احتساب قادیانیت جلد 56 · مولانا خلیل الرحمٰن قادری راولپنڈی
Ahtasab-e-Qadyaniat · Vol. 56 · Maulana Khalil Ur Rehman Qadri
PDF 1

رَدِّ قادیانیت

رسائل

احتساب قادیانیت

جلد ٥٦

عَالَمِی مَجْلِس تَحَفُّظِ خَتْمِ نُبُوَّۃ

حضوری باغ روڈ، ملتان - فون: 061-4783486

PDF 2

ردّ قادیانیت

رسائل

احتساب قادیانیت

٥٦

عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت

صفحہ ٣

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

نام کتاب : احتساب قادیانیت جلد چھپن (٥٦)

مصنفین : حضرت مولانا خلیل الرحمن قادری راولپنڈی حضرت مولانا محمد رفیق خان پسروری حضرت مولانا ابوالقاسم رفیق دلاوری حضرت مولانا عبد القدیر صمدانی حضرت مولانا عنایت اللہ لاہوری جناب قاضی خلیل احمد سابق قادیانی عبد الرزاق مہتہ قادیانی جناب مرزا محمد حسین سابق قادیانی خواجہ محمد اسماعیل لندنی جھوٹا مدعی نبوت جناب محمد صالح نور سابق قادیانی جناب سید انور رکن حقیقت پسند پارٹی حقیقت پسند پارٹی قادیانی جناب راحت ملک سابق قادیانی

صفحات : ٦٣٢ قیمت : ٣٥٠ روپے مطبع : ناصر زین پریس لاہور طبع اوّل : اپریل ٢٠١٤ء ناشر : عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت حضوری باغ روڈ ملتان Ph: 061-4783486

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

فہرست رسائل مشمولہ...... احتساب

صفحہ ٣

بسم الله الرحمن الرحیم

فہرست رسائل مشمولہ...... احتساب قادیانیت جلد ٥٦

جھوٹا مدعی نبوت

صفحہ ٤ ٥

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ!

عرض مرتب

الحمدللہ وکفیٰ وسلام علیٰ عبادہ الذین اصطفٰی ۔ اما بعد !

اللہ رب العزت کے فضل و کرم سے احتساب قادیانیت کی جلد نمبر ٥٦ پیش خدمت ہے:

یہ چار رسالے ہیں۔ پہلے رسالہ کا سن تالیف معلوم نہ ہو سکا۔ دوسرے کا سن تاریخ تالیف، ٨/ جون ١٩٨٦ء، تیسرے اور چوتھے کا ٢١/ نومبر ١٩٨٨ء ہے۔ مصنف نے خود تعارف دیدیا ہے، دیکھ لیا جائے گا۔

سیالکوٹ کے خطیب تھے۔ یہ کتاب دسمبر ١٩٥٠ء میں شائع ہوئی۔ اس رسالہ میں چالیس احادیث مبارکہ ختم نبوت کے مسئلہ پر جمع کی گئی ہیں۔

دلاوریؒ، حضرت شیخ الہندؒ کے شاگرد تھے۔ آپ کی رد قادیانیت پر معروف زمانہ کتابیں ’’رئیس قادیان‘‘ اور ’’ائمہ تلبیس‘‘ جسے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت نے علیحدہ بار بار شائع کیا۔ وہ احتساب قادیانیت میں شامل نہیں ہیں۔ یہ کتاب بالکل علیحدہ ہے۔ ادارہ الصدیق ملتان سے ہمارے مخدوم حضرت مولانا مفتی محمد عبداللہ نے اولاً اسے اپنے ماہنامہ ’’الصدیق‘‘ ملتان میں قسط وار شائع کیا۔ پھر کتابی شکل میں شائع کیا۔ اب احتساب کی اس جلد میں شائع کرنے کی سعادت حاصل کر رہے ہیں۔

١٠/ شعبان ١٣٥٤ھ کو ’’من انصار القادیانیین‘‘ مضمون شائع ہوا۔ جس کا حضرت مولانا عبدالقدیر صدائی نے پہلے اخبار مجاہدین میں پھر اس پمفلٹ کے ذریعہ ترجمہ شائع کیا۔ ساٹھ سال بعد دوبارہ اسے اب احتساب قادیانیت کی اس جلد میں محفوظ کرنے کی سعادت حاصل کر رہے ہیں۔

مولانا عنایت اللہ صاحب نے یہ رسالہ ١٨/ اکتوبر ١٩٣٢ء ک

تھے۔ قادیانیت کے ترک کرنے کے اسباب اس رسال

بدنصیب قادیانی ہوا۔ اس کا نام بھائی عبدالرحمٰن تھا ب مہتہ صاحب مرزا محمود قادیانی کی خلوتوں اور جلوتوں کا گ فیض دیتا رہا۔ اس کے پاس مرزا محمود کے خاندان کی خ نے ان کو حاصل کرنے کے لئے اوچھے ہتھکنڈے اس نے وہاں بھی اس کو دم نہ لینے دیا۔ اس نے مرزا ناصر دی۔ بعد میں اسے پمفلٹ کی شکل میں شائع کر د قادیانیت کے متعلق کیا نظریہ تھا؟ اس کا جواب یہ پمف خلاف ایک مرید کا استغاثہ مرزائیوں کی روحانی شکارگا کی دعوت دیجئے۔ یہ درخواست ١٤/ دسمبر ١٩٧٩ء کو دی رہے ہیں۔

دوسرے گرو مرزا محمود کی اولاد کے اتالیق تھے۔ د ہوئے۔ پھر نہان خانہ کے عینی گواہ بھی ہوئے۔ پھر ا طرح عیاں ہو گیا۔ یہ قادیانیت سے تائب ہوئے ا تاجر کتب کشمیری بازار سے شائع کرائی۔ زہے نصیب مرزا قادیانی وعلى آله واولاده لا تعد ولا

مرزا غلام قادیانی کے دعویٰ نبوت کی جرأت احمقانہ

صفحہ ٥

مولانا عنایت اللہ صاحب نے یہ رسالہ ١٨؍اکتوبر ١٩٣٣ء کو مرتب کیا۔

تھے۔ قادیانیت کے ترک کرنے کے اسباب اس رسالہ میں بیان کئے۔

بدنصیب قادیانی ہوا۔ اس کا نام بھائی عبدالرحمن تھا۔ اس کے بھائی کا نام ”عبدالرزاق مہتہ“ تھا۔ مہتہ صاحب مرزا محمود قادیانی کی خلوتوں اور جلوتوں کا محرم راز اور شریک کار تھا۔ خود مرزا محمود کو بھی یہ فیض دیتا رہا۔ اس کے پاس مرزا محمود کے خاندان کی اخلاق باختگی کے گواہ یعنی فوٹو تھے۔ مرزا ناصر نے ان کو حاصل کرنے کے لئے اوچھے ہتھکنڈے استعمال کئے۔ یہ کراچی چلا گیا۔ مرزا کی قیادت نے وہاں بھی اس کو دم نہ لینے دیا۔ اس نے مرزا ناصر کے متعلق قادیانی قیادت کو ایک درخواست دی۔ بعد میں اسے پمفلٹ کی شکل میں شائع کر دیا۔ یہ آدمی آخر تک قادیانی رہا۔ قادیانی کا قادیانیت کے متعلق کیا نظریہ تھا؟ اس کا جواب یہ پمفلٹ ہے۔ اس کا مکمل نام (پاپائے ربوہ کے خلاف ایک مرید کا استغاثہ مرزائیوں کی روحانی شکار گاہ) پڑھئے اور قادیانی کمینگی پر قادیانیوں کو ماتم کی دعوت دیجئے۔ یہ درخواست ١٤؍نومبر ١٩٧٩ء کو دی گئی۔ پھر پمفلٹ چھپا۔ اب یہاں ہم محفوظ کر رہے ہیں۔

دوسرے گرو مرزا محمود کی اولاد کے اتالیق تھے۔ درون خانہ کے رازہائے سربستہ سے واقف ہوئے۔ پھر نہان خانہ کے عینی گواہ بھی ہوئے۔ پھر ان پر مرزا قادیانی کا پورا گھرانہ الف ننگی کی طرح عیاں ہو گیا۔ یہ قادیانیت سے تائب ہوئے۔ اکتوبر ١٩٧٨ء میں یہ کتاب شیخ محمد اشرف تاجر کتب کشمیری بازار سے شائع کرائی۔ زہے نصیب! آپ بھی ملاحظہ کریں۔ لعنت بر مرزا قادیانی وعلیٰ آلہ واولادہ لا تعد ولا تحصیٰ!

مرزا غلام قادیانی کے دعویٰ نبوت کی جرأت احمقانہ اور روش باغیانہ کے بعد بہت سے قادیانیوں

صفحہ ٧

نے بھی اس ملعون کی دیکھا دیکھی جھوٹی نبوت کے دعوے کئے۔ ان میں ایک خواجہ محمد اسماعیل تھا۔ جو پہلے قادیان میں تھا۔ پھر لندن چلا گیا۔ یہ خود کو النبی خواجہ محمد اسماعیل (المسیح الموعود) کہتا تھا۔ اس ملعون نے اپنی جماعت کا نام ”السابقون“ رکھا اور منڈی بہاء الدین میں دفتر بھی کھولا۔ اس رسالہ میں یہ مرزا قادیانی کو مہدی اور خود کو مسیح موعود و نبی قرار دیتا ہے۔ ویت نام کی جنگ، چرچل کو موت کو اپنی پیش گوئیاں قرار دیتا ہے۔ اس نے چناب نگر (ربوہ) کے قاضی نذیر قادیانی دجال کے جواب میں یہ رسالہ لکھا۔ پڑھیں کہ ایک ملعون قادیانی کا ملعون مرید لندنی، اس کے دوسرے مرید قاضی ربوہ کو کاٹنے کے لئے دانت تیز کئے ہوئے ہے۔ ہماری طرف سے تینوں (مرزا قادیانی، اسماعیل لندنی، نذیر قاضی) کی حیثیت باطل پر لعنت۔ اس لئے ملعون کے رسالہ کو شائع کیا کہ ان حالات سے قارئین باخبر ہوسکیں کہ مرزا ملعون کے دعوٰی نبوت کے بعد کیا کیا لعنتیں لے کر ملعون دنیا میں آئے۔

نور۔ مرزا محمود کے زمانہ میں اس کے گھناؤنے اور کمینے کردار کے باعث کچھ لوگ مرزا محمود سے متنفر ہوگئے۔ انہوں نے ایک جماعت بھی ”احمدیہ حقیقت پسند پارٹی“ بنائی۔ یہ قادیانی تھے۔ لیکن قادیانی خلیفہ کے مخالف تھے۔ اسی پارٹی کے ایڈیشنل سیکرٹری محمد صالح نور تھے جنہوں نے یہ رسالہ لکھا۔ اس میں مرزا محمود کے اختلافات قلمبند کئے۔

ولی عہد مرزا محمود، عیار بن عیار۔ مکار بن مکار تھا۔ لوگوں کو ٹھگنا اسے مرزا قادیانی سے وراثت میں ملا تھا۔ وہ پرلے درجے کا بدکار، و بددیانت تھا۔ اس کی بددیانتی پر دشمن تو دشمن خود قادیانی افراد بھی چلا اٹھے۔ ایک قادیانی کا اپنے خلیفہ کی مالی بددیانتیوں کی داستان الم ۔ جسے صنم نے بھی سنا تو بت خانے میں پکار اٹھا۔ ہری، ہری۔ اس کی تفصیلات کا نام یہ رسالہ ہے۔

مرزا قادیانی کی کتابوں کی رو سے اس کے بیٹے کو پرکھنے کے لئے یہ کتابچہ خود قادیانیوں نے تحریر کر کے مرزا محمود کی بولتی بند کر دی اور اس کے منہ میں وہ ..... رکھ دیا۔

بعد دیگرے بدکرداری کے واقعات کو دیکھ کر قادیانی جماع تھے جو عقیدہ قادیانی تھے۔ مگر مرزا محمود کے خلاف تھے۔ ا کام کرنا شروع کیا۔ اس کی ایڈہاک کمیٹی میں بشیر رازی، ا ملک عزیز الرحمان، محمد یوسف ناز، عبدالمجید اکبر، صالح نور،

یہ کتابچہ مرتب کیا۔ ١٢؍ ستمبر ١٩٥٧ء کو یہ شائع ہوا تھا۔ اب میں اسے محفوظ کر رہے ہیں۔

یہ دونوں رسائل جناب راحت ملک کے ہیں۔ گجرات کی قادیانی فیملی سے تعلق رکھتے تھے۔ پورا خا باپ عبدالرحمٰن خادم تھا۔ جو قادیانی عقائد ونظریات کا پشتیبان رب کی شان قدرت ہر لمحے نرالی ہے۔ پورا خاندان قادیا کے گر سکھانے والا تھا۔ دوسرے بھائی کو اللہ رب العزت بخیہ ادھیڑنے کے لئے کھڑا کر دیا۔ ”مرزا محمود ہوش میں آؤ“ میں محمود کو نتھ ڈالنے کی کوشش کی۔ مرزا محمود کو نتھ ڈالنا اور شتر اس پمفلٹ سے مرزا محمود دولتیاں چلانے لگا۔ دنیا ے زبان کھولتے ہی غلاظت کے ڈھیر نکلنے شروع ہو جاتے تھے میں ہے۔ مرزا محمود بد زبانی پر اتر آیا تو جناب راحت ملک نے ”مرزا محمود ہوش میں آؤ“ کی شرح لکھنی شروع کر دی۔ جس کا نام ”ربو انہوں نے مرزا محمود کے تن بدن سے اس کے لباس کو ا ایسی روش اختیار نہیں کی کہ جس سے اسے فحاشی کا مرتکب میں ریکارڈ ہو جانا بہت ٹھیک ہو گیا کہ مرزا محمود ایسے با ربوہ کا مذہبی آمر“ کا ستمبر ١٩٥٨ء میں دوسرا ایڈیشن شائع ہو ہے۔ نصف صدی بعد یہ رسائل دوبارہ چھپ رہے ہی

صفحہ ٧

بعد دیگرے بدکرداری کے واقعات کو دیکھ کر قادیانی جماعت میں انتشار پیدا ہوا۔ کئی آدمی ایسے تھے جو عقیدۃً قادیانی تھے۔ مگر مرزا محمود کے خلاف تھے۔ انہوں نے حقیقت پسند پارٹی کے نام پر کام کرنا شروع کیا۔ اس کی ایڈہاک کمیٹی میں بشیر رازی، صلاح الدین ناصر، چوہدری عبدالحمید، ملک عزیز الرحمان، محمد یوسف ناز، عبدالمجید اکبر، صالح نور وغیرہ ایسے لوگ شامل تھے۔ انہوں نے یہ کتابچہ مرتب کیا۔ ١٢؍ ستمبر ١٩٥٧ء کو یہ شائع ہوا تھا۔ اب پھر ستاون سال بعد احتساب کی اس جلد میں اسے محفوظ کر رہے ہیں۔

یہ دونوں رسائل جناب راحت ملک کے ہیں۔ جن کا اصل نام ملک عطاء الرحمن تھا۔ یہ گجرات کی قادیانی فیملی سے تعلق رکھتے تھے۔ پورا خاندان قادیانی تھا۔ ان کے بھائی ملک عبدالرحمن خادم تھا۔ جو قادیانی عقائد و نظریات کا پشتیبان تھا۔ احمدیہ پاکٹ بک کا مصنف تھا۔ اللہ رب کی شان قدرت ہر لمحے نرالی ہے۔ پورا خاندان قادیانی۔ ایک بھائی قادیانیت کو دجل و فریب کے گر سکھانے والا تھا۔ دوسرے بھائی کو اللہ رب العزت نے سید بشیر یعنی رسوائے عالم مرزا محمود کے بخئے ادھیڑنے کے لئے کھڑا کر دیا۔ ”مرزا محمود ہوش میں آؤ“ یہ مختصر چند صفحات کا پمفلٹ لکھ کر مرزا محمود کو نتھ ڈالنے کی کوشش کی۔ مرزا محمود کو نتھ ڈالنا اور خنزیر پر سواری کرنے سے کیا کم مشکل امر تھا۔ اس پمفلٹ سے مرزا محمود دولتیاں چلانے لگا۔ دنیائے قادیانیت جانتی ہے کہ مرزا محمود کے منہ کھولتے ہی غلاظت کے ڈھیر نکلنے شروع ہو جاتے تھے۔ ظاہر ہے کہ برتن سے وہی نکلے گا جو اس میں ہے۔ مرزا محمود بدزبانی پر اتر آیا تو جناب راحت ملک نے ان پر اپنے رسالہ ”مرزا محمود ہوش میں آؤ“ کی شرح لکھنی شروع کر دی۔ جس کا نام ”ربوہ کا مذہبی آمر“ ہے۔ ان دونوں رسائل میں انہوں نے مرزا محمود کے تن بدن سے اس کے لباس کو تار تار کر دیا ہے۔ لیکن ان کے قلم نے کہیں بھی ایسی روش اختیار نہیں کی کہ جس سے اسے فحاشی کا مرتکب قرار دیا جا سکے۔ دونوں رسائل کا اس جلد میں ریکارڈ ہو جانا بہت ٹھیک ہو گیا کہ مرزا محمود ایسے رذیل کی رذالت بوتل میں بند ہو گئی۔ ”ربوہ کا مذہبی آمر“ کا ستمبر ١٩٥٨ء میں دوسرا ایڈیشن شائع ہوا۔ جب کہ دوسرا پمفلٹ اس سے بھی قبل کا ہے۔ نصف صدی بعد یہ رسائل دوبارہ چھپ رہے ہیں۔

صفحہ ٨

غرض احتساب قادیانیت کی جلد ہذا (یعنی چھپن جلد) میں ذیل کے حضرات کے رسائل جمع ہو گئے۔

...................................................................

گویا ١٣ افراد کے کل ١٨ رسائل و کتب

اس جلد میں شامل اشاعت ہیں۔ حق تعالیٰ شرف قبولیت سے سرفراز فرمائیں۔ آمین! ان رسائل کے لکھنے والے تیرہ حضرات میں سے آٹھ حضرات ایسے ہیں جن کا قادیانیت سے تعلق تھا۔ جو ان رسائل کے تحریر کرتے وقت بھی قادیانی یا سابق قادیانی تھے۔ امید ہے کہ مزید احتساب قادیانیت کی دو جلدیں بھی شاید قادیانیت زدہ حضرات کی قادیانیت کی تردید پر ہو جائیں۔ اچھا جو اللہ رب العزت کو منظور ہوگا۔

محتاج دعاء: فقیر اللہ وسایا! ١٥/ جمادی الثانی ١٤٣٥ھ، بمطابق ١٦/اپریل ٢٠١٤ء

PDF 10

انا خاتم النبیین لا نبی بعدی

سیدنا حضرت محمد مصطفیٰ احمد مجتبیٰ صلی اللہ علیہ وسلم

ختم نبوت

پر

مستند دلیل

مولانا خلیل الرحمٰن قادری

صفحہ ١١

بسم الله الرحمن الرحيم

ختم نبوت پر مستند دلیل

آیت مبارکہ ”خاتم النبیین“ اور حدیث شریف ”لا نبی بعدی“ کی دلیل میں مندرجہ ذیل متفق علیہ حدیث شریف بطور چیلنج تمام قادیانی جماعتوں کو بھیجی گئی تھی۔ صحیح بخاری شریف جلد سوم باب ١٢٥ حدیث نمبر ٢٢٦٣ اور صحیح مسلم شریف جلد اوّل اثبات الشفاعة واخراج الموحدين من النار ۔

ترجمہ ...... معاذ بن فضالہ ہشام قتادہ حضرت انس سے روایت کرتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ مومنوں کو قیامت کے دن اکٹھا کرے گا تو لوگ کہیں گے کہ کاش ہم اپنے پروردگار کی خدمت میں شفاعت کریں تاکہ ہمیں اس جگہ سے نکال کر آرام دے۔ چنانچہ لوگ حضرت آدم علیہ السلام کی خدمت میں آئیں گے اور کہیں گے کہ آدم علیہ السلام کیا آپ لوگوں کی حالت نہیں دیکھ رہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کی تخلیق اپنے ہاتھ سے کی اور فرشتوں سے آپ کو سجدہ کرایا اور آپ کو تمام چیزوں کے نام سکھائے ہمارے لئے ہمارے رب کے پاس شفاعت کیجئے تاکہ ہمیں اس موجودہ حالت سے نجات ملے، وہ کہیں گے کہ میں اس قابل نہیں ہوں۔ اور ان کے سامنے اپنی خطاء بیان کریں گے جو ان سے سرزد ہوئی تھی بلکہ تم حضرت نوح علیہ السلام کے پاس جاؤ کہ وہ سب سے پہلے رسول ہیں جن کو اللہ نے زمین والوں کے پاس بھیجا ہے۔

چنانچہ وہ حضرت نوح علیہ السلام کے پاس آئیں گے۔ وہ کہیں گے کہ میں اس لائق نہیں ہوں اور ان کے سامنے اپنی خطاء بیان کریں گے اور کہیں گے کہ تم موسیٰ علیہ السلام کے پاس جاؤ۔ اللہ نے ان کو تورات دی اور ان سے ہم کلام ہوا۔ لوگ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے پاس آئیں گے تو وہ کہیں گے۔ میں اس لائق نہیں اور اپنی خطا کا تذکرہ کریں گے۔ لیکن تم حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے پاس جاؤ کہ اللہ کے بندے اور رسول ہیں اور کلمہ اور روح ہیں اور لوگ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے پاس آئیں گے تو وہ کہیں گے کہ میں اس لائق نہیں۔ تم محمد ﷺ کے پاس جاؤ۔ وہ ایسے بندے ہیں جن کے اگلے اور پچھلے گناہ بخشے جاچکے ہیں۔ لوگ میرے پاس

٢

آئیں گے۔ ( صحیح مسلم شریف میں یہ بھی ہے کہ لوگ آپ چلوں گا اور اپنے رب سے حاضری کی اجازت چاہوں گا خ مجھے حاضری کی اجازت دی جائے گی جب می میں گر پڑوں گا اور اللہ تعالیٰ مجھے اس سجدے کی حال میں چھو گا۔ پھر اللہ تعالیٰ مجھے فرمائے گا کہ اے محمد ﷺ سر اٹھاؤ۔ ا سفارش کرو قبول کروں گا۔

استدلال ....... مندرجہ بالا خبر میں حشر کے میدان م سلسلہ حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر آنحضرت محمد ر آپ کے بعد کسی اور نبی کا ذکر ہی نہیں ہے۔ لہٰذا آیت ”لا نبی بعدی“ کا یہی مطلب ہے کہ آنحضرت محمد ر نبی کسی قسم کا بھی نہیں ہے۔ اگر ہوتا تو اس کا بھی ذکر کیا جاتا صاحب کا مزعومہ نبوت کا دعویٰ والہامات جن کی کثرت ک دیتے ہیں اور ان کی اور ان کے پیروکاروں کی بے جا تاو قابل رد ہیں۔

مندرجہ بالا چیلنج کے سلسلے میں (قادیانیوں کی ط ہیں۔ مگر کوئی قادیانی بھی جوابات میں استدلال کو رد نہیں ک دیتے ہیں۔ حالانکہ بات خاتم النبیین اور لا نبی بعدی ک قادیانی کی سنت ادا کرتے ہوئے ناشائستہ الفاظ بھی لکھے ہ ہے۔ جواب دینے کے قابل جو اعتراضات ہوئے ہیں۔ بخشی کے لئے درج ذیل کئے جاتے ہیں۔

خط نمبر ٤...... کیا حدیث شفاعت میں آنحضرت ﷺ سے پ نبیوں کی نبوت کے بھی منکر ہیں۔ جن کا ذکر نہیں کیا گیا۔

جواب...... اعتراض کوئی وزن نہیں رکھتا کیونکہ اگر آنحضر

٣

صفحہ ١١

آئیں گے۔ (صحیح مسلم شریف میں یہ بھی ہے کہ لوگ آپ ﷺ کو خاتم الانبیاء بھی کہیں گے) میں چلوں گا اور اپنے رب سے حاضری کی اجازت چاہوں گا۔ مجھے حاضری کی اجازت دی جائے گی جب میں اپنے پروردگار کو دیکھوں گا تو سجدے میں گر پڑوں گا اور اللہ تعالیٰ مجھے اس سجدے کی حال میں چھوڑ دے گا۔ جس قدر مجھے چھوڑنا چاہے گا۔ پھر اللہ تعالیٰ مجھے فرمائے گا کہ اے محمد ﷺ سر اٹھاؤ۔ اور کہو سنا جائے گا۔ مانگو دیا جائے گا۔ اور سفارش کرو قبول کروں گا۔

استدلال....... مندرجہ بالا خبر میں حشر کے میدان کا ذکر ہے اور لوگوں کے رجوع ہونے کا سلسلہ حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر آنحضرت محمد رسول اللہ ﷺ پر منتج ہو جاتا ہے۔ کیونکہ آپ کے بعد کسی اور نبی کا ذکر ہی نہیں ہے۔ لہٰذا آیت مبارکہ خاتم النبیین اور حدیث شریف ”لا نبی بعدی“ کا یہی مطلب ہے کہ آنحضرت محمد رسول اللہ ﷺ کے بعد قیامت تک کوئی نیا نبی کسی قسم کا بھی نہیں ہے۔ اگر ہوتا تو اس کا بھی ذکر کیا جاتا۔ پس ثابت ہوا کہ مرزا غلام احمد قادیانی صاحب کا مزعومہ نبوت کا دعویٰ والہامات جن کی کثرت کی وجہ سے وہ ان کو بحکم الٰہی نبوت کا درجہ دیتے ہیں اور ان کی اور ان کے پیروکاروں کی بے جا تاویلات سب کی سب باطل ٹھہرتی ہیں اور قابل رد ہیں۔

مندرجہ بالا چیلنج کے سلسلے میں (قادیانیوں کی طرف سے) صرف آٹھ جوابات آئے ہیں۔ مگر کوئی قادیانی بھی جوابات میں استدلال کو رد نہیں کر سکا ہے۔ زیادہ تر مسیح موعود پر جوابات دیئے ہیں۔ حالانکہ بات خاتم النبیین اور لا نبی بعدی کی تھی۔ کچھ صاحبان نے اپنے پیشوا مرزا قادیانی کی سنت ادا کرتے ہوئے ناشائستہ الفاظ بھی لکھے ہیں۔ جن کو اللہ عزوجل کے سپرد کر دیا گیا ہے۔ جواب دینے کے قابل جو اعتراضات ہوئے ہیں۔ ان کے جوابات قارئین کرام کی اطلاع بخشی کے لئے درج ذیل کئے جاتے ہیں۔

خط نمبر ٤...... کیا حدیث شفاعت میں آنحضرت ﷺ سے پہلے سب نبیوں کا ذکر ہے تو کیا آپ ان نبیوں کی نبوت کے بھی منکر ہیں۔ جن کا ذکر نہیں کیا گیا۔

جواب...... اعتراض کوئی وزن نہیں رکھتا کیونکہ اگر آنحضرت ﷺ سے قبل کے انبیاء علیہم السلام کا

٣

صفحہ ١٣

ذکر نہیں ہے تو کوئی مضائقہ نہیں ہے۔ کیونکہ قرآن حکیم نے ہم کو وہ نام بتا دیئے ہیں اور ہمارا ان سب پر پختہ ایمان ہے۔ لہٰذا ان کے نام حدیث شریف میں نہ ہونے سے ہمارے ایمان پر کوئی زد نہیں پڑتی ہے۔ لیکن مرزا قادیانی کا ذکر تو نہایت ضروری تھا۔ اس وجہ سے کہ اول تو مرزا قادیانی نے بزعم خود یہ دعویٰ کیا کہ: ”اللہ تعالیٰ نے مرزا قادیانی کو صدہا دفعہ نبی رسول مرسل اور جری اللہ فی حلل الانبیاء کہا ہے۔“ (ایک غلطی کا ازالہ ص ١، خزائن ج ١٨ ص ٢٠٦، ٢٠٧) اور دوم یہ کہ آنحضرت ﷺ نے ایک ہی صحیح مسلم شریف کی حدیث میں مرزا قادیانی کو چار مرتبہ نبی اللہ فرمایا ہے۔ (معلوم ہونا چاہئے کہ حدیث شریف متعلقہ میں عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کے لئے نبی اللہ کہا گیا ہے) مرزا قادیانی کے ان دونوں دعاوی کا رد اس آیت مبارکہ سے بالکل اور مکمل طور پر ہو جاتا ہے۔ ”ولقد ارسلنا رسلاً من قبلك منهم من قصصنا عليك ومنهم من لم نقصص عليك (المومن آیت ٧٨)“ اور بے شک ہم نے آپ سے پہلے بہت سے رسول بھیجے جن میں سے بعض تو وہ ہیں کہ ان کا قصہ آپ سے بیان کر دیا ہے۔ اور بعض وہ ہیں جن کا ہم نے آپ سے قصہ بیان نہیں کیا۔ اس آیت مبارکہ میں اول تو آنحضرت ﷺ سے پہلے رسولوں کا ذکر ہے۔ بعد میں آنے والے کسی نبی رسول مرسل یا جری اللہ فی حلل الانبیاء کا ذکر باطل نہیں ہے۔ تو پھر نبی اللہ عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کے الفاظ سے یہ تاویل کرنا کہ آنحضرت محمد رسول اللہ ﷺ نے سوائے حضرت عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کے کسی اور کو (مرزا قادیانی) نبی اللہ کہا ہے۔ بالکل لغوبات ہو جاتی ہے کیونکہ جب اللہ تعالیٰ نے ہی مرزا قادیانی کا ذکر قرآن حکیم میں نہیں کیا تو پھر آنحضرت محمد رسول اللہ ﷺ کو مرزا قادیانی کا علم کیسا ہو سکتا تھا اور آپ ﷺ مرزا قادیانی کو نبی اللہ کیسے کہہ سکتے تھے۔ کیونکہ بمصداق آیت مبارکہ ”وما ينطق عن الهوى ان هو الا وحی يوحیٰ “ جب مرزا قادیانی کے بارے میں وحی الٰہی نہیں آئی تو پھر اس بات کو آنحضرت محمد رسول اللہ ﷺ سے منسوب کرنا کہ آپ ﷺ نے مرزا قادیانی کو چار مرتبہ نبی اللہ فرمایا ہے کذب بیانی کے سوا اور کیا ہو سکتا ہے؟ جس کا انجام دوزخ میں اپنا ٹھکانا بنانا ہے۔

میں کم از کم گیارہ احادیث مختلف راویان سے درج ہیں۔ لیکن صرف حضرت نواس بن سمعانؓ کی ایک بہت طویل البیان حدیث میں تین باتیں بقیہ دیگر احادیث سے زائد بیان کی گئی ہیں۔ م

نے خود پر وحی الٰہی نازل ہونے کا جواز قائم کیا۔

مرزا قادیانی کو نبی ماننے کا جواز قائم کیا گیا۔

پر مرزا قادیانی کے ساتھیوں کو صحابہ کہنے کا جواز قا احادیث کو چھوڑ کر خبر احاد کو دلیل بنالیا گیا ہے۔ پھر بیان فرمائی ہوتیں تو یہ کس طرح ممکن ہے کہ اور دیگر کہ حضرت نواس ابن سمعانؓ نے از خود از راہ احترا حضرت عیسیٰ بن مریم علیہ السلام تھے نہ کہ مرزا غلام

حدیث مندرجہ چیلنج میں مرزا قادیانی کا کہ قادیانی عقیدے کے مطابق مرزا قادیانی پر ایما دائرہ اسلام سے خارج کر دیتا ہے جس سے معلوم ہو اللہ “ جو کہ چودہ سو برس سے پڑھنے والے کے اسل وہ کلمہ بھی اس کو اسلام میں ٹھہرنے نہیں دیتا ہے۔ کے لئے اب ناقص ہو گئی ہے۔ (نعوذ باللہ)

اور قادیانی عقیدے کے مطابق کروڑو سب کے سب دائرہ اسلام (اللہ کے دین) سے

یہاں پر منشی ظہیر الدین صاحب کی ایک چشم دید حالات کی بابت لکھ کر دفتر پیغام صلح میں بھیجی ہے، کے لئے لکھی جاتی ہے۔ ”چوتھی بات جو میں نے و حیران رہ گیا۔ بعض احباب نے ”لا الہ الا اللہ احم ہوئے اس کو پڑھنے اور بطور احمدی عقائد کے خلاص ٥

صفحہ ١٣

نے خود پر وحی الٰہی نازل ہونے کا جواز قائم کیا۔

مرزا قادیانی کو نبی ماننے کا جواز قائم کیا گیا۔

پر مرزا قادیانی کے ساتھیوں کو صحابہ کہنے کا جواز قائم کیا گیا۔ کتنے ظلم کی بات ہے کہ کثیر التعداد احادیث کو چھوڑ کر خبر احاد کو دلیل بنالیا گیا ہے۔ پھر اگر یہ تینوں زائد باتیں آنحضرت ﷺ نے بیان فرمائی ہوتیں تو یہ کس طرح ممکن ہے کہ اور دیگر راویان نے انہیں سنیں بدیں وجہ یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ حضرت نواس ابن سمعانؓ نے از خود از راہ احترام یہ الفاظ زائد کر دیئے ہیں۔ کیونکہ ان کا مقصود حضرت عیسیٰ بن مریم علیہ السلام تھے نہ کہ مرزا غلام احمد قادیانی۔

حدیث مندرجہ چیلنج میں مرزا قادیانی کا ذکر اس لئے بھی ضروری اور نہایت ہی اہم تھا کہ قادیانی عقیدے کے مطابق مرزا قادیانی پر ایمان نہ لانا خواہ ان کو دیکھا بھی نہ ہو۔ مسلمان کو دائرہ اسلام سے خارج کر دیتا ہے جس سے معلوم ہوا کہ کلمہ طیبہ ”لا الہ الا الله محمد رسول الله“ جو کہ چودہ سو برس سے پڑھنے والے کے اسلام میں داخل ہونے کی سند مانی جاتی ہے اب وہ کلمہ بھی اس کو اسلام میں ٹھہرنے نہیں دیتا ہے۔ بالفاظ دیگر محمد رسول اللہ ﷺ کی تصدیق ایمان کے لئے اب ناقص ہوگئی ہے۔ (نعوذ باللہ)

اور قادیانی عقیدے کے مطابق کروڑوں مسلمان جو مرزا قادیانی پر ایمان نہیں رکھتے وہ سب کے سب دائرہ اسلام (اللہ کے دین) سے خارج ہوگئے ہیں۔ کلمہ کے ذکر کے سلسلے میں یہاں پر منشی ظہیر الدین صاحب کی ایک چشم دید شہادت جو انہوں نے سالانہ جلسہ قادیان کے حالات کی بابت لکھ کر دفتر پیغام صلح میں بھیجی ہے۔ اس میں سے کلمہ کے متعلق قارئین کی آگاہی کے لئے لکھی جاتی ہے۔ ”چوتھی بات جو میں نے جلسہ میں دیکھی تھی وہ اختلاف عقائد تھا اور میں حیران رہ گیا۔ بعض احباب نے ”لا الہ الا الله احمد جری اللہ“ کو درست اور صحیح قرار دیئے ہوئے اس کو پڑھنے اور بطور احمدی عقائد کے خلاصہ کے تسلیم کرنے کا اقرار کیا۔ بلکہ بعض سے میں

٥

صفحہ ١٥

نے یہ بھی سنا کہ ”لا اله الا الله محمد رسول اللہ“ محمدی کلمہ ہے اور احمدی کلمہ ”لا اله الا الله احمد جری الله“ بہت سے احباب میں نے دیکھے جو حضرت مرزا قادیانی مسیح موعود کے حق میں صاحب شریعت نبی کہنے سے بھی نہیں جھجکتے تھے۔ بعضوں نے تو حضرت مسیح موعود کے الہام ”واتخذوا من مقام ابرهیم مصلیٰ“ سے اس استدلال کو قبول کر لیا کہ اب احمدیوں کا قبلہ نماز قادیان ہونا چاہیے۔ اس حلیہ میں مجھے ایک بھی ایسا فرد قادیان میں نہیں ملا جو حضرت مسیح موعود کو اسی طرح کا رسول اللہ اور نبی اللہ نہ مانتا ہو جس طرح کہ خدا کے فرستادے حضرت موسیٰ علیہ السلام، حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ خاتم الانبیاء تھے۔ (الہدیٰ نمبر ٢٤ نمبر ٢٧، مؤلفہ حکیم محمد حسین قادیانی لاہوری، ماخذ پروفیسر محمد الیاس برنی کا قادیانی مذہب کا علمی محاسبہ فصل نمبر ٦ نمبر ١٠٠ ص ٦٩٨)

معلوم ہونا چاہئے کہ نبوت کا مسئلہ نہایت ہی نازک ہے اگر مدعی نبوت کا دعویٰ سچا ہے تو اس کا نہ ماننے والا کافر اور اگر اس کا دعویٰ جھوٹا ہے تو اس کا ماننے والا کافر ہے۔ ایسی صورت میں آنحضرت محمد رسول اللہ ﷺ کو جو کہ اپنی امت پر نہایت شفیق اور بے حد مہربان ہیں اور جن کی بابت وحی الٰہی نے کہا ہوا ہے: ”لقد جاءكم رسول من انفسكم عزيز عليه ما عنتم حريص عليكم بالمؤمنين رؤوف الرحيم“ اور بقول قادیانی صاحبان کے جن کی نبی تراش مہر نے مرزا قادیانی کی نبوت کی تصدیق کر دی ہے۔

اس قدر اہم مسئلہ کو وضاحت کے ساتھ بیان نہ کرنے کی کیا وجہ ہو سکتی ہے؟ بجز اس کے کہ آنحضرت ﷺ نے مرزا قادیانی کے متعلق نہ تو کبھی کچھ فرمایا ہے اور نہ ہی ان کی مزعومہ نبوت کی تصدیق کی ہے اور تو اس بن سمعان والی حدیث میں عیسیٰ بن مریم علیہ السلام سے حقیقتاً حضرت عیسیٰ بن مریم علیہ السلام ہی مراد ہیں نہ کہ بطور استعارہ مرزا قادیانی۔ دیگر یہ کہ اللہ تعالیٰ نے بھی آنحضرت محمد رسول اللہ ﷺ سے اس بات کا کوئی اشارہ نہیں کیا کہ ہم نے مرزا غلام احمد قادیانی صاحب کو نبی رسول مرسل اور جری اللہ فی حلل الانبیاء بنایا ہے جن کا ظہور تیرہویں صدی ہجری میں آپ ﷺ کے بعد ہوگا۔ لہٰذا ان کا ذکر بھی اس حشر کے میدان کے ذکر میں شامل کر دیجئے ۔ تا کہ مرزا قادیانی کی نبوت کی تصدیق ہو جائے اور امت محمدیہ کا بیشتر حصہ کفر کی حالت میں مرنے سے بچ جائے۔

( جاننا چاہئے کہ اللہ عزوجل بھی اپنے بندوں پر اپنے محبوب محمد رسول اللہ ﷺ کی امت پر ) جس کے ب کوئی وحی مرزا قادیانی پر نازل فرمائی اور نہ ہی ان کو محمد، احم الانبیاء کے القاب سے نوازا ہے اور مرزا قادیانی کے تمام شفاعت کی حدیث شریف میں جو نام بیان کیے

موجود تھی۔

خط نمبر٤....... حدیث سے پتہ چلتا ہے کہ سب انبیاء گناہ بابت یہ کہنا کہ ان کے اگلے اور پچھلے گناہ بخشے جا چکے ہ اس حدیث میں تمام نبیوں کو خطا کار اور گناہ گار بتایا گیا ہ

خط نمبر٥....... آپ نے اپنے اشتہار میں جو حدیث بخار معلوم ہوتی۔ معلوم ہوتا ہے کہ یہ حدیث کسی عیسائی کی ب ہے۔ کیونکہ یہ عیسائیوں کا عقیدہ ہے کہ تمام نبی گناہگار

جواب....... ذیل میں قرآنی آیات درج کی جاتی ہیں جن

شک وہی ہے توبہ قبول کرنے والا مہربان۔

رب نے پھر متوجہ ہوا اس پر اور راہ پر لایا۔

اگر تو ہم کو نہ بخشے اور ہم پر رحم نہ کرے تو ہم ضرور تباہ ہو

٧

صفحہ ١٥

(جاننا چاہئے کہ اللہ عزوجل بھی اپنے بندوں پر نہایت کریم اور رحیم ہے اور خاص طور پر اپنے محبوب محمد رسول اللہﷺ کی امت پر) جس کے صاف معنے یہ ہیں کہ اللہ عزوجل نے نہ تو کوئی وحی مرزا قادیانی پر نازل فرمائی اور نہ ہی ان کو محمد، احمد، نبی، رسول، مرسل اور جری اللہ فی حلل الانبیاء کے القاب سے نوازا ہے اور مرزا قادیانی کے تمام دعویٰ باطل اور قابل رد ہیں۔

شفاعت کی حدیث شریف میں جو نام بیان کئے گئے ہیں ۔ ان کی توضیح درج کی جاتی ہے:

موجود تھی۔

خط نمبر ٤...... حدیث سے پتہ چلتا ہے کہ سب انبیاء گنہگار تھے اور آنحضرت محمد رسول اللہﷺ کی بابت یہ کہنا کہ ان کے اگلے اور پچھلے گناہ بخشے جا چکے ہیں۔ آپﷺ کی سخت ہتک ہے۔ کیونکہ اس حدیث میں تمام نبیوں کو خطا کار اور گناہ گار بتایا گیا ہے جو کہ قرآنی تعلیم کے خلاف ہے۔

خط نمبر ٥...... آپ نے اپنے اشتہار میں جو حدیث بخاری سے نقل کی ہے۔ وہ حدیث درست نہیں معلوم ہوتی ۔ معلوم ہوتا ہے کہ یہ حدیث کسی عیسائی کی طرف سے بنا کر بخاری میں درج کر دی گئی ہے۔ کیونکہ یہ عیسائیوں کا عقیدہ ہے کہ تمام نبی گناہگار ہیں یہ مسلمانوں کا عقیدہ نہیں ہے۔

جواب...... ذیل میں قرآنی آیات درج کی جاتی ہیں جو حدیث زیر بحث کی بالکل تصدیق کرتی ہیں:

شک وہی ہے توبہ قبول کرنے والا مہربان ۔

(البقرہ آیت ٣٧)

رب نے پھر متوجہ ہوا اس پر اور راہ پر لایا ۔

(طہٰ آیات ١٢١۔١٢٢)

اگر تو ہم کو نہ بخشے اور ہم پر رحم نہ کرے تو ہم ضرور تباہ ہو جائیں گے۔

(الاعراف آیت ٢٣)

صفحہ ١٧

(ہود آیت ٤٧)

اس کو بخش دیا بے شک وہی ہے بخشنے والا مہربان۔

(القصص آیت ١٦)

تجھ کو اللہ جو آگے ہو چکے تیرے گناہ اور جو پیچھے رہے۔ قرآنی آیات سے گزر کر احادیث ملاحظہ فرمائیے جو زیر بحث کی بالکل تصدیق کرتی ہیں۔

تم وہی آدم ہو جن کو اللہ تعالیٰ نے اپنے ہاتھ سے بنایا اور اپنی روح تم میں پھونکی اور تم کو سجدہ کرایا فرشتوں سے۔ تم کو اپنی جنت میں رہنے کو دی پھر تم نے اپنی خطا کی وجہ سے لوگوں کو زمین پر اتارا۔ حضرت آدم علیہ السلام نے کہا تم نے تورات میں نہیں پڑھا کہ آدم نے اپنے رب کے فرمانے کے خلاف کیا اور بھٹک گیا۔ (مسلم شریف باب مباحثہ آدم و موسیٰ علیہم السلام ص ٤٠٨، ٤٠٩) حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا آدم اور موسیٰ علیہ السلام نے تقریر کی ۔ موسیٰ علیہ السلام نے کہا تم وہی آدم ہو جو خطا کی وجہ سے جنت سے نکلے۔

(ص ٤٠٩)

صحیح بخاری شریف جلد سوم کتاب الدعوات باب ٧٩٧ باب نبی ﷺ کا ارشاد کہ یا اللہ مجھے معاف کر دے جو میں نے پہلے کیا ہے اور جو میں نے آخر میں کیا ہے۔

حدیث نمبر ٦٣٣١ محمد بن بشار عبدالملک بن صباح شعبہ ابو اسحاق ابن ابی موسیٰ اپنے دادا (ابوموسیٰ) سے وہ آنحضرت ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ یہ دعا پڑھتے تھے۔ اے رب ! جہل اور گناہ ہونے کی مغفرت فرما اور میری زیادتی کو سب کی سب معاف فرما اور تجھ سے زیادہ مجھ کو جاننے والا کوئی نہیں۔ اے اللہ ! مغفرت فرما دے گناہوں کی چاہے وہ عمداً ہوں یا خطاءً اور سب گناہ جو میں نے کئے ہیں تو معاف فرما۔ اے اللہ جو گناہ میں نے پہلے کئے ہیں اور آخر میں کئے ہیں، سب معاف فرما۔

صحیح بخاری شریف جلد سوم کتاب التوحید باب ٤٦ اللہ تعالیٰ کا ارشاد یہ لوگ اللہ کے کلام کو بدل ڈالنا چاہتے ہیں۔

٨

حدیث نمبر ٧٣٣٦...... محمود عبدالرزاق ابن جریج سلیما کرتے ہیں۔ ان کو بیان کرتے ہوئے سنا کہ آنحضرت کرتے...... تو میرے اگلے اور پیچھے اور پوشیدہ اور ظا

احادیث صحیح سے گزر کر اب کچھ اقتباسات علامہ سلیما سے درج کئے جاتے ہیں جو کہ تمام شکوک کو رفع کر دی ہیں جن سے ایک ظاہر بین کو یہ دھوکا ہو سکتا ہے کہ بعض داغ ہیں۔ مگر علمائے محققین نے ان میں سے ہر ایک ظاہر بینی کا پردہ آنکھوں کے سامنے سے ہٹ جاتا ہے اصولی طور پر یہ کہا جا سکتا ہے کہ اس مسئلہ میں جو غلط فہم ہیں اور ان اسباب کی تشریح کر دینا ہی ان دونوں غلط فہ

سب سے پہلے یہ بات ذہن نشین کر لینی بلکہ تمام مخلوقات میں خواہ کسی قدر بلند ہو اور ان کا دام ہو، تاہم اس ذوالجلال والاکرام کے سامنے ان کی حیثی ہے۔ ایک عبد و غلام خواہ کسی قدر اطاعت کیش کتنا ہی کے سامنے اس کو اپنے قصور کا معترف اپنی تقصیر کا قائل نادم ہی ہونا چاہئے ۔ اس لئے حضرت ابراہیم علیہ السل بھرا ہوا ہے۔ وہ خدا کی عظمت وجلال اور اس کی

”والذي اطمع ان يغفرلى خطيئتي يوم جزاء کے دن اپنی بھول چوک کی معافی کی پوری امی وندامت اس کا نقص نہیں بلکہ اس کی بندگی اور عبودی کے غلام اطاعت فرمانبرداری کے جس حیرت انگیز م

وہ ان سے اطاعت کیشی اور وفا شعاری اس کے دربار میں ان کے عروج وترقی کی کرسی اور ب پیغمبر کو خدا سے مغفرت مانگنے کی ہدایت کی گئی ہے تو ی

٩

صفحہ ١٧

حدیث نمبر ٣٤٦..... محمود عبدالرزاق ابن جریج سلیمان احول حضرت ابن عباسؓ سے روایت کرتے ہیں۔ ان کو بیان کرتے ہوئے سنا کہ آنحضرتﷺ جب رات کے تہجد پڑھتے تو یہ دعا کرتے..... تو میرے اگلے اور پچھلے اور پوشیدہ اور ظاہر سب گناہ بخش دے۔ قرآنی آیات اور احادیث صحیح سے گزر کر اب کچھ اقتباسات علامہ سلیمان ندویؒ کی تصنیف سیرت النبی جلد چہارم سے درج کئے جاتے ہیں جو کہ تمام شکوک کو رفع کر دیتے ہیں۔ قرآن پاک میں بعض ایسے الفاظ ہیں جن سے ایک ظاہر بین کو یہ دھوکا ہو سکتا ہے کہ بعض پیغمبروں کے دامن پر عدم معصومیت کے بھی داغ ہیں۔ مگر علمائے محققین نے ان میں سے ہر ایک شبہ کا تشفی بخش جواب دے دیا ہے جس سے ظاہر بینی کا پردہ آنکھوں کے سامنے سے ہٹ جاتا ہے اور اصل حقیقت ظاہر ہو جاتی ہے..... مختصراً اصولی طور پر یہ کہا جا سکتا ہے کہ اس مسئلہ میں جو غلط فہمیاں کسی کو پیش آتی ہیں۔ ان کے دو اسباب ہیں اور ان اسباب کی تشریح کر دینا ہی ان دونوں غلط فہمیوں کو دور کر دینا ہے۔

(ص ١١٥)

سب سے پہلے یہ بات ذہن نشین کر لینی چاہئے کہ انبیاء علیہم السلام کا پایہ بندوں میں بلکہ تمام مخلوقات میں خواہ کسی قدر بلند ہو اور ان کا دامن گناہ و عصیان کے گرد و غبار سے کتنا ہی پاک ہو تاہم اس ذوالجلال والاکرام کے سامنے ان کی حیثیت ایک عبد ایک بندہ ایک عاجز مخلوق ہی کی ہے۔ ایک عبد و غلام خواہ کسی قدر اطاعت کیش کتنا ہی وفا شعار اور مطیع و فرمانبردار ہو تاہم اپنے آقا کے سامنے اس کو اپنے قصور کا معترف اپنی تقصیر کا مقر اپنی کوتاہیوں پر خجل اور اپنی فروگزاشتوں پر نادم ہی ہونا چاہئے۔ اس لئے حضرت ابراہیم علیہ السلام جن کی نیکی اور پاکی کی شہادت سے قرآن بھرا ہوا ہے۔ وہ خدا کی عظمت و جلال اور اس کی رحمت و شفقت کے ذکر میں فرماتے ہیں: ”والذی اطمع ان یغفرلی خطیئتی یوم الدین (الشعراء) “یعنی اور وہ خدا جس سے جزاء کے دن اپنی بھول چوک کی معافی کی پوری امید رکھتا ہے۔ نبی کا یہ اعتراف و اقرار اور خجالت و ندامت اس کا نقص نہیں بلکہ اس کی بندگی اور عبودیت کا کمال ہے اور آقا کو حق پہنچتا ہے کہ اس کے غلام اطاعت فرمانبرداری کے جس حیرت انگیز رتبے تک بھی پہنچے ہوں۔

وہ ان سے اطاعت کیشی اور وفا شعاری کے اس سے بھی بلند مرتبہ کا مطالبہ کرے کہ اس کے دربار میں ان کے عروج و ترقی کی کرسی اور بھی اونچی ہوتی جائے۔ بعض آیتوں میں اگر کسی پیغمبر کو خدا سے مغفرت مانگنے کی ہدایت کی گئی ہے تو اس کا سبب گناہ کا وجود نہیں بلکہ ہر قدم پر گزشتہ

٩

صفحہ ١٩

درجہ اطاعت پر قناعت کر لینے پر تنبیہ اور مزید اطاعت کا مطالبہ ہے۔ تاکہ وہ اس کے مزید تقرب کا ذریعہ بن سکے۔ آنحضرت ﷺ کو خطاب ہوتا ہے: ”اذا جاء نصر الله والفتح ورأيت الناس يدخلون في دين الله افواجا، فسبح بحمد ربك واستغفره انه كان توابا(نصر)“ ﴿یعنی جب اللہ کی مدد آچکی اور (مکہ) فتح ہو چکا اور لوگوں کو اللہ کے دین میں گروہ در گروہ جاتے دیکھ چکا تو اپنے پروردگار کی پاکی بیان کر اور اس سے معافی چاہ کہ وہ بندے کے حال پر رجوع ہونے والا ہے۔ غور کرو کہ خدائی مدد آنا مکہ فتح ہونا، بت پرستی کی بیخ کنی اور لوگوں کا مسلمان ہو جانا کوئی جرم ہے جس سے کوئی معافی چاہے؟ اس طرح سورہ فتح میں فرمایا: ”انا فتحنا لك فتحاً مبينا ليغفر لك الله ماتقدم من ذنبك وماتاخر ويتم نعمته عليك ويهديك صراطاً مستقيماً وينصرك الله نصرا عزيزاً (فتح)“ یعنی ہم نے تجھ کو کھلی فتح دی تاکہ اللہ تیری اگلی پچھلی خطا کو معاف کرے اور اپنا احسان تجھ پر پورا کرے اور تجھ کو سیدھی راہ پر چلائے اور تجھ کو مضبوط مدد دے۔ دوبارہ غور کرو کہ مکہ کی فتح کامل نصیب ہونے کو حضور کی معافی سے بجز اس کے کیا تعلق ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندہ کے حسن خدمت کو قبول فرما کر اپنی خوشنودی کا اظہار فرماتا ہے۔ اس استغفار سے مقصود نعوذ باللہ پیغمبر کی گناہگاری کا ثبوت نہیں بلکہ اس کی عبدیت کاملہ کا اظہار ہے۔

(ص١١٦)

الغرض انبیاء علیہم السلام کا خدا کے حضور میں اپنی کوتاہی کا اعتراف ان کی گنہگاری کا ثبوت نہیں بلکہ ان کی عبدیت کاملہ کا اظہار ہے۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ کا کسی پیغمبر کی نسبت یہ فرمانا کہ میں نے تجھے معاف کیا یہ اس کی گناہگاری کا اعلان نہیں۔ بلکہ اپنی پسندیدگی رضا اور قبول تام کی بشارت ہے۔

(ص١١٧)

لیکن ذنب کا اطلاق ان کاموں پر بھی ہوتا ہے جو در حقیقت عام امت کے لئے گناہ نہیں لیکن انبیاء علیہم السلام کے حق میں اتنی غفلت بھی مواخذہ کے قابل ہے۔ اسی معنی میں کہا گیا ہے ۔ ”حسنات الأبرار سيئات المقربين (ص ١١٨)“ انبیاء علیہم السلام کے استغفار کے موقع پر ہمیشہ ذنب کا لفظ استعمال ہوا ہے، جرم، اثم یا خطاء کا نہیں۔ ذنب کا لفظ بھول چوک اور غفلت سے لے کر عصیان تک کو شامل ہے۔ اس لئے کسی نبی کو اگر خدا کی طرف سے استغفار ذنب کی ہدایت کی گئی تو اس کے لئے صریح عصیان و گناہ کے نہیں بلکہ یہی انسانی بھول

چوک اور فروگذاشت ہے جس کی اصلاح و تنبیہ اللہ تعالیٰ دیتا ہے۔ اس کے لئے استغفار کا لفظ استعمال ہوتا ہے

حدیث شریف زیر بحث خبر احاد نہیں ہے بخاری شریف میں لگا دی ہے۔ بلکہ اول تو متفق علیہ احادیث کے حوالے درج کئے جاتے ہیں۔ تاکہ ثابت ہو

(صحیح بخاری شریف جلد دوم حدیث نمبر ٥٦٦)

(صحیح بخاری شریف ج ٢ حدیث ٥٨٧)

(صحیح بخاری شریف ج ٣ حدیث ١٤٨)

(صحیح بخاری شریف ج ٣ حدیث ١٧٨)

(صحیح بخاری شریف ج ٣ حدیث نمبر ٤٠٧)

(صحیح بخاری شریف جلد دوم باب شفاعت کا بیان)

مزید براں مرزا قادیانی نے بھی ایک مرتبہ

اے خداوند من گنہ
سوئے درگاہ خو

خط نمبر ٥ .....١...... اولاً اس روایت کی رو سے حق کوئی نبی خواہ متاخرین سے ہو یا متقدمین سے اس میں جواب....... صحیح مسلم شریف میں باب شفاعت کا کے تحت جملہ احادیث اس موضوع پر درج کی گئی ہیں دوم....... یہ کہ اللہ عزوجل نے آنحضرت محمد ﷺ ارسلنك الا رحمة للعالمين“ ﴿یعنی اے رحمت بنا کر بھیجا ہے۔﴾ اور شفاعت بھی رحمت عز وجل نے ایسا کلام کسی اور نبی علیہ السلام کے بارے

صفحہ ١٩

چوک اور فروگذاشت ہے جس کی اصلاح و تنبیہ اللہ تعالیٰ اپنے رحم و کرم اور لطف و عنایت سے فرما دیتا ہے۔ اس کے لئے استغفار کا لفظ استعمال ہوتا ہے۔

(ص ١١٩)

حدیث شریف زیر بحث خبر احاد نہیں ہے کہ کسی عیسائی نے اپنی طرف سے بنا کر صحیح بخاری شریف میں لگادی ہے۔ بلکہ اول تو متفق علیہ ہے اور پھر تواتر کی حد تک پہنچی ہوئی ہے۔ مزید احادیث کے حوالے درج کئے جاتے ہیں۔ تاکہ ثابت ہو جائے کہ تواتر کی حد تک پہنچی ہوئی ہے۔

مزید براں مرزا قادیانی نے بھی ایک موقع پر یوں دعا مانگی ہے۔

اے خداوند من گناہم بخش
سوئے درگاہ خویش راہم بخش

(براہین احمدیہ ص ٧، خزائن ج ١ ص ١٦)

مغالطہ نمبر ٥....... اولاً اس روایت کی رو سے حق شفاعت صرف آنحضرت ﷺ کو دیا گیا ہے اور کوئی نبی خواہ متاخرین سے ہو یا متقدمین سے اس حق کا حامل نہیں۔ جواب....... صحیح مسلم شریف میں باب شفاعت کا ثبوت اور موحدوں کا جہنم سے نکالا جانا۔ ص ٣٣ کے تحت جملہ احادیث اس موضوع پر درج کی گئی ہیں۔ دوم....... یہ کہ اللہ عزوجل نے آنحضرت ﷺ کی شان قرآن حکیم میں یوں بیان فرمائی ہے: ”وما ارسلنک الا رحمۃ للعالمین“ (یعنی اے حبیب ﷺ ہم نے آپ کو تمام جہانوں کے لئے رحمت بنا کر بھیجا ہے) اور شفاعت بھی رحمت کے ضمن میں آتی ہے۔ معلوم ہونا چاہئے کہ اللہ عزوجل نے ایسا کلام کسی اور نبی علیہ السلام کے لئے نہیں کیا ہے۔

١١

صفحہ ٢٠

سوم...... یہ کہ قرآن حکیم میں ارشاد الٰہی ہے:”قل یاایھا الناس انی رسول اللہ الیکم جمیعا (الاعراف ١٥٨)“ یعنی اے حبیب ﷺ! آپ فرما دیجئے کہ اے تمام لوگو میں تم سب لوگوں کی طرف اللہ کا رسول بنا کر بھیجا گیا ہوں۔ پس یہ اعزاز اللہ عزوجل نے کسی اور نبی علیہ السلام کو نہیں دیا۔ معلوم ہونا چاہئے تمام انبیاء علیہم السلام آنحضرت محمد ﷺ سے پہلے یعنی حقہ میں ہیں ہیں۔ کیونکہ وحی الٰہی نے قرآن حکیم میں جہاں کہیں بھی اپنے رسول بھیجنے کا ذکر کیا ہے۔ ان پر من قبلک ہی فرمایا ہے۔ اور آپ ﷺ کے بعد کا کہیں ذکر ہی نہیں ہے۔ لہٰذا متاخرین کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔

سوال...... عدم ذکر سے عدم شے لازم نہیں ہوتا؟ جواب...... پہلے تو آیت مبارکہ ملاحظہ فرمائیے ۔”ھل اتی علی الانسان حین من الدھر لم یکن شیاً مذکورا (الدھر)“ یعنی انسان پر زمانے میں ایک ایسا وقت وہ بھی تھا کہ وہ قابل ذکر شے نہ تھا۔ مطلب یہ ہوا کہ انسان چونکہ معدوم تھا۔ بہ ایں وجہ اس کا ذکر بھی نہیں تھا۔ دوم یہ کہ مرزا قادیانی کا ایک قول مل گیا ہے جس کا ماننا ہر قادیانی پر فرض اولین ہے۔ فرماتے ہیں کہ اتھروں وید کی نسبت تو اکثر محقق پنڈتوں کا اس پر اتفاق ہے۔ کہ وہ ایک جعلی وید یا براہمن بنک ہے جو پیچھے سے ویدوں کے ساتھ ملا دیا گیا ہے اور یہ رائے سچی بھی معلوم ہوتی ہے کہ کیونکہ رگ وید میں جو سب ویدوں کا اصل الاصول اور سب سے زیادہ معتبر خیال کیا جاتا ہے۔ میں صرف رگ وید، جروید اور سام وید کا ذکر ہے اور اتھروں وید کا نام تک درج نہیں ہے۔ اگر وہ وید ہوتا تو اس کا ذکر ضرور ہوتا۔

(براہین احمدیہ حاشیہ نمبر ٨ ص ١٠٨، خزائن ج ١ ص ٩٩)

مرزا قادیانی نے ایک کلیہ بتا دیا ہے۔ بالکل اس نہج پر خیال کر لیجئے کہ اگر مرزا قادیانی نبی ہوتے تو ان کا بھی ذکر ضرور ہوتا۔

سوال...... اس روایت کی مکمل سند لکھیں۔

جواب...... حدیث زیر بحث میں شروع میں راویان کا مکمل حوالہ درج کر دیا گیا تھا اور آخر میں حدیث کا صحیح اور مکمل حوالہ دے دیا گیا تھا۔ اس کے بعد اور کیا سند چاہئے ۔والسلام علی من اتبع الھدیٰ!

١٢

تحفہ قادیانیت

حصہ اول

مرزائی

غیر مسلم

مولانا خلیل

PDF 22

خاتم النبیین لا نبی بعدی

میں آخری نبی ہوں میرے بعد کوئی نبی نہیں

مرزائی لاریب

غیر مسلم ہیں

مولانا خلیل الرحمن قادری

صفحہ ٢٣

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

مرزائی لاریب غیر مسلم ہیں

مرزا غلام احمد قادیانی نے اپنی مزعومہ ماموریت کا مسلمانوں میں تبلیغ کر کے امت محمدیہ میں بالاتفاق انتشار اور تفرقہ پیدا کر دیا اور مسلمانوں کو گمراہ کیا۔ یہ ایک ایسا قبیح فعل ان سے سرزد ہوا ہے جس کے بارے میں وہ آخرت میں ضرور بالضرور جواب دہ ہوں گے۔ اس سلسلہ میں مرزا قادیانی کی ایک مزعومہ وحی درج کی جاتی ہے۔ اور اسی سے ٹھوس دلائل کے ساتھ یہ بات ثابت کی جاتی ہے کہ ان کی مزعومہ ماموریت نہ تو اسلام کے فروغ کے لئے تھی اور نہ ہی مسلمانوں کی اصلاح کے لئے تھی۔ بلکہ کسی غیر مسلم قوم کے لئے تھی۔ مرزا قادیانی نے اپنا ایک مزعومہ الہام لکھا ہے ”الرحمن علم القرآن لتنذر قوماً انذر آباؤهم“

(دیکھو براہین احمدیہ حاشیہ در حاشیہ نمبر ١ ص ٢٦٥، خزائن ج ١، اور حقیقت الوحی ص ٧٠، خزائن ج ٢٢ ص ٧٣)

اور اس کے معنی یوں لکھے ہیں ”خدا نے تجھے قرآن سکھایا یعنی اس کے صحیح معنی تجھ پر ظاہر کئے تا کہ تو ان لوگوں کو ڈرائے جن کے باپ دادا ڈرائے نہیں گئے ۔“

مرزا قادیانی کی مندرجہ بالا مزعومہ وحی قرآن حکیم کی دو آیات سے ٹکڑے لے کر بنائی گئی ہے۔ ”تنزیل العزیز الرحیم، لتنذر قوماً ما انذر آباؤهم فهم غفلون (سورہ یٰسٓ، پ ٢٢) یہ مکی سورت ہے اور اس میں ”قوم“ سے مراد کفار مکہ ہیں۔

سورت یس کے بعد ہوا ہے۔ مطلب یہ ہوا کہ لوگوں (کفار مکہ) کو ڈرانے کا حکم پہلے نازل ہوا۔

آنحضرت محمد رسول اللہ ﷺ سے قبل کفار مکہ کے پاس کوئی ڈرانے والا منجانب اللہ

٢

عز وجل نہیں بھیجا گیا تھا۔ جس کی تصدیق سورہ القصص کے ساتھ اور مدلل طریقے پر ہو جاتی ہے اور کسی شک و رہتی ہے۔

”وما كنت بجانب الطور اذ نادينا ما اتهم من نذير من قبلك لعلهم يتذ قدمت ايديهم فيقولوا ربنا لولا ارسلت ا المؤمنين“ اس آیت مبارکہ سے بالکل واضح ط آنحضرت رسول اللہ ﷺ ہی ڈرانے کے لئے م احادیث صحیحہ متواترہ اور اجماع سے ثابت ہے کہ آ

تو پھر کیا مرزا قادیانی کی مندرجہ بالا مزعومہ وحی ، الہا اس مزعومہ وحی کے انکشاف اور عوام میں مشتہر کرن

پس صاف ظاہر ہے کہ مرزا غلام احمد ہوئی تھی۔ بلکہ تمام تر ان کے دماغ کی گونج اور ا مان بھی لیا جائے کہ بقول مرزا قادیانی ان کی مز معنی کی رو سے نہ تو اسلام کے فروغ کے لئے تھی ہو سکتی تھی۔ بلکہ وہ کسی ایسی قوم کے لئے تھی جن تھے۔ اور وہ یقیناً کوئی غیر مسلم قوم ہی ہو سکتی تھی عظیم الشان اور عالی مرتبت ڈرانے والے آ

صفحہ ٢٣

عزوجل نہیں بھیجا گیا تھا۔ جس کی تصدیق سورہ القصص کی آیات ٤٥، ٤٦ سے بالکل وضاحت کے ساتھ اور مدلل طریقے پر ہو جاتی ہے اور کسی شک و شبہ اور بے جا تاویل کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہتی ہے۔

”وما کنت بجانب الطور اذ نادینا ولکن رحمۃ من ربک لتنذر قوماً ما اتہم من نذیر من قبلک لعلہم یتذکرون۔ ولولا ان تصیبہم مصیبۃ بما قدمت ایدیہم فیقولوا ربنا لولا ارسلت الینا رسولاً فنتبع آیتک وتکون من المؤمنین“ اس آیت مبارکہ سے بالکل واضح طور پر ثابت ہو گیا ہے کہ کفار مکہ کے پاس صرف آنحضرت رسول اللہ ﷺ ہی ڈرانے کے لئے مبعوث کئے گئے تھے اور جیسا کہ قرآن حکیم احادیث صحیحہ متواترہ اور اجماع سے ثابت ہے کہ آپ ﷺ کی بعثت تمام بنی آدم کے لئے ہوئی تھی تو پھر کیا مرزا قادیانی کی مندرجہ بالا مزعومہ وحی ، اللہ عزوجل پر افتراء نہیں ہے۔ اور کیا مرزا قادیانی اس مزعومہ وحی کے انکشاف اور عوام میں مشتہر کر کے مفتری نہیں ٹھہرے۔

پس صاف ظاہر ہے کہ مرزا غلام احمد قادیانی پر کوئی وحی منجانب اللہ عزوجل نازل نہیں ہوئی تھی۔ بلکہ تمام تر ان کے دماغ کی گونج اور اپنی بنائی ہوئی باتیں ہیں۔ پھر اگر بالفرض محال یہ مان بھی لیا جائے کہ بقول مرزا قادیانی ان کی طرف اس مضمون کی وحی آئی تھی تو وہ اپنے متن اور معنی کی رو سے نہ تو اسلام کے فروغ کے لئے تھی اور نہ ہی مسلمانوں کی اصلاح کے لئے تھی اور نہ ہو سکتی تھی۔ بلکہ وہ کسی ایسی قوم کے لئے تھی جن کے باپ دادا اس وقت تک ڈرائے نہیں گئے تھے۔ اور وہ یقیناً کوئی غیر مسلم قوم ہی ہو سکتی تھی۔ کیونکہ مسلمانوں کے لئے چودہ سو برس پہلے ایک عظیم الشان اور عالی مرتبت ڈرانے والے آچکے تھے۔

٣٠

صفحہ ٢٤

پس مرزا قادیانی کو اپنی اس مزعومہ وحی کی تعمیل میں کسی غیر مسلم قوم کی تلاش کرنا ضروری تھا۔ جیسا کہ انہوں نے کیا اور ان کے متبعین ابھی تک کر رہے ہیں۔ مرزا قادیانی کے تاثرات سے جو کہ انہوں نے (نصرت الحق ص ٥١،٥٢، مشمولہ براہین احمدیہ حصہ پنجم، خزائن ج ٢١ ص ٦٦ ،٦٧ ملخص) میں لکھتے ہیں۔ صاف طور پر ثابت ہے کہ ان کی ماموریت کسی غیر مسلم قوم کے لئے ہوئی تھی۔ اس وحی کے نازل ہونے پر مجھے یہ فکر دامن گیر ہوئی کہ ہر مامور کے لئے مشیت الٰہیہ کے موافق جماعت کا ہونا ضروری ہے تا کہ وہ اس کا ہاتھ بٹائیں۔ اور اس کے مددگار ہوں اور مال کا ہونا ضروری ہے تاکہ دینی ضرورتوں میں جو دقتیں پیش آتی ہیں۔ خرچ ہو اور مشیت الٰہیہ کے موافق اعداء کا ہونا بھی ضروری ہے تا کہ ان کے شر سے محفوظ رہیں۔

جبکہ یہ بات پایہ ثبوت کو پہنچ گئی کہ مرزا قادیانی کی مزعومہ ماموریت بزعم خود غیر مسلموں کے لئے تھی۔ تو جن مسلمانوں نے مرزا غلام احمد قادیانی کو کسی بھی حیثیت سے قبول کیا ہے اور اب بھی کر رہے ہیں وہ سب کے سب لازمی طور پر فعل ارتداد کے مرتکب ہو کر دائرہ اسلام سے خارج ہو گئے ہیں اور یوں غیر مسلم بن گئے ہیں۔ اور اب وہ تمام انعامات محمدیہ سے یکسر محروم ہو گئے ہیں اور ان کو نہ تو اپنے آپ کو مسلمان کہنے اور کہلانے کا کوئی حق باقی رہا ہے اور نہ ہی ان کو کسی ایک بھی اسلامی شعار اپنانے کا کوئی حق باقی رہا۔ ”فاعتبروا یا اولی الابصار“

آخر میں گزارش ہے کہ ہر مرزائی کے لئے یہی بہتر طریقہ ہے کہ وہ اپنی تمام تر کوتاہیوں اور گمراہیوں سے صدق دل سے تائب ہو کر پھر سے سچے اور حقیقی اسلام میں داخل ہو جائے تاکہ عاقبت بخیر ہو، وگر خسران ہی خسران ہے بلکہ خسران عظیم۔ وما علينا الا البلاغ ! خلیل الرحمٰن قادری ، مورخہ ١٨؍ جون ١٩٨٦ء، ٩؍٩؍٢ حسنین سٹریٹ، ٹینچ بھاٹہ راولپنڈی!

٤

محمد خاتم النبیین

مرزا غلام احمد

کا

فلسفہ طاعت

اور

اس کی سرگزشت

مولانا خلیل الرحمن

PDF 26

خاتم النبیین لا نبی بعدي

سیدنا محمد رسول الله صلی الله علیه وسلم

مرزا غلام احمد قادیانی

کا

فلسفہ طاعون

اور

اس کی سرگزشت

مولانا خلیل الرحمن قادری

صفحہ ٢٧

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

مرزا غلام احمد قادیانی کا فلسفہ طاعون اور اس کی سرگزشت

اس ہولناک مرض کے بارے میں جو ملک میں پھیلتی جارہی ہے۔ لوگوں کی مختلف رائیں ہیں۔ ڈاکٹر لوگ جن کے خیالات فقط جسمانی تدابیر تک محدود ہیں۔ اس بات پر زور دیتے ہیں کہ زمین میں محض قدرتی اسباب سے ایسے کیڑے پیدا ہو گئے ہیں کہ اول چوہوں پر اپنا بداثر پہنچاتے ہیں۔ اور پھر انسانوں میں یہ سلسلہ موت کا جاری ہوتا ہے اور مذہبی خیالات سے اس بیماری کو کچھ تعلق نہیں۔ بلکہ چاہئے کہ اپنے گھروں اور نالیوں کو ہر ایک قسم کی عفونت سے بچائیں۔ اور صاف رکھیں۔ اور فینائل وغیرہ کے ساتھ پاک کرتے رہیں۔ اور مکانوں کو آگ سے گرم رکھیں...... اور سب سے بہتر علاج یہ ہے کہ ٹیکہ کرالیں...... اور بہتر ہے کہ کھلے میدانوں میں رہیں...... بہرحال یہ تمام طریقے جو ڈاکٹری طور پر اختیار کئے گئے ہیں نہ تو کافی اور پورے تسلی بخش ہیں اور نہ محض نکمے اور بے فائدہ ہیں اور چونکہ طاعون جلد جلد ملک کو کھاتی جاتی ہے۔ اس لئے بنی نوع کی ہمدردی اسی میں ہے کہ کسی اور طریق کو سوچا جائے جو اس تباہی سے بچاسکے۔

جو فرقے حضرت حسین یا علی کو قاضی الحاجات سمجھتے ہیں اور محرم میں تعزیوں پر ہزاروں درخواستیں مرادوں کے لئے گزارتے ہیں اور یا جو مسلمان سید عبدالقادر جیلانیؒ کی پوجا کرتے ہیں یا جو شاہ مدار یا سخی سرور کو پوجتے ہیں۔ وہ کیا کریں اور کیا اب یہ تمام فرقے دعائیں نہیں کرتے بلکہ ہر ایک فرقہ خوفزدہ ہو کر اپنے اپنے معبود کو پکار رہا ہے...... میرے استاد ایک بزرگ شیعہ تھے۔ ان کا مقولہ تھا کہ وباء کا علاج فقط تولا اور تبرا ہے۔ یعنی ائمہ اہل بیت کی محبت کو پرستش کی حد تک پہنچا دینا اور صحابہ کو گالیاں دیتے رہنا۔ اس سے بہتر کوئی علاج نہیں۔ اور عیسائیوں کے خیالات کے اظہار کے لئے ابھی ایک اشتہار پادری وائٹ برنجنٹ صاحب اور ان کی انجمن کی طرف سے نکلا ہے اور وہ یہ کہ طاعون کے دور کرنے کے لئے اور کوئی تدبیر کافی نہیں۔ بجز اس کے کہ حضرت مسیح کو خدا مان لیں۔ اور ان کے کفارہ پر ایمان لے آئیں۔

اور ہندوؤں میں سے آریہ لوگ یہ پکار پکار کر کہہ رہے ہیں کہ یہ بلائے طاعون وید کے ترک کرنے کی وجہ سے ہے۔ پس تمام فرقوں کو چاہئے کہ ویدوں کی سند پر ایمان لائیں اور تمام نبیوں کو نعوذ باللہ مفتری قرار دیں۔ تب اس تدبیر سے طاعون دور ہو جائے گی۔ اور ہندوؤں میں سے جو سناتن دھرم فرقہ ہے۔ اس فرقہ میں دفع طاعون کے بارے میں جو رائے ظاہر کی گئی ہے وہ

٢

رائے یہ ہے کہ یہ بلائے طاعون گائے کی وجہ سے آئی ہے اس ملک میں گائے ہرگز ہرگز ذبح نہ کی جائے تو پھر دیکھو اب اے ناظرین! خود سوچ لو کہ اس قدر کے آگے صریح اور بدیہی طور پر فروغ ہو سکتا ہے؟ یہ پس جب تک کہ دنیا ان عقائد کا فیصلہ کرے خود دنیا کا خاتمہ لائق ہے جو جلد تر سمجھ میں آسکتی ہے اور جو اپنے ساتھ ایک دفع کے لئے وہ پیغام جو خدا نے مجھے دیا ہے۔ وہ یہی ہے لیں۔ (دافع البلاء ص ١۔ ١٨، خزائن ج ١٨ ص ٢٢١، اپریل ١٩٠٢ء)

ملاحظہ فرمائیے۔

جب ١٨٩٨ء میں طاعون کی وباء ہندوستان آئندہ اس مضمون میں مرزا قادیانی ہی لکھا جائے گا۔ ) کے لئے حسب عادت فوراً مشتہر اور شائع کر دیا۔ ”حمامتہ طاعون پیدا ہونے سے پہلے شائع کی تھی میں نے یہ پیشین کی ہے۔ سو وہ قبول ہو کر ملک میں طاعون پھیل گئی۔“ ج ٢٢ ص ٢٣٥) ”براہین احمدیہ ١٨٨٤ء میں باعث تکذیب نے مجھے خبر دی تھی۔ سو پچیس ٢٥ برس بعد پنجاب میں الوحی ص ٢٢٣، خزائن ج ٢٢ ص ٢٣٥) مرزا قادیانی کی حساب سال ہو گئے قابل داد ہے۔ ”براہین احمدیہ کے آخری

”دنیا میں ایک نذیر آیا اور دنیا نے اس کو قبول نہ کیا پر خدا اس کی سچائی ظاہر کرے گا۔ اس پر مجھے خیال آیا کہ اس لیکن اس الہام میں ایک پیشینگوئی تھی جو اس وقت طاعون سے مراد طاعون ہے۔“ (ملفوظات احمدیہ حصہ ہشتم ص ٥٢٢)

مزعومہ الہام کی عبارت قابل غور ہے۔ قادیانی کے خدا دنیا میں ایک نذیر بھیجا اور پر خدا اس کو قبول کرے گا۔ یعنی ماموریت کی نفی ہے کیونکہ مقبول ہوکر مقبولیت کا وعدہ زمانہ مستقبل میں ہے۔ لہٰذا مامور بننے

٣

صفحہ ٢٧

رائے یہ ہے کہ یہ بلائے طاعون گائے کی وجہ سے آئی ہے۔ اگر گورنمنٹ یہ قانون پاس کردے کہ اس ملک میں گائے ہرگز ہرگز ذبح نہ کی جائے تو پھر دیکھتے طاعون کیونکر دفع نہ ہو جاتی ہے۔

اب اے ناظرین! خود سوچ لو کہ اس قدر متفرق اقوال اور دعاوی سے کس قول کو دنیا کے آگے صریح اور بدیہی طور پر فروغ ہو سکتا ہے؟ یہ تمام اعتقادی امور ہیں اور اس نازک وقت میں جب تک کہ دنیا ان عقائد کا فیصلہ کرے خود دنیا کا فیصلہ ہو جائے گا۔ اس لئے وہ بات قبول کے لائق ہے جو جلد تر سمجھ میں آسکتی ہے اور جو اپنے ساتھ کوئی ثبوت رکھتی ہے۔ ”پس اس بیماری کے دفع کے لئے وہ پیغام جو خدا نے مجھے دیا ہے۔ وہ یہی ہے کہ لوگ مجھے سچے دل سے مسیح موعود مان لیں۔ (دافع البلاء ص١٨، خزائن ج١٨ ص٢٢١، اپریل ١٩٠٢ء)“ یہ تو ہے فلسفہ اب اس کی سرگزشت ملاحظہ فرمائیے۔

جب ١٨٩٨ء میں طاعون کی وباء ہندوستان میں پھیلی تو مرزا غلام احمد قادیانی (جن کو آئندہ اس مضمون میں مرزا قادیانی ہی لکھا جائے گا۔) نے اس سنہری موقع سے فائدہ اٹھانے کے لئے حسب عادت فوراً اشتہار شائع کر دیا۔ ”حمامتہ البشریٰ (فروری ١٨٩٤ء) میں جو کئی سال طاعون پیدا ہونے سے پہلے شائع کی گئی میں نے یہ لکھا تھا کہ میں نے طاعون پھیلنے کے لئے دعا کی ہے۔ سو وہ قبول ہوکر ملک میں طاعون پھیل گئی۔“ (انہترواں ٧٩ نشان حقیقت الوحی ص٢٢٤، خزائن ج٢٢ ص٢٣٥) ”براہین احمدیہ ١٨٨٢ء میں بباعث تکذیب طاعون پیدا ہونے کے لئے خدا تعالیٰ نے مجھے خبر دی تھی۔ سو پچیس ٢٥ برس بعد پنجاب میں طاعون پھیل گئی۔ (سترہویں، ١٧، نشان حقیقت الوحی ص٢٢٤، خزائن ج٢٢ ص٢٣٥) مرزا قادیانی کی حساب دانی کہ ١٨٨٤ء سے ١٨٩٨ء تک پچیس سال ہوگئے قابل داد ہے۔ ”براہین احمدیہ کے آخری اوراق کو دیکھا تو ان میں یہ الہام درج تھا: ”دنیا میں ایک نذیر آیا اور دنیا نے اس کو قبول نہ کیا پر خدا اس کو قبول کرے گا اور زور آور حملوں سے اس کی سچائی ظاہر کرے گا۔ اس پر مجھے خیال آیا کہ اس وقت دنیا کہاں تھی اور ہمارا دعویٰ بھی نہ تھا۔ لیکن اس الہام میں ایک پیشینگوئی تھی جو اس وقت طاعون پر صادق آرہی ہے اور زور دار حملوں سے مراد طاعون ہے۔“ (ملفوظات احمدیہ حصہ ہشتم ص٥٢٢، مرتبہ محمد منظور الٰہی قادیانی لاہوری) ”مندرجہ بالا مزعومہ الہام کی عبارت قابل غور ہے۔ قادیانی کے خدا نے خبر دی ”دنیا میں ایک نذیر آیا“ نہ کہ دنیا میں ایک نذیر بھیجا اور پر خدا اس کو قبول کرے گا۔

یعنی ماموریت کی نفی ہے کیونکہ مقبول ہو کر ہی ماموریت کا منصب ملتا ہے۔ یہاں پر مقبولیت کا وعدہ زمانہ مستقبل میں ہے۔ لہٰذا ماموریت مقبولیت کے بعد ہی ہو سکتی ہے۔ اس سے

٣

صفحہ ٢٩

پہلے نہیں اور ہمارا دعویٰ بھی نہ تھا حالانکہ مرزا قادیانی نے اپنی ماموریت کا دعویٰ ١٨٨٢ء میں کر دیا تھا اور جب دعویٰ نہ تھا تو تکذیب کس بات کی ہوئی جس کے باعث طاعون پیدا ہوئی (ملاحظہ کیجئے اکہترواں نشان جو کہ اوپر لکھ دیا گیا ہے۔) لہٰذا مرزا قادیانی کا قول غلط ثابت ہوا۔ یہی مزعومہ الہام مرزا قادیانی نے ایک غلطی کا ازالہ ١٩٠١ء میں لکھا ہے اور اس کی دوسری قرأت دنیا میں ایک نبی آیا بھی لکھی ہے اور تذکرہ میں ایک نوٹ بھی درج کیا گیا ہے۔

ج...... ”دنیا میں ایک نبی آیا مگر دنیا نے اسے قبول نہ کیا۔ ایک قرأت اس الہام میں یہ بھی ہے کہ دنیا میں ایک نذیر آیا اور یہی قرأت براہین میں درج ہے اور فتنہ سے بچنے کے لئے یہ دوسری قرأت درج نہیں کی گئی۔“

(مکتوب مورخہ ١٧ اگست ١٨٩٩ء، مکتوبات احمدیہ جلد ج ٢ ص ٣٢٨)

(ماخذ مجموعہ الہامات کشوف و رویا الناشر لجنہ ربوہ ایڈیشن سوم ١٩٦٩ء)

قارئین کرام! ملاحظہ فرمائیے کہ ”دنیا میں ایک نبی آیا“ کا مزعومہ الہام مرزا قادیانی کو ١٨٨٤ء میں ہوا لیکن انہوں نے اس کا اظہار ١٩٠١ء میں کیا یعنی سترہ برس تک اس کو عوام سے محض فتنے کی ڈر سے چھپائے رکھا اور جب دیکھا کہ اپنی نبوت جمانے کے لئے زمین ہموار ہوگئی ہے تو ا س کا اظہار ”ایک غلطی کا ازالہ“ کر دیا۔ یہی ایک سچے مامور من اللہ کا شیوہ ہوتا ہے۔ قرآن پاک کی رو سے تمام انبیاء علیہم السلام اور رسولوں نے ماموریت کے بعد ہی بلاخوف و خطر اعلان کر دیا تھا۔ خیر یہ تو ایک جملہ معترضہ تھا۔ اب اصل مضمون کی طرف رجوع کیا جاتا ہے۔ ”یہی مزعومہ الہام (حقیقت الوحی ص ٥، خزائن ج ٢٢ ص ٨٨) پر درج کیا گیا ہے۔ لیکن کسی جگہ بھی زور آور حملوں سے مراد طاعون بیان نہیں کیا گیا ہے۔ اور مرزا قادیانی نے طاعون پھیلنے کے بعد ہی اس سے طاعون مراد لیا ہے۔ پیشینگوئی کیسے ہوئی پھر یہ کہ حمامۃ البشریٰ میں مرزا قادیانی نے خود طاعون کی دعا مانگی تھی۔ اور براہین احمدیہ میں لکھا ”بباعث تکذیب طاعون پیدا ہونے کے لئے خدا تعالیٰ نے خبر دی تھی“ اور یہ کہ دعا کے قبول ہونے میں بقول ان کے پچیس برس لگ گئے۔ یہ تمام امور غور طلب ہیں۔

”جو کتاب (سراجا منیر جولائی ١٨٩٤ء ص ٦١، خزائن ج ٨ ص ٣٩١) ” میں میں نے لکھا ہے کہ مخالفوں پر طاعون پڑنے کے لئے میں نے دعا کی تھی۔ یعنی ایسے مخالف جن کی قسمت میں ہدایت نہیں سو اس دعا کے کئی سال بعد اس ملک میں طاعون کا غلبہ ہوا اور بعض سخت مخالف اس دنیا سے گزر گئے اور وہ یہ دعا تھی۔ اے میرے خدا جو شخص نیک راہ اور نیک کام کا دشمن ہے اور فساد کراتا ہے۔ اس کو پکڑ اور اس پر طاعون کا عذاب نازل کر اور اس کو ہلاک کر دے۔ اور میری بے قراریاں

٤

دور کر اور مجھے غموں سے نجات دے۔ اے میرے کریم میں ملا دے۔“ اور پھر کتاب اعجاز احمدی نومبر ١٩٠٢ء میں کیا ہے کہ طعن کا بدلہ طعن ہے۔ پس وہی طاعون جو ان حد سے بڑھ گیا تو میں نے آرزو کی کہ اب ہلاک کر حمامۃ البشریٰ، تذکرہ ص ٥٠٨ طبع ٣) میں ہے ”اور اس کے ویران کر دی۔“ اور یہ الحکم اور البدر میں شائع کیا گیا ایذا کے بعد کی گئیں۔ جناب الٰہی میں قبول ہو کر پیش آگ کی طرح برسا اور کئی ہزار دشمن جو میری تکذیب کر

(اکہترواں نشان حقیقت

بددعائیں نہ کہ بقول مرزا قادیانی دعائیں

فارسی میں ہوا۔ اس کے معنی ہیں ”اے وہ کہ تو جس سے مرزا قادیانی نے نہ تو اس کے معنی لکھے ہیں اور نہ ہی کچھ نہیں بتایا کہ ”تو“ کی ضمیر کس کی طرف راجع ہے۔ یہ دعائیں مانگنا ایک ایسے شخص کے لئے جو آنحضرت محمد رسول کا دعوے دار ہوا اور جس پر مندرجہ ذیل مزعومہ الہامات ایک لمحہ فکریہ ہے اور وہ مزعومہ الہامات یہ ہیں ”کیا تو اس کیوں نہیں ایمان لاتے۔ جس چیز کا تجھے علم نہیں۔ اس میں جو ظالم ہیں۔ میرے ساتھ مخاطبت مت کرو، وہ غرق ”اس جگہ فتنہ ہے پس صبر کر جیسے اولوالعزم کی طرف سے ہے۔ تا کہ وہ ایسی محبت کرے جو کامل ہو والا اور نہایت بزرگ ہے۔ وہ بخشش جس کا کبھی انقطاع اور ان پر رحم کر تو بمنزلہ موسیٰ کے ہے اور ان کی باتوں تاکہ سب لوگوں کے لئے رحمت کا سامان پیش کروں ہیں۔ غور فرمائیے کہ بددعا کے متعلق بالکل صاف طور سے بھی منع کر دیا گیا ہے۔ حوالہ کے لئے دیکھئے ( ٥١٠، ٤٢١، ٤٤٥، ٥٠٨، ٣١٩، ٣٣٤، ٥٠٦، ٤١٨ ٥

صفحہ ٢٩

دور کر اور مجھے غموں سے نجات دے۔ اے میرے کریم اور میرے دشمن کو ٹکڑے ٹکڑے کر اور خاک میں ملا دے۔“ اور پھر کتاب اعجاز احمدی نومبر ١٩٠٢ء میں یہ پیشینگوئی تھی۔ ”...........خدا نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ طعن کا بدلہ طعن ہے۔ پس وہی طاعون جو ان کو پکڑے گی اور جب فسق ہلاک کرنے والا حد سے بڑھ گیا تو میں نے آرزو کی کہ اب ہلاک کرنے والی طاعون چاہئے۔“ (حاشیہ یہ پیشینگوئی حمامۃ البشریٰ، تذکرہ ص ٥٠٨ طبع ٣) میں ہے ”اور اس کے بعد یہ الہام ہوا ”اے بسا خانہ دشمن کہ تو ویران کردی۔“ اور یہ الحکم اور البدر میں شائع کیا گیا اور پھر مذکورہ بالا دعائیں جو دشمنوں کی سخت ایذا کے بعد کی گئیں۔ جناب الٰہی میں قبول ہو کر پیشینگوئیوں کے مطابق طاعون کا عذاب ان پر آگ کی طرح برسا اور کئی ہزار دشمن جو میری تکذیب کرتا اور بدی سے نام لیتا تھا ہلاک ہو گیا۔“

(اکھترواں نشان حقیقت الوحی ص ٢٢٤، خزائن ج ٢٢ ص ٢٣٥ تا ٢٣٦)

بددعائیں نہ کہ بقول مرزا قادیانی دعائیں مانگنے کے بعد مرزا قادیانی کو جو مزعومہ الہام فارسی میں ہوا۔ اس کے معنی ہیں ”اے وہ کہ تو جس نے بہت سے مخالفین کے گھر برباد کر دیئے۔“ مرزا قادیانی نے نہ تو اس کے معنی لکھے ہیں اور نہ ہی کچھ تشریح کی ہے۔ غالباً ان کے خدا نے ان کو یہ نہیں بتایا کہ ”تو“ کی ضمیر کس کی طرف راجع ہے۔ مخلوق اللہ کی تباہی کے لئے بددعائیں نہ کہ دعائیں مانگنا ایک ایسے شخص کے لئے جو آنحضرت محمد رسول اللہ ﷺ کی کامل پیروی اور اتباع کرنے کا دعوے دار ہو اور جس پر مندرجہ ذیل مزعومہ الہامات نازل ہوئے ہوں، کہاں تک جائز ہے۔ یہ ایک لمحہ فکریہ ہے اور وہ مزعومہ الہامات یہ ہیں ”کیا تو اس غم میں اپنے تئیں ہلاک کر دے گا کہ یہ لوگ کیوں نہیں ایمان لاتے ۔ جس چیز کا تجھے علم نہیں۔ اس کے پیچھے مت پڑ اور ان لوگوں کے بارے میں جو ظالم ہیں۔ میرے ساتھ مخاطبت مت کرو، وہ غرق کئے جائیں گے۔“

”اس جگہ فتنہ ہے پس صبر کر جیسے اولوالعزم لوگوں نے صبر کیا ہے۔“ خبردار ہو یہ فتنہ خدا کی طرف سے ہے۔ تاکہ وہ ایسی محبت کرے جو کامل محبت ہے۔ اس خدا کی محبت جو نہایت عزت والا اور نہایت بزرگ ہے۔ وہ بخشش جس کا کبھی انقطاع نہیں۔ لوگوں سے رفق اور نرمی سے پیش آ، اور ان پر رحم کر تو بمنزلہ موسیٰ کے ہے اور ان کی باتوں پر صبر کر۔ اور میں نے تجھے اس لئے بھیجا ہے تاکہ سب لوگوں کے لئے رحمت کا سامان پیش کروں۔ مندرجہ بالا ترجمے مرزا قادیانی نے خود لکھے ہیں۔ غور فرمائیے کہ بددعا کے متعلق بالکل صاف طور پر نہی کی گئی ہے۔ بلکہ دشمنوں کا ذکر کرنے سے بھی منع کر دیا گیا ہے۔ حوالہ کے لئے دیکھئے (براہین احمدیہ حصہ چہارم، پہلی فصل صفحات (٤١٨،٥٠٦،٤٢٤،٤٦٩،٥٠٨،٣٢٥،٣٢١،٥١٠،٢٧٧-٣٢٢،٥١١/١٨٨٤)

٥

صفحہ ٣١

مرزا قادیانی کے مزعومہ الہامات میں ان کے خدا نے جو اوامر اور نواہی نازل کئے۔ مرزا قادیانی کے اخیر دم تک ان میں سے کسی ایک پر بھی عمل نہیں کیا۔ بلکہ برخلاف اس کے اپنے ہر سخت مخالف کے لئے مرنے کی دعائیں اور پیشینگوئیاں کرتے رہے جس سے بغیر کسی پس و پیش کے یہ نتیجہ اخذ کیا جاسکتا ہے کہ مرزا قادیانی پر حقیقتاً کوئی الہام منجانب اللہ عزوجل نازل نہیں ہوا۔ بلکہ یہ سب ان کے اپنے دماغ کی گونج تھی۔ جس پر انہوں نے عمل کرنے کی کوئی ضرورت نہیں سمجھی۔ حالانکہ ان کو خوشخبری دی گئی تھی کہ جو کچھ مخالفت ہو رہی ہے۔ وہ عین ان کے اللہ کی منشاء کے مطابق ہے۔ لہذا اصولاً ان کو تمام مخالفت کو نہایت خندہ پیشانی سے خوش آمدید کہنا چاہئے تھا تاکہ محبت میں اضافہ ہوتا نہ کہ مخالفین کے حق میں بد دعائیں کرنا چاہئے تھا۔ اور یہ کہنا کہ مرزا قادیانی پر حقیقتاً کوئی الہام اللہ عزوجل نہیں نازل ہوا۔ مندرجہ ذیل واقعات سے بھی بالکل واضح طور پر ثابت ہو جاتا ہے اور کسی شک و شبہ کی گنجائش باقی نہیں رہتی ہے۔

ملاحظہ فرمائیے: جب طاعون کی وباء پنجاب میں شروع ہوگئی تو مرزا قادیانی نے فوراً مندرجہ ذیل بیان حسب عادت شائع کرایا۔ ”آج جو چھ جنوری ١٨٩٨ء روز یکشنبہ ہے۔ میں نے خواب میں دیکھا کہ خدا تعالیٰ کے ملائک پنجاب کے مختلف مقامات میں سیاہ رنگ کے پودے لگا رہے ہیں۔ میں نے بعض لگانے والوں سے پوچھا کہ یہ کیسے درخت ہیں تو انہوں نے جواب دیا کہ یہ طاعون کے درخت ہیں جو عنقریب ملک میں پھیلنے والی ہے۔“ اور مجھے اس سے پہلے طاعون کے بارے میں الہام بھی ہوا۔ اور وہ یہ ہے: جب تک دلوں کی وباء معصیت دور نہ ہو تب تک ظاہری وبا بھی دور نہیں ہوگی ۔“ (تبلیغ رسالت ج٧ ص٥، مجموعہ اشتہارات ج٣ ص٥) ”چھبیسواں نشان یہ ہے کہ اس زمانے میں جبکہ بجز ایک مقام کے پنجاب کے تمام اضلاع میں طاعون کا نام ونشان نہ تھا۔ خدا تعالیٰ نے مجھے خبر دی کہ تمام پنجاب میں طاعون پھیل جائے گی اور ہر ایک مقام طاعون سے آلودہ ہوگا اور بہت مری پڑے گی اور ہزار ہا لوگ طاعون کا شکار ہو جائیں گے اور کئی گاؤں ویران ہو جائیں گے اور مجھے دکھایا گیا کہ ہر ایک جگہ اور ہر ایک ضلع میں طاعون کے سیاہ درخت لگائے گئے ہیں۔ چنانچہ یہ پیشینگوئی کئی ہزار اشتہار اور رسالوں کے ذریعے سے میں نے اس ملک میں شائع کی پھر تھوڑی مدت کے بعد ایک ضلع میں طاعون پھوٹ پڑی۔ چنانچہ تین لاکھ کے قریب اب تک جانوں کا نقصان ہوا اور ہورہا ہے۔ اور خدا تعالیٰ نے فرمایا اب اس ملک سے کبھی طاعون دور نہیں ہوگی جب تک یہ لوگ تبدیلی نہ کرلیں ۔“

(حقیقت الوحی ص ٢٢٠، خزائن ج٢٢ ص٢٣٠)

٦

خدا کی وہ پاک وحی جو میرے پر نازل ہوئی اور جس میں خدا نے اپنے بندہ کو تسلی دے کر فرمایا ہے کہ اس بلائے طاعون کو ہرگز دور نہیں کرے گا جب تک کہ لوگ ان خیالات کو دور نہ کریں جو ان کے دلوں میں ہیں۔ یعنی جب تک وہ خدا کے مامور اور رسول کو قبول نہ کر لیں یہ بلا ان سے دور نہیں ہوگی۔ اور وہ قادر خدا قادیان کو طاعون کی تباہی سے محفوظ رکھے گا اور وہ خاص طور پر اسی لئے محفوظ رکھی گئی ہے کہ خدا کا رسول اور فرستادہ اس میں ہے۔ اور اس کے ذریعہ سے یہ نشان ثابت ہورہا ہے کہ وہ دونوں پہلو پورے ہوگئے ہیں کہ ایک طرف طاعون تمام پنجاب میں پھیل گئی اور دوسری طرف باوجود اس کے کہ قادیان کے چاروں طرف دو دو میل کے فاصلہ پر طاعون کا زور ہورہا ہے۔ مگر قادیان طاعون سے پاک ہے۔ اور جو شخص طاعون کے دانہ کے ساتھ باہر سے قادیان میں آیا وہ بھی اچھا ہو گیا۔..... پس اس بیان سے صاف ظاہر ہے کہ جو دعویٰ میں نے کیا ہے۔ وہ یہی ہے کہ لوگ مجھے سچے دل سے مسیح موعود اور مہدی مان لیں۔

غور فرمائیے کہ مرزا صاحب نے موقع پاتے ہی کس طرح طاعون کی آڑ میں لوگوں کے سہمے ہوئے دلوں کو مرزائیت کے قالب میں ڈھالنے کی کوشش کی ہے۔

اور پھر اس کے بعد ان دنوں میں بھی خدا نے مجھے یہ بشارت دی۔ چنانچہ وہ قادر مطلق عزوجل فرماتا ہے ”ما کان الله لیعذبهم انه اوی القرية.... انى احافظ كل من فى الدار انا الرحمن دافع الاذى انى لا يخاف لدى المرسلون ولنخرجنك الى ضحوة اقوم والوم من يلوم افطر واصوم غضبت للحق وللصدق. ياتيك نصرتى والـنـفـوس تضاع الاالذين امنوا ولم يلبسوا ايمانهم بظلم اولئك لهم الامن وهم مهتدون انـا نـاتـی الارض ننقصها من اطرافها........ ولا ينفع الظالمين دارهم جاثمين سنريهم ايا تنا فى الافاق وفى انفسهم. عسى الله ان يرحمكم اني بايعتك (یعنی ربی) انت منى بمنزلة اولادى. انت منى بمنزلة توحيدى و تفريدي. يبعثك ربك مـقـاماً محموداً الفوق معك والحتف بالضد قل ان هدى الله هو الهدى الله بـامـره يـاتـى عـلـى جهنم زمان ليس فيها احد...“ (حقیقت الوحی ص ٢٢١) اس کی مندرجہ ذیل تشریحات کی ہیں: ”اب اس تمام وحی سے جو میں نے لکھی ہے چند امور ثابت ہوتے ہیں۔

گیا بلکہ اس کو دکھ دیا گیا۔ اس کے قتل کرنے کے منصوبے کئے گئے۔

٧

صفحہ ٣١

خدا کی وہ پاک وحی جو میرے پر نازل ہوئی اس کی عبارت یہ ہے ”خدا نے یہ ارادہ فرمایا ہے کہ اس بلائے طاعون کو ہرگز دور نہیں کرے گا جب تک لوگ ان خیالات کو دور نہ کرلیں جو ان کے دلوں میں ہیں۔ یعنی جب تک وہ خدا کے مامور اور رسول کو نہ مان لیں۔ تب تک طاعون دور نہیں ہوگی۔ اور وہ قادر خدا قادیان کو طاعون کی تباہی سے محفوظ رکھے گا تاکہ تم سمجھو کہ قادیان اسی لئے محفوظ رکھی گئی ہے کہ خدا کا رسول اور فرستادہ قادیان میں تھا ۔“ اب دیکھو تین برس سے ثابت ہورہا ہے کہ وہ دونوں پہلو پورے ہوگئے ہیں۔ یعنی ایک طرف تمام پنجاب میں طاعون پھیل گئی اور دوسری طرف باوجود اس کے کہ قادیان کے چاروں طرف دو، دو میل کے فاصلہ پر طاعون کا زور ہورہا ہے۔ مگر قادیان طاعون سے پاک ہے بلکہ آج تک جو شخص طاعون زدہ باہر سے قادیان میں آیا وہ بھی اچھا ہوگیا...... پس اس بیماری کے دفع کے لئے وہ پیغام جو خدا نے مجھے دیا ہے۔ وہ یہی ہے کہ لوگ مجھے سچے دل سے مسیح موعود مان لیں۔“

(دافع البلاء ص ٥ ، ٦، خزائن ج ١٨ ص ٢٢٥ تا ٢٢٦)

غور فرمائیے کہ مرزا صاحب نے موقع سے فائدہ اٹھا کر طاعون کے خوف سے پگھلے ہوئے دلوں کو مرزائیت کے قالب میں ڈھالنے کی کیسی ترکیب نکالی۔ مرزا قادیانی نے آگے فرمایا اور اور پھر اس کے بعد ان دنوں میں بھی خدا نے مجھے خبر دی۔ چنانچہ اس نے مجھے خبر دی چنانچہ عز وجل فرماتا ہے ”ما كان الله ليعذبهم انه اوى القرية لولا الاكرام لهلك المقام ان انا الرحمن دافع الاذى انى لا يخاف لدي المرسلين انى حفيظ انى مع الرسول اقوم والوم من يلوم افطر واصوم غضبت غضبا شديدا الا مراض تشاع والنفوس تضاع الاالذين آمنوا ولم يلبسو ايمانهم بظلم اولئك لهم الامن وهم مهتدون انا ناتى الارض ننقصها من اطرافها انى اجهز الجيش فاصبحو في دارهم جاثمين سنريهم آيا تنا في الافاق وفي انفسهم نصر من الله وفتح مبين انى بايعتك يا يعنى ربى انت منى بمنزله اولادى انت منى وانا منك وعسى ان يبعثك ربك مقاماً محموداً الفوق معك والتحت مع اعدائك فاصبر حتى ياتى الله بامره ياتى على جهنم زمان ليس فيها احد “مرزا قادیانی نے اس عبارت کی مندرجہ ذیل تشریحات کی ہیں:”اب اس تمام وحی سے تین باتیں ثابت ہوئی ہیں: ....... اول یہ کہ طاعون دنیا میں اس لئے آئی ہے کہ خدا کے مسیح موعود سے نہ صرف انکار کیا گیا بلکہ اس کو دکھ دیا گیا۔ اس کے قتل کرنے کے منصوبے کئے گئے۔ اس کا نام کافر اور دجال رکھا

٧

صفحہ ٣٢

گیا۔ پس خدا نے چاہا کہ اپنے رسول کو بغیر گواہی چھوڑ دے...........

