر اللہ ! اتنا بڑا سفید جھوٹ۔ بھلا آپ کو کیسے معلوم ہو۔ اندھا معذور، پرخوری اور شکم پروری کا یہ حال کہ مرزا قادیانی کے بموجب بصارت کا یہ حال کہ عینک لگائے بغیر راستہ بھی نہیں سوجھتا اور موتیا بند سے اندھے تو کیونکر معلوم ہو گیا کہ کتاب عصائے موسیٰ بے حیثیت ثابت ہوئی ہے تو پھر آپ کو کیا مصیبت پڑی کہ ہر وقت واویلا و مصیبت کرنے کے لئے اس جان کنی اور محنت سے مضامین واشتہارات اصل بات یہ ہے کہ آپ مسیح الدجال سے ایسے رنگ گئے ہیں کہ بہتان بندی بے باکانہ دشنام دہی سے کچھ بھی پرہیز نہیں کرتے ١٣٧

صفحہ ١٧١

فرماتے ہیں۔ سبحان اللہ ! کیسی اعلیٰ و ارفع و اولیٰ تعلیم ونسبت ہے۔ اپنے ذرا سے حالات کشوف والہامات پر نازاں و مغرور ہونا جامہ سے باہر ہوکر کم حوصلہ کمینوں کی طرح دوسری مخلوق الٰہی کو برا بھلا کہنا۔ یہ سب ناواقفان تصوف کم ظرف اور اوچھوں کا طریق ہے۔ اہل اللہ کا طریق ہرگز نہیں۔ لہٰذا مومنین اس کو پسند نہیں کرتے۔ منشی الٰہی بخش بھی اپنے کو کچھ نہیں بناتے اور نہ بننا چاہتے ہیں۔ ان کا آنحضرت ﷺ کی پاک اور مبارک تعلیم کی پیروی میں اسی طریق عبودیت ومسکنیت واعتراف قصور نفس پر عمل درآمد ہے۔ برخلاف اس کے جو کوئی اس مسئلہ وطریقہ مسلمہ اسلامی کے مخالف ہوکر اپنے الہامات کو قطعی یقینی کہہ کر خلاف ہدایات اسلام وغیر سبیل المومنین چلتا اور کچھ بنتا اور باتباع ہوا و ہوس ونفس امارہ کوئی نئی راہ نکالتا ہے۔ وہ خود اپنی مٹی پلید اور اپنا سب ساختہ پرداختہ برباد کرتا ہے۔ جیسا کہ مرزا قادیانی اور اس کے فدائی معترض کا حال ہوا۔ کاش معترض کی بصیرت ظاہری وباطنی درست ہوتی اور اس مسئلہ کو سوچتا اور سمجھتا کہ مرزا قادیانی کا غیر سبیل المومنین چلنے سے کیسا برا حال ہوا کہ جس چیز کو مقابلہ پر اپنے صدق وکذب کا معیار مقرر کیا وہی اس کے مخالف ظاہر ہوکر اس کے کاذب ہونے پر دلیل ہوگئی۔ لیکن جو اپنی ضد اور جہالت پر اصرار سے جما رہے وہ وعید ”فمن لم يجعل الله له نوراً فماله من نور“ اور ”نوله ما تولیٰ“ کے نیچے ہے تا وقتیکہ اپنی سرکشی سے رجوع اور توبہ نہ کرے۔ بالآخر منشی الٰہی بخش صاحب ہرگز اپنے الہامات کسی سے بیان وظاہر کرنے والے نہیں۔ یہ سب کچھ مرزا قادیانی نے قسمیں دے کر اصرار سے کروایا ہے۔ منشی صاحب موصوف کا اس میں کچھ واسطہ نہیں۔

اعتراض ...... ”اگر اس کی کچھ قبولیت ہوتی اور قلوب میں اس کا کوئی وزن ہوتا۔ مگر تجربہ بتا رہا ہے کہ یہ کتاب ایک بے حیثیت محض ثابت ہوئی ہے اس لئے اس کا عدم وجود برابر ہے۔“

تردید ...... استغفر اللہ ! اتنا بڑا سفید جھوٹ۔ بھلا آپ کو کیونکر معلوم ہوا؟ چلتے پھرنے سے آپ معذور، پرخوری اور شکم پروری کا یہ حال کہ مرزا قادیانی کے دسترخوان سے آپ ہلتے ہی نہیں، نظر کا یہ حال کہ عینک لگائے بغیر راستہ بھی نہیں سوجھتا اور موتے ہوئے دھار بھی نظر نہیں آتی۔ پھر آپ کو کیونکر معلوم ہو گیا کہ کتاب عصائے موسیٰ بے حیثیت ثابت ہوئی ہے؟ اور اگر بفرض محال یہی بات ہے تو پھر آپ کو کیا مصیبت پڑی کہ ہر وقت واویلا و مصیبتا پکارتے اور عصائے موسیٰ کا اثر دور کرنے کے لئے اس جان کنی اور محنت سے مضامین واشتہارات آئے دن شائع کرتے رہتے ہو۔

اصل بات یہ ہے کہ آپ مسیح الدجال سے ایسے متاثر و مرعوب ہوگئے ہیں کہ دروغ گوئی بہتان بندی بے باکانہ دشنام دہی سے کچھ بھی پرہیز نہیں۔ سنو! اہل طریق کی خداوند تعالیٰ کی

١٣٧

صفحہ ١٧٣

عنایت سے یہاں تک دنیا میں قبولیت ہوئی ہے کہ چھ سو سے زیادہ نسخے ممالک دور دراز تک شائع ہو چکے ہیں اور درخواستیں آ رہی ہیں اور غالباً چند ماہ کے اندر ہی اس کا دوسرا ایڈیشن نکلے گا۔ ذرہ ضمیمہ اخبار شحنہ ہند میرٹھ ہی کو دیکھئے۔ کس قدر لوگ حقیقت حال اور دجالی سلسلہ مرزائیہ سے واقف ہو کر اپنی بیزاری اور نفرت کے اعلان دے رہے ہیں۔ یہی وہی کتاب ہے جس کے ملکی اخبارات میں ہمارے ملک کے اہل علم اور منصف مزاج اہل اسلام نہایت خوبی اور متانت سے تبصرے اور ریویو لکھ رہے ہیں اور باوجود یکہ آپ نے بھی اپنے اشتہار کے ص ٦ میں خود اقرار واعتراف کیا ہے۔ پھر بھی آپ کی رگ جاہلیت جوش میں آ گئی ہے اور اس کتاب کو بے حیثیت بنا کر اس کا عدم وجود برابر کہتے ہو۔ افسوس ہے کہ فضلہ خوری پر ایمان کو بیچ دیا۔

اعتراض ...... ’’اسلام اور قوم کو اس سے یہ نقصان پہنچا ہے کہ عظیم الشان طریق کے خلاف چلتی اور اس حق کی نسبت کفر بکتی ہے جو خدا نے صدیوں کے بعد اسلام اور مسلمانوں کے لئے تیار کیا جس پر آج ان کے دین و ایمان کی فلاح و صلاح موقوف ہے اور پھر اس طریق کا انکار کر کے خود اپنی طرف سے کوئی راہ ان کے لئے تیار نہیں کرتی ۔‘‘

تردید ...... ابھی تو آپ نے کہا ہے (اعتراض ١٣) کہ اس کتاب کی کچھ قبولیت اور قلوب میں کوئی وزن نہیں اور یہ کتاب بے حیثیت محض اور اس کا عدم و وجود برابر ہے۔ تو پھر اس نے نقصان کس طرح پہنچایا۔ کچھ تو حواس درست رکھ کر اور آنکھ کھول کر لکھا کرو کیا بالکل کان من الکافرین ہی ہو گئے۔ ایک آنکھ پشم ہوتے ہی ایمان کی آنکھ بھی چوپٹ ہو گئی۔ قادیانی جماعت کا بد اعتقادی اور ناواقفی کے باعث ایسا کچا ایمان ہے کہ ذرا سی بات میں ان کے خود تراشیدہ مذہب کو نقصان پہنچتا ہے اور پاش پاش ہو جاتا ہے اور چونکہ ان کو بدقسمتی سے اس قدر عرصہ تک حق اور اسلام کا پتہ نہیں لگا۔ اسلئے بے بصیرۃ معترض کہتا ہے کہ یہ حق صدیوں کے بعد اسلام اور مسلمانوں کے لئے تیار ہوا۔ افسوس ہے کہ بیچارہ ہر طرح معذور ہے۔ ادھر مسلمان بھی سچے اور بالکل حق پر ہیں کہ اسلام کو ابتداء ہی سے سراسر حق، کامل مکمل اور مضبوط مانتے ہیں اور جانتے ہیں کہ اگر کوئی خودغرض بندہ نفس اسلامی مسائل و طریق کو الٹ پلٹ کرنے میں کیسا ہی کفر بکے اور کیسے ہی حیلے حوالے کرے۔ مگر دین اسلام کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا۔ بلکہ اپنی ہی خرابی و بربادی کرے گا۔

مہ نور میفشاند سگ بانگ میزند

دین و دنیا کی صلاح و فلاح ابتداء ہی سے اسلامی تعلیم اسلام میں موجود ہے۔ لیکن مرزا قادیانی اور اس کے مریدوں نے دین اسلام کو بالائے طاق رکھ کر حیلہ و حوالہ، دغا و فریب سے

١٣٨

ناواقف لوگوں سے روپیہ بٹور کر اپنا دین برباد کر کے دیـ چند اپاہج، محنت و مشقت سے بھاگ کر قادیان میں دھـ ایسے ہی چند آزاد خیال والے (جنہوں نے دین ۔ طریق اسلام پردہ مستورات وغیرہ بد مذاقی و قلت عصـ لئے یہ سامان فلاح و سرور ہوا ہے کہ اسلامی پردہ و ستر سیر باغ وغیرہ حاصل ہے۔ جس کا کچھ ذکر پیسہ اخبـ ہے اور جو کوئی خیر خواہی اور نصیحت سے ان کے طریقـ کا ان کو بتا دے تو اس کا نا فہمی سے مخالف نفس جان کـ اس کو دانت دکھاتے ہیں۔

- چونکہ فانی اور چند روزہ فلاح اور عیش و نـ پس یہ چند روزہ فلاح یا خوش گذرانی مرزا اور اس مسلمانوں کو خدا تعالیٰ ایسے حیلے حوالوں کے ساتھ لفـ رکھے۔ (باقی آئندہ)

الحکم کے ایڈیٹر صاحب اکثر اوقات لمبی ا آج اس قدر اشخاص نے مرزا قادیانی سے بیعت کی ا

کھول دی ہے کہ وہی نام چالا کی سے ردو بدل کر کے

روز کے بعد بیعت کو طلاق دے دیتے ہیں۔ ان کـ لاہوری اخبار میں ایک شخص کا حال چھپا ہے جو چند ر ہری ہری دوب چرتا رہا اور پھر کان دبا کر اور دم اٹھا کـ پیچھے چھوڑ بھاگ نکلا اور خود کہا کہ مرزا اور مرزائیوں نے اس کا حال شائع نہ کیا۔ کیوں شائع کرتا۔ جزپـ ہیں۔ ان کا نام شائع کرنے سے ناک منار سے لـ وہ بعد میں کند استرے سے ریتی جاتی ہے۔ مگر مرزا

١٣٩

صفحہ ١٧٣

ناواقف لوگوں سے روپیہ بٹور کر اپنا دین برباد کر کے دینوی فلاح کا البتہ ایسا سامان بنا لیا ہے کہ چند اپاہج، محنت ومشقت سے بھاگ کر قادیان میں دھونی رمائے خوش گزران کر رہے ہیں اور ایسے ہی چند آزاد خیال والے (جنہوں نے دین سے فارغ خطی حاصل کر لی ہے) جن کو طریق اسلام پردہ مستورات وغیرہ بدمذاقی وقلت عصمت وعفت کے سبب ناگوار تھا۔ ان کے لئے یہ سامان فلاح وسرور ہوا ہے کہ اسلامی پردہ وستر کو خیر باد کہہ کر خوب آزادی سے صبح وشام سیر باغ وغیرہ حاصل ہے۔ جس کا کچھ ذکر پیسہ اخبار مورخہ ١٦؍نومبر ١٩٠٦ء ص ١٠ پر مذکور ہوا ہے اور جو کوئی خیر خواہی اور نصیحت سے ان کے طریق عمل کے مخالف کوئی مسئلہ قرآن وحدیث کا ان کو بتا دے تو اس کو نا فہمی سے مخالف نفس جان کر۔ ناصح مذکور کی طرف گھورتے غراتے اور اس کو دانت دکھاتے ہیں۔

چونکہ فانی اور چند روزہ فلاح اور عیش دنیوی کبھی نقصان اور مصائب سے خالی نہیں۔ پس یہ چند روزہ فلاح یا خوش گزرانی مرزا اور اس کے چند عام مریدوں کو مبارک رہے اور مسلمانوں کو خدا تعالیٰ ایسے حیلے حوالوں کے ساتھ لقمہ حاصل کرنے سے اپنے حفظ وامان میں رکھے۔ (باقی آئندہ)

٥....... اخبار الحکم کی ایمانداری

الحکم کے ایڈیٹر صاحب اکثر اوقات لمبی چوڑی مصنوعی فہرست چھاپتے رہتے ہیں کہ آج اس قدر اشخاص نے مرزا قادیانی سے بیعت کی اور کل اتنے حضرات نے۔ اول....... تو اس شیطان کی آنت کی حقیقت ہمارے لاہوری نامہ نگار نے ضمیمے میں اچھی طرح کھول دی ہے کہ وہی نام چالاکی سے ردو بدل کر کے مکرر سہ کرر چھاپ دیئے جاتے ہیں۔ دوم....... اگر ایڈیٹر صاحب سچے ہیں تو جولوگ مرزا اور مرزائیوں کے دام فریب میں آکر چند روز کے بعد بیعت کو طلاق دے دیتے ہیں۔ ان کے اسماء الحکم میں کیوں نہیں چھاپتے۔ ابھی ابھی لاہوری اخبار میں ایک شخص کا حال چھپا ہے جو چند روز مرزا قادیانی کا سبز باغ دیکھ کر قادیان میں ہری ہری دوب چرتا رہا اور پھر کان دبا کر اور دم اٹھا کر خران ودجال کے طویلے سے پٹا توڑا آگے دوڑ پیچھے چھوڑ بھاگ نکلا اور خود کہا کہ مرزا اور مرزائیوں کے لئے صرف لید چھوڑ گیا۔ الحکم کے ایڈیٹر نے اس کا حال شائع نہ کیا۔ کیوں شائع کرتا۔ جڑ پیڑ سے ناک کٹی ہے۔ ہاں جو الو دام میں پھنستے ہیں۔ ان کا نام شائع کرنے سے ناک منارے سے بھی کئی بانس اونچی ہوجاتی ہے اور یہ خبر نہیں کہ وہ بعد میں کند استرے سے ریتی جاتی ہے۔ مگر مرزا قادیانی کو اس کی کیا شرم اور کیا خوف۔ برسات

١٣٩

صفحہ ١٧٤

میں گیاہ خودرو کی طرح اگ پڑا کرتی ہے۔ یوں سمجھئے کہ مرزائی تھیٹر کا تماشا دیکھنے کو ہمیشہ لوگ آتے ہیں۔ ٹکٹ کے دام دیئے تماشا دیکھا اور رخصت ہوگئے۔ بس یہی تانتا بندھا رہتا ہے۔ پھر اس پر مرزا قادیانی کا وہ فخر اور مرزائیوں کی وہ بکر کود کہ کچھ نہ پوچھئے۔ جو لوگ چند روز کے بعد قادیان سے چمپت ہو جاتے ہیں اور پھر مرزائی طلسم کا تاروپود اخباروں میں کھولتے ہیں تو الحکم اس کالک کو مرزا قادیانی کے چہرہ سے یوں مٹاتا ہے کہ ان میں کوئی شیطانی رگ ہوتی ہے۔ اس کی حقیقت ہمارے شفیق مکرم مولوی عبدالعزیز صاحب نمبردار ورئیس بٹالے نے نہ صرف ضمیمے میں بلکہ بعض دوسرے اخباروں میں بھی اس طرح کھولی ہے کہ مرزا اور مرزائیوں کا جی ہی جانتا ہوگا۔ مگر شرم کی چڑیا تو قادیان میں پھٹکنے بھی نہیں پاتی اور نہ وہ اس کو پالتے ہیں۔ ذرا دیکھتے جائیے چند روز میں کیا ہوتا ہے۔

الحکم مطبوعہ ٣؍اپریل میں لکھا ہے کہ ضمیمہ شحنہ ہند کے شائع ہونے سے ہماری جماعت کو اور بھی ترقی ہو رہی ہے۔ جی بجا ہے یہ منہ اور گرم مسالا۔ گزشتہ معتقدین و مریدین تو تھامے نہیں تھمتے اور نئے چیلے وارد ہورہے ہیں۔ آخر ان کو کس کتے نے کاٹا تھا کہ بلاوجہ یوں مفرور ہو جاتے۔ چند چغدوں کے سوا جو دن بھر مکھیاں مارتے اور شب کو چڑیوں کا شکار کرتے ہیں جو شخص مرزاجی سے بیعت کرتا ہے۔ وہ ضرور طالب حق ہوکر آتا ہے پھر چند روز کے بعد اس کا انحراف کیا اس وجہ سے نہیں ہوتا کہ اس پر مرزا قادیانی کے طلسم کا تاروپود کھل جاتا ہے اور کھونٹا اکھاڑ کر گریز پا ہو جاتا ہے۔ اولاً کیسے کیسے خدا پرست خالص لوگ معتقد ہوئے۔ اگر مرزا قادیانی میں خلوص وحقانیت کا کچھ بھی کرشمہ ہوتا تو ایسے لوگوں کا ان سے تبرا ظاہر کرنا غیرممکن تھا۔ الحکم نے کبھی ہمارے اس اعتراض کا معقول جواب نہیں دیا اور نہ دے سکتا ہے۔ انشاء اللہ تعالیٰ! ایڈیٹر!

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

تعارف مضامین ...... ضمیمہ شحنہ ہند میرٹھ

٢٤؍مئی ١٩٠٢ء کے شمارہ نمبر ٢٠ کے مضامین

١٤٠

صفحہ ١٧٥

اسی ترتیب سے پیش خدمت ہیں:

١...... فاعتبروا یا اولی الابصار

ایک شہر میں جو وزیر آباد سے بہت دور نہیں اور جس کا نام اس وقت مصلحت کے باعث ظاہر نہیں کیا جاتا گزشتہ انگریزی مہینے میں جناب مرزا غلام احمد قادیانی کے ایک فدائی مرید کو طاعون نے آلیا۔ بیمار ہوتے ہی مرزائی مذکور نے پیشین گوئی کی کہ میں طاعون سے نہیں مروں گا اور اگر مر گیا تو سمجھ لینا کہ میں مرزا قادیانی کا اخلاص مند مرید نہ تھا اور کوئی شخص میرا جنازہ بھی نہ پڑھے۔ چنانچہ دو تین دن کے اندر ہی عدم آباد کو چلتا ہوا اور بغیر نماز جنازہ پڑھے دفن کیا گیا۔ مر گئے مردود، فاتحہ نہ درود!

ایک مقدس بزرگوار کے پوسٹ کارڈ کی عبارت حسب ذیل ہے۔

کرم فرمائے من جناب مولوی صاحب، السلام علیکم! میں آج جالندھر پہنچا۔ معلوم ہوا کہ آج قبل دو پہر مولوی احمد جان صاحب پینشنر مدرس مرض طاعون سے فوت ہوئے۔ آپ نے چند روز ہوئے آنکھیں بنوائی تھیں۔ پرسوں خزانہ سے پنشن لے کر گئے۔ کل بیمار ہوئے۔ آج داخل بہشت بڑے متقی، دائم الوضو مرزائے (قادیانی) کے حواری میرے قدیم دوست اور غالباً آپ کے بھی دوست ہوں گے۔ نہایت افسوس ہے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون! راقم

نوٹ ...... بیشک میں ان کو اپنا بزرگوار جانتا تھا اور مجھ پر بڑے مہربان تھے۔ مگر جب سے وہ مرزا قادیانی کے مرید ہوئے باہمی خط و کتابت بند ہو گئی۔ خداوند تعالیٰ ان کو اور پس ماندوں کو صبر جلیل عطا فرمادے۔ راقم

جناب مولانا صاحب دام فیوضکم! مرزا قادیانی کا اجتہاد ہے کہ انگریز دجال ہیں اور ریلیں ان کے گدھے ہیں۔ اس پر ہمارے ایک دوست پوچھتے ہیں کہ جس وقت اس گدھے پر خود بذات مرزا قادیانی یا ان کے مرید سوار ہوتے ہیں تو کیا وجہ ہے کہ ان کو اس وقت دجال نہ کہیں۔ پھر کبھی تو مرزا قادیانی انگریزوں کی نسبت ایسے حقارت آمیز الفاظ (دجالے) استعمال کریں اور کبھی ان کی ایسی تعریف کریں کہ خدائی کے مرتبہ تک پہنچا دیں۔ اگر ایسے کاموں کو نفاق سے تعبیر

١٤١

صفحہ ١٧٦

کیا جاوے تو کیا حرج ہے۔ آپ سے اس کا جواب طلب کیا جاتا ہے۔ کیونکہ آپ سے زیادہ اس وقت مرزا قادیانی اور مرزائیوں کا کوئی نبض شناس نہیں۔ راقم : ایک سائل!

٢...... قادیانی اور اس کے چیلوں کے اخلاق حمیدہ

١٠؍ اپریل ١٩٠٢ء کے قادیانی اخبار میں عبدالکریم نے اہل اسلام کے ہر فرقہ اور جماعت اور ان کے پیشواؤں کو پانی پی پی کر کوسا ہے۔ بالخصوص پیسہ اخبار کو تو ایسی بے نقط سنائی ہیں کہ توبہ ہی بھلی۔ دیکھنے کو تو یہ تحریر شیطان کی آنت ہے۔ مگر پڑھ کر دیکھو تو وہی مغلظ گالیاں جو قادیانی کی تعلیم کا مبلغ ہے۔ باوجودیکہ مرض طاعون کا دورہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے وقت سے اب تک چلا آتا ہے اور کل دنیا نے اس غضب الٰہی سے خداوند تعالیٰ سے امان مانگی ہے۔ مگر مرزائی پارٹی اور اس کے لنگڑے امام اس کو ہندوستان میں پھیلتے ہوئے دیکھ کر خوش ہوتے ہیں۔ ارے بے حیاؤ، بے شرمو! اگر کل ملک میں یہ بیماری اپنا عمل دخل کر رہی ہے تو کیا تم خدا کی بادشاہی سے پرے ہو۔ یاد رکھو یہ تمہارے ہی جیسے لوگوں کی کرتوتوں کا عکس ہے جو فریب دے کر ظلم و زور سے سیدھے سادے ناواقف مسلمانوں کو اسلام سے اور حضرت محمد رسول اللہ ﷺ سے برگشتہ کر کے شیطانی جھنڈے کے نیچے لے جانے کی کوشش کرتے ہو۔

کانی بلی نے ’’ فما وجدنا فيها غير بيت من المسلمين ‘‘ کا حوالہ دیا ہے ہم پوچھتے ہیں۔ اگر ’’ ملکوت السموات و الارض ‘‘ تمہارے ہاں ہی رہن ہو چکے ہیں تو پھر جموں اور سیالکوٹ میں سب سے بڑھ کر کیوں اموات ہوئیں۔ حالانکہ ان دونوں شہروں میں بھی زیادہ سے زیادہ مرزائی رہتے ہیں۔ اگر آپ کا مذکورہ بالا آیت پر یقین و ایمان ہے تو کیا لاہور اور امرتسر کے سب مرزائی اصل میں بے ایمان ہیں جن کا کچھ بھی لحاظ نہ ہوگا اور بیماری پھیل جاوے گی۔

ہم نے پیسہ اخبار اور الحکم کی تحریروں کو بالاستیعاب پڑھا۔ مرزائے قادیانی نے سوائے اپنی جماعت کے باقی کل مسلمانوں کو (ناحق و بے موجب) گورنمنٹ انگلشیہ کا باغی اور نمک حرام قرار دیا ہے۔ تاریکی کے فرزند نے تصدیق و تائید میں ناخنوں تک کا زور لگایا ہے۔ مگر خداوند تعالیٰ کا ہزار در ہزار شکر ہے کہ اس نے ایسی رحیم، عادل اور مقدس گورنمنٹ کا سایہ ہم رعایا پر مبسوط کیا ہے کہ ہر معاملہ میں بھال کی کھال نکالتی ہے۔ اگر معاذ اللہ گورنمنٹ انگلشیہ سکھوں یا محمد شاہ رنگیلے جیسی گورنمنٹ ہوتی تو ہندوستان کے مسلمانوں کا کہاں گزارا تھا۔ وہ خوب جانتی ہے کہ قادیانی کن وجوہ سے وفادار اور نمک حلال رعایا کی طرف سے اس کو بدظن کرنا چاہتا ہے۔ پیسہ اخبار نے جو

١٤٢

صفحہ ١٧٧

ایک راست باز اور ایماندار اخبار ہے۔ اپنے فرض منصبی کو ہاتھ سے نہ جانے دیا اور صاف صاف لکھ دیا کہ مرزائے قادیانی کی اصلی غرض مسلمانوں کو جہاد کا ملزم بنانے کی یہ ہے کہ خود اس کو گورنمنٹ سے خطاب ملے۔ ہمارے اکثر ہندوستانی اور پنجابی بھائیوں کا یہ ایک بنا بنایا قاعدہ ہے کہ اپنے نفع میں دوسروں کا نقصان چاہتے ہیں۔

پس مرزا قادیانی کو بھی اپنی جماعت بنانے اور خود اس کا سلطان بننے میں عرصہ دراز سے یہی شوق ہے وہ اپنے الہامات میں بتاتے ہیں کہ جو شخص میری جماعت سے دور رہے گا وہ جہنمی اور قابل قتل ہوگا۔ گورنمنٹ سے تو یہ کہتا ہے کہ میں جہاد کے خلاف ہوں اور خود نہ صرف مسلمانوں کو بلکہ امام الزمان بن کر ساری دنیا کو گردن زدنی بتاتا ہے۔ یعنی جو شخص مرزا قادیانی پر ایمان نہ لائے وہ جہنمی اور گردن زدنی ہے۔ کیا گورنمنٹ ایسی چالیں نہیں سمجھتی۔ مرزا قادیانی اپنی پالیسی کو چھپانے کے لئے کبھی کبھی گورنمنٹ کی تعریف بھی کر دیتے ہیں۔ مگر ہاتھی کے دانت کھانے کے اور ہوتے ہیں اور دکھانے کے اور۔ بابا نانک صاحب نے جو صوفیانہ خیالات اپنے وقت میں لوگوں کے دلوں میں جمائے تھے ان کو کون نہیں جانتا۔ مگر بمرور زمانہ ان کی پولیٹیکل طاقت کا جوش میں آ جانا کس پر ظاہر نہیں۔ مرزائی جماعت کے بہت کم ممبر ایسے ہوں گے جو ہمارے تجربہ اور مشاہدہ میں نہ آئے ہوں جن سے سابقہ پڑا وہ جہل مرکب میں مبتلا پائے گئے۔ گالیاں دینے اور لڑنے جھگڑنے میں ایسے مشاق اور بہادر کہ گویا زال کے فرزند ہیں۔ روحانی برکتوں اور خدا ترسی سے تو یہ گروہ بالکل نابلد ہیں۔ کوئی نہ بتا سکے گا کہ قومی ہمدردی یا انسانی بہبودی کا ادنیٰ سے ادنیٰ کام بھی ان سے ظاہر ہوا ہو۔ اردو علم ادب جس کو مسلمان قوم بالخصوص سرسید مرحوم نے اپنے نفوس قدسیہ کی برکت سے پاکیزہ فقروں، مہذب لفظوں اور شستہ و رنگین عبارات، معنی خیز جملوں سے آراستہ و پیراستہ کر دکھایا ہے۔ مرزا قادیانی اور مرزائیوں نے اس میں ایسی گندی اور مغلظ گالیاں بھر دی ہیں کہ الامان (دیکھو تصنیفات قادیانی) ہم پہلے بھی بار ہا لکھ چکے ہیں کہ اگر دشنام دہی کی سند لینا ہو تو مرزا قادیانی کی کتابوں سے لے۔ کوئی فرشتہ سیرت صوفی مسلمان کوئی نیک بخت عالم باعمل مومن، کوئی پارسا زاہد، کوئی عیسائی، یہودی، برہمو، آریا، سکھ وغیرہ صفحہ زمین پر شاید ایسا رہ گیا ہو جس پر گالیوں کے ریلے مرزائی گروہ کے بانی مبانی نے نہ چلائے ہوں۔ ظاہر ہے کہ جن مریدوں کو اپنے مرشد کے ساتھ زیادہ تر تقرب ہوتا ہے وہ اس کے خصائل سے زیادہ سے زیادہ بہرہ یاب ہوتے ہیں۔ پس اگر میاں عبدالکریم قادیانی جن کا ہم کئی دفعہ پبلک سے انٹروڈیوس کرا چکے ہیں۔ پیسہ اخبار جیسے فرشتہ خصال اور نیک بخت مسلمان کو گالیاں

١٤٣

صفحہ ١٧٩

دے اور دیگر مسلمانوں کو تاریکی کے فرزند لکھے تو اس پر کیا افسوس۔ پس پیسہ اخبار کے ایڈیٹر صاحب کو ایسے لوگوں سے جن کے خصائل اوپر بیان ہوئے اور جو راتبہ داروں اور بلی کتوں کی طرح اپنے مالک کی رکھوالی کا کام دیتے ہیں۔ روشن دلائل کی امید رکھنا ایک خیال خام ہے۔ ہاں اس کا یہ فرض ہے کہ اپنی قدیمی شائستگی اور متانت کے ساتھ اس گروہ کی مکاریوں سے پبلک کو آگاہ کرتا رہے اور اس کا اجر نیک خدا پر چھوڑے۔ راقم: ا۔ د۔ از مقام ک

٣...... وزیرآبادی نامہ نگار کی بربادی

”لعنت اللہ علی الکاذبین“

١٠؍مئی ١٩٠٢ء کے قادیانی اخبار میں وزیرآبادی نامہ نگار کی ایک تحریر دیکھنے میں آئی۔ یہ غالباً وہی صاحب ہیں جن پر ضمیمہ شحنہ ہند مطبوعہ ٨؍نومبر ١٩٠١ء میں چند ایک جمائی گئی تھیں۔ (ضمیمہ ص ١٧٧) اب آپ نے چھ ماہ کے بعد پھر سر اٹھایا ہے اور دروغ بے فروغ کو اپنا قبلہ و کعبہ بنا کر ہم پر افتراء اور بہتان باندھا ہے اور خود علیٰ رؤس الاشہاد روسیاہ بننا چاہا ہے۔ یہ کوئی نئی بات نہیں۔ گالیاں بکنا اور بہتان باندھنا ان لوگوں کا دستورالعمل ہے۔

اصل حقیقت یہ ہے کہ مولوی مراد علی صاحب ایک بزرگ اہل اللہ گوجرانوالہ، جالندھر وغیرہ میں اوّل مدرس عربی فارسی رہ چکے ہیں جن کو پنجاب و ہندوستان کے اکثر احباب بخوبی جانتے ہیں۔ ایک ہی سررشتہ (سررشتہ تعلیم) میں ملازم ہونے کے باعث ہمارے پرانے مہربان ہیں۔ پنشن لے کر اپنے وطن مالوفہ موضع بیگووال (ریاست کپور تھلہ) میں رہتے ہیں۔ ایک فقیر صاحب مرحوم کرم شاہ نامی سے جو اکثر اوقات وزیرآباد گوجرانوالہ وغیرہ شہروں میں پھرتے تھے اور اہل اللہ بزرگ تھے۔ مولوی صاحب نے بہت کچھ روحانی فیض پایا۔ مولوی صاحب کا مدت دراز سے یہ دستورالعمل سنا گیا ہے کہ وہ اپنے محسن و روحانی تربیت کرنے والے کی یاد میں ہر سال ان کی فاتحہ خوانی کے لئے وزیرآباد تشریف لاتے ہیں اور تقریباً چالیس پچاس جیب خاص سے خرچ کر کے فقراء و مساکین و یتامیٰ کو کھانا کھلاتے ہیں اور شہر وزیرآباد کے علماء کو ایک مسجد میں جو ریلوے اسٹیشن کے عین متصل جانب شرق ہے بلوا کر ختم کلام اللہ کراتے ہیں۔ (شاہ صاحب کا مزار وزیرآباد میں نہیں ہے) یہ ایک عمل ہے جس کے حسن و قبح کو یا تو مولوی صاحب موصوف خوب جانتے ہیں یا اکثر علمائے اسلام اور صوفیاء کرام۔

مگر مجھے جب کبھی وزیرآباد جانے کا اتفاق ہوتا ہے تو صرف اپنے قدیمی مہربان حضرت مولوی صاحب موصوف کی برسوں کے بعد ملاقات مدنظر ہوتی ہے۔ چنانچہ یہ عاجز

١٤٤

٣٠؍اپریل ١٩٠٢ء کو بغرض ملاقات مولوی صاحب موصوف میں نے عرض کی ہے کہ ان کو وزیرآباد کے ہزاروں آدمی ب اس کے متعلق وزیرآبادی نامہ نگار قادیانی الحکم کے کالموں کو گندہ کیا ہے۔ سنئے!

تعظیم ایک کوٹھری شفاخانہ کے تشریف لائے۔“

میں کرنے نہ دی۔ اس لئے ایک دوسرے قبرستان میں اور شفاخانہ کے قریب ہے میاں امام الدین گجراتی نے پکا کرا دیا گیا اور ایسی حرکات مشرکانہ ہیں۔“

پہلے فقرہ کی نسبت ہمارا یہ جواب ہے کہ وزیرآباد کے کسی فرد بشر کو بھی اس سے انکار نہ ہوگا۔ کے لئے نہیں گیا۔ نہ کوئی شخص میرے ہمراہ تھا۔ بلکہ مَیں لئے گیا تھا۔ کیسا شفاخانہ اور کیسی کوٹھری کی تعظیم جس مسجد مذکورہ میں رہے۔ نہ کوئی ان میں سے بیمار ہوا نہ پڑی اور اسسٹنٹ سرجن کی بھی آپ نے ایک ہی کہی دیکھی۔ نہ ہم کو معلوم ہے کہ وہ انگریز تھے یا دیسی عیسا بلکہ ایسی بہکی باتوں سے تو یہ ثابت ہوتا ہے کہ پاگل یا ہے۔ آپ کے منہ پر جب وزیرآبادیوں سے راستی وزیرآباد جانے کی اصلی غرض کی تصدیق ہوگی تو اپنی کے سمندر میں ڈبو دے گا۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ چونکہ اس کی قبر کے گنبد (منارہ) کی اینٹیں پک کر تیار ہو رہی سے ہی گور پرستی جوش مار رہی ہے اور جو کرتوت مرزا ہمراہیوں سے تقدیر کو کروانی ہیں اور ان کے جھوٹے شروع کر دیئے ہیں۔ نہ مجھے پیشین گوئی کا دعویٰ ہ مرزا قادیانی کی طرح رمال ہوں۔ مگر تمہارے

٤٥

صفحہ ١٧٩

٣٠؍ اپریل ١٩٠٢ء کو بغرض ملاقات مولوی صاحب موصوف مذکورہ بالا مسجد میں حاضر ہوا۔ جو باتیں میں نے عرض کی ہیں ان کو وزیر آباد کے ہزاروں آدمی اپنی آنکھوں سے دیکھ چکے ہیں۔ اس کے متعلق وزیر آبادی نامہ نگار قادیانی کا چشم دید واقعہ (سفید جھوٹ) جس نے الحکم کے کالموں کو گندہ کیا ہے۔ سنئے!

تعظیم ایک کوٹھری شفاخانہ کے تشریف لائے۔“

میں کرنے نہ دی۔ اس لئے ایک دوسرے قبرستان میں جو حافظ مغنی صاحب کے نام سے مشہور ہے اور شفاخانہ کے قریب ہے میاں امام الدین گجراتی نے معہ اپنے رفقاء کے اپنی رسم عرس کھانا وغیرہ پکا کر ادا کی اور ایسی حرکات مشرکانہ کیں۔“

پہلے فقرہ کی نسبت ہمارا یہ جواب ہے کہ حضرت یہ آپ کا ایسا سفید جھوٹ ہے کہ وزیر آباد کے کسی فرد بشر کو بھی اس سے انکار نہ ہوگا۔ میں ہرگز ہرگز کسی شفاخانہ کی کوٹھری کی تعظیم کے لئے نہیں گیا۔ نہ کوئی شخص میرے ہمراہ تھا۔ بلکہ میں تنہا صرف مولوی صاحب کی ملاقات کے لئے گیا تھا۔ کیسا شفاخانہ اور کیسی کوٹھری کی تعظیم جس قدر آدمی ٣٠؍ اپریل ١٩٠٢ء کو رات اور دن مسجد مذکورہ میں رہے۔ نہ کوئی ان میں سے بیمار ہوا نہ کسی کو وہاں سے کسی اور جگہ جانے کی ضرورت پڑی اور اسسٹنٹ سرجن کی بھی آپ نے ایک ہی کہی۔ ہم میں سے کسی نے اس کی شکل بھی نہیں دیکھی۔ نہ ہم کو معلوم ہے کہ وہ انگریز تھے یا دیسی عیسائی یا ہندو یا مسلمان یا سکھ آریا برہمو وغیرہ۔ بلکہ ایسی بہکی باتوں سے تو یہ ثابت ہوتا ہے کہ پاگل پن اور جنون نے ہمارے نامہ نگار کا گھر دیکھ لیا ہے۔ آپ کے منہ پر جب وزیر آبادیوں سے راستی اور صداقت کے طمانچے لگیں گے اور ہماری وزیر آباد جانے کی اصلی غرض کی تصدیق ہوگی تو اپنی کرتوتوں کی آرسی یا آئینہ آپ کو خود بخود شرم کے سمندر میں ڈبو دے گا۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ چونکہ اب مرزا گور میں پاؤں لٹکائے بیٹھا ہے اور اس کی قبر کے گنبد (منارہ) کی اینٹیں پک کر تیار ہو رہی ہیں تو وزیر آبادی نامہ نگار کے سینہ میں پہلے سے ہی گور پرستی جوش مار رہی ہے اور جو کرتوت مرزا قادیانی کی وفات کے بعد نامہ نگار اور اس کے ہمراہیوں سے تقدیر کو کروانی ہیں اور ان کے جھوٹے اور بیجا الزام پہلے سے ہی لوگوں پر وارد کرنے شروع کر دیئے ہیں۔ نہ مجھے پیشین گوئی کا دعویٰ ہے۔ نہ نجومی کی پوتھی اپنے ساتھ رکھتا ہوں۔ نہ مرزا قادیانی کی طرح رمال ہوں۔ مگر تمہارے کرتوتوں کو دیکھ کر صاف کہتا ہوں کہ مرزائی

١٤٥

صفحہ ١٨٠

جماعت کے بہت سے ممبر گور پرستی کریں گے اور آپ تو عجیب نہیں کہ دن بھر میں کئی دفعہ مرزا قادیانی کی قبر پر سیاپا بھی کیا کریں۔ اس لئے گور پرستی مذہب مرزا میں مدت سے شروع بھی ہو چکی ہے۔ تصویر پرستی اور گور پرستی میں کیا فرق ہے؟ اکثر مرزائی لوگ بے وضو قرآن شریف کو ہاتھ لگا لیں۔ مگر مرزا قادیانی کی تصویر کو نہ لگائیں ۔ علی الصبح بستر خواب سے اٹھ کر ایک مشتنڈے ساٹھے پٹھے کی تصویر اپنی بہو بیٹیوں اور عورتوں کو دکھانا کیا بت پرستی اور دیوثی نہیں؟

الانبیاء ﷺ کی پاک تعلیم کو پس پشت ڈال کر کہاں تک نوبت پہنچ گئی ہے۔“

”نامہ نگار صاحب“ آپ سینکڑوں وزیر آبادیوں سے پوچھ کر اپنی تسلی کر لیں۔ حاطب اللیل نہ بنیں کہ مسجد موصوفہ میں نہایت خضوع اور خشوع کے ساتھ نمازیں ہوتی رہیں ۔ ”لله فی الله“ کھانا مساکین فقراء یتامیٰ وغیرہ کو تقسیم ہوا تمام دن قرآن مجید کی آیات کے معانی اور مطالب پر تدبر ہوتا رہا۔ عصر کے وقت ختم قرآن مجید ہوا۔ رات کے وقت لوگ علاوہ معمولی نمازوں کے تہجد پڑھتے اور خداوند تعالیٰ کی پاک درگاہ میں گڑ گڑا کر دعائیں مانگتے رہے۔ اگر یہ کام آنحضرت ﷺ کے منافی ہے تو اپنی قسمت کو روؤں کیوں۔ جناب! ان کاموں کا نام تو آنحضرت ﷺ کی تعلیم کو پس پشت پھینکنا ہے۔ مگر جھوٹی پیشین گوئیاں کرنا ۔ انبیاء علیہم السلام کی شان میں برے الفاظ بکنا۔ لغو اور بیہودہ الہامات جن کی نہ عبارت درست نہ مضمون قرآن شریف کے مطابق ہے بیان کرنا۔ افتراء اور فریب سے لوگوں کا مال اینٹھنا جس سے اپنی عورتوں کو سونے کے جڑاؤ زیورات پہنانا اور خود بذات یاقوتیوں اور بادام روغن میں دم کئے ہوئے پلاؤ اڑا کر شہوت رانی کرنا۔ مسیح علیہ السلام سے اپنی ذات کو برتر بتانا۔ تناسخ کے مسئلہ کو ترویج دے کر آنحضرت ﷺ کی تتبع اور پیروی ہے۔ اگر اسی کا نام اسلام ہے تو ایسے اسلام کو سلام ہے۔

گر مسلمانی ہمیں است کہ مرزا دارد
وائے گر پس امروز بود فردائے

آپ کے مرشد مرزا قادیانی نے جب سے نیا پنتھ نکالا ہے اور رسول اللہ ﷺ کے اتباع سے بیزار ہو کر۔ (بعد ختم نبوت) رسالت کا دعویٰ کیا ہے۔ اپنی جماعت کو دیگر مسلمانوں کے نماز روزہ، جمعہ جماعت ، رشتہ ناطہ وغیرہ سے علیحدہ کر دیا ہے۔ بلکہ آپ لوگوں کے نزدیک عیسائی، یہودی، سکھ ، آریا برہمو وغیرہ سے بھی تمام مسلمان بدتر ہیں اور مسلمانوں کے ساتھ تمہاری عملی ہمدردی کا یہ حال ہے کہ بر ملا اخباروں میں مضامین نکلتے ہیں کہ تمام مسلمان سرکار انگلشیہ کے ساتھ

١٤٦

صفحہ ١٨١

جہاد کرنا فرض جانتے ہیں اور ہر ایک پہلو سے مسلمانوں کو باغی قرار دیا جاتا ہے اور اگر تمہارا بس چلے تو ایک مسلمان کو بھی زندہ نہ چھوڑو۔ تو پھر معلوم نہیں مسلمان مسلمان کیوں پکارتے ہو۔ ہاں قرآن شریف اور اسلام کی آڑ میں احمقوں کے منہ پر اندھیری ڈال کر ان سے ٹکے سیدھے کرنا تمہاری مشن کی ڈیوٹی ہے۔

وزیر آبادی نامہ نگار ۔ آخر الامر ہم کو ناصحانہ پیرایہ اور واعظانہ طریق سے یوں فرماتے ہیں: ”میاں ا۔د۔گجراتی صاحب کیوں آپ خدا کے مرسلوں کے مخالفوں کا انجام قرآن شریف کے تدبر سے نہیں دیکھتے۔ اپنے خانہ ساز آبائی دین کو چھوڑ دو اور سچا اسلام جس کو خدا تعالیٰ کا برگزیدہ مسیح موعود مہدی (مرزا ملعون) میں ہو کر پیش کرتا ہے۔ قبول کرو۔“

ہم وزیر آبادی کی اس نصیحت کا شکر ادا کرتے ہیں۔ مگر افسوس ہے کہ ہم ان کی آرزو پوری نہیں کر سکتے۔ کیونکہ ہمارے نزدیک قرآن شریف سے بھی ثابت نہ ہوگا کہ بہشت بریں میں داخل شدہ لوگ دوبارہ اس دنیا میں آویں یا کسی ناپاک شخص کی روح افضل الانبیاء آنحضرت ﷺ کے جسم میں (معاذ اللہ) حلول کر سکے۔ ہمارا وہی دین ہے جو قرآن شریف کی پاک تعلیم محمد رسول اللہ ﷺ کی معرفت ہم کو ملا ہے۔ ہمارے باپ دادا بھی اسی مذہب پر تھے۔ اگر ہم بھی آپ کی طرح ایسے ہی جاہل اور کندہ ناتراش ہوتے اور پیر پرستی اور گور پرستی بلکہ تصویر پرستی ہمارے رگ و ریشہ میں آپ کی طرح سمائی ہوتی ۔ شیطان اخس اور حضرت اقدس میں تمیز نہ کر سکتے تو آپ کے ہم سفر ہو جاتے۔ ہم تو خداوند تعالیٰ کو واحد برحق اور ہر قسم کے نفع و نقصان کا اسی کو مالک یقین کرتے ہیں۔

خدا ہم کو حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کا دامن پاک چھڑوا کر کسی شیطانی لشکر میں داخل ہونے کی ہدایت نہ کرے اور قرآن شریف کی آیات کو اپنے مطلب کے مطابق بنانے والوں کا رفیق ہم کو ہرگز نہ بنادے۔ پس مرزا قادیانی کا یہ مخترعہ مذہب آپ کو اور آپ کے ہم خیالوں کو مبارک رہے۔

تو و با شیطان و ما و پاک اسلام
فکر ہر کس بقدر ہمت اوست

(باقی آئندہ) راقم : ا۔د۔گجراتی!

٤....... مرزا قادیانی اب اور معجزہ دکھائیں گے

مرزا قادیانی کے تمام الہامات اور پیش گوئیاں پوری ہو گئیں۔ آتھم ٹھیک میعاد کے اندر آسمانی باپ کے پاس پہنچ گیا۔ لیکھرام مارا گیا۔ آسمانی نکاح ہو گیا اور آسمان پر الہامی عورت

١٤٧

صفحہ ١٨٢

کے بطن سے درجن بھر بچے بھی پیدا ہو چکے جو آسمانی کالج میں تعلیم پاتے ہیں۔ اب امتحان دے کر زمین پر براہ مینارہ اتریں گے۔ صلیب کو توڑ چکے۔ اب کوئی عیسائی دنیا میں صلیب پرست نہ رہا۔ ہند کے تمام علماء بیعت کر چکے۔ اب یورپ وافریقہ پر دھاوا ہے۔ پھر بھی ایک مجلس میں مرزا قادیانی نے سب کو مخاطب کر کے وعدہ کیا ہے کہ اب میں معجزوں کا نمبر مکرر اور سہ کرر بلکہ چہار کرر سلسلہ وار شروع کرتا ہوں۔ خلقت حیران ہو جاوے گی۔ سارے ہندو، مسلمان، عیسائی، یہودی، پارسی میرے معجزے دیکھ کر ایمان لاویں گے۔ پہلا معجزہ یہ ہوگا کہ یکم؍ اپریل ١٩٠٢ء کو عبدالکریم سیالکوٹی جو میرا نفس ناطقہ اور ایک آنکھ سے کانا اور سر سے گنجا اور ایک پیر سے لنگڑا ہے۔ سب عیوب جسمانی سے پاک ہو جاوے گا۔ دوڑ کر چلے گا۔ دور سے ایک کے دو دیکھے گا۔ چندیا کا تانبا چاندی ہو جائے گا۔ ایڑی تک بال بڑھ جاویں گے۔ اگر یہ معجزہ سچ نہ ہو تو میں جھوٹا اور مکار شمار ہوں گا۔ یہ وعدہ ابھی زبانی ہوا ہے۔ شاید اشتہار بھی شائع ہو۔

راقم: مالیری!

٥....... پنجابی رسول کی مالیری امت

پنجابی رسول قادیانی نے اشتہار دیا تھا کہ میرے مرید اور چیلے اگر لنگر خانہ کے واسطے حسب توفیق ماہوار چندہ داخل نہ کریں گے تو میں ان کا نام اپنی لوح محفوظ سے کاٹ دوں گا اور وہ مردود بارگاہ ایں جناب شمار ہوں گے۔ چنانچہ دو چار امتیوں نے تو ہاں، ہوں، کی اور دو چار نے غصہ میں آ کر کہہ دیا کہ اچھا صاحب لو ہمارا کاٹ لو اور کہا کہ یہ بازی گر پہلے تو تماشا دکھاتا ہے اور پھر ڈگڈگی ہاتھ میں لے کر پیسہ کوڑی مانگتا ہے۔ شرم، شرم! پرانے کھیل (الہامات) تو غت ریود ہو گئے۔ اب ڈگڈگی بجا کر پھنک ایک پھنک دو نئے کھیل نئے تماشے شروع ہوں گے اور جھولی بھری جائے گی۔

راقم: مالیری!

٦....... بقیہ کتاب عصائے موسیٰ کے جواب سے مرزائیوں کا عجز

اعتراض ...... ”بلکہ اسی مشرکانہ اور متبدعانہ راہ کی طرف بلاتی ہے۔ جسے درمیانی زمانہ میں سلف صالحین کے خلاف فج اعوج نے تیار کیا۔ یعنی دجال کو خدائی طاقتیں دینا، خونی مہدی یا جوج ماجوج کے متعلق علم صحیح اور تجربہ حقہ اور کلام اللہ کے خلاف تمام بے سروپا قصوں اور فسانوں پر ایمان لانا۔ حضرت مسیح علیہ السلام کو جسم عنصری کے ساتھ زندہ آسمان پر ماننا اور ان کو خالق حی شافی عالم الغیب ماننا اور اس طرح ظلم عظیم۔ یعنی نصرانیت کو مدد اور تقویت دینا اور ثابت کرنا کہ اسلام میں کوئی قوت قدسی نہیں اور دوسرے مذاہب میں اور اس میں کوئی مابہ الامتیاز نہیں اور کوئی مقتدر ہاتھ اس کا محافظ نہیں، وغیرہ۔“

١٤٨

صفحہ ١٨٣

تردید......

ہاں سمندر آہستہ ران ای اعرج ناہوشمند بوالہوس مے تازی و مستی و تاریک است راہ

”نعوذ بالله من هذه الهفوات“ آپ نے ذرہ بھر بھی خوف خدا نہیں کیا اور خر دجال کی جھول پہن کر دھوکا دیا ہے۔ سنو! مشرکانہ اور مبتدعانہ راہ کی طرف تو لوگوں کو مرزا قادیانی بلا رہا ہے جو ہر مسئلہ میں خلاف سلف وخلف صالحین قرآن مجید واحادیث کی خود غرضانہ دور از کار تاویلیں کر کر حرام کے تکے کھا رہا ہے۔ اسی لئے عصائے موسیٰ میں ہر ایک مسئلہ بدلائل قرآن مجید وحدیث شریف مطابق وموافق معتقدات آئمہ دین سلف صالحین رضوان اللہ اجمعین بیان ہو کر مرزائی مبتدعانہ محدثہ مسائل کی قلعی کھولی گئی ہے۔ جس سے آپ مبہوت اور لاجواب ہو کر دجالیت اور کج روی سے سراسر خلاف واقعہ نہایت ظلم وزور سے اپنے زعم میں اس عمدہ کتاب عصائے موسیٰ کا اثر زائل کرنے کے لئے یہ بیہودہ بکواس کر رہے ہیں۔ کچھ تو شرم اور حیا سے کام لو۔ معلوم ہوتا ہے کہ تمہیں روز حساب کا ذرہ بھر بھی خیال نہیں۔ یاد رکھو سلف صالحین کا ہر امر میں خلاف کرنے والے ”فیج اعوج“ کا مجمع آج کل قادیان میں موجود ہے اور معترض منہ پھٹ اور زبان دراز خود فیج اعوج کا نمونہ وتصویر ہے۔ جس کی گفتار رفتار سب کج ہے۔ چلے تو کج، بیٹھے تو کج اور کھڑا ہو تو کج، دیکھے تو کج۔ غرض ہر امر میں اعوجاج اور کجی ہے۔ بقول مولانا شوکت

ابرو بھی کج ہے زلف بھی کج ہے مژہ بھی کج
سرکار حسن میں عمل راستان نہیں

تعجب ہے کہ شیطان میں تو آپ اغوائے بنی آدم کی بہت سی طاقتیں مانتے اور قبول کرتے ہیں۔ لیکن دجال اعور میں وہ طاقتیں جن کا ذکر احادیث میں ہے نہیں مانتے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ اجہل آدمی اپنی طرف نہیں دیکھتا اور جو چیز خود اس کے پاس موجود ہوتی ہے اس کی وہ چنداں قدر و پروا نہیں کرتا۔ لہٰذا وہی شے دوسرے کے پاس موجود ہونے کو اچنبھا نہیں جانتا۔ مہدی علیہ السلام کے بارے میں بہت احادیث ہیں جن پر مسلمانوں کا پکا اعتقاد اور یقین ہے۔ اسی طرح یاجوج ماجوج کا ذکر قرآن مجید واحادیث میں ہے اور ایسا ہی مسیح علیہ السلام کا رفع الیٰ اللہ۔ آیت کریمہ ”وما قتلوه وما صلبوه الخ یقینا“ سے ثابت وظاہر ہے۔ جس پر عمدہ ومفصل بحث متعدد کتب رد مرزا میں ہو چکی ہے اور قرب قیامت میں نزول مسیح علیہ السلام کے بارے میں بہت صحیح احادیث موجود ہیں اور کبار امت سب ان مسائل کے قائل ومعتقد چلے آئے

١٤٩

صفحہ ١٨٥

ہیں۔ چنانچہ ابو ہریرہؓ نزول مسیح علیہ السلام والی حدیث ”لیوشکن ان ینزل فیکم ابن مریم “ الحدیث پڑھ کر قرآن مجید کی آیت کریمہ ”وان من اھل الکتاب الا لیؤمنن بہ قبل موتہ“ استدلال کرکے نزول ثابت کرتے ہیں۔ جیسا کہ بخاری میں ہے۔ لیکن آفرین ہے مرزا قادیانی اور اس کے مریدوں کے عقل و ایمان پر کہ قرآن مجید واحادیث شریف کا انکار کرتے اور اپنے اغراض نفسانی سے سب کو بے سروپا قصے اور فسانے بتاتے اور سلف وخلف صالحین مؤمنین وقائلین نصوص کو معاذ اللہ برا بھلا کہتے ہیں۔ رہا مسیح علیہ السلام میں صفات الٰہی ماننے کا افتراء اور نصرانیہ کو مدد اور تقویت دینے کا بہتان جو مرزا قادیانی اور اس کے مرید دجالی دھوکا دیا کرتے ہیں۔ اس کا جواب اعتراض دوم میں گزر چکا ہے۔ اسلام اور دوسرے مذاہب میں مابہ الامتیاز کی نسبت عصائے موسیٰ میں فصل معجزات وکرامات وذکر اللہ وحالات اولیاء الرحمان جس سے اولیاء الشیطان سے فرق وامتیاز ہوتا ہے ملاحظہ کیجئے تاکہ آپ کو معلوم ہو کہ یہ برکات وقویٰ قدسیہ وانابت الی اللہ کسی دوسرے مذہب میں ہرگز نہیں۔ نہ ایسے ثبوت ودلائل ہیں لیکن مرزا قادیانی کے مرید تو کتاب مذکور کو اپنی کمزوری کے باعث دیکھتے ہی نہیں اور ان میں سے جو دیکھتے اور اصل حال حقیقت سے واقف ہوتے ہیں وہ مرزائی دام سے نکل جاتے ہیں۔

اسلام کا محافظ ایسا مقتدر ہاتھ ہے کہ کبھی کوئی معترض ومخالف اس کا کچھ بگاڑ نہیں سکتا اور نہ آئندہ بگاڑ سکے گا اور اگر حیلہ حوالہ سے بظاہر اسلام کا کوئی خیر خواہ بن کر بھی فریب سے اس کی مخالفت کرے تو فوراً اس کے خدام جن کی شان ”اتقوا فراسة المؤمن “ الحدیث ہے۔ فریبی اور دغاباز مخالف کی ایسی گوشمالی کرتے ہیں کہ یاد کرے نظیر کے لئے آپ اپنا اور مرزا قادیانی کا حال ہی دیکھئے کہ اولاً زبانی خیر خواہ اسلام بنے۔ بعد میں کجروی سے بغاوت اختیار کی تو اس کے پاداش میں آپ لوگوں کی کیسی گت بن رہی ہے اور کیا حال ہورہا ہے۔

اعتراض...... ”اس طرح اس ناشدنی کتاب نے مسلمانوں کو نقصان پہنچایا ہے اور غیر قوموں کو دلیر کیا ہے۔ نصرانیوں کو ان کے کفر میں مدد دی۔ انہیں گستاخی و بدزبانی میں دلیر کیا ۔“

تردید...... جب آپ کے نزدیک یہ کتاب بے حیثیت بے وزن اور اس کا عدم وجود برابر ہے تو اس نے نقصان کس طرح پہنچایا۔ کیا کہنا آپ کی سمجھ ودرایت پر۔ آپ شے اور لاشے کو کیونکر ایک جگہ جمع کرسکتے ہیں۔ یہ عجب ناقص اور کندی منطق ہے اور لکھتے وقت شاید آپ کے ہوش وحواس ہوا کھانے گئے تھے یا جنگل کی گھاس چرنے۔ آپ کو خبر ہی نہیں کہ کیا لکھ گئے اور کیا لکھ رہے ہیں۔

١٥٠

سنو! اسلام اور مسلمانوں کو کوئی نقصان نہیں پہنچا سک... ناواقفوں کو خبردار اور غافلوں کو ہوشیار کر کے ان ... دلائل قرآنی اور براہین احادیث نبوی ﷺ سے اک... نہیں کہ دجالی جماعت کے خودتراشیدہ لغویات وخر... تختے ایک سے ایک الگ ہوکر سمندر میں ڈوب رہ... کرکے چیخنے چلاتے ہیں۔ آپ کا اس واویلا اور... ہے، حکمی ہے۔ (باقی آئندہ)

بسم اللہ الرحم...

تعارف مضامین ......

یکم جون ١٩٠٢ء کے ش...

اسی ترتیب سے پیش خدمت ہیں:

نصرانیوں کو کفر میں مدد دیتی ہے۔... سوچو کہ مسیح علیہ السلام کو صلیب پر چڑھا کر مرہ... محرف انجیل بے سند ان کی نسبت شیطانی الہا... شائع کرکے آپ ان نصرانی مسائل کو مدد دے ... کہ مسیح علیہ السلام کے شان میں بے ادبی وب... کتابیں اور اشتہارات نصرانیوں کی طرف سے... افسوس کہ آپ ایک ہی طرف دیکھتے ہیں۔ یا جا... اعتراض...... (اشتہار ص ٦) ”ان کے اس ا... اور شافی عالم الغیب ہے اور یہ سب کچھ قرآن ...

صفحہ ١٨٥

سنو! اسلام اور مسلمانوں کو کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتا اور اس کتاب نے تو اپنی خدمت اسلامی سے ناواقفوں کو خبردار اور غافلوں کو ہوشیار کر کے ان کے سامنے مرزا قادیانی کی ہر ایک تار عنکبوت کو دلائل قرآنی اور براہین احادیث نبوی ﷺ سے ایک ایک کر کے توڑ دیا۔ البتہ اس میں ذرا شک نہیں کہ دجالی جماعت کے خود تراشیدہ لغویات وخرافات کو سخت صدمہ پہنچا ہے اور قادیانی جہاز کے تختے ایک سے ایک الگ ہو کر سمندر میں ڈوب رہے ہیں۔ جن کے باعث اب دن رات سینہ کوبی کر کے چیخے چلاتے ہیں۔ آپ کا اس واویلا اور دکھلاوے کا کہ کتاب بے حیثیت ہے، بے وزن ہے، نکمی ہے۔ (باقی آئندہ)

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

تعارف مضامین ...... ضمیمہ شحنہ ہند میرٹھ

یکم؍ جون ١٩٠٢ء کے شمارہ نمبر ٢١ کے مضامین

اسی ترتیب سے پیش خدمت ہیں:

١....... بقیہ کتاب عصائے موسیٰ کے جواب سے مرزائیوں کا عجز

نصرانیوں کو کفر میں مدد دیتی ہے۔ پہلے ذکر ہو چکا ہے۔ ذرا گریبان میں منہ ڈال کر سوچو کہ مسیح علیہ السلام کو صلیب پر چڑھا کر مرہم عیسیٰ سے ان کے صلیبی زخموں کو ثابت کرنے اور محرف انجیل بے سند ان کی نسبت شیطانی الہام ہونے۔ اپنے رسالوں میں کج فہمی و بدبختی سے شائع کر کے آپ ان نصرانی مسائل کو مدد دے رہے ہیں یا دوسرے مسلمان؟ کچھ تو شرم وحیا کرو کہ مسیح علیہ السلام کے شان میں بے ادبی و بدزبانی و نیز بک کر خلاف تہذیب پر از سب وشتم کتابیں اور اشتہارات نصرانیوں کی طرف سے آپ کے پیر مرزا نے نکلوائے ہیں یا کسی اور نے؟ افسوس کہ آپ ایک ہی طرف دیکھتے ہیں۔ یا جان بوجھ کر راستی سے منحرف ہوتے ہیں۔

اعتراض...... (اشتہار ص٦) ’’ان کے اس اعتقاد کو کہ مسیح زندہ رسول اور زندہ خدا ہے۔ وہ خالق اور شافی عالم الغیب ہے اور یہ سب کچھ قرآن سے ثابت ہے۔ الٰہی بخش کی کتاب عصائے موسیٰ

١٥١

صفحہ ١٨٧

نے تقویت دی ۔“

تردید ...... لعنت اللہ علی الکاذبین ! اس کا جواب دفعہ بالا میں مفصل ہو چکا ہے۔ معترض میں اگر کچھ بھی بوئے ایمان وانصاف ہے تو ثابت کرے اور پتہ دے کہ مسیح علیہ السلام کا نعوذ باللہ نقل کفر کفر نباشد خدا ہونا کہاں قرآن مجید سے ثابت کیا ہے۔ افسوس بہتان ! افتراء اور محض جھوٹ اور مسلمانوں کو دھوکا دینا قادیانی کا شعار اور دار و مدار ہو رہا ہے۔

اعتراض ...... ”غرض اس کتاب میں یہ کچھ ہے اور یہ فائدہ اس سے قوم کو پہنچا ہے۔ اب اگر یہ بیان حق نہیں تو مصنف صاحب اور ان کے اعوان دلائل سے اس کی تردید کریں اور اس کی خوبیوں کے بیان کرنے میں ایمان اور قلم کے جوہر دکھائیں ۔“

تردید ...... اوّل تو آپ کو نقص بصارۃ و بصیرۃ کے سبب فائدہ اور نقصان سوجھتا ہی نہیں ۔

دوم ...... معذوری کے باعث آپ خوش گزرانی نفس پروری وغیرہ کے سواء دوسرا فائدہ جانتے ہی نہیں ۔

سوم ...... آپ کو بایں حالت درماندگی اور مرزا قادیانی کے حجرہ میں محصور و بند رہنے کے مسلمانوں کی قوم کا کیا حال معلوم ؟ چلنے پھرنے اور سفر کرنے کی آپ کو طاقت نہیں۔ مرزا قادیانی کا دستر خوان چھوڑ کر کہیں دوسری جگہ جانا آپ کو گوارا ہی نہیں ۔ آپ اگر حرکت کر سکیں تو ملک میں جا کر دیکھیں کہ قوم کو کیا فائدہ ہوا ۔

علاوہ بریں عصائے موسیٰ کے جواب سے عاجز ہو کر کچھ بن نہ آنے کے باعث سوائے واویلا مچانے ، کہنے، کچکچانے ، ہاتھ کاٹنے اور دانت پیسنے کے آپ نے کیا کیا ہے؟ جس کی دلائل سے تردید کی جاوے۔ کتاب کے فائدہ کا حال اس سے ظاہر ہے کہ اہل اللہ اہل اسلام صوفیاء عظام ، علمائے کرام و فضلاء ذوی الافہام و دیگر اہل الرائے نے اس کو پسند فرما کر اس کے مضامین طرز تحریر نرمی و متانت عبارۃ وغیرہ کی تعریف میں خطوط لکھے ہیں جو موجود ہیں ۔ چونکہ مصنف کتاب منشی الٰہی بخش مرزا قادیانی کی طرح اوچھی تعلّی شیخی و شہرہ پسند نہیں۔ لہٰذا ان تعریفی خطوط کو اس نے شائع نہیں کیا ۔ ہاں ! اگر آپ ایسے لغو مضامین اور بیہودہ سرائے سے باز نہ آئیں گے تو تعجب نہیں کہ منشی الٰہی بخش بہ صلاح و اصرار دیگر مسلمانان خادمان و خیر خواہان اسلام کے ان سب تعریفی خطوط کو طبع کرا کر شائع کر دیں ۔ لیکن اس وقت آپ اور آپ کی جماعت پر اور مصیبت ہوگی ۔

١٥٢

جب مرتب ہو کے وہ چھپ جائیں گے اب تلک کچھ بن نہیں آیا جواب
زندہ درگور اس گھڑی ہو جاؤ گے ہے اگر کچھ شرم بولو حق کی بات
کر کے توبہ داخل اسلام ہو جس سے حاصل ہو رضا اللہ کی
جو ہوا کونین میں فخر الرسل سید الکونین فخر انبیاء

لیکن مشکل یہ ہے کہ معترض کی ایک چھوٹی ہے۔ باطنی حس نصیب اعداء باعث نیو فیشن کی دلدا ہے۔ اصلی و پرانے فیشن کے اسلام و مسائل سے کجی پ کا فائدہ جس میں دلائل و مسائل وہی پرانے قرآ خیرالقرون والسابقون الاولون من المہاجـ الستار والغفار درج ہیں۔ معترض کو کیونکر پسند ہو ۔ مسائل اور وہی پرانی روش تو عاشقانِ اسلام ہی کو محبوب رسول اللہ اسوۃ حسنۃ “ کے مصداق ہیں اور اگـ دیکھنے کا شوق ہے تو ہفتہ وار ضمیمہ اخبار شحنہ ہند میرٹھ جاوے گا کہ کس قدر مخلوق الٰہی کو عصائے موسیٰ سے فائـ اور مرزا قادیانی سے متنفر ہو کر داخل اسلام ہوئے اور صیـ صاحب ہی کی بدگمانی و بد زبانی و دریدہ دہنی ہوتی ہے۔

اعتراض ...... ”افسوس اس پر فخر کیا جاتا ہے کہ اس کئے ہوئے سلسلہ کو نقصان پہنچایا۔“

تردید ...... یہ مرزائی جماعت کا علم و معرفت ہے اور ہے۔ الٰہی سلسلہ تو دلائل قرآنی و احادیث رسول اللہ باطل اور دجالی سلسلہ بیشک اس کے مقابل نہیں ٹھہر سـ مقابل کفر شرک و بدعت و شیطانی سلسلہ کبھی نہیں ٹھہر سـ

١٥٣

صفحہ ١٨٧
جب مرتب ہو کے وہ چھپ جائیں گے اہل مرزا پر قیامت ڈھائیں گے
اب تلک کچھ بن نہیں آیا جواب ان کے چھپنے پر تو کیا دو گے جواب
زندہ درگور اس گھڑی ہو جاؤ گے ایسی باتوں پر بہت پچھتاؤ گے
ہے اگر کچھ شرم بولو حق کی بات ورنہ بس اب چھوڑ دو یہ لغویات
کر کے توبہ داخل اسلام ہو اور مقبول خواص وعام ہو
جس سے حاصل ہو رضا اللہ کی اور شفاعت اس رسول اللہ کی
جو ہوا کونین میں فخر الرسل رہنمائے امت و ختم رسل
سید الکونین فخر انبیاء رحمت للعالمین بدر الدجا

لیکن مشکل یہ ہے کہ معترض کی ایک پھوٹی ہوئی ہے اس پر بھی بغض وحسد کی پٹی بندھی ہے۔ باطنی حس بصیغہ عدم بباعث نیوفیشن کی دلدادگی ، ملحدانہ اور مرتدانہ خیالات کے مفقود ہے۔ اصلی و پرانے فیشن کے اسلام ومسائل سے گنجی پڑی کو مناسبت نہیں تو پھر اس کو عصائے موسیٰ کا فائدہ جس میں دلائل ومسائل وہی پرانے قرآن مجید وحدیث شریف قدمائے اسلام خیرالقرون والسابقون الاولون من المهاجرين والانصار عليهم رحمته الله الستار والغفار درج ہیں۔ معترض کو کیونکر پسند ہوسکتے ہیں؟ قرآن مجید اور حدیث شریف کے مسائل اور وہی پرانی روش تو عاشقان اسلام ہی کو محبوب ومرغوب ہے جو ”لقد كان لكم فی رسول الله اسوة حسنة“ کے مصداق ہیں اور اگر معترض کو مسلمانوں کے ایمان وقلم کے جوہر دیکھنے کا شوق ہے تو ہفتہ وار ضمیمہ اخبار شحنہ ہند میرٹھ غور سے مطالعہ کرے۔ جس سے معلوم ہو جاوے گا کہ کس قدر مخلوق الٰہی کو عصائے موسیٰ سے فائدہ پہنچا اور کس قدر لوگ بدعقیدگی سے تائب اور مرزا قادیانی سے متنفر ہو کر داخل اسلام ہوئے اور ضمیمہ کی اشاعت واجراء کی محرک بھی واحد العین صاحب ہی کی بدگمانی وبدزبانی ودریدہ دہنی ہوتی ہے۔

اعتراض....... ”افسوس اس پر فخر کیا جاتا ہے کہ اس کتاب نے خدا تعالیٰ کے اپنے ہاتھ سے قائم کئے ہوئے سلسلہ کو نقصان پہنچایا۔“

تردید....... یہ مرزائی جماعت کا علم ومعرفت ہے اور انہیں حقائق ومعارف پر قادیانی گروہ کو ناز ہے۔ الٰہی سلسلہ تو دلائل قرآنی واحادیث رسول اللہ ﷺ سے نہایت مضبوط ومستحکم ہے۔ البتہ باطل اور دجالی سلسلہ بیشک اس کے مقابل نہیں ٹھہر سکتا اور یہ معمولی بات ہے کہ توحید وسنت کے مقابل کفر شرک وبدعت وشیطانی سلسلہ کبھی نہیں ٹھہر سکتا۔ جس طرح آیت الکرسی ’لا الہ الا

١٥٣

صفحہ ١٨٩

اللہ‘‘ اور ’’لا حول و لا قوة الا باللہ‘‘ سے شیطان بھاگ کھڑا ہوتا ہے۔

اعتراض ...... ’’لیکن یہ نہیں بتایا کہ کون سا علمی سلسلہ پیش کیا ہے۔ ضرورت حقہ اور وقت کی مانگ پورا کرنے کے لئے کون سے سامان پیش کئے ہیں جن کی خوبصورتی اور کمال کو دیکھ کر لوگ بول اٹھے ہیں کہ بیشک حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) کی کارگزاری اور خدمات دین سے یہ باتیں بڑھ کر ہیں۔‘‘

تردید ...... معترض ایسا عقل کا اندھا اور گانٹھ کا پورا ہے کہ ایک ہی بات کو بار بار لکھتا اور پیش کرتا ہے۔ یہی حال خود مرزائی تحریر کا ہے کہ تکرار پر تکرار ہوتا ہے اور مجبوری سے مجیب کو بھی اسی طرح جواب دینا پڑتا ہے۔ معترض کو دیکھنا چاہئے کہ کتاب عصائے موسیٰ میں تو سب کچھ لکھا ہے اور بتایا ہے۔ اگر آپ کو خوبی قسمت سے نظر نہ آوے تو اس میں مصنف عصائے موسیٰ کا کیا قصور۔ سلسلہ علمی وہی جو قرآن مجید اور حدیث شریف میں ہے کتاب میں پیش کیا ہے۔ ضرورت حقہ اور کتاب کی مانگ بھی سخت تھی کہ خود غرض کاذب مدعیان نبوۃ ورسالت کی طرح اس وقت ایک مسیح الدجال کاذب مدعی کھڑا ہو کر اسلامی مسلمہ مسائل میں دست اندازی کر کے خلاف شریعت مسائل بیان کر کے مخلوق الٰہی کے ایمان اعتقاد بگاڑ رہا ہے۔ سو اس کے مکر وفریب اور دجالی مسائل کا بعون اللہ تعالیٰ و تقدس باحسن وجوہ قلع قمع کر کے قدیمی مسائل اسلامی سے امت کو آگاہ کیا گیا۔ جس کی خوبصورتی اور کمال کو دیکھ کر مسلمان بول اٹھے کہ مسیح الدجال کے خود تراشیدہ لغویات کا بہت عمدہ جواب ہے اور مسیح کاذب کی متدعویہ منافقانہ خدمت اسلام سے بڑھ کر اس میں بدرجہا حقیقی و واقعی مخلصانہ خدمت دین اسلام ہے۔ لیکن آپ ناقص البصری سے معذور ہیں۔ بینائی اور بصیرۃ درست ہو تو آپ کو نظر آوے۔

گر نہ بیند بروز شبپره چشم
چشمہ آفتاب راچہ گناہ

اعتراض ...... ’’کوئی خدا ترس، طالب حق ، خوب چھان بین کر کے دیکھ لے ایک ہی سب سے بڑا مضمون اس میں نکلے گا۔ اس کے سوائے اور کچھ نہیں اور وہ مرسل اللہ مسیح موعود (مرزا قادیانی) کی ذاتیات پر نکتہ چینی۔ اس کی نسبت ہم نے پہلے بھی لکھا ہے اور اب بھی ایک بات لکھتے ہیں جو ہم میں اور عصائے موسیٰ کی قوم میں حکم اور قول فیصل ہوگی اور امید کہ اس کے بعد یقیناً ان کی اور ہماری نزاع مٹ جائے گی۔‘‘

تردید ...... آپ میں خدا ترسی، تقویٰ اللہ اور طلب حق اور نیز چھان بین کا مادہ ہوتا تو اصل

١٥٤

حالات و حق واقعات کے اظہار کو بار بار نکتہ چینی نہ اور بد اعتقادی سے ضلالت آمیز ملحدانہ طریق اختیا خود غرضانہ مسائل شائع کرے۔ دغا و فریب مکر و ز اقراروں سے لے کر اپنی نفس پروری کرے۔ خلاف رات رہ کر دوسری غریب مخلوق کو ناحق لعن طعن ا و شعار بنادے اور بندہ نفس امارہ بن کر جو چاہے سو الٰہی میں سے دینی نصیحت کرنے کے لئے قرآن مج تا کہ وہ کسی طرح راہ راست پر آ جاوے تو کیا یہ ک ونہی عن المنکر دین نصائح خیر خواہی انسانی کا باب آپ کی سمجھ و بصیرت کا قصور ہے کہ آپ کو ہر راس آپ قرآنی دلائل اور حدیث شریف کے مسائل وا برابر کہتے ہیں۔ سچ ہے۔

بے بصیرۃ چہ شناس
تلخ و شیریں بمذاق وا

بھلا فرعون بد نصیب نے عصائے موسیٰ کے تکبر تعلی و شیخی کے قدم بقدم و دوش بدوش ہو کر سے کچھ نہ ہوا تو نقل کیا تیر مارے گی۔ یا درکھو حق حسد اور بغض سے نزاعوں کا منبع یا سرچشمہ ہونے مرزا قادیانی کی کتابیں پُر از لعن طعن و سب شتم اس نزاع و عداوۃ نہیں۔ اس نے تو مرزا قادیانی کے اصل حال راست بے کم و کاست دینی نصائح و ا سے کہہ دیا ہے۔

من آنچه شرط بلاغ
تو خواہ از سخنم پ

آگے ہدایت ہادی مطلق و برحق اللہ جل فرمایا ہے۔ قولہ تعالیٰ ! ’’ انک لا تهدی من احب

٥٥

صفحہ ١٨٩

حالات وحق واقعات کے اظہار کو بار بار نکتہ چینی نہ کہئے۔ کیا اگر کوئی شخص اپنے شامت اعمال اور بداعتقادی سے ضلالت آمیز ملحدانہ طریق اختیار کرے۔ کتاب اللہ اور سنت کے برخلاف خود غرضانہ مسائل شائع کرے۔ دغا وفریب مکروزر سے مخلوق الٰہی کا مال جھوٹھے وعدوں اور اقراروں سے لے کر اپنی نفس پروری کرے۔ خلاف ہدایت اسلام تکبر شیخی غرور وغیرہ میں دن رات رہ کر دوسری غریب مخلوق کو ناحق لعن طعن اور توہین وتحقیر کر کے ایذا رسانی کو اپنا شیوہ وشعار بنادے اور بندہ نفس امارہ بن کر جو چاہے سو کرے تو اس شخص کو اگر کوئی نیک بندہ بندگان الٰہی میں سے دینی نصیحت کرنے کے لئے قرآن مجید حدیث شریف کے احکام ومسائل سنائے تاکہ وہ کسی طرح راہ راست پر آ جاوے تو کیا یہ نکتہ چینی ہے؟ ہرگز نہیں۔ ورنہ امر بالمعروف ونہی عن المنکر دینی نصائح خیر خواہی انسانی کا باب ہی بند ہو جائے گا جو ہرگز منشاء الٰہی نہیں۔ یہ تو آپ کی سمجھ وبصیرت کا قصور ہے کہ آپ کو ہر راستی کجی ہی دکھائی دیتی ہے اور یہی وجہ ہے کہ آپ قرآنی دلائل اور حدیث شریف کے مسائل والی کتاب کو بے حیثیت بے وزن وعدم وجود برابر کہتے ہیں۔ سچ ہے۔

بے بصیرۃ چہ شناسد سخن کامل را
تلخ وشیریں بمذاق دل رنجور یکے ست

بھلا فرعون بد نصیب نے عصائے موسیٰ کے مقابل ہو کر کیا کر دکھایا جو آپ اسی فرعون کے تکبر تعلی وشیخی کے قدم بقدم دوش بدوش ہو کر عصائے موسیٰ کا مقابلہ کر سکیں گے جب اصل سے کچھ نہ ہوا تو نقل کیا تیر مارے گی۔ یاد رکھو حق کے مقابل باطل کبھی سر سبز و بار آور نہیں ہوتا۔ حسد اور بغض سے نزاعوں کا منبع یا سرچشمہ ہونے کا شرف آپ ہی کی جماعت کو حاصل ہے۔ مرزا قادیانی کی کتابیں پر از لعن طعن وسب شتم اس کی گواہ ہیں۔ منشی الٰہی بخش کو ہرگز کسی سے کوئی نزاع و عداوت نہیں۔ اس نے تو مرزا قادیانی کے اصرار وتاکید پر متقی اور بے شر انسان کی طرح اصل حال راست بے کم و کاست دینی نصائح واظہار حق کی خاطر ظاہر کر دیا ہے اور زبان حال سے کہہ دیا ہے۔

من آنچہ شرط بلاغ است با تو میگویم
تو خواہ از سخنم پند گیر وخواہ ملال

آگے ہدایت ہادی مطلق وبرحق اللہ جل جلالہ کے ہاتھ میں ہے۔ جیسا کہ اس نے خود فرمایا ہے۔ قولہ تعالیٰ: "انک لا تھدی من احببت ولکن اللہ یھدی من یشاء"

١٥٥

صفحہ ١٩١

اعتراض ........ منشی الہی بخش اور ان کے رفیق حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) کی نسبت بڑا اہم اور ناقابل جواب اعتراض انتخاب کریں اور مشتہر کریں۔ ہم خدائے تعالیٰ کے فضل سے دعویٰ کرتے ہیں کہ وہی اعتراض بلا کم و کاست ان معترضوں کی فہرست میں دکھا دیں گے۔ جنہوں نے خدا تعالیٰ کے برگزیدہ با عزم نبیوں کی ذاتیات پر نکتہ چینی کی ہے۔

تردید ....... تف ہے آپ کے اس علم و فہم ایمان فروشی کے عوض روٹی کمانے پر بالفرض اگر آپ نے حیلہ و حوالہ اور دھوکہ بازی سے دکھا دیا کہ سچے اور برحق نبیوں پر بھی وہی اعتراض ہو چکا ہے تو کیا اس سے ایک کاذب جھوٹا دغا باز گھر بیٹھے حیلہ و حوالہ سے روپیہ بٹورنے والا مدعی نبوت سچا ہو جاوے گا؟ ہرگز نہیں۔ دیکھو مسیلمہ کذاب اسود عنسی وغیرہ کذابین و دعویداران نبوت کو لوگوں نے جھوٹا کہا اور ایسا ہی دوسری طرف کم سمجھ بدبختان، عاشقان دنیا و پرستاران نفس پابندان رسوم جاہلیت نے سید الاولین والآخرین ﷺ کو لست مرسلا، کاہن، ساحر وغیرہ کہہ کر جھٹلایا اور اسی طرح دوسرے اولوالعزم انبیاء و رسل کو منکرین نے ”ان انتم الا بشر مثلکم “ کہہ کر ان کی تکذیب کی تو کیا وہ مسیلمہ وغیرہ کذابین دجالین بھی آپ کی اس نامعقول و بیہودی قاعدہ کے موافق سچے ہو گئے جو لوگ لنگڑی کانی گنجی دلیل پر صداقت کا دعویٰ کرتے ہیں۔ بے شک کہہ سکتے ہیں کہ جو اعتراض ہم پر تھا دوسرے انبیاء و رسل پر بھی ہو چکا ہے۔ لہٰذا ہم بھی سچے ہیں۔ افسوس اس اندھی عقل اور کانی سمجھ پر۔ ان گدھوں کو اتنی بھی تمیز نہیں کہ انبیاء پر مخالفین نے اعتراض کئے ہیں نہ کہ موافقین نے۔ تم اپنے کو مسلمان کہہ کر حضرت عیسیٰ علیہم الصلوٰۃ کو مغلظات دیتے ہو جن کی عصمت و رسالت کی قرآن مجید شہادت دیتا ہے۔ اگر تم آریا، یہودی وغیرہ بن کر اعتراض کرو تو ہم کچھ مزاحمت نہ کریں۔ اگر دائرہ اسلام سے خارج ہونے کا اعلان دے دو تو کوئی مسلمان کچھ باز پرس نہ کرے۔

بعد پھر دوسرے اعتراض مشتہر کرنے کی درخواست کریں۔ بلا کم و کاست وہی اعتراض انبیاء علیہم السلام پر دکھانے کا صرف زبانی دعویٰ سراسر بطالی، بدمعاشی اور جھوٹ اور محض دھوکا ہے۔ بھلا زیورات سے لدی ہوئی اپنی اور مریدوں کی بیبیوں کو غیر محرم کے ساتھ صبح و شام میدان و باغ میں دل بہلانے کو ہوا خوری اور کوڈ کبڈی کھلانا جہاں سے واپسی پر درختوں سے پھل پھول توڑ کر جھولیاں بھر کر خاوندوں کے لئے بھی لاتی ہیں۔

١٥٦

نمازیں جمع کر کے ضائع کر دینا۔

ہے۔

کی تعظیم و تکریم کرا کر بت پرستی کی بنیاد پھر قائم کرنا۔

مینار اور گھنٹہ گھر تعمیر کرانا۔

ولآخرین، ختم المرسلین ﷺ سے زیادہ کہنا۔

نام جھوٹ موٹ اپنی جائیداد میں برس کے واسطے رہن ر

سے منگوا کر استعمال کرنا۔

لاہور سے منگوا کر اور خس کی ٹٹی دروازوں پر لگوا کر امیرانہ نفس پرستوں کے کام مشتہر تو کیا اس کا کوئی بڑا امام و مرش سکے گا۔ دجالی چالیں جو دام افتادہ مریدین کو چکمے دے رات کی جاتی ہیں۔ مسلمان ان کو خوب سمجھتے ہیں۔ بالآ مسلمان اگر یہ کہیں کہ جو اعتراض اور نکتہ چینی مرزا پر ہو وغیرہ نبوت کے دعویداروں پر ہوئی۔ اس لئے مرزا قادی ویسا ہی ہے تو اس کا آپ کے پاس کیا جواب ہے؟ اپنے لینا چاہئے کہ مرزا بھی یکے از دجالین ہے۔

اعتراض ....... ”اس لئے علیٰ وجہ البصیرت ہم دعویٰ کر

١٥٧

صفحہ ١٩١

نمازیں جمع کر کے ضائع کر دینا۔

ہے۔

کی تعظیم و تکریم کرا کر بت پرستی کی بنیاد پھر قائم کرنا۔

مینار اور گھنٹہ گھر تعمیر کرانا۔

و الآخرین، ختم المرسلینﷺ سے زیادہ کہنا۔

نام جھوٹ موٹ اپنی جائیداد تیس برس کے واسطے رہن رکھ کر رجسٹری کرا دینا۔

سے منگوا کر استعمال کرنا۔

لاہور سے منگوا کر اور خس کی ٹٹی دروازوں پر لگوا کر امیرانہ ٹھاٹھ سے بسر کرنا، وغیرہ۔ مستغرق دنیا اور نفس پرستوں کے کام مشتہر تو کیا اس کا کوئی بڑا امام و مرشد بھی انبیاء علیہم السلام کی نسبت ثابت نہ کر سکے گا۔ دجالی چالیں جو دام افتادہ مریدین کو چکمے دے کر ان کے فراہم و قائم رکھنے کی خاطر دن رات کی جاتی ہیں۔ مسلمان ان کو خوب سمجھتے ہیں۔ بالآخر آپ کے اس قاعدہ کے موافق دوسرے مسلمان اگر یہ کہیں کہ جو اعتراض اور نکتہ چینی مرزا پر ہوئی۔ یہ تو بعینہ وہی ہے جو مسیلمہ کذاب وغیرہ نبوت کے دعویداروں پر ہوئی۔ اس لئے مرزا قادیانی بھی انہی دجالین کذابین کا ہم جنس اور ویسا ہی ہے تو اس کا آپ کے پاس کیا جواب ہے؟ اپنے تراشیدہ قاعدہ کے موافق تو آپ کو یہ مان لینا چاہئے کہ مرزا بھی یکے از دجالین ہے۔

اعتراض....... ”اس لئے علیٰ وجہ البصیرت ہم دعویٰ کرتے ہیں کہ ہمارے امام حضرت مسیح موعود

١٥٧

صفحہ ١٩٣

(مرزا قادیانی) اسی برگزیدہ جماعت کے ایک کامل فرد ہیں۔ بناء علیٰ ہذا ضرور ہے کہ ان کی ذات پر بھی ویسی ہی نکتہ چینی اور اعتراض ہوں جیسے ان برگزیدوں پر ہوئے۔ تاکہ سارے خدائی سلسلوں میں پوری مطابقت اور مشابہت ثابت ہو جائے۔“ تردید ...... مرزا قادیانی کس منہ سے نبوت کے دعوے سے انکار کرتا ہے اور اس کے مریدین کس منہ سے کہا کرتے ہیں کہ مرزا کو دعوے نبوت نہیں اور وہ ختم نبوت کا اقبالی ہے۔ دیکھ لیجئے یہاں صاف جماعت انبیاء علیہم السلام کا اس کو فرد کامل بنایا ہے۔ اسی اندھی ملحدانہ بصیرت کے سبب تو مرزا قادیانی مریدین کو علمائے اسلام نے مردود بنا کر اسلام سے خارج کیا ہے اور اس میں علمائے اسلام کا ہرگز کچھ ذمہ نہیں۔ کیونکہ مرزا قادیانی خود دعویٰ کر کے انبیاء میں سے بنتا ہے اور اندھے مرید علی وجہ البصیرت اس کو انبیاء علیہم السلام کی جماعت کا ایک فرد کامل تسلیم کر کے ایک مسلمہ مسئلہ اسلامی ختم نبوت کا علانیہ انکار کرتے ہیں۔ مشابہت اور مطابقت بھی حسب خواہش معترض ثابت ہو چکی ہے کہ جیسا پہلے دعویداران نبوت مسیلمہ وغیرہ کو لوگوں نے ان کے چلن اور حالات کے سبب اعتراض کر کے دجالین کذابین کہا اسی طرح مرزا قادیانی کے حالات اور واقعات دیکھ کر مرزا قادیانی کو بھی انہی دجالین کذابین میں داخل کیا ہے۔ پس مشابہت و مطابقت کا پورا پورا فیصلہ ہو گیا۔ (باقی آئندہ)

٢....... اصلی اور نقلی کشتی میں تمیز

چہ غم دیوار امت را کہ دارد چوں تو پشتی بان
چہ باک از موج بحر آن را کہ باشد نوح کشتی بان

١٠؍مئی ١٩٠٢ء کے قادیانی اخبار صفحہ اوّل کالم نمبر ٣،١ میں شیخ عطاء محمد صاحب سب اوورسیئر کوئٹہ، پنجاب کے مسلمانوں کو نوٹس دیتے ہیں کہ طاعون غضب الٰہی ہے۔ تم اس سے نہیں بچ سکتے۔ جب تک مرزا قادیانی کے جھنڈے تلے نہ آجاؤ۔ بے شک طاعون غضب الٰہی ہے جس کی دوا (بجز زاری بدرگاہ باری) کسی کے پاس نہیں اور امر الٰہی کے زیر فرمان تمام دنیا میں ہاں کیا عجب ہے کہ مرزا قادیانی اور ان کی پاک جماعت (جنہوں نے اپنے زعم میں دعائیں مانگ مانگ کر دور دراز ملکوں سے براہ ہمدردی اس بیماری کو اپنے پنجابی بھائیوں کے لئے طلب کیا ہے اور اب بغلیں بجاتے اور شور و غل مچاتے ہیں) مستثنیٰ ہوں۔ ہند اور پنجاب میں سوائے جماعت مذکورہ کے کوئی شخص ایسا نہ ہوگا کہ اس موذی کے دفعیہ کے لئے درگاہ مجیب الدعوات میں رورو کر دعائیں نہ مانگتا ہو۔ مگر شیخ صاحب کا یہ جملہ کہ مرزا قادیانی کے جھنڈے تلے آئے بغیر نجات نہیں قابل غور ہے۔ ١٥٨

مرزا قادیانی نے اس وقت پیش گوئی کی تھی جب یہ بیما حالانکہ یہ بیماری حضرت ابراہیم و موسیٰ علیہما السلام ملکوں سے لے کر عرب کے شہروں تک عام ہوگئی تھ ہندوستان میں بھی اپنا منحوس قدم رکھے گی اور عام طو ہے۔ جب پنجاب کے مفصلات سے قطع نظر کر کے تعداد بہ نسبت دیگر شہروں کے زیادہ ہے۔ سب سے اس سے بچ نہ سکے اور خاص کر دارالامان (قادیان میں مولوی احمد جان جو ایک منٹ بھی بلا وضو نہ تھے۔ تھے۔ جانبر نہ ہو سکے تو خصوصیت کی کیا وجہ ہے۔ اس اس سے بچ جاتا ہے۔ اگر مسلمان طاعون سے مط مرزا قادیانی اور ان کی جماعت دنیا میں رہ کر آخر ایک کو پورا حصہ دے گا۔

اگر ہمرو رہ جا
کہ زندگانی مانیز

پس شیخ صاحب کی یہ دھمکیاں اس وصف منجملہ اوصاف مسیحیت اور رسالت و امامت اور مرسل یزدانی کہا کریں۔ مگر وہ لوگ جو پا ”ماکان محمد ابا احد من رجالکم ولک مرزا قادیانی کی رسالت پر کیونکر ایمان لا سکتے مرزا قادیانی کی کوئی پیشین گوئی خداوند تعالیٰ ۔ منشاء ”وما ارسلنا من رسول الا بلسان ق ہوتی ہے اور مضمون تو ایسا رکیک اور گندہ کہ قرآ مثلاً ”انت بمنزلة ولدی، صح زوجتی مرزا قادیانی ابن مریم بنتے ہیں، کبھی خود مریم، کہ جب ان کے دل پر کچھ غبار آ جاتا ہے تو ہیں۔ (دیکھو نور القرآن حصہ دوم) کبھی خداوند تعا

صفحہ ١٩٣

مرزا قادیانی نے اس وقت پیش گوئی کی تھی جب یہ بیماری ہوشیار پور وغیرہ شہروں تک پہنچ گئی تھی۔ حالانکہ یہ بیماری حضرت ابراہیم وموسیٰ علیہما السلام کے وقت کی ہے اور جس کی رفتار یورپ کے ملکوں سے لے کر عرب کے شہروں تک عام ہوگئی تھی اور لوگوں کو معلوم ہو گیا تھا کہ وہ کبھی نہ کبھی ہندوستان میں بھی اپنا منحوس قدم رکھے گی اور عام طور پر پھیل جائے گی۔ مگر دنیا نمونہ اور مثال مانگتی ہے۔ جب پنجاب کے مفصلات سے قطع نظر کر کے سیالکوٹ اور جموں میں جہاں مرزائیوں کی تعداد بہ نسبت دیگر شہروں کے زیادہ ہے۔ سب سے بڑھ کر اس بیماری کا دورہ ہوا اور کئی مرزائی بھی اس سے بچ نہ سکے اور خاص کر دارالامان (قادیان) میں بھی چند مہلک کیس ہوئے۔ ضلع جالندھر میں مولوی احمد جان جو ایک منٹ بھی بلا وضو نہ تھے۔ سال سے مرزا قادیانی کے مریدان خاص سے تھے۔ جانبر نہ ہو سکے تو خصوصیت کی کیا وجہ ہے۔ امر الہی کا اگر مسلمانوں پر آنا ہے تو کیا مرزائیوں کو اس سے بچ جانا ہے۔ اگر مسلمان طاعون سے مطعون ہو کر بہشت بریں میں جاویں گے تو کیا مرزا قادیانی اور ان کی جماعت دنیا میں رہ کر آخرت کے مزے سمیٹیں گے۔ ہرگز نہیں بلکہ نیچر ہر ایک کو پورا حصہ دے گا ؎

اگر بمرد عدو جائے شادمانی نیست
کہ زندگانی ما نیز جاودانی نیست

پس شیخ صاحب کی یہ دھمکیاں اس وقت بر محل ہو سکتی تھیں کہ مرزا قادیانی میں کوئی وصف منجملہ اوصاف مسیحیت اور رسالت و امامت پایا جاتا۔ مرزا قادیانی ہزار اپنے کو رسول رحمانی اور مرسل یزدانی کہا کریں۔ مگر وہ لوگ جو پاک اور مقدس کتاب (قرآن شریف) میں آیہ ”ما کان محمد ابا احد من رجالکم ولکن رسول اللہ وخاتم النبیین“ پڑھتے ہیں۔ مرزا قادیانی کی رسالت پر کیونکر ایمان لا سکتے ہیں۔ شیخ صاحب کو بخوبی معلوم ہے کہ آج تک مرزا قادیانی کی کوئی پیشین گوئی خداوند تعالیٰ نے پوری نہیں کی۔ ان کے الہاموں کی جو خلاف منشاء ”وما ارسلنا من رسول الا بلسان قومہ“ کے ہیں عربی عبارت بالکل غلط اور بے معنی ہوتی ہے اور مضمون تو ایسا رکیک اور گندہ کہ قرآن شریف نے پہلے ہی اس کی بیخ کنی کر دی ہے۔ مثلاً ”انت بمنزلۃ ولدی، صح زوجتی، یحمدک اللہ ویمشی الیک“ وغیرہ کبھی مرزا قادیانی ابن مریم بنتے ہیں، کبھی خود مریم، کبھی موعود مسیح بنتے ہیں، کبھی اصلی مسیح پھر لطف یہ ہے کہ جب ان کے دل پر کچھ غبار آ جاتا ہے تو بے تحاشا مسیح علیہ السلام کو مغلظ اور بے نقط سناتے ہیں۔ (دیکھو نور القرآن حصہ دوم) کبھی خداوند تعالیٰ کو اپنا مداح اور حامد کہہ کر اپنی ذات کو محمد اور احمد

١٥٩

صفحہ ١٩٥

ظاہر کرتے ہیں۔ غرض کہ ان کی تازگی پسند طبیعت کو قرار نہیں۔ تہذیب نفس کا یہ حال کہ علماء اسلام وصوفیاء کرام کے حق میں جو درفشانیاں کرتے ہیں ان کی ترتیب وار ڈکشنریاں تیار ہورہی ہیں۔ (عصائے موسیٰ ص ١٤٤ تا ١٤٦) تزکیہ نفس کا یہ حال کہ بادام روغن اور کسیری داس کی دکان کے سوڈا واٹر کے سوا عطش و جوع بجھنے ہی میں نہیں آتی اور مستورات کے لئے سونے کے جڑاؤ اور زیورات بنائے بغیر گزر ہی نہیں سکتی۔ انکم ٹیکس سے بچنے کو قسم قسم کے حیلے تراشتے ہیں جولوگ قادیانی جھنڈے تلے آ گئے ہیں ان کو بھی ڈانٹ بتائی جاتی ہے کہ اگر تین ماہ تک چندہ نہ آیا تو مریدوں کی لسٹ سے نام خارج ہوگا۔ ذوی الارحام عاق اور بعض بلاوجہ مستوجب طلاق ٹھہرتے ہیں۔ کہاں تک عرض کروں۔ کیا شیخ صاحب فرما سکتے ہیں کہ انبیاء علیہم السلام اور سلف صالحین کا یہی رویہ تھا جن کی نیابت کا مرزا قادیانی کو دعویٰ ہے۔ انجمن حمایت اسلام لاہور کی اس کارروائی پر جس کے ذریعہ انجمن والوں نے جملہ مسلمانان پنجاب و ہند کو اتوار کے دن نماز پڑھنے اور خداوند تعالیٰ کی درگاہ میں عجز وزاری کے ساتھ طاعون کے دفعیہ کے لئے دعائیں مانگنے کے لئے اشتہارات دیئے اور جس کی تعمیل مسلمانوں نے بصد آرزو کی۔ شیخ صاحب ان پر حسب ذیل مضحکانہ اعتراض کرتے ہیں۔ ”انجمن حمایت اسلام نے جو کشتی اس طوفان سے بچنے کے لئے تمہارے واسطے تیار کی ہے اس کے لئے کوئی ملاح نہیں جو علم دریا سے واقف ہو۔ اس لئے وہ خطرناک ہے ۔“ شیخ صاحب کو مغالطہ لگا ہے کیونکہ انجمن حمایت اسلام نے کوئی نئی کشتی بعد ختم نبوت تجویز نہیں کی۔ بلکہ اسی کشتی میں سوار ہونے کے لئے لوگوں کو نوٹس دیا۔ جو چودہ سو برس پیشتر خداوند تعالیٰ کے سچے اور پاک رسول حضرت محمد ﷺ نے تیار کی تھی۔ جو بذریعہ آیات قرآنی ”امن یجیب المضطر اذا دعاہ ویکشف السوء ويجعلكم خلفاء الارض ءاله مع الله قلیلا ماتذکرون“ چلتی ہے۔ اگرچہ دنیا کے ناپیدا کنار سمندر میں سینکڑوں بلاخیز سیلاب اور ہزاروں الحاد اور ارتداد کی آندھیاں چلیں۔ مگر اس کشتی کو جس کی حفاظت کا بمصداق آیت کریمہ ”انا نحن نزلنا الذکر وانا لہ لحافظون“ خود خداوند تعالیٰ نے ذمہ لیا ہے۔ بال بھر بھی صدمہ نہیں پہنچا اور انشاء اللہ تعالیٰ قیامت تک نہ پہنچے گا۔ پس یہ کیسا مشرکانہ اور پاجیانہ خیال ہے کہ ایسی مستحکم کشتی (اصلی اسلام) سے مسلمان اتر پڑیں اور اوہام و وساوس کی شکستہ لنگر بھدی اور بد نما کشتی پر چڑھنے کا ارادہ کریں۔ جس کا نہ کوئی مستول ہے نہ بادبان اور جہاں جیب کتروں اور سمندری چوروں کا سخت زور وشور ہے مسلمانوں کے نزدیک وہ ایک ریگ رواں اور سراب چند کے سواء ذرہ بھر وقعت نہیں رکھتی۔ پس تمام مسلمانوں کا فرض ہے کہ حوصلہ و تحمل و صبر سے کام لیں اور رضائے الٰہی میں مطلق

١٦٠

چون و چرا نہ کریں۔ مہدیوں کا ڈر بالکل گیا۔ قادیانی قطب کا درجہ بڑا ہے یا امام اور مہدی کا۔ دونوں صوری رہیں گے۔ خواہ ناک کو کھینچ کھانچ کر منارے سے ہم تک نہ جائے ہندوستان کی ریاست رامپور ہی کو دیکھ ہوئے ہیں وہ کون ! شاہ محمد حسن خلف شاہ احمد حسن میاں ہے کہ مجھے قطب عالم اور قلندر اول کا مرتبہ عطاء واسطے مرزا قادیانی کی طرح چند آزوقہ خواروں کے میں روانہ کیا ہے۔ انہیں میں ایک جاہل مطلق پنجابی نے مخدوم حسن رکھا ہے اور دس روپے ماہوار مقرر کیا مذکور میرٹھ آیا اور سہراب دروازہ کے کاشت کار چند قطب عالم اور قلندر اوّل کو اس حسن خدمت کی رپورٹ ساتھ ہفت اقلیم کی خلافت اور ہدایات عطاء ہوئی ۔

پنجابی صاحب کے قبض و تصرف میں دی گئی ہے۔

بڑے چڑھے رہے۔ مرزا قادیانی نے تو اپنے کنبے بسواسی اراضی بھی نہ دی اور قطب عالم نے کھڑی حافظ شیرازی کا یہ شعر صحیح نکلا؎

اگر آن ترک شیرازی بدست آرد دل ما را

قطب اول کی تو یہ ارث تھی کیونکہ بقول

اگر پدر نتواند

ان کے والد نے کتاب گلزار صابری اعتراضات کا موقعہ دیا مگر مرزا قادیانی کے باپ و تھا۔ پس قطب اول خلف ہوئے اور امام الزمان در حقیقت انسانی نسل ہی سے نہیں ہوں بلکہ آسمانی بنا کر آسمانی وراثت عطاء کی ہے۔ پھر مرزا قادیانی یہ نمد ابھی باندھیں گے کہ میں بروزی اور ظلی رسول ہوں۔ مگر قطب عالم اور قلندر اول یہ جواب دیں

صفحہ ١٩٥

چون و چرا نہ کریں۔ مہدیوں کا ڈربا کھل گیا۔ قادیانی مرزا قادیانی غالباً خوب سمجھتے ہوں گے کہ قطب کا درجہ بڑا ہے یا امام اور مہدی کا۔ دونوں صورتوں میں مرزا قادیانی ہی پھسڈی اور پست نمبر رہیں گے۔ خواہ ناک کو کھینچ کھانچ کر منارے سے بھی لمبی اور اونچی بنالیں۔ ابھی سوڈان اور افریقہ تک نہ جائیے ہندوستان کی ریاست رامپور ہی کو دیکھئے جس میں ایک بڑے بھاری جنگلی قطب پیدا ہوئے ہیں وہ کون! شاہ محمد حسن خلف شاہ احمد حسن مصنف کتاب گلزار صابری۔ جنہوں نے دعویٰ کیا ہے کہ مجھے قطب عالم اور قلندر اوّل کا مرتبہ عطاء ہوا ہے۔ اپنے مذکورہ بالا دعویٰ کے اعلان کے واسطے مرزا قادیانی کی طرح چند آزوقہ خواروں کے گلے میں اپنی قطبیت کا پٹا ڈال کر اطراف ہند میں روانہ کیا ہے۔ انہیں میں ایک جاہل مطلق پنجابی بلند خان ہے جس کا نام نئے قطب صاحب نے مخدوم حسن رکھا ہے اور دس روپے ماہوار مقرر کر دیا ہے۔ حق نمک ادا کرنے کی غرض سے پنجابی مذکور میرٹھ آیا اور سہراب دروازہ کے کاشت کار چند جاہل رانگھڑوں کو گانٹھ گونٹھ کر چیلا بنایا اور اپنی قطب عالم اور قلندر اوّل کو اس حسن خدمت کی رپورٹ کی جس کے صلے میں فرمان خوشنودی کے ساتھ ہفت اقلیم کی خلافت اور ہدایات عطاء ہوئی۔ سندی فرمان میں ہر ولایت کا نام درج ہے جو پنجابی صاحب کے قبض و تصرف میں دی گئی ہے۔ ہمارے خیال میں یہ صاحب مرزا قادیانی سے بڑے چڑھے رہے۔ مرزا قادیانی نے تو اپنے کسی چیلے کو اب تک کوئی چھوٹا سا گاؤں بلکہ چند بسواسی اراضی بھی نہ دی اور قطب عالم نے گھر بیٹھے اپنے بالکے کو ولایتیں عطاء کر دیں اور حضرت حافظ شیراز کا یہ شعر صحیح نکلا۔

اگر آں ترک شیرازی بدست آرد دل مارا بخال ہندوش بخشم سمر قند و بخارا را

قطب اوّل کی تو یہ ارث تھی کیونکہ بقول مصرعہ۔

اگر پدر نتواند پسر تمام کند

ان کے والد نے کتاب گلزار صابری لکھ کر نہ صرف جمالیوں بلکہ ہر قوم وملت کو اعتراضات کا موقعہ دیا مگر مرزا قادیانی کے باپ دادا میں سے تو کوئی امام الزمان یا مہدی دوران نہ تھا۔ پس قطب اوّل خلف ہوئے اور امام الزمان نا خلف۔ ہاں مرزا قادیانی کہہ سکتے ہیں کہ میں در حقیقت انسانی نسل ہی سے نہیں ہوں بلکہ آسمانی ہوں اور خدا نے مجھے اپنا بمنزلہ ولد (لے پالک) بنا کر آسمانی وراثت عطاء کی ہے۔ پھر مرزا قادیانی اپنی مہدویت اور امامت اور رسالت کی دم میں یہ نمدا بھی باندھیں گے کہ میں بروزی اور ظلی رسول ہوں اور انبیاء کے حلوں میں حلول کر کے آیا ہوں۔ مگر قطب عالم اور قلندر اوّل یہ جواب دیں گے کہ مرزا قادیانی اپنے ہی قول سے واقعی امام

١٦١

صفحہ ١٩٦

اور نبی نہیں ہیں۔ بلکہ ظل اور عکس ہیں اور ظاہر کہ کسی شے کا ظل اور عکس شے کے ساتھ ہوتا ہے اور جب شے معدوم ظہور ہے تو ظل اور عکس بھی کافور ہے۔ یہ آج تک نہ دیکھا نہ سنا کہ شے تو موجود نہ ہو اور اس کا سایہ موجود ہو۔ جوہر نہ ہو اور عرض ہو جس کا خاصہ بالغیر ہونے کا ہے اور میں واقعی قطب عالم اور قلندرِ اوّل ہوں۔ مرزا قادیانی پر الہام ہوتے ہیں تو مجھے عالم رویا و بیداری دونوں میں بشارت ہوتی ہے۔ اگر مرزا قادیانی آنکھوں کے اندھے اور نام نین سکھ نہیں ہیں تو رامپور میں آکر دیکھ لیں اور مجھ سے بیعت کریں۔ اب سوڈان کا چکر لگائیے۔ متوفی مہدی سوڈانی کی ہڈیاں ابھی تک دریائے نیل میں موجود ہوں گی کہ دوسرا مہدی خم ٹھونک اور لنگر لنگوٹا کس کر میدان میں آدھمکا۔ اس کا نام عبدالکریم ہے وہ لکھتا ہے کہ پرانے نبی مرگل گئے ان کی شرائع اور کتابیں کرم خوردہ ہوگئیں۔ اب ان کو ماننے اور ان پر عمل کرنے کی ضرورت نہیں فسق و فجور کوئی شے نہیں ہے انسان آزاد پیدا ہوا ہے وہ جس طرح چاہے حاجت روائی کرے۔ انسان بھی ایک حیوان ہے۔ پس جو دوسرے حیوان کا حال وہی اس کا۔ عبدالکریم کے لڑکے نے سوڈان کے وحشیوں پر بڑا اثر کیا ہے اور لوگ جوق در جوق اس کے لشکر میں شامل ہوتے جاتے ہیں۔ مرزا قادیانی ابھی خامکار ہیں۔ کیونکہ وہ بظاہر مذہب اسلام کے پیرو ہیں نہ انہوں نے اپنے پاؤں سے اب تک شریعت کی بیڑیاں کٹوائیں نہ اپنی امت کے پاؤں سے سب پرانی لکیر کے فقیر ہیں۔ پس آزادی پسند لوگ مرزا قادیانی کو پسند کریں۔ یا آزادی بخش آزادی پسند مہدی (عبدالکریم) کو۔ اجی مرزا قادیانی تو ہر طرح ہینٹے ہیں۔

عیب بھی کرنے کو ہنر چاہئے

پس ان کو دوسری مہدی اور قطب زک دے کر ضرور دیس نکالا دے دیں گے اور ٹکسال باہر کردیں گے۔ ایڈیٹر!

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

تعارف مضامین ...... ضمیمہ شحنہ ہند میرٹھ

٨؍ جون ١٩٠٢ء کے شمارہ نمبر ٢٢ کے مضامین

١٦٢

اسی ترتیب سے پیش خدمت ہیں

اگر آپ کہیں کہ مرزا قادیانی کو س طرح آپ جیسے بصیرت اور سمجھ والے ان پ موجود تھے اور تعداد میں بھی آپ کی جماعت ہی ایک لاکھ سے زیادہ لوگ شامل تھے او و بیہودگی ابھی بیان ہو چکی ہے۔ اگر آپ کی کہ سیالکوٹی اپاہج، مرزا قادیانی کا مرید ب و ایمان کو بالائے طاق رکھ کر خلاف واقعہ تحریروں میں مصروف رہتا ہے تو بناء علی ہ مریدی کے سبب ایسے ہی ہیں اور ان کو بھی ہو جاوے۔ حالانکہ یہ کسی طرح درست نہیں علیحدہ باعث ہوتا ہے۔ مثلاً کوئی ہم جنسی کھانے پینے کی حرص سے، کوئی شہوۃ نگار ہوئے، دیکھنے اور خود سیر کرنے کے سبب کرانے کے لئے کوئی کسی اور لالچ وغیرہ بیٹھا ہے۔ اسی طرح جو اعتراض انبیاء دعویداران نبوۃ پر ہوئے۔ ان کے اسباب ان کا درست ہونا تو دنیا نے مان لیا اور ک گئے۔ چنانچہ اب تک مسیلمہ وغیرہ کو لوگ اعتراضات ہوئے ان کا حال بھی ظاہر سے ہے۔ بہت سے اعتراضوں کا ذکر ق سلف وخلف رضوان اللہ علیہم اجمعین ۔

صفحہ ١٩٧

٣...... قصیدہ بائیہ دررد عقیدہ مرزائیہ مولانا عبدالعزیز! ٤...... جعلی بیعت ایس ایم! ٥...... الہام کا ثبوت مولانا شوکت اللہ! اسی ترتیب سے پیش خدمت ہیں۔

اگر آپ کہیں کہ مرزا قادیانی کو سچا کہنے والے بھی موجود ہیں تو آپ خیال کریں کہ اسی طرح آپ جیسے بصیرت اور سمجھ والے ان پہلے دجالین کذابین، دعویداران نبوۃ کو سچا ماننے والے موجود تھے اور تعداد میں بھی آپ کی جماعت سے کہیں بڑھ کر تھے۔ صرف مسیلمہ کذاب کے ساتھ ہی ایک لاکھ سے زیادہ لوگ شامل تھے اور اوّل تو اس لغو مشابہت ومطابقت کی دلیل کی غلطی وبیہودگی ابھی بیان ہو چکی ہے۔ اگر آپ کی تسلی نہیں ہوئی تو اس مثل سے سمجھ لیجئے۔ لوگ کہتے ہیں کہ سیالکوٹی اپاہج، مرزا قادیانی کا مرید بن کر اس کے خیراتی دسترخوان پر پیٹ کی خاطر دین وایمان کو بالائے طاق رکھ کر خلاف واقعہ مدح سرائے میں دن رات لغو اور بیہودہ اشتہاروں اور تحریروں میں مصروف رہتا ہے تو بناء علیٰ ہذا کیا یہ بھی ضرور ہے کہ بھیروی بھی مرزا قادیانی کی مریدی کے سبب ایسے ہی ہیں اور ان کو بھی خواہ نخواہ ایسا ہی مانا جاوے۔ تاکہ مشابہت اور مطابقت ہو جاوے۔ حالانکہ یہ کسی طرح درست نہیں۔ چونکہ مختلف المزاجی کے سبب ہر ایک کے لئے علیحدہ علیحدہ باعث ہوتا ہے۔ مثلاً کوئی ہم جنسی سے، کوئی فلسفیانہ ہم مذاق اور ہم اعتقادی سے، کوئی کھانے پینے کی حرص سے، کوئی شہوۃ نکاح اور بیوی کے سبب، کوئی مستورات کو سیر باغ کرتے ہوئے، دیکھنے اور خود سیر کرنے کے سبب، کوئی شہرۂ مدح وتعریف کاغذات واشتہارات میں مشتہر کرانے کے لئے کوئی کسی اور لالچ وغیرہ کے واسطے۔ قادیان میں ڈیرہ جمائے اور دھونی رمائے بیٹھا ہے۔ اسی طرح جو اعتراض انبیاء علیہم السلام پر ہوئے یا دوسری طرف کذابین دجالین دعویداران نبوۃ پر ہوئے۔ ان کے اسباب بھی مختلف تھے۔ کذابین پر جو درست اعتراضات ہوئے ان کا درست ہونا تو دنیا نے مان لیا اور کذابین دجالین ہمیشہ کے لئے جھوٹے وکذاب تسلیم کئے گئے۔ چنانچہ اب تک مسیلمہ وغیرہ کو لوگ کذاب ہی کہتے ہیں اور برحق انبیاء علیہم السلام پر جو اعتراضات ہوئے ان کا حال بھی ظاہر ہو چکا کہ محض لغو اور بے بنیاد اور کوتاہ نظری وپست فطرتی سے ہے۔ بہت سے اعتراضوں کا ذکر قرآن مجید میں مع جوابات درج ہے اور پھر خادمان اسلام سلف وخلف رضوان اللہ علیہم اجمعین نے بھی ان اعتراضوں پر بحث کرکے انبیاء علیہم السلام کے

١٦٣

صفحہ ١٩٩

صدق، برکات، تاثیرات کے مقابل ان اعتراضوں کا دلائل سے بے بنیاد و ہیچ ولا شے ہونا ثابت کر دیا ہے۔ جس کو عقل مان گئی ہے۔ بات تب ہے کہ مرزا قادیانی کے حالات اور چلن حریصانہ دنیا دارانہ پر جو اعتراض ہوئے ان کو کسی معقول دلیل سے آپ اٹھا کر دکھلاتے۔ لیکن واقعات کی تکذیب آپ کیونکر کر سکتے ہیں؟ اور جب مرزا قادیانی میں صدق، برکات و تاثیرات کا نام و نشان ہی نہیں۔ ذکر اللہ، انابت الی اللہ، تقویٰ اللہ وغیرہ مسائل تصوف سے بالکل مبرا ہے تو مرزا قادیانی اس برگزیدہ جماعت کا فرد کامل تو کہاں بلکہ اپنی زبانی گندگی درشت مزاجی کینہ وری حسد بغض، دشمنی مخلوق الٰہی کذب، دغا، فریب، گالی گلوچ، تعلی، تکبر، حرص دنیا، نفس پروری وغیرہ کے سبب عام مسلمانوں میں بھی شمار نہیں ہو سکتا۔ اہل اللہ فقیر اور صوفی ہونا تو کجا اور نبوۃ و رسالت کا دروازہ تو بعد خاتم النبیین والمرسلین ﷺ من کل الوجوہ بند ہی ہو چکا اور قیامت تک بند رہے گا۔ کسی دوسرے نبی اور رسول کی حاجت نہ ہوگی۔ آپ مرزا قادیانی کی صحبت میں رہ کر مبالغہ اور کذب میں اس کے ہم رنگ ہو کر دو روزہ گذران کی خاطر خواہ مخواہ دھینگا مشتی سے مرزا قادیانی کو انبیاء علیہم السلام کی جماعت کا فرد کامل بنا کر اپنی عاقبت تباہ کر رہے ہیں۔

بوقت صبح شود ہم چو روز معلومت
کہ باکہ باختہ عشق در شب دیجور

انبیاء علیہم السلام تو مخلوق الٰہی کے ایسے خیر خواہ اور دردمند تھے کہ ایذا و تکلیف اٹھا کر بھی امت کے لئے دعائیں مانگتے اور نرمی سے خیر خواہی اور نصیحت کرتے تھے۔ بھلا مرزا قادیانی کی طرح ان برگزیدگان الٰہی نے دفتروں کے دفتر تبرا بازی لعن طعن سب وشتم کہاں لکھ کر شائع کئے ہیں؟ اللہ تعالیٰ کا کچھ خوف کرو اور ختم نبوت کے بعد ایک جھوٹے کذاب حیلہ و حوالہ سے گذران کرنے والے اور لوگوں کا مال بے دریغ لے کر اپنی جائیداد زیور وغیرہ بنانے والے کو انبیاء ورسل علیہم السلام کی عالی شان جماعت کا فرد کامل نہ بناؤ۔ مرزا قادیانی اور اس کے مریدین کو عالی شان جماعت انبیاء علیہم السلام خصوصاً سیدنا مسیح علیہ السلام کے ساتھ مشابہت دکھلانے کا بڑا عشق ہے۔ لیکن تعجب ہے کہ مرزا قادیانی نے ایک تاریخی واقعہ کی مشابہت کا ذکر کبھی نہیں کیا کہ جس طرح قدرت الٰہی سے مسیح علیہ السلام بے باپ پیدا ہوئے تھے۔ اسی طرح مرزا قادیانی کے جدامجد کے باپ کا بھی پتہ اور نشان ندارد ہے۔ گو نتیجہ تو اس مشابہت کا بالکل برعکس ہے۔ کیونکہ مسیح علیہ السلام کی تو اس سے بھی بزرگی اور فضیلت ثابت ہوتی ہے۔ بشہادۃ قرآن مجید کے اور مرزا قادیانی کے حق میں وہی ہے جس کے وہ مستحق ہیں۔ لیکن وہ واقعہ آخر تاریخی تو ہے۔ جیسا کہ سوط الابرار میں ١٦٤

بحوالہ روضۃ الصفاء جلد پنجم و مسالک الابصار اخبار اؤل یہ کہ الانقوا جدہ چنگیز خان نے ایام بیوگی میں ایک نور دی اس سے حاملہ ہو گئی۔ اقرباء نے اس پر انکار کیا۔ بعد میں ایک کا نام بوقن دوسرے کا قوناعی اور تیسرے کا نام بوذنجر ہے۔ جس کی نسل تمام مغل اور مرزا قادیانی ہیں نہ معلو مشابہت کو کیوں بیان نہیں کیا۔

اعتراض ...... ”اور کوئی بھی ایسا اعتراض ہمارے امام کی ہمارا دعویٰ ہے اور ہم خدائے حاضر و ناظر کو گواہ رکھ کر کہتے ہیں۔ اب اس ہمارے دعوے کو توڑ دینا گویا ہمارے اعتر دیتا ہے ۔“

تردید ...... جب کہ ہم اور سب مسلمان آپ کے الحا ہمارا یقین کامل ہے اور تجربہ و مشاہدہ نے ثابت کر دیا ہے آپ کی قسموں کو کیا چولہے میں جھونکیں۔ بارہا کہا گیا ۔ وقعت نہیں رکھتیں۔ پھر بار بار تم وہی بے وقت کا کھڑاگ آپ کے ہٹ دھرم دماغ اور ضدی زبان نکلتا ۔ اگر اللہ تعالیٰ کو آپ حقیقتاً حاضر و ناظر جانتے اور ضرور قرآن مجید وحدیث شریف والے مسئلہ ختم نبوت تائب ہوتے۔ لیکن نفس و حاجت بھی آپ کو کچھ کرنے

آنچه شیران را کند
احتیاج است احتیاج

رہا آپ کا دعویٰ سو جس طرح وہ نیست والہام اعتقاد اور سلسلہ باطلہ کی خام بنیاد میں دلائل قر باطل ٹھہرا اگر آپ آنکھ کو کھول کر انصاف سے دیکھیں او باقی نہیں رہا اور آپ اب بھی اگر نجات عقبیٰ و رضاء دنیوی پر ترجیح نہ دیں تو آپ کے نصیب اور آپ کے دعوے کے رد میں جو کتب ورسائل تصنیف ہو کر شائع ہوئے ١٦٥

صفحہ ١٩٩

بحوالہ روضۃ الصفاء جلد پنجم ومسالک الابصار اخبار دول بر حاشیہ کامل ابن اثیر وغیرہ لکھا گیا ہے کہ الانقوا جدہ چنگیز خان نے ایام بیوگی میں ایک نور دیکھا کہ اس کے اندر داخل ہوا اور الانقوا اس سے حاملہ ہوگئی۔ اقرباء نے اس پر انکار کیا۔ بعد میں اس حمل سے تین بچے توام پیدا ہوئے۔ ایک کا نام یوقن دوسرے کا قوتاعی اور تیسرے کا نام بوذنجر خان تھا۔ اس کا بیٹا بوتا جد ہشتم چنگیز خان ہے۔ جس کی نسل تمام مغل اور مرزا قادیانی ہیں نہ معلوم مرزا قادیانی نے اس تاریخی واقعہ کی مشابہت کو کیوں بیان نہیں کیا۔

اعتراض ...... ”اور کوئی بھی ایسا اعتراض ہمارے امام کی ذات پر نہیں جو کسی نبی پر نہ کیا گیا ہو۔ یہ ہمارا دعویٰ ہے اور ہم خدائے حاضر و ناظر کو گواہ رکھ کر کہتے ہیں کہ ہم ایمان وبصیرت سے اس پر قائم ہیں۔ اب اس ہمارے دعوے کو توڑ دینا گویا ہمارے اعتقاد اور ہمارے سلسلہ کی بنیاد میں پانی پھیر دینا ہے۔“

تردید ...... جب کہ ہم اور سب مسلمان آپ کے الحادی سلسلہ کو سرے سے مانتے ہی نہیں اور ہمارا یقین کامل ہے اور تجربہ ومشاہدہ نے ثابت کر دیا ہے کہ یہ سب دھوکے اور فریب کی ٹٹی ہے تو ہم آپ کی قسموں کو کیا چولہے میں جھونکیں۔ بارہا کہا گیا ہے کہ تمہاری قسمیں مخالف کے سامنے کوئی وقعت نہیں رکھتیں۔ پھر بار بار تم وہی بے وقعت کا کھڑاک گائے جاتے ہو۔

آپ کے ہٹ دھرم دماغ اور ضدی زبان مرزا قادیانی کو بجز نبی بنانے کے کچھ نہیں نکلتا۔ اگر اللہ تعالیٰ کو آپ حقیقتاً حاضر و ناظر جانتے اور ایمان وبصیرت کا کچھ حصہ اور شمہ رکھتے تو ضرور قرآن مجید وحدیث شریف والے مسلمہ ختم نبوت کا لحاظ کر کے اس بیہودہ غلو واعتقاد سے فوراً تائب ہوتے۔ لیکن نفس و حاجت بھی آپ کو کچھ کرنے دے۔

آنچہ شیران را کند روبہ مزاج
احتیاج است احتیاج است احتیاج

رہا آپ کا دعویٰ سو جس طرح وہ نیست و نابود ہوا اور آپ کے خلاف قرآن مجید و اسلام اعتقاد اور سلسلہ باطلہ کی خام بنیاد میں دلائل قرآنی و براہین حقانی حدیث شریف سے جیسا پانی پھرا اگر آپ آنکھ کو کھول کر انصاف سے دیکھیں اور ضد اور ہٹ کو چھوڑیں تو معلوم ہو کہ کچھ بھی باقی نہیں رہا اور آپ اب بھی اگر نجاۃ عقبیٰ و رضاء رب العالمین کو چند روزہ فانی گزران ومفاد دنیوی پر ترجیح نہ دیں تو آپ کے نصیب اور آپ کے اصرار اور ہٹ کی پاداش ہے۔ مرزا قادیانی کے رد میں جو کتب ورسائل تصنیف ہو کر شائع ہوئے جن کی تفصیل پرچہ ضمیمہ شحنہ ہند میرٹھ میں

١٦٥

صفحہ ٢٠١

ہوئی ہے۔ اگر آپ تأمل سے دیکھیں تو آپ کو پتہ لگے کہ آپ کے سلسلہ واعتقاد کا کیسا قلع قمع ہوا اور ہو رہا ہے۔ آپ تو اس مدعی نبوۃ ووحی کی طرح ہیں جسے بھوک اور مفلسی کے سبب کسی صاحب توفیق نے شکم سیری کے لئے اپنے باورچی خانہ میں بھیج دیا تھا اور بعد چند روز ملاقات پر پوچھا کہ اب کیا وحی ہوتی ہے۔ جواب دیا کہ اب تو یہی وحی ہوتی ہے کہ باورچی خانہ سے باہر نکلو۔ اسی طرح آپ مرزا قادیانی کے دسترخوان سے علیحدہ نہیں ہوتے۔ تاکہ آپ کو باہر کا حال بھی کچھ معلوم ہو۔

اعتراض...... "یقیناً یاد رکھو کہ حق غالب ہوگا اور مسیح موعود جیت جائے گا۔"

تردید...... حق ضرور غالب ہوگا۔ آمنا وصدقنا اور اب بھی غالب ہے۔ جس روز اس کا پورا ظہور ہوا۔ مرزائی باطل اور تراشیدہ سلسلہ کا نام ونشان باقی نہ رہے گا۔ سچا مسیح موعود جب نزول فرمائے گا ضرور جیت جائے گا۔ لیکن مرزا کاذب اور جھوٹا چنگیز خانی ہو کر امامت، مسیحیت ونبوت کا دعویٰ کرنے والا کبھی نہ جیتے گا۔ جیسا کہ آج تک کے حالات مباحثات وواقعات سے ثابت وظاہر ہے۔

اعتراض...... "(اشتہار ص ٨) اس کا غیور خدا ہردم اس کے ساتھ ہے جس نے اسے بھیجا ہے۔"

تردید...... اللہ تعالیٰ کے رسل ہرگز ایسے نہیں ہوتے کہ دن رات مخلوق الٰہی کو لعن طعن، سب وشتم وتبرا بازی کرتے پھریں اور ہزار ہزار لعنتوں والی کتابیں بدتہذیبی سے شائع کریں۔ فخر الاولین والآخرین ﷺ سے اپنے آپ کو زیادہ حقیقت شناس بناویں۔ ہر وقت نفس پروری اور عیش وعشرت میں رہیں۔ ٧٢، ٧٢ نمازیں ضائع کریں، وغیرہ۔ اگر غیور خدا اس کے ہردم ساتھ ہے تو وہ اس کو ہر میدان میں شرمندہ وذلیل کیوں ہونے دیتا ہے؟ پھر مہر علی شاہؒ کے مقابلہ میں اس کا کیا حال ہوا۔ عصائے موسیٰ کا اس سے کیا جواب بن پڑا؟ اس کی پیش گوئیاں کیوں جھوٹی ہوئیں؟ اور دعائیں اور بددعائیں کیوں اکارت گئیں؟ جس پیش گوئی کو یہ اپنے صدق وکذب کا معیار قرار دیتا ہے جیسے پیشین گوئی داماد احمد بیگ والی، ابوالحسن تبتی والی وغیرہ۔ وہی اس کے مخالف جھوٹی ہو کر اس کے کذب وخذلان پر شاہد گواہ کیوں ہو جاتی ہے؟ وغیرہ کچھ تو انصاف اور فکر وغور کرو۔

اعتراض...... "(نوٹ اشتہار ) عصائے موسیٰ کے سخت دل مصنف نے جو اعتراضات حضرت اقدس حجۃ اللہ پر کئے ہیں وہ تین قسم کے ہیں : (١) یا تو ایسے ہیں کہ اپنی کج بصیرت اور جہالت کی وجہ سے ان باتوں کو وہ سمجھ ہی نہیں سکا۔ (٢) یا محض افتراء بہتان یا ایسے ذاتی اعتراض ہیں جو پہلے اولو العزم نبیوں پر کئے گئے ہیں ۔"

١٦٦

تردید....... ان سب کا جواب اوپر ہو چکا ہے۔ یہاں ص کو آپ سخت دل بناتے ہیں۔ لیکن آپ کے امام و انسان، نیک بخت، متقی، پرہیزگار اور شرف مکالمات ا گمان رکھنا بیان کر کے دعا مانگی ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کے کے بعد کس نور و بصیرۃ پر منشی الہی بخش کی نسبت یہ اپنی ر سے انہوں نے عصائے موسیٰ میں کچھ لکھ دیا ہے تو آپ نقص ظاہر کریں تاکہ لوگوں پر آپ کی صدق بیان ظا آپ کو اگر توفیق وحوصلہ ہے تو ثابت کریں۔ کم سے کم تاکہ حق ظاہر ہو۔ زبانی غپ شپوڑے اور واویلا سے پہلے بخوبی بیان ہو چکا ہے۔

٢...... نظم بجواب شعر مند

طبع زاد مولوی محمد حسین صاحب گجراتی شاگرد م

بیا اے میرزا تا سیر زاکی راعیان بینی
امام حق نہ ہرگز توئی مردود حق واللہ
ازاں مہر درخشندہ منم در روشنی دائم
تو در اضلال وگمراہی تو مردود خدا ہستی
نہ تو در مکنون بل خذف پارہ عیان ہستی
نہ تو ابن مریم بل سراپا ابن غول استی
مسیح ابن مریم از سما برما فرود آید
نمی بینم بہ تصدیقت نشان زآیات قرآنی
الا اے میرزا خیلے حذر از قہر یزدان کن
خداوندا بکن معدوم کید قادیانی را
خداوند توئی حافظ توئی ناصر بدین حق
نہ احمد توئی از خاکروبان اے غلام احمد
ہمیگویم مسیح ومہدی دوران نہ ہرگز
جبین وبینیت دارد نشان از کبر وخود بینی

١٦٧

صفحہ ٢٠١

تردید ...... ان سب کا جواب اوپر ہو چکا ہے۔ یہاں صرف اس امر پر آپ خیال کریں کہ مصنف کو آپ سخت دل بناتے ہیں۔ لیکن آپ کے امام و پیر و مرشد نے کس فہم و فراست سے بے شر انسان، نیک بخت، متقی، پرہیزگار اور شرف مکالمات الہیہ سے مشرف کہہ کر ہمیشہ سے ان پر نیک گمان رکھنا بیان کر کے دعا مانگی ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کے ساتھ ہو اور ١٨، ١٩ برس کی ملاقات و تجربہ کے بعد کس نور و بصیرۃ پر منشی الہی بخش کی نسبت یہ اپنی رائے لکھ کر شائع کی تھی۔ اگر نادانستگی یا بے سمجھی سے انہوں نے عصائے موسیٰ میں کچھ لکھ دیا ہے تو آپ بایں دعویٰ علم وفضل اس کو سمجھا دیں اور وہ نقص ظاہر کریں تاکہ لوگوں پر آپ کی صدق بیان ظاہر ہو اور جو افتراء و بہتان انہوں نے کیا ہے آپ کو اگر توفیق و حوصلہ ہے تو ثابت کریں۔ کم سے کم ایک امر ہی غلط وخلاف واقعہ ثابت کریں۔ تاکہ حق ظاہر ہو۔ زبانی غپ چھوڑنے اور واویلا سے کچھ حاصل نہیں۔ ذاتی اعتراضوں کا جواب پہلے بخوبی بیان ہو چکا ہے۔ راقم : وہی محقق !

٢....... نظم بجواب شعر مندرجہ لوح اخبار الحکم

طبع زاد مولوی محمد حسین صاحب گجراتی شاگرد مجد والوقت شوکت اللہ القہار عم فیضہ

بیا اے میرزا تا میرزائی را عیان بینی براه راستی زود آ کہ از دوزخ امان بینی
امام حق نہ ہرگز توئی مردود حق واللہ پئے تردید خود آیات حق نازل عیان بینی
ازاں مہر درخشندہ منم در روشنی دائم مرا در بارگاہش خسرو و صاحب قرآن بینی
تو در اضلال و گمراہی تو مردود خدا ہستی تو در افساد و بد خواہی کجا دارالامان بینی
نہ تو در مکنون بل خزف پارہ عیان ہستی بدفع خود کمر بستہ زمین و آسمان بینی
نہ تو ابن مریم بل سراپا ابن غول استی چو در آئینہ بینی روئے خود دوزخ عیان بینی
مسیح ابن مریم از سما برما فرود آید بہ ملک شام در اقصیٰ بوقت صبح آن بینی
نمی بینم بہ تصدیقت نشان ز آیات قرآنی برغم دوستان خود را مجمع دشمنان بینی
الا اے میرزا خیلی حذرا زقہر یزدان کن زبردستے قوی دستے خداوند جہان بینی
خداوندا بکن معدوم مسیلم قادیانی را کہ شیطان ہائے انسی را بذیل گمرہان بینی
خداوند توئی حافظ توئی ناصر بدین حق کہ آں دجال ملعون را فراپشت خران بینی
نہ احمد توئی از خاکرو بان اے غلام احمد چو گوئی خویش را عیسیٰ ندامت ہر زمان بینی
ہمیگوئیم مسیح و مہدی دوران نہئی ہرگز دروغ از چہرہ ات روشن عیاں بر رو نشان بینی
چنین دجلیت دارد نشان از کبر و خود بینی کجا شیطان فرشتہ کو تفاوت در میان بینی

١٦٧

صفحہ ٢٠٢
نہ مہدی نہ عیسیٰ معاذ اللہ معاذ اللہ ز سر تا پا تو کیستی خودش در گیدیان بینی
زمین و چرخ میگوید نشانہا بہر تکذیبت کمر بستہ بہ تکذیبت بسے شاہد عیان بینی
ز قرآن مجید حق مگر واقف نۂ ہرگز اگر واقف شوی از کید خود را بر کران بینی
یکے راوی خبر از ستہ مشہور میگوید قیامت چوں شود نزدیک دجالان عیان بینی
ہزاراں شاہد آمد بہر تکذیب تو اے مرزا اگر تائب شوی زین فعل خود را در امان بینی
ادلہ باطلہ بگذار واز سرکن برون سودا ازین سودا سرخود را چرا آتش فشان بینی
ز صادق پند را بشنو کہ این پندت بکار آید کہ در روز جزا خود را نہ زینساں سرگراں بینی

محمد حسین صادق از قلعہ دار ضلع گجرات پنجاب!

٣....... قصیدہ یائیہ در رد عقیدۂ مرزائیہ

از مولانا عبدالعزیز صاحب عزیز شاگرد مجدد المائہ مشرقیہ و خلف الصدق

مولانا غلام رسول صاحب مرحوم ساکن قلعہ میاں سنگھ ضلع گوجرانوالہ پنجاب

بنام ایزد بیچون کنم قلمرانی درود خواندہ بذات رسول یزدانی
برو ملہم کذاب ساکن پنجاب کہ نیست در دل او ذرہ نور ایمانی
مثیل عیسیٰ مرفوع صاحب انجیل بخویش ظن و گمان می بری نادانی
بمرد عیسیٰ پور عفیفہ مریم نہ رفع جسم او را شد بحکم اذعانی
بقول او نہ مسیحا دگر فرود آید زبام چرخ بقرب فنائے دورانی
نعوذ باللہ ازین اعتقاد باطل او کہ ہست خارق اجماع اہل قرآنی
نمود مہر علی شاہ پیر اہل سنن ثبوت رفع مسیحا بجسم انسانی
اگر شکے ست ترا ہیں بخواں دلیل رفع بدین وقوعہ گواہست نص فرقانی
اگر نہ کور بہ بیند بجانب خورشید قصور چشمہ خوریست این اگردانی
زبان کفر شب قدر را ہمیگوید خلاف گفتہ خیر البشر نادانی
مراد و معنی زلزال ساعہ عند الحشر بقول اوست ظہور قوائے انسانی
مرا تعجب وافسوس آید از مرزا کہ ہیچ باک ندارد زقہر ربانی
نہ قائل است بمعراج احمدی بجسد محال گفت بگردون صعود جسمانی
بقول اہل عقول و فلاسفہ رفتن بسویے چرخ برون شد ز حد امکانی
کہ باد جو سما ہست مہلک انسان چگونه رفت بگردون حبیب ربانی

١٦٨

٠٣

بجسم الطف آن ذات سرور کونین
کمال شعبدہ بازی بحق عیسیٰ گفت
نگشت زندہ گہے مردہ باعجازش
زمعجزات مسیحا نمود صاف انکار
بگفت روح امین از خدائے عزوجل
مگر بخاطر ایشان زعکس مے افگند
بہ بیں کہ سلسلہ ہائے نبوت این گمراہ
بگفت نیز کہ گاہے حقیقت دجال
نشد حقیقت یاجوج ہم او را معلوم
چوں نمود خداوند کشف این اسرار
چو ابلہ شد از بنیان عقیدہ اش باطل
ہزار لعنت حق باد بر عقائد او
بہ بین تو فتوئے تکفیر آنمہان صاحب
تعجب است زاتباع این مسیلم ہند
حکیم بھیروی ایمان خویش دادہ بباد
مبارکے کہ بسلکوٹ بود امام الصدر
زپیروانش یکے کور باطن ست
ہمیکند بیان پیر ماست صاحب علم
ورا چو خواند شہ گولڑا بماہ اگست
چرا نیامدہ آں حیلہ گر مقابل او
کجا حواری او رفت اعورو اعرج
کجا برفت فدائیش نور دین طبیب
ازین کلام ندانی کہ ہست متبحر
سزائے بیعت و الہام این ہوائی نیست
برائے دولت دنیا بگسترد دامے
عیان نشان ضلالت زچہرہ پژمانش
صفحہ ٢٠٣
تی خودش در کیدیان بینی
سبت بے شاہد عیان بینی
از کید خود را بر کران بینی
نزدیک دجالان عیان بینی
ایں فعل خود را در امان بینی
را چرا آتش فشاں بینی
رانہ زینسان سرگراں بینی
دار ضلع گجرات پنجاب !
ل الصدق
انوالہ پنجاب
رات رسول یزدانی
ول اوذرہ نور ایمانی
گمان مے برد بنادانی
اوراشد بحکم اذعانی
رب فنائے دورانی
اجماع اہل قرآنی
مسیحا بجسم انسانی
ہست نص فرقانی
نیست این اگر دانی
خیر البشر نیادانی
ظہور قوائے انسانی
ندارد زقہر ربانی
دون صعود جسمانی
ان شدز حد امکانی
ودون جیب ربانی
بجسم الطف آن ذات سرور کونین کثیف گفت زراہ عناد و طغیانی
کمال شعبدہ بازی بحق عیسیٰ گفت زسحر خلق طیور آمدہ اگر دانی
نگشت زندہ گہے مردہ باعجازش نہ ابرء اکمہ زود شد باذن رحمانی
زمعجزات مسیحا نمود صاف انکار چواہل نیچر و یونان بکفر و طغیانی
بگفت روح امین از خدائے عزوجل گہے نیامدہ برانبیاء حقانی
مگر بخاطر ایشان زعکس مے افگند چنانچہ عکس درافتد ز خور بتابانی
بہ بیں کہ سلسلہ ہائے نبوت ایں گمراہ چہ کرد درہم و برہم بقول شیطانی
بگفت نیز کہ گاہے حقیقت دجال نہ منکشف شدہ برآن رسول یزدانی
نشد حقیقت یاجوج ہم او را معلوم چنانکہ بود کما حقہ بآسانی
چو ننمود خداوند کشف ایں اسرار کہ بندے نشود باب فیض رحمانی
چو از بنیاں شد عقیدہ اش باطل کہ نیست مرد خدا ہست مرد نفسانی
ہزار لعنت حق باد بر عقائد او کہ کفر کشد اماں خواہ زین مسلمانی
بہ بین تو فتوائے تکفیر آنمیاں صاحب کہ ملک ہند چو مہرست زو بدرخشانی
تعجب است زاتباع این مسیلم ہند چساں ز دست بدارند نور ایمانی
حکیم بھیروی ایمان خویش دادہ بباد ضیاء احسن و برہان ہمہ زنادانی
مبارکے کہ بسلکوٹ بود امام الصدر بسب و فحش شب وروز در زبان رانی
زپیروانش یکے شخص زمرده دل ست منور دین کہ احمد کہ نامش آن دانی
ہمیکند بیان پیرماست صاحب علم کشادہ اند لب خویش درثنا خوانی
وراچو خواند شہ گولڑا بماہ اگست برائے بحث بہ لاہور دار سلطانی
چرا نیامدہ آں حیلہ گر مقابل او اگر بدست ہمیداشت سیف برہانی
کجا حواری او رفت اعورو اعرج کجا مبارک و برہان ظالم جانی
کجا برفت فدائیش نوردین طبیب کہ بود مرد دلیر و شجاع میدانی
ازین کلام ندانی کہ ہست بیخبر او بخیل بلکہ چو بوجہل اوست لاثانی
سزائے بیعت و الہام ایں ہوائی نیست مطیع نفس و ہوایست از پریشانی
برائے دولت دنیا بگسترد دامے فتادہ اند درو مردمان خذلانی
عیان نشان ضلالت زچہرہ پژمانش بسُوئے چہرہ او بین کہ نیست نورانی

١٦٩

صفحہ ٢٠٥
کلام اوست نہ حنظل خراب و بدبوتر چو بز بوقت تکلم بریش جنبانی
زصبر تلخ تر آمد کلام آں ناپاک چہ قول بول ازاں بہتر است اگردانی
ازیں سخن تو مرنج اے امام متنبی کہ بول، نفخ دبر حسب قول یونانی
زاستماع کلام تو ہیچ فائدہ نیست بجز قساوت قلبی ونہی کفرانی
ذلیل کرد ورا قادر علی الاطلاق درآں چہ گفت زدعوٰی بحق نصرانی
نہ مرد آتھم خصمش بدت معلوم ولے نہ غرق عرق گشت از پشیمانی
چرانہ دختر احمد بہ عقد او آمد کہ بود زوجہ سلطان مرد حقانی
کنوں بخانہ سلطان بامن آباد است نہ ہیچگونہ باحوال او پریشانی
ولے چو شرم رود مرد میشود ناداں صدور فعل ازوے شود بنادانی
بگفت سرور ما چوں حیا نمیداری بکن ہر آنچہ تو خواہی زراہ عدوانی
کجا سزاست چنیں کس بہ بیعت و الہام کہ نیست مرد خدا ہست مرد بہتانی
چو حرص نفس کند غلبہ میشوی ابلہ مطیع نفس شوی برملا نہ پنہانی
نہ دیدۂ سوئے فرعون شنیدہ بارے کہ گشت غرق بدریا زراہ طغیانی
نگر بحال عدو کلیم قارون نام چگونہ زیر زمین شد بامر ربانی
عزیزو زر خموشی کہ ایں قدر کافیست برائے آنکہ ورا ہست نور ایمانی

٤...... جعلی بیعت

اے بسا ابلیس آدم روئے ہست
پس بہر دستے نباید داد دست

مولانا مجددالوقت مدظلہ ۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ! آپ نے اعمال نامہ قادیانی میں ثابت کیا تھا کہ اخبار الحکم جو مرزا قادیانی سے جعلی بیعت کرنے والوں کی فہرست کبھی کبھی شائع کرتا ہے تو اپنے منہ پر پبلک کے مواجہہ میں کلنک کا ٹیکا لگاتا ہے۔ تجربہ سے معلوم ہوا کہ آپ کا وہ لکھنا صحیح تھا۔ چنانچہ ١٧ مئی ١٩٠٢ء کا الحکم میری نظر سے گزرا۔ جعلی بیعت کی فہرست میں سب سے پہلے مولوی محمد عبدالرحمن صاحب برادرزادہ مولانا غلام رسول صاحب متوطن قلعہ میہاں سنگھ ضلع گوجرانوالہ درج تھا۔ ”لعنة الله على الجاعل والكذاب على محدث الكفر والالحاد موجد الشرك والارتداد ومبدع السفہ والفساد“ اس گندے اخبار کو چونکہ بجز مرزائیوں کے کوئی مسلمان نہیں دیکھتا۔ لہٰذا اس کے ایڈیٹر نے یہ خیال خام پکایا کہ ایک بڑے

مشہور ومعروف خاندان کے رکن کا نام بیعت کنندوں مرزائیوں کے دلوں میں جم گئی اور دوسرے سادہ لوح مرزا قادیانی کی سخت ذلت کا باعث ہوا۔ کیونکہ مسلما مرحوم کی عزت مرزا قادیانی سے کہیں زیادہ ہے۔ ب نفرین بھیج رہے ہیں۔ اگر مرزا قادیانی میں ذرا بھی عبدالرحمن صاحب در حقیقت مولوی صاحب مرحوم سمجھیں۔

٥...... الہام

ہم سے ایک بزرگ نے بیان کیا کہ ج براہین احمدیہ کی ترتیب میں مصروف تھے تو میں اور مدرسہ عربیہ دیوبند، مرزا قادیانی سے ملنے کو قادیان میں مرزا قادیانی صرف الہامی تھے۔ مسیح موعود اور درخت کے نیچے بیٹھے کچھ لکھ رہے تھے اور مولوی اوڑھے ہوئے تھے۔ جس پر سرخی مائل کچھ دھبے تھے کی کچھ بوندیں گریں۔ جھٹ سے فرماتے کیا ہی خونریزی ہوگی۔ دیکھتے میرے کپڑوں پر خون کی چ صاحب اپنی چادر کے دھبے دکھا کر فرمانے لگے ک الہام نہیں ہوا۔ مرزا قادیانی یہ سن کر بہت پھیکے ہ سنئے۔ مرزا قادیانی کے پڑوس میں ایک شخص نے لڑے اور جب انہیں اوت اوت کر کے للکارا گیا پنجوں سے خون کے قطرے ٹپکے جو مرزا قادیانی کے پر ایک لطیفہ یاد آیا۔ حضرت مصلح الدین سعدی شیر کسی شخص نے بیان کیا کہ جب انہوں نے یہ شعر لکھ

برگ درختان سبز
ہر ورق دفتریست

تو آسمان سے منہ میں من وسلویٰ آ

صفحہ ٢٠٥

مشہور معروف خاندان کے رکن کا نام بیعت کنندوں میں شائع کرنے سے مرزا قادیانی کی وقعت مرزائیوں کے دلوں میں جم گئی اور دوسرے سادہ لوح بھی دام میں پھنسیں گے۔ لیکن اس کا یہ خیال مرزا قادیانی کی سخت ذلت کا باعث ہوا۔ کیونکہ مسلمانوں کے دلوں میں مولانا غلام رسول صاحب مرحوم کی عزت مرزا قادیانی سے کہیں زیادہ ہے۔ پس لوگ اس کے جعل اور فریب پر لعنت اور نفرین بھیج رہے ہیں۔ اگر مرزا قادیانی میں ذرا بھی حیاء اور شرم ہے تو ثابت کرے گا کہ مولوی عبدالرحمن صاحب درحقیقت مولوی صاحب مرحوم کے برادرزادے ہیں۔ یہ تحریر بطور نوٹس کے سمجھیں۔ راقم: ایس۔ ایم!

٥...... الہام کا ثبوت

ہم سے ایک بزرگ نے بیان کیا کہ جب مرزا قادیانی آریا عقائد کی تردید اور کتاب براہین احمدیہ کی ترتیب میں مصروف تھے تو میں اور مولوی رفیع الدین صاحب مرحوم سابق مہتمم مدرسہ عربیہ دیوبند مرزا قادیانی سے ملنے کو قادیان گئے۔ ملے جلے، باتیں ہوئیں۔ اس زمانے میں مرزا قادیانی صرف الہامی تھے۔ مسیح موعود اور مہدی مسعود اور نبی اور رسول نہ تھے۔ ایک درخت کے نیچے بیٹھے کچھ لکھ رہے تھے اور مولوی رفیع الدین صاحب کاٹن کی رنگی ہوئی چادر اوڑھے ہوئے تھے۔ جس پر سرخی مائل کچھ دھبے تھے۔ مرزا قادیانی کے کپڑوں پر درخت سے خون کی کچھ بوندیں گریں۔ جھٹ سے فرماتے کیا ہیں لیجئے۔ مجھے الہام ہوا ہے کہ دنیا میں بڑی خونریزی ہوگی۔ دیکھئے میرے کپڑوں پر خون کی چھینٹیں آسمان سے برسی ہیں۔ مولوی رفیع الدین صاحب اپنی چادر کے دھبے دکھا کر فرمانے لگے کہ چھینٹیں تو میری چادر پر بھی ہوئی ہیں۔ مگر مجھے الہام نہیں ہوا۔ مرزا قادیانی یہ سن کر بہت پھیکے ہوئے۔ اب خون کے چھینٹوں کی اصل حقیقت سنئے۔ مرزا قادیانی کے پڑوس میں ایک شخص نے قربانی کی تھی۔ کوے ذبیحہ کے گوشت وغیرہ پر گرے اور جب انہیں اوت اوت کر کے للکارا گیا تو مرزا قادیانی کے درخت پر آبیٹھے اور ان کے پنجوں سے خون کے قطرے ٹپکے جو مرزا قادیانی کے لئے الہام کی سرخروئی بن گئے۔ ہم کو اس موقع پر ایک لطیفہ یاد آیا۔ حضرت مصلح الدین سعدی شیرازی کی نسبت ابوالفیض فیضی فیاضی کے سامنے کسی شخص نے بیان کیا کہ جب انہوں نے یہ شعر لکھا تھا۔

برگ درختان سبز در نظر ہوشیار
ہر ورق دفتریست معرفت کردگار

تو آسمان سے منہ میں من وسلویٰ آ گرا تھا۔ فیضی نے کہا اوہ یہ کیا واہیات شعر ہے۔

١٧١

صفحہ ٢٠٧

میں اس شعر سے ہزار درجے بہتر فصیح و بلیغ معرفت و توحید کا بھرا شعر لکھ سکتا ہوں۔ مخاطب نے کہا پھر دیر کیا ہے۔ بسم اللہ کیجئے۔ فیضی نے فی البدیہہ یہ شعر پڑھا؎

ہر گیا ہے کہ از زمین روید
وحدہ لا شریک لہ گوید

مخاطب نے کہا بے شک اعلیٰ درجہ کا شعر ہے۔ لیکن خدا کے یہاں اس شعر کی مقبولیت جب ثابت ہو کہ اس کو پڑھ کر آپ بھی آسمان کی طرف منہ کریں۔ فیضی نے شعر پڑھ کر آسمان کی طرف منہ کھولا تو ایک چیل کی بیٹ موت میں لتھڑی ہوئی فیضی کے منہ میں بیچ سے آ پڑی۔ کہتے کیا ہیں بس سخن فہمی عالم بالا معلوم شد۔ ایڈیٹر!

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

تعارف مضامین ...... ضمیمہ شحنہ ہند میرٹھ

١٦؍جون ١٩٠٢ء کے شمارہ نمبر ٢٣ کے مضامین

اسی ترتیب سے پیش خدمت ہیں۔

١:...... مرزائی الہام کے منہ پر قدرت الٰہی کا تھپڑ

مرزا قادیانی کے الہامات برابر غلط ہو رہے ہیں۔ مگر ان کو الہام اور پیشین گوئی کا کچھ ایسا لچکا پڑا ہے کہ چھوٹتا ہی نہیں جو الہام غلط ہوتا ہے۔ گویا منہ پر ایک تھپڑ لگتا ہے۔ اس میں بھی ضرور حکیم علی الاطلاق واحد خلاق کی کوئی حکمت ہے کہ چیونٹی کے جس قدر پر لگتے ہیں اسی قدر جلد معدوم ہوتی ہے۔ راتب چکھنے والے اپاہجوں کی تو ہم کہتے نہیں مگر اس میں شک نہیں کہ مرزا قادیانی کو جو الہام ہوا ہے اور پھر وہ میعاد مقررہ کے بعد غلط ہو گیا ہے۔ دس پانچ چیلے ضرور ان کی مشن سے فرو ہو گئے ہیں۔ یہی ٹپکا ٹپکی رہی تو چند روز میں اصطبل خالی ہوگا اور مینارے کی چوٹی اور کلس پر اُلّو بولنے لگیں گے اور وہ دن دور نہیں کہ صرف ایک ٹٹروں ٹوں چڑی مار ہی کاندھے پر جال یا لاسا دھرے نظر آئے اور ساری چڑیاں پھر ہو جائیں۔

١٧٢

مرزا قادیانی کے ایسے خوارق پر ہمارا جی تو بہت ہی کا سر دے ماریں اور کس کے دل میں دل ڈالیں۔ ہم تو اپ تھک گئے کہ یوں چال چلو یوں چلو مگر نقار خانہ میں طوطی کی آوا ہم نے لکھا تھا کہ جب ہندوستان کے وحشی تعلیم ڈھب پر نہیں چڑھتے تو اپنی مشن کو افغانستان اور وہاں سے ت کے وحشی جھٹ بیعت کریں گے اور پھر چمڑی اور دودھ والا اپاہجوں نے تو ہندوستان اور اس میں سے بھی صرف پنجاب پھوکی کھا کھا کر ایسے احدی بن گئے ہیں کہ

ہلہ نہ ٹلہ نہ چ

اب تو الہاموں کو کیڑا کھا گیا۔ پیشین گوی دہراتے دہراتے پلیتھن نکل گیا۔ کوئی نیا ڈراما کھڑا کر ا دام میں پھنسیں اور پھر ٹکٹ کے دام بڑھیں۔ آخر قادیا ہیں اور سب کا گردھنال اور گرگٹ کے سے رنگ بدل وہی باسی تباسی الہامات ۔ وہی پھپھوندی لگی ۔ پیشین باندھ کر عدم آباد کو چلتا ہوگا اور میرا فلاں دشمن ماہ چند بات تو ہر گھڑی میں ٹھونس ٹھانس کر اللہ میاں کے دفعہ دس دفعہ بیس دفعہ سنی۔ سنتے سنتے کان پک گئے خطا مادر خطا ۔ الہام اور پیشین گوئی نے مرزا قادیانی مٹی میں کیسے ہی چھما چھم اور دمادم دوگڑے پڑیں۔ مگر ت ہی رہیں گے۔

گیڈر کی جب شامت آتی ہے تو شہر طاعون بن کر تمام ہندوستانی بچوں کو ڈکار جائے میں بھی نہ چھلکے گا۔ آپ جانتے ہیں بھوک برط عارضہ جوع البقر میں مبتلا ہوگیا ہے تو قادیا بھنبھوڑنے ۔ منہ کو خون لگا تھا نہ۔ کیوں چھوڑ لے کر غرب تک لمبے لمبے دانت اور کلکتہ سے

صفحہ ٢٠٧

مرزا قادیانی کے ایسے خوارق پر ہمارا جی تو بہت ہی جلتا ہے۔ مگر کیا کریں دیوار سے کس کا سر دے ماریں اور کس کے دل میں دل ڈالیں۔ ہم تدابیر بتاتے بتاتے راہ دکھاتے دکھاتے تھک گئے کہ یوں چال چلو یوں چلو مگر نقار خانہ میں طوطی کی آواز کوئی نہیں سنتا۔

ہم نے لکھا تھا کہ جب ہندوستان کے وحشی تعلیم و تربیت پا کر انسان بن گئے ہیں اور ڈھپ پر نہیں چڑھتے تو اپنی مشن کو افغانستان اور وہاں سے ترکستان اور پھر فارس کو لے جاؤ۔ وہاں کے وحشی جھٹ بیعت کریں گے اور پھر چپڑی اور دو دو والا معاملہ ہوگا۔ مگر مرزا قادیانی اور ان کے اپاہجوں نے تو ہندوستان اور اس میں سے بھی صرف پنجاب کا گھر دیکھ رکھا ہے۔ قادیان میں پھولی پھولی کھا کھا کر ایسے احدی بن گئے ہیں کہ؎

ہلڈ نہ ٹلڈ نہ جنبز جائے

اب تو الہاموں کو کیڑا کھا گیا۔ پیشین گوئیاں زمین دوز ہو گئیں۔ پرانے ناٹکوں کو دہراتے دہراتے پلتھن نکل گیا۔ کوئی نیا ڈراما گھڑ کر اسٹیج پر لائیں تو تماش بینوں کو دلچسپی ہو۔ لوگ دام میں پھنسیں اور پھر ٹکٹ کے دام بڑھیں۔ آخر قادیان میں بڑے بڑے کھلاڑی اور ایکٹر جمع ہیں اور سب کا گرو گھنٹال اور گرگٹ کے سے رنگ بدلنے والا ابوزید سروجی ہے۔ مگر افسوس ہے کہ وہی باسی تباسی الہامات۔ وہی پھپھوندی لگی۔ پیشین گوئیاں کہ میرا فلاں مخالف استر بستر باندھ بوندھ کر عدم آباد کو چلتا ہوگا اور میرا فلاں دشمن ماہ جند بیدستر اور خیار شمبر کی ساڑھے بتیسویں تاریخ ٹاٹ ٹوبرا گٹھڑی میں ٹھونس ٹھانس کر اللہ میاں کے گھر کا پا تراب کرے گا۔ ایک ایک دفعہ کی دو دفعہ دس دفعہ بیس دفعہ سنی۔ سنتے سنتے کان سیماب کی کان ہو گئے۔ پھر ایک خطا دوسری خطاء تیسری خطاء اور بمخطاء۔ الہام اور پیشین گوئی نے مرزا قادیانی اور مرزائیوں کو کچھ ایسا چر لیا ہے کہ برسات میں کیسے ہی چھما چھم اور دما دم دوگڑے پڑیں۔ مگر خدا نے چاہا تو وہ بوئے بھی نہ جمیں گے اور کھیت ہی رہیں گے۔

گیدڑ کی جب شامت آتی ہے تو شہر کی طرف بھاگتا ہے۔ لگے کہنے کہ آسمانی باپ طاعون بن کر تمام ہندوستانی بچوں کو ڈکار جائے گا۔ مگر اپنے بمنزلہ ولد (لے پالک) کے پڑوس میں بھی نہ پھٹکے گا۔ آپ جانتے ہیں بھوک بری بلا ہے اور جب کہ مرزا قادیانی کا آسمانی باپ عارضہ جوع البقر میں مبتلا ہو گیا ہے تو قادیان میں بھی جا دھڑکا، اور لگا اپنے بچوں کچوں کو بھنبھوڑنے۔ منہ کو خون لگا تھا نہ۔ کیوں چھوڑنے لگا۔ اب تو سب کا اللہ ہی بیلی ہے۔ شرق سے لے کر غرب تک لمبے لمبے دانت اور کلکتہ سے لے کر سرحد پنجاب تک نکلی ہوئی تیز کچلیاں۔ اوہی

١٧٣

صفحہ ٢٠٩

میری میا! قادیان جیسی چھوٹی سی آبادی کی تو بساط ہی کیا ہے۔ منہ مارا اور سب کے سب ہڑپ۔ کوہ مالیہ سے بڑی ننھی منی ایک چٹکی نکالی اور سب کے سب غڑپ ۔ چوہے کا بل بھی نہ ملے گا۔ پھر مصیبت یہ ہوگی کہ دم سے چھاج بندھا ہوگا۔ آگے روک پیچھے ٹھوک، یا الٰہی کس عذاب کے شکنجے میں جان آئی۔ اتنے میں آسمان سے ملائکہ مقربہ الٰہی آواز دیں گے۔ ”ذق انک انت العزیز الکریم“ یعنی اب دوزخ کا عذاب چکھ کیونکہ تو دنیا میں بڑا سردار (نبی اور رسول) بنا ہوا تھا۔

ہمارے ایک نامہ نگار نے بڑے وثوق سے لکھا کہ قادیان سرکاری طور پر حلقہ طاعون میں داخل ہو گیا۔ مگر الحکم انکار کرتا ہے اور پیسہ اخبار کو نوٹس دیتا ہے کہ اس نے غلط مشہور کیا اور حکیم نور الدین اس پر لائیبل کی نالش دائر کریں گے۔ ہماری رائے میں بس مسیح موعود بننے میں یہی کسر تھی کہ جب ہر طرف سے ہارے تو چلے نان پارے۔

نہیں جناب! قادیان تو آسمانی باپ کا دارالامان ہے۔ طاعون ملعون کا کیا منہ ہے کہ ادھر منہ کرے۔ اگر بالفرض دو چار دس پانچ کیس ہو بھی گئے تو اسے طاعون نہ سمجھنا۔ یہ تو آخرالزمان میں خر دجال کی سموں اور اس کے ناپاک چمگادڑوں کی دموں کا اثر ہے۔ اگر قادیان میں طاعون ہو تو ہمارا ذمہ۔ مرنے کو سارا قادیان مر جائے مگر اینجانب کی تو یہ ڈیوٹی ہے کہ طاعون نہ ہو۔ دوسری بیماریوں کا ہم نے ذمہ نہیں لیا اور نہ یہ ذمہ کہ قادیان میں کوئی مرے گا ہی نہیں۔ لوگوں کو کیا ہو گیا ہے کہ خواہ مخواہ بھی ادھر ادھر سے گھیر گھار کر طاعون کو قادیان میں دھکیلنا چاہتے ہیں۔

مرزا قادیانی کی تمام پیشین گوئیاں غلط نکلیں۔ مناسب تھا کہ ان پر نادم ہوتے اور غیب دانی کے دعوے سے توبہ کرتے۔ مگر شامت سے ہر پیشین گوئی کی تاویل کر کے اپنے صغیرہ کو برابر کبیرہ بناتے رہے۔ جس کا نتیجہ یہی ہوا کہ از انسو راندہ و از نیسو درماندہ۔ پھر تاویل بھی ایسی لچر اور پوچ اور احمقانہ جس پر تھوڑی سی عقل والے اور شد بد لکھے پڑھے بھی قہقہے لگا سکتے ہیں۔ خود مرزا قادیانی اور مرزائی اچھی طرح جانتے ہیں کہ فلاں پیشین گوئی غلط ہوئی اور تاویل اس سے بھی بڑھ کر عذر گناہ بدتر از گناہ مگر بڑی ڈھٹائی سے پبلک میں مشتہر کیجاتی ہے اور اپنے کانشنس کا خلاف کرنے میں کبھی شرم نہیں آتی۔ سچی بات کے لئے تاویل کی کوئی ضرورت نہیں ہوتی۔ اس کو دنیا تسلیم کر لیتی ہے۔ نہ قائل کے قول پر حرف آتا ہے نہ سامع کو شک ہوتا ہے۔ تاویل ہمیشہ جھوٹی بات کی کی جاتی ہے۔ خود تاویل کے معنی ہی ایک شے سے دوسرے شے کی جانب رجوع یعنی پھرنا یا اپنے پہلے مرکز سے ہٹ جانا ہے۔ حالانکہ حق الامر کبھی اپنے مرکز سے نہیں ہٹتا۔ لیکن یہ مرزا قادیانی کے لئے عیب نہیں بلکہ فخر کا باعث ہے۔ جب کہ وہ اپنے مدعا کے موافق قرآن ١٧٤

وحدیث کی تاویل کرتے ہیں تو خود اپنے اقوال مبینہ اسلامی فرقوں نے اپنے مطلب کے موافق قرآن وحدیث ان کے طومار اور اسفار اور اعمالنامے موجود ہیں جن کو دریا برد کر دیا ہے۔

تاویل ہونے کی دو ہی صورتیں ہیں یا تو غلطی اور یہ دونوں محققان ومخاطبان صادق اور سچے مرزا قادیانی جب کسی پیشین گوئی یا الہام کا جھٹکا ل ٹھانک کر اس کی چاروں چولیں ٹھیک کر لیتے ہیں ل جانتے ہیں جھوٹ کے پاؤں کہاں اور ملمع اور تاروپو ہے تو اس پر دوسرا رنگ چڑھاتے ہیں اور جب چھلنے چاہتے ہیں یہ مگر جو شے ایک مرتبہ بودی اور غیر مربو کیونکر اصلی حالت پر آسکتی ہے۔

عیسائی آتھم اتنے عرصہ میں مرجائے چیلوں نے کہا کہ حضرت اقدس کی اس پیشین گو قادیانی جبروت سوار ہو گیا تو نہ مرے گا۔ آسمانی م سے اس کا نکاح ہوا تو وہ اتنے عرصہ میں مر جائے گ کے عرصہ مقررہ میں مرزا قادیانی کی وہی آسمانی منکو بن گئی۔ مگر نہ آسمانی باپ کو شرم آئی نہ اس کے بھونپ نہ نالہ نیم شبی نہ دعائے سحری نے اثر دکھایا۔

جلایا گھر عدو کا اور
ہنسی کو چپکے چپکے تو

اس کی تاویل یوں کی گئی کہ نکاح ت حضرت اقدس کے نکاح میں آچکی ہے۔ اب رہ ہو اور پھر ہو۔ لاکھوں میں ہو اور ضرور بالضرور ہو کلس پر صلیب لگائی جائے اور مرزا قادیانی اس پ گوئی میں اتنا بڑا منارے سے بھی لمبا جملہ محذوف ٥

صفحہ ٢٠٩

وحدیث کی تاویل کرتے ہیں تو خود اپنے اقوال میں تاویل کرنا کیا بڑی بات ہے۔ بہت سے اسلامی فرقوں نے اپنے مطلب کے موافق قرآن و حدیث میں تاویل کی ہے اور گمراہ ہو گئے ہیں۔ ان کے طومار اور اسفار اور اعمالنامے موجود ہیں جن کو سنت صحابہ اور سلف و خلف صالحین نے رد کر کے دریا برد کر دیا ہے۔

تاویل ہونے کی دو ہی صورتیں ہیں یا تو خود قائل کی غلطی یا سامع اور مخاطب کی سمجھ کی غلطی اور یہ دونوں محققان و مخاطبان صادق اور سامعان قابل پر آسانی سے کھل جاتی ہیں۔ مرزا قادیانی جب کسی پیشین گوئی یا الہام کا جھلنگا تیار کرتے ہیں تو اپنی دانست میں خوب ٹھونک ٹھانک کر اس کی چاروں چولیں ٹھیک کر لیتے ہیں اور ہر پہلو سے دیکھ بھال لیتے ہیں۔ مگر آپ جانتے ہیں جھوٹ کے پاؤں کہاں اور ملمع اور تاروپود میں مضبوطی کہاں۔ لہذا جب وہ ملمع کھل جاتا ہے تو اس پر دوسرا رنگ چڑھاتے ہیں اور جب جھلنگے کی چولیں ہل جاتی ہیں تو دوسری پچریں ٹھونکنا چاہتے ہیں۔ مگر جو شے ایک مرتبہ بودی اور چرمر ہو گئی اور ساری کیلیں خراب ہو کر ڈھیلی پڑ گئیں۔ وہ کیونکر اصلی حالت پر آسکتی ہے۔

عیسائی آتھم اتنے عرصہ میں مر جائے گا۔ مگر جب وہ سخت جانی سے نہ مرا تو مرزا کی چیلوں نے کہا کہ حضرت اقدس کی اس پیشین گوئی میں یہ جملہ محذوف تھا کہ اگر اس کے دل پر قادیانی رعب سوار ہو گیا تو نہ مرے گا۔ آسمانی منکوحہ میرے نکاح میں آئے گی اور اگر کسی اور سے اس کا نکاح ہوا تو وہ اتنے عرصہ میں مر جائے گا۔ حالانکہ غیر سے نکاح ہو گیا اور پیشین گوئی ہی کے عرصہ مقررہ میں مرزا قادیانی کی وہی آسمانی منکوحہ مرزا قادیانی کے رقیب سے صاحب اولاد بن گئی۔ مگر نہ آسمانی باپ کو شرم آئی نہ اس کے بمنزلہ ولد (لے پالک) کی رگ حمیت جوشزن ہوئی نہ نالہ نیم شبی نہ دعائے سحری نے اثر دکھایا۔

جلایا گھر عدو کا اور نہ کاخ آسماں پھونکا
مجھی کو چپکے چپکے تو نے سوز نہاں پھونکا

اس کی تاویل یوں کی گئی کہ نکاح تو درحقیقت آسمان میں ہو چکا ہے اور وہ منکوحہ حضرت اقدس کے نکاح میں آ چکی ہے۔ اب رہا قبض و تصرف ۔ وہ سوا ستائیس برس کے عرصہ میں ہوا اور پھر ہو۔ لاکھوں میں ہو اور ضرور بالضرور ہو۔ رقیب مرے اور ضرور مرے۔ ورنہ منارے کے کلس پر صلیب لگائی جائے اور مرزا قادیانی اس پر مصلوب کئے جائیں۔ حضرت اقدس کی پیشین گوئی میں اتنا بڑا منارے سے بھی لمبا جملہ محذوف تھا۔

١٧٥

صفحہ ٢١١

مرزا قادیانی نے پیشین گوئی کی تھی کہ قادیان طاعون سے پاک اور محفوظ رہے گا۔ مگر شحنہ ہند میں متواتر خطوط آ رہے ہیں کہ اب تک طاعون آسمانی باپ کے کئی بچوں کو چکھ چکا ہے اور مونچھوں پر تاؤ دیتا اور ڈکاریں لیتا پھرتا ہے اور کیا معلوم ہے کتنوں کا سلفہ کرے۔ پیسہ اخبار میں متواتر خبریں درج ہو رہی ہیں کہ طاعون ملعون نے آسمانی باپ کے لے پالک کے دارالامان کا ذرا لحاظ نہ کیا اور ایک طرف سے بچوں کھچوں کے بھنبھوڑنے کا لٹکا لگا دیا۔ بٹالوی نامہ نگار نے لکھا کہ قادیان میں طاعون کے مسلسل اور متصل کیس ہو رہے ہیں اور قادیان سرکاری طور پر زیر حلقہ طاعون آ گیا ہے اور ایک تقریب سے ہم کو بھی یقین ہو گیا۔ یعنی اس عرصہ میں کئی مرزائی ہمارے پاس متواتر آئے۔ جن میں ایک چنڈال ہے اور پارے کے پیالے بناتا ہے کہ ان میں دودھ بھر کر پینے سے ٨٠ برس کا بوڑھا بھی درجن بھر بچے کھٹاکھٹ نکلوانے لگے اور شام سے گھان جوڑے تو تڑکا کر دے اور بس کر بس کر بلوا دے۔ ہم نے کہا نئے نبی کی تبلیغ کا یہ لٹکا بہت خاصہ ہے اور اس سے سیکڑوں الو جن کی رجولیت پاتال کو کوچ کر گئی ہے۔ دام میں پھنس جائیں گے اور ہزاروں کھنڈے استرے سے سرمنڈوا کر اولوں سے بچ جائیں گے اور یہ تمہارے نئے نبی کی سنت ہے۔

قادیان میں بھی۔ ہزارہا بوالہوس زعفرانی حلوے میں ریگ ماہی اور سقنقور اور عنبر اشہب ملا کر سانٹھے پاٹھے بن رہے ہیں۔ بس اور کیا چاہئے۔ مولیٰ دے اور بندہ لے۔

ان میں ایک حکیم صاحب ضلع میرٹھ کے رہنے والے اور ایک مولوی صاحب عیسائی مشن کے نمک خوار اور دو تین عطائی اور تھے جو غالباً ویسے ہی پکڑے ہوئے تھے۔ تصویر پرستی اور ختم نبوت پر بحث ہوتے ہوتے مرزا قادیانی کی پیشین گوئی اور قادیان میں طاعون صاحب کی تشریف آوری کا ذکر بھی چھڑا۔ حکیم صاحب لگے کہنے کہ حضرت اقدس نے تو اپنی پیشین گوئی میں یہ لکھا ہے کہ قادیان میں طاعون کی افراط تفریط نہ ہوگی۔ گویا پیشین گوئی کی تاویل میں افراط وتفریط محذوف ہے۔ مرزائیوں کی مذکورہ بالا تاویل سے یہ تو قطعی ثابت ہو گیا کہ قادیان میں طاعون ضرور ہے۔ اب ہم کو مرزا قادیانی کے اشتہار کا انتظار ہے کہ وہ بھی یہی تاویل کرتے ہیں یا کچھ اور۔ بہر نہج لنگڑی لولی تاویل تو مرزا قادیانی اور ان کے تیمور لنگ کے حصے میں آ گئی ہے۔ لیکن یہ کاغذی ناؤ کب تک چلے گی۔ اس کی قسمت میں تو ڈوبنا ہی لکھا ہے۔ مرزا قادیانی نے جب کہ طاعون کو اپنی مسیحیت اور مہدویت کا مبارک شگون اور تفاول یا یوں کہو کہ تمغہ گردانا ہے تو مرزائیوں کو تو طاعون کو دیکھ کر ہنسنا اور بڑی مسرت کے ساتھ اس کو قبول کرنا اور خود مرزا قادیانی کو بغلیں بجانا اور مارے خوشی کے کود اچھل کر منارے کی چوٹی پر جھنڈی لگانا چاہئے۔ طاعون سے انکار

١٧٦

کرنا اپنی مہدویت کی ناک پر استرا نہیں چلوانا اچھا ان کو اقرار کرنا چاہئے کہ بے شک یہ بڑھتی دولت کو چ تمغے کو آپ ہی برباد کیا جاتا ہے۔ یہ الٹی گنگا کیوں ہیں۔ مرزا قادیانی کو ان کا مشکور ہونا اور روغن بادام کھلانا چاہئے۔ نہ کہ ناک چڑھانا اور سر بہ جبین ہونا وچ بھنگ ہے۔ (رنگ میں بھنگ ہے) ایڈیٹر!

٢...... جعلی مشن کے بارے میں پر

راقم نے قادیانی اخبار الحکم (برعکس نہند نا اس کی بعض تحریروں کو اپنے نامور اور راست باز اخب وعدہ کرتے ہیں۔ گو اس بات کو طبیعت تسلیم نہیں کر سکت متین اخبار کو بیہودہ اور گندی تحریروں سے آلودہ کر۔ دیکھ کر ایسا اقرار کر لیا ہو۔

ہندوستان بھر کے ورنیکولر اخباروں میں پبلک کی طرف سے آپ کے اخبار کو ہے اور جس ا مطالعہ کئے جاتے ہیں کسی اور کے اخبار کو کم نصیب عالی دماغ اور روشن ضمیر جنٹلمین کی رائے زرین پر مخل بے اعتبار پرچہ ہے جو بلحاظ مذہبی معاملات ۔ سوش پہلو سے گرا ہوا ہے یہ شریر پرچہ صرف اس واسطے جا کر مرزائے قادیانی کے نئے اور نرالے مشن کا دست

ہندوستان کی مسلمان رعایا پر جو پچھلے دنو اور بغاوت کا الزام لگایا وہ اسی ناشدنی پرچہ کے ذر اور مقدس احباب کو صریح دشنام دینے کا یہی پرچہ آ اپنے بس میں لانا اور حمقاء سے اپنی مطلب برآری

اس کا ایڈیٹر اگر چہ خود نصف حبشی کا چھ اور بے باک ہے کہ مسلمانوں کو تاریکی کے فرزند وغ

اگر ضمیمہ شحنہ ہند الموسوم بہ نامہ اعمال قا

٧٧

صفحہ ٢١١

کرنا اپنی مہدویت کی ناک پر استرا نہیں کلہاڑا چلانا ہے۔ قادیان میں طاعون نہ بھی ہو تب بھی ان کو اقرار کرنا چاہئے کہ بے تحاشا بڑھتی دولت کو چوکھٹ سے دھکے دیئے جاتے ہیں اور اپنے تمغے کو آپ ہی برباد کیا جاتا ہے۔ یہ الٹی گنگا کیوں بہنے لگی۔ جو لوگ قادیان میں طاعون بتاتے ہیں۔ مرزا قادیانی کو ان کا مشکور ہونا اور روغن بادام اور زعفران میں دم کیا ہوا پلاؤ اور تر بتر حلوا کھلانا چاہئے۔ نہ کہ ناک چڑھانا اور سرکہ جبین ہونا۔ قسم ہے منارے دی یہ تو نرا رنگ دے وچ بھنگ ہے۔ (رنگ میں بھنگ ہے) ایڈیٹر!

٢...... جعلی مشن کے بارے میں پیسہ اخبار کی خدمت میں التماس

راقم نے قادیانی اخبار الحکم (برعکس نہند نام زنگی کافور) کے کسی نمبر میں پڑھا تھا کہ آپ اس کی بعض تحریروں کو اپنے نامور اور راست باز اخبار کے قیمتی اور لاثانی کالموں میں جگہ دینے کا وعدہ کرتے ہیں۔ گو اس بات کو طبیعت تسلیم نہیں کرسکتی کہ آپ سا نیک نہاد اور عقل کل مسلمان اپنے متین اخبار کو بیہودہ اور گندی تحریروں سے آلودہ کرے۔ مگر کیا عجب ہے کہ آپ نے کوئی مصلحت دیکھ کر ایسا اقرار کرلیا ہو۔

ہندوستان بھر کے ورنیکولر اخباروں میں سے جو عزت و اکرام اس وقت گورنمنٹ اور پبلک کی طرف سے آپ کے اخبار کو ہے اور جس امتیازی اور وقعت کی نگاہوں سے اس کے کالم مطالعہ کئے جاتے ہیں کسی اور کے اخبار کو کم نصیب ہوں گے۔ باایں ہمہ ہر دل عزیزی آپ سے عالی دماغ اور روشن ضمیر جنٹلمین کی رائے زرین پر مخفی نہیں کہ قادیانی اخبار مذکور ایک ایسا کاذب اور بے اعتبار پرچہ ہے جو بلحاظ مذہبی معاملات۔ سوشل تعلقات پولیٹیکل واقعات وغیرہ کے ہر ایک پہلو سے گرا ہوا ہے یہ شریر پرچہ صرف اس واسطے جاری کیا گیا ہے کہ عام مسلمانوں میں تفرقہ ڈال کر مرزائے قادیانی کے نئے اور نرالے مشن کا دست و بازو ہو۔

ہندوستان کی مسلمان رعایا پر جو پچھلے دنوں مرزا قادیانی نے ناحق اور بے موجب جہاد اور بغاوت کا الزام لگایا وہ اسی ناشدنی پرچہ کے ذریعہ شائع ہوا۔ ہر ایک فرقہ و جماعت کے پاک اور مقدس احباب کو صریح دشنام دینے کا یہی پرچہ آرگن ہے۔ عوام کالانعام کو ہر ایک طریق سے اپنے بس میں لانا اور حمقاء سے اپنی مطلب برآری کے لئے ٹکے بٹورنا اسی پرچہ کا اصلی مدعا ہے۔

اس کا ایڈیٹر اگرچہ بدنصیب حبشی کا چھوٹا بھائی ہے مگر برملا گالیاں دینے میں ایسا شوخ اور بے باک ہے کہ مسلمانوں کو تاریکی کے فرزند وغیرہ لکھتے اس کو شرم نہیں آتی۔

اگر ضمیمہ شحنہ ہندالموسوم بہ نامہ اعمال قادیانی جس قدر ان دو برسوں کے عرصہ میں نکل

١٧٧

صفحہ ٢١٣

چکا ہے ایک سرسری نظر سے بھی آپ کی نظر کیمیا اثر سے گزر جاوے تو علاوہ اس نئے پختہ کے سینکڑوں سربستہ رازوں کے کھلنے کا بآسانی تمام آپ کو یقین ہو جاوے کہ صریح کذب بولنے اور گالیوں کے جہاز چلانے میں یہ شخص کیسا مشاق ہے۔ قادیان سے گزرنے والے جعلی مریدوں کے نام مکرر سہ کر فہرست میں دیے جاتے ہیں اور گو مرزائی جماعت کے لیڈنگ ممبروں کا کلیہ قاعدہ ہے کہ خواہ کوئی شخص مسلمانوں میں سے کیسے ہی اعلیٰ رتبہ اور برتر درجہ کا انسان ہو اور ان لوگوں سے سینکڑوں گنا لیاقت ورع ایمانداری میں بڑھ کر ہو اس کو تضحیک اور تحقیر کے طور پر لفظ بیاں کر کے لکھتے ہیں۔ مگر کوئی جاہل سے جاہل کندہ ناتراش ان کے مشن میں شامل ہو جاوے تو اس کو حضرت اور مقدس اور مولوی وصاحب وغیرہ بنا کر دکھاتے ہیں۔ الحکم اخبار ١٠؍ اپریل ١٩٠٢ء کے اشو میں ایک آرٹیکل بعنوان وزیر آبادی کا چشم دید واقعہ چھپا ہے۔ وہ ایسا صریح جھوٹ اور ابتداء سے لے کر انتہا تک بہتان ہے کہ اس کا ایک فقرہ بھی پایہ صداقت کو نہیں پہنچتا اور وزیر آباد اور اس کے گردو نواح کے ہزاروں لوگ جانتے ہیں کہ وزیر آبادی نامہ نگار نے علیٰ رؤس الاشہاد اپنے نامہ اعمال کی طرح الحکم اخبار کے کالموں کو سیاہ اور گندہ کیا ہے جس کی تردید ضمیمہ شحنہ ہند میرٹھ مورخہ ٢٤؍ مئی ١٩٠٢ء میں نہایت خوبی اور خوش اسلوبی سے کی گئی ہے۔ اگر الحکم کے ایڈیٹر میں کچھ بھی بوئے ایمان ہوتی تو فوراً اس کی تردید چھاپتا۔ پیسہ اخبار اور ضمیمہ شحنہ ہند نے معتبر ذرائع سے ان مرزائیوں کے نام شائع کئے ہیں جو طاعون کی بیماری سے راہی ملک بقاء ہوئے۔ مگر الحکم سچے واقعات پر خاک ڈالنا چاہتا ہے۔ قادیانی مرزا کی یہ عادت مستمرہ ہو رہی ہے کہ پہلے تو اس زور شور سے پیشین گوئی کرتا ہے جس سے درودیوار ہل جاتے ہیں۔ مگر جب میعاد مقررہ سے پہلے ہی پیشین گوئی کا بیڑا غرق ہونے لگتا ہے تو اس میں رخنے نکال کر قسم قسم کی طفل تسلیوں سے مریدوں کے دل بہلاتا ہے۔ عبداللہ آتھم، داماد مرزا احمد بیگ، مولوی محمد حسین بٹالوی، ملا محمد بخش لاہوری، ابوالحسن تبتی وغیرہ والی پیشین گوئیوں سے مرزائی جماعت کو شرم آنی چاہئے تھی۔ مگر آدی القریہ کی سوجھی جونہی اس کا اعلان دیا گیا دھڑا دھڑ طاعون زدہ مرزائیوں کے نام اخباروں میں نکلنے شروع ہوئے تو کیا بات بنائی گئی ہے کہ ہم نے تو یہ پیشین گوئی کی تھی کہ کثرت سے لوگ قادیان میں نہیں مریں گے۔ اگر دو چار یا دس بیس مرجاویں تو کیا مضائقہ ہے۔ ایسے ہی بشیر کے تولد کی پیشین گوئی کا واقعہ ہوا تھا۔ جب بجائے بیٹے کے بیٹی پیدا ہوئی اور مخالفین نے اعتراض جمائے تو جواب دیا گیا کہ ہم نے یہ کب کہا تھا کہ اسی جھول میں بیٹا (بشیر) پیدا ہوگا۔ مگر واہ رے مرزائی مریدو تمہارا حسن اعتقاد فی الحقیقت اُمی ہوتری اور مرزا قادیانی کے مریدوں میں سرمو تفاوت نہیں جو کہتے تھے

١٧٨

کہ اگر ہم اپنے ہادی (اُمی ہوتری) کا اپنی آنکھ سے کہ ہماری آنکھ کا قصور ہے جس کو وہ معاملہ ایسا دکھائی پس پیسہ اخبار کا فرض ہونا چاہئے کہ ایسے میں لینے کے ارادہ کو حرف غلط کی دل سے مٹا دے۔

ہر چند آزمودم ا
من جرب المجرب ب

٣...... نبوت

جب مرزائیوں سے کہا جاتا ہے کہ مر تھے جب کہ انہوں نے نبی اور رسول ہونے کا دعو انسانیت بھی مسخ ہو گئی تو مرزائی چراغ پا ہو جاتے ہ اور نبی نہیں سمجھتے نہ انہوں نے کسی کتاب یا رسالہ ثابت ہے کہ مرزا قادیانی کی نبوت سے مرزائیوں کرتا۔ بلکہ ایسے اقرار پر ملامت کرتا ہے اور جب مجبور ہو کر یہ جواب دیتے ہیں کہ نبوت کاملہ کا س قیامت تک جاری رہے گا اور حدیث میں آیا ہے ہے کہ رؤیا صالحہ سے اکثر مؤمنین و متقین و صالحین

ہمارے مکان پر پچھلے دنوں مرزائی دلائل پیش کئے گئے۔ ہم نے جواب دیا کہ اس نبی ہوں گے اور ہو گزرے ہیں۔ کیونکہ رؤیا مرزا قادیانی کی کوئی خصوصیت نہ رہی۔ امت مؤمنین گزرے ہیں کہ مرزا قادیانی اگر ستر م نہیں ہو سکتے۔ ان کے سچے الہامات اور کشف نہیں کیا اور جس مردود اور گمراہ نے ایسا دعویٰ کوئی نبوت ناقص نہیں۔ ہر نبی کا ہے۔ نبوت ایک عام مفہوم ہے جو تمام انبیا

صفحہ ٢١٣

کہ اگر ہم اپنے ہادی (اگنی ہوتری) کا اپنی آنکھ سے بھی گناہ اور قصور دیکھ لیں گے تو یہی کہیں گے کہ ہماری آنکھ کا قصور ہے جس کو وہ معاملہ ایسا دکھائی دیا۔ پس پیسہ اخبار کا فرض ہونا چاہئے کہ ایسے بیہودہ اخبار (الحکم) سے کسی تحریر کو اپنے اخبار میں لینے کے ارادہ کو حرف غلط کی طرح دل سے مٹا دے۔ ورنہ وہی مثل صادق آوے گی۔

ہر چند آزمودم ازوے نبود سودم
من جرب المجرب حلت بہ الندامہ

راقم: گھر کا بھیدی

٣...... نبوت ناقصہ و کاملہ

جب مرزائیوں سے کہا جاتا ہے کہ مرزا قادیانی تو اسی زمانہ میں اچھے خاصے مسلمان تھے جب کہ انہوں نے نبی اور رسول ہونے کا دعویٰ نہ کیا تھا۔ اب تو نہ صرف ان کی مسلمانی بلکہ انسانیت بھی مسخ ہوگئی تو مرزائی چراغ پا ہو جاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ حضرت اقدس تو اپنے کو رسول اور نبی نہیں سمجھتے نہ انہوں نے کسی کتاب یا رسالے یا اشتہار میں ایسا دعویٰ مشتہر کیا اس سے صاف ثابت ہے کہ مرزا قادیانی کی نبوت سے مرزائیوں کو بھی انکار ہے اور ان کا کانشنس ہرگز قبول نہیں کرتا۔ بلکہ ایسے اقرار پر ملامت کرتا ہے اور جب مرزائیوں کو الحکم وغیرہ دکھا کر معقول کیا جاتا ہے تو مجبور ہو کر یہ جواب دیتے ہیں کہ نبوت کاملہ کا سد باب ہوا ہے نہ کہ نبوت ناقصہ کا۔ یہ فیضان تو قیامت تک جاری رہے گا اور حدیث میں آیا ہے کہ رؤیا صالحہ نبوت کا چھیالیسواں درجہ ہے اور ظاہر ہے کہ رؤیا صالحہ سے اکثر مؤمنین و متقین وصالحین مشرف ہوتے ہیں۔ بس یہی نبوت ناقصہ ہے۔

ہمارے مکان پر پچھلے دنوں مرزائیوں کا جمگھٹا رہا اور مندرجہ بالا لغو اور لچر اور پادر ہوا دلائل پیش کئے گئے۔ ہم نے جواب دیا کہ اس صورت میں تو امت محمدیہ میں ہزاروں اور لاکھوں نبی ہوں گے اور ہو گزرے ہیں۔ کیونکہ رؤیا صالحہ تمام اولیاء اور اصفیاء اور اتقیاء کو ہوتی ہیں۔ مرزا قادیانی کی کوئی خصوصیت نہ رہی۔ امت محمدیہ میں تو ایسے برگزیدہ صلحاء اور اولیاء اور حقانی مؤمنین گزرے ہیں کہ مرزا قادیانی اگر ستر مرتبہ بھی بروز یا جنم لیں تو ان کی خاک پا کے برابر بھی نہیں ہو سکتے۔ ان کے سچے الہامات اور کشف سے کتابیں معمور ہیں مگر کسی نے نبی بننے کا دعویٰ نہیں کیا اور جس مردود اور گمراہ نے ایسا دعویٰ کیا وہ بہت جلد فی النار ہوا۔ کتب تواریخ دیکھ جاؤ۔

کوئی نبوت ناقص نہیں۔ ہر نبی کو خدائے تعالیٰ نے نبوت کاملہ عطاء کر کے دنیا میں بھیجا ہے۔ نبوت ایک عام مفہوم ہے جو تمام انبیاء پر یکساں صادق آتی ہے۔ اس میں تشکیک نہیں کہ

١٧٩

صفحہ ٢١٥

کہیں کم اور کہیں زیادہ نبوت اور رسالت کلی متواطی ہے۔ جیسی انسانیت کہ تمام انسانوں پر بحیثیت انسان مشخص یکساں صادق آتی ہے۔ ہم کو مقدس اسلام نے پہلی تعلیم یہ دی ہے۔ ”امنت بالله وملائکته وكتبه ورسله“ دیکھو تمام رسولوں پر یکساں ایمان لانے کا حکم ہے یہ نہیں کہ کسی نبی پر تھوڑا ایمان اور کسی نبی پر بہت ایمان۔ کسی نبی کی نبوت کو ناقص کہنا کفر ہے اور ”نؤمن ببعض ونکفر ببعض“ کا مصداق۔ ہم کو حکم نہیں کہ ایک نبی کو کامل اور دوسرے کو ناقص کہیں یا ایک کو دوسرے پر کسی قسم کی ترجیح اور تفضیل دیں۔ خود آنحضرت ﷺ نے فرمایا ہے: ”لا تخیر وا فی انبیاء الله ولا تفضلونی علی یونس بن متی“ یعنی خدا کے نبیوں میں سے ایک کو دوسرے پر ترجیح نہ دو اور مجھے تو یونس علیہ السلام بن متی پر بھی فضیلت نہ دو۔ حالانکہ یونس علیہ السلام سے لغزش ہوئی تھی جس کی وجہ سے مچھلی نے ان کو نگل لیا تھا۔ سبحان اللہ ، سبحان اللہ ! حضور ﷺ کا یہ خلق عظیم تھا جس کے جذبے نے شرق سے لے کر غرب تک دنیا کو مسخر کر لیا۔ ایک ہمارے فحش گو شرف البیان مزخرف اللسان مرزا قادیانی ہیں جن کی زبان سے نہ صرف انبیاء علیہم السلام بلکہ کسی مذہب کے مستند اور معزز شخص کو پناہ نہیں۔ سیدنا مسیح علیہ السلام کی شان پاک میں وہ بیہودہ سرائی اور افترا کیا ہے اور وہ سب وطعن برسایا ہے کہ الامان۔ وہ عیسیٰ مسیح جس کے تقدس کو نہ صرف اسلام بلکہ باستثناء یہود تمام مذاہب مانتے ہیں اور جس نے انسانی فروتنی کا گویا معجزہ دکھایا ہے جس کی عصمت پر قرآن وحدیث دونوں گواہ ہیں۔

آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ میرے بعد اگر کوئی نبی ہوتا تو عمر فاروق نبی ہوتے۔ لیکن مرزا قادیانی تو اپنا مرتبہ نہ صرف خلفاء راشدین سے بلکہ انبیاء سے بھی بڑھ کر سمجھتے ہیں۔ پس وہ احادیث کیوں ماننے لگے۔

آنحضرت ﷺ نے حضرت علی علیہ السلام کی نسبت فرمایا: ”انت منی بمنزلة هارون من موسیٰ الا انه لا نبی بعدی“ دیکھو حضور سرور عالم ﷺ نے اپنے کو موسیٰ علیہ السلام سے تشبیہ دی جو اولوالعزم نبی تھے اور حضرت علی کو حضرت ہارون علیہ السلام سے تشبیہ دی جو نبی نہ تھے اور پھر ”لا نبی بعدی“ فرمایا۔ یعنی میرے بعد کوئی نبی نہیں۔ اگر مرزا قادیانی اور مرزائیوں کو علم اصول و معانی و بیان سے کچھ بھی بہرہ ہے تو اس قاعدہ کو تسلیم کریں گے کہ ”النكرة تحت النفی تعم“ یعنی نکرہ جب نفی کے تحت میں آئے گا تو عمومًا سب کی نفی کرے گا۔ جیسے لاالہ یعنی کوئی معبود موجود نہیں ایسا ہی ”لا نبی بعدی“ یعنی میرے بعد کوئی نبی نہیں۔ ظاہر ہے کہ آنحضرت ﷺ کا خطاب تسکین یا حضرت علی کی جانب فی موضع المدح ہے۔ اگر یہ مراد لی جائے

١٨٠

گی کہ میرے بعد کوئی کامل نبی نہیں بلکہ ناقص نبی بـ جس کا افصح العرب واعجم کی زبان حق ترجمان سے در حقیقت ناقص ہوتی ہی نہیں۔ اس سے قدرت الہیٰ بھیجتا ہے اور کامل انبیاء کے بھیجنے سے عاجز ہے۔ نعوذ مرزا قادیانی اور مرزائی تسلیم کرتے ہیں نبی ہیں تو قدرت الہیٰ کو کیا بھیڑ پڑی کہ اس نے نا خدائے تعالیٰ دنیا میں کامل نبی بھیج چکا ہے۔ جس کا مـ کو ترقی سے تنزل میں گرنے کی کیا ضرورت ہوئی سے کامل۔ پس خدائے اسلام تو ناقص نہیں جو ناقص ضرور ناقص ہے جس نے مرزا قادیانی جیسا ناقص ا

ہمارا عریضہ مرسلہ چند روز سے میرٹھ میـ صرف مجددالمائہ حاضریہ شوکت اللہ القہار کی زیار سے آتے ہیں تو ضرور نوازے جائیں گے اور نجـ جائیں گے۔ اس میں شک نہیں۔ انشاء اللہ !

سہارنپور سے ایک مشہور مولوی صاحـ جائیداد ہیں۔ قادیان ہو آئے ہیں۔ مگر مرزا قاد مرزا قادیانی مکار اور عیار تو نہیں ہیں بلکہ وہ اپنے دیگر اولیاء اللہ کی طرح مغالطے میں پڑے ہیں جائیں۔ وغیرہ۔

ایڈیٹر شحنہ ہند نے بھی اس معاملہ میـ کے کہ مجھ پر مرزا قادیانی کا واقعی حال منکشف مولانا قاری محمد صابر علی صاحب قدس اللہ سرہ الـ حال معلوم کرنا چاہتے ہو۔ میں نے عرض کیا کہ ہے یہ ایک گھڑیالی آدمی ہے۔ میں نے دیکھا ہیں۔ آنکھ کھل گئی تو فوراً ہی تعبیر منکشف ہوئـ دنیوی جاہ منصب کے طالب ہیں۔ پھر مرزا

صفحہ ٢١٥

گی کہ میرے بعد کوئی کامل نبی نہیں بلکہ ناقص نبی ہے تو یہ خطاب فی موضع الذم ہوگا۔ معاذ اللہ! جس کا افصح العرب والعجم کی زبان حق ترجمان سے صادر ہونا محال ہے۔ وجہ یہ ہے کہ کوئی نبوت در حقیقت ناقص ہوتی ہی نہیں۔ اس سے قدرت الہی پر بھی حرف آتا ہے کہ وہ ناقص انبیاء کو دنیا میں بھیجتا ہے اور کامل انبیاء کے بھیجنے سے عاجز ہے۔ نعوذ باللہ!

مرزا قادیانی اور مرزائی تسلیم کرتے ہیں کہ مرزا قادیانی کامل نبی نہیں ہیں۔ بلکہ ناقص نبی ہیں تو قدرت الہی کو کیا بھیڑ پڑی کہ اس نے ناقص نبی مرزائیوں کے ماتھے مارا اور جب کہ خدائے تعالیٰ دنیا میں کامل نبی بھیج چکا ہے۔ جس کا مرزا قادیانی اور مرزائیوں کو اقرار ہے تو اب خدا کو ترقی سے تنزل میں گرنے کی کیا ضرورت ہوئی۔ ناقص سے ناقص شے پیدا ہوتی ہے اور کامل سے کامل۔ پس خدائے اسلام تو ناقص نہیں جو ناقص نبی بھیجے۔ ہاں مرزا قادیانی اور مرزائیوں کا خدا ضرور ناقص ہے جس نے مرزا قادیانی جیسا ناقص اور پنج عیب نبی بھیجا۔ ایڈیٹر!

ہمارا رویا صادقہ چند روز سے میرٹھ میں مرزائیوں کے آنے کی بم پھوٹی ہے۔ مقصد صرف مجدد السنہ مشرقیہ شوکت اللہ القہار کی زیارت ہونی ہے۔ اگر یہ لوگ حسن ارادت وعقیدت سے آتے ہیں تو ضرور نوازے جائیں گے اور نبی مجہول کے ارتداد والحاد کے پھندے سے نکل جائیں گے۔ اس میں شک نہیں۔ انشاء اللہ!

سہارنپور سے ایک مشہور مولوی صاحب بھی تشریف لائے جو بڑے مالدار اور صاحب جائیداد ہیں۔ قادیان ہو آئے ہیں۔ مگر مرزا قادیانی کے باب میں مذبذب ہیں اور کہتے ہیں کہ مرزا قادیانی مکار اور عیار تو نہیں ہیں بلکہ وہ اپنے کو واقعی نبی اور رسول سمجھتے ہیں اور میری رائے میں دیگر اولیاء اللہ کی طرح مغالطے میں پڑے ہیں۔ کیا عجب ہے کہ چند روز میں اس غلطی سے نکل جائیں۔ وغیرہ۔

ایڈیٹر شحنہ ہند نے بھی اس معاملہ میں استخارہ مسنون کیا اور جناب باری میں یہ دعا کر کے کہ مجھ پر مرزا قادیانی کا واقعی حال منکشف ہو جائے۔ سو گیا۔ شب کو اپنے پیر و مرشد حضرت مولانا قاری محمد صابر علی صاحب قدس اللہ سرہ العزیز کو دیکھا۔ انہوں نے فرمایا کہ تم مرزا قادیانی کا حال معلوم کرنا چاہتے ہو۔ میں نے عرض کیا کہ واقعی۔ فرمایا کہ مرزا قادیانی تمہارے سامنے موجود ہے یہ ایک گھڑیالی آدمی ہے۔ میں نے دیکھا کہ مرزا قادیانی پشت پھیرے ایک حجرے میں بیٹھے ہیں۔ آنکھ کھل گئی تو فوراً ہی تعبیر منکشف ہوئی کہ مرزا قادیانی صرف دکاندار اور شہرت پسند اور دنیوی جاہ منصب کے طالب ہیں۔ پھر مرزا قادیانی کے باب میں کچھ تردد نہ رہا اور نفرت بدستور

١٨١

صفحہ ٢١٧

عود کر آئی۔ ہم نے یہ معاملہ مرزائیوں سے بھی بیان کیا اور کہا کہ خدائے تعالیٰ نے مجھے دکھا دیا ہے کہ مرزا قادیانی اتنے پانی میں ہیں۔ ”واللہ یھدی من یشاء الی صراط مستقیم“ ایڈیٹر!

بسم الله الرحمن الرحیم

تعارف مضامین ...... ضمیمہ شحنہ ہند میرٹھ

٢٤ / جون ١٩٠٢ء کے شمارہ نمبر ٢٤، ٢٥ کے مضامین

اسی ترتیب سے پیش خدمت ہیں۔

١...... معجزات کا انکار

مرزا قادیانی کی تو جھوٹی پیشین گوئیاں بھی سچی اور انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام کے سچے معجزات بھی جو نصوص قطعیہ قرآن وحدیث سے ثابت ہیں جھوٹے۔ پھر معجزہ تو درحقیقت کوئی چیز ہی نہیں اور نہ کسی نبی نے آج تک دکھایا۔ مگر پیشین گوئی اور الہام (اضغاث احلام) معجزے سے بھی بڑھ کر ہیں۔ مرزا قادیانی کہتے ہیں مجھ پر ایمان لاؤ۔ کیونکہ میں پیشین گوئی کرتا ہوں۔ مجھ پر الہام ہوتا ہے اور اس لئے میں نبی ہوں۔ یہ عجیب اندھیر ہے کہ جو بات دوسرے انبیاء کے لئے ان نیچرل (خلاف فطرت) وہی مرزا قادیانی کے لئے جائز اور مطابق فطرت اور جب مرزا قادیانی کی پیشین گوئی اور الہام غلط ہو جاتا ہے تو اس کے صحیح کرنے کو طرح طرح کی لغو اور بیہودہ تاویلیں گھڑی جاتی ہیں اور اس کے مقابلے میں صحیح اور سچے معجزات انبیاء علیہم السلام کے غلط کرنے کو تاویلیں اور دلائل چھانٹے جاتے ہیں۔ مرزا قادیانی کی نبوت اور رسالت کی دلیل بجز الہام اور پیشین گوئی کے اور کیا ہے۔ بچہ بیمار تھا دوا دارو سے اچھا ہو گیا۔ جھٹ الحکم میں مضمون تان دیا کہ لو مردہ زندہ ہو گیا اور اپنے حمقاء کو خوش کر دیا کہ مرزا قادیانی صاحب معجزہ ہیں۔ حالانکہ مرزا قادیانی اور مرزائیوں کے عقیدے میں معجزہ خارقِ فطرت ہے اور انسانوں سے اس کا صدور محال ہے۔

١٨٢

اپنی آنکھ کا تو شہتیر بھی نظر نہیں آتا اور مرزائیوں کی آنکھوں میں کھٹکتا ہے۔ مرزا قادیانی کے تین پات ہیں تو تمام انبیاء کو اپنے جیسا کیوں نہ بنا دھرئے، آریا، بودھ وغیرہ بھی یہی کہتے ہیں تو مرزا سروں پر کون سے سینگ منارے سے لمبے کھڑے کے باوا کی دم سے چار گز لمبی ہے۔ مگر وہ سب کے مسلمان بلکہ فرمائشی اسلامی نبی اور رسول۔

پھر دروغگو را حافظہ نباشد! مرزا قادیانی پڑا ہوں جو معاذ اللہ کذاب اور ولد الزنا وغیرہ تھا۔ کچھ تعرض نہیں۔ دوم میری مراد عیسائیوں کا یسوع ن فاختہ سے کہے کہ مذہب اسلام میں نبی نبی سب نبوت سے انکار کیا اس نے سب انبیاء سے انکار ہو گیا۔ اس نے خود آنحضرت ﷺ کو بھی نبی نہیں کی تصدیق فرمائی۔ پھر دوسرے یسوع مسیح کا م خاندان سے تھا۔ یہ مرزا قادیانی نے اپنے اوپرا مہدی گزرے ہیں جن کا ایک فضلہ خود بدولت گے۔ پھر مرزا قادیانی جس کو مارتا ہے اور جس ب اللہ الیہ“ کی تاویل کرتا ہے وہ کون س مرزا قادیانی کا مسیح ہے تو آیت قرآنی کی تاو حاصل ہے اور مرزا قادیانی کو بھاگتے راہ نہیں

پھر یہ بھی بتائیے کہ مرزا قادیانی مسیح موعود کے اصلی مسیح تو وہی ہے جس کا قرآ نے بھی فرمائی ہے۔ مگر مرزا اس کا انکار کر چکا مسیح کے مثیل ہیں۔ چشم ما روشن و دل ما شاد! ہوا حلوہ کھا کھا کر ساٹھے پاٹھے بنے رہو۔ آ بورئے سمیٹتے رہو۔ ہمارے پاس متواتر خطو

صفحہ ٢١٧

اپنی آنکھ کا تو شہتیر بھی نظر نہیں آتا اور دوسرے کی آنکھ کا تنکا بھی مرزا قادیانی اور مرزائیوں کی آنکھوں میں کھٹکتا ہے۔ مرزا قادیانی کے پاس معجزے اور کرامات کی جگہ ڈھاک کے تین پات ہیں تو تمام انبیاء کو اپنے جیسا کیوں نہ بتائیں جڑ سے ناک بھی کٹی ہے۔ پھر جب کہ دھریئے، آریہ، بودھ وغیرہ بھی یہی کہتے ہیں تو مرزا قادیانی میں اور ان میں کیا فرق رہا۔ ان کے سروں پر کون سے سینگ منارے سے لمبے کھڑے ہیں اور مرزا قادیانی کے پیچھے کون سی دم کسی بچھیا کے باوا کی دم سے چار گز لمبی ہے۔ مگر وہ سب کے سب ملحد اور کافر اور مرزا قادیانی نہ صرف سچے مسلمان بلکہ فرمائشی اسلامی نبی اور رسول۔

پھر درد نگور! حاضرہ نباشد! مرزا قادیانی کہتے ہیں کہ میں تو ہاتھ دھو کر صرف مسیح کے پیچھے پڑا ہوں جو معاذ اللہ کذاب اور ولدالزنا وغیرہ تھا۔ چہ جائیکہ رسول اور صاحب معجزہ، دیگر انبیاء سے کچھ تعرض نہیں۔ دوم میری مراد عیسائیوں کا یسوع مسیح ہے نہ کہ اصلی مسیح ۔ کوئی اس گدھے الو کی دم فاختہ سے کہے کہ مذہب اسلام میں نبی نبی سب برابر ہیں۔ جس مردود نے ایک مصدقہ نبی کی نبوت سے انکار کیا اس نے سب انبیاء سے انکار کیا اور وہ دائرہ اسلام سے خارج ہو کر مردود مطرود ہو گیا۔ اس نے خود آنحضرت ﷺ کو بھی نبی نہیں سمجھا جنہوں نے عیسیٰ مسیح کی عصمت اور رسالت کی تصدیق فرمائی۔ پھر دوسرے یسوع مسیح کا حوالہ دے کر وہ کون تھا اور کس کا بیٹا اور پوتا اور کس خاندان سے تھا۔ یہ مرزا قادیانی نے اپنے اوپر قیاس کیا کہ جس طرح اب تک بہت سے جھوٹے مہدی گزرے ہیں جن کا ایک فضلہ خود بدولت بھی ہیں ایسے ہی جھوٹے مسیح بھی گزرے ہوں گے۔ پھر مرزا قادیانی جس کو مارتا ہے اور جس کی قبر کشمیر میں بتاتا ہے اور جس کی نسبت ” بل رفعہ الله الیہ “ کی تاویل کرتا ہے وہ کون سا مسیح تھا اور کون سا مسیح مصلوب اور قتل کیا گیا۔ اگر یہ مرزا قادیانی کا مسیح ہے تو آیت قرآنی کی تاویل کی کیا ضرورت اور اگر اصلی مسیح ہے تو ہمارا مدعا حاصل ہے اور مرزا قادیانی کو بھاگتے راہ نہیں ملتی۔

پھر یہ بھی بتائیے کہ مرزا قادیانی کون سے مسیح کے مثیل ہیں۔ اصلی مسیح کے یا ولدالزنا مسیح موعود کے اصلی مسیح تو وہی ہے جس کا قرآن میں ذکر ہے اور جس کی تصدیق آنحضرت ﷺ نے بھی فرمائی ہے۔ مگر مرزا اس کا انکار کر چکا۔ اب مرزا قادیانی کا ولد الزنا مسیح باقی رہا۔ آپ اسی مسیح کے مثیل ہیں۔ چشم ما روشن و دل ما شاد! واہ پٹھے جیتے رہو اور ریگ ماہی اور جند بدستر کا آمیز کیا ہوا حلوہ کھا کھا کر سانڈھے پاٹھے بنے رہو۔ آتھم اور لیکھ رام تو مر گئے مگر تم دندناتے اور عاقبت کے بورئے سمیٹتے رہو۔ ہمارے پاس متواتر خطوط آ رہے ہیں کہ مرزا قادیانی جا بجا یہی بے تکا راگ

١٨

صفحہ ٢١٨

گاتے پھرتے ہیں جس کا اوپر ذکر ہوا اور بعض حمقاء، جہال عوام کالانعام ان کے دام میں پھنس جاتے ہیں۔ مگر اہل اسلام کو مرزائیوں سے یہ بھی پوچھنا چاہئے کہ مسیح مر گیا یا زندہ ہے۔ اس سے ہم کو قطع نظر ہے۔ مرزا قادیانی کو مسیح یا مہدی موعود یا نبی اور رسول ہونے کا کون سا سرٹیفکیٹ آسمانی ہائیگورٹ سے ملا ہے اور اس کے دعوے پر مذکورہ بالا امور کا کیا اثر ہے پر لے دے کر وہی پیشین گوئیاں۔ مگر یہ سب یکے بعد دیگرے جھوٹی نکلیں۔ پس مرزا قادیانی کسی گھر کے نہ رہے۔ اگر کہیں کہ بعض انبیاء کی پیشین گوئیاں بھی بعض اوقات غلط ہو گئیں ہیں تو یہ پوچھو کیا کسی نبی نے یہ بھی کہا تھا کہ اگر فلاں پیشین گوئی غلط نکلی تو میرے گلے میں کتے کی طرح بھنور کلی اور بھنور کلی میں سؤر کے بالوں کا بڑا موٹا سا رسا ڈال کر قادیان کی گلیوں میں گھسیٹے گھسیٹے پھرنا۔ پس جب پیشین گوئیاں غلط ہو گئیں جن پر دعوے کے ساتھ مرزا قادیانی کی نبوت اور رسالت وغیرہ کا مدار تھا تو اب دوسرے مباحث کا چھیڑنا بالکل فضول ہے۔ ایڈیٹر!

٢...... ہفوات مرزا

مولانا ابوالوفاء ثناء اللہ امرتسری اعظم مشاہیر علماء ہندوستان سے ہیں اور جن کے مقابلہ پر باوصف بار ہا ہل من مبارز کہنے اور بار بار بغرض تحدی و مباہلہ کے بلانے کے مرزا قادیانی کبھی گھر دائے سے باہر نہیں نکلے۔ نہ قادیان کے احاطے سے قدم باہر رکھا۔ اکثر مرزائی عقائد کی تردید میں رسالے اور کتابیں بغرض احقاق حق ونصرت دین شائع فرماتے رہتے ہیں جن کا جواب کبھی مرزا قادیانی اور مرزائیوں سے بن نہیں پڑا اور نہ آئندہ بن پڑے گا۔ انشاء اللہ تعالیٰ! حال میں مولانا ممدوح نے مندرجہ عنوان رسالہ شائع فرمایا ہے۔ یہ ایسا مسکت اور مدلل ہے جس نے مرزا قادیانی کے ہوائی قلعہ کو اپنے گولوں کے گراب سے مسمار کر دیا ہے اور بجز گرد و غبار اڑانے اور دھواں نظر آنے کے ان کے قلعہ کا کوئی وجود دکھائی نہیں دیتا۔ یہ ایک جز کا رسالہ ہے اور قیمت بھی کچھ نہیں۔ صرف آدھ آنہ، ایک روپیہ کے خریدار کو ٤٠ جز اور دو روپیہ کے خریدار کو سو جز کے حساب سے ملتا ہے۔ گویا مفت ہے۔ مولانا محترم ہی کو صرف اشاعت حق اور مرزا قادیانی اور مرزائیوں کو خلوص اور تہذیب کے راہ راست پر لانا مقصود ہے۔ یہ رسالہ اس قابل ہے کہ جو لوگ استطاعت رکھتے ہیں خرید فرما کر عام اہل اسلام میں مفت تقسیم فرمائیں اور جناب باری سے اجر پائیں۔ ہم بالفعل اس کا کچھ حصہ ذیل میں درج کرتے ہیں اور امید رکھتے ہیں کہ ذی استطاعت لوگ خرید فرما کر غرباء اہل اسلام میں مفت تقسیم فرمادیں تاکہ مرزائی عقائد کا مسموم اثر دور ہو۔

١٨٤

صفحہ ٢١٩

(نوٹ: یہ رسالہ احتساب قادیانیت میں مکمل چھپ چکا ہے۔ لہٰذا یہاں سے حذف کر دیا ہے۔ مرتب!)

٣...... مرزا قادیانی کی قرآن دانی

یہ تو جناب کی عادت مستمرہ ہے کہ قرآن شریف کی کسی آیت کا کچھ ابتدائی حصہ اور کسی دوسری آیت کا اخیر حصہ لے کر اس کو اپنے الہاموں سے نامزد کیا کرتے ہیں۔ جس کا اجر مناسب خداوند تعالیٰ کی درگاہ سے پاویں گے اور جس پر ہم مفصل ریویو کرنے والے ہیں۔ مگر اب تو مرزا قادیانی نے ١٤ سو برس کی محفوظ پاک اور بے عیب کتاب (قرآن شریف) کی تحریف کرنے پر مضبوط کمر ہی باندھ لی ہے۔

اخبار الحکم قادیانی مورخہ ١٧؍ جنوری ١٩٠٢ء میں آپ کے اعرج حواری عبد الکریم نے صفحہ اوّل پر اپنے نجس اور ناپاک مضمون کے اختتام پر لکھ دیا تھا۔ ”والعاقبة عند ربک للمتقین“ اگرچہ حواری مذکور بھی (بقول شخصے اونٹ چالیس تو بوتا چوالیس) آپ سے کچھ کم ہمہ دان اپنی ذات کو نہیں سمجھتا۔ بلکہ اگر مرزا قادیانی مرزائیوں کے امام ہیں تو وہ مرزا قادیانی کے پیش امام ہیں۔ مگر چونکہ ہم کو اس کی سفاہت کم علمی ، دشنام دہی وغیرہ کا پورا تجربہ اور مشاہدہ ہو چکا ہے۔ لہٰذا اس کی تحریروں پر کبھی التفات نہیں کیا۔ مگر جب مرزا قادیانی نے بذات خاص اخبار مذکور کے ٣١؍ مئی ١٩٠٢ء کے صفحہ ٥ کالم نمبر ٢ میں بھی یہی عبارت خداوند تعالیٰ کی طرف منسوب کی ہے اور لکھا ہے: ”خداوند تعالیٰ فرماتا ہے۔ ”والعاقبة عند ربک للمتقین“ تو ہم کو فکر دامنگیر ہوئی اور ہم نے مصری حمائل شریف کو ہاتھ میں لیا اور الحمد سے لے کر والناس تک دیکھا۔ مگر ”والعاقبة عند ربک للمتقین“ کہیں نظر نہ پڑا ہم آپ کے اور آپ کے حواری اور دیگر مریدوں کے نہایت ممنون ہوں گے۔ اگر کوئی صاحب قرآن کے اس پارہ اور رکوع کا ہم کو پتہ اور نشان دیں جس میں ”والعاقبة عند ربک للمتقین“ لکھا ہو۔ ”اگر ہماری اس گزارش کو بھی مرزا قادیانی نے منظور کر کے شافی جواب نہ دیا اور ہمارا یقین ہے کہ ہرگز نہ دیں گے تو برائے خدا قرآن شریف میں تحریف لفظی کر کے مسلمانوں کی دل آزاری سے باز آویں۔ اگرچہ آپ نے اس پاک کتاب میں تحریف لفظی اور معنوی عرصہ سے شروع کر دی ہے۔ مگر اب تک اس کو آپ اپنے الہاموں اور حقائق و معارف سے موسوم کرتے رہے ہیں۔ جن سے سوا آپ کی حماقت کے کسی کو فائدہ نہیں اور جن کی تردید علماء اسلام نہایت خوبی سے کر چکے ہیں۔

کیا یہی آپ کی قرآن دانی ہے کہ قرآن شریف کے الفاظ سے بھی پوری واقفیت اب

١٨٥

صفحہ ٢٢١

تک نہیں۔ وہ آیات جن میں عاقبت اور متقین کے الفاظ ہیں اور جن میں آپ کو ”عند ربک“ کا شک وشبہ پڑا ہے یہ ہیں۔

پس اہل ایمان کا فرض ہے کہ اپنی صریح غلطی علیٰ رؤس الاشہاد دیکھ کر اس کا اعتراف کریں اور غلطی بتانے والے کا شکریہ ادا کریں۔ ورنہ ایسے لوگ کافر لعنتوں میں شمار کئے جاویں گے۔

راقم: ایک مسلمان!

٤....... قادیان میں طاعون

ایک مرزائی اخبار لکھتا ہے کہ مرزا قادیانی نے چار سال قبل (جب بمبئی وغیرہ میں طاعون نمودار ہوا تھا) پیشین گوئی کی تھی کہ پنجاب میں بھی ضرور طاعون پھیلے گا۔ چنانچہ اب پھیلا (پس وہ مسیح موعود اور مہدی مسعود اور امام آخر الزمان اور نبی اور رسول ہیں اور یہی ان پر ایمان لانے کی مسکت دلیل ہے) ہم کہتے ہیں کہ اور لوگوں نے بھی یہی پیشین گوئی کی تھی اور چند نجومیوں نے کھلم کھلا شائع کر دیا تھا کہ آئندہ سال ہندوستان میں ضرور مہامری پھیلے گی۔ کیا یہ سب امام اور نبی اور رسول وغیرہ ہیں۔

جنگ ٹرنسوال کے بارہ میں تمام اہل الرائ اور اخبار یہی کہتے تھے کہ بالآخر انگلستان فتح یاب ہوگا۔ چنانچہ ویسا ہی ہوا۔ کیا یہ سب نبی ہیں۔ بات یہ ہے کہ کوئی انسان غیب دان نہیں۔ صرف ظاہری علامات واسباب سے کسی بات کے ظہور ہونے کا حکم لگایا جاتا ہے۔ تواریخ سے ثابت ہے کہ جب طاعون کسی جگہ نمودار ہوا ہے تو ملکوں میں پھیل گیا ہے اور تین تین سو برس تک دائر سائر رہا ہے۔ پس ہندوستان اور پنجاب میں بھی طاعون کے پھیلنے کا یہی قرینہ تھا یہ تو مرزا قادیانی کی نری عیاری اور ان کے چیلوں کی ضعیف الاعتقادی ہے کہ مرزا قادیانی کے ایسا کہنے سے ان کو نہ صرف نبی اور رسول بلکہ غیب دان (خدا) بنادیا۔

پھر بھی مرزائی آرگن لکھتا ہے کہ حضرت اقدس نے یہ کب کہا تھا کہ قادیان میں مطلق طاعون نہ ہوگا۔ بلکہ انہوں نے تو یہ کہا تھا کہ طاعون کی افراط تفریط نہ ہوگی اور لوگ کتوں کی طرح نہ

١٨٦

مریں گے۔ ہاں یہ کہا تھا کہ لوگ گدھوں کی طرح مریں اچھا صاحب اپنے خدا سے اوروں کے لئے نہیں تو اپنے کی طرح نہ مریں اور طویلہ میں کان دبائے راتب کھـ کریں۔ مرزا قادیانی نے یا تو عمداً ایسا نہیں کیا یعنی اس ذرا ان پر رحم نہ کھایا یا مرزا قادیانی کو یقین تھا کہ ان کا ہرگز نہ سنے گا۔ دونوں صورتوں میں کس برتے پر تتا پا ستیاناس ہوئی۔ بلکہ آسمانی باپ نے اپنے لے پا مرزا قادیانی کے کان میں یہ تو پھونک دیا کہ طاعون بھون کھائے گا۔ مگر اس سے بچنے کا کوئی لٹکا مرزا قادی کو کیا کوئی چوہے میں جھونکے۔

زندگی اپنی اسی طور
ہم بھی کیا یاد کریں گے

مرزا قادیانی کا خدا بھی عجیب بھلا مانس ہونے دی۔ پھر کس بھروسے پر اس الہام کا شکرہ پالا دیا کہ ”نحمدک علیٰ کل شی “ یعنی اے م ہوں۔ ہم حیران ہیں کہ خالی خولی بھبکی اور زبانی ج نے پالک کا ہاتھ پکڑا اور پھر منجھدار کے عین میں لے دیا کہ سر اوپر اور ٹانگیں نیچے ڈبکوں ڈبکوں کرتے چلے جاؤ۔ ایڈیٹر!

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّ

تعارف مضامین ....

٨؍ جولائی ١٩٠٢ء کے

صفحہ ٢٢١

مریں گے۔ ہاں یہ کہا تھا کہ لوگ گدھوں کی طرح مریں گے جن میں کچھ مرزائی بھی ہوں گے۔ اچھا صاحب اپنے خدا سے اوروں کے لئے نہیں تو اپنے چیلوں ہی کے لئے دعا کرتے کہ یہ گدھوں کی طرح نہ مریں اور طویلہ میں کان دبائے راتب چکھیں اور خویذ کھا کھا کر دم اٹھائے لید کیا کریں۔ مرزا قادیانی نے یا تو عمداً ایسا نہیں کیا یعنی اپنے حواری کو طاعون کے منہ میں دھکیل دیا اور ذرا ان پر رحم نہ کھایا یا مرزا قادیانی کو یقین تھا کہ ان کا خدا مرزائیوں پر بہت غضبناک ہے۔ میری ہرگز نہ سنے گا۔ دونوں صورتوں میں کس برتے پر تتا پانی۔ اب تو یقیناً نہ صرف رسالت ونبوت کی ستیا ناس ہوئی۔ بلکہ آسمانی باپ نے اپنے لے پالک کو بھی عاق کر دیا۔ آسمانی باپ نے مرزا قادیانی کے کان میں یہ تو پھونک دیا کہ طاعون خلف اور ناخلف فرزندوں کو ٹڈیوں کی طرح بھون کھائے گا۔ مگر اس سے بچنے کا کوئی لٹکا مرزا قادیانی کو نہ بتایا۔ بھلا ایسے ظالم اور بے رحم باپ کو کیا کوئی چولہے میں جھونکے۔

زندگی اپنی اسی طور پر گزری مرزا
ہم بھی کیا یاد کریں گے کہ خدا رکھتے تھے

مرزا قادیانی کا خدا بھی عجیب بھلا مانس ہے کہ اپنی لے پالک کی ایک بات بھی سچی نہ ہونے دی۔ پھر کس بھروسے پر اس الہام کا شکرہ پالا تھا کہ ”انت بمنزلة ولدی“ پھر یہ بھی کہہ دیا کہ ”نحمدک علیٰ عشی“ یعنی اے مرزا میں اپنے گھونسلے میں بیٹھا تیری بھگتی کیا کرتا ہوں۔ ہم حیران ہیں کہ خالی خولی بھگتی اور زبانی جمع خرچ سے کیا کام چل سکتا ہے۔ پہلے تو اپنے لے پالک کا ہاتھ پکڑا اور پھر منجھدار کے عین تھپیڑوں کے درمیان کے بیچوں بیچ میں دھکا دے دیا کہ سر نیچے اور ٹانگیں اوپر ڈبکوں ڈبکوں کرتے کرتے پاتال کی تہ میں سیدھے لڑھکتے پھڑکتے چلے جاؤ۔ ایڈیٹر !

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

تعارف مضامین ...... ضمیمہ شحنہ ہند میرٹھ

٨؍ جولائی ١٩٠٢ء کے شمارہ نمبر ٢٦ کے مضامین

١٨٧

صفحہ ٢٣

...... ٣ قادیانی کا انوکھا اصول علم کلام ا، و، از مقام گ ! ...... ٤ تعبیر طلب خواب فیروز دین امرتسر ! ...... ٥ خداوند آزادی بخش آزادی پسند مولا نا شوکت اللہ !

اسی ترتیب سے پیش خدمت ہیں۔

١ ...... حضرت پیر مہر علی شاہ کے ہاتھ پر دومرزائیوں کا مسلمان ہونا بذریعہ ایک معتبر ومستند عالم کے مندرجہ ذیل مراسلت ہمارے نام موصول ہوئی جس میں کسی طرح کا شک و شبہ نہیں۔

دستگیر در ماندگان قبلہ پیر صاحب

السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ ، جیسا کہ کل بعد عصر حضور نے ارشاد فرمایا تھا۔ سو یہ کلمات لکھ دینے میں مجھے عذر نہیں۔ غلام احمد قادیانی کو میں رسول نہیں سمجھتا اور اس کے دعوے مسیح موعود کو افتراء یقین کرتا ہوں جو اعتقاد سلف صالحین کا ہے وہی میرا اعتقاد ہے۔ وباللہ التوفیق !

راقم : محمد حسین الہ آبادی حال معلم فارسی اسلامیہ سکول راولپنڈی !

اور لیجئے! ایک اور مرزائی جس کا نام مرزا نے فضل حسین احمد آبادی ٣١٣ مریدوں کی فہرست نمبر ١٣٩ ( ضمیمہ انجام آتھم ص ٤٤، خزائن ج ١١ص٣٢٧) میں بایں لفظ لکھا ہے (شیخ مولوی فضل حسین صاحب احمد آبادی جہلم ) یہ کبھی اپنا نام محمد حسین لکھتا ہے اور کبھی شیخ حسین ۔ گویا اس کے تین نام ہیں اس کا باپ بھی مرزائی تھا۔ سخت غالی۔ اس کا نام مرزا قادیانی نے (ضمیمہ انجام آتھم ص ٤٤، خزائن ج ١١ص ٣٢٨) نمبر ٢٥٩ میں یوں لکھا ہے۔ (مولوی شیخ قادر بخش صاحب احمد آبادی ) وہ قادیان میں مر گیا اور بیٹا اب از سر نو پیر صاحب گولڑہ والے کی مجلس میں روبروئے مجمع عظیم مشرف بہ اسلام ہوا اور مندرجہ بالا تحریر سنداً بقلم خود لکھ دی۔

ایڈیٹر !

دوسری مراسلت اسی طرح ہمارے دفتر میں موصول ہوئی ہے جو بالکل صحیح اور واقعی ہے۔ اگر چہ واضح نہیں اور بے ربطی معلوم ہوتی ہے۔ نامہ نگاروں کا فرض ہے کہ مفصل طور پر صحیح اور صاف عبارت میں لکھیں۔ اگر مسلمان ہونے والے بھائی خود نہ لکھ سکتے ہوں تو کسی لائق آدمی سے لکھوائیں تا کہ مخالفوں کو اعتراض کا موقع نہ ملے۔ اس میں شک نہیں کہ معاونین ضمیمہ کے دم قدم اور قدسی انفاس کی برکات سے مرزائی الحاد کا سر ٹوٹ گیا ہے اور بھیجا پھوٹ گیا ہے۔ خدا نے چاہا تو چند روز میں خس کم اور جہاں پاک ۔ ماموں کا دم اور کواڑوں کی جوڑی ۔ منارامرزائیوں کا

١٨٨

ٹھا کر دوار ااور اس کی چوٹی پر ڈھاک کے تین پا بھون نہ کھائیں گے۔ بلکہ قادیان کے کھنڈروں پ مرزا اور مرزائیوں کے منہ پر ادھور

”نحمدہ ونصلی ع

مجدد السنۃ مشرقیہ مولانا شوکت اللہ الق میں نے ایک مضمون جعلی بیعت کے بارہ میں ا مورخہ ٨؍ جون ١٩٠٢ء میں شائع ہوا۔ جس کے الحکم میں شائع ہوا تھا کہ مولوی عبدالرحمٰن صا صاحب مرحوم ساکن قلعہ میاں سنگھ ضلع گوجر ”لعنت اللہ علی الکاذبین“ چونکہ برادر زادہ جناب مولانا صاحب موصوف حکیم نو لے گئے تھے۔ اسی واسطے عوام کو گمان ہوا کہ شا گے۔ مگر الحمد للہ ! کہ یہ اتہام غلط ثابت ہوا اور می منہ پر بھگو کر مارا۔ جیسا کہ مندرجہ ذیل تحریر س اور جس پر ان کے دستخط ثبت ہیں۔ انہیں کرتو کاذب کے مرید ہونے کا فخر ہے۔ خدا ایسے فرماوے۔ ورنہ غارت کرے۔ آمین !

حکیم بھیروی (جس کو اپنے افعال خاندان سے قدیمی تعارف ہے۔ یہ ظلمت دی کہ ہمارے خاندان میں سے کسی کو اس دام می تقریباً روز مرہ میرے بھائیوں کو مختلف پیرا مولوی شاہ محمد صاحب کے پاس اس لئے گ قادیان آؤ تو میں تمہیں طبابت پڑھاؤں ۔ بھائی ایک آدھ دفعہ قادیان اس کی ملاقات ( جعلی نام ) برادر زادہ مولانا مولوی غلام مندرجہ ذیل تحریر سے مرزائیوں اور مرزا قادی

صفحہ ٢٢٣

ٹھا کر دوار اور اس کی چوٹی پر ڈھاک کے تین پات ہی نظر آئیں گے۔ اب خلیل خان فاختہ بھون بھون نہ کھائیں گے۔ بلکہ قادیان کے کھنڈروں پر بھیانک بولیاں بولتے الو نظر آئیں گے۔

مرزا اور مرزائیوں کے منہ پر ادھوری استر کا بھیگا ہوا اٹھارواں بچکانہ

”نحمده ونصلى على رسوله الكريم“

مجدد السنہ مشرقیہ مولانا شوکت اللہ القہار، السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ، چند روز ہوئے میں نے ایک مضمون جعلی بیعت کے بارہ میں ارسال خدمت با برکت کیا تھا جو آپ کے قیمتی ضمیمہ مورخہ ٨؍ جون ١٩٠٢ء میں شائع ہوا۔ جس کے لئے میں آپ کا مشکور ہوں۔ مبتذل اور مفسد پرچہ الحکم میں شائع ہوا تھا کہ مولوی عبدالرحمن صاحب برادرزادہ جناب مولانا مولوی غلام رسول صاحب مرحوم ساکن قلعہ میاں سنگھ ضلع گوجرانوالہ نے مرزا قادیانی کی بیعت کا طوق پہنا۔ ”لعنت اللہ علی الکاذبین “ چونکہ میرے بڑے حقیقی بھائی مولوی شاہ محمد صاحب حقیقی برادرزادہ جناب مولانا صاحب موصوف حکیم نور الدین بھیروی کے بار بار لکھنے پر قادیان تشریف لے گئے تھے۔ اسی واسطے عوام کو گمان ہوا کہ شاید وہ مرزائیوں کے مکر و فریب میں پھنس گئے ہوں گے۔ مگر الحمد للہ ! کہ یہ اتہام غلط ثابت ہوا اور میرے مکرم بھائی نے مرزا قادیانی اور مرزائیوں کے منہ پر بھگو کر مارا۔ جیسا کہ مندرجہ ذیل تحریر سے واضح ہوگا۔ جو ان کے اپنے قلم سے لکھی ہوئی ہے اور جس پر ان کے دستخط ثبت ہیں۔ انہیں کرتوتوں پر مرزا قادیانی کو سچا امام اور مرزائیوں کو اس امام کاذب کے مرید ہونے کا فخر ہے۔ خدا ایسے امام ننگ اسلام اور اس کے مریدوں کو جلد ہدایت فرماوے۔ ورنہ غارت کرے۔ آمین !

حکیم بھیروی (جس کو اپنے افعال پر بلحاظ اپنے نام کے شرم آنی چاہئے) کو ہمارے خاندان سے قدیمی تعارف ہے۔ یہ ظلمت دین گمراہ کنندہ مسلمانان ہر وقت اسی تاک میں رہتا ہے کہ ہمارے خاندان میں سے کسی کو اس دام میں پھانسے تا کہ اس کے لئے باعث فخر ہو۔ اس واسطے تقریباً روزمرہ میرے بھائیوں کو مختلف پیرایہ میں خطوط لکھتا رہتا ہے۔ چنانچہ میرے مکرم بھائی مولوی شاہ محمد صاحب کے پاس اس کے کئی خطوط گئے۔ جن میں اس نے استدعا کی کہ اگر تم قادیان آؤ تو میں تمہیں طبابت پڑھاؤں۔ صرف پرانے خاندانی تعارف کی وجہ سے میرے مکرم بھائی ایک آدھ دفعہ قادیان اس کی ملاقات کے لئے گئے تو الحکم میں شائع کر دیا کہ مولوی عبدالرحمن (جعلی نام) برادرزادہ مولانا مولوی غلام رسول صاحب نے بیعت کی۔ نعوذ باللہ من ذالک ! مندرجہ ذیل تحریر سے مرزائیوں اور مرزا قادیانی کو شرم تو کیوں آنے لگی۔ کیونکہ شرم چہ سگی است کہ

١٨٩

صفحہ ٢٢٥

پیش مرزائیاں بیاید۔ تحریر مذکورہ بعد کارروائی حسب ضابطہ کے واپس فرمائیے۔ راقم: ایس ایم! ”میری نسبت جو لوگوں کو گمان ہوا ہے کہ یہ مرزائی ہو گیا ہے۔ یہ خبر بالکل غلط ہے۔ کیونکہ بندہ تو مرزا قادیانی کو جیسا کہ مولانا مولوی صاحب سید نذیر حسین صاحب دہلوی، مولانا مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی، حافظ عبدالمنان صاحب وزیر آبادی مرتد اور کافر اور ملعون سمجھتے ہیں۔ ویسا ہی بندہ بموجب شرع جناب رسول اکرم محمد ﷺ اس کو کافر اور مرتد سمجھتا ہے اور بندہ ہرگز اس کے مریدوں میں داخل نہیں ہوا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ مرزا قادیانی بہت مکار اور جھوٹا ہے اور یہ بھی معلوم ہوا کہ مرزا قادیانی کے مرید بہت کم ہیں۔ لیکن جعلی مرید اس نے بہت بنا رکھے ہیں اور تمام مسلمانوں کو واضح ہو کہ اس کا کچھ اعتبار نہ کریں۔ جب تک اپنی آنکھ سے دیکھ نہ لیں کہ کون کون اس کا مرید ہے اور یہ بھی یاد رکھیں کہ اس نے دنیا کے بدلے ایمان برباد کر دیا ہے۔ الراقم: شاہ محمد برادر زادہ حقیقی مولانا مولوی غلام رسول صاحب مرحوم ساکن قلعہ میہان سنگھ ضلع گوجرانوالہ! جس کا نام ایڈیٹر الحکم نے عبدالرحمٰن مشہور کیا ہے۔ حالانکہ ہماری برادری میں کوئی اس نام کا نہیں اور نہ کوئی ہمارے خاندان سے ایسا ہے جو مرزا قادیانی کو کافر اور مرتد نہ سمجھتا ہو۔ فقط بقلم خود شاہ محمد!“

٢...... قادیان میں طاعون

مسیحی ہم عصر صدائے بشیر گجرات بعنوان (آخر راستی کی فتح) حسب ذیل لکھتا ہے۔ ”خداوند فرماتا ہے کہ میں اپنی عزت دوسرے کو نہ لینے دوں گا۔ کچھ عرصہ تک تو قادیانی احمد نے مثیل مسیح اور الہام ہی پر اکتفا کیا۔ مگر اب کمبختی جو آئی تو لشکروں کے خدا کے مقابل کھڑا ہو گیا۔ خدا بننے کی ٹھہرالی۔ چنانچہ ان کے حال کے طاعونی اشتہار میں ایک یہ فقرہ بھی مرقوم تھا کہ خدا قادیانی سے کہتا ہے کہ: ”تو مجھ سے اور میں تجھ سے۔“ لا حول ولا! اس کفر کی بھی کچھ حد ہے۔ ابن مریم کے مقابلہ پر کھڑا ہونا ایک خاکی ناپاک انسان کا کیا بوتا ہے۔ اسی شیخی پر کہہ اٹھے کہ خدا کو میری رعایت منظور ہے اور قادیان دارالامان مقرر ہوا ہے۔ طاعون سے محفوظ رہے گا۔ دنیا کو للکار بتائی تھی کہ آؤ مقابلہ پر۔ یہ ایک طرح تقدیر الٰہی کا مقابلہ تھا۔ مگر وہ غیور خدا اگرچہ رحمان اور رحیم ہے۔ مگر ہر حال میں معاف نہیں کرتا۔ اتنا بڑا شہر بٹالہ جس کی آبادی ٣٠ہزار سے زیادہ ہے۔ ہنوز وبائے طاعون سے محفوظ ہے۔ مگر قادیان محفوظ نہ رہ سکا۔ بہت موتیں ہو چکی ہیں۔ خود قادیان کے جبرائیل، بھیروی کی کوئی عزیزہ بھی جانبر نہ ہوسکی۔ اب وہ مرزا کی لن ترانیاں کہاں ہیں۔ مرزا یاد رکھے کہ خدا ایک چٹان ہے، جس پر یہ چٹان گرتی ہے اس کو پیس ڈالتی ہے۔ جو اس چٹان پر گرتا

١٩٠

ہے چور ہوتا ہے۔ خدائے تعالیٰ کو آپ کی تخریب منظ دی کہ قادیان طاعون سے محفوظ رہے گا۔ آپ بدخو میں ذرا تمیز نہ کر سکے۔ اس تازہ جھوٹے الہام سے اسی طرح لاہور کے پنڈت اگنی ہوتری نے دعویٰ ہوں۔ یہ اس کے دعوے کی آخری ساعت تھی۔ اس چیلے چانٹوں کے لوگ اس کا نام بھی بھولتے جاتے نے آپ کو جب تک مہلت اور فرصت دی اور آپ سخت بیمار ہیں۔ بعض کے خیال میں آپ کو جذام عادل حقیقی کے حضور حاضر ہونا ہے۔ جس کا مقابلہ قبول کرے گا۔ ضرور معاف کرے گا اس کا فرمان نکال نہ دوں گا۔ فرمان المسیح۔

توبہ کر اب بھی تو

٣...... قادیانی کا

جب یونانی فلسفہ کی بنیاد پڑی اور ا ہونے لگا تو اس زمانہ کے علماء اہل اسلام رحمہم اللہ دماغ خرچ کر کے کتابیں لکھیں جس کے ذریعے جو اصول اس فلسفہ کے رکیک اور کمزور تھے ان کو ہوا ایک نیا فلسفہ جاری ہوا جس کی بناء (برخلاف جس کا رخ تیرھویں صدی کے آخیر میں ہندوست سکولوں اور کالجوں میں اس کی شاخوں کی تعلیم ہو نامور حکیم بطلیموس نے قائم کیا تھا۔ طلباء ہنسی اڑا عالم، زمانہ حال کے سائنس اور فلسفے نے یونانی پرانا علم کلام بھی بے مصرف رہ گیا۔

ہمارے زمانہ کے علماء اسلام کا حقی وغیرہ کے مقابلہ میں کوئی نیا علم کلام تیار کرتے میں جاگزین تھے ان کے دور کرنے کی کوشش فر

صفحہ ٢٢٥

ہے چور ہوتا ہے۔ خدائے تعالیٰ کو آپ کی تخریب منظور تھی۔ اس لئے کسی بدروح نے آپ کو اطلاع دی کہ قادیان طاعون سے محفوظ رہے گا۔ آپ بدخو ہو کر بڑبڑا اٹھے۔ الٰہی کلام اور شیطانی آواز میں ذرا تمیز نہ کر سکے۔ اس تازہ جھوٹے الہام سے آپ کی رہی سہی عزت بھی خاک میں مل گئی۔ اسی طرح لاہور کے پنڈت اگنی ہوتری نے دعویٰ کیا تھا کہ میں ہائی سیویر (اعلیٰ نجات دہندہ) ہوں۔ یہ اس کے دجل کی آخری ساعت تھی۔ اس کے بعد ایسا تاریکی میں گم نام ہوا کہ سوائے چند چیلے چانٹوں کے لوگ اس کا نام بھی بھولتے جاتے ہیں۔ یونہی آپ کی حالت بھی نازک ہے۔ خدا نے آپ کو جب تک مہلت اور فرصت دی اور آپ کی بے جا حرکتوں پر تحمل کیا آپ ایک عرصہ سے سخت بیمار ہیں۔ بعض کے خیال میں آپ کو جذام بھی ہو گیا ہے۔ کب تک آپ جئیں گے اس عادل حقیقی کے حضور حاضر ہونا ہے۔ جس کا مقابلہ آپ کرتے رہے ہیں۔ سو اب توبہ کریں۔ وہ قبول کرے گا۔ ضرور معاف کرے گا اس کا فرمان ہے کہ جو میرے پاس آتا ہے۔ میں اس کو ہرگز نکال نہ دوں گا۔ فرمانِ مسیح ؑ۔

توبہ کر اب بھی تو کہ در توبہ باز ہے‘‘

٣....... قادیانی کا انوکھا اصول علم کلام

جب یونانی فلسفہ کی بنیاد پڑی اور اس کا دور دورہ ہوا اور مذہب اسلام سے مقابلہ ہونے لگا تو اس زمانہ کے علماء اہل اسلام رحمتہ اللہ علیہم اجمعین نے اصول علم کلام ایجاد کیا اور اپنا دل و دماغ خرچ کر کے کتابیں لکھیں جس کے ذریعے سے بعض مسائل کو یونانی فلسفہ سے تطبیق دی اور جو اصول اس فلسفہ کے رکیک اور کمزور تھے ان کو بذریعہ علم کلام کے مسترد و متروک کر دیا۔ مگر بمرور ہوا ایک نیا فلسفہ جاری ہوا جس کی بناء (برخلاف قیاسات و توہمات) مشاہدہ اور تجربہ پر ہوئی۔ جس کا رخ تیرھویں صدی کے اخیر میں ہندوستان اور پنجاب کی طرف ہوا اور کل سرکاری اور قومی سکولوں اور کالجوں میں اس کی شاخوں کی تعلیم ہو رہی ہے اور جس کی بدولت اس نظام عالم پر جس کو نامور حکیم بطلیموس نے قائم کیا تھا۔ طلباء ہنسی اڑا رہے ہیں۔ الحاصل جب تجربہ و مشاہدہ کے نظام عالم، زمانہ حال کے سائنس اور فلسفے نے یونانیوں کے اس وہمی اور قیاسی فلسفہ کو باطل کر دیا تو وہ پرانا علم کلام بھی بے مصرف رہ گیا۔

ہمارے زمانہ کے علماء اسلام کا حقیقی فرض ہونا چاہئے تھا کہ حال کے سائنس و فلاسفی وغیرہ کے مقابلہ میں کوئی نیا علم کلام تیار کرتے اور جو اوہام و شکوک زمانہ حال کے لوگوں کے دلوں میں جاگزین تھے ان کے دور کرنے کی کوشش فرماتے۔ مگر کسی بزرگ نے ادھر توجہ نہ کی۔

١٩١

صفحہ ٢٢٧

ایسے نازک اور پر آشوب زمانہ میں ایک شخص سید احمد (مرحوم) نامی خاک پاک دہلی سے پیدا ہوا جو قدرتاً ہمدردی بنی نوع انسان اور فطرتاً دردمند دل اور ساتھ لایا۔ اس نے قوم کی ایسی ردی حالت دیکھی کہ خدا کسی کو نہ دکھاوے۔ اس نے اسلام کو قابل رحم حالت میں پا کر سینکڑوں دیگر امور کی اصلاح کے ساتھ ہی یہ بھی عاقبت اندیشی کی کہ مروجہ سائنس اور فلاسفی کو جس کا مذہب اسلام سے مقابلہ پڑتا نظر آیا مدنظر رکھ کر ہندوستان کے بزرگ و مقدس مولویوں کی خدمت میں اپیل کی کہ اس طوفان بے تمیزی کے مقابلہ میں آپ مضبوط کمریں باندھیں اور پرانے تیر و تفنگ کے بجائے کسی نئی توپ اور سنائیڈر بندوق سے کام لیں۔ مگر کسی نے نہ سنی اور سب نے اس کو اہل غرض اور دیوانہ بتلایا۔ اس لئے اس مرد میدان نے سب سے مایوس ہو کر خود کمر ہمت باندھی اور بلند حوصلے اور مضبوط دل سے اس کام میں مصروف ہوا کہ خداوند تعالیٰ کی قولی اور فعلی (قرآن اور نیچر) دونوں کتابوں کو جو دراصل ایک ہیں باہم مطابق اور موافق کر دکھایا اور جن لوگوں نے مخالفت کی سب کے سب ہارے تھکے اور ماندے ہو کر جھاگ کی طرح بیٹھ گئے۔ علماء وقت اور بزرگان دین فرماتے ہیں کہ ایسی اعلیٰ اور بے مثل تحقیقات کے ساتھ مرحوم و مغفور نے بعض مقاموں میں ٹھوکریں بھی کھائیں اور کیا عجب ہے کہ ایسا ہوا ہو۔ کیونکہ غلطیوں سے پاک وصاف رہنے کا منصب تو خداوند تعالیٰ نے انبیاء علیہم السلام کو ہی عطاء فرمایا ہے جو فطرۃً ہی معصوم رہے جاتے ہیں۔

سرسید مرحوم کا نہ تو یہ دعویٰ تھا کہ میں تمام انبیاء علیہم السلام کا لب لباب ہوں۔ نہ اپنے تئیں حاشر۔ امام وقت وغیرہ ظاہر کرتا تھا بلکہ وہ انبیاء علیہم السلام سے برابری کرنے والوں کو مشرک فی صفۃ النبوۃ جانتا تھا اور قرآن شریف کو ہر وقت بلکہ ہر آن تمام دنیا کے لئے حی امام مانتا تھا۔ اس کا یہ مقولہ آب زر سے لکھنے کے قابل ہے۔

”میری یہ خواہش نہیں کہ کوئی شخص گو وہ میرا کیسا ہی دوست سے دوست ہو۔ میرے خیالات کی پیروی کرے۔ میں رسولوں کے سوا کسی شخص کا ایسا منصب نہیں سمجھتا کہ (ان باتوں میں جو خدا اور بندوں کے درمیان دلی اور روحانی امور سے متعلق ہیں اور جس کو مذہب کہتے ہیں) وہ یہ خواہش کرے کہ لوگ اس کی پیروی کریں۔ یہ منصب تو رسولوں کا تھا اور آخر کو جناب رسول خدا محمد مصطفیٰ ﷺ پر جس کا ازلی مذہب خدا ابدالآباد تک قائم رکھے اور ضرور قائم رکھے گا (کیونکہ جیسا وہ ازلی ہے ابدی بھی ہے) ختم ہو گیا۔“

١٩٢

(دیکھو سفرنامہ پنجاب ص الغرض اس بہی خواہ اسلام اور دلی ہمدرد قو حیرت انگیز اور تعجب خیز کارنامے، خطبات الاحمدیہ، تہذ نہیں سب دنیا کے سامنے موجود ہیں جس کا جی چاہے ط ماصفا ودع ماکدر“ پر عمل کرے۔

ایسے بے مثل نامور فلاسفر اسلام کو بظاہر سامنے اس پر تبرا بھیجنا صرف قادیانی اور اس کی پاٹ کرنے کا کار ثواب تصور فرماتے ہیں (دیکھو مرزا قاد ٢٢٤ تک جس میں اپنی نیک باطنی اور طینت کی پاکی سرسید کا ایجاد کردہ علم کلام کسی کام کا نہ تھا اور فقط ہمارا

پس ہم دیکھتے ہیں کہ قادیانی صاحب قادیانی صاحب موصوف کے اس نرالے اور انوکھے محنت مزدوری کے دھندے سے اس قدر فراغت ہو مدعی ہو سکتے ہیں۔ مگر ان کی تصانیف میں جو اس نے شاخوں کا مختصر طور پر ذکر کرنا مناسب سمجھتے ہیں اور ا ناچیز سطور پر موافق یا مخالف جس قسم کی رائے رکھتے اوّل ...... معانی اور مطالب وغیرہ سے پہلے ناظم اور کرشمہ دکھایا کرتے ہیں۔ پس مرزا قادیانی کی عب الفاظ سے خطاب کرنا جا بجا پایا جاتا ہے۔ اس میں ا کہ وہ مسلمان ہوں یا عیسائی۔ آپ کی عدل وانصا ایسا کیونکر نہ کیا جاتا۔ جب کہ آپ کا یہ مقولہ ہے کاٹے جانے کے قابل اور جہنمی ہے اور بعض اوقا فرق آنے لگتا ہے تو خود مریدین کو بھی بے نقط سنا اور الحکم اخبار کے اوراق ) پس جب یہ حال ہے ت موضوعہ سے خارج رہ سکتی تھی۔ سب سے پہلے آ اندازہ را پیش آمد سنگ است“ کا معاملہ پیش آیا۔ ب

صفحہ ٢٢٧

(دیکھو سفرنامہ پنجاب میں لیکچر اسلام)

الغرض اس خیر خواہ اسلام اور دلی ہمدرد قوم کی بیش بہا اسلامی اور لاثانی خدمات کے حیرت انگیز اور تعجب خیز کارنامے، خطبات الاحمدیہ، تہذیب الاخلاق، تفسیر القرآن وغیرہ کے لباس میں سب دنیا کے سامنے موجود ہیں جس کا جی چاہے دیکھ لے اور اپنی رائے قائم کر کے ”خـــذ ماصفا ودع ماکدر“ پر عمل کرے۔

ایسے بے مثل نامور فلاسفر اسلام کو بظاہر نفرت کی نگاہوں سے دیکھنا اور خلق خدا کے سامنے اس پر تبرے بھیجنا صرف قادیانی اور اس کی پاک جماعت کا ہی کام ہے جو اس فرض کے ادا کرنے کا کار ثواب تصور فرماتے ہیں (دیکھو مرزا قادیانی کا خط مندرجہ آئینہ کمالات ص ٢٢٦ سے ٢٧٢ تک جس میں اپنی نیک باطنی اور طینت کی پاکی کا پورا پورا ثبوت دیا ہے) اور فخریہ کہتے ہیں کہ سرسید کا ایجاد کردہ علم کلام کسی کام کا نہ تھا اور فقط ہمارا علم کلام دنیا میں عالمگیر ہے۔

پس ہم دیکھتے ہیں کہ قادیانی صاحب اس مقولہ میں کہاں تک سچے ہیں۔ ہم نے قادیانی صاحب موصوف کے اس نرالے اور انوکھے علم کلام کو از سر تا پا تو مطالعہ نہیں کیا اور نہ ہمیں محنت مزدوری کے دھندے سے اس قدر فراغت ہوئی نہ ہم اس پر حاوی ہونے کے پورے پورے مدعی ہو سکتے ہیں۔ مگر ان کی تصانیف میں جو اس نئے علم کلام کی جھلک پاتے ہیں اس میں سے بعض شاخوں کا مختصر طور پر ذکر کرنا مناسب سمجھتے ہیں اور ارباب بصیرت سے التجا رکھتے ہیں کہ ہماری ان ناچیز سطور پر موافق یا مخالف جس قسم کی رائے رکھتے ہوں ظاہر کرنے میں دریغ نہ فرماویں۔

اوّل ...... معانی اور مطالب وغیرہ سے پہلے ناظرین کے سامنے عبارتوں کے الفاظ ہی اپنا جلوہ اور کرشمہ دکھایا کرتے ہیں۔ پس مرزا قادیانی کی عبارات میں صریح سب و شتم اور مخاطبین کو کرخت الفاظ سے خطاب کرنا جابجا پایا جاتا ہے۔ اس میں سواء مریدین مخلص کے باقی کل دنیا عالم اس سے کہ وہ مسلمان ہوں یا عیسائی۔ آپ کی عدل و انصاف کے ایک ہی کانٹے میں تولے گئے ہیں اور ایسا کیونکر نہ کیا جاتا۔ جب کہ آپ کا یہ مقولہ ہے کہ جو شخص میری جماعت سے الگ رہے گا وہ کاٹے جانے کے قابل اور جہنمی ہے اور بعض اوقات جب کہ فراہمی چندہ لنگر یا زیورات وغیرہ میں فرق آنے لگتا ہے تو خود مریدین کو بھی بے نقط سنائی جاتی ہے۔ (دیکھو آسمانی فیصلہ کے اخیر صفحات اور الحکم اخبار کے اوراق) پس جب یہ حال ہے تو کیونکر کوئی فرقہ یا جماعت اس سکھا شاہی اصول موضوعہ سے خارج رہ سکتی تھی۔ سب سے پہلے آریا قوم کو اس شیرینی کی بھاجی دی جس پر ”کلوخ انداز را پاداش سنگ است“ کا معاملہ پیش آیا۔ آریا نے ایک ایک کے عوض ہزار ہزار سنائیں اور

١٩٣

صفحہ ٢٢٩

نہ صرف قادیانی اور ان کی جماعت پر ہی اکتفاء کی بلکہ پاک اسلام اور اس کے بانی علیہ الصلوٰۃ والسلام کی شان میں بھی سخت ہتک آمیز کتابیں لکھیں۔ کوئی اہل دل، خدا ترس مسلمان نہ ہوگا جو تکذیب براہین احمدیہ، خبط احمدیہ، تنقیح دماغ اور جہاد وغیرہ کتب مؤلفہ لیکھرام مقتول کو دیکھے اور اس کا جگر کباب نہ ہو۔ سینکڑوں گالیاں تو اس آنجہانی نے اشتعال میں آ کر خدا کو دیں اور آنحضرت ﷺ واصحاب کبار، سلف صالحین کے بارے میں جو کفریات بکے ان کا حد و شمار نہیں اور اس سب ہرزہ سرائی کا ثواب عظیم قادیانی کی روح کو قیامت تک پہنچتا رہے گا۔

مسلمان کہتے ہیں کہ آیت: "وَلا تَسُبُّوا الَّذينَ يَدعونَ مِن دونِ اللَّهِ فَيَسُبُّوا اللَّهَ عَدوًا بِغَيرِ عِلمٍ (الانعام: ١٠٨) " کو مرزا قادیانی نے کیوں مدنظر نہ رکھا۔ مگر یہ اعتراض مسلمانوں کا عدم واقفیت تصانیف مرزا قادیانی پر مبنی ہے جو شخص خود نبوت اور رسالت کا مدعی ہو اس کو کسی دیگر مقدس اور معصوم پیغمبر سے کیا سروکار اور جو اپنے الہاموں کا مالک ہے اس کو قرآن شریف کے ساتھ کیا ہمدردی ہے؟

ایسا ہی عیسائیوں کے ساتھ ناحق چھیڑ چھاڑ کر کے حضرت مسیح علیہ السلام اولوالعزم رسول کو سخت کوسنے دئے۔ جن کے جواب میں امہات المؤمنین جیسی زہر آلود اور مغلظ سب و شتم کتاب کسی عیسائی نے شائع کی اور جب انجمن حمایت اسلام نے بحضور جناب لیفٹیننٹ گورنر بہادر چارہ جوئی کا ارادہ کیا تو مرزا قادیانی نے شور و غل مچایا کہ ہم اس کتاب کا جواب لکھیں گے۔ مگر ابھی تک تو جواب سے صاف جواب ہے۔ یہ تو آپ کے تہذیب کلام کا دیگر مذاہب والوں کے ساتھ برتاؤ ہے اور جس طرح آپ نے خاص مذہب اسلام کے عالموں، مفتیوں، سجادہ نشینوں، صوفیوں وغیرہ کے ساتھ نیک سلوک کیا ہے ان کی درفشانی کی ردیف وار ڈکشنریاں سب کے روبرو ہیں۔ (دیکھو کتاب عصائے موسیٰ مصنفہ منشی الہی بخش صاحب اکاونٹنٹ لاہوری ص ١٤٢ تا ١٤٦) اگر مرزا قادیانی میں کچھ بھی حس اس طاقت کی باقی ہوتی جس کو کانشنس کے نام سے نامزد کیا جاتا ہے تو ایک خدا ماننے والوں ۔ آنحضرت ﷺ کا کلمہ پڑھنے والوں اہل قبلہ کو ایسی تہذیب کلامی سے خطاب کرتے ہوئے شرما جاتے۔ غرض کہ مرزا قادیانی کے نئے علم کلام کی یہ ایک ایسی شاخ ہے جن کی نظیر اسلامی تواریخ میں کہیں نہیں ملتی اور آئندہ کسی کو سب وشتم کی سند لینی ہو تو مرزا قادیانی ہی کی تصانیف میں ملے گی۔

بڑی شدومد کے ساتھ کی گئیں اور افسوس ہے کہ وہ سب بغیر اپنا ظہور دکھائے اور عمل و دخل کئے روز

١٩٤

روشن میں مقدمہ اور صاحب ڈپٹی کمشنر گورداسپور کی کینسل ہو گئیں۔ چونکہ اس بارے میں اکثر اہل علم لو لکھنے کی ضرورت نہیں ہے۔ مگر طرّہ یہ ہے کہ باوجو قرار دیتے رہے ہیں۔

بذریعہ اشتہارات وغیرہ بلانا اور جب ان میں سے مقررہ پر آجاوے تو قسماقسم کے حیلے تراشنا اور آخ واقعات دنیا کے سامنے گزر چکے ہیں جن میں سے

صاحب سے مقابلہ ہوا اور جب عین سوال و جوا ہوا ہے کہ نہ مباحثہ کرو نہ وعظ۔ چنانچہ معاملہ ڈ رسالہ فتح اسلام میں بیچارے مولوی صاحب کی خو

پولیس وغیرہ کا انتظام خاطر خواہ کیا گیا اور حضر وہاں بلائے گئے اور سب کے سب میدان مقرر قاصد پر قاصد اور ڈیپوٹیشن پر ڈیپوٹیشن جانے شرو

گوئے توفیق و کرام
قادیانی راچہ پیش آ

مگر مدعی مہدویت کی طرف سے صا بھی گزرنے نہ پایا تھا کہ پھر وہی اشتہار بازی ا مریدان مخلص کو بھی مختلف اضلاع پنجاب سے طل کو پنجابی مرزائیوں کی صورتیں دکھائی دیتی تھیں دیکھو یہ پنجابی موٹے تازے گدھے کی طر لنگڑاہٹ اور گنجا پن کا مداوا مسیح موعود سے بھی نواب کے طویلہ میں ہی ڈینچوں ڈینچوں لگا کر م تصدیق کرتا رہا۔ الغرض آخری میدان جام

صفحہ ٢٢٩

ہر دو میں مردود اور صاحب ڈپٹی کمشنر گورداسپور کی عدالت سے مقدوح اور مخدوش ہو کر مقطوع النسل ہوگئیں۔ چونکہ اس بارے میں اکثر اہل علم لوگ مفصل اور مشرح لکھ چکے ہیں اس لئے زیادہ لکھنے کی ضرورت نہیں ہے۔ مگر طرہ یہ ہے کہ باوجود ایسا ہونے کے قادیانی صاحب اپنی ذات کو سچا قرار دیتے رہے ہیں۔

بذریعہ اشتہارات وغیرہ بلانا اور جب ان میں سے کوئی مرد میدان کیل کانٹے سے لیس ہو کر مقام مقررہ پر آجاوے تو قسما قسم کے حیلے تراشنا اور آخر کار اپنے بیت الفکر کی راہ لینا۔ چنانچہ ایسے کئی واقعات دنیا کے سامنے گزر چکے ہیں جن میں سے چند ایک کا مختصر طور پر ذکر کیا جاتا ہے۔

صاحب سے مقابلہ ہوا اور جب عین سوال و جواب کا موقعہ آیا تو آپ کیا فرماتے ہیں کہ مجھے الہام ہوا ہے کہ نہ مباحثہ کرو نہ وعظ۔ چنانچہ معاملہ ڈسمس اور مجمع منتشر ہوا۔ مگر قادیان میں آتے ہی رسالہ فتح اسلام میں بیچارے مولوی صاحب کی خوب خبر لی۔

پولیس وغیرہ کا انتظام خاطر خواہ کیا گیا اور حضرت مقدس مولوی سید نذیر حسین صاحب معہ تلامذہ وہاں بلائے گئے اور سب کے سب میدان مقررہ میں حاضر ہو گئے۔ اب قادیانی صاحب کی طرف قاصد پر قاصد اور ڈپوٹیشن پر ڈپوٹیشن جانے شروع ہوئے اور لسان غیب سے آواز آنے لگی۔

گوئے توفیق وکرامت درمیان افگندہ اند
قادیانی راچہ پیش آمد حماران راچہ شد

مگر مدعی مہدویت کی طرف سے صدائے برنخاست۔ اس واقعہ کے بعد ابھی پورا ہفتہ بھی گزرنے نہ پایا تھا کہ پھر وہی اشتہار بازی اور جھوٹے اعلان شروع ہوئے۔ مرزا قادیانی نے مریدان مخلص کو بھی مختلف اضلاع پنجاب سے طلب کیا اور جب دہلی کے بازاروں میں دکانداروں کو پنجابی مرزائیوں کی صورتیں دکھائی دیتی تھیں تو انگلیوں سے ان کی طرف اشارے ہوتے تھے کہ دیکھو یہ پنجابی موٹے تازے گدھے کی طرح چل پھر رہے ہیں۔ مگر واحد العین حمار جس کی لنگراہٹ اور گنجاپن کا مداوا مسیح موعود سے بھی نہ ہوسکا۔ سیر دہلی سے محروم رہا۔ اس لئے میر ناصر نواب کے طویلہ میں ہی ڈھینچوں ڈھینچوں لگا کر ”ان انکر الاصوات لصوت الحمیر“ کی تصدیق کرتا رہا۔ الغرض آخری میدان جامع مسجد دہلی میں پڑا اور جب مرزا قادیانی کو مخاطب

١٩٥

صفحہ ٢٣١

کیا گیا کہ اپنے دعوے موعود مسیح کو بدلائل بیان فرمادیں تو ادھر سے جواب دیا گیا کہ ہم تو مسیح علیہ السلام کی حیات و ممات کی بابت مسئلہ دریافت کرنا چاہتے ہیں اور ہماری غرض مباحثہ ہے۔ چنانچہ مرزا قادیانی اور ان کے مریدین کے چند اہل پولیس ساتھ کر دیئے گئے کہ بحفاظت تمام ان کو ناصر نواب صاحب کے گھر پہنچا دیں۔

٤....... تعبیر طلب خواب

مولانا ایڈیٹر صاحب السلام علیکم! خاکسار نے ایک سچا خواب دیکھا ہے جو بغرض تعبیر حضور کی خدمت میں مرسل ہے۔ امید ہے کہ آپ یا آپ کے ناظرین میں سے کوئی صاحب تعبیر سے معزز فرماویں گے۔ ایک روز رات کو جب میں سو گیا تو کیا دیکھتا ہوں کہ میں اور ایک میرا دوست اسٹیشن کی طرف جاتے ہیں کہ اسٹیشن پر کوئی جلسہ ہے۔ جب ہم وہاں پہنچے تو بہت سی مخلوق ایک خیمہ کے نیچے جو بہت بڑا لمبا چوڑا ہے موجود ہے۔ بینچ وغیرہ بچھی ہیں اور لوگ لکچر دے رہے ہیں۔ ہم نے لکچر سنے بعد ازاں اسٹیشن کی طرف آگے بڑھے۔ مجھے اس وقت بھوک لگی تھی۔ میرا ہمراہی مجھے کھینچ کر پھر اس خیمہ کی طرف لے آیا۔ میں نے اسے بہت روکا مگر وہ نہ رکا۔ کیا دیکھتا ہوں کہ سب لوگ کھانا کھا رہے ہیں۔ میرے دوست نے کہا آؤ تمہیں کھانا بھی کھلاؤں اور مرزا قادیانی کو بھی دکھلاؤں۔ جب میں آگے بڑھا تو دو چار لوگ بڑے تپاک سے ملے اور بینچ پر بٹھانے لگے۔ مگر مجھے نفرت آئی۔ میں نے کہا میں تو نہیں کھاؤں گا، صرف مرزا قادیانی کو دیکھنا چاہتا ہوں۔ جب دیکھنے کو مڑا تو کیا دیکھتا ہوں کہ ایک چھوٹے سے کمرہ میں چند اشخاص لنگوٹی باندھے کانوں میں بالے ڈالے سر پر لال پگڑی باندھے گھوم رہے ہیں اور بیچ میں اسی ہیئت سے ایک شخص ہے جس کی داڑھی بہت کٹی ہوئی ہے۔ میں نے کہا کیا یہی مرزا قادیانی ہیں اس کی داڑھی تو کٹی ہوئی ہے۔ مرزا قادیانی بیچ میں تھے اور ان کے گرد بہت سے اشخاص لنگوٹی باندھے پھر رہے تھے۔ جیسے بازیگر ڈھول لے کر کھڑے ہوتے ہیں ویسے مرزا قادیانی بھی کھڑے تھے۔ الغرض میں نے مرزا قادیانی کو لکھنؤ کے شہدوں کے حلیہ پر دیکھا۔ میں سچ کہتا ہوں کہ جو کچھ میں نے لکھا ہے بالکل ٹھیک ہے۔ مجھے جھوٹ بولنے کی خدا کے فضل سے نہ تو عادت ہے نہ ضرورت اور مرزا قادیانی سے میری کوئی عداوت بھی نہیں۔ بلکہ میں نے مرزا قادیانی کی شکل بھی آج تک نہیں دیکھی۔ مجھے معلوم نہیں کہ اس خواب کی تعبیر کیا ہے۔ واللہ اعلم بالصواب! فیروز الدین از امرتسر! ایڈیٹر....... یہ خواب ہمارے پاس ایک نہایت معتبر اور مستند متورع متقی مقدس عالم کے ذریعے سے پہنچا ہے۔ جن پر کذب کا احتمال بھی نہیں ہو سکتا۔ تعبیر صاف ہے۔ مرزا قادیانی ایک مداری

١٩٦

کی طرح پھٹک ایک پھٹک دو کا تماشا دکھا رہے ہی نئے پرند مریدان مے پرانند کا مضمون ہے۔ داڑھ جیسا کہ حدیث شریف میں وارد ہوا ہے کہ ”خالفو تعبیر دیں گے۔

٥....... خداوند آزادی

انسان کسی نہ کسی شریعت کا پابند اور مکل کوئی ضمانت ہے نہ ذمہ داری ہے۔ وہ اپنے کو انس ہے کہ جو چاہو کرو۔ جس قدر اس نے اپنے زعم میں ت کیا خوب کہا ہے۔

مرتبہ کم حریص رفعت
آفتاب اتنا ہوا او

موجودہ زمانہ کے فیلسوف اور بہروپئے وقت کی راگنی پر جوانان آزادی پسند کو مائل کرر پسند ہیں۔ منجملہ ان کے ایک مرزا قادیانی بھی ہی پرستوں کے مذہب سے تراشا ہے۔ نہیں نہیں دہر وہ مطلق العنان نہیں۔ مرزا قادیانی تو نہ ادھر کے ہ در حقیقت اسلام اور اس کے عقائد کی بنیاد کو ڈھا اسلام کے حریف اور رقیب ہیں اور نہ صرف شارع کا نام صفحہ ہستی سے مٹانا چاہتے ہیں۔ وہ گویا دعو بخش آزادی پسند ہوں۔ اے میرے چیلے چانٹو اپنی شریعت کی کاٹھ میں ٹھونک رکھے تھے میں ان آیا ہوں۔ شارع اسلام نے اگر یہ کہا تھا کہ ”بعث جواب میں یہ کہتا ہوں ۔ ”خلقت لا ختم ال کہ ”ما من صورة الا طمستہ وما من قبر ا ”نزلت لاتخذ الناس تماثلی الهاً غیر ا الاوثان والاصنام لعنة الله عليه وعلى ح

صفحہ ٢٣١

کی طرح پھنک ایک پھنک دو کا تماشا دکھا رہے ہیں اور چیلے چاروں طرف گرد و پیش ہیں۔ پیران نمی پرند مریدان می پرانند کا مضمون ہے۔ داڑھی ترشی ہوئی ہے یعنی غیر متشرع مجوسی ہیں۔ جیسا کہ حدیث شریف میں وارد ہوا ہے کہ ”خالفوالمجوس الحدیث“ ۔امید کہ دیگر ناظرین بھی تعبیر دیں گے۔

٥....... خداوند آزادی بخش آزادی پسند

انسان کسی نہ کسی شریعت کا پابند اور مکلف ہے اور جو ایسا نہیں وہ دہریہ ہے نہ اس کی کوئی ضمانت ہے نہ ذمہ داری ہے۔ وہ اپنے کو انسان نہیں سمجھتا۔ بلکہ حیوانوں سے بھی بدتر جانتا ہے کہ جو چاہو کرو۔ جس قدر اس نے اپنے زعم میں ترقی کی ہے اسی قدر تنزل میں گرا ہے۔ کسی نے کیا خوب کہا ہے۔

مرتبہ کم حرص رفعت سے ہمارا ہو گیا
آفتاب اتنا ہوا اونچا کہ تارا ہو گیا

موجودہ زمانہ کے فیلسوف اور بہروپے آزادی آزادی پکار رہے ہیں اور اپنی اس ٹھیک وقت کی راگنی پر جوانان آزادی پسند کو مائل کر رہے ہیں۔ وہ خداوندان آزادی بخش و آزادی پسند ہیں۔ منجملہ ان کے ایک مرزا قادیانی بھی ہیں جنہوں نے اپنا آزاد مذہب دہریوں اور ستارہ پرستوں کے مذہب سے تراشا ہے۔ نہیں نہیں دہریے اور ستارہ پرست تو آخر کوئی مذہب رکھتے ہیں وہ مطلق العنان نہیں۔ مرزا قادیانی تو نہ ادھر کے ہیں نہ ادھر کے۔ وہ اپنے کو مسلمان بتاتے ہیں مگر در حقیقت اسلام اور اس کے عقائد کی بنیاد کو ڈھاتے ہیں۔ وہ اسلامی نبی اور رسول ہیں مگر شارع اسلام کے حریف اور رقیب ہیں اور نہ صرف شارع اسلام بلکہ تمام انبیاء علی نبینا وعلیہم الصلوٰۃ والسلام کا نام صفحہ ہستی سے مٹانا چاہتے ہیں۔ وہ گویا دعویٰ کے ساتھ ہنکار رہے ہیں کہ میں خداوند آزادی بخش آزادی پسند ہوں۔ اے میرے چیلے چانٹو! وہ پچھلے ریفارمروں نے جو انسانوں کے پاؤں اپنی اپنی شریعت کی کاٹھ میں ٹھونک رکھے تھے میں ان کی بیڑیاں کاٹنے اور ان کو کاٹھ سے نجات دینے آیا ہوں۔ شارع اسلام نے اگر یہ کہا تھا کہ ”بعثت لاتمم مکارم الاخلاق“ تو میں اس کے جواب میں یہ کہتا ہوں۔ ”خلقت لاختم السب والشتم “ اگر شارع اسلام نے یہ فرمایا تھا کہ ”ما من صورة الا طمستہ وما من قبر الا سویتہ “ تو بیسویں صدی کا رسول یہ کہتا ہے۔ ”نزلت لاتخذ الناس تماثلی الھا غیر الله الملک العلام وحسبت لا خلق عبدة الاوثان والاصنام لعنة الله عليه وعلى حواريه الى يوم القيام “

١٩٧

صفحہ ٢٣٢

برٹش سلطنت آزاد ہے۔ مذاہب سے اس کو کچھ تعلق نہیں۔ پس یہ اسی کی آزادی کے انڈوں بچوں کی جھول ہے جو جھوٹے ریفارمروں اور رسولوں اور مہدیوں کی جون میں آ کر ککڑوں کوں کی بانگ دے رہے ہیں۔ ورنہ کوئی دوسری ایشیائی شخصی سلطنت ہوتی تو بوئے بھی نہ پاتے اور جیتے جی تو فی الفور اکھڑوا کر پھکوا دیئے جاتے۔ ذرا افغانستان، ایران، عرب میں تو اپنا مشن بھیجیں تا کہ پھولی پھولی گرما گرم چپاتیاں کھانے کی حقیقت معلوم ہو اور چھٹی کے دودھ تک کا گھونٹوں گھونٹوں مزہ آ جائے۔

یہ ایک کھلی بات ہے کہ جو بوالہوس دنیا پرست مکار کھلے بندوں دعوے کرتا ہے کہ میں نبی ہوں، رسول ہوں۔ مجھ پر ایمان لاؤ۔ وہ علی الاعلان تمام انبیاء علی نبینا وعلیہم الصلوٰۃ والسلام کا انکار کرتا ہے اور ان کی جانب سے مخلوق خدا کو پھیر کر اپنی جانب رغبت دلاتا ہے۔ یہ تمام سوسائٹیوں کا عموماً اور اسلامی سوسائٹی کا خصوصاً دشمن ہے اور سوسائٹی بھی وہ جو شرقا غربا پھیلی ہوئی ہے۔ یہ مسلمانوں کو حرمین شریفین سے نفرت اور قادیان اور اس کے منارے کی زیارت کی رغبت دلاتا ہے۔ لیکن کیا ایسے طمع کاروں سے اسلام کو کچھ ضرر پہنچ سکتا ہے یا کبھی پہلے پہنچا ہے تو بہ توبہ۔ بہت سے مہدیان کذاب گزر چکے ہیں اور جب تک مخبر صادق کی پیشین گوئی کے موافق ان کی تعداد ٣٠ پوری نہ ہوگی برابر خروج کرتے رہیں گے۔ پس مسلمانو! ”ان هذا لهو البلاء المبین“ مرزا قادیانی ہے جو کچھ میں کہوں وہ کرو۔ کس کا قرآن اور کس کی حدیث اور اپنے احمق چیلے چانٹوں کے سر پر یہ پوچارا پھیرتا ہے کہ قرآن وحدیث کے معانی سوا میرے آج تک کسی نے سمجھے ہی نہیں اور اصل معنی یہ ہیں۔ مثلاً قرآن مجید میں احمد سے مراد میں ہوں اور آیہ ’بل رفعہ اللہ الیہ“ سے مراد مسیح علیہ السلام کا آسمان پر زندہ اٹھایا جانا ہرگز نہیں۔ بلکہ رفعت و درجات مراد ہے۔ یہ اس لئے کہ جب خود عیسیٰ مسیح دوبارہ دنیا میں آنے والے ہیں تو اس مکار مثیل المسیح کو کون پوچھے گا۔ لیکن ان الو کے پٹھوں کو اتنی بھی عقل نہیں کہ ”بل رفعه الله اليه“ مضمون سابق سے اضراب کے لئے وارد ہوا ہے۔ یعنی ”ماقتلوه وما صلبوہ“ سے۔ اگر خدائے تعالیٰ کو عیسیٰ مسیح کا زندہ اٹھانا مقصود نہ ہوتا تو ”ماقتلوہ وما صلبوہ“ کے فرمانے کی مطلق ضرورت نہ ہوتی۔ رفعت درجات یا خدا کی طرف جانے کا مرتبہ تو انبیاء کو پہلے ہی حاصل ہے۔ ہر نبی موت وحیات دونوں میں رفیع الدرجات ہے۔ اس صورت میں ”بل رفعه الله اليه“ بالکل لغو اور حشو ٹھہرتا ہے۔ نعوذ باللہ! مرزا قادیانی کی غزل کا مقطع یہ ہے کہ میں نے اسلامی شریعت کو منسوخ کر دیا ہے اور اے میرے چیلوں میں خداوند آزادی بخش آزادی پسند ہوں۔ دوزخ اور بہشت کے وجود کا لاکھوں سال

١٩٨

٢٣٣

قبل ہونا نیچر کے خلاف اور بیکار ہے۔ جس طرح تم پس تم کوئی خوف دل میں نہ لاؤ۔ ریگ ماہی اور سنکھ قادیان میں بلکہ چار طرف سرکاری سانڈ بنے پھرو۔ ح ۔ ایڈیٹر!

بسم اللہ الرحمن الرحیم

تعارف مضامین ......

١٦؍ جولائی ١٩٠٢ء کے شما

اسی ترتیب سے پیش خدمت ہیں۔

١....... بقیہ ہفوات مرزا

(نوٹ: اصل مکمل رسالہ پہلے احتساب حذف کر دیا۔ مرتب!)

٢....... ایک مرزائی کا نکاح فسخ

مولانا صاحب مخدوم و معظم ۔ السلام قادیانی مذہب کے ہیں۔ ایک صاحب ٢٠؍ جون روڑ کی والے آپس کے ہی لوگ تھے۔ وہاں یہ قصہ مرزائیوں نے اصرار کیا کہ نکاح ہم ہی لوگوں میں پنجابی مرزائی مذہب کا ہے۔ وہ نکاح کے واسطے اور ایجاب وقبول کرایا تو یہ بات مسلمانان روڑ کی قاضی نے فتویٰ دے دیا کہ یہ لوگ کافر ہیں۔ لہٰذا

١٩٩

صفحہ ٢٣٣

قبل ہونا نیچر کے خلاف اور بیکار ہے۔ جس طرح مسیح کا آسمان پر اتنے دنوں زندہ رہنا محال ہے۔ پس تم کوئی خوف دل میں نہ لاؤ۔ ریگ ماہی اور سقنقور زعفرانی حلوے میں ملا کر کھاؤ اور نہ صرف قادیان میں بلکہ چار طرف سرکاری سانڈ بنے پھرو۔ کس کی نماز ، کس کا روزہ ، کس کی زکوٰۃ، کس کا حج۔ ایڈیٹر!

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

تعارف مضامین ...... ضمیمہ شحنہ ہند میرٹھ

١٦ جولائی ١٩٠٢ء کے شمارہ نمبر ٢٧ کے مضامین

......١ بقیہ ہفوات مرزا مولانا ثناء اللہ امرتسری! ......٢ ایک مرزائی کا نکاح فسخ کبیر احمد از سراوہ! ......٣ بقیہ قادیانی کا انوکھا اصول علم کلام اد۔ از مقام مگ! ......٤ التنبیہ کبیر احمد از سراوہ!

اسی ترتیب سے پیش خدمت ہیں۔

ا....... بقیہ ہفوات مرزا

(نوٹ: اصل مکمل رسالہ پہلے احتساب قادیانیت میں شائع ہو چکا ہے۔ یہاں سے حذف کر دیا ۔ مرتب!)

٢....... ایک مرزائی کا نکاح فسخ

مولانا صاحب مخدوم و معظم ۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ، یہاں سراوہ میں کچھ لوگ قادیانی مذہب کے ہیں۔ ایک صاحب ٢٠ جون گزشتہ کو روڑکی اپنے لڑکے کا نکاح کرنے گئے۔ روڑکی والے آپس کے ہی لوگ تھے۔ وہاں یہ قصہ ہوا کہ ایک وقت روٹی کھلائی پھر نکاح کی ٹھہرائی مرزائیوں نے اصرار کیا کہ نکاح ہم ہی لوگوں میں سے ہونا چاہئے ۔ چنانچہ روڑکی میں ایک ڈاکٹر پنجابی مرزائی مذہب کا ہے۔ وہ نکاح کے واسطے بلایا گیا اور اس نے آکر کھڑے ہو کر خطبہ پڑھا اور ایجاب وقبول کرایا تو یہ بات مسلمانان روڑکی پر شاق گذری اور واجب بھی یہی تھا۔ وہاں کے قاضی نے فتویٰ دے دیا کہ یہ لوگ کافر ہیں۔ نکاح نہیں ہوا۔ لہذا جو کچھ انہوں نے دیا ہے سب

١٩٩

صفحہ ٢٣٥

واپس کر دو اور ان کو نکال دو۔ جب یہ مشورہ ہوا تو یہ بیچارے شباشب بھاگ آئے اور یہاں آ کر یہ مشہور کر دیا کہ لڑکی کو جذام تھا۔ اس لئے ہم اسے نہیں لائے اور خالص لڑکے کا باپ تو ابھی تک سراوہ نہیں آیا۔ سنا گیا ہے کہ وہ باہر باہر کسی اور گاؤں کو چلا گیا کہ اور نکاح کی تجویز کرے۔ کبیر احمد از سراوہ!

٣...... بقیہ قادیانی کا انوکھا اصول علم کلام

مشہور ہے اور چند دنوں کے بعد جس کا فیصلہ مرزا قادیانی کے تیسرے کاغذ کے کھلنے پر موقوف تھا۔ مگر جب کاغذ کھلا تو بجائے اس کے کہ اس میں کوئی قطعی برہان یا روشن دلیل پیش کی جاتی اپنا مفصلہ الذیل الہام پیش کیا۔

”آج رات جو مجھ پر کھلا ہے وہ یہ ہے کہ جیسے کہ میں نے بہت تضرع اور ابتہال سے جناب الہیٰ میں دعا کی کہ تو اس امر میں فیصلہ کر اور ہم عاجز بندے ہیں تیرے فیصلہ کے سواء کچھ نہیں کر سکتے۔ تو اس نے مجھے یہ نشان بشارات کے طور پر دیا ہے کہ اس بحث میں دونوں فریقوں میں سے جو فریق عمداً جھوٹ کو اختیار کر رہا ہے اور عاجز انسان کو خدا بنا رہا ہے وہ انہیں دنوں مباحثہ کے لحاظ سے یعنی فی دن ایک مہینہ لے کر یعنی پندرہ ماہ تک ہاویہ میں گرایا جاوے گا اور اس کو سخت ذلت پہنچے گی۔ بشرطیکہ حق کی طرف رجوع نہ کرے اور جو شخص سچ پر ہے اور سچے خدا کو مانتا ہے اس سے عزت ظاہر ہوگی اور اس وقت پیشین گوئی پوری ہوگی۔ بعض اندھے سوجاکھے کئے جاویں گے اور بعض لنگڑے چلنے لگیں گے اور بعض بہرے سننے لگیں گے۔“

(جنگ مقدس ص ١٨٨،خزائن ج٦ ص٢٩١)

اب ساری دنیا کو معلوم ہے کہ عبداللہ مذکورہ ١٥؍ماہ مقررہ میعاد کے بعد بھی پورے آٹھ ماہ تک زندہ رہا۔ حالانکہ وہ ایک پنشنر تھا اور طبعی عمر کو پہنچ چکا تھا۔ اگر مسلمان لوگ قادیانی صاحب کے نئے علم کلام کی اس شاخ کو مان لیتے تو آج (معاذ اللہ) ان سے بڑھ کر کون شرمسار ہوتا وہ کسی کو منہ تک نہ دکھا سکتے۔ یہ تو قادیانی صاحب اور اس کے مریدوں کے ہی حوصلے ہیں کہ ایسی عزت کے بعد بھی ہشاش بشاش پھرتے ہیں اور جہل مرکب میں ایسے جکڑے گئے ہیں کہ ”ہمچومن دیگرے نیست“ کے مصداق بن رہے ہیں۔

پیر مہر علی شاہ صاحب گولڑہ والے کے ساتھ تھی۔ جس کو ابھی کچھ بہت دن نہیں گزرے جو دل ٢٠٠

فریب نظارہ بیشمار مخلوقات نے دیکھا ہے اور جس پر اہل البصائر زیادہ لکھنا شاید ممکن نہ تھا اور جس کو ہم بدو حروف ختم کرتے کی تمام شرائط کو منظور کر کے دارالسلطنت لاہور میں تشریف رہے۔ قاصد دوڑے رجسٹری شدہ خطوط بھیجے۔ وغیرہ ! مگر قدم باہر نہ نکالا اور شاہ صاحب موصوف یکطرفہ ڈگری حاصل مرزا قادیانی کی جماعت کے ممبروں کو یقین ہو گیا کہ وہ جیت اشتہارات پر از سب وشتم لاہور کی گلی کوچوں اور در و دیوار کہ بعد از جنگ، یاد آید برکلہ خود باید زد“ کا مصداق تھا۔

کے لئے اکثر احباب سے پیشگی زر کثیر وصول کیا گیا۔ مگر کے باعث صرف چار حصے کتاب مذکور کے نکلنے پائے تھے نبوت اور رسالت کا پودا لگایا گیا۔ اب مرزا قادیانی کے ان ہے تو اسی لال کتاب کی لاطائل مزخرفات خصم کے سامنے کہ جو شخص آپ کے دعاوی کو جو سراسر خلاف قرآن وسنت تو وہ تمہاری بنائی ہوئی کتاب کی کیا حقیقت سمجھتا ہے۔

تمام دنیا کے سامنے آفتاب نصف النہار موجود ہو تو کیا کو اب اندھیری رات ہے۔ پس جب ایک مدت مدید و عرصہ ہو چکا ہے کہ تمہارے دعاوی کی بناء فاسد علی الفاسد ہے قسمیں کھاتے ہو اور خصم کے روبرو اپنے ہی مسلمات پیش بارے میں مفصل لکھا گیا ہے۔ (دیکھو راست بیانی برخلاف نامہ اعمال نامہ قادیانی۔

پاک بنایا کہ مسیح علیہ السلام وفات پاگئے۔ جس پر احادیث اور دور از کار تاویلات کر کے یہ بتایا کہ لو جس کو آنا تھا چنانچہ کے اظہارات اس پر شاہد ہیں۔ ٢٠١

صفحہ ٢٣٥

فریب نظارہ بیشمار مخلوقات نے دیکھا ہے اور جس پر اہل الرائے نے یہاں تک لکھا ہے کہ اس سے زیادہ لکھنا شاید ممکن نہ تھا اور جس کو ہم بدو حروف ختم کرتے ہیں کہ پیر صاحب موصوف مرزا قادیانی کی تمام شرائط کو منظور کر کے دارالسلطنت لاہور میں تشریف لائے۔ ایک ہفتہ تک انتظار کرتے رہے۔ قاصد دوڑے رجسٹری شدہ خطوط بھیجے۔ وغیرہ! مگر مرزا قادیانی نے اپنے بیت الحرم سے قدم باہر نہ نکالا اور شاہ صاحب موصوف یکطرفہ ڈگری حاصل کر کے واپس تشریف لے گئے۔ جب مرزا قادیانی کی جماعت کے ممبروں کو یقین ہو گیا کہ وہ چلے گئے تو پھر وہی قابل شرم کارروائی یعنی اشتہارات پر از سب و شتم لاہور کی گلی کوچوں اور درودیوار پر لگانے شروع کئے۔ مگر وہ معاملہ ”مشتِ کہ بعد از جنگ، یاد آید بر کلہ خود باید زد“ کا مصداق تھا۔

کے لئے اکثر احباب سے پیشگی زرکثیر وصول کیا گیا۔ مگر وہ رقومات کسی اور فنڈ میں خرچ ہو جانے کے باعث صرف چار حصے کتاب مذکور کے نکلنے پائے تھے کہ اشاعت بند کرنی پڑی۔ جس میں اپنی نبوت اور رسالت کا پودا لگایا گیا۔ اب مرزا قادیانی کے ان دعاوی پر جب کوئی بین دلیل مانگی جاتی ہے تو اسی لال کتاب کی لاطائل مزخرفات خصم کے سامنے پیش کرتے ہیں اور یہ خیال نہیں فرماتے کہ جو شخص آپ کے دعاوی کو جو سراسر خلاف قرآن وسنت نبوی علیہ الصلوٰۃ والسلام ہیں۔ نہیں مانتا تو وہ تمہاری بنائی ہوئی کتاب کی کیا حقیقت سمجھتا ہے۔

تمام دنیا کے سامنے آفتاب نصف النہار موجود ہو تو کیا کسی کے قسم کھا لینے سے یقین آ سکتا ہے کہ اب اندھیری رات ہے۔ پس جب ایک مدت مدید وعرصہ بعید کے تجربہ ومشاہدہ کے بعد ثابت ہو چکا ہے کہ تمہارے دعاوی کی بناء فاسد علی الفاسد ہے تو کس برتے پر تم لوگوں کے سامنے جھوٹی قسمیں کھاتے ہو اور خصم کے روبرو اپنے ہی مسلمات پیش کر کے اپنی جگت ہنسائی کرتے ہو۔ اس بارے میں مفصل لکھا گیا ہے۔ (دیکھو راست بیانی برشکست قادیانی) اور ضمیمہ شحنہ ہند الموسوم بہ نامہ اعمال نامہ قادیانی۔

پالک بنایا کہ مسیح علیہ السلام وفات پاگئے۔ جس پر احادیث نبوی علی صاحبہا الصلوٰۃ والسلام کی رکیک اور دور از کار تاویلات کر کے یہ بتایا کہ لو جس کو آنا تھا چنانچہ مسمی کریم بخش چیلہ گلاب شاہ مجذوب کے اظہارات اس پر شاہد ہیں۔

٢٠١

صفحہ ٢٣٦

ایک لحظہ کے لئے مان بھی لیا جاوے کہ مسیح علیہ السلام وفات ہی پاگئے تو جب اصلی کو صاف جواب ملا تو نقلی یا جعلی کے آنے کی کیا ضرورت باقی رہی؟ اور یہ محال ہے کہ ”ہنرمندان بمیرند وبے ہنران جائے ایشان بگیرند۔“ پھر لطف یہ ہے کہ جس بنیاد پر آپ نے موعود ہونے کی دیوار کھڑی کی تھی اس کو خود ہی ڈھادیا۔ (٢٤؍مارچ ١٩٠٢ء کے الحکم اخبار ص ٢) میں آپ فرماتے ہیں:

ہیں اور صحیح ہیں جو کتاب و سنت کے مخالف اور منافی نہیں۔“

ضروریات دین پر عمل نہ ہوتا تھا اور جب تک بخاری اور مسلم مرتب نہ ہو گئیں مسلمان ،مسلمان نہ تھے۔ اور یہ بعینہ وہی مثال ہے؎

یکے بر سر شاخ و بن می برید خداوند بستان نگہہ کردو دید
بگفتا کہ ایں مرد بد میکند نہ بامن کہ بانفس خودمی کند

مرزا قادیانی کو سوچنا چاہئے تھا کہ ان کی مثلیت اور موعودیت کی ساری بناء ان احادیث پر تھی جن کو وہ رطب و یابس اور دو سو برس بعد کی گھڑی ہوئی بتاتے ہیں۔ ورنہ ہم آج نئے سرے سے مرزا قادیانی اور ان کے مریدوں کو کہتے ہیں کہ ہمارے مقابلہ میں صرف قرآن شریف کو ہی ساتھ لاؤ جو فریقین میں مسلم ہے اور پھر اس سے نکال کر دکھاؤ کہ کہاں سے موعود اور بروزی اور ظلی وغیرہ نکلتا ہے۔

ہی ایک قسم کی تردید ہے اور اتنا نہیں سمجھتے کہ جن کو خداوند تعالیٰ نے اپنی خاص عنایات سے نوازا ہے۔ ان کا کسی کی ژاژخائی سے کچھ نہیں بگڑتا؎

چراغے راکہ ایزد بر فروزد
کسے کو تف زند ریشش بسوزد

چنانچہ آپ فرماتے ہیں:

(انجام آتھم ص ، خزائن ج ١١ ص ٢١)

(یہ بزرگان و پیشوایان مذہب اسلام کی طرف عموماً خطاب ہے) ٢٠٢

٣٧

(حضرت تاج العارفین سید مہر علی شاہ ص

(مولانا حافظ مولوی نذیر احمد صاحب غ

(شمس العلماء حافظ مولوی نذیر حسین ص

اس کی جوتیاں اٹھانے کے بھی قابل نہیں تو پھر آپ اور باوجودیکہ آپ مولوی گل علی شاہ صاحب شیعہ کی اور مختاری کے امتحان کے لئے تیار ہوئے اور ذات کو امی مشہور کرنا اور خاکش بدھن ، آنحضرت مردود خلائق مسئلہ (تناسخ) کو جگانا چاہا۔ جس کی ب چکے تھے۔ (سرمہ چشم آریہ ص ، خزائن ج٢ ص٣١٩) ٢ گول مول الفاظ میں مامور من اللہ اور بروزی رسو

ہوتے ہیں۔ زبان رکتی اور قلم تھراتا ہے اور دل کا آتا ہے کہ ان کی حمیت کہاں گئی جو مرزا قادیانی سے سن کر صم و بکم ہو رہے ہیں۔ یعنی مرزا۔

چہ دلاور است دزدی

کا مصداق بن کر قرآن شریف کی ا دنیا کے سامنے بطور معارضہ پیش کی گئیں اور بلند ب وا............ من دون اللہ ان کنتم صادقین قادیانی صاحب کسی آیت کا سر، کسی کا دھڑ ، کسی ک اپنے الہاموں سے نامزد کرتے ہیں۔ ہم بطور نمو کے الہامات ان کے ماخذ اور تحریف لفظی و معنوی دکھانا چاہتے ہیں۔

صفحہ ٢٣٧

(حضرت تاج العارفین سید مہر علی شاہ صاحب کو خطاب ہے)

(مولانا حافظ مولوی نذیر احمد صاحب شمس العلماء کی طرف خطاب ہے)

(شمس العلماء حافظ مولوی نذیر حسین صاحب مجتہد کی طرف خطاب ہے)

اس کی جوتیاں اٹھانے کے بھی قابل نہیں تو پھر آپ نے ان کو کوسنا اور برملا گالیاں دینا شروع کر دیا اور باوجودیکہ آپ مولوی گل علی شاہ صاحب شیعہ سے تعلیم پاتے رہے۔ پھر بندوبست میں محرری کی اور مختاری کے امتحان کے لئے تیار ہوئے اور خدا جانے کس باعث سے پاس نہ ہوئے۔ اپنی ذات کو امی مشہور کرنا اور فاحش بددہن، آنحضرت ﷺ کی برابری کا دعویٰ کرنا اور اس سڑے گلے مردود خلائق مسئلہ (تناسخ) کو جگانا چاہا۔ جس کی پہلے خود ہی ماسٹر مرلی دھر کے مقابلہ میں تردید کر چکے تھے۔ (سرمہ چشم آریہ ص، خزائن ج٢ ص ٣١٩) مگر جب اس پر بھی اعتراضوں کی بوچھاڑ پڑی تو گول مول الفاظ میں مامور من اللہ اور بروزی رسول اور ظلی نبی امام وقت وغیرہ بنتے ہیں۔

ہوتے ہیں۔ زبان رکتی اور قلم تھراتا ہے اور دل کو سخت صدمہ لگتا ہے اور مسلمانوں کے حال پر افسوس آتا ہے کہ ان کی حمیت کہاں گئی جو مرزا قادیانی کے ان کرتوتوں کو آنکھوں سے دیکھ کر اور کانوں سے سن کر صم بکم ہو رہے ہیں۔ یعنی مرزا۔

چہ دلاور است دزدے کہ بکف چراغ دارد

کا مصداق بن کر قرآن شریف کی پاک اور فصیح و بلیغ آیات کو توڑ مروڑ ، یا یہ جو کل دنیا کے سامنے بطور معارضہ پیش کی گئیں اور بلند آواز سے پکارا گیا کہ : ”فاتوا بسورة من مثله وا........... من دون الله ان کنتم صادقین “ مگر کوئی نہ لا سکا اور نہ قیامت تک لا سکے گا۔ مگر قادیانی صاحب کسی آیت کا سر، کسی کا دھڑ، کسی کے پاؤں لے کر اور کچھ اپنی طرف سے ملا کر اس کو اپنے الہاموں سے نامزد کرتے ہیں۔ ہم بطور نمونہ ایک جدول بتاتے ہیں اور اس میں مرزا قادیانی کے الہامات ان کے ماخذ اور تحریف لفظی و معنوی قرآن شریف کو جو وہ عمل میں لاتا ہے ناظرین کو دکھانا چاہتے ہیں۔

٢٠٣

صفحہ ٢٣٩

قرآن قادیانی......یا الہامات مرزا

ماخذ یعنی جن جن آیات قرآن کو توڑ پھوڑ کر یہ الہامات گھڑے گئے ہیں

(١) ”یا احمد بارک اللّٰه فیک ٠ الرحمن علم القرآن ٠ لتنذر قوما ما انذر آبائهم ٠ ولتستبین سبیل المجرمین“

(١) خانہ زاد۔ (٢) سورہ الرحمن کی شروع آیات۔ (٣) سورہ یٰسین کی آیت نمبر ٥ کا پہلا حصہ۔ (٤) سورہ انعام کی آیت نمبر ٥٥ کا اخیر ٹکڑا ہے۔

(٢) ”قل انی امرت وانا اول المومنین“

(١) سورۃ زمر کی آیت نمبر ١١، ١٢ کا پہلا ٹکڑا ہے۔ (٢) اور دوسرے میں جو اوّل المسلمین ہے اس کو تحریف کر کے اوّل المومنین لکھ دیا ہے۔

(٣) ”و کنتم علی شفا حفرة فانقذکم منها ٠ وکان امر اللّٰه مفعولاً“

(١) پہلا ٹکڑا سورہ آل عمران کی آیت ١٠٣ کا ہے جس میں سے من النار کو مرزا قادیانی شربت کا گھونٹ بھر کر پی گئے ہیں۔ کیونکہ اصل میں ہے۔ ”و کنتم علی شفا حفرة من النار فانقذکم منھا“ (٢) سورۂ نساء کی آیت ٤٧ کا آخری ٹکڑا ہے۔

(٤) ”لامبدل لکلمات اللّٰه ٠ انا کفیناک المستهزئین“

(١) سورہ انعام کی آیت ٣٤ کا دوسرا ٹکڑا ہے۔ مرزا قادیانی واؤ کو ہضم کر گئے ہیں۔ (٢) سورہ حجر کی آیت نمبر ٩٥ ہے۔

(٥) ”هٰذا من رحمت ربک یتم نعمة علیک ٠ لتکون آیة للمومنین“

(١) سورہ کہف کی آیت ٩٧ کے ایک ٹکڑے کو چرایا ہے اور اس میں تحریف لفظی کی ہے۔ اصل میں ہے۔ ”هٰذا رحمة من ربی“ (٢) تیسرا ٹکڑا آیت ٦ سورہ یوسف کا ہے۔ (٣) پانچواں ٹکڑا سورہ فتح کی آیت ٢٠ کا ہے۔

(٦) ”قل ان کنتم تحبون اللّٰه فاتبعونی یحببکم اللّٰه“

سورہ آل عمران کی آیت ٣١ کا پہلا ٹکڑا ہے۔ خداوند تعالیٰ کی طرف سے آنحضرت ﷺ کو حکم ہے کہ اگر تم اللہ سے محبت کرنا چاہتے ہو تو میری (رسول ﷺ) کی پیروی کرو۔ تاکہ خداوند تعالیٰ تم سے محبت کرے۔ اس کو مرزا قادیانی جبراً اپنی طرف منسوب کر کے خود رسول بنتے ہیں۔ ایسی خیانت ”لا ترفعوا اصواتکم“ کے مصداق نہیں تو کیا ہے؟

(٧) ”قل عندی شهادة من اللّٰه فهل انتم مسلمون“

اس الہام کا پہلا ٹکڑا من گھڑت ہے اور دوسرا ٹکڑا سورۂ ہود کی آیت ١٧ اور سورۂ انبیاء کی آیت ١٠٨ کا آخری حصہ ہے۔

٢٠٤

(٨) ”وقل اعملوا علی مکانتکم ٠ انی عامل فسوف تعلمون ٠ عسی ربکم ان یرحمکم وان عدتم عدنا وجعلنا جهنم للکافرین حصیراً“

(٩) ”یخوفونک من دونه“

(١٠) ”انک باعیننا ٠ سمیتک المتوکل“

صفحہ ٢٣٩

عامل فسوف تعلمون • عسى ربكم ان يرحمكم وان عدتم عدنا وجعلنا جهنم للكافرين حصيراً“

پہلا ٹکڑا سورۃ زمر کی آیت ٣٩ کو محرف کر کے آدھا حصہ لیا اور جس حصہ آیت پر زور تھا اس کو چھوڑ دیا۔ اصل آیت یہ ہے۔ ”قل یا قوم اعملوا على مكانتكم انى عامل فسوف تعلمون من ياتيه عذاب يخزيه ويحل عليه عذاب مقيم“ اوّل میں واؤ مرزا قادیانی نے اپنی طرف سے ایزاد کی ہے اور یا قوم کو دور کر دیا ہے۔ گویا قرآن شریف میں اصلاح دے رہے ہیں دوسرا ٹکڑا سورہ بنی اسرائیل کی آیت ٨ ہے۔

یہ الہام بھی مرزا قادیانی نے نہایت زبردستی سے سورۃ زمر کی آیت ٣٦ میں تحریف کر کے لیا ہے۔ اصل میں یوں ہے: ”ويخوفونك بالذين من دونه“ مرزا قادیانی نے واور بالذین کو (معاذ اللہ) زائد سمجھ کر چھوڑ دیا ہے۔

المتوکل“

پہلا حصہ الہام کا سورۃ الطور کی آیت ٤٨ کا دوسرا ٹکڑا ہے۔ وہاں پر ہے کہ فانک باعیننا مرزا قادیانی نے ف کو زائد سمجھ کر چھوڑ دیا ہے اور دوسرا حصہ الہام کا خانہ زاد ہے۔ یعنی (بزعم مرزا قادیانی) خداوند تعالیٰ فرماتا ہے کہ میں نے تیرا نام متوکل رکھا۔ کیا خوب متوکل کی بھی ایک ہی کہی۔ مرزا قادیانی کے کارنامے اور زندگی کو دیکھ کر کوئی نہ کہہ سکے گا کہ یہ فقرہ الہامی ہے۔ بلکہ عین شیطان علیہ اللعنہ کی تلقین ہے۔ بادام روغن، یاقوتوں اور کستوری وغیرہ کا بہاؤ گراں کر دینا اور سونے کے جڑاؤ زیورات سے عورتوں کو لاد دینا نوخیز لڑکیوں کو اپنے قابو میں لانے کے لئے طرح طرح کے حیلے تراشنا۔ ذوی الارحام کو محروم الارث کرنا اور اس گھبراہٹ میں بے اختیار بے بس ہو کر پیشین گوئی کے پورا کرنے کے لئے لڑکی کے رشتہ داروں کو تعشق آمیز خطوط لکھنا اور زوجتکھا والے الہام پر خود قانع نہ ہونا منارے کے چندہ کی رقوم کا حساب اپنے پاس رکھنا اور تین ماہ کے اندر چندہ نہ آنے پر بیعت شدہ مریدوں کے نام کاٹنے کی دھمکیاں دینا وغیرہ۔

(باقی آئندہ)

٢٠٥

صفحہ ٢٤١

٤...... التنبيه

"يأيها الناس اتقوا من اهل القاديان • فانهم من حبل الشيطان • العراة من لباس الايمان • لاهم من اهل القرآن • وهم ياولون آيات الفرقان كلا سيعرفون ثم كلاسيعرفون • الم تنبئكم ايها المسلمون بفتان • ولم تسمعون من علماء القرآن • الذى يخسرونكم من الحديث والتبيان • اعلموا انهم فى الدنيا ملاعنه وفى الاخرة فى خسران • وهم فى الشمائل كالحيوان واجتنبوا منهم فى كل الان ولا تصلوا عليهم الجنازة ونبذوهافى الباديان • فيا ايها الناس اتقوا ربكم واخشوا يوما لا يجزى والد عن ولده ولا مولود عن والده شيأ ان وعدالله حق فلا تغرنكم الحياة الدنيا ولا يغرنكم بالله الغرور “ كبير احمد از سراوه!