٢....... دوسری بات جو اس وحی سے ثابت ہوئی وہ یہ ہے کہ یہ طاعون اس حالت میں فرو ہوگی جب کہ لوگ خدا کے فرستادہ کو قبول کرلیں گے۔ اور کم سے کم یہ کہ شرارت اور ایذاء اور بدزبانی سے باز آجائیں گے۔

٣....... تیسری بات جو اس وحی سے ثابت ہوئی وہ یہ ہے کہ خدا تعالیٰ بہر حال جب تک کہ طاعون دنیا میں رہے گوستر برس تک رہے۔ قادیان کو اس کی خوفناک تباہی سے محفوظ رکھے گا۔ کیونکہ یہ اس کے رسول کا تخت گاہ ہے۔ اور یہ تمام امتوں کے لئے نشان ہے۔............ یہ طاعون جو ملک میں پھیلی ہے کسی اور سبب سے نہیں بلکہ ایک ہی سبب ہے اور وہ یہ ہے کہ لوگوں نے خدا کے اس موعود کے ماننے سے انکار کیا ہے جو تمام نبیوں کی پیشگوئی کے موافق دنیا کے ساتویں ہزار میں ظاہر ہوا ہے۔ اور لوگوں نے نہ صرف انکار بلکہ خدا کے اس مسیح کو گالیاں دیں۔ کافر کہا اور قتل کرنا چاہا اور جو کچھ چاہا، اس سے کیا اس لئے خدا کی غیرت نے چاہا کہ ان کی شوخی اور بے ادبی پر ان کو تنبیہ نازل کرے اور خدا نے پہلے پاک فرشتوں میں خبر دی تھی کہ لوگوں کے انکار کی وجہ سے ان دنوں میں جب مسیح ظاہر ہوگا ملک میں سخت طاعون پڑے گی۔ سوضرور تھا کہ طاعون پڑتی......

اے عزیزو! اس کا بجز اس کے کوئی بھی علاج نہیں کہ اس کے مسیح کو سچے دل اور اخلاص سے قبول کر لیا جائے یہ تو یقینی علاج ہے اور اس سے کم تر درجہ کا یہ علاج ہے کہ اس کے انکار سے منہ بند کر لیا جائے اور زبان کو بدگوئی سے روکا جائے اور دل میں اس کی عظمت بٹھائی جائے۔ اور میں سچ سچ کہتا ہوں کہ وہ وقت آتا ہے بلکہ قریب ہے کہ لوگ یہ کہتے ہوئے کہ ”یا مسیح الخلق عد الینا “ میری طرف دوڑیں گے یہ جو میں نے ذکر کیا ہے۔ یہ خدا کا کلام ہے۔ اس کے یہ معنے ہیں کہ اے جو خلقت کے لئے مسیح کر کے بھیجا گیا ہے۔ ہماری اس مہلک بیماری کے لئے شفاعت کر! اور جیسا کہ اس احمد کے غلام کی نسبت خدا نے فرمایا ”انہ اوى القرية لولا الاكرام لهلك المقام“ جس کے یہ معنی ہیں کہ خدا نے اس شفیع کی عزت ظاہر کرنے کے لئے اس گاؤں قادیان کو طاعون سے محفوظ رکھا جیسا کہ دیکھتے ہو کہ وہ پانچ چھ برس سے محفوظ چلی آتی ہے۔ اور نیز فرمایا کہ اگر میں اس احمد کے غلام کی بزرگی اور عزت ظاہر نہ کرنا چاہتا تو آج قادیان میں بھی تباہی ڈال دیتا۔“

(دافع البلاء ص ٢ تا ٤، خزائن ج ١٨ ص ٢٢٦ تا ٢٢٨)

قارئین کرام غور فرمائیے اور خود فیصلہ کیجئے کہ مرزا قادیانی نے جو اس مزعومہ الہامات سے تین باتیں لکھی ہیں اس میں وہ کہاں تک حق بجانب ہیں۔ مرزا قادیانی نے ان مزعومہ الہامات کے ذریعے خود لوگوں پر نفسیاتی دباؤ ڈالنے کی تصدیق کرتے ہیں۔ کیونکہ یہ تمام باتیں آئند طاعون کی وباء سے خوفزدہ ہیں اور جن کا ایمان بلاشبہ مرزا قادیانی کو اپنے اس مشن میں خاطر خ لئے انسان کیا کچھ نہیں کرتا ہے۔ جیسا کہ ان کے

”یہ طاعون ہماری جماعت کو بڑھ ہے۔ ہر ایک مہینہ میں کم سے کم پانچ سو آدم جماعت میں داخل ہوتا ہے۔ پس ہمارے لئے زحمت اور عذاب ہے اور اگر دس پندرہ سال تک کہ تمام ملک احمدی جماعت سے بھر جائے گا۔ بڑھاتی ہے اور ہمارے مخالفوں کو گھٹاتی ہے۔“

(کیا ہی پاکیزہ آرزو ہے مرزا قاد

دوم....... یہ کہ طاعون کے خوف سے ایمان بتایا کہ وہ تمام لوگ جو طاعون کے خوف سے کتنے محفوظ رہے۔ کیونکہ آگے چل کر آپ کو م بانگ دعویٰ کے ساتھ طاعونی وباء سے محفوظ میں پناہ لینی پڑی۔ ایک اور اقتباس اسی سلسلے ہو۔ ”طاعون خدا کا ایک عذاب ہے جو حضر جماعت کی رفتار ترقی کو دیکھا جائے تو ثاب سلسلہ میں داخل ہوئے ہیں۔ مجھ کو یاد ہے کہ بیعت کے خطوط حضرت پاک کے پاس رو نشان ہے اور جب تک جماعت کی حفاظت نہیں ہو سکتا۔ اس لئے دعا کرنی چاہئے کہ بچائے...... پس جماعت کے لوگوں کو دعاء احمدیت خوب پھیلے۔ جانتے ہو اگر کرم لو

صفحہ ٣٤

کے ذریعے خود لوگوں پر نفسیاتی دباؤ ڈالنے کی کوشش کی ہے۔ (خط کشیدہ الفاظ ہمارے دعویٰ کی تصدیق کرتے ہیں۔ کیونکہ یہ تمام باتیں آئندہ چل کر غلط ثابت ہوئیں۔) تاکہ وہ لوگ جو اس طاعون کی وباء سے خوفزدہ ہیں اور جن کا ایمان کمزور ہے۔ وہ مرزا قادیانی کو مسیح موعود مان لیں اور بلاشبہ مرزا قادیانی کو اپنے اس مشن میں خاطر خواہ کامیابی بھی ہوئی۔ کیونکہ اپنی جان بچانے کے لئے انسان کیا کچھ نہیں کرتا ہے۔ جیسا کہ ان کی مندرجہ ذیل عبارت سے تصدیق ہوتی ہے۔

”یہ طاعون ہماری جماعت کو بڑھاتی جاتی ہے اور ہمارے مخالفوں کو نابود کرتی جاتی ہے۔ ہر ایک مہینہ میں کم سے کم پانچ سو آدمی اور کبھی ہزار دو ہزار آدمی بذریعہ طاعون ہماری جماعت میں داخل ہوتا ہے۔ پس ہمارے لئے طاعون رحمت ہے اور ہمارے مخالفوں کے لئے زحمت اور عذاب ہے اور اگر دس پندرہ سال تک ملک میں ایسی طاعون رہی تو میں یقین رکھتا ہوں کہ تمام ملک احمدی جماعت سے بھر جائے گا۔ یہ بات ثابت شدہ ہے کہ طاعون ہماری جماعت کو بڑھاتی ہے اور ہمارے مخالفوں کو گھٹاتی ہے۔“

(تتمہ حقیقت الوحی ص ١٣٢ حاشیہ، خزائن ج ٢٢ ص ٥٦٨،٥٦٩)

(کیا ہی پاکیزہ آرزو ہے مرزا قادیانی کی)

دوم...... یہ کہ طاعون کے خوف سے ایمان لانا ایمان نہیں کہا جاسکتا۔ مرزا قادیانی نے یہ نہیں بتایا کہ وہ تمام لوگ جو طاعون کے خوف سے ان کی جماعت میں داخل ہوئے تھے۔ ان میں سے کتنے محفوظ رہے۔ کیونکہ آگے چل کر آپ کو معلوم ہو جائے گا کہ خود مرزا قادیانی کا گھر ان کے بلند بانگ دعاوی کے ساتھ طاعونی وباء سے محفوظ نہیں رہا۔ یہاں تک کہ ان کو اپنی جماعت کے باغ میں پناہ لینی پڑی۔ ایک اور اقتباس اسی سلسلے میں درج کیا جاتا ہے۔ تاکہ قارئین کو بصیرت حاصل ہو۔ ”طاعون خدا کا ایک عذاب ہے جو حضرت مسیح موعود کی تائید کے لئے بھیجی گئی ہے۔ اگر ہماری جماعت کی رفتار ترقی کو دیکھا جائے تو ثابت ہوگا کہ ٦٠، ٧٠ فیصدی آدمی طاعون کی وجہ سے سلسلہ میں داخل ہوئے ہیں۔ مجھ کو یاد ہے کہ طاعون کے دنوں میں پانچ پانچ سو، ہزار ہزار آدمی کی بیعت کے خطوط حضرت اقدس کے پاس روزانہ آتے تھے تو چونکہ یہ احمدیت کی صداقت کا ایک نشان ہے اور جب تک جماعت کی حفاظت نشان کے طور پر نہ ہو یہ نشان کامل تجلی کے ساتھ ظاہر نہیں ہو سکتا۔ اس لئے دعا کرنی چاہئے کہ اللہ تعالیٰ امتیازی طور پر اس جماعت کو اس مرض سے بچائے...... پس جماعت کے لوگوں کو دعاؤں کے ساتھ ہی اس نشان پر زور دینا چاہئے تا کہ احمدیت خوب پھیلے۔ جانتے ہو اگر گرم لوہے پر چوٹ مارو تو اس کو جس شکل میں چاہو ڈھال لو۔

٩

صفحہ ٣٥

لیکن ٹھنڈے لوہے پر کچھ اثر نہیں ہوا کرتا۔ ان دنوں چونکہ دل پگھلے ہوئے ہیں۔ اس لئے احمدیت کے سانچے میں ڈھل جائیں گے۔ طاعون بھی خدا کی طرف سے ایک بھٹی بنائی گئی ہے۔ جس میں دل پگھلائے جاسکتے ہیں۔ پس صداقت کے قالبوں میں ان کو ڈھال لو۔ یہ دن تبلیغ کے دن ہیں۔ دونوں باتوں کی طرف توجہ کرنی چاہئے اور اس سے فائدہ اٹھانا چاہئے۔‘‘

(میاں محمود احمد قادیانی کا خطبہ مندرجہ الفضل جلد ٥ ص ٢٧، مورخہ ١٩؍ مارچ ١٩١٨ء)

’’چنانچہ اگر اشاعت سلسلہ کی تاریخ کا بغور مطالعہ کیا جائے تو صاف نظر آتا ہے کہ جس سرعت کے ساتھ طاعون کے زمانہ میں سلسلہ کی ترقی ہوئی۔ ایسی سرعت اس وقت اور کسی زمانے میں نہیں ہوئی۔ نہ طاعون کے دور دورہ سے قبل نہ اس کے بعد۔ چنانچہ میاں محمود صاحب قادیانی بیان فرماتے تھے کہ جن دنوں میں اس بیماری کا پنجاب میں زور تھا۔ ان دنوں میں بعض اوقات پانچ پانچ سو آدمیوں کی بیعت کے خطوط ایک دن میں حضرت صاحب کی خدمت میں پہنچتے تھے۔‘‘

(سیرت المہدی حصہ دوم ص ٤٧، روایت نمبر ٣٥٦، مولفہ صاحبزادہ بشیر احمد قادیانی)

مگر جب ان تمام بلند بانگ اور زور دار دعاوی کے باوجود قادیان میں جو کہ بقول مرزا قادیانی خدا تعالیٰ ’’قادیان کو اس کی (طاعون) کی خوفناک تباہی سے محفوظ رکھے گا۔ کیونکہ یہ اس کے رسول کا تخت گاہ ہے۔‘‘ (دافع البلاء ص ١٠، خزائن ج ١٨ص٢٣٠) طاعون کی وباء پھوٹ پڑی تو مرزا قادیانی نے فوراً مندرجہ ذیل مزعومہ الہام شائع کر دیا: ’’چونکہ اللہ تعالیٰ جانتا تھا کہ ملک میں عام طاعون پڑے گی اور کسی کم مقدار کی حد تک قادیان بھی اس سے محفوظ نہ رہے گی۔ اس لئے آج کے دنوں سے تئیس برس پہلے فرما دیا کہ جو شخص اس مسجد اور اس گھر میں داخل ہوگا۔ یعنی اخلاص اور اعتقاد سے وہ طاعون سے بچایا جائے گا۔ اسی کے مطابق ان دنوں خدا تعالیٰ نے مجھے مخاطب کر کے فرمایا ’’انی احافظ کل من فی الدار الا الذین علوا من استکبار واحافظک خاصۃ سلام قولا من رب رحیم‘‘ یعنی میں ہر ایک انسان کو طاعون کی موت سے بچاؤں گا جو تیرے گھر میں ہوگا۔ مگر وہ لوگ جو تکبر سے اپنے تئیں اونچا کریں اور میں تجھے خصوصیت کے ساتھ بچاؤں گا۔ خدائے رحیم کی طرف سے تجھے سلام۔‘‘ جاننا چاہئے کہ خدا کی وحی نے اس ارادہ کو جو قادیان کے متعلق ہے دو حصوں پر تقسیم کر دیا ہے:

شدت طاعون سے افراتفری اور تباہی ڈالنے والی اور ویران کرنے والی اور تمام گاؤں کو منتشر کرنے والی ہو محفوظ رہے گا۔

١٠

عذاب سے بچائے گا جو گاؤں کے دوسرے لوگوں کو پکڑ

(نزول م

’’آج سے ایک مدت پہلے وہ خدا جو زمی سے کوئی چیز باہر نہیں۔ اس نے مجھ پر وحی نازل کی ک بچاؤں گا۔ جو اس گھر کی چار دیواری میں ہوگا۔ بشرطیکہ ہو کر پورے اخلاص اور اطاعت اور انکسار سے سلسلہ بیع

مرزا قادیانی نے لکھا ہے: ’’چونکہ اللہ تعالیٰ ج اور کسی کم مقدار کی حد تک قادیان بھی اس سے محفوظ نہی مرزا قادیانی کا خدا پہلے سے یہ بات جانتا تھا تو پھر یہ ا قادیان کو طاعون کی تباہی سے محفوظ رکھے گا۔ کیونکہ یہ ا دہائی مرزا قادیانی کو کیوں کراتا رہا اور مرزا قادیانی ب مخلوق کو یہ باور کرانے کی ناکام کوشش کی کہ قادیانی ب عذاب سے نجات حاصل ہو سکتی ہے۔ اور اس یقین دہ ہوئے لیکن جب قادیان میں بھی طاعون کا حملہ ہو گیا ت کا قلعہ بالکل مسمار ہو گیا اور ساتھ ہی ساتھ مرزا قادیانی ثابت کر دیا۔ یہ ایک لمحہ فکریہ ہے۔

مرزا قادیانی کے خدا نے حالات کے ساتھ س کا دائرہ بھی تنگ کر دیا۔ یعنی حفاظت کی ذمہ داری قاد محدود کر دی اور بعد میں وہ ذمہ داری طاعون سے بچانے کی رہ گئی۔ اور مرزا قادیانی نے اپنے مزعومہ الہام کا ترج ج ٢٢ ص ٩٧) پر یوں درج کیا ’’اور خدا ایسا نہیں ہے کہ کی۔ جب تک وہ قوم اپنے دلوں کے خیالات کو نہ بدل کے بعد اپنی پناہ میں لے گا۔‘‘ یعنی مرزا قادیانی کو بچا ساتھ اپنے مزعومہ الہامات اور ان کے معانی تبدیل کر

١١

صفحہ ٣٥

عذاب سے بچائے گا جو گاؤں کے دوسرے لوگوں کو پہنچے گا۔“

(نزول المسیح ص ٢٣، ٢٤۔ ١٩٠٩ء، خزائن ج ١٨ ص ٤٠١، ٤٠٢)

”آج سے ایک مدت پہلے وہ خدا جو زمین و آسمان کا خدا ہے جس کے علم اور تصرف سے کوئی چیز باہر نہیں۔ اس نے مجھ پر وحی نازل کی ہے کہ میں ہر ایک شخص کو طاعون کی موت سے بچاؤں گا۔ جو اس گھر کی چاردیواری میں ہوگا۔ بشرطیکہ وہ اپنے تمام مخالفانہ ارادوں سے دست کش ہو کر پورے اخلاص اور اطاعت اور انکسار سے سلسلہ بیعت میں داخل ہو۔“

(کشتی نوح ص٢، خزائن ج١٩ ص٢)

مرزا قادیانی نے لکھا ہے: ”چونکہ اللہ تعالیٰ جانتا تھا کہ ملک میں عام طاعون پڑے گی اور کسی کم مقدار کی حد تک قادیان بھی اس سے محفوظ نہیں رہے گا۔“ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب مرزا قادیانی کا خدا پہلے سے یہ بات جانتا تھا تو پھر پہلے اس نے کیوں نہیں بتا دیا اور ”وہ قادر خدا قادیان کو طاعون کی تباہی سے محفوظ رکھے گا۔ کیونکہ یہ اس کے رسول کا تخت گاہ ہے۔“ کی یقین دہانی مرزا قادیانی کو کیوں کراتا رہا اور مرزا قادیانی نے ان ہی باتوں کو مشتہر اور شائع کرا کر اللہ کی مخلوق کو یہ باور کرانے کی ناکام کوشش کی کہ قادیانی جماعت میں شامل ہونے سے طاعون کے عذاب سے نجات حاصل ہو سکتی ہے۔ اور اس یقین دہانی سے ہی لوگ قادیانی جماعت میں داخل ہوئے لیکن جب قادیان میں بھی طاعون کا حملہ ہو گیا تو مفروضہ ”اس کے رسول کا تخت گاہ ہے۔“ کا قلعہ بالکل مسمار ہو گیا اور ساتھ ہی ساتھ مرزا قادیانی نے اپنے خدا پر وعدہ خلافی کا الزام خود بھی ثابت کر دیا۔ یہ ایک لمحہ فکریہ ہے۔

مرزا قادیانی کے خدا نے حالات کے ساتھ ساتھ ان کی اور ان کی جماعت کی حفاظت کا دائرہ بھی تنگ کر دیا۔ یعنی حفاظت کی ذمہ داری قادیان سے ہٹ کر مرزا قادیانی کے گھر تک محدود کر دی اور بعد میں وہ ذمہ داری طاعون سے بچانے کے بجائے طاعون کی موت سے بچانے کی رہ گئی۔ اور مرزا قادیانی نے اپنے مزعومہ الہام کا ترجمہ بھی بدل دیا۔ (حقیقت الوحی ص٩٤، خزائن ج٢٢ ص٩٧) پر یوں درج کیا ”اور خدا ایسا نہیں ہے جو اپنی تقدیر کو بدل دے جو ایک قوم پر نازل کی۔ جب تک وہ قوم اپنے دلوں کے خیالات کو نہ بدل ڈالیں۔ وہ اس قادیان کو کسی زور آور بلا کے بعد اپنی پناہ میں لے گا۔“ یعنی مرزا قادیانی کو یہ اختیار حاصل تھا کہ حالات کی تبدیلی کے ساتھ ساتھ اپنے مزعومہ الہامات اور ان کے معانی تبدیل کرتے چلے جائیں۔ لیکن اتنا کچھ کرنے کے

صفحہ ٣٧

بعد بھی طاعون کی وبا نے قادیان میں تباہی مچادی۔

”اس جگہ طاعون سخت تیزی پر ہے۔ ایک طرف انسان بخار میں مبتلا ہوتا ہے اور صرف چند گھنٹوں میں مر جاتا ہے۔“

(مکتوب بنام نواب محمد علی خان مندرجہ مکتوبات احمدیہ ج ٥ ص ١٢۔ مکتوبات احمدیہ جدید ج ٢ ص ٢٥٨)

اب مرزا قادیانی کے پاس سوائے اس کے اور کوئی بات باقی نہیں رہی تھی کہ وہ اپنے گھر کو طاعونی وباء سے حفاظت کا قلعہ مخلوق اللہ کو باور کرادیں۔ لہٰذا ایک بار پھر انہوں نے پلٹا کھایا اور مشتہر کر دیا۔ ”آج کے دنوں سے تیئس ٢٣ برس پہلے فرما دیا کہ جو شخص اس گھر میں داخل ہوگا یعنی اخلاص اور اعتقاد سے وہ طاعون سے بچایا جائے گا۔“

(نزول المسیح ص ٢٣، ١٩٠٢ء، خزائن ج ١٨ ص ٤٠١)

مندرجہ بالا الہام میں مسجد میں داخل ہونے والی بات براہین احمدیہ میں درج ضرور ہے۔ لیکن وہاں پر نہ کوئی شرط عائد ہے اور نہ ہی حفاظت کی تشریح بلکہ صرف خاتمہ بالخیر کی خبر ہے ”الم نجعل لك سهولة فى كل امر بيت الفكر وبيت الذكر ومن دخله كان امنا (٥٥٨ حاشیہ در حاشیہ نمبر ٤، خزائن ج ١ ص ٦٦٦) ”مرزا قادیانی کی حساب دانی کی داد دیجئے کہ ١٨٨٤ء سے ١٩٠٢ء تک تیس برس ہو گئے۔ مرزا قادیانی نے اس مزعومہ الہام کی یوں تشریح کی ہے۔ ”کیا ہم نے ہر ایک بات میں تیرے لئے آسانی نہیں کی کہ تجھ کو بیت الفکر اور بیت الذکر عطا کیا اور جو شخص بیت الذکر میں باخلاص وقصد تعبد وصحت نیت وحسن ایمان داخل ہوگا وہ سوئے خاتمہ سے امن میں آجائے گا۔ بیت الفکر سے مراد اس جگہ وہ چوبارہ ہے جس میں یہ عاجز کتاب کی تالیف کے لئے مشغول رہا ہے اور رہتا ہے اور بیت الذکر سے مراد وہ مسجد ہے جو اس چوبارہ کے پہلو میں بنائی گئی ہے۔ اور آخری فقرہ بالا (من دخله كان آمنا) اس مسجد کی صفت میں بیان فرمایا ہے۔ یعنی یہ مسجد برکت دہندہ اور برکت یافتہ ہے۔“

قارئین ! غور فرمائیے کہ بقول مرزا قادیانی جو کچھ بھی کہا گیا ہے وہ صرف مسجد کے لئے بیان کیا گیا نہ کہ گھر بھی اس میں شامل ہے۔ اور پھر سوئے خاتمہ سے اس کا وعدہ ہے اور کچھ نہیں بلکہ مرزا قادیانی نے موقع سے فائدہ اٹھانے کے لئے اپنی مندرجہ بالا تشریح کو بھی بدل دیا اور مسجد کے بجائے اپنے گھر کو شامل کردیا اور جب مرزا قادیانی کی یقین دہانی پر لوگ ان کے گھر میں آنے لگے تو ان کو کچھ پیسہ بٹورنے کا خیال آیا تو فوراً یہ بیان جاری کر دیا ”چونکہ آئندہ اس بات کا سخت اندیشہ ہے کہ طاعون ملک میں پھیل جائے اور ہمارے گھر میں جس میں بعض حصوں میں مرد بھی

١٢

مہمان رہتے ہیں اور بعض حصوں میں عورتیں، سخت تنگی عزوجل نے ان لوگوں کے لئے جو اس گھر کی چاردیواری فرمایا ہے۔ اور اب وہ گھر جو غلام حیدر متوفی کا تھا جس شریک راضی ہوگئے ہیں کہ ہمارا حصہ دیں اور قیمت پر یہ حویلی جو ہماری حویلی کا ایک جزو ہو سکتی ہے دو ہزار تک کا زمانہ قریب ہے اور یہ کہ وحی الہی کی خوشخبری کی رو ہوگا۔ نہ معلوم کس کس کو اس بشارت کے وعدہ سے حصہ پر بھروسہ کرکے جو خالق اور رازق ہے اور اعمال صالحہ کو بھی دیکھا کہ یہ ہمارا گھر بطور کشتی تو ہے مگر آئندہ اس کی کی۔ اس لئے توسیع کی ضرورت پڑی۔“

قارئین کرام ! غور فرمائیے کہ ایک طرف الہا میں ہے اور دوسری طرف مرزا قادیانی نے کس پراثر طریقہ اختیار کیا اور وہ بھی دو ہزار روپیہ جس کا اندازہ آج

جب مرزا قادیانی کے اپنے گھر میں طاعون ”ان دنوں خدا تعالیٰ نے مجھے مخاطب کر کے فرمایا ”اني احافظ كل من في الدار احافظك خاص انسان کو طاعون کی موت سے بچاؤں گا جو تیرے گھر میں کریں اور میں تجھے خصوصیت کے ساتھ بچاؤں گا۔“ یا کہ تیرے گھر کے لوگ طاعون میں مبتلا ہوں گے لیکن مر دعویٰ یاد نہیں رہا۔ تیسری بات جو اس وحی سے ثابت ہو تک کہ طاعون دنیا میں رہے۔ گو ستر برس تک رہے قادی گا کیونکہ اس کے رسول کا تخت ہے اور یہ تمام آفتوں کے

معلوم ہوتا ہے کہ قادیان مرزا قادیانی کے خ لئے نشان ہونے والی بات مرزا صاحب کی حیات میں ضرور بالضرور قادیان کو محفوظ رکھتا۔ لیکن ایسا نہیں ہوسکا گھر میں بھی طاعون کے کیس ہونے لگے اور یوں وہ کش

١٣

صفحہ ٣٧

مہمان رہتے ہیں اور بعض حصوں میں عورتیں، سخت تنگی واقع ہے اور آپ لوگ سن چکے ہیں کہ اللہ عزوجل نے ان لوگوں کے لئے جو اس گھر کی چاردیواری کے اندر ہوں گے حفاظت کا خاص وعدہ فرمایا ہے۔ اور اب وہ گھر جو غلام حیدر متوفی کا تھا جس میں ہمارا حصہ ہے اس کی نسبت ہمارے شریک راضی ہو گئے ہیں کہ ہمارا حصہ دیں اور قیمت پر باقی حصہ بھی دے دیں۔ میری دانست میں یہ حویلی جو ہماری حویلی کا ایک جزو ہو سکتی ہے دو ہزار تک تیار ہو سکتی ہے۔ چونکہ خطرہ ہے کہ طاعون کا زمانہ قریب ہے اور یہ گھر وحی الٰہی کی خوشخبری کی رو سے اس طوفانی طاعون میں بطور کشتی کے ہوگا۔ نہ معلوم کس کس کو اس بشارت کے وعدہ سے حصہ ملے گا۔ اسلئے یہ کام بہت جلدی کا ہے۔ خدا پر بھروسہ کر کے جو خالق اور رازق ہے اور اعمال صالحہ کو دیکھتا ہے۔ کوشش کرنی چاہئے۔ میں نے بھی دیکھا کہ یہ ہمارا گھر بطور کشتی تو ہے مگر آئندہ اس کشتی میں نہ کسی مرد کی گنجائش ہے۔ نہ عورت کی۔ اس لئے توسیع کی ضرورت پڑی۔“

(کشتی نوح ص ٦٧ خزائن ج ١٩ ص ٨٦)

قارئین کرام ! غور فرمائیے کہ ایک طرف اللہ کی مخلوق طاعون کی وباء سے سخت مصیبت میں ہے اور دوسری طرف مرزا قادیانی نے کس پراثر انداز میں دکھی مخلوق سے روپیہ بٹورنے کا طریقہ اختیار کیا اور وہ بھی دو ہزار روپیہ جس کا اندازہ آپ سب بخوبی لگا سکتے ہیں۔

جب مرزا قادیانی کے اپنے گھر میں طاعون کے کیس ہونے لگے تو انہوں نے لکھا: ”ان دنوں خدا تعالیٰ نے مجھے مخاطب کر کے فرمایا ”انی احافظ کل من فی الدار الا الذین علوا من استکبار احافظک خاصة (تذکرہ ص ٤٢٨ طبع ٣)‘ یعنی میں ہر ایک انسان کو طاعون کی موت سے بچاؤں گا جو تیرے گھر میں ہو گا مگر وہ لوگ جو تکبر سے اپنے تئیں اونچا کریں اور میں تجھے خصوصیت کے ساتھ بچاؤں گا۔“ بالفاظ دیگر مرزا قادیانی نے یہ باور کرانا چاہا کہ تیرے گھر کے لوگ طاعون میں مبتلا ہوں گے لیکن مریں گے نہیں۔ غالباً ان کو ”دفع البلاء“ والا دعویٰ یاد نہیں رہا۔ تیسری بات جو اس وحی سے ثابت ہوتی ہے وہ یہ ہے کہ خدا تعالیٰ بہرحال جب تک کہ طاعون دنیا میں رہے۔ گو ستر برس تک رہے قادیان کو اس کی خوفناک تباہی سے محفوظ رکھے گا کیونکہ اس کے رسول کا تخت ہے اور یہ تمام اُمتوں کے لئے نشان ہے۔

معلوم ہوتا ہے کہ قادیان مرزا قادیانی کے خدا کے رسول کا تخت گاہ اور تمام امتوں کے لئے نشان ہونے والی بات مرزا صاحب کی حیات میں ہی ان کے خدا نے ختم کر دی تھی۔ ورنہ وہ ضرور بالضرور قادیان کو محفوظ رکھتا۔ لیکن ایسا نہیں ہو سکا قادیان کی حفاظت تو کجا مرزا قادیانی کے گھر میں بھی طاعون کے کیس ہونے لگے اور یوں وہ کشتی والے بات بھی جھوٹی ثابت ہوئی جس کا

١٣

صفحہ ٣٩

ثبوت مندرجہ ذیل اقتباسات سے بالکل واضح طور پر ملتا ہے۔

”طاعون کے دنوں میں جبکہ قادیان میں طاعون زور پر تھا۔ میرا لڑکا شریف احمد بیمار ہوا اور ایک تپ محرقہ کے رنگ میں چڑھا جس سے لڑکا بالکل بے ہوش ہو گیا اور بیہوشی میں دونوں ہاتھ مارتا تھا۔ مجھے خیال آیا کہ اگرچہ انسان کو موت سے گریز نہیں مگر اگر لڑکا ان دنوں میں جو طاعون کا زور ہے، فوت ہو گیا تو تمام دشمن اس تپ کو طاعون ٹھہرائیں گے اور خدا تعالیٰ کی اس پاک وحی کی تکذیب کریں گے کہ جو اس نے فرمایا ہے ”انی احافظ کل من فی الدار“ یعنی میں ہر ایک کو جو تیرے گھر کی چار دیوار کے اندر ہے طاعون سے بچاؤں گا۔ اس خیال سے میرے دل پر وہ صدمہ وارد ہوا کہ میں بیان نہیں کر سکتا۔ قریباً رات کے بارہ بجے کا وقت تھا کہ جب لڑکے کی حالت ابتر ہوگئی اور دل میں خوف پیدا ہوا کہ یہ معمولی تپ نہیں ہے اور ہی بلا ہے۔“

(حقیقت الوحی ص ٨٤ حاشیہ، خزائن ج ٢٢ ص ٨٧)

”دوسرے دن کی صبح ہوئی تو میر ناصر صاحب کے بیٹے اسحاق کو تیز تپ چڑھا اور سخت گھبراہٹ شروع ہوگئی۔ اور دونوں طرف بن ران میں گلٹیاں نکل آئیں اور یقین ہو گیا کہ طاعون ہے۔۔۔۔ اور اگرچہ میں جانتا تھا کہ موت سنت قدیم سے ایک قانون قدرت ہے لیکن یہ خیال آیا کہ اگر خدانخواستہ ہمارے گھر میں کوئی طاعون سے مر گیا تو ہماری تکذیب میں ایک شور قیامت برپا ہو جائے گا۔ اور پھر گو میں ہزار نشان بھی پیش کروں۔ تب بھی اس اعتراض کے مقابل پر کچھ بھی ان کا اثر نہ ہوگا کیونکہ میں صدہا مرتبہ لکھ چکا ہوں اور شائع کر چکا ہوں کہ ہمارے گھر کے تمام لوگ طاعون کی موت سے بچے رہیں گے۔“

(حقیقت الوحی ص ٣٢٨، ٣٢٩، خزائن ج ٢٢ ص ٣٤١، ٣٤٢)

”اس وقت تک خدا کا فضل و کرم ہے اور جود و احسان ہے۔ ہمارے گھر اور آپ کے گھر میں بالکل خیریت ہے۔ بڑی غوثان کو تپ ہو گیا تھا۔ اس کو گھر سے نکال دیا ہے۔۔۔۔ آج ہمارے گھر میں ایک مہمان عورت کو جو دلی سے آئی تھی، بخار ہو گیا ہے۔“

(مکتوبات احمدیہ ج ٥ ص ١١٥، بنام نواب محمد علی خان مورخہ ١٦؍ اپریل ١٩٠٢ء)

مرزا قادیانی نے اپنی مزعومہ وحی کی صداقت قائم رکھنے کے لئے اوّل طاعون زدہ لوگوں کو اپنے گھر سے باہر نکالنا شروع کر دیا۔ لیکن جب زیادہ کیس ہونے لگے تو پھر خود معہ اپنی جماعت کے باغ میں منتقل ہو گئے۔ ”میں اس وقت تک معہ اپنی تمام جماعت کے باغ میں ہوں اگرچہ اب قادیان میں طاعون نہیں۔“

(مکتوب نمبر ٣، مکتوب احمدیہ ج ٥ حصہ اوّل ص ٣٩، مورخہ ١٢؍ مئی ١٩٠٥ء، بحوالہ حیات احمدیہ جدید جلد دوم ص ٤٢٤)

١٤

قارئین کرام! غور فرمائیے کہ مرزا قادیان الہامات کے ذریعہ کتنے رنگ بدلے۔ لیکن سب بے کا رکھا گیا۔ کیونکہ وہ اس کے رسول کا تخت گاہ ہے۔ قاد طاعون کا زور ہو رہا ہے۔ مگر قادیان طاعون سے پاک وہ بھی اچھا ہو گیا۔“ لیکن حال یہ ہے: ”آج ہمارے گ بخار ہو گیا۔“ مرزا قادیانی کے صاحبزادہ شریف احمد اور دین بھی اس وبا کے حملے سے نہیں بچ سکے۔ حالانکہ مخالفین میں سے نہیں تھے۔ جیسا کہ اوپر لکھا جا چکا ہے بہر حال جب تک کہ طاعون دنیا میں رہے گا گوشہ پر رکھے گا جیسا کہ دیکھتے ہو کہ وہ پانچ چھ سال سے محفوظ غلام کی بزرگی اور عزت ظاہر نہ کرنا چاہتا تو آج قادیان ک ج ٨ ص ٣٣٣)“ کے باوجود طاعون کی وبا نے قادیان م

”اس جگہ طاعون سختی پر ہے ایک طرف گھنٹوں میں مر جاتا ہے۔ (مکتوب بنام نواب محمد علی خان جدید ج ٢ ص ٢٥٨) ”یہاں تک کہ مرزا قادیانی کے خد وانت فیہم “ کو بھی پورا نہیں کیا۔ مرزا قادیانی ب خدا کے عذاب (طاعون) نے قادیان پر بھر پور حملہ کی

اب طاعون کی بیماری کے دوران مرزا قا قارئین کرام کو خاطر خواہ معلومات حاصل ہو جائیں۔

”ان دنوں خدا تعالیٰ نے مجھے مخاطب کر بچاؤں گا۔“ سو اس نے مجھے مخاطب کر کے فرمایا کہ تو ہو گا وہ سب طاعون سے بچا لئے جائیں گے۔“ اس مجھے دیا گیا ہے میں اس سے کیونکر انکار کر سکتا ہوں او بیماری سے بچایا گیا ہے۔ سو اس نے مجھے مخاطب کر قدر یقین دہانی اور یقین کے بعد مرزا قادیانی نے منع

١٥

صفحہ ٣٩

قارئین کرام! غور فرمائیے کہ مرزا قادیانی نے طاعون کے معاملہ میں اپنے مزعومہ الہامات کے ذریعہ کتنے رنگ بدلے۔ لیکن سب بے کار ثابت ہوئے۔ ”قادیان کو ہر حالت میں محفوظ رکھا گیا۔ کیونکہ وہ اس کے رسول کا تخت گاہ ہے۔ قادیانی کے چاروں طرف دو دو میل کے فاصلے پر طاعون کا زور ہو رہا ہے۔ مگر قادیان طاعون سے پاک ہے۔ بلکہ جو شخص طاعون زدہ قادیانی باہر سے آیا وہ بھی اچھا ہو گیا۔“ لیکن حال یہ ہے: ”آج ہمارے گھر میں ایک مہمان عورت کو جو دہلی سے آئی تھی بخار ہو گیا۔“ مرزا قادیانی کے صاحبزادہ شریف احمد اور برادر نسبتی میر اسحاق اور بڑی خوجاں اور ماسٹر محمد دین بھی اس وبا کے حملے سے نہیں بچ سکے۔ حالانکہ یہ سب لوگ مرزا قادیانی کے گھر میں تھے اور مخالفین میں سے نہیں تھے۔ جیسا کہ اوپر لکھا جا چکا ہے۔ اور مرزا قادیانی کی یقین دہانی ”خدا تعالیٰ بہر حال جب تک کہ طاعون دنیا میں رہے گا گو ستر برس رہے، قادیان کو اس خوفناک تباہی سے محفوظ رکھے گا جیسا کہ دیکھتے ہو کہ وہ پانچ چھ سال سے محفوظ چلی آتی ہے اور نیز فرمایا ”اگر میں اس احمد کے غلام کی بزرگی اور عزت ظاہر نہ کرنا چاہتا تو آج قادیان میں بھی تباہی ڈال دیتا۔ (دافع البلاء ص ١٤، خزائن ج١٨ص٢٣٤)“ کے باوجود طاعون کی وباء نے قادیان میں تباہی مچادی۔

”اس جگہ طاعون سختی پر ہے ایک طرف انسان بخار میں مبتلا ہوتا ہے اور صرف چند گھنٹوں میں مر جاتا ہے۔ (مکتوب بنام نواب محمد علی خان، مکتوبات احمدیہ حصہ پنجم ضمیمہ ص ١١٢، مکتوبات احمدیہ جدید ج ٢ ص ٢٥٨)“ یہاں تک کہ مرزا قادیانی کے خدا نے اپنے وعدہ کا ”ماكان الله ليعذبهم وانت فيهم “ کو بھی پورا نہیں کیا۔ مرزا قادیانی بہ نفس نفیس قادیان میں موجود رہے اور ان کے خدا کے عذاب (طاعون) نے قادیان پر بھر پور حملہ کیا اور تباہی مچادی۔ یہ ایک لمحہ فکریہ ہے۔

اب طاعون کی بیماری کے دوران مرزا قادیانی کا ذاتی حال بھی بیان کر دیا جائے تا کہ قارئین کرام کو خاطر خواہ معلومات حاصل ہو جائیں۔

”ان دنوں خدا تعالیٰ نے مجھے مخاطب کر کے فرمایا ”اور میں تجھے خصوصیت کے ساتھ بچاؤں گا۔“ سو اس نے مجھے مخاطب کر کے فرمایا کہ تو اور جو شخص تیرے گھر کی چار دیواری کے اندر ہوگا وہ سب طاعون سے بچائے جائیں گے ۔“ اس طرح سے طاعون سے محفوظ رہنے کا جو نشان مجھے دیا گیا ہے میں اس سے کیونکر انکار کر سکتا ہوں اور میں یقین رکھتا ہوں کہ بدوں ٹیکہ مجھے اس بیماری سے بچایا گیا ہے۔ سو اس نے مجھے مخاطب کر کے فرمایا کہ تو طاعون سے بچایا جائے گا۔ اس قدر یقین دہانی اور یقین کے بعد مرزا قادیانی نے مندرجہ ذیل حفاظتی اقدام کئے۔

١٥

صفحہ ٤١

”ڈاکٹر محمد اسمعیل نے مجھ سے بیان کیا کہ حضرت مسیح موعود کو صفائی کا بہت خیال تھا۔ خصوصاً طاعون کے ایام میں اتنا خیال رہتا تھا کہ فینائل لوٹے میں حل کراکے اپنے ہاتھ سے گھر کے پاخانوں اور نالیوں میں جاکر ڈالتے تھے۔ خاکسار عرض کرتا ہے کہ بعض اوقات حضرت مسیح موعود گھر میں ایندھن کا بڑا ڈھیر لگوا کر آگ بھی جلوایا کرتے تھے تاکہ ضرر رساں جراثیم مر جائیں اور آپ نے ایک بڑی انگیٹھی بنوائی ہوئی تھی جسے کوئلہ ڈال کر اور گندھک وغیرہ رکھ کر کمروں کے اندر جلایا جاتا تھا اور اس وقت دروازے بند کر دیئے جاتے تھے اور اس کی اتنی گرمی ہوتی تھی کہ جب انگیٹھی کے ٹھنڈا ہو جانے کے ایک عرصہ بعد بھی کمرہ کھولا جاتا تو پھر بھی وہ اندر سے بھٹی کی طرح تپتا تھا۔“

(سیرت المہدی حصہ دوم ص ٥٩، روایت نمبر ٣٧٩، مصنفہ صاحبزادہ بشیر احمد قادیانی)

”جب طاعون کا سلسلہ شروع ہوا تو حضرت مسیح موعود نے بٹیر کا گوشت کھانا چھوڑ دیا کیونکہ آپ فرماتے تھے کہ اس میں طاعونی مادہ ہوتا ہے۔“

(سیرت المہدی حصہ اول ص ٥٠، روایت نمبر ٥٦)

”جب ہندوستان میں پیشینگوئی کے مطابق طاعون کا مرض پھیلا اور پنجاب میں بھی اس کے کیس ہونے لگے تو حضرت مسیح موعود نے اس کے لئے ایک دوائی تیار کی۔ اس کا نام تریاق الہی رکھا۔“

(مفتی محمد صادق قادیانی کی تقریر مندرجہ الفضل ج ١٣، ٣٣/ ٢١ اپریل ١٩٢٦ء)

”وبائی ایام میں حضرت مسیح موعود اس قدر احتیاط کیا کرتے تھے کہ اگر کسی کارڈ کو بھی جو وباء والے شہر سے آتا چھوتے تو ہاتھ ضرور دھو لیتے ۔“

(ریویو آف ریلیجنز اگست ١٩٢٨ء، منقول از اخبار الفضل قادیان ج ٢٥ ص ١٢٣، ٢٨ مئی ١٩٣٢ء)

”میں چاہتا ہوں کہ کسی قدر دوائے طاعون آپ کے لئے روانہ کروں۔“

(مکتوب ٢٢؍ جولائی ١٨٩٣ء بنام ڈاکٹر رشید الدین مندرجہ الفضل ج ٣٤ ص ١٩٢، ٣٠؍ اگست ١٩٤٦ء)

”اس جگہ طاعون سخت تیزی پر ہے۔۔۔۔۔۔مکرر یہ کہ آتے وقت ایک بڑا بکس فینائل کا جو سولہ یا بیس روپے کا آتا ہے ساتھ لے آئیں۔“

(مکتوب بنام نواب محمد علی خان مکتوبات احمدیہ حصہ پنجم ، چہارم ص ١١٢، ١١٣، مکتوبات احمدیہ جدید دوم ص ٢٥٨)

”اگر آتے وقت لاہور سے ڈس انفیکٹ کے لئے کچھ ریسکیور اور کسی قدر فینائل اور کچھ گلاب اور سرکہ لے آئیں تو بہتر ہوگا۔“

(مکتوب بنام محمد علی خان، ٦؍اپریل ١٩٠٢ء مکتوبات احمدیہ حصہ پنجم ص ١١٦، مکتوبات احمدیہ جدید ج ٢ ص ٢٦٧)

قارئین کرام! اس قدر حفاظتی انتظامات کے باوجود جب مرزا قادیانی کے گھر میں

١٦

طاعون کے کیس ہونے لگے تو پہلے تو مرزا قادیانی نے مر پھر جب بعد میں تباہی مچی تو خود بھی معہ اپنی جماعت کے کوئی موت واقع ہو تو گھر کے باہر ہو اور ان کے مزعومہ الہا مرزا قادیانی نے بقول خود طاعون پھیلنے کی دو اس زور سے پھیلی جس سے انسان صرف چند گھنٹے بعد ہ مزعومہ تخت گاہ بھی اس کی لپیٹ میں آگیا اور پھر ان کا گھر ہے۔ معلوم ہوتا ہے کہ طاعون کی وبا نے صرف قادیان انہوں نے ”طوفان طاعون سے کشتی“ لوگوں کو پار کرایا تھا مرزا قادیانی کو معہ اپنی جماعت اپنے گھر کو خیر باد کہہ کر قادیانی نے یہ بھی خواہش ظاہر کی تھی کہ: ”اگر یہ طاعون اس تو تمام ملک احمدی جماعت سے بھر جائے گا۔“ (تتمہ حقیقۃ

اب وہی مرزا قادیانی وباء سے خوفزدہ ہو کر طاعون سخت تیزی پر ہے۔ ایک طرف انسان بخار میں مبتلا ہے۔ خدا تعالیٰ خوب جانتا ہے کہ کب یہ ابتلاء دور ہو۔“

(مکتوب بنام نواب محمد علی خان مندرجہ مکتوبات احمدیہ ج ٥، ج ٤ ص ١١٢، ١

قارئین کرام! گزشتہ صفحات میں آپ نے ہیں ”اور خدا تعالیٰ نے فرمایا: اب اس ملک میں سے کبھی ط تبدیلی نہ کر لیں۔“ ”خدا پاک کی وحی جو میرے پر نازل خدا نے یہ ارادہ فرمایا ہے کہ اس بلائے طاعون کو ہرگز خیالات کو دور نہ کر لیں جو ان کے دلوں میں ہیں۔ یعنی جن لیں۔ تب تک طاعون دور نہیں ہوگی۔“ مرزا قادیانی مندرجہ بالا خط لکھتے وقت بوکھلا بھول گئے اور جس طاعون کو اپنے لئے رحمت سمجھتے تھے او نے ابتلاء میں تبدیل کر دیا۔ کہاں گئی وہ رحمت کی بات۔ پھر مرزا قادیانی نے یہ بھی دعویٰ کیا تھا کہ ”بیا ان کی جماعت کو بدحواس پاتی ہے اور ”جس قدر طاعون ہ

١٧

صفحہ ٤١

طاعون کے کیس ہونے لگے تو پہلے تو مرزا قادیانی نے مریضوں کو گھر سے باہر نکالنا شروع کیا اور پھر جب بعد میں تباہی مچی تو خود بھی معہ اپنی جماعت کے گھر سے نکل کر باغ میں چلے گئے تاکہ اگر کوئی موت واقع ہو تو گھر کے باہر ہو اور ان کے مزعومہ الہام کی تکذیب نہ ہو۔

مرزا قادیانی نے بقول خود طاعون پھیلنے کی دعا مانگی تھی جو قبول ہو کر طاعون پھیل گئی۔ اور اس زور سے پھیلی جس سے انسان صرف چند گھنٹے بعد مر جاتا تھا۔ یہاں تک کہ مرزا قادیانی کا مزعومہ تخت گاہ بھی اس کی لپیٹ میں آ گیا اور پھر ان کا گھر بھی نہیں بچ سکا جس کا حال اوپر لکھا جا چکا ہے۔ معلوم ہوتا ہے کہ طاعون کی وبا نے نہ صرف قادیان میں بلکہ مرزا قادیانی کے گھر میں جس کو انہوں نے ”طوفان طاعون سے کشتی“ لوگوں کو باور کرایا تھا۔ میں بھی افراتفری مچادی جس کی وجہ سے مرزا قادیانی کو معہ اپنی جماعت اپنے گھر کو خیر باد کہہ کر باغ میں پناہ لینا پڑی۔ مزید برآں مرزا قادیانی نے یہ بھی خواہش ظاہر کی تھی کہ:”اگر یہ طاعون اسی طرح دس پندرہ سال تک ملک میں رہی تو تمام ملک احمدی جماعت سے بھر جائے گا۔“

(تتمہ حقیقت الوحی ص ١٣٢ حاشیہ، خزائن ج ٢٢ ص ٥٦٩)

اب وہی مرزا قادیانی وباء سے خوفزدہ ہو کر اس سے بیزاری کرتے ہیں۔ ”اس جگہ طاعون سخت تیزی پر ہے۔ ایک طرف انسان بخار میں مبتلا ہوتا ہے اور صرف چند گھنٹوں میں مر جاتا ہے۔ خدا تعالیٰ خوب جانتا ہے کہ کب یہ ابتلاء دور ہو۔“

(مکتوب بنام نواب محمد علی خان مندرجہ مکتوبات احمدیہ ج ٥ ص ١١٢ ، ١١ مئی ١٩٠٧ء ، مکتوبات احمدیہ جدید ج ٢ ص ٥٥٨)

قارئین کرام! گزشتہ صفحات میں آپ نے مرزا قادیانی کے مزعومہ الہامات پڑھے ہیں ”اور خدا تعالیٰ نے فرمایا: اب اس ملک میں سے کبھی طاعون دور نہیں ہو گی جب تک یہ لوگ اپنی تبدیلی نہ کرلیں۔“ ”خدا پاک کی وحی جو میرے پر نازل ہوئی اس کی عبارت یہ ہے۔................................ خدا نے یہ ارادہ فرمایا ہے کہ اس بلائے طاعون کو ہرگز دور نہیں کرے گا جب تک لوگ اپنے خیالات کو دور نہ کرلیں جو ان کے دلوں میں ہیں۔ یعنی جب تک وہ خدا کے مامور اور رسول کو نہ مان لیں۔ تب تک طاعون دور نہیں ہوگی۔“

(دافع البلاء ص ٥ ، خزائن ج ١٨ ص ٢٥)

مرزا قادیانی مندرجہ بالا خط لکھتے وقت بوکھلاہٹ میں اپنے خدا کے ارادے کو بالکل بھول گئے اور جس طاعون کو اپنے لئے رحمت سمجھتے تھے اور مخالفین کے لئے زحمت اسی کو خود انہوں نے ابتلاء میں تبدیل کردیا۔ کہاں گئی وہ رحمت کی بات۔

پھر مرزا قادیانی نے یہ بھی دعویٰ کیا تھا کہ ”یہ طاعون ان کے لئے ایک رحمت ہے جو ان کی جماعت کو بڑھاتی جاتی ہے اور ”جس قدر طاعون کے ذریعہ سے ہماری ترقی تین چار سال

١٧

صفحہ ٤٢

میں ہوئی ہے۔ وہ دوسری صورت میں پچاس سال میں بھی غیرممکن تھی۔ پس مبارک وہ خدا ہے جس نے دنیا میں طاعون کو بھیجا تاکہ اس کے ذریعے سے ہم بڑھیں اور پھولیں اور ہمارے دشمن نیست و نابود ہوں۔"

(تتمہ حقیقۃ الوحی ص ١٣٣ حاشیہ، خزائن ج ٢٢ ص ٥٧٠)

ان تمام باتوں کے باوجود مرزا قادیانی نے طاعون کو ابتلاء بتلا کر اور اس کے دور ہونے کی خواہش کا اظہار کر کے خود اپنے تمام بلند و بانگ دعاوی کو یکدم باطل ثابت کر دیا ہے۔ بلکہ تمام قلعہ ہی خود مسمار کر دیا ہے۔ مزید برآں مرزا قادیانی اپنے (مکتوب ٣ مکتوبات احمدیہ ج ٥ ص ٤٩، مورخہ ١٢ مئی ١٩٠٥ء، مکتوبات احمدیہ ج ٢ ص ٤٢٤ جدید) میں لکھتے ہیں کہ: ”قادیان میں اب طاعون نہیں ہے“ جس کے صاف معنی یہ ہیں کہ مندرجہ بالا مزعومہ الہامات کی رو سے قادیان کے تمام باشندوں کو اگر زیادہ وسعت دی جائے تو پنجاب کے تمام باشندوں نے مرزا قادیانی کو باخلاص اور سچے دل سے خدا کا مامور اور رسول مان لیا ہے۔ جب ہی طاعون کی وباء قادیانیوں سے دور ہو گئی ہے۔ یہ بات واقعات کے بالکل خلاف ہے جیسا کہ مرزا قادیانی کے مندرجہ ذیل بیان سے بالکل واضح طور پر ثابت ہے اور اس میں کسی ابہام یا تاویل کی کوئی گنجائش نہیں ہو سکتی ہے۔ ”ہم نے طاعون کے بارے میں جو رسالہ دافع البلاء لکھا تھا، اس سے یہ غرض تھی کہ لوگ متنبہ ہوں اور اپنے سینوں کو پاک کریں اور اپنی زبانوں اور آنکھوں اور کانوں اور ہاتھوں کو ناگفتنی نادیدنی ناشنیدنی اور ناکردنی سے روکیں اور خدا سے خوف کریں تا خدا تعالیٰ ان پر رحم کرے۔ اور وہ خوفناک وباء جو ان کے ملک میں داخل ہو گئی ہے۔ دور فرمائے مگر افسوس کہ شوخیاں اور بھی زیادہ ہو گئیں اور زبانیں اور بھی دراز ہو گئیں۔"

(نزول المسیح ص ١، خزائن ج ١٨ ص ٣٧٩)

مندرجہ بالا تمام مضمون سے یہ بات بالکل واضح طور پر ثابت ہوتی ہے کہ مرزا قادیانی مامور من اللہ نہیں تھے اور ان کے تمام مزعومہ الہامات اور یقین دہانیاں خود ان کی طرف سے ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت تھیں۔ جو کہ حالات کے ساتھ ساتھ پلٹے کھاتی رہتی تھی جس کی وجہ سے وہ کئی موقعوں پر تضاد بیانی سے کام لیتے تھے۔ نیز یہ بھی یقین سے مان لینا چاہئے کہ طاعون کی وباء مشیت ایزدی کے مطابق پھیلی اور ختم ہو گئی جیسا کہ مرزا قادیانی سے قبل بھی ایسا ہوتا رہا ہے اور بعد میں بھی ہوتا رہا ہے اور جب تک دنیا قائم ہے ہوتا رہے گا۔ بلکہ ایسا یقین کرنا ضعیف الاعتقادی اور توہم پرستی کو ظاہر کرتا ہے۔" فاعتبروا يا اولی الابصار وما علينا الا البلاغ. والسلام على من اتبع الهدى"

ناچیز : خلیل الرحمٰن قادری، ٩٠/٧ حسین سٹریٹ، گنج منڈی، راولپنڈی ٢١ نومبر ١٩٨٨ء!

١٨

نص قرآنی

ختم نبوت

کا

مدلل ثبوت

مولانا خلیل الرحمٰن

PDF 44

پس مبارک وہ خدا ہے ہولیں اور ہمارے دشمن

(خزائن ج ٢٢ ص ٥٧٠)

مراد اس کے دور ہونے ت کر دیا ہے۔ بلکہ تمام ہ احمدیہ ج ٥ ص ٣٩، مورخہ عذاب طاعون نہیں ہے“ کے تمام باشندوں کو اگر خلاص اور سچے دل سے دور ہو گئی ہے۔ یہ بات سے بالکل واضح طور پر ”ہم نے طاعون کے وں اور اپنے سینوں کو کی ناشدنی اور ناکرونی ک دباو جو ان کے ملک اور زبانیں اور بھی دراز

(خزائن ج ٨ ص ٣٧٩)

تی ہے کہ مرزا قادیانی ان کی طرف سے ایک تی رہتی تھی جس کی وجہ نا چاہئے کہ طاعون کی بھی ایسا ہوتا رہا ہے اور کرنا ضعیف الاعتقادی ا علينا الا البلاغ زی ٢١ نومبر ١٩٨٨ء!

خاتم النبیین لا نبی بعدی

میری امت میں ٣٠ کذاب پیدا ہوں گے جن میں سے ہر ایک نبی ہونے کا دعویٰ کرے گا حالانکہ میں خاتم النبیین ہوں میرے بعد کوئی نبی نہیں

نص قرآنی سے

ختم نبوت

کا

مدلل ثبوت

مولانا خلیل الرحمٰن قادری

صفحہ ٤٥

بسم الله الرحمن الرحيم

نص قرآنی سے ختم نبوت کا مدلل ثبوت

”الحمد لله الذى بعث الينا اشرف الرسل واشهد ان لا اله الا الله وحده لاشريك، واشهد ان محمداً عبده ورسوله ﷺ خاتم النبيين لا نبي بعدي“

اما بعد! عرض ہے کہ ٨؍ جون ١٩٨٦ء کو تمام مرزائیوں کو ایک چیلنج بعنوان ”مرزائی لاریب غیر مسلم ہیں۔“ بھیجا گیا تھا۔ جس کا آج تک یعنی اڑھائی سال گزرنے کے بعد بھی کسی ایک مرزائی نے اس کی رد میں کوئی جواب بھیجا ہے اور ایک دوسرا چیلنج بعنوان ”فلسفہ طاعون اور مرزا غلام احمد قادیانی“ بتاریخ ٢٨؍ مارچ ١٩٨٨ء بھیجا تھا۔ ان دونوں مضامین میں مرزائیوں نے مکمل خاموشی اختیار کر رکھی ہے جس کے صاف معنی یہ ہیں کہ سب کے سب لاجواب ہو گئے ہیں اور چیلنج بفضل تعالیٰ اور بطفیل ہادی اکبر حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کے بعد ”سلسلۂ نبوت کا خاتمہ اور انقطاع وحی بر منہاج نبوت“ پر ایک نہایت ہی ٹھوس دلیل ذیل میں درج کی جاتی ہے جس سے مرزا غلام احمد قادیانی اور ان کے جملہ متبعین کے دلائل اور تاویلات پادر ہوا ہو جاتے ہیں۔

ایں سعادت بزور بازو نیست
تانہ بخشد خدائے بخشندہ

قرآن حکیم پر سب کا ایمان ہے کہ جو کچھ اس میں نازل ہوا ہے وہ من وعن صحیح اور محفوظ

٢

ہے۔ ”ذالك الكتاب لاريب فيه“ اور انشاء اللہ ا کہ آنحضرت محمد رسول اللہ ﷺ خاتم النبیین اس نوعی رسول نیا نہیں مبعوث ہوگا۔ غیر تشریعی نبی امتی نبی، ظلی ہوتا۔ اس کے خلاف جس کسی نے بھی اس قسم کا دعویٰ ک ہے جس کا خمیازہ اس کو ضرور بھگتنا پڑے گا۔ سورۃ البقرہ ک کی غیر مبہم تشریح بھی لکھی جاتی ہے ”قولوا آمنا بـ ابراهيم واسماعيل واسحاق ويعقوب وا وما اوتى النبييون من ربهم لا نفرق بين خطاب مسلمانوں سے ہے۔) ﴿ کہہ دو کہ ہم ایمان لا اور جو اتارا گیا ابراہیم واسماعیل واسحاق ویعقوب اور ان ک علیہم السلام اپنے رب کے پاس سے ہم ان میں سے فرمانبرداروں میں سے ہیں۔ ﴾

یہ آیت مبارکہ خـاتـم الـنـبـيـيـن اور لا نـ کے ساتھ بیان کر رہی ہے کہ کسی تاویل کی گنجائش باقی ن

آیت مبارکہ میں حضرت موسیٰ علیہ السلام، حضرت عیسیٰ السلام کے لئے لفظ اوتی استعمال کیا گیا ہے جو کہ ماضی

٣

صفحہ ٤٥

ہے۔ ”ذالك الكتاب لا ريب فيه“ اور انشاء اللہ العزیز نص قرآنی سے ہی ثابت کر دیا جائے گا کہ آنحضرت محمد رسول اللہ ﷺ خاتم النبیین اس نوعیت سے ہیں کہ آپ ﷺ کے بعد کوئی نبی یا رسول نیا نہیں مبعوث ہوگا۔ غیر تشریعی نبی امی نبی، ظلی نبی یا نبی کے ظل اور بروز کا سوال نہیں پیدا ہوتا۔ اس کے خلاف جس کسی نے بھی اس قسم کا دعویٰ کیا ہے۔ وہ سراسر قرآن حکیم کی تکذیب کی ہے جس کا خمیازہ اس کو ضرور بھگتنا پڑے گا۔ سورۃ البقرہ کی آیت ١٣٦ درج ذیل کی جاتی ہے جس کی غیر مبہم تشریح بھی لکھی جاتی ہے ”قولوا آمنا بالله وما انزل الينا وما انزل الى ابراهيم واسماعيل واسحاق ويعقوب والاسباط وما اوتى موسى وعيسى وما اوتى النبييون من ربهم لا نفرق بين احد منهم ونحن له مسلمون“ (یہ خطاب مسلمانوں سے ہے۔) ﴿کہہ دو کہ ہم ایمان لائے اللہ پر اور اس پر جو ہماری طرف اترا اور جو اتارا گیا ابراہیم واسمعیل واسحاق و یعقوب اور ان کی اولاد پر اور جو عطاء کئے گئے۔ باقی انبیاء علیہم السلام اپنے رب کے پاس سے ہم ان میں سے کسی پر ایمان میں فرق نہیں کرتے اور ہم فرمانبرداروں میں سے ہیں۔﴾

یہ آیت مبارکہ خاتم النّبیین اور لا نبی بعدی کے مفہوم کو اس قدر وضاحت کے ساتھ بیان کررہی ہے کہ کسی تاویل کی گنجائش باقی نہیں رہتی۔ قابل غور بات یہ ہے کہ اوپر کی آیت مبارکہ میں حضرت موسیٰ علیہ السلام، حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور باقی دیگر انبیائے کرام علیہم السلام کے لئے لفظ اوتی استعمال کیا گیا ہے جو کہ ماضی کا تقاضا کرتا ہے اور ماضی کے زمانہ ہی کی

٣

صفحہ ٤٦

چاہتا ہے۔ زمانہ مستقبل پر اس کا اطلاق ہو ہی نہیں سکتا ہے جس کے بالکل صاف معنی یہ ہیں کہ مسلمانوں کو تمام انبیائے سابقین علیہم الصلوٰۃ والتسلیم جو کہ آنحضرت محمد رسول اللہ ﷺ سے قبل گزر چکے ہیں ان سب پر ایمان لانے کی تلقین کی گئی ہے۔

لہٰذا ان سب پر ایمان لانا ضروری ہوا اور آنحضرت محمد رسول اللہ ﷺ کے بعد کسی نبی یا رسول پر ایمان لانے کا نہ تو حکم ہے اور نہ ہی اس آیت مبارکہ میں ذکر ہے۔ پس واضح طور پر ثابت ہو گیا کہ آنحضرت محمد رسول اللہ ﷺ جیسا کہ قرآن حکیم میں ذکر ہے خاتم النبیین ہیں یعنی سلسلہ نبوت کو ختم کرنے والے ہیں اور آپ کے بعد انقطاع وحی بر منہاج نبوت لازمی امر ہو گیا ہے۔

یہ ایک مسلمہ امر ہے کہ نبوت کا معاملہ بہت ہی نازک ہے اور اس سے براہ راست ایمان پر زد پڑتی ہے کیونکہ اگر مدعی نبوت کا دعویٰ سچا ہے تو اس کا نہ ماننے والا کافر ہے۔ اور اگر اس کا دعویٰ جھوٹا ہے تو اس کا ماننے والا کافر اور اللہ تعالیٰ کسی کا ایمان ضائع نہیں کرنا چاہتا۔ ”وما کان اللہ لیضیع ایمانکم (البقرہ: ١٤٣)“ لہٰذا اگر آنحضرت محمد رسول اللہ ﷺ کے بعد کوئی نبی مبعوث ہونا ہوتا تو اس کا ذکر اسی آیت مبارکہ میں کیا جانا ضروری تھا تا کہ خوامخواہ لوگوں کا ایمان ضائع نہ ہو۔ اخیر میں ایک بار پھر مرزائیوں سے استدعا ہے کہ اب بھی اپنے موجودہ غلط عقیدے سے تائب ہو کر پھر سے حقیقی اور سچے اسلام میں داخل ہو جائیں تا کہ عاقبت بخیر ہو۔ ورنہ خسران ہی خسران ہے۔ بلکہ خسران عظیم۔ والسلام علیٰ من اتبع الھدیٰ!

ناچیز....... خلیل الرحمٰن قادری، ٢١؍نومبر ١٩٨٨ء!

٤

ختم نبوت

مولانا محمد رفیق

PDF 48

س کے بالکل صاف معنی یہ ہیں کہ یم جو کہ آنحضرت محمد رسول اللہ ﷺ - ت محمد رسول اللہ ﷺ کے بعد کسی نبی یا میں ذکر ہے۔ پس واضح طور پر ثابت ذکر ہے خاتم النبیین ہیں یعنی سلسلہ حاج نبوت لازمی امر ہو گیا ہے۔ اڑک ہے اور اس سے براہ راست کا نہ ماننے والا کافر ہے۔ اور اگر اس ضائع نہیں کرنا چاہتا۔ ”وما كان ت محمد رسول اللہ ﷺ کے بعد کوئی نبی وری تھا تا کہ خوامخواہ لوگوں کا ایمان اب بھی اپنے موجودہ غلط عقیدے یں تا کہ عاقبت بخیر ہو۔ ورنہ خسران الهدى! ل الرحمن قادری، ٢١ نومبر ١٩٨٨ء!

خاتم النبیین لا نبی بعدی

میرے آقا مدنی مصطفی ﷺ سب سے آخری نبی ﷺ

ختم نبوت

مولانا محمد رفیق خان پسروری

صفحہ ٤٨

بسم الله الرحمن الرحیم

ختم نبوت

"الحمدلله وحده والصلوة والسلام علی من لا نبی بعده"

پہلے مجھے دیکھئے!

ناظرین کرام السلام علیکم! احباب کی تاکید کو مدنظر رکھتے ہوئے عاجز و کمترین نے ختم نبوت پر یہ رسالہ تحریر کردیا ہے۔ احادیث کی تلاش میں جو مصائب عاجز نے اٹھائے اور دور و نزدیک کے سفروں کی تکالیف برداشت کی۔ وہ عاجز خوب جانتا ہے۔

بندہ چونکہ عالم مولوی نہیں۔ بلکہ خادم العلماء ہونے کے علاوہ مہاجر بھی ہے اور کتب احادیث کا فن آج کل سب پر روشن ہے۔ اصل متن اور صحیح صفحات کا دیکھنا ضروری تھا۔ اس لئے ساری ہی باتیں تکلیف دہ ثابت ہوئیں۔ پھر بھی ہمت سے کام لے کر اپنی طاقت سے زیادہ بوجھ اٹھا کر یہ رسالہ تو حاضر کر دیا ہے مگر۔

عرض ہے کہ رسالہ ہذا میں اگر کوئی خامی یا علمی غلطی ناظرین سے کسی بھی صاحب کو نظر آئے وہ مجھے مجبوراً معذور خیال فرما کر معاف فرماتے ہوئے درست فرمانے کی کوشش فرمائیں اور بندہ کو اطلاع فرمائیں تاکہ آئندہ احتیاط کی جائے۔ فقط والسلام!

دسمبر ١٩٥٠ء، بمطابق ذیقعد ١٣٦٩ھ ابوالشفیق عفی عنہ، مقام پسرور سیالکوٹ

چالیس ٤٠؍ احادیث نبوی یاد کرنے کی فضیلت

"بسم الله الرحمن الرحیم۔ الحمدلله الذی لم یتخذولداً ولم یکن له شریک فی الملک ولم یکن له ولی من الذل وکبره تکبیراً وصلی الله تعالی علی خیر مبعوثاً محمداً سیدا الاولین والآخرین وخاتم الانبیاء والمرسلین وعلی آله واصحابه اجمعین الی یوم الدین"

١......حضرت عبداللہ بن عباسؓ ٢......حضرت عبداللہ بن عمرؓ ٣......حضرت عبداللہ بن مسعودؓ ٤......حضرت علیؓ ٥......حضرت انسؓ ٦......حضرت معاذ بن جبلؓ ٧......حضرت ابوالدرداءؓ ٨......جابر بن سمرہؓ......حضرت ابوسعید خدریؓ وغیرہ ہم سے روایت ہے کہ فرمایا رسول خداﷺ

٢

نے کہ: "من حفظ علی امتی اربع اعطاه الله ثواب الشهداء بعثه اللـ وکنت له شافعاً وشهیداً۔ وقیل له ومن ترک اربعین حدیثاً بعد موته میں سے چالیس احادیث یاد کرے یا جو شخص میـ اللہ تعالیٰ ثواب برابر شہیدوں کے دے گا۔ الـ سے، اٹھائے گا اللہ تعالیٰ فقیہوں کی جماعت والا اور گواہ کہا جائے گا اس سے کہ جنت میں کوئی چھوڑ جائے چالیس حدیثیں (بطور صد دوست جنت میں)﴾

ا.......کنزالعمال ج١ ص٥٧ بحو ٥.......ابویعلی، ٦.......ابونعیم، ٧.......ابن عساکـ

قصر نبوت کی تکمیل ...... پہلی حدیـ

"عن ابی هریرة قال قال ر قصر احسن بنیانه ترک منه مو حسن بنیانه الا موضع تلک اللبنـ البنیان وختم بی الرسل وفی روایـ روایت ہے ابوہریرہؓ سے کہ فرمایا ر انبیاء کی مانند محل کے ہے کہ اچھی ہے بنیاد (عـ کی پس پھرنے لگے ساتھ (گرد) اس کے خوبی اس دیوار کی سے مگر ایک جگہ ایک اینـ (اس) اینٹ کی، ختم کی گئی میرے ساتھ مـ روایت میں ہے کہ پس میں ہوں وہ اینٹ اور نسائی، مشکوٰۃ ج٢ باب فضائل سید المرسلین مطبع مجـ قدیمی کتب خانہ کراچی الفصل الاول) رسول خداﷺ نے ایک لاکھ چـ

صفحہ ٤٩

ئے کہ: ”من حفظ على امتى اربعين حديثاً من كتب عنى اربعين حديثاً اعطاه الله ثواب الشهداء بعثه الله يوم القيمة من العلماء بعثه الله فقيها وكنت له شافعاً وشهيداً وقيل له ادخل الجنة من اى ابواب الجنة شئت ومن ترك اربعين حديثاً بعد موته فهو رفيقى فى الجنة“ (جو شخص میری امت میں سے چالیس احادیث یاد کرے یا جو شخص میری امت میں سے چالیس احادیث لکھ دے اس کو اللہ تعالیٰ ثواب برابر شہیدوں کے دے گا۔ اٹھائے اس کو اللہ تعالیٰ قیامت میں علماء کی جماعت سے، اٹھائے گا اللہ تعالیٰ فقیہوں کی جماعت سے اور ہوں گا میں اس کے لئے شفاعت کرنے والا اور گواہ کہا جائے گا اس سے کہ جنت میں جا جنت کے جس دروازے سے چاہے تو۔ اور جو کوئی چھوڑ جائے چالیس حدیثیں (بطور صدقہ جاریہ) اپنی موت کے بعد بس وہ ہوگا جو میرا دوست جنت میں )﴾

قصر نبوت کی تکمیل ...... پہلی حدیث

”عن ابى هريرة قال قال رسول الله ﷺ مثلى ومثل الانبياء كمثل قصر احسن بنيانه ترك منه موضع لبنة فطاف به النظار يتعجبون من حسن بنيانه الا موضع تلك اللبنة فكنت انا سددت موضع اللبنة ختم بى البنيان وختم بى الرسل وفى رواية فانا اللبنة وانا خاتم النبيين۔

روایت ہے ابو ہریرہؓ سے کہ فرمایا رسول اللہﷺ نے مثال میری اور مثال (دیگر کل) انبیاء کی مانند محل کے ہے کہ اچھی ہے بنیاد (دیوار) اس محل کی، چھوڑی گئی اس میں جگہ ایک اینٹ کی پس پھرنے لگے ساتھ (گرد) اس کے دیکھنے والے (اس حال میں) کہ تعجب کرتے تھے خوبی اس دیوار کی سے مگر ایک جگہ ایک اینٹ کی، پس ہوا میں (نبی) کہ بند کی میں نے جگہ (اس) اینٹ کی، ختم کی گئی میرے ساتھ دیوار اور ختم کئے گئے ساتھ میرے رسول اور دوسری روایت میں ہے کہ پس میں ہوں وہ اینٹ اور میں ہوں ختم کرنے والا تمام انبیاء کا۔ (بخاری، مسلم، نسائی، مشکوٰۃ ج٢ باب فضائل سید المرسلین مطبع مجیدی کانپور ص٤٠٦، غزنوی ریح ٤ ص٢٢٧، مشکوٰۃ ص٥١١، قدیمی کتب خانہ کراچی الفضل الاوّل)

رسول خداﷺ نے ایک لاکھ چوبیس ہزار نبی، جن میں تشریعی، غیر تشریعی یعنی سب

٣

صفحہ ٥١

کے سب نبی اور رسول شامل کر کے قصر اور بنیان کے ساتھ تشبیہ دی ہے۔ پس بنیان مشبہ بہ ہوا اور جو اس بنیان میں ایک اینٹ کی کمی تھی۔ آپ نے پورا کر دیا اور وہ قصر ومحل و بنیان کامل ومکمل ہو گیا۔ اب اس قصر نبوت میں کسی قسم کی نبوت کی اینٹ کی گنجائش باقی نہ رہی۔ کیونکہ رسول اللہ ﷺ کے بعد ظلی، و بروزی، تشریعی، غیر تشریعی وغیرہ نبی تا قیامت کوئی نہیں آسکتے اور جو شخص دعوٰی نبوت کرے گا۔ اور وہ جھوٹا اور دجال یا فرضی کہلائے گا۔

ختم نبوت باعث فضیلت ہے ...... دوسری حدیث

"عن ابی ھریرۃ ان رسول اللہ ﷺ قال فضلت علی الانبیاء بست اعطیت جوامع الکلم ونصرت بالرعب واحلت لی الغنائم وجعلت لی الارض مسجداً وطهوراً وارسلت الی الخلق کافة وختم بی النبییون"

حضرت ابو ہریرہؓ کہتے ہیں کہ بے شک رسول خدا ﷺ نے فرمایا کہ مجھ کو تمام انبیاء پر چھ باتوں میں فضیلت دی گئی ہے۔ ایک تو جامع کلمات مجھ کو دیئے گئے ہیں، دوم مخالفین پر میرا رعب ہے اور تمام غنیمتیں میرے لئے حلال کی گئی ہیں، اور تمام زمین میرے لئے سجدہ گاہ قرار دی گئی ہے اور پاک کرنے والی اور بھیجا گیا ہے تمام خلقت کی طرف اور ختم کئے گئے ساتھ میرے تمام نبی۔ (رواہ مسلم، مشکوٰۃ ص ٥١٢، مطبوعہ مجیدی کانپور باب فضائل سید المرسلین غزنوی ص ٢٢٩، مشکوٰۃ ص ٥١٢، قدیمی کتب خانہ الفصل الاول)

تشریح

اس حدیث مذکورہ بالا میں مندرجہ دو جملے قابل غور ہیں۔

ختم نبوت

ان ہر دو جملوں سے نبی کریم علیہ التحیۃ والتسلیم نے ثابت کر دیا کہ مجھ سے پہلے تمام انبیاء میں سے کوئی بھی نبی تمام دنیا کی طرف نبی ہو کر نہیں آیا۔ صرف مجھے اسی تمام دنیا کا نبی بنا کر مجھ پر تمام نبیوں کی نبوت کا خاتمہ کر دیا گیا ہے۔ اور یہی خاص وجہ ہے کہ مجھے تمام انبیاء پر فضیلت عنایت فرمائی گئی ہے۔ اگر آپ ﷺ کو تمام نبیوں کا ختم کرنے والا نہ مانا جائے تو آپ ﷺ کی فضیلت کا انکار لازم آتا ہے جو آپ ﷺ کی شان کے بالکل خلاف ہے اور کفر و بد دیانتی ہے۔

٤

علم خدا میں آپ ﷺ کا خاتم النبیین ہو

"عن العرباض بن سارية عن مکتوب خاتم النبیین وان ادم لمنجدل فی

روایت ہے حضرت عرباض بن ساریہؓ سے تحقیق شان یہ ہے کہ اللہ تعالٰی کے نزدیک میں خا علیہ السلام گوندھے ہوئے تھے اپنی مٹی کے بیچ میں ( حدیث نمبر ٣ میں اس آیت کی طرف اشـ مِیثاق النَّبِيِّينَ پ ٣ اور جب اللہ تعالیٰ نے وہ نبی آخر الزمان تشریف لے آئے تو تم میری الوہیـ حالانکہ اس وقت آدم علیہ السلام پیدا بھی نہیں ہوئے رسول "تمام انسان و جنات وغیرہ کی طرف اکثر لوگوں نے ان کو نہ مانا اور کافر ہو گئے۔ اب مرتد، ایسے اکثر موجود ہیں جو معمولی انسان کو رسول حدیث پاک میں صاف صاف موجود ہے۔

عن ابن عباس قال الله تعا للناس فارسله الى الجن والانس "رواہ نے واسطے محمد ﷺ کے اور نہیں بھیجا ہم نے تجھ کو مگر نے بھیجا ہے واسطے تمام جنوں اور انسانوں کے۔

(مشکوٰۃ الفصل الثا

اسی طرح جامع ترمذی میں بھی ہے کہ بھی خاتم النبیین ہی کتاب الٰہی میں لکھا ہوا تھا جبکہ بھی نہ پھونکی گئی تھی۔ غرض یہ کہ کلمات مذکورہ بالا سے وغیرہ کی تردید ہو رہی ہے۔

آپ قائد اور خاتم النبیین ہیں .......

"عن جابر ان النبی ﷺ قال

صفحہ ٥١

علم خدا میں آپ ﷺ کا خاتم النبیین ہونا ...... تیسری حدیث

”عن العرباض بن سارية عن رسول الله ﷺ انه قال انى عند الله مكتوب خاتم النبيين وان آدم لمنجدل فى طينته“

(رواہ احمد ،مشکوۃ، باب فضائل سید المرسلین فصل الثانی)

روایت ہے حضرت عرباض بن ساریہؓ کہ انہوں نے کہا کہ فرمایا رسول اللہ ﷺ نے تحقیق شان یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک میں لکھا ہوا تھا۔ ختم کرنے والا نبیوں کا اور تحقیق آدم علیہ السلام گوندھے ہوئے تھے اپنی مٹی کے بیچ میں (آخر حدیث تک)

حدیث نمبر ٣ میں اس آیت کی طرف اشارہ فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے ”واذ اخذ الله ميثاق النبيين پ ٣“ اور جب اللہ تعالیٰ نے وعدہ لیا تمام نبیوں سے کہ جب تمہارے پاس میرا نبی آخر الزمان تشریف لے آئے تو تم میری الوہیت کے بعد اس کو آخری آنے والا نبی تسلیم کرنا۔ حالانکہ اس وقت آدم علیہ السلام پیدا بھی نہیں ہوئے تھے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے فرمایا ”ثم جاءكم رسول“ تمام انسان و جنات وغیرہ کی طرف وہ رسول و نبی بنا کر بھیجا تو دنیا میں آنے کے بعد اکثر لوگوں نے ان کو نہ مانا اور کافر ہو گئے۔ اب ہمارے زمانے میں کافر، مشرک، ملحد، زندیق، مرتد، ایسے اکثر موجود ہیں جو معمولی انسان کو رسول اللہ ﷺ جیسا یا ماتحت نبی مانتے ہیں۔ حالانکہ حدیث پاک میں صاف صاف موجود ہے۔

عن ابن عباس قال الله تعالى لمحمد ﷺ وما ارسلنك الا كافة للناس فارسله الى الجن والانس“ روایت ہے حضرت ابن عباس سے کہ فرمایا اللہ تعالیٰ نے واسطے محمد ﷺ کے اور نہیں بھیجا ہم نے تجھ کو مگر واسطے تمام لوگوں کے آنحضرت ﷺ کو اللہ تعالیٰ نے بھیجا ہے واسطے تمام جنوں اور انسانوں کے۔

(مشکوۃ الفصل الثالث ص ٥١٥ قدیمی کتب خانہ ، باب فضائل سید المرسلین)

اسی طرح جامع ترمذی میں بھی ہے کہ حضور ﷺ خود فرماتے ہیں کہ میرا نام اس وقت بھی خاتم النبیین ہی کتاب الٰہی میں لکھا ہوا تھا جبکہ آدم علیہ السلام کا پتلا بنا ہوا تھا اور اس میں روح بھی نہ پھونکی گئی تھی۔ غرض یہ کہ کلمات مذکورہ بالا سے فرقہ مرجیہ قدریہ معتزلہ، چکڑالویہ اور مرزائیہ وغیرہ کی تردید ہو رہی ہے۔

آپ ﷺ قائد اور خاتم النبیین ہیں ...... چوتھی حدیث

”عن جابر ان النبى ﷺ قال انا قائد المرسلين ولا فخر وانا خاتم

٥

صفحہ ٥٣

النبيين ولا فخر وانا اول شافع ومشفع ولا فخر“

(رواہ الدارمی مشکوٰة، مشکوٰة الفصل الثانى ص ٥١٤ باب فضائل سيد المرسلين)

روایت ہے حضرت جابرؓ سے کہ تحقیق نبی ﷺ نے فرمایا کہ میں پیشوا ہوں تمام رسولوں کا اور یہ کوئی فخر کی بات نہیں ہے اور میں ہی خاتم النبیین ہوں اور مجھے فخر نہیں اور میں ہی پہلے شفاعت کرنے والا ہوں اور میری ہی شفاعت (پہلے) قبول ہوگی اور یہ کوئی فخر کی بات نہیں (بلکہ سب فضل الٰہی ہے)

تشریح

اب مکرر غور کیجئے:

النبیین عنایت فرما کر تمام دنیا کی امامت وسرداری بخش دی اور قیامت کی دوزخ کی فکر کرنے والے تمام نیک مسلمانوں کو جو بسبب گناہوں کے گرفتار ہوں گے، سفارش فرما کر جنت میں داخل کرانے کی ذمہ داری بھی عنایت فرمادی تو پھر کسی اور نبی کی ضرورت ہی کیا ہے۔ پس معلوم ہوا ابتدائے نبوت محمدی سے انتہائے دنیا اور حشر کے ختم تک آپ ﷺ ہی خاتم النبیین ہیں۔

آپ عبداللہ اور خاتم النبیین ہیں ...... پانچویں حدیث

”عن عرباض ابن سارية قال قال رسول الله ﷺ انی عبدالله وخاتم النبيين “ روایت ہے عرباض بن ساریہؓ سے کہا کہ فرمایا رسول خدا ﷺ نے تحقیق میں بندہ ہوں اللہ تعالیٰ کا اور ختم کرنے والا ہوں نبیوں کا۔

(دیکھو در منثور ج ٥ ص ٢٠٧ بیہقی و حاکم اور حاکم نے صحیح کہا اس کو)

تشریح

٦

اول ...... ”انی عبدالله“ میں مشرکین کی کھلی تردید اللہ یا اس کا ہمسر نہیں ہوں۔ مجھے حکم ہوا ہے کہ ساری دنیا بشر مثلکم “ پیدائش انسان کے لحاظ سے میں بھی ہوں، رنج و غم سہتا ہوں۔ بھوک و پیاس مجھے بھی لگتی ہے طرح پوری کرتا ہوں۔

مگر فرق یہ ہے کہ میں صاحب وحی ہوں انبیاء و امتوں کا سردار ہوں۔ ایک طرف ترازو میں مجھے کی ہستی کو چھوڑ کر) تمام امتیوں اور کل بنی آدم کو رکھ دیا

نتیجہ

مندرجہ بالا عبارت کو مدنظر رکھ کر سوچئے ا علیہ التحیۃ والتسلیم کو بشر نہیں مانتے بلکہ ”نعوذ بالله کتنے کھلے الفاظ میں ہو رہی ہے۔ حالانکہ خود (وہ) امتی شہادت میں ”محمد عبده ورسوله “ پڑھتے کبھی کوئی نوری ہستی کھا پی سکتی ہے؟ شکم مادر میں رہ کر پر پیدا ہو سکتی ہے؟

جناب من!