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

تعارف مضامین ...... ضمیمہ شحنہ ہند میرٹھ

٢٤؍جولائی ١٩٠٢ء کے شمارہ نمبر ٢٨ کے مضامین

لمن يرى

اسی ترتیب سے پیش خدمت ہیں۔

١...... بقیہ قادیانی کا انوکھا علم کلام

کیا متوکل لوگ ایسے ہی ہوتے ہیں آپ کو قسم ہے توکل شاہ کے سوٹے کی سچ بتانا۔ پھر مرزا قادیانی کا خدا کچھ ایسی گھاس کھا گیا ہے کہ کبھی تو مرزا قادیانی کو لے پالک بناتا ہے۔ کبھی جری اللہ نام رکھتا ہے۔ کبھی احمد اور اب توکل شاہ کا چیلا یا اس کے مزار کا مجاور بنادیا۔ گویا جواب

٢٠٦

دے دیا اور عاق کر دیا۔ لیجئے جناب ترکی تمام شد۔

قرآن قادیانی......یا الہامات مرزا ماخذ یعنی

نحمدک ونصلی‘‘ جگہ

بافواههم والله متم نوره ولو كره مجید الكافرون‘‘

بقرہ

امر الزمان الينا اليس هذا ما لحق‘‘ آیت

خير امة اخرجت للناس وافتخار لئے للمؤمنين‘‘ گئے

ثم ذرهم فى خوضهم يلعبون‘‘ ی ں

صفحہ ٢٤١

دے دیا اور عاق کر دیا۔ لیجئے جناب ترکی تمام شد۔

قرآن قادیانی ...... یا الہامات مرزا

ماخذ یعنی جن جن آیات قرآن کو توڑ پھوڑ کر یہ الہامات گھڑے گئے ہیں

ان دونوں الہاموں کی نسبت ہم مفصل طور پر بتا چکے ہیں کہ یہ سراسر مرزا قادیانی کا خدا پر بہتان ہے۔ کیونکہ قرآن شریف میں تین جگہ الحمد للہ وارد ہے۔ (ضمیمہ شحنہ ہند جلد دوم الموسوم بہ نامہ اعمال قادیانی)

یہ سورۃ صف کی آیت ٨ ہے۔ اصل میں یوں ہے: ”يریدون لیطفؤا“ مرزا قادیانی نے لام کو غیر فصیح سمجھ کر حذف کر دیا ہے اور بجائے اس کے اپنی طرف سے ان ایزاد کر دیا ہے اور ”یحرفون الکلم “ میں مبالغہ کے صلہ میں جو انعامات یہودیوں کو خدا کی درگاہ سے ملتے ہیں ان کا مستحق اپنی ذات کو ثابت کیا ہے۔

اصل آیت یوں ہے: ”سنلقي في قلوب الذین کفروا الرعب بما اشرکوا بالله مالم ینزل به سلطاناً وماواهم النار (آل عمران: ١٥١)“ مرزا قادیانی نے دانت کٹکٹا کر آیت کا پہلا ٹکڑا کاٹ لیا اور دوسرا ٹکڑا چبا کر چھوڑ دیا۔

اس الہام کے تین ٹکڑے ہیں۔ (١) سورۃ نصر آیت ١۔ (٢) من گھڑت۔ (٣) سورۃ احقاف کی آیت ٣٤ کا دوسرا ٹکڑا۔

(١) سورۃ بقر کی آیت ١١٥ کا دوسرا جملہ ہے۔ ف کو حضرت اقدس کھا گئے۔ اصل میں ہے: ”فاینما“ شاید اس روز کسی موٹی چڑیا کا شکار نہ ملا ہوگا اور بھوک نے تنگ کیا ہوگا۔ (٢) سورۃ آل عمران کی آیت ١١٠ کا پہلا جملہ ہے جس کو (معاذ اللہ) غیر فصیح سمجھ کر افتخار للمؤمنین اپنی طرف سے بڑھا دیا۔

(١) سورۃ ص کی آیت ٧ کا دوسرا ٹکڑا۔ (٢) سورۃ انعام کی آیت ٩١ کا اخیر ٹکڑا۔

٢٠٧

صفحہ ٢٤٣

ومن اظلم ممن افترى على الله كذبا واما نرینک بعض الذى نعدهم او نتوفینک انی معک فکن معی اینما کنت“

(١) سورۃ ھود کی آیت ٣٥ کا دوسرا جملہ ہے۔ (٢) سورۃ صف کی آیت نمبر ٧ کا پہلا جملہ ہے۔ صرف اتنی اصلاح (معاذ اللہ) الف لام کو جو للکذاب پر ہے حذف کر دیا ہے۔ (٣) سورۃ مؤمن آیت ٧٧ صرف اس قدر تحریف کی کہ فاما کی جگہ واما لکھ دیا اور الینا یرجعون کی جگہ انی معک فکن معی این ما کنت

روح الله قریب • الا نصر الله قریب“

(١) سورۃ یوسف آیت ٨٧ کا چوتھا جملہ ہے۔ (٢،٣) سورۃ بقر آیت ٢١٤ الا ان نصر اللہ قریب کو بگاڑ کر دو ٹکڑے بنائے ہیں۔ یعنی دوسرے ٹکڑے میں سے لفظ نصر اللہ کو نکال کر روح اللہ بھرتی کر دیا اور تیسرے ٹکڑے میں سے لفظ ان کو حذف کر دیا۔

یاتون من کل فج عمیق“

سورۃ حج کی آیت ٢٧ میں قطع و برید کر کے الہام کے دونوں ٹکڑے تیار کئے گئے ہیں۔ اصل میں آیت یوں ہے: ”واذن فی الناس بالحج یاتوک رجالا • وعلی کل ضامر یاتین من کل فج عمیق“

ینصرک رجال نوحی • الیہم من السماء“

(١) پہلا کلمہ سورۃ فتح کی آیت ٣ کا ہے۔ مرزا قادیانی نے دوسرا کلمہ یعنی نصرا عزیزا کو حذف کر کے اس کی جگہ میں عندہ اپنی طرف سے لگا دیا۔ (٢) سورۃ نحل کی آیت ٤٣ توڑ کر بنایا ہے۔

ربک قدیراً“

(١) سورۃ یونس کی آیت ٩٢ کو توڑ کر بنایا۔ وہاں لکھا ہے۔ ”فالیوم ننجیک ببدنک“ دوسرا ٹکڑا سورۃ فرقان کی آیت ٥٤ کا اخیر حصہ ہے۔

الولی فتح • وقرّبناه نجیا“

(١) سورۃ فتح کی آیت ١ کا پہلا حصہ۔ (٢) یہ زائد جو بالکل لغو اور بیہودہ ہے۔ (٣) سورۃ مریم کی آیت ٥٢ کا اخیر حصہ ہے۔

٢٠٨

ناظرین با تمکین کی خدمت میں نہایت (ص ٦٠٥، خزائن ج ١٧ ص ٣٥١، ٣٥٢) سے بالترتیب ضمیمہ کل الہاموں کے ماخذوں کو پسند فرمائیں تو ا آپ مولانا مجدد صاحب کو اس بارے میں تحریر فر ایڈیٹر ...... آپ زور و شور اور جوش و خروش اور فر

درکار خیر حاجت

دو دو اور چپڑی کس کو بری لگی۔ یہ تو ا اور ریگ ماہی ملا ہوا۔ مرغن اور مجرب تر بتر حلوا یہیں سے۔

مندرجہ بالا عنوان سے پیسہ اخبار میں اخبار الحکم نے بہت کچھ زور دکھایا تھا اور ایڈیٹر کرنے کی صورت میں عدالت کارروائی کی دھ نہیں ہو سکتے کہ کسی نہ کسی پہلو سے مرزا قادیا حالانکہ انہیں اتنا بھی خیال نہیں آتا کہ سچے واق ہم نے اپنے طور پر اس امر کی تحقیق کے متعلق جو تحریریں ہمیں پہنچی ہیں ان میں ٣ باقی مختلف ہیں۔ ایک تحریر سے تو یہ نام ملتے ہیں

صفحہ ٢٤٣

(٢٣) ”استجع الناس“ ہم نے تو اپنی عمر میں ایسا چور کم ہی دیکھا ہو گا جس کی بغل میں مشعل بھی ہو۔ واقعی آپ نے قرآن شریف کی ہتک اور تحریف لاجواب کی ہے۔ یہ آپ کے سوا دوسرے کا کام نہیں۔ پیر مہر علی شاہ اور مولوی اسماعیل وغیرہ کے سامنے تو آپ کی بہادری کچھ پیش نہ گئی۔ دہلی سے وہ زک ملی کہ باقی عمر گھر دروازے سے قدم باہر نہ نکالا۔ پس ایسا اشجع الناس کون ہوگا۔

ناظرین یا حَکَمین کی خدمت میں نہایت ادب سے گذارش ہے کہ میں نے (اربعین نمبر ٢ ص ٢٥، خزائن ج ١٧ ص ٣٥٢،٣٥١) سے بالترتیب یہ سرقہ بطور نمونہ دکھایا ہے۔ اگر آپ اور مفتیانِ ضمیر کل الہاموں کے ماخذوں کو پسند فرمائیں تو میں ترتیب وار دکھانے پر تیار ہوں۔ یقین ہے کہ آپ مولانا مجد د صاحب کو اس بارے میں تحریر فرمادیں گے ۔ خاکسار : ا۔و۔ از مقام گ ! ایڈیٹر ..... آپ زور و شور اور جوش وخروش اور ذوق وشوق سے اپنا فرض ادا فرمائیں۔

درکار خیر حاجت ہیچ استخارہ نیست

دودھ اور چپڑی کس کو بری لگی ۔ یہ تو آسمانی من وسلویٰ ہے نہ کہ زعفرانی اور روغن بادام اور ریگ ماہی ملا ہوا۔ مرغن اور مجرب تربتر حلوا۔ جس کو کھا کر قادیان سے آواز آئے کہ پھر بنے ٹٹو یہیں سے ۔

٢...... قادیان میں طاعون

مندرجہ بالا عنوان سے پیسہ اخبار میں کچھ عرصہ ہوا ایک مضمون چھپا تھا اور اس پر قادیانی اخبار الحکم نے بہت کچھ زور دکھایا تھا اور ایڈیٹر پیسہ اخبار کو تردید کرنے کی رائے دی تھی اور تردید نہ کرنے کی صورت میں عدالت کارروائی کی دھمکیاں بھی دی تھیں۔ جن کے معنی اس کے سوا کچھ نہیں ہو سکتے کہ کسی نہ کسی پہلو سے مرزا قادیانی کے مریدوں کو بد اعتقاد ہونے سے روکا جاوے۔ حالانکہ انہیں اتنا بھی خیال نہیں آتا کہ سچے واقعات کو چھپا نہیں سکتے۔

ہم نے اپنے طور پر اس امر کی تحقیق کی ہے کہ آیا پیسہ اخبار کا بیان سچ ہے یا غلط۔ اس کے متعلق جو تحریریں ہمیں پہنچی ہیں ان میں ٢٣ نام ہیں۔ ان کا خلاصہ ہم درج ذیل کرتے ہیں اور باقی مختلف ہیں۔ ایک تحریر سے تو یہ نام ملتے ہیں۔

٢٠٩

صفحہ ٢٤٤

نمبر نام متوفی ولدیت ذات پیشہ کیفیت ١ ننھی لڑکی گنگا رام کھتری دکاندار ٢ دختر قطب الدین کھتری دکاندار مرزائی ہے۔ ٣ لڑکا امام مسجد کھتری دکاندار اور کوئی تصریح نہیں۔ ٤ کانشی رام چھوٹے لعل برہمن پنڈتائی، دکاندار ٥ لڑکا شرف الدین کمہار کمہار ٦ گیانچند شنگر داس برہمن دکاندار ٧ لڑکی رامان سنگھ ترکھان ترکھان

ایک اور صاحب کی تحریر سے ٨ ناموں کا پتہ ملتا ہے جس میں غالباً ایک یا دو نام ایسے ہیں جو اوپر آچکے ہیں جس سے یہ ثابت ہو رہا ہے کہ طاعون واقعی قادیان میں ہے۔ مگر تحقیق کرنے والے پوری کوشش سے دریافت نہیں کرتے جو نام انہیں جلد ہمیں مل جاتے ہیں۔ وہی لکھ دیتے ہیں۔ اس دوسری فہرست کی نقل بلفظہ یہ ہے۔ دختر گنگا رام قوم بھلہ کی عمر ١٨ سال دختر چونی برہمن کی عمر ١٢ سال۔ لڑکا چونی برہمن کی عمر ٨ سال۔ ٧ مئی ١٩٠٢ء غلام غوث کمہار کی عمر ٣٦ سال۔ زوجہ غلام قادر قریشی کی عمر ٢٥ سال۔ ٢٦ مئی ١٩٠٢ء جھنڈا ولد جیوا قوم خوجہ کی عمر ٥ سال۔ ٢٦ مئی ١٩٠٢ء دختر لچھو ولد گنپت کی عمر ٨ سال۔ دختر پھنیا نجار کی عمر ١٥ سال۔

ان کے علاوہ باجا، نتھو، مولا قوم جولاہہ یہ بھی اسی مرض سے فوت ہوئے ہیں۔ تیسری فہرست ایک اور بزرگ بھیجتے ہیں جو اپنے والا نامہ میں لکھتے ہیں۔ ”موضع قادیان میں کل اموات مرض طاعون سے از ابتدائے ١٠ مئی ١٩٠٢ء لغایت ٨ جون ١٩٠٢ء (١٥) ہوئے۔ کیونکہ ابھی آئندہ ہفتہ کی رپورٹ موصول شفاخانہ گورداسپور نہیں ہوئے۔ دوسرے صفحے پر اسم وار فہرست اموات ارسال خدمت شریف ہے۔ ان میں بعض مرید مرزا قادیانی کے بھی ہیں۔ ضلع گورداسپور میں ہیلتھ آفیسر جناب ڈاکٹر ہیک صاحب ہیں اور چوہدری سلطان احمد صاحب اکسٹرا اسسٹنٹ ٢١٠

٢٤٥ کمشنر افسر پلیگ تھے۔ اب ان کی بجائے لاہور رام صا لئے علیحدہ پلیگ افسر نہیں ہوئے۔ وہی افسر دورہ کر کے ہو کر خاص بٹالہ میں قائم کیا گیا ہے۔“ یہ فہرست حسب ضابطہ درخواست دے کر صاحب سول سرجن حاصل کی گئی ہے:

نمبر شمار نام ولدیت ١ مسماۃ گوجری زوجہ امام الدین ٢ احمد قطب الدین ٣ رحیم بی بی زوجہ صوبہ چوہڑا ٤ بھاگن دختر نیا نجا ٥ امیر بی بی زوجہ غلام قادر ٦ ڈھونڈا شرف الدین ٧ غلام غوث بوٹا ٨ خدایار شیخ محمد راجپوت ٩ بھولی دختر امام الدین ١٠ مسماۃ بسنتی زوجہ بھگت ١١ چھپیا دختر چونی اوڈ ١٢ مسماۃ بھجو دختر نتھو ١٣ پریمری دختر منگل ١٤ مسماۃ کانشی دختر چونی ١٥ گیان شنگھو

پسرور سے ایک صاحب تحریر فرماتے مر چکے ہیں جن میں دو گلاب حکیم کے بیٹے مسمیان شخص نہایت متعصب مرزائی تھا اور اس کا قول سے مر گیا تو سمجھ لینا کہ وہ کافر تھا۔ چنانچہ اس کے ہونا ثابت ہو گیا اور تین روز تک اہل علاقہ نے اس

صفحہ ٢٤٥

کیمپ افسر پلیگ تھے۔ اب ان کی بجائے لاہو رام صاحب تشریف لائے ہیں۔ خاص بٹالہ کے لئے علیحدہ پلیگ افسر نہیں ہوئے۔ وہی افسر دورہ کرتے ہیں۔ اب کیمپ پلیگ شکر گڑھ سے منتقل ہو کر خاص بٹالہ میں قائم کیا گیا ہے۔“

یہ فہرست حسب ضابطہ درخواست دے کر شفاخانہ سے باجازت رائے سوبھا رام صاحب سول سرجن حاصل کی گئی ہے:

نمبر شمار نام ولدیت مذہب عمر کیفیت ١ مسماۃ گوہری زوجہ امام الدین مسلمان ١٨ سال ٢ احمد قطب الدین مسلمان ٩ ماہ مرزائی ہے۔ ٣ رحیم بی بی زوجہ صوبہ چوڑگر مسلمان ٢٥ سال اور کوئی تصریح نہیں۔ ٤ بھاگن دختر نبیا نجار مسلمان ٧ سال دار ٥ امیر بی بی زوجہ غلام قادر قریشی مسلمان ٢٠ سال ٦ ڈھونڈا شرف الدین مسلمان ٢ سال ٧ غلام غوث بوٹا مرید مرزا قادیانی ٤٠ سال ٨ خدایار فتح محمد راجپوت مسلمان ٥ سال ٩ بھولی دختر امام الدین گاذر مسلمان ١٨ سال ١٠ مسماۃ بسنتی زوجہ بھگت رام ہندو ١٦ سال ١١ چمپا دختر چونی اول نمبر ١٠ برہمن ١٢ سال ١٢ مسماۃ بھجو دختر لبھو کھتری ایک سال ١٣ پریمسری دختر منگل کمہار ہندو ١٥ سال ١٤ مسماۃ کاشی دختر چونی ثانی نمبر ٤ برہمن ٦ سال ١٥ گیان شنکر داس برہمن ٩ سال

پسروڑ سے ایک صاحب تحریر فرماتے ہیں کہ یہاں تین مرزائی مرید مرض طاعون سے مرچکے ہیں جن میں دو گلاب حکیم کے بیٹے مسمیان جانی وعبدالمجید تھے اور تیسرا حسنا گوریہ قلعی۔ یہ شخص نہایت متعصب مرزائی تھا اور اس کا قول تھا کہ طاعون کفار کے لئے ہے۔ اگر میں طاعون سے مر گیا تو سمجھ لینا کہ میں کافر تھا۔ چنانچہ اس کے مرنے پر اس کے اپنے قول کے مطابق اس کا کافر ہونا ثابت ہو گیا اور تین روز تک اہل علاقہ نے اس کا جنازہ نہیں پڑھا۔

٢١١

جس میں غالباً ایک یا دو نام ایسے قادیان میں ہے۔ مگر تحقیق کرنے یں مل جاتے ہیں۔ وہی لکھ دیتے

مئی ١٩٠٢ء مئی ١٩٠٢ء مئی ١٩٠٢ء

ے فوت ہوئے ہیں۔ تیسری موضع قادیان میں کل اموات اء (١٥) ہوئے۔ کیونکہ ابھی وسرے صفحے پر اسم وار فہرست ن کے بھی ہیں۔ ضلع گورداسپور ا احمد صاحب ایکسٹرا اسسٹنٹ

صفحہ ٢٣٦

خدا نے ایسے متعصب شخص کو معہ اس کے کذاب شیخ کے ذلیل اور خوار کیا۔ اب بھی اگر مرزائی اپنی ضد سے باز نہ آئیں تو مجبوری ہے۔ بقولہ تعالیٰ ”من یضلله فله هادی له“ گلزار ہند لاہور!

٣....... الهوى والضلال لمن یشقیٰ

یا بخیال مرزا قادیانی

الهدى والتبصرة لمن یریٰ

مندرجہ بالا عنوان پر مرزا قادیانی نے عربی زبان میں ایک رسالہ شائع کیا ہے جو سید محمد رشید رضا مشہور فاضل ایڈیٹر المنار قاہرہ کی شان میں بخیال مرزا آسمان سے نازل ہوا ہے۔ اس رسالہ کی ضرورت تالیف کی وجہ یہ ظاہر کی گئی ہے کہ ایڈیٹر موصوف نے پچھلے سال مرزا قادیانی کی کتاب اعجاز مسیح (اکاذیب قسط نمبر ١) پر نکتہ چینی کی تھی اور لکھا تھا کہ اس کتاب کے مضامین کو تفسیر قرآن سے کسی قسم کا تعلق نہیں اور عبارت نہایت رکیک اور غلط اور بے محاورہ ہے۔ جس پر مرزا قادیانی آگ بگولہ ہو گئے اور بغرض الزام حجت یہ نیا رسالہ شائع کر کے ایڈیٹر موصوف سے تحدی کی اور بعض علماء ہندوستان کے پاس بھی اس کتاب کی ایک ایک کاپی پہنچی۔ ایڈیٹر موصوف کی نسبت ہم کیا بلکہ علماء مشرق ومغرب یہ رائے رکھتے ہیں کہ وہ ایک فاضل بے نظیر اور عربی زبان کا یگانہ تحریر ہے۔ اس کی فضیلت کا ثبوت خود اس کا قیمتی رسالہ المنار کافی شاہد ہے۔ مرزا قادیانی اور ایڈیٹر موصوف کی عربی دانی میں یہی کہنا حق معلوم ہوتا ہے کہ؎

چہ نسبت خاک را با عالم پاک

مرزا قادیانی کے خیال میں شاید عربی لغات کو یونہی مہمل اور بے قاعدہ طور پر اکٹھا کر لینا ادب دانی ہے اور کتب متداولہ ادب کے فقرات میں کسی قدر تصرف کر کے نئی صورت میں ظاہر کرنا الزام حجت کے لئے کافی ہے۔ مگر ایک واقعی ادیب جو عربی علم ادب میں کامل دستگاہ رکھتا ہو رسالہ مذکور کے الفاظ و ترکیب کو نہ صرف غلط کہے گا بلکہ مضحکہ اڑائے گا۔ قادیانی مشن کے لوگوں میں تو کوئی شخص ادیب نہیں۔ بھلا وہ کیا جانیں کہ عربی کس جانور کا نام ہے۔ ان میں اگر کوئی عربی دان ہے تو بس اسی قدر کہ قرآن شریف کا ترجمہ دیکھا ہو تو الفاظ عربی سے مطابق کر سکتے ہیں کہ یہ فلاں لفظ کا ترجمہ ہے۔ علماء اگر اس عربی کا تار و پود کھول کر دکھلائیں تو ان پر یہ الزام عائد ہوتا ہے کہ یہ لوگ حسد و بغض سے ایسا کرتے ہیں مگر جہاں تک ہمیں معلوم ہے ایسا کوئی شخص نہیں جو محض

٢١٢

٢٧ کٹ حجتی سے مرزا قادیانی سے الجھا ہو۔ ہم قادیـ اپنے ان ہم مذہبوں سے جو کسی قدر عربی جانـ مرزا قادیانی کا یہ قول ہے کہ واقعی مرزا قادیانی کی نظر مضامین پر ہے۔ ہم الفاظ پرست نہیں۔ بات الفاظ پر۔ مگر مشکل تو یہ ہے کہ مرزا قادیانی بہادر ہے کہ وہ بے نظیر لکھتے ہیں۔ مرزا قادیانی کو یقین ہم تو بہر حال سرخرو ہیں اور جو جانتے ہیں وہ حسد صورت میں بنی بنائی ہے۔ جب علماء کی طرف بـ ہوتی تو وہ اس بات کو علماء کے عجز پر محمول کر کے کہ علماء نے کوئی نیا مشن قائم نہیں کیا جس میں ایـ دقت یہ ہے کہ عربی زبان میں اگر کوئی شخص تصنیف پڑے گی۔ بھلا کون خریدے گا اور کون لوگ پـ مرزا قادیانی اپنی عربی تصنیف کا اردو ترجمہ ساتھ علماء عربی نہیں لکھ سکتے۔ ابھی ہندوستان میں عر کے نام نامی سے اکثر لوگ واقف ہیں۔

مرزا قادیانی کے رسالہ مذکور کا پہلا فـ لئے کافی ہوگا۔ آپ فرماتے ہیں: ”الحمد الغطاطہ “ ایک معمولی استعداد کا آدمی صاف اراۃ سے کیا خوب ہوتا اگر بجائے ارنی کے لفـ چاہئے۔ کیونکہ بلفظ غطاط ہدیٰ کا ذکر فصحا نہیں ناظرین مرزا قادیانی کی نبوت کی تصدیق میں موصوف کی نسبت لکھتے ہیں۔ ص ١١: ”ووجدنـ سے لفظ ایر مراد ہے جس کے معنی آلہ تناسل کے کریں تو ایک مستقل کتاب تیار ہو۔ مگر ہم اس کافی سمجھتے ہیں کہ مرزا قادیانی کی عربی کا ایک فـ صرف دعویٰ رو سے غلط اور اگر کہیں کوئی فقرہ بـ

صفحہ ٢٤٧

کٹ حجتی سے مرزا قادیانی سے الجھا ہو۔ ہم قادیانی مشن کے لوگوں سے استدعا کرتے ہیں کہ وہ اپنے ان ہم مذہبوں سے جو کسی قدر عربی جانتے ہیں اس امر کا فیصلہ لیں۔ چنانچہ ایک مرید مرزا قادیانی کا یہ قول ہے کہ واقعی مرزا قادیانی کی عربی اغلاط واسقام سے پر ہوتی ہے۔ مگر ہماری نظر مضامین پر ہے۔ ہم الفاظ پرست نہیں۔ بات تو ٹھیک ہے کہ نظر معنی پر مبذول ہونی چاہئے نہ الفاظ پر۔ مگر مشکل تو یہ ہے کہ مرزا قادیانی بہادر فرزدق و جریر کے کان کترتے ہیں اور انہیں دعویٰ ہے کہ وہ بے نظیر لکھتے ہیں۔ مرزا قادیانی کو یقین ہے کہ جو لوگ عربی نہیں جانتے۔ ان کے سامنے ہم تو بہر حال سرخرو ہیں اور جو جانتے ہیں وہ حسد وبغض سے مخالفت کرتے ہیں۔ اس لئے بات ہر صورت میں بنی بنائی ہے۔ جب علماء کی طرف سے بالمقابل عربی کا کوئی رسالہ یا تحریر شائع نہیں ہوتی تو وہ اس بات کو علماء کے عجز پر محمول کر کے مریدوں میں سرخرو ہورہے ہیں۔ مگر ہم کہتے ہیں کہ علماء نے کوئی نیا مشن قائم نہیں کیا جس میں اپنی عربی دانی کو بطور حجت پیش کریں۔ اقتضائے وقت یہ ہے کہ عربی زبان میں اگر کوئی شخص تصنیف کرے تو اسے وہ تصنیف الماریوں میں بند رکھنی پڑے گی۔ بھلا کون خریدے گا اور کون لوگ فائدہ اٹھائیں گے؟ اس پر قوی دلیل یہ ہے کہ مرزا قادیانی اپنی عربی تصنیف کا اردو ترجمہ ساتھ ساتھ لکھتے ہیں۔ یہ محض لغو اور بیہودہ خیال ہے کہ علماء عربی نہیں لکھ سکتے۔ ابھی ہندوستان میں عربی نویس علماء کی ایک معتد بہ تعداد موجود ہے جن کے نام نامی سے اکثر لوگ واقف ہیں۔

مرزا قادیانی کے رسالہ مذکور کا پہلا فقرہ غالباً ان کی فصاحت و بلاغت کے موازنہ کے لئے کافی ہوگا۔ آپ فرماتے ہیں: ”الحمد للہ الذی اری اولیاءہ صراطا یضل فیہ الغطاط“ ایک معمولی استعداد کا آدمی صاف بول اٹھے گا کہ ضلال کا مقابلہ ہدیٰ سے ہوتا ہے نہ اراۃ سے کیا خوب ہوتا اگر بجائے اریٰ کے لفظ ہدیٰ بصیغہ ماضی ہوتا۔ غطاط کی جگہ قطا کا لفظ چاہئے۔ کیونکہ بلفظ غطاط ہدیٰ کا ذکر فصحا نہیں کرتے بلکہ بطور مثل اہدیٰ من القطا مشہور ہے۔ ناظرین مرزا قادیانی کی نبوت کی تصدیق میں ان کا فقرہ ذیل ملاحظہ فرماویں جو ایڈیٹر صاحب موصوف کی نسبت لکھتے ہیں۔ ص ١١: ”ووجدت بالمعنی المنعکس ریاک“ منعکس ریا سے لفظ ایر مراد ہے جس کے معنی آلہ تناسل کے ہیں۔ افسوس کہ اگر ہم ایک ایک فقرہ پر ریمارک کریں تو ایک مستقل کتاب تیار ہو۔ مگر ہم اس کو آئندہ کسی موقع پر التوا کر کے صرف اسی قدر کہنا کافی سمجھتے ہیں کہ مرزا قادیانی کی عربی کا ایک فقرہ بھی صحیح نہیں یا تو بے محاورہ ہوگا یا بے ربط یا قواعد صرف ونحو کی رو سے غلط اور اگر کہیں کوئی فقرہ صحیح بھی ہے تو حضرت کا اپنا نہیں۔ ہم ہر پہلو کی ایک

٢١٣

صفحہ ٢٤٩

ایک مثال پیش کرتے ہیں۔ ص ٨ : ”ولا طغاء بهم مابی من جمرة الاذی “ ولاطغی چاہئے۔ مجہول و معروف میں تمیز نہیں کر سکے۔ اس کا جواب غالبا آپ یہی دیں گے کہ کاتب کی غلطی ہے۔ مگر مانے کون؟ ص ١٧ ” ورئیت انهم یروقنی لشزر عینہم “ ایسے موقع پر اوّل تو لفظ عین کی ضرورت نہیں اور اگر ہو تو ”عینین“ لانا محض بے محاورہ اور غلط ہے۔ آپ سند پیش کریں۔ عیون بلفظ جمع چاہئے۔

ص ١٧۔ تلعابہ کا ترجمہ ہنسی کھیل کیا ہے غلط ۔ غالباً حماسہ کا شعر نظر پڑا ہے۔ مگر معنے نہیں آئے۔ صیغہ مبالغہ ہے۔ ص٢٠” ان جراحات السنان لها التیام • ولا یلتام ما جرح کلام “ شرح لا کے دیباچہ سے سرقہ کیا ہے۔ یہ جواب درست نہ ہو گا کہ استشہاداً ذکر کیا ہے۔ کیونکہ پھر تو کسی قدر تغیر کے ساتھ نثر میں لانے کی کیا ضرورت تھی۔ شعر کا شعر رکھ دیا ہوتا۔ ص٢٤۔ ”کمثل ظالع جرید یعذر ک شاہ الضلع “ جریری کے دیباچہ سے سرقہ کیا ہے۔ ص ٢٨۔ ”یقرع صفاتهم اویفاهی صفاتهم قافیه“ غلط۔ غالباً آپ کو معلوم نہ ہوگا کہ جمع مونث سالم کی نصبی حالت بھی جر سے پڑھی جاتی ہے۔ ص٣٤۔”فی ادنی الارض مطایا التیار “ اس فقرہ میں ”فی ادنی الارض “ سورۂ روم کے لفظ ہیں اور مطایا التیار حریری کے۔ ص٤٠۔ ”فکیف یعلی لسقط جلى ومکرمۃ “ شعر حماسہ سے سرقہ کیا ہے۔ ”قال الحماسی وان دعوت الی جلی ومکرمۃ“ ص ٣٠۔”من الشغلف وصغرا الرحة وحصهم خیف وفشف مقامات حریری “ کے الفاظ ہیں۔ ص ٢٥۔ ”فمن اغرانه مقامات حریری “ ص ١٣۔ ”وفلت مکانک یا ابن العفاء فدونی شروالحد دوخرط القتاد “ پوری سطر مقامات بدیع الزمان کی رکھ دی گئی۔ اجی کچھ تو تصرف کیا ہوتا۔ اس کے ترجمہ سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ کو اس عبارت کی سمجھ نہیں آئی۔ قرآن مجید کی عبارات میں عجب بے ڈھنگ تصرف کیا ہے۔ جس سے آیت کو بالکل مخول بنا دیا ہے۔ الغرض حضرت کی اپنی عبارتیں تو غلط ہیں۔ البتہ اساتذہ کے سرقات سو وہ صحیح ہیں۔ یہ ہے مرزا قادیانی کی عربی دانی جس پر ان کی نبوت کا انحصار ہے۔ راقم : م .ح!

٤....... دجال

مسیحی ہم عصر ” صدائے بشیر“ لکھتا ہے۔ دجال یا مسیح الدجال یا مخالف مسیح ۔ یا ہلاکت کا فرزند ۔ یہ سب ایک ہی شخص دجال کے نام ہیں کیونکہ اہل کتاب کے نزدیک دجال کا ظہور پیش از حشر ضروری ہے۔ رسول پولوس فرماتے ہیں کہ قیامت نہ ہوگی جب تک دجال کا ظہور نہ ہوگا۔ جس

٢١٤

کے خاص تین نشان ہیں۔ اوّل دنیا کے تمام معبو وعجائبات کا ادّعا۔ یہ نشان تو انجیل میں ہیں۔ مگر قر محمدیہ میں بھی ظاہر کئے گئے ہیں۔ چنانچہ مظاہر ال ہیں کہ دجال ساحر ہوگا۔ فتنہ و فساد برپا کرے گا ہوئے ہوں گے۔ الوہیت کا دعویٰ کرے گا۔ وہ جا کرے گا۔ نشانوں سے پایا جاتا ہے کہ مرزا غلام ا کے جو نشان کلام الہی اور احادیث محمدیہ میں بیا ہیں۔ طوالت کے خیال سے ایک ایک کا مختصر بیا

کا کوئی معبود اس کی نظر میں نہیں ٹھہرتا۔ سب سے ب محمدیوں، مسیحیوں، غرضیکہ سب کا مخالف ہے۔ ح ”میں حسین سے بڑا ہوں ۔“ جو تمام محمدیوں کے ن کے سردار ہیں۔ مگر مرزا قادیانی آل محمد کا بھی سردا

سامنے ایک عاجز بندہ ثابت کیا۔ مگر قادیانی خد سے اور میں خدا سے ۔ اب فرمائیے خدا بننے میں ک گئی۔ مجھے یاد ہے کہ میں نے اپنے ایک دوس اس نے کہا کہ مرزا قادیانی کا ہاتھ مجھے ایسا معل مریدوں کی اس خوش اعتقادی کو قبول کرتے ہی ہوں۔ کیا اب بھی قادیانی کے دجال ہونے میں ش

ان کے مریدوں کے نزدیک بالکل سچ ہیں۔ جھو دیکھ لو۔ اگر یہ دجال نہیں تو کیا ہے۔ اب سمج عجائبات سے ناظرین واقف ہیں۔

جاتے ہیں۔

صفحہ ٢٤٩

کے خاص تین نشان ہیں۔ اول دنیا کے تمام معبودوں کا مخالف۔ دوم دعویٰ خدائی۔ سوم معجزات وعجائبات کا ادعا۔ یہ نشان تو انجیل میں ہیں۔ مگر قریب قریب اسی کے اور کچھ ان سے جدا احادیث محمدیہ میں بھی ظاہر کئے گئے ہیں۔ چنانچہ مظاہر الحق جلد چہارم میں بعض نشان یوں بیان ہوئے ہیں کہ دجال ساحر ہوگا۔ فتنہ و فساد برپا کرے گا۔ اپنی اطاعت کروائے گا۔ اس کے بال مڑے ہوئے ہوں گے۔ الوہیت کا دعویٰ کرے گا۔ وہ جھوٹا مسیح ہوگا۔ گدھے پر سوار ہوگا۔ مردے کو زندہ کرے گا۔ نشانوں سے پایا جاتا ہے کہ مرزا غلام احمد قادیانی دجال یا از قسم دجال ضرور ہے۔ دجال کے جو نشان کلام الٰہی اور احادیث محمدیہ میں بیان ہوئے وہ قادیانی پیغمبر میں ضرور پائے جاتے ہیں۔ طوالت کے خیال سے ایک ایک کا مختصر بیان کرتا ہوں۔

کا کوئی معبود اس کی نظر میں نہیں ٹھہرتا۔ سب سے اپنے کو بڑا سمجھتا ہے۔ آریوں، برہموں، سکھوں، محمدیوں، مسیحیوں، غرضیکہ سب کا مخالف ہے۔ حال کے طاعونی اشتہار میں شیعوں کو للکارتا ہے کہ ”میں حسین سے بڑا ہوں۔“ جو تمام محمدیوں کے نزدیک سید الشہداء اور بقول محمدؐ صاحب جنتیوں کے سردار ہیں۔ مگر مرزا قادیانی آل محمد کا بھی سردار ہوا۔ کیا یہ دجال کا نشان نہیں؟

سامنے ایک عاجز بندہ ثابت کیا۔ مگر قادیانی خدا بن بیٹھا۔ اس کا طاعونی اشتہار دیکھئے کہ خدا مجھ سے اور میں خدا سے۔ اب فرمائیے خدا بننے میں کیا شک رہا اور دجال کی صاف صفت اس میں پائی گئی۔ مجھے یاد ہے کہ میں نے اپنے ایک دوست کو جس نے قادیانی سے بیعت کی تھی ملامت کی تو اس نے کہا کہ مرزا قادیانی کا ہاتھ مجھے ایسا معلوم ہوا جیسا خدا کا ہاتھ۔ مرزا قادیانی بھی اپنے مریدوں کی اس خوش اعتقادی کو قبول کرتے ہوں گے یا خود ان کو فرماتے ہوں گے کہ میں خدا ہوں۔ کیا اب بھی قادیانی کے دجال ہونے میں شک رہا؟

ان کے مریدوں کے نزدیک بالکل سچ ہیں۔ جھوٹی پیش گوئیاں جھوٹے معجزے، نئے سے نئے روز دیکھ لو۔ اگر یہ دجال نہیں تو کیا ہے۔ اب سمجھ لو کہ قیامت میں کتنی دیر ہے۔ اس کے جھوٹے عجائبات سے ناظرین واقف ہیں۔

جاتے ہیں۔

٢١٥

صفحہ ٢٥١

قدر فتنے برپا ہوئے۔

کرو۔ میری تابعداری نہ کرنے کے باعث ہی طاعون آیا ہے۔

ہے۔ اس کا دعویٰ تھا کہ اگر آتھم اور لیکھرام کی نسبت میری پیش گوئی پوری نہ ہو تو میرے گلے میں رسی ڈال کر گدھے پر سوار کیا جاوے۔ اب جس طرح یہ پیش گوئی پوری ہوئی ناظرین خود واقف ہیں تو کیا وہ اپنی ہی زبان سے گدھے پر سوار نہیں ہو چکا۔ کیا اب بھی اس کے دجال ہونے میں کسی کو شک ہے۔

صاحبان کو اس کے دجال ہونے میں شک ہو تو ہو۔ امید ہے کہ عنقریب وہ بھی کر دکھائے گا۔ مگر مجھے کہ مسیحی ہوں۔ اس کے دجال ہونے میں کچھ بھی شک نہیں۔ لیکن چونکہ خدا مہربان اور رحیم ہے۔ ستار اور غفار ہے۔ اگر اب بھی قادیانی توبہ کرے تو وہ بخش دے گا۔ ورنہ اس کا حشر ضرور دجال کے ساتھ ہوگا۔ میں ناظرین کی خدمت عرض کرتا ہوں کہ قادیانی خطرناک شخص ہے۔ اس سے اپنا دین اور ایمان بچاؤ۔ جو کچھ میں نے اوپر عرض کیا ہے اس پر غور وفکر کرو۔

ایڈیٹر...... مسیحی ہم عصر کو شاید معلوم نہیں مرزا قادیانی تو مردہ بھی زندہ کر چکے ہیں جس کی خانگی زبردست شہادت ہے۔ یعنی مرزا قادیانی کی بیوی ام المرزائین نے بیان کیا کہ میرا بچہ ہاتھوں پر آ گیا تھا۔ مرزا قادیانی نے اپنے باپ کی آسمانی پری کونسل میں اپیل کی جو منظور ہوئی اور ملک الموت کو ڈانٹا گیا کہ خبردار جو میرے پوتے پر دانت کٹکٹائے۔ پس بچہ ہٹا کٹا اور بھلا چنگا ہو گیا۔

٥...... غرے ڈبے ٹوٹ گئے

یا تو اوائل میں مرزا قادیانی کی یہ کیفیت تھی کہ اگر ایک رسالہ بھی اپنی رسالت ونبوت اور الہامات وغیرہ کے متعلق چھاپتے تھے تو حقانی علماء اور مشائخ کے نام بذریعہ رجسٹری بھیجتے تھے کہ جواب دو۔ اب چونکہ ہمارے علماء اور مشائخ اس جانب متوجہ ہوئے اور لگاتار مرزا قادیانی کی

٢١٦

مرمت میں رسالے شائع ہو رہے ہیں۔ ایک کی وا معلوم ہوئی۔ لہٰذا اپنے رسالوں کو اب ناظرین سے کو اور رسالوں کی اشاعت اپنے مریدوں ہی تک محدو پلٹ گئی۔ وجہ یہی ہے کہ ان کے پاس بجز مکر اور زور سلا ہی نہیں۔ گولہ بارود کا میگزین ختم ہو گیا۔ ہاتھ سے پرچہ اخبار الحکم بھی صرف فدائیوں میں جاتا ہے اعتراضات کے کڑاکے پڑنے لگے تو منارے کی د کیا ہے۔ لیکن ہمارے ناظرین کا فرض ہے کہ اگر چتھڑے کر کے ہفتہ وار ہمارے پاس بھیجتے رہیں۔

بسم اللہ الرحمٰن الر تعارف مضامین ...... یکم اگست ١٩٠٢ء کے ش

مرزا غلام احمد قادیانی کے اقوال و ١...... قاموس الاحمدی یا ڈکشنری احمدیہ ٢...... مرزا قادیانی کے خیالات کا لیکچـ ٣...... سیف چشتیائی یعنی حجۃ اللہ ٤...... الفصيح لاعجاز المسيح ٥ بعض بدمعاش مرزائی

اسی ترتیب سے پیش خدمت ہیں۔

واعظان کین جلوہ
چون بخلوت میرو

پیارے ناظرین! مجھے عرصہ سے مـ رہتا ہے۔ ان سے یہ نتیجہ نکالا ہے کہ مرزا قـ

صفحہ ٢٥١

مذمت میں رسالے شائع ہورہے ہیں۔ ایک کی مارو مار اور دو کی چار تو مرزا قادیانی کو قدر عافیت معلوم ہوئی۔ لہٰذا اپنے رسالوں کو اب ناظرین سے یوں چھپاتے اور دباتے ہیں جیسے بلی اپنی براز کو اور رسالوں کی اشاعت اپنے مریدوں ہی تک محدود رکھتے ہیں۔ مرزا قادیانی کی ایسی کایا کیوں پلٹ گئی۔ وجہ یہی ہے کہ ان کے پاس بجز مکر اور زور اور سادہ لوحوں کے پھانسنے کے درحقیقت کوئی سلاح ہی نہیں۔ گولہ بارود کا میگزین ختم ہوگیا۔ ہاتھ سے ہتھیار چھوٹ گئے۔ کریں تو کیا کریں۔ خانگی پرچہ اخبار الحکم بھی صرف فدائیوں میں جاتا ہے۔ شحنہ ہند میں بھی آتا تھا۔ مگر نکتہ چینی اور اعتراضات کے گولے پڑنے لگے تو منارے کی درزوں میں چھپ گیا۔ یہ علامت ضعف نہیں تو کیا ہے۔ لیکن ہمارے ناظرین کا فرض ہے کہ اگر ان کی نظر سے الحکم گزرے تو ضرور لغویات کی چھانٹ کر کے ہفتہ وار ہمارے پاس بھیجتے رہیں۔

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

تعارف مضامین ...... ضمیمہ شحنہ ہند میرٹھ

یکم اگست ١٩٠٢ء کے شمارہ نمبر ٢٩ کے مضامین

الفصیح لاعجاز المسیح مولانا شوکت اللہ!

اسی ترتیب سے پیش خدمت ہیں۔

واعظان کین جلوہ بر محراب ومنبر میکنند
چون بخلوت میروند آن کار دیگر میکنند

پیارے ناظرین! مجھے عرصہ سے مرزا غلام احمد قادیانی کے کتب واشتہارات کا مطالعہ رہتا ہے۔ ان سے یہ نتیجہ نکالا ہے کہ مرزا قادیانی اعلیٰ درجہ کے محرر ہیں۔ رہا یہ کہ فرقہ احمدیہ

٢١٧

صفحہ ٢٥٢

مرزا قادیانی کو مہدی آخرالزمان، مسیح موعود، مثیل مسیح، بروزی محمد وغیرہ اعتقاداً مانتے ہیں اور منکر ان عقیدۂ مذکور کو بے دھڑک بلاخوف خدا ورسول کافر کہتے ہیں تو یہ ان کا خیال غلط ہے۔ میں مرزا قادیانی کے منکروں کو ہرگز کافر نہیں کہتا۔ صرف خدا اور رسول (محمد ﷺ) کا منکر کافر ہے۔ اس پر قرآن اور حدیث گواہ ہیں۔

مرزا قادیانی کے قول اور فعل میں بہت اختلاف ہے جو ایک بزرگ کے خواص سے بعید ہے۔ یعنی برگزیدگان خدا جو بات کرتے ہیں وہ خالصاً لوجہ اللہ ہوتی ہے۔ اس میں کسی خواہش نفسانی کو دخل نہیں ہوتا اور اس کا فعل کبھی اس کے قول کے مخالف نہیں ہوتا اور اس کا قول تب اوروں کے دل پر اثر کرتا ہے جب وہ خود پہلے اس پر عمل کر کے ثابت کر دے۔ چنانچہ مرزا قادیانی نے نفس کی تعریف میں بہت سے اوراق پریشان کو جمع کیا ہے اور وہ اوراق قابل قدر ہیں بھی۔ کیونکہ مرزا قادیانی کی تصنیف تو ہیں نہیں بلکہ قدیمی کتب سے تالیف و اقتباس کیا ہے۔ مگر ناظرین پر کھل جائے گا کہ کہاں تک مرزا قادیانی یا ان کی جماعت اس پر عامل ہے۔

تعریف نفس ...... نفس انسان ایک ایسی پوشیدہ چیز ہے جس میں بہت سی باطنی استعدادات اور قویٰ موجود ہیں۔ اس کی تربیت اور نشونما میں انسان اعلیٰ مدارج حاصل کر سکتا ہے جس کے تین درجے ہیں۔ امارہ، لوامہ اور مطمئنہ۔

امارہ ...... نفس امارہ اس باطنی استعداد کا نام ہے جو انسان کو بدی کی طرف جھکاتا ہے اور برے راستوں پر اس کو چلاتا ہے۔ کیونکہ برائی کی طرف جانا انسان کی ایک حالت ہے جو اخلاقی حالت سے پہلے اس پر طبعاً غالب ہوتی ہے اور یہ حالت اس وقت تک طبعی کہلاتی ہے جب تک انسان عقل و معرفت کے زیر سایہ نہیں چلتا اور بہایم کی طرح۔ کھانے، پینے، سونے، جاگنے، غصہ اور جوش دینے والے امور میں طبعی جذبات کا پیرو رہتا ہے اور بات بات میں اس کو غصہ آتا ہے۔ تحمل، صبر، حوصلہ اس سے دور بھاگتے ہیں۔ مغلوب الغضبی ، انتقام کشی، گندہ دہنی کا والہ و شیدا بن جاتا ہے۔

لوامہ ...... نفس لوامہ سے اخلاقی حالتیں پیدا ہوتی ہیں۔ اس مقام پر انسان دوسرے حیوانی مشابہت سے نجات پاتا ہے اور امارہ سے لوامہ کے درجہ پر ترقی پا کر انسان کو برائی پر ملامت کرتا ہے اور اس بات پر خوش نہیں ہوتا کہ انسان شتر بے مہار کی طرح خواہشات نفسانی کی پیروی میں جدھر منہ اٹھاوے چلا جائے۔ بلکہ اس کا اقتضاء یہ ہی ہوتا ہے کہ انسان سے اچھے عادات اور اچھے اخلاق صادر ہوں اور انسانی زندگی میں کوئی بے اعتدالی سرزد نہ ہو اور اپنی طبعی خواہشوں کے مقابلہ

٢١٨

صفحہ ٢٥٣

پس عقل سلیم کو مشیر بناوے۔ چونکہ وہ بری حالتوں میں ملامت کرنے والا ہے۔ اس واسطے اس کا نام لوّامہ رکھا ہے۔ وغیرہ!

مطمئنہ ...... نفس مطمئنہ روحانی حالتوں کا تیسرا درجہ ہے جو تمام کمزوریوں سے نجات پا کر روحانی قوتوں سے مالا مال ہو جاتا ہے اور سب سے توڑ کر خدا سے ایسا جوڑتا ہے کہ بغیر اس کے جی نہیں سکتا اور جس طرح پانی فراز سے نشیب کی طرف نہایت تیز روی سے جاتا ہے۔ اسی طرح یہ خدا کی طرف جاتا ہے اور اس میں غیظ ، غضب ، غصہ نہیں رہتا اور وہ لوث امارہ ولوامہ سے مبرّا اور پاک ہوتا ہے۔

یہ مختصر مطلب مرزا قادیانی کے ان طول طویل تحریرات کا ہے جو اساتذہ سلف کی کتب سے نکال کر رنگ آمیزیوں سے اوراق سیاہ کر دیئے۔ اب ناظرین از راہ انصاف خیال فرما سکتے ہیں کہ مرزا قادیانی کا نفس نفیس ان تین مدارج سے کس درجہ کا مصداق ہے؟ اور ان تحریرات سے مرزا قادیانی نے صرف اپنی خوش تقریری اور انشاء پردازی جتلائی ہے یا درحقیقت مرزا قادیانی کا نفس نفس مطمئنہ ہے اور نفس مطمئنہ والے شخص میں کبھی شیطانی وساوس یا خواہشات نفسانی یا انتقام کشی یا گندی زبانی کا ہونا ممکن ہے۔ یا نہ ، اگر نہیں تو جس شخص کے نفس میں یہ اوصاف ہوں وہ نفس ان مدارج میں سے کس درجہ میں قابل شمار ہے۔

مرزا قادیانی کی خوش اخلاقی اور شیریں کلامی جو بقول مرزا قادیانی و مرزائیان نفس مطمئنہ کا ظرف ہے۔ ان کی کتب اور تحریرات سے واضح ہے۔ بالتفصیل اس کی نقل کے واسطے ایک ضخیم کتاب چاہئے مگر میں مختصر مشتے نمونہ خروارے عرض کر کے اس کا فیصلہ مرزا قادیانی اور ان کی جماعت اور انصاف پسند طبائع پر چھوڑتا ہوں۔ لیجئے!

٢...... قاموس الاحمدی یا ڈکشنری احمدیہ

(نوٹ: اس مضمون میں مرزا قادیانی کی بدزبانی کو ابجد کے حساب سے مرتب کر کے شائع کیا گیا۔ یہ چونکہ جامع مضمون بشکل رسالہ احتساب ج ٢ میں موجود ہے۔ اس لئے یہاں سے حذف کر دیا ہے۔ مرتب!)

٣...... مرزا قادیانی کے خیالات کا لیکچر

اے دنیا کے لوگو! خوب یاد رکھو کہ نبی اور رسول یا ریفارمر ہمیشہ وحشیوں میں پیدا ہوتے ہیں اور نیچر کا یہی اقتضاء ہے۔ لیکن وحشت اور تہذیب کے سر پر سینگ نہیں ہوتے۔ یہ دونوں نسبتی

٢١٩

صفحہ ٢٥٤-٢٥٥

ایسے ہیں۔ کوئی کم وحشی، کوئی زیادہ وحشی، یورپ والے کم وحشی ہیں اور ان کے مقابلہ میں ایشیاء والے زیادہ وحشی۔ سوڈان اور ہندوستان خصوصاً ان دونوں ممالک کے مسلمانوں کی وحشت کی تو کوئی انتہا نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ دونوں ممالک میں رفارمر پیدا ہورہے ہیں۔ خواہ ان کو مہدی کہو۔ خواہ مسیح نبی کہو خواہ رسول ۔ سوڈان میں متواتر مہدی پیدا ہوئے اور ہورہے ہیں اور کچھ مہدیوں کی پنیری لگ رہی ہے۔ تخم ریزی ہو رہی ہے۔ چند روز میں موسلا دھار بارش ہونے پر اگ آئیں گے اور پھر تھوڑی مدت میں تناور درخت ہو جائیں گے۔ سنو سنو! جب کہ ہندوستان میں سوڈان سے کہیں زیادہ وحشت برس رہی ہے اور لوگ دین اور دنیا کو پس پشت ڈالے ہوئے ہیں۔ وحشیوں کی طرح زندگی بسر کر رہے ہیں تو تم ہی انصاف سے کہو کہ یہاں رفارمر کیوں پیدا نہ ہو۔ پس میں رفارمر ہوں، رسول ہوں، نبی ہوں، مہدی ہوں، مسیح ہوں۔ غرضیکہ بعد خدا میرا درجہ ہے اور ایک معنی سے تم اگر مجھے خدا بھی سمجھو تو تعجب میں کوئی بات نہیں۔ دیکھو یسوع مسیح کو نصاریٰ خدا کہتے ہیں۔ حالانکہ وہ انسان تھا۔ میں بھی انسان ہوں اور جس طرح یسوع مسیح نہ صرف نبی بلکہ خدا کے بیٹے اور خود خدا ہیں تو میں کیوں خدا کہلانے کا مستحق نہ ہوں؟ آسمانی باپ نے مجھ پر الہام کر دیا ہے کہ: ”انت بمنزلۃ ولدی“ اس الہام سے ظاہر ہے کہ جس طرح آسمانی باپ نے یسوع مسیح کو اپنا حقیقی فرزند بنایا ہے اسی طرح مجھے بمنزلہ ولد (بیٹے اور لے پالک) قرار دیا ہے۔ پس مجھ میں اور یسوع مسیح میں کیا فرق رہا۔ بلکہ میں ایک معنی کے لحاظ سے یسوع مسیح پر شرف رکھتا ہوں۔ یسوع مسیح کی نانیاں، دادیاں کسبیاں تھیں اور یسوع مسیح کسبیوں سے تیل ملوایا کرتے تھے۔ میں معصوم ہوں اور ان تمام عیوب سے پاک۔ پھر جب یسوع مسیح جیسا شخص ابن اللہ اور خدا ٹھہر گیا تو میرے باب میں منکروں کے کان کیوں کھڑے ہوتے ہیں۔ یہ ہٹ دھرمی اور نا انصافی نہیں تو کیا ہے۔ دیکھو! تم کانوں کی ٹھینٹھیاں بڑے بھاری سلیوں سے نکلواؤ اور اچھی طرح سنو کہ قوم اور ملک کی اصلاح کا کسی شخص واحد پر خاتمہ نہیں ہو سکتا۔ دنیا روز بروز بڑھتی اور ترقی کرتی جاتی ہے اور یہ قاعدہ ہے کہ جس قدر اصلاح ہوگی۔ اسی قدر ترقی ہوگی۔ ورنہ ترقی کے پاؤں کٹ جائیں گے۔ پس یہ کیونکر ممکن ہے کہ کوئی رفارمر قیامت تک کی اصلاح کا ٹھیکہ لے سکے۔ جب کہ زمانہ گرگٹ کی طرح رنگ بدلتا ہے اور انسانی سوسائٹی ایک حال پر قائم نہیں رہتی۔ کل کا مردہ تو کل ہی کو گڑے گا آج نہیں گڑ سکتا۔ مگر وحشیوں کی وحشت و جہالت کا کیا علاج۔ سنو سنو! ١٩ سو برس اور تیرہ سو برس کا خواب تم آج دیکھ رہے ہو۔ وہ زمانہ لد گیا۔ دنیا

٢٢٠

بدل گئی۔ کائنات الٹ پلٹ ہو گئی۔ ہر شے اپنے م اوقات مقررہ پر آتی ہے۔ بعض ممالک کے باشندے ہیں وہ شروع میں جانوروں کی کھالیں پہنتے تھے اور زندگی گزارتے تھے۔ اب سینکڑوں سال کے بعد ک قانون جاری رہے اور نہ آج کے روز کوئی مہذب ق ان پر جاری کئے جائیں۔ اے مسلمانو! تمہاری عقل تو گھن چکر ہو معجز اور خرق عادت کا یقین کرتے ہو۔ جو کام ایک رفارمروں نے اوّل تو معجزات دکھائے نہیں نہ ان پھٹک دو کا تماشا دکھائیں۔ نہ انہوں نے کبھی معجزہ ا نزدیک معجزہ دکھایا ہے تو میں دس حصے بڑھ کر معجز آنکھوں پر قدرت نے اندھیری ڈال دی ہو تو ا رفارمر طرح طرح کی حکمت عملیوں سے کام نہ ل انجیل نہ دکھاتے تو وحشی قومیں کبھی ڈھب پر نہ چڑ ہے اور جس طرح حیوانوں کی تمام نوعیں قدیم ہی آدم علیہ السلام کا اور پھر حوا کا پیدا ہونا اور ان ک خدائے تعالیٰ کا لات مار کر ان کو بہشت سے نکا یہ ایک دل خوش تاویل ہے۔ جس کو عقل انسانی با اور ان پر عبرت ڈالنے کا بہت خاصہ ٹوٹکا ہے۔ ث انسان ہی فرشتہ ہے جو کچھ ہے انسان ہے۔ آدم سرزمین میں کون سے غار میں ہیں۔ کس پہاڑ ک کہ کوئی شے دنیا میں موجود ہو اور اس کا پتہ نہ ہ سینکڑوں اور ہزاروں قصے ہیں۔ ایسا ہی قصہ آدم جاہل اور وحشی قومیں اب تک لٹو ہو رہی ہیں۔ سنو سنو! انسانوں کا گروہ اوّل میں جا بجا جھونپڑیاں بنالیں۔ رہنے سہنے کا کام کاج کر

صفحہ ٢٥٥

بدل گئی۔ کائنات الٹ پلٹ ہو گئی۔ ہر شے اپنے موقع اور محل پر ٹھیک ہوتی ہے اور ہر فصل اپنے اوقات مقررہ پر آتی ہے۔ بعض ممالک کے باشندے جو اس وقت اعلیٰ درجہ کے مہذب کہلاتے ہیں وہ شروع میں جانوروں کی کھالیں پہنتے تھے اور پتوں کے چھپروں یا پہاڑوں کی کھوہوں میں زندگی گزارتے تھے۔ اب سینکڑوں سال کے بعد کیونکر ممکن ہے کہ ان کا وہی وحشت کا اولڈ فیشن قانون جاری رہے اور نہ آج کے روز کوئی مہذب قوم گوارا کر سکتی ہے کہ قدیم زمانے کے قوانین ان پر جاری کئے جائیں۔

اے مسلمانو! تمہاری عقل تو گھن چکر ہو گئی ہے کہ انسانی کاموں کو خدا کے کام اور ان کو معجز اور خرق عادت کا یقین کرتے ہو۔ جو کام ایک انسان نے کیا وہ سب کر سکتے ہیں۔ گزشتہ رفارمروں نے اوّل تو معجزات دکھائے نہیں نہ ان کی یہ شان تھی کہ مداری کی طرح پھٹک ایک پھٹک دو کا تماشا دکھائیں۔ نہ انہوں نے کبھی معجزات دکھانے کا دعویٰ کیا اور اگر کسی نے تمہارے نزدیک معجزہ دکھایا ہے تو میں دس حصے بڑھ کر معجزہ دکھانے کو تیار ہوں اور دکھا چکا ہوں۔ تمہاری آنکھوں پر قدرت نے اندھیری ڈال دی ہو تو اس کا علاج میرے پاس نہیں۔ اگر انبیاء اور رفارمر طرح طرح کی حکمت عملیوں سے کام نہ لیتے اور امور مافوق العادت کے کرشمے بلطائف الحیل نہ دکھاتے تو وحشی قومیں کبھی ڈھب پر نہ چڑھتیں۔ انسان بھی منجملہ حیوانات کے ایک حیوان ہے اور جس طرح حیوانوں کی تمام نوعیں قدیم ہیں۔ اسی طرح نوع انسانی بھی قدیم ہے۔ پہلے آدم علیہ السلام کا اور پھر حوا کا پیدا ہونا اور ان کا بہشت میں رہنا اور پھر گیہوں کے کھانے پر خدائے تعالیٰ کا لات مار کر ان کو بہشت سے نکال دینا اور لڑھکتے پھڑکتے سنگلدیپ میں جا گرنا یہ ایک دل خوش کن ناول ہے۔ جس کو عقل انسانی باور نہیں کر سکتی۔ ہاں! وحشیوں کے انسان بنانے اور ان پر رعب ڈالنے کا بہت عمدہ لٹکا ہے۔ شیطان کا کوئی وجود نہیں۔ انسان ہی شیطان ہے۔ انسان ہی فرشتہ ہے جو کچھ ہے انسان ہے۔ آخر بہشت اور دوزخ کا کہیں پتا بھی ہے وہ کون سی سرزمین میں کون سے غار میں ہیں۔ کس پہاڑ کی کھوہ میں چھپی ہوئی ہیں۔ بالکل خلاف عقل ہے کہ کوئی شے دنیا میں موجود ہو اور اس کا پتہ نہ لگے۔ جس طرح دیووں اور جنوں اور پریوں کے سینکڑوں اور ہزاروں قصے ہیں۔ ایسا ہی قصہ آدم و حوا کا ہے۔ مگر ہے بہت دلفریب جس پر بعض جاہل اور وحشی قومیں اب تک لٹو ہو رہی ہیں۔

سنو سنو! انسانوں کا گروہ اوّل میں بندر اور لنگور تھا۔ جنگلوں اور پہاڑوں سے نکلا۔ جابجا جھونپڑیاں بنالیں۔ رہنے سہنے کام کاج کرنے وغیرہ سے ان کی دمیں جھڑ گئیں۔ بال گر گئے۔

٢٢١

صفحہ ٢٥٧

اچھے خاصے انسان نکل آئے۔ رفتہ رفتہ مکانات اور عمارات وغیرہ بنانے میں ترقی کی اور یوں شہر آباد ہو گئے۔ اب آبادی روز بروز بڑھتی جاتی ہے۔ چند روز میں جب انسان نسل کامل طور پر دنیا میں پھیل گئی تو پہاڑ اور جنگل سب کے سب انسانوں سے منہا منہ یوں پٹ جائیں گے جیسے شہد کے چھتے مکھیوں سے اور ڈربے کبوتروں سے اور ٹاپے مرغیوں سے اور جس قدر حیوانات، چرند اور پرند وغیرہ ہیں سب انسانوں کے شکار ہو جائیں گے۔ کیونکہ نسل انسانی چار طرف پھیل جانے سے اناج اور ترکاری اور میوؤں وغیرہ کا سلفہ کر جائے گی۔ پیداوار اراضی اس کے لئے کافی نہ ہوگی۔ پس انسان جن پہاڑوں اور جنگلوں سے نکلے تھے پھر وہیں چلے جائیں گے۔ لیکن وحشت اور جہالت کے ساتھ نہیں بلکہ عقل اور انسانیت اور ادراک و تمیز کے ساتھ۔ دیکھ لو کالونیوں کے آباد ہونے کا ابھی سے لگا لگ گیا ہے۔ پس یہ اسی بات کا پیش خیمہ ہے کہ دنیا میں چپہ بھر زمین بھی باقی نہ رہے گی۔ جس میں انسان آباد نہ ہو۔ بندروں اور لنگوروں کو یہ بھاگ لگیں گے۔

سنو سنو! دنیا میں ہزاروں اور لاکھوں رفارمر آئے اور سب نے یہی چاہا کہ انسانوں کو متحد اور متفق کر کے یوں لے بیٹھیں۔ جیسے مرغی اپنے پروں میں انڈوں بچوں کو۔ لیکن شامت جو دھکا دیتی ہے تو انسان ان کے پروں سے نکل کر نفاق کی بلی کا کھاجا بن گئے۔ کسی رفارمر نے یہ نہیں کہا کہ مجھی میں سرخاب کا پر ہے اور دوسرے رفارمر بالکل لنڈورے ہیں۔ میرے بھائی محمد صاحب ہی کو دیکھ لو جنہوں نے تمام گزشتہ میرے چچا کے بیٹے رفارمروں کو یکساں مانا اور ان کی تصدیق کی اور آئندہ کے لئے حکم دیا کہ میرے بعد مہدی آئے گا۔ اس کو سچے دل سے ماننا اس کی اطاعت کرنا اور اس کے جھنڈے کے نیچے جمع ہو جانا۔ جس طرح تماشی اور محمد احمد کے جھنڈے کے نیچے سوڈانی اور جیسے کروگر کے جھنڈے تلے بوئر جمع ہو گئے اور اب مہدی اور امام الزمان آسمان سے سیڑھی لگا کر قادیان کے منارے پر اترا تو سب کے سب فرنٹ ہو گئے اور ان تلوں میں تیل ہی نہ رہا۔ یہ دنیا کے لوگوں کی بدبختی نہیں تو کیا ہے۔ دیکھو تمہارے قرآن میں موجود ہے۔ "منهم من قصصنا علیک ومنهم لم نقصص " یعنی بہت سے انبیاء کا ہم نے ذکر کر دیا اور بہتوں کا ذکر نہیں کیا۔ اس آیت میں گزشتہ یا آئندہ نبیوں کی کچھ تصریح اور تخصیص نہیں۔ یعنی جس طرح گزشتہ زمانے میں نبی پیدا ہوئے ہیں آئندہ بھی پیدا ہوتے رہیں گے۔ تم نے خدا کو عاجز اور اس کی قدرت کو محدود سمجھ لیا۔ بھلا یہ کیونکر ممکن ہے کہ ایک نبی تمام آنے والے نبیوں کا خاتمہ کر دے اور بالفرض کوئی نبی خاتم ہو بھی تو وہ انبیاء کا خاتم ہو گا نہ کہ رسولوں کا۔ رسول کا مرتبہ نبی سے بڑھ کر ہے۔ پس میں رسول ہوں، نبی نہیں اور قرآن میں بھی محمد صاحب کی نسبت خاتم النبیین وارد ہوا

٢٢٢

ہے نہ کہ خاتم الرسل۔ جب تم نبی اور رسول میں بھی فر خاک سمجھو گے۔

سنو سنو! جس طرح نیچر کا اقتضاء ہر قسم کی لئے رفارمروں کا پیدا ہونا تم کو معلوم نہیں۔ یورپ م ہر فن اور علم اور ہر شعبہ کا ایک رفارمر ہے اور نہ صرف ہے کہ موجد کا مرتبہ رفارمر سے بہت بڑھا ہوا ہے کرنے والا اور موجد اور مخترع ایک نئی شے کا پیدا کر جاتے ہو اور پرانے رفارمروں کو پیٹے جاتے ہو۔ ج الاعتقادیوں نے تمہارے کانسٹیٹیوشن اور اس کے فیل معنی کسی مذہب کے بھی نہیں رہے۔ تم کو مسلمان کہ صدی میں مہدی اور امام آخرالزمان کے قالب می اور تمہیں انسان بناؤں۔ (باقی آئندہ)

٤٠...... سیف چشتیائی ...... یعنی ...... ح

البازغه والاصلاح الفص

جناب فیض مآب حضرت پیر مہر علی شا اور حالات اور خلوص اور تقوے سے نہ صرف ہم ممالک ہندوستان اچھی طرح واقف ہیں۔ آپ قدسی اساس سے مرجع خلائق اور باعث ہدایت شہرت اور حب جاہ ومنصب دنیوی سے بکلی نفرت تمام علوم عقلیہ ونقلیہ کے جامع ہیں۔ مرزا قادیانی علماء ومشائخ کتاب شمس الہدایہ تصنیف فرما کر شا اور قادیانی مرزا نے خواہ مخواہ اپنی شہرت اور نمود ۔ اشتہار دیا۔ چونکہ یہ دین کا معاملہ تھا۔ پس اعلا علماء کرام ومشائخ عظام ضروری سمجھا اور معہ ایک و شرائط مرزا قادیانی لاہور تشریف لائے جہاں کی س

صفحہ ٢٥٧

ہے نہ کہ خاتم الرسل۔ جب تم نبی اور رسول میں بھی فرق نہیں کر سکتے تو میرے دوسرے نکتے کیا خاک سمجھو گے۔

سنو سنو! جس طرح نیچر کا اقتضاء ہر قسم کی ترقی ہے اسی طرح اس کا اقتضاء ہمیشہ کے لئے رفارمروں کا پیدا ہونا تم کو معلوم نہیں۔ یورپ میں کس قدر رفارمر پیدا ہو رہے ہیں۔ یعنی ہر فن اور علم اور ہر شعبہ کا ایک رفارمر ہے اور نہ صرف رفارمر بلکہ موجد پیدا ہو رہے ہیں اور ظاہر ہے کہ موجد کا مرتبہ رفارمر سے بہت بڑھا ہوا ہے۔ کیونکہ رفارمر ایک موجودہ شے کی اصلاح کرنے والا اور موجد اور مخترع ایک نئی شے کا پیدا کرنے والا ہے۔ تم اپنی وہی پرانی ڈفلی بجائے جاتے ہو اور پرانے رفارمروں کو پیٹے جاتے ہو۔ تمہاری ہمتیں بالکل پست ہو گئی ہیں۔ ضعیف الاعتقادیوں نے تمہارے کانشنس اور اس کے فیلنگ کو بالکل چاٹ لیا ہے۔ تم تو مسلمان کیا معنی کسی مذہب کے بھی نہیں رہے۔ تم کو مسلمان کہنا اسلام کی توہین کرنا ہے۔ پس میں انیسویں صدی میں مہدی اور امام آخر الزمان کے قالب میں ڈھل کر آیا ہوں کہ تمہاری اصلاح کروں اور تمہیں انسان بناؤں۔ (باقی آئندہ)

البازغہ والایضاح الفصیح لاعجاز المسیح

جناب فیض مآب حضرت پیر مہر علی شاہ صاحب موطن گولڑہ ضلع راولپنڈی کے کمالات اور حالات اور خلوص اور تقوے سے نہ صرف ہمارے ناظرین بلکہ تمام پنجاب اور بیشتر حصص ممالک ہندوستان اچھی طرح واقف ہیں۔ آپ ایک گوشہ نشین متوکل باللہ با ہمہ اپنے انفاس قدسی اساس سے مرجع خلائق اور باعث ہدایت مریدین ومسترشدین وزائرین ہیں۔ آپ کو شہرت اور حب جاہ ومنصب دنیوی سے بکلی نفرت ہے۔ آپ جس طرح شیخ وقت ہیں اسی طرح تمام علوم عقلیہ ونقلیہ کے جامع ہیں۔ مرزا قادیانی کے عقائد کا زہریلا اثر دور کرنے کو حسب اصرار علماء ومشائخ کتاب شمس الہدایہ تصنیف فرما کر شائع کی۔ پھر کیا تھا مرزائیوں پر قیامت نازل ہو گئی اور قادیانی مرزا نے خواہ مخواہ اپنی شہرت اور نمود کے لئے حضرت مشار الیہ کو مخاطب گردانا۔ مباحثہ کا اشتہار دیا۔ چونکہ یہ دین کا معاملہ تھا۔ پس اعلاء کلمۃ اللہ کو حضرت پیر صاحب نے حسب استدعا علماء کرام ومشائخ عظام ضروری سمجھا اور معہ ایک کثیر مجمع علماء اور مشائخ کے حسب تحریک وطلب وشرائط مرزا قادیانی لاہور تشریف لائے جہاں کئی ہزار مسلمانوں نے آپ کا استقبال کیا اور لاہور

٢٢٣

صفحہ ٢٥٩

میں چند روز مقیم رہے۔ مرزا قادیانی کے نام رجسٹریاں بھیجیں کہ مرد میدان بن کر خدا کے شیروں کے مقابلہ پر آئیے۔ مگر مرزا قادیانی اور اس کے اہالی موالی جن کو اپنی حقیقت معلوم تھی لومڑیوں اور حیض والے خرگوشوں کی طرح قادیان کی کھوہوں میں دم دبا کر چھپ گئے۔ جو حیض تھا وہ نفاس اور استحاضہ بن گیا۔ پاک ہوتے تو پاکوں کے مقابلے پر آتے۔

جب روسیاہی کا گھڑوں پانی پڑ گیا اور منوں تیل جل گیا اور دنیا پر مرزائیوں کا عجز ثابت ہو گیا تو جھوٹھل اور جل مٹانے کو مدت مدید کے بعد حضرت پیر صاحب کی کتاب شمس الہدایہ کے برائے نام جواب میں مرزا قادیانی کے ایک راتب خوار گرگے نے کتاب شمس بازغہ شائع کی اور پھر مرزا قادیانی نے تفسیر سورۂ فاتحہ چھپوائی جس کی چتھاڑ متعدد مرتبہ ضمیمہ شحنہ ہند میں ناظرین کی نظر سے گزر چکی ہے۔ مندرجہ عنوان کتاب مستطاب مرزا قادیانی کی شمس بازغہ اور تفسیر سورۂ فاتحہ کا جواب و اصلاح ہے جو حجیم اور ضخیم یعنی ٤٤٦ صفحات پر ہے۔ باایں ہمہ پیر صاحب نے محض خلوص اور افادۂ خلق اللہ کے لئے اس کو وقف فی سبیل اللہ کر کے مفت تقسیم فرمایا ہے۔ اس کتاب کی لاگت اور اشاعت میں ہزار بارہ سو روپیہ سے کم کسی طرح صرف نہیں ہوا۔ مرزا قادیانی تو ایک جز کی کتاب بھی چھپواتے ہیں تو چندے کا اشتہار دیتے ہیں اور پھر ایک پیسے کی لاگت کے دس پیسے وصول کر لیتے ہیں اور اپنے جاہل فدائیوں کے سوا دوسرے کو نہیں دکھاتے ۔ کیونکہ قلعی کھلتی ہے۔ پیر صاحب نے نہ چندے کا اشتہار دیا نہ کسی کو روپیہ کے لئے مجبور کیا اور متوکلاً علی اللہ یہ کام انجام کو پہنچا۔ اس میں شک نہیں کہ عجیب و غریب کتاب ہے۔ مرزائی عقائد اور دعاوی ہی کا استیصال نہیں کیا۔ بلکہ مرزا قادیانی کی تفسیر سورۂ فاتحہ (جس کا نام انہوں نے اعجاز المسیح رکھا ہے) ایسی اصلاحیں کی ہیں کہ سبحان اللہ سبحان اللہ!

اب ہم منتظر ہیں کہ قادیانی گنبد سے سیف چشتیائی کے جواب میں کیا صدا نکلتی ہے۔ مرزا قادیانی کس کس کتاب کا جواب دیں گے۔ جب کہ ایک ایک شیطان کی درگت کو بیس بیس قدسی فرشتے تیار ہیں۔ کتاب عصائے موسیٰ کا جواب دینے والے تو زندہ درگور ہو گئے۔ ہاں مرزا قادیانی نے اس حیلے سے چندہ خوب بٹورا اور جس طرح امہات المومنین کے جواب کے لئے تتھم تھمبو کر کے لوگوں سے ٹکے اینٹھے اسی طرح عصائے موسیٰ کے جواب میں اپنے فدائیوں کو جل دے کر ان کی گانٹھ کاٹی۔ اب سیف چشتیائی کے جواب کے لئے مداری کا کاسہ گدائی مرزائیوں کے گھر گھر پھرے گا اور جواب تو جیسا کچھ نور بھرا ہو گا ہم کو پہلے ہی معلوم ہے۔ جب ضمیمے کے ایک مختصر سے آرٹیکل کا جواب بھی نہیں دیا جاتا تو ایسی بسیط اور قاطع کتابوں کا جواب کیا

٢٢٤

بن پڑے گا۔ ہاں قادیانی زنبیل حمقاء کی گاڑھی مرزا قادیانی ایسے بدرقے تو خدا سے چاہتے ہیں۔ ا اسی میں زعفرانی حلوے اور قوت باہ کی یاقوتیاں ہیں پاٹھا بنا ہوا سنڈیا رہا ہے اور سانپ کی طرح پھنپھنا رہا ہ

ہم خیال کرتے ہیں کہ ہمارے علماء مرزا قادیانی کو تشہیر کے بانس پر چڑھا دیا ہے اور و چتھاڑ ہورہی ہے۔ جعلی نبوت ورسالت کا کیسا کچھ غ مٹی خراب ہورہی ہے۔ مگر وہ خوش ہیں اور ایک ایک حیا کون کتا ہے کہ مرزا قادیانی اور مرزائیوں کے پا

ایک مسخر الہدیٰ کسی محفل سے جوتیا کر د سر سے لپیٹ کر اور مونچھوں کو تاؤ دے کر کہتے ہیں ایں جناب تو بڑے بڑے محلوں سے نکلوائے گئے ہے۔ پیر صاحب نے زبان عرب میں اس کتا مرزا قادیانی اور تمام مرزائی سر سے سر اور سر سے لکھیں گے تو کتب عربیہ کا سرقہ ہوگا۔ جیسے کلام م گھڑا ہے۔

پیر صاحب ایک چشمہ فیض ہیں۔ تلا دعا کرتے ہیں کہ خدائے تعالیٰ آپ کے دل و دم عظیم عطاء فرمائے۔ (باقی آئندہ)

مرزائیوں کی سینکڑوں درخواستیں دفت کر دو۔ کوئی مولوی ہوتا ہے کوئی حکیم ۔ کوئی مختا سے ہم کو فوراً ہی معلوم ہو جاتا ہے کہ یہ بدمعاش عیسیٰ مسیح کی وفات کی نسبت وہی پرانے بیہودہ ہو چکے ہیں اور بعض بدمعاش اس لئے ضمیمہ دیا درگت ہوتی ہے۔ پچھلے دنوں ایک بدمعاش س

صفحہ ٢٥٩

بن پڑے گا۔ ہاں قادیانی زنبیل حمقاء کی گاڑھی کمائی سے ضرور بھر پور ہو جائے گا۔ پس مرزا قادیانی ایسے بدرقے تو خدا سے چاہتے ہیں۔ اسی میں ان کی گرم بازاری اس میں روٹیاں اور اسی میں زعفرانی حلوے اور قوت باہ کی یاقوتیاں ہیں جن سے قادیان میں ایک ایک مرزائی سانٹھا پاٹھا بنا ہوا سنڈیا رہا ہے اور سانپ کی طرح پھنپھنا رہا ہے۔

ہم خیال کرتے ہیں کہ ہمارے علماء اور مشائخ اور خود ہمیں نے جوابات لکھ کر مرزا قادیانی کو تشہیر کے بانس پر چڑھا دیا ہے اور وہ اسی میں خوش ہے۔ چار طرف سے کیسی کیسی چتاڑ ہو رہی ہے۔ جعلی نبوت ورسالت کا کیسا کچھ خاکہ اڑ رہا ہے۔ مرزا قادیانی کے کریکٹر کی کیسی مٹی خراب ہو رہی ہے۔ مگر وہ خوش ہیں اور ایک ایک مرزائی کی باچھیں کانوں تک کھلی ہوئی ہیں۔ حیا کون کتیا ہے کہ مرزا قادیانی اور مرزائیوں کے پاس دم ہلاتی آوے۔

ایک مسخر الذی کسی محفل سے جوتیا کر دھکے دے کر نکال دیئے گئے۔ جھٹ پٹ پگڑی سر سے لپیٹ کر اور مونچھوں کو تاؤ دے کر کہتے ہیں۔ واہ بے ایسے تیسو تمہاری یہ محفل تو کیا چیز ہے ایں جناب تو بڑے بڑے محلوں سے نکلوائے گئے ہیں۔ یہی کیفیت مرزا قادیانی اور مرزائیوں کی ہے۔ پیر صاحب نے زبان عرب میں اس کتاب کا جو فصیح وبلیغ دیباچہ چار صفحوں پر لکھا ہے مرزا قادیانی اور تمام مرزائی سرے سے سرا اور سرے سے سرا ملا کر دیبا و بیاچہ لکھ کر دکھائیں تو سہی اگر کچھ لکھیں گے تو کتب عربیہ کا سرقہ ہوگا۔ جیسے کلام مجید کی آیتوں کا سرقہ کر کے تیل باتر بوز اپنا الہام گھڑا ہے۔

پیر صاحب ایک چشمہ فیض ہیں۔ تمام سچے مسلمانوں کو آپ کا ممنون ہونا چاہئے۔ ہم دعا کرتے ہیں کہ خدائے تعالیٰ آپ کے دل و دماغ میں زیادہ برکت دے اور اس دینی نصرۃ کا اجر عظیم عطاء فرمائے۔ (باقی آئندہ)

٥...... بعض بدمعاش مرزائی

مرزائیوں کی سینکڑوں درخواستیں دھوکا دے دے کر ہمارے نام آتی ہیں کہ ضمیمے جاری کرو۔ کوئی مولوی ہوتا ہے کوئی حکیم ۔ کوئی مختار، کوئی ڈاکٹر، کوئی کلرک، کوئی سردفتر مگر مجددانہ الہام سے ہم کو فوراً ہی معلوم ہو جاتا ہے کہ یہ بدمعاش ہیں۔ دھوکے باز ہیں، کوئی مرزائی لوٹ پھیر کر عیسیٰ مسیح کی وفات کی نسبت وہی پرانے بیہودہ سوالات کرتا ہے جن کے جوابات چند مرتبہ ضمیمہ میں ہو چکے ہیں اور بعض بدمعاش اس لئے ضمیمہ دیکھنا چاہتے ہیں کہ اس میں ان کے پیرومرشد کی کیسی درگت ہوتی ہے۔ پچھلے دنوں ایک بدمعاش نے ٨ نام لکھ کر بھیجے کہ ان کے نام ضمیمہ جاری کر دو اور

٢٢٥

صفحہ ٢٦١

سب کی قیمت فلاں ہیڈ کلرک سے بذریعہ وی. پی وصول کر لو۔ مگر جب ہم نے ہیڈ کلرک کے نام خط بھیجا تو صدائے برنخاست اور نہ پھر اس مردود نے جواب دیا۔ تفو تمہارے خران دجال کی دموں میں سوڈانی مہدی کا دعوےٰ۔ یاد رکھو ہم ضمیمہ کسی سے نہیں چھپاتے۔ جس طرح تمہارا پیر و مرشد اپنی خانگی و دو ورقی (الحکم) کو چھپاتا ہے۔ ہم تو جو کچھ کرتے ہیں ڈنکے کی چوٹ کرتے ہیں۔ ایڈیٹر!

بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

تعارف مضامین ...... ضمیمہ شحنہ ہند میرٹھ

٨؍اگست ١٩٠٢ء کے شمارہ نمبر ٣٠ کے مضامین

اسی ترتیب سے پیش خدمت ہیں۔

١....... مختصر نوٹ

الحکم مطبوعہ ٢٤؍جولائی گزشتہ میں حضرت پیر مہر علی شاہ صاحبؒ کی کتاب سیف چشتیائی پر ایک نہایت دلشکن نوٹ شائع ہوا ہے۔ حضرت پیر صاحب یا ضمیمے کے نامہ نگار گورنمنٹ کو ایسے مشتبہ کرنے والے نوٹ کا ضرور جواب دیں۔ ہم بھی کچھ لکھیں گے وہ نوٹ یوں ہے۔ ”پیر گولڑوی نے سیف چشتیائی جو کتاب تیار کی ہے اس کے ٹائٹل پیج پر دو تلواروں کی تصویر بھی دی ہے۔ ہم کو یاد پڑتا ہے کہ لارڈلانس کے سٹیچو پر جو تلوار اور قلم کا کتبہ ہے اس پر اعتراض کیا گیا تھا اور اہل ہند یا کم از کم اہل پنجاب کی خواہش ظاہر کی گئی تھی کہ اس کتبہ کو بدل دیا جائے۔ سیف چشتیائی کے مصنف کی غرض ان تلواروں کے بنانے سے اگر حضرت حجۃ اللہ مسیح موعود (مرزا قادیانی) کے خلاف قتل کا مخفی اشارہ نہیں یا جہاد کی ترغیب نہیں تو اس فضول تحریک سے کیا فائدہ تھا۔ یہ امر بہر حال گورنمنٹ کے نوٹس لینے کے قابل ہے اور ہم اس پر کسی قدر صراحت سے لکھنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ ایک گوشہ نشین نقاب پوش درویش کی تحریر پر ان تلواروں کا نشان حیرت انگیز امر ہے اور کسی خاص راز کی طرف ایما کرتا ہے۔ ورنہ پیر گولڑوی کے مذاق اور مشرب کے لحاظ سے تو طنبور اور چنگ کی

٢٢٦

تصویریں موزوں تھیں۔“ اسی نمبر کے الحکم میں مرزا قادیانی کے ملفوظات حج کی تعریف ہے۔ لیکن جدید نبی اور اس کی امت کو حج ک درجہ کا دارالامان ہے اور جس کی حرمت حرمین سے زیادہ ہ مرزائی لوگ جو روپیہ حج میں صرف کریں وہ مرزا قادیانی تیرتھ ہے اور قادیان جانا معراج۔ الحکم میں علت ابنہ اور لواطت کا علاج بتایا ضرورت تھی۔ قادیان میں بجائے طاعون اب یہ مرض پ کی نسبت بھی مرزا قادیانی کے ملفوظات سے الحکم میں خوف ہی خوف ہے۔ فلاں اتنے دنوں میں کتے کی مو مچھر کی طرح بھن بھن کرتا ہوا ہلاک ہوگا اور فلاں اتنے مرزائیوں کا خدا محبت کا خواہاں نہیں وہ تو جلال کا پتلا دھونس ہی سے قابو میں آتے ہیں۔ آگے چل کر تمسخر آمیز ”حج میں محبت کے سارے ارکان پائے کپڑے کی بھی حاجت نہیں رہتی۔ عشق بھی ایک جنون نہیں رہتا۔ غرض یہ نمونہ جو انتہاء محبت کے لباس میں ہو ہے۔ دوڑتے ہیں محبت کا بوسہ رہ گیا وہ بھی ہے۔ جو خد چلا آیا ہے۔ (یہ سنگ اسود کو بوسہ دینے کی تضحیک ہے وغیرہ۔

٢....... بقیہ مرزا قادیانی ک

سنو سنو! وحشیوں پر اپنے لٹکوں کا کامل اثر پڑتے ہیں۔ مدت مدید تک اس کا افسوس بیکار جاتا ہ آپ جانتے ہیں کہ استقلال بڑی چیز ہے۔ بالآخر شیط ہے۔....... بالآخر وحشیوں کو ٹھونک رکھا اور سب کی سرکشی ضرور تھا کہ وہ نبوت کا دعویٰ کرتے اور اپنے کو منجانب پڑھواتے۔ کیونکہ ان کو اچھی طرح معلوم ہو گیا تھا کہ

٣٢٧

صفحہ ٢٦١

تصویریں موزوں تھیں۔“

اسی نمبر کے الحکم میں مرزا قادیانی کے ملفوظات میں سے کچھ حصہ اخذ کیا ہے۔ جسمیں حج کی تعریف ہے۔ لیکن جدید نبی اور اس کی امت کو حج کی کیا ضرورت جب کہ قادیان ایک اعلیٰ درجہ کا دارالامان ہے اور جس کی حرمت حرمین سے زیادہ ہے۔ غالباً حج سے مراد قادیان کا حج ہے۔ مرزائی لوگ جو روپیہ حج میں صرف کریں وہ مرزا قادیانی کے فنڈ میں کیوں نہ دیں۔ حج کرنا ایک تیرتھ ہے اور قادیان جانا معراج۔

الحکم میں علت ابنہ اور لواطت کا علاج بتایا گیا ہے۔ بے شک اس اصلاح کی اشد ضرورت تھی۔ قادیان میں بجائے طاعون اب یہ مرض پھیلا ہوا ہے؟ خدا تعالیٰ کے خوف اور محبت کی نسبت بھی مرزا قادیانی کے ملفوظات سے الحکم میں کچھ حصہ لیا گیا ہے۔ محبت کیسی۔ یہاں تو خوف ہی خوف ہے۔ فلاں اتنے دنوں میں کتے کی موت مارا جائے گا اور فلاں اتنے عرصہ میں مچھر کی طرح بھن بھن کرتا ہوا ہلاک ہوگا اور فلاں اتنے دنوں میں تلوار کے گھاٹ اتارا جائے گا۔ مرزائیوں کا خدا محبت کا خواہاں نہیں وہ تو جلال کا پتلا ہے۔ بات یہ ہے کہ وحشی لوگ خوف اور دھونس ہی سے قابو میں آتے ہیں۔ آگے چل کر تمسخر آمیز اور موہن عبارت حسب ذیل ہے۔

”حج میں محبت کے سارے ارکان پائے جاتے ہیں۔ بعض وقت شدت محبت میں کپڑے کی بھی حاجت نہیں رہتی۔ عشق بھی ایک جنون ہوتا ہے۔ کپڑوں کو سنوار کر رکھنا عشق میں نہیں رہتا۔ غرض یہ نمونہ جو انتہاء محبت کے لباس میں ہوتا ہے وہ حج میں موجود ہے۔ سرمنڈایا جاتا ہے۔ دوڑتے ہیں محبت کا بوسہ رہ گیا وہ بھی ہے۔ جو خدا کی ساری شریعتوں میں تصویری زبان میں چلا آیا ہے۔ (یہ سنگ اسود کو بوسہ دینے کی تضحیک ہے) پھر قربانی میں بھی کمال عشق دکھایا ہے۔ وغیرہ۔

(ملفوظات ج٣ص٢٩٩)

٢...... بقیہ مرزا قادیانی کے خیالات کا لیکچر

سنوسنو! وحشیوں پر اپنے لٹکوں کا کامل اثر جمانے کے لئے مکار پیر کو بہت کچھ پاپڑ بیلنے پڑتے ہیں۔ مدت مدید تک اس کا افسون بیکار جاتا ہے۔ جیسے چکنے گھڑے پر پانی کی بوندیں۔ مگر آپ جانتے ہیں کہ استقلال بڑی چیز ہے۔ بالآخر نشیب میں پانی بھر جاتا ہے اور کام یقینی ہو جاتا ہے۔...... بالآخر وحشیوں کو ٹھونک رکھا اور سب کی سرکشی کے تکلے کے بل نکال ڈالے۔ اس کے بعد ضرور تھا کہ وہ نبوت کا دعویٰ کرتے اور اپنے کو منجانب اللہ اور صاحب وحی بتاتے اور اپنے نام کا کلمہ پڑھواتے۔ کیونکہ ان کو اچھی طرح معلوم ہو گیا تھا کہ اب کوئی چون و چرا کرنے والا باقی نہیں رہا۔

٢٢٧

PDF 263

میری بعثت کو بھی ڈھائی قرن یعنی ٣٠ سال گزر گئے ہیں۔ کیا تم یہ سمجھتے ہو کہ میں دفعۃً نبی اور رسول ہو گیا ہوں۔ میں نے بھی اس عرصہ میں طرح طرح رنگ بدلے ہیں۔ پہلے تمام مسلمانوں کو خوش کرنے کے لئے کتاب براہین احمدیہ لکھی اور مسالے دار اشتہارات دیئے کہ اگر کوئی اس کا جواب لکھ دے تو میں اپنی ذاتی بارہ ہزار روپیہ کی جائیداد انعام میں دینے کو تیار ہوں۔ وحشیوں پر اس سے سکہ جمنے لگا اور بڑے بڑے لوگ جان و مال سے میری آؤ بھگت کرنے لگے۔ پھر میں نے الہام کا چھینٹا دیا اور اپنے کو صاحب کشف و کرامات بتایا۔ پیشین گوئیاں کیں۔ مگر صرف لوگوں کی موت کی۔ اس سے ہول دلوں اور کمزور کانسنس والے ضعیف الاعتقادوں میں تہلکہ مچ گیا۔ بید کی طرح تھرانے لگے۔ آپ کو معلوم ہے کہ وحشی لوگ لالچ کو اس قدر نہیں مانتے جس قدر خوف کو مانتے ہیں۔ اس عرصہ میں جو شخص قادیان آیا تھرّاتا ہی گیا۔ یہی وجہ ہے کہ میں نے خوش کرنے والی پیشین گوئی ایک بھی نہیں کی۔ کیونکہ ایسی پیشین گوئیاں تو اکثر فقیر اور پیرزادے اور بھکمُنگے بھی اپنے پیٹ کی خاطر کرتے ہیں۔ یعنی دعا دیتے ہیں کہ خدا تجھے بیٹا دے گا۔ تیرا مرتبہ بالا کرے گا۔ اگر تو اب ہاتھی پر چڑھا ہے تو چند روز میں نیک نامی کے بانس پر چڑھے گا۔ اگر تو اب صاحب ماہی مراتب ہے تو چند روز میں تیرا نقارہ زمین کی پشت پر بجے گا۔ اگر اب تیرے جھنڈے کا پھریرا فضائے آسمان میں لہراتا ہے تو چند روز میں فلک کی چوٹی سے باتیں کرے گا اور تو اب لاولد ہے تو کچھ خوف نہ کر چند روز میں تیری اولاد کینچوؤں اور کنسلوائیوں کی طرح روئے زمین پر بلبلائے گی۔ چونکہ اس قسم کی باتیں دعائیں یا کراماتیں یا پیشین گوئیاں معمولی ہوگئی ہیں اور سادھو بچوں کے ایسے پاکھنڈوں کو وحشی لوگ سمجھ گئے ہیں اور ایسے سوانگ دیکھتے دیکھتے ان کی چار آنکھیں ہوگئی ہیں۔ لہٰذا میں نے ان بھبکیوں اور چاپلوسی کی باتوں سے کنارہ کیا اور وحشیوں پر دھونس ڈالنے کی پالیسی اختیار کی اور یہ تیر نشانے پر کھٹ سے جا بیٹھا۔ پھر کیا تم خیال کرتے ہو کہ میں وہ کرشمہ نہیں رکھتا۔ جو گزشتہ رفارمر رکھتے تھے۔ ضرور رکھتا ہوں۔ کیا تم سمجھتے ہو کہ میری پیشین گوئیاں ہوا میں اڑ گئی ہیں۔ ہرگز نہیں۔ ان میں سے ایک بھی پٹ نہیں پڑی اور سب باون تولے اور پاؤ رتی نکلیں۔ یہ میرا ہی مقولہ نہیں بلکہ ان لوگوں سے پوچھو جو مجھ پر ایمان لائے ہیں اور میرا کلمہ پڑھتے ہیں کہ: ”اشهد ان لا اله الا الله مرزا رسول الله“ اب رہے مخالفین وہ تمام انبیاء کے زمانے میں موجود رہے ہیں اور کسی نبی کے خوارق عادات و معجزات کو تمام انسانوں نے کبھی یکساں تسلیم نہیں کیا۔ مگر نبی ہمیشہ نبی ہی رہے ہیں۔ کیونکہ جب ایک جم غفیر کسی شخص کو نبی اور منجانب اللہ تسلیم کر لیتا ہے تو صفحۂ ہستی سے اس کے نام کا مٹ جانا محال ہو جاتا ہے۔ دیکھو یسوع مسیح کیا چیز تھا۔ میں تم کو

٢٢٨

اس کے کریکٹر کا خاکہ بارہا دکھا چکا ہوں مگر تما ایشیاء اور افریقہ کو اپنے مقابلے میں وحشی سمجھت خدا سمجھتا ہے۔ کیا میں یسوع مسیح جیسے شخص اس کے خوارق کو میں بار بار کیا دہراؤں۔ تم حقیقت اچھی طرح معلوم ہو۔ جب خدا کے اسی پر قیاس کرلو۔ مشتے نمونہ از خروار۔ سنو سنو! تمام انبیاء انسان تھے ا ضرور لگی تھی۔ مخالفوں سے پوچھ دیکھو۔ یہ زمانے میں ایسی رفارمر کی سخت ضرورت تھ و کمالات نبوت و رسالت ہو اور سب کا مصلح تمہاری آنکھوں میں نیل کی سلائی نہیں پھری آ کر میری رفارم کا جلوہ دیکھو تا کہ تم کو معلو ٹھیکے لے کر آیا ہوں۔ کیا تم یہ سمجھ رہے ہو رجماً بالغیب نبی اور رسول تسلیم کر لیا ہے۔ لوح اور جاہل ہیں۔ ان میں بڑے بڑے تجربہ کار لوگ ہیں۔ انہوں نے میرے عیا لیا ہے اور میرے خالص سکے کو بخوبی ٹھونک بگوشوں میں شامل ہوئے ہیں۔ انسان ایک بجا لیتا ہے اور یہ تو ایمان اور نجات ابدی کا نکل گئے ہیں۔ اوّل تو ان پر اچھی طرح پہ اس پر مکڑی کا پورا جالا نہیں پڑ جاتا اثر ج بدستور موجود تھی نہ انہوں نے اچھی طرح ہوئی تھی اور آپ جانتے ہیں کہ انسان ہی وہ شقی اور مرتد ہو گئے۔ خس کم جہاں پاک دیکھو شیطان جو معلم الملکوت بہشت سے نکلتے ہی اولاد آدم کے ساتھ

صفحہ ٢٦٣

اس کے کریکٹر کا خاکہ بارہا دکھا چکا ہوں مگر تمام یورپ جو اپنے کو تہذیب کا چشم و چراغ بتاتا اور تمام ایشیاء اور افریقہ کو اپنے مقابلے میں وحشی سمجھتا ہے۔ یسوع کی پرستش کرتا ہے اور اس کو نبی نہیں بلکہ خدا سمجھتا ہے۔ کیا میں یسوع مسیح جیسے شخص سے بھی گیا گزرا جو مسمریزم کے لٹکوں میں بھی ادھورا تھا اس کے خوارق کو میں بار بار کیا دہراؤں۔ تم میری الہامی کتابوں کو غور سے دیکھو تو یسوع مسیح کی حقیقت اچھی طرح معلوم ہو۔ جب خدا کے بیٹے اور خود خدا کی یہ درگت ہے تو دوسرے انبیاء کو بھی اسی پر قیاس کرلو۔ مشتے نمونہ از خروار۔

سنو سنو! تمام انبیاء انسان تھے اور سب کے پیچھے انسان کی کمزوری کی کوئی نہ کوئی لم ضرور لگی تھی۔ مخالفوں سے پوچھ دیکھو۔ یہودیوں سے یسوع مسیح کی کیفیت پوچھو پس موجودہ زمانے میں ایسے رفارمر کی سخت ضرورت تھی جو سب رفارمروں سے بڑھ کر ہو۔ جامع صفات و کمالات نبوت ورسالت ہو اور سب کا مصلح ہو۔ لہذا حسب اقتضاء نیچر میرا نزول لابد ہوا۔ اگر تمہاری آنکھوں میں نیل کی سلائی نہیں پھری اور تعصب نے تم کو چوپٹ اندھا نہیں بنایا تو قادیان آکر میری رفارم کا جلوہ دیکھو تاکہ تم کو معلوم ہو کہ درحقیقت میں ازل سے ابد تک کی اصلاح کا ٹھیکہ لے کر آیا ہوں۔ کیا تم یہ سمجھ رہے ہو کہ اب تک تقریباً ایک لاکھ آدمیوں نے مجھے ویسے ہی رجماً بالغیب نبی اور رسول تسلیم کرلیا ہے۔ کیا اتنا جم غفیر باطل پر قائم ہوسکتا ہے۔ کیا یہ سب سادہ لوح اور جاہل ہیں۔ ان میں بڑے بڑے علماء اور فضلاء اور حکماء اور بڑے بڑے جہاندیدہ اور تجربہ کار لوگ ہیں۔ انہوں نے میرے عیار کمال کو اپنے کانشنس اور عقل کی کسوٹی پر اچھی طرح کس لیا ہے اور میرے خالص سکے کو بخوبی ٹھونک بجا لیا ہے۔ تب مجھ پر ایمان لائے ہیں اور میرے حلقہ بگوشوں میں شامل ہوئے ہیں۔ انسان ایک پیسے کی ہانڈی بھی خریدتا ہے تو اس کو اچھی طرح ٹھونک بجالیتا ہے اور یہ تو ایمان اور نجات ابدی کا معاملہ ہے۔ اب رہے وہ لوگ جو میرے دام میں آکر نکل گئے ہیں۔ اوّل تو ان پر اچھی طرح پھندا نہ پڑا تھا۔ آپ جانتے ہیں کہ ایک مکھی بھی جب تک اس پر مکڑی کا پورا جالا نہیں پڑ جاتا اڑ جاتی ہے۔ دوم ان میں ارتداد اور سرکشی کی خبیث روح بدستور موجود تھی نہ انہوں نے اچھی طرح میرا پسینہ سونگھا تھا نہ کامل طور پر میری عزیمت ان پر کارگر ہوئی تھی اور آپ جانتے ہیں کہ انسان ہی سعید اور شقی اور انسان ہی مومن و مرتد ہوتے ہیں۔ پس وہ شقی اور مرتد ہو گئے۔ خس کم جہاں پاک!

دیکھو شیطان جو معلم الملکوت اور مقرب بارگاہ الٰہی تھا بیشک بہشت میں رہا ٹھیک رہا۔ بہشت سے نکلتے ہی اولادِ آدم کے ساتھ وہ کھورولا یا کہ خدا کی پناہ اور ہمیشہ لاتا رہے گا۔ وجہ یہی

٢٢٩

صفحہ ٢٦٥

پیشین گوئی ہے۔ پوری ہو اور سچ کہتا ہوں کہ آج کا بو یا ہوا آج ہی پھل نہیں دیتا۔ میں نے جو میعاد مقرر کی تھی اس میں کسر رہی ہے۔ مگر یہ پوری ہوگی اور بازی بنی بنائی ہے۔ پہلوان ہی چت اور پہلوان ہی پٹ ہوتے ہیں۔ کامیاب میں بشہادت ملائک ہو چکا بلکہ اس کو خود آسمانی باپ نے داد دی ہے۔ میں اپنے منارے پر چڑھ کر یہ سارا میدان دیکھ رہا ہوں۔ میرے پاس آؤ تو اپنے سر پر سہرہ باندھ کر حوروں کو سہرہ گاتے اور ڈفلی بجاتے تان اڑاتے دیکھ لو۔ ذرہ بھر بھی شک نہیں۔ جھوٹ کے میدان میں قدم رکھنا مخنثوں کا کام ہے۔ میری آسمانی منکوحہ بی بی کے لاکھ بچے ہو جائیں گے وہ سب خدا کے ہی بچے اور آسمانی باپ کے ہی پوتے اور پڑپوتے کہا ئیں گے۔ جس کا اونٹ اس کی لادن۔ میں منارۃ المسیح کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ وہ عورت ایک دن میرے نکاح میں آئے گی اور ضرور آئے گی۔ مسیح موعود اور امام الزمان کی ہتک کرنیوالوں کو تو بس خدا ہی سمجھے اور تو کیا کہوں۔

تیسری معرکۃ الآراء پیشین گوئی کافر آتھم کے متعلق پوری ہوئی اور آسمانی باپ نے میری کیسی مدد کی۔ اس مردود کا سر توڑ ڈالنا میرا ہی کام تھا بجائے اس کے کہ تم میرے احسان اٹھاتے اور مجھ پر ایمان لاتے۔ اس نمایاں کام کے لئے کوئی پیشین گوئی نہ کرتا اور آسمانی باپ پر زور نہ ڈالتا تو یہ عیسائی دنیا میں زندہ رہتے؟ ہرگز نہیں۔ تم پرلے درجے کے احسان فراموش اور نالائق ہو ۔

مسلمان ....... لیجئے حضرت! آپ کے پیر بھائی بھی طاعون سے چل بسے مگر آپ کے خیال میں اب بھی مرزا قادیانی اپنے دعوٰی میں سچے ہیں۔ بولیے؟ مرزائی ...... ہمارا کوئی پیر بھائی طاعون سے نہیں مرا آپ نے کہاں سنا ہے؟ مسلمان ....... اخباروں میں لکھا دیکھا تھا کہ مرزا قادیانی کے خسر طاعون سے فوت ہو گئے۔

٢٤١

صفحہ ٢٦٥

پیشین گوئی ہے۔ پوری ہو اور سچ کھیت ہو۔ آج کے تھوپے آج ہی نہیں جلتے اور آج کا درخت لگا ہوا آج ہی پھل نہیں دیتا۔ میں نے جو میعاد مقرر کی تھی اس کے پورا ہونے میں ضرور ایک انچ کی کسر رہی ہے۔ مگر یہ پوری ہوگی اور چاندی بنی بنائی ہے۔ ایسی کسر تو ہر ایک مہوس کی قسمت میں لکھی ہے۔ پہلوان ہی چت اور پہلوان ہی پٹ ہوتے ہیں۔ جو معاملہ آسمان یا آسمانی باپ کے مواجہہ میں بشہادت ملائک ہو چکا بلکہ اس کو خود آسمانی باپ اپنے ہاتھوں کر چکا اس کا انکار بالکل الحاد وارتداد ہے۔ میں اپنے منارے پر چڑھ کر یہ سارا معاملہ دیکھ چکا ہوں۔ تم آنکھوں کے اندھے نام نین سکھ ہو۔ میرے پاس آؤ تو اپنے سر پر سہرہ بندھا ہوا اور سہرہ پر کلغی اور کلغی پر طرہ لگا ہوا اور حوروں کو سہرہ گاتے اور ڈفلی بجاتے تان اڑاتے دکھا دوں۔ قسم ہے آسمانی باپ کی اس میں رائی بھر بھی شک نہیں۔ جھوٹ کے میدان میں قدم رکھنا خردجال کا کام ہے۔ نہ کہ دنیا کے فرمائشی امام کا۔ میری آسمانی منکوحہ بی بی کے لاکھ بچے ہو جائیں۔ مگر وہ سب آسمانی باپ کے ہی لے پالک کے بچے اور آسمانی باپ کے ہی پوتے اور پڑپوتے کہلائیں گے۔ اونٹ پھرے گاؤں گاؤں۔ جس کا اونٹ اس کا ٹانڈا۔ میں منارۃ المسیح کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ میری منکوحہ بی بی کا خصم ایک نہ ایک دن میرے آگے ضرور مرے۔ مسیح موعود اور امام الزمان کے ایسے مغلظ حلف پر بھی تم کو یقین نہ آوے تو بس خدا ہی سمجھے اور تو کیا کہوں۔

تیسری معرکہ الآراء پیشین گوئی کافر اکفر لیکھرام آریا کی تھی وہ کیسی دن دھاڑے پوری ہوئی اور آسمانی باپ نے میری کیسی مدد کی۔ اس مردود مطرود، بے بہبود، اخبث الوجود، ابن نمرود کا سرتوڑ ڈالنا میرا ہی کام تھا بجائے اس کے کہ تم میرے ممنون ہوتے اور میرے احسان کا چھپر سر پر اٹھاتے اور مجھ پر ایمان لاتے۔ اس نمایاں کام کے صلے میں الٹی صلواتیں سناتے ہو۔ اگر میں پیشین گوئی نہ کرتا اور آسمانی باپ پر زور نہ ڈالتا تو بھلا ایسا دشمن اسلام جہنم واصل ہو سکتا تھا۔ ہرگز نہیں۔ تم پرلے درجے کے احسان فراموش اور ناحق کوش اور لائق پاپوش ہو۔ (باقی آئندہ)

٣...... ایک مسلمان اور ایک مرزائی کی گفتگو

مسلمان...... لیجئے حضرت! آپ کے پیر بھائی بھی طاعون سے مرنے لگے۔ کیا آپ کے خیال میں اب بھی مرزا قادیانی اپنے دعویٰ میں سچے ہیں۔

مرزائی...... ہمارا کوئی پیر بھائی طاعون سے نہیں مرا اور نہ کبھی مر سکتا ہے۔

مسلمان...... اخباروں میں لکھا دیکھا تھا کہ مرزا قادیانی کے بہت سے مرید طاعون میں مبتلا ہو کر فوت ہو گئے۔

٢٣١

صفحہ ٢٦٦

مرزائی....... ہاں! ایسے چند آدمی مرے ہیں جو مرزا قادیانی کے مرید ہوئے تھے۔

مسلمان....... کیا بیمار ہونے سے پہلے انہوں نے مریدوں کے رجسٹر سے اپنا نام خارج کرالیا تھا۔

مرزائی....... پہلے تو نہیں۔ بیمار ہوتے ہی مریدی سے خارج ہو گئے تھے۔

مسلمان....... جو مرید بیمار ہو جاتا ہے تو کیا مرزا قادیانی اس کو مریدی سے خارج کر دیتے ہیں۔

مرزائی....... وہ خود ہی مرزا قادیانی کا معتقد نہیں رہتا۔ کیونکہ اس کے نزدیک مرزا قادیانی کا یہ دعوٰی کہ ہمارا کوئی مرید طاعون میں مبتلا نہ ہوگا۔ غلط ثابت ہو جاتا ہے۔ جس نے مرزا قادیانی کے دعوؤں کو غلط سمجھا وہ مرید نہ رہا۔ پھر اگر وہ مر گیا تو مرزا قادیانی کا مرید اور ہمارا پیر بھائی نہیں مرا بلکہ ایک انسان مرا۔

مسلمان....... بہت خوب! مسلمان تو اس دعوے پر بڑے بڑے اعتراض کرتے تھے۔ یہ بات تو بہت ہی سہل نکلی۔ مرزا قادیانی تو مرزا قادیانی یہ دعوے تو ہر ایک آدمی کر سکتا ہے۔

مرزائی....... آپ مسلمانوں کی بات رہنے دیں۔ وہ تو مخالف کی سچی بات کو بھی جھوٹی ثابت کرنے کی کوشش کرنے لگتے ہیں۔ سمجھتے نہیں کہ سچ سچ ہی ہوتا ہے خواہ وہ کسی کی زبان سے نکلے۔

مسلمان....... خیر یہ ذکر جانے دیجئے۔ مسلمان سمجھیں یا نہ سمجھیں۔ آپ کو اس سے کیا بحث ہے۔ مجھے ایک بات اور یاد آ گئی آپ اس کی طرف توجہ فرمائیں۔ قادیان کو مرزا قادیانی دارالامان کہتے ہی رہ گئے اور وہاں طاعون ہو گیا۔

مرزائی....... طاعون ہو گیا تو کیا ہوا۔ افراتفری تو نہیں ہوئی۔

مسلمان....... پہلے یہ دعویٰ تھا کہ اگر کوئی بیمار بھی یہاں آ جائے گا تو شفا ہو جائے گی۔ باہر کے لوگ تو کیا شفا یاب ہوتے یہاں کے یہاں ہی بیماری ہو گئی اور جب بیماری ہو گئی تو کہہ دیا گیا کہ افراتفری نہیں ہوئی۔ حضرت اگر دارالامان اسی کو کہتے ہیں تو ایک روز آپ افراتفری بھی ضرور ملاحظہ فرمائیں گے اور اس وقت ہم دیکھیں گے کہ آپ اس کو ولدالامان کہتے ہیں یا دارالفناء۔

مرزائی....... جو بات آپ نے اس وقت کہی ہے وہ ہم نے مرزا قادیانی سے پہلے ہی پوچھ لی ہے۔ کہتے ہیں کہ تم اس سے ہرگز نہ ڈرو۔ ہمارے بیت الفکر میں تاویلات کی بہت سی بوریاں بھری پڑی ہیں۔ ہم فوراً کہہ دیں گے کہ یہ لفظ دارالامان نہیں بلکہ دارالاماں (یعنی ماں کا گھر) ہے۔

مسلمان....... شاباش، خوب پتہ کی کہی۔ ............ راقم: عبدالغنی صدیقی از ریاست کپور تھلہ!

ایڈیٹر....... دار بمعنی پھانسی دینے والا۔ یہ مسیح موعود کے لئے زیادہ موزوں ہے اتنا فرق ہے کہ اصلی

٢٤٢

مسیح تو خود پھانسی دیئے گئے تھے اور مسیح موعود فساد اور نفاق کو زندہ کرتا ہے۔

ناظرین نے مرزا قادیانی کی الہام کہ از روئے الہام یہ ڈکشنری تصنیف کی گئی کے مدعی ہیں۔ خیر دونوں صورتوں میں سے ڈکشنری ان اشعار سے۔

کافر و ملحد و
نام کیا کیا غم
گالیاں سن کے د
رحم ہے جوش میں

پہلے تصنیف ہوئی یا بعد میں اگر ا (کیونکہ مرزا قادیانی کا ہر فعل بذریعہ الہام ہ اور بذریعہ اشتہار مشتہر کرتے۔ چونکہ مرزا قا طبعزاد فرمائے یا یوں ہو کہ الہامی شعر پہلے ت دروغ گورا حافظہ نباشد کا مضمون صادق آ مرزا قادیانی نے باوجود دعوئی نفس مطمئنہ علما وحدیث رسول کریم ﷺ کے نام لے لے ک کہیں ہیں کہ توبہ ہی بھلی۔ سبحان اللہ! کیا خ جب رحم کی یہ حالت ہے اگر خدانخواستہ غصہ رسالہ اربعین میں تحریر فرمایا ہے کہ مجھے بنی نو ڈائن ماں کی محبت سے نجات دے۔ اگر کو ہیں۔ مرزا قادیانی کی کتب کا لب لباب مرزا قادیانی کے حق میں منافی شان کلمات ان کے واسطے جواباً الہامی ڈکشنری بنادی تو ک والجروح قصاص “ عوض معاوضہ گلہ ندا

صفحہ ٢٦٧

مسیح تو خود پھانسی دیئے گئے تھے اور مسیح موعود اس کو پھانسی دیتا اور اس کے برخلاف مسلمانوں میں فساد اور نفاق کو زندہ کرتا ہے۔

٤...... بقیہ مرزاغلام احمد قادیانی کے اقوال وافعال میں تخالف

ناظرین نے مرزا قادیانی کی الہامی ڈکشنری دیکھ لی۔ مجھے اس میں تھوڑا سا شک ہے کہ از روئے الہام یہ ڈکشنری تصنیف کی گئی ہے یا از روئے وحی۔ کیونکہ مرزا قادیانی دونوں باتوں کے مدعی ہیں۔ خیر دونوں صورتوں میں سے جس طرح تصنیف ہوئی ہے قابل غور یہ امر ہے کہ یہ ڈکشنری ان اشعار سے۔

کافر و ملحد و دجال ہمیں کہتے ہیں
نام کیا کیا غم ملت میں رکھایا ہم نے
گالیاں سن کے دعا دیتا ہوں ان لوگوں کو
رحم ہے جوش میں اور غیظ گھٹایا ہم نے

پہلے تصنیف ہوئی یا بعد میں اگر الہامی ڈکشنری پہلے تصنیف ہوئی اور الہامی شعر پیچھے۔ (کیونکہ مرزا قادیانی کا ہر فعل بذریعہ الہام ہوتا ہے ) تو چاہئے تھا ڈکشنری کے کل الفاظ واپس لیتے اور بذریعہ اشتہار مشتہر کرتے۔ چونکہ مرزا قادیانی نے ایسا نہیں کیا تو معلوم ہوا کہ یہ اشعار پہلے طبعزاد فرمائے یا یوں کہو کہ الہامی شعر پہلے تصنیف ہوئے اور ڈکشنری بعد میں تو اس صورت میں دروغ گورا حافظہ نباشد کا مضمون صادق آتا ہے اور مرزا قادیانی ہرگز نفس مطمئنہ نہیں رکھتے۔

مرزا قادیانی نے باوجود دعوئی نفس مطمئنہ علمائے اسلام اہل قبلہ پابند صوم وصلوٰۃ حافظانِ قرآن مجید وحدیث رسول کریم ﷺ کے نام لے لے کر ان کی تعریفیں ایسے پاک اور محمود الہامی الفاظ سے کیں ہیں کہ توبہ ہی بھلی۔ سبحان اللہ! کیا خوب نفس مطمئنہ اور کیا عجیب رحم اور جوش محبت ہے۔ جب رحم کی یہ حالت ہے اگر خدانخواستہ غصہ آگیا تو پھر نعوذ باللہ! اس پر طرہ یہ کہ مرزا قادیانی نے رسالہ اربعین میں تحریر فرمایا ہے کہ مجھے بنی نوع سے ایسی محبت ہے جیسے ماں کو بچوں سے۔ خدا ایسی ڈائن ماں کی محبت سے نجات دے۔ اگر کوئی مرزائی یا مرزا قادیانی یہ کہیں کہ آپ اچھے منصف ہیں۔ مرزا قادیانی کی کتب کا لب لباب تو پبلک کے روبرو دھر دیا۔ مگر دیگر لوگوں نے جو مرزا قادیانی کے حق میں منافی شان کلمات کہے ہیں۔ انکا ذکر تک نہ کیا۔ اگر مرزا قادیانی نے بھی ان کے واسطے جواباً الہامی ڈکشنری بنادی تو کون سی قباحت ہوئی۔ کیونکہ ”السن بالسن والجروح قصاص“ عوض معاوضہ گلہ ندارد۔ تو میں بہت ادب سے عرض کروں گا۔

٢٣٣

صفحہ ٢٦٩
شنیدم کہ مردان راہ خدا
دل دشمنان ہم نکردند تنگ

جناب من آنحضرت ﷺ کا سابقہ ہمیشہ ان لوگوں سے پڑتا تھا جو خدا اور اس کے رسولوں کے دشمن تھے۔ مگر اس خلق عظیم نے دائماً ان کے حق میں بجز دعائے خیر اور کچھ نہ فرمایا اور بے ادبیوں اور گستاخیوں کے عوض یہی کہا کہ اے خدا تو دلوں کا پھیرنے والا ہے۔ بعوض ظلم کے جو مجھ پر کرتے ہیں۔ ان کو توفیق شرف اسلام دے۔ میں ان سے انتقام نہیں لیتا۔ سبحان اللہ یہ تھے رحمۃ للعالمین اور یہ ہے مرزا قادیانی کا بے عمل اور زبانی دعویٰ۔ مرزا قادیانی مثیل مسیح اور مثیل محمد کس طرح بن سکتے ہیں۔ یہ مسلمہ قاعدہ ہے کہ شبہ کو مشبہ بہ سے مناسبت ضرور ہے۔ مشبہ بہ آنحضرت ﷺ تو کئی کوڑی بتوں کے پوجنے والوں کو بھی دعائے خیر دیں اور مرزا قادیانی ایک خدا پر ایمان لانے والوں اور رسول آخرالزمان کے امتیوں کو جس کا مثیل خود مرزا بننا چاہتا ہے۔ ایسے الفاظ سے یاد کرے۔ عجب ایمان باللہ وبالرسول ہے۔ اب مرزا قادیانی خود اپنے دل میں فیصلہ کریں کہ وہ کہاں تک حق پر ہیں۔ میں ناظرین کی خدمت میں آنحضرت ﷺ کے صبر وحمل اور استقلال اور ایمان باللہ اور نفس مطمئنہ کا ادنیٰ نمونہ گزارش کرتا ہوں۔ ذرا غور سے پڑھیں۔

آنحضرت ﷺ سفر طائف میں تنہا رہ گئے اور وہاں کسی کو بھی توفیق قبول اسلام نہ ہوئی۔ بلکہ قوم قریش کی طرح ان کو بھی طیش آگیا تو مجبوراً آپ کو تین روز بعد وہاں سے واپس آنا پڑا۔ کمینہ لوگوں کا ایک گروہ کثیر برا بھلا کہتا اور غل مچاتا ہوا تمام دن آپ کو گھیرے رہا اور آپ کو ایک باغ کے احاطہ میں پناہ لینی پڑی۔ مگر اللہ رے صبر واستقامت کہ انگور کے سایہ میں بیٹھ کر بارگاہ احدیت میں یہ مناجات کی۔

اے رب جلیل یہ بندہ تیری بارگاہ عزت وجلال میں اپنی کمزوری اور صبر وتحمل کی کمی کی فریاد لایا ہے۔ کیونکہ تو سب سے رحم والا اور ہر ایک عاجز وناتواں کا مددگار اور خود میرا مالک اور پروردگار ہے تو مجھے کس کے حوالہ کرتا ہے؟ کیا ایسے دوست کے جو مجھے دیکھ کر ناک بھوں چڑھائے۔ یا ایسے دشمن کے جس کو تو نے میرا معاملہ سونپ دیا ہے۔ لیکن اگر یہ بلا تیری خفگی کی وجہ سے نہیں تو مجھ کو اس کی کچھ پروا نہیں۔ تیرا بچاؤ میرے لئے بہت وسیع ہے۔ میں تیری قوت ورحمت کے نور میں جو تمام تاریکیوں کا روشن کر دینے والا ہے۔ تیرے غیظ وغضب کے نزول سے پناہ لیتا ہوں۔ لیکن اگر تیری خفگی ہی میں میری بھلائی ہے تو تجھے وہاں تک اختیار ہے کہ تو مجھ سے راضی ہو جاوے اور بغیر تیری مدد کے نہ میں برائی سے بچ سکتا ہوں نہ نیکی کی قدرت وطاقت رکھتا ہوں۔

ناظرین انصاف فرماویں کہ مرزا قاد مالی اذیتیں پہنچائیں۔ صرف اس معمولی انکار نبو سلوک کیا اور کر رہے ہیں آنحضرت نے کافروں کہنے اور الہامی ڈکشنری ہی پر اکتفا نہیں کیا۔ بلکہ میں بھی کسر نہیں کی۔ عام لوگوں کو باغی اور بدخواہ ا ظاہر کیا۔ مگر ہماری عادل گورنمنٹ بیدار اور روش آنے لگی۔ اس نے عام مسلمانوں پر یہ رحم کیا کہ مر مرزا قادیانی سے اس فعل کا توبہ نامہ لکھوا کر ش مرزا قادیانی کے دل پر الہام ہر وقت طاری رہے۔

توبہ نامہ کا خلاصہ مضمون یہ ہے کہ اب ومباہلہ نہ ہوا کریں گے اور ہر ایک ایسی پیشین گ اغراض گورنمنٹ کے مخالف یا کسی شخص کی ذات اشارہ کرتی تو مرزا قادیانی عارضی نبوت کو بھی نذر ا

دعویداران نبوت تو مرزا قادیانی سے اپنے مدعاعلیہم سے ایسے ناجائز ذرائع سے ڈگر کوئی مسلمان، ہندو، عیسائی، یہودی، مورخ، ع مرزا قادیانی نظیراً ایسا نبی پیش نہ کرسکے گا۔ جس دے کر دعویٰ نبوت و بروزی رسالت کی ڈگری ہ ایک نبی کا مثیل و ظلی یا نقل بن جاتے ہیں۔ مگر نقل مرزا قادیانی ہرگز اخلاق محمدی کی پیروی نہیں کر غصہ میں جوش میں، راست بیانی میں، اخوت ا زیادہ نہیں تو کم بھی نہیں۔ کاش مرزا قادیانی اپنے جیسے آپ کے مرید آپ کی کرتے ہیں تو تناز ”لاتقولو لمن القی الیکم السلام لست لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ “ کا مُنکر جہنمی تو درکنار خدا کا حکم ماننے میں بھی تامل ہے۔

صفحہ ٢٦٩

ناظرین انصاف فرماویں کہ مرزا قادیانی کو کس نے گالیاں دے کر ذلیل کیا۔ یا جانی مالی اذیتیں پہنچائیں۔ صرف اس معمولی انکار نبوت و بروزی رسالت پر مسلمانوں کے ساتھ جو سلوک کیا اور کر رہے ہیں آنحضرت نے کافروں سے بھی ایسا سلوک روا نہیں رکھا۔ خالی برا بھلا کہنے اور الہامی ڈکشنری ہی پر اکتفا نہیں کیا۔ بلکہ گورنمنٹ کو عام گروہ اہل اسلام سے بدظن کرنے میں بھی کسر نہیں کی۔ عام لوگوں کو باغی اور بدخواہ اور اپنے کو اور اپنی مبارک جماعت کو خیر خواہ سرکار ظاہر کیا۔ مگر ہماری عادل گورنمنٹ بیدار اور روشن دماغ ہے وہ کسی کی پولیٹکل چالوں میں کب آنے لگی۔ اس نے عام مسلمانوں پر یہ رحم کیا کہ مرزا قادیانی کے خونی الہام یک قلم بند کرا دیئے اور مرزا قادیانی سے اس فعل کا توبہ نامہ لکھوا کر شامل مثل کرایا۔ تا کہ عدالت کا خوف ہر وقت مرزا قادیانی کے دل الہام منزل پر طاری رہے۔

توبہ نامہ کا خلاصہ مضمون یہ ہے کہ اب میرے اشتہارات وغیرہ میں ذاتیات اور طعنہ و مباہلہ نہ ہوا کریں گے اور ہر ایک ایسی پیشین گوئی سے اجتناب رہے گا جو امن عامہ خلائق اور اغراض گورنمنٹ کے مخالف یا کسی شخص کی ذات یا موت پر مشتمل ہو وغیرہ۔ اگر گورنمنٹ ذرا اور اشارہ کرتی تو مرزا قادیانی عارضی نبوت کو بھی نذر کر دیتے۔

دعویداران نبوت تو مرزا قادیانی سے پہلے بھی گزر چکے ہیں۔ مگر کسی مدعی نبوت نے اپنے مدعا علیہم سے ایسے ناجائز ذرائع سے ڈگری پانے کی کوشش نہیں کی۔ میں امید کرتا ہوں کہ کوئی مسلمان، ہندو، عیسائی، یہودی، مورخ، عالم، فاضل، بی اے، ایم اے خصوصاً از جماعت مرزا قادیانی نظیر ایسا نبی پیش نہ کر سکے گا۔ جس نے جابرانہ یا دوسرے الفاظ میں گالیاں دے دے کر دعویٰ نبوت و بروزی رسالت کی ڈگری پانے کی خواہش کی ہو۔ مرزا قادیانی بزبان خود تو ہر ایک نبی کا مثیل و سمی یا ظل بن جاتے ہیں۔ مگر نقل مطابق اصل نہیں ہوتی۔ پس صاف ظاہر ہے کہ مرزا قادیانی ہرگز اخلاق محمدی کی پیروی نہیں کرتے۔ ہاں مرزا قادیانی کی جماعت گالیوں میں غصہ میں جوش میں راست بیانی میں اخوت اسلامی کے قائم کرنے میں مرزا قادیانی سے اگر زیادہ نہیں تو کم بھی نہیں۔ کاش مرزا قادیانی اپنے پیغمبر آخر الزمان کے اخلاق کی ایسی پیروی کرتے جیسے آپ کے مرید آپ کی کرتے ہیں تو تنازع کی بنیاد نہ رہتی۔ خدائے پاک تو فرماوے کہ: "لا تقولوا لمن القی الیکم السلم لست مومنا" اور مرزا قادیانی ان اشخاص کو جو کہیں "لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ" کافر، جہنمی، مرتد، بے دین وغیرہ کہے۔ سبحان اللہ پیغمبر کا اتباع تو درکنار خدا کا حکم ماننے میں بھی تامل ہے۔

٢٣٥

صفحہ ٢٧٠

چند روز ہوئے کہ اس جگہ کے چند مقامی معززین نے ایک مرزائی ریلوے بابو کو کہا کہ تم ہم کو مرزا قادیانی کا دعویٰ نبوت اور بروزی رسالت سمجھاؤ۔ اتفاق سے ایک مرزائی پلیڈر اور چند دیگر ورنیکولر مرزائی بھی موجود تھے۔ وہ صرف ہاں میں ہاں ملاتے تھے۔ مگر ریلوے بابو اور پلیڈر جی اس مسئلہ کو بیان کرتے تھے۔ ریلوے بابو نے ایک حدیث بیان کی جس میں ایک حصہ اصلی حدیث کا تھا اور دو حصے غلط۔ چونکہ اس جلسہ میں مولوی فضل حق صاحب ایبٹ آبادی اور پیر احمد علی شاہ صاحب باشندہ اسی علاقہ کا بھی موجود تھے۔ پیر صاحب بول اٹھے غلط غلط۔ شرم، شرم۔ ایک حدیث میں کیا بیجا ایزاد ہو رہا ہے۔ پلیڈر صاحب نے اس بات کو مان تو لیا مگر مارے غصہ کے ہر دو صاحبوں کا وہ برا حال ہوا کہ میں اس وقت کا فوٹو بیان نہیں کر سکتا۔ آنکھیں ایسی نکل پڑیں جیسے سفوکٹیڈ باڈی یعنی گلا دبا کر مارے ہوئے لاش کی نکل پڑتیں ہیں۔ جھاگ منہ میں اس طرح بھر لائے جیسے دریاء طغیانی میں آ جاتا ہے۔ پلیڈر صاحب نے دو تین گھونسے میز پر مار کر کہا کہ میں علیٰ رؤوس الاشہاد کہتا ہوں کہ ہماری جماعت کے مخالفوں میں سے جس کسی کو دعویٰ ہو آوے۔ میں اس سے تحریری بحث کرتا ہوں اور اپنے اور اپنی جماعت کی تعریفوں کے پل باندھ کر ثنائے خود بخود گفتن کے مصداق بنے۔ میں نے اندازہ کیا کہ یہ نفس مطمئنہ کا عکس ہے۔ بحث وحث کچھ نہ ہوئی۔ خلیفہ المسیح نے دو گھنٹہ تک سورۃ فاتحہ شریف کے نکات بیان کئے۔ صرف الرحیم تک بیان ہوئے اور مجلس برخاست۔ کیونکہ رات کے ١٠ بجے کو تھے۔

اس کے بعد سنا گیا کہ ایک سچی اور خلاف واقعہ ڈائری کے ذریعہ یہ رپورٹ حضرت پیر مرشد مرزا قادیانی کو دی گئی اور اخبار الحکم میں دیکھا گیا کہ فلاں مقام پر مباحثہ ہوا اور خلیفہ المسیح نے فتح پائی۔ وغیرہ! آفریں؟ سچائی اسی کا نام ہے۔

حضرات! پبلک کو جناب سرور کائنات کے حاشیہ نشینوں اور حواریوں کے حالات سے بخوبی واقفیت ہے۔ حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے جب ایک کافر دشمن خدا کو گرا کر زیر کیا اور فرمایا کہ کہو خدا ایک ہے تو اس کافر نے جناب کے مبارک چہرہ پر تھوک دیا۔ حضرت نے فوراً کافر کو چھوڑ دیا اور الگ ہو گئے۔ حاضرین نے کہا کہ یا حضرت ایسے بے دین کو کیوں امان دی۔ آپ نے فرمایا اس سے پہلے میرا مقابلہ اس کے ساتھ خدا کی راہ میں تھا اور اب جو اس نے میری ذات کے ساتھ گستاخی کی تو اب خدائی معاملہ نہ رہا۔ میں خدائی امور میں ذاتی امور کو دخل نہیں دیتا اور اپنا بدلہ نہیں لینا چاہتا۔ کافر اس ایمان باللہ کا شیدا ہو کر فوراً مسلمان ہو گیا۔ دیکھئے! مرزا صاحب نفس مطمئنہ اس کو کہتے ہیں۔ (باقی آئندہ)

٢٣٦

٧١ بسم اللہ الرحمٰن الرحیم تعارف مضامین ...... ١٦؍اگست ١٩٠٢ء کے شمارہ بقیہ مرزا قادیانی کے خیالات کا نتیجہ .......١ بقیہ خواب .......٢ اسی ترتیب سے پیش خدمت ہیں: ١....... بقیہ مرزا قادیانی سنو سنو! آتھم کے مرجانے کی تاویل میری پیشین گوئی میں نہیں۔ میں نے تو یہ کہا تھا کہ جانا سمجھے۔ مجھے اس طوفان بہتان سے ایسا غصہ آیا ایک کی ناک کی نوک چبا ڈالوں۔ ابے احمقو! ہوش چاہنے والو۔ ہاویہ میں گرائے جانے کے معنی ہلاکت کی کون سی لال کتاب میں نظر آیا۔ کیا تم سب ب کہتے ہو کہ ہم میں بڑے بڑے علماء اور فضلاء قرآ ادب کی کتابوں کے جاننے والے ہیں۔ اب ایا ”کمثل الحمار یحمل اسفارا “ کا مع الحمیر “ کا مورد ہے۔ بھلا غضب خدار میرے غصہ کی کوئی حد نہیں۔ کوہ ہمالیہ سے لے کر لے کر راسکماری تک طاعون ایک ایک کو چٹ ک کر اڑ جائیں۔ آسمان دھواں بن کر رائی کائی ہو ج نہ لائے۔ دیکھو کوہ آتش فشاں نے ایک شعلے کی سلفہ ہو گیا۔ یہ ان کے لئے عبرت کا پہلا تازیان سبق ہے۔ کیا تم اپنے کو زندہ سمجھتے ہو ذرا تیل دی لاٹھی میں آواز نہیں ہوتی اور اگر اب بھی مجھے عیسیٰ

صفحہ ٢٧١

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

تعارف مضامین ...... ضمیمہ شحنہ ہند میرٹھ ١٦؍ اگست ١٩٠٢ء کے شمارہ نمبر ٣١ کے مضامین

اسی ترتیب سے پیش خدمت ہیں:

١...... بقیہ مرزا قادیانی کے خیالات کا لیکچر

سنو سنو! آتھم کے مرجانے کی تاویل تم سن چکے۔ حالانکہ اس کے مرنے کا کہیں ذکر میری پیشین گوئی میں نہیں۔ میں نے تو یہ کہا تھا کہ وہ ہاویہ میں گرایا جائے گا۔ تم اس کا مطلب مر جانا سمجھے۔ مجھے اس طوفانِ بہتان سے ایسا غصہ آتا ہے کہ تمہارا منہ نوچ لوں اور دانتوں سے ایک ایک کی ناک کی نوک چبا ڈالوں۔ ابے احمقو! ہوق کی بیٹ کھانے والو اور کسی احمق الذی کی قے چاٹنے والو۔ ہاویہ میں گرائے جانے کے معنی ہلاک ہونا تم کو کون سے لال بجھو نے بتایا اور فرہنگ کی کون سی لال کتاب میں نظر آیا۔ کیا تم سب کے سب جونپوری قاضی کے چیلے بن گئے ہو۔ تم کہتے ہو کہ ہم میں بڑے بڑے علماء اور فضلاء قرآن وحدیث کے پھانکنے والے اور کیڑا بن کر فن ادب کی کتابوں کے چاٹنے والے ہیں۔ اب ایں جانب کو کامل یقین ہو گیا کہ تم میں کا ایک ایک ”کمثل الحمار یحمل اسفارا “ کا مصداق ہے اور ”ان انکر الاصوات لصوت الحمیر “ کا مورد ہے۔ بھلا غضبِ خدا، ہاویہ میں گرائے جانے کے معنی مر جانا۔ بس اب میرے غصہ کی کوئی حد نہیں۔ کوہ ہمالیہ سے لے کر سیلون تک زلزلے آئیں تو بجا ہے اور پشاور سے لے کر راسکماری تک طاعون ایک ایک کو چٹ کرے تو زیبا۔ پہاڑ دھنس جائیں۔ زمینیں غبار بن کر اڑ جائیں۔ آسمان دھواں بن کر رائی کائی ہو جائیں تو سب بجا ہے۔ یورپ والے مجھ پر ایمان نہ لائے۔ دیکھو کوہِ آتش فشاں نے ایک خطے کی کیسی درگت کی کہ چالیس ہزار آدمی دم کے دم میں سلفہ ہو گیا۔ یہ ان کے لئے عبرت کا پہلا تازیانہ ہے۔ جیسا تمہارے لئے طاعون عبرت کا پہلا سبق ہے۔ کیا تم اپنے کو زندہ سمجھتے ہو ذرا تیل دیکھو تیل کی دھار دیکھو۔ آسمانی باپ کی قسم۔ اس کی لاٹھی میں آواز نہیں ہوتی اور اگر اب بھی مجھے عیسیٰ موعود تسلیم نہ کیا اور اپنے ایسے ویسے مردہ یسوع مسیح

٢٣٧

صفحہ ٣

کو اپنے کانسنس سے دیس نکالا نہ دیا تو دیکھنا کیا کیا تماشے دکھاتا ہوں اور کیسے کیسے ناچ نچاتا ہوں۔

منجنیق صد حصار است آہ من غافل چراست
شمع سان بے منجنیق از صدمت نکبائے من

کیا کروں مجبوری کا پہاڑ مجھ پر ٹوٹ پڑا ورنہ میں تم کو پیشین گوئیوں کا ایسا مزہ دکھاتا کہ خون چٹوا دیتا تم فریادی ہو کر انگریزی عدالت میں گئے۔ اس نے مجھ پر دھونس ڈالی۔ میں تو پھر بھی دھونس میں نہ آیا۔ مگر میرے کھوسٹ، بوڑھے، پوپلے منہ والے آسمانی باپ پر باوصف گرگ باران دیدہ ہونے کے کچھ ایسی دباغت پڑی اور برٹش عدالت کے خوف نے اسے ایسا شکنجے میں دھرا کہ کھینچا کہ حواس باختہ اور ہوش فاختہ ہو گئے۔ پس یوں میری پیشین گوئی کی برکت گئی۔ مگر اب میں نے آسمانی باپ کی پھر ڈھارس باندھی ہے اور اسے پھر شیشے میں اتارا ہے۔ کیونکہ بوڑھے اور بچے کی ایک حالت ہوتی ہے۔ ذرا سے دباؤ میں دب جاتے ہیں اور ذرا سی ابھار میں پھر پھر کرنے لگتے ہیں۔ ذرا دیکھو تو سہی کیا ہوتا ہے۔ ایک ایک منکر کو زندہ درگور نہ کر دیا ہو تو جبھی کہنا۔ تم ذرا خوش ہولو۔ بکر کود مچالو۔ دولتیاں پھینک لو۔ شیخیاں جھاڑ لو مگر آسمانی باپ نے چاہا اور اسے حرارا آیا تو پھر میری سچی مگر غضبناک پیشین گوئیوں کے کھونٹے بندھو اور ضرور بندھو۔ کیا تم یہ سمجھ رہے ہو کہ وہی پیشین گوئی پوری ہوتی ہے جس کا اظہار کیا جائے۔ میری پیشین گوئی کیا بددعا ہے۔ کیا بددعا کے لئے ظاہر ہونا بھی ضرور ہے۔ میں برابر بددعاؤں کی کھچڑی پکا رہا ہوں۔ مگر اس میں ابھی کھد بدی نہیں آئی۔

اب سنو! ہاویہ ہوا سے اسم فاعل ہے۔ جس کے معنی خواہش کرنے والی کے ہیں۔ یہ دوزخ کا نام ہے جو منکروں کی اماں جان ہے۔ جیسا کہ قرآن میں ہے ”وامہ هاویه “ چونکہ دوزخ بھی اپنے فرزندوں کو آغوش محبت میں لینے کی خواہش کرے گی۔ لہٰذا اس کا نام ہاویہ ہوا۔ مگر میری پیشین گوئی کا یہ مقصد تھا کہ اگر وہ ایمان نہ لایا اور مجھے ہر طرح اس کے ایمان لانے سے مایوسی ہو گئی تو میں نے حکم دیا کہ اتنی مدت تک ہاویہ میں گرایا جائے گا۔ چنانچہ یہ چونچہاتی پیشین گوئی پوری ہو گئی اور وہ دوزخی ہو گیا اور اب فرعون اور نمرود وغیرہ سرکشوں اور مرتدوں کے ساتھ دوزخ میں دندنا رہا ہے۔ پاس آؤ تو دکھا دوں تم تو مادر زاداندھے ہو۔

سنو سنو! جب میں آیات قرآنی پیش کرتا ہوں اور کہتا ہوں کہ ”ھو الذی ارسل رسولہ بالھدیٰ “ وغیرہ مجھ پر نازل ہوئی ہیں۔ تو تم بہت ہی چوکنا ہوتے ہو اور میری نسبت لام کاف بکتے ہو۔ تم کو یہ خبر نہیں کہ کوئی رسول نیا ہو یا پرانا۔ مگر قانون قدرت ایک ہے وہ بدل نہیں

٢٣٨

سکتا۔ نیا رسول بھی اسی کی پیروی کرے گا اور قدیم نشین ہوتا ہے تو مروجہ قوانین تعزیرات کو بدلتا نہیں نیز کی ترمیم اور اصلاح کر رہا ہوں۔ دیکھو ملک م ٤ اگست کو ان کی رسم تاجپوشی ادا ہوئی ہے۔ ک قدیمی قوانین ہیں جن کے وہ حال میں وارث ہ گے اور رعایا کو ان پر عمل کرائیں گے۔ میں بھی میرا جی چاہے گا ترمیم کروں گا۔ خود تمہارا اس با تک جاری رہے گا۔ مگر یہ بھی تو دیکھو کہ محمد صاحب کرائیں۔ میں ان کا جانشین ہوں اور مسلمانو صرف یہ فرق ہے کہ میں نے اس کی اصلاح کی دی اور جب وہ دھمکی میں نہ آئے تو میں نے مو میں دھکیل دیا۔ وحشی لوگ ہرگز جنت کے سبز با ہیں۔ وہ تو سزا اور عقوبت کو مانتے ہیں۔ وحشیوں کرنے اور چیتے کی طرح پھیلانے کی خود قرآں لبغوا فی الارض “ بھلا خیال کرنے کی بات جائے۔ نہ کہ ان پر رحم کیا جائے۔ یہ تو سراسر ظلم جرائم پر دلیر ہو جانے سے سو مجرم پیدا ہوتے ہ انہوں نے اپنے کو مجرموں کا بھی شفیع گردانا۔ یہ توڑنے والا اور بالکل اس کی نقیض ہے۔ پس ا کہ وہ مجھ پر نازل ہوا ہے تو تعجب میں کون سا م کی بعض آیتوں کو اپنا الہام بتاتا ہوں۔ تمام قرا میں مصلحت دیکھی ہے کہ کھانا ٹھنڈا کر کے کھا جب ان میں اچھی طرح پانی مر جائے گا اور بھ مجھ پر نازل کروے گا۔ اونٹ ہمیشہ براتے اور جلد آنے والا ہے کہ تم تمام رسولوں کو بھول جاو پر ایمان لاؤ گے اور یہ تمہارے پیر زادے اور

صفحہ ٢٧٣

سکتا۔ نیا رسول بھی اسی کی پیروی کرے گا اور قدرت خود پیروی کرائے گی۔ کوئی نیا بادشاہ جب تخت نشین ہوتا ہے تو مروجہ قوانین تعزیرات کو بدلتا نہیں۔ ہاں ترمیم اور اصلاح کرتا ہے۔ میں بھی قرآن مجید کی ترمیم اور اصلاح کر رہا ہوں۔ دیکھو ملک معظم ایڈورڈ ہفتم ابھی ابھی تخت نشین ہوئے ہیں اور ٩ اگست کو ان کی رسم تاجپوشی ادا ہوئی ہے۔ کیا انہوں نے کوئی نیا قانون جاری کیا ہے۔ وہی قدیمی قوانین ہیں جن کے وہ حال میں وارث ہوئے ہیں اور برابر ان کی حفاظت عمل میں لائیں گے اور رعایا کو ان پر عمل کرائیں گے۔ میں بھی رسول ہوں اور قرآن کا وارث ہوں۔ جس طرح میرا جی چاہے گا ترمیم کروں گا۔ خود تمہارا اس بات پر ایمان ہے کہ قرآن قانون الہی ہے جو قیامت تک جاری رہے گا۔ مگر یہ بھی تو دیکھو کہ محمد صاحب (ﷺ) اب کہاں ہیں جو اس قانون کی پیروی کرائیں۔ میں ان کا جانشین ہوں اور مسلمانوں کو اس پر عمل کرانے کے لئے مبعوث ہوا ہوں۔ صرف یہ فرق ہے کہ میں نے اس کی اصلاح کی یعنی اپنے کو صرف نذیر ثابت کیا۔ منکروں کو دھمکی دی اور جب وہ دھمکی میں نہ آئے تو میں نے موت کے کولہو میں ان کو پیل دیا اور پھر جہنم کے خندق میں دھکیل دیا۔ وحشی لوگ ہرگز جنت کے سبز باغ پر فریفتہ نہیں ہوتے اور نہ اس کو خیال میں لاتے ہیں۔ وہ تو سزا اور عقوبت کو مانتے ہیں۔ وحشیوں پر عبرت ڈالنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ نہ کہ خوش کرنے اور چیتے کی طرح پھیلانے کی خود قرآن میں ہے ۔ ”ولو بسط الله الرزق لعباده لبغوا فی الارض“ بھلا خیال کرنے کی بات ہے کیا قانون تعزیر اسی لئے نہیں کہ مجرموں کو سزا دی جائے۔ نہ کہ ان پر رحم کیا جائے۔ یہ تو سراسر ظلم ہے۔ جب کسی مجرم کو رہا کر دیا جاتا ہے تو ارتکاب جرائم پر دلیر ہو جانے سے سو مجرم پیدا ہوتے ہیں۔ پس یہ محمد صاحب کی بڑی بھاری غلطی تھی کہ انہوں نے اپنے کو مجرموں کا بھی شفیع گردانا۔ میں نے اس کی ترمیم کی۔ کیونکہ یہ امر لاز آف نیچر کا توڑنے والا اور بالکل اس کی نقیض ہے۔ پس میں نے اگر قرآن کو اپنی جانب منسوب کیا اور یہ کہا کہ وہ مجھ پر نازل ہوا ہے تو تعجب کرنا کون سا گناہ ہو گیا۔ ہاں یہ بات ضرور ہے کہ میں ابھی قرآن کی بعض آیتوں کو اپنا الہام بتاتا ہوں۔ تمام قرآن کو نہیں وجہ یہ ہے کہ میرے آسمانی باپ نے اس میں مصلحت دیکھی ہے کہ کھانا ٹھنڈا کر کے کھانا چاہئے اور وحشیوں کو دفعتاً انگلی نہ دکھانا چاہئے۔ جب ان میں اچھی طرح پانی مر جائے گا اور بھڑکنا موقوف ہو جائے گا تو آسمانی باپ سارا قرآن مجھ پر نازل کر دے گا۔ اونٹ ہمیشہ غراتے اور بل بل کرتے ہی لدتے رہے ہیں۔ وہ وقت بہت جلد آنے والا ہے کہ تم تمام رسولوں کو بھول جاؤ گے اور انیسویں صدی کے ایک رسول اور ایک امام پر ایمان لاؤ گے اور یہ تمہارے پیر زادے اور مشائخ اور نیم مُلّاء دانت پیستے اور ہونٹ کاٹتے رہ

٢٣٩

صفحہ ٢٧٤

جائیں گے۔ ان کو بھوجنوں کے بھی ٹوٹے ہوں گے اور پھر سب کے سب منہ میں تنکے لے لے کر میرے دارالامان قادیان کو سجدہ کریں گے۔ شعلہ کی طرح ان کی سرکشی تھوڑی دیر کی ہے اپنی آگ میں آپ ہی جل بھن کر خاکستر ہو جائیں گے۔

اے شمع چند سانس ہیں تیرے سحر تلک
ہنس کر گزار یا انہیں روکر گزار دے

قرآن میں دوسری آیت میری نسبت یہ نازل ہوئی ۔ ”اذ قال عیسیٰ بن مریم یا بنی اسرائیل انی رسول الله الیکم مصدق لما بین یدی من التوراة ومبشرا برسول یاتی من بعدی اسمه احمد“ دیکھو یہ دھڑلے اور طمطراق کی زناٹے دار پیشین گوئی ہے جس میں میرا نام صاف طور پر یوں چمک رہا ہے۔ جیسے کالی کالی گھٹاؤں میں آفتاب۔ اس سے انکار کرنا مسلمان کا تو کام ہے نہیں۔ البتہ ملحد اور مرتد کا کام ہے اور یہ پیشین گوئی کس کی ہے۔ خود عیسیٰ مسیح کی۔ جو محمد صاحب کو یاد دلائی گئی ہے۔ جب خود عیسیٰ المسیح کہے کہ میرے بعد احمد آئے گا تو بس سارے انبیاء کا خاتمہ ہو گیا۔ آخر میرے آنے کی کوئی تو وجہ ہے۔ صاف ظاہر ہے کہ موسوی اور عیسوی اور محمدی دین سب ناقص تھے اور یہ بات عیسیٰ مسیح اور محمد صاحب کو معلوم تھی کہ اصلاح اور ترمیم کے ساتھ تمام ادیان کی تکمیل کی ضرورت ہے اور ہم پوری تکمیل کی طاقت نہیں رکھتے اور یہ بھی ظاہر ہے کہ انسان کو اپنا بوتا اور اپنا کس بل اور اپنے نفس کا علم اور اس کی بساط اچھی طرح معلوم ہوتی ہے۔ پس ان زبردست شواہد کے بعد دنیا میں میرا آنا اٹل تھا۔ تا کہ خدا کا نوشتہ پورا ہو۔

افسوس ہے کہ تم قرآن کا سیاق و سباق سمجھنے سے بھی بالکل بے بہرہ ہو۔ عرب کے نبی کا نام محمد ہے نہ کہ احمد۔ وہ تو جلال کا پتلا تھا۔ جس نے دنیا کا نقشہ بدلنے (جہاد) کا حکم دیا۔ احمد میں ہوں۔ میرا عنصر بالکل جمال اور رحم سے بنایا اور گوندھا گیا ہے اور میں نے جو چند سال قبل اس پر امن عہد سلطنت میں لوگوں کے مارے جانے کی دھمکی دی تو میں اس مجبوری کی معذرت کر چکا ہوں کہ اس کا الزام میرے آسمانی باپ پر ہے نہ کہ مجھ پر۔ اگر آیت میں رسول عرب مراد ہوتا تو خدائے تعالیٰ بجائے ”یاتی من بعدی اسمه احمد“ کے ”یاتی من بعدی اسمه محمد“ کہتا۔ رسول عرب کا نام محمد ہے اور میرا نام احمد۔ محمد کو احمد کہنا لوگوں کی نری بھیڑ چال ہے۔ دیکھو دوسری آیت میں ”محمد رسول الله والذین معه اشداء علی الکفار“ آیا ہے جس سے صاف طور پر شان جلال ظاہر ہے اور ”اشداء علی الکفار“ جو اصحاب محمد کی شان میں ہے تو یہ واضح طور پر بتا رہی ہے کہ وہ قتل و قتال کا باب گرمانے کو اتری ہے۔ پس میں اپنی

٢٤٠

احمدی شان جمال ورحم سے آیت مذکورہ اور سفک اور جبر واکراہ سے نہیں پھیلا۔

میں اس لئے یورپ میں ا جمالی و رحیمی کا نظارہ کریں اور اپنے مردہ لائیں اور چونکہ میری رسالت عام ہے تاکہ یہاں کے لوگوں کو بھی معلوم ہو کہ مرتبہ لوگ میری جھلک دیکھ لیں پھر تو حکم ملت اور مذہب و سوسائٹی کے ممبر ہوں۔

خود تصـ
آراء من عـ

”یعنی میں ایسا معشوق ہوں ان لوگوں کی عقلیں صواب ہوتی ہیں جو مسلمانوں کی عقل تو الو بـ

چونکہ اسلام میں جہاد ہے۔ اس لئے ا اسلام دنیا سے یوں ناپید ہو جائیں گے پس میں نے اسلام سے جہاد کو حرف غلـ باعث نکل جانا چاہتی تھیں۔ ان کا غصہ بلکہ دودھ دینے والی گائے۔ اگر مسلما ایمان تو بھاڑ میں گیا۔ کم از کم میرے جوا ہی پھینک دیا اور لمبے لمبے سینگوں بـ بادام کے دم کئے ہوئے پلاؤ سے ریل ہائے ناحق شناسی۔

میں کہہ چکا ہوں کہ تم کو قرآ اسمه احمد “ میں ”یاتی “ صیغہ ضرور محمد صاحب مراد ہوتے۔ چونکہ ا کے بعد زمانہ مستقبل میں آیا ہوں۔ اس

صفحہ ٢٧٥

احمدی شان جمال ورحم سے آیت مذکورہ بالا کی تلافی کرنے آیا ہوں۔ کیونکہ دنیا میں کوئی دین قتل اور سفک اور جبر واکراہ سے نہیں پھیلا۔

میں اس لئے یورپ میں اپنی تصویریں بھیج رہا ہوں تا کہ یورپ والے میری شان جمالی و رحیمی کا نظارہ کریں اور اپنے مردہ خدا (عیسیٰ مسیح) کو چھوڑ کر زندہ مسیح اور امام الزمان پر ایمان لائیں اور چونکہ میری رسالت عام ہے۔ لہٰذا ایشیاء اور افریقہ میں بھی اپنی تصویریں بھجوا رہا ہوں تا کہ یہاں کے لوگوں کو بھی معلوم ہو کہ میں کس آن بان اور کس ٹھٹھے اور شان کا نبی ہوں۔ ایک مرتبہ لوگ میری جھلک دیکھ لیں پھر تو ممکن نہیں کہ میرے دلدادہ اور فریفتہ نہ ہو جائیں۔ خواہ وہ کسی ملت اور مذہب و سوسائٹی کے ممبر ہوں۔

خود تصوب عند رویۃ خدھا
آراء من عکفوا علی النیران

”یعنی میں ایسا معشوق ہوں کہ جب میرے بھبوکا سرخ رخسارے دیکھے جاتے ہیں تو ان لوگوں کی عقلیں سلب ہوتی ہیں جو خلوت میں بیٹھ کر آگ کی پرستش کرتے ہیں۔“

مسلمانوں کی عقل تو الو لے اڑے ہیں۔ وہ میری حکمت عملیوں کو بالکل نہیں سمجھتے۔

چونکہ اسلام میں جہاد ہے۔ اس لئے مجھے خوف تھا کہ چند روز میں نہ صرف اسلام بلکہ تمام اہل اسلام دنیا سے یوں ناپید ہو جائیں گے۔ جیسے ہاتھی کے سر سے سینگ اور گدھے کی کمر سے زین۔

پس میں نے اسلام سے جہاد کو حرف غلط کی طرح مٹایا اور جو قومیں مسلمانوں کو جہاد کے اتباع کے باعث نگل جانا چاہتی تھیں۔ ان کا غصہ ٹھنڈا کیا اور اسلام کو جو پھاڑنے والا بھیڑیا تھا۔ بھیڑ بنا دیا۔ بلکہ دودھ دینے والی گائے۔ اگر مسلمانوں کے سروں میں احسان فراموشی کا بھیجا نہ ہوتا تو مجھ پر ایمان تو بھاڑ میں گیا۔ کم از کم میرے شکریہ کا گٹھا تو کاندھے پر رکھتے۔ انہوں نے تو ہر طرح جوا ہی پھینک دیا اور لمبے لمبے سینگوں سے میرا پیٹ پھاڑنے پر تل گئے جو زعفرانی حلوے اور روغن بادام کے دم کئے ہوئے پلاؤ سے ریل گاڑی کے بوائلر کی طرح پھولا ہوا ہے۔ وائے بیدردی اور ہائے ناحق شناسی۔

میں کہہ چکا ہوں کہ تم کو قرآن کا سیاق و سباق سمجھنے کا بھی شعور نہیں۔ ”یاتی من بعدی اسمہ احمد“ میں ”یاتی“ صیغہ مستقبل ہے۔ اگر اس کو بمعنی ماضی لیتا (یعنی جب تو آیا) تو ضرور محمد صاحب مراد ہوتے۔ چونکہ ایسا نہیں ہے۔ پس میں ہی مراد ہوں۔ کیونکہ میں عیسیٰ اور محمد کے بعد زمانہ مستقبل میں آیا ہوں۔ اس کے بعد کی آیت ”فلما جاء ھم بالبینات قالوا ھذا

٢٤١

صفحہ ٢٧٦

سحر مبین “ کو لو لما حرف شرط ہے جو ماضی کو مستقبل بناتا ہے تو یہ معنی ہوئے کہ جب آئے گا مرزا غلام احمد قادیانی اپنی بینات (پھڑکتی ہوئی موت کی پیشین گوئیاں لے کر) تو منکرین کفار کہیں گے کہ یہ تو کھلا جادو ہے۔ دیکھ لو یہ سب باتیں مجھ پر صادق آرہی ہیں۔ کوئی کہتا ہے کہ مرزا رمال ہے کوئی کہتا ہے۔ نجومی ہے کوئی کہتا ہے مداری ہے کوئی کہتا ہے شعبدہ باز مسمریزم والا ہے۔ کیا اب بھی میرے نبی کامل اور مسیح الزمان ہونے میں کچھ شک باقی ہے۔ میں نے اپنے کو تمہاری حالت کے آئینے میں ہو بہو اور عین میں دکھا دیا ہے۔ تمہاری آنکھیں بیل کے دیدے ہوں تو میرا کیا قصور۔

دیکھو میں تمہیں ایک اور نکتہ سمجھاتا ہوں اور نکتہ بھی ایسا لمڈھمیک کہ اگر ہندوستان کے تمام گرانڈیل علماء اور لٹائیل مشائخ ایک دوسرے کے پشتبان بن کر اپنی بودی اور لچر عقل اور ست اور ملیا پھوس سمجھ کا زور لگائیں تو ایسے نکتے کے انڈے بچوں کی جھول ہرگز نہیں نکال سکتے۔ خواہ عیسیٰ ہی ٹکریں کوں کریں۔ عیسیٰ مسیح نے بنی اسرائیل سے مخاطب ہو کر کیوں کہا کہ میرے بعد احمد آئے گا۔ اوّل تو میں لکھ چکا ہوں کہ آیت میں محمد کا لفظ نہیں۔ بلکہ احمد کا لفظ ہے اور وہ میں ہوں۔ دوم محمد صاحب نے عیسیٰ معہود ہونے کا دعویٰ نہیں کیا اور میں نے کیا۔ ایک تو میں احمد ہوں۔ دوم عیسیٰ معہود، اب بھی اگر تم مجھے سچا نہ جانو تو میں یہی کہوں گا کہ تمہارے سر میں گدھے کا دماغ ہے۔ پھر تمہاری عقل کہاں گھن چکر ہو گئی ہے کہ تم تو رات دن محمد محمد کا وظیفہ رٹتے ہو اور خود محمد میرے نام لیوا تھے اور کہتے تھے کہ میرے بعد عیسیٰ آئے گا۔ مہدی آئے گا جو ایسا اور ویسا ہوگا۔ وہ سب علامات اور آیات بینات مجھ میں موجود ہیں۔ میرا چہرہ دیکھو مہرہ دیکھو۔ بشرہ دیکھو۔ خوارق عادات دیکھو۔ ظلیت و بروزیت دیکھو۔ میرا من وسلویٰ، زعفرانی حلوا دیکھو۔ میری سقنقور اور ریگ ماہی ملی ہوئی معجونیں دیکھو جو قوت باہ کی نانیاں اور دادیاں ہیں۔ میرا منارہ آسمانی باپ کا ٹھاکر دوارا دیکھو۔ قادیان آکر چیل چوں کی چہل پہل اور میرے چیلوں کی کود پھاند دیکھو۔ دیکھنے کو تو سبھی کچھ ہے مگر تم کو خدا نے آنکھیں بھی دی ہوں۔ غالب دہلوی کہتا ہے؎

از ذرہ تا بمہر دل و دل ہے آئینہ
طوطی کوشش جہت سے مقابل ہے آئینہ

عیسیٰ مسیح نے بھی یہی کہا کہ احمد آئے گا اور خود محمد صاحب نے بھی یہی کہا کہ مسیح موعود آئے گا۔ تعجب ہے کہ تم دونوں کو نبی برحق مانتے ہو۔ مگر ان کا کہنا نہیں مانتے۔ اگر مجھ پر تمہیں ایمان نہیں تو عیسیٰ مسیح اور محمد پر بھی نہیں۔ اب تمہارا ٹھکانہ دوزخ کے سوا نہیں نظر آتا۔ مگر تم اپنے ہاتھوں ٢٤٢

دوزخ میں جارہے ہو۔ میں تو تم پر وی کا لے پالک ہوں اور تم میرے لے پا بدخواہ کیونکر ہوسکتا ہوں اور یہ جو میں ک اب ان کا بھی بھرم پھونک دیا ہے اور در حقیقت گالی نہیں نکالی ہوتی ہے جو دل ماں باپ بچوں کو بسا اوقات گالیاں او

رہے میرے بعض چیلے چا منہ پھٹ بدزبان نا خلف ابن الفضول ہیں۔ وہ میرا اتباع نہیں کرتے۔ دوم

اگر چہ میں اس کو برا سمجھتا ہ حکم ہے۔ پس نبیوں میں جو حلم و وقار ک

حماقت تو دیکھو کہتے ہیں ک آسکتی ہے کہ ان کے واسطے آسمان می لئے آسمان میں ضرور ہوگا۔ ورنہ غیر مک اڑ کے اس کے منہ میں نہ جائے۔

حالانکہ خود آسمان ہی کا و نیچر اور آسمانی باپ کے آئین وقوانین ملائکہ کی نسبت ہے کہ وہ آسمانوں پر ا

پچھلے دنوں ٹرنسوال میں پڑا پڑا تھا۔ حا گیا۔ کشمیر میں اس کی قبر موجود ہے۔ وقوف عیسائیوں میں کیا فرق رہا۔ وہ ساتھ بیٹھا ہے۔ عیسیٰ مسیح کا تو میرے پسینے چھوٹ جاتے ہیں اور پتنگے لگ

اگر چہ میری صفت بلکہ میرا تمغہ کرشن بھی برٹش جیسی جبار وقہار گورنمنٹ کے سے گھونٹ پی پی کر رہ جاتا ہوں

صفحہ ٢٧٧

دوزخ میں جارہے ہو۔ میں تو تم پر ویسا ہی مہربان ہوں جیسا آسمانی باپ مجھ پر۔ میں آسمانی باپ کا لے پالک ہوں اور تم میرے لے پالک۔ پس تم آسمانی باپ کے پوتے ہوئے۔ بھلا میں تمہارا بدخواہ کیونکر ہو سکتا ہوں اور یہ جو میں کبھی کبھی تمہیں صلوات و مغلظات سناتا ہوں۔ اوّل تو میں نے اب ان کا بھی ڈربا پھونک دیا ہے اور اگر کبھی کبھی کوئی گالی میری زبان سے نکل جاتی ہے تو وہ در حقیقت گالی نہیں ثوابی ہوتی ہے جو دلسوزی کی حالت میں میرے دل سے طبعاً نکل پڑتی ہے۔ کیا ماں باپ بچوں کو بسا اوقات گالیاں اور کوسنے نہیں دیتے۔ لیکن کیا وہ ان کے دشمن ہوتے ہیں۔

رہے میرے بعض چیلے چانٹے جو تم کو اکثر ماں بہن کی دینے لگتے ہیں۔ اوّل تو وہ سخت منہ پھٹ بدزبان ناخلف ابن الفضول بڑے نامعقول اول جلول جھلنگے کی چول گدھے کی جھول ہیں۔ وہ میرا اتباع نہیں کرتے۔ دوم کبھی کبھی وہ ”جزاء سیئۃ سیئۃ“ پر بھی عمل کر بیٹھتے ہیں۔

اگرچہ میں اس کو برا سمجھتا ہوں۔ مگر تم کو برا نہ ماننا چاہئے۔ کیونکہ یہ تمہارے ہی قرآن کا حکم ہے۔ پس نبیوں میں جو حلم و وقار کی صفت ہونی چاہئے وہ سب مجھ میں موجود ہیں۔

حماقت تو دیکھو کہتے ہیں کہ عیسیٰ مسیح آسمان پر براج رہے ہیں۔ بھلا یہ بات عقل میں آسکتی ہے کہ ان کے واسطے آسمان میں باورچی خانہ بنا ہے۔ پھر کوئی پاخانہ بھی رفع حاجت کے لئے آسمان میں ضرور ہوگا۔ ورنہ غیرممکن ہے کہ کوئی شخص انیس سو برس تک زندہ رہے اور دانہ تک اڑ کے اس کے منہ میں نہ جائے۔

حالانکہ خود آسمان ہی کا وجود نہیں۔ یہ تو محض خطائے نظر ہے۔ یہ باتیں بالکل خلاف نیچر اور آسمانی باپ کے آئین وقوانین کے سراسر خلاف ہیں۔ ایسا ہی تمہارا لغو اور بے سروپا عقیدہ ملائکہ کی نسبت ہے کہ وہ آسمانوں پر اس طرح پٹے پڑے ہیں۔ جیسے انگریزی فوجوں کا ٹڈی دل پچھلے دنوں ٹرنسوال میں پٹا پڑا تھا۔ حالانکہ مراد ستارے اور ان کی قوتیں ہیں۔ عیسیٰ مسیح مرگیا۔ گل گیا۔ کشمیر میں اس کی قبر موجود ہے۔ مگر تم کہتے ہو کہ فلک چہارم پر بیٹھا ہوا ہے۔ بھلا تم میں اور بے وقوف عیسائیوں میں کیا فرق رہا۔ وہ بھی یہی کہتے ہیں کہ بیٹا (یسوع مسیح) خدا (باپ) کے داہنے ہاتھ بیٹھا ہے۔ عیسیٰ مسیح کا تو میرے سامنے نام بھی نہ لو۔ میرے تن بدن میں مرچیں بھر جاتی ہیں۔ پسینے چھوٹ جاتے ہیں اور پتنگے لگ جاتے ہیں۔ مجھے ایک ایک عیسائی سور کی شکل نظر آتا ہے۔ اگرچہ میری صفت بلکہ میرا طغمہ کسر صلیب اور قتل خنازیر ہے۔ مگر چونکہ نہ فقط میں بلکہ آسمانی باپ بھی برٹش جیسی جبار و قہار گورنمنٹ کے جبروت سے دونوں بید کی طرح لرزتے ہیں۔ لہٰذا خون کے سے گھونٹ پی پی کر رہ جاتا ہوں۔ ورنہ تمام عیسائیوں کا جو کچھ حشر ہوتا دنیا دیکھتی اور اب تو

٢٣٣

صفحہ ٢٧٨

مسلمان اور عیسائی دونوں ہی میری نبوت اور مسیحیت اور مہدویت کے یکساں منکر ہیں۔ لہذا میں دونوں کو سگان زرد برادران شغال سمجھتا ہوں۔ کیونکہ دونوں عیسیٰ کو برحق مانتے ہیں۔ دونوں ایک ہی تھیلی کے چٹے بٹے ہیں۔ ذرا دیکھتے جاؤ کیا ہوتا ہے۔ کبھی کے دن بڑے کبھی راتیں۔ ابھی میرے پنجے دنیا کی زمین پر اچھی طرح نہیں گڑے۔ ہاں! میری امت اور اولاد دن دونی رات چوگنی کسی حریص کی توند کی طرح بڑھ رہی ہے اور پھل پھول رہی ہے۔ انڈے بچے دے رہی ہے۔ مجھے امید ہے کہ چند روز میں اپنا کرشمہ دکھاسکوں گا اور اپنا اور آسمانی باپ کا عندیہ پورا کرسکوں گا۔ سردست تو میرے ہاتھ بندھے ہیں۔ مشکیں کسی ہیں۔ پاؤں کاٹھ میں ٹھکے ہیں۔ نہ جائے رفتن نہ پائے ماندن۔ تمہارا یہ عقیدہ بھی کتنا خام ہے کہ پیغمبر عرب کو ان معنی میں خاتم النبیین سمجھتے ہو کہ اس پر نبوت ختم ہوگئی ہے۔ بھلا نبوت بھی ایسی شے ہے جو افراد انسانی میں سے کسی فرد پر ختم ہوجائے۔ پیغمبر عرب میں کیا ترجیح تھی کہ برخلاف ایک لاکھ کئی ہزار انبیاء کے انہیں پر نبوت ختم ہوئی۔ خود پیغمبر صاحب فرما گئے ہیں ۔ ”لا تخیروا فی انبیاء الله“ جب یہ صورت ہے تو ان پر نبوت کیونکر ختم ہوئی۔ اس صورت میں تو وہ تمام انبیاء سے افضل ٹھہرتے ہیں اور یہ قول حدیث مندرجہ بالا پر نظر کر کے بالکل مالا یرضی بہ القائل ہے اور قرآن کے بھی خلاف ہے جس میں ”لا نفرق بین احد من رسله“ وارد ہے۔ پس نبی نبی سب ایک ہیں۔ میں ہوں یا دوسرے انبیاء ہوں اور اگر ختم نبوت میں ایسا ہی سرخاب کا پر ہے تو مجھ سے بڑھ کر کوئی اس کا مستحق نہیں۔ کیونکہ میں سب انبیاء کے بعد اور پیغمبر عرب سے بھی تیرہ سو برس کے بعد نازل ہوا ہوں۔ مگر تم یہ بات خوب یاد رکھو کہ سب سے اخیر میں ہونا یا یوں کہو کہ خاتم الانبیاء بن کر سب سے پھسڈی رہجانا فضیلت اور بزرگی میں داخل نہیں۔

بات یہ ہے کہ تم خاتم النبیین کے معنی ہی نہیں سمجھے۔ خاتم بمعنی مہر ہے اور مہر کسی شخص کی علامت ہوتی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ پیغمبر عرب میں بھی وہی نبوت کی علامت اور صفت موجود تھی جو انبیاء سابقین میں تھی۔ نہ کہ یہ معنی کہ ان کے بعد کوئی نبی پیدا نہ ہوگا۔

بالفرض پیغمبر عرب خاتم ہی سہی۔ مگر وہ انبیاء کے خاتم ہیں نہ کہ رسولوں کے۔ میں تو رسول ہوں نہ کہ محض نبی اور پیغمبر عرب نے بھی لا نبی بعدی فرمایا ہے نہ کہ لا رسول بعدی اور چونکہ رسالت میں نبوت بھی داخل ہے۔ نہ کہ علی العکس تو یہ بلی کے بھاگوں چھینکا ٹوٹ پڑا کہ میں رسول بھی ہوگیا اور نبی بھی۔ مجھے حاملہ رسالت ملی جس کے پیٹ سے نبوت کا بچہ کھٹ سے نکل پڑا۔ مولیٰ دے اور بندہ لے۔ چھپر پھاڑ کر ملنا اسی کو کہتے ہیں۔

٢٤٤

صفحہ ٢٧٩

سنو سنو ! پیغمبر عرب نے فرمایا ہے کہ قرب قیامت میں عیسیٰ اور مہدی پیدا ہوں گے۔ اب قرب قیامت ہے۔ میں عیسیٰ موجود ہوں اور مہدی مسعود بھی اور میرے بعد قیامت ہوگی اور دنیا کے خاتمہ کے ساتھ نبوت کا بھی خاتمہ ہو جائے گا۔ اب تمہیں انصاف سے کہو کہ نبوت مجھ پر ختم ہوئی یا کسی اور پر۔

اور حماقت سنو ! تم کہتے ہو کہ مہدی آخرالزمان آئے گا اور وہ نبی بھی ہوگا۔ بھلا یہ تو بتاؤ کہ وہ نئی شریعت کا پوٹلہ بغل میں دبا کر آئے گا یا اسی پرانی کرم خوردہ دقیانوسی اسلامی شریعت کی بنا یا پک ڈنڈی پر چلے گا۔ اگر نئی شریعت کا گٹھا سر پر رکھ کر آئے گا تو پیغمبر عرب کی ختم نبوت غارت غول ہوئی اور اسی پرانی شریعت پر چلے گا تو سلمنا اور میں یہ بیان کر چکا ہوں کہ نبوت ختم نہیں ہوئی۔ اسی اسلامی میں قیامت تک بیشمار نبی پیدا ہوتے رہے ہیں اور ہوں گے۔ بس میں بھی نبی ہوں۔ نبی کیا معنی وہی مہدی ہوں۔ تمام اولیاء مثلاً پیران پیر اور بایزید بسطامی اور جنید بغدادی وغیر ہم درحقیقت نبی تھے۔ تم یہ کہو گے کہ انہوں نے نبوت کا دعویٰ کیوں نہیں کیا۔ میں کہوں گا کہ یہ ان کا کسر نفس تھا۔ دوم ممکن ہے کہ ان پر اظہار نبوت کا الہام نہ ہو۔ مگر میں مجبور ہوں۔ مجھ پر الہام ہو چکا ہے کہ تو مثیل مسیح ہے۔ مہدی موعود ہے۔ رسول ہے۔ اگر میں ڈنکے کی چوٹ نہ کہ قادیان کی اوٹ ایسا اظہار نہ کرتا تو آسمانی ہائیکورٹ میں دھرا جاتا اور یسوع مسیح تو چند ساعت دوزخ میں رہا۔ مجھے ہمیشہ رہنا پڑا۔ تمہارا کیا ہے تم نے تو ہنڈا سا منہ کھول دیا۔ مصیبت تو میری ننھی سی جان پر پڑی۔

سنو سنو ! غیر ممکن ہے کہ ایک نبی یا رسول ساری خدائی کے لئے ہو اور وہ بھی قیامت تک زمانہ طرح طرح کے رنگ بدلتا رہتا ہے۔ ہر خطہ اور ہر زمین کی آب و ہوا، پھول پھل ، اناج ترکاری اور خود انسانوں کی طبائع جدی جدی ہیں۔ پس ساری خدائی کو ایک شخص کا تابع کر دینا بڑا بھاری ظلم اور خلاف نیچر ہے۔ پھر تمام انبیاء مر گئے ، گل گئے ۔ تم انہیں کی لکیر کے فقیر ہو۔ اگر وہ نبی تھے بھی تو اس زمانہ کے جس میں وہ مبعوث ہوئے تھے جو وحشت و جاہلیت کا زمانہ تھا۔ اب تو تہذیب کا زمانہ ہے۔ مردوں کے آگے گردن تسلیم خم کرنے کے دن لد گئے ۔ نہ خلیل خان رہے نہ فاختہ۔ پس مردوں کا پیچھا چھوڑو۔ میں زندہ نبی، زندہ مسیح ، زندہ مہدی ہوں۔ مجھ سے بیعت کرو اور گلے میں ڈھول ڈال کر میری رسالت و مہدویت کی ڈونڈی پیٹو کہ ملک آسمانی باپ کا اور حکم امام الزمان، مہدی دوراں، مسیح زمین و آسمان منزل فی قادیان، حضرت اقدس مرزا غلام احمد قدس اللہ سرہ العزیز کا، ڈھم، ڈھم، ڈھم۔

٢٤٥

صفحہ ٢٨٠

سنوسنو! نبی ہو یا غیر نبی سب انسان ہیں اور انسانی طاقت محدود ہے۔ برخلاف اس کے زمانہ تسلسل الی غیر النہایہ سیال ہے۔ جو دنیا کی ساری چیزوں کا ظرف ہے۔ بھلا کیونکر ممکن ہے کہ ایک ناتواں ضعیف البنیان ہستی غیر محدود اور غیر متناہی امور کی اصلاح کا ٹھیکہ لے سکے جب کہ وہ خود فانی ہے۔

مسلمانوں میں وہابیوں کا ایک گروہ ہے جو پیروں کے ماننے اور ان کو نذر نیاز چڑھانے کا سخت مخالف ہے۔ مگر مردہ انبیاء کو وہ بھی مانتا ہے۔ بلکہ بعض کا کلمہ پڑھتا ہے۔ بھلا غور کرنے کی بات ہے کہ مردے مردے سب یکساں ہیں۔ ولی ہوں یا نبی، غوث ہو یا قطب، وہابیوں کی بھی وہی مثال ہے کہ گڑ کھائیں گلگلوں سے پرہیز۔

میں پھر یہی کہتا ہوں کہ تم زندہ نبی کو مانو۔ میں زندہ ہوں۔ اوّل تو میں مروں گا نہیں اور مروں گا بھی تو قیامت آئے گی۔ جب کہ نبوت ورسالت کا کھڑاک ہی کافور ہو جائے گا اور اگر میں ابھی ابھی دس پانچ برس میں ٹین ہو گیا تو کون ایسا تیسا کہتا ہے کہ تم مجھے زندہ سمجھو اور میرے مقدر کی پرستش کرو۔ ہاں! میں اپنا قائم مقام اور اپنی بڑی یادگار منارۃ المسیح چھوڑے جاتا ہوں اور اس کی حفاظت تمہارا فرض ہے۔ جیسے صلیب کی حفاظت عیسائیوں کا فرض ہے۔ اس کے سوا میری نسبت کوئی کیسی ہی بے پر کی اڑائے مگر تم اپنے پروں پر پانی نہ پڑنے دینا۔ ایڈیٹر! (باقی آئندہ)

...... بقیہ خواب

طرفہ یہ کہ خواب دیکھنے والا اوّل درجہ کا بلانوش شرابی تھا جو برانڈی کے خم کے خم ڈکار جائے اور پانی نہ مانگے۔ اس نے کہا کہ مرزا قادیانی نے اسی حالت میں جب کہ میں چڑ عنقو ہو رہا تھا۔ مجھ سے توبہ کرائی۔ مگر باوجود توبہ کے میں نے منصوری سے کپور تھلہ میں آ کر خوب غٹاغٹ اور سٹاسٹ شراب اڑائی۔ ایک قصہ تو یہ ہوا جس کو آپ مرزا قادیانی کے اخبار الحکم میں پڑھ لیں گے۔ لیکن بندہ نے ٢١ یا ٢٢ رمضان کی شب کو ایک خواب دیکھا کہ مرزا قادیانی اور ان کا گروہ غارت ہو گیا ہے۔ میں نے وہ خواب منشی عبدالاحد صاحب کو رؤیا صالحہ کر کے لکھوا دیا اور اس پر دو چار معززین کی شہادتیں بھی کرا دیں۔ لیکن کسی اخبار میں اس لئے نہ بھیجا کہ اس رؤیا صالحہ کا ظہور ہو جائے تو مشتہر کیا جائے اور نیز دو چار مرزائی میرے دوست بھی ہیں۔ اگرچہ دین کے معاملے میں دوستی کا تعلق نہیں۔ میں نے حضرت جبرائیل علیہ السلام کو خواب میں دیکھا کہ انہوں نے اس فرقہ کو جلا کر خاک سیاہ کر دیا ہے اور پھر دریا میں بہا دیا ہے اور ایک ایک بچھیا کے باوا کو مثل گوسالہ سامری نیست و نابود کر دیا ہے۔ میری آنکھ کھلی تو یہ آیہ میری زبان پر تھی۔ ”انما الھکم اللہ

٢٤٦

الذی لا الہ الا ھو“ اور یہ عجیب بات متصل درگاہ حضرت مخدوم شیخ جلال الدین صاحب کے اس فرقے کو غارت ہوتے دیکھ

بسم اللہ

تعارف مضامین

٢٤؍اگست ١٩٠٢ء

اسی ترتیب سے پیش خدمت ہیں

١...... بقیہ مرزا غلام احمد قاد حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے ا آدمیوں کے ساتھ مکہ سے ہجرت کر کے ش کفار قریش نے اپنے ڈیلی گیٹ ان کے پی لونڈیاں غلام بھاگ کر آپ کی دولت میں کرو۔ شاہ حبش نے حضرت جعفر کو بلا کر حاضرین کو دنگ کر دیا۔

”ایھا الملک کنا قوماً وناتی الفواحش ونسی الجوار ویا الینا رسولاً منا نعرف نسبہ وصد ونخلع ماکنا نعبد نحن و آباء نا من وحدہ ولا نشرک بہ شیئا وامرن

صفحہ ٢٨١

الذی لا اله الا هو “ اور یہ عجیب بات ہے کہ میں کپور تھلہ میں تھا اور بحالت خواب اپنے کو متصل درگاہ حضرت مخدوم شیخ جلال الدین کبیر الاولیاء قدس اللہ سرہ العزیز اور قاضی ثناء اللہ صاحبؒ کے اس قصبے کو غارت ہوتے دیکھا۔ راقم: سچا خواب دیکھنے والا !

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

تعارف مضامین ...... ضمیمہ شحنہ ہند میرٹھ

٢٤ اگست ١٩٠٢ء کے شمارہ نمبر ٣٢ کے مضامین

اسی ترتیب سے پیش خدمت ہیں۔

١...... بقیہ مرزا غلام احمد قادیانی کے اقوال وافعال میں تخالف

حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے بھائی حضرت جعفرؓ حسب الحکم رسول خدا ﷺ ایک سو آدمیوں کے ساتھ مکہ سے ہجرت کر کے شاہ حبش کے پاس جو عیسوی مذہب تھا پناہ گزین ہوئے۔ کفار قریش نے اپنے ڈیلی گیٹ ان کے پیچھے شاہ حبش کے پاس بھیج کر لکھا کہ یہ جماعت ہمارے لونڈیاں غلام بھاگ کر آپ کی دولت میں پناہ گزین ہوئے ہیں۔ ان کو ہمارے گروہ کے حوالہ کرو۔ شاہ حبش نے حضرت جعفرؓ کو بلا کر دریافت کیا۔ حضرت نے بزبانِ فصیح یہ خطبہ پڑھ کر حاضرین کو دنگ کر دیا۔

”ایھا الملک کنا قوماً اھل جاھلیة نعبد الاصنام وناکل المیتة وناتی الفواحش ونسی الجوار ویأکل القوی ضعیفنا فکنا علی ذلک حتی بعث الینا رسولاً منا نعرف نسبه وصدقه وامانه وعفافه فدعی الی اللّٰه لنوحده نعبده ونخلع ما کنا نعبد نحن وآباءنا من دونه من الحجارة والاوثان وامرنا ان نعبد اللّٰه وحده ولا نشرک به شیئا وامرنا بالصلوٰة والزکوٰة والصیام (فعدد علیه امور

٢٤٧

صفحہ ٢٨٣

الاسلام ثم قال) وامرنا بصدق الحديث واداء الامانت وصلة الرحم وحسن الجوار والكف عن المحارم والدماء ونهانا عن الفواحش وقول الزور واكل مال اليتيم وقذف المحصنات فصدقناه واتبعناه على ماجاء به من الله تعالىٰ فعبدنا الله تعالىٰ وحده ولا نشرك به وحرمنا ما حرم الله علينا واحللنا ماحل لنا فعدىٰ علينا قومنا فعذبونا وفتنونا عن ديننا ليردونا على عبادة الاوثان من عبادة الله تعالىٰ وان نستحل ما كنا نستحل من الخبائث كما قهرونا وظلمونا وضيقوا علينا وحالوا بيننا وبين ديننا وخرجنا الىٰ بلادك واخترناك على سواك ورغبنا في جوارك ورجونا ان لا نظلم عندك يا ايها الملك“

ترجمہ ...... ”حضرت جعفرؓ نے فرمایا کہ اے بادشاہ ہم جاہل قوم تھے۔ بتوں کو پوجتے تھے۔ مردار گوشت کھاتے تھے۔ بدکاریاں کرتے تھے۔ ہمسایوں سے بد بدی پیش آتے تھے۔ زبردست کمزور کا مال کھا جاتے تھے اور ایک مدت سے ہماری یہی حالت چلی آتی تھی۔ یہاں تک کہ خدا نے ہمارے ہی میں سے ایک پیغمبر بھیجا جس کی شرافت نسب، راست بازی، ایمانداری اور پاک دامنی سے ہم خوب واقف تھے۔ پس اس نے ہم کو خدا کی طرف بلایا کہ ہم صرف اسی کے خدا کو جانیں اور اسی کی عبادت کریں اور ان بتوں اور پتھروں کی عبادت کو چھوڑ دیں جن کو ہم اور ہمارے باپ دادے پوجتے تھے اور حکم دیا کہ ہم صرف خدا ہی کی عبادت کریں اور کسی چیز کو ذات وصفات اور استحقاق عبادت میں اس کے ساتھ شریک نہ کریں اور ہم کو پانچوں وقت نماز پڑھنے اور سال بھر بعد بقیہ مال کا چالیسواں حصہ صدقہ دینے اور ماہ رمضان میں بیماری اور سفر کے سواء روزہ رکھنے کا حکم دیا۔ (پھر ایک ایک کر کے تمام احکام اسلام اس کے سامنے بیان کئے اور پھر کہا) اس پیغمبر نے ہم کو سچ بولنے اور امانت کو اس کے مالک کے پاس پہنچا دینے اور قرابت داروں سے رعایت ومروت کرنے اور ہمسائیوں کے ساتھ نیکی سے پیش آنے اور برائی اور حرام کاموں اور خون خرابیوں سے بچنے کا حکم دیا اور بدکاریوں اور جھوٹی گواہی دینے اور یتیموں کا مال کھانے اور پاک دامن عورتوں پر تہمت لگانے سے منع کیا۔ پس ہم نے اس کو پہچانا اور جو احکام خدا کی طرف سے اس نے پہنچائے ان سب کی پیروی اختیار کی۔ پس ہم صرف ایک ہی خدا کی عبادت کرتے ہیں اور کسی چیز کو کسی بات میں بھی اس کے شریک نہیں کرتے اور جو چیز خدا نے ہم پر حرام کردی ہے۔ اس کو حرام اور جو چیز حلال کردی ہے۔ اس کو حلال جانتے ہیں۔ پس اس بات پر ہماری قوم ہماری دشمن بن گئی ہے اور طرح طرح کے دکھ دیئے اور ہم کو ہمارے دین سے پھرانا چاہا کہ خدا کو چھوڑ کر

٢٤٨

پھر بت پوجنے لگیں اور جن بری باتوں اور چیزوں پس جب کہ انہوں نے ہم کو نہایت عاجز کر دیا اور اور ہمارے دین سے ہمیں پھرانا چاہا اور ہمارے بادشاہوں کی نسبت اچھا جان کر تیرے ملک میں شخص ہم پر ظلم نہ کر سکے گا۔ تیری پناہ اختیار کی ۔“ کی سچی عظمت دلوں میں بھر جاتی ہے اور اس کی حق دل پر جم جاتا ہے۔

اب مرزا قادیانی ہی سچ کہہ دیں کہ ام قیصرہ ہند ارسال کئے تھے۔ کون سی عظمت وشان تو یہی لکھا ہے کہ اے قیصرہ ایک مہدی آیا ہے ج کی ہیں وہ خونی مہدی نہیں۔ وہ سچا خیر خواہ سرکا ہے۔ اے قیصرہ تم نے ایسے عجیب وغریب مہدی کے اپنے مخلص مہدی کو محروم رکھا۔ شاید وہ ایک ہوگا۔ اس لئے اب ستارہ قیصرہ بھیجا جاتا ہے۔ ام

(تحفہ قیصریہ ص ١٢، ١٣، خزائن ج

سبحان تیری قدرت۔ کیا خوب نبوت شان ظاہر ہو رہی ہے۔ آپ کو پیروی اور اتباع

١٩٠١ء، مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٤٣١ تا ٤٣٤ ملخص )

حلل الانبیاء“ ہیں اور اپنے مریدوں کی غلطی کا ا سمجھتے تھے اور اب رسول بنالیا۔ اب اختلاف و ہو گیا یا کوئی کسر باقی رہ گئی۔ مرزا قادیانی ہی خدا کے کوئی وقعت ہے اور آپ واقعی ان کے قدم کوئی اس قسم کی پولیٹکل چال چلی تھی۔ کیا یہ آنحضو ہیں۔ بندہ پرور حضور انور بنی ہاشمی روحی فداہ نے احسن ملک گفت زہ، اور کفار دل و جان سے قائل آنر یبل سرسید کو طرح طرح سے

صفحہ ٢٨٣

پھر بت پوجنے لگیں اور جن بری باتوں اور چیزوں کو ہم پہلے جائز سمجھتے تھے۔ ان کو جائز جانیں۔ پس جب کہ انہوں نے ہم کو نہایت عاجز کر دیا اور طرح طرح کے ظلم کئے اور نہایت تنگ اور دق کیا اور ہمارے دین سے ہمیں پھرانا چاہا اور ہمارے مزاحم ہوئے تو ہم اپنا وطن چھوڑ کر اور تجھ کو دیگر بادشاہوں کی نسبت اچھا جان کر تیرے ملک میں چلے آئے اور یہ امید کر کے کہ تیرے ہوتے کوئی شخص ہم پر ظلم نہ کر سکے گا۔ تیری پناہ اختیار کی۔“ یہ ہے اسلام کا صحیح فوٹو جس کے دیکھنے سے اسلام کی سچی عظمت دلوں میں بھر جاتی ہے اور اس کی حقیقی صداقت اور حقیقت کا ایک گہرا اور پائیدار نقش دل پر جم جاتا ہے۔

اب مرزا قادیانی ہی سچ کہہ دیں کہ اپنے ستارہ قیصرہ و تحفہ قیصرہ میں جو بحضور علیا جناب قیصرہ ہند ارسال کئے تھے۔ کون سی عظمت و شان شوکت اسلام کی بیان فرمائی ہے۔ اگر کچھ لکھا ہے تو یہی لکھا ہے کہ اے قیصرہ ایک مہدی آیا ہے جس کے بزرگوں نے سرکار کی فلاں فلاں خدمات کی ہیں وہ خونی مہدی نہیں۔ وہ سچا خیر خواہ سرکار ہے اور اس مہدی کے آنے کی سخت ضرورت ہے۔ اے قیصرہ تم نے ایسے عجیب و غریب مہدی کی کوئی قدر نہ کی اور باوجود اس قدر وسیع اخلاق کے اپنے مخلص مہدی کو محروم رکھا۔ شاید وہ ایک رسالہ حضور میں نہیں پہنچا اور کہیں پس و پیش ہو گیا ہوگا۔ اس لئے اب ستارہ قیصرہ بھیجا جاتا ہے۔ امید ہے کہ جواب سے افتخار بخشا جاوے گا۔

(تحفہ قیصریہ ص١٢، ١٣ خزائن ج١٢ ص٢٦٢، ٢٦٥، ستارہ قیصرہ ص٢، خزائن ج١٥ ص١١٢)

سبحان تیری قدرت۔ کیا خوب نبوت اس تحریر سے ٹپک رہی ہے اور بروزی رسالت کی شان ظاہر ہو رہی ہے۔ آپ کو پیروی اور اتباع کی کیا ضرورت آپ تو حسب (اشتہار مورخہ ٥؍ نومبر ١٩٠١ء، مجموعہ اشتہارات ج٣ ص٤٣١ تا ٤٣٣ ملخص) خود محمد رسول اللہ اور خاتم النبیین اور ”جری اللہ فی حلل الانبیاء“ ہیں اور اپنے مریدوں کی غلطی کا ازالہ کر رہے ہیں کہ وہ آپ کو پہلے صرف ایک مجدد سمجھتے تھے اور اب رسول بنا لیا۔ اب اختلاف درمیان قول و فعل مرزا قادیانی کے ناظرین پر ظاہر ہو گیا یا کوئی کسر باقی رہ گئی۔ مرزا قادیانی ہی خدا لگتی کہہ دیں کہ کیا آپ کے دل میں پیغمبر خدا ﷺ کے کوئی وقعت ہے اور آپ واقعی ان کے قدم بقدم چلتے ہیں۔ کیا سرور کائنات ﷺ نے بھی کبھی کوئی اس قسم کی پولیٹکل چال چلی تھی۔ کیا یہ آنحضرت ﷺ کی پالیسی تھی جس کی آپ تقلید کر رہے ہیں۔ بندہ پرور حضور انور نبی ہاشمی روحی فداہ نے تو کافروں پر بھی وہ احسانات کئے کہ فلک گفت احسن ملک گفت زہ، اور کفار دل و جان سے قائل ہو گئے کہ بیشک یہ رحمۃ للعالمین ہیں۔

آنریبل سرسید کو طرح طرح سے برا بھلا کہا گیا۔ گالیاں دی گئیں۔ مغلظات کے

٢٤٩

صفحہ ٢٨٤

ملفوف خطوط بھیجے گئے۔ کفر کے فتوے اس پر بزور چپکائے گئے۔ غرضیکہ سب قسم کی اذیتیں اس کے حق میں روا رکھی گئیں۔ مگر اس پیر جواں ہمت نے اپنے نانا کی سنت کو تازہ کر کے اف تک نہ کی اور سوائے دعائے خیر و مرحبا کچھ نہ کہا۔ جب یہ تقاضائے بشریت بہت تنگ آگیا تو اس قدر کہہ کر خاموش ہو گیا جیتے جی میری قدر تم نہیں کرتے۔

یاد آوے گی تمہیں میری وفا میرے بعد

چنانچہ اب ان کی دائمی مفارقت آٹھ آٹھ آنسو رلاتی ہے۔ اگر وہ چاہتے تو لاکھوں روپیہ کی جائیدادیں حاصل کر سکتے تھے۔ اگر مدعی نبوت ہوتے تو میں سچ کہتا ہوں کہ تعلیم یافتہ سوسائٹی تو بے چون و چرا قبل از قائم کرنے امور تنقیح کے اقبال دعویٰ داخل کرتے اور بہت خوشی سے اس کو مثیل یا بروزی وغیرہ طور پر ماننے کو تیار ہو جاتے۔ مگر وہ سچا اور حقیقی مسلمان بخوبی جان چکا تھا اور اس کا ایمان تھا کہ نبی ہاشمی ﷺ کا یہ قول بالکل حق اور راست ہے۔ ”لو كان بعدی نبياً لكان عمر“ قرآن کے جو معارف وہ مرحوم بیان کر گیا ہے اگر سو سال مرزا قادیانی کا مشن ان تھک کوششیں رات دن کرتا رہے تو عشر عشیر بھی بیان نہ کر سکے جن لاف زاف پر مغربی فلاسفروں کی قلمیں توڑ دیں۔ مخالفین اسلام کے صدہا قسم کے اعتراض رد کر کے اسلام کی موہنی تصویر کو ایک محبوب دلہن کی طرح مرغوب خاص و عام کر دیا۔

سبحان اللہ ! مرزا قادیانی کے معارف قرآنی کیا کیا مضحکہ خیز ہیں۔ ناظرین کی خدمت میں دانہ از خروار یہ عرض کرتا ہوں ۔ ”و اذ الجبال سیرت “ معارف مرزائی، پہاڑ اڑائے جا کر عمارت بنائی جاتی ہے۔ یعنی مہدی آخر الزمان (مرزا قادیانی) کے ظہور کی علامت یہ ہوگی کہ اس زمانہ میں پہاڑ اڑائے جاویں گے اور عمارات بنائی جاویں گی۔ اب چونکہ پہاڑ اڑائے جاتے ہیں اور پتھر عمارات کے کام میں آتے ہیں۔ اس سے ثابت ہے کہ زمین گول ہے۔ اب وہ وقت ہے کہ مہدی آخر زمان (مرزا قادیانی) پیدا ہوا۔ کیا خوب معارف ہیں؟ غور کا مقام ہے کہ مرزا قادیانی نے ایک ایسی جدید اور نئی تصویر مہدی آخر زمان کی بیان فرمائی کہ محمد علی بابی کی بوسیدہ لاش بھی قبر میں پھڑک گئی اور حسن بن صباح اور مسیلمہ کذاب کی قبر سے صدائے مرحبا نکلی۔ کیونکہ دنیا میں ابتدائے آفرینش سے الیٰ زمان مسعود مرزا قادیانی نہ کبھی پہاڑ اڑائے گئے نہ پتھر نکال کر عمارات بنائی گئیں اور نہ کسی کو اس طرف خیال ہوا۔ اب جو مرزا قادیانی کا ظہور ہوا تو یہ باتیں ہونے لگیں اور قیامت کے آثار کی دلیل خود مرزا قادیانی نے پبلک کو بتائی۔ جناب نے کبھی تواریخ کے اوراق کو الٹا ہے۔ اہرام مصری کی تاریخ پڑھی ہے وہ اہرام کس نے بنائے تھے اور کس

٢٥٠

صفحہ ٢٨٥

چیز کے بنے تھے اور کتنے عرصے میں بنے تھے اور وہ پتھر جو ان میں صرف ہوئے وہ پہاڑوں ہی سے لائے گئے تھے یا خشت سازوں نے بنائے تھے۔ افسوس خود غرضی انسان کو اندھا کر دیتی ہے۔ یہ اہرام مصر کے ہر حصے میں اس قدر کثرت کے ساتھ تھے کہ ان کی صحیح تعداد بتانا تقریباً غیر ممکن ہے۔ ان اہراموں کو بنے ہوئے بارہ ہزار برس سے زیادہ عرصہ ہوا ہے جس پر تحریر کیا گیا کہ ”بنینا ھذہ الاھرام فی ستین سنة فلیھدمھا من یرید ذلک فی ستماة سنة فان الھدم ایسر من البناء“ یعنی ہم نے تو اس اہرام کو ساٹھ برس میں بنایا ہے۔ مگر جو اس کے ڈھانے کا ارادہ رکھتا ہے وہ پہلے اس کو چھ سو برس میں تو ڈھائے۔ حالانکہ بنی ہوئی عمارت کو کھود ڈالنا اس کے بنانے سے سہل تر ہے۔ ”اذا العشار عطلت“ معارف مرزا کی ریل کے جاری ہونے سے اونٹ بیکار ہو گئے۔ ”تبارک اللہ“ کیا عجیب معارف ہیں۔ یعنی قیامت کے علامات سے جب کہ مہدی آخر الزمان (مرزا قادیانی) پیدا ہوں گے اور ان کا ظہور ہو گا ایک علامت یہ ہوگی کہ ریل کے جاری ہونے سے اونٹ بیکار ہو جاویں گے۔ یہ بڑی بین دلیل ظہور مہدی کی ہے کہ اونٹ بیکار ہو گئے ہیں۔ کیونکہ باوجود ریل کے جاری ہونے کے اب اونٹ اس قدر کارآمد ہیں کہ دس پندرہ سال آج سے پہلے جس اونٹ کی قیمت ٦٠ روپیہ تھی آج کل وہ ڈیڑھ سو روپیہ میں بھی دستیاب نہیں ہوتا۔ یہ کیوں؟ اس لئے کہ صرف پنجاب میں نو کورس اونٹوں کے قائم ہوئے۔ یعنی ٩ رسالے اونٹوں کے کھڑے کئے گئے ہیں۔ فی رسالہ یا کور میں ١٠٩٠ اونٹ ہوتے ہیں۔ مقامات ذیل میں وہ کور موجود ہیں۔ دہلی، میانمیر، رڑکی، جہلم، راولپنڈی، نوشہرہ۔ تین دیگر مقامات پنجاب میں تو جملہ ٩٨١٠ اونٹ اس وقت برسر کار ہیں اور ہر ایک رسالہ میں لوگوں کو قرضہ دیا جا رہا ہے کہ اونٹ خریدو اور بھرتی کرو۔

یہ معارف کیا گورنمنٹ سے زیادہ وقعت رکھتے ہیں کیا ”اذا العشار عطلت“ کے معارف اس پر صادق آتے ہیں۔ ہرگز نہیں۔ شاید مرزا قادیانی کے معارف پبلک سمجھتی نہیں۔ شاید مرزا قادیانی نے یہ فرمایا ہو کہ باوجود ریل کے جاری ہونے کے اونٹ بیکار اور کمیاب ہو جاویں گے اور ڈھونڈے نہ ملیں گے۔

”اذا الصحف نشرت“ ایک علامت قیامت کی یہ ہے کہ اخبارات اور رسالے مطبعوں سے نکل کر لوگوں کو ملتے ہیں اور ایسے وقت میں مہدی (مرزا قادیانی) کا ظہور ہوگا بہت معقول یہ بھی نئی بات ہے۔ مطابع اب مرزا قادیانی ہی کے زمانہ میں ایجاد ہوئے۔ پہلے تو صفحہ ہستی پر تھے ہی نہیں۔ صرف سال ١٨٥٧ء میں پہلا چھاپہ خانہ انڈیا میں بمقام گوا قائم ہوا جب کہ مرزا

٢٥١

صفحہ ٢٨٦

کی عمر ١٢ برس کی ہوگی اور یورپ، امریکہ، افریقہ میں مطامع کا وجود اپنی جماعت کے بی.اے، ایم.اے صاحبان سے پوچھ لیں۔ ”اذا البحار فجرت“ قیامت کی اور ظہور مہدی (مرزا قادیانی) کی ایک نشانی یہ ہوگی کہ دریاؤں سے نہریں کاٹ کر آبپاشی کے واسطے لائی جاویں گی۔ حقیقت میں یہ بات تو بالکل نئی ہے۔ دنیا میں حال کے سوا کبھی نہریں نہیں نکلیں اور نہ کسی نے نکالیں؟

”سبحان الذی اسریٰ بعبدہ لیلاً“ معارف، مسجد اقصیٰ سے مسجد قادیان مراد ہے اور بیت المقدس سے موضع قادیان جناب کجا قادیان کودیان اور کجا مسجد اقصیٰ اور کجا بیت المقدس۔

چہ نسبت خاک را با عالم پاک

آپ کے دل میں یہی عظمت اسلامی ہے اور اسی پر دعوائے نبوت ہے؟ ”اذا لشمس کورت“ قیامت کی ایک یہ نشانی ہے کہ مہدی (مرزا قادیانی) کے ظہور کی ضرورت ہے۔ کیونکہ جہالت چھا گئی ہے۔

جناب من اور تو کوئی جہالت نہیں چھائی بفضل خدا ہر طرح سے آفتاب علم چمک رہا ہے۔ ہاں! اگر جہالت چھائی ہے تو اس واسطے کہ ایسے کورانہ معارف بیان ہوتے ہیں۔ چور کی داڑھی میں تنکا۔ ہاں! مسلمانوں پر ظلمت کیوں نہ چھائے۔ جب کہ قرآن مجید کی یہ قدر کی جاتی ہے اور ایسے معارف بیان کئے جاتے ہیں۔ راقم! مرزائیوں کا خیرخواہ! از مردان!

٢....... حیات وممات مسیح

میرٹھ میں آج کل مرزا قادیانی کے ایک قائم مقام تشریف کا پوٹلہ لائے ہیں۔ وہی حیات وممات مسیح کا باسی تباسی مسئلہ عوام جہلاء کے روبرو پیش کرتے ہیں۔ جس کی نہ صرف ضمیمہ شحنہ ہند میں بلکہ علماء کے مختلف رسالوں میں بارہا تردید ہوچکی ہے اور حال میں حضرت پیر مہر علی شاہ صاحبؒ نے تو اپنی کتاب سیف چشتیائی میں مرزا قادیانی کے دعوے ممات مسیح کا اس دھڑلے اور زور شور سے استیصال کیا ہے کہ اس سے بڑھ کر ہو نہیں سکتا اور مرزا قادیانی اور ان کے چیلوں کے دلوں میں کچھ بھی انصاف اور حقانیت ہے تو پیر صاحب کے دلائل قاطعہ کے سامنے گردن تسلیم خم کریں گے۔

خوبی یہ ہے کہ مرزا قادیانی باوصف دعویٰ مسلمانی وہی اعتراضات کرتے ہیں جو آریا اور دھریے اور یہودی کرتے ہیں کہ خدا کا کہاں ہے اور کیسا ہے۔ کیا وہ اپنے عرش (مکان یا بنگلہ یا

٢٥٢

٨٧ ایوان) کے چبوترے پر کرسی بچھائے بیٹھا ہے اور ا رہا ہے اور محمد صاحب (ﷺ) افلاک کو چیر پھاڑ کر کر کے کیونکر طرفۃ العین میں شب معراج آئے او ہوا اور وہ بغیر کھائے پیئے فلک چہارم پر دندناتا رہاہو جو کتاب وسنت کے اتباع کا مدعی ہو ان کو منکر اس ایسے اعتراض کرے گا۔

ہم کو حیرت ہے کہ جب مرزا قادیا نصوص قطعیہ کے ایسے منکر ہیں اور جدید رفارمر اسلامی علماء اور مشائخ مرزا قادیانی کو دائرہ اسلا چکے۔ مگر مرزا قادیانی اور تمام مرزائی بدستور یہی مسلمان ہیں۔ بلکہ ہم ہی مسلمان ہیں اور ہمارے مرزا قادیانی نے اپنی بروزی اور ظلی پر رکھ چھوڑا ہے۔ اس کے یہ معنی ہیں کہ کوئی بادشا اس کا جانشین ہوں۔ ایسے شخص کو لوگ مخبوط الحو مرزا قادیانی کے خلیفہ کہتے ہیں کہ تمام علماء میر کے دوسرے مسئلہ پر بحث نہ ہوگی۔ حالانکہ جب کو اپنی نبوت اور موعودیت کا ثابت کرنا ضروری السلام مرے تھے۔ ان میں فلاں فلاں عیوب اچھا ہوں۔ کتاب وسنت میں تو عیسیٰ مسیح کے مص باوصف دعویٰ مسلمانی ان کو فاسق وفاجر عوام سے ہے اور مسیح علیہ السلام پر ایسے فحش گو اور طوفان با افسوس ہے کہ مرزا قادیانی تو اپنے بھی نہ چلے۔ یعنی کسی جھوٹے مہدی نے انبیاء اور بروزی رسول اور نبی قرار دیا۔ یہی وجہ ہے ک جھلک یا بجلی کی سی چمک قائم رہی۔ کیونکہ وہ تا افریقہ کے وحوش ان کو چند روز کے لئے بھی م

صفحہ ٢٨٧

ایوان) کے چبوترے پر کرسی بچھائے بیٹھا ہے اور اپنے لمبے لمبے ہاتھوں سے ساری دنیا کا انتظام کر رہا ہے اور محمد صاحب (ﷺ) افلاک کو چیر پھاڑ کر لاکھوں اور سنکھوں میلوں کے خلاء بسیط کو طے کر کے کیونکر طرفۃ العین میں شب معراج اوپر گئے۔ علیٰ ہذا کیونکر ممکن ہے کہ عیسیٰ مسیح کی اتنی عمر ہو اور وہ بغیر کھائے پیئے فلک چہارم پر زندہ رہا ہو۔ یہ ایسے ملحدانہ اعتراضات ہیں کہ ایک مسلمان جو کتاب وسنت کے اتباع کا مدعی ہو ان کو سنکر اس کا خون جوش میں آئے گا نہ یہ کہ وہ خود اسلام پر ایسے اعتراض کرے گا۔

ہم کو حیرت ہے کہ جب مرزا قادیانی کے ایسے عقائد ہیں اور وہ کتاب وسنت کے نصوص قطعیہ کے ایسے منکر ہیں اور جدید رفارمر بنے ہیں تو اپنے کو مسلمان کیوں کہتے ہیں۔ تمام اسلامی علماء اور مشائخ مرزا قادیانی کو دائرہ اسلام سے خارج کر چکے۔ الحاد و تکفیر کے فتوے لگا چکے۔ مگر مرزا قادیانی اور تمام مرزائی بدستور یہی کہے جاتے ہیں کہ ہم اچھے خاصے ترشے ترشائے مسلمان ہیں۔ بلکہ ہم ہی مسلمان ہیں اور ہمارے سوا دنیا میں کوئی مسلمان نہیں۔

مرزا قادیانی نے اپنی بروزی اور ظلی رسالت کا دارو مدار بالکل مسیح علیہ السلام کی موت پر رکھ چھوڑا ہے۔ اس کے یہ معنی ہیں کہ کوئی بادشاہ مرجائے اور ایک گداگر یہ ہانک لگائے کہ میں اس کا جانشین ہوں۔ ایسے شخص کو لوگ مخبوط الحواس اور مجنون نہ سمجھیں گے تو کیا سمجھیں گے۔ مرزا قادیانی کے خلیفہ کہتے ہیں کہ تمام علماء میرے سامنے آئیں۔ مگر شرط یہ ہے کہ بجز ممات مسیح کے دوسرے مسئلہ پر بحث نہ ہوگی۔ حالانکہ جب مرزا قادیانی مدعی نبوت ہیں تو سب سے پہلے ان کو اپنی نبوت اور موعودیت کا ثابت کرنا ضروری ہے۔ ان کے پاس تو بس یہی دلیل ہے کہ مسیح علیہ السلام برے تھے۔ ان میں فلاں فلاں عیوب تھے۔ وہ جھوٹے اور مکار تھے۔ میں ان سے بدرجہ اچھا ہوں۔ کتاب وسنت میں تو عیسیٰ مسیح کے معصوم اور نبی برحق ہونے کی تعریف ہے اور مرزا قادیانی باوصف دعویٰ مسلمانی ان کو فاسق وفاجر عوام سے بھی بدتر سمجھے۔ کیا کوئی مسلمان اس کو یقین کرسکتا ہے اور مسیح علیہ السلام پر ایسے فحش گو اور طوفان باندھنے والے کو ترجیح دے سکتا ہے۔

افسوس ہے کہ مرزا قادیانی تو اپنے پیشروؤں (٧٣ مہدیان کذاب) کی سنت پر بھی نہ چلے۔ یعنی کسی جھوٹے مہدی نے انبیاء کو گالیاں نہیں دیں نہ ان کے مقابلے میں اپنے کو ظلی اور بروزی رسول اور نبی قرار دیا۔ یہی وجہ ہے کہ وحشیوں اور جاہلوں میں تھوڑی دیر ان کی شعلہ کی سی جھلک یا بجلی کی سی چمک قائم رہی۔ کیونکہ وہ ناحق پر تھے اور بالآخر خود ہی بجھ گئی۔ ورنہ سوڈان اور افریقہ کے وحوش ان کو چند روز کے لئے بھی مہدی تسلیم نہ کرتے۔ بڑی خوشی کی بات ہے کہ میرٹھ

٢٥٣

صفحہ ٩

کے نہ صرف علماء کرام بلکہ عوام اہل اسلام نے بھی خلیفہ جی کو قابل خطاب نہیں سمجھا۔ بس یوں ان کی گرم بازاری پر اوس پڑ گئی۔ ایڈیٹر!

٣....... کتاب عصائے موسیٰ کا جواب

٣١ جولائی گزشتہ کے الحکم میں اعلان دیا گیا ہے کہ کتاب عصائے موسیٰ کا جواب تیار ہے۔ مگر یہ نہیں لکھا کہ کتاب امروہہ سے ملے گی یا قادیان سے، اور کتاب کا حجم کیا ہے اور اس کی کیا قیمت ہے۔ معلوم ہوتا ہے کہ لوگوں سے معقول رقم اینٹھنے کو گول مول اعلان دیا گیا ہے۔ اس نقاب کی اوجھل سے جواب کی حقیقت اور اس کی جھلک بھی معلوم ہو گئی۔ اس سست اور دوحرفی اعلان سے یہ پتہ بھی لگ گیا کہ دہل در گنبد اور آواز در پیش ہے۔ آخر ؎

کچھ تو ہے جس کی پردہ داری ہے

جواب عصائے موسیٰ کے لکھنے کے قبل تو وہ وہ لاف زنی تھی کہ آسمان سر پر اٹھا لیا تھا اور مرزائیوں کی بڑی بھاری میٹنگ کے بعد امروہی مولوی صاحب جواب لکھنے کو منتخب ہوئے تھے۔ گویا مرزائیوں میں بھی گھر سے فالتو اور مرد میدان بننے کے قابل تھے۔ مگر جب جواب لکھ کر اور چھپ کر تیار ہو گیا تو دوحرفی اعلان دینے پر خاتمہ ہو گیا۔ اگر کتاب مذکورہ درحقیقت چھپ کر تیار ہو گئی ہے تو ہم کو یقین نہیں کہ اس کی ایک کاپی مصنف عصائے موسیٰ منشی الٰہی بخش صاحب کے نام بھیجی گئی ہو۔ چہ جائیکہ دوسرے علماء اور مشائخ کے نام اور شحنہ ہند کے نام بھیجتے ہوئے تو لرزہ چڑھتا ہے۔ کیونکہ یہاں شیر لگتا ہے۔ خدا کی شان ہے ایک وہ بھی زمانہ تھا کہ مرزا قادیانی ایک چھوٹی سے چھوٹی کتاب اور ایک آدھ ورق کا اشتہار بھی شائع کرتے تھے تو رجسٹریاں کرا کر علماء و مشائخ اسلام کے نام بھیجتے تھے کہ جواب دو۔ یا ایک یہ بھی زمانہ ہے کہ اپنی تصانیف کو عورتوں کے ناپاک چیتھڑوں کی طرح مردان اسلام سے چھپاتے ہیں۔

اس عرصے میں سینکڑوں رسالے مرزائی عقائد کی تردید میں شائع ہوئے۔ بھلا کسی مختصر سے رسالے کا جواب بھی بن پڑا۔ پھر کیونکر ممکن ہے کہ عصائے موسیٰ جیسی مبسوط کتاب کا ٹھیک جواب بن پڑا ہوگا۔ جو بالکل مرزا قادیانی کا صحیح اور سچا اعمالنامہ ہے۔ ہاں اپنے آقا کا نمک حلال کرنے کو کوئی دو ورقی چہار ورقی نکال دی ہوگی کہ لیجئے جواب ہو گیا اور دلوائیے دودھ، ملیدہ اور دکھشنا اور دانت گھسائی۔ عصائے موسیٰ کا جواب لکھتے ہوئے تو دو سال ہوگئے۔ حال میں حضرت پیر مہر علی شاہؒ نے جو بسیط کتاب سیف چشتیائی چھپوا کر مفت شائع فرمائی ہے۔ دیکھیں اس کا جواب کتنے دنوں میں ہوسکے گا۔ بھلا آپ کس کس کا جواب دیں گے۔ عمامہ سنبھالتے ہی سنبھالتے ٢٥٤

٩٩ تک نوبت پہنچ جائے گی اور پھر تسلسل لازم آ سینکڑوں رسالوں کا رد مرزا قادیانی کے سر پر نہیں اور اُن کی جانب کیوں التفات نہیں فرمائ گے۔ اسی قدر کماؤ پوت چندہ دیں گے اور بھولے مشائخ کا ممنون ہونا چاہئے کہ انہوں نے بے مجردوں اور مسٹنڈوں کے لئے یاقوتیوں اور ممی ہوائے نفس کے دریا میں شہوت رانی کے جہا سانڈوں والا تمسخر کیا گیا ہے تو یہ امر صاف عجز و اور پھکڑ کے سوا جواب دینے کا کوئی سرمایہ نہیں ا

٤....... امریکا میں

مرزا قادیانی امریکا میں بروزی یا بھیجنا چاہتے ہیں جس کا ذکر ١٠ اگست کے الحک تکمیل تو کر چکے اب نئی دنیا کی مرمت و جائے

تو ہندوستان
کنون سوئے

ظلی اور بروزی دین کی اشاعت اور ایران اور سمرقند اور بلخ اور بخارا وغیرہ ممالک ہے۔ وجہ یہ ہے کہ وہاں کے لوگ بڑے کٹھ والوں کے سروں کی ختنہ ہو جانے کا خوف ہ ہیں۔ وہاں مذہب ومہذب کا کھڑاک کون دنبوں اور مینڈھوں کی ٹکروں کا تماشا دیکھن رسالوں کے ذریعہ سے مضحکے اور قہقہے اڑائ مجدد اور ریفارمر بتاتے ہیں۔ پس مسلمانوں کی سر مونڈیں۔ جب خود مرزائیوں کے سروں پ پھیرا گیا نہ بخوبی بال نرم کئے گئے۔ تا بدیگر ب سہنے کو مرزا قادیانی میں بوتا ہی کیا ہے۔ وہ کس

صفحہ ٢٨٩

٩٩ تک نوبت پہنچ جائے گی اور پھر تسلسل لازم آئے گا یا تقدم الشے علی نفسہ کا دور۔ ان کے علاوہ جو سینکڑوں رسالوں کا رد مرزا قادیانی کے سر پر یکے بعد دیگرے چڑھا ہوا ہے۔ ان کا تو حساب ہی نہیں، اور ان کی جانب کیوں التفات نہیں فرمائی گئی۔ یہ تو بڑی دولت ہے جس قدر رسالے نکلیں گے۔ اسی قدر کماؤ پوت چندہ دیں گے اور مفت کھائیں گے۔ پس مرزا قادیانی کو اسلامی علماء اور مشائخ کا ممنون ہونا چاہئے کہ انہوں نے بے فکروں کے لئے معاش کا دروازہ کھول دیا ہے اور مجردوں اور مسٹنڈوں کے لئے یاقوتیوں اور مقوی معجونوں کا مسالا بتا دیا ہے کہ کھاؤ اور دندناؤ اور ہوائے نفس کے دریا میں شہوت رانی کے جہازات چلاؤ۔ الحکم میں کتاب سیف چشتیائی پر جو بھانڈوں والا تمسخر کیا گیا ہے تو یہ امر صاف عجز کی دلیل ہے۔ پس مرزا اور مرزائیوں کے پاس تمسخر اور پھکڑ کے سوا جواب دینے کا کوئی سرمایہ نہیں اور ہو کہاں سے۔ سچی بات کا جواب ہی کیا۔ ایڈیٹر!

٤...... امریکا میں مرزا قادیانی کا مشن

مرزا قادیانی امریکا میں بروزی یا ظلی یا مرزائی دین کی اشاعت کے لئے ایک مشن بھیجنا چاہتے ہیں جس کا ذکر ١٠؍اگست کے الحکم میں ہے۔ مرزا قادیانی پرانی دنیا کی اصلاح اور تکمیل تو کر چکے اب نئی دنیا کی مرمت کو جاتے ہیں۔

تو ہندوستان را نکو ساختی
کنون سوئے امریکا پرداختی

ظلی اور بروزی دین کی اشاعت کے مستحق سب سے پہلے مرزا قادیانی کے پڑوسی کابل اور ایران اور سمرقند اور بلخ اور بخارا وغیرہ ممالک وسط ایشیاء ہیں۔ مگر وہاں جاتے ہوئے لرزہ چڑھتا ہے۔ وجہ یہ ہے کہ وہاں کے لوگ بڑے کٹر اور غیور مسلمان ہیں۔ پس مرزا قادیانی کو اپنے مشن والوں کے سروں کی ختنہ ہو جانے کا خوف ہے۔ یورپ اور امریکا والے تو آزادی پسند دھریئے ہیں۔ وہاں مذہب وذہب کا کھٹراگ کون پالتا ہے۔ مذہب والوں کی جنگ یا یوں کہو کہ مذہبی دنبوں اور مینڈھوں کی ٹکروں کا تماشا دیکھنے کو کانفرنسیں منعقد کی جاتی ہیں اور پھر اخباروں اور رسالوں کے ذریعہ سے مضحکے اور قہقہے اڑائے جاتے ہیں۔ مرزا قادیانی تو اپنے کو فقط دین اسلام کا مجدد اور رفارمر بتاتے ہیں۔ پس مسلمانوں کی اصلاح (حجامت) بنا لیں۔ تب دیگر مذاہب والوں کا سر مونڈیں۔ جب خود مرزائیوں کے سروں پر ابھی تک کھونٹیاں موجود ہیں کہ نہ اچھی طرح استرا پھیرا گیا نہ بخوبی بال نرم کئے گئے۔ تا بدیگرے چہ رسد! بھلا امریکا جانے اور تمام مذاہب کی بوچھار سہنے کو مرزا قادیانی میں بوتا ہی کیا ہے۔ وہ کس مسالے پر ایسا ارادہ رکھتے ہیں جو دعویٰ ہے لچر۔ جو

٢٥٥

صفحہ ٢٩١

ادعاء ہے محض لغو۔ قدم قدم پر ٹھوکریں۔ بیانات میں تناقض۔ ابھی کچھ ابھی کچھ اور امریکا والے ٹھہرے فلسفی اور دہریئے۔ ان کے سامنے ٹھہرنا خالہ جی کا گھر سمجھا ہے۔ مرزا قادیانی کے پاس تو اس کے سوا کوئی دلیل نہیں کہ عیسیٰ مسیح مر گئے میں اس لئے ظلی اور بروزی نبی ہوں۔ اگر ایک آدھ مرزائی امریکا جائے تو مزہ آ جائے۔ امریکا والے ایک ایک کو بے دال کا بودو بنا کر نہ چھوڑیں تو ہمارا ذمہ۔ ایڈیٹر!

٥....... ھذا شئ عجاب

٣١ جولائی گزشتہ کے الحکم میں مرزا قادیانی فرماتے ہیں کہ مسیح نے ہرگز یہ دعویٰ نہیں کیا کہ فی الحقیقت میں ہی دوبارہ آ جاؤں گا۔ ہم کہتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ نے کہاں دعویٰ کیا ہے کہ میں دوبارہ دنیا میں اس طرح آؤں گا کہ قادیانی مرزا میرا بروز اور ظل ہوگا۔ حالانکہ آنحضرت ﷺ نے مسیح بن مریم کے دوبارہ آنے کی پیشین گوئی فرمائی ہے نہ کہ قادیانی مغل کی۔ پھر آنحضرت ﷺ نے نہ صرف حدیث میں بلکہ جناب باری نے قرآن مجید میں مسیح علیہ السلام کی عصمت کی گواہی دی ہے اور ان کو کلمتہ اللہ ٹھہرایا ہے۔ مگر قادیانی ان کو غیر معصوم اور ان کی تعلیم کو غلط بتاتا ہے۔ گویا کلمتہ اللہ غلط ہے اور کلمہ چغتی مغل صحیح ہے۔ قرآن مجید نے عیسیٰ مسیح میں تمام کمالات نبوت اور معجزات ثابت کئے۔ مگر چغتی مغل دنیا کے تمام معائب عیسیٰ مسیح میں بتاتا ہے۔ کیا کسی مسلمان کا ایسا جگر اور پتہ ہو سکتا ہے۔

آگے چل کر چغتی مغل کہتا ہے کہ: ”جب یہ راقم مسیح کے رنگ (اسی فاسق و فاجر کے رنگ) سے رنگین ہو کر اور اس کے لباس (فسق و فجور) میں ظاہر ہوا تو نہ مسلمانوں نے مجھے قبول کیا نہ عیسائیوں نے اور میں کافر ٹھہرایا گیا اور قتل کے فتوے لکھے گئے ۔“

سب سے پہلے کفر اور الحاد کے کلمات بک کر خود تو نے اپنے کو کافر ٹھہرایا۔ تب مسلمانوں نے کفر کے فتوے دیئے۔ جیسا کہ مندرجہ بالا تحریر سے ثابت ہو گیا۔ پس از ماست کہ برماست کا مسئلہ منطبق ہوا۔ تیرے قتل کا فتویٰ کسی نے نہیں دیا۔ بلکہ خود تو نے دنیا کے مارے جانے کی پیشین گوئی کی اور نہ صرف مسلمانوں کو بلکہ عیسائیوں اور آریوں تک کو نہ چھوڑا۔ پھر مرزا قادیانی فرماتے ہیں کہ مسلمانوں میں چونکہ کثرت سے شرک و بدعت گور پرستی اور پیر پرستی وغیرہ پھیل گئی ہے۔ پس میں آخر زمانے میں مجدد بن کر آیا ہوں۔ چہ خوش!

بت پرستی اور مرزا پرستی تو خود پھیلا رہا ہے۔ قادیان کو مکہ اور مدینہ بنا رہا ہے۔ اپنی

٢٥٦

تصویریں قیمتاً شائع کر کے مستحق لعنت بن رہا ہے اور رہا ہے۔ نبی اور رسول بن رہا ہے۔ یا للعجب!

مسلمانوں کو عموماً بدعتی اور مشرک بتاتا بھیجے۔ اسی پر چلنے اور اسی کو ماننے کا حکم دے او ”اکملت لکم دینکم واتممت علیکم نعم اور دین اسلام کو غیر کامل اور ناقص ٹھہرائے تو اس میں ہے؟ ہم حلفاً کہتے ہیں اور ہم کو تجربہ ہو چکا ہے کہ مرز میں مطلق عظمت نہیں۔ مسلمانوں کے دلوں میں جو مرزا قادیانی کو یہ امر سخت ناگوار ہے۔ ابھی خود مرزا ان کے دلوں سے آنحضرت ﷺ کی وقعت بالکل م ایسی اندھیری نہیں پڑی کہ آنکھیں ماتھے کی ضرور رہتے ہیں اور جنہوں نے قادیان میں جھنڈیاں گاڑ افضل الرسل والانبیاء یقین کرتے ہیں۔ مگر وہ دن ق سمجھیں گے اور آنحضرت ﷺ کی عظمت کو طاق پر

نبی بننے سے پہلے جب کسی مرزائی سے کوئی مسلمان تو وہ کاٹ کھانے کو دوڑتا تھا۔ یہ بالکل جھوٹ ہ جب دیکھا کہ یہ تو غضب ہو گیا خود اپنے ہی گر گئے اور اپنے چیلوں کو ڈانٹا کہ خبردار، جو میری نبوت سے آٹھوں گانٹھ کمیت ہوں اور تم ابھی نرے بچھیا کے

رفتہ آنحضرت ﷺ کی رسالت سے بھی علی الاعلان

بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰ

تعارف مضامین ......

یکم ستمبر ١٩٠٢ء کے شمار

٧

صفحہ ٢٩١

تصویریں قیمتاً شائع کر کے مستحق لعنت بن رہا ہے اور اس حرام تجارت سے اپنا گوشت و پوست پال رہا ہے۔ نبی اور رسول بن رہا ہے۔ بلاشبہ!

مسلمانوں کو عموماً بدعتی اور مشرک بتاتا ہے۔ خدائے تعالیٰ تو ایک نبی، ایک اسلام بھیجے ۔ اسی پر چلنے اور اسی کو ماننے کا حکم دے اور کس دھڑلے کے ساتھ ارشاد فرمائے کہ: ”اکملت لکم دینکم واتممت علیکم نعمتی“ پھر بھی اگر کوئی مکار اپنے کو نیا نبی بتائے اور دینِ اسلام کو غیر کامل اور ناقص ٹھہرائے تو اس میں مسیلمہ کذاب اور خردجال کی روح نہیں تو کیا ہے؟ ہم حلفاً کہتے ہیں اور ہم کو تجربہ ہو چکا ہے کہ مرزا قادیانی کے دل میں کسی نبی کی اپنے مقابلے میں مطلق عظمت نہیں۔ مسلمانوں کے دلوں میں جو انبیاء خصوصاً آنحضرت ﷺ کی عظمت ہے تو مرزا قادیانی کو یہ امر سخت ناگوار ہے۔ ابھی خود مرزا قادیانی کو اپنے مرزائیوں پر اتنا وثوق نہیں کہ ان کے دلوں سے آنحضرت ﷺ کی وقعت بالکل مٹ سکے گی۔ کیونکہ اس کے نزدیک ان پر ابھی ایسی اندھیری نہیں پڑی کہ آنکھیں مانگنے کی ضرورت نہ ہو۔ البتہ جو حواری رات دن صحبت میں رہتے ہیں اور جنہوں نے قادیان میں سنڈیاں چھانی اور دھونی رمائی ہے۔ وہ مرزا قادیانی کو ضرور افضل الرسل والانبیاء یقین کرتے ہیں۔ مگر وہ دن قریب ہیں کہ تمام مرزائی مرزا قادیانی کو ایسا ہی سمجھیں گے اور آنحضرت ﷺ کی عظمت کو طاق پر رکھ دیں گے۔ مرزا قادیانی کے ظلی اور بروزی نبی بننے سے پہلے جب کسی مرزائی سے کوئی مسلمان کہتا تھا کہ مرزا قادیانی نے نبوت کا دعویٰ کیا ہے تو وہ کاٹ کھانے کو دوڑتا تھا۔ یہ بالکل جھوٹ ہے۔ طوفان ہے بہتان ہے۔ مرزا قادیانی نے جب دیکھا کہ یہ تو غضب ہو گیا خود اپنے ہی گرگے نبوت کے منکر ہیں تو جھٹ سے اعلان دے دیا اور اپنے چیلوں کو ڈانٹا کہ خبردار، جو میری نبوت سے انکار کیا۔ میں پورا نبی ہوں۔ پورا رسول ہوں، آٹھوں گانٹھ کمیت ہوں اور تم ابھی نرے بچھیا کے تاؤ ہو۔ پس ان میں پانی مر گیا۔ اسی طرح رفتہ رفتہ آنحضرت ﷺ کی رسالت سے بھی علی الاعلان انکار ہو جائے گا۔ ایڈیٹر!

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

تعارف مضامین ...... ضمیمہ شحنۂ ہند میرٹھ

یکم ستمبر ١٩٠٢ء کے شمارہ نمبر ٣٣ کے مضامین

١...... بقیہ مرزا قادیانی کے خیالات کا لیکچر مولانا شوکت اللہ!

٢٥٧

صفحہ ٢٩٣

١....... بقیہ مرزا قادیانی کے خیالات کا لیکچر

سنو! اے ناعاقبت اندیش، تعصب کیش، نشتر حسد سے سینہ ریش، بدتر از گاؤ میش، بیخبر از یگانہ وخویش مسلمانو! میں کب کہتا ہوں کہ تم میرے چھوٹے بھائیوں، دوسرے انبیاء خصوصاً اپنے پیغمبر عرب کو چھوڑ دو۔ میں تو یہ کہتا ہوں کہ جس طرح پیغمبر عرب نے ایک بڑی پولیٹکل حکمت عملی سے تمام انبیاء کو مانا اسی طرح تم بھی باستثناء مسیح سب کو مانو۔ کیونکہ مسیح کو نبی کہنا تو درکنار، وہ تو انسانیت سے بھی گرا ہوا تھا۔ اس کے خوارق ایسے تھے کہ ایک عام آدمی بھی ان سے نفرت کرے گا۔ اگر تمہیں میری بات کا یقین نہ ہو تو یہودیوں سے عیسیٰ مسیح کا کریکٹر پوچھ لو۔ باقی سب انبیاء مہذب انسان تھے۔ مگر اب ان کے ماننے کا زمانہ نہیں رہا۔ اب تو کسی انسان کا نبی بننا نہایت مشکل ہے۔ کیونکہ دنیا پر سائنس اور فلسفے کا قبضہ ہے۔ یورپ والے بڑے کائیاں ہیں۔ انہوں نے دنیا کو عقلمند بنا دیا ہے اور جن لوگوں میں کچھ وحشت و جہالت باقی ہے ان کو بھی مہذب اور عقلمند بنا کر چھوڑیں گے۔ اجوبہ پرستی زندہ درگور ہو رہی ہے۔ صداقت اور صفائی پھیل رہی ہے۔ پس میں نے زمانہ کا رنگ دیکھ کر اصلاح کا بیڑا اٹھایا ہے اور دوسرے انبیاء کی طرح اپنے کو مبعوث من اللہ قرار دیا ہے۔ کیونکہ جب تک کوئی انسان اپنے کو خدا کا بھیجا ہوا صاحب الوحی والالہام نہیں بتاتا اور طرح طرح کی پالیسیوں سے دھونس نہیں رکھتا وحوش سیرت انسان اس کو نبی اور رسول تسلیم نہیں کرتے۔ کسی نے کہا میں مردوں کو زندہ، گونگوں کو شنوا، کوڑھیوں کو تندرست، اندھوں کو سوانکھا کرتا ہوں۔ کسی نے کہا میں اپنی لاٹھی کو اژدھا بناتا ہوں اور لاٹھی مار کر پتھروں سے چشمے نکالتا ہوں۔ وغیرہ! پس اے احمق کی بیٹ کھانے والے سادہ لوحو، اب ایسے بوستان خیال اور حمام گردباد کے فسانوں کے باور کرنے کے دن گئے۔ اگر لازاف نیچر یا سنت اللہ معجزات پر جاری ہوتی تو وہ ہمیشہ ظہور میں آیا کرتے۔ کیا وجہ ہے کہ ہزاروں برس گزر گئے مگر کسی نے ویسے معجزات نہ دکھائے۔ کیا فطرت یا نیچر بالکل عقیمہ ہوگئی کہ ہزاروں برس پیشتر تو اس نے معجزات کے اس قدر بچے کھٹا کھٹ جنے اور اب تو توالد و تناسل کے دروازے پر قفل لگ گیا۔ اگر تم میں کچھ بھی عقل ہے تو یہ نکتہ سمجھو گے کہ دوسرے انبیاء اور رسل کے عہد میں دنیا کس قدر اندھی اور وحشت و جہالت کے عمیق گڑھے میں گڑی ہوئی تھی کہ مذکورہ بالا لغویات پر ایمان لائی تھی۔ جن کو انسانی عقل ہرگز باور نہیں کرتی۔ یہی وجہ ہے کہ یورپ کے فیلسوف اسلام پر مضحکے اڑا رہے ہیں کہ اسلام جس شے سے عبارت ہے۔ وہ مداریوں کے پھٹک ایک اور پھٹک دو کا تماشا ہے۔

سنوسنو! میں اگر چاہوں تو اپنے ہتھ پھیر اور داؤں گھات سے ویسے ہی بلکہ ان سے بڑھ

٢٥٨

کر ہزاروں معجزے دکھا سکتا ہوں۔ مگر میں دنیا کے م نہیں چاہتا۔ میں تو تم کو صداقت اور صفائی کی روشنی می

اے نامردو! بھلا تم سے بجز اس غل غپاڑ میں اور کیا ہو سکا ہے کہ مرزا قادیانی ایسا ہے اور مرزا کی پاڑ باندھنے سے سمندر کا سیلاب رک نہیں سکتا۔ م میری بروزی نبوت، میری ظلی رسالت کو ٦ کروڑ نا نے براہین احمدیہ لکھی تھی اور مجھ پر الہام اور وحی کی ب تھے۔ صرف دو۔ اب میری جماعت تقریباً ایک لاکھ مجھ میں صداقت اور حقانیت کا کرشمہ نہ ہوتا تو اس قد

سنو سنو! جب میں مجدد اور رفارمر ہوں ت مقلد نہیں۔ اگر میں علی کی جگہ ابی لکھوں تو کس کی ط بھی ایسی ہی اندھی تقلید ہوتی جیسی تمہارے دین میں محاورات، نئے صلات، نئی ترکیبیں پیدا کرنا رفارمر ک وفاضل بننے والوں اور اپنا حوصلہ پست کرنے والوں

سنو سنو! جب تم زبان عرب اور اس میرے کلام کو جو مثل قرآن الہام اور وحی ہے اور پر زبان عرب ہی میں الہام ہوتا ہے۔ کیوں مستفتی فصیح و بلیغ الہام ہوا تو یہ ان کی مادری زبان تھی۔ مج دراصل چینی نژاد ہونے کے ایک اجنبی زبان (عر کا انکار وہی شخص کر سکتا ہے جو کاٹھ کا الو ہو۔ پیغمب تاہم زبان عرب اس کی مادری زبان تھی۔ خو صاحب ملفوظات جن کو تم اولیاء اللہ کہتے ہو بالکل پس یہ کوئی بڑی بات نہیں۔ بڑی بات یہ ہے ک صاحب الہام ہوں جو ایک اجنبی زبان ہے اور ی امی نبی سے بہت بڑھا ہوا ہے۔ دیکھ لو میں نے ا مصر اور ترکی کے عربی انشاء پردازوں اور علماء اور

٥٩

صفحہ ٢٩٣

کہ ہزاروں معجزے دکھا سکتا ہوں۔ مگر میں دنیا کے منہ پر اندھیری ڈالنا اور ان کو تاریکی میں رکھنا نہیں چاہتا۔ میں تو تم کو صداقت اور صفائی کی روشنی میں لانا چاہتا ہوں۔

اے نامردو! بھلا تم سے بجز اس غل غپاڑا مچانے کے میری اس سالہ بعثت ورسالت میں اور کیا ہو سکتا ہے کہ مرزا قادیانی ایسا ہے اور مرزا قادیانی ویسا ہے۔ مگر تم خوب یاد رکھو کہ ریت کی پاڑ باندھنے سے سمندر کا سیلاب رک نہیں سکتا۔ میری امامت، میری مہدویت، میری مسیحیت، میری بروزی نبوت، میری ظلی رسالت کو ٦ کروڑ نامرد مسلمان ہرگز نہیں روک سکتے۔ جب میں نے براہین احمدیہ لکھی تھی اور مجھ پر الہام اور وحی کی ٹپکا ٹپکی ہونے لگی تھی تو کتنے آدمی میرے صحابی تھے۔ صرف دو۔ اب میری جماعت تقریباً ایک لاکھ ہے اور برابر انڈے بچے دے رہی ہے۔ اگر مجھ میں صداقت اور حقانیت کا کرشمہ نہ ہوتا تو اس قدر رجوعات ہرگز نہ ہوتی۔

سنو سنو! جب میں مجدد اور رفارمر ہوں تو عرب کے لٹریچر کا بھی مصلح ہوں۔ میں کسی کا مقلد نہیں۔ اگر میں علی کی جگہ الی لکھوں تو کس کی طاقت ہے کہ چوں و چرا کر سکے۔ اگر لغت میں بھی ایسی ہی اندھی تقلید ہوتی جیسی تمہارے دین میں ہے تو لٹریچر کبھی ترقی نہ کرتا۔ نئے الفاظ، نئے محاورات، نئے صلات، نئی ترکیبیں پیدا کرنا رفارمر کا کام ہے نہ کہ گلے میں تقلید کا پٹا ڈال کر عالم وفاضل بننے والوں اور اپنا حوصلہ پست کرنے والوں کا۔

سنو سنو! جب تم زبان عرب اور اس کے محاورات کے لئے قرآن کو مستند مانتے ہو تو میرے کلام کو جو مثل قرآن الہام اور وحی ہے اور باوصف اس کے کہ میں پنجابی ہوں، پھر بھی مجھ پر زبان عرب ہی میں الہام ہوتا ہے۔ کیوں مستند نہیں مانتے۔ پیغمبر عرب پر اگر زبان عرب میں فصیح و بلیغ الہام ہوا تو یہ ان کی مادری زبان تھی۔ معجزے میں داخل نہیں۔ مجھ پر باوصف پنجابی اور دراصل چینی نژاد ہونے کے ایک اجنبی زبان (عرب) میں الہام کا ہونا ایسا اچھوتا معجزہ ہے جس کا انکار وہی شخص کر سکتا ہے جو کاٹھ کا الو ہو۔ پیغمبر عرب کو تم امی کہتے ہو۔ اگر وہ در حقیقت امی تھا تاہم زبان عرب اس کی مادری زبان تھی۔ خود ہمارے ہندوستان میں بہت سے شعراء اور صاحب ملفوظات جن کو تم اولیاء اللہ کہتے ہو بالکل امی تھے تاہم وہ فصیح و بلیغ نظم و نثر لکھ سکتے تھے۔ پس یہ کوئی بڑی بات نہیں۔ بڑی بات یہ ہے کہ میں پنجابی نژاد ہو کر فصیح و بلیغ زبان عرب کا صاحب الہام ہوں جو ایک اجنبی زبان ہے اور میری مادری زبان نہیں۔ پس میرا مرتبہ عرب کے امی نبی سے بہت بڑھا ہوا ہے۔ دیکھ لو میں نے اپنی کتاب اعجاز المسیح سے نہ صرف ہندوستان بلکہ مصر اور ترکی کے عربی انشاء پردازوں اور علماء اور فضلاء کو مبہوت کر دیا۔ مصر کے عربی اخبار المنار کو

٢٥٩

صفحہ ٢٩٤

بھی شامت نے ویسا ہی دھکا دیا جیسا علماء ہند کو کہ اس نے بھی صلات ہی کی غلطیاں نکالیں ۔مگر میری ایک ہی ڈانٹ نے اس کی سراویل میں چھل چھل لگا دی اور خطا ہو گیا اور منہ میں گھنگھنیاں بھر کر گونگے کا گڑ کھا گیا۔ اگر تم میں کچھ سکت اور دم درود ہے تو ایڈیٹر المنار کی پشتیبانی کرو اور اس کو میدان میں لاؤ۔

پھر مجھ میں ترجیح اور تفصیل کا دوسرا مسالا یہ ہے کہ میں علاوہ زبان عرب کے اردو، پنجابی، فارسی، بھاشا، انگریزی پر بھی قادر ہوں اور وہ بھی ہندوستان جیسے وسیع ملک میں جو چار دانگ عالم کے لقب سے ملقب ہے۔ پیغمبر عرب کی ولادت صرف عرب کے چھوٹے سے جزیرہ نما میں ہوئی اور لے دے کر صرف ایک زبان عرب کے سوا دوسری زبانوں سے ان کو مطلق مس نہ ہوا۔ میں ہفت زبان کا رفارمر ہوں اور مجھ پر ہر زبان میں الہام ہوتا ہے۔ اب تم ان پھوٹے دیدوں پر شعور و ادراک کی عینک لگا کر دیکھو کہ میں تمام انبیاء میں ممتاز ہوں یا کوئی اور، اور آسمانی باپ نے اپنے سارے بیٹوں کو عاق اور محروم الارث کر کے مجھے خلف اور کلوتا اور لے پالک بلکہ حقیقی فرزند بنایا ہے یا کسی اور کو۔

ابے عقل کی پرانی پھٹی چیتھڑے لگی غلیظ گدڑی کے کندی گرو۔ ذرا تو سمجھو کہ میں کیا چیز ہوں۔ مجھ میں کیسا سرخاب بلکہ عنقا کا شہپر ہے۔ میری کیا شان ہے۔ مجھ میں کیا کرشمہ ہے۔ بھلا تیرہ سو برس میں کسی دوسرے ایسے تیسے نے میرے سوا نبوت ورسالت، مسیحیت، ومہدویت کا کیوں دعویٰ نہ کیا۔ آسمانی باپ کو تو ہر طرح کی طاقت تھی وہ جس کو چاہتا رسول اور نبی بنا دیتا۔ مگر میرے سوا دوسرے میں یہ صلاحیت وقابلیت ہی نہ تھی اور اگر میں جھوٹا نبی ہوں تو ہر شخص جھوٹی نبوت کا دعویٰ کر سکتا ہے۔ مگر کسی نے آج تک کیا بھی۔ اگر حوصلہ ہے تو کوئی نبی بن کر دیکھ لے۔ ایک لاکھ آدمیوں کی بڑی مہتم بالشان تعداد ہے۔ آسمانی باپ نے چاہا تو ایک دہائی بلکہ ڈہائی آدمی بھی اس کے گر گے اور چیلے نہ بنیں گے۔

ہمیں میدان ہمیں چوگان ہمیں گوئے

تم ہزار سر مارو۔ لوگوں کو میری جانب سے لاکھ بدظن کرو۔ مگر ایک سچا نبی کبھی جھوٹا نہیں بن سکتا۔ تمہارے ہی گروہ کے لوگ ٹوٹ ٹوٹ کر میری جماعت میں مل رہے ہیں اور یوں میری احمدی جماعت بڑھ رہی ہے اور تمہاری محمدی جماعت گھٹ رہی ہے۔ میں نے ابھی تک عیسائیوں ، آریوں ، سکھوں کی جانب زیادہ توجہ نہیں کی۔ کیونکہ ان کو احمدی ( مرزائی )

٢٦٠

صفحہ ٢٩٥

بنانے کا ابھی تک مجھ پر الہام نہیں ہوا۔ اس میں آسمانی باپ کی کوئی مصلحت ضرور ہے جو بہت جلد تم پر ظاہر ہو جائے گی۔

اے قارون کے سگو۔ اے دقیانوس کے بیٹو اور پوتو۔ اے مادر زاد اندھو۔ خوب یاد رکھو کہ تم میرے مقابلے میں بالآخر تھک جاؤ گے۔ تمہارے حوصلے پست ہو جائیں گے۔ تمہاری اشتہار بازی، اخبار بازی، رسالہ بازی کا بہت جلد لڑکا ہو جائے گا۔ تم میری جماعت کو حسب فحوائے ”یدخلون فی دین اللہ افواجا “ روز بروز بڑھتے دیکھ کر آتش حسد میں جل کر فی النار ہو گئے۔ وجہ یہ ہے کہ تم میں خود اتفاق نہیں۔ مقلد تم میں۔ غیر مقلد تم میں۔ پھر ان کی بھی مختلف شاخیں غیر مقلدوں میں عرشی اور فرشی۔ خود میرے ہمسایہ لاہور میں غزنوی اور کلانوری اور رحیمی وغیرہ۔ مقلدوں میں حنفی، شافعی، مالکی، حنبلی پھر ان میں بھی چشتی، قادری، سہروردی، شطاری، صابری، نظامی، حکیمی، جلالی، جمالی وغیرہ۔

کہیں کی اینٹ کہیں کا روڑا
بھان متی نے کنبہ جوڑا

پھر ایک دوسرے کو کوئی لامذہب و بدمذہب کہتا ہے۔ کوئی مشرک و بدعتی کا خطاب دیتا ہے۔ جب خود تمہارے آپس میں پھوٹ ہے تو میری ایک آسمانی جماعت احمدیہ کے مقابلہ میں جو جنود اللہ ہیں اور جنہوں نے ایک ہی رسی کو مضبوط پکڑ رکھا ہے جو جان و مال سے ایک ہی امام الزمان کے سر پر قربان ہونے کو ہر وقت مستعد ہیں اور ایک بھائی دوسرے بھائی کا جان نثار ہے کیا تیر مار سکو گے؟

تم میرے نبی اور رسول بننے سے بہت قلابازیاں کھاتے ہو۔ نبی کے معنی خبر دینے والا۔ رسول کے معنی بھیجا ہوا ہے۔ اب لغوی معنے میں وضع ثانی (اصطلاح) کا پیوند لگانا کہ نبی وہ ہے جو صاحب معجزہ ہو دین اسلام کو منسوخ کرتا ہے۔ پس میں نے اگر اپنے کو نبی اور رسول بنایا تو کیا گناہ کیا اور ابھی کیا ہے جب آسمانی باپ ایک ایک احمدی (مرزائی) کو نبی اور رسول بنا کر میری امامت کی منادی کے لئے نہ صرف اقطار ہندوستان بلکہ ممالک یورپ و ایشیاء و افریقہ میں بھیجے گا تو تمہارے ہوش اور بھی گم ہو جائیں گے۔ میں صرف لغت کو مانتا ہوں۔ اصطلاح کو نہیں مانتا۔ میں اگر چاہوں تو ہزاروں اصطلاح گھڑ سکتا ہوں جو علماء اسلام کی خواب میں بھی نہ آئی ہوں گی۔

قرآن کے تمام مفسرین نے وہ جھک مارا ہے کہ کچھ نہ پوچھئے۔ اسلام پر جو یورپ کے فلاسفر اعتراضوں کی بوچھاڑ کر رہے ہیں تو انہیں مفسرین کی بدولت کوئی کچھ کہتا ہے کوئی کچھ۔ آپس

٢٦١

صفحہ ٢٩٦

میں سر پھٹول ہے لپاڈکی ہے۔ الغرض ان بے مغزوں کی رسائی قرآن کے مغز تک نہ ہوئی اور دنیا کا مغز چاٹ گئے۔ اس کے سوا اور کیا کہا جائے کہ یہ سب الو کا پٹھا کھا گئے تھے۔ ان کی عقل وذہانت کی کوری با ایں ہمہ مفسر بننے کی شورا شوری تو دیکھو۔ کہتے کیا ہیں کہ ”بل رفعہ اللہ“ سے مراد یہ ہے کہ خدا نے عیسیٰ مسیح کو زندہ اٹھا لیا۔ یہ اپنے منہ پر آپ تھپڑ مار رہے ہیں۔ خدائے تعالیٰ اگر اپنی جانب کسی کو زندہ اٹھاتا تو پیغمبر عرب کو اٹھاتا۔ وہ تو مرکز زمین کا پیوند ہو اور عیسیٰ مسیح زندہ رہے اور نہ صرف دنیا میں بلکہ فلک چہارم کی برجی کی قلسی پر۔ اگر خدا کو مسیح کو زندہ ہی رکھنا مقصود تھا تو روئے زمین پر کیوں زندہ نہ رکھا۔ یہ قرآن کی تفسیر ہے یا بکواس اور مالیخولیا اور آرائش محفل اور الف لیلیٰ کی داستان۔ بس ان کوڑ مغز مفسروں سے خدا ہی سمجھے اور تو کیا کہوں۔

چون ندیدند حقیقت رہ افسانہ زدند

میں تو یہ کہتا ہوں کہ اس قسم کے خلاف عقل اور ان نیچرل ڈھکوسلے چھوڑو۔ کیونکہ موجودہ زمانہ کی ہوا اس کا انکار کر رہی ہے اور یہ اسلام کے چمکتے ہوئے صاف و شفاف رخسارے پر ایک نہایت بدنما مسا یا کلنک کا ٹیکا ہے۔ تم اس کے عوض مجھے کافر اور ملحد اور دائرہ اسلام سے خارج کر رہے ہو۔

یہ تمہاری کس درجہ کی حماقت اور جہالت ہے کہ مردوں کو زندہ بتاتے ہو۔ جب انسان مر گیا گل گیا۔ چاروں عنصر اپنے اپنے طبقہ میں مل گئے تو زندگی کیسی۔ تم روح کو زندہ بلکہ ازلی اور ابدی بتاتے ہو۔ انسان کی زندگی اور موت بالکل ایسی ہے جیسے شمع میں تیل۔ یعنی جب تک تیل موجود ہے شمع جلتی ہے جب تیل جل چکا شمع رخصت ہوئی۔ ایک گھڑی کھٹ کھٹ چل رہی ہے۔ جب پرزوں کی کوک ڈھیلی پڑ گئی بند ہو گئی۔ اس میں کون سی روح موجود تھی کہ آسمان میں جا کر طبقہ ارواح سے کھسر پھسر کرنے لگی۔ یہی حال انسان کا ہے کہ جب تک حرارت غریزی اس کے جسم میں رہتی ہے۔ زندہ ہے جب حرارت بجھ گئی مر گیا۔

سنو سنو! میری امامت اور موعودیت کا انحصار بالکل عیسیٰ کی ممات کے مسئلے پر معلق ہے۔ تم جہالت اور سفاہت سے کہتے ہو کہ وہ زندہ ہے۔ میں کہتا ہوں کہ بالکل محال ہے۔ تم تو اپنے اولیاء اللہ کو بھی زندہ اور حاضر و ناظر جانتے ہو اور یہ تمہارا ایک معمولی رسمی، آبائی عقیدہ ہے۔ بفرض محال عیسیٰ زندہ ہی سہی مگر اس میں جدت اور خوبی کیا نکلی اور نیچر میں تم نے کون سا تعجب ٹھونس دیا کہ تمہارے اولیاء بھی زندہ اور عیسیٰ مسیح بھی زندہ۔ مگر عیسیٰ کے مقابلے میں پیغمبر عرب مردہ۔ اس بڑپن پر یوں جی چاہتا ہے کہ سر پیٹ ڈالوں۔ دیکھو عرب کا ایک شاعر کہتا ہے۔

٢٦٢

صفحہ ٢٩٧
ولو كان فى الدنيا خلود لواحد
لكان رسول الله فيها مخلدا ؎
بدنیا گر کسے پائندہ بودے
ابو القاسم محمد زندہ بودے

جب تم نے اسلام جیسے عظیم الشان مذہب کی بنیاد صرف مسیح کی حیات پر رکھ چھوڑی ہے تو ضرور ہے کہ میں بھی اپنی موجودیت ورسالت کا دارو مدار مسیح کی ممات پر رکھوں اور تمہیں ہر طرح ٹھونک دوں ۔ ضد ہے تو ضد ہی سہی اور یہ عام مسئلہ ہے کہ الاشیاء تعرف بالاضداد ؎

ایسی ضد کا بھی ٹھکانہ ہے کہ مذہب چھوڑ کر
میں ہوا کافر تو وہ کافر مسلمان ہو گیا

کشمیر میں جا کر دیکھ لو۔ عیسیٰ کی قبر موجود ہے اور کہو تو اپنے چیلوں کو بھیج کر اس کی ہڈیاں بھی اکھاڑ کر دکھا دوں اور پھر کشمیر کے کسی ڈل میں بہا دوں۔ جیسے لارڈ کچنر نے سوڈان کے مہدی تعایشی کی قبر بم کے گولوں سے اڑا دی اور ہڈیاں دریائے نیل میں بہا دیں۔ میں تو عیسیٰ کے نام ونشان تک سے بیزار ہوں۔ قابو چلے تو ہڈیاں کیسی اس کی قبر کی خاک بھی بگولوں کے حوالے کر دوں۔ کیونکہ مسلمان گور پرست ہیں۔ اس کی گور کا بھی پیچھا نہیں چھوڑتے ۔ بھلا تم میں اور عیسائیوں میں کیا فرق رہا۔ اگر وہ صلیب پرست ، تثلیث پرست ، تصویر پرست وغیرہ ہیں تو تم مسیح کے گور پرست ہو یا اس کی حیات پرست ۔

میں ایک لاثانی عالی شان نبی اور رسول اور مہدی اور امام آخرالزماں ہوں اور میں نے چمکتے ہوئے دلائل اور شواہد سے ڈنکے کی چوٹ اپنا دعویٰ ثابت کر دیا ہے اور دنیا کو منوا دیا ہے۔ مگر تم صرف ایک مسئلہ حیات مسیح پر جو بالکل بے وجود ہے۔ میرے سچے دعوؤں کا انکار کر رہے ہو۔ تم سے زیادہ اور کون ناحق کوش۔ ناحق نیوش۔ نفسانیت فروش ۔ ابلیس سے ہمدوش ، نمرود و ہامان سے ہم آغوش ۔ جہالت فروش ۔ دیگ تعصب کا سرپوش ۔ مبتلائے خواب خرگوش ۔ دین و دنیا فراموش ہوگا۔ عیسیٰ کا مر جانا کچھ بڑی بات نہیں ۔ تمام ذی حیات کے مرنے کا دور نیچر کا قانون اور نیچر کے بائیں ہاتھ کا معمولی کرتب ہے۔ مگر چونکہ تم کو ضد اور تعصب نے اندھا کر دیا ہے۔ پس میں بھی ہر طرح تم پر حجت قائم کر رہا ہوں اور ضد سے تنکے کو شہتیر اور رائی کا پہاڑ بنارہا ہوں۔

تم حیات مسیح پر ایسی پادر ہوا اور لچر باتیں بناتے ہو کہ میں تو میں ایک گدھا بھی سن لے تو مارے غصے کے ڈھینچوں ڈھینچوں کرنے لگے اور اگاڑی پچھاڑی توڑا کر دم دبا کر کان جھڑ جھڑا کر

٢٦٣

صفحہ ٢٩٩

کھونٹا اکھاڑ کر سیدھی پڑاوے کی راہ لے۔ یہ جا اور وہ جا اور پھر کہار لگام ہاتھ میں لئے دور سے دوب دکھاتا ٹاپتا رہ جائے۔ لگے کہنے کہ مسیح ویسا ہی زندہ ہے جیسے شہداء زندہ ہیں۔ چنانچہ قرآن میں ہے: ”لا تحسبن الذین قتلوا فی سبیل اللہ امواتا بل احیاء ولكن لا تشعرون“ میں جبھی تو کہتا ہوں کہ تمہارے علماء مفسرین گھانس کھا گئے ہیں۔

اوّل...... تو قرآن میں احیاء کو عدم شعور یا عدم العلم سے منطوق کیا ہے۔ مطلب یہی ہوا نا کہ تم نہیں جانتے کہ شہداء کیونکر اور کس طرح زندہ ہیں۔ ان کی حیات کیسی ہے۔ پس یہ ایک چیستان یا لایحل معمہ ہوا اور شریعت سے تفصیل ثابت نہیں اور یہ قاعدہ ہے کہ اجمال واجب العمل نہیں۔ پس جب تم کو اصل حیات ہی کا علم نہیں تو شہداء کی حیات سے مسیح کی حیات کا منطبق کرنا یعنی چہ۔

دوم...... مسیح کو شہداء سے تشبیہ دینا استغفراللہ، نعوذ باللہ، لاحول ولا قوة الا باللہ ۔ کجا شہداء کجا مسیح۔ میں تم کو اپنی کتاب میں مسیح کے کریکٹر کا فوٹو دکھا چکا ہوں۔

سوم...... حقیقی معنی کسی مفسر کے خواب میں بھی نہیں آئے۔ وہ ریگستان عرب میں اندھی اونٹنی کی طرح جا رہے ہیں۔ سنو، شہداء کی حیات سے مراد ہمیشہ ان کے نام کا زندہ رہنا ہے۔ دیکھ لو جو لوگ میدان کارزار میں سینہ سپر ہو کر غنیموں سے لڑے ہیں اور پھر جان پر کھیل گئے ہیں ان کا نام ابدالآباد تک زبانوں اور صفحات تواریخ پر زندہ ہے۔ مسیح نے تو زندگی بھر ایک چوہیا کا بچہ بھی نہیں مارا۔ بالآخر یہودیوں کے ہاتھوں نہایت بے کسی اور بے بسی کی حالت میں ”ایلی ایلی لم سبقتنی“ کہتا ہوا صلیب پر کھینچا گیا۔ اس کو شہیدوں کے زمرے میں داخل کرنا یا شہیدوں سے تشبیہ دینا شہادت کا خون کرنا ہے۔

چہارم...... تم ریفارمروں کے لٹکے کیا سمجھو۔ آیت سے مقصود لوگوں کو جنگ پر ابھارنا اور شجاعت کے جوہر دکھانے پر آمادہ کرنا اور جبن اور ہیزپنے کو دور کرنا یہ آیت گویا جنگ کے لئے ایک مہمیز ہے۔ جس کو سن کر نامرد بھی مرد بن جاتے ہیں اور جان کی کوئی حقیقت نہیں سمجھتے۔ جیسا کہ آیت کے منطوق سے ہویدا ہے کہ ”لا تحسبن“ میں نون تاکید اور تنبیہ کا ہے۔ یعنی خبردار ہو جاؤ جو لوگ خدا کی راہ میں قتل کئے گئے ہیں ان کو مردہ نہ سمجھو۔ وہ زندہ ہیں۔ مگر تم نہیں جانتے۔ یہ آیت گویا ان لوگوں کے لئے تنبیہ کا تازیانہ ہے جو جبن کو کام میں لاتے یا جنگ میں قتل ہونے والوں کو حقیر سمجھتے تھے۔ مقصود صرف شہادت کو مہتم بالشان بنانا ہے۔ اس سے یہ بھی غرض ہے کہ نامرد کی زندگی موت سے بدتر ہے۔ حقیقی زندگی انہیں لوگوں کی ہے جو خدا کی راہ میں قتل کئے گئے ہیں۔ مگر ہمارے ظاہر بین ظاہر پرست یا علماء ظواہر ایسے حقیقی نکات اور مفاہیم کو کیا سمجھیں۔

٢٦٤

پنجم...... اگر شہداء کی زندگی سے وہی مراد ہوتی جو عبارت کافی تھی: ”الذین قتلوا فی سبیل ا تحسبن“ اور ”امواتا“ اور ”ولکن لا تشعرون“

مجھے ان جاہل علماء اور فضلاء اور اولڈ مفسر یہ آپ اپنے پاؤں پر کلہاڑی مار رہے ہیں۔ آپ اپ منہ نوچ رہے ہیں۔ آپ اپنے ہونٹھ کاٹ رہے ہی پالک بنایا ہے ان پر رحم کرے اور ان کو خیالی خدا کے کے متعلق جو شخص میری تقریریں دیکھتا اور سنتا ہے گم صم کی سپر بنا رکھا ہے اور کسی کا کیا منہ ہے کہ میرے دلائل زمانہ میں ٹھیک نیچر کی شاہراہ پر بگٹٹ گھوڑا دوڑا رہا ہو مہلک راہ اختیار کر رہے ہو۔ پس غاروں اور کھوہوں چونکہ حیات مسیح پر تمہارا ایمان خدا پر ایمان لانے سے چاپڑوں سے کہہ دیا ہے کہ جب گفتگو کرو اسی مسئلہ پر کے لئے بہت سے ملانے گداگروں کی طرح پھیریا پس ایسے مسائل انہیں پر چھوڑ دو اور اب یہ باتیں کچھ نئی رفارم، نئی مذہبی اسکیم کا زمانہ ہے کل جدید للذ

سنو سنو! میں نیا رفارمر ہوں اور رفارم وجزئیات کی اصلاح کرنی پڑتی ہے۔ ابھی تو میں۔ کیونکہ یہ میری مسیحیت سے متعلق ہے۔ جب اسی ا ہے تو تمہیں سوچو کہ دوسرے عظیم الشان مسائل اور پیدا کریں گی۔ ابھی سے مسلمان جدا پٹتا رہے ہی دھوتیوں میں جدا قضیے پھوٹ رہے ہیں۔ شیعہ ماتم ہیں۔ علماء اور مشائخ کو قدر عافیت معلوم ہو رہی بھی نہیں آئی اور سب پر قیامت برپا ہونا ابھی باقی ہ کچھ میرے خروج پر نہیں بلکہ ہر رفارمر

٦٥

صفحہ ٢٩٩

پنجم...... اگر شہداء کی زندگی سے وہی مراد ہوتی جو ہمارے علماء سمجھے ہیں تو آیت میں صرف اتنی عبارت کافی تھی: ”الذین قتلوا فی سبیل اللہ احیاء“ مسلمانوں کے خدا نے گویا ”لا تحسبن“ اور ”امواتا“ اور ”ولکن لا تشعرون“ محض حشو بھرتی کیا۔

مجھے ان جاہل علماء اور فضلاء اور اولڈ مفسرین پر بعض اوقات غصہ کی جگہ رحم آجاتا ہے کہ یہ آپ اپنے پاؤں پر کلہاڑی مار رہے ہیں۔ آپ اپنی ریش مبارک کھسوٹ رہے ہیں۔ آپ اپنا منہ نوچ رہے ہیں۔ آپ اپنے ہونٹھ کاٹ رہے ہیں۔ حقیقی آسمانی باپ جس نے مجھے اپنا لے پالک بنایا ہے ان پر رحم کرے اور ان کو خیالی خدا کے پنجوں سے چھڑائے۔ دیکھو حیات و ممات مسیح کے متعلق جو شخص میری تقریریں دیکھتا اور سنتا ہے گم صم ہو جاتا ہے۔ پس میں نے اسی کو اپنی مسیحیت کی سپر بنارکھا ہے اور کسی کا کیا منہ ہے کہ میرے دلائل پر چونچ کھول سکے۔ وجہ یہ ہے کہ میں موجودہ زمانہ میں ٹھیک نیچر کی شاہراہ پر بگٹٹ گھوڑا دوڑا رہا ہوں اور تم نیچر کے خلاف خارزار اور پیچدار بلکہ مہلک راہ اختیار کر رہے ہو۔ پس غاروں اور کھوہوں میں گر کر تمہاری گردن ٹوٹے اور کمر ٹوٹے۔

چونکہ حیات مسیح پر تمہارا ایمان خدا پر ایمان لانے سے بھی بڑھ کر ہے۔ لہٰذا میں نے تمام چیلوں چانٹوں سے کہہ دیا ہے کہ جب گفتگو کرو اسی مسئلہ پر گفتگو کرو۔ نماز ، روزہ ، حج ، زکوٰۃ وغیرہ لغویات کے لئے بہت سے ملانے گداگروں کی طرح پھیریاں لگاتے اور روٹیاں مروڑتے پھرتے ہیں۔ پس ایسے مسائل انہیں پر چھوڑ دو اور اب یہ باتیں کچھ گاؤ خورد بھی ہوگئی ہیں۔ اب تو نئے رفارمر، نئی رفارم، نئی مذہبی اسکیم کا زمانہ ہے کل جدید لذیذ۔

سنو سنو! میں نیا رفارمر ہوں اور رفارمر کو نہ صرف متعدد ابواب بلکہ تمام کلیات وجزئیات کی اصلاح کرنی پڑتی ہے۔ ابھی تو میں نے مسیح کی حیات وممات کے مسئلے کو چھیڑا ہے۔ کیونکہ یہ میری مسیحیت سے متعلق ہے۔ جب اسی ایک چھوٹے سے مسئلے نے دنیا کو تہہ و بالا کردیا ہے تو تمہی سوچو کہ دوسرے عظیم الشان مسائل اور دیگر نئی اصلاحات دنیا میں کیسا کچھ انقلاب پیدا کریں گی۔ ابھی سے مسلمان جدا سٹپٹا رہے ہیں۔ عیسائی جدا سر پیٹ رہے ہیں۔ آریا کی دھوتیوں میں جدا پسینے چھوٹ رہے ہیں۔ شیعہ ماتم حسین کی جگہ دیواروں سے جدا سر پھوڑ رہے ہیں۔ علماء اور مشائخ کو جدا قدر عافیت معلوم ہورہی ہے۔ حالانکہ بڑھیا نے سن میں سے ایک پونی بھی نہیں کاتی اور سب پر قیامت برپا ہونا ابھی باقی ہے۔

کچھ میرے خروج پر نہیں بلکہ ہر رفارمر اور نبی کی بعثت پر غل غپاڑے مچے ہیں۔ دنیا

٢٦٥

صفحہ ٣٠٠

ادھر کی ادھر ہو گئی ہے۔ مگر چند ہی روز میں میدان صاف ہو گیا ہے اور گردو غبار ہٹ گیا ہے۔ میں صرف مسلمانوں ہی کا رفارمر نہیں ہوں جیسا کہ تمہارا خیال ہے چونکہ میں مسلمان کے گھر پیدا ہوا اور میرے باپ دادا بھی رسمی اور تقلیدی مسلمان تھے۔ پس اس کے سوا چارہ نہ تھا کہ میں بھی اپنے کو اوائل میں مسلمان ہی قرار دیتا اور سب سے پہلے مسلمانوں ہی کی مرمت اور خدمت کرتا۔ ورنہ در حقیقت میں نہ مسلمان ہوں، نہ ہندو۔ نہ آریہ نہ عیسائی۔ نہ بودھ نہ یہودی۔ نہ پارسی نہ ژندی۔ میں تو سب کا رفارمر اور ساری دنیا کے لئے جدید شارع ہوں اور اس لحاظ سے میں سب کچھ ہوں کیونکہ سب کی اصلاح کرتا ہوں۔

تمہیں غور کرو کیا ایک جلیل القدر رفارمر بوسیدہ تقلیدی مذاہب کا پابند ہو سکتا ہے۔ اس صورت میں تو وہ کیا خاک رفارم کر سکے گا۔ بھلا کہیں رفارمر بھی مقلد ہوا ہے۔ بعض انبیاء سے یہ بڑی بھاری غلطی ہوئی ہے کہ انہوں نے گزشتہ مذاہب کو کاٹ چھانٹ کر ایک کمپونڈ مذہب تیار کر دیا ہے۔ یہ ان کی حد درجہ کی کمزوری تھی۔ مثلاً پیغمبر عرب جس کو تم ساری دنیا کا رفارمر کہتے ہو وہ بھی ابراہیمی دین کا مقلد ہوا اور خدا کو بھی یہی کہنا پڑا کہ 'قل بل ملۃ ابراھیم حنیفاً' یعنی کہہ دے اے محمد کہ میں ملت ابراہیم کا اتباع کرتا ہوں۔ بھلا رفارمر کو کسی پرانے مذہب وملت کے اتباع و تقلید سے کیا سروکار۔

بات یہ ہے کہ انسانی ناتوانی سب کے ساتھ لگی ہے۔ رفارمر بھی آخر انسان تھے۔ وہ خدا کے لے پالک اور معصوم نہ تھے۔ میں خدا کا لے پالک کیا معنی حقیقی فرزند ہوں اور یہ قاعدہ ہے کہ 'الولد سر لابیہ' میرا باپ معصوم ہے تو میں بھی معصوم ہوں۔ معصوم سے معصوم اور غیر معصوم سے غیر معصوم پیدا ہوتا ہے۔ عیسیٰ مسیح غیر معصوم تھا اس کا خدا بھی غیر معصوم تھا۔

گندم از گندم بروید جو ز جو

میں صداقت کا پتلا، حقانیت کا فوٹو، خلوص کا موٹر، عصمت کا مرقع ہوں۔ میری ہر بات ٹکسالی، لایزالی احمدی اور جمالی ہے۔ میری پیشین گوئی ایک بھی پٹ نہیں پڑی اور ایسی تیر بہدف نکلی جیسے بوئر جنرل ڈیوٹ کے گولے برٹش کیمپ کے عین مین کے بیچ۔ انبیاء کی سیکڑوں پیشین گوئیاں غلط ہوگئیں۔ خدا نے ان کو بار ہا غلطیوں پر ڈانٹا۔ مگر میرے خدا نے مجھے ہمیشہ پیار کیا۔ میرے سامنے کبھی اف تک نہیں کی۔ عیسیٰ مسیح کو تو دوزخ ہی میں دھکیل دیا۔ وجہ یہ ہے کہ وہ اسی قابل تھا اور میں اس کے مقابلہ میں اسی قابل ہوں۔ (باقی آئندہ)

٣٦٦

تعارف مضامین

٨/ ستمبر ١٩٠٢ء

اسی ترتیب سے پیش خدمت

سنو سنو! ہندوستان میں ہر رہی ہے اور لوگوں کو ہلاکت میں ڈال ر گدی تکیہ لگائے بیٹھے ہیں خدا پر ان کا اور میں اپنی بیعت سے سب کو آسمانی باپ ہے۔ کیونکہ میں آسمانی باپ کا لے پالک کہتے ہیں تو میرے چیلے مجھے کیوں خدا بیعت کرنا ہے۔ مجھے غصہ تو اسی پر آتا ہ لنگڑ شاہ مداری اور کڑ شاہ سلاری اور مج ہیں یا ان کے جثے کی پھوٹ گئی ہے ہوں۔ میرے سامنے کسی کی کیا مجال پیروں اور دلیلوں اور نبیوں اور رسولوں جلد زندہ درگور کر دوں گا۔

صفحہ ٣٠١

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ تعارف مضامین ...... ضمیمہ شحنہ ہند میرٹھ ٨ رستمبر ١٩٠٢ء کے شمارہ نمبر ٣٤ کے مضامین

......١ بقیہ مرزا قادیانی کے خیالات کا لیکچر مولانا شوکت اللہ! ......٢ مرزائی کچکول میں پیشہ اور دھیلا اعینو یار جال الغیب خادم: م.م.ذ. لاہوری! ......٣ لندن اور قادیان مولانا شوکت اللہ! ......٤ الحکم میں جعلی فہرست بیعت ج . ن! ......٥ استفتاء ج . ن! ......٦ رسالہ اشاعۃ السنۃ اور مرزا قادیانی ج . ن! ......٧ ملا فضل قادر صاحب اور مرزا ج . د!

اسی ترتیب سے پیش خدمت ہیں۔

١...... بقیہ مرزا قادیانی کے خیالات کا لیکچر

سنو سنو ! ہندوستان میں ہر کس و ناکس سے بیعت کرنے کی وبا طاعون کی طرح پھیل رہی ہے اور لوگوں کو ہلاکت میں ڈال رہی ہے۔ یہ مشہور خاندانوں کے پیر زادے اور مشائخ جو گدی تکیہ لگائے بیٹھے ہیں خدا پر ان کا تکیہ نہیں یہ مسلمانوں کو خدا سے پھیر کر اپنا بندہ بنا رہے ہیں اور میں اپنی بیعت سے سب کو آسمانی باپ کا بندہ بناتا ہوں اور میں اگر ان کو اپنا بندہ بھی بناؤں تو بجا ہے۔ کیونکہ میں آسمانی باپ کا لے پالک ہوں۔ جب کہ عیسائی عیسیٰ مسیح جیسے بے خوارق انسان کو خدا کہتے ہیں تو میرے چیلے مجھے کیوں خدا نہ کہیں۔ پس مجھ سے بیعت کرنا درحقیقت آسمانی باپ سے بیعت کرنا ہے۔ مجھے غصہ تو اسی پر آتا ہے کہ میرے ہوتے لوگ بدھو شاہ جلالی اور نتھو شاہ جمالی اور لکھ شاہ مداری اور ککڑ شاہ سلاری اور جھکڑ شاہ ہزاری سے بیعت کریں۔ مسلمان یا تو بھنگ کھا گئے ہیں یا ان کے بخت ہی پھوٹ گئے ہیں کہ بالکل چوپٹ سورداس بن گئے ہیں۔ میں خاتم الخلفاء ہوں۔ میرے سامنے کسی کی کیا مجال کہ اپنا شجرہ طریقت پیش کر سکے۔ میں نے جس طرح تمام مردہ پیروں اور ولیوں اور نبیوں اور رسولوں کا خاتمہ کر دیا ہے۔ اسی طرح تمام موجودہ مشائخ کو بھی بہت جلد زندہ درگور کر دوں گا۔

٢٦٧

صفحہ ٣٠٢

میں نے جو اپنے کو خاتم الخلفاء کہا ہے نہ کہ خاتم الانبیاء تو تم اس پر کھورو نہ لاؤ۔ جب میں نے اپنا ظلی اور بروزی نبی ہونا مشتہر کیا تھا تو تم نے لمبے لمبے منہ بنائے تھے اور تم تہہ و بالا ہو گئے تھے اور پیر زادوں اور مشائخ کے سروں پر تو قیامت ہی نازل ہو گئی تھی۔ وہ انگاروں پر لوٹنے لگے تھے کہ اب ہمیں کون پوچھے گا کونڈے اور توشے۔ نذر اور نیاز۔ حلوے مانڈے اور منتیں ۔ دکھشنے اور دانت گھسائیاں سب قادیان ہی کو ریلوے مال گاڑیوں پر لدی چلی جائیں گی اور ان کا یہ خیال تھا بھی ٹھیک ٹھیک۔ کیونکہ کالے کے آگے چراغ نہیں جلتا۔ پس میں نے خیال کیا کہ وحشیوں اور نادانوں ، مورکھوں اور سادہ لوحوں کو کیوں انگلی دکھائی جائے ۔ بوئے بستان یاد دہانیدن فضول ہے۔ اس لئے میں نے اپنے کو بجائے خاتم الانبیاء خاتم الخلفاء کہا۔ اگرچہ بات ایک ہی ہے۔ یعنی یہ دونوں لفظ در حقیقت ہم معنے ہیں۔

سنو سنو! خلیفہ کے معنے نبی کے ہیں۔ قرآن مجید میں ہے: ”انی جاعل فی الارض خلیفہ“ آدم علیہ السلام خلیفہ یعنی نبی تھے۔ پھر خلافت کا سلسلہ جاری ہو گیا۔ تمام انبیاء یکے بعد دیگرے خلیفہ ہوتے چلے آئے۔ آنحضرت ﷺ بھی خلیفہ تھے۔ مگر خاتم الخلفاء نہ تھے۔ ختم الخلفاء میں ہوں۔ میرے بعد کوئی خلیفہ نہ ہوگا ۔ تم تو بالکل مادر زاد اندھے ہو۔ تمہیں سوتے دھار بھی نہیں سوجھتی کہ اس کا ریلا تمہاری میانی کی جانب آ رہا ہے یا دارالامان قادیان کی طرف جا رہا ہے۔ ابے احمق الذی کے وارثو! اگر پیغمبر عرب خاتم الخلفاء ہوتا تو میں کیوں مبعوث ہوتا۔ آسمانی باپ ایسا نا عاقبت اندیش نہ تھا کہ اپنے پاؤں پر آپ کلہاڑی مارتا اور اپنے سپوت لے پالک کی میراث غضب کر کے کسی دوسرے کو دے دیتا اور اپنے فرزند کو عاق اور محروم الارث کر دیتا۔ اس کی کورٹ میں انصاف ہوتا ہے وہ چوپٹ نگری کا اندھا راجہ نہیں۔ تم انگلی انگلی ہو تو میں پھٹکی پھٹکی ہوں۔ تم تو ہو ہی مگر میں بھی بڑا وہ ہوں۔ جب میں نے الہام کا دعویٰ کیا تو تمہاری چرخ چون عقل دریائے حیرت میں گئی ۔ ڈبکوں ڈبکوں کرنے ۔ آسمان سر پر اٹھا لیا۔ زمین تلووں سے نکل گئی۔ مگر تم رفتہ رفتہ یہ غپاغپی کھا گئے اور چونکہ نبی اور رسول ہونا کچھ بری بات نہیں۔ لاکھوں نبی اور رسول پیدا ہوتے چلے آئے ہیں اور آئندہ کروڑوں پیدا ہوں گے اور میں لکھ چکا ہوں کہ آسمانی باپ میں سب طرح کی طاقت ہے۔ پس میں نے اپنے باپ سے رو کر، بلبلا کر، ایڑیاں رگڑ کر اصرار کیا کہ اگر میں بھی نبی اور رسول ہی رہا اور آئندہ ترقی نہ کی تو تمہیں آسمانی باپ اور مجھے لے پالک خلف فرزند ارجمند کون کہے گا۔ کیونکہ نبوت اور رسالت تو آندھی کے آم ہو گئے ہیں۔ آپ جانتے ہیں تریاہٹ اور بالک ہٹ مشہور ہے۔ لہٰذا آسمانی باپ کو میری یہ ہٹ ماننی پڑی اور مجھ پر یہ دراتا اور چوچوہا تا اور ٢٦٨

صفحہ ٣٠٣

گرجتا الہام نازل فرمایا: ’’ان کنت من قبل رسولا ونبیا فالآن انت بمنزلة ولدی وخاتم الخلفاء اعنی خاتم الانبیاء‘‘ پس میں نے اپنے کو اخبار الحکم مطبوعہ ٢٤ اگست ١٩٠٢ء کے ص ٧ کالم ٢ ج ٦ شمارہ نمبر ٣٠ میں علی الاعلان خاتم الخلفاء قرار دیا۔ اب دیکھوں یہ اعلان تم کو کیا کیا ناچ نچاتا ہے اور تم پر کیا غضب ڈھاتا ہے۔ مگر یاد رکھو چند روز میں تم اس کو بھی سہہ جاؤ گے اور نرم چارے کی طرح نگل جاؤ گے۔ تمہارے دقیانوسی علماء اور مشائخ غل مچائیں گے۔ خاک اڑائیں گے۔ بالآخر ٹپٹا کر اور سر پیٹ کر رہ جائیں گے۔

سنو سنو! تمہارے علماء اور مشائخ میں چونکہ خلوص نہیں۔ بلکہ وہ میرے بالمقابل معاندانہ وقتاً فوقتاً محض حب مال ودولت کی وجہ سے میرے مقابلہ میں اپنی کساد بازاری دیکھ کر کارروائی کر رہے ہیں۔ لہٰذا ان کے رسالوں، ان کی کتابوں ان کے مضامین میں مطلق اثر نہیں ہوتا۔ تمہیں غور کرو اس عرصہ میں انہوں نے پریس کو توپوں سے کس قدر بم کے گولے چھوڑے۔ مگر میرے دارالامان قادیان کے حصن حصین اور منارے کی برجیوں پر ان کا کیا اثر ہوا۔ انہوں نے اس عرصہ میں میرا کیا بگاڑا۔ بلکہ جس قدر جان توڑ کر مخالفت کی۔ اسی قدر احمدی جماعت کو روز افزوں ترقی ہوئی اور ہورہی ہے۔ میرے ذاتی اخبار الحکم میں جو ہفتہ وار بیعت کا کالم چھپتا ہے۔ تم اس سے اندازہ کرتے ہوگے کہ میری جماعت خود بخود یوں نمو پا رہی ہے۔ جیسے بہار کے موسم میں نخل وشجر اور جیسے برسات کے موسم میں خود رو درخت اور حشرات۔ تمہارے مشائخ اور علماء کے اثر کا میں اس وقت قائل ہوتا کہ تم دنیا کو میری جانب رجوع ہونے سے روک دیتے۔ کیا تم کو ابھی میرے اصلی مسیح موعود اور مہدی مسعود ہونے میں شک ہے۔ میں جھوٹا سہی۔ مکار سہی، عیار سہی۔ خود غرض سہی، بوالہوس سہی۔ لیکن میں تن تنہا جو کارروائی کر رہا ہوں اور میں نے مسلمانوں میں جو انقلاب عظیم پیدا کر دیا ہے۔ تم سب کے سب متفق ہو کر اس کے عشر عشیر تو کارروائی کر دکھاؤ۔ تمہارے گروہ میں بڑے بڑے لوگ ہیں اور بعض مشہور خاندانوں کے پیر زادے اور مشائخ تو لاکھ لاکھ مرید اور خدام رکھتے ہیں۔ مگر سب مجھ جیسے منفرد مگر سچے مہدی اور مسیح کے سامنے پست ہیں اور ان کو دانتوں پسینا آ رہا ہے۔ یہ پسینہ نہیں عرق انفعال ہے۔ اب انصافاً تمہیں غور کرو کیا ایسا شخص جھوٹا ہو سکتا ہے کیا قدرت الٰہی جھوٹی ہے جو جھوٹوں کو یوں فروغ دے رہی ہے۔

سنو سنو! تم یہ بھی تو بتاؤ کہ ہندوستان میں میرے مخالف کتنے ہیں۔ شاید انگلیوں پر گننے کے قابل ہوں وہ بھی بمشکل۔ امرتسر میں ثناء اللہ، راولپنڈی میں مہر علی شاہ، لاہور میں مصنفان عصائے موسیٰ اور شاید کوئی ایک آدھ ملتان اور پشاور میں ہو۔ ان میں سے بھی بعض اوّل اوّل

٢٦٩

صفحہ ٣٠٤

میرے موافق بلکہ مرید خالص اور میری زنبیل میں پیسہ کوڑی ڈالنے والے تھے۔ اخیر میں مجھ سے باغی اور منحرف ہو گئے جن کے مفصل وجوہ کا کبھی ذکر کروں گا۔

پنجاب کے مذکورہ بالا چند مخالفوں کے علاوہ بتاؤ۔ ممالک مغربی و شمالی، ملک متوسط، بنگال، مدراس، بمبئی وغیرہ میں میرا کون مخالف ہے۔ کسی ایک آدھ ہی کا نام لو۔ پھر علاوہ ہندوستان کے افغانستان وسط ایشیاء، روس عرب، ٹرکی یورپ و افریقہ اور تمام ایشیاء میں میری مخالفت کے جھنڈوں کے پھریرے کہاں کہاں لہرا رہے ہیں۔ پھوٹے منہ سے کہیں کا تو حوالہ دو۔ سب نے چپ چاپ میری نبوت ورسالت کو مان لیا ہے اور کوئی چون بھی نہیں کرتا۔ یہ تو پنجاب ہی کے چند گمنام لوگوں کی بدبختی اور شامت ہے کہ جرئی اللہ فی ظل الانبیاء اور فرستادہ خاص پروردگار کا انکار کر رہے ہیں۔ سچ کہا ہے ۔

چون خدا خواہد کہ پردہ کس درد
میلش اندر طعنہ پاکان برد

ملک اور قوم پر بڑا اثر ڈالنے والے اور فیلنگ پیدا کرنے کے آلے صرف اخبارات ہوتے ہیں۔ یہ سب مجھ پر ایسا سچا ایمان لائے ہیں کہ ان کا ایسا ایمان خدا اور پیغمبر عرب پر بھی نہ ہوگا۔ ان میں لے دے کر میرے مخالف صرف دو ہیں۔ پیسہ اخبار اور شحنہ ہند، پیسہ اخبار کو تو میرے حکیم الامتہ نے ایک ہی ڈانٹ بتائی تھی کہ غریب کی گھگھی بندھ گئی اور آئندہ کے لئے مخالف سے توبہ نصوح کی۔ اب شحنہ ہند کی باری ہے۔ خدا نے چاہا تو وہ گھڑکے دوں کہ ہندوستان چھوڑ کر بھاگ جائے اور اپنی سیف زبانی اور تجدید بیانی اور مجدد الزمانی کو بھول جائے۔ میں بھی اس کی تاک میں یوں بیٹھا ہوں جیسے کوئی چڑی مار شیر کی تاک میں۔ دیکھو تو سہی کیا ہوتا ہے۔ ان دو اخباروں کے سوا تمام دیسی بلکہ انگریزی اخبارات میرے چیلے، میرے گرگے، میرے ہوا خواہ اور میری مسیحیت ومہد ویت پر قربان ہیں۔ یہ دو ٹکے کیا بھاڑ کو پھوڑ سکتے ہیں اور میری ٹرین کی راہ میں کیا شہتیر ڈال سکتے ہیں۔

سنو سنو ! جب میں خاتم الخلفاء یعنی خاتم الانبیاء ہوں۔ جیسا کہ اوپر بیان کر چکا تو میری جماعت کا ایک ایک تنفس نبی ہے۔ اگر چہ میں نے ان کی نبوت کا اعلان نہیں کیا۔ کیونکہ ابھی میرے خاتم الانبیاء ہونے کا چار طرف غلغلہ مچے گا۔ جب دنیا اس دعوے کو بور کے لڈؤں کی طرح ہضم کر جائے گی تب ایک ایک احمدی کو نبی بنادوں گا اور بنی بننے میں کون سے چھکڑے لدتے ہیں۔ جس شخص کے مرید اور چیلے کثرت سے ہوں گے وہ جسے چاہے گا نبی بنادے گا اور خود افسر

٢٧٠

٠٥

الانبیاء اور سردار رسل بن جائے گا۔ پنجوں میں خدا دیکھو عیسائیوں نے عیسیٰ کو خدا اور ان کے حواری پو کالے پالک ہوں۔ اپنے کو خاتم الانبیاء اور تما الانبیاء ہونا میری کوئی صفت نہیں۔ بلکہ میرے جاہل مسلمان انبیاء کی بڑی عظمت کرتے ہیں۔ ب کے تمام ممبروں کو انبیاء بنانا ٹھہرا دیا ہے۔ بھلا غ شائستہ اور مہذب انسان بننے کے قابل بھی نہ وارث و جانشین ابناء اللہ بھی نہ ہوں۔

سنوسنو! تمہارے دیدے تو ہو گئے ہ و یصم “ اس لئے تم میری بروزی اور ظلی رسال اعلان دیتا ہوں کہ تم قادیان آؤ۔ مجھ سے دو چا میری زیارت کرتے ہی ساری چوکڑیاں اور اڑ منہ میں وہ ۔

دل میں کتنے
ایک بھی اس

مردہ نبیوں کی کہانیاں تم نے قرآن قصے سنے ہیں۔ سنی سنائی باتوں پر تو تمہارا ایماں اور زندہ خاتم الانبیاء موجود ہوں مجھ پر ایمان لا اور کیا ہے۔

......٢ مرزائی کج

اعینو یا

مخدوم وکرم جناب مولوی صاحب اخبار الحکم مورخہ ٥/ مارچ ١٩٠٢ء میں ایک اش تھا کہ : ” مجھے خدا نے بتلایا ہے کہ میرا انہیں اعانت اور نصرت میں مشغول ہیں۔ مگر بعض

صفحہ ٣٠٥

الانبیاء اور سردار رسل بن جائے گا۔ پنجوں میں خدا ضرور ہوتا ہے۔ بلکہ پنج مل خدا اور خدا مل پنج۔ دیکھو عیسائیوں نے عیسیٰ کو خدا اور ان کے حواری پولوس، یوحنا، متی وغیرہ کو رسول بنادیا۔ میں بھی خدا کا لے پالک ہوں۔ اپنے کو خاتم الانبیاء اور تمام احمدیوں کو انبیاء کیوں نہ بناؤں۔ اگرچہ خاتم الانبیاء ہونا میری کوئی صفت نہیں۔ بلکہ میرے لئے ایک قسم کی توہین ہے۔ لیکن چونکہ وحشی اور جاہل مسلمان انبیاء کی بڑی عظمت کرتے ہیں۔ لہٰذا میں نے اپنے کو خاتم الانبیاء اور اپنی سوسائٹی کے تمام ممبروں کو انبیاء بنانا ٹھہرا دیا ہے۔ بھلا غضب خدا کا عیسیٰ جیسا شخص تو خدا بن جائے جو شائستہ اور مہذب انسان بننے کے قابل بھی نہ تھا اور میں اس کے مقابلے میں خاتم الانبیاء اور وارث و جانشین ابناء اللہ بھی نہ بنوں۔

سنو سنو! تمہارے دیدے تو ہو گئے ہیں پشم۔ کیونکہ ”حبک الشیء یعمی ویصم“ اس لئے تم میری بروزی اور ظلی رسالت اور ختم نبوت کا جلوہ نہیں دیکھ سکتے۔ میں بار بار اعلان دیتا ہوں کہ تم قادیان آؤ۔ مجھ سے دو چار ہوتے ہی تمہاری چار آنکھیں نہ ہو جائیں اور میری زیارت کرتے ہی ساری چوکڑیاں اور اڑان گھائیاں نہ بھول جاؤ تو یہی کہنا کہ جھوٹے کے منہ میں وہ۔۔

دل میں کتنے مسودے تھے ولے
ایک بھی اس کے روبرو نہ گیا

مردہ نبیوں کی کہانیاں تم نے قرآن میں دیکھی ہیں اور اپنے واعظوں سے ان کے دلکش قصے سنے ہیں۔ سنی سنائی باتوں پر تو تمہارا ایمان اور میں جو تمہارے سامنے خدا کا زندہ لے پالک اور زندہ خاتم الانبیاء موجود ہوں مجھ پر ایمان لاتے ہوئے کنیاتے ہو۔ یہ تمہاری سیاہ بختی نہیں تو اور کیا ہے۔

٢....... مرزائی کچکول میں پیسہ اور ڈھیلا

اعینو نیارجال الغیب

مخدوم و مکرم جناب مولوی صاحب، السلام علیکم! جناب کو یاد ہوگا کہ مرزا قادیانی نے اخبار الحکم مورخہ ٥/مارچ ١٩٠٢ء میں ایک اشتہار عام اپنے کل حواریوں کو دیا تھا۔ جس کا مضمون یہ تھا کہ: ”مجھے خدا نے بتلایا ہے کہ میرا انہیں سے پیوند ہے۔ یعنی وہی خدا کے دفتر میں مرید ہیں جو اعانت اور نصرت میں مشغول ہیں ۔ مگر بعض خدا کو دھوکا دینا چاہتے ہیں۔ پس ہر ایک مرید جو مرید

٢٧١

صفحہ ٣٠٧

ہے۔ اس کو چاہئے کہ اب اپنے نفس پر کچھ ماہواری مقرر کرے خواہ ایک پیسہ خواہ ایک دھیلا ہو اور جو شخص کچھ بھی مقرر نہیں کرتا اور نہ جسمانی طور پر اس سلسلہ کے لئے کچھ مدد کرتا اور دے سکتا ہے وہ منافق ہے۔ اب اس کے بعد (٥؍جون ١٩٠٢ء) وہ سلسلہ میں رہ نہیں سکتا۔ تین ماہ تک ہر بیعت کرنے والے کا انتظار کیا جاوے گا۔ اگر تین ماہ تک کسی کا جواب نہ آیا۔ یعنی ٥؍جون ١٩٠٢ء تک تو سلسلۂ بیعت سے اس کا نام کاٹ دیا جائے گا وغیرہ!‘‘ اب ٥؍جون ١٩٠٢ء کو تین ماہ کامل ہوگئے۔ معلوم نہیں نتیجہ کیا ہوا۔ اگر آپ کو یا آپ کا اخبار دیکھنے والوں میں سے کسی صاحب کو معلوم ہو تو بذریعہ شحنہ ہند اطلاع بخشیں۔ مشکور ہوں گا۔ معلوم ہوتا ہے کہ مرزا قادیانی کی مالی حالت کچھ مذبذب اور خطرناک ہے۔ کیونکہ پیسہ پیسہ اور دھیلا تک مانگنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ مشک، عنبر، کستوری، بیدمشک، برف اور لیمنٹ اور روغن بادام وغیرہ جو ہر روز بلا دریغ استعمال میں آتی تھیں۔ ان میں کچھ فتور سا آ گیا ہے۔ باہر جانے کا خوف ہے۔ اگر واقعی یہ بات ہے تو سخت افسوس اور رنج کا مقام ہے اور مجھ کو مرزا قادیانی سے دلی ہمدردی ہے۔ خداوند کریم ان کے آمدنی کی کوئی عمدہ سبیل کردے۔ ان کے مریدوں کے دل نرم ہو جاویں کہ اپنا کل مال جائیداد (جس کی مالیت لاکھوں روپیہ کی ہو۔ ورنہ تھوڑی سے کام نہیں چلے گا) مرزا قادیانی کے نام وقف کردیں یا نسخہ کیمیا مل جائے تاکہ آئندہ مرزا قادیانی مدۃ العمر بے فکر ہو کر تصنیف وتالیف میں مشغول رہیں اور علماء دین کو کافر، بے دین، تاریکی کی اولاد کہہ سکیں اور رسول اللہ بنے رہیں یا عین خدا اور فرزند خدا بن کر تثلیث کے مسئلہ کا کامل ثبوت دیتے رہیں۔ ورنہ صورت دیگر مرزا قادیانی لنڈورے ہوکر عام لوگوں کے مانند ہو جاویں گے اور گرم بازاری سرد پڑ جاوے گی۔ میں جناب سے اور نیز ناظرین شحنہ ہند اور دیگر خواہان قوم سے درخواست کرتا ہوں کہ سب صاحب یک دل ہو کر تمام مریدان مرزا قادیانی اور دیگر مسلمانان مرزا قادیانی کی حالت زار اور خطرناک پر رحم کر کے ان کی امداد کریں۔ یہ عین وقت مدد ہے۔ ورنہ پھر دست افسوس ملنے کے سوا کچھ نہ ہوگا۔ ایسا مربی، خیر خواہ قوم، امام امت، مہدی موعود رسول اللہ اگر فاقہ کشی سے فوت ہو گیا تو اس کا گناہ تمام لوگوں پر ہو گا یا مرزا قادیانی کی دعا (بددعا) سے کوئی بلا مثل طاعون وغیرہ یا کوئی بلا آسمانی نازل ہو تو پھر سخت مشکل ہوگی۔ خاکسار بھی جو کچھ ہو سکے گا نذر کرنے کو تیار ہے۔ مگر اول جناب براہ مہربانی بخوبی تحقیقات کرلیں کہ مرزا قادیانی کی واقعی ایسی حالت ہے۔ غالباً ایسی ہی ہے کیونکہ خدا نے خود مرزا قادیانی کو بذریعہ الہام فرما دیا ہے کہ ان کے مرید ربانی مرید ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں۔ مگر گرہ سے کچھ نہیں کھولتے۔ آخر کہاں تک بلا زر کام چلے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون!

٢٧٢

ہاں ایک بات یاد آئی۔ مریدان مرزا قادیا دھیلا ہی کیوں نہ ہو) اور برابر ماہوار امداد پہنچتی ہے یا ن ہے۔ مگر جن مریدوں نے امداد نہیں کی وہ منافق ہوئے خدا سے کاٹے گئے یا نہیں؟ اگر کاٹے گئے تو چشم ماروش اور اگر نہیں کاٹے گئے تو کیا خدا کے یہاں سے میعاد بڑ مقرر ہوگی۔ براہ مہربانی ان سب حالات سے مطلع فر بیقراری ہے۔ مجھ سے دیکھا نہیں جاتا کہ مرزا قادیان کے مرید امداد نہ کر سکیں یا نہ کریں اور منافق ہوکر خار و ان کی امداد کرنی چاہئے۔ یہ دشمنی کا وقت نہیں۔ مسلم امداد اور دستگیری کرے۔ بررسولاں بلاغ باشد و بس۔

میں نے ناظرین کی سمع خراشی اس لئے ک مل گیا۔ اس کے صفحہ ١٣، ١٤ پر ماسٹر عبدالرحمٰن مرزائی ہوا۔ جس سے صاف پایا جاتا ہے کہ تاحال مریدان م کے اشتہار کی کچھ پرواہ نہیں کی اور تاحال کوئی صور دیکھنے سے سخت قلق ہوا۔ اللہ صاحب آپ کے حا ہے۔ مرزا قادیانی تو جس صورت سے ہو سکے گا اپ کسی نہ کسی طرح اپنی زندگی کے دن پورے کری ذریات اور اصحاب خاص الخاص کا ہے کہ بیچارے ک پر دھرنہ دیں گے۔ (خصوصاً اپاہج)

(الحکم مورخہ ٢٤؍ اگست ١٩٠٢ء ج٦ ص ٣٠ م

گئی ہے کہ ایسا نہ ہو۔ ایسے غافل (بقول حضرت اقد فضلی اني ارى الملائكة الشداد‘‘ ک وطاعون سے ان پر یا ان کے رشتہ داروں پر ابت مریدان مرزا قادیانی امداد (حضرت اقدس کری دوسرے مسلمان تو اس سے محفوظ رہیں گے۔ کیونک

٣

صفحہ ٣٠٧

ہاں ایک بات یاد آئی۔ مریدان مرزا قادیانی نے امداد کی ہے یا نہیں۔ (خواہ وہ پیسہ یا دھیلا ہی کیوں نہ ہو) اور برابر ماہوار امداد پہنچتی ہے یا نہیں۔ اگر پہنچتی ہے تو بڑی خوشی ورنہ افسوس ہے۔ مگر جن مریدوں نے امداد نہیں کی وہ منافق ہوئے یا ابھی کچھ کسر باقی ہے اور ان کے نام رجسٹر خدا سے کاٹے گئے یا نہیں؟ اگر کاٹے گئے تو چشم ماروشن دل ماشاد۔ کیونکہ منافق واقعی اسی لائق تھے اور اگر نہیں کاٹے گئے تو کیا خدا کے یہاں سے میعاد بڑھا دی گئی اور تاریخ پیشی واخراج نام دوسری مقرر ہوگی۔ براہ مہربانی ان سب حالات سے مطلع فرما کر مشکور فرماویں۔ مجھے سخت بے چینی اور بیقراری ہے۔ مجھ سے دیکھا نہیں جاتا کہ مرزا قادیانی ایسی حالت کو پہنچ جاویں۔ اگر مرزا قادیانی کے مرید امداد نہ کر سکیں یا نہ کریں اور منافق ہو کر خارج از رجسٹر ہو گئے ہوں تو دوسرے مسلمانوں کو ان کی امداد کرنی چاہئے۔ یہ دشمنی کا وقت نہیں۔ مسلمان وہ ہے جو مصیبت کے وقت دشمن کی بھی امداد اور دستگیری کرے۔ بررسولاں بلاغ باشد و بس۔ آئندہ اختیار!

میں نے ناظرین کی سمع خراشی اس لئے کی کہ مجھ کو اتفاقیہ اخبار الحکم ٢٤ اگست دیکھنے کو مل گیا۔ اس کے صفحہ ١٣، ١٤ پر ماسٹر عبدالرحمن مرزائی احمدی کی ضروری یاددہانی کے ملاحظہ کا اتفاق ہوا۔ جس سے صاف پایا جاتا ہے کہ تاحال مریدان مرزا قادیانی نے مرزا قادیانی کے خدائی الہام کے اشتہار کی کچھ پرواہ نہیں کی اور تاحال کوئی صورت امداد چندہ ماہوار کی نہیں ہوئی۔ جس کے دیکھنے سے سخت قلق ہوا۔ اللہ صاحب آپ کے حال پر رحم کرے۔ ورنہ حالت ردی معلوم ہوتی ہے۔ مرزا قادیانی تو جس صورت سے ہو سکے گا اپنے اندوختہ سے (لوگوں کا مال خیال نہ کریں) کسی نہ کسی طرح اپنی زندگی کے دن پورے کریں گے۔ مگر مجھ کو تو زیادہ خیال مرزا قادیانی کی ذریات اور اصحاب خاص الخاص کا ہے کہ بیچارے کیا کریں گے اور ایک در چھوڑ کر کس دوسرے گھر پر دھرنہ دیں گے۔ (خصوصاً اپاہج)

(الحکم مورخہ ٢٤ اگست ١٩٠٢ء ج ٦ ش ٣٠ ص ١٣) کی اسی ضروری یاد دہانی میں یہ بھی دھمکی دی گئی ہے کہ ایسا نہ ہو۔ ایسے غافل (بقول حضرت اقدس منافق) ”الامراض تشاع والنفوس تضلے انی اری الملائکۃ الشداد“ کے نشانہ بنیں یعنی امراض شدیدہ اور دیگر مصائب وطاعون سے ان پر یا ان کے رشتہ داروں پر ابتلائیں پیش آئیں۔ وغیرہ! کیوں حضرت اگر مریدان مرزا قادیانی امداد (بخدمت اقدس کریں) تو ابتلاء وبلا صرف مریدان خاص پر پڑے گی۔ دوسرے مسلمان تو اس سے محفوظ رہیں گے۔ کیونکہ حضور کو تو مریدوں کا خیال ہے۔ نہ کہ مسلمانوں

٢٧٣

صفحہ ٣٠٨

کے جن سے کوئی درخواست امداد نہیں کی گئی۔ ان کا تو کوئی گناہ نہیں۔ اگر یہی بات ہے تو خدا کا شکر ہے اور ہم ممنون ہیں مرزا قادیانی کے کیونکہ ایک کا گناہ دوسرا نہیں اٹھاتا۔

مجھے ٣١؍ اگست کو جناب پیر قمر الدین صاحب اکسٹرا اسسٹنٹ کمشنر ضلع میانوالی کے ساتھ ریل گاڑی میں سفر کرنے کا اتفاق ہوا۔ پیر صاحب ایک مشہور مرید مرزا قادیانی کے ہیں۔ عندالذکر معلوم ہوا کہ پیر صاحب موصوف کچھ عرصہ سے بیعت توڑ کر آزاد ہو گئے ہیں اور اب مرزا قادیانی سے ان کو کوئی تعلق نہیں رہا۔ پیر صاحب نے اور بھی کئی راز مرزا قادیانی کے بیان کئے۔ جن کے ثبوت آپ کے پاس ہیں۔ مگر میں مصلحتاً ابھی ذکر نہیں کرتا۔ اگر ضرورت ہوئی تو پھر عرض کروں گا۔ مرزا قادیانی کا دلی خیر خواہ، خاکسار اور خادم: م م د، لاہوری! ایڈیٹر....... براہ عنایت چھپی دھری لگی لپٹی سب کھول دیجئے باسی نہ رکھئے۔ یہ کس دن کے لئے رکھ چھوڑی ہے۔

٣....... لندن اور قادیان

جیسا کہ (الحکم مورخہ ٢٤ اگست ١٩٠٢ء ج ٦ شمارہ ٣٠ ص ٥) میں لکھا ہے کہ مرزا قادیانی سے ان کے ایک بڑے حواری نے بیان کیا کہ میرے نام لندن سے ایک خط آیا ہے کہ یہاں آ کر دیکھو جنت عیسائیوں کو حاصل ہے یا مسلمانوں کو۔ میں نے اس کو جواب لکھا کہ سچی عیسائیت سچ اور اس کے حواریوں میں تھی اور سچا اسلام آنحضرت ﷺ اور صحابہ میں تھا۔ پس ان دونوں کا مقابلہ کر کے دیکھ لو۔ اس پر مرزا قادیانی نے لمبی چوڑی تقریر فرمائی جس کا خلاصہ یہ ہے کہ لندن میں آزادی ہے۔ عیش پرستی ہے۔ وغیرہ! حالانکہ بہشت کی کلید تقویٰ ہے۔ خیر یہ تو معمولی جواب ہے۔ لیکن حواری صاحب نے اپنے امام الزمان کے عندیے اور ضمیر کے خلاف یہ کیا کہا کہ سچی عیسائیت مسیح اور اس کے حواریوں میں تھی۔ امام الزمان کے نزدیک تو عیسیٰ اور اس کے حواری جو کچھ تھے وہ آپ نے عینک لگا کر ان کی کتاب ازالۃ الاوہام میں پڑھے ہوں گے۔ ہم کو سخت تعجب ہے کہ ایسا مقرب خاص اور حکیم الامتہ المرزائیہ ایسا کلمہ زبان سے نکالے جو امام الزمان کے منشاء کے بالکل خلاف بلکہ نقیض ہو۔ مرزا قادیانی نے عیسیٰ مسیح کو جس قدر صلواتیں سنائیں ہیں ان سے کئی حصے بڑھ کر ان کے حواریوں کو سنائی ہیں یا یوں کہو کہ سب کو ایک ہی لاٹھی ہانکا ہے۔ پھر سچی عیسائیت مسیح اور اس کے حواریوں میں کہاں ہوئی۔ ہم کو تعجب ہے کہ مرزا قادیانی نے ایسی کھلی مخالفت پر حکیم صاحب کی نبض نہیں دیکھی۔ ہم کو تو اس دھین دھوکڑی پر ایسا غصہ آ رہا ہے کہ قابو چلے تو حکیم صاحب سے حکیم

٢٧٤

الامۃ المرزائیہ ہونے کا ڈپلوما چھین کر کسی الزمان سے اور مخالفت یہ بھی ایک ہی ہوئی ہ قادیان کیا مرزا اور مرزائیوں کے لئے لندن ن رہی ہے۔ ہر طرف چہل پہل ہے۔ باغوں م دم ہو رہے ہیں۔ دوسری جانب زعفرانی حلو مغز آمیز کئے ہوئے اور روغن بادام میں ب نسرین و سنبل سے مراجعت فرماتے ہی ڈس میں اور سر چولہے میں۔ قسم ہے منارے ا مقابلے میں بہشت کی کیا حقیقت ہے۔ دینو

ہم کو معلوم ہے
دل کے خوش رکھے

دنیا میں رات دن چھڑے اڑا پرستیوں کے ارمان سے ان کا نفس سرکش یو

دل تو لگتے ہی
باغ ہستی سے جو

٤....... الحکم

بارہا ضمیمہ شحنہ ہند میں مرزائی چھوڑتے۔ کبھی فرضی نام کبھی مکرر سہ کرر نام ہیں کہ ان بیچاروں کے فرشتوں کو بھی خبر نہیں ایک جاہل مرزائی کے ملازم دھوبی، بہشتی، اس سے بھی کام نہیں نکلتا تو اب مسماۃ زوج اس سے بھی تعداد میں کچھ ترقی نہیں معلوم ہونے لگے۔ چنانچہ ٧؍ مئی کے الحکم میں درج کر چکے تھے۔ اب ١٠ جولائی کے الحکم

صفحہ ٣٠٩

الامۃ المرزائیہ ہونے کا ڈپلوما چھین کر کسی راسخ العقیدہ مرزائی کو دے دیں۔ اچھی کہی۔ امام الزمان سے اور مخالفت یہ بھی ایک ہی ہوئی۔ بس جی بس معلوم شد۔ پھر آسمانی باپ کے کرم سے قادیان کیا مرزا اور مرزائیوں کے لئے لندن سے کچھ کم ہے۔ وہاں بھی درودیوار سے آزادی برس رہی ہے۔ ہر طرف چہل پہل ہے۔ باغوں میں بک کرکود ہے۔ سیر سپاٹا ہے۔ ایک جانب پلاؤ دم ہورہے ہیں۔ دوسری جانب زعفرانی حلوے مشک اور عنبر، ریگ ماہی اور سقنقور چشم بد دور۔ دشمن رنجور، آمیز کئے ہوئے اور روغن بادام میں چرب کئے ہوئے تیار ہیں کہ سیر لالہ وگل اور گلگشت نسرین و سنبل سے مراجعت فرماتے ہی ڈٹ گئے۔ پھر کیا تھا مزے میں بہاریں ہیں۔ منہ کڑہائی میں اور سر چولہے میں۔ کسم ہے منارے دی وڈے تجارے ہیں۔ بھلا ایسی رنگ رلیوں کے مقابلے میں بہشت کی کیا حقیقت ہے۔ دنیوی لذتوں کا کیف اٹھائیے اور یہ شعر غنگنائیے۔

ہم کو معلوم ہے جنت کی حقیقت لیکن
دل کے خوش رکھنے کو غالب یہ خیال اچھا ہے

دنیا میں رات دن چھڑے اڑانے والوں کی روح بڑی مشکل سے نکلے گی۔ کیونکہ ہوا پرستیوں کے ارمان سے ان کا نفس سرکش یوں کہے گا ؎

دل تو لگتے ہی لگے گا حوریاں عدن سے
باغ ہستی سے چلا ہوں ہائے پریاں چھوڑ کر

ایڈیٹر!

٤...... الحکم میں جعلی فہرست بیعت

بارہا ضمیمہ شحنہ ہند میں مرزائیوں کی پردہ دری کی گئی۔ مگر یہ حیا دار اپنی روش نہیں چھوڑتے۔ کبھی فرضی نام کبھی مکرر سہ کرر نام درج کردیتے ہیں اور بہت سے ایسے نام بھی طبع ہوتے ہیں کہ ان بیچاروں کے فرشتوں کو بھی خبر نہیں اور یہاں مرزائیوں کی فہرست میں نام درج ہوگیا۔ ایک جاہل مرزائی کے ملازم دھوبی، بہشتی، حجام، بھٹیارے سب کے نام درج ہوجاتے ہیں۔ جب اس سے بھی کام نہیں نکلتا تو اب مسماۃ زوجہ فلاں دختر فلاں دادی فلاں سے کام نکالتے ہیں۔ جب اس سے بھی تعداد میں کچھ ترقی نہیں معلوم ہوتی تو اب عورتوں کے بھی لگتے ہاتھ مکرر سہ کرر نام درج ہونے لگے۔ چنانچہ ٧؍ مئی کے الحکم میں مسماۃ کلثوم زوجہ شیخ ہدایت اللہ صدر بازار پشاور کا نام درج کرچکے تھے۔ اب ١٠؍ جولائی کے الحکم میں پھر اسی کا نام درج کردیا۔ بلکہ اس کے ساتھ اس کی

٢٧٥

صفحہ ٣١٠

معصوم لڑکی مسماۃ صغریٰ کا بھی نام لکھ مارا۔ مرزا قادیانی کی نبوت و رسالت کے حقائق و معارف اسی قابل ہیں کہ ان کی صداقت ان پڑھ دھوبی، حجام، بہشتی، نان بائی یا جاہلہ عورتیں کریں۔ اہل علم کو تو مرزا قادیانی کافر و ملحد ہی نظر آتا ہے۔ اس کی حماقت و سفاہت شیخ چلی کے خیالات سے زیادہ وقعت نہیں رکھتی۔ ج ن !

٥ ...... استفتاء

علماء کیا فرماتے ہیں: مرزا غلام احمد قادیانی بانی مذہب احمدیہ کی نسبت کہ تمام مسلمان جو آپ کے دعویٰ مسیح موعود ہونے کا انکار کریں۔ بموجب فتویٰ ( حکیم الامتہ احمدیہ مندرجہ الحکم مورخہ ٢٤ اگست ١٩٠٢ء ج ٦ ش ٣٠ ص ٤) ”اگر اسرائیلی مسیح رسول کا منکر کافر ہے تو محمدی مسیح رسول کا منکر کیوں کافر نہیں ۔“ نیز آپ کی متعدد تحریرات کے بموجب تمام مسلمان مشرک ہیں۔ کیونکہ عیسیٰ علیہ السلام میں اوصاف الوہیت ثابت کرتے ہیں۔ جیسے عیسیٰ علیہ السلام کا آسمان پر زندہ موجود ہونا، اور مردوں کا زندہ کرنا، پرند کو بنا کر اس میں روح پھونک دینا باذن اللہ وغیرہ! اب سوال یہ ہے جب کہ قرآن مجید میں ”ولا تنکح المشرکات حتی یومن“ آیا ہے تو ان مرزائیوں کی عورتیں جنہوں نے اب تک آپ سے بیعت نہیں کی ہے۔ ان پر کیونکر حلال ہیں اور ان کی اولاد کیوں حرامی نہیں ہے۔ ”بینوا توجروا“

٦ ...... رسالہ اشاعۃ السنۃ اور مرزا قادیانی

یہ ایک ماہواری رسالہ ہے جس کے ایڈیٹر فاضل اجل مولوی ابو سعید محمد حسین صاحب ہیں جو قریب ٢١ سال سے جاری ہے۔ یہ وہی رسالہ ہے جس نے مرزا قادیانی کے مذہب کی بیخ وبنیاد کھود کر پھینک دی جس سے مرزا قادیانی ہر کہ ومہ کی آنکھوں میں ذلیل و خوار ہوا۔ مرزا فاضل موصوف سے ایسا خائف ولرزاں رہتا ہے کہ راتوں کو خواب میں چلا اٹھتا ہے کہ ”مولوی محمد حسین صاحب آ گئے۔ مجھے بچاؤ۔“ فاضل ممدوح کے ڈر کے مارے بھاگا بھاگا پھرا۔ مگر جہاں گیا فاضل ممدوح نے اس کا تعاقب کر کے اس کو ذلیل اور رسوا کیا۔ دہلی ولودھیانہ میں جو مرزا قادیانی کی مٹی بھرشٹ کی وہ سب پر روشن ہے۔ اب مرزا قادیانی کے جلسہ میں اگر کسی نے دہلی کے معرکوں اور لودھیانہ کا ذکر چھیڑ دیا تو مرزا بد حواس و ہوش باختہ اور چہرہ کا رنگ فق ہو جاتا ہے۔ فاضل ممدوح نے علماء ہند و پنجاب سے اس کی تکفیر کا فتویٰ حاصل کیا۔ ادھر عدالت سے پیمبری اور نبوت چھٹوا کر دونوں جہاں میں ذلیل اور خوار کیا۔ جب سب طرح سے مرزا قادیانی کا کام تمام کر دیا اس وقت

٢٧٦

پیچھا چھوڑا۔ کچھ عرصہ کے واسطے اشاعت السنہ جان آ گئی اور بغلیں بجانے لگے کہ مرزا قادیانی بدنصیبوں کو خبر نہ تھی کہ سسکتے ہوئے مرزا قادیانی جلوہ افروز ہوا۔ اب کدھر گئے مرزا قادیانی اور م مرزائیوں کے پیٹ میں چوہے چھوٹے ہو غلطاں پیچاں رہتے ہیں۔ طرح طرح کے منصو گئی ہے۔

٧ ...... ملا فضل قا

ملا صاحب ضلع پشاور کے ہیں۔ بع حلفیہ ان کے روبرو بیان کیں تو آپ مرزا قاد لے گئے۔ وہاں جا کر کفر و الحاد تزویر و مکر تکبر و شی اور مرزا قادیان پر لاحول بھیجتے ہوئے واپس آ باطلہ کا علانیہ ذکر فرمایا اور ان کی تردید کی۔ چونک ان سے بدظن تھے۔ لہٰذا ملا صاحب موصوف ن نے اپنے قلم سے یہ تحریر فرمایا : ” وزندیقہ۔“ العبد میاں فضل قادر بقلم خود مورخہ

بِسمِ اللّٰهِ الر

تعارف مضامین ...

١٦ ستمبر ١٩٠٢ء کے ش

اس لئے مرزائی ہو جاتے ہیں

صفحہ ٣١١

پیچھا چھوڑا۔ کچھ عرصہ کے واسطے اشاعت السنۃ کا طبع ہونا موقوف ہو گیا تو مرزائیوں کی جان میں جان آ گئی اور بغلیں بجانے لگے کہ مرزا قادیانی کی بددعا سے اشاعت السنۃ بند ہو گیا۔ لیکن ان بدنصیبوں کو خبر نہ تھی کہ سسکتے ہوئے مرزا قادیانی کو زندہ درگور کرنے کے لئے پھر آب و تاب سے جلوہ افروز ہوا۔ اب کدھر گئے مرزا قادیانی اور مرزائی کیوں چوہے کا بل ڈھونڈھنے لگے۔ آج کل مرزائیوں کے پیٹ میں چوہے چھوٹے ہوئے ہیں۔ ہر وقت اشاعت السنۃ ہی کے ذکر میں غلطاں پیچاں رہتے ہیں۔ طرح طرح کے منصوبے باندھے جاتے ہیں۔ تمام مرزائیوں پر موت پڑ گئی ہے۔ ج . ن !

٧ ....... ملا فضل قادر صاحب اور مرزا

ملا صاحب ضلع پشاور کے ہیں۔ بعض مرزائیوں نے مرزا قادیانی کی جھوٹی تعریفیں حلفیہ ان کے روبرو بیان کیں تو آپ مرزا قادیانی سے فیضیاب ہونے کے لئے قادیان تشریف لے گئے۔ وہاں جا کر کفر والحاد زور ومکر تکبر وشیخی تمسخر و دروغ کے سوا کچھ نہ پایا۔ لہٰذا لعنت و ملامت اور مرزا قادیان پر لاحول بھیجتے ہوئے واپس آئے۔ یہاں آ کر مجمع عام میں مرزا قادیانی کے عقائد باطلہ کا علانیہ ذکر فرمایا اور ان کی تردید کی۔ چونکہ بعض اہل اسلام ان کے قادیان جانے کی وجہ سے ان سے بدظن تھے۔ لہٰذا ملا صاحب موصوف سے درخواست کی کہ جو کچھ آپ کہتے ہیں وہ لکھ دو۔ لہٰذا ملا صاحب نے اپنے قلم سے یہ تحریر فرمایا: ”کل عقائد القادیانی یعنی مرزا غلام احمد قادیانی دہریہ وزندیقہ۔“ العبد میاں فضل قادر بقلم خود مورخہ ٥ / جولائی ١٩٠٢ء۔ ج . و !

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

تعارف مضامین ....... ضمیمہ شحنہ ہند میرٹھ

١٦ / ستمبر ١٩٠٢ء کے شمارہ نمبر ٣٥ کے مضامین

اس لئے مرزائی ہو جاتے ہیں اکثر خاص و عام ج . ن !