خواہشات اور دیگر لوازمات انسانی سے پاک صاف لبریز نہ کیا جاتا۔

کائنات سے بھی۔ یہ اللہ کا فضل ہے۔ جو جس کو چا دوم ...... لفظ خاتم النبیین نے ثابت کر دیا کہ میں شریعت کا نچوڑ لے کر اور سارے نبیوں کے آخر تو جنوب تک، صرف میں ہی تقسیم کے لئے مقرر ہوا ہو میں کسی کی بھی تاب نہیں جو نبوت محمدی پر ڈاکہ مارے ٧

صفحہ ٥٣

اول ...... ”انی عبداللہ“ میں مشرکین کی کھلی تردید فرمائی گئی ہے کہ میں اللہ کا بندہ ہوں۔ خود اللہ یا اس کا ہمسر نہیں ہوں۔ مجھے حکم ہوا ہے کہ ساری دنیا کے لئے اعلان کر دوں کہ ”انما انا بشر مثلکم“ پیدائش انسان کے لحاظ سے میں بھی تمہاری ہی طرح پیدا ہوا ہوں۔ کھاتا اور پیتا ہوں، رنج و غم سہتا ہوں۔ بھوک و پیاس مجھے بھی لگتی ہے اور دیگر دنیاوی ضروریات میں بھی تمہاری طرح پوری کرتا ہوں۔

مگر فرق یہ ہے کہ میں صاحب وحی ہوں اور تمام جہان سے افضل و بزرگ اور تمام انبیاء و امتوں کا سردار ہوں۔ ایک طرف ترازو میں مجھے بٹھا دیا جائے اور ایک طرف (صرف اللہ کی ہستی کو چھوڑ کر) تمام امتوں اور کل بنی آدم کو رکھ دیا جائے۔ تو یقیناً محمدی پلڑہ بھاری رہے گا۔

نتیجہ

مندرجہ بالا عبارت کو مدنظر رکھ کر سوچئے اور انصاف سے کام لیجئے کہ جو لوگ نبی کریم علیہ التحیۃ والتسلیم کو بشر نہیں مانتے بلکہ ”نعوذ باللہ“ خدا جیسا خیال کرتے ہیں۔ ان کی تردید کتنے کھلے الفاظ میں ہو رہی ہے۔ حالانکہ خود (وہ) التحیات میں ”عبدہ ورسولہ“ اور کلمہ شہادت میں ”محمد عبدہ ورسولہ“ پڑھتے ہیں۔ ان عقل کے اندھوں سے کوئی پوچھے کہ کبھی کوئی نوری ہستی کھا پی سکتی ہے؟ شکم مادر میں رہ کر انسانی جسم سے غذا حاصل کر کے وقت مقررہ پر پیدا ہو سکتی ہے؟

جناب من!

خواہشات اور دیگر لوازمات انسانی سے پاک صاف کر کے فرشتے کے ذریعے ایمان و حکمت سے لبریز نہ کیا جاتا۔

کائنات سے بھی۔ یہ اللہ کا فضل ہے۔ جو محمد ﷺ کو عنایت فرمایا گیا۔

دوم ...... لفظ خاتم النبیین نے ثابت کر دیا کہ میں عبداللہ کا بیٹا عبداللہ ہوں پھر بھی تمام انبیاء کی شریعت کا نچوڑ لے کر اور سارے نبیوں کے آخر توحید وسنت کا مشرق سے مغرب تک شمال سے جنوب تک، صرف میں ہی تقسیم کے لئے مقرر ہوا ہوں۔ زمین و آسمان ، شمس و قمر وغیرہ کی موجودگی میں کسی کی بھی تاب نہیں جو نبوت محمدی پر ڈاکہ مارے اور کامیاب ہو۔

٧

صفحہ ٥٤

اسم محمد اور ختم نبوت

”عن نافع قال قال رسول الله ﷺ انا محمد وانا احمد وانا المقفى والحاشر والماحى والخاتم والعاقب “ (رواه الطبرانی صغیر ج ١ ص ٥٨ واحمد وابن سعید) روایت ہے حضرت نافع سے کہا کہ فرمایا رسول اللہ ﷺ نے میں محمد ہوں اور میں احمد ہوں اور میں مقفی ہوں اور میں حاشر ہوں اور میں خاتم اور عاقب ہوں۔ روایت کیا اس حدیث کو طبرانی اور احمد اور ابن سعید نے۔

تشریح

اس حدیث شریف میں آپ کے اسمائے گرامی سات بیان ہوئے ہیں۔ جن سے پانچ نام ختم نبوت پر خاص دلالت کرتے ہیں۔ ملاحظہ فرمائیے۔

نبی نہ آسکے گا۔

معلوم ہوا کہ اب کوئی نیا دین نہ ہوسکے گا۔

ملیا میٹ کر کے صرف پرچم محمدی لہرانے کے لئے نبی بنایا گیا ہوں۔ جس سے معلوم ہوا کہ سرکار مدینہ کے سوا اور کوئی ہادی نہ ہوسکے گا۔

جانے کے بعد آخری نبی بن کر آیا ہوں جس سے معلوم ہوا کہ اب کوئی اور نبی نہ آسکے گا۔

عاقب نہ ہوسکے گا۔

افسوس .......

کہ دشمنان رسول کس قدر دلیر ہیں کہ ایسی صاف روشن دلیل کی موجودگی میں بھی کسی اور کو بھی نبی تسلیم کرتے ہیں۔ اور انجام آخرت سے غافل و اندھے ہیں۔

خاتم المہاجرین وخاتم النبیین ....... ساتویں حدیث

”عن سهيل ابن الساعدي قال استأذن العباس من النبي ﷺ في الهجرة فكتب اليه يا عم! اقم مكانا ختم بی النبییون“

حضرت سہیل بن ساعدی سے رو کہ نبی ﷺ سے ہجرت (کے بارے) میں (میرے) چچا عباس ٹھہرا رہ تو جگہ اپنی پر، بے طرح ختم کر دیا۔ ساتھ میرے نبیوں کو۔

یہ حدیث ....... ابو نعیم ، ابو یعلیٰ میں بھی ہے۔

فتح مکہ سے کچھ دن پہلے حضرت کرنے اور مدینے تشریف لے جانے کی خواہش ظا اے میرے پیارے اور بزرگ چچا ! آپ اپنی جس طرح مجھ پر نبوت ختم ہو چکی ہے۔ پس آپ العظیم اور جب مکہ شریف کو مجاہدین محمدی فتح کر خود جناب نے فرمایا کہ ”لا هجرة بعد الفتح ہے۔ صرف مکی مہاجر کے لئے ہے اور واقعی ف مسلمان نے مکہ سے ہجرت نہیں کی۔ اور نہ قیا ہجرت کر کے مکہ شریف ضرور جاتے ہیں۔

ایک مغالطہ اور اس کا ازالہ

یہاں پر مرزائی دھوکا دیتے ہیں کہ اے چچا نہ ہوگا۔ اور پھر بھی لوگ ہجرت کرتے ختم بی النبییون “ جیسے الفاظ کے بعد ہر شخص کو چاہئے کہ ان کے ایسے دھوکے سے لٹریچر نہ پڑھا کرے ورنہ گمراہ ہونے کا اندیشہ

آخری نبی اور آخری مسجد ....... آٹھ

”عن عائشة قالت قال رس

٨

صفحہ ٥٥

الهجرة فكتب اليه يا عم! اقم مكانا وانت به فان الله قد ختم بك الهجرة كما ختم بي النبييون“

(رواه الطبرانی)

حضرت سہیل بن ساعدیؓ سے روایت ہے کہ اجازت مانگی حضرت عباسؓ نے نبی کریم ﷺ سے ہجرت (کے بارے) پس لکھا (حضور ﷺ نے) طرف اس کے کہ اے (میرے) چچا عباسؓ ٹھہرا رہ تو جگہ اپنی پر، بے شک اللہ نے ختم کر دیا ساتھ تیرے ہجرت کو جس طرح ختم کر دیا۔ ساتھ میرے نبیوں کو۔

یہ حدیث ...... ابو نعیم، ابو یعلیٰ، ابن عساکر، ابن نجار، کنز العمال ج ٦ ص ١٧٨ میں بھی ہے۔

فتح مکہ سے کچھ دن پہلے حضرت عباسؓ نے (جو حضور ﷺ کے چچا تھے ۔ ) ہجرت کرنے اور مدینے شریف جانے کی خواہش ظاہر کی۔ اور اجازت چاہی تو حضور نے جواباً فرمایا کہ اے میرے پیارے اور بزرگ چچا! آپ اپنی جگہ پر ہی مقیم رہیں۔ آپ پر ہجرت ختم ہو چکی ہے۔ جس طرح مجھ پر نبوت ختم ہو چکی ہے۔ پس آپ کی ہجرت کے بعد ہی مکہ فتح ہو جائے گا۔ انشاء اللہ العظیم اور جب مکہ شریف کو مجاہدین محمدی فتح کر لیں گے۔ تو مکی مہاجر ختم ہو جائیں گے۔ جیسا کہ خود جناب نے فرمایا کہ ”لا هجرة بعد الفتح...... الخ“ غرضیکہ یہ حدیث ہر مہاجر کے لئے نہیں ہے۔ صرف مکی مہاجر کے لئے ہے اور واقعی حضور کی بات سچ ہوئی۔ فتح مکہ سے آج تک کسی بھی مسلمان نے مکہ سے ہجرت نہیں کی۔ اور نہ قیامت تک اب کوئی مکی مہاجر ہوگا۔ ہاں غیر ممالک سے ہجرت کر کے مکہ شریف ضرور جاتے ہیں۔

ایک مغالطہ اور اس کا ازالہ

یہاں پر مرزائی دھوکا دیتے ہیں کہ حضور ﷺ نے تو فرمایا ہے کہ کوئی مہاجر تیرے بعد اے چچا نہ ہوگا۔ اور پھر بھی لوگ ہجرت کرتے ہیں۔ اسی طرح کہتے ہیں کہ ”لا نبی بعدی یا ختم بی النبییون“ جیسے الفاظ کے بعد بھی نبی کا آسکنا ممکن ہے۔ یہ ان کا دھوکا اور فریب ہے ہر شخص کو چاہئے کہ ان کے ایسے دھوکے سے بچے اور ان کی صحبت و مجلس سے پرہیز کرے اور ان کا لٹریچر نہ پڑھا کرے ورنہ گمراہ ہونے کا اندیشہ ہے۔

آخری نبی اور آخری مسجد ....... آٹھویں حدیث

"عن عائشة قالت قال رسول الله ﷺ انا خاتم الانبياء ومسجدى

٩

صفحہ ٥٧

خاتم مساجد الانبیاء “ روایت ہے مائی عائشہؓ سے کہا فرمایا رسول خدا ﷺ نے کہ میں آخری نبی ہوں اور میری مسجد (نبوی) خاتم مساجد الانبیاء ہے۔

(کنزالعمال ج ١٤ ص ٢٧٠ نماز ، ابن بخار ، دیلمی)

تشریح

مائی عائشہ صدیقہؓ جناب محمد رسول اللہ ﷺ کا بیان سمجھا رہی ہیں کہ سردار دوجہاں ﷺ نے یوں فرمایا ہے کہ جس طرح میں تمام نبیوں کے آخر میں آیا ہوں۔ اور آخری نبی کہلایا ہوں۔ اسی طرح میری مسجد جو مدینہ طیبہ میں موجود ہے آخری مسجد ہے۔ جس طرح میرے بعد کوئی سچا نبی نہیں۔ عین اسی طرح میری مسجد کے بعد کوئی بھی روئے زمین پر مسجد نبوی نہ ہو سکے گی۔ جب نبی ہی نہیں تو مسجد نبوی کیسی ہو۔

(مرزائی حضرات گریبان میں منہ ڈال کر بغور سوچیں اور دعا کریں کہ خدا ہدایت کرے۔ آمین)

آخری نبی کے دس نام ...... نویں حدیث

”عن ابی الفضیل وكان قال رسول اللہ ﷺ ان لی عند ربی عشرة اسماء محمد واحمد والقاسم والفاتح والخاتم الماحی والعاقب وحاشر ويسين وطہ“ حضرت ابو الفضیلؓ سے روایت ہے کہ فرمایا رسول اللہ ﷺ نے کہ تحقیق میرے لئے رب العزت کے نزدیک دس نام ہیں۔ محمد، احمد، ابوالقاسم، فاتح، خاتم، ماحی، عاقب، حاشر، یاسین اور طہ ہوں۔

تشریح

اس حدیث میں جو اسماء گرامی حضور ﷺ کے مذکور ہوئے ہیں۔ ان کا خلاصہ مختصراً اوپر بیان ہو چکا ہے اور کچھ آئندہ بیان ہوگا۔ انشاء اللہ بہر حال پانچ نام ختم نبوت کو علانیہ ظاہر کر رہے ہیں۔ جو حضور ﷺ کو خود اللہ تعالیٰ نے عطا فرمائے ہیں۔

آپ ہی مقفی اور خاتم ہیں ...... دسویں حدیث

”عن ابن عباس قال قال رسول اللہ ﷺ انا احمد وانا محمد وانا حاشر والمقفى والخاتم “ حضرت ابن عباسؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ میں احمد اور محمد ہوں اور میں ہی حاشر اور سب سے پیچھے آنے والا اور خاتم ہوں۔

(دیکھئے کنز العمال ج ١١ ص ١١٦ ابن عساکر اور خطیب بغدادی)

١٠

تشریح

اس حدیث میں بھی دو نام قابل ہیں۔

اور لوگ قبروں سے اٹھائے جائیں گے۔

”فإذا قضى فلا نبی بعدہ “ پس فیصلہ ہو چکا ہے اور امام نوویؒ نے لفظ مقفی کی تشریح کرتے ہوئے اس عاقب ہے۔ اور ابن العربیؒ نے مقفی کے معنی ’هو الم‘ نوویؒ نے دونوں قول ملا کر اپنی شرح میں خود فیصلہ فرمایا۔

نتیجہ ...... جب آپ سب سے آخری نبی آنے کی گنجائش نہیں۔

آپ ﷺ ہی فاتح ہیں ...... گیارہویں ح

”عن ابی قتادة مرسلاً (قال) رس واعطيت جوامع الكلم وفواتحه “ حضرت ابو نے سوائے اس کے نہیں کہ میں خاتم ہوں اور فاتح ہوں ا

تشریح

روایت کیا اس حدیث کو بیہقی نے شعب الا اس حدیث میں بھی حضور کا خاتم النبیین ہونا سورج کی ط خاتم “

سلسلہ ختم ہو چکا ہے اور صرف محمد ہی دریائے نبوت کے آ

کے لئے حق و صداقت کی شمشیر عطا فرما کر خدائے واحد قلم کرنے کے لئے صرف محمد ﷺ ہی کو آخر میں فاتح بنا میں موجود ہو اور اس کا بادشاہ اس مفتوحہ حکومت کی نگرانی کہ اس کے علاقہ میں قدم رکھے اور اپنے کو فاتح بھی کہلا

١١

صفحہ ٥٧

تشریح

اس حدیث میں بھی دو نام قابل ہیں۔

اور لوگ قبروں سے اٹھائے جائیں گے۔

”فاذا قضى فلا نبي بعده “پس فیصلہ ہو چکا ہے کہ نہیں ہے نبی پیچھے اس (محمد ﷺ) کے۔ اور امام نوویؒ نے لفظ مقفی کی تشریح کرتے ہوئے اس لفظ کے معنی یوں لکھے ہیں کہ مقفی بمعنی عاقب ہے۔ اور ابن العربیؒ نے مقفی کے معنی ”ھو المتبع للانبیاء “ کئے ہیں۔ اس لئے امام نوویؒ نے دونوں قول ملا کر اپنی شرح میں خود فیصلہ فرمایا ہے کہ ”ان المقف ھو الآخر“

نتیجہ ....... جب آپ سب سے آخری نبی ہوئے تو لامحالہ آپ کے بعد کسی نبی کے آنے کی گنجائش نہیں۔

آپ ﷺ ہی فاتح ہیں ...... گیارھویں حدیث

”عن ابي قتادة مرسلاً (قال) رسول اللہ ﷺ انما انا خاتم وفاتح واعطيت جوامع الكلم وفواتحه “ حضرت ابو قتادہؓ سے ثابت ہے کہ فرمایا رسول اللہ ﷺ نے سوائے اس کے نہیں کہ میں خاتم ہوں اور فاتح ہوں اور دیا گیا ہوں میں جوامع کلمے اور فواتح ۔

تشریح

روایت کیا اس حدیث کو بیہقی نے شعب الایمان میں اور (کنز العمال ج ٦ ص ١٠٦) میں اس حدیث میں بھی حضور کا خاتم النبیین ہونا سورج کی طرح چمک رہا ہے۔ دیکھئے ”وانما انا خاتم “

سلسلہ ختم ہو چکا ہے اور صرف محمد ہی دریائے نبوت کے آخری شناور ہیں۔

کے لئے حق و صداقت کی شمشیر عطا فرما کر خدائے واحد نے جابر و ظالم، ہستیوں، اور مغرور سروں کو قلم کرنے کے لئے صرف محمد ﷺ ہی کو آخر میں فاتح بنا کر بھیجا ہے۔ جب تک فاتح کی حکومت دنیا میں موجود ہو اور اس کا بادشاہ اس مفتوحہ حکومت کی نگرانی کر رہا ہو۔ تو پھر کسی سرپھرے کی مجال نہیں کہ اس کے علاقہ میں قدم رکھے اور اپنے کو فاتح بھی کہلائے۔

١١

صفحہ ٥٩

کی شریعت کا نچوڑ مجھے قرآن وحدیث میں عنایت فرما دیا گیا ہے۔ میں تمام مذاہب کی کجی پوری کرنے اور بگڑی ہوئی چالوں کو سدھارنے کے لئے آیا ہوں۔ میں سب کی اصلاح کرنے والا ہوں۔ مگر میری اصلاح کوئی نہ کر سکے گا۔ کیونکہ مجھے میرے رب نے تسلی بخش الفاظ میں فرما دیا ہے۔ ”الیوم اکملت لکم دینکم واتممت علیکم نعمتی ورضیت لکم الاسلام دیناً“

(پارہ ٦ سورہ مائدہ رکوع ؟)

﴿اے پیارے محمد ! آج کے دن پورا کیا میں نے تمہارے لئے تمہارا دین اور پوری کی
میں نے تمہارے اوپر اپنی نعمت۔﴾

یہی وہ شان و بزرگی ہے جو سوائے محمد احمد کے اور کسی کو نصیب نہ ہوئی اور یہی ختم نبوت کے لئے پختہ ثبوت اور محکم دلیل ہے۔ ”فافہم وتدبر“

آپ عاقب بھی ہیں ...... بارھویں حدیث

”عن جبیر بن مطعم قال سمعت ان النبیﷺ یقول ان لی اسماء انا محمد وانا احمد وانا الماحی الذی یمحوا اللہ بی الکفر وانا الحاشر الذی یحشر الناس علی قدمی وانا العاقب والعاقب الذی لیس بعدہ نبی“ روایت ہے حضرت جبیر بن مطعم سے کہا کہ میں نے سنا ہے رسول اللہ ﷺ سے کہ میرے کئی نام ہیں (اور وہ یہ ہیں کہ) میں محمد ہوں، اور میں احمد ہوں، اور میں ماحی ہوں وہ جس کے ساتھ مٹائے گا اللہ تعالیٰ کفر کو، اور حاشر ہوں، وہ جس کے دین ومذہب پر لوگ اٹھائے جائیں گے اور میں عاقب ہوں وہ کہ جس کے پیچھے کوئی نبی آنے والا نہ ہو۔

(مشکوٰۃ باب اسماء النبی ﷺ الفصل الاول ص ٥١٥ مطبوعہ قدیمی کتب خانہ)

تشریح

اس حدیث نے تو بالکل ہی فیصلہ کر دیا ہے۔ نہایت صاف الفاظ میں سرکار مدینہ ﷺ کا ارشاد عالی ہے۔

کی گمراہیوں کو نیست و نابود کر کے توحید وسنت نور و حکمت اور انصاف کا پرچم لہرانے آیا ہوں۔

کیونکہ خدا تعالیٰ نے مجھے ”یمح اللہ بی الکفر“

ابتدائے نبوت سے انتہائے دنیا تک قائم رہے گی ، میری ہی ہوگی اور دین میرا ہی ہوگا۔

نہیں۔ عرب کے امی اور عجم کے جاہلوں کو سمجھا ”والعاقب الذی لیس بعدہ نبی“ اور عاق عبارت مذکور سے ہر قسم کی خصوصاً مرزا قادیانی کی نبو

رحمت للعالمین ...... تیرھویں حدیث

”عن ابی موسیٰ الاشعری نفسه اسماء وقال انا محمد واحمد و الرحمة“ روایت ہے حضرت ابو موسیٰ اشعری فرماتے ہیں میں محمد ہوں، اور میں ہی احمد ہوں، اور میں ہوں توبہ کا اور میں ہی نبی ہوں رحمت کا۔

تشریح

اس حدیث میں بھی مذکورہ بالا اسمائے مختصر خلاصہ اوپر عرض کر چکا ہوں۔ اب صرف دو لفظو

گناہگاروں کی توبہ قبول بھی ہوگی اور میری ہی وجہ در توبہ بند بھی ہو جائے گا۔ لہٰذا ثابت ہوا کہ قیامت تک نہیں ہو سکتا۔ عیسیٰ علیہ السلام بھی جب آئیں گے

جس میں مذکور ہے ”وما ارسلنک الا رحمة تا اختتام دنیا ساری ہی مخلوق کے لئے رحمت و شفقت کہ ذات محمد ﷺ سے علم نبوت حاصل کرنے کی بجا

١٢

صفحہ ٥٩

کیونکہ خدا تعالیٰ نے مجھے ”یمح اللہ بی الکفر“ کا لقب عطا فرمایا ہے۔

ابتدائے نبوت سے انتہائے دنیا تک قائم رہے گی۔ حتیٰ کہ زمین سے دنیا کا حشر جب ہوگا تو نبوت میری ہی ہوگی اور دین میرا ہی ہوگا۔

نہیں ۔ عرب کے امی اور عجم کے جاہلوں کو سمجھانے کے لئے پیارے الفاظ میں فرماتے ہیں۔ ”والعاقب الذی لیس بعدہ نبی“ اور عاقب وہ ہوتا ہے جس کے بعد کوئی بھی نبی نہ ہو۔ عبارت مذکور سے ہر قسم کی خصوصاً مرزا قادیانی کی نبوت کا دیوالہ بخوبی نکل رہا ہے۔

رحمت للعالمین ...... تیرہویں حدیث

”عن ابی موسیٰ الاشعری قال کان رسول اللہ ﷺ یسمی لنا نفسہ اسماء وقال انا محمد واحمد والمقفی والحاشر ونبی التوبة ونبی الرحمة“ روایت ہے حضرت ابو موسیٰ اشعری سے کہ رسول اللہ ﷺ گناتے نام اپنے اور فرماتے میں محمد ہوں، اور میں ہی احمد ہوں، اور میں ہی مقفی ہوں اور میں ہی حاشر ہوں اور میں نبی ہوں توبہ کا اور میں ہی نبی ہوں رحمت کا۔

(مسلم ج ٢ ص ٢٦١)

تشریح

اس حدیث میں بھی مذکورہ بالا اسمائے گرامی بیان فرمائے گئے ہیں۔ جن کے متعلق مختصر خلاصہ اوپر عرض کر چکا ہوں۔ اب صرف دو لفظ مطالعہ فرمائیں اور وہ یہ ہیں۔

گناہگاروں کی توبہ قبول بھی ہوگی اور میری ہی نبوت کے ہوتے ہوئے قیامت آجائے گی اور در توبہ بند بھی ہو جائے گا۔ لہٰذا ثابت ہوا کہ قیامت تک کوئی بھی نبی حکومت محمدی کی موجودگی میں نہیں ہو سکتا۔ عیسیٰ علیہ السلام بھی جب آئیں گے تو حاکم و امام عادل بن کر آئیں گے۔

جس میں مذکور ہے ”وما ارسلنک الا رحمة للعالمین“ گویا خدائے تعالیٰ نے حضور کو تا اختتام دنیا ساری ہی مخلوق کے لئے رحمت و شفقت کا مظہر و رہنما کر بھیجا ہے۔ لہٰذا کسی کی کیا مجال کہ دست محمد ﷺ سے علم نبوت حاصل کرنے کی بے کار و بے جا کوشش کرے اور کامیاب ہو۔

١٣

صفحہ ٦٠

آپ کے متعلق فرشتے کا بیان ....... چودھویں حدیث

"عن يونس ابن جليس قال قال رسول الله ﷺ اتانی ملك بطشت من ذهب فشق بطنی فاخرج حشورة من جوفی فغسلها ثم ذر أعليه زروة ثم قال وانت محمد رسول الله المقفی والحاشر"

(خصائص ج ١ ص ٦٥)

روایت ہے حضرت یونس بن جلیس سے کہا فرمایا رسول اللہ ﷺ نے کہ آیا میرے پاس ایک فرشتہ ساتھ طباق کے جو سونے کا تھا پس چاک کیا اس نے میرے پیٹ کو ، پس نکالا اس نے ایک لوتھڑا میرے پیٹ سے پس دھویا اس کو پھر اس پر کچھ چھڑک دیا پھر اس (فرشتہ) نے کہا اور تو محمد اور رسول ہے اللہ کا پیچھے آنے والا اور حاشر۔

تشریح

اس حدیث کی تشریح کی خاص ضرورت معلوم نہیں ہوتی۔ کیونکہ الفاظ مذکورہ کی تشریح اوپر بار بار ہوچکی ہے۔ صرف قابل غور یہ چیز ہے کہ فرشتہ آیا اور آکر حضور ﷺ کے شکم مبارک کو چاک کیا پھر خواہشات انسانی اور غم وغصہ کو نکال کر آب زمزم سے دھویا۔ اور نور توحید بھر کر سی دیا۔ جاتے وقت حکم خداوندی سنا کر پیارے محمد ﷺ کو خوش کرنے کی خاطر تاج نبوت پہناتے ہوئے عرض کیا کہ آپ کا نام محمد ہے اور آپ رسول ہیں اللہ تعالیٰ کے جس کے پیچھے کوئی رسول نہ ہوگا۔ حتیٰ کہ قیامت آجائے گی۔ اور دنیا کا حشر تیرے ہی قدموں پر ہوگا یہ تھا وہ بیان جو فرشتہ نہایت ادب سے کر گیا۔

آپ کو جہاد کے لئے بھیجا گیا ہے ....... پندرہویں حدیث

"عن مجاهد عن النبى ﷺ قال انا محمد وانا احمد وانا رسول الرحمة وانا رسول الملحمة وانا المقفى والحاشر بعثت بالجهاد ولم بعث بالزراع"

(خصائص ج ١ ص ٧٦)

روایت ہے حضرت مجاہدؒ سے وہ روایت کرتے ہیں حضرت محمد ﷺ سے فرمایا کہ میں محمد ہوں اور احمد ہوں اور میں رسول الرحمت ہوں اور میں رسول ہوں جہاد کا اور میں ہی سب کے آخر آنے والا ہوں اور میں حاشر ہوں اور میں مرسل ہوں ساتھ جہاد کے اور نہیں بھیجا گیا ساتھ زراعت کے۔

تشریح

اس حدیث میں حضور ﷺ نے اپنے ناموں کی تشریح اوپر بیان ہوچکی ہے اور آگے قابل غور و خوض ہیں۔

اپنی کامیابی خیال کرتا ہوں۔ اور میں مجاہد رسول کوئی جابر اور ظالم حاکم میرے الہام کو نہیں بدل علانیہ دنیا کے سامنے پیش کرتا ہوں۔ یہ خانہ پودے کی طرح اپنے الہام بند کردوں جیسے مر تھا) کے ڈرانے سے بعض الہامات کی اشاعت صورت میں بھی بند نہیں ہوتے۔ اور یہی نبیوں

فیصلہ فرما دیا ہے کہ کسی جھگڑے کی ضرورت کرتے رہے۔ جہاد فرض ہی رہا ہے کیونکہ آ ہوئی اور شرع محمدی مکمل ہوگئی۔ حضور اپنی مک مسئلہ جہاد سچی اور الہامی کتاب قرآن پاک تو کامل ومکمل ہے تو پھر کسی نبی کی ضرورت ہی جب قرآن پاک ہی اسلامی تعلیم کامل ومکمل تعلیم پیش کرنے کا ذمہ لے چکا ہے تو پھر اور کہ ہر مسلمان جانتا ہے کہ قرآن پاک کی تعلیم مسئلہ جہاد کیونکر منسوخ ہوسکتا ہے؟ جیسا کہ فر یہی سچا رسول ﷺ رہتی دنیا تک اپنی نورانی رہیں گے۔ ہاں ڈاکو آئیں گے مگر ذلیل ہوک

آپ ﷺ پر نبوت ورسالت کا درو

"عن انس قال قال رسول فلا رسول بعدی ولا نبی۔"

صفحہ ٦١

تشریح

اس حدیث میں حضور ﷺ نے اپنے چھ نام اور دو عظیم الشان صفتیں بیان فرمائی ہیں۔ ناموں کی تشریح اوپر بیان ہوچکی ہے اور آئندہ انشاء اللہ تعالیٰ بیان ہوگی۔ مگر مندرجہ ذیل الفاظ قابل غور وخوض ہیں۔

ا...... ”انا رسول الملحمة “ میں رسول جہاد ہوں فرما کر فیصلہ ہی فرما دیا کہ میں بہادری اپنی کامیابی خیال کرتا ہوں۔ اور میں مجاہد رسول ہوں۔ کفر وظلم کی گھٹائیں مجھ کو مرعوب نہیں کرسکتیں۔ کوئی جابر اور ظالم حاکم میرے الہام کو نہیں بدل سکتا۔ میں الہام الٰہی کھلے طور سے ڈنکے کی چوٹ پر علانیہ دنیا کے سامنے پیش کرتا ہوں۔ یہ خانہ ساز نبوت نہیں جو ذلیل و کافر حکومت کے خود ساختہ پودے کی طرح اپنے الہام بند کردوں جیسے مرزا غلام احمد نے مسٹر ڈوئی (جو انگریز عیسائی مجسٹریٹ تھا) کے ڈرانے سے بعض الہامات کی اشاعت سے توبہ کر لی تھی۔ غرضیکہ خدائی الہامات کبھی اور کسی صورت میں بھی بند نہیں ہوتے۔ اور یہی نبیوں کی صداقت کا کھلا ہوا راستہ اور نشان ہے۔

٢...... ”بعثت بالجہاد “ بھیجا گیا ہوں میں ساتھ جہاد کے، فرما کر کتنا صاف اور صریح فیصلہ فرما دیا ہے کہ کسی جھگڑے کی ضرورت ہی نہیں۔ جہاد فرض ہے اور حضور اپنی زندگی میں جہاد کرتے رہے۔ جہاد فرض ہی رہا ہے کیونکہ آیت ”اليوم اكملت لكم دينكم ......الخ “ نازل ہوئی اور شرع محمدی مکمل ہوگئی۔ حضور اپنی مکمل شریعت زمین پر چھوڑ کر دنیا سے رحلت فرما گئے۔ مسئلہ جہاد سچی اور الہامی کتاب قرآن پاک تفسیر پاک احادیث نبوی میں بکثرت موجود ہے۔ دین کامل ومکمل ہے تو پھر کسی نبی کی ضرورت ہی کیا۔ جو آئے اور قوموں کو اپنے نئے الہام سنائے۔ جب قرآن پاک ہی اسلامی تعلیم کامل ومکمل ہونے کا اعلان کر رہا ہے اور وہ قیامت تک اپنی ہی تعلیم پیش کرنے کا ذمہ لے چکا ہے تو پھر اور کسی خطبہ الہامیہ یا حقیقت الوحی کی ضرورت کیا؟ جب کہ ہر مسلمان جانتا ہے کہ قرآن پاک کی تعلیم قیامت تک رہے گی اور قرآن پاک منسوخ نہ ہوگا تو مسئلہ جہاد کیونکر منسوخ ہوسکتا ہے؟ جیسا کہ فرقہ مرزائیہ کا خیال ہے۔ غرضیکہ یہی قرآن شریف اور یہی سچا رسول ﷺ رہتی دنیا تک اپنی نورانی شعاعیں اس دنیا میں پھیلا کر ذرہ ذرہ کو منور کرتے رہیں گے۔ ہاں ڈاکو آئیں گے مگر ذلیل ہوں گے۔

آپ ﷺ پر نبوت ورسالت کا دروازہ بند ہے ...... سولہویں حدیث

”عن انس قال قال رسول اللہ ﷺ ان الرسالة والنبوة قد انقطعت فلا رسول بعدی ولا نبی۔“

(رواہ الترمذی واحمد بن کثیر ج ٨ ص ٦٩٠)

١٥

صفحہ ٦٢

انس بن مالک کہتے ہیں کہ فرمایا رسول اللہ ﷺ نے بے شک رسالت اور نبوت منقطع ہو چکی پس نہ کوئی رسول میرے بعد اور نہ کوئی نبی میرے پیچھے ہوگا۔

تشریح

اس حدیث میں بھی مندرجہ ذیل فقرہ قابل غور ہے۔ ”فلا رسول بعدی ولا نبی “ پس نہیں ہے رسول میرے بعد اور نہ نبی میرے پیچھے۔ حضرت محمد رسول اللہ ﷺ نے رسول اور نبی کا الگ الگ نام لے کر فرما دیا کہ اب میرے نبی ہونے کے بعد نہ کوئی رسول ہوگا۔ جو صاحب شریعت ہو۔ جس کو بذریعہ وحی کوئی کتاب ملی ہو اور نہ کوئی نبی ہوگا۔ نبی رسول کو بھی کہتے ہیں جو صاحب شریعت ہو اور جو صرف نبی ہی ہو۔ وہ رسول کے ماتحت بھی ہوتا ہے تو حضور ﷺ نے فرمایا کہ شریعت والا کوئی نبی نہ آئے گا اور نہ غیر تشریعی نبی آئے گا۔ بالکل ہر طرف ہر قسم سے دروازہ رسالت ونبوت بند ہو چکا ہے۔ اب اگر کوئی فرد یا گروہ تشریعی غیر تشریعی ظلی یا بروزی نبوت کی تبلیغ کرے تو وہ پاگل ہے۔ اس کا علاج تو بریلی کے پاگل خانے میں کرانا چاہئے۔

سارے جہاں کا ایک ہی نبی ...... سترھویں حدیث

” عن ابی سعید قال قال رسول اللہ ﷺ یا ایھا الناس ان ربکم واحد واباکم واحد ودینکم واحد ونبیکم واحد لا نبی بعدی“

(کنز العمال)

حضرت ابو سعید سے روایت ہے کہا کہ فرمایا حضرت رسول اللہ ﷺ نے : اے لوگو! تحقیق تمہارا پروردگار ایک ہے اور تمہارا باپ ایک ہے اور تمہارا دین ایک ہے اور تمہارا نبی ایک ہے۔ نہیں ہے نبی میرے پیچھے

تشریح

یہاں بھی الفاظ مذکورہ ذیل کو بغور ملاحظہ فرمائیں۔

١٦

نوٹ ......

کرنے والا کافر مشرک، دائرہ اسلام سے خارج

خیال کرتے ہوئے اپنی بزرگ والدہ محترمہ کو سمجھ وہ بھی پاگل و دیوانہ ہے اور غیر شخص جو فرضی باپ والدہ سے کرتا ہے تو وہ بھی واجب القتل و سنگسار

رسول کو ہرگز قبول نہ ہوگا۔

واجب الاحترام ہے۔ اس کی شریعت ہی ہمیشہ نہیں ہو سکتا۔ اور باپ کی موجودگی میں دوسرا با گئی کہ صرف میں ہی نبی ہوں۔ اب میرے بعد تم سب سوال کئے جاؤ گے ...... (خا

”یاایھا الناس انه لا نبی عقبی “ (رواہ احمد) اے لوگو! بیشک میرے پیچھے اور تم سب مجھ سے پوچھے جاؤ گے۔

تشریح

اس حدیث پاک میں تمام جہان کو بالکل شک نہ جانو۔ میرے بعد کوئی نبی نہیں۔ جو نہیں۔ میرے رب کا مجھ کو صاف یہ حکم ہے کہ جہان کے لئے نبی بنا کر بھیجا گیا ہوں۔ اگر چاہوں ایھاالناس انی رسول اللہ الیکم جمی میں رسول ہوں۔ اللہ تعالیٰ خاتم سب کی طرف سے صاف ظاہر ہے کہ اب قیامت تک کسی نبی دعویٰ کرے یا کوئی کسی غیر کو نبی مان بیٹھے تو اس کے

صفحہ ٦٣

نوٹ......

کرنے والا کافر مشرک، دائرہ اسلام سے خارج اور واجب القتل ہے۔

خیال کرتے ہوئے اپنی بزرگ والدہ محترمہ کو مجبور کرے کہ وہ اس کی بھی اسی طرح بیوی کہلائے تو وہ بھی پاگل و دیوانہ ہے اور غیر شخص جو فرضی باپ بنایا گیا ہے۔ اگر وہی حرکت حقیقی باپ والی اس کی والدہ سے کرتا ہے تو وہ بھی واجب القتل و سنگسار ہے۔

رسول کو ہرگز قبول نہ ہوگا۔

واجب الاحترام ہے۔ اس کی شریعت ہی ہمیشہ رہے گی جس طرح خدا کی موجودگی میں دوسرا خدا نہیں ہو سکتا۔ اور باپ کی موجودگی میں دوسرا باپ نہیں ہو سکتا۔ لہٰذا ہمیشہ ہمیش کے لئے مہر لگادی گئی کہ صرف میں ہی نبی ہوں ۔ اب میرے بعد کوئی بھی نبی نہیں ہوگا۔

تم سب سوال کئے جاؤ گے ...... اٹھارہویں حدیث

" يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّهُ لَا نَبِيَّ بَعْدِي وَلَا أُمَّةَ بَعْدَكُمْ وَأَنْتُمْ تُسْأَلُونَ عَنِّي" (رواہ احمد) اے لوگو! بیشک میرے پیچھے کوئی نبی نہیں ہے۔ اور تمہارے بعد کوئی امت نہیں اور تم سب مجھ سے پوچھے جاؤ گے۔

تشریح

اس حدیث پاک میں تمام جہان کو علانیہ طور سے حکم ہو رہا ہے کہ کان لگا کر سنو۔ اور بالکل شک نہ جانو۔ میرے بعد کوئی نبی نہیں۔ جب کوئی نبی ہی نہیں تو تمہارے بعد کوئی امت بھی نہیں ۔ میرے رب کا مجھ کو صاف یہ حکم ہے کہ میں تم سب کو بتا دوں کہ اب صرف میں ہی تمام جہان کے لئے نبی بنا کر بھیجا گیا ہوں ۔ اگر چاہو تو فرمانِ خداوندی پڑھ لو ۔ ” قُلْ يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنِّي رَسُولُ اللَّهِ إِلَيْكُمْ جَمِيعاً “ کہہ دے (اے میرے پیارے نبی) تحقیق میں رسول ہوں ۔ اللہ تعالیٰ کا تم سب کی طرف۔ (پارہ نمبر ٩، رکوع نمبر ٦) غرضیکہ مندرجہ بالا مضمون سے صاف ظاہر ہے کہ اب قیامت تک کسی نبی کی مطلق ضرورت نہیں ۔ پھر اگر کوئی سر پھرا نبوت کا دعویٰ کرے یا کوئی کسی غیر کو نبی مان بیٹھے تو اس کے کافر ہونے میں بھی شک نہیں۔

١٧

صفحہ ٦٢

آپ کا الوداعی خطبہ ...... انیسویں حدیث

"عن ابی امامة قال قال رسول الله ﷺ فی خطبة یوم حجة الوداع یا ایها الناس انه لا نبی بعدی ولا امة بعدکم الا فاعبدوا ربکم وصلوا خمسکم وصوموا شهرکم وادو زکوٰة اموالکم طیبة بها انفسکم واطیعوا ولاة امورکم تدخلو جنة ربکم"

(مسند احمد ج ٥ ص ٢٦١، منتخب کنز العمال ص ٣٩١)

روایت ہے حضرت ابو امامہؓ سے کہ فرمایا رسول خدا ﷺ نے درمیان خطبے دن آخری حج کے کہ اے لوگو! بے شک نہیں کوئی نبی میرے پیچھے اور نہیں کوئی امت تمہارے پیچھے پس عبادت کرو اپنے رب کی، نماز پڑھو پانچ وقت کی اور روزے رکھو رمضان شریف کے اور دو زکوٰۃ کو اپنے مال کی خوشی سے اور اطاعت کرو اپنے (نیک) امیروں کی، داخل ہو جاؤ گے جنت میں اپنے رب کی۔

اس حدیث کو مندرجہ ذیل طریق سے دوبارہ بغور مطالعہ فرمائیں۔

تشریح

(تاکہ) جنت میں داخل ہونے کے قابل ہو جاؤ۔

دیکھا آپ نے کہ حضور اکرم ﷺ الاولین والآخرین کس صفائی سے تمام لوگوں کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے آئی ہوئی نصیحت کس قدر کھلے الفاظ میں بیان فرما رہے ہیں کہ اے لوگو! میں آخری نبی ہوں اور تم آخری امت ہو۔ میں تمہارا حصہ ہوں۔ تم میرا حصہ ہو۔ آج میں تمہیں صاف الفاظ میں بتاتا ہوں کہ تم رہتی دنیا تک یہ سمجھ لو کہ میرے پیچھے کوئی بھی نبی نہ ہوگا۔ اب تم کو چاہئے کہ جس خدا تعالیٰ نے مجھے نبی بنا کر بھیجا ہے۔ اس کی پوجا کرتے رہنا اور پانچ وقت کی نماز ادا کرنا اور

١٨

رمضان کے روزے رکھنا اور زکوٰۃ صحیح ایک کا تارک بھی کافر اور دائرہ اسلام سے یہ ہے فرمان رسول، جو عرض کیا گیا۔ جو لوگ نیکی سمجھ کر اس پر ا کیونکہ حدیث میں آچکا ہے ”فاعبدو

آپ کے بعد کوئی نبی اور امت

”عن ضحاك ابن نو بعدی ولا امة بعد امتی“

حضرت ضحاکؓ سے روای کہ نہیں ہوگا کوئی نبی میرے بعد اور کوئی

آخری نبی کی آخری وصیت

”عن عبدالله بن عم يوماً کالمودع فقال انا النبی ال

حضرت عبداللہ بن عمرو بن ہمارے پاس اس طرح آئے کہ گویا کہ میں نبی امی ہوں اور نہیں ہے کوئی ن

تشریح

اس حدیث سے معلوم ہوت جو ہر محفل و ہر تقریر میں بار بار دہرایا ج وقت بھی کسی نبی کے آنے کا خیال اپ رہتا۔ میں امی ہوں مگر خدائے واحد ۔ والے نبی جھوٹے ہوں گے جو نبوت کا

آپ دنیا کے آخری اور قیام

”عن عمروا بن قیس السابقون یوم القيامة“

صفحہ ٦٥

رمضان کے روزے رکھنا اور زکوٰۃ صحیح طریقہ سے ادا کرنا کیونکہ یہ سب فرض ہیں۔ ان میں سے ایک کا تارک بھی کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہے۔ نہ میں اس کا نبی اور نہ وہ میری امت ہے۔ یہ ہے فرمان رسول، جو عرض کیا گیا۔

جو لوگ نیکی سمجھ کر اس برائی کے مرتکب ہوتے ہیں وہ بھی شرعاً کافر ومشرک ہیں۔ کیونکہ حدیث میں آچکا ہے ”فاعبدوا ربکم“ صرف اپنے رب کی عبادت کرو۔

آپ کے بعد کوئی نبی اور امت نہیں ...... بیسویں حدیث

"عن ضحاك ابن نوفل قال قال رسول اللہ ﷺ عليه وسلم لا نبى بعدى ولا امة بعد امتى"

(رواہ البیہقی فی کتاب الرؤیا)

حضرت ضحاکؒ سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا کہ فرمایا حضرت رسول خداﷺ نے کہ نہیں ہوگا کوئی نبی میرے بعد اور کوئی امت میری امت کے بعد۔

آخری نبی کی آخری وصیت ...... اکیسویں حدیث

"عن عبدالله بن عمر بن العاص يقول خرج علينا رسول اللہ ﷺ يومأ كالمودع فقال انا النبى الامى ثلاثاً ولا نبى بعدى"

(احمد ابن کثیر ج ٨، ص ٩١)

حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاصؓ سے روایت ہے کہ ایک دن جناب رسول خداﷺ ہمارے پاس اس طرح آئے کہ گویا آپﷺ ہم سے جدا ہونے والے ہیں۔ پس تین بار فرمایا کہ میں نبی امی ہوں اور نہیں ہے کوئی نبی میرے بعد

تشریح

اس حدیث سے معلوم ہوا کہ حضورﷺ کو اس ختم نبوت کے مسئلہ کا بہت ہی خیال تھا۔ جو ہر محفل و ہر تقریر میں بار بار دہرایا جاتا تھا۔ یہاں بھی یہی بیان فرماتے ہیں کہ میرے پیچھے کسی وقت بھی کسی نبی کے آنے کا خیال اپنے دل میں ہرگز نہ پیدا ہونے دینا۔ میری ہی نبوت مانتے رہنا۔ میں امی ہوں مگر خدائے واحد نے مجھے تمام شرعی علوم سے خبردار کردیا ہے۔ میرے بعد آنے والے نبی جھوٹے ہوں گے جو نبوت کا دعویٰ کریں گے وہ کافر کہلا کر جہنم رسید ہوں گے۔

آپ دنیا کے آخری اور قیامت میں پہلے نبی ہیں ...... بائیسویں حدیث

"عن عمروا بن قيس ان رسول اللہ ﷺ قال نحن الاخرون ونحن السابقون يوم القيامة"

(کنز العمال ج ٢، ص ٢٣٠)

١٩

صفحہ ٦٦

حضرت عمرو بن قیسؓ سے روایت ہے بیشک رسول خدا ﷺ نے فرمایا کہ ہم سب آخری ہیں (دنیا) میں اور ہم سب سے اوّل ہوں گے قیامت کے دن۔

تشریح

حضور نے اس حدیث میں مذکورہ بالا تمام احادیث کی تصدیق فرما کر نہایت وضاحت سے بیان فرمایا ہے کہ میں اور میری امت سب سے آخر میں ہوئے ہیں۔ ہمارا ہی دور ہوگا کہ قیامت آجائے گی اور پھر ہم تمام پہلی امتوں کے ساتھ قبروں سے اٹھائے جائیں گے اور ہم اور تمام انبیاء اور دیگر امتیں ایک ہی میدان میں جمع کر دیئے جائیں گے۔ پھر تمام مخلوق مصائب سے گھبرا کر کسی شفاعت کرنے والے کی تلاش میں ہوگی اور ہر امت اپنے اپنے انبیاء کی طرف دست التجاء دراز کرے گی۔ پھر تمام انبیاء یہ کہہ کر کہ ”آخری نبی کے پاس جاؤ“ میرے ہی پاس بھیج دیں گے اور میں ان کو تسلی دے کر رب دو جہاں کی بارگاہ میں ان کی سفارش کروں گا اور اللہ تعالیٰ جسے چاہے گا بخش بھی دے گا اور فیصلہ چکا کر ہر شخص کو اس کے ٹھکانے میں بھیج دے گا۔ مگر بھیجنے سے پہلے مجھے حکم ہوگا کہ تو اے میرے پیارے محمد ﷺ اپنی نیک امت کو ہمراہ لے کر سب سے پہلے جنت میں داخل ہو۔ لہٰذا ہم سب سے پہلے ہوں گے جو جنت میں داخل ہوں گے۔

نتیجہ

حدیث بالا سے صاف ظاہر ہے کہ ابتدائے نبوت محمدی سے تا انتہا حساب و کتاب نبوت کا تاج محمد ﷺ کو ہی پہنایا گیا ہے۔ لہٰذا کوئی بھی اب نبی کہلانے کا حق دار نہیں۔

آپ آخری نبی اور ہم آخری امت ہیں ...... تیئسویں حدیث

”عن ابي امامة الباهلى عن النبى (قال) انا اخر الانبياء وانتم اخر الامم “ (رواہ ابن ماجہ) حضرت امامہ باہلیؓ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا کہ میں آخری نبی ہوں اور تم آخری امت ہو۔

تشریح

اس حدیث سے معلوم ہوا کہ جب بھی کوئی نبی آتا ہے تو اس کی امت بھی علیحدہ ہوتی ہے۔ جو اسی کا حصہ ہوتی ہے۔ جیسے فرمان باری ہے ”ولكل امة رسول (پ١١)“ اس لئے حضرت محمد ﷺ کا ارشاد مبارک یوں ہے کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں تو میری امت جو سب امتوں سے علیحدہ اور آخری ہے اس کے بعد بھی کوئی امت نہیں۔

٢٠

نتیجہ

جس طرح اللہ تعا ابتدائے نبوت محمدی سے انتہا کوئی نبی نہ ہوگا تو امت کیسے اول نبی آدم تھے اور آ ”عن ابی وآخرهم محمد “ (سب سے) پہلے نبی آدم

تشریح

سلسلۂ نبوت حض بیانات مذکورہ بالا عبارات مذکورہ میں شک کرنے والا سے پناہ دے۔ آمین۔

مسجد نبوی میری ہی مس

”عن عبد يقول قال رسول روایت ہے حضرت عبدال حضرت ابو ہریرہؓ سے کہ نبی ہوں اور میری مسجد ( م

تشریح

اس حدیث ان کے نام سے مسجد نبوی کوئی مسجد نبوی کہلا سکے گی

صفحہ ٦٧

نتیجہ

جس طرح اللہ تعالیٰ نے اپنے پیارے محمدﷺ کو آخری نبی بنایا ہے بس اسی طرح ابتدائے نبوت محمدی سے انتہائے زمانہ تک ہم کو بھی آخری امت بنایا ہے۔ اگر حضورﷺ کے بعد کوئی نبی نہ ہوگا تو امت کیسے ہو سکتی ہے؟

اول نبی آدم تھے اور آخری محمد ہیں ...... چوبیسویں حدیث

”عن ابی ذرّ قال رسول الله ﷺ یا ابا ذر اوّل الانبیاء آدم وآخرهم محمد “ حضرت ابو ذرؓ سے روایت ہے کہ فرمایا رسول اللہﷺ نے کہ اے ابو ذر (سب سے) پہلے نبی آدم تھے اور سب سے آخری نبی میں محمد ہوں۔

(ابن حبان فی تاریخہ فی السنۃ العاشرة ص ٦٩، کنزالعمال ج ٦ ص ١٣٠)

تشریح

سلسلۂ نبوت حضرت آدم علیہ السلام سے چل کر حضرت محمدﷺ پر ختم ہو گیا۔ اسی قسم کے بیانات مذکورہ بالا عبارات میں مرقوم ہیں جو بالکل حق اور سچ ہے۔ اور ہمارا ایمان ہے کہ احادیث مذکورہ میں شک کرنے والا، ان کو حق نہ سمجھنے والا کافر، مرتد، زندیق جہنمی ہے۔ امہ مرحومہ کو خدا جہنم سے پناہ دے۔ آمین۔

مسجد نبوی میری ہی مسجد ہے ...... پچیسویں حدیث

”عن عبدالله بن ابراهيم ابن قارظ اشهد اني سمعت ابا هريرة يقول قال رسول الله ﷺ فانی آخر الانبياء ومسجدی آخر المساجد.“ روایت ہے حضرت عبداللہ بن ابراہیم بن قارظؓ سے کہ گواہی دیتا ہوں میں تحقیق میں نے سنا حضرت ابو ہریرہؓ سے کہ کہتے تھے کہ فرمایا رسول اللہﷺ نے کہ بے شک میں تمام انبیاء کا آخری نبی ہوں اور میری مسجد (مسجد نبوی) آخری مسجد ہے۔

(مسلم ج ١ ص ٢٣٩)

تشریح

اس حدیث سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ جیسے ہمارے نبی آخری نبی ہیں۔ اسی طرح ان کے نام سے مسجد نبوی بھی صرف مدینہ منورہ میں آخری مسجد ہے۔ ان کے بعد کوئی نبی ہوگا اور نہ کوئی مسجد نبوی کہلا سکے گی۔

٢١

صفحہ ٦٩

آپ کے بعد خلفاء ہوں گے ....... چھبیسویں حدیث

”عن ابی هريرة عن النبی ﷺ قال كانت بنو اسرائيل تسوسهم الانبياء كلما هلك نبی خلفه نبی وأنه لا نبی بعدی وسيكون خلفاء فيكثرون۔“

(رواہ البخاری، مسلم، مشکوۃ ص ٣٢٠، کتاب الامارۃ، الفصل الاوّل ص ٣٢٠، قدیمی کتب خانہ)

حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے وہ رسول خدا ﷺ سے روایت کرتے ہیں (رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ) بنی اسرائیل کی سیاست کو ان کے انبیاء سے زینت دی جاتی تھی جب کبھی بھی کوئی انتقال فرماتا تھا تو اس کا خلیفہ ان کا نبی ہوتا۔ میرے بعد کوئی نبی نہیں اور خلفاء بہت ہوں گے۔

تشریح

بنی اسرائیل میں ہر نبی کا خلیفہ نبی ہی ہوا کرتا تھا۔ اب حضور ﷺ کے بعد چونکہ نبوت کا دروازہ بند ہے اس لئے حضور فرماتے ہیں کہ میرے بعد خلفاء ہوں گے۔ اور یہ کثرت ہوں گے۔

حضور ﷺ نے ان خلفاء کے لئے بھی ارشاد فرمایا ہے کہ: ”لايزال الله يغرس فى هذا الدين غرساً يستعملهم فى طاعته “ ﴿یعنی اللہ ہمیشہ اس دین محمدی میں ایسے درخت لگاتا رہے گا جن سے اپنی اطاعت کے کام لے۔﴾

انہیں خلفاء کے لئے حضور ﷺ نے دعا بھی فرمائی جو درج ذیل ہے۔ دعا محمدی..... ”اللهم ارحم خلفائى وقلنا يا رسول الله من خلفاءك؟ (قال) الذين من بعدى الذين يروون احاديثى وسنتى ويعلمونها الناس“ دیکھئے ”جامع صغير للامام السيوطى بحواله احتفال الجمهور“ ﴿اے اللہ ! تو میرے خلفاء پر رحمت فرما! (جماعت صحابہ نے پوچھا کہ حضور آپ کے خلفاء کون لوگ ہیں؟) (حضور نے فرمایا) وہ لوگ جو میرے بعد آئیں گے اور میری حدیثیں اور سنتیں بیان کریں گے اور دوسروں کو سکھائیں گے۔﴾

حضور ﷺ کی شریعت وہی جو پیچھے چھوڑ گئے ہیں، قائم و دائم رہے گی اور کوئی بھی اسے نہ بدل سکے گا۔

٢٢

میرے لئے نبوت ہے اور تمہارے لئے خـ

”عن ابن عباس قال قال رسو

حضرت عبداللہ ابن عباسؓ سے روایـ اللہ تعالیٰ نے (صرف) میرے ہی لئے نبوت طـ

تشریح

اس حدیث نے دوٹوک فیصلہ کردیا کـ میرے بعد اور کسی کے لئے ہرگز نہیں ہے۔ ہمیشہ خلافت وامارت نصیب ہوگی۔ (جن کے لئے او ہونے کا وہی شخص حق دار ہوسکتا ہے جو حلال خور دھوکہ باز، ٹھگ اور فریبی کسی صورت میں بھی قوم کا کے لوگو! سمجھو اور عقل سے کام لو کہ جب ایسے بدبـ طرح مل سکتی ہے؟

فرمان خدا اور ختم نبوت ....... اٹھائیسـ

”عن علىّ قال ورجعت وجعلـ يصلى والقى علىّ طرف ثوبه قال فقلت يا نبى الله ما سألت الله شـ لى الا سألت لك مثله الا انه لا نبى بعدى فقمت كاني ما اشتكيت “

حضرت علیؓ روایت کرتے ہیں کہ ایـ کے پاس آیا تو حضور ﷺ نے مجھ کو اسی جگہ پر کھـ مجھ پر اپنے کپڑے کا کنارا ڈال دیا۔ فرمایا اے میرے لئے دعا کرے گا وہی دعا میں بھی تیرـ گا۔ اس کے سوا کہ مجھے کہہ دیا گیا ہے کہ بلاشبـ کہ گویا بیمار ہی نہ تھا۔

صفحہ ٦٩

میرے لئے نبوت ہے اور تمہارے لئے خلافت ہے ...... ستائیسویں حدیث

"عن ابن عباس قال قال رسول الله ﷺ لی النبوة ولكم الخلافة"

(دیکھئے ابن عساکر اور کنز العمال ج ٦ ص ١٨٠)

حضرت عبداللہ ابن عباسؓ سے روایت ہے۔ کہا کہ فرمایا جناب رسول خدا علیہ التحیۃ والثناء نے (صرف) میرے ہی لئے نبوت ہے اور تمہارے لئے خلافت ہے۔

تشریح

اس حدیث نے دوٹوک فیصلہ کردیا کہ نبوت صرف اور صرف میرے لئے ہے۔ میرے بعد اور کسی کے لئے ہرگز نہیں ہے۔ ہم سب قیامت تک میری امت ہو اور تم کو میرے بعد خلافت وامارت نصیب ہوگی۔ (جن کے لئے اوپر دعا بیان ہوئی ہے) قوم کا امیر یا نبی کا خلیفہ ہونے کا وہی شخص حق دار ہو سکتا ہے جو حلال خور، نیک چلن، راست باز اور صادق ہو۔ کذاب، دھوکہ باز، ٹھگ اور فریبی کسی صورت میں بھی قوم کا امیر اور نبی کا خلیفہ نہیں بن سکتا۔ اے زمانہ حال کے لوگو! سمجھو اور عقل سے کام لو کہ جب ایسے بدباطن امام یا امیر شرعاً نہیں بن سکتے تو ان کو نبوت کس طرح مل سکتی ہے؟

فرمان خدا اور ختم نبوت ...... اٹھائیسویں حدیث

"عن علیؓ قال وجعت وجعاً فاتیت النبی ﷺ فاقامنی مقامه وقام یصلی والقیٰ علیّ طَرف ثوبه قال برئت یا ابن ابی طالب فلا بأس عليك ما سألت الله لی شيئاً الا سألت لك شيئاً الا اعطانيه غير انه قيل لی انه لا نبی بعدی فقمت کانی ما اشتکیت"

(طبرانی و کنز العمال)

حضرت علیؓ روایت کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ مجھے سخت درد ہوا۔ پس میں حضور ﷺ کے پاس آیا تو حضور ﷺ نے مجھ کو اسی جگہ پر کھڑا کیا، اور آپ نماز کے لئے کھڑے ہوئے اور مجھ پر اپنے کپڑے کا کنارہ ڈال دیا۔ فرمایا اے علی اب تجھ پر بیماری نہیں ہے۔ جو تو اللہ سے میرے لئے دعا کرے گا وہی دعا میں بھی تیرے لئے کروں گا اور میری دعا اللہ ضرور قبول کرے گا۔ اس کے سوا کہ مجھے کہہ دیا گیا ہے کہ بلاشبہ میرے بعد کوئی نبی نہیں۔ پھر میں ایسا تندرست ہوا کہ گویا بیمار ہی نہ تھا۔

٢٣

صفحہ ٧١

تشریح

اس حدیث میں سرکار مدینہ فخر الاولین والآخرین ﷺ نے یہ بھی بتایا ہے کہ میری ہر قسم کی دعا اے علی تیرے حق میں قبول ہو جائے گی۔ مگر اے پیارے علی اگر باوجود سارے عالم کا سردار ہونے کے اور خدا کا برگزیدہ محبوب ہونے کے بھی تیرے لئے منصب نبوت کی دعا مانگوں تو میں سچ کہتا ہوں کہ میری یہ دعا ہر گز قبول نہ ہوگی۔ کیونکہ (قیل لی ) میرے رب نے میرے لئے کہہ دیا ہے کہ اے میرے پیارے نبی محمد تیرے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا۔ اس لئے نبوۃ کے علاوہ بھی تیرے لئے محمد ﷺ اپنے رب سے مانگے گا ضرور دیا جائے گا۔ (انشاء اللہ تعالیٰ)

نوٹ ...... حضور ﷺ فرماتے ہیں کہ فرمان الہی بھی یہی ہے کہ ”لا نبی بعدی“

اگر اب بھی نہ سمجھیں وہ تو پھر ان سے خدا سمجھے

نبوت کا کوئی حصہ باقی نہیں ....... انیسویں حدیث

”عن ابی هریرة مرفوعاً انه لیس یبقی بعدی من النبوة الا الرؤیا الصالحة“

(ابوداؤد،نسائی)

حضرت ابوہریرہؓ روایت بیان فرماتے ہیں کہ حضور ﷺ نے فرمایا کہ بیشک میرے بعد نبوت کا کوئی حصہ باقی نہیں۔ مگر نیک خواب ۔

تشریح

محمد ﷺ نے فرمایا کہ نبوت کا کوئی حصہ باقی نہیں رہا۔ ہاں نیک خواب جس کو اللہ چاہے گا دکھا دے گا ۔ جو نبوت کا ٤٦/ واں حصہ ہے۔ اس سے یہ ہرگز نہ خیال ہو کہ نبوت کا کچھ سلسلہ تو حدیث سے ثابت ہو ہی گیا۔ نہیں ہرگز نہیں جس طرح انسان کو بوٹیاں کر کے اور ٤٦/ واں حصہ تقسیم کر کے پھر اس کو انسان کہنے والا پاگل ہے۔ اسی طرح صرف نیک (فائدہ مند) خواب دیکھ کر نبی بن بیٹھنے والا بھی پاگل ہے۔ اور پاگل کو کامل انسان خیال کرنے والا بھی پاگل ہے۔ جس کا علاج پرہیز یا پھر عقلمند کو اللہ تعالی طاقت بخشے تو جوتا ہے۔

شان صدیقی اور وصیت آخری ....... تیسویں حدیث

”عن عبدالله بن عباس ان النبی ﷺ کشف الستارة ورأسه معصوب فی مرضه اللذی مات فیه والناس صفوف خلف ابی بکر فقال یا

٢٤

ایها الناس لم یبق من مبشرات النبو اوترئی له“

حضرت عبداللہ بن عباسؓ روایت کرتے اور آپ کا سر مبارک بندھا ہوا تھا۔ اس مرض میں جس باندھتے تھے (نماز کے لئے ) ابو بکرؓ کے پیچھے پس حضـ باقی رہا کوئی جز نبوت سے مگر نیک خواب جو مسلمان د

تشریح

اس حدیث میں مندرجہ ذیل فقرے قابل

ہوا تھا۔ اس مرض کی حالت میں جس میں کہ آپ کا و

کھڑے تھے ابو بکرؓ کے پیچھے۔﴾

الصالحة“ ﴿ پس حضور ﷺ نے فرمایا کہ اے خواب، مندرجہ بالا عبارات سے تین باتیں خوب وا

شان ہے کہ ان کو حضور نے عام جماعت کا مسجد مـ دیا۔ اور حضرت علیؓ اور تمام اہل بیت نے حضرت ا نبی کا انتخاب کردہ امام کسی کو پسند نہ آئے اور کوئی ا وہ نبی کا دشمن ہے۔

نیز (کنزالعمال ج ٦ ص ٣٨) میں حضر المرتضیٰ کرم اللہ وجہہ سے یوں منقول ہے۔

”عن علیّ قال قال رسو یهاجر معی؟ قال ابوبکر وهو یلی بعدك رواه الدیلمی“ ﴿ حضرت علی مرتضیٰؓ پاس جبریل آئے تو میں نے ان سے کہا کہ میر

صفحہ ٧١

ایها الناس لم یبق من مبشرات النبوة الا الرویاء الصالحة یراها المسلم ا او تری له“

(مسلم،نسائی)

حضرت عبداللہ بن عباسؓ روایت کرتے ہیں کہ رسول خداﷺ نے دروازہ کا پردہ کھولا اور آپ کا سر مبارک بندھا ہوا تھا۔ اس مرض میں جس میں کہ وفات پائی آپ نے اور لوگ صفیں باندھے تھے (نماز کے لئے) ابوبکرؓ کے پیچھے پس حضورﷺ نے فرمایا کہ اے لوگو! بے شک نہیں باقی رہا کوئی جز نبوت سے مگر نیک خواب جو مسلمان دیکھتے ہیں یا اس کے لئے کوئی اور دیکھے۔

تشریح

اس حدیث میں مندرجہ ذیل فقرے قابل غور ہیں۔

ہوا تھا۔ اس مرض کی حالت میں جس میں کہ آپ کا انتقال ہوا۔﴾

کھڑے تھے ابوبکرؓ کے پیچھے۔﴾

الصالحة “ ﴿پس حضورﷺ نے فرمایا کہ اے لوگو! نبوت سے کچھ بھی باقی نہیں رہا۔ مگر اچھے خواب، مندرجہ بالا عبارات سے تین باتیں خوب روشن ہوجاتی ہیں۔﴾

شان ہے کہ ان کو حضور نے عام جماعت کا مسجد مدینہ اور مسجد نبوی میں اپنی زندگی ہی میں امام بنا دیا۔ اور حضرت علیؓ اور تمام اہل بیت نے حضرت ابوبکر کے پیچھے تقریباً اٹھارہ نمازیں ادا کیں۔ اگر نبی کا انتخاب کردہ امام کسی کو پسند نہ آئے اور کوئی اس کو برا کہے یا برا کہنے والوں کا ساتھ دے تو یقیناً وہ نبی کا دشمن ہے۔

نیز (کنز العمال ج ٦ ص ٣٨) میں حضرت ابوبکر کی فضیلت کے متعلق خود حضرت علی المرتضیٰ کرم اللہ وجہہ سے یوں منقول ہے۔

”عن علیؓ قال قال رسول اللہﷺ اتانی جبرئیل فقلت من یهاجر معی؟ قال ابوبکرؓ وهو یلی امر امتك من بعدك هو افضل امتك من بعدك رواه الدیلمی“ ﴿حضرت علی المرتضیٰؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ میرے پاس جبریل آئے تو میں نے ان سے کہا کہ میرے ساتھ کون ہجرت کرے گا؟ جبریل نے کہا کہ

٢٥

صفحہ ٧٢

ابوبکر اور وہ امت میں پہلے خلیفہ ہوں گے وہی آپ ﷺ کے بعد آپ ﷺ کی امت میں سب سے بہتر ہیں۔)

نوٹ....... اس حدیث میں رد ہے مرزائیوں اور شیعوں کا کہ وہ مرزا غلام احمد قادیانی کو امت میں سب سے بہتر مانتے ہیں اور مرزا قادیانی کو نبوت کا مالک کہتے ہیں۔ اگر حضور کے بعد کسی افضل کو نبوت ملتی تو حضرت ابوبکر صدیقؓ کو ملتی۔ کیونکہ مرزا قادیانی سے حضرت ابوبکر صدیق بدرجہا بہتر ہیں۔ اور شیعہ بھی حضرت ابوبکر کی توہین کرتے ہیں اور نہیں جانتے کہ حضرت علیؓ خود اعلان فرماتے ہیں کہ جبرائیل کی گواہی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے سب سے اچھا اور بہتر ساری امت میں صرف حضرت ابوبکر صدیقؓ کو ہی بتایا ہے اور خلیفہ اول بھی وہی ہیں۔ پھر ان کی توہین کرنا گمراہی نہیں تو اور کیا ہے؟

دوم....... حضور ﷺ نے آخری مرض میں بھی پکار پکار کر فرما دیا کہ اے لوگو! میری بات میں کوئی شک نہ کرنا اور خوب سمجھ لینا کہ میرے بعد نبوت کا کوئی بھی حصہ سواء نیک خواب کے جو مسلمان دیکھتے ہیں یا کوئی اور دیکھتا ہے مسلمان کے لئے باقی نہیں رہا اور نبوت کے چھیالیس حصوں میں سے ایک حصہ متقی، پرہیزگار، مومن صالح مسلمان کا خواب ہے۔ اور نیز حضور نے وفات تک بھی ختم نبوت کا اعلان کرنا ضروری خیال فرمایا۔ جس کو آج کل لوگ ایک ہلکی سی بات خیال کرتے ہیں۔

قیامت تک نبی نہ ہوگا ...... اکتیسویں حدیث

"عن انس قال رسول الله ﷺ ...... انا والساعة کھاتین"

(بخاری، مشکوٰۃ باب قرب الساعۃ الفصل الاوّل ص ٤٨٠، قدیمی کتب خانہ)

خادم رسول حضرت انسؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ بھیجا گیا ہوں میں اور قیامت مانند ان (دو انگلیوں) کے۔

تشریح

اول....... یہ کہ کلمے کی انگلی اور بیچ کی انگلی کے درمیان جس طرح کوئی چیز حائل نہیں۔ حضور ﷺ نے فرمایا اسی طرح میرے اور قیامت کے درمیان بھی کوئی نبی نہیں ہے۔

دوم....... یہ کہ جس طرح بیچ کی انگلی شہادت کی انگلی سے بڑھی ہوئی ہے اسی طرح میرا مبعوث ہونا قیامت سے بڑھا ہوا ہے کہ میں آگے آیا ہوں قیامت سے اور قیامت پیچھے سے چلی آتی ہے۔

(مشکوٰۃ باب قرب الساعۃ ، الفصل الثانی ص ٤٨٠، قدیمی کتب خانہ)

٢٦

٧٣

شان مرتضوی ...... بتیسویں حدیث

"عن سعد ابن ابی وقاص قال بمنزلة هارون من موسیٰ الا انه لا نبی بع

حضرت سعد بن ابی وقاصؓ فرماتے ہیں آ کہ تم مجھ سے (ایسے ہی تعلق رکھتے) ہو جیسے ہارون ا میرے بعد کوئی نبی نہیں۔

تشریح

اس حدیث میں حضرت علی مرتضیٰؓ کی ش ہو رہی ہے کہ اے میرے پیارے بھائی اور داماد سو طرح بنایا ہے۔ جس طرح حضرت موسیٰ علیہ السلام ہارون علیہ السلام میں فرق یہ ہے کہ موسیٰ علیہ السلام حضرت ہارون علیہ السلام حضرت موسیٰ علیہ السلام ک صاحب نبوت تھے کیونکہ اس وقت نبی کا خلیفہ نبی ہو پیارے علیؓ ! اب چونکہ میرا خلیفہ نبی نہیں ہوگا۔ بلکہ ا

نوٹ....... یہ الفاظ حضور نے کیوں بیان فرمائے فرمائیں۔

بیان علیؓ ...... تینتیسویں حدیث

"عن علی ان النبی ﷺ قال ل عنک یا رسول الله قال الا ترضی ان تک انه لا نبی بعدی"

حضرت علیؓ سے روایت ہے کہ نبی کری چھوڑ کر جہاد کو جاتا ہوں۔ تاکہ تو میری جگہ (عورت میں نے کہا کیا میں آپ کا خلیفہ بنوں، اے اللہ ک نہیں تو میرے لئے (ایسا ہو) جیسے موسیٰ کے لئے ہار

٢٧

صفحہ ٧٣

شان مرتضوی ...... بتیسویں حدیث

”عن سعد ابن ابی وقاص قال قال رسول اللہ ﷺ لعلیٰ انت منی بمنزلة هارون من موسى الا انه لا نبي بعدي“

(بخاری، مسلم، مشکوٰۃ باب مناقب علیؓ)

حضرت سعد بن ابی وقاصؓ فرماتے ہیں کہ رسول خدا ﷺ نے حضرت علیؓ کے لئے فرمایا کہ تم مجھ سے (ایسے ہی تعلق رکھتے) ہو جیسے ہارون موسیٰ سے رکھتے تھے مگر تحقیق شان یہ ہے کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں۔

تشریح

اس حدیث میں حضرت علی مرتضیٰ کی تعریف، بزرگی، زہد وتقویٰ، قدرومنزلت بیان ہورہی ہے کہ اے میرے پیارے بھائی اور داماد سنو اور خوش ہو کہ تم کو اللہ تعالیٰ نے میرا خلیفہ اسی طرح بنایا ہے۔ جس طرح حضرت موسیٰ علیہ السلام کا خلیفہ حضرت ہارون کو بنایا تھا۔ مگر تم میں اور ہارون علیہ السلام میں فرق یہ ہے کہ موسیٰ علیہ السلام اللہ کے رسول تھے اور نبی بھی اور ان کے بھائی حضرت ہارون علیہ السلام حضرت موسیٰ علیہ السلام کی شریعت کی پیروی کرتے تھے۔ اور پھر خود بھی صاحب نبوت تھے کیونکہ اس وقت نبی کا خلیفہ نبی ہی ہو سکتا تھا۔ خدا کو اسی طرح منظور تھا۔ مگر اے پیارے علی! اب چونکہ میرا خلیفہ نبی نہیں ہوگا۔ بلکہ امتی ہوگا اس لئے تم نبی نہیں ہو۔

نوٹ ...... یہ الفاظ حضور نے کیوں بیان فرمائے؟ اس بات کا جواب حدیث ٣٣ میں ملاحظہ فرمائیں۔

بیان علیؓ ...... تینتیسویں حدیث

”عن علیؓ ان النبی ﷺ قال خلفتك ان تكون خَلْفَتِی قلت اتتخلف عنك يا رسول الله قال الا ترضى ان تكون منى بمنزلة هارون من موسى الا انه لا نبى بعدى“

(مسلم، طبرانی فی الاوسط)

حضرت علیؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ اے علیؓ ! میں تجھے اپنی جگہ چھوڑ کر جہاد کو جاتا ہوں۔ تاکہ تو میری جگہ (میرے بعد) خلیفہ ہو۔ (حضرت علیؓ فرماتے ہیں) میں نے کہا کیا میں آپ کے پیچھے رہوں، اے اللہ کے رسول؟ (حضور ﷺ نے) فرمایا کیا تو راضی نہیں کہ تو میرے لئے (ایسے ہو) جیسے موسیٰ کے لئے ہارون تھے مگر بے شک میرے بعد کوئی نبی نہیں۔

٢٧

صفحہ ٧٢

تشریح

حضرت محمد رسول اللہ ﷺ نے جہاد کی تیاری کی اور اپنی گدی پر مدینہ منورہ میں حضرت علی مرتضیٰ کو چھوڑا تاکہ عورتوں، بچوں، بیماروں اور کمزور بوڑھوں کی حضور ﷺ کے بعد نگرانی کر سکیں (اور شاید یہ بھی سبب تھا کہ حضرت علیؓ کی آنکھیں بھی دکھ رہی تھیں۔) جب مجاہدین کی فوج مدینہ منورہ سے دور نکل چکی تو کسی نے حضرت علیؓ کی جوانی اور طاقت کے بارے میں کچھ کہا تو حضرت علیؓ فوراً مدینہ منورہ سے دوڑے اور فوج میں شامل ہو گئے۔ حضور ﷺ کو معلوم ہوا کہ علیؓ بھی فوج میں شامل ہیں۔ تو حضور ﷺ نے پوچھا کہ تم مدینہ منورہ کو کیوں چھوڑ آئے ہو؟ تب حضرت علیؓ نے اس آدمی کے بارے میں عرض کیا کہ مجھے ایسا کہا گیا۔ تب حضور ﷺ نے جوش بھرے الفاظ میں تمام فوج کے سامنے تقریر فرمائی کہ اے علیؓ! لوگوں کے طعن کا خیال نہ کرو۔ تو ایسا ہی مجھ سے تعلق رکھتا ہے جس طرح ہارونؑ موسیٰؑ سے رکھتے تھے۔

جب بھی وہ طور وغیرہ پر تشریف لے جاتے تھے تو ہارون علیہ السلام ان کی گدی پر رونق افروز ہوتے تھے۔ تو بھی اسی طرح میری گدی پر بیٹھ جا۔ لیکن ایک ضروری بات ہے اور وہ یہ ہے کہ وہ موسیٰ کے بعد گدی پر بیٹھنے والے ہارون تو نبی اور خلیفہ تھے اور تو میری گدی پر بیٹھنے والا امتی خلیفہ ہے۔ میرے بعد تو کوئی نبی ہی نہیں ہے۔ اب سوچو کہ نبوت کا دعویٰ کرنے والے اس تقریر محمدی کی کس طرح برے طریقہ سے مخالفت کر رہے ہیں اور پھر دعویٰ کرنے والے اس تقریر محمدی کی کس طرح برے طریقہ سے مخالفت کر رہے ہیں اور پھر دعویٰ ہے کہ ہم مجدد، مہدی، امام و مسیح ہیں۔ حالانکہ محمدی افعال و کردار، رفتار و گفتار کی مخالفت کرنے والے کا ٹھکانہ ازروئے قرآن وحدیث دوزخ ہے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو بچائے۔ اور محفوظ رکھے۔ آمین۔ ثم آمین۔

نوٹ...... تشریح بالا کی تصدیق خود حضرت علی کی زبانی حدیث ٣٤ میں پڑھئے۔

فرمان مرتضوی ...... چونتیسویں حدیث

"عن علیّ قال بین کتفیہ خاتم النبوۃ وھو خاتم النبیین"

(شمائل ترمذی ص ٣٢، ٣٣، ایچ ایم سعید کمپنی کراچی)

حضرت علیؓ سے روایت ہے کہ آپ کے دونوں شانوں کے درمیان مہر نبوت ہے اور وہ سب نبیوں کے ختم کرنے والے ہیں۔

تشریح

یہ حدیث ہماری تشریح کی محتاج نہیں ہے۔ اس میں خود حضرت علیؓ نے صاف الفاظ

٢٨

میں فرما دیا ہے کہ دونوں شانوں کے درمیان مہر خاتم النبیین تھے۔ (اتنی بڑی شہادت کے بعد جوتا ہی سمجھا سکتا ہے)

مذکورہ بالا حدیث طویل ہے جس ہے۔ اور مذکورہ الفاظ حدیث کے آخر میں بیان جیسے حضورؐ کے وجود مبارک میں شک نہیں۔ ا نہیں۔ لہٰذا میرا یقین و مذہب بھی ہے کہ حضورؐ اور حضرت محمد ﷺ کی مخالفت ہے۔ پس مخالفت

شان فاروقی ...... پینتیسویں حدی

"عن عقبۃ بن عامر قال عمر بن الخطاب"

(ترمذی، مناقب ابی بکر

عقبہ بن عامرؓ سے روایت ہے۔ فر بعد کوئی (بھی) نبی ہوتا تو وہ عمر بن خطاب ہو

تشریح

اس حدیث سے حضرت عمرؓ کی کس نبوت کا سلسلہ ہی بند ہے۔ اگر نبوت جاری ہو کو نہ ملتی۔ بلکہ وہ حضور اور حضرت ابوبکرؓ کے حضرت عمرؓ کو ملتی کیونکہ حضور ﷺ نے ابو بکر و عم

مندرجہ ذیل حدیث ملاحظہ ہو۔

حدیث شریف

"عن زبیر مرفوعاً خیر ام ہیں کہ حضور ﷺ نے فرمایا کہ میرے بعد ام بقول مرزائیاں اگر کسی افضل، بہت کے بعد نبوت ملتی تو ان دو بزرگوں میں سے کس سنے! مشہور واقعہ ہے کہ حضر پڑھتے ہوئے دیکھ کر از حد غصہ ہوئے اور حضر

صفحہ ٧٥

میں فرمادیا ہے کہ دونوں شانوں کے درمیان پشت مبارک پر مہر نبوت تھی اور کیوں نہ ہو جب کہ وہ خاتم النبیین تھے۔ (اتنی بڑی شہادت کے بعد بھی اگر کوئی نہ سمجھے تو پھر اسے کسی اسلامی حکومت کا جوتا ہی سمجھا سکتا ہے)

مذکورہ بالا حدیث طویل ہے جس میں حضور کا حلیہ شریف حضرت علیؓ نے بیان فرمایا ہے۔ اور مذکورہ الفاظ حدیث کے آخر میں بیان فرمائے ہیں۔ گویا کہ حضرت علیؓ فرما رہے ہیں۔ کہ جیسے حضورؐ کے وجود مبارک میں شک نہیں۔ ایسے ہی آپؐ کے آخری نبی ہونے میں بھی شک نہیں۔ لہٰذا میرا یقین و مذہب بھی ہے کہ حضور خاتم النبیین ہیں۔ الفاظ مذکورہ کی مخالفت حضرت علیؓ اور حضرت محمد ﷺ کی مخالفت ہے۔ پس مخالفت سے بچو اور اللہ سے ڈرو کہیں انجام خراب نہ ہو۔

شان فاروقی ...... پینتیسویں حدیث

”عن عقبة بن عامر قال قال النبی ﷺ لو كان بعدی نبی لكان عمر بن الخطاب“ (ترمذی، مناقب ابی حفص عمر بن الخطاب ج٢ ص٢٠٩۔ ایچ ایم سعید کمپنی کراچی)

عقبہ بن عامرؓ سے روایت ہے۔ فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ اگر میرے بعد کوئی (بھی) نبی ہوتا تو وہ عمر بن خطاب ہوتے۔

تشریح

اس حدیث سے حضرت عمرؓ کی کس قدر فضیلت اور بزرگی ثابت ہے کہ امت محمدیہ میں نبوت کا سلسلہ ہی بند ہے۔ اگر نبوت جاری ہوتی تو وہ نبوت مرزا غلام احمد قادیانی یا اس کے چیلوں کو نہ ملتی۔ بلکہ وہ حضور اور حضرت ابوبکرؓ کے بعد تمام مخلوق پر فضیلت رکھنے والے بہادر جرنیل حضرت عمرؓ کو ملتی کیونکہ حضور ﷺ نے ابوبکر و عمرؓ کی فضیلت کا چار دانگ عالم میں ڈنکا بجایا ہے۔

مندرجہ ذیل حدیث ملاحظہ ہو۔

حدیث شریف

”عن زبير مرفوعاً خیر امتی بعدی ابوبکر وعمر “ حضرت زبیرؓ کہتے ہیں کہ حضور ﷺ نے فرمایا کہ میرے بعد امت میں سب سے بہتر ابوبکرؓ و عمرؓ ہیں۔

بقول مرزائیاں اگر کسی افضل، بہتر، بزرگ، عابد، زاہد، متقی، پرہیزگار کو حضور کی نبوت کے بعد نبوت ملتی تو ان دو بزرگوں میں سے کسی کو ملتی۔

سنئے! مشہور واقعہ ہے کہ حضرت عمرؓ توریت کے ورق پڑھ رہے تھے۔ حضور ان کو پڑھتے ہوئے دیکھ کر از حد غصہ ہوئے اور حضرت ابوبکرؓ بھی اس مجلس موجود تھے بلکہ خود حضرت ابوبکرؓ

٢٩

صفحہ ٧٧

نے ہی حضرت عمرؓ کو ہوشیار کیا اور ڈانٹ کر توجہ دلائی کہ اے عمرؓ! تم نہیں دیکھتے کہ حضورؐ کا مبارک چہرہ غصے کے مارے متغیر ہو گیا ہے۔ حضرت عمرؓ نے بہت جلد معلوم کر لیا کہ سبب ناراضگی میرا توراۃ کا پڑھنا ہے فوراً بول اٹھے کہ حضرت جی! میں اسی خدائے واحد پر ہی ہوں جو مجھے قرآن بھیجنے والا ہے اور اسی محمدؐ پر ایمان رکھتا ہوں جو سچا ٹھیک اور سیدھا دین (جس کا نام اسلام ہے لے کر آیا ہے) اب اس توراۃ کو کیونکر راہ نجات خیال کروں؟ اس کو میں ہرگز نہ پڑھوں گا، پھر پیارے نبی ﷺ نے فرمایا ”لو كان موسى حيّا ما وسعه الا اتباعی“ (ترمذی، مشکوٰۃ) کہ (اے عمر!) اگر موسیٰؑ بھی زندہ ہوتے تو ان کو بھی میری ہی اتباع کرنی پڑتی۔ جب خود نبیؐ حضور کی نبوت کے دور میں امتی بن سکتا ہے تو کسی ذلیل فریبی غدار۔ دھوکہ باز (جو امتی کہلائے) کو کیا حق ہے کہ ہمارے محمد ﷺ کی موجودگی میں نبوت کا دعویٰ کرے اور فریب کا جال بچھائے۔ امت مرحومہ کے فرزندوا کچھ تو سوچو اور حق کی داد دو۔

جھوٹے انبیاء کی اعداد و شمار ...... چھتیسویں حدیث

"عن ثوبانؓ قال قال رسول الله ﷺ انه سيكون فى امتى كذابون ثلاثون۔ كلهم يزعم انه نبى الله وانا خاتم النبيين لا نبى بعدى"

(ابوداؤد، ترمذی، مشکوٰۃ، کتاب الفتن الفصل الثانی ص ٤٦٤، ٤٦٥ قدیمی کتب خانہ وغیرہ)

تشریح

اس حدیث میں حضورؐ کی پیشینگوئی جو حضورؐ نے اللہ تعالیٰ سے خبر لے کر بیان فرمائی ہے۔ سورج کی طرح ظاہر ہو رہی ہے کہ میرے انتقال کے بعد، میرے دنیا سے رخصت ہو جانے کے بعد بھی نبوت اور رسالت تو صرف اور صرف میری ہی رہے گی۔ مگر کم از کم تیس آدمی تو ایسے نمک حرام بھی پیدا ہوں گے جو میرے امتی اور روحانی بیٹے کہلانے کا دعویٰ کریں گے۔ میری نبوت کی گدی پر بیٹھنے کی کوشش کریں گے۔ میری ہی عزت پر ڈاکہ ڈالنے کی بے کار سعی کریں گے۔ میری ہی جیب کترنے کو قینچیاں تیار کریں گے۔ اس لئے اے میرے سچے امتیو! میں اعلان کرتا ہوں کہ ان کا یقین نہ کرنا۔ بلکہ سمجھ لینا کہ وہ جھوٹے اور بدکردار ہیں۔ نمک حرام اور جعل ساز ہیں۔ ان سے خود بچو اور حسب طاقت میری امت کو بچاؤ۔

٣٠

قیامت اور جھوٹے نبی ...... سینتیسویں حد

"عن نعیم بن مسعودؓ قال قال رسو يخرج ثلاثون كذابون كلهم يزعم انه نبى"

نعیم بن مسعودؓ سے روایت ہے کہ رسول الل یہاں تک کہ ظاہر ہوں گے کم از کم تیس جھوٹے ہر ایک ان اس حدیث کو طبرانی نے روایت کیا۔

تشریح

اس حدیث نے تو صاف بیان فرما دیا ہے کہ ظاہر نہ ہوں۔ قیامت ہی نہ آئے گی۔ گویا کہ ایسے ظالم پیشینگوئی کا سچ ہونا ضروری ہے۔

اور سنئے ! ...... اڑتیسویں حدیث

"عن عبيد الله بن عمير الليثي الساعة حتى يخرج ثلاثون كذاباً كلهم يزعم

عبید اللہ بن عمیر لیثی سے روایت ہے کہ ر (آئیگی) قیامت یہاں تک کہ ظاہر ہوں گے۔ تیس جھو کہ بے شک وہ نبی ہے قیامت کے دن سے پہلے۔

تشریح

حدیث ہٰذا کی تشریح حدیث نمبر ٣٧ میں بیا يوم القيمة“ کو مدنظر رکھ کر غور فرمائیے کہ حضور ﷺ یقین سے بیان فرمائی ہے کہ قیامت سے پہلے ضرور ہیں آ ثابت ہوا کہ مرزا غلام احمد جیسے تیس جھوٹے ض اور پیشینگوئی کی صداقت کی دلیل۔

جھوٹوں سے بچو ...... انتالیسویں حدیث

"عن جابر بن سمرة قال سمعت رسول الله ﷺ الساعة كذابين فاحذروهم"

٣١

صفحہ ٧٧

قیامت اور جھوٹے نبی ...... سینتیسویں حدیث

"عن نعیم بن مسعود قال قال رسول اللہ ﷺ لا تقوم الساعة حتى يخرج ثلاثون كذابون كلهم يزعم انه نبی"

(مجمع الزوائد ج ٧ ص ٣٣٥ ، کنز العمال وغیرہم)

نعیم بن مسعودؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ قیامت نہیں آئے گی۔ یہاں تک کہ ظاہر ہوں گے کم از کم تیس جھوٹے ہر ایک ان کا دعویٰ کرے گا کہ بے شک وہ نبی ہے۔ اس حدیث کو طبرانی نے روایت کیا۔

تشریح

اس حدیث نے تو صاف بیان فرما دیا ہے کہ جب تک کم از کم ٣٠ جھوٹے مدعی نبوت ظاہر نہ ہوں۔ قیامت ہی نہ آئے گی۔ گویا کہ ایسے ظالم بدبخت انسانوں کا ہونا اور قیامت کی پیشینگوئی کا سچ ہونا ضروری ہے۔

اور سنئے! ...... اڑتیسویں حدیث

"عن عبيد الله بن عمير الليثى قال قال رسول الله ﷺ لا تقوم الساعة حتى يخرج ثلاثون كذابا كلهم يزعم انه نبى قبل يوم القيامة"

(ابن ابی شیبہ حدیث نمبر ٣٦٨٧٤)

عبید اللہ بن عمیر لیثی سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ نہ قائم ہوگی (آئیگی) قیامت یہاں تک کہ ظاہر ہوں گے۔ تیس جھوٹے، ہر ایک ان کا (یہی) دعویٰ کرے گا کہ بے شک وہ نبی ہے قیامت کے دن سے پہلے۔

تشریح

حدیث ہذا کی تشریح حدیث نمبر ٣٧ میں بیان ہوچکی ہے۔ اس آخری فقرہ ’’قبل يوم القيامة‘‘ کو مدنظر رکھ کر غور فرمائیے کہ حضور ﷺ نے اپنی پیشین گوئی کس قدر مضبوطی اور یقین سے بیان فرمائی ہے کہ قیامت سے پہلے ضرور تیس آدمی جھوٹے مدعی نبوت پیدا ہوں گے۔ ثابت ہوا کہ مرزا غلام احمد جیسے تیس جھوٹے مدعی نبوت کا ہونا حضرت محمد ﷺ کی نبوت اور پیشینگوئی کی صداقت کی دلیل۔

جھوٹوں سے بچو ...... انتالیسویں حدیث

"عن جابر بن سمرة قال سمعت النبی ﷺ یقول ان بین یدی الساعة كذابين فاحذروهم"

(رواہ مسلم، فتح الباری ج ٢ ص ٣٣٣)

٣١

صفحہ ٧٩

جابر بن سمرہؓ سے روایت ہے کہ میں نے نبی ﷺ سے سنا ہے کہ بے شک (میرے) اور قیامت کے درمیان جھوٹے بہت ہوں گے۔ (اے مسلمانو!) تم ان سے بچو۔

تشریح

ہم لکھ آئے ہیں دیکھئے حدیث نمبر ١ میں رسول خدا ﷺ نے فرمایا: میں قصر نبوت کی آخری اینٹ ہوں اور تمام نبیوں کا سلسلہ مجھ ہی پر ختم کر دیا گیا ہے اور حدیث نمبر ٢ میں بھی صاف ختم نبوت کو اپنی فضیلت کا باعث بیان فرمایا اور صاف اعلان فرمایا کہ ’’اُرسلت الی الخلق کافۃ و ختم بی النبیون‘‘ یعنی میں تمام جن و بشر کا رسول بنا کر بھیجا گیا ہوں۔ اور مجھ پر ہی تمام انبیاء کی نبوت کا خاتمہ کر دیا گیا ہے۔ لہٰذا اب جو کوئی بھی نبوت کا ڈھونگ رچائے (وہ جھوٹا مداری، دھوکہ باز، دجال اور جعلساز ہے) اس لئے عرض کرتا ہوں کہ اے مسلمانو! ایسے لوگوں سے بچو اور خود عبرت حاصل کرو۔

آخری نبی کا آخری فرمان ...... چالیسویں حدیث

”عن الحسن مرسلاً قال قال رسول ﷺ انا رسول من ادرک حیاً ویولد بعدی“

(کنزالعمال ج ٦ ص ١٠١)

حسن بصری (تابعی) سے مرسلاً روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ میں ہی اس شخص کا رسول ہوں جو اب زندہ ہے اور اس شخص کا بھی جو میرے بعد پیدا ہو۔

تشریح

اس حدیث کا مضمون تو روز روشن کی طرح واضح اور کھلا ہوا ہے۔ ہمارے آخری نبی ﷺ نے اس رسالہ کی آخری حدیث میں کس خوبی سے بیان فرمایا ہے کہ میں ہی اپنی زندگی والے انسانوں اور جنوں کا رسول ہوں اور میں ہی اپنے رخصت ہو جانے کے بعد پیدا ہونے والی نسلوں کا قیامت تک رسول ہوں۔ رسول ﷺ کے بعد کسی کمینے بدبخت انسان کا نبی یا رسول ہونا مانتے ہیں، ان کا بخوبی رد فرمایا گیا ہے۔ اور صاف ثابت ہو گیا ہے۔ اب قیامت تک نبوت و رسالت کا دروازہ بند ہو چکا ہے اور ہمیشہ دین محمدی کا ہی ڈنکا بجتا رہے گا۔ اللہ تعالیٰ ہمیں صرف محمد ﷺ کی جماعت میں شامل کر کے خاتمہ بخیر فرمائے۔ آمین۔

خاتمہ

ناظرین کرام! آپ نے از اول تا آخر رسالہ ہٰذا میں حضور ﷺ کے فرامین کے مطابق

٣٢

حضور کا خاتم النبیین ہونا اور جھوٹے دعوے باز، مکار، قاد اب ان جھوٹے، مکار، دھوکے بازوں کے لئے جو وعید فرما

نہیں۔ ارشاد محمدی بالکل صاف ہے کہ جھوٹا امتی ہی نہیں جو

مشکوٰۃ کتاب العلم)“ یعنی جو جان بوجھ کر مجھ پر جھوٹ باند جب اکثر احادیث اور آیات قرآنی سے صاف ظاہر ہے کہ کوئی احکام شرع سے توڑ پھوڑ کر اپنے لئے نبوت ثابت کـ نبوت کا قول یا فعل سے ساتھ دے تو حدیث مذکورہ کی رو سے

کرنے والا اور دھوکا دینے والا (شخص) دوزخی ہے۔ یہاں کرنے اور سوچنے والا اور دھوکے باز سے مراد مذہبی مسـ دینے والا ہے۔ اب خیال فرمائیے جب نبوت ختم ہو چکی او محمدی کی موجودگی میں کوئی بھی نبی نہ ہو سکے گا، تو پھر جو بھـ گا۔ وہ سوائے مکر، دھوکہ اور فریب کے کیسے اپنی نبوت لوگـ صاف ظاہر ہو رہا ہے کہ اب نئی نبوت کا ڈھول پیٹنے والا مکـ خدا ہمیں جھوٹے نبی سے بچائے۔

تصویر کا دوسرا رخ

اوہام حصہ دوم ص ٦١٤، خزائن ج ٣ ص ٤٣١) ”ماکان محـ رسول اللہ وخاتم النبیین“ یعنی محمد ﷺ تم میـ رسول ہے اور ختم کرنے والا نبیوں کا یہ آیت صاف دلالت کوئی رسول دنیا میں نہیں آئے گا۔“

نوٹ...... تعجب ہے کہ مرزا قادیانی نے باوجود مذکورہ

٣٣

صفحہ ٧٩

حضور کا خاتم النبیین ہونا اور جھوٹے دھوکے باز، مکار، قادیانی نبوت کا ظاہر ہونا تو پڑھ ہی لیا ہے۔ اب ان جھوٹے ، مکار، دھوکے بازوں کے لئے جو وعید فرمائی ہے وہ بھی ملاحظہ فرمائیے۔

١...... ارشاد نبوی ہے: ”الکذاب لیس بامتی (مشکوٰۃ)“ یعنی جھوٹ بولنے والا میرا امتی نہیں۔ ارشاد محمدی بالکل صاف ہے کہ جھوٹا امتی ہی نہیں جو امتی ہی نہ ہو وہ نبی کیسے ہوسکتا ہے؟

٢...... فرمان محمدی ہے: ”من کذب علی متعمداً فلیتبوء مقعدہ من النار (بخاری مشکوٰۃ کتاب العلم)“ یعنی جو جان بوجھ کر مجھ پر جھوٹ باندھے، تو وہ اپنا ٹھکانہ دوزخ میں بنالے۔ جب اکثر احادیث اور آیات قرآنی سے صاف ظاہر ہے کہ سلسلہ نبوت ختم ہو چکا ہے۔ پھر بھی اگر کوئی احکام شرع سے توڑ پھوڑ کر اپنے لئے نبوت ثابت کرنے کی کوشش کرے یا کوئی ایسے مدعی نبوت کا قول یا فعل سے ساتھ دے تو حدیث مذکورہ کی رو سے خیال کیجئے کہ اس کا ٹھکانا کہاں ہے۔

٣...... فرمان مصطفوی ہے: ”المکر و الخدیعۃ والخیانۃ فی النار (ابو داؤد)“ یعنی مکر کرنے والا اور دھوکا دینے والا (شخص) دوزخی ہے۔ یہاں مکار سے مراد شرع کے خلاف ترکیبیں کرنے اور سوچنے والا اور دھوکے باز سے مراد مذہبی مسائل میں ہیر پھیر کر کے لوگوں کو فریب دینے والا ہے۔ اب خیال فرمائیے جب نبوت ختم ہو چکی اور سچے دلائل سے ثابت ہو چکا کہ نبوت محمدی کی موجودگی میں کوئی بھی نبی نہ ہو سکے گا۔ تو پھر جو بھی حضورﷺ کے بعد دعویٰ نبوت کرے گا۔ وہ سوائے مکر، دھوکہ اور فریب کے کیسے اپنی نبوت لوگوں کو منوائے گا۔ بیان بالا کی روشنی میں صاف ظاہر ہو رہا ہے کہ اب نئی نبوت کا ڈھول پیٹنے والا مکار، دھوکے باز، شرارتی اور دوزخی ہے۔ خدا ہمیں جھوٹے نبی سے بچائے۔

تصویر کا دوسرا رخ

تائید نمبر ١...... ہمارے مندرجہ بالا مضمون کی تائید میں مرزا غلام احمد صاحب قادیانی کتاب (ازالہ اوہام حصہ دوم ص ٦١٤، خزائن ج ٣ ص ٤٣١) ”ماکان محمد ابا احد من رجالکم ولکن رسول اللہ وخاتم النبیین“ یعنی محمدﷺ تم میں سے کسی مرد کا باپ نہیں ہے مگر وہ اللہ کا رسول ہے اور ختم کرنے والا نبیوں کا یہ آیت صاف دلالت کرتی ہے کہ ہمارے نبیﷺ کے بعد کوئی رسول دنیا میں نہیں آئے گا۔“

نوٹ...... تعجب ہے کہ مرزا قادیانی نے باوجود مذکورہ بالا آیہ قرآنی ہونے کے جان بوجھ کر

٣٣

صفحہ ٨٠

دنیاوی عروج اور خورو نوش کو مد نظر رکھ کر اور خود صاف مضمون لکھ کر بھی خلاف کیا ہے۔ یعنی خود ہی بن بیٹھے۔ ابو الشفیق عفی عنہ!