٢٧٧

صفحہ ٣١٢

اسی ترتیب سے پیش خدمت ہیں۔

١....... کاغذی مسیح کی ناؤ جھوٹ کے طوفان میں

قادیان کے کاغذی مسیح کا کوئی دعویٰ پورا نہ ہوا۔ (اور خدا چاہے تو کبھی پورا نہ ہوگا) بارہا الحکم کے ذریعہ اعلان دیا۔ الگ بھی ایک رسالہ شائع کیا کہ طاعون صرف ان کے لئے نازل ہوا ہے جو مجھ پر ایمان نہیں لاتے۔ چنانچہ (اخبار الحکم مطبوعہ ٣١؍ مئی ١٩٠٢ء ص ٦، ملفوظات ج ٣ ص ٢٤٨) پر فرماتے ہیں: ”ایک اور آفت یہ آئی کہ مسلمانوں میں سستی اور غفلت تو پیدا ہو ہی چکی تھی۔ سچے عقائد کو چھوڑ کر قسم قسم کی بدعتیں اور سلسلے خدائے تعالیٰ کے سچے دین اور سلسلے کے برخلاف پیدا کئے گئے اور مشرکانہ تعلیمات اور وظائف مقرر کر لئے۔ ان ساری آفتوں کے ہوتے جو خدائے تعالیٰ نے ان پر قدیم قانون کے موافق محض اپنے فضل سے ایک بندہ بھیج دیا جو ان ساری مصیبتوں کا چارہ گر اور مداوا (لاحول ولاقوۃ ۔ یہ منہ اور گرم مسالا) تھا۔ ان لوگوں نے ناحق اسے تکلیف دی اور اس کی مخالفت کے لئے اٹھے۔ جب ان کی مخالفت اور شرارت حد سے بڑھ گئی اور خدائے تعالیٰ کے حضور ان کی شوخیاں اور گستاخیاں اور بے جا ضد اور عداوت سے ملا ہوا انکار قابل سزا ٹھہر گیا تو اس نے اپنے وعدے کے موافق اس بندہ کی تائید کے لئے طاعون بھیجا۔ یہ خدا کا فرشتہ ہے جو اس کے بندے کی سچائی پر ایک گواہی قائم کرنے کے لئے آیا ہے۔“

اب ہم نہیں جانتے کہ وہ مرزائی جو آنجناب پر ایمان لائے تھے کیوں طاعون کی رگڑ میں آگئے۔ کیا وہ بے ایمان تھے؟ آپ کی گواہی کا فرشتہ غلطی کرتا رہا اور جب آپ نے قادیان کو طاعون سے بچنے کا اعلان دیا تھا تو وہ آپ کی گواہی کا فرشتہ قادیان میں کیوں جا براجا کہ آپ کے ساتھ آپ کا خدا بھی رگڑا گیا اور ساتھ ہی گواہی کا فرشتہ بھی اندھا ہو گیا اور قادیان طاعون سے محفوظ نہ رہ سکا۔ حضرت؎

کیجئے توبہ بڑے بول کا سر نیچا ہے

ہم نہیں جانتے کہ کاغذی مسیح کے دعاوی کہاں تک سچ اور کہاں تک جھوٹ ہیں۔ البتہ اسی کے رسالہ جات سے کسی قدر حال کھل جاتا ہے۔ جو سراسر ایک دوسرے کے متضاد ہیں۔ ہم ناظرین کی دلچسپی کے لئے ایک بیان کو تین کتابوں سے ذیل میں اتارتے ہیں۔

اپنے وطن گلیل میں جا کر فوت ہوا۔“ اب اس کے خلاف۔

٢٧٨

صفحہ ٣١٣

کی قبر بلاد شام میں ہے۔ جس کی پرستش عیسائی لوگ کرتے ہیں ۔“ اب ان ہر دو بیانات کے سراسر خلاف ہے۔

ملک کشمیر موضع سری نگر میں ہے۔“ کیا یہ تینوں بیان باہم متضاد نہیں ہیں؟

مرزا جیو! دیکھ لو یہ ہے تمہارا مسیح موعود جس نے دروغ بانی کا ٹھیکہ لے رکھا ہے اور اصل پوچھو تو مرزا قادیانی کا بھی کچھ قصور نہیں۔ اگر قصور ہے تو سراسر مرزائیوں کا جو ایک دوسرے کے تعلقات کے باعث ہاں میں ہاں ملا کر گزر اوقات کر رہے ہیں اور یوں اس کاغذی مسیح کا جہاز طوفان بے تمیزی میں چلا رہے ہیں۔ مگر کب تک کیونکہ اس کا دعویٰ ہے کہ آنے والا مسیح میں ہی ہوں۔

(انجام آتھم ص ٥٠تا١١١)

حالانکہ کام ہمیشہ حضرت مسیح کے کاموں کے برخلاف کرتا ہے۔ مثلاً قتل لیکھ رام کے دنوں میں گورنمنٹ سے عرض کی تھی کہ چونکہ آریہ صاحبان میرے قتل کرنے کی فکر میں ہیں۔ لہٰذا میری حفاظت کے لئے سپاہی دیئے جاویں مگر گورنمنٹ نے کچھ بھی غور نہ کیا۔ اب دیکھئے حضرت مسیح کو کہ انہوں نے اپنے ستانے والوں کے حق میں دعا مانگی کہ: ”اے باپ ان کو معاف کر کیونکہ یہ نہیں جانتے کہ کیا کرتے ہیں ۔“

(انجیل لوقا: ٢٣،٣٤)

پس لکھوکھوں کی تائید کہ آپ مسیح ہیں کافی نہیں۔

عیسیٰ نتوان گشت بتصدیق خرے چند

زمانہ کی آنکھوں پر پٹی نہیں بندھی کہ اندھا دھند آپ کے قابو چڑھ جائیں گے اور اپنی عاقبت خراب کریں گے۔

حضرت جب آپ کے دعاوی ہی پورے نہیں ہوتے تو کیوں مسیح موعود کہلاتے ہو اور کیوں اپنے ایمان کی فکر نہیں کرتے اور ناحق دیگر مذاہب کو طعن و تشنیع کرتے ہو۔ مرزا قادیانی! ابھی توبہ کا دروازہ کھلا ہے اور قبولیت کا وقت ہے۔

ہنوز آن ابر رحمت درفشان است
خم و خمخانہ بامہر و نشان است

پھر دیکھ لیجئے گا کہ وہی آپ اور وہی ہم۔ وہی سبزہ زار اور وہی باغ ۔ لیکن افسوس کہ نہ تو آپ کا وہ دل ہے نہ وہ دماغ ہے۔ خدا کو سراسر بھولے ہو اور اپنی موعودیت پر پھولے ہو۔ خدا کی

٢٧٩

صفحہ ٣١٤

رحمت سے منہ پھیرتے ہو۔ غفلت کرتے ہو۔ دیکھو! زندگی چند روز ہے۔ شاید مرگ مہلت نہ دے۔ مکرر سہ کرر ہماری رفیقانہ التماس یہی ہے کہ توبہ کرو اور اس گمراہی کے راستے سے باز آؤ۔

توبہ کر اب بھی تو کہ در توبہ باز ہے

راقم: شاکر (میرٹھی) از قلعہ دار گجرات!

٢...... وہی ممات مسیح

کسی نبی کے ایک معجزے کا انکار تمام انبیاء اور ان کے معجزات کا انکار ہے جس کو ایک سچا مسلمان الحاد و ارتداد سمجھے گا۔ مگر مرزا قادیانی اور ان کی امت عمداً معجزات انبیاء کا بڑے دھڑلے سے انکار کر رہی ہے اور بایں ہمہ مسلمانی کا دعویٰ ہے۔

دنیا میں کون سا کلام ہے جس کی تاویل نہیں ہو سکتی اور ہم لکھ چکے ہیں کہ تاویل ہمیشہ جھوٹے دعوے اور جھوٹی بات کی ہوتی ہے۔ امر حق اور واقعیت کو تاویل سے کیا واسطہ۔ روز روشن تاویل سے ہرگز شب تاریک نہیں بن سکتا اور نہ اس کا عکس ممکن ہے۔ جس طرح ایک جھوٹ کے لئے بہت سے جھوٹ بولنے پڑتے ہیں۔ اسی طرح ایک تاویل کے لئے بہت سی تاویلیں چھانٹنی پڑتی ہیں۔ سیدنا مسیح علیہ السلام کی نسبت مرزا قادیانی فرماتے ہیں کہ ”رفع اللہ“ سے مراد رفع روحانی ہے۔ مگر اس میں عیسیٰ مسیح کی کیا خصوصیت نکلی؟ ایک چیونٹی بھی مر کر رفع روحانی کا درجہ حاصل کر لیتی ہے۔ پھر ”وما قتلوہ وما صلبوہ“ کے بعد مرزا قادیانی کے رفع مزعوم نے کیا فائدہ دیا۔ اس صورت میں تو آیت کا سیاق یوں مقتضی تھا۔ ”لما قتلوہ وصلبوہ رفعہ اللہ الیہ“ پھر جسم سے روح کے نکل جانے یا رفع ہو جانے میں شبہ کیسا۔ یعنی ”ولکن شبہ لہم“ بالکل حشو ٹھہرتا ہے۔ (معاذ اللہ) پھر جناب باری کا مکرر بطور تاکید و اصرار یعنی ”وما قتلوہ یقیناً“ کے بعد ”بل رفعہ“ فرمانا تو اور بھی فضول ہوتا ہے۔ کاش مرزا قادیانی سمجھیں کہ رفع روحانی قتل سے متعلق ہوگا نہ کہ عدم قتل سے۔ کیونکہ یہ ایک فطری امر ہے کہ جب کوئی ذی روح قتل کیا جاتا ہے تو فوراً رفع روحانی ہو جاتا ہے یعنی روح اٹھ جاتی ہے اور جب کہ عیسیٰ مسیح قتل ہی نہیں کئے گئے۔ جیسا کہ ”وما قتلوہ وما صلبوہ“ سے ثابت ہے تو رفع روح یا سلب روح چہ معنی دارد!

آپ شاید پھر تاویل کریں گے کہ رفع روحانی سے مراد روح کا رفیع الدرجات ہونا ہے تو کیا اس سے پہلے مسیح علیہ السلام مثل کل انبیاء رفیع الدرجات نہ تھے۔ ایسا عقیدہ تو کسی آریا یا دہریہ کا ہو سکتا ہے نہ کہ کسی مسلمان کا۔ پھر یہ عقیدہ کہ عیسیٰ اب رفیع الدرجات ہوئے۔ پہلے نہ ہوئے تھے۔ آپ کو عیسائیوں کے مسئلہ کفارہ کا معتقد بناتا ہے۔

٢٨٠

صفحہ ٣١٥

پھر آپ کے نزدیک تین عیسیٰ ہیں۔ ایک عیسائیوں کا یسوع، دوم عیسیٰ مسیح علیہ السلام جن کا ذکر قرآن میں ہے۔ سوم آپ کا ذاتی پیدا کیا ہوا عیسیٰ جس کی قبر مقام گلیل علاقہ کشمیر میں ہے۔ معلوم نہیں ان تینوں میں سے آپ کی رقابت کون سے عیسیٰ کے ساتھ ہے۔ جب تک آپ اپنی اس تثلیث کا فیصلہ نہ کر لیں جواب لینے کے مستحق نہیں ہیں۔

بحث اس امر میں تھی کہ ایک تاویل سے بہت سی تاویلیں اور ایک جھوٹ سے بہت سے جھوٹ پیدا ہوتے ہیں تو آپ ”ابرء الاکمہ والابرص واحیی الموتی باذن اللہ“ اور ”کلمۃ القھا الیٰ مریم وروح منہ“ کی بھی یہ تاویل کریں گے کہ عیسیٰ مسیح روحانی امراض کو اچھا اور مردہ دلوں کو زندہ کرتے تھے اور تمام ذی روح خدا کے کلمات اور اس کی روحیں ہیں۔ (اگرچہ آپ روح منہ کے اصلی معنے نہیں سمجھ سکتے) تو یہ فرمائیے کہ انبیاء کو تمام ذوی الارواح چیونٹی، مکھی، مچھر، مکوڑے، کینچوے، کھٹمل، تتلی وغیرہ پر کیا ترجیح ہوئی۔ اگر آپ مسلمان ہیں تو سمجھیں گے کہ خدا ہر نبی کو ایک خاص ترجیح (معجزہ) عطاء کرتا ہے جو دیگر انبیاء سے اس کی شناخت کا باعث ہوتا ہے۔ اس لحاظ سے عیسیٰ علیہ السلام:

اگر ان میں سے آپ ایک معجزے کا بھی انکار کریں گے تو تمام انبیاء اور ان کے معجزات کا انکار لازم آئے گا اور ”نؤمن ببعض ونکفر ببعض“ کا مصداق بننا خدائے تعالیٰ کی بھاری وعید کا مستحق ہونا ہے۔ ہاں! آپ یہ جواب دے سکتے ہیں کہ عیسیٰ مسیح کے زندہ رہنے اور دوبارہ دنیا میں آنے سے چونکہ میری مسیحیت ومہدویت ٹوٹتی ہے۔ میں اس لئے عیسیٰ مسیح میں اولاً طرح طرح کے کیڑے ڈالتا ہوں اور پھر ان کو مارتا ہوں۔ آپ کو تو اپنی مسیحیت ومہدویت پیاری ہے۔

غیرت از چشم برم روئے تو دیدن ندہم
گوش را نیز حدیث تو شنیدن ندہم

جب کہ آپ نبی اور رسول ہونے کے مدعی ہیں تو یہ بھی خوب سمجھ لیجئے کہ کسی نبی نے اپنے سے سابق انبیاء کی شان میں محض اس غرض سے کہ لوگ ان کو برا اور مجھے اچھا سمجھیں کبھی کسی قسم کی گستاخی نہیں کی۔ بلکہ پیروی کی ہے۔ جیسی کہ آنحضرت ﷺ نے حسب تعمیل آیہ ”قل بل

٢٨١

صفحہ ٣١٦

ملۃ ابراھیم حنیفا ”حضرت ابراہیم خلیل اللہ کی پیروی فرمائی ہے۔ یاد رکھئے ابھی وہ زمانہ نہیں آیا اور نہ آپ کی اور ہماری زندگی تک آئے کہ لوگوں کے دلوں سے گزشتہ انبیاء کی عظمت مٹ جائے۔ ہاں! تہذیب اور آزادی کے طوفان سے کیا عجب ہے کہ چند صدی کے بعد ایسا زمانہ بھی آجائے۔ ایڈیٹر!

٣ ...... بقیہ مرزا قادیانی کے خیالات کا لیکچر

سنوسنو! میری بعثت ساری دنیا کے لئے یکساں ہے۔ مگر سادہ لوح مسلمان یہی سمجھ رہے ہیں کہ میں صرف ہندوستان کا نبی ہوں۔ ان کو ذرا اپنی عقل کے ناخن لینے چاہئیں۔ قدرت الٰہی نے آسمان سے کسی فرشتے کو نبی بنا کر نہیں بھیجا۔ کسی ملک کے ایک قبیلہ میں نبی پیدا ہوتا ہے مگر چند ہی روز میں اس کی نبوت ساری دنیا میں دائر وسائر ہو جاتی ہے۔ دیکھو! آفتاب ہر صبح مشرق کے ایک گوشے نکلتا ہے اور تھوڑی سی دیر میں ساری خدائی پر مسلط ہو جاتا ہے۔ ہلال ہنگام طلوع کتنا منحنی اور لاغر ہوتا ہے۔ مگر روز بروز بڑھتا چلا جاتا ہے اور اپنی روشنی سے تمام ستاروں کو ماند کر دیتا ہے۔ اسی بناء پر اگر چہ میری بعثت ایک چھوٹے سے گمنام قصبہ قادیان میں ہوئی ہے۔ مگر رفتہ رفتہ نہ صرف ہندوستان بلکہ تمام ممالک میں پھیل گئی ہے۔ تم تو گور کے بھنگے ہو۔ تمہیں زمین و آسمان کی کیا خبر۔ تم تو چمگادڑوں کی طرح اپنے تیرہ و تار کونوں کھدروں میں سر نیچے ٹانگیں اوپر پڑے۔ آنکھیں مانگ رہے ہو تمہیں آفتاب عالمتاب کی کیا حس اور اس کی جانب دیکھنے کی کیا تاب۔ میرے جاسوس تمام ممالک میں آنکھوں سے الوپ، انجن ہو کر فرشتوں کی طرح پنکھ پھیلا کر دوڑ رہے ہیں اور دنیا کو پروں میں یوں سمیٹ رہے ہیں۔ جیسے مرغیاں اپنے انڈوں بچوں کو۔ میرا ایک ایک جاسوس روح القدس سے کم نہیں۔ میرے مشن کے لوگ فرشتوں کی ٹکڑیاں ہیں جو میرے نام کی ہر دم تسبیح پڑھ رہی ہیں کہ 'لا الہ الا اللہ غلام احمد رسول اللہ' اگر چہ اس کلمہ میں اپنے نام غلام احمد کے داخل ہو جانے سے مجھے سخت ندامت ہے۔ کیونکہ میں مستقل نبی ہوں۔ کسی کا غلام ٹلام اور چولام کیوں بننے لگا۔ مگر چونکہ یہ نام میرے والدین نے رکھا ہے اور میں اسی نام سے دنیا میں مشہور ہوں اور آسمانی باپ نے بھی ابھی تبدیل نام کی وحی مجھ پر نازل نہیں کی۔ لہٰذا مجبوراً اپنے امتیوں کی زبان سے مجھے اپنے کلمہ میں یہ نام سننا پڑتا ہے۔ لیکن بہت دن نہ گزریں گے کہ آسمانی باپ میرا یہ نام پرانے میلے چکٹ کپڑوں کی طرح بدل دے گا۔ جس طرح پیغمبر عرب نے بجائے بیت المقدس کے کعبۃ اللہ کو بدل دیا اور اسی کو قبلہ بنایا۔ پیغمبر عرب کی طرح میں بھی مجدد ہوں۔ پھر تجدید کیوں نہ کروں۔ قادیان کو میں نے ابھی تک قبلہ تو نہیں بنایا۔ ہاں

٢٨٢

٧

مسلمانوں کے لئے مدینہ اور عیسائیوں کے لئے منارۃ المسیح قائم کر دیا ہے۔ ادھر آسمانی باپ کی وحی قبلہ بنایا۔

جب سے میرا نزول قادیان میں ہو تمام پنجاب میں مخالفت کا غلغلہ مچ گیا ہے اور پھر طاعون کی طرح پھیل گیا ہے۔ یہی میرے نبی ہ یہی سنت انبیاء ہے۔ پیغمبر عرب کی بعثت پر اولاً ک تمہارا قرآن اس سے بھرا ہوا ہے۔ یہاں تک ک حالتیں مجھ پر بھی گزرنے والی ہیں اور میں بھی بہ والا ہوں۔ کیونکہ سچا نبی ہوں۔ اتنی کسر ہے کہ م انبیاء خصوصاً پیغمبر عرب پر۔ اگرچہ مجھے علماء اور م کبھی میرے قتل کی بھی دھمکی دیتے ہیں۔ مگر عملی ط پر ہوئی ہے۔ وجہ یہ ہے کہ آسمانی باپ نے مجھ پ تلوار کے گھاٹ ہرگز نہ اتارا جائے گا۔

یہ دوسری بات ہے کہ ہاتھی چھو آئے۔ ٹاپیں مارتا خود جال آئے۔ میں ایسے طاقت نہیں کہ تیرا بال بھی ٹیڑھا کر سکے۔ تجھ پ تیری طرف بدنیتی سے آنے والوں کے پاؤں گھورنے والوں کی آنکھوں کے ڈھیلے نکل پڑ جائیں گی۔

پس مذکورہ بالا الہاموں پر میرا ویسا لئے میں پاؤں پھیلا کر اپنی نیند سوتا اور اپنی نین زاد برادر شغال خواب خرگوش نہ سمجھے۔ میں قاد موٹے تازے مجرب شکار مارتا ہوں اور اپنا بچ ہوں۔ جب میں زور شور سے ڈکاریں لے ک بچھیا کے باوا ہیں سب مجھ سے یوں تھراتے ہ

صفحہ ٣١٧

مسلمانوں کے لئے مدینہ اور عیسائیوں کے لئے یروشلم (بیت المقدس) ضرور بنادیا ہے۔ یعنی منارۃ المسیح قائم کر دیا ہے۔ ادھر آسمانی باپ کی وحی لندن سے اتری ادھر میں نے عام طور پر قادیان کو قبلہ بنایا۔

جب سے میرا نزول قادیان میں ہوا ہے۔ سب سے پہلے اس کے گردونواح اور پھر تمام پنجاب میں مخالفت کا غلغلہ مچ گیا ہے اور پھر آہستہ آہستہ ہندوستان کے سادہ لوح جہلاء میں طاعون کی طرح پھیل گیا ہے۔ یہی میرے نبی برحق ہونے کی قوی دلیل اور مضبوط برہان ہے اور یہی سنت انبیاء ہے۔ پیغمبر عرب کی بعثت پر اولاً مکہ میں اور پھر تمام عرب میں جو ستم و جفا ہوئی۔ خود تمہارا قرآن اس سے بھرا ہوا ہے۔ یہاں تک کہ پیغمبر عرب کو مکہ چھوڑ کر جلاوطن ہونا پڑا۔ یہ سب حالتیں مجھ پر بھی گزرنے والی ہیں اور میں بھی بہت جلد قادیان سے رنگون کی جانب جلاوطن ہونے والا ہوں۔ کیونکہ سچا نبی ہوں۔ اتنی کسر ہے کہ مجھ پر ابھی وہ مظالم نہیں ڈھائے گئے جو دوسرے انبیاء خصوصاً پیغمبر عرب پر۔ اگرچہ مجھے علماء اور مشائخ نے کافر اور ملحد اور زندیق ٹھہرا دیا ہے اور کبھی کبھی میرے قتل کی بھی دھمکی دیتے ہیں۔ مگر عملی طور پر کوئی ایسی کارروائی نہیں ہوئی جیسی انبیاء سابق پر ہوئی ہے۔ وجہ یہ ہے کہ آسمانی باپ نے مجھ پر الہام کر دیا ہے کہ کوئی کیسی ہی گھات لگائے۔ مگر تو تلوار کے گھات ہرگز نہ اتارا جائے گا۔

یہ دوسری بات ہے کہ ہاتھی چھوٹے گھوڑا چھوٹے کالرا ستائے۔ طاعون کا وبال آئے۔ ٹاپیں مارتا خر دجال آئے۔ میں ایسے حوادث کا ذمہ دار نہیں۔ ہاں تلوار کے دم خم کی یہ طاقت نہیں کہ تیرا بال بھی ٹیڑھا کر سکے۔ تجھ پر تلوار اٹھانے والوں کے ہاتھ کٹ جائیں گے۔ تیری طرف بد نیتی سے آنے والوں کے پاؤں شل ہو جائیں گے۔ بد نظری سے تیری جانب گھورنے والوں کی آنکھوں کے ڈھیلے نکل پڑیں گے۔ تیرے کوسنے والوں کی زبانیں مفلوج ہو جائیں گی۔

پس مذکورہ بالا الہاموں پر میرا ویسا ہی ایمان ہے جیسا اپنی نبوت ورسالت پر اور اس لئے میں پاؤں پھیلا کر اپنی نیند سوتا اور اپنی نیند جاگتا ہوں۔ میری نیند کو کوئی روباہ خصائل ، سگ زاد برادر شغال خواب خرگوش نہ سمجھے۔ میں قادیان کے کچھار میں شیر کی طرح پڑا دھاڑتا ہوں۔ موٹے تازے چرب شکار مارتا ہوں اور اپنا بچا کھچا ماس لومڑیوں اور گیدڑوں اور تیندوؤں کو دیتا ہوں۔ جب میں زور شور سے ڈکاریں لے کر ڈکارتا ہوں تو بزدلوں کا پتا پانی ہو جاتا ہے اور جتنے بچھیا کے تاؤ ہیں سب مجھ سے یوں تھراتے ہیں جیسے گائے قصائی سے۔ جب میں رعد کی طرح

٢٨٣

صفحہ ٣١٩

گرجتا۔ بجلی کی طرح چمکتا اور پھر کالی گھٹا بن کر برستا ہوں تو بڑے بڑے خرانٹ گرگ باران دیدہ مخالفین بھیگی بلی بن جاتے ہیں۔

سنو سنو! تم جو میری نبوت پر آپے سے باہر ہو رہے ہو تو اس کی یہ وجہ ہے کہ تم نے آج تک کسی نبی کو اپنی آنکھوں نہیں دیکھا۔ صرف کانوں سنا ہے اور میں کہہ چکا ہوں کہ دھوکا کھانا کان کا کام ہے نہ کہ آنکھ کا۔ پس تم نبی اور غیر نبی کو کیا جانو۔ میں ظلی نبی ہوں۔ تمام عالم برزخ منارۃ المسیح کی طرح میری آنکھوں کے سامنے ہے۔ فرشتوں کے ساتھ آسمانوں میں سب انبیاء کی دھاچوکڑیاں اور گرم جولانیاں ہر دم میری پیش نظر ہیں اور اس میں سے ہر لحظہ حظ اٹھاتا ہوں کہ فلاں نبی کتنے پانی میں اور فلاں رسول کی رسالت کی تھاہ کہاں تک ہے۔ تم تو گندے تالاب کی مچھلیاں ہو۔ تمہیں سمندر کا حال کیا معلوم۔ پس تم میرے پاس آؤ اور کمالات نبوت دیکھو تو معلوم ہو جائے کہ نبی ایسا ہوتا ہے۔

سنو سنو! تم اس بھروسے نہ رہنا کہ سوڈان میں بہت سے جھوٹے مہدی پیدا ہو چکے ہیں اور قادیانی مہدی کا نمبر بھی انہیں میں ہے۔ بے شک جھوٹے مہدی پیدا ہوئے اور کیا عجب ہے کہ میرے بعد بھی پیدا ہوں۔ مگر میں جھوٹا نہیں ہوں۔ ”اشہد انی مهدی صادق“ بھلا مہدی سے بڑھ کر کسی کے مہدی ہونے کی سچی شہادت کیا ہوگی۔ جب مجھے میرے کانشنس نے مہدی بنا دیا ہے تو گو دنیا میری مہدویت کو نہ مانے مگر میں سچا مہدی ہوں۔ جس قدر مہدیان کذاب مجھ سے قبل گزرے ہیں۔ وہ بیشک جھوٹے تھے۔ کیونکہ خود ان کے کانشنس نے ان سے کہہ دیا تھا کہ ”اشہد انی امام الکاذبون“ کانشنس (نور ایمان) سے بڑھ کر کسی کی شہادت نہیں ہو سکتی۔ کیا تمہیں معلوم نہیں کہ ایک ہی سیپی میں سچے موتی بھی ہوتے ہیں اور جھوٹے بھی۔ ایک ہی کان میں لعل و جواہرات بھی ہوتے ہیں اور شیشہ اور کانچ بھی۔ پس سب مہدی نہ جھوٹے ہی ہو سکتے ہیں نہ سب مہدی سچے۔

جھوٹے مہدیوں نے بڑی بڑی غلطیاں کی ہیں اور آخری مہدی تعایشی تو ایسا ناعاقبت اندیش غلط کار تھا کہ کوئی نہ ہوگا۔ اوّل تو اس نے خود حکومت مصر سے بگاڑی جو برٹش گورنمنٹ کے سایہ عاطفت میں تھی۔ پھر خود برٹش سے بگاڑی جو آسمانی باپ کے بیٹے کے پوتے کی بھتیجی کی پڑپوتی کی لکڑ بھانجی ہے۔ آپ جانتے ہیں گیدڑ کی شامت آتی ہے تو شہر کی طرف بھاگتا ہے۔ پس غریب عطائی تعایشی یوں مارا گیا۔ مگر میں ایسی غلطی نہ کروں گا کہ برطانیہ جیسی جبار وقہار گورنمنٹ سے بگاڑ کر تعایشی کے ساتھ اپنا حشر کروں۔ میں بار بار برٹش گورنمنٹ کے حضور عرضیاں بھیج چکا ٢٨٤

ہوں کہ تمہارے عہد میں آسمانی باپ کے حکم سے مہد کے خادموں کی جوتی کی خاک اور تمہارے غلامان غ فروش اور تمہاری پارلیمنٹ کا پرجوش ارادت کوش اور ق تمہارے لشکر ظفر پیکر کے ٹرانسپورٹ کا دراز گوش ہ گورنمنٹ سے بگاڑنا اور اسی کی بلی ہو کر اسی کے س وفائی، ناسپاسی کمینہ آسامی ہے۔

سنو سنو! جھوٹے مہدیوں کی پودھ کا کھی اور ایشیاء۔ تمہیں کہو میرے سوا یورپ، ایشیاء اور وس ہندوستان اور عرب ایشیاء میں ہے۔ عرب میں پیشگ گوئی کی۔ پس میں نے اسی کی پیشین گوئی کے مو وسط ایشیاء ایک ہیں۔ کیونکہ افغانستان سے وسط ایش ہندوستان کا چولی دامن کا ساتھ ہے اور پھر ہندوست ہے اور اس لحاظ سے ہندوستان اور یورپ دونوں ممالک کا مہدی ہوں۔ میں نے یہ استثناء اس وجہ سادہ لوح وحشی اہل اسلام عبدالحمید کو خلیفۃ المسلمین اندھی تقلید سے عبدالحمید کو ایسا ہی سمجھتے ہیں۔ حالانک بھلا برٹش کا مخالف کیونکر خلیفہ ہو سکتا ہے۔ میں برٹش لئے نہ صرف مہدی اور خلیفہ بلکہ امام الزمان اور خاتم برٹش سلطنت کا مطیع اور جان نثار نہ ہوگا ہرگز مہدی نشان اور تمغہ ہے۔ سوڈانی مہدی اسی وجہ سے پھول بگاڑی اور اس کے خلاف علم بغاوت بلند کیا۔ میں ا کانٹے سے چست اور دم خم سے درست کر رہا ہوں قدمی بجانب افغانستان سے خوفزدہ ہو رہے ہیں اور ہے. پس میں اپنے احمدیوں کی ریزرو فوج کو ہر طر درخواست بھیجوں گا کہ اگر روس منحوس کو شامت آ کیا تو میں ہندوستان سے اوپر ہی اوپر اس کا مہرہ ٨٥

صفحہ ٣١٩

ہوں کہ تمہارے عہد میں آسمانی باپ کے حکم سے مہدی آخرالزمان نازل ہوا ہے جو تمہارے خدام کے خادموں کی جوتی کی خاک اور تمہارے غلامان غلام کا حلقہ بگوش اور تمہاری چوکھٹ کا عبادیت فروش اور تمہاری پارلیمنٹ کا پر جوش ارادت کوش اور تمہاری عافیت اور درازی حیات کا جام نوش اور تمہارے لشکر ظفر پیکر کے ٹرانسپورٹ کا دراز گوش ہے۔ بھلا غضب خدا کا ایسی شفیق اور مہربان آزاد گورنمنٹ سے بگاڑنا اور اس کی بلی ہو کر اسی کے سامنے میاؤں کرنا سخت نمک حرامی بدبختی ، بے وفائی، ناسپاسی کمینہ آسامی ہے۔

سنوسنو ! جھوٹے مہدیوں کی پودھ کا کھیت قدیم سے سوڈان اور افریقہ ہے نہ کہ یورپ اور ایشیاء ۔ تمہیں کہو میرے سوا یورپ ، ایشیاء اور وسط ایشیاء میں بھی آج تک کوئی مہدی پیدا ہوا۔ ہندوستان اور عرب ایشیاء میں ہے۔ عرب میں بیشک پیغمبر پیدا ہوا جس نے میری بعثت کی پیشین گوئی کی۔ پس میں نے اسی کی پیشین گوئی کے موافق ہندوستان میں خروج کیا۔ ہندوستان اور وسط ایشیاء ایک ہیں۔ کیونکہ افغانستان سے وسط ایشیاء کا ڈانڈا مینڈا ملا ہوا ہے اور افغانستان سے ہندوستان کا چولی دامن کا ساتھ ہے اور پھر ہندوستان پر ایک مہتم بالشان یورپی سلطنت قابض ہے اور اس لحاظ سے ہندوستان اور یورپ دونوں ایک ہیں۔ پس میں بالفعل باستثناء ترکی تمام ممالک کا مہدی ہوں۔ میں نے یہ استثناء اس وجہ سے کیا ہے کہ روم اور شام اور عرب کے حمقاء اور سادہ لوح وحشی اہل اسلام عبدالحمید کو خلیفۃ المسلمین مانتے ہیں اور ہندوستان کے مسلمان بھی ان کی اندھی تقلید سے عبدالحمید کو ایسا ہی سمجھتے ہیں۔ حالانکہ وہ برٹش گورنمنٹ کا کٹر حریف و رقیب ہے۔ بھلا برٹش کا مخالف کیونکر خلیفہ ہو سکتا ہے۔ میں برٹش کا سچا ہوا خواہ اور عبودیت پرست ہوں۔ اس لئے نہ صرف مہدی اور خلیفہ بلکہ امام الزمان اور خاتم الخلفاء ہوں۔ خوب یاد رکھو جب تک کوئی شخص برٹش سلطنت کا مطیع اور جان نثار نہ ہوگا ہرگز مہدی اور خلیفہ نہیں بن سکتا۔ پس سچے مہدی کا یہی نشان اور تمغہ ہے۔ سوڈانی مہدی اسی وجہ سے پھول پھل نہ سکے کہ ان بدبختوں نے گورنمنٹ سے بگاڑی اور اس کے خلاف علم بغاوت بلند کیا۔ میں اپنے احمدی گروہ کو اسی لئے پال رہا ہوں اور کیل کانٹے سے چست اور دم خم سے درست کر رہا ہوں کہ آج کل انگریزی اخبارات روس کی پیش قدمی بجانب افغانستان سے خوفزدہ ہو رہے ہیں اور ان کی پتلونوں میں چھلچھلی لگ رہی ہے۔ پس میں اپنے احمدیوں کی ریزرو فوج کو ہر طرح لیس کر رہا ہوں اور عنقریب گورنمنٹ میں درخواست بھیجوں گا کہ اگر روس منحوس کو شامت نے دھکا دیا اور اس نے افغانستان کی جانب رخ کیا تو میں ہندوستان سے اوپر ہی اوپر اس کا مہرہ لوں گا۔ امیر کابل کو بھی ہاتھ پاؤں ہلانے کی ٢٨٥

صفحہ ٣٢١

تکلیف نہ دوں گا اور اپنی احمدی فوج ظفر موج سے روس کو جہاں سے نکلے گا وہیں دھکیل دوں گا۔ میں گورنمنٹ میں یہ درخواست بھی دوں گا کہ اب ہندوستان کے اندرونی اور بیرونی غنیموں کی روک تھام اور سرکوبی کے لئے لاؤلشکر کی کوئی ضرورت نہیں۔ میری احمدی فوج کافی ہے اور میں اسی لئے مہدی بنا ہوں کہ اپنی جان و مال، اہل و عیال اور اپنے احمدی خجستہ فال ظفر مآل کو گورنمنٹ کے قدموں پر نثار کروں۔

نکل جائے روح تیرے قدموں کے نیچے
یہی دل کی حسرت یہی آرزو ہے

مگر افسوس ہے کہ اب تک برٹش گورنمنٹ نے اپنے مہدی کا مرتبہ نہیں پہچانا نہ اس کی قدر کی نہ اس پر ایمان لائی نہ اس کے ہاتھ پر بیعت کی۔ وجہ یہ ہے کہ وہ ابھی تک اپنے پادریوں، بشپوں، اسقفوں کے پھندے میں پھنسی ہوئی ہے جو مجھے خونخوار نگاہوں سے دیکھ رہے ہیں اور یہ یقین کئے بیٹھے ہیں کہ مسیح موعود کا دم ہے تو ان کے یسوع کا چراغ گل ہو جائے گا اور پھر بیف بسکٹ چاء برانڈی کے چھکرے ان کے ہاتھ سے جاتے رہیں گے۔ (باقی آئندہ)

٤....... مذہب مرزائی ہے آزادیٔ مذہب کا نام

اس لئے مرزائی ہو جاتے ہیں اکثر خاص و عام

صوم وصلوٰۃ، حج وزکوٰۃ وغیرہ اعمال کا وہی شخص پابند ہوگا جو اصولِ اسلام پر ایمان رکھتا ہوگا اور جو خدا ہی کا قائل نہ ہو اور احکام شریعت کی وقعت اس کے نزدیک جو برابر بھی نہ ہو جس طرح مرزاغلام احمد قادیانی ہے۔ اس کا اپنے تئیں مسلمان کہنا اور بعض احکامِ شرعی کا پابند ہونا محض ایک دام تزویر ہے جس کے ذریعہ سادہ لوح مسلمانوں کو پھانستا ہے۔ وہ اللہ تعالیٰ کو مجسم ہوکر اس کے فرزند کی شکل میں آسمان سے اترنے کا قائل ہے۔ چنانچہ اس کا الہام ہے جو الہامی فرزند کے خطاب میں اس کو ہوا ”فرزند دلبند گرامی ارجمند مظہر الحق والعلاء کان اللّٰہ نزل من السماء“ اور خود بھی مدعی الوہیت ہے۔ چنانچہ اس کا الہام ہے: ”تو مجھ سے ہے اور میں تجھ سے ہوں“ اپنے کو ازلی وابدی بھی کہتا ہے۔ چنانچہ اس کا یہ الہام ہے: ”تو میرے ساتھ ایسا ہے جیسے میری توحید وتفرید“ اللہ کے لے پالک ہونے کا بھی مدعی ہے۔ جیسا کہ اس کا یہ الہام ہے: ”انت منی بمنزلۃ ولدی“ پس ایسا گستاخ آزاد جو نعوذباللہ کبھی خدا کا باپ کبھی اس کا بیٹا کبھی خود مدعی الوہیت ہو اس کو صوم وصلوٰۃ کی کیا حاجت ہے۔ ضرور نادانوں کے واسطے

٢٨٦

دام تزویر ہے۔ جب خدا پر ایمان نہیں تو اس کے مرزا قادیانی نے پیغمبروں کی نسبت لکھا ہے کہ انبیاء ہیں۔ دھوکا کھا کر شیطانی الہام کو ربانی وحی سمجھ لیا۔ مجید کے بعض الفاظ کے معنی وحقیقت معلوم نہ ہوت اور ایسے بڑے اولوالعزم پیغمبر کو ایک بدکردار، معمولی خالی جاتا ہوگا جس میں خود بدولت عیسیٰ علیہ السلا ہیں۔ چنانچہ رسالہ (دافع البلاء ص ٢٠، خزائن ج ١٨ ص ٢

ابنِ مریم کے
اس سے بہتر

یہ شعر لکھ کر مرزا قادیانی خود لکھتا ہے جس بے ایمان کا ایسا اعتقاد ہو اور توہینِ انبیاء اس واقعی ہو سکتی ہے؟ نہیں ہرگز نہیں۔ بلکہ وہی دام تزو میں یہ روزہ، نماز ہے اسی کو مشرکوں کا مذہب کہتا ہ کہ قرآن مجید میں عیسیٰ علیہ السلام کو زندہ آسمان اس عقیدہ کو صحیح مانتے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ علماء و دینِ اسلام سے خارج لکھا ہے۔ اسی واسطے مرزا ہے۔ مہینوں بجائے پانچ نمازوں کے دن میں تین پرواہ نہیں کرتا۔ حج جس کے تارک کو حدیث شریں ہے نہ کبھی اس نے کیا ہے اور نہ مریدوں میں س اسلام ہے؟ روزہ بھی ذرا ذرا سے عذر میں کھا ج ہے۔ حرام وحلال شرعی کی اس کو کچھ پرواہ نہیں۔ سمجھ کر کھا جاتا ہے اور اس کے بعض مرید بھی شیر تکلیفِ شرعی سے آزادی ہو آزادمنش کیوں نہ قع محمد حسین صاحب نے اپنی اشاعۃ السنۃ نمبر ٣ ج ا مرزا قادیانی کا مذہب باطل جو پنجاب ہندوستاں یہی ہے کہ وہ مغالطے سے کام لیتا ہے اور اپنے

صفحہ ٣٢١

دام تزویر ہے۔ جب خدا پر ایمان نہیں تو اس کے رسولوں پر ایمان کیسا۔ اس لئے ازالہ اوہام میں مرزا قادیانی نے پیغمبروں کی نسبت لکھا ہے کہ انبیاء کی جماعت کثیر نے جھوٹی پیشین گوئیاں بھی کی ہیں۔ دھوکا کھا کر شیطانی الہام کو ربانی وحی سمجھ لیا ہے اور کچھ تعجب نہیں کہ آنحضرت ﷺ کو قرآن مجید کے بعض الفاظ کے معنی و حقیقت معلوم نہ ہوئی ہو۔ عیسیٰ علیہ السلام کو گالیاں دیں اور توہین کی اور ایسے بڑے اولوالعزم پیغمبر کو ایک بدکردار معمولی آدمی کہا۔ اب کچھ دنوں سے کوئی پرچہ الحکم کا خالی جاتا ہوگا جس میں خود بدولت عیسیٰ علیہ السلام سے بڑھ چڑھ کر ہونے کا دعویٰ نہیں کرتے ہیں۔ چنانچہ رسالہ ( دافع البلاء ص ٢٠، خزائن ج ١٨ ص ٢٢٠) میں مرزا قادیانی خود لکھتا ہے ۔

ابن مریم کے ذکر کو چھوڑو
اس سے بہتر غلام احمد ہے

یہ شعر لکھ کر مرزا قادیانی خود لکھتا ہے: ”یہ باتیں شاعرانہ نہیں ہیں۔ بلکہ واقعی ہیں۔“ جس بے ایمان کا ایسا اعتقاد ہو اور توہین انبیاء اس کا روزمرہ ہو بھلا ایسے بے دین کی صوم وصلوٰۃ کیا واقعی ہو سکتی ہے؟ نہیں ہرگز نہیں۔ بلکہ وہی دام تزویر ہے۔ کیا مرزائیوں کو معلوم نہیں کہ جس اسلام میں یہ روزہ، نماز ہے اسی کو مشرکوں کا مذہب کہتا ہے اور مسلمانوں کو مشرک قرار دیتا ہے۔ اس لئے کہ قرآن مجید میں عیسیٰ علیہ السلام کو زندہ آسمان پر اٹھا لینا لکھا ہے یہ مسلمان قرآن پر ایمان لا کر اس عقیدہ کو صحیح مانتے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ علماء دین اسلام کے ہر فرقہ نے مرزا قادیانی کو کافر اور دین اسلام سے خارج لکھا ہے۔ اسی واسطے مرزا قادیانی کا نماز وروزہ بھی مسلمانوں کے خلاف ہے۔ مہینوں بجائے پانچ نمازوں کے دن میں تین ہی نمازیں ادا کرتا ہے۔ جماعت کی بھی چنداں پرواہ نہیں کرتا۔ حج جس کے تارک کو حدیث شریف میں یہود ونصاریٰ ہو کر مرنے کی بشارت دی ہے نہ کبھی اس نے کیا ہے اور نہ مریدوں میں سے کسی کو حج کرنے کی اجازت دیتا ہے۔ کیا یہی اسلام ہے؟ روزہ بھی ذرا ذرا سے عذر میں کھا جاتا ہے اور مریدوں کو روزہ رکھنے سے منع کر دیتا ہے۔ حرام وحلال شرعی کی اس کو کچھ پرواہ نہیں۔ تصویر جو حرام ہے اس کو حلال اور مال زانیہ کو جائز سمجھ کر کھا جاتا ہے اور اس کے بعض مرید بھی شیر مادر سمجھتے ہیں۔ پس ایسے آزاد مذہب کو جس میں تکلیف شرعی سے آزادی ہو آزادمنش کیوں نہ قبول کریں۔ یہی وجہ ہے کہ حال میں مولوی ابوسعید محمد حسین صاحب نے اپنی اشاعۃ السنۃ نمبر ٣ ج ١٩ کے ص ٩٢ میں ارقام فرمایا ہے۔ ”قادیان کے مرزا قادیانی کا مذہب باطل جو پنجاب ہندوستان میں کسی قدر شیوع پایا ہے تو اس کا سبب و منشاء بھی یہی ہے کہ وہ مغالطے سے کام لیتا ہے اور اپنے پیروؤں کو آزادی کا سبق دیتا ہے کہ تصویریں بناؤ

٢٨٧

صفحہ ٣٢٢

اور سود کھاؤ اور دور و دراز سفر کی مصیبت اٹھا کر مکہ کیوں جاتے ہو۔ بجائے مکہ قادیان کو کعبہ بناؤ۔ گرمی کے موسم میں روزہ رکھ کر بھوکے نہ مرو۔ بلکہ اس بیت پر عمل کرو۔

نہ رکھ روزہ نہ مر بھوکا نہ جا مسجد نہ کر سجدہ
وضو کا توڑ دے کوزہ شراب شوق پیتا جا

اس ریمارک پر مرزا قادیانی اور مرزائیوں کے مرچیں لگ گئیں۔ چنانچہ ٣١ اگست ١٩٠٢ء کے الحکم میں بہت اچھلے کودے اور بیہودہ بکواس سے ٩ کالم بھر دیئے۔ ہم اس بیہودہ تحریر کے پرخچے اڑائے دیتے ہیں۔

قال ...... اس تحریر (یعنی مذکورہ بالا فاضل بٹالوی) سے پہلے ان کو (یعنی فضل الدین مرزائی کو) ایک مسلمان کی حیثیت سے شیخ صاحب (یعنی فاضل بٹالوی) پر حسن ظن تھا۔

اقول ...... تم تو کیا تمہارے گرو دجال سیرت کو بھی کبھی حسن ظن فاضل ممدوح پر نہیں ہو سکتا۔ جھوٹ تو مرزائیوں کے مذہب کا اصل اصول ہے۔ فاضل ممدوح ہی ہیں جن سے ہر مرزائی ایسا خائف ہے جیسے حضرت عمرؓ سے شیطان خائف تھا کہ جس راہ سے عمرؓ جاتے شیطان راہ چھوڑ کر بھاگتا۔ جب کہ تمام بنی آدم خصوصاً مسلمانوں سے مرزا قادیانی کو سخت دشمنی و بدظنی ہے تو فاضل بٹالوی تو اس کے قدیم بیخ کن و سرکوب ہیں۔ ان سے مرزائیوں کی حسن ظنی سفید جھوٹ نہیں تو اور کیا ہے؟

قال ...... قادیان میں آ کر دیکھا۔

اقول ...... قرآن وحدیث کا نام قادیان میں تم جیسے سادہ لوح دین سے جاہل لوگوں کے پھانسنے کے واسطے لیا جاتا ہے اور صوفیوں کی کتابوں کی بعض باتیں سنائی جاتی ہیں۔ ورنہ دہریہ و ملحدوں کو قرآن وحدیث سے کیا نسبت۔

قال ...... جس پر انہوں نے (یعنی فضل الدین مرزائی نے) شیخ صاحب کو ایک کارڈ لکھ دیا کہ یہ آپ نے جھوٹ لکھ دیا۔

اقول ...... ”لعنۃ اللہ علی الکاذبین“ یہ کارڈ انہوں نے نہیں لکھا۔ بلکہ مرزا اور اس کی کمیٹی سے لکھا گیا کہ تمہارے مذہب کی بنیاد ہی جھوٹ پر ہے۔ شب و روز جھوٹ اور مکاری سے کام لیا جاتا ہے۔ معمولی جھوٹ تو بولا ہی جاتا ہے۔ بلکہ اللہ پر جھوٹ اور افتراء باندھا جاتا ہے۔ اسی وجہ سے فاضل ممدوح کی نسبت جھوٹ کا الزام لگایا جاتا ہے۔ شاید مرزا قادیانی کا وہ جھوٹ یاد آ گیا ہوگا جو مناظرہ دہلی میں مولوی محمد بشیر صاحب کے ساتھ وعدہ کر کے پھر درمیان مناظرہ کے بہانہ کر

٢٨٨

کے بھاگ گیا یا پیر مہر علی شاہ صاحب سے و شاہ صاحب رسالدار میجر سردار بہادر سے جم کر کے تمہارے فرزند پیدا کرا دوں گا۔ ورنہ رات جھوٹ و دغا بازیاں قادیانی پیغمبر کرتا سے پاک و ارفع ہے۔

قال ...... اپنے کارڈ میں ساری بحث اس ا

اقول ...... حج کا ترک کرنا بلا عذر ان مرزائی بلکہ مدعی نبوت و رسالت ہو کر ایسے رکن اسلا ہوں اس کا نماز و روزہ ظاہری اگر مکروہ زور و

پشوا

تعارف مضامین

٢٤ ستمبر ١٩٠٢ء کے

اسی ترتیب سے پیش خدمت ہیں ١..... مرزا قادیانی الحکم میں فرماتے خیالات کا سخت مخالف ہوں۔” ہم کہتے ہ

صفحہ ٣٤٣

کے بھاگ گیا یا پیر مہر علی شاہ صاحب سے وعدہ کر کے پھر مقابلہ پر لاہور میں نہیں آیا۔ یا سید امیر شاہ صاحب رسالدار میجر سردار بہادر سے جھوٹ بول کر مبلغ پانچ صد روپیہ وصول کر لیا کہ میں دعا کر کے تمہارے فرزند پیدا کرادوں گا۔ ورنہ میں جھوٹا سمجھا جاؤں۔ مگر فرزند نہ ہوا۔ ایسے ایسے دن رات جھوٹ و دغا بازیاں قادیانی پیغمبر کرتا رہتا ہے۔ فاضل ممدوح کی شان ایسے گندہ الزاموں سے پاک وارفع ہے۔

قال ..... اپنے کارڈ میں ساری بحث اس ایک امر پر رکھ دی۔

اقول ..... حج کا ترک کرنا بلا عذر ان مرزائیوں کے نزدیک کوئی بڑی بات نہیں جو شخص مدعی اسلام بلکہ مدعی نبوت ورسالت ہو کر ایسے رکن اسلام کا تارک یا منکر ہو اور عقائد بھی اس کے مخالف اسلام ہوں اس کا نماز و روزہ ظاہری اگر مکر و زور و دھوکا دہی نہیں تو کیا ہے۔ (باقی آئندہ) ج ن!

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

تعارف مضامین ...... ضمیمہ شحنہ ہند میرٹھ

٢٤؍ستمبر ١٩٠٢ء کے شمارہ نمبر ٣٦ کے مضامین

اسی ترتیب سے پیش خدمت ہیں۔

١...... دعا میں اثر

مرزا قادیانی الحکم میں فرماتے ہیں کہ : ”دعا میں بڑا اثر ہے۔ اس لئے میں نیچری خیالات کا سخت مخالف ہوں۔“ ہم کہتے ہیں کہ آج کل تو صرف امام المرزائین کی دعائیں اثر

٢٨٩

PDF 325

ہے۔ کیونکہ مرزا اور مرزائیوں کے سوا کوئی مؤمن ہی نہیں جس کی دعا میں اثر ہو اور کلام مجید کی آیت ’’ادعونی استجب لکم‘‘ مرزا قادیانی اور مرزائیوں ہی کی شان میں اتری ہے۔ اگر مرزا قادیانی استجابت دعا کا انکار کریں تو رقمیں کیونکر اینٹھیں اور کھٹاکھٹ بچے جنوانے کا وعدہ کیونکر کریں۔ دعا کی مخالفت میں تو نیچریت آ گھسی۔ مگر معجزات انبیاء کا انکار نیچر کے موافق ہے۔ میٹھا ہڑپ اور کڑوا تھو تھو۔ عیسیٰ مسیح کو تو مرزا قادیانی اس لئے مارتے ہیں کہ خود مسیح موعود بنے ہیں۔ یعنی جب خود زندہ مسیح دوبارہ آئے گا تو مرزا قادیانی کس کھیت کی دساور رہیں گے اور معجزات سے اس لئے انکار ہے کہ خود بدولت مداری یا بھورے جنگل کے جمہورے کے بھی پورے تماشے دکھانے میں ادھورے بلکہ لنڈورے ہیں۔ جب آپ نبی اور رسول ہیں تو کیا وجہ ہے کہ خرق عادت کا کوئی کرشمہ نہ دکھائیں۔ اس لئے معجزات خلاف نیچر ہیں۔ عصمت بی بی از بیچاری۔

جب معجزات کا انکار ہے جو نیچر کے خلاف ہیں تو دعا کی قبولیت پہلے خرق عادت ہے۔ کیونکہ تمام معجزات انبیاء کی دعاؤں ہی سے واقع ہوئے ہیں۔ مثلاً حضرت موسیٰ علیہ السلام کی دعا پر آسمان سے من وسلویٰ کا نزول اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کی دعا سے فرعون کا غرق ہونا اور نوح علیہ السلام کی بددعا سے طوفان کا آنا وغیرہ۔ تمام معجزات کا ظہور دعاؤں ہی سے ہوا ہے۔ پس دعا کی قبولیت پر ایمان اور معجزات کا انکار آدھا تیتر آدھا بٹیر ہے۔ معجزات نیچر کے خلاف ہیں تو دعا بھی جو ایک شے کی اصلی ماہیت کو بدل دیتی ہے اور واقعات کو منقلب کر دیتی ہے۔ ضرور نیچر کے خلاف ہونی چاہئے۔

پھر مرزا قادیانی کی بھی ساری دعائیں قبول نہیں ہوتیں۔ وہی قبول ہوتی ہیں جن کا دکشنا اور دانت گھسائی ملتی ہے اور آسمانی باپ انہیں لوگوں کو اپنے لے پالک کی دعا سے متمتع کرتا ہے جو اس کو زعفرانی حلوہ کھلاتے ہیں۔ دنیا کو لوٹنے کو باپ بیٹے خاصے گٹھے ہیں۔ ایک چور دوسرا گٹھ کٹا۔ پس اب دنیا کا اللہ ہی بیلی ہے۔ پھر تعجب ہے کہ آسمانی باپ اپنے لے پالک کی بددعا قبول نہیں کرتا۔ آتھم کے مرنے کے لئے کتنی ناک رگڑی مگر نہ مرا۔ اپنے رقیب یعنی آسمانی منکوحہ کے خاوند کو کیسا کیسا پانی پی پی کر کوسا۔ مگر اس کی زندگی کے پشمینے کا ایک رواں بھی نہ اکھڑا۔ ہاں ایک بددعا قبول ہو گئی۔ وہ کیا، ہندوستان میں طاعون کا آنا اس میں یہ خرابی پڑی کہ گیہوں کے ساتھ گھن بھی پس گیا۔ یعنی بے رحم آسمانی باپ نے اپنے پوتوں کو بھی طاعون کی بھینٹ چڑھا دیا۔ یہ بھی وہی بات ہوئی کہ کرے ڈاڑھی والا اور دھرا جائے مونچھوں والا۔ بات یہ ہے کہ لے پالک کا

٢٩٠

باپ بڑا ہی ظالم ہے۔ بہتر ہے کہ اپنے خونی بدلی کر لے۔ پھر لے پالک کا باپ سارا اناپ شناپ لے پالک سے کہہ دیا کہ میرا پالک نے بھی بہت کچھ دلاسا دیا کہ طاعون تمہاری طرف بری نگاہوں سے بھی دیکھے کو ایک ہی لاٹھی ہانک دیا۔ کچے بچوں کو بھی تاتھیا۔ اوہی میری میا۔ ایڈیٹر!

٢......

مرزا قادیانی کے چیلوں نے اس نہ کئی کروڑ عیسائیوں کو گمراہ کیا ہے کہ وہ اس جنہوں نے حضرت عزیر کو خدا کا بیٹا کہا اور مجوس اور شماسی بھی گمراہ ہیں جو آفتاب کو معب لاکھوں معبود بنا رکھے ہیں۔ مگر مرزا قادی مجوسیوں اور شماسیوں کے۔ نہ ہنود کے نہ کو گالیاں دیتے ہیں۔ اس لئے کہ اپنے کو پیغمبر زردشت کی روح میں حلول کیا ہے کو بودھ بنایا ہے نہ گرونانک اور گورکھ مطلب نہیں۔ مطلب تو عیسیٰ مسیح سے ہے پر اپنا خروج عیسیٰ مسیح کی روح میں بتا کے مقدم کی خبر دینے والے ہیں۔ خود عیسیٰ مرزا قادیانی کی نیرنگیاں تو د بنتے ہیں مسیح موعود یا مثیل مسیح۔ پھر مثیل (معاذ اللہ ) پیغمبر عرب و عجم ہی بتا دیئے حضرت مسیح پر سب لعن کرنے سے ساری پھر جس طرح مرزا قادیانی کو ساتھ بھی ضد ہے۔ جن کے آپ ظل اور

صفحہ ٣٢٥

باپ بڑا ہی ظالم ہے۔ بہتر ہے کہ اپنے خونخوار اور ظالم باپ کی کسی رحیم اور شفیق باپ سے اولاد بدلی کر لے۔ پھر لے پالک کا باپ ساری خدائی کے جھوٹوں کا بھی قبلہ گاہ ہے۔ اگڑم بگڑم اناپ شناپ لے پالک سے کہہ دیا کہ میرے پوتوں کو طاعون کی ہوا بھی نہ لگے گی اور لے پالک نے بھی بہت کچھ دلاسا دیا کہ طاعون ملعون کا کچھ خوف نہ کرو۔ اس کی کیا طاقت ہے کہ تمہاری طرف بری نگاہوں سے بھی دیکھئے۔ مگر اس کے منہ کو لگ گیا تھا خون۔ باپ بیٹے دونوں کو ایک ہی لاٹھی ہانک دیا۔ کچے بچوں کو بھنبھوڑ بھنبھوڑ کر نگل گیا۔ پھر کیا تھا چل میرا بھائی تھیا اور تا تھیا۔ اوہی میری میا۔ ایڈیٹر!

٢....... وہی ممات مسیح

مرزا قادیانی کے چیلوں نے اس بات کو نگار آستین بنا رکھا ہے کہ عیسیٰ مسیح کی حیات ہی نے کئی کروڑ عیسائیوں کو گمراہ کیا ہے کہ وہ اس کو خدا سمجھنے لگے ہیں۔ ہم کہتے ہیں یہود بھی تو گمراہ ہیں جنہوں نے حضرت عزیر کو خدا کا بیٹا کہا اور پارسی بھی گمراہ ہیں جنہوں نے آگ کو معبود سمجھا۔ علیٰ ہذا مجوس اور شماسی بھی گمراہ ہیں جو آفتاب کو معبود سمجھتے ہیں اور ہنود کی تو کچھ پوچھئے ہی نہیں جنہوں نے لاکھوں معبود بنا رکھے ہیں۔ مگر مرزا قادیانی نہ تو یہود کے پیچھے پڑے ہیں نہ پارسیوں کے۔ نہ مجوسیوں اور شماسیوں کے۔ نہ ہنود کے نہ بدھ مذاہب والوں کے نہ سکھوں کے وہ تو صرف عیسیٰ مسیح کو گالیاں دیتے ہیں۔ اس لئے کہ اپنے کو عیسیٰ بناتے ہیں۔ نہ مرزا قادیانی نے آتش پرستوں کے پیغمبر زردشت کی روح میں حلول کیا ہے نہ کرشن جی یا رام چند جی کے سریر میں اوتار کیا ہے۔ نہ اپنے کو بودھ بنایا ہے نہ گرونانک اور گورو گوبند سنگھ کی روح میں تناسخ کیا ہے۔ پس ان سے کچھ مطلب نہیں۔ مطلب تو عیسیٰ مسیح سے ہے جن کی جگہ آپ تشریف لائے ہیں۔ بہتر ہوتا کہ ظلی طور پر اپنا خروج عیسیٰ مسیح کی روح میں بتاتے نہ کہ آنحضرت ﷺ کی روح میں۔ جو صرف عیسیٰ مسیح کے مقدم کی خبر دینے والے ہیں۔ خود عیسیٰ مسیح نہیں ہیں۔

مرزا قادیانی کی نیرنگیاں تو دیکھئے کہ اپنے کو ظل تو بتاتے ہیں پیغمبر عرب وعجم ﷺ کا اور بنتے ہیں مسیح موعود یا مثیل مسیح۔ پھر مثیل اور موعود بن کر اصلی مسیح کو گالیاں دیتے ہیں۔ اگر اپنے کو (معاذ اللہ) پیغمبر عرب و عجم ہی بتا دیتے تو کیا کوئی منہ نوچ لیتا۔ اس رسوائی سے تو نجات ملتی جو حضرت مسیح پر سب ولعن کرنے سے ساری خدائی میں ہورہی ہے۔

پھر جس طرح مرزا قادیانی کو اصلی مسیح کے ساتھ ضد ہے اسی طرح آنحضرت ﷺ کے ساتھ بھی ضد ہے۔ جن کے آپ ظل اور بروز ہیں۔ یعنی آنحضرت ﷺ کے اقوال و ارشادات پر

٢٩١

صفحہ ٣٢٦

عمل نہیں کرتے۔ جب کوئی حدیث اپنے مطلب کے خلاف پاتے ہیں تو صاف انکار کر بیٹھتے ہیں کہ یہ قرآن کے خلاف ہے اور قرآن حدیث پر مقدم ہے اور جو حدیث اپنے مطلب کے موافق پاتے ہیں اس کو قرآن پر مقدم نہیں کرتے۔ حالانکہ تمام مسلمانوں کا اس بات پر ایمان ہے کہ عمل کے اعتبار سے قرآن وحدیث میں کچھ فرق نہیں۔ ایک واجبی استعداد والا مسلمان بھی ”وما ینطق عن الھوی ان ھو الا وحی یوحی“ سے واقف ہے۔ یعنی محمد ﷺ اپنی خواہش سے کچھ نہیں کہتا۔ بلکہ اس کا نطق وحی کے سوا کچھ نہیں۔ اس صورت میں حدیث بھی وحی یعنی قرآن ہے۔

اگر مرزا اور مرزائیوں میں کچھ بھی عقل و ادراک ہے (نور ایمان تو مطلق نہیں) تو یہ بات سمجھیں گے کہ مسلمانوں پر براہ راست قرآن نازل نہیں ہوا۔ بلکہ آنحضرت ﷺ پر نازل ہوا ہے اور آپ ﷺ کے فرمان کے موافق ہم نے قرآن کو منزل من اللہ مانا ہے۔ اب تعجب ہے کہ قرآن پر تو ایمان اور آنحضرت ﷺ کے دیگر اقوال احادیث سے انکار۔ حالانکہ دونوں آپ ہی کے اقوال سے ہیں جو باتیں آسائش اور تن آسانی کے موافق ہیں ان کو یہ کہہ کر قبول کیا جاتا ہے کہ قرآن میں ایسا ہی ہے اور جن امور میں حدیث کی رو سے تکلیف شرعیہ ہے۔ ان سے یہ کہہ کر انکار کر دیا جاتا ہے کہ قرآن سے ثابت نہیں۔ مثلاً پانچ نمازوں کی تصریح قرآن میں نہیں بلکہ حدیث میں ہے تو مرزا قادیانی اور ان کے حواری پانچ وقت نماز نہیں پڑھتے۔ بلکہ اکثر اوقات دو یا تین پڑھ لیتے ہیں اور نہ بھی پڑھیں تو کیا خدا لاٹھی لے کر مارے گا۔ کیونکہ قرآن میں نماز کا حکم ضرور ہے۔ مگر یہ حکم نہیں کہ پانچ وقت پڑھو۔ روزانہ پڑھو۔ ہفتے میں ایک دفعہ مہینے میں ایک دفعہ سال بھر میں ایک دفعہ۔ بلکہ ساری عمر میں بھی ایک دفعہ پڑھ لو تو فرضیت ادا ہو جاتی ہے۔ کیونکہ قرآن میں مطلق نماز کا حکم ہے نہ کہ مقید کا۔ بلکہ مرزا قادیانی اور مرزائی تو قرآن وحدیث دونوں سے مطلق العنان ہو گئے ہیں۔ حج اور زکوٰۃ کی فرضیت قرآن میں بھی ہے اور حدیث میں بھی۔ مگر بتاؤ باوجود استطاعت رکھنے اور مستورات کو ہزاروں روپیہ کا جڑاؤ زیور بنوا دینے وغیرہ کے مرزا قادیانی نے کبھی حج اور زکوٰۃ کا نام بھی لیا ہے یا وہ اپنے مرزائیوں کو کبھی حج اور زکوٰۃ کی تحریص و ترغیب دیتے ہیں۔ قادیان اور منارۃ المسیح کی زیارت نے سب سے مستغنی کر دیا ہے۔ مرزا قادیانی کو مسیح الزمان اور امام الزمان مانو اور چندہ دو۔ بس چھٹی ہوئی ورنہ بٹوا خالی کرو۔ یاری القط!

مرزائی مذہب کا بڑا اصول اور بڑی تلقین یہ ہے کہ عیسیٰ مسیح زندہ نہیں ہیں بلکہ وفات پا گئے ہیں۔ گویا عیسیٰ مسیح کی وفات مرزا قادیانی کے امام الزمان اور مسیح موعود ہونے کی دلیل یا معجزہ ہے۔ باقی شخص نہیں۔ ایک مغربی اور مشرقی تعلیم یافتہ بزرگ ہم سے ہنس کر کہنے لگے یا تو مرزائی

٢٩٢

صفحہ ٣٢٧

لوگ گھاس کھا گئے ہیں یا مرزا قادیانی کو مالیخولیا ہے یا عمداً مکاری اور عیاری ہے۔ ظلی اور بروزی دعوے نے تو موعودیت کو بھی کھو دیا۔ کوئی ظل اپنی اصل کے خلاف نہیں ہوتا۔ آنحضرت ﷺ نے عیسیٰ مسیح کی معصومیت کی تصدیق کی۔ مرزا قادیانی ان کو گالیاں دیتا ہے اور فاسق و فاجر بتاتا ہے۔ پس ظلیت کہاں رہی اور ساتھ ہی موعودیت بھی باطل ہو گئی۔

مرزا قادیانی اور مرزائیوں کا دعویٰ ہے کہ آیت ”بل رفعہ اللہ الیہ“ سے رفع جسمانی نہیں نکلتا۔ ہم کہتے ہیں کہ رفع روحانی کہاں نکلتا ہے۔ وہ یہ آیات پیش کرتے ہیں۔ ”نرفع درجات من نشاء“ اور ”الیہ یصعد الکلم الطیب والعمل الصالح یرفعہ“ ہم کہتے ہیں پہلی آیت میں درجات کا لفظ اور دوسری آیہ میں عمل صالح کا لفظ موجود ہے۔ یعنی ہم جس شخص کا درجہ چاہتے ہیں بلند کرتے ہیں اور عمل صالح خدا ہی کی جانب بلند ہوتے ہیں۔ اب ہم پوچھتے ہیں کیا حضرت مسیح علیہ السلام کوئی درجہ ہیں یا کوئی عمل ہیں جو خدا کی جانب بلند ہوئے۔ آیت میں یوں نہیں فرمایا کہ: ”بل رفع اللہ درجاتہ“ بلکہ خود حضرت عیسیٰ مسیح کو رفع کا مفعول بنایا ہے۔ یعنی اٹھا لیا ہم نے عیسیٰ کو اپنی جانب۔ اصل حقیقت یہ ہے کہ ان جہلاء کو تاویل، کرنی بھی نہیں آتی۔ قدم قدم پر ٹھوکر کھاتے ہیں اور سر کے بل گرتے ہیں۔ ایڈیٹر!

٣....... بے معنی الہام

الحکم ہمارے نام نہیں آتا۔ لیکن شاگردان رشید جاسوس بن کر کہیں نہ کہیں سے اڑا لاتے ہیں۔ ١٧؍ستمبر رواں کا الحکم عجیب و غریب ہے۔ اس میں لکھا ہے کہ مرزا قادیانی کے فرزند ارجمند بشیر کی آنکھیں ایسی خراب تھیں کہ بینائی کو سخت نقصان پہنچنے کا اندیشہ تھا۔ آخر آپ نے دعا فرمائی تو یہ الہام ہوا: ”برق طفلی بشیر“ اس الہام میں بھی مرزا قادیانی کا خدا ویسا ہی غچہ کھا گیا جیسا ”صح زوجتی“ اور ”جری اللہ فی حلل الانبیاء“ والے الہام میں۔ وہاں مرزا قادیانی کے خدا کی بی بی اچھی ہوئی تھی۔ یہاں خدا کے لڑکے کی آنکھیں اچھی ہوئی ہیں۔ کیونکہ خدا نے بشیر کو طفلی کہہ کر الہام میں پکارا ہے۔ اگر یہ کہو کہ بشیر پوتا ہے یعنی خدا کے لے پالک بیٹے کا بیٹا ہے۔ حقیقی بیٹا نہیں تو یہ اعتراض کچھ بھاری نہیں۔ پوتے کو بھی لڑکا اور بیٹا کہہ دیتے ہیں۔ جیسا زوجتی میں کہ باپ کی زوجہ اور بیٹے کی زوجہ مرزائی شریعت میں دونوں ایک ہیں۔ دونوں میں بانس بھر کیا معنے ہاتھ بھر بلکہ بالشت بھر بلکہ انگشت بھر بلکہ جو بھر بلکہ تل بھر بھی فرق نہیں۔

پھر خیریت سے بَرَّق پر اعراب بھی لگا دیئے ہیں۔ اس کو تبریق (تفعیل) سے صیغہ امر بنایا ہے۔ تبریق کے معنے لغت میں آنکھ اچھی طرح کھولنا اور تیز دیکھنا ہیں تو یہ معنے ہوئے کہ

٢٩٣

صفحہ ٣٢٨

میرے لڑکے بشیر کی آنکھیں اچھی طرح کھول دے اور اس کو تیز دکھا۔ اس صورت میں لفظ بشیر طفلی کا بدل واقع ہوا ہے اور حسب قاعدہ مبدل اور مبدل منہ کا ایک حال ہوتا ہے۔ یہاں طفلی مضاف اور مضاف الیہ ہو کر معرفہ اور بشیر نکرہ ہے اور اگر یہ کہو کہ طفلی مفعول اول اور بشیر مفعول ثانی ہے۔ اول تو کلام عرب میں تفریق متعدی المتعدی نہیں آتا۔ دوم بشیر پر مفعول کا نصب نہیں نہ اس کے آگے۔ الف ہے کہ بشیراً پڑھا اور سمجھا جائے۔ بہرحال مرزا قادیانی کا خدا نحو سے بالکل نابلد ہے جب اس نے صرف نحو کی تعلیم ہی مسجد شوکت کے دارالعلوم میں نہیں پائی تو زبان عرب میں کیوں الہام کرتا ہے۔

اگر الہام کے یہ معنے کہو کہ اچھا کر دے اپنے لڑکے بشیر کو تو علاوہ اس نقص کے کہ باپ میں اچھا کرنے کی طاقت نہیں بیٹے میں ہے۔ بجائے طفلی کے طفلک ہو اور حسب قاعدہ نحو بشیر معرف باللام ہونا چاہئے۔ یعنی ”بشر طفلک البشیر “ پس معلوم ہوا کہ آسمانی باپ بالکل گھانس کھا گیا ہے اور بیٹا اس سے بڑھ کر۔ اس بساط پر علماء اسلام سے تحدی کی جاتی ہے اور اغلاط واسقام کے پلندے (اعجاز المسیح) کا جواب طلب کیا جاتا ہے۔

امید ہے کہ ہمارے نامہ نگار علماء بھی اس الہام پر ضمیمے میں بحث فرمائیں گے اور اگر کوئی نکتہ ہم سے رہ گیا ہو تو اس کی چھان بین کریں گے۔ ایڈیٹر!

٤....... مرزا قادیانی سے آخری دو ہاتھ

”مولنا الشوکت سلام علیک وعلیٰ من لدیک “ گو خدا کے فضل سے مرزا قادیانی کے دعاوی ہی ایسے ہیں کہ اہل علم ان کے سنتے ہی سے ان کے مکذب ہو جاتے ہیں۔ علاوہ اس کے زمین و آسمان کی شہادت بینہ ان کی تکذیب کر رہی ہے۔ مگر بحکم بدرا باید رسانید میرے جی میں مدتوں سے ایک تجویز کھٹک رہی ہے۔ امید ہے کہ اب اس کے پورا ہونے کا وقت آگیا ہے۔ آپ اپنے ناظرین کی آگاہی کے لئے درج فرماویں۔

مرزا قادیانی نے ایک اشتہار میں چالیس علماء کو مباحثہ کے لئے طلب کیا ہوا ہے۔ ہر چند میں نے بحکم لا تکلف الا نفسک اپنی طرف سے خط لکھا اور استدعا کی کہ میں مباحثہ کو حاضر ہوں۔ مگر آپ اسی بات پر جمے رہے کہ چالیس پورے کرو۔ چونکہ ندوۃ العلماء کا جلسہ امرتسر میں ہونے والا ہے۔ آپ کے ناظرین بھی اکثر شریک جلسہ ہوں گے۔ پس اگر آپ اس تجویز کو مکمل کریں کہ اہل علم جو شریک جلسہ ہونے کو آئیں ایک ہفتہ پہلے آپ کو منظوری سے اطلاع دیں کہ ہم بھی مرزا قادیانی کے مباحثہ میں شریک ہیں اور آپ بحیثیت سیکرٹری مرزا قادیانی کو رجسٹرڈ نوٹس

٢٩٤

٢٩ دیں کہ بعد جلسہ ندوۃ العلماء جس مقام پر چاہیں بھی حرج نہیں) ہم مباحثہ کو حاضر ہیں کوئی شرط دشـ جو علم مناظرہ میں مسلم ہو چکی ہیں۔ امید ہے کہ آ شریک جلسہ ہوں گے۔ کرایہ بھی نصف ہے۔ جو فرماویں۔

ایڈیٹر ....... بہت معقول اور مرزا قادیانی کی ہمیشـ رائے ہے۔ ندوۃ العلماء کے جلسے کے موقع سے نے بھی اس موقع کو مغتنمات سے سمجھ کر ابھی ابھی ذیل دے دیا ہے۔

جناب مرزا صاحب! السلام علیـ اپنا سیکرٹری قرار دیا ہے۔ لہذا میں بحیثیت انجمن گزارش کرتا ہوں کہ احقاق حق کے لئے جلسہ ند آپ ضرور تشریف لائیں اور بجز شرائط مقررہ مناظـ کہ آپ راہ فرار اختیار کرتے ہیں اور علماء کے موا ہیں۔ اپنے اور اپنی جماعت کی طرف سے جناب ثناء اللہ صاحب امرتسری مناظر تسلیم کئے گئے ہیں نوٹس کا جواب بواپسی ڈاک دیں گے۔ کیونکہ جلسـ علماء کا خادم محی السنۃ مشرقیہ ابوالادریس احمد حسـ

٥....... اسـ

الحکم میں لکھا ہے کہ: ” اسباب پرستی ہے تو اسباب پرستی تپ دق ہے۔ یاد رکھو جو اس ہے۔“

کیوں جناب یہ نصیحت عمل کرنے کے مصداق ہے۔ ہم کو تو بدیہی طور پر امرثانی ہی معلـ پرستی کیا ہے۔ جی کچھ نہیں صرف شرک کی بانی ہـ کی اشاعت کے اسباب میں سے گردانا ہے۔ د

٥

صفحہ ٣٢٩

دیں کہ بعد جلسہ ندوۃ العلماء جس مقام پر چاہیں بجز قادیان کے (میرے نزدیک تو قادیان میں بھی حرج نہیں) ہم مباحثہ کو حاضر ہیں کوئی شرط و شروط ہماری طرف سے نہ ہو۔ بجز انہی شروط کے جو علم مناظرہ میں مسلم ہو چکی ہیں۔ امید ہے کہ آپ اس تحریک کو مکمل کرنے کے لئے ضرور ہی شریک جلسہ ہوں گے۔ کرایہ بھی نصف ہے۔ جہاں تک جلد ہو سکے اس میری تحریر کو درج ضمیمہ فرماویں۔ ابوالوفاء ثناء اللہ امرتسری!

ایڈیٹر ...... بہت معقول اور مرزا قادیانی کی ہمیشہ کی جھک جھک اور بک بک کا تصفیہ کرنے والی رائے ہے۔ ندوۃ العلماء کے جلسے کے موقع سے بڑھ کر کوئی موقع احقاق حق کا نہ ملے گا۔ لہٰذا ہم نے بھی اس موقع کو مغتنمات سے سمجھ کر ابھی ابھی مرزا قادیانی کو رجسٹری شدہ نوٹس حسب مندرجہ ذیل دے دیا ہے۔

جناب مرزا صاحب! السلام علیٰ من اتبع الھدیٰ! مجھ کو مجلس العلماء امرتسر نے اپنا سیکرٹری قرار دیا ہے۔ لہٰذا میں بحیثیت انجمن کا خادم ہونے کے جناب والا کی خدمت میں گزارش کرتا ہوں کہ احقاق حق کے لئے جلسہ ندوۃ العلماء کے موقع سے بڑھ کر کوئی موقع نہیں۔ آپ ضرور تشریف لائیں اور بجز شرائط مقررہ مناظرہ کے کوئی شرط نہ کریں۔ ورنہ یہ سمجھا جائے گا کہ آپ راہ فرار اختیار کرتے ہیں اور علماء کے مواجہہ میں اپنے دعاوی کے ثابت کرنے پر قادر نہیں ہیں۔ اپنے اور اپنی جماعت کی طرف سے جناب اور علماء ہندوستان کی طرف سے جناب مولانا ثناء اللہ صاحب امرتسری مناظر تسلیم کئے گئے ہیں۔ امید ہے کہ آپ بھی منظور فرمائیں گے اور اس نوٹس کا جواب بواپسی ڈاک دیں گے۔ کیونکہ جلسہ ندوۃ العلماء کے دن بہت قریب ہیں۔ علماء کا خادم مجدد السنہ شرقیہ ابوالادریس احمد حسن شوکت، مدیر شحنہ ہند میرٹھ، مورخہ ٢٣؍ستمبر ١٩٠٢ء

٥...... اسباب پرستی

الحکم میں لکھا ہے کہ: ”اسباب پرستی بت پرستی سے بڑھ کر ہے۔ پتھر کی پوجا اگر محرقہ ہے تو اسباب پرستی تپ دق ہے۔ یاد رکھو جو اسباب میں دل لگاتا ہے وہ شرک میں مبتلا ہو جاتا ہے۔“

(ملفوظات ج٣ ص٣٧٥)

کیوں جناب یہ نصیحت عمل کرنے کے لئے بھی ہے یا ”یقولون مالا یفعلون“ کی مصداق ہے۔ ہم کو تو بدیہی طور پر امر ثانی ہی معلوم ہوتا ہے۔ اسباب پرستی تو شرک ہے۔ مگر تصویر پرستی کیا ہے۔ جی کچھ نہیں صرف شرک کی ترقی ہے۔ تصویر پرستی کو مرزا قادیانی نے اپنی بعثت اور اس کی اشاعت کے اسباب میں سے گردانا ہے۔ درحقیقت تال میل خوب ملا ہے۔ یعنی شرک کو شرک

٢٩٥

صفحہ ٣٣١

فی الرسالۃ بلکہ شرک فی التوحید کی اشاعت کا سبب قرار دیا ہے۔ جیسی روح ویسے ہی فرشتے۔

مرزا قادیانی کہتے ہیں ''میں اپنی تصویریں نہ صرف ہندوستان بلکہ ممالک غیر میں اس لئے بھیجتا ہوں کہ اکثر عقلاء تصویر دیکھ کر انسان کے چہرے بشرے، نوک پلک، خوارق، خصائل وغیرہ معلوم کر لیتے ہیں ۔''

(ملفوظات ج ٢ ص ٣٦٥، الحکم مورخہ ٣١؍اکتوبر ١٩٠١ء)

یہ اسباب پرستی نہیں تو کیا ہے۔ اس سے یہ بھی معلوم ہو گیا کہ مرزا قادیانی میں فی حد ذاتہ کوئی جذبہ بارقہ موجود نہیں جو انسانوں کو خود بخود کھینچ لے۔ بلکہ دنیا کو صرف اپنی تصویر کی جھلک دکھا کر فریفتہ کرتے ہیں۔ ہم پوچھتے ہیں انبیاء میں سے کون سے نبی نے تصویر کی اشاعت کو اپنی نبوت کی اشاعت کا سبب گردانا ہے؟ خاتم الانبیاء آنحضرت ﷺ نے تو تصویر بنانے اور بنوانے والے کو ملعون (جہنمی) فرمایا ہے۔ تمام انبیاء صرف توحید الٰہی کی اشاعت کے لئے دنیا میں آئے۔ حضرت ابراہیم خلیل اللہ نے تصویروں (بتوں) کو کیوں توڑا۔ کیا کوئی نبی اس بات پر قادر نہ تھا کہ دنیا میں اپنی تصویریں بھیجتا اور ان کے ذریعہ سے اپنی پرستش کراتا۔ حالانکہ ان کے جبروت کا سکہ بیٹھ گیا تھا۔ وہ جو کچھ چاہتے دنیا سے کرا سکتے تھے۔ مہدیان کذاب کو تو ان کے طنطنہ کا عشر عشیر بھی حاصل نہیں ہوا۔ انبیاء میں صداقت تھی شہرت پرستی اور دنیا طلبی نہ تھی۔ یہ تو مرزا قادیانی ہی کو مبارک ہو۔ ایڈیٹر!

٦...... مرزا اور اس کی امت ہی عاقبت کے بورے سمیٹے گی

الحکم میں لکھا ہے کہ مولوی محمد حسن صاحب بھین والے نے اعجاز المسیح کی تردید کا ارادہ کیا تھا۔ مگر مر گیا اور اس کے کچھ نوٹ پیر گولڑوی (پیر مہر علی شاہ صاحب) کے ہاتھ آگئے۔ انہوں نے سرقہ کر کے اپنی کتاب سیف چشتیائی میں چھاپ دیئے۔ مطلب یہ ہے کہ مولوی محمد حسن کی ہلاکت کا باعث اعجاز المسیح پر تردیدی نوٹ لکھنا ہے۔ گویا دنیا میں جو شخص مرتا ہے مرزا قادیانی کی مخالفت ہی کی وجہ سے مرتا ہے پیر صاحب کو بھی ہوشیار رہنا چاہئے وہ بھی چند روز میں مولوی محمد حسن صاحب مرحوم سے جاملیں گے۔

فی الحقیقت امسال طاعون سے جتنے مرزائی مرے وہ بھی شاید مرزا ہی کی مخالفت سے مرے۔ دنیا میں طاعون اسی وجہ سے آیا ہے کہ مرزا قادیانی کو لوگوں نے نبی اور امام الزمان تسلیم نہیں کیا۔ ہندوستان میں تو طاعون عام اور تام ہو ہی چکا ہے۔ اب ممالک غیر کی باری ہے۔ کسی کی موت پر خوش ہونا ایسی کمینگی اور سفلگی ہے ۔ جس کی نظیر قادیان کے سوا کہیں نہ مل سکے گی۔

٢٩٦

انسانوں کی موت سے انسانوں پر عبرت پڑتی ہے ہوتے ہیں اور حضرت سعدی کا یہ قول پس پشت ڈال

اگر بمرد عدو جاے
کہ زندگانی مانیز '

اس سے صاف ظاہر ہے کہ مرزا قادیا سے تو خوش ہوتے ہیں۔ لیکن اگر ان کے یہاں کوئی جاتی ہے۔ یہ ہے ظلی اور بروزی نبی اور یہ ہے اس ک

٧...... خیر الق

اس حدیث پر بحث کرتے ہوئے مرزا ہے کہ آنحضرت ﷺ کی پیشین گوئی 'ثم یفشو ال پھیل گیا۔ اس کے جواب میں ہم کہتے ہیں کہ حکیم دیکھیں۔ اپنے دل میں دیکھیں۔ ایماناً قرآن وحدی فرمایا کہ میرے بعد تیس جھوٹے دجال پیدا ہوں ۔ حالانکہ میرے بعد کوئی نبی نہیں۔ اب مرزا قادیانی بنا دیا۔ بشرطیکہ وہ جیسا کہ زبان سے کہتے ہیں۔ آخ ہے کہ ہرگز سچا نہیں جانتے۔ ورنہ کبھی نبوت کا دعویٰ نبی کے پیدا ہونے کی نفی ہے۔ رسول کے پیدا ہو جھوٹ ہے۔ جس پر نوآموز طلبہ بھی قہقہہ اڑا سکتے ہ الکذب'' کی تصدیق ہوئی۔ مرزا قادیانی اور ال ہوئے۔ مگر ان کا یا ان کی اولاد کا یا ان کی امت کا مر بڑے بڑے محل بنائے جن کے مقابلہ میں منارۃ ال ریت سے بنایا کرتے ہیں اور بالآخر قضاء الٰہی زبالہ

در روز جمعہ خانہ
بنیاد کاخ خویش

کذب کے وبال کو ذرا عبرت کی تراز

٩٧

صفحہ ٣٣١

انسانوں کی موت سے انسانوں پر عبرت پڑتی ہے۔ مگر ایک قادیان والوں کا نیچر ہے کہ وہ خوش ہوتے ہیں اور حضرت سعدی کا یہ قول پس پشت ڈال دیتے ہیں۔

اگر بمرد عدو جاے شادمانی نیست
کہ زندگانی ما نیز جاودانی نیست

اس سے صاف ظاہر ہے کہ مرزا قادیانی اور مرزائی اپنے مخالفوں کی موت یا حوادث سے تو خوش ہوتے ہیں۔ لیکن اگر ان کے یہاں کوئی کامیابی یا خوشی ہوتی ہے تو مرزائیوں کی نانی مر جاتی ہے۔ یہ ہے ظلی اور بروزی نبی اور یہ ہے اس کی امت۔ ایڈیٹر!

٧ ...... خیر القرون قرنی

اس حدیث پر بحث کرتے ہوئے مرزا قادیانی کے حکیم الامت فرماتے ہیں کہ کیا وجہ ہے کہ آنحضرت ﷺ کی پیشین گوئی ”ثم یفشو الکذب“ کے موافق قرونِ ثلثہ کے بعد کذب پھیل گیا۔ اس کے جواب میں ہم کہتے ہیں کہ حکیم صاحب اپنے آس پاس دیکھیں۔ ادھر ادھر دیکھیں۔ اپنے دل میں دیکھیں۔ ایماناً قرآن وحدیث کی مخالفتوں کو دیکھیں۔ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ میرے بعد تیس جھوٹے دجال پیدا ہوں گے اور سب یہی زعم کریں گے کہ ہم نبی ہیں۔ حالانکہ میرے بعد کوئی نبی نہیں۔ اب مرزا قادیانی نے نبوت کا دعویٰ کر کے خود اپنے کو جھوٹا دجال بنا دیا۔ بشرطیکہ وہ جیسا کہ زبان سے کہتے ہیں۔ آنحضرت ﷺ کے اقوال کو سچا جانتے ہوں۔ ظاہر ہے کہ ہرگز سچا نہیں جانتے۔ ورنہ کبھی نبوت کا دعویٰ نہ کرتے۔ اب یہ تاویل چھانٹنا کہ حدیث میں نبی کے پیدا ہونے کی نفی ہے۔ رسول کے پیدا ہونے کی نفی نہیں۔ جھوٹ کے تدارک کرنے کو دوسرا جھوٹ ہے۔ جس پر نوآموز طلبہ بھی قہقہہ اڑا سکتے ہیں۔ پس یوں جھوٹ پھیلا اور یوں ”یفشوا الکذب“ کی تصدیق ہوئی۔ مرزا قادیانی اور ان کے حواری کو معلوم ہو کہ ٢٣ جھوٹے مہدی پیدا ہوئے۔ مگر ان کا یا ان کی اولاد کا یا ان کی امت کا دنیا کے پردے پر کہیں نشان بھی نہیں۔ انہوں نے بڑے بڑے محل بنائے جن کے مقابلہ میں منارۃ المسیح بچوں کا گھروندا ہے جو جمعہ کے روز مٹی اور ریت سے بنایا کرتے ہیں اور بالآخر قضاء الٰہی زبان حال سے یہ شعر پڑھ دیتی ہے۔

در روز جمعہ خانہ می ساختی بلہو
بنیاد کاخ خویش نہ محکم گذاشتی

کذب کے وبال کو ذرا عبرت کی ترازو میں تولئے کہ مہدی سوڈانی کے عالیشان منارہ

٢٩٧

صفحہ ٣٣٢

دار مکانات تو الگ رہے۔ قبر تک کا نشان بھی توپوں کے گولوں سے جناب باری نے اڑوا دیا۔ ”فاعتبروا یا اولی الابصار“

اس بات کی کیا دلیل ہے کہ مرزا قادیانی تیس مہدیوں کی ذیل میں نہیں ہیں۔ حالانکہ ابھی تک مخبر صادق کی پیشین گوئی کے موافق ٣٠ مہدی پورے نہیں ہوئے۔ جب تیرہ سو برس میں ٢٣ جھوٹے مہدیوں نے خروج کیا ہے تو حساب لگا کر دیکھ لیجئے کہ بقیہ سات مہدیوں کی تعداد کتنے سال میں پوری ہوگی۔ اربعہ متناسبہ سے حساب جانچ لیجئے۔

مرزائیوں کو مرزا قادیانی سے ایک معاہدہ کرانا اور ایمان لانے سے پہلے اس بات پر مجبور کرنا چاہئے تھا کہ پہلے آپ یہ ثبوت دیں کہ آپ کے بعد کوئی اور جھوٹا نبی یا مہدی جن کی تعداد حدیث میں موجود ہے پیدا نہ ہوگا۔ اس دفع دخل کے لئے مرزا قادیانی کہتے ہیں کہ نبی تو قیامت تک پیدا ہوتے رہیں گے۔ مگر ہم کہتے ہیں کہ کیا یہ ویسے ہی نبی ہوں گے جیسے ٢٣ مہدیان کذاب ہو چکے ہیں۔

ظاہری دعویٰ تو یہ ہے کہ انبیاء برابر پیدا ہوتے رہیں گے۔ مگر خاتم الانبیاء یا نبی کامل کوئی پیدا نہ ہوگا۔ حالانکہ مرزا قادیانی نے اپنے کو خاتم الانبیاء (خاتم الخلفاء) علی الاعلان قرار دے دیا ہے۔ ذرا دیکھتے تو جائیے قادیانی خم سے گرگٹ کی طرح کیسے کیسے رنگ نکلتے ہیں۔ موسم گرما آنے دیجئے۔ خدا نے چاہا تو دماغ کا تھرما میٹر پورے ایک سو ٩٩ درجہ پر پہنچ کر کامل مالیخولیا ہو جائے گا۔

کر علاج جوش وحشت چارہ گر
لادے اک جنگل مجھے بازار سے

الہامی ہوئے مثیل مسیح ہوئے۔ مہدی موعود ہوئے۔ ظلی اور بروزی نبی اور رسول ہوئے۔ آئندہ گرمیوں میں خادم الانبیاء ورسل ہو جائیں گے اور پھر خدا نے چاہا تو جس جست و خیز اور بکر کود سے زینہ بزینہ چڑھے ہیں اسی طرح بتدریج ارارارارادھڑام سے لوٹن کبوتر کی قلابازیاں کھاتے لڑھکتے پھڑکتے آرہیں گے۔

ہر صاحب کمال کو ہے اوج پر زوال
پٹکے نہ کیوں اچھال کے فوارہ آب کو

ناظرین کو معلوم ہونا چاہئے کہ آپ کے ضمیمہ نے اپنی نکتہ چینی سے مرزا قادیانی کا تنزل شروع کر دیا ہے۔ اب وہ اپنے کو مثیل مسیح اور ظلی اور بروزی نبی کہتے ہوئے جھجکتے ہیں۔

٢٩٨

صفحہ ٣٣٣

کیونکہ بولتی بند ہوگئی ہے۔ خدا نے چاہا تو آسمانی باپ چند روز میں مرزا قادیانی کا خطاب خاتم الخلفاء بھی یہ کہہ کر چھین لے گا کہ ایاز قدر خود شناس۔ ایڈیٹر!

٨ ...... حدیث سے بغض

آنحضرت ﷺ سے محبت کا دعویٰ اور حدیث سے بغض۔ ایک لحیم شحیم موٹے تازے چکنے چپڑے بھاری بھر کم توندیلے اور پھیلے مرزائی مولوی نے ہم سے کہا کہ جب آنحضرت ﷺ کا ذکر آتا ہے تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ مرزا قادیانی پانی ہو کر بہہ جائے گا اور اس کا تمام عنصر رنگ کی طرح نہیں موم کی طرح گل جائے گا۔ بھلا ایسا شخص کیونکر جھوٹا ہو سکتا ہے۔ ہم نے کہا دنیا پرست سادھو، بنتے تو وہ ڈھونگ باندھتے ہیں اور وہ ظاہری کرشمے دکھاتے ہیں کہ اچھے اچھے دانا بینا عاقل و بالغ ۔ عالم و فاضل لوگوں کی آنکھوں میں خاک جھونک کر گانٹھ کاٹ لیتے ہیں۔ اچھا ان کو جانے دو۔ کیا آپ نے کبھی عورتوں کے مکر و دلاسے نہیں دیکھے۔ وہ مکر گانٹھتی ہیں اور نخرے دکھاتی ہیں کہ مردوں کی آنکھوں میں سرسوں پھول جاتی ہے اور رونا اور ٹپ ٹپ ٹسوے بہانا تو ہر وقت ان کی پوٹلی یا نیفے میں ہوتا ہے۔ حالانکہ خدا تعالیٰ ان کی نسبت فرماتا ہے : ’’ان کیدکن عظیم‘‘

مرزا قادیانی کے حکیم الامتہ جن کو مرزا قادیانی کا عکس باطل یا ہمزاد کہنا چاہئے۔ ٧؍ستمبر کے الحکم میں فرماتے ہیں کہ : ’’آنحضرت ﷺ نے سب کچھ خود کر کے دکھا دیا۔ اگر ایک حدیث بھی دنیا میں قلمبند اور جمع نہ کی جاتی تب بھی یہ (نماز ، روزہ ، حج ، زکوٰۃ کے ) مسائل صاف تھے۔‘‘ پھر فرماتے ہیں : ’’غرض اللہ تعالیٰ کے فرض کے لئے ایک مزکی کی ضرورت ہوتی ہے۔ ورنہ بڑی بڑی کتابوں والے عبد الطاغوت ہو جاتے ہیں۔‘‘

حکیم جی کا مطلب یہ ہوا کہ اب احادیث کی ضرورت نہیں۔ جیتا جاگتا سانڈ کا سا پٹھا۔ ولائتی مٹر کا سا بورا شتر مرغ کا سا پٹھورا۔ مزکی (ظلی اور بروزی نبی ) موجود ہے۔ قرآن وحدیث کو جزدان میں لپیٹ کر اور طاق نسیان میں رکھ کر اس کے پاس آؤ۔ وہ تم کو سب کچھ سکھا دے گا۔ کیا اب بھی کسی کو شک ہو سکتا ہے کہ مرزا قادیانی اور مرزائی حدیث رسول اللہ ﷺ کے سخت حریف ہیں اور اس کو مٹانا چاہتے ہیں۔ یہ مرزا قادیانی کو آنحضرت ﷺ سے محبت ہے جن کا نام سن کر مرزا قادیانی گلا جاتا ہے اور اپنے آنسوؤں کی کیچڑ میں بھینس کی طرح بھساک سے بیٹھا جاتا ہے۔ بات یہ ہے کہ مرزا قادیانی اور مرزائی تو خریداروں کو دام میں لانے کو ایسے ہتھکنڈے دکھاتے ہیں اور جب وہ دام میں پھنس کر رنگ میں رنگے جاتے ہیں تو پھر یہ تقویٰ اور تورع نہیں

٢٩٩

صفحہ ٣٣٤

رہتا۔ پھر تو سب کے سب لنکا میں باون گز کے ہو جاتے ہیں اور نیچرل آزادی کے کھیت میں منہ چھٹ ہریائی چرنے لگتے ہیں۔

آج کل آزادی آزادی پکارنے والوں کی تو خوب جمتی ہے۔ موجودہ زمانہ کے رفارمر اور انبیاء وہ ہیں جو دنیا کو تکالیف شرعیہ سے آزاد کر رہے ہیں۔ یہ رفارمر جو دعوے کریں۔ بجا ہے ان کے دعوے ضرور سرسبز ہوں گے اور ہو رہے ہیں۔ یہی امتحان کا وہ وقت ہے جس کی نسبت مخبر صادق نے پیشین گوئی فرمائی ہے کہ ایمان کا سنبھالنا گویا ہاتھ پر چنگاری رکھنا ہوگا اور اسلام یوں سمٹ جائے گا۔ جیسے سانپ اپنی بل میں۔

ابھی تو کچھ بھی نہیں۔ مومنوں کے ایمان کا سخت سے سخت امتحان لیا جائے گا۔ دنیا میں تیس دجالوں کذابوں کا آنا ضرور ہے۔ جن کے زور شور کے نعرے گنبد فلک میں گونجیں گے اور جن کے انا ربکم الاعلیٰ کے نقارے مردوں تک کے کانوں کے پردے پھاڑیں گے۔ پس مسلمانوں کو امتحان کے لئے تیار رہنا اور آنے والی نسلوں کے تیار کرنے کا سامان فراہم کرنا چاہئے۔

آنحضرت ﷺ کے بعد نبوت و رسالت کا دعویٰ کرنے والا بڑا ظالم ہے۔ مسلمانوں کو خیال کرنا چاہئے کہ ایسا شخص کس قدر خوفناک ہے اور اس کا زہد و تقویٰ عبادت و ریاضت (اگر در حقیقت کچھ ہو) کس کام کا ہے۔ یہ وہی بات ہے کہ کوئی نجس کپڑے کو عطر میں بساوے اور یوں اس کی نجاست کو ڈھک دے۔ غرور اور تکبر مرزائیوں کی سرشت میں بھر گیا ہے۔ ہم سچ کہتے ہیں کہ چند روز میں وہ زمانہ آنے والا ہے کہ ایک ایک مرزائی اپنے کو انبیاء سے بڑھ کر سمجھے گا اور مرزا قادیانی نہ صرف خاتم الانبیاء بلکہ اپنے کو خدا سمجھنے لگیں گے۔ ابھی چیونٹیوں کے پر نہیں لگے۔ یہ جھوٹ کا جہاز جو طوفان میں آیا ہوا ہے۔ اس میں کنارے تک پانی بھرا۔ ابھی تو بہت کچھ ہونے والا ہے۔ اگر یہی لیل و نہار رہے اور مرزا قادیانی اور مرزائیوں نے جو ترقی گزشتہ دو سال میں کی ہے۔ اگر اس کے انجن کی اسٹیم اسی طرح گرم رہی تو بہت ہی جلد مکافات کو پہنچ جائیں گے اور جس طرح دوسرے ٢٣ مہدی اپنے خوارق کی یادگاریں صفحہ تاریخ پر چھوڑ گئے ہیں۔ مرزا قادیانی اور مرزائی بھی اپنے نبوت و رسالت کی کارروائیوں کا بڑا بھاری ذخیرہ چھوڑ جائیں گے اور ہم مبداء فیاض ازل کی برکت سے پیشین گوئی کرتے ہیں کہ یہ ضرور ہو کر رہے گا۔ دیر میں ہو یا جلد ہو۔ انبیاء کی مخالفت نے تو بڑے بڑے سرکش سلاطین اور بڑی بڑی جرار اور زبردست قوموں کو خاک میں ملا دیا ہے۔ مرزا قادیانی تو کیا پدی کیا پدی کا شوربا ہیں۔

٣٠٠

صفحہ ٣٤٥

آنحضرت ﷺ کی محبت آپ کے اتباع میں ہے نہ کہ دفع الوقتی کے لئے۔ محض زبانی دعوے کرنے میں خدائے تعالیٰ فرماتا ہے: ”قل ان کنتم تحبون اللہ فاتبعونی یحببکم اللہ“ یعنی کہہ دے اے محمد اگر تم خدا کو دوست رکھتے ہو تو میرا اتباع کرو۔ خدا تم کو دوست رکھے گا۔ اب مرزا قادیانی اور مرزائیوں کو اس کسوٹی پر کسنا چاہئے۔ بھلا ان کی کسی بات میں بھی آنحضرت ﷺ کا اتباع ہے بلکہ سراسر خلاف ہے اور خود نبی بننا ہی آنحضرت ﷺ کا جھٹلانا ہے۔ کیونکہ آپ کا تمغہ اور نشان ہی ختم رسالت یعنی تکمیل کمالات رسالت ہے اور جب آپ کے بعد دوسرا نبی بھی پیدا ہوا تو تکمیل ناقص ٹھہرتی ہے۔ نعوذ باللہ! ایڈیٹر!

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

تعارف مضامین ...... ضمیمہ شحنہ ہند میرٹھ

یکم؍ اکتوبر ١٩٠٢ء کے شمارہ نمبر ٣٧ کے مضامین

١...... جہلم میں قادیانی جماعت کی شکست ٢...... بے معنی الہام مولانا شوکت اللہ! ٣...... مسیح الہند اور المنار ٤...... مرزائی مذہب ہے آزادی مذہب کا نام، اس لئے مرزائی ہو جاتے ہیں اکثر خاص وعام ح!ن! ٥...... مرزا قادیانی کا طاعون اور گورنمنٹ کا ٹیکا مولانا شوکت اللہ! ٦...... انجمن حمایت الاسلام اور ندوۃ العلماء پر مرزا قادیانی

اسی ترتیب سے پیش خدمت ہیں۔

١...... جہلم میں قادیانی جماعت کی شکست

مرزا قادیانی کے ایک حواری مولوی مبارک علی جہلمی مرزائیوں کی حسب الطلب جہلم میں نازل ہوئے۔ اہل اسلام نے سیالکوٹ سے مولوی محمد ابراہیم کو بلا لیا جو مولوی مبارک علی کے پرانے واقف کار تھے اور مولوی محمد کرم الدین فاضل بھیں بھی اتفاق حسنہ سے تشریف لے آئے۔ دونوں صاحبوں نے مولوی مبارک علی کو مباحثہ کی دعوت دی۔ مقام مباحثہ عید گاہ اور تاریخ مباحثہ ٢٦؍ اگست قرار پائی۔ تاریخ مقررہ پر عید گاہ میں فریقین جمع ہوئے اور تحصیلدار شہر منشی غلام حیدر

٣٠١

صفحہ ٣٣٦

خان صاحب معہ بابو دیوی سنگھ ڈپٹی انسپکٹر پولیس انتظام اور امن قائم رکھنے کے لئے تشریف لے آئے۔ مباحثہ شروع ہونے سے پیشتر مولوی مبارک علی مرزائی نے عربی زبان میں کچھ فقرے پڑھے اور حیات مسیح پر ثبوت طلب کرنے کے علاوہ جواب بھی عربی زبان میں مانگا گیا۔ علامہ ابوالفضل نے مرتجلاً عربی میں جواب دیا اور بیان فرمایا کہ آپ نے اپنی عربی میں اعراب کی اس قدر صریح غلطیاں کی ہیں جو نحو میر پڑھنے والے طالب علم بھی نہ کریں اور چند غلطیاں بحوالہ صرف ونحو بیان فرمائیں۔ مرزائی اپنا سا منہ لے کر رہ گئے۔ آخر کار مباحثہ شروع ہوا اور مباحثہ کے لئے شرائط قرار پائے۔ مرزائیوں کی طرف سے مولوی مبارک علی کی امداد کے لئے مولوی برہان دین جہلمی اور مسلمانوں کی طرف سے مذکور الصدر علماء تھے۔

پہلے مولوی محمد ابراہیم صاحب نے حیات مسیح کے متعلق آیات بینات و احادیث نبویہ سے ثبوت پیش کئے اور قرار پایا کہ ٢٧ راگست یعنی دوسرے روز مولوی مبارک علی صاحب اس کا جواب دیں۔ مگر ٢٧ راگست کو مولوی مبارک علی صاحب پہلے تو کچھ اور عذر پیش کرتے رہے اور آخر کہلا بھیجا کہ بخار چڑھ جانے کے باعث مجبور ہوں۔

راجہ خان بہادر خان صاحب ایڈیکانگ حضور وائسرائے ہند۔ چوہدری غلام قادر خان صاحب سب رجسٹرار، سردار دیوی سنگھ ڈپٹی انسپکٹر پولیس مولوی مبارک علی صاحب کے مکان پر تصدیق بیان کے لئے گئے تو معلوم ہوا کہ بخار تو نہیں مگر بخار کا بہانہ کر کے لحاف اوڑھے پڑے ہیں۔ چوہدری صاحب نے کہا آپ کو بخار بالکل نہیں۔ ڈاکٹر صاحب کو بلا کر تصدیق کراسکتا ہوں اور فیس بھی اپنی جیب سے دوں گا۔ مگر مولوی صاحب نے منظور نہ کیا۔ آخر تینوں صاحب عید گاہ میں واپس آئے اور مولوی صاحب کے بہانہ کا حال بیان کر دیا۔

ایڈیٹر....... ہم لکھ چکے ہیں کہ جب مرزائی امت ممات مسیح پر مباحثہ کرنا چاہے تو یہ جواب دیا جائے کہ تم تمام انبیاء اور ان کے معجزات پر مباحثہ ترک کر کے حیات وممات مسیح ہی کے پیچھے کیوں پڑے ہو۔ کیا تم عیسیٰ مسیح کے معجزات کے منکر ہو۔ اگر منکر ہو تو تمام انبیاء اور ان کے معجزات کے منکر ہو۔ قرآن کے منکر ہو حدیث کے منکر ہو اور اس صورت میں مسلمان نہیں ہو۔ پس مناظرہ ختم ہوا اور اگر وہ یہ کہیں کہ عیسیٰ مسیح کی وفات ہمارے محدث مسیح کے دعوے سے متعلق ہے تو یہ جواب دو کہ پہلے تم اپنا مسیح موعود ہونا ثابت کرو۔ حیات وممات مسیح سے اس دعوے کو کوئی تعلق نہیں۔ اب رہیں نحو و صرف کی غلطیاں۔ یہ تو خود لال گرو کی بھی گھٹی میں پڑی ہیں۔ چیلے چانٹے تو کیا چیز ہیں۔ اس ٣٠٢

سے ضمیمہ کے ناظرین اچھی واقف ہیں۔ ہم سے ویسے ہی کورے ہیں جیسے مرزا قادیانی سچی کھل چکی ہے۔

......٢

اگر برق طفلی بشیر والے آنکھیں کھول یا تیز دیکھ تو علاوہ اس خرابی کے طرفہ خرابی یہ لازم آتی ہے کہ لغت میں طفل انسان کا ہو یا حیوان کا۔ اونٹ کا ہوتا ہو یا گائے پاٹھا۔ مذکر ہو یا مؤنث۔ نرہو یا مادہ گویا یہ معنی؟ ہوئے بچے آنکھیں کھول۔ حالانکہ بشیر بالغ ۔ کی شادی ہوئی ہے اور اگر آسمانی باپ نے بٹی غلطی ہوئی ہے کہ الہام میں اپنی بشیر نہیں کہا۔ آ اصلاح دی جاتی ۔ ”برق ابن المتبنٰی آنکھیں کھول۔ غالباً آسمانی باپ نے یہ خیط پائے۔ ورنہ سارے مرزائی عیسائی بن جائیں ہو چکا ہے تو کیوں کسی کو ابن یا ابن الابن بنائ اور میں شرک فی الابوّیۃ کے جرم کا مرتکب ٹھہر یا طفلی بشیر۔ اب سنئے نحو کا قاعدہ ہے کہ جب یہاں طفلی منادیٰ منصوب ہے۔ مگر اس کا تابع ہے۔ پس بشیر آنا چاہئے۔

پھر برق کے معنی مطلق تیز یا اچھا و کی دکھتی ہوئی آنکھیں اچھی کی جائیں تب کہ کیجئے۔ ثابت کرچکے۔

دربارہ طاعون آسمانی باپ کا یہ الہ

صفحہ ٣٣٧

سے ضمیمہ کے ناظرین اچھی واقف ہیں۔ ہم وثوق کے ساتھ کہتے ہیں کہ تمام مرزائی علوم وفنون سے ویسے ہی کورے ہیں جیسے مرزا قادیانی سچی پیشین گوئیوں سے۔ ضمیمہ میں نظم ونثر دونوں کی قلعی کھل چکی ہے۔

٢...... بے معنی الہام

اگر برق طفلی بشیر والے الہام کے یہ معنی کئے جائیں کہ اے میرے بیٹے بشیر آنکھیں کھول یا تیز دیکھ تو علاوہ اس خرابی کے کہ بشیر خدا کا بیٹا نہیں بلکہ خدا کے بیٹے کا بیٹا ہے۔ طرفہ خرابی یہ لازم آتی ہے کہ لغت میں طفل کے معنی بیٹے کے نہیں ہیں بلکہ نوزائیدہ کے ہیں۔ انسان کا ہو یا حیوان کا۔ اونٹ کا بوتا ہو یا گائے کا بچھڑا۔ بکری کا بزغالہ ہو یا بھینس کا کٹڑا یا ہاتھی کا پاٹھا۔ مذکر ہو یا مؤنث۔ نر ہو یا مادہ گویا یہ معنی ہوئے کہ اے میرے پہلے جھول یا پہلے گابھ کے نکلے ہوئے بچے آنکھیں کھول۔ حالانکہ بشیر بالغ ہے نوزائیدہ نہیں۔ نہ گہوارے میں ہے ابھی ابھی اس کی شادی ہوئی ہے اور اگر آسمانی باپ نے بشیر کو درحقیقت اپنا صلبی بیٹا قرار دیا ہے تو اس سے یہ غلطی ہوئی ہے کہ الہام میں ابنی بشیر نہیں کہا۔ اگر آسمانی باپ مجددالنہ مشرقیہ سے مشورہ لیتا تو یوں اصلاح دی جاتی۔ ”برق ابن المتبنّٰی بشیر“ یعنی اے میرے لے پالک کے بیٹے بشیر آنکھیں کھول۔ غالباً آسمانی باپ نے یہ خیال کیا کہ اس الہام میں ابن یا متبنے کا لفظ نہ آنے پائے۔ ورنہ سارے مرزائی عیسائی بن جائیں گے اور جب میری صلب سے ایک حقیقی بیٹا پیدا ہو چکا ہے تو کیوں کسی کو ابن یا ابن الابن بناؤں۔ یہ امر میرے حقیقی بیٹے کی دلشکنی کا باعث ہوگا اور میں شرک فی الابوۃ کے جرم کا مرتکب ٹھہروں گا۔ الہام میں حرف ندا محذوف ہے۔ یعنی برق یا طفلی بشیر۔ اب سنئے نحو کا قاعدہ ہے کہ جب منادیٰ مضاف ہو گا تو منصوب ہوگا۔ جیسا یا عبداللہ! یہاں طفلی منادیٰ منصوب ہے۔ مگر اس کا تابع (بشیر) مرفوع ہے۔ یہ کون سی خانگی کتاب میں لکھا ہے۔ پس بشیراً آنا چاہئے۔

پھر برق کے معنی مطلق تیز یا اچھا دیکھنے کے ہیں۔ لغت میں یہ کہاں لکھا ہے کہ جب کسی کی دکھتی ہوئی آنکھیں اچھی کی جائیں تب کہا جائے کہ برق۔ اس کو اپنی کسی لال کتاب سے ثابت کیجئے۔ ثابت کر چکے۔

دربارہ طاعون آسمانی باپ کا یہ الہام ہے۔ ”انی احافظ کل من فی الدار“ یعنی

٣٠٣

صفحہ ٣٣٨

ہر شخص جو گھر میں ہے اس کی میں حفاظت کروں گا۔ گھر سے اگر مرزا قادیانی کا مسکونہ محل مراد ہے تو یہ حفاظت عامہ و تامہ نہ ہوئی۔ یعنی تمام مرزائی محفوظ نہ ہوئے جو پنجاب اور ہندوستان کے دور دراز شہروں میں رہتے ہیں۔ بلکہ خود وہ حواری بھی محفوظ نہ رہے جو قصبہ قادیان میں رہتے ہیں۔ کیونکہ دار کے لفظ کا اطلاق شہروں اور قصبوں پر نہیں ہوتا۔ بیت اللہ یا خانہ خدا سے مراد صرف حرم کعبہ یا مسجد ہوتی ہے۔ تمام شہر مکہ بیت اللہ نہیں۔ جس طرح کسی قصبہ کی مسجد تمام قصبہ نہیں یعنی قادیان کو مسجد یا خانہ خدا نہیں کہہ سکتے۔ اس صورت میں الہام یوں ہوتا: ’’احفظ کل من فی البلد‘‘ کلام مجید میں ہے: ’’وہذا البلد الامین‘‘ اور ’’لا اقسم بہذا البلد وانت حل بہذا البلد‘‘ افسوس ہے کہ مرزا قادیانی جو قرآن کی آیتوں کو مسخ کر کے ان سے اپنا الہام تراشتے رہتے ہیں مندرجہ بالا آیتوں تک ان کی رسائی نہ ہوئی اور کیونکر ہوتی۔ خود ان کا خدا بھی خواب خرگوش میں غین ہو گیا۔ پھر احافظ باب مفاعلت سے ہو جو مشارکت فعل کو چاہتا ہے۔ مطلب یہ ہوا کہ مرزا قادیانی کا خدا ان کے گھر والوں کا محافظ ہے اور ان کے گھر والے خدا کے محافظ ہیں۔ اس صورت میں یہ الہام یوں ہوتا: ’’انی احفظ کل من فی البلد‘‘ یاد رکھئے مجدد المائۃ حاضرہ کی اصلاح کی ضرورت جس طرح مرزا قادیانی کو ہے اسی طرح مرزا قادیانی کے خدا کو ہے۔ بہتر ہے کہ دونوں باپ بیٹے اپنا الہام الحکم یا کسی رسالہ میں شائع کرنے سے پہلے مجدد کے حضور پیش کر دیا کریں۔ مجدد کی بعثت موجودہ زمانہ میں جب کہ تمام مرزائی جہل و سفہ کی اندھیاری میں ٹٹولتے پھرتے ہیں۔ اس لئے ہے کہ ان کو لٹریچر کے صاف اور سیدھے راستے پر لائے اور بتائے کہ نظم و نثر اور انشاء پردازی اس کو کہتے ہیں۔ ہم کو اسی بات پر غصہ آتا ہے کہ دل میں تو مرزا قادیانی اور مرزائی مجدد کی تجدید پر ایمان لے آئے ہیں اور تصدیق بالقلب بھی کر چکے ہیں۔ مگر اقرار باللسان نہیں کرتے۔ جب کہ معقول دلائل و براہین سے ثابت ہو چکا ہے کہ شوکت اللہ القہار بے شک مجدد المائۃ حاضرہ ہے تو اب کھلم کھلا بیعت تجدید کرنے اور سلسلہ مسترشدان میں داخل ہونے سے کون امر مانع ہے۔ دنیا میں ایک مجدد آئے اور مرزائیوں کا گروہ محض تعصب اور ضد سے اس پر ایمان نہ لائے۔ ’’واحسرتاہ وامصیبتاہ‘‘ ایڈیٹر!

٣...... مسیح الہند اور المنار

پچھلے سال مسیح قادیانی کی نسبت المنار مصر کے مشہور فاضل سید محمد رشید رضا نے نہایت ٣٠٤

صفحہ ٣٤٩

متین نکتہ چینی کی جس پر مسیح صاحب نے آگ بگولا ہو کر ایک رسالہ موسومہ الہدیٰ والتبصرۃ لمن یریٰ میں ایڈیٹر موصوف کو دل کھول کر برا بھلا کہا۔ جس کی نظیر شاید کسی مہذب قوم میں نہ مل سکے گی۔ جس پر جریدۃ المنار نے حسب ذیل نوٹ شائع کیا ہے۔

”اس شخص نے اپنے دعاویٰ کے متعلق ہندوستان اور غیر ممالک کے مسلمانوں کو مخاطب کیا ہے۔ مگر کوئی نہیں جانتا کہ اس کا مقصود کیا ہے۔ اس کے رسائل بظاہر کاہنوں کی عبارات کا نمونہ معلوم ہوتے ہیں۔ لیکن غور کرنے سے واضح ہوتا ہے کہ ان میں سواء خودستائی اور دعاویٰ باطلہ اور مخالفین کی سب وشتم کے کچھ نہیں اور اکثر مقامات میں ایسے فقرات بھی ملتے ہیں جن میں گورنمنٹ سے تقرب و خطاب حاصل کرنے کے لالچ میں بہت ہی خوشامد اور چاپلوسی کی گئی ہے۔ بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اس کا مطلب صرف یہ ہے کہ گورنمنٹ کو اپنا خیر خواہ ظاہر کر کے اپنے دام افتادہ مریدوں سے خوب روپے بٹورے۔“

ہم اس مسیح دجال سے پوچھتے ہیں کہ بھلا وہ مسلمان کہاں ہیں جو ہندوستان میں جہاد کرنا چاہتے ہیں۔ جس پر اپنے اصطلاحات میں مسلمانوں کو جہاد سے روکنے کی ضرورت محسوس ہوئی ہے۔ کیا تمہیں معلوم نہیں کہ مسلمان دنیا بھر میں جہاد کرنے کے قابل نہیں رہے۔ کیا تمہیں معلوم نہیں کہ وہی قومیں جو مسلمانوں کو جنگجو قوم بتاتی ہیں۔ میدان جنگ میں سب سے بڑھی ہوئی نظر آتی ہیں۔ کیا تمہیں یورپ سے وحی نازل ہوئی ہے کہ ضروری مقابلہ جو مدافعت مخالفین میں کیا جاتا ہے۔ اہل یورپ کے لئے تو فضیلت سمجھا جائے اور مسلمانوں کے لئے موجب عار اس شخص کا گمان ہے کہ جو احادیث و آثار دربارہ نزول مسیح وارد ہیں۔ وہ اس کی ذات پر صادق آتے ہیں۔ احادیث مذکورہ بالا دربارہ نزول مسیح حق ہیں۔ مگر عیسیٰ بن مریم علیہ السلام اور غلام احمد قادیانی کو باہم کیا نسبت۔ احادیث میں مسیح علیہ السلام کا دو فرشتوں کے ساتھ آسمان سے نازل ہونا آچکا ہے۔ مگر کیا ہندوستان آسمان ہو گیا؟ اور اس کے چیلے چانٹے جو احمقوں کا گروہ ہے۔ فرشتے بن گئے؟ احادیث میں مسیح علیہ السلام کے ایسے نشانات آچکے ہیں جن کے لئے اسے نہایت لغو اور باطل تاویلیں کرنی پڑی ہیں۔ اس شخص کا خیال ہے کہ نصوص قرآنیہ وفات مسیح پر دال ہیں اور مسیح کی قبر کشمیر میں ہے۔ بتقدیر تسلیم ہم سوال کرتے ہیں کہ نصوص قرآنیہ سے تمہارا مسیح ہونا ثابت ہوتا ہے۔ ہرگز نہیں۔ پس تمہیں لازم ہے کہ یا تو احادیث کی کوئی مقبول تاویل کرو یا انہیں غیر صحیح ثابت کرو۔ کیونکہ قرآن مجید تو متواتر اور قطعی ہے۔ اس لئے جو قول بصورت تاویل اس کے ساتھ

٣٠٥

صفحہ ٣٤٠

مطابق نہ ہوگا وہ یقیناً مردود ہے۔ یہ دجال اس امر کا بھی مدعی ہے کہ وہ امور خرق عادات کا مالک ہے جس کا ایک ثبوت اس کی تفسیر سورۂ فاتحہ سے جو اس کے نزدیک معجزہ ہے اور دنیا اسے ہذیان و وساوس کا مجموعہ خیال کرتی ہے۔ کیا اگر اس قسم کی لغو اور مہمل کتاب جس کو کوئی عاقل تسلیم نہیں کر سکتا ایک شخص کے لئے نبوت کی دلیل ہے تو وہ کتاب جس کو دنیا بھر کے اہل علم تسلیم کر لیں مصنف کے خدا ہونے کی دلیل ہوگی؟ کیا اس غافل کو یہ خیال ہے کہ محض قرآن مجید کا ایک کتاب ہونا آنحضرت ﷺ کے نبی ہونے کے لئے کافی تھا۔ نہیں بلکہ قرآن اس لئے معجزہ ہے کہ اس میں تمام علوم الہیہ اور اصول تمدن واخلاق وغیرہ مندرج ہیں جن سے دنیا نے صلاح وسداد کا رستہ پالیا اور وہ ایک ایسے امی کی زبان سے ظاہر ہوئے جو پہلے کچھ بھی نہ جانتا تھا۔ مع ہذا وہ فصاحت وبلاغت میں وہ پایہ رکھتا ہے کہ روئے زمین کے بلغاء اس کے سامنے سر تسلیم خم کرتے ہیں۔

اس شخص کا یہ خیال کہ سورۂ فاتحہ اس کے مسیح ہونے پر ناطق ہے اور الفاظ رحمن ورحیم سے حضور علیہ الصلوۃ والسلام اور غلام احمد قادیانی کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ درحقیقت قرآن مجید کی ذلت کرنا اور اس کو بازیچۂ طفلان سمجھنا ہے۔ کیونکہ یہ شخص کسی خاص اصول لغت وعلم استدلال کا پابند نہیں۔ اس لئے ممکن ہے کہ آہستہ آہستہ تمام قرآن مجید کو اپنی شان میں ناطق ثابت کرنے لگے مگر یہ بات محض جلوۂ سراب ہے۔‘‘ (چودھویں صدی)

٤....... مرزائی مذہب ہے آزادی مذہب کا نام،
اس لئے مرزائی ہوجاتے ہیں اکثر خاص وعام

(سلسلہ کے لئے ضمیمہ شحنہ ہند مورخہ ١٦؍ ستمبر ١٩٠٢ء کے ص٢٩٠ کو دیکھو)

چونکہ اخبار الحکم ایک پاجی وکمینہ اخبار ہے اور سوا لعن وطعن گالی گلوچ کے اس میں کچھ نہیں ہوتا۔ کیونکہ مسیح کاذب کی یہی ایک قولی وفعلی وتقریری سنت ہے جس کی پابندی ہر مرزائی پر فرض ہے۔ لہٰذا اس مضمون میں بھی جناب فاضل بٹالوی سلمہ اللہ تعالیٰ ودیگر علماء دین واولیاء اللہ کو پیٹ بھر کر گالیاں دی ہیں۔ ہم ان گالیوں اور لعن وطعن کا کچھ جواب نہ دیں گے۔ ہم کو اصل مطلب سے غرض ہے ہم صرف مرزا قادیانی کے حج نہ کرنے کے عذرات جو بدتر از گناہ ہیں الحکم سے نقل کرکے ان کا جواب دیتے ہیں۔

قال...... ”آپ نے کبھی اپنے شیخ مولوی عبداللہ غزنوی کا تو اس الزام سے تنزیہہ کیا ہوتا۔“

٣٠٦

اقول ...... کہاں یہ بدنصیب عبدالرحیم کہاں حضرت سید عبداللہ صاحب غزنوی تھے۔ ابھی ان کے ہزاروں دیکھنے والے اور ان کے اہل وعیال پر نہ گزر جاتے ہو ان پر حج کب فرض ہوا تھا؟ جو مرزا قادی خان کی اولاد دن دھاڑے مریدوں کی ج طرح کے حیلوں بہانوں سے مال حرام کچھ بنالیا اب قارون ثانی ہوکر حج کر کے سپرد کر کے باغوں کی سیر اور بکر کو ذبح میں دم کئے ہوئے پلاؤ کا زہر مار کرنا یہ نے کبھی سید عبداللہ صاحب پر اعتراض ن نہیں ہے۔ یہ بھی تمہارے مرزا قادیانی ک جھوٹ وافتراء پردازی ہے۔

قال ...... ”کیا سلطان روم جن کو آپ

اقول ...... حج نہ کرنے میں مرزا قادیان اللہ ملکہ کے دیگر دینی خدمات جیسے خانہ و دیگر تمام خدمات کی پیروی کرنا یا صرف الحکم پر حرام قطعی ہے۔ یہ عذر پہلے عذر س

قال ...... ”اور نہیں تو امیر کابل ہی ہ

اقول ...... امیر کابل کا حج مرزا قادیا سلطان تو پھر مرزا قادیانی پر حج فرض ہ حقائق قرآن اس مذہب کے ہیں۔ ا آتی۔

قال ...... ”اس وقت حج کے لئے قد کرنا اور گنہگار ہوتا ہے۔“

صفحہ ٣٤١

اقول...... کہاں یہ بدنصیب عبدالرحیم و بندہ زر کاذب و حیلہ ساز مفتری علی اللہ مرزا قادیانی اور کہاں حضرت سید عبداللہ صاحب غزنویؒ زاہد و عابد عارف باللہ جو دنیا کو تین طلاقیں دے چکے تھے۔ ابھی ان کے ہزاروں دیکھنے والے موجود ہیں۔ کوئی مہینہ نہیں جاتا تھا کہ دو چار فاقے ان پر اور ان کے اہل و عیال پر نہ گزر جاتے ہوں۔ نہ روپیہ نہ زیور نہ اور کسی طرح کا مال و جائیداد۔ پھر ان پر حج کب فرض ہوا تھا؟ جو مرزا قادیانی ان کی پیروی اس امر میں کرنا چاہتا ہے۔ مرزا چنگیز خان کی اولاد دن دھاڑے مریدوں کی جیب میں دھوکے اور دغا بازی سے ہاتھ ڈالتا ہے اور طرح طرح کے حیلوں بہانوں سے مال حرام سے اپنی جیب پر کرتا ہے۔ روپیہ زیور زمین جائیداد سب کچھ بنا لیا اب قارون ثانی ہو کر حج کرنے سے موت آتی ہے۔ عورت کو زیور سے لاد کر نامحرموں کے سپرد کر کے باغوں کی سیر اور بکر کود مچانے کو چھوڑ دیتا ہے۔ مشک و زعفران گلاب و کیوڑہ بادام میں دم کئے ہوئے پلاؤ کا زہر مار کرنا یہ سب کچھ جائز مگر حج حرام؟ نواب صدیق حسن خان مرحوم نے کبھی سید عبداللہ صاحبؒ پر اعتراض حج نہ جانے کا نہیں کیا وہ خوب جانتے تھے کہ ان پر حج فرض نہیں ہے۔ یہ بھی تمہارے مرزا قادیانی کی سنت یعنی دروغ بے فروغ ہے۔ مرزائیوں کا دارو مدار جھوٹ و افتراء پردازی ہے۔

قال...... ”کیا سلطان روم جن کو آپ خلیفۃ المسلمین مانتے ہیں اس نے حج کیا۔“

اقول...... حج نہ کرنے میں مرزا قادیانی کے اوپر سلطان روم کی پیروی فرض ہے۔ مگر سلطان خلد اللہ ملکہ کے دیگر دینی خدمات جیسے خانہ کعبہ زاد اللہ شرفہا کی خدمتیں مدارس و شفا خانوں کا قائم کرنا و دیگر تمام خدمات کی پیروی کرنا یا صرف زبان سے سلطان کی تعریف ہی کرنا اور مرزا قادیانی اور الحکم پر حرام قطعی ہے۔ یہ عذر پہلے عذر سے بھی بدتر ہے۔

قال...... ”اور نہیں تو امیر کابل ہی سے۔“

اقول...... امیر کابل کا حج مرزا قادیانی کے واسطے دستاویز ہے۔ اگر امیر کابل حج کو جاویں یا سلطان تو پھر مرزا قادیانی پر حج فرض ہو جاوے۔ یہ ہے ان مرزائیوں کی حجت و دلیل اور یہی حقائق قرآن اس مذہب کے ہیں۔ ایسی پوچ لچر بکواس لکھتے ہوئے ان بے حیاؤں کو ذرا شرم نہیں آتی۔

قال...... ”اس وقت حج کے لئے قدم اٹھانا ”لا تلقوا بایدکم الی التہلکۃ“ کے خلاف کرنا اور گنہگار ہونا ہے۔“

٣٠٧

صفحہ ٣٤٢

اقول ...... جیسا یہ زمانہ پر امن ہے آج تک نہیں ہوا۔ اس کو زمانہ فتنہ کا کہنا یا خانہ کعبہ کو مواضع فتن قرار دینا۔ سفید جھوٹ ہی نہیں۔ بلکہ ان بد نصیبوں کے مذہب باطلہ اور سلسلہ شیطانیہ کے ازلی بد بخت ہونے کی ایک بین دلیل ہے۔ صرف حج ہی کی طرف مرزا قادیانی کا قدم اٹھانا گناہ نہیں ہے۔ بلکہ تمام امور خیر و عبادات اس تمام فرقہ کے حق میں گناہ اور گناہ کے کام موجب ثواب ہیں۔ کیونکہ یہ مذہب ہی الٹا اور شیطانی ہے جو مذہب اسلام کا مخالف ہے۔

قال ...... ”مسیح کا پہلا قدم اور اس کی بعثت کی اصلی غرض یہی ہے کہ وہ قتل دجال کرے اور صلیب کو توڑے اور خنزیروں کو قتل کرے۔“

اقول ...... مسیح کی ایک ہی کہی۔ ذرا کسی گندہ نالہ میں پہلے اپنا منہ تو دھو آئیے۔ پھر دعوٰی پیغمبری کیجئے۔ بجز چند حمقاء لنگڑے گنجے کانے خود غرض دیوانے کے دنیا بھر کے عقلاء مرزا قادیانی کو کاذب دغاباز کافر ملحد یا پاگل جانتے ہیں۔ دعوٰی مسیحیت سے پہلے اپنا اسلام تو ثابت کر لیجئے۔ پھر اس سڑے منہ سے مسور کی دال کھانا۔ پھر پہلا کام جو اپنے واسطے تجویز کیا ہے۔ اس میں کیا خاک پتھر پڑے۔ آپ دجال پادریوں کو بتلاتے ہیں فرمائیے کتنے پادری قتل کئے۔ ساری عمر میں عبداللہ آتھم کی موت کی پیشین گوئی کی وہ بھی جھوٹی نکلی۔ صلیب کے توڑنے کی بجائے منارۃ المسیح قادیان پر صلیبی نقشہ کھینچا گیا۔ جیسا کہ الحکم کے سرورق پر ظاہر ہے۔ خود اور عیسیٰ علیہ السلام کو خدا کا بیٹا قرار دے کر تثلیث پرستی کا ثبوت دیا۔ خنزیروں کے قتل کی جگہ جنگل قادیان میں خنزیروں کی پرورش کی جاتی ہے۔ خنزیروں کی مجلس میں بیٹھ کر ایک ایک خنزیر کی خاطر دعوٰی مسیح کی جاتی ہے۔ اگر ایک خنزیر کو اپنے ہاتھ سے الائچی دی جاتی ہے تو دوسرے کو اپنا پیر و مرشد سمجھ کر اس کا ہر ایک حکم واجب الاطاعت اس طرح سمجھا جاتا ہے جس طرح ایک مریض اپنے حکیم کو سمجھتا ہے۔ باغات قادیان خنزیروں کا ایک اڈہ ہے جس میں نرو مادہ مل کر بے حیائی سے مٹر گشت اور بک بک کرتے ہیں اور سب مل کر نجاست پر منہ مارتے ہیں۔ اگر قتل دجال سے دلائل کے ساتھ پادریوں کا شکست دینا مراد ہے تو اور بھی زیادہ جھوٹ ہے۔ کیونکہ مولانا ابو المنظور امام فن مناظرہ سلمہ و دیگر علماء نے ایسی تصانیف مثل ”نوید جاوید“ و ”دولت فاروقی“ وغیرہ سے پادریوں کو لاجواب کر دیا۔ مرزا قادیانی کو ان علماء کے کلام کے فہم کی بھی لیاقت نہیں ہے۔ اس نے تو علماء دین کی نسبت ہزاروں حصہ بھی پادریوں کے مقابلہ میں کچھ نہ کیا۔ کون سی ایسی نئی دلیل مرزا قادیانی نے پیش کی۔ جو علماء اسلام نے نہ لکھی ہو۔ صرف عیسیٰ علیہ السلام کی قبر سرینگر میں بیشک بنادی۔ مگر پادری اس کے جواب میں

٣٠٨

یہ کہیں گے کہ سواء جہلاء مرزائیوں کے اور اوہام میں لکھا ہے کہ: ”مسیح اپنے وطن گلیل اور ست بچن میں لکھا ہے کہ: کرتے ہیں۔“

دروغگو را حافظہ نباشد ایسے کذاب الہام سے لکھا گیا ہے۔ نہیں نہیں بلکہ احمق دہر چہ خواہی کن۔ صرف مرزا قادیانی ہی سیاہ رو کو پبلک میں پیش کرتا ہے۔ بلکہ مرز ایسے صریح دروغ پر کان نہیں کھینچتے۔ بلکہ ہو کر اندھے، بہرے، گونگے ہو رہے ہیں صلیب سمجھ لیا اور یہ نہ جانا کہ ایسے جھوٹ بلکہ دین و ایمان غارت ہو گیا۔ مرزا قاد ہے۔ اگر اس میں ذرہ بھی کچھ صدق کا ان ہو جاتے۔ سب نہیں تو ایک دو تو مرزائی گوئی جھوٹ ہونے پر عیسائی ہو گیا۔ پا نے جو اپنے واسطے پہلا کام یعنی قتل دجال بھی محروم رہا۔ پس مرزا قادیانی سے زیاد

قال ...... ”مسیح موعود کا حج اس وقت کرے گا۔“

اقول ...... میں بڑے زور شور و تحدی ساتھ بھی حج بیت اللہ نہ کر سکے گا۔ وہ جو للکارتے ہیں کہ مرزا قادیانی ہمارے م گوئی کرے کہ فلاں کو حج نصیب نہ ہو محمد رسول اللہ ﷺ کی معرفت خبر دی فرشتے مار کر نکال دیں گے۔ پس زمین

صفحہ ٣٤٤

یہ کہیں گے کہ سواء جہلاء مرزائیوں کے اور بھی کسی نے اس قبر کی تصدیق کی ہے؟ پھر خود ہی ازالہ اوہام میں لکھا ہے کہ: ”مسیح اپنے وطن گلیل میں جا کر فوت ہوا۔“ اور ست بچن میں لکھا ہے کہ: ”مسیح کی قبر بلاد شام میں ہے جس کی پرستش عیسائی لوگ کرتے ہیں۔“

دروغگو را حافظہ نباشد ایسے کذاب جھوٹے مفتری علیٰ اللہ کا کیا اعتبار پھر مزہ یہ کہ یہ سب الہام سے لکھا گیا ہے۔ نہیں نہیں بلکہ احتلام شیطانی سے۔ یہ کیا اچھی کسر صلیب ہے۔ بے حیا باش و ہر چہ خواہی کن۔ صرف مرزا قادیانی ہی اکیلا بے حیا نہیں جو باوجود ایسے صریح جھوٹ کے اپنے سیاہ رو کو پبلک میں پیش کرتا ہے۔ بلکہ مرید اس سے بڑھ کر بے حیاء ہیں کہ اپنے کذاب پیر کے ایسے صریح دروغ پر کان نہیں کھینچتے۔ بلکہ ”پیر من خس است و اعتقاد من بس است“ کے مصداق ہو کر اندھے، بہرے، گونگے ہورہے ہیں۔ ایک بات اپنے دل سے جھوٹ بنائی اور خود ہی اس کو صلیب سمجھ لیا اور یہ نہ جانا کہ ایسے جھوٹ سے قیامت تک مرزا قادیانی اور مرزائیوں کی کسر شان بلکہ دین و ایمان غارت ہو گیا۔ مرزا قادیانی کے دعووں کو جھٹلانے کے واسطے یہ دروغ کیا کچھ کم ہے۔ اگر اس میں ذرہ بھی کچھ صدق کا لگاؤ ہوتا تو ہر مذہب والے اور خصوصاً عیسائی بکثرت مرزائی ہو جاتے۔ سب نہیں تو ایک دو تو مرزائی ہوتا۔ لیکن یہاں تو گھر کا مرزائی محمد یوسف آتھم کی پیشین گوئی جھوٹ ہونے پر عیسائی ہو گیا۔ یہ معاملہ برعکس نکلا۔ اچھی کسر صلیب کی۔ پس مرزا قادیانی نے جو اپنے واسطے پہلا کام یعنی قتل دجال کسر صلیب قتل خنزیر مقرر کیا تھا وہ بھی نہ ہوا۔ ادھر حج سے بھی محروم رہا۔ پس مرزا قادیانی سے زیادہ دنیا میں کون بدقسمت ہوگا۔

قال ....... ”مسیح موعود کا حج اس وقت ہوگا جب دجال بھی کفر و دجل سے باز آ کر طواف بیت اللہ کرے گا۔“

اقول ....... میں بڑے زور شور و تحدی سے پیشین گوئی کرتا ہوں کہ مرزا قادیانی ہرگز دجال کے ساتھ بھی حج بیت اللہ نہ کرسکے گا۔ وہ جھوٹا ہے۔ لہٰذا ہم ڈنکے کی چوٹ مرزا قادیانی اور مرزائیوں کو للکارتے ہیں کہ مرزا قادیانی ہمارے سامنے آوے اور اسی طرح اپنے کسی مخالف کی نسبت پیشین گوئی کرے کہ فلاں کو حج نصیب نہ ہوگا۔ یہ معاملہ اب آسمان پر پہنچا۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیب محمد رسول اللہ ﷺ کی معرفت خبر دی ہے کہ دجال ہرگز نہ مکہ معظمہ میں داخل نہ ہونے پاوے گا۔ فرشتے مار کر نکال دیں گے۔ پس زمین ٹل جائے۔ آسمان ٹل جائے۔ مگر کلام رسول اللہ ﷺ ہرگز

٣٠٩

صفحہ ٣٤٤

نہیں ٹل سکتا۔ مرزا قادیانی کسی حال میں بھی حج نہیں کر سکتا۔ مرزا قادیانی کا دجال کے ساتھ حج کرنے کا وعدہ ایسا ہی ہے جیسے کوئی مخنث کہے کہ میں سفید جمعرات کو حج کروں گا۔ نہ سفید جمعرات ہوگی اور نہ دجال حج بیت اللہ کرے گا۔ پس اے مرزائیو! اب مرزا قادیانی کے لامذہب دہریہ ہونے میں کیا کلام رہ گیا؟ حج کا انکار اور کیسا ہوتا ہے؟ اب تو صریح زبان سے بھی حج کا انکار کر دیا۔ عملی انکار ہی پر اکتفا نہیں کی گئی۔ یہ بھی قابل غور ہے کہ مرزا قادیانی کا پہلا کام قتل دجال ہے۔ پھر جب دجال ہی قتل ہو گیا تو اب وہ کس رفیق کے ساتھ حج بیت اللہ کرے گا۔ اس سے بڑھ کر انکار حج اور کیا ہوگا؟

کہاں چلی گئی عقل مرزا قادیانی اور اس کے معلم اوّل و معلم ثانی وغیرہ جماعت کی جنہوں نے فاضل بٹالوی کے ایک کارڈ کے جواب لکھنے میں ایک مدت تک ناخنوں تک کا زور لگایا۔ مگر چونکہ حق کا مقابلہ تھا۔ اس لئے اللہ تعالیٰ نے خلق کے روبرو ذلیل وخوار فرمایا۔ مضمون ایسا جاہلانہ جس کے تناقضات پر ایک طفل مکتب بھی اپنی ہنسی ضبط نہ کر سکے۔ جب کہ مرزا قادیانی مدعی نبوت ہے اور مخبر صادق ﷺ نے مدعی نبوت کو دجال فرمایا ہے اور دجال کے واسطے مکہ معظمہ میں جانے کا حکم نہیں۔ لہٰذا ہم دعوے سے کہتے ہیں کہ مرزا قادیانی حج کبھی نہ کرے گا۔ اگر مرزا قادیانی کا ملہم زندہ ہے اور کچھ غیرت وحمیت رکھتا ہے تو مرزا قادیانی پر القاء کرے کہ وہ ضرور حج کو جائے گا۔ ورنہ کاذب سمجھا جاوے اور مرزا قادیانی کے صدق و کذب کا ایک یہ بھی معیار ہو۔

ناظرین! حج نہ کرنے کے بس یہی عذرات ہیں جن کو مرزا قادیانی اور ان کی جماعت نے مشورہ کر کے لکھ کر پبلک کے روبرو پیش کئے۔ یہ عذرات ہرگز قابل پذیرائی نہیں۔ نہ شرعاً نہ عقلاً۔ اب ہم اس مضمون کے بعض ایسے فقرات نقل کر کے جواب دیتے ہیں جو خارج از بحث ہیں اور جن کے لکھنے سے مسلمانوں کی دل آزاری کے سواء کچھ مقصود نہیں۔ (باقی آئندہ) راقم: ا.ن!

٥...... مرزا قادیانی کا طاعون اور گورنمنٹ کا ٹیکا

٢٤ ستمبر کے الحکم میں مرزا قادیانی نے منارے سے بھی لمبا اور اپنے طول امل سے بھی دراز ایک مضمون دیا ہے جس میں اوّل تو طاعونی ٹیکے کے اجراء پر گورنمنٹ کی بہت کچھ بھٹئی اور چاپلوسی کی ہے اور پھر لکھا ہے کہ ٹیکا ضرور مفید ہے۔ مگر میرے اور میرے چیلے چانٹوں کے لئے اس کی کوئی ضرورت نہیں۔ کیونکہ میں پیشین گوئی کر چکا ہوں کہ ان میں طاعون نہ پھیلے گا۔

٣١٠

صفحہ ٣٤٥

پھر آپ دفع دخل کرتے ہیں کہ پھیلے گا بھی تو افراط تفریط نہ ہوگی۔ مرزا قادیانی کو دو ٹچی ہانکنا بہت سے تجربوں یعنی بہت سی پیشین گوئیوں کے جھوٹا ہونے کے بعد سوجھا ہے۔ اب تو ہر ایک پیشین گوئی تذبذب کا رنگ لئے ہوتی ہے۔ تاکہ موقع ملے تو تاویل بنی بنائی ہے۔ یہ عجیب بات ہے کہ خود مرزا قادیانی کے نزدیک طاعون کا ٹیکا ساری خدائی کے لئے مفید اور سب کو اس کی ضرورت مگر مرزائیوں کے لئے مضر اور غیر ضروری۔ اس کی وجہ ہم سے سنئے۔ مرزا قادیانی نے منجملہ دیگر علامات کے اپنے خروج کی ایک علامت طاعون بھی قرار دی ہے اور جس طرح مہدی موعود کا خروج مسعود ہے اسی طرح اس کی علامت بھی مسعود ہے تو سب سے پہلے اس کی سعادت مرزائیوں کا حصہ ہے اور بدبخت ٹیکا اس علامت با سعادت کا دور کرنے والا ہے۔ لہٰذا مرزائیوں کے حق میں مضر اور دنیا کے حق میں مفید ہوا۔ گویا آسمانی باپ کی عین مرضی ہوئی کہ طاعون اس کے پوتوں کو ڈھونڈھ کر لقمہ کرتا رہے۔ اب مرزا قادیانی آسمانی باپ کے خلاف یہ کیوں کہتے ہیں کہ طاعون میرے چیلوں کے پاس بھی نہ پھٹکے گا۔ یہ تو گویا اپنی علامت با سعادت کو خود ہی دھکے دے کر قادیان سے نکالنا ہے۔ طاعون تو آسمانی باپ کا پیدا کیا ہوا ہے اور ٹیکا برٹش گورنمنٹ کی ایجاد ہے۔ پس یہ برا اور طاعون اچھا۔ مرزا قادیانی شریک کا کھڑاک نہیں پالتے۔ انہیں تو طاعون ہی عزیز ہوگا نہ کہ اس کا ٹیکا۔ مگر ہم حیران ہیں کہ اس میں گورنمنٹ کی کیوں تعریف کی جاتی ہے کہ اس نے ٹیکا جاری کر کے طاعون کی دم میں نمدا کر دیا۔ وائے سادہ لوح اور وائے بدبختی کی جب طاعون کی دم نمدا ہو گیا جو مسیح موعود کا بڑا نشان ہے تو مسیحیت ومہد ویت کی دم میں بدرجہ اولیٰ بانس ہو جائے گا اور جب کہ ٢٠ سال قبل مرزا قادیانی کو آسمانی باپ نے طاعون کے آنے کا آرڈر سنا دیا ہے اور کہہ دیا ہے کہ دجال کے مقدم کی علامت خردجال ہوگا تو تیرے خروج کی علامت طاعون ملعون، پھر اس طاعون سے ناک بھوں چڑھانا۔ اس کے دفعیہ کو تریاق بنانا اور الحکم میں اس کا علاج بتانا۔ آسمانی باپ کی نافرمانی کرنا اور ناخلف ہونے کا ثبوت دینا ہے۔ مرزائیوں کے لئے طاعون رحمت ہے اور ساری خدائی کے لئے زحمت۔ کیونکہ موعود نے دنیا میں دورنگی کا فوٹو بن کر خروج کیا ہے اور پھر مرزائیوں کے لئے بھی کبھی رحمت ہے اور کبھی زحمت۔ رحمت تو اس لئے ہے کہ موعود کا تمغہ ہے اور زحمت اس لئے ہے کہ یہ کمبخت جب الجوع الجوع پکارتا ہوا جھپٹتا ہے تو نہ لے پالک کی سنتا ہے نہ آسمانی باپ کی۔ ایڈیٹر!

٣١١

صفحہ ٣٤٦

٦ ...... انجمن حمایت الاسلام اور ندوۃ العلماء پر مرزا قادیانی

آخر کار ٢٤؍ستمبر کے الحکم میں مرزا قادیانی کا نزلہ انجمن حمایت الاسلام اور ندوۃ العلماء پر بھی گرا اور کیوں نہ گرتا۔

ناوک نے تیرے صید نہ چھوڑا زمانہ میں
تڑپے ہے مرغ قبلہ نما آشیانہ میں

چونکہ یہ دونوں انجمنیں اثر ڈالنے والی ہیں اور اپنی اپنی خدمتیں ادا کر رہی ہیں اور مسلمانوں کی پبلک نے ان کی خدمتوں کو تسلیم کیا ہے اور اس وجہ سے دونوں کو شہرت اور ہر دلعزیزی حاصل ہو گئی ہے۔ لہٰذا مرزا قادیانی نے عین موقع پر جب کہ قادیان کے قرب و جوار (امرتسر) میں ندوۃ العلماء کا سالانہ جلسہ ہونے والا ہے۔ محض اپنی شہرت اور نمود کے لئے چھیڑ چھاڑ شروع کر دی اور جب کہ علماء امرتسر نے مرزا قادیانی کو نوٹس بھی دے دیا ہے کہ قادیان میں بیٹھے کیا زعفرانی حلوا اور لچیاں بگھار رہے ہو اور توند پر ہاتھ پھیر پھیر کر اور ڈکاریں لے لے کر کیا شیخیاں بگھار رہے ہو۔ ذرا مرداں دے میدان وچ ٹرو تو اب مرزا قادیانی کی پانچوں گھی میں ہو جائیں گی اور تمام مرزائی مارے خوشی کے پھول کر کپے کے کپے بن جائیں گے کہ ہمارے مشن کو علماء ہند اور ایسی بڑی انجمنوں نے اپنا مد مقابل سمجھا۔ پس اور کیا چاہئے۔

جب کبھی مرزا قادیانی کو بعض نامی گرامی علماء نے مناظرہ کے لئے طلب کیا ہے تو منجملہ دیگر عذرات لاطائل کے انہوں نے یہ عذر بھی پیش کیا ہے کہ ٤٠ علماء ہوں تو میں مناظرہ کروں۔ اب چونکہ چالیس نہیں چار سو علماء کا اجتماع بھی ممکن ہے۔ لہٰذا اگر مرزا قادیانی نے ایسی گوڑی کو کھودیا یعنی ایسے بڑے مجمع فحول علماء میں نہ آنے سے مہدویت ومسیحیت کی شہرت واشاعت پر پانی پھیر دیا تو مرزا قادیانی سے بڑھ کر کوئی ناعاقبت اندیش اور آپ اپنا دشمن نہ ہوگا۔ مرزا قادیانی کو یہ غم اصلاً نہ کرنا چاہئے کہ وہ شک کھا جائیں گے۔ (کیونکہ یہ تو ہمیشہ پیشانی کا نوشتہ ہے) بلکہ ہر صورت میں اپنی شہرت کو مدنظر رکھنا چاہئے۔

بدنام بھی گر ہوں گے تو کیا نام نہ ہوگا

مرزا قادیانی تو خدا نے چاہا ندوۃ العلماء کے مقابلے پر آئیں گے نہ انجمن حمایت الاسلام کے۔ وہ تو قادیانی شیر قالین بلکہ پردہ کی بوبو بنے بیٹھے رہیں گے اور یہ کہیں گے کہ میں علماء سے مناظرہ اس وقت کروں گا جب کہ چیل کا مغز دس سیر اور ہرنی کا دودھ چھ دھڑی مہیا ہو جائے۔ امید نہیں کہ مرزا قادیانی ہماری نوٹس کا جواب دیں۔

٣١٢

محمد خاتم النبیین

صلی اللہ علیہ وسلم

ضمیمہ شحنہ

٣٠

مولانا شوکت

PDF 348

انا خاتم النبیین لا نبی بعدی

میں آخری نبی ہوں ، میرے بعد کوئی نبی نہیں ۔

ضمیمہ شحنۂ ہند میرٹھ

١٩٠٣ء

مولانا شوکت اللہ میرٹھی

صفحہ ٢٩

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

تعارف مضامین ...... ضمیمہ شحنہ ہند میرٹھ

سال ١٩٠٣ء یکم و ٨؍ جنوری کے شمارہ نمبر ١، ٢ کے مضامین

اسی ترتیب سے پیش خدمت ہیں:

سید خادم علی، بی اے، وزیر آبادی!

گویا ان کے نزدیک اسرار و معارف انہیں دو باتوں کا نام ہے اور سورۂ فاتحہ بلکہ سارا قرآن مجید ایسی ہی باتوں سے بھرا پڑا ہے۔ مرزا قادیانی جن معارف کو جاننے کے مدعی ہیں۔ کیا وہ یہی معارف قرآنیہ ہیں جن کی توضیح علمائے اسلام بڑی جانفشانیوں سے کرتے آئے ہیں یا کوئی اور معارف ہیں؟ اور اگر وہی ہیں تو مرزا قادیانی کی اس میں کیا فضیلت؟ اور ہیں تو ایسے معارف جو زمانہ نبوت سے آج تک کسی پر واضح نہ ہوئے تھے کیا ہیں؟ کیا اسی کا نام معارف و اسرار ہے کہ میں یہ ہوں اور میں وہ ہوں اور فلاں شخص ایسا ہے اور فلاں ویسا ہے کیونکہ وہ مجھے نہیں مانتا۔ ان معارف سے تو سوائے قرآن مجید پر ہنسی اڑانے کے کوئی نتیجہ نہیں۔ یہ معارف آپ کے دام

٢

اعتقادوں کو ہی مبارک ہوں۔ قبولیت دعا یقینی و قط... ہو جاتی ہے کبھی نہیں ہوتی۔ مرزا قادیانی نے خدا سے یہ نہیں لکھو... اگر آپ ایسی ہی دعا کو حجت پکڑتے ہیں تو آپ ک... ہوتی تو یہ محض دعویٰ ہی دعویٰ ہے۔ بھلا سردار بہا... کی دعا کہاں تک پوری ہوئی؟ عربی دانی یعنی شاعری وانشاء پرداز... قرآن مجید نے تحدی کی تھی مگر ماشاء اللہ آپ بھی... نے تو اعلیٰ سے اعلیٰ معارف وحقائق کو افصح و ابلغ... افتخار بھی انہیں معارف وحقائق پر ہے۔ صرف... شعر و شاعری بجائے اس کے کہ معیار صداقت ہ... فصحائے و بلغائے عرب آپ سے افضل نبی بن... آجکل آپ نے ایک رسالہ بنام ”ا... لکھا ہے جس کی نسبت یہ دعویٰ ہے کہ میں نے ا... ہے اور چونکہ کوئی اور شخص پانچ دن میں نہیں...

ص ٣٥، ٣٦، خزائن ج ١٩ ص ١٤٥، ١٤٦ ملخص) عجیب...

صداقت بن گیا؟ زیادہ سے زیادہ یہ ہے کہ آپ... ہیں۔ بشرطیکہ مان لیا جاوے کہ یہ سب کچھ آپ... تامل میں ہے۔ کیونکہ اس کا بہت تھوڑا حصہ ”... حائری و مولوی ثناء اللہ و پیر مہر علی شاہ کی شان می... کے واقعہ سے کوئی تعلق نہیں۔ اس واسطے یہ ثاب... کے بعد ہی کی ہو۔ بلکہ ہو سکتا ہے اور ایسا ہی... واسطے تیار کر رکھا تھا۔ اب چونکہ اس پیش گوئی کا... سال میں اللہ تعالیٰ میرے ہاتھ پر کوئی زبردس... ”مُہ“ کی آڑ میں گالیاں دینے کا خدائی نشاں... فہرست انشاء اللہ عنقریب شائع ہوگی جس...

صفحہ ٣٤٩

افتادوں کو ہی مبارک ہوں۔ قبولیت دعا یقینی قطعی معیار صداقت نہیں۔ دعا ہر آدمی کی کبھی قبول ہو جاتی ہے کبھی نہیں ہوتی۔

مرزا قادیانی نے خدا سے یہ نہیں لکھوالیا کہ ان کے سوا کسی کی دعا پوری نہ ہوگی۔ اب اگر آپ ایسی ہی دعا کو حجت پکڑتے ہیں تو آپ کی خصوصیت کیا ہوئی اور اگر آپ کی دعا کبھی رد نہیں ہوتی تو یہ محض دعویٰ ہی دعویٰ ہے۔ بھلا سردار بہادر میر شاہ پنشنر رسالدار کے گھر فرزند تولد نہ ہونے کی دعا کہاں تک پوری ہوئی؟

عربی دانی یعنی شاعری وانشاء پردازی کا دعویٰ شاید آپ نے قرآن سے اخذ کیا ہے۔ قرآن مجید نے تحدی کی تھی مگر ماشاء اللہ آپ بھی مدعی بن بیٹھے لیکن یہ یاد رکھنا چاہئے کہ قرآن مجید نے تو اعلیٰ سے اعلیٰ معارف وحقائق کو افصح و ابلغ طریقوں سے ادا کر دکھایا۔ دعویٰ کیا ہے اور اس کا افتخار بھی انہی معارف وحقائق پر ہے۔ صرف فصاحت وبلاغت پر ہی معارضہ نہیں۔ ثانیاً شعر وشاعری بجائے اس کے کہ معیار صداقت ہو سکے، شان نبوت کے بالکل منافی ہے ورنہ تمام فصحائے وبلغائے عرب آپ سے افضل نبی بن جائیں گے۔

آجکل آپ نے ایک رسالہ بنام ”اعجاز احمدی“ چھپوایا ہے۔ اس میں ایک عربی قصیدہ لکھا ہے جس کی نسبت یہ دعویٰ ہے کہ میں نے ندوۃ العلماء کے مناظرہ کے بعد پانچ دن میں لکھا ہے اور چونکہ کوئی اور شخص پانچ دن میں نہیں لکھ سکتا۔ لہٰذا میں سچا مرسل ہوں۔ (اعجاز احمدی ص ٣٥، ٣٦، خزائن ج ١٩ ص ١٤٥، ١٤٦ ملخص) عجیب منطق ہے۔ بھلا صاحب یہ جلدی لکھنا کیسے دلیل صداقت بن گیا؟ زیادہ سے زیادہ یہ ہے کہ آپ کی طبیعت میں روانی بہت ہے نہ کہ آپ سچے نبی ہیں۔ بشرطیکہ مان لیا جاوے کہ یہ سب کچھ آپ نے پانچ ہی دن میں لکھا ہے۔ حالانکہ یہ بھی معرض تأمل میں ہے۔ کیونکہ اس کا بہت تھوڑا حصہ ”مڈ“ کے واقعہ کے متعلق ہے اور زیادہ حصہ مولوی پادری ومولوی ثناء اللہ و پیر مہر علی شاہ کی شان میں گالی گلوچ دینے کا ہے اور چونکہ اس حصہ کا ”مڈ“ کے واقعہ سے کوئی تعلق نہیں۔ اس واسطے یہ ثابت نہیں ہو سکتا کہ آپ نے ساری تحریر ”مڈ“ کے واقعہ کے بعد ہی کی ہو۔ بلکہ ہو سکتا ہے اور ایسا ہی ہے کہ یہ سب کچھ آپ نے پہلے ہی نزول المسیح کے واسطے تیار کر رکھا تھا۔ اب چونکہ اس پیش گوئی کا وقت بھی قریب اختتام تھا جس میں دعویٰ تھا کہ تین سال میں اللہ تعالیٰ میرے ہاتھ پر کوئی زبردست نشان ظاہر کرے گا تو آپ نے لگتے ہاتھ واقعہ ”مڈ“ کی آڑ میں گالیاں دینے کا خدائی نشان ظاہر کر دیا اور طرفہ یہ کہ سراسر پراز اغلاط جن کی فہرست انشاء اللہ عنقریب شائع ہوگی جس سے واضح ہو جائے گا کہ ایسی انشاء پردازی کہاں تک

٣

صفحہ ٣٥١

معارضہ کے قابل ہے۔ جو شخص عربی علم ادب سے واقف ہوگا وہ تو مرزا قادیانی کی عربی دیکھ کر صاف بول اٹھے گا کہ مرزا قادیانی فن انشاء اور شاعری سے محض نابلد نہیں بلکہ ان کی فطرت میں یہ مادہ ہی نہیں رکھا گیا۔ مرزا قادیانی کے مریدوں میں نہ کوئی عربی جانتا ہے نہ ان میں کچھ قابلیت ہے۔ ان کے نزدیک تو مرزا قادیانی بے نظیر ہیں مگر جہل مرکب کا کیا علاج۔

مرزا قادیانی میں اگر عربی دانی کا دم خم ہے تو مرد میدان بنیں۔ کوئی جگہ اور وقت مقرر کریں۔ فریق مخالف سے بھی کوئی شخص مقابلہ پر آجائے گا اکثر اشخاص مقابلہ کے واسطے تیار ہیں۔ مرزا قادیانی اس کو چیلنج سمجھیں اور حسب معمول لیت ولعل سے کام لے کر میں سچا میں سچا کی بانگ دہل نہ دیتے پھریں۔ والسلام علیٰ من اتبع الہدیٰ۔

٢ ....... ایک گزشتہ مرزائی کی فریاد

ایک گزشتہ مرزائی از نوشہرہ پشاور !

غضب سے بن کے ڈاکو دن دہاڑے مجھ کو لوٹا ہے
پڑے گا مرزا پر صبر مجھ سیدھے مسلمان کا

مجلہ النجم مشرقیہ مولانا شوکت تسلیم ۔ آپ کا ضمیمہ ماشاء اللہ دور دور تک جاتا ہے اور حق یہ ہے کہ مرزا قادیانی کا مہرہ اسی نے لیا ہے اور زہر مہرہ بن کر مرزا کے ملحدانہ عقائد کا زہر یلا اثر مسلمانوں کی طبائع سے دور کیا ہے جس طرح عصاء موسیٰؑ نے سامری کے سپنولیوں کا سر کچل کر دنیا سے نیست و نابود کیا تھا ورنہ مرزا کے کاٹے کا تو منتر ہی تھا۔

ڈسا ہو کالے کا جس کو ظالم تو وہ فسوں کے اثر سے کھیلے
ولے گیسو کا تیرے مارا نہ منہ سے بولے نہ سر سے کھیلے

میں قلم کی گھس گھس والا ایک غریب عیالدار اہلکار تھا۔ پندرہ بیس روپیہ ماہوار مر کھپ کر پیدا کرتا اور بچوں کا پیٹ پالتا تھا۔ مرزا نے جب مسیح اور مہدی بننے کے بازو پھڑپھڑائے اور چلتے پرزے مرزائیوں نے بقول ”پیران نمے پرند مریدان مے پرانند“ گلے میں ڈھول ڈال کر مرزا قادیانی کی مسیحیت و مہدویت کی ڈونڈی پیٹی اور ڈگڈگی بجا کر چٹک، ایک اور پھٹک دو کہہ کر تماشا دکھانے کا اعلان دیا تو میں شامت کے دھکے کھاتا لڑھکتا پھڑکتا قادیان جا دھمکا کہ حضرت انجس والنجس و مبلس و اخبث کے دعویدار نحوست آثار کا پوتلا باندھ کر لاؤں۔

قادیان میرا پہنچنا تھا کہ چند مرزائی ٹولے جوڑ کر مجھ پر یوں جھپٹے جیسے کہ مردار پر گدھ۔

٤

طاعون آپ کو ستائے گا نہ ہیضہ، نہ کوئی دوسری بلا۔

”من دخلہ کان آمنا “ (تذکرہ ص١٠٥، ٥٠٩ طبع ٤ دخل فى بيتہ كان آمنا “ بیت اللہ سے مر ١٣ سو برس پیشتر محمد صاحب پر الہام کر دیا تھا۔ کعب بھیڑ چال ہے۔ آیت مذکورہ کا ظہور اب ہوا ہے۔ مسلمانوں کا کعبہ جانا اور طرح طرح کی مصیبتیں اٹھا الہام ہو گیا ہے کہ”لا تلقو ابايديكم الى التہا ہمارے امام الزمان ہی کے بارے میں ہے کہ مکہ او قادیان میں آؤ۔ چنانچہ الہام ہوا ہے کہ ”انی احافظ

آلودگی سے ایسے پاک ہو گئے جیسے ماں کے پیٹ لے پالک ہیں اور ان پر یہ نازل ہوا زناٹے دار الہام (تذکرہ ص ٥٢٦، طبع سوم) ”انت منی وانا منک حماقت ہے کہ یسوع مسیح کو خدا کا بیٹا بتاتے ہیں کہ وہ باپ اپنے اکلوتے بچے کو دوسروں کی خاطر دوزخ کان بھی گرم نہیں ہونے دیتے۔ چہ جائیکہ اسے دوزخ عقل بلکہ قانونِ نیچر کے خلاف ہے۔ حضرت اقدس نطفی بیٹے ہیں کہ خود بھی پاک اور ان پر جو ایمان لا دوزخ میں جھونکا گیا۔ بھلا نا پاک نا پاکوں کا کفارہ کیو

الہام ہوا ہے کہ مسلمان جو کچھ پیدا کریں اور کچھ ال ودنیا کی سلامتی چاہتے ہیں تو سب لے پالک کی یہی کفارہ ہے۔ مبارک ہیں وہ لوگ جو لے پالک

٥

صفحہ ٣٥١

ایک ...... السلام علیکم بہت ہی خوش قسمتی ہوئی کہ آپ دارالامان میں تشریف لائے۔ اب نہ طاعون آپ کو ستائے گا نہ ہیضہ، نہ کوئی دوسری بلا۔

دوسرا ...... حضرت اقدس بروزی محمد اور مسیح موعود اور مہدی مسعود ہیں ان پر الہام ہو چکا ہے کہ ”من دخله كان آمنا“ (تذکرہ ص ١٠٥، ٥٠٩ طبع سوم) یہی الہام آنحضرت ﷺ پر ہوا تھا کہ ”من دخل فی بيته كان آمنا“ بیت اللہ سے مراد قادیان ہے جس کی نسبت خدائے تعالیٰ نے ١٣ سو برس پیشتر محمد صاحب پر الہام کر دیا تھا۔ کعبہ کو بیت اللہ کہنا مسلمانوں کی حماقت اور نری بھیڑ چال ہے۔ آیت مذکورہ کا ظہور اب ہوا ہے۔ اس واسطے تو حضرت اقدس نے حج کے لئے مسلمانوں کا کعبہ جانا اور طرح طرح کی مصیبتیں اٹھانا اور اکثر ہلاک ہو جانا منسوخ کر دیا ہے اور الہام ہو گیا ہے کہ ”لا تلقوا بايديكم الى التهلكة (بقره:١٩٥)“ یہ آیت بھی درحقیقت ہمارے امام الزمان ہی کے بارے میں ہے کہ مکہ اور مدینہ جا کر ہلاکت میں نہ ڈالو بلکہ دارالامان قادیان میں آؤ۔ چنانچہ الہام ہوا ہے کہ ”انی احافظ کل من فی الدار“

(تذکرہ ص ٤٢٥ طبع سوم)

تیسرا ...... بس یوں سمجھئے آپ اب بالکل کندن بن گئے اور تمام گناہوں کی چرک اور شرک کی آلودگی سے ایسے پاک ہو گئے جیسے ماں کے پیٹ سے نکلا ہوا بچہ کیونکہ حضرت مسیح موعود خدا کے لے پالک ہیں اور ان پر یہ طنطنہ دار الہام ہو چکا ہے: ”انت منی بمنزلۃ ولدی“ (تذکرہ ص ٥٢٦ طبع سوم) ”انت منی وانا منک“ (تذکرہ ص ٤٢٢ طبع سوم) عیسائیوں کی یہ نری حماقت ہے کہ یسوع مسیح کو خدا کا بیٹا بتاتے ہیں کہ وہ دوزخ میں جا کر سب کا کفارہ ہو گیا۔ بھلا کوئی باپ اپنے اکلوتے بچے کو دوسروں کی خاطر دوزخ میں جھونک سکتا ہے؟ ماں باپ تو اپنے بچے کا کان بھی گرم نہیں ہونے دیتے۔ چہ جائیکہ اسے دوزخ کے چولہے میں جھونک دیں جو بالکل خلاف عقل بلکہ قانون نیچر کے خلاف ہے۔ حضرت اقدس لے پالک نہیں بلکہ خدا کے حقیقی اور صلبی اور نطفی بیٹے ہیں کہ خود بھی پاک اور ان پر جو ایمان لائے وہ بھی پاک۔ یسوع مسیح ناپاک تھا جبھی تو دوزخ میں جھونکا گیا۔ بھلا ناپاک ناپاکوں کا کفارہ کیوں کر ہو سکتا ہے۔

چوتھا ...... اور اب اڑھائی روپیہ فیصدی زکوٰۃ دینے کا حکم بھی منسوخ ہو گیا ہے۔ اب تو یہ الہام ہوا ہے کہ مسلمان جو کچھ پیدا کریں اور جو کچھ ان کے کوٹھی کھٹلے میں دھرا ڈھکا ہو اگر اپنی دین و دنیا کی سلامتی چاہتے ہیں تو سب لے پالک کی نذر کریں۔ بس گناہوں سے پاک ہونے کا یہی کفارہ ہے۔ مبارک ہیں وہ لوگ جو لے پالک کے فنڈ میں اپنے گاڑھے خون کی کمائی دے

٥

صفحہ ٣٥٢

کر دنیا ہی میں لال گرو کی بدولت جنت کماتے ہیں اور گوہ کا ٹوکرا سر سے اتار کر دارالامان کی کوڑی میں دباتے ہیں۔

پانچواں ...... پیشینگوئی بڑا بھاری معجزہ ہے اور تمام انبیاء کا یہی تمغہ ہے۔ اسی پر ساری خدائی اپنے اپنے نبی کے پیچھے تیرہ تین اور بارہ باٹ ہو گئی ہے اور مسلمان تو پیشینگوئی کو جزء ایمان یقین کرتے ہیں اور بات بھی ٹھیک ہے۔ کسی بھی اور ولی کے پرکھنے کی بس یہی کسوٹی ہے۔ اب دیکھو حضرت اقدس کی پیشینگوئیاں۔ آتھم کی موت۔ آسمانی منکوحہ کا عقد میں آنا وغیرہ کس دھوم دھام سے پوری ہوئیں کہ ان پر دنیا ایمان لے آئی۔‘‘

مولانا شوکت! کیا عرض کروں۔ ان سادھو بچوں، بہروپیوں نے روغن قاز مل کر ایسا شیشے میں اتارا کہ جو کچھ گانٹھ گرہ میں تھا سب بٹول لیا اور میں جھٹ سے منڈ گیا یعنی مرزا کے ہاتھ بک گیا اور مجھے کچھ ایسی دھن لگی کہ قادیان سے واپس آکر جو کچھ نہ صرف تنخواہ بلکہ دوسری یافت ادھر ادھر سے کچہری میں ملتی وہ بھی قادیان ہی میں جھونک دیتا۔ میرے بیوی بال بچے مارے بھوک کے سوکھ کر چھوہارا اچھے خاصے بے دم کے لنگور ہو کر مندرجہ ذیل شعر کے مصداق ہو گئے۔

امید کار بجائے ضعف بے قوتی
کہ موش خانہ مارا وے برد بعصا

میں نے دو اڑھائی سال کے عرصہ میں اپنے اور اپنے بال بچوں کے پیٹ سے کاٹھ کی روٹیاں باندھیں اور قادیان کے مشٹنڈوں کے لئے زعفرانی سقنقوری اور کستوری، حلوؤں، مانڈوں کا مسالا بھیجا۔ میری چندیا ہی گنجی نہیں کی بلکہ قادیانی پلاسٹر نے سر میں گڑھا ڈال دیا۔ بالآخر آپ کا ضمیر خدا اس کی عمر دراز کرے میرا ہادی اور رہبر بنا اور قادیانی لال گرو اور اس کے سادھو بچوں کے دام فریب سے نکالا جیسا ان مکاروں نے مجھے لوٹا ہے ان سے خدا ہی سمجھے بس اور تو کیا کہوں؟

٣ ...... مجدد کی پیشینگوئی اور رویاء صادقہ

مقدمہ بازی

مولانا شوکت اللہ میرٹھی ایڈیٹر! ہم کو الحکم مطبوعہ ٢٤؍ دسمبر ١٩٠٢ء کے دیکھنے سے افسوس ہوا جس میں مرزا قادیانی اور ان کے مخالفوں کے مابین فوجداری میں مقدمہ بازی کے تسلسل کا آغاز درج ہے اور طرفین سے ایک نے دوسرے پر وارنٹ جاری کرائے ہیں۔ یعنی بعض خطوط جن کا تعلق کتاب سیف چشتیائی مصنفہ پیر مہر علی شاہؒ اور مولوی کرم الدین صاحب متوطن قصبہ بھیں سے تھا اور جن کی نسبت ایک

٦

صفحہ ٣٥٣

مضمون اخبار الحکم میں شائع ہوا تھا اس کی تردید سراج الاخبار جہلم میں مولوی کرم الدین صاحب کی طرف سے شائع ہوئی۔ سراج الاخبار ہماری نظر سے نہیں گزرا مگر شاید لائیبل کے الفاظ ہوں گے۔ اس پر حکیم فضل الدین صاحب مہتمم و مالک رسالہ ضیاء الاسلام قادیان نے مولوی فقیر محمد ایڈیٹر سراج الاخبار جہلم اور مولوی کرم الدین پر زیر دفعہ ٥٠٠ نالش کر کے وارنٹ جاری کرایا مگر ایڈیٹر سراج الاخبار پر بحیثیت گواہ سمن کی تعمیل ہوئی۔ پیر مہر علی شاہ صاحب نے علالت کا عذر کیا مکرر سمن اور وارنٹ گواہوں اور مستغاث علیہ کے نام جاری ہوئے اور پیشی بتاریخ ٢؍جنوری ١٩٠٣ء حال مقرر ہوئی اس پر ضرور تھا کہ ادھر سے بھی ترکی بہ ترکی جواب دیا جاتا۔ چنانچہ مولوی کرم الدین صاحب نے دو استغاثے زیر دفعہ ٥٠٠ و ٥٠١ مرزا قادیانی اور حکیم فضل الدین صاحب اور مولوی عبداللہ صاحب کشمیری پر دائر کئے اور وارنٹ ضمانتی جاری ہوئے۔ مگر مرزا قادیانی پر وارنٹ کی تعمیل نہیں ہوئی اور ٧؍جنوری کو پہلی پیشی مقرر ہوئی۔ اس پر جواب الجواب یہ ہوا کہ ایڈیٹر الحکم نے گورداسپور میں مولوی کرم الدین اور مولوی فقیر محمد ایڈیٹر سراج الاخبار پر وہی استغاثہ دائر کیا اور وارنٹ ضمانتی جاری ہو کر ٢١؍جنوری پر پیشی ٹھہری.......

ناظرین کو یاد ہوگا کہ ہم نے پچھلے سال کے کسی ضمیمے میں پیشینگوئی کی تھی کہ مرزا قادیانی سے ایک سال کے اندر اندر کوئی زمینی یا آسمانی مواخذہ ضرور ہوگا اور پھر ہم نے خواب میں مرزا قادیانی کو خاص قادیان میں اس ہیئت کذائی سے دیکھا تھا کہ ان کا سر قدموں سے لگا ہوا ہے اور بالکل دھنکنے کی کمان نہیں بلکہ قوس قزح بنے ہوئے ہیں۔ یہ خواب بالکل آیہ شریفہ يُعْرَفُ المجرمون بسيماهم فيؤخذ بالنواصى والاقدام “ کے مطابق تھا۔ جس کی تعبیر اب ظہور میں آئی۔ مجدد کی پیشینگوئی اور تعبیر کا وقوع ہرگز نہ ٹل سکتا تھا۔ دیکھئے سچا الہام اور سچا خواب اسے کہتے ہیں۔ اب بھی مرزا قادیانی اور سب حواری مجدد پر ایمان نہ لائیں اور اس کے ہاتھ پر بیعت نہ کریں تو اس سے زیادہ بدقسمتی اور قسی القلبی اور کیا ہوگی؟ پس کستوری سے ملے زعفرانی اور سقنقوری حلوے کا مستحق اب صرف مجدد ہے۔ خیر نال اوہدے ول بھجوا دو۔

٤ ...... مرزا قادیانی کے خیالات کے لیکچر کی تردید

مولانا شوکت اللہ میرٹھی ایڈیٹر!

اگر کتاب وسنت پر مرزا قادیانی کا ایمان ہے تو ظنی اور بروزی نبی نہ تو آج تک کوئی ہوا ہے نہ قیامت تک ہو سکتا ہے۔ البتہ مذہب ہنود پر ایمان ہو تو تناسخ اور استدراجی اوتار ایک دو نہیں سینکڑوں بلکہ ہزاروں ہو سکتے ہیں لیکن مرزا قادیانی یقینا خود اس کے قائل نہیں تو پھر بروز اور

٧

PDF 355

ظل یعنی چہ معنی دارد۔

اب رہی حدیث میں مہدی مسعود اور عیسیٰ موعود کی پیشینگوئی۔ اگر احادیث رسول اللہ پر ایمان ہے تو اس کا وقت ابھی نہیں آیا نہ اس کے آنے کے آثار و علامات ظاہر ہوئے۔ اور اس دعوے میں مرزا قادیانی ہی منفرد نہیں بلکہ سوڈان اور افریقہ میں بہت سے مہدی پیدا ہو چکے ہیں اور ہو رہے ہیں اور ہوں گے جب تک حدیث رسول اللہ کے موافق ٣٠ دجال پورے نہ ہولیں اور پھر مہدیوں اور مسیحوں کا خروج اہل اسلام ہی میں نہیں بلکہ امت مسیح میں بھی ہو رہا ہے۔ چنانچہ لندن اور پیرس میں آجکل دو مسیح دندنا رہے ہیں جن کے دلائل مرزا قادیانی کے دلائل سے کم نہیں۔ بلکہ بڑھے ہوئے ہیں۔ یعنی انہوں نے مرزا قادیانی کی طرح گرگٹ جیسے رنگ نہیں بدلے کہ پہلے ایک بزرگ اور مقدس مسلمان بنے، پھر الہامی ہوئے۔ پھر مثیل مسیح، پھر اصل مسیح اور مہدی موعود۔ پھر امام الزمان، پھر ظلی اور بروزی نبی، پھر کھٹ سے خاتم الخلفاء (خاتم الانبیاء) بن گئے گویا وہ معراج ملی جو آج تک کسی نبی کو ملی ہی نہیں۔ مرزا قادیانی کا اپنی زندگی میں یہ تغیر قابل دید ہے۔ لندن اور پیرس کے مسیحوں کے پاس قوت مخترعہ نہ تھی وہ تو چھاتی ٹھوک کر ایک دم یسوع بن گئے۔ نہ آؤ دیکھا نہ تاؤ۔ مرزا قادیانی کے پاس کیا دلیل ہے جو لندن اور پیرس مسیح کے مقابلے میں پیش کر سکیں کہ تم مسیح نہیں ہو بلکہ میں مسیح ہوں۔ حالانکہ ان کو حق شفعہ حاصل ہے کہ آسمانی باپ کے اکلوتے بیٹے کو مانتے ہیں اور اس لحاظ سے آسمانی باپ کی میراث کے وارث ہیں۔ مرزا قادیانی تو ناخلف لے پالک ہیں کہ اپنے بڑے بھائی کو ناقابل وراثت ٹھہرانے کے لئے فاسق و فاجر بتاتے ہیں اس لئے مورث اعلیٰ آسمانی باپ کی درگاہ سے بھی راندے گئے ہیں۔

آج کل آزادی کا زمانہ اور برٹش گورنمنٹ جیسی آزاد سلطنت کا عہد امن و امان ہے کہ ہر مذہب والے اپنے اپنے دعوؤں میں پھل پھول رہے ہیں پس مرزا قادیانی کی بڑی خوش قسمتی یہی ہے کہ اس آزاد سلطنت میں پیدا ہوئے جس کے عہد میں اگر کوئی شخص خدائی کا دعویٰ بھی کرنے لگے تو اسے کچھ تعرض نہیں۔ مرزا قادیانی سوڈان یا افریقہ میں پیدا ہوتے تو مزہ آتا جہاں کی سرزمین مہدیوں کے اگنے کی صلاحیت رکھتی ہے اور مرزا کے وجود کے خروج کی ہر طرح قابل ہے۔ پس وہ سوڈان میں بروزی متنبی اور افریقہ میں بروزی سنتوشی بنتے۔ ہندوستان میں تو تعلیم وتربیت اور عقلمندی پھیل رہی ہے اور پھیلتی جاتی ہے۔

جوہر تو میری ذات میں سوڈانیوں کے تھے
ہندوستان میں کیوں میری مٹی خراب کی

پس یہاں کسی بروزی یا ظلی نبی کی دال گلنا ٹیڑھی کھیر ہے۔

٨

کیا دنیا میں آج تک کوئی بروزی رسول ۔ یہ ظل اور بروز کی میخ کیسی؟ اور مرزا غرض ہے کہ اصل کو چھوڑ کر نقل کی جانب اور ہر نبی کا ظل اور بروز اس کی ہدایات نازل ہوئی ہیں اور تا قیامت زائل اور فنا ہو اور بروزی نہیں ہو سکتا۔ بلکہ بروز اور ظل کو انس ہیں تو مرزا قادیانی کی خصوصیت نہیں۔ ہر شے ظلی ہے۔ یعنی نور مطلق کا عکس ہے جس کی نسب مثل نورہ کمشکوۃ فیہا مصباح '' وال ٥ ...... بـ مولانا شوکـ آسمانی باپ بھی عجیب مجنون مرکـ خرابی بصرہ (مقدمات دائر ہونے اور وارنٹ زمان کمثل زمن موسیٰ '' (تذکرہ طبع آئے گا۔ '' آئے گا کیا وہ تو آچکا اور جمعہ جـ فرعون کے ہاتھ سے اول اول تکلیفیں پہنچیں کو ایام رضاعت میں تکالیف پہنچی تھیں۔ مر کوئی اور مراد ہے تو الحکم میں شائع کریں تا کـ آیتک '' (تذکرہ ص٢٩٢، طبع سوم) اب ہم پیشی کے وقت ہوں گی۔ تیسرا الہام '' انی طبع سوم) یہ کس کا مقولہ ہے ظاہر ہے کہ آسـ عنقریب خدا میری گواہی دے گا۔ معلوم باپ الہام کے سرے پر قل کہنا بھول گیا یـ جگہ ایسا شاہد ہونا چاہئے تھا یعنی کہہ دے عنقریب شہادت دوں گا مگر اس میں یہ خر ہوگی کالی جمعرات کو جبکہ لال گرو کی قبر پر

صفحہ ٣٥٥

کیا دنیا میں آج تک کوئی بروزی اور ظلی نبی گزرا ہے؟ نبی ہمیشہ نبی ہے اور رسول ہمیشہ رسول ۔ یہ ظل اور بروز کی چیخ کیسی؟ اور مرزائی اصطلاح میں بروز اور ظل کوئی بلا ہو بھی تو کسی کو کیا غرض ہے کہ اصل کو چھوڑ کر ظل کی جانب اور شخص کو چھوڑ کر ظل کی جانب رجوع لائے ۔ ہر نبی کا ظل اور بروز اس کی ہدایات ہیں جو خدائے تعالیٰ کی جانب سے بطور وحی اس پر نازل ہوئی ہیں اور تا قیامت زائل اور فنا ہونے والی نہیں ۔ نبی اور رسول تو کیا کوئی انسان بھی ظلی اور بروزی نہیں ہو سکتا ۔ بلکہ بروز اور ظل کو انسان کی صفت ٹھہرانا بالکل بے معنی ہے اور اگر کوئی معنے ہیں تو مرزا قادیانی کی خصوصیت نہیں ۔ ہر شے بروزی ہے ۔ یعنی ظہور وجود میں آئی ہے اور ہر شے ظلی ہے ۔ یعنی نور مطلق کا عکس ہے جس کی نسبت قرآن میں ’’اللہ نور السموت والارض مثل نورہ کمشکوۃ فیھا مصباح‘‘ وارد ہوا ہے ۔

٥ ...... بے معنی الہامات کا دونگڑا

مولانا شوکت اللہ میرٹھی ایڈیٹر!

آسمانی باپ بھی عجیب معجون مرکب ہے ۔ اپنے لے پالک کا اسے بالکل درد نہیں ۔ یعنی خرابی بصرہ (مقدمات دائر ہونے اور وارنٹ نکلنے پر) یہ الہام کرنے بیٹھا ہے ۔ ’’یاتی علیک زمان کمثل زمن موسیٰ‘‘ (تذکرہ طبع ٣ ص ٤٤٦) یعنی موسیٰ کے زمانہ کی طرح تجھ پر ایک زمانہ آئے گا۔‘‘ آئے گا کیا وہ تو آچکا اور جمعہ جمعہ ٨؍ دن بھی ہو گئے ۔ مراد یہ ہے کہ جس طرح موسیٰ کو فرعون کے ہاتھ سے اول اول تکلیفیں پہنچیں۔ اسی طرح تجھے بھی پہنچیں گی حالانکہ موسیٰ علیہ السلام کو ایام رضاعت میں تکالیف پہنچی تھیں ۔ مرزا قادیانی تو ساٹھے پاٹھے اور پیر بالغ العقل ہیں اور اگر کوئی اور مراد ہے تو الحکم میں شائع کریں تا کہ جواب دیا جائے ۔ دوسرا الہام ’’انی مع الافواج آتیک‘‘ (تذکرہ ص ٢٩٢، طبع سوم) اب ہم منتظر ہیں کہ مرزا قادیانی کے ساتھ کتنی فوجیں لائیل کی پیشی کے وقت ہوں گی ۔ تیسرا الہام ’’انی صادق صادق سیشھد اللہ لی‘‘ (تذکرہ ص ٤٤٧، طبع سوم) یہ کس کا مقولہ ہے ظاہر ہے کہ آسمانی باپ کا ۔ یعنی آسمانی باپ کہتا ہے کہ میں سچا ہوں ۔ عنقریب خدا میری گواہی دے گا ۔ معلوم ہوا آسمانی باپ کا بھی کوئی باپ (خدا) ہے ۔ اگر آسمانی باپ الہام کے سرے پر قل کہنا بھول گیا ہے یعنی کہہ دے اے مرزا کہ میں سچا ہوں تو یہ سیشہد کی جگہ دسا شہد ہونا چاہئے تھا یعنی کہہ دے اے مرزا کہ میں سچا ہوں ۔ میں تیرے سچے ہونے کی عنقریب شہادت دوں گا مگر اس میں یہ خرابی ہے کہ صادق ہونے کا دعویٰ تو بالفعل ہے اور شہادت ہوگی کالی جمعرات کو جبکہ لال گرو کی قبر پر چراغی چڑھے گی ۔

٩

صفحہ ٣٥٦
برات عاشقان بر شاخ آہو

اسی کو کہتے ہیں آسمانی باپ نے مجھدار کے بیچوں بیچ لا کر گڈی کو ڈبکائی دی ایسا باپ کس کام کا کہ وقت آنے پر نہ بتائے۔

٦ ...... چہ خوش، مرزا قادیانی سے ایک سوال؟

مولانا شوکت اللہ میرٹھی ایڈیٹر!

چہ خوش، ہم نے لکھا تھا کہ مرزا قادیانی زبان عرب میں کیوں تحدّی کرتے ہیں۔ اردو زبان میں کیوں نہیں کرتے۔ اس کے جواب میں مرزا قادیانی فرماتے ہیں کہ ”یہ سوال خدا سے کرو کہ وہ عربی زبان میں کیوں الہام کرتا ہے ۔“ کیا خوب! آسمانی باپ الہام تو آپ پر کرے اور لوگ پوچھیں آپ کے آسمانی باپ سے ۔ آپ خود ہی کیوں نہ پوچھیں کہ اے پرانے کھوسٹ ۔ تجھے یہ کیا بڈھب سی سوجھی ہے کہ مجھ ہی پر الہام کرتا ہے اوروں کو الہام کے ذریعے سے کیوں نہیں بتا دیتا کہ میں اس وجہ سے اردو کی جگہ عربی میں الہام کرتا ہوں۔

(نوٹ : شمارہ نمبر ٣ نہیں ملا)

تعارف مضامین ...... ضمیمہ شحنہ ہند میرٹھ

سال ١٩٠٣ء ٢٤ جنوری کے شمارہ نمبر ٤ کے مضامین

نصرۃ السنۃ امرتسر کا تحریر کردہ ہے۔

کے تحریر کردہ ہیں۔

اسی ترتیب سے ملاحظہ فرمائیں:

١٠

١ ...... جواب تمام رسال

مولانا شوک

اگر چہ ہم اس رسالہ کا کچھ جواب ضمیم چکے ہیں مگر آج دوسری ساعت میں اس کا تمام بھی کیا یاد رکھیں گے کہ گرم طبیعت مجدد سے پالا پڑ

اک بات میں تمام
کس کی بلا ہو

اک لفظ امروہی کو امروہوی لکھنے پ کے آخر میں ہو۔ خواہ مخواہ واؤ کا تداخل امروہ ہے۔ پھر شحنہ کی جگہ شحناء اور لفظ شوکت ذکر ابو الفضول اول جلول ۔ دیہاتی چرواہے کی چن ہونے کا مدلول ہے اگر شحنہ کی جگہ لفظ شحناء بمعنی ہے تو قول الشحناء یعنی قول عداوت کے کیا معنی ہو کا علم (نام) ہے۔ تو طلحۃ الخیر پیر بولنا ایسا ہی ہ کہے اور اگر یہودی اس لئے کہا کہ ہم اس کے گر جیسے عیسیٰ کے منکر یہود مردود اور جیسے تمام انبیاء صرف ہم بلکہ تمام اہل اسلام بعد ختم نبوت کس مردے کو زندہ کیا نہ کسی کانے یگانے کو دگانہ کیا بعض بیناؤں کی آنکھوں میں نیل کی سلائی پھیر کر دیا۔ اور جب لالہ گرو بروزی محمد ہونے کا د ہے کیونکہ مسیح موعود بروزی محمد نہیں ہو سکتا۔ اس نبی کا بروز ہے جو بالکل تحصیل حاصل اور خلاف کوئی پوچھے آپ بروزی مسیح کیوں نہ بنے اور اوائل میں بنے تھے تو آپ عیسیٰ مسیح ہی مگر عیسا منہ پر دھار ماردی۔ تب آپ نے عیسیٰ مسیح کو چ جھٹ سے بروزی محمد بن گئے۔ مگر استغفر اللہ

صفحہ ٣٥٧

١ ...... جواب تمام رسالہ یک روزی بیک ساعت

مولانا شوکت اللہ میرٹھی !

اگرچہ ہم اس رسالہ کا کچھ جواب ضمیمہ شحنہ ہند ٨؍جنوری رواں میں بیک ساعت دے چکے ہیں مگر آج دوسری ساعت میں اس کا تمام کمال قلع قمع ہی کئے دیتے ہیں۔ امروہی صاحب بھی کیا یاد رکھیں گے کہ گرم طبیعت مجدد سے پالا پڑا تھا ۔

اک بات میں تمام ہے بیان کار مدعی
کس کی بلا ہو بار کش امتنان تیغ

اک لفظ امروہی کو امروہوی لکھتے ہیں۔ نسبت میں واؤ الف سے بدلا جاتا ہے جو اس کے آخر میں ہو۔ خواہ مخواہ واؤ کا تداخل امروہی صاحب کے قصباتی (پینڈو) ہونے کا پتہ دیتا ہے۔ پھر شحنہ کی جگہ شحناء اور لفظ شوکت مذکر کی صفت یہودیہ مؤنث لانا فاضل امروہی کے ابوالفضول اول جلول۔ دیہاتی چرخے کی چول۔ بالکل نامعقول۔ سراپا مجہول، استر کی جھول ہونے کا مدلول ہے اگر شحنہ کی جگہ لفظ شحناء بمعنی کینہ بغرض مذمت دہانِ بے دندان سے ابراز کیا گیا ہے تو قول الشحناء یعنی قول عداوت کے کیا معنی ہوئے؟ اگرچہ طلحہ میں تاء تانیث ہے مگر جب وہ مذکر کا علم (نام) ہے۔ تو طلحۃ الکریمہ بولنا ایسا ہی غلط ہوگا جیسے کوئی نادان کسی چپنی مغل کو سید یا مہدی کہے اور اگر یہودی اس لئے کہا کہ ہم اس کے گروگھنٹال کے دعوائے مسیحیت و بروزیت کے منکر ہیں جیسے عیسیٰ کے منکر یہود مردود اور جیسے تمام انبیاء کے منکر مرزائیان مطرود بے بہبود نامسعود ہیں تو نہ صرف ہم بلکہ تمام اہل اسلام بعد ختم نبوت کسی جعلی نبی کے تا قیامت منکر ہیں۔ نہ اس نے کسی مردے کو زندہ کیا نہ کسی کانے یگانے کو دگانہ کیا نہ کسی لنگڑے کو چلتا نہ کسی اندھے کو سوانکھا کیا۔ ہاں بعض بیناؤں کی آنکھوں میں نیل کی سلائی پھیر کر ان کو بالکل چوپٹ اور نپٹ اندھا (گمراہ) ضرور کر دیا۔ اور جب دجال گرو بروزی محمد ہونے کا دعویٰ کرتا ہے تو اپنے دعویٰ مسیح موعود ہونے میں جھوٹا ہے کیونکہ مسیح موعود بروزی محمد نہیں ہو سکتا۔ اس کے یہ معنے ہوئے کہ ایک مستقل نبی دوسرے مستقل نبی کا بروز ہے جو بالکل تحصیل حاصل اور خلافِ واقعہ ہے کیونکہ کوئی نبی بروزی بن کر نہیں آیا۔ پھر کوئی پوچھے آپ بروزی مسیح کیوں نہ بنے اور عیسیٰ مسیح نے آپ کے جسد میں کیوں حلول نہ کیا اور اوائل میں بنے تھے تو آپ عیسیٰ مسیح ہی مگر عیسائیوں نے منہ نہ لگایا اور کھڑے ہو کر نیکر پتلون سے منہ پر دھار مار دی۔ تب آپ نے عیسیٰ مسیح کو گالیاں دینی شروع کیں کہ مسلمان خوش ہوں گے اور جھٹ سے بروزی محمد بن گئے۔ مگر استغفر اللہ! مسلمانوں کا عمل تو ”لَا نُفَرِّقُ بَیْنَ اَحَدٍ مِّنْ

١١

صفحہ ٣٥٩

مسئلہ“ پر ہے اور دونوں آنکھیں برابر۔ انہوں نے تناسخ اور آواگون کے نام کا کتا بھی نہ پالا۔ ہاں چند اپاہج اور جہلاء منڈ گئے اب وہ بھی کھسکتے جاتے ہیں۔ پھر ”جری اللہ فی حلل الانبیاء“ (تذکرہ ص ٧٩ طبع سوم) کہہ کر آپ تمام انبیاء کے بروزی بنے ہیں اور دعویٰ صرف بروزی محمد ہونے کا ہے۔ پھر اپنی مسیحیت کا ثبوت تو احادیث سے دیتا ہے مگر بروزی محمد ہونے کا ثبوت نہیں دیتا۔ یعنی آنحضرت ﷺ نے کہاں فرمایا ہے کہ بروزی محمد آئے گا پھر جب بروزی محمد ہے تو صرف قرآن اس کا معجزہ کافی تھا جو آنحضرت ﷺ پر نازل ہوا ہے نہ کہ کوئی دوسری کتاب اعجاز المسیح وغیرہ۔ اعجاز المسیح اس کے زعم میں سورہ فاتحہ کی تفسیر ہے۔ حالانکہ وہ اس کا خانگی روزنامچہ ہے اور سلمنا۔ کیا کسی کتاب کا مفسر معجز ہو سکتا ہے؟ اور جب وہ قرآن سے جدا گانہ کوئی اعجاز ثابت کرنا چاہتا ہے تو ظاہر ہے کہ اعجاز قرآن کا منکر ہے اور چونکہ یہ انکار درحقیقت اعجاز محمدی کا انکار ہے تو اس کا بروزی محمد ہونا باطل ہوا کیونکہ بروزی ظلی ہوتا ہے اور جب اصل شے زائل ہوتی ہے تو ظل کا زائل ہونا بھی ضروری ہے اور ”جری اللہ فی حلل الانبیاء“ (تذکرہ ص ٧٩ طبع سوم) بھی بروزی محمد ہونے کا مخالف ہے کیونکہ آنحضرت ﷺ خاتم الانبیاء ہیں اور خاتم بجانب انبیاء مضاف ہے اور مضاف، مضاف الیہ کا غیر ہوتا۔ ورنہ خاتم ہونا اپنے واسطے اور ایک ہی شے کا مقدم و مؤخر ہونا اور تقدم الشے علی نفسہ و تاخر الشے عن نفسہ لازم آئے گا اور یہ محال ہے پس جری اللہ فی حلل الانبیاء سے لازم آتا ہے کہ قادیانی ان انبیاء کا بروزی ہے جو آنحضرت ﷺ سے پہلے گزرے ہیں اس صورت میں وہ خود اپنے نفس کا مغائر ہوگا۔

مرزا قادیانی کو دس کی مہلت

ہم قادیانی کو مع چیلے چانٹوں کے دس سال کی مہلت دیتے ہیں کہ ہماری ان باتوں کا جواب دیں اور انشاء اللہ قیامت تک نہ دے سکیں گے اور الساکت عن الحق شیطان اخرس ہوں گے۔

اعجاز احمدی پر نوٹ

اور یہ کہنا کہ اعجاز احمدی پانچ دن میں لکھی گئی ہے اول تو اس کا ثبوت کیا ہے؟ اور بالفرض وہ پانچ گھڑی میں لکھی گئی ہے یا پانچ سال میں مگر اس کو پراز معارف کہنا حماقت ہے وہ تو مزخرفات کا معجون مرکب ہے۔ جھوٹے دعوؤں اور اپنی اور اپنے حواری کی تعریف کے سوا اس میں کچھ بھی نہیں ۔

ثناء خود بخود گفتن نہ زیبد مرد دانا را
چوزن پستان خود مالد حظ نفس کے یابد

١٢

قرآن مجید کو تو اپنے اعجاز فصاحت کا دعویٰ کو زبان عرب اور علم و ادب کا دعویٰ نہیں تو پھر یہ کہنا کہ اپنے منہ پر تھپڑ مارنا ہے۔ سبحان اللہ مہدی نژاد مغل ا تمام تکلم زبان عرب میں تھا اور ”ما ينطق عن الهو فصاحت و بلاغت کے برابر کوئی شخص ساری خدائی م موضوع اور مدلس حدیثیں خود بتا دیتی ہیں کہ یہ آنحضر مادری زبان اردو ہے جس کی کوئی کل درست نہیں بلکہ کے محاورات اور موارد سے محض نابلد ہیں۔ پھر زبان عر پھر حافظ شیراز کا سنا سنایا یہ شعر نقل کرنا

من از آن حسن روز افزوں کہ
کہ عشق از پردۂ عصمت

ثابت کرتا ہے کہ مرزا قادیانی معاذ اللہ ہیں۔ شاباش ۔ بڑھے رہو۔ کولہل عالم بالا میں میں جو آپ نے شاکۃ الشوکۃ تشوکۃ شوکاً ہے تو غالباً میزان الصرف بھی کسی استاد سے نہیں پڑھ شخص جانتا ہے کہ کانٹا دوسروں کے لگتا ہے نہ کہ آپ کو۔ پس شوکت کے سطوت و رعب کا جو کانٹا لگا ہے کے چیلوں کے دل و جگر اور زبان میں پیدا کیا ہے تو پھر بے تمیزی دیکھئے کہ الشوکت الیہودیہ تو بتاتا نیع لکھتا ہے کہ ”شوکت نے وصف ثناء محمد سے انکار کیا ثناء عام ہے آنحضرت ﷺ کیلئے خاص نہیں۔ آپ تعریف کو حمد ۔ آنحضرت ﷺ اور تمام انبیاء کی تعریف سے کہو کہ عیسیٰ مسیح کو کس نے گالیاں دی ہیں؟ ہمارا کلام خطاب ارض میں تھا امروہی اس غلبت الروم فی ادنی الارض“ پیش کرتا فعل محذوف مانیں تو کیا وہ غائب نہ ہوں گے بہرحال

١٣

صفحہ ٣٥٩

قرآن مجید کو تو اپنے اعجاز فصاحت کا دعویٰ ہے اور آپ کہتے ہیں کہ مصنف اعجاز احمدی کو زبان عرب اور علم وادب کا دعویٰ نہیں تو پھر یہ کہنا کہ اہل عرب اس کے مقابل قصیدہ لکھیں۔ آپ اپنے منہ پر تھپڑ مارنا ہے۔ سبحان اللہ مہدی نژاد مغل اور اہل عرب سے تحدّی۔ آنحضرت ﷺ کا تمام تکلم زبان عرب میں تھا اور ”ما ینطق عن الہویٰ“ کے موافق وہ بھی معجزہ تھا۔ احادیث کی فصاحت وبلاغت کے برابر کوئی شخص ساری خدائی میں ایک فقرہ تو لکھ دکھائے۔ یہی وجہ ہے کہ موضوع اور مدلس حدیثیں خود بتا دیتی ہیں کہ یہ آنحضرت ﷺ کا کلام نہیں اور قادیانی صاحب کی مادری زبان اردو ہے جس کی کوئی کل درست نہیں بلکہ قہقہہ اڑانے کے قابل ہے۔ وہ اردو زبان کے محاورات اور موارد سے محض نابلد ہیں۔ پھر زبان عرب میں اعجاز کی اکڑفوں۔ واہ گرو، واہ گرو۔ پھر حافظ شیراز کا سنا سنایا یہ شعر نقل کرنا۔

من از آن حسن روز افزوں کہ یوسف داشت دانستم
کہ عشق از پردۂ عصمت برون آرد زلیخا

ثابت کرتا ہے کہ مرزا قادیانی معاذ اللہ یوسفؑ اور امروہی صاحب ان کی زوجہ زلیخا ہیں۔ شاباش۔ بڑھے رہو۔ کونپل عالم بالا میں ہو اور جڑ پاتال میں۔ پھر شوکت کی تحریف میں جو آپ نے شاكته الشوكة تشوكه شوکاً اصابته ودخلت فی جسمہ کو گردان کیا ہے تو غالباً میزان الصرف بھی کسی استاد سے نہیں پڑھی کیونکہ ماضی اور مضارع میں تمیز نہیں پھر ہر شخص جانتا ہے کہ کانٹا دوسروں کے لگتا ہے نہ کہ آپ کو، تلوار اوروں کو کاٹتی ہے نہ کہ اپنے آپ کو۔ پس شوکت کے سطوت ورعب کا جو کانٹا لگا ہے اور اس نے فرقہ خبیثہ مولہ گرو گھنٹال اور اس کے چیلوں کے دل وجگر اور زبان میں پیدا کیا ہے تو وہ سب کو داخل دارالبوار کرے گا۔ انشاء اللہ! پھر بے تمیزی دیکھئے کہ الشوکت الیہودیہ تو بتاء تانیث لکھا اور فی جسمہ بضمیر مذکر۔ پھر طوفان تو دیکھو لکھتا ہے کہ ”شوکت نے وصف وثناء محمد سے انکار کیا ہے“ حالانکہ ہم نے یہ اعتراض کیا تھا کہ لفظاً ثناء عام ہے آنحضرت ﷺ کیلئے خاص نہیں۔ آپ ﷺ کی تعریف کو نعت کہتے ہیں جیسے خدا کی تعریف کو حمد۔ آنحضرت ﷺ اور تمام انبیاء کی تعریف کا منکر تو ملحد اور کافر ہے۔ اب تمہیں ایمان سے کہو کہ عیسیٰ مسیح کو کس نے گالیاں دی ہیں؟

ہمارا کلام خطاب ارض میں تھا امروہی اس کے جواب میں ”وان من قرية اور غلبت الروم فی ادنی الارض“ پیش کرتا ہے۔ بھلا یہاں خطاب کہاں ہے؟ اور اگر لفظ اہل محذوف مانیں تو کیا وہ غائب نہ ہوں گے بہر حال غائبین سے خطاب ہوگا۔ کلام اس میں تھا

١٣

صفحہ ٣٦٠

کہ غائب کو حاضر ناظر سمجھنا شرک ہے۔ طرہ یہ کہ غائب کے لئے خطاب کرنے کو خط و کتابت کی سند لاتا ہے۔ حالانکہ مکتوب الیہ کو کاتب اپنے تصور میں حاضر بنا کر خطاب کرتا ہے جو ذی عقل اور ذی حس ہے۔ زمین میں عقل اور حس کہاں ہے؟ پھر جیسا تقریر کے ذریعے سے انسان مخاطب ہوتا ہے کیا موضع مد کی زمین دونوں ذریعے سے مخاطب بنانے کی صلاحیت رکھتی ہے؟ اور پھر پہلے اپنے لال گرو کا مامور من اللہ ہونا ثابت کرو۔ پھر اہل ارض کی ہلاکت کا یقین دلاؤ اور (اعجاز احمدی ص ٣٩، خزائن ج ١٩ص ١٥٠) کے مصرعے ”کذوبا مفسدا صیدی الذی“ میں جو مختلف بدل اور مبدل کی صورت پیش کر کے ”بالناصية ناصية كاذبة“ کی سند پیش کی ہے تو یہ سراسر جہالت ہے۔ مصرعہ مذکور میں پہلے نکرہ اور پھر معرفہ ہے اور آیت کی سند میں حسب قاعدہ نحو پہلے معرفہ اور پھر نکرہ موصوفہ ہے۔ پس سند کیوں کر منطبق ہوئی اور ہمارا اعتراض کیونکر اٹھا؟ قرآن یا مستند اہل عرب کے کلام کی سند پیش کیجئے اور عبارت الہام ”انی مهین من اراداهانتک“ (تذکرہ ص ٣٤ طبع سوم) میں لفظ من شرط کو مشتمل ہے۔ آسمانی باپ خرف ہو گیا ہے۔ یوں الہام کرتا: ”من اراداهانتک وانی مهین له“ اور آیت ”الذین یاکلون اموال الیتامیٰ“ میں ماضی کے معنے لینا فضول ہیں جبکہ حال کے معنے درست ہو سکتے ہیں اور لفظ صید کے معنے شکار کرنے کے ہیں۔ اس فعل کی صفت الذی نہیں ہو سکتی اور مفعول کے معنی لینے پر اضافت دال بر ماخوذیت ہے اور ”اخذه لا يغرر“ دال بر اخذ ہے جو قبل الاخذ بولا جاتا ہے اور قبل الاخذ لفظ صید کا بمعنے مفعول ہونا صحیح نہیں پس اس کا ترجمہ شکار بالکل غلط ہے۔

امید ہے امروہی صاحب کے اطمینان کو اسی قدر کافی ہے کیونکہ مادہ کچھ سخت معلوم نہیں ہوتا کہ تیز مسہل اور عمل کی ضرورت ہو۔ ورنہ ہم تو ہر طرح لیس اور چست ہیں۔

٢ ...... ملک میں عید اور قادیان میں ماتم

حکیم ابو اسحاق محمد الدین
شادی و عیش ہے نو روز ہے گھر گھر لیکن
عید کا چاند محرم نظر آتا ہے ہمیں

آج تمام ملک میں عید بلکہ شاہ معظم کی تخت نشینی کی وجہ سے دو عیدیں ہیں مگر قادیانی ارژ پوپوں کی قسمت میں ماتم ہے۔ ارے میاں کیوں! اگر ارژ پوپوں جی مسلمان نہیں تو کیا شاہ کی رعیت بھی نہیں۔ کیا شاہ کی تخت نشینی اور اقبال سے رنجیدہ ہے۔ کیونکہ (ازالہ ص ٦٨٥، خزائن ج ٣ ٤٢

٦١ ص ٤٦٩، ٤٧٠) پر گورنمنٹ انگریزی کو جس نے ہمار چونکہ خود مسیح بنتا ہے۔ اس لئے ممکن نہیں کہ دجالو اس نے ایک بڑ ہانکی تھی کہ تیس سال کے اندر میر جس سے میرا فیصلہ ہو جائے گا۔ چنانچہ اس کے تیرے حضور سچا ہوں اور جیسا خیال کیا گیا ہے کہ اخیر دسمبر ١٩٠٢ء تک ختم ہو جائے گا کوئی ایسا نشان ز

ان الفاظ کے مطابق ہم منتظر تھے کہ غ گی یا زمین پر دم نکلے گی۔ یا آسمان سے یا دجال ملک نے دیکھ لیا۔ اس پر ٣ سالہ مدت میں بارہا ا ساری عمر میں نہیں ہوئی تھی جو دراصل پیشینگوئی ک ایک ایک ہزار کی ضمانت کا وارنٹ اس کے اور مقدمہ سر پر ہے۔

چونکہ ارژ پوپوں نے اپنی پیشینگوئی کی فیصلہ نقل کر دیں۔ آپ فرماتے ہیں کہ: ”میرے تیرا فیصلہ منظور ہے پس اگر تین سال کے اندر جو ج گے میری تائید اور تصدیق میں کوئی آسمانی نشان طرح رد کر دے جو تیری نظر میں شریر اور پلید اور ہیں تو میں تجھے گواہ کرتا ہوں کہ میں اپنے تئیں صا اور بہتانوں کا اپنے تئیں مصداق سمجھ لوں گا جو مجھ فیصلہ کر لیا ہے کہ اگر میری یہ دعا قبول نہ ہو تو میں مجھے سمجھا گیا ۔“

٣ ...... مرزا نیو

مولانا شوکت کیوں جناب مشفقی شفیقی مولوی عبد قورمے کا ہاتھ نہ ملایا۔ آپ جو زندہ پیر کے مجاور

صفحہ ٣٦١

ص ٣٦٩، ٣٧٠) پر گورنمنٹ انگریزی کو جس نے ہندوستان میں ریل جاری کی ہے۔ دجال بناتا ہے چونکہ خود مسیح بنتا ہے۔ اس لئے ممکن نہیں کہ دجالوں کی تخت نشینی سے خوش ہو۔ ماتم اس لئے ہے کہ اس نے ایک بڑ ہانکی تھی کہ تین سال کے اندر میرے لئے آسمان سے کوئی ایسا نشان ظاہر ہوگا کہ جس سے میرا فیصلہ ہو جائے گا۔ چنانچہ اس کے اصل الفاظ یہ ہیں: ”اے میرے مولا ! اگر میں تیرے حضور سچا ہوں اور جیسا خیال کیا گیا ہے کہ کافر اور کاذب نہیں ہوں تو ان تین سال میں جو اخیر دسمبر ١٩٠٢ء تک ختم ہو جائے گا کوئی ایسا نشان دکھلا جو انسانی ہاتھوں سے بالاتر ہو۔“

(اشتہار ٥ نومبر ١٨٩٩ء، مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ١٧٧)

ان الفاظ کے مطابق ہم منتظر تھے کہ خدا جانے کتنی دفعہ ارڈل پوپوں جی کے سر پر کلغی لگے گی یا سرین پر دم نکلے گی۔ یا آسمان سے یا دجال کی آواز آئے گی۔ مگر افسوس ہے کہ جو کچھ ہوا تمام ملک نے دیکھ لیا۔ اس سہ ٣ سالہ مدت میں بارہا اس کو ذلت ہوئی۔ اور آخری ذلت تو ایسی ہوئی کہ ساری عمر میں نہیں ہوئی تھی جو دراصل پیشینگوئی کے سچا کرنے کے لئے خدا کی طرف سے ہوئی۔ ایک ایک ہزار کی ضمانت کا وارنٹ اس کے اور اس کے تین حواریوں کے نام جاری ہوا اور ہنوز مقدمہ سر پر ہے۔

چونکہ ارڈل پوپوں نے اپنی پیشینگوئی کی بابت خود ہی فیصلہ کیا ہے پس بہتر ہے کہ ہم وہی فیصلہ نقل کر دیں۔ آپ فرماتے ہیں کہ: ”میرے مولا ! مجھے تیری عزت اور جلال کی قسم ہے کہ مجھے تیرا فیصلہ منظور ہے پس اگر تین سال کے اندر جو جنوری ١٩٠٠ء سے دسمبر ١٩٠٢ء تک پورے ہو جائیں گے میری تائید اور تصدیق میں کوئی آسمانی نشان نہ دکھلا دے اور اپنے اس بندے کو ان لوگوں کی طرح رد کر دے جو تیری نظر میں شریر اور پلید اور بے دین اور کذاب اور دجال اور خائن اور مفسد ہیں تو میں تجھے گواہ کرتا ہوں کہ میں اپنے تئیں صادق نہیں سمجھوں گا اور ان تمام تہمتوں اور الزاموں اور بہتانوں کا اپنے تئیں مصداق سمجھ لوں گا جو مجھ پر لگائے جاتے ہیں۔ میں نے اپنے لئے یہ قطعی فیصلہ کر لیا ہے کہ اگر میری یہ دعا قبول نہ ہو تو میں ایسا ہی مردود اور ملعون اور کافر اور خائن ہوں جیسا مجھے سمجھا گیا ۔“

(مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ١٧٨)

٣ ...... مرزائیوں سے دو دو باتیں

مولانا شوکت اللہ میرٹھی!

کیوں جناب مشفقی شفیقی مولوی عبد الکریم ( قادیانی )! تعجب ہے کہ ما بدولت سے بھی قورمے کا ہاتھ نہ ملایا۔ آپ جو زندہ پیر کے مجاور ہو کے بیٹھے ہیں اور زعفرانی اور معجونی حلووؤں کا

١٥

صفحہ ٣٦٢

چڑھاوا چڑھ رہے ہیں اگر کبھی یار ایک آدھ دونا مجددالسنتہ مشرقیہ کی جانب بھی جھکا دیتے تو آسمانی باپ اور اس کے اکلوتے لے پالک کی روح بہت ہی خورسند ہوتی اور اس قدر چڑھاوے چڑھتے کہ منارہ چوٹی تک ڈھک جاتا۔ قسم ہے منارے دی یہ دغا خوری تو چنگی نہیں۔ ہم بھی ایک تہائی کے حصہ دار ہیں۔ آپ جانتے ہیں ہاتھی کے پاؤں میں سب کا پاؤں ۔ اوپر ہی اوپر پھکوتیاں اڑانا اور شوکت اللہ کو اڑان گھائیاں بتانا اچھا پھل نہ دے گا اور وہی لیکھا ہوگا کہ بھوت گئے بھگوان کے پاس اور ارداس (عرضداشت) کی کہ ہم بھوکے ہیں۔ بھگوان نے حکم دیا کہ جاؤ جو لوگ ہمیں بھول گئے ہیں انہیں تم لوٹو کھاؤ۔

اچھا چپکے سے کان ہی میں کہہ دیجئے کہ مہینے میں کتنی یافت ہو جاتی ہے۔ ہم کسی سے کہیں تو جب ہی کہنا۔ نذر بھینٹ چڑھانے والے (دنا دن منی آرڈر بھیجنے والے اور چھنا چھن نقد اور علیہ السلام کے درشن کرنے والے) آپ کی چرائی علیحدہ دیتے ہیں یا حضرت اقدس ہی کے نذرانہ میں آپ کا بھی پوا ہے آخر چوپارہ کیونکر ہوتے ہیں۔ تو ہم کو معلوم ہے کہ حضرت اقدس بجز ان رقموں کے جو ان کے نام آئیں کسی رقم کو ہاتھ نہیں لگاتے۔ یہ تو پیران نمی پرند مریدان می پرند والے اڑا لیتے ہیں۔ ہم کو تو خاص الخاص آپ کے ساتھ ہمدردی ہے کہ جو اللے تللے اڑ رہے ہیں خدا نخواستہ ان میں کمی نہ آجائے۔ بشرطیکہ مجددالسنتہ مشرقیہ کو خمس ملتا رہے۔ پانچواں حصہ نہ سہی چھٹا۔ بلکہ پنج دو یعنی پانچ میں سے دو۔

اور یوں جناب منشی بابو یعقوب علی صاحب تراب ایڈیٹر الحکم! ذرا ہم سے بھی کبھی انٹروڈیوس ہوتا رہے تو بڑا فائدہ ہو۔ آخر بحیثیت ایڈیٹر آپ کا بھی کچھ فرض ہے یا نہیں۔ آنکھیں ہی پھوٹیں اگر ہم نے الحکم میں آپ کے قلم کا نکلا ہوا کوئی لیڈنگ آرٹیکل کبھی دیکھا ہو۔ یا تو کلمات طیبات یا حضرت حکیم الامت کے مواعظ اور خطبات یا مولوی عبد الکریم صاحب کے خطبات۔ بس الحکم کی یہی کائنات ہے۔ بس اس کوٹھی کے دھان اس کوٹھی۔ آپ نے کیا تیر مارا۔ افسوس ہے کہ الحکم کے ماتھے ایسا لیاقت مآب ایڈیٹر مارا جائے۔

اور کیوں جناب شحنۂ ہند کیوں بتی بنا کر رکھ لیا جاتا ہے کہ قادیان میں کسی کو اس کے دیدار نہیں کرائے جاتے۔ جیسا کہ فاضل امروہی نے اپنے مضمون مندرجہ الحکم میں لکھا ہے۔ خبردار جو آئندہ ایسی فرو گذاشت کی ورنہ ہم سے برا کوئی نہیں۔ شحنۂ ہند پبلک کا مال ہے۔ آپ شحنۂ کو اسی لئے چھپا رکھتے ہیں کہ حضرت اقدس آپ سے جواب کہنے کو کہیں گے۔ اور یہاں جامہ ندارم دامن از کجا آرم کا مضمون ہے کیونکہ شوکت اللہ کی باتوں کا جواب دینا خالہ جی کا گھر نہیں۔ ١٦

٣ ٤ ...... الحق الصریح فی مولانا شوکانی حال میں بعنوان بالا ایک دورقہ مر یہ ہے کہ نام تک صحیح لکھنا نہ آیا۔ یعنی بجائے فی تفـ کی تو کچھ شکایت نہیں کیونکہ تمام مرزائی ایسے ہی موعود کی نسبت جو علماء اور اولیاء نے پیشینگوئی کی علماء نے جو ان پر تکفیر کے فتوے لگائے ہیں تو یہ ا کے فتوے لگیں گے۔ چنانچہ نواب صدیق حسن ص ٣٦٣ سے نقل کی ہے۔ ”چون مهدی احمـ وقت که خوگر تقلید فقهاء واقتدار مـ خانه برانداز دین وملت است وبمخالفـ تکفیر وتضلیل وے کنند“ اور صاحب کـ کے دشمن علماء اہل اجتہاد ہوں گے۔ اس لئے کہ ا اور امام ربانی مجدد الف ثانی اپنے مکتوبات ج٢ مکتو علماء ظواهر مجتهدات عیسیٰ علیه انکار نمایند ومخالف کتاب وسنت ”ناقصے چند احادیث چند را یاد کر ساخته، ماورا معلوم را نفی نمایند سازند چون آن کرمیکه در سنگے نهان ذرا ناظرین ملاحظہ فرمائیں! اگر من سے کیا بات نکلتی ہے۔ کیا مرزا قادیانی نے احـ سنت کا استیصال اور بدعت وشرک کا احیاء کیا کرائیں۔ اور یوں تصویر پرستی کو رواج دیا۔ انہو موعود ہیں۔ انہوں نے مسلمانوں کو حج حرمیـ دارالامان اور مطاف بنایا۔ انہوں نے اپنے کو میں تراجم کر کے خود کو ان کا مورد قرار دیا اور دعو

صفحہ ٣٦٣

٤ ...... الحق الصریح فی تصدیق مثیل المسیح پر نقد

مولانا شوکت اللہ میرٹھی !

حال میں بعنوان بالا ایک دورقہ مرزا قادیانی کے کسی مرید نے شائع کیا ہے۔ لیاقت یہ ہے کہ نام تک صحیح لکھنا نہ آیا۔ یعنی بجائے فی تصدیق مثیل المسیح کے امثیل المسیح لکھا ہے۔ خیر اس کی تو کچھ شکایت نہیں کیونکہ تمام مرزائی ایسے ہی لیاقت مآب ہیں۔ اس دو ورقی میں یہ دکھایا کہ مسیح موعود کی نسبت جو علماء اور اولیاء نے پیشینگوئی کی ہے تو اس کے مصداق ٹھیک مرزا قادیانی ہیں اور علماء نے جو ان پر تکفیر کے فتوے لگائے ہیں تو یہ بھی پیشینگوئیوں کے مطابق ہے کہ مسیح موعود پر کفر کے فتوے لگیں گے۔ چنانچہ نواب صدیق حسن خان مرحوم کی یہ عبارت ان کی کتاب حجج الکرامہ ص ٣٦٣ سے نقل کی ہے۔ ”چون مهدی احیاء سنت و اماتت بدعت، فرماید علماء وقت که خوگر تقلید فقهاء و اقتداء مشائخ و آباؤ خود باشند بگو یند این مرد خانه بر انداز دین و ملت است و بمخالفت برخیزند و بحسب عادت خود حکم تکفیر و تضلیل وے کنند“ اور صاحب کتاب اقتراب الساعۃ ص ٩٥ پر لکھتے ہیں کہ مہدی کے دشمن علماء اہل اجتہاد ہوں گے۔ اس لئے کہ ان کے خلاف مذہب ائمہ حکم کرتے دیکھیں گے۔ اور امام ربانی مجدد الف ثانی اپنے مکتوبات ج ٢ مکتوب ٥٥ میں لکھتے ہیں: ”نزدیک هست که علماء ظواهر مجتهدات عیسیٰ علیہ السلام را از کمال دقت و غموض ماخذ انکار نمائند و مخالف کتاب و سنت دانند“ آگے چل کر علماء کی نسبت فرماتے ہیں: ”ناقصے چند احادیث چند را یاد گرفته اند و احکام شریعت را در ان منحصر ساخته۔ ماورا معلوم را نفی نمایند و آنچه نزد ایشان ثابت نشد منتفی می سازند چون آن کرمیکه در سنگے نهان است زمین و آسمان او همان است“

ذرا ناظرین ملاحظہ فرمائیں ! اگر مندرجہ بالا عبارتیں خدا اور رسول کے احکام ہیں تو ان سے کیا بات نکلتی ہے۔ کیا مرزا قادیانی نے احیاء سنت واستیصال بدعت فرمایا ہے؟ انہوں نے تو سنت کا استیصال اور بدعت و شرک کا احیاء کیا ہے۔ انہوں نے اپنی تصویریں بنوائیں اور شائع کرائیں۔ اور یوں تصویر پرستی کو رواج دیا۔ انہوں نے عیسیٰ مسیح کو گالیاں دیں۔ حالانکہ خود ہی مسیح موعود ہیں۔ انہوں نے مسلمانوں کو حج حرمین شریفین سے روکا اور بجائے اس کے قادیان کو دارالامان اور مطاف بنایا۔ انہوں نے اپنے کو بروزی (تناسخی ) محمد بتایا۔ انہوں نے آیات قرآنی میں ترامیم کر کے خود کو ان کا مورد قرار دیا اور دعویٰ کیا کہ یہ آیتیں آنحضرت ﷺ پر نہیں اتریں بلکہ

١٧

صفحہ ٣٦٥

مجھ پر اور میری شان میں اتری ہیں۔ کیا احیاء سنت و اماتت بدعت اسی کا نام ہے۔ پھر حدیث شریف میں جو ٣٠ جھوٹے دجالوں کی پیشینگوئی ہو چکی ہے ان کی تعداد ابھی پوری نہیں ہوئی۔ مرزا قادیانی پہلے ہی کود پڑے اگر احادیث پر مرزا قادیانی کا ایمان ہے تو وہ خود دعوائے مسیحیت مہدویت میں جھوٹے ہیں۔ اسی سال ایک مسیح لندن میں اور دوسرا فرانس میں پیدا ہوا ہے کیا ثبوت ہے کہ وہ دونوں تو جھوٹے ہیں اور مرزا قادیانی سچے ہیں۔

٥ ...... مرزا جی الزام سے بری ہو گئے

مولانا شوکت اللہ میرٹھی!

اب بھی اگر تمام مرزائی مجددالنہ مشرقہ کا منہ میٹھا نہ کریں اور اس کی جانب رجوع نہ لائیں تو حد درجہ احسان فراموشی اور حدیث رسول اللہ ﷺ ”من لم یشکر الناس لم یشکر اللہ“ کی مخالفت ہوگی۔ مجدد نے پیشینگوئی کی تھی کہ اصل خیر ہے جان جوکھوں نہیں صرف آنے جانے کے پاپڑ بیلنے ہیں۔ چنانچہ وہی ہوا۔ اب مرزا قادیانی کے حواری نے جو دعویٰ مولوی کرم الدین وغیرہ پر گورداسپور میں دائر کر رکھا ہے وہ چند روز چلے گا۔ ایک آدھ پیشی ہولے تو مجدد پیشینگوئی کرے۔ ابھی سے پیشینگوئی کرنا شاید مرزا قادیانی پر ناگوار ہو۔

ہم نے ایک لمبا چوڑا ہاتھی کے کان سے سوا دو ہاتھ بڑا اشتہار دیکھا جس میں مرزا قادیانی کی بریت بڑی دھوم دھام سے لکھی ہے اور اس امر کو مخالفوں کے لئے نشان حق اور مسیح موعود کی حقیقت کی صداقت گردانا ہے۔ جو انبا شد در پنجه شک یہ تو ہم لکھ ہی چکے تھے کہ کال کوٹھڑی نہیں۔ کالا پانی نہیں اور بالآخر صلیب نہیں جو مسیح کا تمغہ ہے اور جس سے مرزا قادیانی خوف کرتے ہیں صرف تھوڑی دیر کو خوف سے باؤ گولوں کا اٹھنا اور پیٹوں میں پانی کا ہو جانا ہے نہ بال بیکا ہو گا نہ روئیں کو آنچ تک لگے گی۔ حالانکہ لگنی چاہئے کیونکہ دوزخ کی آنچ مسیح کا کفارہ ہے۔ اگر الزام ثابت بھی ہو جاتا تو بڑی بڑائی سو دوسو روپیہ جرمانے سے زیادہ تھا۔ تعجب تو یہ ہے کہ مثیل المسیح میں اصلی مسیح کی نہ تو کوئی بین علامت پائی جائے نہ اس کو آسمانی ہائیکورٹ سے ویسا ہی کوئی تمغہ ملا جیسا اصلی مسیح کو ملا تھا۔ پھر بھی نشان حقیقت ظاہر ہو۔ معلوم ہوتا ہے کہ آسمانی باپ اپنے عین صلبی بیٹے پر ایسا مہربان نہ تھا جیسا اب لے پالک پر ہے کہ وہ کسی امتحان میں پاس نہ اترے اور جھٹ سے ڈپلوما اور کھٹ سے ڈگری دے دے۔ یہ تو معاملہ ہی کیا تھا عدالتوں سے تو بڑے بڑے عادی مجرم چھوٹ جاتے ہیں۔ اب ہر ایک خفیف الزام کا ملزم رہائی پا کر کان پھڑپھڑا کر دم چھڑا چھڑا کر کہہ سکتا ہے کہ میں مسیح موعود ہوں اور اس کے ماخوذ کرنے اور کرانے والے پولیس وغیرہ جہنمی

١٨

اور مردود ہیں۔ ہم خیال کرتے ہیں کہ ایسی علامتیں قدر کثرت سے مقدمات دائر ہوں گے۔ اسی قدر ا اور چپڑدی ۔ اندھے کو کیا چاہئے دو آنکھیں۔ لیکن رہ رہ کر یہی خیال پیدا ہوتا ہے کہ قادیانی کو سزا ملتی اور جبہی وہ مثیل المسیح ہونے کے مماثلت مسیح کا نشان نہیں اور اگر خدانخواستہ مرزا قاد ظاہر ہوئی کیونکہ اصلی عیسیٰ مسیح مظلوم تھا تو مثیل عیسیٰ یاروں کے دونو میٹھے ہیں۔ مرزائی بغلیں بجا رہے ہیں ”لولا الحمق لَخَرِبَتِ الدنیا“ مرزا قادیان قادیان سے جہلم کھنچے چلے جائیں مگر اس میں ان کی تو آسمانی ذلت ہے اور لمبے چوڑے اشتہاروں میں ذلیل ہوا اور فلاں دون ذلیل ہوا اور مرزائی مونچھو میں یہی انصاف ہے۔

٦ ...... مرزا قادیانی ب

مولانا شوکت ا

ہم دیکھتے ہیں کہ چند روز سے الحکم میں ہیں یا تو اب لوگوں کا مرزائی ہونا بالکل بند ہو گیا ہے چاندی ہے یا طمع اور قلت ہے؟ یا یہ سبب ہے کہ مرزا بتاتے ہیں اور الحکم میں اس کے شائع کرنے سے ا لاکھ ہیں تو روز افزوں ترقی کے دعوے کے موافق ی کے کالم میں کسی ہفتے میں دس کسی ہفتے پندرہ اور دود تعداد درج ہوئی ہے اور یہ تعداد بھی طرح طرح کی کئی کئی دفعہ دوہرا دیا یا مثلاً کسی شخص نے خط لکھا مرز ٹانک دیا۔ بھلا یہ کاغذی ناؤ جھوٹ کے طوفان میں حالت کا بخیہ کھول دیتی ہیں۔ یعنی دنیا کہہ سکتی ہے سالانہ فائل کو ٹٹولا جائے تو نتھیں تھیں ۔ اس لئے الحکم

١٩

صفحہ ٣٦٥

اور مردود ہیں۔ ہم خیال کرتے ہیں کہ ایسی علامتیں جس قدر ظاہر ہوں گی یعنی مرزا قادیانی پر جس قدر کثرت سے مقدمات دائر ہوں گے۔ اسی قدر ان کی حقیقت کے نشانات ظاہر ہوں گے دن دونی اور رات چوگنی۔ اندھے کو کیا چاہئے دو آنکھیں۔

لیکن رہ رہ کر یہی خیال پیدا ہوتا ہے کہ حقیقت کا نشان تو اس وقت ظاہر ہوتا جبکہ مرزا قادیانی کو سزا ملتی اور جبھی وہ مثیل مسیح ہونے کے بھی مستحق ٹھہرتے۔ الزام سے بری ہو جانا تو مماثلت مسیح کا نشان نہیں اور اگر خدانخواستہ مرزا قادیانی کو کچھ بھی سزا مل جاتی تو یہ کہتے کہ حقیقت ظاہر ہوئی کیونکہ اصلی عیسیٰ مسیح مظلوم تھا تو مثیل عیسیٰ کیوں مظلوم نہ ہوتا۔ پس کچھ غم نہیں۔ الغرض یاروں کے دونو میٹھے ہیں۔ مرزائی بغلیں بجارہے ہیں۔ ملاء گا رہے ہیں اور عقلاء یہ کہہ رہے ہیں: ”لولا الحمقا لخربت الدنیا“ مرزا قادیانی ملزم بنائے جائیں ان کے نام وارنٹ نکلیں۔ قادیان سے جہلم کھنچے چلے جائیں مگر اس میں ان کی کچھ ذلت نہیں۔ مخالفوں کا کچھ بھی کسر شان ہو تو آسمانی ذلت ہے اور لمبے چوڑے اشتہاروں میں شائع کی جائے کہ فلاں شخص عدالت میں یوں ذلیل ہوا اور فلاں یوں ذلیل ہوا اور مرزائی مونچھوں پر تاؤ دیتے پھریں آسمانی باپ کے اجلاس میں یہی انصاف ہے۔

٦ ...... مرزا قادیانی کے مریدوں کی تعداد

مولانا شوکت اللہ میرٹھی

ہم دیکھتے ہیں کہ چند روز سے الحکم میں بیعت کا کالم نہیں چھپتا۔ بظاہر اس کے دو سبب ہیں یا تو اب لوگوں کا مرزائی ہونا بالکل بند ہو گیا ہے۔ وہ واقف ہوتے جاتے ہیں کہ یہ اصلی سونا چاندی ہے یا ملمع اور گلٹ ہے؟ یا یہ سبب ہے کہ مرزا قادیانی ہمیشہ اپنے مریدوں کی تعداد ایک لاکھ بتاتے ہیں اور الحکم میں اس کے شائع کرنے سے پردہ کھلتا ہے کیونکہ جس صورت میں اب ایک لاکھ ہیں تو روز افزوں ترقی کے دعوے کے موافق چند روز میں کئی لاکھ ہو جانے چاہئیں اور بیعت کے کالم میں کسی ہفتے میں دس کسی ہفتے پندرہ اور دو تین ہفتے چھوڑ دیئے جائیں تو ٢٥ یا ٣٠ تک کی تعداد درج ہوتی ہے اور یہ تعداد بھی طرح طرح کی چالوں سے فراہم کی جاتی ہے مثلاً ایک ایک نام کئی کئی دفعہ دوہرا دیا یا مثلاً کسی شخص نے خط لکھا مرزا قادیانی نے فوراً اس کا نام بیعت کے کالم میں ٹانک دیا۔ بھلا یہ کاغذی ناؤ جھوٹ کے طوفان میں کب تک چل سکتی ہے؟ ایسی ہی باتیں اصلی حالت کا بخیہ کھول دیتی ہیں۔ یعنی دنیا کہہ سکتی ہے کہ دعویٰ تو لاکھوں مریدوں کا ہے اور الحکم کے سالانہ فائل کو ٹٹولا جائے تو بیعتیں نہیں نکلتیں۔ اس لئے الحکم میں بیعت کے چھپنے کا بھانڈا ہی پھوڑ دیا گیا۔

١٩

صفحہ ٣٦٦

٧ ...... حدیث رسول اللہ ﷺ کا انکار مگر مطلب کے وقت اقرار

مولانا شوکت اللہ میرٹھی!

مرزا قادیانی کہتے ہیں کہ جو حدیثیں قرآن کے موافق ہیں انہیں ہم مانتے ہیں اور جو مخالف ہیں انہیں نہیں مانتے۔ اب ہم پوچھتے ہیں کہ قرآن میں عیسیٰ اور مہدی کے آنے کا ذکر کہاں ہے؟ عیسیٰ مسیح تو دنیا میں اپنی موت سے مرا اور گلیل علاقہ کشمیر میں ان کا مزار عالیشان قادیان کے منارے سے بھی کئی بانس اونچا موجود ہے اور لاز اف نیچر کے موافق جو مر گیا وہ پھر نہیں آ سکتا۔ عیسیٰ اور مہدی کے آنے کا ذکر صرف حدیث میں ہے اور مرزا قادیانی مہدی بھی ہیں اور عیسیٰ بھی اور ”لا مہدی الا عیسیٰ“ پر بھی ان کا ایمان ہے اور عیسیٰ مسیح کا دنیا میں آکر صلیب کے ٹکڑے اور خنازیر کا قتل عام کرنا بھی حدیث ہی میں ہے۔ قرآن میں نہیں اور مرزا قادیانی نے اس حدیث کو اپنا تمغہ بنا کر چند روز الحکم کی پیشانی پر بھی ثبت رکھا۔ جب مجدد المائہ مشرقیہ نے استفسار کیا کہ صلیب سے کیا مراد ہے اور خنازیر سے کس مذہب والے یا کس نبی کی امت مراد ہے تو وہ حدیث چھیل ڈالی گئی اور اپنا تمغہ اپنے ہاتھوں کھو دیا۔ خوف ہوا کہ دھرا جاؤں گا کیونکہ صلیب کا تعلق نصاریٰ سے ہے اور خنازیر بھی انہیں کو سمجھے تو اب کیا منہ لیکر عیسیٰ اور مہدی بنتے ہیں۔ یہ بھی وہی بات ہے کہ جس تھالی کھائیں اسی تھالی چھید کریں۔ مطلب کے وقت تو حدیث کی سند اور جب مطلب نہ نکلے تو نہ صرف حدیث بلکہ قرآن بھی مسترد۔ یا ایسی بھونڈی تاویل کہ چرخا کاتنے والی بڑھیا بھی اس کو الجھے ہوئے سوت کے دھاگے کی طرح توڑ کر پھینک دے۔ پھر قرآن کی تو تاویل کرتے ہیں مگر خلاف مطلب حدیثوں کی تاویل کرنی نہیں آتی۔ اس کی وجہ اپنے حمقاء کو تھامنا ہے کہ قرآن کو کھلم کھلا مسترد کر دیں تو کوئی پاس بھی نہ پھٹکے اور حدیث کا منکر ایک دوسرا نیچری فرقہ بھی موجود ہے۔ جس سے مرزائی مذہب تراشا گیا ہے اور آج کل تو حدیث رسول اللہ بے کس بے بس ہے۔ اس پر سب کے دانت تیز ہوتے ہیں مگر اب مرزا قادیانی تو نیچری بھی نر ہے کیونکہ جن حدیثوں کا ماحصل قرآن نہیں ہے۔ ان کو مانتے ہیں پھر یہ ٹٹو یہیں رہے الغرض اللہ سلامت رکھے۔ مرزا قادیانی عجیب معجون مرکب ہیں ۔

پیدا کہاں ہیں ایسے پراگندہ طبع لوگ
افسوس تم کو میر سے صحبت نہیں رہی

٢٠

١٧

تعارف مضامین ......

سال ١٩٠٣ء یکم فروری کے

یہ تمام مضامین ایڈیٹر رسالہ مولا ترتیب سے پیش خدمت ہیں ۔

١ ...... جہلم کا مقدمہ اور

مولانا شوکت

ہم تو یہ سمجھتے تھے کہ باپ کو چھوٹی اولا قانون ہے کیونکہ اگر ایسا نہ ہو تو چھوٹے چھوٹے بـ بچوں کو مرغی اپنے پروں میں لے کر بیٹھتی ہے اور چونچ میں لیکر کٹ کٹ کرتی اور بچوں کو بلا کر ان بـ بچے اس کے آگے سے دانہ اٹھائیں تو پر پھلا کر ہیں۔ لیکن آسمانی باپ نیچر کا یہ قاعدہ اپنے لے پا نا۔ بلکہ الٹا فریب دیتا ہے۔ لے پالک سے کہہ دیـ یہ بھی وہی بات ہوئی کہ سولی کھڑی ہے۔ اس پر چـ لے پالک پر جہلم میں مقدمہ دائر ہو خارج ہو گیا۔ پھر کیا تھا آسمانی باپ کے پوتوں بـ نامہ اعمال سے بھی بڑے شائع ہونے لگے۔ ڈ آسمانی نشانی ظاہر ہوا۔ پیشینگوئی پوری ہوئی۔ آسـ

٢١

صفحہ ٣٦٧

تعارف مضامین ...... ضمیمہ شحنہ ہند میرٹھ

سال ١٩٠٣ء یکم فروری کے شمارہ نمبر ٥ /کے مضامین

یہ تمام مضامین ایڈیٹر رسالہ مولانا شوکت اللہ کے رشحات قلم سے ہیں۔ اسی ترتیب سے پیش خدمت ہیں۔

١ ...... جہلم کا مقدمہ اور مرزائیوں کی چہ میگوئیاں

مولانا شوکت اللہ میرٹھی !

ہم تو یہ سمجھتے تھے کہ باپ کو چھوٹی اولاد کے ساتھ زیادہ محبت ہوتی ہے اور نیچر کا بھی یہی قانون ہے کیونکہ اگر ایسا نہ ہو تو چھوٹے چھوٹے شیر خوار بچوں کی پرورش کیوں کر ہو۔ دیکھو چھوٹے بچوں کو مرغی اپنے پروں میں لے کر بیٹھتی ہے اور جب دانے نظر پڑتے ہیں تو خود نہیں کھاتی بلکہ چونچ میں لیکر کٹ کٹ کرتی اور بچوں کو بلا کر ان کے آگے ڈال دیتی ہے کہ یوں کھاؤ اور اگر بڑے بچے اس کے آگے سے دانہ اٹھائیں تو پر پھلا کر ان کے ٹھونگیں مارتی ہے گویا وہ سوکن کے پوت ہیں۔ لیکن آسمانی باپ نیچر کا یہ قاعدہ اپنے لے پالک کے ساتھ برتنا نہیں چاہتا۔ قرب قیامت ہے نا۔ بلکہ الٹا فریب دیتا ہے۔ لے پالک سے کہہ دیا کہ مزے سے دندناتا رہ تیرا بال تک بیکا نہ ہوگا۔ یہ بھی وہی بات ہوئی کہ سولی کھڑی ہے۔ اس پر چڑھ جا اور صحیح سالم اتر آ۔

لے پالک پر جہلم میں مقدمہ دائر ہوا۔ کسی بے ضابطگی کی وجہ سے پہلی ہی پیشی میں خارج ہو گیا۔ پھر کیا تھا آسمانی باپ کے پوتوں نے آسمان سر پر اٹھا لیا۔ لمبے چوڑے اشتہارات نامہ اعمال سے بھی بڑے شائع ہونے لگے۔ ڈھول دمامے نوبت نقارے دن دن بجنے لگے کہ آسمانی نشانی ظاہر ہوا۔ پیشینگوئی پوری ہوئی۔ آسمانی باپ کا الہام ٹھیکم ٹھیک، لمڈھیک بن کر نظر

٢١

صفحہ ٣٦٩

آیا۔ یہ خبر نہیں کہ آسمانی باپ نے جھانسا دیا تھا اور اپنے لے پالک کی گردن تڑوانی چاہی تھی۔ بھولے بھالے ننھے منے۔ سانچے پٹھے لے پالک کو کیا معلوم تھا کہ خرانٹ باپ کھیل کر رہا ہے اور اندر ہی اندر لے پالک کی راہ میں کانٹے بو رہا ہے اور فی الحقیقت کھوسٹ باپ بڑا ہی مردود و منافق ہے کہ ظاہر کچھ اور باطن کچھ۔ نتیجہ یہ ہوا کہ مقدمے کے دائر کرنے میں جو بے ضابطگی ہوئی تھی اس کی اصلاح کی گئی اور نامہ نگار نے لکھا کہ مقدمہ از سر نو دائر ہوگا۔ غالباً ہو گیا ہوگا۔ ہم کو معلوم ہوا ہے کہ اس معاملے میں مرزائیوں نے حسب ذیل چہ میگوئیاں کیں۔

ایک! ارے میاں یہ کیا ہوا۔ دوسرا! اجی کچھ بھی تو نہیں برے کی ایسی کی تیسی کی دیسی اور بدخواہوں کی یوں کی توں ہو گئی۔ تیسرا! کیا حضرت اقدس کی پیشینگوئی غلط ہو جائے گی۔ چوتھا! (داڑھی پر ہاتھ پھیر کر) بھلا کوئی پیشینگوئی اب تک غلط ہوئی بھی ہے جو یہ غلط ہوگی۔ ڈیڑھ سو پیشینگوئیاں بال باندھی پوری ہوئیں۔ منکروں کی تو ہیے کی پھوٹ گئی ہے ان کو سوجھے کیا۔ مقدمہ نمبر سابق پر آگیا ہے تو کیا ہوا۔ خدا نے چاہا تو دوہری فتح ہوگی۔ اور دیکھنا مخالفوں کی بس نانی ہی تو مرجائے گی۔ کیا آپ کو اب تک پورا ایمان نہیں۔ کیا آپ اب بھی نہیں سمجھے کہ حضرت اقدس کون ہیں اور ان کی کیا شان ہے۔ وہ مثیل مسیح ہیں۔ عیسیٰ مسیح پر یہودیوں نے کیا کیا ستم نہیں ڈھائے۔ حضرت اقدس پر تو ان کا تہائی اور چوتھائی دسواں، پچاسواں بلکہ سواں حصہ بھی اب تک نہیں ہوا۔ یہ انبیاء کی سنت ہے اور سب سے زیادہ عیسیٰ مسیح کی سنت۔ وہ آسمانی باپ کا صلبی بیٹا ہے تو حضرت اقدس لے پالک۔ پس یہودیوں کے ہاتھوں جو کچھ ہو کم ہے۔ پانچواں! بھئی اصل بات یہ ہے کہ جلدی کی گئی۔ ابھی فتح کا اشتہار نہ کرنا چاہئے تھا جب مقدمہ صرف بے ضابطگی میں خارج ہوا ہے تو ایک بے وقوف سے بے وقوف بھی سمجھ سکتا ہے کہ بے ضابطگی کی اصلاح ہوگی اور مخالفین جو حضرت اقدس کے خون کے پیاسے ہیں کیوں درگزر کرنے لگے۔ کیا کہوں حضرت اقدس کے مشیر ہی کچھ ایسے ہیں کہ انجام پر نظر نہیں ڈالتے۔ میں نے جب ہی کہا تھا کہ ابھی اچھلنا کودنا نہ چاہئے۔ تیل دیکھئے تیل کی دھار دیکھئے۔ اور جلدی ہی کیا تھی؟ چاند چڑھتا ساری دنیا دیکھتی۔

چھٹا! کیا آسمانی نشان جس کے ظہور کی پیشینگوئی کی گئی تھی اور جس کا الہام ہو چکا تھا وہ ظاہر نہ کی جاتی۔ حضرت اقدس تو مامور من اللہ ہیں۔ اپنی جانب سے کچھ بھی نہیں کہتے۔ ان کی شان تو ما ینطق عن الھوی ہے اور مامور کا یہ کام نہیں کہ حق کو چھپائے اور امانت میں خیانت کرے۔ ساتواں! یہ ہماری تمہاری گھر کی بات ہے۔ دوسرا بھی مانے۔ یہودی عیسیٰ مسیح کو مامور من اللہ مانتے تو ظلم ہی کیوں کرتے۔ اب تو دنیا میں الحاد پھیل رہا ہے۔ فلسفہ کی تعلیم نے ستم ڈھا رکھا

٢٢

ہے۔ مامور من اللہ اور نبی رسول کی قدر کسی زمانے جدید فلسفے کی ہیں۔ کسی زمانہ میں پیشینگوئیاں اور الہـ ہی میں فرق ہی کیا ہے۔ آٹھواں! یہ نہ کہو۔ معجزات گزشتہ اور مردہ انبیاء کے معجزات کو نیا نبی آنکھوں بـ کوئی نہیں مانتا۔

دیکھو ہمارے دارالامان کا منارۃ المسیح آ مومنین ہی نے مانا۔ منکرین یہود سیرت کیوں ماننے قبر موجود مگر مسلمان جو نجس عیسائیوں سے بھی گئے سمجھتے ہیں۔ ذرا خیال تو کرو کہ مردہ مسیح تو اب تک ز کے معجزات جو آنکھوں کے سامنے ہیں۔ وہ پیشینگوئیاں دھڑادھڑ پوری ہوئیں اور سینکڑوں آسمانی نشان مانے۔ گزشتہ انبیاء میں کونسا سرخاب کا پر تھا جو ا فرشتوں میں سے منتخب ہو کر آسمان سے اترے انسان ہیں۔ مسلمانوں کا یہ عقیدہ کہ پیغمبر عرب سا اور خدائے قدیر کی قدرت کا سلب کرنے والا ہو کہیں ایک حرف بھی ایسا نہیں جس سے قیامت خاتم النبیین کے سمجھنے میں تمام علماء اور مفسرین ہـ ہیں اور مہر ہر شخص کا نشان اور علامت ہوتی ہے ہے۔ یعنی دوسرے انبیاء کی طرح محمد بھی ایک کوئی نبی نہ آئے گا۔

دیکھو دنیا میں کیسے کیسے اولوالعزم پـ قرآن نے کی ان میں سے کوئی قاطع سلسلہ انبـ وترجیح کی آخر کوئی وجہ بھی۔ اب رہی ’حدیث‘ پیغمبر عرب ایسا خلاف قیاس اور خلا ہمارے مسیح موعود اور امام الزمان نے حکم دیا ہے مارو۔ نواں! آپ نے یہ قصہ جھگڑا پرانا دکھڑا

صفحہ ٣٦٩

ہے ۔ مامور من اللہ اور نبی رسول کی قدر کسی زمانے میں تھی مگر اب نہیں۔ ساری خرابیاں بدبخت جدید فلسفے کی ہیں۔ کسی زمانہ میں پیشینگوئیاں اور الہامات مانے جاتے تھے مگر اب نہیں۔ ورنہ نبی نبی میں فرق ہی کیا ہے۔ آٹھواں! یہ نہ کہو۔ معجزات کو اب بھی لوگ مانتے ہیں مگر صرف پرانے گزشتہ اور مردہ انبیاء کے معجزات کو نیا نبی آنکھوں کے سامنے آسمان سے سیڑھی لگا کر بھی اترے تو کوئی نہیں مانتا۔

دیکھو ہمارے دارالامان کا منارۃ المسیح کیا مسیح موعود کے اترنے کی سیڑھی نہیں مگر اس کو مومنین ہی نے مانا۔ منکرین یہود سیرت کیوں ماننے لگے۔ عیسیٰ مسیح مر گیا۔ گل گیا۔ گلیل میں اس کی قبر موجود مگر مسلمان جو نجس عیسائیوں سے بھی گئے گزرے۔ اس کو ١٩ سو برس سے آسمان پر زندہ سمجھتے ہیں۔ ذرا خیال تو کرو کہ مردہ مسیح تو اب تک معجزات دکھائے اور ہمارے حئی اور قائم مسیح موعود کے معجزات جو آنکھوں کے سامنے ہیں۔ وہ طاق نسیان پر رکھ دیئے جائیں۔ ڈیڑھ سو پیشین گوئیاں جو دن دہاڑے پوری ہوئیں اور سینکڑوں آسمانی نشان جو یکے بعد دیگرے ظاہر ہوئے۔ ان کو کوئی نہ مانے۔ گزشتہ انبیاء میں کونسا سرخاب کا پر تھا جو حضرت اقدس میں نہیں۔ کیا وہ انسان نہ تھے۔ فرشتوں میں سے منتخب ہو کر آسمان سے اترے تھے۔ وہ بھی انسان تھے اور حضرت اقدس بھی انسان ہیں۔ مسلمانوں کا یہ عقیدہ کہ پیغمبر عرب کے بعد کوئی نبی نہ آئے گا۔ اسلام کا برباد کرنے والا اور خدائے قدیر کی قدرت کا سلب کرنے والا اور اس کو ہر طرح عاجز بنانے والا ہے۔ قرآن میں کہیں ایک حرف بھی ایسا نہیں جس سے قیامت تک انبیاء کی آمد کا سلسلہ منقطع سمجھا جائے۔ لفظ خاتم النبیین کے سمجھنے میں تمام علماء اور مفسرین بلکہ خود صحابہ نے غلطی کھائی۔ خاتم کے معنے مہر کے ہیں اور مہر ہر شخص کا نشان اور علامت ہوتی ہے۔ پس یہ مطلب ہوا کہ پیغمبر عرب انبیاء کا نشان ہے۔ یعنی دوسرے انبیاء کی طرح محمد بھی ایک نبی ہے۔ اس سے یہ کہاں نکلا کہ اب قیامت تک کوئی نبی نہ آئے گا۔

دیکھو دنیا میں کیسے کیسے اولوالعزم نبی گزرے جن کی تصدیق خود پیغمبر عرب نے بلکہ قرآن نے کی ان میں سے کوئی قاطع سلسلہ انبیاء نہ ہوا صرف پیغمبر عرب ہوا۔ بھلا اس خصوصیت و ترجیح کی آخر کوئی وجہ بھی۔ اب رہی ’حدیث لا نبی بعدی‘ یہ یاروں کی نری گھڑت ہے۔ پیغمبر عرب ایسا خلاف قیاس اور خلاف نیچر دعویٰ نہ کر سکتا تھا جو قرآن کے خلاف ہو۔ ہمارے مسیح موعود اور امام الزمان نے حکم دیا ہے کہ جو حدیث قرآن کے خلاف ہو اسے پتھروں سے مارو۔ نواں! آپ نے یہ قصہ جھگڑا پرانا دکھڑا کیوں چھیڑ دیا۔ ایسی ہی باتوں نے تو مسلمانوں کو

٢٣

صفحہ ٣٧١

برہم کیا اور حضرت اقدس کا ان کو دشمن بنایا۔ گفتگو اس امر میں تھی کہ گو حضرت اقدس پر الہام ہو چکا تھا کہ آسمانی نشان ظاہر ہو گا مگر اس کے ظاہر کرنے میں ایسی جلدی کیوں کی گئی۔ وہ تو خود ہی ظاہر ہو جاتا اور الہام ضرور پورا ہوتا اور جب کہ ہماری طرف سے مخالفوں پر گورداسپور میں مقدمہ دائر ہے تو صاف ظاہر ہے کہ نیچے بیٹھنے والے نہ تھے۔ ہر شخص اپنے کو حریف کے پنجوں سے بچاتا اور اس کو ضرر پہنچانا چاہتا ہے۔ ممکن نہیں کہ ہم تو دشمن پر حملہ کریں اور وہ ہتھیار خاموش بیٹھا رہے اور تر کی بتر کی جواب نہ دے پس کم از کم ہم کو اپنے مقدمہ مرجوعہ گورداسپور کا انتظار کرنا چاہئے تھا۔ خدائے تعالیٰ کی طرف سے کسی نبی پر خلاف عقل اور مغائر الہام نہیں ہوتا۔ یہ جلد بازی حضرت اقدس کی جانب سے نہیں ہوئی بلکہ ہمارے بھائیوں کی جانب سے ہوئی ہے۔ راوی! میں یہ چہ میگوئیاں چپکا چپکا ایک گوشے میں بیٹھا سنتا رہا۔ بے تحاشا ہنسی آتی تھی مگر ضبط کرتا تھا۔ یہ خبر کسی کو بھی نہیں کہ آسمانی باپ کی ناک ابھی تک اپنے لے پالک سے سیدھی نہیں ہوئی۔ وہ ضرور غضب ناک ہے۔ اس کی وجہ بظاہر یہ معلوم ہوتی ہے کہ لے پالک میں اوچھاپن اور کم ظرفی پیدا ہو گئی ہے۔ وہ ذرا سی بات میں اچھل پڑتا ہے۔ جامہ سے باہر ہو جاتا ہے۔ آسمانی باپ نے نشان کے ظاہر ہونے کا الہام ضرور کیا تھا مگر وہ نشان یہ نہ تھا جس کو لے پالک نشان سمجھا وہ تو چند روز میں مقدمات کے انفصال پر ظاہر ہو گا اور یوں تو قادیان میں اگر کوئی گوز بھی مارتا ہے تو اس کو آسمانی نشانی اور فتح کا نقارہ بتایا جاتا ہے اگر یہ جلد بازی نہ ہو تو پیٹ پھول جائے۔ اور کھایا پیا نہ پچے۔ پہلی پیشی میں مقدمہ کے خارج ہونے کے شادیانے تو بجائے گئے مگر جب مقدمہ پھر نمبر سابق پر دائر ہو گیا تو اس کا ذکر غائب غلہ۔ ایسی ہی باتوں سے جن میں اصلی واقعات چھپائے جاتے ہیں۔ آسمانی باپ ناراض ہو کر ڈانٹ بتاتا ہے کہ تفاول پر تو پھڑ پھڑ ہوتے ہیں اور تشائم اور تطیر پر گویا نانی مرجاتی ہے یہ سبک سری آسمانی باپ پر بھاری ہو کر لے پالک کو نظروں سے گرا دیتی ہے۔

مرزا نے جب دیکھا کہ میری مخالفت رکی نہیں تو لوگوں پر مقدمات دائر کرو۔ ان پر جرمانے کراؤ۔ ان کو جیل خانے بھجواؤ یوں مسلمان دنیا میرا لوہا مان جائے گی اور مخالفوں کا سد باب ہو جائے گا۔ پھر تو مطلع صاف ہے۔ ہمیں ہم ہیں۔ مسلمانوں کو دھڑادھڑ مرزائی بناؤ الحاد پھیلاؤ۔ نذرانے اور دکشنئے لو۔ دولت جمع کرو۔ جائیدادیں خریدو۔ مستانوں کے لئے جڑاؤ زیور بنواؤ ؎

جو خانہ ہستی میں ہے میرے ہی لئے ہے
جو ذائقہ مستی میں ہے میرے ہی لئے ہے

مگر یہ چال الٹی پڑی اور یہ حکمت عملی نہایت مضر اور خراب ثابت ہوئی۔ آسمانی باپ

٢٤

نے یہ نہ سوچا ہی کہ اے ناخلف لے پالک تو نے تما تمام علماء اور مشائخ کی تذلیل و توہین میں کون ک رکھے۔ ایک ایک مقدمے کا جواب ہر مقام پر سوسو حواری کہاں کہاں مارے پھریں گے اور کس کس وصیت کا جثہ چاک چاک ہو گا اور حملۃ الانبیاء س گے۔ چیتھڑے لگیں گے تو کہاں کہاں رفو ہو گا۔

ہمارے علماء اور مشائخ کو کیا کیا ذلیل تدارک نہیں چاہا۔ صرف تحریری جواب دیئے۔ یہ ثبوت ہے کہ جب ہر طرح سے ہارے تو اٹھا اٹھا ک طرف سلسلہ شروع ہو گیا تو انجام بہت خراب ہو گ باز دعوے دیئے جائیں اور مصالحت کی جائے۔ ا ایک بھی شکست کھائی تو ہوا اکھڑ جائے گی اور رنگ ہو جائیں گے اور خالی ٹاپا ہی ٹاپا ہو جائے گا۔

٢ ...... جلد مولانا شوکت

چند روز تو مجددانہ معرکہ کی چٹخار اور چانڈو باز کو رہتا ہے مگر دفعتاً پھر بم چھوٹی اور ک جب لے پالک کے خیر مقدم یا لنڈوری میں چا بھاری علامت ہے تو الہامات کیوں نہ دوڑیں۔

نبی کے ساتھ کتاب یا صحیفہ کا ہونا ض سوشل اور تمدنی امور کی اصلاح کرے۔ اب دی ہے۔ اپنی شیخی اور خود ستائی کے سوا کچھ بھی نہیں ہ اور خدا مجھ سے۔ میں سچا ہوں اور ضرور سچا ہوں ا ہیں۔ آسمانی باپ بڑی محبت بھری اس سے میری چلتا ہوں۔ میں تلوار وغیرہ سے قتل نہ ہوں گا۔ نہیں ۔) کوئی پوچھے آپ کا جانی دشمن کون ہے

صفحہ ٣٧١

نے یہ نہ سوجھائی کہ اے ناخلف لے پالک تو نے تمام مذاہب کے کبراء اور مقتداء اور پیشواؤں اور تمام علماء اور مشائخ کی تذلیل و توہین میں کون سی بات اٹھا رکھی ہے کہ تیرے واسطے کوئی اٹھا رکھے۔ ایک ایک مقدمے کا جواب ہر مقام پر سو سو مقدمات ہو سکتے ہیں۔ لے پالک اور اس کے حواری کہاں کہاں مارے پھریں گے اور کس کس مقام پر ٹانگ الجھائیں گے۔ جب مہدویت و مسیحیت کا جبہ چاک چاک ہوگا اور حلۃ الانبیاء کے چیتھڑے اڑیں گے اس میں تھگلے پڑیں گے۔ چھینگرے لگیں گے تو کہاں کہاں رفو ہوگا۔

ہمارے علماء اور مشائخ کو کیا کیا ذلیل کیا گیا مگر انہوں نے صبر کیا اور عدالت سے تدارک نہیں چاہا۔ صرف تحریری جواب دیئے۔ یہ صاف مرزا اور مرزائیوں کے عاجز ہو جانے کا ثبوت ہے کہ جب ہر طرح سے ہارے تو اٹھا اٹھا کر پتھر مارے۔ ہم کو خوف ہے کہ مقدمات کا چار طرفہ سلسلہ شروع ہو گیا تو انجام بہت خراب ہوگا۔ لہٰذا بہتر یہی ہے کہ طرفین سے عدالتوں میں باز نامے دیئے جائیں اور مصالحت کی جائے۔ ہم یہ اس لئے کہتے ہیں کہ اگر مرزا قادیانی نے ایک بھی شکست کھائی تو ہوا اکھڑ جائے گی اور رنگ روپ بگڑ جائے گا۔ مرزائی ایک ایک کر کے پھر ہو جائیں گے اور خالی ٹاپا ہی ٹاپا ہو جائے گا۔

٢ ...... جدید الہامات

مولانا شوکت اللہ میرٹھی!

چند روز تو مجدد دجالۂ مشرقیہ کی پچھاڑ کی وجہ سے الہامات کا یوں قبض رہا جیسے کسی افیمی اور چانڈو باز کو رہتا ہے مگر دفعۃً پھر نہر چھوٹی اور گھڑگھڑا کر الہامات کا تار بندھ گیا۔ سردی کی موسم میں جب لے پالک کے خیر مقدم یا لیفٹننٹی میں چار طرف سے طاعون دوڑتا ہے جو مسیح موعود کی بڑی بھاری علامت ہے تو الہامات کیوں نہ دوڑیں۔

نبی کے ساتھ کتاب یا صحیفہ کا ہونا ضروری ہے جو انسان کے دینی و دنیوی پولیٹیکل اور سوشل اور تمدنی امور کی اصلاح کرے۔ اب دیکھنا چاہئے کہ مرزا قادیانی کے الہامات میں کیا ہوتا ہے۔ اپنی شیخی اور خود ستائی کے سوا کچھ بھی نہیں ہوتا۔ میں خدا کا بمنزلہ ولد ہوں۔ میں خدا سے ہوں اور خدا مجھ سے۔ میں سچا ہوں اور ضرور سچا ہوں اور بیچ کھیت سچا ہوں۔ میرے مخالفین مردود اور جہنمی ہیں۔ آسمانی باپ بڑی محبت بھری ادا سے میری طرف دوڑتا ہے جب میں عرش کے فرش پر گھٹنوں چلتا ہوں۔ میں تلوار وغیرہ سے قتل نہ ہوں گا۔ (ہاں کوئی سنکھیا یا دھتورا دے دے تو اس کی خبر نہیں ۔) کوئی پوچھے آپ کا جانی دشمن کون ہے اور کوئی ہو بھی تو دوسرے فرقے اور مذہب کا دشمن

٢٥

صفحہ ٣٧٢

ہے مگر پرامن عہد سلطنت کے خوف سے سب مجبور ہیں ورنہ ہمیشہ ویسے ہی قتل عمد ہوا کرتے جیسے سکھا شاہی اور مرہٹہ گردی وغیرہ میں ہوا کرتے تھے۔

اصل حقیقت یہ ہے کہ مرزا قادیانی اسلام جیسے عالی شان اور محیط مذہب کی حقیقت ہی سے ناواقف ہیں۔ اگر کتب فقہ کنز ہدایہ وغیرہ کی کوئی جزئی دینیات و معاملات کے بارے میں ہو مرزا قادیانی اور تمام مدعیان علم و تہذیب (مرزائیوں) کے سامنے پیش کی جائے تو اس کے افہام و تفہیم سے سب کی عقل گھن چکر ہو جائے گی۔ حالانکہ ان کتابوں کو اسلامی مجموعی قوانین (قرآن و حدیث) سے وہی نسبت ہے جو قطرے کو دریا سے اور ذرے کو صحرا سے۔ ہم نے کنز اور ہدایہ کا ذکر کیا ہے اصول فقہ کی بسیط کتابیں مسلم الثبوت عضدی اور بزدوی کی تو مرزا اور مرزائیوں نے شکل بھی نہ دیکھی ہوگی۔ پھر جب تم یہ کتابیں جن کا بیشتر ماخذ قرآن و حدیث ہے۔ نہیں سمجھ سکتے تو قرآن وحدیث کو کیا سمجھو گے۔ ہاں اتنا سمجھ سکتے ہو کہ احمد جو قرآن مجید کی آیت میں وارد ہوا ہے تو اس سے مراد غلام احمد ہے اور الحمد سے چونکہ لفظ احمد مشتق ہے۔ لہٰذا سورہ الحمد غلام احمد کی شان میں اتری ہے۔ یہ ایسی حماقتیں ہیں کہ ادنیٰ عقل والا بھی ان پر ہنستے ہنستے لوٹن بن جائے گا مگر واہ رے عقل کل مرزائیو کہ تم ان حماقتوں کو نہیں سمجھتے۔ ضرور سمجھتے ہو مگر بات یہ ہے کہ ہاتھی کے پاؤں میں سب کا پاؤں مزے میں چھپے ہیں۔ زعفرانی اور سقنقوری حلوے ہیں۔ ہوا پرستیاں ہیں اور حکمتیں ہیں مگر کب تک۔

اے شیخ ایک چور ہے ہادی نسیم صبح
مارے گی کوئی دم میں ترے تاج زر پہ ہاتھ

اسلام وہ عالی شان مجموعہ تہذیب خدائی مذہب ہے کہ بڑے بڑے بت پرست آتش پرست ہوا پرست لوگ اپنے آبائی مذاہب کو چھوڑ کر اس میں شامل ہوئے اور اب تک یہ سلسلہ جاری ہے اور انشاء اللہ قیامت تک جاری رہے گا۔ یورپین لوگ کیسے کائیاں فلسفی مزاج اور سائنس و فلسفہ کے کتنے تعلیم یافتہ ہیں مگر وہ بھی آبائی صلیب پرستی اور تثلیث پرستی چھوڑ کر اسلامی توحید و رسالت پر ایمان لا رہے ہیں۔ اب مرزاجی بتائیں کہ ان کے نئے دین میں کتنے ہندو، سکھ، آریا، یہودی، عیسائی، پارسی، بودھ شامل ہوئے ایک بھی نہیں۔ کیا رسول اور نبی ایسے ہی ہوتے ہیں؟ اسلام تمام دنیا کے واسطے ہے اور اس کے اخلاقی اصول سے کوئی انصاف منش مذہب انکار نہیں کر سکتا۔ اب بتاؤ مرزا قادیانی نے کونسا نیا اصول ایجاد کیا جس کو کوئی مذہب والا مان سکے۔

آپ اسلام کی اصلاح کے لئے اٹھے ہیں۔ سبحان اللہ ایسے ہی لوگ مصلح ہوتے ہیں کہ جس کامل

٢٦

صفحہ ٣٧٣

اور اکمل مذہب کی اصلاح کرنے چلے ہیں خود اس کے اصول نہیں سمجھ سکتے اور سمجھتے ہیں تو صرف اتنا کہ قرآن میں فلاں فلاں آیت میری شان میں اور مجھ پر نازل ہوئی ہے۔ تھوڑی سی سمجھ کا آدمی ان حماقتوں کو سن کر غصے میں بھر جاتا ہے اور جب کچھ بس نہیں چلتا تو مجبور ہو کر یہ چاہتا ہے کہ سر پیٹ ڈالے۔

قرآن کی آیتیں میرے حق میں اس لئے ہیں کہ میں بروزی محمد ہوں۔ مگر محمد ﷺ کی حدیث سے انکار۔ کیا اچھا بروز ہے؟ یہ تو شیطانی ابراز ہے۔ ہنود کو گالیاں دیں اور انہیں سے بروز (تناسخ) لیا۔ یہ نئے اسلامی نبی اور رسول ہیں۔

٣ ...... غیب دانی

مولانا شوکت اللہ میرٹھی !

پیشینگوئی کرنے والا یہ ظاہر کرتا ہے کہ میں غیب دان ہوں یا دوسرے الفاظ میں یہ کہتا ہے کہ میں خدا ہوں۔ چونکہ یہ صفت خاص خدائے تعالیٰ کی ہے لہٰذا کسی نبی نے ایسا دعویٰ نہیں کیا۔ آنحضرت ﷺ نے بڑی زجر وتوبیخ کے ساتھ ممانعت فرمائی۔ آپ ﷺ نے صاف فرمایا کہ میں نہیں جانتا قیامت میں میرے ساتھ کیا معاملہ ہوگا۔ یہ کام نجومیوں، رمالوں، سادھو بچوں کا ہے جو اس حیلے سے روٹی کماتے ہیں۔ اب ہم پوچھتے ہیں کیا مرزا قادیانی ایسے چلتے پرزوں سے کم ہیں۔ کم کیا معنی چند بالشت بڑھے ہوئے ہیں۔ اتنا فرق ہے کہ نجومیوں اور رمالوں کی اٹکل کا تیر تو کبھی لگ بھی جاتا ہے مگر مرزا قادیانی کے تمام تر تکے ہوائی رہے۔ نشانے پر ایک بھی نہ لگا مگر وہیں دھوکہ دہی بھی ہے کہ تمام پیشینگوئیاں پوری ہوئیں۔ ایک جھول میں دعویٰ تو تھا نر کا مگر نکلی مادی اس کی یہ تاویل گھڑی کہ میں نے یہ کہاں کہا تھا کہ اس گابھ میں کنوتیاں بدلتا، ٹانگیں مارتا، راتب مانگتا، آٹھوں گانٹھ کمیت برآمد ہوگا۔

آسمانی باپ نے کچھ ٹھیکہ نہیں کر دیا کہ نر اسی جھول میں ہو دوسری میں نہ ہو۔ یہ خاصہ تو صرف آسمانی باپ کا ہے کہ ایک ہی جھول نکال کر عنین ہو گیا اور مجبور ہو کر مجھے لے پالک بنالیا۔ مگر میرے دم خم ایسے نہیں کہ بس ایک جھول میں پر پرزے گر جائیں۔ دیکھ لو میں نے دوسرے جھول میں کیسا ڈینگر اصیل کا سا پورا نکلوا یا۔ آسمانی منکوحہ والی پیشینگوئی تو ایسی پوری ہوئی کہ باید وشاید۔ اندھوں کو نظر نہیں آئی۔ قاضی فلک نے نکاح پڑھا۔ زہرہ اور مشتری نے سہرا گایا۔ فرشتوں میں مبارک سلامت ہوئی۔ بس وہ تیرے نکاح میں آگئی۔ کسی کو دکھائی نہ دے تو اس میں میرا کیا قصور؟ اس کے جتنے انڈے بچے ہوئے اور ہوں گے وہ سب میرے ہیں۔ اور

٢٧

صفحہ ٣٧٤

میرے ہی کہلائیں گے۔ میں منہ میں لٹکالے کر اور آنکھوں سے الوپ انجن ہو کر ہر شب وہاں وارد ہوجاتا ہوں۔ میں سب کو دیکھتا ہوں مجھے کوئی نہیں دیکھتا۔ اور خود منکوحہ کو بھی معلوم نہیں ہوتا۔ مجھے یہ لٹکا روح القدس سے ملا ہے۔

اگر کسی میں قوت قدسیہ ہے تو روح القدس کے فیضان کی کیفیت (نعوذ باللہ) بی بی مریم سے پوچھ لے اور تصدیق کر لے۔ میری پیشینگوئی کا مطلب یہ تھا کہ نکاح آسمان میں ہوگا۔ زمین پر اس کا ظہور نہ ہوگا دیکھ لو ایسا ہی ہوا۔

٤ ...... وہی دس ہزار روپیہ والا قصیدہ

مولانا شوکت اللہ میرٹھی!

ہم بار ہا لکھ چکے ہیں اور پھر لکھتے ہیں کہ کسی کلام میں جب تک مجدد السنۃ شرقیہ شوکت اللہ کی اصلاح نہ ہو اور تصدیق کے لئے اس پر دستخط نہ ہو جائیں ٹکسال باہر ہے اور پبلک میں ہرگز مقبول نہیں ہو سکتا۔ پس جو لوگ کاتا اور لے دوڑی کو زیر نظر رکھتے ہیں بڑی غلطی کرتے ہیں۔ اردو، عربی، فارسی میں کیسے ہی پایہ کا کلام ہو مگر یا درکھو کہ وہ مجدد کی اصلاح کا محتاج ہوگا۔ لیجئے ۔

فَجَآؤُ بِذِئْبٍ بَعْدَ جَهْدٍ اِذَابَهُمْ
تَعَنّٰی شَاءَ اللّٰهُ مِنْهُ وَعَلَّمَهْ

خوب گداختن اور اِذَابَہ گدازانیدن یعنی دوسرے سے گلوانا مگر جہد کی یہ صفت نہیں ہوسکتی۔ کیونکہ یہ معنے ہوئے کہ بڑی کوشش کے بعد جس نے ان کو گلوا دیا ایک بھیڑیا لائے اور دوسرے مصرعے میں عَنّٰی یا تَعَنّٰی کا صلہ بـ آتا ہے نہ کہ من صلہ کے حروف جارہ کی تمیز نہیں۔ ”وقال استروا امری وانی ارودھم ٠ اخاف علیہم ان یفروا ویدبروا “ ستار باب افتعال سے نہیں آتا بلکہ استتار آتا ہے اور مستر بھی کسی امر یا بھید کے چھپانے کو نہیں کہتے بلکہ پردے اور پوشش اور پردے میں چلے جانے اور لباس کو کہتے ہیں۔ امر یا راز کے چھپانے کو اخفاء کہتے ہیں۔ پس مصرعہ اولیٰ یوں بنا لیجئے ۔

وقال اخفوا امری وانی ارودھم

یا یوں کہو

وقال اخفوا سری وانی ارودھم

اور مصرعہ ثانیہ میں یدبرو غلط ہے اگر پشت دیئے جانے یعنی بھاگنے کے معنے ہیں تو ادبار مصدر لازم نہیں بلکہ متعدی ہے اور اگر باب افعال سے صیغہ مجہول ہے تو یہ معنے ہوئے کہ

٢٨

٥

پشت دیئے جائیں جو بالکل مہمل ہے۔ بھاگنے ادبار ۔

رَؤْا بُرْجَ بُهْتَانٍ
فَقَالُوا الْحَـ

برج بہتان ماشاء اللہ خیر نال کی گل اور تعمیر کیا ہے؟ شاید مرزا قادیانی اسے اپنا برج

فَصَارَ وَبِمَـ
وَيَعْلَمُهَا اَحْـ

رخ نیزے کو کہتے ہیں اور زیادہ منا یعنی۔

فَصَارُوْا بِـ
وَاِنَّ لِسَانَ الْمَـ
اَصَلَةً عَلٰی عَـ

اصلۃ بمعنے عقل بڑا بھاری اجنبی لـ صاف لفظ (صواب) کیوں بھرتی نہ کر دیا یعنی

صَوَابٌ عَلٰی

آپ کو تو زحاف کا دور کرنا بھی نہیں

٥ ...... مرز

مولانا شـ

سید سکندر شاہ پشاوری جو غسل آفتـ ہیں کہ مرزا قادیانی آئیں اور مجھے دریائے آ پر چلیں ورنہ دعوے مسیحیت سے باز آجا ئیں عطاء کر دیتا ہے چنانچہ حضرت ابراہیم خلیل پر ان پر بھی آگ سرد ہو جائے گی ورنہ مرزا قـ بیعت کریں۔

بات تو ٹھیک ہے اب دونوں کی

صفحہ ٣٧٥

پشت دیئے جائیں جو بالکل مہمل ہے۔ بھاگنے اور پیٹھ دیئے جانے کے لئے استدبار آتا ہے نہ کہ ادبار ۔

رؤا برج بهتان تشاد و تعمر
فقالو الحاک الله كيف تزور

برج بہتان ماشاء اللہ خیر نال ٹکی گل ہے۔ زبان عرب میں برج بہتان کس نے باندھا اور تعمیر کیا ہے؟ شاید مرزا قادیانی اسے اپنا برج منارہ سمجھے ہیں۔ کسی شاعر عرب کی سند پیش کیجئے۔

فصار وبہذ للرماح درية
ويعلمها احمد على المدبر

رمح نیزے کو کہتے ہیں اور زیادہ مناسب سہم یعنی تیر ہے پس رماح کی جگہ سہام چاہئے یعنی۔

فصارو ابہذ للسهام درية
وان لسان المرء مالم يكن له
اصاة على عوراته هو مشعر

اصاة بمعنے عقل بڑا بھاری اجنبی چینی مغل محاورہ چین سے ڈھونڈ کر لائے۔ سلیس اور صاف لفظ (صواب) کیوں بھرتی نہ کر دیا یعنی ۔

صواب على عوراته وهو مشعر

آپ کو تو زحاف کا دور کرنا بھی نہیں آتا۔ (باقی آئندہ)

٥ ...... مرزا قادیانی کا رقیب

مولانا شوکت اللہ میرٹھی!

سید سکندر شاہ پشاوری جو غسل آتشین کرنے میں مشہور ہیں۔ ڈنکے کی چوٹ للکارتے ہیں کہ مرزا قادیانی آئیں اور مجھے دریائے آتش کی مچھلی بنتے ہوئے دیکھیں اور میرے ساتھ آگ پر چلیں ورنہ دعوے مسیحیت سے باز آ جائیں کیونکہ انبیاء کو خدائے تعالیٰ ایسی فوق العادت قوت عطاء کر دیتا ہے چنانچہ حضرت ابراہیم خلیل پر آگ سرد ہو گئی۔ اگر مرزا قادیانی سچے مسیح موعود ہیں تو ان پر بھی آگ سرد ہو جائے گی ورنہ مرزا قادیانی اپنے دعویٰ سے باز آئیں اور میرے ہاتھ پر بیعت کریں۔

بات تو ٹھیک ہے اب دونوں کی خوب مل کر بجے گی مگر آسمانی باپ نے جب پہلوٹھے

٢٩

صفحہ ٣٧٦

کی طرح لے پالک کو دوسرے بیٹوں کے گناہوں کے کفارہ میں نہ صلیب پر کھینچا نہ جہنم میں جھونکا تو اس کو آگ میں کیوں جھونکنے لگا لوگوں کا کیا بگڑا۔ ایک بڑ ہانک دی کہ لے پالک آگ سے کھیلے۔ وہ تو معصوم ہے، شیر خوار ہے، نادان ہے، بے عقل ہے، ضرور آگ میں گھٹنوں چلنے لگے گا جل کر سواہ ہو گیا تو کسی کا کیا بگڑے گا جس طرح آسمانی باپ پہلوٹے صلبی بیٹے کو رو بیٹھا کیا اسی طرح لے پالک کو بھی رو بیٹھے۔ واہ جی واہ۔ اچھی کہی۔ یہ لوگ کسی طرح یہودیوں سے کم نہیں کیونکہ لے پالک کی جان کے خواہاں ہیں۔ آسمانی باپ ایسے جھانسوں کو خوب سمجھتا ہے پس وہ ہرگز اجازت نہ دے گا۔

٦ ...... اثبات عقائد پر دلائل

مولانا شوکت اللہ میرٹھی !

مرزا قادیانی کے ایک نئے مرید متواتر اشتہارات دے رہے ہیں کہ تمام مسلمان ان کے مرشد اور امام الزمان اور مسیح موعود کے خروج اور بعثت کو جانچیں اور اچھی طرح پرکھیں اور پھر ان پر ایمان لائیں۔ حال میں ایک اشتہار بدیں مضمون شائع کیا ہے کہ: ”اگر کوئی صاحب کسی آیت قطعیۃ الدلالۃ یا کسی حدیث صحیح مرفوع متصل سے حضرت عیسیٰ کا جسم خاکی کے ساتھ زندہ آسمان پر اٹھایا جانا اور پھر آئندہ کے لئے زندہ آسمان سے اترنا ثابت کردیں تو میں پچیس روپے کی جیبی گھڑی نذر کروں گا اور مرزا قادیانی کی بیعت سے دستکش ہو جاؤں گا ۔“

بفرض محال کوئی یہ باتیں ثابت نہ کر سکے تو مرزا قادیانی کے پاس مسیح موعود ہونے کی کیا دلیل ہے؟ اس سے یہ کیونکر ثابت ہو جائے گا کہ مرزا قادیانی مسیح موعود ہیں۔ ہم کہتے ہیں کہ اگر مرزا قادیانی اپنا مسیح موعود اور بروزی نبی اور رسول ہونا منتخب علماء اور مشائخ کے جلسے میں ثابت کردیں تو ہم پانچ سو روپیہ انعام دیں گے ۔ یہ دعویٰ تو ہر شخص کر سکتا ہے کہ میں مسیح موعود ہوں اور پیرس میں دو مسیح موجود ہیں اور علی الاعلان کہہ رہے ہیں کہ ہم مسیح موعود ہیں۔ ان کے اور مرزا قادیانی کے دعوے میں کیا فرق ہے یہی نا کہ انہوں نے کوئی شرطیں نہیں لگائیں اور مرزا قادیانی لغو اور بے ہودہ شرط لگا رہے ہیں اور گویا ثابت کر رہے ہیں کہ میں اس صورت میں مسیح موعود ہوں کہ کوئی قرآن وحدیث سے عیسیٰ مسیح کا زندہ آسمان پر اٹھایا جانا ثابت کرے۔ انہیں کے دعوے سے ان کی مسیحیت ابھی مشروط و معلق ہے حالانکہ مذکورہ بالا دو تو مسیح کوئی شرط نہیں لگاتے ۔ پہلے مرزا قادیانی اپنے حریفوں اور رقیبوں کا دعویٰ باطل کریں تب میدان میں آکر دم ماریں کیونکہ تین مسیح

٣٠

موعود نہیں ہو سکتے ۔ مرزا قادیانی کو تو صرف یہ شک اور البتہ اور بے ریب اور حتمی اور یقینی مسیح مصادرة علی المطلوب کو نہیں جانتا اسے منطق وا جن دلائل سے مرزا قادیانی آسما قابل مضحکہ ہیں۔ رفع سے رفع روح یا سلب یہی روداد ہوتی تو اماتہ اللہ فرماتا ۔ پھر رفع روح فضیلت ثابت نہیں ہوتی۔ ایک مچھر اور مکھی ک ہے تو تمام مومنین ، صادقین ، صلحاء اور شہداء ا نہیں۔ پھر بھی اعتراض یہودی اور آریا اور و نہیں۔ اس صورت میں مرزا قادیانی مسلما ہونے کے مدعی ہیں۔

رفع روحانی سے رفع مراتب مر روح اللہ میں ان کو یہ مرتبہ پہلے ہی حاصل ۔ پھر آیت میں لفظ شبہ فضول ٹھہرتا ہے کیونکہ ا آیت کا سیاق بگڑتا ہے کہ جھگڑا تو صلب اور اپنی موت مرے۔ مشتبہ امر تو اب واقع ہوا ا ملتوی کر دیا۔ حالانکہ ولکن حرف عطف بمعنی کرتا ہے۔ بات یہ ہے کہ ملحدانہ تاویل کرنی علماء وفضلاء تو قرآن وحدیث کے بحر بے پای کی مچھلیاں ان کا کیا مقابلہ کر سکتی ہیں۔ ا ہو جاتی ہیں۔ اسی قسم کی لغو اور بے ہودہ تاویل مرزائی مزخرفات کو اپنے دعوؤں کی سند میں مرزا جو مرزائیوں کا امام الزمان ۔ وہ خود تھا سے بڑھ کر دین اسلام کا کون دشمن ہوگا ؟

صفحہ ٣٧٧

موجود نہیں ہو سکتے۔ مرزا قادیانی کو تو صرف یہ کہنا چاہئے تھا کہ میں ضروری اور قطعی اور یقینی اور بے شک اور البتہ اور بے ریب اور حتمی اور عینی مسیح موعود ہوں۔ دلیل ہے کہ میں مسیح موعود ہوں۔ میں مصادرۃ علی المطلوب کو نہیں جانتا اسے منطق والے جانیں۔

جن دلائل سے مرزا قادیانی آسمان پر عیسیٰ مسیح کے اٹھائے جانے کے منکر ہیں وہ خود قابل مضحکہ ہیں۔ رفع سے رفع روح یا سلب روح یا موت مراد لیتے ہیں۔ اگر جناب باری کی بھی یہی روداد ہوتی تو اماتہ اللہ فرماتا۔ پھر رفع روح یا سلب روح مراد لینے سے عیسیٰ مسیح کی کوئی ترجیح اور فضیلت ثابت نہیں ہوتی۔ ایک مچھر اور مکھی کی روح بھی سلب ہوتی ہے اور اگر رفع درجات مراد ہے تو تمام مومنین، صادقین، صلحاء اور شہداء اس میں شامل ہیں پھر بھی عیسیٰ مسیح کی کوئی خصوصیت نہیں۔ پھر یہی اعتراض یہودی اور آریا اور دہریے بھی کرتے ہیں۔ یعنی معجزات انبیاء کے قائل نہیں۔ اس صورت میں مرزا قادیانی مسلمان نہیں ہیں اور نہ قابل خطاب۔ حالانکہ وہ مسلمان ہونے کے مدعی ہیں۔

رفع روحانی سے رفع مراتب مراد لینا تحصیل حاصل ہے کیونکہ عیسیٰ مسیح کلمۃ اللہ اور روح اللہ ہیں ان کو یہ مرتبہ پہلے ہی حاصل ہے اور اگر یہ مراد ہے کہ وہ دنیا میں اپنی موت مرے تو پھر آیت میں لفظ شبہ فضول ٹھہرتا ہے کیونکہ اپنی موت مرنے میں نہ کوئی شبہ ہے نہ کوئی جھگڑا۔ پھر آیت کا سیاق بگڑتا ہے کہ جھگڑا تو صلب اور قتل میں ہوا اور مسیح علیہ السلام اس سے سالہا سال بعد اپنی موت مرے۔ مشتبہ امر تو اب واقع ہوا اور جناب باری نے اس کا ازالہ چند سال یا چند ماہ پر ملتوی کردیا۔ حالانکہ ولکن حرف عطف بمعنے استثنیٰ۔ اس واقعہ کے فوری اور متصل ہونے پر دلالت کرتا ہے۔ بات یہ ہے کہ ملحدانہ تاویل کرنی بھی نہیں آتی۔ جہالت کی گرم بازاری ہے۔ ہمارے علماء وفضلاء تو قرآن وحدیث کے بحر بے پایاں کی مچھلیاں ہیں۔ بھلا تاویلوں کے گندے تالابوں کی مچھلیاں ان کا کیا مقابلہ کرسکتی ہیں۔ اس قسم کی ملحدانہ تاویلات ان کے سامنے نقش بر آب ہوجاتی ہیں۔ اسی قسم کی لغو اور بے ہودہ تاویلیں مخالفان مذہب کو انگشت نمائی کا موقع دیتی ہیں۔ وہ مرزا کی مزخرفات کو اپنے دعوؤں کی سند میں پیش کرتے ہیں کہ یہ اعتراض ہم ہی نہیں کرتے بلکہ مرزا جو مرزائیوں کا امام الزمان ۔ وہ خود تمہارے قدیمی مفسرین کو رد کرتا ہے۔ پس مرزا قادیانی سے بڑھ کر دین اسلام کا کون دشمن ہوگا؟

٣١

صفحہ ٣٧٩

تعارف مضامین ...... ضمیمہ شحنہ ہند میرٹھ

سال ١٩٠٣ء ٨ فروری کے شمارہ نمبر ٦ کے مضامین

میرٹھی کے ہیں۔

صفحہ آخری نہ مل سکا۔

اسی ترتیب سے یہ مضامین پیش خدمت ہیں:

١ ...... مرزا غلام احمد قادیانی کے مقدمات

حکیم مظہر حسین قریشی!

مقدمہ کی فتح کی خوشی میں مریدانِ باصفا نے مرزا قادیانی کے مراتب کو اور بھی بلند فرما دیا۔ چنانچہ اخبار الحکم کے ضمیمہ میں جو اس عظیم الشان فتح پر ان کو مبارک باد دی گئی ہے۔ اس میں ذیل کے الفاظ قابل نقل ہیں: ”اے خدا کے برگزیدہ رسول! الحق، خدا تیرے ساتھ کھڑا ہوا ہے۔ اے نبی اللہ! تجھے وہ بشارت ملی ہے جس کا وعدہ بشارة تلقاها النبيون (تذکرہ ص ٤٤٩، طبع سوم) میں یوم العید کو دیا گیا۔ لاریب خدا تعالیٰ کے وہ سارے وعدے جو اس نے اس مقدمہ کے متعلق کئے تھے۔ ان تمام پیشگوئیوں کے پورا ہونے پر ہم پھر تجھ کو اور تیری قوم کو مبارکباد دیتے ہیں۔“

ہم نے پیشینگوئی کر دی تھی اور اس کے واسطے کسی الہام کی ضرورت نہ تھی کہ مرزا قادیانی کو آج کل جو الہامات ہورہے ہیں ان کی تعبیر عنقریب مقدمات کے نتائج سے کی جائے گی۔

٣٢

مقدمہ جو مرزا قادیانی اور ان کے بعض سنا ہے وہ اس امر کا تھا کہ مولوی محمد حسن صاحب مر تھے۔ ان کی نسبت کچھ ناملائم اور ناشائستہ الفاظ مرزا ان الفاظ کی بناء پر مولوی محمد حسن صاحب مرحوم کے مرزا قادیانی وغیرہ پر ازالہ حیثیت عرفی کی نالش کی تھی کرم الدین، مولوی محمد حسن مرحوم کا اتنا قریبی رشتہ دا کی وجہ سے نالش کرنے کا مستحق ہو۔ عدالت نے ق مرحوم کا اتنا قریبی رشتہ دار نہیں کہ کوئی دعویٰ کر سکے۔ ا

اس مقدمہ کے متعلق وضاحت سے جو ا میں ہوئے ہیں جبکہ وکلاء ان کو قانونی مشورہ دے ر الہامات کے کیا معنی ہیں؟ لیکن ہم کو یہ معلوم تھا بلکہ الشان فتح کی خوشی میں خدا کے برگزیدہ رسول اور ن الرسل کی تعریفات آنحضرت ﷺ (روحی فداہ) کے ل میں استعمال ہوتی رہی ہیں ان کے مٹانے کی کوشش کی مستحق ہیں تو جن وکیلوں نے مرزا قادیانی کو مقدمہ س حد درجہ نا انصافی اور سراسر اندھیر نہیں کہ مقدمہ سے اور مقدمہ سے چھوڑانے والے بے چارے چھوٹے و قادیانی کے تین وکیل تھے۔ ان تینوں میں سے جن کے کا بیٹا تیسرے کو روح القدس اور تینوں ملکر خدا بنا دی نبی یا اچھوتی بات نہ ہوتی۔ مرزا قادیانی نے اپنے مق میں تحریر فرمایا ہے کہ وہ مریم بنا دیئے گئے تھے اور ان درخت کے نیچے چلے گئے اور وہاں بچہ جنا۔ اور بچہ ج دونوں ماں اور بچے خود مرزا قادیانی ہیں تو جس د الہاموں کے الٹ پھیر سے بے چارے وکلاء بھی تما ان کے دوست اپنے سہو پر غور کر کے اس موقع کو ہا برخلاف مولوی کرم الدین صاحب کا استغاثہ نہیں چل

٣٣

صفحہ ٣٧٩

مقدمہ جو مرزا قادیانی اور ان کے بعض دوستوں کے برخلاف تھا۔ جہاں تک ہم نے سنا ہے وہ اس امر کا تھا کہ مولوی محمد حسن صاحب مرحوم جو موضع بھیں ضلع جہلم کے رہنے والے تھے۔ ان کی نسبت کچھ ناملائم اور ناشائستہ الفاظ مرزا قادیانی یا ان کے کسی دوست نے لکھے تھے۔ ان الفاظ کی بناء پر مولوی محمد حسن صاحب مرحوم کے ایک رشتہ دار مولوی کرم الدین صاحب نے مرزا قادیانی وغیرہ پر ازالہ حیثیت عرفی کی نالش کی تھی۔ عدالت کے سامنے سوال یہ تھا کہ آیا مولوی کرم الدین، مولوی محمد حسن مرحوم کا اتنا قریبی رشتہ دار ہے کہ متوفی مولوی صاحب کو برا کہا جانے کی وجہ سے نالش کرنے کا مستحق ہو۔ عدالت نے قرار دیا کہ مولوی کرم الدین، مولوی صاحب مرحوم کا اتنا قریبی رشتہ دار نہیں کہ کوئی دعویٰ کر سکے۔

اس مقدمہ کے متعلق وضاحت سے جو الہام مرزا قادیانی کو ہوئے وہ دوران مقدمہ میں ہوئے ہیں جبکہ وکلاء ان کو قانونی مشورہ دے چکے تھے اور اس واسطے ہم جانتے ہیں کہ ان الہامات کے کیا معنی ہیں؟ لیکن ہم کو یہ معلوم تھا بلکہ خود مرزا قادیانی کو بھی معلوم تھا کہ وہ اس عظیم الشان فتح کی خوشی میں خدا کے برگزیدہ رسول اور نبی اللہ ہو جائیں گے اور خاتم الانبیاء اور خاتم الرسل کی تعریفات آنحضرت ﷺ (روحی فداہ) کے پیارے اور مبارک نام کے ساتھ تیرہ سو برس میں استعمال ہوتی رہی ہیں ان کے مٹانے کی کوشش کی جائے گی لیکن اگر مرزا قادیانی اس ترقی کے مستحق ہیں تو جن وکیلوں نے مرزا قادیانی کو مقدمہ سے چھڑایا ہے ان کی نہایت حق تلفی کی گئی۔ کیا حد درجہ ناانصافی اور سراسر اندھیر نہیں کہ مقدمہ سے چھوٹنے والا تو برگزیدہ رسول اور نبی ہو جائے اور مقدمہ سے چھوڑانے والے بے چارے چھوٹنے والے سے بہتر رتبہ کے مستحق نہ ہوں۔ مرزا قادیانی کے تین وکیل تھے۔ ان تینوں میں سے جن سے وہ راضی ہوتے۔ ایک کو خدا دوسرے کو خدا کا بیٹا تیسرے کو روح القدس اور تینوں ملکر خدا بنا دیئے جاتے اور پھر مرزائی دین کے لحاظ سے کوئی نئی یا اچھوتی بات نہ ہوتی۔ مرزا قادیانی نے اپنے مضمون (کشتی نوح ص ٤٧، خزائن ج١٩ ص٥١،٥٠) میں تحریر فرمایا ہے کہ وہ مریم بنا دیئے گئے تھے اور ان کو حمل ہو گیا تھا اور جب درد زہ ہوا تو کھجور کے درخت کے نیچے چلے گئے اور وہاں بچہ جنا۔ اور بچہ جننے کے بعد ان کو کسی وقت معلوم ہوا کہ وہ دونوں ماں اور بچے خود مرزا قادیانی ہیں تو جس دین میں یہ عجائبات ظہور پذیر ہوں وہاں چند الہاموں کے الٹ پھیر سے بے چارے وکلاء بھی ترقی کے مستحق تھے۔ امید ہے کہ مرزا قادیانی اور ان کے دوست اپنے سہو پر غور کر کے اس موقع کو ہاتھ سے نہ جانے دیں گے۔ مرزا قادیانی کے برخلاف مولوی کرم الدین صاحب کا استغاثہ نہیں چل سکا۔ تو اب سنا ہے کہ مولوی محمد حسن صاحب

٣٣

صفحہ ٣٨١

مرحوم کے لڑکے نے استغاثہ کر دیا ہے۔ ہماری اب بھی یہی رائے ہے کہ مذہبی جھگڑوں کو عدالتوں میں گھسیٹنا نہ چاہئے اور دونوں فریق کو یہی صلاح دیں گے کہ مقدمہ بازی چھوڑ دیں۔

٢ ....... نئے نبی کے آسمانی نشان

مولانا شوکت اللہ میرٹھی!

انبیاء کے نشان اور علامات صرف معجزات ہوتے ہیں جو خرق عادت اور نقض قانون فطرت ہیں اور یہ ہمیشہ نہیں ہوتے ورنہ وہ معمولی ممکنات و واقعات سے ممتاز نہ ہوں گے لیکن لے پالک کا آسمانی باپ الٹی گنگا بہا رہا ہے کہ ہر امر واقع اور ممکن کو خرق عادت بتا رہا ہے۔ قادیان میں پتا کھڑکا اور آسمانی نشان ظاہر ہوا۔ قادیان میں سقمونیا معجون کھا کر مرزا قادیانی کو ریح کی سرسراہٹ ہوئی اور فتح کی ڈھولک دن دن پٹی دنیا میں مرزا قادیانی کے مخالفوں میں سے ادھر کوئی مرا ادھر آسمانی نشان ظاہر ہوا۔ طاعون کو آسمانی باپ نے اپنے لے پالک کی لیڈری میں بھیجا ہے۔ مسخرہ آسمانی باپ کتنا جھوٹا اور بے خبر ہے کہ لے پالک پر صرف ڈیڑھ سو آسمانی نشان (پیشینگوئیوں کے پورا ہونے) کا الہام کرتا ہے۔ حالانکہ نوبت کئی لاکھ تک پہنچ گئی ہے۔ کیا معنے کہ طاعون سے جس قدر آدمی مرے اسی قدر آسمانی نشانوں کا ظہور ہوا۔ لیکن ان میں استثنیٰ بھی ہے۔ لے پالک کا جب کوئی مخالف مرتا ہے تب آسمانی نشان ظاہر ہوتا ہے اور جب کوئی موافق (مرزائی) مرتا ہے تو آسمانی باپ اور لے پالک دونوں کی نانی مرجاتی ہے۔ یعنی یہ موت آسمانی نشان نہیں ہوتی۔ یہ حماقت اور ناعاقبت اندیشی لے پالک کے آسمانی باپ کی ہے کہ اس کا بھیجا ہوا سرہنگ (طاعون ملعون) لے پالک کے دوست اور دشمن میں تمیز نہیں کرتا۔ آسمانی ہائی کورٹ میں کس قدر اندھیر ہے کہ وارنٹ تو بھیجا زید کے نام جو لے پالک کا جانی دشمن تھا اور پولیس نے آ کر تھام لیا بکر کو جو لے پالک کا جان نثار اور فدائی تھا۔ جب یہ اندھیر نگری چوپٹ راج ہے تو بس آسمانی بادشاہی پھیل چکی اور لے پالک حکومت کر چکا کیونکہ طاعون کو منافق بنا کر بھیجا ہے کہ مخالفوں کا بھی بھیجا چکھ رہا ہے اور موافقوں کا بھی بھون بھون کھا رہا ہے۔

دوسرا آسمانی نشان مقدمات ہیں۔ لے پالک پر انگریزی عدالت میں جو مقدمہ دائر ہو گا وہ بڑا بھاری آسمانی نشان ہو گا۔ ایک نشان تو جہلم میں ظاہر ہو چکا۔ دوسرا ظاہر ہونے والا ہے اور جس طرح طاعونی موت سے لاکھوں آسمانی نشان ظاہر ہورہے ہیں۔ اسی طرح اب وہ نشان مسلسل مقدمات کے دائر ہونے سے تمام ملک میں ظاہر ہوں گے۔ پس مقدمات کے دائر ہونے سے مرزا اور مرزائیوں کو بجائے منہ بنانے کے خوش ہونا چاہئے کہ چار طرف لے پالک کا سکہ بیٹھ

٣٤

جائے گا اور اس قدر آسمانی نشان ظاہر ہوں گے کہ تمام مرزا گئے لیکن آسمانی باپ کے گھر میں کچھ بھی انصاف ہوا تو فلک جیسا کہ اس نے اپنے اکلوتے یسوع کے ساتھ کیا کہ صلیب بھیج دیا اور اس کا نام اس کے حق میں فتح قرار دیا۔ پہلو لئے ساتھ یہ معاملہ۔ بات یہ ہے کہ صلبی بیٹا تو باپ کے خون سے ادھر سے پکڑ لیا ہے۔ پس اصل اور نقل میں فرق ہونا ضروری

٣ ....... مرزائی نبوت ا

مولانا شوکت اللہ میر

مرزا قادیانی انبیاء کی نبوت کو صرف یہ ثابت کر ہوں۔ وہ انبیاء کو نہ مانیں تو انہیں نبی کون مانے؟ کیونکہ مر سے قرار دیتے ہیں۔ قطعی انکار تو صرف عیسیٰ مسیح کی نبوت مثیل ہیں۔ پرانی بدشگونی کو اپنی ناک کٹے تو بلا سے۔ عیسیٰ انسان بھی نہ تھا خیر۔ اس قصے کو تو بالفعل رہنے دیجئے۔ پچھ اور اہل قرآن کے عقائد پر محاکمہ کیا۔ مولوی عبداللہ صا بٹالوی دونوں کے یکساں لتے لئے۔ ایک دونی ادھر تو ایک دونوں ایمان نہیں لائے۔ ہاں حضرت امام ابوحنیفہ کی تق مستقل نبی اور آسمانی باپ کا لے پالک اور پھر امام الزماں اپنے مریدوں کو خط آزادی دے کر غیر مقلد بنائے۔ ا مذمت اور ایک مجتہد جو کسی طرح انبیاء کے درجے کو نہیں تھوڑے سے غور کے بعد رفع ہو گیا۔ حضرت امام ابوحنی نبوت سے حنفی مقلدین ہیں۔ ان کو خوش کیا ہے۔ صرف یعنی مولوی حکیم نور الدین بھیروی اور مولوی محمد احسن نواب محمد صدیق حسن خان مرحوم زندہ تھے اور دونوں کا گاڑھے اور غالی اہل حدیث تھے۔ جب مرزا قادیانی اور رسالت چھوڑ کر مرزائی نبوت پر ایمان لے آئے۔ م کیونکہ وہ تو جدھر کی ہوا دیکھتے ادھر ہی کو اپنی گڈی اڑا

٣٥

صفحہ ٣٨١

جائے گا اور اس قدر آسمانی نشان ظاہر ہوں گے کہ تمام مرزائی فتح کی ڈونڈی پیٹتے پیٹتے تھک جائیں گے لیکن آسمانی باپ کے گھر میں کچھ بھی انصاف ہوا تو شکست کو آسمانی نشان قرار دیتا نہ کہ فتح کو۔ جیسا کہ اس نے اپنے اکلوتے یسوع کے ساتھ کیا کہ صلیب پر کھنچوا دیا اور کچھ دیر کے لئے جہنم میں بھیج دیا اور اس کا نام اس کے حق میں فتح قرار دیا۔ پہلوٹے کے ساتھ وہ کاروائی اور لے پالک کے ساتھ یہ معاملہ۔ بات یہ ہے کہ صلبی بیٹا تو باپ کے خون سے بنا ہے اور لے پالک ویسے ہی ادھر ادھر سے پکڑ لیا ہے۔ پس اصل اور نقل میں فرق ہونا ضروری ہے۔

٣ ...... مرزائی نبوت اور حنفی تقلید

مولانا شوکت اللہ میرٹھی!

مرزا قادیانی انبیاء کی نبوت کو صرف یہ ثابت کرنے کے لئے مانتے ہیں کہ میں مسلمان ہوں۔ وہ انبیاء کو نہ مانیں تو انہیں نبی کون مانے؟ کیونکہ مرزا قادیانی اپنے کو جنس انبیاء علیہم السلام سے قرار دیتے ہیں۔ قطعی انکار تو صرف عیسیٰ مسیح کی نبوت سے ہے۔ جن کے آپ قائم مقام یا مثیل ہیں۔ پرائی بدشگونی کو اپنی ناک کٹے تو بلا سے۔ عیسیٰ مسیح تو مرزا قادیانی کے نزدیک مہذب انسان بھی نہ تھا خیر۔ اس قصے کو تو بالفعل رہنے دیجئے۔ پچھلے دنوں میں مرزا قادیانی نے اہل حدیث اور اہل قرآن کے عقائد پر محاکمہ کیا۔ مولوی عبداللہ صاحب چکڑالوی اور مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی دونوں کے یکساں لتے لئے۔ ایک دولتی ادھر تو ایک پشتک ادھر۔ وجہ یہ کہ مرزائی نبوت پر دونوں ایمان نہیں لائے۔ ہاں حضرت امام ابو حنیفہؒ کی تعریف کی ہے۔ ہم کو تعجب ہوا ہے کہ ایک مستقل نبی اور آسمانی باپ کا لے پالک اور پھر امام الزمان۔ کسی امام اور مجتہد کی تعریف کرے اور اپنے مریدوں کو خط آزادی دے کر غیر مقلد بنائے۔ اپنی نبوت کے مقابلے میں بعض انبیاء کی تو مذمت اور ایک مجتہد جو کسی طرح انبیاء کے درجے کو نہیں پہنچ سکتا اس کی تعریف۔ مگر ہمارا یہ تعجب تھوڑے سے غور کے بعد رفع ہو گیا۔ حضرت امام ابو حنیفہؒ کی تعریف اوّل تو اس لئے کی کہ مرزائی نبوت سے حنفی مقلدین ہیں۔ ان کو خوش کیا ہے۔ صرف دو صاحب ہیں جن کو خلفاء کا درجہ ملا ہے یعنی مولوی حکیم نور الدین بھیروی اور مولوی محمد احسن امروہی، یہ دونوں تو کسی زمانے میں جب نواب محمد صدیق حسن خان مرحوم زندہ تھے اور دونوں کا ریاست بھوپال میں بڑا رسوخ تھا۔ بڑے گاڑھے اور غالی اہل حدیث تھے۔ جب مرزا قادیانی نے خروج کیا تو آنحضرت ﷺ کی اتباع اور رسالت چھوڑ کر مرزائی نبوت پر ایمان لے آئے۔ مولوی امروہی کے خوارق کا تو ہم کو تعجب نہیں کیونکہ وہ تو جدھر کی ہوا دیکھتے ادھر ہی کو اپنی گڈی اڑا دیتے ہیں۔ اگر ان کو مرغ باد نما کہا جائے

٣٥

صفحہ ٣٨٢

جب بھی تعجب میں کوئی شبہ نہیں۔ اب رہے حکیم صاحب! سنا ہے کہ ان کے اور مرزا قادیانی کے مابین کوئی قریبی رشتہ ہے۔ پس یوں تینوں کا ستارہ ملا ہوا ہے اور خوب مل کے بج رہی ہیں۔ شاید کوئی اور بھی ہو جو اہل حدیث سے مسخ ہو کر مرزا قادیانی کا امتی بن گیا ہو۔

امام ابو حنیفہ کی تعریف کی دوسری وجہ یہ ہے کہ مرزا قادیانی کے زعم میں ان کے اجتہادات واستنباطات کا ماخذ زیادہ تر قرآن ہے نہ کہ حدیث۔ پس مرزا قادیانی کو ان کی یہ بات رقابت نبوت کے باعث پسند آئی ہے کہ مرزا کے زعم انہوں نے آنحضرت ﷺ کی احادیث کی چنداں پرواہ نہیں کی۔ حالانکہ امام صاحب سے بڑھ کر کوئی متبع سنت نہ تھا۔ انہوں نے صاف فرما دیا کہ ”اتركوا قولي بخبر الرسول“ یعنی جب رسول اللہ ﷺ کی حدیث مل جائے تو میرا قول چھوڑ دو۔ انہوں نے یہ بھی فرما دیا کہ ”اذا صح الحدیث فهو مذهبی“ یعنی جب صحیح حدیث مل جائے تو یہی میرا مذہب ہے۔ پس حدیث رسول اللہ کی عظمت کرنے والا امام صاحب سے بڑھ کر کون ہوگا؟

بعض معاند مخالفین نے لکھا ہے کہ حضرت امام ابو حنیفہ کو ١٩ حدیثوں سے زیادہ نہیں ملیں۔ اگر ایسا ہو بھی تو یہ بات ایک مسلم مجتہد کی شان میں دھبا نہیں لگا سکتی کیونکہ شخص واحد کو آنحضرت ﷺ کی تمام حدیثوں کا ملنا محال ہے۔ اگر ایسا ہوتا تو مختلف ائمہ محدثین جدا جدا کتابیں مرتب نہ کرتے یعنی صحاح ستہ کا وجود ہی نہ ہوتا ایک مجموعہ کافی تھا لیکن مرزا قادیانی اس کے یہ معنے لگا جاتے ہیں کہ امام صاحب کو احادیث کی پرواہ ہی نہ تھی بلکہ ان سے بغض رکھتے تھے۔ ذالک بهتان عظیم!

کیسے کیسے حفاظ الحدیث ائمہ گزرے ہیں خصوصاً امام الدنیا فی الحدیث حضرت امام بخاریؒ لیکن مرزا قادیانی کے نزدیک حافظ الحدیث ہونا عیب میں داخل ہے۔ گویا ائمۃ الحدیث قرآن سے سروکار ہی نہ رکھتے تھے اور صرف حدیث کو مانتے تھے۔ علیٰ ہذا حضرت امام شافعیؒ ، امام مالکؒ ، امام احمد حنبلؒ رضوان اللہ علیہم اجمعین مرزا قادیانی کے نزدیک قابل ملامت تھے۔ گویا حافظ الحدیث ہونا بڑا بھاری عیب ہے۔ چہ خوش یہ بروزی اور ظلی محمد ہیں جن کو محمد رسول اللہ ﷺ کی حدیث سے اس قدر نفرت ہے۔ اصل حقیقت یہ ہے کہ آئمۃ الحدیث آپ کی نظروں میں کھٹک رہے ہیں اگر وہ امام تھے بھی تو مر گل گئے ۔ مرزا قادیانی زندہ امام الزمان ہیں۔ اب تو انہیں پر ایمان لانے کا زمانہ ہے۔

ہمیں رہ رہ کر یہی خیال آتا ہے کہ مرزا قادیانی کے چیلے ابھی تک پکے مرزائی نہیں بنے

٣٦

٣ اور کچے پکے تھے تبھی تو خود بدولت نے اپنے پاؤں دلوں سے اکھاڑ دیا اور امام صاحب کی عظمت کی بلکہ حنفی بنو اور خود میں بھی حدیث کی عظمت نہ کر بدولت کی تو نبوت جاتی رہی اور مرزائی عبد مشر بھی۔ کسم ہے منارے دی یہ گندیاں گلاں ہیں۔

مولانا شوک

مرزا قادیانی کہتے ہیں کہ مجھ پر زبان محمد ہوں اور چونکہ پیغمبر عرب کی فطری زبان عربی الہام ہوتا ہے۔ اول تو اس بیان میں آیت قرآنی کا خلاف ہے۔ مرزا قادیانی بتائیں کہ ان کی قو میں یہ کہیں حکم نہیں کہ انبیاء کی ایک قسم بروزی بھی محمد کہلائے گا اور میں اس بروزی پر زبان غیر میں الہام ابلاغ و تبلیغ اور افہام و تفہیم کے لئے ہوتا ۔ عرب میں تکلم بھینس کے آگے بین اور ان آنحضرت ﷺ پر زبان عرب میں الہام ہوا ہے و تبلیغ عمل میں آئی ہے۔ پس آپ بھی اگرچہ دعو۔ میں الہام ہوتا ہے اور یہ الہام ترجمہ ہو کر عرب کیا خرابی تھی۔ خرابی یہ تھی کہ الہامی کلام کے لئے خیر نال ایسی نور بھری ہے کہ گاؤں کے پٹواری ا کلا بتو بن جائیں۔ پس آپ نے خیال کیا کہ زب تو اردو زبان دانی کے عیب پر پردہ پڑا رہے گا و فضلاء ہیں نہ کہ وہ عوام جو مرزا قادیانی کے کما عربی زبان اردو سے بھی کئی میل آگے ہے کہ ہندی بھا شا اس سے بہت اچھی ہے۔ آپ ۔ کرکٹ لدا ہوا بھینسا ٹپک ٹپک کر چلتا ہو اور و

صفحہ ٣٨٣

اور کچے پکے تھے تبھی تو خود بدولت نے اپنے پاؤں پر کلہاڑی ماری۔ یعنی اپنی نبوت کا کھونٹا ان کے دلوں سے اکھاڑ دیا اور امام صاحب کی عظمت کی میخ کو ان کے سینوں میں گاڑ دیا کہ تم مرزائی نہیں بلکہ حنفی بنو اور خود میں بھی حدیث کی عظمت نہ کرنے میں امام ابوحنیفہ کا مقلد ہوں۔ اس سے خود بدولت کی تو نبوت جاتی رہی اور مرزائی عبد مشترک ہو گئے کہ آپ کو بھی مانیں اور امام صاحب کو بھی۔ کسم ہے منارے دی یہ گندیاں گلاں ہیں۔

٤ ...... ہندی، چینی، مغل اور زبان عرب میں الہام

مولانا شوکت اللہ میرٹھی !

مرزا قادیانی کہتے ہیں کہ مجھ پر زبان عرب میں اس لئے الہام ہوتا ہے کہ میں بروزی محمد ہوں اور چونکہ پیغمبر عرب کی فطری زبان عربی تھی۔ لہذا اس مناسبت سے مجھ پر عربی زبان میں الہام ہوتا ہے۔ اول تو اس بیان میں آیت قرآنی ”وما ارسلنا من رسول الابلسان قومہ“ کا خلاف ہے۔ مرزا قادیانی بتائیں کہ ان کی قوم ہندی مغل ہے یا عربی سید، اب رہا بروز ، قرآن میں یہ کہیں حکم نہیں کہ انبیاء کی ایک قسم بروزی بھی ہے اور قادیان میں ایک نبی پیدا ہوگا۔ جو بروزی محمد کہلائے گا اور میں اس بروزی پر زبان غیر میں الہام کروں گا نہ کہ اس کی مادری زبان میں ۔ دوم الہام ابلاغ و تبلیغ اور افہام و تفہیم کے لئے ہوتا ہے اور ظاہر ہے کہ اردو سمجھنے والوں کے سامنے زبان عرب میں تکلم بھینس کے آگے بین اور ان کو سمجھانا اور عمل کرانا تکلیف مالا یطاق ہے۔ آنحضرت ﷺ پر زبان عرب میں الہام ہوا ہے اور تمام ممالک دنیا میں بذریعے ترجمے کے ابلاغ و تبلیغ عمل میں آئی ہے۔ پس آپ بھی اگر یہ دعوے کرتے کہ میں ہندی نبی ہوں اور مجھ پر اردو زبان میں الہام ہوتا ہے اور یہ الہام ترجمہ ہو کر عرب و عجم، یورپ و افریقہ وامریکہ وغیرہ میں شائع ہوگا تو کیا خرابی تھی۔ خرابی یہ تھی کہ الہامی کلام کے لئے فصاحت و بلاغت لازم ہے اور آپ کی اردو زبان خیر نال ایسی نور بھری ہے کہ گاؤں کے پٹواری اور تحصیلی مدارس کے مدرس بھی اس کو سن کر ہنستے ہنستے کلا بتو بن جائیں۔ پس آپ نے خیال کیا کہ زبان عرب میں صاحب الہام ہونے کا دعویٰ کروں گا تو اردو زبان دانی کے عیب پر پردہ پڑا رہے گا کیونکہ عربی زبان کے سمجھنے والے خال خال علماء وفضلاء ہیں نہ کہ وہ عوام جو مرزا قادیانی کے کماؤ پوت بنیں گے۔ لیکن بھید پھر بھی کھلے گا۔ آپ کی عربی زبان اردو سے بھی کئی میل آگے ہے کہ مذکر ومؤنث اور معرفہ اور نکرہ تک کی تمیز نہیں۔ کبیر پنتھی بھاشا اس سے بہت اچھی ہے۔ آپ کے لٹریچر کی روانی کا کیا کہنا جیسے محکمہ صفائی کا کوڑا کرکٹ لدا ہوا بھینسا مچک مچک کر چلتا ہو اور دفعۃً برسات کے آب و خلاب میں بھساک سے

٣٧

صفحہ ٣٨٥

بیٹھ جاتا ہو اور لال بیگی ملازم کیسے ہی سوٹے مارا کرتا ہو مگر ٹس سے مس نہ ہوتا ہو۔ سوم! جیسے آپ بروزی محمد ہیں ویسے ہی مسیح موعود ہیں کیا وجہ ہے کہ بروزی ہونے کی مناسبت سے زبان عرب میں الہام ہو مگر مسیح موعود ہونے کی مناسبت سے عبرانی زبان میں الہام نہ ہو جو عیسیٰ مسیح کی مادری زبان تھی۔ چہارم! آپ پر الہام ہوا ہے کہ جری اللہ فی حلل الانبیاء (تذکرہ ص ٧٩، طبع سوم) یعنی مرزا قادیانی خدا کے نبی نبیوں کے لباس میں ہیں۔ نبیوں کا لباس کہیے یا شیطانی وسواس۔ خناس مضل الناس کا التباس کہئے۔ الانبیاء میں الف لام آپ کے نزدیک ضرور استغراق کا ہے۔ اس لئے آپ تمام انبیاء کے حلوں میں ہیں جس کا مطلب آپ کے نزدیک یہ ہے کہ تمام انبیاء نے آپ کے جسد میں حلول ( تناسخ) کیا ہے۔ اس صورت میں تو آپ کل انبیاء کے بروزی ہوئے۔ حالانکہ دعویٰ صرف محمدی بروزی ہونے کا ہے۔ جب یہ بات ہے تو کیا وجہ ہے کہ آپ پر تمام انبیاء کی مادری زبانوں میں الہام نہ ہو صرف عربی زبان میں ہو۔ بات یہ ہے کہ خود مرزا قادیانی کا آسمانی باپ اردو زبان سے نابلد ہے۔ پس اردو زبان میں کیونکر الہام کرتا۔ اس کی زبان طاعون کاٹ کھاتا۔ منہ پر کی تو خوشامد ہے مگر واقعی مرزا قادیانی کی ذات شریف دنیا کی سفاہتوں کی بھول بھلیاں ہے۔ جیسے منارہ حماقتوں کا ٹھاکر دوارہ ہے۔

٥ ...... ترکی بترکی جواب

نصیر احمد انہالہ!

ایس ایم یوسف قادیانی نے اپنے پمفلٹ خاتم الانبیاء کی تعریف میں اٹکل پچو کچھ تکبندی کی تھی اس کا جواب ہمارے شاگرد رشید نصیر احمد صاحب اسٹیٹ لائف ایجنٹ انہالہ نے نظم ہی میں دیا ہے جو درج ذیل ہے۔

جواب

الٰہی مرا خامہ تیغ دو دم کر سر اعتراض حسودان قلم کر
تکلم کو دے زور افواج بیشہ مضامین کو دے شور افواج بیشہ
وہ افواج بیشہ جو ہرگز نہ چوکے گھسے ناک میں اعتراض عدو کے
درود اس پہ ہو جو کہ خیر الوریٰ ہے ہر ایک ماسوائے خدا سے بڑا ہے
خدا اس کا طالب وہ طالب خدا کا رضا اس کی تابع وہ تابع رضا کا
اگر خوف ہے تم کو رب العلیٰ کا اگر پاس ہے تم کو کچھ مصطفیٰ کا
نہیں خوف مرزائیوں کو خدا کا نہیں خوف کچھ ان کو روز جزا کا

٣٨

محمد کو برحق اگر جانتے ہو
تو ہم کو دکھاؤ ذرا لے کے فرقان
چھٹا پارہ ہے اور نساء کی ہے سورۃ
احادیث سے صاف ظاہر ہوا ہے
بلاشبہ وہ آسمان پر گیا ہے
نہیں مانتے گفتگو گر ہماری
جو علم احادیث سے تم ہو ماہر
ہوا ہے کہاں کہیے دجال پیدا
جو ریلوں کو دجال تم کہہ رہے ہو
وہ دجال جو ہو مسیحا کا دشمن
اگر اصل دجال انگریز ٹھہرے
یہ ہرزہ درائی ہے یا بے وفائی
جنہوں نے انہیں امن و آرام بخشا
خبر سے غرض ہے نہ قرآن سے مطلب
نہ روز جزا سے نہ عقبیٰ سے مطلب
تمہیں عذر اس بات پر کیوں ہوا ہے
کہ آئیں گے عیسیٰ دوبارہ زمین پر
کہاں تیس آیت سے ظاہر ہوا ہے
کوئی ایسی آیت دکھائی تو ہوتی
نشان سماوی ہوئے کیا ہیں ظاہر
ہے باقی ابھی روم کی سلطنت بھی
نہ پورے نشان سماوی ہوئے ہیں
کہا ہے یہ کس جا خدا نے قرآن میں
حدیث نبی سے کرو ہم کو ماہر
مٹا دے گا فرقان وہ بے شک مٹے گا
کلام خدا میں کہاں ہے نشانی
صفحہ ٣٨٥
محمد کو برحق اگر جانتے ہو احادیث کو بھی بجا مانتے ہو
تو ہم کو دکھاؤ ذرا لے کے فرقان موئے کس جگہ ہیں مسیحائے ذی شان
چھٹا پارہ ہے اور نساء کی ہے سورۃ مٹاؤ اسے دیکھ دل کی کدورت
احادیث سے صاف ظاہر ہوا ہے فلک پر مع الجسم عیسیٰ گیا ہے
بلاشبہ وہ آسمان پر گیا ہے خدا کا کلام اس کا شاہد ہوا ہے
نہیں مانتے گفتگو گر ہماری تو دیکھو احادیث مسلم بخاری
جو علم احادیث سے تم ہو ماہر تو عیسیٰ ہو دجال کے بعد ظاہر
ہوا ہے کہاں کہئے دجال پیدا مسیحائے ذی شان تا ہو ہویدا
جو ریلوں کو دجال تم کہہ رہے ہو تو طوفان میں کذب کے بہہ رہے ہو
وہ دجال جو ہو مسیحا کا دشمن وہ کیونکر نہ ہوگا نصاریٰ کا دشمن
اگر اصل دجال انگریز ٹھہرے تو کہہ دو یہی فتنہ انگیز ٹھہرے
یہ ہرزہ درائی ہے یا بے وفائی دجاجل کہیں ان کو سب مرزائی
جنہوں نے انہیں امن و آرام بخشا ہر آسودگی کا سرانجام بخشا
خبر سے غرض ہے نہ قرآن سے مطلب نہ دین سے غرض ہے نہ ایمان سے مطلب
نہ روز جزا سے نہ عقبیٰ سے مطلب فقط ہے زر و سیم دنیا سے مطلب
تمہیں عذر اس بات پر کیوں ہوا ہے احادیث مسلم میں دیکھو لکھا ہے
کہ آئیں گے عیسیٰ دوبارہ زمین پر گئے ہیں وہ بے شبہ چرخ بریں پر
کہاں تیس آیت سے ظاہر ہوا ہے کہ عیسیٰ ابن مریم جہاں میں موا ہے
کوئی ایسی آیت دکھائی تو ہوتی وفات ابن مریم جتائی تو ہوتی
نشان سماوی ہوئے کیا ہیں ظاہر کرو ان نشانوں سے ہم کو بھی باہر
ہے باقی ابھی روم کی سلطنت بھی چڑھائی نہ کعبہ پہ کفار نے کی
نہ پورے نشان سماوی ہوئے ہیں مسیحا عبث مرزا بن گئے ہیں
کہا ہے یہ کس جا خدا نے قرآن میں کہ موعود ہوگا کوئی قادیان میں
حدیث نبی سے کرو ہم کو ماہر کہ عیسیٰ موعود یہاں ہوگا ظاہر
ہٹا دے گا فرقان وہ بے شک ہٹے گا حدیثیں مٹا دے گا بے شک مٹے گا
کلام خدا میں کہاں ہے نشانی کہ موعود عیسیٰ بنے قادیانی

٣٩

صفحہ ٣٨٦
خدا سے ڈرو اور محمد کو مانو کہ آئیں گے دجال تمیں اس کو جانو
خدا کے لئے منہ کو مرزا سے موڑو وہ کذاب ہے اس کی بیعت کو توڑو
جو دنیا میں عیسیٰ بن مریم ہوا ہے تو مرزا کو کیا اس کا ورثہ ملا ہے
تمہارے یہ دعوے سے کیا اس کو نسبت یہ مرزا کے حق میں نہیں کوئی حجت
خدا سے نصیر اپنی یہ التجا ہے حقیقی وہ ہادی ہے وہ رہنما ہے
کہ امت نہ بہکے حبیب خدا کی وہ عاشق رہے سنت مصطفیٰ کی
کسی وسوسے سے نہ وہ ڈگمگائے شیاطین کے ہرگز نہ اغوا میں آئے
نصیر ایسے لوگوں سے تم بچ کے رہنا کہ ان سے نہ ہو دین و دنیا میں بسنا

٦ …… مرزا قادیانی کے الہامات

مولانا شوکت اللہ میرٹھی!

انبیاء علی نبینا وعلیہم الصلوٰۃ والسلام پر جو مسلسل اور منضبط الہامات منجانب اللہ ہوئے ہیں ۔ وہ انسانوں کے لئے تہذیب وتمدن سیاست وملک داری ۔ اصلاح نفوس الغرض دینی اور دنیوی مستحکم قوانین بن گئے ہیں۔ یہاں تک کہ سلاطین کو جدید قوانین کی وضع اور اجراء سے مستغنی کر دیا ہے۔ موجودہ سلطنتیں بھی انہیں قوانین پر چل رہی ہیں اور جب ان سے انحراف کیا جائے گا۔ ضرور خرابیاں پیدا ہوں گی جیسا کہ ہم بعض ممالک خصوصاً ممالک اسلام کی حالت دیکھ رہے ہیں۔

توریت وانجیل اور زبور میں بھی انسانوں کی اصلاح کے مضبوط قوانین ہیں مگر ان پر عمل متروک ہو گیا۔ دنیا خود سر بن گئی۔ جس طرح مسلمان قرآن پر عمل نہیں کرتے ۔ اسی طرح یہودی توریت پر اور عیسائی انجیل پر عمل نہیں کرتے ۔ لیکن اس سے الہامی کتابوں میں نقص نہیں آسکتا اور تمام مذاہب والے معترف بقصور ہیں کہ ہم نے اپنی آسمانی کتابوں کو چھوڑ دیا۔ اتنا جگر اور گردہ کسی کا نہیں کہ اپنی آسمانی کتاب یا آسمانی مذہب کو ناقص اور قابل اصلاح بتائے ۔ یورپ میں حد درجہ لادینی اور فسق و فجور پھیلا ہوا ہے مگر جب انجیل کا نام آئے گا تو ہر عیسائی سر جھکا دے گا۔ ایک سچا مسلمان کیسا ہی فاسق وفاجر ہو مگر جب قرآن کا نام آئے گا تو کانپ اٹھے گا اور نادم ہوگا ۔ ایک سنی مسلمان جب رسول اللہ ﷺ کی حدیث سنے گا تو کھڑا ہو جائے گا۔ ایک مرزا قادیانی ہیں کہ حدیث کا انکار اور قرآن مجید کی آیات مسخ کر رہے ہیں ۔ آنحضرت ﷺ تو یہ فرمائیں کہ ”لو کان موسیٰ حیاً لما وسعہ الا اتباعی“ یعنی اگر موسیٰؑ بھی زندہ ہوتے تو میری اتباع پر مجبور ہو جاتے۔ مگر مرزا قادیانی موسیٰ سے بھی بڑھ گئے کہ جو شخص ان کو نبی نہ مانے زندیق اور کافر اور

واجب القتل اور جبکہ عیسیٰ مسیح کو گالیاں دی جائیں سمجھ لیجئے کہ ان کے دل میں دیگر انبیاء کی کیا وقـ ہم کو یہی تعلیم دی ہے کہ ”لا نفرق بین احـ تخیروا فی انبیاء اللہ“ یعنی ایک نبی کو دوسـ سب و لعن کریں۔

گفتگو الہام میں تھی۔ اگر مرزا قاد سے کیا نتیجہ نکلے گا۔ دینی یا دنیوی قانون تو کـ مجذوب کی بڑ سے کم نہ ہوگا۔ بات یہ ہے کہ خـ ہے۔ تمام الہامات میں مرزا قادیانی اپنی ہی بـ ایک آدھ فقرہ یا جملہ شائع ہوتا ہے جس کو الہام کیا جائے گا تو خود مرزا اور مرزائیوں کو شرم معلو قہقہہ لگائے گا کہ کیا مرزائی امت کے لئے یہی جو اس پر الہام ہوتا تھا کہ لوگوں کو سمجھائے اور ر عجیب الخلقت نبی ہیں کہ مادری زبان تو اردو اور سمجھنے والے کتنے ہیں۔ سخرے باپ نے یہ نـ پچھلے ہفتے الحکم میں یہ الہامی فقرہ شائع ہوا ۔ ”اف

ڈھینچوں کر کے کہہ سکتا ہے کہ انی ناھق ناہـ ہو کر کہہ سکتا ہے کہ انت طالق طالق طـ طلاق دے دی تو ان کے بیٹے یعنی آسمانی باپ کرنے کی دھمکی دینے کے اپنی بیٹی کو بجائے یـ کہ انت فوادی انت راحتی انت سرور قلبی انت کو طلاق دینا گوارہ نہ کیا۔ بھلا جب آسمانی دا امید رہی کہ وہ لے پالک کا حکم مانے گی او مہدویت کو دنیا میں پھیلائے گی۔

صفحہ ٣٨٧

واجب القتل اور جبکہ عیسیٰ مسیح کو گالیاں دی جاتی ہیں اور ان کو فاسق و فاجر بتایا جاتا ہے تو اسی سے سمجھ لیجئے کہ ان کے دل میں دیگر انبیاء کی کیا وقعت ہے کیونکہ نبی سب برابر ہیں۔ قرآن مجید نے ہم کو یہی تعلیم دی ہے کہ ”لانفرق بین احد من رسلہ“ آنحضرت ﷺ تو یہ فرمائیں کہ ”لا تخیروا فی انبیاء اللہ “ یعنی ایک نبی کو دوسرے نبی پر فضیلت نہ دو اور مرزا قادیانی بعض انبیاء پر سب ولعن کریں۔

گفتگو الہام میں تھی۔ اگر مرزا قادیانی کے تمام الہامات کو جمع کیا جائے تو فرمائیے ان سے کیا نتیجہ نکلے گا۔ دینی یا دنیوی قانون تو کیا مرتب ہوگا۔ ہر فقرہ مہمل اور بے معنی ہونے میں مجذوب کی بڑ سے کم نہ ہوگا۔ بات یہ ہے کہ خود ستائی اور خود غرضی انسانوں کو پاگل بنا کر چھوڑتی ہے۔ تمام الہامات میں مرزا قادیانی اپنی ہی بڑائی کرتے ہیں پھر بھی بے معنی ۔ الحکم میں کبھی کبھی ایک آدھ فقرہ یا جملہ شائع ہوتا ہے جس کو الہامی بتایا جاتا ہے۔ ہم شرطیہ کہتے ہیں کہ ان سب کو جمع کیا جائے گا تو خود مرزا اور مرزائیوں کو شرم معلوم ہوگی کہ کیا جھک مارا ہے اور ایک مبصر اور عقلمند آدمی قہقہہ لگائے گا کہ کیا مرزائی امت کے لئے یہی آسمانی اور الہامی دینی اور دنیوی قوانین کا مجموعہ ہے جو اس پر الہام ہوتا تھا کہ لوگوں کو سمجھائے اور ہدایت عامہ کی تبلیغ کا فرض پورا کرے۔ مرزا قادیانی عجیب الخلقت نبی ہیں کہ مادری زبان تو اردو اور الہام ہو عربی میں۔ بھلا ہندوستان میں عربی زبان سمجھنے والے کتنے ہیں۔ مگر باپ نے یہ نہ سمجھا کہ لے پالک اپنا فرض نبوت کیونکر ادا کرے گا۔ پچھلے ہفتے الحکم میں یہ الہامی فقرہ شائع ہوا۔ ”انی صادق صادق صادق“ (تذکرہ ص ٤٤٧ طبع سوم ) ناظرین ملاحظہ فرمائیں کتنا مہتم بالشان فصیح و بلیغ بے مثل فقرہ ہے۔ ایک گدھا بھی ڈھینچوں ڈھینچوں کر کے کہہ سکتا ہے کہ انی ناہق ناہق ناہق اور ایک خاوند بھی اپنی ناشزہ جورو سے دق ہو کر کہہ سکتا ہے کہ انت طالق طالق طالق ثلثاً لیکن جب آسمانی منکوحہ نے مرزا قادیانی کو طلاق دے دی تو ان کے بیٹے یعنی آسمانی باپ کے پوتے نے باوصف حد درجہ زور ڈالنے اور عاق کرنے کی دھمکی دینے کے اپنی بیوی کو بجائے یہ کہنے کے کہ ”انت طالق طالق طالق ثلثا“ یہ کہا کہ انت فوادی انت راحتی انت سرور قلبی انت نور مقلتی روحی فداک اس نے بلاوجہ ناکردہ گناہ بی بی کو طلاق دینا گوارہ نہ کیا۔ بھلا جب آسمانی دادا کا الہام خود پوتے نے نہ جانا تو بقیہ امت سے کیا امید رہی کہ وہ لے پالک کا حکم مانے گی اور بروزی اور ظلی نبوت اور موعود مسیحیت اور مسعود مہدویت کو دنیا میں پھیلائے گی۔

(ایڈیٹر)

٤١

صفحہ ٨٩

٧ ...... قادیانی کی اولاد کا کیا حشر ہوگا

مرزا قادیانی کے حواریوں میں یہ کھچڑی پک رہی ہے کہ مرزا قادیانی کے بعد ان کے صاحبزادوں کا کیا حشر ہوگا۔ اس پر طرح طرح کے منصوبے اور مختلف چہ میگوئیاں ہیں۔ ”ہماری رائے میں یہ قبل از مرگ واویلا کیوں ہے۔ اول تو مرزا قادیانی اپنی زندگی کا قیامت سے بھی ادھر تک کا ٹھیکہ.................... نامکمل

تعارف مضامین ...... ضمیمہ شحنہ ہند میرٹھ

سال ١٩٠٣ء ١٦؍ فروری کے شمارہ نمبر ١٧ کے مضامین

اس شمارہ کا پہلا صفحہ غائب ہے۔ مجبوراً ص ٢ کے مضمون کو فہرست میں ایک نمبر دیا ہے۔

١ ...... قادیانی کا بے معنی الہام یا اضغاث احلام

مولانا شوکت اللہ میرٹھی!

١٠؍ جنوری ١٩٠٣ء کا ”الحکم اخبار“ ایک دوست کی عنایت سے ہماری نظر سے گزرا۔ ص ١ پر مرزا قادیانی بہ عنوان ”عید کا ہدیہ“ ایک الہام پیش کرتے ہیں۔ جو ایک ہی وقت میں ہوا اور جس کے تین ٹکڑے ہیں۔ اگرچہ یہ الہام صرف اس کا مسلمہ ہے اور وہ خود ہی اس کا مخبر ہے مگر مرزائی جماعت کو اس پر بڑا ناز ہے حالانکہ اپنا رؤیا نفسی اور تراشیدہ خیال کسی صورت میں خصم پر حجت نہیں ہو سکتا چہ جائیکہ مال بھی سراسر کھوٹا ہو۔ افسوس ہے کہ عید کے مبارک دن میں مرزا قادیانی کو جو تحفہ ملا وہ بھی پرکھنے پر زر اندود مس ثابت ہوا۔

مس اندودگان را بر آتش نہند
پدید آید انکہ کہ مس یا زرند

٤٢

اس نرالے الہام کے تین ٹکڑے ہیں

قادیانی کی ذات سے خطاب ہے مگر:

سورۃ نحل کی پہلی آیت کا سرقہ کیا گیا ہے۔ اس ہے تو دونوں فقروں میں انتشار ضمائر ہے جو فصاح مرزا قادیانی کا نفس مراد ہے تو بجائے صیغہ جمع ک ہے جس کو اول سے کچھ لگاؤ نہیں اور کلام کی بے ر آپ کو ناز ہے سچ ہے ۔

آدمیــــــــــان گـ
ملک خــــدا

صریح غلط ہے۔ کیونکہ ترجمہ میں آپ ظاہر کر ہے۔ نبیوں کے لفظ کو ترجمہ میں مفعول ظاہر کیـ قادیانی نے اس کو مفعول یہ سمجھا ہے یا مفعول ما لـ تو ضمیرین ہونا چاہئے اگر مفعول مالم یسم فاعلہ ہے معروف کا رکھا ہے اور ترجمہ میں معنی مجہول بـ ہے۔“

اور بصورت معروف ہونے صیغہ تـ میں اس فقرہ کا ترجمہ مرزا کے ترجمہ کے مخالف یوں ہوں گے کہ ان نبیوں نے اس کو یاد کیا۔ ا مخبتین سابقین نے اس بشارت کو یاد کیا۔

اور یہ ثبوت قرآن مجید کی کسی آیـت مکڑی کا جالا ہو جائے گا۔ مرزائیو سمجھو سوچو ، کـ اسی صفحہ کے اخیر میں فرماتے ہیں کـ صادق “ اس میں بھی قبائح ہیں۔ حکایت کا فـ

صفحہ ٣٨٩

اس نرالے الہام کے تین ٹکڑے ہیں جو آپس میں بالکل بے ربط اور خبط ہیں۔

قادیانی کی ذات سے خطاب ہے مگر:

سورۂ نحل کی پہلی آیت کا سرقہ کیا گیا ہے۔ اس سے اگر بجز مرزا قادیانی کے اوروں کی طرف خطاب ہے تو دونوں فقروں میں انتشار ضمائر ہے جو فصاحت و بلاغت کے بالکل منافی ہے اور اگر اس سے مرزا قادیانی کا نفس مراد ہے تو بجائے صیغہ جمع کے مفرد کا صیغہ ہونا چاہئے۔ حالانکہ یہ جمع کا صیغہ ہے جس کو اول سے کچھ لگاؤ نہیں اور کلام کی بے ربطی پر ظاہر ہے۔ کیوں حضرات مرزائیو! کیا اسی پر آپ کو ناز ہے سچ ہے۔

مدعیان گم شدند
ملک خدا خر گرفت

صریح غلط ہے۔ کیونکہ ترجمہ میں آپ ظاہر کرتے ہیں: ”یہ ایک خوشخبری ہے کہ نبیوں کو دی جاتی ہے۔ نبیوں کے لفظ کو ترجمہ میں مفعول ظاہر کیا ہے تو اب دو صورتوں سے خالی نہیں۔ یا تو مرزا قادیانی نے اس کو مفعول بہ سمجھا ہے یا مفعول مالم یسم فاعلہ، دونوں غلط اگر نبیون کا لفظ مفعول بہ ہے تو نبیین ہونا چاہئے اگر مفعول مالم یسم فاعلہ ہے تو صیغہ تلقا مجہول ہونا چاہئے حالانکہ آپ نے صیغہ معروف کا رکھا ہے اور ترجمہ میں معنی مجہول کے لئے ہیں۔ یعنی ”یہ خوشخبری جو نبیوں کو دی جاتی ہے۔“

اور بصورت معروف ہونے صیغہ تلقاء کے نبیون کا لفظ تلقا کا فاعل ہوگا اس صورت میں اس فقرہ کا ترجمہ مرزا کے ترجمہ کے مخالف ہوگا اور بے معنی بھی ہو جائے گا۔ کیونکہ اس کے معنے یوں ہوں گے کہ ان نبیوں نے اس کو یاد کیا۔ اس صورت میں مرزا قادیانی پر بار ثبوت عاید ہوگا کہ متبعین سابقین نے اس بشارت کو یاد کیا۔

اور یہ ثبوت قرآن مجید کی کسی آیت سے مطلوب ہوگا۔ ورنہ سب تانا بانا ٹوٹ پھوٹ کر مکڑی کا جالا ہو جائے گا۔ مرزائیو سمجھو سوچو، کچھ جرأت ہے تو جواب دو۔

اسی صفحہ کے اخیر میں فرماتے ہیں کہ وحی نے میرا کلام حکایۃً سنایا۔ یعنی ”انی صادق صادق“ اس میں بھی قبائح ہیں۔ حکایت کا تکلف اور ضمیر خطاب سے جو آسان تھا فرار ایک بے جا

٤٣

صفحہ ٣٩٠

اور فضول کام ہے۔ اس تکلف سے یہ لفظ بے تکلف تھا۔ یعنی ”انک صادق صادق“ اب فقرہ محصلہ الہام پر جو ”انی صادق صادق“ ہے۔ حکایت کی تاویل مرزا کا کچھ اختراع ان کی مفروضہ وحی سے خارج ہے۔ دوسرا فقرہ سیشھد اللہ لی بھی یہی ظاہر کرتا ہے۔ کہ عنقریب اللہ میرے لئے گواہی دے گا۔ اس فقرہ میں بھی کوئی لفظ حکایت کا نہیں جو کہ مرزا قادیانی نے وحی مفروضہ میں بتایا اور سمجھا ہے بلکہ اس کے معنوں سے تو یہ ظاہر ہوتا ہے کہ خدا کہتا ہے کہ میرے لئے اللہ تعالیٰ عنقریب گواہی دے گا۔ تو گویا خدا کسی اور خدا کا اپنے لئے گواہی کا محتاج ہے۔ ورنہ اپنی فرضی وحی کے محض لفظوں سے حکایت کی تعبیر اور دلائل بیان کرنا لازم ہوگا۔ اگر عید کی تقریب پر عربی الہامی ہدیوں کا ادائے رسوم اتحاد کے لئے شوق تھا تو پہلے عربی بول چال سیکھ لی ہوتی۔

٢ ...... مرزا جی کا انوکھا میموریل

مولانا شوکت اللہ میرٹھی !

نئے لے پالک پر آسمانی باپ ہمیشہ نیا ہی الہام کرتا ہے۔ لے پالک سے کہہ دیا کہ میں تو برٹش گورنمنٹ کے جبروت سے بید کی طرح لرزتا ہوں۔ مجھ میں اتنا بوتا کہاں کہ اس کے حضور چوں بھی کر سکوں۔ میں نے تجھ کو اس لئے دنیا میں بھیجا ہے کہ برٹش کو چہیتے کی طرح پھسلا کرے اور روغن قاز مل کر للو پچو کی چکنی چپڑی باتوں سے اس کے حضور اپنا کام نکالا کرے۔ دنیا کی مخالفت کر کے تمام مذاہب کے پیشواؤں کو گالیاں دے۔ مگر خبردار جو برٹش کی مخالفت کی۔ ورنہ یاد رکھنا وہی حال ہوگا جو سوڈانی مہدی تعایشی اور اس کے گرگوں کا ہوا کہ پیوند زمین ہو کر بھی چین نہ ملا اور ہڈیاں تک اکھاڑ کر دریائے نیل میں بہا دی گئیں۔

پس لے پالک آسمانی باپ کے اس جرنیلی آرڈر کی تعمیل کرتا رہتا ہے اور سچ پوچھو تو اسی میں خیر بھی ہے کہ ہمیشہ گورنمنٹ میں خوشامد کا پواڑا پیش کرتا رہے۔ کاتا اور لے دوڑی۔ مقصود صرف چاپلوسی ہے کہ میں گورنمنٹ کی ولایتی بوٹ کی خاک ہوں اور میرے بزرگ بھی ہمیشہ فورٹ ولیم کے لال بیگئی جاروب کش رہے ہیں اور ہماری اس عقیدت و وفاداری میں کبھی غبار و کدورت کے لئے راہ نہیں جو گورنمنٹ کی نسبت ہے۔ ”فی الحقیقت خدا کے نبی اور متنبئ کا یہی کام ہے کہ ہمیشہ اہل دنیا کی خوشامد میں زمین دوز مجرے بجالاتے۔

دربار تاجپوشی کی تقریب پر مرزا قادیانی نے ہزایکسلنسی لارڈ کرزن کے حضور ایک میموریل بھیجا ہے کہ: ”گورنمنٹ اتوار کی تعطیل کی جگہ جمعہ کی تعطیل دیا کرے جو مسلمانوں کا مقدس دن ہے۔“ واہ کیا کہنا۔ کیسا ضروری رفارم اور کتنا برجستہ الہام ہے کہ آج تک کسی پر ہوا ہی

٤٤

صفحہ ٣٩١

نہیں اور نہ کسی کو یہ اصلاح سوجھی۔ مسلمانوں کی تعطیل جمعہ کے روز اور عیسائیوں کی تعطیل اتوار کے روز اور ہنود کی تعطیل بدھ کے روز اور پارسیوں کی تعطیل منگل کے روز ہو۔ علیٰ ہذا دوسرے مذاہب بھی ہیں پس گوری کا جوبن چٹکیوں ہی میں چلا ہفتے کے تو سات ہی دن ہیں۔ اگر تمام اہل مذاہب کی خواہشوں پر گورنمنٹ عمل کرے تو تیس روز چھوڑ ٣٦٠ دنوں میں بھی تعطیل کا نمبر نہ آئے۔ اور اس کا نتیجہ جو کچھ ہو وہ لے پالک کو نہیں تو آسمانی باپ کو ضرور معلوم ہے کہ دنیا ایک ہو کا مقام ہو جائے۔ آسمانی باپ اور لے پالک ہی منارے کی چوٹی پر دندنایا کریں باقی چار طرف صفایا۔

خوشامدی ٹٹو نے دم ہلا کر یہ لید کی ہے کہ: ”میرے ساتھ ایک لاکھ آدمی ہیں اور یہ میموریل ان سب کی طرف سے ہے۔“ کہو جھوٹے کے منہ میں وہ۔ ہم بتا چکے ہیں کہ مرزا کے چیلوں کی کائنات بس وہی ہے جو ”الحکم“ میں شائع ہو چکی ہے۔ ان سب کو جمع کیا جائے تو دو تین ہزار تک بھی بمشکل نوبت پہنچے گی اور اب تو ”الحکم“ میں شائع ہونا بھی بعض مصالح سے بند ہو گیا ہے جیسا کہ ہم لکھ چکے ہیں۔ آخر ایک لاکھ آدمی کچھ ہوتے بھی ہیں یا صرف ایک لاکھ کا نام سن لیا ہے۔

چونکہ لے پالک کو ہمیشہ خوف رہتا ہے کہ مجھ سے کوئی ایسی حرکت سرزد نہ ہو جائے جو قانون کے خلاف ہو اور برٹش گورنمنٹ تعزیر کی چکی میں پیس ڈالے۔ لہٰذا ہمیشہ گورنمنٹ کو اس حیلے سے خوش کرنا چاہتا ہے کہ میں اسلامی جہاد کے خلاف ہوں اور مسلمانوں کے جہاد کا خیال مٹانا چاہتا ہوں جو اولڈ فیشن علماء نے ان کے دلوں میں جما رکھا ہے۔“ لیکن ایسی خوشامد سے جو خرابیاں لازم آتی ہیں۔ ان سے نہ صرف لے پالک بلکہ ناعاقبت اندیش گھوسٹ باپ بھی ناواقف ہے اور یہی ناعاقبت اندیشی ہے تو وہ ضرور ایک نہ ایک دن الہام کی بدولت لے پالک کی گردن تڑوا کر رہے گا۔

اولاً! یہ کہنا کہ میرے ساتھ ایک لاکھ آدمیوں کی تعداد ہے۔ گورنمنٹ پر صاف دھمکی ہے کہ مجھے کوئی ایسا ویسا کمزور مچھر اور پوچ نہ سمجھنا میں سوڈان اور یوگنڈا اور سومالی اور سنوسی مہدی سے کہیں زیادہ قوت رکھتا ہوں جب چاہوں گا ہندوستان میں بغاوت پھیلا دوں گا۔

دوم! مرزا کے نزدیک ہندوستان کے مسلمانوں میں بغاوت کا مادہ ہے۔ خصوصاً علماء اسلام میں جو مسلمانوں کو گویا در پردہ گورنمنٹ کی بغاوت کا سبق پڑھا رہے ہیں۔ پس گورنمنٹ کو ان سے نہ صرف ہوشیار رہنا ہے بلکہ عملی طور پر نگرانی کے لئے تمام علماء اور مشائخ کے سروں پر

٤٥

صفحہ ٣٩٢

سرہنگ مقرر کرنے چاہئیں۔ یہ تمام مقدس علماء اور مشائخ کے حق میں کھلا لابل ہے جو ہر طرح گورنمنٹ کے مطیع اور وفادار ہیں۔ اس لئے ہر عالم اور شیخ وقت مرزا پر عدالتوں میں لائبل دائر کرسکتا ہے مگر وہ صبر کئے بیٹھے ہیں اور مرزا کے ہینڈ بل میں چھپے ہوئے تیر دل و جگر پر سہ رہے ہیں۔

سوم ! برٹش گورنمنٹ کو باوصف ایسے جبروت اور طاقت اور ایسی عالمگیر حکومت کے جس کی سلطنت میں سورج غروب نہیں ہوتا۔ مرزا اپنی خام خیالی سے کمزور یقین کرتا ہے کہ وہ مسلمانوں کے جہاد سے خوف کرتی ہے حالانکہ مسلمانوں کو مذہب اسلام یہ تعلیم دیتا ہے کہ تم جس سلطنت کے امن میں ہو اس سے انحراف کرنا خدا اور رسول سے انحراف کرنا ہے اور اس کا نام جہاد نہیں بلکہ بغاوت اور بے وفائی ہے۔ پھر اسلام میں بھی ویسا ہی جہاد ہے جیسا سلاطین یورپ نے پچھلے دنوں چین میں اور خود برٹش گورنمنٹ نے جنوبی افریقہ میں کیا اور اب سومال اور ونزویلہ میں کر رہی ہے جو بالکل قدرت و فطرت کے مطابق ہے مگر مرزا تمام جہادوں کو وحشیانہ ظلم قرار دیتا ہے گویا ہر ایک جہاد کرنے والی سلطنت ظالم ہے، جابر ہے، وحشی ہے۔

چہارم ! ضرورت اور ٹھیک منصوصہ اسلامی شرائط کے وقت مذہب اسلام میں جہاد ویسا ہی فرض ہے جیسا دوسری سلطنتوں میں مگر مرزا اس رکن شرعی کو مذموم سمجھتا ہے۔ لہٰذا ہرگز مسلمان نہیں بلکہ تمام مذاہب کا راندہ ہے۔

پنجم ! بفرض محال نہ صرف ٨ کروڑ مسلمان بلکہ ان کے ساتھ ٢٢ کروڑ ہنود اور پھر مجموعی تعداد ٣٠ کروڑ آدمی بھی چاہیں تو گورنمنٹ کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے۔ مرزا کی مفروضہ ایک لاکھ فوج تو کیا پدی کیا پدی کا شوربہ ہے۔ مرزا کے مریدوں کی تعداد تو کسی طرح چند ہزار سے زیادہ نہیں مگر ہمارے بعض مشائخ کے مریدوں کی تعداد فی الحقیقت لاکھوں تک ہے مگر آج تک گورنمنٹ پر کسی نے اپنی تعداد ظاہر نہیں کی اور کیوں کرتے یہ تو مرزا قادیانی ہی کی کم ظرفی ہے اور اوچھا پن ہے۔ ہم بار ہا نہایت تہدید کے ساتھ لکھ چکے ہیں کہ ایسے مغویانہ اور مضر خیالات کی اشاعت سے تائب ہو جو نہ صرف عموماً اہل اسلام کے لئے بلکہ خود مرزا کے لئے مضر ہیں اور گورنمنٹ ناواقف نہیں وہ خوشامد کے خود غرضانہ پہلوؤں کو خوب سمجھتی ہے مگر مرزا قادیانی نہیں مانتے تو اس کا خمیازہ چکھیں۔ دیکھنا آپ تو عیسیٰ موعود اور نبی مبروز اور امام الزمان جیسے کچھ ہیں۔ دنیا جانتی ہے مگر سنت اللہ ضرور مجدد المائتہ مبعوث فرماتی ہے اور پبلک نے اس کو مجدد مان لیا ہے۔ پس اس کی پیشینگوئی کسی طرح اکارت جانے والی نہیں انشاء اللہ تعالیٰ۔

ہم عصر چودھویں صدی لکھتا ہے کہ مرزا غلام احمد صاحب سوائے اپنے ایک لاکھ

٤٦

صفحہ ٣٩٣

مریدوں کے جو معلوم نہیں کہاں ہیں زمین پر ہیں یا آسمان پر۔ باقی چھ کروڑ مسلمانان ہند کو غدار اور مفسد قرار دیتے ہیں۔ اگر گورنمنٹ ہند کو اپنی ہستی اور تعلیمات سے ہی آگاہ کرنا مقصود تھا تو مسلمانوں پر یہ تہمت لگائے بغیر بھی کر سکتے تھے۔ آپ نے ایک میموریل گورنمنٹ ہند کو بھیجا ہے کہ دربار تاج پوشی کی یادگار میں جمعہ کو بھی تعطیل ہو جایا کرے۔ اول تو یہ درخواست کبھی منظور نہ کی جائے گی۔ کیونکہ حاکمان وقت اپنے ہی تہوار کی تعطیل قائم رکھیں گے۔ اور ہفتہ میں دو روز کی تعطیل اصول سیاست مدن کے خلاف ہے۔ لیکن اگر مرزا قادیانی کو خاموش نہ رہنے اور گورنمنٹ کے کانوں میں اپنے وجود سے اس کو آگاہ کرنے کے واسطے ایک مضمون کی تلاش تھی تو مسلمانوں پر جھوٹا اتہام لگانے کی کیا ضرورت تھی۔

یہ مضمون صرف مسلمانوں کی دل آزاری اور گورنمنٹ کی جھوٹی خوشامد کے واسطے لکھا گیا ہے جو سراسر خلاف واقع اور محض غلط ہے۔ مرزا قادیانی گورنمنٹ کو دھوکا دینے اور اس کی خوشامد کے لئے جو کچھ چاہیں کہیں مگر وہ ان لوگوں کو دھوکا نہیں دے سکتے جو ان کی تالیفات کو پڑھتے رہے ہیں اور کہہ سکتے ہیں کہ ان کی ایک تالیف کا بھی یہ مقصود نہیں۔ ہم مرزا قادیانی کو چیلنج کرتے ہیں کہ وہ اپنی ان ساٹھ تالیفات کا نام لیں جو انہوں نے اس غرض سے لکھی ہیں اور جن کا ذکر میموریل میں کیا ہے۔ مرزا قادیانی گورنمنٹ کو بتاتے ہیں کہ چھ کروڑ مسلمانوں میں صرف ایک لاکھ مسلمان وفادار ہیں اور باقی مفسد اور غدار اور ان مفسدوں وغداروں کے واسطے گورنمنٹ سے ایک ایسی رعایت اور مہربانی کی درخواست کرتے ہیں جو بہت غیر معمولی ہے۔ گورنمنٹ کو جو جواب اس درخواست کا دینا چاہئے وہ صرف یہ ہو سکتا ہے کہ اگر مسلمانوں کی کثیر تعداد میں جہاد کے خیالات پھیلے ہوئے ہیں تو ان مفسدوں کو شمار کر کے پھانسی لگا دینا چاہئے اور چونکہ یہ درخواست ایک نہایت قلیل جماعت کی طرف سے ہے۔ اس کو نامنظور کرنا چاہئے۔ گورنمنٹ ایک لاکھ آدمی کے واسطے تیس کروڑ رعایا کا شعار نہیں بدل سکتی۔ مرزا قادیانی نے ایک عجیب مہمل پوزیشن اختیار کی ہے۔ تھیٹر میں سٹیج پر ایک مسخرا آتا ہے جس کا نصف منہ سفید ہوتا ہے اور نصف سیاہ۔ کبھی وہ ایک طرف ناظرین کے سامنے کرتا ہے اور کبھی دوسری طرف۔ مرزا قادیانی اس امر کا فیصلہ نہیں کرتے کہ وہ اس مسلمان کہلانے والی جماعت کے اندر ہیں یا یہ فرقہ احمدیہ محمدیوں میں شامل ہے۔ یا ان سے علیحدہ ہے۔ ہم کو معلوم ہونا چاہئے کہ کون ہمارا دوست ہے اور کون ہمارا دشمن ہے تاکہ ہم اسی نسبت سے اس کے ساتھ سلوک کرسکیں۔ مرزا قادیانی مسلمانوں کے ایک نائب کی حیثیت میں گورنمنٹ کے سامنے ایک درخواست پیش کرتے ہیں۔

٤٧

صفحہ ٣٩٤

٣ ...... تازہ بہ معنی الہام

مولانا شوکت اللہ میرٹھی!

٧ فروری کے الحکم میں آسمانی باپ کے بھبکے میں کھنچا ہوا یہ پھڑکتا تازہ بتازہ الہام شائع ہوا ہے کہ ”لایموت احد من رجالکم“ (تذکرہ ص ٤٥٨، طبع سوم) مگر معنے سمجھنے میں خود لے پالک کی سٹی گم ہے۔ چنانچہ خود ہی بیان کیا ۔ ”اس کے حقیقی معنے کو تمہارے مردوں میں سے کوئی نہ مرے گا تو ہو نہیں سکتا کیونکہ موت تو انبیاء تک کو آتی ہے اور نہ قیامت تک کسی کو زندہ رہنا ہے مگر اس کے مفہوم کا پتا نہیں شائد کوئی اور معنے ہوں ۔“

ہم کہتے ہیں کہ آسمانی بغلول ایسا گول مٹول ڈھول کے اندر پول الہام ہی کیوں کرتا ہے۔ جس کے معنے خود اس کا اکلوتا لے پالک بھی نہیں سمجھ سکتا۔ معلوم ہوا کہ الہام کے معنے سمجھانے کو بھی الہام کی ضرورت ہوتی ہے۔ کیا کسی نبی پر ایسا الہام ہوا ہے جس کے سمجھنے کو قوت متفکرہ باقی رہی ہو۔ لے پالک کے نزدیک جو الہام گورکھ دھندا ہو اور پنجوں اور ناخنوں اور دانتوں اور دہان بے دندان کے زور لگانے سے بھی نہ کھل سکے۔ مناسب ہے کہ مجدد المائہ مشرقیہ سے سمجھ لیا کرے۔ کیونکہ وہ باپ بیٹے دونوں کے گورگڑھے سے خوب واقف ہے۔ بھلا دنیا میں ایسا کلام کون سا ہے جو مجدد کی سمجھ میں نہ آئے۔ وہ تو بے معنے کلام کو بھی بامعنے کر سکتا ہے۔ لیجئے سنئے!

یہ الہام طاعون کے متعلق ہے جس کو آسمانی باپ نے لے پالک کی پنڈوری میں بھیجا ہے اور جو اس کا بڑا بھاری تمغہ ہے۔ مرزائیوں میں سے تو اب تک کسی پر اس کا دست شفقت پھرا نہیں یعنی خاص دارالامان قادیان میں تو کیا پنجاب کے کسی شہر اور حصے اور گاؤں میں بھی کوئی مرزائی نہیں مرا اور لوگوں نے جو غل مچایا کہ خاص قادیان میں اتنے کیس ہوئے تو یہ مخالفوں بد اندیشوں کا نرا طوفان بہتان ہے۔ البتہ اب آسمانی باپ عورتوں پر اس لئے غضبناک ہے کہ آسمانی منکوحہ جو عورتوں کی جنس سے ہے لے پالک کے ہتھے نہیں چڑھی۔ اور کسی نے اس کے رونے، پیٹنے، بلبلانے، چیخنے، چلانے، ایڑیاں رگڑنے پر ذرا بھی رحم نہ کیا۔ پس آسمانی باپ نے یہ غضب ناک الہام کیا کہ ”لا یموت احد من رجالکم بل یموتن نسائکم کلهن“ یعنی تمہارے مردوں میں سے ایک بھی نہ مرے گا بلکہ تمہاری تمام عورتیں مریں گی۔ کیونکہ عدمی مفہوم سے وجودی مفہوم نکلتا ہے اور ضد سے ضد کا اور نقیض سے نقیض کا علم ہو جاتا ہے۔ دوسرے معنے یہ ہیں کہ تمہارے مردوں میں سے صرف ایک یعنی مرزا قیامت تک نہ مرے گا اس کے سوا موت سب کا

٤٨

صفحہ ٣٩٥

سلف کر جائے گی۔ اس صورت میں الہام یوں ہے: "لا یموت احد من رجالکم اعنی مرزا" کیونکہ مرزا ہمیشہ لوگوں کی اموات کی پیشینگوئی کرتا ہے اور مخالفوں میں سے جب کوئی مرتا ہے تو خوش ہوتا ہے اور اعلان دیتا ہے کہ میری مخالفت نے اس کو ہلاک کیا۔ اس سے صاف ظاہر ہے کہ مرزا اپنی زندگی کا ٹھیکہ ابدالآباد تک لیکر دنیا میں آیا ہے۔ بھلا ایسے صاف اور صریح معنے میں باپ بیٹے دونوں کیوں کر گھن چکر ہو گئے۔ بس جی بس بافند کی معلوم شد۔

٤ ...... مرزائیوں میں تقیہ

مولانا شوکت اللہ میرٹھی !

مرزا قادیانی تو شیعہ کو مردود بلکہ کافر بتاتے ہیں مگر مرزائیوں میں شیعہ کی سنت یعنی تقیہ برابر جاری ہے۔ خود ہم نے جب کبھی کسی مرزائی سے پوچھا کہ تمہارے پاس مرزا قادیانی کے بروزی نبی اور مسیح موعود ہونے کی کیا دلیل ہے تو انہوں نے مرزائی نبوت سے تو صاف انکار مگر مسیح موعود ہونے کا اس دلیل سے اقرار کیا ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام دنیا میں فوت ہوئے ہیں۔ لہٰذا مرزا قادیانی قطعاً اور یقیناً اور ایماناً مسیح موعود ہیں۔ دیکھئے کیسی محکم اور برجستہ دلیل ہے کہ کوئی خردجال بھی سنے تو کان جھڑ جھڑا کر اور دم ہلا کر اس قول کی اجابت میں لید کرنے لگے۔

مگر جب کوئی دہریہ یا آریا جو معجزات کا منکر ہو یہ کہے کہ انیس سو برس تک بے کھائے پیئے آسمان پر عیسیٰ مسیح ہرگز زندہ نہیں رہ سکتے۔ لہٰذا میں مسیح موعود ہوں تو مرزا اور مرزائیوں کے پاس اس کے خلاف کیا دلیل ہے مگر بروزی محمد ہونے کی کوئی دلیل نہیں۔ بجز عقائد ہنود کے جن کے یہاں تناسخ جائز ہے حالانکہ خود بدولت تناسخ کے مسئلے میں آریا کو گالیاں دے چکے ہیں۔ خیر یہ تو پرانی بات ہے گفتگو تو اس امر میں ہے کہ جب مرزا قادیانی اپنے چیلوں کو ڈانٹ چکے ہیں کہ میری نبوت سے اگر کسی نے انکار کیا تو یاد رکھنا خردجال پر سوار کر کے اس حیثیت سے قادیان کے بارہ پتھر باہر دیس نکالا دوں گا کہ خردجال کی دم کی طرف منہ ہوگا اور اس کے کانوں کی طرف پشت۔ مگر مرزائی اس ڈانٹ کو نہیں مانتے یا تو اپنے نبی پر پورا ایمان نہیں لاتے یا شیعہ کی طرح تقیہ کئے ہوئے ہیں۔ لیکن ہم کو ہرگز یقین نہیں کہ ان کے نبی نے ایسا حکم دیا ہو جو علی الاعلان اس کی نبوت کے نہ ماننے اور عام طور پر کھلے بندوں نبوت کی اشاعت میں خلل انداز ہو کیونکہ لے پالک اپنی طرف سے ایک بات بھی نہیں کہتا بلکہ وہی کہتا ہے جو آسمانی باپ اس کے کان میں پھونک دیتا ہے۔ آسمانی باپ تو صاف کہہ چکا ہے کہ تو بمنزلہ میرے ولد کے ہے اور تو بروزی نبی ہے پس یہ قیاس میں نہیں آتا کہ لے پالک نے آسمانی باپ کی وصیت کے خلاف اپنے چیلوں سے یہ کہہ دیا

٤٩

صفحہ ٣٩٦

ہو کہ جب تم پر زور پڑے اور بھاگتے راہ نہ ملے تو تقیہ کر کے میری نبوت کے بوجھ سے کاندھا گرا دیا کرو۔ اصل حقیقت یہ ہے کہ خود مرزائی نالائق اور ضعیف الاعتقاد اور مذبذب اور ڈانواں ڈول ہیں۔ ان کے نبی کا کچھ قصور نہیں۔ پس ایسے خام مرزائیوں کے گلے سے پٹا اور بھنور کلی نکال کر بالکل آزاد اور ان کی بیعت بالکل فسخ کر دینی چاہئے ورنہ یہ بھیدی بن کر لنکا ضرور ڈھائیں گے۔ یا نادان دوست بن کر مرزا قادیانی کے دشمنوں کو بھی مات دیں گے۔

٥ ...... مرزائی حوادث

مولانا شوکت اللہ میرٹھی!

جعفر زٹلی لاہوری لکھتا ہے۔ ٢٠، ٢١؍ جنوری کو گورداسپور میں ان مقدمات کی پیشی تھی جو مرزائیوں نے مولوی محمد کرم الدین ومولوی فقیر محمد پر دائر کئے تھے۔ ٢٠ کو صاحب مجسٹریٹ موجود نہ تھے۔ ٢١ کو مقدمہ دفعہ ٤٧١ کا پیش ہوا۔

مرزائیوں کی جماعت لمبے چغے پہنے سبز سیاہ عمامے باندھے سویرے ہی آ گئی تھی۔ حکیم نور الدین اور عبدالکریم بھی تھے۔ فریقین اندر بلائے گئے تو مرزا قادیانی کا ایک خاص مرید اور دو چار جنٹل مین عدالت کے چبوترہ پر مثل خوانوں کے پاس جابیٹھے۔ جانب ثانی کے وکلاء نے اعتراض کیا عدالت نے فوراً وہاں سے نکال دیا۔

پھر حکیم فضل دین مستغیث کا بیان شروع ہوا۔ اثناء بیان میں یعقوب علی تراب کچھ کان میں پھونکنے لگے۔ وکلاء نے پھر اعتراض کیا۔ عدالت نے خفا ہو کر فوراً پیچھے ہٹا دیا۔ یہ دوسری ذلت ملی۔

مستغیث کا بیان نہایت مزیدار ہوا۔ مستغیث نے کتاب ( نزول المسیح ) کا تذکرہ کیا تو وکلاء مستغاث علیہ نے کہا کہ اس کتاب کا شامل ہونا ضروری ہے۔ ٢٠؍ فروری تاریخ دی گئی۔ وکلاء مستغاث علیہ نے یہ عذر تحریری کیا ہے کہ مقدمہ اس عدالت میں سماعت نہیں ہو سکتا۔ بعد بیان مستغیث اس پر بحث ہوگی۔ اگر عدالت کی رائے ہوئی تو مقدمہ منتقل کرے گی ورنہ دفعہ ٥٢٦ سے فائدہ اٹھایا جائے گا۔

دوسرے مقدمہ لائیل میں دفعہ ٥٢٦ ضابطہ فوجداری کے مطابق درخواست دی جائے گی۔ عدالت نے مستغاث علیہ کو ٢٦؍ فروری تک مہلت دی ہے۔ ہم نے سنا ہے کہ مولانا ابوالفضل نے قادیانی اور حکیم فضل الدین پر ایک جدید استغاثہ

٥٠

٩٧ دائر کرا دیا ہے جس کی پیشی ١٧؍ فروری ہے وارنٹ حاصل ہو رہی ہے۔

تعارف مضامین ......

سال ١٩٠٣ء ٢٢؍ فروری کے

مولانا شوکت پرسوں شب کو مجدد کے قلب پر مرزا قا وبلیغ معجز الہامات بزبان عرب القاء ہوئے۔ مرز پارسل وی پی بکس اور بیک میں سے ٹٹول کر ایسا متعف النوق ترعوث کشم الجبال الی تلل هبوب السمیراء نفذت في جوف سو الدوار والجنون. وردت شرذمة شاكيا

صفحہ ٣٩٧

دائر کرا دیا ہے جس کی پیشی ١٧ فروری ہے وارنٹ پھر جاری ہو گئے ہیں۔ مرزا کو نہایت شرمندگی حاصل ہو رہی ہے۔

تعارف مضامین ...... ضمیمہ شحنہ ہند میرٹھ

سال ١٩٠٣ء ٢٤ فروری کے شمارہ نمبر ٨ کے مضامین

١...... مجدد پر الہامات۔ مولانا شوکت اللہ میرٹھی! ٢...... استروں کی مالا ۔ مولانا شوکت اللہ میرٹھی! ٣...... اٹھارہ برس کا خواب آج دیکھ رہے ہیں۔ مولانا شوکت اللہ میرٹھی! ٤...... قادیانی کے عربی قصیدہ پر مصری ادیبوں کی رائے ۔ گلزار ہند سے اقتباس ٥...... رویاء صادقہ ۔ از مکتوب اٹاوہ ٦...... ضمیمہ کی ترقی ۔ مرزا کا چیلنج قبول ۔ اعجاز احمدی کا جواب مولانا شوکت اللہ میرٹھی! ٧...... وہی مرزا قادیانی کا جہاد۔ مولانا شوکت اللہ میرٹھی! ٨...... الہام کیا ہے ٹھیکے کی گت ہے۔ مولانا شوکت اللہ میرٹھی! ٩...... جعلی نبی پر ایمان۔ مولانا شوکت اللہ میرٹھی! ١٠...... سؤر کا شکار۔ مولانا شوکت اللہ میرٹھی! ١١...... لڑکے کی جگہ لڑکی ماتھے تھوپی گئی۔ مولانا شوکت اللہ میرٹھی!

١ ...... مجدد پر الہامات

مولانا شوکت اللہ میرٹھی!

پرسوں شب کو مجدد کے قلب پر مرزا قادیانی کی بروزی نبوت کے متعلق مندرجہ ذیل فصیح وبلیغ معجز الہامات بزبان عرب القاء ہوئے۔ مرزا قادیانی اپنی لال کتاب یا اپنے لال گرد کے گرنتھ یا لعل بیگی بکس اور بیگ میں سے ٹٹول کر ایسا منضبط اور مربوط اور مسجع الہام ایک تو دکھائیں : ’’ رقاب النوق ترعرت کشم الجبال الی تلل شملة الشمال اللتی ملتقها النون. وریاح ہبوب السمیراء نفذت فی جوف سویداء المجنون اللتی تطاولت علیہا ایدی الدوار والجنون. وردت شرذمة شاكية السلاح. وحجمت طبقة نافذة الرماح.

٥١

صفحہ ٣٩٩

لا عبرت لمن قام فقعد ثم ثار كالعجاج ولا وجود لمن برق ثم انكسر ثم انقض كالزجاج. تبا لک ايها الظلوم والجهول وتربت يداک يا ابن النساء لست من الفحول انتم كالصور البهيمية لستم كالاجسام التعليمية لان الهيولى انما هي محل لحلول الصور كما القينا على الباقر في كتابه المسمى بالافق المبين مع انه لا يولد منكم سوى الاشباح النارية الخبيثة الكثيفة لا الارواح الطيبة اللطيفة، لان الدجال لا يولد من بطن ابنت عمران التي لم يمسسها الا روح القدس الخبيثات للخبيثين والطيبات للطيبين“

٢ ...... استروں کی مالا

مولانا شوکت اللہ میرٹھی!

ہم بار ہا یقین دلا چکے کہ مجدد السنۃ مشرقیہ شوکت اللہ القہار کی شان رحم حسب فحوائے ”سبقت رحمتی علی غضبی“ شان قہر پر غالب ہے اور شیر غرّان بھی اپنے پیش پا افتادہ کو نہیں چھیڑتا اور ہم یہ بھی ظاہر کر چکے کہ مجدد ہرگز مرزا اور مرزائیوں کا بدخواہ نہیں بلکہ ایک خیر خواہ رفارمر ہے۔ مجدد کے مشورے اور صلاح کے بغیر کوئی کام کریں گے تو خرابی اور مصیبت کا سامنا ہوگا۔ بھلا یہ کیا حرکت ہے کہ نہ پوچھا نہ گچھا بیٹھے بٹھائے شامت جو انگڑائی لیتی ہے تو آؤ دیکھا نہ تاؤ جھٹ سے گورنمنٹ پر ایک پھواڑا ( میموریل ) ٹھائیں سے تان مارا کہ میرے ساتھ ایک لاکھ قلمی فوج ہے جس کو ہفتہ میں بجائے اتوار کی تعطیل کے جمعہ کی تعطیل ملنی چاہئے۔ تعطیل و تبدیل کی درخواست تو جیسی کچھ ہے خیر سلا۔ مقصود تو اپنی جرار فوج کی بھیڑ دکھانا ہے۔ تاکہ گورنمنٹ سہم جائے اور مرزا قادیانی کو نقلی نہیں اصلی مسیح اور امام الزمان تسلیم کرلے۔

اس میں شک نہیں کہ مرزا قادیانی نے ابھی تک ایک لاکھ آدمی صرف کاغذ پر دیکھے ہیں ورنہ ”الحکم“ میں اسم وار تفصیل شائع کرتے حالانکہ اب اس میں بیعت کا کالم ہی چھپنا گاؤ خورد ہوگیا جیسا کہ ہم اس بارے میں مرزا قادیانی کی حکمت عملی مفصلاً لکھ چکے ہیں۔

اگر ہمارے بعض مشائخ جن کے مریدوں کی تعداد درحقیقت لاکھوں تک ہے۔ گورنمنٹ میں کوئی ضروری میموریل بھیجتے تو کچھ مضائقہ نہ تھا اور نہ گورنمنٹ کو کوئی شبہ گزرتا۔ کیونکہ علماء اور مشائخ مذہب اسلام میں انقلاب ڈالنے اور مصلح ہونے کے مدعی نہیں اور نہ اسلام میں اصلاح اور ترمیم کی ضرورت ہے۔ مگر مرزا قادیانی چونکہ بروزی اور مسیح موعود اور مہدی اور

٥٢

بالآخر امام الزمان اور خاتم الخلفاء یعنی خاتم الانبیاء ہ ہوتے ہیں۔ ان کے ساتھ تو دس ہزار آدمیوں کا ہونا شخص مرزا قادیانی پر ایمان نہ لائے اسے واجب القت کے منکروں میں سے ہے۔

پس اس کا انجام جو کچھ ہوگا عاقبت اندیش مرزا قادیانی کے میموریل کو اس نوٹ کے عنوان میں مجدد کی پیشینگوئی کے پورا ہونے کے سامان نظر آرہے

٣ ...... اٹھارہ برس کا خوا

مولانا شوکت ال

مرزا قادیانی کے اسی جان نثار اور فدائی کے ”شحنہ ہند“ میں مولوی محمد یحییٰ کشمیری کی طرف ۔ مگر کجا ١٨٨٦ء اور کجا ١٩٠٣ء۔ اول تو مرزا قادیانی تھے اس زمانہ میں تو آپ صرف آریا کا تعاقب فرم بلکہ بعض نیک سیرت پاک نیت مسلمان آپ کے مر سانپ کے ظاہری خوش نمارنگ پر فریفتہ ہوگئے تھے بدلی تو راز کھل گیا اور سب خوف کھا کر اور لاحول اپاہج، پیران مے پرند مریدان مے پرانند والے باق

دوم! اخبار میں نامہ نگاروں کی طرف ۔ کے عقائد کو ان سے کیا تعلق؟ سوم! وہ اشعار ایسے۔ ان سے متصف کرسکتا ہے چہ جائیکہ غیروں کو۔ ایک

مسیحا را مشابہ در
محمد را تتبع وخادم دین

اس زمانہ میں تو آپ مسیح کے مشابہ تھے عیسیٰ مسیح میں (معاذ اللہ ) بہت سے عیوب ہیں ۔ ہیں۔ اس زمانہ میں آپ متبع ( تابعدار محمد ) تھے ا بن گئے۔ جب مبصر مسلمانوں نے آنکھیں کھول کر

٣

صفحہ ٣٩٩

بالآخر امام الزمان اور خاتم الخلفاء یعنی خاتم الانبیاء بننے کے مدعی ہیں۔ لہذا ایک لاکھ آدمی تو بہت ہوتے ہیں۔ ان کے ساتھ تو دس ہزار آدمیوں کا ہونا بھی گورنمنٹ کے لئے خطرناک ہے کیونکہ جو شخص مرزا قادیانی پر ایمان نہ لائے اسے واجب القتل سمجھتے ہیں۔ اور ظاہر ہے کہ گورنمنٹ بھی ان کے منکروں میں سے ہے۔

پس اس کا انجام جو کچھ ہوگا عاقبت اندیش اہل الرائے اس کو خوب سمجھتے ہیں۔ لہذا ہم نے مرزا قادیانی کے میموریل کو اس نوٹ کے عنوان میں ان کے گلے کے لئے استروں کی مالا لکھا ہے۔ مجدد کی پیشینگوئی کے پورا ہونے کے سامان نظر آرہے ہیں اور وہ ضرور پوری ہوگی ۔ انشاء اللہ ۔

٣ ...... اٹھارہ برس کا خواب آج دیکھ رہے ہیں

مولانا شوکت اللہ میرٹھی !

مرزا قادیانی کے اسی جان نثار اور فدائی نے چند اشعار شائع کئے ہیں جو دسمبر ١٨٨٦ء کے ”شحنہ ہند“ میں مولوی محمد یحییٰ کشمیری کی طرف سے مرزا قادیانی کی مدح میں شائع ہوئے تھے مگر کجا ١٨٨٦ء اور کجا ١٩٠٣ء۔ اول تو مرزا قادیانی ١٨؍ برس قبل بروزی نبی اور خاتم الخلفاء نہ بنے تھے اس زمانہ میں تو آپ صرف آریا کا تعاقب فرما رہے تھے اور کوئی مسلمان آپ کا مخالف نہ تھا بلکہ بعض نیک سیرت پاک نیت مسلمان آپ کے مرید و معتقد اور محض سادہ دلی اور بھولے پن سے سانپ کے ظاہری خوش نما رنگ پر فریفتہ ہوگئے تھے۔ مگر مرزا قادیانی نے کینچلی اتار کر دوسری کینچلی بدلی تو زہر کھل گیا اور سب خوفناک ہوکر اور لاحول پڑھ کر علیحدہ ہوگئے ۔ قادیان میں صرف چند اپاہج ، پیران مے پرند مریدان مے پرانند والے باقی رہ گئے ۔

دوم ! اخبار میں نامہ نگاروں کی طرف سے ہر قسم کے مضامین شائع ہوتے ہیں۔ ایڈیٹر کے عقائد کو ان سے کیا تعلق ؟ سوم ! وہ اشعار ایسے تھے کہ ہر شاعر شاعرانہ ترنگ میں خود اپنی ذات کو ان سے متصف کر سکتا ہے چہ جائیکہ غیروں کو۔ ایک شعر یہ تھا ۔

مسیحا را مشابہ در کمالِ فیض روحانی
محمد را متبع وخادم دین از دل وجان شد

اس زمانہ میں تو آپ مسیح کے مشابہ تھے مگر اب ان سے بدرجہا بڑھے ہوئے ہیں۔ بلکہ عیسیٰ مسیح میں (معاذ اللہ ) بہت سے عیوب ہیں اور ان کے مقابلہ میں خود بدولت بالکل معصوم ہیں۔ اس زمانہ میں آپ متبع ( تابعدار محمد ) تھے اب بروزی محمد یعنی بعینہ محمد ہیں گویا غلام سے آقا بن گئے ۔ جب مبصر مسلمانوں نے آنکھیں کھول کر یہ کیفیت دیکھی تو مندرجہ ذیل شعر پڑھا ۔

٥٣

صفحہ ٥٤
سفلہ خوش پوش را برصدر عزت جامدہ
کفش اگر زریں بود بالائے سرنتوان نہاد

کشمیری صاحب نے تو اپنے نبی کی تعریف میں کچھ بھی مبالغہ نہیں کیا۔ عرفی شیرازی خود اپنی تعریف میں لکھتا ہے ۔

مریم من فیض جبریل از مزاج خود گرفت
مریمی را برد بالا ذہن عیسیٰ زائے من

لیجئے آپ اگر شبیہ مسیح ہیں تو عرفی کا ذہن عیسیٰ زا ہے یعنی عیساؤں کے جننے کی کل ہے۔ اس لئے عرفی لکھتا ہے کہ میرے ذہن عیسیٰ آفرین نے مریم ہونے کے مرتبہ کو بڑھا دیا ہے پس ہم ایسی ہی مجذوب کی بڑ کشمیری صاحب کے کلام کو سمجھے اور ”شحنہ ہند“ میں درج کر دیا۔ بقول مثل۔ آپ سے آئے تو آنے دو۔ اور آئی تو رمائی۔ نہیں تو فقط چار پائی۔

اگر مرزا قادیانی میں خلوص اور تدین اور تقویٰ اللہ ہوتا تو جو لوگ آپ کو ایک نیک نہاد بزرگ سمجھ کر مرید یا معتقد ہوئے تھے وہ کیوں آپ سے علیحدہ ہو جاتے اور کیوں تبرا پڑھ کر آپ کے نام کا کتا پالنے سے بھی اب دریغ کرتے۔ ان کو تو تشنگی طلب لائی تھی مگر جب انہوں نے چشمۂ آب کی جگہ محض سراب دیکھا اور بجائے رہبری کے رہزنی محسوس کی تو اپنی سادہ لوحی پر نادم ہوئے اور آپ سے قطع تعلق کرنے کو عین تدین سمجھے اور گمراہی میں رہنا گوارہ نہ کیا ۔

اے بسا ابلیس آدم روئے ہست
پس بہر دستے نباید داد دست

ایسے بہت سے لوگ موجود ہیں جو مرزائیت کی تاریکی سے نکل کر توفیق الٰہی کی روشنی میں آگئے ہیں جن کے خطوط ضمیمہ میں چھپ چکے ہیں۔ مرزا اور مرزائی جواب دیں کہ ان لوگوں کے علیحدہ ہونے کے کیا وجوہ ہیں۔ آپ شاید کہیں کہ ”ان میں کچھ شیطانی رگیں باقی تھیں۔“ بھلا تمام شیطانی رگیں قطع نہ ہو جائیں تو مرزا قادیانی کے پاس آتے کیوں اور اب آئے تو کیا وہ رگیں پھر عود کر آئیں۔ اس سے معلوم ہوا کہ یہ مرزا قادیانی کے فیض صحبت کا اثر ہوا۔ یوں کہئے نا کہ کاٹھ کی ہانڈی ایک ہی دفعہ چڑھتی ہے۔ سادھو بچے ہمیشہ کامیاب نہیں ہوتے۔

٤ ...... قادیانی کے عربی قصیدہ پر مصری ادیبوں کی رائے

(گلزار ہند سے اقتباس) ”المنار“ مجریہ ١٦ شوال ١٣٢٠ھ میں فاضل ایڈیٹر کی رائے کا خلاصہ دربار ”اعجاز احمدی“ حسب ذیل ہے۔

”مرزا غلام احمد قادیانی نے مجھے ا لے رکھی ہے۔ گزشتہ مہینے میں ہمیں ایک عربی قصیدہ کو اپنا معجزہ سمجھتا ہے اور ایسا قصیدہ لکھنے اس قصیدہ کے ہمراہ ایک انگریزی خط بھی اس بے وقوف نے انعام مقرر کرتے ہوئے کوئی ح اشعار کا موازنہ کرتا۔ ہمارا ارادہ تھا کہ اس قصید اور عروضی غلطیوں کے علاوہ اس کا سرقہ بھی پکڑا کا سرقہ کر کے اس کی شکل کس طرح مسخ کی ہ عربی جاننے والے ہیں وہ قصیدہ کے اشعار پ کے فریب میں آچکے ہیں وہ ہماری جرح کو ا ہم نے اپنا ارادہ ملتوی کر دیا اور صرف چن اڑائیں ۔“

اس کے بعد مرزا کے قصیدے س الفاظ میں ”ایڈیٹر الہلال“ نے ظاہر کی ہے عناد بھی نہیں۔ کیونکہ عیسائی ہونے کی وجہ سے

٥ ......

مولانا شوکت ! السلام علیکم ورحمۃ سے میں ١٥ ذیقعدہ ١٣٢٠ھ کو ٣ بجے شب بارے میں یہ خیال رہتا تھا کہ ”یہ شخص اپنے اللہ“ پڑھ کر سو گیا۔ خواب میں ایک شخص بزر باندھے چوغا پہنے کمر سے پٹکہ کسے میرے پ پڑا ہے۔ اس شخص کا دعویٰ مثیل المسیح اور موعو ہے۔ نبیوں کی صورت شکل ایسی نہیں ہوتی کہ اس کے سامنے پھول بھی میلا معلوم ہو سامنے روئی بھی سخت ہوتی ہے۔ مرزا کے

صفحہ ٤٠١

"مرزا غلام احمد قادیانی نے جسے ایک قسم کا جنون ہے اور جس نے عقل سے فارغ خطی لے رکھی ہے۔ گزشتہ مہینے میں ہمیں ایک عربی قصیدہ بھیجا ہے جس کا دیباچہ اردو میں ہے۔ وہ اس قصیدہ کو اپنا معجزہ سمجھتا ہے اور ایسا قصیدہ لکھنے والے کو دس ہزار روپیہ انعام دینے کا وعدہ کرتا ہے۔ اس قصیدہ کے ہمراہ ایک انگریزی خط بھی اس نے بھجوایا ہے جس میں اسی قسم کا ہذیان ہے مگر اس بے وقوف نے انعام مقرر کرتے ہوئے کوئی حکم مقرر نہیں کیا جو اس کی بکواس اور شعراء کے سحربیان اشعار کا موازنہ کرتا۔ ہمارا ارادہ تھا کہ اس قصیدہ پر جرح و قدح کرتے اور مرزا کی لفظی ، صرفی، نحوی اور عروضی غلطیوں کے علاوہ اس کا سرقہ بھی پکڑتے اور دکھاتے کہ مرزا نے شعراء متقدمین کے کلام کا سرقہ کر کے اس کی شکل کس طرح مسخ کی ہے اور صحیح کو کیوں کر غلط کیا ہے۔ مگر اس خیال سے کہ جو عربی جاننے والے ہیں وہ قصیدہ کے اشعار پڑھ کر خود ہی سمجھ سکتے ہیں اور اہل ہند میں سے جو اس کے فریب میں آچکے ہیں وہ ہماری جرح کو اگر وہ ان کے پاس پہنچ بھی جائے۔ کب ماننے لگے۔ ہم نے اپنا ارادہ ملتوی کر دیا اور صرف چند شعر نقل کر دیئے تا کہ پڑھنے والے اس کا مضحکہ اڑائیں۔"

اس کے بعد مرزا کے قصیدے سے چند اشعار نقل کر دیئے ہیں اور یہی رائے دوسرے الفاظ میں 'ایڈیٹر الہلال' نے ظاہر کی ہے جو مسیحی مذہب رکھتا ہے اور جس کا مرزا کے ساتھ کوئی عناد بھی نہیں۔ کیونکہ عیسائی ہونے کی وجہ سے وہ مرزا کی گالی گلوج سے بچا ہوا ہے۔"

(گلزار ہند)

٥ ....... رویاء صادقہ

مکتوب اٹھارہ

مولانا شوکت ! السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ ۔ ایک حاجی صاحب نے جو اہلحدیث سے ہیں ١٥ ذیقعدہ ١٣٢٠ھ کو ٣ بجے شب کو خواب دیکھا۔ وہ فرماتے ہیں کہ مجھ کو مرزا کے بارے میں یہ خیال رہتا تھا کہ "یہ شخص اپنے دعوے میں سچا ہے یا جھوٹا؟" میں اپنے سینے پر "قل ہو اللہ" پڑھ کر سوگیا۔ خواب میں ایک شخص بزرگ بہت پاکیزہ صورت سفید پوش سر پر بہت بڑا عمامہ باندھے چوغا پہنے کمر سے پٹکہ کسے میرے سر پر آکھڑے ہوئے اور کہا اے حاجی تو کس جنجال میں پڑا ہے۔ اس شخص کا دعویٰ مثیل مسیح اور موعود منجانب اللہ اور مہدی و نبی وغیرہ ہونے کا محض بناوٹ ہے۔ نبیوں کی صورت شکل ایسی نہیں ہوتی جیسی اس کی ہے۔ نبیوں کا روئے مبارک ایسا ہوتا ہے کہ اس کے سامنے پھول بھی میلا معلوم ہوتا ہے اور نبیوں کے ہاتھ ایسے نرم ہوتے ہیں کہ ان کے سامنے روئی بھی سخت ہوتی ہے۔ مرزا کے ہاتھ ایسے سخت اور خاردار ہیں جیسے ببول کے تنے اور

صفحہ ٤٠٢

مرزا کے منہ کی کھال ایسی ہے جیسے گدھے کی کھال۔ اور ناک ایسی جیسے گینڈے کا سینگ اور منارے کا کلس، اور داڑھی کے بال ایسے سخت جیسے برانڈی کی بوتل کے کاگ کے تار۔ اور انبیاء کے بال ریشم کے لچھے ہوتے ہیں۔ پھر فرمایا کہ یہ شخص کافر ہے۔ چلو نماز پڑھو وہ مجھے ایک بہت بلند اور بڑی مسجد میں لے گئے۔ لوگ مسجد کی چھت چونے وغیرہ سے مزین کر رہے تھے۔ مجھے ایسا معلوم ہوا کہ تخمیناً ڈیڑھ سو علماء اس جگہ موجود ہیں۔ میں نے جماعت کے ساتھ نماز پڑھی۔ بعد نماز اس بزرگ نے فرمایا کہ اگر مرزا کا کوئی مرید تم کو بہکائے تو اس کے بہکاوے میں نہ آنا۔ یہ کوئی مذاق اور دل لگی نہیں بلکہ سچا خواب ہے۔ جھوٹا خواب بیان کرنا شرعاً منع ہے۔

٦ ...... ضمیمہ کی ترقی۔ مرزا کا چیلنج قبول۔ اعجاز احمدی کا جواب

مولانا شوکت اللہ میرٹھی!

لیجئے جناب بڑے کی ایسی کی تیسی اور یوں کی دوں ہوگئی۔ ہر سال ہجرت اقدس و انجس و اخبث و احنث پیشینگوئی کرتے ہیں کہ ضمیمہ شحنہ ہند بند ہو جائے گا۔ ہمارے نام بعض بدمعاشوں کے گمنام خطوط بھی آئے کہ امام الزمان کی پیشینگوئی امسال ضرور پوری ہوگی۔ مگر جھوٹے کے منہ میں وہ ...... ہو گیا اور ضمیمہ ہر سال خدا کی عنایت اور مریدوں اور قدردانوں کی حمایت واعانت سے نئی بڑھتی ہوئی قوت کے ساتھ منکروں اور ملحدوں کی چھاتی پر مونگ دلتا ہوا ایک عجوبہ اور دلکش سج دھج کے ساتھ نکلتا ہے اور کسی کمسن معشوق کے اٹھتے جوبن کی طرح بڑھ رہا ہے۔ مرزا قادیانی شاید اس پر بھولے ہوں گے کہ بعض پرچے ان کے مقابلے میں کامیاب نہیں ہوئے۔ مگر ”شحنہ ہند“ ان میں نہیں ہے۔ وہ جامعیت کمال نہ رکھتے تھے۔ وہ ناقص تھے نا قابل تھے۔ شوکت اللہ القہار خدا کی عنایت سے جامع کمالات ہے۔ وہ منکروں کو ہر فن ہر مسلک ہر شعبہ میں عاجز کر سکتا ہے۔ اور ہم حلفاً کہتے ہیں کہ ابھی تک مرزا اور مرزائیوں نے شوکت اللہ کا تابناک جوہر نہیں پہچانا۔ ابھی انہوں نے دیکھا ہی کیا ہے۔ انشاء اللہ بہت جلد دیکھیں گے وہ اپنی ”اعجاز احمدی“ کو لئے پھرتے ہیں۔ واللہ ثم باللہ ہم اس کو محض بے حقیقت سمجھتے ہیں۔ ہمارے شاگرد اس سے بہتر لکھ سکتے ہیں مگر بلاوجہ کون دردسر خریدے اور اپنے کاموں سے فرصت ہی کسے ہے؟

مرزا قادیانی کے پرانے پٹھو اور ہمارے لنگوٹئے یار امروہی صاحب نے ”اعجاز احمدی“ کا جواب لکھنے کی پھر تحریک کی ہے۔ جواباً خدمت گرامی کے بیچوں بیچ میں گزارش ہے کہ اگر جیب میں ٹکے ہوں تو مرزا قادیانی پانچ ہزار روپیہ امرتسر یا لاہور میں کسی ایسے صاحب کے پاس جمع کرا دیں جو ہمارا بھی معتمد علیہ ہو۔ مثلاً امرتسر میں منشی غلام محمد صاحب فاضل و خواجہ صمد شاہ

٥٦

صفحہ ٤٠٣

صاحب ایڈیٹر ان اخبار وکیل میا میر کرامت اللہ صاحب میر، اور لاہور میں مولوی محبوب عالم صاحب مالک پیسہ اخبار یا مولوی محرم علی صاحب چشتی مالک رفیق ہند یا میاں محمد چٹو صاحب تاجر ریشم ، اس کے بعد طرفین سے محاکم مقرر ہوں اگر ہمارے کسی شاگرد کا قصیدہ مرزا قادیانی کے قصیدے سے بڑھ کر ہے اور مجلس محاکمہ کے ممبر ہم کو ڈگری دیں تو ہم پانچ ہزار لینے کے مستحق ہوں گے ورنہ نہیں ۔ تم نے دس ہزار کا اعلان دیا تھا ہم اس کا نصف ہی مانگتے ہیں ۔ اگر مرد ہو تو ایسے موقع سے نہ چوکو ورنہ لعنت الله على الجاعلين، الجاهلين الضالين الدجالين کہو پیش یار ۔

٧....... وہی مرزا قادیانی کا جہاد

مولانا شوکت اللہ میرٹھی!

٧ فروری سنہ حال کے ”الحکم“ میں بڑے فخر کے ساتھ کسی اخبار سے ایک مضمون نقل ہو کر شائع ہوا ہے جس کا خلاصہ یہ ہے کہ ”تین سال کے عرصہ میں فرقہ احمدیہ نے حیرت انگیز ترقی کی ہے اور اب اس کی تعداد ڈیڑھ لاکھ سے بھی زیادہ ہے۔“ عجیب بات ہے مرزا قادیانی تو اپنے میموریل میں جو پچھلے دنوں گورنمنٹ کے حضور بھیجا گیا ہے فرقہ احمدیہ کی تعداد ایک لاکھ لکھی اور مذکورہ بالا اخبار ڈیڑھ لاکھ سے بھی زائد بتائے ۔ مدعی سست گواہ چست ۔ معلوم نہیں دونوں میں کون جھوٹا ہے؟

اس کے بعد بمبئی کے افسر مردم شماری کی رپورٹ نقل ہوئی ہے جس میں فرقہ احمدیہ کا واجب العمل اصل الاصول صرف مسلمانوں کو جہاد سے روکنا ہے اور بس۔ گویا مرزا قادیانی کی بعثت کی علت غائی اس کے سوا کچھ نہیں۔

واقعہ میں جدید مذہب کے لئے اس سے بڑھ کر اصول ممکن نہیں۔ لیکن پچھلے دنوں جو ”الحکم“ کی لوح پر بطور علامات مسیح موعود ” يكسر الصلب ويقتل الخنازير “ والی حدیث ثبت تھی اور پھر بعد میں ضمیمہ شحنہ ہند کی انگشت نمائی پر وہ حدیث چھیل ڈالی گئی گویا اپنا تمغہ کھو دیا تو اس سے کیا مراد تھی۔ کیا صلیب کا ٹکڑے ٹکڑے کرنا اور سوروں کا قتل کرنا جہاد نہیں اور صلیب اور سوروں سے کیا مراد ہے۔ اگر آپ انکار کریں گے کہ میں صلیب کا توڑنے والا اور سوروں کا قتل کرنے والا نہیں ہوں تو آپ مسیح موعود نہیں۔ اپنے ہی قول سے جھوٹے ہیں۔

مرزا قادیانی جو مسلمانوں کو جہاد سے روک رہے ہیں تو معلوم نہیں کون سے مسلمان جہاد پر آمادہ ہیں ۔ مرزا قادیانی موجودہ پرامن سلطنت انگلیشیہ میں یہ خواب پریشان کیوں دیکھ

٥٧

صفحہ ٤٠٥

رہے ہیں اور اسلام میں ایسے جہاد یعنی امن وامان کی حالت میں جدال و قتال کا حکم کہاں ہے۔ اگر آپ اس اسلامی جہاد کے خلاف ہیں جو مہذب اور معقول شرائط کے ساتھ مشروط ہے تو برٹش کے جہاد ٹرانسوال اور یورپ کے جہاد چین اور ونزویلہ اور صومالی کے جہاد کے بھی خلاف ہیں۔ پھر مرزا قادیانی نے برٹش گورنمنٹ میں کیوں میموریل نہیں بھیجا کہ خلق اللہ کی خونریزی سے باز آئے۔ حالانکہ اس کی ضرورت تھی۔ مسلمان تو جہاد کا نام تک بھول گئے ہیں ان کے سامنے یہ تحریک کرنا تحصیل حاصل اور محض فضول ہے۔

مرزا قادیانی کی زبان پر ہر وقت جہاد ہی جہاد کا رہنا ضرور ماخولیا ہے یا کابوس ہے، یا جنون ہے، نہیں جناب دیوانہ بکار خویش عاقل کا مضمون ہے۔ ان کو ہر وقت خوف رہتا ہے کہ میں نے جو مسیح اور مہدی اور امام الزمان بننے اور اپنے جھنڈے کے نیچے مخلوق کے آنے کا اعلان دیا ہے۔ ایسا نہ ہو برٹش گورنمنٹ اس اجتماع عوام کالانعام کی ڈونڈی پیٹنے پر خوف ناک ہو کر مجھ سے مواخذہ کر بیٹھے پس منہ میں تنکے لے لے کر ہمیشہ گورنمنٹ کے آگے دم ہلاتے ہیں کہ میں بھیڑیا نہیں بلکہ آسمانی باپ کی بھیڑ ہوں۔ مرزا قادیانی کے مکار اور کاذب ہونے کی اس سے بڑھ کر اور کیا شہادت ہوگی کہ وہ ایک بے وجود امر (جہاد) کو ٦ کروڑ مسلمانان ہند کے سر تھوپتے ہیں اور اپنے کو جہاد کا مخالف قرار دیتے ہیں اور اسی معدوم اور خلاف واقعہ امر کو اپنی مہدویت کا اعلیٰ نشان بتاتے ہیں۔ ھذا شئی عجاب!

مضمون کے اخیر میں لکھا ہے کہ ”احمدی جماعت کی ترقی کا بڑا باعث طاعون کا پھیلنا ہے۔ لوگ طاعون سے خوفزدہ ہو کر احمدی بنتے ہیں۔“ اس کی کیا وجہ ہے کہ خوف صرف مسلمانوں پر طاری ہوتا ہے۔ ہندو، عیسائی، آریا، پارسی، بودھ کیوں احمدی نہیں بنتے اور شاید جو مسلمان احمدی بن جاتا ہے وہ طاعون سے محفوظ رہتا ہے۔ قادیان میں تو کوئی کیا مرتا جو آسمانی باپ کے لے پالک کا مسکن ہے۔ تمام ملک پنجاب میں ایک احمدی بھی نہیں مرا۔ علاقہ بمبئی میں احمدیوں کی تعداد گیارہ ہزار ٢٧٨ بتائی گئی ہے۔ اگر وہاں ایک احمدی بھی مرا ہو تو ہمارا ذمہ اور اگر در حقیقت احمدی بھی مرے ہیں تو فرمائیے مرزا اور مرزائیوں کو طاعون نے کیا فائدہ دیا؟ دوست بھی مرے اور دشمن بھی۔ تو نشان مسیحیت و مہدویت غارت برباد ہو گیا۔

ہم خیال کرتے ہیں کہ آئندہ گرما میں آسمانی باپ نے چاہا تو دماغ کا تھرما میٹر اول درجہ پر پہنچ جائے گا جبکہ مرزا بھی برٹش گورنمنٹ میں میموریل بھیجیں گے کہ میں امام الزمان ہوں میرے ہاتھ پر گورنمنٹ بھی بیعت کرے۔

٥٨

٨ ...... الہام کیا ہے

مولانا شوکت الـ...

پچھلے دنوں آسمانی باپ نے لے پالک کہ بس تو کمال کر دیا۔ سنئے! ”انی مع الرسول اقوم واصـ... ص ٤٥٩، طبع سوم) ”اہو ہو ہو ہو“ کیا ا لاجواب الہام ہے۔ آسمانی باپ کہتا ہے ”میں اپنے میں نماز پڑھتا ہوں۔ روزے رکھتا ہوں اور تجھے وہ باقی رہے۔“ گویا رسول اور ہے اور تجھے اور ہے یو... اور لے پالک کا خطاب تو کئی مرتبہ دے چکا ہے... زناء کیا تھا اور وہ حاملہ تھی جس پر حد شرعی کا لگـ... ”لا شرب ولا اكل ولا نطق ولا استهل فـ... جائے گی تو اس کا جنین بھی مارا جائے گا جس نے کا خون بہایا جائے۔ آنحضرت ﷺ نے فرمایا ” کاہنوں کی سی باتیں کرتا ہے جو سجع اور مقفے ہو ہیں۔ کچھ صاف ظاہر ہے کہ حضور رسول مقبول ﷺ لے پالک کے ساتھ کھڑا ہوتا ہے۔ اس کے سا... آسمانی باپ (خدا) کا بھی کوئی باپ (خدا) ہے بعد نسل و بطناً و بعد بطن تعدد آلہہ کا تسلسل جاری لئے ایک خدا ہے۔ یہ تو ٣؍ فروری کا الہام تھـ... ”اصلی واصوم اسهر وانام واجعل لک ص ٤٦٠) واہ واہ! کیا کہنا الہام کیا ہے جلی قلم... ڈوئی کے سامنے پیش کرنے کے قابل ہے کہ باپ، ٹھیکے کی گت بھرنا بھول گیا یا بہک گیا۔ الہام میں اور گزشتہ الہام میں کیا فرق ہے۔ الارواح“ پڑھنے والے اس سے بہتر الہام کـ...

صفحہ ٤٠٥

٨ ...... الہام کیا ہے ٹھیکے کی گت ہے

مولانا شوکت اللہ میرٹھی!

پچھلے دنوں آسمانی باپ نے لے پالک پر وہ چٹخاتا زناٹے دار الہام کا دوگڑا برسایا کہ بس پھڑکا ہی کر دیا۔ سنئے!

"انی مع الرسول اقوم واصلی واصوم واعطیک مایدوم" (تذکرہ ص ٤٥٩، طبع سوم) "اہو ہو ہو ہو" کیا کہنا ہے۔ دھنا تک دھنا ٹھیکے کی گت بھرتا ہوا کتنا لاجواب الہام ہے۔ آسمانی باپ کہتا ہے "میں اپنے رسول (لے پالک) کے ساتھ کھڑا ہوتا ہوں۔ میں نماز پڑھتا ہوں۔ روزے رکھتا ہوں اور تجھے وہ شے عطا کرتا ہوں جو قیامت سے بھی ادھر تک باقی رہے۔" گویا رسول اور ہے اور تجھے اور ہے یوں کیوں نہ کہا کہ "انی معک اقوم" رسول اور لے پالک کا خطاب تو کئی مرتبہ دے چکا ہے۔ حدیث شریف میں آیا ہے کہ ایک عورت نے زناء کیا تھا اور وہ حاملہ تھی جس پر حد شرعی کا لگنا ضروری تھا۔ ایک شخص نے اس اثناء میں کہا "لاشرب ولا اکل ولا نطق ولا استهل فمثل ذالک یطل" یعنی زانیہ حاملہ پر حد لگائی جائے گی تو اس کا جنین بھی مارا جائے گا جس نے نہ کھایا ہے نہ پیا ہے نہ بولا ہے نہ چیخا ہے کیا ایسے کا خون بہایا جائے ۔ آنحضرت ﷺ نے فرمایا "سجع کسجع الکھان" یعنی یہ شخص کاہنوں کی سی باتیں کرتا ہے جو مسجع اور مقفے ہوتی ہیں اور جن میں وہ تکلف جوڑ بند لگاتے ہیں۔ صاف ظاہر ہے کہ حضور رسول مقبول ﷺ پر ایسا مسجع کلام ناگوار گزرا۔ مگر آسمانی باپ اور لے پالک کے ساتھ کھڑا ہوتا ہے۔ اس کے ساتھ نماز پڑھتا ہے۔ اس کے ساتھ روزہ رکھتا ہے۔ آسمانی باپ (خدا) کا بھی کوئی باپ (خدا) ہے۔ جس کے لئے وہ صوم وصلوٰۃ کرتا ہے۔ گویا نسلاً بعد نسل وبطناً بعد بطن تعدد آلہہ کا تسلسل جاری ہے۔ ہر باپ کے واسطے ایک باپ اور ہر خدا کے لئے ایک خدا ہے۔ یہ تو ٣؍ فروری کا الہام تھا اب ٤؍ فروری کے الہام کا جوڑ توڑ ملاحظہ ہو۔ "اصلی واصوم اسہر وانام واجعل لک انوار القدوم واعطیک مایدوم" (تذکرہ ص ٤٦٠) واہ واہ! کیا کہنا الہام کیا ہے جلی قلم سے لکھ کر فرانس کی نمائش گاہ میں فرانسیسی مسیح ڈاکٹر ڈوئی کے سامنے پیش کرنے کے قابل ہے کہ دیکھ تو مسیح موعود ہے یا میں ۔ اس الہام میں آسمانی باپ، ٹھیکے کی گت بھرتا بھول گیا یا بھٹک گیا۔ کیا معنے کہ اصوم کا سجع انام لایا۔ بھلا کوئی پوچھے اس الہام میں اور گزشتہ الہام میں کیا فرق ہے۔ یہی کہ وہ بد تھا یہ بدتر ہے۔ "ہدایت النحو اور مراح الارواح" پڑھنے والے اس سے بہتر الہام گھڑ لیتے ہیں۔ ایسے مصنوعی الہامات پر ایمان لانے

٥٩

صفحہ ٤٠٦

والے خدا جانے کس قماش اور کینڈے کے لوگ ہیں اور کیسی ان کی قابلیت ہے۔ کہتے ہیں کہ منارۃ المسیح کے مجاور بڑے بڑے بالغ العلوم والعقول ہیں لیکن ان کا ایمان اگر ایسے ہی الہامات پر ہے تو بس حقیقت کھل گئی کہ جیسی روح ویسے فرشتے۔ ہم تو یہ سمجھتے ہیں کہ قادیانی نبوت ورسالت کا سہرا ہمارے پیارے مولوی حکیم نورالدین صاحب کے سر ہے اور وہی قادیان کے شب چراغ ہیں۔ انہیں سے ہمارا خطاب ہے کہ انصافاً مجدد مائتہ گزشتہ اور مرزا قادیانی کے عربی الہامات کا موازنہ کریں۔ اب رہے ہمارے لنگوٹیے رفیق شفیق باالتحقیق الغریق یتشبث بالحشیش الدقیق، المرمی بالنار الحریق ، جمرۃ التحقیق، حریف مجلس الرحیق، مولوی امروہی اور سرگرم اور پرجوش محب صمیم غبی الفہم فی صحبت المسیح مقیم، لاہوری یتیم مولوی عبدالکریم کے تو کیا ہی کہنے ہیں۔ ان کی تو وہی مثل ہے۔ ہاتھی کے پاؤں میں سب کا پاؤں۔ اب رہے ہمارے ایڈیٹری مآب اخنفس رکاب۔ الحکم کی طناب فی لجہ المنارۃ غرقاب شیخ یعقوب علی تراب ان کی تو کچھ پوچھئے ہی نہیں۔ سارا 'الحکم' آپ ہی کے لیڈنگ آرٹیکلوں سے یوں بھر پور رہتا ہے جیسا سرگم کے سروں سے طنبور، اور یہ ہے بھی سب آپ ہی کا ظہور۔ بس اب کہنے سننے کی کیا بات ہے۔ تانت باجی اور راگ بوجھا۔ جب الہامات کے سمجھنے اور شائع کرنے والے ایسے جامع اور مانع لوگ ہوں تو مہدویت اور مسیحیت تمام ہندوستان میں ریلوے انجن کی طرح چیختی چلاتی دھڑکتی ہاتھی کی سی چنگھاڑ مارتی گڑگڑ کرتی دھماچوکڑی مچاتی کودتی پھاندتی کیوں نہ پھرے۔

٩ ...... جعلی نبی پر ایمان

مولانا شوکت اللہ میرٹھی!

تیرہ سو برس تک نہ صرف جمہور اسلامی علماء وفضلاء ائمہ مجتہدین نے بلکہ اقوام ومذاہب غیر کے منصف مزاج و عقلاء حکماء نے تسلیم کر لیا ہے کہ پیغمبر عرب وعجم ﷺ خاتم الانبیاء اور لاثانی نبی اور رفارمروں کا بھی رفارمر ہے۔ چنانچہ ڈاکٹر لئیٹنر سابق رجسٹرار پنجاب یونیورسٹی لاہور نے جو ابھی تک شاید زندہ ہیں۔ اپنی ایک تحریر میں لکھا ہے کہ مذہب اسلام کوئی نیا مذہب نہیں۔ صرف اصلاح شدہ عیسائیت ہے۔ گویا خود ایک عیسائی فاضل نے تسلیم کیا کہ آنحضرت ﷺ عیسوی مذہب کے بھی رفارمر ہیں۔ قرآن شاہد ہے حدیث شاہد ہے کہ آنحضرت ﷺ خاتم النبیین ہیں اور آپ کے بعد کوئی نبی نہیں۔ مگر چودھویں صدی میں ایک ملحد ہنکارتا ہے کہ اس زمانہ کا نبی میں ہوں اور مجھ پر جو شخص ایمان نہ لائے وہ دنیا میں واجب القتل اور عقبیٰ میں جہنمی ہے۔ پھر جب بھاگتے راہ نہیں ملتی تو اپنے کو مجدد بتاتا ہے اور حدیث شریف کا حوالہ دیتا ہے

٦٠

٤٠٧ کہ ہر صدی پر ایک مجدد پیدا ہوتا رہے گا۔ اس صور مگر کیا کسی مجدد نے نبوت کا بھی دعویٰ کیا ہے؟ ک رہیں گے مگر کمال نبوت آنحضرت ﷺ پر ختم ہو گ بعد ناقص نبی کیوں دنیا کے ماتھے مارا اور کیوں دنی میں گرایا۔ پھر آنحضرت ﷺ کو کامل نبی بھی ت آیتوں کو توڑ مروڑ کر انکا نزول اپنے حق میں بیان لغویت ہے کس قدر جگر اور گردہ اس شخص کا اور ہاتھوں اپنا ایمان فروخت کر دیا اور اسلام سے منح آج کے روز تمام اہل مذاہب میں ہے۔ کیا معنے کہ اصول اسلام کو کوئی مذہب والا جو اصول اسلام پر نہیں چلتے اور اپنے ساتھ ا کے گرو گھنٹال مرزا قادیانی ہیں کیا معنے کہ عیسا جو محمد نبی کو چھوڑ کر مرزا کی نبی کی امت بن ج ہے؟ مرزائیوں کے پاس بجز رکیک تاویل ک دل میں مرزا ہی کو سچا اور افضل سمجھتے ہیں۔ اس احمدی کہلانے کو فخر سمجھتے ہیں۔

...... ١٠

مولا ناشو

'الحکم' میں لکھا ہے کہ 'ہندوؤں ن سے سور مارنے پر اعتراض کیا اور دی اریوں کو سور مارنا سکھا جائیں۔ چنانچہ لاٹ پادری نے تو بے رحمی پر اعتراض کیا تھ کرنے کا گلہ ہو کہ وغیرہ۔' ایڈیٹر الحکم شاید اپنے مسیح موعود پیشانی پر درج تھا کہ 'يقتل الخنازير

صفحہ ٤٠٧

کہ ہر صدی پر ایک مجدد پیدا ہوتا رہے گا۔ اس صورت میں گویا اب تک بارہ اسلامی مجدد پیدا ہوئے مگر کیا کسی مجدد نے نبوت کا بھی دعویٰ کیا ہے؟ کبھی یہ کہتا ہے کہ ناقص نبی قیامت تک پیدا ہوتے رہیں گے مگر کمال نبوت آنحضرت ﷺ پر ختم ہو گیا۔ کوئی پوچھے کہ خدائے تعالیٰ نے کامل نبی کے بعد ناقص نبی کیوں دنیا کے ماتھے مارا اور کیوں دنیا کو ترقی کے ملاء اعلیٰ پر پہنچا کر تنزل کی تحت الثریٰ میں گرایا۔

پھر آنحضرت ﷺ کو کامل نبی بھی تسلیم کرتا ہے اور آپ کی احادیث کو بھی جھٹلاتا اور آیتوں کو توڑ مروڑ کر انکا نزول اپنے حق میں بیان کرتا ہے۔ بات بات میں شرارت آمیز کذب اور لغویت ہے کس قدر جگر اور گردہ اس شخص کا اور کتنا پکا ان لوگوں کا ہے جنہوں نے اس مکار کے ہاتھوں اپنا ایمان فروخت کر دیا اور اسلام سے منحرف ہو گئے۔

آج کے روز تمام اہل مذاہب میں سے کوئی شخص اسلام کا ایسا دشمن نہیں جیسا یہ شخص ہے۔ کیا معنے کہ اصول اسلام کو کوئی مذہب والا برا نہیں سمجھتا اگر قصور ہے تو صرف مسلمانوں کا جو اصول اسلام پر نہیں چلتے اور اپنے ساتھ اسلام کو بھی مطاعن کی آماجگاہ بناتے ہیں اور سب کے گرو گھنٹال مرزا قادیانی ہیں کیا معنے کہ عیسائی اور آریہ مرزائیوں پر اعتراض کرتے ہیں کہ تم جو محمد نبی کو چھوڑ کر مرزائی نبی کی امت بن گئے تو بتاؤ دونوں نبیوں میں کون سچا اور کون جھوٹا ہے؟ مرزائیوں کے پاس بجز رکیک تاویل کے اس کا کوئی جواب نہیں گو بظاہر اقرار نہ کریں مگر دل میں مرزا ہی کو سچا اور افضل سمجھتے ہیں۔ اس کی بڑی دلیل یہ ہے کہ وہ محمدی کہلانے کو عار اور احمدی کہلانے کو فخر سمجھتے ہیں۔

١٠ ...... سور کا شکار

مولانا شوکت اللہ میرٹھی!

”الحکم“ میں لکھا ہے کہ ”نیوگنی کے لاٹ پادری نے وہاں کے باشندوں کو بے رحمی سے سور مارتے ہوئے اعتراض کیا اور دیسی عیسائیوں نے دوسرے دن درخواست کی کہ وہ (کون) ان کو سور مارنا سکھا جائیں۔ چنانچہ لاٹ پادری نے ٥٠ سور اپنی بندوق سے مارے (لاٹ پادری نے تو بے رحمی پر اعتراض کیا تھا عبادت ہے یا خبط) عیسائیت کیا ہوئی سور کے شکار کرنے کا گر ہو گئی وغیرہ۔“

ایڈیٹر الحکم شاید اپنے مسیح موعود کا فرض بھول گیا جو جلی قلم سے پچھلے دنوں خود الحکم کی پیشانی پر درج تھا کہ ”یقتل الخنازیر“ مسیح موعود نے تو اب تک ایک بھی سور نہ مارا۔ لاٹ

٦١

صفحہ ٤٠٩

پادری نے ٥٠ مارے۔ پر مرزائیوں کا فرض ہے کہ لاٹ پادری کو اپنا مسیح موعود سمجھیں اور مرزائیت کو القط کریں۔

١١ ...... لڑکے کی جگہ لڑکی ماتھے تھوپی گئی

مولانا شوکت اللہ میرٹھی!

مرزا قادیانی پر الہام ہوا تھا کہ موجودہ جھول میں ایک کنکھڑا سال کا سا پورا لڑکا ایوان مسیح میں برآمد ہوگا اور وہ ایسا ہوگا اور ویسا ہوگا۔ مگر ہوئی منحوس لڑکی۔ آسمانی باپ بھی عجیب بودھ ہے کہ لڑکے اور لڑکی میں شناخت نہ کر سکا اور اناپ شناپ ایک پتھر پھینک مارا۔ مگر مرزا قادیانی مثل سابق پھر یہی جواب دیں گے کہ آسمانی باپ نے کسی خاص جھول کا ٹھیکہ نہ لیا تھا۔ اب نہیں جب سہی۔ آئندہ جھول میں (آئندہ میں بہت گنجائش ہے) ضرور بالضرور لڑکا ہوگا ورنہ ناک اور کان حاضر کر دوں گا۔

تعارف مضامین ...... ضمیمہ شحنہ ہند میرٹھ

سال ١٩٠٣ء یکم مارچ کے شمارہ نمبر ٩ کے مضامین

اسی ترتیب سے پیش خدمت ہیں:

١ ...... باسی کڑھی میں اُبال

مولانا شوکت اللہ میرٹھی!

ہمارے پرانے لنگوٹئے رفیق، چھتریا شفیق، ثوب خلیق، لتیق ومنطبق، صاحب نہیق، فی النار الحریق یعنی مولوی امروہی اسکنہ اللہ واحمانی منارۃ الزندیق کئی ہفتوں کے فاقے کے بعد پھر کچھ غنغنائے ہیں گویا باسی کڑھی میں اُبال آیا ہے۔ ہم تو یہ سمجھتے تھے کہ پورا مسہل اگل گیا ہے مگر نہیں مادہ ذرا سخت ہے۔ اچھا صاحب اب کے مرتبے خدا نے چاہا تو جلاب کا ایسا جلاب آپ کی جلب منفعت کے لئے پلایا جائے کہ کھنکھنا کر دست بخیر وہ دست آئے کہ مواد فساد کے ساتھ آنتوں کا گودا تک اسفل واعلیٰ سے نکل پڑے اور اس ابراز پر بروزی نبی بھی ھل من مبارز ہنکارنا چھوڑ دے۔

٦٢

یہ دکھانے کو کہ ہم بڑے لڑھیک اور گرا فضول لامعقول مجہول طول دھر گھسیٹا ہے۔ گویا گلہری کے گھونسلے میں گودڑ کے سوا کچھ بھی نہیں۔ سارا مضمو بھرا ہے جیسا سنڈاس بول وبراز سے۔

امروہی: ”مخالفین تو یہی چاہتے ہیں کہ بجھائے گا۔ خواہ پھونکیں مارتے مارتے آپ کی پھو پڑے گی۔ آپ آیت ”ولكن رسول الله وخا ہیں۔ اتنی خبر نہیں کہ کلام الہی یہاں موضع مدح میں اللہ کافی تھا۔ خاتم النبیین نے کیا فائدہ دیا۔ پھر خدا کسی لال گروہی کی لال کتاب میں لکھا ہوگا ورنہ اس فطین اور عقیل اور سلیم الطبع اور فریس وغیرہ قرار دی تقابل ہے اور آپ میزان ومنطق کے مرد میدان بن نے ختم رسالت کے بعد نیا نبی گھڑ لیا تو صاف ظاہر اور کیونکر ہو چوپٹ اندھے ہیں۔ ختم نبوت کا ا آنحضرت ﷺ کی صفت کاملہ ہے اور ظاہر ہے کہ کا انکار ہے۔

امروہی: ”غیاث اللغات میں ہے کہ میں واو سے بدلیں گے ۔ جیسے کنجہ میں کنجوی، اس نہیں کہ یہ قاعدہ ہاء مظہرہ یعنی غیر مختفی میں ہے نہ کہ مختف کو مدنوی، علیٰ ہذا شیخوپورہ والے کو شیخوپوروی اور مرزائیوں کا مکہ مدینہ ہے رہ کر بھی آپ کو ہاء مختفی او

امروہی: ”لفظ اذاب کا ترجمہ گلوانا کـ مصدر فارسی گدازانیدن بنالیا۔ جس کو اذابت کا تر جو اہل علم کے لئے مستند کتاب ہے جس میں لکھ گدازانیدن۔ دیکھئے اس عبارت میں گدازانید گدازانیدن متعدی بدو مفعول ہے تو ذوب کے

٣

صفحہ ٤٠٩

یہ دکھانے کو کہ ہم بڑے لنڈھیک اور گرانڈیل انشاء پرداز ہیں۔ ایک صفحہ سے زائد پر تو فضول لامعقول مجہول طول دھر گھسیٹا ہے۔ گویا گلہری سے گلہری کی دم بڑی اور مطلب دیکھو تو گلہری کے گھونسلے میں گوہڑ کے سوا کچھ بھی نہیں۔ سارا مضمون بروزی نبی کی تعریف سے یوں منہا منہ بھرا ہے جیسا سنڈاس بول و براز سے۔

امروہی: ”مخالفین تو یہی چاہتے ہیں کہ اللہ کا نور بجھا دیں ۔“ بھلا بجھتے ہوئے کو کوئی کیا بجھائے گا۔ خواہ پھونکیں مارتے مارتے آپ کی پھونک نکل جائے مگر سر و ریش پر راکھ ہی اڑ کر پڑے گی۔ آپ آیت ”ولكن رسول الله وخاتم النبيين“ میں الف لام کو معہود ذہنی بتاتے ہیں۔ اتنی خبر نہیں کہ کلام الہی یہاں موضع مدح میں ہے یا موضع ذم میں۔ ورنہ آیہ میں صرف رسول اللہ کافی تھا۔ خاتم النبیین نے کیا فائدہ دیا۔ پھر خدا کے لئے ذہن ثابت کرنا یعنی خدا کو ذہن بتانا کسی لال گروہی کی لال کتاب میں لکھا ہو گا ورنہ اسماء الہی تو توقیفی ہیں۔ خدائے تعالیٰ کو ذہن اور فطین اور عقیل اور سلیم الطبع اور قیاس وغیرہ قرار دینا زندقہ ہے۔ کیونکہ ان صفات میں عدم و ملکہ کا تقابل ہے اور آپ میزان ومنطق کے مرد میدان نہیں جو آپ کو زیادہ سمجھایا جائے۔ پھر جب آپ نے ختم رسالت کے بعد نیا نبی گھڑ لیا تو صاف ظاہر ہے کہ مرزا اور مرزائیوں کو نور وظلمت کی تمیز نہیں اور کیونکر ہو چوپٹ اندھے ہیں۔ ختم نبوت کا انکار بالکل نبوت کا انکار ہے۔ کیونکہ ختم نبوت آنحضرت ﷺ کی صفت کاملہ ہے اور ظاہر ہے کہ صفت کا انکار بالکل موصوف اور اس کے کمالات کا انکار ہے۔

امروہی: ”غیاث اللغات میں ہے کہ کلمہ کے آخر میں اگر حرف ہاء ہوگا تو اس کو نسبت میں واو سے بدلیں گے۔ جیسے گنجہ میں گنجوی، اس طرح امروہہ میں امروہوی کہیں گے ۔“ اتنی خبر نہیں کہ یہ قاعدہ ہاء مضمر یعنی غیر مختفی میں ہے نہ کہ مختفی میں ہے ورنہ یاء نسبت لگا کر مکہ کو مکوی اور مدنہ کو مدنوی، علیٰ ہذا شیخوپورہ والے کو شیخوپوروی اور سکندرہ والے کو سکندروی کہو۔ قادیان میں جو مرزائیوں کا مکہ مدینہ ہے رہ کر بھی آپ کو ہاء مختفی اور غیر مختفی کی تمیز نہ ہوئی۔

امروہی: ”لفظ اذاب کا ترجمہ گلوانا کہہ دیا حالانکہ اذابتہ کا ترجمہ گلانا یا پگھلانا ہے اور مصدر فارسی گدازانیدن بنالیا۔ جس کو اذابتہ کا ترجمہ سمجھ لیا۔“ بایں ریش و فش صراح تک کی خبر نہیں جو اہل علم کے لئے مستند کتاب ہے جس میں لکھا ہے ذوب۔ ذوبان گداختن اذابتہ ۔ تذویب گدازانیدن۔ دیکھئے اس عبارت میں گدازانیدن کے معنے گلوانے کے ہیں یا نہیں۔ اور جب گدازانیدن متعدی بدو مفعول ہے تو ذوب کے معنے جو اذابتہ کا مجرد ہے گداختن متعدی بیک

٦٣

صفحہ ٤١١

مفعول ہوں گے مگر تمہاری ہنڈیا تو گئی ہے پھوٹ اور بینائی کی آس گئی ہے ٹوٹ ۔ پس مادر زاد اندھوں کو کیا نظر آئے اور ہم جس طرح یہ نہیں کہتے کہ گداختن لازم نہیں آتا۔ اسی طرح یہ بھی نہیں کہتے کہ ذوب لازم نہیں آتا تا کہ آپ کو کریما کے اس شعر کے پڑھانے کی ضرورت ہو کہ ؎

چو شمع از پے علم باید گداخت

اور ہم کب کہتے ہیں کہ ذوب یعنی گداختن ضد جمد لازم نہیں آتا۔ اسی طرح یہ بھی نہیں کہتے ہیں کہ اذابہ کے معنی گلوانے کے نہیں ہیں۔ اس کو ہمارا اختراع کہنا آپ کی مخترعہ جہالت ہے اور جب آپ خود کہتے ہیں کہ ایسا لفظ متکلم بلیغ کے کلام میں کیوں کر آسکتا ہے جس سے الہام خلاف متکلم ہو سکے تو لفظ اذابہ سے آپ کے بروزی نبی کو احتراز واجب تھا جو متکلم بلیغ کی بلاغت کے خلاف ہے۔ ہم صراح کی سند پیش کرچکے۔ اب دیکھئے آپ کا جمد و سیلان و ذوبان میں آکر ناودان کی راہ سے بہہ گیا یا نہیں۔

امروہی: ”ستار خدا کے ناموں میں سے ایک نام ہے جس کے معنے چھپانے کے ہیں خواہ کوئی امر ہو۔“ تھوڑی سی استعداد والا بھی جانتا ہے کہ ستار کے معنے پردہ پوش اور عیوب کو چھپانے والے کے ہیں۔ ”دعا اللهم استر عیوبنا وهو ستار العیوب“ صاف دال ہے۔ اگرچہ ستر اور اخفاء دونوں مرادف ہوں مگر استعمال اور محاورہ میں ستر کے معنے پردہ داری کے ہیں نہ کہ اخفاء راز کے۔ اب ہمارے لنگوٹئے یار کی لیاقت کا پردہ کھلا یا نہیں اور صرف غرقئی لنگوٹی باقی رہ گئی یا نہیں۔

امروہی: ”اخفاء لغات اضداد میں سے ہے۔“ قرآن مجید میں لفظ قرء لغات اضداد میں سے ہے کہ حیض اور طہر دونوں معنے میں آتا ہے مگر مخل فصاحت نہیں۔ شاید مرزا اور مرزائیوں کے نزدیک ہو جو اعجاز احمدی کی فصاحت کو قرآن سے بڑھ کر سمجھتے ہیں کیونکہ قرآن میں لغات اضداد موجود ہیں مگر اعجاز احمدی میں نہیں نعوذ باللہ۔ صیغہ تفعل ہی کو دیکھو جو مذکر ومونث دونوں کے لئے آتا ہے اور مذکر مؤنث کی ضد ہے۔ قرآن شریف میں بہت جگہ موجود ہے۔

امروہی: ”اخفو کو مہموز اللام سمجھا حالانکہ اخفاء ناقص ہے۔“ آپ کو چونکہ ضعیفی میں موٹا نظر آتا ہے۔ لہٰذا عینک لگا کر دیکھنا تھا ہم نے اخفتو (پوشیدہ رکھو) کے معنے میں لکھا تھا اس کا مادہ خفت ہے۔ باب افعال سے اخفتوا ہوا۔ کاتب نے تاء منقوطہ کے نقطوں کی جگہ ہمزہ لکھ دیا۔ آپ نے کاتب سے بھی بڑھ کر یہ کمال کیا کہ اخفو ء سمجھے اور جھٹ سے لایعنی اعتراض جڑ دیا جو ہوا میں اڑ گیا۔

٦٤

امروہی: ”حالانکہ محاورہ عرب میں موجو لسان شعراء عرب کا کوئی شعر یا کسی کتاب کی کوئی عبا میں آتا ہے جو باب افعال سے ہے ورنہ اس کو اپنے ادبار کے معنے پشت چوپایہ کے زخمی کرنے کے بھی آت معنے صاحب صراح نے تبع النہار کے لکھے ہیں۔ بہر امروہی نے مخل فصاحت خیال کیا اور جب دبر مجرد لے جانے سے کنائیدن کے معنے ضرور ہوں گے جو بلیغ

امروہی: ”اس قسم کے استعارات (برج بھی بکثرت مستعمل ہیں۔“ استعارہ تشبیہ، تخیل ترشیح ہے جبکہ آپ کلام عرب سے خاص برج بہتان کی نظیر

امروہی: ”لفظ رماح کے ساتھ بہت الم غنیم کے حملوں کے روکنے کو تیر برسانے کا دستور تھا اتصال کے وقت ہوتی ہے جسے گھمسان کی جنگ کہت

امروہی: ”اس لغت کے سیکھنے کی حدیث ضروری تاکید ہے۔“ بالفرض یہ حدیث صحیح بھی ہو تو ا اور جفر وغیرہ کی۔ جن کے حاصل کرنے پر آپ کے اور رمل ہی کے بوتے پر مخالفوں کی موت کی پیشینگوئی رو سے نرے اٹکل کے تیر ہوتے ہیں۔

اس حدیث سے گویا آپ کے نزدیک مرزا قادیانی نے جو اپنے کو چینی الاصل مغل بتاتے اس زبان کے سیکھنے کی کبھی ہدایت کی۔ حالانکہ حرف فی المسجد کے معنے میں ہے۔ آپ اس کو باء سببیہ سے بھی عاری ہیں۔

امروہی: عام محاورہ عرب کا ہے ”ماله اہل عرب کے محاورے یا لغت کے کسی کتاب قاموس کے ہیں نہ کہ حصاۃ کے۔ ہاں حصاۃ تو ألح حصاۃ نـ

٦٥

صفحہ ٤١١

امروہی: ”حالانکہ محاورہ عرب میں موجود ہے دبر فلان دبراً“ یہ عرب کا محاورہ نہیں اہل لسان شعراء عرب کا کوئی شعر یا کسی کتاب کی کوئی عبارت پیش کیجئے کہ مجرد دبر بھی ادبار کے معنے میں آتا ہے جو باب افعال سے ہے ورنہ اس کو اپنے فہم کا ادبار اور غلطی کی نحوست سمجھئے۔ مع ہذا لفظ ادبار کے معنے پشت چوپایہ کے زخمی کرنے کے بھی آتے ہیں۔ اور آیہ ”و اللیل اذا ادبر“ کے معنے صاحب صراح نے تبع النہار کے لکھے ہیں۔ بہر حال اس میں الہام غیر مقصود موجود ہے جس کو امروہی نے محل فصاحت خیال کیا اور جب دبر مجرد کے معنے بھی ادبار کے ہیں تو باب افعال میں لے جانے سے کنائیدن کے معنے ضرور ہوں گی جو بلیغ متکلم کی بلاغت کے خلاف ہیں۔

امروہی: ”اس قسم کے استعارات (برج بہتان) تو قطع نظر زبان عرب کے فارسی میں بھی بکثرت مستعمل ہیں۔“ استعارہ، تشبیہ، تخیل، ترشیح وغیرہ سنے سنائے الفاظ عربیہ کا جمع کرنا فضول ہے جبکہ آپ کلام عرب سے خاص برج بہتان کی نظیر نہیں لاسکتے۔

امروہی: ”لفظ رماح کے ساتھ بہت ابلغ ہے۔“ عرب میں جنگ کے وقت دور سے غنیم کے حملوں کے روکنے کو تیر برسانے کا دستور تھا تا کہ وہ پسپا ہو جائے اور نیزہ کی جنگ قرب اتصال کے وقت ہوتی ہے جسے گھمسان کی جنگ کہتے ہیں۔ پس موزوں سہام ہے نہ کہ رماح۔

امروہی: ”اس لغت کے سیکھنے کی حدیث ”اطلبو العلم ولو کان بالصین“ میں ضروری تاکید ہے۔“ بالفرض یہ حدیث صحیح بھی ہو تو اس سے علم دین کے سیکھنے کی تاکید ہے نہ کہ رمل اور جفر وغیرہ کی۔ جن کے حاصل کرنے پر آپ کے دلی کھنگر مٹے ہوئے ہیں اور حاصل نہیں ہوتے اور رمل ہی کے بوتے پر مخالفوں کی موت کی پیشینگوئی کرتے ہیں۔ مگر وہ پٹ پڑتی ہیں کیونکہ رمل کی رو سے نرے اٹکل کے تیر ہوتے ہیں۔

اس حدیث سے گویا آپ کے نزدیک چینی زبان کا سیکھنا واجب ہے مگر تعجب ہے کہ مرزا قادیانی نے جو اپنے کو چینی الاصل مغل بتاتے ہیں کیوں چینی زبان نہیں سیکھی نہ کسی مرزائی کو اس زبان کے سیکھنے کی کبھی ہدایت کی۔ حالانکہ حرف باء بمعنی فی بھی آتا ہے جیسے ”ذہبت بالمسجد“ جو فی المسجد کے معنے میں ہے۔ آپ اس کو باء سببیہ سمجھے ہیں۔ افسوس ہے کہ ہدایت النحو کے سمجھنے سے بھی عاری ہیں۔

امروہی: عام محاورہ عرب کا ہے ”مالہ حصاۃ ولا اصاۃ ای رای یرجع الیہ “ اہل عرب کے محاورے یا لغت کے کسی کتاب قاموس وغیرہ سے ثابت کیجئے کہ اصاۃ کے معنے عقل کے ہیں نہ کہ حصاۃ کے۔ ہاں اصاۃ تو تبع حصاۃ سے ہے جو بغیر حصاۃ کے مستعمل نہیں ہوتا جس

٦٥

صفحہ ٤١٣

سے شعر ” وان لسان المرء مالم یکن لہ۔ اصاۃ علی عوراتہ مشعر “ کا صحیح استعمال ثابت ہوا اگرچہ فصیح نہ ہو۔ ہم تمام اعتراضات کو مکمل اور مدلل طور پر رد کر چکے مگر ہمارے اعتراض کا رد تمام مرزائیوں پر بدستور چڑھا رہا کہ جب مرزا قادیانی بروزی محمد ہیں تو مسیح موعود ہونے کے دعوے سے دست بردار ہوں جس سے تابع اور متبوع اور مستقل اور غیر مستقل کا اجتماع اور الہام ” جری اللہ فی حلل الانبیاء “ سے مرزا قادیانی کا جملہ انبیاء کا بروزی ہونا نہ کہ خاص آنحضرت ﷺ کا اور ناسخ و منسوخ دونوں کا واجب العمل ہونا اور بھائی بہن کے نکاح کے جواز و عدم جواز کا قائل ہونا اور اپنے نفس کا خاتم بننا اور تقدم الشے علی نفسہ وغیرہ لازم آتا ہے۔ ان سب کا جواب مرزائیوں کے ذمے ہے اور ہم حسب الہام ملہم حقیقی پیشینگوئی کرتے ہیں کہ قیامت تک بھی تمام مرزائیوں سے اس کا جواب نہ بن پڑے گا۔ انشاء اللہ !

(ایڈیٹر)

٢ ...... مجدد پر الہامات

مولانا شوکت اللہ میرٹھی !

” یاشوکتنا انک لدینا مکین امین ومن بطن ام الدجال البطال المحتال مخرج الجنین فقد نصرناک نصرة و اعطیناک سطوۃ وغلبة علی اعداء الدین فجز الوتین بسکین التسکین واقطع عروق المفسدین واقلع احشاء ھم وامعاء ھم الی یوم الدین لا علاء کلمۃ احکم الحاکمین وانا ناخذھم مسلسلین وندخلھم فی دار جھنم داخرین مقھورین خالدین لانھم ادعوا النبوة والبروزیۃ بعد نبینا خاتم النبیین فالھم کالافاعی۔ یتسللون من صلۃ القادیان الی جحر السجین “

٣ ...... بدمعاشوں سے سابقہ

مولانا شوکت اللہ میرٹھی !

ہم نے لکھا تھا کہ ” بعض بدمعاش جو غالباً مرزا قادیانی اور ان کے بعض حواری کے حالات اور کرکٹر سے واقف ہیں یا ان سے عداوت رکھتے ہیں بعض اوقات خلاف واقع امور بھی ضمیمہ میں درج کرنے کو بھیج دیتے ہیں مگر ہم ان کو درج نہیں کرتے ۔“ امروہی صاحب کی تحریر مندرجہ ” الحکم “ سے معلوم ہوا کہ یہ امر ان کو اور خود مرزا قادیانی کو ناگوار ہوا کہ بدمعاشوں کی تحریریں ضمیمہ میں کیوں شائع نہ ہوئیں اور اب کیوں نہیں ہوتیں؟ اور یہ شکایت در حقیقت ہے بھی بجا کیونکہ انسانی عادت طبیعت ثانیہ بن جاتی ہے۔ اور خارشیوں کے جسم میں جو چل خارش رہتی ہے وہ اس کا

٦٦

مٹ جانا ہی چاہتے ہیں اور ان کو کھجانے میں سرا بیماری کے لئے مضر ہو پس ہم آئندہ مرزا قادیانی ۔ واقع ہوں اور ان کے بھیجنے والے کیسے ہی بادی بد کیونکہ مرزا اور مرزائی اس میں اپنی گرم بازاری و قادیانی کے مشن کا اہم مقصد شہرت ہے۔ خواہ کسی طر

تعارف مضامین ......

سال ١٩٠٣ء مارچ کے

نوٹ ...... اس شمارہ میں ایک کھلی چٹھ کتاب مرزا کے شائع ہوئی۔ ہم نے وہ خارج ک ہوچکی ہے۔

١ ...... مرزائیوں

مولانا شوکت

” الحکم “ مورخہ ٣١ جنوری ١٩٠٣ء م پشاور کے نام سے طبع ہوئی ہے۔ جس میں اہل کرنے کا الزام لگایا ہے اور بہت سی افتراء پرداز لکھوا کر اور معتبرین سے دستخط کرا کر ایڈیٹر الحکم اس نے لکھا ہے کہ جو تحریر اس کے متعلق ہمارے کہ ایڈیٹر الحکم نے اپنا وعدہ پورا نہیں کیا۔ لہذا وہ تہ شحنہ ملحدوں وزندیقوں کو زندہ درگور کرنے میں ب میں طبع کریں اور اپنی رائے بھی لکھیں تاکہ آئند کرنے میں شحنہ کا خوف ہو۔ اللہ تعالیٰ کا ڈر تو اس کبھی نہ کرتے وہ تحریر یہ ہے۔

صفحہ ٤١٣

مٹ جانا ہی چاہتے ہیں اور ان کو کھجانے میں سردست آرام معلوم ہوتا ہے اگرچہ انجام ان کی بیماری کے لئے مضر ہو پس ہم آئندہ مرزا قادیانی کے تمام مخالفوں کی تحریریں خواہ وہ کیسی ہی خلاف واقع ہوں اور ان کے بھیجنے والے کیسے ہی عادی بدمعاش ہوں۔ ضمیمہ میں شائع کرتے رہیں گے کیونکہ مرزا اور مرزائی اس میں اپنی گرم بازاری دیکھتے ہیں اور اس میں خوش رہتے ہیں کیونکہ مرزا قادیانی کے مشن کا اہم مقصد شہرت ہے۔ خواہ کسی طرح سے ہو۔

(ایڈیٹر)

تعارف مضامین ...... ضمیمہ شحنہ ہند میرٹھ

سال ١٩٠٣ء ٨؍مارچ کے شمارہ نمبر ١٠؍کے مضامین

نوٹ...... اس شمارہ میں ایک کھلی چٹھی واحد علی صاحب ملتان بابت ”دافع البلاء“ کتاب مرزا کے شائع ہوئی۔ ہم نے وہ خارج کر دی اس لئے کہ وہ احتساب ج ٥٣ میں شائع ہوچکی ہے۔

ا ...... مرزائیوں کا ایک تازہ جعل

مولانا شوکت اللہ میرٹھی!

”الحکم“ مورخہ ٣١؍ جنوری ١٩٠٣ء میں ایک جعلی عرضی الٰہی بخش درزی صدر بازار پشاور کے نام سے طبع ہوئی ہے۔ جس میں اہل حدیث پشاور پر الٰہی بخش کی تصویر کی تصدیق کرنے کا الزام لگایا ہے اور بہت سی افتراء پردازیاں کی گئی ہیں۔ لہٰذا الٰہی بخش سے اصل حقیقت لکھوا کر اور معتبرین سے دستخط کرا کر ایڈیٹر الحکم کے پاس رجسٹری کرا کر واسطے طبع بھیج دیا کیونکہ اس نے لکھا ہے کہ جو تحریر اس کے متعلق ہمارے پاس آئے گی ہم طبع کر دیں گے مگر افسوس ہے کہ ایڈیٹر الحکم نے اپنا وعدہ پورا نہیں کیا۔ لہٰذا وہ تحریر اخبار شحنہ ہند میں طبع کے واسطے بھیج دی کیونکہ شحنہ ملحدوں و زندیقوں کو زندہ درگور کرنے میں بے مثل و بے نظیر ہے۔ ایڈیٹر صاحب اس کو ضمیمہ میں طبع کریں اور اپنی رائے بھی لکھیں تاکہ آئندہ اس فرقہ کو ایسی افتراء پردازی و جعل سازی کرنے میں شحنہ کا خوف ہو۔ اللہ تعالیٰ کا ڈر تو اس فرقہ کو پہلے ہی سے نہیں ورنہ ایسی جعل سازی کبھی نہ کرتے وہ تحریر یہ ہے۔

٦٧

صفحہ ٤١٤

نقل بیان الہی بخش درزی مع تصدیق

”الحکم“ مورخہ ٣١؍ جنوری ١٩٠٣ء میں میری طرف سے ایک مصنوعی عرضی طبع ہوئی ہے جس میں بہت سی باتیں خلاف واقعہ ہیں۔ لہٰذا صحیح حال لکھوا کر پیش کرتا ہوں کہ میں حقیقت میں ایک مسکین سن رسیدہ اور ان پڑھ مسلمان ہوں اور ہر ایک بات پر یقین کر لیتا ہوں۔ اسی وجہ سے اپنا سچا مقدمہ چیف کورٹ میں بھی ہار گیا۔ عرصہ قریب ٣ سال کا ہوا کہ ہدایت اللہ نومسلم نے (جو ہمارے صدر بازار میں رہتا ہے) صلاح دی کہ آپ اپنی سن رسیدہ اور واجب الرحم ہونے کی تصدیق کرا لاؤ تو ہم عرضی لاٹ صاحب کو لکھ دیں گے اور تم کو تمہارا حق مل جائے گا۔ میں لکھوا لایا تب خواجہ کمال الدین وکیل کو دکھلائی۔ انہوں نے کہا کہ تصویر اترواؤ۔ چنانچہ ہدایت اللہ نے عبدالمنان اپنے مرزائی دوست سے بلا اُجرت میری تصویر کھچوائی۔ پھر وکیل صاحب نے کہا کہ اس پر بھی تصدیق کرا لاؤ۔ میں نے کہا کہ بزرگان دین دستخط نہ کریں گے۔ اس لئے میں ان سے نہیں کہہ سکتا۔ پھر وکیل صاحب نے کہا کہ اور عام لوگوں کے ہی دستخط کرا لاؤ۔ چنانچہ شہر میں دو ایک شخصوں کے دستخط کرا کر ہدایت اللہ کے حوالے کی۔ انہوں نے کہا کہ ہم ڈپٹی کمشنر کے دستخط کرا کر لاٹ صاحب کے پاس بھیج دیں گے۔ چنانچہ ہمیشہ یہی کہتے رہے کہ عنقریب جواب آئے گا۔ اب الحکم کے دیکھنے سے معلوم ہوا کہ میری کوئی عرضی لاٹ صاحب کو پہلے نہیں گئی۔ کیونکہ عرضی میں تاریخ ١٥؍ نومبر ١٩٠٣ء درج ہے یعنی اڑھائی مہینے ہوئے۔ اب میں نے ہدایت اللہ سے کہا کہ لوگ مجھ پر ہنستے ہیں اور طعن کرتے ہیں کہ ہدایت اللہ نے تم کو دھوکا دیا ہے۔ ایسی عرضی لاٹ صاحب کو نہیں بھیجی جاتی تو اس نے کہا کہ میں ڈاک خانہ کی رسید دے دوں گا۔ مگر وعدہ کر کے بھی نہیں دی۔ عرضی مندرجہ الحکم کی دفعہ ٦ کے یہ فقرے کہ (حضور والا میری تصویر سفید ریش پر جو کہ باوجود ممانعت ہمارے مذہب کے جو حضور کو رحم دلانے کے لئے اس اپنی اخیری عمر میں بنوائی ہے اور دنیا کو دین پر مقدم کیا ہے رحم فرماویں گے) میں نے نہیں لکھوائی کیونکہ جو شخص دنیا کو دین پر مقدم رکھے گا وہ خود بے دین ہوتا ہے تو میں کس طرح اپنے آپ کو بے دین ظاہر کرتا۔ اس سے میری توہین ہوتی ہے۔ اہلحدیث اور غیر اہلحدیث نے میرے واجب الرحم ہونے کی تصدیق ایک جدا گانہ کاغذ میں کی تھی۔ تصویر کی تصدیق اس پر کسی نے نہیں کی۔ وہ تصدیق کا کاغذ ہدایت اللہ کے پاس ہے۔ اب جو طلب کرتا ہوں تو کہتے ہیں کہ ہم لاٹ صاحب کے پاس بھیج چکے ہیں اور ہدایت اللہ نے میری عرضی کسی مسلمان کو نہیں دکھلائی۔ صرف اپنے دوست خواجہ کمال الدین وکیل اور عبدالمنان مرزائیوں ہی کی صلاح سے بنا کر الحکم میں طبع کرا دے۔

٦٨

الراقم

میں مندرجہ بالا تحریر کی تصدیق زبانی میاں الہی درزی کے کرتا ہوں۔ خدا بخش بقلم خود کلرک غ صدر بازار ١٢ فروری ١٩٠٤ء

یہ بیان الہی بخش درزی نے لکھوایا ہے میں احمد ہدایت اللہ کے پاس بطور سفارش عرضی لکھانے ک لے گیا کیونکہ ہدایت اللہ اپیل نویس نہیں ہے۔ قانونی اور دینی تعلیم کسی جگہ نہیں پائی۔ میں نے تصدیق کبھی نہیں کی بلکہ مجھ کو تصویر کا اتروانا معل الہی بخش کو ملامت کی۔ عبدالرحمن خان بقلم خود۔ یہ مضمون الہی بخش درزی کا لکھوایا ہوا ہے تصویر الہی بخش درزی کا لکھوایا ہوا ہے۔ تصویر کی تصد نے کبھی نہیں کی۔ محض افتراء ہے۔ فتح الدین ابو محمد جمال الدین ڈاکٹر پنشن یافتہ۔

یہ مضمون الہی بخش درزی کا لکھوایا ہوا ہے۔ تصدیق میں نے کبھی نہیں کی محض افتراء ۔ جمال الدین ڈاکٹر پنشن یافتہ

ابو محمد ج اس تحریر درزی الہی بخش ۔ دروغ، فریب، وعدہ خلافی، دل آزار سے مملو ہے جو ایک مسلمان سے بسا بع ہزار و اندکے از بسیار' ملاحظہ ہوں۔

صفحہ ٤١٥

الراقم ...... نشان انگوٹھا

میں مندرجہ بالا تحریر کی تصدیق زبانی میاں الٰہی بخش درزی کے کرتا ہوں۔ خدا بخش بقلم خود کلرک نہر کابل صدر بازار ١٢ فروری ١٩٠٣ء

الٰہی بخش درزی صدر بازار پشاور بقلم ایم احمد شاہ عفی عنہ ١٢ فروری ١٩٠٣ء

یہ بیان الٰہی بخش درزی نے لکھوایا ہے میں الٰہی بخش کو ہدایت اللہ کے پاس بطور سفارش عرضی لکھانے کبھی نہیں لے گیا کیونکہ ہدایت اللہ اپیل نویس نہیں ہے۔ اس نے قانونی اور دینی تعلیم کسی جگہ نہیں پائی۔ میں نے تصویر کی تصدیق کبھی نہیں کی بلکہ مجھ کو تصویر کا اتروانا معلوم ہوا تو الٰہی بخش کو ملامت کی۔ عبدالرحمٰن خان بقلم خود۔

میں تصدیق کرتا ہوں کہ یہ مضمون الٰہی بخش درزی مذکور کا لکھایا ہوا ہے اور اس کی تصویر کی تصدیق جو کی گئی ہے ہمارے ذمہ بالکل بہتان اور افتراء ہے۔ قاضی محمد خان پوری امام مسجد صدر پشاور

یہ مضمون الٰہی بخش درزی کا لکھایا ہوا ہے تصویر یہ مضمون الٰہی بخش درزی کا لکھایا ہوا ہے۔ تصویر کی تصدیق میں نے کبھی نہیں کی۔ محض افتراء ہے۔ فتح الدین بقلم خود ابو محمد جمال الدین ڈاکٹر پنشن یافتہ۔

یہ امر مسلمہ ہے کہ کمترین ایسی خام تقریروں و تحریروں پر جو خلاف عقائد اہل سنت و جماعت ہوں کبھی تائید نہیں کرتا چہ جائیکہ خلاف تہذیب تصویر کا فوٹو اتروا کر بحضور بادشاہ وقت بھیجنا اور دین پر دنیا کو مقدم سمجھنا یہ بے علموں کا کام ہے۔ اس واسطے میری طرف سے ثبت دستخط نہیں ہوا خلاف ہے۔ میر فضل الٰہی عفی عنہ

یہ مضمون الٰہی بخش درزی کا لکھایا ہوا ہے۔ تصویر کی تصدیق میں نے کبھی نہیں کی محض افتراء ہے۔ ابو محمد جمال الدین ڈاکٹر پنشن یافتہ

میں تصدیق کرتا ہوں کہ یہ مضمون الٰہی بخش درزی کا لکھایا ہوا ہے اور اس کی تصویر کی تصدیق ہم نے نہیں کی۔ عبدالرؤف بقلم خود

نقل مطابق اصل

ابو محمد جمال الدین ڈاکٹر پنشن یافتہ

اس تحریر درزی الٰہی بخش سے معلوم ہو گیا کہ الحکم میں جو کچھ اس معاملہ میں لکھا ہے وہ دروغ، فریب، وعدہ خلافی، دل آزاری، افترا پردازی، استہزاء و توہین اسلام واہل اسلام وغیرہ سے مملو ہے جو ایک مسلمان سے بسا بعید ہے۔ اب الحکم کی چند بے ضابطگیاں بطور نمونہ ”یکے از ہزار و اندکے از بسیار“ ملاحظہ ہوں۔

٦٩

صفحہ ٤١٦ ٤١٧

منشی عبد الرحمن اپنے قلم سے لکھتے ہیں کہ میں الہی بخش کو ہدایت اللہ کے پاس بطور سفارش عرضی لکھوانے کے کبھی نہیں لے گیا۔

شیخ ہدایت اللہ صاحب سے مشورہ لے“۔ محض دروغ بے فروغ ہے مرزائیوں کے مخالفوں میں سے کسی نے یہ رائے نہیں دی خود ہدایت اللہ ہی نے بے چارے بوڑھے کو ورغلایا جبکہ اپیل میں چیف کورٹ تک سے ہار گیا تھا تو اب اپیل کیسی۔

نے عبد المنان چپڑاسی اپنے مرزائی دوست سے بلا اُجرت میری تصویر کھچوائی۔

شخصے ”دروغ گورا حافظ نباشد“ اسی مضمون میں اپنے قول کو خود ہی اس طرح جھوٹا کہہ رہے ہو ”سائل کی حالت غریبانہ اور عمر رسیدہ ہونے کی شہادت ہمارے بزرگانِ دین کی مندرجہ ذیل ہے۔“ حق بر زبان جاری ہونا اسی کو کہتے ہیں۔ بزرگانِ دین تصویر کی تصدیق کا انکار کرتے ہیں اور ”لعنت اللہ علی الکاذبین“ پڑھ رہے ہیں۔ آپ بھی آمین کہہ دیجئے۔

بوڑھے کی کہنا کیا دروغ نہیں ہے؟ عرضی کا فقرہ نمبر ٦ تو خود مرزائیوں ہی کا لکھا ہوا ہے اور ان کے مطابق حال بھی ہے اور بڑھا اس سے کانوں پر ہاتھ رکھتا ہے اور دین پر دنیا کو مقدم رکھنے والوں کو بے دین کہتا ہے۔ پس اس کی جانب اس فقرہ کو منسوب کرنا چودھویں صدی کے انوکھے پیغمبر قادیانی ہی کی تعلیم کا اثر ہے۔

عوام سے تصدیق کرائی گئی اور بجائے گورنر جنرل کے پاس بھیجنے کے ١٥؍نومبر ١٩٠٣ء۔ لکھ کر ٣١؍جنوری کے الحکم میں طبع کرائے گئے۔ اسی کا نام ایمانداری ہے۔

ہے۔ حالانکہ عرضی اب الحکم میں طبع ہوئی۔ گورنر جنرل کے پاس کس نے بھیجی؟

بلکہ کہتے ہیں کہ گورنر جنرل کے پاس وہ کاغذ بھیج دیا گیا۔ کیا یہ ظلم نہیں؟

٧٠

٤١٧

والوں کو رسید اپیل پہنچانا ضرور جانتے ہیں۔ مگر بوڑھے

اہل غرض مصیبت زدہ کا خدا ترس و دل سوز بن کر عـ کرانے کا مشورہ دے اور اطمینان دلاوے کہ تمہارا ہے جس سے اس بے چارہ کی ذلت اور رسوائی و جگـ و حکام کیا خیال کریں گے؟

اس جعل بنانے میں ایک انوکھی جدید عـ تہذیب خلاف حق خلاف قانون خلاف ہمدردی انسـ کی تقویٰ شعاری و دین داری کا حال بخوبی ظاہر ہے نے خود جعل بنا کر علماء دہلی و امرتسر سے اپنے اوپر کفر کـ میں ”الحرب خدعۃ“ پیش کیا دیکھو الحکم اور اس کے اثـ تھی۔ ضرور جدید پیغمبر کے آنے کا مسئلہ حل ہو گیا کـ و مسیح و پیغمبر بن کر اسلام کو بگاڑنے کو پیدا نہ ہوں تو بے

بڑا دھوکا الحکم نے یہ دیا کہ تصویر کا بنانا یا شخص کی تصویر ہے۔ دونوں کا ایک حکم قرار دیا ہے و حلال پیشہ کہتا ہے۔ شرع شریف میں حرام ہے ضرورت کی جگہ کہہ دینا یا لکھ دینا کہ یہ فلاں کی تصوـ سے کسی کی تصویر کی نسبت سوال کیا جائے تو وہ یـ جانتا۔ افسوس ہے مرزا اور اس کے چیلوں کی تمام تـ اسی قسم کے مغالطوں سے پر ہیں۔ فقط راقـ

مولانا شوکت

لیجئے جناب ملک جاد علاقہ امانی میں

٧١

صفحہ ٤١٧

والوں کو رسید اپیل پہنچانا ضرور جانتے ہیں۔ مگر بڑھنے کی اپیل کی رسید تک نہ دی۔ ہذا شے عجیب۔

اہل غرض مصیبت زدہ کا خدا ترس دل سوز بن کر خلاف شرع تصویر کھنچوائے اور اس پر تصدیق کرانے کا مشورہ دے اور اطمینان دلاوے کہ تمہارا حق تم کو مل جائے گا حالانکہ یہ سب کچھ فرضی ہے جس سے اس بے چارہ کی ذلت اور رسوائی و جگ ہنسائی کے سوا کچھ فائدہ نہ ہو۔ عوام و خواص و حکام کیا خیال کریں گے؟

اس جعل بنانے میں ایک انوکھی جدید پیغمبر قادیانی کی چیدہ جماعت نے جب خلاف تہذیب خلاف حق خلاف قانون خلاف ہمدردی انسانی کاروائیوں کا استعمال کیا ہے۔ اس سے ان کی تقویٰ شعاری و دین داری کا حال بخوبی ظاہر ہے۔ یہ تعلیم در حقیقت پیغمبر قادیانی ہی کی ہے جس نے خود جعل بنا کر علماء دہلی و امرتسر سے اپنے اوپر کفر کا فتویٰ لکھوایا اور اس فریب کی کارروائی کے جواز میں ”الحرب خدعۃ“ پیش کیا دیکھو الحکم اور اس کے اشتہار۔ واقعی ایسے ہی پیغمبر کے آنے کی ضرورت تھی۔ ضرور جدید پیغمبر کے آنے کا مسئلہ حل ہو گیا کیونکہ اگر ایسے گمراہ کرنے والے جھوٹے مہدی و مسیح و پیغمبر بن کر اسلام کو بگاڑنے کو پیدا نہ ہوں تو سچے مہدی اور مسیح کس کی گوشمالی کرنے آئیں گے۔

بڑا دھوکا الحکم نے یہ دیا کہ تصویر کا بنانا یا بنوانا یا رکھنا اور تصویر کا پہچان کر کہہ دینا کہ فلاں شخص کی تصویر ہے۔ دونوں کا ایک حکم قرار دیا ہے۔ حالانکہ تصویر کا بنانا یا رکھنا جس کو قادیانی جائز و حلال پیشہ کہتا ہے۔ شرع شریف میں حرام ہے اور کسی کی تصویر کو پہچان کر عدالت یا اور کہیں ضرورت کی جگہ کہہ دینا یا لکھ دینا کہ یہ فلاں کی تصویر ہے۔ اسلام میں ناجائز نہیں ہے۔ کیا جب کسی سے کسی کی تصویر کی نسبت سوال کیا جائے تو وہ باوجود پہچاننے کے جھوٹ کہہ دے کہ میں نہیں جانتا۔ افسوس ہے مرزا اور اس کے چیلوں کی تمام تصانیف و اشتہارات و مباحثات و الہامات سب اسی قسم کے مغالطوں سے پر ہیں۔ فقط راقم: مولوی عبدالکریم ولد مولوی محمد صدیق پشاوری

٢ ....... مہدیوں اور مسیحوں کا ڈر باطل گیا

مولانا شوکت اللہ میرٹھی !

لیجئے جناب ملک جاوا علاقہ امانی میں ایک اور مہدی صاحب عالم بالا سے تشریف لا ٧١

صفحہ ١٩

گٹھا کاندھے پر لاد کر کھٹ سے آ براجے ہیں اور دنیا کو اپنی مہدویت کی دعوت دیتے ہیں اور شعبدے (معجزے) دکھانے کے بھی مدعی ہیں۔ آج کل مہدیوں اور مسیحوں کی بم پھوٹ گئی ہے۔ لندنی مسیح ، فرانسیسی مسیح ، سومالی مہدی، جاوائی مہدی اور قادیانی مرزا تو خیر نال مسیح موعود بھی ہیں اور مہدی مسعود بھی اور امام الزمان بھی اور بروزی نبی بھی اور خاتم الخلفاء بھی۔ الغرض سب گنوں پورے اور تمام کمپونڈ اجزاء کے سیرب اور معجون ہیں اور باقی سب کے سب ادھورے ہیں یعنی اگر کوئی مسیح ہے تو مہدی نہیں اور مہدی ہے تو مسیح نہیں۔ پھر دنیا کو چھوڑ کر مرزا قادیانی پر ایمان کیوں نہیں لاتے ۔ لوگ بالکل اندھے ہیں اور ایشیاء اور افریقہ سے بڑھ کر یورپ اندھا ہے کیا معنے کہ مرزا قادیانی اپنے بروز اور خروج کی تبلیغ کتابوں اور رسالوں اور تصویروں کے ذریعے سے کامل طور پر کر چکے ہیں اور اپنی تمام مجموعی صفات کا آئینہ دکھا چکے ہیں۔ غضب ہے نا کہ یورپ پھر بھی لندنی مسیح اور فرانسیسی مسیح پر لٹو ہے۔ جنہوں نے کوئی شعبدہ، کوئی کرشمہ، کوئی پھٹک ایک پھٹک دو نہیں دکھایا اور قادیانی مسیح خدا جھوٹ نہ بلائے تو کوئی ڈیڑھ سو معجزے (لوگوں کی موت کی بال باندھی پیشینگوئیاں) دکھا چکا ہے۔ پیشینگوئیوں کی ٹھیک میعاد کے درمیان کے بیچوں بیچ کے اندر کوئی نہ مرا تو کیا ہوا۔ آخر مرا تو سہی ۔ مرزا قادیانی پیشینگوئی نہ کرتے تو نہ آتھم مرتا نہ لیکھرام مرتا۔ لوگوں کی عقل کا چراغ تو ہو گیا ہے گل ۔ پیشینگوئی کیلئے ہرگز لازم نہیں کہ ٹھیک وقت پر ہو۔ ہاں شرط یہ ہے کہ برس، دو برس، پانچ برس، دس برس، بیس برس میں ہو اور ضرور ہو۔ ہزاروں میں ہو لاکھوں میں ہو۔ ہیچ قیمت ہو یا وزن تولے پاؤ رتی ہو۔

دیکھ لو مرزا قادیانی کی آسمانی منکوحہ بی بی کو جو ایک ظالم نے غصب کر لی تھی اور مرزا قادیانی نے اس کی موت کی پیشینگوئی کی تھی ۔ تو وہ دس برس بیس برس میں ضرور پوری ہو گئی اور ان کا رقیب ایک نہ ایک دن ضرور مرے گا۔ بھلا مامور من اللہ کی پیشینگوئی اور خالی جائے۔ اچھی کہی۔

نوٹ

مرزا قادیانی کا حال الغریق یتشبث بالحشیش کا ہے۔ مقصود تو یہ ہے کہ کسی ذریعہ سے اسلام کے اصول توحید کو باطل کیا جائے اور اپنے جدید مذہب کے اصول تصویر پرستی منارہ پرستی قادیان پرستی وغیرہ جائز اور رائج کی جائیں ۔ مرزا قادیانی کے الزامی دلائل عجیب و غریب ہیں کہ فلاں شخص نے چونکہ تصویر کی شہادت دی لہٰذا وہ ہماری طرح تصویر پرست اور تصویر پرستی کا جائز کرنے والا ہے۔ اس صورت میں تو ہر مجرم کا گواہ مجرم ٹھہر سکتا ہے۔ چلئے عدالتوں کے دروازوں کو قفل لگ گیا کیونکہ کسی گواہ کی کیا شامت ہے کہ وہ کسی کے ارتکاب جرم کی شہادت لے ٧٢

کر مجرم بنے مرزا جی ۔ اب بتائیے مذکورہ بالا مہدیوں اور مس ہوئے معجزات آج تک دکھائے؟ پیشینگوئی اگ جب مامور من اللہ کوئی پیشینگوئی کرے گا خواہ و میں پوری ہو جاتی ہے مگر اندھوں کو نظر نہیں آتی نبوت میں فرق نہیں آتا۔ پیشینگوئی دوسری چیز ہے ماشاء اللہ مرزا قادیانی کے دلائل ن مسیحیوں کے کھرے کھوٹے کو آگ پر تپانا چاہ مہدی میدان میں اتریں اور اپنے آپ کرتب د تسلیم ہو اور اگر سب ناقص اور جھوٹے نکلیں تو ای میں قید کر کے کسی جزیرہ میں بھیجا جائے کہ پھر رہے۔

ہر ایک جھوٹا اور مکار مہدی اور مسیح اور سب کے سب ایک ہی دعوے کے مدعی ہیں ایک ہی ہوگا مگر بے ایمانی اور شرارت اور دھین والوں کو ذرا شرم نہیں آتی کہ ہم کیا جعلسازی او جو ان کے دام تزویر میں پھنس کر الو کے پٹھے ب مٹھی میں ہے۔ اتنا ہی بلکہ اس سے زیادہ ل مہدیوں کی پتلون اور بنیان میں ہے پس وحش ہیں اور کسی میں کوئی مایہ الامتیاز نہیں رہا۔ کیوں کے کانشنس کے خلاف ہے اور ان کو کامل یقین ٹھیٹر تیار کر کے سٹیج پر تماشا دکھا رہے ہیں تا ک بہر حال چند روز میں عقدہ کھلا جاتا ہے سب ک

حاصل نہ
کس خم کو
صفحہ ٤١٩

کہ مجرم بنے مرزا جی ۔

اب بتائیے مذکورہ بالا مہدیوں اور مسیحوں میں سے کسی نے بھی ایسے روشن اور چمکتے ہوئے معجزات آج تک دکھائے؟ پیشینگوئی اگرچہ نجومیوں، رمالوں، سادھو بچوں کا کام ہے مگر جب مامور من اللہ کوئی پیشینگوئی کرے گا خواہ وہ جھوٹی ہو یا سچی۔ ضرور معجزہ کہلائے گا۔ وہ آسمان میں پوری ہو جاتی ہے مگر اندھوں کو نظر نہیں آتی اور پیشینگوئی نہ بھی پوری ہو تو اس سے کسی نبی کی نبوت میں فرق نہیں آتا۔ پیشینگوئی دوسری چیز ہے اور نبی ہونا دوسری چیز ۔

ماشاء اللہ مرزا قادیانی کے دلائل بہت معقول ہیں مگر عملی طور پر سب مہدیوں اور مسیحوں کے کھرے کھوٹے کو آگ پر تپانا چاہئے۔ تا سیہ روئے شود ہر کہ دروغش باشد، یعنی تمام مہدی میدان میں اتریں اور اپنے آپ کرتب دکھائیں جو کرتبوں میں کامل نکلے وہی مہدی اور مسیح تسلیم ہو اور اگر سب ناقص اور جھوٹے نکلیں تو ایک ایک کو پھانسی پر لٹکایا جائے یا لوہے کے پنجروں میں قید کر کے کسی جزیرہ میں بھیجا جائے کہ پھر وہاں سے نہ آسکیں اور دنیا ان کے کید سے محفوظ رہے۔

ہر ایک جھوٹا اور مکار مہدی اور مسیح دیکھ رہا ہے کہ اس کے چند رقیب سامنے موجود ہیں اور سب کے سب ایک ہی دعوے کے مدعی ہیں۔ حالانکہ مہدی اور عیسیٰ متعدد نہیں ہو سکتے ۔ بہر نہج ایک ہی ہو گا مگر بے ایمانی اور شرارت اور دھینگا دھینگی دیکھئے کہ ان بدمعاشوں اور دنیا کے لوٹنے والوں کو ذرا شرم نہیں آتی کہ ہم کیا جعلسازی اور دغا بازی کر رہے ہیں اور نہ ان حمقاء کو شرم آتی ہے جو ان کے دام تزویر میں پھنس کر الو کے پٹھے بن گئے ہیں اور احمقوں کا جتنا گروہ مرزا قادیانی کی مٹھی میں ہے۔ اتنا ہی بلکہ اس سے زیادہ لندنی اور فرانسیسی اور افریقی اور جاوی مسیحوں اور مہدیوں کی پتلون اور بنیان میں ہے پس وحشی اور مہذب دونوں ایک ہی سانچے میں ڈھل گئے ہیں اور کسی میں کوئی مابہ الامتیاز نہیں رہا۔ کیوں نہیں ! وہ خوب جانتے ہیں کہ ساری کارروائی خود ان کے کانشنس کے خلاف ہے اور ان کو کامل یقین ہے کہ محض خود غرضی اور جلب منفعت کے لئے ہم یہ تھیٹر تیار کر کے سٹیج پر تماشا دکھا رہے ہیں تا کہ طفلانہ طبیعت کے حمقاء سے ٹکے سیدھے کریں۔ بہر حال چند روز میں عقدہ کھلا جاتا ہے سب کے سب سر پکڑ کر ٹسوے نہ بہائیں تو ہمارا ذمہ ؎

حاصل نہ ہوا بجز ندامت
جس تخم کو خاک میں ملایا

(ایڈیٹر)

٧٣

صفحہ ٤٢٠

تعارف مضامین ...... ضمیمہ شحنہ ہند میرٹھ

سال ١٩٠٣ء ١٦ / مارچ کے شمارہ نمبر ١١ کے مضامین

اسی ترتیب سے پیش خدمت ہیں:

١ ...... مرزا قادیانی کابل میں

مرزا قادیانی اس امر کے مدعی ہیں کہ میں اپنی بروزی نبوت کی تبلیغ یورپ اور افریقہ میں بذریعہ رسالہ جات و تصویرات کر رہا ہوں۔ مگر تعجب ہے کہ وسط ایشیاء خصوصاً افغانستان بلکہ اپنے پڑوسی سرحدی افغانیوں، وزیرستان اور آفریدستان وغیرہ میں کیوں تبلیغ نہیں کرتے اور اپنے چند سرفروش اور جان نثار بہادر مرزائیوں کو ممالک مذکورہ میں کیوں نہیں بھیجتے؟ اور ایک خاص ڈیپوٹیشن کا بل میں بھیج کر امیر افغانستان کو اپنی نبوت پر ایمان لانے کی کیوں ہدایت نہیں کرتے ۔ اگر وہاں سروں کے ختنہ ہو جانے کا خوف ہے تو بافند کی معلوم شد ۔ اس صورت میں وہ اپنا فرض نبوت کیا خاک ادا کریں گے۔ انبیاء تو اعلاء کلمۃ اللہ میں جان پر کھیل گئے ہیں۔ بعض آرے سے چیرے گئے ہیں۔ بعض صلیب پر کھینچے گئے ہیں۔ بعض قید خانے میں بھیجے گئے ہیں۔ بعض نے تو وہ وہ ظلم سہے جن کو سن کر کلیجہ منہ کو آتا ہے۔ خود آنحضرت ﷺ نے منکروں سے کیا کیا اذیتیں نہیں سہیں ۔ اور اہل بیت رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مصائب تو دنیا پر ظاہر ہیں یہاں تک کہ سب نے ظالموں اور لعینوں کے ہاتھوں مردانہ وار جام شہادت چکھا مگر یزید کے ہاتھ پر بیعت نہ کی۔ شوکت ؎

زبان تیغ کہتی ہے یزید و شمر فاسق ہیں
کرے ابن ید اللہ ہاتھ کیوں آلودہ بیعت میں

چونکہ مرزا قادیانی بغیر الہام کے لکڑا بھی نہیں توڑتے لہذا وہ یہی جواب دیں گے کہ مجھ

٧٢

صفحہ ٤٢١

ہند میرٹھ کے مضامین مولانا شوکت اللہ میرٹھی ! امام الدین لاہوری ! مولانا شوکت اللہ میرٹھی ! مولانا شوکت اللہ میرٹھی ! مولانا شوکت اللہ میرٹھی !

ت کی تبلیغ یورپ اور افریقہ میں یاہ خصوصاً افغانستان بلکہ اپنے تبلیغ نہیں کرتے اور اپنے چند تے؟ اور ایک خاص ڈیپوٹیشن کا ہدایت نہیں کرتے۔ اگر وہاں ت میں وہ اپنا فرض نبوت کیا بعض آرے سے چیرے گئے بعض نے تو وہ دکھ سہے جن یا اذیتیں نہیں سہیں۔ اور اہل سب نے ظالموں اور لعینوں شوکت ۔ ہیں میں ہ یہی جواب دیں گے کہ مجھ

پر ابھی افغانستان میں اپنے مشن کے بھیجنے کا الہام نہیں ہوا۔ مگر یہ بمنزلہ عذر گناہ بدتر از گناہ کے ہوگا۔ یعنی یہ ثابت ہو جائے گا کہ لے پالک کم سن نادان ناتجربہ کار تو ڈرپوک تھا ہی آسمانی باپ ڈرپوک ہونے میں اس کا بھی قبلہ گاہ نکلا۔ بھلا لے پالک نے دنیا میں دیکھا ہی کیا ہے اس کے تو ابھی دودھ کے دانت بھی نہیں ٹوٹے پھر آسمانی باپ کیوں اجازت دینے لگا کہ افغانستان جائے اور وحشی افغانی اس کے یا اس کے مشن والوں کے پیٹوں میں بغدے بھونک کر زمین میں آنتوں کا ڈھیر کر دیں۔ لے پالک جیسا مورکھ ہے ایسا ہی آسمانی باپ کائیاں ہے وہ پروں پر پانی کیوں پڑنے دیتا۔ پس وہ یہ وجہ ہے کہ سمندر پار تو بروزی نبی کی ڈاک کے گھوڑے دوڑیں اور خاص اپنے پڑوس میں چراغ تلے اندھیرا ہے۔ پشاور تک میں مرزائی نبوت کی تبلیغ کرنے والے موجود مگر پشاور سے اس جانب قدم رکھتے ہوئے نانی یاد آتی ہے۔ اوہی میری میا۔ مرزا قادیانی تو قادیان ہی کے شیر قالین ہیں اگر وہ افغانستان میں اپنا مشن بھیجیں تو ہم شحنہ اور ضمیمے کے خریداروں سے سفارش کر کے پانچ ہزار روپیہ انعام دلوادیں اور اگر مرزا قادیانی خود جائیں تو دس ہزار روپیہ لیں۔

٢ ...... مرزا قادیانی کے وہی ایک لاکھ سے اوپر والنٹیر

امام الدین لاہوری!

جناب لارڈ کرزن صاحب بہادر وائسرائے ہند کی خدمت میں تعطیل جمعہ کے بارے میں میموریل بھیجا ہے جس میں اپنے پیروؤں کی تعداد ایک لاکھ سے زیادہ لکھی ہے اور مرزائی اخبار البدر کی اشاعت کی نسبت جو اشتہارات بازاروں میں چسپاں دیکھے گئے ان میں بھی ایک لاکھ سے زائد تعداد لکھی گئی ہے۔ مگر دربار کے ایک ماہ بعد مرزائی اخبار الحکم مطبوعہ ١٧؍ مارچ ١٩٠٣ء میں تو ڈیڑھ لاکھ سے بھی زیادہ تعداد لکھ ماری۔ معلوم نہیں گرو جی سچے ہیں یا چیلے؟ چونکہ ایسی تحریروں سے مغالطہ ہوتا ہے لہٰذا ہم ذیل میں اصل حقیقت ظاہر کئے دیتے ہیں۔

مرزا قادیانی نے (ضمیمہ انجام آتھم ص ٤١، خزائن ج١١ ص ٣٢٥) ١٤؍ جنوری ١٨٩٧ء مطابق ٩؍ شعبان ١٣١٤ء میں اپنے پیروؤں کی تعداد معہ جائے سکونت کل ٣١٣ لکھی پھر اس تحریر کے گیارہ روز بعد مولوی غلام دستگیر صاحب قصوری مرحوم و مغفور سے تاب مقابلہ نہ لا کر قادیان سے باہر نہ نکلے اور مباہلہ سے بھی پہلو تہی کی تو ٢٠؍ شعبان ١٣١٤ء کے اشتہار میں یہ تعداد آٹھ ہزار لکھ دی۔ (مجموعہ اشتہارات ج ٢ ص ٢٩٩) قلم تو آخر انہیں کے ہاتھ میں ہے۔ اگر اب ڈیڑھ لاکھ لکھ دی تو کیا تعجب ہے اور کون ان کا قلم روک سکتا ہے؟ اور متضاد تعداد کے درج کرنے کا کوئی مزاحم ہو سکتا ہے؟

٧٥

صفحہ ٤٢٢

اس حساب سے تو کروڑوں تک نوبت پہنچنی چاہئے۔ حالانکہ ٨ ہزار کی تعداد بھی غلط ہے۔ کیونکہ خود الحکم مطبوعہ ٧؍ فروری ١٩٠٣ء میں لکھا ہے کہ گزشتہ تین سال میں اس فرقہ نے حیرت انگیز ترقی کی ہے۔ ١٨٩٨ء میں اس کی تعداد صرف چند سو تک تھی مگر آج اس کا شمار ڈیڑھ لاکھ سے بھی زیادہ معلوم ہوتا ہے۔

منشی تاج الدین صاحب تحصیلدار بٹالہ نے اپنی رپورٹ انکم ٹیکس میں آپکے پیروؤں کی تعداد ٣١؍ اگست ١٨٩٨ء میں ٣١٨ لکھی ہے۔ دیکھو مرزا قادیانی کا رسالہ (ضرورت الامام ص ٢٣، خزائن ج ١٣ ص ٥١٤) جس کی بعینہ عبارت یہ ہے: ”اور اس نے یعنی مرزا قادیانی نے چند مذہبی کتابیں شائع کیں۔ رسالہ جات لکھے اور اپنے خیالات کا اظہار بذریعہ اشتہارات کیا چنانچہ اس کل کارروائی کا نتیجہ ہوا کہ کچھ عرصہ سے ایک متعدد اشخاص کا گروہ جن کی فہرست (بحروف انگریزی) منسلک ہے اس کو (یعنی مرزا قادیانی کو) اپنا سرگروہ ماننے لگا اور ایک علیحدہ فرقہ قائم ہوگیا۔ حسب فہرست منسلکہ ہذا ٣١٨ آدمی ہیں“ مزید حالات دیکھنے کے لئے دیکھو مثل مقدمہ عذرداری انکم ٹیکس سمی مرزا غلام احمد ولد غلام مرتضیٰ ذات مغل سکنہ قادیان تحصیل بٹالہ ضلع گورداسپور مرجوعہ ٢٠؍ جون ١٨٩٨ء منفصلہ ٧؍ ستمبر ١٨٩٨ء نمبر مقدمہ ٤٦/٥٥۔ پس جب تحصیلدار صاحب بٹالہ کی رپورٹ کے مطابق ٣١؍ اگست ١٨٩٨ء تک پیروؤں کی تعداد فقط ٣١٨ ہو تو کس طرح ممکن ہے کہ حسب اشتہار مورخہ ٢٥؍ جنوری ١٨٩٧ء تک آٹھ ہزار ہو جائے۔ حالانکہ خود مرزا قادیانی کے نزدیک ”جھوٹ بولنے سے زیادہ کوئی لعنتی کام نہیں“ (ملفوظات ج ٥ ص ٦٢) دیکھو (اخبار الحکم نمبر ٦ ج ٧ مورخہ ١٤؍ فروری ١٩٠٣ء) اسی طرح ایک عرصہ کے بعد اپنے پیروؤں سے ایک اشتہار بنام (درخواست) دلوایا۔ جس میں تیس ہزار (٣٠٠٠٠) کی تعداد لکھ دی۔ دیکھو مریدوں کی درخواست مورخہ ٢٧؍ جون ١٩٠٠ء ص ٢ سطر ٤ حالانکہ درخواست پر مختلف جگہوں کے رہنے والوں کے کل ١٥٠ دستخط ہیں اور بس۔

(درخواست) میں درج ہے تو آپ دس ہزار روپیہ منارہ بنانے کے لئے فقط ایک سو مرید سے چندہ طلب نہ کرتے جیسا کہ اشتہار مورخہ یکم جولائی ١٩٠٠ء سے ظاہر ہے اور جو اشتہار مورخہ ٢٧؍ جون ١٩٠٠ء کے پانچ ہی دن بعد یکم جولائی ١٩٠٠ء کو شائع فرمایا ہے اگر آپ کے مریدوں کی تعداد واقعی اول الذکر اشتہار مورخہ ٢٧؍ جون ١٩٠٠ء کے مطابق ہوتی تو موخر الذکر اشتہار یکم جولائی ١٩٠٠ء کی کچھ ضرورت نہ تھی کیونکہ اگر فی مرید پانچ آنہ ٤ پائی وصول ہوتے تو آن واحد میں منارہ بنانے کے

٧٦

لئے دس ہزار کی رقم مطلوبہ مورخہ یکم جولائی اور نہ یہ سہل طریقہ اختیار کیا گیا۔ اگر یہ مریدوں سے طلب کی گئی ہے تو حیرت ہے الہام غلط تھا یا وہ کنجوس مکھی چوس دقیانوس ہیں۔

پھر الحکم مطبوعہ ١٠؍ ستمبر ١٩٠٢ء ٧؍ فروری ١٩٠٣ء میں ڈیڑھ لاکھ سے بھی ہوں اور ٧؍ فروری ١٩٠٣ء تک ڈیڑھ لاکھ پھر چالا کی دیکھئے کہ خانگی اخ میں بیعت شدہ مریدوں کے نام مکرر س مورخہ ١٤؍ فروری ١٩٠٢ء میں جن اشخاص سے دس کے نام دوبارہ الحکم مورخہ ٢١؍ فر درج کر کے ڈیڑھ لاکھ بنا دیئے ہیں۔

پس مرزا قادیانی کی ایسی افسوس ہے کہ مرزا قادیانی کی اس تر اصلیت پبلک پر ظاہر کردی۔ دیکھو ضمیمہ یہ راز طشت از بام کیا ہے الحکم میں بیعہ تعداد کی قلعی کھلتی تھی۔ مرزا قادیانی آخر

سول ملٹری گزٹ جس کی مرزا قادیانی کی کتاب (انجام آتھم کا ح موت کی نسبت آریہ صاحبوں کے خی شماری کی رو سے جو ١٩٠١ء میں ہوئی۔ ہے۔ دیکھو سول ملٹری گزٹ مورخہ ١٥ لکھ دیا ہے کہ عرصہ بیس برس سے مرزا اپنے اصول پھیلانے کے لئے کہ وہ ک جس کا مرزا قادیانی نے جلسہ مذاہب

صفحہ ٤٢٣

لئے دس ہزار کی رقم مطلوبہ مورخہ یکم جولائی ١٩٠٠ء وصول ہو جاتی لیکن نہ آپ کے اتنے مرید تھے اور نہ یہ سہل طریقہ اختیار کیا گیا۔ اگر یہ عذر درپیش ہو کہ دس ہزار کی رقم ایک سو خاص مرفه الحال مریدوں سے طلب کی گئی ہے تو حیرت ہے کہ اب تک منارہ کیوں تیار نہ ہوا۔ کیا ان کی مرفه الحالی کا الہام غلط تھا یا وہ کنجوس مکھی چوس دقیانوس بن گئے یا وہ خاص الخاص مرید منارہ بنانے کو ناجائز سمجھتے ہیں۔

پھر الحکم مطبوعہ ١٠؍ ستمبر ١٩٠٢ء ص ٥ پر مریدوں کی تعداد ستر ہزار ظاہر کی گئی اور پھر الحکم ٧؍ فروری ١٩٠٣ء میں ڈیڑھ لاکھ سے بھی زیادہ۔ کیا یہ ممکن ہے کہ دس ستمبر ١٩٠٢ء تک تو ستر ہزار ہوں اور ٧؍ فروری ١٩٠٣ء تک ڈیڑھ لاکھ سے بھی زیادہ یعنی پانچ ماہ میں اسی ہزار بڑھ جائیں۔

پھر چالاکی دیکھئے کہ خانگی اخبار الحکم میں ایک کالم بیعت کنندگان کا رکھا ہوا ہے۔ اس میں بیعت شدہ مریدوں کے نام مکرر سہ کرر درج کر کے پبلک کو مغالطہ میں ڈالتے ہیں چنانچہ الحکم مورخہ ١٤؍ فروری ١٩٠٢ء میں جن اشخاص کے نام بیعت شدگان میں درج کئے گئے ہیں۔ ان میں سے دس کے نام دوبارہ الحکم مورخہ ٢١؍ فروری ١٩٠٢ء میں درج کرائے ہیں۔ اس طرح مکرر سہ کرر درج کر کے ڈیڑھ لاکھ بنا دیئے ہیں۔

پس مرزا قادیانی کی ایسی بے ایمانی پر جس قدر ان کے مرید خوش ہوں بجا ہے مگر افسوس ہے کہ مرزا قادیانی کی اس ترکیب کو مجدد صاحب ایڈیٹر شحنہ ہند نے ملیا میٹ کر کے اسکی اصلیت پبلک پر ظاہر کر دی۔ دیکھو ضمیمہ شحنہ ہند مورخہ ٢٤؍ مارچ ١٩٠٢ء جب سے مجدد صاحب نے یہ راز طشت از بام کیا ہے الحکم میں بیعت کا کالم ہی معرض خطر میں آ گیا ہے کیونکہ اس سے مصنوعی تعداد کی قلعی کھلتی تھی۔ مرزا قادیانی آخر مجدد صاحب کا لوہا مان گئے۔

سول ملٹری گزٹ جس کی وقعت اور عظمت مرزا قادیانی کے نزدیک بھی مسلم ہے دیکھو مرزا قادیانی کی کتاب (انجام آتھم کا حاشیہ ص ٥٥، خزائن ج ١١ ص ٣٩٩) اور اشتہار بعنوان لیکھرام کی موت کی نسبت آریہ صاحبوں کے خیالات مورخہ ١٥؍ مارچ ١٨٩٧ء ص ٥ کالم اوّل۔ پچھلی مردم شماری کی رو سے جو ١٩٠١ء میں ہوئی ہے مرزا کے پیروؤں کی تعداد صرف ایک ہزار سے کچھ اوپر لکھتا ہے۔ دیکھو سول ملٹری گزٹ مورخہ ١٥؍ جنوری ١٩٠٣ء روز پنجشنبہ اور اسی تاریخ کے اخبار میں یہ بھی لکھ دیا ہے کہ عرصہ بیس برس سے مرزا غلام احمد قادیانی اپنے پرائیویٹ مطبع سے جو قادیان میں ہے اپنے اصول پھیلانے کے لئے کہ وہ مسیح اور مہدی ہے اشتہار چھپوا کر شائع کرتا ہے۔ یہ وہ اخبار ہے جس کا مرزا قادیانی نے جلسہ مذاہب کی تقریر پر اپنی صداقت کے لئے حوالہ دیا ہے ہم اس گزٹ کی

٧٧

صفحہ ٤٢٤

تحریر سے بالکل متفق ہیں کیونکہ مرزا قادیانی بذات خود اپنے اشتہار بعنوان پیر مہر علی شاہ صاحب کی توجہ دلانے کے لئے آخری حیلہ کے (ص ٣ سطر ٢٥، مورخہ ٢٨ / اگست ١٩٠٠ء، مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٣٥٣) میں لکھتے ہیں۔ ”اور یادر ہے کہ لاہور میں میرے ساتھ تعلق رکھنے والے پندرہ یا بیس آدمی سے زیادہ نہیں۔“ پس مرزا قادیانی کی اس تحریر کے مطابق معلوم ہوا کہ آپ کے پیروؤں کی تعداد ایسے بڑے شہر لاہور میں جو پنجاب کا دارالخلافہ ہے صرف پندرہ یا بیس ہے۔ اگر اسی تناسب سے ہندوستان کے بڑے بڑے سو شہر لاہور کی مانند فرض کئے جاویں اور پندرہ مرید فی شہر بحساب اوسط شمار کئے جاویں تو یہ تعداد جو سول ملٹری گزٹ نے مردم شماری کی رو سے لکھی ہے عین درست نکلتی ہے۔ محاسب حساب کر کے دیکھ لیں عیاں را چہ بیاں۔

مقدمہ کے متعلق تھی۔ یعنی بشمبر داس ایک سال کے لئے مقید ہو گیا تھا۔ مرزا قادیانی کہتے ہیں کہ اس کے بھائی شرمپت نام نے جو سرگرم آریہ ہے مجھ سے دعا کی التجا کی اور پوچھا کہ ”اس کا انجام کیا ہوگا۔ میں نے دعا کی اور کشفی نظر سے دیکھا کہ میں اس دفتر میں گیا ہوں جہاں اس کی قید کی مثل تھی۔ مثل کھولی اور برس کا لفظ کاٹ کر اس کی جگہ چھ مہینے لکھ دیا اور پھر مجھے الہام سے بتلایا گیا کہ مثل چیف کورٹ سے واپس آئے گی اور برس کی جگہ چھ مہینہ رہ جائے گی۔“ دیکھو مرزا قادیانی کا اشتہار بعنوان (لکھرام کی موت کی نسبت آریہ صاحبوں کے خیالات مورخہ ١٥/ مارچ ١٨٩٧ء، مجموعہ اشتہارات ج ٢ ص ٣٦٢) پس بہتر ہو کہ جس طرح آپ نے چیف کورٹ کے اس دفتر میں جہاں ملزم کی مثل تھی۔ کشفی طور پر گھس کر اور مثل کھول کر ایک برس کی قید کا لفظ کاٹ کر چھ مہینہ لکھ دیئے۔ اسی طرح سول ملٹری گزٹ کے دفتر میں گھس کر اس کی آفس فائل میں ١٥/ جنوری ١٩٠٣ء کی کے پیپر میں جہاں آپ کے پیروؤں کی تعداد از روئے مردم شماری صرف ایک ہزار سے کچھ اوپر لکھی ہے۔ یہ عبارت کا ٹکڑا اس کی جگہ ایک لاکھ سے زیادہ لکھ دیں اور یہ آپ کے نزدیک چنداں مشکل امر نہ ہوگا۔ تف ہے آپ کو ایسی لغو پیشینگوئیوں پر اور حیف ہے ان لوگوں پر جو اس قسم کی بکواس کو پیشینگوئی سمجھیں۔ اگر اسی کا نام پیشینگوئی ہے تو وکلاء بلکہ ان کے منشی آپ سے بڑھ کر پیشینگو ہیں۔

یہ بھی یادر ہے کہ مرزا قادیانی کے پیروؤں کی تعداد جو اخبار سول نے ایک ہزار سے اوپر لکھی ہے ان میں سے اب تک بہت سے لقمہ طاعون ہو چکے ہیں اور بہت سے بیعت پر تبرا کہہ کر از سر نو اسلام قبول کر چکے ہیں اور یہ سلسلہ مجددانہ مشرقیہ کی کوشش سے بذریعہ ضمیمہ شحنہ ہند اب تک جاری ہے دیکھو ضمیمہ شحنہ ہند ص ٨٥، ٧٦، ١٢١، ١٠٦/ ١٩٠١ء اور ص ٧٢/ ١٩٠٢ء اور رسالہ

٧٨

فتح قادیان مورخہ ٢٠/جنوری ١٩٠٣ء ص ٥ لکھو کے کا اشتہار بھی دیکھنے کے قابل ہے توبہ کی۔

جو شخص گورنمنٹ تک کو مغالطہ چنانچہ مرزا قادیانی اخبار عام مورخہ ٢/ فروری یا چوبیس ہزار کے قریب لوگ آئے ہوں ایسے صد ہا لوگ ہر سٹیشن پر جمع پائے۔ انداز کے قریب لوگ میرے راہ گزر سٹیشنوں پر روسیاہی کے لئے کافی ہے کیونکہ جب جہلم ہر سٹیشن پر صدہا آدمی آپ کو چاہئے کہ مرد افسروں کی خدمت میں پیش کریں کہ وہ پورے سے لے کر جہلم تک ہر سٹیشن پر جس ٹرین میں جو خرچ ہر اس کا نصف آپ دیں۔ اگر آپ لاہور سے جہلم تک کے سٹیشنوں پر ثابت کاذب ہونے کا اقرار کریں۔

ہمارے ایک کرم فرما سوداگر اتفاقاً پشاور سے اسی ٹرین میں آ رہے تھے حلفاً بیان کرتے ہیں کہ مسافر لوگ آپ کے موقع پر اگر مرزا قادیانی اپنی نمائش کا ٹکٹ لے ایک سو آدمیوں سے چندہ لینے کا اعلان آنکھیں بند کئے بیٹھے تھے۔

لاہور سے جہلم تک چودہ سٹیشن نے ٢٨٥ آدمیوں کا اپنے دیکھنے کے لئے آتے جھوٹے کے منہ میں وہ .......

مرزا قادیانی متفقہ درخواست پر وزیر آباد گوجرانوالہ۔ گجرات، لالہ موسیٰ پر بھی

صفحہ ٤٢٥

فتح قادیان مورخہ ٢٠ جنوری ١٩٠٣ء ص ١٥ پر اور اس معاملے میں مولوی نور محمد صاحب ساکن لکھوکے کا اشتہار بھی دیکھنے کے قابل ہے جن کے ہاتھ پر خود مرزا کے پیروان ساکن قادیان نے توبہ کی۔

جو شخص گورنمنٹ تک کو مغالطہ دینے سے نہیں چوکتا وہ پبلک کو کیوں مغالطہ نہ دے گا۔

چنانچہ مرزا قادیانی اخبار عام مورخہ ٢ فروری ١٩٠٣ء میں لکھتے ہیں کہ جہلم میں آپ کے دیکھنے کو تیس یا چونتیس ہزار کے قریب لوگ آئے ہوں گے اور پھر لکھتے ہیں کہ جب لاہور سے میرا گزر ہوا تو ایسے صد ہا لوگ ہر سٹیشن پر جمع پائے ۔ اندازہ کیا گیا کہ جہلم کے سٹیشن پر پہنچنے سے پہلے چالیس ہزار کے قریب لوگ میرے راہ گزر سٹیشنوں پر جمع ہوئے ہوں گے ۔ مرزا قادیانی کا یہ سفید جھوٹ روسیاہی کے لئے کافی ہے کیونکہ جب جہلم کی آبادی ہی اتنی نہیں تو اس قدر وہ کہاں سے آئے پھر ہر سٹیشن پر صدہا آدمی آپ کو چاہئے کہ مرد میدان بنیں ۔ ہم اور آپ ایک متفقہ درخواست ریلوے افسروں کی خدمت میں پیش کریں کہ وہ پوری پوری تعداد پلیٹ فارم کے ٹکٹوں کی بتادیں یعنی لاہور سے لے کر جہلم تک ہر سٹیشن پر جس ٹرین میں آپ نے سفر کیا کس قدر آدمی آئے اور درخواست پر جو خرچ ہو اس کا نصف آپ دیں ۔ اگر آپ اس روز چالیس ہزار کے قریب آدمیوں کا جمع ہونا لاہور سے جہلم تک کے سٹیشنوں پر ثابت کر دیں تو فی سٹیشن ایک روپیہ نذر کروں گا۔ ورنہ اپنے کاذب ہونے کا اقرار کریں۔

ہمارے ایک کرم فرما سوداگر پشمینہ جن کو پشاور میں ایک شخص سے روپیہ لینا تھا اور وہ اتفاقاً پشاور سے اسی ٹرین میں آ رہے تھے ۔ جس میں مرزا قادیانی جہلم سے گھر کو جا رہے تھے ۔ حلفاً بیان کرتے ہیں کہ مسافر لوگ آپ کے دیکھنے کو آتے اور لاحول پڑھ کر چلے جاتے تھے (ایسے موقع پر اگر مرزا قادیانی اپنی نمائش کا ٹکٹ لگوا دیتے تو منارۃ المسیح کھٹ سے تیار ہو جاتا اور الحکم میں ایک سو آدمیوں سے چندہ لینے کا اعلان نہ دینا پڑتا ۔ ایڈیٹر! ) اور مرزا قادیانی بغلا بھگت بنے آنکھیں بند کئے بیٹھے تھے۔

لاہور سے جہلم تک چودہ سٹیشن ہیں اگر مرزا قادیانی سچے ہیں تو بحساب اوسط ہر سٹیشن پر ٢٨٥٧ آدمیوں کا اپنے دیکھنے کے لئے آنا ثابت کردیں تو ہم فی سٹیشن ایک روپیہ بھر دیں گے ورنہ جھوٹے کے منہ میں وہ ......

مرزا قادیانی متفقہ درخواست پیش کریں اس کا خرچ ہمارے ذمے۔ اگر آپ چار سٹیشن وزیر آباد، گجرانوالہ ۔ گجرات، لالہ موسیٰ پر بجائے ٢٨٥٧ کے صرف پچاس پچاس آدمی ہی فی سٹیشن

٧٩

صفحہ ٤٢٦

ثابت کردیں تو فی سٹیشن ایک روپیہ اور نذر کیا جائے گا۔ پھر آپ اخبار عام مورخہ ٢؍فروری ١٩٠٣ء کے ص٥ پر لکھے ہیں کہ جہلم میں تقریباً ١٢٠٠نفر بیعت میں داخل ہوئے۔ تعجب ہے کہ لاہور جیسے بڑے شہر میں جو پنجاب کا دارالخلافہ ہے اور جس میں لاکھوں کی آبادی ہے وہاں تو مرزا قادیانی کے فقط پندرہ یا بیس مرید ہوں اور جہلم جیسے چھوٹے ضلع میں جس کو لاہور سے وہی نسبت ہے جو ایک گاؤں کو شہر سے ہے۔ آسمانی باپ ١٢سو مرید پیدا کردے۔ بس یہ کہنے کے سوا چارہ نہیں کہ لعنتہ اللہ علی الکاذبین۔

پھر فقط جہلم میں ١٢سو اور قادیان سے جہلم تک جن مقامات لاہور وغیرہ میں آپ نے چندے قیام کیا وہاں جو لوگ مرید ہوئے وہ گویا علاوہ ہیں مگر آپ کا خالص مرید ایڈیٹر الحکم جو اسی مقدمہ میں جہلم حاضر ہوا تھا۔ الحکم مورخہ ٣١؍جنوری ١٩٠٣ء ص٥ کالم سوئم میں یوں لکھتا ہے۔ ’’سفر جہلم میں تقریباً آٹھ سو مرد و عورت نے آنحضرت کے ہاتھ پر بیعت توبہ کی۔‘‘ اب فرمائیے چیلے صاحب سچے یا گرو گھنٹال۔

پھر رسالہ ریویو آف ریلیجنز بابت فروری ١٩٠٣ء میں جو مرزا قادیانی کی سرپرستی سے ماہوار شائع ہوتا ہے۔ یوں لکھا ہے۔ ’’اس تفصیل کی کچھ ضرورت نہیں کہ فرقہ احمدیہ پنجاب میں کس زور و شور سے ترقی کررہا ہے ایک ہی دن میں جہلم میں ١٧؍جنوری کو تقریباً چھ سو آدمیوں نے بیعت کی۔‘‘ اب اپنے ہی منہ سے سب جھوٹے ہوگئے یا نہیں۔ اس سے ثابت ہے کہ ایک ایک مرزائی جھوٹ کا پُتلا ہے۔ چونکہ کاذب ہمیشہ ناکامیاب رہتا ہے۔ پس گورنمنٹ نے بھی جمعہ کی تعطیل والا میموریل واپس ماتھے مارا۔

(دیکھو پیسہ اخبار مورخہ ٢١؍فروری ١٩٠٣ء)

انعام

اگر خود مرزا یا ان کا کوئی معاون ہمارے مذکورہ بالا حوالہ جات میں سے ایک کو بھی غلط ثابت کردے تو پچاس روپئے انعام حاصل کرے ورنہ تائب ہوکر ایمان لائے۔

(خاکسار امام الدین از لاہور محلہ پیر گیلانیاں)

٣ ...... شیعہ اور عیسائی

مولانا شوکت اللہ میرٹھی! مرزا قادیانی ١٠؍مارچ ١٩٠٣ء، نمبر ٩ ج٧ ص٢ کے الحکم میں فرماتے ہیں کہ ’’روافض بھی سہارے ہی پر چلتے ہیں اور عیسائیوں کی طرح امام حسینؓ کے خون کو اپنی نجات کا ذریعہ سمجھتے ہیں۔ ان کے نزدیک اگر اعمال کی ضرورت ہے تو فقط اتنی کہ ان کے (امام حسینؓ) کے مصائب کو

٨٠

صفحہ ٤٢٧

یاد کر کے آنکھوں سے آنسو گرا لئے یا کبھی سینہ کوبی کر لی۔“

لیکن مرزا قادیانی بھی ماشاء اللہ عیسائیوں اور شیعہ سے کسی بات میں کم نہیں کیا معنے کہ اسلام میں نجات صرف خدائے وحدہ لاشریک کی توحید اور آنحضرت ﷺ کی رسالت اور قرآن مجید اور اس کے احکام پر ایمان لانے سے حاصل ہوتی ہے جو بذریعہ محمد رسول اللہ ﷺ ہم تک پہنچا ہے۔ توحید تو یوں رخصت ہوئی کہ مرزا قادیانی نے اپنے کو خدا کا بمنزلہ ولد (متبنیٰ لے پالک) قرار دیا اور ان پر ”انت منی وانا منک“ (تذکرہ ص٤٢٢، طبع سوم) الہام ہوا۔ آنحضرت ﷺ کی رسالت سے جس کی صفت ختم نبوت ہے یوں انحراف ہوا کہ اپنے کو بروزی نبی بنایا۔ قرآن مجید سے یوں ارتداد ہوا کہ اوّل تو یہ آیت ”ولکن رسول اللہ وخاتم النبیین“ کو توڑا۔ دوم اس کی آیات کا نزول ١٣ سو برس کے بعد اپنی شان میں بتایا اور غلام احمد میں جو لفظ احمد موجود ہے چونکہ وہ حمد سے مشتق ہے۔ لہٰذا قرآن کی سورہ احمد کو اپنی حمد و ثناء ٹھہرایا اور پھر مرزائیوں کو یہ ہدایت کی کہ جو شخص مجھ پر ایمان نہ لائے وہ مسلمان نہیں اور جہاں تک ممکن ہو واجب القتل ہے۔ فرمائیے آپ بڑھے رہے یا شیعہ اور عیسائی۔ شیعہ خدائے تعالیٰ کی توحید اور آنحضرت ﷺ کی رسالت پر ضرور ایمان رکھتے ہیں اگر چہ افعال شرکیہ کے مرتکب ہوتے ہیں۔ عیسائی اپنی کتاب انجیل کو ضرور مانتے ہیں اگرچہ محبت مفرط میں عیسیٰ مسیح کو خدا سمجھنے میں بہک گئے ہیں۔ الغرض سب قومیں اپنے اپنے نبی اور خدائے واحد پر ایمان رکھتے ہیں۔ آپ نے تو باوصف مسلمان ہونے کے ادھر خدا کی توحید سے انکار کیا ادھر رسالت کی تردید کر کے اپنے کو نبی بلکہ خاتم الخلفاء (خاتم الانبیاء) بنا دیا۔ دنیا میں کوئی بد بخت قوم ایسی نہیں جس نے اپنے نبی سے انحراف کیا ہو اور کسی قوم و مذہب کا کوئی فرد ایسا نہیں جو اپنے نبی کو چھوڑ کر خود نبی بن گیا ہو۔ پس مرزا قادیانی کا کیا منہ ہے کہ کسی وحشی اور بت پرست قوم و مذہب پر بھی کسی قسم کا اعتراض کر سکیں۔

(ایڈیٹر)

٤....... ترجمہ الہامات مجدد

مولانا شوکت اللہ میرٹھی!

ہمارے بعض معاونین تحریر فرماتے ہیں کہ مجدد کے الہامات کا ترجمہ ضرور شائع ہونا چاہئے تاکہ جولوگ عربی زبان کے سمجھنے سے معذور ہیں اور الہامات کا ترجمہ پڑھنے کے از بس متمنی ہیں وہ بھی مستفیض ہوں۔ لہٰذا ہم ذیل میں الہامات اور ان کا تحت اللفظ اردو ترجمہ یا محاورہ درج کرتے ہیں۔

”رقاب النوق تزعزعت کشم الجبال الیٰ تلل شملۃ الشمال التی
صفحہ ٤٢٨

مُلْتَقِهَا النّون. وریاح هبوب السمیرا“ گردنیں اونٹنیوں کی بڑھ رہی ہیں۔ اونچی ناکوں والے پہاڑوں کی طرح شمال کے ٹیلوں کی جانب جن کا منتہی نون ہے (قادیان) اور چھوٹے گندم گون۔ ”نفذت فی جوف سویداء المجنون التی تطاولت علیها ایدی الدوار والجنون. وردت شرذمته“ نیزوں کے لہلہانے کی ہوائیں نفوذ کر رہی ہیں۔ ایک دیوانہ کے سویداء قلب کے درمیان جس پر سر کے چکر اور جنون نے غلبہ کر لیا ہے۔ ایک ہتھیار بند گروہ۔ ”شاکیة السلاح. وحجمت طبقة نافذة الرماح. لاعبرت لمن قام فقعد كالعجاج ولا وجود“ پیدا ہوا۔ اور ایک جماعت نے حملہ کیا جس کے نیزے دھنس جانے والے ہیں۔ غبار کی طرح جو شخص کھڑا ہو پھر بیٹھ جائے۔ اس کا کیا اعتبار اور جو شخص چمکے اور پھر شیشہ کی طرح ریزہ ریزہ ہو جائے۔ ”لمن برق فانكسر وانقض كالزجاج ٠ تبالک ومن الظلوم والجهول وتربت یداک من النساء تر“ اس کا کیا وجود خرابی ہو جو تجھ پر تو نادانوں اور جاہلوں میں سے ہے اور تیرے ہاتھ مٹی میں آلودہ ہوں تو عورتوں میں سے ہے۔ ”لست من الفحول انتم كـالـصـور البهیمیة لستم کالاجسام التعليمية لان الهیولٰی انماهی“ نہ کہ مردوں میں سے۔ تم چوپایوں کی صورتیں رکھتے ہو نہ کہ تعلیمی اجسام کی کیونکہ ہیولے جس شے سے عبارت ہے وہ ”شرک لحیتان الصور کما القینا علی الباقر فی کتابه المسمی بالافق المبین مع انه لا یلد“ صورتوں کی مچھلیوں کا جال ہے جیسا کہ ہم نے باقر داماد پر اس کی کتاب افق المبین میں القاء کر دیا ہے۔ بایں ہمہ تم سے عجز ناپاک اور مکدر اشکال ”مـنـكـم سـوی الاشباح الناریة الخبيثة الكثيفة لاالارواح الطيبة اللطيفة. لان الدجال“ ناریہ کے کوئی شے پیدا نہیں ہو سکتی نہ کہ پاک اور لطیف روحیں کیونکہ دجال مریم کے ”لايولد من بطن ابنت عمران اللتی لم یمسسها الا روح القدس الخبيثات للخبيثين والطیبات للطیبین“ بطن سے نہیں پیدا ہوتا جس کو روح القدس کے سوا کسی نے نہیں چھوا۔ ناپاکوں کے لئے ناپاک اور پاکوں کے لئے پاک ہوتے ہیں۔

دوسرا الہام

”یاشو كتنا انک لدیننا مكین امین ومن بطن ام الدجال البطال المحتال مخرج الجنین“ اے ہمارے شوکت تو ہمارے پاس مکین اور امین ہے اور جھوٹے دجال کی ماں کے پیٹ سے جنین (حمل) کا نکالنے والا ہے۔ ”فـقـد نـصـر نـاک نـصـرة واعطینک سطوة وغلبة علٰی اعداء الدین فجزاء الوتین بسکین التسکین ٨٢

واقطع“ پس ہم نے تجھے بڑی فتح دی ہے اطمینان کی چھری سے ان کی رگ کاٹ۔ ”عمـ الٰی یوم الدین لا علاء كلمة احكم الـ کر اور قیامت تک ان کی آیتیں اور دریدیں ہم ان کو ”مسلسلین وندخلهم فی دار جـ الـنـبـوة والـبـروزیة بعد“ پکڑیں گے داخل کریں گے کیونکہ انہوں نے نبوت اور بر الـنـبـيـيـن فانهم كالافاعى يتسللون من خاتم النبیین کے بعد بے شک دوزخ کے سوراخ میں سلگ رہے ہیں۔ ٥ ......

مولانا مـ مرزا قادیانی کی چوکھٹ پر جب تعلیم کے موافق یہ کہتا ہے۔ ”الـصـلوٰة والـ ہیں کہ ایسی تعلیم اور ایسا کہنا میری جانب سـ فرماتا ہے: ”یـا ایـهـاالـذیـن امـنوا صلو جانب راجع ہے کیونکہ میں اس زمانہ میں غا بھیجو۔ قرآن مجھ ہی پر نازل ہوا ہے اور احمد کوئی پیغمبر گزرا ہی نہیں۔ جیسا مسیح کے آسما ایسا ہی عرب میں پیغمبر کی بعثت کا بہتان ۔ مجھے مل گیا۔ حق بحقدار رسید۔ دنیا میں جس پیغمبر عرب کا بھی فسانہ ہے۔ دیکھو سنی سنائی ہوں۔ مجھ پر ایمان لاؤ۔ دولت خانہ سے ہانپتی کانپتی ننگے سر مرزا پر آسمان سے زناٹے دار اور سناٹے د ریل گاڑی کے آنے کی۔ میرا تو کلیجا دھڑ کـ

صفحہ ٤٢٩

واقطع “ پس ہم نے تجھے بڑی فتح دی ہے اور دشمنان دین پر بڑا دبدبہ اور غلبہ عطا کیا ہے۔ پس اطمینان کی چھری سے ان کی رسی کاٹ۔ ”عروق المفسدین واقلع احشائهم وامعائهم الى يوم الدين لا علاء كلمة احكم الحاكمين وانانا خذهم“ اور مفسدوں کی رگیں قطع کر اور قیامت تک ان کی آنتیں اور وریدیں اکھاڑ تا رہ تاکہ خدائے احکم الحاکمین کا بول بالا ہو اور ہم ان کو ”مسلسين وندخلهم فى دار جهنم داخرين مقهورين خالدين لانهم ادعوا النبوة والبروزية بعد “ پکڑیں گے زنجیروں میں جکڑ کر اور مقہور کر کے ہمیشہ کیلئے جہنم میں داخل کریں گے کیونکہ انہوں نے نبوت اور بروزیت کا دعویٰ کیا ہے۔ ہمارے ”نبيـنـــا خــاتــم النبيين فانهم كالافاعى يتسللون من سلة القاديان الى حجر السجين“ خاتم النبیین کے بعد بے شک وہ سانپ ہیں جو قادیان کے مداری کی پٹاری سے دوزخ کے سوراخ میں سُک رہے ہیں۔

٥ ...... رسول بننے کا شوق

مولا نا شوکت اللہ میرٹھی!

مرزا قادیانی کی چوکھٹ پر جب کوئی مرزائی ڈنڈوت کرتا ہے تو اپنے بروزی رسول کی تعلیم کے موافق یہ کہتا ہے۔ ”الصلوة والسلام علیک یا رسول اللہ “ مرزا قادیانی کہتے ہیں کہ ایسی تعلیم اور ایسا کہنا میری جانب سے نہیں ہے بلکہ خدا کی جانب سے ہے کیونکہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے: ”یاایھاالذين امنوا صلوا عليه وسلموا تسليما “ علیہ کی ضمیر غائب میری جانب راجع ہے کیونکہ میں اس زمانہ میں غائب تھا۔ یعنی اے ایمان لانے والو مرزا پر درود اور سلام بھیجو۔ قرآن مجھ ہی پر نازل ہوا ہے اور احمد میں ہوں نہ کہ پیغمبر عرب وعجم ۔ کیونکہ عرب میں دراصل کوئی پیغمبر گزرا ہی نہیں۔ جیسا مسیح کے آسمان پر چلے جانے اور اب تک زندہ رہنے کا طوفان ہے ایسا ہی عرب میں پیغمبر کی بعثت کا بہتان ہے۔ تیرہ سو برس پہلے قرآن نازل ہو کر محفوظ رہا اور اب مجھے مل گیا۔ حق بحقدار رسید۔ دنیا میں جس طرح بہت سے بے سراپا افسانے مشہور ہیں۔ ایسا ہی پیغمبر عرب کا بھی فسانہ ہے۔ دیکھو سنی سنائی باتیں چھوڑو میں تو تمہارے سامنے زندہ رسول موجود ہوں۔ مجھ پر ایمان لاؤ۔

دولت خانہ سے سٹپٹاتی ننگے سر جھنڈولا کھولے بڑی بی نکلیں۔ اے ہے بوا رات میرے مرزا پر آسمان سے زناٹے دار اور سناٹے دار وحی اتری۔ عین مین ایسی دھڑاکے کی آواز تھی۔ جیسی ریل گاڑی کے آنے کی۔ میرا تو کلیجا دھڑک گیا کہ کیا بلا نازل ہوئی۔ کیا بھونچال آگیا۔ وہ تو یوں

٨٣

صفحہ ٤٣٠

کہو مرزا قادیانی نے مجھے دلاسا دیا کہ ”چپ چپ۔ یہ بھید کسی سے نہ کہنا۔“ پس نہ صرف اہالی موالی بلکہ خود مرزا کو ہر وقت یہی چاؤ ہے کہ مجھے دنیا رسول کہہ کر پکارے لیکن یہ منہ اور گرم مسالا۔ ایسا رسول تو ہر شخص بن سکتا ہے مگر اتنا جگر کس کا؟

تعارف مضامین ...... ضمیمہ شحنہ ہند میرٹھ

سال ١٩٠٣ء / ٢٢ / مارچ کے شمارہ نمبر ١٢ کے مضامین

١ ...... بطالت قادیانی

اس عنوان سے عیسائی اخبار طبیب عام نے مضمون شائع کیا ہے۔ ہم اس کا انتخاب ذیل میں لکھتے ہیں۔ اگر مرزا اور مرزائیوں کو کچھ بھی شرم ہو تو رونے کے لئے کافی ہے مگر انہیں شرم کہاں۔ البتہ مسلمانوں کو مذہب اسلام کی توہین پر ماتم کرنا چاہئے۔

پرچہ ریلیجنز میں ایک مضمون بعنوان مسیح موعود و ڈاکٹر ڈوئی۔ یا اسلام وعیسائیت مندرج تھا۔ ہائے تاریکی! اور اے شب تار! تجھ پر افسوس اسلام اور عیسائیت کا مقابلہ چہ معنی۔ البتہ اسلام احمدی و اسلام محمدی کا مقابلہ برجستہ ہے۔ کیونکہ ہر دو اسلام متضاد ہیں۔ اگر چہ لفظ اسلام کے لغوی معنے مسلمان ہونا یا خدا کی راہ پر گردن رکھنا ہے۔ مگر مجازی و رائج معنے یہ ہیں کہ خدا اور حضرت محمد صاحب پر ایمان لانا اور سنت و شریعت و فرائض پر عمل کرنا قرآن کو کلام اللہ ماننا۔ اب یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ آیا مرزا غلام احمد ان سب کو درست و برحق مانتے ہیں اور ان کی تائید کرتے ہیں یا تردید۔ مرزا کے کلام کے مطابق تو دیگر اصحاب و علمائے دین اسلام محمدی بحر ظلمات کے گرداب میں ہیں اور صداقت کی راہ پر نہیں تو کیا وہ قرآن وحدیث کو برحق نہیں مانتے۔ اور سنت و شریعت و فرائض پر عمل نہیں کرتے۔

٨٤

صفحہ ٤٣١

اب متقدمین ومتاخرین علماء ومحدثین کو رد کرنا جو مرزائیوں کا عقیدہ وشیوہ ہے۔ اسلام کو دو قسم بنا دیتا ہے۔ ایک اسلام محمدی دوسرا اسلام احمدی۔ اگر چندے یہی حال رہا تو اسلام میں بڑی گڑ بڑ پڑ جائے گی اور معلوم نہ ہوسکے گا کہ کونسی قسم خدا کی راہ پر گردن رکھنا ہے۔ حسب عقیدہ اہل اسلام حضرت محمد صاحب خاتم النبیین وسید المرسلین تھے۔ انہوں نے خود یا قرآن نے کہیں نہیں فرمایا کہ میرے بعد ایک اور رسول بنام غلام احمد قادیان میں آئے گا تم اس کی سنو۔ معلوم نہیں مرزا کا یہ دعویٰ کہاں سے ہے۔ اب یہ سوال عائد ہوتا ہے کہ کیا یہ خاتم النبیین اور سید المرسلین ہے۔

اکثر اوقات جب مرزائیوں سے بات چیت ہوتی ہے تو علاوہ فحش وغلط گوئی کے وہ یہ کہتے ہیں کہ مرزا خدا کے رسول مقبول ہیں اور نور ہیں تو اب دو رسول اور دونوں علیحدہ ٹھہرے۔ معلوم نہیں دونوں میں کونسا رسول اور نور مثل صبح صادق وصبح کاذب ہے یا دونوں ہم پلہ ومساوی ہیں۔ (معاذ اللہ)

معتقدان مرزا فرمایا کرتے ہیں کہ حضرت مرزا مجموعۃ الانبیاء ہیں کیونکہ ان کے مجموعہ اوصاف ان میں ہیں ہم کو یہ سن کر رحم آتا ہے کہ عجیب بھولے لوگ ہیں۔ مرزا کی بابت جبکہ نبی نے پیشینگوئی نہیں کی اور نہ حسب الارشاد خاتم النبیین قیامت کی اعلیٰ علامات میں سے کوئی علامت پوری ہوئی۔ پھر بھی لوگ مرزا کی پیرو ہوتے جاتے ہیں۔

مجموعۃ الانبیاء اور ان کے مجموعہ اوصاف تو کجا البتہ مرزا کو مجموعہ امراض کہیں تو بجا ہے کیونکہ مرزا نے خود ہی ڈوئی کی پیشینگوئی کے بارے میں تحریر فرمایا ہے کہ ”میں ایک آدمی ہوں جو پیرانہ سالی تک پہنچ چکا ہوں۔ میری عمر غالباً چھیاسٹھ سال سے کچھ زیادہ ہے اور ذیابیطس اور اسہال کی بیماری بدن کے نیچے کے حصے میں اور دوران سر اور کمی دوران خون کی بیماری بدن کے اوپر کے حصے میں ہے۔ پس جس شخص کے اوپر اور نیچے مرض ہی مرض ہوں تو ایسے مریض کا پیرو ہونا دانش مندی نہیں۔“

ایڈیٹر :۔ اسلام تو کسی طرح دو نہیں ہو سکتے کیونکہ مرزا کسی جدید اسلام کا بظاہر مدعی نہیں۔ البتہ عیسائیت دو نہیں چار ہو گئی ہیں۔ ایک قدیمی عیسائیت جو باپ بیٹے روح القدس سے مرکب ہے۔ دوسری مرزائی عیسائیت جو تثلیث کو دیس نکالا دیتی ہے اور مرزا کو آسمانی باپ کا لے پالک بناتی ہے۔ تیسری لندنی مسیح مسٹر پگٹ کی پروٹسٹنٹی عیسائیت۔ چوتھی فرانسیسی مسیح ڈاکٹر ڈوئی کی رومن کیتھولک عیسائیت۔ ایک عیسائیت کو مذکورہ بالا چار چاند لگ گئے ہیں۔ ہمارا ہمعصر طبیب عام بتائے کہ ان میں سے کون سا نور اور کونسا چمگادڑ ہے۔ واضح ہو کہ ہم نے اغلاط دور کر کے مندرجہ بالا

٨٥

صفحہ ٤٣٢

نوٹ اخذ کیا ہے اگر ہم بجنسہ شائع کر دیتے تو ناظرین ہنستے ہنستے زعفران بن جاتے۔ جب عیسائی لوگ اردو زبان نہیں جانتے تو کیوں اس کا گلا کند چھری سے ریتے ہیں۔

٢ ...... چرا کارے کند عاقل کہ باز آید پشیمانی

مرزا قادیانی گالیاں دینے دل دکھانے سخت اور دلخراش تحریر کرنے میں لاثانی ہیں۔ اسلامی یا غیر اسلامی کوئی فرقہ ان کے زبان قلم سے نہیں بچا۔ کوئی عالم کوئی دین کا پیشوا ایسا نہیں جو مرزا قادیانی کی تیغ زبان کا زخمی نہ ہو۔ پیغمبروں تک کو نہ چھوڑا۔ خصوصاً عیسیٰ علیہ السلام (جن کے مثیل بننے کے آپ مدعی ہیں) تو زیر مشق ہی ہیں۔ رسالہ انجام آتھم میں ان کی نسبت کوئی بات باقی نہیں چھوڑی۔ کوئی عیب نہیں جو عیسیٰ علیہ السلام میں ثابت نہ کیا ہو۔ عصاء موسیٰ اور ضمیمہ شحنہ ہند میں مرزا قادیانی کی گالیوں کی فہرستیں بطور ڈکشنری طبع ہوئی ہیں۔ عیسائیوں وآریوں نے مرزا قادیانی ہی کی تحریروں پر مشتعل ہو کر اسلام و پیشوائے اسلام اور بزرگان دین کو دل کھول کر جو چاہا جس سے تمام مسلمان کلیجہ پکڑ کر رہ گئے۔ مگر خدا مولوی کرم دین صاحب کا بھلا کرے اور ان کو فتح دے جنہوں نے مرزا قادیانی پر جہلم میں مقدمہ دائر کر کے تمام دنیا خصوصاً مسلمانوں پر احسان کیا کہ مرزا قادیانی کو اپنی بدزبانی و دریدہ دہنی سے پچھتانا پڑا اور آئندہ اس حرکت بے جا سے توبہ کی کان پکڑے۔ چنانچہ ١٠/ مارچ کے الحکم میں قریب قریب حلم ونرمی ہی کی اپنے مریدوں کو تعلیم دی ہے۔ ایک جگہ آپ اپنے مریدوں کو نصیحت کرتے ہیں۔ ”تم صبر کرو اور حلم سے کلام کرو۔ ایسا نہ ہو تمہارا اس وقت کا غصہ کوئی خرابی پیدا کرے جس سے سارا سلسلہ بدنام ہو یا کوئی مقدمہ بنے جس سے سب کو تشویش ہو۔“ مشتیکہ بعد از جنگ خوب صادق آرہا ہے۔ اگر پہلے ہی سے ایسی سوجھتی تو مقدمہ جہلم کیوں دائر ہوتا اور سلسلہ کیوں پریشان اور بدنام ہوتا۔ ”خود را فضیحت و دیگران را نصیحت“ اسی کو کہتے ہیں۔ اب پچھتائے کیا ہوت جب چڑیاں چگ گئیں کھیت۔ اس مقدمہ کے مصائب تو آپ ہی کو اٹھانا پڑیں گے۔ مصیبت کون جھیلے تہمت تو تم نے اٹھائی تھی۔ جھوٹی پیغمبری کی شیخی نہ گئی ہوتی تو حلم ونرمی کی تعلیم بجائے مریدوں کے اپنے ہی نفس کو دیتے مگر کسر نفسی تو صادقین کا حصہ ہے۔ یوسف علیہ السلام کا قول ”و ما ابرئ نفسی “ قرآن مجید میں مرزا قادیانی کی نظر سے شاید نہیں گزرا۔ ج۔ن!

٣ ...... کوئے جاناں سے خاک لائیں گے۔ اپنا کعبہ جدا بنائیں گے

١٠/ مارچ کے الحکم میں مارچ کی صبح کا واقعہ اس طرح لکھا ہے۔ ”ایک صاحب نے عرض کیا کہ حضور میرے ایک دوست نے لکھا ہے کہ تم حج کرنے کو گئے ہوئے ہو مگر ہمیں بھلا دیا ۔“

٨٦

صفحہ ٤٣٣

فرمایا (مرزا نے) ”اصل میں جو لوگ خدا کی طرف سے آتے ہیں۔ ان کی خدمت میں دین سیکھنے کے واسطے جانا بھی ایک طرح کا حج ہے۔ حج بھی اللہ تعالیٰ کے حکم کی پابندی ہے اور ہم بھی تو اس کے دین اور اس کے گھر یعنی خانہ کعبہ (قادیان) کی حفاظت کے واسطے آئے ہیں۔“ (ملفوظات ج ٥ ص ١٥٥) ناظرین! اب تو مرزا اور مرزائی قادیان جانے کو حج کہنے لگے۔ یعنی قادیان جانے کو فرض کہتے ہیں۔ چنانچہ اس اخبار میں لکھا ہے۔ ”پس جس جس نے اس (مرزا) کے ہاتھ پر بیعت کی وہ یہ اپنے اوپر لازم (فرض) سمجھے کہ کچھ عرصہ تک اس کی صحبت میں رہے۔“ (ایضاً) اور جو قادیان جانا فرض نہ سمجھے اس پر افسوس کیا ہے چنانچہ اسی الحکم میں لکھا ہے۔ ”بڑا افسوس ہے کہ اکثر لوگ بیعت کرتے جاتے ہیں اور پھر اس کی ضرورت (فرضیت) نہیں سمجھتے کہ پاس جا کر رہیں۔“ (ایضاً) خانہ کعبہ سے یہ رقابت کہ اس سے ہٹا کر قادیان کا حج فرض کر دیا مگر یہ بے وجہ نہیں۔ اس میں اپنی گرم بازاری اور آمدنی کی صورت ہے۔ یہی وجہ ہے کہ خانہ کعبہ کا حج کرنے سے جان نکلتی ہے۔ جان کا خوف کھائے لیتا ہے۔ بے امنی کا عذر ”ولا تلقوا بايديكم الى التهلكة“ ہر وقت زبان پر جاری ہے مگر قادیان کا حج فرض ہے۔ اب اس فرقہ کے کفر میں جس مسلمان کو شک ہے تو اس کو قرآن اور اسلام پر بھی شک ہے۔ وما علينا الا البلاغ! ج۔ن!

٤ ...... وہی مرزا قادیانی کا جہاد

مولانا شوکت اللہ میرٹھی!

مرزا قادیانی ١٠؍ مارچ کے الحکم میں جہاد کے قطعی استیصال کی یہ تجویز بتاتے ہیں کہ ”ایک مبسوط کتاب تیار کی جائے جس میں عقلی اور نقلی دلائل سے جہاد کی ممانعت ثابت کی جائے اور پشتو اور فارسی اور عربی میں اس کا ترجمہ ہو کر ٤٠ ہزار جلد چھاپی اور مشتہر کی جائے اور میں دس ہزار روپیہ تک اس کے اخراجات میں دے دوں گا وغیرہ۔“ (١٠؍ لاکھ لکھتے تو کون ہاتھ پکڑتا تھا) معلوم نہیں یہ ”سرحد، یغستان یا درہ خیبر“ کیوں ہے اور ہندوستان کے کونسے مسلمان جہاد پر آمادہ ہیں۔ علماء ہند تو متواتر فتوے دے چکے ہیں اور مبسوط کتابیں مشتہر کر چکے ہیں کہ اصول اسلام کے موافق مسلمان جس گورنمنٹ کے امن میں ہوں اور آزادی کے ساتھ اپنے مذہبی اور تمدنی فرائض ادا کرتے ہوں ۔ ایسی محسن گورنمنٹ کی مخالفت بغاوت اور فساد ہے نہ کہ جہاد۔ بلکہ یہ تو سراسر کفران نعمت ہے مگر مرزا قادیانی کا بار بار جہاد جہاد پکارنا یہ ثابت کرتا ہے کہ مسلمانان ہند کے دلوں میں وحشیانہ بغاوت کی ہوا اب تک موجود ہے اور وہ انگلش گورنمنٹ کی دوسو برس کی پر امن حکومت میں رہ کر بھی اس کے حقوق کے قدرشناس اور اس کے احسانات کے ممنون نہیں۔

٨٧

صفحہ ٤٣٤

دوم! مرزا قادیانی یہ ثابت کرتے ہیں کہ گورنمنٹ جس طرح مسلمانوں سے بدظن ہے اسی طرح حد درجہ ڈرپوک بھی ہے۔ سوم ! یہ اگر چہ مرزا قادیانی کی حماقت ہے مگر اس میں خوشامدانہ خود غرضی کے ساتھ شرارت بھی ہے کہ صرف ان کے ڈیڑھ لاکھ والنٹیر گورنمنٹ کے سچے ہوا خواہ ہیں باقی ڈیڑھ لاکھ کم ٦ کروڑ مسلمان قطعی بدخواہ اور نمک حرام ہیں اور جہاد پر تلے بیٹھے ہیں۔

معلوم نہیں ہماری اسلامی انجمنیں کیوں خاموش ہیں اور مرزا قادیانی کے ایسے آئے دن کے الہامات اور شرارت آمیز میموریلوں اور تحریروں کی متفقہ تردیدیں لکھ کر گورنمنٹ میں کیوں نہیں بھیجتے کہ چونکہ مرزا دائرہ اسلام سے باتفاق علماء ومشائخ اسلام اپنے ملحدانہ خوارق کے باعث خارج ہو چکا ہے۔ اسلئے وہ اسلام اور مسلمانوں کا قطعی دشمن بن گیا ہے اور ان پر طرح طرح کے اتہامات باندھتا ہے۔

انجمن حمایت اسلام اور انجمن نعمانیہ جو عالیشان اور اثر ڈالنے والی انجمنیں ہیں اور پنجاب کے خاص دارالخلافہ یعنی لاہور میں قائم ہیں کیوں نہیں اس موذی کا تعاقب کرتیں۔ وہ غالباً یہ عذر کریں گی کہ ہم کو مسلمانوں کے مذہبی امور سے کوئی تعلق نہیں ہم تو سب کے ہوا خواہ ہیں۔ لیکن ہماری انجمنیں خوب جانتی ہیں کہ مرزا مسلمان نہیں کیونکہ اس نے خاتم النبیین ﷺ کے بعد نبوت کا دعویٰ کیا۔ اس نے انبیاء کی توہین کی۔ اس نے اپنے کو خدا کا لے پالک بنایا۔ اس نے تصویر پرستی کی اشاعت کر کے کفر اور شرک پھیلایا۔ اس نے حج حرمین شریفین کی ممانعت کی۔

ظاہر ہے کہ تمام اسلامی انجمنوں کا انعقاد مسلمانوں کی بہتری اور مذہب اسلام کی اشاعت کے لئے ہے پس وہ جس طرح آریا اور عیسائیوں وغیرہ کے حملوں کا جواب دیتے ہیں جو رہبر اسلام پر کئے جاتے ہیں کیا وجہ ہے کہ مرزا کے حملوں کا جواب نہیں دیتے حالانکہ آریا اور عیسائی اسلام کے ایسے دشمن نہیں جیسا مرزا ہے۔

جس طرح حضرت پیر مہر علی شاہ صاحب نے بذریعہ انجمن ایک ریزولیوشن پاس کر کے مشتہر کرایا تھا کہ مرزا جو کچھ کاروائیاں کر رہا ہے۔ مسلمانوں کو ان سے کوئی تعلق نہیں۔ تمام انجمنیں اگر ایسا ہی کریں تو گورنمنٹ اور پبلک سے اس کا زہریلا اثر دور ہو جائے۔

مرزا قادیانی کو سرحدی جرگوں کی شورش نے کتاب مذکورہ کے تصنیف کرنے کی جانب توجہ دلائی ہے۔ ہم پوچھتے ہیں کہ ٹرنسوال میں بوئروں کی شورش کا اور ترکی میں اس کے صوبوں کی آئے دن کی شورش کا کیا باعث ہے۔ کیا وہاں بھی مرزا قادیانی کے وہی بد باطن مُلّا موجود ہیں۔ اگر سرحدی جرگے جہاد پر آمادہ ہوتے ہیں تو کیا مذکورہ بالا قومیں بھی مرزا قادیانی کے مزعومہ جہاد ہی

٨٨

صفحہ ٤٣٥

کی پیروی کرتی ہیں۔ جس طرح دنیا میں اتفاقی امور سے شورش ہو جاتی ہے۔ اسی طرح سرحدی وحشی بھی کسی خلاف طبع امر کے باعث مشتعل ہو جاتے ہیں اور سزا پاتے ہیں۔ مگر اسلامی جہاد سے ان سب کو کیا علاقہ ہے۔ دنیا میں کہیں پتا کھڑکا اور مرزا قادیانی چوکنا ہوئے کہ یہ اسلامی جہاد کے باعث ہے۔

بہر آواز پائے چشم بکشائم کہ مے آئی

مرزا قادیانی کہتا ہے۔ ”اس ملک کے علماء کا کیا حرج ہے کہ ایسی مبسوط کتاب تصنیف کر کے اپنے دستخطوں سے مزین کریں۔ ان پر کوئی خرچ نہیں ڈالا جاتا۔“ جی ہاں ٦ کروڑ مسلمانوں میں صرف آپ کو گورنمنٹ کے ساتھ ہمدردی ہے۔ اگر آپ سوتے فتنے (جہاد کے خیال) کو نہ جگائیں تو آپ کا کیا حرج ہے۔ حرج یہ ہے کہ تمام مذاہب کے خلاف ایک جتھا تیار کرنے اور سب کے پیشواؤں کو گالیاں دینے اور یوں ملک میں اشتعال پیدا کرنے پر گورنمنٹ آپ کی گردن ناپ لے گی۔ اسلئے آپ بارہا جہاد جہاد کی صدا بلند کر کے گورنمنٹ کی خوشامد کر رہے ہیں اور اپنی بد اعمالیوں پر گورنمنٹ کی آنکھوں کے سامنے پردہ ڈال رہے ہیں اور دس ہزار روپیہ تو آپ جیسا خرچ کریں گے دنیا دیکھ لے گی اور آپ کے پاس روپیہ ہی کہاں ہے؟ ورنہ الحکم میں دھیلے پیسے کے واسطے اکثر کاسہ گدائی کیوں گردش کرتا۔ بس اسی قدر آمدنی ہے کہ چند حمقاء کی بدولت مرزا قادیانی اور ان کے دو چار اپاہجوں کا پیٹ پلتا ہے جیسے آپ کے تصنیف کردہ ڈیڑھ لاکھ مرید صرف زبان پر ہیں۔ ایسے ہی یہ دس ہزار روپے جدید کتاب جہاد کے لئے ہیں۔ اگر آپ نے دھوکا دے کر اور چند آنکھوں کے اندھوں کی گانٹھ کاٹ کر کوئی چھوٹی موٹی لکھی بھی تو خاص تجارت کھڑی ہو جائے گی۔ یعنی چار پیسے کی کتاب ایک ایک روپیہ کو بکے گی۔ جیسی بعض کتابیں بک رہی ہیں۔ مرزا قادیانی سے یہ امید فضول ہے۔ کہ وہ مفت کوئی کتاب شائع کریں گے کیونکہ یہاں تو ہاتھی کے روٹ کے واسطے ”اصحاب الفیل“ سے ہمیشہ راتب مانگا جاتا ہے۔

آگے چل کر آپ فرماتے ہیں کہ ”اس حقیقت (جہاد کی حقیقت) کو کئی لاکھ آدمیوں نے سمجھ لیا ہے۔“ آپ تو اپنے والنٹیئروں کی تعداد ڈیڑھ لاکھ بتاتے ہیں۔ ان کے سوا یہ مشکل اور باریک مسئلہ کون سمجھ سکتا ہے۔ اب یہ کئی لاکھ کہاں سے آگئے؟ بنیے کی گوں میں نو من کا دھوکا اسی کو کہتے ہیں۔

ہماری رائے میں تو مرزا قادیانی اگر یہ اعلان دیتے کہ میں دس ہزار روپیہ میں اپنے سو دو سو والنٹیئر تیار کرتا ہوں۔ جب سرحدی وحشی شورش کریں اور گورنمنٹ سب کو زیر نہ کر سکے تو میں سب کا جنرل بنوں اور شریر قوموں کو گھیر کر اور ان کی ناک میں نکیل ڈال کر پش پش کرتا ہوا سب کو

٨٩

صفحہ ٤٣٦

گورنمنٹ کے قدموں میں لا ڈالوں تو خیر ایک بات بھی تھی۔ خالی خولی خیالی گھوڑے دوڑانے (کتاب تصنیف کر کے شائع کرنے) کا خواب دیکھنا بالکل فضول ہے۔

(ایڈیٹر)

٥ ...... مرزا قادیانی کی اردو شاعری

مولانا شوکت اللہ میرٹھی!

مجددالسنہ مشرقیہ کو غصہ تو اسی بات پر آتا ہے کہ مرزا قادیانی عربی فارسی اردو شاعری میں مجدد سے اکتساب فن نہیں کرتے اور اس کے تلامذہ میں داخل نہیں ہوتے ورنہ کسی کی کیا طاقت تھی کہ لمڈھینگ کی طرح مرزا قادیانی پر چونچ کھولتا اور مرزا قادیانی بگلا بھگت بنے بیٹھے رہتے۔

ناظرین نے مرزا قادیانی کی فارسی اور عربی شاعری کی درگت تو ضمیمہ میں دیکھی ہی ہو گی۔ اب اردو شاعری کا ڈنچر بھی دیکھئے جس کی کوئی کل اناڑی کے ہاتھ کے بنائے ہوئے قینچی اور کاغذ کے تعزیے کی طرح ٹھیک نہیں۔ حالانکہ اردو زبان مرزا قادیانی کی مادری زبان ہے۔ جب کسی شخص کی فطری زبان کی یہ کیفیت ہے جیسی کہ آگے چل کر ظاہر ہو گی تو اس کی عربی اور فارسی زبان کی شاعری کا تو کیا ہی کہنا۔ اور جبکہ آسمانی باپ بھی خوب جانتا ہے کہ میرا لے پالک اردو زبان تک سے نابلد ہے تو معلوم نہیں عربی میں کیوں الہام کرتا ہے؟ بات یہ ہے کہ لے پالک ریگ ماہی اور سقنقور کھا گیا ہے تو کھوسٹ آسمانی باپ اٹو چٹ کر گیا ہے۔ ہم پھر کہتے ہیں کہ شاعری کی سنگلاخ زمین میں قدم مارنا ہے تو موجودہ زمانہ میں امام الشعراء مجددالسنہ مشرقیہ شوکت اللہ القہار پر ایمان لانا شعراء پر فرض ہے۔ اور اگر کوئی اس معاملہ میں ہچر مچر کرے تو میدان میں آئے اور جہاں تک کا چاہے زور لگائے۔ اگر تحدی کے دنگل میں نہ ٹھوک دیا ہو تو جب ہی کہنا کیونکہ مجدد پر خدا کا ہاتھ ہے۔ جیسا کہ اس کے الہامات سے واضح ہو چکا ہے۔ مرزا قادیانی آریا سے مخاطب ہو کر حسب ذیل تکبندی کرتے ہیں۔

اے آریا سماج پھنسو مت عذاب میں
کیوں مبتلا ہو یارو خیال خراب میں

مصرعہ اولیٰ میں تو آریا کو عذاب میں پھنسنے سے روکا جاتا ہے جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ ابھی تک عذاب میں نہیں پھنسے اور مصرعہ ثانیہ میں ان کا مبتلا ہونا ظاہر ہے۔ دو مصرعے اور یہ اختلاف۔ پھر دوسرے مصرعہ میں (یارو) برائے بیت:۔ اصلاح :۔

اے آریا سماج پھنسے ہو عذاب میں
کیوں مبتلا ہوئے ہو خیال خراب میں

٩٠

دیکھئے شعر کیسا پر معنی اور دو لخت ہو گیا پلاؤ مجدد کے حضور پیش کیجئے۔

اے قوم آریا ترے
تو جاگتی ہے یا تیری

کیوں صاحب مصرعہ اولیٰ (یہ) کیا بے ربط ہے۔ اصلاح :۔

اے قوم آریا
ہیں جاگتے میں یہ
کیا وہ خدا جو ہے
ایمان کی بو نہیں تر

مصرعہ اولیٰ کی بندش کتنی بے سروپا اور

کہتی ہے تو کہ جا
ایمان کی بو نہیں تر
گر عاشقوں کی روح
پھر غیر کے لئے ہیں

مرزا قادیانی کا مطلب اس شعر سے کی روح خدائے تعالیٰ کے ہاتھ سے نہیں تو جو ہے یعنی کیا وہ خدا کے سوا کسی اور کے عشق میں م

گر عاشقوں کی جان
کیا غیر کے لئے ہیں
گروہ الگ ہے ای

پھر کس نے لکھ دیا مرزا قادیانی کو بات تو سوجھتی ہے آسمانی باپ جو کچھ القاء کرتا ہے مرزا قادیانی سکتے۔ اس پر آسمانی باپ خفا ہوتا ہے کہ کیسے با نہیں ۔

صفحہ ٤٣٧

دیکھئے شعر کیسا پر معنے اور دو لخت ہو گیا۔ اسی بات پر سیر بھر روغن بادام میں دم کیا ہوا پلاؤ مجدد کے حضور پیش کیجئے۔

اے قوم آریا ترے دل کو یہ کیا ہوا
تو جاگتی ہے یا تیری باتیں ہیں خواب میں

کیوں صاحب مصرعہ اولیٰ (یہ) کیا چیز ہے۔ جی کچھ نہیں خوگیر کی بھرتی۔ دوسرا مصرعہ بے ربط ہے۔ اصلاح؎

اے قوم آریا تجھے کیا ہو گیا بتا
ہیں جاگنے میں یہ بکیں کہ خواب میں
کیا وہ خدا جو ہے تیری جان کا خدا نہیں
ایمان کی بو نہیں ترے ایسے جواب میں

مصرعہ اولیٰ کی بندش کتنی بے سروپا اور لغو ہے (جو ہے) کتنا بھونڈا ہے۔ اصلاح؎

کہتی ہے تو کہ جان کا مالک نہیں خدا
ایمان کی بو نہیں ترے ایسے جواب میں
گر عاشقوں کی روح نہیں اس کے ہاتھ میں
پھر غیر کے لئے ہیں وہ کس اضطراب میں

مرزا قادیانی کا مطلب اس شعر سے نہیں نکلتا۔ آپ کا مطلب تو یہ ہے کہ اگر عاشقوں کی روح خدائے تعالیٰ کے ہاتھ میں نہیں تو جو کچھ ان کو بے تابی رہتی ہے کیا وہ کسی غیر کی وجہ سے ہے یعنی کیا وہ خدا کے سوا کسی اور کے عشق میں مضطرب رہتے ہیں۔ اصلاح؎

گر عاشقوں کی جان نہیں جان جان کے ہاتھ
کیا غیر کے لئے ہیں وہ اس اضطراب میں
گروہ الگ ہے ایسا کہ چھو بھی نہیں گیا
پھر کس نے لکھ دیا ہے وہ دل کی کتاب میں

مرزا قادیانی کو بات تو سوجھتی ہے مگر اس کو ادا نہیں کر سکتے۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ آسمانی باپ جو کچھ القاء کرتا ہے مرزا قادیانی اس کا مطلب بھی الفاظ کے قالب میں نہیں ڈھال سکتے۔ اس پر آسمانی باپ خفا ہوتا ہے کہ کیسے بلید الطبع عجمی لڑکے پالک سے سابقہ پڑا ہے کہ سمجھتا ہی نہیں۔

٩١

صفحہ ٤٣٨
یہ حالت ہے تو کیا حاصل بیان سے
کہوں کچھ اور کچھ نکلے زبان سے

مرزا قادیانی کے دوسرے مصرعہ میں وہ کا مشار الیہ مصرعہ اولیٰ کا وہ ہے گویا ضمیر کے لئے بھی ضمیر کی ضرورت ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اگر خدا ہم سے ایسا الگ ہے کہ چھو بھی نہیں گیا تو اس کو دل کی کتاب میں کس نے لکھ دیا ہے۔ دوسرا مصرعہ یوں بنا لیجئے ۔

تو کس نے لکھ دیا اسے دل کی کتاب میں ۔
جام وصال دیتا ہے اس کو جو مر چکا
کچھ بھی نہیں ہے فرق یہاں شیخ و شاب میں

مرزا قادیانی کا مطلب جب ثابت ہو کہ بوڑھے ہی مرتے ہوں جوان نہ مرتے ہوں۔ وہ اپنے خالہ کے بیٹے طاعون ملعون ہی کی دستبرد دیکھ لیں کہ جوانوں کو بوڑھوں سے پہلے چکھ رہا ہے۔ بلکہ جوانوں کو زیادہ اور بوڑھوں کو کم ۔

ملتا ہے وہ اس کو جو ملجائے خاک میں
ظاہر کی قیل وقال بھلا کس حساب میں

مصرعہ اولیٰ میں دو جگہ وہ عجیب خبط ہے۔ اصلاح ۔

ملتا ہے وہ اسی کو جو مل جائے خاک میں
ظاہر کی قیل وقال یاں کس حساب میں
پھولوں کی جاکے دیکھو اسی سے وہ آب ہے
چمکے اسی کا نور مہ و آفتاب میں

جا بجا وہ کا مسالا بہت ہے۔ پھر حشو اور بے معنی ۔ اصلاح ۔

پھولوں کی گلستان میں اسی سے ہے آب و تاب
چمکے اسی کا نور مہ و آفتاب میں
خوبوں کے حسن میں بھی اسی کا وہ نور ہے
کیا چیز حسن ہے وہی چمکا حجاب میں

پھر وہی (وہ) لفظ نہیں ملتا تو شعر گوئی کو جی کیوں للچاتا ہے۔ اصلاح ۔

خوبوں کے حسن میں بھی ہے پنہاں اسی کا نور
کیا چیز حسن ہے وہی چمکا حجاب میں ۔

٩٢

٤٣٩

اس کی طرف ہے ہاتھ ہجران سے اس کے رئی اہو ہو ہو ہو کیا تلازم ہے تار زلف اور بندشیں ۔ واہ واہ واہ قسم ہے مزے دی۔ بس ح

ہر تار زلف بھی ۔
ہر دم اس کے غم سے
ہر چشم مست دیکھو
ہر دل اس کے عشق ۔

چشم مست۔ پھر دیکھو اور دکھانا۔ کیا سے دوسرے مصرعہ کا تال میل تو ایسا ہے جیسا پلاؤ کا۔ اصلاح ۔

ہر چشم مست میں
ہر دل اسی کی آگ
جن مورکھوں کو کاموں
پانی ڈھونڈتے ہیں

مورکھ! مرزا پر ہندی بھاشا کا الہام ہے۔ سر چولہے میں اور پانچوں پکوان کے گھی میں

جن مورکھوں کو کام
دریا کو ڈھونڈتے ہیں
قدرت سے اس قد
بکتے ہیں جیسے غرق

ربط اور ضبط تو چھو نہیں گیا۔ اصلاح

منکر ہوئے ہیں ق
بکتے ہیں جیسے
دل میں نہیں کہ دیکھ
ڈرتے ہیں قوم سے
صفحہ ٤٣٩
اس کی طرف ہے ہاتھ ہر اک تار زلف کا
ہجران سے اس کے رہتی ہے وہ پیچ و تاب میں

اہو ہو ہو کیا تلازم ہے تار زلف اور پیچ و تاب ۔ پھر تار زلف کا ہاتھ ۔ نئے نکتے ۔ نئی بندشیں ۔ واہ واہ قسم ہے منارے دی ۔ بس حد کیتیا ۔ یوں کہئے ۔

ہر تار زلف بھی ہے اسی پر جھکا ہوا
ہر دم اسی کے غم سے ہے وہ پیچ و تاب میں
ہر چشم مست دیکھو اسی کو دکھاتی ہے
ہر دل اسی کے عشق سے ہے پیچ و تاب میں

چشم مست ۔ پھر دیکھو اور دکھانا ۔ کیا کیا مناسبات ہیں کہ واہ ہی واہ ۔ پھر پہلے مصرعہ سے دوسرے مصرعہ کا تال میل تو ایسا ہے جیسا پلاؤ سے روغن بادام کا اور سوہن حلوے سے ریگ ماہی کا۔ اصلاح ۔

ہر چشم مست میں ہے اسی کا خمار شوق
ہر دل اسی کی آگ سے ہے التہاب میں
جن مورکھوں کو کاموں پر اس کے یقین نہیں
پانی ڈھونڈتے ہیں عبث وہ سراب میں

مورکھ ! مرزا پر ہندی بھاشا کا الہام بھی پرمیشر کی مایا سے ہونے لگا ۔ بس اب کیا کسر ہے۔ سر چولہے میں اور پانچوں انگلیاں گھی میں ۔ اصلاح ۔

جن مورکھوں کو کام پر اس کے یقین نہیں
دریا کو ڈھونڈتے ہیں وہ رہ کر سراب میں
قدرت سے اس قدیر کی انکار کرتے ہیں
بکتے ہیں جیسے غرق کوئی ہو شراب میں

ربط اور ضبط تو چھو نہیں گیا ۔ اصلاح ۔

منکر ہوئے ہیں قدرت رب قدیر کے
بکتے ہیں جیسے مست کوئی شراب میں ۔
آنکھیں نہیں کہ دیکھیں وہ اس پاک ذات کو
ڈرتے ہیں قوم سے کہ نہ پکڑیں عتاب میں

٩٣

PDF 441

کیا لغو بکواس ہے۔ اصلاح

آنکھیں نہیں کہ دیکھ سکیں اس کے نور کو
وہ مبتلا ہیں قوم کے خوف عتاب میں
ہم کو تو اے عزیز دکھا اپنا وہ جمال
کب تک وہ منہ رہے گا حجاب و نقاب میں

وہ وہ ہر جگہ موجود۔ شاید حجاب اور نقاب دو چیز ہیں۔ پھر سراسر لچر۔ اصلاح

اپنے جمال کی ہمیں دکھلا جھلک کہیں
دیکھیں رہے گا جلوہ کہاں تک نقاب میں

اب تو ہم نے اصلاح دے دی مگر آئندہ اپنا کوئی کلام عربی، فارسی، اردو بدون اصلاح مجدد شائع کیا تو بس خیر نہیں۔ مرزا قادیانی مجدد کے شاگرد ہو جائیں تو پھر کچھ جھگڑا نہیں آگے پڑھے ہوئے کو شیر بھی نہیں کھاتا۔

٦...... سب گنوں پورے

مولانا شوکت اللہ میرٹھی!

چند حمقاء میں جب مرزا قادیانی کی پنیری ذرا جم گئی تو گد اور چیل کی طرح چار طرف نظر دوڑائی کہ لوگ کس نبی اور اوتار کو مانتے ہیں۔ اول آپ صرف ملہم یعنی ولی بنے۔ پھر آسمانی باپ کے لے پالک بنے تاکہ عیسائی ان کی جانب رجوع ہوں مگر خود آسمانی باپ نے کھنڈت ڈال دی یعنی عیسیٰ مسیح کو گالیاں دینے کا الہام کیا۔ عیسائی لعنت کہتے ہوئے متنفر ہوئے۔ پھر بروزی یعنی تناسخی کلنک اوتار بنے کہ ہنود آؤ بھگت کریں۔ سکھ اور آریہ لاحول پڑھتے ہوئے متنفر ہوئے۔ پھر امام الزمان اور مجموعہ صفات انبیاء اور بالآخر خاتم الخلفاء (خاتم الانبیاء) بنے۔ اب تو کوٹھی محلے کے دروبست مالک ہی بن گئے۔ اپنی دانست میں گویا ایسی شطرنج بچھائی کہ تمام مہرے قبضے میں آگئے اور کسی کو چال چلنے کا گھر ہی نہ رہا۔ مگر خدا کی قدرت کہ خود ہی مات کھا گئے یعنی نہ ادھر کے رہے نہ ادھر کے، کیونکہ قدرت الہی جھوٹوں کو ہرگز پھولنے پھلنے نہیں دیتی اور چند ہی روز میں خزاں کی جھاڑو پھیر دیتی ہے۔ پھر جو شخص تمام مذاہب کے پیشواؤں کو گالیاں دے اور اپنے کو سب سے افضل بتائے وہ کیونکر مقبول خاص و عام اور امام الزمان بن سکتا ہے۔ آپ جانئے عیسائی ایک ہی کائیاں ہیں۔ انہوں نے مرزا قادیانی کے مقابلے میں دو چھلے چھلائے مسیح گھڑ کر کھڑے کر دیئے۔ عیسائیوں میں دو ہی پارٹیاں زبردست ہیں ایک پروٹسٹنٹ دوسری رومن کیتھولک ٩٤

دونوں میں ایک ایک مسیح مسٹر پکٹ اور ڈاکٹـ ہے کہ چور کی ماں کوٹھی میں سر دے اور روئے

تعارف مضامین

سال ١٩٠٣ء یکم و ٨ اپریل

١...... مرزا

مولانا شـ

پنجاب اور شمالی مغربی صوبہ کـ ١١١٣١ لکھی ہے۔ یوحنا متی کا یہ دھوکا کھل واویلا کی گئی ہے اور بلا دلیل اور بلا ثبوت لکھی ممکن ہے کہ صرف پنجاب میں جو (قادیانی کے کل تعداد ١١١٣١ ہو۔” مگر پنجاب کے مرزا جھوٹا ہے اور مرزائیوں کی تعداد گیارہ ہزار تیـ دنیا کو دھوکے میں رکھنا منظور ہے۔ اگر مرزا جھوٹا ہے اور مجھ سے عداوت رکھتا ہے کیونکہ ہے اور پنجاب کے مرزائیوں کی صحیح تعداد یہ دوم: پنجاب مردم شماری کی رپو ”مرزا قادیانی کا پہلا کام بحیثیت ایک مولـ نے مکدر ہوکر بہت ہی خاک اڑائی ہے او

صفحہ ٤٤١

دونوں میں ایک ایک مسیح مسٹر پکٹ اور ڈاکٹر ڈوئی ملاحظہ فرما لیجئے۔ اب مرزا قادیانی کا وہی حال ہے کہ چور کی ماں کوٹھی میں سر دے اور روئے۔

تعارف مضامین ...... ضمیمہ شحنہ ہند میرٹھ

سال ١٩٠٣ء یکم و ٨؍اپریل کے شمارہ نمبر ١٣، ١٤ کے مضامین

١ ...... مرزا قادیانی اور چوڑھے

مولانا شوکت اللہ میرٹھی!

پنجاب اور شمالی مغربی صوبہ کی رپورٹ مردم شماری میں مرزائیوں کی تعداد صرف ١١١٣ لکھی ہے۔ بھان متی کا یہ دھوکا کھل جانے پر الحکم مطبوعہ ٢٨؍فروری ١٩٠٣ء میں بہت کچھ واویلا کی گئی ہے اور بلا دلیل اور بلا ثبوت لکھا ہے کہ مرزائیوں کی کل تعداد تقریباً دولاکھ ہے اور غیر ممکن ہے کہ صرف پنجاب میں جو (قادیانی کے خروج کا مرکز یا ہیڈ کوارٹر ہے) مجملہ تقریباً دو لاکھ کے کل تعداد ١١١٣ ہو۔ ”مگر پنجاب کے مرزائیوں کی صحیح تعداد پھر بھی نہیں بتائی کہ کمشنر مردم شماری جھوٹا ہے اور مرزائیوں کی تعداد گیارہ ہزار تیرہ ہے یا اس سے بھی دو چند اور چہار چند۔ وجہ یہ ہے کہ دنیا کو دھوکے میں رکھنا منظور ہے۔ اگر مرزا قادیانی سچے ہوتے تو صاف لکھ دیتے کہ کمشنر مردم شماری جھوٹا ہے اور مجھ سے عداوت رکھتا ہے کیونکہ عیسائی ہے اور میں عیسیٰ مسیح کو اچھا نہیں سمجھتا لہٰذا وہ جھوٹا ہے اور پنجاب کے مرزائیوں کی صحیح تعداد یہ ہے۔

دوم: پنجاب مردم شماری کی رپورٹ کے حصہ اول باب ٣ فقرہ ٢٣ میں لکھا ہے کہ ”مرزا قادیانی کا پہلا کام بحیثیت ایک مولوی کے چوڑھوں کی تبلیغ کا تھا۔“ اس پر تو مرزا قادیانی نے مکدر ہو کر بہت ہی خاک اڑائی ہے اور گورنمنٹ پنجاب میں جھاڑو سے بھی عرضداشت بھیجی

٩٥

صفحہ ٤٤٣

ہے کہ مرزائیوں کی کمی تعداد اور چوڑھوں کی تبلیغ کی اصلاح کی جائے۔ ورنہ میرے حق میں لائیبل اور میری دولاکھ پبلک کی سخت دل شکنی کا باعث ہے۔ ”چوڑھوں کی تبلیغ کے الزام کا ٹوکرا جو مرزا قادیانی کے سر دھرا گیا ہے تو وہ اس کو یوں اتارنا چاہتے ہیں کہ جس شخص نے ایسا دعویٰ کیا تھا وہ ایک الگ آدمی ہے اور اس کا نام امام الدین ہے۔“ اگر چہ مرزا قادیانی نے یہ نہیں بتایا کہ وہ بھی قادیان ہی کا باشندہ اور مرزا قادیانی کا قریبی رشتہ دار بلکہ رقیب اور حریف ہے اور اس نے مرزا قادیانی کی نبوت کے منہ پر جھاڑو مار دی ہے۔ تاہم کام اور پیشہ کی باہمی نسبت تو کھل گئی کہ امام الدین چوڑھوں کا لال گرو بنا تو آپ نے اس کے مقابلے میں نبی بن کر چند نادان مسلمانوں کو مونڈا۔ گوہ کی دارومدار اسی کو کہتے ہیں۔ آپ چوڑھوں کے لال گرو نہ سہی مگر لال گرو کے بھائی تو ہیں۔ ہیں تو دونوں ایک ہی جھاڑو کی تیلیاں۔ اگر چہ بندھن کے کھلنے پر اب الگ الگ ہو گئیں۔

مرزا قادیانی عرضداشت کی دفعہ ٤ میں لکھتے ہیں کہ ”چوڑھے ایک ایسی قوم ہے جو اس ملک میں جرائم پیشہ سمجھی جاتی ہے اور میرا تعلق ایسی قوم سے ظاہر کرنا میری طرف ایک ذلیل حالت کو منسوب کرنا ہے۔ چوڑھے ایک ذلیل قوم سمجھی جاتی ہے اور اس قسم کا بیان جو مردم شماری کی رپورٹ میں ہے۔ میری شہرت کو نقصان پہنچانے والا اور میرے اور گورنمنٹ کی ہزار ہا وفادار اور معزز رعایا کو دکھ دینے والا ہے جو مجھے اپنا روحانی پیشوا اور مذہبی سرگروہ تسلیم کرتے ہیں۔“

یہ آج ہی معلوم ہوا کہ چوڑھے جرائم پیشہ ہیں۔ دنیا جانتی ہے کہ چوڑھوں سے زیادہ کوئی قوم غریب اور عاجز نہیں۔ وہ نام کی بھی حلال خور ہے نہ کہ دنیا کو فریب سے ٹھگنے والی حرام خور جس کا کام بول و براز اور میلا اٹھانا ہے۔ مرزا قادیانی کا ایسی عاجز اور بے کس قوم کو جرائم پیشہ بتانا ہر حلال خور کے لئے لائیبل ہے۔ اگر اس وقت چوڑھوں کا لال گرو (امام الدین) زندہ ہوتا تو اپنے کسی چیلے کو ابھار کر لائیبل کی نالش کراتا اور وارنٹ جاری کرا کر عدالت میں گھسیٹتا اور پھر بروزی نبی کا سارا کھایا پیا بول و براز کے راستے سے نکلواتا۔ اب بھی ایک ایک چوڑا نالش دائر کر کے مرزا قادیانی سے صحن عدالت کے تنکے چنوا سکتا ہے اور بروزیت کی دھول اڑا سکتا ہے۔ اس تحریر سے مرزا قادیانی نے لاکھوں وفادار چوڑھوں ہی کا دل نہیں دکھایا بلکہ ان کے لال گرو (اپنے بھائی امام الدین) کی روح کو بھی صدمہ پہنچایا۔

عرضداشت، کی دفعہ پانچ میں تحریر فرماتے ہیں: ”میرے اصول اور تعلیم جو ابتدا سے ہی لوگوں کو سکھاتا ہوں وہ ایسے اخلاق فاضلہ (کیا یہ فضلے سے مشتق ہے؟) سکھانے والے اور اعلیٰ

٩٦

مراتب روحانیت پر پہنچانے والے ہیں کہ چوڑھے تو کر سکتے ہیں نہ قبول کیا ہے جو ذلیل حالت میں ہیں ایسے فہیم نہ شریف انسان ان کو قبول کرتے ہیں جو نہایت پیروؤں میں کثرت سے رئیس جاگیردار، معزز گورنمن درجہ کے تعلیم یافتہ مسلمان ہیں۔“ اب آئے ہیں ٹھیک کی کمائی سے آپ کا پیٹ کیوں بھرنے لگا۔ آپ کما چونکہ اپنے لال گرو (آپ کے رقیب وحریف) کے چیل انکار کی جھاڑو مار دی تو ان کی جانب سے دل میں کدور

جبکہ آپ امام الزمان بنے ہیں اور چوڑھے اپنی امت میں شامل کرنا نہیں چاہتے بلکہ ان سے چوڑھوں چماروں کو بڑی خوشی سے مسلمان بنانا چاہت ہے کہ جب کوئی ذلیل سے ذلیل قوم کا آدمی بھی توحید بھائیوں کا بھائی بن جاتا ہے۔ ”المسلم اخ المسل اور دائمی اخوت ہے۔ باقی تمام اخوتیں مجازی اور ناپائ بالکل پردہ کھول دیا ہے (اور صاف) بتا دیا ہے کہ آپ ہو سکے۔ اپنے دام میں لانا چاہتے ہیں۔ جعلی نبوت کا خوب یاد رکھئے کہ جو شخص دین سے برگشت رذیل اور ہزار کمینوں کا کمین ہے اور جو شخص اپنے خ شامل ہو گیا ہے وہ بظاہر ذات کا کیسا ہی گھٹیا اور کمینہ ہ انسان نہیں ہیں؟ کیا مرزا قادیانی میں اور ایک چوڑھے کہ مرزا قادیانی کے سر پر تو سینگ اور کھر کے نیچے دم ہ کیا چوڑھے بنی آدم نہیں ہیں؟

تم اپنے دل سے یاں گھڑ لو
ازل میں ایک ہی مبدا تھ

آپ کا یہ فرمانا کہ ”چوڑھے تو ایک طرف اخلاق فاضلہ اور تعلیم) کو نہ قبول کر سکتے ہیں نہ قبول

٩٧

صفحہ ٤٤٤

مراتب روحانیت پر پہنچانے والے ہیں کہ چوڑھے تو ایک طرف رہے وہ مسلمان بھی نہ ان کو قبول کرسکتے ہیں نہ قبول کیا ہے جو ذلیل حالت میں ہیں اور جن کی اخلاقی حالتیں گری ہوئی ہیں بلکہ ایسے فہیم و شریف انسان ان کو قبول کرتے ہیں جو نہایت پاکیزہ زندگیاں بسر کرتے ہیں اور میرے پیروؤں میں کثرت سے رئیس جاگیردار، معزز گورنمنٹ کے عہدہ دار سوداگر فاضل علماء اور اعلیٰ درجہ کے تعلیم یافتہ مسلمان ہیں ۔“ اب آئے ہیں ٹھیک ڈھرے پر بے شک غریب مفلس چوڑھوں کی کمائی سے آپ کا پیٹ کیوں بھرنے لگا۔ آپ راجپوت اور جاگیر دار وغیرہ ہیں اور چوڑھے چونکہ اپنے لال گرو (آپ کے رقیب و حریف) کے چیلے ہیں لہٰذا وہ آپ کے چیلے نہ بنے اور منہ پر انکار کی جھاڑو ماردی تو ان کی جانب سے دل میں کدورت و غبار کا آنا ضروری تھا۔

جبکہ آپ امام الزمان بنے ہیں اور چوڑھے بھی اہل زبان ہیں تو کیا وجہ کہ آپ ان کو اپنی امت میں شامل کرنا نہیں چاہتے بلکہ ان سے نفرت کرتے ہیں۔ مقدس مذہب اسلام تو چوڑھوں چماروں کو بڑی خوشی سے مسلمان بنانا چاہتا ہے مذہب اسلام کی یہی خوبی اور صداقت ہے کہ جب کوئی ذلیل سے ذلیل قوم کا آدمی بھی توحید ورسالت کا کلمہ صدق دل سے پڑھ لیتا ہے تو بھائیوں کا بھائی بن جاتا ہے۔ ”المسلم اخ المسلم“ حقیقی اور پائیدار اخوت تو دینی اور مذہبی اور دائمی اخوت ہے۔ باقی تمام اخوتیں مجازی اور ناپائیدار ہیں۔ اس نفرت نے آپ کی دنیا پرستی کا بالکل پردہ کھول دیا ہے (اور صاف) بتا دیا ہے کہ آپ موٹے موٹے شکار جن سے حرص کا شکم پُر ہوسکے۔ اپنے دام میں لانا چاہتے ہیں۔ جعلی نبوت کا پھیلانا منظور نہیں۔

خوب یاد رکھئے کہ جو شخص دین سے برگشتہ ہو گیا وہ ہرگز شریف نہیں بلکہ ہزار رذیلوں کا رذیل اور ہزار کمینوں کا کمین ہے اور جو شخص اپنے دین پر قائم ہے یا سچے دل سے دین حق میں شامل ہو گیا ہے وہ بظاہر ذات کا کیسا ہی گھٹیا اور کمینہ ہو مگر ہزار شریفوں کا شریف ہے۔ کیا چوڑھے انسان نہیں ہیں؟ کیا مرزا قادیانی میں اور ایک چوڑھے میں انسانیت کے اعتبار سے کوئی فرق ہے کہ مرزا قادیانی کے سر پر تو سینگ اور کمر کے نیچے دم ہے اور حلال خور کے نہ سینگ ہیں نہ دم ہے۔ کیا چوڑھے بنی آدم نہیں ہیں؟

تم اپنے دل سے یاں گھڑ لو شرافت کا کوئی تمغہ
ازل میں ایک ہی مبدا تھا ہر گبر و مسلمان کا

آپ کا یہ فرمانا کہ ”چوڑھے تو ایک طرف رہے وہ مسلمان بھی ان کو (مرزا قادیانی کے اخلاق فاضلہ اور تعلیم ) کو نہ قبول کر سکتے ہیں نہ قبول کیا ہے جو ذلیل حالت میں ہیں اور جن کی

٩٧

صفحہ ٤٤٥

اخلاقی حالتیں گری ہوئی ہیں۔ باستثناء معدودے چند مرزائیوں کے نہ صرف ہندوستان کے ٦ کروڑ مسلمان بلکہ دنیا کے مسلمانوں اور تمام اقوام ومذاہب کے لئے لائیبل ہے کیونکہ آپ کے عندیہ کے موافق بجز مرزائیوں کے کوئی شریف نہیں۔ آپ پر تو کمشنر مردم شماری نے یہ لائیبل کیا کہ آپ کو چوڑھوں کا لال گرو بتایا اس کے جواب میں آپ نے تمام مسلمانوں پر لائیبل کردیا۔ اب آپ کو بھاگتے راہ نہیں مل سکتی اور ہر مسلمان آپ پر لائیبل دائر کرسکتا ہے۔ بارہا سمجھایا گیا کہ ہر الہام اور ہر مضمون کا مسودہ مجدد السنہ مشرقیہ کے حضور بھیج دیا کریں مگر آپ نہیں سنتے اور یوں استروں کی مالا اپنے گلے میں ڈالتے رہتے ہیں پھر بکرے کی ماں کب تک خیر منائے گی۔ دیکھئے خنجر براں بنفسہ کیا کر کے رہیں گے۔

عرضداشت کے اخیر میں کمشنر مردم شماری کی رپورٹ کا مندرجہ ذیل فقرہ بھی آپ نے لکھا ہے: ”یہ فرقہ (مرزائیہ) بڑے زور سے اس اعتقاد کو روکتا ہے کہ اسلام کا مہدی خونی مہدی ہوگا اور صحیح بخاری کی بناء پر جو حدیث کی کتابوں میں سب سے زیادہ معتبر ہے۔ روایت پیش کرتا ہے کہ وہ (مہدی) جنگ نہ کرے گا بلکہ مذاہب کی خاطر جو لڑائیاں ہوتی ہیں ان کو بند کردے گا۔“

اپنی ضخیم تصنیفات میں مرزا قادیانی نے جہاد کی تعلیم کے برخلاف بہت کوشش کی ہے اور اس بارے میں یہ فرقہ اس فرقہ اہلحدیث سے جو افراط کی طرف چلا گیا ہے بالکل مخالفت ہے۔ اب تو مرزا قادیانی کی باچھیں کھل جانی چاہئیں اور داڑھی کا ایک ایک بال ترکی گھوڑے کی دم کا چنور بن جانا چاہئے کیونکہ کمشنر موصوف نے آپ کے مزعومہ جہاد کے بارے میں تصدیق کی۔

ہم بارہا لکھ چکے ہیں کہ اسلامی جہاد ویسا ہی ہے جیسا تمام سلاطین دنیا میں جاری ہے اور مرزا قادیانی کا مفروضہ جہاد صرف گورنمنٹ کی خوشامد ہے اور نہ صرف اہلحدیث بلکہ مسلمانوں کے ہر فرقہ کے نزدیک اس گورنمنٹ کے عہد میں جس کے زیر سایہ امن و آزادی مسلمان بسر کرتے ہیں۔ خون ریزی حرام ہے۔ اس کا نام اسلامی جہاد نہیں بلکہ فساد اور بغاوت ہے۔ پس اس بات میں کسی کا کچھ لکھنا بالکل اصول اسلام کی ناواقفیت کے باعث ہے۔ تعجب ہے کہ چوڑھوں کا گروہ کہلانے میں تو مرزا قادیانی کے مرچیں لگ گئیں۔ مگر جہاد والا فقرہ شربت کا گھونٹ ہوگیا۔ میٹھا ہڑپ اور کڑوا تھو۔

٢ ....... وہی حیات و ممات مسیح

مولانا شوکت اللہ میرٹھی!

مرزائیوں سے حیات وممات مسیح پر بحث کرنا ایسا ہی ہے جیسے آریوں اور نیچریوں سے

٩٨

کوئی مسلمان بحث کرے جو معجزات کے منکر ہیں اور مرزائی چونکہ اپنے کو مسلمان بتاتے ہیں۔ لہٰذا ان سے ہو تو رفع مسیح بھی ایک معجزہ ہے اور اگر منکر ہو تو قابل بفرض محال عیسیٰ کا رفع رفع جسمانی نہیں بلکہ روحانی ہ ثابت کرسکتا ہے۔ آریا وغیرہ رفع مسیح کے منکر ہیں کیا ا جو شخص عیسیٰ مسیح کے رفع روحانی کو دلائل سے ثابت صورت میں تو ہزاروں بلکہ لاکھوں مسیح موجود ہوجا مرزائی جو مسیح کے رفع جسمانی کا منکر ہے۔ مسیح موعود

اٹاوہ کے سنی مسلمانوں نے بھی ایک رسالہ قرآن وحدیث سے عیسیٰ مسیح کا رفع جسمانی ثابت کیا بار بار لکھ چکے ہیں اور اب پھر لکھتے ہیں کہ مرزا اور مر مانتے پس ان سے حیات وممات پر بحث کرنا بے کار ہ مرزا کیونکہ مسیح اور مہدی اور بروزی نبی اور امام الز دعوے تو یہ کرتا ہے کہ میں تمام انبیاء کا مجموعہ اور خاتم ا جس طرح اپنے کو عیسیٰ مسیح سے افضل بتاتا ہے۔ اسی ط کھلا فضیلت نہیں دیتا اگرچہ دل میں مرزا اور مرزائی تھوڑی سی عقل کا آدمی بھی مرزا کے دعوؤں کی لغویت ک

٣ ...... مرزا قاد

مولانا شوکت الہ

٢٤ / مارچ کے الحکم میں لکھا ہے کہ ”مر سوال کیا۔ آپ نے فرمایا کہ آنحضرت ﷺ کا تذکرہ جائیں تو وہ حرام ہوجاتے ہیں اور ہم خود اس امر وغیرہ۔“ (ملفوظات ج ٥ ص ٢١٢ حاشیہ ) معلوم نہیں مرزا کیا نئی نبوت کی بنیاد نئی شریعت کی بنیاد اور اسلامی شر "ولکن رسول اللہ وخاتم النبیین" آیت قرآ بلکہ خاتم النبیین بن گئے۔ پھر آپ کا یہ کہنا کہ آنحضر

٩٩

صفحہ ٤٤٥

کوئی مسلمان بحث کرے جو معجزات کے منکر ہیں اور اس بحث سے کچھ فائدہ نہ ہو۔ مگر مرزا اور مرزائی چونکہ اپنے کو مسلمان بتاتے ہیں۔ لہٰذا ان سے پوچھنا چاہئے کہ اگر تم معجزات انبیاء کے مقر ہو تو رفع مسیح بھی ایک معجزہ ہے اور اگر منکر ہو تو قابل خطاب نہیں ہو۔ بس مناظرہ ختم ہو گیا۔ اور بفرض محال عیسیٰ کا رفع رفع جسمانی نہیں بلکہ روحانی ہے تو مرزا اس سے اپنا مسیح موعود ہونا کیونکر ثابت کر سکتا ہے۔ آریا وغیرہ رفع مسیح کے منکر ہیں کیا وہ مسیح موعود بن سکتے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ جو شخص عیسیٰ مسیح کے رفع روحانی کو دلائل سے ثابت کر دے کیا وہ عیسیٰ موعود بن جائے گا۔ اس صورت میں تو ہزاروں بلکہ لاکھوں مسیح موعود ہو جائیں گے۔ اور اب موجود ہیں اور ایک ایک مرزائی جو مسیح کے رفع جسمانی کا منکر ہے۔ مسیح موعود ہے۔ مرزا قادیانی کی کچھ تخصیص نہ رہی۔

اٹاوا کے سنی مسلمانوں نے بھی ایک رسالہ مرزا کے دعوؤں کے رد میں شائع کیا ہے اور قرآن وحدیث سے عیسیٰ مسیح کا رفع جسمانی ثابت کیا ہے اور مرزائیوں کے دلائل کو توڑا ہے مگر ہم بار بار لکھ چکے ہیں اور اب پھر لکھتے ہیں کہ مرزا اور مرزائی قرآن وحدیث اور معجزات انبیاء کو نہیں مانتے پس ان سے حیات وممات پر بحث کرنا بے کار بلکہ گنہگار ہونا ہے۔ صرف یہ پوچھنا چاہئے کہ مرزا کیونکر مسیح اور مہدی اور بروزی نبی اور امام الزمان اور خاتم الخلفاء یعنی خاتم الانبیاء ہے۔ دعوے تو یہ کرتا ہے کہ میں تمام انبیاء کا مجموعہ اور خاتم ہوں اور تعاقب صرف عیسیٰ مسیح کا کر رہا ہے۔ جس طرح اپنے کو عیسیٰ مسیح سے افضل بتاتا ہے۔ اسی طرح تمام انبیاء علیہم السلام پر اپنے کو کیوں کھلم کھلا فضیلت نہیں دیتا اگر چہ دل میں مرزا اور مرزائی انبیاء علیہم السلام کی کوئی حقیقت نہیں سمجھتے۔ تھوڑی سی عقل کا آدمی بھی مرزا کے دعوؤں کی لغویت سمجھ سکتا ہے۔

٣ ...... مرزا قادیانی اور مولود

مولانا شوکت اللہ میرٹھی !

٢٤؍ مارچ کے الحکم میں لکھا ہے کہ ”مرزا قادیانی سے کسی نے مجلس مولود کے متعلق سوال کیا۔ آپ نے فرمایا کہ آنحضرت ﷺ کا تذکرہ عمدہ چیز ہے لیکن تذکروں میں بدعات ملا دی جائیں تو وہ حرام ہو جاتے ہیں اور ہم خود اس امر کے مجاز نہیں کہ کسی نئی شریعت کی بنیاد رکھیں وغیرہ۔“ (ملفوظات ج ٥ ص ٢١٢ حاشیہ) معلوم نہیں مرزا قادیانی نے یہ بات کونسے دل سے کہی ہے۔ کیا نئی نبوت کی بنیاد نئی شریعت کی بنیاد اور اسلامی شریعت کی ترمیم نہیں۔ آپ نے خود کو نبی بنا کر ”ولکن رسول اللہ وخاتم النبین“ آیت قرآنی کو اپنے زعم میں منسوخ کر دیا اور نبی ہی نہیں بلکہ خاتم النبیین بن گئے۔ پھر آپ کا یہ کہنا کہ آنحضرت ﷺ کا سچا اتباع خدائے تعالیٰ کا محبوب

٩٩

صفحہ ٤٤٦

بنانے کا ذریعہ اور اصل باعث ہے۔‘‘ کس منہ سے ہے کیا اپنی تصویر کی اشاعت اور مرزائیوں کو حج کے لئے جانے کی ممانعت آنحضرت ﷺ کا اتباع ہے؟ پھر عجیب بات ہے کہ اسلامی شریعت کو منسوخ بھی کرتے ہیں اور اس کی آڑ میں بھی آتے ہیں۔ جب حدیث سے مدعا ثابت نہ ہوا تو قرآن پاک کی پناہ لی اور جب کسی حدیث سے کام نکلتا دیکھا تو قرآن کو چھوڑ دیا اور دونوں سے کام نہ نکلا تو اپنے حمقاء کے پلٹنے کو تاویل گھڑ دی۔ قرآن میں مہدی کے آنے کا ذکر نہیں مگر حدیث میں ہے تو حدیث کو اپنی سپر بنایا اور حدیث میں تصویر بنوانے والے پر لعنت کی گئی ہے تو آپ قرآن کی طرف رجوع لائے کہ قرآن میں ممانعت کیسی بلکہ تصویر بنانے کا حکم ہے کیونکہ خدائے تعالیٰ فرماتا ہے: ”ویصوّر فی الارحام کیف یشاء“ یعنی چونکہ خدا خود مصور ہے لہٰذا ہم کو بھی مصور بننا چاہئے۔ یہ ایسی تاویل ہے کہ خردجال بھی سنے تو دم اٹھا کر لید کرتا ہوا پڑوے کی چوٹی پر جاکے دم لے اور اپنی مادہ بیگم کو ڈھینچوں ڈھینچوں کرتا قادیان کی راہ پکڑے۔

جو کچھ خدا کرے وہی انسان بھی کرے نہ تو یہ حکم اسلامی خدا کا ہے نہ اسلامی رسول کا۔ ہاں آسمانی باپ کا ایسا حکم اپنے لے پالک کی نسبت درست ہے کیونکہ ”الولد سرّ لابیہ“ بے شک بیٹے میں ضرور وہی طاقت اور قدرت ہونی چاہئے جو باپ میں ہے ورنہ نہ باپ میں باپ ہونے کا کوئی سینگ ہے نہ بیٹے میں بیٹے ہونے کی کوئی دم ہے۔

جس شخص نے ایسا سوال کیا اس کو مرزا قادیانی نے کیوں نہیں ڈانٹا کہ نبی نہیں بلکہ زندہ خاتم النبیین تو میں موجود اور تو مسلمانوں کے اسی پرانے ڈھرے کو پیٹے جاتا ہے اور پیغمبر عرب کے مولود کا ذکر کرتا ہے۔ ارے اب تو میرے مولود کا ذکر کر۔ معلوم نہیں ایسے فاسد العقیدت مشرک نے رسالت المرزا جو خود اپنے مبروزی نبی کا مرتبہ نہیں پہچانتے قادیان میں کہاں سے آجاتے ہیں۔ ان کے منہ کو لگام بلکہ مرچوں کا تو بورا چڑھا دینا چاہئے کہ پھر ایسا لایعنی سوال کر کے کہ گستاخی اور فاسد العقیدتی کا اظہار نہ کریں جو لوگ مجلس میلاد میں قیام کرتے ہیں۔ ان کی مذمت کرنے کے بعد مرزا قادیانی لکھتے ہیں۔ ”مشرک بھی سچی محبت آنحضرت ﷺ سے نہیں رکھتا اور وہابی، مشرک سے مرزا قادیانی کی مراد صرف ”مشرک فی الرسالۃ ومشرک فی التوحید“ ہے۔ یعنی وہ شخص جو آنحضرت ﷺ کے بعد کوئی دوسرا نبی بنالے اور خدائے لم یلدولم یولد کے لئے بیٹا یا لے پالک گھڑ لے۔ ایسے مشرک تو مرزا قادیانی کے گردو پیش بہت سے نظر آئیں گے اور ان سب کے گروگھٹال مرزا قادیانی ہوں گے۔ جب چاہئے تجربہ کر لیجئے۔ اب رہے وہابی۔ ہم کو تو معلوم نہیں کہ مسلمانوں میں وہابی بھی کوئی گروہ ہے۔ اگر کوئی ہے تو یقیناً وہی

١٠٠

ہے جو کتاب وسنت اور اجماع صحابہ کو نچھو گورنمنٹ پر دباؤ ڈالتا ہے کہ میر موجود ہیں اور اگر وہابی کوئی گروہ عبدالو طرح مرزا قادیانی سے بڑھ کر خوفناک ایسا گروہ اور اس کا دلی سنگر وہابی کیا معن معاملے میں پوچھ گچھ کی کچھ حاجت ہی ن

بھلا مرزا قادیانی کو اپنی زبا پالنے لگے؟ انہوں نے تو اس لئے مولو ان کا مولود بھی ہوا کرے گا چنانچہ ابھی ی والسلام علیک یا رسول اللہ“ کہو تا کہ میر نہیں کیونکہ آسمانی باپ کا لے پالک ہو جیسا باپ ویسا بیٹا۔ اور اگر میں بزعم ال رکھنے میں ناکام رہا تو میں درحقیقت ع ہو جائے گا۔ مرنے والا تو فقط عیسیٰ مسیح رہا۔ پس جس طرح میں اب تمہارا حامی و ناظر رہوں گا۔ پس میرا مولود دھڑ حاجات چاہنا۔

من ، آیم
مرا زندہ
م .... ٤ ....

مرزا قادیانی بار بار یہی رونا رو نہیں دیکھتے لہٰذا میرے معاملہ میں جھوٹ علماء اور مشائخ آپ کی ح قرآن میں دیکھ لیا ہے کہ آنحضرت ﷺ نبوت کا دعویٰ کرے اور دین میں طر

صفحہ ٤٤٧

ہے جو کتاب وسنت اور اجماع صحابہ کو نہیں مانتا اور اپنی نئی شریعت اور نیا گروہ قائم کرتا اور موجودہ گورنمنٹ پر دہشت ڈالتا ہے کہ میرے ساتھ ڈیڑھ لاکھ سے اوپر سر بکف اور جانثار والنٹیر موجود ہیں اور اگر وہابی کوئی گروہ عبدالوہاب نجدی کی جانب منسوب ہے جو حنبلی مقلد تھا تو وہ کسی طرح مرزا قادیانی سے بڑھ کر خوفناک نہ تھا کیونکہ اس نے نبوت کا دعویٰ کیا نہ مسیح موعود بننے کا پس ایسا گروہ اور اس کا بانی ٹھیٹھ وہابی کیا معنے وہابیوں بلکہ لہابیوں کا لکڑ دادا ہے۔ مرزا قادیانی کو تو اس معاملے میں پوچھ گچھ کی کچھ حاجت ہی نہ ہونی چاہئے۔ عیاں را چہ بیاں!

بھلا مرزا قادیانی کو اپنی زندگی میں مولود وغیرہ سے کیا واسطہ۔ وہ ایسے کھڑاک کیوں پالنے لگے؟ انہوں نے تو اس لئے مولود کے جائز بلکہ مستحسن ہونے کا فتویٰ دیا ہے کہ چند روز میں ان کا مولود بھی ہوا کرے گا چنانچہ ابھی سے اپنے چیلوں کو ہدایت کی ہے کہ جب مجھے دیکھو ”الصلوٰۃ والسلام علیک یا رسول اللہ“ کہو تا کہ میرے مرنے پر بھی تمہیں یہ سبق یاد رہے۔ اوّل تو میں مرنے کا نہیں کیونکہ آسمانی باپ کا لے پالک ہوں۔ وہ حی اور قائم ہے تو میں بھی زندہ اور دائم ہوں کیونکہ جیسا باپ ویسا بیٹا۔ اور اگر میں برغم انف الاب مر ہی گیا سہی اور باپ میرے ابدالآباد تک زندہ رکھنے میں ناکام رہا تو میں درحقیقت نہ مروں گا۔ ہاں تمہاری آنکھوں پر صرف ایک حجاب طاری ہوجائے گا۔ مرنے والا تو فقط عیسیٰ مسیح تھا میں بھی مرگیا تو فرزند خلف اور فرزند تلف میں کیا فرق رہا۔ پس جس طرح میں اب تمہارا حامی و ناصر، معین و مددگار ہوں ایسا ہی مرنے کے بعد بھی حاضر و ناظر رہوں گا۔ پس میرا مولود دھڑلے کے ساتھ منانا اور مجھ سے طرح طرح کی منتیں ماننا۔ حاجات چاہنا۔

من ،آیم بجان گر تو آئی بتن
مرا زندہ پندار چون خویشتن

٤...... میری کتابیں دیکھو

مولانا شوکت اللہ میرٹھی!

مرزا قادیانی بار بار یہی رونا روتے ہیں کہ ”اسلامی علماء و مشائخ چونکہ میری کتابیں بالاستیعاب نہیں دیکھتے لہٰذا میرے معاملہ میں جھٹ پٹ یک طرفی فیصلہ کر دیتے ہیں کہ مرزا کافر ہے۔“ علماء اور مشائخ آپ کی کتابوں کو دیکھیں یا قرآن وحدیث کو دیکھیں۔ انہوں نے قرآن میں دیکھ لیا ہے کہ آنحضرت ﷺ پر نبوت ختم ہوگئی اور دین اسلام کامل ہوگیا۔ اب جو شخص نبوت کا دعویٰ کرے اور دین میں طرح طرح کے احداث نکالے اور اسلام کے کھلے معجزوں کو

١٠١

صفحہ ٤٤٩

جھٹلائے۔ وہ مفتری ہے کذاب ہے۔ ملحد ہے مرتد ہے۔ انہوں نے حدیث میں آنحضرت ﷺ کی پیشینگوئی دیکھ لی کہ میرے بعد تیس جھوٹے دجال پیدا ہوں گے اور ان میں سے ہر ایک نبوت کا دعویٰ کرے گا۔ حالانکہ میرے بعد کوئی نبی نہیں۔ پھر وہ آپ کی کتابیں کیوں دیکھیں اور انہیں دیکھنے کی ضرورت ہی کیا ہے؟

اور بیشتر علماء اور مشائخ دیکھتے بھی ہیں تو اس لئے کہ آپ کے ملحدانہ دعوؤں کی تردید کریں تا کہ ان کا زہریلا اثر مسلمانوں کی طبائع پر نہ پڑے۔ اور غالباً آپ کی کوئی ایسی کتاب باقی نہیں جس کی کما حقہ تردید نہ ہو گئی ہو اور اگر کوئی باقی ہے تو ضرور اس کی تردید ہوگی۔ انشاء اللہ !

اور تردید کے لئے کیا ضمیمہ شحنہ ہند کچھ کم ہے جو نہ صرف آپ کے عقائد کی بلکہ ہر خیال کی ہفتہ وار تردید کرتا رہتا ہے۔ اگرچہ آپ کے مقابلہ میں نہ کوئی زبردست انجمن ہے نہ کوئی معقول سرمایہ ہے تاہم اسلام اور اہل اسلام کے ایسے سچے ہمدرد موجود ہیں جو خالصاً للہ جیبِ خاص سے بلاشراکت غیر تردیدی کتابیں چھپوا کر اکثر مفت تقسیم فرماتے اور غیر ذی استطاعت مسلمانوں کو اپنا ممنون بناتے ہیں۔ جزاهم الله خير الجزاء!

آپ تو بار بار پانچ پانچ ہزار اور دس دس ہزار روپیہ دینے کا اعلان دیتے ہیں گویا یہ ثابت کرتے ہیں کہ میں بڑا کوڑیالا اور قارون کا سگا ہوں۔ مگر ہمارے علماء اور مشائخ نے کبھی کسی کو ذرہ بھر بھی کسی طمع دنیوی کی چاٹ نہیں دی اور نہ آپ کی طرح کسی سے چندے کی مد میں ایک کوڑی مانگی۔

تاہم سچے اسلام کا معجزہ دیکھئے کہ سینکڑوں اور ہزاروں کی کتابیں آپ کی کتابوں کی تردید میں شائع ہو چکیں اور ہو رہی ہیں۔ ضمیمہ شحنہ ہند بھی ایسے ہی خالص حضرات کی فیاضی سے جاری ہے جو ہزار کتابوں کے برابر ہے اور آپ سے اس کا کوئی جواب بن نہیں پڑتا۔ آپ کی کتابیں شوق سے تو وہی لوگ دیکھیں گے جو بالکل چوپٹ ہو گئے ہیں۔ تردید کرنے والے تو اسی طرح دیکھیں گے جس طرح کوئی شخص قضا حاجت کے لئے جاتا ہے اور بول و براز پر بھی مجبوراً اس کی نظر جا پڑتی ہے۔

٥ ...... مرزائیوں کی تعداد

مولانا شوکت اللہ میرٹھی !

فریب بہت جلد کھل جاتا ہے۔ جھوٹ کے پاؤں نہیں ہوتے۔ اب مرزا قادیانی اعلان دیتے ہیں کہ ہر مقام کے مرزائی اپنی صحیح تعداد لکھ کر بھیجیں۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ خود مرزا قادیانی کو اپنے چیلوں کی تعداد معلوم نہیں۔ اگر یہی بات ہے تو تقریباً دو لاکھ تعداد کیوں کر لکھ دی۔ اس اعلان میں کوئی چال ہے جو بہت جلد کھل جائے گی۔ انشاء اللہ تعالیٰ !

١٠٢

غیر ممکن ہے کہ مرزا قادیانی کے پاس ک کے کالم کا چھپنا اس امر پر دلالت کرتا ہے کہ رجس تھے۔ جب شوکت اللہ نے متنبہ کیا اور یہ بھی بتای ہے تو بیعت کا کالم ہی کو کوے لے اڑے۔ بات ت ندارد اور اگر در حقیقت کوئی رجسٹر نہیں تو بیعت کا کال یہ بھی تجربہ ہو چکا ہے کہ قادیان میں کو ہے تو اس کا نام فوراً بیعت کے کالم میں مشتہر کر دیا بھی بھیجتا ہے تو مریدوں اور عقیدت مندوں میں کچھ ہوتے بھی ہیں۔ مرزا قادیانی نے شاید قادی ہے یا حرم سرا میں کسی عورت کو لا بٹھا جائے دیک زبان پر ہے۔

٦ ...... مرزائیوں

مولانا شوکت

اٹاوہ کے مرزائیوں سے محمد تفضل حسی کیا تھا کہ ”یا تو آپ مجھ سے حضرت امام مہدی فرمانے کی سند صحاح ستہ سے لیں یا آپ صحاح ہونے کی سند دیں مگر حدیث کی سند کے سوا اور مرید ہو جاؤں گا یا آپ کو مرزائی عقیدے سے تائ عبدالمجید صاحب جو بڑے گاڑھے مرزائی ہیں ہیں۔ قرآن مجید سے بالکل منکر ہو بیٹھے؟“ جواب سوال از آسمان جواب از ریسماں پر ٹالتے ہیں قادیانی ”یکسر الصلیب ويقتل الخنازير کی سند بتاتے ہیں اور پچھلے دنوں ان کا یہ تمغہ م میں مہدی کے آنے کا ذکر کہاں سے ہے؟ جبکہ ح ہوئے یا کوئی اور؟ رہا یہ دعویٰ کہ مسیح چونکہ دنیا می فقیر کہے کہ فلاں متوفی بادشاہ کا میں جانشین ہو

صفحہ ٤٤٩

غیر ممکن ہے کہ مرزا قادیانی کے پاس کوئی خانگی رجسٹر نہ ہو۔ پچھلے سال الحکم میں بیعت کے کالم کا چھپنا اس امر پر دلالت کرتا ہے کہ رجسٹر سے نقل ہو کر مرزائیوں کے نام مشتہر ہوتے تھے۔ جب شوکت اللہ نے متنبہ کیا اور یہ بھی بتایا کہ ایک ایک نام مکرر سہ کرر بلکہ چوکرر شائع ہوتا ہے تو بیعت کا کالم ہی کو کوے لے اڑی۔ ہات ترے جھوٹ کی دم میں منارے سے بھی لمبا چوڑا نمدہ اور اگر درحقیقت کوئی رجسٹر نہیں تو بیعت کا کالم بالضرور تصنیف ہو کر چھپتا تھا۔ یہ بھی تجربہ ہو چکا ہے کہ قادیان میں کوئی شخص بطور سیر یا مداری کا تماشا دیکھنے کو بھی جاتا ہے تو اس کا نام فوراً بیعت کے کالم میں مشتہر کر دیا جاتا ہے بلکہ اگر کوئی شخص مرزا قادیانی کے نام خط بھی بھیجتا ہے تو مریدوں اور عقیدت مندوں میں شمار ہو کر اس کو بھی تشہیر کر دیا جاتا ہے۔ آخر دولاکھ کچھ ہوتے بھی ہیں۔ مرزا قادیانی نے شاید قادیان کے سوانے میں بیری کے درخت پر لاکھ دیکھی ہے یا حرم سرا میں کسی عورت کو لاکھا جامے دیکھا ہے لہٰذا اٹھتے بیٹھتے سوتے جاگتے وہی ان کی زبان پر ہے۔

(ایڈیٹر)

٦ ...... مرزائیوں سے سوال و جواب

مولانا شوکت اللہ میرٹھی!

اٹاوہ کے مرزائیوں سے محمد تفضل حسین صاحب مدرس مدرسہ اسلامیہ اٹاوہ نے سوال کیا تھا کہ ”یا تو آپ مجھ سے حضرت امام مہدی کے قبل قیامت آنے اور حضرت عیسیٰ کے نزول فرمانے کی سند صحاح ستہ سے لیں یا آپ صحاح ستہ سے مرزا قادیانی کے امام معہود و اور مسیح موعود ہونے کی سند دیں مگر حدیث کی سند کے سوا اور کچھ نہ ہو۔ اس صورت میں یا تو میں مرزا قادیانی کا مرید ہو جاؤں گا یا آپ کو مرزائی عقیدے سے تائب ہونے پڑے گا۔“ اس کے جواب میں دیوانجی عبدالمجید صاحب جو بڑے گاڑھے مرزائی ہیں جواب دیتے ہیں ”کہ آپ حدیث سے سند مانگتے ہیں۔ قرآن مجید سے بالکل منکر ہو بیٹھے؟“ جواب تو مرزا اور مرزائیوں کے پاس کچھ ہے نہیں لہٰذا سوال از آسمان جواب از ریسماں پر ٹالتے ہیں۔ حدیث سے اس لئے سند مانگی جاتی ہے کہ مرزا قادیانی ”یکسر الصليب ويقتل الخنازير “الحديث کو اپنے عیسیٰ موعود ومہدی معہود ہونے کی سند بتاتے ہیں اور پچھلے دنوں ان کا یہ تمغہ مرزائی اخبار الحکم کی لوح پر ثبت بھی تھا۔ بھلا قرآن میں مہدی کے آنے کا ذکر کہاں سے ہے؟ جبکہ تم نے قرآن کے خلاف دعویٰ کیا ہے تو منکر قرآن تم ہوئے یا کوئی اور؟ رہا یہ دعویٰ کہ مسیح چونکہ دنیا میں فوت ہوگئے۔ لہٰذا میں مسیح ہوں ایسا ہے جیسے بدمغز فقیر کہے کہ فلاں متوفی بادشاہ کا میں جانشین ہوں۔

١٠٣

صفحہ ٤٥٠

حدیث کے موافق تو مسلمہ مسیح وہی ہوگا جو صلیب کو توڑے گا اور سؤروں کو قتل یعنی جہاد کرے گا۔ حالانکہ مرزا قادیانی کو جہاد کے نام تک سے لرزہ چڑھتا ہے اور وہ خونی مہدی کو بظاہر بہت ہی برا بتاتے ہیں اور گورنمنٹ میں میموریل بھیجتے ہیں کہ میں خونی مہدی نہیں۔ خدا کے لئے مجھ پر نظر عنایت رکھے۔ میں تو اسلامی جہاد اور یورپی جہادوں کا منکر ہوں۔ پھر فرمائیے حدیث آپ پر کیوں کر منطبق ہوئی اور آپ کیونکر مسیح موعود ہوئے۔ پس آپ سے تفضل حسین صاحب نے اس لئے حدیث طلب کی جبکہ حقیقت یہ ہے کہ نہ آپ حدیث کو مانتے ہیں نہ قرآن کو۔ اور اگر مانتے تو خاتم النبیین کے بعد نبی ہی کیوں بنتے اور بناتے۔ یہ سب حیلے اور حوالے ہیں۔ ہاں تاویل کرنے میں بڑے بہادر ہیں۔ مگر یاد رہے کہ ایسا کونسا کلام ہے جس کی تاویل نہ ہو سکے۔ خدائے تعالیٰ نے ایسے ہی لوگوں کے لئے کلام مجید میں یُحرفون الکلم عن مواضعہ فرمایا ہے کہ کلمات کو اپنے اصلی معنے سے پھیرتے ہیں۔ یعنی تاویل کرتے ہیں لیکن مرزا قادیانی کو تو تاویل کرنی بھی نہیں آتی۔ وہ تو مکھیوں کے پھانسنے کو مکڑی کی طرح جالا پورتے ہیں جو ہوا میں اڑ جاتا ہے۔ آریا اور عیسائی مرزا قادیانی سے بہتر تاویل کر سکتے ہیں۔

مرزا قادیانی کا نبض شناس اور رگ پٹھے سے واقف تو صرف شوکت اللہ ہے کہ تمام مرزائی سر سے سر جوڑ کر جواب دینا چاہتے ہیں۔ مگر منہ پر مہر لگ جاتی ہے اور ناطقہ بند ہو جاتا ہے۔

تعارف مضامین ...... ضمیمہ شحنہ ہند میرٹھ

سال ١٩٠٣ء ١٦؍اپریل کے شمارہ نمبر ١٥؍ کے مضامین

ڈاکٹر جمال الدین پشاوری!

مسیحی نامہ نگار رسالہ ترقی لاہور!

ذیل اسی ترتیب سے ملاحظہ ہوں:

١٠٤

صفحہ ٤٥١

کو توڑے گا اور سؤروں کو قتل یعنی جہاد چڑھتا ہے اور وہ خونی مہدی کو بظاہر میں خونی مہدی نہیں۔ خدا کے لئے منکر ہوں۔ پھر فرمائیے حدیث آپ پے سے تفضل حسین صاحب نے اس نتے ہیں نہ قرآن کو۔ اور اگر مانتے تو لیے اور حوالے ہیں۔ ہاں تاویل کرنے تاویل نہ ہوسکے۔ خدائے تعالیٰ نے عن مواضعہ“ فرمایا ہے کہ کلمات کو ن مرزا قادیانی کو تو تاویل کرنی بھی تے ہیں جو ہوا میں اڑ جاتا ہے۔ آریا

قف تو صرف شوکت اللہ ہے کہ تمام ب جاتی ہے اور ناطقہ بند ہو جاتا ہے۔

شحنہ ہند میرٹھ

اخبار کے مضامین

کے اعتراضات۔ ڈاکٹر جمال الدین پشاوری! مولانا شوکت اللہ میرٹھی! مولانا شوکت اللہ میرٹھی! مولانا شوکت اللہ میرٹھی! کشمیر میں۔ مسیحی نامہ نگار رسالہ ترقی لاہور!

١ ....... مرزا قادیانی کا انعامی قصیدہ اور ان کے مخالفین کے اعتراضات

ڈاکٹر جمال الدین پشاوری!

ضمیمہ شحنہ ہند و پیسہ اخبار و دیگر اشتہارات وغیرہ سے ذیل میں اعتراضات درج کئے جاتے ہیں تاکہ جو جوابات مرزا قادیانی کی طرف سے پیش ہوں ان کو پبلک جان کر فیصلہ کر سکے۔

ثناء اللہ صاحب کو دیں۔

نکال کر پیش کیں اور ضمیمہ شحنہ ہند میں تو مرزا قادیانی کی نظم ونثر، عربی و فارسی واردو میں جو اصلاحیں ہوئیں اور ہورہی ہیں ان کو زمانہ جانتا ہے مگر مرزا قادیانی کی طرف سے آج تک کوئی جواب نہیں ہوا۔ پس ایسے غلط نویس کی نسبت کیونکر یقین ہو سکتا ہے کہ اس نے ٥ دن میں ٩٠ صفحہ کا قصیدہ لکھ ڈالا ہو۔ لہٰذا سید محمد علی حسن صاحب نظامی دہلوی کے مقابل بیٹھ کر مرزا قادیانی عربی میں قصیدہ لکھیں پھر دونوں صاحبوں کے قصیدوں کی جانچ ایک کمیٹی کرے۔

بعد دونوں کی تحریریں دو شخصوں کے سامنے واسطے جانچ اور فیصلہ کے پیش ہوں۔ وہ دونوں شخص مسلمہ فریقین ہوں۔

چاہیں پیش کریں۔

معلوم ہو جائے۔

تو حاجی صاحب موصوف انعام بھی دیں گے یا ان کی غزل مندرجہ اخبار شحنہ ہند کے مقابل غزل لکھیں۔

تاریخ سے بیس روز کے اندر اس سے عمدہ قصیدہ لکھ کر پیش کروں گا۔

١٠٥

صفحہ ٤٥٢

کر لئے ہیں تو پھر مرزا قادیانی بالمقابل تفسیر نویسی یا قصیدہ گوئی سے کیوں اعراض کرتے ہیں اور پیر مہر علی شاہ صاحب کے سامنے باوجود وعدہ کرنے کے کیوں تشریف نہ لائے۔

جائیں۔

ہم نے پیغمبر کو شاعری نہیں سکھائی اور نہ وہ اس کے لائق ہے ایسے مکروہ فن میں کسی نبی کا مبتلا ہونا خصوصاً بروزی محمد کا نعوذ باللہ منہ کب ممکن ہے۔ انوکھے پیغمبر کے انوکھے معجزے۔

واسطے اللہ تعالیٰ نے ”والشعراء یتبعہم الغاون“ فرمایا ہے تو یہ معجزہ کیونکر ہوسکتا ہے۔

دیں تو البتہ معجزہ ہے اور بروز محمدی کے بہت مناسب ہے کیونکہ پہلے جب تشریف لائے تھے تو قرآن حفظ تھا دوبارہ (نعوذ باللہ) بشکل مرزا تشریف لائیں تو قرآن تک سینہ سے محو ہو جائے۔ حالانکہ مرزا قادیانی کا دعویٰ ہے کہ میں ان تمام اوصاف کے ساتھ آیا ہوں۔ اس قرآن کا حفظ نہ ہونا مرزا قادیانی کے واسطے بڑی شرم ہے۔

بقول مرزا قادیانی ان کا قصیدہ معجزہ نہ رہے گا۔

مرزا قادیانی اردو زبان چھوڑ کر عربی میں کیوں تحدی کرتے ہیں۔

کا کلام بھی قرآن ہو گیا اور اگر مرزا قادیانی کا کلام قرآن کے دو چند نہیں تو اعجاز نہیں ہوسکتا۔

ان کے سوا اور بھی اعتراضات دیکھنے میں آئے جو بخوف طوالت نہیں لکھے۔

مرزا قادیانی نے اب تک ان کے کچھ جواب نہیں دیئے۔ ہاں ١٧/ دسمبر ١٩٠٢ء کے الحکم میں مرزا قادیانی کے مفتی و مصنف محمد احسن صاحب امروہی نے بعض اعتراضوں کے عجیب وغریب جواب لکھے ہیں۔ جو ناظرین کی دلچسپی کے واسطے ذیل میں لکھے جاتے ہیں۔ اسی طرح اگر اور بھی ان کی طرف سے جواب ہوئے تو ضمیمہ میں طبع ہوتے رہیں گے تاکہ ناظرین کو یکجا

١٠٦

صفحہ ٤٥٣

فریقین کے دلائل دیکھنے کا موقع ملے۔ نمبر ٥ کی نسبت طول وطویل عبارت میں یہ مطلب لکھا ہے۔ ”مرزا قادیانی عوام وخواص کی ہدایت کے لئے مبعوث ہوئے ہیں اور عوام فصاحت وبلاغت کو سمجھتے ہیں۔ لہٰذا ٢٠/ دن کی میعاد سے عوام کو تسکین ہو جائے گی۔ کہ کسی نے بالمقابل قصیدہ نہیں لکھا۔“ مگر اس جواب میں مشکل یہ واقع ہوئی کہ قرآن مجید بھی تو خاص وعام کے واسطے آیا ہے۔ کیا وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کو یہ مصلحت نہ سوجھی جو مرزا قادیانی کو سوجھی۔ ضرور بیس پچیس روز کی میعاد قرآن مجید کی تحدی کے واسطے مقرر کرنا تھی یا خدا کی خدائی میں ایسے گمراہی کے حریص موجود نہ ہوں گے جن کی رعایت اللہ تعالیٰ کو منظور ہوتی۔ ایسے عوام تقدیر سے مرزا قادیانی ہی کی مریدی کے واسطے منتخب کئے گئے جن کی روک تھام کے واسطے طرح طرح کی شعبدہ بازیاں اور شب وروز کی جانفشانیاں اور مختلف قسم کی تدابیر کی جاتی ہیں۔ ان سے تو بہتر تھا کہ امروہی صاحب یہ کہہ دیتے کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن کی تحدی میں انعام کی قید نہ لگائی تھی۔ اس لئے میعاد کی ضرورت نہ تھی۔ یہاں مرزا قادیانی نے انعام مقرر کیا تھا۔ پس اس کے بچانے کی غرض سے یہ ٢٠/ روز کی شرط لگائی گئی ہے۔ یہ جواب بھی اگرچہ غلط ہے مگر بادی النظر میں ایک وجہ سے صحیح معلوم ہوتا ہے۔

اسی طرح الزام نمبر ٦ کی نسبت فرماتے ہیں کہ اس آیہ میں ”وما ارسلنا من رسول الا بلسان (الایہ)“ انبیاء سابقین مراد ہیں۔ آنحضرتﷺ اور ان کے خلفاء راشدین ومرزا قادیانی مستثنیٰ ہیں کیونکہ یہ ایک خاص قوم کے واسطے نہیں ہیں بلکہ کافۃ للناس کے واسطے آئے ہیں چنانچہ مرزا قادیانی نے اردو فارسی عربی تینوں زبانوں میں تحدی کی ہے۔“

یہ تفسیر آیہ شریفہ کی تفسیر بالرائے ہے جس کو پیغمبر خداﷺ نے کفر فرمایا ہے۔ امروہی صاحب کی ایسی رائے کو مسلمان کب تسلیم کرنے لگے۔ ہاں مرزائیوں کے مفتی امروہی صاحب کی اس تفسیر کے بموجب مرزا قادیانی کا دعویٰ ہی جڑ سے اکھڑ گیا۔ کیونکہ اس سے لازم آتا ہے کہ آنحضرتﷺ اور ان کے خلفاء تمام دنیا کی زبانوں میں تبلیغ فرماتے تھے۔ حالانکہ یہ واقع کے خلاف ہے البتہ مرزا قادیانی خود مستثنیٰ بن جائیں تو ان کی خوشی ہے مگر وہ تو خود مابہ النزاع ہیں۔ لہٰذا مسلمان بحکم حدیث لا نبی بعدی مدعی نبوت کو ان متنبئین میں شمار کرتے ہیں جو حدیث شریف میں مذکور ہیں اور اگر مرزا قادیانی کی خاطر ہم مرزا قادیانی کو مستثنیٰ مان بھی لیں تو پھر اردو فارسی عربی کے حصہ کو نہیں مان سکتے کیونکہ مرزا قادیانی تو بزعم خود تمام خلق کی طرف مبعوث ہوئے ہیں۔ پس تمام دنیا کی زبانوں میں تحدی کرنا لاحاصل ہے۔ اس زمانہ میں تو انگریزی زبان سب سے زیادہ بولی جاتی ہے۔ لہٰذا انگریزی میں تحدی کرنا بہت ہی مناسب ہے کیونکہ مرزا قادیانی نے انگریزی میں

١٠٧

صفحہ ٤٥٤

ماہواری رسالہ بھی جاری فرمایا ہے۔ اس سے ناواقف ہونا بڑے اعتراض کا مقام ہے۔ بہر حال امروہی صاحب کی بنائی کوئی بات نہ بنی بلکہ اور بگڑ گئی۔

اسی طرح الزام نمبر ١٧ کے جواب میں امروہی صاحب نے جو کچھ لکھا ہے ہم اس کا خلاصہ یہاں لکھتے ہیں (نقل کفر کفر نباشد) ”جبکہ بحکم ”قل لو كان البحر مدادا لكلمات ربی“ کلمات رب نامتناہی اور قرآن مجید متناہی ہے۔ لہٰذا قرآن کے حقائق و معارف والہامات مطہرین ومقربین سب کلمات رب ہیں پس مرزا قادیانی کی تصانیف (نعوذ باللہ) عین قرآن ہیں۔ نہ قرآن مجید کی مثل کوئی لا سکتا ہے نہ مرزا قادیانی کی تصانیف کی۔“

ناظرین! کیا کوئی فرقہ اسلام میں اب تک ایسا پیدا ہوا ہے جس نے قول بشر کو عین قرآن کہا ہو؟ اللہ تعالیٰ نے صرف قرآن مجید ہی کی مثل لانے کی تحدی فرمائی ہے۔ کیونکہ اپنے تمام کلمات نامتناہی کی نہ توریت وانجیل کی جو بالاتفاق کلام الٰہی ہیں پس مرزا قادیانی کے کلام کو عین کلام الٰہی کہنے سے بھی مطلب براری نہیں ہوئی۔ یہ ہیں جوابات امروہی صاحب کے جو اپنی جماعت کے لاجواب مفتی و مناظر و مصنف کتب ہیں۔ کیا عجیب ہے کہ بعد رفع تفکرات مقدمہ مرزا قادیانی خود ہی ان اعتراضات کے جواب مدلل لکھ کر شائقین کو محظوظ کریں۔ کیونکہ قصیدہ کی بحث جبکہ خود مرزا قادیانی نے چھیڑی تو اعتراضوں کے جواب دینا بھی ان پر لازم ہے۔

راقم : ابو محمد جمال الدین ڈاکٹر پنشن یافتہ مالک نیو میڈیکل ہال پشاور!

ایڈیٹر ...... ہم پہلے بھی لکھ چکے ہیں اور پھر لکھتے ہیں کہ مرزا قادیانی دس ہزار پانچ ہی ہزار روپیہ امرتسر یا لاہور میں جمع کرا دیں اور جوابی قصیدہ لیں۔ رہے تحفہ ہند کے اعتراضات ۔ نہ تو مرزا قادیانی اور ان کے تمام حواری سے جواب آج تک بن پڑے۔ تا بزیست بن پڑیں۔ انشاء اللہ ! امروہی صاحب جو گھر سے فالتو ہیں پگڑی باندھ کر دو مرتبہ میدان میں اترے مگر اوندھے منہ چاروں شانے چت۔

٢ ...... عیسیٰ موعود اور اتباع کتاب و سنت

مولانا شوکت اللہ میرٹھی !

کرزن گزٹ میں کسی صاحب نے لکھا تھا کہ عیسیٰ موعود جب تشریف لائیں گے تو کتاب و سنت کو مقدم کریں گے۔ یعنی ان کا اتباع کریں گے۔ ایڈیٹر الحکم بہت خوش ہو کر اور بغلیں بجا کر لکھتا ہے کہ ”اس صورت میں حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) کے دعاوی کا سمجھ لینا کچھ بھی مشکل نہیں رہتا۔“ چہ خوش۔ الحکم کی تحریر سے کیا یہی نتیجہ نہیں نکلتا کہ جو شخص متبع کتاب و سنت ہو وہ

١٠٨

صفحہ ٤٥٥

مسیح موعود ہے اس صورت میں تو لاکھوں بلکہ کروڑوں مسلمان مسیح موعود نکل آئیں گے کیونکہ سب متبع کتاب وسنت ہیں اور علماء اہل سنت و جماعت تو تمام و کمال مسیح موعود ہوں گے۔ کیونکہ وہ خود بھی متبع کتاب وسنت ہیں اور مسلمانوں کو بھی اتباع کتاب وسنت کی رات دن ہدایت کرتے ہیں۔ مرزا قادیانی کے کوئی سرخاب کا پر نہ رہا۔

پھر متبع کتاب وسنت ہونا نرا دعویٰ ہی دعویٰ اور اپنے منہ میاں مٹھو بننا ہے یا اس کی کوئی واقعیت بھی ہے۔ کتاب وسنت نے عیسیٰ اور ان کی ماں بی بی مریم کی معصومیت کی تصدیق کی۔ مرزا قادیانی جو اپنے کو مثیل المسیح بتاتے ہیں ان کو گالیاں دیتے ہیں۔ کتاب وسنت نے مسلمانوں پر حج کعبہ مکرمہ فرض کیا۔ مرزا قادیانی اس کو منسوخ کر کے مسلمانوں پر بجائے مکہ کے اپنے دارالامان قادیان کا حج فرض کرتے ہیں۔ کتاب وسنت نے تصویر کو حرام کیا۔ مرزا قادیانی اس کو اپنی بہشت کی اشاعت کا بڑا آلہ قرار دیتے ہیں۔

مرزائی ہمیشہ ناواقف مسلمانوں کو یہی دھوکا دیتے ہیں کہ اگر عیسیٰ موعود کوئی نئی شریعت لائیں گے تو آنحضرت ﷺ خاتم الانبیاء نہیں رہتے اور اسلامی شریعت کا نسخ لازم آتا ہے۔ اور اگر شریعت محمدی یعنی کتاب وسنت کے متبع ہو کر آئیں گے تو چونکہ وہ باوصف متبع کتاب وسنت ہونے کے نبی ہوں گے۔ لہٰذا اس سے ایک تو بعد ختم رسالت قیامت تک انبیاء کا نازل ہونا ثابت ہوا جو مرزا قادیانی کا دعویٰ ہے۔ دوم! مرزا قادیانی بھی بظاہر اپنے کو متبع کتاب وسنت اور بروزی نبی اور مسیح موعود بتاتے ہیں۔ پس وہ ٹھیک میدان دے وچ فرمائشی نبی بھی ہوئے اور چھلے چھلائے موعود بھی۔

شق ثانی کو ہم باطل کر چکے۔ شق اول کی نسبت گزارش ہے کہ مرزائی دو برزخ رکھتے ہیں۔ جس طرح ولایتی تھیٹر یا ہندی تماشے میں ایک مسخرہ برآمد ہوتا ہے جس کا آدھا منہ کالا اور آدھا سفید ہوتا ہے یا آدھا چہرہ مرد کا اور آدھا چہرہ عورت کا ہوتا ہے۔ اگر مرزا قادیانی سے تصویر وغیرہ کی اباحت بلکہ فرضیت کی وجہ پوچھی جاتی ہے تو آپ کہتے ہیں کہ میں مجدد (موجد شریعت جدیدہ) ہوں اور وہ تاویلیں گھڑتے ہیں کہ خر دجال بھی سنے۔ تو دم اٹھا کر لید کرنے لگے اور پیشاب کی دھار مارنے لگے اور جب ان کے مطلب کی کوئی حدیث نکل آتی ہے تو متبع کتاب وسنت بن جاتے ہیں۔ مطلب یہ ہوا کہ مرزا قادیانی کبھی تو امتی بن جاتے ہیں اور کبھی مستقل نبی بلکہ خاتم الخلفاء (خاتم الانبیاء) مرزا قادیانی سے زیادہ وہ ایک جولاہے کا دعویٰ بھی لچر نہ ہو گا جو اپنی کارگاہ میں بیٹھا ہوا توڑ جوڑ لگایا کرتا ہے۔ بالکل شتر مرغ کا سا حال ہے جس کی نسبت مولانا روم فرماتے ہیں۔

١٠٩

صفحہ ٤٥٦
گر نہی بارش بگوید طائرم
ور بپر گویش بگوید اشترم

یعنی اگر تو شتر مرغ سے کہے گا کہ بوجھ اٹھا تو وہ جواب دے گا کہ میں تو پرندہ ہوں اور پرندوں پر کوئی بوجھ نہیں لادتا اور اگر تو کہے گا کہ اُڑ تو جواب دے گا کہ میں اونٹ ہوں اور اونٹ اڑ نہیں سکتا۔

٣ ...... وہی بے معنے الہام

مولا نا شوکت اللہ میرٹھی ! مرزا قادیانی کے الہامات کا بدون اصلاح مجددالنہ مشرقیہ شائع ہونا خود آسمانی باپ کی ناراضی کا باعث ہے کیونکہ اس نے بھی شوکت اللہ کو مجدد مان لیا ہے۔ باپ کا خلاف کرنا خلف کا تو کام ہے نہیں۔ مرزا قادیانی ہی بتائیں کہ کس کا کام ہے۔ نئے مٹکے کے ٹپکے ہوئے تازہ الہامات تو اب شاذ و نادر ہی شائع ہوتے ہیں۔ ہاں پرانے دھرانے باسی تباہی پھپھوندے ہوئے گلے سڑے الہامات کسی مٹکے سے جس میں طاعونی چوہے رہتے ہوں نکل آتے ہیں۔ ٩ جنوری ١٩٠٢ء کی شب کو آسمانی باپ نے مندرجہ ذیل الہام وارد کیا تھا۔

”قد جرت عادۃ اللہ انہ لا ینفع الاموات الا الدعاء“ (تذکرہ ص ٤١٥ طبع سوم) یعنی خدا کی عادت اس امر پر جاری ہے کہ اموات کو بجز دعا کے کوئی شے نفع نہیں دیتی۔موتوں کو یعنی مردوں کو نفع دینا آج ہی سنا۔ موت کا نفع تو اس میں ہے کہ موتیں زیادہ ہوں۔ دنیا میں تو موت کے لئے کوئی نفع ہے نہیں۔ البتہ اگر اموات کے اعمال اچھے ہوں تو عاقبت میں نفع مل سکتا ہے۔ مگر اس الہام سے مرزا قادیانی کا یہ مطلب نہیں ان کا مطلب تو طاعونی اموات ہیں کہ ان کو نفع صرف لے پالک کی دعا سے ہوگا۔ یعنی دعا سے موتیں زیادہ ہوں گی اور طاعون زیادہ پھیلے گا۔ کیونکہ وہ لے پالک کی لینڈوری بلکہ باڈی گارڈ ہے۔ افسوس ہے یہ بھی لیاقت نہیں کہ نفع الاموات کی ترکیب جائز ہے یا ناجائز۔ اب مجدد کی اصلاح غور سے ملاحظہ فرمائیے: ”قد جرت عادۃ اللہ انہ لا ینفع الناس فی الامراض الساریۃ الا الدعاء“ یعنی خدائے تعالیٰ کی عادت اس پر جاری ہے کہ انسانوں کو امراض وبائیہ میں صالحوں اور مومنوں کی دعا کے سوا کوئی شے نفع نہیں دیتی۔ اب آپ جیسے کچھ صالح اور مومن یعنی توحید رسالت پر ایمان رکھنے والے ہیں۔ عیاں را چہ بیان۔ خدائے تعالیٰ کی عادت بے شک اس امر پر جاری ہے کہ جب دنیا میں جھوٹ۔ فریب، مکاری، عیاری، جعل وغیرہ بداعمالیاں پھیلتی ہیں اور خدائے تعالیٰ کے احکام کی مخالفت اور اس کے برگزیدہ رسولوں کا انکار کیا جاتا ١١٠

ہے تو طرح طرح کے عذاب، وبائیں اور جعلی مہدی پیدا ہورہے ہیں اور خدا اور لوگوں کو خدا اور رسول کی جانب سے کہتے ہیں اور ہمارا دل گواہی دیتا ہے کرنے سے طاعون آیا ہے اور ہم پر الہ ہرگز رفع نہ ہوگا اور اس کے مرتے ہی ق ٤

٣١؍ مارچ کے الحکم میں جب تک اس میں کوئی پہلو اخفاء کا ب ”یہ کلام بالکل مہمل اور خرافات ہے فرماتے ہیں کہ ”اگر خدایا اس کا نشان نشان عین ایمان اور تصدیق ہے۔ قدرت کا نشان دکھانا خدائے تعالیٰ نے ایسی ہدایت کی ہے کہ ایمان میں چاہئے کہ ظاہر کچھ اور باطن کچھ۔ ج ہے کہ ”ان المنافقین فی الدر ہے؟ اگر انبیاء اپنے ایمان کو چھپای تعالیٰ بندوں کے ایمان لانے کے خدائے تعالیٰ کا کوئی نشان چھپا ہوا نہ قطرے میں دریا اس کی شان ”فی انفسکم افلا تبصرون“ مگر و نشانات اور اس کے برگزیدہ انبیاء ع خدائے تعالیٰ اگر اپنے تکلیف مالا یطاق اور طلب مجہول من قدرت مشاہدہ کیا تو کس شے پر ایم

صفحہ ٤٥٧

ہے تو طرح طرح کے عذاب، وبائیں وغیرہ نازل ہوتی ہیں۔ چنانچہ اب یہی زمانہ ہے کہ جھوٹے نبی اور جعلی مہدی پیدا ہورہے ہیں اور خدائے تعالیٰ اور اس کے رسول کے احکام کو مسخ اور نسخ کر رہے ہیں اور لوگوں کو خدا اور رسول کی جانب سے پھیر کر اپنا بندہ بنا رہے ہیں پھر طاعون نہ پھیلے تو کیا ہو ہم سچ کہتے ہیں اور ہمارا دل گواہی دیتا ہے کہ مرزا قادیانی کی بداعمالیوں اور خلاف قدرت وفطرت دعویٰ کرنے سے طاعون آیا ہے اور ہم پر الہام ہو چکا ہے کہ جب تک مرزا زندہ ہے ہندوستان سے طاعون ہرگز رفع نہ ہوگا اور اس کے مرتے ہی تمام مصائب کا خاتمہ ہو جائے گا انشاء اللہ تعالیٰ!

٤ ...... ایمان کو چھپاؤ

مولانا شوکت اللہ میرٹھی!

٣١؍مارچ کے الحکم میں مرزا قادیانی فرماتے ہیں: ’’ایمان اس وقت تک ایمان ہے جب تک اس میں کوئی پہلو اخفاء کا بھی ہو لیکن جب بالکل پردہ برانداز ہو تو ایمان نہیں رہتا وغیرہ۔ یہ کلام بالکل مہمل اور خرافات ہے۔ دعویٰ تو یہ ہے کہ ایمان کے لئے اخفاء ضرور ہے اور دلیل یہ فرماتے ہیں کہ ’’اگر خدا یا اس کا نشان ایسا کھلا ہوا ہو جیسے سورج تو پھر ایمان کیا رہا۔‘‘ کیا خدا یا اس کا نشان عین ایمان اور تصدیق ہے۔ ایمان اور تصدیق تو انسان کا فعل ہے اور اپنا اور اپنی قدرت کا نشان دکھانا خدائے تعالیٰ کا فعل ہے۔ آپ نے دونوں کو گڈمڈ کردیا۔ کیا کسی نبی اور ولی نے ایسی ہدایت کی ہے کہ ایمان میں اخفاء کے پہلو کا ہونا ضروری ہے۔ یعنی مومن کو منافق بھی بننا چاہئے کہ ظاہر کچھ اور باطن کچھ۔ جس کی قرآن میں مذمت ہے بلکہ منافقین کے لئے سخت وعید ہے کہ ’’ان المنافقین فی الدرک الاسفل من النار‘‘ کیا انبیاء نے اپنے ایمان کو چھپایا ہے؟ اگر انبیاء اپنے ایمان کو چھپاتے تو دنیا میں کوئی مومن نظر نہ آتا۔ اگر یہ مراد ہے کہ خدائے تعالیٰ بندوں کے ایمان لانے کے واسطے اپنے نشان مخفی رکھتا ہے تو ایمان لانا محال ہوجائے گا۔ خدائے تعالیٰ کا کوئی نشان چھپا ہوا نہیں۔ وہ ہر شے میں یوں عیاں ہے جیسے ذرے میں آفتاب اور قطرے میں دریا اس کی شان ’’نحن اقرب الیه من حبل الوريد‘‘ اس کی صفت ’’وفی انفسكم افلا تبصرون‘‘ مگر وہ اندھوں کو کیوں نظر آنے لگا خصوصاً ان کور باطنوں کو جو اس کے نشانات اور اس کے برگزیدہ انبیاء کے معجزات اور احکام کو مٹانا چاہتے ہیں۔

خدائے تعالیٰ اگر اپنے نشانات چھپاتا ہے اور اپنے اوپر ایمان لانے کا حکم دیتا ہے تو تکلیف مالا یطاق اور طلب مجہول مطلق پر مجبور کرتا ہے کیونکہ جب ہم نے دیکھا نہ اس کا کوئی نشان قدرت مشاہدہ کیا تو کس شے پر ایمان لائیں حالانکہ تصدیق کے لئے تعین مصدق بہ ضرور ہے یہ

١١١

صفحہ ٤٥٨

کہنا کہ خدا تو موجود ہے مگر اپنے نشان ظاہر نہیں کرتا۔ یہ معنے رکھتا ہے کہ آفتاب تو موجود ہے مگر اپنی روشنی نہیں ڈالتا۔ ہاں مادر زاد اندھے۔ نہ صرف روشنی بلکہ خود اس سے انکار کر سکتے ہیں۔ کیونکہ انہوں نے نہ آفتاب دیکھا نہ اس کی روشنی۔

یہ پیش بندیاں اور معذوریاں صرف اس لئے ہیں کہ مرزا قادیانی ہر طرح بچتے ہیں کہ اپنی بروزی نبوت کی کوئی محسوس علامت تو کیا دکھاتے کوئی زبانی یا تحریری دلیل بھی پیش نہیں کر سکتے۔ لہٰذا اپنے نوگرفتاروں کو اُلو بنانے اور ان سے اپنا اُلو سیدھا کرنے کو کہتے ہیں کہ ایمان کے لئے اخفاء ضرور ہے یعنی جس طرح میں اپنا ایمان چھپائے ہوئے بلکہ نگلے ہوئے ہوں کہ بظاہر نبی بن گیا ہوں اور کوشش کے خلاف کارروائی کر رہا ہوں۔ اسی طرح تم بھی ایمان کو نگلو اور میری جعلی نبوت کی ڈنڈی پیٹو اور اگر کوئی علامت یا دلیل مانگے تو کہہ دو کہ ایمان کے لئے اخفاء ضرور ہے۔

کیا کوئی نبی ایسا کر سکتا ہے کہ خدائے تعالیٰ کا جو نشان اس نے دیکھا ہے اور وہ اس پر ایمان لایا ہے تو اس نشان کو یا اپنے ایمان کو چھپائے مگر اس صورت میں کون اس کو نبی تسلیم کرے گا اور وہ کیونکر اپنی نبوت کی تبلیغ کر سکے گا۔ ایمان ایک نعمت الٰہی ہے اور خدائے تعالیٰ فرماتا ہے: ”واما بنعمة ربک فحدث“ یعنی اے محمد اپنے رب کی عطاء کی ہوئی نعمت کا بار بار ذکر کر اور ”انا اول المسلمین“ یعنی کہہ دے اے محمد ﷺ کہ سب سے پہلا مسلمان میں ہوں۔ سبحان اللہ سبحان اللہ۔ کیا صداقت ہے اور کیا صفائی ہے اور نئے نبی مرزا قادیانی کہتے ہیں کہ ”انا خاتم الانبیاء یعنی انا افضل الانبیاء“ اگر مرزا قادیانی یہ کہیں کہ ”انا اول المسلمین“ تو ان کی نبوت دو کوڑی کی ہو جائے گی۔ کیونکہ وہ عام مسلمانوں میں داخل ہو جائیں گے۔ بھلا نبی مسلمان کیوں ہونے لگا وہ تو خدا کا لے پالک ہوتا ہے۔ اگر خدا مسلمان ہو تو نبی یعنی اس کا بیٹا بھی مسلمان ہے کیونکہ جیسا باپ ہوگا ویسا ہی اس کا نطفہ بھی ہوگا۔ لے پالک مرزا کا باپ تو نہ ہندو ہے نہ مسلمان ہے تو مرزا قادیانی کیوں مسلمان ہونے لگے اور دوغلہ بن کر کیوں اپنے خاندان الوہیت کو داغ لگانے لگے۔ مرزا قادیانی کو تو مسلمان کہلانے بشر کہنا بھی الوہیت کی بڑی بھاری توہین ہے۔ کیونکہ ان کا باپ جس طرح مسلمان نہیں۔ اس طرح بشر بھی نہیں۔ بشریت تو پیغمبر علیہ السلام کی صفت ہے۔ ”قل انما انا بشر مثلکم یوحیٰ الیّ“ یعنی کہہ دے اے محمد کہ میں ایسا ہی بشر ہوں جیسے تم ہو۔ مگر مجھ پر وحی نازل ہوتی ہے اور ”اشھد ان محمد عبدہ ورسولہ“ دیکھو اس کلمہ توحید ورسالت میں پہلے عبد کا لفظ ہے اور پھر رسول کا، بھلا مرزا قادیانی عبد کیوں بننے لگے؟

١١٢

صفحہ ٤٥٩

وہ تو خدا کے بیٹے ہیں باپ معبود ہے تو بیٹا بھی معبود ہی ہوگا نہ کہ عبد۔ اگر اس کلیہ میں شک ہو تو عیسائیوں سے تصدیق کرالو۔

اگر مرزا قادیانی کا ایمان آنحضرت ﷺ کی رسالت پر ہوتا تو وہ کبھی نبی نہ بنتے اور اگر وہ اپنی ہوائے نفس کو معبود بناتے تو معبود برحق اور اس کی آثار کا کبھی انکار نہ کرتے جس نے محمد رسول اللہ ﷺ کو خاتم الانبیاء بنا کر دنیا میں بھیجا اور بذریعہ قرآن مجید کے دین اسلام کو کامل کیا جس کو مرزا قادیانی ناقص بتاتے ہیں۔ خود قرآن خدائے تعالیٰ کی الوہیت اور قدرت کاملہ کا اعلیٰ نشان ہے پس ہم حلفاً کہتے ہیں کہ مرزا قادیانی تو یہ چاہتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ کی وقعت دنیا کے دلوں سے مٹا دیں اور اپنی نبوت بلکہ متبوعیت کا ڈنکہ بجادیں۔ تھوڑی سی عقل کا آدمی بھی سمجھ سکتا ہے کہ مرزا نے جو امام الزمان اور خاتم الخلفاء ہونے کا دعویٰ کیا ہے تو کیا اس کا یہی مطلب کہ تمام انبیاء کو بھول جاؤ اور مجھ پر ایمان لاؤ اور جو شخص مجھ پر ایمان نہ لائے وہ ملحد ہے۔ کافر ہے۔ واجب القتل ہے۔ پس اخباروں اور رسالوں میں حدیث وقرآن کی باتیں دکھانا اور شہ نشین میں بیٹھ کر روزانہ تقویٰ اور طہارت کی ڈینگیں مارنا سادہ لوحوں کو دام تزویر میں لانا اور سراسر منافقانہ حرکات ہیں۔

مرزا قادیانی تو نہ خدا کو مانتے ہیں نہ رسول کو۔ انہوں نے تو صرف ہوائے نفس کو معبود بنالیا ہے۔ ”صدق اللہ تعالیٰ افرأیت من اتخذ الٰہہ ہواہ (الجاثیہ:٢٣)“ مگر یاد رہے کہ یہ مکر وفریب اور عیش وعشرت کے اکے چھکے چند روزہ ہیں۔ زعفرانی حلوے اور دیگ ماہی اور مقویات و یاقوتیاں بہت جلد شجرۃ الزقوم سے بدل جائیں گی اور کہا جائے گا کہ ”ذق انک انت العزیز الکریم“

٥ ...... مرزا قادیانی کے عیسیٰ مسیح یوز آسف کی قبر سری نگر کشمیر میں

سچی نامہ نگار رسالہ ترقی لاہور!