ایک جھوٹ اور ایک سچ

تائید نمبر ٢ ...... حضرت ابو ہریرہؓ کا ایک واقعہ مشہور ہے کہ ان کے پہرے میں کسی صاحب نے چوری کرنے کی کوشش کی اور پکڑے گئے۔ تین بار اسی طرح ہوا۔ آخری بار حضرت ابو ہریرہؓ نے گرفت مضبوط کر کے فرمایا کہ میں تمہیں عدالت محمدی میں ضرور لے جاؤں گا اور آج تمہیں ہرگز نہیں چھوڑوں گا۔ تب انہوں نے بہت خوشامد کرنے کے بعد عرض کیا کہ آپ مجھے چھوڑ دیجئے تو میں آپ کو ایسا نسخہ بتا دیتا ہوں جس کو پڑھنے سے چور چوری نہ کر سکے گا۔ اور اگر کوئی کرے گا تو کامیاب نہ ہوگا۔ اس پر ابو ہریرہؓ راضی ہو گئے اور نسخہ دریافت فرمایا۔ اس چور نے پوری آیت الکرسی پڑھ کر سنائی۔ ابو ہریرہؓ نے اسے چھوڑ دیا اور عدالت محمدی میں واقعہ مذکورہ عرض کیا تو حضور ﷺ نے فرمایا کہ اے ابو ہریرہؓ! وہ شخص جھوٹا تھا لیکن بات سچی کہہ گیا۔

اسی طرح ...... مرزا غلام احمد قادیانی نے جہاں ہزارہا جھوٹ بولے ہیں۔ وہاں بعض باتیں سچ بھی کہہ دی ہیں۔ ہمیں ان کے سچ سے اتفاق ہے۔ لہٰذا بطور نمونہ ان کا ایک جھوٹ اور پھر ایک سچ بیان کرتے ہیں۔ بغور ملاحظہ فرمائیں۔

مرزا غلام احمد قادیانی ...... اپنی کتاب (ایام الصلح خزائن ج ١٤ ص ٣٩٢) پر عیسیٰ علیہ السلام کی وفات کا بے کار ثبوت دیتے ہوئے تحریر کرتے ہیں کہ: ”قرآن شریف میں مسیح ابن مریم کے دوبارہ آنے کا تو کہیں بھی ذکر نہیں لیکن ختم نبوت بکمال تصریح ذکر ہے اور پرانے یا نئے نبی کی تفریق کرنا۔ یہ شرارت ہے۔ نہ حدیث میں نہ قرآن میں یہ تفریق موجود ہے اور حدیث ”لانبی بعدی“ میں بھی نفی عام ہے۔ پس کس قدر جرات اور دلیری اور گستاخی ہے کہ خیالات رذیلہ کی پیروی کر کے نصوص صریحہ قرآن کو عمداً چھوڑ دیا جائے اور خاتم الانبیاء کے بعد ایک نبی کا آنا مان لیا جائے۔ اور بعد اس کے جو وحی نبوت منقطع ہو چکی تھی پھر سلسلہ وحی نبوت کا جاری کر دیا جائے کیونکہ جس میں شان نبوت باقی ہے اس کی وحی بلاشبہ نبوت کی وحی ہوگی۔“

نوٹ ...... مرزا قادیانی کی اول بات جو عیسیٰ علیہ السلام کی وفات کے متعلق تحریر ہے وہ ان کی بے علمی یا ضد کا نتیجہ ہے جو جھوٹی ہے اور قرآن وحدیث کے سراسر خلاف ہے۔ لیکن ختم نبوت کے متعلق جو کچھ تحریر فرمایا ہے وہ جھوٹے سے سچ ظاہر ہو گیا ہے۔ لہٰذا ناظرین تکلیف گوارا کریں اور ایک بار پھر پڑھ کر نتیجہ نکالیں کہ کن الفاظ میں مرزا قادیانی ہماری تائید فرما رہے ہیں۔

٣٢

لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ

سبق آموز

ایمان

حضرت مولانا ابوال

PDF 82

خاتم النبیین لانبی بعدی

سمعت رسول الله صلی الله علیه وسلم یقول انی خاتم النبیین

ایمان کے ڈاکو

حضرت مولانا ابوالقاسم محمد رفیق دلاوریؒ

صفحہ ٨٣

فہرست

نمبر شمار نام مضمون صفحہ نمبر ١ دیباچہ ٨٣ ٢ مقدمہ ٨٤ ٣ اسود عنسی مدعی نبوت ٨٧ ٤ مسیلمہ کذاب ٩١ ٥ مختار بن ابو عبید ثقفی ٩٨ ٦ حارث کذاب دمشقی ١٠٢ ٧ مغیرہ بن سعید عجلی ١٠٣ ٨ بیان بن سمعان تمیمی ١٠٣ ٩ ابو منصور عجلی ١٠٤ ١٠ بہا فرید نیشاپوری ١٠٥ ١١ اسحاق اخرس مغربی ١٠٩ ١٢ استاذ سیس خراسانی ١١٠ ١٣ حکیم مقنع خراسانی ١١٥ ١٤ بابک خرمی ١٢٥ ١٥ علی بن محمد ازارقی ١٣٨ ١٦ حسین بن زکرویہ قرمطی ١٤٠ ١٧ علی بن فضل یمنی ١٤٢ ١٨ محمد بن علی طلفانی ١٤٧ ١٩ عبدالعزیز باسندی ١٤٨ ٢٠ سید محمد جونپوری ١٦١ ٢١ حاجی محمد خراسانی ١٦٦ ٢٢ بایزید جالندھری ١٧٠ ٢٣ احمد ابن عبداللہ ١٧٣ ٢٤ مرزا علی محمد باب شیرازی ١٧٧ ٢٥ ملا محمد علی بارفروشی ١٧٩ ٢٦ زریں تاج معروف بہ قرۃ العین ١٨١ ٢٧ مرزا حسین علی نوری معروف بہ بہاء اللہ ١٨٣ ٢٨ خاتمہ

بسم الله الرحمن الرحیم

دیباچہ

مقدس کے جھوٹے دعویدار دو قسم کے لوگ نبوت، مسیحیت یا مہدویت وغیرہ قسم کا کوئی دعویٰ کیا آکر اپنے کیفر کردار کو پہنچے۔ دوسرے وہ جنہوں ن جو اسلامی فرمانرواؤں کی دسترس سے باہر تھی۔ اس کتاب میں صرف ان لوگوں ک جنہوں نے کسی اسلامی سلطنت میں دام تزویر اسلامی حکومتوں نے ان کے ناپاک وجود کو اپنی رسوائی سے نجات بخشی۔

غلام احمد قادیانی کا تعلق موخر الذکر جم درج نہیں ہوئے۔ چونکہ وہ ہندوستان کی انگریزی پر قابو نہ پاسکی۔ اس نے امیر عبد الرحمن خان والی دعوت دی تھی اور امیر مرحوم نے اس کے جواب کرو۔ اگر تمہارا دعویٰ اسلامی تعلیمات کے معیار ساری رعایا بھی تمہارے حلقہ ارادت میں داخل انجام سے واقف تھا۔ اس لئے وہاں جانے کی ہم سے خود ساختہ نبی تھے جو مسلمان حکمرانوں کی گر خدائی، پندرہ مدعیان نبوت، چار مدعیان مسیحیت ایک مدعیہ مظہر فاطمۃ زہراء کے حالات درج ہ مہدوی اور ابراہیم بزل مدعیان مسیحیت اس لئے حوالہ قرطاس ہوا کہ یہ دونوں دوسر تھے۔ اس رسالہ کے مطالعہ سے ہر شخص کو معلوم اسلامی حکومتوں کے کس سلوک کا مستحق ہے۔

صفحہ ٨٣

بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

دیباچہ

تقدس کے جھوٹے دعویدار دو قسم کے لوگ گزرے ہیں۔ ایک وہ جنہوں نے الوہیت، نبوت، مسیحیت یا مہدویت وغیرہ قسم کا کوئی دعویٰ کیا اور جلد یا بدیر فرمانروایانِ اسلام کی گرفت میں آ کر اپنے کیفر کردار کو پہنچے۔ دوسرے وہ جنہوں نے کسی ایسی سرزمین میں اپنے دجل کا جال پھیلایا جو اسلامی فرمانرواؤں کی دسترس سے باہر تھی۔

اس کتاب میں صرف ان لوگوں کے حالات زندگی معرض تسوید میں آئے ہیں جنہوں نے کسی اسلامی سلطنت میں دام تزویر بچھا کر خلق خدا کو ورطۂ ہلاکت میں ڈالا اور اسلامی حکومتوں نے ان کے ناپاک وجود کو اپنی تیغ سیاست سے مستاصل کر کے انہیں زندگی کی رسوائی سے نجات بخشی۔

غلام احمد قادیانی کا تعلق موخر الذکر جماعت سے ہے اس لئے اس کے حالات یہاں درج نہیں ہوئے۔ چونکہ وہ ہندوستان کی انگریزی حکومت کی پناہ میں تھا۔ کوئی اسلامی حکومت اس پر قابو نہ پاسکی۔ اس نے امیر عبدالرحمن خان والی افغانستان کو ایک مکتوب بھیج کر قبول مرزائیت کی دعوت دی تھی اور امیر مرحوم نے اس کے جواب میں لکھا تھا کہ تم بذات خود یہاں آ کر ہمیں تبلیغ کرو۔ اگر تمہارا دعویٰ اسلامی تعلیمات کے معیار پر پورا اترے گا تو نہ صرف میں بلکہ افغانستان کی ساری رعایا بھی تمہارے حلقہ ارادت میں داخل ہو جائے گی۔ مگر چونکہ غلام احمد کابل جانے کے انجام سے واقف تھا۔ اس لئے وہاں جانے کی اسے جرات نہ ہوئی۔ غلام احمد کی طرح اور بھی بہت سے خود ساختہ نبی تھے جو مسلمان حکمرانوں کی گرفت سے محفوظ رہے۔ اس تالیف میں دو مدعیان خدائی، پندرہ مدعیان نبوت، چار مدعیان مسیحیت، چار مدعیان مہدویت، ایک مدعی امامت اور ایک مدعیہ مظہر فاطمہ زہراء کے حالات درج ہوئے ہیں۔ مدعیان مسیحیت میں سے دو شیخ بلیک مہدوی اور ابراہیم بزلہ مہدوی مدعیان مسیحیت کا تذکرہ حاجی محمد خراسانی کے واقعات کے ضمن میں اس لئے حوالہ قرطاس ہوا کہ یہ دونوں دوسرے مدعیوں کی طرح موت کے گھاٹ اتارے گئے تھے۔ اس رسالہ کے مطالعہ سے ہر شخص کو معلوم ہو جائے گا کہ اغوائے خلق کرنے والا جھوٹا مدعی اسلامی حکومتوں کے کس سلوک کا مستحق ہے۔ ابوالقاسم رفیق دلاوری، لاہوری!

٣

صفحہ ٨٤

مقدمہ

ختم نبوت کا عقیدہ

نبیوں اور رسولوں کی بعثت کا سلسلہ حضرت خاتم الانبیاء ﷺ کی ذات گرامی پر منقطع ہو گیا۔ یہ وہ عقیدہ ہے جس پر سطح ارضی کے شمال سے لے کر جنوب تک اور مشرق سے لے کر مغرب تک ہر ملک، ہر زمانہ، ہر رنگ، ہر نسل اور ہر مذہب و مسلک کے کلمہ گو قریباً چودہ صدیوں سے برابر متفق چلے آتے ہیں۔ یہی وہ اصل الاصول ہے جس کی بنیادوں پر ایمان کی پوری قومی عمارت کھڑی ہے۔ اسی کی بقاء پر ملت موحدین کی وحدت و استحکام کا مدار ہے۔ اگر خدانخواستہ اس عقیدہ میں تزلزل واقع ہو تو اس کا اثر محض معتقدات ایمانیہ ہی پر نہیں پڑے گا بلکہ یہ تمدنی، معاشی، سیاسی، اور بین الاقوامی ہزار اعتبار سے مسلمانوں کے لئے سخت ہلاکت آفریں ثابت ہوگا۔

مدعی نبوت کا ارتداد

سلف اور خلف کے تمام علمائے امت اس پر بھی متفق چلے آئے ہیں کہ ختم نبوت کا منکر دائرہ اسلام سے خارج ہے اور جو کوئی دعوائے نبوت کرے وہ مرتد اور واجب القتل ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ممالک اسلامیہ میں قرن اول سے لے کر آج تک تمام مدعیان نبوت برابر موت کے گھاٹ اتارے جاتے رہے۔ بشرطیکہ کوئی اسلامی حکومت ان پر قابو پاسکی۔ البتہ اگر کوئی متنبّی قابو پانے سے پہلے تائب ہو گیا تو پھر اس سے تعرض نہیں کیا گیا۔

(کوئی شخص اس غلط فہمی میں نہ رہے کہ یہ کام ہر شخص انفرادی طور پر بھی کر سکتا ہے جس طرح حدود کا کام حکومت وقت کا کام ہے۔ اسی طرح قتل مرتد کا حق بھی صرف حکومت کا کام ہے۔ انفرادی طور پر ایسے معاملات کو قطعاً ہاتھ میں نہیں لیا جاسکتا)

نزول مسیح علیہ السلام

حضرت مسیح بن مریم علیہ السلام کی حیات اور قرب قیامت کو آسمان سے ان کے نازل ہونے کا عقیدہ بھی اسلامی مسلمات میں داخل ہے۔ یہ عقیدہ قریباً چالیس صحیح حدیثوں سے ثابت ہے اور اس کا منکر دائرہ اسلام سے خارج ہے۔ حضرت مسیح علیہ السلام قرب قیامت کو نازل ہوں گے تو عہدۂ نبوت پر سرفراز رہنے کے باوجود شریعت محمدی پر عمل پیرا ہوں گے اور ان کی حیثیت امت کے مجدد اعظم کی سی ہوگی۔ پس یہ امت محمدی کی کتنی بڑی فضیلت ہے کہ اس دین کی

٤

٥

تائید و تصدیق کے لئے ایک اولوالعزم رسول بھیجا بعض مغربیت زدہ لوگوں کا ذہن اس کوئی شخص ہزار ہا سال کے بعد دنیا میں واپس خیر المرسلین ﷺ کے ارشادات گرامی پر ایمان رکھ و خلجان نہیں ہو سکتا۔ کیونکہ کلام پاک میں عزیر علی مذکور ہے۔ اسی طرح اصحاب کہف تین سو نو سال وہ امور خدائے قدیر کے لئے ممکن تھے تو حضرت دنیا میں بھیجنا بھی اس ذات بے ہمتا کے لئے مشکل

ظہور مہدی علیہ السلام

صحیح حدیث سے ثابت ہے کہ نزول عبد اللہ معروف بہ مہدی علیہ السلام جو سیدۃ النساء کہ معظمہ میں ظہور فرما ہوں گے اور تھوڑے دنو سات سال تک برسر حکومت رہیں گے۔ نصار خدائے موفق ان کو مظفر و منصور کرے گا۔ ان فتوح دمشق میں قیام فرما ہوں گے تو ایک دن جب ہوں گے تو اس وقت حضرت عیسیٰ علیہ السلام دمشق ہاتھ رکھے ہوئے آسمان سے اتریں گے۔

نماز کی صفیں دیکھ کر حضرت مسیح علیہ ہوں گے۔ مہدی علیہ السلام ان سے نماز پڑھا آپ ہی نماز پڑھائیے کہ خدائے برتر نے اس مہدی علیہ السلام امام ہوں گے۔ لیکن اس کے افضلیت کے امامت فرمایا کریں گے۔

قتل دجال اور مدفن مسیح

کچھ دنوں کے بعد مسیح علیہ السلام خدائی کا دعویٰ کر رکھا ہوگا اور لوگوں کو عجیب و غریب چونکہ مسیح علیہ السلام لوگوں کو اسلام کی دعوت و

صفحہ ٨٥

تائید وتصدیق کے لئے ایک اولوالعزم رسول بھیجا جائے گا۔

بعض مغربیت زدہ لوگوں کا ذہن اس حقیقت کو تسلیم کرنے سے انکاری ہے کہ کس طرح کوئی شخص ہزار ہا سال کے بعد دنیا میں واپس آسکتا ہے۔ لیکن جو شخص قرآن پر اور حضرت خیرالمرسلین ﷺ کے ارشادات گرامی پر ایمان رکھتا ہے اس کو اس عقیدہ پر یقین رکھنے میں کوئی تردد وخلجان نہیں ہو سکتا۔ کیونکہ کلام پاک میں عزیر علیہ السلام کے سوسال کے بعد زندہ ہونے کا واقعہ مذکور ہے۔ اسی طرح اصحاب کہف تین سو نو سال تک غار میں بحالت خواب پڑے رہے۔ پس اگر وہ امور خدائے قدیر کے لئے ممکن تھے تو حضرت مسیح علیہ السلام کو ہزار ہا سال تک زندہ رکھ کر دوبارہ دنیا میں بھیجنا بھی اس ذات بے ہمتا کے لئے مشکل نہیں۔

ظہور مہدی علیہ السلام

صحیح حدیث سے ثابت ہے کہ نزول مسیح علیہ السلام سے کچھ مدت پیشتر حضرت محمد بن عبداللہ معروف بہ مہدی علیہ السلام جو سیدۃ النساء حضرت فاطمۃ الزہراؓ کی اولاد میں سے ہوں گے مکہ معظمہ میں ظہور فرما ہوں گے اور تھوڑے دنوں میں تمام عرب ان کے زیر نگیں ہو جائے گا۔ وہ سات سال تک برسر حکومت رہیں گے۔ نصاریٰ سے ان کی بڑی لڑائیاں ہوں گی۔ جن میں خدائے موفق ان کو مظفر ومنصور کرے گا۔ ان فتوحات کے بعد مہدی علیہ السلام اپنے لاؤ لشکر سمیت دمشق میں قیام فرما ہوں گے تو ایک دن جب نماز عصر پڑھنے کے لئے صفیں درست کر رہے ہوں گے تو اسوقت حضرت عیسیٰ علیہ السلام دمشق کے سفید شرقی مینار پر دو فرشتوں کے بازوؤں پر ہاتھ رکھے ہوئے آسمان سے اتریں گے۔

نماز کی صفیں دیکھ کر حضرت مسیح علیہ السلام بغرض ادائے نماز اہل ایمان میں آ شامل ہوں گے۔ مہدی علیہ السلام ان سے نماز پڑھانے کی درخواست کریں گے۔ مگر وہ فرمائیں گے کہ آپ ہی نماز پڑھائیے کہ خدائے برتر نے امت محمدی کو بڑا شرف بخشا ہے۔ اس پہلی نماز میں تو مہدی علیہ السلام امام ہوں گے۔ لیکن اس کے بعد تمام نمازوں میں حضرت مسیح علیہ السلام ہی بوجہ افضلیت کے امامت فرمایا کریں گے۔

قتل دجال اور مدفن عیسیٰ

کچھ دنوں کے بعد مسیح علیہ السلام دجال اکبر یعنی ایک کانے یہودی سردار کو جس نے خدائی کا دعویٰ کر رکھا ہوگا اور لوگوں کو عجیب وغریب معجزے دکھا کر گمراہ کر رہا ہوگا قتل کریں گے۔ چونکہ مسیح علیہ السلام لوگوں کو اسلام کی دعوت دیں گے۔ اس لئے یہودی، نصاریٰ اور تمام دوسرے

٥

صفحہ ٨٦

ادیان کے پیروان پر ایمان لا کر دائرہ اسلام میں داخل ہو جائیں گے۔ تمام ملتیں مٹ جائیں گی اور صرف ایک دین اسلام دنیا میں باقی رہ جائے گا۔ تمام دعوتی اور تبلیغی فرائض سے فراغت پا کر حضرت مسیح علیہ السلام مدینہ منورہ جائیں گے اور وہاں شادی کریں گے اور ان کے اولاد ہوگی۔

کچھ مدت کے بعد جب مسیح علیہ السلام کا پیمانہ حیات لبریز ہو جائے گا تو مدینہ منورہ کی زمین ایک اور پیغمبر کو اپنے دامن میں لینے کے لئے اپنا آغوش شوق پھیلا دے گی اور آپ افضل الانبیاء والرسل ﷺ کے مقبرہ مبارک میں دفن کئے جائیں گے۔

اس رسالہ میں ان مشاہیر کے کچھ جزوی حالات حوالہ قرطاس کئے جاتے ہیں جنہوں نے خدائی، پیغمبری، مسیحیت یا مہدویت کے دعوؤں کے ساتھ خروج کر کے خلق خدا کو گمراہ کیا اور آخر کار اپنی اپنی اسلامی حکومت کے ہاتھوں کیفر کردار کو پہنچے۔ وباللہ التوفیق!

ا...... اسود عنسی مدعی نبوت

اسود نے حضور سید کون و مکان علیہ التحیۃ والسلام کے آخری ایام سعادت میں یمن کے اندر دعوائے نبوت کیا۔ اہل نجران اور قبیلہ مذحج نے اس کی متابعت اختیار کی۔ اسود کا قبیلہ عنس قبیلہ مذحج ہی کی ایک شاخ تھا۔ جب اسود کی جمعیت بڑھی تو اس نے تھوڑے ہی دنوں میں پہلے نجران پر اور پھر یمن کے اکثر دوسرے حصوں پر قبضہ کر لیا۔ انجام کار یمن کے دارالحکومت صنعاء کا رخ کیا۔ وہاں کے عامل شہر بن باذان نے اس کا مقابلہ کیا۔ لیکن مغلوب ہو کر جرعہ شہادت لے لیا۔ جب آنحضرت ﷺ کو ان واقعات کی اطلاع ہوئی تو آپ ﷺ نے مسلمانان یمن کو لکھ کر بھیجا کہ جس طرح بن پڑے اسود کے فتنہ کا استیصال کریں۔

اہل ایمان اس فرمان سے بڑے قوی دل ہوئے اور یمن کے مختلف علاقوں میں در پردہ حربی تیاریاں ہونے لگیں۔ لیکن دارالحکومت صنعاء کے مسلمان اسود کے مقابلہ میں اپنی حربی کمزوری محسوس کر رہے تھے۔ اس لئے انہوں نے مصلحت و صوابدید اس میں دیکھی کہ عسکری اجتماع کے بجائے مخفی سرگرمیوں سے اس کی جان لیں۔ اسود نے شہر بن باذان کے واقعہ شہادت کے بعد ان کی بیوی آزاد کو جبراً گھر میں ڈال لیا تھا اور آزاد کے عم زاد بھائی حضرت فیروز دیلمی جو شاہ حبشہ کے خواہر زادہ تھے آزاد کو اسود کے پنجہ بیداد سے آزاد کرانے کے لئے سخت فکر مند تھے۔

مسلمانوں نے آزاد کو اپنا رازدار بنایا اور اس کے مشورہ کے بموجب ایک رات چند مسلمان نقب لگا کر اسود کے محل میں گھس گئے۔ فیروز دیلمی نے جو ایک قوی الجثہ جوان تھے اچانک

٦

٧

اسود کی گردن اور منڈی جا پکڑی اور بڑی پھرتی س بستر پر ہلاک کر دیا۔

اسود کی ہلاکت کے بعد اہل ایمان ن کے چند ہی روز میں یمن کی حکومت بحال کر انصاری صنعاء کے حاکم قرار پائے۔ سید دو جہاں اسود فلاں رات اور فلاں وقت مارا جائے گا۔ چنا صادق ﷺ نے اپنے اصحاب سے فرمایا کہ آج یا رسول اللہ! کس کے ہاتھ سے ہلاک ہوا؟ فر خاندان سے تعلق رکھتا ہے۔ پوچھا گیا کہ اس کا نا

چند روز کے بعد جب یمن کا قاصد بحال ہونے کی خبر لے کر مدینہ الرسول پہنچا تو والسلام رحمت الہی کے آغوش میں استراحت صدیق نے مسند خلافت کو اپنے مبارک قدموں کو اپنے عہد خلافت میں سب سے پہلی جو پیش کے تفصیلی حالات معلوم کرنے کے لئے راقم ا رجوع فرمائیے۔

٢......

جب فخر بنی آدم حضرت احمد مجتبیٰ قبیلہ بنو حنیفہ نے قبول اسلام کے بعد ایک وفد وفد کے دوسرے ارکان کی طرح مسیلمہ ب وجاہت اور قابلیت کے لحاظ سے اپنے قبیلہ م میں اقران و اماثل میں ضرب المثل تھا۔ اس ن درخواست کی کہ حضور ﷺ مجھے اپنا خلیفہ و ج گزری۔ اس وقت کھجور کی ایک ٹہنی آپ ک مسیلمہ! اگر تم خلافت کے بارہ یہ شاخ خرم

صفحہ ٨٧

اسود کی گردن اور منڈی جا پکڑی اور بڑی پھرتی سے مروڑ کر اس کی گردن توڑ دی اور اسے آناً فاناً بستر پر ہلاک کر دیا۔

اسود کی ہلاکت کے بعد اہل ایمان نے اس کے پیروؤں اور ہوا خواہوں کو مغلوب کر کے پچیسویں روز میں یمن کی حکومت بحال کر لی۔ شہر بن باذان کی جگہ حضرت معاذ بن جبل انصاری صنعاء کے حاکم قرار پائے۔ سید دو جہاں ﷺ نے وحی الٰہی سے اطلاع پا کر فرمایا تھا کہ اسود فلاں رات اور فلاں وقت مارا جائے گا۔ چنانچہ جس وقت وہ قعر عدم میں پہنچا، اس صبح کو مخبر صادق ﷺ نے اپنے اصحاب سے فرمایا کہ آج رات اسود مارا گیا۔ صحابہ عرض پیرا ہوئے۔ یا رسول اللہ! کس کے ہاتھ سے ہلاک ہوا؟ فرمایا ایک مسلمان کے ہاتھ سے جو ایک بابرکت خاندان سے تعلق رکھتا ہے۔ پوچھا گیا کہ اس کا نام کیا ہے؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ فیروز دیلمی۔

چند روز کے بعد جب یمن کا قاصد اسود کے مارے جانے، اسلامی فرمانروائی کے بحال ہونے کی خبر لے کر مدینہ الرسول پہنچا تو اس وقت حضرت سرور عالم و عالمیان علیہ الصلوٰۃ والسلام رحمت الٰہی کے آغوش میں استراحت فرما چکے تھے اور امیر المؤمنین حضرت ابوبکر صدیق نے مسند خلافت کو اپنے مبارک قدموں سے زینت بخشی تھی۔ چنانچہ حضرت صدیق اکبرؓ کو اپنے عہد خلافت میں سب سے پہلی جو بشارت ملی وہ اسود ہی کے قتل کا مژدہ تھا۔ اسود کے فتنہ کے تفصیلی حالات معلوم کرنے کے لئے راقم السطور کی کتاب ”ائمہ تلبیس ص ٨ تا ١٦“ کی طرف رجوع فرمائیے۔

٢....... مسیلمہ کذاب

جب فخر بنی آدم حضرت احمد مجتبیٰ ﷺ کی رسالت کا غلغلہ اقصائے عالم میں بلند ہوا تو قبیلہ بنو حنیفہ نے قبول اسلام کے بعد ایک وفد مدینہ منورہ بھیجا۔ مسیلمہ بھی اس وفد میں شریک تھا۔ وفد کے دوسرے ارکان کی طرح مسیلمہ نے بھی آپ ﷺ کے ہاتھ پر بیعت کی۔ مسیلمہ ذاتی وجاہت اور قابلیت کے لحاظ سے اپنے قبیلہ میں ممتاز اور طلاقت لسانی اور فصاحت و انشا پردازی میں اقران و اماثل میں ضرب المثل تھا۔ اس لئے اس نے بیعت کرنے کے بعد بارگاہ نبوت میں درخواست کی کہ حضور ﷺ مجھے اپنا خلیفہ و جانشین مقرر فرماویں۔ یہ درخواست آپ ﷺ پر شاق گزری۔ اس وقت کھجور کی ایک ٹہنی آپ ﷺ کے سامنے پڑی تھی۔ آپ ﷺ نے فرمایا دیکھو مسیلمہ! اگر تم خلافت کے بارہ یہ شاخ خرما بھی مجھ سے طلب کرو تو میں تمہاری خواہش پوری نہیں

٧

صفحہ ٨٨

کروں گا۔ مسیلمہ متمنی تھا کہ آنحضرت ﷺ اسے اپنی نبوت میں شریک بنالیں۔ لیکن آپ ﷺ کے اس حق پژوہانہ جواب نے اس کے نخل امید کو بالکل خشک کر دیا۔

جب مسیلمہ ادھر سے مایوس ہوا تو بوقت مراجعت اس کے دل میں خود نبی بننے کے خیالات موجزن ہوئے اور اپنے قبیلہ میں پہنچ کر لوگوں سے کہنے لگا کہ جناب محمد رسول اللہ (علیہ الصلوٰۃ والسلام) نے اپنی نبوت میں اسے بھی شریک کر لیا ہے اور اپنی من گھڑت وحی والہام کے افسانے سنا سنا کر لوگوں کو راہ حق سے منحرف کرنے لگا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ بعض زود اعتقاد لوگ سرور انبیاء ﷺ کی نبوت کے ساتھ مسیلمہ کی نبوت کے بھی قائل ہو گئے۔

جب مسیلمہ کی اغوا کوشیوں کی اطلاع آستان نبوت میں پہنچی تو حضور سید المرسلین ﷺ نے قبیلہ بنو حنیفہ کے ایک ممتاز رکن رحال بن عنفوہ کو جو نہار کے لقب سے مشہور تھا اس غرض سے یمامہ روانہ فرمایا کہ مسیلمہ کو سمجھا بجھا کر راہ راست پر لائے۔ مسیلمہ بڑا لسان اور خوش بیان تھا۔ رحال نے مسیلمہ کو راہ راست پر لانے کی بجائے الٹا اس کا اثر قبول کر لیا اور سرور کائنات ﷺ کے ساتھ مسیلمہ کی بھی نبوت کا اقرار کر کے اپنی قوم سے بیان کیا کہ خود جناب محمد رسول اللہ (علیہ الصلوٰۃ والسلام) فرماتے تھے کہ مسیلمہ نبوت میں میرا شریک ہے۔ بنو حنیفہ نے اس کی شہادت پر وثوق کر کے مسیلمہ کی نبوت تسلیم کر لی اور سارا قبیلہ اس کے دام ارادت میں پھنس کر مرتد ہو گیا۔

کچھ دنوں کے بعد بنو حنیفہ کا ایک اور وفد مدینۃ الرسول گیا۔ ان لوگوں کو مسیلمہ کی تقدیس وطہارت میں بڑا غلو تھا۔ یہ لوگ مسیلمہ کے شیطانی الہامات کو صحابہ کرام کے سامنے بڑے فخر سے وحی الٰہی کی حیثیت سے پیش کر رہے تھے۔ جب حضرت خیر الانام ﷺ کو ارکان وفد کی اس ماؤف ذہنیت کا علم ہوا اور آپ ﷺ نے یہ بھی سنا کہ بنو حنیفہ نے اسلام سے منحرف ہو کر مسیلمہ کا نیا طریقہ اختیار کر لیا ہے تو حضور ﷺ نے ایک خطبہ دیا۔ جس میں حمد اور ثنائے الٰہی کے بعد فرمایا کہ مسیلمہ ان تیس مشہور کذابوں میں سے ایک کذاب ہے جو دجال اعور سے پہلے ظاہر ہونے والے ہیں۔ اس دن سے اہل ایمان مسیلمہ کو مسیلمہ کذاب کہنے لگے۔

کچھ مدت کے بعد مسیلمہ نے کمال جسارت و بیباکی کے ساتھ حضرت فخر الانبیاء ﷺ کے نام ایک خط روانہ کیا جس میں لکھا تھا۔ ”مسیلمہ رسول اللہ کی طرف سے محمد رسول اللہ کے نام۔ معلوم ہوا کہ امر نبوت میں میں آپ کا شریک کار ہوں۔ عرب کی سرزمین نصف ہماری (یعنی بنو حنیفہ کی) اور نصف قریش کی ہے۔ لیکن قوم قریش زیادتی اور بے انصافی کر رہی ہے۔“ اور یہ مکتوب اپنی قوم کے دو شخصوں کے ہاتھ مدینہ منورہ روانہ کیا۔ آپ ﷺ نے ان دو قاصدوں

٨

سے پوچھا کہ مسیلمہ کے بارہ میں تمہارا کیا عقیدہ ہمارے پیغمبر کا ارشاد ہے۔ یہ سن کر آپ ﷺ دونوں کی گردن مارنے کا حکم دیتا۔ اس روز ہو گیا کہ قاصد کا قتل جائز نہیں۔ آپ ﷺ کے جھوٹے نبی واجب القتل ہیں۔ اسی طرح الـ حضرت سید موجودات ﷺ نے اس چٹھی کا مسیلمہ کذاب۔ سلام اس شخص پر ہو جو ہدایت کی ہے۔ اپنے بندوں میں سے جس کو چاہتا متقیوں کے لئے ہے۔“

اس کے چند ہی روز بعد آفتاب امیر المؤمنین حضرت ابو بکر صدیق نے عنان خـ کی سرکوبی کے لئے پہلے حضرت عکرمہ بن ابی جـ فرمائی اور اس کے متعاقب شرحبیل بن حسنہ کو مـ نے حالات پر قابو پانے اور ماحول کا کافی مطالعہ پہلے ہی لڑائی چھیڑ دی۔ نتیجہ یہ ہوا کہ عکرمہ کو ہزیمـ بجاتے میدان جنگ سے واپس ہوئے۔

اب امیر المؤمنین حضرت صدیق ا ساتھ مسیلمہ کے مقابلہ میں جانے کا حکم دیا او یمامہ کو روانہ ہوئے۔ اس اثناء میں حضرت عکر حضرت سیف اللہ کی آمد سے پہلے ہی مسیلمہ مقابلہ شروع کر دیا۔ جس میں انہیں بھی ناکام مکرر ہزیمت کا علم ہوا تو شرحبیل کو سخت ملامت دی کہ تمہاری عجلت پسندی کا نتیجہ یہ ہے کہ دشـ کے حوصلے بڑھ گئے ہیں۔

جب مسیلمہ کو معلوم ہوا کہ اسلام لئے آ پہنچے تو اس نے بھی اپنے پیروؤں کو مقرر

صفحہ ٨٩

سے پوچھا کہ مسیلمہ کے بارہ میں تمہارا کیا عقیدہ ہے؟ انہوں نے کہا کہ ہم بھی وہی کہتے ہیں جو ہمارے پیغمبر کا ارشاد ہے۔ یہ سن کر آپ ﷺ نے فرمایا کہ اگر قاصد کا قتل جائز ہوتا تو میں تم دونوں کی گردن مارنے کا حکم دیتا۔ اس روز سے دنیا میں یہ اصول مسلم اور زبان زد خاص و عام ہو گیا کہ قاصد کا قتل جائز نہیں۔ آپ ﷺ کے اس ارشاد گرامی سے یہ بھی ثابت ہوا کہ جس طرح جھوٹے نبی واجب القتل ہیں۔ اسی طرح ان کو سچا نبی ماننے والے بھی گردن زدنی ہوتے ہیں۔ حضرت سید موجودات ﷺ نے اس چٹھی کا یہ جواب لکھوایا۔ ”من جانب محمد رسول اللہ بنام مسیلمہ کذاب۔ سلام اس شخص پر ہو جو ہدایت کی پیروی کرے۔ اس کے بعد معلوم ہو کہ زمین اللہ کی ہے۔ اپنے بندوں میں سے جس کو چاہتا ہے اس کا مالک بنا دیتا ہے اور عاقبت کی کامرانی متقیوں کے لئے ہے۔“

اس کے چند ہی روز بعد آفتاب رسالت رحمت الہی کے شفق میں مستور ہو گیا اور امیر المؤمنین حضرت ابو بکر صدیق نے عنان خلافت ہاتھ میں لی۔ حضرت صدیق اکبر نے مسیلمہ کی سرکوبی کے لئے پہلے حضرت عکرمہ بن ابی جہل کی سرکردگی میں کچھ فوج یمامہ کی طرف روانہ فرمائی اور اس کے متعاقب شرحبیل بن حسنہ کو کچھ سپاہ دے کر بغرض کمک روانہ فرمایا۔ حضرت عکرمہ نے حالات پر قابو پائے اور ماحول کا کافی مطالعہ کئے بغیر نہایت عجلت کے ساتھ شرحبیل کی آمد سے پہلے ہی لڑائی چھیڑ دی۔ نتیجہ یہ ہوا کہ عکرمہ کو ہزیمت ہوئی۔ مسیلمہ اور اس کے پیرو فتح کے شادیانے بجاتے میدان جنگ سے واپس ہوئے۔

اب امیر المؤمنین حضرت صدیق اکبر نے سیف اللہ خالد بن ولید کو ایک لشکر گراں کے ساتھ مسیلمہ کے مقابلہ میں جانے کا حکم دیا اور وہ دارلخلافت سے باد و برق کی سی تیزی کے ساتھ یمامہ کو روانہ ہوئے۔ اس اثناء میں حضرت عکرمہ کی طرح شرحبیل نے شتاب زدگی سے کام لے کر حضرت سیف اللہ کی آمد سے پہلے ہی مسیلمہ کی حربی قوت کا اندازہ کئے بغیر مرتدین بنو حنیفہ سے مقابلہ شروع کر دیا۔ جس میں انہیں بھی ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا۔ جب حضرت خالد کو مسلمانوں کی مکرر ہزیمت کا علم ہوا تو شرحبیل کو سخت ملامت کی اور فرمایا ہماری آمد کا انتظار کئے بغیر کیوں پیش دستی کی تمہاری عجلت پسندی کا نتیجہ یہ ہے کہ دشمن کی جمعیت پہلے سے بھی فزوں تر ہو گئی ہے اور اس کے حوصلے بڑھ گئے ہیں۔

جب مسیلمہ کو معلوم ہوا کہ اسلام کے نامور سپہ سالار خالد بن ولید اس کی سرکوبی کے لئے آ پہنچے تو اس نے بھی اپنے پیروؤں کو عقرباء کے مقام پر لا جمع کیا۔ مسیلمہ کی طرف سے مجاعہ بن

٩

صفحہ ٩١

مرارہ ایک جداگانہ دستہ فوج لے کر مسلمانوں کے مقابلہ پر آیا۔ مسیلمہ تک پہنچنے میں ایک دن کا راستہ باقی تھا کہ حضرت خالد نے شرحبیل بن حسنہ کو مقدمۃ الجیش کا سردار مقرر کر کے پیش قدمی کا حکم دیا۔ اتفاق سے رات کے وقت مجاعہ سے مڈبھیڑ ہوگئی۔ مسلمانوں نے نہایت بے جگری سے مرتدین پر ہلہ بول دیا اور مجاعہ کے ساتھیوں کو مارتے مارتے ان کھلیان کر دیا۔ مجاعہ قید کر لیا گیا۔ اس کے رفقاء میں سے اس کے سوا کوئی نہ بچا۔

اب حضرت خالدؓ اور رئیس المرتدین مسیلمہ میں معرکہ آرائی شروع ہوئی۔ اس محاربہ میں مسیلمہ کے ہمراہ چالیس ہزار فوج تھی اور اسلامی لشکر صرف تیرہ ہزار شمار میں آیا تھا۔ حضرت خالدؓ نے پہلے اتمام حجت کے لئے مسیلمہ اور اس کے پیروؤں کو از سر نو دین اسلام قبول کرنے کی دعوت دی۔ مگر انہوں نے اس دعوت کو مسترد کر دیا۔ دوسرے صحابہ کرامؓ نے بھی پند و موعظت کی بہتیری تدبیریں چلائیں۔ لیکن مسیلمہ کے گم کردگان راہ کے والہانہ یقین واعتقاد کی گرمجوشی میں کچھ فرق نہ آیا۔ اس معرکہ میں امیر المومنین حضرت فاروق اعظمؓ کے بھائی زید بن خطابؓ حضرت عمرؓ کے عالی قدر صاحبزادہ عبداللہ بن عمرؓ اور امیرالمومنین حضرت ابو بکر صدیقؓ کے صاحبزادہ جناب عبدالرحمٰن بن ابی بکرؓ بھی شریک تھے۔

یہ لڑائی بڑی خوفناک تھی۔ یہ اسلام اور کفر کی ایسی زبردست آویزش تھی کہ اس سے پہلے مسلمانوں کو ایسے شدید معرکہ سے کبھی سابقہ نہ پڑا تھا۔ کئی دن کی معرکہ آرائی کے بعد نسیم فتح مسلمانوں کے رایت اقبال پر چلی۔ مسیلمہ مارا گیا۔ اکیس ہزار مرتدین قعر ہلاکت میں پڑے اور حسب بیان ابن خلدون ایک ہزار اسی مسلمان شہید ہوئے۔ حضرت خالدؓ نے مرتدین کے سردار مجاعہ سے سونے، چاندی، اسلحہ اور آدھے یا چوتھائی قیدیوں کی شرط پر مصالحت کر لی۔

اتنے میں ایک قاصد امیر المومنین حضرت ابو بکر صدیقؓ کا یہ فرمان لے کر یمامہ پہنچا کہ اگر خدائے عزیز مرتدین پر فتح یاب دے تو بنو حنیفہ میں سے جس قدر بقیۃ السیف عرصہ بلوغ کو پہنچ چکے ہوں وہ سب بجرم ارتداد قتل کئے جائیں اور ان کی عورتیں اور بچے لونڈی غلام بنائے جائیں اور اسلام کے سوا ان سے کوئی چیز قبول نہ کی جائے۔ ”وان يقتلهم كل قتلة وان يسبى النساء والذرارى ولا يقبل من احد غير الاسلام“

(البدایہ والنہایہ وابن کثیر ج٦ ص٣٦٦)

لیکن امیر المومنین کا فرمان پہنچنے سے پہلے حضرت خالدؓ معاہدہ کی تکمیل کر چکے تھے۔ اس لئے اس حکم کا تو پوری طرح نفاذ نہ ہو سکا اور لشکر اسلام کو اس سونے، چاندی، اسلحہ اور نصف یا ربع اسیران جنگ سے زیادہ کچھ نہ مل سکا۔ (تاریخ کامل ابن اثیر ج٢ ص١٠٢) ورنہ بالغوں کے قتل اور

١٠

مرتدوں کے اہل وعیال کو لونڈی غلام بنا لینے کے بعد مسلمانوں کے حیطہ تصرف اور ملک میں آجاتے۔ بنو حنیفہ میں سے ایک لونڈی حضرت علی مرتضیٰؓ کے حصے میں آئی جن کا کسی قدر تذکرہ مختار ثقفی کے حالات میں آئے گا۔ تسرى على بن ابی طالب بجارية من محمد بن الحنفية رضى الله تعالى عنه“

لندن کے ایک جلسہ میں جو کابل میں مرتد خلاف مرزا محمود کی کوششوں سے منعقد ہوا۔ مرزا محمود نے جو لوگ مرتد ہوئے ان کو کسی نے قتل نہیں کیا۔ صرف اس انہوں نے حکومت سے بغاوت جاری رکھی۔“

مگر یہ خیال سراسر غلط ہے۔ کیونکہ قانون وبغاوت کے جرم میں لشکر کشی کی جاتی ہے ان کے ا مسلمان ہوں یا نہ ہوں مگر پیروان مسیلمہ کے خلاف صریح پہنچنے سے پہلے بھی جزوی طور پر ان کے اہل وعیال اور ظاہر ہے کہ مسیلمہ نے رسول خدا ﷺ کی طرح وہ بھی آپ کو نبی تسلیم کرتا تھا۔ لیکن ساتھ ہی تھا۔ مگر اس کے باوجود کافر اور ملت اسلام سے خارج بنو حنیفہ بھی رجال بن عنفوہ کے بیان پر وثوق کر کے اس کے باوجود صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم نے ان کو م خلاف فوج کشی کی۔

٣...... مختار ثق

مختار ایک جلیل القدر صحابی حضرت ابو عبید تھے چڑھ کر خارجی ہو گیا۔ وہ اہل بیت سے عقی شہادت کے واقعہ ہائلہ کے بعد جب اس نے دیکھا سخت سینہ ریش ہورہے ہیں اور استمالت قلوب کا

صفحہ ٩١

مرتدوں کے اہل وعیال کو لونڈی غلام بنا لینے کے بعد بنو حنیفہ کے تمام منقولہ اور غیر منقولہ املاک مسلمانوں کے حیطۂ تصرف اور ملک میں آ جاتے۔ بنو حنیفہ کے جو اسیر لونڈی غلام بنائے گئے انہی میں سے ایک لونڈی حضرت علی مرتضیٰ کے حصے میں آئی۔ حضرت علیؓ کے نامور فرزند محمد بن حنفیہ جن کا کسی قدر تذکرہ مختار ثقفی کے حالات میں آئے گا۔ اسی لونڈی کے بطن سے تھے۔ ”وقد تسریٰ علی بن ابی طالب بجاریۃ منہم وہی ام ابنہ محمد الذی یقال لہ محمد بن الحنفیۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ“

(البدایہ والنہایہ ج ٦ ص ٣٢٥)

لندن کے ایک جلسہ میں جو کابل میں مرزائی مرتد نعمت اللہ کے سنگسار ہونے کے خلاف مرزا محمود کی کوششوں سے منعقد ہوا۔ مرزا محمود نے بیان کیا کہ : ”حضرت ابوبکرؓ کے زمانہ میں جو لوگ مرتد ہوئے ان کو کسی نے قتل نہیں کیا۔ صرف اس وقت ان سے جنگ کی گئی جب تک کہ انہوں نے حکومت سے بغاوت جاری رکھی۔“

(الفضل قادیان مورخہ ٢٥ اکتوبر ١٩٢٤ء)

مگر یہ خیال سراسر غلط ہے۔ کیونکہ قانون شریعت میں جن لوگوں کے خلاف خروج وبغاوت کے جرم میں لشکر کشی کی جاتی ہے ان کے اسیروں کو لونڈی غلام نہیں بنایا جاتا۔ خواہ وہ مسلمان ہوں یا نہ ہوں مگر پیروان مسیلمہ کے خلاف جو فوج کشی کی گئی اس میں امیر المؤمنین کا حکم صریح پہنچنے سے پہلے بھی جزوی طور پر ان کے اہل وعیال کو لونڈی غلام بنایا گیا۔

اور ظاہر ہے کہ مسیلمہ نے رسول خدا ﷺ کی نبوت کا انکار نہیں کیا تھا۔ غلام احمد قادیانی کی طرح وہ بھی آپ کو نبی تسلیم کرتا تھا۔ لیکن ساتھ ہی غلام احمد قادیانی کی طرح اپنی نبوت کا بھی مدعی تھا۔ مگر اس کے باوجود کافر اور ملت اسلام سے خارج قرار دیا گیا اور یہ بھی مسلم ہے کہ مسیلمہ کا قبیلہ بنو حنیفہ بھی رجال بن عنفوہ کے بیان پر وثوق کر کے نیک نیتی کے ساتھ مسیلمہ پر ایمان لایا تھا۔ مگر اس کے باوجود صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم نے ان کو معذور نہ سمجھا بلکہ ان کو مرتد قرار دے کر ان کے خلاف فوج کشی کی۔

٣...... مختار بن ابو عبید ثقفی

مختار ایک جلیل القدر صحابی حضرت ابو عبید ابن مسعود ثقفی کا فرزند تھا۔ لیکن خوارج کے ہتھے چڑھ کر خارجی ہو گیا۔ وہ اہل بیت سے سخت عناد رکھتا تھا۔ لیکن سیدنا حضرت حسینؓ کی شہادت کے واقعہ ہائلہ کے بعد جب اس نے دیکھا کہ مسلمان کربلا کے قیامت خیز واقعات سے سخت سینہ ریش ہو رہے ہیں اور استمالت قلوب کا یہ بہترین موقع ہے اور اس نے یہ بھی اندازہ

١١

صفحہ ٩٣

لگایا کہ اہل بیت کا بغض اس کے بام ترقی پر پہنچنے میں سخت حائل ہے تو اس نے خارجی مذہب چھوڑ کر حب اہل بیت کا دم بھرنا شروع کر دیا۔

٦٤ھ میں جب یزید بن معاویہ مرا تو اہل کوفہ نے یزید کے عامل عمرو بن حریث کو کوفہ کی حکومت سے برطرف کر کے حضرت عبداللہ بن زبیرؓ سے بیعت کر لی۔ جنہوں نے یزید کے بعد حجاز اور عراق کی عنان فرمانروائی اپنے ہاتھ میں لی تھی۔ مرگ یزید کے چھ مہینہ بعد مختار کوفہ پہنچا اور اہل کوفہ کو قاتلین حسینؓ سے جنگ آزما ہونے کی دعوت دینی شروع کی اور بولا میں (حضرت حسینؓ کے سوتیلے بھائی) محمد بن حنفیہ کی طرف سے وزیر اور امین ہو کر تمہارے پاس آیا ہوں۔ مختار کوفہ کے گلی کوچوں اور مسجدوں میں جاتا اور حضرت حسینؓ اور دوسرے اہل بیت اطہار کا ذکر کر کے آنسو بہانے لگتا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ یہ تحریک جڑ پکڑنے لگی اور رجوع خلائق شروع ہوا۔ یہاں تک کہ ہزاروں آدمی اس کے جھنڈے تلے جان دینے پر آمادہ ہو گئے۔

اب مختار اپنی حکومت قائم کرنے کے منصوبے سوچنے لگا۔ چنانچہ ارادہ کیا کہ کوفہ پر قبضہ کر کے حکومت کی داغ بیل ڈالے۔ چنانچہ اس نے ١٤ ربیع الاول ٦٦ھ کی رات کو خروج کرنے کا عزم مصمم کر لیا۔ عبداللہ بن مطیع کو جو حضرت عبداللہ بن زبیرؓ کی طرف سے حاکم کوفہ تھا بتایا گیا کہ مختار عنقریب خروج کر کے کوفہ پر قبضہ کیا چاہتا ہے۔ اس لئے اس نے شرفائے شہر کی قیادت میں فوج اور پولیس کے آدمی بھیج کر شہر کی ناکہ بندی کر دی۔ اس انتظام کا یہ مقصد تھا کہ مختار اور اس کے پیرو خوفزدہ ہو کر خروج سے باز رہیں۔ اس سے پہلے مختار نے مضافات کوفہ کے ایک مقام پر بڑی خاموشی کے ساتھ حربی تیاریاں مکمل کر لی تھیں اور وہ رزم و پیکار کے لئے بپھر رہا تھا۔ اس لئے ناکہ بندی کا اس پر کچھ اثر نہ ہوا۔

مختار شب معہود کو طلوع فجر تک فوج کی ترتیب و آراستگی میں مصروف رہا۔ یہ اطلاع پا کر سرکاری جمعیت بھی مقابلے پر آمادہ ہوئی اور تڑکے ہی دونوں طرف سے حملہ ہوا۔ دن بھر تلوار چلی۔ آخر سرکاری فوج کی ہزیمت ہوئی اور مختار نے قصر امارت کا محاصرہ کر لیا۔ تین دن کے بعد جب ابن مطیع کی قوت مدافعت جواب دے بیٹھی تو اس کے ایک فوجی افسر شیث ابن ربعی نے اس سے کہا کہ اب آپ نہ اپنے تئیں محفوظ رکھ سکتے ہیں اور نہ اوروں کو بچا سکتے ہیں۔ ابن مطیع نے کہا اچھا بتاؤ کیا کیا جائے۔ شیث نے کہا میری رائے میں مناسب ہے کہ آپ اپنے اور ہمارے لئے امان طلب کیجئے۔ ابن مطیع نے جواب دیا کہ مجھے مختار سے امان مانگتے ہوئے نفرت ہوتی ہے۔ خصوصاً ایسی حالت میں جب کہ حجاز اور بصرہ ہنوز امیر المومنین (عبداللہ بن زبیرؓ) کے زیر نگیں ہیں۔

١٢

اس کے بعد ابن مطیع قصر امارت سے نکل کر کے آدمیوں نے دروازہ کھول دیا۔ مختار قصر میں داخل ہو کر لی۔ صبح کو شرفائے کوفہ اس سے مسجد اور قصر کے دروا اہل بیت کے خون کی انتقام جوئی کی شرط پر بیعت کی۔ مختا کی رقم پائی۔ جس میں ایک بڑا حصہ اس نے اپنی فوج حیثیت رکھتا تھا اور اس کے توابع دور دور تک پھیلے ہوئے کی ولایت کو چھوڑ کر باقی تمام علاقوں پر قابض ہو گیا جو جبکہ اس نے اپنے اعلیٰ ترین اوج و عروج کی تصویر اپنی آ کا ایک معتد بہ حصہ اس کے علم اقبال کے سامنے سر نیاز جھ

عمال کا تقرر

اب اس نے کوفی رئیس ابراہیم بن اشتر کے تفویض کی۔ عبدالرحمن بن سعید کو موصل کا گورنر بنایا۔ آ طرح دوسرے علاقے بھی ممتاز سرداروں کے زیر فرماں اس اثناء میں مختار کو معلوم ہو چکا تھا کہ ابن مطیع ابو موسیٰ کے ہو گیا۔ لیکن مغرب کے وقت ابن مطیع کے پاس ایک لاکھ اس کو اپنی ضروریات پر خرچ کرو۔ مجھے معلوم ہے کہ جہا کہ بے زری اور تہی دستی نے تمہیں شہر چھوڑنے پر مجبور کر ایک قابل تعریف نظیر ہے۔

قاتلین حسینؓ سے انتقام

کوفہ اور اس کے مضافات پر عمل و دخل کر دارو گیر کا سلسلہ شروع کیا جو کربلا میں حضرت حسینؓ اور استہلاک میں شریک تھے۔ چنانچہ عبیداللہ بن زیاد، عم حصین بن نمیر، زید بن رقاد جہنی، عمرو بن حجاج، زبیدی بن طفیل طائی، عثمان بن خالد جہنی، عمرو ابن صبیح صیداوی طرح مختار نے بہت سے دوسرے دشمنان آل رسولؐ پوری تفصیل دیکھنا چاہیں۔ وہ راقم الحروف کی کتاب ”ان

١٣

صفحہ ٩٣

اس کے بعد ابن مطیع قصر امارت سے نکل کر ابو موسیٰ کے مکان میں جا چھپا۔ ابن مطیع کے آدمیوں نے دروازہ کھول دیا۔ مختار قصر میں داخل ہوا اور مطیع کے آدمیوں نے اس سے بیعت کر لی۔ صبح کو شرفائے کوفہ اس سے مسجد اور قصر کے دروازے پر ملاقی ہوئے اور کتاب وسنت اور اہل بیت کے خون کی انتقام جوئی کی شرط پر بیعت کی۔ مختار نے کوفہ کے بیت المال میں نوے لاکھ کی رقم پائی۔ جس میں ایک بڑا حصہ اس نے اپنی فوج میں تقسیم کر دیا۔ ان ایام میں کوفہ مرکزی حیثیت رکھتا تھا اور اس کے توابع دور دور تک پھیلے ہوئے تھے۔ اس فتح سے مختار حجاز مقدس اور بصرہ کی ولایت کو چھوڑ کر باقی تمام علاقوں پر قابض ہو گیا جو ابن زبیر کے زیرنگیں تھے۔ یہ وہ وقت تھا جبکہ اس نے اپنے اعلیٰ ترین اوج وعروج کی تصویر اپنی آنکھوں سے دیکھ لی اور نظر آیا کہ اسلامی دنیا کا ایک معتد بہ حصہ اس کے علم اقبال کے سامنے سر نیاز جھکائے ہوئے ہے۔

عمال کا تقرر

اب اس نے کوفی رئیس ابراہیم بن اشتر کے چچا عبداللہ بن حارث کو آرمینیا کی حکومت تفویض کی۔ عبدالرحمٰن بن سعید کو موصل کا گورنر بنایا۔ اسحٰق بن مسعود کو مدائن کی سرزمین دی۔ اسی طرح دوسرے علاقے بھی ممتاز سرداروں کے زیر فرماں کر کے اپنی اپنی حکومتوں پر روانہ کر دیا۔ اس اثناء میں مختار کو معلوم ہو چکا تھا کہ ابن مطیع ابو موسیٰ کے مکان میں چھپا ہے۔ یہ سن کر وہ خاموش ہو گیا۔ لیکن مغرب کے وقت ابن مطیع کے پاس ایک لاکھ درہم کی رقم گراں بھیج دی اور کہلا بھیجا کہ اس کو اپنی ضروریات پر خرچ کرو۔ مجھے معلوم ہے کہ جہاں تم اقامت گزیں ہو اور یہ بھی جانتا ہوں کہ بے زری اور تہی دستی نے تمہیں شہر چھوڑنے پر مجبور کر رکھا ہے۔ دشمن کے ساتھ حسن سلوک کی یہ ایک قابل تعریف نظیر ہے۔

قاتلین حسین سے انتقام

کوفہ اور اس کے صوبجات پر عمل دخل کرنے کے بعد مختار نے ان اشقیاء کے خلاف دار و گیر کا سلسلہ شروع کیا جو کربلا میں حضرت حسینؓ اور خاندان نبوت کے دوسرے ارکان کے قتل و استہلاک میں شریک تھے۔ چنانچہ عبید اللہ بن زیاد، عمرو بن سعد، شمر ذی الجوشن، خولی بن یزید، حصین بن نمیر، زید بن رقاد جہنی، عمرو بن حجاج، زبیدی، عبدالرحمٰن بجلی، مالک بن نسیر ہذلی، حکیم بن طفیل طائی، عثمان بن خالد جہنی، عمرو ابن صبیح صیداوی، خنجر خونخوار کے حوالے کر دیئے گئے۔ اسی طرح مختار نے بہت سے دوسرے دشمنان آل رسول کا بھی قلع قمع کیا جو صاحب اس دار و گیر کی پوری تفصیل دیکھنا چاہیں۔ وہ راقم الحروف کی کتاب ”ائمہ تلبیس“ کی طرف رجوع فرمائیں۔

١٣

صفحہ ٩٤

محب اہل بیت بننے کی غرض وغایت

اوپر لکھا ہے کہ مختار کو ابتداء میں اہل بیت نبوت سے کوئی محبت وہمدردی نہ تھی۔ بلکہ خارجی المذہب ہونے کے باعث اہل بیت کا دشمن تھا۔ لیکن اس کے بعد مصلحتاً اپنے تئیں محب اہل بیت ظاہر کر کے مقاتلین حضرت حسین کے درپے انتقام ہوا۔ پس یزیدیوں کا قلع قمع جو اس سے صورت پذیر ہوا اس کی تہ میں حب جاہ وریاست کا جذبہ کام کر رہا تھا۔ چنانچہ ایک مرتبہ کسی نے اس سے کہا اے ابا اسحق ! تم کس طرح اہل بیت کی محبت کا دم بھرنے لگے۔ تمہیں تو ان حضرات سے کوئی دور کا بھی واسطہ نہ تھا ؟ کہنے لگا کہ: ”جب میں نے دیکھا کہ مروان نے شام پر تسلط جما لیا۔ عبداللہ بن زبیر نے مکہ اور مدینہ میں حکومت قائم کر لی۔ نجدہ یمامہ پر قابض ہو گیا ہے اور ابن حازم نے خراسان دبا لیا ہے تو میں کسی عرب سے ہٹا نہیں تھا کہ چپ چاپ بیٹھ رہتا اور حصول مملکت کے لئے ہاتھ پاؤں نہ مارتا۔ میں نے جدوجہد کی اور ان بلاد پر عمل و دخل کر کے ان کا ہم پایہ ہو گیا۔“

(الدعاة وتاریخ ابن جریر طبری)

مختار کا دعوائے نبوت

جب مختار نے قاتلین اہل بیت کے تہس نہس کا بازار گرم کر رکھا تھا اور اس قسم کی بہجت افزا خبریں فضائے عالم میں گونج رہی تھیں کہ مختار نے دشمنان اہل بیت کے گلے پر چھری رکھ کر محبان اہل بیت کے زخم ہائے دل پر ہمدردی وتسکین کا مرہم رکھا ہے تو پیروان ابن سبا اور غلاۃ شیعہ نے اطراف واکناف ملک سے سمٹ کر کوفہ کا رخ کیا اور مختار کی حاشیہ نشینی اختیار کر کے تملق وچاپلوسی کے انبار لگا دیئے۔ ہر شخص مختار کو آسمانِ تعلیٰ پر چڑھاتا۔ بعض خوشامدیوں نے تو اسے یہاں تک کہنا شروع کیا کہ اتنا بڑا کارِ عظیم وخطیر جو اعلیٰ حضرت کی ذات قدسی صفات سے ظہور میں آیا ہے۔ نبی یا وصی کے بغیر، کسی سے ممکن الوقوع نہیں۔

اس تملق وخوشامد کا لازمی نتیجہ جو ہو سکتا تھا وہی ظاہر ہوا۔ مختار کے دل و دماغ پر انانیت وپندار کے جراثیم پیدا ہوئے جو دن بدن بڑھتے گئے اور انجام کار اس نے بساط جرأت پر قدم رکھ کر نبوت کا دعویٰ کر دیا۔

(الفرق بین الفرق مطبوعہ مصر ص ٣٣)

اس دن سے اس نے مکاتبات ومراسلات میں اپنے آپ کو مختار رسول اللہ لکھنا شروع کر دیا۔ دعوائے نبوت کے ساتھ یہ بھی کہا کرتا تھا کہ خدائے برتر کی ذات نے مجھ میں حلول کیا ہے اور جبریل امین ہر وقت میرے پاس آتے ہیں۔ مختار نے احنف بن قیس نامی ایک رئیس کو یہ خط لکھا تھا۔

صفحہ ٩٥

السلام علیکم ! بنو مضر اور بنو ربیعہ کا برا ہو۔ احنف ! تم اپنی قوم کو اس طرح دوزخ کی طرف لے جا رہے ہو کہ وہاں سے واپسی ممکن نہیں۔ ہاں تقدیر کو میں بدل نہیں سکتا۔ مجھے معلوم ہوا ہے کہ تم مجھے کذاب کہتے ہو۔ مجھ سے پہلے انبیاء کو بھی اسی طرح جھٹلایا گیا تھا۔ میں ان میں سے اکثر سے فائق و برتر نہیں ہوں۔ اس لئے اگر مجھے کاذب سمجھا گیا تو کچھ مضائقہ نہیں (تاریخ ابن جریر طبری) ایک دفعہ کسی نے حضرت عبداللہ بن عباسؓ سے کہا کہ مختار نزولِ وحی کا مدعی ہے۔ انہوں نے فرمایا مختار سچ کہتا ہے۔ خدائے برتر نے اس وحی کی اطلاع اس آیت میں دی ہے۔ ”ان الشیطن لیوحون الی اولیائھم“ (شیطان اپنے دوستوں پر وحی نازل کیا کرتے ہیں)

مختار کی اکاذیب کے متعلق مخبر صادق کی پیشین گوئی

مختار کے جھوٹے ہونے کے متعلق خود مخبر صادق ﷺ کی پیشین گوئی بھی کتب حدیث میں مروی ہے۔ چنانچہ ترمذی نے عبداللہ بن عمرؓ سے روایت کی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا۔ ”فی ثقیف کذاب و مبیر“ (قوم بنو ثقیف میں ایک کذاب ظاہر ہوگا اور ایک ہلاکو) اس حدیث میں کذاب سے مختار اور ہلاکو سے حجاج بن یوسف مراد ہے۔ چنانچہ صحیح مسلم میں مروی ہے کہ حضرت اسماء ذات النطاقینؓ نے حجاج بن یوسف سے کہا کہ رسول اکرم ﷺ نے ہم سے فرمایا تھا کہ قبیلہ ثقیف میں ایک کذاب ظاہر ہوگا اور ایک ہلاکو۔ کذاب کو تو ہم نے دیکھ لیا یعنی مختار کو اور ہلاکو تو ہے۔

اسی طرح عدی بن خالد سے مروی ہے کہ حضرت خیر البشر ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ میں تمہیں تین دجالوں سے بچنے کی تاکید کرتا ہوں۔ میں نے گذارش کی یا رسول اللہ ﷺ ! آپ نے تو ہمیں کانے دجال اور کذاب الکذابین مسیلمہ کے متعلق اطلاع دی تھی۔ اب یہ تیسرا دجال کون ہے؟ آپ نے فرمایا وہ ایک فتنہ گر ہوگا جسے لوگ عارف باللہ سمجھیں گے۔ حالانکہ وہ ایک ایسا دجال ہوگا جو سیاہ بھیڑیئے سے بھی زیادہ خطرناک ہوگا۔ آل محمد ﷺ کی محبت ظاہر کر کے بندگان خدا کو کھا جائے گا۔ حالانکہ اسے میری سنت سے کوئی دور کا بھی واسطہ نہ ہوگا۔ (حاکم، طبرانی، ابن خزیمہ) مختار کا بہت سا الہامی کلام بھی تھا۔ جو اس نے وحی الہی کی حیثیت سے پیش کیا جو حضرات اس مقفیٰ و مسجع کلام سے لطف اندوز ہونا چاہیں۔ وہ علامہ عبدالقاہر کی کتاب (الفرق بین الفرق ص ٣٤، ٣٥) اور (کتاب الدعاة ص ٦٤، ٦٥) کی طرف رجوع فرمائیں۔

مصعب بن زبیرؓ کو مختار پر فوج کشی کرنے کی تحریک

ابراہیم بن اشتر کوفی مختار کا دست راست تھا۔ مختار کو جس قدر عروج نصیب ہوا وہ سب ابراہیم بن اشتر کی شجاعت اولو العزمی اور حسن تدبیر ہی کا رہین منت تھا۔ ابراہیم ہر میدان میں مختار

١٥

صفحہ ٩٦

کے دشمنوں سے لڑا اور اس کے علم اقبال کو ثریا تک بلند کر دیا۔ لیکن جب ابراہیم کو معلوم ہوا کہ مختار نے علی الاعلان نبوت اور نزول وحی کا دعویٰ کیا ہے تو وہ نہ صرف اس کی اعانت سے دست کش ہو گیا۔ بلکہ بلاد جزیرہ پر قبضہ کر کے اپنی خود مختاری کا بھی اعلان کر دیا۔ یہ دیکھ کر کوفہ کے ان اہل ایمان نے جو مختار کی مارقانہ حرکتوں سے نالاں تھے۔ بصرہ جا کر مصعب بن زبیر کو مختار پر حملہ آور ہونے کی تحریک کی۔ مختار نے حضرت عبداللہ بن زبیر سے کوفہ اور اس کے ملحقات کی حکومت چھین لی تھی۔ اس لئے ان کے علاوہ ابن زبیر کی مخالفت میں بہت سی دوسری خون آشامیوں کا بھی مرتکب رہ چکا تھا۔ اس لئے ان کے بھائی مصعب بن زبیر بہت دنوں سے انتقام کے لئے دانت پیس رہے تھے۔

جب روسائے کوفہ نے حملہ آور ہونے کی تحریک کی تو مصعب ایک لشکر جرار لے کر کوفہ کی طرف بڑھے۔ جب مختار کو معلوم ہوا تو اس نے اپنے دو سپہ سالاروں کے ماتحت اپنی فوج روانہ کی۔ جب لشکروں کی مڈ بھیڑ ہوئی تو مختار کے دونوں سپہ سالار احمر بن شمیط اور عبداللہ بن کامل میدان جانستاں کی نذر ہو گئے اور بصریوں نے مختار کی فوج کو مار مار کر اس کے دھجیں بکھیر دیئے۔ جب مختار کو اپنے سپہ سالاروں کی ہلاکت اور اپنے لشکر کی بربادی کا علم ہوا تو کہنے لگا کہ موت کا آنا لازمی امر ہے اور میں جس موت میں مرنا چاہتا ہوں وہ وہی موت ہے جس پر ابن شمیط کا خاتمہ ہوا۔

جب مصعب کی فوج نے خشکی اور تری کے دونوں راستے عبور کر کے پیش قدمی شروع کی تو مختار نے بھی بنفس نفیس کوفہ سے جنبش کی۔ مختار نے مسلخن کے سنگم پر ایک بند بندھوا کر دریائے فرات کا پانی روک دیا۔ اس طرح فرات کا تمام پانی معاون دریاؤں میں چڑھ گیا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ بصری فوج جو کشتیوں پر سوار ہو کر چلے آرہی تھی ان کی کشتیاں کیچڑ میں پھنس گئیں۔ یہ حالت دیکھ کر بصریوں نے کشتیاں چھوڑ دیں اور پا پیادہ پیش قدمی شروع کر دی۔ جب مختار کو اس کی اطلاع ہوئی تو اس نے آگے بڑھ کر حروراء کے مقام پر مورچہ بندی کی۔ اتنے میں مصعب بھی حروراء پہنچ گئے۔ جو ولایت بصرہ و کوفہ کی حد فاصل ہے۔

اب آتش حرب شعلہ زن ہوئی۔ اس لڑائی میں مختار کی فوج کو بہت زیادہ نقصان اٹھانا پڑا اور وہ مقابلہ کی تاب نہ لا کر سخت بد حالی کے ساتھ بھاگ کھڑی ہوئی۔ جتنی دیر تک فوج برسر مقابلہ رہی مختار نہایت بے جگری سے لڑتا رہا۔ آخر فوج کی ہزیمت پر وہ بھی پسپائی پر مجبور ہوا اور کوفہ پہنچ کر قصر امارت میں متحصن ہو گیا۔ دوسرے دن مختار کی ہزیمت خوردہ فوج بھی کوفہ پہنچ گئی۔ مختار کی فوج کا ایک افسر اس سے کہنے لگا کہ آپ نے وحی آسمانی سے اطلاع پا کر ہم سے فتح و ظفر

صفحہ ٩٧

کا وعدہ نہیں کیا تھا اور یہ نہیں کہا تھا کہ ہم دشمن کو مار بھگائیں گے۔ مختار نے کہا کیا تم نے کتاب اللہ میں یہ آیت نہیں پڑھی۔ "و يمحوا الله ما يشاء ويثبت وعنده ام الكتب “ (حق تعالیٰ جس حکم کو چاہتا ہے محو کر دیتا ہے اور جس کو چاہتا ہے بحال رکھتا ہے اور اسی کے قبضہ قدرت میں لوح محفوظ ہے)

قصر امارت کا محاصرہ اور محصورین کی بدحالی

مختار اپنے بیس ہزار پیرو حروراء لے گیا تھا۔ ان میں سے ایک بڑی تعداد ماری گئی۔ کچھ کوفہ واپس آکر اپنے اپنے گھروں میں روپوش ہوگئے اور آٹھ ہزار دام افتادہ مختار کے پاس قصر میں جا داخل ہوئے۔ مصعب نے کوفہ آکر قصر کا محاصرہ کرلیا۔ محاصرہ قریباً چار مہینہ تک جاری رہا۔ مختار ہر روز اپنے رسالے کے ساتھ قصر میں سے برآمد ہوتا اور محاصرین سے دو دو ہاتھ کر کے واپس جاتا۔ محصورین کی حالت دن بدن نازک ہونے لگی۔ یہ دیکھ کر وہ اہل شہر بھی جو اس خود ساختہ نبی کے مخالف تھے دلیر ہو گئے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ جب کبھی مختار کے سوار محاصرین پر حملہ کرنے کو قصر سے نکلتے، مکانوں کی چھتوں سے ان پر اینٹیں، پتھر، کیچڑ اور غلیظ پانی ڈالا جاتا۔ محاصرین نے سامان رسد کی آمد بالکل مسدود کر رکھی تھی۔ اسلئے محصورین کی حالت سخت زبوں ہوگئی۔

مختار کی ہلاکت

جب محاصرہ کی سختی ناقابل برداشت ہوگئی تو مختار نے اپنے دام افتادوں سے کہنے لگا یاد رکھو کہ محاصرہ جس قدر طویل ہوگا تمہاری طاقت جواب دیتی جائے گی۔ اس لئے بہتر ہے کہ باہر کھلے میدان میں داد شجاعت دیں اور لڑتے لڑتے عزت سے جانیں دے دیں اور اگر تم بہادری سے لڑو تو میں اب بھی فتح کی طرف سے مایوس نہیں ہوں۔ لیکن انہوں نے باہر نکل کر مقابلہ کرنے سے انکار کر دیا۔ البتہ اٹھارہ آدمیوں نے رفاقت اور جانبازی پر آمادگی ظاہر کی۔ اب مختار خوشبو اور عطر لگا کر باہر نکلا اور اٹھارہ آدمیوں کی رفاقت میں مقابلہ شروع کر دیا۔ تھوڑی دیر میں تمام ساتھی طعمہ اجل ہوگئے۔ آخر مختار خود بھی ان مقتولوں کے ڈھیر پر ڈھیر ہو رہا۔

اب بصری فوج نے مختاریوں کو پا بجولاں باہر نکالا اور مصعب نے سب کے قتل کا حکم دیا۔ چنانچہ سب کے سب تہ تیغ شمشیر کے حوالے کئے گئے۔ مقتولوں کی تعداد چھ ہزار تھی۔ مصعب کے حکم سے مختار کے دونوں ہاتھ کاٹ لئے گئے اور مسجد کے پاس کیلوں سے ٹھونک کر تشہیر کے لئے نصب کر دیئے گئے۔ مصعب نے مختار کی بیوی عمرہ بنت نعمان سے پوچھا کہ مختار کے دعوائے نبوت کے متعلق تمہارا کیا خیال ہے۔ اس نے کہا وہ خدا کا نبی تھا۔ اس جواب پر مصعب نے اسے قید خانہ

١٧

صفحہ ٩٨

میں بھیج دیا اور اس کے متعلق اپنے بھائی جناب عبداللہ بن زبیرؓ کو لکھ بھیجا کہ مختار کی بیوی کہتی ہے کہ وہ نبی تھا۔ اس سے کیا سلوک کیا جائے۔

حضرت عبداللہ بن زبیرؓ نے جو ام المومنین حضرت عائشہؓ کے خواہر زادہ تھے لکھ بھیجا کہ اگر اس کا یہی عقیدہ ہے تو موت کے گھاٹ اتار دی جائے۔ چنانچہ رات کی تاریکی میں اسے حیرہ اور کوفہ کے درمیان لے گئے۔ پولیس کے ایک آدمی نے جس کا نام مطر تھا، تلوار کے تین ہاتھ رسید کئے۔ عمرہ نے عرب کے دستور کے بموجب اپنے اعزہ کو پکارا۔ عمرہ کے بھائی ابان بن نعمان نے یہ فریاد سنی تو فوراً مطر کی طرف جھپٹا اور زور سے اس کے تھپڑ رسید کیا۔ مطر اس کو پکڑ کر مصعب کے پاس لے گیا۔ انہوں نے حکم دیا کہ اس کو چھوڑ دو۔ کیونکہ یہ اپنی ہمشیرہ کے قتل کا وحشت انگیز منظر دیکھ کر کسی طرح برداشت نہیں کر سکتا تھا۔

(ابن جریر طبری وابن اثیر)

٤...... حارث کذاب دمشقی

حارث بن عبدالرحمن دمشقی ایک قرشی کا غلام تھا۔ حصول آزادی کے بعد یاد الٰہی کی طرف مائل ہوا اور بعض اہل اللہ کی دیکھا دیکھی رات دن عبادت الٰہی میں مصروف رہنے لگا۔ سدِّ رمق سے زیادہ غذا نہ کھاتا۔ کم سوتا، کم بولتا اور اس قدر پوشش پر اکتفا کرتا جو ستر پوشی کے لئے ضروری تھی۔ اگر یہ زہد و ورع، ریاضتیں اور مجاہدے کسی مرشد کامل کے زیر ہدایت عمل میں لائے جاتے تو اسے قال سے حال تک پہنچا دیتے اور معرفت الٰہی کا نور کشور دل کو جگمگا دیتا۔ لیکن چونکہ غلام احمد قادیانی کی طرح بے مرشد تھا۔ شیطان اس کا رہنما بن گیا۔

شیاطین کا طریق اغوا

شیاطین کا معمول ہے کہ وہ طرح طرح کی نورانی شکلوں میں بے مرشد ریاضت کشوں کے پاس آ آ کر انواع و اقسام کے سبز باغ دکھاتے ہیں۔ کسی سے کہتے ہیں کہ تو ہی مہدی موعود ہے۔ کسی کے کان پھونکتے ہیں کہ آنے والا مسیح تو ہی ہے۔ کسی کو نبوت و رسالت کا منصب بخش جاتے ہیں۔ کسی کو حلال و حرام کی شرعی پابندیوں سے مستثنیٰ کر جاتے ہیں۔ بے مرشد عابد جو علمی بصیرت میں کامل نہیں ہوتا۔ اس نورانی شکل کو شیطان نہیں سمجھتا۔ بلکہ اپنی حماقت سے یہ یقین کر لیتا ہے کہ اسے خود اس کے معبود برحق نے اپنا جمال مبارک دکھایا ہے اور ہم کلامی کا شرف بخشا ہے۔ اسی ذات برتر نے اسے نبوت یا مسیحیت یا مہدویت کے منصب جلیل پر سرفراز فرمایا ہے۔

١٨

صفحہ ٩٩

حارث پر جنود ابلیس کی نگاہ التفات

جب جنود ابلیس نے حارث کو اپنی نگاہ التفات سے سرفراز کر کے اس پر الہام و القاء کے دروازے کھولے تو اس کو ایسے ایسے جلوے دکھائی دینے لگے جو پہلے کبھی مشاہدہ سے نہیں گزرے تھے۔ اس کے سر پر کسی مسیحا نفس شیخ طریقت کا ظل سعادت لمعہ افگن نہیں تھا۔ جس کی طرف رجوع کرتا اور وہ اسے ابلیسی اغوا کوشیوں پر متنبہ کر کے مہالک ضلالت سے بچاتا۔ اس نے اپنے باپ کو جو موضع حولہ میں رہتا تھا لکھ بھیجا کہ جلد آ کر میری خبر لو۔ کیونکہ مجھے بعض ایسی چیزیں دکھائی دینے لگی ہیں جن کی نسبت مجھے خدشہ ہے کہ کہیں شیاطین کی تلبیس نہ ہو۔ یہ پڑھ کر احمق باپ نے اس کو ورطۂ ہلاکت سے نکالنے کی بجائے الٹا اس کے سامنے ضلالت و ظلمت کا جال بچھا دیا اور لکھ بھیجا بیٹا! تو اس کام کو بے خطر کر گزر جس کے لئے تمہیں حکم ہوتا ہے۔ کیونکہ حق تعالیٰ اپنے کلام پاک میں فرماتا ہے کہ (ترجمہ) کیا میں تم کو بتلاؤں کہ شیاطین کس کے پاس آیا کرتے ہیں۔ وہ ایسے شخص پر نازل ہوتے ہیں جو دروغ گو بدکردار ہو۔ (٢٢١:٢٦) اور تو نہ دروغ گو ہے اور نہ بدکردار۔ اس لئے کسی قسم کے اوہام اپنے پاس نہ پھٹکنے دے۔

لیکن حارث کے باپ کا یہ استدلال قطعا جہالت پر مبنی تھا۔ کیونکہ اس سے اگلی آیت کے ملانے سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ آیت ان دروغ گو و بدکردار کاہنوں کے باب میں نازل ہوئی تھی۔ جنہوں نے غیب دانی کے دعاوی کے ساتھ تقدس کی دکانیں کھول رکھی تھیں۔ آیت کے مفہوم میں قطعا یہ چیز داخل نہیں کہ شیاطین کاہنوں کے سوا دوسروں کو اپنی وحی و القاء سے نہیں نوازتے۔

حارث کے استدراجی تصرفات

چونکہ حارث بڑا عابد ریاضت کش تھا اور نفس کشی کا شیوہ اختیار کر کے اپنے اندر ملکوتی صفات پیدا کر لئے تھے۔ اس سے عادت مستمرہ کے خلاف بعض محیر العقول افعال صادر ہوتے تھے۔ مگر یہ افعال جو محض نفس کشی کا ثمرہ تھے۔ ان کا تعلق باللہ سے کوئی واسطہ نہ تھا۔ مسجد میں ایک پتھر پر انگلی مارتا تو وہ تسبیح پڑھنے لگتا۔ موسم گرما میں لوگوں کو موسم سرما کے پھل اور میوے اور جاڑے میں تابستان کے پھل پیش کرتا بعض اوقات کہتا آؤ میں تمہیں موضع دیرمراں (ضلع دمشق) سے فرشتے نکلتے دکھاؤں۔ چنانچہ حاضرین برائی العین دیکھتے کہ نہایت حسین و جمیل فرشتے بصورت انسان گھوڑوں پر سوار جا رہے ہیں۔

یہ وہ وقت تھا جب کہ شیاطین ہر روز کسی نہ کسی نوری شکل میں ظاہر ہو کر حارث کو یقین

١٩

صفحہ ١٠١

دلا رہے تھے کہ تو خدا کا نبی ہے۔ ایک دن شہر کا ایک رئیس قاسم نامی اس کے پاس آیا اور پوچھا تم کس بات کے مدعی ہو؟ کہنے لگا میں نبی اللہ ہوں۔ قاسم نے کہا اے خدا کے دشمن! تو جھوٹا ہے۔ نبوت تو خاتم الانبیاء حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی ذات گرامی پر ختم ہوگئی۔ اب کوئی شخص منصب نبوت پر سرفراز نہیں ہو سکتا۔ دمشق جہاں حارث کذاب مدعی نبوت تھا۔ خلفائے بنو امیہ کا دارالخلافہ تھا اور ان ایام میں خلیفہ عبدالملک دمشق کے تخت سلطنت پر متمکن تھا۔ قاسم نے جھٹ قصر خلافت میں جا کر خلیفہ عبدالملک کو بتایا کہ یہاں ایک شخص نبوت کا دعویدار ہے۔ خلیفہ نے حکم دیا کہ اس کو گرفتار کر کے میرے سامنے پیش کیا جائے۔ لیکن حارث اس سے پیشتر دمشق سے بھاگ کر بیت المقدس چلا گیا تھا اور وہاں خاموشی اور راز داری کے ساتھ لوگوں کو اپنی نبوت کی دعوت دے رہا تھا۔

بیت المقدس میں حارث کے بعض مرید ایک بصری کو اس کے پاس لے گئے جو بیت المقدس میں نو وارد تھا۔ جب بصری نے توحید الٰہی کے متعلق حارث کی نکتہ آفرینیاں سنیں تو اس کا گرویدہ ہو گیا۔ لیکن جب حارث نے بتایا کہ میں نبی مبعوث ہوا ہوں تو بصری نے کہا کہ میں تمہارا دعوائے نبوت تسلیم نہیں کر سکتا۔ کیونکہ نئی نبوت کا دروازہ حضرت نبی آخر الزماں ﷺ کی بعثت کے بعد بند ہو چکا ہے۔ حارث نے کہا نہیں نہیں تم سوچو اور غور کرو۔ میری نبوت کے یہ یہ دلائل ہیں۔ بصری بغیر کسی مزید حیل و حجت کے وہاں سے چلا آیا اور وہاں سے دمشق جا کر خلیفہ سے ملا اور حارث کے دعوائے نبوت کی شکایت کی۔

خلیفہ عبدالملک نے پوچھا وہ کہاں ہے؟ بصری نے بتایا کہ وہ بیت المقدس میں فلاں جگہ چھپا ہے۔ خلیفہ نے چالیس فرغانی سپاہی اس کے ساتھ کر دیئے۔ یہ لوگ بیت المقدس پہنچے اور اس کو گرفتار کر لیا اور زنجیر گردن میں ڈال کر اس کے دونوں ہاتھ گردن سے باندھے اور لے چلے۔ جب درۂ بیت المقدس میں پہنچے تو حارث نے قرآن کی یہ آیت پڑھی۔ ”قل ان ضللت فانما اضل على نفسي وان اهتديت فبما يوحى الى ربی“ (اے رسول آپ کہہ دیجئے کہ اگر میں (بفرض محال) راہ راست کو چھوڑ دوں تو یہ حق فراموشی مجھی پر وبال ہوگی اور اگر راہ ہدایت پر مستقیم رہوں تو یہ اس کلام پاک کی بدولت ہے جس کو میرا رب مجھ پر نازل فرما رہا ہے۔) اس آیت کا پڑھنا تھا کہ گلے اور ہاتھ کی زنجیر ٹوٹ کر زمین پر جا گری۔ یہ دیکھ کر پیادوں کو کچھ بھی اچھنبھا نہ ہوا اور انہوں نے زنجیر اٹھا کر دوبارہ اس کے ہاتھ گلے سے باندھے اور لے چلے۔ جب دوسرے درے پر پہنچے تو حارث نے مکرر وہی آیت پڑھی اور زنجیر دوبارہ کٹ کر

٢٠

زمین پر آ رہی۔ پیادوں نے از سر نو زنجیر کو اٹھایا اور مضطرب نہ ہوئے اور اس کو پورے اطمینان سے پکڑ پیادوں سے کہہ دیتا تھا کہ یہ خبیث بڑا شعبدہ باز ہے سامنے پیش کیا۔ خلیفہ نے پوچھا کیا واقعی تم مدعی نبوت کچھ من گھڑت نہیں ہے۔ میں جو کچھ کہتا ہوں وحی الٰہی خلیفہ نے ایک قوی ہیکل محافظ کو حکم دیا کہ لیکن کچھ اثر انداز نہ ہوا۔ یہ دیکھ کر حارث کے پیرو کرتے۔ خلیفہ نے محافظ سے کہا شاید تم نے بسم اللہ اللہ پڑھ کر وار کیا تو وہ بری طرح زخم کھا کر گرا اور جاں

شیخ الاسلام امام ابن تیمیہؒ نے کتاب ” لکھا ہے کہ حارث کی ہتھکڑیاں اتارنے والا اس کا کو جو سوار دکھائی دیتے وہ ملائکہ نہیں بلکہ جنات تھے۔

قاضی عیاضؒ کا بیان

قاضی عیاضؒ ”الشفاء فی حقوق المصطفیٰ نے حارث کو قتل کرا کے سولی پر لٹکوا دیا۔ خلفاء و سلا ساتھ یہی سلوک کیا ہے اور علمائے معاصرین ان کے کیونکہ یہ جھوٹے مدعیان نبوت مفتری علی اللہ ہیں۔ ان کو منصب نبوت سے نوازا ہے۔ یہ لوگ حضرت ہونے کے منکر ہیں۔ علمائے امت اس مسئلہ پر متف اختلاف رکھنے والا بھی دائرہ ملت سے خارج ہے اللہ پر خوش ہے۔

محمود کی غلط اندیشی

مرزا محمود نے جلسہ لندن میں جو کابل مرزا محمود کی کوششوں سے منعقد ہوا، بیان کیا کہ: ” ان کو کسی نے قتل نہ کیا تھا۔ صرف اس وقت تک ان

٢١

صفحہ ١٠١

زمین پر آ رہی۔ پیادوں نے از سر نو زنجیر کو اٹھایا اور سہ بارہ جکڑ کر دمشق لے چلے۔ پیادوں کے مضطرب نہ ہونے اور اس کو پورے اطمینان سے مکرر سہ کرر جکڑ لینے کی وجہ یہ تھی کہ بصری ہر دفعہ پیادوں سے کہہ دیتا تھا کہ یہ خبیث بڑا شعبدہ باز ہے۔ آخر دمشق پہنچ کر اس کو خلیفہ عبدالملک کے سامنے پیش کیا۔ خلیفہ نے پوچھا کیا واقعی تم مدعی نبوت ہو۔ حارث نے کہا: ہاں۔ لیکن میرا یہ دعویٰ کچھ من گھڑت نہیں ہے۔ میں جو کچھ کہتا ہوں وحی الہی کے بموجب کہتا ہوں۔

خلیفہ نے ایک قوی ہیکل محافظ کو حکم دیا کہ اس کو نیزہ مار کر ہلاک کر دو۔ نیزہ مارا گیا۔ لیکن کچھ اثر انداز نہ ہوا۔ یہ دیکھ کر حارث کے پیرو کہنے لگے کہ انبیاء اللہ کے جسم پر ہتھیار اثر نہیں کرتے۔ خلیفہ نے محافظ سے کہا شاید تم نے بسم اللہ پڑھ کر نیزہ نہیں مارا؟ اب کی مرتبہ اس نے بسم اللہ پڑھ کر وار کیا تو وہ بری طرح زخم کھا کر گرا اور جان دے دی۔ یہ ٦٩ھ کا واقعہ ہے۔

(دائرۃ المعارف ج ٦ ص ٢٤٤ ، الدعوۃ ص ٧٣ تا ٧٦)

شیخ الاسلام امام ابن تیمیہؒ نے کتاب ’الفرقان بین اولیاء الرحمن واولیاء الشیطان‘ میں لکھا ہے کہ حارث کی ہتھکڑیاں اتارنے والا اس کا کوئی شیطان دوست تھا اور اس نے گھوڑوں کے جو سوار دکھائے تھے وہ ملائکہ نہیں بلکہ جنات تھے۔

قاضی عیاضؒ کا بیان

قاضی عیاضؒ ”الشفاء فی حقوق دار المصطفیٰ“ میں لکھتے ہیں کہ خلیفہ عبدالملک بن مروان نے حارث کو قتل کرا کے سولی پر لٹکوا دیا۔ خلفاء وسلاطین اسلام نے ہر زمانہ میں مدعیانِ نبوت کے ساتھ یہی سلوک کیا ہے اور علمائے معاصرین ان کے اس عملِ خیر کی تائید وتحسین کرتے رہے ہیں۔ کیونکہ یہ جھوٹے مدعیانِ نبوت مفتری علی اللہ ہیں۔ خدائے برتر پر بہتان باندھتے ہیں کہ اس نے ان کو منصبِ نبوت سے نوازا ہے۔ یہ لوگ حضرت خیر الانام ﷺ کے خاتم النبیین اور لا نبی بعدہ ہونے کے منکر ہیں۔ علمائے امت اس مسئلہ پر بھی متفق اللفظ ہیں کہ مدعیانِ نبوت کے کفر سے اختلاف رکھنے والا بھی دائرہ ملت سے خارج ہے۔ کیونکہ وہ مدعیانِ نبوت کے کفر اور تکذیب علی اللہ پر خوش ہے۔

(نسیم الریاض شرح شفا قاضی عیاض ج ٤ ص ٥٧٥)

محمود کی غلط اندیشی

مرزا محمود نے جلسہٴ لندن میں جو کابل میں نعمت اللہ مرزائی مرتد کے رجم کے خلاف مرزا محمود کی کوششوں سے منعقد ہوا، بیان کیا کہ: ”حضرت ابوبکرؓ کے زمانہ میں جو لوگ مرتد ہوئے ان کو کسی نے قتل نہ کیا تھا۔ صرف اس وقت تک ان سے جنگ کی گئی جب تک انہوں نے حکومت

٢١

صفحہ ١٠٣

سے بغاوت جاری رکھی۔"

(الفضل قادیان مورخہ ٢٥/اکتوبر ١٩٢٤ء)

مگر یہ بیان سراسر جہالت و کوری اور ابلہ فریبی ہے۔ حارث کذاب نے حکومت کے خلاف بغاوت میں حصہ نہیں لیا تھا۔ باوجود اس کے خلیفہ وقت نے اس کو محض دعوائے نبوت کے جرم میں اپنے سامنے قتل کرا کے اس دینی فتنہ کا سد باب کر دیا۔

٥ ...... مغیرہ بن سعید عجلی

مغیرہ بن سعید عجلی پہلے امامت کا اور پھر نبوت کا مدعی ہوا۔ کہا کرتا تھا کہ میں اسم اعظم جانتا ہوں اور اس کی مدد سے مردوں کو زندہ اور لشکروں کو منہزم کر سکتا ہوں۔ جب خالد بن عبداللہ قسری کو جو خلیفہ ہشام بن عبدالملک کی طرف سے حاکم عراق تھا مغیرہ کے دعوائے نبوت کا علم ہوا تو ١١٩ھ میں اس کی گرفتاری کا حکم دیا۔ اس کے چھ مرید بھی پکڑے آئے۔ خالد نے مغیرہ سے دریافت کیا کہ کیا تو نے نبوت کا دعویٰ کیا ہے۔ اس نے اثبات میں جواب دیا۔ پھر اس کے مریدوں سے پوچھا کہ کیا تم لوگ اس کو نبی یقین کرتے ہو۔ انہوں نے بھی اس کا اقرار کیا۔

زندہ نذر آتش

خالد نے مغیرہ کو دعوائے نبوت کی وہ بڑی سے بڑی سزا دی جو اس کے مخیلہ دماغ میں سما سکی۔ اس کے لئے سرکنڈوں کے گٹھے اور نفط منگوایا۔ خالد نے مغیرہ کو حکم دیا کہ ایک گٹھے کو اٹھالے۔ مغیرہ اس سے رکا اور ہچکچایا۔ خالد نے حکم دیا کہ اس کو مارو۔ معا مار پڑنے لگی۔ مغیرہ نے گھبرا کر ایک گٹھا اٹھا لیا۔ اب اس کو اس گٹھے سے باندھ دیا گیا۔ اب اس پر اور گٹھے پر روغن نفط ڈال کر اس کو آگ دکھا دی گئی اور مغیرہ تھوڑی دیر میں جل کر راکھ کا ڈھیر ہو گیا۔

(الفرق بین الفرق مطبوعہ مصر ص ٢٤٤)

مرزائیوں کے لئے سامان عبرت

معلوم نہیں اس کے مریدوں کو بھی یہی وحشیانہ سزادی گئی یا کسی اور طریقہ سے ان کی جان لی گئی۔ مرزائیوں نے بھی ایک ایسے شخص کو جس کا کریکٹر عام بازاری لوگوں سے بھی بہتر نہ تھا خدا کا نبی تجویز کر رکھا ہے۔ انہیں ان واقعات سے عبرت پذیر ہونا چاہئے۔ مغیرہ نے حکومت کے خلاف باغیانہ خیالات کو ہرگز دل میں جگہ نہیں دی تھی۔ لیکن اس کے باوجود اسے نظر انداز نہ کیا گیا۔ اگر مرزا غلام احمد قادیانی انگریز کے ظل عاطفت کی بجائے کسی اسلامی عملداری میں ہوتا تو اس کا اور اس کو نبی ماننے والوں کا بھی یہی حشر ہوتا جو حارث کذاب اور مغیرہ کا ہوا۔

٢٢

٦ ...... بیان بن

بیان بن سمعان تمیمی، مغیرہ بن سعید عجلی کے پیرو تھے۔ فرقہ بیانیہ جو غلاۃ روافض کی ایک شاخ ہے کرتا تھا کہ میں اسم اعظم جانتا ہوں اور اس کے ذری ہوں۔ ہزاروں انسان نما ڈنگر خوش اعتقادی کے مر ہو گئے۔ اس نے امام محمد باقر جیسی جلیل القدر ہستی میں جو عمر بن عفیف کے ہاتھ امام ممدوح کو بھیجا، لکھا گے اور ترقی کرو گے۔ تم نہیں جانتے کہ خدا کس کو نبو بیان کو اس کے اس دعوے کی وجہ سے سمجھایا گیا ہے اور آیات قرآنی کا وہ مطلب و مفہو علمائے اسلام تھے۔ اس قسم کا دعویٰ کچھ بیان پر موقو پرست بنتا اور حاملین شریعت کو خطا کار بتایا کرتا ہے اوپر لکھا گیا کہ خالد بن عبداللہ قسری حاک بھی اسی وقت گرفتار کر کے کوفہ لایا گیا تھا۔ جب مغیر حکم دیا کہ سرکنڈوں کا ایک گٹھا تھام لے۔ چونکہ وہ تھی۔ فوراً لپک کر ایک گٹھا بغل میں لے لیا۔ خالد ساتھ لشکروں کو ہزیمت دیتے ہو۔ اب یہ کام کرو کہ ہزیمت دے کر اپنے آپ کو بچالو۔ مگر جھوٹا تھا۔ لہذ کر بے نشان کر دیا گیا۔

٧ ...... ابو

ابتداء میں حضرت امام جعفر صادق کا مع اسے مارقانہ عقائد کی بناء پر اپنے ہاں سے خارج چنانچہ اخراج کے چند روز بعد یہ کہنا شروع کیا کہ میں امامت میری طرف منتقل ہو گیا ہے۔ یہ شخص اپنے تیئ کہ امام محمد باقر کی رحلت کے بعد آسمان پر بلایا گیا

٢٣

صفحہ ١٠٣

٦....... بیان بن سمعان تمیمی

بیان بن سمعان تمیمی، مغیرہ بن سعید بجلی کا معاصر تھا۔ دونوں ایک ہی قبیلے کے جنے ہوئے تھے۔ فرقہ بیانیہ جو غلاۃ روافض کی ایک شاخ ہے اسی بیان کا پیرو ہے۔ نبوت کا مدعی تھا۔ کہا کرتا تھا کہ میں اسم اعظم جانتا ہوں اور اس کے ذریعہ زہرہ کو بلا لیتا ہوں اور لشکروں کو منہزم کر سکتا ہوں۔ ہزاروں انسان نما ڈھور خوش اعتقادی کے سنہری جال میں پھنس کر اس کی نبوت کے قائل ہوگئے۔ اس نے امام محمد باقر جیسی جلیل القدر ہستی کو بھی اپنی نبوت کی دعوت دی تھی اور اپنے خط میں جو عمر بن عفیف کے ہاتھ امام ممدوح کو بھیجا، لکھا تھا کہ میری نبوت پر ایمان لاؤ تو سلامت رہو گے اور ترقی کرو گے۔ تم نہیں جانتے کہ خدا کس کو نبوت پر سرفراز فرماتا ہے۔

بیان کو اس کے اس دعوے کی وجہ سے بیان کہتے تھے کہ مجھے قرآن کا صحیح ”بیان“ سمجھایا گیا ہے اور آیات قرآنی کا وہ مطلب و مفہوم نہیں جو عوام سمجھتے ہیں۔ عوام سے اس کی مراد علمائے اسلام تھے۔ اس قسم کا دعویٰ کچھ بیان پر موقوف نہیں تھا۔ بلکہ ہر جھوٹا مدعی خود مصیب وحق پرست بنتا اور حاملین شریعت کو خطا کار بتایا کرتا ہے۔

اوپر لکھا گیا کہ خالد بن عبداللہ قسری عامل کوفہ نے مغیرہ بجلی کو نذرآتش کر دیا تھا۔ بیان بھی اسی وقت گرفتار کر کے کوفہ لایا گیا تھا۔ جب مغیرہ جل کر خاک سیاہ ہو گیا تو خالد نے بیان کو بھی حکم دیا کہ سرکنڈوں کا ایک گٹھا تھام لے۔ چونکہ وہ دیکھ چکا تھا کہ مغیرہ کو گٹھا نہ اٹھانے پر مار پڑی تھی۔ فوراً لپک کر ایک گٹھا بغل میں لے لیا۔ خالد نے کہا تمہیں دعویٰ ہے کہ تم اپنے اسم اعظم کے ساتھ لشکروں کو ہزیمت دیتے ہو۔ اب یہ کام کرو کہ مجھے اور میرے عملہ کو جو تیرے درپے قتل ہیں ہزیمت دے کر اپنے آپ کو بچالو۔ مگر جھوٹا تھا۔ لب کشائی نہ کر سکا۔ آخر مغیرہ کی طرح اس کو بھی جلا کر بے نشان کر دیا گیا۔

(تاریخ طبری ج ٨ ص ٢٤١، کتاب الفرق ص ٢٢٨)

٧....... ابو منصور عجلی

ابتداء میں حضرت امام جعفر صادق کا معتقد اور اہل غلو میں سے تھا۔ جب امام ہمام نے اسے مارقانہ عقائد کی بناء پر اپنے ہاں سے خارج کر دیا تو اس نے دعوائے امامت کی ٹھان لی۔ چنانچہ اخراج کے چند روز بعد یہ کہنا شروع کیا کہ میں امام محمد باقر کا خلیفہ و جانشین ہوں۔ ان کا درجہ امامت میری طرف منتقل ہو گیا ہے۔ یہ شخص اپنے تئیں خالق ہستیوں کا ہم شکل بتاتا تھا۔ اس کا بیان تھا کہ امام محمد باقر کی رحلت کے بعد آسمان پر بلایا گیا اور معبود برحق نے میرے سر پر ہاتھ پھیر کر فرمایا

٢٢٣

صفحہ ١٠٥

کہ بیٹا ! لوگوں کے پاس میرا پیغام پہنچا دے۔

ابو منصور اس امر کا بھی قائل تھا کہ نبوت حضرت خاتم الانبیاء ﷺ کی ذات گرامی پر ختم نہیں ہوئی۔ بلکہ رسول اور نبی قیامت تک مبعوث ہوتے رہیں گے۔ ابو منصور کی یہ بھی تعلیم تھی کہ جو کوئی امام تک پہنچ جاتا ہے اس سے تمام تکلیفات شرعیہ اٹھ جاتے ہیں اور اس کے لئے شریعت کی پابندی لازم نہیں رہتی۔ اس کا بیان تھا کہ جبرائیل امین نے پیغام رسانی میں خطا کی۔ بھیجا تو انہیں حضرت علیؓ کے پاس تھا لیکن وہ غلطی سے محمد مصطفیٰ ﷺ کو پیغام الٰہی پہنچا گئے۔ (غنیۃ الطالبین)

اس فرقے کے کسی شاعر نے کہا ہے ؎

جبریل کہ آمد زبر خالق بے چوں در پیش محمد شد و مقصود علی بود

کہا کرتا تھا کہ قیامت اور جنت و دوزخ کچھ بھی نہیں۔ یہ محض ملاؤں کے ڈھکوسلے ہیں۔ جب یوسف بن عمر ثقفی کو جو خلیفہ ہشام بن عبدالملک کی طرف سے عراق کا والی تھا ابو منصور کی تعلیمات کفریہ کا علم ہوا اور دیکھا کہ اس کی وجہ سے ہزار ہا بندگان خدا تباہ ہورہے ہیں تو اس کو گرفتار کر کے کوفہ میں سولی چڑھا دیا۔

(الفرق بین الفرق، الملل والنحل شہرستانی)

٨....... بہا فرید نیشا پوری

ابو مسلم خراسانی کے عہد دولت میں جو خلافت آل عباس کا بانی تھا، بہا فرید نام ایک شخص سیراوند نامی ایک قصبہ میں جو ضلع نیشا پور میں ہے ظاہر ہوا، نبوت و وحی کا مدعی تھا۔ دعوائے نبوت کے تھوڑی مدت بعد چین گیا اور وہاں سات سال تک مقیم رہا۔ مراجعت کے وقت دوسرے چینی صحائف کے علاوہ سبز رنگ کی ایک نہایت باریک قمیص بھی ساتھ لایا۔ اس قمیص کا کپڑا اس قدر باریک تھا کہ قمیص آدمی کی مٹھی میں آ جاتی تھی۔ چونکہ اس زمانہ تک لوگ زیادہ باریک کپڑوں سے روشناس نہ ہوئے تھے۔ بہا فرید نے اس قمیص سے معجزہ کا کام لینا چاہا۔

چین سے واپس آ کر رات کو وطن پہنچا۔ کسی سے ملاقات کئے بغیر رات کی تاریکی میں سیدھا مجوس کے مندر کا رخ کیا اور مندر پر چڑھ کر بیٹھ رہا۔ جب صبح کے وقت پجاریوں کی آمد و رفت شروع ہوئی تو آہستہ آہستہ لوگوں کے سامنے نیچے اترنا شروع کیا۔ لوگ یہ دیکھ کر حیرت زدہ ہوئے کہ سات سال تک غائب رہنے کے بعد اب یہ بلندی کی طرف سے کیونکر آ رہا ہے۔

لوگوں کو متعجب دیکھ کر کہنے لگا حیرت کی کوئی بات نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ خداوند عالم نے مجھے آسمان پر بلایا تھا۔ میں برابر سات سال تک آسمانوں کی سیر و سیاحت میں مصروف رہا۔

٢٤

وہاں مجھے جنت کی خوب سیر کرائی۔ میں نے دوزخ بھ شرف نبوت سے سرفراز فرمایا اور یہ قمیص پہنا کر زمین پ سے نازل ہو رہا ہوں۔

اس وقت مندر کے پاس ہی ایک کسان ا آسمان کی طرف سے اترتے دیکھا ہے۔ پجاریوں بہا فرید کہنے لگا کہ خلعت جو مجھے آسمانوں سے نازل ہ میں بھی ایسا باریک اور نفیس کپڑا تیار ہو سکتا ہے؟ لوگ آسمانی نزول اور عالم بالا کے معجزہ خلعت پر یقین کر ل دین کے احکام بڑے مضحکہ خیز تھے۔

بہا فرید کا قتل

بہا فرید مدت تک اغوائے خلق میں بلا مزاح نیشا پور آیا تو مسلمانوں اور مجوسیوں کا ایک مشترک وف نے دین اسلام اور دین مجوس میں رخنہ اندازیاں کر ر کے حاضر کرنے کا حکم دیا۔ بہا فرید کو اطلاع مل گئی کہ ا راہ فرار اختیار کی۔ عبداللہ بن شعبہ نے تعاقب کر ک ابو مسلم کے سامنے لا حاضر کیا۔ ابو مسلم نے دیکھتے ہی ا نبوت کا خاتمہ کر دیا۔

ابو مسلم نے حکم دیا کہ اس کے گم کردہ گان را گرفتاری سے پہلے ہی وفد کے جانے کی خبر سن کر ہو ابو مسلم کی فوج کے ہاتھ آئے۔ اس کے پیرو بہا فرید ایک مشکیں گھوڑے پر سوار ہو کر آسمان پر چڑھ گیا تھ ہو کر اپنے اعداء سے انتقام لے گا۔

٩....... اسحاق اخ

اسحاق ملک مغرب کا رہنے والا تھا۔ اہل م اس حصہ کا نام ہے جو مراکش، تیونس، الجزائر وغیرہ مم

٢٥

صفحہ ١٠٥

وہاں مجھے جنت کی خوب سیر کرائی۔ میں نے دوزخ کا بھی معائنہ کیا۔ آخر رب کردگار نے مجھے شرف نبوت سے سرفراز فرمایا اور یہ قمیص پہنا کر زمین پر اترنے کا حکم دیا۔ چنانچہ میں ابھی آسمانوں سے نازل ہو رہا ہوں۔

اس وقت مندر کے پاس ہی ایک کسان ہل چلا رہا تھا۔ اس نے کہا میں نے خود اسے آسمان کی طرف سے اترتے دیکھا ہے۔ پجاریوں نے بھی اس کے اترنے کی شہادت دی۔ بہا فرید کہنے لگا کہ خلعت جو مجھے آسمانوں سے نازل ہوا، زیب تن ہے۔ غور سے دیکھو کہ کہیں دنیا میں بھی ایسا باریک اور نفیس کپڑا تیار ہو سکتا ہے؟ لوگ اس قمیص کو دیکھ کر محو حیرت تھے۔ الغرض آسمانی نزول اور عالم بالا کے معجزۂ خلعت پر یقین کر کے ہزار ہا لوگ اس کے پیرو ہو گئے۔ اس کے دین کے احکام بڑے مضحکہ خیز تھے۔

بہا فرید کا قتل

بہا فرید مدت تک اغوائے خلق میں بلا مزاحمت مصروف رہا۔ آخر جب ابو مسلم خراسانی نیشاپور آیا تو مسلمانوں اور مجوسیوں کا ایک مشترک وفد اس کے پاس پہنچا اور شکایت کی کہ بہا فرید نے دین اسلام اور دین مجوس میں رخنہ اندازیاں کر رکھی ہیں۔ ابو مسلم نے عبداللہ بن شعبہ کو اس کے حاضر کرنے کا حکم دیا۔ بہا فرید کو اطلاع مل گئی کہ اس کی گرفتاری کا حکم ہوا ہے۔ فوراً نیشاپور سے راہ فرار اختیار کی۔ عبداللہ بن شعبہ نے تعاقب کر کے اسے کوہ بادغیس پر جالیا اور گرفتار کر کے ابو مسلم کے سامنے لا حاضر کیا۔ ابو مسلم نے دیکھتے ہی اس پر خنجر خونخوار کا وار کیا اور سر قلم کر کے اس کی نبوت کا خاتمہ کر دیا۔

ابو مسلم نے حکم دیا کہ اس کے گم کردگان راہ پیرو بھی گرفتار کر لئے جائیں۔ وہ بہا فرید کی گرفتاری سے پہلے ہی وفد کے جانے کی خبر سن کر بھاگ چکے تھے۔ اس لئے بہت تھوڑے افراد ابو مسلم کی فوج کے ہاتھ آئے۔ اس کے پیرو بہا فریدی کہلاتے ہیں۔ ان کا بیان ہے کہ بہا فرید ایک مشکیں گھوڑے پر سوار ہو کر آسمان پر چڑھ گیا تھا اور کسی مستقبل زمانہ میں آسمان سے نازل ہو کر اپنے اعداء سے انتقام لے گا۔

(آثار الباقیہ عن القرون الخالیہ، بیرونی)

٩...... اسحاق اخرس مغربی

اسحاق ملک مغرب کا رہنے والا تھا۔ اہل عرب کی اصطلاح میں مغرب شمالی افریقہ کے اس حصہ کا نام ہے جو مراکش، تیونس، الجزائر وغیرہ ممالک پر مشتمل ہے۔ اسحاق ١٣٥ھ میں اصفہان

٢٥

صفحہ ١٠٦

میں ظاہر ہوا۔ ان ایام میں ممالک اسلامیہ پر خلیفہ سفاح عباسی حکمران تھا۔ اہل سیر نے اس کی دکان آرائی کی جو کیفیت لکھی ہے اس کا خلاصہ یہ ہے کہ پہلے اس نے صحف آسمانی، قرآن، تورات، انجیل اور زبور کی تعلیم حاصل کی۔ پھر جمیع علوم رسمیہ کی تکمیل کے بعد زمانہ دراز تک مختلف زبانیں سیکھتا رہا۔ مختلف قسم کی صناعیوں اور شعبدہ بازیوں میں مہارت پیدا کی اور ہر طرح سے باکمال اور بالغ النظر ہو کر اصفہان آیا۔

دس سال تک گونگا بنا رہا

اصفہان پہنچ کر ایک عربی مدرسہ میں قیام کیا اور دس سال تک کی مدت ایک تنگ وتاریک کوٹھڑی میں گزار دی۔ یہاں اس نے اپنی زبان پر ایسی مہر سکوت لگائے رکھی کہ ہر شخص اسے گونگا یقین کرتا رہا۔ اس مدت میں کسی کو بھی وہم وگماں بھی نہ ہوا کہ یہ شخص بھی قوت گویائی سے بہرہ ور ہے یا یہ شخص علامہ دہر اور یکتائے روزگار ہے۔ اسی بناء پر یہ اخرس یعنی گونگے کے لقب سے مشہور ہو گیا۔ دس سال تک ہمیشہ اشاروں کنایوں سے اظہار مدعا کرتا رہا۔ ہر شخص سے اس کا رابطہ مودت قائم تھا۔ کوئی چھوٹا بڑا ایسا نہ ہوگا جو اس کے ساتھ اشاروں، کنایوں سے تھوڑا بہت مذاق کر کے تفریح طبع نہ کر لیتا ہو۔

اتنی صبر آزما مدت گزار لینے کے بعد آخر وہ وقت آگیا جبکہ وہ اپنی مہر سکوت توڑنے اور کشور قلب پر اپنی قابلیت اور نطق و گویائی کا سکہ بٹھائے۔ اس نے نہایت رازداری کے ساتھ ایک نہایت نفیس قسم کا روغن تیار کیا۔ اس روغن میں یہ صفت تھی کہ اگر کوئی شخص اسے چہرے پر مل لے تو اس درجہ حسن و تجلی پیدا ہو کہ شدت انوار سے اس کے نورانی طلعت کی طرف نظر اٹھا کر دیکھنا مشکل ہو۔ اسی طرح اس نے خاص قسم کی دو رنگدار شمعیں بھی تیار کرلیں۔ اس کے بعد ایک رات جب کہ تمام لوگ محو خواب تھے اس نے وہ روغن اپنے چہرے پر ملا اور شمعیں جلا کر سامنے رکھ دیں۔ ان کی روشنی میں ایسی چمک دمک اور رعنائی و دلفریبی پیدا ہوئی کہ آنکھیں خیرہ ہوتی تھیں۔ اب اس نے اس زور سے چیخنا شروع کیا کہ مدرسہ کے تمام مکین جاگ اٹھے۔ اب وہ نماز پڑھنے لگا اور ایسی خوش الحانی اور تجوید کے ساتھ قرآن پڑھنے لگا کہ بڑے بڑے قاری بھی عش عش کر اٹھے۔

جب مدرسہ کے معلمین اور طلبہ نے دیکھا کہ گونگا آواز بلند قرأت کر رہا ہے اور قوت گویائی کے ساتھ اسے اعلیٰ درجہ کی فصاحت اور فن تجوید کا کمال بھی بخشا گیا ہے اور اس پر مستزاد یہ کہ اس کا چہرہ ایسا درخشاں ہے کہ نگاہ نہیں ٹھہر سکتی تو لوگ سخت حیرت زدہ ہوئے۔ اس کا ہر طرف چرچہ ہونے لگا اور شہر میں غل مچ گیا۔ لوگ رات کی تاریکی میں جوق در جوق آ رہے تھے۔ خوش

٢٦

اعتقادوں نے ایک ہنگامہ برپا کر رکھا تھا۔ دن ساتھ لے کر اس بزرگ ہستی کا جمال مبارک دیکھنے نہایت نیاز مندانہ لہجہ میں التماس کی کہ حضور والا! حقیقت حال کا چہرہ بے نقاب فرمایا جائے تو بڑی نو

الحق جو اس وقت کا پہلے سے منتظر تھا چالیس دن پہلے فیضان الٰہی کے کچھ آثار نظر آ میرے باطن میں موجزن ہوا۔ حتیٰ کہ آج رات عاجز پر علم وعمل کی وہ وہ راہیں کھول دیں کہ مجھ سے بھی محروم رہے تھے اور وہ وہ اسرار و حقائق منکشف ہ ممنوع ہے۔

البتہ مختصراً اتنا کہنے کا مجاز ہوں کہ آج پاس آئے۔ مجھے اپنے ہاتھ سے غسل دیا اور پھر کہنے سن کر گھبرایا کہ واللہ اعلم! یہ کیا ابتلاء ہے۔ ایک فرشتہ فداک باسم الله الازلی ‘‘ (اے اللہ کے نبی بسم دیا اور دل میں بسم اللہ الازلی کا ورد کرتا رہا۔ فرشتے تو معلوم نہیں کہ وہ کیا چیز تھی۔ البتہ اتنا جانتا ہوں خوشبودار، برف سے زیادہ ٹھنڈی تھی۔ اس نعمت عظم گویا ہو گئی اور میں بے اختیار کلمہ شہادت پڑھنے لگا یہ سن کر فرشتوں نے کہا محمد (ﷺ) کی دوستو! تم یہ کیسی بات کہہ رہے ہو۔ مجھے اس سے سخت جاتا ہوں۔ فرشتے کہنے لگے خدائے قدوس نے تمہار نے کہا کہ باری تعالیٰ نے سیدنا محمد مصطفیٰ ﷺ کو خ نبوت کا سلسلہ ہمیشہ کے لئے بند کر دیا۔ اب میرا ہے۔ مگر محمد (ﷺ) کی نبوت مستقل حیثیت رکھتی ہ کہ مرزائیوں نے انقطاع نبوت کے بعد ظلی بروز ورنہ قرآن وحدیث اور اقوال سلف صالحین میں اس

٢٧

صفحہ ١٠٧

اعتقادوں نے ایک ہنگامہ برپا کر رکھا تھا۔ دن نکلنے پر شہر کے قاضی صاحب چند رؤسائے شہر کو ساتھ لے کر اس بزرگ ہستی کا جمال مبارک دیکھنے کے لئے مدرسہ میں آئے۔ قاضی صاحب نے نہایت نیاز مندانہ لہجہ میں التماس کی کہ حضور والا! سارا شہر اس قدرت خداوندی پر متحیر ہے۔ اگر حقیقت حال کا چہرہ بے نقاب فرمایا جائے تو بڑی نوازش ہوگی۔

اسحاق جو اس وقت کا پہلے سے منتظر تھا نہایت ریا کارانہ لہجہ میں بولا کہ آج سے کوئی چالیس دن پہلے فیضان الٰہی کے کچھ آثار نظر آنے لگے تھے۔ دن بدن القائے ربانی سرچشمہ میرے باطن میں موجزن ہوا۔ حتیٰ کہ آج رات خدائے قدوس نے اپنے فضل مخصوص سے اس عاجز پر علم و عمل کی وہ وہ راہیں کھول دیں کہ مجھ سے پہلے لاکھوں رہروان منزل اس کے تصور سے بھی محروم رہے تھے اور وہ وہ اسرار و حقائق منکشف فرمائے کہ جن کا زبان پر لانا مذہب طریقت میں ممنوع ہے۔

البتہ مختصراً اتنا کہنے کا مجاز ہوں کہ آج رات دو فرشتے حوض کوثر کا پانی لے کر میرے پاس آئے۔ مجھے اپنے ہاتھ سے غسل دیا اور پھر کہنے لگے ”السلام عليك يا نبي الله“ میں یہ سن کر گھبرایا کہ واللہ اعلم! یہ کیا ابتلاء ہے۔ ایک فرشتہ بزبان فصیح یوں گویا ہوا: ”يا نبي الله افتح فاك باسم الله الازلى“ (اے اللہ کے نبی بسم اللہ پڑھ کر ذرا منہ تو کھولئے) میں نے منہ کھول دیا اور دل میں بسم اللہ الازلی کا ورد کرتا رہا۔ فرشتے نے ایک سفید سی چیز میرے منہ میں رکھ دی۔ یہ تو معلوم نہیں کہ وہ کیا چیز تھی۔ البتہ اتنا جانتا ہوں کہ شہد سے زیادہ شیریں، کستوری سے زیادہ خوشبودار، برف سے زیادہ ٹھنڈی تھی۔ اس نعمت خداوندی کا حلق سے نیچے اترنا تھا کہ میری زبان گویا ہوگئی اور میں بے اختیار کلمہ شہادت پڑھنے لگا۔

یہ سن کر فرشتوں نے کہا محمد (ﷺ) کی طرح تم بھی رسول اللہ ہو۔ میں نے کہا میرے دوستو! تم یہ کیسی بات کہہ رہے ہو۔ مجھے اس سے سخت حیرت ہے۔ بلکہ میں تو عرق انفعال میں ڈوبا جاتا ہوں۔ فرشتے کہنے لگے خدائے قدوس نے تمہیں اس قوم کے لئے نبی مبعوث فرمایا ہے۔ میں نے کہا کہ باری تعالیٰ نے سیدنا محمد مصطفیٰ ﷺ کو خاتم الانبیاء قرار دیا اور آپ کی ذات اقدس پر نبوت کا سلسلہ ہمیشہ کے لئے بند کر دیا۔ اب میری نبوت کیا معنی رکھتی ہے؟ کہنے لگے درست ہے۔ مگر محمد (ﷺ) کی نبوت مستقل حیثیت رکھتی ہے اور تمہاری بالتبع اور ظلی ہے۔ معلوم ہوتا ہے کہ مرزائیوں نے انقطاع نبوت کے بعد ظلی بروزی نبوت کا ڈھکوسلہ اسی اسحاق سے اڑایا ہے۔ ورنہ قرآن و حدیث اور اقوال سلف صالحین میں اس مضحکہ خیز نبوت کا کہیں وجود نہیں۔

٢٧

صفحہ ١٠٨

اسحاق کے معجزات باہرہ

اس کے بعد اسحق نے حاضرین سے بیان کیا کہ جب ملائکہ نے مجھے ظلی نبوت کا منصب تفویض فرمایا تو میں نے اس سے معذرت کی اور کہا دوستو! میرے لئے تو نبوت کا دعویٰ بہت سی مشکلات میں گھرا ہوا ہے۔ کیونکہ بوجہ معجزہ نہ رکھنے کے کوئی شخص میری تصدیق نہ کرے گا۔ فرشتے کہنے لگے تمہارے معجزے یہ ہیں۔ جتنی آسمانی کتابیں انبیاء پر نازل ہوئیں تمہیں ان سب کا علم دیا گیا۔ مزید براں کئی زبانیں اور متعدد رسم الخط تمہیں عطاء کئے۔ اس کے بعد فرشتے کہنے لگے کہ قرآن پڑھو۔ میں نے قرآن اس ترتیب سے پڑھ کر سنا دیا۔ جس ترتیب سے نازل ہوا تھا۔ پھر انجیل پڑھائی وہ بھی سنا دی۔ تورات، زبور اور دوسرے آسمانی صحیفے پڑھنے کو کہا تو وہ بھی سنا دیئے۔ ملائکہ نے صحف آسمانی کی قرأت سن کر فرمایا: ”قم فانذر الناس“ (اب کمر ہمت باندھ لو اور غضب الٰہی سے ڈراؤ) یہ کہہ کر فرشتے رخصت ہو گئے اور میں جھٹ نماز اور ذکر الٰہی میں مصروف ہو گیا۔

زود اعتقادوں کی ہلاکت آفریں خوش اعتقادی

عوام کی عادت ہے کہ جو تہی نفس امارہ کے کسی پجاری نے اپنے دجالی تقدس کی ڈفلی بجانی شروع کی اس پر لوگ پروانہ وار گرنے لگے۔ اسحق کی تقریر سن کر عوام کا پائے ایمان ڈگمگا گیا اور سینکڑوں ہزاروں حرماں نصیب نقد ایمان اس کی نظر کر بیٹھے اور جن ہدایت یافتہ لوگوں کا دل نور ایمان سے روشن تھا وہ بیزار ہو کر چلے گئے۔ حاملین شریعت نے گم کردہ گان راہ کو بہتیرا سمجھایا کہ اخرص دجال کذاب اور رہزن دین و ایمان ہے۔ لیکن عقیدت مندوں کی خوش اعتقادی میں کچھ فرق نہ آیا۔ بلکہ جوں جوں علمائے امت انہیں راہ راست پر لانے کی کوشش فرماتے تھے تو ان کا جنون خوش اعتقادی اور زیادہ ترقی کرتا تھا۔

عساکر خلافت سے معرکہ آرائیاں

تھوڑی مدت میں اسحق کی قوت اور جمعیت یہاں تک ترقی کر گئی کہ اس کے دل میں ملک گیری کی ہوس پیدا ہوئی۔ چنانچہ اس نے خلیفہ ابو جعفر منصور عباسی کے عمال کو مقہور و مغلوب کر کے بصرہ، عمان اور ان کے توابع پر قبضہ کر لیا۔ یہ معلوم کر کے خلیفہ منصور نے لشکر کشی کا حکم دیا۔ عساکر خلافت یلغار کرتی ہوئی پہنچیں اور رزم و پیکار کا سلسلہ شروع کیا۔ بڑے بڑے معرکے ہوئے۔ آخر سپاہ خلافت مظفر و منصور ہوئی اور اسحق مارا گیا۔ کہتے ہیں کہ اس کے پیرو اب تک عمان

٢٨

٩

میں پائے جاتے ہیں۔

(کتاب الاذکیاء لابن جوزی و کتاب الثمار و کشف الا

١٠......است

جن ایام میں اسلامی سیاسیات کی استادیس نامی ایک مدعی نبوت اطراف خراسا اس کثرت سے اس کے دام تزویر میں پھنسے کہ تک پہنچ گئی۔ اتنی بڑی جمعیت دیکھ کر اس کے دل خراسان کے اکثر علاقے دبا بیٹھا۔ یہ دیکھ کر استادیس سے جا بھڑا۔ مگر اس کی قوت بہت بالکل غارت کر دیا اور خود اشجع بھی میدان جانستا

ہاشم کے مارے جانے کے بعد خلیفہ یا تو وہ مارے گئے یا سرکوب ہو کر واپس آئے۔ کیا ہے تو اس وقت خلیفہ منصور بردان کے مقام پامالیوں پر خلیفہ سخت پریشان ہوا۔ آخر خازم بن اس غرض سے ولی عہد سلطنت مہدی کے پا استادیس کے مقابلہ پر جائے۔ مہدی نے اس سے روانہ کیا۔ خازم کی اعانت کے لئے اور بھی ایک اور مشہور سپہ سالار بھی حازم کے ماتحت روا

آخر دونوں لشکر آمنے سامنے ہو عساکر خلافت نے طاغوتیوں کو مار مار کر جنگ میں ہر طرف مرتدین کی لاشوں کے انبار آدمی کام آئے اور چودہ ہزار قید کر لئے گئے بھاگا اور وہاں اس طرح جا چھپا جس طرح ہے۔ خازم نے جا کر پہاڑ کا محاصرہ کر لیا۔ ا بہت سی کمک بھیج دی۔ ابو عون اپنی فوج لے کر ا

صفحہ ١٠٩

میں پائے جاتے ہیں۔

(کتاب الاذکیاء لابن جوزی و کتاب المختار و کشف الاسرار للعلامہ عبدالرحمن بن ابوبکر الدمشقی المعروف بالجوبریتی)

١٠...... استادسیس خراسانی

جن ایام میں اسلامی سیاسیات کی باگ ڈور خلیفہ ابو جعفر منصور عباسی کے ہاتھ میں تھی استادسیس نامی ایک مدعی نبوت اطراف خراسان میں ظاہر ہوا۔ دعوئی نبوت کے بعد عامۃ الناس اس کثرت سے اس کے دام تزویر میں پھنسے کہ چند ہی سال میں اس کے پیروؤں کی تعداد تین لاکھ تک پہنچ گئی۔ اتنی بڑی جمعیت دیکھ کر اس کے دل میں استعمار اور ملک گیری کی ہوس پیدا ہوئی اور وہ خراسان کے اکثر علاقے دبا بیٹھا۔ یہ دیکھ کر مرو روز کے عامل اہشم نے ایک لشکر مرتب کیا اور استادسیس سے جا بھڑا۔ مگر اس کی قوت بہت بڑھی ہوئی تھی۔ اس نے اہشم کے لشکر کا بیشتر حصہ بالکل غارت کر دیا اور خود اہشم بھی میدان جانستان کی نذر ہو گیا۔

اہشم کے مارے جانے کے بعد خلیفہ نے اور بھی سپہ سالار فوجیں دے کر روانہ کئے۔ مگر یا تو وہ مارے گئے یا سرکوب ہو کر واپس آئے۔ جب استادسیس نے خلیفہ کے آخری سپہ سالار کو پسپا کیا ہے تو اس وقت خلیفہ منصور بروان کے مقام پر خیمہ زن تھا۔ عساکر خلافت کی پیہم ہزیمتوں اور پامالیوں پر خلیفہ سخت پریشان ہوا۔ آخر خازم بن خزیمہ نامی ایک نہایت جنگ آزمودہ فوجی سردار کو اس غرض سے ولی عہد سلطنت مہدی کے پاس نیشا پور بھیجا کہ اس کی صوابدید کے بموجب استادسیس کے مقابلہ پر جائے۔ مہدی نے اسے تمام نشیب و فراز سمجھا کر چالیس ہزار کی جمعیت سے روانہ کیا۔ خازم کی اعانت کے لئے اور بھی آزمودہ کار افسر روانہ کئے گئے۔ بکار بن مسلم عقیلی ایک اور مشہور سپہ سالار بھی حازم کے ماتحت روانہ کیا گیا۔

آخر دونوں لشکر آمنے سامنے ہوئے۔ کئی دن تک قتل و خونریزی کا بازار گرم رہا۔ عساکر خلافت نے طاغوتیوں کو مار مار کر ان کے پرخچے اڑا دیئے اور اتنی تلوار چلائی کہ میدان جنگ میں ہر طرف مرتدین کی لاشوں کے انبار لگ گئے۔ ان محاربات میں سیس کے قریباً سترہ ہزار آدمی کام آئے اور چودہ ہزار قید کر لئے گئے۔ سیس بقیۃ السیف تیس ہزار فوج کو پہاڑ کی طرف لے بھاگا اور وہاں اس طرح جا چھپا جس طرح خرگوش شکاریوں کے خوف سے کھیتوں میں جا چھپتا ہے۔ خازم نے جا کر پہاڑ کا محاصرہ کر لیا۔ اتنے میں شاہزادہ مہدی نے ابوعون کی قیادت میں بہت سی کمک بھیج دی۔ ابوعون اپنی فوج لے کر اس وقت پہنچا جب استادسیس محصور ہو چکا تھا۔

٢٩

صفحہ ١١١

سیس کا قتل

سیس نے محاصرہ کی شدت سے تنگ آکر ہتھیار ڈال دیئے اور اپنے تئیں بلا شرط خازم کے سپرد کر دیا۔ استاد سیس اپنے بیٹوں سمیت گرفتار ہو گیا۔ سیس تو موت کے گھاٹ اتارا گیا۔ معلوم نہیں اس کے بیٹوں کا کیا حشر ہوا۔ خازم نے فی الفور مہدی کے پاس مژدۂ فتح لکھ بھیجا۔ جونہی یہ بہجت افزاء خبر مہدی کے پاس پہنچی اس نے اپنے باپ خلیفہ منصور کے پاس فتح ونصرت کا تہنیت نامہ لکھا۔ یاد رہے کہ یہی مہدی خلیفہ ہارون رشید کا باپ تھا۔ جو منصور کی رحلت پر خلیفۃ المسلمین ہوا۔ کہتے ہیں کہ استاد سیس خلیفہ مامون کا نانا یعنی مراجل مادر مامون کا باپ تھا اور اس کا بیٹا غالب جس نے فضل بن سہل برمکی کو قتل کیا تھا خلیفہ مامون (بن ہارون رشید) کا ماموں تھا۔

(تاریخ ابن خلدون، تاریخ ابن جریر طبری، تاریخ کامل ابن اثیر)

١١...... حکیم مقنع خراسانی

حکیم مقنع کے نام میں اختلاف ہے۔ اکثر مؤرخین نے عطاء لکھا ہے اور بعض نے ہشام یا ہاشم بتایا ہے۔ حکیم کے لقب سے مشہور تھا۔ مرو کے پاس ایک گاؤں میں جس کو ”کازہ کیمن وات“ کہتے تھے، ایک غریب دھوبی کے گھر پیدا ہوا۔ اس کی پیدائش کے وقت کسی کو کیا خبر تھی کہ ایک دن یہی غریب دھوبی کا لڑکا تاریخ عالم کے صفحات پر شہرت دوام کا خلعت حاصل کرے گا۔ نہایت طباع و ذہین تھا۔ اپنا آبائی پیشہ چھوڑ کر علم وفضل کی طرف متوجہ ہوا۔

مقنع نے اپنی تمام بے سرو سامانیوں کے باوجود علوم نظریہ میں وہ درجہ حاصل کیا کہ نواح خراسان میں کوئی شخص اس کی ہمسری کا دعویٰ نہیں کر سکتا تھا۔ خصوصاً علم بلاغت، حکمت وفلسفہ، شعبدہ وحیل، طلسمات وسحر اور نیرنجات میں سرآمد روزگار تھا۔ اس نے اپنی جودت طبع سے عجیب وغریب ایجاد کیں اور صنائع وبدائع کے ذریعہ سے بہت جلد آسمان شہرت پر چمکنے لگا۔ لیکن اس کی خلقت میں ایک ایسا عیب تھا جس کی وجہ سے اس کی مقبولیت میں گونہ فرق پڑتا تھا۔ وہ یہ کہ نہایت کریہہ المنظر، پست قامت، حقیر اور کم رو شخص تھا اور اس پر طرہ یہ کہ واحد العین تھا۔ یعنی اس کی ایک آنکھ کانی تھی۔ جسے دیکھ کر دلوں میں اس کی طرف سے وحشت ونفرت پیدا ہوتی تھی۔

مقنع اس عیب کے چھپانے کے لئے ایک چمکدار مصنوعی چہرہ اپنے منہ پر چڑھائے رکھتا تھا اور بغیر اس نقاب کے کسی کو اپنی شکل نہیں دکھاتا تھا۔ اس تدبیر سے اس نے لوگوں کی نفرت کو گرویدگی سے بدل دیا اور اسی نقاب کی وجہ سے لوگوں میں مقنع (نقاب پوش) مشہور ہو گیا۔ چہرہ ٣٠

چھپائے رکھنے کی اصلی بناء تو یہ تھی۔ لیکن جب کوئی کہہ دیتا کہ میں نے اپنی شکل وصورت اس لئے چھپا تاب نہیں لاسکتے اور اگر میں اپنا چہرہ کھول دوں تو سو

دعویٰ خدائی

چونکہ دینی تعلیم سے بالکل بے بہرہ تھا ا کے اغوائت کی بنیادیں فلسفیوں کے خیالات پر مبنی تھ جس کی بناء پر الوہیت کا دعویٰ کیا اور کہا کہ حق تعالیٰ ن خدائی مسند صرف اپنے لئے خالی نہ رکھی۔ بلکہ تمام ا کہ خدائے قدوس سب سے پہلے آدم علیہ السلام کی ش ان کے سجدہ کرنے کا حکم ہوا۔ ورنہ کیونکر جائز اور ح ہوتے اور ابلیس انکار کی وجہ سے مستوجب عذاب ہ

لیکن یہ زعم بالکل باطل ہے۔ کیونکہ م تھے بلکہ محض جہت سجدہ تھے۔ مقنع کہتا تھا کہ آدم عل کے جسد میں حلول کیا۔ پھر یکے بعد دیگرے ذات ب رہی۔ انجام کار خدائے برتر صاحب الدولۃ ابو مسلم خ العزت اسی شان سے میرے پیکر میں جلوہ فرما ہے ا بشر پر لازم ہے کہ مجھے سجدہ کرے اور میری پرستش ک ضلالت پسند حرماں نصیب اس کے دعوائے الوہیت لگے۔ یہ شخص ابو مسلم خراسانی کو جسے خلیفہ ابو جعفر منص کے گھاٹ اتار دیا تھا، حضرت سید الاولین والآخر

یہ تو اس کی زندقہ نوازی کا حال تھا۔ اس ک نے تمام محرمات کو مباح کر دیا۔ اس کے پیرو بے غل و تھے۔ اس کے مذہب میں مردار اور خنزیر حلال تھا ا عبادتیں برطرف کر دیں۔ اس کے پیرو مسجدیں بنا کوئی شخص وہاں نماز نہیں پڑھتا۔ لیکن یہاں تک ح مسلمان ان کی مسجد میں چلا جائے تو مسجد کا مؤذن ا ٣١

صفحہ ١١١

چھپائے رکھنے کی اصلی بناء تو یہ تھی۔ لیکن جب کوئی شخص اس سے نقاب پوشی کی وجہ دریافت کرتا تو کہہ دیتا کہ میں نے اپنی شکل وصورت اس لئے تبدیل کر رکھی ہے کہ لوگ میری روئیت ضیا پاش کی تاب نہیں لا سکتے اور اگر میں اپنا چہرہ کھول دوں تو میرا نور دنیا و مافیہا کو جلا کر خاکستر کر دے۔

دعویٰ خدائی

چونکہ دینی تعلیم سے بالکل بے بہرہ تھا اور علوم نظریہ میں کمال حاصل تھا۔ اس لئے اس کے اغوائت کی بنیادیں فلسفیوں کے خیالات پر مبنی تھیں۔ اس کا بدترین مذہبی اصول مسئلہ تناسخ تھا۔ جس کی بناء پر الوہیت کا دعویٰ کیا اور کہا کہ حق تعالیٰ میرے پیکر میں ظاہر ہوا ہے۔ لیکن مقنع نے خدائی مسند صرف اپنے لئے خالی نہ رکھی۔ بلکہ تمام انبیاء علیہم السلام کو مظہر خداوندی قرار دیا اور کہا کہ خدائے قدوس سب سے پہلے آدم علیہ السلام کی صورت میں جلوہ گر ہوا اور یہی وجہ تھی کہ ملائکہ کو ان کے سجدہ کرنے کا حکم ہوا۔ ورنہ کیونکر جائز اور ممکن تھا کہ ملائکہ غیر اللہ کے سجدے کے مامور ہوتے اور ابلیس انکار کی وجہ سے مستوجب عذاب اور مردود ابدی ہو جاتا۔

لیکن یہ زعم بالکل باطل ہے۔ کیونکہ بناء برتحقیق آدم علیہ السلام فی الحقیقت مسجود نہیں تھے بلکہ محض جہت سجدہ تھے۔ مقنع کہتا تھا کہ آدم علیہ السلام کے بعد حق تعالیٰ نے نوح علیہ السلام کے جسد میں حلول کیا۔ پھر یکے بعد دیگرے ذات خداوندی تمام انبیاء کی صورتوں میں ظاہر ہوتی رہی۔ انجام کار خدائے برتر صاحب الدولہ ابو مسلم خراسانی کی صورت میں جلوہ گر ہوا اور اب رب العزت اسی شان سے میرے پیکر میں جلوہ فرما ہے۔ میں اس زمانہ کا اوتار ہوں۔ اس لئے ہر فرد بشر پر لازم ہے کہ مجھے سجدہ کرے اور میری پرستش کیا کرے۔ تاکہ فلاح ابدی کا مستحق ہو۔ ہزار ہا ضلالت پسند حرماں نصیب اس کے دعوائے الوہیت کو سچ جان کر اس کے سامنے سر بسجود ہونے لگے۔ یہ شخص ابو مسلم خراسانی کو جسے خلیفہ ابو جعفر منصور عباسی نے اس کی غداریوں کی بناء پر موت کے گھاٹ اتار دیا تھا۔ حضرت سیدالاولین والآخرین ﷺ سے (معاذ اللہ) افضل بتاتا تھا۔

یہ تو اس کی زندقہ نوازی کا حال تھا۔ اب اس کی تعلیمات کا اخلاقی پہلو ملاحظہ ہو۔ اس نے تمام محرمات کو مباح کر دیا۔ اس کے پیرو بے تکلف پرائی عورتوں سے ناجائز تمتع حاصل کرتے تھے۔ اس کے مذہب میں مردار اور خنزیر حلال تھا۔ مقنع نے انجام کار صوم وصلوٰۃ اور تمام دوسری عبادتیں برطرف کر دیں۔ اس کے پیرو مسجدیں بنواتے اور ان میں مؤذن نوکر رکھتے ہیں۔ لیکن کوئی شخص وہاں نماز نہیں پڑھتا۔ لیکن یہاں تک بیان کیا گیا ہے کہ اگر کوئی بھولا بھٹکا پردیسی مسلمان ان کی مسجد میں چلا جائے تو مسجد کا مؤذن اور مقنع کے دوسرے سیاہ دل پیرو موقع ملنے پر

٣١

صفحہ ١١٣

اس کے خون سے ہاتھ رنگین کر کے اس کی نعش کو مستور کر دیتے ہیں۔ لیکن چونکہ مسلم حکمرانوں کی طرف سے ان پر بڑی بڑی سختیاں ہوئیں۔ اس لئے اب وہ ایسا کرنے کی جرأت نہیں کرتے۔

مقنع کا ہوس استعمار اور قلعوں کی تعمیر

جب مقنع کا حلقہ مریدین بہت وسیع ہو گیا تو اس نے سیاسی اقتدار حاصل کرنے کی تدبیریں شروع کیں۔ چنانچہ اس غرض کے لئے اس نے دو زبردست قلعے تعمیر کرائے۔ ایک کو وثیق کہتے تھے اور دوسرے کا نام سیام تھا۔ قلعہ سیام پہاڑ میں واقع تھا اور مضبوطی میں اپنا جواب نہیں رکھتا تھا۔ اس کی فصیل کا اندازہ اس سے ہو سکتا ہے کہ سو سے زیادہ بڑی اینٹیں جو اس زمانہ میں قلعوں کی تعمیر کے لئے تیار کی جاتی تھیں دیواروں کی عرض میں لگی تھیں۔ اس کے علاوہ قلعہ کے ارد گرد ایک نہایت عریض خندق تھی اور قلعہ کی قوت مدافعت کا یہ عالم تھا کہ اس میں کئی سال کا سامان رسد اور اسلحہ جنگ کا ایک بہت بڑا ذخیرہ ہر وقت مہیا رہتا تھا۔ مقنع نے اور بھی چھوٹے چھوٹے قلعے تعمیر کرائے۔

تعمیر قلعہ جات کے بعد مقنع نے ان میں مضبوطی سے قدم جمائے اور نہایت بیباکی سے خراسان کے مختلف علاقوں میں اہل ایمان کے خلاف دھما چوکڑی مچادی۔ ان ایام میں بخارا اور سغد میں باغیوں اور دوسرے شوریدہ سروں کی ایک جماعت پیدا ہو چکی تھی۔ جن کو مبیضہ کہتے تھے۔ گو ان لوگوں کو مقنع کی خانہ ساز خدائی سے تو کوئی سروکار نہ تھا۔ لیکن اپنے سیاسی مصالح کے پیش نظر مقنع کے ساتھ ہو گئے تھے۔ علاوہ ترکوں سے بھی مقنع کو بڑی تقویت پہنچی جو ہنوز دائرہ اسلام میں داخل نہیں ہوئے تھے۔ بلکہ اسلام کے بدترین دشمن تھے اور اکثر اوقات سرحدی علاقوں میں تخت و تاراج کر کے بھاگ جایا کرتے تھے۔ اب مقنع اور اس کی اتحادی جماعتوں کا یہ معمول ہو گیا کہ جہاں موقع پایا مسلمانوں پر حملہ کر کے قتل وغارت کا میدان گرم کیا اور رفو چکر ہو گئے۔

یہ حالات دیکھ کر خلیفہ مہدی عباسی نے ابونعمان جنید اور لیث بن نصر کو فوج دے کر پیروان مقنع کی سرکوبی کے لئے بھیجا۔ لیکن اسلامی لشکر کو ہزیمت ہوئی۔ لیث کا بھائی بن نصر اور اس کا برادر زاد حسان اس معرکہ میں کام آئے۔ جب خلیفہ مہدی کو اس ہزیمت و ناکامی کا علم ہوا تو اس نے ان کی کمک پر ہوشیار سپہ سالار جبریل بن یحییٰ کو روانہ کیا اور باغیان بخارا و سغد کے مقابلہ میں اس کے بھائی یزید بن یحییٰ کو مامور فرمایا۔ چار مہینہ تک رزم و پیکار کا بازار گرم رہا۔ بالآخر لشکر خلافت مظفر و منصور ہوا اور اس نے بنوک شمشیر قلعہ پر قبضہ کر لیا۔ مقنع کے سات سو پیرو تیغ بیدریغ کا لقمہ بنے۔ ہزیمت خوردہ اشقیاء میں سے جو زندہ بچے وہ بھاگ کر قلعہ سیام میں چلے گئے جہاں خود مقنع موجود تھا۔ ٣٢

مگر جبریل نے بھی ان کی جان نہ چھو صاعقہ بجلی کی طرح قلعہ سیام پر جا کڑکا اور اس وقت پیچھے۔ اب خلیفہ نے ایک اور سپہ سالار معاذ بن سرداروں کے ساتھ مقنع کی سرکوبی کے لئے روانہ ک بن عمرو حریشی تھا۔ اس کے بعد ایک اور مشہور سپہ سالا جیش موحدین میں آ شامل ہوا۔ ان دونوں نے اگل پر حملہ کیا۔ مقنع کی جمعیت پہلے ہی حملے میں ٹوٹ بھاگ نکلے اور سینکڑوں کھیت رہے۔ ہزیمت خوردو یہ دیکھ کر مقنع نے فوراً قلعہ بندی کی اور الفور محاصرہ ڈال دیا۔ لیکن اس کے بعد خود معاذ بن سعید نے خلیفہ مہدی کے پاس معاذ کی شکایت لکھ کے مقابلہ پر مامور فرمایا جائے تو میں اس کا فوراً درخواست منظور کر لی۔ چنانچہ سعید بن عمرو حریشی لیکن معاذ نے پھر بھی بے نفسی سے کام لیا اور اسلا کی مدد پر بھیج دیا۔ کاش ہمارے مسلم رہنما معاذ کی م کو قربان کرنے کی عادت کر لیں۔

ملتان سے دس ہزار کھالوں کی روانگی

سعید حریشی مدت تک اس کوشش میں کے فصیل قلعہ تک پہنچے۔ مگر کوئی تدبیر ساز گار نہ ہ گئے۔ لیکن یہاں ہنوز روز اوّل تھا۔ اس مدت برداشت کرنا پڑا۔ کیونکہ موسمی خرابیوں کے علاو اسلامی لشکر پر جو کھلے میدان میں محاصرہ کئے پڑ کرتے رہتے تھے۔ لیکن باایں ہمہ مشکلات سع اولو العزمی کے ساتھ جاری رکھا۔ اب اس نے خ تا کہ ان کو خندق کے دونوں سروں پر رکھ کر پار ج چوڑائی مسلمان انجینئروں کے اندازہ سے زیادہ ت

صفحہ ١١٣

مگر جبریل نے بھی ان کی جان نہ چھوڑی۔ اعداء کا تعاقب کرتا اور بھگوڑوں کو مارتا کاٹتا بجلی کی طرح قلعہ سیام پر جا کڑکا اور اس وقت تک ان کا پیچھا نہ چھوڑا جب تک وہ قلعہ میں نہ جا چھپے۔ اب خلیفہ نے ایک اور سپہ سالار معاذ بن مسلم کو ستر ہزار فوج اور چند آزمودہ کار فوجی سرداروں کے ساتھ مقنع کی سرکوبی کے لئے روانہ فرمایا۔ معاذ کے مقدمۃ الجیش کا افسر اعلیٰ سعید بن عمرو حریشی تھا۔ اس کے بعد ایک اور مشہور سپہ سالار عقبہ بن مسلم بھی ایک بڑی جمعیت کے ساتھ جیش موحدین میں شامل ہوا۔ ان دونوں نے اتفاق رائے سے طواویس کے مقام پر مقنع کے لشکر پر حملہ کیا۔ مقنع کی جمعیت پہلے ہی حملے میں ٹوٹ گئی اور اس کے جنگ آور سخت بے ترتیبی سے بھاگ نکلے اور سینکڑوں کھیت رہے۔ ہزیمت خوردہ فوج نے قلعہ سیام میں مقنع کے پاس جا دم لیا۔ یہ دیکھ کر مقنع نے فوراً قلعہ بندی کی اور تمام مورچوں کو مضبوط کیا۔ معاذ بن مسلم نے فی الفور محاصرہ ڈال دیا۔ لیکن اس کے بعد خود معاذ بن مسلم اور سعید بن عمرو حریشی میں کشیدگی ہو گئی۔ سعید نے خلیفہ مہدی کے پاس معاذ کی شکایت لکھ بھیجی اور یہ بھی درخواست کی کہ اگر مجھے تنہا مقنع کے مقابلہ پر مامور فرمایا جائے تو میں اس کا فوراً قلع قمع کر سکتا ہوں۔ خلیفہ مہدی نے اس کی درخواست منظور کر لی۔ چنانچہ سعید بن عمرو حریشی بلا مشارکت معاذ مقنع کے مقابلہ پر مستعد ہوا۔ لیکن معاذ نے پھر بھی بے نفسی سے کام لیا اور اسلامی عزت و ناموس کا لحاظ کر کے اپنے بیٹے کو سعید کی مدد پر بھیج دیا۔ کاش ہمارے مسلم رہنما معاذ کی مثال سے سبق آموز ہو کر اسلامی مفاد پر ذاتیات کو قربان کرنے کی عادت کر لیں۔

ملتان سے دس ہزار کھالوں کی روانگی

سعید حریشی مدت تک اس کوشش میں منہمک رہا کہ اسلامی لشکر کسی طرح خندق کو عبور کر کے فصیل قلعہ تک پہنچے۔ مگر کوئی تدبیر سازگار نہ ہوئی۔ مساعی تسخیر کو شروع ہوئے متعدد سال گزر گئے۔ لیکن یہاں ہنوز روز اوّل تھا۔ اس مدت میں اسلامی لشکر کو بہت سا جانی اور مالی نقصان برداشت کرنا پڑا۔ کیونکہ موسمی خرابیوں کے علاوہ سب سے بڑی پریشانی یہ تھی کہ مقنع کے پیرو اسلامی لشکر پر جو کھلے میدان میں محاصرہ کئے پڑا تھا۔ ہر وقت قلعہ سے تیر چلاتے اور سنگ باری کرتے رہتے تھے۔ لیکن باایں ہمہ مشکلات سعید نے ہمت نہ ہاری اور اپنی جدوجہد کو نہایت اولوالعزمی کے ساتھ جاری رکھا۔ اب اس نے لوہے اور لکڑی کی بہت لمبی لمبی سیڑھیاں بنوائیں تاکہ ان کو خندق کے دونوں سروں پر رکھ کر پار ہو جائیں۔ لیکن کامیابی نہ ہوئی۔ کیونکہ خندق کی چوڑائی مسلمان انجینئروں کے اندازہ سے زیادہ تھی۔

٣٣٣

صفحہ ١١٥

اب سعید نے خلیفہ مہدی کو لکھا کہ بہت جتن کئے۔ لیکن قلعہ تک رسائی نہیں ہوسکی۔ اب اس کے سوا کوئی چارہ کار نہیں کہ کسی طرح خندق کو پاٹ دیا جائے۔ ان ایام میں متحدہ ہندوستان میں سندھ اور پنجاب کا جنوبی حصہ خلافت بغداد کے زیر نگین تھا۔ خلیفہ نے اپنے عامل سندھ کو لکھا کہ گائے بیل اور بھینس کی جس قدر کھالیں فراہم ہوسکیں جلد ان کے بھجوانے کا انتظام کیا جائے۔ شاید اس زمانہ میں یا اسلامی قلمرو میں بوریاں نہ ملتی ہوں گی۔ ورنہ ریت بھرنے کے لئے کھالوں سے زیادہ کارآمد تھیں۔ فرمان خلافت کے بموجب ملتان سے دس ہزار کھالیں بھیج دی گئیں۔ سعید نے ان کھالوں میں ریت بھروا بھروا کر ان کو خندق میں ڈلوانا شروع کیا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ تھوڑی ہی مدت میں خندق پٹ گئی اور محاصرین قلعہ کی دیواروں کے پاس پہنچ گئے۔

اب حصار شکن آلات سے کام لیا جانے لگا اور ساتھ ہی قلعہ پر حملے شروع کر دیئے گئے۔ مقنع کے پیروؤں نے یہ حالت دیکھی تو عالم یاس میں گھبرا کر مخفی طور پر سعید سے امان طلب کی۔ سعید نے امان دے دی۔ چنانچہ تیس ہزار آدمی قلعہ سے باہر نکل آئے۔ اب مقنع کے پاس صرف دو ہزار جنگ آور باقی رہ گئے۔

مقنع کی خدائی کا خاتمہ

جب سعید نے محاصرے میں زیادہ سختی کی تو مقنع نے اپنی ہلاکت کا یقین کر کے اپنے اہل و عیال کو جمع کیا اور بقول بعض مورخین جام زہر پلا پلا کر سب کو نذر اجل کر دیا اور انجام کار خود بھی جام زہر پی لیا۔ مرتے وقت اپنے عقیدت مندوں سے کہنے لگا کہ بعد از مرگ مجھے آگ میں جلا دینا تاکہ میری لاش دشمن کے ہاتھ میں نہ جائے۔ لشکر اسلام نے قلعہ میں داخل ہو کر مقنع کا سر کاٹ لیا اور خلیفہ کے پاس بھیج دیا۔ بعض کہتے ہیں کہ قلعہ میں جس قدر چوپائے اور مال واسباب تھا پہلے ان کے جلانے کا حکم دیا پھر ساتھیوں سے کہا کہ جس کسی کو اس بات کی خواہش ہو کہ میرے ساتھ خلد بریں پہنچ جائے وہ میرے ساتھ اس آگ میں کود پڑے۔ سب خوش اعتقادوں نے حکم کی تعمیل کی اور آگ میں کود کر خاک سیاہ ہوگئے۔

جب اسلامی لشکر قلعہ میں داخل ہوا تو کسی انسان یا چار پایہ کا نام ونشان نہ پایا۔ یہ ١٦٣ھ کا واقعہ ہے۔ اس کے اکثر پیرو جو اکناف ملک میں زندہ رہ گئے اس کے فقدان سے اور زیادہ فتنے میں پڑے اور یہ اعتقاد کر بیٹھے کہ مقنع آسمان پر چلا گیا ہے۔ مقنع کے وہ معتقد جو لڑائیوں میں اس سے علیحدہ ہو گئے تھے اس کے فقدان کی خبر سن کر بہت تاسف کرتے تھے کہ مقنع جو فی الحقیقت خدا تھا افسوس کہ ہم نے اخیر تک اس کا ساتھ نہ دیا۔ ورنہ ہم بھی اس کے ساتھ آسمانوں پر چڑھ جاتے۔

٣٤

مقنع کی آتش فتنہ چودہ سال تک شعلہ زن رہ کر ١٦٣ھ میں

(ابن خلدون، تاریخ ابن خلکان، کتاب ال

١٢ ....... بابک

بابک کا باپ جسے عبداللہ کہتے تھے مدائن کا ا پر ایک گاؤں میں جو بلال اباذ کے نام سے موسوم تھا سکو پیٹھ پر تیل کا برتن رکھ کر رستاق کے دیہات میں تیل بیچا روز بعد اس کا باپ کوہ سبلان کو گیا اور وہیں مارا گیا۔ بابک آذربائیجان کے پہاڑوں میں ایک قصبہ بـ دو رئیس برسر اقتدار تھے، جن میں باہم رقابت تھی۔ ایـ جاویدان تھا۔ کوہ بذ کی ملکیت کے متعلق ان میں جھگڑے کہ اس سرزمین کو اپنے حریف کے خار وجود سے پاک کر جائے۔ ایام گرما میں دونوں رئیس ہر سال متصادم و برسر جب برف پڑنے لگتی تو مجبوراً عربدہ جوئی سے دست بردا

ایک سال جاویدان دو ہزار بکریوں کا ریوڑ جو قزوین کی سرحد پر ہے۔ وہاں بکریاں فروخت کر کے موضع بلال اباذ پہنچا تو شدید برف باری شروع ہوگئی جاویدان نے موضع بلال اباذ کے آدمی سے کہا کہ کوئی سکوں۔ وہ شخص اسے بابک کی ماں کے پاس لے گیا۔ بـ مدارات کی۔ جاویدان جتنے دن وہاں رہا، بابک نے کیا۔ جاتے وقت جاویدان بابک کی ماں سے کہنے لگا میں پچاس درہم ماہانہ تنخواہ دوں گا اور یہ رقم ہر مہینہ تمہا رضامند ہوگئی اور بابک جاویدان کے ساتھ کوہ بذ میں چـ

تھوڑے دنوں میں جاویدان اور ابو عمرا ابو عمران مارا گیا اور جاویدان نے اس کے تمام املاک جاویدان کی جورو اس پر فریفتہ ہوگئی اور دونوں میں تعـ

٣٥

صفحہ ١١٥

مقنع کی آتش فتنہ چودہ سال تک شعلہ زن رہ کر ١٦٣ھ میں منطفی ہوئی۔

(ابن خلدون، تاریخ ابن خلکان، کتاب الفرق بین الفرق، تاریخ کامل اور بعض دیگر کتب)

١٢....... بابک خرمی

بابک کا باپ جسے عبداللہ کہتے تھے مدائن کا ایک تیلی تھا۔ اس نے آذربائیجان کی سرحد پر ایک گاؤں میں جو بلال اباذ کے نام سے موسوم تھا سکونت اختیار کر لی تھی۔ وہ عالم شباب میں اپنی پیٹھ پر تیل کا برتن رکھ کر رستاق کے دیہات میں تیل بیچا کرتا تھا۔ لیکن بابک کی پیدائش کے چند ہی روز بعد اس کا باپ کوہ سبلان کو گیا اور وہیں مارا گیا۔ بابک کی ماں دایہ گری کا کام کرنے لگی۔

آذربائیجان کے پہاڑوں میں ایک قصبہ بذ کے نام سے مشہور تھا۔ اس سلسلۂ کوہ میں دو رئیس برسر اقتدار تھے، جن میں باہم رقابت تھی۔ ایک کو ابو عمران کہتے تھے اور دوسرے کا نام جاویدان تھا ۔ کوہ بذ کی ملکیت کے متعلق ان میں جھگڑے قضیے برپا رہتے تھے۔ دونوں کی یہی تمنا تھی کہ اس سرزمین کو اپنے حریف کے خار وجود سے پاک کر کے بلا شرکت غیرے ریاست کا مالک ہو جائے ۔ ایام گرما میں دونوں رئیس ہر سال متصادم و برسر پیکار رہتے ۔ لیکن موسم سرما کے شروع میں جب برف پڑنے لگتی تو مجبوراً عربدہ جوئی سے دست بردار ہو جاتے۔

ایک سال جاویدان دو ہزار بکریوں کا ریوڑ لے کر بذ سے شہر زنجان کی طرف روانہ ہوا جو قزوین کی سرحد پر ہے۔ وہاں بکریاں فروخت کر کے بذ کی طرف مراجعت کی۔ راستے میں جب موضع بلال اباذ پہنچا تو شدید برف باری شروع ہو گئی ۔ جس کے باعث انقطاع سفر ناگزیر تھا۔ جاویدان نے موضع بلال اباذ کے کسی آدمی سے کہا کہ کوئی ایسا مکان بتاؤ جہاں میں چند روز قیام کر سکوں ۔ وہ شخص اسے بابک کی ماں کے پاس لے گیا۔ بابک اور اس کی ماں نے اس کی بڑی خاطر مدارات کی۔ جاویدان جتنے دن وہاں رہا، بابک نے اپنی خدمت گزاری سے اس کو بہت خوش کیا۔ جاتے وقت جاویدان بابک کی ماں سے کہنے لگا کہ اگر تم اپنا بیٹا میری ملازمت میں دے دو تو میں پچاس درہم ماہانہ تنخواہ دوں گا اور یہ رقم ہر مہینہ تمہارے پاس پہنچ جایا کرے گی۔ بابک کی ماں رضا مند ہو گئی اور بابک جاویدان کے ساتھ کوہ بذ میں چلا گیا ۔

تھوڑے دنوں میں جاویدان اور ابو عمران میں پھر سلسلۂ رزم و پیکار شروع ہوا۔ ابو عمران مارا گیا اور جاویدان نے اس کے تمام املاک پر قبضہ کر لیا۔ بابک ایک جوان رعنا تھا۔ جاویدان کی جورو اس پر فریفتہ ہو گئی اور دونوں میں فاسقانہ تعلقات قائم ہو گئے۔ تھوڑے عرصے

٣٥

صفحہ ١١٦

میں جاویدان مر گیا اور اس سے پیشتر کہ کسی کو اس کے مرنے کی اطلاع ہو۔ اس کی بیوی رات کے وقت بابک سے کہنے لگی کہ جاویدان مر گیا ہے اور میری خواہش ہے کہ تمہیں برسر حکومت کر کے تم سے باقاعدہ شادی کر لوں۔ بابک کہنے لگا میں تمہارے شوہر کا ایک ادنیٰ خادم تھا۔ لوگ میری متابعت پر کس طرح رضامند ہوں گے اور تمہاری قوم میرے ساتھ تمہارے عقد نکاح کو کیونکر گوارا کرے گی؟ عورت نے کہا میں نے ایک حیلہ تجویز کیا ہے اور مجھے یقین ہے کہ میں لوگوں کو اپنے ڈھب پر لانے میں کامیاب ہو جاؤں گی۔

بابک نے پوچھا تم نے کیا حیلہ تراشا ہے؟ بولی میں تمام قوم کو جمع کر کے ان سے کہوں گی کہ جاویدان نے اپنی وفات سے پہلے کہا تھا کہ آج رات میں نے مرنے کا قصد کیا ہے۔ لیکن میری روح تن سے مفارقت کرتے ہی بابک کے بدن میں داخل ہو جائے گی اور اس کی روح سے متحد ہو جائے گی۔ میرے بعد بابک ہی میری قوم کا سردار ہوگا۔ وہ جبابرہ کو ہلاک کر کے قوم کو از سر نو زندگی بخشے گا اور قوم کے درماندہ لوگوں کو آسمان عزت پر بٹھائے گا۔ یہ سن کر بابک کا ساغر دل خوشی سے چھلک گیا اور کہا: ہاں کوئی ایسی ہی تدبیر کرو۔ دوسرے دن عورت نے جاویدان کے لشکر کو جمع کر کے اس کے مرنے کی اطلاع دی۔ عماید سپاہ پوچھنے لگے اس نے مرنے سے پہلے ہم لوگوں کو بلا کر کیوں وصیت نہ کی؟ عورت نے اپنی حیلہ تراشیوں سے سب کو مطمئن کر دیا۔ قائدین لشکر کہنے لگے ہمیں حسب وصیت اس نوجوان کی متابعت منظور ہے۔ چنانچہ سب نے اس سے بیعت کی اور عورت نے بابک سے باقاعدہ نکاح کر لیا۔

شرمناک اخلاقی تعلیم

اقبال کی کامرانی دیکھو کہ کس طرح ایک ادنیٰ خادم آسمان عزت پر نمودار ہوا اور اس کا دائرہ اقبال وسیع تر ہونے لگا۔ بابک پہلے اسماعیلی تھا۔ پھر مزدکی بنا۔ پھر خود ایک فرقے کی بنا ڈالی جسے بابکیہ ، محمرہ ، سبعیہ اور خرمیہ وغیرہ ناموں سے یاد کرتے ہیں۔ پہلے تو اپنے اندر جاویدان کی روح بتاتا تھا۔ پھر یہ کہنا شروع کیا کہ خدا کی روح نے میرے اندر حلول کیا ہے۔ اس نے اپنے پیروؤں کو عقیدہ تناسخ کی تعلیم دی اور ہنود کی طرح کہتا تھا کہ روحیں انسانوں اور حیوانوں میں منتقل ہوتی رہتی ہیں۔ چونکہ اس نے ہر قسم کے مذہبی اور اخلاقی قیود اٹھا کر عیش وعشرت کا بازار گرم کیا۔ پیروؤں کو حرام کاری، شراب نوشی اور دوسرے فواحشات کی اجازت دی۔ یہاں تک کہ محرمات ابدیہ سے بھی عقد مناکحت جائز کر دیا۔ اس بناء پر اس کے پیروؤں کو خرمیہ بھی کہنے لگے۔ کیونکہ خرم عیش و فرح کو کہتے ہیں۔ باوجودیکہ بابک کی اخلاقی تعلیم دنیا بھر کے فواحش کا

٣٦

مجموعہ اور سخت نفرت انگیز تھی۔ تاہم جاویدان کی قوم اپنی قسمت اس سے وابستہ کر دی۔

خلافت اسلامیہ کے خلاف علم بغاوت

جب بابک کے پیروؤں کی تعداد بڑھی اسلامیہ کے خلاف علم بغاوت و خودسری بلند کر دیا خلافت پر متمکن تھا۔ تین سال تک تو مامون کو بعض کا موقعہ نہ دیا۔ اس کے بعد ٢٠٤ھ میں خلیفہ مامون دیا کہ بابک کے قلع قمع کا انتظام کرے۔ لیکن و سے قاصر رہا۔ ٢٠٩ھ میں خلیفہ نے علی بن صدق حکومت سپرد کی اور ساتھ ہی جنگ بابک کی تاکید جنید کو بابکی جمعیت کے توڑنے اور بابک کو اسیر کرنے کے بجائے خود ہی شکست کھا کر قید ہو گیا۔

بابک کی ایک اور کامیابی

٢١٢ھ میں مامون نے محمد بن حمید طوسی ہونے کا حکم دیا۔ محمد طوسی نے بابک پر چڑھائی بابک نے دامن کوہ میں مقابلہ کیا اور پھر پہاڑ تعاقب کیا۔ جب کوئی تین کوس تک چڑھ گیا تو با اور بابک بھی لوٹ کر محمد طوسی پر ٹوٹ پڑا۔ طوسی جمعیت نے محمد طوسی کو چاروں طرف گھیر لیا۔ مح ہو کر گرا اور تڑپ کر دم توڑ دیا۔ جب یہ خبر بارگاہ بابک کی سرکشی اور اس کے فتوحات سے آگا تھا۔ لیکن اتفاقات ایسے پیش آئے کہ اس کے بع ملک الموت نے پیام اجل آ سنایا۔

بابک کی پہلی دو ہزیمتیں

بابک نے شہر بذ کو اپنا ملجا و مامن بنا

صفحہ ١١٧

بیہودہ اور سخت لغویت انگیز تھی۔ تاہم جاویدان کی قوم کے علاوہ دیلم اور اہل ہمدان واصفہان نے بھی اپنی قسمت اس سے وابستہ کر دی۔

خلافت اسلامیہ کے خلاف علم بغاوت و خودسری

جب بابک کے پیروؤں کی تعداد تین لاکھ تک پہنچ گئی تو اس نے ٢٠١ھ میں خلافت اسلامیہ کے خلاف علم بغاوت و خودسری بلند کر دیا۔ ان ایام میں خلیفہ مامون عباسی بغداد کے تخت خلافت پر متمکن تھا۔ تین سال تک تو مامون کو بعض داخلی الجھنوں نے بابک کی طرف متوجہ ہونے کا موقعہ نہ دیا۔ اس کے بعد ٢٠٤ھ میں خلیفہ مامون نے عیسیٰ بن محمد عامل آرمینیا و آذربائیجان کو حکم دیا کہ بابک کے قلع قمع کا انتظام کرے۔ لیکن وہ بعض مجبوریوں کی بنا پر اس مہم کو سرانجام دینے سے قاصر رہا۔ ٢٠٩ھ میں خلیفہ نے علی بن صدقہ معروف بہ زریق کو آرمینیا اور آذربائیجان کی حکومت سپرد کی اور ساتھ ہی جنگ بابک کی تاکید فرمائی۔ زریق نے ایک تجربہ کار سپہ سالار احمد بن جنید کو بابکی جمعیت کے توڑنے اور بابک کو اسیر کر لانے پر متعین کیا۔ لیکن ابن جنید بابک کو زیر کرنے کے بجائے خود ہی شکست کھا کر قید ہو گیا۔

بابک کی ایک اور کامیابی

٢١٢ھ میں مامون نے محمد بن حمید طوسی کو موصل کی حکومت پر فائز کر کے بابک پر حملہ آور ہونے کا حکم دیا۔ محمد طوسی نے بابک پر چڑھائی کی اور اس کو منہزم کر کے دامن کوہ تک جا پہنچا۔ بابک نے دامن کوہ میں مقابلہ کیا اور پھر پہاڑ پر چڑھ گیا۔ طوسی نے جوش کامیابی میں اس کا تعاقب کیا۔ جب کوئی تین کوس تک چڑھ گیا تو بابکیوں نے کمین گاہ سے نکل کر دفعتاً طوسی پر حملہ کیا اور بابک بھی لوٹ کر معا طوسی پر ٹوٹ پڑا۔ طوسی کا لشکر گھبرا کر بھاگ کھڑا ہوا۔ بابکیوں کی ایک جمعیت نے محمد طوسی کو چاروں طرف گھیر لیا۔ محمد نے نہایت ثابت قدمی سے مقابلہ کیا۔ لیکن زخمی ہو کر گرا اور تڑپ کر دم توڑ دیا۔ جب یہ خبر بارگاہ خلافت میں پہنچی تو خلیفہ کو سخت صدمہ ہوا۔ خلیفہ بابک کی سرکشی اور اس کے فتوحات سے آگ بگولا ہو رہا تھا اور انتقام کے لئے ہر وقت دانت پیستا تھا۔ لیکن اتفاقات ایسے پیش آئے کہ اس کے بعد کوئی اور مہم بابک کی سرکوبی کے لئے نہ بھیج سکا اور ملک الموت نے پیام اجل آ سنایا۔

بابک کی پہلی دو ہزیمتیں

بابک نے شہر بذ کو اپنا ملجا و مامن بنا رکھا تھا۔ اس نے اکثر شاہی قلعوں کو جو اردبیل اور

٣٧

صفحہ ١١٨

آذربائیجان کے درمیان واقع تھے۔ ویران و مسمار کر دیا تھا۔ جب خلیفہ معتصم ٢١٨ھ میں اپنے بھائی مامون کا جانشین ہوا تو اس نے ابو سعید محمد بن یوسف کو بابک کی مہم پر مامور کیا۔ چنانچہ ابو سعید نے ان قلعہ جات کو جنہیں بابک نے مسمار کر دیا تھا از سر نو تعمیر کرایا اور انہیں فوج، آلات حرب اور غلہ کی بڑی مقدار سے مضبوط و مستحکم کیا۔ اس اثناء میں بابک کے کسی سریہ نے ان بلاد پر شبخون مارا۔ ابو سعید نے اس کا تعاقب کیا اور نہایت اولوالعزمی سے لوٹ کر تمام مال واپس لیا۔ بیشمار بابکیوں کو قتل اور اکثر کو گرفتار کیا اور مقتولوں کے سر اور کثیر التعداد قیدی ایک عرضداشت کے ساتھ خلیفہ معتصم کے پاس بھیج دیئے۔ یہ پہلی ہزیمت تھی جو بابکیوں کو عساکر خلافت سے نصیب ہوئی۔

دوسری ہزیمت محمد بن بعیث کے ذریعہ سے ہوئی جو بابک کا معین و مدد گار تھا۔ محمد بن بعیث آذربائیجان کے ایک قلعہ میں فروکش تھا اور بابک کے سرایا اور افواج کو رسد پہنچایا کرتا تھا۔ اتفاق سے بابک کی پہلی ہزیمت کے بعد بابک کا ایک سپہ سالار عصمت نامی اس قلعہ کی طرف سے ہو کر گذرا۔ ابن بعیث نے اس کی دعوت کی اور اس کو عزت و احترام کے ساتھ ٹھہرایا۔ لیکن رات کے وقت حالت غفلت میں اس کو گرفتار کر کے خلیفہ معتصم کے پاس بھیج دیا اور عصمت کے تمام رفقاء کو قتل کر ڈالا۔ خلیفہ نے عصمت سے بابک کے بلاد اور قلعوں کے اسرار و خفایا دریافت کئے۔ عصمت نے تمام اسرار اور جنگی مواقع ظاہر کر دیئے۔ تاہم خلیفہ نے اسے رہا نہ کیا اور ایک فوجی سردار افشین حیدر کو جبال کی عملداری مرحمت فرما کر بابک کے مقابلہ میں بھیجا۔ افشین نے میدان کارزار میں پہنچ کر رسد کا انتظام کیا اور راستوں کو خطرات سے پاک کرنے کے خیال سے تھوڑی تھوڑی مسافت پر چوکیاں بٹھائیں اور کار آزمودہ اور تجربہ کار فوجی افسروں کو گشت اور دیکھ بھال پر متعین کیا۔

بابک کی پیہم کامیابیاں

اس کے بعد خلیفہ نے بغا کبیر کو فوج کثیر اور مال واسباب کے ساتھ افشین کی کمک پر روانہ کیا۔ یہ سن کر بابک بغا کبیر پر شبخون مارنے کے قصد سے چلا۔ جاسوسوں نے افشین تک یہ خبر پہنچادی۔ افشین نے بغا کو لکھ بھیجا کہ تم قافلہ کے ساتھ نہر تک آؤ اور قافلہ کی روانگی کے بعد پھر اردبیل کو مراجعت کرو۔ بغا نے اس ہدایت پر عمل کیا۔ لیکن پھر بابک یہ خبر پا کر کہ بغا کا قافلہ قلعہ نہر کی طرف روانہ ہو گیا ہے۔ اپنے چیدہ چیدہ سپاہیوں کے ہمراہ نکل کھڑا ہوا۔ جس دن بغا سے ملنے کا وعدہ تھا افشین اس روز چپکے سے نکل کر اردبیل کو چلا گیا اور بغا کو بحفاظت تمام ابو سعید کے مورچے پر لے آیا۔ اس اثناء میں بابک قافلہ تک پہنچ گیا۔ والئی قلعہ نہر بھی قافلہ کے ہمراہ تھا۔ بغا

٣٨

صفحہ ١١٩

سے تو بابک کی مڈبھیڑ نہ ہوئی البتہ والی قلعہ شہر سے مقابلہ ہوا۔ بابک نے ان لشکریوں کو جو قافلہ کے ساتھ تھے تہ تیغ کر کے تمام مال و اسباب لوٹ لیا۔

پھر اثنائے راہ میں بابک افشین کے فوجی سرداروں میں سے ہیثم نامی ایک افسر سے دو چار ہو گیا۔ اس کو بھی زک دی۔ ہیثم ایک قلعہ میں جا چھپا۔ بابک نے وہاں پہنچ کر قلعہ کا محاصرہ کر لیا۔ لیکن اسی اثناء میں افشین اپنا لشکر لئے ہوئے آ پہنچا اور دفعتاً بابکیوں پر حملہ کر دیا۔ اس ناگہانی حملہ سے بابکیوں کے اوسان خطا ہو گئے اور وہ نہایت بے سروسامانی سے بھاگ کھڑے ہوئے۔ بابک کے لشکر کا بیشتر حصہ اس معرکہ میں کام آیا۔ بابک بقیۃ السیف کے ہمراہ بھاگ کر ہوقان پہنچا۔ لیکن وہاں سے پلٹ کر ایسی چال چلا کہ افشین کے لشکر کا راستہ کاٹ دیا۔ رسد اور غلہ کا آنا موقوف ہو گیا۔ اب افشین کا لشکر رسد نہ آنے سے بھوکوں مرنے لگا۔ افشین نے والی مراغہ سے رسد طلب کی۔ لیکن جب وہاں سے آئی تو اثناء راہ میں بابکیوں نے اس کو لوٹ لیا۔ یہ خبر پا کر بغا اپنا تمام مال و اسباب کسی طرح بابک کے ہاتھوں سے بچا کر افشین کے لشکر گاہ میں لایا اور لشکریوں میں تقسیم کر دیا۔

عساکر خلافت کی ہزیمتیں :

اب افشین نے مطمئن ہو کر اپنے سپہ سالاروں کو بابک پر حصار ڈالنے کی غرض سے بڑھنے کا حکم دیا۔ چنانچہ قلعہ بذ سے چھ میل کے فاصلہ پر پہنچ کر مورچے قائم کئے اور بغا نے قریہ بذ میں داخل ہو کر لڑائی چھیڑ دی اور سخت کشت وخون کے بعد اپنی فوج کا بڑا حصہ اس معرکہ کی نذر کر کے محمد بن حمید سپہ سالار کے مورچے میں واپس آیا۔ اب بغا نے افشین سے امداد طلب کی۔ افشین نے اپنے بھائی فضل، ابوجوشن، احمد بن خلیل اور جناح الاحور کو بغا کی کمک پر روانہ کیا اور حکم دیا کہ فلاں روز اور فلاں وقت بابک پر یکبارگی حملہ کرنا۔ میں بھی اسی دن وقت معہود پر اس سمت سے حملہ آور ہوں گا۔ سوء اتفاق سے وہ لوگ برسات اور شدت سرما کی وجہ سے یوم مقرر پر حملہ نہ کر سکے اور افشین نے تنہا حملہ کر دیا۔ تاہم بابک تاب مقاومت نہ لا کر پیچھے ہٹا۔ افشین نے بڑھ کر اس کے مورچے پر قبضہ کر لیا۔

دوسرے دن بغا وغیرہ کثرت باراں اور شدت سرما سے تنگ آ کر کسی قائد کی رہبری سے ایک پہاڑی پر جو افشین کے لشکر گاہ کے قریب تھی چڑھ گئے۔ یہاں بھی انہیں اسی سردی اور بارش سے سابقہ پڑا۔ مزید براں برف بھی پڑ گئی۔ ہاتھ پاؤں جواب دے بیٹھے۔ دو دن اسی حالت میں گزرے۔ ادھر بابک نے موقع پا کر افشین پر شبخون مارا اور اسے لڑ کر پیچھے ہٹنے پر مجبور

٣٩

صفحہ ١٢١

کیا۔ دوسری طرف بغا کی فوج نے غلہ و رسد کے تھڑ جانے کی وجہ سے شوروغل مچانا شروع کیا۔ بغا نے مجبور ہوکر قلعہ بذ کے عزم سے اور نیز بغرض دریافت حال افشین وہاں سے کوچ کیا۔ دور نکل آنے پر افشین کا حال معلوم ہوا۔