رسالہ ترقی لاہور کا سچی نامہ نگار جو سری نگر کشمیر میں تھا ١٤ ستمبر ١٩٠٢ء کو مرزا قادیانی کے مزعوم عیسیٰ کی قبر دیکھنے گیا جو درحقیقت کسی ولی کی قبر ہے اور مندرجہ ذیل مضمون رسالہ ترقی میں دیا۔ ”مرزا قادیانی اس مسیح کی قبر کی تصویر الحکم میں شائع بھی کرچکے ہیں۔ یہ قبر خاص سرینگر محلہ خان یار میں واقع ہے جو جامع مسجد سے تقریباً نصف میل اور شاہ عبدالقادر جیلانی پیر دستگیر کی زیارت سے پاؤ میل کے فاصلہ پر ہے۔ ہمیں اس مقبرے کے ڈھونڈنے میں بڑی دقت پیش آئی کیونکہ شہر کے لوگ اس سے بہت کم واقف تھے۔ آخر کار ایک منشی نے جس نے قبر یوزاسف کا ذکر سنا تھا ہمیں اس کا نشان دیا اور یہ ہدایت کی کہ آپ لوگوں سے روضہ صاحب کا پتہ پوچھیں۔ معلوم ہوا کہ گردونواح میں یہ قبر اسی نام سے مشہور ہے۔ یہ ایک چھوٹا سا مکان ہے۔ عمارت کی کرسی پتھروں کی

١١٤٣

صفحہ ٤٦١

ہے اور ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یہ پتھر کسی دوسری پرانی عمارت سے نکال کر لگائے گئے ہوں جیسا کہ کہیں ان پر کی نقاشی سے معلوم ہوتا ہے۔ سرینگر کی کئی اور عمارات کا بھی یہی حال ہے کیونکہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ عمارتیں ہندوؤں کی عمارتوں کے مصالح سے جو شاید کشمیر میں مسلمانوں کی حکومت کے وقت مسمار ہوئیں تھیں، تعمیر ہوئی ہیں۔ مکان کی حالت اور تعمیر سے معلوم ہوتا ہے کہ اس کی عمر دو برس سے زیادہ نہ ہوگی بلکہ غالباً اس سے بھی بہت کم۔

یہ مکان باہر سے تقریباً ٣٥ فٹ لمبا اور ١٥ فٹ چوڑا ہے اور اس کے اندر لکڑی کا جالیدار کٹہرا لگا کر ایک چھوٹا سا کمرہ بنایا گیا ہے اس کٹہرے کے اندر دو چھوٹی چھوٹی قبروں کے نشان ہیں۔ یہاں چونکہ کوئی مجاور موجود نہ تھا۔ ہم نے ہمسایہ کے کئی آدمیوں کو بلوایا اور ایک ضعیف العمر آدمی سے دریافت کیا کہ یہ قبریں کن کی ہیں۔ اس نے جواب دیا کہ شمال کی جانب کی قبر جو دوسری قبر سے ذرا بڑی ہے یوزاسف نبی کی ہے اور چھوٹی نصیر الدین کی ہے جو ایک پیر تھا جس کی وفات کو کوئی دو سال گزر چکے ہیں مگر یوزاسف اور اس کا پیر کا کسی کو بھی کوئی خاص حال معلوم نہ تھا۔ اور الفاظ شاہ زادہ یا عیسیٰ صاحب تو ایک دفعہ بھی ان کی زبان سے نہ نکلے۔ اس لئے یہ بیان کہ ہزار ہا آدمی ہر مذہب وفرقہ کے جو سرینگر یا اس کے گردونواح میں بستے ہیں۔ بالاتفاق یہ بیان کرتے ہیں کہ جو شخص اس قبر میں دفن ہے وہ ایک اجنبی شخص تھا جو تقریباً انیس سو سال گزرے شام کے دور دراز ملک سے آیا اور اسرائیلی ہی سمجھا جاتا اور اس کا نام عیسیٰ صاحب اور شاہزادہ ہی مشہور تھا۔ سراسر بے بنیاد اور مرزا قادیانی کی گھڑت ہے۔ میں نے ان لوگوں سے سوال کیا کہ وہ یوزاسف کو نبی کیوں سمجھتے ہیں حالانکہ قرآن اور حدیث میں اس کا کہیں ذکر نہیں۔ انہوں نے جواب دیا کہ اسلام میں ایک لاکھ چوبیس ہزار پیغمبر مانے جاتے ہیں اور غالباً یہ بھی انہیں میں سے ایک ہیں جن کے نام لکھے نہیں گئے۔ مگر اس سوال کا کہ جب اس کا کہیں ذکر درج نہیں تو اس کا نام کیونکر معلوم ہوا کچھ جواب بن نہ آیا۔ مگر انہوں نے یہ بیان کیا کہ اس شخص کی نبوت ایک معجزہ سے ثابت ہو چکی ہے۔ اس کی قبر کے پاس پتھر کی ایک سل ہے جس پر دو بڑے بڑے پاؤں کے نشان ثبت ہیں۔ یہ نشان (انہوں نے بیان کیا) اس وقت جب سید نصیر الدین کو وہاں دفن کیا گیا تو دفعتاً پیدا ہو گئے۔ جس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ شخص جو پہلے مدفون تھا پھر اپنی قبر پر آیا ہوگا اور نبی کے سوا کسی کے پاؤں اتنے بڑے لمبے ہو سکتے ہیں۔ میرے ایک دوست کا بیان ہے (جس نے مجھ سے دو سال پہلے اس قبر کو دیکھا تھا) کہ اس سے بعض اشخاص نے یہ بھی بیان کیا تھا کہ ہم نے سنا ہے کہ اس نبی کا قد دراصل ستر گز تھا۔

١١٤

ظاہر ہے کہ یہ روضہ صاحب کشمیر کے دیگر جن کے نام ونشان کو لوگ بھول گئے اور اسکی نسبت طر اور لفظ یوزاسف سے بھی بالکل مانوس معلوم نہ ہوتے تھے۔ جو پیر کو دیکھنے جاتے رہے ہیں اس نام کو ان کے ذہن نشین بالفرض اس ولی کا نام یوزاسف بھی مان لیں تو پھر اس کی قبر بھی مسیح سے کچھ بھی تعلق رکھتا تھا۔ یہ بات کہ اس قبر ہے جسے بعض لوگوں نے پڑھا تھا اور وہ بیان کرتے ہیں جس دعویٰ کو اس قسم کی شہادتوں سے ثابت کرنے کی ضرو بآسانی فیصلہ کر سکتے ہیں۔ کیا یہ ممکن ہے کہ یہ ساری غلط اشتہار دینے کی غرض سے گھڑی گئی ہے (جس کا ذکر مر ہیں) جسے مرہم حوارین کا نام دیا گیا ہے اور جواب مرزا کرنا پڑے گا کہ مرزا قادیانی اشتہاری حکیموں سے بازی

تعارف مضامین ......

سال ١٩٠٣ء ٢٤ اپریل کے ش

١ ...... ہندوستان میں صدیوں

تحریک جہاد

ہم جہاد کے متعلق بعض خود غرض مسلمانوں ایک نے تو کچھ فائدہ بھی اٹھایا۔ دوسرے نے بہت ہر سہ تہی‘‘ کا مضمون نکلا۔ عرصہ بعد چند اور

١١٥

صفحہ ٤٦١

ظاہر ہے کہ یہ روضہ صوبہ کشمیر کے دیگر بے شمار مزارات کی طرح کسی پیر یا ولی کی قبر ہے جس کے نام و نشان کو لوگ بھول گئے اور اسکی نسبت طرح طرح کی حکایات مشہور ہوگئیں بلکہ یہ لوگ لفظ یوذاسف سے بھی بالکل مانوس معلوم نہ ہوتے تھے۔ معلوم ہوتا ہے کہ مرزا قادیانی کے پیرو جو اس پیر کو دیکھنے جاتے رہے ہیں اس نام کو ان کے ذہن نشین کرنے کی کوشش کرتے رہے ہیں۔ لیکن اگر بالفرض اس ولی کا نام یوذاسف بھی مان لیں تو پھر اس کی کچھ شہادت موجود نہیں کہ یہ یوذاسف دراصل تاریخی مسیح سے کچھ بھی تعلق رکھتا تھا۔ یہ بات کہ اس قبر پر ایک قدیمی کتبہ درج تھا مگر اب زائل ہوگیا ہے جسے بعض لوگوں نے پڑھا تھا اور وہ بیان کرتے ہیں کہ یہ یسوع مسیح کی قبر ہے محض بناوٹ ہے۔ جس دعویٰ کو اس قسم کی شہادتوں سے ثابت کرنے کی ضرورت پڑی۔ اس کی حقیقت کی نسبت ناظرین بآسانی فیصلہ کر سکتے ہیں۔ کیا یہ ممکن ہے کہ یہ ساری غلط بیانی اور جعلی تاریخی شہادت محض ایک دوائی کے اشتہار دینے کی غرض سے گھڑی گئی ہے (جس کا ذکر مرزا قادیانی اپنے پرچہ کے آخری صفحہ پر کرتے ہیں) جسے مرہم حواریین کا نام دیا گیا ہے اور جو اب مرزا قادیانی کا ایک شاگرد بیچ رہا ہے تو ہمیں اقرار کرنا پڑے گا کہ مرزا قادیانی اشتہاری حکیموں سے بازی لے گئے۔

تعارف مضامین ...... ضمیمہ شحنہ ہند میرٹھ

سال ١٩٠٣ء ٢٤؍اپریل کے شمارہ نمبر ١٦ کے مضامین

١ ...... ہندوستان میں صدیوں سے جہاد کا نام و نشان نہیں

تحریر: ک.ا.از گجرات!

ہم جہاد کے متعلق بعض خود غرض مسلمانوں کی کارروائی تیس سال سے دیکھ رہے ہیں۔ ایک نے تو کچھ فائدہ بھی اٹھایا۔ دوسرے نے بہت کچھ تگ و دو کی مگر ”طمع را سہ حرف است ہر سہ تہی“ کا مضمون نکلا۔ عرصہ بعد چند اور باتیں مل ملا کر اور خون لگا کر شہیدوں میں داخل

١١٥

صفحہ ٤٦٢

ہوا۔ تیسرے شخص نے بھی بغایت کوشش کی۔ اب انہیں کی تحریک میں سب سے بڑھ کر مرزا قادیانی کو تحریک ہوئی۔ متواتر کئی سال سے ان تمام تحریروں کا لب لباب یہ ہے کہ اگر مرزا قادیانی کا ظہور نہ ہوتا تو مسلمان ضرور جہاد کرتے۔ اس بے معنی ادعاء میں جس قدر مرزا قادیانی نے اپنے کو بچایا ہے۔ اسی قدر کروڑوں مسلمانوں کی وفاداری پر دھبہ لگا دیا ہے۔ اور یہی پولیٹیکل امر ہماری خامہ فرسائی کا باعث ہوا ہے۔

جہاد کی فلاسفی سے ہمارے حکام بخوبی واقف ہیں کہ عدل وانصاف کے سامنے کوئی جوش ابھر نہیں سکتا اور مذہبی آزادی کے ہوتے کسی مذہبی لڑائی کی تحریک کامیاب نہیں ہو سکتی۔ یہ وہ اصول ہیں جن پر گورنمنٹ انگریزی کاربند ہے اور جن کے رو سے وہ آج سب سے بڑی اسلامی سلطنت کہلانے کی مستحق ہے اور ان ہی عاقلانہ تدابیر کا اثر ہے کہ آج تمام ہندوستان میں کوئی ایسا مسلمان نظر نہیں آتا کہ انگریزی گورنمنٹ کے برخلاف جہاد بلکہ معمولی مخالفت کو بھی موزوں جانتا ہو۔ اگر مرزا قادیانی کی تحریروں میں کچھ صداقت ہے تو اپنے معدودے چند مریدوں کو روکا ہوگا۔ اور وہی گرم جوش جیسا کہ نو مرید ہمیشہ ہوا کرتے ہیں۔ جہاد پر تلے بیٹھے ہوں گے ورنہ سچ پوچھو تو مسلمانان ہند کی نسبت جہاد کا امکان سراسر بے علمی اور واقعات سے بے خبری ہے وہ جہاد کو صدیوں سے فراموش کئے ہوئے ہیں۔ انہوں نے اپنے عروج و اقبال کے زمانے میں بھی شاذ و نادر ہی جہاد سے کام لیا ہے۔

تاریخ صاف بتارہی ہے کہ شہنشاہ بلبن کے عہد تک اصول اسلام کے مطابق ہندوستان میں کام چلتا رہا اور ضروریات ڈیفنس کے لئے جہاد کا سچا جوش قائم رہا جس کے سبب سے چنگیزی کفار کے خونخوار جرار لشکروں کو بارہا مار مار کر نکال دیا۔ عہد علائی میں اسی جوش کے بقیہ نے مغلوں کے ٹڈی دلوں کو نواح دہلی سے بھگا کر ہزاروں کو قید کیا۔ اس کے بعد ڈیفنس کی ضرورت نہ رہی کیونکہ ہلاکو خان تو اخیر عمر میں حضرت ابو یعقوب اور محمد خواجہ دربندی قدس اللہ سرہما کی کرامات محمدیہ دیکھ کر مسلمان ہو گیا تھا یا اسلام کی طرف مائل ہو چکا تھا اور اس کا پوتا پڑوتا صوفیائے کرام اور علمائے عظام کی صحبت اور تعلیم کی برکت سے اپنی فوج اور قوم کی تعداد کثیرہ کے ساتھ مسلمان ہو کر ہندوستان کی شمال مغربی سرحد کے لئے غیر مذاہب کے حملوں کے واسطے سد سکندری ثابت ہوا۔ جنوب اور مشرق میں سمندر اور شمال میں ہمالہ تھا۔ خود ہندوستانی قومیں مسلمان بادشاہوں کے منصفانہ سلوک سے وفاداری کے میدان میں بڑھ بڑھ کر قدم مارتی تھیں۔ ان بواعث سے کسی خارجی یا داخلی مذہبی یا قومی لڑائی کی ضرورت نہ پڑی اور سب جہاد کو بھول گئے۔

١١٦

صفحہ ٤٦٣

ہاں سلاطین وامراء کی خودغرضیوں سے بجائے اسلامی اتحاد کے ذاتی فوائد کا خیال پیدا ہو گیا اور بغاوتوں اور ہلکی لڑائیوں کا دورہ شروع ہوا اور سچا جوش فرو ہوتا گیا۔ سب سے زیادہ عظیم الشان سلطنت مغلوں کی شمار ہوتی ہے۔ گو چاپلوس مؤرخ مغل بادشاہوں کو غازی۔ مجاہد کے القاب خانہ زاد سے مخاطب کریں لیکن ان کی تلوار بھی عموماً مسلمانوں کا گلا ہی کاٹتی رہی۔ مشہور دیندار سلطان اورنگزیب اناراللہ برہانہ نے رانائے اودے پور اور سنبھاجی کے خلاف جہاد کا جوش دلانا چاہا مگر ہندوستان کے مردہ دلوں کو زندہ نہ کر سکا۔ بلکہ حقیقی فرزند محمد اکبر تو رانا سے جاملا اور سیوا جی کی سرکوبی کو ہندو سپہ سالار تلاش کرنا پڑا۔ جب اورنگ زیبی گرمجوش عہد میں یہ حال تھا اور اس مدبر اور غیور سلطان کی مآل اندیشی پر عمل نہ ہوا تو آج کون جہاد کرنے والا اور کون کرانے والا ہے؟ یہ سخت ابلہ فریبی اور دغابازی سے کہا جاتا ہے کہ آج ہندوستان کے مسلمانوں میں جہاد کا جوش ہے۔ فضلائے یورپ بخوبی جانتے ہیں کہ جہاد ایک قومی لڑائی ہے۔ وہ ہر قوم میں پائی جاتی ہے جن وجوہ سے اسلام میں جہاد کی ضرورت ہے۔ تقریباً انہیں بواعث سے ہر زمانہ اور ہر قوم میں یہ ضرورت رہی ہے اور رہے گی۔

آج جہاد کی کوئی وجہ پائی نہیں جاتی۔ ہر طرح امن وامان ہے۔ تبلیغ احکام قرآنی کے لئے کوئی رکاوٹ نہیں۔ ادائے فرائض میں کوئی روک نہیں۔ مذہب اور ننگ وناموس کو کوئی خطرہ نہیں۔ ڈیفنس کیلئے کوئی ضرورت نہیں۔ ایسے وقت میں مسلمانوں کو جہاد سے روکنے والا بننا اور گورنمنٹ کو احسان مند بنانا گورنمنٹ انگریزی کے اصول عادلانہ پر سخت حملہ ہے۔

کیونکہ مرہٹوں نے تمام ہندوستان کو پامال کر دیا۔ اسلامی ننگ و ناموس کو خاک میں ملا دیا۔ مغلوں کے سلطان کو زندہ درگور کیا مگر کسی نے بھی ان حربی کفار کے مقابلے کے لئے جہاد پر کمر نہ باندھی۔ اور بہادر آصف جاہ ثانی کو کسی مسلمان نواب یا رئیس نے مدد نہ دی۔ حالانکہ اس وقت سینکڑوں بااقتدار امیر موجود تھے۔ آخر احمد شاہ ابدالی کو حمیت آئی اور پانی پت کے مشہور میدان میں داد جہاد دے کر مرہٹوں کی سفاکی سے ہندوستان کو پاک کیا۔ گو اس عالیشان فتح سے اسلامی سلطنت کو کچھ فائدہ نہ ہوا لیکن انگریزی سلطنت کے لئے استقلال ہی کا راستہ نکل آیا جو مسلمانوں کے لئے مرہٹوں وغیرہ کی حکومت سے بدرجہا افضل ہے۔

سکھوں نے خاص اس حصہ پنجاب میں اسلام کی ہرقسم کی توہین کی جس میں آج مرزا قادیانی مسلمانوں کے مجاہدانہ خیالات کی مذمت کر رہے ہیں۔ ہر جگہ مسجدیں گرتی۔ قبریں اکھڑتی۔ فرائض اسلام کی بندش ہوتی۔ مشائخ اور علماء قید ہوتے دیکھتے تھے تو ان کے اجداد میں سے کسی

١١٧

صفحہ ٤٦٤

بہادر مرزا کو مذہبی، قومی، ملکی جوش اور غیرت پیدا نہ ہوئی۔ سکھوں کے برخلاف مولوی اسمعیل صاحب شہیدؒ نے مذہبی جنگ کا اعلان دیا مگر پنجابی مسلمان بہت کم شامل ہوئے تھے بلکہ مجاہدین کی فوج پر گولہ باری کی خدمت انہیں پنجابیوں کے ذمہ تھی۔ خیر اس عہد کو اور سو سال گزر گیا۔ مسلمانوں کی ملکی، مالی، مذہبی طاقت اور بھی کمزور ہو گئی۔ علماء کا مقدس گروہ ملک سے معدوم ہو گیا۔ مذہبی تعلیم کی جگہ مغربی علوم کی تعلیم شروع ہوئی۔ دماغوں میں جدید خیالات سما گئے۔ عقلمند گورنمنٹ نے اصول سلطنت کو عادلانہ اصول پر قائم کر رکھا ہے اور مسلمان اس کے زیر سایہ نہایت آرام اور فراغت سے زندگی بسر کر رہے ہیں۔ ایسی حالت میں جہاد کے تصور کو اہل ہند کی نسبت باور کرنا سلطنت انگلشیہ پر مرہٹوں اور سکھوں کی سلطنت کو ترجیح دینا ہے اگر دور اندیش گورنمنٹ ایک صدی کی حکومت میں اپنی عادلانہ اور عاقلانہ پالیسی اور علوم مخصوصہ کی تعلیم سے اتنا بھی نہیں کر سکی کہ مسلمانوں کے دماغ سے جہاد کے خیالات نکال سکتی اور اب تک اس بارے میں کسی فرد رعیت کی کوشش اور امداد کی محتاج ہے۔ تو مدبران سلطنت انگریز کی عقل وتدبیر فہم و فراست سخت نفرت کے قابل ہے۔

رہا ان احادیث کا وجود جن میں عیسیٰ اور مہدی علیہم السلام کی بشارتیں موجود ہیں اور مرزا قادیانی نے ان کی تاویل اس طرح کی ہے جس سے کسی جنگ جو مہدی کے آنے کا انتظار نہ رہے تو اس مرحلہ میں سرسید احمد خان مرحوم اور ان کی معزز پارٹی جو ان سے کئی منزل آگے ہے گورنمنٹ سے ڈبل شکریہ کی مستحق ہے۔

پس یہ بھی کوئی خدمت نہیں جو گورنمنٹ کے سامنے پیش کی جائے اور بذریعہ رسالہ جات و اخبارات شہرت دی جائے۔ یہ سخت کوتاہ نظری اور پست ہمتی ہے کہ جو بات ہم میں پائی نہیں جاتی اس کو اپنی طرف منسوب کریں۔ گورنمنٹ انگریزی ہماری حالت اور طاقت سے بخوبی واقف ہے۔ اس کی طاقت اس قدر مضبوط ہے کہ کسی ہندوستانی مخالفت سے یک لخت جنبش نہیں کھا سکتی اور بچوں کی طرح خیالی اور وہمی اشکال سے ڈر نہیں سکتی۔

یہ خیال کہ کسی خاص مجمع میں علمائے اسلام سے مسئلہ جہاد کا تصفیہ کرایا جائے۔ فتنہ خوابیدہ کو جگانا اور مشکلات کا پیدا کرنا ہے۔ کوئی حقیقی خیر خواہ ایسا مشورہ نہیں دے سکتا اور نہ عاقبت اندیش گورنمنٹ ایسے ضرر رساں مشوروں پر کار بند ہو کر اپنی مشہور پالیسی ترک کر سکتی ہے۔

ایڈیٹر

مرزا قادیانی کی گہری پالیسی ہمارے معاصر بہت کم سمجھے ہیں چونکہ وہ اپنے

١١٨

٦٥ والمشیروں کی تعداد تقریباً دو لاکھ بتاتے ہیں اور نیا مذہب گھڑ لیا ہے۔ لہٰذا ان کو خوف ہوا کہ ایسا پردازی کا الزام قائم کر کے مجھے کالے پانی پہنچاد بار بار لگا تار گورنمنٹ کی خوشامد کر رہے ہیں۔

٢ ...... مرزا قا

مولانا شوکت

موجودہ زمانہ ہر قسم کی ترقی کے انجن ہے عقل بڑھ رہی ہے۔ الحاد بڑھ رہا ہے۔ بیغہ شے کو بڑھا رہا ہے مگر ہم دیکھتے ہیں کہ مرزا قادیا کے نیچر کے موافق ترقی نہیں کی۔ مرزا قادیانی کا طواف شروع کیا۔ اس زمانہ میں مختاری اور رشوت دلال اور وکیلوں کے پاس مقدمات لانے کل بھی بیشتر مختاروں اور وکیلوں کے خوارق ہی کاری کی بیڑی پاؤں سے نکال کر خود مختار بن شروع کیا اور اعلان دیا کہ جو شخص میری کتاب روپے کی جائیداد اس کی نذر کروں گا۔ آریوں دیا۔ انعام میں تھیلیاں اور ہمیانیاں اگلنے کا خبط کوڑی بھی دی ہو تو خدا کرے اس کی قسمت ہی ہمیشہ ایسے ہی جھوٹے لالچ دے کر دنیا سے اپنی لعنت ہے اس دنیا پرستی پر۔ چند روز ہوئے۔ اس حال میں آپ مثیل مسیح بنے، نہ پورے مسیح موعود اور مہدی مسعود بن گئے۔ پھر ہوئے اور ابھی تک اس زینے پر معلق لٹکے ہو ہم کو رہ رہ کر افسوس آتا ہے کہ جب میں ترقی نہ کی تو کیا چار کے کاندھے چڑھ کر لاکھوں امام گزر گئے جو سب کے سب انسان

صفحہ ٤٦٥

والنٹیروں کی تعداد تقریباً دو لاکھ بتاتے ہیں اور مذہب اسلام بلکہ تمام مذاہب کے خلاف ایک نیا مذہب گھڑ لیا ہے۔ لہٰذا ان کو خوف ہوا کہ ایسا نہ ہو گورنمنٹ میری گردن ناپ لے اور مفسدہ پردازی کا الزام قائم کر کے مجھے کالے پانی پہنچا دے۔ پس مرزا قادیانی اس لئے جہاد جہاد پکار کر بار بار لگا تار گورنمنٹ کی خوشامد کر رہے ہیں۔

٢ ...... مرزا قادیانی ترقی کریں

مولانا شوکت اللہ میرٹھی!

موجودہ زمانہ ہر قسم کی ترقی کے انجن کی سٹیم ہے۔ فلسفہ بڑھ رہا ہے۔ سائنس بڑھ رہا ہے عقل بڑھ رہی ہے۔ الحاد بڑھ رہا ہے۔ ہیضہ بڑھ رہا ہے، طاعون بڑھ رہا ہے۔ الغرض نیچر ہر شے کو بڑھا رہا ہے مگر ہم دیکھتے ہیں کہ مرزا قادیانی نے ترقی تو ضرور کی ہے مگر موجودہ زمانہ اور اس کے نیچر کے موافق ترقی نہیں کی۔ مرزا قادیانی نے اول اول کچھ سٹر پٹر تعلیم پا کر انگریزی عدالتوں کا طواف شروع کیا۔ اس زمانہ میں مختاری اور عدالت آندھی کے آم تھے۔ آپ مختار بن گئے۔ رشوت دلال اور وکیلوں کے پاس مقدمات لانے کے دلال بھی ضرور بنے ہوں گے۔ جیسا کہ آج کل بھی بیشتر مختاروں اور وکیلوں کے خوارق ہیں مگر جب حسب دل خواہ پو بارہ نہ ہوئے تو مختار کاری کی بیڑی پاؤں سے نکال کر خود مختار بن گئے۔ اور گوشہ تزویر میں بیٹھ کر آریوں کا رد لکھنا شروع کیا اور اعلان دیا کہ جو شخص میری کتاب براہین احمدیہ کا جواب لکھ دے میں اپنی بارہ ہزار روپے کی جائیداد اس کی نذر کروں گا۔ آریوں نے کلہ توڑ جواب بنام ”ابطال براہین احمدیہ“ لکھ دیا۔ انعام میں تھیلیاں اور ہمیانیاں اگلنے کا خبط تو آپ کو اول ہی سے ہے مگر آج تک کسی کو پھوٹی کوڑی بھی دی ہو تو خدا کرے اس کی قسمت ہی پھوٹے۔ ہاں آپ بروزی نبی ہیں نا۔ انبیاء نے ہمیشہ ایسے ہی جھوٹے لالچ دے کر دنیا سے اپنی نبوت تسلیم کرائی ہے؟

لعنت ہے اس دنیا پرستی پر۔ چند روز تو آپ کو قبض رہا پھر دفعتاً الہام کے اسہال شروع ہوئے۔ اس حال میں آپ مثیل مسیح بنے، نہ کہ ہو بہو مسیح موعود جب چند کاٹھ کے الو پھنس گئے تو پورے مسیح موعود اور مہدی مسعود بن گئے۔ پھر ذرا اور رجوعات ہوئی تو بروزی نبی اور امام الزمان ہوئے اور ابھی تک اس زینے پر معلق لٹکے ہوئے ہیں۔ آگے نہیں بڑھتے۔

ہم کو رہ رہ کر افسوس آتا ہے کہ جب مرزا قادیانی نے اس بڑھتی ہوئی ترقی کے زمانے میں ترقی نہ کی تو کیا چار کے کاندھے چڑھ کر ترقی کریں گے؟ کیا معنے کہ لاکھوں نبی گزر گئے۔ لاکھوں امام گزر گئے جو سب کے سب انسان تھے۔ مرزا قادیانی بھی انسان ہی رہے تو کیا خاک

١١٩

صفحہ ٤٦٦

ترقی کی۔ پھر بنے تو مسیح بنے جس میں دنیا کے عیوب موجود جس کی نانیاں اور دادیاں کسبیاں تھیں (معاذ اللہ) اور خدا کے سگے بیٹے بھی بنے تو بمنزلہ ولد یعنی لے پالک۔

مرزا قادیانی کی اس دوں ہمتی اور پست فطرتی پر براہ دلسوزی ایسا غصہ آتا ہے کہ کچھ نہ پوچھئے۔ مگر خون کے گھونٹ پی کر رہ جاتے ہیں۔ لہٰذا مناسب معلوم ہوتا ہے اور خود زمانہ کی ترقی کی ہوا بھی یہی کہہ رہی ہے کہ اب مرزا قادیانی آسمانی باپ بنیں اور حکیم نورالدین صاحب کو مسیح اور اکلوتا فرزند بنائیں کیونکہ وہ بحیثیت طبیب ہونے کے مسیح بننے کی عمدہ قابلیت رکھتے ہیں اور مریضوں کے اچھا کرنے کو انہوں نے مرہم عیسیٰ بھی تیار کیا ہے۔ پس جب سارا مسالا موجود ہے تو ترقی کے پورے معیار پر پہنچنا بدقسمتی نہیں تو کیا ہے؟ ہمارا کام سمجھا دینا ہے چاہے مانے چاہے نہ مانیں ورنہ دعوے سے دست بردار ہوں۔

٣ ...... اخبار الحکم اور البدر قادیان

مولانا شوکت اللہ میرٹھی!

اب قادیان میں دو مرزائی اخبار ہو گئے۔ الحکم تو مرزا قادیانی کا سات برس کا رفیق ہے جس نے مرزائیت کے پھیلانے میں سب سے بڑھ کر حصہ لیا ہے اور دنیا اور آخرت کے سرمایہ کا بہت بڑا گٹھا اپنے سر پر دھرا ہے اور مرزائیت کو خوب چمکایا ہے۔ اس کے ایڈیٹر ہمارے مرزائیت نصاب، متلیث طناب، مہدویت رکاب، مسیحیت قباب، تثلیث رباب، منشی یعقوب علی صاحب تراب ہیں اور مرزا قادیانی جو کچھ ان کی قدر افزائی کریں۔ کار ثواب و دراز عقاب سراسر صواب ہے۔ دوسرا اخبار البدر حال میں مرزا اور مرزائیوں کے خلیفہ اول اور ہمارے مشفق شفیق با تحقیق بالخلافت عمیق فی المرزائیت غریق، فی نار، البروزیت حریق، منارۃ الطریق، اغارۃ الدقیق، ادارۃ التوفیق، عمارۃ الاساطین، رکن الاراکین، قرن الحوارین مولوی حکیم نورالدین صاحب کی سرپرستی سے شائع ہونا شروع ہوا ہے۔ اگرچہ ہماری نظر سے نہیں گزرا مگر بعض مرزائی کہتے ہیں کہ ایسا ہے اور ویسا ہے اور الحکم اس کے مقابلے میں کھوٹا پیسا ہے اور البدر اس کے لئے جیسے کو تیسا۔ خیر ایک سے دو بھلے۔ مل کے بجے گی تو زیادہ مزہ آئے گا۔ ہم تو دونوں کے مجدد اور ریفارمر ہیں۔ فیضان تجدید سب پر یکساں برسنا چاہئے۔ مرزا قادیانی اور مرزائی ہم کو کچھ ہی سمجھیں مگر ہم تو سب کے ناصح مشفق اور یکساں خیرخواہ ہیں۔ فرائض منصبی ادا کرنا ہمارا کام ہے۔ کوئی برا مانے یا بھلا۔

ہم کو معلوم ہوا ہے کہ البدر کا ایڈیٹر مولوی حکیم نورالدین صاحب کا کوئی دست پروردہ اور تربیت یافتہ ہے وہ چاہتے ہیں کہ البدر کو فروغ ہو کیونکہ الحکم پرانا ہو گیا۔ اب کل جدید لذیذ کی

١٢٠

صفحہ ٤٦٧

باری ہے۔ الحکم کو زک دینے اور مرزائیوں میں اس کی آؤ بھگت مٹانے کی نبض حکیم جی نے یہ دیکھی ہے کہ اس کی قیمت سوا دو روپے سالانہ دیکھی ہے جو الحکم کی نصف قیمت سے بھی کم ہے۔ کیونکہ اس کی ادنیٰ درجہ کی قیمت پانچ روپے سالانہ ہے۔ کوئی شک نہیں کہ اب غریب الحکم کی بدھیا بیٹھ جائے گی۔ الحکم کو مناسب ہے کہ اپنا راتب البدر سے بھی کم مقرر کر دے یعنی دو روپیہ سالانہ قیمت رکھے ورنہ عمر مفت ساقی میں عدم کا پاترا بھرے اور گور گڑہا تیار۔ تاکہ وقت پر تردد نہ کرنا پڑے۔ اس سے ایک بات تو ضرور نکل آئی کہ البدر کا مربی خلوص کا پتلا ہے جو زیادہ ستانی کرنا نہیں چاہتا۔ اخبار کی آمدنی سے صرف اخبار کا خرچ نکالنا چاہتا ہے اور بس، کیونکہ وہ خود لکھ پتی ہے اور الحکم کا ایڈیٹر گھاؤ گھپ ہے۔ خیر نال اس کے ڈھڈ کی تھاہ ہی نہیں جو آیا سب ہضم۔ ڈکار تک ندارد اور پھر ہمیشہ قرضدار۔ واہ رے تیرے پیٹ کی سمائی اور واہ رے تیرے معدے کی صفائی۔ مگر کچھ بھی ہو مرزا قادیانی کو الحکم بہت عزیز ہے۔ لال پیارا تو لال کے خال بھی پیارے۔ اب مرزا قادیانی کی ڈائری پر بحث ہو رہی ہے۔ الحکم کا ایڈیٹر کہتا ہے کہ کسی کی کیا ٹھٹنی ہے کہ مجھ سے بہتر مرزا قادیانی کی جوں کی توں لچھے دار مرتب اور مسلسل ڈائری چھاپ کر شائع کر سکے۔ ڈائری الہام ہے تو اس کا مرتب کرنا کرامات ہے۔ نہ کہ گدھے کی لات۔ غریب ایڈیٹر الحکم نے بہت ہی گڑگڑا کر اور لیٹ کرمنہ میں تنکے لیکر مضمون دیا ہے کہ اگر چہ میں کسی لائق نہیں مگر بروزی نبی میرے حال پر رحم کرے۔ ایسا نہ ہو رقیبوں کے چکمے میں آکر میرا آذوقہ بند کرادے۔ مگر قرین قیاس یہی ہے کہ اگر آذوقہ بند نہ ہوا تو الحکم کے الٹے تلوے ضرور ہی بند ہو جائیں گے۔

ہم کو یہ بھی معلوم ہے کہ دونوں ایڈیٹروں میں ایسا ایک بھی نہیں جو اپنے پاؤں پر کھڑا ہو سکے۔ اخباروں کی پیٹ بھرنے والی ادھر ڈائری ہے تو ادھر حکیم صاحب کی قرابادین ہے۔ اگر ذیابیطیس سے کبھی مرزا قادیانی کا منہ بند ہو جائے یا ریگ ماہی اور سقنقور کے کباب کھانے سے کبھی حکیم جی کے پیٹ میں قراقر ہو جائے تو الحکم کے سدے قبل از مرگ ہی بڑھا جائیں گے۔ انشاء اللہ (ایڈیٹر)

٤ ...... وما یستوی الاعمیٰ والبصیر ولا الظلمت ولا النور

لدھیانہ!

کہاں وہ مہدی آل محمد کہاں آتھم کی آل مرزا
کہاں عیسیٰ مفیض المال والے کہاں ملحف گدا کنگال مرزا
کہاں پاک عیسیٰ علیہ السلام کہاں قادیان قادیانی غلام
مسیح بزرگ آسمانی کہاں مریض ہوس قادیانی کہاں

١٢١

صفحہ ٤٦٨
کہاں پاک مریم کا لخت جگر کہاں بیوہ التقوا کا پسر
کہاں مہدی شرع صاحب لوا کہاں گمراہ آل التقوا
کہاں وہ مسیحا وش کہاں قاعد خانہ بے راہ و روش
کہاں وہ فلک جاہ رفعت مکان کہاں یہ دنی ساکن قادیان
کہاں جس کی منزل منارہ دمشق کہاں وہ جسے گھر کی ظلمت کا عشق
کہاں بندہ و مرسل کردگار کہاں صاحب انانیت مستعار
کہاں وہ جو اوروں کا کھودے مرض کہاں وہ جسے خود ڈبو دے مرض
کہاں زیب بر جس کے مہر و نگین کہاں جس کے چہرے پہ زردی و شین
کہاں وہ عرب جس کا فیاض مال کہاں یہ جو پھیلائے دست سوال
کہاں وہ کہ دنیا سے نفرت جسے کہاں یہ زبوں کردے عشرت جسے
کہاں وہ بنایا نہ تھا جس نے گھر کہاں یہ جو مشغول دیوار و در
کہاں جو مبارک میان بلاد کہاں جس کی مرہون زن جائیداد
کہاں ایسا طاہر لسان وقت سیر کہے خوک تک کو بھی اذہب بخیر
کہاں اس قدر بد زبان بد لگام کہے اہل ایمان کو نسل حرام
ہے اس پر خدا کے غضب کی دلیل کہ بن بیٹھا اس پاک کا یہ مثیل
ارے تو کہاں اور وہ عیسیٰ کہاں چہ نسبت زمیں راست با آسماں
خدا نے کی جو تیری رسی دراز بڑھی اور بے باکی و حرص و آز
فامطر علینا کا یہ شور کیا نہیں یہ پڑھا تو نے اے کور کیا؟
واملی لهم ان کیدی متین یہ ساماں ہے بہر قطع وتین
کہ ہے ڈوبتی بھر کے ظالم کی ناؤ رہے جب نہ کوئی سہارا بچاؤ
ہے عجل لنا قطنا کس لئے خدا نے بہت تجھ سے غارت کئے
برس تجھ کو گزرے ہوئے طاعون سے نہ غافل ہو انجام فرعون سے
تیری عمر ساری ہے اسی ٨٠ برس نہیں عیش میں بھی بڑی دسترس
یہ کیا ہے جو لوگوں کے تو کھائے مال مرض نے ہے تجھ کو کیا پائمال
ذرا رحمت حق کی وہ چال دیکھ خدائی کے دعوے پہ مآل دیکھ

١٢٢

انا ربکم تھی صدا
یہ پیش آئی جب تک سمو
مگر دیکھ آخر ہوا وہ
فقط مدعی نبوت ن
کہیں اس پر تحدیث کا ہ
حقیقت میں دعوائے رسالت
نبی تو ہوں میں لیک م
ہوئے کور و کر گنگ تیرے
جو عیسائی عیسیٰ کو ابنا
بجائے ولد قادیانی
شتر مرغیاں ہیں تیری بے
کبھی تو خدا بنتا ہے ۔
مگر ابن مریم کا خلق
جہاں ساتھ ہے اس کے ا
جہاں دعویٰ ہے وحی وا
میری وحی بھی انبیاء کی
کہ اس میں ذرا دخل شیط
کہ مانند بارش ہے مجھ
بتا اب پیمبر تو کیو
رہی کیا رسولوں سے تجھ
مزیت یہی ہے کہ
ہے رمالیوں نے ڈیا
ملی روسیاہی تجھے
پسر کا تھا اعلان و
پسر پھر جب آیا بڑے
صفحہ ٤٦٩
انا ربکم تھی صدا برملا بہت دیر تک اس کا دعویٰ چلا
یہ پیش آئی جب تک نہ آئی اجل تعیش میں اس کے نہ آیا خلل
مگر دیکھ آخر ہوا وہ ہلاک یہ امہال حق ہے بہت خوف ناک
فقط مدعی نبوت ہے تو نہیں وہ بھی اسلام کے روبرو
کہیں اس پر تحدیث کا ہے غلاف کہیں لفظ جری کی لاف و گزاف
حقیقت میں دعوائے رسالت کا ہے بظاہر طریق استمالت کا ہے
نبی تو ہوں میں لیک گھٹیا نبی یہ کیا چال ہے دین سے اجنبی
ہوئے کور و کر گنگ تیرے مرید کہ لی عقل کی سب نے تجھ سے رسید
جو عیسائی عیسیٰ کو ابن خدا پکاریں تو گمراہ ہیں بے خطا
بجائے ولد قادیانی ہوکر کہیں اس کو قرب خدا بے خطر
شتر مرغیاں ہیں تیری بے حساب کہ شاہد ہے اس پر تری ہر کتاب
کبھی تو خدا بنتا ہے بے سخن ترا کن بھی بالکل خدا کا ہی کن
مگر ابن مریم کا خلق طیور ہے توحید میں موجب صد فتور
جہاں ساتھ ہے اس کے اذن خدا غضب ہے تو اس کو نہیں مانتا
جہاں دعویٰ ہے وحی والہام کا نہیں بولتا ہچکچاتا ذرا
میری وحی بھی انبیاء کی ہے وحی مجھے پاک اللہ نے دی ہے وحی
کہ اس میں ذرا دخل شیطان نہیں پھر اس وحی کی حد و پایاں نہیں
کہ مانند بارش ہے مجھ پر نزول ترے منہ میں او مفتری خاک دھول
بتا اب پیمبر تو کیونکر نہیں یہ سب جھوٹ ہے ”میں پیمبر نہیں“
رہی کیا رسولوں سے تجھ میں کمی وہ کہتے تھے ہم بھی ہیں اک آدمی
مزیت یہی ہے کہ یوحی الی بتا گر سوا اس کے کچھ اور ہے
بد اعمالیوں نے ڈبویا تجھے ارے دین دنیا سے کھویا تجھے
ملی روسیاہی تجھے بار بار مگر باز آیا نہ تو زینہار
پسر کا تھا اعلان دختر ہوئی وہ دختر بھی آخر نہ جان بر ہوئی
پسر پھر جب آیا بڑے زور سے تو پنجاب کو بھر دیا شور سے

١٢٣

صفحہ ٤٧٠
کہ دیکھو وہ موجود ہے یہ پسر تھے ہم دے چکے جس کی پہلے خبر
عقیقے پہ اس کے ہوئی دھام دھام ہوا قادیان میں بڑا اژدہام
چہک کر بھی بلبل نے دیکھا نہ باغ ہو ایک ہی سال میں گل چراغ
وہ منحوس جو نام کا تھا بشیر ہوا جدا کنج لحد میں اسیر
تو دجال نے اور اک چال کی جڑی اس پہ تاریخ نو سال کی
یہ مرنے ہی والا تھا جو مر گیا جو ہے رہنے والا وہ پھر آئے گا
بجائے نو٩ گزرے اب ١٢ برس کہ چپ ہیں مسیحائے کاذب نفس
پسر گو ہیں دو چار موجود اب ولیکن ہے دل میں یہ دھڑکا غضب
وہ موجود ان میں کہوں اب کسے مبادا وہی کل کو پھر چل بسے
سوا سال میں پھر نہ آتھم ہوا نہ کچھ جانب حق وہ مائل ہوا
تجھے لعنت و روسیاہی ملی کہ ہر چار سو سے گواہی ملی
یہ ہے عبدحق غزنوی کی دعا کا اثر ارے کاذب قادیان ڈوب مر
کیا واسطے جس کے بیٹوں کو عاق زن صاحب اولاد کو دی طلاق
وہ عورت بھی مرزا نہ تجھ کو ملی ملا خاک میں مدعائے دلی
کیا جس کا ملہم نے تجھ سے نکاح وہ برسوں سے سلطان کو ہے مباح
مرید ہے یہ بھی کرامت کوئی مسیح زمان کی علامت کوئی
فاف لکم ثم اف لکم ہوئے شرم وغیرت سے بیگانہ تم
ارے قادیانی یہ کیا بات ہے عجب شرم والی تری ذات ہے
ترے منہ میں دے برملا خاک وہ کہے تو نہیں شوخ وبے باک وہ
اسے اپنے گھر میں تو دلشاد دیکھ اسے دیکھ اور اس کی اولاد دیکھ
مرے قول میں گر تو سمجھے قصور کمر باندھ پٹی نہیں ایسی دور
میرے ساتھ چل سب دکھا دوں تجھے جو سننے کی ہو وہ سنا دوں تجھے
اگر دل میں کچھ تجھ سے ڈرتا ہے وہ تو کیوں ایسی شوخیاں کرتا ہے وہ
جو تو اس کو شوخی سمجھتا نہیں تیری سادہ لوحی پہ صد آفرین
وہ جعفر کو تیرہ مہینوں کا ڈر شغالانہ بھپکی تھی اک سر بسر

١٢٤

کیا گزرا نصف مہ جنوری ١٩٠٠ء
نہ پہنچی اسے کوئی ذلت نہ رنج
وہ پہلے سے ہے اور آسودہ حال
بہ فضل خدائے حمید ومجید
خدا نے کیا ان کو خوش کام وشاد
ترے باپ دادا زمیندار تھے
طفیل ان کے تو آج حارث بنا
محمد حسین اب زمیندار ہیں
انہیں یہ حراثت ہے ذلت مگر
ہوا اہل عزت میں ان کا شمار
کہاں تک گنوں تیرے الہام میں
گیا ضلع کی تو کچہری میں جب
یہ ثابت ہوا ہے تو جھوٹا نبی
ہوئی بولتی بند الہام سے
وہاں تو نے تحریر دی اے اشر
مکدر کہے کشف عیسیٰ کو تو
غضب ہے مکدر ہو کشف مسیح
مسلمان تو کہلائے او بے حیا
نہ سمجھے نہ سمجھایا الہام کو
نہ عیسیٰ کو سمجھے نہ دجال کو
مگر تجھ پر سب منکشف ہوگیا
اگر یوں ہی اصرار تیرا رہا
عذاب آئے تجھ پر تعجب نہیں
اگر دارودنیا میں امہال ہے
قیامت کی پیشی ہے بس پر خطر
جو حق پر کیا کرتے ہیں افتراء
صفحہ ٤٧١
کیا گزرا نصف مہ جنوری ١٩٠٠ء ملی خاک میں تری افسون گری
نہ پہنچی اسے کوئی ذلت نہ رنج تیرے منہ میں خاشاک اے باد سنج
وہ پہلے سے ہے اب آسودہ حال پڑے تجھ پہ الٹے بہت سے وبال
بہ فضل خدائے حمید ومجید ہے سرکار میں عزت بو سعید
خدا نے کیا ان کو خوش کام وشاد مربع ملے چار حسب مراد
ترے باپ دادا زمیندار تھے بڑے خیر خواہاں سرکار تھے
طفیل ان کے تو آج وارث بنا ہوئی تیرے حق میں یہ مدح وثناء
محمد حسین اب زمیندار ہیں کھٹکتے تیری آنکھ میں خار ہیں
تمہیں یہ شرافت ہے ذلت مگر ارے شرم کر شرم کر شرم کر
ہوا اہل عزت میں ان کا شمار جزا کیسی اور ارے جھک نہ مار
کہاں تک گنوں تیرے الہام میں کہ سرتا بپا افترا کذب ہیں
گیا ضلع کی تو کچہری میں جب ہوا تجھ پر نازل خدا کا غضب
یہ ثابت ہوا ہے تو جھوٹا نبی تیرے ہی قلم سے تیری رگ کٹی
ہوئی بولتی بند الہام سے تو مستعفی اپنے ہوا کام سے
وہاں تو نے تحریر دی اے اشر کہ اب ایسے الہام ہوں گے نہ پھر
مکدر کہے کشف عیسیٰ کو تو تیرے منہ میں آتا ہے اے کذب گو
غضب ہے مکدر ہو کشف مسیح تیرا کشف ہو لیک صاف وصریح
مسلمان تو کہلائے او بے حیا لکھے یوں کہ وہ خاتم الانبیاء
نہ سمجھے نہ سمجھایا الہام کو نبی آئے تھے اور کس کام کو
نہ عیسیٰ کو سمجھے نہ دجال کو نہ اس کے گدھے ریل کی چال کو
مگر تجھ پر سب منکشف ہوگیا ارے کچھ تو کر دل میں شرم و حیا
اگر یوں ہی اصرار تیرا رہا رسالت کا ایسا ہی دعویٰ رہا
عذاب آئے تجھ پر تعجب نہیں اس زندگانی میں اک دن یہیں
اگر دار دنیا میں امہال ہے تو پھر آخرت میں برا حال ہے
قیامت کی پیشی ہے بس پر خطر وہ ساعت ہلاکی ہے او جاہل و ابتر

١٢٥

صفحہ ٤٧٣
یہ دنیا کی ہیں کیا سیہ روئیاں سیہ روئی ہوگی غضب کی وہاں
جہنم میں آخر ٹھکانا ملے صدید اور زقوم کھانا ملے
عذاب آئیں جب پے بہ پے جاں گزا بروزی رسالت چکھائے مزا
دبا سکتے ہیں کب یہ چیلے مرید جہنم کا وہ جوش ہل من مزید
در توبہ وا ہے جو توبہ کرے اور آئندہ ان شوخیوں سے ڈرے
تو میرا خدا ہے غفور رحیم مجھے اب بچا لے عذاب جحیم
الٰہی ہمیں بخش دے بخش دے ترے بندے بیچارے ہیں غمزدے
تیرے بندے ہیں گو گنہگار ہیں تیرے فضل و رحمت کے حق دار ہیں
بدی سے میری درگزر کی جیو تو رحمت سے اپنی نظر کی جیو
گناہوں سے شرمندہ ہوں خوش نہیں گنہگار ہوں لیکن سرکش نہیں
میں کیسا ہی ہوں پر ہوں بندہ تیرا تیرا ہی فقط رکھتا ہوں آسرا
میرا تو ہی دارین میں ہو کفیل ہو تو جس کا مولیٰ فنعم الوکیل
چھپی تجھ سے خالق نہیں کوئی شے تجھے خفیہ و جہر معلوم ہے
تو سینوں کی باتوں کو ہے جانتا تجھے خوب ہر چیز کا ہے پتا
کہیں تیرے حق میں جو مشرک صفات بلند اے عزیز ان سے ہے تیری ذات
تیرے واسطے خاص حمد و سجود تیرے انبیاء پر سلام و درود

٥...... مادہ تاریخ

مرزاغلام احمد قادیانی نے اپنے (ازالہ اوہام صفحہ ١٨٥، خزائن ج ٣ ص ١٨٩) پر ایک لطیفہ میں لکھا ہے کہ: ”مجھے کشفی طور پر مندرجہ ذیل نام کے اعداد کی طرف توجہ دلائی گئی کہ دیکھ یہی مسیح ہے جو تیرہویں صدی کے پورا ہونے پر ظاہر ہونے والا تھا۔ پہلے سے یہی تاریخ ہم نے نام میں مقرر کر رکھی تھی اور وہ یہ نام ہے ”غلام احمد قادیانی“ اس نام کے عدد پورے ١٣٠٠ ہیں۔“

افسوس ہے کہ قادیانی کو یہ کشف بھی کیسا مہمل ہوا جس سے کچھ بھی ظاہر نہ ہوا کہ غلام احمد قادیانی ہے کیا (یعنی اس سے مسیح یا مہدی یا بروزی نبی ہونا کہاں نکلا؟) بغیر ذراسی توجہ کے یوں جملہ پورا ہوتا ہے یعنی ”غلام قادیانی دجال ہے“ مرزا اب غلام احمد تو رہا نہیں جن معنوں میں ماں باپ نے اس کا نام رکھا تھا کیونکہ جب اس نے خود ہی آقا بننا چاہا جس کا یہ غلام تھا تو آقا نے خود اسے مردود بارگاہ کر دیا تو اب غلام محض رہ گیا۔ یعنی اپنے نفس کا غلام ۔ اس لئے غلام قادیانی دجال ١٢٦

ہے بہت صحیح حسب حال مادہ تاریخ حاصل ہو گیا جس کا اب آخر مرزا نے بھی اپنے آپ کو رسول اور نبی ٹھہرا کر یـ ہی دجال ہونے کا اقرار کر لیا۔ ”فنعم الوفاق“ اور یہ کسی پر صادق نہیں آسکتا۔

تعارف مضامین ...... ضـ

سال ١٩٠٣ء یکم مئی کے شمارہ

١ ...... لعنتی

مولانا شوکت اللہ مرزا قادیانی الحکم میں کہتے ہیں کہ رزق کی لوگ صبح سے شام تک ٹوکری ڈھوتے ہیں اور برے حال ہیں مگر یہ لعنتی رزق ہے نہ کہ ’من حیث لا یحتسب مزدوری اور کسب حلال کو یہ مکار لعنتی رزق بتا رہا ہے۔ اکثر صلحاء اور اولیاء مزدور تھے اور بقدر سد رمق تھوڑی سی اکل حلال کو سلطنت سمجھتے تھے۔ وہ شکم سیر روٹی خود نہ کھـ کماتے تھے۔ ”الکاسب حبیب اللہ (الحدیث)“ وہ فطرت الٰہی کا جرم ہے۔ جن اصحاب کی نسبت آنحضرت خدا کی راہ میں دینا بھی کوہ احد کے برابر ہے۔ کیا وہ غیـ کروڑوں مسلمان جو مفلوک الحال اور مزدوری پیشہ ہیں صرف متمول مسلمان ہیں جو عیش و عشرت میں بسر کر ۔ مرزا قادیانی ان لوگوں کو مرزائی نہیں بناتے جو مزدور قربانی چاہتے ہیں اور ان سے اپنا پیٹ بھرتے ہیں۔ اسلام سب سے پہلے غریب مزدوروں، چر ١٢٧

صفحہ ٤٧٣

ہے، بہت صحیح حسب حال مادہ تاریخ حاصل ہو گیا جس کا مضمون علمائے اسلام نے تصدیق کر دیا اور اب آخر مرزا نے بھی اپنے آپ کو رسول اور نبی ٹھہرا کر حسب منشائے حدیث خاتم النبیین ﷺ خود ہی دجال ہونے کا اقرار کر لیا۔ ”فنعم الوفاق “ اور یہ ایسا جملہ ہے کہ اس زمانے میں بجز مرزا کے کسی پر صادق نہیں آسکتا۔

(راقم وہی بندہ از لدھیانہ)

تعارف مضامین ...... ضمیمہ شحنہ ہند میرٹھ

سال ١٩٠٣ء یکم مئی کے شمارہ نمبر ١٧ کے مضامین

١ ...... لعنتی رزق

مولانا شوکت اللہ میرٹھی !

مرزا قادیانی الحکم میں کہتے ہیں کہ رزق کئی طرح کا ہوتا ہے یہ بھی رزق ہے کہ بعض لوگ صبح سے شام تک نوکری ڈھونڈتے ہیں اور برے حال سے شام کو دو تین آنے ان کے ہاتھ آتے ہیں مگر یہ لعنتی رزق ہے نہ کہ ”من حیث لا یحتسب “ اس عیش پرستی اور دنیا پرستی کو دیکھئے کہ مزدوری اور کسب حلال کو یہ مکار لعنتی رزق بتا رہا ہے۔ آنحضرت ﷺ کے بیشتر صحابہ مزدور تھے۔ اکثر صلحاء اور اولیاء مزدور تھے اور بقدر سد رمق تھوڑی سی مزدوری کر لیتے تھے۔ اور اس تھوڑے سے اکل حلال کو سلطنت سمجھتے تھے۔ وہ شکم سیر روٹی خود نہ کھاتے تھے اور نفس کو پھاڑنے والا بھیڑیا نہ بناتے تھے۔ ”الكاسب حبیب الله (الحديث)“ مگر مرزا کے نزدیک ٹوکری ڈھونا گویا قدرت و فطرت الٰہی کا جرم ہے۔ جن اصحاب کی نسبت آنحضرت ﷺ نے یہ ارشاد فرمایا کہ ان کا ایک پیسہ خدا کی راہ میں دینا بھی کوہ احد کے برابر ہے۔ کیا وہ غریب مزدوری پیشہ کاسب حلال نہ تھے۔ کیا کروڑوں مسلمان جو مفلوک الحال اور مزدوری پیشہ ہیں وہ یا ان کا رزق لعنتی ہے۔ کیا قابل رحمت صرف متمول مسلمان ہیں جو عیش وعشرت میں بسر کرتے ہیں۔ اس سے صاف ثابت ہوتا ہے کہ مرزا قادیانی ان لوگوں کو مرزائی نہیں بناتے جو مزدور اور غریب ہیں بلکہ موٹے موٹے دنبوں کی قربانی چاہتے ہیں اور ان سے اپنا پیٹ بھرتے ہیں۔

اسلام سب سے پہلے غریب مزدوروں، چرواہوں، کسانوں، شتر بانوں میں پھیلا ہے

١٢٧

صفحہ ٤٧٥

اور ہر نبی کی امت میں سب سے پہلے مزدوری پیشہ غرباء ہی داخل ہوئے ہیں۔ ورنہ کسی نبی کا دین اور خود اسلام ہرگز مشرق سے غرب تک نہ پھیلتا کیونکہ فی ہزار غریب غالباً ایک متمول نکلے گا۔ دنیا غریب مزدوروں ہی سے آباد ہے۔ مال و دولت والے بہت قلیل ہیں چونکہ تمام مزدور مرزا قادیانی کے نزدیک ملعون ہیں۔ لہٰذا ان کا قابو چلے تو سب کو پھانسی دلوا دیں کیونکہ وہ مرزا قادیانی کی زنبیل نہیں بھر سکتے۔

غالباً قادیان میں ٹوکری ڈھونے والے مزدور نہ ہوں گے تو ہم حیران ہیں کہ جعلی مسیح کا منارہ جو الحاد کا ٹھا کر دوارہ ہے کیونکر تعمیر ہو گا؟ جس کی بدولت ہزاروں روپے مرزا قادیانی کے پیٹ میں اتریں گے اور جن سے ان کی توند پھول کر بے ایمانی کی قبر بن جائے گی۔

پنجاب کے کمشنر مردم شماری نے جو اپنی رپورٹ میں لکھا تھا کہ مرزا قادیانی کی بعثت کا پہلا فرض بھنگیوں کو اپنی امت میں داخل کرنا ہے تو مرزا قادیانی نے اس سے گھناؤنی صورت بنائی تھی اور کمشنر مردم شماری کے اس نوٹ کو اپنے حق میں لائبل سمجھا تھا اور گورنمنٹ میں عرضداشت بھیجی تھی کہ حلال خوروں کو اپنی امت میں شامل کرنے والا میں نہیں بلکہ میرا بھائی امام الدین تھا۔ اب صاف طور پر کھل گیا کہ حلال خور جو بول و براز کھاتے ہیں چونکہ غریب ہیں لہٰذا مرزا قادیانی کے کماؤ پوت نہیں بن سکتے۔

خود مرزا قادیانی ایمان سے کہیں کیا پنجاب میں مسلمان حلال خور نہیں ہیں جن کے جنازے کی نماز اسلامی طور پر پڑھی جاتی ہے جن کی فاتحہ درود مسلمان ملانے پڑھتے ہیں۔ پنجاب کے حلال خور کثرت سے مسلمان ہیں اور مصلی کے نام سے مشہور ہیں۔ اکثر کشمیری مسلمان حلال خوروں کا کام کرتے ہیں۔ میلا اٹھاتے ہیں اور خود کشمیر میں میلا ڈھونے والے عموماً کشمیری مسلمان ہیں اور مسلمان نہ بھی سہی لیکن اگر کوئی حلال خور بطیب خاطر مسلمان ہونا چاہے تو کیا اسلام یہ حکم دیتا ہے کہ تم اس کو مسلمان نہ کرو۔ چونکہ مرزا قادیانی مکر وفریب سے متمول لوگوں کی گاڑھی کمائی چٹ کر رہے ہیں اور حرام خوری ان کے رگ وپے میں خون کی طرح دوڑ گئی ہے۔ لہٰذا وہ غریب اور مفلس حلال خوروں کو کیوں پسند کرنے لگے؟ رزاقِ خدائے تعالیٰ کی صفت ہے اور قرآن مجید میں ہے : ’’ان اللہ ھو الرزاق ذو القوۃ المتین‘‘

پس رزق کو ملعون کہنا ملعونوں ہی کا کام ہے۔ کتا، سور اور خون وغیرہ حرام ہیں مگر وہ دوسرے درندوں کا رزق ہیں۔ پس ملعون نہیں ہاں شریعت اسلامی نے جن چیزوں کے استعمال کی ممانعت کر دی ہے۔ ان سے محترز رہنا ہمارا فرض ہے ۔مگر چونکہ سب مرزوق چیزیں خدا کی پیدا کی

١٢٨

ہوئی ہیں۔ لہٰذا وہ ملعون نہیں ہاں ان کا استعمال ا ہیں اور حرمت کے لئے کوئی نہ کوئی علت ضرور ہے ہو سکتی۔ لہٰذا ہم کو ممانعت کر دی گئی خود اصول کا یہ قا الاباحتہ “ یعنی اصل ہر شے کی مباح ہونا ہے ا اپنے کو حلال خوروں کا گرو نہیں بتایا اور امام الدی کس علت سے ان میں اس طرح گھل گیا جیسے کیوں نکل بھاگے جیسے گوہ سے کیڑا کسی ایک بات

٢ ...... قلعہ صوبا سنگھ گوجر

مابین اہل السنت والجماعت

٩ / مارچ ١٩٠٣ء یوم سوموار کو جناب غلام رسول صاحب مرحوم ساکن قلعہ میہان سنگھ پ سے آشنا تھا۔ مگر گفتگو ہونے پر معلوم ہوا کہ آپ مرزائی ہوں۔ وہاں پہنچوں اور ان کو مرزائی عقا قادیانی کی نسبت پکار کر فرما رہے تھے کہ وہ کافر مرزائی مرزا قادیانی کی تقلید کر کے خارج از اسلا صاحب زمیندار مرزائی آگئے اور مولوی صاحب ہوں تو نہایت انسب ہے۔ مولوی فضل کریم صا نسبت تسلی واطمینان دیتے ہیں۔ آپ اگر مولوی گفتگو کریں تو ہم لوگوں کو حق و باطل میں تمیز ہو جا تمہارا مولوی فضل کریم موضع گھمن میں ہم سے ہمارے مقابلہ پر نہ آئے گا اور اگر شاید آپ کے الغرض چودھری صاحب کے سوال پر مولوی صا میری تاریخ مباحثہ مرزائیوں سے مقرر ہے۔ صاحب سیالکوٹی مرزائی کو میرے مقابلے کے لی لیکن اگر آپ کا مولوی مرزائی کچھ تاب مقابلہ رک مولوی صاحب موصوف ٹھہر گئے ۔ مرزائیوں نے

٩

صفحہ ٤٧٥

ہوئی ہیں۔ لہٰذا وہ ملعون نہیں ہاں ان کا استعمال انسان کے مناسب حال نہیں یعنی ان میں مضرتیں ہیں اور حرمت کے لئے کوئی نہ کوئی علت ضرور ہے جب تک وہ علت موجود نہ ہو کوئی شے حرام نہیں ہوسکتی۔ لہٰذا ہم کو ممانعت کر دی گئی خود اصول کا یہ قاعدہ ہے کہ: ”الاصل فی الاشیاء الاباحۃ“ یعنی اصل ہر شے کی مباح ہونا ہے۔ مرزا قادیانی بتائیں کہ کس علت سے انہوں نے اپنے کو حلال خوروں کا گرو نہیں بتایا اور امام الدین جو آپ کا حقیقی بھائی تھا وہ بھنگیوں کا گرو بن کر کس علت سے ان میں اس طرح گھل گیا جیسے پیشاب میں پاخانہ اور آپ ان سے اس طرح کیوں نکل بھاگے جیسے گوہ سے کیڑا کسی ایک بات کا جواب تو دیجئے۔

٢...... قلعہ صوبا سنگھ تحصیل پسرور میں مباحثہ

مابین اہل السنّت والجماعت ومرزائیان

٩؍مارچ ١٩٠٣ء یوم سوموار کو جناب مولوی شاہ محمد صاحب اہلحدیث برادرزادہ مولوی غلام رسول صاحب مرحوم ساکن قلعہ مہیاں سنگھ یہاں تشریف لائے۔ اس سے پہلے کوئی شخص ان سے آشنا نہ تھا۔ مگر گفتگو ہونے پر معلوم ہوا کہ آپ نے اپنا وجود باجود اس لئے وقف کر دیا کہ جہاں مرزائی ہوں۔ وہاں پہنچوں اور ان کو مرزائی عقائد سے روکوں۔ مولوی صاحب موصوف مرزا قادیانی کی نسبت پکار کر فرما رہے تھے کہ وہ کاذب ہے، مرتد ہے، ملحد ہے اور تمام پیرو یعنی جملہ مرزائی مرزا قادیانی کی تقلید کر کے خارج از اسلام اور ملحد و مرتد ہوگئے۔ یکا یک چودھری پیر محمد صاحب زمیندار مرزائی آگئے اور مولوی صاحب سے عرض کی کہ اگر آپ آج رات اقامت گزین ہوں تو نہایت انسب ہے۔ مولوی فضل کریم صاحب مرزائی ہم کو جناب مرزا قادیانی کی تقلید کی نسبت تسلی واطمینان دیتے ہیں۔ آپ اگر مولوی فضل کریم صاحب (مرزائی) کے ساتھ بالمقابل گفتگو کریں تو ہم لوگوں کو حق و باطل میں تمیز ہو جاوے۔ مولوی صاحب موصوف نے جواب دیا کہ تمہارا مولوی فضل کریم موضع گھمن میں ہم سے شکست کھا چکا ہے۔ اب وہ ہمارے سامنے اور ہمارے مقابلہ پر نہ آئے گا اور اگر شاید آپ کے مجبور کرنے سے آیا بھی تو عہدہ برآ نہ ہوسکے گا۔ الغرض چودھری صاحب کے سوال پر مولوی صاحب نے فرمایا کہ ٣؍چیت کو موضع گوجھک میں میری تاریخ مباحثہ مرزائیوں سے مقرر ہے۔ اور وہاں کے مرزائیوں نے مولوی مبارک علی صاحب سیالکوٹی مرزائی کو میرے مقابلے کے واسطے طلب کیا ہے۔ مجھے وہاں جانا ضرور ہے۔ لیکن اگر آپ کا مولوی مرزائی کچھ تاب مقابلہ رکھتا ہے تو میں آج رات یہاں ٹھہرتا ہوں۔ چنانچہ مولوی صاحب موصوف ٹھہر گئے۔ مرزائیوں نے اپنے مولوی فضل کریم سے جا کر کہا تو وہ ہوش

١٢٩

صفحہ ٤٧٦

باختہ ہو گئے۔ کہ آگے ہی اس بلا سے خدا خدا کر کے خلاصی ملی تھی۔ اب پھر یہ حریف مقابلے پر آ ڈٹا ہے۔ اس نے اپنے مریدوں کو جمع کیا اور ممتاز مرید چوہدری شہاب الدین صاحب سفید پوش مالوکے کو مولوی صاحب موصوف کے پاس بھیجا کہ اس طرح مقابلہ کر سکتے ہیں کہ دونوں مولوی صاحبان مسجد کے اندر ہیں اور باہر قفل لگایا جائے تو جو صاحب شکست کھا جائیں وہ لکھ دیں کہ ہم غلطی پر تھے۔

مولوی صاحب موصوف نے بتکرار تمام یہ بات بھی تسلیم کر لی مگر یہ کہا کہ مولوی فضل کریم کو کسی طرح میرے سامنے تو پیش کرو۔ میں انشاء اللہ نصف گھنٹہ میں فیصلہ کر دوں گا۔ اس کے بعد مولوی فضل کریم ایک گاؤں موضع داتا زید کا میں جو یہاں سے ایک میل کے فاصلے پر ہے۔ اور وہاں ان کے لائق وفائق اقوام جٹ مرید تھے، چلے گئے۔ عوام میں چرچا ہو گیا کہ مولوی فضل کریم بھاگ نکلے۔ ١٠ مارچ کو مولوی صاحب موصوف نے چودھری پیر محمد کو کہا کہ آپ کے مولوی صاحب کہاں گئے؟ چودھری صاحب نے کہا کہ ہمارے مولوی نظر چراتے معلوم ہوتے ہیں مگر بات یہ ہے۔ کہ آپ آج ایک بجے تک ضرور ٹھہریں۔ اگر ایک بجے تک ہمارے مولوی نہ آئے تو آپ سچے اور ہم جھوٹے۔ عین ایک بجے تک مولوی فضل کریم بصد دقت موضع داتا زید کا سے بتقاضائے اپنے پیروؤں کے یہاں پہنچے اور چاروناچار مباحثہ کی ٹھہر گئی اور لوگ جوق در جوق گردو نواح سے پہنچ گئے۔ مولوی فضل کریم کو طوعاً و کرہاً مقابلہ کے لئے پیش ہونا پڑا۔ اگر مقابلہ نہ کریں تو بے علمی ثابت ہو اور جملہ مرید بے اعتقاد ہو کر متنفر ہو جائیں۔ اور اگر مقابلے کے لئے عامہ خلائق میں پیش ہو کر ساکت ہو جائیں تو مصیبت علی المصیبت ہے۔ ہر دو حالت میں تذبذب اور تشتت خاطر کچھ نہ کرنے دیتی تھی مگر مریدوں نے سہارا دیا اور کہا کہ کچھ فکر نہ کرو ہم آپ کے ساتھ ہیں۔ الغرض مریدوں کے سہارے پر مولوی فضل کریم نے بدل نا شاد ہاں کی۔

مولوی شاہ محمد صاحب مسجد اہل سنت والجماعت میں جہاں حافظ غضنفر علی صاحب حنفی امام مسجد ہیں، تشریف فرما تھے۔ گھڑی ان کے پاس تھی۔ ایک بجنے پر انہوں نے کہا کہ اب وقت ہو چکا۔ اتنے میں ادھر سے ایک آدمی آیا کہ آپ تیار ہو جائیں۔ ہم آتے ہیں مولوی شاہ محمد صاحب نے کہا، کہ ہم تو بالکل تیار بیٹھے ہیں۔ وہ آجاویں چونکہ ایک بج چکا تھا۔ تمام مسلمانوں کی یہ رائے ہوئی کہ نماز ظہر پہلے ادا کی جائے۔ چنانچہ پہلے نماز ظہر ادا کی گئی۔ اور بعد ادائے نماز ظہر چودھری پیر محمد صاحب آئے کہ مولوی شاہ محمد صاحب ہماری ( قادیانی عبادت گاہ ) میں تشریف لے چلیں۔ مولوی صاحب موصوف نے کہا کہ چلو جہاں کہتے ہو چلتے ہیں۔ مولوی شاہ محمد صاحب

١٣٠

صفحہ ٤٧٧

مرزائیوں کی عبادت گاہ میں جا کر صحن میں صف پر بیٹھ گئے لیکن مولوی فضل کریم مرزائی اندرون سے باہر نہ نکلتے تھے اور مرزائیوں نے بھی بڑی تائید کی کہ مولوی فضل کریم اندرون عبادت گاہ رہیں گے مگر جملہ کافہ مسلمین نے ہرگز ہرگز نہ مانا۔ اخیر مرزائیوں نے کہا کہ ہمارے مولوی فضل کریم عبادت گاہ کے دروازہ کے اندر اور مولوی شاہ محمد صاحب دہلیز دروازہ کے باہر بیٹھ جائیں۔ جس پر قہقہہ اڑا اور مسلمانوں نے کہا یہ کیا معاملہ ہے؟ آپ کے مولوی جی کو کوئی کچھ نہیں کہتا۔ باہر صحن میں تشریف لائیں اور بحث شروع کریں تا کہ تمام لوگ دونوں مولویوں کی تقریریں سن سکیں۔ چنانچہ مرزائیوں کو مجبوری سے یہ امر تسلیم کرنا پڑا اور چاروناچار مولوی فضل کریم عبادت گاہ کے اندر سے نکل کر مولوی شاہ محمد صاحب کے بالمقابل بیٹھ گئے۔ اس وقت مولوی فضل کریم کی حالت بڑی نازک تھی۔ ان کے چہرے اور گفتگو سے معلوم ہوتا تھا کہ ہاتھ پاؤں جکڑ کر کیوں مقابلے کے لئے پیش کیا گیا ہے۔ مگر آپ زبان حال سے دل میں فرماتے تھے کہ: ”ان ھذا لیوم عسر“ آخر الامر مولوی فضل کریم نے بڑے جوش کے ساتھ کہا کہ حیات و ممات حضرت مسیح علیہ السلام پر گفتگو ہوگی۔ اور میں تمام دلائل بابت ممات مسیح علیہ السلام پہلے سنادوں گا۔ پھر مولوی شاہ محمد صاحب ان کی تردید کریں۔ مولوی شاہ محمد صاحب نے کھڑے ہو کر کہا کہ مباحثہ کا یہ طریقہ نہیں۔ اس کے جواب میں مولوی فضل کریم نے کہا کہ اچھا میں پہلے کھڑا ہو کر ایک دلیل بابت ممات حضرت مسیح علیہ السلام پیش کروں گا پھر بیٹھ جاؤں گا اور آپ کھڑے ہو کر اس کی تردید کریں۔ مولوی شاہ محمد صاحب نے کہا کہ یہ منظور ہے۔ پس مولوی فضل کریم نے کھڑے ہو کر قرآن شریف سے سورہ مائدہ کا اخیر رکوع ”واذقال اللہ یا عیسیٰ ابن مریم ءانت قلت للناس الیٰ فلما توفیتنی کنت انت الرقیب علیہم وانت علیٰ کل شیء شہید (مائدہ: ١١٦، ١١٧)“ بآواز بلند پڑھا اور ”فلما توفیتنی“ کے معنی حدیث کہا ”قال عبدالصالح، فلما توفیتنی کنت انت الرقیب علیہم“ سے مطابق کر کے حضرت مسیح کی وفات ثابت کی۔ اور مشکوٰۃ شریف سے یہ تمام حدیث باترجمہ پڑھی اور کہا کہ چونکہ قال کا لفظ صیغہ ماضی ہے لہٰذا ”فلما توفیتنی“ سے مطابق حدیث گزشتہ زمانہ میں موت مسیح علیہ السلام ثابت متحقق ہوتی ہے۔ اس کے بعد مولوی فضل کریم بیٹھ گئے۔ اور مولوی شاہ محمد صاحب تردید کے لئے کھڑے ہو گئے۔ چونکہ مولوی شاہ محمد صاحب مسافر آدمی تھے اور ان کے پاس کوئی کتاب موجود نہ تھی۔ لہٰذا انہوں نے مولوی فضل کریم کو فرمایا کہ آپ مشکوٰۃ شریف مجھے دیویں مگر افسوس کہ مولوی فضل کریم نے مشکوٰۃ نہ دی اور کہا کہ اپنا اپنا ہونا چاہئے۔ مولوی شاہ محمد صاحب نے فرمایا کہ مجھے ١٣١

صفحہ ٤٧٨

پروانہ نہیں آپ جو کچھ فرماتے گئے ہیں میں دل میں نوٹ کرتا گیا ہوں۔ چنانچہ مولوی شاہ محمد نے بآواز بلند فرمایا کہ مولوی فضل کریم نے جو ترجمہ کیا، یہ غلط ہے اور اس سے وفات مسیح ثابت نہیں ہوتی۔ کیونکہ یہ سوال قیامت کو ہوگا۔ مولوی شاہ محمد صاحب کی ذہانت اور علمیت کا ذکر کیا کیا جاوے۔ باوجود مشکوٰۃ پاس نہ ہونے کے تمام حدیث اول سے اخیر تک حرفاً بحرفاً لفظاً بلفظاً پڑھ کر اور ترجمہ فرما کر سنادی اور فرمایا کہ یہ قصہ روز جزا کو ہوگا۔ مولوی فضل کریم کا ترجمہ بالکل غلط ہے۔ اس کے بعد مولوی فضل کریم پھر کھڑا ہوا اور اس پر زور دیا کہ قال کا لفظ صیغہ ماضی ہے اور یہ سوال برزخ میں ہوا ہے اور پھر آیت قرآن شریف ”قد خلت من قبلہ الرسل“ پڑھی اور بیٹھ گئے اور پھر مولوی شاہ محمد صاحب کھڑے ہوئے اور فرمایا کہ اگر برزخ میں یہ سوال ہو چکا ہے تو مولوی فضل کریم کوئی شاہد پیش کریں۔ کسی امام کا قول کسی صحابی کا قول کسی مجتہد کا قول ۔ یا میں شاہد پیش کرتا ہوں۔ کہ یہ سوال قیامت کو ہوگا اور اس حدیث اور آیت سے ہرگز حضرت عیسیٰ کی ممات ثابت نہیں ہوتی۔ مولوی فضل کریم اس امر کے جواب سے تہی دست نکلے۔

اور بموجب ”آنکہ چون بدلیل از خصم فروماند سلسلہ خصومت جنبانند“ پر عمل کیا اور مولوی صاحب کو کہا کہ آپ بڑے چالاک ہیں، چالباز ہیں اور روپیہ پیسہ جمع کرنے کے لئے ایسے مولوی لوگ آ جاتے ہیں اور لوگوں کو گمراہ کرتے ہیں۔ ایسے ہی بڑے غیظ وغضب سے الفاظ ناشائستہ زبان مبارک سے نکالے۔ جس پر چودھری نواب خان صاحب اہلحدیث ساکن مالو کے نے چودھری ............ پھر چودھری کرم الٰہی صاحب اہلحدیث ساکن قلعہ سوباسنگھ نے مولوی فضل کریم کو بڑے جوش سے کہا یہ کیا قاعدہ ہے کہ آپ مولوی شاہ محمد صاحب کو کلمات ناشائستہ کہتے ہیں۔ اگر آپ کی لیاقت یہی تھی تو بحث کی کیا ضرورت تھی۔ مولوی شاہ محمد صاحب نے فرمایا کہ ذرا تھوڑے عرصہ کے لئے ٹھہر جائیں اور میں انشاء اللہ بابت حیات مسیح میں سے دلائل بیان کئے دیتا ہوں صرف میرا اب کی دفعہ جواب سن لینا مگر مولوی فضل کریم کو یہ موقعہ شور و غل کا مل چکا تھا آپ جلدی سے کتابیں لے کر عبادت گاہ کے اندر چلے گئے۔ جان بچی لاکھوں پائے۔ مولوی فضل کریم کے لب مبارک گفتگو کے وقت خشک تھے۔ چنانچہ نصف گھنٹے میں دو دفعہ پانی پینا پڑا اور مولوی شاہ محمد صاحب برابر للکارتے رہے کہ اگر مرد میدان ہو تو باہر نکلو مگر مرزائی اور ان کا مولوی کہاں سامنے آ سکتا تھا۔

اس کے بعد تین دن برابر مولوی شاہ محمد صاحب یہاں رہے اور اپنے وعظ سے تمام مسلمانوں کو محظوظ کیا اور مرزائیوں کی نسبت وعظ میں فرمایا کہ مسلمانوں کو چاہئے کہ مرزائیوں کے

١٣٢

٤٧٩

ساتھ میل وملاپ اور حقہ پانی وغیرہ تک بالکل تر رسالہ دافع البلاء سے جو ان کے پاس موجود تھا م مولوی فضل کریم کو برابر تین دن دعوت دیتے ر گا۔ اگر مولوی فضل کریم میرے مقابلے پر آ مگر مرزائیوں کی طرف سے صدائے برخاست ب رخصت ہوئے۔ العبد نواب خان حصہ دار مالو کے العبد: نواب خان بقلم خود ساکن مالو کے کی متصل نمبردار قلعہ سوبا سنگھ، العبد: حافظ غضنفر علی حنفی نقی ع

تعارف مضامین ......

سال ١٩٠٣ء رمئی کے ش

١ ...... قادیا مولانا شوکت جب مرزا قادیانی کامل بروزی نبی ا تعجب ہے کہ اب تک آسمانی باپ نے اپنی الہامی ک کیوں نہیں گھڑا۔ بھلا اندھیر ہے نہ کہ تمام انبیاء ک کے ورد زبان ہوں۔ خصوصاً عیسیٰ مسیح جو مرزا مہذب انسان بھی نہ تھا۔ (معاذ اللہ ) اس کا کلمہ س ہو، اور نہ ہو تو بروزی اور ظلی نبی اور آسمانی باپ ہے کہ آسمانی ہائیکورٹ میں ابھی تک مرزا قادیانی

١٣٣

صفحہ ٤٧٩

ساتھ میل و ملاپ اور حقہ پانی وغیرہ تک بالکل ترک کردیں۔ یہ لوگ ملحد، مرتد اور بے ایمان ہیں، رسالہ دافع البلاء سے جو ان کے پاس موجود تھا مرزا قادیانی کے عقائد تمام لوگوں کو سنائے اور پھر مولوی فضل کریم کو برابر تین دن دعوت دیتے رہے کہ پولیس منگالیں اور خرچ پولیس کا میں دوں گا۔ اگر مولوی فضل کریم میرے مقابلے پر آ نہیں سکتے تو قادیان سے کسی شخص کو بلالیں۔ مگر مرزائیوں کی طرف سے صدائے برخاست ۔ آخر تین دن بعد مولوی شاہ محمد صاحب یہاں سے رخصت ہوئے۔ العبد نواب خان حصہ دار مالوکے، العبد چودھری کرم الٰہی حصہ دار از قلعہ صوبا سنگھ، العبد: نواب خان بقلم خود ساکن مالوکے کی متصل قلعہ صوبا سنگھ اہلحدیث، العبد: چودھری غلام محمد نمبردار قلعہ صوباسنگھ، العبد: حافظ غضنفر علی حنفی عفی عنہ۔

تعارف مضامین ...... ضمیمہ شحنہ ہند میرٹھ

سال ١٩٠٣ء ٨ مئی کے شمارہ نمبر ١٨ کے مضامین

١ ...... قادیانی نبی کا کلمہ

مولانا شوکت اللہ میرٹھی!

جب مرزا قادیانی کامل بروزی نبی اور رسول بلکہ خاتم الخلفاء (خاتم الانبیاء) ہیں تو تعجب ہے کہ اب تک آسمانی باپ نے اپنی الہامی ٹکسال میں لے پالک کی رسالت اور نبوت کا کلمہ کیوں نہیں گھڑا۔ بھلا اندھیر ہے نہ کہ تمام انبیاء کی رسالت کے کلمے تو دنیا میں دائر سائر اور لوگوں کے ورد زبان ہوں۔ خصوصاً عیسیٰ مسیح جو مرزا کے عقیدے کے موافق اولوالعزم نبی تو کیا معنے مہذب انسان بھی نہ تھا۔ (معاذ اللہ) اس کا کلمہ مسلمانوں میں روح اللہ اور عیسائیوں میں ابن اللہ ہو، اور نہ ہو تو بروزی اور ظلی نبی اور آسمانی باپ کے لے پالک اور خاتم الخلفاء کا ، ایسا معلوم ہوتا ہے کہ آسمانی ہائیکورٹ میں ابھی تک مرزا قادیانی کی نبوت پاس نہیں ہوئی اور نہ اس کے اجلاس

١٣٣

صفحہ ٤٨٠

سے مرزا قادیانی کو ڈپلومہ ملا۔ آسمانی باپ کی یہ ڈھیل ڈھال اور جھول جھال خالی از علت نہیں۔ تمام مرزائی بے سرے بے گرے پھر رہے ہیں۔ ان کے پاس مرزا قادیانی کی تصدیق رسالت کی کوئی سند نہیں۔ جب تک ان کے پاس کلمہ شہادت نہ ہو۔ لوگوں کے سامنے اپنے رسول کے کیونکر تصدیق کر سکیں گے۔ یہ بڑی بھاری فروگزاشت ہے جس کی تلافی گھڑی کی چوتھائی بلکہ لمحے کی تہائی میں ہونی چاہئے۔ سخرے لے پالک کے کھوسٹ باپ کو تو کلمہ کی ضرورت محسوس نہ ہوئی مگر مجدد السنہ مشرقیہ شوکت اللہ کو محسوس ہو گئی کیونکہ اسے لے پالک کے ساتھ خاص ہمدردی ہے لہذا بپاس خاطر اس کا کلمہ حسب ذیل پاس کیا جاتا ہے۔ تمام مرزائی اپنے نگینوں پر بلکہ اپنے دلوں پر کندہ کرالیں اور چونکہ تمام مرزائیوں کے گھر میں بروزی نبی کی تصویر موجود ہے۔ لہذا ہر تصویر پر کلمہ ذیل لکھ دیں اور آئندہ تصویروں کا جو گھان تیار ہو سب پر یہ کلمہ وارد کر دیا جائے اور منارۃ المسیح پر بھی کھدوا یا جائے۔ "اشهد ان لا اله الا الاب وغلام احمد الرسول البروزی والظلی والتناسخی والمسیح والمهدی والمتنبی وخاتم الخلفاء وامام الزمان“ دیکھئے کیسا مسلسل چوچوہاتا پھڑکواں ڈبل کلمہ ہے جو کسی نبی کو نہیں ملا۔ اور کیوں ملتا یہ تو صرف مرزا قادیانی کی قسمت کا نوشتہ تھا کہ کہاں مجددالسنہ مشرقیہ کے عہد تجدید میں مرزا قادیانی پیدا ہوں اور کہاں ان کی خاطر سے مجدد فصیح و بلیغ کلمہ اپنے الہام سے کمپاؤنڈ کرے۔ اس کلمے کے شائع ہوتے ہی دیکھنا سقنقوری معجون اور جند بیدستری حلوا اس ضعیفی کے عالم میں کیا رنگ لاتا ہے۔ گھنٹوں گھنٹوں مزہ نہ آجائے تو جبھی کہنا اور پھر پانچوں گھی میں اور سر کڑاہی میں۔

٢ ...... عقائد مرزا اور حضرت عیسیٰ کی قبر کا افتراء

مولانا حکیم محمد الدین امرتسری

اکثر سادہ لوح مسلمان صرف اس خیال سے کہ مرزا کلمہ پڑھتا ہے۔ صوم و صلوٰۃ ادا کرتا ہے۔ بظاہر احکام اسلامی کا پابند ہے اس کے دام تزویر میں پھنس جاتے ہیں پھر جب ان کو کچھ کہا جاتا ہے تو چونکہ دل اس طرف پہلے ہی مائل ہو چکا ہے۔ اس لئے نصیحت چنداں اثر نہیں کرتی۔ پس عموماً مسلمانوں اور خصوصاً دور دراز ملکوں کے رہنے والوں کی آگاہی کے لئے ذیل میں مرزا کے چند عقائد لکھے جاتے ہیں جو اس کی تحریر میں صاف صاف بغیر کسی پیچ پیچ کے موجود ہیں مگر یاد رہے کہ یہ عقائد بالکل مشتے نمونہ از خروار ہیں۔ مفصل بشرط ضرورت کبھی شائع ہوں گے۔

(ایک غلطی کا ازالہ ص ٤، خزائن ج ١٨ ص ٢١١ اور توضیح مرام ص ١٨، خزائن ج ٣ ص ٦٠ )

١٣٤

منم محمد وا

احمد ”وہ آنحضرت ﷺ کے لئے نہیں ہوئے۔

کرنا پڑے گا۔

گا۔

صفحہ ٤٨١

(دافع البلاء ص ٦، خزائن ج ١٨ ص ٢٢٧)

منم مسیح زمان و منم کلیم خدا
منم محمد احمد کہ مجتبیٰ باشد

(تریاق القلوب ص ٣، خزائن ج ١٥ ص ١٣٣)

احمد“ وہ آنحضرت ﷺ کے لئے نہیں بلکہ میرے لئے ہے میں اس کے مطابق احمد ہو کر آیا ہوں۔

(ازالہ ص ٦٧٣، خزائن ج ٣ ص ٤٦٣)

(تحفۃ الندوہ ص ٤، خزائن ج ١٩ ص ٩٥)

کرنا پڑے گا۔

(اعجاز احمدی ص ١١، خزائن ج ١٩ ص ١١٨)

(دافع البلاء ص ١٢، خزائن ج ١٨ ص ٢٣٢)

(تحفۃ الندوہ ص ٤، خزائن ج ١٩ ص ٩٦ ملخص)

(دافع البلاء ص ١٢، خزائن ج ١٨ ص ٢٣٢)

گا۔

(کشتی نوح ص ٧٦، خزائن ج ١٩ ص ٨٦)

(اخبار البدر ٩؍جنوری ١٩٠٣ء)

(ازالہ ص ٤١٥، ٤١٦، خزائن ج ٣ ص ٣١٦، ٣١٧ ملخص)

(اشتہار معیار الاخیار، مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٢٧٨)

(دافع البلاء ص ١٣، خزائن ج ١٨ ص ٢٣٣)

(دافع البلاء ص ٢٠، خزائن ج ١٨ ص ٢٤٠)

١٣٥

صفحہ ٤٨٢
ایک منم کہ حسب بشارات آمدم
عیسیٰ کجاست تابنہد پا بمنبرم

(ازالہ ص ١٥٨، خزائن ج ٣ ص ١٨٠)

معجزات کو مکروہ نہ جانتا تو مسیح ابن مریم سے ایسے معجزات دکھانے میں کم نہ رہتا۔

(ازالہ اوہام ص ٣٠٤، ٣٠٩، خزائن ج ٣ ص ٢٥٥، ٢٥٧)

نہ کرنا چاہئے۔

(اربعین ج ٣ ص ٢٨، خزائن ج ١٧ ص ٤١٧ حاشیہ)

(ازالہ ص ٧٣١، خزائن ج ٣ ص ٤٩٣، اخبار البدر ١٦ جنوری ١٩٠٣ء)

پیشینگوئیوں سے بڑھ کر ہیں۔

(کشتی نوح ص ٦، خزائن ج ١٩ ص ٦)

(فتح اسلام ص ٥٤، خزائن ج ٣ ص ٣٢)

لئے کہتا ہے کہ کوئی مجھ پر طعنہ نہ کرے کہ تیری پیشینگوئیاں جھوٹی ہوتی ہیں۔ اس غرض سے یہ پیش بندی کرتا ہے جس سے یہ بھی غرض ہے کہ کافر لوگ انبیاء کو بھی ایسا ہی جھوٹا سمجھیں جیسا کہ اس کو سمجھتے ہیں۔ معاذ اللہ!)

حضرت مسیح کی قبر کشمیر میں

یوں تو مرزا کی کوئی بات تناقض اور بہتان سے خالی نہیں مگر حضرت مسیح کی قبر کے متعلق جو کچھ اس کو توہمات ہیں الامان۔ ایک زمانہ میں حضرت مسیح کو ان کے وطن گلیل میں فوت کرنا چاہا بلکہ کر ہی دیا۔ دیکھئے (ازالہ ص ٤٧٣، خزائن ج ٣ ص ٣٥٣) مگر آخر تحقیق یہ سوجھی کہ کسی طرح یہ مشابہت بھی پیدا ہو جائے کہ جس ملک میں خود بدولت پیدا ہوئے کوئی صورت ایسی ہو کہ اس میں حضرت مسیح کی تشریف آوری بھی ثابت ہو جائے۔ آخر غور کرتے کرتے کشمیر پر نظر پڑی تو وہاں ایک شخص کی قبر کا پتہ مل گیا جس کا نام یوز آصف ہے اس کو یسوع آصف بنایا گیا اور اس پر بڑی لمبی چوڑی تحریریں لکھیں۔ چنانچہ ایک رسالہ الہدیٰ کے نام سے لکھا جس میں چند اہالی کشمیر کے دستخط

١٣٦

صفحہ ٤٨٣

ثابت ہیں کہ واقعی حضرت مسیح کی قبر یہاں ہے گو دانا لوگ تو ہنستے ہیں کہ کہاں یوزاسف اور کہاں یسوع آصف اور کہاں انیس صدیوں کا واقعہ اور کہاں آج کل کے اہالی کشمیر کی تصدیق۔ مگر مرزا کو تو ایسے داناؤں سے کام نہیں۔ وہ تو احمقوں کی خیر مناتا ہے جو اس کے دام تزویر میں پھنسیں۔ اس لئے خدا نے اپنے ایک بندے جناب مولوی نور احمد صاحب ساکن موضع لکھوکے ضلع فیروز پور کو توفیق دی کہ انہوں نے کشمیر جا کر بحکم بدر ایڈیٹر ”اندر باید رسانید“ مسیح کاذب کا کذب طشت از بام کر ہی دیا۔ یعنی وہاں کے معزز لوگوں کی دستخطی شہادتیں لائے کہ مرزا جھوٹ کہتا ہے۔ یہاں حضرت مسیح کی قبر ہرگز نہیں۔ چنانچہ وہ شہادتیں درج ہیں۔ اصل مفصل شہادتیں فارسی زبان میں ہیں۔ مگر ہم نے عام فہم کے لئے اردو میں ترجمہ کیا ہے اگر کسی کو اصل دیکھنی ہو تو انجمن نصرت السنہ امرتسر کے دفتر سے دیکھ سکتا ہے۔

سب سے پہلے جناب مولوی رسول بابا صاحب میر واعظ فرماتے ہیں کسی مؤرخ نے نہیں لکھا نہ کسی شخص سے سنا گیا کہ اس جگہ (کشمیر میں) حضرت عیسیٰ کی قبر ہے۔ حاشا و کلا۔ ”مفتی واعظ رسول عفی عنہ، نعمت اللہ، محمد شاہ مفتی کوٹھی دار مقام روضہ بل خانیار، منشی محمد دلاور شاہ سکنہ خانیار، مفتی محمد شریف الدین، غلام محمد احمد قادری، غلام مصطفیٰ خانیاری، غلام یٰسین حسین قادری، میر یوسف قادری۔“

مرزا قادیانی اپنے دعوے میں (کہ کشمیر میں حضرت عیسیٰ کی قبر ہے۔) جھوٹا ہے اور سخت گمراہ اور مفتری، صحیح الاعتقاد مسلمان تو اس کی واہیات باتوں پر کان بھی نہ رکھیں گے۔ مفتی یوسف شاہ صاحب، مفتی جلال الدین صاحب، مفتی سعد الدین صاحب، مفتی سیف الدین صاحب، مفتی نور الدین صاحب، مفتی و مولوی صدر الدین صاحب۔

کشمیر میں حضرت عیسیٰ کی قبر نہیں اور کسی نے یہاں سے اس مضمون کی تحریر (مرزا کو) دی ہے کہ حضرت مسیح کی قبر کشمیر میں ہے (وہ سب اس کا دروغ بے فروغ ہے) مفتی ضیاء الدین صاحب، احمد شاہ عفی عنہ، محمد یوسف شاہ، حقیر غلام محمد عفی عنہ، پیر قمر الدین صاحب سجادہ نشین، سید کبیر صاحب سجادہ نشین، احسن صاحب ایشانی، پیر غلام مصطفیٰ صاحب تارہ بلی، غلام محمد عاصم صاحب عالیکدلی، پیر علی شاہ۔

مواہیر خادمان خانقاہ معلی

جو شہادت دیتے ہیں کہ کشمیر میں حضرت عیسیٰ کی قبر نہیں اور جو بعض جاہلوں (مرزائیوں) میں مشہور ہے کہ محلہ خانیار میں قبر یوزاسف کو حضرت عیسیٰ کی قبر قرار دیتے ہیں۔ غلط

١٣٧

صفحہ ٤٨٤

اور واہیات ہے۔ یوزاسف کی تو نبوت بھی ثابت نہیں۔

محمد یوسف، غلام رسول ہمدانی، سید علی شاہ ہمدانی، خلیل بابا صاحب، بابا عبدالکبیر ہمدانی، سید احمد شاہ ہمدانی، سید محی الدین، علی بابا مؤذن، نبی احمد، عبدالمجید، احمد فراش درگاہ، نور الدین نعت خوان صاحب، یوسف ہمدانی سجادہ نشین خانقاہ معلی، مولوی حسن صاحب تقی خانیاری، سید محی الدین صاحب قادری، غلام علی ہمدانی۔

مواہیر خادمان مسجد جامع

ہم شہادت دیتے ہیں کہ کشمیر میں حضرت عیسیٰ کی قبر نہیں۔ احمد بابا خادم مسجد جامع، عبداللہ بابا خادم مسجد جامع، سید حسن خادم مسجد جامع، عبدالصمد خادم مسجد جامع، غلام رسول خادم مسجد جامع، سید سکندر خادم مسجد جامع، عبداللہ بابا خادم مسجد جامع، سلام الدین امام مسجد جامع، خادمان بقعہ جامع کلاں۔

مواہیر خادمان آستان حضرت مخدومؒ

کشمیر میں حضرت عیسیٰ کی قبر نہیں بعض جاہلوں (مرزائیوں) میں غلط مشہور ہے۔ غلام الدین مخدومی، اسد اللہ مخدومی، نور الدین مخدومی، احمد بابا مخدومی، نور الدین مخدومی، احسن اللہ مخدومی، محمد شاہ مخدومی، محمد بابا مخدومی، حفیظ اللہ مخدومی، میرک شاہ مخدومی، صدیق اللہ مخدومی۔

مواہیر حضرت خاندان سہروردیہ نقشبندیہ

حضرت عیسیٰ کی قبر کشمیر میں نہیں اور جو مرزا قادیانی کہتا ہے اس کا کوئی اعتبار نہیں کیونکہ اس کا قول اختراع شیطانی ہے اور واہیات ہے جس کی طرف کوئی مسلمان دھیان نہیں لگا سکتا۔ احقر نظام الدین عفی عنہ، محمد بن محمود رفیقی، غلام حسین رفیقی، غلام حمزہ رفیقی، عبدالسلام رفیقی، سیف الدین رفیقی، عبداللہ رفیقی، نور الدین رفیقی عفی عنہ، شریف الدین رفیقی، غلام نبی رفیقی، محمد قاسم رفیقی، انور رفیقی عفی عنہ، عبدالصمد رفیقی عفی عنہ، محمد مقبول بن نصیر الدین رفیقی عفی عنہ، محمد یوسف رفیقی اسلام آبادی، سعد الدین رفیقی عفی عنہ، محمد مقبول رفیقی عفی عنہ، عبدالرحمن رفیقی عفی عنہ، نور الدین محمد بن محی الدین رفیقی، محمد یوسف رفیقی عفی عنہ اسلام آبادی۔

مواہیر خاندان قدیمی

کشمیر میں حضرت عیسیٰ کی قبر نہیں اور جو بعض جاہل (مرزائی) یوزآسف کی قبر کو حضرت عیسیٰ کی قبر قرار دیتے ہیں بالکل غلط اور واہیات ہے یوزآسف کی تو نبوت بھی ثابت نہیں۔

١٤٨

علی شاہ صاحب قدیمی عفی عنہ، غلام محی الدین قدیمی، ع قدیمی، قمر الدین صاحب قدیمی، غ

کشمیر میں کوئی قبر حضر محمد سعید الدین صاح محلہ خانیار، بدرالدین قریشی عفی ع

فیصلہ

قادیانی نے تو معمو انتا ہے کہ ان لوگوں نے صرف طرف سے یسوع اور الیسوع ۔ بٹور لیا کہ اس قبر کی اشاعت کی نسبت جو کچھ لکھا ہے بالکل جھو کرے۔ فیصلے کی صورت یہ ہے کی طرف سے اور دو مرزا قادی کرلیں وہ کشمیر میں حضرت عی لئے اپنے ممبروں کو نامزد کرتی سری نگر کشمیر، دوم جناب حکیم محم کچھ بھی دعویٰ ہے تو بہت جلد ا دفتر میں بھیجیں تاکہ اپنے ممبروں مرزا قادیانی کا صا قادیانی نے (مواہب الرحمٰن ص ہونے کے جوان بیٹا مر گیا۔ کی کے دلانے میں امداد نہ کی تھی والد ماجد (مرزا قادیانی) کو پا المشتہر: حکیم محمد الد

صفحہ ٤٨٥

علی شاہ صاحب قدیمی عفی عنہ، غلام محمد صاحب قدیمی عفی عنہ، امیر الدین صاحب قدیمی عفی عنہ، غلام محی الدین قدیمی، غلام حسن قدیمی، محمد شاہ صاحب قدیمی عفی عنہ، مولوی نور الدین قدیمی، قمر الدین صاحب قدیمی، غلام الدین صاحب قدیمی، غلام حسین صاحب قدیمی عفی عنہ۔

مشاہیر خاندان قریشی

کشمیر میں کوئی قبر حضرت عیسیٰ کی نہیں۔

محمد سعید الدین صاحب قریشی، نظام الدین صاحب زگیر عفی عنہ، سعد الدین قریشی محلہ خانیار، بدر الدین قریشی عفی عنہ، عبدالمجید صاحب قریشی، غلام حسین صاحب قریشی عفی عنہ۔

فیصلہ

قادیانی نے تو معمولی کید سے کام لے کر اہل کشمیر کو دھوکہ دیا اور بدنام کیا۔ واقعہ صرف اتنا ہے کہ ان لوگوں نے صرف یہ گواہی لکھی تھی کہ یہاں یوزاسف کی قبر ہے جس کو قادیانی نے اپنی طرف سے یسوع اور الیسوع سے مسیح بنا کر اتنا بڑا منصوبہ باندھ کر تین سو روپیہ احمقوں سے چندہ بٹور لیا کہ اس قبر کی اشاعت کی جائے گی خیر اس کی تحقیق تو کافی ہو چکی کہ مرزا نے اہالی کشمیر کی نسبت جو کچھ لکھا ہے بالکل جھوٹ ہے۔ جیسی اس کی عادت ہے مگر مرزا اس بارے میں فیصلہ بھی کرے۔ فیصلے کی صورت یہ ہے کہ ایک کمیشن مقرر ہو جس کے ممبر پانچ کس ہوں دو امرتسر کی انجمن کی طرف سے اور دو مرزا قادیانی کی طرف سے اور ایک انگریز یا سکھ جس کو یہ چاروں ممبر منتخب کرلیں وہ کشمیر میں حضرت مسیح کی قبر کی بابت تحقیق کریں۔ انجمن کو چونکہ تحقیق حق منظور ہے۔ اس لئے اپنے ممبروں کو نامزد کرتی ہے۔ اول جناب مولانا سید محمد حسن شاہ صاحب ساکن شوپیاں ضلع سری نگر کشمیر، دوم جناب حکیم محمد علی صاحب معالج خاندان شاہی جموں وکشمیر، اگر اب مرزا کو سچائی کا کچھ بھی دعویٰ ہے تو بہت جلد اپنے ممبران کمیشن کو نامزد کریں اور ان کی روانگی کی اطلاع انجمن کے دفتر میں بھیجیں تا کہ اپنے ممبروں کو اطلاع دے کہ اس کام پر مستعد ہو جائیں۔

مرزا قادیانی کا صاحبزادہ فضل احمد نوجوان ١٩؍مارچ ١٩٠٣ء کو مر گیا۔ جس کی بابت مرزا قادیانی نے (مواہب الرحمٰن ص ١٣٩ خزائن ج ١٩ ص ٣٦٠) بیٹا پیدا ہونے کا الہام لکھا تھا بجائے پیدا ہونے کے جوان بیٹا مر گیا۔ گو مرزا قادیانی کو افسوس ہوا اس لئے کہ مرحوم نے ان کی آسمانی منکوحہ کے دلانے میں امداد نہ کی تھی۔ یعنی ان کو بیوی دلانے کے لئے اپنی بیوی کو طلاق نہ دی تھی۔ نیز والد ماجد (مرزا قادیانی) کو پاگل کہا کرتا تھا جو واقعی ہے۔

المشتہر: حکیم محمد الدین سیکرٹری انجمن نصرت السنۃ امرتسر چوک لوہگڑھ ٢٥؍مارچ ١٩٠٣ء

١٣٩

صفحہ ٤٨٦

٣....... مرزا قادیانی کے مقدمات

مولانا شوکت اللہ میرٹھی !

مولوی کرم الدین صاحب نے جو مرزا قادیانی اور ان کے حواریین کے مدعی بھی ہیں اور مدعا علیہ بھی ۔ چیف کورٹ میں درخواست دی تھی کہ مقدمات گورداسپور سے منتقل ہو کر جہلم چلے جائیں وہ نامنظور ہوئی۔ اب مرزا قادیانی کی اس درخواست کا فیصلہ باقی ہے جو انہوں نے مولوی کرم الدین کے متدائرہ مقدمے کی نسبت دی تھی کہ وہ جہلم سے گورداسپور میں منتقل ہوجائے ۔ یہ ١٥ مئی کو چیف کورٹ میں پیش ہوگی۔ غالباً اس کا حشر بھی ویسا ہی ہوگا جو مولوی کرم الدین صاحب کی درخواست کا ہوا۔ یعنی جب گورداسپور سے مرزا قادیانی کا مقدمہ جہلم میں منتقل نہ ہوا تو جہلم سے مولوی کرم الدین صاحب کا مقدمہ حسب درخواست مرزا قادیانی گورداسپور میں کیوں منتقل ہونے لگا اور انصاف بھی اسی کا متقضی ہے کہ دونوں پلے برابر رہیں۔ یعنی مولوی صاحب کا استغاثہ جہلم میں رہے اور مرزاجی کا استغاثہ گورداسپور میں تاکہ فریقین کو مقدمہ بازی کا گھنٹوں گھنٹوں مزہ آجائے۔ مرزا قادیانی کا تو اس میں ہر طرح کا فائدہ ہی فائدہ ہے کیونکہ قادیان سے جہلم تک کے سفر میں برابر بروزی نبی کی نمائش ہوتی رہے گی اور مرزائی امت بڑھتی چلی جائے گی اور لاکھوں تماشائی آئیں گے۔ مرزائی امت بڑھے گی اور اگر نمائش کا ٹکٹ لگا دیا جائے تو دوہرے مزے ہو جائیں گے۔

ہم کو تو صرف یہ تعجب ہے کہ چیف کورٹ میں مذکورہ بالا فتح پانے پر نہ تو شادیانے بجے نہ ہاتھی کے کان کے برابر اشاعت نکلی نہ پیشینگوئی کا اظہار ہوا۔ وجہ یہ ہے کہ مقدمات کی صورت دیکھ کر پہلے ہی الہام کی نانی مر چکی تھی اور آسمانی باپ انگریزی عدالت کے خوف سے کونے میں جا دبکا تھا اور لے پالک پر الہام کرنے سے ناطقہ بند ہو گیا تھا۔ لہٰذا دبی بلی نے چوہوں سے کان کٹوا لئے۔ لے پالک کو تو مقدمات کی خرابی بصرہ کیا معلوم ہوتی جبکہ آسمانی باپ کو معلوم نہ ہوئی۔ ورنہ وہ مولوی کرم الدین صاحب وغیرہ ہم پر نالش داغنے کی کبھی اجازت نہ دیتا جس کی بدولت مرزا قادیانی کے پاؤں پر سنیچر اور سر میں چکر نصیب ہوا کہ کبھی جہلم میں اور کبھی گورداسپور میں ۔

مانع دشت نوردی کوئی تدبیر نہیں
ایک چکر ہے میرے پاؤں میں کوئی زنجیر نہیں

معلوم نہیں آسمانی باپ کو لے پالک سے کیسا بغض ہو گیا تھا اور یہ اس نے کب کا بدلہ نکالا کہ لوگوں پر نالش کرنے کا الٹا سبق پڑھایا کہ اب مرزا قادیانی کو نہ پائے رفتن ہے نہ جائے ماندن۔

١٤٠

صفحہ ٤٨٧

ہم نے بار ہا سمجھایا اور پیشینگوئی کی کہ ان جھگڑوں سے باز آؤ اور خیر اسی میں ہے کہ مقدمات کی استروں کی مالا گلے سے نکال ڈالو یعنی راضی نامہ دے دو اور مقدمات سے فی الفور دست بردار ہو اور آئندہ نام بھی نہ لو ورنہ خدا جانے ہندوستان میں کہاں کہاں کا چکر نصیب ہوگا۔ صرف گورداسپور اور جہلم کے چکر پر پہنچ کر اکتفا نہ کرے گا مگر افسوس ہے کہ مجددانہ مشرقیہ کی پیشینگوئی پیٹھ پیچھے کی بات سمجھی گئی۔ اور اس کو دشمن قرار دیا گیا۔ حاشا کہ مجدد لے پالک کا دشمن ہو وہ تو آسمانی باپ سے بھی کہیں زیادہ لے پالک کا شفیق اور ہمدرد ہے۔ آسمانی باپ تو کبھی کبھی لے پالک کے بارے میں غچا بھی کھا جاتا ہے مگر مجدد کی نگاہ مہر زیر سپہر کبھی قہر سے نہیں بدلی نہ اس میں کبھی زہر ملا۔

راضی نامہ دینے اور مقدمات سے دست بردار ہونے میں یہ کبھی نہ سمجھنا چاہئے کہ لے پالک کی ہیٹی ہوگی اور مونچھیں نیچی ہو جائیں گی بلکہ آسمانی باپ کی بارگاہ میں تو جو اپنے کو نیچا کرے وہی اونچا ہے۔

٤...... معجزہ کسے کہتے ہیں؟

مولانا شوکت اللہ میرٹھی !

(٢٤ اپریل ١٩٠٣ء، الحکم ج ٧ نمبر ١٥ ص ٤) میں مرزا قادیانی نے معجزے کی چند شرائط بیان کی ہیں جو بالکل مہمل اور خرافات اور سراسر الحاد ہیں اور ان سے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ آسمانی باپ نے لے پالک کو ابھی تک علم کلام والہیات کے پرائمری سکول میں بھی نہیں بٹھایا اور اس میں کلام الہی کے سمجھنے کا مادہ نہیں پیدا کیا۔

مجملہ شرائط کے ایک شرط یہ ہے کہ ”معجزہ خارق العادۃ ہو کیونکہ طلوع شمس اور شگوفہ ربیع کو معجزہ نہیں کہہ سکتے۔“ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ مرزا قادیانی کو خرق عادۃ کے معنے بھی معلوم نہیں۔ گویا عادت اللہ معجز نہیں اور اس کے مقابلے میں انسانی افعال معجز ہیں۔ نمرود سے جو حضرت ابراہیم خلیل اللہ علی نبینا وعلیہ الصلوۃ والسلام نے جناب باری کی روحانیت کے ثبوت میں معارضہ کیا تو یہ فرمایا: ”ان اللہ یاتی بالشمس من المشرق فات بھا من المغرب“ یعنی میرا خدا وہ ہے کہ آفتاب کو مشرق سے طلوع کرتا ہے بھلا تو آفتاب کو مغرب سے طلوع کرے۔ ”فبھت الذی کفر“ یعنی کافر مردود نمرود اس دلیل پر مبہوت (دم بخود) ہو گیا۔ اب مرزا قادیانی فرمائیں کیا طلوع شمس اور فصل بہار و خزاں کا تغیر و تبدل انسانی افعال ہیں۔ ایک گھاس کی پتی کو دیکھو پتھروں اور پہاڑوں سے پھوٹ کر نکلتی ہے کیا انسان اپنی طاقت سے ایسا نمونہ دکھا سکتا ہے؟

١٤١

صفحہ ٤٨٨

قدرت الہی کے تمام افعال معجز ہیں۔ قطرے سے لے کر دریا تک اور ذرے سے لے کر صحرا تک سب معجز ہیں اور قدرت کے انہیں افعال و آثار سے مومنوں نے قادر مطلق اور واحد برحق کو پہچانا ہے اور یہی معجزات دیکھ کر سب ایمان لائے ہیں۔ سنو مرزا قادیانی آپ تو محض اپنی جھوٹی پیشینگوئیوں کو جو نجومیوں اور رمالوں کا کام ہے معجزہ قرار دیتے ہیں۔ مذہب اسلام میں تو انبیاء علیٰ نبینا وعلیہم الصلوٰۃ والسلام کے سچے معجزات بھی ایمان لانے کے لئے ضروری نہیں ہیں۔ سچے مومنوں کی صفت تو کلام الہی ”يؤمنون بالغيب “ ہے۔ کیا آنحضرت ﷺ کے زمانہ مبارک میں سب لوگ معجزات ہی دیکھ کر ایمان لائے ہیں؟ ہرگز نہیں بلکہ معدودے چند۔ اسی لئے خود معجزات انگلیوں پر شمار کرنے کے قابل ہیں۔ کیا نبی کا یہ کام ہے کہ ہر وقت لوگوں کو معجزات دکھاتا رہے۔ نبی کا کام تو قدرت و فطرت الہی کے معجزات دکھانا یعنی دنیا کو ان سے آگاہ کرنا ہے۔ معجزات طلب کرنا منکروں کا کام ہے نہ کہ مومنوں کا کسی شاعر نے کیا خوب کہا ہے؟

گر چہ کا ہے ز پے ابو جہل جہلان لازم است
ماہ را جوز انمودن سنگ را زر داشتن
از کرامت عار اید مرد را کانصاف نیست
دیدہ از معشوق بربستن بزیو رواشتن

یعنی اگر چہ کبھی کبھی ابو جہل جیسے شخص کیلئے چاند کے دو ٹکڑے کرنے اور پتھر کو سونا بنا کر معجزہ دکھانے کی ضرورت نہیں ہے لیکن مرد کو کرامت طلب کرنے سے شرم آنی چاہئے کیونکہ یہ ایسی مثال ہے کہ معشوق کے ذاتی حسن و جمال پر تو نظر نہیں بلکہ زیور پر نظر ہے جس سے وہ خوبصورت معلوم ہو۔ انبیاء کے تمام افعال و اخلاق خارق عادت بشریہ (نہ کہ خارق عادۃ اللہ جس سے مرزا قادیانی نے دھوکا کھایا ہے) ہوتے ہیں کیونکہ معجزہ خرق عادۃ اللہ نہیں بلکہ خرق عادت انسانی ہے ورنہ لازم آئے گا کہ انسان کی طاقت خدا کی طاقت کو بدل سکتی ہے اور مغلوب کر سکتی ہے۔ لے پالک کو تو آسمانی باپ نے لکھنا پڑھنا بھی واجبی ہی سکھایا ہے مجدد کے اس نکتہ سے تو بعض علماء اور فضلاء بھی ناواقف ہیں۔

سنو سنو مرزا قادیانی کی پہلی خرق عادت یہ ہے کہ وہ جھوٹ نہیں بولتا کیونکہ اس کی شان ”وما ينطق عن الهوى ان هو الا وحى يوحى“ ہے۔ معاذ اللہ وحی جھوٹی ہو تو نبی بھی جھوٹا ہے۔ پس فطرتاً نبی کا جھوٹ بولنا محال ہے۔ اب ذرا گریبان میں منہ ڈال کر دیکھئے کہ آپ نے

١٤٢

کتنے جھوٹ بولے ہیں۔ ہم خیال کرتے ہیں بھی نہیں اور بجز جھوٹ بولنے اور دھوکا دہی (باقی آئندہ)

تعارف مضامین

سال ١٩٠٣ء ١٦؍ مئی

پرچہ البدر میں جو قادیان سے ش تک چندہ نہ دے گا اس کا نام بیعت سے خا با اعتقاد فوراً نکالے اگے دیں۔ لیکن ہمارے شم کو مریدان مرزا قادیانی نے بیکار سمجھا تھا اور ا داخل ہونے والے تھے مگر جب انہوں نے سے قطعی انکار کر دیا اور بدستور دین اسلام پ گھبرائے اور قریب تھا کہ فسخ بیعت کر دیں بدستور ضلالت پر جمے رہے پھر بھی دو ایک وہاں نہیں معلوم ہوتی ۔ بیعت کے گو لفظی مع اپنے مرشد کی خدمت میں ہمہ تن یک جان ہ مرزا قادیانی نے لفظی معنے ہی پر عملدرآمد ک

١

صفحہ ٤٨٩

کتنے جھوٹ بولے ہیں۔ ہم خیال کرتے ہیں کہ آپ کی نبوت کا خمیر جھوٹ ہی جھوٹ ہے۔ سچ ذرا بھی نہیں اور بجز جھوٹ بولنے اور دھوکا دہی کے آپ نے اپنے زمانہ بعثت میں کچھ بھی نہیں کیا۔ (باقی آئندہ) (ایڈیٹر)

تعارف مضامین ...... ضمیمہ شحنہ ہند میرٹھ

سال ١٩٠٣ء ١٦؍ مئی کے شمارہ نمبر ١٩ کے مضامین

١....... بیعت سے انکار۔ تفضل حسین اٹاوہ ! ٢....... طیر ابابیل اور منارہ۔ مولانا شوکت اللہ میرٹھی ! ٣....... طاعونی نبوت۔ مولانا شوکت اللہ میرٹھی ! ٤....... چورنی بلی اور جلیبیوں کی رکھوالی۔ مولانا شوکت اللہ میرٹھی ! ٥....... حدیثیں کشفی طور پر صحیح ہو جاتی ہیں۔ مولانا شوکت اللہ میرٹھی ! ٦....... دین مرزائی۔ مولانا شوکت اللہ میرٹھی !

١....... بیعت سے انکار

تفضل حسین اٹاوہ !

پرچہ البدر میں جو قادیان سے شائع ہوتا ہے لکھا تھا کہ ”مرزا قادیانی کا جو مرید سہ ماہی تک چندہ نہ دے گا اس کا نام بیعت سے خارج کیا جائے گا ۔‘‘ دُھمکی تو اچھی تھی تاکہ ڈر کر مریدانِ بااعتقاد فوراً ٹکے اگل دیں۔ لیکن ہمارے شہر اٹاوہ میں اس کا اثر الٹا پڑا۔ چند روز سے دو تین اشخاص کو مریدان مرزا قادیانی نے بہکا رکھا تھا اور امروز فردا میں خط بیعت روانہ کر کے کاغذی بیعت میں داخل ہونے والے تھے مگر جب انہوں نے چندہ نہ دینے پر بیعت سے نام خارج ہونا سنا تو بیعت سے قطعی انکار کر دیا اور بدستور دین اسلام پر قائم رہے اور جو غرباء تھے وہ بھی نام خارج ہونے سے گھبرائے اور قریب تھا کہ فسخ بیعت کر دیں مگر بعض سخت مرزائیوں نے معلوم نہیں کیا سمجھا دیا کہ وہ بدستور ضلالت پر جمے رہے پھر بھی دو ایک مریدوں نے فسخ بیعت کر ہی دی اور کہا کہ سچی ہدایت وہاں نہیں معلوم ہوتی۔ بیعت کے تو لفظی معنی فروخت کے ہیں مگر اصطلاح صوفیاء کرام میں مرید کا اپنے مرشد کی خدمت میں ہمہ تن بک جانا اور اپنے سارے اختیارات پیر کے حوالے کر دینا ہے مگر مرزا قادیانی نے لفظی معنے ہی پر عملدرآمد کیا۔ سبحان اللہ! بیعت کیا ہے آڑھت کا کھاتا ہے۔ ایسی

١٤٣

صفحہ ٤٩١

بیعت ہم نے اسی زمانہ میں سنی۔ ایڈیٹر البدر کو چاہئے کہ تفصیل وار ایک نرخ نامہ بیعت کا شائع کردے کہ فیس بیعت درجہ اول اس قدر ہے اور فیس بیعت درجہ دوم اس قدر اور درجہ سوم اس قدر۔ علیٰ ہذا۔ بقدر مراتب۔ ایسی تحریر سے ہر شخص بخوبی واقف ہو جائے گا اور اپنی حیثیت کے موافق مرید ہوا کرے گا اور امراء لوگ تو ضرور درجہ اول ہی کی بیعت میں داخل ہوں گے وہ غرباء کے حقیر درجہ میں رہنا کب پسند کریں گے۔ اس تدبیر سے کھٹا کھٹ رقم ہاتھ آتی چلی جائے گی۔ میں امید کرتا ہوں کہ ایڈیٹر صاحب البدر ضرور میری رائے سے اتفاق کریں گے اور بہت جلد نرخ نامہ جس کی سرخی یہ ہوگی (نرخ نامہ بیعت مرزائی) تحریر کر کے شائع فرمائیں گے۔ مرزائی سوسائٹی حصول شہرت و حصول زر میں تدبیریں تو بڑھ بڑھ کر سوچتی رہتی ہیں مگر بعض وقت ایسی برعکس پڑتی ہے کہ بجائے نفع کے نقصان ہو جاتا ہے جیسا کہ ہم نے اوپر لکھا کہ چند لوگ مرید ہونا چاہتے تھے مگر نام خارج ہونا سن کر باز رہے۔ یہ نقصان ہوا یا نہیں۔ جب لوگوں نے دیکھا کہ وہاں ہدایت و دایت کچھ نہیں بول تول کا کارخانہ کھلا ہے تو فوراً بیعت کو خیر باد کہا۔ الراقم: بندہ خاکسار ابو الفضل محمد تفضل حسین متوطن اٹاواہ خادم شرع شریف مدرس مدرسہ اسلامیہ اٹاواہ۔

ایڈیٹر ...... آسمانی باپ اور اس کے لے پالک کے یہاں تو کماؤ پوتوں کی پوچھ ہے۔ خالی ہاتھ منہ تک نہیں جاتا۔ قادیان بھی جاؤ تو اپنا راتب ساتھ لیتے جاؤ اور بس!

٢ ..... طیر ابابیل اور منارہ

مولانا شوکت اللہ میرٹھی!

ایک گزشتہ الحکم میں لے پالک نے آسمانی باپ کے حضور فریاد کی کہ ”شام کے وقت ایک جانور ان کی مجلس پر حملہ کرتا ہے۔ ہم اگر چہ اسے بعد میں چھوڑ ہی دیں مگر موقع پا کر ضرور پکڑیں گے ۔“ ہم سے سنئے ! وہ جانور لے پالک کے ہاتھ نہیں آ سکتا کیونکہ آسمانی باپ کا بھیجا ہوا ہے جو آج کل بداعمالیوں کے باعث غضب ناک ہے وہ تو ”طیراً ابابیل ترمیہم بحجارۃ “ ہے اور اصحاب المنارہ پر جو ہاتھی کا روٹ چکھ رہے ہیں حملہ کرتا ہے خصوصاً مرزا قادیانی پر جو بیت اللہ جانے سے اپنے چیلوں کو روکتے ہیں اور بجائے اس کے حج قادیان کی ہدایت کرتے ہیں۔ اوّل تو خود منارے کے تیار ہونے میں کھنڈت پڑ گئی ہے جیسا کہ ٣٠ راپریل کے الحکم میں صاحب ڈپٹی کمشنر بہادر گورداسپور کی توجہ دلائی گئی ہے کہ لوگ اس کی مخالفت پر آمادہ ہیں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ صاحب ممدوح کی خدمت میں کچھ عرائض گئی ہیں کہ منارے کی تعمیر سے حفظ امن میں خلل

١٤٤

ہو گا یا کوئی اور عذر کیا گیا ہے جس کی تشریح الحکم میں ن متنبہ کرتا ہے کہ تیار ہوتے ہی ارار ارارا دھڑام سے منارہ پر برسائی جائیں گی سب کے بدن چھلنی ہو کر کھوکھلے ہو کر ڈھول کے اندر پول رہ جائیں گے انش محدث اور مبتدع امر سے نہ صرف مسلمانوں بلکہ ب صدمہ پہنچے گا۔ کیونکہ نہ یہ مسلمانوں کی کوئی مسجد ہے مندر ہے جس میں مورتی رکھی ہو نہ عیسائیوں کا گرجا سکھوں کا سماد ہے نہ شیعہ کا کوئی مصنوعی مقبرہ ہے نہ بودھ وں کا تھڑا ہے نہ کالی دیوی کا استھان ہے۔ نہ بھوانی کا مٹھ ہے تمام مذاہب و اقوام کے فیلنگ کو مشتعل کرنے والا ہے ہونے ہی میں مرزا قادیانی کا فائدہ اور ہر طرح امن ہاتھی چھوٹے گھوڑا چھوٹے اور انگریزی اخباروں کی تح مرزا کا گروہ ہر طرح پورا ہو جائے گا اور چار طرف سے کی نوک پر مکھیوں کی طرح بھنبھنائیں گے۔ پھر تو ا منارے نوں خیر نال ایویں ای رہنے دیں۔

٣ ...... طاعو

مولانا شوکت الل

مرزا قادیانی آسمانی غضب طاعون کو ا سمجھتے ہیں اور بار بار الحکم میں شائع ہوتا ہے کہ طاعون فرمائشی نبی نہیں مانا۔ لیکن ہم کو حیرت ہے کہ جن ساد کر گیا۔ ہمارے نام پنجاب کے شہروں سے متواتر خط اور گرفتار ہو رہے ہیں۔ پچھلے دنوں خود قادیان میں ب سے قحط اور وبائیں اور بلائیں دفع ہوگئی ہیں۔ یہ عیس لایا ہے۔ نبی کی صفت نبوۃ تو رحمت اور برکت ہے مگر ی ہلاکت ہے۔ پھر قہر الٰہی تو اس صورت میں نازل ہ قادیانی کا دعویٰ ہے کہ مجھ پر ایمان لانے والے والئ

١٤٥

صفحہ ٤٩١

ہوگا یا کوئی اور عذر کیا گیا ہے جس کی تشریح الحکم میں نہیں کی گئی۔ دوم منارہ تیار ہو بھی گیا تو ابابیل متنبہ کرتا ہے کہ تیار ہوتے ہی ارارارار دھڑام سے بیٹھ جائے گا اور آسمانی سنگریزوں سے جو اہل منارہ پر برسائی جائیں گی سب کے بدن چھلنی ہو کر ہڈیوں تک کا گودا باہر نکل پڑے گا اور بدن کھوکھلے ہو کر ڈھول کے اندر پول رہ جائیں گے انشاء اللہ ! اب ہم ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ اس محدث اور مبتدع امر سے نہ صرف مسلمانوں بلکہ باستثنیٰ فرقہ مرزائیہ تمام مذاہب کے فیلنگ کو صدمہ پہنچے گا۔ کیونکہ نہ یہ مسلمانوں کی کوئی مسجد ہے نہ خانقاہ ہے نہ کوئی مزار ہے۔ نہ کوئی ہنود کا مندر ہے جس میں مورتی رکھی ہو نہ عیسائیوں کا گرجا گھر ہے نہ آتش پرستوں کا دخمہ ہے نہ سکھوں وغیرہ کا سماد ہے نہ شیعہ کا کوئی مصنوعی مقبرہ ہے نہ بودھ والوں کا کوئی سنگھاسن ہے نہ آریا کا سماج نگر ہے نہ کالی دیوی کا استھان ہے۔ نہ بھوانی کا مٹھ ہے۔ الغرض ایک امر جدید ہونے کے باعث تمام مذاہب و اقوام کے فیلنگ کو مشتعل کرنے والا ہے۔ ہم خیال کرتے ہیں کہ منارے کے تعمیر نہ ہونے ہی میں مرزا قادیانی کا فائدہ اور ہر طرح امن کی ضمانت ہے۔ ورنہ خدا جانے کیا گل کھلے۔ ہاتھی چھوٹے گھوڑا چھوٹے اور انگریزی اخباروں کی تحریروں نے اگر گورنمنٹ کو بدظن کر دیا کہ اب مرزا کا گروہ ہر طرح پورا ہو جائے گا اور چار طرف سے جوق جوق والنٹیر منارے کی برجی کے کلس کی نوک پر مکھیوں کی طرح بھنبھنائیں گے۔ پھر تو آسمانی باپ کا غضب ہی ٹوٹ پڑے گا پس منارے نوں خیر نال ایویں ایں رہنے دیں۔

٣ ...... طاعونی نبوت

مولانا شوکت اللہ میرٹھی!

مرزا قادیانی آسمانی غضب طاعون کو اپنے لئے عمدہ تفاول اور اپنی نبوت کی خوش قسمتی سمجھتے ہیں اور بار بار الحکم میں شائع ہوتا ہے کہ طاعون میری وجہ سے آیا ہے کیونکہ لوگوں نے مجھے فرمائشی نبی نہیں مانا۔ لیکن ہم کو حیرت ہے کہ جن سادہ لوحوں نے مان لیا انہیں طاعون کیوں چٹ کر گیا۔ ہمارے نام پنجاب کے شہروں سے متواتر خطوط آ رہے ہیں کہ مرزائی برابر طاعون کا سلفہ اور فی النار ہو رہے ہیں۔ پچھلے دنوں خود قادیان میں بہت سے مرزائیوں کو بھنبھوڑا۔ انبیاء کے آنے سے قحط اور وبائیں اور بلائیں دفع ہو گئی ہیں۔ یہ عجیب غضب ناک نبی ہے کہ اپنے ساتھ طاعون لایا ہے۔ نبی کی صفت نور تو رحمت اور برکت ہے مگر بروزی نبی کی صفت قہر اور نحوست اور نکبت اور ہلاکت ہے۔ پھر قہر الہی تو اس صورت میں نازل ہوتا ہے کہ نبی کو کوئی نبی نہ مانے حالانکہ مرزا قادیانی کا دعویٰ ہے کہ مجھ پر ایمان لانے والے بالفعل دو لاکھ ہیں۔ ظاہر ہے کہ دو لاکھ کی تعداد

١٤٥

صفحہ ٤٩٢

ایک پورا نیشن ہے پھر طاعون کیوں آیا؟ اور خوبی یہ ہے کہ ان دولاکھ میں سے بھی دس پانچ ہزار ضرور طاعون کی بھینٹ چڑھے ہیں جیسا کہ طاعونی شہروں کی آبادی کی اوسط تعداد اموات سے ثابت ہے۔ اپنے شہر میرٹھ کی تو ہم کہتے ہیں کہ اس کی آبادی کچھ اوپر ایک لاکھ ہے مگر ٥ ہزار آدمیوں سے کم طاعون سے فوت نہیں ہوئے۔ اس سے صاف ظاہر ہے اور بعض اہل اللہ کے کشف نے بھی یہی ظاہر کیا ہے کہ ہندوستان میں محض مفتری علی اللہ مرزا کی نحوست سے طاعون آیا ہے کیونکہ اس نے قرآن وحدیث کو جھٹلایا۔ بعض انبیاء کو جھٹلایا۔ بعض انبیاء کو برا کہا۔ شعائر اسلام کو توڑا۔ حج وزکوٰۃ کی ممانعت کی۔ قادیان کو مکہ اور مدینہ بنایا۔ کیا خدائے تعالیٰ کے نزدیک ایسے سخت جرائم جو منجر بشرک وکفر میں قابل عفو تھے۔ ہرگز نہیں پس ایک پاپی سارے جہاز کو لے ڈوبا۔ اور ابھی کیا ہے ذرا دیکھتے تو جائیے۔ قادیان میں کیا کیا گل کھلتے ہیں اور تمام منصوبے یکے بعد دیگرے کیونکر ڈھے جاتے ہیں انشاء اللہ تعالیٰ! خدا کی لاٹھی میں آواز نہیں ہوتی۔ انبیاء کو برا کہنا۔ موجودہ مشائخ عظام اور علماء کرام کا دل دکھانا ہرگز اوپر اوپر نہ جائے گا۔

بترس از تیر باران ضعیفاں درکمین شب
کہ ہرگز ضعف نالاں تر قوی تر زخم پیکانش

مولانا شوکت اللہ میرٹھی!

تمام مرزائیوں میں امروہی صاحب عین میں ایسے ہیں جیسے اندھوں میں واحد العین۔ ہمارے دل میں امروہی صاحب کی کچھ وقعت تھی مگر جب تحریریں دیکھیں اور خود ہم سے ٹکر ہوئی تو قلعی کھل گئی۔ ہم حلفاً کہتے ہیں کہ اس شخص کو نہ تحریر کا سلیقہ ہے نہ مناظرہ کا شعور۔ نہ طریق استدلال صحیح نہ صغریٰ کی خبر نہ کبریٰ کی نہ نتیجہ کی۔ اگر کوئی خصم نقض وارد کرے تو اس کو خبر نہ ہوگی کہ صغریٰ پر نقض ہے یا کبریٰ پر۔ پھر انشا پردازی ایسی بھونڈی اور بے جوڑ اور کھسڑ کھسڑ جیسی محکمہ ٹرانسپورٹ کی چھکڑا اونٹنی۔ یا جیسے دھوبی کا بڑی بھاری لادی لے جانے والا بیل۔ یا جیسے محکمہ صفائی کا کوڑا کرکٹ ڈھونے والا بھینسا۔ انشا پردازی مضبوط اور مربوط نہیں بلکہ بے ہنگم طور پر مخلوط اور بڑھیا کے چرخے کی مال کی طرح منوط۔ الغرض امروہی کے تارو پود دماغ کی کارگاہ کا کینڈا ہی نرالا ہے۔ عبارت میں ایسی الجھن کہ جیسے کسی کٹی ہوئی گڈی کی ڈور۔ بہرہمہ آپ دارالامان کے چہیتے پوت سپوت ہیں جب تک آپ تشریف کا گٹھا نہیں لاتے جوابات ملتوی رہتے ہیں۔ گویا آپ مرزائیوں کے عقل کل ہیں سچ ہے۔

١٤٦

اذا کان الغــ سيهديهم طر ٣٠؍ اپریل کے الحکم میں آپ نے کـ اہل قرآن پر خر دجال بن کر دولتیاں جھاڑی ہیـ پیشانی نہیں دم دار ستارہ بن کر اپنا ستارہ نہیں بے نے رسالہ اشاعۃ السنہ جاری کیا تھا تو فدوی ـ احسان کا چھپر مولوی صاحب پر دھرا ہے اور لکھـ حدیثوں میں ہمارا آپ کا خلاف ہے وہ رفع ہوـ ہم تم دونوں مل کر مولوی چکرالوی کی اشاعۃ السنـ کی بہت کچھ تعریف کی ہے گویا مولوی محمد حسینـ اور یہ ثابت کرنا چاہا ہے کہ میں ایسا ہی اہلحدیثـ صاحب مرحوم کے زمانے میں تھا جن کی بدولـ راتب ملتا تھا۔ ہم کو اس پر مندرجہ عنوان مثل یاد آ امروہی صاحب کو خوب یاد رکھنا باتوں پر پھسلنے والے نہیں ۔ او خوب مے امروہی صاحب جیسے کچھ متبع سنتـ خاتم النبیین احمد مجتبیٰ محمد مصطفیٰ ﷺ کی نبوتـ بروزی اور ظلی نبی اور خاتم الخلفاء (خاتم الاوصـ حدیث بلکہ خود قرآن مجید کا ہرگز انکار نہ کرتےـ دینا جو ان کے جعلی نبی نے دی ہیں۔ ان کا سننا ابن مریم کـ اس سے بہتـ وہ لوگ کس قدر قسی القلب ہیں جـ ورفعت وقربت اور جن کی والدہ ماجدہ کی عفتـ

صفحہ ٤٩٣
اذا كان الغراب دليل قوم
سيهديهم طريق الهالكينا

٣٠؍ اپریل کے الحکم میں آپ نے کنوتیاں بدل کر مولوی عبداللہ صاحب چکڑالوی شیخ اہلِ قرآن پر خر دجال بن کر دولتیاں جھاڑی ہیں۔ مگر ساتھ ہی مولوی محمد حسین بٹالوی سے ستارہ پیشانی نہیں دمدار ستارہ بن کر اپنا ستارہ نہیں بے سرا ستارہ ملانا چاہا ہے اور یاد دلایا ہے کہ جب آپ نے رسالہ اشاعۃ السنہ جاری کیا تھا تو فدوی نے یوں مدد دی تھی اور ووں مدد دی تھی گویا بڑے احسان کا چھپر مولوی صاحب پر دھرا ہے اور لکھا ہے کہ اب بھی ہم اور تم وہ نہیں ہیں جو صرف بعض حدیثوں میں ہمارا آپ کا خلاف ہے وہ رفع ہو جائے تو پھر وہی چگھموتیاں وہی چہل پہل ہے۔ اور ہم تم دونوں مل کر مولوی چکڑالوی کی اضافۃ السنۃ کا مہرہ لیں اور سنت رسول اللہ ﷺ اور سنت صحابہؓ کی بہت کچھ تعریف کی ہے گویا مولوی محمد حسین صاحب اور کل اہلحدیث کو چیتے کی طرح پھسلایا ہے اور یہ ثابت کرنا چاہا ہے کہ میں ایسا ہی اہلحدیث اور اہل سنت ہوں جیسا مولوی نواب محمد صدیق خان صاحب مرحوم کے زمانے میں تھا جن کی بدولت بھوپال میں شکم سیر آذوقہ اور منہ چھٹ خویدا اور راتب ملتا تھا۔ ہم کو اس پر مندرجہ عنوان مثل یاد آئی کہ چور کی بلی اور جلیبیوں کی رکھوالی۔

امروہی صاحب کو خوب یاد رکھنا چاہئے کہ مولوی محمد حسین صاحب ان چکنی چپڑی باتوں پر پھسلنے والے نہیں ۔

او خوب مے شناسد پیرانِ پارسا را

امروہی صاحب جیسے کچھ متبع سنت ہیں سب پر روشن ہے۔ اگر وہ متبع سنت ہوتے تو خاتم النبیین احمد مجتبیٰ محمد مصطفیٰ ﷺ کی نبوت ورسالت سے توبہ کر کے ایک دنیا پرست مکار کو بروزی اور ظلی نبی اور خاتم الخلفاء (خاتم الانبیاء) ہرگز نہ بناتے وہ متبع سنت ہوتے تو نہ صرف حدیث بلکہ خود قرآن مجید کا ہرگز انکار نہ کرتے ۔ وہ متبع سنت ہوتے تو کلمۃ اللہ سیدنا مسیح ؑ کو گالیاں دینا جو ان کے جعلی نبی نے دی ہیں۔ ان کا سننا اور تصدیق کرنا ہرگز گوارا نہ کرتے خصوصاً یہ شعر ؎

ابن مریم کے ذکر کو چھوڑو
اس سے بہتر غلام احمد ہے

(دافع البلا ص ٢٠، خزائن ج ١٨ ص ٢٤٠)

وہ لوگ کس قدر قسی القلب ہیں جو عیسیٰ ؑ جیسے اولوالعزم نبی کو برا کہتے ہیں جن کی عظمت ورفعت وقربت اور جن کی والدہ ماجدہ کی عفت وعصمت کی گواہی قرآن مجید نے دی کہ ”کلمۃ

صفحہ ٤٩٤

القاها الى مريم وروح منه" اور "امه صديقه" کیا صحابہ اور تابعین اور تبع تابعین اور اولیاء اللہ اور ائمہ میں سے کسی نے نبوت کی تفریق کی ہے کہ ایک نبوت ناقصہ دوسری کاملہ ہے اور ناقص نبی قیامت تک پیدا ہوتے رہیں گے۔ ہاں کامل نبی کوئی پیدا نہ ہوگا۔ اور مرزا ناقص نبی ہے کامل نبی نہیں۔ کوئی ان اُلّو کی دُموں فاختہ زادوں سے پوچھے کہ تم نے خود ہی اپنے نبی کو ناقص ٹھہرا دیا اور خود ہی ناقص بن گئے۔ کیا معنی کہ ناقص نبی کی امت بھی ناقص ہی ہوگی۔ جب مرزا ناقص نبی ہے اور اپنے کو ناقص نبی بنانے کے لئے تمام اولیاء اللہ حضرت بایزید بسطامی وغیرہ کو ناقص نبی بتاتا ہے تو پھر مرزا میں اور دیگر اولیاء اللہ میں کیا فرق رہا اور کیا ترجیح ہے کہ مرزا پر کوئی ایمان لائے۔ ہر دعویٰ میں حماقت اور تناقض ہے۔ ان بے دال کے بودھوں کو اتنی خبر نہیں کہ نبوت اور ولایت کو جمع کرنے میں نبوت کی توہین اور تحقیر ہے۔ ان دونوں کا جمع کرنا ایسا ہے جیسا کوئی ستاروں کو آفتاب کے ساتھ جمع کرے۔ پھر ہم مدلل طور پر ثابت کر چکے ہیں کہ نہ کوئی نبی ناقص ہے نہ کوئی نبوت۔ خدائے تعالیٰ نے ہر نبی کو دنیا میں کامل کر کے بھیجا ہے۔ یہاں تک کہ آنحضرت ﷺ پر سلسلہ نبوت کاملہ کا خاتمہ ہو چکا۔ تعجب ہے کہ نبوت کاملہ تو ختم ہو جائے اور نبوت ناقصہ باقی رہ جائے اور وہ بھی کس لئے؟ قادیانی مغل کے لئے، جیسی روح ویسے ہی فرشتے۔ نبوت کو ناقص بتانا نبوت اور خود انبیاء کی مذمت اور توہین کرنا ہے۔ ہم کو خدائے تعالیٰ نے اپنے کلام پاک میں تعلیم دی ہے۔ "لانفرق بین احد من رسلہ" اس سے صاف ثابت ہے کہ تمام انبیاء کامل ہیں۔ اسی وجہ سے ہم کو تفریق نہ کرنے کا حکم دیا ہے۔ اگر بعض انبیاء ناقص اور بعض کامل ہوتے تو احکم الحاکمین جو منصف ہے اور کسی کا حق غصب یا تلف نہیں کرتا اور حق دار ہی کو حق عطا کرتا ہے نہ کہ غیر حقدار کو۔ ضرور تفریق بین الانبیاء کا حکم دیتا۔ آنحضرت ﷺ نے باوصف اس کے کہ خاتم الانبیاء ہیں۔ یہی فرمایا ہے کہ "لا تفضلوا فی انبیاء اللہ" یعنی انبیاء میں تفضیل نہ کرو۔ سبحان اللہ سبحان اللہ! نبی کی یہ شان ہے برخلاف اس کے مردود قادیانی عیسیٰ علیہ السلام کو گالیاں دیکر دوزخ کا کندہ بناتا ہے اور اپنے کو عیسیٰ مسیح سے بہتر بتا کر دارالبوار کو اپنا مسکن بناتا ہے اور تمام بے فکرے اپاہج۔ زنکھے بے ایمان مرزا اور اس کے شیطانی احتلامات کی تصدیق کرتے ہیں۔ کیا اس کے معنی اتباع سنت ہیں۔

مولوی عبداللہ چکڑالوی عامل بالقرآن تو ہیں۔ مرزا تو نہ عامل بالقرآن ہے نہ عامل حدیث۔ وہ تو عامل بامر شکم و مطیع نفس امارہ ہے۔ مطلب کی بات حدیث سے بھی لے لیتا ہے اور قرآن سے بھی۔ اپنی تصویر کی پوجا کرانے میں کہتا ہے کہ قرآن میں حرمت تصویر کا کہیں حکم نہیں اور

١٤٨

صفحہ ٤٩٥

جب کہا جاتا ہے کہ قرآن میں مہدی کے بھی تو دوبارہ آنے کا ذکر نہیں تو کہتے ہیں کہ یہ ذکر حدیث میں ہے۔ الغرض مرزا کا مطلب ثابت ہو تو حدیث اور قرآن دونوں پر ایمان ورنہ دونوں سے انکار پر تاویلیں ایسی سڑی بسی، گنجی، لنجی جیسے اس کے اپانچ حواری۔

امروہی خوب یاد رکھے کہ اس نے روغن قازل ملکر جو بمقابلہ اہل قرآن اہلحدیث کو شیشے میں اتارنا چاہا ہے تو مرزا کو اہل قرآن جس قدر ملحد و مرتد سمجھتے ہیں اس قدر بلکہ اس سے بڑھ کر اہلحدیث اس کو اکفر والحد واضل اور مضل یقین کرتے ہیں۔ ہم بھی دیکھیں مولوی بٹالوی صاحب کیونکر امروہی کے دام میں پھنستے ہیں۔

٥ ...... حدیثیں کشفی طور پر صحیح ہو جاتی ہیں

مولانا شوکت اللہ میرٹھی !

٣٠؍ اپریل کے الحکم میں مرزا قادیانی نہ صرف عیسیٰ مسیح بلکہ سرے سے تمام انبیاء کے معجزات کا انکار کرتے ہیں۔ اس کی وجہ عصمت بی بی از بیچارگی ہے۔ چونکہ آپ بروزی اور ظلی نبی اور مسیح نہ مہدی بنے ہیں مگر کوئی معجزہ یا کرشمہ دکھا نہیں سکتے۔ لہذا معجزات کا انکار کرتے ہیں کہ وہ واقع میں نہ عیسیٰ مسیح سے سرزد ہوئے نہ کسی اور نبی سے۔ مرزا قادیانی تو پورے شعبدہ باز مداری بھی نہیں جس طرح پورے رمال نہیں۔ رمل کی رو سے پیشینگوئی کی مگر ہوا میں اڑ گئی اوروں کی نسبت کیا۔ خاک پیشینگوئی پوری ہوتی خود اپنی اور اپنے گھر کی پیشینگوئی پوری نہ ہوئی۔

تو بر اوج فلک چہ دانی چیست
چون ندانی کہ در سرائے تو کیست

گویا دنیا نے انبیاء کو ویسے ہی مان لیا۔ کسی معجزے یا خرق عادت کی وجہ سے نہیں۔ عیسیٰ مسیح کے احیاء اموات کے قائل نہیں۔ بلکہ احیی الموتی باذن اللہ سے احیاء قلوب یعنی ہدایت مراد لیتے ہیں۔ لیکن کیا یہ معجزہ نہیں۔ حالانکہ آپ عیسیٰ مسیح کو نبی تو کیا بمعنی مہذب انسان بھی یقین نہیں کرتے۔ مگر ان سے معجزے کا صادر ہونا تسلیم کر لیا۔ بات بات میں تناقض اور حماقت ہے۔ اب ملاحظہ فرمائیے معجزات انبیاء سے تو بدیہی انکار مگر کشفی طور پر موضوع احادیث بھی صحیح ہو جاتی ہیں یعنی اولیاء اللہ اور اہل کشف الہام کی رو سے احادیث کو صحیح کر لیتے ہیں۔ گویا یہ معجزہ اور کرامت اور خرق عادت نہیں۔ مرزا قادیانی کہتے ہیں کہ مولوی محمد حسین صاحب (بٹالوی) نے خود لکھ دیا ہے کہ اہل کشف اور ولی الہام کی رو سے احادیث کی صحت کر لیتے ہیں (یعنی خود آنحضرت ﷺ سے ) ہم کو یقین نہیں کہ مولوی محمد حسین صاحب نے ایسا کہا ہو اور اگر درحقیقت لکھا ہے تو یہ شائد اس

١٤٩

صفحہ ٤٩٦

زمانہ کا ذکر ہے جب کہ نہ صرف مولوی صاحب بلکہ بعض دوسرے اہل اسلام بھی مرزا کو ایک خالص بزرگ آدمی سمجھتے تھے۔ تاہم ایسا لکھنا قابل افسوس ہے کیا معنے کہ اب دنیا میں موضوع اور مدلس حدیث ایک بھی نہ رہے گی سب صحیح ہو جائیں گی۔ یعنی ایک دنیا پرست مکار چند حمقاء کے سامنے ہنکار اٹھے گا کہ فلاں حدیث جس کو موضوع بتایا جاتا ہے صحیح ہے اور میں نے کشفی طور پر آنحضرت ﷺ یا دیگر اصحاب سے اس کی تصدیق کر لی ہے یا مجھ پر الہام ہو گیا ہے جیسا کہ ظلی اور بروزی مرزا جو اپنے کو تناسخی احمد قرار دیتا ہے وہ تو دم کے دم میں جسد عنصری سے نکل کر اپنے کو عالم برزخ میں پہنچا سکتا ہے اور پھر کھٹ سے قادیان میں اتر سکتا ہے۔

دوسری خرابی یہ ہے کہ رجال الاحادیث جن میں بڑے بڑے علماء اور صلحاء اور مشائخ تھے انہوں نے عبث احادیث کی تنقید میں جانکاہی کی اور اپنے کو گھلایا۔ کیا ان میں سے کسی کا مرتبہ مرزا کے برابر نہ تھا کہ کشفی طور پر احادیث کی صحت کر لیتے۔ بھلا ایسے کھلے مضمون سفسطوں میں تو وہی لوگ آتے ہیں جن کا ایمان مردہ ہو گیا ہے یا جن کی آنکھ پھوٹ گئی ہو۔ کوئی عقلمند اور سچا مسلمان تو کیوں آنے لگا۔

پھر کشف والہام جس طرح موضوع احادیث کو صحیح کر سکتا ہے اسی طرح ان احادیث کو جو صحیح سمجھی جاتی ہیں غلط کر سکتا ہے۔ اب مولوی عبداللہ صاحب چکڑالوی کا الہام اور کشف کیوں صحیح طور نہ مانا جائے جو صحیح احادیث کو بھی ظنی اور ساقط الاعتبار بتاتے ہیں۔ اس کی کیا دلیل ہے کہ فلاں شخص پر تو کشف والہام ہوا ہے اور فلاں پر نہیں ہوا جبکہ کشف والہام ایک مرئی اور محسوس امر نہیں۔ کیا مرزائیوں میں سے کوئی کہہ سکتا ہے کہ ہم نے مرزا قادیانی پر جمعرات کے ساڑھے دو بجے الہام کا دوگز ابر برستے دیکھا ہے جس کی ہیئت کذا کی بالکل ایسی تھی جیسی قطب صاحب کی لاٹھ کی یا جیسے منارۃ المسیح قادیان کی۔ اس سے یہ خرابی بھی لازم آئی کہ شریعت اسلامی کوئی چیز نہیں۔ اہل کشف واہل الہام جس حدیث کو چاہیں صحیح اور جس حدیث کو چاہیں غلط کر سکتے ہیں۔ پھر ظاہر ہے کہ الہام خدا کی طرف سے ہو پس ایک مدعی الہام یا مفتری علی اللہ کہہ سکتا ہے کہ فلاں قرآنی آیہ کی تعمیل کا اب زمانہ نہیں اور مجھ پر الہام ہو چکا ہے یعنی اب یہ آیہ منسوخ ہو گئی ہے اور قرآن میں پہلے بھی ناسخ ومنسوخ آیات موجود ہیں۔

دیکھو مرزا قرآن کا نسخ نہیں کر رہا تو کیا کر رہا ہے۔ وہ لکھتا ہے کہ فلاں آیت میری نسبت ہے اس کے یا تو یہ معنے ہوئے کہ آنحضرت ﷺ درحقیقت نبی ہی نہ تھے بلکہ ان کے ذریعے سے قرآن مجھ پر اترا ہے یا یہ معنی ہیں کہ فلاں آیت کا آنحضرت ﷺ پر نازل ہونا منسوخ ہو گیا ہے

١٥٠

صفحہ ٤٩٧

اور اب خدائے تعالیٰ نے مجھ پر اس کے نزول کی منظوری بھیج دی ہے۔ اور جس طرح دنیا کی گورنمنٹیں ہمیشہ ایکٹ اور سرکلر وغیرہ منسوخ کرتی رہتی ہیں اور اپنے ہاتھوں کا عزل و نصب تقرر وتبدل حسب مصلحت وموقع وقت عمل میں لاتی رہتی ہیں۔ یہی کیفیت آسمانی گورنمنٹ کی ہے۔ الغرض اہل کشف اور اہل الہام جو چاہیں کریں وہ ہر طرح مختار ہیں۔ اندھے کی داد نہ فریاد اندھا مار بیٹھے گا۔ ایسی ہی حماقت آمیز باتوں سے دیگر مذاہب کی نظروں میں مذہب اسلام حقیر اور ذلیل اور پوچ نظر آتا ہے۔ الہام کا دریا سلامت ہے تو دیکھتے جائیے۔ کیسی کیسی ٹکڑوں کی صدائیں سننے میں آتی ہیں۔ مرزا قادیانی تو جو چاہے سو کہے۔ اس کو اسلام سے سروکار ہی نہیں۔ تعجب تو مولوی محمد حسین صاحب پر ہے کہ انہوں نے کسی ترنگ میں ایسا لکھ مارا جو مرزا کے لئے دستاویز ہوگئی۔

اگر چہ مرزا کا یہ دعویٰ ہے کہ میں مستقل نبی ہوں اور ہر ایک شریعت کو نسخ اور مسخ اور اپنے کشف والہام سے آیتوں اور حدیثوں کو صحیح یا غلط کر سکتا ہوں۔ لیکن اس نے موضوع حدیثوں کے صحیح کرنے کے التزام کا جوا مولوی بٹالوی کی گردن پر رکھ دیا ہے۔ کہ سب سے پہلے اس کے قائل وہی ہیں جو درحقیقت صاحب کشف والہام نہیں۔ پھر میں باوصف صاحب کشف والہام اور مستقل نبی ہونے کے کیوں اس کا قائل نہ ہوں۔ مجھ پر تو یہ واردات ہر وقت گزرتی رہتی ہیں۔

مولوی صاحب جو اپنے کو اہلحدیث کا لیڈر بتاتے ہیں۔ جب دیگر مذاہب والوں کو ان کا یہ اجتہاد معلوم ہوگا تو ضرور یہی کہیں گے کہ تمام اہلحدیث کا معاذ اللہ یہی عقیدہ ہے۔ بات یہ ہے کہ جب انسان میں خلوص نہیں رہتا یا کسی خود غرض کے دھوکے میں آ جاتا ہے تو اس سے ایسی ہی حرکات سرزد ہوتی ہیں کہ اپنے ساتھ ساری سوسائٹی کو بدنام کر دیتا ہے۔ مذاہب غیر والے کہہ سکتے ہیں کہ مذہب اسلام کی باگ تو اسلامی علماء وفضلاء واولیاء اللہ کے ہاتھ میں ہے کہ اسلام کی جس بات کو چاہیں رد کردیں اور جس بات کو چاہیں صحیح اور درست کر دیں اور اس صورت میں اسلام خدائی مذہب نہیں۔ ”إنا لله وإنا اليه راجعون“

٦ ...... دین مرزائی

مولانا شوکت اللہ میرٹھی!

موجودہ زمانہ میں چونکہ مذاہب آزاد ہیں لہٰذا طرح طرح کے جدید مذاہب کا پیدا ہونا ضروری ہے۔ اکثر مذاہب میں ریفارمر (مجدد) بھی پیدا ہورہے ہیں۔ یہ زمانے کی ترقی کے آثار ہیں لیکن اصطلاح اور چیز ہے اور ترمیم اور تنسیخ اور چیز۔ مرزا قادیانی مسلمانوں سے سرخرو بننے اور ان کو دھوکا دینے کے لئے اپنے کو مجدد بتاتے ہیں اور حدیث کا حوالہ دیتے ہیں کہ ”ہر صدی پر مجدد فی

١٥١

صفحہ ٤٩٨

الدین پیدا ہوگا۔“ مگر حدیث میں یہ نہیں کہ وہ نبی بھی ہوگا بلکہ حدیث میں تو ”لا نبی بعدی“ مطابق آیت ”ولکن رسول اللہ وخاتم النبیین“ وارد ہے۔ مرزا قادیانی مجدد فی الدین والی حدیث کی تو تاویل نہیں کرتے۔ کیونکہ وہ ان کے منشاء کے موافق ہے۔ مگر حدیث ”لانبی بعدی“ کی تاویل کرتے ہیں اور چونکہ اسی حدیث اور ایک دوسری حدیث میں دجالوں، کذابوں اور دجالون مضلون وارد ہوا ہے۔ لہٰذا ایسی حدیثوں سے ناک بھوں چڑھاتے ہیں۔ تاویل بھی نہیں کرتے کیونکہ یہ ان کے دعوے نبوت کاذبہ کے لئے بلا وسواس بے التباس فاسد الراس ہے۔

مجدد اور نبی میں زمین و آسمان کا فرق ہے۔ ہر مذہب کا مجدد اس مذہب کے نبی کا تابع ہوتا ہے نہ کہ خود نبی۔ کیونکہ تابع ہرگز نبی نہیں ہو سکتا۔ مگر مرزا قادیانی امتی بھی ہیں اور نبی بھی۔ تابع بھی ہیں اور متبوع بھی۔ مسیح موعود بھی ہیں اور اصلی مسیح کو گالیاں بھی دیتے ہیں۔ مستقل نبی بھی ہیں اور ظلی بھی یعنی اصلی نبی بھی ہیں اور نقلی بھی۔ علیٰ ہٰذا کس کس خرافات اور تناقضات کو رویا جائے مگر جو کاٹھ کے اُلو دام میں پھنسے ہوئے ہیں ان کو کون سمجھائے۔ اور جو اصحاب الفیل ہاتھی کا روٹ چکھ رہے ہیں وہ بڑھتی دولت کے خواہاں ہو کر آنکھوں کے اندھوں کی گانٹھ کیوں نہ کاٹیں۔

اگر مرزا قادیانی مجدد ہوتے تو دین محمدی کو چھوڑ کر اپنا نیا دین یعنی دین احمدی ہرگز قائم نہ کرتے اور چیلے چانٹوں کو بجائے محمدی بنانے کے احمدی یعنی غلام احمدی نہ بناتے اور نہ سرکلر جاری کرتے کہ جو شخص مجھے مستقل نبی وغیرہ نہ مانے وہ واجب القتل ہے۔ مطلب یہ ہوا کہ ہر ایک مسلمان جو محمد ﷺ کا متبع ہے اور آپ کے بعد کسی کو نبی نہیں مانتا واجب القتل ہے۔ اب اسلامی پبلک سمجھ سکتی ہے کہ وہ سگ دنیا مکار اور دجال واجب القتل ہے جو ہندوستان کے ٢ کروڑ محمدی مسلمانوں کو واجب القتل بناتا ہے یا تمام مسلمان؟

کوئی حکمت عملی کوئی مصلحت ضرور ہے کہ مسیح کی طرح آنحضرت ﷺ پر کھلم کھلا سب ولعن نہیں کیا جاتا۔ اگرچہ ضمناً اور معنی کل انبیاء پر سب ولعن ہو چکا ہے۔ کیا معنی کہ جس شخص نے ایک نبی (عیسیٰ مسیح) کو گالی دی اس نے قرآن کا خلاف کیا اور تمام انبیاء کو گالی دی۔ انتظار صرف یہ ہے کہ نشیب میں پانی اچھی طرح نہیں مرا۔ مرزائی ابھی تعلیم و تربیت میں ادھورے ہیں۔ نبوت کے پرائمری سکول میں تعلیم پا رہے ہیں۔ ابھی ایسے گستاخ اور بے ادب نہیں ہوئے جیسا مرزا کا منشاء ہے۔ ”مگر دیر آید درست آید“ تمام بدن کی سوئیاں تو نکل گئی ہیں صرف پلکوں کی سوئیاں باقی ہیں۔ ظاہر ہے کہ جو شخص لوگوں کو تمام انبیاء سے توڑ کر اپنی نبوت کا رشتہ جوڑتا ہے اس کے دل میں کسی نبوت کی وقعت کیونکر ممکن ہے۔ وہ تو انبیاء کا کھلا رقیب ہے اور دل سے چاہتا ہے کہ صفحہ

١٥٢

دنیا سے ان کا نام تک مٹ جائے اور دنیا کے بھرا جائے کہ بجز مرزائی دین اور مرزائی نبوت سکے۔ بس چار طرف میں ہی میں ہوں۔ جس جب چھینکا ٹوٹ پڑے تو جلیبیاں میرے ہی

تعارف مضامین

سال ١٩٠٣ء ٢٤ مئی ۔

١ ...... کلام کی تاویل

مولانا اگر تاویل صرف انسانوں کے کلام صدق و کذب دونوں کا مجموعہ ہے۔ کتابوں کی بھی تاویل اور تسویل ہو رہی۔ اسلام میں تو تاویلات ہی نے جنگ ہنگا معنے ہیں دوسرا کہتا ہے یہ معنے ہیں۔ بھلا کلام الٰہی کے۔ کسی کلام کا مختلف المعنے ہ و بلاغت پر دھبا لگانے والی اور بالآخر یہ موجودہ سلطنتیں بھی خلاف بیانی کے مرتکب سچا نہیں ٹھہر سکتا اور نہ متکلم کا اصل منشاء

صفحہ ٤٩٩

دنیا سے ان کا نام تک مٹ جائے اور دنیا کے دلوں پر مہریں لگ جائیں کانوں میں سیسہ اور پارہ بھرا جائے کہ بجز مرزائی دین اور مرزائی نبوت کے کسی دین اور کسی نبی کی نبوت کی آواز دنیا نہ سن سکے۔ بس چار طرف میں ہی میں ہوں۔ جس طرح بلی یہ چاہتی ہے کہ سب اندھے ہو جائیں اور جب چھینکا ٹوٹ پڑے تو جلیبیاں میرے ہی حصے میں آئیں۔

تعارف مضامین ...... ضمیمہ شحنہ ہند میرٹھ

سال ١٩٠٣ء ٢٤ مئی کے شمارہ نمبر ٢٠ کے مضامین

١ ...... کلام کی تاویل سے متکلم کی توہین ہوتی ہے۔ مولانا شوکت اللہ میرٹھی ! ٢ ...... قادیانی گھمنڈ گھر۔ ج، ن پشاور ! ٣ ...... مرزائیوں کا تعصب۔ محمد ظہور خان سوداگر شاہجہاں پور ٤ ...... کمشنر مردم شماری کا غضب ناک فقرہ مولانا شوکت اللہ میرٹھی ! ٥ ...... امروہی صاحب سنت رسول کی بظاہر کیوں حمایت کرتے ہیں؟ مولانا شوکت اللہ میرٹھی ! ٦ ...... مرزا قادیانی کے فتوے۔ مولانا شوکت اللہ میرٹھی ! ٧ ...... لندنی مسیح اور قادیانی۔ مولانا شوکت اللہ میرٹھی !

١ ...... کلام کی تاویل سے متکلم کی توہین ہوتی ہے

مولانا شوکت اللہ میرٹھی !

اگر تاویل صرف انسانوں کے کلام تک محدود رہتی تو چنداں غم نہ ہوتا کیونکہ انسانوں کا کلام صدق و کذب دونوں کا مجموعہ ہے۔ موجودہ زمانے میں تو انسانوں کے کلام کی طرح آسمانی کتابوں کی بھی تاویل اور تسویل ہورہی ہے اور چاروں طرف اسی کا بازار گرم ہے۔ خصوصاً مذہب اسلام میں تو تاویلات ہی نے جنگ ہفتا دو ملت قائم کر دی ہے۔ ایک گروہ کہتا ہے کہ اس کے یہ معنے ہیں دوسرا کہتا ہے یہ معنے ہیں۔ بھلا یہ کیونکر ممکن ہے کہ کسی کلام کے مختلف معنے ہوں۔ خصوصاً کلام الٰہی کے۔ کسی کلام کا مختلف المعنی ہونا حد درجہ کی قباحت اور خرابی اور اس کی مسلمہ فصاحت وبلاغت پر دھبا لگانے والی اور بالآخر یہ نتیجہ نکالنے والی ہے کہ وہ کلام بھی جھوٹا اور متکلم بھی جھوٹا۔ موجودہ سلطنتیں بھی خلاف بیانی کے مرتکب کو سزا دیتی ہیں۔ اگر تاویل پر مدار رکھا جائے تو کوئی کلام سچا نہیں ٹھہر سکتا اور نہ متکلم کا اصل منشاء کسی پر کھل سکتا ہے۔ کیونکہ ہر کلام میں تاویل دخیل ہو سکتی

١٥٣

صفحہ ٥٠٠

ہے ۔ کسی کلام کا اجمال وابہام بھی محل فصاحت و بلاغت ہے کیونکہ اس کا دارومدار تاویل پر ہے۔ یعنی یہ سمجھا جاتا ہے کہ اس کے معنے درحقیقت کچھ بھی نہیں ۔ محض الفاظ کا قالب اور خالی خولی برہنہ ڈھانچہ ہے جس کو تاویل کرنے والا معنے پہناتا ہے۔ پھر جب دوسرا مؤل اس کو غلط کر دیتا ہے تو وہ ڈھانچہ بدستور ننگے کا ننگا رہ جاتا ہے۔ ایک نے معنے پہنائے دوسرے نے وہ لباس اتار کر نیا لباس پہنا دیا اور ہلم جرا ۔ ملاحظہ کیجئے سیدھے سادھے کلام کی کس قدر بے وقعتی اور تفضیح ہوئی۔

شد پریشان خواب من از کثرت تعبیر ہا

خیر سے ہمارے مرزا قادیانی کی ظنی اور بروزی نبوت کا کاغذی جہاز تو تاویل ہی کے طوفان خیز سمندر میں چل رہا ہے۔ آپ کو آسمانی باپ نے تاویل و تسویل کا وہ سلیقہ عطا کیا ہے کہ آج تک کسی کو عطا ہی نہیں ہوا۔ تمام علماء متکلمین تمام محدثین تمام مفسرین کلام الٰہی کے وہ معنے نہیں سمجھتے جو انیسویں اور بیسویں صدی میں آپ سمجھے ہیں ۔

تاویل کرنے والا تاویل نہیں کرتا بلکہ متکلم کے کلام کی اصلاح کرتا ہے۔ اس کا اصلی مقصد یہ ہوتا ہے کہ متکلم نے غلطی کی ہے اس کو کلام کرنے کا سلیقہ نہ تھا ورنہ وہ کلام میں یہ الفاظ لاتا جن کو میں اپنی تاویل میں ظاہر کر رہا ہوں۔ قرآن مجید ”يحرفون الكلم عن مواضعه“ سے ایسے ہی لوگوں کی تصدیق کرتا ہے۔

پھر تاویل کی بنیاد محض خود غرضی اور نفسانیت پر ہوتی ہے مثلاً مرزا قادیانی اور ان کے حواری آیت ”ولکن رسول الله وخاتم النبيين“ کے النبیین میں الف لام عہد ذہنی بتاتے ہیں یعنی آپ ان انبیاء کے خاتم ہیں جو آپ سے پہلے گزر چکے ہیں۔ کیا کہنا۔ ایسی تاویل تو خر دجال کو بھی نہیں سوجھی اور نہ سوجھ سکتی ہے۔ آپ کو یہ بھی خبر نہیں کہ الف لام استغراق کس موقع پر آتا ہے اور الف لام عہد ذہنی کس موقع پر آپ کو یہ بھی خبر نہیں کہ جمع پر ہمیشہ الف لام استغراق کا ہوتا ہے۔ آپ کو یہ بھی معلوم نہیں کہ اس صورت میں تو ہر نبی اپنے سے پہلے انبیاء کا بلکہ ہر انسان اپنے سے پہلے انسانوں کا خاتم ہوگا۔ خصوصیت کیا رہی؟ اور خدائے تعالیٰ کا جو کلام محل مدح میں تھا وہ محل ذم میں ہو گیا۔ پھر مرزا قادیانی جو اپنے کو خاتم الخلفاء بتاتے ہیں تو آپ بھی گزشتہ خلفاء (انبیاء) کے خاتم ٹھہرے نہ کہ آئندہ انبیاء کے۔ پس ممکن ہے کہ مرزا قادیانی کے بعد کوئی خلیفہ (نہیں صاحب مسیح موعود و مہدی مسعود وظلی و بروزی نبی و امام الزمان) اور بھی پیدا ہو۔ حالانکہ ایسا کہنے والے پر مرزا قادیانی بھی اپنا بغلی چھرا تیز کریں گے۔ لیجئے جناب آپ نے آیت قرآنی کی ایسی تاویل کی کہ آپ نے منہ سے اپنی رسالت و نبوت کی تکذیب کر دی ۔ یہ ہے تاویل کا نتیجہ۔

١٥٤

صفحہ ٥٠١

اجماع امت اور سیاق و سباق اور لغت اور فن بیان و معانی کے خلاف قرآن مجید کی تاویل کرنا بچوں کا کھیل نہیں۔ ہم بارہا لکھ چکے ہیں اور پھر لکھتے ہیں کہ قادیان بالکل جہلاء اور اغبیاء کا مسکن ہے۔ ان میں نہ کوئی حدیث و قرآن کا عالم ہے نہ کوئی فلسفی اور متکلم ہے۔ نہ کوئی فن معانی و بیان اور فصاحت و بلاغت اور فن بدیع سے واقف ہے کہ بلکہ ہم بڑے دعوے سے کہتے ہیں کہ صرف دعوے بھی کما حقہ کوئی واقف نہیں۔ پس کس کی طاقت ہے کہ مجددانہ مشرقیت سے آنکھ ملا سکے۔ انشاء اللہ ! شوکت۔

دلیروں سے غرض ہے بزدلوں سے کام کیا اس کو
کہ شیوہ شیر گیری ہے غزال چشم فتاں کا

٢ ...... قادیانی گھنٹہ گھر

ج ، ن ۔ پشاور

٣٠؍ اپریل کے اخبار الحکم میں قادیانی گھنٹہ گھر کی مخالفت کرنے والوں کے خلاف ڈپٹی کمشنر صاحب بہادر ضلع گورداسپور کی خدمت میں بہت کچھ رونا رویا گیا ہے۔ مگر تمام دروغ بے فروغ اور سرتا پا دھوکا و مکر و زور ہے اور اس گھنٹہ گھر کی نسبت لکھا ہے ”خاص کر یہ منارہ اسلام کی مذہبی رسوم میں سے ہے۔“ (مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٣١٦) یعنی اسلام میں ایسی صدہا رسوم مثل تثلیث پرستوں اور اعجوبہ پرستوں کے موجود ہیں جن میں سے یہ ایک گھنٹہ گھر کی بھی رسم ہے۔ ”لعنة الله علی الکاذبین“ اس جھوٹ اور دھوکہ دہی کی بھی کوئی انتہا ہے۔ پبلک بلکہ حکام کی آنکھوں میں خاک ڈالنا اسی کو کہتے ہیں۔

چہ دلاور است دزدے کہ بکف چراغ دارد

اسلامی عمارتیں تو مساجد ہیں۔ گھنٹہ گھر مذہبی عمارت آج تک نہیں سنی گئی جن کی رسم ادا کرنا اسلامی رسم ہوسکے۔ اسلام میں تو پختہ مکان بھی ڈھا دینے کے قابل ہے۔ جیسا کہ ایک صحابیؓ نے اپنا ایک چھوٹا سا پختہ گول گھر بنایا تھا مگر آنحضرت ﷺ کی ناراضی سے ڈھا کر زمین کے برابر کر دیا۔ آنحضرت ﷺ نے حاجت سے زیادہ مکان بنانے پر اس کے مالک پر عتاب فرمایا ہے۔ یہ پختہ مکانات علامات قیامت سے ہیں۔ یہ قادیانی گھنٹہ گھر ڈھا دینے کے قابل ہے۔ اس کی مخالفت سچے مسلمانوں پر فرض ہے۔ چہ جائیکہ اس کو مذہبی عمارت تصور کر کے اس کی رسم ادا کی جائے۔

الحکم اس گھنٹہ گھر کو اسلامی عمارت بنانے میں کیا عمدہ دلیل پیش کرتا ہے۔ ”منارہ کی دیوار کے کسی اونچے حصہ پر ایک بہت بڑا گھنٹہ جو چار سو پانچ سو روپیہ قیمت کا ہوگا نصب کر دیا

١٥٥

صفحہ ٥٠٢

جائے گا تاکہ نمازی لوگ اپنے وقت کو پہچانیں۔" (مجموعہ اشتہارات ج ٣ ص ٣١٦) اول تو حلوائی کی دکان اور دادا جی کی فاتحہ۔ لوگوں کے گاڑھے پسینے کی کمائی کا روپیہ جو طرح طرح کے مکروہ حیلوں سے ٹھگا جاتا ہے وہ اس بے دردی سے فضول عمارتوں میں برباد کیا جاتا ہے جو بحکم آیت "ان المبذرین کانوا اخوان الشیاطین" یہ اسراف وفعل شیطانی ہے جو اسلام میں حرام ہے۔ علاوہ ازیں اسلام میں نماز کے واسطے اذان مقرر ہے۔ گھنٹہ تو کفار کا طریق ہے۔ جس کی مخالفت کا حکم اسلام میں ہے۔ پس گھنٹہ گھر کو اسلامی عمارت کہنا حکام کو صریح دھوکہ دینا ہے۔ اسلام میں آواز جرس یعنی گھنٹہ آواز شیطانی ہے۔ اس کو اسلام سے کیا نسبت یہ جدید عیسائی (مرزائی) تصویر پرستی تثلیث پرستی میں پرانے عیسائیوں سے سبقت لے گئے ہیں۔ ان کے مذہب میں گھنٹہ گھر عبادت گاہ ہو گئی۔ مگر مذہب اسلام کیوں بدنام کیا جاتا ہے۔ الحکم میں اس دھوکے بازی سے قادیانی گھنٹہ کو مذہبی عمارت بتلا کر مندروں اور گرجا گھروں جیسے حقوق طلب کرتا ہے۔

گھنٹہ گھر پر لوگوں کا یہ اعتراض کہ دوسروں کے گھروں کی بے پردگی ہوگی بہت معقول اور بالکل صحیح ہے۔ اسلام میں کسی کے گھر کے اندر جھانکنا تا کنا سخت گناہ ہے۔ اسلام کسی کی بے پردگی اور دل آزاری روا نہیں رکھتا۔ یہ تمام مرزائی مذہب کے اصول ہیں کہ جس طرح ہو سکے خلق اللہ کی دل آزاری کی جائے اور طرح طرح کی تدابیر فتنہ و فساد برپا کرنے کی نکالی جائیں۔ یہ مذہب گویا خلل اندازی امن خلق اور فتنہ و فساد کی بنیاد قائم کرنے کے واسطے بنا ہے۔ اللہ اس مذہب کے شر سے مسلمانوں اور تمام مخلوق خدا کو بچائے۔ آمین!

٣ ...... مرزائیوں کا تعصب

محمد ظہور خان سوداگر شاہجہان پور!

اہل سنت کے ساتھ مرزائیوں کا تعصب روز بروز بڑھتا جاتا ہے۔ خصوصاً جیسے مرزا قادیانی نے اپنے معتقدین ومریدین کو اہل سنت سے علیحدہ نماز پڑھنے کا حکم دیا ہے تب سے ان لوگوں کی جماعت بھی علیحدہ ہوتی ہے۔ بات تو جب تھی کہ مرزا قادیانی مرزائیوں کے لئے نماز بھی نئی تصنیف کرتے۔ معلوم ہوتا ہے ابھی مرزا قادیانی نے اس طرف توجہ نہیں کی۔ ابھی نئے نبی ہیں نئی امت میں رفتہ رفتہ سب کچھ ہو رہے گا۔ مرزائیوں کے تعصب کا اندازہ اس سے ہو سکتا ہے کہ ہمارے شہر شاہجہان پور میں ایک باخدا عالم دیندار متقی پرہیز گار عارف باللہ حضرت مولانا عبید الحق صاحب مرحوم کا انتقال تقریباً دو ہفتہ ہوئے بعارضہ ہیضہ ہوا۔ مرحوم نہایت بزرگ خدا ترس عابد

١٥٦

زاہد شخص تھے۔ شاہجہان پور میں ان کی سکو پڑھ کر فیضیاب ہوئے تمام شہر کو مرحوم کی و فرقہ مرزائیہ بجائے اس کے کچھ رنج ک صاحب مرحوم نہیں مانتے تھے۔ لہذا لعنتی اسہال کو بھی اسباب شہادت سے گنا ہے پیغمبر کی حدیثوں کو مانیں یا پرانی دقیانوسی ذکر خبریں لوکل کالم میں درج کرے مگر ا عرصہ گزر گیا اور مولانا مرحوم کے انتقال لوکل کالم اب تک اس خبر سے خالی نظر ا اخبار کے ایڈیٹر صاحب مرزائی ہوں او کے انتقال کی خبر اپنے اخبار میں کیوں چھا

٤ ...... کمشنر

مو مرزا قادیانی بار بار محض للو خلاف ہوں۔ کمشنر مردم شماری نے اپن یوں جواب دیا ہے "اگرچہ یہ مُلّا (ق عیسائیت، ہندو مذہب، شیعہ مذہب ا سے مخالفت کرتا ہے۔" ذرا انگریزی ا ہوتا ہے۔ مثلاً مُلّا، خٹک عالم، مُلّا باڑ میں مُلّا کے معنی جنگجو کے ہیں۔ مرزا اور ہولناک فقرے کے نتیجے میں اور ا ریگ ماہی اور سقنقور ملی ہوئی نان خط مطلب ہے کہ مرزا اگر واقعی جہاد کا م (جس کا وجود ہندوستان میں نہیں) م انگریزی تعلیم کے حامیوں کو اشتعال

صفحہ ٥٠٣

زاہد شخص تھے۔ شاہجہان پور میں ان کی کوشش سے ایک مدرسہ بھی قائم ہوا جس میں سینکڑوں طلباء پڑھ کر فیضیاب ہوئے تمام شہر کو مرحوم کی ناگہانی موت پر بے حد افسوس اور صدمہ ہے مگر نا خدا ترس فرقہ مرزائیہ بجائے اس کے کچھ رنج کرتے، لگے بغلیں بجانے کہ چونکہ مرزا قادیانی کو مولوی صاحب مرحوم نہیں مانتے تھے۔ لہٰذا لعنتی مرض ہیضہ میں انتقال ہو گیا۔ حالانکہ حدیث شریف میں اسہال کو بھی اسباب شہادت سے گنا ہے۔ مگر حدیث کون مانتا ہے اور بات بھی ٹھیک ہے۔ نئے پیغمبر کی حدیثوں کو مانیں یا پرانی دقیانوسی حدیثوں کو ہر مقامی اخبار کا فرض منصبی ہے کہ شہر کی قابل ذکر خبریں لوکل کالم میں درج کرے مگر اخبار ایڈورڈ گزٹ شاہجہان پور باوجود یہ کہ اس سانحہ عظیم کو عرصہ گزر گیا اور مولانا مرحوم کے انتقال کے بعد اخبار مذکور کے چار نمبر شائع ہو چکے لیکن افسوس کہ لوکل کالم اب تک اس خبر سے خالی نظر آتا ہے۔ اگرچہ مشہور ہے مگر ہم کو یقین نہیں کہ مذکورہ بالا اخبار کے ایڈیٹر صاحب مرزائی ہوں اور مرزا کو مسیح موعود مانتے ہوں۔ تعجب ہے کہ مولانا مرحوم کے انتقال کی خبر اپنے اخبار میں کیوں نہیں چھاپی۔

٤ ...... کمشنر مردم شماری کا ایک غضبناک فقرہ

مولانا شوکت اللہ میرٹھی!

مرزا قادیانی بار بار محض للو پتو سے گورنمنٹ میں میموریل بھیجتے ہیں کہ میں جہاد کے خلاف ہوں۔ کمشنر مردم شماری نے اپنی رپورٹ میں گویا مرزا قادیانی کے ٹھیک عندیے اور زعم کا یوں جواب دیا ہے ”اگرچہ یہ مُلّا (غلام احمد قادیانی) مذہبی جنگ (جہاد) کے خلاف ہے مگر عیسائیت، ہندو مذہب، شیعہ مذہب اور انگریزی تعلیم کی تحریک کی جس کا مرکز علی گڑھ ہے۔ سختی سے مخالفت کرتا ہے۔“ ذرا انگریزی اخباروں میں بھی دیکھو کہ لفظ مُلّا کیسے شخص کی نسبت مستعمل ہوتا ہے۔ مثلاً مُلّا، خشک عالم، مُلّا ہاڈا، مُلّا سومالی، مُلّا اخوند، مُلّا دیوانہ وغیرہ، انگریزی اصطلاح میں مُلّا کے معنی جنگجو کے ہیں۔ مرزا قادیانی تو محض بوم ہیں۔ اس غضب ناک اور عبرت ناک اور ہولناک فقرے کے نتیجے میں اور اس کی تہ تک کیوں پہنچنے لگے۔ وہ تو منارے کے گنبد میں بیٹھے ریگ ماہی اور سقنقور ملی ہوئی نان خطائیاں چکھ رہے ہیں۔ ہم سے سنئے مندرجہ بالا فقرے کا یہ مطلب ہے کہ مرزا اگر واقعی جہاد کا مخالف ہے تو صرف اس جہاد کا جو گورنمنٹ سے کیا جائے۔ (جس کا وجود ہندوستان میں نہیں) مگر وہ جہاد کا عموماً مخالف نہیں یعنی پادریوں، آریوں، شیعہ اور انگریزی تعلیم کے حامیوں کو اشتعال دلا کر سب سے جہاد کرنا چاہتا ہے۔ گویا گورنمنٹ کے ساتھ

١٥٧

صفحہ ٥٠٤

جہاد کرنے کا تو منکر ہے مگر دنیا سے جہاد کرنے کے لئے خم ٹھونک رہا ہے۔ مرزا قادیانی کی عجیب کیفیت ہے کہ جس ہانڈی کھائیں اسی ہانڈی چھید کریں۔ سرسید کے خیالات اخذ کر کے اپنا کمپاؤنڈ مذہب تراشا اور سرسید ہی کے لگائے ہوئے درخت علی گڑھ کالج ) کی تعلیم کے مخالف بن گئے۔

سرسید نے ہمیشہ تمام انبیاء علیہم السلام اور کبراء اسلام کی عظمت کی ہے۔ بھلا ان کی تحریروں میں کوئی ایک لفظ تو ایسا دکھا دے جو انبیاء کی کسر شان کا موہم ہو۔ کم ظرف اور اوچھے تو صرف مرزا قادیانی ہیں کہ چھلک پڑے اور منہ کی راہ براز کرنے یعنی انبیاء کو گالیاں دینے لگے اور بتانے لگے کہ میں ان سے بہتر ہوں۔

فی الحقیقت مرزا قادیانی مقدس بزرگوں کو گالیاں دینے میں ساری دنیا سے فرد ہیں۔ یعنی کسی مذہب کے پیشوا نے دوسرے مذہب کے پیشوا کو کبھی برا نہیں کہا۔ کیا ہنود کے کسی اوتار نے اسلامی انبیاء کو برا کہا ہے کیا بودھ نے کسی نبی کو گالی دی ہے۔ انبیاء اور رفارمروں اور اوتاروں کے نام لیوا کی تو ہم کہتے نہیں۔ مثلاً بے ادب اور گستاخ آریا وغیرہ جن کا در حقیقت کوئی مذہب نہیں اور جو محض عقل خام کی دیگ میں اپنے مذہب کی کھچڑی پکا رہے ہیں مگر مرزا اور مرزائی سب وشتم میں آریا کے بھی کان کاٹ رہے ہیں اور روز بروز گستاخ اور خیرہ سر ہوتے جاتے ہیں۔ انبیاء کی وقعت ان کے دلوں سے بالکل اٹھ گئی ہے۔ بظاہر مسلمان رہنے کے لئے آنحضرت ﷺ کا نام کبھی کبھی لیتے ہیں۔ چند روز میں یہ بھی بھول جائیں گے اور اپنے نئے نبی کا کلمہ جس طرح اب دل میں ہے اسی طرح زبان پر ہوگا۔

پس کمشنر مروم شاری نے بہت ٹھیک لکھا ہے کہ مرزا گورنمنٹ سے جہاد کرنے کا تو مانع ہے مگر خود ساری خدائی سے جہاد کرنے پر آمادہ ہے۔ ڈائنامیٹ اور بم کے گولوں کا میگزین تیار ہو رہا ہے یعنی مذاہب غیر کو مشتعل کرنے والی کتابیں چھاپ رہا ہے۔ بس توپ میں بتی پڑنے کی دیر ہے پھر تو عالمگیر آگ پھیل جائے گی جس کے بجھانے پر گورنمنٹ بھی قادر نہ ہوگی۔ اور امن خواہ گورنمنٹ خوب سمجھتی ہے کہ مذاہب سے جنگ کرنا یا ان کو اشتعال دلانا خود مجھ سے جنگ کرنا اور مجھے اشتعال دلانا ہے۔ کیونکہ اس سے امن قائم نہیں رہ سکتا۔

مولانا شوکت اللہ میرٹھی ! یہ تو ظاہر ہے کہ جن لوگوں نے بعد ختم نبوت ایک نیا نبی گھڑ لیا ان کا دعویٰ اتباع سنت

١٥٨

صفحہ ٥٠٥

کیونکر مسموع ہوسکتا ہے۔ نبی برحق ﷺ کی نبوت سے تو انکار اور ان کی سنت پر چلنے کا اقرار کیا معنی رکھتا ہے؟ ضرور اس میں کوئی کید ہے:

ہم جانتے ہیں تقیہ پر آنے کا مدعا آسودگی پسند تری شوخیاں نہیں

اگر چہ تمام انبیاء کی کوئی عظمت و وقعت مرزا قادیانی اور ان کی امت کے دل میں نہیں مگر چونکہ مرزا قادیانی اپنے کو ظلی اور بروزی نبی بتاتے ہیں یعنی آپ آنحضرت ﷺ کے ظل اور بروز ہیں تو انہوں نے دیکھا کہ سنت رسول اللہ کی کھلم کھلا مخالفت کرنے سے دنیا پر یہ ثابت ہوگا کہ یہ کیسا ظل اور بروز ہے جو اپنی اصل کی مخالفت کرتا ہے اور چونکہ عیسیٰ کی مخالفت کرنے اور ان کو گالیاں دینے سے (حالانکہ آپ ان کے بھی مثیل ہیں) اپنے ماتھے پر کلنک کا ٹیکا لگا چکے ہیں تو مرزا قادیانی اور ان کے حوارین نے یہ خیال خام پکایا کہ عیسیٰ مسیح کی مخالفت صرف عیسائیوں کو ناگوار ہوگی نہ کہ مسلمانوں کو (حالانکہ مسلمانوں کو بھی عیسیٰ مسیح پر سب وشتم کرنے سے کچھ کم صدمہ نہیں پہنچا) مگر مرزائی اس کو سہہ گئے اور شربت کا گھونٹ سمجھ کر پی گئے۔ تو اب مرزا قادیانی اور امروہی صاحب کو خوف ہوا کہ ہم نے جو احادیث کی مخالفت کی ہے تو ایسا نہ ہو بعض کچے مرزائی جن پر اچھی طرح بروزیت اور ظلیت کا مسمریزم دم نہیں ہوا یہ سمجھ کر مرزا جو اپنے کو اہل سنت جماعت میں گنتا ہے۔ سنت رسول اللہ وسنت صحابہ کا کھلا مخالف ہے۔ مرتد ہو جائیں اور پھر کلنگ کا ایک دوسرا ٹیکا ماتھے لگ جائے اور بقول مثل دھوبی کا کتا گھر کا نہ گھاٹ کا۔ جس طرح عیسائیوں اور محمدیوں سے مطرود ہوئے اسی طرح مرزائیوں سے بھی مردود ہونا پڑے۔ پس وہ سنت سنت بگھار رہے ہیں۔

امروہی صاحب کے کھانے کے دانت اور دکھانے کے دانت اور کون نہیں سمجھ سکتا۔ اور اگر وہ واقعی سنت رسول اللہ ﷺ کے حامی ہیں تو غالبا نئے نبی کے اعتقاد سے تائب ہو گئے ہیں اور ایمان کی تجدید کرلی ہے، اس صورت میں چشم ماروشن دل ماشاد اور ہم امروہی صاحب کو مبارکباد دیتے ہیں۔ اب امروہی صاحب ضرور یہ شعر پڑھیں ؎

باز سنی شدم و دل بمحمدؐ دادم
شوکت اللہ بباید بمبارکبادم

٦ ...... مرزا قادیانی کے فتوے

مولانا شوکت اللہ میرٹھی !

اخاہ اب تو مرزا جی فتویٰ بھی دینے لگے ؎

مینڈکی بھی چلی مداروں کو

١٥٩

صفحہ ٥٠٦

بھلا اسلامی مفتیوں اور مشائخ اور علماء نے جس شخص کی تکفیر کا فتویٰ دے دیا ہے وہ کیونکر مفتی بن سکتا ہے؟

الحکم میں بعنوان (استفسار اور ان کے جواب) سوال و جواب شائع ہوتے ہیں کسی نے سوال کیا کہ مولود کی نسبت حضور کیا فرماتے ہیں۔ تو آپ کیا دو ٹوک جواب ہانکتے ہیں کہ محض آنحضرت ﷺ کا تذکرہ عمدہ چیز ہے اور قرآن میں بھی ہے: ”وَاذْكُرْ فِی الْکِتَابِ اِبْرَاهِیْمَ“ سوال از آسمان جواب از ریسمان اسی کو کہتے ہیں۔ بھلا ایسا کونسا مسلمان ہے جو ذکر اللہ اور ذکر الرسول کو باعث سعادت نہ جانتا ہو۔ اس میں تو کسی کو بھی اختلاف نہیں۔ البتہ مجالس میلاد کے انعقاد کی ہیئت کذائی میں اختلاف ہے۔ مرزا قادیانی اس کو گول کر گئے اور بے چارہ سائل جواب سے محروم رہا۔ بات یہ ہے کہ جب مرزا قادیانی خاتم الخلفاء ہیں تو کسی نبی کا ذکر ولادت یا مطلق ذکر آپ کو کیوں گوارہ ہونے لگا۔ یہ تو شرک فی الرسالۃ ہے۔ آنحضرت ﷺ کے ذکر میلاد کو جو آپ نے گول مول بیان کیا۔ یعنی بطور من چاہے منڈیا ہلائے۔ اس سے روگردانی کی تو اس کی وجہ یہ ہے کہ آپ گور میں پاؤں لٹکائے بیٹھے ہیں۔ یا یوں کہو کہ قبر کا مجاور بن گئے ہیں تو خیال ہوا کہ اگر میں محفل میلاد سے انکار کروں گا تو میرے بعد کوئی خاص میری میلاد کی محفل ہرگز منعقد نہ کرے گا جس کا انعقاد مرزائیوں کا فرض ہے کیا معنیٰ آنحضرت ﷺ کا تو مولود ہو اور آپ کے ظل اور بروز کا مولود چار کے کاندھے چڑھنے کے بعد نہ ہو۔ اس سے یہ ثابت ہوگا کہ نہ آپ ظل ہیں نہ بروز ہیں۔ جب زندگی میں آپ نے اپنے چیلوں چانٹوں کو ’الصلوٰۃ والسلام علیک یا رسول اللہ‘ کہنے کا تاکیدی حکم دے دیا ہے تو اس جرنیلی آرڈر کا نفاذ تاقیامت سمجھئے اور جس طرح آنحضرت ﷺ کے مولود کی مجلسیں ہوتی ہیں آپ کے مولود کی مجلسیں بھی کیوں نہ ہوں۔

دوم...... ہماری رائے میں تو آپ نے حکیم صاحب بھیروی اور مولوی صاحب امروہی کو جو کسی زمانہ میں خصوصاً بزمانہ حیات سید صدیق حسن خاں صاحب مرحوم گاڑھے اہلحدیث تھے اور اب تک مجلس میلاد کو برا سمجھتے ہیں میلاد کی در پردہ برائی بیان کر کے خوش کیا ہے ورنہ مرزا قادیانی کسی نبی کا مولود ٹھنڈی آنکھوں دیکھ سکیں اور اس کا فتویٰ دے سکیں۔ توبہ توبہ!

غیرت از چشم برم روئے تو دیدن ندہم
گوش رانیز حدیث تو شنیدن ندہم

تعجب یہ ہے کہ مذکورہ بالا اور سود اور رہن وغیرہ کی حلت وحرمت کے فضول سوالات تو کئے جاتے ہیں مگر یہ سوال نہیں کیا جاتا کہ تصویر کا بنانا اور اس کا گھر میں رکھنا اور نامحرم عورتوں کو دکھانا

١٦٠

کیسا ہے اور حج کرنا اور دعوے کے ساتھ پیش کیسا ہے؟ ہم حیران ہیں کہ جب مرزا قادیا کھلم کھلا انکار کر کے اپنی نئی شریعت کیوں ن کس کا خوف ہے۔ زمانہ آزاد، عہد سلطن کمزوری ظاہر ہوتی ہے کہ وہ بالکل اپنے کا تو اب صرف یہ کام رہ گیا ہے کہ قرآن وحد صحیح اور باقی غلط، ہم تو جب جانتے کہ کوئ اسلام سے جدی کوئی ہدایت جاری ہوت ضلالتیں ضرور جاری ہوتی ہیں۔ یا نئے ن دیا ہے اور پیشینگوئی بھی گول مٹول ہوت ہیں تاکہ آئندہ تاویل کرنے اور اپنے عقائ اور ہٹ بھی مرزا قادیانی کی۔ پس قادیا اچھا خاصہ قمار خانہ ہے اور بس۔

٧ ...... ا موا

جیسے لندن میں مسٹر پگٹ ۔ کی توہین نکل گئی کہ ہیں! سچا مسیح موعود تو سے بھی پوچھنا چاہئے کہ وہ مرزا قادیانی تسلیم کر لیا اور مرزا قادیانی کے گروہ ن موجود ہیں جن کے معتقدین لاکھوں آ ہوں۔ مہدی ہوں۔ لیکن کیا وہ سب ہوئے۔ کیا ان میں ایک بھی سچا مہدی کی طرح معدوم ہو گئے۔

مرزا قادیانی نے جھلا کر او میں بدستور دو ٹوک پیشینگوئی ہانکی ہے۔ دعوؤں سے توبہ نہ کرے گا تو بہت جلد

صفحہ ٥٠٧

کیسا ہے اور حج کرنا اور دعوے کے ساتھ پیشینگوئی کرنا یعنی اپنے کو غیب دان بتانا مذہب اسلام میں کیسا ہے؟ ہم حیران ہیں کہ جب مرزا نیا نبی ہے تو پرانی اسلامی شریعت پر کیوں چلتا ہے۔ اس کا کھلم کھلا انکار کر کے اپنی نئی شریعت کیوں جاری نہیں کرتا؟ یہ کیا کہ آدھا تیتر آدھا بٹیر۔ کوئی پوچھے کس کا خوف ہے۔ زمانہ آزاد، عہد سلطنت آزاد، خیالات آزاد، اسی سے تو مرزا قادیانی کی کمزوری ظاہر ہوتی ہے کہ وہ بالکل اپنے کانشنس کے خلاف کارروائی کر رہے ہیں۔ لے دے کے جواب صرف یہ رہ گیا ہے کہ قرآن وحدیث میں جو باتیں ان کے مطلب کے موافق ہیں وہ تو صحیح اور باقی غلط، ہم تو جب جانتے کہ کوئی نیا قانون جاری کیا جاتا جو بطور کلیہ کے ہوتا۔ مذہب اسلام سے جدا کوئی ہدایت جاری ہوتی۔ ہدایت تو رہی بالائے طاق، ہاں طرح طرح کی ضلالتیں ضرور جاری ہوتی ہیں۔ یا نئے نئے بے معنے الہامات کہ لے پالک ایسا ہے اور لے پالک ویسا ہے اور پیشینگوئی بھی گول مٹول ہوتی ہے جس کے دو منہ منافقوں کے منہ کی طرح ہوتے ہیں تاکہ آئندہ تاویل کرنے اور اپنے عقائد کے پلٹنے کا موقع ہاتھ آئے کہ چت بھی مرزا قادیانی کی اور پٹ بھی مرزا قادیانی کی۔ پس قادیان آنکھوں کے اندھوں اور گانٹھ کے پوروں کے لوٹنے کا اچھا خاصہ قمار خانہ ہے اور بس۔

(ایڈیٹر)

٧ ...... لندنی مسیح اور قادیانی مسیح

مولانا شوکت اللہ میرٹھی!

جب سے لندن میں مسٹر پگٹ نے مسیح موعود ہونے کا دعویٰ کیا مرزا قادیانی کے پاؤں تلے کی زمین نکل گئی کہ ہیں! سچا مسیح موعود تو میں یہ مکار جھوٹا لباڑیا کہاں سے کود پڑا؟ مگر ذرا مسٹر پگٹ سے بھی پوچھنا چاہئے کہ وہ مرزا قادیانی کو کیا سمجھتا اور کیا کہتا ہے؟ پگٹ کے گروہ نے پگٹ کو مسیح تسلیم کرلیا اور مرزا قادیانی کے گروہ نے مرزا قادیانی کو۔ حالانکہ دنیا میں ایسے بہت سے لوگ موجود ہیں جن کے معتقدین لاکھوں آدمی ہیں۔ ان میں سے ہر شخص دعویٰ کر سکتا ہے کہ میں مسیح ہوں۔ مہدی ہوں۔ لیکن کیا وہ سب مہدی اور مسیح ہو سکتے ہیں؟ سوڈان میں کتنے مہدی پیدا ہوئے۔ کیا ان میں ایک بھی سچا مہدی تھا۔ اپنی اپنی مکاری کی ڈیوٹی پوری کر کے حشرات الارض کی طرح معدوم ہو گئے۔

مرزا قادیانی نے جھلا کر اور غصے سے کپکپا کر ایک چٹھی مسٹر پگٹ کے نام لکھی ہے جس میں بدستور وہی پیشینگوئی ہانکی ہے۔ وہ لکھتے ہیں کہ ”اگر وہ (مسٹر پگٹ) اپنے ان غیر معقول دعوؤں سے توبہ نہ کرے گا تو بہت جلد میری زندگی ہی میں ہلاک ہو جائے گا۔“ یہ ویسی ہی تاویل

١٦١

صفحہ ٥٠٨

ہے جیسی میعاد مقررہ پیشینگوئی میں مسٹر آتھم کے نہ مرنے پر کی گئی یعنی اس کے دل میں خوف طاری ہو گیا تھا۔ اس لئے ہلاک نہ ہوا۔ اس لغو تاویل کی بارہا چتھاؤ ہو چکی ہے۔ چونکہ مرزا قادیانی خود جانتے ہیں کہ میری پیشینگوئی غلط اور گول مول ہے۔ لہٰذا کوئی میعاد نہیں بتائی کیونکہ ان کو آتھم والی پیشینگوئی کا خوف ہوا۔ صرف لفظ (بہت جلد) لکھنے پر ٹالا۔

دوم...... اگر مسٹر پگٹ مرزا قادیانی کی زندگی میں نہ مرا تو وہ کہہ سکتے ہیں کہ میں نے یہ قید لگائی تھی کہ اگر وہ اپنے دعوؤں سے توبہ نہ کرے گا تب ہلاک ہوگا۔ اب چونکہ وہ زندہ رہا لہٰذا ضرور اپنے دعوؤں سے تائب ہو چکا ہے۔ وہی آتھم والی راگ مالا۔ ”لعنة الله علی الکاذبین“ اب فرمائیے مرزا قادیانی کی پیشینگوئی نے کیا تیر مارا؟ ہر مدبر بلکہ ہر شخص کہہ سکتا ہے کہ فلاں معاملے کا پہلو یوں نہ ہوا تو مضر ہوگا۔ اور یوں ہوا تو مفید ہوگا۔ ایک وکیل اپنے ملزم موکل سے کہہ سکتا ہے کہ اگر تم نے اپنی ڈیفنس عمدہ طور پر کی تو تم رہا ہو جاؤ گے۔ ورنہ سزا پاؤ گے۔ دونوں باتوں میں سے ایک بات ضرور ہو کر رہتی ہے مگر کیا ہر وکیل مسیح موعود ہے۔ معلوم نہیں مرزائیوں کی عقل کہاں غٹ ربود ہوگئی ہے کہ اپنے پیر و مرشد کی چالوں کو نہیں سمجھتے اور اس کو مسیح موعود تسلیم کر لیتے ہیں۔ ”صم بکم عمی فهم لا یرجعون“

(ایڈیٹر)

تعارف مضامین ...... ضمیمہ شحنہ ہند میرٹھ

سال ١٩٠٣ء یکم جون کے شمارہ نمبر ٢١ کے مضامین

١...... الہام اور پیشینگوئی

مولانا شوکت اللہ میرٹھی بے شک ہر انسان کے دل پر اس کے کانسشنس کی صلاحیت اور قابلیت کے موافق الہام ہوتا ہے۔ الہام نہ صرف نیکی سے بلکہ بدی سے بھی متعلق ہے۔ ”الهمها فجورها وتقوها“ ١٦٢

مگر یہ ایسی کیفیت نہیں جس کو بجز ملہم کے کوئی خدائے علام الغیوب ہے۔ ہاں سچے ملہم کے آ خوشبو کہ آنکھوں سے محسوس نہیں ہوتی مگر دماغ ہے۔ اور چونکہ کوئی شخص اپنا دل چیر کر کسی کو نہیں وسوسہ، احتلام یا خیالات فسق و حرام، یا صور اصنا ہوتا ہے۔ جس کا ثبوت مریدوں اور چیلوں کے اور سادھو بچے تو روغن قاز مل کر وہ وہ روپ کا ن میں پھنس جاتے ہیں۔

بھوپال کا ایک سادھو بچہ

یہ مکار بڑی بڑی چالوں سے لوگوں خطوط منگوالئے کہ فلاں شخص کے قرض میں آپ ڈگری دے دی ہے۔ اس عیار نے لوگوں کو وہ کے لونڈے کے عشق میں بدنام ہو کر یہ لوٹی بد ہوا ہمارے پاس آیا کہ للہ میری دستگیری کرو دیئے اور رخصت کیا۔

یہ سادھو بچہ متصل کے ایک اور قصبہ سے ٹھگنا چاہا۔ ایک صاحب نے حضرت شیخ مرحوم کے نام اس شخص کی کیفیت معلوم کرنے کہ یہ شخص بڑا ظالم ہے۔ اس کے کید سے بچتے اس شخص کی ظاہری حالت یہ تھی کہ تھا۔ گلے میں حمائل کلام مجید تھی اور بس۔ خوا بزرگ بلکہ ولی اللہ ہے۔

سادھو بچے تو وہ وہ روپ گانٹھتے ہیں۔ کیا طاقت ہے کہ ان کی خود غرضی کا بھید اپنی قلعی کھول دی ہے اور کھول رہے ہیں مگر رنگ بدلے۔ اولاً الہام کے مدعی، پھر مثیل آ

صفحہ ٥٠٩

مگر یہ ایسی کیفیت نہیں جس کو بجز ملہم کے کوئی اور محسوس کر سکے کیونکہ علیم بذات الصدور صرف خدائے علام الغیوب ہے۔ ہاں سچے ملہم کے آثار دوسروں پر بھی کھل جاتے ہیں۔ جیسے پھولوں کی خوشبو کہ آنکھوں سے محسوس نہیں ہوتی مگر دماغی حس میں پہنچ جاتی ہے۔ سچے الہام کی یہی صفت ہے۔ اور چونکہ کوئی شخص اپنا دل چیر کر کسی کو نہیں دکھا سکتا معلوم ہو کہ الہام ہے یا اضغاث احلام یا وسوسہ احتلام یا خیالات فسق و حرام، یا صور اصنام اوہام، لہٰذا ہر مکار دعویٰ کر سکتا ہے کہ مجھ پر الہام ہوتا ہے۔ جس کا ثبوت مریدوں اور چیلوں کے محض عقیدے کے سوا کچھ نہیں ہوتا۔ بعض بہروپئے اور سادھو بچے تو روغن قاز مل کر وہ وہ روپ گانٹھتے ہیں کہ بڑے بڑے سیانے کوے ان کے دام میں پھنس جاتے ہیں۔

بھوپال کا ایک سادھو بچہ

یہ مکار بڑی بڑی چالوں سے لوگوں کو ٹھگتا تھا۔ ایک مرتبہ اپنے وطن سے متواتر اپنے نام خطوط منگوائے کہ فلاں شخص کے قرض میں آپ کا گھر نیلام ہونے والا ہے۔ اور عدالت نے اس کو ڈگری دے دی ہے۔ اس عیار نے لوگوں کو وہ خطوط دکھائے اور یوں رقمیں اینٹھیں۔ بالآخر دفتری کے لونڈے کے عشق میں بدنام ہو کر یہ لوطی بڑی رسوائی اور فضیح کے ساتھ نکالا گیا۔ زار و قطار روتا ہوا ہمارے پاس آیا کہ للہ میری دستگیری کرو اور مجھے وطن تک پہنچا دو الغرض ہم نے پانچ روپے دیئے اور رخصت کیا۔

یہ سادھو بچہ متصل کے ایک اور قصبہ میں پہنچا اور وہاں کے مسلمانوں کو چکنے چپڑے وعظ سے ٹھگنا چاہا۔ ایک صاحب نے حضرت شیخ الکل مولانا سید محمد نذیر حسین صاحب محدث دہلوی مرحوم کے نام اس شخص کی کیفیت معلوم کرنے کے لئے خط بھیجا۔ حضرت مرحوم نے جواب میں لکھا کہ یہ شخص بڑا ظالم ہے۔ اس کے کید سے بچتے رہو۔ بالآخر وہاں سے بھی نکالا گیا۔

اس شخص کی ظاہری حالت یہ تھی کہ ایک نیا کرتا اور ایک تہمد اور ایک کمبل اوڑھے ہوئے تھا۔ گلے میں حمائل کلام مجید تھی اور بس۔ خواہ مخواہ بھی ہر شخص دھوکے میں آ جاتا تھا کہ ایک باخدا بزرگ بلکہ ولی اللہ ہے۔

سادھو بچے تو وہ وہ روپ گانٹھتے ہیں کہ مرزا قادیانی ان کے مقابلے میں پیر نابالغ ہیں۔ کیا طاقت ہے کہ ان کی خود غرضی کا بھید کسی پر کھل سکے۔ مرزا قادیانی نے تو اکثر اوقات آپ اپنی قلعی کھول دی ہے اور کھول رہے ہیں۔ گرگٹ کی طرح بیس پچیس سال کے عرصہ میں کیا کیا رنگ بدلے۔ اولاً الہام کے مدعی، پھر مثیل مسیح، پھر مسیح موعود اور مہدی مسعود، پھر ظلی اور بروزی

١٦٣

صفحہ ٥١١

نبی پھر خاتم الخلفاء اور امام الزمان ہو گئے۔ جس شخص کو ذرا بھی عقل ہے وہ اس تغیر حالت سے نتیجہ نکال سکتا ہے کہ آپ بظاہر سب کچھ مگر درحقیقت کچھ بھی نہیں۔ مرزا قادیانی اپنی زبان حال سے یہ شعر پڑھ رہے ہیں۔

گر کوئی آ کے دیکھے تو کچھ بھی نہیں ہوں میں
سر پر اٹھائے پھرتے ہیں شور و فغان مجھے

مرزا قادیانی اگر صرف مدعی الہام رہتے تو یقیناً دس گنا زیادہ ترقی کرتے۔ مگر چور کے پاؤں کہاں ہوتے ہیں؟ کچے سادھو بچوں میں استقلال کہاں۔ اولاً پیٹ میں قراقر ہوا۔ ریاح فاسدہ کی گھوڑ دوڑ ہونے لگی۔ پھر سوء ہضم کی نوبت آئی۔ پھر تخمہ ہوا پھر ہیضہ ہوا پھر اس کی سمیت وبائی طور پر تمام مرزائیوں میں پھیل گئی۔ کیونکہ بے احتیاطی کے نتائج ایسے ہی ہوتے ہیں۔ ہیضہ اور طاعون وغیرہ سب انسانی افعال کے ثمرات ہیں۔ خدائے تعالیٰ جس کی صفت رحمٰن و رحیم ہے کسی کو ہلاکت میں نہیں ڈالتا۔ بلکہ انسان خود ہلاکت میں پڑتا ہے ورنہ خدائے تعالیٰ ہرگز یہ ارشاد نہ کرتا: ”لاتلقوا بايديکم الی التهلکة“ یعنی اپنے ہاتھوں اپنے کو ہلاکت میں نہ ڈالو۔ اس سے ثابت ہے کہ اکثر ہلاکتیں خلاف مرضی الٰہی اور خلاف مشیت ہیں جس طرح شرابخوری، حرامکاری، قتل اور سفک، ظلم اور نہب خلاف مرضی الٰہی ہے۔ پس مکاروں اور کذابوں کا الہام بھی ہرگز خدا کی طرف سے نہیں ہوتا۔ یہ تو خدا پر تہمت ہوتی ہے اور مفتری علی اللہ سخت عتاب کا مستوجب ہوتا ہے۔

جب آپ نے براہین احمدیہ لکھی تو بیان کیا کہ میرے بطن سے الہام کی سرسراہٹ ہوتی ہے اور پھر جھٹ سے بارہ ہزار روپیہ کی جائیداد کا انعام اس شخص کے لئے مشتہر کیا جو براہین کا جواب لکھ دے۔ آریہ نے ”تکذیب براہین“ لکھ کر شائع کر دی۔ انعام کا خبط تو آپ کی گھٹی میں نچرل طور پر پڑا ہے۔ ہر معاملہ میں تھیلیاں اور ہمیانیاں اگلتے ہی رہتے ہیں مگر آج تک کسی کو پھوٹی کوڑی بھی دی ہو تو خدا کرے قسمت ہی پھوٹے اور تو کیا کہیں۔

فی الحقیقت چال تو بہت خاصی ہے۔ عقلاء میں غل مچ جاتا ہے کہ ایک شخص اپنی ساری جائیداد تلی پر دھرے دیتا ہے۔ بالکل ولی اللہ اور خلوص اور للہیت کا پتلا ہے یہ خبر نہیں کہ؎

زر زر کشد در جهان گنج گنج

مرزا قادیانی گویا اپنی نبوت کو روپیہ پیسہ کا لالچ دے کر فروخت کر رہے ہیں۔ اگر کسی نے انعامی مجوزہ رقم دے دی تو نبوت گویا فروخت ہو گئی اور مرزا قادیانی اس کے حلقہ بگوش غلام بن

١٦٤

گئے اور کوئی گاہک نہ ہوا تو آپ فرمائشی نبی ہیں ہی۔ گویا نبی نہیں بلکہ ایک متمول سیٹھ ساہوکار کوٹھی والا ہوں۔ میں نے اپنی نبوت کا دارو مدار روپیہ پیسے پر رکھا ہے اور اس طر جب آتھم کی پیشینگوئی میں مرزا قادیانی کے منہ پر قدرتی تو آپ نے جھٹ سے اشتہار دیا کہ آتھم حلف سے کہہ د تھا اور دس ہزار لے جائے۔ مرزا قادیانی کو خوب معلوم کیونکہ اس کے یہ معنے تھے کہ آتھم جو مسیحی ہے مرزائی بن سناتے کہ حضرت اثبث دانس وانس مجلس مابین کلم

ارے واہ رے بہادرو تمہارے کیا کہنے ہیں۔ نامردی تو الہام تو قرآن وحدیث سے بالضرور ثابت غیب دان پیشینگو بھی ہو۔ یعنی اس میں خدائے علام الغی صورت میں تو وہ خدا ہوا نا کہ صاحب الہام۔ اس لئے پیشینگوئی کرنے والوں کی مذمت وارد ہوئی ہے مگر حُمَقَاء کو غیب دان بھی تصور کرنے لگتے ہیں۔ ایسے ضعیف ا اور پیروں کو غیب دان جانتے ہیں۔ مرزائیوں پر حصر نہیں

مرزائیوں کی ڈھٹائی دیکھئے کہ کھلم کھلا خ اتنے عرصہ میں مرجائے گا اور میری سینکڑوں پیشینگویا طرح پوری ہوئیں۔ (ایک بھی پوری نہیں ہوئی اور حیائی تیرا آسرا۔ خوب یاد رکھو کہ جو شخص کسی انسان می ہے نہ کہ صرف نبی اور رسول۔ اب مرزائیوں سے پوچھ نہیں ۔ اگر جانتے ہیں تو کافر ہوئے اور نہیں جان ہوگے۔

٢ ....... عیسیٰ مسیح علیہ السلام کے معجز

مولانا شوکت الل ١٧ مئی کے الحکم میں لکھا ہے کہ کسی شخص ہونے کی کوئی صریح کلام مجید میں ہے۔“ مرزا قادیانی

١٦٥

صفحہ ٥١١

گئے اور کوئی گاہک نہ ہوا تو آپ فرمائشی نبی ہیں ہی۔ گویا مرزا قادیانی یہ ثابت کر رہے ہیں کہ میں نبی نہیں بلکہ ایک متمول سیٹھ ساہوکار کوٹھی والا ہوں۔ میرے پاس لاکھوں روپیہ جمع ہے۔ کیا کسی نبی نے اپنی نبوت کا دارو مدار روپیہ پیسے پر رکھا ہے اور اس طرح اپنی نبوت اور اپنا اعجاز فروخت کیا ہے۔ جب آتھم کی پیشینگوئی میں مرزا قادیانی کے منہ پر قدرتی تھپڑ لگا۔ یعنی وہ میعاد مقررہ میں فوت نہ ہوا تو آپ نے جھٹ سے اشتہار دیا کہ آتھم حلف سے کہہ دے اس پر (پیشینگوئی) کا خوف طاری نہ ہوا تھا اور دس ہزار لے جائے۔ مرزا قادیانی کو خوب معلوم تھا کہ انعام کی یہ شرط ہرگز پوری نہ ہو سکے گی کیونکہ اس کے یہ معنے تھے کہ آتھم جو مسیحی ہے مرزائی بن جائے۔ اس عیاری پر مرزائی پھولے نہیں سماتے کہ حضرت اخبث و انجس و نجس مانند ظل و بروز کی پیشینگوئی بال باندھی پوری ہوئی۔ ارے واہ رے بہادرو تمہارے کیا کہنے ہیں۔ نامردی تو خدا نے دی مگر مار مار تو کئے جاؤ۔

الہام تو قرآن وحدیث سے بالضرور ثابت ہے مگر یہ کہاں لکھا ہے کہ جس پر الہام ہو وہ غیب دان پیشینگو بھی ہو۔ یعنی اس میں خدائے علام الغیوب کی صفت غیب دانی پیدا ہو جائے۔ اس صورت میں تو وہ خدا ہوا نا کہ صاحب الہام۔ اس لئے مذہب اسلام میں رمالوں اور نجومیوں اور پیشینگوئی کرنے والوں کی مذمت وارد ہوئی ہے مگر عقلاء کا کیا علاج کہ جو شخص صاحب الہام ہو اس کو غیب دان بھی تصور کرنے لگتے ہیں۔ ایسے ضعیف الاعتقاد مسلمان لاکھوں موجود ہیں جو مشائخ اور پیروں کو غیب دان جانتے ہیں۔ مرزائیوں پر حصر نہیں۔

مرزائیوں کی ڈھٹائی دیکھئے کہ کھلم کھلا خلاف کتاب وسنت پکارتا ہے کہ فلاں شخص اتنے عرصہ میں مرجائے گا اور میری سینکڑوں پیشینگوئیاں (غیب دانیاں) آفتاب نصف النہار کی طرح پوری ہوئیں۔ (ایک بھی پوری نہیں ہوئی اور سب کی سب بیچ کھیت پٹ پڑیں) مگر بے حیائی تیرا آسرا۔ خوب یاد رکھو کہ جو شخص کسی انسان میں خدائی صفت ٹھونستا ہے وہ اس کو خدا سمجھتا ہے نہ کہ صرف نبی اور رسول۔ اب مرزائیوں سے پوچھو کہ وہ مرزا قادیانی کو غیب دان جانتے ہیں یا نہیں۔ اگر جانتے ہیں تو کافر ہوئے اور نہیں جانتے تو مرزائیت کی جانب سے مردود ومطرود ہو گئے۔

٢ ...... عیسیٰ مسیح علیہ السلام کے معجزات سے انکار بھی اور اقرار بھی

مولانا شوکت اللہ میرٹھی!

٧ مئی کے الحکم میں لکھا ہے کہ کسی شخص نے سوال کیا کہ ”عیسیٰ مسیح کے بن باپ پیدا ہونے کی کوئی صریح دلیل کلام مجید میں ہے۔“ مرزا قادیانی نے جواب میں آیت ”ان مثل عیسیٰ

١٦٥

صفحہ ٥١٢

عند اللہ کمثل آدم “ پیش فرمائی یعنی عیسیٰ کی مثال خدا کے نزدیک ایسی ہے جیسی آدم کی مثال جو نہ صرف بے باپ کے بلکہ بے ماں کے بھی پیدا ہوئے۔ مطلب یہ ہے کہ عیسیٰ کی پیدائش پر تو تم کو تعجب ہے مگر آدم کی پیدائش پر تعجب نہیں جو اس سے بھی عجیب تر ہے۔

یہاں تک تو مرزا قادیانی بہت خاصے رہے۔ مگر جو معجزات خود عیسیٰ مسیح نے دعوے کے ساتھ دکھائے کہ ’ابر الاکمہ والابرص واحی الموتیٰ باذن اللہ “ اس سے مرزا قادیانی کو انکار ہے حالانکہ یہ بھی قرآن مجید کی ہی آیت ہے۔ اس کے جواب میں مرزا قادیانی کہتے ہیں کہ عیسیٰ سے درحقیقت کوئی معجزہ ہی نہیں ہوا اور آیت میں مراد احیاء قلوب یعنی ہدایت ہے لیکن ہدایت تو انبیاء اور اولیاء اور اہل اللہ اور علماء بھی کرتے ہیں۔ عیسیٰ کی کیا تخصیص ہوئی اور وہ کیونکر دوسرے انبیاء سے اس خاص معجزے میں ممتاز ہوئے۔ یہ وہی بات ہے کہ ’نؤمن ببعض ونکفر ببعض “ بات یہ ہے کہ مرزا قادیانی کا ایمان خدائی معجزات پر ہے انبیاء ورسل کے معجزات پر نہیں۔ یہاں وہ لازمی نیچر کے قائل ہیں کہ کوئی بات اس کے خلاف نہیں ہو سکتی تو پھر مرزا قادیانی نبی بن کر اپنی پیشینگوئیوں کو معجزہ کیوں قرار دیتے ہیں اور اپنی کتابوں کا نام اعجاز المسیح اور اعجاز احمدی کیوں رکھتے ہیں کیونکہ ان کے نزدیک تو انبیاء خلاف نیچر کوئی معجزہ دکھا ہی نہیں سکتے۔ یہ پرائی بدشگونی کیلئے اپنی ناک پر استرا چلانا نہیں تو کیا ہے؟

مرزا قادیانی کا یہ جواب صرف مسلمانوں کے لئے ہے نہ کہ مخالفان اسلام دہریوں وغیرہ کے لئے کیونکہ جب وہ عیسیٰ مسیح کے بن باپ پیدا ہونے کے قائل نہیں تو آدم کے بن باپ اور ماں کے پیدا ہونے کے کب قائل ہوں گے۔ پرانے فلاسفر تو یہ کہتے ہیں کہ تمام نوعیں قدیم ہیں۔ پس نوع انسان بھی قدیم ہے۔ اسی بناء پر یورپ کے بعض جدید فیلسوف کہتے ہیں کہ انسان اصل میں بندر اور لنگور تھے۔ اور دیکھ لو دونوں کا چہرہ مہرہ مشابہ ہے جب ان کی نسل بڑھی تو جنگلوں کے غاروں اور پہاڑوں کی کھوہوں سے نکل کر جھونپڑے بنانے لگے اور محنت وریاضت اور مس وغیرہ سے بال گر گئے۔ دم جھڑ گئی اچھے خاصے مہذب اور متمدن انسان ہو گئے۔ مرزا قادیانی کو اگر کوئی آریا لپٹ جائے تو بغلیں جھانکنے لگیں گے۔ حالانکہ وہ آریا کی تردید کے مدعی ہیں اور اوائل میں ان کی بحث اس سے تھی۔

پھر اگر کوئی دہریہ یا آریا کہنے لگے کہ مرزا قادیانی آیت موصوفہ کا ایک جزو کھا گئے۔ وہ کیا (خلقہ من تراب ) یہ ٹکڑا یا تو آدم کی صفت واقع ہوگا یا حال۔ مطلب یہ ہوا کہ عیسیٰ کی مثال آدم کی سی ہے جس کو خدا نے مٹی سے پیدا کیا۔ پھر مٹی سے تو تمام اجسام پیدا ہوئے ہیں جو عناصر

١٦٦

اربعہ کا ایک رکن ہے۔ اگر عیسیٰ بھی اسی سے کی نسبت قرآن مجید میں یہ آیت وارد ہے کہ ہے نہ کہ مادیات سے تو خدائے تعالیٰ نے اس کو مٹی سے پیدا کیا وہ غلط ہوگئی۔ مرزا جواب دے دیں تو ہم اپنا دعویٰ تجدید چھوڑ ہوں تو تمام مذاہب کے اعتراضوں کا جواب کی مہلت دی جاتی ہے اس کے بعد ہم خود

مولا منارہ کیا ہے فساد کا شرارہ، خ طرح کی احداث کا پٹارہ۔ بدعت کا پشتا مگر ایڈیٹر صاحب الحکم اس کو منجملہ مذہبی مزخرف بدعات اور ناپاک شرکیہ تعمیرات سے ہو تو مضائقہ نہیں۔

جب صاحب ڈپٹی کمشنر گوردا بٹالہ کے تحصیلدار صاحب بغرض تحقیقا کرکے لے گئے تو اب الحکم میں یہ عذر پی اور عبادت گاہ ہے کوئی سیر گاہ نہیں جس لگائیں گے اور مستورات کی پردہ دری ک چڑھیں اور اس کے گرد و پیش کا نظارہ کر مسجد کے مینار پر چڑھنے اور اس کے گر ہوگا۔ یہ منارے مسجد سے علیحدہ نہیں ہو ہوتا ہے جیسا اس منارے کا نام ”منارۃ اس کے نیچے یہ شعر لکھا ہے۔

نظر آئے گی
مسیحا کا بنے
صفحہ ٥١٣

اربعہ کا ایک رکن ہے۔ اگر عیسیٰ بھی اسی سے پیدا ہوئے تو کیا اعجاز ہوا۔ اور اگر کہو کہ عیسیٰ علیہ السلام کی نسبت قرآن مجید میں یہ آیت وارد ہے کہ ”ونفخنا فیھا من روحنا“ اور روح مجردات سے ہے نہ کہ مادیات سے تو خدا ئے تعالیٰ نے عیسیٰ علیہ السلام کی جو مثال آدم علیہ السلام سے دی ہے کہ اس کو مٹی سے پیدا کیا وہ غلط ہو گئی۔ مرزا قادیانی اور ان کے عقل کل اور تمام مرزائی اس اعتراض کا جواب دے دیں تو ہم اپنا دعویٰ تجدید چھوڑ دیں۔ جب مرزا قادیانی کا یہ دعویٰ ہے کہ میں امام الزمان ہوں تو تمام مذاہب کے اعتراضوں کا جواب کیوں نہیں دیتے۔ ایڈیٹر صاحب الحکم اور البدر کو دو ہفتہ کی مہلت دی جاتی ہے اس کے بعد ہم خود جواب دیں گے کیونکہ سخن فہمی عالم بالا معلوم ہے۔

٣ ...... وہی منارہ مرزائیوں کا ٹھا کر دوارہ

مولا نا شوکت اللہ میرٹھی!

منارہ کیا ہے فساد کا شرارہ، خلاف کا انگارہ، شرک فی الرسالۃ والتوحید کا نظارہ۔ طرح طرح کی احداث کا پٹارہ۔ بدعت کا نقارہ، کدورت و نفاق کا غبارہ، الغرض ہر طرح ناکارہ ہے۔ مگر ایڈیٹر صاحب الحکم اس کو منجملہ مذہبی شعائر کے قرار دیتے ہیں۔ مقدس مذہب اسلام تو ایسی مزخرف بدعات اور ناپاک شرکیہ تعمیرات سے بالکل منزہ ہے۔ ہاں جدید مذہب مرزائی کی شعائر سے ہو تو مضائقہ نہیں۔

جب صاحب ڈپٹی کمشنر گورداسپور کے حضور اس کی مخالفت میں چند عرائض گزریں اور بٹالہ کے تحصیلدار صاحب بغرض تحقیقات قادیان تشریف لائے اور فریقین کے عذرات قلمبند کر کے لے گئے تو اب الحکم میں یہ عذر پیش کیا جاتا ہے کہ یہ منارہ مرزائی عبادت گاہ کے متعلق ہے اور عبادت گاہ ہے کوئی سیر گاہ نہیں جس پر چڑھ کر تماشائی لوگ شرفاء کے مکانات میں جھانک لگائیں گے اور مستورات کی پردہ دری کریں گے۔ حالانکہ منارہ اس لئے ہوتا ہے کہ لوگ اس پر چڑھیں اور اس کے گرد و پیش کا نظارہ کریں جیسا کہ ہمارے اخبار کے بیشتر ناظرین کو بھی جامع مسجد کے مینار پر چڑھنے اور اس کے گردو پیش مکانات اور حوالی کی فضا کے نظارے کا اتفاق ہوا ہوگا۔ یہ مینارے مسجد سے علیحدہ نہیں ہوتے بلکہ اس کا جزء ہوتے ہیں اور نہ ان کا کوئی جدا گانہ نام ہوتا ہے جیسا اس منارے کا نام ”منارۃ المسیح“ ہے اور اخبار الحکم کی پیشانی پر اس کی تصویر ہے اور اس کے نیچے یہ شعر لکھا ہے۔

نظر آئے گی دنیا کو تیرے اسلام کی رفعت
مسیحا کا بنے گا جب یہاں مینار یا اللہ

١٦٧

صفحہ ٥١٤

منارۃ المرزا کے دعوے تعمیر میں دہلی کی ایک نظیر پیش کی گئی جو حال میں صاحب ڈپٹی کمشنر دہلی نے فیصل کی ہے اور مسجد کے بنانے کی اجازت دی ہے مگر منارۃ المسیح کو اس سے کیا تعلق ہے مسجد کے معنے ہی سجدہ گاہ کے ہیں۔ کیا اس منارے کے اندر یا اس پر چڑھ کر نماز پڑھی جائے گی۔ یہ تو محض شہرت اور دنیا طلبی کے واسطے ہوگا۔ یہ منارہ عبادت گاہ کا جزو تو اس صورت میں ہوتا کہ اس کی تعمیر مسجد کے دائیں بائیں ہوتا۔ یعنی چھوٹی برجی کو بلند کیا جاتا جیسا کہ خود الحکم میں لکھا ہے کہ یہ منارہ مرزائی عبادت گاہ کے مشرقی گوشہ پر بنایا جانا تجویز ہوا ہے۔ الحکم ہی بتائے کیا کسی مسجد کا مشرقی گوشہ بھی مسجد ہوتا ہے۔ البتہ مغربی گوشہ تو مسجد ہو سکتا ہے۔

دوسری بات یہ ہے کہ مرزا قادیانی نے اپنی جدید شریعت کی رو سے مرزائیوں کو بجائے مغرب کے مشرقی جانب منہ کر کے نماز پڑھنے کا حکم دیا ہو۔ کیا موجودہ مسجد نماز پڑھنے کو کافی نہیں کہ مسجد میں دوسری مسجد بنائی جاتی ہے۔ یہ محض اسراف ہے جس کی مذمت قرآن مجید میں ہے کہ ”ان اللہ لا یحب المسرفین“ اور محض تبذیر ہے جس کی نسبت خدائے تعالیٰ فرماتا ہے: ”ان المبذرین کانوا اخوان الشیاطین“ یعنی خدائے تعالیٰ فضول خرچ کرنے والوں کو دوست نہیں رکھتا اور تحقیق فضول خرچ کرنے والے شیطانوں کے بھائی ہیں۔

اور ظاہر ہے کہ حسب منطوق آیت بالا مرزائی لوگ مقامات دور دراز سے اس کی زیارت کو جوق در جوق آئیں گے کوئی بوسہ دے گا کوئی اس کے آگے ماتھا رگڑے گا۔ کوئی منتیں مانے گا۔ کوئی منتیں پوری کرے گا یہ تو اچھا خاصہ بت خانہ بلکہ بتخانہ سے بھی گیا گزرا ہے۔ کیونکہ اس میں آخر کوئی مورت تو ہوتی ہے۔ یہاں تو ڈھاک کے تین پات بھی نہیں۔ ہاں مرزا قادیانی اس میں اپنا بت رکھوا دیں تو بت خانہ کی پوری تکمیل ہو جائے اور جب کہ مرزا قادیانی کی تصویر ہر مرزائی کے گھر میں موجود ہے تو کیا وجہ ہے کہ اس میں تصویر نہیں۔ یہ ایسا خبیث اور ملعون فعل ہے جس سے مقدس اسلام کی توہین ہوتی ہے اور کسی مسلمان کا کام نہیں کہ اس کی تائید کرے۔

منارے کی ہوس میں کیوں تو بت خانے سے پھرتا ہے
کہ یاں تو کوئی صورت بھی ہے واں دھوکا ہی دھوکا ہے

خدائے تعالیٰ مسلمانوں کو ایسے شرک اور ایسے مشرکانہ مذہب سے بچائے اگر یہ منارہ تعمیر ہو گیا تو دنیا دیکھے گی کہ مرزا قادیانی کے مرنے کے بعد چند اپاہج اس کے مجاور بن کے بیٹھیں گے اور کیا عجب ہے کہ اس میں مرزا کا بت بھی رکھا جائے۔

مرزا اور مرزائیوں کو اب تو یہ مرض ہے کہ منارے کی تعمیر پر مسیحیت اور مہدویت اور ١٦٨

بروزیت منحصر ہے۔ منارہ نہیں تو مرزائی مذہب سے پیشینگوئیاں ہورہی ہیں کہ منارے کے تیا دھڑا دھڑ سجدے میں گریں گے۔ پھر تو چھنا چھن گی اور تمام مغلانیاں مرصع بجواہر زیورات سے لدی ہوئی آئیں گی اور مرزائیوں کے قدموں کی خاک میں ملیں گی (الخ) لیکن یہ سب امیدیں

مسیحیت یا دجالیت برباد ہوتی نظر آ رہی ہے مرزا قادیانی انگاروں پر لوٹ رہے ہ مرزائی تشفی دے رہے ہیں اور ڈھارس باندھ رہے ہیں کہ آپ کچھ اندیشہ نہ کریں، ہم کو یہ دعویٰ ہے کیونکہ گورنمنٹ آزاد ہے۔ اس نے آزادی کو سلب نہیں کرسکتی۔ اور اچھا ہم مسل اجازت بھی نہ سہی۔ لیکن آخر ہمارا کوئی مذہب ت

لیکن مرزا قادیانی پر یاس غالب کیونکہ جب کسی مریض پر خوف غالب ہو جاتا نا امیدی ہی اس کے حق میں ملک الموت بن ج پنجے سے نکل جائے خواہ بلی رحم بھی کبوتر کے پہنچے۔ پس ہم کو تو اس کے ساتھ مرزا قادیانی کی (مرزائیت) چند اینٹوں پر موقوف ہے وہ ڈ مذہب خام اور بے اصل ہوگا۔

ہم ابھی نہیں کہہ سکتے کہ منارہ کے باری سے دعا مانگیں گے کہ ہم پر اس کا انجام ا پھر ناظرین کو اطلاع دیں گے۔ کیونکہ یہ ایک وانہدام منحصر ہے۔

...... ٤ مولانا

اس میں کوئی شک نہیں کہ خدائے یوں کہئے کہ خدائے تعالیٰ کے بعد ان کا درجہ

صفحہ ٥١٥

بروزیت منحصر ہے۔ منارہ نہیں تو مرزائی مذہب بھی نہیں۔ یہ وہ منارہ ہے جس کی نسبت سالہا سال سے پیشینگوئیاں ہو رہی ہیں کہ منارے کے تیار ہوتے ہی مرزائی چار طرف سے پل پڑیں گے اور دھڑا دھڑ سجدے میں گریں گے۔ پھر تو چھنا چھن کی پو بارہ ہو جائے گی۔ جائیدادیں خریدی جائیں گی اور تمام مغلانیان مرصع بجواہر زیورات سے گوندنی کی طرح لد جائیں گی۔ اب یہ تمام ارمان خاک میں ملے جاتے ہیں۔

مسیحیت یا دجالیت برباد ہوتی ہے اور ہم کو معلوم ہوا ہے کہ جیسے تعمیر منارہ کی مخالفت ہوئی ہے مرزا قادیانی انگاروں پر لوٹ رہے ہیں۔ خواب و خور حرام ہو گیا ہے۔ ہر چند بعض قانونی مرزائی تشفی دے رہے ہیں اور ڈھارس باندھ رہے ہیں کہ حضور اقدس منارہ کی تعمیر کا رکنا محال عقلی وعادی ہے کیونکہ گورنمنٹ آزاد ہے۔ اس نے مذہب کو آزادی عطا کر رکھی ہے۔ وہ ہرگز اپنی عطیہ آزادی کو سلب نہیں کر سکتی۔ اور اچھا ہم مسلمان نہ سہی اور مذہب اسلام میں ایسی تعمیرات کی اجازت بھی نہ سہی۔ لیکن آخر ہمارا کوئی مذہب تو ہے جس کی گورنمنٹ محافظ ہے۔

لیکن مرزا قادیانی پر یاس غالب ہے اور جی چھوٹ گیا ہے اور یہی علامت بری ہے کیونکہ جب کسی مریض پر خوف غالب ہو جاتا ہے خواہ اس کا مرض ایسا نہ ہو تاہم وہ جانبر نہیں ہوتا نا امیدی ہی اس کے حق میں ملک الموت بن جاتی ہے۔ بلی کسی کبوتر پر جھپٹا مارے اور وہ اس کے پنجے سے نکل جائے خواہ کوئی زخم بھی کبوتر کے نہ لگا ہو، تاہم وہ خوف سے مر جاتا ہے۔ منارہ تو گیا جہنم میں ہم کو تو اس کے ساتھ مرزا قادیانی کی جان کے لالے نظر آتے ہیں۔ مسیحیت اور مہدویت (مرزائیت) چند اینٹوں پر موقوف ہے وہ ڈھے گئیں تو مذہب بھی ڈھے گیا۔ اس سے زیادہ کونسا مذہب خام اور بے اصل ہوگا۔

ہم ابھی نہیں کہہ سکتے کہ منارہ کے مقدمے کا انجام کیا ہوگا۔ ہاں استخارہ کر کے جناب باری سے دعا مانگیں گے کہ ہم پر اس کا انجام ابھی منکشف ہو جائے۔ انشاء اللہ تعالیٰ منکشف ہوگا اور پھر ناظرین کو اطلاع دیں گے۔ کیونکہ یہ ایک امر اہم ہے جس پر الحاد و ارتداد کا قیام یا اضمحلال وانہدام منحصر ہے۔

٤ ...... نبی ہے یا قہر الٰہی .

مولانا شوکت اللہ میرٹھی!

اس میں کوئی شک نہیں کہ خدا کے بھیجے ہوئے رسولوں اور نبیوں کا مرتبہ بہت بڑا ہے۔ یوں کہئے کہ خدائے تعالیٰ کے بعد ان کا درجہ ہے لیکن انبیاء ہی کے واسطے دشواریاں اور طرح طرح

١٦٩

صفحہ ٥١٦

کے ابتلاءات بھی تھے جو دنیوی تکالیف اور مصائب کی صورت میں نازل ہوئے اور وہ بتوفیق الہی ان سب کو جھیلتے اور تمام آزمائشوں میں پورا اترے ہیں۔ انہوں نے کتی اور مردار دنیا کو رضاء الہی کے عصاء سے ہمیشہ دھتکارا اور اس کو کبھی منہ نہ لگایا۔ دیکھو سچے نبیوں کی یہ صفت ہے۔

انبیاء علی نبینا وعلیہم الصلوٰۃ والسلام نے جو تکلیفیں صبر ورضا کے ساتھ برداشت کیں۔ ان کا تحمل عام انسانی طاقت سے باہر ہے۔ یہی وجہ ہے کہ انبیاء علیہم السلام کے حالات اور سوانح دیکھ کر ایمان تازہ ہوتا ہے اور دلوں میں ان کی وقعت وعظمت گڑ جاتی ہے۔

اب فرمائیے مرزا قادیانی پر کونسا ابتلا ہوا؟ کیا تکلیف اٹھائی؟ کونسا مجاہدہ کیا۔ کیا کیا ریاضتیں کیں؟ آسمان سے ان پر کونسی نئی ہدایت کونسا نیا قانون اترا؟ بجز اس کے کہ میں اپنے باپ (خدا) کا لے پالک ہوں اور وہ میری جانب محبت سے یوں دوڑتا ہے جیسے کوئی مرغی پر پھیلا کر بچوں کی جانب دوڑتی اور ان کو اپنے گرم گرم پروں میں لیتی ہے کہ کہیں بلی نہ اٹھالے جائے۔ مرزا قادیانی نے تمام عمر مختار کاری کے زمانے سے لے کر اب تک پھولی پھولی ماما بھتیاں کھائیں۔ اور بروزی نبوت نے تو گویا باورچی خانہ میں ایک میخ گاڑ دیا۔ مزے ہیں۔ اللے تللے ہیں۔ روغن بادام کے دم کئے ہوئے پلاؤ اور بریانیاں ہیں۔ سقنقوری اور جند بیدستر کی معجونیں ہیں۔ سانڈھے پٹھے بنے ہوئے ہیں اور ساتھ ہی تمام حواری سنڈیا رہے ہیں۔ پل رہے ہیں۔ چکنے چپڑے مچرب بن گئے ہیں کہ مکھی بھی بدن پر بیٹھے پھسلتی ہے۔

انبیاء نے جسمانی اور روحانی مصائب سہے ۔ مظالم پر صبر کیا اور خدائے تعالیٰ کی جناب میں دعا فرمائی کہ ظالموں کو چشم بینا عطا کر اور ہدایت دے۔ خود آنحضرت ﷺ سے اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: "لعلک باخع نفسک علی آثارھم" یعنی اے محمد ﷺ (تجھے قوم کے ساتھ جو کچھ ہمدردی اور پیار ہے) شاید تو اپنے نفس کو ان کے پیچھے ہلاک کر دے گا۔ سبحان اللہ! اب انیسویں صدی کے فرمائشی نبی مرزا قادیانی کے خوارق دیکھئے کہ کسی نے ایک کہی تو آپ نے سو سنائی۔ اگر کسی نے ایک چٹکی لی تو آپ نے کلہاڑا رسید کیا۔ پھر عوام کو نہیں بلکہ علماء کرام اور مشائخ عظام کو جنہوں نے محض خلوص سے مرزا کو راہ راست پر لانا اور الحاد و ارتداد سے روکنا چاہا پھر اس پر بس نہیں بلکہ بعض انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام کی روح مقدسہ کو بھی اس کی تیغ زبان اور سنان قلم سے پناہ نہ ملی۔ جھوٹے اور مکار مصنوعی لوگ ایسی ہی حرکتوں سے پہچانے جاتے ہیں۔ پس مرزا قادیانی سے ان کا صادر ہونا ضروری اور عین حکمت ومشیئت الہی ہے۔

انبیاء کا نزول ایک رحمت ایزدی ہے مگر مرزا قادیانی کا خروج ملک کے لئے مصیبت

١٧٠

اور زحمت ہے۔ ان کی نبوت کی پہلی تبلیغ تو ہوئی مدت میں۔ حالانکہ ایک بھی ہلاک نہ ہوا۔ الغرض لائے۔ آسمانی باپ نے اپنے ننھے منے لے پالک پھر آپ دعوے سے کہتے ہیں کہ میں طاعونی الغرض خدائے تعالیٰ نے اب تک دنیا میں ایسے اور غضب ناک نبی ہونے میں جزئی حقیقی ہیں۔ قادیانی یہی کہیں گے کہ میری بددعا سے مرا کیونک ہم پوچھتے ہیں سینکڑوں مرزائی اور وہ بھی طاعون کس کس کی بددعا کھا گئی۔ علماء کرام اور مشائخ عظ ہیں یا مصنوعی بروزی نبی کہ اس کی بددعا سے تو اور مشائخ کا اقبال اور جبروت دیکھئے کہ انہی کی بددعا نے خود مرزا قادیانی کے بچوں کو کھا گ دارا کا کام تمام کر دیا ۔ ”فاعتبروا یا اولی ا...

...... ٥

مولانا ث...

الحکم مطبوعہ ٧ مئی میں الہام کی

یعنی بالکنہ کنہہ یا بالوجہ اور بوجہ کونسی ہے ا قادیان میں کوئی ایسا خوجی اور قال اقول بھی شے کی متعدد ماہتیں نہیں ہوتی اور اگر یہ س... تعریفوں کے ایک تعریف یہ بھی لکھی ہے۔ ہے اور ضرور ہے کہ اس میں پیشنگوئیاں بھی

معلوم نہیں یہ قرآن میں یا حد...

دان) بھی ہو جائے یعنی بروزی طور پر خد ہے۔ فاسق ہو یا پرہیز گار، فاجر یا بدکار، آی ہر مکھی پر وحی نازل ہوتی ہے جیسا کہ

صفحہ ٥١٧

اور زحمت ہے۔ ان کی نبوت کی پہلی تبلیغ تو ہوئی کہ فلاں اتنے دنوں میں ہلاک ہوگا اور فلاں اتنی مدت میں۔ حالانکہ ایک بھی ہلاک نہ ہوا۔ الغرض نئے نبی صاحب اپنے ساتھ ہلاکت کی پنڈوری لائے۔ آسمانی باپ نے اپنے ننھے منے لے پالک کو ہلاکت ہی کا سبق پڑھا کر بھیجا نہ کہ نجات کا۔ پھر آپ دعوے سے کہتے ہیں کہ میں طاعونی نبی ہوں اور طاعون میرے ساتھ ساتھ آیا ہے۔ الغرض خدائے تعالیٰ نے اب تک دنیا میں ایسے غضب ناک نبی کی نظیر بھیجی ہی نہیں۔ آپ طاعونی اور غضب ناک نبی ہونے میں جزئی حقیقی ہیں۔ پھر مرزائیوں کے سوا دنیا میں کوئی شخص مرے، مرزا قادیانی یہی کہیں گے کہ میری بددعا سے مرا کیونکہ اس نے مجھے نبی اور امام الزمان تسلیم نہ کیا تھا لیکن ہم پوچھتے ہیں سینکڑوں مرزائی اور وہ بھی طاعون سے جو مرزا کا ایڈیکانگ ہے کیوں مرے۔ ان کو کس کی بددعا کھا گئی۔ علماء کرام اور مشائخ عظام کی؟ اب دیکھو ہمارے علماء اور مشائخ زبردست ہیں یا مصنوعی بروزی نبی کہ اس کی بددعا سے تو باوصف پیشینگوئی کے ایک بھی نہ مرا اور ہمارے علماء اور مشائخ کا اقبال اور جبروت دیکھئے کہ انہوں نے بددعا بھی نہیں کی مگر خود طاعون جو مرزا کا سرہنگ ہے خود مرزا قادیانی کے بچوں کو کھا گیا جیسے سکندر کے اقبال سے دارا کے دو پیادوں نے دارا کا کام تمام کر دیا۔ ”فاعتبروا یا اولی الابصار“

٥ ...... الہام کی تعریف

مولانا شوکت اللہ میرٹھی!

الحکم مطبوعہ ١٧؍مئی میں الہام کی کوئی سات تعریفیں لکھی ہیں مگر معلوم نہیں ان میں ذاتی یعنی بالکنہ کنہہ یا بالوجہ اور بوجہ کونسی ہے اور عرضی کونسی۔ یہ وہ جانے جس نے منطق پڑھی ہو۔ قادیان میں کوئی ایسا غوجی اور قال اقول بھی پڑھا ہوا نہیں تا کہ ذرا سے غور سے معلوم ہو۔ کہ ایک شے کی متعدد ماہیتیں نہیں ہوتیں اور اگر یہ سب عرضیات ہیں تو مبہم ہیں قطعی اور ممیز نہیں۔ منجملہ سات تعریفوں کے ایک تعریف یہ بھی لکھی ہے۔ ”سچا الہام خدائے تعالیٰ کی طاقتوں کا اثر اپنے اندر رکھتا ہے اور ضرور ہے کہ اس میں پیشینگوئیاں بھی ہوں اور وہ پوری بھی ہو جائیں۔“

معلوم نہیں یہ قرآن میں یا حدیث میں کہاں لکھا ہے کہ جس پر الہام ہو وہ پیشینگو (غیب دان) بھی ہو جائے یعنی بروزی طور پر خدائی صفت اس میں حلول کر جائے۔ الہام تو سب پر ہوتا ہے۔ فاسق ہو یا پرہیزگار، فاجر یا بدکار، آیت ”الھمھا فجورھا وتقوھا“ پھر ملاحظہ ہو انسان تو انسان، مکھی پر وحی نازل ہوتی ہے جیسا کہ کلام مجید میں ہے: ”واوحی ربک الی النحل“

١٧١

صفحہ ٥١٨

یعنی اے محمد تیرے خدا نے نبی پر وحی نازل کی۔ قرآن وحدیث میں تو ہے نہیں شاید بروزی لے پالک کی لال کتاب میں لکھا ہو کہ کبھی بھی پیشینگو اور غیب دان ہے۔

سچے الہام کی یہ تعریف بھی لکھی ہے کہ ”اس میں ایک شوکت اور بلندی ہوتی ہے اور دل پر اس سے مضبوط ٹھوکر لگتی ہے اور قوت اور غضب ناک آواز کے ساتھ دل پر نازل ہوتا ہے۔“ اور جھوٹے الہام کی یہ تعریف بیان کی ہے کہ ”اس میں چوروں اور مخنثوں اور عورتوں کی سی دھیمی آواز ہوتی ہے کیونکہ شیطان چور اور مخنث اور عورت ہے۔“ غالباً مرزا قادیانی کو اس کا تجربہ ہو گیا ہے اور تجربہ بغیر جلیس اور انیس ہونے کے حاصل نہیں ہو سکتا۔

کند ھمجنس باھمجنس پرواز

مرزا قادیانی نے دونوں باتیں اپنے تجربہ سے بیان کی ہیں جن کا یہ مطلب ہوا کہ ان پر جھوٹا الہام بھی ہوتا ہے اور سچا بھی۔ یہ عجیب بروزی نبی ہے جو اضداد کا مجموعہ ہے۔ اب یہ کام حواری کا ہے کہ منارے کے بیچوں بیچ کے درمیان میں بیٹھ کر مرزا قادیانی سے پوچھیں کہ آپ پر جھوٹا الہام کس وقت ہوتا اور سچا کس وقت۔ اور وہ شیطان کے جلیس کس وقت ہوتے ہیں اور آسمانی باپ کے انیس کس وقت۔ مرزا قادیانی یہ دونوں باتیں الہام ہی سے بتائیں گے۔ پس دو جانب سے الہام کے دوگڑے چھما چھم برسیں گے۔ ایک باپ کی جانب سے دوسرا شیطان کی جانب سے۔

تعارف مضامین ...... ضمیمہ شحنہ ہند میرٹھ

سال ١٩٠٣ء / ٨/جون کے شمارہ نمبر ٢٢/ کے مضامین

١٧٢

صفحہ ٥١٩

١ ...... حضرت مجدد الف ثانیؒ پر مرزائیوں کا بہتان

ولی محمد لدھیانویؒ

ہم نے اکثر لکھے پڑھے مرزائیوں کو مرزا قادیانی کی مسیحیت کی یہ دلیل کرتے سنا ہے کہ حضرت امام ربانی مجدد الف ثانیؒ اپنے مکتوبات میں (بلا حوالہ جلد و نمبر مکتوبات و صفحہ وسطر ) لکھتے ہیں کہ ”جب حضرت عیسیٰؑ پیدا ہوں گے تو علماء ان کو کافر کہیں گے چونکہ مرزا قادیانی کو تمام مولوی کافر کہتے ہیں اس لئے آپ ہی سچ مچ مسیح ہیں۔“

بالفرض اسے صحیح بھی مان لیں تو کیا نتیجہ مقدمہ، اولا تو صحیح ہے کہ مرزا قادیانی کو تمام علماء کافر کہتے ہیں۔ مگر یہ غلط ہے کہ جس شخص کو علماء کافر کہیں وہ نعوذ باللہ مسیح ابن مریم ہو۔ ہاں مسیح الدجال ہو تو ہو۔

تجسس و تلاش سے معلوم ہوا کہ مکتوبات جلد دوم نمبر ٥٥ صفحہ ١٠٧، مطبوعہ نولکشور ١٨٩١ء میں یہ عبارت ہے۔ ”نزدیک است کہ علماء ظواہر مجتہدات او را از کمال دقت و غموض ماخذ انکار نمایند و مخالف کتاب و سنت دانند مثل روح اللہ مثل امام اعظم کوفی است کہ ببرکت ورع و تقویٰ و بدولت متابعت سنت درجہ علیا در اجتہاد و استنباط یافتہ است کہ دیگران در فہم آں عاجزاند، مجتہدات او را بواسطہ دقت معانی مخالف کتاب و سنت دانند او را و اصحاب او را اصحاب الرائے پندارند“ ”کل ذالک لعدم الوصول الی حقیقۃ علمہ و درائتہ و عدم الاطلاع علی فہمہ و فراستہ “ یعنی قریب ہے کہ علماء ظواہر آپ کے مسائل اجتہادیہ کا انکار کریں اور کتاب وسنت کے مخالف جانیں کیونکہ ان مسائل کا ماخذ گہرا اور نہایت دقیق ہوگا۔ روح اللہ کی مثال امام اعظم کوفی رحمۃ اللہ کی مانند ہے کہ تقویٰ اور پرہیز گاری کی برکت اور اتباع سنت کی بدولت آپ کو اجتہاد اور استنباط میں ایسا بلند درجہ حاصل ہوا ہے کہ دوسرے اس کے سمجھنے سے عاجز ہیں اور آپ کے مسائل اجتہادیہ کو دقت معانی کی وجہ سے کتاب وسنت کے مخالف جانتے ہیں اور آپ کو اور آپ کے متبعین کو اصحاب رائے خیال کرتے ہیں۔ یہ سب باتیں صرف اس لئے ہیں کہ آپ کے علم کی حقیقت اور ماہیت تک نہیں پہنچے اور آپ کے فہم وفراست پر مطلع نہیں ہوئے۔ انتھی!

خلاصہ یہ ہے کہ جس طرح امام الائمہ حضرت امام اعظمؒ کے مسائل اجتہادیہ کو بعض علماء کتاب وسنت کے خلاف بتاتے ہیں۔ اسی طرح ممکن ہے کہ حضرت عیسیٰؑ کے مسائل اجتہادیہ کو

١٧٣

صفحہ ٥٢٠

خلاف کتاب وسنت کہیں۔ کیا علماء حضرت امام اعظم کو نعوذ باللہ منہا کافر کہتے ہیں۔ حاشا وکلا۔ ہرگز نہیں، بلکہ آپ کے اتقاء اور ورع اور فقاہت دین کے معتقد ہیں۔ فروعی اجتہادی مسائل میں اختلاف اور چیز ہے۔ اسی طرح ممکن ہے کہ حضرت عیسیٰ کے اجتہادی مسائل کو بعض علماء خلاف کتاب وسنت کہیں۔ کیونکہ یہ ان کی عادت اور سمجھ کا تقاضا ہے لیکن یہ صرف قیاسی بات ہے۔ کلمہ نزدیک امت کی طرف غور وفکر کرنے سے اہل فہم پر بات مخفی نہیں رہ سکتی۔

ہر صورت یہ بات بالکل غلط اور سراسر افتراء ہے کہ کہیں حضرت مجدد الف ثانی نے تحریر فرمایا ہو کہ علماء حضرت عیسیٰ علی نبینا وعلیہ الصلوۃ والسلام کو نعوذ باللہ کافر کہیں گے۔ پس ہم اپنے مسلمان بھائیوں سے عرض کرتے ہیں کہ اس فرقے کی دھوکہ بازیوں اور چالاکیوں سے خبردار اور ہوشیار رہیں۔ والسلام!

٢ ...... مرزائی کے اشعار کا ترکی بہ ترکی جواب

حکیم محمد حسن خان لدھیانوی!

ایس ایم یوسف صاحب مرزائی نے اپنے پیشوا مرزا کی تعریف میں اٹکل پچو کچھ تکبندی کی تھی جو ضمیمہ شحنہ ہند میں درج ہوچکی ہے اور اس کا ایک جواب نظم میں بجانب نصیر احمد صاحب ایجنٹ بھی شائع ہوچکا ہے۔ دوسرا جواب حکیم محمد حسن خان صاحب برادرزادہ حکیم محمد ناصر خان صاحب لدھیانوی نے حسب ذیل دیا ہے۔

ارے او! مریدان مرزا خدارا بتاؤ کہ ہے دین کیسا تمہارا
رسول خدا سے پھرے جارہے ہو نبوت کو مرزا کی تم گا رہے ہو
دلوں میں نہیں خوف رکھتے خدا کا نہ اندیشہ ہے تم کو روز جزاء کا
گھٹایا ہے رتبہ حبیب خدا کا بڑھایا ہے رتبہ مکر مرزا کا
بلاشبہ ہیں چرخ پر ابن مریم زمین میں مکین ہیں رسول مکرم
دوبارہ جب آئیں گے عیسیٰ زمین پر پس مرگ مدفون ہوں گے یہیں پر
گھٹا اس میں کیا رتبہ خیر الوریٰ کا حبیب خدا اشرف انبیاء کا
گئے ہیں فلک پر مع الجسم عیسیٰ ہوا ہے یہ قرآن سے ہم پر ہویدا
احادیث وقرآن کو دیکھو سمجھ کر پڑے ہیں تمہاری تو عقلوں پر پتھر
عبث دین برحق کو چھوڑا ہے تم نے صداقت سے منہ اپنا موڑا ہے تم نے
تصانیف مرزا پہ رکھتے ہو ایمان بھلا بیٹھے دل سے احادیث و قرآن

١٧٤

صفحہ ٥٢١
کلام خدا سے جو آگاہ ہوتے تو یوں دین حق سے نہ گمراہ ہوتے
کلام الہی سے لو ہم پتا دیں سنو غور سے لاؤ ایمان بتا دیں
چھٹے پارہ قرآن میں سورہ نساء ہے پڑھو اس کی تفسیر میں کیا لکھا ہے
فلک پر مع الجسم عیسیٰ کا جانا صداقت سے سب عالموں نے ہے مانا
فقیہہ و محدث ہوئے جس قدر ہیں سبھی متفق حق کے اس قول پر ہیں
سمجھ میں نہ سیاست کیا ان کی آئی جو مرزا نے ہے اس صدی میں سجھائی
عقیدہ یہی اہل اسلام کا ہے رہے گا ہمیشہ سے یونہی رہا ہے
یہی تھا بزرگوں کا مذہب تمہارے اسی قول کو مانتے آئے سارے
مگر آج تم دام مرزا میں پھنس کر ہوئے جاتے ہو قائل قول منکر
تمہیں کون رستہ بتانے کو آئے پڑھو علم دین جو جہالت مٹائے
دوبارہ وہ آئیں گے بیشک زمین پر جو ہیں ابن مریم خدا کے پیمبر
عقیدہ ہمارا یہی مستند ہے حدیثوں سے بڑھ کر بھلا کیا سند ہے
نہیں بات مشکل یہ کچھ پروردگار کہ عیسیٰ کو لائے فلک سے زمین پر
تمہاری سمجھ گرچہ الٹی ہوئی ہے خدا کے تو نزدیک ممکن سبھی ہے
عقیدہ نہیں ہے جو اس پر تمہارا تو سمجھو کہ دین سے کیا ہے کنارا
بتا کیا رسول خدا نے کہا ہے ذرا لا بخاری کہاں یہ لکھا ہے
کہ موعود عیسیٰ جو آئے جہاں میں تو پنجاب کے موضع قادیان میں
دکھاؤ وہ ہیں کون سی تیس آیت جو ہیں مرگ عیسیٰ پر کرتی دلالت
کوئی ایک آیت تو لاکر دکھاتے وفات مسیحا کا جھگڑا مٹاتے
نشان سماوی بھلا کون سے ہیں کہ مرزائیوں پر وہ ظاہر ہوئے ہیں
ذرا ان نشانوں کا ہم کو نشان دو کہ موعود کا وقت جن سے عیاں ہو
مسیحائے موعود گر مرزا ہے کہاں پہلے دجال اس سے ہوا ہے
یہ ہے افتراء محض اور بدگمانی بغاوت کے مرزائیو تم ہو بانی
وہ انگریز تم پر جو فرمانروا ہیں رعایا کے حق میں جو فضل خدا ہیں
ملے عہد میں جن کے آرام اتنے بنے ہیں بگڑتے ہوئے کام اتنے
یہی ان کا احسان مانا ہے تم نے کہ دجال اب ان کو جانا ہے تم نے

١٧٥

صفحہ ٢٣
عجب بدگمان ہو بڑے بے وفا ہو نہایت ہی محسن کش و ناسزا ہو
بتاتے ہو ریلوں کو دجال کا خر یہ بے ہودگی اور خری ہے سراسر
اگر ریل کو کوئی دجال مانے سوار اس پہ ہوتے ہیں کیوں لنگڑے کانے
وہ دجال جو ہو عدوئے مسیحا گدھے پہ چڑھے اس کے ہیہات مرزا
ہوئے کب ہیں ظاہر نشان سماوی کہ بن بیٹھے عیسیٰ عبث مرزا جی
کہاں ہے یہ فرمایا حق نے قرآن میں کہ موعود ہوگا عیاں قادیان میں
نہ زنہار دے گا کلام الٰہی کسی دعویٰ مرزا پر گواہی
یہ قول نبی صدق سے مان لو تم کہ دجال تیس آئیں گے جان لو تم
بتاتے ہیں ہم کو احادیث و قرآن کہ مرزا نہیں فی الحقیقت مسلمان
خدا کے لئے سیدھے رستے پر آؤ حدیث اور قرآن پر ایمان لاؤ
مریدی سے اب اس کی ہو جاؤ تائب کہ ہے مرزا مفتری اور کاذب
عقیدہ کرو ٹھیک اپنا خدارا مسلمان بنو مانو کہنا ہمارا
خدا سے ڈرو اس کی بیعت کو توڑو وہ دجال ہے اس سے منہ اپنا موڑو
خدا کے مٹانے سے بیشک مٹے گا نبی کے ہٹانے سے بیشک ہٹے گا
جو دارالمحن موضع قادیان ہے بنایا اسے تم نے دارالامان ہے
ہوئے حج کعبہ سے منکر سراسر سمجھتے ہو جانا وہاں حج اکبر
پسند آئی دجال کی کیوں اطاعت ہوئے حیف کیوں تم گرفتار لعنت
اطاعت جو ہے چھوڑی رسول خدا کی محمد نبی خاتم الانبیاء کی
یقین ہے اسی حال میں تم مرو گے جہنم کو مرزائیوں سے بھرو گے
دعا ہے خدا یا یہ نامی کی دائم کہ رکھنا ہمیں سیدھے رستے پر قائم
راہ حق سے امت نبی کی نہ بھٹکے کسی اور رستے نہ جائے وہ ہٹ کے
رہے شیفتہ دین خیرالوریٰ کی فدائی رہے سنت مصطفیٰ کی
بحق نبی حج کعبہ کرا دے گناہوں کی ظلمت دلوں سے مٹا دے
دکھا اپنے پیارے کا مجھ کو مدینہ کہ معمور ہو نور سے میرا سینہ
یہ نامی کی ہے التجا میرے مولیٰ کہ بالخیر ہو خاتمہ مومنوں کا

٣ ...... پیشینگوئیاں پیشانی کا دھبا بن گئیں

مولانا شوکت اللہ میرٹھی!

اہل ہوا کے واسطے ہے اوج ہی زوال
فوارے نے اچھال کے پٹکا ہے آب کو

١٧٦

ہم معمولی پیشینگوئیوں کی بار ہا حقیقت ہی نکلے اور کیوں نہ نکلتے عادۃ اللہ اسی طرح جاری کے لئے سواد الوجہ فی الدارین بن جاتی ہے۔ سینکڑوں نجومی لال پوتھیاں لئے سینک دبائے کوڑی پیسہ روٹی ٹکڑا مانگتے پھرتے ہیں۔ ک ادھورے رمال اور ادھ کچرے نجومی ہونے کے چ کی مزاج پرسی فرض ہوگئی ہے پھر نجومیوں اور رمالو ہے مگر آپ کی ساری پیشینگوئیاں اناڑی کے تیر کی سب پوری ہوئیں۔ کیا بے چاری حیا کو قادیان پیشینگوئی یہ تھی کہ مغلانی کے حمل کے اصطبل سے ک

چودم برداشت

دوسری دفعہ آپ نے جند بیدستر اور س

(٧/ اگست ١٨٨٧ء، مجموعہ اشتہارات ج ١ ص ١٤١) ک

حاملہ کے بطن میں عین لڑکا ہوگا اور یہی بشیر موع ویسا ہوگا اور جیسا تیسا ہوگا۔ تمام شاہان روئے ز پالک کا آسمانی باپ فخر کرے گا کہ کیسا کلوتا ڈینگر قالب میں ڈھل کر آئے گا مگر یہ نرم چارہ تھوڑ قادیانی پھر بھی بھیگی بلی نہ بنے اور باوصف آم چوکے۔

سقنقوری اور جند بیدستری معجون کا ای آسمانی باپ نے آسمان میں میرے نکاح کا لگا برکتوں کا اسٹور ہوگا (دیکھو مرزا قادیانی کا خط مور کا مکر شیطانی یا نکاح آسمانی کا راز نہانی مطبوعہ پیشینگوئی کہ اگر کوئی اور شخص اس سے نکاح کر اگست ١٨٩٣ء میں ختم ہوگئی اور خالق اناث وذکر حوالے کیا۔ اب میرا شیر مرزا قادیانی کی چھاتی

٧

صفحہ ٥٢٣

ہم معمولی پیشینگوئیوں کی بارہا حقیقت کھول چکے ہیں مگر مرزا قادیانی ان میں بھی جھوٹے ہی نکلے اور کیوں نہ نکلتے عادۃ اللہ اسی طرح جاری ہے کہ مفتری علی اللہ کی تحریر اور تقریر خود مفتری کے لئے سواد الوجہ فی الدارین بن جاتی ہے۔

سینکڑوں نجومی لال پوتھیاں لئے سینکڑوں رمال قلمدان اور قرعہ یا کعبتین بغل میں دبائے کوڑی پیسہ روٹی ٹکڑا مانگتے پھرتے ہیں۔ کوئی ان سے تعرض نہیں کرتا۔ آپ نے باوصف ادھورے رمال اور ادھ کچرے نجومی ہونے کے چونکہ نبوت کا دعویٰ کیا ہے۔ لہٰذا مسلمانوں پر آپ کی مزاج پرسی فرض ہو گئی ہے پھر نجومیوں اور رمالوں کی اٹکل کا تیر تو کبھی کبھی نشانے پر لگ بھی جاتا ہے مگر آپ کی ساری پیشینگوئیاں اناڑی کے تیر کی طرح ہوا میں اڑ گئیں۔ پھر بھی دم خم وہی ہے کہ سب پوری ہوئیں۔ کیا بے چاری حیا کو قادیان سے بالکل ہی دیس نکالا دے دیا ہے۔ پہلی پیشینگوئی یہ تھی کہ مغلانی کے حمل کے اصطبل سے کروٹیں بدلتا ہوا ایک عراقی نر نکلے گا مگر افسوس؎

چو دم برداشتم مادہ برآمد

دوسری دفعہ آپ نے جند بیدستر اور سقنقور اور ریگ ماہی کے حلوے کھا کر اور کچکچا کر (٧؍اگست ١٨٨٧ء، مجموعہ اشتہارات ج١ ص١٤١) کو اعلان دیا اب کے ضرور بالضرور اور پرضرور حاملہ کے بطن میں عین لڑکا ہو گا اور یہی بشیر موعود ہے یوں کرے گا اور ووں کرے گا ایسا ہو گا اور ویسا ہو گا اور جیسا تیسا ہوگا۔ تمام شاہان روئے زمین اس سے برکت ڈھونڈیں گے۔ اور خود لے پالک کا آسمانی باپ فخر کرے گا کہ کیسا پلوٹھا ڈھیٹ اپوتا پیدا ہوا۔ گویا دادا ہی بروزی طور پر پوتے کے قالب میں ڈھل کر آئے گا مگر یہ نرم چارہ تھوڑے ہی دنوں میں گربہ اجل کا لقمہ بن گیا۔ مرزا قادیانی پھر بھی بھیگی بلی نہ بنے اور باوصف آسمانی تھپڑ کھانے کے پیشینگوئیاں کرنے سے نہ چوکے۔

سقنقوری اور جند بیدستری معجون کا ابھار جو اٹھتا ہے۔ تو جھٹ سے مشتہر کر دیا کہ خود آسمانی باپ نے آسمان میں میرے نکاح کا لگّا فلاں مسماۃ سے لگا دیا ہے اور یہ نکاح بہت سی برکتوں کا مورد ہوگا (دیکھو مرزا قادیانی کا خط مورخہ ١٧؍جولائی ١٨٩٠ء صفحہ ١٠ رسالہ مسیلمہ قادیانی کا مکر شیطانی یا نکاح آسمانی کا راز نہانی مطبوعہ چشمہ نور پریس امرتسر (روز نامہ فضل رحمانی ص١٢٢) اور پیشینگوئی کی کہ اگر کوئی اور شخص اس سے نکاح کرے گا تو اڑھائی برس کے اندر مر جائے گا۔ یہ میعاد اگست ١٨٩٣ء میں ختم ہو گئی اور خالق اناث و ذکور وازواج نے اس مسماۃ کو ایک نوجوان شخص کے حوالے کیا۔ اب میرا شیر مرزا قادیانی کی چھاتی پر مونگ دل رہا ہے اور ان کے ارمانوں کا دلیا

١٧٧

صفحہ ٥٢٤

کر رہے ہیں۔ کوئی نصف درجن بچے تو نکال چکا ہے۔ خدا نے چاہا تو چند روز میں درجن بھر بچے ہو جائیں گے۔ ہاں مرزا قادیانی چونکہ آواگون کے قائل ہیں اور اپنی بروزی یا استدراجی نبوت پر انکا ایمان ہے تو یہ کہہ سکتے ہیں کہ وہ جورو تو درحقیقت میری ہے مگر میں نے نیوگ کے موافق بچے نکلوانے کو اپنے رقیب کے سپرد کر رکھی ہے کیونکہ میری کمر میں اب بوتا نہیں رہا اور رجولیت ریشہ خطمی بن گئی ہے اور میں نے یہ قانون اپنے بعض مریدوں کی بیگمات کے لئے بھی بوجہ موجود ہونے رگ شیطانی کے نیوگ کے لئے جاری کر دیا ہے اور اس کی سند بعض اخبارات اور ضمیمہ شحنہ ہند سے مل سکتی ہے۔

اگر بعض مرزائی کہیں کہ مرزا قادیانی تو نیوگ کے مخالف اور آریوں پر معترض ہیں تو جواب یہ ہے کہ مرزا قادیانی جس امر کو اوروں کے لئے برا سمجھتے ہیں اس کو اپنے لئے باعث فخر و شیخی قرار دیتے ہیں۔ مثلاً مسیح کی جانب فحش کو منسوب کیا اور خود کو ان کا مثیل بلکہ عین بتایا۔ اخباروں اور اشتہاروں میں تقویٰ اور طہارت اور صداقت کی ڈینگ ماری مگر خود جھوٹ کے پتلے اور مکر کے فوٹو بن گئے۔ یہی حال نیوگ کا ہے اور اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ بیوہ آلنقوا کی آل ہونے کی باعث خود نیوگ کی نسل سے ہیں۔ گویا نیوگ ان کے نیچر میں یوں مل گیا ہے جیسے زعفرانی حلوے میں ریگ ماہی کا ست۔ کیونکہ ان کے جدامجد اور ولی کھنگر چنگیز خان نے جس کا خمیر بدھ کے مذہب سے تھا۔ اسی نیوگ کی بدولت جنم لیا تھا اور مرزا قادیانی کو اول اول اسی بناء پر عیسیٰ مسیح کے مثیل بننے کا خبط سوجھا تھا کہ ان کی دادی بی بی آلنقوا بیوہ نے کسی شخص سے بچے جنے تھے۔ شاید انہیں حالات پر قیاس کر کے مصنف کتاب عصا موسیٰ نے مرزا قادیانی کو ولید بن مغیرہ کا کامل مثیل سمجھ کر آیت (لا تطع کل حلاف مھین) کو ان پر چسپاں کیا ہے۔

پچھلے دنوں اعجاز احمدی میں پیشینگوئی کی کہ مجھے پانچویں لڑکے کا وعدہ دیا گیا ہے حالانکہ بجائے نر کے مادہ (دختر) پیدا ہوئی۔ دوم! اولاد نرینہ کی تعداد میں جو اضافہ ہونے کی پیشینگوئی تھی بجائے اس کے اضافہ ہوتا۔ ایک جوان کماؤ بیٹا ساتھ چھوڑ گیا جس کے سہارے پر مرزا قادیانی آسمانی منکوحہ کے عشق میں اس کو اپنے حق میں بڑی بھاری فتح بتائیں گے کہ فرزند ارجمند نے مرزا قادیانی کا حکم نہ مانا اور اپنی زوجہ کو طلاق نہ دی لہٰذا سزا پائی۔ وہ کہیں گے کہ چند روز میں میرے رقیب کی بھی باری ہے ابھی تو ذرا تیل دیکھئے تیل کی دھار دیکھئے۔ رقیب مرے اور ضرور مرے اور پھر آسمانی منکوحہ میرے ہتھے چڑھے اور ضرور چڑھے۔ اور جب خود مورث اعلیٰ آسمانی باپ نے نکاح پڑھ دیا ہے تو کیوں میرے قبضہ میں نہ آئے۔

١٧٨

صفحہ ٥٢٥

٤ ...... تحریف لفظی و معنوی

محمد احسن اٹاوہ!

حضرت مجدد السنہ مشرقیہ سلام وعلیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ ۔ ہم چند روز سے مرزائیوں کی زبانی رسالہ عسل مصفیٰ کی بڑی دھوم دھام سے تعریف سنتے تھے کہ اس میں یوں لکھا ہے ووں لکھا ہے۔ اس کے دیکھنے سے ضرور بالضرور لوگ مرزا قادیانی کو مہدی برحق مان لیں گے۔ میں نے بھی کتاب مذکور تلاش کر کے دیکھنا شروع کیا۔ واللہ سچ لکھتا ہوں کہ وہی رسم قدیم جو مرزا قادیانی اور مرزائیوں کی عادت ہے۔ لفظی تحریف، معنوی دھوکہ، کفر بکنا۔ بجز اس کے کچھ حقانیت اس میں نظر نہ آئی۔ چنانچہ لفظی یہ کہ ہم اکثر یہ شعر سنا کرتے تھے ۔

آسمان پر عیسیٰ اور داؤد موسیٰ خاک میں
لے کے توریت و زبور انجیل حق سے چال سے

مصنف عسل مصفیٰ تحریفاً یوں لکھتے ہیں

حضرت عیسیٰ نبی داؤد موسیٰ خاک میں
لے کے توریت و زبور انجیل حق سے چال سے

معنوی تحریف یہ کہ مجمع البحار میں توفی کے معنے اس طرح لکھے ہیں کہ ”متوفیک ورافعک علی التقدیم والتاخیر وقد یکون الوفات قبضاً لیس بموت “ مصنف عسل مصفیٰ اس کا تحریفی ترجمہ کرتے ہیں یعنی ”متوفیک ورافعک“ مقدم مؤخر ہیں اور موت قبض کی موت ہوگی نہ حقیقی موت ’وقدیکون الوفات قبضاً لیس بموت“ کے صریح معنے ہیں کہ کبھی وفات کے معنے قبض کے ہوتے ہیں نہ موت کے۔ مگر مصنف عسل مصفیٰ نے کیا ایمانداری سے معنے لکھے ہیں اور کس قدر تحریف برتی ہے۔ دھوکہ دہی ملاحظہ ہو۔ عسل مصفیٰ کے صفحہ ٥٩٤ میں دجال کے معنے گروہ عظیمہ کے لکھے ہیں۔ تمام کتب لغات منتہی الارب قاموس وغیرہ کا حوالہ دیتے دیتے یہاں تک لکھا ہے کہ غیاث اللغات میں بھی یہی معنے لکھے ہیں۔ چونکہ یہ کتاب اکثر مقام پر بکثرت دستیاب ہو سکتی ہے۔ ہمارے محلہ کے قریب چار جلد کتاب مطبوعہ مطبع نولکشور علی بخش جو ١٢٦٩ء میں چھپی ہیں جس کو عرصہ ٥٢ برس کا ہوتا ہے موجود ہیں۔ چاروں لغات میں دال وجیم کی تختی میں بجز چار الفاظ دجی، دجاج، دجابہ، دجلہ پانچواں لفظ ہی نہیں۔ دیکھئے جس نے جھوٹ اور دھوکہ دہی پر علانیہ کمر باندھ رکھی ہو۔ اس سے خدا بچائے۔ کیا عوام بے چارے ان کے دھوکہ اور دام فریب میں نہیں آسکتے ہیں۔ میں کہہ سکتا ہوں کہ ضرور تمام کتب تفاسیر و کتب لغات و تواریخ وغیرہ جن جن

١٧٩

صفحہ ٥٢٧

کا اپنے رسالہ میں حوالہ دیا ہے۔ سب میں تحریف اور دھوکہ دہی کام میں لائے ہیں۔ جس کو مشتے نمونہ از خروارے ہم نے ظاہر کردیا۔ کفر بکنا ملاحظہ ہو۔ اسی کے آخر میں دو قصیدے درج ہیں۔ ایک قصیدہ میں شعر لکھے ہیں؎

زندہ کردی دین احمد بلکہ احمد مصطفیٰ
زندہ کردی نور قرآن بلکہ جملہ انبیاء

یہاں جو اہل علم تھے ان سے میں نے معنے پوچھے سب نے یہی کہا کہ اس کا مطلب صریح کفر ہے اور غلام کو آقا سے بڑھا لیا ہے۔ اب میری التجا ہے کہ ہمارے مخدوم صاحب السنہ مشرقیہ بو ضاحت اس شعر کا مطلب پبلک پر ظاہر فرمائیں گے اور اس رائے سے صاف وصریح طور پر جیسا کہ ہمیشہ شحنہ ہند کے ضمیمہ میں تحریر فرمایا کرتے ہیں تحریر فرمائیں گے۔ اس میں کیا تاویل ہو سکتی ہے افسوس کہ مرزا قادیانی و مرزائیاں راہ حق کے تو مہدی نہیں ہیں۔ طریقہ ضلالت کے مہدی البتہ ہو سکتے ہیں۔

گر ہمیں است مہدی معہود
کشتئ دین غرق خواہد بود

٥ ...... اعجاز احمدی کا جواب

مولانا شوکت اللہ میرٹھی !

مرزا قادیانی نے اپنے مندرجہ بالا قصیدہ کا جواب لکھنے والے کیلئے دس ہزار روپیہ کے انعام کا اعلان دیا تھا ہم اس کا نصف یعنی پانچ ہزار روپیہ طلب کرتے ہیں بشرطیکہ کہ کسی مقام پر اپنے اور ہمارے مقبولہ امین یا کسی کمیٹی کے پاس جمع کر دیئے جائیں ورنہ مرزا قادیانی کا کیا اعتبار ہے کہ پانچ ہزار روپیہ دے سکیں گے۔ کتنی مرتبہ مرزا قادیانی نے خالی خولی تھیلیاں دکھائیں مگر کسی کو ایک ٹکا بھی نہیں دیا۔ ہم بڑی جرات اور دلیری اور استحکام کے ساتھ لکھتے ہیں کہ ٥؍ہزار روپیہ کی پوری کفالت ہو جائے تو ہم تحدی کرنے پر تیار ہیں۔ مرزا قادیانی یہ بھی بتائیں کہ کس قسم کے مضامین چاہتے ہیں۔ کیا وہی تردیدی مضامین جو ہمیشہ ضمیمہ شحنہ ہند میں شائع ہوتے ہیں یا کسی اور قسم کے مضامین دو ہفتے کے مابین جواب دیں۔

٦ ...... ضمیمہ کا اثر

مولانا شوکت اللہ میرٹھی !

خدا کی عنایت سے ضمیمہ اخبار کے ساتھ اور نیز علیحدہ جو پلندے بندھ بندھ کر جاتا ہے ١٨٠

اور مدارس اور انجمنوں اور لائبریریوں میں اس کا مطا دس آدمیوں کی نظر سے گزرتا ہے تو ہفتہ وار کئی ہزار آدمی بدلیل اور دھواں دھار کہ نہ تو آج تک مرزائیوں اور مرزا پڑا نہ آئندہ کبھی بن پڑے گا۔ انشاء اللہ تعالیٰ شوکت الـ کے سویداء قلب میں ٹھس جاتی ہیں اور برق بن کر وسوسـ نے ہم کو لکھا کہ ایسے لاکھ ضمیمے بھی جاری ہوں تو حضرت لیکن مرزائیوں کو خبر نہیں کہ غضب الٰہی کی بجلی کی چمک سے الوپ انجن ہو کر منکروں کے خرمن امید پر گرتی اور مرزا قادیانی اپنے مرزائیوں کی تعداد تقـ صرف ١٣٠٠ بتاتا ہے۔ اگر مرزائیوں نے درحقیقت بجائے احمدی لکھوانے کے اپنے کو محمدی لکھوایا ہے تو وہ وہ مشرک فی الرسالۃ ہیں کہ جدید نبی گھڑنے کے بعـ کرتے یعنی محمدی بنتے اور کہلاتے ہیں۔ اس لئے کـ رہنے کے قائل نہیں ہیں اور خود مرزا قادیانی الحکم میں بـ ہیں اور جبکہ مرزا قادیانی یہ کہتے ہیں کہ موجودہ زمانہ کا پر ایمان لانا فرض ہے اور جو شخص ایمان نہ لائے وہ د افسوس کی بات ہے کہ دولاکھ آدمی با استثنیٰ تیرہ سو کے ایـ شماری کے دفتر میں جو فی دس سال ہندوستان کی مردم ان بزدل مرزائیوں نے تو غضب ہی کر دیا کہ مرزا قا العونی میں گرا دیا۔ ایسے مرزائی منہ پھونک دینے کے لا مرزا اپنی بعثت ورسالت ٣٠ سال بـ ٢٥، ٢٦ سال میں ١٣ سو مرید پیدا کئے ہیں تو پانچ ہـ سے لیکر اب تک کچھ کم دو لاکھ مرید کہاں سے اوبـ ٣٠ سال میں ١٣سو مرید ہونے کے فی سال ٤٣ مر سے زیادہ نہیں ہو سکتے۔ اور بفرض محال مرزا قادیانی تو ٧ کروڑ مسلمانوں کو ہفتہ وار درس دیتا اور دین محمدی ١٨١

صفحہ ٥٢٧

وہی کام میں لائے ہیں۔ جس کو مشن کے آخر میں وہ قصیدے درج ہیں۔

احمد مصطفی جملہ انبیاء

نے سب نے یہی کہا کہ اس کا مطلب لکھا ہے کہ ہمارے مجدد صاحب السنۃ اور اس رائے سے صاف و صریح طور یہ فرمائیں گے۔ اس میں کیا تاویل پذیر نہیں ہیں۔ طریقہ ضلالت کے

معہود بود اب

لکھنے والے کیلئے دس ہزار روپیہ کے کرتے ہیں بشرطیکہ کہ کسی مقام پر جائیں ورنہ مرزا قادیانی کا کیا اعتبار نے خالی خولی تھیلیاں دکھائیں مگر کسی کو ساتھ لکھتے ہیں کہ ٥ ہزار روپیہ کی قادیانی یہ بھی بتائیں کہ کس قسم کے ہند میں شائع ہوتے ہیں یا کسی اور

جو چندے بندہ کر جاتا ہے

اور مدارس اور انجمنوں اور لائبریریوں میں اس کا مطالعہ ہوتا ہے۔ اگر یہ فرض کیا جائے کہ کم از کم دس آدمیوں کی نظر سے گزرتا ہے تو ہفتہ وار کئی ہزار آدمی اس کا مطالعہ کرتے ہیں۔ اور تحریریں بھی وہ مدلل اور دھواں دھار کہ نہ تو آج تک مرزائیوں اور مرزا قادیانی کی طرف سے کبھی ان کا جواب بن پڑا نہ آئندہ کبھی بن پڑے گا۔ انشاء اللہ تعالیٰ شوکت اللہ کی تحریریں کاغذ اور سیاہی سے اٹھ کر پبلک کے سویداء قلب میں گھس جاتی ہیں اور رو بن کر وسوسات شیطانی کو چاٹ جاتی ہیں۔ ایک مرزائی نے ہم کو لکھا کہ ایسے لاکھ ضمیمے بھی جاری ہوں تو حضرت اقدس کا مشن رک نہیں سکتا۔ درینچہ شک۔ لیکن مرزائیوں کو خبر نہیں کہ غضب الہی کی بجلی میں چمک اور دھڑاکے کی آواز نہیں ہوتی۔ وہ آنکھوں سے الوپ انجن ہو کر منکروں کے خرمن امید پر گرتی اور جلا جلا کر تباہ اور بھسم کر ڈالتی ہے۔

مرزا قادیانی اپنے مرزائیوں کی تعداد تقریباً دو لاکھ بتاتے ہیں مگر کمشنر مردم شماری صرف ١٣٠٠ بتاتا ہے۔ اگر مرزائیوں نے درحقیقت اپنے مرزائی جدید مذہب کو چھپایا ہے یعنی بجائے احمدی لکھوانے کے اپنے کو محمدی لکھوایا ہے تو وہ نہایت بودے اور بزدل بلکہ سخت منافق ہیں وہ مشرک فی الرسالۃ ہیں کہ جدید نبی گھڑنے کے بعد بھی اپنے کو دوسرے نبی کی جانب منسوب کرتے یعنی محمدی بنتے اور کہلاتے ہیں۔ اس لئے کسی طرح مرزا قادیانی کے رجسٹر بیعت میں رہنے کے قابل نہیں ہیں اور خود مرزا قادیانی الحکم میں چند بار ایسے دورویہ مرزائیوں کو ڈانٹ بتا چکے ہیں اور جبکہ مرزا قادیانی یہ کہتے ہیں کہ موجودہ زمانہ کا میں رسول اور نبی اور امام الزمان ہوں اور مجھ پر ایمان لانا فرض ہے اور جو شخص ایمان نہ لائے وہ دنیا میں شقی اور عقبیٰ میں جہنمی ہے تو نہایت افسوس کی بات ہے کہ دو لاکھ آدمی باستثنائے تیرہ سو کے اپنے کو محمدی لکھوائیں اور وہ بھی کہاں کمشنر مردم شماری کے دفتر میں جو فی دس سال ہندوستان کی مردم شماری اور آبادی کی قسمت کا فیصلہ کرتا ہے۔ ان بزدل مرزائیوں نے تو غضب ہی کر دیا کہ مرزا قادیانی کی نبوت کو عرش سے دھکا دے کر تحت الثریٰ میں گرا دیا۔ ایسے مرزائی منہ تھوک دینے کے لائق ہیں۔

مرزا اپنی بعثت ورسالت ٣٠ سال سے بتاتے ہیں مگر حیرت ہے کہ جب ٢٥، ٢٦ سال میں ١٣؍ سو مرید پیدا کئے ہیں تو پانچ چھ سال میں یعنی سب سے بعد کی مردم شماری سے لیکر اب تک کچھ کم دو لاکھ مرید کہاں سے اور کیونکر پیدا ہو گئے۔ اگر بفرض محال بجائے ٣٠ سال میں ١٣ سو مرید ہونے کے فی سال ١٣ سو مرید بڑھے جب بھی سات آٹھ ہزار مریدوں سے زیادہ نہیں ہو سکتے۔ اور بفرض محال مرزا قادیانی کی مصنفہ تعداد ٢؍لاکھ سہی مگر ضمیمہ شحنہ ہند تو ٧؍کروڑ مسلمانوں کو ہفتہ وار درس دیتا اور دین محمدی پر قائم رہنے اور ضلالت سے بچنے کی ہدایت

١٨١

صفحہ ٥٢٨

اور تنبیہ کرتا ہے تو خیال کر لیجئے کہ ٧ ؍کروڑ محمدیوں کے مقابلے میں دولاکھ ملحدوں کی کیا حقیقت ہے؟ اور کس کا اثر قوی ہے یعنی ضمیمہ کا یا مرزا قادیانی کے مشن کا۔ مرزائی مشن جو اہل اسلام کی طبائع پر زہر اگلتا ہے۔ ضمیمہ تریاق بن کر اس زہر کا ازالہ کر دیتا ہے۔ ہر سال مرزا قادیانی پیشینگوئی کرتے اور اپنے خامکاروں کو طفل تسلی دے کر تھامتے ہیں کہ ضمیمہ اب بند ہوا اور اب بند ہوا مگر ہر سال جھوٹے کے منہ میں گوہ ہو جاتا ہے اور ضمیمہ ملحدوں کے سروں پر آرے کی طرح گزرتا چلا جاتا ہے اور انشاء اللہ گزرتا چلا جائے گا اور بالآخر ایک ایک سر اور ایک ایک دھڑ کے دو دو کر دے گا۔

بعض بدمعاش مرزائی بھی یہ دیکھنے کو کہ ہمارے لال گرو کی کیسی درگت ہو رہی ہے۔ ضمیمہ کی خریداری کے لئے مختلف لوگوں کے نام سے درخواستیں بھیجتے ہیں مگر آپ جانئے ہم تو ایسے بدمعاشوں مفت خوروں کے گورگڑھے تک سے واقف ہیں۔ جواب میں دو جوتے اور حقے کا پانی بھیج دیتے ہیں۔ پھر بھی یہ حرامزادے ایسے بے حیا ہیں کہ حرامی پنے سے باز نہیں آتے اور پھر کر دھوکے دیتے ہیں۔ ہم بھی ان کی قلعی اچھی طرح کھولیں گے۔ یہ لوگ مرزا قادیانی کے خوارق کے بہت اچھے نمونے ہیں۔ ’’الولد سر لابیہ‘‘

٧....... نیچریت، مرزائیت، عیسائیت

مولانا شوکت اللہ میرٹھی!

اس میں بالکل شک نہیں کہ مرزائیت، نیچریت سے بدتر ہے کیونکہ کسی نیچری نے آج تک نبوت کا دعویٰ نہیں کیا۔ چونکہ آج کل نئی تہذیب نئی روشنی اور پھر سائنس اور فلسفہ کی تعلیم کا زور ہے۔ لہٰذا سرسید مرحوم خواب غفلت میں پڑے ہوئے مسلمانوں کو مغربی تعلیم کی ٹھوکر مار گئے ہیں اور اس لحاظ سے ان کو ایجوکیشنل رفارمر کہنا بے جا نہیں اور اس وقت تقریباً ایک کروڑ مسلمان ان کے پیرو ہیں اور درحقیقت ان کو رفارمر سمجھتے ہیں۔ مرزا قادیانی کو تو تمام عمر بھی یہ فروغ نصیب نہ ہوگا وہاں مرنے کے بعد مرزائی لوگ منارہ کی پرستش کیا کریں تو شاید مرزائیت کا چراغ روشن رہے۔

لیکن نہ تو سرسید نے آج تک نبی ہونے کا دعویٰ کیا نہ ان کے معتقدین نے کبھی ان کو نبی سمجھا۔ نہ خلاف اصول وعقائد اسلام ان میں کوئی عظمت وفضیلت بتائی نہ پیدا کی۔ حالانکہ اگر سرسید چاہتے تو دعویٰ نبوت میں کامیاب ہو سکتے تھے مگر انہوں نے ایسے دعوے کو الحاد وارتداد اور سراسر کفر سمجھا کیونکہ وہ مسلمان تھے اور قرآن پر ان کا ایمان تھا۔ بھلا وہ قرآن کا خلاف کیونکر کر سکتے تھے۔ مرزائیت تو عیسائیت سے بھی گئی گزری ہے۔ عیسائی عیسیٰ مسیح کو خدا کا بیٹا اور خدا یقین کرتے ہیں۔ مرزا قادیانی بھی ان کی تقلید پر اپنے کو خدا کا لے پالک بتاتے ہیں۔ نہ کہ بیٹا کیونکر اس سے

١٨٢

صفحہ ٥٢٩

عیسوی مذہب کے ساتھ مشابہ ہوتا تھا لیکن اب بھی بات ایک ہی ہے۔ کیونکہ بیٹوں کی دو ہی قسمیں ہیں۔ صلبی اور متبنی مرزا قادیانی نے تو یہ غضب ڈھایا کہ سیدنا مسیح کو گالیاں دیں کیونکہ وہ رقیب اور وراثت کا شریک تھا۔ پس انہوں نے یہ ثابت کرنا چاہا کہ باپ نے صلبی بیٹے کو عاق کر دیا ہے کیونکہ اس کے خوارق اچھے نہ تھے اور مجھے گود لے لیا ہے لیکن کسی نے یہ دعویٰ تسلیم نہ کیا۔ عیسائیوں نے تبرا پڑھا اور مسلمانوں نے کافر اور ملحد بنا کر اسلام کی چار دیواری سے بارہ پتھر باہر نکال دیا۔ از انسو راندہ واز ینسو درماندہ ۔ مرزا قادیانی نے تو سب کچھ بننا چاہا کہ بروزی محمد بھی ہیں۔ مہدی بھی ہیں، مسیح بھی ہیں۔ مگر میں کے گلے پر بالآخر چھری ہی پھر گئی۔ جو دعویٰ ہے لچر اور متناقض ۔ جب آپ لے پالک ہیں تو بروزی محمد کیونکر ہیں۔ کیا آنحضرت ﷺ نے تبنیت کا دعویٰ کیا تھا اور آپ مسیح ہیں تو محمد کیونکر ہیں کیا مسیح اور محمد ﷺ پہلے باہم بروزی ہو چکے ہیں۔ حالانکہ عیسٰی مسیح آپ کے نزدیک ایک مہذب انسان بھی نہ تھا۔ کیا مہذب کا غیر مہذب کے ساتھ بروز ہو کر پھر دونوں ؟.............................

تعارف مضامین ...... ضمیمہ شحنہ ہند میرٹھ

سال ١٩٠٣ء ١٦ / جون کے شمارہ نمبر ٢٣ / کے مضامین

١ ...... مرزا قادیانی کے دعاوی ۔ نامہ نگار از کرزن گزٹ ! ٢ ...... مرزائی دیانت ۔ نامہ نگار از کپور تھلہ ! ٣ ...... وہی جعلی بیعت اور فرضی فہرست ۔ محمد احسن پنشنر پولیس ! ٤ ...... نبی بننے کا ارمان ۔ مولانا شوکت اللہ میرٹھی ! ٥ ...... جعلی بیعت ۔ مکتوب مولا بخش ! ٦ ...... ایضاً از جانب کلو حجام ۔ کلو حجام گڑھا علی ٹولہ اٹاوہ !

١ ...... مرزا قادیانی کے دعاوی

نامہ نگار از کرزن گزٹ

کرزن گزٹ کا نامہ نگار لکھتا ہے کہ ہم مرزا کو اس وقت سچا جانیں کہ وہ کابل تیراہ ایران روم ۔ عربستان بخارا میں خود جا کر یا کسی حواری کو بھیج کر تبلیغ رسالت کریں۔ تو ہم بھی نفقہ جیرہ بماہ حال کا دس ہزار روپیہ نذر کریں گے۔ اس شرط پر کہ وہ مرقومۃ الصدر شہروں میں پہنچ کر ہم کو

١٨٣

صفحہ ٥٣٠

ایک خط بھیجیں کہ لو صاحب ہم وہاں پہنچ گئے اور اشاعت دین احمدیہ مرزائیہ کر رہے ہیں ہم اسی وقت خالص اور کھرے کھرے دس ہزار نیچے پنج ہزار گن کر حوالہ کر دیں گے۔ اگر ضمانت مانگتے ہیں تو ہم مولوی سراج دین احمد صاحب بیرسٹر ایٹ لاء مالک چودھویں صدی کو پیش کرتے ہیں مگر ساتھ ہی اپنی وحی بھی شائع کر دیں گے جو ہم کو اس وقت ہوگی کہ مرزا قادیانی پھر مع الخیر کبھی قادیان (جس کو مرزا قادیانی دارالامان کہتے ہیں) کی ہوا نہ کھائیں گے۔ وہیں کے لوگ آپ کی زیارت اس جگہ بنالیں گے۔

ناظرین پر بخوبی روشن ہے کہ ہر وقت مرزا قادیانی اور مرزائی جماعت اس دھن میں لگے رہتے ہیں کہ کوئی موٹا مرغا پھنسے کوئی فربہ شکار ہاتھ لگے۔ دھڑا دھڑ چندے ہوں۔ مینار بنے اثاث البیت زیورات سجاوٹ کے سامان عیش و عشرت کے اسباب مہیا ہوں ۔ ایک صاحب جھٹ شعر موزوں کر کے اخبار کے ٹائٹل پیج پر داغتے ہیں ۔

چگویم باتو گر آئی چہا در کادیان بینی
دوا بینی شفا بینی غرض دارالامان بینی

دوسرے صاحب شیخ چلی کی روح کو خوش کرنے کی غرض سے جلی قلم سے یہ شعر جڑ دیتے ہیں ۔

نظر آئے گی دنیا کو تیرے اسلام کی رفعت
مسیحا کا بنے گا جب یہاں مینار یا اللہ

آنحضرت ﷺ نے تو نہ دنیاوی سامان بنائے، نہ چندے بٹورے، نہ زیورات خریدے وہ تو ایک مسافر کی طرح بغیر دل بستگی کے جیسے تشریف لائے۔ ویسے ہی تشریف لے گئے، میں حیران ہوں کہ کیسی ظلیت اور کیسی بروزیت اور کیسا آئینہ کا عکس۔ مشبہ اور مشبہ بہ میں کچھ تو مماثلت ہونی چاہئے۔ ہم بجز اس کے اور کیا کہہ سکتے ہیں ۔

تیرے اسلام کو ہرگز نہیں مینار کی پروا
یہ حیلہ ہے برائے درہم و دینار یا اللہ
مگو دارالامان آنرا کہ آن دارے ست از خسران
عزیز من مرو آنجا کہ در ایمان زیاں بینی

اور اس پر یہ غرور اور خشونت اور بدزبانی جیسا کہ اس جماعت کا طریقہ ہے اس کی نظیر

١٨٤

صفحہ ٥٣١

اپنے تئیں گویا معلم موعظہ حسنہ خلق محمدی کی یہ جماعت بالکل ضد ہے۔ مرزا قادیانی کی جماعت میں ایک سے ایک جو موٹے موٹے شکار موجود ہیں۔ کسی کو حکیم الامت کا خطاب کسی کو خلیفہ اول کا کسی کو خلیفہ ثانی کی عزت کسی کو خلیفہ ثالث کا فخر کسی کو خلیفہ چہارم کا عرف بخشا گیا ہے۔ یہ تو معمولی بات ہے کہ جب خود مرزا قادیانی نے خلعت نبوت پہن کر محمد کا روپ دھار لیا ہے تو مریدوں کو خلفاء کبار کا خطاب ملنا ضروری ہے یہ مرزا قادیانی کی فیاضی ہے۔

چنانچہ فرماتے ہیں ”خدا کا وعدہ ہے کہ نحن نزلنا الذکر وانا له لحافظون“ یعنی قرآن کریم کی گم شدہ عزت اور عظمت کو پھر بحال کرنے کے لئے غلام احمد کی صورت میں یقیناً محمد رسول اللہ ﷺ آیا اور خدا نے آسمان سے قرآن کریم کی حفاظت اور اس کی عظمت و جلال کے اظہار کا ایک ذریعہ پیدا کیا۔ اور ارادہ کیا کہ قرآن کریم کا نزول دوبارہ ہو اور پھر دنیا کو اس کی عظمت پر اطلاع دی جائے اس غرض کے لئے اس نے پھر محمد ﷺ کو بروزی رنگ میں غلام احمد قادیانی کی صورت میں نازل کیا۔ (الحکم ١٠ مئی ١٩٠٢ء ص ٩ کالم اول) اور پھر ایسے سامان کی موجودگی میں یہ بھی لازم ہوا کہ بقول مرزا قادیانی مماثلت سلسلہ موسوی کی غرض سے خدا نے تیرہ سو برس تک تو نبوت اور وحی پر مہر لگائے رکھی اور بہ پاس ادب آنحضرت کسی نئے نبی و رسول کی ضرورت نہ سمجھی۔ مگر اب تیرہ سو سال بعد (چونکہ مرزا قادیانی کی خاطر و تواضع اور آؤ بھگت خدا کو زیادہ منظور تھی) وہ مہر توڑ دی اور اس عاجز (یعنی مرزا قادیانی) کو نبی اللہ صریح طور پر پکار کر ممتاز فرمایا اور سلسلہ موسوی کی طرح جیسا کہ حضرت موسیٰ کے حواری نبی کہلائے۔ اسی طرح حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کا (مرزا قادیانی) بھی نبی کہلایا۔

(الحکم مورخہ ٢٣؍اپریل ١٩٠٣ء)

اس پر طرہ یہ کہ مرزا قادیانی کو آنحضرت کی قبر میں مسیح موعود کے دفن ہونے کا بھید بہت ہی عجیب طور سے منکشف ہوا۔ آپ تحریر فرماتے ہیں ”رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ مسیح موعود کی قبر میری قبر میں ہوگی“ اس پر میں نے سوچا یہ کیا سر ہے تو معلوم ہوا کہ آنحضرت کا یہ ارشاد ہر قسم کی دوری اور دوئی کو دور کرتا ہے اور اس سے اپنے مسیح موعود کے وجود میں ایک اتحاد کا ہونا ثابت کرتا ہے اور ظاہر کر دیا ہے کہ کوئی شخص باہر سے آنے والا نہیں ہے۔ بلکہ مسیح موعود کا آنا گویا آنحضرت کا آنا ہے جو بروزی رنگ رکھتا ہے۔ اگر کوئی اور شخص آتا تو اس سے دوئی لازم آتی اور عزت نبوی کے تقاضے کے خلاف ہوتا۔ خداوند کریم نے جو قرآن شریف میں اس قدر تعریف رسول ﷺ کی کی ہے اور آپ کو خاتم انبیاء ٹھہرایا ہے اگر کسی اور کو آپ کے بعد تخت نبوت پر بٹھا دیتا تو آپ کی کس

١٨٥

صفحہ ٥٣٢

قدر کسر شان ہوتی جس سے یہ ثابت ہوتا کہ آنحضرت ﷺ کی قوت قدسی بہت ہی کمزور ہے۔ آنحضرت نے فرمایا کہ اگر موسیٰ زندہ ہوتے تو وہ بھی میری ہی اطاعت کرتے اس سے مطلب یہ ہے کہ کتنی بڑی بات ہے کہ اگر سوائے میرے مسیح موعود وہ عیسیٰ جو بنی اسرائیل کا آخری نبی ہے۔ آئے اور آنحضرت کی ختم نبوت کی مہر توڑے تو آپ کو غیرت نہ آوے گی؟ اور کیا خدا تعالیٰ آنحضرت کی اس قدر ہتک کرنا چاہتا ہے۔ افسوس ہے کہ لوگ باوجود مسلمان ہونے اور آنحضرت کو خاتم الانبیاء ماننے کے نبوت کی مہر توڑتے ہیں۔“

(الحکم ص٢ کالم دومورخہ ١٠؍مئی ١٩٠٣ء)

مرزا قادیانی کا صاف مطلب یہ ہے کہ اگر حضرت عیسیٰ علیہ السلام یا حضرت موسیٰ علیہ السلام اولوالعزم پیغمبر پھر تشریف لائیں تو اس سے ہتک اور کسر شان اور قوت قدسی کی کمزوری آنحضرت کی ثابت ہوتی ہے اور خود بدولت مرزا قادیانی نبی بن کر اس مہر کو توڑیں تو اس میں نہ نبی کو غیرت آئے اور نہ خدا بھی برا مانے کیونکہ محمد نے مرزا قادیانی میں روپ دھارا ہے۔ میرا اور ہر مسلمان کا کانشنس یہ کہتا ہے کہ خدا نے محمد رسول اللہ ﷺ کو ختم الانبیاء فرمایا اور نبوت پر مہر لگا دی۔ اب نہ تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی مجال ہے کہ خدا کی لگائی ہوئی مہر توڑ سکے اور نہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی مرزا قادیانی بے چارے کس باغ کی مولی ہیں۔ کسی کو کیا پڑی ہے کہ مرزا قادیانی کی ابلہ فریبیوں میں آئے اور ہاتھ کو سر کے گرد گھما کر ناک کو پکڑے۔

مرزا قادیانی عقل کے اندھوں ہی کو جل دے کر اپنا اُلو سیدھا کریں۔ ہم ایسے خدا کو جس کا قول اور فعل مخالف ہو ایک ناقص بے کار۔ کم عقل خدا کہیں گے کہ کہے کچھ اور کرے کچھ، تیرہ سو سال تک تو نبوت کی مہر مضبوط لگائے رکھی اور تیرہ سو سال کے بعد کمال بے وقوفی سے ایک ادنیٰ ترین انسان کے واسطے اپنے قول کا خیال نہ کر کے اس مہر کو توڑ دیا۔ بات بات پر جو مرزا قادیانی دس دس ہزار پانچ پانچ ہزار روپیہ کی شرطیں لگاتے ہیں۔ شاید ان کا خدا نفع نقصان میں شریک ہے۔ ہمارا خدا تو نہایت صادق الوعد دانا بینا قول کا سچا۔ غیور ہے جو بات کہتا ہے اس کو کبھی نہیں بدلتا۔ اس کا قول اور فعل موافق ہے جیسے اس نے نبوت اور وحی پر مہر لگائی ہے۔ قیامت تک اس کو نہ توڑے گا۔ مرزا قادیانی جیسے کروڑوں کو ہلاک اور پیدا کرے گا۔ کانے کُبڑے لُنجے تُنجے تو کس شمار میں ہیں؟

٢ ...... مرزائی دیانت

نامہ نگار از کپور تھلہ!

حضرت مولانا شوکت اللہ مجددالسنہ دام مجدکم۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ۔ یہاں شہر کپور تھلہ میں ایک مسجد بنا کردہ حاجی ولی اللہ صاحب مرحوم بجج ریاست کپور تھلہ ورئیس سرادہ ضلع

١٨٦

صفحہ ٥٣٣

میرٹھ جس کا متولی حضرت حاجی صاحب کا برادرزادہ مسمی حبیب الرحمن مرزائی ہے مسجد کے متعلق سرکار والا کی طرف سے آپ کو ایک سو اسی روپیہ سالانہ کی آمدنی معاف ہے۔ حاجی صاحب کے انتقال کو تیرہ سال ہو گئے۔ مسجد کی آمدنی مرزائی تنور میں پڑتی رہی اور مسجد کا چاہ شکستہ اور سقاوہ مثل غربال یا دل عاشق ہے۔ غسل خانہ کی بھی یہی حالت ہے اس کا پانی کنویں میں پڑتا ہے مسجد اور حجروں کی حالت ناگفتہ بہ ہے۔ تمام مسجد میں ایک صف ہے۔ نہ شطرنجیوں کا انتظام ہے نہ دیگر سامان ضروری متعلقہ مسجد ہے۔ افسوس ہے کہ جس مسجد کی آمدنی اس قدر ہو۔ اس کی مرمت تک نہ ہو اور ایک سو اسی روپیہ مرزائیوں اور قادیان کے تنور میں پڑے یا پلاؤ سقنقوری دھن چڑھایا جائے یا متولی مرزائی صاحب ہضم فرمائیں اور گو اس آیت شریف کا ماقبل یتیموں کے حق میں ہے مگر مسجد کا مال بھی اس سے کم نہیں مگر مرزا قادیانی کی طرح اپنے مطلب کے واسطے آیت کی قطع و برید نہیں۔ ”انما ياكلون فی بطونهم ناراً وسيصلون سعيرا “ کی مصداق ہوں اس مسجد کے متعلق دو مرزائی تنخواہ دار امام متولی صاحب نے مقرر فرما رکھے ہیں۔ حافظ امام الدین مرزائی دو روپے ماہوار۔ مولوی عبدالقادر لدھیانوی مرزائی اڑھائی روپے ماہوار۔ مولوی صاحب اول درجہ کے امام ہیں اور حافظ امام الدین صاحب دوئم درجہ کے سیدھے سادھے مسلمان عوام الناس آج تک ان ہی کے پیچھے نماز ادا کرتے ہیں اور بعض علیحدہ علیحدہ پڑھتے رہے۔

جب مرزا قادیانی اور ان کی مریدوں کی طرف سے زیادہ غلو ہوا تو تمام مسلمانوں نے ان کے ساتھ نماز پڑھنا چھوڑ دیا۔ پھر تو مرزائیوں نے یہ طعنہ دیا کہ تمہارا تو امام نہیں قریب ایک ماہ سے مادہ فساد پک رہا تھا جس فریق کو موقع ملتا اپنی جماعت اول ادا کر لیتا اور نماز مغرب میں لمبی قرأت کی جاتی۔ چنانچہ ٢٤ مئی ١٩٠٣ء کو مسلمان نماز پڑھ رہے تھے اور جماعت آخری قعدہ میں تھی کہ ٢٠، ٢٥ مرزائیوں نے حملہ کیا اور امام کا دوپٹہ اتار لیا اور اس کے کان کھینچے۔ قصہ مختصر مسلمانوں نے نماز صبر سے تمام کی اور پھر اشتعال پا کر مرزائیوں پر پل پڑے۔ پھر تو ایک مرزائی بھی نظر نہ پڑا۔ ایسے غائب ہوئے جیسے گدھے کے سر سے سینگ۔ اب مقدمہ بازی ہو رہی ہے۔ اعلیٰ حکام تک ناراض ہیں۔ حوارین صلح کے خواستگار ہیں۔ مسلمان کہتے ہیں کہ آمدنی ایک سو اسی روپیہ مسلمانوں کے سپرد ہو۔ جس کا انتظام مسلمانوں کی معزز اور موقر انجمن کرے اور ١٣ سال کا گزشتہ حساب دیجئے اور مسجد میں کوئی مرزائی قدم نہ رکھے۔ حضرت ایک سو اسی روپیہ کا سوال کیڑا ہے مسجد کی تو خیریت ہے اور اس کے لئے سجدہ گاہ قادیان کافی ہے۔

(نامہ نگار از کپور تھلہ)

١٨٧

صفحہ ٥٣٤

٣ ...... وہی جعلی بیعت اور فرضی فہرست

محمد احسن پنشنر پولیس !

مکرمنا مولانا شوکت ! سلام مسنون ورحمۃ اللہ وبرکاتہ ۔ مجھے کچھ عرصہ سے مرزائی اعتقادات کی نسبت شبہ تھا اس لئے اکثر تصانیف مرزا اور اخبار الحکم اور البدر دیکھتا رہا لیکن بجز حب جاہ و دنیا طلبی کچھ دیکھنے میں نہ آیا اور جب مرزائی اخباروں میں میں نے فرقہ احمدیہ کی تعداد ایک لاکھ سے زائد (تقریباً دو لاکھ) دیکھی تو ہجوم وساوس نے پریشان کر دیا مگر الحکم مطبوعہ ٢٤؍ اپریل و ٢٤ و ٣١؍ مئی دیکھ کر وہ وسوسہ بھی رفع ہو گیا یعنی ٢٤؍ اپریل کے الحکم میں بیعت کرنے والوں کے جو نام شائع ہوئے ہیں وہ محض بنظر اضافہ جماعت مرزائیہ ہیں۔ مثلاً جو نام دین محمد ساکن کرہل ضلع مین پوری کا نمبر ٧١؍ پر درج ہوا ہے وہی نام اسی فہرست کے نمبر ٨٨؍ میں درج ہے اور نمبر ٥٣؍ پر حکیم محمد یوسف کا نام لکھا ہے اور پھر یہی نام نمبر ٨١؍ پر مکرر اس طرح درج ہے۔ (حکیم یوسف علی صاحب منیجر صبح صادق پریس اٹاوہ) اور جس مقام پر یہ مطبع ہے وہیں میرا مکان بھی ہے اور نمبر ١١؍ پر نام خداداد خان ہے اور زیر اسماء بیعت کنندگان میزان کل ١١٢؍ ٹھونکی گئی ہے پھر الحکم ٣١؍ مئی میں وہی خداداد خان ولد قائم خان ساکن اٹاوہ خاص درج ہے یعنی تعداد بڑھانے کو ایک جگہ بلا ولدیت اور دوسری معہ ولدیت وسکونت ہے۔ ارے واہ رے مرزائیو تمہارے کیا کہنے ہیں (بنیے کی گون میں لاکھ من کا دھوکہ) مجھ پر مرزا قادیانی کی نبوت کا پاکھنڈ ضمیمہ شحنہ ہند اور صحیفۃ الولاء اور درۃ الدرانی وغیرہ سے اچھی طرح کھل گیا۔ بیعت کی فہرست کا عنوان یہ ہے (خاص خدا کے ہاتھ کی لکھی ہوئی فہرست) اور دھوکہ کی یہ کیفیت ؟ معلوم ہوا کہ مرزا کا خدا ہر وقت دھوکے ہی کا الہام کرتا رہتا ہے یا لکھنے میں غلط کار ہے۔ مرزا اور اس کا خدا دونوں ایک ہی کھیت کی پیداوار ہیں۔ کیا عجب ہے کہ چند روز میں اپنی خدائی کا ٹھیکہ مرزا ہی کو دے دے پھر تو چند مرتدوں اور ملحدوں کے سوا ایک مسلمان بھی زندہ رہے تو میرا ذمہ۔ مرزا کے خدا نے طاعون تو اپنے نبی کی پنڈوری میں بھیج ہی دیا ہے۔ پس دیر کیا ہے۔ ایک ہی اشارے میں مرزائی نبوت کے منکرین کا صفایا ہے۔ انعام میں دس ہزار اور ١٢؍ ہزار کی رقم صرف کاغذ پر اگلنا کچھ بات ہی نہیں۔ لیکن اگر کسی کے لئے پیسوں کی بھی تھیلی کا منہ کھلا ہو تو خدا کرے مرزا کی طرح اعلیٰ واسفل کے امراض میں دائم المریض ہو جائے الغرض وہی مثل ہے ؎

روٹی تو کما کھائے کسی طور پر مچھندر
اور دودہ ملیدہ بھی اڑا لائے قلندر

(راقم محمد احسن پنشنر پولیس ٩؍ جون ١٩٠٣ء)

١٨٨

ایڈیٹر ...... اگر مرزا قادیانی کو ذیابیطس ہے گے۔ کیونکہ اضافہ کرنے کو قلم ان کے ہاتھ در حقیقت گھٹیں گے کاغذی ناؤ چل نہیں سکتی

گر جاہ حضور
در مرتبہ نقصان

یعنی تیرا حاسد ایسا بد بخت ہے آجائے تو جس قدر مغز دے گا بجائے بڑھے انبیاء کے حاسد۔ تمام اولیاء کے حاسد۔ تم مفروضی رقموں اور ہندسوں اور ناموں سے پڑے گا۔

بے اعتبار ہوا
جتنے زیادہ ہو

٤ ...... مولا انسانوں کے دلوں میں مادہ یہ چاہتا ہے کہ میں مالدار ہو جاؤں۔ مالد یہ چاہتا ہے کہ میں بادشاہ ہو جاؤں۔ باد ہاتھی پر چڑھا ہے وہ بانس پر چڑھنا چاہ ہے۔ علیٰ ہذا ایک طالب علم یہ چاہتا ہے ک طالب حق یہ چاہتا کہ میں ولی اللہ ہو جائ اس کی فطرت اور قابلیت اور مشیت و ظر امت محمدیہ علیٰ صاحبہا الصلوٰ جن کے نام بڑی وقعت وعظمت کے سا صفات سے تواریخ کے دفاتر معمور ہیں جائیکہ دعویٰ نبوت کیا ہے۔ سوڈان میں ظلی محمد بننے کا دعویٰ کسی نے نہیں کیا۔

صفحہ ٥٣٥

ایڈیٹر ...... اگر مرزا قادیانی کو ذیا بیطس نے ہڑپ نہ کیا تو سال بھر میں ایک کروڑ مرید ہو جائیں گے ۔ کیونکہ اضافہ کرنے کو قلم ان کے ہاتھ میں ہے جتنا چاہو بڑھا دو۔ لیکن جتنے بڑھیں گے در حقیقت گھٹیں گے کاغذی ناؤ چل نہیں سکتی۔ عرفی نے اپنے ممدوح کی تعریف میں کیا خوب لکھا ہے ۔

گر جاہ حسودت بر بندی افتد
در مرتبہ نقصان رسد از صفر رقم را

یعنی تیرا حاسد ایسا بد بخت ہے کہ اگر کسی مہندس یا محاسب کے خیال میں اس کا رتبہ آ جائے تو جس قدر صفر دے گا بجائے بڑھنے کے وہ عدد گھٹتا ہی چلا جائے گا۔ مرزا قادیانی تو تمام انبیاء کے حاسد۔ تمام اولیاء کے حاسد۔ تمام علماء کرام اور مشائخ عظام کے حاسد۔ ان کا مرتبہ محض مفروضی رقموں اور ہندسوں اور ناموں سے کیوں بڑھنے لگا اور پھر مرزا قادیانی کو یہ شعر گنگنانا پڑے گا ۔

بے اعتبار یوں سے سبک سار ہم ہوئے
جتنے زیادہ ہو گئے اتنے ہی کم ہوئے

٤ ....... نبی بننے کا ارمان

مولانا شوکت اللہ میرٹھی !