اب بغا بابک کے خوف سے پھر اسی پہاڑی کی طرف لوٹا اور کثرت فوج اور تنگی راہ کی وجہ سے دوسرا راستہ اختیار کیا۔ بابک کے متجسس سپاہیوں نے تعاقب کیا۔ بغا نے ان کی طرف مڑ کر بھی نہ دیکھا اور بڑی سرعت سے اس تنگ اور دشوار گزار راستے کو طے کیا۔ اس اثناء میں رات کی سیاہ چادر عالم کائنات پر محیط ہوگئی۔ بغا نے مال و اسباب کی حفاظت کے خیال سے دامن کوہ میں ڈیرے ڈال دیئے اور چاروں طرف سپاہیوں کو پہرے پر متعین کیا۔ تھکے ماندے تو تھے ہی سب کے سب سو گئے۔ بابک نے چھاپہ مارا اور تمام مال و اسباب لوٹ لیا۔ بغا بحالت تباہ خندق اول میں چلا آیا جو اسفل کوہ میں واقع تھی۔

بغداد سے مزید افواج کی روانگی

جب خلیفہ معتصم کو عساکر خلافت کی متواتر ہزیمتوں اور ناکامیوں کا علم ہوا تو اس نے جعفر خیاط کی سرکردگی میں ایک فوج گراں افشین کی کمک پر روانہ کی اور تیس لاکھ درم مصارف جنگ کے لئے بھیجے۔ اس فوج اور مالی امداد سے افشین قوی دل ہو گیا اور اس کی قوت بہت بڑھ گئی۔ چنانچہ فصل ربیع کے اوائل میں بابک سے معرکہ آراء ہونے کی غرض سے آہستہ آہستہ قلعہ بذ کی طرف بڑھنے لگا۔ رات کے وقت سپاہیوں کو پہرہ پر متعین کرتا اور رات ہی کے وقت گشت کرنے کے لئے فوج بھیجتا۔ جس کے ساتھ خود بھی جاتا۔ رفتہ رفتہ قلعہ بذ کے بالمقابل ایسے مقام پر پہنچا جہاں تین پہاڑیاں ایک دوسری سے متصل واقع تھیں۔ ان تینوں پہاڑیوں کے بیچ میں ایک وسیع میدان تھا۔ افشین نے یہیں مقام کیا اور ایک راستہ کو رکھ کر باقی تمام راہوں کو پتھروں سے چن دیا۔ انہی پہاڑیوں کے قریب بابک کا لشکر بھی پڑا تھا۔

افشین کا طریق جنگ

افشین روزانہ نور کے تڑکے نماز صبح ادا کر کے نقارہ بجواتا۔ لشکری اس نقارہ کی آواز سن کر تیار ہو جاتے۔ پھر مقابلہ شروع ہوتا۔ جب تک مصروف قتال رہنا نقارہ بجتا رہتا اور جنگ کو روکنا منظور ہوتا نقارہ بند کر دیا جاتا اور جب پیش قدمی کا ارادہ ہوتا تو درہ کوہ پر ایک لشکر متعین کیا جاتا جو اس قدرتی قلعہ کی محافظت کرتا۔ ادھر بابک نے یہ انتظام کر رکھا تھا کہ جب افشین حملہ آور ہوتا تو چند سپاہیوں کو اسی گھاٹی کے نیچے کمین گاہ میں بٹھا دیتا اور اس کی عادت تھی کہ

ہمیشہ معدوداً چند آدمیوں کو ساتھ لاتا اور باقی فوج کمین گاہ میں بٹھا دیتا تھا۔ افشین نے کئی دفعہ اس کا تعاقب کیا مگر یہ راز نہ کھل سکا۔

افشین عموماً جعفر خیاط، احمد بن خلیل اور ابو سعید محمد بن یوسف کو ایک دوسرے کے بعد دیگرے میدان کارزار میں بھیجتا اور خود ایک بلند مقام پر بیٹھ جاتا جہاں سے بابک کا قلعہ اور محل سرائے بھی دکھائی دیتا تھا۔ افشین کے میدان جنگ سے واپس ہوتے ہی اس کی فوجیں بھی یکے بعد دیگرے میدان سے واپس آجاتیں بابک اس طولانی جنگ سے گھبرا گیا۔

رضا کار مجاہدین کی شجاعت

ایک روز حسب معمول لشکر اسلام واپس ہو رہا تھا کہ بابک کا لشکر میدان خالی سمجھ کر قلعہ بذ سے نکل پڑا۔ جعفر خیاط نے لوٹ کر لشکریوں کو پکارا۔ جعفر کی فوج غنیم پر ٹوٹ پڑی اور لڑائی شروع ہوگئی۔ اس فوج میں رضا کاروں کا بھی ایک گروہ تھا۔ جو جہاد فی سبیل اللہ کی غرض سے آئے ہوئے تھے۔ ان رضا کاروں نے افشین کی مرضی پائے بغیر اس غرے میں کہ بابک کے آدمی سمجھ رہے ہیں کہ یہ لوگ کمندیں ڈال کر قلعہ پر چڑھ آئیں گے، افشین سے پانصد تیر اندازوں کی امداد طلب کی۔ افشین نے کہلا بھیجا کہ جس قدر جلدی اور جس حد تک ممکن ہو آہستہ آہستہ حکمت عملی سے واپس چلے آؤ۔

اس عرصہ میں رضا کار مجاہد حملے کرتے ہوئے قلعہ بذ کے اس قدر قریب پہنچ گئے کہ جو لوگ قلعہ میں تھے یہ سمجھ کر کہ دشمن قلعہ تک پہنچ گیا ہے۔ کمین گاہوں سے نکل پڑے۔ بابک کی چھپی ہوئی فوج اور کمین گاہ کا حال کھل گیا۔ جعفر آہستہ آہستہ لڑتے لڑتے اپنے خیمہ میں واپس آگیا۔

قائد اعظم سے رضا کار مجاہد کی شکایت

جعفر نماز مغرب ادا کر کے افشین کے خیمہ میں گیا اور اس کے بغیر مرضی جنگ میں اقدام کرنے سے اظہار ناراضی کیا۔ افشین بھی رضا کاروں سے اظہار ملال کرنے لگا۔ لیکن دونوں نے معقول وجہ سن کر چشم پوشی کی۔ ایک رضا کار نے حاضر خدمت ہوکر قلت رسد و مصارف کی شکایت کی۔ افشین نے کہا جو لوگ بغیر مصارف اور گرسنگی کی تکلیف پر صبر نہ کر سکیں وہ اپنے گھروں کو واپس چلے جائیں۔ امیر المومنین کے لشکر میں بفضلہ تعالیٰ جنگ آوروں کی کمی نہیں۔

صفحہ ١٢١

ہمیشہ معدودہ چند آدمیوں کو ساتھ لاتا اور باقی فوج کمین گاہ میں رہتی۔ افشین نے ہر چند تجسس کیا مگر یہ راز نہ کھل سکا۔

افشین عموماً جعفر خیاط ، احمد بن خلیل اور ابو سعید کو تین تین دستہ فوج کے ساتھ یکے بعد دیگرے میدان کارزار میں بھیجتا اور خود ایک بلند مقام پر بیٹھ کر لڑائی کا منظر دیکھتا۔ اس مقام سے بابک کا قلعہ اور محل سرائے بھی دکھائی دیتا تھا۔ افشین نماز ظہر ادا کر کے مراجعت کرتا۔ اس کے واپس ہوتے ہی اس کی فوجیں بھی یکے بعد دیگرے میدان جنگ سے ترتیب وار واپس آجاتیں۔ بابک اس طولانی جنگ سے گھبرا گیا۔

رضا کار مجاہدین کی شجاعت

ایک روز حسب معمول لشکر اسلام واپس ہوا۔ اتفاق سے جعفر خیاط پیچھے رہ گیا۔ بابک کا لشکر میدان خالی سمجھ کر قلعہ بذ سے نکل پڑا۔ جعفر خیاط نے بڑھ کر حملہ کر دیا اور بآواز بلند اپنے لشکریوں کو پکارا۔ جعفر کی فوج غنیم پر ٹوٹ پڑی اور لڑائی دوبارہ چھڑ گئی۔ جعفر کی فوج میں مطوعہ یعنی رضا کاروں کا بھی ایک گروہ تھا۔ جو جہاد فی سبیل اللہ کی غرض سے لشکر اسلام میں شامل ہو گئے تھے۔ ان رضا کاروں نے افشین کی مرضی پائے بغیر از خود اس شدت کا حملہ کیا کہ دیکھنے والے یہ سمجھ رہے تھے کہ یہ لوگ کمندیں ڈال کر قلعہ پر چڑھ جائیں گے۔ یہ دیکھ کر جعفر نے افشین سے پانچسو تیر اندازوں کی امداد طلب کی۔ افشین نے کہلا بھیجا کہ تم امدادی فوج کا انتظار نہ کرو۔ جہاں تک ممکن ہو آہستہ آہستہ حکمت عملی سے واپس چلے آؤ۔ کیونکہ جنگ کا عنوان خطرناک ہو رہا ہے۔ اس عرصہ میں رضا کار مجاہد حملے کرتے ہوئے قلعہ بذ تک پہنچ گئے۔ بابک کے وہ سپاہی جو کمین گاہ میں تھے یہ سمجھ کر کہ دشمن قلعہ تک پہنچ گیا ہے۔ کمین گاہ سے نکل آئے۔ افشین پر اس قلعہ کا سارا راز اور کمین گاہ کا حال کھل گیا۔ جعفر آہستہ آہستہ لڑتے لڑتے اپنے مورچے کی طرف واپس آ گیا۔

قائد اعظم سے رضا کار مجاہد کی شکایت

جعفر نماز مغرب ادا کر کے افشین کے پاس آیا۔ افشین نے عدول حکمی اور خلاف مرضی جنگ میں اقدام کرنے سے اظہار ناراضی کیا۔ جعفر اپنے قائد اعظم کے امداد نہ پہنچنے پر اظہار ملال کرنے لگا۔ لیکن دونوں نے معقول وجوہ پیش کئے اور صفائی ہو گئی۔ اب رضا کاروں نے حاضر خدمت ہو کر قلت رسد و مصارف کی شکایت کی۔ افشین نے جواب دیا کہ جو شخص قلت مصارف اور گرسنگی کی تکلیف پر صبر کر سکے وہ ہمارے ساتھ رہے۔ ورنہ اپنا راستہ لے۔ امیرالمومنین کے لشکر میں بفضلہ تعالیٰ جنگ آوروں کی کمی نہیں۔ رضا کار مجاہدین یہ کہتے ہوئے

٤١

صفحہ ١٢٢

واپس ہوئے کہ ہم تو قلعہ بذ کو بات کی بات میں فتح کر لیتے مگر امیر عسکر ناحق التواء ڈال کر ہم لوگوں کو ثواب جہاد سے محروم کرتا ہے۔ اگر ہم کو اب بھی حملہ کا حکم دے تو ہم دشمن کو اپنی تلوار کے جوہر دکھا دیں۔ جاسوسوں نے یہ بات افشین کو سنائی اس نے مجاہدوں کو طلب کر کے تسلی دی اور علی الصباح جنگ کرنے کا حکم دیا۔ جس وقت رضا کاروں نے دھاوا کرنے کا ارادہ ظاہر کیا خود بھی اسی وقت حملہ کرنے کا وعدہ کیا۔

قائد اعظم افشین نے ان لوگوں کو مال و اسباب، پانی، خوراک اور آلات حرب خاطر خواہ دے کر خوب قوی پشت کیا۔ زخمیوں کو میدان جنگ سے اٹھا لانے کے لئے خچروں پر محملیں رکھوا دیں اور جعفر کو اسی مورچے کی طرف بڑھنے کا حکم دیا جہاں تک کل پیش قدمی کی تھی۔

قلعہ کی فصیلیں توڑنے کے لئے سفیرینا کی روانگی

دوسرے دن افشین نے تیر اندازوں، نفاطوں اور نامی گرامی جنگ آزماؤں کو منتخب کر کے ایک لشکر مرتب کیا اور رضا کار مجاہدوں کو اپنے ساتھ لئے میدان جنگ میں آیا۔ بابکیوں نے قلعہ سے تیر باری شروع کی۔ جعفر کی فوج اپنے کو بابک کے حملوں سے بچاتی ہوئی قلعہ بذ کی فصیلوں تک پہنچ گئی۔ اب جعفر کمال مردانگی واستقلال سے دروازۂ بذ پر پہنچ کر لڑنے لگا۔ یہاں تک کہ دو پہر ڈھل گئی۔ افشین نے حسب ضرورت ان لوگوں کے لئے کھانا اور پانی روانہ کیا اور سفیرینا کو بھی قلعہ بذ کی فصیلوں کے توڑنے کے لئے کدالوں اور پھاوڑوں کے ساتھ بھیجا۔ یہ دیکھ کر بابک قلعہ کا دروازہ کھول کر نکل آیا اور اپنے پرزور حملہ سے رضا کاروں کو قلعہ کی فصیل سے پیچھے ہٹا دیا۔ اس کے بعد حالت یہ ہوگئی کہ کبھی تو بابک کا لشکر رضا کاروں کو قلعہ کی فصیل سے پسپا کر دیتا تھا اور کبھی رضا کار بابکیوں کو مار مار کر قلعہ میں بھگا دیتے۔

قلعہ بذ پر لشکر اسلام کا قبضہ

دوسرے دن پھر لڑائی شروع ہوئی۔ بابک نے عنوان جنگ بگڑا ہوا دیکھ کر افشین کے پاس پیغام بھیجا کہ مجھے جنگ سے صرف اتنی مہلت دو کہ میں اپنے اہل وعیال کو کسی دوسرے مقام پر منتقل کر سکوں۔ بعد ازاں قلعہ بذ کی کنجیاں تمہارے حوالے کر دوں گا۔ افشین نے ہنوز نفی یا اثبات میں کوئی جواب نہیں دیا تھا کہ اتنے میں خبر پہنچی کہ عساکر اسلام نے قلعہ پر قبضہ کر لیا ہے اور خدا کے فضل سے اس کے بلند میناروں پر خلیفۃ المسلمین کا جھنڈا نصب ہو گیا ہے۔ افشین سجدہ شکر بجا لا کر قلعہ میں داخل ہوا۔ بہت سا مال غنیمت اور قیدی مسلمانوں کے ہاتھ آئے۔

٤٢ ..

بابک کی ماں اور بھائی کی گرفتاری

بابک نے اپنے اہل وعیال کو دو مال و اسباب اٹھا سکا اٹھا لے گیا۔ افشین نے گرفتاری کے نہایت تاکیدی احکام بھیجے۔ الـ وقت فلاں وادی میں ہے۔ افشین نے فی الفـ بابک اس وادی سے اپنے بھائیوں عبداللہ اور ہوا۔ اتفاق سے ان محافظین میں سے اس پر کسی محافظ نے اپنے سردار ابوالسفاح کو اطلاع دی دیا۔ انہوں نے ایک چشمہ پر جا کر اسے گھیر لیـ لیکن اس کی ماں اور اس کا بھائی معاویہ گرفتار کـ

بابک کی گرفتاری

اب بابک جبال آرمینا میں جـ اتنے میں بابک کا زاد راہ ختم ہو گیا۔ اس نے کھانا لانے کو بھیجا۔ اتفاق سے پولیس کے اِ سے تاڑ گیا کہ بابک کا آدمی ہے۔ سہل بن بابک کا چہرہ پولیس کو دیکھتے ہی فق ہو گیا۔ کـ چپکے سے افشین کو اس کی اطلاع بھیج دی۔ کیا۔ انہوں نے جا کر اس کو گرفتار کر لیا او خدمت کے صلہ میں افسر پولیس کو ایک لاکھ اس کے بعد عیسیٰ بن یوسف وا کے پاس پناہ گزین تھے افشین کی طلبی پر اسـ ساتھ کر دیا اور بابک کی گرفتاری کی اطلاع افشین کے نام حکم بھیجا کہ اپنے دونوں قیدیوں

افشین کی غیر معمولی عزت افزائی

مرزندے لے کر سامرہ تک جـ

صفحہ ١٢٣

بابک کی ماں اور بھائی کی گرفتاری

بابک نے اپنے اہل و عیال کو دوسرے مقام پر منتقل کر دیا تھا۔ بھاگتے وقت جس قدر مال و اسباب اٹھا سکا اٹھا لے گیا۔ افشین نے حکام آرمینیا کو بابک کے فرار کا حال لکھ کر اس کی گرفتاری کے نہایت تاکیدی احکام بھیجے۔ اتنے میں جاسوس نے آ کر اطلاع دی کہ بابک اس وقت فلاں وادی میں ہے۔ افشین نے فی الفور چند آدمی اس کی گرفتاری پر متعین کئے۔ اتنے میں بابک اس وادی سے اپنے بھائیوں عبداللہ اور معاویہ اور اپنی ماں کو ساتھ لے کر عازم آرمینیا نکل کھڑا ہوا۔ اتفاق سے ان محافظین میں سے اس پر کسی کی نظر پڑ گئی جو گرفتاری کے لئے متعین کئے گئے تھے۔ محافظ نے اپنے سردار ابو السفاح کو اطلاع دی کہ بابک بھاگا جا رہا ہے۔ ابو السفاح نے تعاقب کا حکم دیا۔ انہوں نے ایک چشمہ پر جا کر اسے گھیر لیا۔ بابک خود تو تیز رفتار گھوڑے پر سوار ہو کر بھاگ گیا۔ لیکن اس کی ماں اور اس کا بھائی معاویہ گرفتار کر کے افشین کے پاس بھیج دیئے گئے۔

بابک کی گرفتاری

اب بابک جبال آرمینیا میں جا کر روپوش ہوا۔ جاسوس اس کے تعاقب میں تھے۔ اتنے میں بابک کا زاد راہ ختم ہو گیا۔ اس نے اپنے ساتھیوں میں سے ایک شخص کو کچھ زر نقد دے کر کھانا لانے کو بھیجا۔ اتفاق سے پولیس کے افسر اعلیٰ سہل بن ساباط نے اس کو دیکھ لیا۔ چال ڈھال سے تاڑ گیا کہ بابک کا آدمی ہے۔ سہل بن ساباط اس شخص کو لئے ہوئے بابک کے پاس آیا۔ بابک کا چہرہ پولیس کو دیکھتے ہی فق ہو گیا۔ سہل بن ساباط اس کو دم پٹی دے کر قلعے میں لے آیا اور چپکے سے افشین کو اس کی اطلاع بھیج دی۔ افشین نے دو فوجی افسروں کو بابک کی گرفتاری پر مامور کیا۔ انہوں نے جا کر اس کو گرفتار کر لیا اور افشین کے پاس لے آئے۔ افشین نے اس حسن خدمت کے صلہ میں افسر پولیس کو ایک لاکھ درہم نقد اور ایک جواہر نگار پیٹی انعام دی۔

اس کے بعد عیسیٰ بن یوسف والی بلتان نے عبداللہ برادر بابک کو جو کچھ دنوں سے اس کے پاس پناہ گزین تھے افشین کی طلبی پر اس کے پاس بھیج دیا۔ افشین نے دونوں بھائیوں کو ایک ساتھ کر دیا اور بابک کی گرفتاری کی اطلاع بارگاہ خلافت میں بھیج دی۔ خلیفہ نے شوال ٢٢٢ھ میں افشین کے نام حکم بھیجا کہ اپنے دونوں قیدیوں کو لے کر بغداد آؤ۔

افشین کی غیر معمولی عزت افزائی

برزند سے لے کر سامرہ تک ہر منزل پر خلیفہ معتصم کے حکم سے افشین کا انتہائی عزت

٤٣٣

صفحہ ١٢٤

واحترام سے استقبال کیا جاتا تھا اور خلیفہ کا خاص قاصد خلعت فاخرہ اور ایک راس عربی گھوڑا لئے ہوئے افشین سے ملتا تھا۔ جب افشین سامرہ کے قریب پہنچا تو خلیفہ معتصم کا بیٹا واثق باللہ اراکین سلطنت کو لئے ہوئے بغرض استقبال سامرہ سے باہر آیا اور کمال توقیر سے قصر مطیرہ میں ٹھہرایا۔ افشین نے اسی قصر میں بابک کو بھی اپنے زیر حراست رکھا۔ خلیفہ کے حکم سے افشین کے سر پر تاج رکھا گیا۔ اسے بیش قیمت خلعت پہنایا گیا۔ اس کو بیس لاکھ درہم انعام دیئے اور دس لاکھ درہم اس کی فوج میں تقسیم کئے گئے۔

قتل کے وقت بابک کا استقلال

انہی ایام میں جب کہ بابک قصر مطیرہ میں مقید تھا۔ خلیفہ معتصم محل میں آیا اور بابک کو سر سے پیر تک بنظر غور دیکھتا رہا اور چلا گیا۔ دوسرے دن خلیفہ دربار عام میں رونق افروز ہوا۔ لوگوں کو حسب مراتب دربار عام سے قصر مطیرہ تک بٹھایا اور حکم دیا کہ بابک کو ہاتھی پر سوار کر کے دربار میں حاضر کریں۔ کسی شخص نے بابک سے کہا تم اپنی زندگی میں ایسی ایسی بدکرداریوں کے مرتکب رہے جو تم سے پہلے شاید کسی انسان سے سرزد نہ ہوئی ہوں گی۔ اب ان کا خمیازہ بھگتنے کا وقت آ گیا ہے۔ لیکن اب تجھے صبر سے کام لینا چاہئے۔ بابک نے کہا تو عنقریب میرے ثبات و استقلال کو دیکھے گا۔

خلیفہ نے اس کا ایک ہاتھ قطع کرنے کا حکم دیا۔ جس کی فوراً تعمیل ہوئی۔ بابک نے جھٹ کٹے ہوئے ہاتھ کے خون سے اپنا چہرہ رنگ لیا۔ کسی نے پوچھا چہرہ سرخ کرنے کی کیا وجہ ہے؟ بولا ایسا نہ ہو کہ خون نکلنے سے چہرہ پیلا پڑ جائے اور یہ لوگ سمجھنے لگیں کہ بابک موت سے ڈر گیا۔ اس کے بعد اس کے اعضا قطع کئے گئے۔ اس اثناء میں اس کی طرف سے اضطراب و بے چینی کی کوئی ادنیٰ حد درجہ بھی ظاہر نہ ہوئی۔

محاربات بابک کے مالی و جانی نقصانات

افشین آخری مہم میں بزمانہ حصار بابک غلہ اور مصارف سفر و قیام کے علاوہ جس روز میدان جنگ میں جاتا تھا دس ہزار درہم یومیہ صرف میں لاتا تھا اور جس دن اپنے مورچے میں رہتا تھا پانچ ہزار خرچ کرتا تھا۔ بابک کا فتنہ بیس سال تک ممتد رہا۔ ان معرکوں میں دو لاکھ پچیس ہزار پانچ سو اور دوسری روایت کے بموجب ایک لاکھ پچپن ہزار مسلمان جرعہ شہادت سے سیراب ہوئے۔ سات ہزار چھ سو مسلم خواتین اور بچے بابکیوں کے پنجہ ظلم سے چھڑائے گئے۔ ان سب قیدیوں کو بغداد لا کر ایک وسیع احاطہ میں ٹھہرایا گیا۔ ان میں سے جس کسی کا کوئی والی وارث آتا تو

٤٤

صفحہ ١٢٥

اس سے شہادت لی جاتی اور بعد ثبوت ولایت و وراثت اس کے حوالے کر دیا جاتا۔

(تاریخ ابن خلدون، کامل ابن اثیر، کتاب الفرق بین الفرق)

١٣....... علی بن محمد ازارقی

علی بن محمد موضع ورزونین مضافات رے میں پیدا ہوا۔ مذہبباً خوارج کے فرقہ ازارقہ سے تعلق رکھتا تھا۔ ابتداء میں بوجہ معاش یہ حیلہ کیا کہ خلیفہ منتصر عباسی کے بعض حاشیہ نشینوں کی مدح و توصیف میں قصیدے لکھ کر کچھ انعام حاصل کر لیتا تھا۔ ٢٤٩ھ میں بغداد سے بحرین گیا اور دعوائے نبوت کر کے اغوائے خلق میں مصروف ہوا۔ کہتا تھا کہ مجھ پر بھی کلام الہی نازل ہوتا ہے۔ اس نے اپنا ایک صحیفہ آسمانی بنا رکھا تھا۔ جس کی بعض سورتوں کے نام سبحان، کہف اور ص وغیرہ تھے۔ کہتا تھا کہ خدائے برتر نے میری امامت و نبوت کی ایسی نشانیاں ظاہر کی ہیں جو حد و حصر سے خارج ہیں۔ بحرین کے اکثر قبائل نے اس کی متابعت اختیار کی۔ اس شخص نے ٢٥٢ھ سے لے کر ٢٧٠ھ تک اٹھارہ سال کا طویل زمانہ عالم اسلام میں بڑی دھما چوکڑی مچا رکھی تھی۔

حبشی غلاموں کو اپنے جھنڈے تلے جمع کرنے کی عجیب چال

قریباً پانچ سال تک بحرین میں اقامت گزیں رہنے کے بعد ایک دن اپنے دام افتادوں سے کہنے لگا کہ مجھے خدائے علیم نے حکم دیا ہے کہ یہاں سے بصرہ جاؤں اور وہاں کے لوگوں کو نجات اخروی کا راستہ دکھاؤں۔ چنانچہ چند پیرووں کی معیت میں بصرہ چلا آیا۔ بصرہ میں وہ ایک عجیب چال چلا۔ اس نے اپنی قوت و جمعیت کو غیر معمولی ترقی دینے کے لئے اعلان کیا کہ جو جو حبشی غلام میری پناہ میں آجائیں گے میں ان کو آزاد کر دوں گا۔ اس اعلان کا نتیجہ یہ ہوا کہ حبشی غلام اطراف واکناف ملک سے بھاگ بھاگ کر اس کے پاس آنے شروع ہوئے۔ اس طرح ایک جم غفیر جمع ہو گیا۔ اس نے ایک پر جوش تقریر کر کے ان کو ملک و مال سے بہرہ مند کرنے کا یقین دلایا۔ حسن سلوک اور احسان کرنے کی قسم کھائی۔ ایک رنگین ٹکڑے پر ”ان الله اشترى من المؤمنين أنفسهم واموالهم بان لهم الجنة“ لکھ کر رایت بنایا اور ایک بلند مقام پر نصب کرا دیا۔

غلاموں کا آقاؤں کو مارنا اور قید کرنا

اس اقدام سے زنگی غلاموں کے آقاؤں کا رنگ پیلا پڑ گیا۔ آقا ایک ایک دو دو کر کے اپنے غلاموں کی نسبت کہنے سننے کو آئے۔ علی نے اشارہ کر دیا۔ زنگی غلاموں نے اپنے آقاؤں کو مارنا اور قید کرنا شروع کیا۔ شرفائے بصرہ یہ رنگ دیکھ کر دم بخود رہ گئے۔ آخر علی نے ان تمام

٣٥

صفحہ ١٢٧

آقاؤں کو جنہیں حبشی غلاموں نے قید کر رکھا تھا رہا کر دیا۔ زنگی غلام ملک کی ہر طرف سے جوق جوق اس کے جھنڈے تلے آکر اپنے کو غلامی سے آزاد کراتے جارہے تھے۔ یہ شخص ہر وقت اپنی ولولہ انگیز تقریروں سے حبشیوں کو ابھارتا اور انہیں ملک و مال پر قبضہ کرنے کی ترغیب دے رہا تھا۔ حبشیوں کی ایک کثیر تعداد اس کے جھنڈے تلے مرنے مارنے کو ہر وقت تیار تھی۔

اہل شہر نے آئندہ خدشات کے پیش نظر باہم اتفاق کر کے اس کانٹے کو نکال دینا چاہا اور بڑی جمعیت کے ساتھ اس پر چڑھ آئے۔ لیکن ہزیمت اٹھائی اور ان کے سینکڑوں آدمی کام آئے۔ اہل بصرہ نے ان حالات سے خلیفہ کو مطلع کیا۔ دربار خلافت نے جعلان نامی ایک ترک افسر فوج کے ساتھ اہل بصرہ کی کمک پر بھیجا۔ لیکن اس نے شکست کھائی۔ علی نے کامیابی کے ساتھ اس کے لشکر گاہ کو لوٹا۔ اہل بصرہ کی اکثریت زنگیوں کے خوف سے شہر خالی کر کے اطراف وجوانب بلاد میں بھاگ گئی۔ اس طوفان بلا کے فرو کرنے کو دربار خلافت سے یکے بعد دیگرے دو اور سپہ سالار بھیجے گئے ۔ مگر دونوں ہزیمت کھا کر اور مال واسباب چھوڑ کے بھاگ کھڑے ہوئے۔ زنگی مال و دولت سے مالا مال ہو گئے ۔ اس وقت علی کا رایت اقبال کامیابی کی فضا میں لہرا رہا تھا۔

علی کے فتوحات

علی نے ٢٥٤ھ میں بزور تیغ ابلہ میں گھس کر وہاں کے عامل عبیداللہ بن حمید اور اس کی مختصر سی فوج کو تہ تیغ کیا اور شہر کو آگ لگا دی۔ ابلہ جل کر خاک سیاہ ہو گیا۔ اب اہواز تک سارا علاقہ علی کے حیطۂ اقتدار میں تھا۔ اس کے بعد علی نے اہواز کو جا لوٹا اور وہاں کے عامل ابراہیم بن مدبر کو گرفتار کر لیا۔ ٢٥٧ھ میں خلیفہ معتمد نے ایک مشہور سپہ سالار سعید بن صالح کو زنگیوں کی سرکوبی پر متعین کیا۔ سعید نے علی کے مستقر پر پہنچ کر ان پر حملہ کیا اور انہیں میدانِ جنگ سے بھگا دیا۔ لیکن جب وہ دوبارہ اپنی قوت مجتمع کر کے برسر مقابلہ ہوئے تو سعید کو اس معرکہ میں ناکامی ہوئی اور اس کے اکثر ساتھی کام آگئے اور وہ خائب وخاسر دارالخلافہ سامرا (متصل بغداد) واپس آ گیا۔

اب خلیفہ معتمد نے جعفر بن منصور خیاط کو جو بابک کی لڑائیوں میں نام پا چکا تھا زنگیوں کی گوشمالی پر متعین فرمایا۔ جعفر نے جاکر پہلے تو کشتیوں کی آمد و رفت روک دی ۔ جس سے زنگیوں کی رسد بند ہو گئی۔ اس کے بعد زنگیوں سے جنگ کرنے کو روانہ ہوا۔ مگر شکست کھا کر بحرین چلا آیا۔ جس وقت سے جعفر زنگیوں سے شکست کھا کر بحرین آیا تھا ان کے مقابلہ پر جانے سے جی چراتا اور کشتیوں کی اصلاح، خندقوں کی کھدائی اور مورچہ بندی پر اکتفا کر رہا تھا۔ اب علی نے اپنے ایک سپہ سالار ابن ابان کو جعفر پر محاصرہ ڈالنے کی غرض سے بصرہ پر از سر نو چڑھائی کرنے کو بھیجا۔

٤٦

اس نے نصف شوال ٢٥٧ھ میں بصرہ کو بزور تیغ فتح کیا۔ قتل و غارت کر کے واپس آیا۔ اس پر بھی اس ن لوٹ و غارت کرتا ہوا بصرہ گیا۔ اہل بصرہ نے امان طلب کی کو جمع ہونے کا حکم دیا۔ جب تمام لوگ جمع ہو گئے تو سب

جب بصرہ کی تباہی و بربادی کی خبریں در سپہ سالار محمد کو جو مولد کے لقب سے مشہور تھا ایک لشکر بصرہ نے رو رو کر حبشیوں کے ظلم و جور کی داستانیں س مرتب کر کے زنگیوں پر دھاوا کیا۔ علی نے اپنے فوجی ع روز تک لڑائی ہوتی رہی مگر کوئی نتیجہ نہ نکلا۔ علی نے اہل غفلت میں شبخون مارنے کی ہدایت کی۔ زنگیوں نے سے شام تک لڑائی ہوتی رہی۔ مغرب کے وقت مولد گاہ کو لوٹ لیا۔ زنگیوں نے جامدہ تک منہزم لشکر کا تعاق

شاہزادہ ابوالعباس کی روانگی

اس کے بعد مسلسل نو سال تک یہ حالت دے کر بھیجے جاتے تھے۔ لیکن وہ زنگیوں کی تاب مقا نذر کر کے بھاگ آتے رہے۔ آخر خلیفہ نے سالہا ابوالعباس معتضد بن موفق کو (جو آئندہ چل کر خلیفہ م باللہ کے لقب سے مشہور ہوا) زنگیوں کی مہم پر روانہ کیا پیادہ و سوار فوج کی جمعیت سے زنگیوں کی طرف روان فراہم کی تھیں۔ علی نے سن رکھا تھا کہ ابوالعباس ایک مطلق دخل نہیں۔ اس لئے علی نے یہ خیال پختہ کر لیا مرعوب ہو کر برسر مقابلہ نہ آئے گا اور اگر اس کی جرا کھٹے کر دیئے جائیں گے کہ مدت العمر لڑائی کا نام نہ

اسلامی لشکر کی پہلی فتح

ابوالعباس نے ایک قصبہ میں جس کا نام ب لئے جاسوس دوڑائے۔ انہوں نے آکر اطلاع دی ک

٤٧

صفحہ ١٢٧

اس نے نصف شوال ٢٥٧ھ میں بصرہ کو بزور تیغ فتح کیا اور وہاں کے باشندوں کو نہایت سفاکی سے قتل وغارت کر کے واپس آیا۔ اس پر بھی اس کے بے رحم دل کو تسکین نہ ہوئی۔ وہ دوبارہ قتل و غارت کرتا ہوا بصرہ گیا۔ اہل بصرہ نے امان طلب کی۔ ابن ریان نے امان دے کر تمام اکابر شہر کو جمع ہونے کا حکم دیا۔ جب تمام لوگ جمع ہو گئے تو سب کو جرعہ مرگ پلا دیا۔

جب بصرہ کی تباہی و بربادی کی خبریں، سامرہ (بغداد) پہنچیں تو خلیفہ معتمد نے ایک سپہ سالار محمد کو جو مولد کے لقب سے مشہور تھا ایک لشکر جرار کے ساتھ بصرہ کی جانب روانہ کیا۔ اہل بصرہ نے رو رو کر حبشیوں کے ظلم وجور کی داستانیں سنائیں۔ مولد نے اہل بصرہ کو اور اپنے لشکر کو مرتب کر کے زنگیوں پر دھاوا کیا۔ علی نے اپنے فوجی افسر یحییٰ بن محمد کو مولد کے مقابلہ پر بھیجا۔ دس روز تک لڑائی ہوتی رہی مگر کوئی نتیجہ نہ نکلا۔ علی نے ابولیث اصفہانی کو یحییٰ کی کمک پر بھیجا اور حالت غفلت میں شبخون مارنے کی ہدایت کی۔ زنگیوں نے اسلامی لشکر پر شبخون مارا۔ رات بھر اور پھر صبح سے شام تک لڑائی ہوتی رہی۔ مغرب کے وقت مولد نے شکست کھائی۔ زنگیوں نے اس کے لشکر گاہ کو لوٹ لیا۔ زنگیوں نے جادہ تک منہزم لشکر کا تعاقب کیا۔

شاہزادہ ابوالعباس کی روانگی

اس کے بعد مسلسل نو سال تک یہ حالت رہی کہ دارالخلافہ بغداد سے سپہ سالار فوجیں دے کر بھیجے جاتے تھے۔ لیکن وہ زنگیوں کی تاب مقاومت نہ لاتے اور تمام مال و اسباب اعداء کی نذر کر کے بھاگ آتے رہے۔ آخر خلیفہ نے سالہا سال کی ہزیمتوں سے ملول ہو کر اپنے بھتیجے ابوالعباس معتضد بن موفق کو (جو آئندہ چل کر خلیفہ معتمد کے بعد سریر خلافت پر متمکن ہو کر معتضد باللہ کے لقب سے مشہور ہوا) زنگیوں کی مہم پر روانہ کیا۔ ابوالعباس ربیع الثانی ٢٦٦ھ میں دس ہزار پیادہ و سوار فوج کی جمعیت سے زنگیوں کی طرف روانہ ہوا۔ علی نے اس مہم کے لئے بے شمار فوجیں فراہم کی تھیں۔ علی نے سن رکھا تھا کہ ابوالعباس ایک نوجوان شاہزادہ ہے جسے معرکہ آرائی میں مطلق دخل نہیں۔ اس لئے علی نے یہ خیال پختہ کر لیا کہ اوّل تو ابوالعباس ہماری کثرت سپاہ سے مرعوب ہو کر برسر مقابلہ نہ آئے گا اور اگر اس کی جرات بھی کی تو پہلے حملہ میں اس کے دانت ایسے کھٹے کر دیئے جائیں گے کہ مدت العمر لڑائی کا نام نہ لے گا۔

اسلامی لشکر کی پہلی فتح

ابوالعباس نے ایک قصبہ میں جس کا نام صلح تھا پہنچ کر فریق مخالف کی خبریں لانے کے لئے جاسوس دوڑائے۔ انہوں نے آکر اطلاع دی کہ زنگیوں کا لشکر بھی آپہنچا ہے۔ ان کا پہلا حصہ

٤٧

صفحہ ١٢٨

قصبہ صلح کے اس کنارے پر ہے اور آخری حصہ بطیحی واسط تک پھیلا ہوا ہے۔ ابوالعباس ان کے مقابلہ میں متعارف راستہ چھوڑ کر غیر معروف راہ سے روانہ ہوا۔ سر راہ غنیم کے مقدمۃ الجیش سے مڈبھیڑ ہو گئی۔ ابوالعباس نے پہلے تو اپنی زبردست یلغار سے زنگیوں کو پیچھے ہٹا دیا۔ مگر پھر مصلحتاً خود پیچھے کو ہٹا۔ زنگی اس کی اس پسپائی سے قوی دل ہو کر بڑھ چڑھ کر حملے کرنے لگے۔ ابوالعباس نے اس سے پیشتر دریا کی راہ سے جنگی کشتیوں کا ایک بیڑا بھی روانہ کر دیا تھا۔ جس کی قیادت ابوحمزہ نصیر کے سپرد تھی۔ اس وقت نصیر بھی وہاں سے قریب ہی اپنی فوج کو ایک طرف لئے پڑا تھا۔ جب زنگی بڑھ بڑھ کر حملہ آور ہونے لگے تو ابوالعباس نے للکار کر کہا نصیرا کیا دیکھتے ہو۔ یہ کتے اب آگے نہ بڑھنے پائیں۔ نصیر یہ آواز سن کر ایک دوسری جانب سے جس طرف کہ زنگیوں کو کوئی وہم و گمان نہ تھا اپنا ٹڈی دل لئے ہوئے نکل پڑا۔ زنگی حواس باختہ ہو گئے۔ کچھ سوجھائی نہ دیا کہ کیا کریں۔ عالم سراسیمگی میں دریا کی طرف بھاگے۔ ابوالعباس نے رومال (یا جھنڈی) کے اشارے سے جنگی کشتیوں کی فوج کو بھی مقابلہ کا حکم دیا۔ الغرض حبشی چاروں طرف سے حملہ کی زد میں آ گئے۔ آخر جدھر راستہ پایا سخت بدحواسی سے بھاگ کھڑے ہوئے۔ اسلامی لشکر نے چھ کوس تک تعاقب کیا اور غنیم کے لشکر گاہ میں جو کچھ تھا لوٹ لیا۔ یہ پہلی فتح تھی جو شاہی فوج کو سالہا سال کی متواتر اور مسلسل ہزیمتوں کے بعد زنگیوں کے مقابلہ میں نصیب ہوئی۔

ابوالعباس کی دوسری فتح عظیم

اس کے بعد ابوالعباس نے واسطہ سے ایک کوس ہٹ کر پڑاؤ کیا۔ اب دونوں فریق ازسرنو اپنی اپنی سپاہ کی اصلاح اور ضرورت حرب کی ترتیب میں مصروف ہوئے۔ ایک ہفتہ کے بعد زنگیوں کا ایک سپہ سالار سلیمان بن جامع اپنے لشکر کو تین حصوں میں منقسم کر کے تین طرف سے حملہ کرنے کی غرض سے ابوالعباس کی طرف بڑھا اور فوج کے چند دستوں کو کشتیوں پر سوار کر کے براہ دریا حملہ کرنے کا حکم دیا۔ یہ بھانپ کر ابوالعباس اور نصیر نے اپنی ہمت و توجہ دریائی حملہ کی روک تھام پر مبذول کی اور اس کے مقابلہ میں اپنی فوج کو خشکی پر دست بدست لڑنے کا اشارہ کیا۔ ہنگامہ کارزار گرم ہوا۔ دوپہر تک آتش حرب شعلہ زن رہی۔ ظہر کے وقت زنگی ہمت ہار بیٹھے اور نہایت افراتفری اور بے ترتیبی کے ساتھ بخوف جان بھاگنے لگے اور اس کے بعد ان میں عام بھگدڑ مچ گئی۔ لشکر اسلام غنیم کو موت کے گھاٹ اتارنے اور قید کرنے میں مشغول ہوا۔ زنگیوں کی تمام جنگی کشتیاں گرفتار کر لی گئیں۔ ہزار ہا زنگی موت کے گھاٹ اترے۔ ابوالعباس فتح کے پھریرے اڑاتا ہوا اپنے لشکر گاہ پر واپس آیا۔

٤٨

١٢٩

باپ کا بیٹے کی کمک پر آنا

ان دو کامیابیوں کے بعد عساکر خلافت بعد زنگیوں کو بہت سی اور ہزیمتیں ہوئیں۔ جن کی تفصی زنگیوں کے خانہ ساز نبی کو اپنی ناکامیوں کا علم ہوا تو ا جامع اور ابن ابان کو متفرق و منتشر ہو کر لڑنے پر ملام مقابلہ کرنے کا حکم دیا۔ اس وقت تک ابوالعباس تنہا ا الٰہی کے بل پر نوعمری اور ناتجربہ کاری کے باوجود ض ابوالعباس کے والد اور خلیفۃ المسلمین کے بھائی موفق تو سجدہ شکر بجا لایا اور جب یہ سنا کہ سلیمان اور ابن ا ہوا چاہتے ہیں تو خلیفہ نے استصواب رائے سے م ساتھ بغداد سے کوچ کیا۔ جب واسط پہنچا تو اس ابوالعباس کے فوجی افسروں کو خلعت گراں بہا سے ن

دشمن کا قتل عام، ہزاروں زنگی اسیر

دوسرے دن موفق نے شہر منہدم کرنے کے قصد سے منیعہ کی طرف کوچ کیا۔ ٢ ربیع الثانی ٢٦٧ھ کو دونوں باپ بیٹا نے دو طرف سے م تھی۔ دریا کی طرف سے حالت غفلت میں حملہ آور ہ آتش جنگ شعلہ زن ہوئی۔ دفعتاً موفق نے دریا کی ط اور غیر متوقع حملہ سے بدحواس ہو کر محافظ شہر کے ا کے ساتھ شہر میں گھس پڑے۔ حبشیوں کا خوب قتل ع مسلمات زنگیوں کے پنجۂ ظلم سے رہا کی گئیں۔ بے شعرانی اپنی بچی کھچی ہزیمت خوردہ فوج کو لے کر جنگل

شہر منصورہ پر لشکر اسلامی کی یلغار

اس کے بعد ایک زنگی افسر نے رات درخواست کی۔ ابوالعباس نے امان دے کر زنگی س

٤٩

صفحہ ١٢٩

باپ کا بیٹے کی کمک پر آنا

ان دو کامیابیوں کے بعد عساکر خلافت کے لئے فتوحات کا دروازہ کھل گیا۔ اس کے بعد زنگیوں کو بہت سی اور ہزیمتیں ہوئیں۔ جن کی تفصیل بخوف طوالت قلم انداز کی جاتی ہے۔ جب زنگیوں کے خانہ ساز نبی کو اپنی ناکامیوں کا علم ہوا تو اس نے اپنے دونوں سپہ سالاروں سلیمان بن جامع اور ابن ابان کو متفرق و منتشر ہو کر لڑنے پر ملامت کی اور دونوں کو مجموعی قوت سے ابو العباس کا مقابلہ کرنے کا حکم دیا۔ اس وقت تک ابو العباس تنہا زنگیوں کے مقابلہ پر لڑ رہا تھا اور اس نے نصرت الٰہی کے بل پر نو عمری اور ناتجربہ کاری کے باوجود نہایت نمایاں کامیابیاں حاصل کی تھیں۔ جب ابوالعباس کے والد اور خلیفۃ المسلمین کے بھائی موفق کو عساکر خلافت کے فتوحات کا حال معلوم ہوا تو سجدہ شکر بجالایا اور جب یہ سنا کہ سلیمان اور ابن ابان یکجا ہو کر اس کے بیٹے ابو العباس پر حملہ آور ہوا چاہتے ہیں تو خلیفہ نے استصواب رائے سے بہ نفس نفیس ٢٦٧ھ میں ایک فوج گراں کے ساتھ بغداد سے کوچ کیا۔ جب واسط پہنچا تو اپنے ہونہار فرزند ابو العباس سے ملا۔ موفق نے ابوالعباس کے فوجی افسروں کو خلعت گراں بہا پہنائے اور فوج کو انعامات سے سرفراز فرمایا۔

دشمن کا قتل عام، ہزاروں زنگی اسیر

دوسرے دن موفق نے شہر شمدار پر جا کر قیام کیا۔ تیسرے دن ابوالعباس نے محاصرے کے قصد سے منیعہ کی طرف کوچ کیا۔ موفق بھی دریا کی راہ سے منیعہ کی طرف بڑھا اور ٨ ربیع الثانی ٢٦٧ھ کو دونوں باپ بیٹا نے دو طرف سے منیعہ پر دھاوا کیا۔ زنگیوں کو موفق کی آمد کی خبر نہ تھی۔ دریا کی طرف سے حالت غفلت میں جھرمٹ باندھ کر ابوالعباس کے مقابلہ پر جمع ہوئے۔ آتش جنگ شعلہ زن ہوئی۔ دفعۃً موفق نے دریا کی طرف سے حملہ کر دیا۔ حبشی جونہی اس اچانک اور غیر متوقع حملہ سے بدحواس ہو کر حفاظت شہر کی طرف مائل ہوئے ابوالعباس کے سپاہی بھی انہی کے ساتھ شہر میں گھس پڑے۔ حبشیوں کا خوب قتل عام ہوا اور ہزاروں قید ہوئے۔ قریباً ڈیڑھ ہزار مسلمات زنگیوں کے پنجہ ظلم سے رہا کی گئیں۔ بے حساب رسد و غلہ ہاتھ آیا۔ زنگیوں کا سپہ سالار شعرانی اپنی بچی کچھی ہزیمت خوردہ فوج کو لے کر جنگل میں جا چھپا۔

شہر منصورہ پر لشکر اسلامی کی یلغار

اس کے بعد ایک زنگی افسر نے رات کے وقت ابوالعباس کے پاس آکر امان کی درخواست کی۔ ابوالعباس نے امان دے کر زنگی سپہ سالار سلیمان بن جامع کا حال دریافت کیا۔

٤٩

صفحہ ١٣٠

اس نے بتایا کہ ابن جامع اس وقت شہر منصورہ میں ہے۔ ابوالعباس نے جا کر اپنے والد کو اس سے مطلع کیا۔ موفق نے فوراً منصورہ کی طرف بڑھنے کا حکم صادر کیا اور خود بھی اس کے بعد ہی کوچ کر دیا۔ منصورہ کے قریب پہنچ کر دو میل کے فاصلہ پر مورچہ بندی کی۔ دوسرے دن زنگیوں سے مقابلہ ہوا۔ دن بھر لڑائی ہوتی رہی۔ آخر مغرب کا وقت آگیا۔ موفق اپنے کیمپ (لشکرگاہ) کو واپس آیا اور خود ساختہ نبی کی فوج نے منصورہ کو مراجعت کی۔ موفق نے آخر شب میں بیدار ہو کر اپنے لشکر کو مرتب کیا اور جنگی کشتیوں کو دریا کی راہ سے منصورہ کی طرف بڑھنے کا حکم دیا۔ اس اثناء میں سپیدہ صبح نمودار ہوا۔ موفق نے نماز صبح باجماعت ادا کر کے دیر تک مالک الملک جل سلطانہ کی جناب میں حضور قلب سے دعا کرتا رہا۔ جونہی افق پر سرخی نمایاں ہوئی۔ دھاوا کا حکم دے دیا۔

منصورہ کی تسخیر

عساکر خلافت کا ایک دستہ ابوالعباس کے زیر قیادت شیر غراں کی طرح ڈکارتا ہوا شہر پناہ کے قریب پہنچ گیا۔ دوپہر تک بڑے زور شور سے لڑائی ہوتی رہی۔ آخر زنگیوں کے پیر اکھڑ گئے۔ عساکر خلافت نے تعاقب کیا۔ زنگیوں نے اپنی خندقوں کے پاس پہنچ کر پھر لڑائی شروع کر دی۔ اتنے میں جنگی کشتیاں دریا کی راہ سے شہر کے کنارے پر پہنچ گئیں۔ خلیفہ کی دریائی فوج نے خشکی پر اتر کر شہر کے ایک حصے پر قبضہ کر لیا۔ اس اثناء میں ابوالعباس کا دستہ فوج خندق پر لکڑی کا مختصر سا پل بنا کر عبور کر گیا۔ زنگیوں نے گھبرا کر شہر میں داخل ہونے کی کوشش کی مگر ناکام رہے۔ غرض زنگی بری طرح منہزم ہوئے۔ ہزاروں قتل اور ہزار ہا قید کئے گئے۔ ابن جامع بقیۃ السیف کو لے کر بھاگ گیا۔ موفق نے کامیابی کے ساتھ شہر پر قبضہ کر لیا۔ دس ہزار مسلم خواتین اور بچوں کو جن میں زیادہ تر سادات کے زن و فرزند تھے خانہ ساز نبی کے پیروؤں کی غلامی سے نجات دلائی گئی۔ سلیمان بن جامع کے اہل و عیال بھی گرفتار ہو گئے۔ اس کے بعد مسلمانوں اور مرتدین میں متعدد لڑائیاں ہوئیں۔ جن میں لشکر خلافت مظفر و منصور رہا۔ موفق نے غنیم کے اکثر بلاد فتح کرلئے۔ زنگیوں کا نامور سپہ سالار ریحان بن صالح اور بہت دوسرے زنگی امان کے طالب ہوئے۔

شہر مختارہ کا محاصرہ

اب مسلمانوں نے شہر مختارہ کا محاصرہ کیا۔ موفق نے رات کے وقت نقشہ جنگ اور فصیلوں کی کیفیت کا معائنہ کرنے کے لئے شہر کے اردگرد چکر لگایا۔ فصیلیں نہایت مستحکم تھیں۔ چاروں طرف چوڑی چوڑی خندقیں شہر کو اپنے آغوش عاطفت میں لئے ہوئے تھیں۔ علی الصباح ابوالعباس کو دریا کی راہ سے کشتیوں کے ساتھ بڑھنے کا حکم دیا اور خود فوج مرتب کر کے خشکی کی راہ

٥٠

صفحہ ١٤١

سے مختارہ پر دھاوا کیا۔ ابوالعباس نے نہایت چابک دستی سے اپنی جنگی کشتیوں کو شہر پناہ سے جاملایا۔ قریب تھا کہ خشکی پر اتر پڑتا۔ زنگیوں نے دیکھ لیا۔ شور و غل مچاتے ہوئے دوڑ پڑے اور منجنیقوں سے سنگ باری شروع کردی۔ یہ رنگ دیکھ کر موفق نے اپنے فرزند کو واپس آنے کا اشارہ کیا۔ ابوالعباس کی کشتیوں کے ساتھ زنگیوں کی دو کشتیاں بھی ملاحوں کے ساتھ چلی آئیں۔ ان لوگوں نے امان کی درخواست کی۔

موفق نے نہ صرف انہیں امان دی بلکہ انعام واکرام سے بھی نوازا اور مرہون منت کیا۔ اس حسن سلوک کا یہ اثر ہوا کہ طالبان امان کی آمد شروع ہو گئی۔ علی نے یہ رنگ دیکھ کر فوراً دہانہ دریا پر چند آدمیوں کو مامور کیا۔ تاکہ اس کی جنگی کشتیاں حریف کے سایہ عاطفت میں جا کر طالب امان نہ ہوں۔ ١٥؍شعبان ٢٧٧ھ کو پچاس ہزار اسلامی لشکر کا سیلاب دریا خشکی کی طرف سے مختارہ کی طرف بڑھا۔ اس معرکہ میں زنگیوں کی تعداد تین لاکھ کے قریب تھی۔ مگر موفق نے قلت تعداد کے باوجود اس خوبی سے شہر کا محاصرہ کیا کہ حریف کے دانت کھٹے کر دئیے۔

شہر موفقیہ کی تاسیس و تشیید

موفق مختارہ کو حالت محاصرہ میں چھوڑ کر وہاں سے قریب ایک مقام پر خیمہ زن ہوا۔ وہاں موفقیہ نامی ایک شہر آباد کرنے کا حکم دیا۔ شہر کا بنیادی پتھر اپنے ہاتھ سے رکھا۔ فوجی چھاؤنی اور جنگی کشتیاں بنانے کا حکم دیا۔ تھوڑے دنوں میں فوجیوں، سرداروں اور عوام کے بے شمار مکان ہو گئے۔ جامع مسجد بن گئی اور دارالامارۃ کی تعمیر بھی تکمیل کو پہنچ گئی۔ آبادی کے لئے تمام ممالک محروسہ میں تجار کے نام گشتی فرمان بھجوا دیئے۔ آناً فاناً ہر قسم کے سامان اور مایحتاج کی دکانیں کھل گئیں۔ کھانے پینے کی چیزیں اور ضروریات زندگی کا دوسرا سامان بکثرت مہیا ہونے لگا۔ موفق ایک مہینہ تک اسی انتظام میں مصروف رہا۔

لشکر اسلام پر حالت نماز میں حملہ کرنے کی سازش

علی نے طول محاصرہ اور طوالت قیام بلا قتال سے مضطرب و پریشان ہو کر ابن ابان سپہ سالار کو حالت غفلت میں مسلمانوں پر حملہ کرنے کے لئے روانہ کیا اور ہدایت کر دی کہ رات کی تاریکی میں بغیر روشنی کے دریا عبور کرو اور نہایت تیزی سے چار پانچ کوس کا چکر کاٹ کر صبح صادق نمودار ہونے پر ایسے وقت میں کہ موفق کی فوج ادائے نماز میں مصروف ہو۔ پس پشت سے حملہ کر دو۔ تم جونہی حملہ کرو گے میں بھی معاً مقابلہ پر پہنچ جاؤں گا۔ اس قرارداد کے بموجب ابن ابان آدھی رات سے پہلے اپنی فوج سمیت دریا عبور کر گیا۔ جاسوسوں نے موفق کو اس کی اطلاع دی۔

٥١

صفحہ ١٣٢

موفق نے فی الفور اپنے لائق فرزند کو ابن ابان کی مدافعت و معرکہ آرائی پر روانہ کیا۔ ابو العباس نے تیس جنگی جہاز اور پندرہ جنگی کشتیاں دریا کی حفاظت پر مامور کیں تا کہ ابن ابان بحالت ہزیمت و فرار دریا عبور نہ کر سکے اور خود ایک ہزار سواروں کی جمعیت سے اس راستہ پر جا کر کمین گاہ میں چھپ رہا۔ جس طرف سے ابن ابان آنے والا تھا۔ جونہی ابن ابان اس راہ سے گزرا ابوالعباس نے حملہ کر دیا۔ اعداء اس اچانک و غیر متوقع حملہ سے بے اوسان ہو کر بھاگے۔ عباسی سواروں نے تلواریں بے نیام کر کے زنگیوں کو اپنی شمشیر زنی کا خوب تختہ مشق بنایا۔ زنگی بدحواسی کے عالم میں دریا کی طرف بھاگے۔ بحری فوج عبور کی راہ میں حائل ہوئی۔ اکثر زنگی کام آئے۔ بہتیرے دریا میں ڈوب مرے اور بے شمار قید کر لئے گئے۔ صبح ہوتے ہوتے لڑائی کا خاتمہ ہو گیا۔

خانہ ساز نبی کا پھوٹ پھوٹ کر رونا

طلوع آفتاب سے پہلے اختتام جنگ کے بعد ابو العباس نے میدان جنگ ہی میں نماز صبح باجماعت ادا کی۔ پھر قیدیوں اور مقتولوں کے سروں کو لئے ہوئے اپنے باپ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ موفق نے اسے فرط محبت سے گلے لگا لیا۔ دعائیں دیں۔ لڑائی کے حالات سنے اور دوپہر کے قریب حکم دیا کہ قیدیوں اور مقتولوں کے سروں کو کشتیوں میں بار کر کے حبشی کے محل سرائے کے سامنے دکھلانے کی غرض سے لے جاؤ۔ علی حبشی اور اس کے پیروؤں کو ہنوز اس واقعہ کی کوئی اطلاع نہیں تھی۔ منظر سے آپس میں کہنے لگے موفق نے یہ اچھا رنگ جمایا ہے۔ زنگی دلاوروں کو خوفزدہ کرنے کی کوشش میں ان سیاہ بخت حبشیوں کو قیدی بنالیا ہے جو شامت اعمال سے اس کے پاس جا کر امان کے خواہاں ہوئے اور یہ تمام سر مصنوعی ہیں۔ انسانوں کے سر نہیں۔ مگر خوب نقل اتاری ہے۔

جاسوسوں نے جا کر گروہ مرتدین کا یہ مقولہ موفق کے گوش گزار کیا۔ موفق نے حکم دیا کہ ان سروں کو منجنیقوں (جنگی گوپھنوں) میں رکھ کر محصوروں کے پاس پھینک دو۔ جب ایسا کیا گیا تو محصورین میں ایک ہنگامہ قیامت برپا ہو گیا۔ جو دیکھتا چلانے لگتا۔ علی حبشی بھی سروں کو دیکھنے کو آیا۔ ضبط نہ کر سکا اور پھوٹ پھوٹ کر رونے لگا۔

بڑے بڑے زنگی سورماؤں کی درخواست امان

اتنے میں زنگیوں کی رسد آنی بند ہو گئی اور شہر کا غلہ بھی قریب الاختتام ہوا۔ علی کے بڑے بڑے سورما اور نامی سردار فاقہ کشی اور شدت محاصرہ سے تنگ آ کر شہر سے نکلے اور امان کی درخواست کی۔ علی نے اپنی روز افزوں ابتری کا احساس کر کے اپنے دو افسروں کو دس ہزار فوج کی

٥٢

جمعیت شہر کی غربی جانب سے نکل کر تین طرفہ بند کرنے کا حکم دیا۔ جاسوسوں نے جھٹ یہ خبر اترنے کا قصد کیا تو خلیفہ کے لشکر نے اچانک دریا میں جا گھیر لیا اور باقی ماندہ گرفتار ہوئے معرکہ سے زنگیوں کی رہی سہی قوت بھی ٹوٹ کی تعداد جو روز بروز گھٹتی جاتی تھی۔ اس لیے رو بزوال تھی۔

نہر ابتر اک کے عبور کرنے کی کامیا

اب موفق نے نہر ابتر اک کی جان عبور کرنے کا پورا سامان رات ہی سے مہیا کر توکل رکھو۔ اسلام کی عزت رب العزت کے کامیاب فرمائے گا۔ سرداران فوج علی الصبا دی۔ موفق نے لشکر کو مرتب کر کے نہر ابتر اک پڑھتے ہوئے ’بسم الله مجریہا ومر طرف موفق کا لشکر سیلاب کی طرح بڑھ رہا تھا آلات حرب بھی بکثرت موجود تھے۔ علی حبشی بظاہر یہاں کی تسخیر بالکل محال نظر آتی تھی۔ نہ تیروں کی برسات کا خوف نہ سنگبا

علی نے اسلامی لشکر کو اس طرف تیزی سے چلنے لگیں۔ تواتر پتھر برسنے لگے۔ اٹھالیں۔ ایسی حالت میں نہر کا عبور کرنا، اور کوئی آسان کام نہ تھا۔ جب اسلامی لشکر نہر منظر کو دیکھ کر آگے بڑھنے سے رک گیا۔ موفق سیاہ بخت حبشی پتھر پھینک رہے ہیں تمہارے مجھے یقین ہے کہ تمہاری جوانمردی اور دلاوری آواز نہ تھی بلکہ ایک برق رو تھی جو چشم زدن میں

صفحہ ١٣٣

جمعیت شہر کی غربی جانب سے نکل کر تین طرف سے عساکر خلافت پر حملہ آور ہونے اور رسد کی آمد بند کرنے کا حکم دیا۔ جاسوسوں نے جھٹ یہ خبر موفق تک پہنچائی۔ جب زنگیوں نے دریا سے خشکی پر اترنے کا قصد کیا تو خلیفہ کے لشکر نے اچانک حملہ کر دیا۔ ہزاروں قتل ہوئے۔ سیکڑوں نے دامن دریا میں جا بسیرا کیا اور باقی ماندہ گرفتار ہو گئے۔ زنگیوں کی چار سو کشتیاں گرفتار کر لی گئیں۔ اس معرکہ سے زنگیوں کی رہی سہی قوت بھی ٹوٹ گئی۔ اس پر طرہ یہ کہ چونکہ موفق کے پاس پناہ گزینوں کی تعداد یوماً فیوماً بڑھتی جاتی تھی۔ اس لئے محاصرین کی قوت ترقی پذیر اور محصورین کی جمعیت روبہ زوال تھی۔

نہر اتراک کے عبور کرنے کی کامیاب کوشش

اب موفق نے نہر اتراک کی جانب سے عام حملہ کرنے کا ارادہ کیا اور حکم دیا کہ نہر کے عبور کرنے کا پورا سامان رات ہی سے مہیا رکھا جائے۔ موفق نے اپنے افسروں سے فرمایا کہ خدا پر توکل رکھو۔ اسلام کی عزت رب العزت کے ہاتھ میں ہے۔ وہ ضرور ہم کو ہمارے ارادوں میں کامیاب فرمائے گا۔ سرداران فوج علی الصباح تیار ہو کر موفق کے خیمہ کے پاس آئے اور سلامی دی۔ موفق نے لشکر کو مرتب کر کے نہر اتراک کے عبور کرنے کا حکم دیا اور خود بھی بتاریخ ٢٦/ ذی الحجہ ٢٦٧ھ ”بِسمِ اللہ مجریہا و مرسہا“ پڑھتا ہوا لشکر کے ساتھ چلا۔ شہر کا یہ حصہ جس طرف موفق کا لشکر سیلاب کی طرح بڑھ رہا تھا نہایت مضبوط تھا۔ موقع موقع پر منجنیقیں نصب تھیں۔ آلات حرب بھی بکثرت موجود تھے۔ علی حبشی، سلیمان بن جامع اور ابن ابان بھی اسی طرف تھے اور بظاہر یہاں کی تسخیر بالکل محال نظر آتی تھی۔

نہ تیروں کی برسات کا خوف نہ سنگباری کی پروا

علی نے اسلامی لشکر کو اس طرف بڑھتے دیکھ کر سنگ باری کا حکم دیا۔ منجنیقیں نہایت تیزی سے چلنے لگیں۔ تواتر پتھر برسنے لگے۔ تیر اندازوں نے روح و تن کا فیصلہ کرنے کو تیر کمانیں اٹھا لیں۔ ایسی حالت میں نہر کا عبور کرنا، اور پھر عبور، بعد شہر پناہ کی دیواروں کے قریب پہنچنا کوئی آسان کام نہ تھا۔ جب اسلامی لشکر نہر کے قریب پہنچا تو دشمن کے جاں ستاں و زہرہ گداز حربی منظر کو دیکھ کر آگے بڑھنے سے رک گیا۔ موفق نے للکار کر کہا میرے شیرو! کیا یہ منجنیقیں جن سے یہ سیاہ بخت حبشی پتھر پھینک رہے ہیں تمہارے عزم و ثبات اور مردانگی کی راہ میں حائل ہو جائیں گی؟ مجھے یقین ہے کہ تمہاری جوانمردی اور دلاوری کے مقابلہ میں ان کی کچھ بھی حقیقت نہیں ہے۔ یہ آواز نہ تھی بلکہ ایک برق رو تھی جو چشم زدن میں لشکر کی اس طرف سے دوسرے سرے تک دوڑ گئی۔

٥٣

صفحہ ١٣٤

جاں نثاران ملت بے تأمل بات کی بات میں نہر عبور کر گئے۔ نہ تیروں کی برسات کا خوف کیا، نہ سنگباری کی کچھ پرواہ کی۔

فصیل شہر پر دولت عباسیہ کا پھریرا

اب موفق کا لشکر شہر پناہ کی دیوار کے نیچے پہنچ کر اسے منہدم کرنے اور سیڑھیاں لگا کر اس پر چڑھنے کی کوشش کرنے لگا۔ بہادر سپاہی فصیل شہر پر چڑھ گئے اور لڑ بھڑ کر اس پر قبضہ کر ہی لیا۔ دولت عباسیہ کا علم نصب کر دیا گیا۔ منجنیقوں اور آلات حصار شکنی میں آگ لگا دی۔ زنگیوں کا ایک جم غفیر مارا گیا۔ دوسری طرف ابوالعباس زنگی سپہ سالار ابن ابان سے مصروف پیکار تھا۔ ابوالعباس نے اس کو پہلے حملہ میں شکست دی اور ہزاروں زنگی تہ تیغ ہوئے۔ ابن ابان ہزیمت کھا کر بھاگا اور فوراً شہر پناہ کا دروازہ بند کر لیا۔ ابوالعباس کا فتح مند لشکر شہر مختارہ کی دیواروں تک پہنچ گیا اور اس میں ایک روزن کر کے بزور تیغ گھس پڑا۔ سلیمان بن جامع سینہ سپر ہو کر مقابلہ پر آ گیا۔ دیر تک گھمسان کا رن رہا۔ آخر ابوالعباس اپنی فوج لے کر واپس آ گیا اور زنگیوں نے فوراً اس روزن کو بند کر دیا۔

شہر پناہ میں دوسرے متعدد شگاف

مگر دوسری طرف موفق کی فوج نے شہر پناہ کی دیواروں میں متعدد شگاف کر لئے اور شہر پناہ کی خندق پر ایک ہنگامی پل بھی بنا لیا۔ جس سے تمام لشکر شاہی بسہولت عبور کر لیا۔ یہ دیکھ کر زنگیوں میں بھگدڑ مچ گئی۔ شاہی فوج بعض کو قتل اور بعض کو گرفتار کرتی یہ دیر ابن سمعان تک چلی گئی اور اس پر قبضہ کر کے آگ لگا دی۔ اس مقام پر زنگی خوب جان توڑ کر لڑے مگر آخر کار شکست کھا کر اپنے گمراہ کنندہ کے پاس جا دم لیا۔ علی خود سوار ہو کر میدان کارزار میں آیا اور اپنے لشکر کو جوش دلا دلا کر لڑانے لگا۔ مگر کسی کے قدم نہ جمتے تھے۔ ہر حبشی لڑنے پر بھاگنے کو ترجیح دیتا تھا۔ آخر علی کے خاص الخاص افسر بھی بھاگ کھڑے ہوئے۔ اتنے میں رات کی تاریکی فاتح فوج کے حملے کی راہ میں حائل ہو گئی اور موفق اپنی فوج کو لے کر واپس آ گیا۔

دو پلوں کا انہدام فوج کی علی کے خزائن و دفاتر تک پیش قدمی

اب موفق نے انہدام شہر پناہ کی طرف عنان توجہ کامل طور پر منعطف کی اور راستہ کے فراخ کرنے میں بھی سرتوڑ کوشش کرنے لگا۔ اکثر خود بھی لشکریوں کے ساتھ شہر پناہ کی دیوار منہدم کرنے میں شریک ہو جاتا تھا اور کبھی جوش میں آ کر بھی شمشیر بکف میدان جنگ میں جا پہنچتا تھا۔ آخر کئی روز

٥٤

صفحہ ١٣٥

کی جنگ اور شبانہ روز کی جانکاہیوں کے بعد نہر سلمی کی جانب شہر پناہ کا بہت بڑا حصہ منہدم ہو گیا۔ شہر کی شمالی جانب دو پل تھے۔ جن پر اس وقت تک محاصرین کا قبضہ نہ ہوا تھا۔ محصورین عموماً انہی پلوں سے عبور کر کے شاہی لشکر پر اچانک آپڑتے تھے اور نقصان کثیر پہنچا کر واپس چلے جاتے تھے۔ موفق نے ان پلوں کی حالت سے مطلع ہو کر ایسے وقت میں جب کہ زنگیوں سے گھمسان کی لڑائی ہو رہی تھی۔ ایک دستہ فوج مزدوروں کی معیت میں ان کے توڑنے کو بھیج دیا۔ زنگیوں نے مزاحمت کی مگر ناکام رہے۔ شاہی لشکر نے اس کو دو پہر تک منہدم کر دیا۔ اس کے بعد موفق کی ہمرکاب فوج ایک اور جانب سے شہر پناہ کی دیوار کو توڑ کر شہر میں گھس پڑی اور قتل و غارت کرتی ہوئی ابن سمعان کے مکان تک بڑھ گئی۔ جہاں علی خبیث کے خزائن و دفاتر تھے۔ زنگیوں نے ہر چند مزاحمت کی مگر کامیاب نہ ہوئے۔ اس واقعہ کے بعد شہر پناہ کی دیوار منہدم ہوگئی اور فتح کے آثار نمایاں ہو چلے۔

موفق کا مجروح ہونا اور جنگ کا سہ ماہ التواء

مگر سوء اتفاق سے ٢٥ / جمادی الاول ٢٦٩ ھ کو ایک معرکہ میں موفق کے سینہ پر ایک تیر آ لگا۔ چونکہ زخم بہت گہرا تھا صاحب فراش ہو گیا۔ لڑائی ملتوی ہو گئی۔ آخر تین مہینہ کے بعد زخم پوری طرح مندمل ہوا اور موفق نے بڑی دھوم دھام سے غسل صحت کیا اور عساکر اسلامیہ میں پھر چہل پہل نظر آنے لگی۔ لشکریوں کے دل خوش اور چہرے بشاش ہو گئے۔ لیکن زنگیوں نے اس مدت التواء میں شہر پناہ کی منہدم دیواروں کو پھر درست کر لیا اور حفاظت کے لئے جا بجا فوجیں متعین کر دیں۔ موفق نے حصول صحت کے بعد پھر دھاوا کیا اور شہر پناہ کے توڑنے کا حکم صادر فرمایا۔ اسلامی فوجیں سیلاب کی طرح شہر پناہ کی دیواروں سے نہر سلمی کے قریب جا کر ٹکر کھانے لگیں۔ جنگ کا بازار گرم ہو گیا۔ زنگی لشکر غازیان اسلام کی مدافعت پر کمر بستہ تھا اور مسلمان تھے کہ جان پر کھیل کر ہلے پڑتے تھے۔

بحری بیڑے کی شاندار کارگزاری

اس اثناء میں موفق نے جنگی بیڑے کو شطی نہر ابن خصیب کی جانب سے حملہ کرنے کا حکم دیا۔ امیر البحر نے حکم پاتے ہی اپنے بیڑے کو اس تیزی سے وہاں پہنچا دیا کہ زنگیوں کو اس کی خبر تک نہ ہوئی۔ وہ دوسری طرف بے خبری میں اپنی حربی طاقت سے نہر سلمی کے قریب عساکر اسلامیہ سے مصروف پیکار رہے۔ ادھر بحری فوج نے زنگیوں کے ایک محل سرائے کو جلا دیا۔ جو کچھ پایا لوٹ لیا اور سکان محل کو گرفتار کر لیا۔ عساکر خلافت غروب کے وقت مظفر و منصور میدان کارزار سے فرودگاہ پر واپس آئے۔

٥٥

صفحہ ١٣٦

اگلے دن نماز صبح ادا کر کے دھاوا کیا۔ اسلامی مقدمۃ الجیش اٹکلا کے محل تک قتل وغارت کرتا ہوا پہنچ گیا۔ ابن ابان زنگی سپہ سالار نے نہروں میں جو محل سرائے کے چاروں طرف تھیں پانی جاری کرنے اور خلیفۃ المسلمین کے لشکر کے بالمقابل متعدد خندقیں کھودنے کا حکم دیا۔ تاکہ اسلامی لشکر اٹکلا کے محل تک نہ پہنچنے پائے۔ موفق نے حریف کی اس کارروائی سے مطلع ہو کر ایک دستہ فوج کو خندق اور نہر کے پاٹنے پر متعین کیا اور ایک دستی فوج کو علی کے محل پر حملہ آور ہونے کا حکم دیا۔

کشتیوں کی چھتوں پر مانع احراق ادویہ کا ضماد

موفق کی خواہش تھی کہ بحری بیڑہ زنگی اعیان و عمائد کو نذر آتش کر دے۔ لیکن مشکل یہ تھی کہ جونہی جنگی کشتیاں شہر پناہ کے قریب پہنچتیں اوپر سے آتشباری اور سنگ باری ہونے لگتی۔ اس لئے مجبوراً کشتیوں کو پیچھے ہٹنا پڑتا تھا۔ موفق نے کشتیوں کی چھتوں کو لکڑی کے موٹے تختوں سے پاٹ کر انہیں مانع احراق ادویہ سے رنگنے کا حکم دیا۔ نفاطین اور نامی جنگ آوروں کی ایک جماعت کو اس کام پر متعین کیا جو رات بھر اہتمام جنگ میں مصروف رہنے کی وجہ سے نہ سوئی۔ اگلے دن نماز صبح کے بعد ہی لڑائی چھیڑ دی گئی۔ موفق نے زنگیوں کی جمعیت کو پراگندہ و منتشر کرنے کی کوشش میں ابو العباس کو حکم دیا کہ بحری بیڑے کو ساتھ لے کر زنگی سپہ سالاروں کے مکانات نذر آتش کرنے کا انتظام کرے۔ اس اثناء میں تمام جنگی جہازوں کی چھتوں پر ایسی دواؤں کا ضماد کر دیا گیا تھا کہ جن پر آگ مطلقاً اثر نہ کرتی تھی۔

زنگی عمائد کے سر بفلک محل نذر آتش

اسلامی بیڑہ زنگی محل کی جانب دجلہ کی طرف سے بڑھا۔ زنگیوں نے اس پر آتش باری شروع کی مگر بے نتیجہ رہی۔ جنگی بیڑہ نہایت تیزی اور چابکدستی سے آتش باری کرتا ہوا علی کے محل کے نیچے جا لگا۔ اب نفاطون نے روغنِ نفت کی پچکاریاں بھر بھر کر محل پر پھینکنی شروع کیں۔ چنانچہ اس ترکیب سے قصر کی بیرونی عمارت جل کر خاک سیاہ کر دی گئی۔ تمام زنگی مکیں محل سرائے کے اندر جا چھپے۔ دجلہ کے کنارے پر جس قدر مکانات تھے اسلامی بیڑے نے سب کو آگ لگا دی۔ بڑے بڑے عالی شان ایوان و قصور آگ کا ایندھن بن رہے تھے۔ آگ نے تمام مال و اسباب کو چشم زدن میں نیست و نابود کر دیا اور جو کچھ اس عام آتش زنی سے بچ رہا اسلامی فوج نے پہنچ کر لوٹ لیا۔ قریش اور سادات کی بے شمار خواتین زنگیوں کے قبضے سے واگزار کرائی گئیں۔ زنگی سرداروں کے سر بفلک محل جل کر تودہ خاک ہو گئے۔

٥٦

١٣٧

محصورین کی بدحالی، انسان انسانوں کو کھا

علی اپنے اور اپنے سرداروں کے مکانات چلا گیا۔ تاجر اور دکاندار بھی ادھر کو اٹھ گئے۔ رسد کی ہو گئے اور ضعف و اضمحلال کے آثار نمایاں ہونے صفایا کیا۔ پھر انسانوں نے انسانوں کو کھانا شروع شکن نہ پڑی۔

موفق نے مختارہ کی شہر پناہ کو نہر غربی تک فوجی افسر ایک چھوٹے سے قلعہ میں حفاظت کا ساما مصروف جدال ہوتا تو یہ دائیں بائیں سے نکل کر موفق نے اس قلعہ کو بھی فتح کر لیا اور مسلمان عورتوں نجات پائی۔

شہر پر قبضہ اور علی حنبتی کا قتل

٢٧ محرم ٢٧٠ھ کو اسلامی لشکر نے شہر م قیدیوں کو رہائی نصیب ہوئی۔ خلیل اور ابن ابان گرا نہر سفیانی کی طرف بھاگ گیا۔ موفق نے تعاقب گھمسان کی لڑائی شروع ہو گئی۔ بہت سے جنگی افسر گرفتار ہوئے۔ علی تاب مقاومت نہ لا کر بھاگ کھڑا موفق نے اس کا تعاقب کر کے اسے جالیا اور اس ک شکر ادا کیا اور مظفر و منصور اپنے خرگاہ میں لوٹ آ ہوئے۔ موفق نے اس مہم کو سر کر کے بلاد اسلامیہ م فرمان نافذ کر دیا اور امن و امان قائم کرنے کے خیا مقیم رہا۔

بغداد میں چراغاں

موفق نے ابو العباس کو بغداد بھیج دیا پہنچا۔ اہل بغداد نے بڑی خوشیاں منائیں۔ عوام و

٧

صفحہ ١٣٧

محصورین کی بدحالی ، انسان انسانوں کو کھانے لگے

علی اپنے اور اپنے سرداروں کے مکانات جل جانے کے بعد حصیب کی مشرقی جانب چلا گیا۔ تاجر اور دکاندار بھی ادھر کو اٹھ گئے۔ رسد کی آمد بالکل مسدود ہو گئی۔ شہر کے تمام ذخائر تمام ہو گئے اور ضعف واضمحلال کے آثار نمایاں ہوئے۔ محصورین نے پہلے تو گھوڑوں اور گدھوں کا صفایا کیا۔ پھر انسانوں نے انسانوں کو کھانا شروع کیا۔ مگر بایں ہمہ علی کی جبین استقلال میں ذرا شکن نہ پڑی۔

موفق نے مختارہ کی شہر پناہ کو نہر غربی تک جلا کر خاکستر کر دیا۔ اس سمت میں علی کے ممتاز فوجی افسر ایک چھوٹے سے قلعہ میں حفاظت کا سامان کئے پناہ گزین تھے۔ جب کوئی موفق کا لشکر مصروف جدال ہوتا تو یہ دائیں بائیں سے نکل کر حملہ آور ہوتے اور سخت نقصان پہنچاتے تھے۔ موفق نے اس قلعہ کو بھی فتح کر لیا اور مسلمان عورتوں اور بچوں کے جم غفیر نے قید کی مصیبت سے نجات پائی۔

شہر پر قبضہ اور علی متنبئ کا قتل

٢٧ محرم ٢٧٠ھ کو اسلامی لشکر نے شہر مختارہ پر پوری طرح قبضہ کر لیا اور باقی ماندہ مسلم قیدیوں کو رہائی نصیب ہوئی۔ خلیل اور ابن ابان گرفتار ہو گئے۔ علی چند فوجی افسروں کو ساتھ لے کر نہر سفیانی کی طرف بھاگ گیا۔ موفق نے تعاقب کیا اور نہایت تیزی سے اس کے سر پر جا پہنچا۔ گھمسان کی لڑائی شروع ہو گئی۔ بہت سے حبشی افسر مارے گئے۔ کئی ایک بھاگ گئے اور بہت سے گرفتار ہوئے۔ علی تاب مقاومت نہ لا کر بھاگ کھڑا ہوا۔ آخر طہثا سے نہر ابی حصیب تک جا پہنچا۔ موفق نے اس کا تعاقب کر کے اسے جالیا اور اس کا سرکاٹ کر نیزے پر چڑھا لیا۔ موفق نے سجدہ شکر ادا کیا اور مظفر و منصور اپنے خرگاہ میں لوٹ آیا۔ دو بڑے افسر پانچ ہزار زنگیوں سمیت گرفتار ہوئے۔ موفق نے اس مہم کو سر کر کے بلاد اسلامیہ میں زنگیوں کی واپسی اور ان کو امن دینے کا گشتی فرمان نافذ کر دیا اور امن وامان قائم کرنے کے خیال سے چند روز تک اپنے بنا کردہ شہر موفقیہ میں مقیم رہا۔

بغداد میں چراغاں

موفق نے ابوالعباس کو بغداد بھیج دیا۔ ابوالعباس ١٥ جمادی الثانی ٢٧٠ھ کو بغداد پہنچا۔ اہل بغداد نے بڑی خوشیاں منائیں۔ عوام نے چراغاں کیا۔ زنگیوں کے خانہ ساز نبی کے

٥٧

صفحہ ١٣٩

آخر رمضان ٢٥٥ھ میں خروج کیا تھا۔ انجام کار اپنی حکومت کے چودہ برس چار مہینے بعد یکم صفر ٢٧٠ھ کو مارا گیا۔ وہ پونے چار سال ابوالعباس اور موفق سے برسر مقابلہ رہا۔ اس کے مارے جانے کے بعد اس کے تمام مقبوضات از سر نو عباسی علم اقبال کے سایہ میں آگئے۔ ابن اثیر اور ابن خلدون نے زنگیوں کے گمراہ کنندہ کا نام علی بن محمد کی بجائے خبیث لکھا ہے۔ ممکن ہے کہ یہ اسی کا دوسرا نام یا لقب ہو۔

دشمن اہل بیت

علی بن محمد اہل بیت نبوت کا بدترین دشمن تھا۔ خصوصاً امیر المؤمنین حضرت علی کرم اللہ وجہہ سے سخت عناد رکھتا تھا۔ اس حرمان نصیب نے ایک تخت بنوا رکھا تھا جسے جامع مسجد کے صحن میں بچھواتا اور اس پر بیٹھ کر حضرت علی مرتضیٰؓ پر معاذ اللہ سب و شتم کرتا۔ اس کے پیرو بھی اس شیطنت میں اس کے ہم سفر ہوتے۔ اس نابکار نے ایک مرتبہ اپنے لشکر میں سادات کرام کی خواتین محترمہ کو دو دو تین تین درم میں بذریعہ نیلام عام فروخت کیا تھا اور ایک ایک حبشی نے دس دس سیدانیاں گھر میں ڈال رکھی تھیں۔

علی بن محمد اور اس کے زنگی پیروؤں کی چیرہ دستیوں کے واقعات (تاریخ کامل ابن اثیر ج ٧ ص ٢٧ تا ١٣٣) تک سنین وار درج ہیں۔ تاریخ کامل کے علاوہ تاریخ ابن خلدون، کتاب الاشاعۃ فی اشراط الساعۃ اور تاریخ الخلفاء للسیوطی بھی اس کے مآخذ ہیں۔

١٤...... حسین بن زکرویہ قرمطی

حسین بن زکرویہ انتہا درجہ کا ملحد اور قرمطی ہونے کے باوجود مہدویت کا مدعی تھا۔ بادیہ نشینوں کے اکثر قبائل نے اس کو مہدی موعود یقین کرتے ہوئے اس کی پیروی اختیار کی۔ اس کے چہرے پر ایک تل تھا جس کی نسبت کہا کرتا تھا کہ یہ حق تعالیٰ کی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے۔ اسی تل کی وجہ سے صاحب الشامہ کے لقب سے مشہور ہو گیا تھا۔ اپنے نام کے ساتھ مہدی امیر المؤمنین لکھا کرتا تھا۔ ایک دفعہ اس کا عم زاد بھائی عیسیٰ بن مہدی اس کے پاس آیا اور کہنے لگا میرے نزدیک تم ہی مدثر ہو جس کا قرآن میں ذکر آیا ہے۔ اس نے خوش ہو کر عیسیٰ کو اپنا ولی عہد مقرر کر دیا۔

جب حسین قرمطی کی جمعیت زیادہ ہوئی تو اپنے مریدوں کو مرتب و مسلح کر کے دمشق پر چڑھ دوڑا اور جاتے ہی شہر کا محاصرہ کر لیا۔ دمشق عرصہ تک محصور رہا۔ بالآخر اہل دمشق نے تنگ

٥٨

آ کر کوئی بڑی رقم نذر کر کے اس سے مصالحت کر لی۔ یہا مسخر کر کے منبروں پر اپنے نام کا خطبہ پڑھوایا۔ پھر حم مقامات پر قتل و نہب کا بازار گرم کیا اور اپنی شقاوت پسند کیا۔ یہاں سے عنان توجہ بعلبک کی طرف موڑی اور وہاں یہ قیامت برپا ہوئی۔ اس وقت تک برپا رہی جب تک معد نام و نشان نہ ہو گئی۔

بعلبک کے بعد سلمیہ کا رخ کیا۔ اہل شہر بے نے ان کو دم دلاسہ دے کر اور امان کا وعدہ کر کے اطاعت کے دروازے کھول دیئے۔ اس سیاہ دل نے شہر میں دا دیا اور بعلبک کی طرح یہاں بھی قتل عام کا بازار گرم کر دیا چوپائے بھی اس کی تیغ جفا سے نہ بچ سکے۔ اس کے بع نشینوں کو قتل کرتا اور قیدی بناتا پھرا۔

اور ان ایام کے حکمراں طبقہ کی یہ غفلت کس ان فتنہ انگیزوں سے کوئی تعرض نہ کرتے تھے۔ جب تک آ جائیں اور ملک کے کسی بڑے حصے پر عمل دخل کر لیں۔ حسین قرمطی ہر طرف دندناتا پھرا اور دربار خلافت نے ممالک محروسہ کے ایک حصے کی اینٹ سے اینٹ نہ ب

اس وقت ممالک اسلامیہ پر خلیفہ مکتفی کی نفیس لشکر آراستہ کر کے اس کی گوشمالی پر کمر باندھی۔ حسین پڑا تھا۔ خلیفہ نے اپنی فوج کے ہر اول کو بڑھنے کا حک ہوئی۔ سخت جدال و قتال کے بعد حسین کو ہزیمت ہ اسلئے حلب کی طرف بھاگے۔ خلیفہ نے ابن طولون روانہ کیا۔ جو منزل بہ منزل اسکو شکست دیتا جاتا تھا گیدڑوں کی طرح بھاگے چلے جا رہے تھے۔ اس ا تعاقب اور سرکوبی کے لئے یحییٰ بن سلیمان کی قیا قرمطیوں کا بری طرح صفایا کیا۔

٥٩

صفحہ ١٣٩

آکر کوئی بڑی رقم نذر کر کے اس سے مصالحت کر لی۔ یہاں سے اس نے حمص کا رخ کیا اور اس کو مسخر کر کے منبروں پر اپنے نام کا خطبہ پڑھوایا۔ پھر حماۃ اور معرۃ النعمان پر فوج کشی کی۔ ان مقامات پر قتل ونہب کا بازار گرم کیا اور اپنی شقاوت پسندی سے عورتوں اور بچوں تک سے درگزر نہ کیا۔ یہاں سے عنان توجہ بعلبک کی طرف موڑی اور وہاں پہنچ کر قتل عام کا حکم دے دیا۔ بعلبک میں یہ قیامت برابر اس وقت تک برپا رہی جب تک معدودے چند آدمی کے سوا شہر کی تمام آبادی بے نام ونشان نہ ہو گئی۔

بعلبک کے بعد سلمیہ کا رخ کیا، اہل شہر نے شہر پناہ کے دروازے بند کر لئے۔ حسین نے ان کو دم دلاسہ دے کر اور امان کا وعدہ کر کے اطاعت پر آمادہ کیا۔ وہاں کے باشندوں نے شہر کے دروازے کھول دیئے۔ اس سیاہ دل نے شہر میں داخل ہوتے ہی عہد امان کو بالائے طاق رکھ دیا اور بعلبک کی طرح یہاں بھی قتل عام کا بازار گرم کر دیا۔ یہاں تک کہ مکتبوں کے صغیر سن بچے اور چوپائے بھی اس کی تیغ جفا سے نہ بچ سکے۔ اس کے بعد سلمیہ کے دیہات میں جا نکلا اور بادیہ نشینوں کو قتل کرتا اور قیدی بناتا پھرا۔

اور ان ایام کے حکمراں طبقہ کی یہ غفلت کس قدر ماتم انگیز تھی کہ وہ اس قسم کے دجالوں اور فتنہ انگیزوں سے کوئی تعرض نہ کرتے تھے۔ جب تک وہ خم ٹھونک کر حکومت کے مقابلے پر نہ آ جائیں اور ملک کے کسی بڑے حصے پر عمل دخل کرتے ہوئے بے گناہ رعایا کو تباہ وبرباد نہ کر لیں۔ حسین قرمطی ہر طرف دندناتا پھرا اور دربار خلافت کو اس وقت تک ہوش نہ آیا جب تک اس نے ممالک محروسہ کے ایک حصے کی اینٹ سے اینٹ نہ بجادی۔

اس وقت ممالک اسلامیہ پر خلیفہ مکتفی کی فرمانروائی تھی۔ اس نے ٢٩١ھ میں بہ نفس نفیس لشکر آراستہ کر کے اس کی گوشمالی پر کمر باندھی۔ حسین اس وقت حماۃ کے باہر ایک میدان میں پڑا تھا۔ خلیفہ نے اپنی فوج کے ہراول کو بڑھنے کا حکم دیا۔ حماۃ کے باہر دونوں فوجیں صف آرا ہوئیں۔ سخت جدال وقتال کے بعد حسین کو ہزیمت ہوئی۔ ہزاروں قرمطی مارے گئے اور بقیۃ السیف حلب کی طرف بھاگے۔ خلیفہ نے ابن طولون کے حریت یافتہ غلام کو اس کے تعاقب میں روانہ کیا۔ جو منزل بہ منزل اسکو شکست دیتا جاتا تھا اور منہزمین کمال بے سرو سامانی کے ساتھ گیدڑوں کی طرح بھاگے چلے جارہے تھے۔ اس اثناء میں خلیفہ نے ایک اور فوج حسین کے تعاقب اور سرکوبی کے لئے یحییٰ بن سلیمان کی قیادت میں روانہ کی۔ یحییٰ نے کاٹتے چھانٹتے قرمطیوں کا بری طرح صفایا کیا۔

٥٩

صفحہ ١٤١

حسین بخوف جان مضافات کوفہ میں روپوش ہو گیا۔ اس کے دونوں معاون دست راست مذعز اور مطوق بھی اس کے ہمراہ تھے۔ آخر حسین بہ تبدیل ہیئت رحبہ پہنچا۔ جاسوسوں نے جو سایہ کی طرح ساتھ لگے تھے والی رحبہ کو اس کی آمد کی اطلاع کر دی۔ حاکم رحبہ نے تینوں کو گرفتار کر کے خلیفۃ المسلمین کے پاس رقہ بھیج دیا۔ خلیفہ نے حسین کو پہلے دوسو درے لگوائے۔ اس کے بعد صلیب پر چڑھا دیا۔ اس کے دونوں ساتھی عقوبت شمشیر کے حوالے کئے گئے۔ خلیفہ نے اس مہم سے فارغ ہو کر اپنے لشکر ظفر پیکر کے ساتھ بغداد کو مراجعت کی۔

(تاریخ کامل ابن اثیر ج ٧)

١٥....... علی بن فضل یمنی

٢٩٣ھ میں اسماعیلی فرقہ کا ایک پیرو علی بن فضل نامی ضلع صنعاء کے کسی گاؤں سے صنعاء دارالحکومت یمن میں اس دعوے کے ساتھ آیا کہ وہ نبی اللہ ہے۔ ان ایام میں خلیفہ مکتفی باللہ عباسی کی طرف سے اسعد بن ابو جعفر یمن کا عامل تھا۔ علی بن فضل بہت دنوں تک اہل صنعاء کو اپنی خانہ ساز نبوت کی دعوت دیتا رہا۔ لیکن کوئی شخص تصدیق پر آمادہ نہ ہوا۔ جب تمام کوششیں رائیگاں ثابت ہوئیں تو اس نے کسی عملی تدبیر سے لوگوں کو رام کرنا چاہا۔ چنانچہ ایک دوا جس کو بصرہ میں دائن اور مصر میں سم الفار کہتے ہیں۔ حاصل کر کے اس کا گودا لیا۔ اسی طرح چوا اور اجزاء (١) چھپکلی کی چربی (شحم جرذون (جس کے خالص) ہونے کی یہ پہچان ہے کہ اسے آگ پر ڈالا جائے تو آگ فوراً بجھ جاتی ہے۔ (٣) کانچ کا چورہ۔ (٤) شنگرف۔ (٥) پارہ۔ (٦) زنگار فراہم کئے۔

اسی طرح ان تمام اجزاء کا نصف وزن (ساڑھے تین جزو) گائے کا گوبر اور ان اجزاء کا ربع (یعنی پونے دو جزو) گھوڑے کی پیشانی کے بال لے کر سبھی دواؤں کو باریک کیا اور چربیوں کو ملا کر گولیاں طیار کی۔ پھر گولیاں بنا کر ان کو سایہ میں خشک کیا۔ اس کے بعد ایک دفعہ رات کے وقت ایک بلند مکان پر چڑھ کر یہ گولیاں دہکتے ہوئے کوئلوں پر ڈال دیں۔ ان سے سرخ رنگ کا دھواں اٹھنے لگا۔ یہاں تک کہ تمام فضائے بسیط پر محیط ہو گیا اور ایسا معلوم ہونے لگا کہ کرہ ہوا کرہ نار بن گیا ہے۔ پھر اس نے کوئی ایسا افسوں کیا کہ دھوئیں کے اندر بے شمار ناری مخلوق دکھائی دینے لگی۔ یہ ناری آدمی آگ کے گھوڑوں پر سوار تھے اور ان کے ہاتھوں میں نیزے تھے اور وہ آپس میں لڑتے اور ایک دوسرے پر حملے کر رہے تھے۔

یہ وحشت ناک منظر دیکھ کر لوگ گھبرا اٹھے اور ان پر یہ واہمہ سوار ہوا کہ چونکہ ایک نبی اللہ

٦٠

کی دعوت ٹھکرادی گئی ہے۔ اس لئے خدائے شدید العقا منظر دکھایا گیا ہے۔ یہ خیال کر کے ہزارہا حماقت شعار کے سپرد کر دی۔ ان سرگشتگان کوئے ضلالت میں سے جہلاء کہنا زیبا ہے۔ علمائے امت نے بہتیرا سمجھایا کہ ایمانی سے محروم نہ ہوں۔ مگر کون سنتا تھا۔ ان پر اس و التعداد افراد کے کوئی راہ راست پر نہ آیا۔

علی بن فضل کی مجلس میں ایک شخص پکار کر کہ رسول اللہ“ لیکن معلوم ہوتا کہ دعوائے رسالت ہے کہ دونوں دعوؤں میں تقدیم تاخیر ہو۔ ابن فضل جب

یہبط من باسط الارض ومحیها ومنزل
الى عبده فلان ابن فلاں (یہ تحریر زمین کے

ہلانے اور ٹھہرانے والے علی بن فضل کی جانب سے اس اس نے بھی اپنے مذہب میں تمام محرمات بیٹیوں تک سے نکاح بھی جائز وروا تھا۔ انجام کار عل سے مجبور ہو کر اس کے درپے ہلاکت ہوئے اور ٣٠٣ دیا۔ علی بن فضل کا فتنہ انیس سال تک ممتد رہا۔

(کتاب الطرائد و کشف الاسرار للبویری

لیکن تعجب ہے کہ صنعاء کے حکام نے انجم نہ کی اور لوگوں کے متاع ایمان پر ڈاکے ڈالنے کے۔

غلام احمد قادیانی تو نصاریٰ کی عملداری میں تھا۔ اس پا خمیازہ کے بھگتنے کا کوئی سوال ہی نہیں پیدا ہوتا تھا۔ لیکن زیادہ مدت تک ملت حنیفی میں رخنہ اندازیاں کرتا رہا حفاظت کا کوئی انتظام نہ کیا جائے۔ جو نبی اس نے و اخلاقی اور سیاسی فرض تھا کہ اس کی رگ جان کاٹ کر ا کی نذر کرتے ۔

٦١

صفحہ ١٤١

کی دعوت ٹھکرا دی گئی ہے۔ اس لئے خدائے شدید العقاب کی طرف سے نزول عذاب کا خوفناک منظر دکھایا گیا ہے۔ یہ خیال کر کے ہزار ہا حماقت شعار تہی دستان قسمت نے اپنی متاع ایمان اس کے سپرد کر دی۔ ان سرگشتگان کوئے ضلالت میں سیکڑوں لکھے پڑھے لوگ بھی تھے۔ جنہیں علمی جہلاء کہنا زیبا ہے۔ علمائے امت نے بہتیرا سمجھایا کہ اس شعبدہ گر کے مکروں میں آکر سعادت ایمانی سے محروم نہ ہوں۔ مگر کون سنتا تھا۔ ان پر اس عیار کا پوری طرح جادو چل چکا تھا۔ بجز قلیل التعداد افراد کے کوئی راہ راست پر نہ آیا۔

علی بن فضل کی مجلس میں ایک شخص پکار کر کہا کرتا تھا ”اشهد ان علی ابن الفضل رسول الله“ لیکن معلوم ہوتا کہ دعوائے رسالت کے ساتھ ہی وہ خدائی کا بھی مدعی تھا اور ممکن ہے کہ دونوں دعوؤں میں تقدیم تاخیر ہو۔ ابن فضل جب کسی پیرو کے نام کوئی تحریر بھیجتا تو عنوان تحریر یہ ہوتا من باسط الارض وداحيها ومزلزل الجبال ومرسيها على بن الفضل الى عبده فلان ابن فلاں (یہ تحریر زمین کے پھیلانے اور بچھانے والے اور پہاڑوں کے ہلانے اور ٹھہرانے والے علی بن فضل کی جانب سے اس کے فلاں بن فلاں بندے کے نام ہے) اس نے بھی اپنے مذہب میں تمام محرمات کو حلال کر دیا تھا۔ یہاں تک کہ بادہ نوشی اور بیٹیوں تک سے نکاح بھی جائز و روا تھا۔ انجام کار بعض اکابر اسلام غیرت ملی اور ناموس اسلامی سے مجبور ہو کر اس کے درپے ہلاکت ہوئے اور ٣٠٣ھ میں اس کو جام زہر پلا کر قعر عدم میں پہنچا دیا۔ علی بن فضل کا فتنہ انیس سال تک ممتد رہا۔

(کتاب القام وكشف الاسرار للمجریطی ومذہب اسلام بحوالہ نزہت الجلیس ومنیة الانیس)

لیکن تعجب ہے کہ صنعاء کے حکام نے انیس سال کا طویل زمانہ اس کی مزاج پرسی کیوں نہ کی اور لوگوں کے متاع ایمان پر ڈاکے ڈالنے کے لئے اسے اتنا طویل عرصہ کیوں کھلا چھوڑ دیا۔ غلام احمد قادیانی تو نصاریٰ کی عملداری میں تھا۔ اس لئے اس کو حکام کی طرف سے...... کسی عاجل خمیازہ کے بھگتنے کا کوئی سوال ہی نہیں پیدا ہوتا تھا۔ لیکن افسوس ہے کہ کوئی شخص اسلامی قلمرو میں رہ کر زیادہ مدت تک ملت حنیفی میں رخنہ اندازیاں کرتا رہے اور خدا کی عاجز مخلوق پر رحم کر کے اس کی حفاظت کا کوئی انتظام نہ کیا جائے۔ جونہی اس نے دعوائے نبوت کی رٹ لگائی تھی حکام کا دینی، اخلاقی اور سیاسی فرض تھا کہ اس کی رگ جان کاٹ کر اسے موت کی نیند سلا دیتے یا کم از کم قید و سجن کی نذر کرتے۔

٦١

صفحہ ١٤٤

١٦...... محمد بن علی شلمغانی

ابو جعفر محمد بن علی معروف بابن ابی العزاقر موضع شلمغان کا رہنے والا تھا۔ جو واسط کے مضافات میں ہے۔ ابتداء میں شیعہ امامیہ کے فقہائے اکابر میں اس کا شمار تھا اور اس مذہب کے اصول وعقائد پر کتابیں لکھی تھیں۔ لیکن جب ابوالقاسم حسین بن روح سے جس کو شیعہ لوگ اس خیال سے باب کہتے تھے کہ وہ امام محمد بن حسن عسکری کی طرف سے ان کی غیبوبت کبریٰ کے زمانہ میں وکیل تھا۔ اس کے تعلقات کشیدہ ہوگئے تو اس نے خود امام متقی کے باب ہونے کا دعویٰ کیا اور شیعوں میں ایک ایسا مذہب ومسلک پیدا کیا جس کی بنیادیں انتہائی غلو اور تناسخ ذات باری کی سطح پر قائم تھیں۔

شیعیت سے ترقی کرنے کے بعد اس نے یہ عقیدہ اختیار کیا کہ اللہ عزوجل کی روح آدم علیہ السلام کے جسم میں حلول کر گئی۔ ان کے بعد شیث علیہ السلام کے جسد میں داخل ہوئی۔ اسی طرح ایک ایک کر کے انبیاء واوصیاء اور آئمہ کے جسموں میں حلول کرتی رہی۔ یہاں تک کہ اس نے حسن بن علی عسکری کے جسم میں حلول کیا۔ اس کے بعد خود اس (یعنی شلمغانی) میں حلول کر گئی۔ شلمغانی کہتا تھا کہ میں ہی ظاہر و باطن، اوّل و آخر اور قدیم ہوں۔ رازق اور تام ہوں اور تام سے مراد وہ ذات ہے جو ہر صفت سے موصوف ہوسکے۔

سابق وزیر اعظم کا دماغی اختلال

شلمغانی ٣٢٠ھ میں بغداد آیا۔ اس وقت خلیفہ قاہر باللہ آل عباس کے تحت خلافت پر متمکن تھا۔ بغداد کے ہزار ہا آدمی اس کے گرویدہ ہوگئے۔ یہاں تک کہ کئی ایک ذی اقتدار اور صاحب اثر افراد نے بھی اس کی ربوبیت کا اقرار کرلیا۔ جن میں حسن بن قاسم جیسا زیرک و فرزانہ روزگار مدبر بھی جو اس سے پیشتر خلیفہ مقتدر باللہ کا وزیر اعظم رہ چکا تھا داخل تھا۔ اسی طرح بسطام کے دونوں بیٹے ابو جعفر اور ابوعلی جو امرائے بغداد میں سے تھے۔ وہ بھی (معاذ اللہ) اس کی (من گھڑت) خدائی پر ایمان لے آئے۔ اگر دارالحکومت سے کسی دور دست مقام پر یا کسی نصرانی حاکم کے زیر حکومت رہ کر خدائی کا یہ جال پھیلاتا تو اس سے شاید کوئی تعرض نہ کیا جاتا اور غلام احمد قادیانی کی طرح اسے یہ کہنے کا موقع ملتا کہ چونکہ ایک طویل مدت سے بلا مزاحمت اپنے دعوائے خدائی پر قائم ہوں۔ اس لئے سچا خدا ہوں۔ مگر کسی اسلامی سلطنت بالخصوص اسلامی دارالخلفاء میں اس کی خدائی دیر پا نہیں ہو سکتی تھی۔

٦٢

جب شلمغانی کا فتنہ حد سے داخل ہو کر اس کو رب العالمین ماننے لگے تو در وزیر اعظم نے اس کے گرفتار کرنے کا ارادہ کیا میں روپوش ہو کر نہایت خاموشی کے ساتھ مو گیا ہے۔ اس کی گرفتاری کا کچھ اہتمام نہ کیا آکر سر اٹھایا۔ خلیفہ الرضی باللہ نے جو اسی سال مؤکد حکم جاری کر دیا۔ اس وقت ابن مقلہ وز لے کر اس نئے پروردگار عالم کو گرفتار کر لیا اور اس کے بعد اس کے گھر کی تلا خطوط اور رقعات برآمد ہوئے۔ جن میں شـ واستعمال بجز ذات رب العالمین کے بشر خا جمع کیا اور شلمغانی کے سامنے وہ خطوط نام پر بھیجے گئے تھے۔ لیکن تقیہ کر کے کہنے لگا کـ جو دوسرے شیعوں کے ہیں۔ میں نے اپنی العالمین ہوں اور ان لوگوں نے جو میری طـ ہے۔ دوسروں کی غلطی کا الزام مجھ کو نہیں دیا کئے گئے جو بغداد کے معززین میں سے تھے

شلمغانی دربار خلافت میں

اب یہ دونوں حاشیہ بردار اور خو گئے۔ خلیفہ نے ان دونوں مریدوں کو حکم دیـ دونوں زور زور سے اس کے منہ پر تھپڑ مار جب مجبور کئے گئے تو جبراً و قہراً آمادہ ہوئے۔ نے جیسے ہی ہاتھ بڑھایا اس کا ہاتھ کانپ شلمغانی کے سر اور داڑھی کا بوسہ دیا اور ورزاقــــــــــی“ (اے میرے معبود! میر و برہان ہاتھ آگئی۔ بولا تم تو کہتے تھے کہ مجـ

صفحہ ١٤٣

جب شلمغانی کا فتنہ حد سے بڑھا اور لوگ جوق در جوق اس کے حلقہ ارادت میں داخل ہو کر اس کو رب العالمین ماننے لگے تو دربار خلافت کو اس کی طرف سے تردد لاحق ہوا۔ خاقانی وزیر اعظم نے اس کے گرفتار کرنے کا ارادہ کیا۔ مگر شلمغانی کو اس کی اطلاع ہوگئی اور وہ بغداد میں روپوش ہو کر نہایت خاموشی کے ساتھ موصل چلا گیا۔ حکومت نے دیکھا کہ یہ فتنہ اب دب دیا گیا ہے۔ اس کی گرفتاری کا کچھ اہتمام نہ کیا۔ لیکن ڈیڑھ دو سال کے بعد اس نے پھر بغداد میں آ کر سر اٹھایا۔ خلیفہ الرضی باللہ نے جو اسی سال مسند خلافت پر رونق افروز ہوا تھا اس کی گرفتاری کا مؤکد حکم جاری کر دیا۔ اس وقت ابن مقلہ وزیر اعظم تھا۔ اس نے بیدار مغزی اور حکمت عملی سے کام لے کر اس نئے پروردگار عالم کو گرفتار کر لیا اور قید خانے میں ڈال دیا۔

اس کے بعد اس کے گھر کی تلاشی لی گئی تو اس کے مومنین و معتقدین کے بہت سے خطوط اور رقعات برآمد ہوئے۔ جن میں شلمغانی کو ایسے القاب سے یاد کیا تھا۔ جن کا اطلاق واستعمال بجز ذات رب العالمین کے بشر خاکی کی نسبت ہر گز نہیں کیا جاسکتا۔ ابن مقلہ نے علماء کو جمع کیا اور شلمغانی کے سامنے وہ خطوط پیش کئے۔ اس نے تسلیم کیا کہ یہ تمام خطوط میرے ہی نام پر بھیجے گئے تھے۔ لیکن تقیہ کر کے کہنے لگا کہ میں بالکل بے قصور ہوں۔ میرے عقیدے وہی ہیں جو دوسرے شیعوں کے ہیں۔ میں نے اپنی زبان سے یہ بات کبھی نہیں کہی کہ میں معبود اور رب العالمین ہوں اور ان لوگوں نے جو میری نسبت ایسے تعریفی الفاظ استعمال کئے تو یہ ان کی غلطی ہے۔ دوسروں کی غلطی کا الزام مجھ کو نہیں دیا جاسکتا۔ انہی خطوط کی بناء پر اس کے دو معتقد بھی گرفتار کئے گئے جو بغداد کے معززین میں سے تھے۔ ایک ابن ابی عون اور دوسرا ابن عبدوس۔

شلمغانی دربار خلافت میں

اب یہ دونوں حاشیہ بردار اور خود شلمغانی خلیفہ راضی باللہ کے دربار میں پیش کئے گئے۔ خلیفہ نے ان دونوں مریدوں کو حکم دیا کہ اگر تم شلمغانی سے اپنی برأت ظاہر کرتے ہو تو دونوں زور زور سے اس کے منہ پر تھپڑ مارو۔ پہلے تو اس کے حکم کی تعمیل سے گریزاں رہے۔ لیکن جب مجبور کئے گئے تو جبراً و قہراً آمادہ ہوئے۔ ابن عبدوس نے ہاتھ بڑھا کر تھپڑ مار دیا۔ مگر ابن ابی عون نے جیسے ہی ہاتھ بڑھایا اس کا ہاتھ کانپ گیا اور ساتھ ہی دلی عقیدت کا جو جوش ہوا تو بڑھ کر شلمغانی کے سر اور داڑھی کا بوسہ دیا اور بے اختیار اس کی زبان سے یہ کلمہ نکلا۔ "الهی وسیدی ورزاقــــــی " (اے میرے معبود! میرے سردار اور میرے رازق) اب کیا تھا خلیفہ کو ایک حجت و برہان ہاتھ آگئی۔ بولا تم تو کہتے تھے کہ مجھے دعوائے الوہیت نہیں تو اس شخص نے تجھے ایسے الفاظ

٦٣

PDF 145

سے یوں مخاطب کیا؟ اس نے جواب دیا کہ قرآن میں ہے کہ ”ولا تزر وازرة وزر اخرى“ (حق تعالیٰ ایک کے گناہ کا مواخذہ دوسرے سے نہیں کرتا) میں نے اپنی زبان سے یہ بات کبھی نہیں کہی کہ میں معبود اور رب الارباب ہوں۔

اس پر ابن عبدوس جس نے تھپڑ مارا تھا بولا ہاں یہ الوہیت کے مدعی نہیں ان کا تو یہ دعویٰ ہے کہ امام منتظر کے باب ہیں اور ابن روح کی جگہ پر ہیں۔ لیکن اس امر کی قابل وثوق شہادتیں پیش ہوئیں کہ ماخوذین کا انکار محض دفع الوقتی اور خوف قتل پر مبنی ہے۔ ورنہ شلمغانی بالقطع خدائی کا مدعی ہے۔ یہ کہ جب کبھی اس کے پیروؤں نے اسے ذات خداوندی سے متصف و مخاطب کیا ہے۔ اس سے اس نے انکار نہیں کیا۔ باایں ہمہ خلیفہ نے حکم دیا کہ اس کے خیالات و عقائد کی تحقیق کی جائے۔

مشرکانہ وملحدانہ اصول وعقائد

اس کے دین کا پہلا اصول یہ تھا کہ شلمغانی ہی وہ الٰہ المیت ہے جو حق کو ثابت کرتا ہے۔ وہی ہے جس کی جانب الفاظ اوّل و قدیم اور ظاہر باطن سے اشارہ کیا جاتا ہے۔ ذات باری تعالیٰ کے متعلق شلمغانی کا یہ اعتقاد تھا کہ وہ ہر چیز میں اس کے ظرف و محل کے بموجب حلول کرتا ہے اور جب کسی پیکر ناسوتی میں داخل ہوتا ہے تو اس سے ایسی قدرت اور ایسے معجزات ظاہر ہوتے ہیں جو اس کے خدا ہونے کی دلیل ہوتے ہیں۔

دوسرا مسئلہ الہٰی یہ تھا کہ اس نے ہر چیز کے لئے ایک ضد اس بناء پر ظاہر کی کہ جس کی ضد ہے وہ ثابت ہو جائے۔ پس ضد ہی ہر حق کی دلیل ہے اور دلیل حق خود حق سے افضل و برتر ہوتی ہے۔ ہر چیز کے ساتھ جو چیزیں موافق و مشابہ ہوتی ہیں بمقابلہ ان کے اس چیز کی ضد اس سے زیادہ قریب ہوتی ہے۔ اس کا مظہر یہ ہے کہ جب رب العالمین نے ابوالبشر آدم علیہ السلام کی تخلیق فرمائی تو جس طرح وہ خود آدم علیہ السلام میں حلول کر کے نمایاں ہوا۔ اسی طرح آدم علیہ السلام کے ابلیس یعنی ان کی ضد میں حلول کر کے بھی خود ہی نمودار ہوا اور گو بظاہر ایک دوسرے کے خلاف نظر آتے تھے۔ مگر دراصل دونوں پیکروں میں خود ہی تھا۔

پھر جب آدم علیہ السلام صفحہ ہستی سے غائب ہو گئے تو لاہوت (خدائے برتر) متفرق و منتشر ہو کر پانچ ناسوتیوں میں جدا جدا ظاہر ہوا اور اسی طرح ابلیس بھی پانچ ابلیسوں میں سمٹ گیا۔ اب لاہوتیت ادریس علیہ السلام کے پیکر میں جمع ہو گئی۔ یعنی مکمل خدا نے ادریس (علیہ السلام) میں حلول کیا۔ اسی طرح وہ ضد بھی پانچوں ابلیسوں میں سے سمٹ کر ادریس علیہ السلام کی ضد یعنی ان کے مخالف و معاصر ابلیس میں مجتمع ہو گئی۔ ادریس علیہ السلام اور ان کے معاصر ابلیس کے بعد

٦٤

پھر الوہیت دونوں ضدوں کی حیثیت سے ناسو نوح علیہ السلام اور ان کے معاصر ابلیس میں م و رسل میں منتشر ہوتے ہوئے عیسیٰ علیہ السلام او وہ حواریوں میں تقسیم ہوئی اور چند روز گزار کر حض ہوئی اور اب وہی الوہیت خود شلمغانی اور اس

بدترین رفض و الحاد

شلمغانی کا بدترین رفض اور ح جناب موسیٰ کلیم اور سیدنا محمد رسول اللہ علیہما الصلوٰۃ ہارون نے موسیٰ کو اور علیؓ نے جناب محمد (ﷺ) دے۔ مگر ان دونوں نے ان کے ساتھ خیانت کی او دعوت دینی شروع کی۔

اس کے ساتھ ایک عجیب بات یہ تھی ک حضرت علیؓ کے فرزند نہ تھے۔ کیونکہ اس کے اعتق کے زعم میں جس پیکر میں ربوبیت مجتمع ہو کر نمو د بیٹا۔ وہ تو خدا ہے اور خدا کی شان ”لم یلد ولم ی جنت اور دوزخ کا کوئی وجود نہیں۔ بلکہ شلمغا جنت ہے اور اس کے مذہب سے انکار کرنے وا ملائکہ سے اس کے زعم میں ہر وہ شخص مراد تھا جو عاج

شلمغانی کہتا تھا کہ جو شخص اللہ ک کرتا رہے وہ ماجور ہے۔ کیونکہ ولی کے فضائل کا کا کوئی دشمن اس پر لعن طعن کرے۔ پس مخالف و علیہ السلام سے فرعون کو اور حضرت سرور کائنات م حضرت معاویہؓ کو افضل بتاتا تھا۔

شلمغانی شریعت کے انتہائی شرمناک

یہ تو شلمغانی کے عقائد تھے۔ اب کا اعتقاد تھا کہ علیؓ نے جناب محمد (ﷺ) کو رسو

صفحہ ١٤٥

پھر الوہیت دونوں ضدوں کی حیثیت سے ناسوتیوں اور ابلیسیوں میں منتشر ہوئی اور چند روز بعد نوح علیہ السلام اور ان کے معاصر ابلیس میں جمع ہوئی۔ پھر منتشر ہوئی۔ اسی طرح مختلف انبیاء ورسل میں منتشر ہوتے ہوئے عیسیٰ علیہ السلام اور ان کے ابلیس میں مجتمعاً ظاہر ہوئی۔ عیسیٰ کے بعد وہ حواریوں میں تقسیم ہوئی اور چند روز گزار کر حضرت علی مرتضیٰ اور ان کے معاصر ابلیس میں ظاہر ہوئی اور اب وہی الوہیت خود شلمغانی اور اس کے معاصر ابلیس میں نمایاں ہے۔

بدترین رفض والحاد

شلمغانی کا بدترین رفض اور حضرت علی کی محبت کا غلو یہاں تک بڑھا ہوا تھا کہ وہ جناب موسیٰ کلیم اور سیدنا محمد رسول اللہ علیہما الصلوٰۃ والسلام کو (معاذ اللہ) خائن بتاتا تھا اور کہتا تھا کہ ہارون نے موسیٰ کو اور علی نے جناب محمد (ﷺ) کو لوگوں کی طرف بھیجا کہ ہماری شریعت کی دعوت دو۔ مگر ان دونوں نے ان کے ساتھ خیانت کی اور لوگوں کو غرض مفوض کی طرف بلانے کی جگہ اپنی دعوت دینی شروع کی۔

اس کے ساتھ ایک عجیب بات یہ تھی کہ شلمغانی کے نزدیک حضرات حسن اور حسین، حضرت علی کے فرزند نہ تھے۔ کیونکہ اس کے اعتقاد کی رو سے حضرت علی رب العالمین ہیں اور اس کے زعم میں جس پیکر میں ربوبیت مجتمع ہو کر نمودار ہوتی ہے اس کا نہ کوئی باپ ہوتا ہے اور نہ کوئی بیٹا۔ وہ تو خدا ہے اور خدا کی شان ”لم یلد ولم یولد“ ہے۔ شلمغانی کی تعلیم کے بموجب جنت اور دوزخ کا کوئی وجود نہیں۔ بلکہ شلمغانی کے مذہب کے ماننے اور اس کی معرفت کا نام جنت ہے اور اس کے مذہب سے انکار کرنے اور اس کے اصول سے جاہل رہنے کا نام دوزخ۔ ملائکہ سے اس کے زعم میں ہر وہ شخص مراد تھا جو عارف حق اور اپنے نفس پر قابو رکھتا ہو۔

شلمغانی کہتا تھا کہ جو شخص اللہ کے کسی دوست کی مخالفت کرے اور اس سے مقابلہ کرتا رہے وہ ماجور ہے۔ کیونکہ ولی کے فضائل کا اظہار اس کے بغیر صورت پذیر نہیں ہو سکتا کہ اس کا کوئی دشمن اس پر لعن طعن کرے۔ پس مخالف ولی سے افضل ہے۔ اسی بناء پر وہ جناب موسیٰ کلیم علیہ السلام سے فرعون کو اور حضرت سرور کائنات ﷺ سے (معاذ اللہ) ابو جہل کو اور حضرت علی سے حضرت معاویہ کو افضل بتاتا تھا۔

شلمغانی شریعت کے انتہائی شرمناک احکام

یہ تو شلمغانی کے عقائد تھے۔ اب ذرا اس کے آئین مذہب کی شان ملاحظہ ہو۔ اس کا اعتقاد تھا کہ علی نے جناب محمد (ﷺ) کو رسول بنا کر کبرائے قریش اور جبابرہ عرب کے پاس

٦٥

صفحہ ١٤٦

بھیجا۔ ان کے دل ٹیڑھے تھے۔ محمد (ﷺ) نے ان کو حکم دیا کہ رکوع و سجود کریں۔ نماز پڑھیں۔ علی نے محمد (ﷺ) کو اصحاب کہف کی مدت خواب یعنی ساڑھے تین سو سال تک مہلت دے دی اور اس بات کی اجازت مرحمت فرمائی کہ اتنا زمانہ تک محمد (ﷺ) کی شریعت ہی پر عمل کیا جائے۔ لیکن اس مدت کے گزرتے ہی ان کی شریعت مسترد ہو جائے گی اور اس کی جگہ نئی شریعت عرصۂ وجود میں آئے گی۔

مگر ساڑھے تین سو سال کی مدت کے پورے ہونے میں ابھی اٹھائیس سال باقی تھے کہ دربار خلافت نے الوہیت کا وہ سارا کھیل ہی بگاڑ دیا جو شلمغانی کے پیکر ناسوت میں سے عجیب و غریب قسم کی ابلیسی صدائیں بلند کر رہی تھی۔ شلمغانی کے مسائل شریعت یہ تھے۔

غسل جنابت اور نماز روزہ بالکل چھوڑ دیا جائے۔ یہ تکلیف محمد (ﷺ) نے عربوں کو ان دنوں دی تھی۔ لیکن عہد حاضر میں اس کی قطعاً ضرورت نہیں ۔ موجودہ دور میں تو یہ تکلیف لوگوں کے مناسب حال ہے کہ اغیار کو اپنی بیوی سے ہم بستر ہوتے دیکھیں اور غصہ نہ آئے۔ بندے پر اللہ کی نعمتوں میں سے ایک بڑی نعمت یہ ہے کہ اس کے لئے لذتیں جمع کر دیں۔ پس ہر انسان اپنے ذوی الارحام اور محرمات ابدیہ تک کے ساتھ مقاربت کر سکتا ہے۔ بلکہ اہل حق (شلمغانی کے دام افتادوں) کو چاہئے کہ ہر شخص جو دوسرے سے افضل ہو اپنے سے کم درجہ والوں کی عورتوں سے حسبۃ للہ مقاربت کرے تا کہ ان میں اپنا نور پہنچائے اور جو کوئی اس سے انکار کرے گا وہ کسی آئندہ زندگی میں عورت کے پیکر میں پیدا کیا جائے گا۔ شلمغانی نے اس شرمناک موضوع پر ایک کتاب بھی لکھی تھی جس کا نام کتاب الحاستہ السادسہ رکھا تھا۔

غرض شلمغانی شہوت پرستی کے رواج دینے میں اپنے کسی پیش رو سے کم نہیں تھا۔ بلکہ غور سے دیکھا جائے تو اس آئین کے رائج کرنے میں اس نے مزدک کے بھی کان کاٹے تھے اور اس سے بھی بڑھ کر یہ کہ اس ناہنجار نے فعل خلاف وضع فطرت یعنی قوم لوط علیہ السلام کو بھی جائز کر رکھا تھا۔ اس سے معلوم ہوگا کہ یہ شخص محض زندیق ہی نہیں تھا بلکہ اوّل درجہ کا شہوت پرست اور بدمعاش بھی تھا جس کا نصب العین یہ تھا کہ دنیا شہوت پرستی، زنا کاری اور اغلام کا گہوارہ بن جائے۔

گو حضرت علی خود بھی ابن ابی طالب تھے۔ لیکن اس لحاظ سے کہ آل ابو طالب میں سے اکثر نے امامت کے دعوے کئے تھے۔ شلمغانی کے نزدیک تمام طالبیوں اور عباسیوں کا قتل کرنا موجب ثواب تھا۔ خلاصہ یہ کہ اس شخص نے دین اسلام اور خلافت آل عباس کے استیصال کے لئے بارود بچھانے میں اپنی طرف سے کوئی کسر اٹھا نہ رکھی تھی۔

٦٦

شلمغانی کا قتل

شلمغانی اور اس کے اخص دربار میں ہوا کرتی تھی۔ ان صحبتوں میں ف آخر فقہاء نے فتویٰ دے دیا کہ شلمغ فرقہ ارواحیہ میں برأت کا کوئی پہلو نہیں ٣٢٢ھ کو مصلوب کر دیئے گئے۔ جب م جلادی گئیں۔ شلمغانی کے پیرو بچانے دیکھیں۔ جس دن (معاذ اللہ) شریعت شلمغانی خواب پورا ہوتا اور اس کی اُم چھپاتے پھرتے تھے۔ لیکن باوجو د اس کے

سابق وزیر اعظم کا قتل

شلمغانی کے مصلوب ہو رقہ میں تھا۔ خلیفہ نے اس کے قتل کا حکم لایا گیا۔ ابن ابی عون جس نے خچر مار ورازق بتایا تھا۔ بہت بڑا ادیب اور بلند المسکنۃ، کتاب التشبیہات، کت الرسائل اس کی مشہور تصنیفیں ہیں۔ ص١٩٠، کتاب الفرق بین الفرق ص ٢٤٩، تاری

نئے ا....

عبدالعزیز موضع باسند علا نبوت کر کے ایک پہاڑی مقام میں وہ ہاتھ ڈال کر باہر نکالتا تو مٹھی سرخ دی نظربندیوں نے ہزارہا تہی دستان قوم طرف دوڑے اور اس کی خاک پا کو سر باسندی کی صدائے دعوت

صفحہ ١٤٧

شلغمانی کا قتل

شلغمانی اور اس کے اخص پیروؤں کے مقدمہ کی تحقیقات خاص خلیفہ راضی باللہ کے در بار میں ہوا کرتی تھی۔ ان صحبتوں میں فقہاء اور قضاۃ کے علاوہ سپہ سالار بھی شریک ہوتے تھے۔ آخر فقہاء نے فتویٰ دے دیا کہ شلغمانی اور اس کا رفیق ابن ابی عون مباح الدم ہیں اور ان کی فرد قرار داد جرم میں برأت کا کوئی پہلو نہیں نکل سکتا۔ چنانچہ شلغمانی اور ابن ابی عون ٢؍ ذیقعدہ ٣٢٢ھ کو مصلوب کر دیئے گئے۔ جب صلیب پر دونوں کی زندگی کا خاتمہ ہو چکا تو لاشیں اتار کر جلا دی گئیں۔ شلغمانی کے پیرو بجائے اس کے کہ اٹھائیس سال گزرنے کے بعد اس دن کا جلوہ دیکھیں۔ جس دن (معاذ اللہ) شریعت مصطفوی (علیٰ صاحبہا التحیۃ والسلام) کو مٹانے کا شلغمانی خواب پورا ہوتا اور اس کی جگہ شلغمانی شریعت جاری ہوتی بھاگ بھاگ کر منہ چھپاتے پھرتے تھے۔ لیکن باوجو د اس کے ان کے یقین واذعان میں کوئی فرق نہ آتا۔

سابق وزیر اعظم کا قتل

شلغمانی کے مصلوب ہوتے وقت اس کا معزز متبع حسن بن قاسم سابق وزیر اعظم شہر رقہ میں تھا۔ خلیفہ نے اس کے قتل کا حکم بھیج دیا اور اس کا سر عبرت روز گار بننے کے لئے بغداد میں لایا گیا۔ ابن ابی عون جس نے تھپڑ مارنے کی عوض شلغمانی کی داڑھی چوم کر اس کو اپنا خالق و رازق بتایا تھا۔ بہت بڑا ادیب اور بلند پایہ مصنف تھا۔ کتاب النواحی، کتاب الجوابات المسکتة، کتاب التشبیہات، کتاب بیت مال المسرور، کتاب الدواوین، کتاب الرسائل اس کی مشہور تصنیفیں ہیں۔ (معجم الادباء یاقوت حموی مطبوعہ لندن ص ٢٩٦، ابن خلکان جلد اوّل

ص ١٩٠، کتاب الفرق بین الفرق ص ٢٤٩، تاریخ کامل ابن اثیر ج ٨ ص ٩٢، ٩٣)

١٧....... عبدالعزیز باسندی

عبدالعزیز موضع باسند علاقہ صغانیاں کا رہنے والا تھا۔ اس نے ٣٢٢ھ میں دعوائے نبوت کر کے ایک پہاڑی مقام میں دام تزویر بچھایا۔ یہ شخص بڑا شعبدہ باز تھا۔ پانی کے حوض میں ہاتھ ڈال کر باہر نکالتا تو مٹھی سرخ دیناروں سے بھری ہوتی تھی۔ اس قسم کی شعبدہ بازیوں اور نظر بندیوں نے ہزار ہا تہی دستان قسمت کے زورق ایمان کو متلاطم کر دیا۔ لوگ پروانہ وار اس کی طرف دوڑے اور اس کی خاک پا کو سرمہ چشم بنانے لگے۔

باسندی کی صدائے دعوت اس نظام اور بلند آہنگی سے اٹھی کہ اہل شاش اور دوسرے

٦٧

صفحہ ١٤٨

لوگوں نے بھی اپنی قسمت اس کے ساتھ وابستہ کر دی۔ جب اس کی جمعیت زیادہ بڑھی تو اس نے اہل حق کے خلاف علانیہ ستیزہ کاری شروع کر دی۔ صدہا ارباب ایمان اس کی ظلم رانی کے قتیل ہو کر روضۂ رضوان میں چلے گئے۔ جب اس کی عربدہ جوئیوں نے خطرناک صورت اختیار کی تو وہاں کے حاکم ابو علی بن مظفر نے اس کی سرکوبی کے لئے ایک جیش روانہ کیا۔

ہاسندی بلند پہاڑ پر چڑھ کر متحصن ہو گیا۔ لشکر اسلام نے محاصرہ ڈال دیا۔ کچھ مدت کے بعد جب سامان رسد اختتام کو پہنچا تو محصورین کی حالت دن بدن ابتر ہونے لگی اور طاقت جسمانی جواب دے بیٹھی۔ آخر لشکر اسلام پہاڑ پر چڑھنے میں کامیاب ہو گیا اور اس نے طاغوتیوں کو مار مار کر ان کے دھجیاں بکھیر دیئے۔ ہاسندی کے ہزارہا پیرو نذر اجل ہوئے۔ خود ہاسندی بھی قصر ہلاکت میں پہنچ گیا۔ اسلامی سپہ سالار نے اس کا سر کاٹ کر ابو علی کے پاس بھیج دیا۔

(تاریخ کامل ابن اثیر)

١٨........ سید محمد جونپوری

سید محمد جونپوری مدعی نبوت کی ولادت ٨٤٧ھ میں بمقام جونپور ہوئی جو ہندوستان کے صوبہ اودھ میں ہے۔ علوم ظاہری سے فارغ ہو کر شیخ دانیال چشتی کے ہاتھ پر بیعت کی اور ایک مدت تک ریاضات شاقہ میں مصروف رہا۔ ذکر و فکر کے سوا سید کو کسی طرف توجہ نہ تھی۔ اوائل میں کسی سے ہدیہ و نذرانہ قبول نہ کرتا تھا اور عسرت کے ساتھ بسر اوقات کرتا تھا۔ اس کی ہر ادا سے بزرگانہ انکسار اور درویشی کی شان نمایاں تھی۔

اس وقت دہلی میں خاندان تغلق کا آفتاب لب بام تھا۔ احمد آباد گجرات میں سلطان محمود بیگرہ جیسے با اقبال بادشاہ کی تلوار چمک رہی تھی۔ دکن میں خاندان بہمنیہ کا ستارہ اوج پر تھا۔ مالوہ میں سلطان غیاث الدین اور احمد نگر میں احمد نظام الملک بحری سریر آرائے سلطنت تھے۔ ان کے علاوہ چند خود مختار ایسی ریاستیں تھیں جو زیادہ تر ہندو راجاؤں کے زیر حکومت تھیں۔ جونپور کا علاقہ ریاست دانا پور کی عملداری میں داخل تھا۔ جہاں کا مسلمان حاکم میر حسین سید جونپوری کا مرید تھا اور میر حسین ایک ہندو راجہ دلیپ رائے والی گوڑ کا باجگزار تھا۔ کچھ مدت کے بعد میر حسین والی دانا پور اور راجہ دلیپ رائے میں کسی بات پر نزاع و مخاصمت برپا ہوئی۔ جس کا نتیجہ رزم و پیکار تھا۔ اس لڑائی میں جونپوری اپنے ڈیڑھ ہزار فقراء کے ساتھ جنہیں فوج بیراگیاں کہتے تھے میر حسین کی کمک پر گیا۔ سید اپنے مریدوں سمیت لڑتے لڑتے راجہ کے قریب پہنچ گیا اور دونوں ٦٨

برسر مقابلہ ہوئے۔ راجہ کا شمشیر بکف ہا سید نے نہایت پھرتی سے تلوار کا ایک ہا قسمت کا فیصلہ کر دیا اور وہ بے جان ہو کر لڑائی کا نتیجہ یہ ہوا کہ میر حسین مقتول ہو سے قرابت دار مشرف بایمان ہو کر سید بھانجا بھی تھا۔ سید نے اس کا نام میاں و یہاں تک تو سید کی زندگی سل کے بعد سید اپنے موقف ہدایت پر قائم قصد کیا اور زن و فرزند اور چند جان نثا طریقہ اختیار کیا۔ جب سید دانا پور کے م نورانی شکل میں ظاہر ہو کر اپنے مخاطب وم ہے جس کے ظہور کی بشارتیں حدیثوں م پے در پے ہوئے۔ سید نے مہدویت ب چون و چرا ان کی تصدیق کی۔

افسوس کہ سید کے ساتھیوں م حق گوئی سے کام لے کر سید سے کہتا کہ کیونکہ مخبر صادق ﷺ نے سچے مہدی کی اور جس ذات شریف نے آپ کو منصب آدم کو راہ حق سے پھیر کر قعر ہلاکت میں نے عالم رؤیا میں یا نیم بیداری کی حالت تھا کہ تو ہی مہدی موعود ہے۔ یہ صحیح ہے ک نہیں سمجھتے کہ سید کو مہدویت کی بشارت جنود مختلف رنگوں اور طرح طرح کی نورا وقت زیادہ عباد کو راہ حق سے پھیرنے میں جو اپنے ہر الہام والقا کو شریعت کی کس شریعت حقہ اور مسلک سلف صالح کو معیا

صفحہ ١٤٩

برسر مقابلہ ہوئے۔ راجہ کا شمشیر بکف ہاتھ سید پر حملہ کرنے کے لئے بلند ہوا۔ مگر وار خالی گیا۔ اب سید نے نہایت پھرتی سے تلوار کا ایک ہاتھ اس زور سے مارا کہ پہلی ہی ضرب نے دلیپ رائے کی قسمت کا فیصلہ کر دیا اور وہ بے جان ہو کر گر پڑا۔ یہ دیکھ کر راجہ کی فوج بے اوسان ہو کر بھاگی۔ اس لڑائی کا نتیجہ یہ ہوا کہ میر حسین مقتول راجہ کی عملداری پر بھی قابض ہو گیا۔ دلیپ رائے کے بہت سے قرابت دار مشرف با ایمان ہو کر سید کے حلقہ مریدین میں داخل ہو گئے۔ ان میں راجہ کا ایک بھانجا بھی تھا۔ سید نے اس کا نام میاں دلاور رکھا۔

یہاں تک تو سید کی زندگی صلحائے امت کی طرح نہایت پاکیزہ تھی۔ لیکن افسوس کہ اس کے بعد سید اپنے موقف ہدایت پر قائم نہ رہ سکا۔ جس کی تقریب یہ پیدا ہوئی کہ سید نے ہجرت کا قصد کیا اور زن و فرزند اور چند جان نثار مریدوں کی معیت میں جہاں گردی اور بادیہ پیمائی کا طریقہ اختیار کیا۔ جب سید دانا پور کے جنگل میں پہنچا تو ابلیس نے اس پر اپنا پنجہ اغوا مارا اور ایک نورانی شکل میں ظاہر ہو کر اپنے مخاطبہ و مکالمہ کا شرف بخشا اور الہام کیا کہ تو ہی وہ مہدی آخر الزمان ہے جس کے ظہور کی بشارتیں حدیثوں میں موجود ہیں اور اس مطلب کے الہام بڑی کثرت سے پے در پے ہوئے۔ سید نے مہدویت کے الہام اپنے رفقائے سفر سے بیان کئے جنہوں نے بے چون و چرا ان کی تصدیق کی۔

افسوس کہ سید کے ساتھیوں میں کوئی بھی ایسا ذی علم اور صاحب فہم و فراست نہیں تھا جو حق گوئی سے کام لے کر سید سے کہتا کہ جناب والا! آپ کی مہدویت کے جملہ الہام شیطانی ہیں۔ کیونکہ مخبر صادق ﷺ نے سچے مہدی کی جو علامتیں بیان فرمائی ہیں وہ آپ کی ذات میں مفقود ہیں اور جس ذات شریف نے آپ کو منصب مہدویت بخشا ہے اس کا تو فرض منصبی ہی یہ ہے کہ اولاد آدم کو راہ حق سے پھیر کر قعر ہلاکت میں ڈالے۔ مہدویہ یعنی سید جونپوری کے پیرو لکھتے ہیں کہ سید نے عالم رؤیا میں یا نیم بیداری کی حالت میں ایک نورانی فرشتہ کو دیکھا جو سید کو مخاطب کر کے کہہ رہا تھا کہ تو ہی مہدی موعود ہے۔ یہ صحیح ہے کہ سید نے کسی نورانی ہستی کو دیکھا۔ لیکن مہدوی نادان اتنا نہیں سمجھتے کہ سید کو مہدویت کی بشارت دینے والا کوئی ملک مقرب نہیں بلکہ ابلیس لعین تھا جس کا جنود مختلف رنگوں اور طرح طرح کی نورانی شکلوں میں ظاہر ہو کر اور ہر قسم کے سبز باغ دکھا کر ہر وقت زہاد و عباد کو راہ حق سے پھیرنے میں کوشاں ہے۔ ابلیسی لشکر کے پنجہ اغوا سے وہی بچ سکتا ہے جو اپنے ہر الہام و القاء کو شریعت کی کسوٹی پر کس کر دیکھ لے اور منزل طریقت کا جو راہرو یا عابد شریعت حقہ اور مسلک سلف صالح کو معیار بنانے کا عادی نہیں۔ ممکن نہیں کہ وہ جنود ابلیس کی دستبرد

٦٩

صفحہ ١٥٠

سے بچ سکے۔ اگر جونپوری بھی نورانی پیکر کو دیکھ کر احادیث نبویہ کی طرف رجوع کرتا تو پھر ممکن نہ تھا کہ غول شیطانی اسے راہ حق سے پھیرنے میں کامیاب ہوتا۔ لیکن مشکل تو یہ ہے کہ ابلیس کے ایک ہی پرتو جمال سے لوگوں کی آنکھوں پر چربی چھا جاتی ہے۔

اب سید چندیری میں پہنچا۔ جب علمائے کرام کو اس کے دعوائے مہدویت کا علم ہوا تو مخالفت پر کمر بستہ ہوئے۔ چونکہ تمام اسلامی ممالک میں احتساب جاری تھا۔ اس لئے سید کو وہاں سے خارج ہونا پڑا۔ وہاں سے شہر مندو دار السلطنت مالوہ میں آیا۔ لیکن علماء کی مخالفت کے باعث قیام میں دشواریاں پیش آئیں۔ اس لئے مندو سے روانہ ہو کر چمپانیر کا عزم کیا جو گجرات کاٹھیاوار کا دار السلطنت تھا۔ مندو میں بہت سے لوگ معتقد ہو کر سید کے ہمراہ ہوئے۔ یہاں پہنچ کر جامع مسجد میں قیام کیا۔ یہاں بھی سید کے ترک و انقطاع کا غلغلہ بلند ہوا۔ یہاں تک کہ سلطان محمود بیگڑہ نے بھی جو نہایت اولوالعزم اور خدا پرست بادشاہ تھا سید کے حلقہ مریدین میں داخل ہونے کی ٹھان لی۔ لیکن چند علماء جو حسب الحکم پہلے آکر سید سے ملاقات کر گئے تھے مانع ہوئے اور بتایا کہ یہ شخص مہدویت کا مدعی ہے۔ بادشاہ نے مرید ہونے کا ارادہ فسخ کر دیا۔ یہاں بھی علمائے کرام کی مخالفت کے باوجود بہت سے لوگ سید کے مرید ہوئے۔ کیونکہ جن محرومان قسمت کا جذبہ حق فراموشی کج روی کے لئے بے قرار ہو وہ کسی طرح زیغ و ضلال سے منہ نہیں موڑ سکتے۔

وہاں سے سید احمد نگر آیا۔ یہ شہر سلطنت نظام شاہیہ کا پایہ تخت تھا جو دہلی کی پانچ ہمسر اسلامی سلطنتوں میں سے ایک تھی۔ یہ مقام سید کی آمد سے پیشتر ہی مہدوی تحریک سے آشنا ہو چکا تھا۔ اس بناء پر دار السلطنت احمد نگر میں سید کا استقبال نہایت گرمجوشی سے ہوا۔ لوگوں کے دلوں پر سید کی عظمت یہاں تک چھائی کہ خود سلطان احمد نظام شاہ بحری سید کا مرید ہو گیا۔ اس وجہ سے سید کا آستانہ مرجع خاص و عام بن گیا۔ قریب قریب ساری رعایا سید کے حلقہ ارادت میں داخل ہوئی اور سید کا مذہب مہدویہ دکن میں بالاستقلال قائم ہو گیا۔ احمد نظام شاہ بحری کی رحلت کے بعد اس کا بیٹا برہان نظام الملک کے نام سے تخت سلطنت پر بیٹھا۔ یہ بادشاہ فرقہ مہدویہ سے کمال حسن اعتقاد رکھتا تھا۔ یہاں تک کہ سید جونپوری کے انتقال کے بعد سید کے اخص مریدوں کو گجرات کاٹھیاوار سے احمد نگر بلا لیا اور کمال اعتقاد سے سید جونپوری کے پوتے کو اپنی حور طلعت لڑکی نذر کر کے اپنی دامادی کا اعزاز بخشا۔ اس ناخدا کی سے مہدوی فرقہ کا پایہ رفعت فرق فرقد تک بلند ہو گیا اور جونپوری مہدویت سلطنت کی آغوش میں ترقی کرنے لگی۔ اہل ملک کی اس بے راہ روی کو دیکھ کر علمائے حق لہو کے گھونٹ پیتے تھے مگر کوئی بس نہ چلتا تھا۔

٧٠

صفحہ ١٥١

گلبرگہ اور احمد آباد سے اخراج

معلوم ہوتا ہے کہ سید ایک مقام پر جم کر بیٹھنا پسند نہیں کرتا تھا۔ بعض مقامات سے تو وہ خارج البلد کیا جاتا تھا اور بعض سے وہ خود بخود رخصت ہو جاتا تھا۔ کیونکہ اس کا نصب العین تو مختلف عملداریوں میں پھر کر اپنی خانہ ساز مہدویت کا ڈھنڈورا پیٹنا تھا۔ اس لئے وہ احمد نگر سے کوچ کر کے شہر احمد آباد بیدر پایہ تخت برید شاہیہ میں آیا۔ اس وقت ملک قاسم برید وہاں کے تخت سلطنت پر جلوہ فرما تھا۔ یہاں ملا ضیاء اور قاضی علاؤالدین نے بیعت کی اور سید کے ہمراہ ہو لئے۔ یہاں سے سید نے عنان عزیمت گلبرگہ کو پھیری جو خاندان بہمنیہ کا پایہ تخت تھا۔ یہاں پہنچ کر اس نے سید محمد گیسو دراز چشتی کے مزار مبارک پر فاتحہ پڑھی۔ سید گیسو دراز، شیخ نصیر الدین چراغ دہلوی کے خلیفہ تھے۔

ایک مختصر سے قیام کے بعد جب علماء نے سلطان سے شکایت کی کہ اس شخص کے جھوٹے دعوؤں نے ایوان مذہب میں تزلزل ڈال رکھا ہے تو یہاں سے اخراج کا حکم ملا۔ یہاں سے سید بندر دابھول پہنچا اور ٩٠١ھ میں بیت اللہ کے شوق زیارت میں جہاز پر سوار ہوا۔ مکہ معظمہ پہنچ کر اسے سرور عالم ﷺ کی یہ مشہور پیشین گوئی یاد آئی کہ لوگ مہدی کے ہاتھ پر رکن اور مقام کے درمیان بیعت کریں گے۔ اس لئے سید جونپوری نے یہاں کھڑے ہو کر اپنے پیروؤں سے بیعت لینے کی خواہش کی اور اس طرح سید از خود نبی ﷺ کی پیشین گوئی کا مصداق بن گیا۔

واپسی پر شہر احمد آباد آیا اور مسجد تاج خاں سالار میں فروکش ہوا۔ جب اس کے دعوائے مہدویت اور اغوائے خلق کا چرچا زبان زد خاص و عام ہوا تو علمائے گجرات نے سلطان محمود گجراتی سے شکایت کی کہ ایک شخص لوگوں کے ایمان پر ڈاکہ ڈال رہا ہے اور اس کے خار وجود سے بے شمار مفاسد پیدا ہو رہے ہیں تو بادشاہ نے اخراج کا حکم دیا۔ یہاں سے روانہ ہو کر شہر نہر والا پیران پٹن علاقہ گجرات میں لب حوض مقام کیا۔ لطف یہ کہ جونپوری جدھر کا بھی رخ کرتا عربی مدارس کے طلبہ ہر طرف سے مناظرہ و مباحثہ کے لئے ٹوٹ پڑتے۔ یہاں سید مذہبی مناظرہ میں بری طرح مغلوب ولا جواب ہوا اور علماء کی کوشش سے جونپوری کو یہاں سے بھی خارج کرا دیا۔ پیران پٹن سے نکل کر قصبہ بدلی میں نزول کیا اور ایک مجمع میں اپنے جسم کا چمڑا دو انگلیوں سے پکڑ کر کہا کہ جو شخص اس ذات کی مہدویت سے منکر ہو وہ کافر بے دین ہے۔ مجھے خدائے برتر سے بے واسطہ احکام ملتے ہیں۔ حق تعالیٰ نے مجھے فرمایا ہے۔ میں نے تجھے علم اوّلین و آخرین اور بیان یعنی معانی قرآن کا فہم اور خزانہ ایمان کی کنجی عطا کی جو کوئی تجھ پر ایمان لایا وہ مؤمن موحد ہے اور جو منکر ہوا

٧١

صفحہ ١٥٤

وہ کافر جہنمی ہے۔ لیکن یہاں سے بھی خارج کیا گیا۔

اب جونپوری جالور پہنچا۔ پھر جالور سے ناگور اور ناگور سے ولایت سندھ کے شہر نصر پور میں داخل ہوا۔ یہاں سے اس کے کثیر التعداد پیرو جو بار بار کے اخراج اور سفر کی صعوبتیں جھیلتے جھیلتے سخت بیزار اور بد اعتقاد ہو گئے تھے، ترک رفاقت کر کے گجرات کو واپس چلے گئے۔ جونپوری نے غضب خداوندی سے لاکھ ڈرایا دھمکایا۔ مگر کسی نے ایک نہ سنی اور گجرات کا سیدھا راستہ لیا۔ سید کی ایک اہلیہ شکر خاتون بھی انہی میں داخل تھی۔ نصر پور سے شہر ٹھٹھہ میں آیا جو سندھ کا دارالحکومت تھا۔ چونکہ علمائے سندھ نے اس کے قدم سے پہلے ہی لوگوں کو جونپوری فتنہ سے متنبہ کر دیا تھا اور یہاں اس کے خلاف ہر طرف غیظ وغضب کی لہر دوڑ رہی تھی۔ لوگوں نے سید اور اس کے دام افتادوں کو فاقوں مارنے کی ٹھان لی اور سید کے پاس پیغام بھیجا کہ اہل سندھ کو بے دین کرنے سے باز رہو۔ ورنہ یاد رکھو کہ اناج کا ایک دانہ بھی تمہارے حلق تک نہ پہنچنے دیں گے۔ لیکن وہ اس پیغام کو خاطر میں نہ لایا۔ مسلمانوں نے ”عدم تعاون“ کے اصول پر عمل کرتے ہوئے اس کے محدود آذوقہ کا واحد ذریعہ بھی بند کر دیا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ اس کے چوراسی آدمیوں نے گرسنگی اور فاقہ کشی کے مصائب میں ایڑیاں رگڑتے رگڑتے جان دی۔ جونپوری نے بشارت دی کہ فاقہ کش جاں سپاروں کو اولوالعزم رسولوں کے مدارج ومقامات عطا ہوئے ہیں۔

جب حاملین شریعت نے دیکھا کہ جونپوری اب بھی مغویانہ کوششوں سے باز نہیں آیا تو ناچار بادشاہ سے اس کی شکایت کی۔ شاہ سندھ بڑا غیور اور شریعت نواز فرمانبردار تھا۔ جونپوری ہفوات کی اطلاع پا کر اس قدر برہم ہوا کہ سید اور اس کے تمام ساتھیوں کے قتل کا حکم صادر کیا۔ لیکن دریا خان مصاحب سلطانی کی کوشش سے فرمان قتل حکم اخراج سے تبدیل ہو گیا۔

انجام کار جب سید نے دیکھا کہ اس پر عرصہ حیات تنگ ہو گیا ہے۔ مسلمان ہر جگہ خشونت اور سختی سے پیش آتے ہیں اور کوئی اسلامی حکومت اسے اپنے ہاں پناہ دینے پر آمادہ نہیں تو اس نے کسی دوسری ولایت میں جا کر اپنی مہدویت کے زہریلے جراثیم پھیلانے کا قصد کیا۔ چنانچہ سندھ سے خراسان کا رخ کیا۔ فارس اور عراق کے مشرقی حصے کو خراسان کہتے ہیں۔ غرض جونپوری قافلہ ہزار خرابی و بربادی قندھار پہنچا۔ علمائے قندھار نے بحث ومناظرہ میں اس کو سخت پریشان کیا۔ ان کے چنگل سے مخلصی پا کر اس نے شہر فراہ کی راہ لی۔ اس وقت سید کے سر پر حزن والم کے بادل منڈلا رہے تھے اور اس کی بے کسی قابل رحم تھی۔ لیکن ؎

ہر کس کہ چنیں کند چناں آید پیش

٧٢

صفحہ ١٥٣

فراہ میں بھی نہایت سخت باز پرس ہوئی اور سختی کا برتاؤ کیا گیا۔ پہلے ایک عہدہ دار نے جو نہایت ہیبت ناک اور آشفتہ مزاج تھا جونپوری اور اس کے رفقاء کے اسلحہ چھین لئے اور ہر ایک کے سر پر گوشہ کمان رکھ کر ایک ایک کو شمار کیا۔ پھر بولا کل کے روز تم سب زندان بلا میں ڈالے جاؤ گے تا کہ لوگ تمہارے خبائث ورذائل سے محفوظ رہیں۔ یہاں پہنچ کر جونپوری نے سالہا سال کی خانہ بدوشی کے بعد غریب الوطنی اور درماندگی کے عالم میں توسن حیات کی باگ ملک آخرت کی طرف پھیر دی۔ یہ ٩١٠ھ کا واقعہ ہے۔ اس وقت موت کا پیام اس کے لئے عین نوید حیات تھا۔ کیونکہ دعوائے مہدویت کے بعد سے وہ جسمانی اور روحانی صدمے اٹھاتے اٹھاتے سخت نزار و بدحال ہو گیا تھا۔ میاں اللہ داد مہدوی نے اس کی قبر پر لوگوں کے سامنے ایک پردرد مرثیہ پڑھا جس کا ایک شعر یہ تھا۔

فضلش کہ بر جمیع پیمبر شد از خدا بادا بروز حشر شفاعت گر از خدا

سید محمود کی ہلاکت

جو نپوری کے فرزند کلاں سید محمود نے سال بھر فرار کی سختیاں جھیلنے کے بعد خراسان کو الوداع کہہ دیا اور گجرات کاٹھیاواڑ آ کر بھلوٹ میں توطن اختیار کیا۔ اب جونپوری کے تمام مریدین سید محمود کی طرف رجوع ہوئے اور جونپوری مہدویت کی طرف تبلیغ شروع ہوئی۔ سلطان محمود گجراتی کو اس کا علم ہوا تو اس نے سید محمود کو احمد آباد کے جیل میں قید کر کے نہایت وزنی زنجیر اس کے پاؤں میں ڈلوائی۔ اکتالیس روز کے بعد راجی سون اور راجی مراوی خواہران سلطان محمود کی سفارش سے کہ دونوں سید محمد جونپوری کی معتقد تھیں قید محن سے نجات ملی۔ لیکن زخم زنجیر کی وجہ سے پاؤں سڑ گیا۔ یہاں تک کہ ڈھائی مہینہ کے بعد پاؤں کی تکلیف سے ہلاک ہو گیا۔

سید محمود کی رحلت کے بعد خوند میر فرقہ مہدویہ کا سرگروہ اور خلیفہ ثانی قرار پایا۔ خوند میر پہلے شہر پٹن میں اقامت گزیں رہا۔ جب وہاں سے خارج کیا گیا تو ایک مہدوی ملک پیارے نے اس کو اپنی جاگیر واقع موضع کھانجیل میں لا کر رکھا۔ لیکن وہاں سے بھی اخراج کا حکم ملا۔ اس اثناء میں اس کو خبر ملی کہ شہر احمد آباد کے حاکم نے ایک مہدوی انگریز کو جرعہ مرگ پلا دیا ہے۔ خوند میر نے مغضوب الغضب ہو کر چار مہدوی اس غرض سے احمد آباد روانہ کئے کہ جا کر ان علماء کی جان لے لیں جنہوں نے مہدوی انگریز کے قتل کا فتویٰ دیا ہے۔ یہ سوار علمائے مذکور کو جام شہادت پلا کر موضع بھولارہ میں واپس آئے۔ جب سلطان محمود گجراتی کو اس واقعہ ہائلہ کی اطلاع ہوئی تو اس نے مہدویہ کی سرکوبی کے لئے عین الملک کی کی سربراہی میں دستہ فوج روانہ فرمایا۔ کچھ مسلمان شہری بھی

٧٣

صفحہ ١٥٥

بہ نیت حصول ثواب فوج کے ساتھ ہو لئے ۔ خوند میر ساٹھ سوار اور چالیس پیادے لے کر مقابلہ کو نکلا۔ اس معرکہ میں اکتالیس مہدوی کام آئے ۔ خوند میر کی آنکھ میں ایسا تیر لگا کہ دوسری آنکھ بھی کاسہ سر سے باہر نکل آئی اور وہ بالکل اندھا ہو گیا ۔ اتنے میں شرف الدین مہدوی اسی سواروں کے ساتھ خوند میر کی کمک پر آیا ۔ لیکن اسے شاہی فوج سے مقابلہ کرنے کی جرأت نہ ہوئی ۔ بلکہ یہ سوار مرعوب ہو کر موضع سند راسن کی طرف جو وہاں سے بارہ کوس دور تھا ہٹ گئے ۔ لیکن شاہی فوج نے پیچھا نہ چھوڑا اور سند راسن پہنچ کر خوند میر اور اس کے بیٹے جلال الدین اور داماد وغیرہ اقرباء و مریدین کو ملا کر چون (٥٤) مہدوی قتل کئے۔

بادشاہ کے سامنے مولانا شاہ طاہر کا احادیث ظہور مہدی پیش کرنا

جن ایام میں حکومت گجرات پیروان جونپوری کا قلع قمع کر رہی تھی ان دنوں سلطنت احمد نگر میں ان کا طوطی بول رہا تھا۔ سلاطین احمد نگر کو جونپوری اور اس کے پیروؤں سے اس درجہ عقیدت و شیفتگی تھی کہ برہان نظام شاہ بحری نے جیسا کہ اوپر لکھا گیا اپنی قمر جمال شاہزادی جونپوری کے پوتے سے بیاہ دی تھی۔ حسن اتفاق سے ٩٢٨ھ میں ترکستان کے ایک جید عالم مولانا شاہ طاہر احمد نگر آ کر برہان نظام شاہ کے ملک وزارت میں منتظم ہوئے اور انہوں نے لوگوں کو ایک جھوٹے مہدی کی متابعت میں گم پا کر ارادہ کیا کہ مہدی کے ڈھول کا پول کھولا جائے۔ چنانچہ کچھ دنوں کے بعد بادشاہ کے سامنے وہ حدیثیں پیش کیں جن میں مخبر صادق علیہ التحیۃ والسلام نے حضرت مہدی آخرالزمان کے ظہور کی پیشین گوئی فرمائی ہے۔ ان میں سے چند حدیثیں یہاں درج کی جاتی ہیں ۔

کے اختتام میں ایک ہی دن باقی رہ گیا ہوگا تو بھی حق تعالیٰ اس دن کو طویل کر کے میرے اہل بیت میں سے ایک شخص کو مبعوث کرے گا جن کا نام نامی میرے نام (محمد) کے اور ان کے والد کا نام میرے والد (عبداللہ) کے مطابق ہوگا۔ وہ زمین کو عدل و انصاف سے اسی طرح معمور کردیں گے جس طرح اس سے پہلے جور وظلم سے بھری ہوگی۔ رواه ابوداؤد نے اس حدیث کی روایت کر کے خاموشی اختیار کی اور انہوں نے اپنے رسالہ میں لکھا ہے جس حدیث پر میں خاموش رہوں وہ صحیح ہوتی ہے اور ابن ماجہ نے اس کو حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت کیا۔

ختم نہ ہوگی جب تک میرے اہل بیت میں سے ایک مرد عرب کا مالک نہ ہو جائے گا۔ وہ نام میں

٧٢

میرے ساتھ اشتراک رکھتا ہوگا۔ (رواه ابوداؤد، التر صحيح والحكم من الطرق وقال كلها صحيحه ) حدیث بھی روایت کی جس میں یملک (مالک ہوگا) ک ترمذی کی یہ روایت بھی حسن صحیح ہے۔

میں سے ہوں گے۔ ان کا چہرہ منور و درخشاں ہوگا۔ ا عدل و انصاف سے اسی طرح بھر دیں گے جس طرح ا سات سال تک برسر حکومت رہیں گے۔

رواه أبوداؤد والحاكم وقال الترمذي وعبدالرزاق بسند صحيح وابن صحيح

ایک خلیفہ (یعنی مہدی علیہ السلام) ہوں گے جو گنتی ک

( رواه مسل

ہوں گے جو دونوں ہاتھوں سے مال و دولت تقسیم کر کی ان دو روایتوں میں خلیفہ امت کا اسم گرامی مذکو قرطاس ہوگی ۔ حضرت مہدی کا نام نامی کی تصریح مو

میں حاضر ہو کر عرض پیرا ہوگا کہ مجھے کچھ عنایت کیجیے کریں گے جس قدر کہ وہ اٹھا لے جانے کی طاقت ر

(رواه الترمذي وقال هذا حدي

امت کا ایک نہ ایک گروہ حق کی حمایت میں جدال پھر عیسیٰ بن مریم علیہ السلام نازل ہوں گے۔ مس آئیے نماز پڑھائیے ! وہ جواب دیں گے نہیں آپ

٧٥

صفحہ ١٥٥

میرے ساتھ اشتراک رکھتا ہو گا۔ (رواہ ابوداؤد، الترمذی وقال الترمذى هذا حديث حسن صحيح والحاكم من الطرق وقال كلها صحيحه ) ترمذی نے حضرت ابن مسعود سے ایک اور حدیث بھی روایت کی جس میں یملک (مالک ہوگا) کی بجائے لفظ یلی (والی ہوگا) مروی ہے اور ترمذی کی یہ روایت بھی حسن صحیح ہے۔

میں سے ہوں گے۔ ان کا چہرہ منور و درخشاں ہوگا۔ ان کی ناک اونچی ہوگی۔ وہ روئے زمین کو عدل و انصاف سے اسی طرح بھر دیں گے جس طرح اس سے پیشتر ظلم وعدوان سے بھری ہوگی۔ وہ سات سال تک برسر حکومت رہیں گے۔

رواه ابوداؤد والحاكم وقال حديث حسن صحيح واخرجه الترمذی وعبدالرزاق بسند صحيح وابن ماجه من حديث ابی هريرة بسند صحيح

ایک خلیفہ (یعنی مہدی علیہ السلام) ہوں گے جو گنتی کئے بغیر مال و دولت تقسیم کریں گے۔

(رواه مسلم واخرجه احمد عن ابی سعيد الخدری)

ہوں گے جو دونوں ہاتھوں سے مال و دولت تقسیم کریں گے۔ مگر اسے شمار نہیں کریں گے۔ صحیح مسلم کی ان دو روایتوں میں خلیفہ امت کا اسم گرامی مذکور نہیں۔ مگر اگلی حدیث میں (جو نمبر ٦ میں سپرد قرطاس ہوگی۔ حضرت مہدی کا نام نامی کی تصریح موجود ہے )

میں حاضر ہو کر عرض پیرا ہو گا کہ مجھے کچھ عنایت کیجئے۔ وہ اس کو اس کی چادر میں اس قدر زر نقد عطا کریں گے جس قدر کہ وہ اٹھالے جانے کی طاقت رکھتا ہوگا۔

(رواه الترمذى وقال هذا حديث حسن واحمد فى مسنده بسند صحيح)

امت کا ایک نہ ایک گروہ حق کی حمایت میں جدال و قتال کر کے قیامت تک غالب رہا کرے گا۔ پھر عیسیٰ بن مریم علیہ السلام نازل ہوں گے۔ مسلمانوں کا فرمانروا عیسیٰ علیہ السلام سے کہے گا آئیے نماز پڑھائیے! وہ جواب دیں گے نہیں آپ ہی پڑھائیں کہ خدا نے امت محمدی کا بڑا اکرام

٧٥

صفحہ ١٥٧

فرمایا ہے۔ (رواہ مسلم واحمد) بعض روایتوں میں مذکور ہے کہ مسلمان حضرت مہدی کے اقتداء میں نماز پڑھانے کے لئے صفیں درست کر رہے ہوں گے کہ اتنے میں حضرت مسیح علیہ السلام آسمان سے نازل ہوں گے۔ جناب مہدی پیچھے ہٹ کر حضرت عیسیٰ بن مریم علیہ السلام سے نماز پڑھانے کی درخواست کریں گے۔ لیکن وہ انکار کر کے حضرت مہدی کو آگے کر دیں گے اور ان کے پیچھے نماز پڑھیں گے۔ لیکن اس کے بعد جب تک دونوں کی رفاقت رہے گی عیسیٰ بن مریم علیہ السلام ہی جناب مہدی سے افضل و عالی ہونے کے باعث امامت فرمائیں گے۔

(بابرکت) ہو گے جب تم میں ابن مریم علیہ السلام نازل ہوں گے اور تمہارا امام تم ہی میں سے ہو گا۔ (رواہ مسلم) تمہارا امام مراد مہدی علیہ السلام ہیں۔ جس کے پیچھے عیسیٰ بن مریم علیہ السلام نماز پڑھیں گے۔

(رواہ ابونعیم فی کتاب المہدی)

العابدین علی بن حسینؓ سے روایت کی کہ رسول مقبول ﷺ نے فرمایا کہ وہ امت کیونکر ہلاک و برباد ہو سکتی ہے جس کے آغاز میں میں ہوں۔ مہدی اس کے بیچ میں ہیں اور مسیح بن مریم اس کے اخیر میں ہیں۔

(رواہ رزین (مشکوٰۃ) رواہ الحاکم فی تاریخہ)

(نوٹ: یہ حدیثیں مشکوٰۃ المصابیح، کنز العمال اور حج الکرامۃ سے لی گئی ہیں)

سلطنت احمد نگر سے مہدویہ کا اخراج

سید محمد جونپوری کے پیروؤں کو مہدوی کہتے ہیں۔ یہ فرقہ ریاست حیدر آباد دکن، ریاست ٹونک، ریاست جے پور وغیرہ مقامات پر بتعداد کثیر آباد ہے۔ مرزائیوں کی طرح یہ بھی بڑا مفسد گروہ ہے۔ مولانا شاہ طاہر نے بادشاہ کے سامنے حضرت مہدی آخر الزمان کے متعلق احادیث نبویہ پیش کر کے مہدویت کا سارا طلسم توڑ دیا اور اس مذہب کا بطلان ایسے مدلل پیرایہ میں ثابت کیا کہ برہان شاہ کا مزاج اس فرقہ کی طرف سے سخت برہم ہوا اور بادشاہ کو اس عقدے سے کہ ایک مہدوی کو اپنی لڑکی دے بیٹھا تھا سخت کوفت و پشیمانی ہوئی۔ بادشاہ نے اس جماعت کو قرب واختصاص سے یکسر محروم کر دیا اور علمائے دربار کو سرزنش کی کہ جس خوبی سے شاہ طاہر نے اس مذہب کا بطلان میرے ذہن نشین کیا ہے۔ انہوں نے کیوں نہ کیا۔ اب برہان شاہ نے جونپوری کے پوتے سے اپنی بیٹی کی طلاق حاصل کی اور حکم دیا کہ تمام مہدوی میرے حدود مملکت سے نکل جائیں۔ اس طرح مدت مدید کے بعد سلطنت احمد نگر کو مہدوی شر وفتن کے گرداب سے نکلنا نصیب ہوا۔

٧٦

مکہ معظمہ کے چار فتوے

اس وقت مہدویہ کی شکستہ حالی قابل عبرت تھ مواخذہ واحتساب کا کوئی پہلو اٹھا نہ رکھا۔ خصوصاً گجرات کا طرح آماجگاہ بنے ہوئے تھے۔ بالخصوص ٩٥٢ھ سے جب کہ مکہ معظمہ سے مذاہب اربعہ کے مفتیوں کے چار فتوے جن صواعق محرقہ کا بھی تھا، شاہ گجرات کے پاس بھجوائے۔ علامہ دہلوی کے استاد الاستاد اور حدیث کی مشہور کتاب ”کنز العمال“ لکھا تھا کہ اگر مہدویہ اپنے عقائد باطلہ سے توبہ نہ کریں تو شرعاً ہے۔ شاہ گجرات نے ان فتووں کے بموجب جونپوری کے خلیفہ

جونپوری کے فرزند اور خلیفہ کی جاں ستانی

جب سرکاری پیادے شاہ نعمت کو گرفتار کرنے جونپوری نے پیادوں سے پوچھا کہ اگر اس بزرگ کی ج فرزند ہاتھ لگے تو اس بزرگ کو رہا کر دو گے؟ انہوں نے کہا کہ میں مہدی موعود کا فرزند ہوں۔ انہوں نے شاہ نعمت ڈال کر دارالسلطنت لائے۔ بادشاہ نے حکم دیا کہ اسے قید رہا۔ یہاں تک کہ گجرات کے فرمانروا سلطان مظفر نے قید جب سلطان بہادر شاہ نے مہم دکن سے خاطر خواہ فراغت اس جنگ میں بڑے کارنامے ظہور میں آئے تھے اپنے درخواست کی کہ ہمارے پیر زادہ کو جو زمانہ دراز سے شاہی بادشاہ نے صدر خاں وزیر اعظم کو حکم دیا کہ پیر زادہ مذکور رہا مدت سے نہنگ اجل کا لقمہ بن چکا اور مخفی طور پر رازداں م کو فی الفور موت کے گھاٹ اتار دو۔ چنانچہ داروغہ مجلس نے کے تہ خانہ میں پہنچا دیا۔ شاہ نعمت بھی سولہ مہدویوں کے ہ ملک الرداد جو کہ جونپوری کے خاص مریدوں میں تھا گجرا پارکر میں رہنے لگا۔ وہاں ان لوگوں کو بڑے بڑے مصائب فاقوں مرنے لگے۔ لیکن حالت یہ تھی کہ ہر شخص اپنے اپنے

٧٧

صفحہ ١٥٧

مکہ معظمہ کے چار فتوے

اس وقت مہدویہ کی شکستہ حالی قابل عبرت تھی۔ مسلمان حکمرانوں نے ان کے خلاف مواخذہ واحتساب کا کوئی پہلو اٹھا نہ رکھا۔ خصوصاً گجرات کاٹھیاوار میں تو یہ لوگ تشدد اور پکڑ دھکڑ کا بری طرح آماجگاہ بنے ہوئے تھے۔ بالخصوص ٩٥٢ھ سے جب کہ حضرت شیخ علی متقی گجراتی علیہ الرحمۃ نے مکہ معظمہ سے مذاہب اربعہ کے مفتیوں کے چار فتوے جن میں ایک فتویٰ حضرت شیخ ابن حجر مکی مؤلف صواعق محرقہ کا بھی تھا، شاہ گجرات کے پاس بھجوائے۔ علامہ حضرت علی متقی گجراتی شیخ عبدالحق محدث دہلوی کے استاد الاستاد اور حدیث کی مشہور کتاب ”کنز العمال“ کے جامع ومؤلف تھے۔ ان فتاویٰ میں لکھا تھا کہ اگر مہدویہ اپنے عقائد باطلہ سے توبہ نہ کریں تو شاہ اسلام پر (بجرم ارتداد) ان کا قتل واجب ہے۔ شاہ گجرات نے ان فتووں کے بموجب جونپوری کے خلیفہ شاہ نعمت کی گرفتاری کا حکم دیا۔

جونپوری کے فرزند اور خلیفہ کی جاں ستانی

جب سرکاری پیادے شاہ نعمت کو گرفتار کر کے لے چلے تو راستہ میں سید علی بن سید محمد جونپوری نے پیادوں سے پوچھا کہ اگر اس بزرگ کی بجائے تمہیں حضرت مہدی علیہ السلام کا فرزند ہاتھ لگے تو اس بزرگ کو رہا کر دو گے؟ انہوں نے کہا کہ ضرور رہا کر دیں گے۔ سید علی کہنے لگا کہ میں مہدی معلوم کا فرزند ہوں۔ انہوں نے شاہ نعمت کو چھوڑ کر سید علی کو پکڑ لیا اور گاڑی میں ڈال کر دارالسلطنت لائے۔ بادشاہ نے حکم دیا کہ اسے قید خانہ میں ڈال دو۔ سید زادہ عرصہ تک قید رہا۔ یہاں تک کہ گجرات کے فرمانروا سلطان مظفر نے قضا کی اور سلطان بہادر شاہ تخت نشین ہوا۔ جب سلطان بہادر شاہ نے مہم دکن سے خاطر خواہ فراغت پائی تو ملک پیر محمد مہدوی نے جس سے اس جنگ میں بڑے کارنامے ظہور میں آئے تھے اپنے حسن خدمات کے صلہ میں بادشاہ سے درخواست کی کہ ہمارے پیر زادہ کو جو زمانہ دراز سے شاہی قید خانہ میں محبوس ہے مخلصی بخشی جائے۔ بادشاہ نے صدر خاں وزیر اعظم کو حکم دیا کہ پیر زادہ مذکور رہا کر دو۔ صدر خاں نے عرض کیا کہ وہ تو مدت سے نہنگ اجل کا لقمہ بن چکا اور مخفی طور پر رازداں مصاحب کو دوڑا کر حکم بھیجا کہ مہدی زادہ کو فی الفور موت کے گھاٹ اتار دو۔ چنانچہ داروغہ محبس نے فوراً نیچے اوپر تختے رکھ کر اسے ہلاک کر کے تہ خانہ میں پہنچا دیا۔ شاہ نعمت بھی سولہ مہدویوں کے ساتھ تیر اجل کا نشانہ بنایا گیا۔ یہ دیکھ کر ملک الہ داد جو کہ جونپوری کے خاص مریدوں میں تھا گجرات سے بھاگ کر مارواڑ پہنچا اور موضع پارکر میں رہنے لگا۔ وہاں ان لوگوں کو بڑے بڑے مصائب و نوازل سے سابقہ پڑا۔ یہاں تک کہ فاقوں مرنے لگے۔ لیکن حالت یہ تھی کہ ہر شخص اپنے اپنے احوال و مقامات باطنی کا دعویٰ کر کے ہی

٧٧

صفحہ ١٥٨

تسکین و تثبیت کی آنکھیں روشن کر لیتا تھا۔ شاہان اسلام کے محکمہ احتساب نے انہیں کبھی ایک جگہ ٹھہرا کر شورشوں کا موقع نہ دیا۔ ظاہر ہے کہ شاہان شریعت پناہ اس فتنہ انگیز تحریک کو ٹھنڈے دل سے کیونکر گوارا کر سکتے تھے جو فساد فی الدین کا موجب تھی۔ وہ صلیب پرست انگریز نہیں تھے جنہوں نے غلام احمد قادیانی کی رسی دراز کر رکھی تھی۔ مہدوی آتش فتنہ کی چنگاریاں گجرات اور دکن سے اڑ اڑ کر دہلی آگرہ اور بنگالہ تک جا پہنچیں۔ لیکن حکومتوں کی بروقت مداخلت نے ان شراروں کو زیادہ بھڑکنے کا موقع نہ دیا۔

شیخ عبداللہ نیازی اور شیخ علائی پہلے حنفی چشتی تھے۔ پھر اغوائے شیطانی نے ان کو مہدویت کے پہلو میں لا بٹھایا۔ شیخ نیازی حج بیت اللہ کے لئے گیا۔ واپسی پر جونپوری کے کسی گرگے سے ملاقات ہو گئی۔ اس کے فقروں میں آکر مہدوی مذہب قبول کر لیا۔ اس کے بعد قصبہ بیانہ ریاست جے پور میں سکونت اختیار کر لی۔

ایک مرتبہ سلطان سلیم شاہ بن شیر شاہ پنجاب کو آ رہا تھا تو بیانہ کے بالمقابل بھرسور کی منزل پر پہنچا۔ اس کو عبداللہ نیازی کی مہدویت کا حال معلوم ہوا تو حاکم بیانہ کو جو عبداللہ نیازی کا مرید تھا حکم بھیجا کہ وہ شیخ کو حاضر کرے۔ جب لشکر گاہ میں پہنچا تو لشکریوں نے بادشاہ کے حکم سے اس کو پیٹنا شروع کیا۔ بہت دیر تک مار پڑتی رہی۔ آخر سلیم شاہ لشکر سمیت روانہ ہو گیا اور لوگ شیخ عبداللہ کو اٹھا لے گئے۔ لیکن انجام کار بتائید توفیق الٰہی اس نے آخر عمر میں مہدویت سے تائب ہو کر اہل حق کے زمرہ میں داخل ہو گیا۔ جب شیخ عبداللہ ہنوز مہدویت کی دلدل میں پھنسا تھا اس کے ایک مہدوی مرید شیخ علائی کو سلیم شاہ نے ہنڈیہ کی طرف جو سرحد دکن پر واقع ہے جلاوطن کر دیا۔ لیکن جب اطلاع ملی کہ علائی ہنڈیہ پہنچ کر لوگوں کو دھڑلے سے مہدوی بنا رہا ہے تو بادشاہ بہت تلملایا۔ مخدوم الملک مولانا عبداللہ سلطان پوری نے بادشاہ کو صلاح دی کہ علائی کو ہنڈیہ سے طلب کر کے اس پر حد شرعی لگائی جائے۔ چنانچہ علائی کو واپس آگرہ بلایا گیا۔ جب وہ دارالسلطنت میں پہنچا تو سلیم شاہ نے حکم دیا کہ اس کو میرے سامنے تازیانہ لگاؤ۔ جلاد نے تیسری ہی ضرب لگائی تھی کہ طائر روح نے قفس عنصری سے پرواز کر کے اسفل السافلین کی راہ لی۔

مہدوی کفریات

مہدوی کہتے ہیں کہ سید جونپوری کی مہدویت کی تصدیق فرض اور اس کا انکار کفر ہے اور ٩٠٥ھ سے جب کہ مہدی علیہ السلام (یعنی جونپوری) نے مہدویت کا دعویٰ کیا جس قدر مسلمان دنیا میں گزرے یا قیامت تک پیدا ہوں گے بسبب اس انکار کے کافر مطلق ہیں۔

٧٨

صحابہ سے افضل ہیں۔

رسولوں سے افضل ہیں۔

میں سر مو بھی کمی بیشی نہیں ہے۔

صحیح اور قابل اعتماد نہیں ہے جب تک سید جو ہوں۔

ابراہیم، موسیٰ، عیسیٰ (علیہم السلام) ناقص الاسلام البتہ عیسیٰ علیہ السلام جب دوسری مرتبہ آسما گے۔ مہدوی کتاب ’’انصاف نامہ‘‘ کے بار جونپوری سے کہا عالم انسانیت میں صرف دو محمد رسول اللہ (علیہ الصلوٰۃ والسلام) میراں مح انبیاء کا سر مو ایمان ہوا تھا۔ بعض کا داہنا پہلو ک ہیں۔

انبیاء اولیاء اور دوسرے مؤمنین اور مؤمنات ک جونپوری کے حضور میں پیش کی جاتی ہیں اور و ارواح کو حکم دیتا ہے کہ تم نے جس خزانہ سے نو

سے فرمایا کہ جس طرح بندہ کے پاس ارواح کرے گی۔

بعض احکام کی ناسخ ہے۔

صفحہ ١٥٩

صحابہ سے افضل ہیں۔

رسولوں سے افضل ہیں۔

میں سر مو بھی کمی بیشی نہیں ہے۔

صحیح اور قابل اعتماد نہیں ہے جب تک سید جونپوری کے اقوال احوال اور الہامات کے مطابق نہ ہوں۔

ابراہیم، موسیٰ، عیسیٰ (علیہم السلام) ناقص الاسلام تھے۔ کوئی پیغمبر نیم مسلم تھا۔ کوئی ثلث اور کوئی ربع البتہ عیسیٰ علیہ السلام جب دوسری مرتبہ آسمان سے نازل ہوں گے تو پورے مسلمان ہو جائیں گے۔ مہدوی کتاب ”انصاف نامہ“ کے بارھویں باب میں لکھا ہے کہ میاں خوند میر نے سید جونپوری سے کہا عالم انسانیت میں صرف دو مسلمان معلوم ہوتے ہیں۔ ایک آپ اور دوسرے محمد رسول اللہ (علیہ الصلوٰۃ والسلام) میراں محمد جونپوری نے جواب دیا کہ ہاں ایسا ہی ہے۔ بعض انبیاء کا سر مسلمان ہوا تھا۔ بعض کا داہنا پہلو کسی کے دونوں پہلو، مگر ہم دونوں سر تا پا مسلمان ہوئے ہیں۔

انبیاء اولیاء اور دوسرے مومنین اور مؤمنات کی روحیں آدم علیہ السلام سے لے کر قیامت تک سید جونپوری کے حضور میں پیش کی جاتی ہیں اور وہ ان کا داخلہ اور موجودات دیکھتے ہیں۔ حق تعالیٰ ان ارواح کو حکم دیتا ہے کہ تم نے جس خزانہ سے نور لیا تھا پھر اسی عمل سے مقابلہ کر کے تصحیح کرو۔

سے فرمایا کہ جس طرح بندہ کے پاس ارواح کی تصحیح ہوتی ہے اسی طرح تمہارے پاس بھی ہوا کرے گی۔

بعض احکام کی ناسخ ہے۔

٧٩

صفحہ ١٦٠

کتاب ”شواہد الولایت“ کے اکتیسویں باب میں لکھا ہے کہ مہدی علیہ السلام (جونپوری) نے فرمایا کہ مجھے جملہ موجودات کے احوال اس طرح معلوم ہیں جس طرح صراف سونے چاندی کو ہاتھ میں لے کر ہر طرف پھراتا ہے اور کما حقہ پہچانتا ہے۔

حق میں فرمایا کہ میاں دلاور پر عرش سے تحت الثریٰ تک ہر چیز اس طرح روشن ہے جس طرح ہاتھ میں رائی کا دانہ ہو۔

کے برابر ہے۔ چنانچہ کتاب ”شواہد الولایت“ کے اکتیسویں باب کی پینتیسویں خصوصیت میں لکھا ہے کہ جناب رسالت مآب نے مہدی کے اصحاب کا مرتبہ اپنے مرتبے کے برابر فرمایا ہے اور کتاب ”پنج فضائل“ میں لکھا ہے کہ ایک روز میاں عبدالرحمن نے یہ حدیث پڑھی کہ رسول خدا ﷺ نے فرمایا کہ مہدی کے اصحاب میرے بھائی اور مرتبہ میں میرے برابر ہیں۔ شاہ نظام مہدوی نے سن کر کہا کہ یہ صفت عوام اصحاب مہدی کی ہے۔ بڑے اصحاب کا مرتبہ اس سے بھی اور آگے ہے۔

کے خلیفہ دلاور نے اپنی بیوی خوند بوا سے کہا: دیکھو! یہ وہ لوگ ہیں جو مرسلین کا مقام رکھتے ہیں اور کہا کہ مرسل اسے کہتے ہیں کہ مہتر جبریل اس پر وحی لائیں۔ لیکن بارہ آدمی ان سے بھی فاضل تر ہیں۔

لڑکپن میں (معاذ اللہ) خدا ہمیشہ کھیلا کرتا تھا۔

مردہ زندہ کیا اور حضرت مہدی موعود (جونپوری) نے اس کو عیسیٰ علیہ السلام کا قائم مقام بتایا۔ مصنف کتاب مذکور لکھتا ہے کہ ذات مہدی کے فیض یاب کو چاہئے کہ مقام عیسیٰ علیہ السلام پر فائز ہونے کے باوجود ”قُم بِاِذْنِ اللہِ“ کہنے سے احتراز کرے۔

(اس فصل کے مندرجات طبقات اکبری، منتخب التواریخ بدایونی اور ہدیہ مہدویہ سے ماخوذ ہیں۔ راجہ دلیپ رائے سے جو لڑائی ہوئی اس کی تفصیل بہت مدت پہلے امرتسر کے ایک اخبار میں شائع ہوئی تھی۔ اغلب ہے کہ مضمون نگار نے کسی مہدوی کتاب سے اخذ کی ہوگی)

مولانا محمد زمان شاہ جہانپوری شہید نے اپنی کتاب ”ہدیہ مہدویہ“ میں بہت سے اور

٨٠

مہدوی کفریات بھی جمع کئے ہیں جو حضرات ان مہدویہ“ مطبوعہ کانپور (صفحات ١٦ تا ٣٣) کی

حاجی محمد کا تولد اور نشوونما فراہ واق کا مدعی تھا۔ مہدویہ کی کتاب ”شواہد الولایت“ نے فرمایا کہ اکثر انبیاء اور اولوالعزم رسول دعاء کر کے مہدی (جونپوری) کے گروہ میں داخل ہے لکھا ہے:

بل چہ عالم کہ زآدم و موسی بودہ غایت بصحبتش ہوس
نقطۂ آن دائرہ مفضلان خواست زحق ہر یکی از اولین

سید جونپوری نے اپنے مریدوں قبول نہ ہوئی۔ چونکہ حضرت عیسیٰ بن مریم ؑ عنقریب آ کر میری ملاقات سے شرف اندو معلوم نہیں کہ حضرت ابن مریم یا نہیں۔ ہاں! مہدویہ کی ایک روایت میں خوندمیر سے ملنا ضرور مذکور ہے۔ چنانچہ مہد لکھا ہے کہ ایک مرتبہ میاں خوندمیر نے فرما (یعنی سید جونپوری) کو چشم خود دیکھ رہا تھا فرمایا نزدیک۔ میں نے پوچھا آپ کے ب کے چالیس سال بعد آئیں گے؟ کہا نزدی کہا نزدیک۔ اس کے بعد ایک طرف اشا پوچھ لو۔ میاں خوندمیر کہتے ہیں کہ میں ۔ بہت سی باتیں دریافت کیں۔ لیکن یہ پوچھ

صفحہ ١٦١

مہدی کفریات بھی جمع کئے ہیں جو حضرات ان کفریات کی تردید معلوم کرنا چاہیں، وہ کتاب ”ہدیہ مہدویہ“ مطبوعہ کانپور (صفحات ١٦ تا ٣٣) کی طرف رجوع کریں۔

١٩...... حاجی محمد خراسانی

حاجی محمد کا تولد اور نشوونما فراہ واقع خراسان میں ہوا۔ سید جونپوری کا مرید اور مسیحیت کا مدعی تھا۔ مہدویہ کی کتاب ”شواہد الولایت“ میں لکھا ہے کہ حضرت مہدی موعود (سید جونپوری) نے فرمایا کہ اکثر انبیاء اور اولوالعزم رسول دعا مانگا کرتے تھے کہ بار خدایا ہمیں امت محمدی میں پیدا کر کے مہدی (جونپوری) کے گروہ میں داخل فرما۔ چنانچہ دیوان مہدی میں جو ایک مہدی کا کلام ہے لکھا ہے۔

بل چہ عالم کہ ز آدم و موسٰی ز یحییٰ و خلیل از موسٰی
بودہ غایت بصحبتش ہوسے ہرچہ ہست از ولایت است ظہور
نقطۂ آن دائرہ مفضلاں شد متمناے ہمہ مرسلاں
خواست ز حق ہر یکے از اولین رب اجعلنی لمن الآخرین

سید جونپوری نے اپنے مریدوں کو بتایا کہ عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کے سوا کسی کی یہ دعا قبول نہ ہوئی۔ چونکہ حضرت عیسیٰ بن مریم امت محمدی اور میرے گروہ میں داخل ہیں۔ اس لئے وہ عنقریب آ کر میری ملاقات سے شرف اندوز سعادت ہوں گے۔

معلوم نہیں کہ حضرت ابن مریم علیہ السلام نے آ کر مہدی جونپوری سے ملاقات کی تھی یا نہیں۔ ہاں! مہدویہ کی ایک روایت میں حضرت مسیح علیہ السلام کا جونپوری کے داماد اور خلیفہ خوند میر سے ملنا ضرور مذکور ہے۔ چنانچہ مہدویہ کی کتاب ”انصاف نامہ“ کے اٹھارھویں باب میں لکھا ہے کہ ایک مرتبہ میاں خوند میر نے فرمایا کہ میں آج رات پوری توجہ سے بیٹھا تھا اور میراں جی (یعنی سید جونپوری) کو بچشم خود دیکھ رہا تھا۔ میں نے پوچھا میراں جی! مہتر عیسیٰ کب آئیں گے؟ فرمایا نزدیک ۔ میں نے پوچھا آپ کے ساٹھ سال بعد آئیں گے ۔ کہا نزدیک ۔ پھر پوچھا آپ کے چالیس سال بعد آئیں گے؟ کہا نزدیک ۔ میں نے دریافت کیا دس سال بعد آ جائیں گے؟ کہا نزدیک ۔ اس کے بعد ایک طرف اشارہ کر کے فرمایا یہ دیکھو ! مہتر عیسیٰ حاضر ہیں۔ خود ان سے پوچھ لو۔ میاں خوند میر کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے ملاقات کی اور آپ سے بہت سی باتیں دریافت کیں۔ لیکن یہ پوچھنا بھول گیا کہ آپ کب تشریف لائیں گے۔