انسانوں کے دلوں میں مادے اور فطرت کے موافق مختلف ارمان ہوتے ہیں۔ مفلس یہ چاہتا ہے کہ میں مالدار ہو جاؤں۔ مالدار یہ چاہتا ہے کہ میں بڑا رئیس ابن رئیس ہو جاؤں۔ رئیس یہ چاہتا ہے کہ میں بادشاہ ہو جاؤں۔ بادشاہ یہ چاہتا ہے کہ میں شہنشاہ ہو جاؤں۔ الغرض جو دنیا دار ہاتھی پر چڑھا ہے وہ بانس پر چڑھنا چاہتا ہے۔ اگر چہ آخر میں سب کو چار کے کاندھے چڑھنا ہوتا ہے۔ علیٰ ہذا ایک طالب علم یہ چاہتا ہے کہ میں عالم فاضل ہو جاؤں۔ ایک عابد وزاہد صوفی صافی یا طالب حق یہ چاہتا کہ میں ولی اللہ ہو جاؤں لیکن یہ کوئی نہیں چاہتا کہ میں نبی ہو جاؤں کیونکہ یہ امر اس کی فطرت اور قابلیت اور حیثیت وظرف اور امکان سے باہر ہے بلکہ طلب محال ہے۔

امت محمدیہ علی صاحبہا الصلوٰۃ والسلام میں کیسے کیسے اولیاء اللہ اور مقربان الٰہی گزرے جن کے نام بڑی وقعت وعظمت کے ساتھ زبانوں پر جاری ہیں اور جن کے سنجیدہ حالات اور ستودہ صفات سے تواریخ کے دفاتر معمور ہیں۔ بھلا ان میں سے کسی نے بھی نبی بننے کی خواہش کی۔ چہ جائیکہ دعوٰی نبوت کیا ہے۔ سوڈان میں بھی بہت سے مکاروں نے مہدویت کا دعوٰی کیا مگر بروزی یا ظلی محمد بننے کا دعوٰی کسی نے نہیں کیا۔ مرزا کی جسارت دیکھئے کہ نبی کیا معنی خود خاتم الانبیاء محمد بن

١٨٩

صفحہ ٥٣٦

گیا۔ پھر اس میں یہ شرارت اور فریب کہ میں محمد کا غیر نہیں تا کہ مہر نبوت ٹوٹ جائے بلکہ میں تو ہو بہو محمد ہوں۔ گویا خاتم النبیین احمد مجتبیٰ محمد مصطفیٰ ﷺ کی روح پاک نے حلال خوروں کے لال گرو کے بھائی کے ناپاک جسد میں حلول کیا ہے؟ (معاذ اللہ ) آپ کے بھائی لال گرو کے خوارق کا نمونہ سب دیکھ چکے ہیں۔ پس آپ اس سے گھٹ کر کیوں رہنے لگے۔ دونوں ایک ہی جھاڑو کی تیلیاں ایک ہی سنڈاس کے کیڑے۔ ایک ہی کوڑی کے درخت ایک ہی کھیت کے کھاد ایک ہی جیسے کماؤ پوت پس جو نسبت آپ کو اپنے بھائی سے ہے۔ وہی نسبت آپ کے چیلوں کو بھائی کے چیلوں سے ہونی چاہئے۔

تعلیم وتربیت کے موجودہ زمانے میں رفارمیشن کا دور دورہ ہے اور ہر قوم اور ہر فن کا ایک ایک رفارمر موجود ہے۔ لیکن ان میں سے کسی نے نبی بننے کا دعویٰ کیا ہے؟ مرزا قادیانی نے تو اپنے کو پرافٹ (غیب دان ) بنالیا ہے۔ پس وہ نبی نہیں بلکہ چھلے چھلائے فرمائشی خدا ہیں اور یہ کچھ چھپی بات نہیں وہ کھلم کھلا کہتے ہیں۔ کہ دیکھو میری فلاں پیشینگوئی پوری ہوئی اور فلاں پوری ہوئی۔ کیا اس کے یہی معنی نہیں کہ میں غیب دان خدا ہوں حالانکہ انبیاء علی نبینا وعلیہم الصلوٰۃ والسلام میں سے کسی نے نہ تو غیب دانی کا دعویٰ کیا نہ غیب دانی کو اپنی نبوت کی صداقت کا معیار ٹھہرایا اور کیونکر ٹھہراتے خود انبیاء کا اس پر ایمان ہے کہ غیب دان صرف خدا ہے جس کی صفت علام الغیوب ہے۔

مرزا قادیانی اپنے کو مسلمان اور قرآن پر اپنا ایمان بتاتے ہیں حالانکہ قرآن کا سراسر خلاف کر رہے ہیں قرآن میں ہے ”اللہ یعلم ما فی الارحام “ یعنی خدا ہی جانتا ہے کہ رحم مادر میں مذکر ہے یا مؤنث اور ”وما تدری نفس بای ارض تموت “ اور خدا ہی جانتا ہے کہ انسان کونسی زمین میں مرے گا مگر مرزا قادیانی نے علی رؤس الاشہاد متواتر غیب دانی ( پیشینگوئی ) کی کہ میری زوجہ کے آئندہ گابھ سے مجھ جیسا بلکہ مجھ سے بڑھ کر فرزند ارجمند پیدا ہوگا لیکن قدرت کی جانب سے گھونسا جو لگتا ہے تو لڑکے جگہ کھٹ سے مادہ نکل پڑی۔

مرزا قادیانی نے غیب دانی کی کہ طاعون میرا ایڈیکا مگ ہے مرزائیوں کو اس سے کچھ خوف نہ کرنا چاہئے اور خاص کر جو شخص میرے نزول و بعثت کی سرزمین میں آجائے گا وہ تو مجھ سے پہلے مر ہی نہیں سکتا۔ مگر آپ جانئے طاعون ایک ہی کائیاں ہے۔ نہ لے پالک کا منہ کیا، نہ آسمانی باپ کا، اور نہ صرف مختلف مقامات میں بلکہ خود دارالامان قادیان میں مرزائیوں کا کھلیان لگا دیا۔ بہت سے مرزائی قادیان کے بلوں میں دم سے جھنڈا باندھ باندھ کر گھسے مگر طاعونی چوہوں کی طرح مرے کے مرے رہ گئے اور گورداسپور کی میونسپلٹی کو ان چوہوں کے مارنے پر انعام بھی مشتہر

١٩٠

صفحہ ٥٣٧

کرنا نہ پڑا اور میونسپلٹی کا فنڈ اس رقم میں بے جا خرچ کرنے سے محفوظ رہا۔ مر گئے مردود فاتحہ نہ درود اور بحکم رب ودود ہلاک نمرود، منہ کالے اور دست و پا کبود، عاقبت نامحمود انجام نامسعود۔ سراسر بے بہبود، از سرتا پا بے سود، مردود ہو کر قعر عدم میں غرق نابود ہوگئے۔ فی النار والسقر مع الجد والپدر، ہاتھ تیری پیشینگوئی کی دم میں مینارۃ المرزا کا کلس۔

موجودہ زمانہ یورپین آزادی کی ٹکسال ہے کھرے کھوٹے کا کوئی جانچ کرنے والا نہیں ۔ نبی کیسا خدائی کا بھی کوئی دعویٰ کرے تو باز پرس نہیں لیکن اگر بروزی رسالت کی تبلیغ افغانستان اور وسط ایشیا وغیرہ خود مختار اسلامی ریاستوں میں کی جائے ۔ تو گھٹنوں گھٹنوں مزا آجائے۔

(ایڈیٹر)

٥ ...... جعلی بیعت

مکتوب مولا بخش!

مولانا شوکت۔ السلام علیکم! ہم لوگ شتاب خان معمار ولد گھاسی خان و مولا بخش ساکنان اثاوہ محلہ شاہ گداعلی اپنا نام قادیانی اخبار البدر نمبر ١٩؍ جلد ٢ مورخہ ٢٩؍ مئی ١٩٠٣ء مطابق یکم ربیع الاول ١٣٢١ھ میں بیعت کنندگان کی فہرست میں درج دیکھ کر بہت متعجب ہوئے ہم حلف سے کہتے ہیں کہ ہم لوگ مرزا کے مرید نہیں اور نہ ہم نے بیعت کا خط بھیجا۔ اب ہم آپ کو بذریعہ خط اطلاع دیتے ہیں کہ آپ ہمارا خط ضمیمہ شحنہ ہند میں درج فرما کر پبلک پر ظاہر کر دیجئے کہ ہم لوگ مرزا قادیانی کے مرید نہیں۔

ایڈیٹر ...... البدر کو چاہئے کہ دیکھ بھال کر فہرست شائع کیا کرے۔ تاکہ جھوٹوں میں شامل ہو کر (لعنة اللہ علی الکاذبین) کے نیچے نہ آجائے۔

العبد شتاب خان بقلم خود ساکن اثاوہ

العبد مولا بخش حجام ناخواندہ ساکن اثاوہ

٦ ...... ایضاً از جانب کلو حجام

از: کلو حجام گداعلی ٹولہ اثاوہ

مولانا شوکت سلام مسنون۔ شتاب خان ومولا بخش کے ہمراہ میرا نام بھی اخبار البدر نے مریدان مرزا کی فہرست میں شائع کر دیا۔ میں مرزائی بیعت پر تبرا بھیجتا ہوں نہ میں نے پہلے اس سے بیعت کی نہ آئندہ میرا ارادہ۔ مجھے قرآن وحدیث کے سوا کسی پیر کی حاجت نہیں میں تو ان ہی سے بیعت کر چکا ہوں۔

راقم: کلو حجام گداعلی ٹولہ اثاوہ!

١٩١

صفحہ ٥٣٨

ایڈیٹر ...... ہم ضمیمہ میں بار ہا ایسے جہل پر شرم دلا چکے ہیں مگر ؎

بے حیا باش ہرچہ خواہی کن

آخر مرزا قادیانی وہ گھاٹا کسی طرح پورا بھی کریں جو ١٣٠٠ ر اور دو لاکھ کے مابین ہے۔ افسوس ہے کہ پبلک پر مرزائی فریب روز بروز کھل رہا ہے۔ جس شخص نے ایک جھوٹ بولا اس نے تمام جھوٹ بولے کیونکہ جھوٹ اور سچ کا آلہ ایک ہی ہے۔ یعنی صرف زبان اور تحریری جھوٹ کا آلہ صرف قلم۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ مرزا قادیانی کی تمام کارروائیاں جعلی اور مصنوعی اور بالکل فریب اور محض شہرت اور دنیا طلبی پر مبنی ہیں۔ بہر حال بہت جلد تمام تار و پود ضمیمہ کے ذریعے سے کھلا جاتا ہے۔ انشاء اللہ جو خلف مرزائی حضرت انس وانفس میں رسوخ پیدا کرنے کو اٹکل پچو اور فرضی نام بیعت کنندگان کا لکھ کر بھیجتے ہیں ان کے کان کیوں نہیں کھینچے جاتے وجہ یہ ہے کہ کلنک کا ٹیکہ نوشتہ تقدیر ہے۔ ایسے مرزائی مرزا قادیانی کے کماؤ پوت ہیں۔

تعارف مضامین ...... ضمیمہ شحنہ ہند میرٹھ

سال ١٩٠٣ء ٢٢ جون کے شمارہ نمبر ٢٢ کے مضامین

١ ...... انجیل مقدس کی عجیب پیشینگوئی

مسیحی اخبار طبیب عام دینا نگر

مسیحی اخبار طبیب عام دینا نگر لکھتا ہے (متی آیت: ٢٤، ٢٣) ’’اگر کوئی تم کو کہے کہ دیکھو مسیح یہاں یا وہاں ہے تو باور نہ کرنا کیونکہ مسیحان کاذب وانبیاء کاذب ظاہر ہوں گے اور ایسے بڑے

١٩٢

٣٩ نشان اور کرامات دکھائیں گے کہ اگر ہو سکتا تو ہر ا پیشینگوئی کے بموجب جھوٹے نبیوں کی فہرست م کہ سن مسیحی کی دوسری صدی تک تو یہ پیشینگوئی پ تک بہت سے جھوٹے مسیح ظاہر ہو کر معہ اپنی جم کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ انجیل کی صداقت کے برخلاف دلیل نہیں دے سکتا۔

کئی اخباروں کے پڑھنے سے معلو اس کی نسبت اور کچھ معلوم نہیں مگر یہ پیشینگوئی ج ممالک میں شاید ہی ہوئی ہو۔ موضع قادیان می مثیل مسیح ہوں اور الہام اور نبوت و معجزات کا بھ الصدر میں صاف لکھا ہے کہ علامتیں اور معجزے ہوں اور پھر یہ کہ اگر کوئی تم کو کہے کہ مسیح یہاں یا و کہ مسیح قادیان میں ظاہر ہوا اور وہ میں ہوں۔ ٣ ڈالیں گے۔ اس سے میرا یہ مطلب نہیں کہ اس مسیحیت کا قائل کر دیا بلکہ وہ ایسے پھندے لگا ت جاتے ہیں مگر ایسوں کی بابت یہ نہ سمجھنا کہ وہ فرماتے ہیں کہ وہ نکلے تو ہم میں سے ہیں مگر ہم ساتھ رہتے۔ لیکن ہم میں سے اس لئے نکل گے یوحنا ٢۔١٩۔ افسوس ہے کہ مرزا باغ مگر کبھی اس کی تصنیف میں ایسا تذکرہ نہیں ہو کیا کرے کیونکہ وہ ایک منہ سے دعویٰ کر بیٹھ مرزا اتنے ہی قناعت کرے اور آئندہ کے لئے کی جھولی میں ہوگا۔ جہاں توبہ کا موقع نہیں ملتا

٢ ...... پشاور میں

مولانا شو

یہاں اول اول مرزائیت نے خا

صفحہ ٥٣٩

نشان اور کرامات دکھائیں گے کہ اگر ہو سکتا تو برگزیدوں کو بھی گمراہ کرتے۔“ حاجت نہیں کہ اس پیشینگوئی کے بموجب جھوٹے نبیوں کی فہرست دی جائے۔ کیونکہ تواریخ دان لوگوں پر روشن ہے کہ سن مسیحی کی دوسری صدی تک تو یہ پیشینگوئی کچھ خاموش رہی لیکن تیسری صدی سے زمانہ حال تک بہت سے جھوٹے مسیح ظاہر ہو کر معہ اپنی بطالت کے لقمہ اجل ہوئے تاہم زمانہ حال پر نظر کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ انجیل کی صداقت پر یہ پیشینگوئی مہر ازلی ہے اور کوئی مخالف مسیح اس کے برخلاف دلیل نہیں دے سکتا۔

کئی اخباروں کے پڑھنے سے معلوم ہوا کہ شہر لندن میں بھی ایک مسیح موعود ظاہر ہوا مگر اس کی نسبت اور کچھ معلوم نہیں مگر یہ پیشینگوئی جس قدر ملک پنجاب میں مکمل اور آشکارا ہوئی دیگر ممالک میں شاید ہی ہوئی ہو۔ موضع قادیان میں چند سال سے مرزا قادیانی نے دعویٰ کیا کہ میں مثیل مسیح ہوں اور الہام اور نبوت و معجزات کا بھی مدعی ہے۔ غور کرنے کی جگہ ہے کہ آیت مذکورہ الصدر میں صاف لکھا ہے کہ علامتیں اور معجزے انبیاء کاذب بھی دکھلائیں گے۔ خواہ سچ ہوں یا نہ ہوں اور پھر یہ کہ اگر کوئی تم کو کہے کہ مسیح یہاں یا وہاں ہے تو مت مانو حالانکہ مرزا قادیانی کہتے ہیں کہ مسیح قادیان میں ظاہر ہوا اور وہ میں ہوں۔ ٢٤؍آیت میں یہ مسطور ہے کہ برگزیدوں پر بھی ہاتھ ڈالیں گے۔ اس سے میرا یہ مطلب نہیں کہ اس نے بہت سے عیسائیوں پر فتح پائی ہے اور ان کو اپنی مسیحیت کا قائل کر دیا بلکہ وہ ایسے پھندے لگاتا ہے کہ مسیحی حیران رہ جاتے ہیں اور اکثر ٹھوکر بھی کھا جاتے ہیں مگر ایسوں کی بابت یہ نہ سمجھنا کہ وہ برگزیدوں میں سے تھے کیونکہ یوحنا حواری یوں فرماتے ہیں کہ وہ نکلے تو ہم میں سے ہیں مگر ہم میں سے نہ تھے۔ اگر ہم میں سے ہوتے تو ہمارے ساتھ رہتے۔ لیکن ہم میں سے اس لئے نکل گئے کہ یہ ظاہر ہو کہ وہ سب ہم میں سے نہیں۔

یوحنا ٢۔١٩۔ افسوس ہے کہ مرزا بائبل کے اور مقامات تو بڑی ہوشیاری سے نقل کرتا ہے مگر کبھی اس کی تصنیف میں ایسا تذکرہ نہیں ہوتا۔ شاید اس سے خود مرزا قادیانی کو شرم آتی ہو گی مگر کیا کرے کیونکہ وہ ایک منہ سے دعویٰ کر بیٹھا۔ اب کس منہ سے کہے کہ یہ جھوٹ ہے، چاہئے کہ مرزا اتنے ہی قناعت کرے اور آئندہ کے لئے سچا تائب بنے اور جھوٹوں کا حصہ آگ اور گندھک کی جھیل میں ہوگا۔ جہاں توبہ کا موقع نہیں ملتا۔

(مکاشفہ باب٢١ آیت٨)

٢...... پشاور میں مرزائیت کا دھڑتوت گیا

مولانا شوکت اللہ میرٹھی!

یہاں اول اول مرزائیت نے خروج کیا تھا مگر آپ جانتے ہیں جہاں سانپ ہوتے

١٩٣

صفحہ ٥٤٠

ہیں وہاں ان کا سر پھوڑنے والے ہتھیار اور ان کا زہر دور کرنے والے تریاق بھی خدا تعالیٰ پیدا فرماتے ہیں۔ بعض خاصانِ الٰہی نے مرزائیت اور دجالیت کے افسوں کو اپنی مسیحا دمی سے کارگر نہ ہونے دیا اور ان قدسی نفسوں کی بادِ صرصر نے جعلی بروزیت اور مصنوعی ظلیت کا چراغ گل کر دیا۔ اور کتاب وسنت کے عصاء موسیٰ کی ضربوں سے خانہ ساز نبوت کا سر کچل دیا۔ جزاہم اللہ۔ اب چند غریب عطائی مرزائی اپنے پیر کی لکیر پیٹ رہے ہیں اور بس۔

اور چونکہ پشاور میں بعض رجال الغیب کی مردانہ ہمت سے ضمیمہ شحنہ ہند کو بہت کچھ فروغ ہے اور ہفتہ وار سینکڑوں مسلمانوں کی نظر سے گزرتا ہے تو ضمیمہ کے ہوتے مرزائیت کے پاؤں کیوں جمنے لگے؟ یوں اکھڑ گئے جیسے برٹش فوج کے مقابلے میں ٹرنسوالی بوئروں کے اور جیسے ٹرکی فوج کے مقابلے میں مقدونی باغیوں کے پاؤں۔

اور اخیر میں مولانا محمد ابراہیم صاحب واعظ کے دھواں دھار وعظوں سے تو مرزائیت یوں کافور ہو گئی جیسے تند ہوا کے جھکڑ سے پتلے پتلے جھوٹے بادل۔ مولانا موصوف صرف قرآن مجید سے خود رو مہدیوں اور جھوٹ اور مکر و فریب کے سانچوں میں ڈھلے ہوئے مسیحوں کی کارستانیوں کے تار و پود بکھیرتے ہیں۔ معزز نامہ نگار نے لکھا کہ مولوی صاحب ممدوح کے وعظ سے پشاور میں اچھا اثر پڑا ہے اور اب تمام طاعونی بروزی چوہے شیرے کے مٹکوں کی پیندی میں دبک گئے ہیں اور چوروں کی مائیں کوٹھی میں سر دیکر رو رہی ہیں۔ خدائے تعالیٰ مولوی صاحب کے دل و دماغ میں زیادہ قوت دے اور ان کے وعظ میں معجز دمی پیدا کرے۔ آمین!

٣ ...... وہی منارہ مرزائیوں کا ٹھاکر دوارہ

مولانا شوکت اللہ میرٹھی!

منارے کے مقدمہ کی نسبت اول ہی سے قادیان میں افسردگی چھائی رہی نہ کلنگ کی سی گردن اٹھا کر امنگ کے ساتھ خروس کی طرح پیشینگوئی کی خارج از آہنگ ککڑوں کوں کہیں سننے میں آئی نہ مرگ آتھم کی پیشینگوئی کی طرح ہاتھی کے کان سے بھی لمبا چوڑا کوئی اشتہار نکلا اور غضب تو یہ ہے کہ جب صاحب مجسٹریٹ بہادر گورداسپور نے منارے کے مقدمے میں دست اندازی سے انکار فرمایا اور عذرداروں کو عدالت دیوانی میں مقدمہ دائر کرنے کی ہدایت کی جب بھی مرزا قادیانی کے محل پر فتح یابی کے نقاروں کے بجانے کی نوبت نہ آئی۔ نہ قادیان پر جو منارے کے متصل ہے دھونسے بجے کہ ؎

دون است دون است دجال دوں

١٩٤

یہ افسردگیاں تو ہم کو بھی معلوم نہیں جن سے بخوبی مترشح ہوتا ہے۔ کہ مرزا قادیانی ابال کی طرح بیٹھ گیا ہے اور ساتھ ہی لے پالک کے الہام کرنے کا جوا پھینک دیا ہے بلکہ الہام کا کو الہامی پیشینگوئی کے پورا ہونے کا اعتماد نہیں چاٹ گئی۔ اٹکل پچو کے تیروں کا ترکش خالی ہو گونجتی تھیں۔ اب ان کی سرسراہٹ بھی سنائی نہیں سب آوازیں فروکش ہوگئیں۔ کیا کہیں ہمیں تو رہ رہ وقت جبکہ ٹھیکم ٹھیک لمڈھیک منارہ اپنی گردن چونکہ قدرتی طمانچوں سے پیشینگوئیوں کے منہ پر

فهى الى الاذقان فهم مقمحون

گردنوں میں طوق ڈال دیے ہیں جو ٹھوڑیوں

کوئی پوچھے کہ جو لگا تار پیشینگوئیاں خصوصاً مقدمات جو انگریزی عدالتوں میں دا خاصے منارہ جو بروزی نبوت کا حصن حصین اور نے لے پالک کے منہ میں گھنگھنیاں بھر دی ہیں بارے میں ہوئی ہیں یا اپنی فتح یابی کے متعلق فتح حاصل ہوئی بلکہ شکست ہی شکست ملتی رہی یہ جعل اور فریب نہیں تو کیا ہے۔

کر رہے ہیں۔ ان کو اچھی طرح معلوم ہے کہ جو کچھ کر رہا ہوں محض دنیا کو فریب دینے اور کانشنس کے خلاف کارروائی کرنے والا نبی صفت وما ينطق عن الهوى ہے فوراً بذ ازواج مطہرات کا تنازع اور شہد کا اپنے او مومنوں پر منکشف کر دیا۔ مرزا قادیانی آنحضرت ﷺ سے

صفحہ ٥٤١

یہ افسردگیاں تو ہم کو بھی معلوم نہیں ہوتی۔ یہ پست حوصلگیاں صاف بدشگونیاں ہیں جن سے بخوبی مترشح ہوتا ہے۔ کہ مرزا قادیانی نے ہمت ہار دی اور سارا جوش وخروش ہانڈی کے ابال کی طرح بیٹھ گیا ہے اور ساتھ ہی لے پالک کے آسمانی باپ نے بھی اپنی گردن سے فتح یابی کے الہام کرنے کا جوا پھینک دیا ہے بلکہ الہام کا دفتر ہی گاؤ خورد کر دیا ہے۔ کیونکہ باپ بیٹے دونوں کو الہامی پیشینگوئی کے پورا ہونے کا اعتماد نہیں رہا۔ رمل کے قرعوں اور نجوم کی پوتھیوں کو دیمک چاٹ گئی۔ اٹکل پچو کے تیروں کا ترکش خالی ہو گیا۔ پیشینگوئیوں کی وہ توپیں جو آئے دن دنا دن گونجتی تھیں۔ اب ان کی سراہٹ سننے تک بھی نہیں پہنچتی۔ یا تو ڈھول در گنبد تھیں یا اب سب کی سب آواز دفن ہوگئیں۔ کیا کہیں ہمیں تو رہ رہ کر ارمان آتا ہے کہ کیا سے کیا ہوگیا۔ اور یہ بھی اس وقت جبکہ ٹھیکم ٹھیک لمڈھیک منارہ اپنی گردن بلند کر کے تمام فرعونی گردن کشوں کا قبلہ گاہ بنتا۔ چونکہ قدرتی طمانچوں سے پیشینگوئیوں کے منہ پھر گئے ہیں اور "انا جعلنا فی اعناقہم اغلالاً فھی الی الاذقان فہم مقمحون" الآیت کے مصداق بن گئے ہیں یعنی ہم نے ان کی گردنوں میں طوق ڈال دیئے ہیں جو ٹھوڑیوں تک ہیں پس ان کے منہ الٹ گئے ہیں۔

کوئی پوچھے کہ جو لگا تار پیشینگوئیاں چند سال قبل ہوتی تھیں۔ اب وہ کیوں بند ہوگئیں؟ خصوصاً مقدمات جو انگریزی عدالتوں میں دائر اور مرزائی مشن کے حق میں اہم ہیں ان میں بھی خاصتہ منارہ جو بروزی نبوت کا حصن حصین اور مسیحیت کا رکن رکین ہے اس کی نسبت بھی آسمانی باپ نے لے پالک کے منہ میں گھنگھنیاں بھردی ہیں۔ پھر پیشینگوئیاں بھی زیادہ تر لوگوں کی ہلاکت کے بارے میں ہوئی ہیں یا اپنی فتح یابی کے متعلق۔ حالانکہ اب تک نہ کوئی مرا نہ لے پالک کو کوئی آسمانی فتح حاصل ہوئی بلکہ شکست ہی شکست ملتی رہی مگر شکست کی پیشینگوئی کبھی نہیں کی گئی۔

یہ جعل اور فریب نہیں تو کیا ہے۔ مرزا قادیانی بالکل اپنے کانشنس کے خلاف کارروائی کر رہے ہیں۔ ان کو اچھی طرح معلوم ہے کہ نہ میں غیب دان ہوں نہ نبی اور مہدی اور مسیح ہوں اور جو کچھ کر رہا ہوں محض دنیا کو فریب دینے اور سادہ لوحوں سے روپیہ پیسہ ٹھگنے کو کر رہا ہوں۔ کیا اپنے کانشنس کے خلاف کارروائی کرنے والا نبی صادق ہوسکتا ہے ہرگز نہیں۔ آنحضرت ﷺ جن کی صفت وما ینطق عن الھویٰ ہے فوراً بذریعہ وحی متنبہ کیے جاتے تھے۔ حضرت زینبؓ کا معاملہ ازواج مطہرات کا تنازع اور شہد کا اپنے اوپر حرام کرنا وغیرہ جناب باری نے بذریعہ وحی تمام مومنوں پر منکشف کردیا۔

مرزا قادیانی آنحضرت ﷺ سے بھی زیادہ معصوم بلکہ خدا کی طرح بالکل بے عیب ہیں

١٩٥

صفحہ ٥٤٢

کہ کوئی خطا آپ سے سرزد نہیں ہوئی کہ بذریعہ الہام اس کی اصلاح ہو جائے۔ (معاذ اللہ) مرزا قادیانی تو سراسر خطا اور ہمہ تن عیوب ہیں پس عیوب کو یوں چھپاتے ہیں جیسے بلی اپنے براز کو اور عورتیں اپنے لتوں کو۔ اپنی برائی اور مخالفوں کی بھلائی کی کبھی پیشینگوئی نہیں ہوتی۔ الہام بھی وہی ہوتا ہے جو تعریفوں سے بھر پور ہو کہ لے پالک ایسا ہے اور ویسا ہے اور آسمانی باپ اس کی جانب یوں جھپٹتا ہے جیسے بکری ممیاتی ہوئی اپنے بزغالہ کی طرف اور گائے ڈکراتی ہوئی اپنے بچھڑے ہوئے بچھڑے کی جانب۔

دیکھو اظہار صداقت اسے کہتے ہیں یعنی جناب باری آنحضرت ﷺ کی غیب دانی کی نفی یعنی دھوم دھام کی وحی سے کرتا ہے۔ ”قل لو كنت اعلم الغيب لا استكثرت من الخير وما مسنى السوء“ ﴿یعنی کہہ دے اے محمد ﷺ کہ اگر میں غیب کی باتیں جانتا تو کثرت کے ساتھ خیر ہی خیر کرتا اور مجھ کو نہ برائی چھوتی۔﴾ اس آیہ سے تین باتیں نکلیں۔ اولاً! آنحضرت ﷺ غیب دان نہ تھے۔ دوم ! آپ بھلائی کرنے پر قادر نہ تھے۔ سوم ! نقصان آپ کو بھی چھو سکتا تھا۔ کیونکہ خیر و شر کا مالک صرف خدائے وحدہ لاشریک ہے۔ لیکن مرزا قادیانی کا ایمان قرآن پر نہیں ہے وہ خیر و شر کے مالک ہیں وہ اپنے کو خیر ہی خیر اور اپنے مخالفوں کو شر ہی شر پہنچانے پر قادر ہیں۔ وہ غیب دانی کے مدعی ہیں کہ فلاں اتنے دنوں میں مرے گا اور فلاں اتنے دنوں میں۔ اور میں قیامت تک منارے کے کلس کی چوٹی پر بے بال کا بوم بن کر یا بدوح کے بھیانک نعرے ماروں گا۔

کیا وجہ کہ نہ تو آسمانی باپ نے الہام کیا نہ لے پالک نے پیشینگوئی کا اظہار کیا کہ منارے کے بننے میں ضرور کھنڈت پڑے گی اور پھر مقدمہ دیوانی میں جائے گا کیونکہ صاحب مجسٹریٹ بہادر نے یہی حکم دیا ہے کہ میں دست اندازی نہیں کرتا یعنی اس معاملہ کا استقرار حق اور احقاق حق دیوانی کا منصب ہے جو مالی معاملات کا تصفیہ کرتی ہے اور مال کی دو ہی قسمیں ہیں دینی اور دنیوی، دینی مال دنیوی مال سے افضل اور قیمتی ہے کیونکہ فانی نہیں اور دنیوی مال فانی ہے اور چونکہ منارے کی تعمیر ایک احداث اور بدعت ہے۔ لہٰذا دینی مال کا غصب ہے اور حدیث شریف میں وارد ہے کہ جہاں کہیں ایک بدعت حادث ہوتی ہے وہاں سے ایک سنت اٹھ جاتی ہے اور سنت رسول اللہ پر عمل کرنا مسلمانوں کا ایمان ہے۔ لہٰذا منارے کی تعمیر مسلمانوں کے دینی مال کا غصب کرنا ہے جس کو ہر شرعی عدالتیں ہرگز جائز نہیں رکھتیں اور مال مغصوب کو غاصبوں اور ظالموں کی

١٩٦

٢٣ داڑھوں اور آنتوں سے نکال لیتی ہیں۔ امید کی جاتی ہے کہ قادیان کے سنی مسل صاحب مجسٹریٹ بہادر گورداسپور بالضرور عدال کریں گے اور اعلیٰ محکموں اور عدالتوں تک بھی تعا قوی امید ہے کہ کامیاب ہوں گے اور یہ ہم کو پہ ہو جائے۔ منارے کی تکمیل حیز التواء میں جاپڑی کیونکہ طرفین سے یکے بعد دیگرے ضرور اپیلیں رہے گا اور چونکہ مرزا قادیانی اعلیٰ اور اسفل کی بیا لہٰذا امید نہیں کہ ان کی زندگی تک منارے کا تصفیہ

گر از پس من کن

افسوس ہے کہ صبح کاذب تو نہ ہو اور منا میرے خیال بعد م افسوس ہے کہ میں نہ

مولانا شوکت مرزا قادیانی کی تو وہی مثل ہے کہ او حدیث سن لی کہ ہر صدی کے بعد ایک مجدد پیدا ہ ہوئے پھر مجدد ہوئے۔ پھر مثیل مسیح ہوئے۔ الغ بروزی اور ظلی نبی اور خاتم الخلفاء اور سچ مچ مسیح ا بھی معلوم نہیں کہ اسلامی اصطلاح میں مجدد کسے باہم مترادف ہیں۔ مجدد تو نبی کا تابع ہوتا ہے نہ کہ پر ایک نبی پیدا ہوگا۔ مجدد کے معنی کسی پرانی شے کے نیا کر وہ اصول و ضوابط جو لوگ بھول گئے ہوں یا ان کو کرتے ہیں۔ ان کو یاد دلائے اور تازہ کرے۔ ا

صفحہ ٥٤٣

داڑھوں اور آنتوں سے نکال لیتی ہیں۔

امید کی جاتی ہے کہ قادیان کے سنی مسلمان جنہوں نے عذرداری کی ہے حسب ہدایت صاحب مجسٹریٹ بہادر گورداسپور بالضرور عدالت دیوانی میں رجوع کر کے اپنا دینی حق حاصل کریں گے اور اعلیٰ محکموں اور عدالتوں تک بھی تعاقب سے باز نہ آئیں گے اور خدائے تعالیٰ سے قوی امید ہے کہ کامیاب ہوں گے اور یہ ہم کو پہلے ہی یقین ہے کہ جب تک دیوانی سے فیصلہ نہ ہو جائے۔ منارے کی تعمیل حیز التواء میں جاپڑی ہوگی اور فیصلہ کے لئے سالہا سال درکار ہیں کیونکہ طرفین سے یکے بعد دیگرے ضرور اپیلیں ہوں گی۔ الغرض منارہ ابھی ایک عرصہ تک معلق رہے گا اور چونکہ مرزا قادیانی اعلیٰ اور اسفل کی بیماریوں میں مبتلاء اور اپنی زندگی سے مایوس ہیں۔ لہٰذا امید نہیں کہ ان کی زندگی تک منارے کا تصفیہ ہو جائے اور بعد میں تصفیہ ہوا بھی تو کس کام کا۔

گر از پس من کن فیکون شد شدہ باشد

افسوس ہے کہ مسیح کاذب فوت ہوا اور منارہ نہ بنا ۔

میرے مکان بعد مرے پُر نشان رہے
افسوس ہے کہ میں نہ رہوں اور جہاں رہے

٤ ...... نبی اور مجدد میں فرق

مولانا شوکت اللہ میرٹھی!

مرزا قادیانی کی تو وہی مثل ہے کہ اونگھتے کو ٹھیلنے کا بہانہ۔ کسی سے رسول اللہ ﷺ کی حدیث سن لی کہ ہر صدی کے بعد ایک مجدد پیدا ہوتا رہے گا۔ پھر کیا تھا عقیدہ میں پہلے آپ الہامی ہوئے پھر مجدد ہوئے۔ پھر مثیل مسیح ہوئے۔ الغرض جب گھان اچھی طرح تیار ہو گیا تو کھٹ سے بروزی اور ظلی نبی اور خاتم الخلفاء اور سچ مچ مسیح اور امام الزمان بن گئے۔ آپ کو بایں ریش و فش یہ بھی معلوم نہیں کہ اسلامی اصطلاح میں مجدد کسے کہتے ہیں اور نبی اور رسول کسے۔ کیا مجدد اور نبی باہم مترادف ہیں۔ مجدد تو نبی کا تابع ہوتا ہے نہ کہ خود نبی، ورنہ رسول اللہ ﷺ یہ فرماتے کہ ہر صدی پر ایک نبی پیدا ہوگا۔

مجدد کے معنے کسی پرانی شے کے نیا کرنے والے کے ہیں یعنی شریعت مستقلہ کاملہ کے وہ اصول وضوابط جو لوگ بھول گئے ہوں یا ان کی جانب سے تغافل اور ان کی تعمیل سے تساہل کرتے ہوں ۔ ان کو یاد دلائے اور تازہ کرے۔ اور جو کامل ہدایات بین دفتی المصحف موجود ہوں

١٩٧

صفحہ ٥٤٤

ان کو رواج دے اور دنیا کے دلوں میں ان کی عظمت وجلالت کی بنیاد اسی طرح ڈالے جس طرح قریب زمانہ نبوت کے لوگوں کے دلوں میں ڈالی گئی تھی۔ مجدد کے یہ معنے نہیں کہ شریعت کی ترمیم کر کے نیا نبی بن جائے۔ مرزا قادیانی جس نبی اُمی ﷺ کے قول کی سند اپنے مجدد ہونے پر لاتے ہیں۔ اسی نے یہ بھی فرما دیا ہے کہ لانبی بعدی اور نہ صرف نبی اُمی نے بلکہ خود خدائے تعالیٰ نے وحی نازل کر دی ہے کہ ”ما کان محمد ابا احد من رجالکم ولکن رسول اللہ وخاتم النبیین“ اب فرمائیے مجدد کیونکر نبی ہو سکتا ہے۔

تمام اولیاء اللہ مجدد گزرے ہیں۔ تمام اسلامی علماء اور فضلاء اور مشائخ مجدد ہیں جو توحید وسنت کو یاد دلاتے اور ان پر قائم ہونے کی ہدایت کرتے ہیں۔ اگر یہ سب انبیاء ہوتے تو نبوت کے مدارج کا خاتمہ ہو جاتا یعنی نبوت کوئی شے نہ رہتی، آندھی کے آم اور جھڑ بیری کے بیر ہو جاتی جیسی سالہا سال سے قادیان کے جنگل میں ہو رہی ہے۔

مجدد کے لقب سے ہر شخص جو کسی علم وفن کی تجدید کرے ملقب ہو سکتا ہے۔ ہر شخص جو کسی حرفت وصنعت کا موجد ہو مجدد کہلا سکتا ہے۔ مگر اس کو نبی اور رسول کوئی نہ کہے گا اور نہ وہ خود اپنے کو اس لقب سے ملقب کرنے پر رضا مند ہوگا ورنہ موجودہ زمانے کے سائنس والے جنہوں نے حیرت انگیز ایجادوں میں ترقی کی ہے اور کر رہے ہیں اور آئندہ کریں گے سب نبی اور رسول بن جائیں گے۔

دُخانی قوت سے کام لینے والوں اسٹیمر اور صنعت وحرفت کی مشینیں اور ریلوے انجن کے موجدوں کو خود مرزا قادیانی دجال تو کہتے ہیں مگر مجدد بمعنے نبی نہیں کہتے۔ کیا جس طرح عیسیٰ مسیح دجال کو قتل کریں گے۔ اسی طرح مرزا قادیانی بھی ان دجالوں کو قتل کر کے ان کی مشینوں اور انجنوں کو غارت کریں گے۔ مرزا قادیانی کہتے ہیں کہ میں خونریز مہدی اور مسیح نہیں ہوں لیکن وہ کم از کم دجالوں اور ان کے کارناموں کے مٹانے کو تو ضرور ہی مبعوث ہوئے ہیں۔ اور اگر صرف حسب قول مرزا قادیانی ریلیں ہی دجال ہیں تو مسیح موعود کا فرض ہونا چاہئے کہ ان کا قلع قمع کرے اور جس طرح ممکن ہو ۔ ہندوستان میں ان کا اجراء بند کر دے کیونکہ ظاہر ہے کہ دجال عیسیٰ مسیح کا بڑا بھاری مخالف اور رقیب ہوگا اور اگر مرزا قادیانی عمداً ایسا نہ کر سکیں گے۔ تو صاف ثابت ہو جائے گا کہ دجال اور مرزا قادیانی ایک ہی تھیلی کے چٹے بٹے ایک ہی نسل کی پیدائش۔ ایک ہی خاندان کے رکن ایک ہی سوسائٹی کے ممبر ہیں۔ اور انیسویں صدی میں دجال اور مسیح دونوں ٹکٹ لے کر آسمانی باپ کے پاس سے پاس لے کر آئے ہیں اور اگر ریلیں دجال کے گدھے ہیں تو مرزا قادیانی اور

١٩٨

صفحہ ٥٤٥

مرزائی بارہا ان پر سوار ہوئے ہیں۔ اب فرمائیے دجال کون ہوا؟ مرزا قادیانی کے یہ دلائل ایسے ہیں جن کو سن کر گدھے بھی کان دبا کر اور دم اٹھا کر ڈھینچوں ڈھینچوں پکارتے لید کرتے کٹوتیاں بدکتے مینگنیں جھاڑتے قادیان کے پڑاؤوں سے بھاگتے ہیں۔

مرزا قادیانی کے نزدیک مجدد اور ولی اور نبی سب ایک ہیں۔ حالانکہ ولی اور مجدد ہرگز نبی اور امام الزمان نہیں ہو سکتا۔ یعنی ناقص اور کامل کسی ایک فرد میں جمع نہیں ہو سکتا۔ آپ کی تصانیف ایک متناقض خرافات کا مجموعہ ہیں۔ کیا معنے کہ جب آپ آنحضرت ﷺ کے بروزی نبی بنتے ہیں۔ یعنی آپ کے ناپاک اور خبیث قالب میں۔ آنحضرت ﷺ کی روح اطیب واطہر نے (معاذ اللہ) حلول کیا ہے تو آپ مجدد اور ولی اور ناقص نبی کہاں رہے جیسا کہ آپ کا دعویٰ ہے کہ کامل نبوت کا خاتمہ ہوا ہے نہ کہ ناقص نبوت کا۔ آپ تو ہو بہو آنحضرت ﷺ بن گئے پھر کبھی تو آپ بجائے مجدد اور مہدی و مسیح ہونے کے جری اللہ فی حلل الانبیاء بنتے ہیں یعنی تمام انبیاء کے لباس میں آپ نے حلول کیا ہے اور کبھی صرف بروزی محمد۔ تمام انبیاء کے قالب میں حلول کرنے کے یہ معنے ہیں کہ آپ کی پلید روح نے قبل از مرگ تمام انبیاء کے اجسام میں تداخل کیا ہے۔ اول! تو ایک روح متعدد اجسام میں داخل نہیں ہو سکتی۔ دوم! انبیاء کے لباس (اجساد) اب کہاں ہیں جن میں آپ کی روح نے حلول کیا ہو۔ سوم! ”جری اللہ فی حلل الانبیاء“ کو آپ الہامی فقرہ بتاتے ہیں جو آپ کے دعوے کا مساعد نہیں بلکہ علی العکس ہے۔ آپ کا مطلب تو یہ بنتا ہے کہ تمام انبیاء نے مرزائی قالب میں حلول کیا ہے۔ اور مرزا سب کا بروزی ہے۔ حالانکہ ”جری اللہ فی حلل الانبیاء“ سے یہ لازم آتا ہے کہ جیتے جی آپ کی روح تمام انبیاء کے قوالب میں ڈھل گئی ہے۔ چہارم! جب آپ بروزی محمد یعنی عین محمد ہیں اور اب اسلامی شریعت کی ترمیم کر رہے ہیں تو یہ معنے ہوئے کہ آنحضرت ﷺ نے انیسویں صدی میں تشریف لا کر خود اپنی شریعت کی ترمیم و تنسیخ کر دی کہ تصویر پرستی جائز اور حج بیت اللہ قطعی موقوف اور اب بجائے حرمین شریفین کے قادیان کا حج کرو وغیرہ۔

ایک خبط ہو تو کوئی صبر کرے آپ تو بالکل ”یتخبطہ الشیطان من المس“ کے فوٹو بنے ہوئے ہیں اور لے پالک سے بڑھ کر آسمانی باپ الو کا بھیجا کھا گیا ہے کہ ایسے بے معنے الہامات القاء کرتا ہے جیسی اوٹ پٹانگ تاویلیں مرزا قادیانی کر رہے ہیں۔ ہم حلفاً کہتے ہیں کہ ہمارے شاگردان شاگرد ایسی تاویلیں گھڑنے کو اپنے حق میں عار سمجھیں گے۔

١٩٩

صفحہ ٥٤٦

٥ ...... ایک بھیدی نے لنکا ڈھادی

مولانا شوکت اللہ میرٹھی!

ضلع مراد آباد کے ایک رئیس کا شوق چرایا کہ قادیان جاکر مرزا قادیانی کے دعوؤں کا تاڑ دیکھئے۔ ہمارے ایک شاگرد رشید مولوی صاحب بھی وہاں موجود تھے۔ انہوں نے کہا مجھے بھی اپنے ساتھ لیجئے گا تو مزہ آئے گا۔ انہوں نے منظور کر لیا۔ دونوں صاحب قادیان روانہ ہوئے۔ جب بٹالہ پہنچے تو قادیان جانے کو یکہ کرایہ کیا۔ مرزا قادیانی کے حواری بٹالہ میں اس لئے موجود رہتے ہیں کہ قادیان جانے والوں کے پیچھے فرشتوں کی طرح نہیں شیطان کی طرح لگ لیں اور جن گاڑیوں اور یکوں میں مسافر سوار ہوں۔ انہیں میں بیٹھ کر سات کوس تک برابر نئے نبی کی بھگتی کرتے چلیں اور ان کے دل میں ڈال دیں کہ مرزا قادیانی نبی اللہ اور بروزی اور ظلی احمد لے پالک اور صاحب معجزات ہیں۔ یہ مرزا قادیانی پر حصر نہیں بلکہ پنجاب کے اکثر سادھو بچے ایسے ہی کرتے ہیں۔ اس یکے میں بھی تین مرزائی وارد ہو کر لگے اپنی وحی حمام گردبار کی داستان سنانے۔ سات کوس تک خوب کان کھائے۔ ہمارے شاگرد رشید مولوی صاحب نے کہہ دیا تھا کہ میں قادیان پہنچ کر دیوانہ (کار خویش عاقل) بن جاؤں گا۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا جب قادیان پہنچے تو مشہور کیا گیا کہ یہ صاحب جلالی عملیات پڑھنے سے مجنون ہو گئے ہیں۔

مرزا قادیانی دعا کریں یا حکیم الامت المرزائیہ مولوی نور الدین صاحب اپنے معالجہ سے مریض کو شفا بخشیں۔ اب جعلی مجنون لگا اچھلنے اور بکر کود مچانے۔ یہاں گھس گیا وہاں گھس گیا۔ لوگ گھیر گھار کر لائے۔ خیر کھانا چنا گیا۔ مرزا قادیانی بھی تشریف رکھتے تھے مگر دستر خوان پر آپ کا خاصہ الگ تھا۔ اس میں کوئی ہاتھ نہ ڈال سکتا تھا۔ مجنون صاحب نے غڑاپ سے ہاتھ مارا اور خستہ اور بیسنی پراٹھے تر بتر متنجن اور چند بیدستر آمیز کئے ہوئے ہتھیالئے۔ ہائیں ہائیں یہ کیا۔ مگر کون سنتا تھا۔ مطلق العنانی تو تھی ہی ۔

دیوانہ باش تا غم تو دیگران خورند

سب کو آئیں بائیں شائیں بتا کر موذی کے چنگل میں جس قدر پراٹھے آئے سب کے سب بندر کی طرح دکھا دکھا کر چھک گئے۔ قسم ہے منارے دی وڈے مجے (بڑے مزے) آئے۔ ایسے خستہ کرارے۔ پراٹھے عمر بھر نصیب نہ ہوئے ہوں گے اور پھر ان میں رجولیت کا مصالحہ کھانے کو تو کھا گئے مگر رات بھر یہ کیفیت رہی کہ کچھ نہ پوچھئے۔ کروٹیں بدلتے بدلتے تڑکا ہو گیا۔ موقع لگے تو پھر پھٹے یہیں سے۔ مگر داہنے بائیں کوئی نظر نہ آیا۔ مرزا قادیانی کے شیعہ

٢٠٠

استاد کی تقلید پر تقیہ کر کے متعہ ہی کر لیتے مگر یہ با

علی ہذا ایک روز مجنون صاحب گھو میں جا ڈٹے۔ دیکھئے کیا ہیں خلوت خانہ کیا ہے قادیانی سب کے درمیان کے بیچوں بیچ میں ک قلندری ملنگ اور مجنونی ڈھنگ کے دیکھتے ہی س زادیاں پھر سے اڑگئیں ۔

پڑی محفل میں ہلچل اث
یہ کیسا صور تو نے

خیر! دوسرے روز مجنون صاحب کی جانب سے لے پالک پر الہام ہوتا ہے۔

مرزا قادیانی الفاظ کی کاٹ تراش کر رہے ہیں محاورات عرب سے منطبق کیا۔ مجنون صاحب میں چل رہا تھا۔ ڈانواں ڈول ہو گیا۔ الغرض سے دوڑے اور جنونی صاحب کو ڈنڈا ڈولی کر

جب جاسوس بن کر کوٹھی محلے کا میں بھلے چنگے ہو گئے۔ مرزائی چار طرف سے بیماری یا جن بھوت یا موکل اور پیر کا اثر اک ب میں پڑی ہیں اور چونکہ آپ نبی اللہ ہیں لہٰذا مانیں تو رہیں کہاں۔ مازندران سے سب ۔ کہ سب کوفی النار والسقر کر دیا جائے۔

٦ ...... مرزا

مولانا

اٹا وہ کے جن سیدھے سادھے کنندگان مشتہر کیا تھا اور پھر انہوں نے گز اب ہم کو بذریعہ نامہ نگار معلوم ہوا ہے کہ مر ہیں اور سختی کر رہے ہیں کہ مرزائی ہونے کی

صفحہ ٥٤٧

استاد کی تقلید پر تقیہ کر کے متعہ ہی کر لیتے مگر یہ بات بھی ہاتھ نہ آئی۔

علی ہذا ایک روز مجنون صاحب گھومتے گھامتے مرزا قادیانی کے خاص خلوت خانے میں جا ڈٹے۔ دیکھتے کیا ہیں خلوت خانہ کیا ہے پری زادوں کا جمگھٹ اور اندر کا اکھاڑا ہے اور مرزا قادیانی سب کے درمیان گوپیوں بیچ میں کنھیا بنے بیٹھے ہیں۔ مزے ہیں، بہاریں ہیں، اس قلندری ملنگ اور مجنونی نہنگ کے دیکھتے ہی سارا نظر فریب زاہد کش طلسم زیر و زبر ہو گیا اور پری زادیں پھر سے اڑ گئیں۔

پڑی محفل میں ہلچل اٹھ چلے سب کیا قیامت ہے
یہ کیسا صور تو نے نالۂ آتش فشاں پھونکا

خیر ! دوسرے روز مجنون صاحب اسی طرح اس کمرے میں جا گھسے جہاں آسمانی باپ کی جانب سے لے پالک پر الہام ہوتا ہے۔ دیکھتے کیا ہیں کہ چار طرف عربی کتابیں کھلی ہیں اور مرزا قادیانی الفاظ کی کاٹ تراش کر رہے ہیں کہ کسی فقرے کا سر لیا اور کسی کا پاؤں اور پھر ان کو محاورات عرب سے منطبق کیا۔ مجنون صاحب کے پہنچتے ہی یہ سارا کاغذی جہاز جو جعل کے طوفان میں چل رہا تھا۔ ڈانواں ڈول ہو گیا۔ الغرض مرزا قادیانی کے غل مچانے پر دو چار آدمی ادھر ادھر سے دوڑے اور جنونی صاحب کو ڈنڈا ڈولی کر کے باہر لا ڈالا۔

جب جاسوس بن کر کوٹھی کٹھلے کا سارا ادھر ادھر کا معلوم ہو گیا تو مجنون صاحب قادیان میں بھلے چنگے ہو گئے۔ مرزائی چار طرف سے دوڑے اور لگے چہ میگوئیاں کرنے۔ بھلا مجال تھی کہ بیماری یا جن بھوت یا موکل اور پیر کا اثر اک لحظہ کو بھی رہ سکتا۔ یہ باتیں تو حضرت اقدس کے ناخنوں میں پڑی ہیں اور چونکہ آپ نبی اللہ ہیں لہٰذا تمام جن اور بھوت اور موکل آپ کے تابع ہیں۔ حکم نہ مانیں تو رہیں کہاں۔ مازندران سے سب کے جھونپڑے اکھاڑ کر پھینک دیئے جائیں اور فلیتے سلگا کر سب کو فی النار والسقر کر دیا جائے۔

٦ ...... مرزائیوں کی کارستانیاں

مولانا شوکت اللہ میرٹھی !

اٹاوہ کے جن سیدھے سادھے مسلمانوں کا نام مرزائی اخبار البدر نے بزمرہ بیعت کنندگان مشتہر کیا تھا اور پھر انہوں نے گزشتہ ضمیمہ میں تردید چھپوائی تھی اور بیعت پر تبرا بھیجا تھا اب ہم کو بذریعہ نامہ نگار معلوم ہوا ہے کہ مرزا قادیانی کے بعض حواری ان غریبوں پر زور ڈال رہے ہیں اور سختی کر رہے ہیں کہ مرزائی ہونے کی تردید کیوں شائع کرائی مگر وہ لوگ بدستور دین اسلام پر

٢٠١

صفحہ ٥٤٨

قائم ہیں جو لوگ فسخ بیعت کر چکے پھر وہ رجوع ہونے والے نہیں اور جن لوگوں کے دلوں میں مرزائی ہونے کے وسوسے پیدا ہو گئے تھے اب وہ قطعاً دور ہو گئے۔

جبکہ مرزا قادیانی اور ان کے حواری قرآن پر ایمان لانے اور ایمان رکھنے کے مدعی ہیں تو ''لا اکراہ فی الدین'' پر کیوں ان کا عمل نہیں اور جبکہ جبراً کوئی شخص بھی اپنا مذہب نہیں بدل سکتا اور تبدیل مذہب پر کسی کو مجبور کرنا قانوناً بھی منع بلکہ قابل تدارک ہے تو ہم حیران ہیں کہ ان مظلوم اور ناکردہ گناہ مسلمانوں پر کیوں جبر کیا جاتا ہے کہ جھک مارو اور مرزائی مذہب قبول کرو۔ ہم امید کرتے ہیں کہ اٹاواہ کے مسلمانوں کو رسول اللہ ﷺ کی حدیث معلوم ہوگی کہ ''لا تشرک وان قتلت او حرقت'' یعنی شرک نہ کر اگرچہ تو قتل کیا جائے یا جلایا جائے اور ظاہر ہے کہ مرزائی بننا نہ صرف ''شرک فی الرسالۃ'' بلکہ ''شرک فی اللہ'' ہے کیونکہ مرزا قادیانی بعد ختم رسالت نبی بنے ہیں اور اپنے کو خدا کا لے پالک بنایا ہے جو بالکل اس ''وحدہ لاشریک'' کی صفت ''لم یلد ولم یولد'' کی نقیض ہے پھر کونسا سچا مسلمان ''شرک فی الرسالۃ'' اور ''شرک فی التوحید'' کا مرتکب ہوکر اپنے کو خلود فی النار کا مستوجب بنا سکتا ہے۔

ان جبریہ کارروائیوں سے صاف ثابت ہے کہ مرزائی مذہب میں نہ کوئی کشش ہے نہ صداقت ہے کچھ لوگ محض دنیوی لالچ سے مرزائی دین قبول کرتے ہیں اور کچھ تخویف اور جبر سے ۔ ''لعنۃ اللہ علی الظالمین والجابرین والمخوفین '' امید ہے کہ معزز نامہ نگار ہم کو مفصل حالات سے مطلع کرتے رہیں گے۔ کیونکہ شحنہ ہند اس لئے مبعوث ہوا ہے اور اس کا فرض منصبی بھی ہے کہ جابروں اور ظالموں کا آسمانی عدالت میں چالان کرے اور ان کو سزا دلوائے تاکہ جناب باری کا وعدہ پورا ہو کہ ''سیعلم الذین ظلموا ای منقلب ینقلبون''

تعارف مضامین ...... ضمیمہ شحنہ ہند میرٹھ

سال ١٩٠٣ء یکم جولائی کے شمارہ نمبر ٢٥ کے مضامین

مولانا الہی بخش سے طویل مراسلت

نوٹ ...... یہ مراسلت شمارہ نمبر ٢٥ سے شروع ہو کر ٢٦ کے آخر کے قریب تک چلی گئی تھی۔ ہم نے یہاں جمع کر دیا ہے تاکہ تسلسل برقرار رہے۔

٢٠٢

٥٤٩

مولوی نور الدین مرزائی کا

مولانا ۔ تسلیم۔ اس وقت آپ کے ایک پشاور کے ہیں۔ آپ کے پرانے شاگرد نور الدین الٰہی بخش نے مجھے نصیحت کی ہے کہ پیروں کے پھند عرض کیا کہ آپ نے مولانا سے یہ بھی پوچھا کہ جن آپ جامع مانع معنی پیر و مرید کے پوچھ لیتے مگر انہ تعجب رہا کہ کہیں اس نصیحت میں خود مولوی الہی بخش نے اپنے کو مرید نہ بنالیا ہو ( پیری ومریدی عیب وال میں داخل تھے ۔ میری مراد اس پیری سے نہیں اور اور خودسید کو بھی دیکھا ہے کہ وہ پیری ومریدی اور عملاً پسند فرماتے تھے۔ اس معمّا کو اگر آپ حل فر اس خط کا راقم آپ کا پرانا شکرگزار شاگرد نور پشاور۔نورالدین از قادیان دارالامن والایمان

جواب از جانب استاد مولوی

بسم اللہ الرحمن الرحیم۔

نحمدہ ونصلی علی خاتم النبیین وعلى اله واصح ابہ السلام علی من اتبع الھدی ۔ آپ کا والی حالت پر نہیں پہنچی پھر ایسے اختلاط اختلا پیرومرید کے معنی میں کس قدر تردد وتحیر ہوا (باوجود اظہر من الشمس ہونے کے جس کو جاہ کرنے سے اس قدر ممنونیت ظاہر فرماتے ہیں بھی سمجھ نہیں تو پھر میرے حل کو آپ کس طر الدین الصحیحہ کے یہ نصیحت کی ہے کہ جو زمانہ وزندیقت والحاد کی تعلیم کرتے ہیں بلکہ شرک جو علماء وصلحاء صراط مستقیم صراط منعم علیہم من

صفحہ ٥٤٩

١ ...... ایک طویل مراسلت

مولوی نورالدین مرزائی کا خط اپنے استاد کی طرف!

مولانا ۔ تسلیم ۔ اس وقت آپ کے ایک شاگرد نے جن کا نام محمد شریف اللہ ہے اور ضلع پشاور کے ہیں۔ آپ کے پرانے شاگرد نورالدین سے ذکر کیا ہے کہ میرے بزرگ استاد مولوی الٰہی بخش نے مجھے نصیحت کی ہے کہ پیروں کے پھندے میں نہ آنا اور نہ مرید بننا۔ میں نے ان سے عرض کیا کہ آپ نے مولانا سے یہ بھی پوچھا کہ پیر کس کو کہتے ہیں اور مرید کیا ہوتا ہے واجب تھا کہ آپ جامع مانع معنی پیرو مرید کے پوچھ لیتے مگر انہوں نے جواب میں صفر کو بیان کیا۔ مجھے دیر تک تعجب رہا کہ کہیں اس نصیحت میں خود مولوی الٰہی بخش صاحب بایں پیری پیر نہ بنے ہوں اور محمد شریف اللہ کو مرید نہ بنا لیا ہو (پیری و صد عیب والی پیری میں تو خود ہمارے مولانا ۔ بلکہ بوڑھے سید بھی داخل تھے۔ میری مراد اس پیری سے نہیں اور نہ جناب کا منشاء ہوگا) میں نے سید کے اتباع کو اور خود سید کو بھی دیکھا ہے کہ وہ پیری ومریدی اور علماء کے اتباع سے روکتے تھے اور خود اپنی اتباع کو عملاً پسند فرماتے تھے۔ اس معما کو اگر آپ حل فرمادیں گے تو آپ کی قدیم استادی کا لازمہ ہوگا۔ اس خط کا راقم آپ کا پرانا شکرگزار شاگرد نورالدین ساکن بھیرہ اور محمد شریف اللہ ساکن ضلع پشاور ۔ نورالدین از قادیان دارالامن والایمان ضلع گورداسپور ۔ ٣؍مئی ١٩٠٣ء

جواب از جانب استاد مولوی الٰہی بخش صاحب مدرس پشاور

بسم اللہ الرحمن الرحیم. الحمدللہ رب العلمین والصلوۃ والسلام علی خاتم النبین وعلیٰ الہ واصحابہ اجمعین ۔ جناب مولوی نورالدین صاحب۔ السلام علیٰ من اتبع الھدی ۔ آپ کا خط پہنچا نہایت تعجب ہوا۔ اب تک تو پیری وصد عیب والی حالت پر نہیں پہنچی پھر ایسے اختلاط اختلال کا کیا باعث ۔ آپ کو بایں پیری ومریدی جدید پیرومرید کے معنی میں کس قدر تردد و تحیر ہوا کہ اس کا معنی جامع ومانع پوچھتے ہیں اور پھر اس کو (باوجود اظہر من الشمس ہونے کے جس کو جاہل واطفال بھی جانتے ہیں) معما جان کر اس کے حل کرنے سے اس قدر ممنونیت ظاہر فرماتے ہیں کہ اس کو قدیم استادی کا لازمہ جانتے ہیں اگر اتنی بھی سمجھ نہیں تو پھر میرے حل کو آپ کس طرح سمجھیں گے۔ خیر! میں نے تو محمد شریف اللہ کو بحکم الدین النصیحۃ کے یہ نصیحت کی ہے کہ جو زمانہ حال کے پیر ہیں کہ اپنے مریدوں کو بدعات ومحدثات وزندیقیت والحاد کی تعلیم کرتے ہیں بلکہ شرک کی طرف توجہ دلاتے ہیں ان سے بچنا چاہئے۔ نہ یہ کہ جو علماء وصلحاء صراطِ مستقیم صراطِ منعم علیہم من النبیین والصدیقین والشہداء والصالحین اور مہاجرین

٢٠٣

صفحہ ٥٥٠

وانصار کا راستہ بتائیں ان کی بات بھی نہ ماننا۔ اب اپنے معنے کا حل سنئے۔

مولوی صاحب پیر کہتے ہیں۔ راہ نما اور پیشوا کو اور وہ منقسم ہیں دو قسم پر قسم اول پیر ہدایت جو اپنے مرید کو صراط مستقیم کہ صراط منعم علیہم کا ہے دکھاتے ہیں اور بدعات ومحدثات ورسومات کفر و جاہلیت سے ڈراتے ہیں۔ جیسے اہل خیر قرون وائمہ ہدیٰ و مصابیح دجیٰ و اتباع صادقین ان کے۔ قسم دوم پیر ضلالت و الحاد وزندقہ جو لوگوں کو بدعات محدثات وزندقہ والحاد ورسوم جاہلیت کی طرف بلاتے ہیں جیسے مخالفین انبیاء و علماء ہر زمانہ میں جیسے اس زمانہ میں آپ کا پیر و مرشد مرزا قادیانی ہے جس نے جھوٹا دعویٰ پیغمبری کا رسالت و نبوت کا کیا اور علماء وانبیاء وصالحین کو برے الفاظ سے یاد کرتا ہے اور علو و عتو و فساد میں حد سے گزر گیا ہے یہاں تک کہ مرسل و مجدد و مہدی و مسیح وابن اللہ و ابواللہ اور اللہ بنا اور اپنی بی بی کو ام المومنین کا خطاب دیا۔ پس میں نے محمد شریف اللہ کو قسم اوّل کے اتباع سے نہیں روکا بلکہ میں نے قسم دوم کے دھوکوں اور فریبوں سے روکا ہے۔

آپ نے معنی جامع ومانع پیر کا پوچھا پس ہم نے پیر ہدایت و پیر ضلالت کا معنے بیان کر دیا۔ اب آپ بتا دیں یہ معنے جامع ہیں یا نہ۔ بر تقدیر ثانی کونسا فرد اس معنے سے خارج ہوا اور اس کی جامعیت کو توڑا و مانع بھی ہے دخول غیر سے یا نہ، بر تقدیر ثانی کونسا فرد غیر کا اس میں داخل ہوا اور اس کی مانعیت کو نقصان پہنچایا۔ ہاں یہ آپ کہہ سکتے ہیں کہ یہاں ایک قسم ثالث بھی ہے اور وہ یہ کہ بعض امور میں باطل پر ہو۔ لیکن یہ خدشہ آپ کا بے جا ہے کیونکہ اعتبار اصول وعقائد وضروریات دین و غالب امور کو ہے اور بعض فروعات میں خطا مضر نہیں کیونکہ یہ اختلاف صحابہ سے لے کر آج تک چلا آیا ہے اور ضرور راستے دو ہی ہونے چاہئیں۔ ایک صراط مستقیم صراط منعم علیہم کا جس کا منتہیٰ جنت اور رضا الٰہی ہے اور دوسرا صراط مغضوب علیہم والضالین کا جس کا منتہیٰ جہنم اور غضب رب العالمین کا ہے اور پھر تعجب یہ کہ آپ باوجود اس قدر ادعاء علم وفضل کے کہ الحکم میں حکیم الامت سے ملقب ہیں۔ معنے لفظ کا جامع ومانع طلب کرتے ہیں۔

سبحان اللہ جناب من یہ شرط جمع و منع کی اب تک کسی نے الفاظ کے معانی میں بیان نہیں فرمائی بلکہ معانی میں اشتراک اور ترادف و تضاد و عموم و خصوص و تواطی وتشکیک و حقیقت و مجاز وغیرہ بھی ہوتی ہے۔ پھر یہ شرط اطراد وانعکاس یعنی جامع ومانع ہونے کی کس طرح صحیح ہو سکتی ہے۔ یہ شرط جامع ومانع ہونے کے تو تعریفات وحدود میں علماء بیان کرتے ہیں نہ معانی الفاظ میں سبحان اللہ اس فہم پر یہ دھوم دھام اور اپنے استاد سے یہ گستاخیاں۔ آپ کے اس قول سے (مجھے دیر

٢٠٤

صفحہ ٥٥١

تک تعجب رہا کہ کہیں اس نصیحت میں خود مولوی الٰہی بخش صاحب بایں پیری پیر نہ بنے ہوں اور محمد شریف اللہ کو مرید نہ بنا لیا ہو۔ الخ)

مجھ کو نہایت افسوس اور تعجب ہے کہ مولوی صاحب کا ہوش وعقل و حکیم امت ہونا کہاں چلا گیا باوجود اس شیخی و دعویٰ عقل کے اتنا بھی نہیں سمجھتے کہ پیر وہ ہوتا ہے جو عالم باعمل متقی صابر موقن لوگوں کو حق کی طرف بلانا اس کی صفت لازمہ ہو اور شب و روز تعلیم دین وہدایت خلق میں مشغول ہے۔ ”قال تعالیٰ وجعلنا هم ائمة يهدون بامر نالما صبروا وكانوا باياتنا يوقنون“ اگر ایسا ہوتا جس طرح آپ نے سمجھا ہے کہ میں محمد شریف اللہ کو ایک نصیحت کرنے سے پیر بن گیا تو چاہئے کہ ہر کوئی مسلمانوں میں سے پیر ہی ہو جو جہاں میں مرید کوئی نہ ہو کیونکہ حدیث شریفہ میں آیا ہے: ”الدين النصيحة قالوا لمن يارسول الله قال لله ولرسوله ولائمة المسلمين وعامتهم او كما قال رسول الله ﷺ“ پس چاہئے کہ ہر ایک مسلمان بلکہ کفار بھی پیر ہی ہوں کیونکہ کوئی انسان فی الجملہ نصیحت سے خالی نہیں۔ پھر علاوہ بریں آپ کو دھوبی و خیاط و نائی و رنگریز وغیرہ بلکہ مہتر و بھنگی و قصائی بننا پڑے گا۔ بقول خود کیونکہ غالباً یہ سب کام آپ نے کئے ہوں گے گو تمام عمر میں ایک دو دفعہ کئے ہوں کیونکہ جب میں ایک نصیحت کرنے سے پیر و مرشد بن گیا تو کیا آپ ایسے کاموں سے گو تمام عمر میں ایک دو دفعہ کئے ہوں۔ بھنگی مہتر نہیں بنیں گے ورنہ کوئی فارق بتا دیں۔ دونوں میں آگے انصاف آپ پر ہم نے چھوڑا ہے اور چونکہ آپ جامع و مانع بیان فرمانے معانی کے مشاق و ماہر ہیں۔ اس لئے ہم آپ سے دریافت کرتے ہیں براہ مہربانی حد و تعریف بدعت شرعیہ کی بیان فرمائیں جو مطرد و منعکس یعنی جامع و مانع ہو اور پھر اپنے پیر و مرشد کے بدعات و محدثات کو اس حد سے اخراج کریں اگر آپ بمقتضائے ۔

فعين الرضا عن كل عيب كليلة
وبحكم حبك الشئ يعمي ويصم

اپنے پیر و مرشد کے محدثات و بدعات سے بخوبی واقف نہ ہوں تو ہم سے اس کے بدعات واحداثات کی فہرست طلب کریں۔ لیکن اول جامع و مانع تعریف وحد بدعت شرعیہ کے ضرور لکھنی پڑے گی اور نیز ہم آپ سے دریافت کرتے ہیں کہ آیت ”الیوم اکملت لکم دینکم (الآية)“ کے کیا معنی ہے۔ کیا خاتم النبیین محمد ﷺ کے عہد ہدایت مہد میں دین اسلام پورا و کامل مکمل ہو چکا تھا اور مہاجرین وانصار نے اس دین کامل کو بیان کیا۔ یا وہ دین ناقص و نامکمل و قابل ترمیم رہا اور معاذ اللہ خدا نے خلاف واقعہ یہ اکملت کہہ دیا اور تکمیل و ترمیم آپ کے

٢٠٥

صفحہ ٥٥٣

پیرو مرشد مرزا قادیانی کے عہد میں ہو رہی ہے اور تیسری بات ہم یہ پوچھتے ہیں کہ جب آپ اور ہم کسی آیت یا حدیث میں اختلاف کریں تو فیصلہ کس طرح ہوگا۔ آیا مہاجرین وانصار و خیر قرون وائمہ ہدیٰ کے اقوال سے یا کوئی اور حکم مقرر فرمائیں گے۔

ہم کو امید کامل ہے کہ آپ اس کے جواب میں صرف صفر کو کام میں لائیں گے۔ اور بالکل جواب نہ دیں گے کیونکہ جب آپ کے پاس اتنا بھی فہم وعلم نہیں کہ پیری ومریدی کا معنے سمجھیں یا معانی الفاظ اور حدود اشیاء میں فرق کر سکیں تو اس کا جواب کس طرح دے سکیں گے۔ اور پھر اعجب العجائب یہ کہ پیرو مرشد آپ کا مرزا قادیانی قصبہ قادیان کو قصبہ یزیدیوں کا کہتا ہے۔

(ازالہ اوہام ص ٦٦ تا ٧٣ حصہ اول، خزائن ج ٣ ص ١٤٥، ١٤٨)

اور آپ دارالامن والایمان فرماتے ہیں۔ ”من چہ میگویم وطنبورہ من چہ میگوید“ اور علماء اسلام کثرہم ونصرہم اس کو دارالارتداد والزندقہ والطغیان کہتے ہیں۔ پس اولاً آپ اپنے پیرو مرشد کے مخالف بنے اور ثانیاً تمام علماء اسلام کے مخالف نہ ادھر کے ہوئے نہ ادھر کے ہوئے۔ نہ خدا ہی ملا نہ وصال صنم۔

پس اب آپ ہی انصاف فرما دیں کہ وہ معما مزعومہ آپ کا جس نے آپ کو دیر تک تعجب وحیرت میں ڈالا تھا بخوب وجہ حل ہوا یا نہ...... اور پھر یہ چوتھی بات بھی ذرا بیان فرمائیں کہ رسول اللہ ﷺ کا یہ قول ”کل بدعة ضلالة“ قضیہ موجبہ کلیہ ہے اور نقیض اس کی سالبہ جزئیہ آتا ہے جو کم اور کیف میں مخالف اصل کے ہوتا ہے۔ پس بنا براں بعض البدعۃ لیس بضلالۃ مناقضہ رسول اللہ ﷺ کا ہو گا یا نہ۔ فقط: وصلی الله تعالیٰ علیٰ خیر خلقه محمد وآله واصحابه اجمعین والحمد لله رب العلمین۔

خط مولوی نور الدین مرزائی بجواب استاد مولوی الٰہی بخش صاحب پنشنر

جناب الدین النصیحة صحیح حدیث کا جملہ ہے اور اس سے مقدم قرآن کریم کی وہ آیت ہے جس میں ارشاد ہے ”لا تسبوا الذین یدعون من دون اللہ“ اور باستدلال بالاولیٰ سب سے روکا ہے۔ پس آپ نے غلام احمد کو کن کن الفاظ سے یاد فرمایا ہے اور آخری عمر کے حصہ میں اپنے نامہٴ اعمال میں کیسا اضافہ کیا غلام احمد اور یہ کتابت آپ کی۔ بہرحال شریف اللہ یہاں سے بیعت کر کے واپس وطن کو گئے ہیں۔ شیخی دعویٰ اور حکیم الامۃ کا ادّعا میری فطرۃ میں ہے نہیں۔ ہاں اتم شہداء اللہ کے منہ سے نکلا ہے۔ ”واللہ اعلم فان الاسماء تتنزل من السماء“ الٰہی بخش الٰہی بخش الٰہی بخش، آپ استاد اور شاگرد کو پہلے ہی شوخ فرما چکے۔ اب میں دریافت کروں تو کیا دریافت کروں۔ بتاؤں تو کیا بتاؤں۔ ہاں یہ ضرور ہے کہ کہوں غلام احمد کو برا کہنے والے صراط ٢٠٦

مستقیم سے بہت ہی دور ہیں۔

چشم باز و گوش باز و
خیرہ ام از چشم

”سبحان الله وبحمده سبحان ومولانا محمد خاتم النبيين ورسول رب ال الى يوم الدين ثم اعلم. ان الله يعلم م ونشهد الله وملائكته وكل من سمع. باناش ونشهد ان محمداً عبده ورسوله خات ونؤمن بالملائكة والرسل والكتب والي الزكوة ونصوم رمضان وحججنا البيت ود شفاء وهدى ونور وان مولانا محمد ورسول رب العلمين معلمنا ومز كینا و واما مغضوب واما ضال. خذهذه الكلم انشاء الله تعالیٰ“ آپ کی دھمکی کہ اخبار میں آ والله المستعان“ نور الدین ٢٠؍مئی ١٩٠٣ء از

جواب منجانب استاد مولوی الٰہی بخش صاحب

ایاک نعبد بسم الله الرحمن الحمد لله رب العلمین وال وآله واصحابه اجمعین اما بعد. پس جنا اتبع الہدیٰ۔ آپ کا جواب بعد انتظار مدید پہو راجعون“ اس سے تو بالکل جواب نہ دینا اچھا اور لغو شکایات ومہمل فقرے بہت ہیں بلکہ کل ب وتوحید وتحمید کے وہ بھی دھوکہ دہی کے واسطے کہ مضامین قابل جواب ١٥، ١٦ تھے جس میں سے میرے خط کا جواب ہی نہیں۔

صفحہ ٥٥٣

مستقیم سے بہت ہی دور ہیں۔

چشم باز و گوش باز و ایں زماں
خیرہ ام از چشم بندی خدا

"سبحان الله وبحمده سبحان الله العظیم. وصلی الله علی سیدنا ومولانا محمد خاتم النبیین ورسول رب العلمین وعلی اصحابه وخلفائه ونوابه الى یوم الدین ثم اعلم. ان الله یعلم سرنا ونجوانا وهو یعلم السر واخفى. ونشهد الله وملائکته وکل من سمع. باناشهد ان لااله الا الله وحده لاشریک له ونشهد ان محمداً عبده ورسوله خاتم الانبیاء. خاتم الرسل خاتم الکملاء ونؤمن بالملائکة والرسل والکتب والیوم الآخر والقدر ونقیم الصلوة ونوتی الزکوة ونصوم رمضان وحججنا البیت ونحج انشاء الله تعالى ونعتقد بان القرآن شفاء وهدى ونور وان مولانا محمد رسول الله المکی المدنی خاتم النبیین ورسول رب العلمین معلمنا ومزکینا ومن خالف هدیه وسنته وما جاء به فاما مغضوب واماضال. خذ هذه الکلمات وقل ماتشاء وسنسال من الله تعالى انشاء الله تعالى" آپ کی دھمکی کہ اخبار میں آپ شائع کریں گے۔ "اضحوکة الصبیان والله المستعان"

نورالدین ٢٠ مئی ١٩٠٣ء از دارالامن والایمان قادیان

جواب منجانب استاد مولوی الہی بخش صاحب پنشنر سابق مدرس نارمل سکول راولپنڈی

ایاک نعبد بسم الله الرحمن الرحیم وایاک نستعین

الحمدلله رب العلمین والصلوة والسلام علی خاتم النبیین محمد وآله واصحابه اجمعین اما بعد. پس جناب مولوی نورالدین صاحب! السلام علی من اتبع الهدیٰ ۔ آپ کا جواب بعد انتظار مدید پہنچا موجب تعجب وافسوس ہوا۔ "انا لله وانا الیه راجعون" اس سے تو بالکل جواب نہ دینا اچھا تھا۔ اس میں میرے خط کے کسی فقرہ کا جواب نہیں اور لغو شکایات ومہمل فقرے بہت ہیں بلکہ کل خط مہمل وبے نتیجہ ہے۔ بجز چند کلمات طیبات تسبیح وتوحید وتحمید کے وہ بھی دھوکہ دہی کے واسطے کہا۔ سیقع لک عنقریب۔ جناب من میرے خط میں مضامین قابل جواب ١٥، ١٦ تھے جس میں سے آپ نے ایک کا بھی جواب نہیں دیا گویا آپ کا خط میرے خط کا جواب ہی نہیں۔

٢٠٧

صفحہ ٥٥٥

یہ کارروائی نیک نیتی و صداقت و شرافت و انصاف سے بہت بعید ہے۔ خصوصاً آپ جیسے لائق شاگرد سے استاد کے حق میں یہ نئے نبی قادیان کی تعلیم کا اثر و نتیجہ ہے۔ فہرست مضامین ، جو میرے خط میں تھے اور آپ نے ان سب کو نظر انداز کر دیا۔ تفصیل ١ نصیحت محمد شریف اللہ ، ٢ معنے جامع و مانع پیر کا۔ ٣ تقسیم پیر دو قسم پر پیر ہدایت و پیر ضلالت مع تمثیل کے۔ ٤ بیان دعاوی کاذبہ مرزا قادیانی۔ ٥ سب و شتم مرزا حق میں انبیاء وصلحاء علماء کے۔ ٦ آپ سے استفسار کہ یہ معنے جامع و مانع ہے یا نہ بر تقدیر ثانی وجہ کیا ہے اور ٧ رفع عقدہ شتم ثالث کا اور ٨ شبہ کہ راستے دو ہی میں منحصر ہیں اور ٩ تعجب آپ کے ادعاء علم وفضل و حکیم امت ہونے سے کہ الفاظ کے معانی جامع و مانع پوچھتے ہیں اور حدود رسوم و تعریفات میں اور الفاظ کے معانی میں فرق نہیں کر سکتے۔ اور ١٠ تخطیہ آپ کا اس میں کہ میں ایک نصیحت سے پیر بن گیا اور ١١ الزام ملزم بما آپ کو خیاط و بھنگی قصائی و نائی وغیرہ بننے کا بقول آپ کے۔ ورنہ ١٢ فارق بتا دیں اور ١٣ حد و تعریف بدعۃ شرعیہ کے جامع و مانع کا سوال اور ١٤ اخراج بدعات ومحدثات مرزا کا بدعت کی حد سے اور ١٥ پیشینگوئی کہ آپ سے کبھی اور اسی کا جواب نہ ہو سکے گا۔ ١٦ ہو ایسا نہیں ہوگا اور ١٧ قادیان کو دارالامن والایمان کہنے میں آپ مخالف اپنے پیر و مرشد مرزا قادیانی کے بنے اور نیز علماء اسلام کے اور ١٨ استعصاف آپ سے کہ آپ کا معما مزعومہ بخوب وجہ حل ہوا یا نہ اور ١٩ اخیر میں آپ سے یہ سوال کیا کہ بہ قول رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا کل بدعۃ ضلالۃ اس کا نقیض کیا ہوگا۔ سو ناظرین دیکھ لیں گے کہ آپ نے باوجود اس ادّعا کے کہ میرا نام آسمانوں سے حکیم امت اترا ہے کس مضمون وکون سے فقرہ کا جواب لکھا ہے اور آسمانی حکمت کا کیا نمونہ دکھایا ہے۔ یہ وطیرہ منصفین کا ہرگز نہیں۔ فضلا عن المؤمنین کہ اولاً خود چھیڑیں اور پھر یہ معاملہ۔

اب جناب مولوی صاحب اپنی تحریر احموقہ صبیاں کا جواب سنیں۔ قولہ ...... جناب ! مولوی صاحب نے مارے تعصب وغصہ کے اپنے استاد و شیخ کے سلام سے بھی استنکاف کیا بلکہ السلام علیٰ من اتبع الھدیٰ بھی نہ لکھا۔ اس سے آپ کے تعصب اور تکبر کا پتہ لگ سکتا ہے۔ رسول اللہ ﷺ اگر کفار کو بھی خط لکھتے تو السلام علی من اتبع الهدی لکھ دیتے دیکھو بخاری مطبوعہ احمدی ص ١٥ استادی شاگردی تو در کنار آشنائی قدیمہ بھی گئی۔ مولوی صاحب کی یہ عادت و فطرت نہ تھی لیکن مرزا کذاب کی تعلیم واثر صحبت کا یہ بدتاثیر و نتیجہ ہے۔ فاعتبروا يا اولی الابصار۔ قولہ ...... ”الدین النصیحۃ“ صحیح حدیث کا جملہ ہے۔ ٢٠٨

اقول ...... واہ سبحان اللہ کیا ہم نے آپ سے اس حضر رہا فقرہ ہے کہ نہ خود اس سے استدلال کیا اور نہ ہماری کچھ تعلق شاید سکر کی حالت میں لکھ دیا ہو۔ قولہ ...... اس سے مقدم قرآن کریم کی وہ آیت ہے یدعون من دون اللہ اور بہ استدلال بالاولی سب اقول ...... سبحان اللہ اولاً کیا اس حدیث اور آیت صاحب آیت کو مقدم رکھتے ہیں کیونکہ دونوں پر عمل ک درپے ہوئے ہیں۔ سبحان الله والحمدلله ولا اله امید نہیں کہ طفل مکتب خوان سے بھی سرزد ہو۔ خانی الآیت لکھا تا کہ کہیں پہلی ہی دفعہ شرمندہ نہ ہونا پڑ جائے۔ اخیر آیت کا یہ ہے ”فبئسوا الله عدوا بـ گالی دو۔ پس وہ جہالت سے اللہ عزوجل تبارک سبب بنے گا۔ اللہ عزوجل کی گالی کا۔ واہ سبحان اللہ اور نیک نیتی۔ و ثانیاً اس میں اشارہ ہے کہ مرزا غلا ہے اگر تم مرزا غلام احمد کو گالی دو گے تو ہم تمہارے مناسبت کا موجود نہیں۔ ورابعاً استدلال بالا ولی ا مولوی صاحب کا خانہ زاد استدلال ہے۔ کسی مخصو کہنے سے بھی آدمی کو شرم آتی ہے۔ فضلاً عن المـ بنے کہ اللہ عزوجل تبارک و تعالیٰ تمام مخلوقات سے نعوذ بالله من هذه الجرأة علـ قول مولوی صاحب کا یہ ہوا کہ جب اللہ عزوجل کـ جو سبب ہو اللہ عزوجل کی گالی کا جیسے مشرکوں کے کیونکہ اور سب چیزیں ادنیٰ ہیں ساتھ تعظیم کے الـ خادم ، نوکر یا دشمن ومخالف یا منافق و کافر و مرتد وز ٩

صفحہ ٥٥٥

اقول ...... واہ سبحان اللہ کیا ہم نے آپ سے اس حدیث کی تصحیح طلب کی تھی۔ یہ کیسا بموقع و بے ربط فقرہ ہے کہ نہ خود اس سے استدلال کیا اور نہ ہماری کسی مضمون کا جواب اور نہ سیاق وسباق سے کچھ تعلق شاید سکر کی حالت میں لکھ دیا ہو۔

قولہ ...... اس سے مقدم قرآن کریم کی وہ آیت ہے جس میں ارشاد ہے ’’لا تسبوا الذین یدعون من دون اللہ‘‘ اور باستدلال بالاولیٰ سب سے روکا ہے۔

اقول ...... سبحان اللہ اولاً کیا اس حدیث اور آیت میں تعارض وتناقض ہے۔ اس واسطے مولوی صاحب آیت کو مقدم رکھتے ہیں کیونکہ دونوں پر عمل کرنا ممکن نہیں۔ لہٰذا مولوی صاحب ترجیح کے درپے ہوئے ہیں۔

سبحان الله والحمدلله ولا اله الا الله والله اكبر ۔ یہ تو ایسی جہالت ہے کہ امید نہیں کہ طفل مکتب خوان سے بھی سرزد ہو۔ ثانیاً آپ نے آیت کا اخیر حذف فرما دیا اور یہ الآیت لکھا تاکہ کہیں پہلی ہی دفعہ شرمندہ نہ ہونا پڑے اور استدلال بالاولیٰ آپ کا کہیں ٹوٹ نہ جائے۔ اخیر آیت کا یہ ہے ”فیسبوا الله عدوا بغير علم“ یعنی مشرکوں کے معبودوں کو مت گالی دو۔

پس وہ جہالت سے اللہ عزوجل تبارک و تعالیٰ کو گالی دیں گے۔ یعنی پھر تمہاری گالی سبب بنے گی۔ اللہ عزوجل کی گالی کا۔ واہ سبحان اللہ عجب تفقہ وفہم ہے۔ مولوی صاحب کا اور تقویٰ اور نیک نیتی ۔ وثالثاً اس میں اشارہ ہے کہ مرزا غلام احمد قادیانی مولوی صاحب کا معبود و طاغوت ہے اگر تم مرزا غلام احمد کو گالی دو گے تو ہم تمہارے اللہ کو گالی دیں گے۔ ورنہ یہاں کوئی اور موقع مناسبت کا موجود نہیں۔ ورابعاً استدلال بالاولیٰ آپ کا یہاں ۔ اعجب العجائب سے ہے اور یہ مولوی صاحب کا خانہ زاد استدلال ہے۔ کسی مخمور و پوستی نے بھی ایسا استدلال بالاولیٰ بالاضعف کہنے سے بھی آدمی کو شرم آتی ہے۔ فضلاً عن المؤمن المسلم کیونکہ یہ استدلال بالاولیٰ جب بنے کہ اللہ عزوجل تبارک و تعالیٰ تمام مخلوقات سے ادنیٰ و حقیر تر واضعف ہو۔

نعوذ بالله من هذه الجراة على الله وعلى رسوله وعلى كلامه مضمون قول مولوی صاحب کا یہ ہوا کہ جب اللہ عزوجل کو گالی دینی منع ہوئی یا ایسی چیز کو گالی دینی منع ہوئی جو سبب ہو اللہ عزوجل کی گالی کا جیسے مشرکوں کے معبود۔ تو اوروں کو گالی دینی بطریق اولیٰ منع ہے کیونکہ اور سب چیزیں ادنیٰ ہیں بلحاظ تعظیم کے اللہ عزوجل و تبارک و تعالیٰ سے ۔مطلب یہ ہوا کہ خادم ، نوکر یا دشمن ومخالف یا منافق و کافر و مرتد وزندیق وملحد یا کتی بلی وغیرہ کو گالی دینی بطریق اولیٰ

٢٠٩

صفحہ ٥٧

منع ہے۔ بہ نسبت اللہ عزوجل کے کیونکہ یہ سب چیزیں اللہ تبارک و تعالیٰ سے بہتر ہیں۔ سبحان اللہ وتعالیٰ عما یقول الظالمون علوا کبیرا اصول فقہ میں قیاس بالاولیٰ کی یہ مثال دیتے ہیں ”ولا تقل لھما اف“ یعنی ماں باپ کو جب اف کہنی منع ہے تو سب وشتم وضرب بطریق اولیٰ منع ہوئی کیونکہ یہ امور اف سے زیادہ ہیں۔ اہانت وایذا میں۔ دیکھو مولوی صاحب کا علم وفضل و نیک نیتی و تقویٰ و شہادت کلمہ و حق حق پکارنا سچ فرمایا ”اللہ عز وجل تبارک و تعالیٰ نے ساصرف عن ایاتی الذین یتکبرون فی الارض بغیر الحق وان یروا کل آیۃ لا یومنو ابھا وان یروا سبیل الرشد لا یتخذوہ سبیلا وان یروا سبیل الغی یتخذوہ سبیلا ذالک بانھم کذبوا بآیاتنا و کانوا عنھا غافلین“ مرزا کذاب نے مولوی صاحب کی فطرت کو ایسا بگاڑا ہے کہ کچھ ہوش ہی نہیں آتی۔ مجانین کی سی بڑھیں ہانکتے ہیں۔

ہوش اس وقت آئے گی جب کہا جائے گا ”لقد کنت فی غفلۃ من ھذا فکشفنا عنک غطائک فبصرک الیوم حدید“ جب خود مولوی صاحب اپنی زبان سے اعتراف فرمائیں گے ”لو کنا نسمع او نعقل ما کنا فی اصحاب السعیر“ اور جواب ملے گا ”فاعترفو ابذنبھم فسحقاً الاصحاب السعیر“ یا جب کہیں گے ”یالیتنی اتخذت مع الرسول سبیلا یاویلتی لیتنی لم اتخذ فلانا“ مرزا قادیانی ”خلیلا لقد اضلنی عن الذکر بعد اذ جاء نی و کان الشیطن للانسان خذولا“

قولہ ...... پس آپ نے غلام احمد کو کن کن الفاظ سے یاد فرمایا ہے اور آخری عمر کے حصہ میں اپنے نامہ اعمال میں کیسا اضافہ کیا۔

اقول ...... مولوی صاحب ہوش میں آجائیے اور مرزا کذاب کی محبت کی پٹی تھوڑی دیر تک اپنی آنکھوں سے اتار لیجئے۔ شاید آپ کے کچھ سمجھ آجائے لیکن بظاہر مشکل ”قال تعالیٰ فلما زاغوا ازاغ اللہ قلوبھم، بل ران علی قلوبھم ما کانوا یکسبون وقال تعالیٰ انا جعلنا فی اعناقھم اغلالاً فھی الی الاذقان فھم مقمحون وجعلنا من بین ایدیھم سداً ومن خلفھم سداً فاغشینھم فھم لا یبصرون“ بات تو ظاہر ہے لیکن وہ حجاب مستور حائل ہو جاتا ہے۔ ”وجعلنا بینک وبین الذین لا یؤمنون بالآخرۃ حجاباً مستوراً“

خیر میں کچھ نصیحۃً بیان کرتا ہوں ہدایت اللہ عزوجل کے اختیار میں ہے۔ مولوی صاحب مرزا کذاب خود صریح اس آیت کے ساتھ کفر کرتا ہے اور سخت مخالف ہے۔ اس کلام پاک

٢١٠

کا ”ولا تسبوا الذین یدعون من دون اللہ فـ عیسیٰ کو کہ ابوالعزم انبیاء سے ہے اور جماہیر انبیاء ہے۔ بہت سخت گالی دیں اور فحش وقذف دریغ کیا ا ان الفاظ سے چور، جھوٹا، پاجی، مـ قولی میں بہت کچا، شریر، مکار، فریبی، شعبدہ باز، ان کی تین دادیاں و نانیاں کسبی زنا کار تھیں۔ یہ اضافہ کیا اور مسحریزم یعنی سحر کا کام کرنے والا، ا سمجھتا تو ان اعجوبہ نماؤں میں ابن مریم سے کم نہ ا دیکھو اللہ عزوجل قرآن مجید میں مجر صاحب کا گرو کیا کہتا ہے اگر ”و جعلنا علی قـ والی بات نہ ہوتی تو مولوی صاحب ایسے لا عقل

واللہ ما یدری
والقلب تحت

اور ہندؤوں سے ان کے معبودو دلوائیں۔ چنانچہ عیسائیوں سے گویا یہ سب گا الذین یدعون“ الآیہ کے صحیح حدیث کا خلاف شتم الرجل و الدیہ قالوا یارسول ابا الرجل فیسب اباہ و یسب امـ وبدذات وضال ودجال واعمی وغوی اعور و گالی دیتا ہے کہ خود خدا کا بیٹا بنتا ہے اور اس کـ ”قال تعالیٰ کذبنی ابن ذالک الی قولہ تعالیٰ واما شتمہ ا او ولداً (رواہ البخاری)“ اور (انجام آتھم بیٹے سے کچھ زیادت نہیں رکھتا اور کٹھلیا رام ج ١ ص ٢٩١ حاشیہ) میں تمام جدونسل عیسیٰ علـ انبیاء کی ایک ہی ہے۔ تمام انبیاء ابراہیم خلیـ

صفحہ ٥٥٧

کا ”ولاتسبوا الذين يدعون من دون الله فيسبوا الله عدوا بغير علم“ کیونکہ اس نے عیسیٰؑ کو کہ الوالعزم انبیاء سے ہے اور جماہیر انبیاء ومرسلین سے افضل ہے اور نصاریٰ کا معبود بھی ہے۔ بہت سخت گالی دی اور فحش وقذف دہی کیا ان کو کن کن الفاظ سے یاد کیا ہے۔

ان الفاظ سے چور، جھوٹا، نادان، مختل عقل والا، بے جا حرکت کرنے والا، علمی وعملی قویٰ میں بہت کچا، شریر، مکار، فریبی، شعبدہ باز، متکبر، ناپاک خیال، راستبازوں کا دشمن، بدچلن، ان کی تین دادیاں و نانیاں کسبی زنا کار تھیں۔ یہ سب کچھ ضمیمہ انجام آتھم میں اپنے نامہ اعمال میں اضافہ کیا اور مسمر یزم یعنی سحر کا کام کرنے والا، اور کہا کہ اگر میں ان باتوں کو قابل نفرت و مکروہ نہ سمجھتا تو ان اعجوبہ نماؤں میں ابن مریم سے کم نہ ہوتا۔

دیکھو اللہ عزوجل قرآن مجید میں معجزات عیسیٰؑ کو آیات بینات فرماتا ہے اور یہ مولوی صاحب کا گرو کیا کہتا ہے اگر ”وجعلنا علی قلوبهم اكنة ان يفقهوه وفى اذانهم وقرا“ والی بات نہ ہوتی تو مولوی صاحب ایسے لا عقل تو نہیں کہ ایسی واضح باتیں نہ سمجھیں۔

والله ما يدرى الفتى بمصابه
والقلب تحت الختم والخذلان

اور ہندوؤں سے ان کے معبودوں کو گالی دے کر رسول اللہ ﷺ کو سخت سخت گالی دلوائیں۔ چنانچہ عیسائیوں سے گویا یہ سب گالی مرزا نے دیں۔ باوجو د مخالفت آیت ”ولاتسبوا الذين يدعون“ الآیہ کے صحیح حدیث کا خلاف فاحش کیا ۔ ”قال رسول الله ﷺ من الكبائر شتم الرجل والديه قالوا يارسول الله وهل يشتم الرجل والديه قال نعم يسب ابا الرجل فيسب اباه ويسب امه فيسب امه متفق عليه“ اور علماء امت کو یہودی و بدذات و ضال و دجال واعمی وغوی ولغوص وشقی وملعون وکتا وخنزیر وغیرہ سے یاد کرتا ہے بلکہ خدا کو گالی دیتا ہے کہ خود خدا کا بیٹا بنتا ہے اور اس کو اللہ عزوجل نے حدیث قدسی میں گالی کہا ہے۔

”قال تعالى كذبنی ابن آدم ولم يكن له ذالک وشتمنی ولم يكن له ذالک الی قوله تعالیٰ واما شتمه ایای فقوله لی ولد وسبحانی ان اتخذ صاحبة او ولداً (رواہ البخاری)“ اور (انجام آتھم ص ٤١، خزائن ج ١١ ص ایضا) میں کہا کہ مریم کا بیٹا کھلیپا کے بیٹے سے کچھ زیادت نہیں رکھتا اور کھلیپا رام چندر کی ماں کا نام ہے۔ اور (ضمیمہ انجام آتھم ص ٧، خزائن ج ١١ ص ٢٩١ حاشیہ ) میں تمام جد ونسل عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام کو قذف دہی کیا۔ حالانکہ جد و نسل تمام انبیاء کی ایک ہی ہے۔ تمام انبیاء ابراہیم خلیل الرحمٰن علیہ الصلوٰۃ والسلام کی نسل سے ہیں اور ابراہیم

٢١١

صفحہ ٥٥٨

نوح کی نسل سے اور نوح آدم کی اولاد سے" قال تعالیٰ ان الله اصطفى آدم ونوحا وآل ابراهیم وآل عمران على العلمین ذریة بعضها من بعض "زادالميعادجلد دوم ص٢٦٨ میں لکھا ہے ”فان الله سبحانه جعل عیسیٰ من ذریة ابراهیم بواسطة مریم امہ وھی من صمیم ذریة ابراهیم. انتهیٰ“ پس مرزا کذاب نے خدا کو گالیاں دیں۔ عیسیٰ کو خاتم النبیین کو علماء کو، تمام جملہ انبیاء کو، تمام مسلمانوں کو، اس نالائق مرتد کی گالی سے کوئی نہیں بچا۔ البتہ نانک کی بڑی تعریف کرتا ہے اور اس کی کرامتوں کا معتقد (دیکھو ست بچن) پس اب فرمائیے کہ مرزا کذاب۔ اس آیت کا مخالف ہوا یا ہم۔ اگر طبع وختم نہ ہو تو فوراً سمجھ آجاتی ہے کہ مرزا تمام دیانات وشرائع سے خارج ہے۔ علماً وعملاً اصولاً وفروعاً مبدأ ومعاداً لیکن ختم وطبع مانع ہو جاتی ہے۔

”وقالوا قلوبنا غلف بل طبع الله علیها بکفرهم فلا یؤمنون الا قلیلا کذالک يطبع الله علی کل قلب متکبر جبار“

اور ہم نے تو انشاء اللہ تعالیٰ اس آخری عمر کے حصہ میں اپنے نامہ اعمال میں ایمان وحسنات اضافہ کئے ہیں کہ دنیا میں ملحدوں زندیقوں مفسدوں مرتدوں سے علیحدہ ہو کر ان سے بغض للہ کیا، تا کہ آخرت میں ان سے جدا ہوئیں۔ جب کہا جائے ”احشروا الذین ظلموا وازواجهم“ اور کہا جائے ”وامتازوا الیوم ایها المجرمون “اور مہاجرین وانصار وانبیاء وصدیقین وشہداء وصالحین کا راستہ پکڑ کر ان سے حب للہ کیا تا کہ ان کے ساتھ ہمارا حشر ہو اور ان کی معیت دنیا اور برزخ اور آخرت میں نصیب ہو۔

”ومن يطع الله والرسول فاولئک مع الذین انعم الله علیهم من النبیین والصدیقین والشهداء والصالحین وحسن اولئک رفیقا “ مگر افسوس آپ کی حالت نازک پر کہ مرزا کذاب مدعی نبوت وساب انبیاء وشاتم اللہ عزوجل کے پنجہ میں بری طرح پھنس گئے۔ ”کالذی استهوته الشیاطین فی الارض حیران له اصحاب یدعونه الی الهدیٰ ائتنا “ اگر اسی حالت میں آپ گزر گئے تو آپ کا ”اذا النفوس زوجت “ کے وقت کیا حشر ہو گا جب آپ کو بحکم المرء مع من احب مرزا ملعون کے ساتھ جکڑ کر کہا جائے گا ”فاھدوھم الیٰ صراط الجحیم “ ہم تو دعا کرتے ہیں کہ اللہ عزوجل آپ کو مہاجرین وانصار وائمہ ہدیٰ ومشائخ دین کا متبع مقتفی گردانے اور کذاب ظالم کے پنجہ و شکنجہ سے بچا کر توفیق توبہ کی دے۔

آمین!

قولہ....... غلام احمد اور یہ کتابت آپ کی۔ اقول۔ غلام احمد میں احمد سے مراد سید احمد نیچری ہوگا۔

٢١٢

٩ اس لئے آپ نے مجرد احمد کہا بغیر صلوٰۃ مسنونہ اسی سے حاصل کیا ہے۔ اس نے اولاً انکار ختم نبو نبوی بجسد مبارک وانکار تولد مسیح علیہ السلام بے ذاتہ “ پس تمام سرمایہ نبوت ومجددی ومہدی و مرزا اسی کا غلام وممنون ہے۔ اگر وہ محسن مرزا مرزا قادیانی کے پاس کچھ نہیں رہتا۔ بلکہ دیوا وامی ﷺ کا تو مرزا سخت دشمن ہے اور نہ ان سے تیار ہے۔ اگر بالفرض احمد سے مراد محمد ہوں تو یہ

”کل مولود یولد علی الفطرة (الحدیث

پھر جب مرتد ہوا تو اس غلامی سے ا سے افضل بنا اور کہتا ہے کہ سورۃ صف میں ’ومب سے میں مراد ہوں اور میرے حق میں اتری ہے احمد یہ رکھا نہ غلامی۔ یا اوّل آسمان سے لڑکپن م ملعون وغیرہ اترے ہوں۔ ”فان الاسماء کلمہ بے جا نہیں بلکہ بعض امور واقعہ کا بیان ۔ کرتے ہیں۔ جیسا نصاریٰ نے رسول اللہ ﷺ تو اطراء کے باعث کہنے لگے تعصبت لمسیح یعنی کی نص کے مخالف ہوئے دیکھو ازالۃ الاوہام ص

قولہ ...... بہر حال شریف مکہ یہاں سے بیع اس جگہ کیا معنے اور پھر آپ کس قدر اس آیت ۔

یوم القیمة ومن اوزار الذین یضل ”ولیحملن اثقالهم واثقالا مع اثقالهم تعالى ومن اظلم ممن افتریٰ علی ا الاشهاد هؤلاء الذین کذبوا علی ربه عن سبیل الله ویبغونها عوجاً وهم انهم فی الآخرة هم الاخسرون“

صفحہ ٥٥٩

اس لئے آپ نے مجرد احمد کہا بغیر صلوٰۃ مسنونہ یا مفروضہ کے وایضاً مرزا قادیانی نے یہ سب سرمایہ اسی سے حاصل کیا ہے۔ اس نے اولاً انکار ختم نبوت کا کیا بطرز ارسطو وابن سینا۔ اس نے انکار معراج نبوی بجسد مبارک وانکار تولد مسیح علیہ السلام بے باپ وغیرہ کا کیا ”الى غير ذالک من شذو ذاته“ پس تمام سرمایہ نبوت ومجددیت ومہدویت وفتوحات کا مرزانے اسی سے حاصل کیا۔ اسی واسطے مرزا اسی کا غلام وممنون ہے۔ اگر وہ محسن مرزا سے اپنی نیچریت مستعار واپس لے لے تو پھر مرزا قادیانی کے پاس کچھ نہیں رہتا۔ بلکہ دیوالیہ بن جاتا ہے اور احمد بن عبداللہ ہاشمی فداہ ابی وامی ﷺ کا تو مرزا سخت دشمن ہے اور نہ ان سے کچھ لیتا ہے۔ مگر اگر ہاتھ پہنچے تو ختم نبوت چھیننے کو تیار ہے۔ اگر بالفرض احمد سے مراد محمد ہوں تو یہ نام ماں باپ نے رکھا ہے۔ اس وقت مسلمان تھا۔ ”کل مولود یولد علی الفطرۃ (الحدیث)“

پھر جب مرتد ہوا تو اس غلامی سے استنکاف واستکبار کرکے خود محمد واحمد واولوالعزم انبیاء سے افضل بنا اور کہتا ہے کہ سورۃ صف میں ”و مبشرا برسول یاتی من بعدی اسمہ احمد“ سے میں مراد ہوں اور میرے حق میں اتری ہے۔ نہ محمد ﷺ کے حق میں اور اپنی جماعت کا نام فرقہ احمدیہ رکھا نہ غلامیہ۔ یا اول آسمان سے لڑکپن میں غلام احمد اترا ہو اور بعد الارتداد زندیق مرتد کافر ملعون وغیرہ اترے ہوں۔ ”فان الاسماء تنزل من السماء“ اور ہماری کتابت میں تو کوئی کلمہ بے جا نہیں بلکہ بعض امور واقعہ کا بیان ہے اور آپ خلاف واقعہ بسبب افراط غلو کے گالی تصور کرتے ہیں۔ جیسا نصاریٰ نے رسول اللہ ﷺ سے جب مسیح بن مریم کے حق میں عبداللہ ورسولہ سنا تو اطراء کے باعث کہنے لگے تنقصت المسیح یعنی تو نے مسیح کو گالی دی۔ اس میں بھی آپ اپنے مرشد کی نص کے مخالف ہوئے دیکھو ازالۃ الاوہام ! اپنے مرشد کا ص ٤١٤، خزائن ج ٣ ص ١٠٩۔

قولہ...... بہر حال شریف اللہ یہاں سے بیعت کر کے واپس وطن کو گئے ہیں۔ اقول۔ بہر حال کا اس جگہ کیا معنے اور پھر آپ کس قدر اس آیت کے نیچے آئے ہیں ”لیحملوا اوزارهم كاملة يوم القيمة ومن اوزار الذين يضلونهم بغير علم الا ساء مايزرون“ اور آیت ”وليحملن اثقالهم واثقالاً مع اثقالهم وليسألن يوم القيمة عما كانوا يفترون قال تعالى ومن اظلم ممن افترى على الله كذبا اولئك يعرضون على ربهم ويقول الاشهاد هؤلاء الذين كذبوا على ربهم الا لعنة الله على الظالمين الذين يصدون عن سبيل الله ويبغونها عوجاً وهم بالآخرة هم كافرون الى قوله تعالى لا جرم انهم فى الآخرة هم الاخسرون“

٢١٣

صفحہ ٥٦١

قولہ ...... شیخی و دعوی اور حکیم الامۃ کا ادعاء میری فطرت میں ہے نہیں ہاں انتم شہداء اللہ کے منہ سے نکالا ہے۔ ”واللہ اعلم فان الاسماء تتنزل من السماء“ الہی بخش الہی بخش الہی بخش۔ اقول۔ یہ کیسا تناقض فاحش ہے کہ اوّل انکسار فطرتی بیان کرنا اور پھر آسمان پر چڑھ بیٹھنا کہ میرا نام حکیم امت آسمان سے اترا ہے اور شہداء اللہ نے رکھا ہے۔ آپ منہ سے میاں مٹھو۔ مـــن ترا قاضی بگویم تو مرا حاجی بگو ۔ جناب من آپ بمقتضائے حدیث ”اذا رأیتم المداحین فاحثوا فی وجوہھم التراب“ ایسے شہداء الشیطان کے منہ میں مٹی ڈالتے نہ یہ کہ میاں مٹھو بن کر فخر کرتے بلکہ ایسے نام جس میں مدح وخودستائی وتزکیہ نفس ہو ممنوع ہیں قال تعالیٰ ”فلاتزکوا انفسکم“ جیسے نور دین و امام دین وشمس الدین وغیرہ اور رسول اللہ ﷺ ایسے ناموں کو تبدیل کرتے اور علماء اسلام نے بھی منع کیا ہے اور بعضے ناموں کو رسول اللہ ﷺ نے اقبح الاسماء کہا ہے اور اللہ عزوجل فرماتا ہے ”بئس الاسم الفسوق بعد الایمان“ کیا یہ سب جائز ومطابق واقعہ ہوتے ہیں۔ ہرگز نہیں۔ آپ نے:

برعکس نہند نام زنگی کافور

نہیں سنا اور شاید کالے کتے کا نام موتی بھی نہیں سنا۔ اور عبداللہ بن ابی ابن سلول رأس المنافقین کے کیسا عدو دین اور نام عبداللہ اور اس کے بیٹے کا نام بھی عبداللہ۔ ”وبینہما کما بین السماء والارض“ ایسی مثالیں بے شمار ہیں کوئی عاقل اس کا انکار نہیں کرسکتا۔ پھر یہ اسماء نہیں القاب ہیں نام آپ کا نورالدین اور لقب حکیم امت اور دونوں خلاف نفس الامر اور مطابق ؎

برعکس نہند نام زنگی کافور

اور کیا یہ القاب آپ کے آسمان سے اترے ہیں اور شہداء اللہ کی زبان سے نکلے ہیں؟ اور جو تمام اہل اسلام جمیع مہاجرین وانصار آپ کے پیر و مرشد کے حق میں بولتے ہیں کہ مرزا قادیانی کافر مرتد زندیق ملحد ملعون لعین جاہل مجہول وغیرہ ہے اور شب و روز لعنتیں دیتے ہیں اور وہ لوگ قدیماً پختہ مسلمان متبع سلف امت ہیں۔ آپ جیسے متزلزل و متحیر ومتذبذب ”لاالیٰ ھولاء ولاء الی ھولا “ نہیں پس وہ اسماء آسمان سے نہیں اترے اور شہداء اللہ کی زبان سے نہیں نکلے جن کے حق میں وہ حدیث آئی ہے اور وہ مہاجرین وانصار واتباع ان کے ہیں۔ الیٰ یوم الدین نہ مرزائی کہ شہداء الشیطان ہیں اور مخالف مہاجرین وانصار کے ہیں اور کورواندھا کہنے والے ان کے۔ یہ تو آپ نے تین دفعہ الہی بخش الہی بخش الہی بخش کہا ہے۔ میں کہتا ہوں اگر دل میں ایمان سچے اخلاص وانابت وتقویٰ نہ ہو تو اگر ستر دفعہ کہیں تو بھی آپ کے حق میں ہرگز قبول نہیں ہوتی۔ ”قال

٢١٤

اللہ تعالیٰ فی امثالکم واشباہکم اسطـ سبعین مرۃ فلن یغفر اللہ لہم“ اور فرمایا: ”و تُقِم علیٰ قبرہ انہم کفروا باللہ ورسولہ وماتـ

قولہ ...... آپ استاد اور شاگرد کو پہلے شوخ فرماتے اور آپ کو بتاؤں تو کیا بتاؤں۔ ہاں یہ ضرور ہے کـ بہت ہی دور ہیں۔

چشم بازو گوش بـ
خیرہ ام از

اقول ...... استاد نے آپ کو پہلے شوخ نہیں کہا بـ واستہزاء کیا اور طنزیں لگائیں۔ باوجود اس کم فہمی اـ گستاخی نہ چاہئے اور آپ مان چکے ہیں کہ الدیـ نہ آئے اب اضحوکۃ الصبیان اور صراطِ مـ اور کہا کہ اپنا نامہ اعمال اس آخری عمر میں تباہ کیا کـ پھر آپ خود انصاف کریں کہ یہ شو زیادہ گستاخی کا سوال از آسمان و جواب از ریسمـ بے ہودہ باتوں میں ٹالا۔ ایسا معاملہ استاد سے باپا ہم بازی۔ اور مطابق شعر مرقومہ کے چشم و گو کا اقرار کیا گویا اپنے صم بکم عمی ہونے پر اس شعر یتبعہم الغاون الم تر انہم فی کل وا کے پاس ہے ہی کیا جو بتادیں بجز صریح غـ ”بمالم تحیطوا بعلمہ“ اور ”تقولُ علـ اور الحاد وزندقہ مرزا کذاب کے ”قال تعـ بالحق لما جائہم فہم فی امر مر ھاانتم ھؤلاء حاججتم فیما لکم بہ عـ تعالیٰ وان تقولوا علی اللہ مالـ الکتاب ان لا یقولوا علی اللہ الا الحـ

صفحہ ٥٦١

الله تعالىٰ فی امثالكم واشباهكم استغفرلهم ولا تستغفرلهم ان تستغفرلهم سبعين مرة فلن يغفر الله لهم" اور فرمایا: "ولا تصل على احدمنهم مات ابداً ولا تقم على قبره انهم كفروا بالله ورسوله وماتوا وهم فاسقون" قول ...... آپ استاد اور شاگرد کو پہلے شوخ فرما چکے اب میں دریافت کروں تو کیا دریافت کروں اور آپ کو بتاؤں تو کیا بتاؤں۔ ہاں یہ ضرور ہے کہ کہوں غلام احمد کو برا کہنے والی صراطِ مستقیم سے بہت ہی دور ہیں۔

چشم باز و گوش باز و ایں زماں
خیرہ ام از چشم بندی خدا

اقول ....... استاد نے آپ کو پہلے شوخ نہیں کہا بلکہ جب آپ نے پہلے خود استاد کو چھیڑا اور تمسخر واستہزاء کیا اور طعنیں لگائیں۔ باوجود اس کم فہمی اور بے علمی و بد نیتی کے تو البتہ ضمیمہ میں کہا گیا کہ ایسی گستاخی نہ چاہئے اور آپ مان چکے ہیں کہ الدین النصیحہ صحیح حدیث کا جملہ ہے لیکن پھر بھی آپ باز نہ آئے اب اضحوکۃ الصبیان اور صراط مستقیم سے بہت دور وغیرہ استاد کے حق میں اضافہ کیا اور کہا کہ اپنا نامہ اعمال اس آخری عمر میں تباہ کیا کہ مرزا غلام احمد کو بے جا الفاظ سے یاد کیا وغیرہ۔ پھر آپ خود انصاف کریں کہ یہ شوخی و گستاخی ہے یا نہ؟ اور پھر یہ شوخی اور سب سے زیادہ گستاخی کا سوال از آسمان و جواب از ریسمان۔ استاد کے خط کے کسی فقرہ کا جواب نہ دیا اور بے ہودہ باتوں میں ٹالا۔ ایسا معاملہ استاد سے سوائے آپ کے کوئی نہیں کرتا۔ بازی بازی باریش بابا ہم بازی۔ اور مطابق شعر مرقومہ کے چشم و گوش اپنے کو معطل کر کے اپنی چشم بندی سے خیرہ ہونے کا اقرار کیا گویا اپنے صم بکم عمی ہونے پر اس شعر سے استدلال کیا۔ "قال تعالىٰ والشعراء يتبعهم الغاون الم تر انهم في كل واد يهيمون وانهم يقولون مالا يفعلون " آپ کے پاس ہے ہی کیا جو بتاویں بجز صریح مخالفت معقول و منقول اور تکذیب رسول اور تکذیب "بمالم تحیطوا بعلمه " اور "تقول على الله وعلى الرسول" اور "تكلم بغیر علم" اور الحاد وزندقہ مرزا کذاب کے "قال تعالىٰ بل كذبوا بمالم يحيطوا بعلمه بل كذبوا بالحق لما جائهم فهم فى امر مريج اور تكلم" بغیر علم سخت حرام ہے "قال تعالىٰ ها انتم هؤلاء حاججتم فیما لكم به علم فلم تحاجون فيماليس لكم به علم وقال تعالىٰ وان تقولوا على الله مالا تعلمون وقال تعالىٰ الم يؤخذ عليهم ميثاق الكتاب ان لا يقولوا على الله الا الحق ودرسواما فیه" اور بغیر مجادلہ و جدال بالباطل اور

٢١٥

صفحہ ٥٦٢

دفع حق کے آپ کے پاس کچھ نہیں۔ "وجادلوا بالباطل ليد حضوا به الحق، يجادلونك فى الحق بعد ما تبين" اور آپ کے پاس لیاقت ہے کیا جو کوئی بات معقول دریافت کریں۔

اگر دریافت کریں گے تو پوچ بے معنی جیسے آپ کا پیر و مرشد دریافت کرتا ہے۔ کہ عیسیٰ کے لئے آسمانوں پر مٹی کہاں ہے اور کھاتے کیا ہیں؟ پہنتے کیا ہیں؟ وغیرہ۔ پس آپ کو اپنی نادانی و کم فہمی کے چھپانے کے واسطے اچھا بہانہ مل گیا کہ استاد نے مجھ کو شوخ کہہ دیا۔ سبحان اللہ ! اور پھر آپ نے مجھ کو صراط مستقیم سے بہت دور تو کہہ دیا لیکن صراط مستقیم کی حد و تعریف نہ لکھی اور نہ ہماری دور ہونے کی کوئی دلیل و سلطان بیان کیا۔ مجرد دعویٰ ہی دعویٰ کیا۔ انصاف و دیانت و عقل و حکیم امت ہونا آپ کا اسی کو چاہتا ہے "قل هاتوا برهانكم ان كنتم صادقین" آپ نے بسبب اپنی کج فہمی و کج ادائی کے صراط معوج و صراط جحیم کو جو صراط مغضوب عليهم وضالین کا ہے۔ صراط مستقیم سمجھ لیا ہے۔

فاتحہ الکتاب میں ہے کہ صراط مستقیم وہ ہے جو صراط منعم علیهم کا ہے نہ مغضوب عليهم وضالین کا اور سورہ نساء میں منعم عليهم کو بیان کیا کہ وہ نبیین وصدیقین وشهداء وصالحین ہیں اور مہاجرین وانصار ہیں جو بعد انبیاء کے افضل الاولین و الآخرین ہیں۔ سورہ توبہ میں اللہ عزوجل فرماتا ہے کہ میں مہاجرین و انصار اور ان کے تابعداروں سے راضی ہوں اور وہ مجھ سے راضی ہیں اور فرمایا : "ويتبع غير سبيل المؤمنين نوله ما تولى ونصله جهنم وساءت مصيرا" اور مؤمنین اس وقت مہاجرین و انصار تھے۔ پس اب اگر کچھ بقیہ وآلائش واثر انصاف وامانت کا آپ کی فطرت میں باقی ہے تو بتاؤ کہ ہم اس صراط مستقیم سے بہت دور رہیں یا آپ اور آپ کا پیر کذاب جو انبیاء و صدیقین و مہاجرین و انصار کو گالی دینے والا تغلب سے ختم نبوت توڑنے والا سب مومنوں کو کور و اندھا کہنے والا۔ سید احمد نیچری کا کاسہ لیس وغلام ۔ نہ احمد عربی ہاشمی ﷺ کا۔ اب انصاف آپ ہی پر ہم چھوڑتے ہیں لیکن اگر آپ نے اللہ عزوجل و رسول اللہ ﷺ کا لحاظ و طرف داری کو بخاطر پیر و مرشد کذاب اپنے کے صاف چھوڑ دیا تو اس کو بجز بے ایمانی کے کیا کہا جائے گا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ پیر آپ کا صراط مستقیم سے بمراحل دور اور عدو ہے۔ احمد عربی فداہ ابی و امی ﷺ کا۔ اگر یہاں آپ چشم بند کر کے اکذب الکذابین واظلم الظالمین کو صادق خیال فرما کر صم بکم عمی ہورہے تو میں ڈرتا ہوں کہ کل آپ کو کہنا پڑے گا "لو كنا نسمع او نعقل ما كنا فى اصحاب السعیر" اور مرزا کذاب کو یہ کہو

٢١٦

گے "تالله ان كنا لفی ضلال مبین اذ نسـ قوله ...... "سبحان الله وبحمده محمد خاتم النبيين الى قوله الى يوم اقول ...... جب مرزا خدا کا بیٹا بنا اور آپ عزوجل آپ کے نزدیک عاجز ولا چار ہو کر تحمید کا کیا معنی ہوا ، اور جب پیر کذاب آپ معنی۔ اور جب اصحاب و خلفاء آپ کے مر صلوٰۃ منافقانہ کیسے ہوئی اور پھر "خاتم الن سے بنے اور فرشتے جب روح کو اچک کے ان کا محال ہوا۔ آپ کے پیر کے نزدیک ان حالت زنا میں اور کوئی آدمی آسمان پر جانہ سـ بجز نفاق ظاہری کے۔ قوله ...... "ثم اعلم ان الله يعلم الله . الخ“ اقول ...... یہ سب باتیں آپ کی فقط زبا اس قول کی تصدیق "ومنهم من يعـ مافی قلبه وهو الدالخصام ( الحرث والنسل والله لا يحب فحسبه جهنم وبئس المهاد" وقول انؤمن كما آمن السفهاء الا انهم وقوله تعالى "فلما جاء نهـ وغیرہ ذالک مرزا کذاب مفتری علی الـ وجود شریف اس کو نہ ملتا۔ اکثر بحیرہ جنـ و کفر و ارتداد جہاں میں پھیلا اگر توبہ وزنادقہ کے محشر میں ہوں گے "وجعـ "ہم تو آپ کے واسطے دعا (قصص)

صفحہ ٥٦٣

گے ’تالله ان كنا لفی ضلال مبین اذنسویکم برب العلمین“

قوله...... ”سبحان الله وبحمده سبحان الله العظیم وصلی الله سیدنا ومولانا محمد خاتم النبیین الیٰ قوله الیٰ یوم الدین“

اقول...... جب مرزا خدا کا بیٹا بنا اور آپ اس کی تصویر کے پجاری تو تسبیح کا کیا معنے؟ اور اللہ عزوجل آپ کے نزدیک عاجز ولاچار ہو کہ ایک آدمی کو مع جسد آسمان پر نہیں لے جا سکتا وغیرہ۔ تو تحمید کا کیا معنے ہوا، اور جب پیر کذاب آپ کا رسول و نبی بنا تو خاتم النبیین کا سوائے نفاق کے کیا معنی۔ اور جب اصحاب و خلفاء آپ کے مرشد مفتری کے نزدیک اندھے ہوئے یعنی گمراہ تو ان پر صلوٰۃ منافقانہ کیسے ہوئی اور پھر ”خاتم النبیین وخاتم الرسل وخاتم الکملاء“ کس تجویز سے بنے اور فرشتے جب روح کواکب کے ہوئے اور کواکب سے جدا ہونا ان کا اور زمین پر اترنا ان کا محال ہوا۔ آپ کے پیر کے نزدیک اور پھر اثر ان کا تمام لوگوں پر یکساں ہوا۔ حتیٰ کہ زانیہ پر حالت زنا میں اور کوئی آدمی آسمان پر جا نہ سکا تو نبوت و کتب وملائکہ کے ساتھ ایمان آپ کا کیسا ہوا بجز نفاق ظاہری کے۔

قوله...... ”ثم اعلم ان الله یعلم سرنا ونجوانا وهو یعلم السرو اخفی ونشهد الله۔ الخ“

اقول...... یہ سب باتیں آپ کی فقط زبانی جمع خرچ ہیں دھوکہ دینے کے لئے اور اللہ عزوجل کے اس قول کی تصدیق ”ومنهم من يعجبك قوله فى الحيوة الدنيا ويشهد الله على مافى قلبه وهو الدالخصام واذاتولى سعى فى الارض ليفسد فيها ويهلك الحرث والنسل والله لا يحب الفساد واذا قيل له اتق الله اخذته العزة بالاثم فحسبه جهنم وبئس المهاد“ وقولہ تعالیٰ ”واذا قيل لهم امنوا كما آمن الناس قالوا انؤمن کما آمن السفہاء الا انہم ہم السفہاء ولکن لا یعلمون“ و قولہ تعالیٰ ”فلما جاءتہم رسلہم بالبینات فرحوا بما عندہم من العلم“ وغیرہ ذالک مرزا کذاب مفتری علی اللہ کبھی اتنی خرابی و فساد فی الارض و تباہی نہ کر سکتا اگر آپ کا وجود شریف اس کو نہ ملتا۔ اکثر بھیرہ وجموں کشمیر وغیرہ اماکن میں آپ کی بدولت یہ فساد وزندقہ والحاد و کفر و ارتداد جہاں میں پھیلا اگر توبہ مقدر نہ ہوئی تو ماشاء اللہ آپ رئیس و امام و سرگروہ ملاحدہ وزنادقہ کے محشر میں ہوں گے ”وجعلناہم ائمۃ یدعون الی النار ویوم القیمۃ ہم من المقبوحین (قصص) “ ہم تو آپ کے واسطے دعا کرتے ہیں کہ اللہ عزوجل آپ کو توبہ نصوح نصیب کرے اگر

٢١٧

صفحہ ٥٦٤

”ازاغ الله قلوبهم ولوله ما تولى. وسواء عليهم اانذرتهم ام لم تنذرهم“ اپنا کام نہ کرتی ہوں اور اگر ان کے نیچے آچکے ہیں تو پھر ”انالله وانا اليه راجعون“ کے سواء کیا کہیں؟

قوله....... ”نقيم ونصلی ونصوم وحججنا ونعج“

اقول....... یہ کلمات ریا و سمع و غرور کے کتنی بڑی جہالت قلب پر دال ہیں۔ مولوی صاحب آپ اس آیت میں فکر کریں اور خوب تدبر کریں۔ حقیقت آپ پر کھل جائے گی قال تعالیٰ ”افلا يتدبرون القرآن ام على قلوب اقفالها ان الذين ارتدوا على ادبارهم من بعد ما تبين لهم الهدى الشيطان سول لهم واملى لهم ذالك بانهم قالوا للذين كرهوا ما انزل الله سنطيعكم فى بعض الامرو الله يعلم اسرارهم فكيف اذاتوفنهم الملائكة يضربون وجوههم وادبارهم ذالك بانهم اتبعوا ما اسخط الله وكرهو ارضوانه فاحبط اعمالهم“

اور اس آیت میں ”قل هل ننبئكم بالاخسرين اعمالا الذين ضل سعيهم فى الحيوة الدنيا وهم يحسبون انهم يحسنون صنعا اولئك الذين كفروا بآيات ربهم ولقائه فحبطت اعمالهم فلا نقيم لهم يوم القيمة وزنا “ وقوله تعالیٰ ”وقدمنا الى ماعملوا من عمل فجعلناه هباء منثوراً وايضاً“ مولوی صاحب نے حج قبل الردة کیا اس کو ردت نے باطل کر دیا۔ مومن تو ہر وقت اپنے اعمال کے باطل و ضائع ہونے سے ڈرتا ہے اور منافق کے تو دانت ہاتھی کی طرح دکھانے کے اور ہوتے ہیں اور حـجـجـنـا متکلم مع الغیر کا صیغہ ہے اور مرزا کذاب نے تو حج نہیں کیا پھر اس کو سوائے فخر و تعظیم نفس کے کیا سمجھا جائے۔ ”وماحججنا البيت میں البيت معرف باللام“ سے قادیان مراد ہو۔ اسی واسطے اس کو آپ بار بار دارالامن والایمان کہتے ہیں جو خاص نام مسجد الحرام کا ہے اور اس کے ساتھ اللہ عزوجل نے مخصوص کیا ”واذ جعلنا البيت مثابة للناس وامنا. ومن دخله كان آمنا “ اور ابراہیم کی دعا ”رب اجعل هذا البلد آمنا (الآيه)“ اور آپ کا پیر کذاب بھی قادیان کو مکہ و مدینہ قرار دیتا ہے۔ چنانچہ انداز آپ کا بھی یہی گواہی دیتا ہے۔ اور انشاء اللہ آپ کا مثل طائفہ مرجئہ کی ہو کہ تمام اعمال بدیں استثنیٰ کرتے ہیں اور کہتے ہیں ”آمــنــت انـشـاء الله وغـيـر ذالک“ یعنی اب بھی ہم حج کرتے رہتے ہیں۔ قادیان دارالامن والایمان کا اور کذاب نے اپنے گھر کی پیشانی پر یہ آیت لکھی ہے ”ومن دخله کان آمنا“ اور (ازالہ ص ١٤٥، خزائن ج ٣ ص ١٦٨) میں یہی آیت اپنے گرجا کی نسبت لکھی۔ اس سے صاف ظاہر ہے کہ وہ خبیث

٢١٨

صفحہ ٥٦٥

بھی مثل ابرہہ کے صرف حج کا رخ مکہ سے قادیان کی طرف چاہتا ہے۔ ورنہ وہ تو مکہ شریف کے داخل ہونے سے ممنوع ومحبوس ہے۔

مثل مسیح الدجال کے کیونکہ یہ مثیل مسیح الدجال کا ہے۔ اگر اس میں شک ہے تو اس کو آپ ذرا لے تو جائیں حج تو اس پر سالہا سال سے فرض ہے ’وللہ علی الناس حج البیت من استطاع الیہ سبیلا ومن کفر فان اللہ غنی عن العلمین“ یہ اور دلیل اس کے کفر کی ہے۔ ”فاعتبروا یا اولی الابصار“

قولہ ...... آپ کی دھمکی کہ اخبار میں آپ شائع کریں گے ’اضحوکۃ الصبیان واللہ المستعان“

اقول ...... ہم نے آپ کو دھمکی نہیں دی بلکہ واقعی بات لکھی ہے اور بحکم الدین النصیحۃ کے جس کو آپ نے صحیح حدیث کا جملہ تسلیم کر لیا ہے۔ اس کا طبع کرانا مفید و مناسب جانا ہے۔ تاکہ ناظرین پر کھل جائے کہ جب راس ورئیس مرزائیوں کے ہیں اور اپنے نفس کو حکیم امت سمجھتے ہیں وہ ایسے دھوکہ باز بے انصاف خائن مطففین حق سے روگردانی کرنے والے مرزا کو طاغوت بنانے والے بے علم و کج فہم ہیں کہ اول خود اپنے استاد کو ایسی بدتہذیبی سے چھیڑتے ہیں اور پھر جب جواب معقول ملے تو جواب سے لاچار ہو کر حق سے اعراض کر کے لغو باتیں خارج بحث لکھ مارتے ہیں اور وہ بھی مجرد دعاوی بلا برہان اور تقویٰ ودیانت وامانت کے بوادی میں نہیں۔ چنانچہ ان کے مرشد کذاب کا بھی یہی سلیقہ ہے۔

چنانچہ اس نے دہلی انبالہ بٹالہ وغیرہ اماکن میں کیا اور جلسہ لاہور کا خود محرک بنا پھر موقعہ پر بے حیائی سے مستورات میں مستور ہو گیا۔ ایسا ہی جب مولوی ثناء اللہ صاحب اس کی پیشگوئی کی تکذیب کے لئے اسی کی درخواست پر قادیان جاپہنچے تو مرزا کذاب بیت الخلاء پر مع الخوائف بیٹھ گئے۔ ایسا ہی ایام جلسہ علماء ندوہ میں بہت ملاؤں کے دستخط کر کے درخواست بھیجی تو سوائے سرکاری رسید کے کچھ جواب نہ دیا۔ ایسا ہی تمام مرزائیوں کا طریقہ ہے مثل شیخ ومسلم اول اپنے کے اولاً انا رجالکم کہہ دیتے ہیں اور پھر موقع پر بوقت تقابل صفین والتقاء جندین وترائی فئتین ”انی بری منک انی اخاف اللہ رب العلمین“ کہتے ہیں جیسا آپ نے جواب سے اعراض کر کے زنانہ شکایتیں کہ مجھ کو شوخ کہا وہ کہا یہ کہا نامۂ اعمال سیاہ کیا وغیرہ اور پھر شہادت کا کلمہ پڑھنا شروع کر دیا۔

لہٰذا ہم تمام مرزائیوں کے حق میں یہ آیت پڑھتے ہیں ’ویشہد اللہ علی ما فی

٢١٩

صفحہ ٥٦٦

قلبه (الآيه) ”ہم نے اس واسطے اس کا چھاپنا مناسب سمجھا ہے۔“ نصيحة الله ولرسوله والائمة المسلمين وعامتهم ”پس آپ دھمکی نہ سمجھیں۔“ يحسبون كل صيحة عليهم هم العدو فاحذرهم قاتلهم الله انی یؤفکون ”اور دیکھا جائے گا کہ ہم اضحوكة الصبیان ہیں یا آپ“ ان تضحکوا منا فانا لنضحك منکم کما تضحکون“۔

اللہ اكبر هتكت استارکم
حتى غدوتم ضحكة الصبيان
تاالله قد لاح الصباح لمن له
عينان نحو الفجر ناظرتان
واخو العماية في عمايته يقول
الليل بعد يستوى الرجلان

قوله...... نورالدین از دارالامن والایمان قادیان۔

اقول...... اگر نورالدین میں ایک ذرہ بھر نور دین وانصاف کا ہوتا تو پہلے ہمارے خدشہ کا جواب دیتا کہ مرزا قادیان کو یزیدیوں کا قصبہ کہتا ہے اور علماء اسلام اس کو دارالکفر والزندقہ والطغیان فرماتے ہیں اور تم سب سے مخالف دارالامن والایمان کہتے ہو تم سب کے مخالف بنے ؎

نہ ادھر کے ہوئے نہ ادھر کے ہوئے
نہ خدا ہی ملا نہ وصال صنم

فلاحول ولا قوة الا باللہ یہ کیسا ظلم ہے کہ بے دلیل مہربان ایسے انجس اخبث مکان کو جو مجمع مفسدین مرتدین ضالین ومغضوب علیہم کا ہو جیسے رأس الکذابین مرزا و عبدالکریم۔ سیالکوٹی وامروہی ونور دین جو ایمانی و روحانی قطاع الطریق ہیں۔ ایسے ناپاک کفر خانہ کو بیت اللہ شریف کا خاص لقب دیا جائے۔ یہ ایمان سے بہت بعید ہے۔ مکہ شریف کے مبارک و دارالامن والایمان ہونے پر تو اللہ عزوجل نے قرآن شریف میں گواہی دی ہے اور بانی اس کا ابراہیم خلیل الرحمٰن واسماعیل ذبیح اللہ علیہما السلام ہیں اور ابراہیمؑ کی دعا۔ اور مقام ابراہیم وحجر اسود ارکان وصفا ومروہ وزمزم ومزدلفہ ومشعر الحرام وعرفات وغیرہ۔

شعائر اللہ واعلام اسلام ومتبرکات ہیں۔ اور مولد خاتم النبیین کا ہونا اور ملجاء عالم ہونا اور جن جبابرہ نے اس کا قصد کیا مثل ابرہہ کے ان کو آسمانی عذاب سے ہلاک کرنا اور انبیاء سابقین کے بشارات وغیرہ دلائل ہیں۔ اب آپ ذرا براہ مہربانی بتا دیں کہ اس پلید بقعہ کے دارالامن

٢٢٠

صفحہ ٥٦٧

با ایمان ہونے کی کیا دلیل ہے۔ ورنہ خدا اور رسول سے شرماویں۔ فقط مرزا خبیث کی تقلید پلید پر۔ واہ سبحان اللہ! یہ ہے علم و فضل و انصاف امانت و حکیم امت ہونہار اس المرزائیں کا فلاحول ولا قوۃ الا باللہ العلی العظیم۔ ہم بطور پیشینگوئی کہتے ہیں کہ اگر تم تمام مرزائی جماعت جمع ہو جاؤ مع مرزا کذاب کے تو بھی ہماری اس تحریر کا جواب اس طرح قول قول پکڑ کر جس طرح ہم نے تمہاری تحریروں کا جواب لکھا ہے۔ مبرہن و مدلل منصفانہ کبھی نہ لکھ سکو گے۔

"وان لم تفعلوا ولن تفعلوا فاتقوا النار التی وقودہا الناس والحجارۃ اعدت للکافرین" کیونکہ ہم کو آپ کا سرمایہ علم و فضل معلوم ہے۔ ہاں یا آپ بالکل سکوت کر جاؤ گے یا عورتوں کی طرح شکایتیں و طعن و تشنیع قبیح بلا برہان و لغویات سے پیش آؤ گے۔ کیونکہ حجت و برہان و دلیل کے نام سے آپ واقف نہیں۔ اگر اور کچھ نہ بن سکا تو جھوٹا تصوف دیا۔ فریبانہ قلم لے بیٹھیں گے۔

اگر آپ مرد میدان ہیں تو چاہئے کہ میدان میں نکلیں اور مردانگی دکھائیں جیسا پہلے خود چھیڑا اس مناظرہ کو تمام بھی کریں حجت و برہان سے۔ آپ تو ایسے زبردست نئے رسول کی امت ہیں جو اولوالعزم انبیاء کے مقابلہ میں انا خیر منہ کہتا ہے۔ چنانچہ اس کے معلم اول نے آدم کے مقابلہ میں انا خیر منہ کہا تھا۔ آپ کا رسول کہتا ہے ۔

ابن مریم کے ذکر کو چھوڑو
اس سے بہتر غلام احمد ہے

(درثمین اردو ص ٢٢)

اور چاہئے تھا اس طرح کہتا ۔

ذرا ابلیس کے ذکر کو چھوڑو
اس سے بدتر غلام احمد ہے

تو پھر آپ کو چاہئے کہ پورا پورا جواب لکھیں۔ مبرہن و مدلل قول قول پکڑ کر جیسا ہم نے تمہاری تحریروں کا جواب دیا اور پہلی تحریر کا بھی ضرور جواب دیں مجرد استعاذیں آپ کی کام نہیں آتیں۔ جیسا آپ فرماتے ہیں۔ غلام احمد اور یہ کتابت آپ کی۔ یہ دھوکے مرزائیوں کو دیجئے اور اگر آپ ایسا جواب بالاستیعاب مبرہن نہ دیں (اور نہ دے سکو گے) تو پھر مہربانی فرما کر ہمارے اوقات کی تضییع نہ کریں۔ ہم کو امید کامل ہے کہ آپ جواب میں شکایتیں جو عورتوں کا شیوہ ہے اور

٢٢١

صفحہ ٥٦٩

عجز کی دلیل سمجھ کر یہ کہا وہ کہا وغیرہ۔ لغویات و بہتان پیش کریں گے۔

ما عندكم الا الدعاوى والشکا
وی او شهادات على البهتان
هذا الذی والله نلنا منکم
فی الحزب اذ يتقابل الصفان

”فقط والسلام على من اتبع الهدى، وصلى الله تعالى على خير خلقه ورسوله محمد وآله واصحابه اجمعين والحمدلله رب العلمين“ ”علی صاحبه والصلوة والسلام الحمدلله رب العلمین“

(مورخہ ٢٧ مئی ١٩٠٣ء مطابق ٢٥؍ماہ صفر ١٣٢١ھ)

تعارف مضامین ...... ضمیمہ شحنہ ہند میرٹھ سال ١٩٠٣ء/ جولائی کے شمارہ نمبر ٢٦/ کے مضامین

کر دیا گیا ہے۔ اس کے بعد شمارہ ٢٦؍ سے ایک مضمون

رہ جاتا ہے جو یہ ہے۔

١ ...... صومالی مہدی اور مرزا قادیانی کے دولاکھ والنٹیئر

مولانا شوکت اللہ میرٹھی !

مرزا قادیانی اپنے رقیبوں لندنی مسیح مسٹر پگٹ اور پیری مسیح ڈاکٹر ڈوئی اور صومالی مہدی عبداللہ کا جب نام سنتے ہیں تو مارے غصے کے دانت پیستے ہیں اور بدن کا رواں رواں بڑھیا کے چرخے کے تکلے کی طرح بل کھا کر کھڑا ہو جاتا ہے۔ لیکن تعجب ہے کہ ایسے موقع پر اپنے دولاکھ والنٹیئر سے کام نہیں لیتے۔ پیرس اور لندن پر تو چڑھائی کرنا فضول ہے کیونکہ خود وہاں کی تعلیم یافتہ اور مہذب پبلک دونوں مسیحوں کو حقارت کی نگاہ سے دیکھتی ہے اور ان کی کوئی حقیقت اور بساط نہیں سمجھتی اور یہ دونوں مسیح اپنی اپنی گورنمنٹ کے مخالف بھی نہیں اور نہ انہوں نے گورنمنٹوں کے خلاف کوئی جتھا قائم کیا ہے۔

٢٢٢

البتہ صومالی مہدی تمام گورنمنٹوں خصوصاً اور اس سے بڑھ کر قادیانی مہدی کا حریف اور گاڑھا خواب خرگوش میں ہیں اور ان کے دولاکھ والنٹیئر کس تو کیا چولہے میں جھونکے جائیں گے۔ مرزا قادیانی یـ میں اس کے خانہ زاد غلاموں کا غلام ہوں مگر خالی خـ کے کام نہ آئے تو منہ جھلس دینے کے لائق ہے۔

پس مناسب ہے کہ مرزا قادیانی اپنے دو گورنمنٹ میں منتقل کر دیں۔ اگر یہ کہو کہ ان کے پاـ بندوق کی ٹھوں ٹھاں اور توپوں کی دن دن سے انکـ پتا اور برگ بید کی طرح لرزتا ہے۔ اور ان کو یہ بھـ چلائی جاتی ہے تو اس کا علاج سہل ہے۔ مرزا قادیا پر تیار ہو جاتے ہیں۔ پس اس جنرل کے سٹاف کـ میں دولاکھ والنٹیئر تیار ہو جائیں گے اور پھر جان بـ اور امام الزمان کے لئے صومالی مہدی سے لڑیں۔

اس امداد کے حصے میں مرزا قادیانی کو صومالی ملّـ اس کے لئے یہ بھی شرط ہے کہ خود مرزا قادیانی صومالی مہدی اور دوسری جانب قادیانی مہدی ہو

اور اگر اس عرصہ میں جبکہ مرزا قادیا مہدی کی چٹنی کر دی یا اس کو آہنی پنجرے میں قید فائدہ ہوگا ایک تو رقیب کا جھونپڑا پھک جائے گا ہمیشہ میری بھگتی کرتا اور خیر خواہ ہے اور جان نثاری

پس مرزا قادیانی کو لمحہ کی چوتھائی چوکنا نہ چاہئے کیونکہ وقت کا سرگنجا ہے۔ اس ۔ پکڑے جائیں گے تو وہ قابو میں رہے گا ورنہ ہـ

اب دیکھنا یہ ہے کہ منجملہ دولاکھ ۔ مند ہوتے ہیں اور کتنے مارے خوف کے طاـ

صفحہ ٥٦٩

البتہ صومالی مہدی تمام گورنمنٹوں خصوصاً ہماری برٹش گورنمنٹ کا بہت بڑا حریف ہے اور اس سے بڑھ کر قادیانی مہدی کا حریف اور گاڑھا رقیب ہے۔ پس معلوم نہیں مرزا قادیانی کس خواب خرگوش میں ہیں اور ان کے دولاکھ والنٹیر کس مرض کی دارو ہیں۔ اگر ایسے وقت کام نہ آئے تو کیا چولہے میں جھونکے جائیں گے۔ مرزا قادیانی برٹش گورنمنٹ کی بار بار خوشامد تو کرتے ہیں کہ میں اس کے خانہ زاد غلاموں کا غلام ہوں مگر خالی خولی غلامی سے کیا کام چلتا ہے۔ غلام اپنے آقا کے کام نہ آئے تو منہ جھلس دینے کے لائق ہے۔

پس مناسب ہے کہ مرزا قادیانی اپنے دولاکھ والنٹیروں کی خدمت مہم صومالی کے لئے گورنمنٹ میں منتقل کردیں۔ اگر یہ کہو کہ ان کے کان صرف شہنائی کی سریلی آواز سے آشنا ہیں۔ بندوق کی ٹھوں ٹھاں اور توپوں کی دن دن سے انکا کلیجا دھڑکتا ہے اور پتّا سا دل چھوئی موئی کی طرح ہلتا اور برگ بید کی طرح لرزتا ہے۔ اور ان کو یہ بھی معلوم نہیں کہ تلوار اور بندوق کس جانب سے چلائی جاتی ہے تو اس کا علاج سہل ہے۔ مرزا قادیانی دس دس اور بارہ بارہ ہزار کی تھیلیاں چھنکانے پر تیار ہوجاتے ہیں۔ پس اس جنرل کے سٹاف کی معقول تنخواہ مقرر کریں۔ خدا نے چاہا تو چند ماہ میں دولاکھ والنٹیر تیار ہوجائیں گے اور پھر جان توڑ کر نہ صرف گورنمنٹ کے لئے بلکہ اپنے مہدی اور امام الزمان کے لئے صومالی مہدی سے لڑیں گے اور جب اسے زیر کرلیں گے تو برٹش گورنمنٹ اس امداد کے حصے میں مرزا قادیانی کو صومالی مُلّا کا جانشین بنا کر وہاں کا مہدی مقرر کرے گی مگر اس کے لئے یہ بھی شرط ہے کہ خود مرزا قادیانی اپنی مرزائی فوج کی کمان کریں تاکہ ایک جانب صومالی مہدی اور دوسری جانب قادیانی مہدی ہو اور پھر دیکھیں کون چت کون پٹ ہوتا ہے۔

اور اگر اس عرصہ میں جبکہ مرزا قادیانی کے والنٹیر تیار ہوں۔ برٹش فوج نے صومالی مہدی کی چھٹی کر دی یا اس کو آہنی پنجرے میں قید کر کے کسی جزیرہ کو چلتا کردیا تو مرزا کا اس میں ڈبل فائدہ ہوگا ایک تو رقیب کا جھونپڑا پھک جائے گا اور برٹش گورنمنٹ کو یقین ہو جائے گا کہ مرزا قادیانی ہمیشہ میری بھلائی کرتا اور خیر خواہ ہے اور جان نثاری کا دم بھرتا تھا تو یہ محض دکھاوا نہ تھا بلکہ واقعی تھا۔

پس مرزا قادیانی کو لمحہ کی چوتھائی میں گورنمنٹ کے حضور درخواست بھیج دینی چاہئے چوکنا نہ چاہئے کیونکہ وقت کا سر گنجا ہے۔ اس کے ماتھے پر بال ہیں گدی پر نہیں۔ اگر ماتھے کے بال پکڑے جائیں گے تو وہ قابو میں رہے گا ورنہ بھاگ جائے گا۔

اب دیکھنا یہ ہے کہ جملہ دولاکھ کے کتنے مرزائی والنٹیر سروں کے ختنہ ہونے پر رضا مند ہوتے ہیں اور کتنے مارے خوف کے طاعونی نبی کے طاعونی چوہے بنتے ہیں۔ اس میں یہ بھی

٢٢٣

صفحہ ٥٧١

فائدہ ہوگا کہ مرزا قادیانی کو اپنے سب مرزائیوں کا امتحان ہو جائے گا کہ مرد میدان خالص مرزائی کون ہے اور ہاتھی کے روٹ میں پتی لڑانے والا کون ہے۔ ہم تو ہر وقت مرزا قادیانی کے بھلے میں ہیں۔ برے میں نہیں اور ہمیشہ نیک صلاح دیتے رہتے ہیں مگر افسوس ہے کہ مرزا اور مرزائی ہم پر ایمان نہیں لاتے۔

(ایڈیٹر)

تعارف مضامین ...... ضمیمہ شحنہ ہند میرٹھ

سال ١٩٠٣ء ١٦ جولائی کے شمارہ نمبر ٢٧ کے مضامین

اسی ترتیب سے پیش خدمت ہیں:

١ ...... تثلیث اور تبنیت، مسیحیت اور مہدویت

مولانا شوکت اللہ میرٹھی!

٢٤/ جون ١٩٠٣ء کے الحکم میں مرزا قادیانی فرماتے ہیں کہ: ”رومن کیتھولک اور پروٹسٹنٹ دونوں ایک ہی ہیں آدم زاد کی پرستش کرتے ہیں ایک دوسرے سے ممتاز نہیں۔ ایک بیٹے کی پرستش کرتا ہے تو دوسرا ماں کو بھی خدا بناتا ہے اور اس معاملہ میں وہ عقل مندی سے کام لیتا ہے۔ جب بیٹا خدا ہے تو ماں ضرور خدا ہونی چاہئے ۔“ الخ !

مگر آپ نے بھی مرزائیوں کو رومن کیتھولک اور پروٹسٹنٹ سے کچھ کم درجہ عنایت نہیں کیا۔ آپ بھی آسمانی باپ کے لے پالک ہیں جب باپ خدا ہے تو بیٹا کیوں خدا نہ ہو۔ وہاں تثلیث ہے تو یہاں تبنیت ہے۔ آپ نے اپنی تصویر کی پرستش کرائی گویا معبود بن گئے۔ یہ تصویر ہر مرزائی کے گھر میں موجود ہے جس کو تڑکے تڑک ننگے پاؤں منہ نہار ڈنڈوت کی جاتی ہے۔ پھر آپ کس منہ سے کہتے ہیں ”اب وقت آگیا ہے کہ انسان پرستی کا شہتیر ٹوٹ جائے ۔“ اگر آپ کے دم میں چند روز اور دم ہے تو علاوہ انسان پرستی کے دنیا میں تصویر پرستی اور منارہ پرستی بھی شائع ہو جائے گی۔

٢٢٤

مگر قدرت الہی جھوٹے معبودوں اور اور دنیا میں بہت دنوں ان کو پھولنے پھلنے نہیں دیتی ہو جاتے ہیں جیسے گدھے کے سر سے سینگ اور اڑ پتنگ بھلا جھوٹے نبیوں اور مہدیوں کا دنیا میں آج نمرود، ٹوٹ گیا سب کا تار پود، اور جہنم واصل ہو گئے الرب الودود۔

خیر سے مرزا قادیانی کے علاوہ اس و ہے۔ یعنی لندن میں پروٹسٹنٹ مسیح مسٹر پگٹ صومالی لینڈ میں مُلا عبداللہ مہدی ۔ یہ بھی خدا دوسرے کے مقابل کھل رہا ہے۔ یعنی عقلمند پبلک حقیقت پبلک کی تکذیب کی بھی ضرورت نہیں خو کر رہا ہے گویا چاروں آپ اپنی آگ میں جل ر یہ بدمعاش جو دنیا کو گمراہ کر رہے ہی کر لیتے کہ سچا کون ہے اور جھوٹا کون ہے۔ مگر ہے کہ ہم جھوٹے ہیں تو فیصلہ کرنے کو گھر وال ہوتے ہیں؟

ان مہدیوں اور مسیحوں میں اتنا فر تہذیب و آزادی اور فلسفیانہ تعلیم کی بدولت خ کیوں ماننے لگی۔ صاف کہہ دے گی کہ انہیں دو اور اگر کوئی عمداً کانسنس کے خلاف مسیح بنا تاکہ وہ آوارہ گردی اور بد معاشی میں چالان کال کوٹھی کرا دے۔

مگر وحشی ممالک سوڈان اور افر جاتی ہے اور ان کے ساتھ ایک جم غفیر ہو کر کے مہدیوں کی حالت مشاہدہ ہو چکی اور صوم اس کا وجود باعث تکلیف ہو گا مگر انجام وہی

صفحہ ٥٧١

مگر قدرت الٰہی جھوٹے معبودوں اور جھوٹے نبیوں کے گھمنڈ بہت جلد توڑ ڈالتی ہے اور دنیا میں بہت دنوں ان کو پھولنے پھلنے نہیں دیتی۔ چند روز کی شوراشوری کے بعد یوں غائب غلہ ہو جاتے ہیں جیسے گدھے کے سر سے سینگ اور افیونی کے دماغ سے پینک، کھانے کے بعد بھنگ کی پینک بھلا جھوٹے نبیوں اور مہدیوں کا دنیا میں آج کے روز کوئی نام لیوا بھی ہے مر گئے مردود فاتحہ نہ درود، ٹوٹ گیا سب کا تار و پود، اور جہنم واصل ہو گئے آل نمرود، مطرود، ونزل عليهم غضب الرب الودود۔

خیر سے مرزا قادیانی کے علاوہ اس وقت تین مسیح معہود اور ایک مہدی نامسعود موجود ہے۔ یعنی لندن میں پروٹسٹنٹ مسیح مسٹر پگٹ اور امریکہ میں رومن کیتھولک مسیح ڈاکٹر ڈوئی اور صومالی لینڈ میں ملا عبداللہ مہدی۔ یہ بھی خدائے تعالٰی کی حکمت ہے کہ چاروں کا عقیدہ ایک دوسرے کے مقابل کھڑا ہے۔ یعنی عقلمند پبلک پہچان رہی ہے کہ چاروں جھوٹے ہیں۔ اور در حقیقت پبلک کی تکذیب کی بھی ضرورت نہیں خود ہر مسیح اور مہدی دوسرے مسیح اور مہدی کی تکذیب کر رہا ہے گویا چاروں آپ اپنی آگ میں جل رہے ہیں۔

یہ مدعیان جو دنیا کو گمراہ کر رہے ہیں۔ میدان میں آ کے آپس میں کیوں فیصلہ نہیں کر لیتے کہ سچا کون ہے اور جھوٹا کون ہے۔ مگر جب یہ خود جھوٹے ہیں اور ان کو اچھی طرح معلوم ہے کہ ہم جھوٹے ہیں تو فیصلہ کرنے کو گھروں سے کون نکلے، بھلا کہیں چوروں کے بھی پاؤں ہوتے ہیں؟

ان مہدیوں اور مسیحوں میں اتنا فرق ہے کہ یورپ کی پبلک تو فلسفی مزاج ہے اور وہ تہذیب و آزادی اور فلسفیانہ تعلیم کی بدولت خود سچے مسیح کو واجبی ہی مانتی ہے تو ان نقلی مسیحوں کو کیوں ماننے لگی۔ صاف کہہ دے گی کہ انہیں مالیخولیا ہے ان کے سر پر برف کا پلاستر لگا کر پاگل خانے بھجوا دو اور اگر کوئی عمداً کانسنس کے خلاف مسیح بنا ہے اور دنیا کو لوٹنا چاہتا ہے تو پولیس کے حوالے کر دو تا کہ وہ آوارہ گردی اور بدمعاشی میں چالان کرے اور عدالت اسے سال بھر کی قید اور تین ماہ کی کال کوٹھری کرا دے۔

مگر وحشی ممالک سوڈان اور افریقہ وغیرہ میں جھوٹے مہدیوں کی دال بہت جلد گل جاتی ہے اور ان کے ساتھ ایک جم غفیر ہو کر سلطنتوں کے حق میں خوفناک ہو جاتے ہیں۔ سوڈان کے مہدیوں کی حالت مشاہدہ ہو چکی اور صومالی مہدی کی حالت نصب العین ہے اور غالباً چند روز میں اس کا وجود باعث تکلیف ہو گا مگر انجام وہی ہو گا جو مقنع اور اس کے چیلوں کا ہوا۔

٢٢٥

ہو جائے گا کہ مرد میدان خالص مرزائی ہم تو ہر وقت مرزا قادیانی کے بھلے میں مگر افسوس ہے کہ مرزا اور مرزائی ہم پر (ایڈیٹر)

حنہ ہند میرٹھ ٧٢ء کے مضامین

مولانا شوکت اللہ میرٹھی! مولانا شوکت اللہ میرٹھی! مولانا شوکت اللہ میرٹھی! مولانا شوکت اللہ میرٹھی! مولانا شوکت اللہ میرٹھی!

اور مہدویت

تے ہیں کہ : ’رومن کیتھولک اور دوسرے سے ممتاز نہیں۔ ایک ملے میں وہ عقل مندی سے کام لیتا

تکلیف سے کچھ کم درجہ عنایت نہیں ینا کیوں خدا نہ ہوا۔ وہاں تثلیث بن گئے۔ یہ تصویر ہر مرزائی کے جاتی ہے۔ پھر آپ کس منہ سے مر آپ کے دم میں چند روز اور دم ہو جائے گی۔

صفحہ ٥٧٣

اب رہے ہندی مسیح مرزا قادیانی ۔ وہ گورنمنٹ کے لئے تو بظاہر باعث تکلیف نہیں کیونکہ کیا پدی کیا شوربا، مگر مذہب اسلام کے لئے خصوصاً اور دیگر مذاہب کے لئے عموماً باعث تکلیف ہیں۔ کیونکہ انہوں نے امام الزمان ہونے کا دعویٰ کیا ہے جس کے یہ معنی ہیں کہ جو شخص مجھ پر ایمان نہ لاوے وہ ہر طرح کی دینی اور دنیوی عقوبت کا مستحق ہے۔ اس لئے ان کے وجود سے جب تک وہ زندہ ہیں ضرر کے پہنچنے کا احتمال ہے۔ اب بھی وہ درگزر کرنے والے نہیں مگر خیر یہی ہے کہ خدا نے گنجے کو ناخن اور لنگڑے کو پائے رفتار نہیں دیا۔

نامرادم دارد ایں افزونی خواہش بدہر
آب برمن بستہ آمد آرے واستسقائے من

برٹش گورنمنٹ ایک آزادی پسند گورنمنٹ ہے لہذا ہندوستان میں چند روز مرزا قادیانی کی چلے چڑھے گی اگر آپ افغانستان یا ایران وغیرہ اسلامی ممالک میں ہوتے تو معلوم ہوتا کہ کتنے دنوں مہدیت اور مسیحیت کی گرم بازاری رہتی ہے۔

ممالک یورپ چونکہ آزادی کے کھیت ہیں اور وہاں کی سرزمین میں آزادی خودرو گیاہ کی طرح اُگتی ہے۔ لہذا مرزا قادیانی اپنی تصویر اور اپنے رسالے بھیجتے ہیں اور بعض مقامات پر ایجنٹ بھی مقرر کرتے ہیں مگر افغانستان اور وسط ایشیا میں نہ کوئی مشن جاتا ہے نہ کوئی ایجنٹ جبکہ آپ امام الزمان ہیں تو ساری خدائی میں اپنی امامت کی یکساں منادی کیوں نہیں کرتے۔ اس صورت میں گویا خود مقر ہیں کہ میں صرف پنجاب وغیرہ کے مرزائیوں کا امام ہوں نہ کہ دیگر ممالک کا۔

دعویٰ تو یہ اور بزدلانہ کارروائی۔ یہ کیا امام الزمان اور رسول کی یہ شان ہے کہ وہ جان کے خوف سے اپنی امامت اور رسالت کی تبلیغ میں ہیر پھیر کرے۔

در کفے جام رسالت در کفے سندان حق
ہر مخنث کے نداند جام وسندان باختن

مرزا قادیانی روح اللہ کہلانے سے شرماتے ہیں

مرزا قادیانی اپنے کو بروزی نبی اور ظلی رسول اور مثیل مسیح اور مسیح موعود وغیرہ تو کہتے ہیں مگر روح اللہ نہیں کہتے جو اہل اسلام کے عقیدے کے موافق حضرت عیسیٰ مسیح کا لقب ہے اور خود خدائے تعالیٰ نے اپنے کلام پاک میں فرمایا: "كلمة القاها الى مريم وروح منه" مرزا قادیانی اپنے کو کلمۃ اللہ بھی نہیں کہتے۔ گویا خود بدبختی کو بلاتے ہیں۔ روح اللہ اور کلمۃ اللہ کیسی اعلیٰ درجے کی صفات ہیں جن سے جناب باری نے سیدنا مسیح کو ممتاز فرمایا ہے مگر مرزا قادیانی کو چونکہ

٢٢٦

مسیح سے عداوت ہے۔ لہذا انہوں نے ان دونوں ط روح الشیطان اور کلمتہ ابلیس کہلانا پسند فرمایا۔ سچ ہے ہی ملنا ہے۔

جب روح اللہ اور کلمۃ اللہ کہلانے سے عین میں مسیح موعود کیونکر ہیں۔ آپ نے تو اپنی آمد و پھر آدھا تیتر آدھا بٹیر بھی ہے کیا مسیح ا

مسیحیوں کے عقیدے کے موافق ابن اللہ (لے عیسائیوں میں ملے ہیں مگر ذرا عیسائیوں سے تو پوچھ کہ جب کسی مسیحی کے سامنے آپ کا تذکرہ ہوتا ہے

الغرض آپ ادھر تو مسلمانوں کے مر جیسا کیموفلاج کیا ہے آپ کا جی ہی خوب جانتا ہے مگر اللہ القہار یہ حالت ہے۔

نفرت ہے جو مومن
آغوش میں لے ن

٢ ....... قرآ

مولانا شوک

مرزائیوں کے حکیم الامت ٢٣؍ جون کی تلاوت کرو مگر عمل کے لئے۔ اگر قرآن شری نظر آئے کہ اس پر عمل نہیں ہو سکتا تو یاد رکھو ایسا چپڑی باتیں نرا شکاری کا جال یا لاسا اور مرزائیو تو یہی دیکھ رہے ہیں کہ مرزائیوں میں قرآن مج مرزا قادیانی کے گھر میں علاوہ زر ن جڑاؤ زیورات موجود ہیں اور جائیدادیں علاو ادا ہونے لگی۔ کچھ دیں گے بھی تو بہوؤں کو یا ہیں۔ خود حکیم صاحب لکھ چکے ہیں مگر حج کے نام لگتا ہے۔ جابجا قرنطینے ہیں کوئی پوچھے قرنطین

صفحہ ٥٧٣

مسیح سے عداوت ہے۔ لہٰذا انہوں نے ان دونوں مقدس متبرک خطابوں سے انکار کر کے اپنے کو روح الشیطان اور کلمتہ ابلیس کہلانا پسند فرمایا۔ سچ ہے جیسی روح ویسے ہی فرشتے اور جیسا منہ ویسے ہی طمانچے۔

جب روح اللہ اور کلمتہ اللہ کہلانے سے عار ہے تو آپ مثیل المسیح اور پھر اصیل المسیح یعنی عین میں مسیح موعود کیونکر ہیں۔ آپ نے تو اپنی آبرو پر خود پانی پھیر دیا۔

پھر آدھا تیتر آدھا بٹیر بھی ہے کیا معنی کہ آپ روح اللہ اور کلمتہ اللہ تو نہیں ہیں۔ ہاں مسیحیوں کے عقیدے کے موافق ابن اللہ (لے پالک) ضرور ہیں یعنی اسلام سے خارج ہو کر عیسائیوں میں ملے ہیں مگر ذرا عیسائیوں سے تو پوچھو کہ وہ آپ کو کیا سمجھتے ہیں؟ اتنا تو ہم کو معلوم ہے کہ جب کسی مسیحی کے سامنے آپ کا تذکرہ ہوتا ہے تو وہ دھار مارنے کو تیار ہو جاتا ہے۔

الغرض آپ ادھر تو مسلمانوں کے مردود، ادھر مسیحیوں کے مطرود، اور آریوں سے ٹھنی تو جیسا یکدم کیا ہے آپ کا جی ہی خوب جانتا ہے پھر کس برتے پر تتا پانی آپ کی تو حسب نقل شوکت اللہ القہار یہ حالت ہے ؎

نفرت ہے جو مومن کو تو ہے گبر کو ضد
آغوش میں لے نہ کعبہ نہ دیر ہمیں

٢ ...... قرآن مجید پر عمل

مولانا شوکت اللہ میرٹھی ! مرزائیوں کے حکیم الامتہ ٢٣؍ جون ١٩٠٣ء کے الحکم میں فرماتے ہیں ”قرآن شریف کی تلاوت کرو مگر عمل کے لئے۔ اگر قرآن شریف میں کوئی ایسی آیت پاؤ جو مبہم معلوم ہو اور ایسا نظر آئے کہ اس پر عمل نہیں ہو سکتا تو یاد رکھو ایسا خیال سخت خطرناک ہے۔“ حکیم صاحب کی یہ چکنی چپڑی باتیں نرا شکاری کا جال یا لاسا اور مرزائیوں کا دلاسا ہے یا اس میں کچھ صداقت بھی ہے۔ ہم تو یہی دیکھ رہے ہیں کہ مرزائیوں میں قرآن مجید پر عمل کرنا درکنار کیا معنی محال ہو رہا ہے۔

مرزا قادیانی کے گھر میں علاوہ زر نقد دفینہ اور خزینہ کے مستورات کے پاس سونے کے جڑاؤ زیورات موجود ہیں اور جائیدادیں علاحدہ مگر حج کے نام سے موت آتی ہے اور زکوٰۃ تو کیوں ادا ہونے لگی۔ کچھ دیں گے بھی تو بھوکوں کو نہیں بلکہ قادیان کے بھوتوں کو جو کواڑ پوتوں سے بڑھ کر ہیں۔ خود حکیم صاحب لکھ چکے ہیں مگر حج کے نام سے لرزہ چڑھتا ہے اور عذر لنگ یہ کہ راستے میں ڈر لگتا ہے۔ جابجا قرنطینے ہیں کوئی پوچھے قرنطینہ میں کیا خرابی ہے اور حج کی ممانعت کس گورنمنٹ نے

٢٤٧

صفحہ ٥٧٥

کب کی؟

یوں کیوں نہیں کہتے کہ جہازوں کے غرق ہو جانے کا خوف ہے جو پہلے کبھی نہیں ہوا۔ اب خروج دجال کا وقت ہوا ہے۔ باوجود قرنطینہ وغیرہ کی دشواریوں کے لاکھوں مسلمان اقطار دنیا سے حج کرنے جاتے ہیں اور من استطاع الیہ سبیلا الآیت پر عمل کرتے ہیں۔ خدائے تعالیٰ نے حج کے لئے صرف استطاعت کی قید لگائی ہے۔ اس کے سوا نہ کوئی شرط ہے نہ کوئی قید ہے۔ ہاں بزدلوں، نامردوں، خدا اور رسولوں کے چوروں کو ہر وقت خوف ہے اور مرزا قادیانی جس صورت میں مارے خوف کے بجز اجراء سمن یا وارنٹ کے گھرواہے سے بھی باہر نہیں نکل سکتے تو حج کو کیا خاک جائیں گے؟

اگر اب کے پھرے جیتے وہ کعبہ کے سفر سے
تو جانیں کہ مرزا پھرے اللہ کے گھر سے

حالانکہ آسمانی باپ الہام کر چکا ہے کہ لے پالک کو کوئی ہلاک نہ کر سکے گا۔ مگر الہام پر لے پالک کا ایمان نہیں۔ وہ خیالی خوف سے کونوں کھدروں میں چھپا پھرتا ہے۔ دیکھو سچا الہام اور سچی پیشینگوئی اسے کہتے ہیں جو ہمارے معزز نامہ نگار نے ضمیمہ میں کی تھی کہ مرزا اگر چاہے گا بھی تو حج کو نہ جا سکے گا اور خدائے تعالیٰ یہ نعمت اس کو ہرگز عطا نہ کرے گا۔ یہ نعمت اس کی پھوٹی قسمت میں لکھی ہے۔

باوصف اس کے آنحضرت ﷺ پر رسالت اور نبوت ختم ہو چکی۔ قرآن شاہد حدیث شاہد۔ پھر بھی ایک نیا نبی گھڑ لیا گیا اسی کا نام عمل بالقرآن ہے؟ حکیم صاحب کو ابلہ فریبیوں اور منافقانہ وعظوں سے شرم کرنا چاہئے۔

٣...... مرزائیوں کو مرزا قادیانی کی ڈانٹ

مولانا شوکت اللہ میرٹھی!

ایک گزشتہ الحکم میں مرزا قادیانی نے مرزائیوں کو ڈانٹا ہے کہ اگر وہ متحمل نہیں ہیں یا ان کے دلوں میں دگرگوں خیالات ہیں تو مجھ سے علیحدہ ہو جائیں وغیرہ۔ ایسے فاسد العقیدہ مرزائیوں کا نام بھی شائع ہوتا تو بہتر تھا کیونکہ ترکی پیٹا اور تازی تھراتا ۔ معلوم نہیں یہ کب کا واقعہ ہے اور کس قدر مرزائیوں کا عقیدہ ڈانواں ڈول ہو گیا۔ دو کا یا چار کا۔ دس کا یا بیس کا سو کا یا ہزار کا۔ کیونکہ جمع کا لفظ بولا گیا ہے۔

اگر یہ حال کا واقعہ ہے تو معلوم ہوتا ہے کہ مرزائیوں کی ایک جماعت کثیر فرنٹ ہو گئی

٢٢٨

ہے۔ اس صورت میں دو لاکھ کی مزعومہ تعداد کو دیمک کوئی پرانا خواب ہے جیسا کہ ایک صاحب جو مرزا کے واقف ہیں ان کی زبانی معلوم ہوا کہ بعض خواص مرزا گئے تھے اور انہوں نے مرزائیت کا جبہ قلہ اتار ڈالا اور اس اس پر ان کو مرقومہ ڈانٹ بتائی تھی۔ تو اب اس کا در بلکہ بدشگونی ہے۔

انہی صاحب سے جب ہم نے پوچھا کہ نے وہی جواب دیا کہ آتھم کی زندگی کے وقت جبکہ وہ مرزائی فرنٹ ہو گئے تھے۔ مرزا قادیانی نے اٹکل پچو بک میں طومار کی بھرتی ہو رہی ہے جب کوئی مضمون نہیں دقیانوسی تحریریں شائع کر دی جاتی ہیں۔ اور آج کل مقدمات کی پیروی میں سرگاڑی اور پاؤں پہیے بنا پورا کرنا ضروری ہے پس رو میں جو آئے روا ہے او ہوتی ہے۔

ورنہ کبھی شائع نہ ہونے دیتے اور تاکہ میں چھپی ہے اور الحکم کے کاپی نویس مکھی پر مکھی ما سونٹے اور منارہ کے کلس اور کھڑے الف میں تمی گھسیٹا۔ ایڈیٹر۔ خوشامد در آمد کر کے مرزا قادیانی لسٹم پسٹم کچھ اخذ کر لیا کرتا ہے اور جب وہ قادیان کچھ کرنا پڑتا ہے۔ تیل پاتر بوڑ اگر چہ گندہ مگر ایجاد اور اب تو حکیم صاحب کی بھی چار آ پالک کے اخبار البدر ہی کی پیوند کاری اور مرمت پہلے اپنی چھان پر پھوس رکھ لیں تو دوسروں کا چھپ اور دریا بہا دیا۔ مجددالسنتہ مشرقیہ سے بیعت کریں کو کسی سے بخل نہیں۔ اس کے شاگرد تو علاوہ الع بھی ہیں۔ پس فن شاعری اور انشاء پردازی میں

صفحہ ٥٧٥

ہے۔ اس صورت میں دولاکھ کی مزعومہ تعداد کو دیمک کی طرح چاٹ جانا ضروری ہے اور اگر یہ کوئی پرانا خواب ہے جیسا کہ ایک صاحب جو مرزا کے کوٹھی کٹلے اور قادیان کے اسرار سے خوب واقف ہیں ان کی زبانی معلوم ہوا کہ بعض خواص مرزائیوں کے تیور چند سال قبل کسی بات پر بگڑ گئے تھے اور انہوں نے مرزائیت کا جبہ قلہ اتارنا اور اسلامی چولا پہننا چاہا تھا اور مرزا قادیانی نے اس پر ان کو مرقومہ ڈانٹ بتائی تھی۔ تو اب اس کا درج کرنا حماقت اور ناعاقبت اندیشی ہی نہیں بلکہ بدشگونی ہے۔

انہی صاحب سے جب ہم نے پوچھا کہ کیا کوئی ایسا واقعہ قادیان میں ہوا ہے تو انہوں نے وہی جواب دیا کہ آتھم کی زندگی کے وقت جبکہ وہ پیشینگوئی کی میعاد کے بعد زندہ رہا اور بعض مرزائی مرتد ہو گئے تھے۔ مرزا قادیانی نے اسپیچ دی تھی وہ حال میں چھاپی گئی کیونکہ اب تو الحکم میں خوجہ کی بھرتی ہورہی ہے جب کوئی مضمون نہیں ملتا تو مرزا قادیانی کی پرانی ڈھرابی کرم خوردہ دقیانوسی تحریریں شائع کر دی جاتی ہیں۔ اور آج کل اور بھی مجبوری ہے کیونکہ غریب ایڈیٹر الحکم مقدمات کی پیروی میں سرگاڑی اور پاؤں پہیے بنا پھرتا ہے اور آپ جانئے ہفتہ وار اخبار کا پیٹ پورا کرنا ضروری ہے پس رو میں جو آئے روا ہے اور یہ تحریر ضرور بے اطلاع حضرت اقدس شائع ہوئی ہے۔

ورنہ کبھی شائع نہ ہونے دیتے اور ناک کی ضرور خیر مناتے یہ تحریر ایڈیٹر الحکم کی غیبت میں چھپی ہے اور الحکم کے کاپی نویس لکھی پڑھی چپکانے والے ایک پیر جی ہیں جو بدمعاشاہ کے سونٹے اور منارہ کے کلس اور کھڑے الف میں تمیز نہیں کر سکتے۔ ادھر ادھر سے جو کچھ مل گیا دھر گھسیٹا۔ ایڈیٹر۔ خود بخود آمد درآمد کر کے مرزا قادیانی کے ملفوظات اور حکیم صاحب کی قرابادین سے لسٹم پسٹم کچھ اخذ کر لیا کرتا ہے اور جب وہ قادیان سے غیر حاضر ہوتا ہے تو کاپی نویس ہی کو سب کچھ کرنا پڑتا ہے۔ تیل یا تربوز اگرچہ گندہ مگر ایجاد بندہ۔

اور اب تو حکیم صاحب کی بھی چار آنکھیں ہو گئی ہیں کیا معنے کہ ان کو اپنے چہیتے لے پالک کے اخبار البدر ہی کی پیوند کاری اور مرمت سے فرصت نہیں ملتی۔ وہ برسات کے دنوں میں پہلے اپنی چھان پر پھوس رکھ لیں تو دوسروں کا چھپر چھائیں اور یہ ملکہ کسی میں ہے ہی نہیں کہ قلم اٹھایا اور دریا بہا دیا۔ مجددانہ طریقہ سے بیعت کریں تو کسی قابل ہو جائیں۔ مجدد کا فیض تو عام ہے اس کو کسی سے بخل نہیں۔ اس کے شاگرد تو علاوہ اہل اسلام کے آریا بھی ہیں سناتن دھرمی بھی عیسائی بھی ہیں۔ پس فن شاعری اور انشاء پردازی میں اس کو مرزائیوں سے کیوں بخل ہونے لگا۔ مرزا

٢٢٩

صفحہ ٥٧٧

میں بدی ہماری کی بھی ہے کہ انہوں نے شاعری اور انشاء پردازی میں مجدد سے بیعت تجدید نہیں کی۔ ورنہ کیا طاقت تھی کہ ان کے کلام پر عرب وعجم میں کوئی نکتہ چینی کر سکتا۔ اور اب بھی کچھ نہیں بگڑا۔ مرزا قادیانی بیعت کر کے تجدید فن کا کرشمہ دیکھ لیں۔

دریغست مطمئن از کشاکش ناامید اینجا
برنگ دانہ از ہر قفل می روید کلید اینجا

٤ ...... نبیوں کی قسمیں

مولانا شوکت اللہ میرٹھی!

مرزا قادیانی نے جہاں دوسرے بے سروپا رسالے تصنیف کئے وہاں انبیاء کی قسمیں بھی تصنیف کر دیں یعنی بروزی اور ظلی ، جلالی اور جمالی، ناقص اور کامل، اور عیسیٰ بھی دو تصنیف کئے ایک اصیل دوسرا مثیل۔

قرآن وحدیث میں اس تقسیم کا کہیں پتا نہیں پھر اپنے کو جری اللہ فی حلل الانبیاء بھی بتاتے ہیں یعنی آپ تمام انبیاء کے لباس میں ہیں اور جو صفتیں اور خواص تمام انبیاء میں تھے۔ وہ سب ذات شریف مجموعہ ربیع وخریف ، صیف وکثیف میں موجود ہیں گویا آپ اضداد و نقائص کے مورد ومحل ہیں۔ کیا معنی کہ آپ عیسیٰ نبی بھی ہیں اور ظلی اور بروزی بھی۔ جلالی بھی ہیں اور جمالی بھی، ناقص نبی بھی ہیں اور کامل نبی کیونکہ ظل اور بروز عین کی جلالی جمالی کی اور ناقص کامل کی ضد ہے۔ اور جس صورت میں آپ نے نبوت کو متواطی نہیں بلکہ مقسم اور مشکک قرار دیا ہے اور اپنے کو فی حلۃ الانبیاء بتایا ہے تو تمام مذکورہ بالا صفات کا آپ کے وجود بے بہبود نامسعود میں جمع ہونا لازمی ہے۔ پھر آپ کو یہ بھی بتانا پڑے گا کہ فلاں نبی بروزی اور ظلی تھا اور فلاں جلالی اور جمالی اور فلاں ناقص اور کامل یعنی جتنے انبیاء گزرے ہیں سب میری طرح مجموعہ اضداد تھے آپ فرماتے ہیں کہ آیت ’’ولکن رسول الله وخاتم النبیین‘‘ میں کامل انبیاء کا خاتمہ ہوا ہے نہ کہ ناقص انبیاء کا۔ پس میں ناقص نبی ہوں کامل نبی نہیں۔ لیکن یہ محض ابلہ فریبی اور اپنے حمقاء کو جھانسا دینا ہے بظاہر تو قرآن کی بات بنانے کو یہ ظاہر کیا جاتا ہے کہ میں ناقص ہوں اور دل میں اپنے کو تمام انبیاء سے کامل اور اکمل سمجھاتا اور مرزائیوں کو یقین دلایا جاتا ہے ورنہ غیر ممکن تھا کہ سیدنا المسیح کو دشنام سے یاد کیا جاتا۔ مسیح اولوالعزم انبیاء میں سے ہیں۔

اور جب حسب زعم مرزا معاذ اللہ ایک اولوالعزم نبی ناقص ہے تو سارے انبیاء ناقص ہیں۔ اگر مرزا کو کوئی کہہ دے یا لکھ دے کہ تو ناقص اور نکما ہے تو وہ قائل کی سات پشت کو بھی نکما اور

٢٣٠

ناقص بتا کر یہاں چھوڑے۔ پس یہ وہی بات ہے کہ کھانے کے دانت اور دک

کامل انسان صرف انبیاء ہیں ان کے ب ز روئے منطق کے موافق ہر انسان کو ناقص نبی کہہ سکتے انسان کامل کے لقب سے ملقب ہیں تو اس کے یہ م ہے پس وہ ہرگز ناقص نہیں ہو سکتے۔ ورنہ زید عمر بکر گے اور اذ لیس فلیس۔

اب مرزائیوں کو شرم کرنی چاہئے کہ ک بنے ہیں۔ جبکہ مرزا خود کہتا ہے کہ میں ناقص نبی ہو ناقص نبی سمجھو اور اس کی ناقص نبوت پر ایمان لاؤ۔ حلۃ الانبیاء کہتا ہے ظاہر ہے کہ انبیاء تو ناقص نہی حلوں میں نہیں آ سکتا۔ پس غیر ممکن ہے کہ مرزا ئ ہاں جھوٹے نبیوں اور کاذب مہدیو حلول کیا ہے اور وہ جو کچھ کہتا ہے اپنی طرف سے

در پس آئینہ طوطی
آنچہ دجال در

٥ ......

مولانا شو

مرزا قادیانی کے حکیم الامت صا لازم ہیں۔ اول دین کی زبان، ملک کے شر از روئے الہام سے یا از قسم الہام۔

دین کی زبان سے غالباً مرزائی واسطہ نہیں کیونکہ نیا نبی اور بجائے دارالامن ک اور بجائے بیت اللہ کے منارہ پھر قرآن شریف الا بلسان قومہ “ مرزا قادیانی اپنے کو ٹھی

صفحہ ٥٧٧

ناقص بتا کر یہاں چھوڑے۔ پس یہ وہی بات ہے کہ

کھانے کے دانت اور دکھانے کے دانت اور

کامل انسان صرف انبیاء ہیں ان کے سوا تمام انسان ناقص ہیں تو مرزا قادیانی کی طبع زاد منطق کے موافق ہر انسان کو ناقص نبی کہہ سکتے ہیں۔ پس آپ کی کیا خصوصیت رہی۔ انبیاء جو انسان کامل کے لقب سے ملقب ہیں تو اس کے یہ معنی ہیں کہ ان میں تمام انسانی صفات کاملہ موجود ہے پس وہ ہرگز ناقص نہیں ہو سکتے۔ ورنہ زید عمر بکر وغیرہ لاکھوں کروڑوں انسان نبی ناقص کہلائیں گے اور اذ لیس فلیس۔

اب مرزائیوں کو شرم کرنی چاہئے کہ وہ کامل اور اکمل نبی کو چھوڑ کر ناقص نبی کی امت بنے ہیں۔ جبکہ مرزا خود کہتا ہے کہ میں ناقص نبی ہوں تو تمہارا بھی فرض ہے کہ اس کو دل و جان سے ناقص نبی سمجھو اور اس کی ناقص نبوت پر ایمان لاؤ۔ مرزا خود اپنے قول سے جھوٹا ہے کیونکہ اپنے کو فی حلۃ الانبیاء کہتا ہے ظاہر ہے کہ انبیاء تو ناقص نہیں ہیں مرزا ہی ناقص ہے اور ناقص کاملوں کے حلوں میں نہیں آسکتا۔ پس غیر ممکن ہے کہ مرزا نبی ہو اور انبیاء کے حلوں میں آیا ہو۔

ہاں جھوٹے نبیوں اور کاذب مہدیوں اور دجالوں کی روحوں نے ضرور اس کے جسم میں حلول کیا ہے اور وہ جو کچھ کہتا ہے اپنی طرف سے نہیں کہتا۔ بلکہ پلید روحیں کہہ رہی ہیں۔

در پس آئینہ طوطی صفتش داشتہ اند
آنچه دجال ورا گفت ہماں میگوید

٥...... تین زبانیں

مولانا شوکت اللہ میرٹھی!

مرزا قادیانی کے حکیم الامت صاحب ارشاد فرماتے ہیں کہ انسان کو تین زبانیں سیکھنی لازم ہیں۔ اول دین کی زبان، ملک کے شرفاء کی زبان، حاکم وقت کی زبان۔ معلوم نہیں یہ تقسیم از روئے الہام ہے یا از قسم اوہام۔

دین کی زبان سے غالباً مرزائی دین کی زبان مراد ہے جس کو دین اسلام سے کوئی واسطہ نہیں کیونکہ نیا نبی اور بجائے دارالامن مکہ کے نیا دارالامان ۔ اور بجائے مسجد الحرام کے نئی مسجد اور بجائے بیت اللہ کے منارہ پھر قرآن شریف میں تو یہ ارشاد ہے کہ وما ارسلنا من رسول الا بلسان قومہ “ مرزا قادیانی اپنے کو چینی مغل بتاتے ہیں اور پھر رسول تو پھر ان کی قومی اور دینی

٢٣١

صفحہ ٥٧٨

زبان غیبی ہونی چاہئے۔

عربی میں الہام کیوں ہوتا ہے اور کثرت سے فارسی اور اردو میں بھی ہوتا ہے مگر اس کو الہام نہیں کہا جاتا۔ صرف زبان عرب میں چند بے معنی الفاظ کے کبھی کبھی حادث ہو جانے کا نام الہام ہے اور جبکہ بروزی احمد ہیں تو جو صفت صاحب وما ینطق عن الہویٰ کی تھی۔ آپ کی صفت کیوں نہیں یعنی آپ اپنے فارسی اور اردو کلام کو کیوں وحی اور الہام نہیں کہتے۔ اب رہی شرفاء کی زبان۔ زبان تو ہر قوم کی ایک ہی ہوتی ہے صرف غلط اور صحیح تکلم کا فرق ہوتا ہے۔ اب رہی حاکم کی زبان یہ فقرہ محض خوشامدی ہے ورنہ حاکم کی زبان کا سیکھنا مذہب اسلام میں فرض (لازم) نہیں لیکن آپ کو اسلام سے کیا غرض؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ ط

تعارف مضامین ...... ضمیمہ شحنہ ہند میرٹھ

سال ١٩٠٣ء ٢٤/ جولائی و یکم اگست کے شمارہ نمبر ٢٨، ٢٩ کے مضامین

١ ...... مرزا قادیانی کا آسمانی نشان

عبدالحق سرہندی!

قاضی اشفاق حسین صاحب وکیل درجہ اوّل ریاست پٹیالہ ساکن سرساوہ نے مرزا قادیانی کو لکھا کہ میری والدہ بعارضہ فالج بیمار ہیں۔ اگر آپ کی دعا سے صحت یاب ہو جائیں تو

٢٣٢

میں تمام عمر آپ کی خدمت میں صرف کروں گا دیگر مجھے آپ سخت سے سخت مخالفوں میں شمار کر تحریر ہذا ذیل میں معہ تردید درج کیا جاتا ہے ؟ جواب ...... قادیان یکم مئی۔ اقول مرزا اور م سے کوئی تعلق نہیں۔ ورنہ بسم اللہ اور اسلامی تار قولہ ...... معجزات کا اقتراح یعنی سوال کسی اقول ...... نہ معلوم یہ مسئلہ کس لال کتاب کی کہ انبیاء اور اولیاء نے معجزات اور کرامات د تعالیٰ سے سوال کئے۔ دیکھو قصہ ابراہیم ۔ و ا وقصہ عزیر و ذکریا وموسیٰ وقصہ من وسلوٰی ۔ موجود ہیں۔

کیا معاذ اللہ نقل کفر کفر نباشد۔

قولہ ...... خدائے تعالیٰ صدیقوں کو خود ہ اقول ...... اگر نشان کا دکھلانا ایمان سے ش نشان آسمانی دیکھنا چاہیں تو قادیان آکر دیک قولہ ...... نشان مانگنے والے ہمیشہ شقی القاب سنے۔

اقول ...... یہ اعتراض آپ کا پہلے حضرت

چوں خدا ۔
میل اور

دوسرے یہ کلام آپ کا بالکل رہا ہے اور احادیث نبوی میں ایسے قصہ ب نے لات وعزا کی قسم کھا کر کہا تھا کہ ج ایمان نہ لاوے میں ایمان نہ لاؤں گا ۔ پس آن حضرت نے سوسال یہ معجزہ دیکھ کر فوراً ایمان لایا۔ شقائے ق

صفحہ ٥٧٩

میں تمام عمر آپ کی خدمت میں صرف کروں گا۔ اور اکثر خلق خدا کو ہدایت نصیب ہوگی مگر بصورت دیگر مجھے آپ سخت سے سخت مخالفوں میں شمار کریں۔ اس کا جواب مرزا کے حواری کی قلم سے جو کچھ تحریر ہوا ذیل میں معہ تردید درج کیا جاتا ہے۔

جواب ...... قادیان یکم مئی ۔ اقول مرزا اور مرزا کے حواری خود تصدیق کر رہے ہیں کہ ہم کو اسلام سے کوئی تعلق نہیں۔ ورنہ بسم اللہ اور اسلامی تاریخ اور مہینہ لکھا جاتا۔

قولہ ...... معجزات کا اقتراح یعنی سوال کبھی کسی مامور سے سعید الفطرتوں اور صدیقوں نے نہیں کیا۔

اقول ...... نہ معلوم یہ مسئلہ کس لال کتاب کا ہے۔ قرآن حدیث تو اس امر کے ثبوت میں مملو ہیں کہ انبیاء اور اولیاء نے معجزات اور کرامات دکھلائے بلکہ خود انبیاء نے بھی نشان دیکھنے کے لئے خدا تعالیٰ سے سوال کئے۔ دیکھو قصہ ابراہیم واذقال ابراهیم رب ارنی کیف تحیی الموتٰی وقصہ عزیر و ذکریا و موسیٰ وقصہ من وسلویٰ وقصہ سوال نزول مائدہ جو قرآن شریف میں بالتصریح موجود ہیں۔

کیا معاذ اللہ نقل کفر کفر نباشد۔ یہ انبیاء صلحاء وحواریین سعید الفطرت وصدیق نہ تھے۔

قولہ ...... خدائے تعالیٰ صدیقوں کو خود ہزاروں نشان ایمان کے بعد دکھلا دیتا ہے۔

اقول ...... اگر نشان کا دکھلانا ایمان سے مشروط ہے تو عرصہ تیس سال یہ دعویٰ کیسا ہے کہ اگر مخالفین نشان آسمانی دیکھنا چاہیں تو قادیان آ کر دیکھیں۔ سچ ہے دروغ گو را حافظ نباشد۔

قولہ ...... نشان مانگنے والے ہمیشہ شقی بے نصیب رہے اور راستبازوں کے منہ سے خطرناک القاب سنے۔

اقول ...... یہ اعتراض آپ کا پہلے حضرت ابراہیم و موسیٰ و عزیز پر ہوا سچ ہے ۔

چوں خدا خواہد کہ پردہ کس درد
میل او در طعنہ پاکان برد

دوسرے یہ کلام آپ کا بالکل دروغ بے فروغ ہے قصہ نزول مائدہ ان کی شہادت دے رہا ہے اور احادیث نبوی میں ایسے قصہ ہزار ہا ہیں۔ بیہقی میں قصہ سوسمار موجود ہے کہ ایک اعرابی نے لات وعزٰی کی قسم کھا کر کہا تھا کہ جب تک آپ اس سے بریان سوسمار کو زندہ نہ کر دیں اور یہ ایمان نہ لاوے میں ایمان نہ لاؤں گا۔

پس آن حضرت نے سوسمار کو پکارا۔ اس نے کہا لبیک وسعد یک اور ایمان لایا۔ اعرابی یہ معجزہ دیکھ کر فوراً ایمان لایا۔ شفائے قاضی میں حضرت عمرؓ سے بھی اس کو روایت کیا ہے۔ اور ایک

٢٣٣

صفحہ ٥٨٠

روایت دارمی میں ہے کہ ایک اعرابی نے کہا کہ جب تک فلاں درخت ایمان نہ لائے گا۔ میں ایمان نہ لاؤں گا۔ چنانچہ وہ درخت آپ کے ارشاد سے آیا اور ایمان لایا اور اعرابی بھی یہ معجزہ دیکھ کر ایمان لایا۔ ایسی ہزاروں مثالیں سیرت نبوی میں موجود ہیں اور قصہ قوم یونس بالتصریح قرآن شریف میں مذکور ہے اور عیسیٰ کا معجزہ دیکھ کر بادشاہ کا معہ اپنے ارکان کے ایمان لانا۔ یہ سب بعد مانگنے اور دیکھنے نشان کے سعید الفطرت ہوئے یا نہیں لعنة الله على الكاذبين ! اگر آپ کے پاس کچھ ہوتا تو سائل پر تمام حجت کرتے۔ آپ کے دعوٰی تو محض فریب اور جھوٹ ہیں۔

مامور پر یہ تکلیف نہیں کہ مخالفین یا نشان مانگنے والوں کی آئندہ سعادت و شقاوت پر کار بند ہو یہ تو علم غیب خدا ہی کو ہے۔ مامور پر یہ فرض ہے کہ وہ علم جو اس کو خدا نے دیا ہے۔ پہنچا دے اور وہ نشانات جو اتمام حجت کے لئے اس کو مرحمت ہوئے ہیں دکھلا کر مخالفین کو عاجز کر دے۔ تا کہ حجت اللہ تمام ہو اور خطرناک القاب قرآن شریف میں تو معلوم نہیں ہوتے۔ شاید قادیانی پر قادیان میں قرآن نازل ہوئے ہوں گے۔

قولہ ...... حضرت مسیح موعود کی تائید میں خدائے تعالیٰ نے سینکڑوں نشان دکھلائے کتابوں میں موجود ہیں لا انتہی مخلوق گواہ ہے۔

اقول ...... وہ ہزاروں سینکڑوں نشانات کیا بیت الفکر قادیان کے اندر دکھائے گئے۔ کیا یہ وہی نشانات پیش گوئی موت آتھم و تزویج مسمات محمدی و پیدائش فرزند ارجمند ہیں۔ جن کا فوٹو ہم نے اپنے رسالہ مظہر نعمت کے اخیر میں اچھی طرح کھینچ دیا ہے اور جن کے جھوٹ ہونے کی کل مخلوق خدا گواہ ہے مگر سچ ہے۔

بے حیا باش ہر چہ خواہی کن

اور اپنی کتابوں میں لکھ کر خوش ہونا اس شعر کا مصداق ہوتا ہے۔

ثنائے خود بخود گفتی نمی زیبد ترا صائب
چو زن پستان خود مالد حظوظ نفس مے یابد

ایک تو نشان دکھایا ہوتا کہ آپ۔

کار مردان روشنی گرمی است

کے مصداق ہوتے اور

کار و دکان حیلہ و بے شرمی است

کے نہ ہوتے۔

٢٣٤

صفحہ ٥٨١

قولہ ...... آپ ان کی طرف استخفاف کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ اور نیا سوال کرتے ہیں یہ امر خدا کی سنت کے خلاف ہے۔ اقول ...... جھوٹوں اور مینڈکوں کی طرف ہمیشہ استخفاف کی نظر سے دیکھا جاتا ہے۔ آپ تعجب کیوں کرتے ہیں جس امر کا وجود کتاب وسنت سے ثابت ہو گیا وہ سوال نیا اور سنت اللہ کے خلاف ہے۔

برعکس نہند نام زنگی کافور

قولہ ...... ہم دونوں گواہ موجود ہیں جو بے شمار نشان دیکھ چکے ہیں ایک سلیم الفطرت کا دل کس طرح گوارا کرتا ہے کہ ہماری تکذیب کرے۔ اقول ...... مرزائیوں کا گواہ ہونا جولہے کا گواہ ڈڈو کی مثل ہے۔ کوئی سلیم الفطرت آپ جیسے کاذبین کی ہرگز ہرگز تصدیق نہ کرے گا۔ ہاں وہ شخص جس کے دل پر غلبہ شیطانی ہو جائے۔

٢ ...... تحریف اور مجاز

مولانا شوکت اللہ میرٹھی !

چونکہ مرزا قادیانی اور ان کے حواری نہ صرف معجزات انبیاء بلکہ معجزات الہی کے بھی منکر ہیں۔ لہذا اہل نیچر کے مقلد بن کر تاویلات کرتے ہیں۔ یا یوں کہو کہ قرآن مجید میں تحریفات معنویہ کے مرتکب ہوتے ہیں اور کیوں نہ ہوں۔ کلام الہی میں پیشینگوئی وارد ہو چکی ہے کہ "يحرفون الكلم عن مواضعه" قرآنی "کونوا قردة خاسئین" میں تاویل کرنے پر کسی مسلمان نے اعتراض کیا تھا کہ قرآن میں مجاز ممکن نہیں۔ اگر حکایات میں ہوگا تو سب قرآنی احکامات مجاز ہوں گے اور اس سے کلام الہی میں کذب ثابت ہوتا ہے۔"

اعتراض معقول تھا اس پر حکیم الامۃ المرزائیہ فرماتے ہیں کہ کلام مجید میں مجاز عقلی بکثرت ہے۔ پس اس آیت میں بھی مجاز عقلی ہے۔ افسوس ہے کہ حکیم صاحب حقیقت اور مجاز اور تشبیہ واستعارات میں فرق نہیں کر سکتے۔ حکیم صاحب فرماتے ہیں کہ اس کی مثال ایسی ہے جیسی "الله نور السموت والارض مثل نوره كمشكوة فيها مصباح" ہم کہتے ہیں "انا للہ وانا اليه راجعون" اس آیت میں مشبہ مشبہ بہ موجود ہیں اداۃ تشبیہ (کاف) موجود ہے "کونوا قردة خاسئین" میں مشبہ اور مشبہ بہ اور اداۃ تشبیہ کہاں ہے براہ عنایت بتائیے۔

آیت میں کان بمعنی صار ہے جو ماہیت کے استحالے اور تبدل کے لئے مستعمل ہوتا ہے۔ یعنی مسخ ماہیت ہو کر بن جاؤ کمینے بندر یا بندریاں یہاں تشبیہ اور استعارہ کہاں ہے۔ یوں نہیں فرمایا کہ کونوا قردة خاسئین پھر یہ مثل دیگر احکامات الہی کے ایک حکم ہے اور احکامات ہرگز

٢٣٥

صفحہ ٥٨٢

مجاوزات نہیں ہو سکتے ورنہ تعمیل غیر ممکن ہوگی۔ اور یہ خرابی لازم آئے گی کہ خدا کہتا کچھ ہے اور عمل کچھ کراتا ہے۔ پھر یہ کسی نبی کا معجزہ نہیں جس سے آپ کو اس لئے ضد اور رقابت ہے کہ آپ کا بروزی نبی معجزات دکھانے سے قاصر ہے۔ یہ تو خدائی معجزہ ہے۔ اب معلوم ہوا کہ آپ اور آپ کے امام الزمان معجزات قدرت کے بھی منکر ہیں۔ آپ تاویل کرتے ہیں کہ مراد عادات کا بگڑ جانا اور منکروں کے دلوں کا مسخ ہو جانا اور ان میں بندروں کے کمینہ خواص کا پیدا ہو جانا ہے مگر یہ خواص تو ان میں پہلے بھی موجود تھے نافرمانی کی کیا سزا ملی۔ اور جناب باری کا عتاب کیونکر مترتب ہوا؟ البدر یا الحکم میں جواب دیجئے مگر جلد۔

٣ ...... مرزا قادیانی کے مختلف چندے

مولانا شوکت اللہ میرٹھی!

تواریخ موجود ہے کہ کسی نبی اور رفارمر نے اپنی نبوت کی اشاعت کے لئے آئے دن کے چندوں کا ٹیکس لگا کر دنیا کو نہیں لوٹا نہ کبھی اپنی دھوم دھام اور شہرت چاہی۔ صداقت ہرگز شہرت کے وسائل نہیں چاہتی وہ خود بخود آفتاب کی طرح دنیا میں پھیلتی اور اپنی برقی اور مقناطیسی قوت سے قلوب کو کھینچ لیتی ہے۔ انبیاء کی نبوت کا خود بخود اقطار عالم میں پھیل جانا منجملہ معجزات کے ایک معجزہ ہوتا ہے۔ مرزا قادیانی حد درجہ زور لگا رہے ہیں اور اپنی تصویریں بھیج کر بروزی نبوت کی تبلیغ کر رہے ہیں۔ مگر بے سود۔ کیا کسی نبی نے دنیا میں اس طرح شرک پھیلا کر اپنا فرض ادا کیا ہے اور ایسے ناجائز وسائل سے کامیابی چاہی ہے۔ تمام انبیاء صرف تصویر پرستی اور بت پرستی ہی کی بیخ کنی اور توحید کے پھیلانے کو دنیا میں آئے کیونکہ اسلام کے معنی ایک وحدہ لاشریک مالک الملک کے آگے گردن جھکانا ہے اور بس اور ظاہر ہے کہ تصویر کی عظمت اس کی مخالف ہے۔ اسلام کا صرف یہ مقصد ہے کہ بجز واحد مطلق اور واہب برحق کے کسی کی ذرہ بھر وقعت بھی دل میں نہ ہو۔ ملاحظہ فرمائیے کہ مرزا قادیانی کی تصویر کو تمام مرزائی آنکھوں سے لگاتے ہیں۔ چومتے ہیں۔ عزت وحرمت کے ساتھ گھروں میں رکھتے ہیں۔

اکثر مرزائی اور مرزائین تصویر کے درشن سے پراپت ہو کر باغ باغ ہوتیں اور دل کی مرادیں پاتی ہیں اور کہتی ہیں کہ ہمارے ایسے بھاگ کہاں کہ مہاراج دھراج طاؤس دیوتا کے درۃ التاج، بروزی معبد کے سراج وہاج، آج کل کے کال کے رواج میں خالص اناج پھٹکے کے چھاج، عیسی مزاج، ظلی معدن کے پکھراج، آکل الہند بیدستر والمستفخر والدراج، راز مکر کے چھپانے میں

٢٣٦

صفحہ ٥٨٣

دھرمیوں کی لاج ، شکست خوردہ آریا سماج، مرزا جی مہاراج کی مورتی کے چرنوں میں براجیں۔ مرزا کہتے ہیں کہ میں اپنی تصویر کی اشاعت اس لئے نہیں کرتا کہ لوگ اس کی پرستش کریں۔ بھلا صاحب اور کس لئے کرتے ہیں۔ مثل ہنود پرستش نہ سہی۔ آخر عظمت تو ہے۔ گوہ نہیں چھی چھی ۔ اگر کوئی شخص اس نیت سے یہ سود لے کہ اس سے غریبوں اور محتاجوں کی مدد کروں گا۔ تو کیا مذہب اسلام میں سود لینا جائز ہو جائے گا۔ ہاں آپ کو اسلام سے کیا غرض۔ نیا نبی نیا مذہب، مختلف چندوں نے کئی مرزائیوں کی چندیا کا پلاسٹر بگاڑ دیا۔

مہمانوں کی تواضع اور مدارات کا چندہ، اشاعت کتب واشتہارات کا چندہ، اخبارات کا چندہ، مقدمات کا چندہ، تعلیمات کا چندہ ، کالی جمعرات کا چندہ، حلوائے ریگ ماہی شبرات کا چندہ، الغرض ہر بات کا چندہ، دن رات کا چندہ، چندہ ہی چندہ، چندا کمہار کی گدھی کی طرح ایک ایک مرزائی چندوں کے پالان میں ایسا دبا ہوا ہے کہ ٹس سے مس نہیں ہو سکتا اور بوجھ اٹھاتے اٹھاتے جب بہت سے مرزائیوں کی کمریں لگ گئیں۔ پٹھوں اور کمروں میں زخم کیسے گڑھے پڑ گئے تو پالاں پھینک ”کھڑے کہ دم اٹھا بہ جادہ جا“ وجہ یہ کہ الحکم میں جرنلی آرڈر شائع ہوتا رہتا ہے کہ جو صاحب ہفتے کے درمیان میں فلاں چندہ نہ بھیجیں گے ان کا نام مرزائی دفتر سے خارج ہوگا۔

اگر کوئی مرزائی سخت جان بن کر چندے کے گھاؤ جھیل گیا تو اس کی سفارش کے لئے بھائی رضوان کے نام سرٹیفکیٹ لکھ دیا کہ ایں مرد مسلمان بود، بس کھٹ سے جنت میں داخل اور جو مرزائی چندے کی بھاری پنڈ چھڑا بھاگا۔ اس کی کیفر کردار کے لئے مالک کے نام وارنٹ بھیج دیا کہ گھڑی کی چوتھائی میں اس کو جہنم کے طبقہ اسفل میں دھکیل اور اصل یہ ہے کہ بروزی نبی کے یہاں تو بے چندے کام چل ہی نہیں سکتا۔ چندہ کے لئے تھیلوں کا منہ کھولنے پر نجات اور بٹوے میں چنٹیں پڑ جانے پر دوزخ کی عقوبات اور نادہندی کی مکافات۔

٤ ...... معجزات کا انکار

مولانا شوکت اللہ میرٹھی !

مرزا قادیانی عیسیٰ کے معجزہ احیاء موتیٰ کا انکار کرتے ہیں اور یہ کہتے ہیں کہ مراد روحانی احیاء ہوتی ہے۔ ہم کہتے ہیں کہ یہ سب معجزوں سے بڑھ کر ہے کیونکہ روح جس کو کبھی موت نہیں جب وہ مر کر زندہ ہو سکتی ہے تو جسد مردہ کیوں زندہ نہ ہو۔ دوم ! جب ایک معجزے کا انکار ہے تو انبیاء کے تمام معجزات کا بدرجہ اولیٰ انکار ہے۔ خصوصاً حضرت ابراہیمؑ کے اس واقعہ کو قال فخذ ار

٢٣٧

صفحہ ٥٨٤

بعة من الطير فصرهن اليك ثم اجعل على كل جبل منهن جزءا ثم ادعهن يأتينك سعيا (الآيه)“

یہ دیکھیں مرزا قادیانی یہاں کیا تاویل کرتے ہیں اور اگر اس کو مانتے ہیں تو کیا وجہ ہے کہ دیگر انبیاء کے معجزات تو مانے جائیں اور عیسیٰ مسیح کا معجزہ نہ مانا جائے۔ جی ہاں وجہ یہ ہے کہ میں موعود یعنی ان کا رقیب ہوں اس لئے عیسیٰ مسیح کی کوئی بات ٹھنڈے کلیجے نہیں مان سکتا۔

پھر انبیاء کے معجزات سے تو انکار مگر اپنے معجزات پیشینگوئیوں وغیرہ کا اقرار۔ بلکہ کتابوں اور رسالوں میں مکرر سہ کرر تکرار اور ان پر اصرار ، حالانکہ ساری پیشینگوئیاں کسی پاگل کا خبط اور کسی مجذوب کی بڑ نکلیں۔ اور ایک تیر بھی نشانے پر نہ لگا۔

٥ ...... فسخ بیعت

مولانا شوکت اللہ میرٹھی!

مولانا شوکت ۔ بعد ہدیہ سلام سنت خیر الانام عرض ہے کہ فدوی الہی بخش بزاز ولد حاجی رحیم بخش ساکن ، جسونت نگر ضلع اٹاوہ کریم بخش ساکن اٹاوہ عرصہ سے مرزا قادیانی کے سلسلہ بیعت میں داخل تھے۔ اب بسبب پیدا ہو جانے شکوک کے بیعت مذکورہ بالا فسخ کر دی اور اس سے (مرزا سے ) بیزار ہو گئے۔ لہذا عرض ہے کہ براہ بندہ نوازی ضمیمہ شحنہ ہند میں چھاپ دیجئے کہ ہم لوگ ممنون منت ہوں گے اور دوسرے لوگ بچیں گے۔ واجب تھا عرض کیا۔ فدوی الہی بخش بزاز ولد حاجی رحیم بخش ساکن جسونت نگر و کریم بخش ساکن اٹاوہ۔

ایڈیٹر ..... ”جزاکم الله وهدكم الله الى یوم الدین ،، ممکن ہے کہ انسان کسی غلطی میں پڑ جائے اور ایمان کا اقتضاء ہے کہ غلطی کے رفع ہو جانے پر بے تامل راہ راست پر آجائے اور غلطی کا اعتراف کرے کیونکہ آدمی کا شیطان آدمی ہوتا ہے۔ تھوڑی سی سمجھ والا بھی سمجھ جائے گا کہ جو شخص بعد ختم نبوت اپنے کو نبی بتاتا ہے اور پھر بعض انبیاء کو گالیاں دیتا ہے۔

نبی اور رسول کیا معنی وہ تو مسلمان بھی نہیں پھر اس کی بیعت کیسی؟ پھر زیادہ تر تعجب یہ ہے کہ باوصف مخالفت قرآن وحدیث کے اپنے کو مسلمان بتاتا ہے۔ دنیا میں آج کل آزادی کا رواج ہے۔ بہت سے نئے مذاہب پیدا ہو رہے ہیں۔ اگر مرزا قادیانی بھی سب مذاہب سے جدا نیا مذہب گھڑ لیتے تو کون مزاحم ہو سکتا تھا۔ مگر بد بختی کہاں جائے ۔ جب گیدڑ کی شامت آتی ہے تو شہر کی جانب بھاگتا ہے۔ آپ نے باوصف دعویٰ مسلمانی اسلام ہی کے اصول کو توڑا اور اسلام ہی کے خلاف نبی بن گئے۔

٢٣٨

صفحہ ٥٨٥

انجام یہ ہوا کہ اسلام ہی نے آپ کو ہر طرف سے مردود کر دیا۔ شیاطین زادوں کے اغواء سے جو بعض سیدھے سادھے بے لکھے پڑھے مسلمان راہ راست سے ڈگمگا جاتے ہیں تو رجال الغیب کی مدد اور جاذبہ توفیق الٰہی سے پھر راہ راست پر آجاتے ہیں اور شیطان الانس اور تمام شیطان زادوں کا بیچ میں منہ کالا ہو جاتا ہے۔ مگر اس ایمانداری کو دیکھئے کہ مرزائی پرچوں میں بیعت کرنے والوں کے نام تو شائع ہوتے ہیں اور سینکڑوں آدمی جو بیعت پر لعنت بھیج کر از سر نو اسلام میں داخل ہوتے ہیں۔ ان کا ذکر نہیں کیا جاتا۔ وجہ یہ ہے کہ جڑ سے ناک کٹتی ہے۔ پھر طرہ یہ ہے کہ جب مریدوں کی تعداد بتائی جاتی ہے تو بیعت فسخ کرنے والے مستثنیٰ نہیں ہوتے بلکہ بدستور قائم رہتے ہیں اور رجسٹر سے بھی ان کا نام خارج نہیں کیا جاتا اور کیسا ہی گھاٹا ہو مگر بارہا یہی بتایا جاتا ہے اور کاغذی ناؤ ہمیشہ جھوٹ ہی کے طوفان میں چلتی رہتی ہے مگر کب تک صداقت اور راست بازی ایسی شے ہے کہ انسان کو اپنا گرویدہ کر لیتی ہے۔ اور ہرگز اپنے قبضے سے نہیں نکلنے دیتی۔ پس جو لوگ کسی دھوکے میں آکر بیعت کرتے ہیں وہ بوجہ نا تجربہ کاری اور سادہ لوحی یا جہالت سے آپ کو حق پر سمجھ کر پیر یا نبی یا امام الزمان مانتے ہیں مگر چونکہ واقع میں آپ ایک دنیا پرست مکار ہیں۔ لہٰذا چند روز میں لفافہ کھل جاتا ہے اور مطلب سعدی پڑھ کر سب فُرو ہوجاتے ہیں ورنہ کوئی وجہ نہیں کہ آپ کے ہاتھ میں ہاتھ دیں۔ آپ کو اپنا پیشوا سمجھیں اور چند روز میں انگوٹھا دکھا کر رخصت ہو جائیں اور پھر آپ کے نام کا کتا بھی نہ پالیں یہ ایک ایسی بدیہی بات ہے جس سے ہر شخص پر آپ کی مکاری تھوڑے سے تامل کے بعد کھل سکتی ہے۔ جو شخص کسی سے بیعت کرتا ہے وہ خدا اور رسول کو بیچ میں ڈال کر ایک قسم کا معاہدہ کرتا ہے۔

جس کا توڑنا امر اہم جانتا ہے لیکن کوئی بات تو مکار مرشد میں ایسی دیکھتا ہے جو معاہدہ فسخ کرنے پر مجبور کر دیتی ہے حالانکہ اس نے بیعت اس واسطے نہ کی تھی کہ مجھے ایک روز اس کو توڑنا پڑے گا۔

بات کرنے میں رقیبوں سے ابھی ٹوٹ گیا
دل بھی شاید اسی بدعہد کا پیمان ہوگا

٦...... مرزائیوں کے مکائد

مولانا شوکت اللہ میرٹھی!

کچھ عرصہ ہوا کہ شاہجہان پور میں خدا جانے کہاں کا خدائی خوار ایک پنجابی مرزائی آنکلا جس کا بیان تھا کہ میں صرف مرزا قادیانی کے مذہب کی اشاعت کے لئے سیر و سیاحت کرتا ہوں۔

٢٣٩

PDF 587

پھر کیا تھا یہاں کے مرزائیوں نے اسے ہاتھوں ہاتھ لیا۔ بڑی آؤ بھگت کی اور مرزائیوں کے گرو گھنٹال نے جن کی بدولت اس شہر میں یہ مذہب جدید جاری ہوا ہے۔ اپنے مکان پر مہمان کیا اور خاطر تواضع کی کچھ نہ پوچھئے۔

اس سے قبل اہلحدیث کو یہاں کے بعض مرزائی یہ دھوکہ دیتے ہیں کہ اب عرصہ سے مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی مرزائی حقانیت کے قائل ہو گئے ہیں اور مرزا کو مسیح موعود تسلیم کرنے لگے ہیں اور عنقریب وہ کھلم کھلا یہی اقرار کریں گے اسی وجہ سے اب انہوں نے بہت عرصہ سے مرزا کے خلاف کچھ نہیں لکھا اور کوئی اشتہار و رسالہ وغیرہ ان کی تردید میں شائع نہیں کیا اور ان کے اس بیان کی تصدیق بڑے زور و شور سے اس نووارد مرزائی نے بھی کی اور کہا کہ اگر یقین نہ ہو تو ابھی خط بھیج کر دریافت کرلو۔ کہ وہ اب ہرگز مرزا قادیانی کے خلاف نہیں ہیں۔ اس پر میرے ایک مہربان نے جن سے مولوی صاحب موصوف کی خط و کتابت تھی اس بارے میں استفسار کیا۔ مولوی صاحب موصوف کا جواب بلفظہ درج ذیل کیا جاتا ہے۔

راقم: ابو السخا محمد رفعت اللہ عفی عنہ شاہجہان پور!

ایڈیٹر ...... ہم سے بھی بعض مرزائیوں نے کہا کہ مولوی صاحب کو بن یرغب کی جھلک پر فریفتہ کیا گیا ہے مگر الحمد للہ کہ یہ بات غلط نکلی۔

گرامی نامہ جناب مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی

محبی سید صاحب، السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ ١١؍مئی کا محبت نامہ وصول ہوا ١٩٠٢ء سے میں مرزا کی ایسی ہی خبر لے رہا ہوں جیسی آگے خبر لیتا تھا۔ اور اس کو ایسا ہی گمراہ خارج از اسلام سمجھتا ہوں جیسا آگے سمجھتا تھا۔

جلد ١٩...... رسالہ اشاعۃ السنہ کے کئی نمبروں میں اس کے رد میں کئی مضامین شائع کر چکا ہوں۔ جو ١٩٠٣-١٩٠٢ء میں شائع ہوئے ہیں۔ اس جلد کی قیمت تین روپیہ ہے، منگا کر ملاحظہ کریں اگر قیمت نہ دے سکیں تو محصول ڈاک ٢ ؍خرچ رجسٹری ٢؍ کل ٤؍ آنے ٹکٹ ارسال کریں بعد مطالعہ و کار برآری جلد مذکورہ اسی طور پر واپس کردیں۔ میرا یہ خط جس کو چاہیں دکھائیں مجھے کوئی لحاظ کسی مرزائی کا نہیں ہے۔

(ابو سعید محمد حسین بٹالوی مہتمم اشاعۃ السنہ)

٧ ...... مرزائی لوگ پادریوں کے مشنوں سے نکالے جاتے ہیں

مولانا شوکت اللہ میرٹھی!

مرزائی اخبار البدر مطبوعہ ٢٤؍ جولائی ١٩٠٣ء میں ایک نہایت اندوہناک مضمون چھپا

٢٤٠

ہے مضمون کیا ہے گویا سرخ آنسوؤں سے مشن گورداسپور سے اس لئے موقوف کی واویلا کی ہے کہ پادری لوگ سخت متعص (کسر صلیب) رکھا ہے۔ حالانکہ واقعہ ی قادیانی اور ان کے حواری دنیا کو تو متعص زیادہ اور کیا تعصب ہوگا کہ کسی نبی کے م

اور سرے سے معجزات ہی کا کے نزدیک تمام انبیاء کے مراتب وکمالا خدا کی کو تعصب کیوں نہ ہو۔ جب آ کتابوں کو پڑھ کر عیسائیوں سے مباحث آپ کے گروہ سے تعصب نہ رکھیں ا مقدس مذہب اسلام سے ارتداد کر ۔ رہی ہے اور انشاء اللہ ملے گی۔

تمام انبیاء کو گالیاں ، مس عیسائیوں سے کارزار ہے تو مرزائیو محکمہ سے ان کا قلم اکھڑ جائے گا اور زمین ہو جائیں گے۔ مرزا کی چونکہ کے قدم بقدم اور اس کے خوارق ۔ موجودہ زمانہ ان سے برسر جنگ ۔ اس کی کارروائیوں کا نام و نشان بھی تارو پود۔

چغد نوی اور در حقیقت مرزا قاد پوت چاہتے ہیں جو اپنے گاڑھے اس لئے وہ اشتہار دیتے ہیں کہ ج وہ موٹا اور چرب شکار چاہتے ہیں

صفحہ ٥٨٧

ہے مضمون کیا ہے گویا سرخ آنسوؤں سے لکھا ہوا اک ماتم نامہ ہے۔ کوئی صاحب غلام محمد نام امریکن مشن گورداسپور سے اس لئے موقوف کئے گئے ہیں کہ وہ مرزائی تھے۔ البدر نے اس پر بہت کچھ واویلا کی ہے کہ پادری لوگ سخت متعصب ہیں وغیرہ۔ اس مضمون کا غیر محل اور ناموزوں عنوان (کسر صلیب) رکھا ہے۔ حالانکہ واقعہ یہ بتاتا ہے کہ اس کا نام کسر منارہ یا کسر مسیح مجہول ہو۔ مرزا قادیانی اور ان کے حواری دنیا کو تو متعصب بتاتے ہیں۔ مگر اپنی آنکھ کا شہتیر نہیں دیکھتے۔ اس سے زیادہ اور کیا تعصب ہوگا کہ کسی نبی کے معجزات و خوارق عادات ان کو نہیں بھاتے۔

اور سرے سے معجزات ہی کا انکار کر بیٹھے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ مرزا اور مرزائیوں کے نزدیک تمام انبیاء کے مراتب و کمالات خواب و خیال بلکہ تقویم پارینہ ہیں پھر آپ سے ساری خدائی کو تعصب کیوں نہ ہو۔ جب آپ عیسیٰ مسیح کو اپنی کتابوں میں گالیاں دیں اور حواری ان کتابوں کو پڑھ کر عیسائیوں سے مباحثہ اور مناظرہ کریں تو وہ عیسائی نہایت ہی بے غیرت ہیں۔ جو آپ کے گروہ سے تعصب نہ رکھیں اور حتی الوسع ان کی جڑیں کھود کر نہ پھینکیں اور در حقیقت یہ مقدس مذہب اسلام سے ارتداد کرنے اور ملحدانہ عقائد پر فریفتہ ہونے کی قدرت الٰہی سے سزا مل رہی ہے اور انشاء اللہ ملے گی۔

تمام انبیاء کو گالیاں، مسلمانوں سے جنگ، ہنود سے مہا بھارت، آریا سے پیکار، عیسائیوں سے کارزار ہے تو مرزائیوں کو زیر آسمان کہیں بھی پناہ نہ ملے گی اور ہر مقام، ہر دفتر، ہر محکمہ سے ان کا تخم اکھڑ جائے گا اور طلب معاش اور دانہ دانہ کی تلاش میں زمین کا گز بن کر پیوند زمین ہو جائیں گے۔ مرزائی چونکہ اپنے افعال ناہنجار یعنی یاوہ گوئی اور سب وشتم میں اپنے پیشوا کے قدم بقدم اور اس کے خوارق کے آئینے ہیں لہٰذا سب جگہ مطعون اور خستہ و خراب ہیں۔ اور خود موجودہ زمانہ ان سے برسرجنگ ہے اور یہی لیل ونہار ہے تو چند روز میں دنیا دیکھ لے گی کہ مرزا اور اس کی کارروائیوں کا نام ونشان بھی نہ رہے گا اور منارہ پر الو بولیں گے۔ انشاء اللہ تعالیٰ۔

تار و پودے مے تند بر قصر قیصر عنکبوت
جغد نوبت مے زند بر گنبد افراسیاب

اور در حقیقت مرزا قادیانی کو اپنے نئے پنتھ کے پھیلنے کا بھی چنداں خیال نہیں وہ تو کماؤ پوت چاہتے ہیں جو اپنے گاڑھے خون کا کمایا ہوا روپیہ قادیان کو بھیجیں اور منہ مانگے چندے دیں۔ اس لئے وہ اشتہار دیتے ہیں کہ جو مرید چندہ نہ دے گا رجسٹر بیعت سے اس کا نام خارج ہوگا۔ پس وہ موٹا اور چرب شکار چاہتے ہیں نہ کہ صید لاغر۔

٢٤١

صفحہ ٥٨٨

٨ ...... مارو گھٹنا پھوٹے آنکھ

مولانا شوکت اللہ میرٹھی!

امریکہ میں ایک سوسائٹی ہے جو اپنے عمل سے انسان کو بے ہوش کر کے اس کی روح سے مردوں کی روحوں کے ساتھ ملاقات کراتی ہے۔ مذہب اسلام میں اس علم وعمل کا کہیں پتا نہیں۔ غالباً یہ ویسا ہی دھوکا اور کرشمہ ہے جیسے ہمارے ملک کے مداری پھٹک ایک پھٹک دو کہہ کر ڈگ ڈگی بجا کر لوگوں کو تماشا دکھاتے اور ان سے کوڑی پیسا ٹھگتے ہیں۔ مگر مرزا قادیانی اور ان کے حواری اس ضعیف الاعتقادی کو تسلیم کرتے ہیں۔ چنانچہ مرزائی اخبار البدر میں کسی امریکن کی ایک چٹھی شائع ہوئی ہے جس کے راقم نے لکھا ہے۔ ”بعض اعلیٰ درجے کی روحوں نے ہمیں بتایا ہے کہ مسیح واقعہ صلیب سے ١٢؍ سال بعد فوت ہوا ہے اور کچھ عرصہ کے بعد ایک پیتل کی تختی ملے گی جو اس وقت ریت میں دبی ہوئی ہے جس پر مسیح کی موت کے متعلق تمام ضروری باتیں پائی جائیں گی ۔

” اس پر البدر خوشی سے پھول کر منارہ بن گیا ہے اور لکھتا ہے کہ خدا کے وعدوں کے موافق حضرت مسیح موعود کے انتشار روحانیت نے کس طرح زمین کا تختہ الٹ دیا ہے اور آپ کی تائید میں کس طرح اہل زمین عیسویت کی تردید میں ہاتھ بٹا رہی ہیں اور مسیح کو آسمان سے اتار کر زمین میں ایک دفن شدہ میت ثابت کیا جاتا ہے۔ ہم کہتے ہیں جب عالم ارواح کا علم مذکورہ بالا سوسائٹی کو حاصل ہے تو خود مسیح کی روح سے کیوں نہیں پوچھ لیتے کہ تم زمین میں دفن ہو یا آسمان پر ہو اور تمہارے اصلی واقعات کیا ہیں؟ دوم! مسیح بالفرض زمین ہی میں دفن ہیں تو اس سے مرزا قادیانی کا مسیح موعود ہونا کیونکر ثابت ہوا۔ مسیح کی روح سے کیوں نہیں پوچھا جاتا کہ قادیانی مرزا مسیح موعود ہے یا مسیح الدجال یا کچھ بھی نہیں۔

(ایڈیٹر)

تعارف مضامین ...... ضمیمہ شحنہ ہند میرٹھ

سال ١٩٠٣ء ١٨؍ اگست کے شمارہ نمبر ٣٠ کے مضامین

٢٤٢

صفحہ ٥٨٩

١ ...... دعوئی نبوت نے مرزا قادیانی کا کسر شان کر دیا

مولانا شوکت اللہ میرٹھی !

جب مرزا قادیانی اپنے استھان پر براجمان ہوتے ہیں اور گردا گرد چیلوں کو دیکھتے ہیں تو اس وقت کی خوشی کا عالم کچھ نہ پوچھئے اور جب وہ یہ خیال کرتے ہیں کہ میں نبی ہوں اور یہ سارا جمگھٹ میری امت ہے تو مارے خوشی کے داڑھی کا ایک ایک بال ایسا کھل جاتا ہے کہ عربی گھوڑے کی دم اور کسی مہنت لال گرو کے چنور اور اون اور ریشم کے لچھوں کو شرماتا ہے اور مونچھیں کلابتوں نہیں سونے کی تار بن جاتی ہے۔ لیکن ہم سے پوچھئے تو مرزا قادیانی نے اپنے مرتبے اور شان اور رتبے کے موافق کچھ بھی ترقی نہیں کی۔

انبیاء تو ایک لاکھ کئی ہزار گزرے ہیں جب مرزا قادیانی بھی نبی ہی رہے تو کیا کمال کیا۔ وہ تو انبیاء کے مقلد ٹھہرے اور اپنے مرتبے سے گر گئے کیونکہ مقلد کبھی مجتہد نہیں ہو سکتا اور خاتم الخلفاء (خاتم الانبیاء) بھی ہوتے تو کونسا تیر مارا۔ اپنے شخصی اوصاف اور خواص اور تشخصات کا ہر شخص خاتم ہے اور ہر شخص اپنے عوارض میں بے مثل ہے۔ اولوالعزمی تو اس امر کی مقتضی تھی کہ مرزا قادیانی تقلید انبیاء کی بیڑی پاؤں سے نکال کر آگے بڑھتے ۔ آج کل تو فلسفہ اور سائنس کا دور ہے۔ دنیا پرانے پن سے اجیرن ہوگئی ہے اور جدت پسندی انسانی طبائع کا خمیر بن گئی ہے۔ مرزا قادیانی اول اول ایک بزرگ پارسا ہوئے، پھر الہامی، پھر صاحب کشف، پھر مثل مسیح، پھر عین مین مسیح موجود اور مہدی مسعود پھر ظلی اور بروزی نبی اور امام الزمان پھر خاتم الخلفاء بن گئے اور یہاں آکر کاندھے سے جوا ڈال دیا۔ ہمت ٹوٹ گئی حوصلہ پست ہو گیا۔ گویا مرزا قادیانی کی ترقی کرنے کا اب کوئی زینہ باقی نہ رہا۔ واہ جی واہ۔ بس آپ اتنے ہی پانی میں تھے؟ بوالہوسی اولوالعزمی نمرود اور فرعون سے بھی گئے گزرے جو خدا بن گئے تھے آپ کو اتنے زینے طے کرنے میں کوئی مشکل پیش نہیں آئی تو ہم ذمہ کرتے ہیں کہ خدا بننے میں بھی کوئی مشکل پیش نہ آئے گی۔ فرعون بھی آخر آپ جیسا انسان ہی تھا اس میں سرخاب کا کونسا پر تھا جو آپ میں نہیں۔ ہم کو مرزا قادیانی کی ہتھیا ہارنے پر اس قدر غصہ آتا ہے کہ قابو چلے تو منارے سے سر دے ماریں اور سر پیٹ ڈالیں۔

غضب ہے نا کہ فرعون بے سامان اور نمرود مردود تو خدا بن جائیں اور مرزا قادیانی ابھی تک نبوت ہی کے زینے پر دھرے رہیں۔ جس طرح فرعون کے زمانہ میں خود غرض احمقوں، چپڑ قناتیوں، حواشی اور حواری کی کمی نہ تھی۔ اسی طرح اب بھی کمی نہیں۔ کیا معنے کہ فرعون کو اول اول خوشامدیوں نے خدا بنایا۔ رفتہ رفتہ فرعون ان کی چاپلوسی اور لابہ گری سے متاثر ہو کر واقعی اپنے کو

٢٤٣

صفحہ ٥٩٠

خدا سمجھتے اور انا ربکم الاعلیٰ کے نعرے مارنے لگا۔

پس جن الو کے پٹھوں، چغد کا بھیجا کھانے والوں ہونقوں کی قے چاٹنے والوں، یا روٹ چھکنے والوں، لنگڑے لوگوں، اپاہجوں نے مرزا قادیانی کو نبی بنایا ہے کیا وہ خدا نہیں بنا سکتے۔ اگر چاہیں اور ہمت کریں تو ضرور بنا سکتے ہیں۔ اور ترقی نہ کرنے میں درحقیقت مرزا قادیانی کا قصور نہیں کیونکہ وہ تو ایک پتلی ہیں۔ نہیں بلکہ بت پرستوں کے ہاتھوں میں ایک مورتی ہیں کہ مندر کے جس استھان پر چاہیں رکھ دیں۔

قصور تو پجاریوں اور مہنتوں کا ہے جو اپنی مورتی کو عالم بالا کے کنگروں پر نہیں بٹھاتے۔ اور ابھی تک صرف خاتم الانبیاء کے زینے پر ٹیک رکھا ہے۔ اور سچ پوچھئے تو جس طرح مرزا قادیانی نے اول نبوت کا اعلان نہ کیا تھا اگر چہ نبی کے اوصاف اپنے اندر بتاتے تھے۔ اسی طرح اگر چہ اب کھلم کھلا اپنے کو خدا نہیں بتاتے مگر خدائی اوصاف کے ساتھ متصف ہونے کے ضرور قائل ہیں۔ کیا معنی کہ عالم الغیب خاص خدا کی صفت ہے۔

مرزا قادیانی اپنی پیشینگوئیوں سے بتا رہے ہیں کہ میں بھی عالم الغیب ہوں، محیی اور ممیت خاص خدا کی صفت ہے مگر مرزا قادیانی بھی نمرود کی طرح انا احیی و امیت کے نقارے دنیا میں بجا رہے ہیں کہ میں نے اپنے فلاں مخالف کو اس کی مخالفت کی وجہ سے مار ڈالا۔ جتنے مخالف میرے سب میرے مارے ہوئے ہیں۔ پھر آپ کے مخالف تو علاوہ دیگر ممالک کے خود ہندوستان میں ٣٠ کروڑ ہیں۔ ان میں سے جو شخص مرتا ہے اس کو آپ ہی مارتے ہیں۔

ہاں مرزائیوں کو دوسرا خدا مارتا ہے جو آپ سے زبردست اور جبار وقہار ہے یہاں آپ کی خدائی طاق میں دھری رہتی ہے۔ زندہ مخالفوں کو تو آپ مارتے ہیں مگر اپنے مرزائیوں کو موت کے چنگل سے نہیں بچا سکتے۔ شروع سال پر پیشینگوئی کی کہ امسال میرے مخالفین بہت مریں گے۔ اب ہندو مسلمانوں، عیسائیوں وغیرہ میں جو مرتا ہے اس کو آپ ہی مارتے ہیں۔ روم کے اسقف اعظم (پوپ) نے جو ٢٠؍ جولائی گزشتہ کو قضا کی تو البدر مطبوعہ ٣١؍ جولائی میں لکھا ہے کہ یہ بھی مرزا قادیانی کی پیشینگوئی سے مرا۔ کیونکہ وہ بھی مثل دیگر عیسائیوں کے مرزائی مذہب کا سخت مخالف تھا۔ اس کے مارنے والے بھی خیر سے آپ ہی ہیں۔ واہ رے مرزائیو تمہارے عقل اور تمہارے عقیدے کے قربان جائیے۔

پس مرزا قادیانی کے خدائی اوصاف کے تو ڈنکے بج رہے ہیں۔ مگر خدا ہونے کا ابھی تک پورا پورا اعلان نہیں ہوا وہ بھی غالباً ہونے والا ہے۔ مہینوں یا برسوں یا دنوں کی تعداد تو مجدد

٢٤٤

صفحہ ٥٩١

البتہ مبشر یہ نہیں بتا سکتا۔ ہاں یہ کہہ سکتا ہے کہ مذکورہ بالا تمام غرے دعوے جلد خاک میں ملنے والے ہیں کیونکہ عادت الہیہ اسی طرح جاری ہے خدا کی لاٹھی میں آواز نہیں ہوتی۔

(ایڈیٹر)

٢٠٠۔ لدھیانوی!

جن اشعار کے اول نشان لکھا ہے وہ خود شہزادہ صاحب کے اشعار ہیں جو آپ نے مسیحیوں کے حق میں ارشاد فرمائے تھے۔

الا مفسر قرآن مشوبہ خود رائی حدیث مصطفوی خوان بہ چشم دانائی
بیان حق زبیان رسول اگر فہمی یہ ثم ان علینا بیانہ آئی
حدیث مصطفوی چیست وحی پاک خدا تو در اطاعت آن جدوجہد بنمائی
عطاء شد ست چو قرآن پاک با قرآن بہ مصطفیٰ زکرامات وفضل مولائی
جو اس میں ہو متکبر تو پوچھ قرآن سیں نماز روزہ کی تفصیل ہے کہاں آئی
کہاں ہے قص شوارب ہے ذکر ختنہ کہاں ممانعت ہے بہ تغییر خلق ایمانی
کہاں ہے لفظ محدث کہاں ہے حرمت خمر گدھا نہ کھا کہ گدھا کھانے میں ہے رسوائی
حدیث ہی نے کہا ہوتے تھے محدث بھی حدیث ہی نے خباثت کی شرح فرمائی
اسی طریق سے تفصیل کل ہے قرآن میں نبی کو وحی خفی نے وہ سب ہے سمجھائی
حدیث گفت بہ شان وشکوہ وجاہ وجلال مسیح بشکند آخر صلیب ترسائی
ابو ہریرہ بہ الا لیؤمنن زبان کشودہ بہ تفسیر ان بگويائی
بہ ابن ماجہ روایت شدہ کہ گفت مسیح دوبارہ آمدنم ہست عہد ایفائی
خدائے قبل قیامت مرا کند نازل برائے کشتن دجال قوم موسائی
نمرده عیسیٰ و باز آید آمدہ بہ حدیث بہ گفتۂ حسن بصرہ دیدہ بکشائی
رسول گفت کہ من خاتم النبیینم کہ نیست ہیچ پس از من رسول بالائی
زسی دجالہ آگاہ کرد امت را پے رسول شدن ہر یکے تمنائی
بہ قادیان شدہ زان جملہ یک ستمگارہ نبی و مرسل یزدان زقوم مرزائی
چو دور سیزدہم در زمانہ کرد ظہور کشید فتنہ دجال سر بہ بالائی
ہیں اس کے نام کے اعداد تیرہ سو پورے یہ صفت اسنے ازالہ ص ١٨٩ میں خود ہی دکھلائی
ہوا غلام جو موصوف قادیانی کا وہ مبتدا ہوا دجال ہے خبر پائی

٢٤٥

صفحہ ٥٩٢
یہ پورا جملہ نبی بن کے قادیانی نے
خروج اپنے کی تاریخ ہم سے لکھوائی
خروج کرد بہر ہتک آن کافر
بعشق بعثت تثلیث گشتہ سودائی
کہ ام محبت انسان و اب محبت حق
نتیجہ روح قدس در مرام مرزائی
نہیں جدا کوئی روح القدس یہ ہے تثلیث
جو احمقوں کی سمجھ میں ابھی نہیں آئی
باتخاذ ولد کرد متہم حق را
باستعارہ ہمان اعتقاد ترسائی
مسیح را و مرا حاصل ست انانیت
بگفت ہیچ مریدے چو ژاژ می خائی
بایں خیال کہ اسلام را فرو بخورد
دہن کشادہ مثال نہنگ دریائی
گرفت چنبر اسلام باستہزہ و کین
چنانچہ حلقہ ز عوا دہائے صحرائی
فسون وجادوئے مکرش قرار دلہا برد
شدہ مسخر او ہرزہ کار ہرجائی
چناں اسیر بدام فریب او جہال
چنانکہ محو تماشا بود تماشائی
متاع دین کہ چو گنجے بہ بعض دلہا بود
بہ برد جملہ بغارت چو خوان یغمائی
گروہ خیرہ روان خود ستودگان باوے
ستائشش بزبان ہمہ ہیکائی
جماعتے ست فراہم ز اعور و اعرج
کنند بر دروے روز وشب جبیں سائی
ز شور فتنہ شان تلخ زندگانی خلق
چنانکہ تلخی کام از مواد صفرائی
نخست گفت جمالا منم مثیل مسیح
نمود چندے ازاں رفق مسند آرائی
شریک اس میں یہ عاجز یہ ابتدا سے تھا
جو پیش گوئی مسیحا کے حق میں ہے آئی
کہ وہ تو ہیں جسدی اور ظاہری مصداق
مجھے خدا سے ملی باطنی توانائی
تھے اک درخت کے ہم دونوں پھل مسیح اور میں
ولیک اب ہے مجھے برتری وبالائی
زبان پہ لاؤ نہ اب ذکر ابن مریم کو
ہے اس سے افضل واعلیٰ غلام مرزائی
کجا مسیح کہ او پانہد بہ منبر من
ضمیر اس کی یہ کہتے ہوئے نہ شرمائی
کبھی تو لکھتا تھا آئیں گے وہ جلال کے ساتھ
اور آج بکتا ہے گم گشت آں مسیحائی
بنا تھا تو تو جمالی جلالی یہ کیسا
لگا جو بکنے چہ در انتظار عیسائی
تو مدعی تھا کہ عیسیٰ دوبارہ آئیں گے
جہاں میں بات یہ مامور ہو کے پھیلائی
اسے تو لکھتا ہے ظاہر کیا گیا مجھ پر
وہ کون تھا ترا مظہر یہ کس نے سمجھائی
بدوست مشابہت تامہ چناں داری
مسیح رفت بناکامی و بہ پس پائی
تو کامراں و ترقی تست روز افزوں
بایں سخن بہ مریدان کنی دل افزائی

٢٤٦

بانکسار و توکل بہ غربت وای
کجاست زندگی فانی مسیح آ
اشارہ کرتا تھا قرآن سوئے نزول جلا
ہے احمدیہ لقب ٹھیک تیرے فرقہ
ڈبو دیا تجھے تفسیر نیچری نے ار
وہ دابہ علماء ہیں سو ہیں ترے م
امید نیست کنون باز ایستادہ
گمان بخویش مبر شیر مرد دی
مگو ز آنہم و پندت بزرگ و شیخ و
چہ غیرتیست کہ از بہر زوجہ است
وہ کیا وفات پدر ہی سے ہوچکی
چرا جدائی ازو باوجو
ازیں کہ معنی تجدید نو نمودا
کہے محدث دگہ حارث دگہ
نصیحتے کنم اے ولید
معزول ہستی وا نخواست
مگو کہ مہدی آل محمد آم
ہر آنکہ مے شنود جراتش
شدی محمد و احمد پس از غلا
خلیل و آدم و نوح آمدی
بحکم کل جدید لذیذ
رسول مدحت سلمان فار
توئی کہ حارثی ومہدی وا
نہ دین بدست تو چیزے نہ دو
یہ بت فروشی ہے بنیاد ب
بنا ہے یوں جو بروزی م
صفحہ ٥٩٣
بانکسار و توکل بہ غربت و ایثار نشان زندگی اولین عیسائی
کجاست زندگی ثانی مسیح اگر مسیح مردو نماندش کنوں مسیحائی
اشارہ کرتا تھا قرآن سوے نزول جلال خبر وفات کی تفسیر نیچری لائی
ہے احمد یہ لقب ٹھیک تیرے فرقہ کا کہ یہ ہدایت اسی نیچری سے ہے پائی
ڈبو دیا تجھے تفسیر نیچری نے ارے طمع کے دام میں ٹھوکر یہ کیا بری کھائی
وہ دابہ علماء ہیں سو ہیں ترے منکر تو کیوں جمے نہ تیرے منہ پر کفر کی کائی
امید نیست کنون باز ایستادہ شوی کہ پیر گشتی و نماند اثر برنائی
گمان بخویش مبر شیر مرد میدانیم تو روبہی کہ بہ سلطان و زوجہ برنائی
بگو ز آتھم و پنڈت بزرگ و شیخ حسین بگو ز دست رقیبت چساں شکیبائی
چہ غیرتیست کہ از بہر زوجہ است ترا بہ خصم شاد بہ جنبش دُم بیاسائی
وہ کیا وفات پدر ہی سے ہوچکی بیوہ ارے یہ مرگ پدر کیسی بے سری گائی
چرا جدائی ازو با وجود زوجیت چو روز و شب ہمہ تن محو ایں تمنائی
ازیں کہ مدعی تجدید نو نمودن شد مجددی و بیک قول خود نبیائی
گہے محدث و گہ حارث و گہے مہدی گہے مثیل وے و گاہ خود مسیحائی
فضیحتے کنمت اے ولید بوزنہ زبان طعن بہ عیسیٰ مسیح بکشائی
مفعول ہستی و ہندواست جدہ تو الا و ایں کہ محمد منم نیا لائی
بگو کہ مہدی آل محمد آمدہ ام ز نسل مرتضوی نیستی مغل زائی
ہر آنکہ مے شنود حیرتش ہمیگیرد یکے مغل قرشی شد بہ طرفہ رعنائی
شدی محمد و احمد پس از غلامی وے یقین کہ ہیچ نہی ہرزہ باد پیمائی
خلیل و آدم و نوح آمدی ہمہ یکجا گزار بوالہوسی دشت کہ پیمائی
بحکم کل جدید لذیذ مغتنمات فدائے عشوہ ہر فتنہ کہ میزائی
رسول مدحت سلمان فارسی فرمود تو از تتار سر کبر بر ثریائی
توئی کہ حارثی و مہدی و امام زمان بکبر و مفسدہ ہر لحظہ خامہ فرسائی
نہ دین بدست تو چیزے نہ دولت ایمان عجیب مہدی و عیسیٰ بے سروپائی
یہ بت فروشی ہے بنیاد بت پرستی کی جو تو نے فوٹو میں تصویر اپنی کھنچوائی
بنا ہے یوں جو بروزی محمد آخر کار تو صاف نکلا اواگون کا تو شیدائی

٢٣٧

صفحہ ٥٩٤
یہ معجزات رسل عیب مسمریزم تھی بدیں سبب توز ایمان ودین معرائی
نہ شد حقیقت دجال و دابہ معلوم مصطفیٰ کہ زخوانش تو زلہ بربائی
بناشد آنچہ بخوانش تو از کجا بخوری مگر بہ مزبلۂ کفر لب بیالائی
شدی مثیل مسیحیکہ دہر شمس اوست تو نیز پایۂ سلاسل بہ قادیان شائی
ز حلیۂ تو کند دور نقص دجالی مبادا تو بیک چشمی و بے بہائی
ز توبہ کردن از الہام و پیشگوئی ہا بہ پیش حاکم گورداسپور نہ شرمائی
دجاجلہ ہمہ رفتند و آخری باقیست تو پیش خیمہ آئی بزور و رعنائی
ایا کہ بحر نجابت ہمیں قدر کانی ست کہ ایں مسیح دجل منفعت پذیرائی
بدیں حیات پذی زکش چہ سود دہد چو وقت قطع سببہا بود تبرائی
جواب بشنوی ازوے فلا تکلمونی بیاس و غصہ بیفتی بقعر تنہائی
کہ ہائی ہائی فلاں را نمی گرفتم یار فغان ونالہ کنی ہر دو دست خود خائی
پناہ تست خدایا ز فتنۂ دجال بہ ضعف بندۂ عاجز خبیر دانائی
تراپرستم و بس آں موحدم گردان بہ حق وصف رحیمی و شان یکتائی
محمد عربی ہادیم براہ تو بس کہ در متابعت وی کنم جبیں سائی
پے صلوٰۃ وسلام آنچنا نہ کہ فرمودی بروح پاک وے از ما قبول فرمائی

شہزادہ صاحب اگر اس کا جواب بھیج دیں یا کوئی اور ان کا بھائی یا خود ان کا مسیح تو مبلغ پانچ روپے انعام پائیں مگر بد کلامی اور کذب سے بچیں۔ م ۔ لدھیانہ۔

ایڈیٹر ..... سبحان اللہ کتنا مضبوط اور مربوط اور ٹھوس اور مدلل اور مسکت و مفحم کلام ہے۔ مرزا اور مرزائیوں کا کیا منہ ہے کہ ایسا ایک مصرعہ بھی موزوں کر سکیں۔ اگر کوئی صحیح جواب دے سکے تو درہم بھی دیں گے۔ کیوں بھئی مرزائیو اب کیا دیر ہے۔ دوڑو اور چھکڑی بھرو، دوڑو، لپکو۔ مگر اپاہج اور بد نفس کیا خاک لپکیں اور دوڑیں گے۔

٣ ...... وہی حیات و ممات مسیح

مولانا شوکت اللہ میرٹھی!

ہم عصر کرزن گزٹ کا نامہ نگار صلاح دیتا ہے کہ سنی علماء مرزائی علماء سے حیات و ممات مسیح پر بحث کریں۔ ہماری رائے میں یہ بحث فضول ہے ہم بار ہا قرآن وحدیث سے مسکت مضامین اس مسئلے پر لکھ چکے ہیں مگر مرزائی لوگ جنہوں نے ایک نیا نبی گھڑ لیا ہے۔ وہ قرآن

٢٤٨

وحدیث کے دلائل ہرگز نہ مانیں گے۔ مرز اس میں بھی ویسی ہی تاویلیں کرتے ہیں معجزات پر ویسے ہی اعتراض کرتے ہیں جیسے آریا اور دہر یے کہ دو ہزار ہے اور کیا عیسیٰ مسیح کو حضرت مریم روٹیاں بھی ہے جہاں عیسیٰ بول وبراز کرتے ہیں ساکت ہوجاتے ہیں۔ ان کو یہ معلوم نہیں چکے ہیں کہ مرزا اور مرزائیوں سے یہ بحث یا دہریے ہیں مسلمان نہیں۔ ان سے تو یہ ہونا ثابت کرو۔ ہم تھوڑی دیر کو فرض کئے مفید نہیں۔ تمہارے لئے جب مفید ہو ک سے دنیا میں مسیح موعود کا آنا بھی ثابت احادیث کو یکساں نہیں مانتے۔ صرف ال عیسیٰ موعود کے آنے کی حدیث پر تو ایمان آیت پر عمل ہے کہ ”نؤمن ببعض ون ہمارا یکساں اتفاق ہے۔ مسیح موعود کا آنا اس کے بعد خود بدولت کا ث مسیحیت ومہد ویت کے تین مدعی موجو جو آپ کے سچے ہونے اور تک امتحان اس سے کہیں بڑھ کر آپ کے رقیب ق تعلق آپ کے دعوٰی سے نہیں اور یہ ایک سفسطہ ہے۔ ایسی تحریک کرنے و خاک ڈالنا اور ان کو مقدس مذہب اسل ذی عقل اور ذی ہوش م گزٹ سے امید کی جاتی ہے کہ وہ ا کرزن گزٹ کے کالم کھولے گا بلکہ

صفحہ ٥٩٥

و حدیث کے دلائل ہرگز نہ مانیں گے۔ مرزائی تو آنحضرت ﷺ کی معراج کے بھی قائل نہیں اور اس میں بھی ویسی ہی تاویلیں کرتے ہیں۔ جیسی حیات مسیح میں گویا معجزات کے منکر ہیں۔ پس وہ معجزات پر ویسے ہی اعتراض کرتے ہیں۔

جیسے آریا اور دہریے کہ دو ہزار برس تک کوئی انسان بے کھائے پیئے کیونکر زندہ رہ سکتا ہے اور کیا عیسیٰ مسیح کو حضرت مریم روٹیاں پکا کر کھلاتی ہیں اور کیا آسمان پر کوئی پاخانہ اور سنڈاس بھی ہے جہاں عیسیٰ بول وبراز کرتے ہیں۔ یہ وہ اعتراضات ہیں جن کو سن کر سادہ لوح مسلمان ساکت ہو جاتے ہیں۔ ان کو یہ معلوم نہیں کہ ایسی گفتگوئیں ملحدانہ ہیں۔ ہم کہتے ہیں اور بارہا کہہ چکے ہیں کہ مرزا اور مرزائیوں سے یہ بحث ہی نہ کرنی چاہئے جب تک وہ یہ اقرار نہ کریں کہ ہم آریا یا دہریے ہیں مسلمان نہیں۔ ان سے تو یہ کہنا چاہئے کہ تم مرزا کا مہدی اور مسیح اور نبی امام الزمان ہونا ثابت کرو۔ ہم تھوڑی دیر کو فرض کئے لیتے ہیں کہ عیسیٰ مسیح آسمان پر نہیں گئے مگر یہ تمہارے لئے مفید نہیں۔ تمہارے لئے جب مفید ہو کہ جس کلام الہی سے تم مسیح کی وفات ثابت کرتے ہو اسی سے دنیا میں مسیح موعود کا آنا بھی ثابت کرو اور پھر قادیان سے اس کا خروج ۔ وجہ یہ ہے کہ آپ احادیث کو یکساں نہیں مانتے ۔صرف ان احادیث کو مانتے ہیں جو آپ کے مطلب کی ہیں۔ مثلاً عیسیٰ موعود کے آنے کی حدیث پر تو ایمان ہے مگر ثلاثون دجالون والی حدیث سے انکار ہے گویا اس آیت پر عمل ہے کہ "نومن ببعض ونکفر ببعض" بس آپ محض قرآن سے جس پر آپ کا اور ہمارا یکساں اتفاق ہے۔ مسیح موعود کا آنا ثابت کریں۔

اس کے بعد خود بدولت کا مسیح ہونا جتنے مہدی اور مسیح موعود آج تک گزرے اور اب بھی مسیحیت ومہدویت کے تین مدعی موجود ہیں کیا ان میں سے کوئی مکار اپنے وعدے میں سچا نکلا ہے جو آپ کے سچے ہونے اور محک امتحان پر پورا اترنے کی امید ہے۔ جیسی دلیل آپ پیش کرتے ہیں اس سے کہیں بڑھ کر آپ کے رقیب پیش کر رہے ہیں۔ پس کس کو سچا ماننا چاہئے۔ ممات مسیح کو کوئی تعلق آپ کے دعویٰ سے نہیں اور یہ بھولے بھالے جاہل اور ضعیف الاعتقاد مسلمانوں کے لئے ایک سفسطہ ہے۔ ایسی تحریک کرنے والے ضرور مرزائی ہیں جو دھوکا دے کر لوگوں کی آنکھوں میں خاک ڈالنا اور ان کو مقدس مذہب اسلام سے منحرف کرنا چاہتے ہیں۔

ذی عقل اور ذی ہوش مسلمانوں کے لئے ہماری تحریر بالا کافی ہے اور ہم عصر کرزن گزٹ سے امید کی جاتی ہے کہ وہ ایسی غلطی میں پڑے گا نہ ایسی دھوکا دینے والی بحث کے لئے کرزن گزٹ کے کالم کھولے گا بلکہ مرزائیوں اور مرزا قادیانی سے صرف ان کے مسیح موعود ہونے

٢٤٩

صفحہ ٥٩٦

کے دلائل طلب کرے گا۔ اس میں بخیہ کھل جائے گا۔ اور دو تین ہی بحثوں میں ترکی تمام ہو جائے گی۔ انشاء اللہ تعالیٰ! اب رہا آپ کا یہ دعویٰ کہ میں پیشین گو اور رمال اور نجومی ہوں۔ علاوہ اس کے کہ آپ اس دعویٰ میں بھی ہٹے اور جھوٹے ہیں۔ جیسا کہ واقعات شہادت دے رہے ہیں جن کے دہرانے کی ضرورت نہیں۔ خود قرآن کی رو سے غیب دانی کا دعویٰ کرنے والے مردود ہیں۔ اور اگر آپ کو اپنی نظم ونثر کا دعویٰ ہے اول تو اس کی بھی ہم کما حقہ چھتاڑ کر چکے ہیں۔ دوم! اصلی مسیح نے ناظم و ناشر اور شاعر بننے کا کب دعویٰ کیا اور قرآن وحدیث میں کہاں لکھا ہے کہ مسیح موعود ناظم اور ناشر اور شاعر بن کر آئے گا۔ کسی بات کا تو آپ جواب دیں۔

٤ ...... مرزائی مردہ زندہ ہو گیا

مولانا شوکت اللہ میرٹھی !

گزشتہ مرزائی اخبار میں لکھا ہے کہ فلاں مرزائی کا لڑکا سخت علیل قریب بمرگ تھا۔ مرزا قادیانی کی دعا اور توجہ سے زندہ ہو گیا۔ اس صورت میں تو تمام طبیب جو سخت سخت امراض کا علاج کرتے ہیں۔ مسیح موعود ہیں۔ پھر مرزا قادیانی کا مردے کو زندہ کرنا تو خلاف قانون فطرت نہیں۔ مگر عیسیٰ مسیح کا احیاء اموات خلاف فطرت ہے۔ یعنی ”ابرأ الاکمہ والابرص واحیی الموتیٰ باذن اللّٰہ“ سے مراد روحانی احیاء ہے۔ جو بات دیگر انبیاء کے لئے محال ہے۔ وہ مرزا قادیانی کے لئے ممکن بلکہ واقع ہے۔ اس مسئلے کو آپ کی بلا جانے کہ الممکن ممکن دائماً والمحال محال دائماً۔ پچھلے سال خود مرزا قادیانی کا اکلوتا اور چہیتا بیٹا ہاتھوں پر آ گیا تھا اور ام المرزا ئین روتی بسورتی ٹسوے بہاتی۔ اپنے لاثانی نبی (شوہر) کے پاس آئی تھی کہ یہ آسمانی باپ کا پیارا ہو گیا ہے۔ اس کو واپس لاؤ۔

مرزا قادیانی نے اسی وقت پھٹک ایک اور پھٹک دو کا بروزی چھو منتر پڑھ کر زندہ کر دیا تھا اور اس کی شہادت خود ام المرزا ئین نے دی کہ لے پالک کی قسم آسمانی باپ کی قسم۔ منارے کی قسم مرزائی ٹھا کر دوارے کی قسم۔ جو اس میں ذرا بھی شک ہو۔ ہو بہو عین مین اسی طرح ہوا۔ اب غور فرمائیے کہ ام المرزا ئین کی ایک شہادت دو لاکھ مرزائیوں کی شہادت کے برابر بلکہ اس سے بھی بڑھ کر ہے پھر جب خاص الخاص مرزا قادیانی کا نور العین ہرگز زندہ نہ ہو سکا تو کسی مرزائی کا فرزند کیوں زندہ نہ ہو۔ اب تو مرزائی سنت جاری ہو گئی۔ دریں چہ شک۔ بھلا ایسی حماقتوں پر وہی بے دال کے بودم ایمان لاتے ہیں جن کی آنکھیں نیل سکر کی سلائی پھیر کر ابلیس علیہ اللعنہ نے چوپٹ کر دی ہیں۔

٢٥٠

صفحہ ٥٩٧

تعارف مضامین ...... ضمیمہ شحنہ ہند میرٹھ

سال ١٩٠٣ء کے ١٦ اگست کے شمارہ نمبر ٣١ کے مضامین

اسی ترتیب سے پیش خدمت ہیں:

١ ...... مرزا قادیانی کا مکاشفہ یا تریا چلتر

مولانا عبدالحق کوٹلہ سرہند !

بسم اللہ الرحمن الرحیم. حامداً ومصلیاً . اما بعد ! مرزا قادیانی فرماتے ہیں کہ مولوی نذیر حسین صاحب بعد انتقال مرزا قادیانی کی جماعت میں داخل ہوئے۔ البدر نمبر ١ ج ١۔ اس مکاشفہ کے سمجھنے میں مرزا قادیانی نے بڑا دھوکہ کھایا کہ اپنی ناپاک جماعت سمجھ لی۔ مولوی صاحب تو اس جماعت میں داخل ہوئے جس کا ذکر حدیث ما انا علیہ واصحابی کے متصل ہوا ہے۔ مشکوٰۃ اور جس جماعت کے تابع مولوی صاحب زندگی میں تھے اور جس جماعت سے علیحدہ ہونے کے باعث مرزا قادیانی معہ ذریتہ خود بحکم ید اللہ علی الجماعت ومن شذ شذ فی النار قابل دخول جہنم بن رہے ہیں۔

یہ عجیب قصہ اور غریب معمہ ہے کہ مولانا صاحب تو مرزا قادیانی کو زندیق دجال فرما رہے اور مرزا قادیانی ان کو اپنی جماعت میں داخل شدہ بتاتے ہیں۔ ہذا شئ عجیب۔ نہیں نہیں مرزا قادیانی نے اپنے مریدین کے بہکانے کے واسطے تریا بید کا چلتر کھیلا ہے۔ یہ تو اس عالم غیبی کا حال ہے جس کی خبر کوئی سوائے مخبر صادق آنحضرت ﷺ کے نہیں دے سکتا اور جس پر سوائے عالم الغیب والشہادت کے کسی کو اطلاع نہیں مگر مرزا قادیانی جو کچھ کہیں بحکم حب الشئ یعمی و یصم مرزائی اندھا

٢٥١

صفحہ ٥٩٨

دہند سر تسلیم خم کرنے لگتے ہیں۔ مرزا قادیانی تو مولوی محمد حسین صاحب کو بھی اپنی جماعت کی طرف مائل اور داخل فرما کر اپنے اندھے مریدوں کو تسلیم کرا رہے ہیں اور بحکم ۔

چہ دلاور است دزدے کہ بکف چراغ دارد

یہ کہتے ہوئے ذرا نہیں جھجکتے۔ غرض مرزا قادیانی نے عملاً قولا۔ بے حیا باش ہر چہ خواہی کن پر خوب عمل کر کے دکھایا ہے اور اپنے آپ کو مضحکہ طفلاں بنایا ہے۔ فقط

مساجد کی بربادی کی آرزو کرنے سے مرزا اور مرزائیوں کی خانہ بربادی

اللہ جل جلالہ وعم نوالہ اپنی کتاب پاک میں فرماتے ہیں: ”ومن اظلم ممن منع مساجد الله ان يذكر فيها اسمه وسعى فى خرابها اولئك ما كان لهم ان يدخلوها الا خائفين لهم فى الدنيا خزى ولهم فى الآخرة عذاب عظيم“ یعنی اور اس شخص سے بڑھ کر ظالم کون ہے جس نے خدا کی مسجدوں میں وہاں اس کا نام لینے سے روک دیا اور بربادی کے لئے دوڑا یہ لوگ اس قابل نہیں کہ اس میں داخل ہوں مگر ڈرتے ہوئے ان کے لئے دنیا میں ذلت اور آخرت میں بڑا عذاب ہے۔ سبحان اللہ ! اس کلام معجز نظام کا یہ کیسا روشن معجزہ ہے کہ باوجود کسی کے مانع نہ ہونے کے بھی مرزائی لوگ مساجد میں داخل ہونے سے ڈرتے ہی نہیں بلکہ ان کی خرابی و بربادی کے درپے ہوتے ہیں۔ چنانچہ مرزا قادیانی فرماتے ہیں کہ : ”مسجدیں برباد ہو کر ہمارے قبضہ میں آجائیں گی ۔“

(البدر نمبر ٦،٥ جلد ١، ملفوظات ج ٤ ص ٢٤١)

یہی وجہ ہے کہ مرزائیوں کو ہر جگہ اور ہر موقع میں سوائے ذلت اور رسوائی کے کچھ ہاتھ نہیں لگتا اور جیسے مرزائی مساجد کی ویرانی کے لئے کھڑے ہوتے ہیں اسی طرح جہنم ان کے لئے منہ کھولے ہوئے ہے۔ بے شک بحکم ”ماكان للمشركين ان يعمروا مساجد الله“ ۔ یہ معجزہ قرآنی ہے کہ مرزائیوں کے کفر و شرک کے باعث ان کا خیال معاذ اللہ مساجد کی بربادی کی طرف دوڑتا ہے نہ آبادی کی جانب، کیونکہ تعمیر مساجد بحکم ”انما يعمر مساجد الله“ ایمان سے مشروط ہے جس سے مرزا مرزائی کوسوں دور مہجور ہیں۔ لاریب بحکم ”انما المشرکون نجس فلا يقربوا المسجد“ ایسا ہی ہونا چاہئے مسجدیں تو بحکم ”ان المساجد لله فلا تدعوا مع الله احدا“ واسطے واحد پرستی کے ہیں۔ پس جو شخص تصویر اور تثلیث پرستی کا وطیرہ رکھتا ہے۔ اس کو مساجد سے کیا کام اور مساجد کی بربادی نہ چاہے تو کیا کرے۔ بھلا ابغض المخلوق

٢٥٢

صفحہ ٥٩٩

احب البلاد کی طرف کیوں جھکیں وہ تو ابغض المواضع ومنارہ کی جس قدر پرستش کریں بجا ہے۔ الغرض مرزا قادیانی قولا وعملا اس امر کا کافی ثبوت دے رہے ہیں کہ بحکم آیت قرآنی معہ ذریہ خود مجسم شرک و کفر ہیں ورنہ مومن باللہ کی زبان سے بے ادبی اور توہین شعار الہی کی کب ہو سکتی ہے نہیں نہیں جبکہ تعظیم شعار الہی بحکم ”ومن يعظم شعائر الله فانها من تقوى القلوب “ اہل تقویٰ کا شعار اہل ایمان کا دثار ہے تو مرزائی ان کی تعظیم کس طرح کر سکتے ہیں۔ قال اللہ تبارک و تعالیٰ ”یوم یکشف عن ساق ويدعون الى السجود فلا يستطيعون“

جواب کافی دینے پر دس روپیہ انعام کا وعدہ

البدر نمبر ٤ جلد ١ میں مرزا قادیانی فرماتے ہیں کہ عبداللہ آتھم نے پیشینگوئی کے پہلے دن رجوع کیا تھا چالیس مسلمان اور عیسائی گواہ ہیں۔ جواباً عرض ہے کہ اگر پہلے دن رجوع کر لیا تھا تو پندرہ ماہ تک اس کی موت کا کیوں انتظار کیا گیا اور ہر طرف مرزائی جماعت میں شور وغوغا کیوں پڑا رہا اور چار جانب سے مرزائیوں نے تار کی گھوڑ دوڑ کیوں جاری رکھی اور پندرہویں مہینے کے اخیر دن کے غروب تک قادیان میں مرزائیوں کا کیوں جمگھٹہ رہا اور پیٹ پیٹ کر اور رو رو کر کیوں دعائیں مانگی گئیں۔ اگر مرزا قادیانی اس کا معقول جواب جس کو مخالفین مذہب تسلیم کر لیں۔ عطا کریں تو مبلغ ١٠ روپیہ انعام۔ ورنہ لعنتہ اللہ على الكاذبين، والسلام على من اتبع الهدى!

٢ ....... وہی حیات و ممات مسیح

مولانا شوکت اللہ میرٹھی !

مرزا قادیانی آیات قرآنی میں تحریف بالمعنے کر کے مسیح کو اس لئے مارتے ہیں کہ اگر وہ زندہ ہیں اور مخبر صادق ﷺ کی بشارت کے موافق دنیا میں آئیں گے تو میں مسیح موعود نہیں ہو سکتا۔ لیکن آپ کا پیٹ پھر بھی خیالی پلاؤ سے نہیں بھر سکتا۔ آپ اور آپ کے چیلے گلے میں منادی کا ڈھول ڈال کر عبث پیٹ پیٹ رہے ہیں۔

پھر آپ کی تحریف اور تاویل بھی دو کوڑی کی ہے۔ اس کی وجہ ایک تو خبط اور مالیخولیا اور فریب اور کید۔ دوم جہالت ہے۔ اگر کلام مجید کی بلاغت سے واقفیت ہوتی تو یہ ہذیان ہرگز نہ بکا جاتا۔ ”بل رفعه الله “ میں آپ رفع روحانی بتاتے ہیں۔ یعنی روحانی بلندی یا رفع الدرجات۔ اول تو خود سیاق آیت اس معنے کے منافی ہے کیونکہ کلام مجید میں رفع سے جہاں کہیں رفع درجات

٢٥٣

صفحہ ٦٠١

مراد لی ہے۔ وہاں رفع کا مضاف الیہ ضرور مذکور ہوا ہے۔ مثلاً ”رفعناہ مکانا علیا“ یعنی رفع مکان اور الیہ یصعد الکلم الطیب والعمل الصالح یرفعہ یعنی صعود کلمات اور رفع عمل۔ تھوڑی سی عربی استعداد والا بھی سمجھ سکتا ہے کہ صعود کے معنی اوپر چڑھنے کے ہیں جس کے مقابلے میں رفع موجود ہے۔ اس کے معنی بھی چڑھنے اور بلند ہونے کے ہیں۔ اور بل رفعہ اللہ میں ضمیر مفعول عیسیٰ مسیح کی جانب ہے یعنی خود عیسیٰ مسیح کو اٹھا لیا۔

یہاں رفع کے ساتھ درجات یا مکان نہیں یعنی یوں نہیں فرمایا کہ بل رفع اللہ درجات۔ پھر قتل اور صلب کے بعد رفع حیات ہوتا ہے یا رفع روحانی۔ رفع روحانی (روح کی رفیع الدرجاتی) تو حالت زیست میں بھی ہو سکتی ہے۔ کیونکہ روح حالت حیات میں بھی قائم موجود رہتی ہے۔ ہاں بعد ممات اس کا تعلق جسم سے قطع ہو جاتا ہے۔ انبیاء اور اولیاء اور صلحاء کی روح حالت حیات ہی میں بڑے بڑے درجے پاتی ہے۔ کیا عیسیٰ مسیح حالت زیست میں رفیع الدرجات نہ تھے جو بعد ممات ہوتے ہاں۔ مرزائی عقائد تو یہی ہیں کہ عیسیٰ مسیح (معاذ اللہ) نبی کیا معنی مہذب انسان بھی نہ تھے۔ ہم حیران ہیں کہ بعد ممات رفیع الدرجات کیوں ہوئے۔ مرزا اور مرزائی اپنے منہ پر تھپڑ ماریں۔

پھر ما قتلوہ وما صلبوہ میں جو نفی قتل ہے تو ضرور باعتبار مقابلہ کے بل رفعہ اللہ میں نفی موت مقصود ہے۔ یعنی خدائے تعالیٰ اضراب تاکیدی کے ساتھ فرماتا ہے کہ نہ تو عیسیٰ مسیح کو یہود نے قتل کیا اور نہ سولی پر چڑھایا۔ بلکہ خدائے تعالیٰ نے اس کو زندہ اٹھا لیا اور اگر نفی موت مراد نہیں تو نفی قتل نے کیا فائدہ دیا اور حسب عقیدہ مرزائی اگر عیسیٰ فوت ہو گئے ہیں تو لفظ رفع بے کار ٹھہرتا ہے۔ پس یا تو ما قتلوہ وما صلبوہ کو بے کار سمجھو یا بل رفعہ اللہ کو۔ قرآن مجید سے تو مرزا قادیانی کا مطلب ثابت ہو نہیں سکتا اور قرآن مجید حشو و زوائد اور اختلافات سے بالکل پاک ہے۔

ذرا خیال کرنا چاہئے کہ کلام مجید میں جہاں کہیں توفی کا لفظ آیا ہے تو سیاق و سباق کے قرینے سے اس کے معنی موت کے ہیں کہیں بھی لفظ رفع نہیں آیا صرف آیت ”یا عیسیٰ انی متوفیک ورافعک الیٰ“ میں رفع آیا ہے۔ اس میں بھی مرزا قادیانی کے عقیدے کے موافق وہی خرابی ہے کہ جب وفات ہو چکی تو پھر رفع فضول۔ حالانکہ توفی کے معنی منجملہ دیگر معانی کے پورا کرنے کے لئے جائیں نہ کہ وفات کے تو رفع سے رفع درجات مراد ہو سکتی ہے۔

بل کے ساتھ اضراب کرنا اور پھر تائید میں ”کان اللہ عزیزاً حکیما“ فرمانا ضرور ایک مہتم بالشان واقع پر دلالت کرتا ہے اور وہ کیا ہے عیسیٰ مسیح کا زندہ آسمان پر جانا۔ ورنہ رفع

٢٥٤

روحانی تو ہر ذی روح کا ہو جاتا ہے۔ عیسیٰ کی کیا خص الآیہ بھی فضول ٹھہرتی ہے کیونکہ رفع روحانی (سلب بے کار ہوگا۔ یوں کہئے کہ سارا واقعہ بھی غلط ہوتا ہ عیسیٰ مسیح دنیا میں اپنی موت مرے۔ اتنی سی بات ک قرآن جھوٹا ہو، حدیثیں غلط ہوں، مگر رکھ چھوڑا ہے پھر بھی مصیبت ٹل نہیں سکتی یعنی آپ ممات سے کوئی تعلق قادیانی عقل کو نہیں۔

ہزاروں برس تک بے کھائے پیئے کسو صحیح سالم پہنچنا محال ہے مگر آسمانوں کی چھتوں پر دوڑے دوڑے پھرنا اور اس کی فضائوں میں مکھی طرح پنکھ پھیلانا ممکن بلکہ واقع ہے۔

تمام انبیاء کے معجزات خلاف فطرت کیا معنی کے رفعہ اللہ میں رفع مسیح خدا کا فعل ۔ مفعول ہیں مگر مرزا اس کے منکر ہیں۔ یہ بات بھی منکر۔ اس سے بڑھ کر کونسی بلادت، سفاہت، خر جرات و جسارت ہوگی جو چند خود غرض ڈنگروں

٣ ...... ٪

مولانا شو

(البدر مطبوعہ ٧ اگست ١٩٠٣ء، ملفوظا

”میرے خیال میں یہ بات گزری کہ دوزخ کیوں بڑھ گیا۔ مگر معا خدائے تعالیٰ نے میر محاسن کے بھی ساتھ۔ مگر ایک دروازہ رحمت ا ماشاء اللہ کیا کہنا ہے۔ بھلا ایسے معنی کو کون حل کر سکتا ہے۔ یہ الہامی باتیں ہ کہاں۔ کیوں جناب خدا کی رحمت کا بس ای نہیں آپ کے قول کے موافق شاید رحمت ۔

صفحہ ٦٠١

روحانی تو ہر ذی روح کا ہو جاتا ہے۔ عیسیٰ کی کیا خصوصیت ہوئی اور اس صورت میں نفی شک منہ الآیہ بھی فضول ٹھہرتی ہے کیونکہ رفع روحانی (سلب روح) میں کسی کو شک نہیں۔ علیٰ ہٰذا شبہ لہم بھی بے کار ہوگا۔ یوں کہئے کہ سارا واقعہ بھی غلط ہوتا ہے۔ مرزا قادیانی کا تو صرف اتنا مقصد ہے کہ عیسیٰ مسیح دنیا میں اپنی موت مرے۔ اتنی سی بات کی خاطر آپ قرآن مجید کو جھٹلا رہے ہیں۔

قرآن جھوٹا ہو، حدیثیں غلط ہوں، مگر عیسیٰ کس طرح مریں۔ جن کو مسلمانوں نے زندہ رکھ چھوڑا ہے پھر بھی مصیبت ٹل نہیں سکتی یعنی آپ کسی طرح مسیح موعود نہیں بن سکتے۔ کیونکہ مسیح کی ممات سے کوئی تعلق قادیانی مغل کو نہیں۔

ہزاروں برس تک بے کھائے پیئے کسی کا زندہ رہنا اور طبقہ زمہریر تک کسی ذی روح کا صحیح سالم پہنچنا محال ہے مگر آسمانوں کی چھتوں پر آسمانی باپ کا اپنے چہیتے لے پالک کی محبت میں دوڑے دوڑے پھرنا اور اس کی تلاش میں بھیڑ کی طرح ممیانا اور گائے کی طرح ڈکرانا اور مرغی کی طرح پنکھ پھیلانا ممکن بلکہ واقع ہے۔

تمام انبیاء کے معجزات خلاف فطرت مگر مرزا قادیانی کے مصنوعی فطرت کے خلاف نہیں کیا معنی کہ رفعہ اللہ میں رفع مسیح خدا کا فعل ہے جو رفع کا فاعل ہے خود عیسیٰ مسیح کا فعل نہیں جو مفعول ہیں مگر مرزا اس کے منکر ہیں۔ یہ بات بھی خلاف فطرت الٰہی ہے حالانکہ فطرت الٰہی کے خود منکر۔ اس سے بڑھ کر کونسی بلادت، سفاہت، حماقت، جہالت یا قابل لعنت تہمت اور خلاف ایمان جرأت و جسارت ہوگی جو چند خود غرض چیلوں نے ان میں پیدا کر دی ہیں۔

٣ ....... بہت بڑا نکتہ فرمایا

مولانا شوکت اللہ میرٹھی!

(البدر مطبوعہ ٧؍اگست ١٩٠٣ء، ملفوظات ج ٦ ص ٧٨) میں مرزا قادیانی فرماتے ہیں کہ

”میرے خیال میں یہ بات گزری کہ دوزخ کے تو سات دروازے اور بہشت کے آٹھ ایک نمبر کیوں بڑھ گیا۔ مگر معا خدائے تعالیٰ نے میرے دل میں ڈالا کہ جرائم کے اصول بھی سات ہیں اور محاسن کے بھی سات۔ مگر ایک دروازہ رحمت الٰہی کا جو بہشت کے دروازوں میں زیادہ ہے۔“

ماشاء اللہ کیا کہنا ہے۔ بھلا ایسے نکتے بجز مرزا قادیانی کے کون بیان کر سکتا ہے اور ایسے معمے کو کون حل کر سکتا ہے۔ یہ الہامی باتیں ہیں۔ دوسروں میں ایسی باتوں کے القاء ہونے کا مادہ کہاں۔ کیوں جناب خدا کی رحمت کا بس ایک ہی دروازہ ہے۔ باقی سات دروازوں میں رحمت نہیں آپ کے قول کے موافق شاید زحمت ہے۔ معاذ اللہ!

٢٥٥

صفحہ ٦٠٣

تو خدا کی رحمت کو آپ نے تنگ اور محدود کر دیا۔ حالانکہ بہشت جس کا نام ہے وہ خود رحمت ہے۔ بہشت کا گوشہ گوشہ رحمت ہے۔ بہشت کی ہر شے رحمت ہے۔ خدا تعالیٰ کا وہاں ہر وقت دیدار ہونا عین رحمت ہے۔ مگر یہ وہ سمجھے جو رحمت کی ماہیت سے واقف ہو۔ آپ رحمت خداوندی سے دور ہیں لہذا رحمت کو کیوں جاننے لگے؟

مجدد پر یہ الہام ہوا کہ مرزا بالکل جھوٹا ہے۔ اس پر ہم نے کوئی الہام نہیں کیا وہ چونکہ ہماری رحمت کو تنگ اور محدود بتاتا ہے تو جیسا ہم اپنے قرآن میں فرما چکے ہیں کہ ”ان الشياطين لیوحون الی اولیائھم “ اس پر شیاطین القا کرتے ہیں کیونکہ وہ ہماری رحمت کے منکر ہیں۔ بہشت کے آٹھ دروازے اس لئے ہیں تاکہ معلوم ہو کہ ”سبقت رحمتی علی غضبی“ یعنی میری رحمت غضب پر سبقت لے گئی ہے۔

٤ ...... الحاد کی تعلیم

مولانا شوکت اللہ میرٹھی !

اسی نمبر کے البدر میں مرزا قادیانی فرماتے ہیں کہ ”قرآن شریف سے جو نتیجہ نجات کے بارے میں استنباط (مستنبط ) ہوتا ہے وہ یہ کہ نجات نہ تو صوم سے ہے نہ صلوٰۃ سے زکوٰۃ اور صدقات سے۔ بلکہ محض دعا اور خدا کے فضل سے ہے۔“ (ملفوظات ج ٦ ص ٨٠) بھلا اس سے بڑھ کر کونسی ملحدانہ تعلیم ہوگی کہ نجات خدائے تعالیٰ کے فرض کئے ہوئے فرائض اور احکام کے بجالانے سے نہیں ہوتی بلکہ محض دعا اور خدا کے فضل سے ہوتی ہے۔ کوئی شخص خدائے تعالیٰ کے احکام تو بجا نہ لائے اور صرف دعا کر لیا کرے تو کیا اسکی نجات ہو جائے گی اور ایسے شخص پر خدا کیونکر فضل کر سکتا ہے۔ کلام مجید کی پہلی تعلیم پارہ الم کے شروع میں یہ ہے۔ ”یقیمون الصلوٰۃ ویؤتون الزکوٰۃ ومما رزقناھم ینفقون “ آگے چل کر ارشاد ہوتا ہے۔ ”اولئک علی ھدی من ربھم واولئک ھم المفلحون “ یعنی نماز پڑھنے والے۔ زکوٰۃ دینے والے۔ اپنی کمائی خرچ کرنے والے ہی فلاح (نجات) پانے والے ہیں۔

علیٰ ھذا اسی مضمون کی اور آیتیں بھی ہیں۔ معلوم نہیں مرزا قادیانی نے اپنے قول کے موافق مذکورہ بالا نتیجہ قرآن کی کونسی آیت سے مستنبط کیا ہے کہ نماز روزہ۔ زکوٰۃ ،حج ادا نہ کرو اور صرف دعا مانگو بس خدائے تعالیٰ فضل کرے گا۔ بس اب کیا تھا یار لوگ شراب خوری ، عیاشی ، فسق وفجور میں دھڑلے سے مصروف ہوں گے اور کبھی کبھی بھاگتے دوڑتے ٹکریں مار لیا کریں گے اور دعا کر لیا کریں گے۔

٢٥٦

بس بیڑا پار ہے اور جب محض فضل نجا نہیں کیونکہ فضل کی تعریف یہ ہے کہ بے علت ہو۔ اب زکوٰۃ اور انہیں پر نجات منحصر ہے جیسے عناصر اربعہ پر ارکان کے مخالف ہیں۔ گویا اسلام کی بنیاد ڈھانا او اور سب کو اسلامی شریعت سے آزاد اور مطلق العنا

آنحضرت ﷺ ارشاد فرماتے ہیں کہ ”من ترک بین المؤمن والكافر الصلوٰة“ اور خود قرآن عن صلاتهم ساهون“ اور ”اذا قاموا الی کرنے والوں کے لئے وعید ہے تو تارکوں کے لئے

لیکن مرزا قادیانی اس کی کچھ پرواہ نہی فرقہ مرجیہ میں داخل کر کے جہنمی کرنا اور اسلام کا مٹائے تاقیامت مٹ نہیں سکتا۔ سینکڑوں ملحد اور مر

٥ ......

مولانا شوکت

مرزا قادیانی نے حال میں تازہ بتاز والصدقات “ (تذکرہ ص ٤٤٧، طبع سوم ) اور فرم واضح وحی ہوتی ہے کہ ”کسی قسم کے شک وشبہ کی ہو تو ہو ورنہ ہر وحی میں پیشینگوئی ضرور ہوتی ہے۔

الہام کیا معنی یہ تو آسمانی باپ کی چو سمجھا ہے یا لے پالک نے۔ الہام تو ابلاغ و تبل کہ واضح ہو صاف ہو۔ کیا ایسا مجمل اور مہمل او پاؤں۔ فتنہ اور صدقات علاوہ اس کے کہ باہم م

وہاں کسی قسم کے فتنہ کو ہرگز دخل نہ ہوگا اگر ان ہوگی جس کی خبر غیب سے دی ہے۔

بظاہر معلوم نہیں ہوتا کہ صدقے او معنے لے پالک اور آسمانی باپ دونوں سے بھ

صفحہ ٦٠٣

بس بیڑا پار ہے اور جب محض فضل نجات کا ذریعہ ہے تو اس کھڑاک کی بھی ضرورت نہیں کیونکہ فضل کی تعریف یہ ہے کہ بے علت ہو۔ اسلام کی بنیاد چار چیزیں ہیں۔ نماز ، روزہ ، حج ، زکوٰۃ اور انہیں پر نجات منحصر ہے جیسے عناصر اربعہ پر اجسام کا وجود منحصر ہے مگر مرزا قادیانی انہیں چار ارکان کے مخالف ہیں۔ گویا اسلام کی بنیاد ڈھانا اور مسلمانوں میں وسیع المشربی کا طوفان پھیلانا اور سب کو اسلامی شریعت سے آزاد اور مطلق العنان کرنا چاہتے ہیں۔ اللہ اللہ وہ نماز جس کی نسبت آنحضرت ﷺ ارشاد فرماتے ہیں کہ ”من ترک الصلوۃ متعمدا فقد کفر“ اور ”الفرق بین المؤمن والکافر الصلوۃ“ اور خود قرآن مجید میں ہے ”فویل للمصلین الذین هم عن صلاتهم ساهون“ اور ”اذا قاموا الی الصلوۃ قاموا کسالی“ دیکھو نماز میں سستی کرنے والوں کے لئے وعید ہے تو تارکوں کے لئے کیسی وعید ہونی چاہئے۔

لیکن مرزا قادیانی اس کی کچھ پرواہ نہیں کرتے اور مسلمانوں کو تارک الصلوٰۃ بنانا اور فرقہ مرجیہ میں داخل کرکے جہنمی کرنا اور اسلام کو دنیا سے مٹانا چاہتے ہیں لیکن اسلام تو کسی کے مٹائے تا قیامت مٹ نہیں سکتا۔ سینکڑوں ملحد اور مرتد پیدا ہوگئے مگر خود ہی مٹ گئے۔

٥ ...... بے معنی الہام

مولانا شوکت اللہ میرٹھی !

مرزا قادیانی نے حال میں تازہ بتازہ نو بنو ڈال کا لغو ٹاپہ الہام بیان کیا کہ ”الفتنة والصدقات“ (تذکرہ ص ٤٧٧ طبع سوم) اور فرمایا کہ اب الہام بھی اسے کیا کہیں۔ ایسی صاف اور واضح وحی ہوتی ہے کہ ”کسی قسم کے شک وشبہ کی بالکل گنجائش نہیں رہتی۔ شاذ ونادر ہی کوئی ایسی وحی ہو تو ہو ورنہ ہر وحی میں پیشینگوئی ضرور ہوتی ہے ۔“ دریں چہ شک!

الہام کیا معنے یہ تو آسمانی باپ کی چوچوہاتی وحی ہے جس کا مطلب یا تو آسمانی باپ نے سمجھا ہے یا لے پالک نے۔ الہام تو ابلاغ وتبلیغ اور ہدایت کے لئے ہوتا ہے جس کی صفت یہ ہے کہ واضح ہو صاف ہو۔ کیا ایسا مجمل اور مہمل اور ناتمام کلام ربانی الہام ہوسکتا ہے جس کا سر ہے نہ پاؤں۔ فتنہ اور صدقات علاوہ اس کے کہ باہم متضاد ہیں کیونکہ جہاں صدقہ اور خیرات کو دخل ہوگا ۔ وہاں کسی قسم کے فتنہ کو ہرگز دخل نہ ہوگا اگر ان کو معطوف ومعطوف علیہ مانا جائے تو صرف مبتداء ہوگی جس کی خبر مفقود ہے۔

بظاہر معلوم نہیں ہوتا کہ صدقے اور فتنے دونوں جمع ہوکر کیا کریں گے لیکن مجدد اس کے معنے لے پالک اور آسمانی باپ دونوں سے بڑھ کر سمجھتا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ مرزائی لوگ کفر اور

٢٥٧

صفحہ ٦٠٤

الحاد شرک اور بدعت کے کاموں تعمیر وغیرہ میں صدقات (چندہ) دیں گے اور فتنہ (غضب الہی) میں مبتلا ہوں گے۔ اسی الہام کے حقیقی معنے تو یہ ہی ہیں اور لے پالک نے اس کے معنے یہ سمجھے ہیں کہ جلد جلد صدقہ وہی چندہ دو ورنہ فتنہ میں مبتلا ہوں گے۔ سر نیچے ہوگا اور ٹانگیں اوپر۔ اور پھر کیا عجب ہے کہ سولی پر لٹکائے جاؤ کیونکہ قادیانی مسیح وہ مسیح نہیں کہ خود سولی پر لٹک کر دنیا کا کفارہ بنے اور سب کو پاک کر دے۔ یہ تو وہ مسیح ہے کہ ان کو سولی پر چڑھائے گا اور خود ناپاک رہے گا۔

یہ ویسا ہی الہام ہے جیسا چند سال قبل ہوا کرتا تھا کہ فلاں اور فلاں مارا جائے گا اس کے پیٹ میں بھالا بھونکا جائے گا اور اس کے سر پر آرا چلایا جائے گا۔ فلاں کولہو میں پیلیں گے اور فلاں کو تہ تیغ کریں گے۔ اتنا فرق ہے کہ یہ غضب ناک الہام خاص و عام دونوں کے لئے تھا جس کی بولتی صاحب مجسٹریٹ بہادر گورداسپور نے بند کر دی۔ لے پالک اور باپ دونوں سہم گئے۔ خطا ہو گئے۔ چپکی لگ گئی اب از سر نو یہ غضبی الہام خاص خاص مرزائیوں کے لئے ہوا ہے کہ بچہ جی! صدقہ تو نہ دو گے تو ایسے رگڑے میں جوتے جاؤ گے کہ لید تک نکل پڑے گی اور گھاس دانہ اور خوید اور راتب سب بھول جاؤ گے۔ کبھی کبھی کا کھایا پیا اگلنا پڑے گا۔ ہم تو کچھ نہیں ہاں مرزائیوں کو چوہے کا بل ڈھونڈ لینا چاہئے۔ خیر اسی میں ہے کہ کچھ کماؤ سیدھا قادیان کو چلتا کرو ورنہ تم ہو اور طرح طرح کے فتنے (بلائیں) ہیں پھر تو بھاگتے راہ نہ ملے گی۔ نہ آسمان پناہ دے گا نہ زمیں۔

اس کے مقابلہ میں مجددالسنہ مشرقیہ شوکت اللہ پر یہ الہام ہوا ہے کہ ”الفتنة والدجال. البروزی والطاعون الزوری اللعنة. الملحد والنار. المفتری والادبار. الكذاب البطال والدجال الوبال الكداب. والسجين. الجاعل والعذاب المهين. المنكر المرتد المريد وسوط النار والحديد. وغلوه ثم الجحيم صلوه ثم في سلسلة ذرعها سبعون زراعا فاسلكوه. لعنتی الیٰ یوم الدین“

ناظرین غور فرما سکتے ہیں کہ ہمارا الہام فصیح و بلیغ ۔ مربوط و مضبوط ہے یا آسمانی باپ کا الہام جو لے پالک پر ہوا ہے؟

٦ ...... مسیح موعود کے زمانے میں عمریں بڑھ جائیں گی

مولانا شوکت اللہ میرٹھی !

مرزا قادیانی فرماتے ہیں اس کے یہ معنے نہیں کہ موت کا دروازہ بند ہو جائے گا بلکہ یہ معنے ہیں کہ ”جو لوگ اس کے (جعلی مسیح) کے موید اور جان و مال سے اس کے ساتھ ہوں گے اور ہر حال میں اس کے شفیق و رفیق رہیں گے۔ ان کی عمریں بڑھا دی جائیں گی اور وہ لوگ دیر تک زندہ

٢٥٨

صفحہ ٦٠٥

رہیں گے ۔ الخ“

(ملفوظات ج ٦ ص ٧٦)

اس مردودیت اور نمرودیت اور استکبار کو ملاحظہ فرمائیے کہ مذکورہ بالا عبارت میں مردود نے خدا کا کہیں نام نہیں لیا صرف یہ لکھا کہ (ان کی عمریں بڑھادی جائیں گی) گویا یہ دجال عمریں بڑھائے گا۔ کلام مجید میں تو خدائے تعالیٰ یہ حکم دے کہ ’لاتقولن لشئ انی فاعل ذالک غدا الا ان یشاء اللہ “ اور یہ مردود استثنیٰ بھی نہ کرے گویا اپنے کو فاعل مختار اور قادر مطلق سمجھے۔ پھر اعمالِ حسنہ اور تقویٰ اللہ کا بھی ذکر نہیں صرف مسیح موعود کا ذکر ہے کہ جو لوگ جان و مال سے اس کے ساتھ ہوں گے وہ ان کی عمریں بڑھا دے گا۔ اس کا دوسرا پہلو یہ نکلا کہ جو لوگ جان و مال سے اس کے ساتھ ہوں گے۔ اور جس طرح ممکن ہوگا سو گھر مار کر ڈاکہ ڈال کر جو لوگ چندہ نہ دے گا ان کی عمریں کم ہو جائیں گی اور وہ مرجائیں گے۔ گویا خلق اللہ کی حیات و ممات مرزا کو چندہ دینے اور نہ دینے پر موقوف ہوئی۔

ہم حیران ہیں کہ جب مرزا قادیانی چندہ نہ دینے والوں کی عمریں گھٹا سکتے ہیں یعنی ان کو ہلاک کرسکتے ہیں تو چندہ دینے والوں پر ہمیشہ کے لئے موت کا دروازہ کیوں بند نہیں کرسکتے۔ الغرض مقصود تو چندہ ہے جس طرح بنے چندہ دو۔ چندے ہی کے لئے طرح طرح کی دھمکیاں ہیں جرنیلی آرڈر ہیں۔ الہام بھی اسی کے ہوتے ہیں۔ دھندا بھی اسی کا ہوتا ہے۔ مرزائی اخباروں کا کوئی پرچہ ایسا نہیں ہوتا جس میں چندے کے لئے ہاتھ نہ پھیلائے جاتے ہوں اور یہ تازیانہ نہ جمایا جاتا ہو اور دھمکی نہ دی جاتی ہو کہ جو لوگ چندہ نہ دیں گے بیعت کے رجسٹر سے ان کا نام خارج کیا جائے گا۔ بھلا کسی نبی نے آج تک ایسا کیا ہے اور یوں کاسہ گدائی گھر گھر اور در در پھرایا ہے کہ میرے پاس وہی لوگ آئیں۔ جو چندہ دیں یعنی موٹی چڑیا اور چرب شکار ہوں۔ انبیاء کو تو سب سے پہلے غریبوں اور مسکینوں نے قبول کیا ہے اور وہ لوگ انبیاء کی بیعت میں داخل ہوئے ہیں۔ جنہوں نے دنیا پر لات مار دی ہے کیونکہ سب سے پہلے انبیاء نے دنیا پر لات ماری ہے۔ پھر مرزا قادیانی بارہا اسباب پرستی کے خلاف وعظ کرتے ہیں اور توکل کی تلقین فرماتے ہیں لیکن چندہ طلب کرنا اسباب پرستی نہیں یہ خدا پرستی ہے۔ یہ تو کھلی شکم پرستی اور عیش پرستی ۔ مرزا قادیانی کی نبوت اور بعثت کا وجود تو صرف چندہ پر ہے یہ نہیں تو نبوت گاؤ خورد اور بعثت دریا برد ہے۔ لاحول ولا قوۃ الا باللہ !

٧ ....... اسلام سے ارتداد کی وجہ

مولانا شوکت اللہ میرٹھی !

مرزا قادیانی سچ کہتے ہیں کہ خود غرض آدمی اغراض کی وجہ سے اہل اقبال کے ساتھ ہو

٢٥٩

صفحہ ٦٠٦

لیتے ہیں۔ سوال یہ تھا کہ لوگ مرزائیت سے کیوں تائب ہوتے ہیں اور کس لئے فسخ بیعت کرتے ہیں۔ اس کا جواب مرزا قادیانی نے کتنا معقول دیا ہے۔ مطلب یہی ہوا نا کہ میں دولت مند ہو گیا ہوں۔ اس لئے لوگ میرے پیچھے ہوئے ہیں۔ یہ بات مرزا قادیانی نے تجربے سے کہی ہے کیونکہ بہت سے خودغرض اپاہج جن کو ہر طرف سے جواب مل گیا ہے اور خدا نے بھی ان کو جواب دے دیا ہے۔ قادیان میں پڑے روٹیاں مروڑ رہے ہیں اور مرزا قادیانی کے دم قدم اور ان کے منارے کی خیر منا رہے ہیں کہ اس کی جڑ تحت الثریٰ میں ہو اور شاخیں عالم بالا میں یہ لوگ بے شک اسلام ہی سے ارتداد کر کے قادیان آئے ہیں جب دولت مندی اور اقبال مندی ہے تو خلوص اور للہیت معلوم۔ غریب غرباء اور اپاہج اور نادار مفلس تو محض لالچ اور طمع سے شامل ہوتے ہیں۔ وہ پکے مومن نہیں ہے۔ سچے اور پکے مومن تو مالدار ہیں جو مرزا قادیانی کا خزانہ بھرتے اور آپ کی مستورات کو سونے کے جڑاؤ زیوروں کے بنانے کا موقع دیتے ہیں۔ پس مناسب معلوم ہوتا ہے کہ تمام منافقین جو قادیان میں تر لقمے کھا کھا کر اینڈ رہے ہیں۔ بیک بینی ودو گوش بارہ پتھر باہر نکال دیئے جائیں اور ان کی جگہ قارون کے پوتے پڑپوتے وارد کر دیئے جائیں جو کماؤ پوت بن کر رہیں۔

تعارف مضامین ...... ضمیمہ شحنہ ہند میرٹھ

سال ١٩٠٣ء کے ٢٢ اگست کے شمارہ نمبر ٣٢ کے مضامین

اسی ترتیب سے پیش خدمت ہیں:

١ ...... مسیح اور مہدی کیوں پیدا ہوتے ہیں

مولانا شوکت اللہ میرٹھی!

فطری طور پر انسان اپنے کو دوسرے با اقبال انسانوں کی مانند بنانا چاہتا ہے اور اس مقصد کے لئے طرح طرح کی تدابیر اور وسائل اور مکر حیل کام میں لاتا ہے۔ دنیا میں اکثر واقعات بلکہ خون ریزیاں اسی رشک اور خبط اور دنیوی جاہ و جلال کیلئے ہوئیں سوڈان میں مہدیوں کے

٢٦٠

٠٧

متواتر پیدا ہونے کے یہی وجوہ ہیں۔ ''مرزا قاد میں کونسا عنقاء کا پر ہے ایک لاکھ کئی ہزار پیغمبر جو اگر وہ انسان نہ ہوتے بلکہ فرشتے ہوتے تب تو البتہ تو جو کام ایک انسان نے کیا کیا وجہ ہے کہ اس کو ہے کیا وجہ ہے کہ دوسرے انسان میں نہ ہو یا وہ ا

قدرت الٰہی بخیل نہیں وہ سب کو ایک بلکہ خود ہر انسان چاہے تو نبی بن سکتا ہے۔ بشرطی طاق نسیان پر نہ دھر دے۔ مرزا قادیانی نے کہ انبیاء میں تھا مجھ میں بھی موجود ہے۔ بلکہ ان س ذی عقل اور ذی ہوش انسان کے لئے باعث ن (جاہلوں اور وحشیوں کو) اپنا امتی بنائے نہ کہ خ احمد رکھا۔ اگر وہ زندہ ہوتے تو میں مزہ دکھاتا کہ تم نے کیا جھک مارا کہ مجھے عرب کے ایک ہوں کہ احمد خود میں ہوں یعنی آپ اپنا غلام م باپ نے جیسی میری توہین کی تھی اس سے سو کہ خود نبی بن گیا اور دولاکھ آدمیوں کو اپنی ا

جس طرح چاہتا ہوں ان سے اٹھک بیٹھک مانگ لیتا ہوں اور سقنقوری حلوے اور معجونیں

دوم! جب حیا اور ایمان اٹھ گی ہے۔ بات یہ ہے کہ دنیوی طمع اور حب ایمان سلب ہو گیا۔ اب اپنے کو جو چاہیں غلطی کبھی تسلیم نہ کریں گے۔ وہ خوب جا منکوحہ کا ان کے قبضے میں آنا وغیرہ سرا کرا لے۔ آسمانی باپ بھی آسمان سے نا کریں گے۔ اقرار کریں تو نبوت باطل قادیانی اپنے جھوٹ کو سچ کرنے کو تاویلا

صفحہ ٦٠٧

متواتر پیدا ہونے کے یہی وجوہ ہیں۔ ”مرزا قادیانی نے سوچا کہ وہ نبی بننا کیا مشکل ہے؟ نبوت میں کونسا عنقاء کا پر ہے ایک لاکھ کئی ہزار پیغمبر جو دنیا میں گزرے ہیں سب کے سب انسان تھے۔ اگر وہ انسان نہ ہوتے بلکہ فرشتے ہوتے تب تو البتہ مشکل تھی مگر جب ہر جگہ انسانیت ہی کا ظہور ہے تو جو کام ایک انسان نے کیا کیا وجہ ہے کہ اس کو دوسرا انسان نہ کر سکے اور جو صفت ایک انسان میں ہے کیا وجہ ہے کہ دوسرے انسان میں نہ ہو یا وہ اپنے میں پیدا نہ کر سکے۔ قدرت الٰہی بخیل نہیں وہ سب کو ایک آنکھ دیکھتی ہے۔ وہ ہر انسان کو نبی بنا سکتی ہے۔ بلکہ خود ہر انسان چاہے تو نبی بن سکتا ہے۔ بشرطیکہ وہ اپنے کو پست فطرت نہ بنائے اور اولوالعزمی کو طاق نسیان پر نہ دھر دے۔ مرزا قادیانی نے کہا حواس خمسہ، قوت مدرکہ، دماغ عقل وغیرہ جو کچھ انبیاء میں تھا مجھ میں بھی موجود ہے۔ بلکہ ان سے کئی حصہ زیادہ اور کسی شخص کا امتی (غلام) بننا ایک ذی عقل اور ذی ہوش انسان کے لئے باعث ننگ ہے اور عالی فطرت انسان کا کام ہے کہ اوروں کو (جاہلوں اور وحشیوں کو) اپنا امتی بنائے نہ کہ خود کسی کا امتی اور غلام بنے۔ والدین نے میرا نام غلام احمد رکھا۔ اگر وہ زندہ ہوتے تو میں مزہ دکھاتا۔ باپ کی تو داڑھی کھسوٹتا اور ماں کا چوٹا پکڑ کر گھسیٹتا کہ تم نے کیا جھک مارا کہ مجھے عرب کے ایک امی کا غلام بنا دیا۔ خیر میں اب اس کی یوں تاویل کرتا ہوں کہ احمد خود میں ہوں یعنی آپ اپنا غلام ہوں۔ خود ہی غلام اور خود ہی آقا ہوں۔ ایسی تیسی ماں باپ نے جیسی میری توہین کی تھی اس سے سو حصہ زیادہ میں نے اپنی عزت و وقعت بڑھالی۔ کیا معنی کہ خود نبی بن گیا اور دو لاکھ آدمیوں کو اپنی امت (غلام) بنا کر ان کی ناک میں نکیل ڈال دی اب جس طرح چاہتا ہوں ان سے اٹھک بیٹھک کراتا ہوں اور ان کے گاڑھے خون کا کمایا ہوا روپیہ مانگ لیتا ہوں اور سقنقوری حلوے اور معجونیں کھاتا ہوں ۔“

دوم! جب حیا اور ایمان اٹھ گیا تو انسان سب کچھ بن سکتا ہے۔ نبی کیا معنی خدا بن سکتا ہے۔ بات یہ ہے کہ دنیوی طمع اور حب جاہ نے مرزا قادیانی کا کانشنس بالکل الٹا تو اوندھا دیا نور ایمان سلب ہو گیا۔ اب اپنے کو جو چاہیں بنا دیں۔ تمام کارروائیاں کانشنس کے خلاف ہیں۔ اپنی غلطی کبھی تسلیم نہ کریں گے۔ وہ خوب جانتے ہیں کہ ان کی پیشگوئیاں عبداللہ آتھم کا مرنا اور آسمانی منکوحہ کا ان کے قبضے میں آنا وغیرہ سراسر غلط نکلیں لیکن مرزا قادیانی سے غلطیوں کا کوئی اقرار تو کرالے۔ آسمانی باپ بھی آسمان سے نازل ہو کر غلطیوں پر متنبہ کرے جب بھی انشاء اللہ اقرار نہ کریں گے۔ اقرار کریں تو نبوت باطل ہوتی ہے کیونکہ نبی جھوٹ نہیں بولتے لیکن چونکہ مرزا قادیانی اپنے جھوٹ کو سچ کرنے کو تاویلیں گھڑتے ہیں لہٰذا ایک جھوٹ کے ثابت کرنے کو بہت

٢٦١

صفحہ ٦٠٨

سے جھوٹ بولتے ہیں۔ مرزا قادیانی کو اپنے پاکھنڈ کا حال اچھی طرح معلوم ہے وہ خوب جانتے ہیں کہ میں روپ گانٹھ رہا ہوں۔ ان کو خوب معلوم ہے کہ جس طرح ١٣ سو برس میں میرے دوسرے بھائی جعلی مہدی وغیرہ بنتے چلے آئے ہیں اور اب بھی موجود ہیں۔ ایسا ہی میں ہوں اور ممکن ہے کہ میرے بعد بھی کوئی عیار اور چالاک پیدا ہو کر میرے اور تمام گزشتہ مہدیوں کے چونا لگا دے پھر بھی اپنے کو خاتم الخلفاء (خاتم الانبیاء) بنا لیا ہے۔ وجہ یہ ہے کہ آپ بروزی اور ظلی محمد ہیں یعنی آنحضرت ﷺ کی روح اطیب نے ان کے جسد خبیث میں حلول اور بروز کیا ہے۔ بروز اور حلول اور تناسخ تینوں ایک ہیں۔

گویا آپ نے ہنود پر بھی ثابت کرنا چاہا ہے کہ جو لوگ بھاگوت میں جس کلنک اوتار یا کلجگ اوتار کے آنے کا ذکر ہے وہ میں ہوں تو چونکہ آپ اپنے کو آنحضرت ﷺ کا بروزی بتاتے ہیں اور آپ خاتم النبیین تھے تو بروزی بھی ضرور ہے کہ خاتم الخلفاء (خاتم الانبیاء) ہو اس لئے آپ نے اپنے کو خاتم الانبیاء کا لقب عطا کیا ہے۔ عجیب بات یہ ہے کہ آپ عیسیٰ مسیح بھی بنے، مہدی بھی بنے۔ بروزی محمد بھی بنے، کلنک اوتار بھی بنے مگر نہ تو عیسائیوں نے آپ کو مسیح مانا نہ مسلمانوں نے مسیح اور مہدی نہ ہنود نے کلنک اوتار اور آریہ نے تو ایسی گت بنائی اور بنا رہے ہیں کہ مرزا قادیانی کا جی ہی جانتا ہے۔

اگر آپ سچے ہوتے تو کوئی گروہ تو مانتا نظروں سے گر جانے کی وجہ یہ ہوئی کہ آپ سبھی کچھ بن گئے۔ مجدد، نبی، مسیح، مہدی، اوتار مگر بالآخر کچھ بھی نہ رہے۔ سر پر کلنک ذلت چڑھے اور گر گئے اور اگر کچھ بگڑے دل یا اعجوبہ پرست یا بھولے مسلمان آپ کے ساتھ ہو لئے ہیں تو ان پر نہ پھولئے۔ یہ چند روز کی ہوا ہے۔ جب تار و پود کھل گیا تو یکے بعد دیگرے سب کے سب مفرور ہو جائیں گے۔ چنانچہ ٹپکا ٹپکی تو ابھی سے لگ گئی ہے۔ یہ خدا کی عنایت اور جذبہ توفیق محض ضمیمہ کی وجہ سے ہے۔ سوم ! سادہ لوحی اور بوالہوسی انسان کے ساتھ لگی ہے جب تک قیام کارخانہ دنیا میں باقی ہے جھوٹے مہدی اور مسیح اور نبی پیدا ہوتے ہی رہیں گے۔ اس معاملے میں وحشی اور مہذب قومیں دونوں برابر ہیں کیا معنی کہ جس طرح سوڈان میں متواتر مہدی پیدا ہوئے۔ اسی طرح اب یورپ میں مسیح پیدا ہوئے۔ لندن میں مسٹر پگٹ اور پیرس میں ڈاکٹر ڈوئی۔ اگر یورپ میں فلسفہ کی تعلیم نے جیسا کہ دعویٰ کیا جاتا ہے عقلمندی پھیلائی ہوتی تو مسیحوں کا پیدا ہونا محال تھا۔ صدق اللہ تعالیٰ ! ”ان الانسان خلق ھلوعا“ ٢٦٢

صفحہ ٦٠٩

جب عالم بالا کی تہذیب اور تعلیم و تربیت کی یہ کیفیت ہے تو ہندوستان جو جہالت کی حضیض میں گرا ہوا ہے اور پھر مسلمان جو اعجوبہ پرستی میں لاجواب ہیں کیوں مہدی اور مسیح پیدا نہ کر لیں۔ ہاں یہ ضرور ہے کہ مرزا قادیانی عیاری، طراری، چالا کی، بے باکی میں آج کے روز اپنا نظیر نہیں رکھتے۔ دس پانچ ہزار آدمیوں کو مونڈنا اور پھر ان سے رقمیں اینٹھنا اور مختلف کارخانے کھڑے کر دینا ہر شخص کا کام نہیں پھر دل اور گردہ بھی بہت بڑا ہے یعنی بعد ختم نبوت نبی بن جانا مرزا قادیانی کے سوا دوسرے مسلمان کا کام نہیں۔

(ایڈیٹر)

٢ ...... قادیانی مرزا اور امیر کابل

مولانا شوکت اللہ میرٹھی!

کچھ دن گزرے کہ مُلا لطیف جو علاقہ سرحد میں جاگیر دار تھا اور امیر صاحب کابل سے اچھا رسوخ رکھتا تھا۔ حج بیت اللہ کے لئے تیار ہوا۔ تقریباً ایک ہزار روپے امیر صاحب کابل کی طرف سے اس کو زاد راہ ملا۔ جب ملا صاحب مکہ معظمہ کو روانہ ہوئے تو راستہ میں قادیان میں وارد ہوئے اور قادیانی مسیح موعود کی دلفریب باتوں میں آ کر ان کے مرید بن گئے ۔ مکہ معظمہ کے جانے کا ارادہ فسخ کر کے مرزا قادیانی کے لئے وعظ کرنے کی ٹھانی۔

جب یہ معاملہ امیر صاحب کابل کو معلوم ہوا تو انہیں کسی طرح بلوا کر سمجھایا کہ یہ فرقہ خارج از اسلام ہے اور مکہ معظمہ اور مدینہ منورہ کے عالموں کے فتوے موجود ہیں۔ لہذا اس خیال سے باہر آؤ اور سوچنے کے لئے مہلت بھی دی گئی ۔ لیکن مُلا لطیف اپنی ہی بات پر ڈٹے رہے اور یہ امید رہی کہ اگر ہم کو کوئی ایذا پہنچائے گا تو اس کی خبر ہمارے مسیح کو بذریعہ الہام پہلے ہی ہو جائے گی اور وہ ضرور مدد کریں گے۔

لیکن بعد ایام مہلت کے صاحب توپ کے سامنے کھڑے کر کے اڑوا دیئے گئے۔ ہم بڑے افسوس کے ساتھ ظاہر کرتے ہیں کہ شاید اب وہ الہام کی تار (جو آسمانی خدا اور قادیانی مرزا کے درمیان لگی تھی جس کے سبب سے وہ آئندہ آنے والے واقعوں کو پہلے ہی جان جاتے تھے۔) ٹوٹ گئی ہے لیکن نہیں۔ شاید بوڑھا ہونے کے سبب وہ الہام کا مقناطیسی اثر جاتا رہا ہے۔ یا دوسرے بادشاہ کی حکومت میں یہ ڈھکوسلے نہیں چل سکتے۔ خیر کچھ ہو پول تو کھل ہی گیا۔

نوٹ ...... یہ خبر بالکل سچ ہے کیونکہ یہ میرے ایک دوست سے مُلا لطیف کے چچیرے بھائی نے بیان کی ہے۔ اور اس واقعہ کو ایک ماہ کے قریب گزرا ہے۔

(راقم نامہ نگار سرحد ساکن بنوں (پنجاب سماچار)

٢٦٣

صفحہ ٦١١

ایڈیٹر ...... ضمیمہ میں اس معاملے پر متواتر بحث ہو چکی ہے اور ایک صاحب اعلان دے چکے ہیں کہ اگر مرزا قادیانی افغانستان جائیں تو میں پچاس ہزار روپیہ دینے کو تیار ہوں اور ہم تو یہ کہتے ہیں کہ مرزا قادیانی کابل خود تو کیا جائیں گے اپنا ڈیپوٹیشن بھیجتے ہوئے بھی کپکپاتے ہیں کیونکہ افغانی عملداری میں ملحدوں اور مرتدوں کے ساتھ زبان سیف سے تصفیہ کیا جاتا ہے۔ نہ کہ قلم اور زبان سے، سو وہاں دلیل ویل طاق پر دھر دی جاتی ہے اور سیدھا دارالبوار کو چلتا کر دیا جاتا ہے۔ ”کشته زن، تو میگوئی که من نبی هستم، متنبی ابله هستم، مسیح موعود هستم، مهدی هستم، مایان بار سر ترا از دوش تو جدا میکنیم وترا ازیں رحمتها که بر خود قبول کرده می رهانیم اے مادر بخطا، باش که ترا نزد یاران وجلیسان و انیسان تو یعنی نزد نمرود و فرعون میرسانیم و خطه پنجاب بل قلمرو هندوستان را از وجود بے بہبود و جسم خبیث تو پاک میکنیم“ یہ کہہ کر ایک بغدا جو رسید کرتے ہیں تو سر بھٹاسا گردن سے الگ جا پڑا اور دوسرا بغدا جو سہی کیا جاتا ہے تو زمین پر آنتوں کا ڈھیر ہو گیا ادھر دوزخ کے مالک نے ندا دی کہ اہلاً وسہلاً خوش آمدی اور جناب باری نے حکم دیا ”فصبوا فوق راسه من عذاب الحميم، ذق انك انت العزيز الکریم“ بھلا مرزا قادیانی یا مرزائی کابل جائیں اور جہنم میں داخل ہوں تو بہ تو بہ۔

٣ ...... کفر بھی اور اشاعت اسلام بھی

مولانا شوکت اللہ میرٹھی!

اخبار زمیندار لاہور لکھتا ہے کہ ”اکثر مسلمان تو مرزا صاحب کے منکر یا سخت مخالف ہیں مگر یہ عجیب کفر ہے کہ (بقول خود ) اشاعت اسلام بھی کر رہا ہے۔“ ہم کہتے ہیں کہ مرزا قادیانی کا کفر جو اشاعت اسلام کر رہا ہے کچھ بھی عجیب نہیں ہاں ہمارے ہم عصر کا عجیب معلوم ہونا عجیب تر ہے، شاید قرآن وحدیث پر اس کی نظر نہیں قرآن میں ہے ”ولكن رسول الله وخاتم النبيين“ جب آنحضرت ﷺ پر نبوت کا خاتمہ ہو چکا تو اب کسی مرتد اور ملحد کا یہ دعویٰ کرنا کہ میں نبی بلکہ خاتم الخلفاء ( خاتم الانبیاء ) ہوں قرآن کا جھٹلانا ہے جو صریح کفر ہے۔ اب خود غرضی کی یہ تاویل رکیک کہ نبوت کاملہ کا خاتمہ ہوا ہے نہ کہ نبوت ناقصہ کا، اور مرزا قادیانی نبی ہیں اور ناقص انبیاء قیامت تک پیدا ہوتے رہیں گے۔ کسی عقل مند کا کام تو ہے نہیں کہ ایسی لغو تاویل کو مانے۔ دین اسلام تو حسب آیت ”اکملت لکم دینکم واتممت علیکم نعمتی“ کامل اور اکمل اور جو انبیاء انمیں قیامت تک پیدا ہوں وہ ناقص ۔ پھر خدائے تعالٰی کی اس میں کیا حکمت ہے کہ

٢٦٤

پہلے تو ایک کامل نبی بھیجے اور پھر بہت سے ناقص انبی بعد ناقص کی کیا ضرورت؟ ایسی تاویل ایسا عق

پھر جب کہ مرزا قادیانی بروزی نبی یعنی ہو بہو مصط اکمل نبی تھے تو آپ ناقص نبی کیوں ہیں۔ معلوم ہو

پھر ناقص بھی اور خاتم الخلفاء یعنی خاتم

آپ تو خیریت سے حماقتوں کے پتلے ہیں۔

اور دعویٰ اشاعت اسلام پر کچھ تعجب نہ کرنا چاہیئے ہے۔ یعنی جس طرح کفر اور اسلام میں ضد اور نقیض باہم متناقض و متضاد ہیں۔ جیسا کہ ہم نہ صرف اس فرماتے ہیں کہ میرے بعد ٣٠ جھوٹے دجال پی کہ میں نبی ہوں۔ حالانکہ لا نبی بعدی یعنی م

یہ پیشینگوئی بالکل پوری ہورہی ہے پیدا ہوئے اور سوڈان میں تو دس، پانچ برس کے کفر کے ساتھ اشاعت اسلام ہی کا دعویٰ کرر ہیں۔ پس ہمارے ہمعصر کو مرزا قادیانی کے چاہئے ۔ مرزا قادیانی تو اپنے جدید مذہب ال سادہ لوحوں اور بوالہوسوں کے پھانسنے کا ایک منصوبہ ہے

ہم امید کرتے ہیں کہ ہمارا ہم عہ تو جس تعجب کا اس نے اظہار کیا ہے وہ بالک

تعارف مضامین

سال ١٩٠٣ء یکم ستمبر

صفحہ ٦١١

پہلے تو ایک کامل نبی بھیجے اور پھر بہت سے ناقص انبیاء کے بھیجنے کا تانتا باندھ دے کیونکہ کامل کے بعد ناقص کی کیا ضرورت؟ ایسی تاویل اور ایسا عقیدہ کفر نہیں تو کیا ہے اور اس میں تعجب کیسا۔ پھر جب کہ مرزا قادیانی بروزی نبی یعنی ہو بہو معاذ اللہ آنحضرت ﷺ ہیں جو ہر طرح کامل اور اکمل نبی تھے تو آپ ناقص نبی کیوں ہیں۔ معلوم ہوا کہ بروزی نہیں ہیں بلکہ کسی کے برازی ہیں۔ پھر ناقص بھی اور خاتم الخلفاء یعنی خاتم الانبیاء بھی۔ ایک حماقت ہو تو صبر کیا جائے۔ آپ تو خیریت سے حماقتوں کے پڑدادے ہیں۔ ہمارے ہم عصر (زمیندار) کو مرزا قادیانی کے کفر اور دعویٰ اشاعت اسلام پر کچھ تعجب نہ کرنا چاہئے۔ اجتماع ضدین ونقیضین تو ان کی قسمت میں لکھا ہے۔ یعنی جس طرح کفر اور اسلام میں ضد اور نقیض ہے۔ اسی طرح مرزا قادیانی کے سب دعویٰ باہم متناقض و متضاد ہیں۔ جیسا کہ ہم نہ صرف اب، بلکہ بارہا ثابت کر چکے ہیں۔ آنحضرت ﷺ فرماتے ہیں کہ میرے بعد ٣٠ جھوٹے دجال پیدا ہوں گے۔ ان میں سے ہر ایک بھی زعم کرے گا کہ میں نبی ہوں۔ حالانکہ لا نبی بعدی یعنی میرے بعد کوئی نبی نہیں۔

یہ پیشینگوئی بالکل پوری ہو رہی ہے۔ مسیلمہ سے لیکر اب تک کتنے جھوٹے نبی اور مہدی پیدا ہوئے اور سوڈان میں تو دس، پانچ برس کے بعد مہدی پیدا ہوتے ہی رہتے ہیں۔ یہ سب اپنے کفر کے ساتھ اشاعت اسلام ہی کا دعویٰ کرتے ہیں اور یہی دعویٰ کرتے کرتے فی النار ہو جاتے ہیں۔ پس ہمارے ہمعصر کو مرزا قادیانی کے کفر کے ساتھ اشاعت اسلام پر بالکل تعجب نہ کرنا چاہئے۔ مرزا قادیانی تو اپنے جدید مذہب اور کفریہ عقائد کی اشاعت کرتے ہیں۔ اسلام کا دعویٰ سادہ لوحوں اور بوالہوسوں کے پھانسنے کا ایک لاسا ہے۔

ما خوب مئے شتابم حیران پارسا را

ہم امید کرتے ہیں کہ ہمارا ہم عصر اگر مرزا قادیانی کے کریکٹر پر اچھی طرح غور کرے گا تو جس تعجب کا اس نے اظہار کیا ہے وہ بالکل جاتا رہے گا۔

تعارف مضامین ...... ضمیمہ شحنہ ہند میرٹھ

سال ١٩٠٣ء یکم ستمبر کے شمارہ نمبر ٣٣ / کے مضامین

٢٦٥

صفحہ ٦١٢

اسی ترتیب سے پیش خدمت ہیں :

١...... مسیح موعود و ڈاکٹر ڈوئی کے پاس کئی کروڑ ڈالر

مولانا شوکت اللہ میرٹھی !

اخباروں میں یہ خبر چکر کاٹ رہی ہے کہ ایک حواری نے ڈاکٹر یعنی مسیح موعود پر کسی وجہ سے لائبل کی نالش دائر کی تھی ۔ مقدمے کے دوران تحقیق میں معلوم ہوا کہ ڈاکٹر صاحب کے پاس کئی کروڑ ڈالر جمع ہیں ۔ ”مسیح موعود بننے کے یہ مزے اور نخرے ہیں ۔ ہم کو افسوس ہے کہ مرزا قادیانی کو ٣٠ سال تک مسیحیت و مہدویت کے پاپڑ بیلتے گزر گئے مگر کئی کروڑ کیا معنی، کئی لاکھ روپیہ بھی نصیب نہ ہوا ہاں مرزائیوں کے پاس دو چار دس پانچ ہزار کا زیور مرصع بجواہرات ضرور موجود ہے اور سنا ہے کہ مرزا نے کچھ جائیداد بھی اپنی جیب سے روپیہ دے کر اوروں کے نام سے خریدی یا رہن کی ہے بس یہی کائنات اور یہی اوڑھنا اور بچھونا ہے۔

ہمارے نزدیک تو قادیان میں وہی حواری اچھے ہیں جو زندہ پیر کے مجاور بنے بیٹھے ہیں اور چڑھاوے چکھ رہے ہیں اور ایسے توند یلے اور لحیم و شحیم ہو گئے ہیں کہ اگر کاٹو تو خون نہ نکلے گا۔ چربی ہی چربی برآمد ہوگی ۔ مزے میں درحقیقت یہ لوگ ہیں ۔ دلالی میں مرزا قادیانی کے تو ہاتھ ہی کالے ہیں ۔

آپ کو سوخت اور کو لذت
یہ تماشا کباب میں دیکھا

کس قدر افسوس ہے کہ دولاکھ مرید ۔ اور ہمیشہ دست سوال کشادہ ہے ۔ کاسۂ گدائی گشت کرتا ہے جھڑکیاں دی جاتی ہیں ۔ ڈانٹ بتائی جاتی ہے ۔ قارون کے سگوں نادہندوں کے ہمیشہ اخباروں میں مرثیے لئے جاتے ہیں ۔ پھر بھی مرزائی فنڈ میں دس ، پانچ ہزار روپیہ بھی جمع

٢٦٦

صفحہ ٦١٣

نہیں ۔ بات یہ ہے کہ مرید ہی نالائق ہیں ۔ اگر اپنے بروزی نبی کے سر پر سارا مال ومتاع دھرا ڈھکا جمع پونجی قربان نہ کر دیا تو ایسے مریدوں کو لے کر کیا بھاڑ میں جھونکیں۔ ایسے پیٹ پتلانے والے چپاتی شکر جہنم میں جائیں۔

اگر مرزا قادیانی تنہا بیک بینی و دو گوش مٹروٹوں ہوتے اور نبوت کا دعویٰ کرتے اورا یک جہنمی کوڑی بلکہ بھونی بھانگ بھی جیب میں نہ ہوتی تو کچھ غم نہ تھا کیونکہ مجبوری تھی۔ غصہ تو ہم کو اس بات پر ہے کہ مرزا قادیانی کے دولاکھ والنٹیئر کس مرض کے دارو ہیں۔ اگر سب کے سب کاسۂ گدائی میں ایک ایک پیسہ ڈالیں تو دو لاکھ پیسے ہوتے ہیں۔ پھر چندے مختلف ہیں۔ منارے کا چندہ، سکول کا چندہ، مقدمات کا چندہ، مرزائی مہمانوں کی خاطر ومدارت کا چندہ، اشتہارات کا چندہ، جدید مطبوعات کا چندہ، لات و منات یعنی مرزا قادیانی کی تصویرات کا چندہ، فی چندہ ایک ایک پیسہ گویا قطرہ قطرہ دریا ہوتا ہے۔ مگر مرزائیوں نے تو ایسی ہتھیا باری ہے کہ سب کا منہ جھلسا دیا جائے۔

اور تو کیا کہیں کم بختوں کو ذرا شرم نہیں آئی کہ ان کا بروزی نبی اور امام آئے دن پیسے کوڑی کے لئے ہاتھ پھیلاتا ہے۔ عقیدت اور ارادت کے تو یہ معنی ہیں کہ دھرا ڈھکا جو کچھ ہو سب قادیان میں جھونک دیں اور بال بچوں کو سنکھیا دے دیں۔ ڈاکہ ڈالیں، چوری کریں۔ مگر بروزی نبی کا پیٹ بھریں۔ آنتوں کا گودا تک نکال کے دے دیں۔ نہیں تو یاد رکھنا مجدد السنہ مشرقیہ ایک ایک کے کان پکڑ کر افریقہ کو چلتا کردے گا اور سب کے سب صومالی مُلّا کے حوالے کر دیئے جائیں گے۔ جہاں نہ دانہ ہے نہ پانی، بھونے کو پاؤ پاؤ سیر اور کھانے کو پیسا بھی نہیں۔ اے میری دھنا تک ...... اور تاتھیا اور چل میرے بھیا ہمارے امام الزمان، ہمارے مسیح موعود، ہمارے مبروزی نہیں مبرزی، اے توبہ بروزی نبی، مگر نکا خرچ کرتے تھیلی اور بڑے کے منہ میں چنیں پڑ جاتی ہیں۔

قسم ہے آسمانی پیودی ( آسمانی باپ کی ) اگر ہم نے پھر سنا کہ چندہ دینے میں کسی نے جھول جھال لگائی ہے تو ہم سے برا کوئی نہیں۔ معلوم ہوا ہے کہ بہت سے نوگرفتار مرزائی چندے کی کھکھیڑا اٹھانے کو دوبھر سمجھ کر کندھے سے جواء پھینک کر چپت ہو گئے ہیں۔ آخر ہم ہی تو دیکھیں وہ جائیں گے کہاں اور رہیں گے کہاں۔ چار طرف آسمانی باپ کی عملداری اور دنیا میں لے پالک کا سکہ جاری، جہاں جائیں گے پکڑے جائیں گے۔ دھرے جائیں گے۔ ہم پولیس والوں کے حوالے کئے جائیں گے۔ کھڑے کھڑے ملیں گے اور لیٹے لیٹے موتیں گے۔

(ایڈیٹر)

صفحہ ٦١٤

٢ ...... مکتوب اٹاوا

از عبد الحکیم اٹاوا !

جناب مولانا احمد حسن صاحب شوکت ادام اللہ شوکتہ ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ سلام مسنون، اخباری دنیا میں یہ پہلا موقع ہے کہ میں آپ کی خدمت میں عریضہ ہذا روانہ کرتا ہوں۔ قبل اس کے کہ میں اظہار مدعا کروں۔ مناسب معلوم ہوتا ہے کہ اپنا حال بھی مختصراً عرض کردوں۔ میں پہلے اس سے ایک سیدھا سادھا کلمہ گو پابند صوم وصلوٰۃ تھا جب سے طوفان بے تمیزی مرزائیہ اعتقادات کا اٹاوا میں زور شور ہوا تو مجھ سے ایک معزز ومقتدا حواری مرزا قادیانی نے جو بقول مرزا قادیانی موصوف اپنے ذات خاص کو اہل جنت اور اس فہرست میں جو بہشتی لوگوں کے لئے مثل اصحاب بدر بحکم مرزا قادیانی مرتب ہوئی ہے داخل ہیں مجھے سبز باغ عذاب وثواب کا دکھلا کر خواہش کی کہ میں مرزا کا معتقد ہو جاؤں۔

چونکہ میں علم عربی سے نابلد محض تھا ان کی فہمائش کا ایسا اثر مجھ پر ہوا کہ میں مرزائی ہو گیا۔ بعد چندے جب علمائے عظام نے فتویٰ تکفیر مرزا قادیانی کی نسبت لکھا تو میرے کان کھڑے ہوئے اور میں نے سوچا کہ پیشوائے ملت کافر ہے تو حواری ضرور مردود کہلائیں گے اور علاوہ اس کے یہ بھی غور کیا کہ اہل اسلام میں بہت سے فرقہ ہیں ہر فرقہ ایک دوسرے کا مخالف ہو رہا ہے مگر مرزا قادیانی کی نسبت مجمع اہل اسلام حتیٰ کہ اشخاص مختلف المذاہب بھی برا کہہ رہے ہیں اور ہم خیال ہیں اور مسلمان تو عموماً مرزا قادیانی کو ملحد اور دجال کہہ رہے ہیں تو میں نے مرزائی بیعت سے خلع کردیا۔

اگرچہ یہ امر ان بزرگوں کو جن کی تحریک سے میں مرزائی مرتد ہوا تھا شاق گزرا مگر میرے حق میں اکسیر ہوا کہ ایسے خود پسند کوتہ اندیش خلاف عقل وخرد کی بیعت سے توبہ پڑھ کر میں علیحدہ ہو گیا۔ مولا بخش حجام و شہاب خان معمار کا انکاری خط جو آپ کے ضمیمہ اخبار گوہر بار میں درج ہوا ہے میرے ہاتھ کا لکھا ہے اور ان کا لکھایا ہوا تھا۔ اس ضمیمہ کو دیکھ کر حواری دوئم جو خود بھی ماشاء اللہ زمانہ بھر کے بڑے نہایت نیک چلن پابند شرع شریف ہیں اور جن کی خوش وضعی اٹاوا میں زبان زد خاص وعام ہے بہت جوش میں آئے اور چونکہ مولا بخش حجام ان کا خدمت گزار تھا اس کو دھمکایا، ڈرایا۔ دنیا کی حالت تو ظاہر ہے۔ کہ اچھے پڑھے لکھے آدمی حلوے مانڈوں کی چاٹ کی وجہ سے مرزا قادیانی کا کلمہ جو در حقیقت کفر ہے پڑھنے لگے ہیں تو ناخواندہ آدمی اور وہ بھی گھر کا خدمت گار کیا کر سکتا تھا۔ مجبور ہوا مگر اسی دن شام کو ایک موقع پر جہاں اور بھی مقتدر لوگ موجود

٢٦٨

تھے۔ مولا بخش آیا اور کہا کہ میں مرزا متنفر ہوں اور کلو حجام نے روبروئے جلسہ کہ میں مرزا کا معتقد نہیں ہوں اور جوا اب رہا شتاب خان معمار وہ اس وقت و دجال جیسا کہ علماء وقت تحریر فرما چکے ہ

شخصے من ت

جب میں نے اخبارات مقام قادیان دافع ایمان کو دیکھا کہ ا کر رہے ہیں اور اپنے منہ میاں مٹھو ہند میں درج کرا دوں کلو حجام کی نسب سے پھر گیا تھا مگر بعد کو بر بناء ایک خ اگر خواب کے اعتبار پر مرزا قادیانی کا خواب جو جنوری ١٩٠٣ء یا بعد می ہوا تک نہیں لگی ہے۔

اور کریم بخش جس کا خ انصاف فرما سکتے ہیں کہ کون سا خ ضرورت ہے۔ حاجی صاحب کے شتاب خان سے پوچھا جائے تو و ہوں۔ میں نے اس سے دریافت

کچھ لوگ ساکنان اٹاوا جن کو امر کے کوشاں ہیں کہ اور لوگ کے دام تزویر میں اب تک کوئی ن اور اگر کوئی بے علم ج ہو جائے تو اسلام کی عظمت میں معاملہ سے کچھ واسطہ نہیں ہے۔

صفحہ ٦١٥

تھے۔ مولا بخش آیا اور کہا کہ میں مرزا قادیانی پر تبرا بھیجتا ہوں اور اعتقادات مرزائیہ کا دل سے متنفر ہوں اور کلو حجام نے روبروئے جناب مولوی کریم الدین صاحب اہل حدیث قطعی انکار کر دیا کہ میں مرزا کا معتقد نہیں ہوں اور جو اختراعات مرزا قادیانی نے کئے ہیں سراسر کفر و بدعت ہیں۔ اب رہا شتاب خان معمار وہ اس وقت تک مرزا قادیانی پر تبرا کر رہا ہے اور مرزا قادیانی کو ملحد ودجال جیسا کہ علماء وقت تحریر فرما چکے ہیں سمجھ رہا ہے۔ مجھے اس تحریر کی ضرورت نہ ہوتی مگر بقول۔

شخصے من ترا حاجی بگویم تو مرا حاجی بگو

جب میں نے اخبارات البدر مطبوعہ ٣١؍ جولائی ١٩٠٣ء والحکم ١٧؍ اگست سن روان مقام قادیان دافع ایمان کو دیکھا کہ ایڈیٹران اخبار مذکور بزعم خود بر بنا تحریر معمولی بہت کچھ درخشانی کر رہے ہیں اور اپنے منہ میاں مٹھو بن رہے ہیں تو میں بھی یہی آمادہ ہوا کہ مفصل حال ضمیمہ شحنہ ہند میں درج کرا دوں کلو حجام کی نسبت جو اخبارات مذکور میں تحریر کیا گیا ہے کہ پہلے مرزا قادیانی سے پھر گیا تھا مگر بعد کو بر بناء ایک خواب کے از سر نو معتقد ہو گیا۔ اس کی کچھ بھی اصلیت نہیں تھی۔ اگر خواب کے اعتبار پر مرزا قادیانی مرسل نبی اللہ خیال کئے جاتے ہیں تو حاجی صاحب ساکن اٹاواہ کا خواب جو جنوری ١٩٠٣ء یا بعد میں درج ہوا ہے۔ اس سے بڑھا ہوا ہے کلو حجام کو عرس شریف کی ہوا تک نہیں لگی ہے۔

اور کریم بخش جس کا خواب درج ضمیمہ ہو چکا ہے۔ حاجی حرمین شریفین ہے آپ خود بھی انصاف فرما سکتے ہیں کہ کون سا خواب با وقعت ہے۔ ہر روایت کے واسطے راوی کے معتبر ہونے کی ضرورت ہے۔ حاجی صاحب کے خواب نے مرزا قادیانی کے پوری طور پر قلعی کھول دی ہے۔ اگر شتاب خان سے پوچھا جائے تو وہ صاف طور پر کہہ دے گا کہ میں مرزا قادیانی کو کچھ بھی نہیں جانتا ہوں۔ میں نے اس سے دریافت کیا تو اس نے بحلف کہا کہ مرزا مسلمان نہیں ہے برحق پوش ناحق کوش لوگ ساکنان اٹاواہ جن کو مرزائی تعلیم میں پورا غلو ہے اور اسلام کے سخت مخالف ہیں۔ اس امر کے کوشاں ہیں کہ اور لوگ راہ راست سے بہکا کر مرزائی کئے جائیں مگر خدا کا شکر ہے کہ ان کے دام تزویر میں اب تک کوئی جدید شکار نہیں آیا نہ انشاء اللہ آئندہ آئے گا۔

اور اگر کوئی بے علم جو واقعی اندھا خیال ہو سکتا ہے کسی وجہ سے راہ راست کو چھوڑ کر مرزائی ہو جائے تو اسلام کی عظمت میں کچھ بھی فرق نہیں آسکتا۔ یہ زمانہ آزادی کا ہے ہر گورنمنٹ کو اس معاملہ سے کچھ واسطہ نہیں ہے۔ جس وقت میں کہ ابولہب وابوجہل سے کافران مخرب اسلام صاحب

٢٦٩

صفحہ ٦١٧

دولت جو باعتبار طائف الملوکی حاکم وقت سمجھے جاتے تھے۔ موجود تھے تو اس وقت میں تو ان سے اسلام کا ایک بال بھی بیکا نہ ہوا۔ اب ایسا شخص کہ کاسہ گدائی ہاتھ میں لئے ہوئے اخبارات میں چندہ کی فرمائشات کر رہا ہے۔ اور لوگوں کے گاڑھے پسینہ کی کمائی سے اپنا پیٹ بھر رہا ہے۔ کیا کر سکتا ہے پیشگوئی اور الہامات اس کے حصہ میں ہی کوئی نہ ہوئی چندہ کے روپیہ سے خزانہ بھر لیا مگر حج اب تک مرزا قادیانی پر فرض نہیں ہے۔ وجہ عدم روانگی حج یہ ظاہر کی جاتی ہے کہ تبلیغ رسالت کا کام پورا نہیں ہوا۔ شاید پیوند خاک ہونے کے بعد یہ کام پورا ہوگا چھوٹی سی حکومت اہل اسلام کابل ہے وہاں جا کر ہی نبوت جدیدہ کا اظہار کرا دیں تو ہم یہی خیال کریں کہ ہاں کچھ ہیں مگر وہاں جانے سے تو انکار قطعی ہے۔ بلکہ وہاں کے نام سے جامہ پلیت و ناپاک ہوتا ہے واہ ری نبوت جھوٹے کو خدا سمجھے۔ میری اس تحریر کو شائع کر دیجئے اور مجھے ممنون فرمائیے۔ ٢١؍ اگست ١٩٠٣ء عریضہ نیاز عبد الحکیم بقلم خود۔ از محلہ شاہ گداعلی۔

٣ ...... تازہ بے معنی الہام

مولانا شوکت اللہ میرٹھی !

گورداسپور میں مرزائیوں کے مقدمات فوجداری چل رہے ہیں۔ تعجب ہے کہ مسیح موعود اور امام الزمان کا اجلاس چھوڑ کر یہ مقدمات برٹش عدالتوں میں گئے جبکہ دنیا پر لے پالک کا ہر طرح قبضہ ہے اور آسمانی باپ فلک پر ہے تو مخالفوں کو خود سزا مل جاتی۔ ان کے گھروں کا تعلیقہ ہو جاتا۔ ان سے جیل خانے بھر جاتے انڈمان و دریائے شور کی زمینیں آباد ہو جاتیں ایک ایک مخالف پر طاعون مسلط ہو جاتا جو لے پالک کا ایڈیکامپ ہے۔ مگر مرزائیوں نے لٹیا ڈبو دی۔ ایسا اجلاس چھوڑ کر انگریزی اجلاس میں گئے اور اپنے ساتھ لے پالک کو بھی سبک اور خفیف کیا۔ بات یہ ہے کہ انگریزی عدالتیں آسمانی باپ اور اس کے لے پالک سے بہت زبردست ہیں اور تو اور جب سے مقدمات کے دائر ہونے کا سلسلہ شروع ہوا ہے جس کو تقریباً گیارہ ماہ ہوئے الہام بھی غٹ ربود ہو گیا۔

اس عرصہ میں آسمانی باپ گونگے کا گڑ کھا گیا اور لے پالک چپ کے لڈو، انگریزی عدالت کا کچھ ایسا خوف غالب ہوا کہ دونوں کا ناطقہ بند ہو گیا۔ اب ذرا عدالت کا رخ اور تاؤ دیکھ کر ادھر تو آسمانی باپ نے مہر سکوت توڑ دی اور ننھا منا چھٹولیا لے پالک ہوں ہاں کرنے اور چرغنے لگا۔ چنانچہ خاص گورداسپور میں جب مقدمہ کی چند پیشیاں ہوئیں اور لے پالک بھی بطور ٢٧٠

شہادت حاضر ہوا تو آسمانی باپ نے جھٹ سے یہ چھوڑا

”ساکرمک بعد التوھین“

بزرگی دوں گا۔ یہ الہام سنتے ہی راسخ الاعتقاد مرزا یقین کے گلگلے پکنے لگے۔ کہ بس فتح ہے۔ پانچوں گھی بے ربط اور لچر ہے کہ ہدایت النحو اور کافیہ پڑھنے فرماتے ہیں بعد التوھین۔ جب توہین کامل طور پر ہو کے نام وارنٹ نکلا تو اب اکرام کیسا ؟ اور نہ صرف ہوچکی کیونکہ ضرب الغلام اہانۃ المولیٰ تو آسمانی باپ یوں کہئے تا کہ خود آسمانی باپ نے توہین کہ انگریزی عدالت کے ہاتھوں تیری توہین کرواؤ اور درگت کرے اور پھر قصور معاف کرانے لگے یہ تو تو ہوئی تقریباً دس ماہ پیشتر اور اکرام ہوا۔ اب ذرا دس ماہ کی مقررہ سزا بھگت کر جیل خانے سے نکلے کلنک کا ٹیکا جو اس کے ماتھے پر لگ چکا ہے۔ وہ دھل الغرض بعد کے لفظ نے الہام کی مٹی خ کچھ بھی مس ہوتا تو یوں الہام کرتا ”توھینك اکرام ہے چونکہ ہر شے اپنی ضد سے پہچانی جاتی۔ ہوا۔ توہین نہ ہوتی تو اکرام کی شان کیونکر معلوم ہ کیا یاد رکھو گے مجدد نے ایسی فصیح وبلیغ اصلاح دی مانے۔

٤ ...... قادیانی

نمائندہ سرا

اخبار وطن بحوالہ سراج الاخبار لکھتا لال صاحب مجسٹریٹ درجہ اول ضلع گورداسپور جن کی مختصر کیفیت کا لب لباب یہ ہے کہ ١٣؍ الدین صاحب کا مقدمہ سرقہ کتاب نزول کا

صفحہ ٦١٧

شہادت حاضر ہوا تو آسمانی باپ نے کٹ سے یہ چوہتّا الہام ٹپکا دیا۔ ”ساکرمک بعد التوہین“ (تذکرہ ص ٧٧٩) یعنی میں توہین کے بعد تجھے بزرگی دوں گا۔ یہ الہام سنتے ہی راسخ الاعتقاد مرزائیوں کے عقیدے کی کڑھائی میں اذعان اور یقین کے گلگلے پکنے لگے۔ کہ بس فتح ہے۔ پانچوں گھی میں اور سر چولہے میں۔ یہ فقرہ ایسا بھدا اور بے ربط اور لچر ہے کہ ہدایت النحو اور کافیہ پڑھنے والے طلبہ اس سے بہتر گھڑ لیتے ہیں۔ آپ فرماتے ہیں بعدالتوہین۔ جب توہین کامل طور پر ہوچکی یعنی مولوی کرم دین کے استغاثے پر آپ کے نام وارنٹ نکلا تو اب اکرام کیسا؟ اور نہ صرف لے پالک کی بلکہ خود آسمانی باپ کی بھی توہین ہوچکی کیونکہ ضرب الغلام اہانۃ المولیٰ تو آسمانی باپ کو اب اس کے تدارک کی فکر بالکل فضول ہے۔ یوں کہئے تا کہ خود آسمانی باپ نے توہین کی اور پھر پچکار دیا کہ میں نے بہت جھک مارا کہ انگریزی عدالت کے ہاتھوں تیری توہین کروائی۔ یہ وہی بات ہے کہ کوئی شخص کسی کی مرمت اور درگت کرے اور پھر قصور معاف کرانے لگے یہ تو عذر گناہ بدتر از گناہ بلکہ الٹا چڑانا ہوا۔ پھر توہین تو ہوئی تقریباً دس ماہ پیشتر اور اکرام ہوا۔ اب ذلت کی میعاد تو بھگتنی ہی پڑی۔ اگر کوئی قیدی اپنی دس ماہ کی مقررہ سزا بھگت کر جیل خانے سے نکلے تو کیا اس کی توہین اکرام سے بدلی جائے گی اور کلنک کا ٹیکا جو اس کے ماتھے پر لگ چکا ہے۔ وہ دھل جائے گا۔

الغرض بعد کے لفظ نے الہام کی مٹی خراب کر دی۔ اگر آسمانی باپ کو زبان عرب سے کچھ بھی مس ہوتا تو یوں الہام کرتا ”توھینک اکرامک“ یعنی تیری توہین ہی درحقیقت اکرام ہے چونکہ ہر شے اپنی ضد سے پہچانی جاتی ہے۔ لہٰذا جس قدر بڑی توہین اسی قدر بڑا اکرام ہوا۔ توہین نہ ہوتی تو اکرام کی شان کیونکر معلوم ہوتی۔ پس توہین ہی درحقیقت اکرام ٹھہری۔ جاؤ کیا یاد رکھو گے مجدد نے ایسی فصیح وبلیغ اصلاح دی ہے کہ آسمانی باپ مان جائے گا گو لے پالک نہ مانے۔

(ایڈیٹر)

٤ ....... قادیان کے مقدمات

نمائندہ سراج الاخبار جہلم

اخبار وطن بحوالہ سراج الاخبار لکھتا ہے کہ ١٣؍ اگست سے اب تک عدالت رائے چند لال صاحب مجسٹریٹ درجہ اول ضلع گورداسپور میں یکے بعد دیگرے مقدمات پیش ہوتے رہے۔ جن کی مختصر کیفیت کا لب لباب یہ ہے کہ ١٣؍ اگست ١٩٠٣ء کو حکیم فضل الدین بنام مولوی محمد کرم الدین صاحب کا مقدمہ سرقہ کتاب نزول مسیح پیش ہوا۔ اور بعد بیانات مستغیث اور شہادت

٢٧١

صفحہ ٦١٩

استغاثہ اور اس پر جرح وقدح وغیرہ کے وکلاء فریقین کی تقریروں کے لئے یکم ستمبر کی تاریخ مقرر ہوئی۔ ١٥؍ اگست کو ازالہ حیثیت عرفی والا مقدمہ پیش ہوا جو شیخ یعقوب علی صاحب تراب ایڈیٹر الحکم نے بنام مولوی صاحب موصوف اور ایڈیٹر سراج الاخبار دائر کر رکھا ہے جس میں اگرچہ دن بھر شیخ صاحب کے بیانات پر جرحیں ہوتی رہیں مگر ختم نہ ہوئیں۔ اس لئے اس کی آئندہ تاریخ پیشی ٢٤؍ ستمبر قرار پائی۔

١٨؍ کو مقدمہ ازالہ حیثیت عرفی مولوی کرم الدین صاحب بنام مرزا غلام احمد صاحب قادیانی و حکیم فضل الدین صاحب پیش ہوا۔ پہلے مرزا قادیانی کے وکیل نے درخواست کی کہ مرزا قادیانی کو حاضری عدالت سے معاف رکھا جائے۔ مگر عدالت نے منظور نہ کیا اور حکم دیا کہ مرزا قادیانی سے حاضری عدالت کے لئے مچلکہ لیا جائے۔ چنانچہ اس وقت مچلکہ داخل کر دیا گیا اور آئندہ پیشی کی تاریخ ٢٣؍ ستمبر مقرر ہوئی۔ ١٩؍ کو چوتھا مقدمہ پیش ہوا جو حکیم فضل الدین صاحب نے مولوی کرم الدین صاحب پر زیر دفعہ ٤٧١ دغا کا دائر کیا ہے۔

یہ اجلاس عدالت نے کمرہ عدالت سے باہر میدان میں شامیانہ لگا کر کیا تھا اور علاوہ فرش دریوں کے بہت سی زائد کرسیاں اور بنچیں رکھوا دی گئی تھیں جن پر عدالت کی کارروائی دیکھنے کے لئے علاوہ مرزا محمد ظفر اللہ خان صاحب ورائے بھورام صاحب مجسٹریٹاں درجہ اول ضلع و مولوی نیاز علی صاحب اسسٹنٹ انسپکٹر مدارس و مولوی محمد اشرف صاحب ڈسٹرکٹ انسپکٹر مدارس و رائے سوبھا رام صاحب سول سرجن و بابو برکت علی صاحب اسسٹنٹ سرجن شفا خانہ اور سررشتہ دار صاحب ضلع کے اکثر وکلاء صاحبان اور معزز اہلکاران گورداسپور نشست فرما تھے۔ اور عوام الناس کا تو کچھ شمار نہ تھا۔ انتظام کے لئے ایک گارڈ پولیس معہ ہتھکڑیوں اور سارجنٹ کے موجود تھی۔

پہلے گواہان استغاثہ پر منجانب وکلائے مولوی کرم الدین صاحب کچھ جرح کی گئی۔ پھر مرزا قادیانی کا جو بطور گواہ ملزم طلب ہوئے تھے۔ بیان ہوا جو ١١؍ بجے سے شروع ہو کر ٤؍ بجے ختم ہوا مرزا قادیانی سارا بیان عام گواہوں کی طرح اجلاس میں کھڑا کر کے لیا گیا۔ اس عرصہ میں مرزا قادیانی تھوڑی تھوڑی دیر کے بعد دودھ میں برف ملا کر نوشجان فرماتے رہے۔ باقی گواہوں کی شہادت کے لئے ٢؍ اکتوبر ١٩٠٣ء کی تاریخ مقرر ہوئی ہے۔

٥ ...... مرزا قادیانی نے تمام مرزائیوں کو غیر مقلد بنا دیا

مولانا شوکت اللہ میرٹھی!

مرزا قادیانی کے چیلے چاپڑ، یوں تو نہ مقلد ہیں نہ غیر مقلد کیونکہ یہ دونوں مسلمانوں

٢٧٢

کے فریق ہیں اور وہ مرزائی امت ہیں جو اسلام کی برائے نام حضرت امام ابو حنیفہ ہی کے مقلد ہیں لک بھی آزاد کر دیا اور غیر مقلد بنا دیا۔ کیا معنی کہ الحکم فتویٰ شائع کر دیا جو حضرت امام ابو حنیفہؒ کے مذہب مقلد تھے وہ تو ضرور چوکنا ہوئے ہوں گے کہ بڑوں ہم نے آج تک اپنے کسی مردے کی نماز جنازہ آسمان سے یہ سنگ سخت کیسا نازل ہوا۔

لیکن جب وہ یہ غور کریں گے ہم تو اب ہو گئے۔ یعنی مرزا کو بعد ختم نبوت نبی مان لیا تو ا آنحضرت سے تو زیادہ نہیں پس جب ہم نے ان امام ہیں تو اپنے مقلدوں کے اور مرزا قادیانی ا خاک رہا عالم پاک۔ جہلاء کیا جانیں کہ اب ہم مشرک فی الرسالہ بھی ہو گئے۔ اور مشرک فی ا

کیونکہ مرزا قادیانی تو ان پر یہی ثاب نبی نہیں ہیں بلکہ ہو بہو وہی ہیں۔ بس جہلاء ای پر ایمان لے آتے ہیں۔ اور قادیان میں غیر صاحب غیر مقلد مولوی عبدالکریم صاحب غیر سنت لگا رہے ہیں اور مولوی محمد حسین صاحب کر رہے ہیں۔ اور مولوی عبداللہ صاحب چکڑ حسین خوش ہوں۔

مگر اب تک تو بڑوں کو ہی افسوس کا راگ کہ جب نیا نبی گھڑ لیا تو نبی امی ﷺ کی سنت مسلمانوں کو دام تزویر میں لانے کے لئے مرز مقلدوں میں غیر مقلد بن جاتے ہیں گنگا گئے گ صداقت کا دعویٰ۔ چھی! چھی! چھی!

صفحہ ٦١٩

کے فریق ہیں اور وہ مرزائی امت ہیں جو اسلام کو استعفاء دے چکے ہیں۔ مگر یقیناً کثرت سے برائے نام حضرت امام ابوحنیفہؒ ہی کے مقلد ہیں لیکن مرزا قادیانی نے اب ان کو اس مقلدی سے بھی آزاد کر دیا اور غیر مقلد بنا دیا۔ کیا معنی کہ الحکم میں ایک مرزائی کی نماز جنازہ غائب پڑھنے کا فتویٰ شائع کر دیا جو حضرت امام ابو حنیفہؒ کے مذہب میں جائز نہیں۔ جو مرزائی اس سے پہلے حنفی مقلد تھے وہ تو ضرور چو کنا ہوئے ہوں گے کہ بروزی نبی نے ہمارے باپ دادا کی رسم اٹھا دی یعنی ہم نے آج تک اپنے کسی مردے کی نماز جنازہ غائب نہ پڑھی تھی نہ باپ دادا سے ایسا سنا تھا۔ آسمان سے یہ سنگ سخت کیسا نازل ہوا۔

لیکن جب وہ یہ غور کریں گے ہم تو اب نہ حنفی رہے نہ محمدی، نہ محمدی نہ مسلم بلکہ مرزائی ہو گئے۔ یعنی مرزا کو بعد ختم نبوت نبی مان لیا تو ان کو صبر آجائے گا۔ حضرت امام ابوحنیفہؒ کا مرتبہ آنحضرت سے تو زیادہ نہیں پس جب ہم نے انہیں کو چھوڑ دیا تو امام ابو حنیفہؒ کیا چیز ہیں۔ وہ اگر امام ہیں تو اپنے مقلدوں کے اور مرزا قادیانی امام الزمان ہیں یعنی ساری دنیا کے امام، چہ نسبت خاک را با عالم پاک۔ جہلاء کیا جانیں کہ اب ہم کہیں کے بھی نہیں رہے نہ خدا کے نہ رسول کے یعنی مشرک فی الرسالہ بھی ہو گئے۔ اور مشرک فی التوحید بھی۔

کیونکہ مرزا قادیانی تو ان پر یہی ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ میں محمد رسول اللہ ﷺ کا متبع ہی نہیں ہوں بلکہ ہو بہو وہی ہوں۔ بس جہلاء ایسے جھانسوں میں آجاتے ہیں اور ظلی اور بروزی نبی پر ایمان لے آتے ہیں۔ اور قادیان میں غیر مقلدوں کا اکھاڑا تو پہلے ہی سے حکیم نور الدین صاحب غیر مقلد مولوی عبدالکریم صاحب غیر مقلد اور مولوی محمد احسن صاحب تو اب تک سنت سنت لگا رہے ہیں اور مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی کو شیشے میں اتار رہے ہیں اور بہت کچھ لٹو پٹو کر رہے ہیں۔ اور مولوی عبداللہ صاحب چکڑالوی قرآنی کو ملا جیون سنا رہے ہیں تا کہ مولوی محمد حسین خوش ہوں۔

مگر اب تک تو بروزی افسوں کارگر ہوا نہیں آئندہ یا قسمت یا نصیب۔ ہم کو تعجب ہے کہ جب نیا نبی گھڑ لیا تو نبی امی ﷺ کی سنت پر عمل کیسا اور حنفی تقلید تو کوئی چیز ہی نہیں مگر سادہ لوح مسلمانوں کو دام تزویر میں لانے کے لئے مرزا قادیانی اور ان کے حواری حنفیوں میں حنفی اور غیر مقلدوں میں غیر مقلد بن جاتے ہیں گنگا گئے گنگا داس جمنا گئے جمنا داس۔ یہ منافقانہ کاروائیاں اور صداقت کا دعویٰ۔ چھی! چھی! چھی!

٢٧٣

صفحہ ٦٢٠

٦ ...... مرزائی طلسم کا تار و پود کھل رہا ہے

مولانا شوکت اللہ میرٹھی !

جس طرح سیہ بختی سے مرزا قادیانی کی جھوٹی پیشنگوئیاں الٹے توے کی طرح روز روشن میں چمک اٹھیں اور مرزا قادیانی ان کے منہ پر وہیں دھوکہ دہی کا سپید پاؤڈر مل کر سرخرو بننے کو یہی کہے جاتے ہیں کہ میری پیشنگوئیاں سچی تھیں اسی طرح جو سادہ خصوصاً دھنے جولا ہے تیلی تنبولی، چمار اور کولی بعض مرزائیوں کے جھانسے میں آکر چند روز کے بعد دام تزویر سے نکل جاتے ہیں اور مرزائیت کے منہ پر جھاڑو مار جاتے ہیں۔ ان کی نسبت مرزائی اخباروں میں خواہ مخواہ یہی مشتہر ہوتا رہتا ہے کہ وہ تو بدستور راسخ الاعتقاد مرزائی ہیں۔ گویا مرزائیت کے منہ کی کالک دھونے کو یہ دوسرا فریب گانٹھا جاتا ہے حالانکہ وہ روسیاہیاں جمع ہو کر بروزیت کا منہ اور بھی کالا کرتی ہے اور قسمت کی روسیاہی پر کالک کی دوسری تہہ چڑھ جاتی ہے مگر اس کا غم کسے؟ الحیاء من الایمان!

اٹاوا کے چند مسلمانوں کا حال جو مرزائیت پر تین حرف کہہ کر از سرنو دائرہ اسلام میں آئے ۔ ضمیمہ میں چھپ چکا ہے مگر مرزائی اخبار یہی لکھے جاتے ہیں۔ کہ وہ لوگ بدستور مرزائیت کی دلدل میں پھنسے ہوئے ہیں اور ضمیمہ میں جو کچھ لکھا گیا وہ بالکل غلط ہے۔ اس کے جواب میں بجز اس کے لعنۃ اللہ علی الکاذبین لکھا جائے۔ ہم اور کیا لکھ سکتے ہیں۔ مرزائیوں کے از سر نو مسلمان ہونے کی جو خبریں ہم کو ملتی ہیں وہ ایسے مستند اور ثقہ اور معتبر حضرات کی بھیجی ہوئی ہوتی ہیں جن پر کذب کا احتمال بھی نہیں ہو سکتا۔

اور اگر بعض حجام وغیرہ رذیل اقوام کسی دبایا لالچ وغیرہ سے بظاہر مرزائی ہونے کا اقرار کرتے ہیں تو یہ کون سے فخر کی بات ہے۔ یہ غریب تو لے پالک کے بھنڈارے میں ایک پیسہ سے بھی واحد شاہد نہیں ہوتے پھر معلوم نہیں جی کے بدلے جی کیوں دیا جاتا ہے۔ اٹاوا کی مراسلت ناظرین ملاحظہ فرما چکے ہیں۔

٧ ...... دم دار ستارہ

مولانا شوکت اللہ میرٹھی !

المؤید لکھتا ہے کہ جو ستارہ حضرت عیسیٰ کی ولادت با سعادت کے وقت آسمان پر ظاہر ہوا تھا اس کی نسبت ماہران علم نجوم و ہیئت نے خبر دی ہے کہ ١٩١٠ء و ١٩١١ء میں یہ دم دار ستارہ پھر ظاہر ہونے والا ہے جیسا کہ یوسیفوس مورخ اپنی کتاب میں لکھتا ہے کہ یہ ستارہ اب تک ٢٢ دفعہ آسمان پر ظاہر ہو چکا ہے اور اب چوبیسویں دفعہ اس کا ظہور ہونے کو ہے۔ آج کل کے منجم اسے

٢٧٤

کوکب ہائلی کہتے ہیں۔ اس ستارہ کے ظہور پر منجمون نے اس ستارہ کو دیکھ کر حضرت عیسیٰ کے پیدا ہوا ہے۔ شاید اب بھی کوئی بزرگ پیدا ہو۔ ہم کہتے ہیں کہ جس طرح دم دار ستارہ بھی پیدا ہو رہے ہیں۔ اگر نجومی اپنے مزعوم پر اور مسیح تو ١٩٠٣ء میں پیشگی ہی موجود ہیں۔ ا الارض کی طرح کتنے پیدا ہو جائیں گے۔ س بہتر تھا کیونکہ چپقلش اور ہما ہمی مٹ جاتی یعنی قادیانی مسیح اگر چہ اپنی بعثت ور کریں گے کہ میرا کامل عروج ١٩١٠ء ١٩١١ء میں اختلاج قلب وغیرہ لگے ہوئے ہیں اگر وہ اس تارہ سب دھرا رہ گیا اور ہاتھی کروٹ بیٹھنے ن مرزا قادیانی زندہ رہے (امید تو زندہ رہنے ک کسی طرح تین سال سے زیادہ زندہ نہیں ر پیری مسیح ڈاکٹر ڈوئی سے ان کی خوب کھٹ پ دینا پڑے گا اور انجام میں سب جھوٹے نکلیں

٨ ...... مرزا قادیانی

مولانا

مرزائی اخباروں میں اکثر مرزا مرزا قادیانی کو اس حالت میں دیکھا اور فلا ہوئی اور فلاں وحی ہوئی پس مرزا قادیانی شخص نبی ہے کیونکہ ایسا کوئی انسان نہیں ج شخص مرزا قادیانی کو ٹھیک ان کے حالات اور ایک وسوسہ اور جو شخص اچھی حالت میں ناظرین کو یاد ہوگا کہ ہم نے دیکھا تھا گویا ان کا قد دھننے کی کمان تھا۔ ہ

صفحہ ٦٢١

کوکب مائی کہتے ہیں۔ اس ستارہ کے ظہور پر دنیا میں کوئی عالیشان بزرگ پیدا ہوتا ہے جیسا کہ منجمون نے اس ستارہ کو دیکھ کر حضرت عیسیٰ کے وجود پر استدلال کیا تھا کہ بیت اللحم میں کوئی بزرگ پیدا ہوا ہے۔ شاید اب بھی کوئی بزرگ پیدا ہو۔

ہم کہتے ہیں کہ جس طرح دم دار ستارے اکثر پیدا ہوتے ہیں اسی طرح مہدی اور مسیح بھی پیدا ہو رہے ہیں۔ اگر نجومی اپنے مرحوم بزرگ کی پیدائش ١٩١١،١٠ء میں بتاتے ہیں مگر مہدی اور مسیح تو ١٩٠٣ء میں پیشگی ہی موجود ہیں۔ اور خدا جانے چھ سات برس کے عرصہ میں حشرات الارض کی طرح کتنے پیدا ہو جائیں گے۔ سب کے ساتھ دم چھلے کی طرح ایک ایک ستارہ ہوتا تو بہتر تھا کیونکہ چپقلش اور ہما ہمی مٹ جاتی یعنی ہر ایک مہدی اور مسیح کا نشان جدا جدا ہوتا۔

قادیانی مسیح اگر چہ اپنی بعثت ورسالت ٣٠ سال سے بتاتے ہیں مگر اب یہ تاویل کریں گے کہ میرا کامل عروج ١٩١١،١٠ء میں ہوگا اور چونکہ ان کے پیچھے چند امراض ذیابیطس، اختلاج قلب وغیرہ لگے ہوئے ہیں اگر وہ اس عرصہ میں آسمانی باپ کے پیارے ہو گئے تو منارہ و تارہ سب دھرا رہ گیا اور ہاتھی کراروٹ چکھنے والوں کی چکموتیاں بھی ہوگا وغیرہ اور اگر اس عرصہ تک مرزا قادیانی زندہ رہے (امید تو زندہ رہنے کی ہے نہیں کیونکہ مجدد پر الہام ہو چکا ہے کہ مرزا قادیانی کسی طرح تین سال سے زیادہ زندہ نہیں رہ سکیں گے۔ انشاء اللہ!) تو لندنی مسیح مسٹر پگٹ اور پیرس مسیح ڈاکٹر ڈوئی سے ان کی خوب کھٹ پٹ ہوگی اور ہر ایک کو اپنے اپنے موعود ہونے کا ثبوت دینا پڑے گا اور انجام میں سب جھوٹے نکلیں گے۔ انشاء اللہ!

٨ ...... مرزا قادیانی کی صداقت کا معیار خواب ہے

مولانا شوکت اللہ میرٹھی !

مرزائی اخباروں میں اکثر مرزائیوں کے خواب شائع ہوتے رہتے ہیں کہ ”فلاں نے مرزا قادیانی کو اس حالت میں دیکھا اور فلاں نے اس حالت میں اور خواب میں فلاں بشارت یوں ہوئی اور فلاں ووں ہوئی پس مرزا قادیانی سچے نبی ہیں ۔“ اگر خواب ہی پر نبوت کا دارومدار ہو تو ہر شخص نبی ہے کیونکہ ایسا کوئی انسان نہیں جو اچھا یا برا خواب نہ دیکھتا ہو۔ پھر اس کی کیا وجہ ہے کہ جو شخص مرزا قادیانی کو ٹھیک ان کے حالات وافعال کے موافق بری حالت میں دیکھے تو وہ خواب غلط اور ایک وسوسہ اور جو شخص اچھی حالت میں دیکھے تو وہ رؤیا صادقہ۔

ناظرین کو یاد ہوگا کہ ہم نے خواب میں مرزا قادیانی کا سر ان کے قدموں سے لگا ہوا دیکھا تھا گویا ان کا قد دھنک کی کمان تھا۔ یہ خواب ٹھیک آیہ قرآنی ”یوم یعرف المجرمون

٢٧٥

صفحہ ٦٢٢

بسیماهم فيوخذ بالنواصي والاقدام " کے مطابق تھا۔ خواب میں ہم نے کہا کہ کیا مرزا قادیانی آیت موصوفہ کے مصداق ہیں۔ بھلا جو خواب قرآن مجید کے موافق ہو وہ کیونکر جھوٹا ہو سکتا ہے مگر مرزائیوں کا ایمان قرآن پر ہو بھی یہ عجیب سچا نبی ہے کہ اپنے مریدوں کو تو اچھی حالت میں نظر آتا ہے اور غیروں کو بری حالت میں۔ سچے انبیاء تو سب کو یکساں حالت میں نظر آتے ہیں کیونکہ ان کا جاذبہ صادقہ خاص و عام کو اپنی صداقت کی جانب کھینچ لیتا ہے۔

مختلف صورت واشکال میں ظاہر ہونا تو جن وشیاطین کا خواص ہے نہ کہ انبیاء کا۔ آنحضرت ﷺ نے فرمایا ہے ”من رانی فقدراء الحق فان الشيطان لا يتمثل بصورتي“ یعنی جس شخص نے خواب میں مجھے دیکھا اس نے ٹھیک مج مجھ ہی کو دیکھا کیونکہ شیطان میری صورت میں متمثل نہیں ہوتا۔ اس حدیث سے صاف ثابت ہے کہ مرزا قادیانی ہرگز نبی نہیں ہیں ورنہ وہ بیشتر صلحاء کو بری حالت میں نظر نہ آتے۔ ضرور شیطانی بروز ان کے قالب میں حلول کئے ہوئے ہے۔

الہام اور وحی کی بھی یہی صورت ہے۔ یہ دونوں بھی نبوت کے معیار نہیں کیونکہ کلام مجید میں ”فالهمها فجورها وتقواها اور ان الشياطين ليوحون الى اوليائهم“ دیکھئے فجور کا بھی الہام ہوتا ہے۔ اور شیطان بھی وحی کرتا ہے۔ بات یہ ہے کہ جو خواب یا جو الہام کتاب وسنت کے مطابق ہو وہ سچ ہے اور جو اس کے خلاف ہو وہ وسوسۃ الشیطان ہے۔ اب ناظرین غور کر سکتے ہیں کہ مرزا قادیانی کا ایک فعل بھی کتاب وسنت کے موافق نہیں۔ دعوٰی نبوت ہی کونسا کتاب وسنت کے موافق ہے جب نبوت ختم ہو گئی تو وحی بھی ختم اور منقطع ہو گئی کیونکہ یہ غیر ممکن ہے کہ اصل شے مٹ جائے جوہر کا تو خاتمہ ہو جائے اور اس کی صفت یعنی عرض جس کی صفت قائم بالغیر ہے قائم رہے۔

(ایڈیٹر)

تعارف مضامین ...... ضمیمہ شحنہ ہند میرٹھ

سال ١٩٠٣ء /ستمبر کے شمارہ نمبر ٣٢ /کے مضامین

١...... شیطانی اور رحمانی رنگ ۔ مولانا شوکت اللہ میرٹھی ! ٢...... ضمیمہ میں گم نام اور غیروں کے نام سے مضامین۔ مولانا شوکت اللہ میرٹھی ! ٣...... حضرت پیر مہر علی شاہ صاحب پر حملہ۔ مولانا شوکت اللہ میرٹھی !

٢٧٦

٤...... درازی عمر کا لٹکا۔ ٥...... مرزا قادیانی کے رقیب بلائے بـ ٦...... مرزائی علماء۔

اسی ترتیب سے پیش خدمت ہیں:

١ ...... شیطـ

مولانا شوکـ

مرزا قادیانی کے دام میں جو نادان واقف ہو کر پھر سے اڑ جاتا ہے۔ تو ندامت ـ رنگ تھی جو میری رحمانی رنگ سے مل گئی تھی۔ اور آسمانی باپ نے جو رشتہ قائم کیا تھا وہ بھی مسخرے آسمانی باپ کو بھی علم نہ ہوا۔ یہ تو کہتے نہیں کہ اپنا ہی قصور تھا مکھی پر بخوبی نہیں تنا جاتا تو وہ دام سے نکل دام تزویر تار عنکبوت سے بھی زیادہ لچر اور ـ جاتے ہیں ان کا کبھی ذکر بھی نہیں ہوتا کیونکہ مگر جو شکار پھنستے ہیں ان کے پھنسنے کی ڈوگـ کہ وہ پھر پھنسیں گے یا بظاہر اڑ گئے ہیں مگـ حجلۂ نکاح میں نہیں آئی مگر دراصل مرزا ہی پس بیعت فسخ کرنے والوں کـ نام خارج ہوتا ہے اور دولاکھ مریدوں کـ پالک آسمانی باپ کے پاس نہ جائے گا یـ مرزائیوں کی بڑی تعداد اصل لم سے واقفـ اقرار نہیں کرتی۔ یہ خوف رہتا ہے کہ لوگـ اب فتح کی؟ ایسے لوگ بے شک ضعیف اپنی غلطی پر آگاہی ہو تو کھلم کھلا اس کا اظہـ

صفحہ ٦٢٣

اسی ترتیب سے پیش خدمت ہیں:

١...... شیطانی اور رحمانی رگ

مولانا شوکت اللہ میرٹھی!

مرزا قادیانی کے دام میں جو نادان شکار پھنستا ہے اور پھر چند روز میں رگ وریشہ سے واقف ہو کر پھر سے اڑ جاتا ہے۔ تو ندامت مٹانے کو مرزا قادیانی یہ کہتے ہیں کہ اس میں شیطانی رگ تھی جو میری رحمانی رگ سے مل گئی تھی۔ گویا بعد میں رحمانی رگ پر شیطانی رگ غالب ہوگئی۔ اور آسمانی باپ نے جو رشتہ قائم کیا تھا وہ بھی ٹوٹ گیا۔ لے پالک کو تو شیطانی رگ کا کیا علم ہوتا مسخرے آسمانی باپ کو بھی علم نہ ہوا۔

یہ تو کہتے نہیں کہ اپنا ہی قصور تھا یعنی اس پر تار و پود اچھی طرح نہ تنا تھا۔ مکڑی کا جالا بھی مکھی پر بخوبی نہیں تنا جاتا تو وہ دام سے نکل جاتا ہے۔ یہ تو انسان تھا مگر معلوم ہوا کہ مرزا قادیانی کا دام تزویر تار عنکبوت سے بھی زیادہ لچر اور سست ہے۔ جب راز فاش ہوا تو جو شکار دام سے نکل جاتے ہیں ان کا کبھی ذکر بھی نہیں ہوتا کیونکہ یہ خوف ہوتا ہے کہ دوسرے شکار بھی نکل جائیں گے۔ مگر جو شکار پھنستے ہیں ان کے پھنسنے کی ڈونڈی ضرور پیٹتی ہے۔ شاید مرزا قادیانی کو یہ امید ہوتی ہے کہ وہ پھر پھنسیں گے یا بظاہر اڑ گئے ہیں مگر درحقیقت پھنسے ہوئے ہیں جیسے آسمانی منکوحہ جو بظاہر حجلۂ نکاح میں نہیں آئی مگر دراصل مرزا ہی کے نکاح میں ہے؟

پس بیعت فسخ کرنے والوں کا نام اسی وجہ سے نہ تو مشتہر کیا جاتا ہے نہ رجسٹر سے ان کا نام خارج ہوتا ہے اور دولاکھ مریدوں کی تعداد برابر محسوب ہوتے ہیں اور اب جب تک لے پالک آسمانی باپ کے پاس نہ جائے گا برابر محسوب ہوتے رہیں گے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ مرزائیوں کی بڑی تعداد اصل گر سے واقف ہو کر بدظن ہوگئی ہے بلکہ بیعت فسخ کرچکی ہے مگر بظاہر اقرار نہیں کرتی۔ یہ خوف رہتا ہے کہ لوگ مطعون کریں گے کہ کیا سمجھ کر بیعت کی تھی اور کیا سمجھ کر اب فسخ کی؟ ایسے لوگ بے شک ضعیف الایمان ہیں ورنہ سچے مومنوں کا یہ کام ہے کہ جب ان کو اپنی غلطی پر آگاہی ہو تو کھلم کھلا اس کا اظہار کریں اور جناب باری میں توبہ اور استغفار کر کے اپنے کو

٢٧٧

صفحہ ٦٢٣

مزکی اور اطیب بنائیں۔

مرزا قادیانی چاہتے تو ہمیشہ یہی ہیں کہ دام میں موٹے شکار پھنسیں مگر بدقسمتی سے اکثر شکار لاغر ہی پھنستے ہیں۔ ان سے پیسا ٹکا دھیلا دمڑی تو خاک وصول نہیں ہوتا ہاں رجسٹر کی تعداد بڑھانے میں کام آتے ہیں۔ کیا معنی کہ جب مرزا قادیانی گورنمنٹ میں کوئی خوشامدی میموریل بھیجتے ہیں تو گورنمنٹ پر دھونس ڈالنے کو یہ ضرور لکھتے ہیں کہ میرے مرید ٩٩ ہزار کم ایک لاکھ ہیں۔ بس گورنمنٹ سہم جاتی ہے کہ جس شخص کے قبضے میں اتنے والنٹیر ہیں وہ جب چاہے گا غدر ٥٧ء قائم کرا دے گا۔ بھلا دھوبی، جولاہوں، تیلی، تنبولی کی بھیڑ بھاڑ کا یہ فائدہ کیا کم ہے کہ ان سے گورنمنٹ پر بدون توپ گولے کے دھونس پڑتی ہے اور لے پالک کی سطوت و جبروت کے دھونسے بج جاتے ہیں۔

بہت سے آدمی جن میں رحمانی رگ ہے نہ کہ شیطانی جو بیعت کرنے کے بعد پیدا ہو جاتی ہے ہم سے کہا کرتے ہیں کہ مرزائیوں نے جھانسے دے کر ہمارا ایمان بھی بگاڑنا چاہا تھا مگر جب ہم نے غور کیا اور جاذبہ توفیق الٰہی نے کشش کی تو ہم بال بال بچ گئے۔ ایک صاحب نے ہم سے جو مرزائیوں کے بڑے بھاری جتھے میں رہتے ہیں مگر دین اسلام کے صراطِ مستقیم پر قائم ہیں۔ مسئلہ حیات وممات مسیح میں بحث کی۔

ہم نے ان کا کافی اطمینان کر دیا اور اخیر میں کہا کہ قرآن ہی سے مسیح موعود کا آنا بھی ثابت کرو۔ انہوں نے کہا کہ آمنا وصدقنا مرزا اور مرزائیوں کے ساکت کرنے کو اس دلیل سے بڑھ کر دوسری دلیل نہیں۔ اب میرا ایمان بالکل راسخ ہو گیا ہے۔ علیٰ ہذا بعض گاڑھے مرزائی برملا کہتے ہیں کہ ہم مرزا قادیانی کو اپنا بزرگ مانتے ہیں مگر نبی نہیں مانتے۔ یہ منافق مرزائی ہیں۔ مرزا قادیانی کا فرض ہے کہ کانوں کے بیچ میں ان کا سر کر دیں۔

مولانا شوکت اللہ میرٹھی !

الحکم مطبوعہ ٢٤ اگست میں ایک مراسلت منشی علی احمد صاحب ایڈیٹر اخبار ایڈورڈ گزٹ کی جانب سے شائع ہوئی ہے۔ یہ ہم کو بھی معلوم ہوا کہ منشی صاحب مرزائی ہیں پس مجدد السنہ مشرقیہ کی تجدید سے جو کچھ ان کو متعصبانہ مخالفت ہے۔ اب ہم کو اس کا کچھ تعجب اور افسوس نہیں رہا وہ اپنے اخبار میں مجدد کے خلاف جو کچھ لکھیں ان کو زیبا ہے کیونکہ تعصب اندھا ہے وہ جوہر کمال کو نہیں دیکھ سکتا۔ حالانکہ ہم نے بحیثیت مجدد ہونے کے غیر مذاہب والوں سے بھی تعصب نہیں

٢٧٨

صفحہ ٦٢٥

برتا۔ ہندوستان میں ہمارے شاگرد مختلف مذاہب کے لوگ ہیں۔ شیعہ، سنی، آریا، عیسائی اور خود بعض مرزائی ہمارے شاگرد ہیں۔ ہمارے پاس آتے ہیں ہم سے مستفید ہوتے ہیں۔ خاص فن شاعری اور تہذیب کو مذہب سے کوئی تعلق نہیں۔ مگر منشی مختار صاحب کے تمدن اور تہذیب کا باوا آدم سب سے اور خود اپنے مذہبی بھائیوں سے نرالا ہے۔ لہٰذا شکایت کا کوئی محل نہیں خیر۔

کجا بود مرکب کجا تاختم

بحث یہ تھی کہ مذکورہ بالا مراسلت میں یہ ظاہر کیا گیا ہے کہ یکم اگست ١٩٠٣ء کے ضمیمہ میں جو مضمون بعنوان (مرزائیوں کے مکائد منجانب ابوالسخا محمد رفعت اللہ صاحب شاہجہان پوری) شائع ہوا ہے۔ وہ ان کا بھیجا ہوا اور لکھا ہوا نہیں اور اس مراسلت میں ایک خط محمد رفعت اللہ صاحب کا بھی ہے جو شحنہ ہند میں مضمون مذکور کے بھیجنے کے بالکل منکر ہیں۔ اس مراسلت سے صرف اتنا ثابت ہوتا ہے کہ وہ مضمون رفعت اللہ خان صاحب کا بھیجا ہوا نہیں اور ہم کو بھی افسوس ہے کہ ان کے نام سے کیوں شائع ہوا مگر مراسلت سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ اصل واقعہ جو ضمیمہ میں شائع ہوا وہ غلط تھا مثلاً مولوی ابوسعید محمد حسین صاحب کا خط جس کی نقل نہ صرف ضمیمہ میں بلکہ الحکم میں بھی بذیل مراسلت مذکور شائع ہوئی ہے اس کی تکذیب نہیں کی گئی۔

مراسلت کے پیرایہ سے صاف ظاہر ہے کہ وہ مضمون چند حضرات کی صلاح اور مشورے سے لکھا گیا اور ایک صاحب کی جانب سے شحنہ ہند میں بھیجا گیا مگر بعد میں بعض خارجی وجوہ سے آپس میں نزاع ہو گیا۔ خیر ہم کو اس سے مطلب نہیں۔ جب محمد رفعت اللہ صاحب انکار کرتے ہیں کہ وہ مضمون میرا بھیجا ہوا نہیں تو کوئی ان کو مجبور نہیں کر سکتا کہ تم خواہ مخواہ مضمون کے بھیجنے کا اقرار کرو۔ ہم بھی کہتے ہیں کہ فی الحقیقت وہ مضمون انہوں نے نہیں بھیجا۔ لیکن اصل مضمون کی تکذیب تو جب ہوتی کہ تمام واقعات مندرجہ شحنہ ہند کی مدلل اور معقول تردید کی جاتی۔ ناظرین کی نظر تو واقعات پر ہوتی ہے۔ خواہ ان کا بھیجنے والا کوئی ہو۔

محمد رفعت اللہ خان صاحب نے جہاں مضمون کے بھیجنے سے انکار کیا ہے اگر واقعات کا بھی انکار کر دیں تو ہم بھی انکار اور تردید پر آمادہ ہیں۔ بے شک شحنہ ہند میں بیسیوں مضامین جو جادہ تہذیب سے گرے ہوئے ہوتے ہیں۔ مرزا قادیانی کے خلاف آتے ہیں مگر ہم ان کو شائع نہیں کرتے۔ ہمارا اور مرزا قادیانی کا معاملہ تو ہے اور جبہ اور قبا بڑے دعویٰ کا تال میل۔ ہم مدرس السنہ شرقیہ اور مرزا قادیانی موعود۔ ہم ان کو جو چاہیں لکھیں مگر اوروں کی کیا مجال ہے کہ مرزا

صفحہ ٦٢٦

قادیانی کی شان کے پتلوں میں کچھ کر سکے۔ ہم سب کے مجدد ہیں تو مرزا قادیانی کے بھی مجدد ہیں اور جب خود چند مرزائیوں نے ہم کو مجدد مان لیا ہے تو کوئی وجہ نہیں کہ مرزا اور ان کے بعض نئے مرید (مثلاً منشی مختار صاحب) مجدد پر ایمان نہ لائیں ورنہ قسم ہے آسمانی باپ کی ہم سے برا کوئی نہیں کیونکہ ایمان کا نکل جانا ہم نہیں دیکھ سکتے۔

٣ ...... حضرت پیر مہر علی شاہ صاحب پر حملہ

مولانا شوکت اللہ میرٹھی !

کوئی بابو مرزائی کسی سٹیشن سے بدل کر گولڑہ ضلع راولپنڈی کے سٹیشن پر آئے ہیں۔ گولڑہ حضرت پیر صاحب ممدوح کا وطن ہے اور پیر صاحب نے مرزا قادیانی کو بارہا شکستیں دی ہیں کہ وہ کبھی میدانِ علم وفن میں مناظرہ اور مباہلہ کے لئے پیر صاحب کے مقابلہ پر نہیں آئے اور طاعونی چوہوں کی طرح بلوں میں چھپتے ہی رہے کہ بابو مرزائی صاحب چونکہ ایک سخت مخالف کے علاقہ میں ہیں جہاں ان کے پیروؤں کا (جو سرحدی علاقہ کے پر جوش پٹھان ہیں) زور ہے۔ اس لئے وہ امن میں نہ رہیں گے الخ۔ بھلا ایڈیٹر صاحب گودڑی کے نیچے ہاتھ لے جا کر ناک پکڑنے اور ایچ پیچ کے ساتھ فقرے لکھنے کی کیا ضرورت ہوئی۔ صاف کیوں نہ لکھا کہ بابو صاحب کو پیر صاحب قتل کرادیں گے۔

اس کا یہ مطلب ہے کہ پیر صاحب بڑے ظالم اور قاتل ہیں۔ ایسے الزام سے چشم پوشی کرنا صابروں اور حلیم مزاجوں کا کام ہے۔ سچ ہے انسان کو اپنی آنکھ کا تو تنکا بھی نظر نہیں آتا مگر دوسروں کی آنکھ کا شہتیر نظر آتا ہے۔ ساری خدائی کی ہلاکت کا تو مرزا قادیانی اعلان دیں اور مخلوق کی اسی ہلاکت کو اپنی بعثت کا تمغہ بنائیں۔ اور جب ان کے مخالفوں میں سے کوئی شخص بقضاء الہی مرجائے تو بڑے دعوے سے اعلان کریں کہ میری مخالفت نے اس کو ہلاک کیا اور پھر ہلاکت کی پیشینگوئی یاد دلائی جائے اور جلی حرفوں سے اشتہاروں اور اخباروں میں مشتہر کی جائے پھر بھی مرزا قادیانی تو قاتل نہ ٹھہریں اور دوسرے لوگ جو کنج عافیت میں گوشہ نشین ہیں نہ بروزیت ومسیحیت کا دعویٰ کرتے ہیں۔ نہ کسی کی ہلاکت کے درپے ہو کر اسکی نسبت پیشینگوئی کرتے ہیں جن کو ہمیشہ خلق اللہ کی صلح اور امن سے کام ہے قاتل ٹھہرائے جائیں۔

بھلا پر امن برٹش عمل داری میں کون کسی کو قتل کر سکتا ہے۔ قتل کرنا تو کیا معنے ادنیٰ سی تخویف کے لئے بھی قانون تعزیر موجود ہے لیکن صرف مرزا قادیانی ہیں جو جرم تخویف کے بارہا

٢٨٠

مرتکب ہوئے لوگوں کی ہلاکت کی پیشینگوئیاں روکا اور مرزا قادیانی سے توبہ نامہ اور عہد نامہ میں تنکے لے کر عہد کرتا ہوں کہ آئندہ کسی کی آسمانی باپ کی چوٹ کھائی ہے کہ مخلوق خدا کا بہت ڈرے تھے۔ اب وہ بھیگی بلی بن کر اوروں پر بچوں کو قتل کرڈالیں گے۔ اے تیری قدرت کے اہالی موالی سے اپنی حفاظت اٹھالی اور کے جبروت کو مان گیا اور لے پالک صاحب دونوں بھونوں کی حفاظت کے خود ذمہ دار ا

٤ ...... م

مول مرزا قادیانی باوصف مسیح ہو کر سکتے ہیں۔ لہٰذا انہوں نے سوچا کہ کے سکے۔ پس وہ اپنے چیلوں کو اکثر یہ تلقین کمیت عمر یوں بڑھتی ہے۔ جیسے پانی سے يستاخرون ساعة ولا يستق اعمال نیک اور اتقاء سے صحت انسانی ہے۔ پس عمر کی درازی اور کمی کی بھی لم مگر مرزا قادیانی نے عمر کرنے سے زیادہ زیادہ کہاں تک عمر کو پورا معیار مل جاتا اور پھر وہ جان ل کمی ایک اضافی امر ہے۔ مثلاً جس ١٤٠ یا ١٥٠ برس کی ہوئی۔ علیٰ ھذ

٥ ...... مرزا قا

ہم لکھ چکے ہیں کہ ہو

صفحہ ٦٢٧

مرتکب ہوئے لوگوں کی ہلاکت کی پیشینگوئیاں کیں۔ بالآخر اس طوفان بے تمیزی کو برٹش حکام نے روکا اور مرزا قادیانی سے توبہ نامہ اور عہد نامہ لکھوایا کہ توبہ ہے توبہ ہے۔ کان پکڑتا ہے اور دانت میں تنکے لے کر عہد کرتا ہوں کہ آئندہ کسی کی ہلاکت کی پیشینگوئی نہ کروں گا۔ برٹش کی دوہائی اور آسمانی باپ کی چوتھائی ہے کہ مخلوق خدا کا بدخواہ نہ ہوگا۔ جن مرزا قادیانی کے چند ماہ پیشتر یہ غرے دبدبے تھے۔ اب وہ بھیگی بلی بن کر اوروں پر الزام دھرتے ہیں کہ وہ لے پالک کے ننھے منھے معصوم بچوں کو قتل کر ڈالیں گے۔ اے تیری قدرت۔ معلوم ہوتا ہے کہ آسمانی باپ نے مرزا قادیانی اور ان کے اہالی موالی سے اپنی حفاظت اٹھالی اور ٹکا سا جواب دے دیا کیونکہ خود آسمانی باپ پیر مہر علی شاہ کے جبروت کو مان گیا اور لے پالک صاحب سے کہہ دیا کہ یہاں میری بھی پیری نہیں چلتی تم اپنے دونوں بھوتوں کی حفاظت کے خود ذمہ دار ہو ۔

٤ ...... درازی عمر کا لٹکا

مولانا شوکت اللہ میرٹھی!

مرزا قادیانی باوصف مسیح ہونے کے مردے تو زندہ کر نہیں سکتے۔ نہ کوڑھیوں کو اچھا کر سکتے ہیں۔ لہذا انہوں نے سوچا کہ کم از کم اتنا تو ہو کہ بیسویں صدی کا مسیح لوگوں کی عمریں بڑھا سکے۔ پس وہ اپنے چیلوں کو اکثر یہ تلقین کرتے رہتے ہیں کہ دین مرزائی کی تبلیغ کرنے سے صحیح کمیت عمر یوں بڑھتی ہے۔ جیسے پانی سے کھیتی۔ قرآن میں تو یہ حکم ہے ”اذا جاء اجلهم لا يستاخرون ساعة ولا يستقدمون“ عمر تو اتنی ہی رہے گی جتنی مقدر میں لکھی ہے۔ البتہ اعمال نیک اور اتقاء سے صحت انسانی بڑھتی ہے اور فسق و فجور میں مبتلا رہنے سے صحت خراب ہوتی ہے ۔ پس عمر کی درازی اور کمی کی بھی لم ہے پھر بھی یہ دونوں تابع تقدیر ہیں۔

مگر مرزا قادیانی نے عمر کے بڑھنے اور گھٹنے کا کوئی پیمانہ نہیں بنایا کہ بروزی نبی کی تبلیغ کرنے سے زیادہ زیادہ کہاں تک عمر بڑھتی ہے اور تبلیغ نہ کرنے سے کتنی عمر گھٹتی ہے تاکہ مرزائیوں کو پورا معیار مل جاتا اور پھر وہ جان توڑ کر رات دن مرزائیت کی تبلیغ کرتے کیونکہ عمر کی درازی اور کمی ایک اضافی امر ہے۔ مثلاً جس شخص کی عمر سو برس کی ہوئی وہ اس شخص سے کم عمر ہے جس کی عمر ١٤٠ یا ١٥٠ برس کی ہوئی۔ علی ھذا!

٥ ...... مرزا قادیانی کے رقیب ملائے بے درمان ہیں

مولانا شوکت اللہ میرٹھی!

ہم لکھ چکے ہیں کہ یورپ میں اس وقت دو مسیح معہود و مرزا قادیانی کے رقیب پیدا

٢٨١

صفحہ ٦٢٨

ہوئے ہیں۔ لندنی مسیح مسٹر پگٹ کا تو مرزا قادیانی کو چنداں خیال نہیں شاید اس سے دانت کاٹی ٹھہر گئی ہے اور پتلون اور پتلون کا رشتہ مل گیا ہے۔ مگر فرانسیسی مسیح ڈاکٹر ڈوئی مرزا قادیانی کی نگاہ میں کھٹک رہے ہیں۔ ان کا ذکر بار بار ہوتا ہے۔ اس سے پایا جاتا ہے کہ ڈاکٹر ڈوئی مرزا قادیانی سے زیادہ چلتا ہوا ہے اور قرینہ بھی یہی بتا رہا ہے کیونکہ یورپ کے لوگ فلسفی تعلیم یافتہ اور بڑے کائیاں ہیں اور ہندوستان کے باشندے نرے وحشی۔ سادہ لوح اور بالکل بودھم ہیں۔ مگر جب ڈاکٹر ڈوئی نے یورپ والوں کو بھی مونڈ لیا ہے تو مسیحیت میں مرزا قادیانی سے ان کا مرتبہ بہت بڑھا ہوا ہے۔ مرزائی یورپ و امریکا میں اپنے رسالے اور تصویریں بھیج رہے ہیں مگر بجز اس کے کہ لوگ ان کو دیکھ دیکھ کر قہقہے اڑائیں اور کسی پر کوئی اثر مترتب نہیں ہوتا۔

پھر وہاں جب یورپین کے گوشت پوست ڈاکٹر ڈوئی جیسے مسیح موعود کا سکہ جما ہوا ہے تو ایک اجنبی سادھو بچے کو کون پوچھتا ہے۔ یورپ میں مرزا قادیانی کا کچھ سکہ جم بھی جاتا مگر شامت کے دھکے کہاں ٹلنے والے تھے۔ آسمانی باپ کے حقیقی بیٹے عیسیٰ مسیح کو جو رب النصارٰی ہے گالیاں دینی شروع کردیں۔ یورپ والے کب گوارا کر سکتے تھے کہ ان کے خدا کو کوئی گالیاں دے پس مرزا قادیانی کے نام پر یوں چار طرف سے شیم شیم (شرم شرم) کے آوازے بلند ہونے لگے۔ قرآن مجید میں تو بت پرستوں کو بھی برا کہنے کا حکم نہیں۔

چنانچہ ”لا تسبوا الذین یدعون من دون الله (الآیہ)“ وارد ہے اور مرزا قادیانی ایک اولوالعزم نبی اور یورپ کے خدا کو گالیاں دیں۔ بھلا اس شنیع فعل اور کمینہ حرکت کو کون گوارا کرسکتا تھا۔

بالآخر مصیبت یہ پڑی کہ خود آسمانی باپ لے پالک سے ناراض ہوگیا۔ اگرچہ چھوٹی اولاد سے والدین کو زیادہ محبت ہوتی ہے اور گو بقول مرزا قادیانی عیسیٰ مسیح نے اپنے کو آسمانی باپ کا خلف ارجمند ثابت نہیں کیا مگر باپ کو اپنے خون کا جوش اور خون کی محبت ایک نیچرل امر ہے۔ صلبی بیٹا کیسا ہی نالائق ہو مگر ہر حالت میں باپ کو اس کے ساتھ لے پالک سے بہت زیادہ محبت ہوگی۔ پس لے پالک نے جو گالیاں اپنے سوتیلے بھائی اور آسمانی باپ کے سگے بیٹے کو دیں وہ گویا آسمانی باپ کو دیں۔ پس وہ ایسا ناراض ہو گیا کہ اب لے پالک کے نام کا کتا پالنا بھی گوارا نہیں کرتا۔ پھر دوسرے یورپین بیٹے کیوں ناراض نہ ہوں۔

بیٹا کیسا ہی نالائق اور باپ کیسا ہی کٹر اور قسی القلب ہو مگر آپ جانتے ہیں کہ ہاتھ ٹوٹے گا تو گلے کو آئے گا باپ بیٹے کا اپنا خانگی معاملہ ہوتا ہے۔ دوسرا شخص ان کے پھٹے میں پاؤں

٢٨٢

صفحہ ٦٢٩

دے گا تو دل پھٹ جائے گا۔ پس صلبی بیٹے نے باپ سے فریاد کی اور آسمانی پریوی کونسل میں اس فریاد کی سماعت ہوئی۔ یوں لے پالک راندہ درگاہ ہو گیا۔ مرزا قادیانی نے بیس برس تک بعثت اور رسالت کی خوب ماما بختیاں کھائیں مگر اب آکر وہ سب ٹیڑھی کھیر ہو گئیں۔ آسمانی باپ چونکہ ناراض تھا لہٰذا اس نے الہام نہ کیا کہ تیرے دو رقیب اور بھی پیدا ہوں گے جو بروزیت اور مسیحیت میں کھنڈت ڈالیں گے اور منہ سے تر لقمہ چھین لیں گے۔

(ایڈیٹر)

یورپ کے عیسائیوں کو تو رہنے دیجئے۔ مرزا قادیانی نے اپنے جو رسالے مصر وغیرہ کے عربی اخبارات میں بھیجے اور ان پر جو کچھ ریویو کئے گئے مرزا قادیانی ان سے خوب واقف ہیں۔ ضمیمہ میں بھی ان کی نقلیں شائع ہو چکی ہیں۔ پس مرزا قادیانی کا حال شوکت اللہ کے اس شعر کے مطابق ہوا ۔

ہر مومن وگبر کو ہے یکساں نفرت
آغوش میں لے نہ کعبہ نہ دیر ہمیں

پس لندن اور پیرس کے دو گاڑھے حریفوں کا خیال مرزا قادیانی کے لئے بلائے بے درمان اور سوہان روح ہو رہا ہے مگر ان کو مرزا قادیانی کا ذرہ بھر بھی خیال نہیں۔ کیونکہ وہ آسمانی بادشاہی کی وراثت اور ملکیت کے شفیع اور خلیط ہیں مسیح ان کا اور وہ مسیح کے۔ مرزا قادیانی تو نہ تین میں نہ تیرہ میں۔ پھر کور نمکی سے باپ بیٹے دونوں کے دشمن۔

(ایڈیٹر)

٦ ...... مرزائی علماء

مولانا شوکت اللہ میرٹھی !

پیر جی سراج الحق صاحب جو پہلے جمالی تھے اور اب مرزائی ہو گئے ہیں۔ تعجب ہے کہ اپنے کو بجائے احمدی کے نعمانی (حنفی) لکھتے ہیں۔ یہ تو شرک فی الرسالۃ البروزیہ ہے۔ کیا مجتہد کا مرتبہ نبی سے زیادہ ہے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ابھی تک پکے مرزائی نہیں ہوئے۔ مجدد امۃ مشرقہ کو یہ بات سخت ناگوار ہے کہ وہ اپنے کو دوسرے کی جانب منسوب کریں۔ خیر اسی میں ہے کہ اس شرک جلی سے توبہ کیجئے ورنہ مجدد فتویٰ دے گا کہ آپ دارالامان قادیان میں رہنے کے لائق نہیں ہیں۔ بھلا لے پالک کے مندر میں مشرکوں کا کیا کام۔ خیر یہ تو ایک تمہیدی غزل کا مقطع سنئے! آپ نے الحکم میں اعلان دیا ہے کہ میں حضرت اقدس کی تائید میں عجیب طرز کا ایک رسالہ لکھ رہا ہوں۔ ایک ضروری مقام علماء احمدیہ کے ناموں کا آگیا ہے۔ پس مناسب ہے کہ جماعت احمدیہ میں جس قدر علماء ہیں یعنی جنہوں نے باقاعدہ علم عربی کی تحصیل

٢٨٣

صفحہ ٦٣٠

کی ہے۔ اپنے اپنے نام خاکسار کے پاس بھیج دیں۔ واقع میں یہ رسالہ عجیب طرز کا ہوگا۔ آخر آپ خاندانی پیر جی ہیں نا۔ اگر آپ کو ایسے لٹکے نہ سوجھیں تو کسے سوجھیں مگر معلوم نہیں۔ مرزائی جماعت میں علماء کونسے ہیں۔ ہم کو تو لٹو شاہ اور پٹو شاہ اور چپڑ قناتی شاہ اور مدار بخش اور خواج بخش وغیرہ کے سوا کوئی معلوم نہیں ہوا۔ خندقوں کھائیوں کوٹھی کٹھلوں میں مرزائی علماء چھپے ہوں تو ہوں۔ علماء ہوتے تو قادیان میں ہوتے۔ ہاں لے دے کے صرف مولوی حکیم نورالدین صاحب ہیں یہ بے شک عالم ہیں اور یہی قادیان کی کان کے شب چراغ ہیں اور کسی زمانہ میں تو برگزیدہ علماء اہلحدیث سے تھے۔ خیر خدائے تعالیٰ رحم کرے۔ حکیم صاحب کے بعد مولوی محمد احسن صاحب امروہی ہیں۔

یہ بھی کسی زمانے میں بشرح صدر تھے۔ آپ اکثر اوقات مرزا قادیانی کے مخالفوں کی تصانیف کے رد میں کتابیں اور رسالے اور اخباروں میں مضامین بھی دیتے رہے ہیں۔ یوں کہئے کہ لے پالک نے ان کو اپنا کفارہ بنا رکھا ہے۔ خدائے تعالیٰ ان پر ڈبل رحم کرے۔ علماء کے نام سے باقی صفر۔ ہاں جس طرح ہر ایک وکیل امتحان پاس کر کے عالم بن جاتا ہے۔ اسی طرح ہر ایک شخص مرزائی ہونے کے بعد مولوی اور عالم بن جاتا ہو تو مضائقہ نہیں۔

شوکت اللہ نے ہر طرح دیکھ بھال لیا۔ ٹٹول لیا۔ کسوٹی پر کس لیا مگر مرزائیوں میں کوئی کامل عیار نہیں نکلا۔ منطق فلسفہ۔ ہیئت، کلام، معانی و بیان کے مضامین کا ضمیمہ میں دریا بہا دیا مگر کوئی غواص اور پیراک معلوم نہ ہوا۔ علوم وفنون سے کسی کو مس بھی نہیں۔ مرزا قادیانی کو البتہ فارسی اور عربی نظم لکھنے کا سلیقہ ہے مگر سب اصلاح طلب ہے۔ سارا کلام مجدد کی نظر سے گزر جائے تو کندن ہو جائے۔ اور پھر ہندوستان میں کسی کی کیا طاقت ہے کہ مرزا قادیانی کے کلام پر چونچ کھول سکے۔

اس میں بالکل شک نہیں کہ مرزا قادیانی اور ان کے لکھے پڑھے حواری دل میں مجدد کی تجدید پر ایمان لے آئے ہیں۔ مگر ہم کو غصہ صرف اس پر ہے کہ جس طرح سب تصدیق بالقلب کر چکے ہیں۔ اسی طرح اقرار باللسان بھی کریں اور تو اور ایڈیٹر ڈرگزیٹ کے غزلیاتی ایڈیٹر کو دیکھئے کہ غریب نہ لکھنا آتا نہ پڑھنا مگر ہاتھی سے گنے کھانے چلا ہے۔ اس بے چارے کو الفاظ کی سقم وصحت تک کی خبر نہیں مگر اپنے پیر کے خوش کرنے کو اخبار میں اٹکل پچو کچھ نہ کچھ ہانکتا ہی رہتا ہے مجدد کے کلام کا محل نہیں سمجھ سکتا۔ ایک شعر کا مطلب نہیں بتا سکتا۔ ویسا شعر لکھنا تو کجا۔ اگر اس کے استاد و اساتذہ بھی گور سے نکل کر آئیں تو مقابلے میں ایک مصرعہ موزوں نہیں کر سکتے۔ لیاقت کی یہ

٢٨٤

صفحہ ٦٣١

کیفیت کہ جو کچھ لکھتا ہے اسے خود نہیں سمجھتا۔ تاہم مجدد بنے غرض دنیا میں شوکت التجدید کے نقارے بج گئے۔ مگر اس کے کانوں میں چونکہ تعصب نے سیسا پلا دیا ہے۔ لہٰذا قوت سامعہ کافور ہوگئی ہے۔ اس لئے یہ عطائی مجبور ہے ؎

شود مردہ دل از بانگ صور
معنیٰ لا تسمع من فی القبور

تعارف مضامین ...... ضمیمہ شحنہ ہند میرٹھ

سال ١٩٠٣ء ١٦؍ ستمبر کے شمارہ نمبر ٣٥؍ کے مضامین

١ ...... کلام مجید کی آیات میں تغیر وتبدل اور کمی بیشی کرنا کفر ہے۔

مولانا شوکت اللہ میرٹھی!

مرزا قادیانی کو نہ خدا کا خوف ہے نہ بندوں کی شرم ہے۔ آیات قرآنی میں یہ کہہ کر کہ مجھ پر یہی آیتیں جو خاتم النبیین احمد مجتبیٰ محمد مصطفیٰ ﷺ پر بطور وحی نازل ہو چکی ہیں۔ مکرر الہام ہوتی ہیں بے تامل تغیر و تبدل کرتے ہیں۔ مثلاً ایک حصہ کسی آیت کا لیا اور اس میں ایک حصہ اپنی طرف سے ملا دیا گویا کم خواب اور اطلس میں نہیں۔ بلکہ سندس و استبرق کے بہشتی حلوں میں جو مومنین صادقین اور توحید و رسالت پر قائمین کے لئے قطع اور تیار ہوئی میں ٹاٹ کا پیوند لگاتے ہیں۔ مرزائی کتابوں اور اخباروں میں ایسے الہامات سینکڑوں موجود ہیں۔ جن میں آیات قرآنی کو مسخ کیا گیا ہے۔ الامان الامان۔ ان مرزائیوں کی عقلوں پر خدا جانے کیسے پتھر پڑے ہیں کہ کلام الٰہی اور دین

٢٨٥

صفحہ ٦٣٣

الہی کے ناسخ اور مرم اور محرف کو مامور من اللہ اور نبی اور رسول وغیرہ سمجھتے ہیں۔ عاقبت کے وبال اور نکال میں مبتلا ہونے کے علاوہ یہ حرکت کس قدر حماقت آمیز ہے کہ جو کلام ایک مرتبہ آنحضرت ﷺ پر نازل ہو چکا۔ وہی دوبارہ مرزا پر نازل ہوتا ہے۔ گویا جو واقعات پیغمبر عرب ﷺ کو پیش آئے۔ جن کے مطابق وحی نازل ہوئی۔

وہی معدوم واقعات لوٹ کر قادیانی کو پیش آتے ہیں اور وہی آیتیں نازل ہوتی ہیں مگر حواری نہیں سمجھتے ان کے دلوں پر مہریں لگ گئی ہیں۔ دہریوں کا ایک فرقہ ہے جو وعاء دھر کا قائل ہے اس کے نزدیک تمام گزشتہ واقعات مثلاً طوفان نوحؑ اور سکندر ذوالقرن کے واقعات سب زمانہ کے ظرف میں موجود ہیں مگر ہماری آنکھوں سے مخفی ہیں۔ ماحصل یہ ہے کہ اس فرقہ ضالہ کے نزدیک کوئی شئی معدوم نہیں۔ یہی فاسد عقیدہ بروزی قادیانی کا ہے۔

حضرت قاضی عیاضؒ اپنی کتاب شفاء میں لکھتے ہیں: ”قد اجمع المسلمون علی ان القرآن المتلو فی جمیع اقطار الارض المکتوب فی المصاحف بایدی المسلمین مما جمعہ الدفتان من اول الحمد للہ رب العالمین الی آخر قل اعوذ برب الناس انہ کلام اللہ المنزل علی نبیہ محمد ﷺ وان جمیع مافیہ حق وان من نقص منہ حرفا قاصداً لذالک او بدلہ بحرف آخر مکانہ او زاد فیہ حرفا ممالم یشتمل علیہ المصحف الذی وقع علیہ الاجماع واجمع علی انہ لیس من القرآن عامداً لکل ھذا انہ کافر“ ﴿تمام مسلمانوں نے اس امر پر اجماع کیا ہے کہ تحقیق جو قرآن زمین کی تمام اطراف میں تلاوت کیا گیا ہے اور جو جلدوں میں لکھا ہوا مسلمانوں کے ہاتھوں میں ہے جس کو جمع کیا ہے۔ دو دفتوں میں شروع الحمد سے لیکر آخر قل اعوذ برب الناس تک خدائے تعالیٰ کا کلام ہے جو اس کے نبی ﷺ پر نازل ہوا ہے اور جو کچھ اس میں ہے حق ہے جس شخص نے اس میں سے ایک حرف کم کرنے کے ارادے سے کم کیا یا کوئی حرف اس کے حرف کی جگہ بدلا یا کوئی ایسا لفظ بڑھایا جو قرآن میں نہیں ہے عمداً ایسی تمام باتوں کا ارتکاب کرنے والا بالاجماع کافر ہے۔﴾

اور مفتاح السعادت میں لکھا ہے ”ویکون وطیہ مع امراتہ زناء والمتولد منھما فی ھذہ الحالة ولد الزنا وان اتے بکلمتی الشھادة بطرق العادة“ اور ایسے مرتد کا اپنی عورت کے ساتھ صحبت کرنا زناء ہے اور ایسی حالت میں جو بچہ پیدا ہو وہ حرامی ہے۔ گرچہ بطریق عادة یہ مرتد توحید و شہادت کا کلمہ پڑھے۔ اور ظاہر ہے کہ ایسے شخص پر اعتقاد رکھنے

٤٨٦

صفحہ ٦٣٣

والے بلکہ ناسخ و محرف قرآن کو نبی سمجھنے والوں کی نسبت بھی یہی حکم ہوگا اور اشباہ و نظائر میں ہے۔ ”واذا مات او قتل على ردته لم يدفن في مقابر المسلمين ولا اهل ملته وانما يلقى في حفرة كالكلب “ اور یہ مرتد جب مرجائے یا اپنے ارتداد کے باعث قتل کیا جائے تو مسلمانوں اور اہل ملت کے قبرستان میں دفن نہ کیا جائے اور کتے کی طرح گڑھے میں ڈال دیا جائے۔

٢ ...... قادیانی امروہی کے کلام میں تناقض

مولانا شوکت اللہ میرٹھی !

مولوی محمد احسن صاحب کا رقيمة الوداد ٢٤ اگست کے الحکم میں چھپا ہے جو کسی سائل کے خط کے جواب میں ہے جس نے چند سوالات کئے تھے۔ اپنے موعود کی دعووں کے ثبوت ہیں۔ آپ فرماتے ہیں: ”اگر یہ پیشین گوئیاں مخبر صادق کی جس کا مصداق یہ مسیح موعود ہے نہ بھی ہوں تب بھی یہ مجدد اسلام اپنی ذات میں ایک ایسا مجمع نشان ہائے الٰہی کا ہے جس کی تصدیق کے لئے قرآن وحدیث ہم کو مجبور کر رہے ہیں ۔“ اوّل تو لفظ اگر سے جو حرف شرط اور تشکیک پیدا کرنے والا ہے۔ یہ نکلتا ہے کہ مسیح موعود کی نسبت آنحضرت ﷺ کی پیشینگوئیاں قطعی اور یقینی نہیں ہیں۔ اس صورت میں موعود موعود نہ رہا۔ حالانکہ وہ حدیثوں ہی کو اپنے دعویٰ کے ثبوت میں پیش کرتا ہے۔ مثلاً ”ان الله يبعث لهذه الامة على رأس كل مائة من يجددلها دينها “ اگر چہ یہ اس پر منطبق نہ ہو کیونکہ اس صورت میں آنحضرت ﷺ کی وفات سے لے کر اب تک ١٣ مجدد ہونے چاہئیں جنہوں نے نبی، مہدی موعود، مسیح موعود، امام الزمان، خاتم الخلفاء ہونے کا دعویٰ کیا ہو۔ کیونکہ آپ کے نزدیک مجدد تو وہی ہے۔ جو مذکورہ بالا صفات کا مجموعہ ہو اور اگر آپ تاویل سے ثابت کریں کہ ١٢ مجدد تو اس شان کے نہ تھے بلکہ مرزا قادیانی کے طفیل تھے۔ اول تو حدیث میں نہیں لکھا کہ وہ مجددین مراتب میں ناقص اور کامل ہوں گے۔ یعنی ١٢ مجدد تو ناقص اور تیرھواں مجدد سب سے اکمل اور خاتم الخلفاء ہوگا۔

اور اس صورت میں خود ١٢ مجددوں ہی کی نفی ہوتی ہے کیونکہ ناقص فی الکمال یا فی الدین ہرگز مجدد نہیں ہوسکتا۔ پھر خدا کو کیا ضرورت تھی کہ اپنے کامل دین کے لئے ناقص مجدد بھیجتا۔ سب کو کامل ہی بنا کر کیوں نہ بھیجا اور اگر مولوی صاحب یہ کہیں کہ سب کامل تھے اور قیامت تک کامل ہی مجدد پیدا ہوں گے تو مرزا قادیانی کی کوئی خصوصیت نہ رہی اور دعویٰ خاتمیت خلفاء بھی باطل ہو گیا کیونکہ آپ آگے چل کر فرماتے ہیں کہ حديث من يجددلها دينها کا وہی مجدد ہوگا۔

٢٨٧

صفحہ ٢٨٨

٦٣٤

خواہ خلیفہ اول صدیق اکبر ہوں یا مسیح موعود خاتم الخلفاء ومہدی مسعود ہو۔ لیکن صدیق اکبر نہ تھے۔ ورنہ مرزا قادیانی خاتم الخلفاء ہرگز نہ ہوتے اور اگر یہ کہو کہ مرزا قادیانی حضرت ابوبکر صدیق سے افضل ہیں۔ کیونکہ وہ خلیفہ اول تھے اور مرزا قادیانی خلیفہ آخر اور خاتم الخلفاء ہیں تو اب قیامت تک کسی اور مجدد کی بعثت نہ ہونی چاہئے جو حدیث مذکور کے منطوق واجب الوثوق کے بالکل خلاف ہے کیونکہ حدیث میں علی راس کل مائۃ وارد ہوا ہے۔

یعنے ہر صدی کے شروع میں ایک مجدد پیدا ہو گا یہ نہیں لکھا کہ چودھویں صدی کے شروع میں جو مجدد پیدا ہوگا وہ خاتم المجددین ہوگا۔ آگے چل کر آپ دفع دخل کے لئے فرماتے ہیں۔ ”ہاں یہ مجددین سب کے سب یکساں اور مساوی فی الدرجہ نہیں ہیں۔ بلکہ بحکم ”تلک الرسل فضلنا بعضهم على بعض‘ امت محمدیہ میں بھی یہ حکم فضیلت جاری و نافذ ہے۔“ آپ نے مرزا قادیانی کی خاتمیت پر غارت کر دی۔ علاوہ اس کے یہاں رسولوں کی فضیلت کا ذکر ہے نہ کہ مجددوں کی فضیلت کا تا کہ حدیث مذکور سے مطابقت ہو۔

اور اگر آپ وہی کنجی اور لنگڑی تاویل کریں کہ تمام مجدد رسول ہیں تو آیہ خاتم النبیین کا انکار ہے گو آپ کو کسی کی کچھ پروا نہ ہو اور دائرہ اسلام سے خارج ہونا پڑے۔ اگر مجدد سے مراد نبی ہوتے تو یہ حدیث اس طرح وارد ہوتی ۔ ” ان الله يبعث لهذه الامة على راس كل مائة نبيا يجدد لها دينها “ آپ کا یہ فرمانا کہ سب مجددین یکساں اور مساوی فی الدرجہ نہیں اس کا بھی یہی مطلب ہے کہ مرزا قادیانی سب سے افضل ہیں اور رسولوں سے بھی افضل ہیں کیونکہ آیت ”تلک الرسل فضلنا بعضھم“ کا پیش کرنا اس غرض سے ہے۔ اس سے آپ کا اور تمام مرزائیوں کا عقیدہ اچھی طرح کھل گیا۔ خواہ آپ اپنے عقیدے پر کیسا ہی پردہ ڈالیں۔

لاکھوں لگاؤ ایک چرانا نگاہ کا
لاکھوں بناؤ ایک بگڑنا عتاب میں

خدا کرے آپ ہمارا مطلب اچھی طرح سمجھیں اور نازک طبع بنیں نہ کہ بلید الطبع ۔ اور بہتر ہے کہ آپ قلم اٹھائیں اور پھر مجدد کی جولانیاں دیکھیں۔

مولانا شوکت اللہ میرٹھی ! ہرگز نہیں کیونکہ سفر حجاز میں مصائب ہیں۔ جہازوں کے ڈوبنے کا خوف ہے پھر جدہ اور مکہ اور مدینہ کی راہ میں بدو لگتے ہیں جو مال واسباب لوٹ لیتے ہیں ورنہ مار ڈالتے ہیں جابجا

٦٣٥

قرنطینے ہیں۔ طاعون ہے ہیضہ ہے الغرض طرح ط خود جائیں گے نہ اپنے حواری اور مریدوں کو حج کی میں تو قادیان ہی مکہ اور مدینہ بلکہ ان سے بھی کئی ہے اور مکہ اور مدینہ اور ان کی راہ میں امن نہیں بلکہ س لیکن مرزا قادیانی کا یہ عذر لنگ ثابت ہیں چنانچہ ابن عساکر نے ابی ہریرہؓ سے روایت کی عیسیٰ بن مریم حكماً عدلا واماما معتمراً وليقفن على قبرى ليسلمن علي ﴿رسول اللہ ﷺ نے فرمایا البتہ خدائے تعالیٰ ع منصف بنا کر پھر وہ حج یا عمرہ کرتے ہوئے روحاء جو مدینہ سے ٣٦ کوس ہے اسی راہ سے انبیاء حج ک گے اور میں سلام کا جواب دوں گا۔ اب فرما واسطے تو روحاء قادیان اور گورداسپور کی سڑک ہے جبکہ مقدمات میں عدالت ان کو طلب کرتی ہے۔ خدا نے مرزا قادیانی حرمین ش خدائے وحدہ لاشریک اور اس کے رسول خاتم ا کے اس جزء کو مانتے ہیں جو ان کے مطلب آیت کے مصداق ہیں ”نؤمن ببعض ونک

مولانا شو مرزا قادیانی کا ایک فارسی قصید بہت بڑا دعویٰ ہے ) مرزا قادیانی کو تو سب س میں اس کے پیاز کے سے چھلکے اتار کر دکھا د ندارد لیجئے۔

جائیکہ از ق
نگویم سخن ا
صفحہ ٦٣٥

قرنطینے ہیں۔ طاعون ہے ہیضہ ہے الغرض طرح طرح کی آفات ہیں۔ اس لئے نہ مرزا قادیانی خود جائیں گے نہ اپنے حواری اور مریدوں کو حج کی اجازت دیں گے۔ بس ایسے پر آشوب وقت میں تو قادیان ہی مکہ اور مدینہ بلکہ ان سے بھی کئی حصے زیادہ شرف رکھتا ہے۔ کیونکہ وہ دارالامان ہے اور مکہ اور مدینہ اور ان کی راہ میں امن نہیں بلکہ ہر وقت جان کا خطرہ ہے۔

لیکن مرزا قادیانی کا یہ عذر لنگ ثابت کرتا ہوں کہ وہ موعود عیسیٰ نہیں بلکہ مردود دجال ہیں چنانچہ ابن عساکر نے ابی ہریرہؓ سے روایت کی کہ ”قال رسول اللہ ﷺ لیہبطن عیسیٰ بن مریم حكماً عدلا واماما مقسطا فلیسلكن فج الروحاء حاجاً او معتمراً وليقفن على قبرى ليسلمن على ولاردن عليه (کنز العمال ص ٣٤٥)“ ”رسول اللہ ﷺ نے فرمایا البتہ خدائے تعالیٰ عیسیٰ بن مریم کو اتارے گا حاکم، عادل اور امام منصف بنا کر پھر وہ حج یا عمرہ کرتے ہوئے روحاء کی راہ سے چلیں گے (روحاء ایک مقام کا نام ہے جو مدینہ سے ٣٦ کوس ہے اسی راہ سے انبیاء حج کو جاتے تھے) اور میری قبر پر آ کر مجھے سلام کریں گے اور میں سلام کا جواب دوں گا۔“ اب فرمائیے مرزا قادیانی مسیح موعود کیونکر ہوئے ان کے واسطے تو روحاء قادیان اور گورداسپور کی سڑک ہے وہ اس راہ سے بھی اس وقت مجبوری جاتے ہیں جبکہ مقدمات میں عدالت ان کو طلب کرتی ہے۔

خدا نہ کرے مرزا قادیانی حرمین شریفین کو جائیں وہاں تو سچے مومن جاتے ہیں جو خدائے وحدہ لاشریک اور اس کے رسول خاتم النبیین پر ایمان رکھتے ہیں۔ مرزا قادیانی احادیث کے اس جزء کو مانتے ہیں جو ان کے مطلب کے موافق ہوتا ہے باقی اجزاء نہیں مانتے۔ وہ اس آیت کے مصداق ہیں ”نؤمن ببعض ونكفر ببعض“

٤ ...... مرزا قادیانی کا الہامی قصیدہ

مولانا شوکت اللہ میرٹھی !

مرزا قادیانی کا ایک فارسی قصیدہ (جس کو الہامی بتایا جاتا ہے اور جس پر مرزائیوں کو بہت بڑا دعویٰ ہے) مرزا قادیانی کو تو سب سے زیادہ ہو گا کیونکہ وہ ملہم ہیں) نظر سے گزرا ہم ذیل میں اس کے پیاز کے سے چھلکے اتار کر دکھاتے ہیں اور بتاتے ہیں کہ پوست ہی پوست ہے۔ مغز ندارد لیجئے۔

جائیکہ از مسیح و نزولش سخن رود
گویم سخن اگر چہ ندارند باورم

٢٨٩

صفحہ ٦٣٦
کاند رو لم دمید خداوند کرد گار
کان برگزیدہ راز رہ صدق مظہرم

(درثمین فارسی ص٧٨)

لیجئے جناب عیسیٰ مسیح برگزیدہ ہو گئے شاید یہ قصیدہ بروزی اور مہدی موعود بننے سے پہلے تصنیف کیا گیا ہے اور جب جنون اور مالخولیا نے زور کیا تو عیسیٰ مسیح کو خدا جانے کیا کیا بنا کر چھوڑا۔ نبی ہونا تو کجا وہ تو مہذب انسان بھی نہ رہے۔ جو مسیح ایسے اور ویسے ہیں مرزا قادیانی ان کے مظہر بنے ہیں۔ یہ شعر قصیدہ انوری کے اس شعر سے اخذ کیا ہے؎

جائیکہ از بلندی پستی سخن رود
از آسمان بلند تراز خاک کمترم

قرآن میں سے جو آیتیں چرا کر تغیر و تبدل اور نسخ کے بعد اپنا الہام قرار دیتے ہیں وہ تو مسلمانوں پر کھل جاتا ہے کیونکہ ہزاروں علماء اور حفاظ موجود ہیں پس کاجل کا چور اپنا منہ کالا کرتا ہے تو پکڑا جاتا ہے مگر شعراء کے قصائد پر تو لوگوں کی بہت ہی کم نظر ہوتی ہے۔ پس آپ اس کو چرا کر خفاء میں سرخرو ہو جاتے ہیں لیکن تاڑنے والے تاڑ جاتے ہیں اور مجدد السنہ مشرقیہ کے سامنے تو مرزا قادیانی کی کوئی چوری کب چھپ سکتی ہے۔ اس کی شان میں تو مولانا نظامیؒ پہلے ہی فرما گئے ہیں؎

اگر دزد بردہ برآرد نفیر
کہ دوست او شحنہ دزد گیر
موعودم و خلیفہ ماثور آدم
حیف است گر بدیدہ نہ بینند منظرم

(درثمین فارسی ص٧٨)

ہم نے تو یہ سنا تھا کہ کانوں سے دیکھتے ہیں ناک سے دیکھتے ہیں سر سے دیکھتے ہیں۔ پاؤں سے دیکھتے ہیں۔ گھٹنوں سے دیکھتے ہیں؟ یہ آج ہی معلوم ہوا کہ لوگ آنکھوں سے دیکھتے ہیں جبکہ آپ کا یہ مصرعہ نظر پڑا؎

حیف است گر بدیدہ نہ بینند منظرم

یوں فرمائیے!

حیف است اگر بغور نہ بینند منظرم

٢٩٠

از کلمہ چوں خود

تمام اشعار میں مفتوح ہے ہے۔ یہ آپ کی الہامی شاعری اور ہمہ دانی کھڑا کر لے وہ مسیح موعود ہے ۔ ان قبلہ بعد از ہزار

چار دہم کو بسکون ہا ہوز تقاضا الہام ہے۔ علیٰ ہٰذا ہزار و سہ حرم میں بت لا کر ڈال دیئے۔ برا مضطرب ہے۔ آپ جو کچھ چاہیں میں اس قبلہ (آنحضرت ﷺ) اکھاڑ پھینک دیا تھا۔ مگر شعر سے یہ معنی نہیں جس نے تیرہ سو برس قبل حرم میں کی تحریف ہوئی؟ واہ واہ الہام کیا جوش کامہ

(یار) تو بہت ہی خ بمعنی پل اور بالکسر بمعنی کشتی ہے کا آخر چون

صفحہ ٦٣٧
از کلمہ منارۂ شرقی عجب مدار
چوں خود ز مشرق است تجلّی نیرم

(درثمین فارسی ص ٧٩)

تمام اشعار میں مفتوح ہے مگر یہاں مکسور۔ یہ لفظ نیر بروزن فیعل بکسر یاء ہے نہ کہ بفتح یاء۔ یہ آپ کی الہامی شاعری اور ہمہ دانی ہے۔ جی ہاں بجا ہے جو مشرق میں رہے اور ایک منارہ کھڑا کر لے وہ مسیح موعود ہے ۔

ان قبلہ رو نمود بگیتی بچار دہم
بعد از ہزار و سہ کہ بت افگند در حرم

(درثمین فارسی ص ٧٩)

چار دہم کو بسکون ہا ہوز ملاحظہ کیجئے۔ پھر چار دہم سے چودھویں صدی مراد لینا شاید تقاضاء الہام ہے۔ علی ہذا ہزار و سہ سے تیرہویں صدی۔ پھر تو افگند در حرم کے تو یہ معنی ہوئے کہ حرم میں بت لا کر ڈال دیئے۔ بر افگندن البتہ ڈھا دینے کے معنی میں مستعمل ہے۔ ترکیب کتنی مضطرب ہے۔ آپ جو کچھ چاہتے ہیں شعر میں اس کو ادا نہیں کر سکتے۔ آپ کا مدعا یہ ہے کہ دنیا میں اس قبلہ ( آنحضرت ﷺ) نے تیرہویں کے بعد پھر منہ دکھایا جس نے حرم سے بتوں کو اکھاڑ پھینک دیا تھا۔

مگر شعر سے یہ معنی نہیں نکلتے بلکہ اس کے خلاف نکلتے ہیں یعنی اس قبلہ نے پھر منہ دکھایا جس نے تیرہ سو برس قبل حرم میں بت لا کر ڈال دیئے تھے۔ یہ آنحضرت ﷺ اور ان کے بروز کی کی تعریف ہوئی؟ واہ واہ الہام کیا ہے خبط کا مرقع ہے ۔

جوشید آنچنان کرم منبع فیوض
کامد ندائے یار ز ہر کوئے و معبرم

(درثمین فارسی ص ٧٩)

(یار) تو بہت ہی خوب ہے اور کوئے کے ساتھ معبر کے تو کیا ہی کہنے ہیں۔ معبر بفتح بمعنی پل اور بالکسر بمعنی کشتی ہے یہاں دونوں معنی سے کیا مناسبت ہے یوں فرمائیے!

کامد ندائے عیب ز ہر کوئے و معبرم
آخر نخواہند کہ گمان نکو کنند
چوں میروی برون ز حد خویش برادرم

٢٩١

صفحہ ٦٣٨

جو شخص اپنے کو برملا خدائے تعالیٰ کا لے پالک بتائے۔ بعد ختم نبوت دعویٰ نبوت کرے۔ انبیاء کو گالیاں دے اور اپنے کو غیب دان بتائے۔ اس پر گمان نیک کرنا مومن کا کام نہیں اور (برادرم) تو بہت ہی فصیح واقع ہوا ہے۔

مامورم و مرا چہ درین کار اختیار
رو ایں سخن بگو بخدا وند آمرم

(درثمین فارسی ص ٧٩)

پھر قافیہ غلط۔ آمر بکسر میم ہے نہ کہ بفتح میم۔ مرزا قادیانی! یہ شاعری ہے کاتا اور لے دوڑی نہیں۔

ای قوم من بگفتۂ من تنگ دل مباش
ز اول چنیں مجوش ببیں تا بآخرم

قافیہ پھر غلط سنئے ایک آخر تو بکسر خاء اسم فاعل ہے اور ایک آخر بفتح خاء بمعنی دیگر کے ہے۔ آپ کی مراد بکسر خاء ہے نہ کہ بفتح خاء ورنہ بے معنی ہوگا اور یہ معنی ہوں گے کہ مجھے دوسرے کے ساتھ دیکھ۔ خود بدولت کا بھی یہ مطلب نہیں اور آخر اسم فاعل کی صورت میں روی غلط ہوتی ہے۔ الفاظ کی صحت وسقم کی بھی تمیز نہیں۔

ہر لحظہ می خوریم زجام وصال دوست
ہر دم انیس یار علی رغم منکرم

(درثمین فارسی ص ٨٠)

روی پھر غلط۔ آپ کی مراد منکر بکسر کاف اسم فاعل ہے نہ کہ منکر بفتح کاف اسم مفعول ورنہ مہمل ہے۔

برسنگ میکند اثر این منطقم مگر
بے بہرہ این کسان زکلام موثرم

(درثمین فارسی ص ٨١)

روی پھر غلط۔ کیونکہ موثر سے اسم فاعل مراد ہے جو بکسر تاء مثلثہ ہے نہ کہ بفتح ۔

زانگہ کہ دست او دلم از غیر خود کشید
گوئی گہے نبود دگر در تصورم

(درثمین فارسی ص ٨١)

٢٩٢

٦٣٩

واہ واہ ! روی بجائے مفتوح کے مکسور تو جناب ۔

تصور بضم واو -

ہر تار و پود من بس
از خود تہی و از غم

روی پھر مضموم۔ تار و پود کا تانا بانا محاور

ہر تار موئے من
من نیستم رسول و
ہاں ملہم استم ا

روی پھر غلط۔ آپ ڈرانے والے

آیہ شریفیہ آپ کا منذر یعنی قہر خدا اور عذاب زمانے کا لکھا ہوا ہے جبکہ دماغ کے تھرما میٹر کا بڑھا تھا اب تو آپ فرمائشی بروزی رسول ہیں ۔ آپ تو الہامی قصیدے کے لکھنے ی قلم جو کچھ چاہتا ہے الہام کر دیتا ہے۔ اس کا قصیدہ مجدد کے پاس بغرض اصلاح بھیج دیتا سودائے خام پکایا۔

مولانا !

ہم کو نہایت ارمان بھرے دل وجود سے وابستہ ہیں۔ یہی کہنا پڑتا ہے کہ ا فرہاد نے شیریں کے غم میں اور کچھ نہیں تو ما میں تمام بوالہوسوں سے بازی لے گیا۔ ا کہ قیامت تک کوئی نہ کر سکے گا۔ مرزا قاد

صفحہ ٦٣٩

واہ واہ! ردی بجائے مفتوح کے مکسور تو ہو رہی تھی اب ردی مفہوم بھی ہونے لگی کیوں جناب۔

تصور بضم واو ہے یا فتح واو

ہر تاروپود من بسر اید بعشق او
از خود تہی وازغم آن دلستان پرم

(درثمین فارسی ص ٨١)

ردی پھر مضموم۔ تار و پود کا گانا نیا محاورہ ہے۔ یوں فرمائیے!

ہر تار موئے من بسر اید بعشق او
من نیستم رسول ونیا ورده ام کتاب
ہاں ملہم استم وز خداوند منذرم

(درثمین فارسی ص ٨٢)

ردی پھر غلط۔ آپ ڈرانے والے ہیں یا ڈرائے گئے۔ بے شک ڈرائے گئے اور مجدد النہ مشرقہ آپ کا منذر یعنی قہر خدا اور عذاب آخرت سے ڈرانے والا ہے۔ یہ قصیدہ غالباً اس زمانے کا لکھا ہوا ہے جبکہ دماغ کے تھرما میٹر کا نمبر مانخولیا کے درجے سے بڑھ کر رسالت تک نہ بڑھا تھا اب تو آپ فرمائشی بروزی رسول ہیں۔

آپ تو الہامی قصیدے کے لکھنے میں مجبور ہیں۔ قصور تو مسخرے آسمانی باپ کا ہے کہ الم غلم جو کچھ چاہتا ہے الہام کر دیتا ہے۔ اس کا فرض یہ تھا کہ لے پالک پر الہام کرنے سے پہلے یہ قصیدہ مجدد کے پاس بغرض اصلاح بھیج دیتا کہ رسوائی نہ ہوتی۔ خبردار جو آئندہ ایسی خود سری کا سودائے خام پکایا۔

مولانا شوکت اللہ میرٹھی!

ہم کو نہایت ارمان بھرے دل اور طرح طرح کی امیدوں سے جو قادیانی مہدی کے وجود سے وابستہ ہیں۔ یہی کہنا پڑتا ہے کہ اس نے اپنی سہ سالہ بعثت میں فرہاد بن کر کوئی کوہ کنی کی فرہاد نے شیریں کے غم میں اور کچھ نہیں تو مایوسی کی حالت میں اپنا ہی سر پھوڑ لیا اور معرکہ عشق و محبت میں تمام بوالہوسوں سے بازی لے گیا۔ اور ایک بڑا مہتم بالشان کارنامہ چھوڑ گیا اور ایسا کام کر گیا کہ قیامت تک کوئی نہ کر سکے گا۔ مرزا قادیانی سے تو کچھ بھی نہ ہو سکا۔ قادیان سے باہر نکلتے ہوئے

٢٩٣

صفحہ ٦٤٠

مارے خوف کے روح قبض ہوتی ہے۔

حالانکہ آسمانی باپ وعدہ کر چکا ہے کہ میں تیری جان کا ہر وقت محافظ ہوں اگر بری نگاہ سے کوئی دیکھے گا تو آنکھیں نکال کر اس کو ختم کر دوں گا۔ مگر مرزا قادیانی کو آسمانی باپ کی ڈھارس باندھنے پر ذرا بھی ایمان و اعتماد نہیں۔ ہم کو حیرت ہے کہ جب خود لے پالک آسمانی باپ کے وعدوں کو گوز شتر اور دال بھات ساگ پات کھانے والوں کی توند کا ایمان سمجھتا ہے تو عوام میں اپنی اور آسمانی باپ کی ہوا کیا باندھ کر سکے گا۔ جب ہم تواریخ میں گزشتہ مہدیوں کے کارنامے دیکھتے ہیں کہ انہوں نے دنیا میں انقلابات ڈال دیئے۔ بڑی بڑی سلطنتوں میں زلزلے پیدا کر دیئے۔

چار طرف کھلبلی مچادی۔ میدان ہستی کو تہ و بالا کر دیا تو رہ رہ کر ہمارے دل میں بھی ارمان پیدا ہوتا ہے کہ ہمارے زمانے کا مہدی ان کے مقابلے میں کچھ تو ہاتھ پاؤں ہلاتا ان سے آدھی تہائی چوتھائی دسواں بیسواں سواں حصہ ہی اپنی مہدویت کے خمیر پر کر دکھاتا۔ گزشتہ مہدیوں کی تو دور بلا۔ بڑوں کی باتیں بڑیں۔ ان کا کام بڑا ان کا نام بڑا۔ خود ہمارے زمانے کے مہدیوں محمد احمد تعاشی وغیرہ نے مصر کو کیا کیا ناچ نچایا۔

وہ بہادر انگریز جن کی وسیع سلطنت میں آج کے روز آفتاب غروب نہیں ہوتا۔ جب انہوں نے مصر کی کمک پر آکر فوج کشی کی تو سوڈانی مہدی نے ان کو کیا کیا تماشا نہیں دکھایا۔ بالآخر یہ غریب اپنی جان پر کھیل گیا اور تمام مہدیوں کی آبرو رکھ گیا۔ شکست و فتح نصیبوں سے ہے مگر اے میر مقابلہ تو دل ناتوان نے خوب کیا۔ حال کو جانے دیں صومالی ملا عبداللہ ہی کو دیکھ لیجئے۔ کس دم خم اور کس ٹھاٹھ سے برٹش کے مقابلے کی کڑی جھیل رہا ہے۔ ماتھے پر شکن تک نہیں۔ میرا شیر افریقہ کے جنگلوں اور کچھاروں میں دھاڑ رہا ہے اور ایسے ہیبت ناک نعروں سے کوک رہا ہے کہ مرزا قادیانی اگر سن پائیں تو پتہ پانی ہو کر رہ جائے۔ دیکھئے مہدیوں کی یہ شان ہے۔ ایک ہمارے قادیانی مہدی ہیں کہ نہ ان میں جوش ہے نہ ہمت ہے نہ جرات نہ اولوالعزمی ہے گوشہ عافیت میں بیٹھے چار طرف کاغذی گھوڑے دوڑا رہے ہیں اور توپ گولے کی جگہ خالی خولی گیدڑ بھبکیوں (موت کی پیشینگوئیوں) سے کام لے رہے ہیں اور ہنکار رہے ہیں کہ میری فوج تو طاعون ہے کالرا ہے جو آنکھوں سے الوپ انجن ہو کر مخالفوں کی کمین گاہ میں ہر وقت لگا ہوا ہے اور ہڑپ کوئی منکر ڈھب پر چڑھا اور ادھر اس نے ہڑپ کیا۔

بھلا کسی مہدی نے بزدل بن کر ایسی کارروائیاں کی بھی ہیں۔ انہوں نے صرف زبان تیغ سے بڑی بڑی جرار سلطنتوں کی مزاج پرسی کی ہے اور اپنی شان جبروت دکھا کر منکروں کو منوایا

٢٩٤

٦١ ہے ان کی ناک میں نکیل ڈال دیا ہے۔ پس کس ط پالک کسی قابل ہوگا اور آسمانی باپ کے پوتے کس کے کئی حریفوں پر فتح یاب ہوں گے۔ اگر مرزا قا مہدویت کا جبہ قلہ چھین کر کسی دوسرے مہدی کو پ بینی و دو گوش عدم آباد کو چلتا کر دے گا۔

٦ ...... الحياء

بحوالہ مشکوۃ

مخبر صادق ﷺ کا مندرجہ عنوان ا حال ہے اگر اس ارشاد پر عمل ہو تو دنیا میں ایک باطل دب کے کافور ہو جائے۔ بھلا تیرہ سو بر شعار بنایا ہے کہ اپنے کو مسلمان اور امت محمدیہ ڈھالے اور بدستور مسلمان بنا رہے اور جب شرم نہ آئے بلکہ اڑیل ٹٹو کی طرح اور بھی ہٹ متبع سنت خیر الانام اور عمائد اسلام تھے جھوٹا نبی ہے باقی نہیں رہی اور بے حیائی جو کفر کا شعبہ سے بڑھ کر کوئی بے حیائی نہیں مشرک فی التوح سچ ہے حیاء مومنین کی صفت ہے کی صفت ہے اور خود خدائے سبحانہ و تعالیٰ کی کیا واسطہ؟ جس شخص میں حیا نہیں نہ اس ۔ کا کوئی کفیل ہے نہ اس کا قول و فعل قابل ا رہا۔ وہ خدا کا منکر ہے اور عہد الست کو بھول ہے جیسے اجسام میں خون اور خون میں حرا کر سکے۔ عدالتیں جو مجرموں کو سزا دیتی ۔ نے جو حیا جیسی صفت سے قطع تعلق کر لیا ہ

صفحہ ٦٤١

ہے ان کی ناک میں نکیل ڈال دیا ہے۔ پس کس برتے پر آسمانی باپ خوش ہو سکتا ہے کہ میرا لے پالک کسی قابل ہو گا اور آسمانی باپ کے پوتے کس برتے پر اچھل کود رہے ہیں کہ ہم اپنے باپ دادا کے کئی حریفوں پر فتح یاب ہوں گے۔ اگر مرزا قادیانی کا یہی چلن ہے تو یاد رکھیں کہ مجدد السنہ شرقیہ مہدویت کا جبہ قلہ چھین کر کسی دوسرے مہدی کو دے دے گا اور قادیانی مہدی کو معزول کر کے بیک بینی و دو گوش عدم آباد کو چلتا کر دے گا۔

٦...... الحیاء شعبة من الایمان

مولانا شوکت اللہ میرٹھی!

مخبر صادق ﷺ کا مندرجہ عنوان ارشاد کتنا صحیح اور درست اور بے حیاؤں کے مطابق حال ہے اگر اس ارشاد پر عمل ہو تو دنیا میں ایک بھی بے حیا نہ رہے اور بے حیائی اپنا منہ کالا اور ہاتھ پاؤں نیلے کر کے کافور ہو جائے۔ بھلا تیرہ سو برس کے عرصہ میں یہ ڈھٹائی اور بے حیائی کس نے اپنا شعار بنایا ہے کہ اپنے کو مسلمان اور امت محمدیہ میں بتائے اور نبی بننے کا دعویٰ کرے۔ اسلام کی بنیاد ڈھائے اور بدستور مسلمان بنا رہے اور جب اس کا دعویٰ مختلف مضبوط دلائل سے توڑا جائے تو ذرا شرم نہ آئے بلکہ اڑیل ٹٹو کی طرح اور بھی ہٹ کرے۔ تمام صحابہ عظام۔ اولیاء کرام، کبراء امت کو جو متبع سنت خیر الانام اور عمائد اسلام تھے جھوٹا بتائے۔ اس کی وجہ بھی یہی ہے کہ حیاء جو ایمان کا شعبہ ہے باقی نہیں رہی اور بے حیائی جو کفر کا تمغہ ہے اس کے دل پر مسلط ہو گئی ہے۔ دین میں شرک سے بڑھ کر کوئی بے حیائی نہیں مشرک فی التوحید اور مشرک فی الرسالہ سے زیادہ کون بے حیا ہوگا۔

سچ ہے حیاء مومنین کی صفت ہے۔ صالحین کی صفت ہے صدیقین کی صفت ہے۔ انبیاء کی صفت ہے اور خود خدائے سبحانہ و تعالیٰ کی صفت ہے۔ بھلا ملحدوں اور مشرکوں کو اس صفت سے کیا واسطہ؟

جس شخص میں حیا نہیں نہ اس کے لئے کوئی ضمانت ہے نہ اس کا کوئی ضامن ہے نہ اس کا کوئی کفیل ہے نہ اس کا قول و فعل قابل اعتماد ہے۔ کیونکہ اس کے دل میں مطلق خوف خدا نہیں رہا۔ وہ خدا کا منکر ہے اور عملًا خدا کو بھول گیا ہے۔ دنیا کے سارے کاموں میں حیا اس طرح داخل ہے جیسے اجسام میں خون اور خون میں حرارت اگر حیا موجود ہو تو کوئی مجرم کسی جرم کا ارتکاب نہ کر سکے۔ عدالتیں جو مجرموں کو سزا دیتی ہے تو یہ ایک قسم کی تادیب اور سرزنش ہوتی ہے کہ دیکھو تم نے جو حیا جیسی صفت سے قطع تعلق کر لیا تو اب تم کو جبرًا حیا دلوائی جاتی ہے اور جب تک تم اس سزا

٢٩٥

صفحہ ٦٤٢

میں مبتلا رہو گے۔ تمہارا نورِ ایمان تمہیں خود حیا اور شرم دلاتا رہے گا تو نے جو کچھ جھک مارا تھا اب اس کا خمیازہ چکھ۔

قیامت میں جب مجرمین دوزخ میں ڈالے جائیں گے ۔ اور عقوبت میں مبتلا ہوں گے تو یہی کہیں گے ”یالیتنی اتخذت مع الرسول سبیلا“ یہ ان مجرموں کا حال ہوگا۔ جنہوں نے رسول مقبول ﷺ کا طریقہ چھوڑ دیا ہے اور جو لوگ خود ہی رسول بن گئے ہیں اور رسول کو جھٹلایا ہے خیال کرنا چاہئے کہ ان کی کیسی بری حالت ہوگی ۔ کاش وہ خدا اور رسول سے شرم کریں۔ بے حیا نہ بنیں اگر دنیا میں ان کو بے حیائی کا تدارک نہیں ملا تو وہ اس پر نہ پھولیں کیونکہ آخرت کا عذاب دنیا کے عذاب سے بہت سخت ہے اور دائمی ہے۔

٧ ...... نبی اور خلیفہ

مولانا شوکت اللہ میرٹھی!

آنحضرت ﷺ کو خدائے تعالیٰ نے خاتم النبیین بنایا۔ اسی بناء پر آپ نے فرمایا ”لا نبی بعدی“ مرزا قادیانی کو آسمانی باپ نے خاتم الخلفاء بنایا۔ لہٰذا آپ نے نعرہ مارا کہ لا خلیفۃ بعدی۔ کلام مجید میں بجز حضرت آدم علیٰ نبینا وعلیہم الصلوٰۃ والسلام کے کسی کو جناب باری نے خلیفۃ اللہ کہہ کر نہیں پکارا۔ مگر مرزا قادیانی کو آسمانی باپ نے نہ صرف خلیفۃ اللہ بلکہ خاتم الخلفاء بنا دیا کیونکہ آپ آسمانی باپ کے خلف فرزند ہیں۔ باقی سب ناخلف ، اور خلیفہ اور خلف ہم معنی ہیں ۔

مرزا قادیانی کا مقولہ ہے کہ آنحضرت ﷺ کامل اور اکمل انبیاء کے خاتم ہیں نہ کہ ناقص انبیاء کے ناقص انبیاء قیامت تک پیدا ہوتے رہیں گے۔

اس پر ہم بارہا بحث کر چکے ہیں۔ اگر اطمینان نہ ہوا ہو تو اور لیجئے۔ ناقص ناقص کا خاتم ہوگا اور کامل کامل کا پہلے تو اس فاسد عقیدے نے آنحضرت ﷺ کا کسر شان کیا۔ پھر خود مرزا قادیانی کا۔ کیونکہ آپ اپنے کو خاتم الانبیاء کہتے ہوئے تو ذرا جھجکتے ہیں مگر خاتم الخلفاء بڑے دھڑلے سے بنتے ہیں۔ اس صورت میں آپ ناقص خلفاء کے خاتم ہوں گے نہ کہ کامل خلفاء کے۔ اور خلفاء بھی انبیاء ہیں تو اپنے ساتھ آپ نے تمام انبیاء کو ناقص ٹھہرا دیا۔

اور آپ کے عقیدے کے موافق قیامت تک جتنے خلفاء (انبیاء) ہوں گے سب ناقص ہوں گے ۔ یہ وہی بات ہوئی؎

میں تو ڈوبا ہوں مگر تم کو بھی لے ڈوبوں گا

٢٩٦

صفحہ ٦٤٣

آسمانی باپ نے بایں ریش فش لے پالک کو تاویل کرنا بھی نہ بتایا۔ اتنی خبر نہیں کہ جب آنحضرت ﷺ کمال نبوت کے خاتم اور مکمل ہیں تو ناقص نبوت کے بدرجہ اولیٰ ختم اور مکمل ہیں۔ یہ تو ایسی مثال ہے جیسے کوئی شخص کہے کہ جب آفتاب طلوع ہوتا ہے تو چاند ماند ہو جاتا ہے مگر ستارے ماند نہیں ہوتے۔ گویا آفتاب صرف چاند کو مغلوب کرتا ہے نہ کہ ستاروں کو۔ ایسی اندھی تاویل کو وہی لوگ دیکھیں اور پسند کریں گے جو انسانی ماہیت سے مسخ ہو کر چمگادڑ کی ماہیت میں حلول اور بروز کئے ہوئے ہیں۔

مرزا قادیانی تمام انبیاء کو ناقص بتاتے ہیں لیکن اگر کوئی ان سے کہے کہ آپ ناقص خاتم الخلفاء اور ناقص امام الزمان ہیں تو وہ اور ان کے چیلے چاپڑ کاٹ کھانے کو دوڑیں گے۔

کھانے کے دانت اور دکھانے کے دانت اور

ناقص چیزوں اور ناقص انسانوں کی خاصیت کونسا اعجوبہ امر یا اعجاز ہے؟ ناقص انسان یا ناقص اشیاء تو کامل ہوں ورنہ ان کا معدوم ہو جانا بہتر ہے۔ آسمانی باپ کے سب بیٹے یا تو خلف ہوں ورنہ تلف۔ جب مرزا قادیانی ناقص نبی یا خلیفہ ہیں تو آپ کی امت بھی ناقص ہی ہوگی۔ تعجب ہے کہ آنحضرت ﷺ تو کامل اور آپ کا بروز اور ظل، ناقص۔

(ایڈیٹر)

تعارف مضامین ...... ضمیمہ شحنہ ہند میرٹھ

سال ١٩٠٣ء ٢٤ ستمبر کے شمارہ نمبر ٣٦ ر کے مضامین

......١ آرا آرا دھڑیم۔ مولانا شوکت اللہ میرٹھی! ......٢ نبی اور مجدد۔ مولانا شوکت اللہ میرٹھی! ......٣ تردید ردالتحجدیہ۔ ایم۔ ڈی۔ ایل شاہجہان پوری!

اسی ترتیب سے پیش خدمت ہیں:

١ ...... آرا آرا دھڑیم

مولانا شوکت اللہ میرٹھی!

ارے بیٹھے بٹھائے یہ دھماکے کی آواز کیسی آئی؟ آسمانی باپ کی طرف سے کوئی زلزلہ تو

٢٩٧

صفحہ ٦٤٤

نہیں آ کودا۔ جس طرح لے پالک کی حمایت پر طاعون ایڈیٹاٹک بن کر آ کودا تھا مگر وہ تو تمام ہندوستان میں اچھلتا کودتا رہا۔ اس کا بڑا ہوائی زلزلہ خاص قادیان دارالامان ہی میں تشریف لا پوٹلا یا روپوں کا گٹھا لایا۔ لیکن نہ تو مینارے پر نہ لے پالک کے محل سرا پر غریب ایڈیٹر الحکم کے ہی مکان پر یوں گرا جیسے مردار پر کندھے جوڑ کر گدھ۔ ماحصل یہ ہے کہ پچھلے مینہ کے موسلا دھار دونگڑوں میں بے چارے ایڈیٹر کا مکان یوں بیٹھ گیا جیسے کسی مایوس اور ناکام عاشق کا دل اور دم کے دم میں لے پالک کی چوکھٹ اور منارے کے استھان کے آگے سربسجود ہو گیا۔

زلزلہ بھی تھا عقلمند کہ غریب ایڈیٹر ہی کے مکان کو قادیان کے مکانات کا کفارہ بنایا۔

اب مکان کی تعمیر کے لئے چندہ ہورہا ہے۔ چندوں میں ایک ڈبل چندہ یہ بڑھ گیا۔ یہ الٰہی چندیا کی خیر۔ اب ہمیں قادیان کے دوسرے مکانوں کے لالے پڑ رہے ہیں کیونکہ آسمانی باپ کے ایڈیٹاٹک کا دست شفقت تو سبھی پر پھرنا چاہئے۔ جیسے طاعون ۔ کہ آیا تو مخالفوں کے لئے مگر خود آسمانی باپ کے بعض جاں نثار پوتوں کا بھی سلفہ کر گیا۔ ہماری رائے میں تو یہ تعمیر منارے سے بھی مقدم ہو کیونکہ الحکم ہی نے منارۃ المسیح کو پبلک میں بانس پر چڑھایا ہے اور ہفتہ وار چڑھاتا رہتا ہے۔ ورنہ کہیں وہی معاملہ نہ ہو کہ کباڑی کے چھپر پر کہونس نہیں ہوتا۔

(ایڈیٹر)

٢ ...... نبی اور مجدد

مولانا شوکت اللہ میرٹھی !

نبی اور رسول صاحب شریعت ہوتا ہے مگر مجدد ان امور کو جو مرور الزمان کی وجہ سے پرانے یا دلوں سے نسیاً منسیا ہو گئے ہوں۔ نئے کرتا اور یاد دلاتا ہے نہ وہ نبی اور رسول ہوتا ہے نہ نبوت ورسالت کا دعویٰ کرتا ہے۔ جیسے مولانا و مجددنا اسمعیل شہیدؒ کہ مسلمان توحید وسنت کو بھول گئے تھے چار طرف شرک اور بدعت اور ہوا پرستی پھیل گئی تھی۔ آپ نے تجدید کی ٹھوکر لگائی اور مردہ سنت و توحید کو زندہ کر دیا جس سے نہ صرف عوام بلکہ سچے علماء کرام کی بھی آنکھیں کھل گئیں۔ بے شک یہ حضرت شہید مغفور مبرور ہی کے دم قدم کی برکت ہے کہ ہندوستان میں توحید کا نور پھیل رہا ہے اور اتباع سنت کا ظہور ہو رہا ہے مجدد ایسے ہوتے ہیں جن کی نسبت حدیث شریف میں ’’یجدد لھا دینھا ‘‘ کی پیشینگوئی وارد ہوئی ہے۔ بھلا اس زمانہ سے لے کر اب تک حقانی علماء میں سے کسی نے بھی مولانا مرحوم کی تجدید سے انکار کیا۔ ہرگز نہیں بلکہ آپ کا نام بڑی عظمت سے

٢٩٨

صفحہ ٦٤٥

مسلمانوں کی زبان پر دائر وسائر ہے اور قیامت تک رہے گا اور مسلمان ہمیشہ آپ کی مساعی جمیلہ کے مشکور رہیں گے۔

اب مرزا قادیانی ہی کو دیکھئے ہندوستان سے لیکر حرمین شریفین اور تمام ملک عرب تک کسی عالم نے بھی آپ کے لاطائل دعوؤں کو مانا؟ پچاس سو، دس، بیس دو چار کو تو جانے دو کسی مرے گرے ایک آدھ عالم نے بھی آپ کو حق پر سمجھا۔ مشائخ عظام اور علماء کرام نے آپ کے نام اور کام پر تین حروف ہی بھیجے اور چار طرف سے پھٹکار کا طرہ لگا۔ کوئی عالم ایسا نہیں جس نے تکفیر نہ کی ہو اور کفر کے فتوؤں پر اپنی مہر یا دستخط ثبت نہ کئے ہوں۔

وجہ یہ ہے کہ معاملات دین سے علماء ہی باخبر ہوتے ہیں۔ ان کے سامنے مکاروں کا مکر اور زوریوں کا زور چل نہیں سکتا۔ انہیں نفوس قدسیہ سے دین اسلام قائم ہے۔ انہیں کی برکت سے مسلمان راہ راست سے نہیں ڈگمگاتے اور گمراہ گمراہی سے نکل کر صراط مستقیم پر قائم ہو جاتے ہیں اور صدی پر خدائے تعالیٰ ایسے مجددین بھیجتا رہتا ہے کیونکہ وہ اپنے دین کا حامی اور حافظ و ناصر ہے۔

موجودہ عہد سلطنت میں آزادی اور وسیع المشربی کا دور دورہ ہے۔ کل جدید لذیذ والوں کی چاشنی کی خوب دال گلتی ہے۔ ہر طبقہ میں آسان پسندی پھیل گئی ہے۔ تکالیف شرعیہ سے بباعث ضعف ایمان و اعتقاد کے سب بچتے ہیں۔ پس سادھو بچوں کی چڑھ بنی ہے۔ اگر ہندوستان کے علماء اور مشائخ مرزا قادیانی کا تعاقب نہ کرتے اور مرزائی عقائد کی مسموم ہواؤں کو بذریعہ ہوا خواہی دین اسلام کے تقریر اور تحریر یعنی کتابوں اور رسالوں کی اشاعت سے دور نہ کرتے تو ہندوستان میں مرزائی مذہب طاعون کی طرح پھیل جاتا۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ علماء کا وجود باجود دین اسلام کے قیام و استحکام کی ضمانت ہے۔ ذرا غور کرنے کی بات ہے کہ اگر مجدد نبی ہوتا تو آنحضرت ﷺ خاتم النبیین کیونکر ہوتے؟ بھلا کسی نے آج تک عرفاً واصطلاحاً لغۃ و شرعاً مجدد کو نبی یا نبی کو مجدد مانا بھی ہے؟ نبی کو مجدد کے لقب سے ملقب کرنا اس کی توہین ہے۔ ہر فن کا ایک ایک مجدد ہوتا ہے۔ یورپ میں اس وقت سائنس اور جرثقیل اور ڈاکٹری وغیرہ فنون کے صدہا مجدد ہیں لیکن وہ رسول اور پرافٹ (غیب دان) نہیں ہیں نہ انہوں نے ایسا دعویٰ کیا۔ پھر رسول اور نبی مامور اور مبعوث من اللہ ہوتا ہے مجدد ایسا نہیں ہوتا۔

مگر مرزا قادیانی کو لغوی اور اصطلاحی اور شرعی مناسبت سے کیا غرض۔ انہوں نے تو تمام عمدہ اور بزرگ خطابات چھانٹ کر الم غلم توند میں بھر لیے۔ یہ نہ سوچے کہ ان کی سمائی بھی ہوگی

٢٩٩

صفحہ ٦٤٦

کہ نہیں اور یہ مختلف اور متضاد و خطابات پیٹ کے ڈربے میں جا کر آپس میں لڑ بھڑ تو نہ لگیں گے۔ مرزا قادیانی کو دنیا طلبی اور حب جاہ کی عیاری تو خوب سوجھی مگر یہ نہ سوجھا کہ چل بھی سکے گی یا نہیں۔ اب مان لیا یا واقعی الحاد و ارتداد کے طغیان کی نوبت یہاں تک پہنچی ہے کہ مرزا اور مرزائیوں کی نظروں میں کسی نبی اور رسول اور مجدد کی کوئی حقیقت نہیں۔ اور ہے بھی تو اتنی کہ کوئی نبی اور رسول ہوں گے مگر اب کہاں ہیں مر گئے گل گئے۔ ان کے اقوال ان کے الہامات ان کے وجود ہی کے ساتھ فرسودہ ہو گئے۔ مرزا قادیانی زندہ نبی، زندہ رسول، زندہ امام الزمان وغیرہ ہیں۔ پس ان پر نہ صرف مسلمانوں بلکہ ساری خدائی کو ایمان لانا چاہئے۔

آپ حدیث رسول اللہ ﷺ سے اپنا مجدد ہونا اخذ کرتے ہیں اور کلام مجید سے صرف عیسیٰ مسیح کا مرنا مگر قرآن سے اپنا عیسیٰ موعود ثابت نہیں کر سکتے۔ کیونکہ قرآن میں عیسیٰ موعود ہی کے آنے کا ذکر ہے۔ مگر حدیث میں جو تیس جھوٹے دجالوں کے آنے کا ذکر ہے۔ اس سے چین برجبیں ہوتے ہیں کیونکہ خود بدولت بھی انہی میں سے ہیں۔ خود مرزا قادیانی ایمان سے کہیں کہ دنیا میں اب تک بہت سے جھوٹے مہدی اور جھوٹے نبی آئے یا نہیں پس؟ کیا ضمانت ہے کہ آپ خلاف قرآن وحدیث کے سچے مہدی اور مسیح موعود ہیں۔ گھبرائیے نہیں چند روز میں سب کھلا جاتا ہے اور ذرا ذیابیطس اور ضعف قلب کو بڑھنے دیجئے۔

(ایڈیٹر)

٣ ...... تردید ردالتجدید

ایم۔ ڈی۔ اہل شاہجہان پوری!

چند ہفتہ سے ایڈیٹر ایڈورڈ گزٹ شاہجہان پور مولانا شوکت ایڈیٹر شحنہ ہند میرٹھ پر بے جا حملے کر رہا ہے۔ ہم سوچتے تھے کہ آخر اس بحث کا منشا کیا ہے اور کیوں ایڈیٹر ایڈورڈ گزٹ نے مولانا کو اپنا مخاطب بنایا ہے لیکن تھوڑے غور سے معلوم ہو گیا کہ ایڈیٹر مذکور کو دو چیزوں نے اس بحث کے لئے ابھارا۔ اول! تو طلب شہرت جس کا ذریعہ آج کل اس سے اچھا اور کوئی نہیں۔ کہ کسی بڑے شخص سے الجھ کر اپنے کو مشہور کیا جائے۔ یا کسی معزز اخبار کے کالموں میں اپنا نام لکھوا کر اپنے نام کو شہرت دی جائے۔ چونکہ آج کل یہی طریقہ شہرت کا ہے۔

اس وجہ سے منشی مختار احمد نے اس پر عمل کیا اور ایک اچھا موقع شہرت کا ڈھونڈ نکالا اور بے جا طور پر دخل در معقولات دیا۔ یہ ضرور ہے کہ ان کے دخل در معقولات سے ان کی کم علمی روز روشن کی طرح ظاہر ہو گئی۔ مگر انہوں نے اس مصرع پر عمل کیا کہ ؎

٣٠٠

صفحہ ٦٤٧
بدنام اگر ہوں گے تو کیا نام نہ ہوگا

اب رہی دوسری چیز (جس نے ان کو خاص کر مولانا شوکت کے ساتھ الجھنے پر مجبور کیا۔) تو وہ ان کا مرزائی ہونا ہے اور انہوں نے اس عداوت کو اس پیرایہ میں ظاہر کیا ہے۔ گو عام طور پر لوگوں کو یہ معلوم نہ ہو مگر جاننے والے جانتے ہیں کہ یہ کس چیز کے جلے پھپھولے پھوڑے جاتے ہیں اور کس پیرایہ میں دل کی بھڑاس نکالی جاتی ہے۔ ایڈیٹر صاحب خواہ آپ کسی رنگ میں جلوہ افروز ہوں اور کسی پیرایہ میں سلسلہ گفتگو شروع کریں۔ مگر

من انداز قدرت را مے شناسم

حضرت جو تاڑنے والے ہیں قیامت کی نظر رکھتے ہیں۔ اچھا تو پھر آپ کا یہ دعویٰ کرنا کہ ہم مولانا شوکت صاحب کے دوست ہیں اور خیر خواہی سے کہتے ہیں۔ کیا بالکل جھوٹ اور سفید جھوٹ نہیں۔ کیا آپ باوجود یہ کہ مرزا غلام احمد کے مرید ہیں اور ان کی شان میں ایک قصیدہ لکھ چکے ہیں۔ مجدد کے دوست ہو سکتے ہیں۔ نہیں ہرگز نہیں یہ صریح جھوٹ ہے اور اگر آپ گریبان میں منہ ڈالیں تو خود آپ کا دل آپ کو بتا دے گا۔ کہ میں کس نیت سے اخبار میں اس قسم کے مضامین لکھ رہا ہوں اور سچائی کس طرف ہے۔

ہم مناسب سمجھتے ہیں کہ ناظرین کی دلچسپی کیلئے مختار کے قصیدہ کے چند شعر اس مقام پر نقل کریں۔ جس سے صاف طور پر ثابت ہو جائے گا کہ مختار ایک سخت متعصب اور پرانے (مرزائی) ہیں یہ قصیدہ مسک العارف، مصنفہ محمد احسن امروہی مرزائی کے صفحہ ٦٢، ٦٣، ٦٤ میں شائع ہوا ہے جو کہ مارچ ١٨٩٨ء میں طبع ہوئے ہیں۔ قصیدہ میں اس بات کا صاف طور پر بیان موجود ہے کہ مرزا مسیح موعود اور سچے رہنما ہیں چنانچہ ہمارے دوست مختار مرزا کی شان میں فرماتے ہیں۔

تو ہے ہمارا پیشوا تو ہے ہمارا رہنما
تو ہے ہمارا مقتدا ایک چاکر کمتر ہیں ہم
گو رنج و غم سہتے ہیں ہم مشق ستم رہتے ہیں ہم
لیکن یہی کہتے ہیں ہم تجھ پہ فدا ہو جائیں ہم
ہوتے ہیں ظلم ناروا لیکن ہمیں پروا ہے کیا
جب تیرے آگے کر دیا ہم نے سر تسلیم خم
ہے سب کو ہی اے نیک خو تیری لقاء کی آرزو

٣٠١

صفحہ ٦٤٨
کرتے ہیں تیری گفتگو لحظہ بلحظہ دم بدم

ایک جگہ پر فرماتے ہیں ۔

اے مہدے عالی ہمم اے ہادیئے والا حشم
اے عیسیٰ فرخ شیم اے رہبر راہ ارم
اے عشق تو ایمان من اے الفت تو جان من
اے درد تو درمان من اکنوں بمطلب آمدم

اور ناظرین مقطع کی داد دیں۔

مختار روک اپنی زبان مختار تھام اپنا قلم

معزز ناظرین یہ ہے مختار کا قصیدہ جس سے آپ کو ان کے متعصب مرزائی ہونے کا کامل عقیدہ ہو جائے گا۔ ہمارا ارادہ تھا کہ ہم قصیدہ کی غلطیاں بھی پبلک پر ظاہر کریں۔ لیکن چونکہ ہم اس وقت دوسرے پہلو پر گفتگو کر رہے ہیں۔ اس لئے قصیدے کی اصلاح کو دوسرے وقت پر اٹھا رکھا ہے۔ معزز ناظرین آپ کو یہ تعجب ضرور ہوگا کہ جب ایڈیٹر ایڈورڈ گزٹ کے ان مضامین لکھنے کا منشاء بغض وعناد ہے تو وہ کیوں نہیں کھلم کھلا مرزا غلام احمد کی تائید کرتا اور کیوں نہیں ضمیمہ کے مضامین کا جواب دیتا۔

تو ہم آپ کا تعجب دور کرنے کے لئے یہ جواب دیتے ہیں کہ اول تو اُس بے چارے میں اس قدر لیاقت نہیں کہ اپنے پیر کی حمایت کر سکے۔ دوسرے ایڈیٹر ایڈورڈ گزٹ یہ نہیں چاہتا کہ میں تعلیم یافتہ پبلک اور اخباری دنیا میں اپنا مرزائی ہونا ظاہر کروں۔ اس وجہ سے وہ دوسرے طور پر اپنے مخالفوں سے الجھتا ہے اور اپنے نام کو شہرت دینا چاہتا ہے کیونکہ بوجہ بے علم ہونے کے اس کے پاس کوئی شہرت کا ذریعہ نہیں ہے۔ بھلا جو شخص صحیح اردو لکھنا تک نہ جانتا ہو اور خدا کے لئے محسوس کا لفظ استعمال کرے تو کیا زبان دانی کے متعلق اس کی رائے قابل وقعت ہو سکتی ہے۔ ایسے شخص کو کبھی مذہبی اور علمی بحثوں میں دخل نہ دینا چاہئے۔

حالانکہ ایڈیٹر ایڈورڈ گزٹ نے ان تمام چیزوں میں دخل دیا ہے۔ جس کو ہم آگے چل کر ظاہر کریں گے۔ ایڈورڈ گزٹ میں رد التجدید کے عنوان سے کئی مضمون شائع ہو چکے ہیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ سلسلہ وار ان مضامین کی تردید کریں۔ اس وقت ہماری میز پر ١٤ اگست کا ایڈورڈ گزٹ رکھا ہوا ہے۔ جس کے ص٢ میں جلی قلم سے (رد التجدید) درج ہے۔ یہ عنوان کسی طرح درست نہیں یہ معلوم ہوتا ہے کہ مضمون نویس نفس تجدید کا رد کرتا ہے یا بالفاظ دیگر وہ کسی مجدد کے

٣٠٢

٤٩ آنے کا قائل نہیں۔ حالانکہ اس کا قول اس کے عق کو نہ صرف مجدد بلکہ مسیح و مہدی وغیرہ مانتا ہے۔ ہ تبدیل کرے۔ خیر یہ تو عنوان پر بحث تھی۔

آگے چل کر تحریر فرماتے ہیں۔ ہم د کو بہت برا معلوم ہوتا ہے۔ ایڈیٹر شحنہ ہند کو چا رہتا کیا خوب، آپ اور دوستانہ طور پر سمجھائیں سچ۔ مگر حضرت یہ تو فرمائیے کہ ایڈیٹر شحنہ ہند آپ کھلم کھلا اعتراضات اس پر کر رہے ہیں۔ کیا ا لکھ رہے ہیں۔ بھلا ہم بھی تو کہیں کہ وہ کون اس کی وجہ سے اس کو شکریہ ادا کرنے پر مجبور کیا جا

ایڈیٹر مذکور نے ایک پرچہ میں لکھ ہند میں ایک نامہ نگار نے کافی طور پر دے دی اس کے بعد فرماتے ہیں۔ ہمارے معزز ہمعص یافتہ پبلک نے مجدد بنایا ہے۔ ایسے مہمل فقر علوم وفنون ہیں جنہوں نے کامل بنا دیا اور یہ تعلیم یافتہ پبلک کی تعداد بھی معلوم کرنا چاہت اگر ہم عصر نے یہ لکھ دیا تو غصہ معزز بناتی ہے۔ مگر ہم سمجھائیں تو کس کو سمجھ

بالا عبارت میں۔ دو سوال کئے ہیں جن میں وہ کونسے علوم وفنون ہیں جنہوں نے کامل کس حد تک حاصل کئے۔

حالانکہ دوسرے سوال کا مط بنا دیا وہ یقینی انتہا درجہ تک حاصل کئے ہو نے کس حد تک حاصل کیے۔ کیا دوسرا س معلوم کرنا چاہتے ہیں تو اس کا جواب یہ درج کرنے کے لئے نہیں بنایا ہے۔ جن

صفحہ ٦٤٩

آنے کا قائل نہیں۔ حالانکہ اس کا قول اس کے عقیدہ کے صریح خلاف ہے۔ کیونکہ وہ مرزا غلام احمد کو نہ صرف مجدد بلکہ مسیح و مہدی وغیرہ مانتا ہے۔ لہٰذا ہم اس کو نصیحت کرتے ہیں کہ مضمون کا عنوان تبدیل کرے۔ خیر یہ تو عنوان پر بحث تھی۔

آگے چل کر تحریر فرماتے ہیں۔ ہم دیکھتے ہیں کہ جب کسی کو دوستانہ سمجھایا جاتا ہے تو اس کو بہت برا معلوم ہوتا ہے۔ ایڈیٹر شحنہ ہند کو چاہئے تھا کہ وہ ہمارا شکر گزار ہو کر دعوئیٰ تجدید سے باز رہتا کیا خوب، آپ اور دوستانہ طور پر سمجھائیں اور وہ بھی کس کو ایڈیٹر شحنہ ہند کو۔ سچ ہے اور بہت سچ۔ مگر حضرت یہ تو فرمائیے کہ ایڈیٹر شحنہ ہند آپ کا شکر گزار کیوں ہوتا۔ کیا اس وجہ سے کہ آپ کھلم کھلا مہمل اعتراضات اس پر کر رہے ہیں۔ کیا اس وجہ سے کہ آپ اپنے اخبار میں اس کو سخت سست لکھ رہے ہیں۔ بھلا ہم بھی تو کہیں کہ وہ کون اسباب ہیں اور آپ کے اس پر کیا احسانات ہیں جس کی وجہ سے اس کو شکریہ ادا کرنے پر مجبور کیا جاتا ہے۔

ایڈیٹر مذکور نے ایک پرچہ میں لکھا تھا کہ خدا کو ضرورت محسوس ہوئی۔ اس کا جواب شحنہ ہند میں ایک نامہ نگار نے کافی طور پر دے دیا ہے۔ کیوں نہ ہو میرے بھولے ایڈیٹر (تھینکس) اس کے بعد فرماتے ہیں۔ ہمارے معزز ہمعصر نے یہ تو لکھ دیا کہ ہم کو اول کمال علم وفن اور پھر تعلیم یافتہ پبلک نے مجدد بنایا ہے۔ ایسے مہمل فقرے تفصیل طلب ہیں۔ مجدد کو بتانا چاہئے کہ وہ کونسے علوم وفنون ہیں جنہوں نے کامل بنا دیا اور یہ کہ وہ علوم وفنون اس نے کس حد تک حاصل کئے۔ ہم تعلیم یافتہ پبلک کی تعداد بھی معلوم کرنا چاہتے ہیں۔

اگر ہم عصر نے یہ لکھ دیا تو غضب کیا۔ کیا کمال علم وفن کے سوا کوئی اور چیز بھی انسان کو معزز بناتی ہے۔ مگر ہم سمجھائیں تو کس کو سمجھائیں؟ آپ کی عبارت کا یہ حال ہے کہ آپ نے مذکورہ بالا عبارت میں۔ دو سوال کئے ہیں جن میں سے دوسرا بالکل مہمل ہے۔ کیونکہ آپ فرماتے ہیں کہ وہ کونسے علوم وفنون ہیں جنہوں نے کامل بنا دیا اور اس کے بعد لکھتے ہیں کہ وہ علوم وفنون اس نے کس حد تک حاصل کئے۔

حالانکہ دوسرے سوال کا مطلب پہلے سوال میں بخوبی آ گیا کیونکہ جب علوم نے کامل بنا دیا وہ یقینی انتہا درجہ تک حاصل کئے ہوں گے۔ پھر اس سوال کی کیا ضرورت کہ وہ علوم وفنون اس نے کس حد تک حاصل کیے۔ کیا دوسرا سوال مہمل نہیں رہا۔ یہ سوال کہ ہم تعلیم یافتہ پبلک کی تعداد معلوم کرنا چاہتے ہیں تو اس کا جواب یہ ہے کہ مولانا شوکت نے کوئی رجسٹر تعلیم یافتہ پبلک کے نام درج کرنے کے لئے نہیں بنایا ہے۔ جن کی فہرست اخبار میں شائع کر دی جائے۔ مگر کہیں آپ نے

٣٠٣

صفحہ ٦٥١

اپنے پیر پر مولانا شوکت کی حالت کو بھی خیال کیا ہے۔ جن کے یہاں مریدوں کے نام کا ایک رجسٹر موجود ہے جن کی تعداد کبھی ایک لاکھ بتائی جاتی ہے اور کبھی ایک دم سے دولاکھ ۔ حالانکہ کمشنر مردم شماری بہت ہی تھوڑی تعداد لکھتے ہیں اور نیز ضمیمہ میں بار بار مریدوں کی تعداد کی قلعی کھل چکی ہے۔ خیر یہ تو مرزا کی پرانی عادت ہے۔

ہم کو اس سے بحث نہیں اس وقت یہ بیان کرنا مقصود ہے کہ مولانا شوکت کے پاس کوئی رجسٹر نہیں اور رجسٹر کا نہ ہونا مولانا شوکت کے ساتھ خاص نہیں ہے کسی ذی علم و فاضل ہمدرد نے اپنے متعلقین کی کوئی فہرست شائع نہیں کی۔ آپ کے پیر مرزا غلام احمد نے ضرور ایک فہرست ٣١٣ ناموں کی (ضمیمہ رسالہ انجام آتھم ص ٤١، خزائن ج ١١ ص ٣٢٥) شائع کی ہے۔ اس میں ان لوگوں کے نام ہیں جو اپنی حماقت سے مرزا قادیانی کے پھندے میں پھنس گئے ۔ ہاں تو اب بھی آپ کی سمجھ میں آیا کہ فضلاء کے کمال کو لوگ خود بخود تسلیم کر لیتے ہیں وہ فہرستیں نہیں شائع کرتے مگر ساتھ ہی کچھ حاسد بھی ایسے لوگوں کے پیدا ہو جاتے ہیں جو ان کی شہرت کو اچھی نگاہ سے نہیں دیکھ سکتے۔ اس کے بعد آپ ارشاد فرماتے ہیں یہ تفصیل دریافت ہونے پر ہم مقابلہ کریں گے کہ اب ہندوستان میں کوئی دوسرا شخص بھی اس کمال کا ہے یا نہیں اور وہ خاقانی اور بے دل اور غالب وغیرہ کے کلام کا حل لکھ سکتا ہے یا نہیں حضرت ہماری سمجھ میں نہیں آتا کہ آپ تعلیم یافتہ پبلک کی تعداد دریافت ہونے کے بعد دوسروں کی لیاقت پر کیسے رائے زنی کر سکیں گے کہ فلاں شخص اس کام کو کر سکتا ہے یا نہیں۔ اس کے لئے تعلیم یافتہ پبلک کی تعداد دریافت کرنا بالکل غیر ضروری ہے۔ مولانا شوکت نے ان شاعروں کے کلام کا جو حل کیا ہے اس کو دیکھئے اور ان سے مقابلہ کر لیجئے۔ آپ کو زیادہ حجت کی کیا ضرورت ہے۔ دوسرے یہ کہ مولانا شوکت تو ان شاعروں کے کلام کا حل کر چکے ہیں۔ آپ اب دریافت کرنا چاہتے ہیں کہ آیا کوئی حل کر سکتا ہے یا نہیں۔ گویا آپ امکان پر بحث کر رہے ہیں اور ہم وقوع پر اور اس کے علاوہ آپ نے ابھی تک تعین بھی نہیں کیا کہ فلاں شخص اس کام کو کر سکتا ہے اور اگر بالفرض آپ کسی کا نام لے بھی دیں تو ہم کیسے یقین کر لیں کہ یہ شخص اس لیاقت کا ہے؟

ہاں جب حل کر کے دکھایا جائے گا اس وقت پبلک خود فیصلہ کر لے گی۔ خالی باتوں سے کام نہیں چل سکتا اور اگر آپ کے نزدیک کسی کام کا کر سکنا اور کرنا برابر ہے تو ہم کہہ سکتے ہیں کہ فلاں فلاں ادیب مرزا قادیانی کے قصیدہ کا جواب لکھ سکتے ہیں۔ مگر افسوس کی بات ہے کہ ہمارے اس کہنے کے وقت تم کہتے ہو کہ لکھ کے دکھاؤ جب جانیں حالانکہ اس قصیدے سے عمدہ قصیدے

٣٠٤

اس وقت موجود ہیں مگر فرق اتنا ہے کہ ان شاعروں دعویٰ کرنا کوئی قابل وقعت چیز ہے تو متنبی نے مر تھا۔ پھر مرزا میں اور متنبی میں کیا فرق؟ بہر حال دعویٰ باطل نہیں ہو سکتا۔

کیونکہ امکان کے لئے وقوع ضرور کیونکہ اس میں زناء اور شراب نوشی کی قوت موجود کانشنس کے موافق ہر ایک پر حد لگانے کا فتویٰ د کام کے لئے کسی کا نام بھی نہیں لیا۔ اس کے بعد ہے کہ جو بلاضرورت قسم کھاتا اور حلف اٹھاتا ہے آپ مسائل شرعیہ میں بھی دخل دینے لگے ( جانتے ) کہ قسم کھانا ناجائز ہے۔

مگر افسوس کہ ہم کو اس دانش مند کا خلاف یہ زبردست فتویٰ دیا اور قوانین مروجہ کو بھ ہوا مسئلہ ہے ۔ ’البينة للمدعى واليمين شاید وہ دانشمند (مگر آپ ہی کے نزدیک ) مرزا بالکل غلط ہے کیونکہ وہ خود بھی سینکڑوں جگہ بلا مجبور کرتے ہیں۔ کیا آپ کو معلوم نہیں کہ مرزا کس قدر مجبور کیا تھا اور پے در پے متعدد اشتہار اس قدر روپیہ اس کو دوں گا۔ اور پھر بڑے زور گا۔ کیونکہ وہ جھوٹا ہے۔

چنانچہ ( انجام آتھم ص ٣، خزائن ج ١١ رکھیں کہ آخری پیغام جو آتھم صاحب کو قسم کھا تھا اس میں یہ غیرت دلانے والے الفاظ بھی اور خرچ بھی کر ڈالیں تب بھی وہ قسم نہیں کھائے جن میں قسم پر زور دیا گیا ہے اور ہم بوجہ طوالت آیا کہ ہم مرزا قادیانی کی بات مانیں یا ان

صفحہ ٦٥١

اس وقت موجود ہیں مگر فرق اتنا ہے کہ ان شاعروں نے اعجاز کا دعویٰ نہیں کیا اور اگر صرف اعجاز کا دعویٰ کرنا کوئی قابل وقعت چیز ہے تو متنبی نے صرف اپنے عمدہ کلام کی وجہ سے نبوت کا دعویٰ کیا تھا۔ پھر مرزا میں اور متنبی میں کیا فرق؟ بہرحال جب تک لکھ کر نہ دکھایا جائے۔ مولانا شوکت کا دعویٰ باطل نہیں ہوسکتا۔

کیونکہ امکان کے لئے وقوع ضرور نہیں ورنہ ہم ہر شخص کو زانی اور شرابی کہہ سکیں گے کیونکہ اس میں زناء اور شراب نوشی کی قوت موجود ہے۔ حالانکہ ایسا نہیں کہتے (مگر نہیں آپ اپنے کائنشس کے موافق ہر ایک پر حد لگانے کا فتویٰ دے دیں گے (الٰہی توبہ) اور یہاں تو تم نے اس کام کے لئے کسی کا نام بھی نہیں لیا۔ اس کے بعد بھولا ایڈیٹر یوں لکھتا ہے۔ ایک دانشمند کا مقولہ ہے کہ جو بلا ضرورت قسم کھاتا اور حلف اٹھاتا ہے اس کی کوئی بات سچی نہیں ہوتی۔ کیا خوب اب تو آپ مسائل شرعیہ میں بھی دخل دینے لگے (حالانکہ خیر سے عربی کا آپ ایک حرف بھی نہیں جانتے) کہ قسم کھانا نا جائز ہے۔

مگر افسوس کہ ہم کو اس دانش مند کا نام اب تک نہ معلوم ہوا جس نے احکام شرع کے خلاف یہ زبردست فتویٰ دیا اور قوانین مروجہ کو بھی درہم برہم کر دیا۔ آنکھ کھول کر دیکھو کہ شرع کا کھلا ہوا مسئلہ ہے۔ ”البينة للمدعى واليمين على من انکر“ مگر نہیں نہیں معاف فرمائیے۔ شاید وہ دانشمند (مگر آپ ہی کے نزدیک) مرزا غلام احمد ہوں گے لیکن اگر آپ کا یہی خیال ہے تو بالکل غلط ہے کیونکہ وہ خود بھی سینکڑوں جگہ بلا ضرورت قسم کھاتے ہیں اور دوسروں کو قسم کھانے پر مجبور کرتے ہیں۔ کیا آپ کو معلوم نہیں کہ مرزا قادیانی نے ڈپٹی عبداللہ آتھم کو قسم کھانے کے واسطے کس قدر مجبور کیا تھا اور پے در پے متعدد اشتہار شائع کر کے اس پر زور دیا تھا کہ وہ قسم کھا لے تو میں اس قدر روپیہ اس کو دوں گا۔ اور پھر بڑے زور و شور سے یہ پیشین گوئی کی کہ وہ ہرگز قسم نہیں کھائے گا۔ کیونکہ وہ جھوٹا ہے۔

چنانچہ (انجام آتھم ص ٣، خزائن ج ١١ ص ٣) میں مرزا قادیانی لکھتے ہیں کہ: ”ناظرین یاد رکھیں کہ آخری پیغام جو آتھم صاحب کو قسم کھانے کے لئے پہنچایا گیا وہ اشتہار ٣٠ نومبر ١٨٩٥ء کا تھا اس میں یہ غیرت دلانے والے الفاظ بھی تھے کہ اگر آتھم کو عیسائی لوگ ٹکڑے ٹکڑے بھی کر دیں اور ذبح بھی کر ڈالیں تب بھی وہ قسم نہیں کھائیں گے۔“ ان کے علاوہ بھی اور بہت سی عبارتیں ہیں جن میں قسم پر زور دیا گیا ہے اور ہم بوجہ طوالت اس کو چھوڑے دیتے ہیں۔ اب ہماری سمجھ میں نہیں آیا کہ ہم مرزا قادیانی کی بات مانیں یا ان کے مرید عمار کی مگر ہم تو دونوں کو گمراہ سمجھ کر چھوڑتے ہیں

٣٠٥

صفحہ ٦٥٢

اور صرف شارع کے اقوال پر عمل کرتے ہیں۔

اس کے بعد مختار نے پنجابی اخباروں پر حملہ کیا ہے۔ (کیونکہ ایڈیٹر شحنہ ہند نے پنجاب اور ہندوستان کے معزز اخباروں کو اس فیصلہ کے لئے حکم بنایا تھا) اور ان اخباروں کی نسبت یہ لکھ دیا ہے کہ وہ زبان اردو سے ماہر نہیں اور ہندوستانی اخباروں کی نسبت یہ لکھ دیا کہ وہ ہمارے حق میں ڈگری کریں گے۔ حالانکہ اردو زبان دانی اور خوش فہمی کسی خاص شخص کا حصہ نہیں۔ ابھی یہ بات کی ہندوستان کے اخبار ہم کو ڈگری دیں گے۔ یہ صرف خیال ہی خیال ہے۔ جن کا آپ کے پاس کچھ ثبوت نہیں۔ اس کے علاوہ ہم بہت تعجب سے دیکھتے ہیں کہ مختار کو پنجابی اخباروں پر اعتراض کرتے وقت مرزا غلام احمد کی اردو نویسی کا کچھ بھی خیال نہ رہا۔ اور بے ساختہ پنجابیوں کو لتاڑ ڈالا۔ گویا اور کسی کے شان سے بعید نہ ہو۔ مگر مختار جیسے پیر پرست کی شان سے ضرور بعید ہے۔ اس کے بعد آپ نے ریاض الاخبار کے ایک نوٹ پر جو مولانا شوکت کی بابت ہے آپ نے رائے دی ہے اور یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ ریاض الاخبار کا منشاء مولانا شوکت کی تعریف کا نہ تھا۔ اگر مختار اس نوٹ کو کسی پرچہ میں نقل کریں۔ تو ہم فیصلہ کر سکتے ہیں کہ آیا وہ کس کی جانب ہے۔ چونکہ ہم نے وہ نوٹ نہیں دیکھا اس وجہ سے ہم نے اس پر بحث بھی نہیں کی۔ اب ہم مختار احمد سے چند سوال کرتے ہیں اور ہم کو امید ہے کہ وہ ضرور ان سوالوں کا جواب دے کر پبلک پر اچھی طرح اصل حال ظاہر کردیں گے۔ اور نیز ہم بھی باخبر ہو کر اس پر اچھی طرح بحث کر سکیں گے۔

سوالات متعلق اخبار

بہر حال جو وجہ ہو اس کو ظاہر فرمائیے۔ سوالات متعلق ایڈیٹر

آپ نے عربی تحصیل کی ہے تو ضرور ہے کہ آپ قرآن وحدیث سے بھی واقف ہوں گے تو ایسی صورت میں تو آپ پر ضرور لازم ہے کہ مرزا قادیانی کے سچے ہونے کے دلائل کافی طور پر پیش

٣٠٦

صفحہ ٦٥٣

کریں اور اگر عربی تحصیل نہیں کی تو پھر کس وجہ سے مرزائی ہوئے اور اب مرزائی ہونے کے آپ کے پاس کیا دلائل ہیں۔

کیا ہے اگر آپ نے ان تمام باتوں کا جواب دیا تو خیر ورنہ ہم تحقیق کر کے ان تمام باتوں کا جواب شحنہ ہند میں ارسال کریں گے۔ اس کے علاوہ ہم کو یہ بھی امید ہے کہ آپ ہمارے اس مضمون کا جواب بھی ضرور شائع کریں گے۔ مگر یہ ضرور خیال رہے کہ ہماری تمام باتوں کا جواب بالتفصیل دیا جائے اور خاص کر ان باتوں کا جو مرزا قادیانی کے متعلق ہیں اور آپ نے اپنی سعادت مندی سے اپنے پیر صاحب کا جا بجا خلاف کیا ہے۔ اگر آپ نے ان باتوں کا جواب نہ دیا تو آپ کی بہت بڑی گریز سمجھی جائے گی۔ اور آپ کی کم علمی عام طور پر ظاہر ہو جائے گی۔ مائی ڈیئر مختار تسلیم اب ہم آپ سے رخصت ہوتے ہیں اور عنقریب انشاء اللہ ریویو کے دوسرے نمبر کا رد لکھ کر آپس میں ملاقات کریں گے۔

تعارف مضامین ...... ضمیمہ شحنہ ہند میرٹھ

سال ١٩٠٣ء ٢٢ اکتوبر کے شمارہ نمبر ٣٧ کے مضامین

اسی ترتیب سے پیش خدمت ہیں:

١ ...... کپور تھلہ کی ایک مسجد پر مرزائیوں کا دعویٰ

مولانا شوکت اللہ میرٹھی!

یہاں کے سنیوں اور مرزائیوں کے مابین ایک مسجد کی بابت تنازع ہو رہا ہے۔ مرزائیوں نے عدالت میں اپنے استحقاق کا دعویٰ کیا ہے۔ کچھ عرصہ ہوا ضمیمہ میں اس نزاع کی کسی قدر ابتدائی کیفیت درج ہو چکی ہے۔ اب بڑے زور سے مقدمہ چل رہا ہے۔ اگر چہ اکثر دیسی ریاستوں میں کسی قانون پر بہت کم عمل درآمد ہوتا ہے۔ جس طرح جی میں آتا ہے مقدمات کا تصفیہ کر دیا جاتا ہے تاہم اکثر انگریزی قوانین ہی پر عمل ہوتا ہے۔ سنیوں کا یہ دعویٰ ہے کہ مرزائی لوگ مسلمان نہیں ہیں کیونکہ انہوں نے ایک نیا نبی پیدا

٣٠٧

صفحہ ٦٥٤

کرلیا ہے اور ان کے بہت سے عقائد بالکل دین اسلام کے خلاف ہیں۔ حج کو باوصف استطاعت کے ضروری نہیں سمجھتے۔ تصویروں کے بنانے اور شائع کرنے کو برا نہیں سمجھتے۔ بلکہ تصویر مرزا کو مرزائی دین کی اشاعت کا بڑا ذریعہ سمجھتے ہیں ارکان نماز میں بھی اختلاف ہے اور مرزا قادیانی اپنے کو خدا کا متبنی (لے پالک) بتاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ مجھ پر یہ الہام ہوا ہے۔ ”انت منی بمنزلة ولدی“ (تذکرہ ص ٥٢٦، طبع سوم) اور ”انت منی وانا منک“ (تذکرہ ص ٤٢٢، طبع سوم) یعنی تو میرا لے پالک ہے اور تو مجھ سے ہے اور میں تجھ سے۔ یہ عقیدہ صریح شرک اور عیسائیوں کے عقیدے سے ملتا جلتا ہے اور مرزائیوں کے مسلمان نہ رہنے کا بڑا ثبوت یہ ہے کہ فحول علماء ہندوستان نے جن میں نہ صرف ہر طبقہ کے سنی علماء ہیں بلکہ شیعہ علماء نے بھی ان کی تکفیر کا فتویٰ دے دیا ہے۔ اور باوصف اس کے کہ مرزا قادیانی مسیح موعود ہیں۔

عیسائیوں نے بھی آسمانی باپ کی بادشاہی اور اس کے فرزندوں کے گروہ سے نکال باہر کیا ہے۔ تعجب ہے کہ آپ تو بڑے زور و شور سے اپنے کو مسیح موعود اور مہدی اور امام الزمان اور بروزی یعنی تناسخی کلنک اوتار بتائیں اور مسلمانوں، ہندوؤں اور عیسائیوں اور آریہ وغیرہ سے کوئی بھی آپ کو اپنا نجات دہندہ نہ مانے۔ اور حسرتوں کا ہر طرح خون ہو اور تمام ارمان یوں زندہ درگور ہو جائیں۔ مولانا عبدالقادر صاحب بیدل مرحوم نے کیا خوب لکھا ہے ۔

من و پریشانی حسرتے کہ گم است مقصد بسملش
بفدائے خون نرسے مگر بزبان خنجر قاتلش

علماء اسلام کو مرزا قادیانی سے کچھ عداوت نہ تھی نہ مرزا قادیانی نے کسی کا باپ مارا تھا کہ خواہ مخواہ سب کے سب بالاتفاق ان کو کافر بناتے۔ اسلامی علماء نے عرصہ تک بڑے غور سے مرزا قادیانی کے خوارق کو دیکھا اور انتظار کیا کہ شاید راہ راست پر آجائیں اور مالیخولیا حب جاہ دور ہو جائے۔ علماء اور مشائخ نے مرزا قادیانی کے دعوؤں کے جواب میں مبسوط کتابیں اور چھوٹے چھوٹے رسالے بھی شائع کئے کہ شاید اب سمجھیں اور اب سمجھیں مگر کس کا سمجھنا ۔

مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی

بالآخر حسب مقولہ عرب آخر الدواء کی یعنی آخری علاج داغ دینا یا پچھنا لگانا ہے۔ ہمارے علماء نے اپنا منصبی فرض ادا کیا یعنی تکفیر کا فتویٰ دیا تا کہ عوام اہل اسلام گمراہی سے بچیں۔ اور اب بھی کچھ نہیں بگڑا اگر مرزا قادیانی ایمان اور سچے دل اور خلوص سے توبہ کریں اور ظاہری علامات سے علماء پر ثابت کر دیں یعنی عمل کر کے بھی دکھا دیں یعنی خلاف عقائد اسلام جس

٣٠٨

صفحہ ٦٥٥

قدر رسالے اور کتابیں لکھی ہیں ان کی تردید کر دیں اور سب کتابوں کو سوختہ دکھا دیں تو ہم ذمہ کرتے ہیں کہ ہمارے علماء بھی تکفیر کے فتوے واپس لیں گے۔

باز آ باز آ ہر آنچه ہستی باز آ
صد بار اگر توبہ شکستی باز آ

مسلمانوں کی باگ بالکل حقانی علماء اور مشائخ کے ہاتھ میں ہے جو شریعت محمدی کے وارث ہیں وہ خودسر اور مطلق العنان نہیں اور موجود زمانہ کی عدالتیں بھی علماء ہی کے فتوؤں کو مانتی ہیں اور کوئی عدالت خلاف شریعت محمدی فیصلہ نہیں دے سکتی پس کپور تھلہ کی عدالت میں یہ تمام فتوے پیش ہوں گے تو وہ انہی کے مطابق فیصلہ دے گی اور مرزائیوں کی جھوٹی تاویلیں جو آیات و احادیث کے معانی میں برخلاف جمہور علماء و مجتہدین و محدثین و مفسرین کرتے ہیں ہرگز نہ چل سکیں گی۔ نہ تقیہ کارگر ہوگا جیسا کہ مرزا قادیانی نے ایک کتاب بنام (ایک غلطی کا ازالہ ) شائع کی ہے۔ ہاں جیسا کہ ہم ابھی ابھی لکھ چکے ہیں اگر عدالت میں سچے دل سے تائب ہوں اور تمام دعاوی سے باز آئیں تو ہم ذمہ کرتے ہیں کہ کپور تھلہ کے سنی مسلمان مرزائیوں سے مساجد میں آنے کے مزاحم نہ ہوں گے اور ان کو اپنا بھائی سمجھیں گے۔ اور پھر عدالت کا وہ فیصلہ معہ توبہ نامہ کے تمام ہندوستان میں شائع ہوگا۔

مگر مرزائیوں سے یہ کام غیر ممکن معلوم ہوتا ہے۔ مرزا قادیانی مہدی موعود اور مسیح موعود ہندوستان سے لیکر یورپ تک مشتہر ہو گئے۔ آپ کی تصویریں جا بجا پھیل گئیں۔ منارہ تیار ہو گیا جس پر دعویٰ سے تیس سال بعد مسیح موعود اتریں گے۔ حالانکہ منارہ تیار بھی نہیں ہوا۔ تعمیر کی راہ میں روڑے اٹکے ہوئے ہیں۔ پس تمام دعوؤں اور تمام بناء کردہ آثار و علامات پر کپور تھلہ کے چند مسلمانوں کی خاطر خاک ڈال دینا بڑے جگر کا کام ہے اور کپور تھلہ کی عدالت سے مرزائی دعویٰ خارج بھی ہو گیا تو کیا ایسی پیٹھ پیچھے کی باتیں تو بہت سی ہو چکی ہیں اور شاید بہت سی ہوں۔ وہی بات ہے کہ ہم تو بڑے بڑے محلوں سے نکلوائے گئے ہیں یہ تو عدالت کا چھوٹا سا کمرہ ہے۔

مرزائی لوگ داڑھی مونچھوں پر ہاتھ پھیر کر عدالت میں یہی کہیں گے کہ ہم سچے اور پکے مسلمان توحید و رسالت پر ایمان رکھنے والے محمدی ہیں اب ہمارا احمدی (مرزائی ) ہو جانا محمدی ہونے میں مخل نہیں اور ہم نے سنا ہے کہ مرزائیوں کی طرف سے عدالت میں وہ فیصلے پیش کئے جائیں گے جن میں اہلحدیث کو عدالت ہائے ماتحت سے لیکر پریوی کونسل لندن تک مساجد کے متعلق ڈگریاں ملی ہیں۔ معلوم نہیں یہ فیصلے مرزائیوں کے حق میں کیا مفید ہوں گے؟ اہلحدیث کی

٣٠٩

صفحہ ٦٥٧

جانب سے ایک جزوی اختلاف (آمین بالجہر) کا تھا اور وہ بھی شاذ و نادر شہروں میں۔ عوام مقلدین اور علماء مقلدین خوب جانتے ہیں کہ آمین بالجہر سنت رسول اللہ ہے ورنہ امام شافعی وغیرہ ائمہ اس کے کیوں عامل ہوتے۔ اور سینکڑوں شہر ایسے ہیں جہاں آج تک مقلدین اور اہلحدیث کے مابین آمین بالجہر وغیرہ پر کبھی جھگڑا نہیں ہوا اور فریقین ایک ہی مسجد اور ایک ہی جماعت میں ایک ہی امام کے پیچھے نماز پڑھتے ہیں۔ خود جامع مسجد دہلی میں جا کر جس کا جی چاہے دیکھ لے۔

پس یہ ایک فروعی اختلاف ہے نہ کہ اصولی۔ اہلحدیث نے خدانخواستہ کوئی نیا نبی نہیں گھڑا۔ نہ اصول اسلام کو مرزا قادیانی کی طرح برہم کیا۔ انہوں نے تو صرف ”نبی امی وما ینطق عن الہویٰ“ کے اتباع اور کتاب وسنت پر عمل کرنے کے لئے زور دیا۔

اہلحدیث اور مقلدین توحید ورسالت پر یکساں ایمان رکھتے ہیں اور ارکان اربعہ نماز، روزہ، حج، زکوۃ کو فرض جانتے ہیں اور ان کے منکر کو کافر سمجھتے ہیں۔ حالانکہ مرزا قادیانی نے چاروں اصول میں ترمیم بلکہ قطع برید اور چھانٹ چھونٹ کر دی اور توحید ورسالت کو بھی کھو دیا جیسا کہ اوپر مذکور ہوا۔ پس حنفی مقلدین کے دعویٰ میں جو انہوں نے اہلحدیث پر کیا اور مرزائیوں کے دعویٰ میں جو انہوں نے کپور تھلہ کے سنیوں پر کیا زمین و آسمان کا فرق ہے اور فریقین مرزا کی تکفیر میں یکساں متفق ہیں۔ امید نہیں کہ باخبر عدالت اس دھوکے میں آئے۔ باقی آئندہ۔ (ایڈیٹر)

مولانا شوکت اللہ میرٹھی!

اہلحدیث واہل قرآن میں چند روز سے بحث ہو رہی ہے۔ اہل قرآن کہتے ہیں کہ صرف قرآن واجب العمل ہے۔ اہلحدیث کہتے ہیں کہ حدیث بھی مثل قرآن ہے۔ مرزا قادیانی کو تو نہ حدیث سے غرض نہ قرآن سے آپ خواہ مخواہ دونوں کے بیچ میں کیوں کود پڑے اور وہ بھی اس طرح کہ ایک بجلی اہلحدیث کو دکھائی تو باچھیں چیر کر دوسری تیز بجلی اہل قرآن پر چلائی۔ آپ تو حدیث اور قرآن دونوں کو استعفیٰ دے چکے ہیں کیا معنی کہ جب خود نبی بن گئے تو قرآن وحدیث دونوں مسترد ہو گئے۔ پھر ان کا ذکر ہی کیا۔

آپ فرماتے ہیں فریقین افراط وتفریط کی جانب گئے ہیں۔ ترکستان کی جانب۔ جیسا کہ سعدیؒ فرماتے ہیں

٣١٠

ایں رہ کہ تو میروی

آپ نے اہلحدیث واہل قرآن دونوں کے ص٢٤ پر لکھتے ہیں وہ (اہلحدیث) حفظ مراتب مرتبہ کو اس بلند مینار پر چڑھاتے ہیں جس سے قرا قرآن سے انکار کرنا پڑتا ہے اور کتاب اللہ کی مخالفت کرتے اور حدیث کے بیان کو کلام اللہ کے بیان چنانچہ قرآن شریف میں فرماتا ہے۔ ”فبای حدیث اس کے جواب میں قرآن پر عمل کریں گے۔ یعنی یہ کہیں گے کہ لعنة اللہ علیٰ ا اپنا الزام اوروں پر دھرتے ہیں۔ کلام مجید اور خدائے تعالیٰ تو یہ فرمائے کہ ہم نے یہ قرآن نبی ا مجھ پر اتارا ہے۔ خدائے تعالیٰ تو یہ فرمائے ”وما م احد من رجالکم ولکن رسول اللہ وخا قادیانی الا رسول اور معاذ اللہ قرآن میں نبی خاتم الخلفاء یعنی خاتم الانبیاء موجود ہوں۔ آ الائمة“ یعنی میں اس لئے مبعوث ہوا ہو ”لعن اللہ المصور والمصورله“ اور سمجھیں۔

فرمائیے قرآن وحدیث دونوں عمل ہے تو بتائیے قرآن میں عیسیٰ موعود وہ مرزا غلام احمد بیگ عیسیٰ موعود کا ذکر کہاں ہے کوئی صحیح حدیث قرآن مجید کے یہ عقیدہ ہے کہ جو حدیث قرآن کے خلاف مرزا قادیانی نے شیخ اہل قرآن مولوی عبد طرح سے۔ بظاہر تو مقابلہ اہلحدیث مولو مزاج پرسی کی ہے۔ چنانچہ آپ فرماتے ہ

صفحہ ٦٥٧
این ره که تو میروی بترکستان ست

آپ نے اہلحدیث واہل قرآن دونوں پر طوفان اور بہتان باندھا ہے۔ چنانچہ ریویو کے ص ٢ پر لکھتے ہیں وہ (اہلحدیث) حفظ مراتب کے قاعدے کو فراموش کر کے احادیث کے مرتبہ کو اس بلند مینار پر چڑھاتے ہیں جس سے قرآن شریف کی ہتک لازم آتی ہے اور اس سے قرآن سے انکار کرنا پڑتا ہے اور کتاب اللہ کی مخالفت و معارضت کی وہ (اہلحدیث) کچھ پرواہ نہیں کرتے اور حدیث کے بیان کو کلام اللہ کے بیان پر ہر حالت میں مقدم سمجھتے ہیں حالانکہ اللہ جل شانہ قرآن شریف میں فرماتا ہے۔ ”فبای حدیث بعد اللہ وایاته یؤمنون (الجاثیه: ٦)“ ہم اس کے جواب میں قرآن پر عمل کریں گے۔

یعنی یہ کہیں گے کہ لعنة الله على الكاذبين! اس ڈھٹائی اور سینہ زوری کو دیکھئے کہ اپنا الزام اوروں پر دھرتے ہیں۔ کلام مجید اور حدیث شریف دونوں کی خود پروا نہیں کرتے۔ خدائے تعالیٰ تو یہ فرمائے کہ ہم نے یہ قرآن نبی امی محمد ﷺ پر اتارا ہے۔ مرزا قادیانی کہتے ہیں کہ مجھ پر اتارا ہے۔ خدائے تعالیٰ تو یہ فرمائے ”وما محمد الا رسول اور وما كان محمد ابا احد من رجالكم ولكن رسول الله وخاتم النبيين“ اور مرزا کہیں کہ وما غلام احمد قادیانی الا رسول اور معاذ اللہ قرآن میں خاتم النبیین کا لفظ غلط ہے۔ دیکھو میں فرمائشی ہٹا کٹا نبی خاتم الخلفاء یعنی خاتم الانبیاء موجود ہوں۔ آنحضرت ﷺ تو یہ فرمائیں کہ ”مــــامـن صــــورة الا طــــمة “ یعنی میں اس لئے مبعوث ہوا ہوں کہ کسی تصویر کو بغیر مٹائے نہ چھوڑوں اور فرمائیں۔ ”لعن الله المصور والمصوره“ اور مرزا قادیانی تصویر کی اشاعت کو اپنی نبوت کا اعلیٰ رکن سمجھیں۔

فرمایئے قرآن وحدیث دونوں کو کس نے طاق پر رکھ دیا۔ اگر صرف قرآن پر آپ کا عمل ہے تو بتائیے قرآن میں عیسیٰ موعود وہ بھی ہندوستان خصوصاً ملک پنجاب اور پھر قادیان میں مرزا غلام احمد بیگ عیسیٰ موعود کا ذکر کہاں ہے؟

کوئی صحیح حدیث قرآن مجید کے خلاف نہیں اور نہ صرف اہلحدیث بلکہ تمام فرق اسلام کا یہ عقیدہ ہے کہ جو حدیث قرآن کے خلاف ہو وہ حدیث نہیں بلکہ ایک مردہ قول ہے۔ اس کے بعد مرزا قادیانی نے شیخ اہل قرآن مولوی عبداللہ صاحب کے سر پر دست شفقت پھیرا ہے مگر عجیب طرح سے۔ بظاہر تو بمقابلہ اہلحدیث مولوی صاحب کے مزے لئے ہیں مگر دلائل سے اہلحدیث کی مزاج پرسی کی ہے۔ چنانچہ آپ فرماتے ہیں اور مولوی عبداللہ صاحب نے تفریط کی راہ پر قدم مارا

٣١١

صفحہ ٦٥٩

ہے اور سرے سے احادیث ہی کا انکار کر دیا ہے۔ حالانکہ احادیث کا انکار ایک طور سے قرآن شریف کا بھی انکار ہے۔

کیونکہ اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے ”قل ان كنتم تحبون الله فاتبعونی“ اور آگے چل کر فرماتے ہیں اور مولوی عبداللہ صاحب کا یہ قول کہ تمام حدیثیں محض شکوک اور ظنون کا ذخیرہ ہے۔ اس خیال کی اصل جڑ محدثین کی ایک غلط اور نامکمل تقسیم ہے کیونکہ وہ یوں تقسیم کرتے ہیں کہ ہمارے ہاتھ میں ایک تو کتاب اللہ ہے۔ اور دوسری حدیث اور حدیث کتاب اللہ پر قاضی ہے گویا احادیث ایک جج کی طرح کرسی پر بیٹھی ہیں اور قرآن ان کے سامنے مستغیث کی طرح کھڑا ہے اور حدیث کے حکم کا تابع ہے۔ پس قرآن تو یوں ہاتھ سے گیا کہ بغیر قاضی صاحب کے فتوؤں کے واجب العمل نہیں اور قاضی صاحب یعنی احادیث صرف میلے کچیلے کپڑے زیب تن رکھتے ہیں جن سے احتمال کذب کسی طرح مرتفع نہیں کیونکہ ظن دروغ کے احتمال سے خالی نہیں ہوتا۔ اس صورت میں نہ تو قرآن ہمارے ہاتھ میں رہا نہ حدیث۔ اس غلطی نے اکثر لوگوں کو ہلاک کیا۔ الخ“

حوصلہ تو ملاحظہ ہو کہ ہاتھ تو لپکایا تھا مولوی عبداللہ صاحب کی داڑھی کھسوٹنے کو اور مونچھ جا کر اکھاڑی اہلحدیث کی، بھبکی تو آپ نے دکھائی اہل قرآن کو اور اکھاڑے میں پچھاڑا اہلحدیث کو ارے واہ رے پچیت تیرے کیا کہنے ہیں۔ لیکن آپ خود ہی میدان میں چت ہو گئے۔ کیونکر یوں۔

اوّل تو السنۃ ”قاضية على الكتاب“ وارد ہوا ہے نہ کہ : ”الحديث قاضية على الكتاب“ اور خود آپ کے قول کے موافق حدیث اور سنت میں بڑا فرق ہے۔ حدیث قول ہے اور سنت وہ تعامل ہے جو بطور تواتر ہم تک چلا آیا ہے۔ آپ نے گویا عمداً دھوکا دیا اور شحنہ کے اجلاس میں جرم خلاف بیانی کے مرتکب ہوئے جس کا فیصلہ بہت جلد سنایا جائے گا۔ دوم! یہ ایک قول ہے نہ کہ حدیث اور آیت۔

اور یہ آپ کو اچھی طرح معلوم ہے کہ اہلحدیث بجز قرآن وحدیث کے کسی قول کو مستند اور واجب العمل نہیں سمجھتے۔ دوم! السنۃ قاضیۃ علی الکتاب کے یہ معنی ہیں کہ اگر اختلاف طبائع کی وجہ سے آیات کلام اللہ کے محمل ومعانی کے سمجھنے میں نزاع واقع ہو تو سنت اس کا فیصلہ کر دے گی یعنی اختلاف کو مٹا دے گی۔ خود قرآن مجید ہم کو ایسا ہی حکم دیتا ہے کہ ”فان تنازعتم فی شئی فردوه الی الله والرسول“ اگر سنت یا حدیث مراد نہ ہوتی تو اس آیت میں الی اللہ کافی تھا نہ کہ

٣١٢

الرسول“ بھی جو بالکل حشو ٹھہرتا ہے اور ایسے معاملات کے سمجھنے میں اختلاف واقع ہوتا ہے تو لوگ علماء متبحرین کی طرف رجوع کرتے ہیں۔ افسوس ہے کہ سنت کے لغوی معنی کے سمجھنے میں غلطی کھا گئے ہیں۔ یعنی قرآن وحدیث کے مسئلہ پر جس طرح آج تک عمل ہوتا رہا ہے۔ اسی طرح تم بھی کرو کیونکہ السنۃ قاضية کا مطلب یہ ہے کہ سنت صرف قرآن کے موافق حکم جاری کرنے والی ہے نہ کہ اس کے خلاف اور نامطابق ۔ ایک لفظ کے صحیح اور حقیقی معنی نہ سمجھنا اور واویلا مچانا اور ناحق لوگوں کا مغز کھانا اور پیچھا تھامنا مشکل ہے۔ کوئی قاضی یا مفتی یا جج اپنی رائے اور قیاس میں قانون کا پابند ہوتا ہے۔ کیا یہ سمجھ میں آسکتا ہے کہ آنحضرت ﷺ قرآن کی مخالفت کریں یا اس کے خلاف کوئی حکم نافذ کرے۔ اس صورت میں تو وہی حدیث قابل قبول ہے جس کا تعامل کتاب اللہ کے موافق ہے وہ کتاب اللہ پر قاضی ہے۔ ورنہ وہ خود مجروح اور قابل ترک ہیں اور بناء فاسد علی الفاسد تعمیر کی گئی ہے۔ بفقہ حنفی فیصلہ کرو۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ فقہ کے مطابق عمل ہوتا ہے یا نہیں اور کوئی شخص اس قانون کے خلاف تو فیصلہ نہیں دے رہا ہے۔ پس سنت کے قاضی ہونے کے یہ معنی ہیں جو ہم نے بیان کئے۔ دراصل مخالفان کو نفرت یا خوف ہے کیونکہ سنت ان کی خود غرضیوں کا قلع قمع کرتی اور ان کی بنی بنائی اور چنی چنائی تعمیر ڈھا دیتی ہے۔ پس وہ لوگ جو اپنے من گھڑت خیالات کے قصے کو ان قصوں پر ترجیح دیتے ہیں جو کلام الٰہی کے برخلاف ہیں پس وہ دراصل کلام اللہ کے بیان پر ہر حالت میں مقدم ہے۔ ....الخ“ ناظرین اس کی لم یلم بہت کم سمجھے ہوں گے تو ہم بتاتے ہیں کہ اس سے مرزا قادیانی کا مطلب یہ ہے کہ چونکہ قرآن سے وفات ثابت ہوتی ہے اور حدیث شریف میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے آنے کا ذکر کہاں ہے؟ جس کے آپ قائل ہیں اور نیز احادیث صحیحہ میں جو دونوں کے آنے کی پیشینگوئی ہے اس کو وہ نہیں مانتا۔ پس یہ زیادہ علی القرآن نہیں تو کیا ہے۔ کیا ان کو یہ معلوم نہیں کہ جو حدیث مرزا قادیانی کو عیسیٰ موعود نہیں مانتی وہ ان عاملین بالحدیث کو برا سمجھتے ہیں۔ حدیث

صفحہ ٦٥٩

والرسول بھی جو بالکل حشو ٹھہرتا ہے اور ایسے معاملات ہمیشہ واقع ہوتے رہتے ہیں جب کسی آیت کے سمجھنے میں اختلاف واقع ہوتا ہے تو لوگ علماء متبعین سنت کی جانب رجوع کر کے مطمئن ہوجاتے ہیں۔ افسوس ہے کہ سنت کے لغوی معنی کے سمجھنے میں بھی آپ غوطہ کھا گئے ۔ سنت کے معنی طریقے کے ہیں۔ یعنی قرآن وحدیث کے مسئلہ پر جس طریق سے صحابہ وتابعین نے عمل در آمد کیا ہے اور آج تک ہورہا ہے۔ اسی طرح تم بھی کرو کیونکہ السنۃ قاضیۃ علی الکتاب نیز اس کے یہ بھی معنی ہیں کہ سنت صرف قرآن کے موافق حکم جاری کرنے والی ہے نہ کہ قیاس اور رائے اور ہوائے نفس کے مطابق۔ ایک لفظ کے صحیح اور حقیقی معنی نہ سمجھنا اور ویسے ہی اعتراض کر بیٹھنا کچھ مشکل نہیں ۔ ہاں پیچھا چھڑانا مشکل ہے۔ کوئی قاضی یا مفتی یا جج اپنی جانب سے حکم نافذ نہیں کرتا۔ بلکہ وہ ایک قانون کا پابند ہوتا ہے۔ کیا یہ سمجھ میں آسکتا ہے کہ آنحضرت ﷺ اور صحابہؓ کی سنت قرآن کے خلاف ہو اور اس کے خلاف کوئی حکم نافذ کرے۔ اس صورت میں یہ متضاد معنی پیدا ہوں گے کہ سنت جس کا تعامل کتاب اللہ کے موافق ہے وہ کتاب اللہ پر حاکم اور جج ہے۔ پس اس قول کے معنی غلط سمجھے گئے ہیں اور بناء فاسد علی الفاسد تعمیر کی گئی ہے۔ ہفتم قاضی قانون شریعت کا نگران ہوتا ہے کہ اس کے مطابق عمل ہوتا ہے یا نہیں اور کوئی شخص اس قانون کے خلاف تو نہیں کرتا۔

پس سنت کے قاضی ہونے کے یہ معنی ہیں معلوم ہوتا ہے کہ سنت کے نام ہی سے دراصل مخالفان کو نفرت یا خوف ہے کیونکہ سنت ان کے ہتھکنڈے اور پینترے نہیں چلنے دیتی اور ان کی بنی بنائی اور چنی چنائی تعمیر ڈھا دیتی ہے۔ مرزا قادیانی کا یہ فرمانا کہ تمام اہل حدیث حدیث کے قصے کو ان قصوں پر ترجیح دیتے ہیں جو کلام اللہ میں بتصریح موجود ہیں اور حدیث کے بیان کو کلام اللہ کے بیان پر ہر حالت میں مقدم سمجھتے ہیں جو صریح غلطی اور جادہ انصاف سے تجاوز ہے۔۔۔۔۔۔الخ‘ ناظرین اس کی لپیٹ کم سمجھے ہوں گے۔

اس سے مرزا قادیانی کا مطلب یہ ہے کہ قرآن مجید سے ان کے زعم میں عیسیٰ مسیح کی وفات ثابت ہوتی ہے اور حدیث شریف سے حیات۔ ”لیکن قرآن شریف میں عیسیٰ اور مہدی کے آنے کا ذکر کہاں ہے؟ جس کے آپ قائل ہیں۔ پھر عیسیٰ مسیح کی حیات کا تو انکار اور حدیث شریف میں جو دونوں کے آنے کی پیشینگوئی ہے اس کا اقرار۔

یہ زیادتی علی القرآن نہیں تو کیا ہے۔ ایسے کور نمک اور احسان فراموش بھی کم دیکھے ہوں گے کہ جو حدیث مرزا قادیانی کو عیسیٰ موعود اور مہدی مسعود بناتی ہے۔ اسی کے دشمن ہیں اور عاملین بالحدیث کو برا سمجھتے ہیں۔ حدیث کے بغیر چارہ نہیں اور حدیث ہی کی جڑ کھود رہے ہیں۔

٣١٣

صفحہ ٦٦٠

آگے چل کر آپ فرماتے ہیں ”ہماری جماعت کا یہ فرض ہونا چاہئے کہ اگر کوئی حدیث معارض ومخالف قرآن و سنت نہ ہو تو خواہ کیسی ہی ادنیٰ درجے کی حدیث ہو وہ اس پر عمل کریں اور انسان کی بنائی ہوئی فقہ پر اس کو ترجیح دیں اور اگر حدیث میں کوئی مسئلہ نہ ملے تو سنت میں نہ قرآن میں تو فقہ حنفی پر عمل کریں کیونکہ اس فرقہ کی کثرت خدا کے ارادے پر دلائل کرتی ہے۔..... الخ“

بہتر ہوتا کہ مرزا قادیانی اپنے پیٹ کی بات ظاہر کر دیتے اور لکھ دیتے کہ تصویر کا بنانا چونکہ قرآن کی رو سے حرام نہیں بلکہ جواز ثابت ہے جیسا کہ حضرت سلیمانؑ کے عہد میں تماثیل اور محاریب بنائی جاتی تھیں اور احادیث میں مصوری حرام ہے لہٰذا اس حدیث کو نہ ماننا چاہئے لیکن حج کے باب میں کیا کہئے گا جو قرآن و حدیث دونوں کی رو سے فرض ہے اور مرزا قادیانی امتناعی آرڈر صادر کر چکے ہیں اور اس کی جگہ قادیان کے حج کا نادر شاہی حکم دے چکے ہیں۔ حنفی جماعت کی کثرت کو جو آپ نے ارادۃ اللہ کے موافق قرار دیا ہے تو کیا وجہ ہے کہ آپ اسی بڑی جماعت کی مخالفت کر کے نبی اور امام الزمان بنے ہیں۔ ہندوستان میں کم وبیش سات کروڑ حنفی مقلدین ہیں اور سب سے پہلے علماء حنفیہ ہی نے آپ کی تکفیر کے فتوے دیے ہیں۔ پھر کیا وجہ ہے کہ آپ ان کی مخالفت کر کے ارادۃ اللہ کی مخالفت کر رہے ہیں۔

اور مرزا قادیانی سے بھی تعجب ہے کہ وہ ان کو فقہ حنفی پر عمل کرنے کی ہدایت کرتے ہیں۔ گویا آپ اپنی نبوت و امامت کی تردید کرتے ہیں۔

آگے چل کر آپ فرماتے ہیں ”ہماری جماعت بہ نسبت عبداللہ کے اہلحدیث سے اقرب ہے۔ اس تحریر سے ثابت ہوتا ہے کہ مرزائی جماعت مولوی چکڑالوی سے قریب تر ہے مگر اقرب نہیں اور اہلحدیث سے اقرب ہے مگر اہلحدیث سے تو ذرا پوچھئے کہ وہ مرزائی جماعت کو اپنے سے اقرب سمجھتے ہیں یا ابعد۔ ”مدعی سست گواہ چست۔ اہلحدیث تو مرزائیت کے نام کا کتا بھی نہیں پالتے۔ البتہ مولوی محمد احسن صاحب اور مولوی حکیم نور الدین صاحب جو کسی زمانہ میں اہلحدیث کے نام لیوا تھے۔ سب سے پہلے یہی مرزائی ہو کر اہلحدیث سے خارج ہو گئے مگر اب تک اپنے کو بظاہر اہلحدیث ہی میں بتاتے ہیں۔

پس مرزا قادیانی نے ان دونوں خلیفوں کی بھی دلداری کی ہے اور چونکہ مولوی صاحب بٹالوی اور مولوی صاحب چکڑالوی کے مابین چل رہی ہے لہٰذا بٹالوی صاحب کو بھی تھاما ہے اور ساز باز کرنے کے لئے ان کو مرزائیت کے شیشے میں اتارا ہے مگر یقین نہیں کہ وہ شیشے میں اتر سکیں اور مرزا قادیانی کا افسون ان پر چل سکے کیونکہ وہ پڑھے جن ہیں۔ آگے چل کر مرزا قادیانی

٣١٤

صفحہ ٦٦١

نے اپنی وہی بروزیت اور وہی مطلب مدعی بگھارا ہے۔ یعنی آپ نوٹ میں فرماتے ہیں ”میں جب اشتہار کو ختم کر چکا شاید دو تین سطریں باقی تھیں تو خواب نے میرے پر زور کیا یہاں تک کہ میں مجبوراً کاغذ کو ہاتھ سے چھوڑ کر سو گیا تو خواب میں مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی اور مولوی عبداللہ صاحب چکڑالوی نظر کے سامنے آگئے۔ میں نے ان دونوں کو مخاطب کرکے یہ کہا ”خسف القمر والشمس فی رمضان، فبای الاء ربکما تکذبان“ (تذکرہ ص ٣٤١ طبع سوم) یعنی چاند اور سورج کو تو رمضان میں گرہن لگ چکا پس تو اے دونو صاحبو کیوں خدا کی نعمت کی تکذیب کر رہے ہو۔ پھر میں خواب میں اخویم مولوی عبدالکریم صاحب کو کہتا ہوں الاء سے مراد اس جگہ میں ہوں اور پھر میں نے ایک دالان کی طرف نظر اٹھا کر دیکھا اس میں چراغ روشن ہے گویا رات کا وقت ہے اور اسی الہام مندرجہ بالا کو چند آدمی چراغ کے سامنے قرآن شریف کھول کر اس سے یہ دونوں فقرے نقل کر رہے ہیں۔ گویا اسی ترتیب سے قرآن شریف میں وہ موجود ہے اور ان میں سے ایک شخص کو میں نے شناخت کیا کہ میاں نبی بخش صاحب رفوگر امرتسری ہیں۔“

اہو ہو ہو ہو ! کیا کہنا ہے۔ گواہ کتنے معتبر اور ثقہ ہیں۔ یہ الہام ٹھیک قرآن کے موافق ہے اور یہ دونوں آیتیں بھی قرآن ہی کی ہیں۔ کلام مجید کو کیسا مسخ کیا ہے اور خدائے تعالیٰ پر کیسا بہتان رکھا ہے۔ اگر زمین دھنس جائے اور آسمان پھٹ پڑے تو کچھ تعجب نہیں۔ یہی شامت اور تیرہ بختی ہے جس کی وجہ سے غضب الٰہی طاعون کی صورت میں نازل ہوا اور ابھی کیا ہے اگر مرزا قادیانی کا وجود ہے تو دیکھتے جائیے آسمان سے کیسی کیسی بلائیں نازل ہوتی ہیں۔ آگے چل کر آپ نوٹ میں فرماتے ہیں: ”بعض نیم مُلاّ مجھ پر اعتراض کرتے ہیں کہ ہمارے نبی ﷺ نے ہمیں یہ خوشخبری دے رکھی ہے کہ تم میں تیس دجال آئیں گے اور ہر ایک ان میں سے نبوت کا دعویٰ کرے گا۔ جواب یہ ہے کہ اے نادانو، بد نصیبو کیا تمہاری قسمت میں ٣٠ دجال ہی لکھے تھے چودھویں صدی کا خُمس بھی گزرنے کو ہے۔ اور دنیا ختم ہونے لگی مگر تم لوگوں کے دجال ابھی ختم ہونے میں نہیں آتے شاید تمہاری موت تک تمہارے ساتھ رہیں گے۔ اے نادانو وہ شیطان جو دجال کہلاتا ہے خود تمہارے اندر ہے۔ اس لئے تم وقت کو نہیں پہچانتے۔ آسمانی نشانوں کو نہیں دیکھتے مگر تم پر کیا افسوس ۔ وہ جو میری طرح موسیٰ کے بعد چودھویں صدی میں ظاہر ہوا تھا اس کا نام بھی یہودیوں نے دجال ہی رکھا تھا۔ فالقلوب تشابہت“

(ریویو مباحثہ بٹالوی و چکڑالوی ص ٨، خزائن ج ١٩ ص ٢١٥ حاشیہ)

٣١٥

صفحہ ٦٦٣

مرزا قادیانی ہی تواریخ کو ٹٹول کر بتائیں یا آسمانی باپ کے سامنے روئیں گڑگڑائیں۔ بالک ہٹ کریں تاکہ وہ الہام کر دے کہ ٣٠ / دجالوں کی تعداد اب تک پوری ہو گئی ہے یا کچھ دجال ابھی تک آنے باقی ہیں۔ تیس دجال تو یورپ وافریقہ میں مرزا قادیانی کے سامنے ہی ڈنڈ پیل رہے ہیں اور خم ٹھونک رہے ہیں اور خود مرزا قادیانی ان کو اور وہ مرزا قادیانی کو دجال بتا رہے ہیں۔ مرزا قادیانی کے پاس کیا ضمانت ہے کہ آئندہ کوئی دجال نہ آئے گا اور اگر آئے تو یہ عجیب امر ہوگا کہ مسیح موعود کے بعد دجال آئیں گے۔ حالانکہ جن احادیث کو مرزا قادیانی اپنی مسیحیت کا تمغہ بناتے ہیں ان میں یہ درج ہے کہ پہلے دجال آئے اور عیسیٰ موعود نازل ہو کر اس کو قتل کریں گے۔ مرزا قادیانی نے تو اب تک ایک چوہیا کا بچہ بھی قتل نہیں کیا۔

وہ فرماتے ہیں کہ دجال ریلیں ہیں تو کیا مرزا قادیانی نے ریلیں برباد کر دی ہیں یا آئندہ برباد کریں گے اور ریلوں کے ڈرائیوروں اور منتظموں کو تہ تیغ کر دیں گے۔ بے شک شیطان بھی دجال سے کم نہیں بلکہ وہ تو تمام دجالوں کا قبلہ گاہ اور خالق دجال ہے جو دجال صفت انسانوں کو عیسیٰ موعود بناتا اور ان کو یقین دلاتا ہے کہ تم مسیح موعود ہو۔ یہودیوں پر کیا حصر ہے جنہوں نے اولوالعزم پیغمبر کو دجال بتایا بلکہ دنیا کی مختلف قوموں نے تمام انبیاء خصوصاً آنحضرت ﷺ کو کیا کچھ نہیں کہا لیکن کیا ان کا کہنا کچھ چل سکا۔

انبیاء تو انبیاء ہی رہے اب ہم بہت جلد دنیا کو دکھائیں گے کہ مرزا قادیانی تمام گزشتہ دجالوں کے مقابلہ میں اکیلے دجال ہی رہے یا ان سے بھی کئی بانس آگے بڑھ گئے اور انشاء اللہ ہم اپنی زندگی ہی میں علاوہ موجودہ چار دجالوں کے چند دجال اور بھی پیدا ہوتے دکھائیں گے اور وہ بھی دنیا کو اسی طرح دعوت دیں گے جس طرح مرزا قادیانی دے رہے ہیں۔

تعارف مضامین ....... ضمیمہ شحنہ ہند میرٹھ

سال ١٩٠٣ء ٨/اکتوبر کے شمارہ نمبر ٣٨/ کے مضامین

ضمیمہ شحنہ ہند کے شمارہ ٣٨/ میں رفعت اللہ خان مسلمان اور شرافت خان قادیانی کے درمیان شاہجہان پور میں ہونے والے مباحثہ کی رپورٹ شائع ہوئی۔ اس کا بقیہ ١٦/اکتوبر کے شمارہ نمبر ٣٩/ اور ٢٤/اکتوبر کے شمارہ نمبر ٤٠ میں بھی شائع ہوا۔ ان تینوں کو ہم نے یہاں ترتیب سے جمع کر دیا ہے۔ (مرتب)

٣١٦

مباح

درمیان محمد رفعت اللہ خان محمدی شاہجہاں شاہجہان پوری م معزز ناظرین یہ مباحثہ کوئی باقاعدہ ہوئے ایک ان کا اور ایک میرا۔ اور پھر وہ سا انصاف سے انصاف چاہتا ہوں کہ دونوں پر چو اور باقی مفصل حالات میرے جواب الجواب ۔

سوال از جانب رفعت اللہ خان (م

جو موجودہ حالت اسلام کی ہے سبھی کی۔ ہاں کسی آئندہ زمانہ میں وہی شکل ہو جا آیت یا حدیث صحیح قابل اعتبار سے ثابت ک اور یہاں اس امر پر بحث ہے کہ توریت میں لک گا۔ جواب عیسیٰ یوسفی یعنی یحییٰ مماثلت کی شک یہ بات ثابت ہو گئی تو بلا کسی دوسرے عقیدہ گا۔ فقط رفعت اللہ خان عفی عنہ۔

جواب از جانب مرزائی

بسم الله الرحمن الرحيم کہ ایلیا نبی یعنی حضرت الیاس کے آنے کی درج ہے اور حضرت عیسیٰ اس پیشگوئی کے جو آنے والا تھا یہی ہے (یعنی حضرت یحییٰ) جاننا چاہئے کہ حضرت مسیح موعود و مہدی مسع اس واقعہ کا بیان کیا ہے وہ انہیں کتب مقد تائیدی گواہ ہیں۔ آپ ان کتابوں کو دیکھی اگر ان کتابوں کا دیکھنا بوجہ اہلحدیث ہونے دریافت کر کے اپنی تسکین کر سکتے ہیں لیک

صفحہ ٦٦٣

مباحثہ

درمیان محمد رفعت اللہ خان محمدی شاہجہان پوری محلہ املہ و شرافت اللہ خان مرزائی شاہجہان پوری محلہ مہمند جلال نگر !

معزز ناظرین یہ مباحثہ کوئی باقاعدہ نہیں تھا۔ دوران گفتگو میں ہو پڑا۔ صرف دو پرچہ ہوئے ایک ان کا اور ایک میرا۔ اور پھر وہ ساکت ہو گئے آج تک جواب نہیں دیا۔ میں اہل انصاف سے انصاف چاہتا ہوں کہ دونوں پرچوں پر نظر کر کے مرزائیوں کی سخت کلامی کی داد دیں اور باقی مفصل حالات میرے جواب الجواب سے معلوم ہوں گے۔

سوال از جانب رفعت اللہ خان (مسلمان)

جو موجودہ حالت اسلام کی ہے کبھی نہ یہودیوں کی ہوئی نہ عیسائیوں کی نہ اور کسی امت کی۔ ہاں کسی آئندہ زمانہ میں وہی شکل ہو جائے تو بحث سے خارج ہے اور اگر کسی کو دعویٰ ہو تو آیت یا حدیث صحیح قابل اعتبار سے ثابت کیا جائے۔ فقط راقم رفعت اللہ خان عفی عنہ بقلم خود اور یہاں اس امر پر بحث ہے کہ توریت میں لکھا ہے کہ ایلیا نبی آسمان سے اترے گا بعد کو عیسیٰ آئے گا۔ جواب عیسیٰ یوحنیٰ یعنی یحییٰ مماثلت کی شکل میں آچکے لہذا میں سچا ہوں اگر آیت یا حدیث سے یہ بات ثابت ہو گئی تو بلا کسی دوسرے عقیدہ پر جرح کرنے کے میں بیعت مرزا قادیانی کی کرلوں گا۔ فقط رفعت اللہ خان عفی عنہ۔

جواب از جانب مرزائی

بسم اللہ الرحمن الرحیم نحمدہ ونصلی علیٰ رسولہ الکریم! واضح ہو کہ ایلیا نبی یعنی حضرت الیاسؑ کے آنے کی پیشینگوئی ملاکی نبی کی کتاب کے باب ٤ آیت ٥ میں درج ہے اور حضرت عیسیٰؑ اس پیشینگوئی کے متعلق انجیل متی ١١، درس ١٤ میں فرماتے ہیں کہ الیاس جو آنے والا تھا یہی ہے (یعنی حضرت یحییٰؑ) چاہو تو قبول کرو جس کے کان سننے کو ہوں سنے۔ اب جاننا چاہئے کہ حضرت مسیح موعود و مہدی مسعودؑ نے یا جماعت احمدیہ کے کسی اور شخص نے جہاں کہیں اس واقعہ کا بیان کیا ہے وہ انہیں کتب مقدسہ کے حوالے سے لکھا ہے اور یہی کتابیں اس دعوے کی تائیدی گواہ ہیں۔ آپ ان کتابوں کو دیکھ کر اپنا اطمینان اور اس دعوے کی تصدیق کر سکتے ہیں اور اگر ان کتابوں کا دیکھنا بوجہ اہلحدیث ہونے کے مکروہ یا حرام سمجھتے ہوں تو کسی پادری صاحب سے دریافت کر کے اپنی تسکین کر سکتے ہیں لیکن آپ کو تو اس سے کچھ غرض نہیں کیونکہ یہ تو وہی کر سکتا ہے

٣١٧

صفحہ ٦٦٤

جو طالب صادق اور متلاشی حق ہے۔

تعجب ہے کہ آپ نے نہ اصل دعویٰ کو دیکھا کہ کس کتاب سے کیا گیا ہے اور نہ اس کے ثبوت پر غور کیا کہ کہاں سے دیا گیا ہے اور نہ ان کتابوں پر توجہ فرمائی جن کا حوالہ دیا گیا تھا بلکہ اپنی طرف سے جھٹ ایک ایسا سوال کہ جو انکار کا پہلو اپنے اندر رکھتا ہے اور کوتاہ بینوں اور تنگ نظروں کی نگاہ میں مخالفت ظاہر کرتا ہے۔ اپنے فرضی خیال کے موافق سامنے ہو کر پیش کر دیا اگرچہ یہ سوال اس روشن ثبوت کے سامنے اس قابل نہ تھا کہ اس پر کچھ توجہ کی جاتی یا قلم فرسائی کر کے اوقات عزیز کو ضائع کیا جاتا مگر ہم صرف اس خیال سے اس کا جواب لکھے دیتے ہیں تا کہ آئندہ آپ اپنے تراشیدہ خیالوں کے موافق یہ کہہ کر کہ ہمارے سوال کا کچھ جواب نہ دیا۔ عوام کو دھوکے میں ڈالنے کی جرات نہ کر سکیں۔

لہٰذا اب سن لیجئے آپ جو کچھ فرماتے ہیں میرے نزدیک اس کا خلاصہ آپ کی طرف سے یہ ہے کہ اگر آیت یا حدیث سے یہ بات (یعنی خبر متذکرہ بالا) ثابت ہو گئی تو میں مرزا قادیانی کی بیعت کرلوں گا تو آپ کے اس بیان سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ شاید آپ کے نزدیک توریت یا انجیل کی آیت آیت نہیں ہے۔ اور حضرت یحییٰؑ اور حضرت عیسیٰؑ کا قول حدیث نہیں ہے۔ شاید اس جگہ آپ کی مراد آیت سے آیت قرآن مجید اور حدیث سے مراد حدیث رسول خدا حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ ہے مگر آپ نے قرآن شریف کا نام پاک کسی وجہ سے جس کو آپ جانتے ہوں گے۔ تحریر نہیں کیا اور محمد مصطفیٰ ﷺ کا اسم مبارک کسی عقیدہ خفیہ کی وجہ سے نہیں لیا۔ مگر یہاں پر ہم کو آپ کے اس عقیدہ خفیہ پر بحث کرنا منظور نہیں ہے۔

اگر آئندہ خدا خود کو کھول دے یا آپ کی تحریروں سے ظاہر ہو جائے تو اس وقت ہم کو بھی اس کی تصدیق میں کچھ تامل نہ ہوگا۔ اب آپ اپنے سوال کے جواب کو ملاحظہ فرمائے۔ اول تو جہاں تک مجھ کو معلوم ہے میں کہہ سکتا ہوں کہ اس خبر میں کسی آیت قرآن شریف یا حدیث رسول اللہ ﷺ کا حوالہ نہیں دیا گیا تو آپ کا فرض ہے کہ اس آیت یا حدیث کو بحوالہ اس کتاب کے جس میں یہ خبر درج کی گئی ہو یا وہ عبارت کہ جس میں اس خبر کی بابت کسی آیت یا حدیث کا حوالہ دیا گیا ہے اور اس سے آپ کی تسکین نہ ہوئی ہو پیش کریں اور جب آپ ایسا کریں گے تو ہمارا فرض یہ ہوگا کہ ہم اس کو ثابت کر کے آپ کو دکھلا دیں اور اگر ایسا نہ کیا تو پھر ہم کو اسی بات کے ظاہر کرنے کا حق حاصل ہوگا کہ آپ کے یہ بات بخوبی ذہن نشین تھی کہ اس خبر کی بابت کسی آیت یا حدیث رسول اللہ ﷺ کا حوالہ نہیں دیا گیا ہے۔

٣١٨

لیکن آپ نے عوام الناس کے برب کیا تا کہ جاہلوں میں بیٹھ کر اس کہنے کا فخر حا دعوے کی تصدیق قرآن وحدیث رسول اللہ ﷺ کر سکا تو اب میں آپ سے دریافت کرتا ہو بہت اچھی ہے تو کیا آپ کہہ سکتے ہیں کہ یہ کا اعتبار کر سکتے ہیں یا مثلاً کوئی کہے کہ داری کہ یہ حدیث ہم کو بخاری میں دکھلا دو تو ہم گورنمنٹ ہند نے فلاں فلاں قانون بہت م کو سلطان روم کی ممالک میں دکھلا دو۔

یا مثلاً کوئی کہے کہ سورہ بقرہ میں ہیں کہ یہ آیت ہم کو سورہ یٰسین میں دکھلا دو تو کہ زمین پر جو دریا جاری ہیں ان سے مخلوق کو آسمان پر جاری دکھلا دو تو ہم مان سکتے ہیں کے بیان کرنے سے تو آپ اپنے سوال کا بھی یاد رکھنا چاہئے کہ حضرت اقدس مسیح مو و ثبوت اس کی تائید میں تحریر فرمائے ہیں تو لکھے گئے ہیں بلکہ تمام دنیا کے کل مذاہب لوگوں جیسے آریہ، برہمو، مقلد غیر مقلد و اور ثبوت پیش کر دیئے گئے ہیں۔

اب ان میں سے ہر شخص ہر نے سوال و جواب بحث مباحثہ کر کے ا ایک مذہب کے لوگوں کے لئے لیکن ا سے جو اہل اسلام کے مذہب کے مواق کو اختیار کیا کہ جو یہودیوں نے کیا تھا حیرت میں ہیں کہ آپ کو کس مذہب ا خاص آپ کے اصل مذہب کی بابت

صفحہ ٦٦٥

لیکن آپ نے عوام الناس کے بہکانے کے واسطے اس سوال کو پیش کر کے جواب طلب کیا تا کہ جاہلوں میں بیٹھ کر اس کہنے کا فخر حاصل ہو جائے کہ ہم نے حضرت اقدس مسیح موعود کے دعوے کی تصدیق قرآن وحدیث رسول اللہ ﷺ سے چاہی لیکن ان کی جماعت سے کوئی شخص نہ کر سکا تو اب میں آپ سے دریافت کرتا ہوں کہ اگر کوئی شخص یہ کہے کہ خالق باری کی فلاں بیت بہت اچھی ہے تو کیا آپ کہہ سکتے ہیں کہ یہ بیت ہم کو گلستان میں دکھلا دو تو ہم اس کے اچھے ہونے کا اعتبار کر سکتے ہیں یا مثلاً کوئی کہے کہ دارمی یا نسائی کی فلاں حدیث صحیح ہے تو کیا آپ کہہ سکتے ہیں کہ یہ حدیث ہم کو بخاری میں دکھلا دو تو ہم اس کی صحت کے قائل ہو سکتے ہیں یا مثلاً کوئی کہے کہ گورنمنٹ ہند نے فلاں فلاں قانون بہت مفید جاری فرمایا ہے تو آپ کہہ سکتے ہیں کہ یہ قانون ہم کو سلطان روم کے ممالک میں دکھلا دو۔

یا مثلاً کوئی کہے کہ سورہ بقرہ میں آیت الکرسی بہت متبرک آیت ہے تو کیا آپ کہہ سکتے ہیں کہ یہ آیت ہم کو سورہ یٰسین میں دکھلا دو تو ہم اس کی فضیلت کا اقرار کر سکتے ہیں۔ یا مثلاً کوئی کہے کہ زمین پر جو دریا جاری ہیں ان سے مخلوق کو بہت نفع پہنچتا ہے تو کیا آپ کہہ سکتے ہیں کہ یہ دریا ہم کو آسمان پر جاری دکھلا دو تو ہم مان سکتے ہیں اور ان کی نفع رسانی کے قائل ہو سکتے ہیں۔ ان مثالوں کے بیان کرنے سے تو آپ اپنے سوال کا جواب بخوبی سمجھ گئے ہوں گے۔ لیکن یہاں پر آپ کو یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ حضرت اقدس مسیح موعود نے جو دعویٰ مثیل مسیح ہونے کا فرمایا ہے اور جو دلائل وثبوت اس کی تائید میں تحریر فرمائے ہیں تو وہ دلائل وثبوت کسی خاص قوم یا فرقہ کے مقابلہ میں نہیں لکھے گئے ہیں بلکہ تمام دنیا کے کل مذاہب کے لوگوں جیسے یہود و نصاریٰ ہنود وغیرہ اور کل فرقہ کے لوگوں جیسے آریہ، برہمو، مقلد غیر مقلد وغیرہ کو مخاطب ٹھہرایا گیا ہے اور ہر مذہب کے موافق دلائل اور ثبوت پیش کر دیئے گئے ہیں۔

اب ان میں سے ہر شخص ہر مذہب والا اپنے اصول کے موافق استنباط کر کے ان کی رو سے سوال و جواب بحث مباحثہ کر کے اپنی تسکین کر سکتا ہے۔ کیونکہ یہ دعوت عام ہے نہ کہ خاص کسی ایک مذہب کے لوگوں کے لئے لیکن آپ نے ان آیات قرآن مجید اور احادیث رسول اللہ ﷺ سے جو اہل اسلام کے مذہب کے موافق پیش کی گئی ہیں کچھ فائدہ نہ اٹھایا اور ان کو چھوڑ کر اس سوال کو اختیار کیا کہ جو یہودیوں نے کیا تھا جس کی تصدیق توریت اور انجیل سے ہوتی ہے تو اب ہم حیرت میں ہیں کہ آپ کو کس مذہب اور کس فرقہ میں شمار کریں تا وقتیکہ ہم کو آپ سے کوئی دستاویز خاص آپ کے اصل مذہب کی بابت حاصل نہ ہو جائے تب تک ہم آپ کو اپنی رائے سے کسی فرقہ

٣١٩

صفحہ ٦٦٦

میں داخل نہیں کر سکتے اور یہاں پر آپ کو یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ جن کو حق تعالیٰ نے چشم بینا گوش شنوا دل زندہ دماغ روشن عقل سلیم فہم رسا عطا فرمایا ہے۔

وہ ہر ایک حکایت ہر ایک روایت ہر ایک شے ہر ایک ذرہ ہر ایک قطرہ سے عبرت اور نصیحت حاصل کر لیتے ہیں اور جن کی آنکھیں اندھی کان بہرے دل مردے دماغ گندے عقلیں موٹی فہم کوتاہ ہیں ان کا ذکر ہی کیا ہے اور ان کا وعظ و پند میں حصہ ہی کیا ہے وہ تو آیت کریمہ ”ختم اللہ علی قلوبھم وعلی سمعھم وعلی ابصارھم غشاوۃ“ کے تحت میں داخل ہیں۔

دوسرے یہ کہ اس شرط کے لگانے سے ظاہر ہوتا ہے کہ شاید آپ کے نزدیک وہ قول یا فعل یا خبر یا پیشینگوئی خواہ کسی نبی کی ہو یا ولی کی ہو خواہ قبل از نزول قرآن مجید ہوئی ہو یا بعد میں اور خواہ وہ قبل از جمع ہونے احادیث رسول اللہ ﷺ ہوئی یا بعد میں اس وقت تک قابل اعتبار و استدلال نہیں ہے جب تک کہ وہی قول یا فعل یا خبر یا پیشینگوئی ہو بہو لفظ بلفظ قرآن مجید یا احادیث رسول اللہ ﷺ میں آپ کے ملاحظہ اقدس سے گزر نہ دیا جائے اگر آپ کا یہی عقیدہ ہے تو میں کہہ سکتا ہوں کہ اس عقیدے کی رو سے کوئی اہل اسلام کسی فریق مخالف پر فتح نہیں پا سکتا اور حق و باطل میں فرق کر کے نہیں دکھلا سکتا تا وقتیکہ انہیں کی کتابوں انہیں کے قول اور فعلوں اور خبروں سے ان کے دلائل کو توڑ کر ٹکڑے نہ کر دے تو اب بجز اس کے کہ ہم آپ کی اس شرط لگانے کو آپ کی عدم استعداد یا سادہ لوحی پر محمول کریں یا آپ کے کسی حیلہ باطنی پر مبنی سمجھیں اور کیا کہہ سکتے ہیں تیسرے یہ کہ اگر آپ حق کی تلاش اور صدق کے طلبگار ہوتے تو ان امور پر بحث کرتے اور ثبوت مانگتے جن کا حوالہ قرآن شریف اور احادیث رسول اللہ ﷺ سے دیا گیا ہے لیکن آپ نے اس پر کچھ التفات نہ کیا تو اب فرمائیے کہ یہ یہودیت کی مشابہت ہوئی یا نہیں۔ کیا قرآن مجید کی آیتیں آپ کے سامنے پیش نہیں کی گئیں کیا احادیث رسول اللہ ﷺ آپ کے سامنے پیش نہیں کی گئیں۔ کیا اقوال صحابہ، و ائمہ مجتہدین و مجددین آپ کے سامنے پیش نہیں کئے گئے کیا بندگان دین اور اولیاء اللہ کے الہامات و مکاشفات و رویائے صادقہ آپ کے سامنے پیش نہیں کی گئیں کیا عسل مصفیٰ کا مطالعہ آپ نے نہیں کیا۔ کیا آپ نے ان پیش کردہ ثبوتوں پر کچھ توجہ فرمائی۔ کیا آپ نے آیات الٰہی کو قبول کیا۔ کیا آپ نے احادیث رسول اللہ ﷺ کو نظر وقعت سے دیکھا۔ کیا آپ نے اقوال صحابہ و ائمہ و مجتہدین و مجددین کو غور سے پڑھا کیا آپ نے اولیاء اللہ کے الہامات و مکاشفات و رویائے صادقہ پر کچھ غور و خوض کیا ہرگز نہیں کیا بلکہ کچھ بھی نہیں کیا آپ نے تو ان سب کو پس پشت ڈال دیا اور ان سے منہ پھیر لیا۔ افسوس صد افسوس سوجھی تو کیا سوجھی یعنی وہ سوال جو یہودیوں نے

٣٢٠

صفحہ ٦٦٧

پیش کیا تھا اور جس کا رد حضرت عیسیٰ نے کر دیا تھا۔

اسی کو معیار صداقت اور وسیلہ بیعت ٹھہرایا یہی تو یہودیت کی مشابہت یا اور کچھ ہے۔

چوتھی یہ کہ یہودیوں میں وہ کون کونسی صفتیں تھیں جن کی وجہ سے وہ مغضوب علیہم کا نشانہ بن گئے یہی تو نہیں کہ انہوں نے کتب سماویہ میں تحریف وتبدیل کی تھی۔ نبیوں کو جھٹلایا تھا ان کی توہین وتحقیر کی تھی۔ طرح طرح کی بدزبانیوں سے ستایا تھا۔ کافر وملحد ٹھہرایا تھا ان لفظوں کو خوب یاد کر لیجئے اور پھر یہ بھی یاد کر لیجئے اور خوب اچھی طرح یاد کر لیجئے کہ وہ یہودی جن سے یہ حرکتیں وقوع میں آئی تھیں وہ کون تھے اور کس لقب سے مشہور تھے وہ سب عامل بالحدیث تھے اور اہلحدیث کہلاتے تھے جیسا کہ آج کل ہمارے زمانہ میں ایک فرقہ غیر مقلدوں کا ہے جو اپنے آپ کو عامل بالحدیث کہتا ہے اور اہلحدیث ہونے پر بڑا فخر ظاہر کرتا ہے۔

اب آپ ہی ذرا انصاف کر دیجئے کہ یہودیوں کی طرح غیر مقلدوں کا عامل بالحدیث ہونا اور اپنے آپ کو اہلحدیث کہنا یا کہلانا کیا یہ یہودیوں کی مشابہت ہے یا نہیں کیا ان غیر مقلدوں نے یہودیوں کی تقلید کی یا نہیں۔ یہ پہلی صفت یہودیوں کی تھی۔ کہ انہوں نے کتب سماویہ سابقہ میں تحریف کی تھی لفظوں کو بدل دیا تھا معنی کو الٹ پلٹ دیا تھا اور ان اہلحدیث غیر مقلدوں نے قرآن مجید کی سورتوں اور آیتوں کو منسوخ کر دیا۔ آیات قرآن کو احادیث کا تابع بنا دیا۔ وہی معنی چسپاں کئے جن کو احادیث نے قبول کیا۔ ان اسرار وحقائق قرآنی کو رد کر دیا جن سے احادیث نے مخالفت کی مقدم کو مؤخر اور مؤخر کو مقدم کر کے تراشیدہ معنی درست کئے۔ کیا اب بھی ان اہلحدیث نے یہودیوں کی مشابہت کی یا نہیں۔ کیا اب بھی ان اہلحدیث نے کلام مجید کے معجزہ ہونے سے انکار کیا یا نہیں کیا اب بھی ان اہلحدیث نے احادیث کو فرضی قرآن ٹھہرایا یا نہیں۔

تیسری صفت یہودیوں کی یہ تھی کہ انہوں نے ان نبیوں کو جھٹلایا تھا اور ان کی توہین وتحقیر کی تھی اور ان کو بدزبانیوں سے ستایا تھا جو ان کے زمانہ میں موجود تھے اور ان غیر مقلدوں اہلحدیث نے جن کے فرقہ میں شائد آپ بھی شمار کئے جاتے ہیں۔ ان تمام نبیوں اور رسولوں کو جو ابتدائے عالم سے دنیا میں مامور من اللہ ہو کر بحیثیت نبوت یا رسالت بشیر ونذیر ہو کر تشریف لائے جن پر وحی الٰہی وقتاً فوقتاً نازل ہوتی رہی جو احکام الٰہی کی تبلیغ فرما کر اہل عالم کو ہدایت فرماتے رہے جن کی پیروی باعث نجات اور جن کی مخالفت باعث عذاب وعتاب ٹھہری جن کو خلیل اللہ، کلیم اللہ، روح اللہ، حبیب اللہ کا لقب حاصل ہوا۔

صلوٰۃ اللہ علیہم اجمعین اور جن پر کتب سماویہ زبور، توریت، انجیل، قرآن مجید نازل ہوا

٣٢١

صفحہ ٦٩

اور تمام ملائکہ مقربین جن میں حضرت جبرائیل ومیکائیل واسرائیل وعزرائیل علیہم السلام بھی شامل ہیں جن کا اقرار بموجب آیہ کریمہ ”کل آمن باللہ وملائکتہ وکتبہ ورسلہ لا نفرق بین احد من رسلہ“ ہمارا جزو ایمان ٹھہرا کتاب تقویۃ الایمان میں جو ان اہلحدیث کا دستور العمل ہے ان پاک اور مقدس نفوس کو لفظ مخلوق میں شامل کر کے اللہ کی شان کے آگے چمار سے بھی ذلیل بنا دیا تو اب جب کہ ان جلیل القدر نبیوں اور فرشتوں کا یہ مرتبہ ٹھہرا تو صحابہ کرام واولیاء عظام وصالحین و مجتہدین کس حساب میں رہے اور اب ہم نہیں سمجھ سکتے کہ بعد اس عقیدہ مذکور کے یہ غیر مقلد کس درجہ میں شمار کرنے کے قابل ہیں۔

کیا اب بھی آپ کہہ سکتے ہیں کہ ان اہلحدیث نے سنت یہود کو اختیار نہیں کیا۔ کیا اب بھی یہ لوگ یہودیوں سے پیچھے رہ گئے بلکہ یوں کہو کہ منزلوں آگے نکل گئے۔ یہاں تک تو صرف تھوڑا سا ذکر یہودیت کی مشابہت کا کیا گیا ہے۔ اب آگے عیسائیت کی صفات کا ملاحظہ فرمائیے اور وہ یہ ہیں کہ پادریوں بے چاروں نے صرف اس عقیدہ پر اکتفا کیا تھا کہ مسیح صلیب پر چڑھ کر اپنے سچے عیسائیوں کے گناہ کا کفارہ ہو کر تین دن رات ہاویہ میں رہ کر آسمان پر اپنے باپ کے پاس جابیٹھے لیکن یہ اہلحدیث مسلمان عقائد عیسائیت کے نشہ میں آکر کچھ ایسے مست و مدہوش ہوگئے کہ آگے دیکھا نہ پیچھے دوں کی جولی تو جھٹ حضرت عیسیٰ کو جیتے جاگتے اسی جسد عنصری کے ساتھ سیدھا آسمان پر چڑھا دیا۔

اور پھر اسی جسم عنصری کے ساتھ آسمان سے اترنے کے منتظر ہو بیٹھے اور پھر اس پر طرہ یہ کہ خالق الطبع روحی اموات وغیرہ صفتوں سے بھی موصوف کر دیا۔ کیوں نہ ہو سچی عیسائیت اسی کا نام ہے۔ خیر یہاں تک بھی خیریت تھی۔ اب آگے اور سنئے کہ عیسائیوں نے حضرت عیسیٰ کو الوہیت کا ایک جزو قرار دیا اور یہ اہلحدیث جو جوش میں آئے تو دجال میں وہ وہ صفتیں ثابت کر دیں جو کسی مخلوق کو حاصل نہیں ہو سکتیں یہاں تک کہ نعوذ باللہ منہا خدا بنا دیا۔ اگرچہ بظاہر اس کی خدائی کا تو اقرار نہیں کیا لیکن وہ سب صفتیں جو خاص باری تعالیٰ کی ذات پاک سے تعلق رکھتی ہیں۔

اس میں ثابت کر دیں جیسے زندوں کو مارنا مردوں کو جلانا پانی کا برسانا کھیتی کا اگانا وغیرہ وغیرہ اور طرفہ یہ کہ اس کی پیشانی پر کافر بھی لکھا ہوا ہوگا اور باوجود کافر ہونے کے ساری خدائی کے اختیار بھی رکھتا ہوگا۔ اب کہئے کہ یہ مشرکانہ عقائد نہیں ہیں تو کیا ہے یہ نصرانیت کا جوش نہیں تو کیا ہے۔ یہ عیسائیت کی مشابہت نہیں ہے تو کیا ہے اگر اب بھی کچھ کسر باقی رہ گئی ہو تو وہ بھی پوری کرلو تاکہ دل میں کوئی ارمان باقی نہ رہ جائے۔

٣٢٢

اے عقل کے دشمنو! اور اے غافلو! ف کہیں ایسا نہ ہو جو ان عقائد کی وجہ سے یہودیوں ل حسرت وافسوس کے کچھ ہاتھ نہ آئے اب ایک ع ذات باری تعالیٰ کے بعد جو الفاظ تعظیمی مثل جل الفاظ اہل اسلام استعمال کرتے ہیں بجائے ا موزوں کیا ہے جو کہ بنی آدم کے تمام فرقوں م کے ناموں کے بعد خصوصاً مستعمل ہوتا ہے جیسے بابو صاحب، ماسٹر صاحب وغیرہ بلکہ ہندوستا اسی لفظ کے ساتھ مخاطب کیا جاتا ہے۔ اسی طرح سے اہلحدیث اپنی تحری کے لکھتے اور کہتے ہیں کہ اللہ صاحب نے یہ سوچو کہ جناب الٰہی میں یہ کیا گستاخی اور بے ہو کیا تم کو کوئی کلمہ تعظیمی جو شان الٰہی کی ع اللہ ﷺ میں نہیں ملتا تھا جو تم نے اس کلمہ ک اختیار کیا۔ ایسی حالت میں اب بجز اس کے تمہارے دلوں سے ان حجابوں کو دور کرے نیت سے اس پر ایمان لاؤ۔ اب سنو اور نوبت پہنچی اور یہودیت اور عیسائیت میں لوگوں کے مشابہ ہو گئے۔

تب عزت الٰہی جوش میں آئی دین کی سرکوبی کے واسطے حضرت اقدس صدی کے سر پر مجدد ومامور فرما کر کھلے فرمایا۔ الحمد لله رب العالم واصحابه اجمعين اور اسی مؤید سورج، رات، دن، ماہ، سال، قرآن ومجددین الہامات ومکاشفات اولیاء

صفحہ ٦٦٩

اے عقل کے دشمنو! اور اے غافلو! ڈرو خدا سے ڈرو اور اس کے قہر وغضب سے پناہ مانگو کہیں ایسا نہ ہو جو ان عقائد کی وجہ سے یہودیوں کی طرح تم پر بھی طاعون مسلط ہو جائے اور پھر بجز حسرت وافسوس کے کچھ ہاتھ نہ آئے اب ایک طرفہ ماجرا اور سنئے کہ اہلحدیث غیر مقلدوں نے اسم ذات باری تعالیٰ کے بعد جو الفاظ تعظیمی مثل جل شانہ وعم نوالہ وتعالیٰ وعزاسمہ اور مثل اس کے دیگر الفاظ اہل اسلام استعمال کرتے ہیں بجائے ان کے اپنے اختراع وایجاد سے لفظ صاحب کا پیوند کیا ہے جو کہ بنی آدم کے تمام فرقوں کے ناموں کے بعد عموماً اور عیسائیوں اور انگریزوں کے ناموں کے بعد خصوصاً مستعمل ہوتا ہے جیسے علی العموم کہتے ہیں ٹھاکر صاحب، پنڈت صاحب، بابو صاحب، ماسٹر صاحب وغیرہ بلکہ ہندوستان میں اہل یورپ کو بلا اظہار کنیت اور نام کے صرف اسی لفظ کے ساتھ مخاطب کیا جاتا ہے۔

اسی طرح سے اہلحدیث اپنی تحریروں اور اپنے قولوں میں بجائے اللہ جل شانہ وعم نوالہ کے لکھتے اور کہتے ہیں کہ اللہ صاحب نے یہ کہا اور اللہ صاحب نے یوں کہا۔ اے بے ادبو! ذرا تو سوچو کہ جناب الٰہی میں یہ کیا گستاخی اور بے ادبی ہے جو تم اپنے عقائد اور اپنے اقوال سے کر رہے ہو کیا تم کو کوئی کلمہ تعظیمی جو شانِ الٰہی کی عظمت اور جلال کو ظاہر کرتا کلام مجید یا احادیث رسول اللہ ﷺ میں نہیں ملتا تھا جو تم نے اس کلمہ کو جو ادنیٰ ادنیٰ فرقہ کے لوگوں کے واسطے بولا جاتا ہے اختیار کیا۔ ایسی حالت میں اب بجز اس کے ہم اور کیا کہہ سکتے ہیں کہ خداوند کریم تم پر رحم کرے اور تمہارے دلوں سے ان حجابوں کو دور کرے تاکہ تم عظمت الٰہی کو چشم یقین سے مشاہدہ کر کے خالص نیت سے اس پر ایمان لاؤ۔ اب سنو اور غور سے سنو کہ جب اہلحدیث مسلمانوں کی یہاں تک نوبت پہنچی اور یہودیت اور عیسائیت میں یہاں تک غلو کیا کہ بالکل اقوال وافعال ان کے انہیں لوگوں کے مشابہ ہو گئے۔

تب غیرت الٰہی جوش میں آئی اور اس قادر ذوالجلال نے اپنی رحمت خاص سے مفسدان دین کی سرکوبی کے واسطے حضرت اقدس مسیح موعود ومہدی مسعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کو چودھویں صدی کے سر پر مجدد ومامور فرما کر کھلے کھلے آسمانی نشانات کے ساتھ دارالامان قادیان میں نازل فرمایا۔ الحمد لله رب العالمين والصلوة والسلام على رسوله محمد وآله واصحابه اجمعين اور اسی مؤید من اللہ مہدی برحق کے نزول اجلال کی آسمان، زمین، چاند، سورج، رات، دن، ماہ، سال، قرآن مجید واحادیث رسول اللہ ﷺ واقوال صحابہ وائمہ مجتہدین ومجددین الہامات ومکاشفات اولیاء اللہ ورویائے صادقہ بزرگان دین نے جیسا کہ بالتفصیل

٣٢٣

صفحہ ٦٧٠

کتابوں میں درج ہے۔ گواہان دین اور تصدیق کی (دیکھو اگر آنکھیں رکھتے ہو اور سنو اگر کان رکھتے ہو، براہین احمدیہ و ازالہ اوہام و آئینہ کمالات و تحفہ گولڑوی و کشتی نوح وغیرہ کو ) لیکن نہ مانا تو ان اہلحدیث نے یہاں تک کہ جو پچھلا مادہ یہودیت و عیسائیت کا دلوں اور دماغوں میں باقی رہ گیا تھا وہ سب مہمان پر اگل دیا اور جیسا کہ عالم فاضل یہودیوں نے حضرت عیسیٰ کو بدزبانیوں سے ستایا تھا اور فتویٰ کفر کا لگایا تھا۔

اسی طرح اس مثیل المسیح کے مقابلہ میں محمد حسین بٹالوی نے جو کہ بڑا مفسد متعصب غیر مقلد اہلحدیث یہودیت کی رنگت میں سرتاپا غرق ہے فتویٰ کفر کا مرتب کر کے پہلے اپنے استاد نذیر حسین دہلوی سے جو کہ گزشتہ مہینہ میں اپنے نقش قدم پر چلنے والوں کو ضلالت کا سبق دے گئے ہیں۔ مہر کرائی اور پھر اپنے اور ہم سبقوں سے مہریں و دستخط کرا کے شائع کر دیا پھر کیا تھا چاروں طرف سے کفر کے فتوے نکلنے اور گالیوں کی بوچھاڑ ہونے لگی اور اخباروں و اشتہاروں کی تو کوئی حد ہی نہ رہی۔

کوئی گندہ لفظ ایسا نہ رہا جو نہ لکھا ہو کوئی ناپاک فقرہ ایسا نہ رہا جو چھوڑ دیا گیا ہو۔ یہاں تک نوبت پہنچی کہ عیسائیوں سے دعویٰ قتل کا کرا دیا اور خود اہلحدیث بن کر عیسائیوں کی طرف سے عدالت میں گواہی کو جا موجود ہوئے۔ جس سے بجز ذلت اور ناکامی کے کچھ فائدہ نہ اٹھایا دیکھو کتاب البریہ تا کہ تم لوگوں کی آنکھیں کھلیں اور خواب غفلت سے بیدار ہو اب سچے دل اور پاک نیت سے خوب غور کر کے دیکھو کہ کیا یہی تعلیم قرآنی ہے۔ کیا یہی اسلام کی نشانی ہے کیا احادیث سرور عالم فخر بنی آدم ﷺ کا یہی منشاء ہے۔ کیا اس کا نام عامل بالحدیث ہوتا ہے جو غیر مقلدوں سے سرزد ہوا ہے کیا اب بھی ان اہلحدیث کے اقوال و افعال اور دلوں اور باتوں اور زبانوں اور آنکھوں اور کانوں اور چہروں اور مہروں سے یہودیت نہیں ٹپکتی کیا اب بھی ان اہلحدیثوں کی تحریروں اور گفتگوؤں اور عقائد مشرکانہ اور حرکات جاہلانہ سے عیسائیت نہیں برستی۔

کیا اب بھی کوئی شبہ باقی ہے یا اب بھی انکار کا کوئی موقع ہے اور اس بات کو خوب سمجھ لو کہ یہ سلسلہ احمدیہ خدا کی طرف سے ہے اور اس کا خدا خود مددگار ہے۔ کوئی اس کو مٹا نہیں سکتا کوئی اس کو روک نہیں سکتا۔ مخالفوں نے کیا کچھ زور نہیں لگائے۔ کیا کچھ فکریں نہیں کیں۔ آخر کو وہی ہوا جو خدا نے چاہا دن دوگنی رات چوگنی ترقی ہوتی گئی۔ یہاں تک کہ اب ایک لاکھ سے بھی زیادہ نوبت پہنچ گئی ہے اور روز ترقی افزوں ہوتی جاتی ہے ڈرو اس خدا سے جو سب پر غالب ہے ڈرو اس خدا سے جس کا عذاب سب عذابوں سے بڑھ کر ہے۔ وہی وقت قریب ہے جو طاعون سے

٣٤٤

یہودیوں پر گزر چکا ہے۔ اب وہی وقت قریب ہے جس کا برحق ہے اور عبرت پکڑو امت سابقہ سے تاکہ لفظ بلفظ نقل کر کے اس کا جواب لکھتا ہوں۔ ح سے اس کا جواب سمجھ لیجئے گا اور دھیان لگا کر ہیں کہ (س) جو موجودہ حالت اسلام کی ہے امت کی (ج) اول تو یہ فرمائیے کہ کس تحریر ترک کر کے مطلب شروع کر دینا یہ طریقہ روے بسم اللہ الرحمن الرحیم کے فضائل کا انک اللہ تعالیٰ کی تعریف کرنی اور ر اس کا جواب آپ کے ذمہ ہے اور دوسر۔ ہیں وہ یہی ہیں یا کچھ اور کہ جو حالت خراب تبھی یہودیوں کی ہوئی نہ عیسائیوں کی نہ اسلام کی یہودیوں اور عیسائیوں سے بھی اور خرابی کو پہنچا رہے ہیں۔ اور اس کو یہودیت اور عیسا ضرورت ہی کیا ہے۔ یہ عجب معاملہ ۔ حالت سے بدتر ٹھہراؤ اور خود ہی دوسر یہ طرز تحریر کہاں سے سیکھی ہے کہ جس معنے جو کہ میں نے بیان کئے ہیں۔ آپ قائم کر رکھا ہے۔ مغائرت ظاہر کر۔ ہوتے ہیں ظاہر کر دیجئے۔ اور اگر آپ ظاہر نہ کر سکے اور مولوی صاحب یا طالب علم صا صاحب یا طالب علم صاحب اپنی ت زمانہ میں ہو جاتے تو بحث سے خا

صفحہ ٦٧١

یہودیوں پر گزر چکا ہے۔

اب وہی وقت قریب ہے، جس کا وعدہ ہو چکا ہے پس نصیحت حاصل کرو اقوال انبیاء برحق سے اور عبرت پکڑو امت سابقہ سے تاکہ مومنوں میں شمار کئے جاؤ۔ اب میں آپ کے سوال کو لفظ بلفظ نقل کر کے اس کا جواب لکھتا ہوں۔ حرف (س) سے اپنے سوال کی عبارت اور حرف (ج) سے اس کا جواب سمجھ لیجئے گا اور دھیان لگا کر ہمہ تن چشم ہو کر خوب غور سے پڑھیے گا۔ آپ فرماتے ہیں کہ (س) جو موجودہ حالت اسلام کی ہے۔ کبھی نہ یہودیوں کی ہوئی نہ عیسائیوں کی نہ اور کسی امت کی (ج) اول تو یہ فرمائیے کہ کس تحریر کے آغاز میں بسم اللہ الرحمن الرحیم نہ لکھنا اور حمد ونعت کو ترک کر کے مطلب شروع کر دینا یہ طریقہ یہودیوں کا ہے اور عیسائیوں کا یا اہل اسلام کا اس تحریر کی رو سے بسم اللہ الرحمن الرحیم کے فضائل کا انکار آپ نے کیا یا نہیں؟ اللہ تعالیٰ کی تعریف کرنی اور رسول اللہ ﷺ پر درود بھیجنے کو واجب الترک سمجھا یا نہیں اس کا جواب آپ کے ذمہ ہے اور دوسرے جو معنے اس فقرہ کے مناسب الفاظ سے مترشح ہوتے ہیں وہ یہی ہیں یا کچھ اور کہ جو حالت خراب سے خراب اس وقت اسلام کی موجود ہے یہ حالت نہ کبھی یہودیوں کی ہوئی نہ عیسائیوں کی نہ اور کسی امت کی جس کا ماحصل یہ ہوا کہ موجودہ حالت اسلام کی یہودیوں اور عیسائیوں سے بھی بری ہے تو اب کہئے کہ جب آپ خود ہی اسلام کو اس ذلت اور خرابی کو پہنچا رہے ہیں۔

اور اس کو یہودیت اور عیسائیت سے ذلیل اور بدتر ٹھہرا رہے ہیں تو پھر اب اور شواہد کی ضرورت ہی کیا ہے۔ یہ عجب معاملہ ہے کہ خود ہی تو اسلام کی حالت کو یہودیوں اور عیسائیوں کی حالت سے بدتر ٹھہراؤ اور خود ہی دوسروں سے اس کا ثبوت مانگو۔ ہم نہیں سمجھ سکتے ہیں کہ آپ نے یہ طرز تحریر کہاں سے سیکھی ہے کہ جس کے ہر لفظ سے یہودیت اور عیسائیت کا جوش ہے اور اگر یہ معنے جو کہ میں نے بیان کئے ہیں۔ آپ کے نزدیک اس مفہوم سے جس کو آپ نے اپنے ذہن میں قائم کر رکھا ہے۔ مغائرت ظاہر کرتے ہوں تو آپ کو چاہئے کہ وہ معنے جو کہ ان الفاظ سے پیدا ہوتے ہیں ظاہر کر دیجئے۔

اور اگر آپ ظاہر نہ کر سکتے ہوں یا لکھ نہ سکتے ہوں تو اپنے استاد مولوی محمد صاحب یا کسی اور مولوی صاحب یا طالب علم صاحب سے لکھوا کر ان کے دستخط کرا لیں تاکہ آئندہ وہ مولوی صاحب یا طالب علم صاحب اپنی قابلیت کی داد پانے سے محروم نہ رہیں۔ (س) ہاں کسی آئندہ زمانہ میں ہو جائے تو بحث سے خارج ہے۔ (ج) اب ان دونوں فقروں کے ملانے سے یہی

٣٢٥

صفحہ ٦٧٢

مطلب ہوا یا کچھ اور کہ یہ خراب حالت اسلام کی جو اس وقت موجود ہے اگر آئندہ کسی زمانے میں یہودیوں اور عیسائیوں کی افضل اور عمدہ حالت کے مانند ہو جائے تو وہ بحث سے خارج ہے یعنی وہ ذکر سننے کے قابل نہیں ہے۔

افسوس صد افسوس آپ کی اس عقل رسا اور خوبی فہم و ذکا کی کہاں تک تعریف کی جائے اور کہاں سے الفاظ قابل مدح لائے جائیں بقول شخصے

اے ز فہم و عقل و دانش دور تر
آنچہ میگوئی بگوئی طرفہ تر

(س) اگر کسی کو دعویٰ ہو تو آیت یا حدیث صحیح قابل اعتبار سے ثابت کیا جائے (ج) یہ بھی عجیب فقرہ ہے نہیں معلوم ہوا کہ آپ کے ذہن شریف میں آیت کس کا نام ہے اور حدیث آپ کس کو کہتے ہیں آیا زبور کی آیت مراد ہے یا توریت کی یا انجیل کی یا فرقان حمید کی یا اور کوئی نشان اور حدیث سے حدیث سردار اولین و آخرین خاتم الانبیاء حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ مقصود ہے یا اور کسی انبیاء اولیاء بزرگ مشائخ کے اقوال اول تو یہی نہیں ثابت ہوتا ہے کہ جس دعوے کا ثبوت آپ مانگتے ہیں وہ کونسا دعویٰ ہے آیا وہ یہی دعویٰ ہے کہ جو آپ نے اپنی اس تحریر میں اسلام کی موجودہ حالت کی نسبت ظاہر کیا ہے۔ یا کچھ اور ہے اگر یہی دعویٰ ہے تو اس کو آپ خود ثابت کر چکے ہیں۔ دوسروں سے اس کے ثبوت مانگنے کی کیا ضرورت ہے اور آپ کو اپنے دعوے کی تائید کرانا منظور ہے تو کسی اپنے ہم عقیدہ و غیر مقلد وغیرہ کو تلاش کر لیا ہوتا تا کہ یک نہ شد دو شد کا مصداق ہو جاتا اور اگر کوئی اور دعویٰ ہے کہ جو ابھی آپ کی زبان اور قلم سے نہیں نکلا ہے اور روز ازل سے اب تک آپ کے دماغ میں بند ہے تو کوئی اس کا ثبوت بھی کیا دے سکتا ہے اور آپ کے فرضی خیالوں اور ذہنی سوالوں کا جواب ہی کہاں سے لا سکتا ہے۔

اور دوسرے یہ کہ آپ کے الفاظ حدیث صحیح قابل اعتبار سے یہ واضح ہوتا ہے کہ شاید آپ کے نزدیک بہت سی حدیثیں ایسی بھی ہیں کہ جو باوجود صحیح ہونے کے بھی اعتبار کے قابل نہیں ہیں۔ ورنہ حدیث صحیح کے بعد لفظ قابل اعتبار کا استعمال کرنا کیا معنی رکھتا ہے اگر آپ کا عقیدہ یہی ہے جیسا کہ ان الفاظ سے ثابت ہوتا ہے۔ تو بجز اس کے کہ ہم آپ کو خدائے رحیم و کریم کی حفظ و امان میں سپرد کر دیں اور کچھ نہیں کہہ سکتے (س) اور یہاں اس امر پر بحث ہے کہ توریت میں لکھا ہے ( کہ ایلیا نبی آسمان سے اترے گا بعد کو عیسیٰ آئے گا ) (جواب) یہاں پر یہ نہیں معلوم ہے کہ آیا اس عبارت کا توریت میں لکھا ہوا ہونا آپ خود ہی بیان کر رہے ہیں یا کسی کتاب کی نقل کر رہے

٣٢٦

صفحہ ٦٧٣

ہیں یا کسی کا قول ثابت کر رہے ہیں یا کیا لکھ رہے ہیں۔

یہاں پر وہی مثل صادق آ رہی ہے کہ من بسے سپنے ڈسے ایک حضرت عیسیٰ کے آسمان سے اترنے کے آپ کیا منتظر ہیں کہ بے اختیار ہر شخص کی نسبت آسمان سے اترنے کا لفظ خود بخود زبان پر جاری ہو جاتا ہے کہ خواہی نخواہی کوئی ہو اور کچھ ہی ہو۔ لیکن آپ اس کو آسمان ہی سے اتارنا چاہتے ہیں۔ بھلے آدمی یہ تو دیکھا ہوتا کہ یہ خبر کتابوں میں کن الفاظ کے ساتھ لکھی ہوئی ہے اور اس کا مطلب کیا ہے یا یوں ہی بے سوچے سمجھے زمین آسمان کے قلابے ملانے لگے۔

(س) جواب عیسیٰ یوحنا یعنی یحییٰ مماثلت کی شکل میں آچکے (ج) اس فقرہ کی بھی وہی حالت ہے اول تو یہی نہیں ظاہر ہوتا کہ اس جواب کی صدا آپ کے کان میں کہاں سے آگئی اور ان الفاظ کا سبق آپ کو کس نے پڑھا دیا تو اس ہاتف غیبی کا نام لینا چاہئے تھا۔ جس نے یہ اعجاز بھری آواز آپ کو سنائی اور یا اس استاد شفیق کا ذکر کرنا چاہئے تھا جس نے یہ سبق دل کشا آپ کو پڑھایا اگر آپ کسی لکھے پڑھے سے اپنی تحریر میں اصلاح لے لیتے یا خود سوچ سمجھ کر خدا کا نام لے کر یا کسی کتاب کو اپنے سامنے رکھ کر اس سے نقل کر لیتے تو اس تحریف کے الزام کے نیچے نہ آتے جو یہودیوں اور عیسائیوں سے خصوصیت رکھتا ہے۔

اب بجز اس کے کہ آپ یہودیوں اور عیسائیوں کی مماثلت کا اقرار کریں اور کچھ چارہ نہیں ہے اور دوسرے یہ کہ جو آپ نے حضرت عیسیٰ اور حضرت یحییٰ علیہم السلام کے نام پر اس شکل کا (ع) حرف عین بنا دیا ہے اس کا مطلب سمجھ میں نہیں آتا کیونکہ بسم اللہ الرحمن الرحیم اور حمد خدا اور صلوٰۃ رسول اللہ ﷺ کو تو پہلے ہی آپ ترک کر چکے تھے اب حرف سلام کا لفظ رہ گیا تھا جو انبیاء علیہم السلام کے نام کے بعد اہل اسلام لکھا کرتے ہیں۔ اس سے بھی منکر ہو گئے اور تحیۃ خداوند کریم اور تعظیم و تکریم انبیاء علیہم السلام سے پورا پورا انحراف ثابت کر دیا کیوں نہ ہو یہی غیرت اسلام اور تقاضائے ایمان ہے اور یا اس حرف (ع) کے لکھ دینے سے آپ کا منشاء یہ ہے کہ اس اشارہ کو سمجھ کر جس کا جی چاہے اور علو درجات مبعوث در رسالت کا قائل ہو وہ سلام بھیج دیوے اور جس کا جی چاہے وہ اس کو علامت عیب سمجھ کر نہ بھیجے۔

اگر آپ کا مطلب یہ نہ ہوتا اور حضرت عیسیٰ اور حضرت یحییٰ علیہم السلام کی کچھ عزت اور وقعت آپ کی نظروں میں ہوتی تو ضرور تھا کہ ان کو لفظ سلام سے محروم نہ رکھتے اور یا اس حرف (ع) کے لکھنے سے آپ کا مطلب یہ ہے کہ دراصل تو آپ کو لفظ سلام سے نفرت یا انکار ہے لیکن اس خوف سے کہ شاید کوئی مسلمان اہل ایمان اعتراض کر بیٹھے یہ اشارہ کر دیا تا کہ اس وقت یہ کہنے

٣٢٧

صفحہ ٦٧٤

کا موقع مل جائے کہ ہم نے علیہ السلام کا اختصار کر کے حرف (ع) تو لکھ دیا تھا اور اپنے دل میں بھی کہہ لیا تھا گو پورا نہیں لکھا تو کیا ہوا۔

آیت حدیث سے یہ بھی درست ہے (س) لہٰذا میں سچا ہوں (ج) اب یہاں پر لہٰذا کے بعد جو لفظ کا واقع ہوا ہے وہ بھی عجب شان کے ساتھ استعمال کیا گیا ہے نہیں معلوم کہ اس میں سے مراد آپ کی ذات شریف ہے یا آپ کے ذہن میں کوئی اور ہے جس کی صراحت آپ اپنے کسی تقاضائے باطنی کی وجہ سے نہ کرسکے ایسے بے جوڑ فقرہ گھڑنا اور ایسے بے تکے لفظ میں لکھنا بس آپ ہی کا کام اور آپ ہی کا حصہ ہے۔

(س) اگر آیت یا حدیث سے یہ بات ثابت ہوگئی (ج) نہیں معلوم کہ آپ یہاں پر کس بات کا ثبوت مانگتے ہیں۔ آیا ان لفظوں کا ثبوت مانگتے ہیں جو آپ نے لکھے ہیں یا اس خبر کا ثبوت مانگتے ہیں جو توریت و انجیل سے ثابت ہوتے ہیں اور وہ آیت وحدیث جس سے آپ ثبوت چاہتے ہیں آپ کے ذہن شریف میں کونسی ہے کیونکہ توریت کی آیت اور حضرت عیسیٰ کا قول وحدیث ہونا تو خود آپ کی تحریر ہی سے ثابت ہے اور اگر آپ کو سوا اس کے اور کسی آیت یا حدیث کی تلاش تھی تو صراحت کے ساتھ اسکا ذکر کرنا چاہئے تھا یا اشارتاً کنایتاً بتانا چاہئے تھا یا یوں ہی جیسے کورے کاغذ آپ پڑھتے ہو ویسے ہی دوسروں سے پڑھوانا چاہتے ہو اور اگر آپ کا مطلب یہ ہے کہ ہمارے تراشیدہ الفاظ قرآن مجید یا احادیث رسول اللہ ﷺ میں نکل آئیں تو آپ کی اس مراد کو تو بجز خدائے غالب کے کہ وہ ہر شے پر قادر ہے اور کوئی پورا نہیں کر سکتا اور اگر آپ یہ چاہتے ہیں کہ یہ خبر آیات قرآن شریف یا احادیث رسول اللہ ﷺ سے انہیں الفاظ مندرجہ توریت وانجیل کے ساتھ ثابت ہو جائے تو اس کے واسطے پہلے آپ کو یہ ثابت کرنا چاہئے کہ کتب سابقہ سماویہ کی خبریں اور پیشینگوئیاں اور کل اقوال اور کل مسائل ہو بہو قرآن شریف یا احادیث رسول اللہ ﷺ میں پائی جاتی ہوں اور جب آپ یہ ثابت کر دیں گے تو آپ کا سوال خود بخود حل ہو جائے گا اور کسی سے کچھ پوچھنے اور ثبوت مانگنے کی ضرورت نہ رہے گی۔

(س) تو بلا کسی عقیدہ پر جرح کرنے کے میں بیعت مرزا قادیانی کی کرلوں گا (ج) آپ نے اپنی خوبی فہم سے اس ایک عقیدہ پر جرح کر کے جو نتائج پیدا کئے ہیں۔ ان میں سے کچھ تھوڑے بطور مشتے نمونہ از خروارے اس مختصر میں لکھ کر آپ کے سامنے پیش کر دیئے گئے ہیں اور اگر آپ کا جی چاہتا ہے تو آئندہ کسی اور دوسرے عقیدہ پر جرح کر کے ارمان نکال لیجئے تاکہ کوئی آرزو دل کی دل میں باقی نہ رہ جائے اور اس کو خوب یاد رکھئے کہ آپ یا آپ کے ہم عقیدہ مولویوں

٣٢٨

٦٥

کے پاس کوئی دلیل عقلی یا نقلی ایسی نہیں ہے کہ جـ کر کے ان کو آسمان سے اتار سکیں بجز اس کے کـ اللہ ہونے کا اقرار کر کے سلسلہ بیعت میں داخل ہـ

منت آنچہ حق
تو دانی وگر بحـ

فقط راقم محمد شـ مورخہ ٩ نومـ

جواب

از جانب ابو السخاء محمد رفعت اللہ خا

بسم اللہ الرحمن الرحیم

سو میں نے باتوں باتوں میں اپنے معزز مـ مقابل شرافت اللہ خان نے بغیر غور فرمائے ہـ جو صراط مستقیم پر ہے سخت الفاظی سے یاد فرمایا کا جواب لکھ کر اپنے قلم کو خراب کرنا نہیں چا جواب لکھتا ہوں۔ مجھ کو فرقہ احمدیہ سے سخت کے دعوے کے خلاف ہیں۔

ان کا اور نیز مرزا قادیانی کا دعـ چاہئے اور اکثر قادیانیوں سے بھی یہ سنا گـ صاحب سے ظاہر رہے اوّل پوری حقیقت جیسا کہ میں اوپر ظاہر کر آیا ہوں کہ وہ میرـ اور وہ بہت خلق اور مہربانی سے (باوجود مخـ عقیدہ میں گفتگو بھی ہوئی (اس کا ظاہر کر سے خود فیصلہ کر لے کہ کس کو زک ہوئی) کہ ہمارے بھائی مسلمان بالکل یہودیو وہی عادات اختیار کر رہے

صفحہ ٦٧٥

کے پاس کوئی دلیل عقلی یا نقلی ایسی نہیں ہے کہ جس سے وہ حضرت عیسیٰ کی حیات دنیوی ثابت کر کے ان کو آسمان سے اتار سکیں بجز اس کے کہ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ کے مامور من اللہ ہونے کا اقرار کر کے سلسلہ بیعت میں داخل ہو جائیں اور کوئی ملجا و ماویٰ نہیں ہے۔

منت آنچہ حق بود گفتم پیام
تو دانی وگر بعد ازیں والسلام

فقط راقم محمد شرافت اللہ خان مورخہ ٩ نومبر ١٩٠٢ء عیسوی

جواب الجواب

از جانب ابوالسخا محمد رفعت اللہ خان ضلع شاہجہان پور محلہ اللہ نمبر مکان ٢٤

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم، نحمدہ ونصلی علیٰ رسولہ الکریم ! ایک سوال میں نے باتوں باتوں میں اپنے معزز مہربان مرزا قادیانی سے کیا تھا۔ اس کا جواب میرے مقابل شرافت اللہ خان نے بغیر غور فرمائے ہوئے اور حالت واقعی کو چھپا کر لکھا اور فرقہ اہلحدیث کو جو صراطِ مستقیم پر ہے سخت الفاظی سے یاد فرمایا جو کچھ انہوں نے سخت الفاظی سے کام لیا ہے میں اس کا جواب لکھ کر اپنے قلم کو خراب کرنا نہیں چاہتا۔ ہاں چند دلائل فاسد جو ان کے طبع زاد ہیں ان کا جواب لکھتا ہوں۔ مجھ کو فرقہ احمدیہ سے سخت تعجب ہے کہ ان کے قلم سے وہ الفاظ نکلتے ہیں جو ان کے دعوے کے خلاف ہیں۔

ان کا اور نیز مرزا قادیانی کا دعویٰ ہے کہ ہم کو اور ہمارے مطیعوں کو سخت الفاظی نہ کرنا چاہئے اور اکثر قادیانیوں سے بھی یہ سنا گیا مگر وہ اس پر عامل نہیں جیسا کہ پرچہ شرافت اللہ خان صاحب سے ظاہر ہے اوّل پوری حقیقت لکھ دینا واجب ہے کہ میں نے سوال کیوں پیش کیا تو سنئے جیسا کہ میں اوپر ظاہر کر آیا ہوں کہ وہ میرے مہربان ہیں میں اکثر ان کی دکان پر جا کر بیٹھتا ہوں۔ اور وہ بہت خلق اور مہربانی سے (باوجود عقیدہ میں خلاف ہونے کے) پیش آتے ہیں بارہا ان سے عقیدہ میں گفتگو بھی ہوئی (اس کا ظاہر کرنا فضول ہے کہ وہ ہارے یا میں؟ پبلک جانبین کی تحریروں سے خود فیصلہ کر لے کہ کس کو زک ہوئی) ایک روز گفتگو ہوتے ہوتے قادیانی صاحب فرمانے لگے کہ ہمارے بھائی مسلمان بالکل یہودیوں کی چال پر چلتے ہیں۔

وہی عادات اختیار کر رہے ہیں جو یہودیوں کے تھے اور ہمارے امام برحق کا وہی

٣٢٩

صفحہ ٦٧٦

معاملہ ہے جیسا کہ عیسیٰ کا تھا میں نے عرض کیا کہ بالکل غلط ہے ایسا نہیں ہے اور وہ کون سا دعویٰ عیسیٰ کا تھا اور یہودیوں نے کیا نہ مانا، تو فرمایا کہ توریت میں لکھا ہے کہ ایلیا نبی آسمان سے اترے گا اس کے بعد عیسیٰ آئے گا مگر ایلیا نبی نہیں اترے اور یوحنا یعنی یحییٰ نے دعویٰ کیا بعدہ عیسیٰ نے دعویٰ کیا اور عیسیٰ نے فرمایا (کہ یوحنا وہی ایلیا ہے جس کی خبر توریت میں تھی چاہو مانو یا نہ مانو) انجیل میں لکھا ہے پس یوحنا ایلیا ہو کر آئے مگر یہود ظاہر معنوں پر عامل رہے اور تین نبیوں کا اس غلط فہمی سے انکار کیا۔ اسی طرح ہمارے نبی ﷺ نے فرمایا کہ عیسیٰ اترے گا تو یہ حقیقی معنی یہ نہیں ہے بلکہ مجاز پر ہے یعنی ہمارے امام مرزا قادیانی مثیل ہو کر آئے۔

میں نے عرض کی جناب یہ حجت یہود و نصاریٰ پر پیش کیجئے جو کہ توریت و انجیل کو مانتے ہیں ہم سے کیا غرض ہم تو ان کو محرفہ کہتے ہیں ہمارے نزدیک ان میں تحریف ہے۔ ہم کہتے ہیں کہ یہ پیشنگوئی بھی ملا دی گئی ہوگی یا اصل توریت میں اور کچھ یہود نے اور کچھ کر دیا ہو۔ لہٰذا ہم نہیں مان سکتے۔ گفتگو کو طول ہوا یہاں تک کہ میں نے عرض کی کہ آپ اس امر کو حدیث یا آیت سے ثابت کر دیں کہ توریت میں جو کچھ ہے یا یہی پیشینگوئی بایں الفاظ ٹھیک ہے۔ یا انجیل میں اس کا جواب درست ہے تو میں بغیر جرح کے کسی دوسرے عقیدہ پر مرزا قادیانی سے بیعت کرلوں گا تو ہمارے اس قادیانی صاحب نے فرمایا کہ اگر کوئی قوت ثابت کرنے کی نہ رکھتا ہو تو میں نے کہا کہ دوسرے سے دریافت کر کے بتادے تو فرمایا کہ اگر آپ اپنے قول سے انکار کر جائیں۔

تو میں نے عرض کیا کہ لاؤ قلم دوات کاغذ میں لکھ دوں چنانچہ میں نے چند سطریں انہیں کی بتائی ہوئی پیشینگوئی کے متعلق لکھ دیں مجھ کو ہرگز یہ نہ معلوم تھا کہ انجیل میں کیا ہے اور توریت میں جو کچھ اس قادیانی نے پیشینگوئی کے متعلق فرمایا لکھ دیا۔ خان صاحب اگر الفاظ پیش گوئی پر جرح کرتے ہیں تو واپس لیں یا مرزا قادیانی سے طالب جواب ہوں اور انکار اس پیشینگوئی کا اس وجہ سے کیا کہ توریت و انجیل محرفہ ہیں جس کے خان صاحب بھی قائل ہیں اور بندہ کے پاس کافی ثبوت ہے جو آگے لکھا جائے گا۔

اور بسم اللہ اور درود نہ لکھنے کی وجہ یہ کہ ایسے موقعوں پر جلدی میں اس کا خیال نہیں رہتا عموماً خطوط دیکھے جائیں فیصدی ایک میں شاید اس کا التزام ہو دوسرے اس کا لکھنا فرض و واجب نہیں ۔ تارک اس کا گنہگار نہ ہوگا اور اگر ہو تو ہمارے مقابل ثابت کریں۔

تیسرے یہ کہ میں نے زبان سے کہا تھا لکھنا ضروری نہیں۔ زبان سے کہنا کافی اس کا کیا ثبوت کہ میں نے زبان سے نہیں کہا تھا۔ اور وہ سطریں یہ ہیں (جو موجودہ حالت اسلام کی ہے

٣٣٠

صفحہ ٦٧٧

کبھی نہ یہودیوں کی ہوئی نہ عیسائیوں کی نہ اور کسی امت کے ہاں کسی آئندہ زمانہ میں یہی شکل ہو جائے تو بحث سے خارج ہے اگر کسی کو دعویٰ ہو تو آیت یا حدیث صحیح قابل اعتبار سے ثابت کیا جائے۔ فقط راقم رفعت اللہ خان عفی عنہ بقلم خود) اتنا لکھ کر میں نے اس قادیانی کو دیا تو اس قادیانی نے فرمایا کہ تو نے پیشینگوئی جس کے متعلق گفتگو تھی نہ لکھی۔

ممکن ہے کہ تو انکار کر جائے اور کہے یہ نہیں یہ گفتگو تھی تو میں نے کہا ہاں میری گفتگو اسی سے ہے۔ مجھے اور معاملہ سے بحث نہیں مگر مجھ کو وہ پیشینگوئی معلوم نہیں جو لکھوں تو کہا میں بتاتا ہوں لکھو۔ چنانچہ انہوں نے فرمایا اور میں نے لکھا بایں الفاظ (اور یہاں اس امر پر بحث ہے کہ توریت میں لکھا ہے (کہ ایلیا نبی آسمان سے اترے گا بعدہ عیسیٰ آئے گا، جواب عیسیٰ، یوحنا یعنی یحییٰ مماثلت کی شکل میں آچکے، لہٰذا میں سچا ہوں) اگر آیت یا حدیث سے یہ بات ثابت ہو گئی تو بلاکسی دوسرے عقیدہ پر جرح کرنے کے بغیر میں بیعت مرزا قادیانی کی کرلوں گا فقط راقم رفعت اللہ (خان عفی عنہ) کاش کہ ہمارے خان صاحب موصوف مرزا قادیانی سے دریافت کر کے لکھتے تو ان کو غلطی نہ ہوتی۔

یہی واقعہ بے کم و کاست ہے جو میں نے نقل کیا۔ یہ قادیانی قسم کھا کر کہہ دیں کہ ایسا نہیں ہوا تھا یہاں پھر اس قادیانی نے دوسرے روز مجھ سے فرمایا کہ آیت وحدیث میں اس کا ذکر نہیں ہے۔ اب کوئی اور مسئلہ دریافت کرو میں نے کہا کہ میرے سوال کے جواب میں لکھ دو کہ اس کا ثبوت آیت وحدیث سے نہیں ہے تو پھر اور سوال کروں۔ بہت عرصہ کے بعد اس کا جواب لاکر دیا جس کا جواب الجواب یہ ہے نہ میری خان صاحب سے گفتگو تھی نہ ان کو سمجھانا مقصود تھا ورنہ ان کے فہم عالی کے موافق لکھتا جس کو سمجھانا مقصود تھا۔ وہ میرا مطلب سمجھ گیا تھا وہ قادیانی قسم کھا کر کہہ دیں کہ میں نہیں سمجھا تھا وہ کہہ دیں کہ تیری مراد آیت سے آیت قرآنی یا حدیث سے حدیث نبوی ﷺ نہ تھی یہ الفاظ تو ایسے معروف ہیں کہ ہر ایک بچہ اہل اسلام کا سمجھ لیتا ہے۔ تعجب ہے کہ خان صاحب نہ سمجھے۔

اول ہم جماعت قادیانیہ ہی کی کتابوں سے انجیل و توریت کا محرف ہونا ثابت کرتے ہیں۔ پھر خان صاحب کے دلائل کی طرف توجہ کریں گے۔ سراج الدین جس کا دوسرا نام برہان الحق ہے از تصنیف شیخ عبدالحق صاحب طالب علم بی اے مرزائی اس میں لکھا ہے نمبر ١٦ از سوالات ٢٨ کہ چاروں اناجیل میں کیوں اختلاف ہے اگر خدا کے کلام میں فرق ہو تو انسان کا کلام کیوں ناحق ٹھہرتا ہے۔ عماد الدین اپنی تفسیر میں لکھتا ہے کہ تالاب کے قصہ والا باب الحاق ہے۔ کیا

٣٣١

صفحہ ٦٧٨

آپ اسے سچ خیال کرتے ہیں جس کتاب کا ایک باب الحاق ثابت ہو گیا تو اس کے تمام بابوں پر بھی یہی شک لازم آتا ہے نمبر ١٧ر کیا ساری بائبل الہامی ہے اور کوئی انسانی ملاوٹ اس میں نہیں۔ اس حالت میں کیا ضرورت ہر بار ہوتی ہے کہ نیا سے نیا ترجمہ کیا جائے الہام تو وہی پرانا ہو اور اسے بدل بدل کر نئے الفاظ میں پیش کیا جائے تو کیا اس کی خوبی فوت نہ ہوگی۔ نمبر ١٨ر لکھا ہے کہ ایک رتی ایمان کے ساتھ عیسائی پہاڑوں کو ہلا سکیں گے اگر یہ الہامی ہے تو کس زمانہ میں ایسا ہوا اور کس نے پہاڑوں کو ہلایا۔

اگر کوئی دعویٰ کرے تو ہمیں ایک تنکا ہلا کر دکھائے۔ اگر الہامی نہیں تو تحریف کسے کہتے ہیں نمبر ١٩ر یوحنا میں لکھا ہے کہ اگر مسیح کے کام لکھے جاتے تو اس دنیا میں سما نہ سکتے۔ یہ بھی الہامی ہے۔۔۔۔۔۔۔الخ۔ نمبر ٢١ر پولوس نے چند رسومات کا ذکر کیا ہے۔ سوال ہے کہ مسیح کے مرنے کے بعد اور پولوس کے عیسائی ہونے تک کونسی الہامی تعلیم اس بات میں تھی۔ ثابت کرو کہ پولوس ملہم تھا۔ متی کی انجیل اکثر اشخاص اس بات پر متفق ہیں کہ متی نے اپنی انجیل عبرانی زبان میں لکھی۔ برخلاف اس کے اکثر یہ بھی کہتے ہیں کہ ہماری موجودہ انجیل جو یونانی ہے عبرانی سے ترجمہ نہیں کی گئی بلکہ پہلا نسخہ یونانی ہی میں تھا۔

کیا متی نے دو انجیلیں لکھیں یا پہلے مصنفوں کو اس کے عبرانی خیال کرنے میں غلطی ہوئی یا وہ عبرانی نسخہ جس کا انہوں نے ذکر کیا، جعلی تھا۔ زمانہ کے بعد مصنفوں نے ایک کتاب بنام عبرانی کی انجیل لکھا جسے کلیسیا نے نامنظور کیا لیکن یہودا کے فرقہ نے قبول کیا۔ حوالہ دیا ہے اور اس کی عبارت بھی اخذ کی ہے بعض حصص اس انجیل کے اب تک موجود ہیں۔ لیکن ہماری انجیل کے ساتھ نہیں ملتی۔ متی کی انجیل، یوحنا یا لوقا کی انجیلوں کی طرح تدبیر و تفکر سے نہیں لکھی گئی اور اسی لئے پہلے بزرگوں نے اس کا نام سومیٹک یعنی جسمانی انجیل رکھا ہے۔ ایڈیٹر صاحب کیوں اپنے بھائیوں کے جھگڑے کا فیصلہ نہیں کرتے انجیل نویسی تو فریب دہندہ نہیں تھی لیکن متی نے جسمانی انجیل ضرور لکھی ہے۔ واہ ری چنی ہوئی قوم! مرقس کی انجیل بہ روایت صحیح ہے اس کی انجیل کے لئے پطرس سے سامان ملا تھا۔

پیپس جو دوسری صدی کے پہلے نصف حصہ میں گزرا ہے بیان کرتا ہے کہ پطرس ناقل مرقس نے نہایت صحت سے پطرس کی تقریریں قلم بند کی ہیں مگر اس میں خداوند کے قول و فعل کی ترتیب کا لحاظ نہیں رکھا گیا۔ نیز ١٢ر اختتامی آیات یعنی ١٦ر باب کے ٩ر آیت سے ٢٠ر تک کے اصلی ہونے میں شک ہے۔ اجی صاحب کیوں نہیں کہہ دیتے کہ الحاق ہے ایڈیٹر صاحب اب سنئے

٣٣٢

کہ یہ پادری صاحب کیا فرما رہے ہیں کہ ١٢را ملا دی ہیں۔ انجیل نویس تو ورق لکھیں کیا دو فرمائیے۔ کیا ایک گندی مچھلی تمام تالاب کو گن پیارا طبیب کہا جاتا ہے۔ مارکن مرتد نے ج انجیل کو مستعمل دیکھ کر اپنے مطلب کے مط موافق تھی۔

ویسی ہی لوقا کی انجیل پولوس ب نے دوسرے خط کے باب ٢رآیت ١٨رمی معلوم نہیں۔ جناب من اگر ایک شخص نے مقامات کا پتہ ملنا کچھ آسان امر ہے۔ ایڈی اتری ہو۔ یوحنا کی انجیل مخالفین نے اس ہے کہ مسیح کے بعد دوسری صدی کے دوسر فرقہ یوحنا ہی کی زندگی میں پیدا ہوا جس جس نے اس انجیل کو رد کیا۔ اس کی تاریخ

اب بتائیے کہ آپ کے پا اتنے تفرقہ پڑ گئے کہ بچا نہ سکے۔ انجیل اتنے ثبوت ہیں کہ اگر لکھے جائیں تو دنی اپنے پرچہ میں خود ہی فرماتے ہیں ”ہم فرماتے ہیں کہ ”انہوں نے کتب سماویہ دیا تھا۔“ لفظ (انہوں) جمع ہے جو یہود ہے جماعت قادیانی کے اقوال سے کتب اگر اور ثبوت درکار ہو اور خان صاحب ہوں تو پھر ہم انشاء اللہ زائد ثبوت دیں

جماعت قادیانی خاص کر کرتے کچھ باک نہ ہوا جن کی تحریف کر سکے۔ فضول بات میں اپنا اور میر

صفحہ ٦٧٩

کہ یہ پادری صاحب کیا فرما رہے ہیں کہ ١٢؍آیات خدا کے بیٹے پر ایمان رکھنے والے کسی ملہم نے ملادی ہیں۔ انجیل نویس تو ورق لکھیں کیا دوسروں کا اتنا بھی حق نہیں کہ وہ چند آیات بھی لکھ سکیں فرمائیے۔ کیا ایک گندی مچھلی تمام تالاب کو گندہ نہیں کر دیتی۔ لوقا کی انجیل لوقا کو اکثر روایتوں میں پیارا طبیب کہا جاتا ہے۔ مارکن مرتد نے جو مسیح کے ١٣٨؍سال بعد ایک مصنف گزرا ہے لوقا کی انجیل کو مستعمل دیکھ کر اپنے مطلب کے مطابق بنالیا جیسے مرقس کی انجیل پطرس کے خیالات کے موافق تھی۔

ویسی ہی لوقا کی انجیل پولوس کے تفکرات کے لحاظ سے لکھی گئی چنانچہ پولوس تمطاؤس نے دوسرے خط کے باب ٢؍آیت ١٨؍ میں اس انجیل کو اپنی انجیل کہا ہے اس کی تصنیف کی جگہ معلوم نہیں۔ جناب من اگر ایک شخص نے لکھی ہو تو جگہ معلوم ہو سکتی ہے۔ اب بتائیے کہ اتنے مقامات کا پتہ ملنا کچھ آسان امر ہے۔ ایڈیٹر صاحب ذرا غور کیجئے شاید کسی آسمانی شہر یا گاؤں سے اتری ہو۔ یوحنا کی انجیل مخالفین نے اس انجیل پر خاص حملہ کیا ہے اور یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ مسیح کے بعد دوسری صدی کے دوسرے نصف حصہ تک اس کتاب کا نام و نشان نہ تھا۔ ناسٹک فرقہ یوحنا ہی کی زندگی میں پیدا ہوا جس نے انجیل کے واقعات کو فلسفہ کے ساتھ ملا دیا جسٹر گھیم جس نے اس انجیل کو رد کیا۔ اس کی تاریخ تصنیف ١٠٠۔١١٢ء بتاتا ہے۔

اب بتائیے کہ آپ کے پاس اس کی سچائی کے کیا دلائل ہیں یوحنا کی زندگی ہی میں اتنے تفرقہ پڑ گئے کہ بچا نہ سکے۔ انجیل بھی رد کر دی گئی۔ ہمارے پاس ایسے الہام کی تردید کے اتنے ثبوت ہیں کہ اگر لکھے جائیں تو دنیا میں نہ سمائیں۔ ص ٦١‘ ٦٢‘ ٦٣ اور ہمارے خان صاحب اپنے پرچہ میں خود ہی فرماتے ہیں ’’انہوں نے کتب سماویہ میں تحریف و تبدیل کی تھی۔‘‘ دوسری جگہ فرماتے ہیں کہ ’’انہوں نے کتب سماویہ سابقہ میں تحریف کی تھی لفظوں کو بدل دیا تھا معنے کو الٹ پلٹ دیا تھا۔‘‘ لفظ (انہوں) جمع ہے جو یہودیوں، عیسائیوں سب کو شامل ہے۔ اس میں زائد لکھنا فضول ہے جماعت قادیانی کے اقوال سے کتب سماویہ سابقہ کا محرفہ اور غیر معتبر ہونا میں نے ثابت کر دیا۔ اگر اور ثبوت درکار ہو اور خان صاحب کے نزدیک جماعت قادیانی اور نیز اپنے اقوال غیر معتبر ہوں تو پھر ہم انشاء اللہ زائد ثبوت دیں گے۔

جماعت قادیانی خاص کر مرزا قادیانی کو میرے سامنے ایسی محرفہ کتابوں سے دلیل پیش کرتے کچھ باک نہ ہوا جن کی تحریف کے خود قائل ہیں اور اس کی سند کتاب وسنت سے پیش نہ کر سکے۔ فضول بات میں اپنا اور میرا وقت ضائع کیا۔ عوام کے دکھانے اور ان میں علم دار بننے کو

٣٣٣

صفحہ ٦٨٠

ایک دو ورقہ لمبا چوڑا لکھ دیا مگر سوال سے سروکار نہیں۔ میرا ارادہ جواب الجواب کا نہ تھا۔ مگر محض اس خیال سے کہ خان صاحب کو در صورت جواب الجواب نہ ہونے کے کہنے کا موقع ملے گا کہ ہمارا جواب گروہ اہلحدیث سے نہ ہو سکا۔

اب میں اصل کتابوں سے پیشینگوئیاں نقل کرتا ہوں۔ کتاب ملا کی میں زبان رومن باب ٤، آیت ٥ دیکھو خداوند کا بزرگ اور ہولناک دن کے آنے سے پیشتر میں تم میں ایلیا نبی کو تمہارے پاس بھیجوں گا۔ انجیل متی رومن باب ١١ (یوحنا کے شاگردوں سے یسوع مخاطب ہو کر فرماتے ہیں ) آیت ١٠، کیونکہ یہ وہی ہے جس کی بابت لکھا ہے کہ دیکھو میں اپنا رسول تیرے آگے بھیجتا ہوں جو تیرے آگے تیری راہ درست کرے گا۔ آیت ١٤، اور الیاس جو آنے والا ہے یہی ہے چاہو تو قبول کرو۔ اردو انجیل میں بھی قریب قریب یہی لکھا ہے مگر بجائے الیاس کے ایلیا درج ہے۔ اور فارسی انجیل میں صراحت کے ساتھ یحییٰ کا نام لکھا ہے۔

اوّل جواب اس کا یہی ہے کہ کتب سماویہ سابقہ محرفہ ہیں۔ قابل حجت نہیں دوسرے یہ کہ اگر کتب مذکورہ بالا صحیح اور قابل حجت بھی مان لی جائیں جب بھی تائید مرزا قادیانی کی نہیں کر سکتیں اور وہ ان سے سند پیش نہیں کر سکتے۔ کیونکہ پیشینگوئیاں مذکورہ بالا اور دعویٰ مرزا قادیانی میں فرق ہے۔ وہاں ایک نبی نے الہام صحیح سے دعویٰ کیا کہ میں وہی ہوں جس کی بابت توریت میں درج ہے اور دوسرے نبی نے الہام راست سے اس کی تصدیق کی کہ واقعی یہ سچا ہے۔ یہاں مرزا قادیانی کا ایسا شخص جو کہ نبی کا ہم پلہ ہو کون مصداق ہے اور مرزا قادیانی کا الہام کس دلیل سے سچا از جانب خدا مانا جائے؟

اوّل خان صاحب کو ثابت کرنا واجب ہے کہ مرزا قادیانی سچے اور ان کا الہام از جانب خدا ہے۔ دوسرے کوئی شخص ایسا گواہی میں پیش کریں جو نبی بنی اسرائیل کی شہادت کے ہم پلہ ہو اس وقت یہ خبر درست ہو سکے (حالانکہ یہ ثابت ہونا غیر ممکن ہے) لہٰذا مرزا قادیانی کا مثیل مسیح ہونا محال اور جب تک کتب سابقہ غیر محرفہ ثابت نہ ہوں۔ اس وقت تک یہ تانا بانا تار عنکبوت کی مثال ہے کہ ذرا سے جھٹکے میں الگ۔ الحمد للہ کہ ہم کتب سابقہ کا محرف ہونا جماعت قادیانی کے اقوال سے ثابت کر چکے اب اگر زائد ضرورت ہو تو کتاب وسنت و تواریخ سے بھی دکھا دیں۔ قادیانی سب پکار پکار کر کہتے ہیں کہ کتب مذکورہ محرفہ ہیں قابل سند نہیں۔ اور نیز میری پیش نظر فارسی ، اردو ، رومن کی کتابیں موجود ہیں۔ ہر ایک میں فرق ہے پھر کیسے ان کی صحت کا یقین ہو۔

میں انہی انجیلوں سے ان کا محرفہ ہونا ثابت کر سکتا ہوں گو کہ خان صاحب کے پرچہ کا

٣٣٤

٨١

جواب کافی ہو چکا مگر ان کے ساکت کرنے کو ان ک

قول....... اب جاننا چاہئے کہ حضرت مسیح موعود جہاں کہیں اس واقعہ کا بیان کیا ہے وہ ان میں کتب اس دعویٰ اور بیان کی تائید میں گواہ ہیں۔ آپ تصدیق کر سکتے ہیں۔

اقول....... آپ ان کتابوں کو تائیدی گواہ اور دیکھو اپنے قول جو اوپر اوّل ہوئے ان دونوں قولو محرفہ اقوال سے بھی تائید ہو سکتی ہے۔ بیان فرما

قول....... اگر ان کتابوں کا دیکھنا بوجہ اہل حدی صاحب سے....... الخ۔

اقول....... خان صاحب آپ کو اتنا بھی فہم نہی سے پوچھنا بدرجہ اول منع خیال کریں گے۔ ہما یہ آپ کو کہاں سے ثابت ہوا کہ میں طالب صا ثبوت پر غور نہیں کیا۔ اس کا ثبوت دیجئے یا اگر یہ فقرے کیسے تحریر کئے۔ قولہ ۔ بلکہ اپنی طرف رکھتا ہے اور کوتاہ بینوں کی نگاہ میں مخالفت ظاہ

اقول....... جی ہاں! آپ ایسی کوتاہ فہمی م موجود کاش کہ اپنے پیر بھائی ہی سے دریافت

قول....... شاید آپ کے نزدیک توریت عیسیٰ کا قول حدیث نہیں۔

اقول....... ہاں نہیں محرفہ اقوال کو حدیث و آ

قول....... اس جگہ آپ کی مراد آیت سے خدا تعالیٰ ہے۔ مگر آپ نے قرآن شریف الخ!

اقول....... میں اوپر ثابت کر آیا ہوں کہ عل حدیث سے اقوال رسول مقبول ﷺ مرا

صفحہ ٦٨١

جواب کافی ہو چکا مگر ان کے ساکت کرنے کو ان کے اقوال نقل کر کے بھی جواب لکھتا ہوں۔

قولہ...... اب جاننا چاہئے کہ حضرت مسیح موعود، مہدی معہود جماعت احمدیہ کے کسی اور شخص نے جہاں کہیں اس واقعہ کا بیان کیا ہے وہ ان میں کتب مقدسہ کے حوالے سے لکھا ہے اور یہی کتابیں اس دعویٰ اور بیان کی تائید میں گواہ ہیں۔ آپ ان کتابوں کو دیکھ کر اپنا اطمینان اور اس دعوے کی تصدیق کر سکتے ہیں۔

اقول...... آپ ان کتابوں کو تائیدی گواہ اور مقدسہ بھی کہتے ہیں محرفہ ہونے کے بھی قائل ہیں۔ دیکھو اپنے قول جو اوپر نقل ہوئے ان دونوں قولوں میں کونسا آپ کا قول سچا ہے یا آپ کے یہاں محرفہ اقوال سے بھی تائید ہو سکتی ہے۔ بیان فرمائیے۔

قولہ...... اگر ان کتابوں کا دیکھنا بوجہ اہل حدیث ہونے کے مکروہ یا حرام سمجھتے ہوں تو کسی پادری صاحب سے......الخ۔

اقول...... خان صاحب آپ کو اتنا بھی فہم نہیں جب ہم ان کی کتابیں دیکھنا منع سمجھیں گے تو ان سے پوچھنا بدرجہ اولیٰ منع خیال کریں گے۔ ہمارے یہاں مذہب غیر کی کتابیں دیکھنا منع نہیں اور یہ آپ کو کہاں سے ثابت ہوا کہ میں طالب صادق نہیں اور میں نے اصل کتابیں نہیں دیکھیں اور ثبوت پر غور نہیں کیا۔ اس کا ثبوت دیجئے یا اگر الہام سے معلوم ہوا ہو تو فرمائیے بغیر تحقیق و تصدیق یہ فقرے کیسے تحریر کئے۔ قولہ۔ بلکہ اپنی طرف سے جھٹ ایک ایسا سوال جو انکار کا پہلو اپنے اندر رکھتا ہے اور کوتاہ بینوں کی نگاہ میں مخالفت ظاہر کرتا ہے۔ پیش کر دیا۔

اقول...... جی ہاں! آپ ایسی کوتاہ بین ہوں گے نہ اصل حال پوچھا نہ غور کیا اور قلم لے کر لکھنے کو موجود کاش کہ اپنے پیر بھائی ہی سے دریافت کر لیتے تو ٹھوکر نہ کھاتے۔

قولہ...... شاید آپ کے نزدیک توریت یا انجیل کی آیت آیت نہیں اور حضرت یحییٰ اور حضرت عیسیٰ کا قول حدیث نہیں۔

اقول...... ہاں نہیں محرفہ اقوال کو حدیث و آیت کون کہتا ہے؟

قولہ...... اس جگہ آپ کی مراد آیت سے آیت قرآن شریف اور حدیث سے مراد حدیث رسول خدا ﷺ ہے۔ مگر آپ نے قرآن شریف کا نام...... تحریر نہیں کیا اور حضرت ﷺ کا اسم مبارک الخ!

اقول...... میں اوپر ثابت کر آیا ہوں کہ علی العموم اہل اسلام کا محاورہ ہے کہ آیت سے آیت قرآنی حدیث سے اقوال رسول رحمانی ﷺ مراد لیتے ہیں۔ ہاں جو اسلام سے بے بہرہ اور کودن محض

٣٣٥

صفحہ ٦٨٢

ہیں ۔ مصطلحات نہیں سمجھ سکتے۔

قولہ ...... اوّل تو جہاں تک مجھ کو معلوم ہے میں کہہ سکتا ہوں کہ اس خبر میں کسی آیت قرآن شریف یا حدیث رسول اللہ ﷺ کا حوالہ نہیں دیا گیا اور اگر دیا گیا ہو تو آپ پر فرض ہے کہ اس آیت یا حدیث کو بحوالہ اس کتاب کے پیش کریں اور جب آپ پیش کریں گے تو ہمارا فرض ہو گا کہ ہم اس کو ثابت کر کے آپ کو دکھلادیں ۔

اقول ...... یہ کہئے کہ ہے نہیں اگر ہوتا تو آپ سب سے پہلے پیش کرتے اگر بھول گئے تو اب پیش کیجئے میں اپنے وعدہ پر قائم ہوں ۔ اور ہم پر فرض کب ہے ہم خود ہی تو آپ سے ثبوت مانگتے ہیں اور انہی وجوہ سے مرزا قادیانی کو کاذب کہتے ہیں ۔ اگر کچھ مصالحہ ہو تو مرزا قادیانی کا صدق ظاہر فرمائیے اور جب ہم نے پیش کیا تو آپ کیا ثابت کریں گے ۔ ثبوت تو ہم بھی دے دیں گے کیا حقانیت کے یہی معنی ہیں کہ آپ سے کوئی ثبوت یا نشان مانگے آپ کہیں کہ تم لے آؤ ہم ثابت کر دیں گے۔

قولہ ...... کہ آپ کی یہ بات بخوبی ذہن نشین تھی کہ اس ضد کی بابت کسی آیت قرآن شریف یا حدیث رسول اللہ ﷺ کا حوالہ نہیں دیا گیا تھا۔ اقول ۔ آپ تو یہ امر ظاہر کر چکے ہیں کہ اب کیا دوبارہ ظاہر کریں گے اور جو کہ آپ نے آگے مثالیں لکھی ہیں ان سے منشا کیا ہے۔ کتب سماویہ سابقہ کو محرفہ مان چکے۔ یہ مثالیں سب غارت ہوئیں اور میں اپنا وقت مثالوں اور قصوں میں ضائع کرنا نہیں چاہتا ہاں کتاب اللہ اور حدیث رسول اللہ سے ثبوت ملنا چاہئے ۔ آگے آپ لکھتے ہیں کہ مرزا قادیانی کا دعویٰ کل قوم اور ہر ایک ملت والوں سے ہے۔

پس ہر ایک ملت والوں کو ان کے موافق ثبوت دیا گیا تو جناب یہ مرزا قادیانی سے فرمائیے کہ ازالہ وغیرہ میں مسلمانوں کو مخاطب کر کے اس خبر سے اپنی تصدیق کیوں چاہی ہے اور ہمارے مہربان مرزا قادیانی سے دریافت فرمائیے کہ انہوں نے یہ خبر پیش کر کے مرزا قادیانی کی تصدیق کیوں کی ہے۔ مسلمان تھا کوئی آیت یا حدیث پیش کی ہوتی ۔

قولہ ...... لیکن آپ نے ان آیات قرآن مجید اور احادیث رسول ﷺ سے جو اہل اسلام کے مذہب کے موافق پیش کی گئی تھیں۔ کچھ فائدہ نہ اٹھایا ۔ اقول ۔ ہمارے مہربان مرزا قادیانی نے ہمارے سامنے کچھ پیش نہیں کیا اور اگر کیا تو جواب بالصواب پایا۔ اسی خبر میں الجھے۔ پس بموجب آپ کے فرمانے کے وہ یہودی یا عیسائی ہوں گے تو صاف کہہ دیا کہ ہم آیت یا حدیث کو مانیں گے چنانچہ ہمارے سوال سے ظاہر ہے اور اب ہم کہتے ہیں کہ (مرزا قادیانی کی تائید میں ایک

٣٣٦

٣ حدیث یا ایک آیت نہیں ، اگر ہو تو پیش کرو) جو ہیں۔ سب کا جواب پا چکے دیکھو تصانیف مولانا پیر مہر علی شاہ صاحب و مولانا عبداللہ صاحب و غیـ

قولہ ...... اب ہم حیرت میں ہیں کہ آپ کو کیـ دستاویز خاص آپ کے اصل مذہب کی بابت بـ کسی فرقہ میں داخل نہیں کر سکتے۔

اقول ...... حضرت اوپر مجھ کو آپ اہلحدیث، سے کونسا قول صحیح مانا جائے جب آپ میرے عاجز کس مذہب کا ہے تو یہ جواب کس بناء پـ فرمایا۔ آپ کی فہم مبارک پر آفریں ہے۔

(سنی ، محمدی اور کسی امام کی میں تقلید نہیں کرتـ کہ جو بات کتاب وسنت سے اشارۃ یا کنایـ اللہ پھر حدیث رسول اللہ ﷺ پھر اجماع وقـ باقی رہا دیگر مذاہب کا رد وہ بغیـ وسنت کو کب مانیں گے؟ لہذا انہیں کی کتـ سوائے کتاب وسنت کے دوسری چیزوں

(اور دراصل اجماع وقیاس اس کتاب وسنـ آیات کلام مجید اور احادیث رسول مقبول ﷺ احادیث واقوال میرے سامنے پیش کئے روش یہوديانہ اختیار کی ہے۔ اور ان کا صفات میں اہلحدیث کو شامل کیا ہے اس کـ

قولہ ...... کتب سماویہ میں تحریف وتبد

اقول ...... مرزا قادیانی نے ایسا ہی کیا بـ

قولہ ...... نبیوں کو جھٹلایا تھا توہین وتحقیـ

اقول ...... مرزا قادیانی نے علماء وصلحاء

صفحہ ٦٨٣

حدیث یا ایک آیت نہیں، اگر ہو تو پیش کرو ) جو کچھ وہ اپنی تصانیف میں بتاویل رکیکہ پیش کرتے ہیں۔ سب کا جواب پا چکے دیکھو تصانیف مولانا محمد حسین صاحب بٹالوی ومولوی بشیر احمد صاحب و پیر مہر علی شاہ صاحب و مولانا عبداللہ صاحب وغیرہ۔

قولہ ...... اب ہم حیرت میں ہیں کہ آپ کو کس مذہب اور کس فرقہ میں شمار کریں تا وقتیکہ ہم کو کوئی دستاویز خاص آپ کے اصل مذہب کی بابت حاصل نہ ہو جائے تب تک ہم آپ کو اپنی رائے سے کسی فرقہ میں داخل نہیں کر سکتے۔

اقول ...... حضرت اوپر مجھ کو آپ اہلحدیث طے فرما چکے ہیں اب ایسا فرماتے ہیں دونوں قولوں سے کونسا قول صحیح مانا جائے جب آپ میرے مذہب میں تردد ظاہر کرتے ہیں اور نہیں سمجھتے کہ یہ عاجز کس مذہب کا ہے تو یہ جواب کس بناء پر لکھا گیا اور اوپر اپنی اسی رائے سے کیوں اہلحدیث فرمایا۔ آپ کی فہم مبارک پر آفریں ہے۔ لیجئے مذہب کی بھی دستاویز دیکھو اب کیا کریں گے۔ (سنی، محمدی اور کسی امام کی میں تقلید نہیں کرتا کتاب وسنت سے مطلب ہے اور یہ بھی میں کہتا ہوں کہ جو بات کتاب وسنت سے اشارۃً یا کنایۃً سے بھی نہ ثابت ہو وہ قابل حجت نہیں اور اول کتاب اللہ پھر حدیث رسول اللہ ﷺ پھر اجماع وقیاس صحیح بلامعین شخص قابل حجت ہے)

باقی رہا دیگر مذاہب کا رد وہ بغیر ان کی کتابوں کے ہو نہیں سکتا کیونکہ وہ ہماری کتاب وسنت کو کب مانیں گے؟ لہٰذا انہیں کی کتابوں سے ان پر حجت پیش کی جائے گی جیسے ہم لوگ سوائے کتاب وسنت کے دوسری چیزوں کو معتبر نہیں مانتے۔ اسی بناء پر آپ سے بحث کی ٹھہری (اور دراصل اجماع وقیاس اس کتاب وسنت کی شاخ ہیں) جناب من آپ کے مرزا قادیانی نے آیات کلام مجید اور احادیث رسول حمید ﷺ میں تاویل بے جا کی ہے اور وہی تاویل شدہ آیات و احادیث واقوال میرے سامنے پیش کئے گئے جس سے صاف ثابت ہو گیا کہ مرزا قادیانی نے روش یہودیانہ اختیار کی ہے۔ اور ان کا کوئی قول قابل تسلیم نہیں۔ آگے آپ نے یہودیوں کی صفات میں اہلحدیث کو شامل کیا ہے اس کا جواب بھی سنئے۔

قولہ ...... کتب سماویہ میں تحریف وتبدیل کی تھی۔

اقول ...... مرزا قادیانی نے ایسا ہی کیا۔ لہٰذا بقول آپ کے یہودی ہوئے۔

قولہ ...... نبیوں کو جھٹلایا تھا توہین وتحقیر کی تھی طرح طرح کی بدزبانیاں ...... کافر وملحد ٹھہرایا تھا۔

اقول ...... مرزا قادیانی نے علماء وصلحاء امت محمدیہ ﷺ کو یہودی عیسائی کافر کہا۔ عیسیٰ علیہ السلام

٣٣٧

صفحہ ٨٥

کی توہین وتحقیر وتذلیل کی دیکھو ازالہ۔ لہذا بقول آپ کے مرزا قادیانی یہودی ہوئے۔

قولہ ...... یہودی عامل بالحدیث تھے اور اہلحدیث کہلاتے تھے۔

اقول ...... ”لعنة الله على الكافرین“ اہلحدیث مخالف کتاب وسنت کو مردود کہتے ہیں اگر یہود ایسے ہوتے تو عیسیٰ علیہ السلام کے آنے کی کیا ضرورت تھی (کیونکہ جب تک لوگ کتاب وسنت کو نہیں چھوڑتے ہرگز دوسرا نبی نہیں آتا) جب خدا کا راستہ چھوٹ جاتا ہے۔ اسی وقت نبی کی ضرورت ہوتی ہے۔ لہٰذا عیسیٰ علیہ السلام کا آنا بتا رہا ہے کہ یہودی دوسرے مسلک پر تھے اور کیا عجب ہے جو ان کا مسلک ایسی تقلید ہو جیسے احمدی آنکھ بند کئے ہوئے مرزا قادیانی کی تقلید کر رہے ہیں جس کا اشارہ غیر المغضوب علیہم میں ہے اور اگر آپ کو دعویٰ ہو کہ وہ اہلحدیث ہی تھے تو ثبوت صحیح پیش فرمائیے ورنہ گریبان میں منہ ڈالئے۔ اور شرمائیے۔

قولہ ...... ان غیر مقلدوں نے جن کے فرقہ میں شاید آپ بھی شمار کئے جاتے ہیں۔ تمام مقدسوں کو لفظ مخلوق میں شامل کر کے اللہ کی شان کے آگے چمار سے بھی زیادہ ذلیل بنا دیا۔

اقول ...... یہ جناب کی دوسری خوش فہمی ہے اپنی رائے سے مجھ کو کسی فرقہ میں کیوں شامل کیا۔ آپ کا یہ اعتراض تقویۃ الایمان پر ہے ( اول تو ہمارے مذہب کا مدار کسی عالم کی تصنیف پر نہیں ہے ) مگر اتنا یاد رہے کہ یہ وہی کتاب ہے اور یہ وہی مولانا ہیں جن کی تعریف آپ کے مرزا قادیانی اور ان کے داہنے بائیں بازو حکیم نور الدین صاحب اور مولانا محمد احسن صاحب امروہی نے کی ہے۔ قطع نظر اس کے میں پوچھتا ہوں کہ انبیاء اور اولیاء مخلوق ہیں یا نہیں اگر ہیں تو اس جملہ کا کیا مطلب ہے کہ (مخلوق میں شامل کر کے) اور اگر مخلوق نہیں تو خالق ہوئے مرزا قادیانی کی تائید میں ایسی آنکھ بند کی کہ کروڑوں خدا بنا دیئے۔

اور واقعی بات یہ ہے کہ خدا کی شان کے روبرو کوئی ہو لا شے محض ہے ”قل انما انا بشر مثلکم۔ انما الھکم الہ واحد “ ارشاد فرمائیے آگے آپ نے بے جا اور فضول بلا دلیل نبوت جناب عیسیٰ و وجود دجال پر اعتراض کیا ہے جو احادیث صحیحہ سے ثابت ہے تو یہ اعتراض مخبر صادق ﷺ پر کیجئے ان کو یہودی یا عیسائی فرمائیے اور آپ کو زیبا بھی ہے۔ کیونکہ آپ کے پیر صاحب روز بروز درجہ بڑھاتے جاتے ہیں۔ مجدد بنے پھر مہدی مثل عیسیٰ و آدم ونوح وموسیٰ وابراہیم وغیرہ ۔ یہاں تک کہ بروزی محمد ﷺ بھی بن گئے ۔ ابن اللہ ہونے کا بھی دعویٰ کیا ہاں خدائی کا دعویٰ باقی ہے جو دجال کرے گا۔

٣٣٨

قولہ ...... ایسا نہ ہو جو ان عقائد کی وجہ سے یہود

اقول ...... دیکھئے بہت جلد آپ لوگوں کو معہ آپ آپ نے اعتراض کیا ہے کہ لفظ اللہ کے آگے صا لکھتے تو عرض ہے لفظ تعظیمی لکھنا چاہئے خواہ کسی ن یہی لکھا گیا۔ عم نوالہ و جل شانہ لکھنا واجب شر فرماتے ہیں کہ چودھویں صدی کی سر سے مجدد کو ب

جناب وہ کھلے نشانات کونسے ہیں ا سے دجال معلوم ہوتے ہیں خاص کر اس آخری ایمان ہرگز فریب میں نہیں آسکتے ہیں۔ وغیرہ و کو شقاوت ازلی ہے وہ اس گمراہی کو خرید کریں

دجال قادیانی کے کید ظاہر کر کے اسلام سے الگ فی الکل نے اپنی تصدیق کفر نامہ پر کی اور کل عل کہتے ہوں اور نہ اس کے پاس کوئی دلیل ہو نہ ن وہ گمراہ کیونکر نہ مانا جائے مرزا قا

صلحاء امت محمدیہ ﷺ کی نسبت اپنی تصانیف دیکھ کر ایمانداروں کی روح کو صدمہ ہوتا ہے کے بھیکو یا چندہ خانے کے بھنگڑ دے سکتے تھے کاموں کی طرف توجہ کریں جو کچھ منافقان اگل کر ثابت کر دیا کہ میں بیخ کن اسلام ہوں

باقی رہا یہ کہ حقانیت کی وجہ سے ا عیسائی نیچری سب حق پر ہو جائیں اور ہم ومہدی مسعود کا ظہور ونزول ہو۔ کیونکہ نیں سے چند ہو گئے اور جو باقی ہیں۔ وقت جلد ظاہر ہو گا اور رہا یہ اعتراض کہ علیہ السلام انب کا اوپر گزرا۔ مکرر لکھنا فضول ہے حرف (

صفحہ ٦٨٥

قولہ..... ایسا نہ ہو جو ان عقائد کی وجہ سے یہودیوں کی طرح تم پر طاعون مسلط ہو جائے۔

اقول..... دیکھئے بہت جلد آپ لوگوں کو معہ آپ کے پیر صاحب کے خدا ہاویہ میں گرا دے گا اور آپ نے اعتراض کیا ہے کہ لفظ اللہ کے آگے صاحب کیوں لکھتے ہیں۔ عم نوالہ جل شانہ کیوں نہیں لکھتے تو عرض ہے لفظ تعظیمی لکھنا چاہئے خواہ کسی زبان کا ہو اردو میں لفظ تعظیمی صاحب کا ہے۔ لہذا یہی لکھا گیا۔ عم نوالہ و جل شانہ لکھنا واجب شرعی نہیں اگر ہے تو ثابت فرمائیے اور جو آپ تحریر فرماتے ہیں کہ چودھویں صدی کے سر پر مجدد کو کھلے کھلے نشانات سے بھیجا۔

جناب وہ کھلے نشانات کونسے ہیں ایک بھی نشان دکھایئے مجھ کو تو امام قادیانی نشانات سے دجال معلوم ہوتے ہیں خاص کر اس آخری فقرہ نے تو ان کی تکذیب نقش کالحجر کر دی اہل ایمان ہرگز فریب میں نہیں آسکتے ہیں۔ دین و نجات سے بے بہرہ پھنسیں تو پھنسیں۔ یا جن کو شقاوت ازلی ہے وہ اس گمراہی کو خرید کریں۔ سب سے اول جناب مولانا محمد حسین صاحب نے دجال قادیانی کے کید ظاہر کر کے اسلام سے الگ اور مسلمانوں کو ہوشیار کر دیا۔ پھر ہمارے شیخ الکل فی الکل نے اپنی تصدیق کفر نامہ پر کی اور کل علماء دین نے تصدیق فرمائی۔ جس کو کل علماء دین گمراہ کہتے ہوں اور نہ اس کے پاس کوئی دلیل ہو نہ نشان ہو۔

وہ گمراہ کیونکر نہ مانا جائے مرزا قادیانی نے جو گندے اور بے ہودہ الفاظ علماء دین اور صلحاء امت محمدیہ ﷺ کی نسبت اپنی تصانیف خاص کر حضرت عیسیٰ کی نسبت درج کئے ہیں۔ ان کو دیکھ کر ایمانداروں کی روح کو صدمہ ہوتا ہے۔ علماء نے اس کا عشر عشیر بھی جواب نہ دیا۔ ہاں لکھنو کے بھکڑ یا چنڈو خانے کے بھنگڑ دے سکتے تھے اور دیتے ہیں۔ علماء کی یہ شان نہیں جو ایسے بے ہودہ کاموں کی طرف توجہ کریں جو کچھ منافقان اسلام کرتے چلے آئے وہ پورا مواد مرزا قادیانی نے اگل کر ثابت کر دیا کہ میں بیخ کن اسلام ہوں۔

باقی رہا یہ کہ حقانیت کی وجہ سے ان کی جماعت کو ترقی ہوئی یہ بالکل غلط ہے۔ ورنہ آریہ عیسائی نیچری سب حق پر ہو جائیں اور ہم بھی کہتے ہیں کہ اب وہ وقت قریب ہے کہ مسیح موعود ومہدی مسعود کا ظہور ونزول ہو۔ کیونکہ تیس دجالوں کی حدیث میں پیشین گوئی درج ہے۔ اس میں سے چند ہوگئے اور جو باقی ہیں۔ وقت جلد آئے گا اس وقت کل مذاہب ایک ہو جائیں گے اور حق ظاہر ہوگا اور رہا یہ اعتراض کہ علیہ السلام انبیاء علیہ السلام کے نام کے بعد کیوں نہ لکھا تو جواب اس کا اوپر گزرا۔ مکرر لکھنا فضول ہے حرف (ع) سے مراد علیہ السلام ہی ہے یہ محاورہ معروف ومشہور

٣٣٩

صفحہ ٦٨٦

ہے، اگر خلاف ہو تو ثابت کرو۔ اور آپ یاد رکھیں کہ آپ یا آپ کے پیر صاحب یا اور آپ کے ہم مشربوں کے پاس اس کا ثبوت ہرگز نہیں ہے کہ حضرت عیسیٰ کو مار کر ان کی گدی پر دجال قادیان کو بٹھا دیں۔

بجز اس کے اور کچھ نہیں کر سکتے کہ پھر دین اسلام کی طرف رجوع کریں اور آپ نے جو الفاظ سے بحث کی ہے تو میں۔ زبان اردو کا عالم نہیں جو پہلو بچانے کو فضولیات سے تحریر بڑھا کر جہلاء میں فخر کروں کہ ہم نے اتنا لمبا چوڑا جواب لکھا کہ آپ کی اتنی فضولیات کا جواب بھی آپ کی خاطر سے لکھ دیا گیا۔ آئندہ خارج از بحث کلام نہ کیجئے گا جو میرا سوال ہے اس کو ثابت کیجئے ورنہ بیہودہ کلمہ کا جواب قلم انداز کیا جائے گا۔ جو چیز میرے اور آپ کے زیر بحث ہے اسی میں قلم فرسائی فرمائے گا۔ کسی دوسری بحث کا تا وقتیکہ اس امر کا فیصلہ نہ ہو۔ جواب ہرگز نہ دیا جائے گا اور سخت گوئی سے معاف فرمائیے ورنہ جواب ترکی بہ ترکی ملے گا وما علینا الا البلاغ۔

منت آنچہ حق بود گفتم بنام
تو دانی وگر بعد ازیں والسلام

فقط: راقم ابو اسحٰق محمد رفعت اللہ خان محلہ املہ مکان نمبر ٢٤ متصل چوکی پولیس ضلع شاہجہان پور قسمت روہیلکھنڈ بقلم خود

ناظرین خدارا انصاف میرے سوال کا جواب مختصر اثبات و نفی میں ہو سکتا تھا مگر خان صاحب نے دفع الوقتی کرکے جواب کو طول دیا اور زبان درازی سے کام لیا مگر اس کا گلا ان سے نہیں یہ طریقہ تو وہ اپنے پیر صاحب سے سیکھے ہیں مگر تعجب ہے کہ ٥٤، ٥٥ ہو چکے۔ جواب نہ دیا مجبور ہو کر شائع کر دیا ہاں ہم خان صاحب کی حالت سے واقف ہیں۔ ان کی اتنی لیاقت کہاں جو وہ قلم اٹھا سکیں جو کچھ سید علی نے (جو کہ مختار ایڈیٹر ایڈورڈ گزٹ کے والد ہیں) لکھایا لکھ دیا۔ اب ان کا ذہن بھی اس جواب الجواب سے کند ہو گیا اور ساکت ہو رہے اور اگر مرد ہیں اور شرم ہے تو بے حیائی کا برقعہ اٹھا کر سامنے آئیں۔ مردوں کا سامنا کریں۔ جواب لکھیں ورنہ کونے میں بیٹھے رہیں۔ آئندہ کسی مرد سے گفتگو نہ کریں مکرر یہ کہ فضولیات علاوہ خبر مذکورہ کے اگر کچھ لکھا تو جواب نہیں دیا جائے گا۔

محمد رفعت اللہ!

٣٤٠

پیشوائـ

تعارف مضامین

سال ١٩٠٣ء ١٦ اکتوبر

اس شمارہ میں مباحثہ شاہجہا ......١ کر دی۔ اس شمارہ ٣٩ مولانا شوکت اللہ میرٹھی کا ......١

مولا آزاد ضمیمہ اودھ پنچ لکھنؤ کا نا قبر (سرکتے سرکتے) کشمیر میں پہنچی اور حضرت مسیح کی قبر نے رحلت کی ہے کہ جنت نظیر کہلاتا ہے مگر قادیان جہنم نشان مرزا قادیانی کا وہ خدا جس فرعون کو مدعی الوہیت کر دیا تھا (یعنی انگریزی میں ہوا کرتے ہیں مرزا انگر والہامات کون سمجھائے جو مرض (یعنی نے اپنے بعض رسائل میں لکھا ہے الہام ہوتا ہے تو سمجھ جائیں کہ وہ کیہ جنہوں نے قبل و بعد ختم المرسلین رو رہی پھر زائل ہو گئی یعنی مصور سجان ہے۔ سمجھنے کی بات ہے کہ انہول تصنیف کئے مگر کچھ نہ ہو سکا اب یاد رکھے گا اگر یاد رکھے گا بھی تو اس

صفحہ ٦٨٧

بسم اللہ الرحمن الرحیم

تعارف مضامین ...... ضمیمہ شحنہ ہند میرٹھ

سال ١٩٠٣ء ١٦؍اکتوبر کے شمارہ نمبر ٣٩؍ کے مضامین

کردی۔ اس شمارہ ٣٩؍ کا ایک مضمون باقی بچا۔ ”مدعیان نبوت“ جو مولانا شوکت اللہ میرٹھی کا مرتب کردہ ہے۔ پیش خدمت ہے۔

١ ...... مدعیان نبوت

مولانا شوکت اللہ میرٹھی

آزاد ضمیمہ اودھ پنچ لکھنؤ کا نامہ نگار لکھتا ہے کہ: ”مرزا دعویٰ کرتا ہے کہ حضرت مسیح کی قبر (سرکتے سرکتے) کشمیر میں پہنچی اور یوزاسف کی قبر کے نام سے مشہور ہوگئی۔ کیوں نہیں ابھی تو حضرت مسیح کی قبر نے رحلت کی ہے کہیں ایسا نہ ہو کہ قادیان سرکتے سرکتے جہنم پہنچ جائے۔ کشمیر تو جنت نظیر کہلاتا ہے مگر قادیان جہنم نشان کہلائے گا۔“

مرزا قادیانی کا وہ خدا جس نے انہیں مبعوث بر رسالت کیا ہے۔ غالباً وہی ہے جس نے فرعون کو مدعی الوہیت کردیا تھا (یعنی شیطان) مرزا قادیانی کی زبان سے نابلد ہے مکاشفات انگریزی میں ہوا کرتے ہیں مرزا انگریزی سے ناواقف۔ اب بڑی مشکل یہ ہے کہ مرزا کو مطالب والہامات کون سمجھائے جو مرض (یعنی جہل) کہ مرزا قادیانی کو ہوا ہے۔ اس کا علاج ابوبکر خوارزمی نے اپنے بعض رسائل میں لکھا ہے۔ بے اس علاج کے غیر ممکن ہے کہ مرض زائل ہو۔ اگر مرزا کو الہام ہوتا ہے تو سمجھ جائیں کہ وہ کیا ہے۔ کتب تاریخ کے دیکھنے سے اکثر ایسے اشخاص ملیں گے جنہوں نے قبل و بعد ختم المرسلین روحی لہ الفداء جھوٹا دعویٰ نبوت کیا اور تھوڑے دنوں تک مرجعیت رہی پھر زائل ہوگئی یعنی اسود و سجاح کذابہ اور مسیلمہ کذاب متنبّی شاعر وغیرہ کا حال مشہور و معروف ہے۔ سمجھنے کی بات ہے کہ انہوں نے عرب میں خاص رسول کی موجودگی میں دعویٰ کیا۔ قرآن تصنیف کئے مگر کچھ نہ ہوسکا اب ان کا کوئی نام بھی نہیں لیتا۔ مرزا ایک جہل مجسم ان کو کوئی کب تک یاد رکھے گا اگر یاد رکھے گا بھی تو اسی طرح جس طرح ان کو یاد رکھا۔

٣٤١

صفحہ ٦٨٨

زمانہ مامون رشید میں ایک مصری شخص نے دعویٰ نبوت کیا اور گرفتار ہو کے خلیفہ کے سامنے پیش کیا گیا۔ خلیفہ نے پوچھا تو کون ہے کہا میں پیغمبر ہوں۔ موسیٰ کی روح نے مجھ میں حلول کیا ہے۔ خلیفہ نے کہا کہ موسیٰ کا عصاء اژدھا ہو جاتا تھا تو بھی یہی معجزہ دکھا۔ کہا کہ فرعون نے انا ربکم الاعلیٰ کہا جب عصاء اژدھا ہوا تم انا ربکم الاعلیٰ کہو تو میں معجزہ دکھاؤں؟ مامون نے کہا اچھا میں چاہتا ہوں کہ ابھی تخم خربوزہ کا بویا جائے اور ابھی بار آور ہو اور ابھی میں کھاؤں۔ کہا اچھا تین دن کی مہلت دو۔ خلیفہ نے انکار کیا۔ اس نے کہا کہ خدا باوجود اس قدر قدرت کے تین مہینے میں خربوزہ پیدا کرتا ہے تم مجھ کو تین دن کی مہلت نہیں دیتے۔

اسی طرح زمانہ خلیفہ مہدی عباسی میں ایک شخص نے عیسیٰ ہونے کا دعویٰ کیا کہ (جیسا کہ زمانہ عیسویت میں مرزا نے مہدویت کا) خلیفہ نے کہا مردہ زندہ کر سکتے ہو؟ کہا ہاں اگر حکم ہو تو آپ کے وزیر کی گردن تہ تیغ کر دیں اور پھر زندہ کردوں گا۔ خلیفہ نے وزیر سے پوچھا کہ راضی ہو۔ اس نے کہا معاف رکھئے بندہ بغیر امتحان ہی آپ کی نبوت پر ایمان رکھتا ہے۔ غرض اس طرح کے صدہا ایسے واقعات گزر چکے ہیں اور اسلام کو اس سے شمہ برابر نقصان نہ پہنچا۔ مرزا نے بھی اگر چندیں شکل برائے اکل کا مصداق بن کے اپنے جنون قطرب کا اظہار کیا تو کیا کر سکتے ہیں۔ اسلام الحمد للہ ایسا ہی عقلی مذہب ہے کہ اس کے ستون وارکان شرعی بنیاد حکمت ناموس واخلاق سے مستحکم ہیں۔ اگر عوام جہلا کو بچانا منظور نہ ہوتا تو اس کے جواب کی ضرورت بھی نہ تھی۔

مرزا قادیانی کے ساتھی ایک شخص تھوڑا زمانہ ہوا کلکتہ میں پیدا ہوئے ناسانا ٹیل ان کا نام تھا اور جواد ساباطی کے نام سے مشہور تھے۔ انہوں نے ایک کتاب لکھی تھی جس کا نام براہین ساباطیہ رکھا تھا اور بزعم خود اسے منزل من اللہ جانتے تھے۔ کتاب کمیاب ہے اس وجہ سے ان کی لیاقت دکھانے کو ایک چھوٹا سا سورا لکھا جاتا ہے۔

”ہا۔ ہا۔ لام۔ یا۔ وانا قد ارسل الینا کتاب کریم من یحییٰ وانہ السجل بلیغ حکیم۔ وان یحییٰ لھو السید الشریف ولا امیر الکبیر۔ وانا قد ارسلنا الیک من قبلہ کتاباً عربیاً مبیناً۔ وانا لما فتناہ لم نتخذ لہ نصیراً ولا معیناً۔ وما کان جوابنا الا ان عززنا بثالث وکان ساباط علیہ قدیرا۔ ویقولون لایعلمون العکسیر والعروض ان ھذا الا شعراً وسحرٌ عظیم۔ قل انما یعلم عند اللہ ساباط وان ھذا الا کتاب عربی مبین۔ لو اتفقت الملائکة والشیاطین علی ان یحاججو

٣٤٢

صفحہ ٦٨٩

بمثل هذا البرهان لايحاججونه ولو كان بعضهم لبعض ظهيراً نصيراً فاذا جاء وعدنا والتقى الجمعان ذالك يوم السرور. يوم يصطف المحبون على المائده امام انا مير متكئين فيها على كراسی مصفوفه فى حجور القصور تدور عليهم غلمان مستخدمون بنفائس الاغذية وفواكه مما يشتهون وخندريس عتيق لاينقل عنهم المائده ولا هم عنها بمزحزحين هنالك فيتدبر الذين كفروا ای مرصد يرصدون“

اس بے تکے پن کو دیکھئے اور اس نقالی و جعل کو۔ اس نے قادیانی سے مشابہت بہم پہنچائی تھی۔ خوب خوب سورے تصنیف فرمائے تھے مگر پھر بھی عربی زبان بخوبی جانتے تھے۔ قادیانی کی طرح کندہ ناتراش نہ تھے کہ بے سروپا باتیں ہانکتے ۔ اس نے تفسیر بھی لکھی تھی مگر زبان درازی کی عادت نہ تھی۔ شراب پیتا تھا آخر ایک روز کالرا لگا اور مر گیا۔

بعض کہتے ہیں گھوڑے سے گرا اور مر گیا مجھے اس کی تحقیق نہیں کہ اصل اس کی کیا تھی۔ لکھنؤ میں بھی ایک شخص محمد ادریس نامی کہ اصلی نام ان کا غلام محمد ہے۔ مدعی نبوت ہیں۔ بعض مجتہدین لکھنؤ سے انہوں نے عبرانی وعربی پڑھی معقولات و ادب و تواریخ و رجال وسیر میں دستگاہ کامل حاصل کی۔ بعد کو بے چارے مراق میں مبتلا ہوئے۔ اب گلیوں گلیوں ”كنيسا حق والـديـر حق والمسجد حق والبيد والفرقان والكتب العتيقة حق “ کہہ کے صلح کل کا جھنڈا گاڑتے پھرتے ہیں۔ سورے تصنیف کرتے اور اپنے مریدوں کو سناتے ہیں۔ مگر عارضہ مراق نے ان کا بازار کھوٹا کر دیا ورنہ ادریس (کہ ادریس ہی ہونے کا ان کو دعویٰ ہے) کے بجائے ابلیس کا کام انجام دیتے۔

تاہم بوجہ علم و فصاحت اگر ہم کو کسی نبی کی ضرورت ہوتی تو ہم یقیناً بجائے غلام احمد قادیانی کے غلام محمد لکھنوی کو پسند کرتے کیونکہ ان سے ٩٩ حصے علم وفضل میں زیادہ ہے۔ میں دیکھتا ہوں قادیانی کا دماغ آخر خشک ہوتے ہوتے اس کو مختل کر دے گا۔ ولله الحجة البالغه!

تعارف مضامین ...... ضمیمہ شحنہ ہند میرٹھ

سال ١٩٠٣ء ٢٤ اکتوبر کے شمارہ نمبر ٤٠ کے مضامین

اس شمارہ ٤٠ کے ابتدائی ساڑھے چار صفحے مباحثہ شاہجہان پور کی اس کارروائی کے

٣٤٣

صفحہ ٦٩٠

تھے جو شمارہ نمبر ٣٨؍ کے ساتھ شامل اشاعت کر دیئے۔ باقی یہ مضامین ہیں۔ ملاحظہ فرمائیں:

اسی ترتیب سے پیش خدمت ہیں:

١ ...... پیشینگوئی اور نشان

مولانا شوکت اللہ میرٹھی!

ہتھیار ہاتھ سے چھوٹ گئے۔ ڈھالیں کمر سے کھل پڑیں۔ کمانیں ٹوٹ گئیں۔ اب تو خالی تیر تکے بھی نہ رہے۔ آئے دن کی پیشینگوئیاں غارت غول ہو گئیں۔ ان کی جگہ اب کبھی کبھی کوئی نشان دکھانے کی بھربھراہٹ ہوتی ہے۔ مگر خوش قسمتی سے یہ تیر بھی نشانے پر نہیں لگتا۔ چونکہ دنیا میں کوئی نہ کوئی واقعہ ہوتا رہتا ہے۔ لہٰذا ادھر کسی مکھی نے چھینکا یا پڑاوے پر کسی حمار نے ڈھینچوں ڈھینچوں کی۔ یا کسی شتر بے مہار نے گند مارا ادھر مسیح موعود ہنکارا کہ وہ نشان ظاہر ہوا۔ الغرض دنیا میں جو کچھ ہوتا ہے اس کو آسمانی باپ اپنے لے پالک کا نشان بتاتا ہے۔ مجددالسنہ مشرقیہ کے ضمیمہ کے بارے میں ہر سال پیشینگوئی ہوتی ہے کہ اب بند ہوا اور اب بند ہوا۔

اب تیسرا سال ختم ہو کر چوتھا سال شروع ہونے والا ہے مگر ضمیمہ خدا کی عنایت سے بدستور اپنے دھواں دھار گولوں سے کفر و الحاد اور جعلی نبوت ورسالت کی تعمیر ڈھا رہا ہے۔ اور اس کے گرد و غبار سے مدعیان بروزیت و مسیحیت کی آنکھیں اندھی ہو رہی ہیں۔ خدا نے چاہا تو چند روز میں بالکل چوپٹ ہو جائیں گی۔

سچی پیشینگوئی اسے کہتے ہیں جو مجددالسنہ شرقیہ نے پچھلے سال کی تھی کہ امسال مرزا قادیانی سے کوئی آسمانی یا زمینی مواخذہ ضرور ہوگا۔ چنانچہ ہوا۔ یعنی مرزا قادیانی پر وارنٹ جاری ہوئے ضمانتیں ہوئیں۔ مچلکے لئے گئے اور سال بھر ہو چکا کہ مقدمات کا شیرہ بہہ رہا ہے۔ الحکم نے ضمیمہ کی مخالفت کی تھی وہ بھی مقدمات کی بدولت امیرن بنا ہوا ہے۔ الحکم کی اشاعت میں روڑے اٹک گئے۔ طوفان کا ریلا جو آتا ہے تو مطبع کا مکان دھڑام سے سر نیچے ٹانگیں اوپر۔ لیجؤ! دوڑیو!

٣٤٤

صفحہ ٦٩١

دمڑی دھیلا کوڑی پیسہ چندہ دو۔ الغرض اب تک تانا بانا بکھرا ہوا ہے دیکھا! مجدد کی اور مخالفت کرو۔ ہم پھر علی الاعلان پیشینگوئی کرتے ہیں کہ مقدمات متدائرہ حسب مراد فیصل نہ ہوں گے۔ انشاء اللہ اس کو ابھی سے لکھ رکھو اور پھر مرزا قادیانی اور ان کے تمام حواری کا فرض ہو گا کہ مجدد کے ہاتھ پر بیعت کریں اور اس پر ایمان لائیں۔ ورنہ یاد رکھو کہ ایسا غضبناک آسمانی نشان ظاہر ہو گا کہ کہیں تھل بیڑا نہ لگے گا اور سارا طلسمی کارخانہ ٹوٹ پھوٹ کر ہباء منثورا ہو جائے گا۔ اور قانون الٰہی بھی اس طرح جاری ہے کہ وہ سرکشوں کو زیادہ مہلت نہیں دیتا۔ ”امہلہم رویدا“ (ایڈیٹر)

٢ ...... وہی تصویر پرستی

مولانا شوکت اللہ میرٹھی!

الحکم مطبوعہ ٣٠ ستمبر گزشتہ میں جہلم کے امام مسجد اور دو مولویوں اور ایک جج کے فوٹو کھنچوانے پر جو کسی مسجد کے مقدمے میں داخل کیا گیا۔ بڑی لے دے کی گئی ہے کہ مرزا قادیانی کی تصویر کا کھنچوانا اور شائع کرنا تو کفر مگر اپنی تصویروں کا کھنچوانا مباح۔

ہم کو اصل مقدمہ کا حال معلوم نہیں کہ تصویریں کیوں اور کس ضرورت سے کھنچوائی گئیں مگر اس میں شک نہیں کہ جہلم کے مسلمانوں نے یہ تصویریں تیمناً و تبرکاً اور اشاعت دین اسلام کے لئے نہیں کھنچوائی اور نہ انہوں نے گھروں میں رکھ کر ان کی تعظیم کی۔ مرزا قادیانی نے اپنے نئے دین کی اشاعت کا دارو مدار ہی تصویروں پر رکھا ہے چنانچہ مرزائی نامہ نگار لکھتا ہے کہ حضور (مرزا قادیانی) کا فوٹو کھنچوانا محض اعلاء کلمۃ اللہ کی غرض سے ہے) اس سے ثابت ہے کہ تصویروں کا بنوانا اور شائع کرنا مرزائی مذہب کا پہلا رکن ہے۔ دوم ! موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کا کوئی گھر شاذ و نادر ایسا ہوگا جس میں تصویر نہ ہو تا ہم وہ اس کو اچھا نہیں سمجھتے۔

اور دل میں یقین رکھتے ہیں کہ یہ فعل سراسر گناہ ہے مگر مرزائی اس پر اصرار کرتے ہیں اور اس کو اپنے دین کا رکن اعظم سمجھتے ہیں۔ اور خود مرزا قادیانی کی یہی تلقین ہے۔ قطع نظر تصویر کے بہت سے مسلمان میخواری اور حرامکاری وغیرہ جرائم کے مرتکب ہوتے ہیں مگر معترف بقصور اور اپنی حرکات سے نادم ہیں اور خدائے تعالیٰ سے عفو کے خواستگار ہوتے ہیں۔ سوم! جہلم کے مسلمانوں نے بہت برا کیا کہ تصویریں کھنچوائیں۔ مگر تم بھی اسی طرح اقرار کرو کہ مرزا قادیانی نے بہت برا کیا کہ اپنی تصویر کی اشاعت پر زور دیا ورنہ تمہارا یہ الزامی جواب آداب مناظرہ کے بالکل خلاف ہوگا۔ (ایڈیٹر)

صفحہ ٦٩٢

٣ ....... مرزا قادیانی کی نسبت پیشینگوئی

مولانا شوکت اللہ میرٹھی !

آریہ گزٹ نے نجومی یار مل کی پیشینگوئی شائع کی تھی کہ مرزا قادیانی تاریخ مقررہ پر عدالت میں دوبارہ مقدمات مرجوعہ نہ جاسکیں گے اور اگر جائیں گے تو عارضی درد شکم اور پیچش میں مبتلا ہوں گے۔ اس پر ایڈیٹر الحکم بغلیں بجاتا ہے کہ پیشینگوئی غلط نکلی یعنی مرزا قادیانی دندناتے گورداسپور گئے اور کودتے اچھلتے آئے۔ پیچش اور درد شکم تو کجا خدانخواستہ ادنیٰ سی ریح کی بھی سرسراہٹ نہیں ہوئی۔

آریہ گزٹ نے درحقیقت مرزا قادیانی کو ڈرایا تھا۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ اس خوف سے شکم مبارک اور توند مقدس میں ہوا کے گولے دوڑے دوڑے پھریں اور مرزا قادیانی کسی طرح تاریخ مقررہ پر عدالت میں حاضر نہ ہوں اور اس کا یہ نتیجہ نکلے کہ ان پر وارنٹ جاری ہو اور تعزیر کا سبق پڑھایا جائے کہ ؎

لے پالک بمکتب نمیرود ولے برندش

وسلمنا ۔ آریہ گزٹ کی تو ایک ہی پیشینگوئی پٹ پڑی۔ حالانکہ اس کے مقابلہ میں مرزا قادیانی کی بیسیوں پیشینگوئیاں گوز شتر بن کر ہوا میں اڑ گئیں۔ ان کی نسبت الحکم کو کبھی پسینا بھی نہ آیا اور آیا تو پونچھ ڈالا۔ یا بے حیائی کے اسفنج نے جذب کر ڈالا۔

(ایڈیٹر)

٤ ....... يكسر الصليب ويقتل الخنازير

مولانا شوکت اللہ میرٹھی !

یہ صحیح بخاری کی حدیث ہے مرزا قادیانی کہتے ہیں کہ اس کا مورد اور مصداق میں ہوں۔ ہم پہلے بھی مرزا قادیانی سے پوچھ چکے ہیں کہ يكسر الصليب سے کیا مراد ہے اور خنازیر کون ہیں۔ کیا یہی عیسائی صلیب مراد ہے اور کیا خنازیر بھی تمام عیسائی ہیں۔ لیکن ہم نے اب تک نہیں سنا کہ مرزا قادیانی نے کسی گرجا کی صلیب کو توڑا ہو یا کسی پادری وغیرہ کو قتل کیا ہو۔ اور اگر تاویلی معنی مراد ہیں۔ یعنی بجائے صلیب پرستی کے مرزائیت پھیلے گی اور جن لوگوں کے خواص و عادات سوروں کے سے ہیں۔ وہ بدل جائیں گے اگرچہ حدیث میں ”يبدل

٣٤٦

صفحہ ٦٩٣

الخنازير ويصلح الخنازير " نہیں آیا تا ہم مرزا کی اس تاویل کا بھی اب تک ظہور نہیں ہوا۔ صلیب پرستی تو خود الحکم کے اقوال کے مطابق روز بروز بڑھ رہی ہے جبکہ مسیح موعود ہٹا کٹا موجود ہے تو صلیب کیوں مغلوب نہیں ہوتی؟ اور اگر مرنے کے بعد ٹکرے ٹکرے یا مغلوب ہوگی تو آپ مسیح موعود نہیں۔ اور اگر مرزائی مراد ہیں جو پہلے خنازیر تھے اور اب اصحاب کہف کے قطمیر بن گئے ہیں تو مرزا قادیانی پر جو اقوام و مذاہب اب تک ایمان نہیں لائے سب خنازیر ہیں۔ پس جب تک تمام دنیا ان پر ایمان نہ لائے یا سارے خنازیر یعنی انسان قتل نہ کئے جائیں۔ آپ مسیح موعود نہیں بن سکتے۔

غور سے دیکھئے تو یکسر الصلیب کیا معنی مرزا قادیانی سے بڑھ کر تو عبد الصلیب یا صلیب پرست نہیں ۔ وہ ہمیشہ بلا ضرورت صلیب پرست گورنمنٹ کے مندر یا گرجا میں ٹک گھنٹی کرتے ہیں۔ اور بلاوجہ خوشامدی میموریل بھیجتے ہیں کہ میں گورنمنٹ کے غلاموں کا غلام ہوں۔ پھر سوروں کو تو آپ کیا قتل کریں گے ۔ جہاد کے نام سے لرزتے ہیں اور جہاد پر نہیں بلکہ خود مذہب اسلام پر لعن وطعن کرتے ہیں کہ یہ ایک ظالمانہ اور قاتلانہ مذہب ہے اور نہ صرف اصحاب کبار بلکہ آنحضرت ﷺ بڑے بھاری قاتل اور جابر اور ظالم تھے اور اب میں دنیا سے جہاد کی رسم کو اٹھانے آیا ہوں ۔ پھر اچھے خاصے مسلمان اور مذہب اسلام کے مجدد۔

اور چونکہ تمام یورپ ضرورت کے وقت جہاد کرتا ہے یعنی باغیوں کو سزا دیتا ہے جس طرح برٹش گورنمنٹ نے پچھلے سال بوئروں کو سزا دی اور اب صومالی مُلاّ کو سزا دے رہی ہے تو وہ بھی مرزا قادیانی کے نزدیک ظالم اور قاتل اور ملعون ہے۔ پھر آپ اپنے آپ کو قاتل الخنازیر کیوں بتاتے ہیں۔ ذرا جنگل میں شکار کھیلنے جائیں اور کسی جنگلی سور سے سابقہ پڑے تو روح فنا ہو جائے۔

بات یہ ہے کہ مرزا قادیانی برٹش گورنمنٹ کی آزادی کو دعا دیں جس کی بدولت آپ کا بروزی طلسم قائم ہے ورنہ جس طرح عدالت کی ایک ڈانٹ پر آپ نے مہلک اور قاتل پیشینگوئیوں سے توبہ کر لی ۔ اسی طرح دوسری ڈانٹ پر مسیحیت مہدویت کا جبہ قبا اتار کر گورنمنٹ کے حوالہ کردیں اور یہی کہیں کہ بندی لنڈوری ہی بھلی۔ یکسر الصلیب اور قاتل الخنازیر بنتے شرم نہیں آتی۔ یہ بزدلی اور چتر پن اور مسیحیت و مہدویت کے دعویٰ۔ لاحول ولا قوة الا بالله !

٣٤٧

صفحہ ٦٩٤

تعارف مضامین ...... ضمیمہ شحنہ ہند میرٹھ سال ١٩٠٣ء یکم نومبر کے شمارہ نمبر ٤١ کے مضامین

اس شمارہ میں ایک مسلمان اور مرزائی کے درمیان طویل مراسلت تھی جو کئی شماروں میں شائع ہوئی۔ اسے آگے یکجا کر رہے ہیں۔ اس کے علاوہ مضمون ١ مرزا قادیانی کا اسم اعظم۔ مولانا شوکت اللہ میرٹھی اور ٢ مرزائیوں کے گورداسپور کے مقدمات نامہ نگار پیسہ اخبار لاہور کے حوالے سے پیش کئے گئے۔

اسی ترتیب سے پیش خدمت ہیں:

١ ...... مرزا قادیانی کا اسم اعظم

آپ نے تمام مریدوں اور حواریین کو ہدایت کی ہے کہ مندرجہ ذیل عبارت کا تکرار نماز کے رکوع و سجود وغیرہ اور دوسرے وقتوں میں بکثرت کیا کریں۔ یہ خدا نے اسم اعظم بتایا ہے۔ ”رب کل شئ خادمک رب فاحفظنی وانصرنی“ (تذکرہ ص ٦٥٤ طبع سوم) کیا کہنا ہے کتنا تازہ بتازہ الہام کی ٹکسال کا گھڑا ہوا اسم اعظم ہے۔ ہدایتہ النحو اور کافیہ پڑھنے والوں کو اس سے بہتر اسم اعظم الہام ہوسکتا ہے۔ کلام مجید اور فرقان حمید کا لفظ لفظ اسم اعظم ہے۔ ورنہ لازم آئے گا کہ کلام مجید میں بعض الفاظ اصغر یعنی کم درجہ کے بھی ہیں۔ حالانکہ تمام کلام مجید یکساں دینی اور کلام الٰہی ہے۔ چنانچہ ”الیوم اکملت لکم دینکم“ ناطق ہے لیکن مرزا قادیانی کے نزدیک کلام مجید میں اسم اعظم کیا معنی کوئی اسم اصغر بھی نہیں۔ ان کے نزدیک تو اعظم وہ ہے جو آسمانی باپ بیت الخلاء (اے توبہ) بیت الخلوت میں الہام کرتا ہے۔ اسی کے ورد رکھنے اور نماز میں بجائے آیت قرآنی پڑھنے کے اپنے چیلوں کو ہدایت کرتے ہیں اور بات بھی ٹھیک ہے کیونکہ جب ان کی بروزی نبوت نے تمام نبوتوں کو منسوخ کر دیا تو انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام پر جو صحائف نازل ہوئے تھے وہ بھی منسوخ ہوگئے۔ ”لعنۃ اللہ علی الکاذبین“ (ایڈیٹر)

٢ ...... مرزائیوں کے گورداسپور والے مقدمات

نامہ نگار اخبار پیسہ لاہور!

پیسہ اخبار کے نامہ نگار نے ان مقدمات کی پیشیوں کی کیفیت حسب ذیل لکھی ہے مگر یہ پرانے حالات ہیں۔ جدید پیشیوں کی کیفیت معلوم کرنے کے لئے ناظرین منتظر رہیں۔

٣٤٨

صفحہ ٦٩٥

آج کل گورداسپور میں مرزائیوں کے مقدمات بڑے دھڑلے سے چل رہے ہیں۔ ٢٣؍ ستمبر ١٩٠٣ء کو مرزا قادیانی بحیثیت ملزم اس مقدمہ میں پیش ہوئے جو ان پر اور حکیم فضل دین صاحب پر منجانب مولوی محمد کرم الدین صاحب دائر عدالت ہیں۔ مرزا قادیانی کی طرف سے خواجہ کمال الدین مولوی محمد علی شیخ نور احمد صاحبان وکلاء اور منجانب مولوی صاحب شیخ علی بخش بابو مولا مل صاحبان وکلاء پیروکار تھے۔ مرزا قادیانی کے وکلاء نے ملزمان کی طرف سے ایک تحریری درخواست پیش کی کہ جب تک ہمارے استغاثے فیصلہ نہ ہولیں۔ یہ استغاثہ ملتوی رہے چنانچہ دو روز وکلاء ملزمان نے زور وشور سے بحث کی اور وکلاء مستغیث نے اس کی تردید کی مجسٹریٹ نے اس درخواست کو نامنظور کیا اور شہادت استغاثہ کے لئے ١٧؍اکتوبر ١٩٠٣ء مقرر ہوئی۔ استغاثہ کی طرف سے حسب ذیل اصحاب شہادت کے لئے معرفت عدالت طلب ہوئے۔

شمس العلماء مولوی مفتی محمد عبداللہ صاحب، شمس العلماء مولوی عبدالحکیم صاحب کلانوری، محمد علی صاحب بی۔اے منصف بٹالہ۔ ملک تاج الدین صاحب واصل باقی نویس تحصیل جہلم، چودھری عبداللہ خان صاحب رئیس ضلع جہلم ٢٠؍اکتوبر ١٩٠٣ء کو مقدمہ حکیم فضل دین صاحب بنام مولوی محمد کرم الدین صاحب زیر دفعہ ٥٠٠ تعزیرات ہند پیشی ہوا جس میں اصحاب ذیل کی شہادت حلفیہ میں گزری منشی شمس الدین صاحب شائق مالک شمس الہند پریس لاہور۔ حکیم غلام محی الدین صاحب، پیر منور شاہ صاحب ضلع جہلم، منشی قادر بخش صاحب ایجنٹ شیخ محمد دین صاحب وکیل جہلم اس مقدمہ میں ٥؍اکتوبر کو مرزائیوں نے پھر ایک درخواست زیر دفعہ ٥٢٨ ضابطہ فوجداری واسطے طلبی پیر مہر علی شاہ سجادہ نشین گولڑہ دی جو عدالت نے نامنظور کی۔ اس مقدمہ میں ٢٣؍اکتوبر ١٩٠٣ء مقرر ہوئی۔

اور مقدمہ ٤١١ تعزیرات ہند میں بھی ٢٣؍اکتوبر ١٩٠٣ء مقرر ہوئی۔ اور بمقدمہ منشی یعقوب علی صاحب ایڈیٹر الحکم بنام مولوی محمد کرم الدین صاحب زیر دفعہ ٥٠٠ تعزیرات ہند بغرض شہادت استغاثہ ٣١؍اکتوبر ١٩٠٣ء مقرر ہے اور نیز اس امر کا ذکر کرنا بھی ضروری ہے کہ مرزا نظام الدین صاحب نے زیر دفعہ ١٠٧ ضابطہ فوجداری رپورٹ کی جس پر ڈپٹی انسپکٹر تھانہ بٹالہ نے بعد تفتیش رپورٹ کی واقعی احتمال نقض امن ہے۔ اور مرزا ناصر نواب صاحب (خسر مسیح قادیانی) کی نسبت زیادہ احتمال ہے۔ اس پر مجسٹریٹ علاقہ نے نوٹس بنام مرزا ناصر نواب صاحب جاری کیا۔ کہ تم حاضر عدالت ہو کر وجہ بیان کرو کہ کیوں ضمانت نہ لی جائے۔

٣٤٩

صفحہ ٦٩٦

٢٣؍اکتوبر ١٩٠٣ء تاریخ مقرر تھی مگر قبل ازیں مرزا قادیانی اور ان کے حواریوں نے مرزا نظام الدین صاحب کو راضی کر لیا۔

(نامہ نگار گورداسپور)

یہی کیفیت قادیانی اخبار الحکم حسب ذیل لکھتا ہے جو مذکورہ بالا کیفیت سے ملتی جلتی ہے مگر دونوں کیفیتوں سے یہ نہیں کھلتا کہ منارہ کے کلس پر فتحیابی کے دھوکے کھلیں گے۔ بہرحال بات آسمانی باپ کے ہاتھ ہے اگر لے پالک کی اسے پرواہ نہیں رہی تو جو کچھ ہو سو تھوڑا ہے۔

مقدمات کے متعلق ٢٣، ٢٤ ستمبر ١٩٠٣ء کی تاریخیں مقرر تھیں۔ ٢٣ ستمبر کو مولوی کرم الدین کا استغاثہ جو حکیم فضل دین صاحب کے خلاف ہے۔ پیش ہوا۔ حکیم فضل دین صاحب نے ایک درخواست اپنے وکلاء کی معرفت پیش کی کہ یہ مقدمہ جب تک مقدمہ زیر دفعہ ٤٢٠ فیصلہ نہ ہولے ملتوی رہے کیونکہ اس مقدمہ کا انحصار ایک پہلو سے انہیں واقعات اور دستاویزوں پر ہے۔ وکلاء کی بحث کے بعد مجسٹریٹ نے اس مقدمہ کی تاریخ ١٧؍اکتوبر درخواست نامنظور کر کے مقرر کر دی۔

٢٤ ستمبر کو ایڈیٹر الحکم کا مقدمہ بنام مولوی کرم الدین و ایڈیٹر سراج الاخبار جہلم پیش ہوا۔ ملزم نے شہادت کے موجود ہونے پر مستغیث پر بقایا جرح کرنی چاہی۔ شہادت استغاثہ چونکہ اس تاریخ پر طلب نہیں ہوئی تھی۔ اس لئے ٢١؍ اکتوبر ١٩٠٣ء مکرر اس مقدمہ کی سماعت کے لئے مقرر ہوئی۔

مقدمہ زیر دفعہ ٤٢٠ جس میں مولوی کرم الدین کی شہادت صفائی گزرنی ہے۔ اس کے لئے ١٦، ١٧؍اکتوبر ١٩٠٣ء مقرر ہے۔ ١٧؍اکتوبر کے لئے مولوی کرم الدین کو کہا گیا کہ وہ اپنی شہادت استغاثہ بھی طلب کرے۔

٢٨ ستمبر کو مقدمہ سرقہ کے متعلق وکلاء فریقین کی تقریریں ہونے والی تھیں مگر ملزم کی درخواست پر وہ ١٥؍اکتوبر ١٩٠٣ء پر ملتوی ہو گیا۔ اس سے زیادہ مقدمات کے متعلق کوئی اور خبر نہیں ہے۔

تعارف مضامین ...... ضمیمہ شحنہ ہند میرٹھ

سال ١٩٠٣ء یکم نومبر کے شمارہ نمبر ٤١؍ کے مضامین

اس شمارہ سے جناب رفعت اللہ صاحب کی اپنے چچا جو قادیانی تھے ان سے مراسلت کی اشاعت کا سلسلہ شروع ہوا جو شمارہ ٤٢، پھر شمارہ ٤٤ پھر ٤٥ تک جاری رہا۔ ٤١؍ سے ٤٥؍ تک ماسوائے ٤٣؍ کے ان تمام اقساط کو یہاں یکجا کر دیا ہے۔

٣٥٠

صفحہ ٦٩٧

١ ...... مراسلت مابین محمدی و مرزائی

"بسم الله الرحمن الرحيم۔ نحمده ونصلی علی رسوله الکریم"

ناظرین! میرے چچا مرزائی ہیں جبکہ وہ سنی پور آسام میں تھے اس وقت خط و کتابت ہوئی تھی۔ اس کو عرصہ ٥، ٦ سال کا ہوا۔ اب تک چچا صاحب کے خیال سے خطوط شائع نہیں کئے۔ مگر روز بروز ان کی سختی بڑھتی جاتی ہے۔ مجبور ہو کر شائع کر دیئے۔ امید کہ سلسلہ وار بغور ملاحظہ ہو۔ زائد لکھنے کی ضرورت نہیں۔ خطوط سے مرزا قادیانی کے مریدوں کی لیاقت معلوم ہو جائے گی۔ میرے نزدیک ایک صدی میں کئی مجدد بھی ہوئے ہیں۔ خطوط میں مولانا عبدالحی صاحب کو میں نے مجدد اس صدی کا تسلیم کیا ہے مگر اب تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ تجدید حضرت مولانا سید نذیر حسین صاحب سے بڑھ کر کسی نے نہیں کی کہ مجھ کو عبدالحی صاحب کی تجدید کا انکار نہیں۔ وہ بھی ہیں اور دوسرے علماء بھی ہوں۔ مگر حضرت مولانا صاحب مرحوم سے بڑھ کر کوئی نہیں ہے۔ آگے خطوط ملاحظہ ہو۔ فقط: از جانب کمترین رفعت اللہ عفا اللہ عنہ!

جناب چچا صاحب خدا آپ کو ہدایت دے۔ السلام علیکم! خط آیا احوال معلوم ہوا۔ آپ نے ایک ورق مرزا قادیانی کی تعریف میں سیاہ کیا ہے مگر کوئی دلیل شرعی نہیں لکھی۔ جس کے جواب کی طرف توجہ کی جائے مگر میں نے جو کچھ آپ نے خامہ فرسائی کی ہے اس کا جواب صرف آپ کی خاطر سے لکھتا ہوں۔

قولہ ...... جو بات تمہاری سمجھ میں نہ آئے۔ اس کو جناب مولانا اعظم شاہ صاحب اور سید علی سے پوچھ لو۔

اقول ...... مرزا قادیانی کی کوئی عبارت دقیق نہیں جو مجھ کو دریافت کرنے کی ضرورت ہو اور اگر جناب مولانا مولوی محمد اعظم شاہ صاحب سے دریافت کرلوں تو عیب نہیں گناہ نہیں اور میرے استاد ہیں اور ہمارے فرقہ اہل سنت کے ایک معزز مولوی ہیں مگر سید علی سے دریافت کر لینا گناہ بھی ہے اور عیب بھی۔ گناہ اس وجہ سے کہ وہ گمراہ ہے اور گمراہ سے مشورہ لینا موجب گمراہی کا ہے اور عیب یوں ہے کہ وہ عالم نہیں نہ اس لائق کہ عبارت دقیق بتا سکے۔ پھر جاہل سے دریافت کرنا محض حماقت اور کسر لیاقت ہے اور آپ نے جو وظیفہ کا طریقہ لکھا ہے کہ اس طرح کرو تو تم پر خواب میں حق ظاہر ہوگا۔ میں نے اس کو مانا اور ایسا کروں گا۔ مگر یاد رہے کہ اگر اس وظیفہ کے موافق اثر نہ ہوا (اور انشاء اللہ ہرگز نہ ہوگا) تو پھر مرزا قادیانی کی قلعی کھل جائے گی کیونکہ غالباً یہ طریقہ مرزا قادیانی کا بتایا ہوا ہوگا۔

٣٥١

صفحہ ٦٩٨

قولہ ...... اگر جس راہ پر علماء ہیں اس راہ پر امام آتا تو اتنے بڑے امام کے آنے کی ضرورت نہ تھی۔

اقول ...... آپ کا یہ دعویٰ بلا دلیل ہے ہم مرزا قادیانی کو بڑا امام کیا، چھوٹا امام بلکہ گروہ علماء سے بھی تسلیم نہیں کرتے۔ اب دلیل شرعی سے ان کی امامت ثابت کریں اور یہ جو آپ کی تحریر سے ثابت ہوتا ہے کہ امام وقت علماء وقت سے خلاف ہوتا ہے تو ایسے امام کو ہم نہیں مانتے۔ وہ امام نہیں ہوتا بلکہ سر درد ہوتا ہے۔ کیا امام اعظم صاحب و امام شافعی صاحب و امام مالک صاحب و امام احمد صاحب وغیرہ علماء وقت کے خلاف تھے یا انہوں نے کوئی جدید شریعت قائم کی۔ آپ کو لا محالہ ماننا پڑے گا کہ انہوں نے علماء کے خلاف نہیں کیا اور نہ جدید شریعت قائم کی اور یہ امام بھی ہیں۔ پھر آپ کا یہ قاعدہ کلیہ مہمل ہوا کہ امام علماء وقت کے خلاف کرتا ہے۔

قولہ ...... اگر امام ٧٣ فرقوں میں سے ایک فرقہ کا خلاف کرے تو اور فرقے برا کہیں۔

اقول ...... بس آپ کے امام کی قلعی کھل گئی۔ معلوم ہوا کہ وہ ابن الوقت ہیں۔ کل فرقوں کو راضی رکھتے ہیں اور حق پوشیدہ کرتے ہیں۔ ایسا شخص امام نہیں ہو سکتا۔ اس کو دجال اصغر کہہ سکتے ہیں۔ کل اماموں کا قاعدہ ہے کہ خواہ کوئی برا کہے مگر وہ کبھی اخفاء حق نہیں کرتے ہیں اور مرزا قادیانی نے ایک جدید قاعدہ مقرر کیا۔ کیوں نہ ہو جن کو شیطانی الہام ہوتا ہے۔ ان کا یہی حال ہے۔ اس پر دلیل شرعی قائم کریں ورنہ میں تسلیم نہیں کرتا۔

قولہ ...... اور لکھا ہے کہ عالم اس پر کفر کا فتویٰ دیں گے۔

اقول ...... محض بہتان کس کتاب میں لکھا ہے اگر کفر کے فتویٰ سے ایک شخص امام بن سکتا ہے تو سید احمد خان و اندرمن وغیرہ کو بھی امام کہئے۔

قولہ ...... اور خدا کی عادت نہیں کہ ایک جسم دار چیز آسمان سے اتارے۔

اقول ...... صریح کذب ہے خدا سے خوف کرو کلام ربانی کے منکر مت بنو میں یہاں پر تو نہیں مگر اپنے ثبوت میں کل آیتیں و حدیثیں لکھوں گا۔

قولہ ...... ایمان اسی کا نام ہے کہ غیب پر ایمان لائے اور جب سامنے آگیا تو کافر بھی ایمان لے آئیں گے۔

اقول ...... بے شک ایمان بالغیب ہی معتبر ہے مگر خاص اللہ کے واسطے رسول و امام وغیرہ کے جب تک کمالات ہم بنظر خود یا معتبر روایت سے نہ سن لیں گے۔ ہرگز ایمان نہیں لاسکتے کوئی کمال نہ کہلائے ورنہ یہ دعوے بلا سود ہے۔

٣٥١

قولہ ...... اور ہر زمانہ میں جب کوئی نبی کرنے کو نہیں آیا بلکہ غلطی نکالنے کو آیا۔

اقول ...... چچا صاحب عقل سے کام لیجئے کر دیتی ہے۔ اس وقت دوسرے نبی کی ض ہے اور کتاب آسمانی کو مضبوط پکڑے ر کتاب آسمانی کے خلاف عقیدے تراشے گے اور اگر آپ کا قاعدہ مسلم رکھا جائے تو امام اور نبی کسی کتاب آسمانی کے خلاف نہیں یہ ضرور ہوتا ہے کہ ایک نبی د نہیں۔ ان کو ضرور کتاب کے موافق عمل کہ جب تک ایک نبی کی امت راہ راس نہیں آیا اور اگر آیا ہو تو آپ بتائیں ۔ قولہ

اقول ...... "لعنة الله علی الکاذبی ہے۔ آپ برہان قائم کریں ورنہ یہ قول نے چند جہلاء کو بہکایا ہے۔

قولہ ...... تم تو خدا کے فضل سے دانا

اقول ...... مجھ کو جب آپ نے دانا تسلی

قولہ ...... کیا مولوی عرب میں نہیں

اقول ...... مگر اس سے آپ کا مطلہ

قولہ ...... اور وہاں بہت زمانہ سے ا

اقول ...... یہ بھی تسلیم مگر اس سے بحث

قولہ ...... اور دین کو مضبوط پکڑے

اقول ...... بالکل غلط سب بددین ۔ کی ضرورت ہوئی۔

قولہ ...... پھر (دیکھو حضرت ابو بکر

اقول ...... بے شک ایمان لائے مگ

صفحہ ٦٩٩

قولہ ...... اور ہر زمانہ میں جب کوئی نبی یا امام ان کی غلطی نکالنے کو آیا تو وہ ان کی کتابوں پر عمل کرنے کو نہیں آیا بلکہ غلطی نکالنے کو آیا۔

اقول ...... چچا صاحب عقل سے کام لیجئے یہ مسلم ہے کہ جب کتاب آسمانی کو کوئی امت ردو بدل کر دیتی ہے۔ اس وقت دوسرے نبی کی ضرورت پڑتی ہے اور جب تک ایک امت راہ ہدایت پر ہے اور کتاب آسمانی کو مضبوط پکڑے ہے اور ایک شخص نے امامت یا نبوت کا دعویٰ کیا اور اس کتاب آسمانی کے خلاف عقیدے تراشے تو اس کو ہم امام کیسے مانیں گے۔ بلکہ اس کو کاذب کہیں گے اور اگر آپ کا قاعدہ مسلم رکھا جائے تو مسیلمہ کذاب وغیرہ مدعیان نبوت کو نبی مرسل ماننا ہوگا۔ امام اور نبی کسی کتاب آسمانی کے خلاف نہیں کرتا۔

یہ ضرور ہوتا ہے کہ ایک نبی دوسرے نبی کی شریعت کا ناسخ ہوتا ہے مگر امام کا یہ بھی مرتبہ نہیں۔ ان کو ضرور کتاب کے موافق عمل کرنا ہوتا ہے ورنہ امام نہیں کاذب ہے میں دعویٰ کرتا ہوں کہ جب تک ایک نبی کی امت راہ راست پر رہی اور کتاب کو مضبوط پکڑے رہی۔ ہرگز دوسرا نبی نہیں آیا اور اگر آیا ہو تو آپ بتائیں۔ قولہ ۔ مولویوں نے راہ راست سے بہکا رکھا ہے۔

اقول ...... ”لعنة اللہ علی الکاذبین“ یہ کیسے معلوم ہوا کہ مولویوں نے راہ راست سے بہکایا ہے۔ آپ برہان قائم کریں ورنہ یہ قول آپ کا مردود ہے۔ بے شک دجال اصغر یعنی مرزا قادیانی نے چند جہلاء کو بہکایا ہے۔

قولہ ...... تم تو خدا کے فضل سے دانا ہو۔

اقول ...... مجھ کو جب آپ نے دانا تسلیم کر لیا تو کیوں نہیں میری بات کو مانتے؟

قولہ ...... کیا مولوی عرب میں نہیں ہیں؟

اقول ...... مگر اس سے آپ کا مطلب؟

قولہ ...... اور وہاں بہت زمانہ سے اجماع بھی تھا۔

اقول ...... یہ بھی تسلیم مگر اس سے بحث؟

قولہ ...... اور دین کو مضبوط پکڑے تھے۔

اقول ...... بالکل غلط سب بددین تھے اور اس وجہ سے ہمارے سردار عالم ﷺ کے مبعوث ہونے کی ضرورت ہوئی۔

قولہ ...... پھر (دیکھو حضرت ابو بکر صدیق ایمان لائے)

اقول ...... بے شک ایمان لائے مگر کیا اندھوں کی طرح جھک پڑے جیسے عوام مرزا کی طرف ہرگز

٣٥٣

صفحہ ٧٠٠

نہیں ۔ سرور عالم ﷺ نے طرح طرح کے معجزوں سے ان کو مجبور کیا۔ اس وجہ سے ان کو بجز ایمان لانے کے چارہ نہ ہوا اگر مرزا قادیانی میں ایک ادنیٰ بات دکھا دیں بخدا میں ابھی بیعت کرتا ہوں۔

قولہ ...... حضرت نے فرمایا تھا کہ دجال کے ہمراہ ٧٠ ہزار یہود ہوں گے۔ اس سے اشارہ یہ ہے کہ نصاریٰ نے ٧٠ ہزار سے زاید مسلمانوں کو عیسائی بنا دیا۔

اقول ...... چچا صاحب حضرت نے فرمایا تھا کہ عیسیٰ علیہ السلام کعبہ کی چھت سے اتریں گے۔ اس سے اشارہ یہ ہے کہ رفعت اللہ اپنی چھت سے اترا ہے اور ایمان لاؤ۔ اگر آپ کہیں کہ یہاں پر کیا طریقہ ہے؟ یعنی ہمارا اعتراض آپ کے قول پر ہے۔ آپ خدا سے ڈریں اور اگر استعاروں پر دین کو محمول کیا جائے گا تو کوئی ایسا ملحد نہیں جو اپنا مطلب نہ نکالے۔ استعارہ سے اس وقت کام لیا جاتا ہے جب کوئی قوی قرینہ ہو۔

قولہ ...... حضرت نے فرمایا ہے کہ میری امت مثل یہود و نصاریٰ کے ہو جائے گی وہ اب پورا ہوا۔

اقول ...... چچا صاحب آپ کو بھی الہام ہونے لگا۔ ابھی تو قادیان بھی نہیں گئے کیا سنی پور میں فرشتہ آنے لگا۔ آپ کو کیسے معلوم ہوا کہ یہ اب پورا ہوا۔ کیا حدیث میں یہ بھی الفاظ آگئے ہیں کہ ١٣١٥ھ میں میری امت یہود و نصاریٰ کے مثل ہو جائے گی اور اگر مرزا قادیانی کو الہام سے معلوم ہوا ہے تو ایسے الہام پر لعنت اور اگر آپ کا قیاس ہے تو یہ وہی قیاس ہے۔ ”خلقتنی من نار و خلقته من طین“ ہم بھی کہہ سکتے ہیں کہ مخبر صادق ﷺ کی مراد یہود و نصاریٰ سے مرزا قادیانی اور ان کے حواریین ہیں اور قرینہ اس پر یہ کہ انہوں نے کتاب اللہ کے معنوں میں مثل یہود و نصاریٰ تحریف و تاویل کی ہے۔ بے شک وہ زمانہ آگیا اور ہمارے نبی ﷺ کی پیشینگوئی صادق ہوئی اور مصداق اس کے مرزا قادیانی اور ان کے حواری ہیں۔

قولہ ...... خوب سمجھ لو کہ آسمان سے کسی مجسم شے کا اترنا۔ بالکل خلاف واقعہ ہے۔

اقول ...... چچا صاحب آگے جا کر ثابت کروں گا مگر انصاف کی نظر سے دیکھنا۔

قولہ ...... یہ بڑی باریک بات ہے کہ عیسیٰ آسمان سے اتریں اور سب ان کو دیکھیں اور اس پر عمل کریں اور جس پر علماء ہوں تو سچی نہیں جھوٹی اور جس فرقہ کے موافق ہوں۔ وہی اچھا کہے باقی ٧٢ فرقہ جھوٹا یہ بڑی نادانی ہے۔

اقول ...... باریک بات ہے بقول آپ کے جب ہی مرزا قادیانی کی سمجھ میں نہیں آیا اور گمراہ

٣٥٤

صفحہ ٧٠١

ہوگیا۔ چچا صاحب کل فرقوں اہل اسلام کا عقیدہ ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام آسمان سے اتریں گے اور جس فرقہ پر وہ ہوں گے وہی حق ہے۔ یہ مرزا قادیانی کی بڑی نادانی ہے کہ اور فرقہ عیسیٰ کو برا کہیں گے۔ کوئی برا نہیں کہے گا۔ یہ سراسر بہتان ہے چچا صاحب کیا علماء اپنے گھر جا کر کہتے ہیں؟ ہرگز نہیں کلام پاک اور حدیث شریف سے استدلال کرتے ہیں۔ مرزا کیوں نہیں مانتا۔ علماء جاہل نہیں جو اندھوں کی طرح ایک شعبدہ باز کو مثیل مسیح مان لیں۔ خواہ وہ ان کو اچھا کہے یا برا۔ قولہ...... وہ تو اس واسطے آئے ہیں کہ قرآن شریف کو اور جو کچھ حضرت نے فرمایا ہے اس کو حق پر کریں اور تم لوگ کہو نہیں جیسا ہم کہیں وہ کرو بڑے غیرت کی بات ہے۔ اقول...... واہ چچا صاحب ”واکملت لکم دینکم“ کو ١٣٠٠ برس نازل ہوئے ہو گئے مگر ابھی کلام پاک حق پر نہیں ہوا۔ ہزار ہا محدث و امام و فقیہ گزر گئے مگر سب غیروں پر یعنی گمراہ رہے۔ اور نیز اب ہمارے مرزا قادیانی کلام پاک کو سمجھتے اور حق پر کرتے ہیں۔ افسوس علماء تو کہتے ہیں کہ حضرت مسیح کی یہ علامتیں ہیں اور وہ بقید حیات ہیں اور ان کا نزول آسمان سے ہوگا اور ان کے دلائل قرآن پاک وحدیث شریف سے بیان کرتے ہیں اور مرزا قادیانی صاحب کہتے ہیں کہ ہم تو کلام پاک کو حق پر کرنے آئے ہیں۔

ابھی تک سب گمراہ تھے ہم تو یہ نہیں مانتے بڑے غیرت کی بات ہے چچا صاحب آپ کسی عالم کا قول دکھا دیں جو اس نے یہ لکھا ہو کہ جو کچھ میں کہوں وہی مانو، کلام مجید وحدیث شریف کو نہ مانو تو میں مرزا قادیانی سے بیعت کرلوں۔ کیا مرزا قادیانی کی بیعت کا اصول یہی ہے کہ جھوٹ بولو ”لعنۃ اللہ علی الکاذبین“ چچا صاحب آپ انصاف کریں اب میں اپنا ثبوت پیش کرتا ہوں۔ مرزا قادیانی نزول ملائکہ کے منکر ہیں اور آپ کی تحریر سے بھی ثابت ہوتا ہے کہ کسی مجسم شے کا آسمان سے نزول نہیں ہوتا مگر اس عقیدہ فاسد کی سورہ قدر تردید کر رہی ہے۔ ”انا انزلنہ فی لیلۃ القدر. وما ادرک ما لیلۃ القدر. لیلۃ القدر خیر من الف شہر. تنزل الملئکۃ والروح فیہا باذن ربہم من کل امر. سلام ھی حتی مطلع الفجر“ ﴿ہم نے یہ اتارا شب قدر میں اور تو کیا بوجھا کیا ہے شب قدر شب قدر بہتر ہے ہزار مہینے سے اترتے ہیں فرشتے اور روح اس میں اپنے رب کے حکم سے ہر کام سے امان ہے وہ رات صبح کے نکلنے تک ہے۔﴾

مرزا قادیانی زمانہ ظلماتی اس شب کو قرار دیتے ہیں اور اللہ تعالیٰ اس کی تعریف میں فرماتا ہے (شب قدر بہتر ہے ہزار مہینے سے) تو بموجب عقیدہ مرزا کے اللہ تعالیٰ بڑا دھوکہ باز

٣٥٥

صفحہ ٧٠٢

ہے کہ ایک ظلماتی زمانہ کی تعریف کر کے اپنے بندوں کو آفت میں مبتلا کرنا چاہتا ہے۔ نعوذ باللہ اب بتائیے کہ مرزا قادیانی کلام کے خلاف کرتا ہے یا علماء اور دیکھئے صاف نزول ملائکہ کا ثابت ہوتا ہے اور مرزا منکر ہے۔ اب بتاؤ کہ ”تنزل الملائكة“ کے کیا معنی ہیں؟ مگر یاد رہے کہ جو کچھ آپ کہیں وہ کلام پاک کے لفظوں سے ثابت کر دیں اور کی تفسیر بے دلیل نہ پکڑیں اور نہ حدیث ضعیف سے، ورنہ بموجب آپ کے پیر صاحب کے قاعدہ کے وہ دلیل مردود ہوگی اور خوان کا نزول آسمان سے ثابت ہے کیا خوان مجسم شے نہیں ہے۔

گوکہ وہ جاندار نہیں ہے مگر مجھ کو مجسم شے کا نزول ثابت کرنا ہے۔ وہ انشاء اللہ ثابت کردوں گا۔ ”قال الحواریون یا عیسیٰ ابن مریم ھل یستطیع ربک ان ینزل علینا مائدة من السماء (مائده: ١١٢)“ جس وقت کہا حواریوں نے اے عیسیٰ بیٹے مریم کے آیا کر سکتا ہے پروردگار تیرا یہ کہ اتارے اوپر ہمارے خوان آسمان سے۔ چنانچہ عیسیٰ علیہ السلام نے دعا کی ”قال عیسیٰ ابن مریم اللھم ربنا انزل علینا مائدة من السماء تکون لنا عیدا لاولنا واخرنا واية منک وارزقنا وانت خیر الرازقین (مائده: ١١٤)“ جواب اللہ تعالیٰ کی طرف سے ”قال اللہ انی منزلھا علیکم فمن یکفر بعد منکم فانی اعذبه عذابا لا اعذبه احدا من العلمین “ یعنی کہا عیسیٰ علیہ السلام بیٹے مریم نے یا اللہ پروردگار ہمارے اتار اوپر ہمارے خوان آسمان سے کہ ہووے عید اوّل ہمارے اور آخر ہمارے کو اور نشانی تیری طرف سے اور رزق دے ہم کو اور تو بہتر رزق دینے والا ہے۔“

جواب اللہ کی طرف سے کہا اللہ نے تحقیق میں اتارنے والا ہوں اوپر تمہارے پس جو کوئی کفر کرے بعد اس کے تم میں سے پس تحقیق میں عذاب کروں گا کہ نہ عذاب کروں گا وہ کسی کو عالموں سے۔“ چچا صاحب انصاف سے دیکھو اگر مجسم شے کا نزول خلاف قانون قدرت ہوتا تو ایسا جلیل القدر نبی اس کی استدعا نہ کرتا بلکہ اپنے حواریوں کو فہمائش کر دیتا اور اگر بالفرض محال ہم مان لیں کہ عیسیٰ نے نادانگی سے دعا کی تو اگر مجسم شے کا اترنا آسمان سے خلاف ہوتا تو اللہ تعالیٰ اتارنے کا وعدہ نہ کرتا۔ اس سے معلوم ہوا کہ خوان ضرور اترا کیونکہ اللہ کا قول سچا ہے۔ معاذ اللہ وہ معبود برحق جھوٹا نہیں۔ جو وعدہ کر کے پورا نہ کرے اور مرزا قادیانی کا عقیدہ ہے کہ کسی نبی نے آج تک مردہ زندہ نہیں کیا اور عیسیٰ نے مٹی کی چڑیا اصلی بنا کر نہیں اڑائی بلکہ وہ مسمریزم کا اثر یا نظر بندی تھی۔

افسوس آپ کے پیر صاحب کلام پاک کو بالکل نہیں دیکھتے اور اگر دیکھتے ہیں تو اندھے

٣٥٦

صفحہ ٧٠٣

بن کر۔ یا انہیں سمجھنے کی لیاقت نہیں اور اگر ہے تو ان کو حق بات کہنے کی جرأت نہیں۔ یا ان کو اپنی شہرت منظور ہے خواہ شیطان ہی بن کر ہو۔

دیکھو احیاء الموتیٰ اور معجزات عیسیٰ کے کلام پاک سے ثابت ہیں۔ ”قال الله تعالى انى قد جئتكم بايت من ربكم انى اخلق لكم من الطين كهيئة الطير فانفخ فيه فيكون طيراً باذن الله وابرى الا كمه والابرص واحي الموتى باذن الله وانبئكم بما تاكلون وما تدخرون فى بيوتكم ان فى ذالك لاية لكم ان كنتم مؤمنين (آل عمران:٤٩) “یہ کہ تحقیق آیا ہوں میں تمہارے پاس ساتھ ایک نشانی کے پروردگار تمہارے کی طرف سے یہ کہ بناتا ہوں میں واسطے تمہارے مٹی سے مانند صورت جانور کی پس پھونکتا ہوں میں بیچ اس کے پس ہو جاتا ہے جانور ساتھ حکم اللہ کے چنگا کرتا ہوں میں پیٹ کے اندھے کو اور کوڑھی کو اور جلاتا ہوں میں مردہ کو ساتھ حکم اللہ کے، اور خبر دیتا ہوں میں ساتھ اس چیز کے کہ کھاتے ہو تم جو کچھ ذخیرہ کرتے ہو بیچ گھروں اپنے کے تحقیق بیچ اس کے البتہ نشانی ہے واسطے تمہارے اگر ہو تم ایمان والے۔“

دیکھو اس سے مرزا قادیانی کی تردید ہورہی ہے۔ اس آیت سے صاف ثابت ہوتا ہے کہ مٹی کا جانور بناتے تھے اور وہ اصلی جانور ہو جاتا تھا۔ اور مرزا اس کا منکر ہے اور مردہ کا زندہ کرنا بھی ثابت ہوتا ہے ورنہ احی الموتی کے کیا معنی ہوئے اور مرزا قادیانی لکھتا ہے ”اگر یہ قول یعنی مسریزم صحیح نہ ہوتی تو بندہ اعجاز نمائی میں مسیح ابن مریم سے کم نہ رہتا ۔“ پھر لکھتا ہے ؎

اینک منم کہ حسب بشارات آمدم
عیسیٰ کجاست تا بنہد پا بہ منبرم

(درثمین فارسی ص ٧٩)

وہ مردود اپنے زعم باطل میں عیسیٰ سے اپنے کو بڑھ کر جانتا ہے۔ استغفر اللہ بھلا ایک نبی معزز سے مرزا قادیانی بڑھ سکتے ہیں؟ یہ کفر کے کلمہ لکھنا اور ایک نبی معظم کی توہین کرنا اسی دجال اصغر کا کام ہے۔ اور اگر مثل مسیح ہیں تو بتائیں کونسا جانور بنایا کونسا مردہ زندہ کیا کونسا مادر زاد اندھا اچھا کیا۔ کونسے مبروص کو شفا دی کونسی آئندہ کی بات کی خبر دی۔ اگر وہ واقعی مثل مسیح ہے تو نظیر بندی ہی کر دکھائے۔ یا اصلی معجزے دکھائے تو میں ایمان لے آؤں ۔ مگر مثل مسیح ہو تو ایسا کر دکھائے کہیں فرعون کا چھوٹا بھیا ایسا کر سکتا ہے؟ ہرگز نہیں خدا آپ کو اس فرعون ثانی سے نجات دے۔ آمین۔ اور مرزا قادیانی کا عقیدہ ہے کہ بعد مرنے کے روح دوزخ یا بہشت میں فوراً داخل ہو جاتی ہے۔

٣٥٧

صفحہ ٧٠٤

اور پھر وہاں سے نہیں نکلتی ۔ اسی وجہ سے احیی الموتیٰ وحیات مسیح کے منکر ہیں۔ مگر میں تعجب کرتا ہوں کہ پھر یوم الحساب کو میدان قیامت میں ارواح کیسے آئیں گی اور حساب کیسے ہوگا۔ نامعلوم آپ کے پیر صاحب اس کا کیا جواب دیں گے مگر معلوم ہو کہ اہل سنت کا یہ عقیدہ ہے کہ بعد مرنے کے ارواح اعلیٰ علیین یا سجین میں موافق مراتب کے چلی جاتی ہیں۔ ہاں یوم الحساب کو اللہ تعالیٰ حساب کرکے دوزخ یا بہشت میں داخل کرے گا اور پھر وہاں سے نکلنا نہ ہوگا اور ہمیشہ تک رہیں گے۔ ابھی علیین یا سجین سے روح کا واپس آنا شرعاً منع نہیں اور ہمارے اس دعوے کی حضرت عزیر علیہ السلام کا قصہ تائید کر رہا ہے جو کہ کلام پاک میں آیا ہے۔ ”او كالذي مرّ علی قرية وهي خاوية على عروشها قال انی یحیی ھذه الله بعد موتها فاماته الله مائة عام ثم بعثه (بقرہ: ٢٥٩) “ یہ مانند اس شخص کی کہ گزرا اوپر ایک گاؤں کے جو گرا ہوا تھا اوپر اپنی چھتوں کے کہا۔ کیونکر زندہ کرے گا ان کو اللہ تعالیٰ بعد موت اس کے پس مار ڈالا اس کو ۔ (یعنی عزیر کو) اللہ نے سو ١٠٠ برس تک پھر جلایا اس کو۔ اگر بعد موت ہی کے بہشت یا دوزخ میں انسان داخل ہوتا تو وہاں سے نکلنا محال ہے۔

پھر حضرت عزیر علیہ السلام بعد موت کے اور سو ١٠٠ برس گزرنے کے کیسے زندہ ہوئے؟ غالباً مرزا قادیانی کہیں گے کہ عزیر مرے نہیں ہیں بلکہ نوم ہو گئی تھی۔ میں اس اندھے سے پوچھتا ہوں کہ ”فاماتہ الله“ کے معنی موت کے ہیں یا نوم کے ویسے تو بہت لفظ پیش کرتا ہے۔

لائیے کوئی لفظ دکھائیے اب میں ثبوت حیات مسیح اور ان کے آسمان پر اٹھ جانے کا دیتا ہوں ۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ”وقولهم انا قتلنا المسيح عيسى ابن مريم رسول الله وما قتلوه وما صلبوه ولكن شبه لهم (النساء: ١٥٧) “اور بسبب کہنے ان کے کہ تحقیق ہم نے مار ڈالا عیسیٰ بیٹے مریم کو ۔ رسول اللہ کا تھا اور نہیں مارا اس کو انہوں نے اور نہیں سولی دی انہوں نے اس کو ولیکن شبیہ ڈالا گیا واسطے ان کے۔

دیکھو اس سے حیات عیسیٰ کی ثابت ہوتی ہے اگر مرزا کہے یہود نے نہیں مارا بلکہ اللہ تعالیٰ نے موت سے مار کر روح کو اٹھا لیا تو میں کہتا ہوں کہ اگر عیسیٰ اپنی موت سے مرتے تو یہودیوں کو شبہ کس بات کا تھا اور خود جان لیتے کہ عیسیٰ بے شک زندہ اٹھائے گئے اور اسی وجہ سے یہودیوں کو شبہ ہو گیا اور پھر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ”وان الذين اختلفوا فيه لفی شک منه مالهم به من علم الا اتباع الظن وما قتلوه يقينا بل رفعه الله اليه و کان الله عزيزاً

٣٥٨

حكيما (النساء: ١٥٨،١٥٧) “ اور تحقیق جو لوگ کہ اختلاف کیا سے نہیں واسطے اس کے ساتھ اس کی کچھ علم اس کو اللہ نے طرف اپنی اور ہے اللہ غالب روح کو اٹھا لیا تو بالکل غلط ہے۔ اللہ تعالیٰ ف نہیں قتل کیا ان کو یقینا بلکہ اٹھا لیا۔ تو کیا سا صادق آتا ہے تو معلوم ہوا کہ مع جسم کے

چچا صاحب اور بہت نصوص چھوڑ دیا گیا۔ جس وقت اس خط کا جواب ایک حدیث نزول مسیح کی لکھ کر ختم کرتا سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ میری جان ہے کہ بے شک قریب ہے توڑیں گے اور خنزیر کو ماریں گے اور ایک سجدہ اس وقت دنیا و مافیہا سے کہ

پھر ابو ہریرہؓ بولے اگر چ پڑھ لو ”وان من اهل الكتاب

مفتری کذاب کو مثل مسیح علیہ السلا صادق ﷺ نے ابن مریم فرمایا۔ مرزا قادیانی ہرگز نہیں ہو سکتے۔ لفظ مثل نہ فرمایا ابن مریم کیوں فر

اگر آپ کہیں سرور پیش کرو۔ بلا ضرورت ہم لفظی ہوں تو کیا آپ مجھ پر ایمان لکھا کرو یا دلیل لکھا کرو ورنہ ’مسیح علیہ السلام ہے اور یہی عق قادیانی بتائیے کہاں کے حاك

صفحہ ٧٠٥

حكيماً (النساء:١٥٧، ١٥٨)“ اور تحقیق جو لوگ کہ اختلاف کیا انہوں نے بیچ اس کے البتہ بیچ شک کے ہیں۔ اس سے نہیں واسطے اس کے ساتھ اس کی کچھ علم مگر پیروی کرنا گمان کی اور نہیں مارا اس کو یقیناً بلکہ اٹھا لیا اس کو اللہ نے طرف اپنی اور ہے اللہ غالب حکمت والا ۔ اگر آپ کہیں بے شک اٹھا لیا مگر مار کر روح کو اٹھا لیا تو بالکل غلط ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ”وما قتلوه يقيناً بل رفعه الله اليه“ اور نہیں قتل کیا ان کو یقیناً بلکہ اٹھا لیا۔ تو کیا روح بھی قتل کی جاتی ہے جو روح کو اٹھا لیا اور لفظ قتل جسم پر صادق آتا ہے تو معلوم ہوا کہ مع جسم کے حضرت روح اللہ اٹھائے گئے۔

چچا صاحب اور بہت نصوص قرآنی حیات مسیح پر دلالت کرتے ہیں جن کو بخوف طوالت چھوڑ دیا گیا۔ جس وقت اس خط کا جواب آپ کے صادق صاحب لکھیں گے تو دیکھا جائے گا۔ اب ایک حدیث نزول مسیح کی لکھ کر ختم کرتا ہوں ۔ (بخاری اور مسلم اور ابو داؤد اور ترمذی نے ابو ہریرہؓ سے روایت کی ہے کہ) رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اس کی قسم کھا کر کہتا ہوں جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ بے شک قریب ہے کہ ابن مریم تم میں اتریں گے۔ حاکم عادل ہو کر تو صلیب کو توڑیں گے اور خنزیر کو ماریں گے اور مال کی ایسی کثرت ہوگی کہ اس کو کوئی قبول نہیں کرے گا۔ اور ایک سجدہ اس وقت دنیا و مافیہا سے بہتر ہوگا۔

پھر ابو ہریرہؓ بولے اگر چاہو تم کلام پاک سے اس بات کی تصدیق کے لئے اس آیت کو پڑھ لو ”وان من اهل الكتاب الا لیؤمنن به قبل موته “ اب بتاؤ کوئی حق کا طالب اس مفتری کذاب کو مثل مسیح علیہ السلام کیسے مانے اور حدیث کا خلاف کیونکر کرے۔ دیکھو ہمارے مخبر صادق ﷺ نے ابن مریم فرمایا ہے جس سے مراد وہی نبی مرسل حضرت عیسیٰ علیہ السلام ہے۔ مرزا قادیانی ہرگز نہیں ہو سکتے۔ اگر فخر عالم ﷺ کی مراد اس سے مثل مسیح علیہ السلام ہے تو کیوں لفظ مثل نہ فرمایا ابن مریم کیوں فرمایا؟

اگر آپ کہیں سرور عالم ﷺ کی مراد اس سے مثل مسیح علیہ السلام ہے تو اس کی دلیل پیش کرو۔ بلا ضرورت ہم لفظی معنی کیوں تبدیل کریں۔ میں کہتا ہوں کہ ابن مریم سے میں مراد ہوں تو کیا آپ مجھ پر ایمان لے آئیں گے۔ ہرگز نہیں پھر ہم مرزا پر کیوں ایمان لائیں جو بات لکھا کرو با دلیل لکھا کرو ورنہ مردود ہو گی۔ اگر بالفرض محال مان بھی لیں کہ ابن مریم سے مراد مثل مسیح علیہ السلام ہے اور یہی غلام احمد قادیانی ہیں تو وہ نشانات جو حدیث نبوی میں مذکور ہیں، مرزا قادیانی بتائیے کہاں کے حاکم ہیں۔ کونسا انصاف کیا بلکہ برخلاف اس کے دین پر ظلم کیا کہ ایک خلق

٣٥٩

صفحہ ٧٠٦

خدا کو گمراہ کر دیا کونسی صلیب توڑی؟ بلکہ برخلاف حدیث کے گورنمنٹ کی جو کہ صلیب کی معاون و مددگار ہے خوشامدانہ تعریف کرتے ہیں اور خلیفۃ المسلمین یعنی سلطان روم کی ہجو۔

بتائیے کونسا خنزیر قتل کیا وہ بخلاف حدیث کے قوم نصاریٰ جو کہ خنزیر کھاتی ہے ہمیشہ مدح کرتے ہیں۔ اور جہاد کو ایک ظالمانہ فعل بتاتے ہیں اور بتائیے ان کے قدوم میمنت لزوم سے کونسا افلاس دور ہو گیا کونسا شخص ایسا ہے کہ جس کو روپیہ دیا جائے۔ اور وہ انکار کرے لاحول ولاقوۃ مرزا قادیانی خود چندہ یعنی بھیک مانگتا ہے پھر دوسروں پر کیا اثر ہوگا۔

چونکہ مرزا قادیانی میں سب اوصاف خلاف حدیث کے پائے جاتے ہیں۔ لہٰذا ان کو مثل مسیح علیہ السلام کہنا سراسر حماقت ہے اور مثل دجال و شیطان کہنا بہت مناسب ہے۔ جناب چچا صاحب میں آپ کو نصیحت کرتا ہوں کہ اس چاہ ضلالت سے نکلئے بھلا خیال تو فرمائیں کہ اگر یہ شخص پنجابی صاحب کمال اور ملہم ہوتا تو اس کا مریدوں پر اثر نہ پڑتا۔ ضرور پڑتا اور مرید بھی پابند شرع ہوتے ہیں اور لطف یہ کہ مرزا اپنی تصانیف میں اس کا دعویٰ کرتا ہے (میرے متبع پابند شرع ہیں) واہ رے مرزا یہ تیری ہی بے حیائی ہے کہ (دروغ گویم بر روئے تو) اب میں ان کی قلعی کھولتا ہوں مگر بسبب خوف غیبت کے نام نہیں لکھوں گا۔

ہاں اگر آپ کو یقین نہ ہو تو پھر ثبوت کافی دے دوں گا۔ ایک صاحب ان کے مرید ہیں۔ ان کے ایک مرید نے ایک فاحشہ سے زنا کیا اور پھر اسی عورت سے نکاح کیا۔ اور کوئی صاحب داڑھی اوپر چڑھاتے ہیں کوئی صاحب منڈاتے ہیں۔ کوئی ٹخنے سے نیچے پاجامے پہنتے ہیں۔ کوئی تارک الجماعت کوئی تارک الصلوٰۃ۔ کوئی صحیح بخاری کو رجسٹر سرکاری کہتے ہیں۔ خدا ان بے ادبوں کو غارت کرے۔ غرض کہاں تک لکھوں ایک آپ ہی ہیں کہ افیون جو شرعاً حرام ہے کھاتے ہیں۔ ان لوگوں پر اور آپ پر ملہم صاحب کا اثر نہیں پڑتا۔

آپ ضرور اعتراض کریں گے کہ یہی اعتراض نبی پر پڑتا ہے۔ ان کی امت بھی طرح طرح کے منہیات شرعیہ میں مبتلا ہے۔ تو جواب یہ ہے کہ ہمارے نبی مکرم ﷺ نے ہرگز یہ دعویٰ نہیں کیا کہ میری امت پابند رہے گی۔ بلکہ یہی فرمایا ہے کہ اخیر زمانہ یعنی قرب قیامت میں میری امت خراب ہو جائے گی تو وہ ہی ہوا تو پھر حضرت کی امت آپ ﷺ کے وفات کے بعد زمانہ دراز کے بگڑی ہے اور آپ کے ملہم صاحب کے چیلے تو ان کی موجودگی میں بگڑ گئے اور زبان حال سے کہہ دیا کہ یہ دعویٰ تیرا جھوٹا ہے۔ ہم پابند شرع نہیں۔ اگر ملہم صاحب کو کچھ مادہ ہے تو آجائیں علماء کا سامنا کریں وہ ڈریں نہیں۔ غیر مقلد جو چند مرتبہ اس کی سرکوبی کر چکے ہیں۔ سامنا نہیں کریں

٣٦٠

صفحہ ٧٠٧

گے۔ مقلدین کا سامنا کرے۔ دہلی یا شاہجہان پور میں آ جائے۔ اگر بحث تقریری میں علماء ساکت ہو گئے تو اس کے کل خرچہ کا میں ذمہ دار اور پھر بیعت بھی کرلوں گا اور اگر وہ دُم اٹھا کر بھاگا تو ہمارے خرچہ کا وہ ذمہ دار اور اپنے دعوے سے دست بردار ہو۔ مجھ کو خوب یقین ہے کہ آپ اس خط کا جواب لکھ نہیں سکتے۔ کیونکہ عربی سے ناواقفیت ہے۔ اب وہ نداف میرے سامنے آ جائے۔ میں دیکھوں وہ کیسا عالم ہے۔ آپ نے لکھا تھا کہ اس نداف کو بہت ادب سے لکھا کرو۔ بھلا خیال کرو کہ ہماری طرف کے علماء کو جب آپ برا لکھتے ہیں اور ان کا ادب ملحوظ نہیں رکھتے ہیں تو اس نداف جاہل کا ادب کیوں کروں۔ خیر مجھ کو اس سے کچھ بحث نہیں۔ وہ سہی اور جیسا آپ نے لکھا ویسا ہی سہی۔ اب اس کا احوال کھل جائے گا۔ اگر عالم ہے تو اس کا جواب آیات واحادیث سے لکھے گا ورنہ خاموش ہو جائے گا۔

اب اتنی عرض خدمت مبارک میں ہے۔ اس کو بغور پڑھنا اور تعصب نہ کرنا اور حق کو قبول کرنا میں سچ عرض کرتا ہوں کہ میں نے اب تک کسی عالم کی کتاب نہیں دیکھی اور نہ تعصب سے لکھا بلکہ جو کچھ مجھ کو کتاب اللہ اور فرمودہ رسول اللہ ﷺ سے تحقیق ہوا وہی لکھ دیا۔ آپ کو خیال ہوگا کہ شاید یہ تقریر مولانا محمد اعظم شاہ صاحب سے صلاح کر کے لکھی ہے۔ ہرگز نہیں بھلا آپ کے یا اس نداف کے مقابلہ میں مولانا صاحب موصوف کی تقریر لکھتا؟ ہاں صاحب اگر آپ کے پیر صاحب کے مقابلہ پر جناب مولانا اعظم شاہ صاحب کھڑے ہوں تو زیبا ہے۔ اب مجھ کو اس اس فضولیات سے کچھ سروکار نہیں۔

آپ یا وہ نداف صاحب یا ملہم صاحب جو چاہیں اس کا جواب لکھیں۔ میں دیکھوں کہ آپ لوگ ممات مسیح ومثل مسیح کا کیا ثبوت رکھتے ہیں۔ ”وما علینا الا البلاغ“ میں یہ تحریر ختم کر چکا تھا کہ آپ کا دوسرا خط آیا گو کہ اس کی طرف توجہ کرنا بالکل حماقت ہے کیونکہ آپ نے دلیل شرعی نہیں لکھی ہے۔ مگر میں اس کا بھی جواب اس میں لکھتا ہوں کہ آپ یہ نہ کہیں کہ کچھ جواب نہ بن پڑا اور خاموش ہو گئے۔ اب میں ایک التجا کرتا ہوں وہ یہ کہ میرے سخت الفاظ سے ناراض نہ ہونا جیسا آپ نے اور آپ کے پیر صاحب نے ہمارے کو لکھا اسی کا جواب ترکی بترکی دیا جاتا ہے۔

جواب خط دوم

قولہ ....... جو کچھ تم نے لکھا یہ کوئی بات عقل کی نہیں۔

اقول ....... یہ اعتراض شارع علیہ السلام پر کیجئے کیونکہ کوئی قول میرا خلاف کتاب اللہ اور سنت

٣٦١

صفحہ ٧٠٨

رسول اللہ کے نہیں ہے۔ قولہ ...... ہم تم کو بہت دور کی بات لکھتے ہیں مگر تم نادانی کرتے ہو۔ اقول ...... بے شک آپ بہت دور کی بات لکھتے ہیں۔ سیتا پور قادیان سے بہت دور ہے۔ نادان مرزا ہے جو ہمارے مخبر صادق علیہ السلام کے فرمودہ کے سراسر خلاف کرتا ہے۔ قولہ ...... جو بات ہم لکھتے ہیں تمہاری سمجھ میں نہیں آتی ہے۔ اقول...... اس کا برعکس سمجھئے بلکہ میں جو لکھتا ہوں آپ کے فہم مبارک میں نہیں آتا۔ قولہ ...... کیا عقل اسی کا نام ہے کہ ایک آدمی آسمان سے اترے جب ایمان لائیں ورنہ نہیں۔ اقول...... ہاں اسی کا نام عقل ہے جب آپ اس کو خلاف عقل بدلائل معقول ثابت کریں گے تو جواب دیا جائے گا ایسے بے ہودہ سوالوں کا میرے پاس جواب نہیں۔ قولہ ...... ایمان اسی کا نام ہے کہ پوشیدہ بات پر ایمان لاؤ۔ اقول ...... یہ ایمان کی تعریف کس کتاب میں لکھی ہے۔ ثابت کیجئے۔ قولہ ...... یہ کیا بات لکھ دی کہ دہلی سے رد کی کتابیں منگالوں۔ اقول ...... افسوس جب آپ ایسی ایک موٹی بات نہ سمجھے تو نکات دینیہ کیا سمجھو گے۔ دیکھئے میں نے لکھا تھا کہ دہلی سے ملہم صاحب کے رد کی کتابیں منگا لو جو کہ علماء محققین نے لکھی ہیں اور مرزا کی تصانیف اور علماء کے اقوال کا مقابلہ کر لو پھر جو میرے نزدیک حق ثابت ہوگا۔ اس پر بلا تعصب کاربند ہوں گا۔ بتائیے اس میں کیا خرابی ہے۔ مگر شکر ہے اس کریم کارساز کا کہ بلا دیکھے مجھ پر دجالیت مرزا کی مثل آفتاب نیمروز کے کھل گئی اور اللہ نے اپنے کرم سے مجھ کو اس گمراہی سے بچا لیا۔ خدا آپ کو بھی ہدایت کرے۔ قولہ ...... رد کوئی نئی بات ہے یہ تو تمام علماء قدیم کا حق چلا آتا ہے۔ اقول ...... سبحان اللہ کیا اچھی آپ کی تقریر ہے آپ بتائیں کہ ایک دوسرے کی تردید میں کیا قباحت ہے۔ شکر ہے اللہ کا کہ آپ کے اس قول سے تردید مذاہب باطلہ کی مثل قادیانی وغیرہ کی کرنا ثابت ہو گیا۔ کہ آپ حق کہہ رہے ہیں کہ تمام علماء کا حق ہے۔ لہٰذا آپ کے قول سے اجماع ثابت ہو گیا پھر اجماع سے خلاف کے کیا معنی۔ قولہ ...... جو فرقے اہل سنت کے ہیں۔ ایک دوسرے کا بے سمجھے رد کرتے ہیں۔ اقول ...... آپ کا اس سے کیا منشاء ہے؟ کیا رد مذاہب باطلہ کا بند کیا جائے۔ اگر یہی مطلب ہے تو اول اس شیطان قادیانی کو نصیحت کیجئے اور اگر یہ خیال ہے کہ علماء بے سمجھے تردید کرتے ہیں تو علماء ٣٦٢

صفحہ ٧٠٩

موصوف کی سمجھ موافق قواعد شرعیہ کے ثابت کیجئے۔

قولہ...... پھر وہ رد نعوذ باللہ خدا اور رسول پر ہو خواہ دوسرے کے ثبوت آیت و حدیث ہو مگر بے سمجھ علماء رد کر دیتے ہیں۔

اقول...... بے شک یہ سچ ہے کہ بعض علماء تعصب سے رد لکھتے ہیں مگر سب ایسے نہیں اگر آپ ایسے ہیں تو بقول آپ کے مرزا سے اول کل علماء گمراہ تھے اور جب علماء گمراہ ہوئے تو جاہل بدرجہ اول گمراہ ہوئے مگر جب آپ کے نزدیک سب گمراہ ہیں تو یہ حدیث غلط ہو گئی۔ ”قال رسول اللہ ﷺ“ کہ میری امت میں ٧٣ فرقے ہوں گے۔ ایک ناجی اور سب ناری، جب کل اہل اسلام گمراہ ہو گئے تو ناجی کون رہا۔

قولہ...... کیا مولوی نذیر حسین و عبد الحق کا رد نہیں ہوا ۔ کونسا مولوی ہے جس کا رد نہیں ہوا۔

اقول...... کیا ایک عالم کا جبکہ رد ہو جائے تو اس کا قول مردود ہو جاتا ہے۔ اگر آپ کا یہی عقیدہ ہے تو آپ کے نزدیک کسی کا بھی قول معتبر نہیں نہ اللہ نہ رسول نہ علماء وغیرہ کیونکہ رد سب کا ہو چکا ہے اور آپ کے اس قول سے آپ کے پیر صاحب کی بھی ڈیڑھ اینٹ کی مسجد بھی گر گئی کیونکہ ان کا بھی رد ہو گیا۔

قولہ...... بس جہاں کوئی بات سنی اور پائجامہ اتر پڑا۔

اقول...... چچا صاحب کیا یہ خبر تحقیق ہے کہ مرزا شیطانی الہام والے کا پائجامہ اتر گیا۔ ہاں ہاں درست ہے۔ دہلی میں مولانا بشیر احمد صاحب کے خوف سے پائجامہ اتر گیا ہوگا اور پھر بے حیا باز نہیں آتا ۔ مولوی بشیر احمد صاحب کے مقابلہ سے ایسا بھاگا کہ پھر مقابلہ کا نام نہیں لیا اور ایک خبر مجھ کو اور پہنچی ہے وہ یہ کہ جب مولانا عبد الحق صاحب نے مباحثہ کے واسطے طلب کیا تو مرزا قادیانی خطا ہو گئے۔

نہ معلوم یہ بات کہاں تک درست ہے۔ ایسے ڈرپوک کو ملہم کیونکر مانا جائے۔

قولہ...... کچھ سوچو تو سہی دوڑ پڑے۔

اقول...... خوب سمجھ لیا کہ مرزا مردود و شیطان شعبدہ باز مکار ہے۔

قولہ...... رد تو رسولوں کا ہوتا آیا ہے۔

اقول...... جناب چچا صاحب جس نبی کا کسی کافر نے رد کیا تو اس کافر کو انبیاء علیہ السلام نے طرح طرح کے معجزات سے ساکت اور معقول کر دیا۔ اگر مرزا قادیانی سچا ہے تو کوئی نشان آسمانی کیوں نہیں دکھاتا خوف کے سبب گھر میں کیوں چھپتا پھرتا ہے۔ اگر آپ کہیں کہ چند لوگوں کے مرنے کی

٣٦٣

صفحہ ٧١٠

پیشینگوئی مرزا قادیانی نے کر دکھائی تو معلوم ہو کہ یہ سب رمل اور نجوم کا کام ہے اور لطف یہ کہ مرزا اس فن میں بھی کامل نہیں۔

ہمارے یہاں دو پنڈت جو لنگوٹ کسے در در بھیک مانگتے ہیں۔ وہ مرزا سے اچھا بتاتے ہیں۔ مرزا قادیانی چند روز نجوم اور سیکھ لے پھر نبوت اور امامت کا دعویٰ کرے۔ افسوس مرزا قادیانی کا ایک الہام تو سچا ہوتا۔ عبداللہ آتھم ومولوی محمد حسین صاحب کے مرنے کی اور سلطان روم کے یونان کے مقابلہ سے شکست کی پیشینگوئی کی مگر ایک بھی پوری نہ ہوئی نہ یہ لوگ میعاد الہام کے اندر مرے نہ سلطان روم کو شکست ہوئی بلکہ یونان ہارا۔ معلوم ایسا ہوتا ہے کہ قادیانی خدا سے غلط فہمی ہوئی۔ یہ کیا بات ہے کہ ہر ایک الہام کا الٹا اثر ثابت ہوتا ہے بلکہ مذکور تو اب تک دشمن کی سرکوبی کر رہے اور اپنا ٹھکانا دوزخ میں ۔

قولہ...... ہم نے حق بات دریافت کرنے کتابیں بھیجی تھیں یا رد کرنے کو۔

اقول...... جب مجھ کو مرزا قادیانی حق پر معلوم نہ ہوا تو ان کی تردید کر کے آپ کو آگاہ کیا۔ مگر آپ اس نداف چیلہ شیطان کے دھوکہ دہی میں ایسے مصروف ہیں کہ حق کی طرف رجوع ہی نہیں کرتے۔

قولہ...... لکھ دیا کہ مرزا قادیانی کی بیعت ترک کر دو اور کچھ دریافت نہیں کیا۔

اقول...... جب آپ نے اس دجال اصغر کی مجھ کو کتابیں بھیج دیں اور ان سے مرزا کی میرے نزدیک دجالیت کھل گئی تو کیا دریافت کرتا اور آپ کو ترک بیعت کے بارے میں جو لکھا تو برا کیا۔ اگر آپ کے زعم باطل میں میں نے برا کیا تو اس برائی کو ثابت کیجئے۔

قولہ...... معلوم نہیں کہ یہود کی بغل میں تو توریت اور سر پر ٹوکرہ تھا پھر حضرت عیسیٰ کو سولی کیوں دیا؟

اقول...... یہ بات یہود سے دریافت کرو مگر میں اتنا کہنے سے باز رہ نہیں سکتا اگر یہود توریت کو مانتے تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو ہرگز سولی پر چڑھانے کی فکر نہ کرتے۔ اور اگر توریت ردو بدل نہ ہوتی تو عیسیٰ کے پیدا ہونے کی ضرورت کیا تھی اور جمہور کے تابع ہونے سے انسان حق پر نہیں ہوتا۔ جب تک کہ اس کی تائید کتاب آسمانی نہ کرتی ہو۔ ہاں جبکہ کلیات شرع سے ایک بات نہ معلوم ہو تو اس وقت اجماع عامہ جمہور کو ماننا فرض ہوگا۔

قولہ...... ارے حدیث حضرت کی موجود ہے کہ آپ نے فرمایا تھا کہ میری امت یہود و نصاریٰ کی طرح ہو جائے گی۔ اگر مرزا قادیانی نے یہ حدیث بیان کر دی تو ان کی تردید کیوں کی اور کفر کا فتویٰ کیوں دیا؟

اقول...... اسی حدیث کا جواب خط اول میں نے کافر نہیں کہا۔ بلکہ انہوں نے ہجو وغیرہ وغیرہ کے سبب سے کافر کہا۔

قولہ...... اور ان کو کہا تو کس کو کہا معاذ ال

اقول...... جب آپ کی دلیل مفید اس

قولہ...... زبان روکو اور حضرت کو برا م

اقول...... یہ نصیحت بھی اس دلیل پر مبنی

قولہ...... اور علماء تو کافر بہت جلد کہہ د دیتے ہیں۔ حالانکہ کسی کافر نے

اقول...... اچھا صاحب جو شخص با علم تعصب مذہبی سے کافر کہتا ہو تو ان کو نہ مانو مگر یہاں تو الہام کا حال ظاہر ہو گیا۔ اگر مرزا سچا ہے تو اب

قولہ...... اور ابھی علماء کا رد نہیں کیا۔

اقول...... علماء کا رد ہرگز نہیں ہو سکتا کہ ہم تسلیم کردیں۔

قولہ...... اگر مرزا قادیانی کا رد کرو

اقول...... کفر ٹوٹا خدا خدا کر کے آپ نے قبول کر لیا۔

قولہ...... اور جاہل تو ہمارے رسو

اقول...... اس کا جواب میں اوپر دے چکا ہوں۔ ان کو معجزات دک نہیں مانتے تو آپ مسیلمہ کذاب

قولہ...... مولوی لوگ کہیں گے۔ آیا یہ مولوی یہود و نصاریٰ کے

اقول...... اوّل اپنے دعویٰ پر دل

٣٦٤

صفحہ ٧١١

فتویٰ کیوں دیا؟

اقول ...... اسی حدیث کا جواب خط اول کی تردید میں دیکھو اور مرزا کو بسبب اس حدیث بیان کرنے کے کافر نہیں کہا۔ بلکہ انہوں نے دعویٰ نبوت کا کیا ختم نبوت کا انکار کیا۔ مسیح علیہ السلام کی ہجو وغیرہ وغیرہ کے سبب سے کافر کہا۔

قولہ ...... اور ان کو کہا تو کس کو کہا معاذ اللہ حضرت کو کہا۔

اقول ...... جب آپ کی دلیل مفید اس دعوے کے تھی ٹوٹ گئی تو یہ دعویٰ بھی مہمل ہو گیا۔

قولہ ...... زبان روکو اور حضرت کو برا مت کہو۔

اقول ...... یہ نصیحت بھی اس دلیل پر مبنی ہے جب وہ دلیل ہی اکھڑ گئی تو یہ نصیحت بھی باطل ہو گئی۔

قولہ ...... اور علماء تو کافر بہت جلد کہہ دیتے ہیں کوئی عالم ایسا نہیں جس کو دوسرے فرقہ والوں نے کافر نہ کہا ہو۔ یہاں تک کہ کسی کافر نے نبی تک کو نہ چھوڑا اور قتل تک کیا۔

اقول ...... چچا صاحب جو شخص یا عالم دلائل قویہ سے کافر بنایا گیا ہو اس کو کافر مان لو اور جس کو تعصب مذہبی سے کافر کہا ہو تو ان کو نہ مانو اور انبیاء علیہ السلام کو جو قتل کیا و ساحر کہا تو دنیا ہی میں اس کا بدل ظاہر ہو گیا۔ اگر مرزا سچا ہے تو اپنے کافر کہنے والوں کو کوئی نشان دکھائیں۔

قولہ ...... اور ابھی علماء کا رد نہیں گیا۔

اقول ...... علماء کا رد ہرگز نہیں جا سکتا۔ اگر علماء اسلام رد نہ کریں تو اسلام کو مرزا ایسے دجال بالکل برہم کر دیں۔

قولہ ...... اگر مرزا قادیانی کا رد کر دیا تو کیا مشکل۔

اقول ...... کفر ٹوٹا خدا خدا کر کے سچ ہے ایک ملحد کا رد کر دینا چنداں مشکل نہیں شکر خدا کا کہ اس کو آپ نے قبول کر لیا۔

قولہ ...... اور جاہل تو ہمارے رسول مقبول کو کہا کرتے ہیں۔ مرزا قادیانی کو کہا تو کیا کیا؟

اقول ...... اس کا جواب میں اوپر لکھ چکا ہوں نظر سے گزرا ہو گا کہ رسول مقبول ﷺ جاہل و ساحر کہنے والوں کی آنکھ میں معجزات دکھا کر دھول جھونک دیتے تھے اور اگر مرزا قادیانی کو ہم بلا دلیل امام مان لیں تو آپ مسیلمہ کذاب وغیرہ مدعیان نبوت کو کیوں نہیں مانتے۔

قولہ ...... مولوی لوگ کہتے ہیں کہ جب حضرت مہدی و مسیح ظہور کریں گے تو علماء کفر کا فتویٰ دیں گے۔ آیا یہ مولوی یہود و نصاریٰ کے ہوں گے یا اسلام کے۔

اقول ...... اوّل اپنے دعویٰ پر دلیل لائیے پھر سوال کیجئے بتائیے کسی عالم معتبر نے یہ الفاظ لکھے

٣٦٥

صفحہ ٧١٢

ہیں۔

قول...... علماء تو ایسے ہیں کہ خواہ قرآن شریف وحدیث شریف چھوٹ جائیں مگر ان کی لکیر مت چھوٹے ۔ اگر ان کی لکیر چھوٹی اور کافر کہا۔

اقول...... آپ نے بھی مثل دجال قادیانی کے جھوٹ بولنا شروع کر دیا ۔ بہت جلد امام صاحب سے درجہ شیطانی طے کرائے ۔ اول کسی عالم کا قول خلاف شرع ثابت کیجئے۔ بعد کو یہ اعتراض کیجئے۔

قول...... پھر چاہے تمام دنیا ایک طرف ہو۔

اقول...... ارے چچا صاحب یہ گرگٹ سے رنگ کیوں بدلنے لگے۔ اب جمہور کو کیوں تسلیم کیا میں کہتا ہوں کہ ایک عالم کی تائید کلام پاک کرتا ہے۔ اگر اس کے خلاف تمام جہان کے لوگ کریں وہ سب گمراہ ہوں گے۔

قول...... اور حق کو تو بالکل نہیں جانتے۔

اقول...... وہ شیطان قادیانی حق کو نہیں جانتا اور میں خط اول کی تردید میں اس کو ثابت کر آیا ہوں حاجت اعادہ کی نہیں۔

قول...... بس بھانڈوں کی طرح تام جھام لاؤ یعنی رد کی کتاب لاؤ۔

اقول...... سبحان اللہ! چچا صاحب آپ کو ملہم صاحب نے خوب تہذیب سکھائی میں تسلیم کرتا ہوں آپ کے پیر صاحب اعلیٰ درجہ کے نقال ہیں۔ کیا اچھی نقلیں یاد ہیں فلاں مر جائے گا۔ فلاں ذلیل ہوگا اور دہلی سے جو سراسیمہ بھاگے اور قادیان جاکے دم لیا یہ کیا خوب نقل ہے۔ میں بھی اس نقل کی داد دیتا ہوں۔ مگر علماء کو یہ نقلیں دکھانے سے کیا نتیجہ علماء سے بجز جوتی سر پر کھانے کے اور کیا حاصل ہوگا۔ ہاں کسی نواب کے پاس چلے جائیں۔ تو مبلغ علیہ السلام وصول ہوں۔

قول...... پہلے سوچو کہ جو دعویٰ امام و مسیح ہونے کا کرتا ہے آخر وہ کیا کہتا ہے؟

اقول...... چچا صاحب اوّل تو خیال کیجئے کہ تمام زمانہ کے علماء جو مرزا کو بطال کہتے ہیں۔ آخر وہ کیا کہتے ہیں۔

قول...... جاہل تو حضرت کو کہتے ہیں کہ جو کچھ سلمان فارسی بتاتا ہے وہ لکھ دیتے ہیں۔ پھر مرزا کو کہا تو کیا کہا۔

اقول...... اس کا جواب چند مرتبہ لکھ چکا ہوں۔ لائیے کوئی نشان آسمانی ورنہ مرزا قادیانی جھوٹا۔

قول...... اور جو لکھا ہے کہ خنزیر کو ماریں گے صلیب کو توڑیں گے تو کیا دکان رکھیں گے۔

٣٦٦

اقول...... میں ملہم نہیں جو اس کی وجہ بتاؤ اعتراض کیجئے۔

قول...... اب ہوش کرو کہ خنزیر سے یہ مراد کہ کفر توڑیں گے ۔ ورنہ قتل خنزیر اور توڑ گے وہ اور بنائیں گے تم قتل کرو گے وہ اور

اقول...... واہ چچا صاحب آپ کو بھی الہا سے اس کی نظیر دکھائے کہ یکسر الصل کسی نے کئے ہوں اور اگر آپ دکھا سکے ہے۔

اور یہ لکھا ہے کہ وہ صلیب کا جب حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نزول خنازیر قتل کر دیئے جائیں گے۔ جب مسلمان تو پھر کون صلیب بنائے گا اور کو

قول...... حضرت آدم سے لے کر ہ کے علماء بغل میں آسمانی کتاب اور سر پ کیا وہی سچ ہوا۔

اقول...... یہ سب درست ہے اور کتاب آسمانی کے پابند ہیں۔ دراصل نبی ثانی آنے کی ہوتی ہے مگر یہ اعتر ثابت کر دیں۔ میں کہتا ہوں کہ یہ ام کرتے۔ پھر جو امام ہمارے دلائل ہے۔ وہ مثل سید احمد خان کے مردود نہیں بن سکتا۔

قول...... میں نے تو اس واسطے لکھ

اقول...... اچھے محسن بنے اپنے سر

قول...... میں نے یہ نہیں لکھا تھا

صفحہ ٧١٤

اقول …… میں ملہم نہیں جو اس کی وجہ بتاؤں۔ ہاں اول اپنے کفر کا اقرار کیجئے۔ پھر اس قسم کی اعتراض کیجئے۔

قولہ …… اب ہوش کرو کہ خنزیر سے یہ مطلب ہے کہ کفر کو دفع کریں گے اور صلیب کا یہ مطلب کہ کفر توڑیں گے۔ ورنہ قتل خنزیر اور توڑنے صلیب سے کیا مطلب اور نصاریٰ کا کیا حرج تم توڑو گے وہ اور بنائیں گے تم قتل کرو گے وہ اور خرید لیں گے۔

اقول …… واہ چچا صاحب آپ کو بھی الہام ہونے لگا۔ ورنہ کسی لغت یا محاورہ عرب یا کسی حدیث سے اس کی نظیر دکھائے کہ یکسر الصلیب ویقتل الخنزیر کے یہ معنی جو آپ نے کئے ہیں۔ کسی نے کئے ہوں اور اگر آپ دکھا سکے۔ (اور انشاء اللہ دکھا نہ سکیں گے) تو آپ کی یہ تفسیر باطل ہے۔

اور یہ لکھا ہے کہ وہ صلیب پھر بنالیں گے اور خنزیر پھر خرید کرلیں گے۔ تو معلوم ہوا کہ جب حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نزول ہوگا تو کل جہاں مسلمان ہو جائے گا اور کل صلیبیں اور کل خنازیر قتل کردیئے جائیں گے۔ جب صلیب وخنازیر جہاں سے معدوم ہوگئے اور کل جہاں مسلمان تو پھر کون صلیب بنائے گا اور کہاں سے خنزیر آئے گا۔

قولہ …… حضرت آدم سے لے کر رسول مقبول ﷺ تک جتنے نبی اور امام ہوئے۔ سب زمانہ کے علماء بغل میں آسمانی کتاب اور سر پر جمہور رکھے رہے اور سب رکھا رہے گا اور جو نبی اور امام نے کیا وہی سچ ہوا۔

اقول …… یہ سب درست ہے اور بے شک اگلی امتوں نے ایسا ہی کیا مگر وہ لوگ برائے نام کتاب آسمانی کے پابند ہیں۔ دراصل ان کو رد و بدل کر دیتے ہیں اور جمہور کا اعتبار نہیں۔ یہی وجہ نبی ثانی آنے کی ہوتی ہے مگر یہ اعتراض جب صادق ہوں جس وقت آپ ملہم صاحب کی امامت ثابت کردیں۔ میں کہتا ہوں کہ یہ امت مرحومہ خصوصاً فرقہ اہل سنت کتاب آسمانی کے خلاف نہیں کرتے۔ پھر جو امام ہمارے دلائل شرعیہ کے خلاف کرے گا۔ کیسے اور اس کا قول راست ہو سکتا ہے۔ وہ مثل سید احمد خان کے مردود ہوگا اور چند جہلاء کے پیرو ہو جانے سے ہرگز ایک شیطان امام نہیں بن سکتا۔

قولہ …… میں نے تو اس واسطے لکھا تھا کہ اس نازک وقت میں حق ظاہر ہو جائے۔

اقول …… اچھے محسن بنے اپنے ساتھ مجھ کو بھی چاہ ضلالت میں گرانا چاہا تھا۔

قولہ …… میں نے یہ نہیں لکھا تھا کہ تم رد و مباحثہ شروع کرو۔

٣٦٧

صفحہ ٧١٤

اقول ...... مباحثہ سے اگر آپ حق پر ہیں تو اتنا پریشان کیوں ہوتے ہیں؟ مگر سچ ہے جس کا پیر چند مرتبہ پشت دکھا چکا ہے اس کا مرید کیوں نہ ڈوبے۔

قولہ ...... اور یہ لکھا کہ مرزا قادیانی جاہل ہیں یہ تو ہم جانتے ہیں۔ اس کے لکھنے کی ضرورت نہیں۔

اقول ...... جب مرزا قادیانی کو جاہل جانتے ہو تو بیعت ترک کیوں نہیں کرتے؟ معلوم ہوا کہ آپ بھی گمراہ بن گئے۔

قولہ ...... کیونکہ جو جو صحابہ جب تک حضرت کو نہیں مانتے تھے تو آنحضرت ﷺ انہوں کو جاہل معلوم ہوتے تھے جب انہی صحابہ نے حضرت کو مانا تو سچا جاننے لگے۔

اقول ...... یہی دعویٰ پیروان مسیلمہ کذاب وغیرہ کا ہے مگر صرف دعویٰ سے کام نہیں چلتا۔ لائیے آسمانی نشان مرزا قادیانی کا دکھایئے جیسا ہمارے فخر عالم ﷺ دکھاتے تھے۔

قولہ ...... اور مجھ کو تو جناب مرزا قادیانی سمجھانے نہیں آتے میں حق دیکھ کر بیعت ہوا ہوں۔

اقول ...... بس چچا صاحب یہی غرض ہے کہ وہی حق مجھ کو دکھا دیجئے تاکہ میں بھی بیعت کر لوں۔

قولہ ...... مجھ کو بھی اپنے دین کا بڑا خیال ہے۔

اقول ...... چچا صاحب مبارک مبارک مگر یہ کیسے دین کا خیال ہوا۔ میری یاد میں کبھی آپ نے نماز تک نہ پڑھی کیا دین کا خیال ایسا ہی تھا کہ ایک ملحد کی بلا دلیل شرعی پیروی کر لی۔

قولہ ...... میں نے تم کو اس واسطے لکھا کہ نماز پڑھ کر حق سے دعا کرو گے۔

اقول ...... چچا صاحب دعا میں اس وقت کرتا کہ مجھ کو مرزا قادیانی کا بطلان آیات واحادیث سے ثابت نہ ہوتا اور جب مجھ کو اس پنجابی کا بطلان قطعی طور پر ظاہر ہو گیا۔ یہ دعا کرنا ایسا ہے جیسے میں دعا کروں کہ اللہ مجھ کو شیطان کی گمراہی میں شک ہے۔ مجھے حق ظاہر کر دے۔ ایسی دعا سے ایمان جانے کا خوف ہے۔

قولہ ...... یہ تو میں نے نہیں لکھا کہ کتابوں کو نہ دیکھو اور رد ڈھونڈو۔

اقول ...... جب مجھ کو مرزا کی کتابوں کا بطلان ظاہر ہو گیا تو کیوں نہ اس کی تردید دیکھوں اور کیا مذاہب غیر کی کتابیں دیکھنا منع ہے۔

قولہ ...... میں رد کو خوب جانتا ہوں اور کتابیں بھی رد کی جانتا ہوں۔

اقول ...... آپ علماء کی کتابیں بغور دیکھتے تو ایسی نافہمی نہ کرتے۔ غضب تو یہی ہوا کہ ایک طرف کے بیان پر ڈگری کر دی اور دوسروں کا بیان نہ سنا اور اپنے آپ کو لیاقت نہیں کہ ایک طرف کی

٣٦٨

صفحہ ٧١٥

مضمون دیکھنے سے حقیقت اور غیر حقیقت ثابت کر سکیں۔ لہذا آپ کو دونوں طرف کا مضمون دیکھنا فرض ہے۔

قولہ ...... یہودونصاریٰ وہنود اہل اسلام کا رد کرتے ہیں تو کیا دین اسلام رد ہو جائے گا۔ ہرگز نہیں۔

اقول ...... سچ ہے یہ الہام ہزار ہا بار پائجامہ اتار کر رقص کرے اور اسلام کی تردید کرے مگر اسلام رد نہیں ہو سکتا۔

قولہ ...... میرا جی اچھا نہیں ورنہ اور لکھتا پھر لکھوں گا۔

اقول ...... آپ کا جی اچھا نہ تھا تو اتنے کفر کے کلمہ بولے۔ اگر جی اچھا ہوتا تو نہ معلوم کتنا طوفان اٹھاتے اور اب اگر لکھا تو ثبوت قوی دیجئے گا ورنہ ایسے بے ہودہ کلموں کا آئندہ جواب نہ لکھا جائے گا۔

محمد رفعت اللہ خان و شرافت اللہ خان کے مباحثے پر ریویو

قاسم علی خان!

مولانا شوکت اللہ مجدد السنۃ مشرقیہ السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ ۔ شاہجہانپور کا یہ مباحثہ بذریعہ ضمیمہ شحنہ ہند ناظرین کی نظر سے گزرا مگر خان صاحب محمد رفعت اللہ کی جانب سے اس لمبی چوڑی بے محل رام کہانی کا الزامی جواب مختصر سا ہے جس سے خان صاحب معہ خود بدولت مرزا قادیانی عرق خجالت میں غرق ہو کر تحت الثریٰ کو جاتے۔ شرافت اللہ خان کی تحریر سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ کلام آپ کا طبع زاد نہیں سب آورد بلکہ بالکل نقل ہے اور محاورات لاف و گزاف طعن و لعن وغیرہ میں مرزا قادیانی کی تقلید کی گئی ہے۔ مرزا قادیانی کا تکیہ کلام (اب جاننا چاہئے)، (یہ بھی یاد رکھنا چاہئے)، (یہ بڑا باریک نکتہ ہے) وغیرہ سے تمام تحریریں مملو ہیں۔ مرزا قادیانی نقارے کی چوٹ کہتے ہیں ۔

من نیستم رسول ونیا وردہ ام کتاب

(درثمین فارسی ص ٨٢)

مگر حاشیہ نشیناں خود غرض نے اپنے مرغن حلوے مانڈے کی غرض سے مرزا قادیانی کو منارہ شرقی پر چڑھا دیا۔ اب اتریں تو کس طرح؟ ناچار وہیں قیام پذیر ہونا پڑا۔ ورنہ دراصل اگر مرزا قادیانی سے حلفاً تنہائی میں پوچھا جائے تو خود منفعل ہیں۔ جب مرزا قادیانی کا رتبہ ان کی اپنی تحریرات سے ایک فقیر سے بھی کمتر ہے۔ تو جو کچھ بنتے ہیں بامر مجبوری شرافت اللہ خان صاحب

٣٦٩

صفحہ ٧١٦

کے عقائد مرزائی نہیں ہیں جو ذیل کی چند سطور سے ثابت ہو سکتے ہیں۔

اوّل ...... آپ فرماتے ہیں۔ (ایلیا نبی یعنی حضرت الیاس علیہ السلام کے آنے کی پیشینگوئی جو ملاکی نبی کتاب باب ٤ آیت ٥ میں درج ہے۔ اس کی تصدیق حضرت عیسیٰ علیہ السلام انجیل متی باب ١١ درس ١٤، میں فرماتے ہیں اور اس واقعہ کی تصدیق کے لئے بھی کتاب مقدسہ کافی ہیں۔ خانصاحب پر کہاں سے ثابت ہوا کہ ایلیا نبی کا صعود آسمان پر ہوا۔ جب صعود ہی ثابت نہیں تو آنا کیسا؟ ہاں مرزا قادیانی نے اس کی تردید میں بہت کچھ ہاتھ پیر ہلائے۔ آخرش بغلیں جھانک کر رہ گئے۔ مرزا قادیانی تاویلاً فرماتے ہیں کہ (جب حضرت ایلیا نبی اوپر اٹھا لیے گئے تو کسی بلندی تک پہنچا کر انہوں نے اپنا جسم عنصری چھوڑ دیا اور نیا چولہ پہن لیا۔ یہ جسم عنصری اوپر سے کپڑے کی چادر بنا کر زمین پر پھینک دیا اور ان کے شاگرد رشید الیسع نبی علیہ السلام نے اٹھا لیا۔ جو اس وقت موجود تھے۔ اور اس جسم عنصری سے جو بشکل چادر بن گیا تھا۔ چند معجزے بھی دکھلائے۔ یعنی وہی چادر دریائے یردن پر ماری۔ جس سے دریا شق ہو گیا۔ اور الیسع علیہ السلام براه خشکی پار اتر آئے ۔ مگر وہ پوشاک جو ایلیا نبی کی بوقت صعود زیب تن تھی۔ نہیں معلوم کیا ہوئی کیونکہ اس کا پتہ مرزا قادیانی نے کچھ نہیں دیا شاید کسی مقرب فرشتہ کے سپرد کر دی ہو کہ کسی آئندہ وقت کام آئے۔ ماشاء اللہ کیا خوب تاویل ہے۔ مرزا قادیانی خود قائل ہیں کہ ایلیا نبی آسمان پر اٹھائے گئے۔ عام موت سے مرکز زمین میں دفن نہیں ہوئے۔ اور ان کا جسد عنصری چادر بن گیا اور طرہ یہ کہ کارروائی ایلیا نبی کی اقتداری طور پر تسلیم کی نہ بحکم قادر مطلق۔ کیونکہ (چھوڑ دیا) اور (پہن لیا) سے صاف اقتدار پایا جاتا ہے۔ مگر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے لئے تین قبریں تجویز کی ہیں۔ ان کا صعود خلاف نیچر ہے جب یہ امر خلاف سنت اللہ اور قانون قدرت (محدودہ قادیان) مان لیا تو نیچری اعتقاد جس پر مرزا قادیانی کی عمارت رکھی گئی ہے۔ سب کالعدم ہو گئی۔

اب رہی ( کتاب مقدسہ ) اس کی نسبت خود تحریرات مرزا قادیانی شاہد ہیں جن میں مؤلفوں کو احمق نادان جاہل ناخواندہ بتاتے ہیں اور یہ بھی ثابت ہو چکا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے خود یہ مجموعہ جمع نہیں کرایا۔ صرف فرقہ پروٹسٹنٹ و پولوسی اسے مانتے ہیں اور بقول مرزا قادیانی عیسیٰ علیہ السلام پیغمبر تو درکنار ایک معمولی مہذب شخص بھی نہ تھا۔

تعجب ہے کہ شرافت اللہ خان صاحب حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے حواریوں کے اقوال کو جن کی درگت مرزا قادیانی اچھی طرح بنا چکے ہیں۔ بالمقابل اسلام حجت پکڑیں جن کی تحریفات کی بھی شہادت قرآن کریم میں موجود ہو۔ افسوس! ہزاروں کتابیں تحریفات کی ثابت

٣٧٠

صفحہ ٧١٧

کرنے دلیلیں موجود اور خود شرافت اللہ خان اپنی تحریر میں مقر۔ یہ مرزا قادیانی سے انحراف نہیں تو کیا ہے؟

دوم ....... شاید آپ کے نزدیک توریت وانجیل کی آیت آیت نہیں اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور حضرت یحییٰ علیہ السلام کا قول حدیث نہیں۔ خان صاحب کی اس عبارت نے تو کتب مقدسہ کی خود نفی کر دی۔ افسوس آپ کے کل معاونوں میں کسی کو نہ سوجھی کہ جب کلام الہی اور کتب مقدسہ کو مان چکے ہیں تو اب قول اور حدیث کیسی۔ کیا قرآن شریف میں بھی حضرت رسول ﷺ کی حدیثیں اور قول درج ہیں۔

اگر سب کچھ درج ہے تو سنت وحدیث نبوی کس کا نام رکھ گئے۔ جب کہ انجیل اور توریت کو جو کلام خدا ہے حضرت یحییٰ اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا قول یا حدیث بنا دیا۔ پھر حضرت یحییٰ علیہ السلام کے قول سے انجیل کو کیا نسبت؟ کیا کوئی صحیفہ یحییٰ علیہ السلام کا بھی انجیل میں شامل ہے۔ اس سے تو جناب کی لیاقت طشت از بام ہوگئی۔ آپ تو خود توریت وانجیل کو نبیوں کے اقوال اور احادیث کہتے ہیں۔

ہم آپ کے زعم کے مطابق انہیں اقوال ہی تسلیم کرتے ہیں مگر آپ حضرت یحییٰ علیہ السلام کا قول چاروں انجیلوں کو مروجہ حال میں سے نکال دیں کہ آنے والے ایلیا نبی کی خبر جو کتاب ملاکی نبی میں درج ہے وہ میں ہی ہوں۔ اگر آپ دکھا سکتے تو آپ کی یہ تحریر کہ قول یحییٰ علیہ السلام قول نہیں حدیث نہیں۔ خود آپ کو شرمندہ کر دے گی آپ رفعت اللہ خان صاحب کو ہدایت فرماتے ہیں کہ کتابوں میں دیکھ لو پادریوں سے پوچھ لو۔ یہ تو ہمدردی نہیں کہ دوسرے کو اس قدر تکلیف میں ڈالا جائے۔ آپ کے پاس انجیل ضرور موجود ہوگی۔ جھٹ نکال کر وہ درس پڑھ کر سنا دیتے کہ دیکھو یہ قول یحییٰ علیہ السلام کا ہے۔

سوئم ....... قرآن کریم۔ پارہ، رکوع، سورت، آیت، سنت، حدیث یہ الفاظ تو مخصوص ہیں۔ دوسری آسمانی کتابوں پر آج کل مروج نہیں۔ کیونکہ جناب نے تو خود اپنی تحریر میں متی باب ١١ درس ١٤ تحریر کیا ہے۔ بڑی عبرت کی بات ہے کہ آپ تجاہلِ عارفانہ سے عبارت کو بے محل طول دے کر آیت کی تشریح طلب کریں۔ عبرانی، لاطینی، یونانی سے جو ترجمہ ہوئے ان میں لفظ درس موجود ہے۔ تو صرف اس شک کو رفع کرنے کے لئے بقول خود کیوں آپ نے عزیز وقت ضائع کیا۔

چہارم ....... یہ اعتراض کہ پہلے بسم اللہ الرحمن الرحیم بعد ازاں درود و حمد لکھ کر مطلب

٣٧١

صفحہ ٧١٩

شروع کر دیا۔ اس کا جواب جو رفعت اللہ خان صاحب نے دیا ہے اس سے صاف ثابت ہے کہ وہ ایک پرچہ بطور سوال و جواب تھا۔ کوئی استغاثہ نہ تھا کہ باقاعدہ اور بے قاعدہ کا جرم رفعت اللہ خان صاحب پر لگایا گیا۔ اور یہودی مشابہت پیدا کی کہ اگر یہودی مشابہت ٹھیک ٹھیک ثابت کرنا چاہتے ہیں تو وہ آپ کے حکیم الامت مخزن الحدیث کی تحریر سے عیاں ہے کہ یہودیت کس میں ہے۔ خاص اپنے استاد کو خط لکھا جو ضمیمہ میں معہ جواب الجواب شائع ہوا۔ اسی بنظر الفت و صدق نیت ملاحظہ فرمائیں۔ تب دوسروں کو یہودی بتائیں۔ مگر آپ ماشاء اللہ افغان ہیں اور یقیناً ہیں تو پھر آپ یہ کہاں سے ثابت کریں گے کہ قوم یہود سے کون کون ہیں اور مغل تا تاری کس نسل سے ہیں۔ کیونکہ بقول مرزا قادیانی ساڑھے دس قومیں جلاوطن ہو کر انہیں کوہستان میں آکر آباد ہوئے ہیں۔

اول خویش بعدہ درویش

آپ حکیم الامت صاحب کی خدمت میں عرضداشت بھیجیں اور دریافت فرمائیں کہ یہ طریقہ جو آپ نے اپنے استاد کو خط لکھتے ہوئے اختیار کیا کیسا ہے؟

پنجم...... یہ جو فرمایا ہے کہ کسی کتاب کو سامنے رکھ کر اس سے نقل کر لیتے۔ جی ہاں یہ عادت تو آپ کی زمرہ کی ہے کہ وہی راگ مالا جو صد ہا مرتبہ مرزا قادیانی کے دل و دماغ سے نکل کر صفحہ قرطاس پر آچکی ہے۔ وہی ہمیشہ نقل ہوتی ہیں۔ عیاں را چہ بیان۔

ششم...... حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور حضرت یحییٰ علیہ السلام کے نام پر اس شکل (ع) کا حرف بنا دیا اس کا مطلب سمجھ میں نہیں آتا۔ ہاں جناب اس کا مطلب آپ کی سمجھ میں کیوں آئے گا۔ اس کا مطلب تو وہ سمجھے جو انبیاء علیہم السلام کے بعد متبرک لفظ (سلام) کو غصب کر کے اس میں علیہ الصلوٰۃ ................. ایسے شخص کے توصیفی ناموں اور مفروضہ لقبوں کے بعد لگا دیں جو خود مقر ہوں کہ (من نیستم رسول و نیاوردہ ام کتاب ) تو بے چارے اہل اسلام کیا کریں آزادی جو ہوئی۔ جس کا جی چاہے کسی کا مال لوٹ کر مرزا قادیانی کے خزانے میں داخل کر دے اور اگر باز پرس کی جائے تو گالیوں کی وہ بوچھاڑ کہ الامان الامان۔ سامنے کون آئے چونکہ اہل اسلام صلح پسند ہیں۔ ڈر گئے۔ صرف حرف عین کا اشارہ کرنے لگے۔ اس پر بھی صبر نہیں۔ نہیں چاہتے کہ سوائے حضرت اقدس کے کوئی مستحق بنے۔ اب فرمائیے یہودیت کس میں پائی جاتی ہے؟ منکر اسلام آپ ہوئے یا رفعت اللہ خان صاحب جب آپ نے نیا نبی گھڑ لیا اور انبیاء علیہم السلام کے کل اعزازی اور مختص کلمے ان کو عطا کر دیئے تو اہل اسلام کے پاس کیا چھوڑا؟ اور پھر تعرض اور غرض۔

٣٧٢

ہفتم...... رفعت اللہ خان صاحب کے فقرہ اگر کسی سے ثابت کیا جائے۔ پھر بھی بہت سی لے دے کی ہے بعد حدیث کیوں لگایا گیا۔ موجد اور بانی مبانی تو ا اعتراض اہل حدیث پر۔ مرسل من اللہ صاحب ہونا چاہئے کہ اگر کوئی حدیث معارض و مخالف قرآن ہو اس پر عمل کریں۔ جناب قابل اعتبار کی لم کس ۔ اعلیٰ درجہ کی ہوں اور ثبوت بھی رکھتی ہوں اور تیرہ سو پر عمل کرتے چلے آئے ہوں مگر چودھویں صدی کی م صاحب اب ظاہر ہو گئے ہیں۔

( جو قبل ازیں عرصہ تک اہل حدیث کی درجہ حدیث جس کی تطبیق قرآن اور سنت سے اص دی ہو وہ قابل عمل کیونکہ مرزا قادیانی نے یہ عطیہ وہ فرماتے ہیں کہ ”جہاں کی تفسیریں حکیم الامت جماعت جدیدہ کا فرض ہے کہ اسی کو تسلیم کرے۔ ہیں جن سے احتمال کذب کس طرح مرتفع نہیں حال فقہ حنفی کا ہے۔“

کیوں شرافت اللہ خان اب بھی قا کوٹھری میں خداوند عالم نے بٹھا رکھے تھے اور اور مصنوعی سقم کس طرح معلوم ہوتے وہاں ر حکیم الامت صاحب کو ابن اللہ نے عطا فرمایا میں لا کر دیکھیں۔ تمام مرزائی امت جو بزعم خ تمغہ حکیم الامت کو عطا ہوا ہے باقی صفر۔ زینہ حکیم الامت کے لئے عرضداشت پیش کر لو۔

ہم نے دیکھا ک مرزا قادیانی مولوی عبداللہ صا سے قرآن کریم کی نفی لازم آتی ہے۔ یہ خبیث

صفحہ ٧١٩

ہفتم...... رفعت اللہ خان صاحب کے فقرہ اگر کسی کو دعویٰ ہو تو آیت یا حدیث صحیح قابل اعتبار سے ثابت کیا جائے۔ پھر بھی بہت سی لے دے کی ہے۔ ذرا انصاف تو کیا ہوتا کہ جملہ قابل اعتبار بعد حدیث کیوں لگایا گیا۔ موجد اور بانی مبانی تو اس کے جناب کے مجدد ومرسل من اللہ اور اعتراض اہل حدیث پر۔ مرسل من اللہ صاحب فرماتے ہیں۔ کہ ہماری جماعت کا یہ فرض ہونا چاہئے کہ اگر کوئی حدیث معارض و مخالف قرآن وسنت نہ ہو تو خواہ کیسی ہی ادنیٰ درجہ کی حدیث ہو اس پر عمل کریں۔ جناب قابل اعتبار کی دم کس نے لگائی۔ تمام صحاح کی حدیثیں خواہ وہ کیسی ہی اعلیٰ درجہ کی ہوں اور ثبوت بھی رکھتی ہوں اور تیرہ سو برس سے تمام علماء اور مجتہدین و مجددین انہیں پر عمل کرتے چلے آئے ہوں مگر چودھویں صدی کی روشنی میں ان کے عیوب حسب تفسیر حکیم الامت صاحب اب ظاہر ہو گئے ہوں۔

(جو قبل ازیں عرصہ تک اہل حدیث کی خوشہ چین رہ چکے ہیں) قابل حجت نہیں اور ادنیٰ درجہ حدیث جس کی تطبیق قرآن اور سنت سے اب حکیم الامت نے بزعم خود قادیان میں بیٹھ کر فرما دی ہو وہ قابل عمل کیونکہ مرزا قادیانی نے یہ عطیہ خاص حکیم الامت صاحب کو ہی تفویض کیا ہے۔ وہ فرماتے ہیں کہ ”جہاں کی تفسیریں حکیم الامت کے دماغ میں کوٹ کوٹ تہ بہ تہ بھر دی ہیں۔ جماعت جدیدہ کا فرض ہے کہ اسی کو تسلیم کرے۔ باقی کل احادیث میلے کچیلے کپڑے زیب تن رکھتے ہیں جن سے احتمال کذب کس طرح مرتفع نہیں کیونکہ ظن و دروغ کے احتمال سے خالی نہیں۔ یہی حال فقہ حنفی کا ہے۔“

کیوں شرافت اللہ خان اب بھی قابل اعتبار کے معنی سمجھے جتنے مجدد گزر چکے وہ تو کالی کوٹھری میں خداوند عالم نے بٹھا رکھے تھے اور تھے بھی ادنیٰ درجہ کے۔ ان کو احادیث نبوی کی صحت اور معنوی سقم کس طرح معلوم ہوتے وہاں روشنی تو تھی ہی نہیں۔ اب زمانہ روشنی کا آیا۔ تو یہ تمغہ حکیم الامت صاحب کو من اللہ نے عطا فرمایا۔ کیونکہ ان کو خود اتنی فرصت کہاں کہ حدیثوں کو روشنی میں لا کر دیکھیں۔ تمام مرزائی امت جو بزعم مرزا دولاکھ ہیں ان میں سے صرف صحیح اور قابل اعتبار نسخہ حکیم الامت کو عطا ہوا ہے باقی صفر۔ حدیث خود قابل اعتبار نہیں۔ مرزا تو اب وقت ہے نائب حکیم الامت کے لئے عرضداشت پیش کر لو۔ ورنہ بعد میں کف افسوس ملتے رہ جاؤ گے۔ کیونکہ ۔

ہم نے دیکھا ٹھوکریں کھاتے سر مغرور کو

مرزا قادیانی مولوی عبداللہ صاحب چکڑالوی کو نصیحت فرماتے ہیں کہ حدیثوں کی نفی سے قرآن کریم کی نفی لازم آتی ہے۔ یہ نصیحت صرف اپنی مطلب براری کے لئے ہے کیونکہ مرزا

٣٧٣

صفحہ ٧٢٠

قادیانی کی ذات کی نفی بھی ساتھ ہی ہوتی ہے۔ جو طریقہ زمانہ روشنی اور آزادی بمقابل مرزا قادیانی مولوی عبداللہ صاحب چکڑالوی نے اختیار کیا ہے۔ اس کو مرزا قادیانی در پردہ مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی اہلحدیث پر ڈھالتے ہیں۔ اور اہلحدیث کے حامی بنتے ہیں۔ صرف اس لئے کہ ہماری قلعی نہ کھلے ان کو تو اپنی جان کے لالے پڑے ہوئے ہیں۔ کیونکہ چکڑالوی صاحب نے یہ دام مرزا قادیانی کی نبوت کے خاتمہ کے لئے بچھایا ہے۔ چند روز میں مرزا قادیانی سے سوال ہوگا کہ جب کل احادیث میلے کچیلے کپڑے زیب تن رکھتے ہیں تو فرمائیے آپ کی بغل میں کیا ہے۔ اگر قرآن کریم ہے تو اس میں دکھلائیے کہ ایک شخص تاتاری النسل مقیم پنجاب چودھویں صدی میں ہمہ صفت موصوف ملقب بمہدی و عیسیٰ و ختم الرسل پیدا ہوگا۔ جس کی شان میں ہے ۔

زندہ کردی دین احمد بلکہ احمد مصطفیٰ
زندہ کردی نور قرآن بلکہ جملہ انبیاء

جب مرزا قادیانی کے پاس اس کا جواب سوائے صفر کے کچھ نہیں تو فرمائیے اب باقی کیا رہ گیا؟ مرزا قادیانی کے بال و پر مولوی عبداللہ صاحب چکڑالوی کے ایک ہی سوال سے ایسے کٹ گئے جیسے ۔

زاغ بریدہ پر را تو چوں کبک مست

مولوی عبداللہ صاحب چکڑالوی بڑے عالی دماغ اور تجربہ کار معلوم ہوتے ہیں۔ انہوں نے جب دیکھا کہ کسی ڈھنگ سے مرزا قادیانی قابو میں نہیں آتے تو یہ نیا جال گوندھا ہے۔ اس سے مرزا قادیانی کسی صورت سے بچ نہیں سکتے۔ اہلحدیث مولوی عبداللہ چکڑالوی کی چال ملاحظہ فرمائیں کہ صرف بقول (اسپ و پیادہ پیش کن و پیل کشت) مات کا معاملہ باقی رہ گیا ۔

من خوب مے شناسم پیراں پارسا را

راقم قاسم علی خان۔ ہیڈ کلرک دفتر سر ہند نہر لودھیانہ

تعارف مضامین ...... ضمیمہ شحنہ ہند میرٹھ

سال ١٩٠٣ء ٨ نومبر کے شمارہ نمبر ٤٢ کے مضامین

اس شمارہ کے ص ١ تا ٦ پر مسلم قادیانی مراسلت تھی۔ جو یکجا کر دی ہے۔ باقی مضامین یہ ہیں:

٣٧٢

اسی ترتیب سے پیش خدمت ہ

مولا

مرزائی مقدمات بلائے جان مخالفوں کو عدالت میں گھسیٹتے ہی کچے ہی چب ناپاک کے قدموں پر مٹھی باندھ کر ا اور معدے کی مزاج پرسی کرنے لگے۔ پو ارے یہ کیا ہو گیا؟ جی کچھ الہام تو ہو گیا ہے مگر مفصل نہیں ہوا ابھی بڑا کائیاں شاطر ہے کہ جیت بھی ہے ظہور کی دو صورتیں ہیں۔ اگر مخالفین ن چوٹی پر فتح کے شادیانے دَن دَن بج فرانس کا نپولین بن جائے گا کہ وہ آس ایوہ وصدقنا وامنا علیٰ الو کڑاہی میں۔ اور اگر پانسہ خلاف پ بھی شک نہیں ہر کہ شک آرد کافر میرے بڑے بھائی ابن اللہ عیسیٰ چڑھایا۔ میں اس کا چھوٹا بھائی ہوں حالانکہ عدالت میں نہ یہ یاد رکھنے کہ بہت سے الوجوہ ا ناک آوازیں دیتے ہوئے پھر ہ بچے ہوئے ہیں۔

الغرض مقدمات پر موعودیت کے قیام و استحکام کا ب ہیں۔ آسمانی نشان کے ظہور کا ک

صفحہ ٧٢١

٢...... گورنمنٹ کی خیر خواہی ۔ مولانا شوکت اللہ میرٹھی!

اسی ترتیب سے پیش خدمت ہیں:

مولانا شوکت اللہ میرٹھی!

مرزائی مقدمات بلائے جان ہو گئے۔ بوالہوسی کی ہانڈی میں کھچڑی تو یہ پکائی تھی کہ ہم اپنے مخالفوں کو عدالت میں گھسیٹتے ہی کچے ہی بھنبھوڑ کر کھا جائیں گے۔ ورنہ سب کے سب آسمانی باپ کے لے پالک کے قدموں پر شکمی باندھ کر اور دانت میں تنکے لے کر آپڑیں گے مگر وہ لوہے کے چنے نکلے اور معدے کی مزاج پرسی کرنے لگے۔ پورا برس روز ہو گیا کہ قصبہ شریف میں کھلبلی مچا رکھی ہے۔ ارے یہ کیا ہو گیا؟ جی کچھ نہیں آسمانی باپ اپنے لے پالک کا نشان ظاہر کرے گا۔ الہام تو ہو گیا ہے مگر مفصل نہیں ہوا ابھی تک گول مٹول اور ڈھول کے اندر پول ہے۔ آسمانی باپ بھی بڑا کائیاں شاطر ہے کہ چت بھی لے پالک کی اور پٹ بھی لے پالک کی۔ اب آسمانی نشان کے ظہور کی دو صورتیں ہیں۔ اگر مخالفین تعزیر کی چکی میں دیئے گئے تو آسمان و زمین خصوصاً منارے کی چوٹی پر فتح کے شادیانے دَن دَن بجیں گے اور ایک ایک راسخ الاعتقاد مارے خوشی کے پھول کر فرانس کا بیلون بن جائے گا کہ وہ آسمانی نشان ظاہر ہوا۔ "صدق الرسول البروزی صدق ابوہ وصدقنا وامنا علیٰ الولد ووالدہ " اور پھر پانچوں گھی اور سر نگوں کی چھن من کرتی کڑاہی میں۔ اور اگر پانسہ خلاف پڑا جب بھی پو بارہ ہیں۔ آسمانی نشان کے ظاہر ہونے میں پھر بھی شک نہیں ہر کہ شک آرد لے پالک گردد۔ لے پالک اپنی نشیمن میں بیٹھ کر اسپیچ دے گا کہ میرے بڑے بھائی ابن اللہ عیسیٰ مسیح پر یہودیوں نے کیا کیا ظلم نہیں کئے۔ قتل کیا۔ پھانسی پر چڑھایا۔ میں اس کا چھوٹا بھائی ہوں۔ لہٰذا جو کچھ ہو تھوڑا ہے۔

حالانکہ عدالت میں نہ پھانسی لگے گی نہ کوئی جلا وطن ہوگا۔ تاہم شکست کی صورت میں یہ یاد رکھئے کہ بہت سے الو جو دام میں پھنسے ہوئے ہیں۔ ضرور یا بدوح کی بھیانک اور وحشت ناک آوازیں دیتے ہوئے پھر ہو جائیں گے۔ صرف چند چڑیاں رہ جائیں گی جن کے بال و پر نچے ہوئے ہیں۔

الغرض مقدمات پر بروزی نبوت اور ظلی رسالت اور آسمانی تثلیث اور والدیت ومولودیت کے قیام واستحکام کا بہت کچھ انحصار ہے۔ عدالتوں میں لوگ ہمیشہ فتح وشکست پاتے ہیں۔ آسمانی نشان کے ظہور کا کوئی بھی مدعی نہیں ہوتا مگر لے پالک کے تمام معاملات میں آسمانی

٣٧٥

صفحہ ٧٢٢

نشان کا اڑنگا لگا ہے۔

ہمیں تو غریب الحکم کے ساتھ ہمدردی ہے کہ بے چارہ مقدمات کی دم کے پیچھے اسیر بنا ہوا ہے۔ اس کے حق میں آسمانی نشان دمدار ستارہ یا طاعون ہو گیا۔ پھر کسی ناکام عاشق کے دل کی طرح غریب کا گھر بیٹھ گیا۔ الحکم کی اشاعت میں روڑا اٹک گیا۔ جامۂ عافیت میں جھراڑے لگ گئے۔ بخیے اُدھڑ گئے۔ کہاں کہاں رفو ہو۔

ہر بلائے کز آسمان بارد
خواہ بر دیگرے قضا باشد
برزمین نار سیدہ میگوید
خانہ انوری کجا باشد

چونکہ سب لے پالک کے آسمانی نشان ہیں۔ لہٰذا بسر و چشم قبول کرنا چاہئے کیونکہ آسمانی نشان ہی کے ساتھ الٹے تلتے ہیں۔ ورنہ راتب ہے نہ وظیفہ ہے پھر تو پیٹ سے کاٹھ کی روٹی باندھنی پڑے گی۔ عیسیٰ مسیح علیہ السلام نے انجیل میں کہا ہے کہ میں آسمانی روٹی ہوں۔ مجھے کھاؤ مگر مثل اُس ایسا نہیں کہہ سکتا وہ تو یہ کہتا ہے کہ ہاتھی کے روٹ میں سب کا حصہ۔ میں بھی کھاؤں تم بھی کھاؤ۔

٢ ...... گورنمنٹ کی خیر خواہی

مولانا شوکت اللہ میرٹھی!

پائیونیر میں کسی نامہ نگار (بی) نے ایک پادری کی کتاب پر جو مرزا قادیانی کے بارہ میں لکھی گئی ہے ریویو کیا ہے اور مرزا قادیانی کے کیریکٹر پر بحث کی ہے۔ بحث کیا معنی مضحکہ اڑایا ہے۔ خیر مرزا قادیانی کو ایسے مضحکوں کی تو پروا نہیں بلکہ خوش ہوتا ہے کہ ہم پائیونیر کے کالموں تک پہنچ کر شہرت کے آسمان پر چڑھ گئے۔ مگر نامہ نگار کا یہ لکھنا کہ ان کے مریدوں کی تعداد دس ہزار ہے۔ بالکل سفید جھوٹ ہے۔ طوفان ہے۔ بہتان ہے۔ وہ مرزا قادیانی کی ترقی کا حاسد ہے۔ اور دن دگنی رات چوگنی بڑھتی دولت کو دیکھ نہیں سکتا۔

غضب ہے نا۔ آسمانی باپ تو یہ الہام کرے کہ میرے لے پالک کے چیلوں کی تعداد دو لاکھ ہے اور یہ عیسائی کل دس ہزار بتائے اور پھر مرزا قادیانی کے بڑے بھائی اگر بھنگیوں کے لال گرو بنے تھے تو نامہ نگار کے دل میں غبار کیوں ہوا۔ اس نے اپنی سر پر کدورت کی خاک کے ساتھ مرزا قادیانی کا خاکہ کیوں اڑایا اور پائیونیر کے صفحات پر کوڑا کرکٹ کیوں پھیلایا جبکہ آسمانی باپ نے انجیل مقدس میں کہہ دیا ہے کہ سچائی جھونپڑوں میں ہے۔ نہ کہ اونچے اونچے عالیشان

٣٧٦

صفحہ ٧٢٣

ایوانوں میں، خود مرزا قادیانی ہی بھنگیوں کے لال گرو بن جاتے تو اس میں کیا بھس ٹل جاتا اور اب بھی ایک ہی بات ہے۔ کیا معنی کہ مرزا قادیانی اور ان کے بھائی دونوں ایک جھاڑو کی تیلیاں اور باہم ایسے ملے ہوئے ہیں جیسے بول کے ساتھ براز۔

لال بیگی حلال خور اپنے کو مسلمان بتاتے ہیں، کلمہ پڑھتے ہیں، مسلمانوں کی طرح مردے کا جنازہ اور تیجا اور دسواں بیسواں کرتے ہیں۔ مرزا قادیانی کے بھی سب مرید مسلمان ہیں۔ خصوصاً جبکہ آسمانی باپ نے کہہ دیا ہے کہ تمام انسان میرے بیٹے ہیں۔ تو مرزا قادیانی ایسے ناخلف نہیں کہ اس حکم کی مخالفت کریں اور دل میں حلال خوروں سے غبار رکھیں اور جب وہ مرزائی بننے کے لئے آئیں تو ان کے منہ پر جھاڑو مار دیں۔ ان کا عمل تو خانہ دوستاں بروب اور در دشمناں بکوب پر ہے۔ آدمی جھوٹا کھاتا ہے تو میٹھے کے لالچ۔

اخیر میں نامہ نگار نے لکھا ہے کہ ”مرزا ہمیشہ میموریل بھیج کر اپنے کو گورنمنٹ کا خیرخواہ بتاتا ہے مگر اس کی خیرخواہی مشکوک ہے۔“ یہ بھی غلط مرزا قادیانی کے پاس دس ہزار نہیں دس لاکھ والنٹیر ہی ہو جائیں تو وہ گورنمنٹ کے کلیسائے جبروت کو سجدہ ہی کریں گے۔

اول...... تو کیا پدی کیا پدی کا شوربا۔ دوم...... مرزا قادیانی اگر گورنمنٹ کو تھپکتے نہ رہیں تو یہ مزے کہاں سے اڑائیں؟ یہ بات تو برٹش جیسے آزاد گورنمنٹ کے عہد میں حاصل ہے۔ شاید نامہ نگار کا یہ خیال ہے کہ اب تک جس قدر مہدی پیدا ہوئے ان کے جم غفیر نے ضرور ہی گورنمنٹ سے بغاوت کی مگر ہندوستان میں یہ ممکن نہیں اور نہ مرزا قادیانی کا ایسا خیال جبکہ تمام مذاہب اس کے خلاف ہیں۔

تعارف مضامین ...... ضمیمہ شحنہ ہند میرٹھ

سال ١٩٠٣ء ١٦؍نومبر کے شمارہ نمبر ٤٣؍کے مضامین

١...... دجالی دعوت کا جواب۔ از راز لدھیانوی! ٢...... فرانسیسی مسیح ڈاکٹر ڈوئی اور اس کی دعا کرنے کی کل۔ مولانا شوکت اللہ میرٹھی! اسی ترتیب سے پیش خدمت ہیں:

١ ...... دجالی دعوت کا جواب

میر ناصر نواب، دہلی کے رہنے والے کبھی محکمہ نہر میں نقشہ نویس تھے۔ قادیانی مسیح کی

٣٧٧

صفحہ ٧٢٤

درخواست پر ردوکد کے بعد اپنی لڑکی اس کے نکاح میں دے بیٹھے۔ اسکے بعد معتبر ذریعہ سے بھید کھلنے پر سخت ناراض ہوئے اور بہت واضح طور سے وہ ناراضگی ظاہر کی کہ اس کو تو دن رات نسخہ جات باہ کی فکر ہے اور کتابوں کے ذریعہ سے روپے ٹھگتا ہے۔ ایسا شخص ملہم من اللہ کب ہو سکتا ہے؟ اپنے فخر کے لئے مجھ کو پنج ہزاری کا نواب مشہور کر رکھا ہے۔ کتاب براہین احمدیہ صرف روپے کمانے کے لئے شروع کی ہے۔ یہ دجال، دغا باز، فریبی ہے۔ ان ایام میں یہ مضمون نظم کے پیرایہ میں آپ نے تحریر فرمایا تھا۔ ”فھذا بعضہ قال شاکیاً من ناس الزمان“

میر ناصر خسر مرزا کے چند اشعار

ہے کہیں نوٹس بزرگی کا لگا آؤ لوگو ہم پہ ہے فضل خدا
ہو ہمارے فضل میں تم بھی شریک ہم تمہیں دیں فیض تم دو ہم کو بھیک
مال و دولت اور بیٹے پاؤ گے گر بجا خدمت ہماری لاؤ گے
تم پھلو پھولو گے دشمن ہوں گے خوار تم پر رحمت ان پر ہوگی حق کی مار
اور کہیں تصنیف کے ہیں اشتہار یہی لوگوں نے کیا ہے روزگار
پیشگی قیمت مگر لیتے ہیں وہ خلق کو اس طرح دم دیتے ہیں وہ
قیمتیں کھا کر نہیں لیتے ڈکار جیسے آتا تھا کہیں ان کا ادھار
جو کوئی مانگے وہ بے ایمان ہے وہ بڑا ملعون اور شیطان ہے
آج دنیا مکر سے لبریز ہے اب دغا بازی میں ہر ایک تیز ہے
کہہ کے میٹھا دیتے ہیں کھٹا دہی کچھ نہیں پرتیت دنیا کی رہی
بدمعاش اب نیک از حد بن گئے بو مسیلمہ آج احمد بن گئے
عیسیٰ دوران بنے دجال ہیں ہر طرف مارے انہوں نے جال ہیں

١؎ جیسے براہین احمدیہ کے پانچ پانچ، دس دس، پچیس پچیس روپیہ لے کر چار ہی جلدیں کل ٣٥ جز کی کتاب دے کر ٹکا سا جواب دے دیا کہ بس تو ہدایت کے لئے یہی کافی ہے۔ حالانکہ ٣٠٠ جز کی کتاب تیار ہوگی کا اشتہار تھا۔

ولہٗ آخر

مہدی وقت ہے کوئی مشہور کوئی بنتا ہے عیسیٰ دوران
نہ عیاں اس میں عیسوی برکت نہ ہدایت کا اس میں نام و نشان

٣٧٨

صفحہ ٧٢٥

جب براہین احمدیہ کی چار جلدیں یعنی صرف ٣٥ جز چھپ چکے تو انہیں میر صاحب کی زبانی معلوم ہوا کہ اس سے آگے مضمون ہی نہیں۔ پانچویں جلد کبھی نہ نکلے گی۔ سو فی الحقیقت پانچویں جلد فی بطن مرزا ہی رہی۔ تو مسیح مرام کا شور مچ گیا جس سے بالکل ازالہ تجدید وتحدیث ومثیلیت ہو گیا اور نبوت ورسالت کے فرضی جلوں میں خاصا دجال نکل کھڑا ہوا۔ میر صاحب نے ایک دفعہ پھر اس کی طرف رجعت کی اور اس کے بعد پھر تائب ہوئے۔ آخر ملازمت سے ناکافی پنشن ہو جانے پر لڑکی کے دروازہ پر جا بیٹھے۔ اور خاص مریدوں میں شامل ہو گئے۔ اندر باہر اب یہی میر صاحب مختار ہیں۔

ان کی اس الٹاپلٹی کو خود مسیح قادیان نے بھی (ازالہ ص ٨٠٥ خزائن ج ٣ ص ٥٣٦) پر قبول کیا اور اس کو ایک ابتلاء قرار دیا ہے۔ اب انہیں میر صاحب نے خسرانہ جوش میں آ کر اس داماد بقول خود، دجال کے لئے سب مسلمانوں کو خصوصاً اہل دہلی کو دعوت کی ہے اور علماء دین کو بت پرست گدھے، کافر، اندھے، ظالم وغیرہ خطاب عنایت کئے ہیں۔ ختم نبوت محمدی سے بالکل چشم پوشی کر کے دیدہ دانستہ کوری اختیار کر لی۔ پھر اس خسرانہ جوش کا نام ”دعوت الحق“ رکھا ہے چونکہ دعوت کے لئے اجابت ضروری ہے اس لئے ذیل میں پیش ہے۔

اجابت دعوت

واہ مسیح کے سچے ناصر دین میں خاسر عقل میں قاصر
ہو دجال سے تیری بیعت اس پر کرے تو حق کی دعوت
یاد ہے جب تو گھبراتا تھا لڑکی دے کر پچھتاتا تھا
تو دجال تھا اس کو کہتا پاس ہمارے روتا رہتا

نسخہ بازی

نسخہ بازی کا تھا شاکی تو ہی ڈوبا شان خدا کی
تجھ میں نہ تھی تصویر پرستی لعنت حق تھی یوں نہ برستی
مانتا تھا تو حدیث اور قرآن ختم نبوت پر تھا ایمان
پہلے خاصا مومن تھا تو کفر کیا پھر تو نے بدگو
پھر اک بار بنا تو مومن کافر ہوگیا آخر لیکن
روز بروز اس میں ہے زیادہ اب مشکل ہے ترا اعادہ

٣٧٩

PDF 727
ہو گئی اہلحدیث سے نفرت ہو گیا منکر ختم نبوت
بن گیا وہ دجال اب مرسل سچا ہے آج جو کاذب تھا کل
اس کو نبی اب تو نے بنایا کچھ بھی خدا کا خوف نہ آیا
سنتا ہے تقریریں اس کی بیچتا ہے تصویریں اس کی
کاغذی اس کے بت ہیں بکتے چھپتے ہیں دجالی کتے
ایک روپیہ چھ آنے قیمت ہوتی ہے البدر میں شہرت
اک بت گر اک بیچنے والا کیا روزی کا ڈھنگ نکالا
ناصر میر تیری تصویر پرستی اور ابھی تو ہوگی سستی
ہے مختار تو اس کے گھر کا بھیدی جھوٹے پیغمبر کا
ملک و زمین جو تھی دجالی بیٹی کے نام وہ رہن کرالی
دعوت حق یہ تو نے کیا کی دین کی شرم نہ کچھ دنیا کی
لوگوں کو تیرا یہ بلانا ہے دجال کے دام میں لانا
پنشن ہوگئی تھوڑی تیری پیٹ کی خاطر ہے یہ دلیری
طبع براہین کے وہ وعدے سچ کہو جھوٹے تھے یا سچے
تو نے ہی کھولا بھید یہ ہم پر جھوٹا ہے یہ دجال اکبر
مضمون چوتھی جلد سے آگے لکھا ہے کچھ نہیں جھوٹ ہیں وعدے
تین سو اس کی خبریں بنانا پیٹ کے بھرنے کا ہے بہانا
لوگو اس کے دم میں نہ آؤ ہوش کرو دیکھو بچ جاؤ
جب تھا تیرا معقول گزارا گھر میں ملتا تھا خاصا چارا
اس کی نہیں تھی پرواہ تجھ کو بلکہ وہ کچھ کھاتا تھا تجھ کو
اب آخر معذور ہوا تو دین سے اس لئے دور ہوا تو
اس کی لگا تعریفیں گانے بیٹھا در پر ڈھول بجانے
دہلی میں بھی میر ہی تھا تو قادیان میں اب میر بنا تو
حلیہ ظاہر ہے کیا حاصل ظاہر صورت ہے کیا حاصل
وصف ملیں جب دجالوں سے حاصل رنگت اور بالوں سے

٣٨٠

ایسے بال اور رنگت والے
کس کام آئیں بال اور رنگت
لعنت بھی منہ مانگی پائی
جھوٹی پیشین گوئیاں کرکے
رستا گلے میں اور منہ کا
جینے کے ہیں کوئی یہ ساما
جس کے سہارے پر ہیں یہ
لعنت اس کھانے پینے
کرتا ہے کیا دجال شرارت
نام محمد کا ہے یہ
وہ تھا لڑائیاں مارا
ذکر جمالی اور
اب جو بنا ہے آپ
اپنی کشتی آپ ڈبو
نام تھا پہلے غلام
بن کے مثیل عیسیٰ
ان کے تو حصے میں
جو الہام رسولوں کے
اس کا تو کن کن ہے
عیسیٰ بھی تو آئے نہ
ان سے ٹوٹی ختم
احمق پھنس گئے اس کی
دین نبی سے کیا
دیکھو کیسی قسمت
ظالم بنا خدا
صفحہ ٧٢٧
ایسے بال اور رنگت والے دنیا میں ہیں بہت منہ کالے
کس کام آئیں بال اور رنگت اوپر سے جب برسے لعنت
لعنت بھی منہ مانگی پائی جس سے ہے آگے ساری خدائی
جھوٹی پیشین گوئیاں کر کے ہے دجال بچا مر مر کے
رستا گلے میں اور منہ کالا ٹوکرا سر پر لعنت والا
جینے کے ہیں کوئی یہ سامان پر بے شرمی تیرے قربان
جس کے سہارے پر ہیں جیتے اچھا کھاتے اچھا پیتے
لعنت اس کھانے پینے پر اس بے شرمی کے جینے پر
کرتا ہے کیا دجال شرارت دی عیسیٰ نے میری بشارت
نام محمد کا ہے جلالی میرا ہے احمد نام جمالی
وہ تھا لڑائیاں مارا کرتا میں ہوں رفق ومدارا کرتا
ذکر جمالی اور جلالی ہے یہ ایک نئی دجالی
اب جو بنا ہے آپ محمد کرتا ہے پہلی بشارت کو رد
اپنی کشتی آپ ڈبو دی شیطانی تزویر ہے بودی
نام تھا پہلے غلام احمد پھر لے لیا مقام احمد
بن کے مثیل عیسیٰ مرسل اب کمبخت ہے ان سے بھی افضل
ان کے تو حصے میں ناکامی اور یہ مثیل ہے مرسل نامی
جو الہام رسولوں کے تھے یہ سمجھا وہ آپ نہ سمجھے
اس کا تو کن کن ہے خدا کا شرک ہے لیک اعجاز مسیحا
عیسیٰ بھی تو آنے نہ پائے ان سے افضل مرسل آئے
ان سے ٹوٹی ختم نبوت یہ پیدا ہوا کچھ نہیں وقت!
احمق پھنس گئے اس کی بڑ میں ماری کلہاڑی اپنی جڑ میں
دین نبی سے کیا تبرا خوب دیا دجال نے بھرا
دیکھو کیسی قسمت پھوٹی ان پر غضب کی بجلی ٹوٹی
ظالم بنا خدا کا بیٹا عیسیٰ کو بھی ساتھ لپیٹا

٣٨١

صفحہ ٧٢٨
پہلے تھے ایک درخت کے دو پھل اب ہے ظالم ان سے اسفل
دجل فریب دغا اور دھوکا دل نہیں ایک بدی سے روکا
ہاں یہ سچ ہے کہ نیکوں کی بھی بعض بڑوں نے ہے بد گوئی کی
لیکن جس کو برا کہہ دینا کیا ہے ضرور ضرور ہو اچھا
گر یہ سچ ہے تو سب سے بڑھ کر چاہئے نیک ابلیس ستم گر
اچھا برا کاموں سے عیاں ہے ظاہر کب محتاج بیاں ہے
ختم رسل کے بعد پیمبر بننے سے کیا کام ہے بدتر
آپ خدا کا بیٹا بنا چیلوں سے کہلایا آمنا
پھر جو مسلماں روکیں اس پر کافر ان کو بنائے کافر
ناصر میرا بتا دے سچ سچ بات کی اپنے مت کچو مچ
کیا تعلیم مسیح یہی ہے جس پر تو نے دعوت کی ہے
یا کچھ اور بھی ہے؟ تو کیا ہے کیا سیکھا ہے تو نے زیادہ
خام طبیعت عقل کے سادہ عیسیٰ مر گیا مرزا ہے عیسیٰ
کہتے ہیں نیچری ملحد کافر عیسیٰ مر گیا سولی چڑھ کر
تم ہوئے اس میں ان کے مضاہی بکتے ہو یوں واہی تباہی
بڑھ کر کیا بات اور نکالی ہاں یہ مسیحیت دجالی
سولی پر لٹکایا ہے عیسیٰ چوروں کے ساتھ ملا ہے عیسیٰ
نیچری بڈھا لکھ گیا ہے سب جو تم کو الہام ہوا ہے اب
وہ الحاد الہام تمہارا کچھ شرماؤ دل میں خدارا
ماصلبوہ صلبو ٹھہرایا کی تحریف اور خوف نہ آیا
گاہ انہیں شام میں دفناتے ہو پھر کشمیر میں لے جاتے ہو
جھوٹے ہو جھوٹے کا حافظہ کچا ہے مشہور مقولہ سچا
یارب ان کے شر سے بچانا مکاروں کے ضرر سے بچانا
دل سے سنو سعادت مندو ایک نصیحت رب کے بندو
ختم رسل کا ہے یہ فرمان جو درماندوں کا ہے درمان

٣٨٢

احمد ذی شان مرسل
مجتبیٰ مدنی اور
ہے ہر بات یقینی ا
ہم پر رؤف رحیم و
خیر اندیشی ہے جس ا
اس پر آل اصحاب پر ا
سب کے لئے اعلان
سب کے دل میں زعم
یاد رہے یہ تم
ختم نبوت ہوگئی
آپ کے بعد نہ
ہوتا کوئی تو اس
جب نہ نبوت پائی
پہلا ہی کوئی آئے
ختم نبوت نے
موسیٰ بھی گر ہو
قبل قیامت عیسیٰ
اور ان کا آنا پھر
جیسا ہے ان پر
جب خدمت سے فرا
جن کے مبشر بن کے
ہو صدیق و شہید
تمہیں وہ لعنت پا
سب سے جھوٹا ان
جب وہ آئے

EASY

صفحہ ٧٢٩
احمد ذی شان مرسل رحمن جس کا ہدایت نامہ ہے قرآن
مطلبی مدنی اور مکی جس کی شریعت سب سے پکی
ہے ہر بات یقینی اس کی حق تعلیم ہے دینی اس کی
ہم پر رؤف رحیم وہ پیارا جس سے مٹا دکھ درد ہمارا
خیر اندیشی ہے جس کا پیشہ حق سے صلوٰۃ و سلام ہمیشہ
اس پر آل اصحاب پر اس کے یوں ہم کو آگاہ کیا ہے
سب کے لئے اعلان دیا ہے پچھلے دن سے پہلے پہلے
سب کے دل میں رقم ہو ایسا میں ہوں نبی و رسول خدا کا
یاد رہے یہ تم کو لیکن میرے بعد نبی نہیں ممکن
ختم نبوت ہوگئی مجھ پر یعنی حق نے کیا ہے مقرر
آپ کے بعد نہ پیدا ہوگا کوئی نبوت پانے والا
ہوتا کوئی تو اس کے لائق سب سے عمرؓ فاروق تھا فائق
جب نہ نبوت پائی عمرؓ نے پھر کون آئے نبوت کرنے
بھلا ہی کوئی آئے تو آئے جس کو معین حق فرمائے
ختم نبوت نے فرمایا ہے یہ صحیح حدیث میں آیا
موسیٰ بھی گر ہوتے جیتے میرا ہی جام اطاعت پیتے
قبل قیامت عیسیٰ آئیں اس امت کی شان دکھائیں
اور ان کا آنا پھر ہے ضروری تاکہ نبوت ہو نہ ادھوری
جیسا ہے ان پر ہمارا ایمان لائیں یہود و نصاریٰ ایمان
جب خدمت سے فراغت پائیں یاں سے پھر رحلت فرمائیں
جن کے مبشر بن کے تھے آئے قبر میں ہوں ان کے ہمسائے
ہو صدیقؓ و شہید نبی ﷺ کا ساتھی بندۂ صالح چوکھا
ہیں وہ لعنت پانے والے جھوٹے نبی کہلانے والے
سب سے جھوٹا ان جھوٹوں کا کانا دجال آخر ہوگا
جب وہ آئے خدا کہلائے شعبدے کچھ لوگوں کو دکھائے

٣٨٣

صفحہ ٧٣٠
جاہل دوڑیں اس کے پیچھے یا رب امن دے اس کے شر سے
کفر ہو لکھا منہ پر ظاہر جس کو پڑھیں ایمانی ماہر
حشر میں ان پڑھ لوگ بھی جیسے اپنا عمل نامہ پڑھ لیں گے
عیسیٰ اتریں قتل کو اس کی چرخ سے فوق منار دمشقی
اور ہو امام مسلمانوں کا ان سے پہلے زیب مصلا
اس کے پیچھے نماز گزاریں پھر کانے دجال کو ماریں
دیکھ کے ان کو وہ گھلتا جائے سامنے آنے کی تاب نہ لائے
کھائے آخر ان کا برچھا ہو کر رہے نوشتہ پورا
یارب ان فتنوں سے بچالے ہم کو نہ کر ہمارے حوالے
ہم ہیں تیرے بندے بیچارے چاہے تو بخشے چاہے مارے
نار سے تیری پناہ ہے میری کر قبول اک عرض یہ میری
رکھ مجھے اپنے حفظ وامان میں تجھ سے خوش ہوں دونوں جہاں میں
مجھ میں بل نہیں اور نہ طاقت کوئی نہ خوبی ہے نہ لیاقت
تو نے وجود عدم سے بخشا تو نے بنایا میرا نقشہ
پھر ایمان عطا فرمایا ختم رسل کا بخشا سایہ
بخشی اس کی تابع داری کیا کروں اس کی شکر گزاری
میں تیرے فرمان کے قربان اس تیرے احسان کے قربان
ہر دم ہے یہ تمنا جی کی سنت پر رہوں تیرے نبی کی
گرچہ گناہ خطا اور نسیاں رکھتا ہوں بے حد بے پایاں
دیکھ کے تجھ کو سب سے ارحم لب پر ہے رب اغفر وارحم
صادق مومن مجھ کو بنا کر خاص خزانے میں سے عطا کر
خالص نیت پاک ارادے بلا تکلف سیدھے سادھے
عرض کی تجھ سے حاجت کیا ہے دل کا بھید بھی تجھ پر کھلا ہے
ادعونی بھی چونکہ ہے فرمان اور تکبر موجب حرمان
بندگی اس کی ہے متقاضی مولا چاہئے ہر دم راضی

٣٨٤

پس وہ مانگنا مجھ کو سکھا
تو ہی یاد ہو تجھ کو
یوں ہی رہوں جب تک رہو
میں ہوں اس دم تجھے
قبر میں جب رکھ جائیں
آئیں جب کہ نکیر او
شکل نبی جب سامنے
جائیں سلا کر جیسے
حشر میں پھر ہو یوں
کوثر کا وہ جام
بندوں میں تیرے ہو
میں اور سارے لواحق
ہوں فردوس میں مہماں
باقی کوئی نہ ہو
جنت خلد میں پا
واں کچھ خوف نہ کو

فرانسیس ...... ٢

ڈاکٹر ڈوئی کی کیر قادیانی مسیح بارہا ہوا ہے۔ رو شامل ہوتا ہے۔ معلوم ہوتا ہ فرانسیسی مسیح کے مقابلہ میں لیڈر بنائیں۔ پھر دیکھیں ک کرنے کی کل کے ذریعے سرٹیفکیٹ دلوا سکتا ہے۔ مرز

صفحہ ٧٣١
پس وہ مانگنا مجھ کو سکھا دے اور طرف کا دھیان چھڑا دے
تو ہی یاد ہو تجھ کو پکاروں تیرے ہی در پر آہیں ماروں
یوں ہی رہوں جب تک رہوں جیتا چلوں تو جام شہادت پیتا
میں ہوں اس دم تجھے راضی تو اے مالک مجھ سے راضی
قبر میں جب رکھ جائیں مجھ کو میرا مونس وحشت تو ہو
آئیں جب کہ نکیر اور منکر تجھ کو پکاروں آہٹ سن کر
شکل نبی جب سامنے آئے سعدی تیرا فدا ہو جائے
جائیں سلا کر جیسے دلہن خلد ہو تجھ کو میرا مدفن
حشر میں پھر ہو یوں سامان میرا ہاتھ نبی کا دامان
کوثر کا وہ جام پلا دے جو دل کی سب پیاس بجھا دے
بندوں میں تیرے ہو کر شامل جنت میں ہو جاؤں داخل
میں اور سارے لواحق میرے قرب نبی میں لگائیں ڈیرے
ہوں فردوس میں مہمان تیرے تیری رحمت سب کو گھیرے
باقی کوئی نہ ہو اندیشہ ہم سے تو راضی رہے ہمیشہ
جنت خلد میں پائیں بسیرا ہوتا رہے دیدار بھی تیرا
واں کچھ خوف نہ کوئی غم ہو تیری حمد و ثنا ہر دم ہو

٢ ...... فرانسیسی مسیح ڈاکٹر ڈوئی اور اس کی دعا کرنے کی کل

مولانا شوکت اللہ میرٹھی !

ڈاکٹر ڈوئی کی کیریکٹر سے ناظرین اچھی طرح واقف ہیں۔ ان کا ذکر ضمیمہ میں بمقابلہ قادیانی مسیح بارہا ہوا ہے۔ روزانہ پیسہ اخبار میں ان کی تصویر اور دعا کرنے کی کل کا فوٹو معہ کوائف شامل ہوتا ہے۔ معلوم ہوتا ہے کہ مسیح بننے کے سائنس میں ابھی مرزا قادیانی ادھورے ہیں۔ گویا فرانسیسی مسیح کے مقابلہ میں پرائمری تعلیم پا رہے ہیں۔ بہتر ہو کہ چند روز ڈاکٹر ڈوئی کو اپنا ماسٹر یا لیڈر بنائیں۔ پھر دیکھیں کیسا چوکھا رنگ نکلتا ہے۔ ڈاکٹر ڈوئی کی نسبت لکھا ہے کہ وہ اپنی دعا کرنے کی کل کے ذریعے سے فی گھنٹہ کئی ہزار آدمیوں کو آسمانی باپ کے اجلاس سے بخشش کا سرٹیفکیٹ دلوا سکتا ہے۔ مرزا قادیانی نے تو ابھی تک ایسی ایک کل بھی ایجاد نہیں کی۔ لے دے کر

٣٨٥

صفحہ ٧٣٢

صرف ایک مینار کی بنیاد ڈالی۔

اس کی تعمیر بھی ابھی تک ہوا پر ہے۔ بلکہ بدخواہوں کی بدولت اس میں روڑے اٹکے ہوئے ہیں افسوس اور نہایت افسوس۔ وہ حالات یوں ہیں جو شخص (ڈاکٹر ڈوئی) کے نئے مذہب پر ایمان لاتا ہے وہ اس سے آمدنی کا عشر ضرور لے لیتا ہے جب کوئی شخص اس کی کثیر تعداد جمعیت سے اور اس کے سرمایہ پر خیال کرے گا جو ایک معقول رقم ہے تو اس کو تعجب ہوگا کہ اس شخص کے اندر کونسی صفت ہے اور اس کے عقائد میں کیا جادو ہے جس کے اثر سے اتنے آدمی اس کے گرد لوٹ پوٹ ہو رہے ہیں۔ حتیٰ کے اس کے مرید ایسے خوش اعتقاد ہیں۔ کہ اپنی آمدنی کا عشر ہمیشہ اسے خندہ پیشانی سے ادا کر کے اس کے سخت قواعد کی پوری تعمیل کرتے اور اس کے جوش انگیز وعظ دل لگا کر سنتے ہیں اور اپنی تندرستی اور آسودگی اس کی دعا کی برکت سے سمجھتے ہیں۔ خواہ یہ دعا فی الحقیقت ان کے واسطے کی جائے یا ان کا صرف نام دعا کی مشین میں ہی چھپ جائے۔ ایسی کارروائیوں سے ہم کو خواہ مخواہ بت پرستوں کا زمانہ یاد آجاتا ہے۔

ڈاکٹر ڈوئی کی مشین ایک زبردست آلہ ہے۔ جب کبھی اس کا کوئی بیمار مرید صحت کا خواستگار ہوتا ہے تو وہ صرف خط میں لکھ دیتا ہے کہ میں بیمار ہوں اور آپ کی دعا چاہتا ہوں جب نبی صاحب کو فرصت ہوتی ہے تو وہ ایسے خطوط کی ٹوکری پر نظر کرتا ہے اور ہر خط کو ایک منٹ کے لئے اوپر اٹھاتا ہے اور دعا پڑھتا ہے۔ پھر وہ خط کو ایک مشین میں جس میں ربڑ سٹامپ لگی ہوئی ہے۔ ڈال دیتا ہے اور اپنے ہاتھ کے انگوٹھے سے دستہ کو گھماتا ہے جس سے اس خط پر یہ الفاظ چھپ جاتے ہیں کہ تمہارے لئے تین بجے دعا مانگی گئی۔ بیمار اسی وقت سے اپنی صحت تصور کرنے لگتا ہے۔ لیکن ڈاکٹر ڈوئی کے لئے ایک بدقسمتی یہ ہے کہ بعض اوقات راسخ الاعتقاد مریدوں کو بھی صحت نہیں ہوتی۔ مگر یہ ایسا چالاک اور فطرتی شخص ہے کہ اپنی ناکامی کو بھی کامیابی کے پیرایہ میں دکھاتا ہے۔

ایک دفعہ اس کی حقیقی بیٹی کوئی چیز سپرٹ کے چولہے پر گرم کر رہی تھی کچھ بھول گئی تو بے رحم والد نے تاکیدی حکم دے دیا کہ اسی سپرٹ سے اس کو جلایا جائے وہ جل کر اسی روز مرگئی اس کی نافرمانی سے مریدوں کو عبرت ہوئی۔ اس نے کہا کہ بعد سزا دہی کے میں نے اس کے تمام بزرگوں نے اس کی جان بخشی کے لئے سفارش کی لیکن قبول نہ ہوئی۔ شہر صیہون میں طبیب اور شراب خانہ اور دوا خانہ کا نام تک نہیں۔ یہاں تک کہ سوڈا واٹر بھی نہیں مل سکتا۔ تاہم جعلی پیغمبر کا رسوخ پھیلا ہوا ہے اور شہر معمولی رفتار سے ترقی کرتا جاتا ہے۔

اس شہر میں لیس کی بڑی تجارت ہے۔ اس لئے کہ ڈوئی بڑا دور اندیش تاجر ہے اور ایسا

٣٨٦

نبی ہے کہ اپنے ذاتی فائدہ کو پہلے تاڑ لیتا ہے اور مضبوطی دلائل پر منحصر نہیں بلکہ اس گرم جوشی سے پیدا ہوتی ہے جب وہ بولتا ہے تو بعض نظر اس کے چہرے پر جمائے رہتے ہیں فریفتہ ہو جاتے ہیں جب وہ اپنے شاندار ہوش میں آتے ہیں۔

مگر اس پر اعتراض کرنے نیو یارک میں معہ اپنے ٣٠٠٠ حواریوں وصول کریں۔ حواریوں نے میڈیسن میں رہنے کو چلے گئے۔ لیکن خود معہ ا پولیس میں اطلاع لکھائی ہے کہ میری ہو گیا ہے۔ غالباً کسی نے استقبال کے

تعارف مضا

سال ١٩٠٣ء٢٢ اس میں مسلم، قادیانی مر

اسی ترتیب سے پیش خ پائنیز کے جس مضمون ک حسب ذیل چھپا ہے۔ ”جو لوگ

صفحہ ٧٣٤

نبی ہے کہ اپنے ذاتی فائدہ کو پہلے تاڑ لیتا ہے۔ جاننے والے کہتے ہیں کہ اس کی کامیابی فصاحت اور مضبوطی دلائل پر منحصر نہیں بلکہ اس گرم جوشی اور کشش پر ہے جو ملنے والے کو اس کی صورت دیکھنے سے پیدا ہوتی ہے جب وہ بولتا ہے تو بعض سامعین کو اس کے الفاظ سنائی نہیں دیتے۔ وہ صرف اپنی نظر اس کے چہرے پر جمائے رہتے ہیں اور اس کی اوضاع چمکدار آنکھوں اور عالمانہ ابروؤں پر فریفتہ ہو جاتے ہیں جب وہ اپنے شاندار کلمات ختم کر کے بیٹھ جاتا ہے تو سامعین بے خودی سے ہوش میں آتے ہیں۔

مگر اس پر اعتراض کرنے کی کسی کو جرأت نہیں پڑتی یا عقل نہیں آتی۔ پچھلے دنوں وہ نیو یارک میں معہ اپنے ٣٠٠٠ حواریوں کے بدین غرض آئے تھے کہ خدا کے کام کے واسطے چندہ وصول کریں۔ حواریوں نے میڈیسن کے میدان میں کھانا کھایا اور مختلف سستے بورڈنگ ہاؤسوں میں رہنے کو چلے گئے۔ لیکن خود معہ اپنی بیوی کے ایک فیشن ایبل ہوٹل میں اترے۔ آپ نے پولیس میں اطلاع لکھائی ہے کہ میری بیوی کا بروچ جس کی قیمت ساڑھے چار ہزار روپے ہے گم ہو گیا ہے۔ غالباً کسی نے استقبال کے وقت اڑا لیا۔

تعارف مضامین ...... ضمیمہ شحنہ ہند میرٹھ

سال ١٩٠٣ء ٢٤ نومبر کے شمارہ نمبر ٢٢ کے مضامین

اس میں مسلم، قادیانی مراسلت کے علاوہ یہ مضامین تھے:

اسی ترتیب سے پیش خدمت ہیں:

١ ...... ایک پنجابی نبی

نامہ نگار کرزن گزٹ!

پائینیر کے جس مضمون کا ذکر ہم نے مجمل طور پر کیا تھا کرزن گزٹ میں اس کا پورا ترجمہ حسب ذیل چھپا ہے۔ ”جو لوگ چشم بینا رکھتے ہیں یا اس بزم تماشا گاہ کی آنکھ کھول کر سیر کرتے

٣٨٧

صفحہ ٧٣٤

ہیں ۔ ان کو خطہ زمین پر عجائبات نظر آتے ہیں کیا کوئی لکھ سکتا ہے کہ ہندوستان میں ایک اور نبی کی ضرورت تھی ۔ گورنمنٹ کی جانب خیال کیا جائے تو کیا ہی اچھا ہوتا ۔ اگر فرانس کی رعایا کی طرح یہاں کے بھی لوگ لا پرواہ یا بے غرض ہوتے ۔ یہاں تو ذراسی مذہبی بات بھی ایسی ہو جاتی ہے جیسے گھاس میں چنگاری ۔ یہ بات صرف سر برآوردہ یا خاص لوگوں ہی میں نہیں بلکہ عام ہے ۔

سوڈانی ، شامی اور سرحدی فرقوں کی زندہ مثالیں موجود ہیں ۔ ایم جیولس بویس، فرانسیس ، سیاح نے یہاں والوں کی نسبت حسب ذیل رائے قائم کی ہے ۔ مذہب کا پاس بالکل نہیں ۔ تصوف پھیلا ہوا ہے جس کو وہ اپنے زعم باطل میں مجذوبوں کا عقیدہ کہتے ہیں ۔ اکثر لوگ افیمی ہیں ۔ ان کے خصائل و عادات غیر معمولی بچوں کے سے دنیہ اور روبہ تنزل ہیں ۔

پائینر لکھتا ہے کہ اس نے یہ مذمت انگریزوں کی کی ہے ۔ اور ہندوستانیوں کی نسبت عمدہ رائے قائم کی ہے۔ ایم بولس نے آگے چل کر سب کو ایک لکڑی ہانکا ہے کہ یہ لوگ اس وقت ترقی کرسکتے ہیں جب کہ منشیات سے پرہیز کرنا اور بے غرضی ہم سے سیکھیں ۔ منتشر الخیالی چھوڑ دیں اور اپنی طاقت کے موافق مغربی طریقہ اختیار کریں ۔ ایک خطرہ ملک میں یہ پھیلا ہوا ہے کہ بے حساب مذہبی تحریکیں ہوتی رہتی ہیں۔ حالانکہ گورنمنٹ ہند نے اپنی حکمت عملیوں سے دینی حرارت یا تعصب کو بہت کچھ دبا دیا ہے ۔

آپ بتائیں کہ پنجاب کے علاوہ دوسرے صوبوں میں کتنے انگریزوں کو اس بات کا علم ہے کہ پنجاب میں احمد یہ تحریک ہورہی ہے۔ حالانکہ مذہب اسلام میں جو دو بڑی تحریک یا رخنہ اندازیاں ہوئیں۔ ان میں سے ایک یہ بھی ہے۔ کل ہندوستان میں چار نئے گروہ پیدا ہوئے ہیں۔ ممالک متحدہ اور بنگال میں علی گڑھ والے اور برہم سماجی دو گروہ ترقی کر رہے ہیں ۔ یہ دونوں فرقے آزاد منش، بے تعصب، قدرت کے قائل اور گورنمنٹ کے خیر خواہ ہیں جو لوگ ہندوستان کی بہبودی چاہتے ہیں۔ ان کے پرسان حال نہیں ہوتے کہ یہ کیا کر رہے ہیں اور کس رنگ میں ہیں ۔

مدت ہوئی کہ آریہ سماج اصلاح کے لئے بمبئی میں قائم کیا گیا تھا مگر اب وہ پنجاب میں ترقی کر رہا ہے اور اپنے کمال عروج پر ہے۔ ہم اس وقت اس کے متعلق بحث کرنا نہیں چاہتے ۔

فرقہ احمدیہ نے انقلاب پیدا کر دیا ہے۔ یہ لوگ بالکل نئے عقائد کے پابند ہیں۔ کہتے ہیں کہ ہم ملکی امن کے بدل خواہاں ہیں اور گائے کی طرح غریب اور حلیم الطبع ہیں مگر ان کی حرکتوں پر ایک دو مرتبہ گورنمنٹ کو توجہ کرنی پڑی ہے۔ ہنوز اس فرقے کی تحریک پنجاب تک محدود ہے۔

٤٨٨

٣٥ اس کے پیروؤں کی تعداد پر نظر ڈالنے کی سب سے گیارہ سو جوان مرزا غلام احمد قادیانی کے پیرو ہیں ہے تو آہستہ آہستہ یہ لوگ ترقی کر رہے ہیں ۔ اس بلکہ ستر ہزار آدمی کا گروہ ہے۔ ( نہیں جناب تقر

حال میں ٢٦ صفحہ کا ایک پمفلٹ قادیانی “ ہے اس کے مصنف لاہور کے پادر ہیں ۔ اس رسالہ میں معمول سے زیادہ سخت ال النظر میں صحیح اور درست معلوم ہوتا ہے۔

قادیان ضلع گورداسپور میں واقع صورت بزرگوں کی سی ہے۔ چہرہ سخر القلوب اسی وجہ سے قادیانی کہلاتے ہیں۔ فرقہ احمد صدی گزریں۔ بابر کے عہد سلطنت میں ان ہے۔

غلام احمد نے اپنے مختصر رسالوں وباء کے زمانہ میں بہت کچھ کر ڈالا ۔ آخر کار بند کیا ۔ اس کا خاندان غدر میں خیر خواہ تھا۔ میں بھی ذکر کیا ہے ۔

یہ دعویٰ کرتا ہے کہ میں گورنمنٹ کیا جاتا ۔ یہ کہتا ہے کہ میرا فتویٰ جہاد کے میموریل میں اس نے لکھا تھا کہ جہاد کے لیتا ہے۔

پادری صاحب کہتے ہیں کہ الم مذہب بہت ہی اچھے عقیدہ کا ہوتا جیسا کہ ہوا۔ سبحان اللہ اس مقدس مذہب کی عظمت ساختہ اس کی تعریف نکل رہی ہے۔ بد نام کنندہ نیکو نامے چند، الم

صفحہ ٧٣٥

اس کے پیروؤں کی تعداد پر نظر ڈالنے کی سب سے پہلے ضرورت ہے۔ گزشتہ مردم شماری کی رو سے گیارہ سو جوان مرزا غلام احمد قادیانی کے پیرو ہیں۔ گویا دس ہزار کے قریب اس فرقہ کی مجموعی تعداد ہے تو آہستہ آہستہ یہ لوگ ترقی کر رہے ہیں۔ اس کا آرگن تو یہ کہتا ہے کہ ہمارے ساتھ پچاس ہزار بلکہ ستر ہزار آدمی کا گروہ ہے۔ (نہیں جناب تقریباً دولاکھ)

حال میں ٢٦ صفحہ کا ایک پمفلٹ شائع ہوا ہے جس کا نام ”مرزا غلام احمد مہدی مسیح قادیانی“ ہے اس کے مصنف لاہور کے پادری ایچ۔ ڈی۔ گریسوالڈ صاحب فلسفہ کے ڈاکٹر ہیں۔ اس رسالہ میں معمول سے زیادہ سخت الفاظ کا استعمال کیا گیا ہے مگر جو کچھ لکھا ہے وہ بادی النظر میں صحیح اور درست معلوم ہوتا ہے۔

قادیان ضلع گورداسپور میں واقع ہے وہاں ایک پینسٹھ سالہ آدمی رہتا ہے جس کی صورت بزرگوں کی سی ہے۔ چہرہ مسخر القلوب اور عقل تیز ہے۔ یہ مرزا غلام احمد رئیس قادیان ہیں۔ اسی وجہ سے قادیانی کہلاتے ہیں۔ فرقہ احمدیہ کے بانی اور سردار ہیں۔ ذات سے مغل ہیں۔ چار صدی گزریں بابر کے عہد سلطنت میں ان کے بزرگ سمرقند سے آئے تھے۔ موروثی پیشہ دوا فروشی ہے۔

غلام احمد نے اپنے مختصر رسالوں میں یہ لاف زنی اور جڑی بوٹی ادویات کے ذرائع سے وباء کے زمانہ میں بہت کچھ کر ڈالا۔ آخر کار گورنمنٹ نے دست اندازی کر کے اس کی کارروائی کو بند کیا۔ اس کا خاندان غدر میں خیر خواہ تھا۔ چنانچہ سر لیپل گرفن نے اپنی کتاب رؤسائے پنجاب میں بھی ذکر کیا ہے۔

یہ دعویٰ کرتا ہے کہ میں گورنمنٹ انگلشیہ کا بڑا خیر خواہ ہوں۔ مگر یہ دعویٰ بالکل تسلیم نہیں کیا جاتا۔ یہ کہتا ہے کہ میرا فتویٰ جہاد کے خلاف ہے۔ پانچ سال ہوئے سر سیکورتھ ینگ کو ایک میموریل میں اس نے لکھا تھا کہ جہاد کے مسلمہ مسئلہ سے انکار کرنا ہی مجھ کو مسیح موعود اور مہدی مان لیتا ہے۔

پادری صاحب کہتے ہیں کہ اہل اسلام میں تعصب اور مذہبی جوش کا میلان نہ ہوتا تو یہ مذہب بہت ہی اچھے عقیدہ کا ہوتا جیسا کہ مجھ کو بہت سے معزز و محترم اصحاب کی ملاقات سے معلوم ہوا۔ سبحان اللہ اس مقدس مذہب کی عظمت اسی سے ظاہر ہے کہ پادری صاحب کے قلم سے بے ساختہ اس کی تعریف نکل رہی ہے۔

بدنام کنندہ نیکو نامے چند، ان کو دیکھ کر مذہب اسلام کے متعلق رائے قائم کر لینا سخت

٣٨٩

صفحہ ٧٣٦

غلطی ہے۔) مرزا قادیانی کی تعلیم تعصب کی جہالت کے بانہ کھول رہی ہے اور اس کوشش میں ہے کہ مذہبی جوش جڑ بنیاد سے جاتا رہے۔

کسی تیز طرار مسلمان کا نام احمد ہونا اس کے لئے قیامت ہے۔ کیونکہ قرآن شریف میں آنے والے احمد کی پیشینگوئی درج ہے۔ لکھا ہے کہ عیسیٰ ابن مریم نے فرمایا کہ اے بنی اسرائیل لاریب میں خدا کا رسول ہوں اور اس لئے بھیجا گیا ہوں کہ خدا کے ان احکام کو مضبوط کروں جو مجھ سے پہلے آچکے ہیں۔ اور اس رسول کا اعلان دوں جو میرے بعد آئے گا اور جس کا نام احمد ہوگا۔ اس آیت کا اسلامی تاریخ پر کچھ اثر نہیں پڑا۔ بڑا تباہ کن۔ سوڈانی مہدی بھی احمد نامی تھا۔ ہندوستان میں بھی چار احمد مذہبی سردار ہو چکے ہیں۔ ١...... شیخ احمد سرہندی، ٢...... سید احمد غازی بریلوی جو امام مہدی تھا اور جس نے ٢٧۔١٨٢٦ء میں سکھوں کے خلاف جہاد کیا تھا، ٣...... سید احمد خان، ٤...... قادیانی رسول۔ (مگر یہ تو غلام احمد بیگ ہے نہ کہ مرزا احمد تاہم نہ صرف احمد سے بلکہ تمام انبیاء سے اپنے کو برتر سمجھتا ہے )

غلام احمد کے خاندان میں تعصب تو نہیں مگر لالچ ضرور ہے۔ اس کا چچازاد بھائی امام الدین پنجاب کے مہتروں ( حلال خوروں ) کا گرو بن بیٹھا۔ اس طرح ایک بھائی دوسرے کے خلاف چلتا ہے۔

اسی موضع قادیان میں مہتروں کا سالانہ ہجوم یا میلہ ہوتا ہے۔ غلام احمد وہاں کا کارکن ہے۔ اس کے اصول چار ہیں۔ تعلیم، پمفلٹیں، مناظرے، مباحثوں کے مطالبے، قادیان میں اس کا ایک کتب خانہ اور ایک مطبع ہے۔ اردو میں الحکم شائع کرتا ہے اور انگریزی میں ریویو آف ریلیجنز یعنی مذاہب کی تحقیق اس کے بیان کے موافق اس نے گزشتہ بائیس سال میں تخمیناً پچاس کتابیں عربی و فارسی، اردو تصنیف کی ہیں۔ جو علاوہ ہندوستان کے ایران، عربستان، کابل، سیریا اور مصر میں بھی شائع کی گئی ہیں۔ اس نے دنیا بھر کے مصنفوں کو ایک کھلی چٹھی میں مخاطب کر کے لکھا ہے کہ میں آپ کو نئی بات بتاتا ہوں کہ عیسیٰ مسیح علیہ السلام کشمیر میں مرے تھے اور ان کا مقبرہ آج تک وہاں موجود ہے۔

ہندوستان کی مذہبی تاریخ میں تصویر کے رنگ و روغن ہیں۔ جماعت خوجہ جابجا پھیلی ہوئی ہے۔ اس میں نہ کوئی مذہبی پابندی ہے۔ نہ تعصب اور ڈر کے مارے حج کرنے کو بھی نہیں جاتے کہ کہیں سنیوں کے ہاتھوں جان سے نہ جاتے رہیں۔ دو عجیب مخلوط گروہوں کے پیروؤں کا نام خوجہ رکھا گیا ہے۔ ایک وشن (ہندو) دوسرے علی ہز ہائنس، آغا خان جی۔ سی۔ ایس۔ آئی

٣٩٠

صفحہ ٧٣٧

ہمارے شاہی خاندان کے جوان دوست کا یہ گروہ معتقد ہے۔ قانون کی رو سے یہ حضرت علیؓ کی اولاد میں سے ہیں اور جیسا کہ ایک مقدمہ میں ثابت ہوا ہے۔

میریا کے ایک ضعیف پہاڑی کی نسل سے ہیں جس کے نام سے مجاہدین وغیرہ کانپتے تھے اور جو قزاقوں کا سردار مشہور تھا بغیر کسی ایسی حیثیت کے جیسی آغا جان کی ہے اور بغیر کسی تاریخی واقعہ کے غلام احمد بھی ان کی طرح مشہور ہونا چاہتا ہے۔ اور اسی وجہ سے مسیح اور مہدی ہونے کا فوراً دعویٰ کر بیٹھا ہے اور ثبوت میں کہتا ہے کہ عیسیٰ صلیب پر نہیں مرے بلکہ فی الحقیقت ہندوستان میں آ کے دس بیس سال کی عمر میں بمقام کشمیر فوت ہوئے۔ ان کا مقبرہ سڑک خان یار کے قریب سری نگر میں موجود ہے۔

مرزا قادیانی اپنی شان میں لکھتا ہے کہ میں ایک سچی بات کے اخفا کا گنہگار ٹھہروں گا۔ اگر میں اس بات کا اظہار نہ کروں کہ نبوت باری تعالیٰ نے مجھ کو بخشی ہے وہ تقدس، طاقت اور راستی میں اس رسالت سے کہیں زیادہ ہے جو مسیح کی مہمل پیشینگوئیوں پر مبنی تھی۔ میں خدائے برتر کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ جن الفاظ کا میری شان میں الہام ہوا ہے وہ ان الفاظ سے بہت زیادہ وزنی اور مقدس ہیں جو مسیح کے متعلق انجیل میں مندرج ہیں۔

باوجود ان بیہودہ خیالات کے غلام احمد میں ذرا بھی تعصب نہیں۔ خوش عقیدہ اہل اسلام نے اس کو اپنی برادری سے خارج کر دیا ہے اور یہ لقب دیئے ہیں۔ کافر، دجال، ملحد، مرتد، کذاب، مگر اس کو ذرا بھی پرواہ نہیں کہ ۔

کہتی ہے مجھ کو خلق خدا غائبانہ کیا

بلکہ مسلمانوں کے سر اوہام پرستی کی تہمت دھرتا ہے لکھتا ہے کہ تم پیروں کے ہاتھ بک گئے ہو، قبریں پوجتے ہو، جہاد کا عقیدہ رکھتے ہو اور جاہل مُلّاؤں کے ساتھ ہر جگہ جانے کو رضامند ہو۔ غلام احمد ایشیائی تعلیم سے ناواقف نہیں معلوم ہوتا۔ یہ پہلا الو ہے جس نے عبرانی تعلیم کے قالب میں روح پھونکنے کی کوشش کی ہے۔ اس وقت ہم کو اس سے حجت نہیں وہ جس طرح چاہے مسلمانوں اور عیسائیوں سے جھگڑے مول لیتا پھرے مگر ڈاکٹر ڈوئی کے واقعہ کو خیال کریں تو وہ اپنے طریق کا سچا نبی ہے۔ سینکڑوں پیشینگوئیاں اس کی سچ ثابت ہو چکی ہیں۔ اور ہزاروں غلط نکلیں۔ پہلے اکثر اس کی پیشینگوئی اس قسم کی ہوا کرتی تھیں کہ کسی خاص تاریخ سے پہلے فلاں شخص مرجائے گا۔ یا اس کو کوئی سخت صدمہ پہنچے گا۔ آخر کار اسسٹنٹ کمشنر نے اس کو مجبور کیا کہ وہ آئندہ ایسا نہ کیا کرے۔

٣٩١

صفحہ ٧٣٨

پھر بھی اس نے اس قسم کی ایک سو اکیس ١٢١ پیشینگوئیاں کیں۔ اس کی شہرت اس پیشینگوئی سے زیادہ ہوگئی۔ جس سے اس نے یہ ظاہر کیا تھا کہ پنڈت لیکھ رام اس کا مخالف مر جائے گا اور اس کے بعد وہ قتل ہو گیا۔ ١٨٩٣ء میں امرتسر کے عیسائیوں کے مباحثہ میں اس کو چنداں کامیابی نہ ہوئی۔ ضعیف مسٹر آتھم اس کی تاریخ مقررہ سے کچھ دن بعد مرا بہت سی پیشینگوئیاں اس کی تولد فرزند کی بابت تھیں مگر لڑکیاں ہوئیں اور اس کی پیشینگوئیاں غلط ثابت ہوئیں۔ فرقہ احمدیہ کا موجودہ سردار ہمہ صفت موصوف ہے لیکن اس کی آئندہ ترقی اس بات پر منحصر ہے کہ اس کو آئندہ کیسا افسر مانتا ہے اور غلام احمد کا جانشین قانون کے پنجہ سے بچنے کی قابلیت رکھتا ہے یا نہیں۔

ڈاکٹر ریسوورلڈ آخر میں یہ نتیجہ نکالتے ہیں کہ پنجابی نبی فریبی نہیں ہے اور نہ فاتر العقل ہے مگر خود فریب ہے ایک افغانی بکس والے نے مرزا غلام احمد قادیانی کی نسبت کیا خوب کہا ہے کہ امیر کابل یہاں کے حاکم ہوتے تو بہت جلد مرزا قادیانی بن سرے ہو جاتے۔ انگریزی راج میں جو جس کے دل میں آئے کرے۔ شیر بکری ایک گھاٹ پانی پی رہا ہے۔

٢ ....... عوام آسمانی باپ کے لے پالک کا شکار کیوں بنتے ہیں؟

ر۔ف۔ہ۔ شاہجہان پوری!

عوام جب دیکھتے ہیں کہ کسی ذی علم عاقل فہیم نے آسمانی باپ کے لے پالک کی حلقہ بگوشی اختیار کر لی ہے تو وہ متعجب ہو جاتے ہیں۔ ہم نے دیکھا ہے کہ اکثر لوگ ایک شخص کی ظاہری وجاہت علمی قابلیت وغیرہ دیکھ کر خود بھی قعر گمراہی وضلالت میں جارہے ہیں اور دوسروں کو بھی اپنے ساتھ لیا ہے۔ چنانچہ شہر کے اکثر عوام مولوی حافظ سید علی میاں خان صاحب کی شرافت خاندانی ذی علمی وغیرہ کا دھوکا کھا کر آسمانی باپ کے لے پالک کی غلامی میں داخل ہو گئے۔ ہم مانتے ہیں کہ حافظ صاحب موصوف ذی علم ہیں وجیہہ ہیں مگر ساتھ ہی گم کردہ صراط مستقیم ہیں۔

ہماری سمجھ میں نہیں آتا کہ کسی کی ظاہری وجاہت شرافت ذی علمی وغیرہ سے یہ کیونکر سمجھ لیا جائے کہ شیطان اس کو نہیں بہکا سکتا اور جو راہ اس نے اختیار کی ہے وہی راہ راست ہے۔ بڑے بڑے ذی علم شیطان کے دام میں آگئے اور مخلوق خدا کی گمراہی و بے دینی کا بھی باعث ہوئے علم کی پوچھئے تو کیا آسمانی باپ کا لے پالک جاہل ہے۔ ہرگز نہیں پھر وہ کیوں گمراہ ہوا اور کیوں اس نے مخلوق خدا کو گمراہ کر رکھا ہے۔ ہمارا مطلب یہ ہے کہ کسی کو پڑھا لکھا قابل دیکھ کر یہ سمجھ لینا کہ جو کچھ یہ کہہ رہا ہے صحیح ہے اور جو راہ اس نے اختیار کی ہے۔ راہ راست ہے۔ بالکل خام خیالی ہے۔ جن

٣٩٢

صفحہ ٧٤٩

لوگوں نے مذہبی معاملات میں اپنی عقل اور سمجھ کو رہنما بنا لیا ہے اور باوجود کم علمی یا بے علمی کے علماء سے سروکار نہیں رکھتے جو جی چاہتا ہے کرتے ہیں وہ کبھی صراط مستقیم پر قائم نہیں رہ سکتے۔ معمولی لکھے پڑھے کا یہ کام نہیں کہ وہ کسی غیر مذہب کے عالم و فاضل اور خوش بیان و خوش تقریر سے باتیں کرے۔ یہ علماء کا کام ہے جو شخص حافظ سید علی میاں خان سے گفتگو کرتے ہیں وہ سخت غلطی پر ہیں۔ ان کو چاہئے کہ اپنے علماء مستند سے مرزائی عقائد کے متعلق پوچھیں ۔ علماء معتمدین میں سے اگر تسکین نہ ہو تو دوسرے سے، لیکن جان بوجھ کر کسی ذی علم و قابل گمراہ سے بات چیت کرنی خطرناک ہے۔

آئندہ سے عموماً کل اہل اسلام اور خصوصاً مسلمانان شہر شاہجہان پور کو جو کچھ پوچھنا ہو مولانا مولوی ابو یحییٰ محمد صاحب مدظلہ ومولانا مولوی محمد کفایت اللہ صاحب مدظلہ و ایڈیٹر البرہان و مولانا مولوی سید محمد میر اعظم شاہ صاحب، مولانا مولوی محمد ریاست علی خان صاحب وغیرہ میں سے جس سے چاہیں مرزا اور اس کے عقائد کے متعلق دریافت کر لیں۔ اور بس یہاں ایک بات اور کہہ دینے کے قابل ہے۔ سید علی میاں خان (مرزائی) سے تو سمجھدار مسلمان خود ہی علیحدہ رہتے ہیں۔ لیکن ان چھپے رستم سے بہت ہی ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے۔ جنہوں نے خدا کا خوف اور مخلوق کی شرم دل سے دور کر دی ہے۔

بظاہر تو یہ کیفیت کہ گویا بگلوں میں میل ہی نہیں۔ مسلمانوں کے پیچھے نماز بھی پڑھی جاتی ہے ملنا جلنا خلا ملا بھی ہے۔ لیکن باطن میں سانپ بظاہر خوشنما مگر، کاٹے کا منتر نہیں۔ ہر وقت یہی فکر کہ کب موقع ملے اور کب چت کروں ۔ مسلمانوں کو ایسے شخص سے بہت ہوشیار رہنا چاہئے ۔ ہم مسلمانان شاہجہان پور سے عموماً اور مولانا مولوی سید محمد نیاز احمد میاں خان صاحب اور مولانا مولوی محمد فخر الدین خان صاحب سے خصوصاً مستدعی ہیں کہ اس شخص کے مکر و فریب سے مخلوق خدا کو بچائیں اور اچھی طرح مطلع کر دیں کہ یہ دین میں فتنہ گر ہے۔ ہم نے اس مرتبہ بہت لحاظ کیا ہے۔

اگر آئندہ توبہ نہ کی یا کھلے طور پر اپنے مرتد ہونے کا اقرار نہ کیا تو ہم سارا بھید اور اخبار کی ساری حالت اور یہ امر کہ وہ کیسے جاری ہوا، کیوں جاری ہوا، اور کن کن لوگوں کے ہاتھوں میں ہے؟ سب قوم کے سامنے رکھ دیں گے۔ دیکھو اب بھی باز آؤ ورنہ بہت پچھتاؤ گے۔

اسلام کے شیدائیوں سنیے مذہب کے عاشقو ہوشیار ہو جاؤ اور ان مرتدوں کو اچھی طرح پہچان لو یہ تمہاری تاک میں ہیں۔ کبھی ان سے خلا ملا نہ رکھو جو کچھ پوچھنا ہو اپنے علماء سے پوچھو تم ان سے کچھ سروکار نہ رکھو۔ اگر خدانخواستہ تم ایسا نہ کرو گے اور باوجود کم علمی کے کسی

٣٩٣

صفحہ ٧٤٠

مخالف ذی علم و مقرر سے گفتگو کرو گے تو بہت نقصان اٹھاؤ گے اور پھر کسی کے بھائی، کسی کے لخت جگر اور کسی کے عزیز اپنے مذہب سے ہاتھ اٹھا کر آسمان کے لے پالک کے حلقہ بگوشوں میں داخل ہو جائیں گے۔ (خداوند وہ دن نہ لائے)

اب میں ایک ضروری بات کہہ کر اس مختصر مضمون کو ختم کرتا ہوں۔ ضمیمہ شحنہ ہند مرزائی طاعون کے واسطے تریاق ہے۔ مسلمانو اگر تم کو اپنے مذہب سے محبت ہے اگر تم اسلام کے شیدائی ہو، اگر تمہیں مرزائی مذہب کی اشاعت ناپسند ہے تو پوچھو اور خوشی کے ساتھ شحنہ ہند خریدو جہاں تک ممکن ہو سکے اس کی ترقی اشاعت میں کوشش کرو۔ پھر دیکھو کہ مرزائی مذہب کی اشاعت کس طرح بند ہوتی ہے اگر تم بدل وجان ساعی ہو گئے تو انشاء اللہ بہت جلد کامیابی ہوگی۔ ر۔ف۔ہ۔ شاہجہان پوری

تعارف مضامین ...... ضمیمہ شحنہ ہند میرٹھ

سال ١٩٠٣ء یکم دسمبر کے شمارہ نمبر ٤٥/ کے مضامین

.......١ مرزا قادیانی عدالت میں ۔ مولانا شوکت اللہ میرٹھی! اسی ترتیب سے پیش خدمت ہیں:

١ ...... مرزا قادیانی عدالت میں

مولانا شوکت اللہ میرٹھی!

١٢، ١٣، ١٤/ اور ١٦/ نومبر ١٩٠٣ء کو مرزا قادیانی کا مقدمہ ہوا۔ پہلے روز مستغیث مولوی کرم الدین صاحب جہلمی نے اپنا تتمہ بیان دیا کہ میری نسبت مرزا نے کذاب اور لئیم اور بہتان عظیم کے الفاظ لکھے ہیں۔ یہ الفاظ نہایت حقارت آمیز ہیں جن سے میری سخت حقارت ہوئی۔ یہ دعویٰ کتاب مواہب الرحمٰن پر ہے جو مرزا قادیانی کی مصنفہ ہے اور حکیم فضل الدین پر بحیثیت مالک یا مہتمم مطبع قادیان کے۔ پیادے کے آواز دینے پر کہ مرزا غلام احمد حاضر ہے۔ سامعین کی

آنکھیں لگ گئیں کہ وہ آتے ہیں پہ آتے ہیں
انگلیاں سرو اٹھاتے ہیں کہ وہ آتے ہیں

مرزا قادیانی تو حاضر عدالت ہو گئے مگر حکیم فضل دین سخت بیمار تھا اس کی بابت عذر کیا ٣٩٤

گیا اور حاضری سے معافی کی درخواست کی گئی کے روبرو اپنے وکیل کو سیاہ سفید کا اختیار دے۔ گورداسپور سے حاضر عدالت کیا گیا۔ اس نے انگوٹھا لگا کر اپنے سیاہ و سفید کا مختار وکیل کو کر گیا

اگر نامہ شبے مان
کچہری میں مارا مارا کھینچا پھرے ن
اس کشمکش سے د
اے الفت چمن

مستغیث کی طرف سے چار گواہ مرزا کے ایڈیٹر کو گزرا جس کی شہادت اس نہیں؟ جس کا جواب بابو صاحب نے یہ دیا ہ ہی بچاؤ کی بات ہے) یہ بھی پوچھا گیا کہ شحنہ نے شائع کی یا نہیں؟ بابو صاحب نے جواب "لا تکتموا الشھادۃ" (گواہی م ہے؟) دوسرے گواہ ملک تاج الدین صاحب کہ مستغیث صاحب ثروت و حیثیت رکھ صاحب امرتسری گزرے جن کی گواہی ب مستغیث کی حیثیت عالمانہ کی گواہی دینے معنی کو واضح کر کے بتلایا کہ اس کے معنی ای عربی کا یہ شعر سنایا ۔

ولقد مررت
فمضیت

نیز مرزا قادیانی کی (اسی کتاب نے خود فرعون کی نسبت لکھا ہے جو مسلمان مولوی اللہ دتہ صاحب ساکن سوہل ضلع ضلع گورداسپور کی شہادت ہوئی۔ اور مر

صفحہ ٧٤١

گیا اور حاضری سے معافی کی درخواست کی گئی مگر عدالت نے منظور نہ کی۔ بلکہ کہا کہ وہ عدالت کے روبرو اپنے وکیل کو سیاہ سفید کا اختیار دے۔ چنانچہ بڈھے میاں کو ایک مصنوعی ڈولی پر بٹھا کر شہر گورداسپور سے حاضر عدالت کیا گیا۔ اس بے چارے کی یہ حالت تھی کہ دستخط بھی نہ کر سکا۔ آخر انگوٹھا لگا کر اپنے سیاہ و سفید کا مختار وکیل کو کر گیا۔ ایسی حالت میں بڈھے کی یہ کیفیت کہ ؎

اگر ماند شبے ماند شب دیگر نمی ماند

کچہری میں مارا مارا کھینچا پھرے۔ مگر کیا کریں پیر و مرشد کی تابعداری ؎

اس کشمکش سے دام کی کیا کام تھا مجھے
اے الفت چمن تیرا خانہ خراب ہو

مستغیث کی طرف سے چار گواہ گزرے۔ پہلا گواہ مستغیث نے بابو محمد علی ایم اے مرزا کے ایڈیٹر کو گزارا جس کی شہادت اس امر کی تھی کہ یہ کتاب مرزا قادیانی کی تصنیف ہے یا نہیں؟ جس کا جواب بابو صاحب نے یہ دیا کہ میرے خیال میں یہ کتاب مرزا قادیانی کی ہے ( کیا ہی بچاؤ کی بات ہے ) یہ بھی پوچھا گیا کہ ضلع جہلم میں جو مستغیث کا وطن ہے یہ کتاب مرزا قادیانی نے شائع کی یا نہیں؟ بابو صاحب نے جواب دیا کہ مجھے معلوم نہیں ۔ ( کیوں بابو جی آیت قرآنی ”لا تکتموا الشہادۃ“ (گواہی مت چھپاؤ) کے یہی معنی ہیں؟ مسیح موعود کی تعلیم کا یہی اثر ہے؟) دوسرے گواہ ملک تاج الدین صاحب اہلمد ضلع جہلم گزرے جن کی شہادت کا مطلب یہ تھا کہ مستغیث صاحب ثروت و حیثیت رئیس ہے۔ تیسرے گواہ مولوی فاضل ابوالوفاء ثناء اللہ صاحب امرتسری گزرے جن کی گواہی پر مرزا اور مرزائی جماعت کو خاص نظر تھی۔ آپ نے مستغیث کی حیثیت عالمانہ کی گواہی دینے کے علاوہ الفاظ استغاثہ کی تشریح کی۔ خاص کر لئیم کے معنی کو واضح کر کے بتلایا کہ اس کے معنی ایک اخلاقی کمینہ کے ہیں جو تمام برائیوں کو شامل ہے پھر عربی کا یہ شعر سنایا ؎

ولقد مررت علی اللئیم یسبنی
فمضیت ثمہ قلت لا یعنینی

نیز مرزا قادیانی کی (اسی کتاب کے ص ٥، خزائن ج ١٩ ص ٢٢٣) پر دکھایا کہ یہی لفظ انہوں نے خود فرعون کی نسبت لکھا ہے جو مسلمانوں کے علاوہ تمام دنیا میں ذلیل وخوار ہے۔ ان کے بعد مولوی اللہ دتہ صاحب ساکن سوہل ضلع گورداسپور اور مولوی عبدالسبحان صاحب ساکن مسانیاں ضلع گورداسپور کی شہادت ہوئی۔ اور مرزا کے وکیل کو کہا گیا کہ جرح کرو۔ اس نے جواب دیا کہ

٣٩٥

صفحہ ٧٤٤

آج میں تیار نہیں کل جرح کروں گا۔ چنانچہ ١٣، ١٤، ١٦ تاریخوں میں مستغیث پر جرح ہو کر ١٥ نومبر مقرر ہوئی۔

ایک لطیفہ یہ ہوا کہ مرزا کے وکیل نے اخبار کرزن گزٹ دہلی پیش کیا اور کہا کہ مولوی لوگوں کی یہ عزت وحیثیت نہیں ہوتی۔ دیکھئے یہ ایک نامی اخبار ہے جس میں مولویوں کی نسبت کیسے حقارت آمیز الفاظ لکھے ہیں۔ اس کے جواب میں مستغیث نے کہا کہ یہ بھی مرزا ہے اور وہ (ایڈیٹر کرزن گزٹ) بھی مرزا ہے اس لئے دونوں علماء کو برا کہتے ہیں۔ ان دونوں کے سوا اور کوئی علماء کو برا نہیں کہتا۔ علاوہ اس کے اگر سب مولوی اس میں شامل ہیں تو مولوی نورالدین، مولوی حسن امروہی، مولوی عبدالکریم بلکہ خود مرزا قادیانی بھی تو مولوی ہیں۔ تو کیا یہ بھی برے اور بے حیثیت ہیں؟ مگر ہمارے خیال میں کرزن گزٹ جن مولویوں کی مذمت کرتا رہا ہے وہ صرف قادیانی اور اس کی جماعت کے مولوی ہیں۔

اس لئے ایڈیٹر کرزن گزٹ ہمیشہ لکھتا رہا ہے کہ ہماری مراد وہ مولوی ہے جو دین بدنیا فروش ہیں نہ کہ متقی، صالح اور پرہیزگار جو حقیقی وارثان انبیاء کہلانے کے حق دار ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ مرزا قادیانی اور مرزائی پارٹی نے جب ان قرائن واشارات کو نہ سمجھا تو آخر ایڈیٹر کرزن گزٹ نے ٢٣ اگست سنہ رواں کے پرچے میں مرزا قادیانی کو کھلے لفظوں میں مباحثے کا چیلنج دیا اور لکھا کہ لاہور میں آکر مجھ سے مباحثہ کرلو۔ میں دو ہفتہ تک اس نوٹس کا انتظار کروں گا۔

تعجب ہے کہ ایسی صریح اور صاف قرائن کے ہوتے بھی کرزن گزٹ کی تحریروں کو دیگر علماء کی طرف نسبت کر رہے ہیں۔ افسوس ہے کہ ١٦ نومبر کو جبکہ مقدمہ پیش تھا۔ مرزا قادیانی بھی بیمار ہو گئے تو وکیل نے عذر کیا کہ مرزا قادیانی کو عدالت کے کمرے سے باہر ٹھہرنے کی اجازت ہو جس پر حکم ہوا کہ باہر کچہری کے حلقے میں حاضر رہیں۔ چنانچہ مرزا قادیانی لحاف لے کر پڑے رہے۔ ہماری بھی دعا ہے کہ خدا مرزا قادیانی کو اختتام مقدمہ تک تو کم از کم بخیریت رکھے۔

تعارف مضامین ...... ضمیمہ شحنہ ہند میرٹھ

سال ١٩٠٣ء ٨ دسمبر کے شمارہ نمبر ٢٦ کے مضامین

٣٩٦

صفحہ ٧٤٣

١ ...... دروغ گو را حافظہ نباشد

بہ ابو المنظور محمد عبدالحق ! مرزائی اخبار البدر کی پیشانی پر یہ شعر لکھا ہوا ہوتا ہے ۔

ای جہاں بُمُحَمَّد خُوش باش کامد دلستان
آن مسیح دور آخر مہدی آخر زمان

جس کے معنی یہ ہوئے کہ آپ آخری زمانہ کے آخری مسیح ومہدی ہیں۔ مگر بخلاف اس کے مرزا قادیانی تحریر کر چکے ہیں کہ : ”ممکن ہے کہ میرے بعد بہت سے مہدی آئیں۔“ اس سے ثابت ہوا کہ مرزا قادیانی وجدانی طور پر اپنے آپ کو مہدی موعود ومسیح منتظر نہیں جانتے۔ چنانچہ ہمارے سامنے نور الدین بھیروی نے بھی اس امر کو تسلیم کرلیا تھا کہ ہم نے محض نصاریٰ کے مقابلہ کے واسطے مرزا قادیانی کو مسیح بنالیا ہے مگر درحقیقت یہ مسیح منتظر نہیں ہیں۔ لیکن نادان مریدوں نے جو بانس پر چڑھایا تو مرزا قادیانی کو بھی بخیال مفاد دنیوی ان کی تقلید کرنی پڑی اور اپنے اقوال کے خلاف مہدی و مسیح تو کیا مسئلہ تناسخ کا پہلو لے کر اپنے کو بنقل کفر کفر نباشد خاتم الانبیاء علیہ الصلوٰۃ والسلام کا اوتار بنادیا۔ یہ تو کوئی بات نہ تھی کہ اپنے کو مہدی و مسیح بنالیا تھا۔

کیونکہ جیسا ادبار کا یہ زمانہ تھا اس کے موافق بحکم جیسے منہ ویسے تھپڑ ویسا ہی مسیح الدجال، مہدی الی النار شیطانی ولولوں کی اتباع کے واسطے مبعوث ہوا، مرزا وحوارین تحریر کے وقت بالکل آنکھیں بند کرلیتے ہیں اور اپنی تحریرات سابقہ کو مد نظر نہیں رکھتے۔ دروغ گو را حافظہ نباشد کسی پچھلے پرچہ میں متعلق پیشینگوئی عبداللہ آتھم اپنی جانب سے چار ہزار روپیہ انعام کا وعدہ دیا گیا تھا۔ مگر حق کے سامنے سے باطل کس طرح ٹھہر سکتا ہے۔ مرزا کی ہر ایک تحریر باہم مخالف ہوا کرتی ہے۔

خان صاحب محمد علی خان خلف غلام محمد خان صاحب آنجہانی اور خطاب نواب صاحب بہادر البدر ٣١؍ جولائی میں کسی جگہ بذیل ذکر خان صاحب مذکور لکھا ہے (الحمدللہ کہ نواب ٣٩٧

صفحہ ٧٤٤

صاحب بہادر دام اقبالہ) اس جگہ یہ بات دریافت طلب ہے کہ آیا خان صاحب مذکور کو نواب صاحب بہادر گورنمنٹ کی جانب سے یا ریاست کوٹلہ مالیر کے کاغذات سرکاری میں جہاں کے آپ رئیس ہیں لکھا جاتا ہے یا نہیں۔ اور آپ اس خطاب کے واقعی مستحق ہیں یا نہیں اگر ہیں تو البدر کوئی نظیر پیش کرے اگر نہیں ہیں تو کیوں ایسا لکھا گیا؟ شاید یہ امر پبلک پر ظاہر کرنے کے لئے کہ مرزا قادیانی کے مریدوں میں بعض نواب بھی ہیں جو بمنزلہ شاہوں کے ہیں۔

چلو بادشاہوں کے حاضر آستانہ مرزا قادیانی ہونے کے پیشینگوئی پوری ہوگئی نہیں نہیں جیسے مرزا قادیانی مہدی و مسیح خیالی و جعلی ہیں ایسے ہی غالباً یہ مطلب خان صاحب کے لئے مقرر کیا گیا۔ امید ہے کہ صاحب البدر اس کے متعلق ضرور کچھ نہ کچھ خامہ فرسائی فرمائیں گے۔

٢ ...... تقلید روافض

ابو المنظور محمد عبد الحق!

البدر مطبوعہ ٣١ جولائی ١٩٠٣ء میں متعلقہ تفسیر قرآن مرزا قادیانی کو ایسا ہی امام لکھا ہے جیسا کہ موسیٰ وعیسیٰ علی نبینا وعلیہما السلام وخاتم المرسلین محمد رسول اللہ ﷺ تھے۔ روافض کی شاگردی کی برکات سے امام کو یعنی نبی مانتے ہیں گویا ختم نبوت سے منکر ہیں۔ اسی واسطے مکاشفہ میں آنحضرت ﷺ نے شاہ ولی اللہ کو روافض کے مذہب کے بطلان کا ارشاد فرمایا تھا مگر اتنا فرق رہے کہ روافض نے فقط لفظ امام تراشا تھا مگر مرزا قادیانی نے بالتشریح واضح کر دیا ۔

گر پدر کار خود تمام نہ کرد
پسر او تمام خواهد کرد

٣ ...... غلط الہام

مولانا شوکت اللہ میرٹھی !

مرزا قادیانی کا ایک مطول خط الحکم ١٧ اکتوبر ١٩٠٣ء میں بجواب خط مولوی اصغر علی صاحب پروفیسر اسلامیہ کالج لاہور شائع ہوا ہے جس میں مرزا قادیانی کو اطلاع دی گئی تھی کہ آپ کی کتاب حمامۃ البشریٰ کے بعض مقامات میں صرفی نحوی یا عروضی غلطی ہے اور نیز بعض مضامین یا فقرات یا اشعار چرائے گئے ہیں۔ مرزا قادیانی اپنی ضعف پیری بیماری کثرت اسہال وغیرہ مجبوری کے وجوہ بیان کر کے لکھتے ہیں کہ ان حالات میں ایسی اور اس قدر تصنیف کر لینا غنیمت ہے۔ وہ لکھتے ہیں اس طور کی تحریروں میں کوئی صرفی نحوی غلطی رہ جائے تو بعید کیا ہے مجھے کب یہ دعویٰ ہے کہ یہ غیرممکن ہے۔

٣٩٨

ان کم فرصتوں اور اس قدر طرف سے سمجھتا ہوں۔ ہاں اگر غلطی ہے کہ ان کی تحریریں غلطیوں سے پاک نہی ایڈیٹر ...... جب الہام غلط ہوا تو نبوت اقرار کیوں کرنے دیں گے اور چیلے اس گے۔

٤ ...... مرزا قادیان

پہلا ! کیا آپ کو باوصف کچھ شک ہے۔ دوسرا ! ہاں میں حضر مشکل اور نازک مرحلہ ہے۔ پہلا ! معنی ہے۔ پہلے ہی بال کی کھال اور زاد گونگے بہرے کیا نہیں۔ پہلا سمجھاتے۔ بصر اور سمع اور قوت ناطقہ اگر خدا نے آپ کو آنکھیں دی ہیں ا احد من رجالكم ولكن ملاحظہ فرمائیے۔ پہلا ! ہم لوگ زیا حدیثیں موضوع ہوگئی ہیں اور جب ہے کہ قرآن میں بھی آیات کا الحا پہلا ! ابوۃ کی نفی کو ختم رسالت سے پتلی کی آنکھ۔

یہ تو قرین قیاس ہے رسول ہیں مگر اس آیہ میں خاتم ال کیونکہ یہ بات خلاف عقل ہے نزدیک اس کی نظیر پیدا کرنے ۔ الا عندنا خزائنه ، یعنی ہمار

صفحہ ٧٤٥

ان کم فرصتیوں اور اس قدر جلدی میں جو کچھ قلم سے گزر جاتا ہے میں اس کو خدا تعالیٰ کی طرف سے سمجھتا ہوں۔ ہاں اگر غلطی ہے تو میرے نفس کی وجہ سے غرض مرزا قادیانی نے مان لیا ہے کہ ان کی تحریریں غلطیوں سے پاک نہیں ہوتیں۔ اس پر بھی انہیں الہامی تحریریں کہتے ہیں۔ ایڈیٹر ...... جب الہام غلط ہوا تو نبوت اور اس کا دعویٰ بھی غلط ہو گیا۔ مرزا قادیانی کو چھوتیاں، یہ اقرار کیوں کرنے دیں گے اور چیلے اپنے گرو سے اب بھی منحرف نہ ہوں گے اور اسے نبی ہی مانیں گے۔

٤ ....... مرزا قادیانی کی نبوت پر خود مرزائیوں میں مباحثہ

مولانا شوکت اللہ میرٹھی!

پہلا! کیا آپ کو باوصف احمدی ہو جانے کے حضرت اقدس علیہ السلام کی نبوت میں کچھ شک ہے۔ دوسرا! ہاں میں حضرت اقدس کو اپنا پیشوا اور بزرگ سمجھتا ہوں مگر ان کو نبی سمجھنا ایک مشکل اور نازک مرحلہ ہے۔ پہلا! اس اشکال اور نازک مرحلہ کا اتہ پتہ کھولیے۔ دوسرا! اتہ پتہ کیا معنی ہے۔ پہلے ہی بال کی کھال اور ہندی کی چندی نکل چکی ہے۔ مگر اندھوں کو کیا سوجھے اور مادر زاد گونگے بہرے کیا سنیں۔ پہلا! آپ سوجھے اور دانا بینا ہیں تو کیوں نہیں بتاتے سکھاتے سمجھاتے۔ بصر اور سمع اور قوت ناطقہ کس دن کے لئے رکھ چھوڑی ہیں۔ دوسرا! نبوت ختم ہو چکی اگر خدا نے آپ کو آنکھیں دی ہیں اور آپ لکھے پڑھے ہیں تو قرآن میں آیہ ”ما کان محمد ابا احد من رجالكم ولكن رسول الله وخاتم النبیین“ اور حدیث ”لا نبی بعدی“ ملاحظہ فرمائیے۔ پہلا! ہم لوگ زیادہ تر عقل پیرو ہیں۔ آپ کو معلوم ہے کہ سینکڑوں بلکہ ہزاروں حدیثیں موضوع ہوئی ہیں اور جب حدیثیں موضوع ہو گئی ہیں تو از روئے عقل و قیاس و مشاہدہ ممکن ہے کہ قرآن میں بھی آیات کا الحاق ہو گیا ہو آیہ ختم نبوت کچھ گڈ مڈ اور بے جوڑ سی معلوم ہوتی ہے۔ پہلا! ابوۃ کی نفی کو ختم رسالت سے کیا تعلق ہے۔ یہ بھی وہی بات ہوئی کہ مارے گھٹنا پھوٹے بے پٹلی کی آنکھ۔

یہ تو قرین قیاس ہے کہ آنحضرت ﷺ کسی کے باپ نہیں اور یہ بھی صحیح ہے کہ آپ رسول ہیں مگر اس آیہ میں خاتم النبیین کا پیوند یاروں نے لگایا ہے۔ اتنا ٹکڑا ضرور الحاق کیا گیا ہے کیونکہ یہ بات خلاف عقل ہے کہ قیامت تک پیغمبر عرب جیسا کوئی نبی پیدا نہ ہو۔ اور عقلاء کے نزدیک اس کی نظیر پیدا کرنے سے خدا بھی عاجز ہو جائے جو خود فرماتا ہے کہ ”و ان من شئی الا عندنا خزائنه“ یعنی ہمارے پاس ہر شے کے خزانے موجود ہیں۔ پیغمبر عرب بھی ”شئی من

٣٩٩

صفحہ ٧٤٦

الاشیاء“ ہیں پھر خدا کو کیا ضرورت تھی کہ پیغمبر عرب کے پیدا کرنے کے بعد اپنا خزانہ خالی کر کے نادار اور تہی دست و بے زر رہ جاتا بلکہ اپنے کوٹھی کھاتے کا دیوالا نکال بیٹھتا۔ کیونکہ خدا کے پاس جب رسالت ہی نہ رہی تو رہا کیا؟ ؎

ننگا ناچے اجاڑ میں ہے کوئی کپڑے لے

ایسے مفلس اور نادار خدا سے تو ہمارے ملک کے پرچونیے بہت اچھے ہیں۔ اور بفرض محال لفظ خاتم النبیین الحاقی نہ سہی یا الہام اور وحی سہی مگر اس سے قیامت تک ختم نبوت کیونکر لازم آئی۔ النبیین میں الف لام عہد ذہنی کا ہے یعنی پیغمبر عرب ان انبیاء کا خاتم ہے جو اس سے پہلے گزر چکے ہیں نہ کہ قیامت تک آنے والے انبیاء کا۔ کیا وجہ ہے کہ خدائے تعالیٰ کسی نبی کو خاتم نہ بنائے۔ وکتب مقدسہ توریت، انجیل، زبور میں ایسا نادر شاہی حکم صادر کرے۔ جیسا قرآن میں صادر کیا۔ کیا دوسرے اُولو العزم انبیاء اس کے بھیجے ہوئے نہ تھے یا ان پر جو کتابیں اتریں وہ الہامی نہ تھیں۔ انہیں کیا کھٹا تھا اور پیغمبر عرب میں کیا یہ میٹھا۔ نبی نبی سب ایک ایک قسم کی روٹی کیا پتلی کیا موٹی۔ تم کہتے ہو کہ قرآن میں تناقض اور اختلاف نہیں اور خود قرآن عدم اختلاف کا مدعی ہے ”لو کان من عند غیر الله لوجدوا فيه اختلافا كثيرا“ لیکن خاتم النبیین کے معنی اگر یہی ہیں جو تم سمجھے بیٹھے ہو تو آیہ ”لا نفرق بين احد من رسله“ خاتم النبیین کی صریح نقیض ہے کیونکہ جب تم نے پیغمبر عرب کو تمام گزشتہ اور آئندہ انبیاء کا خاتم مان لیا تو انبیاء میں تفریق کر دی یعنی یہ نعمت غیر مترقبہ اور موہبت لاثانی صرف پیغمبر عرب کو ملی اور دوسرے انبیاء اس سے محروم رہے۔ ایسا عقیدہ وہی شخص رکھ سکتا ہے جس کے سر میں گدھے کا بھیجا ہو۔ بات یہ ہے کہ نہ صرف ہر نبی اپنے سے پہلے انبیاء کا بلکہ ہر انسان اپنے سے پہلے انسانوں کا خاتم ہے۔ یعنی جو صفات اور تشخصات اس میں موجود ہیں وہ دوسروں میں نہ تھے۔ پس ہر شخص فی نفسہ خاتم ہے پیغمبر عرب کی کچھ تخصیص نہیں۔

دوم ...... خاتم کے معنی مہر کے بھی ہیں اور مہر ہر کاغذ کے ختم پر لگائی جاتی ہے۔ مطلب یہ ہوا کہ جس قدر انبیاء پیغمبر عرب سے پہلے گزرے۔ آپ سب کے اخیر اور سب کے بعد آئے اس سے یہ کہاں لازم آیا کہ آپ کے بعد قیامت تک کوئی اور نبی نہ آئے گا۔ ایسا عقیدہ بالکل کفر ہے اور خدا کی صفت خلاقی کو مٹاتا ہے۔ اس سے توبہ کیجئے۔ دوسرا! آپ کی اس طویل داستان اور ملحدانہ بیان سے جو سراسر دروغ بافی ہے۔ یہ ثابت ہوتا ہے کہ آپ دراصل خاتم النبیین کے معنی ہی نہیں سمجھے۔ جو آنحضرت ﷺ کے معرض مدح میں ہے۔ خاتم النبیین کے معنی سب سے آخر کے نہیں ہیں اور نہ یہ اس معنی میں آپ کی مدح ہو سکتی ہے۔ قابل مدح تو اولیت ہے نہ کہ اخرویت ۔ ورنہ

٤٠٠

لازم آئے کہ اول البشر آدم علیہ السلام کو تمام بلکہ خاتم النبیین کے معنی ختم ”ولكن رسول الله وخاتم النبيين یلیق ان يختم به النبوة یعنی خدائے تع رکھتا ہے۔ یہ صلاحیت بجز آنحضرت ﷺ کے آئے گی گویا خود تفسیر فرمادی ”انا بعثت مبعوث ہوا ہوں کہ انسانی اخلاق کو کامل کر مذاہب اسلام میں سے اس کا کوئی بھی قائ ہوں کہ دنیا کے مذاہب میں سے کوئی مذ جیسا منزل من اللہ ہے۔ ویسا ہی آج کل اور قرآن میں کچھ فرق نہ رہے گا الف انجیل میں تحریف ہو گئی ہے اور جب اس خارج ہیں کیونکہ وہ اپنے کو مجدد اسلام بتا میں الحاق ہو گیا ہے۔ آپ کا یہ فرمانا کہ حکمت و قدرت میں دخل دینا اور اس ہو سکتی ہے۔ کہ مجملہ ٣٦ کروڑ مسلمانان کے اصول اسلام کے خلاف ہیں۔ ہاں انہیں خرافات نے ہم کو اسلامی پارٹی ج کہ خود مرزائی مرزا قادیانی کی نبوت م ٥ .......

مرزا قادیانی کی بدیہا (نہ کہ کل نصوص سے) جو ان کے مط رکیکہ سے جوتیاں گانٹھتے ہیں جو جیسے دوسرے انبیاء کی صحف ہیں وی اور کلہ توڑ جواب ہیں۔ انہیں قرآن

صفحہ ٧٤٧

لازم آئے کہ اول البشر آدم علیہ السلام کو تمام انبیاء پر فضیلت ہو۔ بلکہ خاتم النبیین کے معنی ختم و مکمل رسالت کے ہیں جیسا کہ بیضاوی کے تحت آیہ ”ولکن رسول اللہ وخاتم النبیین وکان اللہ بکل شئی علیما“ لکھا ہے ای من یلیق ان یختم بہ النبوۃ یعنی خدائے تعالیٰ خوب جانتا تھا کہ ختم نبوت کی لیاقت و صلاحیت کون رکھتا ہے۔ یہ صلاحیت بجز آنحضرت ﷺ کے دوسرے انبیاء میں نہ تھی اور آپ نے حدیث میں اس آیہ کی گویا خود تفسیر فرمادی ”انا بعثت لاتمم مکارم الاخلاق“ یعنی میں صرف اسی لئے مبعوث ہوا ہوں کہ انسانی اخلاق کو کامل کروں اور یہ جو آپ نے کہا کہ قرآن میں الحاق ہو گیا ہے تو مذاہب اسلام میں سے اس کا کوئی بھی قائل نہیں۔ یہ خرق اجماع ہے بلکہ میں بے خوف تردد کہہ سکتا ہوں کہ دنیا کے مذاہب میں سے کوئی مذہب والا یہ نہیں کہہ سکتا کہ قرآن میں الحاق ہو گیا ہے۔ یہ جیسا منزل من اللہ ہے۔ ویسا ہی آج تک چلا آتا ہے اور قیامت تک ایسا ہی رہے گا ورنہ کتب محرفہ اور قرآن میں کچھ فرق نہ رہے گا اور نہ اہل اسلام اور خود حضرت اقدس کو یہ کہنے کا موقع ملے گا کہ انجیل میں تحریف ہو گئی ہے اور جب آپ الحاق کے قائل ہیں تو حضرت اقدس کی دائرہ بیعت سے خارج ہیں کیونکہ وہ اپنے کو مجدد اسلام بتاتے ہیں نہ کہ مجرم و ملزم اسلام۔ نہ انکا یہ عقیدہ ہے کہ قرآن میں الحاق ہو گیا ہے۔ آپ کا یہ فرمانا کہ خدا نے پیغمبر عرب ﷺ کو کیوں خاتم النبیین بنایا؟ خدا کی حکمت و قدرت میں دخل دینا اور اس سے باز پرس کرنا ہے۔ حضرت اقدس سے بھی یہی باز پرس ہو سکتی ہے۔ کہ مجملہ ٣٢ کروڑ مسلمانان دنیا کے خدا نے انہیں کو کیوں بروزی نبی بنایا۔ الغرض آپ کے اصول اسلام کے خلاف ہیں۔ ہاں آپ اسلام سے خارج ہو کر ایسے اعتراضات کر سکتے ہیں۔ انہیں خرافات نے ہم کو اسلامی پارٹی میں بدنام کر دیا ہے فقط راوی۔ اس سے نتیجہ تو ضرور نکلتا ہے کہ خود مرزائی مرزا قادیانی کی نبوت میں مذبذب اور مشکوک ہیں۔

٥ ...... مرزا قادیانی کی غلط کاری

مولانا شوکت اللہ میرٹھی ! مرزا قادیانی کی بڑی بھاری غلطی یہی ہے کہ قرآن و حدیث کے بعض ان نصوص سے (نہ کہ کل نصوص سے) جو ان کے مطلب کے موافق ہوں اپنا دعویٰ ثابت کرتے ہیں اور تاویلات رکیکہ سے جوڑ توڑ گانٹھتے ہیں جب وہ بروزی نبی ہیں تو جیسے دوسرے انبیاء ویسے ہی وہ بھی اور جیسے دوسرے انبیاء کے صحف ہیں ویسے ہی ان کے الہامات بھی۔ پس وہ دوسرے انبیاء کے حریف اور کلہ توڑ جواب ہیں۔ انہیں قرآن و حدیث سے استدلال کرنے اور ان سے اپنا مدعا ثابت کرنے

٤٠١

صفحہ ٧٤٨

کی کیا ضرورت۔ قرآن سے تاویل کرنا اور آیات مقدسہ کو توڑ مروڑ کر اپنے مطلب کے موافق چپکانا کوئی خوش عقیدت مرزائی ہرگز پسند نہ کرے گا۔ کوئی دباؤ کا کولہو نہیں کوئی دباغت کا شکنجہ نہیں۔ کوئی تعزیر کی چکی نہیں جس میں مرزا قادیانی کو اپنے بیلے جانے، پسے جانے، دھلے جانے کا خوف ہے۔ کوئی پھانسی نہیں کوئی سولی نہیں جس پر کھینچے جانے کا دھڑکا ہو۔ آزادی کا زمانہ ہے بلی کے بھاگوں چھینکا ٹوٹ پڑا ہے۔ پس یہ بودا پن اور حیز پن مسیح موعود اور امام الزمان اور برازی ومبروزی نہیں بروزی نبی کی شان کے بالکل خلاف ہے۔ قرآن کوئی پہیلی نہیں جس کا اتا پتا بتانے کی ضرورت ہو۔ قرآن کوئی لغز اور چیستان اور معمے نہیں جس کے حل کرنے اور تاویلات چھانٹنے کی حاجت ہو۔ اس کی شان تبیانا لکل شی اور تفصیل کل شے اور بیان للناس ہے۔ پس جب تک مرزا قادیانی قرآن کو طاق نسیان پر نہ رکھ دیں گے۔ اپنے مقاصد میں ہرگز کامیاب نہ ہوں گے۔ اگر چہ دل سے تو انہوں نے ایسا کیا ہے۔

مگر یہ دکھانے کو کہ میں اسلامی مجدد اور نبی ہوں کھلم کھلا اقرار کرتے ہوئے قوت ناطقہ لڑکھڑاتی ہے۔ کیونکہ ان کو اپنے خامکار چیلوں پر ابھی پورا پورا اعتماد نہیں ان پر ابھی گہرا رنگ نہیں چڑھا تاکہ ان سے سرخرو ہوں اور سیہ روئی کا ڈر جاتا رہے۔ ایک بگلا بھگت منافق مرزائی اکثر ہماری خدمت میں حاضر ہوتا ہے اور وہ شیر نیستان تجدید کا شاگردِ رشید ہے۔ برملا کہتا ہے کہ حضرت اقدس نبی نہیں ہیں نہ ہم ان کو نبی تسلیم کرتے ہیں۔ ہاں مجدد ہیں۔ ہم نے کہا کہ وہ تو اپنے کو نبی اور رسول کہتے ہیں اور آیت ”ھو الذی ارسل رسولہ بالھدیٰ“ اور ”یاتی من بعدی اسمہ“ کا نزول اپنے حق میں بتاتے ہیں۔

تو یہ یہودی منافق جواب دیتا ہے کہ یہ ان کے اجتہاد کی غلطی ہے یعنی ”ان الشیاطین لیوحون الی اولیائھم“ کے مصداق ہیں۔ اس سے صاف ثابت ہے کہ سینکڑوں مرزائی اور بھی ایسے ہوں گے جو مرزا قادیانی کو صرف ابن الھواء سمجھتے ہوں گے نہ کہ بروزی نبی اور آسمانی لے پالک۔ یہ لوگ مرزائی نہیں ہیں بلکہ مرزا قادیانی کے یہودی منافق ہیں دم کاٹ کر اور سم جھاڑ کر ان کو قادیان سے بارہ پتھر باہر کر دینا چاہئے۔ اگر مرزا قادیانی اسلام سے علیحدہ ہو کر اپنا جداگانہ جتھہ قائم کرنے کا اعلان دیتے تو مزے میں رہتے اور ہمارے علماء اور مشائخ کو ان کا تعاقب کرنے اور تکفیر کے فتوے دینے کی کچھ ضرورت نہ ہوتی چونکہ مرزا قادیانی نے خلاف جمہور اسلام قرآن میں تاویلیں کیں۔ لہٰذا ان سے مواخذہ کیا گیا۔ اس میں بھی مرزا قادیانی کا فائدہ ہی ہوا بجائے سولی پر چڑھانے کے شہرت کے بانس پر چڑھ گئے۔

٤٠٢

تعارف مضام

سال ١٩٠٣ء ١٦ار

اسی ترتیب سے پیش ١

جس کو دیکھو آسمانی باپ بھیڑنے کسی کا کیا بگاڑا کہ سب کی طلب نہیں کراتے۔ تو مٹی خراب کرا کے آنتوں کا گودا تک نکال سفلیہ و علویہ میں گرفتار، ذیا بطیس کی کمی ہے۔ ایک آفت ہو تو ہو۔ کو چین نہیں ہے۔

سانس اور چم لے پالک کا تو کچھ شیطانی باپ کا ہے کہ مقدمات استین چھوڑ گھسیٹن میں دھڑلیا۔ کہ قابو چلے تو کئی اکا کرا چک کر ارے یارو اس غری

صفحہ ٧٤٩

تعارف مضامین ...... ضمیمہ شحنہ ہند میرٹھ

سال ١٩٠٣ء ١٦؍دسمبر کے شمارہ نمبر ٤٧ کے مضامین

اسی ترتیب سے پیش خدمت ہیں:

١ ...... مرزائی مقدمات

مولانا شوکت اللہ میرٹھی!

جس کو دیکھو آسمانی باپ کے لے پالک کا دشمن۔ بھلا اس غریب ناکردہ گناہ آسمانی بھیڑ نے کسی کا کیا بگاڑا کہ سب کی چھری اسی پر تیز ہوتی ہے۔ اگر اس کو عدالت میں بحیثیت ملزم طلب نہیں کراتے ۔ تو مٹی خراب کرنے اور جرح قدح میں پیٹ کی بات اگلوانے کو طلب کرا کے آنتوں کا گودا تک نکال لیتے ہیں۔ کیا کہیں ناک میں دم آگیا۔ پھر بے چارہ امراض سفلیہ وعلو یہ میں گرفتار، ذیا بیطس ہے، بواسیر ہے، اختلاج قلب ہے، مالیخولیا اور سودا کا غلبہ، باہ کی کمی ہے۔ ایک آفت ہو تو ہو۔ پھر بھی بدخواہوں ، نامرادوں ، ناشادوں ، جلادوں ، گردبادوں کو چین نہیں ہے۔

سانس دیکھی تن بسمل میں جو آتے جاتے
اور چرکا دیا جلاد نے جاتے جاتے

لے پالک کا تو کچھ بھی قصور نہیں۔ قصور تو بڈھے خرانٹ لے پالک کے آسمانی باپ یا شیطانی باپ کا ہے کہ مقدمات کے دائر کرنے کا غلط الہام کیا اور لے پالک کے ساتھ اوروں کو بھی آسمان چھوڑ بکھیڑوں میں دھر لیا۔ ہمیں تو ناعاقبت اندیش مسخرے آسمانی باپ پر ایسی جھنجھل آتی ہے کہ قابو چلے تو مکئی کا کچا بھٹا چولہے میں جلا کر منہ جھلس دیں۔

ارے یارو اس غریب پر آخر رحم کرو گے یا نہیں یہ کونسی بھلمنسائی ہے اور اندھیر نگری

٤٠٣

صفحہ ٧٥٠

چوپٹ راج کا انصاف ہے کہ کرے تو باوا اور دھرا جائے لے پالک ۔ کیوں غریب کی جان کے لاگو ہوئے ہو ۔ کسی طرح پیچھا بھی چھوڑ دو گے ۔ جی ہاں ! ایک طرح مہدویت اور موعودیت و بروزیت کا جبہ قبہ اتار کر اور منہ میں تنکا لے کر مولانا علم الدین صاحب اور حضرت پیر مہر علی شاہ صاحبؒ کی چوکھٹ پر ناک گھسنی کرے اور عفو تقصیر چاہے اور مجدد السنہ مشرقیہ کو شفاعت کا وسیلہ ٹھہرائے ۔ بہت خوب یہ ممکن ہے ۔ مجدد السنہ مشرقیہ کو کیا عذر ہے۔ لے پالک اور اس کے وہابی مولیٰ مجدد کے کیسے ہی دشمن ہوں مگر وہ ہر طرح ہوا خواہ ہے اور نہیں چاہتا کہ لے پالک کو عقوبت کی آنچ تک آئے ۔

اگر چہ حقیقی بیٹا (حسب مسئلہ کفارہ) بہر مجرد دوزخ کی ہوا کھاتا رہا۔ مگر مجدد تو لے پالک کو اصلی اور حقیقی نجات کے بہشت میں لے جانا چاہتا ہے۔ دیر آید درست آید۔ مگر ہم لے پالک کے پدر نابالغ آسمانی باپ سے ہم کھلے بندوں کہے دیتے ہیں کہ اگر آئندہ غلط الہام کیا جس سے ہمارے معصوم لے پالک کی ننھی سی جان دو بھر ہوئی تو پھر ہم سے برا کوئی نہیں اور پھر پھٹے منہ سے زعفرانی حلوا کھانا ٹیڑھی کھیر ہو جائے گا ۔

٢ ....... وحی ممات مسیح

مولانا شوکت اللہ میرٹھی !

مرزا قادیانی نے یہودی بن کر عیسیٰ مسیح کو جو انکے نزدیک ایک مہذب انسان بھی نہ تھا چہ جائیکہ رسول ۔ اس لئے مارا کہ افوہ تمام یورپ ایسے شخص کی پرستش کرتا ہے اور اس کو مسلمان اولوالعزم نبی مانتے ہیں اور میں جو آسمانی باپ کا لے پالک بن کر آیا ہوں اور نہ صرف عیسیٰ مسیح بلکہ سب انبیاء سے افضل ہوں مجھے سب ملعون سمجھتے ہیں ۔ ایک عیسائی بھی مجھ پر ایمان نہیں لایا پس جلا بھلا کر عیسیٰ مسیح کو گالیاں دیتے ہیں اور ان کی کسی صفت کو ٹھنڈے کلیجے سے نہیں مانتے اور پھر اچھے خاصے مسلمان بلکہ مذہب اسلام کے فدائی؟

ہر نبی نے اپنے سے پہلے نبی کو مانا ہے اور قرآن مجید نے تو تمام انبیاء کو یکساں ماننے کا حکم دیا ہے۔ جیسا کہ فرمایا ” شرع لکم من الدین ما وصی بہ نوحا والذی اوحینا الیک وما وصینا بہ ابراہیم وموسیٰ وعیسیٰ “ اور فرمایا : ” واذ اخذنا من النبیین میثاقہم ومنک ومن نوح وابراہیم وموسیٰ وعیسیٰ ابن مریم “ دیکھو پانچوں اولوالعزم انبیاء کے اسماء مصرحاً ومفصلاً موجود ہیں ۔

پھر مکاری تو دیکھئے جب تعرض کیا جاتا ہے کہ تم کلمۃ اللہ عیسیٰ بن مریم کو کیوں گالیاں

٤٠٢

صفحہ ٧٥١

دیتے ہو تو جواب دیا جاتا ہے کہ ہم تو نصاریٰ کے یسوع مسیح کو گالیاں دیتے ہیں۔ نہ کہ عیسیٰ مسیح علیہ السلام کو۔ کوئی پوچھے کہ دو مسیح کونسے ہیں؟ قرآن میں تو اسی عیسیٰ مسیح کا ذکر ہے جس کو یہود نے صلیب پر چڑھا کر قتل کرنا چاہا۔ مگر خدا نے اس کو زندہ اٹھا لیا اور مرزا قادیانی بھی اسی یسوع کے ہلاک کرنے پر قلم کا بغدا چلا رہے ہیں۔ جس کے وہ رقیب ہیں اور جس کی عظمت ان کے دل میں کانٹے کی طرح کھٹکتی ہے۔

پھر قرآن میں تو یہ حکم ہے کہ بت پرستوں کو بھی گالیاں نہ دو چہ جائیکہ انبیاء کو ”لاتسبوا الذین یدعون من دون اللہ “ لیکن آسمانی باپ نے اپنے لے پالک پر الہام کر دیا ہے کہ عیسیٰ مسیح کو گالیاں دے کیونکہ اس نے اپنے اکلوتے بڑے بیٹے کو چھوٹے لے پالک کی خاطر عاق کر دیا ہے اور قاعدہ بھی ایسا ہی ہے کہ انسان کو چھوٹی اولاد بڑی اولاد سے زیادہ عزیز ہوتی ہے اور لازاف نیچر بھی اسی طرح جاری ہے۔ ورنہ اولاد کی پرورش نہ ہو سکے۔ اب ساٹھا پاٹھا لے پالک گہوارے میں ہے اور آسمانی باپ اس کی پرورش کرتا اور بڑے بیٹے کو دور بک بناتا ہے۔ مرغی بھی تو چھوٹے ہی بچوں کو پروں میں لیتی ہے اور بڑے بچوں پر چونچ چلاتی ہے۔

مرزا قادیانی کہتے ہیں کہ ”بل رفعہ اللہ“ میں رفع کے معنی عزت کی موت کے ہیں بھلا جب یہودیوں کا مدعا عیسیٰ مسیح کے قتل اور صلب میں پورا ہوا اور وہ ہلاک کئے گئے تو یہ عزت کی موت ہوئی یا ذلت کی۔ اگر مرزا قادیانی افغانستان جا کر اپنی بروزیت کا اعلان دیں اور افغانی ان کو پکڑ کر پھانسی پر لٹکا دیں تو یہ عزت کی موت ہوگی یا ذلت کی۔ پھر کیوں نہیں افغانستان جاتے ہندوستان میں تو ان کی زندگی ذلت کی ہے۔ اس ذلت سے کیوں نہیں نکلتے۔

برے حال جیا بھی تو خاک جیا
ترے جینے کا اب تو مزہ ہی نہیں

یہود تو یہ کہیں کہ ”انا قتلنا المسیح بن مریم“ اور اُس پر اچھلیں کودیں اور خدائے تعالیٰ ”وماقتلوہ وما صلبوہ “ سے ان کی تکذیب کرے مگر مرزا قادیانی یہود کا ساتھ نہ چھوڑیں اور انہیں کے ساتھ مارے خوشی کے بغلیں بجائیں کہ اچھا ہوا وہ ایسا تھا اور ویسا تھا۔ کوڑھیوں وغیرہ کو اچھا اور مردوں کو زندہ کرنے کا دعویٰ کرتا تھا کہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے ”واذ کففت بنی اسرائیل عنک اذ جئتہم بالبینت فقال الذین کفروا منہم ان ھذا الاسحر مبین (مائدہ)“ یعنی اللہ تعالیٰ قیامت کے دن عیسیٰ علیہ السلام کو فرمائے گا کہ میری نعمتیں یاد کر منجملہ ان کے ایک یہ ہے کہ تم بنی اسرائیل کے پاس معجزات لائے اور انہوں نے

٤٠٥

صفحہ ٧٥٢

معجزات دیکھ کر تم پر دست درازی کی تو ہم نے ان کا ہاتھ تم سے روکے رکھا۔ یعنی انہوں نے صلیب پر چڑھا کر قتل کرنا چاہا مگر ہم نے تم کو بچایا۔ اگر عیسیٰ علیہ السلام حسب عقائد مرزا قادیانی وفات پا جاتے تو امتنان کس شے کا تھا اور نعمتوں کا گنوانا کیسا۔ اس سے خدائے تعالیٰ کا کذب لازم آتا ہے۔ اور ایسا اعتقاد بالکل کفر ہے۔

جس طرح خدائے تعالیٰ نے ”یعیسیٰ بن مریم اذکر نعمتی علیک“ فرمایا اسی طرح بنی نضیر نے آنحضرت ﷺ کی نسبت بد ارادہ کیا تو ان کے شر سے آپ ﷺ کو بچایا اور الٹا انہیں پر وبال جلاوطنی اتارا اور پھر یہ نعمت یوں یوں یاد دلائی ”یایھا الذین امنوا ذکروا نعمة الله علیکم اذ ھم قوم ان یبسطوا الیکم ایدیھم فکف ایدیھم عنکم “ ﴿یعنی اے مسلمانوں تم اللہ کی نعمتوں کو یاد کرو جب کفار نے تم پر دست درازی کرنی چاہی تو ہم نے ان کا ہاتھ تم سے روکا۔﴾

مرزا قادیانی کہتے ہیں کہ عیسیٰ مسیح اپنی موت مرے مگر یہ نہیں بتاتے کہ واقعہ صلیب سے کتنی مدت بعد۔ پھر اپنی موت تو مکھی اور مچھر بھی مر جاتے ہیں۔ عیسیٰ مسیح علیہ السلام کو ایسی موت کی نعمت کا یاد دلانا چہ معنی دارد۔ اس صورت میں تو یہ نعمت یہود کے لئے ہوئی جو عیسیٰ مسیح کے قتل میں کامیاب ہوئے۔

مرزا قادیانی اپنی موعودیت کا دارومدار مسیح کی موت پر رکھتے ہیں کیونکہ جب خود عیسیٰ زندہ اور وہ تشریف لائیں گے تو مرزا قادیانی مسیح موعود نہیں بن سکتے۔ حالانکہ یہ ان کی اپنی طفل تسلی اور ”کسراب بقیعة یحسبه الظمان ماءً “ کی مصداق ہے۔ یہ قضیہ لزومیہ، یا اتفاقیہ ہے کہ کشمیر میں عیسیٰ علیہ السلام وفات پائیں تو ان کے انیس سو برس بعد مرزا قادیانی قادیان میں مسیح بن کر خروج کریں۔ زید کی موت پر عمر کی حیات کا مترتب ہونا عجیب لزوم ہے۔ پھر اس قدر عرصہ کے بعد کیا لازم وملزوم میں انفکاک انفصال بھی ہو جاتا ہے۔ ”اذا كانت الشمس طالعة فالنهار موجود“ میں تو مقدم و تالی لازم وملزوم ہیں۔

یہ نہیں کہ آفتاب تو آج طلوع کرے اور دن سوا ستائیس روز کے بعد موجود ہولیکن یہ وہ جانے جو قواعد اور اصول نظریہ سے واقف ہو۔ یہاں تو لزوم کا تال میل یہ ہے کہ ”اذ كان الغراب ناعقا فالحمار من القادیان ناھق“ خیر یہ تو منطق کی باتیں ہیں جو بھینس کے آگے بین سے کم نہیں۔ ہم تو وہ باتیں کہیں گے جو مرزا قادیانی اور ان کے چیلے چانٹوں کی فہمید میں اس طرح آ جائیں اور سما جائیں جس طرح قادیان میں منارہ اور امرتسر میں گربھنہ جی کا ٹھا کر دوارہ۔

٤٠٦

صفحہ ٧٥٣

خوب یاد رکھو کہ قرآن کے سیاق و سباق اور نصوص قطعیہ اور لغت عرب اور علم بیان و معانی اور فصاحت قرآنی سے تو مرزا قادیانی کا مدعا یعنی ممات مسیح قیامت تک ثابت نہیں ہو سکتی۔ البتہ تاویل کی لال کتاب سے جونپور کے قاضی جی مسخ ماہیت کر کے مبعوث ہوں تو مضائقہ نہیں۔ آیہ ”ما قتلوہ وما صلبوہ“ بالکل صاف اور صریح قطعی اور یقینی ہے اور اس کا منکر اور کافر اور جہنمی ہے کیونکہ وہ قرآن کا منکر ہے۔ مرزا قادیانی کہیں گے کہ ہم اس کے منکر نہیں بلکہ حیات مسیح کے منکر ہیں۔ ہم کہیں گے کہ قتل اور صلب کا نتیجہ موت ہے۔ جب آپ ایک شے کے نتیجے کے منکر ہوئے تو خود اس شے کے منکر ہو گئے جب کہ عیسیٰ مسیح مقتول اور مصلوب ہی نہیں کئے گئے اور جناب باری نے مکرر تاکیداً فرمایا ”وما قتلوہ یقیناً بل رفعہ اللہ “ تو موت کہاں سے آگھسی؟ آپ کا لنگڑا مدعا تو جب ثابت ہوتا کہ رفعہ اللہ کی جگہ اماتہ اللہ ہوتا حالانکہ عدم قتل پر موت کا مترتب ہونا ایسا ہے جیسے مرزا قادیانی کہیں کہ میں نے اپنی بی بی سے مباشرت تو کی نہیں مگر ایک سال کا سا پورا بچہ ہو پڑا۔ پھر رفع کے معنی موت کے کونسے رمل کی پوتھی یا قرعے سے نکالے گئے ہیں؟

کیا رافع الدرجات کے معنی ہالک الدرجات یا میت الدرجات کے ہیں اور کیا رفعہ اللہ مكاناً علیا کے معنی اماته الله مكاناً علیا اور اليه يصعد الكلم الطيب والعمل الصالح يرفعه کے معنی العمل الصالح يموته کے ہیں۔ مارے گھٹنا پھوٹے آنکھ۔ یہ معنی تو کلام الٰہی کو مہمل اور بے معنی کرنے والے ہیں۔

مرزا قادیانی اپنے دعوے کی تائید میں آیہ ”متوفیک ورافعک الی “ پیش کرتے ہیں۔ یہ آیہ ان کے دعوے کے موافق جب مفید ہوتی کہ مذکورہ بالا آیہ میں بل توفاہ ورفعہ اللہ ہوتا۔ دوم ...... جب آپ بل رفعه الله میں رفع کے معنی موت کے لیتے ہیں تو متوفیک ورافعک دونوں میں سے ایک کا ضرور حشو لازم آتا ہے اور کلام الٰہی حشو اور زوائد سے پاک ہے۔ ہذا خلف۔ پھر مرزا قادیانی یہود کے حامی ہیں جو عیسیٰ کا قتل ہونا اور مرنا چاہتے تھے نہ کہ عیسیٰ مسیح علیہ السلام کے جن کے وہ موعود و مثیل اور چھوٹے لے پالک بھائی ہیں۔ یقیناً ایسے ہی بھائی ہیں جیسے یوسف علیہ السلام کے بھائی خون کے پیاسے تھے۔

بھاگ ان بردہ فروشوں سے کہاں کے بھائی
بیچ ہی ڈالیں جو یوسف سا برادر ہووے

٤٠٧

صفحہ ٧٥٤

جب عیسیٰ مسیح مقتول و مصلوب ہو کر مر گئے تو یہود کے کلیجہ میں ٹھنڈک پڑ گئی اور ان کا مقصد پورا ہوا۔ خدائے تعالیٰ کی کوئی حکمت و قدرت نہ چلی اور ”ومکروا ومکر اللہ واللہ خیر الماکرین“ غلط ہو گیا کیونکہ انہیں کا مکر چلا نہ کہ خدا کا۔ یہ بات یہ ہے کہ خدائے اسلام اور ہے جو قادر مطلق اور سب پر غالب ہے۔ لے پالک کا خدا یعنی آسمانی باپ اور ہے جو ہر طرح عاجز ہے۔ پس خدائے اسلام کو خدائے جعلی سمجھے ہیں ورنہ یہود کے حامی ومعاون ہرگز نہ بنتے۔ پھر آیہ ”کتب اللہ لا غلبن انا ورسلی“ کے خلاف ہوا کیونکہ عیسیٰ مسیح قتل ہو کر مر گئے تو یہودی غالب رہے۔ نہ کہ رسول عیسیٰ مسیح علیہ السلام اور خدائے تعالیٰ۔

٣ ...... مرزا قادیانی کا مسئلہ شفاعت

مولانا شوکت اللہ میرٹھی!

١٧؍ اور ٢٤؍ کے الحکم میں مولوی عبدالکریم کی طرف سے بعنوان ”مسئلہ شفاعت بہت صفائی سے حل ہو گیا“ لکھا ہے کہ محمد علی خان صاحب کا چھوٹا لڑکا عبدالرحیم سخت بیمار ہو گیا اور حکیم الامتہ المرزائیہ کی تشخیص و معالجہ کی ترکی بھی تمام ہو گئی۔ بالآخر مرزا قادیانی سے شفاعت چاہی آپ نے تہجد کے وقت دعا کی تو وحی نازل ہوئی کہ تقدیر مبرم ہے اور ہلاکت مقدر۔ مرزا قادیانی نے مولوی صاحب سے فرمایا کہ اس قہری وحی سے مجھ پر حد سے زیادہ حزن طاری ہوا اور میرے منہ سے نکل گیا کہ یا الٰہی یہ دعا کا موقع نہیں تو شفاعت کا موقع تو ہے۔ لہٰذا میں شفاعت کرتا ہوں اس پر معاً یہ وحی نازل ہوئی۔ ”يسبح له من في السموات ومن في الارض من ذالذي يشفع عنده الا باذنه“ اس جلالی وحی سے میرا بدن کانپ گیا کہ بلا اذن میں نے کیوں شفاعت کی۔ ایک دو منٹ کے بعد پھر وحی نازل ہوئی کہ ”انک انت المجاز“ (تذکرہ ص ٤٩٥) یعنی تجھے اجازت ہے۔ پھر کیا تھا عبدالرحیم کی صحت کو روز بروز ترقی ہونے لگی۔

جو دیکھتا تھا یہی کہتا تھا کہ مردہ زندہ ہوا ہے۔ اس پر ایڈیٹر الحکم عیسائیوں پر برستا ہے کہ ایک ناتواں انسان کے پھانسی ملنے کو شفاعت کی غایت سمجھتے ہیں۔ بس فرمائشی وحی شفاعت کے کیا کہنے ہیں۔ جس نے گرگٹ کی طرح رنگ بدلے پہلے تو آسمانی باپ نے لے پالک کو ڈانٹ بتائے کہ خبردار ہو جو پرائے پھٹے میں پاؤں دیئے اور پھر سخرہ خود ہی رضامند ہو گیا۔ پہلے تو یہ الہام کیا کہ تقدیر مبرم ہے اور ہلاکت مقدر اور پھر خود ہی تقدیر اور مقدر دونوں کو منارے کی بھینٹ میں چڑھا دیا۔

٤٠٨

صفحہ ٧٥٥

بھلا تقدیر مبرم بھی کہیں بدل سکتی ہے؟ اور اگر بدل سکتی ہے تو مبرم نہیں۔ اب آپ اپنے منہ پر تھپڑ ماریئے۔ پھر وحی کیسی تازہ بتازہ نو بنو ڈال کی ٹوٹی نازل ہوئی۔ کلام مجید میں یہ آیہ جس کو آیت الکرسی کہتے ہیں۔ یوں ہے ”له مافی السموت وما فی الارض من ذاالذی یشفع عنده الا باذنه“ اس سادھو بچے نے پہلی آیہ کی جگہ دوسری آیہ لگائی۔ یعنی ”یسبح له مافی السموت ومافی الارض“ جس سے قرآن کا سیاق وسباق بگڑ گیا اور مطلب خبط ہو گیا۔ یعنی مطلب تو یہ ہے کہ خدا ہی زمین و آسمان کا مالک ہے۔ پس اس کے بلا اذن کون شفاعت کر سکتا ہے اور جب دوسری آیہ اس کے ساتھ لگائی گئی تو مطلب یہ ہوا کہ ہر شے جو زمین و آسمان میں ہے خدائے تعالیٰ کی تنزیہ کرتی ہے فرمائیے تنزیہ سے شفاعت و غیر شفاعت کو کیا تعلق۔ کیا شجر اور حجر اور ذرہ اور قطرہ وغیرہ جو زبان حال سے تسبیح خوان ہیں کسی کی شفاعت کر سکتے ہیں۔ پھر اپنے کئی بچے طعمہ نہنگ اجل ہو گئے۔ ان کی شفاعت نہ کی شاید مرزا قادیانی کے صلب سے نہ تھے کسی رقیب کی صلب سے تھے ایک چیلا افغانی بغدے کا شکار ہو گیا۔ اس کی شفاعت بھی نہ کی۔ آسمانی باپ بڑا ہی سنگدل ہے کہ لے پالک نے ایڑیاں رگڑیں مگر اس کو نہ اپنے لے پالک پر رحم آیا نہ اپنے پوتوں پر۔

٤ ...... من احب شيئاً اكثر ذكره

مولانا شوکت اللہ میرٹھی!

جو شخص کسی کو دوست رکھتا ہے اکثر اس کا ذکر کیا کرتا ہے۔

سب ہم سے پوچھتے ہیں کہ اخبار الحکم یا البدر میں جو حکیم الامت وغیرہ کے خطبے اور خود مرزا قادیانی کے ارشادات شائع ہوتے ہیں کبھی ان میں آنحضرت ﷺ کی احادیث کا بھی ذکر ہوتا ہے؟ کہ آیا فلاں فلاں ارشاد فرمایا ہے حضرت اقدس (مرزا) نے یوں فرمایا اور ووں فرمایا۔ پھر تقریر ایسی لچر اور اردو زبان ایسی غلط اور پریشان اور پیچیدہ جس کو سمجھ کر بے تحاشا قہقہہ لگانے کو جی چاہے اور اگر کسی آیہ کا ذکر ہوتا ہے تو وہی ممات مسیح کی تاویل اور شیخی کہ مرزا قادیانی ان آیات کے مورد ومصداق ہیں اور ان پر یہ آیات مسخ ہو کر یوں نازل ہوئی ہے۔ بھلا یہ کفر نہیں تو کیا ہے؟ ذرا دیکھتے جائیے کہ سارا قرآن ہی مرزا قادیانی پر نازل ہوا جاتا ہے۔ بات وہی ہے جو ہم نے عنوان میں لکھی ہے۔ کہ انسان کو جس کے ساتھ محبت ہوتی ہے رات دن اس کا ذکر کرتا ہے۔

اگر روز است دل دیوانہ او
وگر شب گوش بر افسانہ او

٤٠٩

صفحہ ٧٥٦

آنحضرت ﷺ سے محبت کیا معنی دل میں نفرت ہے اور نہیں چاہتے کہ آپ کا نام مبارک بھی کسی کی زبان پر آئے یہاں تک کہ جو قرآن آنحضرت ﷺ پر نازل ہوا اس کا نزول اپنے اوپر بتاتے ہیں۔ یہ رسول عرب و عجم کی رسالت کا مٹانا نہیں تو کیا ہے؟ مطلب کی حدیثوں کا اقرار وانکار اور تیس دجالوں کے آنے کا جن احادیث میں ذکر ہے ان کا انکار۔ ”نؤمن ببعض ونکفر ببعض“ کے اچھے خاصے مصداق لعنت ہے۔ اس دنیا پرستی اور دین فروشی پر۔

نبی امّی (فداہ ابی وامی) فرماتے ہیں ”تركت فيكم البيضاء ليلها ونهارها سواء“ سبحان اللہ! سبحان اللہ! ساری خدائی سر سے سر جوڑ کر زور لگائے تو ایسا کلام معجز نظام نہیں لا سکتی۔ یعنی میں تم میں ایک آفتاب چھوڑے جاتا ہوں۔ جس کا رات دن برابر ہے یعنی ظلمت کا نشان تک نہیں نور ہی نور ہے۔ لیکن اندھوں (گمراہوں) کو آفتاب سے کیا فائدہ پہنچ سکتا ہے۔ فیکم کے معنی پر غور کیجئے۔ تم میں یعنی تمہارے دین اور دنیا کے کاموں میں یہ تم کو گمراہی کی ظلمت سے بچائے گا۔ اگر تم اندھے نہ ہوگئے۔ یعنی قرآن کے احکام پر عمل کرو گے۔ اس کے مقابلے میں مرزا قادیانی پر وحی ہوتی ہے۔

”انت منی وانا منک“ (تذکرہ ص ٤٢٢، طبع سوم) یعنی آسمانی باپ کہتا ہے کہ اے لے پالک تو مجھ سے ہے اور میں تجھ سے۔ یعنی تو میرا بیٹا میں تیرا بیٹا میں تیرا باپ تو میرا باپ۔ میں سیر تو سوا سیر۔ واہ واہ واہ کیا فصیح اور بلیغ الہام ہے پھر یہ بھی حدیث سے چورایا۔ آنحضرت ﷺ حضرت علی کرم اللہ وجہہ سے فرماتے ہیں۔ ”انت منی بمنزلة هارون من موسى الا انه لا نبی بعدی (بخاری ج ٢ ص ٦٣٣ ، مسلم ج ٢ ص ٢٧٨)“ اس حدیث کا ایک جز تو لے لیا اور دوسرے اجزاء جن سے ختم نبوت ثابت ہوتی ہے۔ اس حدیث سے نکال ڈالے کیونکہ وہ آپ کی بروزی نبوت کے لئے زہر تھی۔ کور دلی، کجی، بیوقوفی، خیرہ گی، نمک حرامی، چھوٹا پن اسی کو کہتے ہیں۔

٥ ...... مسئلہ ختم رسالت

مولانا شوکت اللہ میرٹھی !

جس طرح مرزا قادیانی نے اپنے کو مسیح موعود ثابت کرنے کے لئے عیسیٰ مسیح کو مارتے ہیں۔ اسی طرح اپنے کو خلاف قرآن و حدیث نبی بتانے کے لئے آیۂ ”ولكن رسول الله وخاتم النبيين“ اور اسی مضمون کی احادیث صحیحہ کا صاف انکار کر کے ملحد اور کافر بنتے ہیں۔ اگرچہ بعض سمجھدار مرزائی (جو مرزا قادیانی کے حق میں منافق یہودی ہیں) مرزا قادیانی کو نبی نہیں مانتے مگر

٤١٠

صفحہ ٧٥٧

گونگے کا گڑ کھا کر حق پوش بن گئے ہیں۔ یعنی نہ اپنے پیر و مرشد کی داڑھی کسوتے ہیں نہ مونچھیں اکھاڑتے ہیں نہ منہ پر تھپڑ مارتے ہیں کہ مردود و مطرود تو کیا بک رہا ہے اور بعض مرزائی جو ہاتھی کے روٹ میں اپنا حصہ لگاتے ہیں۔ وہ کھلم کھلا ایمان کو نگل کر بروزی نبوت کی تصدیق اور ختم نبوت کی تکذیب کرتے ہیں۔

امروہی صاحب نے الحکم میں منارے سے بھی طویل اور شیطان کی آنت سے بھی گرانڈیل اور اصحاب الفیل کے ہاتھیوں کے کانوں سے بھی چوڑا ایک مضمون دیا ہے جس کے اخیر میں آیات واحادیث ختم رسالت کی گنجی اور لنگڑی، لولی، تاویل کر کے مرزا قادیانی کی نبوت ثابت کی ہے۔

کونسا کلام ہے جس کی تاویل نہیں ہو سکتی اور جس کو حقیقی معنی سے پھیر کر مجازی معنی کی طرف نہیں لے جاسکتے؟ مگر امر حق کو تاویل کی ضرورت نہیں ہوتی اور ایک جھوٹ کے ثابت کرنے کو بہت سے جھوٹ کا ایک سلسلہ تیار کیا جاتا ہے۔ جیسا کہ امروہی صاحب نے کیا ہے کہ ضدین اور نقیضین جمع کر دیں۔ یعنی آنحضرت ﷺ خاتم النبیین بھی ہیں اور آپ کے بعد دیگر انبیاء بھی آتے رہیں گے۔ یعنی آپ خاتم النبیین ہیں بھی اور نہیں بھی۔ آپ نے تکملہ مجمع بحار انوار سے حضرت عائشہؓ کا قول اور مذہب یوں نقل کیا ہے ”عن عائشة قولوا انه خاتم الانبياء ولا تقولوا لانبی بعدہ“ یعنی یہ تو کہو کہ آنحضرت ﷺ کی ان احادیث کا معارض نہیں ہو سکتا جو صحابہ کرام حضرت ابو بکر صدیقؓ اور حضرت علیؓ کی فضیلت کے باب میں آپ نے فرمائی ہیں کہ میرے بعد نبی ہوتے تو فلاں فلاں ہوتے۔ امروہی صاحب فرمائیں۔ کیا حضرت عائشہؓ کی یہ حدیث، آنحضرت ﷺ کے چند ارشادات کی ناسخ ہے۔

آنحضرت ﷺ نے حضرت امیر المومنین علیؓ کی نسبت فرمایا۔ ”انت منی بمنزله هارون من موسىٰ الا انه لا نبی بعدی“ یعنی تجھ کو مجھ سے ایسی نسبت ہے جیسے ہارون کو موسیٰ علیہ السلام سے مگر میرے بعد کوئی نبی نہیں۔ لانبی میں نکرہ تحت النفی ایسا ہی ہے۔ جیسا لا الہ میں یعنی بجز خدائے تعالیٰ کے کوئی سچا یا جھوٹا معبود موجود نہیں۔

خلفاء اور صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین میں سے تو کبھی کسی نے اپنی نبوت کا دعویٰ نہ کیا نہ ایسی تاویلیں چھانٹیں جیسے مرزا اور ان کے شکم پرست حواری چھانٹتے ہیں۔ مرزا قادیانی کا مرتبہ خلفاء اور صحابہ سے بھی بڑھ گیا۔ نہیں جناب انبیاء سے بھی۔ صحابہ نے کبھی یہ دعویٰ نہیں کیا کہ ہم پر

٤١١

صفحہ ٧٥٨

وحی نازل ہوتی ہے۔ حالانکہ مرزا قادیانی پر اٹھتے بیٹھتے ہگتے موتے۔ آسمانی باپ وحی نازل کرتا ہے اس بے ایمانی دنیا طلبی مکاری سے شرم کرنی چاہئے کیونکہ دنیا روزے چند ، آخر کار باخداوند۔ آپ کا یہ کہنا کہ آنحضرت ﷺ نبوۃ کے انتہائی نقطہ کمال پر پہنچے ہوئے ہیں۔ بالکل منافقانہ اور اپنے کو مسلمان کہلانے کے لئے ہے۔ مرزا اور پکے مرزائیوں کے دل میں آنحضرت ﷺ کی نبوت کی کوئی وقعت نہیں ورنہ نیا نبی نہ تراشا جاتا کیونکہ عاشق کے لئے دو دلی موت ہے۔

تعارف مضامین ...... ضمیمہ شحنہ ہند میرٹھ

سال ١٩٠٣ء ٢٤؍ دسمبر کے شمارہ نمبر ٤٨؍ کے مضامین

١ ...... حدیث اتبعو السواد الاعظم پر امروہی صاحب

مولانا شوکت اللہ میرٹھی!

الحکم ١٧؍٢٤ نومبر میں ایک سوال و جواب متعلق حدیث مندرجہ عنوان نظر سے گزرا۔ سوال کا مطلب یہ ہے کہ جب مرزائی جماعت قلیل ہے تو کیوں اس کا اتباع کیا جائے۔ امروہی صاحب نے جو کچھ جواب دیا ہے اگر کوئی مرزائی کچھ بھی عقل و شعور رکھتا ہے تو ہنستے ہنستے پچھاڑیں کھا کر گر جائے گا لوٹن کبوتر بن جائے گا۔ ہاں نابلدوں کی ہم نہیں کہتے۔

امروہی صاحب بایں دعویٰ ہمہ دانی وشملہ بمقدار علم مقولہ کیف وکم کی ماہیت سے بھی ناواقف ہیں۔ حدیث میں اتبعو السواد الاکثر وارد نہیں ہوا بلکہ اتبعو السواد الاعظم وارد ہوا ہے عظمت مقولہ کیف سے ہے اور کثرت مقولہ کم ہے۔ پس امروہی صاحب کا آیات ”و قلیل ماہم“ اور ”قلیل من عبادی الشکور“ پیش کرنا صاف بتا رہا ہے کہ آپ قلت و کثرت کے تقابل سے

٤١٤

بھی محض نا آشنا ہیں۔ ہوتا جو کثیر ہوتا ہے اعظم درجہ حصہ اور مفسرین تابعین علی کتاب وسنت سے کہ تیرہ سو برس کے بعد اعظم کا اتباع کرو۔ اور گزرے سب گمراہ اور

آج اور قبل ١٣ سو بر امروہی صاحب اپر قدم پر لڑکھڑا کر گرے ہیں۔ کے متبع تھے۔ مرزائی جماعت نے تصویریں بنا کر فروخت عظمت کرے گی وہ حضرت عائشہ نہ ہوا۔ یہ حدیث میں کتاب قرار دیا آنحضرت اور لوگوں

اندر ہیں کہ کے یہ معنی کس نے بیان کئے کہ

صفحہ ٧٥٩

بھی محض نا آشنا ہیں۔ یعنی قلت کی سند اس وقت صحیح ہوتی ہے جبکہ حدیث مندرجہ بالا میں لفظ اکثر ہوتا جو کثرت سے مشتق ہے۔ پس جیسا سوال ویسا ہی جواب ۔ السواد الاعظم سے مراد اعظم درجۂ عند اللہ ہے جو کیفاً ہے نہ کہ کماً اور وہ کون ہے صحابہ اور تابعین اور جمہور مجتہدین محدثین مفسرین متبعین کتاب وسنت مگر امروہی صاحب فرماتے ہیں کہ وہ جماعت مرزائیہ ہے جو متبع کتاب وسنت ہے۔ سبحان اللہ کیا کہنا ہے گویا تیرہ سو برس تک یہ حدیث معلق رہی اور یہ معنی ہوئے کہ تیرہ سو برس کے بعد جب موضع قادیان میں ایک مدعی نبوت پیدا ہو تو اس کی امت کے سواد اعظم کا اتباع کرو۔ اور ١٣ سو برس تک جتنے صحابہ اور تابعین اور تبع تابعین اور جمہور علماء اسلام گزرے سب گمراہ اور "من شذ شذ فی النار" میں داخل رہے۔ "الامان من ھذا البھتان"

پھر آنحضرت ﷺ نے ایسا حکم دیا جس کی تعمیل تکلیف مالا یطاق تھی۔ کیا معنی کہ حکم تو دیا آج اور تعمیل ١٣ سو برس کے بعد موجود اور معدوم سب اس حکم کی تعمیل سے آزاد اور کورے رہے۔

امروہی صاحب اینڈی بینڈی چالیں چلے ہیں۔ مگر بالآخر ایک بدمست شرابی یا بھنگڑ کی طرح قدم قدم پر لڑکھڑا کر گرے ہیں۔ آپ کا مطلب شاید یہ ہو کہ جس طرح صحابہ اور تابعین کتاب وسنت کے متبع تھے۔ مرزائی جماعت بھی ویسی ہی متبع ہے۔ تو ہم پوچھتے ہیں کہ صحابہ اور تابعین میں سے کس نے تصویریں بنا کر فروخت کیں اور کرائیں اور کس نے گھروں میں تصویریں رکھنے اور ان کی عظمت کرنے کی ہدایت کی۔ کس نے دعویٰ نبوت کیا اور کس نے تصویر کو ابلاغ و تبلیغ کا آلہ بنایا۔

حضرت عائشہؓ نے یہ تو فرما دیا کہ "لا تقولوا لا نبی بعدہ" مگر ١٣ سو برس تک ایک بھی نبی پیدا نہ ہوا۔ نہ صحابہ اور تابعین اور اولیاء اللہ میں سے کسی نے نبوت کا دعویٰ کیا۔ پھر حضرت عائشہؓ کی حدیث نے کیا فائدہ دیا۔ اب فرمائیے اس صورت میں مرزائی جماعت کیونکر مثل صحابہ و تابعین متبع کتاب وسنت ہوئی۔ صحابہ اور تابعین میں سے کس نے منارہ بنایا کس نے اپنے قصبہ کو مکہ اور مدینہ قرار دیکر حج کا فرض ساقط کرایا۔ کس نے پیشینگوئیاں کیں کس نے غیب دانی کا دعویٰ کیا۔ خود آنحضرت ﷺ نے کبھی بھی ایسا دعویٰ نہیں کیا کہ مجھ پر اس لئے ایمان لاؤ کہ میں غیب دان ہوں اور لوگوں کی موت کی پیشینگوئیاں کرتا ہوں بلکہ غضبناک ہو کر خود ان کو مارتا اور جلاتا ہوں۔

فرمائیے آپ کی جماعت اور آپ کے دلی بھگت جو خیالی اور جعلی نبوت کے مندر کے اندر ہیں کیونکر متبع کتاب وسنت اور صحابہ اور تابعین کے سواد اعظم میں داخل ہوئے۔ خاتم النبیین کے یہ معنی کس نے بیان کئے کہ نبوت کاملہ تو ختم ہو گئی مگر نبوت ناقصہ کا وجود تا قیامت باقی ہے اور

٤١٣

صفحہ ٧٦١

مسلمان نبوت کاملہ کو چھوڑ کر نبوت ناقصہ پر ایمان لائیں۔ شرم نہیں آتی کہ اپنے کو ناقص اور اسفل ارذل بھی بتاتے ہیں اور مسلمانوں کو اس پر ایمان لانے کا جنرل آرڈر بھی سناتے ہیں۔

اتباع کتاب وسنت کے دعویٰ کی یوں درگت ہو رہی ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام کو قرآن کی رو سے مارا تو جاتا ہے مگر قرآن سے موعود مسیح کا آنا ثابت نہیں کیا جاتا۔ صحیح حدیثیں جو بروزی نبوت کے خلاف ہیں بالکل منسوخ ہیں اور کسی طرح قابل احتجاج نہیں اور ضعیف بلکہ موضوع حدیثیں اور عمر و زید کے اقوال جو بروزی مطلب کے موافق ہیں۔ سب صحیح اور آیات کلام الہی کی تاویل بلکہ ایک معنی سے تنسیخ قرآن میں تو بت پرستی اور شرک کی ممانعت ہے۔ تصویر پرستی کی ممانعت کہاں ہے بلکہ جواز ثابت ہے محاریب و تماثیل وارد ہوا ہے۔ اسلام سلیمانی مذہب ہے نہ کہ محمدی، بات یہ ہے کہ جو آیتیں اور حدیثیں مطلب کے موافق ہیں اور واجب العمل اور باقی منسوخ۔

دجالوں ملعونوں والی حدیث بھی غٹ ربود۔ انکا کبھی ذکر تک نہیں اور کیوں ہو وہ مرزا قادیانی کے ہم جنس بھی ہیں۔ ٣٠ دجالوں میں سے اب تک ایک بھی نہیں آیا اور مہدی اور مسیح آگئے۔ دجال تو یہی انگریزی ریلیں ہیں۔ جن کے فنا کرنے کو مرزا قادیانی آئے ہیں۔ دجال تو قیامت تک نہ آئیں گے۔ ہاں نبی آتے رہیں گے۔ حدیثوں کا یہی مطلب ہے اور اسی کا نام عمل بالسنہ ہے۔ مرزا قادیانی دجالوں (جھوٹے مسیحوں اور مہدیوں) کی تکذیب کریں تو خود بھی کاذب بن جائیں کیونکہ کوئی دلیل اس پر قائم نہیں کر سکتے کہ وہ بھی ان کی طرح جھوٹے نہیں۔

پس ان کا ذکر شربت کی گھونٹ کی طرح پی جاتے ہیں۔ مرزا قادیانی گزشتہ دجالوں کو تو کیا جھوٹا کریں گے اپنے ہمعصروں اور ہم پیشوں، ہم کرتبوں لندنی مسیح مسٹر پگٹ اور فرانسیسی مسیح ڈاکٹر ڈوئی ہی کو جھوٹا ثابت کر دیں۔ جو یورپ کے مہذب میدان میں خم ٹھونک رہے ہیں۔

حضرت ابو بکر صدیق، حضرت عمر بن الخطاب، حضرت علی ان میں سے کوئی نبی نہ ہوا اور مرزا قادیانی تیرہ سو برس کے بعد نبی بن کر خروج کریں۔ ام المومنین حضرت عائشہ حیض اور نفاس مچائیں مگر کوئی ان کا حکم نہ مانے اور نبوت کا خلعت نہ پہنے۔ حالانکہ نبوت کسے بری لگتی۔ اس میں دنیا کی بہاریں ہیں۔ مزے ہیں چین چان ہے۔ روغن بادام اور زعفران میں دم کئے ہوئے پلاؤ ہیں۔ سقنقوری اور جند بیدستر کی مقوی اور ممسک معجونیں ہیں۔

شہوات ولذات کے سمندر میں جہاز رانی ہے۔ بروزی نبی کے سواء کسے نصیب اور ٤١٤

کس کی ایسی قسمت۔ مگر بچہ جی! دنیا میں تو جو چاہو کرلو سے بھی بلند تنومند منارہ بنا لو۔ لیکن چند ہی روز میں دیکھنا

پردہ داری میکند بر قصر
جغد نوبت میزند بر گنبد

مرزا قادیانی کے پاس تو ابھی مسالہ ہی کیا ہے ہو جاتا ہے پھر دیکھنا کیسی مرلیا بجتی ہے۔ تمام الو ایک ایک صدائیں دیتے پھڑ ہو جاتے ہیں۔ انشاء اللہ اور پھر مر گئے

٢ ...... لم يبق من النبوة مولانا شوکت اللہ میر

معلوم نہیں امروہی صاحب کیوں تاویل کا پیچھے پڑے ہیں کیونکہ آیات کلام مجید جو مکرر اب بطور وحی ن رسوله بالھدٰی " اور " یاتی من بعدی اسمہ احمد رسول برحق ہونے میں امروہی صاحب کو کیوں شک ہے ٹٹولتے ہیں اور ان کی لنگڑی لولی کچی تاویل کرتے ہیں کہ نبی کی نبوت کے جوتیوں کو گانٹھتے ہیں اور گدی کے قرآن تو قطعی اور یقینی وحی ہے جب وحی پر ایمان نہیں تو اب

پس امروہی صاحب آپ اپنی تکفیر کر آنحضرت ﷺ نبی کامل تھے اور ہمارا بروزی نبی ناقص قرآنی وحی موجود ہے۔ بھلا خدائے تعالٰی ارسل رسولہ بالھدٰی " تو وہ کیونکر وعجم ﷺ کو تو کامل نبی بنائے اور قرآنی وحی کی دو قسمیں ہیں ایک نازل ہوئی تھی تو کامل تھی اور مرزا کون جواب دہ ہے۔

اگر امروہی یا ان کا کوئی سو روپیہ دینے کو تیار ہیں۔ افسوس

صفحہ ٧٦١

کس کی ایسی قسمت۔ مگر بچہ جی! دنیا میں تو جو چاہو کر لو نبی بن جاؤ، امام الزمان بن جاؤ کوہ الوند سے بھی بلند تنومند منارہ بنالو۔ لیکن چند ہی روز میں دیکھنا کیا ہوتا ہے ؎

پردہ داری میکند بر قصر قیصر عنکبوت
جغد نوبت میزند بر گنبد افراسیاب

مرزا قادیانی کے پاس تو ابھی مسالہ ہی کیا ہے اور مانگا تانگا کچھ ہے بھی تو ابھی ابھی ختم ہو جاتا ہے پھر دیکھنا کیسی مرلیا بجتی ہے۔ تمام الو ایک ایک کر کے راتوں رات یا بدوح کی بے ہنگم صدائیں دیتے فرار ہو جاتے ہیں۔ انشاء اللہ اور پھر مر گئے مردود، فاتحہ نہ درود۔

٢ ...... لم يبق من النبوة الا المبشرات

مولانا شوکت اللہ میرٹھی!

معلوم نہیں امروہی صاحب کیوں تاویل کا لٹھ لے کر اپنے بروزی نبی کی نبوت کے پیچھے پڑے ہیں کیونکہ آیات کلام مجید جو مکرراً بطور وحی نازل ہوتی ہیں۔ مثلاً ”ھو الذی ارسل رسوله بالهدی “ اور ”یأتی من بعدی اسمه احمد “ ان سے مرزا قادیانی کے نبی کامل اور رسول برحق ہونے میں امروہی صاحب کو کیوں شک ہے کیا وجہ ہے کہ وہ قرآن کو چھوڑ کر حدیثوں کو ٹٹولتے ہیں اور ان کی لنگڑی لولی کچی تاویل کرتے ہیں کہ مبشرات سے نبوت نکال کر اپنے بروزی نبی کی نبوت کے جوتیوں کو گانٹھتے ہیں اور گدی کے پیچھے ہاتھ لے جا کر ناک پکڑتے ہیں۔ قرآن تو قطعی اور یقینی وحی ہے جب وحی پر ایمان نہیں تو اپنے بروزی کی نبوت پر ایمان نہیں۔

پس امروہی صاحب آپ اپنی تکفیر کرتے ہیں۔ وہ کیوں غل مچاتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ نبی کامل تھے اور ہمارا بروزی نبی ناقص ہے۔ ناقص ہے۔ جبکہ نبی کے لئے ایک ہی قرآنی وحی موجود ہے۔ بھلا خدائے تعالیٰ جس کی شان میں یہ قطعی وحی نازل کرے کہ ”ھو الذی ارسل رسوله بالهدی “ تو وہ کیونکر نبی ناقص ہو سکتا ہے، کوئی وجہ نہیں کہ ایک ہی وحی پیغمبر عرب و عجم ﷺ کو تو کامل نبی بنائے اور وہی وحی جب کسی اور پر نازل ہو تو اسے ناقص نبی بنائے؟ کیا قرآنی وحی کی دو قسمیں ہیں ایک ناقص دوسری کامل، پھر وہی ایک آیت جب آنحضرت ﷺ پر نازل ہوئی تھی تو کامل تھی اور مرزا قادیانی پر نازل ہوئی تو ناقص ہو گئی۔ اس حماقت آمیز تعارض کا کون جواب دہ ہے۔

اگر امروہی یا ان کا کوئی پیر بھائی بلکہ خود مرزا قادیانی اس اعتراض کا جواب دیں تو ہم دو سو روپیہ دینے کو تیار ہیں۔ افسوس ہے کہ حمقاء پھر بھی نہیں سمجھتے اور دین و دنیا کی تباہی خریدتے ہیں۔

٤١٥

صفحہ ٧٦٢

بحث اس میں تھی کہ امروہی صاحب نے حدیث مندرجہ عنوان پیش کر کے مبشرات سے نبوت تراشی ہے اور استثنیٰ متصل و منقطع پر بحث کی ہے۔ حالانکہ آپ دونوں سے نابلد ہیں۔ جیسا کہ ہم ثابت کر دیں گے۔ استثنیٰ متصل تو اس لئے نہیں کہ نبوت اور شے ہیں اور مبشرات اور شے۔ ورنہ استثنیٰ الشی عن نفسہ لازم آئے گا۔ یعنی یہ معنی ہوں گے کہ ”لم یبق من النبوۃ الا النبوۃ“ حالانکہ امروہی صاحب نے استثنیٰ متصل ہی بنایا ہے اور منقطع مانا جائے گا تو امروہی صاحب کو اپنے ہاتھوں اپنا سینا پڑے گا کیونکہ مبشرات نبوت کی جنس سے نہ ٹھہریں گی۔

بھلا جب ہم یہ فقرہ موزوں کریں کہ ”لم یبق من الناس فی القادیان الا الحمر“ تو کیا یہ معنی ہوں گے کہ آدمیوں میں سے قادیان میں کوئی باقی نہ رہا مگر گدھے رہ گئے یا یہ معنی ہوں گے کہ نہ قادیان میں آدمی رہے نہ گدھے دونوں معنی میں سے کوئی معنی قبول کر کے اطلاع دیجئے تاکہ ہم بحث کریں کہ یہاں استثنیٰ متصل ہے یا منقطع۔

اگر امروہی صاحب نے کتاب شرح ملا کسی استاد سے پڑھی ہوتی تو ضرور سمجھ جاتے کہ ”لا الہ الا اللہ“ میں نہ استثنیٰ متصل ہے نہ منقطع۔ بلکہ لا صفت کا بمعنی غیر ہے یہی ترکیب حدیث بالا کی ہے۔ یعنی نبوت میں سے کوئی شے جو ان احکام کے سوا ہو۔ جن میں مؤمنوں کو جنت خلد اور عیش و دوام کی بشارتیں دی گئی باقی نہیں رہی۔ یہ معنی اس صورت میں ہوں گے جب کہ مبشرات اسم مفعول جمع مونث سالم ہو اور اگر اسم فاعل مراد لیا جائے گا تو یہ معنی ہوں گے کہ نبوت میں سے کوئی شے بجز قرآن وحدیث کے احکام ونصوص کے باقی نہیں رہی جو اعمال صالحہ پر مومنین متقین کو نعم جنت کی بشارتیں دینے والے ہیں۔ کس کا رویاء صالحہ اور کہاں کی پیشینگوئیاں اور الہامات جن کی آڑ میں ہر ایک مکار معلن یا غیر معلن فاجر وفاسق کہہ سکتا ہے کہ میں نے خواب دیکھا کہ مجھے حمل ہے اور اس حمل سے ہاتھی کا پٹھا لمبی سونڈ نکالے پیدا ہوا۔ اور معقد ومبرز حمل ویسا ہی تنگ اور غیر وسیع ہے جیسا پہلے تھا۔

اور ایک سادھو بچہ پیشینگوئی کر سکتا ہے کہ مجھ پر فلاں شخص کے مرنے کا الہام ہوا ہے یا جب ملک میں وبا پھیلے تو وہ یاد دلائے کہ مجھ پر تو پہلے ہی انکشاف ہو چکا ہے کہ جو لوگ مجھے نہ مانیں گے ضرور وباء سے ہلاک ہوں گے۔ ہر ایک مومن کا اس امر پر یقین و اعتقاد ہے کہ قرآن وحدیث سے بڑھ کر کوئی بشارت دینے والا نہیں۔ خواہ ولی ہو یا قطب ہو۔ یا غوث ہو۔ جو مرزا قادیانی کے نزدیک انبیاء ناقص میں داخل ہیں کیونکہ کامل نبوت ان کے نزدیک بھی ختم ہو چکی ہے۔

٤١٦

صفحہ ٧٦٣

حدیث سے ختم نبوت کی جانب اشارہ ہے نہ کہ بقاء نبوت کی جانب، یعنی نبوت باقی نہیں رہی، صرف مبشرات باقی رہ گئیں جو مؤمنوں کو بشارت دینے والی ہیں۔ ذرا یہ بھی غور سے دیکھنا چاہئے کہ حدیث میں لفظ نبوت وارد ہوا ہے یعنی یوں نہیں فرمایا کہ ”لم یبق من الانبیاء الا المبشرون“ لفظ انبیاء اور نبوت میں بہت فرق ہے۔ نبوت کے لفظ سے مرزا قادیانی کا کھونٹا اکھڑتا ہے۔ ہاں بنوت و ابوت کا منارہ ضرور نصب ہوتا ہے۔ پھر اس حدیث میں المبشرات ۔ ذرا امروہی صاحب بھی اپنے دعویٰ کے موافق موقف بیان کریں خدا نے چاہا تو بھاگتے راہ نہ ملے گی۔ مجدد کے سامنے منہ کھولنا آسان نہیں۔

٣ ...... امروہی صاحب کو اضافہ تنخواہ مبارک

مولانا شوکت اللہ میرٹھی!

ہم تو ہمیشہ سے امروہی صاحب کے بھلے میں ہیں کہ خوب چکموتیاں اڑائیں دندنائیں اصحاب الفیل کے ہاتھی کے روٹ سے شکم سیر حصہ پائیں بڑھتی دولت کی خیر منائیں اور پورا پھل پائیں۔ امروہی صاحب آج سے نہیں بلکہ نواب صدیق حسن صاحب مرحوم کے زمانے سے ہمارے لنگوٹئے یار ہیں۔ پس گھی کہاں گیا؟ کھچڑی میں اور کھچڑی پیاروں کے کلیجے میں۔

گرم گرم کھچڑی اور دانہ دار گھی
دوہاتھو ایسے ماروں جانے میرا جی

یہ سن کر ہماری خوشی کی کوئی حد نہیں رہی کہ امروہی صاحب کو پہلے جو ساٹھ روپیہ ماہوار ملتا تھا تو اب المضاعف ہو گیا۔ مبارک سلامت مگر ہماری رائے میں ابھی تک ان کی پوری قدر نہیں کی گئی۔ امروہی صاحب نے تو اپنے کو مرزا قادیانی کے کفارے کی بھینٹ میں چڑھا دیا ہے۔ مرزائی اخباروں میں قلمی جنگ وہ کریں۔ علماء و مشائخ اسلام سے لڑتے وہ پھریں چپت وہ کھائیں۔ مرزا قادیانی کے چٹھی کبوتر وہ بنیں۔

الغرض طویلے کی بلا ہر طرح انہیں کے سر ہے۔ ان تمام بکھیڑوں کو اٹھاتے اور کڑیاں جھیلتے ایک سو روپے ماہوار کچھ بھی نہیں۔ پھر سفر کی مار دھاڑ میں بھی اکثر یہی رہتے ہیں۔ دوسرے حواری تو اپاہج بنے قادیان میں روٹیاں توڑ رہے ہیں۔ معجونیں کھا کھا کر سنڈیا رہے ہیں اور ایسے موٹے ہو گئے ہیں کہ آنکھوں تک چربی چھا گئی ہے۔ بن چکی کے دنبے بن گئے ہیں۔ افغانی بغدے سے کاٹو تو خون تک نہ نکلے گا۔ چربی ہی چربی ہوگی ۔ امروہی صاحب حق نمک تو ادا کر رہے ہیں آپ جانئے جس کا کھائے اسی کا گائیے۔

٤١٧

صفحہ ٧٦٤

ہماری رائے میں تو قادیان سے تمام خوگیر کی بھرتی چھانٹ دینی چاہئے۔ بھلا یہ انسانی صورتیں جو در حقیقت مٹی کی مورتیں ہیں۔ جب لکھنے پڑھنے چلنے پھرنے کے کام کی نہیں تو کس مرض کی دارو ہیں۔ ان سب کا راتب موقوف کر کے رجسٹر میں صرف امروہی صاحب کا نام درج کر دینا چاہئے۔ اور اس بچت کا کچھ حصہ غریب ایڈیٹر الحکم کو بھی ملنا چاہئے۔ مقدمات میں مارا مار سر گاڑی پاؤں پہیے بنائے پھرا۔ مرکز سے اخبار اس کا گرا۔ سیلاب کے ریلے میں گھر اس کا بہا۔ غضب ہے نا ایسے نمک حلال جان نثاروں کی قدر نہ کی جائے اور مفت خوروں اپاہجوں کو جو زندہ پیر کے مجاور بنے بیٹھے ہیں اور دونے ڈکار رہے ہیں۔ راتب اور مسالہ کھلایا جائے۔ غریب ایڈیٹر الحکم پیروی مقدمات کی جھپٹ میں آ کر اس کوٹھے سے واں اس کوٹھے کرنے سے بھی گیا گزرا۔ کیا معنی کہ وہ شحنہ ہند بغل میں دبا کر امروہی صاحب ہی کے پاس آتا ہے کہ اس میں آپ کے مضمون کی چٹھاڑ ہے۔ جواب دیجئے وہ ویسے بھی کسی ضرورت کے وقت امروہی صاحب ہی سے مضمون کی التجا کرتا ہے۔ ملا کی دوڑ مسجد تک۔

الغرض امروہی صاحب مرزائی مشن کے فرد کامل ہیں جو کچھ ان کی قدر افزائی کی جائے کم ہے۔ ان کے بعد اندھیر اور چراغ گل، پگڑی غائب۔ مگر مجدد المائۃ مشرقیہ کے سامنے ان کی سٹی بھی گم ہو جاتی ہے۔ کئی ردے فاضل ان پر چڑھے ہوئے ہیں۔ ایک کا بھی جواب نہیں۔ لچڑ اور پوچ جواب دیں گے تو اضافہ کیسا اصلی راتب بھی بند ہو جائے گا۔

٤ ...... ١٩٠٣ء کا اختتام

مولانا شوکت اللہ میرٹھی !

ارے مربیان و معاونان شحنہ ہند و ضمیمہ ٣٦٠ دن جو کوندتی ہوئی بجلی یا ڈھلتی ہوئی چھاؤں کی طرح گزر گئے۔ کوئی نظر فریب تماشا تھا یا عبرت انگیز طلسم یا خواب و خیال ہم کو تو کچھ معلوم نہیں کیا تھا۔

این صورت وہم طلسم امکان
خوابے است کہ در خواب بہ بینی آنرا

کیا آپ بتا سکتے ہیں کہ ٣٦٠ دن جو حوادث و مصائب کا لشکر اپنے ساتھ لے کر آئے تھے اور دنیا میں شادی و غم، موت وحیات کا ہنگامہ گرم کر رکھا تھا۔ انسانوں کی طبائع میں تلاطم، خیالات میں تموج۔ نفوس میں تہیج ۔ سروں میں ہوا و ہوس کا سودا۔ دلوں میں نفسانی خواہشوں کے

٤١٨

صفحہ ٧٦٥

استیعاب کا غلیان پیدا کر رکھا تھا۔ کسی کو فرمانروائی کے نشے میں چور۔ کسی کو گردن کشی کی تیز برانڈی میں مخمور بنا رکھا تھا۔ اب وہ عدم کے کس تیرہ و تار غار اور فنا کے کس عمیق ظلماتی مغاک میں اتر گئے۔ ان کے ساتھ ہی بڑے بڑے نامیوں کے نشان تک مٹ گئے۔ بڑے بڑے سرکش خاک ہو گئے جن خودسروں، مغروروں کو ہوائے تکبر نے پھلا رکھا تھا وہ بحر فنا میں سر اٹھاتے ہی حبابوں کی طرح بیٹھ گئے ۔

آن قصر کہ با چرخ ہمی زو پہلو
بر در گہہ او شہان نہا وندے رو
دیدیم کہ بر کنگرہ اش فاختہ
فریاد ہے کرد کہ کو کو کو کو

شررانگیزوں، فتنہ بیزوں، شعلہ ریزوں سے یورپ، ایشیا، افریقہ، خالی نہ رہا، لندن میں مسیح، پیرس میں مسیح، سومالی لینڈ میں مہدی، ہندوستان کے موضع قادیان میں جعلی مہدی اور مسیح، مصنوعی نبی اور رسول ایک ہی ذات شریف میں یوں جمع ہو گئے جیسے طاعون اور ہیضہ۔ لیکن جب ٣٦٠ مرسلوں کا لشکر ہی دم زدن میں پامال ہو گئے تو یہ اشرالناس کیونکر جلد پامال اور نیست و نابود نہ ہوں گے۔ ظرف ہی نہ رہا تو مظروف کیا رہے گا۔ نبوت اور مسیحیت اور مہدویت کا دعویٰ کرنے والے کیا رہیں گے۔ جبکہ خدائی کا دعویٰ کرنے والے بھی بہت دنوں نہیں رہے۔ پس ہم کو ان ملعونوں کے خروج پر متعجب نہ ہونا چاہئے۔ برسات میں کس قدر حشرات الارض پیدا ہوتے ہیں مگر کتنی جلد ان کے وجود سے صحن عالم پاک ہو جاتا ہے۔ شحنہ ہند سہیل یمن ہے۔

و تنکر موہم دانا سہیل
طلعت لموت اولاد الزنائی

صاحبو کہتے ہیں کہ دنیا میں ہر شخص اپنے فرائض ادا کرنے آیا ہے مگر افسوس ہے کہ ہم نے تو اپنا کوئی فرض ادا نہیں کیا۔ ہم اختتام سال پر آپ کے سامنے معترف بقصور ہیں کہ اولاً خدائے حقیقی جلت عظمتہ اور ثانیاً خداوندان مجازی یعنی گورنمنٹ اور مربیان و معاونان شحنہ ہند وضمیمہ اکثر ہم اللہ تعالیٰ وضاعف درجاتہم فی الدنیا والدین کی کوئی خدمت ہم سے ادا نہیں ہوسکی۔ آپ نے بندہ نوازیاں کیں۔ آپ نے شحنہ ہند اور ضمیمہ کو آغوش شفقت میں لیا۔ اس کی غور و پرداخت کی۔ دامے درمے، قلمے سخنے، اس کی مدد کی۔ مگر ہم سے نہ شحنہ ہند اور ضمیمہ کی خدمت بن آئی نہ پبلک کی ۔

٤١٩

صفحہ ٧٦٦
قطرہ گر مانم طراوت از کجا سامان کنم
در بگوئم ذرہ ام چون ذرہ ام پرواز کو

شحنہ اور ضمیمہ ہم نے جاری نہیں کیا بلکہ آپ نے جاری کیا ہے۔ ہم آپ کے سرمایہ کے کفیل اور آپ بتوفیق الہی اس کی بقاء اور ترقی کے کفیل، بلکہ اس کے مالک ہیں۔ کیونکہ خریدار ہی ہر شے کے اصلی مالک ہوتے ہیں۔ اگر درحقیقت ہم سے کوئی ایسی خدمت بن پڑی ہے جو آپ کو پسند آئی ہے تو ہم خوشی سے پھولے نہیں سماتے ۔

ہر عیب کہ سلطان بہ پسندد ہنر است

اور جبکہ خدمت گزاری اور ادائے فرض کی ہمت اور ڈھارس بھی آپ ہی نے بندھوائی ہے اور آپ ہی ذمہ دار ہیں تو ہم کیا چیز رہے؟ ہماری تو یہ حالت ہے ۔

نہ شگوفہ ام نہ برگم نہ ثمر نہ سایہ دارم
در حیرتم کہ دہقان بچہ کار کشت مارا

خانۂ احسان آباد باد وتوفیق آں مستزاد۔ الیٰ یوم التناد بحرمة النبی صاحب الرشاد!

٥ ...... مرزائی جماعت

مولانا شوکت اللہ میرٹھی !

مرزا قادیانی اور تمام مرزائی پھولے نہیں سماتے کہ ہماری جماعت روز بروز بڑھ رہی ہے ۔ آج اتنے مسلمان مرزائی ہوئے کل اتنے ۔ لیکن آج کل کون سے جدید مذہب کی جماعت نہیں بڑھ رہی ۔ برٹش آزادی کی برکت نے بہت سے مذاہب پیدا کر دیئے ہیں ۔ جس مذہب میں قیود اور پابندیاں ہیں وہ روز بروز تنزل میں گر رہا ہے اور جس مذہب میں ہوائے نفس کو آزادی ہے وہ بڑھ رہا ہے ۔ لیکن مرزائی مذہب کی تو وہی مثل ہے کہ شیخی اور تین کانے ۔ مرزا قادیانی نے کونسے عیسائی کو مرزائی بنایا کونسے سکھ کو اپنے ہتھے پر لگایا ۔ کونسے آریا کے سر پر مرزائیت کے افسوس کا آرہ چلایا ۔ عیسوی مذہب نے ہزاروں بلکہ لاکھوں مسلمانوں کو عیسائی کر ڈالا ۔ آریا کو دیکھو جو مورکھ اور بت پرست تھے اب ایسے چاتر اور ودھیارتی بن گئے ہیں کہ مسلمانوں کو بھی آریا بنانے کا انہوں نے گھان ڈال دیا ہے اور چوڑھے چماروں تک کو جو مہا نیچ ہیں ۔ اپنے ہتھے میں لانے یا یوں کہو کہ منش بلکہ دیوتا بنانے کے لئے خم ٹھونک رہے ہیں ۔ بس اگر کسی مذہب کی کثرت جماعت

٤٢٠

صفحہ ٧٦٧

حقانیت کی دلیل ہے تو عیسوی اور آریہ مذہب مرزائی دین سے سو گنے اور ہزار گنے زیادہ حق ہے۔

مرزا قادیانی مسیح موعود بنے تھے تو لازم تھا کہ سب سے پہلے ان کو عیسائی قبول کرتے۔ وہ آسمانی بھیڑوں کے چرواہے تھے تو ضرور تھا کہ تمام بھیڑیں جن کی تاک میں بھیڑیئے لگے تھے قادیان کے رمنہ میں میماتی آتیں لیکن بھیڑیں تو مرزا قادیانی کو بھیڑیا سمجھ رہی ہیں کہ وہ ان کو اپنے عیش وعشرت کا چرب لقمہ بنانا چاہتے ہیں۔ اگر مرزا قادیانی تناسخی اوتار تھے تو ٢٢ کروڑ ہنود ان کی مورتی کو ڈنڈوت کرتے اور مندر پر موہن بھوگ چڑھاتے ۔ لیکن کسی ہندو نے اپنے چوکے اور رسوئی کا بچا کھچا آلش بھی مرزا قادیانی کے ماتھے نہ مارا۔ پھر کس بھروسے پر شکرا اور کس برتے پر تتاپانی ۔

بعض باخبر اور خدا ترس مسلمان جو اول اول ان کے دام فریب میں آگئے بالآخر بارقہ توفیق الہی نے ان کو مرزائی دام سے نکالا ۔ شیطانی افسون کو رحمانی عزیمت نے کافور کر دیا۔ اگر مرزا قادیانی حق پر ہوتے تو ایسے سچے مسلمانوں کا ان سے منحرف ہونا اور مرزائی عقیدت و ارادت اور بیعت پر تبرا بھیجنا کیا معنی رکھتا تھا۔ جو مسلمان یا ہندو عیسائی ہو گئے وہ بدستور عیسائی ہیں ۔ انہوں نے اپنے آخری مرکز سے جنبش نہیں کی۔ کیا وجہ ہے کہ لوگ مرزائی مذہب قبول کرنے کے چند روز بعد یکا یک اس سے منحرف ہو جائیں ۔ یا بعض اخوان الشیاطین جن بڑی مکھیوں مثلاً بھنوروں یا تتلیوں پر اپنا مکڑی کا جالا تنا چاہیں وہ اس کو توڑ پھوڑ کر زناٹے اور بھنبھناہٹ کے ساتھ اڑ جائیں وجہ یہی ہے کہ جالا کمزور تھا۔ کمزور مکھیوں کے لئے تو ضرور ہے کہ وہ رزق عنکبوت بنیں ۔

مرزائی جماعت میں یا تو کثرت سے جہال ہیں یا اپنے قدح کی خیر منانے والے چند خود غرض دنیا پرست اپاہج ہیں جو گلے میں ڈھول ڈال کر مرزائیت کی ڈونڈی پیٹ رہے ہیں اور اس کی فیس چکھ رہے ہیں ۔ جہال بدعمال اور عوام کالانعام کسی گنتی میں نہیں۔ ہاں ان سے مرزائیت کے رجسٹر کی خانہ پری ضرور ہوتی ہے۔ ان میں سے بھی اگر حقانی علماء سے کسی کا سابقہ پڑتا ہے اور ان کی تلقین اور نیز توفیق الہی یاور ہوتی ہے تو جلد راہ راست پر آجاتے ہیں۔ ضمیمے میں اس کی بہت سی نظیریں ناظرین کی نظر سے گزر چکی ہیں۔ اور خود ضمیمے نے تین سال کے اندر مرزائیت کا جو کچھ استیصال کیا ہے اور مذہب یقین پر جس قدر راہ راست پر آئے اس کی تفصیل کے لئے دفتر درکار ہے اور اس کا اجر معاونین ضمیمہ ہٰذا و صحیفہ کی قسمت میں لکھا گیا ہے۔ انشاء اللہ تعالیٰ !

٤٢١