٨١

صفحہ ١٦٣

ظاہر ہے کہ وہ متنفس جس سے خوند میر نے ملاقات کر کے باتیں دریافت کیں وہ یقیناً کوئی ابلیس زادہ ہوگا۔ حضرت مسیح علیہ السلام کی شان اس سے کہیں ارفع ہے کہ وہ دنیا میں نازل ہو کر جھوٹے مدعیوں کی امت سے ملاقاتیں کریں۔ شیاطین اس قسم کے مخاطبہ و مکالمہ سے، بچھڑے نمائشی راہ روان منزل تقدیس کو چکمہ دیتے رہتے ہیں۔ کسی ریا کار عابد نے ایک دفعہ کسی معبود نما شیطان کا جلوہ لیا تو بس وہ ہمیشہ کے لئے شیطانی بھول بھلیوں میں پھنسا رہ گیا۔ غرض یہ کہ جس طرح مہدی ابلیس کا ساختہ پرداختہ تھا اسی طرح وہ عیسیٰ بھی جنود ابلیس میں سے تھا۔ جو خانہ ساز مہدی کا مشار الیہ تھا۔

پیروان جونپوری کی دوسری روایت میں ان کے مہدی نے کہا کہ عیسیٰ بن مریم میرے بعد ظاہر ہوں گے۔ چنانچہ کتاب پنج فضائل میں مذکور ہے کہ ایک مرتبہ میراں جی (یعنی سید جونپوری) قضائے حاجت کے لئے جارہے تھے۔ راستہ میں ان کے مرید حاجی محمد خراسانی نے ان سے پوچھا میراں جی! حضور تو تشریف لائے۔ عیسیٰ کب قدم فرمائیں گے؟ اس سوال کا مبنی وہ احادیث نبویہ ہیں جن میں مہدی علیہ السلام کی موجودگی میں حضرت عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کا دمشق کے سفید مشرقی مینار پر نازل ہونا مذکور ہے۔ سید جونپوری نے ہاتھ پیچھے کر کے کہا کہ بندہ کے پیچھے ظاہر ہوں گے۔ ظاہر ہے کہ جو عیسیٰ مہدی کی موت کے بعد ظاہر ہونے والا تھا نہ وہ عیسیٰ سچا تھا اور نہ وہ مہدی ہی منجانب اللہ تھا۔ جس نے ارشادات نبویہ کے خلاف ابن مریم کو اپنے پیچھے آنے والا ظاہر کیا۔ پنج فضائل میں ہے کہ جونہی مہدی موعود نے فرمایا کہ عیسیٰ، بندہ کے بعد ظاہر ہوں گے۔ حاجی محمد خراسانی کو حضرت عیسیٰ روح اللہ کا مقام حاصل ہوگیا۔ حالانکہ ارشادات نبویہ میں خود ذات بابرکات حضرت ابن مریم علیہ السلام کا نزول اجلال مذکور ہے نہ یہ کہ ان کی بجائے کوئی دوسرا ان کا مزعومہ مقام حاصل کر کے اغوائے خلق کا باعث بنے۔

پھر بھی انصاف سے دیکھا جائے تو ماننا پڑے گا کہ حاجی خراسانی ہمارے قادیانی مسیح موعود سے پھر بھی مزے میں رہا۔ اس کو بے تکلف مقام مسیحیت حاصل ہو گیا۔ حالانکہ غلام احمد قادیانی کو عیسیٰ بن مریم بننے کے لئے بڑی جانکاہ حالتوں سے گزرنا پڑا تھا۔ مثلاً غلام احمد پہلے مرد سے عورت بنا۔ پھر حاملہ ہوا۔ پھر دس مہینہ کے بعد اس حمل سے لڑکا پیدا ہوا۔ اس پیدائش کے بعد مریم تو کہیں غائب اور مفقود ہوگئی اور لڑکا جو متولد ہوا وہ عیسیٰ بن مریم بن گیا۔ اس طرح غلام احمد قادیانی عیسیٰ بن مریم بنا۔ غرض قادیانی کو عیسیٰ بن مریم بننے کے لئے بڑے پاپڑ بیلنے پڑے تھے۔ لیکن حاجی خراسانی کا کمال یہ تھا کہ وہ جست میں عیسوی مقام پر پہنچ گیا۔

٨٢

فرقہ مہدویہ کی کتاب پنج فضائل میں مذکو حاجی محمد خراسانی کو اپنے پیرومرشد کی زندگی میں دعویٰ کی رحلت کے بعد سندھ میں ٹھٹھہ کی طرف جا کر موعود علیہ السلام، حضرت مہدی علیہ السلام کے صحا دمشق کے شرقی مینار پر نازل ہوں گے۔ بہر حال ہ جونپوری کے فرزند و جانشین سید محمود پر سخت شاق گذرا سید محمود نے دیکھا کہ اس کے باپ کا ط رفعت پر پہنچنے والا ہے تو اس کے دل میں اپنی دکاندار اس بناء پر اپنے دو خاص مرید خراسانی کے قتل پر ما حکمران کو معلوم ہوا کہ جونپوری کا ایک نام لیوا دعویدا اس نے خراسانی کو زیر حراست کرنے کا حکم دیا۔ آخ شہر کی عام گزرگاہ پر لٹکا دیا گیا۔ جب ان دو آدمیوں ہوا کہ حاجی خراسانی مارا گیا ہے تو وہ سید محمود کے پا کے قتل کی خبر سن کر بشارت دی کہ وہ ایمان سلامت اور سید محمود کو اس کی ہلاکت کی اطلاع ہوئی تو بولا کہ تصدیق کی تھی۔ اس لئے ضائع نہ ہوا۔

خوفناک انجام کا دھڑکا

اسلامی سلطنتوں میں تقدس کے دکاندار کیا گیا۔ اسی خوفناک انجام کے پیش نظر ہمارے جرأت ہوئی اور نہ امیر عبدالرحمن والی افغانستان امیر صاحب کو لکھ بھیجا تھا۔ میں مرسل یزدانی، مسیح مجھ سے تعاون کرو۔ امیر صاحب نے اس کے جو کہا افغانستان چلے آئیے۔ اگر کتاب وسنت کی نہ صرف میں خود بلکہ میری تمام رعایا بھی آپ کی ایک اسلامی قلمرو میں قدم رکھنے کا خطرہ گوارا کرتا۔ معلوم ہوا کہ کتاب ”ہدیہ مہدویہ“ س

صفحہ ١٦٣

فرقہ مہدویہ کی کتاب پنج فضائل میں مذکور ہے کہ مقام عیسوی پر پہنچ جانے کے باوجود حاجی محمد خراسانی کو اپنے پیرومرشد کی زندگی میں دعوائے مسیحیت کی جرات نہ ہوئی۔ البتہ جونپوری کی رحلت کے بعد سندھ میں ٹھٹھہ کی طرف جا کر مسیح موعود ہونے کا دعویٰ کر دیا۔ حالانکہ سچے مسیح موعود علیہ السلام، حضرت مہدی علیہ السلام کے عہد عروج میں بذات خود جسد عنصری کے ساتھ دمشق کے شرقی مینار پر نازل ہوں گے۔ بہرحال جب خراسانی نے مسیحیت کا دعویٰ کیا تو یہ امر جونپوری کے فرزند و جانشین سید محمود پر سخت شاق گزرا۔

سید محمود نے دیکھا کہ اس کے باپ کا ایک معمولی مرید جھوٹے دعوے کی بدولت بام رفعت پر پہنچنے والا ہے تو اس کے دل میں اپنی دکانداری کے ماند پڑنے کے خدشہ سے حسد پیدا ہوا۔ اس بناء پر اپنے دو خاص مرید خراسانی کے قتل پر مامور کئے۔ اس اثناء میں جب سندھ کے غیور حکمران کو معلوم ہوا کہ جونپوری کا ایک نام لیوا دعوائے مسیحیت کے ساتھ خلق خدا کو گمراہ کر رہا ہے تو اس نے خراسانی کو زیر حراست کرنے کا حکم دیا۔ آخر اس کا سر قلم کر کے عبرت روزگار بننے کے لئے شہر کی عام گزرگاہ پر لٹکا دیا گیا۔ جب ان دو آدمیوں کو جو خراسانی کے قتل پر متعین ہوئے تھے معلوم ہوا کہ حاجی خراسانی مارا گیا ہے تو وہ سید محمود کے پاس واپس آگئے۔ شاہ دلاور مہدوی نے خراسانی کے قتل کی خبر سن کر بشارت دی کہ وہ ایمان سلامت لے گیا۔ غرغرہ کے وقت اس کی توبہ قبول ہوگئی اور سید محمود کو اس کی ہلاکت کی اطلاع ہوئی تو بولا کہ حاجی محمد نے مہدی علیہ السلام یعنی جونپوری کی تصدیق کی تھی۔ اس لئے ضائع نہ ہوا۔

(ہدیہ مہدویہ)

خوفناک انجام کا دھڑکا

اسلامی سلطنتوں میں تقدس کے دکانداروں سے یہی سلوک ہوتا رہا ہے جو خراسانی سے کیا گیا۔ اسی خوفناک انجام کے پیش نظر ہمارے قادیانی کو نہ تو حج کے لئے کبھی مکہ معظمہ جانے کی جرات ہوئی اور نہ امیر عبدالرحمن والی افغانستان کی دعوت پر کابل کا رخ کیا۔ غلام احمد نے امیر صاحب کو لکھ بھیجا تھا۔ میں مرسل یزدانی، مسیح زمان اور مہدی دوراں ہوں۔ مجھ پر ایمان لا کر مجھ سے تعاون کرو۔ امیر صاحب نے اس کے جواب میں مرزا قادیانی کو لکھ بھیجا تھا کہ آپ بے کھٹکا افغانستان چلے آئیے۔ اگر کتاب وسنت کی روشنی میں آپ کے دعووں میں صداقت ہوئی تو نہ صرف میں خود بلکہ میری تمام رعایا بھی آپ کی پیروی کرے گی۔ لیکن باطل کی مجال نہیں تھی کہ ایک اسلامی قلمرو میں قدم رکھنے کا خطرہ گوارا کرتا۔

معلوم ہوا کہ کتاب ”ہدیہ مہدویہ“ کے صفحات ١٧٢، ١٧٤ پر مدعی مسیحیت کا نام شیخ محمد

٨٣

صفحہ ١٦٥

خراسانی اور صفحات ٢٤٤، ٢٤٥ پر حاجی محمد فرہی لکھا ہے۔ بظاہر دو جدا گانہ ہستیاں معلوم ہوتی ہیں۔ حالانکہ ایسا نہیں۔ فراہ یا فرہ خراسان ہی کا ایک شہر ہے۔ اس لئے شیخ محمد خراسانی اور حاجی محمد فرہی ایک ہی شخص کے نام ہیں۔ معجم البلدان دیکھنا ہوگا۔

شیخ بھیک مہدوی

بعض ناواقف گمان کرتے ہیں کہ غلام احمد قادیانی ہی وہ شخص ہے جس نے متحدہ ہندوستان میں سب سے پہلے خانہ ساز مسیحیت کی ڈفلی بجا کر خلق خدا کو گمراہ کیا۔ لیکن یہ خیال صحیح نہیں۔ قادیانی سے پہلے بھی متحدہ ہندوستان میں متعدد مسیحان کذب شعار گزر چکے ہیں۔ جن میں قادیانی آخری ہے۔ مخبر صادقﷺ کی پیش گوئیوں میں مذکور ہے کہ ظہور مہدی علیہ السلام کے کچھ عرصہ بعد حضرت مسیح علیہ السلام دمشق کے سفید شرقی مینار پر نزول فرمائیں گے۔ چونکہ مہدوی لوگ جونپوری کو سچا مہدی یقین کرتے تھے۔ اس لئے وہ حضرت مسیح بن مریم علیہ السلام کی تشریف آوری کے لئے چشم براہ تھے۔ لیکن ان کے خلاف توقع مسیح علیہ السلام قدم فرما نہ ہوئے۔ کیونکہ ان کی تشریف آوری تو سچے مہدی کے ظہور سے وابستہ ہے۔

آخر جونپوری کے مریدوں میں ایک شخص جس کو شیخ بھیک کہتے تھے۔ مسیح موعود بن بیٹھا۔ جونپوری کے پیرو جونپوری کو ”میراں جی“ کہتے تھے۔ اس دعوے کے بعد جب شیخ بھیک، میراں جی کی خدمت میں حاضر ہوا تو انہوں نے فرمایا تجھ کو عیسیٰ کس نے بنایا؟ کہنے لگا اسی نے جس نے آپ کو منصب مہدویت بخشا۔ میاں جی نے کہا تو جھوٹا مسیح ہے۔ کیونکہ تیری ماں تو فلانی تھی۔ آنے والے مسیح علیہ السلام تو جناب مریم طاہرہ کے فرزند ہوں گے اور ڈانٹ کر کہا اگر تو دوبارہ مسیح موعود ہونے کا دعویٰ کرے گا تو کافر ہو جائے گا۔

اس وقت تو شیخ بھیک پر اس وعظ وتلقین کا کچھ اثر نہ ہوا۔ لیکن چند روز کے بعد خود ہی اس دعویٰ سے تائب ہو گیا۔ میراں جی نے کہا آپ بالائے آسمان سے کس طرح اتر آئے؟ پھر خود ہی کہہ دیا کہ ہاں یہ بھی ایک مقام تھا۔

(ہدیہ مہدویہ)

ابراہیم بزلہ مہدوی

مہدویہ کی کتاب ”انصاف نامہ“ میں لکھا ہے کہ جونپوری کے مریدوں میں ابراہیم بزلہ نے بھی عیسیٰ بن مریم ہونے کا دعویٰ کیا تھا اور اس سے بھی کہا تھا کہ تو جھوٹا مسیح ہے۔ کیونکہ سچے مسیح علیہ الصلوٰۃ والسلام کی والدہ محترمہ کا نام مبارک مریم ہے اور تیرے ماں باپ فلانے ہیں۔

(ہدیہ مہدویہ ص ١٧٣)

٨٤

معلوم نہیں کہ میاں بزلہ اس کے بعد برابر اپنی عفونت فشاں مسیحیت سے فضائے عالم کو م موقع کی رعایت سے یہاں سچے م حضرت سرور کائناتﷺ کے چند ارشادات گرامی ب بسہولت معلوم ہو سکے کہ ان مدعیان مسیحیت کے د

احادیث نزول مسیح بن مریم علیہ السلام

المسيح ابن مريم الملل كلها الا الاسلا ص ١٣٠، قال ابن حجر فی الفتح حدیث ب رسول خداﷺ نے فرمایا کہ حق تعالیٰ مسیح ابن مری ملتوں کو معدوم کر دے گا۔ اس حدیث کو امام احمد ب عسقلانی نے فتح الباری میں لکھا ہے کہ یہ حدیث ح

کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے۔ ابن مریم توڑ دیں گے اور خنزیر کو ہلاک یعنی معدوم کر دیں ہو گی۔ یہاں تک کہ کوئی اس کو قبول نہ کرے گا۔ ہو گا کہ لوگوں کو ایک سجدہ دنیا اور جو کچھ دنیا می

(رواہ

عادل کی حیثیت سے تم میں نازل ہوں گے۔ تو گے اور جزیہ کو برطرف کر دیں گے۔ جوان اونٹنیو لوگوں کے دلوں سے کینہ اور حسد و بغض جاتا رہ کوئی قبول نہ کرے گا۔

میں مصروف ہوگا کہ خدائے برتر ناگہاں مسیح ابن جو دمشق کے مشرق میں واقع ہے اپنے دو

صفحہ ١٦٥

معلوم نہیں کہ میاں بزلہ اس کے بعد تائب ہو کر سنبھل گیا یا قادیانی مرزے کی طرح برابر اپنی عفونت فشاں مسیحیت سے فضائے عالم کو مکدر کرتا رہا۔

موقع کی رعایت سے یہاں سچے مسیح موعود علیہ السلام کی تشریف آوری سے متعلق حضرت سرور کائنات ﷺ کے چند ارشادات گرامی سپرد قرطاس کئے جاتے ہیں تاکہ پڑھنے والوں کو بسہولت معلوم ہو سکے کہ ان مدعیان مسیحیت کے دعوؤں میں صداقت کا کہاں تک کوئی شائبہ تھا۔

احادیث نزول مسیح بن مریم علیہ السلام

المسیح ابن مریم الملل کلھا الا الاسلام (رواہ احمد ج ٢ ص ٤٣٧، وابوداؤد ج ٢ ص ١٣٥، قال ابن حجر فی الفتح حدیث صحیح) " ﴿حضرت ابو ہریرہؓ سے مروی ہے کہ رسول خدا ﷺ نے فرمایا کہ حق تعالیٰ مسیح ابن مریم علیہ السلام کے زمانے میں اسلام کے سوا تمام ملتوں کو معدوم کر دے گا۔ اس حدیث کو امام احمد اور ابوداؤد نے روایت کیا اور علامہ حضرت ابن حجر عسقلانیؒ نے فتح الباری میں لکھا ہے کہ یہ حدیث صحیح ہے۔﴾

کے قبضہء قدرت میں میری جان ہے۔ ابن مریم حاکم عادل ہو کر تم میں اتریں گے۔ پھر صلیب کو توڑ دیں گے اور خنزیر کو ہلاک کریں گے اور جزیہ موقوف کر دیں گے اور مال کی بڑی کثرت ہوگی۔ یہاں تک کہ کوئی اس کو قبول نہ کرے گا۔ لوگوں کو عبادت اور توجہ الی اللہ سے اس قدر شغف ہوگا کہ لوگوں کو ایک سجدہ دنیا اور جو کچھ دنیا میں ہے اس سے زیادہ محبوب ہوگا۔

(رواہ البخاری ج١ ص٤٩٠، مسلم ج١ ص٨٧ وابوداؤد والترمذی)

عادل کی حیثیت سے تم میں نازل ہوں گے۔ پس صلیب کو توڑ دیں گے۔ خنزیر کو ہلاک کر ڈالیں گے اور جزیہ کو برطرف کر دیں گے۔ جوان اونٹنیاں چھوڑی پھریں گی۔ ان پر کوئی سواری نہ کرے گا۔ لوگوں کے دلوں سے کینہ اور حسد و بغض جاتا رہے گا۔ لوگوں کو مال و زر کی طرف بلائیں گے، لیکن کوئی قبول نہ کرے گا۔

(رواہ مسلم)

میں مصروف ہوگا کہ خدائے برتر ناگہاں مسیح ابن مریم کو مبعوث فرمائے گا۔ وہ سفید مینار کے پاس جو دمشق کے مشرق میں واقع ہے اپنے دونوں ہاتھ دو فرشتوں کے پروں پر رکھے ہوئے

٨٥

صفحہ ١٦٦

اتریں گے۔ جب اپنا سر اٹھائیں گے تو بالوں سے موتیوں کی مانند نقرئی رنگ کے قطرے گریں گے ۔ کوئی کافر ایسا نہ ہوگا کہ جسے ان کے سانس کی بھاپ لگے گی اور وہ ہلاک نہ ہو جائے گا۔ ان کی سانس منتہائے بصر تک پہنچے گی۔ اس کے بعد حضرت مسیح دجال کو تلاش کریں گے اور اسے باب لُدّ میں قتل کر دیں گے۔

(رواہ مسلم)

کہ جس کے قبضہٴ قدرت میں میری جان ہے۔ ابن مریمؑ فج الروحاء سے (جو مکہ اور مدینہ کے درمیان ایک جگہ ہے۔ نووی) حج کا احرام باندھے ہوئے گزریں گے (یعنی شام سے آتے ہوئے۔ رواہ مسلم) لیکن راوی کو شک ہے اسے یاد نہیں رہا کہ حضرت ابو ہریرہؓ نے حج کا احرام بتایا تھا یا عمرہ کا یا قران کریں گے۔ حاجاً او معتمراً او یثنینهما!

(رواہ مسلم ج ١ ص ٣٠٨ مسند احمد ج ٢ ص ٥١٣ ۔ ابوبکر بن ابی شیبہ اخرجہ احمد وابن جریر وابن عساکر مثلہ عنہ)

(خوشگوار) حالت ہوگی جب کہ ابن مریم تم میں نازل ہوں گے اور تمہارا امام تم ہی میں سے ہوگا۔ (رواہ البخاری و مسلم) ”تمہارا امام“ اس سے مراد مہدی علیہ السلام کی ذات گرامی ہے۔

سے قیامت تک کوئی نہ کوئی جماعت حق پر قتال کرتی رہے گی۔ پھر عیسیٰ ابن مریم نازل ہوں گے۔ مسلمانوں کا حاکم ان سے کہے گا۔ آئیے ہمیں نماز پڑھائیے ۔ حضرت مسیح فرمائیں گے: نہیں! تم ہی نماز پڑھاؤ کہ خدا نے اس امت کو بڑا شرف بخشا ہے۔ (رواہ مسلم)

٢٠....... بایزید جالندھری

بایزید روشن مشرقی پنجاب میں بمقام جالندھر ١٩٣١ء میں پیدا ہوا۔ نبوت کا مدعی تھا۔ اس کا قول تھا کہ جبریل امین میرے پاس رب العالمین کی طرف سے پیغام لاتے ہیں اور میں خالق کون ومکان کو اپنی ان دو آنکھوں سے دیکھتا ہوں اور بلا توسط جبریل علیہ السلام بھی خداوند عالم سے بالمشافہ گفتگو کرتا ہوں۔ لیکن یہ بایزید کی غلط فہمی تھی۔ وہ واقعی اپنی دو آنکھوں سے کسی نہایت حسین

١؎ ”محطہ ایک جنکشن ہے۔ یہاں سے قدس کے لئے گاڑی بدل جاتی ہے۔ یہ وہ مقام لُد ہے جس کی نسبت ہمارے مخالف الرائے مسلمان کہتے ہیں کہ مسیح ، دجال کو باب لُد پر قتل کرے گا۔“

(الفضل قادیان مورخہ ١٦؍ستمبر ١٩٤٣ء)

٨٦

صفحہ ١٦٧

وہ جلیل نورانی ہستی کو دیکھتا ہوگا۔ لیکن جس نورانی ہستی کو وہ از جہالت و کوری خدائے برتر گمان کرتا تھا اور اس سے بالمشافہ گفتگو ہوتی تھی وہ شیطان تھا۔ کوئی بشر خواہ وہ خدائے برگزیدہ انبیاء و رسل ہی کیوں نہ تھے خدائے واحد کو دار دنیا میں برأی العین نہیں دیکھ سکتا۔ البتہ جنت میں اہل ایمان کو جو آنکھیں عطاء ہوں گی ان میں یہ صلاحیت ہوگی کہ خدائے بے کیف کو دیکھیں۔

بایزید نے اپنا لقب ”روشن“ پیر رکھا تھا اور اپنے دام افتادوں سے کہا تھا کہ مجھے غیب سے ندا ہوتی ہے کہ تمھیں سب لوگ روشن پیر کہا کریں۔ چنانچہ اس کے پیرو اسے ہمیشہ اسی لقب سے یاد کرتے تھے۔ گو عامۃ العالمین میں وہ تاریک پیر کے نام سے شہرت رکھتا تھا۔ بایزید صاحب تصانیف تھا۔ عربی، فارسی، ہندی اور پشتو چار زبانوں میں کئی ایک کتابیں لکھیں۔ اس کی ایک کتاب ”خیر البیان“ ہے جسے چاروں مذکورہ زبانوں میں تالیف کیا تھا۔ کہتا تھا کہ خیر البیان کلام الہی ہے۔ اس میں صرف وہ باتیں ہیں جو رب العالمین نے مجھ سے بالمشافہ کہیں۔

بایزید کلام الہی کے حقائق و معارف بیان کرنے میں ید طولیٰ رکھتا تھا اور دلوں پر اس کے تبحر علمی کا سکہ جما ہوا تھا۔ اس کے دعوائے نبوت سے پہلے مرزا محمد حکیم خلف ہمایوں بادشاہ صوبہ دار کابل نے اپنے دربار میں کسی مسئلہ پر علمائے کابل سے اس کا مناظرہ کرایا۔ علمائے کابل مسائل فقہ پر پوری طرح حاوی تھے۔ اس لئے وہ اپنی فقہی روایات لے کر مقابلہ کو آئے۔ مگر بایزید کے مقابلہ میں محض روایات و منقولات سے کام نہیں چلتا تھا۔ علماء نے شکست کھائی اور صوبہ دار اس کی خوبی تقریر، مرصع گوئی، شستہ بیانی اور زور کلام کی بناء پر اس کا معتقد اور گرویدہ ہو گیا۔

بایزید کو مناظرہ و مجادلہ اور منطقی موشگافیوں میں ید طولیٰ حاصل تھا۔ علم جدل نے اس کے دل و دماغ میں غرور و پندار کے کیڑے بھر دیئے تھے۔ اس لئے زمانہ میں کسی کو خاطر میں نہیں لاتا تھا۔ ایسے لوگوں سے توفیق الہی مسلوب ہو جاتی ہے اور خدائے غیور و بے نیاز انھیں ان کے حال پر چھوڑ دیتا ہے۔ یہ وہ حرماں نصیب ہیں جنھیں شیاطین اپنی کٹھ پتلی بنا کر ہر قسم کا ناچ نچاتے ہیں اور اغوائے خلق کی سرگرمیوں میں جس طرح چاہتے ہیں ان سے کام لیتے ہیں۔ کیونکہ وہ شیاطین کو نورانی شکلوں میں دیکھ کر انھیں خدائے برتر یقین کرتے ہیں۔ اس لئے ان کے ہر حکم کے سامنے بلا تامل گردن ڈال دیتے ہیں۔

اگر بایزید ان آوازوں کو جن میں اسے منصب نبوت پر فائز ہونے کا مژدہ سنایا جاتا تھا۔ کتاب و سنت اور مسلک سلف صالح کے معیار پر پرکھنے کی زحمت گوارا کرتا یا کم از کم اس پر کسی متبع سنت پیر طریقت کا ظل عاطفت سایہ افگن ہوتا تو معاً بھانپ جاتا کہ یہ سب اغوائے شیطانی

٨٧

صفحہ ١٦٩

ہے ۔ لیکن چونکہ عجب و غرور کی پاداش میں توفیق الہی اٹھ چکی تھی۔ دوسرے قادیانی مرزے کی طرح قطعاً بے مرشد تھا۔ اس بناء پر شیاطین کی نورانی شکلوں کو رب العالمین اور ان کی آوازوں کو خدائی مکالمہ و مخاطبہ گمان کر کے ضلالت کے اسفل السافلین میں جا گرا اور دعوائے نبوت کر کے ہمہ تن اغوائے خلق میں منہمک ہوا۔

کچھ مدت کے بعد پشاور کی طرف گیا اور غوریا خیل پٹھانوں میں جا کر رہنے لگا۔ چونکہ اس علاقہ میں علماء عنقا کا حکم رکھتے تھے۔ مزاحمت و تردید کرنے والا کوئی نہ تھا۔ اسے نبوت کی دکانداری میں بڑا فروغ حاصل ہوا۔ یہاں تک کہ اس سرزمین میں بلا شرکت غیرے پیشوائی کا تاج و تخت حاصل کر لیا اور قریب قریب ساری قوم خیل اس کی مطیع ہو گئی۔ پھر ہشت نگر میں گیا۔ یہاں بھی اس کی دکان خدع خوب چلی۔ مگر جب اس کے دعوائے نبوت کا شہرہ ہوتا تو علماء مباحثہ کے لئے امڈ آئے۔ ایک عالم تبحر اخوند درویزہ سے اس کا مناظرہ ہوا۔ چونکہ ختم نبوت کے مسئلہ میں کوئی منطقی الجھنیں نہیں تھیں۔ اس وجہ سے بایزید مغلوب ہو گیا۔ مگر اس کے پیرو ہمارے ہاں کے گم کردگان راہ مرزائیوں کی طرح ایسے خوش اعتقاد تھے کہ اخوند درویزہ کی تمام تر مساعی رائیگاں گئیں اور مرتدین میں سے کوئی بھی تائب نہ ہوا۔

جب بایزید کے دعوائے نبوت اور مذہبی غارت گری کا حال محسن خاں نے سنا جو اکبر بادشاہ کا صوبہ دار ہونے کے باوجود ایک دیندار حکمران تھا تو وہ بہ نفس نفیس ہشت نگر آیا اور اسے گرفتار کر کے کابل لے گیا۔ مدت تک کابل میں فقدان بلا کی مشقتیں سہتا رہا۔ آخر کسی حیلہ سے رہا ہو کر ہشت نگر واپس آیا اور اپنے تمام پیروؤں کو جمع کر کے طوطی کے پہاڑوں میں گھس گیا۔ کچھ مدت تک مورچہ بندیوں میں مصروف رہا۔ وہاں سے سیاحت کا حیلہ کر کے تیراہ آیا اور وعظ و تذکیر کے فسوں پھونک کر آفریدی اور اورکزئی پٹھانوں کو بھی اپنے دام تزویر میں پھانس لیا۔ آزاد سرحدی قبائل کے دلوں میں اس کی عقیدت کی گرمی اس شدت سے دوڑنے لگی۔ جس طرح خون رگوں میں دوڑتا ہے۔

سرحدی عقیدت مندوں کے دل مسخر کرنے کے بعد بایزید، اکبر بادشاہ کی اطاعت سے خارج ہو کر اس کا حریف مقابل بن گیا اور کھلم کھلا علم ستیزہ کاری بلند کر دیا۔ باوجودیکہ بایزید الحاد و بے دینی میں اکبر کا ثانی تھا تاہم وہ بے پناہ پروپیگنڈا کر رہا تھا کہ اکبر بادشاہ سخت بے دین ہے اور اس کی اطاعت ہر مسلمان پر حرام ہے۔ اس نشریہ کا یہ اثر ہوا کہ اکثر سرحدی قبائل اکبر اکفر سے منحرف ہو گئے۔ بادشاہ کو بایزید کی مخالفتانہ سرگرمیوں کا علم ہوا تو اس نے ایک لشکر جرار اس کی سرکوبی

٨٨

کے لئے روانہ کیا۔ لیکن شاہی لشکر خود ہی سرکوب ہو بڑھے اور اس کی نظر میں شاہی افواج کی کوئی حقیقت کچھ مدت کے بعد اکبر نے بایزید کے کو بھی کابل کی طرف سے یورش کرنے کا حکم دیا۔ سے شاہی فوج نے اس پر یورش کی بایزید دوطرفہ فو فاش ہوئی اور اس نے ہشت نگر کی طرف بھاگ ک مشغول ہوا۔ لیکن اس اثناء میں موت کا فرشتہ پہ میں بھتہ پور کی پہاڑی پر اس کی قبر ہے۔

معلوم نہیں کہ بایزید نے کس سال د مدت نبوت و اغواء بڑی طویل تھی۔ بایزید کے عقید کو عارف باللہ اور خدا کا پیغمبر یقین کرتے تھے ۔ کتاب کے کچھ اقتباس کتاب ائمہ تلبیس صفحات ٥

بایزید کے بعد اس کا بیٹا شیخ عمر باپ کا جمع ہو گئے۔ یوسف زئی قبیلہ کے پیشوا اخوند درویز جھوٹے نبی کی امت پر چڑھ دوڑے۔ اس لڑائی میں گئے ۔ اس کا ایک بیٹا جلال الدین قید ہوا اور سب و جلال الدین قید سے رہا ہو کر فتح پور سیک جلالہ کہا کرتا تھا۔ فتح پور سیکری سے واپس آکر جوا شروع کر دی۔ اکبر نے ٩٩٤ھ میں اپنے مشہور س بھتیجا تھا چند دوسرے فوجی افسروں کی رفاقت میں فوجوں سے برسرِ مقابلہ رہا۔ ان محاربات کی تفصی آخری معرکہ میں بایزید کا پانچواں بیٹا کمال الدی جلالہ کے بعد بایزید کا پوتا احداد بن عمر خلیفہ بنایا گ تھے۔ جہانگیر بادشاہ نے احداد کے خلاف ٣٥ احداد مارا گیا۔ اس کے دام افتادہ کہا کرتے تھے ک ہی کی شان میں نازل ہوئی تھی۔

صفحہ ١٦٩

کے لئے روانہ کیا۔ لیکن شاہی لشکر خود ہی مرعوب ہو کر بھاگ آیا۔ اس فتح سے بایزید کے حوصلے اور بڑھے اور اس کی نظر میں شاہی افواج کی کوئی حقیقت نہ رہی۔

کچھ مدت کے بعد اکبر نے بایزید کے خلاف ایک فوج گراں روانہ کی اور صوبہ دار کابل کو بھی کابل کی طرف سے یورش کرنے کا حکم دیا۔ محسن خاں صوبہ دار کابل بایزید پر چڑھ آیا اور ادھر سے شاہی فوج نے اس پر یورش کی بایزید دوطرفہ فوجوں کے مقابلہ سے عہدہ برآ نہ ہو سکا اور شکست فاش ہوئی اور اس نے ہشت نگر کی طرف بھاگ کر جان بچائی۔ اب بایزید ازسرنو فراہمی لشکر میں مشغول ہوا۔ لیکن اس اثناء میں موت کا فرشتہ پیام اجل لے کر آ پہنچا۔ افغانستان کے سلسلہ کوہ میں بھتہ پور کی پہاڑی پر اس کی قبر ہے۔

معلوم نہیں کہ بایزید نے کس سال دعوائے نبوت کیا اور کس سال مرا۔ تاہم اس کی مدت نبوت و اغواہ بڑی طویل تھی۔ بایزید کے متصوفانہ اقوال جن کی بناء پر سادہ لوح ظاہر بین اس کو عارف باللہ اور خدا کا پیغمبر یقین کرتے تھے۔ اس کی کتاب ”حال نامہ“ میں درج ہیں۔ اس کتاب کے کچھ اقتباس کتاب ایلیوٹ جلد ٦ صفحات ٣٥٩ تا ٣٦١ میں ملاحظہ ہوں۔

بایزید کے بعد اس کا بیٹا شیخ عمر باپ کا جانشین ہوا۔ پیر روشن کے تمام پیرو اس کے پاس جمع ہو گئے۔ یوسف زئی قبیلہ کے پیشوا اخوند درویزہ تھے۔ اخوند درویزہ یوسف زئیوں کو ساتھ لے کر جھوٹے نبی کی امت پر چڑھ دوڑے۔ اس لڑائی میں شیخ عمر اور بایزید کا ایک اور بیٹا خیر الدین مارے گئے۔ اس کا ایک بیٹا جلال الدین قید ہوا اور سب سے چھوٹا بیٹا نورالدین ہشت نگر بھاگ گیا۔

جلال الدین قید سے رہا ہو کر فتح پور سیکری گیا اور اکبر بادشاہ سے ملاقات کی۔ اکبر اسے جلالہ کہا کرتا تھا۔ فتح پور سیکری سے واپس آ کر جلالہ نے کابل کا راستہ قطعاً مسدود کر دیا اور رہزنی شروع کر دی۔ اکبر نے ٩٩٤ھ میں اپنے مشہور سپہ سالار راجہ مان سنگھ کو جو اس کی ایک ہندو بیوی کا بھتیجا تھا چند دوسرے فوجی افسروں کی رفاقت میں اس کے مقابلہ کو بھیجا۔ جلالہ کئی سال تک شاہی فوجوں سے برسر مقابلہ رہا۔ ان محاربات کی تفصیل ”اکبر نامہ اور منتخب التواریخ“ میں درج ہے۔

آخری معرکہ میں بایزید کا پانچواں بیٹا کمال الدین اسیر ہوا۔ اکبر نے تادم واپسیں اسے قید رکھا۔

جلالہ کے بعد بایزید کا پوتا احداد بن عمر خلیفہ بنایا گیا۔ ہزارہا افغان اس کے حلقہ ارادت میں داخل تھے۔ جہانگیر بادشاہ نے احداد کے خلاف ١٠٣٥ھ میں ایک لشکر جرار روانہ کیا۔ اسی لڑائی میں احداد مارا گیا۔ اس کے دام افتادہ کہا کرتے تھے کہ قرآن کی سورت ”قل هو الله احد“ احداد ہی کی شان میں نازل ہوئی تھی۔

٨٩

صفحہ ١٧٠

احد ادو کا بیٹا عبدالقادر باپ کا جانشین ہوا۔ لیکن یہ ترک مخالفت کر کے شاہ جہان پادشاہ کے دربار میں حاضر ہوا اور امرائے شاہ جہانی میں داخل ہو گیا۔ جلالہ کا ایک بیٹا الہ داد شاہ جہان بادشاہ کی طرف سے رشید خانی خطاب اور منصب چار ہزاری سے سرفراز تھا۔

(دبستان مذاہب وغیرہ)

٢١....... احمد بن عبداللہ سجلماسی

ابو العباس احمد بن عبداللہ بن محمد سجلماسی مغربی معروف بہ ابن ابی محلی مؤلف کتاب عذراء الوسائل و بمورج الرسائل مہدویت کا مدعی تھا۔ ٩٦٧ھ میں بمقام سجلماسہ جو ملک غرب میں پیدا ہوا۔ عنفوان شباب میں فاس گیا اور وہاں کے علماء سے اکتساب علوم کرتا رہا۔ پھر حج کر کے مصر گیا اور علمائے مصر سے علمی فیوض حاصل کئے۔ اس کے بعد اس نے حضرت مہدی منتظر علیہ السلام کے ظہور کے موضوع پر ایک کتاب لکھی جس میں ان کے اوصاف جمیلہ اور علامات شخصہ درج کئے۔ گو اس میں ضعیف روایتوں کی بھی خوب بھرمار کر رکھی تھی۔ تاہم کتاب من حيث المجموع مفید ثابت ہوئی۔

یہ تالیف گویا دعوائے مہدویت کی تمہید تھی۔ چنانچہ ١٠٢١ھ میں اس نے دعوائے مہدویت کر دیا۔ ہزارہا لوگوں نے اس کی متابعت کی۔ اس شخص کا معمول تھا کہ روسائے قبائل اور عمائد بلاد کی طرف خطوط بھیج بھیج کر ان کو اعمال صالحہ بجالانے اور سنت نبوی پر عمل پیرا ہونے کی ترغیب دیتا اور چٹھی کے اخیر میں لکھ دیتا کہ میں وہی مہدی منتظر ہوں۔ جس کے ظہور کی حضرت مخبر صادق نے پیش گوئی کر رکھی تھی جو میری متابعت کرے گا وہ مفلح و کامگار ہوگا اور جو کوئی متخلف رہے گا۔ قعر ہلاکت میں جاپڑے گا۔ یہ شخص اپنے حاشیہ نشینوں سے کہا کرتا تھا کہ تم لوگ نبی ﷺ کے اصحاب سے افضل ہو۔ کیونکہ تم ایک باطل زمانہ میں نصرت حق کے لئے کھڑے ہوئے ہو اور صحابہ کرام عہد نبوت میں تائید حق کے لئے کھڑے ہوئے تھے۔

جب اس کے پیروؤں کی تعداد بڑھ گئی تو امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا وعظ شروع کیا۔ جس کے ضمن میں اپنے متبعین کو ملک گیری کی ترغیب دیتا رہا۔ اس کے بعد اس نے اُس قصور پر کہ اُس کی پیروی سے احتراز کرتے تھے۔ اہل ایمان کی ایذا رسانی کا شیوہ اختیار کیا۔ بہتوں کو لوٹا اور اکثر کو جلا وطن کر دیا۔ جب کوئی کہتا کہ حسب ارشاد نبوی ﷺ مسلمان وہ ہے جس کے ہاتھ اور زبان سے مسلمان سلامت رہیں تو جواب دیتا کہ میرا غیظ وغضب محض اللہ کے لئے ہے۔

٩٠

ان ایام میں مراکش کی سر عامل حاج میر نے اس کی روز افزوں قُو کی سرکوبی کو نکلا۔ ابن ابی محلی اس کے مقابل حاج میر کو ہزیمت ہوئی۔ لوگوں میں عا کرتے۔ غرض دلوں پر اس کا رعب چھا لیا۔ وہاں ہر طرح سے عدل وانصاف کا کہ رعایا اس کو بہت چاہنے لگی۔

یہ حالت دیکھ کر اہل تلمسان باق فقیہ علامہ ابو عثمان سعید جزائری معروف ب ہزیمت کا علم ہوا تو اس نے اپنے بھائی ع کے لئے روانہ کیا۔ درعہ کے مقام پر دونو فوج کے تین ہزار آدمی مارے گئے۔ ا لگی۔ جب سلطان زیدان کے سپہ سالا کر ایک بڑی جمعیت کے ساتھ ابن ابی م کر کے اس پر چڑھائی کرنے کی ترغیب مشکل نہیں ہے۔

مراکش پر قبضہ

یونس کی اس تحریک پر ابن ابی لشکر جرار لے کر مقابلے پر آیا۔ پرتگالی ام روانہ کیا۔ لیکن سلطان کو اس بات پر غیرت سلطان نے اس احسان کے عوض میں ہ کے ساتھ واپس بھیج دیا۔ اب لڑائی شرو مراکش پر مل و دخل کر لیا۔ زیدان جان ب

ایک عالم دین کا سلطان کو مکتو

کچھ مدت کے بعد سلطا

صفحہ ١٧١

ان ایام میں مراکش کی سرزمین سلطان زیدان کے زیر نگیں تھی۔ جب زیدان کے عامل حاج میر نے اس کی روز افزوں خیرہ دستیاں مشاہدہ کیں تو چار ہزار کی جمعیت کے ساتھ اس کی سرکوبی کو نکلا۔ ابن ابی محلی اس کے مقابلے میں اپنے مریدوں کو لے کر نکلا۔ لڑائی ہوئی۔ جس میں حاج میر کو ہزیمت ہوئی۔ لوگوں میں مشہور ہو گیا کہ ابن ابی محلی کے پیروؤں پر ہتھیار اثر نہیں کرتے۔ غرض دلوں پر اس کا رعب چھا گیا۔ اس فتح کے بعد اس نے بلا مزاحمت سلجماسہ پر قبضہ کر لیا۔ وہاں ہر طرح سے عدل و انصاف کا شیوہ اختیار کیا اور مظلوموں کی خوب داد رسی کی۔ نتیجہ یہ ہوا کہ رعایا اس کو بہت چاہنے لگی۔

یہ حالت دیکھ کر اہل تلمسان اور راشدیہ کے وفد اس کو مبارک باد دینے آئے۔ ان وفود میں فقیہ علامہ ابو عثمان سعید جزائری معروف بہ قدورہ شارح بھی تھے۔ جب سلطان زیدان کو حاج میر کی ہزیمت کا علم ہوا تو اس نے اپنے بھائی عبداللہ بن منصور معروف بہ زبدہ کو فوج دے کر اس کی سرکوبی کے لئے روانہ کیا۔ درعہ کے مقام پر دونوں لشکروں کی مڈ بھیڑ ہوئی۔ عبداللہ کو شکست ہوئی اور اس کی فوج کے تین ہزار آدمی مارے گئے۔ اس فتح کے بعد ابن ابی محلی کی شوکت ثریا سے باتیں کرنے لگی۔ جب سلطان زیدان کے سپہ سالار یونس کو اس ہزیمت کی اطلاع ہوئی تو وہ سلطان سے کٹ کر ایک بڑی جمعیت کے ساتھ ابن ابی محلی کے پاس چلا آیا اور اس کو سلطان کے اسرار و خفایا پر مطلع کر کے اس پر چڑھائی کرنے کی ترغیب دی اور اس کو یقین دلایا کہ سلطان کا مغلوب کر لینا کچھ بھی مشکل نہیں ہے۔

مراکش پر قبضہ

یونس کی اس تحریک پر ابن ابی محلی لاؤ لشکر لے کر مراکش پر چڑھ گیا۔ سلطان زیدان ایک لشکر جرار لے کر مقابلے پر آیا۔ پرتگالی نصاریٰ نے سلطان زیدان کی کمک پر بلا طلب ایک دستہ فوج روانہ کیا۔ لیکن سلطان کو اس بات پر غیرت آئی کہ مسلمانوں کے مقابلے میں کفار سے مدد لے۔ تاہم سلطان نے اس احسان کے عوض میں پرتگالی قیدیوں کو رہا کر دیا اور تمام قیدیوں کو پرتگالی دستہ فوج کے ساتھ واپس بھیج دیا۔ اب لڑائی شروع ہوئی۔ ابن ابی محلی نے سلطان کو شکست دی اور اس نے شہر مراکش پر مکمل دخل کر لیا۔ زیدان جان بچا کر ایک مقام ،،المدرہ،، کی طرف بھاگ گیا۔

ایک عالم دین کا سلطان کو ملک واپس دلانا

کچھ مدت کے بعد سلطان زیدان ملک کے مشہور عالم فقیہ ابوزکریا یحییٰ بن عبداللہ

٩١

صفحہ ١٧٣

١٧٢

داؤدی کے پاس گیا جو کوہ درن میں مقیم تھے۔ فقیہ یحییٰ کے شاگردوں اور پیروؤں کی تعداد بھی ہزاروں تک پہنچتی تھی۔ زیدان نے جا کر کہا آپ حضرات بحیثیت میری رعایا میں داخل ہیں۔ اب میں آپ کے پاس اپنی حاجت لے کر آیا ہوں اور وہ یہ ہے کہ دشمن نے مجھے میری سلطنت سے بے دخل کر دیا ہے۔ اس کے مقابلہ میں میری مدد کرو۔ فقیہ ابوزکریا یحییٰ نے اس دعوت کو لبیک کہا اور ٨؍ رمضان ١٠٢٢ھ کو اپنے متبعین کی معیت میں مراکش کی طرف کوچ کر دیا۔ علامہ ابوزکریا یحییٰ نے مراکش کے مضافات میں پہنچ کر موضع جلیمر میں قیام کیا اور دوسرے دن مراکش پر چڑھ دوڑے۔ ابن ابی محلی بھی مقابلے پر آیا۔ فقیہ کا لشکر اعداء کی صفوں میں گھس پڑا اور جو سامنے آیا اسے فنا کر کے رکھ دیا۔ غرض نسیم فتح فقیہ کے رایت کے میمنہ پر چلی۔ ابن ابی محلی کو ہزیمت ہوئی اور وہ میدان جانستان کی نذر ہوا۔

جھوٹے مہدی کا سر شہر کے صدر دروازے پر

اب فقیہ ابوزکریا نے حکم دیا کہ ابن ابی محلی کا سر کاٹ کر شہر کے صدر دروازے پر لٹکا دیں۔ معا اس حکم کی تعمیل ہوئی۔ اسی طرح اس کے دام افتادوں کے سر بھی کاٹ کاٹ کر شہر کے دروازوں پر لٹکا دیئے گئے۔ اس کے بعد فقیہ صاحب مراکش کی سلطنت سلطان زیدان کے سپرد کر کے واپس آئے۔ ابن ابی محلی اور اس کے پیروؤں کے سر بارہ برس تک مراکش کے دروازوں پر لٹکے رہے۔ ابن ابی محلی کے باقی ماندہ پیرو کہتے تھے کہ حضرت مہدی علیہ السلام قتل نہیں ہوئے۔ بلکہ کچھ مدت کے لئے نظروں سے غائب ہوئے ہیں۔

تین سال تک برسر حکومت رہنے کی پیشین گوئی

شیخ یوسی کا بیان ہے کہ ایک مرتبہ ابن ابی محلی اپنے استاد ابن مبارک کے پاس بیٹھا تھا۔ اتنے میں اچانک یہ کہنا شروع کیا کہ میں بادشاہ ہوں۔ میں بادشاہ ہوں۔ میں بادشاہ ہوں۔ استاد نے کہا احمد ! مانا کہ تم بادشاہ ہو جاؤ گے۔ مگر یاد رکھو کہ اس اوج عروج کے بعد نہ تو تم زمین کو پھاڑ سکو گے اور نہ پہاڑوں کی بلندی تک پہنچ سکو گے۔ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ابن ابی محلی صوفیوں کی ایک خانقاہ میں گیا اور کہنا شروع کیا کہ میں سلطان ہوں۔ میں سلطان ہوں۔ ایک صاحب وجد وحال صوفی صاحب اس کے جواب میں کہنے لگے کہ تین سال۔ تین سال ، چوتھا نہیں۔ چنانچہ وہ تین ہی سال تک برسر حکومت رہا۔

٩٢

١٧٣

زوال پذیر حکومت کے حصول کی دعا

بیان کیا جاتا ہے کہ ایک مرتبہ ابن ابی محلی لوگوں نے اس کو یہ دعا مانگتے ہوئے سنا۔ الٰہی! تو بے الايام نداولها بين الناس “ اور ہم ان ایام یہ حالت ہے تو بار خدایا! تو مجھے دولت و حکومت دے نے بارگاہ خداوندی میں زوال پذیر حکومت کی توفیق کیا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ واہب العطایا نے اس کو دولت و حسن خاتمہ کا حال معلوم نہیں۔

ابن ابی محلی صاحب تصانیف تھا۔ اس کی مع الصخور في الرد على اهل الفجور ۔ (٢) وا (٥) هودج ۔ (٦) ابوعلی قسطلی کے رسالہ کا رد وغیرہ المغرب الاقصى وكتاب اليواقيت الثمينه في ظافر الازهرى)

٢٢....... مرزا علی محمد

اگرچہ بدطینت مرتدانہ آزادیوں کا درواز کا زہریلا اثر بابیت اور مرزائیت کی شکل میں آج تک ١٢٣٥ھ کو شیراز میں متولد ہوا۔ علی محمد مہدی موعود ہونے سے اپنی مہدویت کی رٹ لگائی تو لوگ اس کے سننے کو کیا کہ دعوائے مہدویت سے پہلے صاحب الزمان م ہوں۔ غلام احمد قادیانی بھی ایسا ہی کرتا رہا۔ جب وہ کے متحمل ہو گئے تو ایک اور قدم اٹھا کر ان کے گلوں میں مرزا علی محمد ١٢٦٠ھ میں جب کہ اس کی عم کو باب (دروازہ) کے لقب سے متعارف کرانا شر حضرت مہدی علیہ السلام کے فیوض کا جو ہنوز پردہ غی

٩٣

صفحہ ١٧٣

زوال پذیر حکومت کے حصول کی دعا

بیان کیا جاتا ہے کہ ایک مرتبہ ابن ابی محلی مکہ معظمہ میں بیت اللہ کا طواف کر رہا تھا۔ لوگوں نے اس کو یہ دعا مانگتے ہوئے سنا۔ الٰہی! تو نے فرمایا ہے اور تیرا قول حق ہے۔ ”وَ تِــلْــكَ الْاَيَّامُ نُدَاوِلُهَا بَيْنَ النَّاسِ“ اور ہم ان ایام کو لوگوں میں بدلتے رہتے ہیں۔ ؎ جب یہ حالت ہے تو بار خدایا! تو مجھے دولت و حکومت دے۔ لوگوں میں سرفرازی بخش۔ ابن ابی محلی نے بارگاہ خداوندی میں زوال پذیر حکومت کی تو درخواست کی۔ لیکن حسن عاقبت کا سوال نہ کیا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ واہب العطایا نے اس کو دولت و حکومت سے تو چند روز سرفرازی بخشی لیکن حسن خاتمہ کا حال معلوم نہیں۔

ابن ابی محلی صاحب تصانیف تھا۔ اس کی مشہور کتابیں یہ ہیں: (١) مــنــجــنــیــق الصخور فی الرد علیٰ اہل الفجور ۔ (٢) وضاح ۔ (٣) قسطاس ۔ (٤) اصلیت ۔ (٥) ہورج ۔ (٦) ابو علی قسطلی کے رسالہ کا رد وغیرہ ۔ (کتاب الاسـتـقـصـاء لا خـبـار دول المغرب الاقصى وكتاب اليواقيت الثمینہ فى اعيان عالم المدینہ تاليف محمد البشير ظافر الازہری)

٢٢....... مرزا علی محمد باب شیرازی

اگرچہ باطنیت مرتدانہ آزادیوں کا دروازہ کھول کر خود کتم عدم میں مستور ہوگئی۔ مگر اس کا زہریلا اثر بابیت اور مرزائیت کی شکل میں آج تک موجود ہے۔ بابیت کا بانی مرزا علی محمد باب ١٢٣٥ھ کو شیراز میں متولد ہوا۔ علی محمد مہدی موعود ہونے کا مدعی تھا۔ اس نے یہ سوچ کر کہ ابتداء ہی سے اپنی مہدویت کی رٹ لگائی تو لوگ اس کے سننے کو تیار نہ ہوں گے۔ نہایت ہوشیاری سے ارادہ کیا کہ دعوائے مہدویت سے پہلے صاحب الزمان مہدی علیہ السلام کا باب یعنی واسطہ اور ذریعہ بنوں۔ غلام احمد قادیانی بھی ایسا ہی کرتا رہا۔ جب وہ دیکھ لیتا کہ اس کے بندگان مسحور پہلے دعوے کے متحمل ہو گئے تو ایک اور قدم اٹھا کر ان کے گلوں میں ایک اور دعویٰ کا طوق ڈال دیتا تھا۔

مرزا علی محمد ١٢٦٠ھ میں جب کہ اس کی عمر پچیس برس کی تھی۔ شیراز آیا اور اپنے آپ کو باب (دروازہ) کے لقب سے متعارف کرانا شروع کیا۔ بابیت سے اس کی یہ مراد تھی کہ وہ حضرت مہدی علیہ السلام کے فیوض کا جو ہنوز پردۂ غیب میں مستور ہیں واسطہ و ذریعہ ہے۔ تھوڑی

٩٣

صفحہ ١٧٤

مدت کے بعد وہ مہدی ہونے کا مدعی ہوا۔ جو ذی علم لوگ آغاز کار میں اس پر ایمان لائے۔ ان کو اکناف ایران میں اپنے نظریہ کے لئے پھیلا دیا اور خاص خاص قاصدوں کو سلاطین عالم کے پاس بغرض دعوت روانہ کیا۔ شیعی علماء نے اس کی تکفیر کی اور اس کے قتل و تدمیر کا فتویٰ دیا۔ ملک میں علی محمد کے خلاف سخت برہمی پھیل گئی۔ حسین خان حاکم فارس نے باب کے سرگرم داعی ملا صادق مقدس کو کوڑے لگوائے اور ملا صادق مرزا علی محمد بار فروش اور ملا علی اکبرستانی تینوں کی ڈاڑھیاں منڈوا کر انہیں کوچہ و بازار میں تشہیر کیا۔ اس کے بعد حاکم فارس نے علماء کی صوابدید پر باب کو طلب کیا اور اس کو علماء کی موجودگی میں بڑی سرزنش کی۔ اس کے جواب میں علی محمد بھی سخت کلامی پر اتر آیا۔ حاکم نے پیادوں کو اشارہ کر دیا۔ وہ لاتوں اور گھونسوں سے باب کی تواضع کرنے لگے اور اس کو بہت بڑا ذلیل کیا۔

جب شاہ ایران محمد شاہ کو باب کے دعوائے مہدویت اور اس کے روز افزوں حلقہ اثر کا علم ہوا تو اس نے شیعہ مذہب کے بڑے مجتہد سید یحییٰ دارابی کو حکم دیا کہ شیراز جا کر باب کے دعوے کی حقیقت معلوم کرے۔ یحییٰ دارابی نے شیراز پہنچ کر باب سے ملاقات کی اور اس کی باتیں سن کر اس کا گرویدہ ہو گیا اور حلقہ مریدین میں داخل ہو کر مختلف بلاد و امصار کی سیاحت شروع کر دی اور بڑے طمطراق سے بابی مذہب کی اشاعت کی۔ ان ایام میں شہر زنجان میں ملا محمد علی نام ایک شیعہ مجتہد کا طوطی بول رہا تھا۔ اس نے باب کی تحریریں پڑھیں تو اس پر غائبانہ ایمان لے آیا اور اسی دن بابیت کی دعوت دینے لگا۔ زنجان کے اکثر باشندے بابی ہو گئے۔

٢١ رمضان کی رات کو بعض مخالف اس کے مکان میں گھس گئے اور دشنام دہی کے بعد باب کو بہت بری طرح زدوکوب کیا۔ اسی طرح اس کے پیرو بھی بری طرح مارے پیٹے گئے۔ اس لئے باب شیراز سے اصفہان چلا گیا۔ منوچہر خان حاکم اصفہان اس کا معتقد ہو گیا اور در پردہ اس کا مذہب قبول کر لیا۔ اب باب کھلے بندوں اہل اصفہان کو اپنی مہدویت کی دعوت دینے لگا۔ تمام علماء اور حامیان مذہب نے مخالفت کی۔ اب بعض جوشیلے حامیان مذہب نے اس کی سرکوبی کا قصد کیا۔ باب کو معلوم ہوا تو وہ ایک سرائے میں چھپ گیا۔ لیکن منوچہر نے اس کو اپنی حفاظت میں لے لیا۔ منوچہر نے علمائے اصفہان کو دلیل اور لاجواب کرانے کی کوشش میں ایک مجلس مناظرہ قائم کی۔

٩٤

١٧٥

باوجودیکہ مباحثہ میں باب کا بری طرح ناطقہ بند سکا۔ تاہم منوچہر حاکم اصفہان کی خوش اعتقادی میں کچھ بھی تائید نہیں کر سکتا تھا اور رعیت کا جوش مبرم بڑھ رہا تھا۔ منوچہر کے لئے ظاہر تو یہ حکم دیا کہ باب کو تہران بھیج دیا جائے گا۔ پھر جگہ دی اور اسے کہہ دیا کہ آپ کو میرے مال و اسباب میں ہر لیکن چار مہینہ کے بعد منوچہر مر گیا۔ مرنے سے پہلے اس نے ا دی تھی۔ منوچہر کی ہلاکت کے بعد اس کا بھتیجا مرزا گرگین خان نے منوچہر کے گھر میں باب کی موجودگی اور منوچہر کے اپنی سا کی کیفیت مرزا آقاسی وزیر اعظم کو تہران لکھ بھیجی۔ وزیر اعظم جائیداد کا ایک حصہ بھی نہ دیں اور اس کو بہ تبدیلی ہیئت ماکو کے اوپر ایک قلعہ میں رکھا گیا۔ کچھ مدت کے بعد قلعہ چہریق تھی کہ علماء کے فتوؤں اور ہر قسم کے تشدد کے باوجود بابی فرقہ کے مقابلہ میں باطل بھی برابر نشو و نما پاتا اور برگ و بار لاتا ہے

علمائے آذربائیجان نے بادشاہ اور دوسرے عمائد بابیوں پر غیر معمولی تشدد کا سلسلہ شروع کیا جائے۔ لیکن انہو کے مقابلہ میں لاجواب کیا جائے۔ چنانچہ شاہ ایران نے اس کا گورنر تھا لکھ بھیجا کہ باب قلعہ چہریق سے بلوا کر علماء سے مبا دوسرے دن علمائے تبریز سے مناظرہ ہوا۔

جب علماء سے گفتگو ہوئی تو یہ امر پایہ ثبوت کو پ چاہتا۔ ولی عہد ناصرالدین نے باب سے کہا کہ اس جہالت مہدی علیہ السلام بنے پھرتے ہو۔ میں تمہارے قتل کا حکم تو نہیں کہ تم صاحب الامر ہونے کے دعوے میں جھوٹے ہو۔ ج پیادوں کو اشارہ کیا۔ معاً مار پڑنے لگی۔ باب جان بچانے کے جب اچھی طرح سے مرمت ہو چکی تو اس کو دوبارہ قلعہ چہریق

٩٥

صفحہ ١٧٥

باوجود یکہ مباحثہ میں باب کا بری طرح ناطقہ بند ہوا اور وہ کسی بات کا جواب نہ دے سکا۔ تاہم منوچہر حاکم اصفہان کی خوش اعتقادی میں کچھ بھی فرق نہ آیا۔ چونکہ وہ علانیہ باب کی تائید نہیں کر سکتا تھا اور رعیت کا جوش مبرم بڑھ رہا تھا۔ منوچہر نے غضب آلود عوام کی تسکین خاطر کے لئے ظاہر تو یہ حکم دیا کہ باب کو تہران بھیج دیا جائے گا۔ لیکن درپردہ اپنی خلوت خاص میں اس کو جگہ دی اور اسے کہہ دیا کہ آپ کو میرے مال و اسباب میں ہر طرح سے تصرف کرنے کا حق ہے۔ لیکن چار مہینہ کے بعد منوچہر مر گیا۔ مرنے سے پہلے اس نے اپنی ساری جائیداد باب کے نام ہبہ کر دی تھی۔ منوچہر کی ہلاکت کے بعد اس کا بھتیجا مرزا گرگین خان حاکم اصفہان مقرر ہوا۔ گرگین خان نے منوچہر کے گھر میں باب کی موجودگی اور منوچہر کے اپنی ساری جائیداد باب کے نام ہبہ کر جانے کی کیفیت مرزا آقاسی وزیر اعظم کو تہران لکھ بھیجی۔ وزیر اعظم نے جواب دیا کہ باب کو منوچہر کی جائیداد کا ایک حبہ بھی نہ دیں اور اس کو بہ تبدیل ہیئت ماکول بھیج دیا جائے۔ باب ماکول میں پہاڑ کے اوپر ایک قلعہ میں رکھا گیا۔ کچھ مدت کے بعد قلعہ چہریق میں پہنچا دیا گیا۔ اس وقت حالت یہ تھی کہ علماء کے فتوؤں اور ہر قسم کے تشدد کے باوجود بابی فرقہ غیر معمولی ترقی کر رہا تھا۔ کیونکہ حق کے مقابلہ میں باطل بھی برابر نشو ونما پاتا اور برگ و بار لاتا ہے۔

علمائے آذربائیجان نے بادشاہ اور دوسرے عمائد سلطنت کو تہران لکھ بھیجا کہ باب اور بابیوں پر غیر معمولی تشدد کا سلسلہ شروع کیا جائے۔ لیکن انہوں نے مناسب خیال کیا کہ اسے علماء کے مقابلہ میں لاجواب کیا جائے۔ چنانچہ شاہ ایران نے اپنے ولی عہد ناصر الدین کو جو آذربائیجان کا گورنر تھا لکھ بھیجا کہ باب قلعہ چہریق سے بلوا کر علماء سے مناظرہ کرایا جائے۔ باب تبریز لایا گیا۔ دوسرے دن علمائے تبریز سے مناظرہ ہوا۔

جب علماء سے گفتگو ہوئی تو یہ امر پایہ ثبوت کو پہنچا کہ وہ عربی کی صرف و نحو تک نہیں جانتا۔ ولی عہد ناصر الدین نے باب سے کہا کہ اس جہالت و کوری کے باوجود تم صاحب الامر مہدی علیہ السلام بنے پھرتے ہو۔ میں تمہارے قتل کا حکم تو نہیں دیتا۔ البتہ یہ ثابت کرنے کے لئے کہ تم صاحب الامر ہونے کے دعوے میں جھوٹے ہو۔ تنبیہ و تادیب ضروری ہے۔ یہ کہہ کر پیادوں کو اشارہ کیا۔ معا مار پڑنے لگی۔ باب جان بچانے کے لئے چلا اٹھا۔ تو بہ کردم، تو بہ کردم۔ جب اچھی طرح سے مرمت ہو چکی تو اس کو دوبارہ قلعہ چہریق میں بھیج دیا گیا۔

٩٥

صفحہ ١٧٦

اس کے بعد بابیوں نے خوب ہاتھ پاؤں نکالے اور مسلح بغاوتیں شروع کر دیں۔ جن کی تفصیل قارئین کرام کو کتاب ائمہ تلبیس (صفحات ٣٨٧ تا ٣٩٤) ملے گی۔ اس وقت محمد شاہ والی ایران دنیائے فانی سے رخصت ہو چکا تھا اور ناصر الدین شاہ نیا اورنگ نشین سلطنت ہوا تھا۔ چونکہ بابیوں نے ایران میں ہلچل ڈال رکھی تھی۔ اس لئے اعیان سلطنت نے فیصلہ کیا کہ باب کو نذرانہ مرگ بنا دینا چاہئے۔ جب تک وہ زندہ ہے ایران میں فضا پرسکون نہ ہوگی۔ اب باب قلعہ چہریق سے دوبارہ تبریز لا کر مجلس علماء میں حاضر کیا گیا۔ علماء نے بہترا سمجھایا کہ تم اپنے الحاد اور دعوائے مہدویت سے توبہ کر کے سیدھے راستے پر آجاؤ۔ لیکن اس نے کسی کی ایک نہ سنی۔ کیونکہ ابلیسی کارندے اس کو وقتاً فوقتاً اپنی نورانی شکل و ہیئت میں جلوہ گر ہو کر یقین دلا جاتے تھے کہ تم وہی مہدی موعود ہو جس کے ظاہر ہونے کی پیغمبر خدا ﷺ نے آج سے ہزار سال پہلے بشارت دی تھی۔ چنانچہ باب اپنے تئیں سچا مہدی گمان کرتا تھا۔ اس لئے کوئی ترغیب وترہیب اس کے سامنے کارگر نہیں ہوتی تھی۔

حشمت الدولہ نے باب سے کہا تمہیں حامل وحی ہونے کا بھی دعویٰ ہے۔ اگر تم اس دعوے میں سچے ہو تو دعا کرو کہ کوئی آیت نازل ہو۔ جس طرح غلام احمد قادیانی نہایت عیاری سے قرآن کی آیتوں کو اپنا کر اپنا کلام وحی بنا لیتا تھا۔ اسی طرح باب نے بھی یہی حرکت کی۔ جھٹ سورۂ نور کی ایک آیت کا ٹکڑا سورۂ ملک کی ایک آیت کے ٹکڑے سے ملا کر پڑھ دیا۔ حشمت الدولہ نے وہ کلمات لکھوا لئے۔ پھر باب سے پوچھا کہ کیا یہ وحی آسمانی ہے۔ بولا ہاں! حشمت الدولہ نے کہا کہ وحی مہبط وحی کے دل سے فراموش نہیں ہوتی۔ اگر فی الواقع یہ کلام وحی ہے تو ذرا دوبارہ پڑھ دو۔ مثل مشہور ہے کہ دروغگو را حافظہ نہ باشد! جب باب نے ان الفاظ کو دوبارہ پڑھا تو الفاظ میں ردو بدل اور تقدم و تاخر ہو گیا۔ حشمت الدولہ نے کہا یہ تمہارے جھوٹ اور جہل کی بین دلیل ہے۔ آخر اس کے قتل کا حکم صادر ہوا۔

٢٨؍ شعبان ١٢٦٦ھ کا دن قتل کے لئے مقرر کیا گیا تھا۔ سب سے پہلے آقا محمد علی تبریزی کو اس غرض سے باندھا گیا کہ گولیوں کا نشانہ بنایا جائے۔ اسے ہزار سمجھایا گیا کہ اگر جان عزیز ہے تو توبہ کر کے رہا ہو جاؤ۔ لیکن اس نے توبہ نہ کی اور کہنے لگا عشق حق سے توبہ کرنا بڑا گناہ ہے۔ محمد علی کے خویش واقارب یہ کہہ کر حکام کی خوشامد کر رہے تھے کہ یہ دیوانہ ہو گیا ہے اور دیوانے

٩٦

کا قتل کسی طرح روا نہیں ہے۔ لیکن وہ ہر مر میں جوہر عقل سے پوری طرح آراستہ ہوں۔ مجھ مگر محمد علی واقعی احمق تھا جو ایک مہدی کذاب کے تھا۔ محمد علی ایک ہی گولی سے ٹھنڈا ہو گیا۔

باب بھی باندھا گیا اور حمزہ مرزا گھ المذہب تھے حکم دیا کہ اس پر باڑھ مارو۔ یہ لوگ انہوں نے گولیاں ہوا میں چلا دیں۔ باب حاضر دیکھتے ہو کہ گولیوں کی بوچھاڑ ہوئی مگر میرے کوئی سے باب باندھا ہوا تھا۔ اس سے وہ رسی ٹوٹ گئی جا چھپا اور مکرر کہنا شروع کیا۔ لوگو! یہ میری کتنی بڑ ہو گیا۔ اس وقت سینکڑوں غیر بابی جہلاء غل مچارے سپاہیوں نے حاکم کے ایماء سے باب کو جا پکڑا اور

......٢٣

ملا محمد علی بارفروشی جسے بابی لوگ قدوس کا سب سے بڑا خلیفہ تھا۔ مقام قدوسیت اور رجع سے اس کی یہ مراد تھی کہ آنحضرت ﷺ از سر نو دن میں ظاہر ہوئے ہیں۔ اس بارہ میں غلام احمد قادیا خوان الحاد کی زینت بنایا تھا۔ چنانچہ قادیانی نے ” طور پر وہی نبی خاتم الانبیاء ہوں۔ خدا نے ”براہ آنحضرت کا ہی وجود قرار دیا۔ پس اس طرح آ ثبوت سے کوئی تزلزل نہیں آیا۔ محمد کی نبوت محمد تک (محفوظ

صفحہ ١٧٧

کا قتل کسی طرح روا نہیں ہے۔ لیکن وہ ہر مرتبہ اپنے اقرباء کے بیان کی تردید کر دیتا تھا اور کہتا تھا کہ میں جوہر عقل سے پوری طرح آراستہ ہوں۔ مجھے جلد قتل کرو کہ قتل ہی سے حیات ابدی ملتی ہے۔ مگر محمد علی ذاتی احمق تھا جو ایک مہدی کذاب کے پیچھے ہلاک ہونے میں حیات ابدی کا امیدوار تھا۔ محمد علی ایک ہی گولی سے ٹھنڈا ہو گیا۔

باب بھی باندھا گیا اور حمزہ مرزا گورنر آذربائیجان نے ارمن سپاہیوں کو جو عیسوی المذہب تھے حکم دیا کہ اس پر باڑھ مارو۔ یہ لوگ بابیوں کے من گھڑت قصوں سے متاثر تھے۔ انہوں نے گولیاں ہوا میں چلا دیں۔ باب حاضرین سے مخاطب کر کے کہنے لگا کیا تم میری کرامت دیکھتے ہو کہ گولیوں کی بوچھاڑ ہوئی مگر میرے کوئی گولی نہیں لگی۔ ایک گولی اسی رسی کو جا لگی تھی جس سے باب باندھا ہوا تھا۔ اس سے وہ رسی ٹوٹ گئی۔ باب کھل کر بھاگا اور ایک سپاہی کی کوٹھری میں جا چھپا اور مکرر کہنا شروع کیا۔ لوگو! یہ میری کتنی بڑی کرامت ہے کہ کوئی گولی نہ لگی بلکہ میں الٹا رہا ہو گیا۔ اس وقت سینکڑوں غیر بابی جہلاء غل مچا رہے تھے کہ باب پر گولیوں کا اثر نہیں ہوا۔ یہ دیکھ کر سپاہیوں نے حاکم کے ایماء سے باب کو جا پکڑا اور چند گھونسے رسید کر کے گولی کا نشانہ بنا دیا۔

(مذاہب اسلام بحوالہ ناسخ التواریخ)

٢٣...... ملا محمد علی بارفروشی

ملا محمد علی بارفروشی جسے بابی لوگ قدوس کے لقب سے یاد کرتے ہیں۔ مرزا علی محمد باب کا سب سے بڑا خلیفہ تھا۔ مقام قدوسیت اور رجعت رسول اللہ ﷺ کا مدعی تھا۔ رجعت رسول اللہ سے اس کی یہ مراد تھی کہ آنحضرت ﷺ از سر نو دنیا میں تشریف لا کر (معاذ اللہ) بارفروشی کے پیکر میں ظاہر ہوئے ہیں۔ اس بارہ میں غلام احمد قادیانی نے ملا بارفروشی کے چبائے ہوئے لقمے کو اپنے خوان الحاد کی زینت بنایا تھا۔ چنانچہ قادیانی نے ٥ نومبر ١٩٠١ء کے اشتہار میں لکھا کہ میں بروزی طور پر وہی نبی خاتم الانبیاء ہوں۔ خدا نے ”براہین احمدیہ“ میں میرا نام محمد اور احمد رکھا اور مجھے آنحضرت کا ہی وجود قرار دیا۔ پس اس طرح آنحضرت ﷺ کے خاتم الانبیاء ہونے میں میری بعثت سے کوئی تزلزل نہیں آیا۔ محمد کی نبوت محمد تک ہی محدود رہی۔“

(تبلیغ رسالت ج٦ ص١٢٠، مجموعہ اشتہارات ج٣ ص٣٤٧)

٩٧

صفحہ ١٧٨

مرزا جانی کاشانی کا بیان ہے کہ بارفروشی کے حق میں بہت سی حدیثیں وارد ہیں۔ من جملہ ان کے ایک یہ حدیث ہے کہ جب سیاہ جھنڈے خراسان کی طرف سے آتے دیکھو تو سمجھ لینا کہ ان میں اللہ کا خلیفہ مہدی ہے۔ بابیوں نے قائمیت کا منصب دو شخصوں کو دے رکھا تھا۔ ایک مرزا علی محمد باب کو اور دوسرا ملامحمد علی بارفروشی کو۔ جن ایام میں مرزاعلی محمد باب، ماکو اور چہریق میں نظر بند تھا، شاہی فوج کی طرف سے ایک تیر ملامحمد علی بارفروشی کے منہ پر آ لگا تھا۔ جس سے منہ کے دانت دانہ ہائے انار کی طرح الگ الگ ہو کر گر پڑے اور اس کا نصف چہرہ بری طرح مجروح ہو گیا۔ اس کے بعد دوسو بابیوں نے قلعہ طبرسیہ کے نزدیک رات دن کی محنت ومشقت برداشت کر کے تھوڑے ہی دنوں میں ایک قلعہ تعمیر کرلیا اور گردونواح کی بے گناہ رعایا کو لوٹ لوٹ کر اس میں دو سال کا اذوقہ بھی جمع کرلیا۔ ایک موقعہ پر شاہی فوج نے اس قلعہ کا محاصرہ کر رکھا تھا۔ قلعہ میں بابیوں کے پاس دوسو سے زیادہ گھوڑے، پچاس گائیں اور قریباً چارسو بھیڑیں تھیں۔ محصورین رسد ختم ہونے کے بعد تمام جانور بھی کھا گئے۔ آخر چارپایوں کی طرح گھاس کھانی شروع کی۔

مرزا محمد حسین قمی اور بعض دوسرے بابیوں نے عالم اضطراب میں ملامحمدعلی بارفروشی سے کہا کہ دعا فرمائیے کہ خدائے شدید العقاب کفار بدنہاد (شاہی لشکر ) پر عذاب نازل کرے اور ہم ہلاکتوں کو اس مصیبت سے نجات بخشے۔ بارفروشی کہنے لگا کہ جب خدا چاہتا ہے اپنے محبوبوں کے ساتھ شوخی کرتا ہے۔ اس لئے مشیت الہی پر راضی رہنا چاہئے۔ یہ جواب سن کر محمد حسین بابیوں کے بڑے بڑے دعوؤں کی قلعی کھل گئی اور وہ اپنے چند آدمیوں کو لے کر قلعہ سے برآمد ہوا اور لشکر شاہی کے قریب پہنچ کر کہنے لگا کہ بابی دعوے تو بڑے بڑے کرتے ہیں۔ لیکن عمل کسی پر نہیں۔ ان کے عقائد بھی باطنیوں کے سے تاویلی و تحریفی عقائد ہیں۔ مجھے ان کے کذب اور باطل پرستی کا یقین ہو گیا۔ اس لئے میں نے علیحدگی اختیار کر لی ہے۔ جب بابیوں کی زبونی و بدحالی انتہاء کو پہنچی تو ملا محمد علی بارفروشی نے شاہی لشکر کے سردار کے پاس پیغام بھیجا کہ اگر ہمیں نکلنے کا راستہ دو تو ہم قلعہ خالی کر کے چلے جائیں۔ اس نے نکلنے کی اجازت دی۔ ملامحمدعلی بارفروشی دوسو تیس بابیوں کے ساتھ جو ہنوز زندہ تھے، قلعہ سے برآمد ہوا۔ تمام بابیوں کو طوق وسلاسل میں جکڑ کر قصبہ بارفروش میں لے گئے جو ملامحمد علی کا وطن تھا۔

بارفروش میں منادی کی گئی کہ ملا محمد علی باہر میدان میں نہنگ موت کے حوالے کیا جائے

٩٨

صفحہ ١٧٩

گا۔ تماشائی ہر طرح سے امنڈ آئے۔ غضب ناک اہلِ شہر میں سے کوئی ایسا نہ ہوگا جس نے محمد علی کے پاس پہنچ کر دو چار گھونسے نہ رسید کئے ہوں یا طمانچے مار مار کر اپنا کلیجہ ٹھنڈا نہ کیا ہو۔ لوگوں نے اس کے کپڑے پھاڑ دیئے۔ مدارس کے طلبہ جوق در جوق آ کر اس کے منہ پر تھوکتے، گالیاں دیتے اور اینٹ پتھر پھینک رہے تھے۔ آخر ہزار ذلت ورسوائی کے بعد اس کا سر تن سے جدا کیا گیا۔ اس کے بعد تمام دوسرے بابی بھی عفریتِ اجل کے حوالے کر دیئے گئے۔ جب علی محمد باب کو بارفروشی کے مارے جانے کی خبر ملی تو وہ لگا تار انیس شبانہ روز روتا رہا۔ اس مدت میں اس نے سد رمق سے زیادہ غذا بھی نہ کھائی۔

(نقطۃ الکاف ص ١٨٦ تا ٢٠٨)

٢٤...... زرین تاج معروف بہ قرۃ العین

زرین تاج ایک اعجوبۂ روزگار عورت گزری ہے۔ اس کا باپ حاجی محمد صالح قزوین کا ایک مشہور شیعی عالم تھا۔ والد نے اس کو گھر ہی میں اعلیٰ تعلیم دلائی۔ جب حدیث، تفسیر اور فقہ کے علاوہ الٰہیات وفلسفہ میں کامل دستگاہ حاصل کر چکی تو اس کی شادی ملا محمد کے ساتھ ہوگئی۔ جو مجتہد العصر ملا تقی کا فرزند اور جملہ علوم میں عالم متبحر ہونے کے ساتھ ایک جوانِ صالح تھا۔ میں یہ درس و تدریس کا سلسلہ تھا۔ لیکن وہ اس کی آڑ میں بابیت کی تبلیغ کرتی تھی۔ کربلا عراق میں ہے اور عراق ان ایام میں ترکی قلمرو میں داخل تھا۔ جب کربلا میں اس کی تبلیغی سرگرمیوں کا شہرہ ہوا اور کربلا کے ترک حاکم نے دیکھا کہ جو لوگ اس کے حلقۂ درس میں شریک ہوتے ہیں وہ بابی ہوتے جارہے ہیں تو حاکم نے اس کی گرفتاری کا حکم دیا۔ اس کو کسی طرح اس کا علم ہو گیا۔ اس لئے نہایت مخفی طریق پر بغداد بھاگ گئی۔ وہاں پہنچ کر گورنر سے تبلیغ کی اجازت مانگی۔ گورنر نے کہا تم مسلمانوں کی متاعِ ایمان پر ڈاکہ ڈالنے آئی۔ تم فی الفور ترکی عملداری سے نکل جاؤ۔ وہ بغداد سے کرمان شاہ اور کرمان شاہ سے ہمدان گئی۔ اس سفر میں اس نے بہت لوگوں کو باب کا پیرو بنا دیا۔

مظہرِ فاطمہ ہونے کا دعویٰ

قرۃ العین سیدۃ النساء حضرت فاطمۃ زہرا سلام اللہ علیہا کے مظہر ہونے کی دعویدار تھی۔ اسے بابیت میں اتنا غلو اور اتنا شغف تھا کہ غیر بابیوں کو دیکھ کر اس کی آنکھوں میں خون اتر آتا تھا۔ وہ بابیوں کے سوا ہر کسی کو کافر اور ناپاک سمجھتی تھی۔ یہی وجہ تھی کہ بازار کی پکی ہوئی چیزیں حرام

٩٩

صفحہ ١٨٠

سمجھ کر نہیں کھاتی تھی۔ لیکن اس نے ان مزعومہ حرام و نجس چیزوں کے پاک کرنے کا ایک ڈھکوسلہ بھی بنا رکھا تھا۔ چنانچہ کہتی تھی کہ میری آنکھ حضرت سیدۃ النساء کی چشم مبارک کا حکم رکھتی ہے۔ میں جس نجس اور غیر مطہر چیز پر ایک نظر ڈال دوں وہ پاک وطیب ہو جاتی ہے۔ کیونکہ مطہرات یعنی پاک کرنے والی چیزوں میں آل اللہ کی نظر بھی داخل ہے۔ چنانچہ اپنے بابی معتقدین سے کہا کرتی تھی کہ کھانے کی جو چیز بازار سے خریدو، وہ میرے پاس لے آؤ تاکہ میں اس پر نظر ڈالوں اور وہ حلال وطیب ہو جائے۔

(نقطۃ الکاف)

شاعرہ کی حیثیت سے بھی ایران میں قرۃ العین کی بڑی شہرت تھی۔ پروفیسر براؤن کو اس کے دو ہی قصیدے مل سکے۔ تخلص طاہرہ تھا جو صاحب ان قصیدوں کا مطالعہ کرنا چاہیں وہ کتاب ائمہ تلبیس (صفحات ٣٤٠ تا ٣٤٢) کی طرف رجوع کریں۔ یہ دونوں قصیدے اس نے اپنے مقتداء علی محمد باب کی حمد و ثناء اور اشتیاق ملاقات میں کہے تھے۔ ان میں جو فصاحت وبلاغت، بلند خیالی اور شوکت الفاظ ہے وہ پڑھنے والوں سے خراج تحسین وصول کرے گی۔

قرۃ العین نے ارادہ کیا تھا کہ وہ تہران جا کر بذات خود محمد شاہ والیٔ ایران کو بابیت کی تبلیغ کرے۔ جب اس کے باپ حاجی ملا صالح کو اس کا علم ہوا تو وہ بڑی عجلت سے اس کے پاس پہنچا اور بیٹی کو اس خیال سے باز رکھ کر قزوین لے گیا۔ تھوڑے دن تو وہ امن وسکون سے رہی۔ لیکن پھر بابیت کی رٹ لگانی شروع کر دی۔ نتیجہ یہ ہوا کہ خسر اور شوہر سے از سر نو چپقلش شروع ہوئی۔ خسر اس کا حقیقی چچا مجتہد العصر ملا محمد تقی تھا۔ اب اس نے فتویٰ دے دیا کہ ملا تقی اور ملا محمد دونوں کافر اور واجب القتل ہیں۔ کیونکہ جو کوئی تبلیغ حق میں مانع ہو اس کا خون حلال ہے۔ یہ فتویٰ سن کر بابیوں میں بڑی گرما گرمی پیدا ہوئی اور انہوں نے فیصلہ کیا کہ وہ ملا تقی کو قعر ہلاکت میں ڈالے بغیر دم نہ لیں گے۔ ایک دن نماز فجر سے پہلے چند مسلح بابی مسجد میں جا کر چھپ رہے اور جیسے ہی قرۃ العین کے خسر ملا محمد تقی نماز پڑھانے کو کھڑے ہوئے، بابی کمیں گاہ سے نکلے اور نرغہ کر کے ان کو قتل کر دیا اور پھر جاں ستانی ہی پر اکتفا نہ کیا۔ بلکہ ناک کان اور اعضاء و جوارح بالکل جدا کر دیئے اور شکل وصورت بالکل مسخ کر دی۔ قرۃ العین کے خلاف ہر طرف طوفان غضب امنڈ آیا۔ لوگ اس غرض سے ہتھیار باندھے پھرتے تھے کہ جہاں کہیں قرۃ العین ملے اسے قتل کر دیا جائے۔ اسے جب موقع ملا تو قرۃ العین قزوین سے بھاگی اور ایران کی سرحد سے نکل کر حدود خراسان میں داخل

١٠٠

ہو گئی۔ اس کے بعد وہ کس طرح بستر ہلاکت پر اس کی تشریح غیر ضروری ہے۔ اس لئے قلم انداز

٢٥....... مرزا حسین علی

مرزا حسین علی معروف بہ بہاء اللہ اپنے سوتیلے بھائی مرزا یحییٰ معروف بہ صبح ازل بابیوں میں داخل تھا جو ناصر الدین شاہ ایران خاص عازمین قتل تین بابی ملا فتح اللہ قمی، م ١٣؍ ذیقعدہ ١٢٦٨ھ مطابق ١٥؍ ستمبر ١٨٥٢ء بڑھے۔ شاہ نے خیال کیا کہ شاید مظلوم و ستم رس اس لئے ان کو نزدیک آنے دیا۔ جب قریب شاہ پر چلا دیا۔ شاہ زخمی ہوا۔ لیکن بحمدللہ گھوڑے گھوڑے سے کھینچا تاکہ زمین پر گرا کر گلا کاٹ نوکر نے بڑھکر فتح اللہ کے منہ پر زور سے ایک سے تلوار نکالی اور صادق زنجانی کی گردن مار دی اور شاہ کے جسم کی ڈھال بننے کے لئے اپنے گئے اور انہوں نے زندہ حملہ آوروں کو گرفتار کر

اس حادثہ کے بعد جب بابیوں ایران کے ہر گوشہ سے نکل کر بغداد کا رخ ک نجف کے شیعی علماء یہ دیکھ کر کہ بابی لوگ شیع کے قیام بغداد کی مخالفت کرنے لگے۔ حکوم دولت عثمانیہ سے درخواست کرے کہ بابیوں اس درخواست کے بموجب باب عالی نے لوگ چار مہینے استنبول میں رہے۔ لیکن چونکہ

صفحہ ١٨١

ہو گئی۔ اس کے بعد وہ کس طرح بستر ہلاکت پر ڈالی گئی۔ اس میں مورخ مختلف البیان ہیں۔ چونکہ اس کی تشریح غیر ضروری ہے۔ اس لئے قلم انداز کر دی گئی۔

(ایپی سوڈ آف دی باب ص ٤٥)

٢٥...... مرزا حسین علی نوری معروف بہ بہاء اللہ

مرزا حسین علی معروف بہ بہاء اللہ ١٨١٧ء میں موضع نور علاقہ مازندراں میں پیدا ہوا۔ اپنے سوتیلے بھائی مرزا یحییٰ معروف بہ صبح ازل سے قریباً تیرہ سال بڑا تھا۔ بہاء اللہ بھی ان چالیس بابیوں میں داخل تھا جو ناصر الدین شاہ ایران سے باب کے قتل کا انتقام لینے کی سازش کی تھی۔ خاص عازمین قتل تین بابی ملا فتح اللہ قمی، صادق زنجانی اور باقر نجف آبادی تھے۔ بتاریخ ١٣؍ذیقعدہ ١٢٦٨ھ مطابق ١٥؍ستمبر ١٨٥٢ء شاہ شکار کے لئے سوار ہوا تو یہ تینوں شاہ کی طرف بڑھے۔ شاہ نے خیال کیا کہ شاید مظلوم وستم رسیدہ اشخاص ہیں جو اپنی درخواست پیش کریں گے۔ اس لئے ان کو نزدیک آنے دیا۔ جب قریب پہنچے تو صادق زنجانی نے جیب سے پستول نکال کر شاہ پر چلا دیا۔ شاہ زخمی ہوا۔ لیکن بحالہ گھوڑے پر سوار رہا۔ یہ دیکھ کر فتح اللہ قمی نے جھپٹ کر شاہ کو گھوڑے سے کھینچا تاکہ زمین پر گرا کر گلا کاٹ دے۔ شاہ زمین پر گر پڑا۔ یہ دیکھ کر شاہ کے ایک نوکر نے بڑھ کر فتح اللہ کے منہ پر زور سے ایک گھونسا رسید کیا اور وہ گر پڑا۔ اب ملازم نے میان میں سے تلوار نکالی اور صادق زنجانی کی گردن مار دی۔ اس اثناء میں دربار شاہی کا ایک منشی بھی پہنچ گیا اور شاہ کے جسم کی ڈھال بننے کے لئے اپنے آپ کو شاہ پر گرا دیا۔ اتنے میں اور پیادے بھی پہنچ گئے اور انہوں نے زندہ حملہ آوروں کو گرفتار کر لیا۔ شاہ کو گولی کا جو زخم لگا وہ مہلک نہیں تھا۔

اس حادثہ کے بعد جب بابیوں کے خلاف دارو گیر کا سلسلہ شروع ہوا تو انہوں نے ایران کے ہر گوشہ سے نکل کر بغداد کا رخ کیا۔ بغداد میں کثیر التعداد بابی جمع ہو گئے۔ کربلا اور نجف کے شیعی علماء یہ دیکھ کر کہ بابی لوگ شیعی مشاہد مشرفہ کے قریب آ جمع ہوئے ہیں۔ بابیوں کے قیام بغداد کی مخالفت کرنے لگے۔ حکومت ایران نے بھی اپنے استنبولی سفیر کو ہدایت کی کہ وہ دولت عثمانیہ سے درخواست کرے کہ بابیوں کو بغداد سے کسی دوسرے علاقے میں منتقل کر دے۔ اس درخواست کے بموجب باب عالی نے بابیوں کو بغداد سے استنبول چلے جانے کا حکم دیا۔ یہ لوگ چار مہینے استنبول میں رہے۔ لیکن چونکہ بابی آج کل کے مرزائیوں کی طرح بڑے مفسد لوگ

١٠١

صفحہ ١٨٢

تھے اور ان کا قیام امن عامہ کے لئے سخت مضر تھا۔ اس لئے تمام بابی رجب ١٢٨٠ھ میں استنبول سے ادرنہ (اڈریا نوپل) بھیج دیئے گئے۔ یہ لوگ ٢٠ ربیع الثانی ١٢٨٥ھ تک یعنی پانچ سال سے زیادہ مدت ادرنہ میں رہے۔ ادرنہ میں صبح ازل اور بہاء اللہ میں جھگڑے قضیے برپا رہتے تھے۔ دونوں میں سے ہر ایک کا یہ دعویٰ تھا کہ وہی باب کا اصل جانشین ہے۔ جب نزاع نے خوفناک صورت اختیار کی اور فریقین آمادہ پیکار ہیں تو دولت عثمانیہ نے اس قضیہ میں پڑے بغیر کہ فریقین میں سے حق پر کون ہے، بہاء اللہ اور اس کے پیروؤں کو عکہ علاقہ شام میں جا کر قیام کرنے کا حکم دیا اور صبح ازل اور اس کے متعلقین کو جزیرہ قبرص میں جو اس وقت ترکی عملداری میں تھا۔ جا کر ٹھہرنے کا حکم دیا۔ صبح ازل ٥ ستمبر ١٨٦٨ء کو جزیرہ قبرص پہنچا۔

مسیح موعود ہونے کا دعویٰ

جب سچے مہدی حضرت محمد بن عبداللہ علیہ السلام مدینہ منورہ اور مکہ معظمہ میں ظاہر ہوں گے تو ان کی فرمانروائی کے چند سال بعد خدا کے سچے مسیح حضرت عیسیٰ بن مریم علیہ السلام نازل ہوں گے۔ مرزا علی محمد باب ایک جھوٹا مہدی تھا۔ جھوٹے مہدی کے ظہور کے بعد کسی جھوٹے مسیح کی آمد بھی مناسب وموزوں تھی۔ اس ضرورت کا احساس کر کے بہاء اللہ نے ایران چھوڑنے کے بعد، بغداد یا ادرنہ میں مسیح موعود ہونے کا دعویٰ کر دیا۔ بہاء اللہ نے اپنی ایک وحی لکھی۔ ”قل یا ملا الفرقان قد اتی الموعود الذی وعدتم فی الکتاب اتقوا الله ولا تتبعوا کل مشرک اثیم (لوح مبارک ص ٧)“ ”کہہ دے کہ اے گروہ فرقان! بیشک وہ موعود آ گیا۔ جس کا تم سے آسمانی کتاب میں وعدہ کیا گیا تھا۔ خدا سے ڈرو اور کسی مشرک گنہگار کی پیروی نہ کرو۔“

اس الہام میں بہاء اللہ نے ہر مسلمان کو اپنی مسیحیت کی طرف بلایا ہے۔ لیکن مسلمانوں کو جس خدا کے سچے مسیح کی آمد ثانی کا مژدہ سنایا گیا تھا وہ مسیح ناصری حضرت عیسیٰ بن مریم علیہ السلام ہیں جو قرآن کے رو سے اب تک زندہ موجود ہیں۔ ان کے سوا ہم ہر مدعی مسیحیت کو بہاء اللہ ہو یا غلام احمد ہو دجال کذاب یقین کرتے ہیں۔

سچے مسیح موعود کی نسبت خود بہاء اللہ کے فرزند و جانشین عبدالبہاء نے لکھا تھا۔ جب مسیح آئے گا تو نشانیاں اور فوق الفطرت معجزات شہادت دیں گے کہ سچا مسیح یہ ہے۔ مسیح نامعلوم شہر آسمان سے آئے گا۔ وہ فولاد کی تلوار کے ساتھ آئے گا اور لوہے کے عصا کے ساتھ حکومت کرے

١٠٢

صفحہ ١٨٣

گا۔ (یعنی حضرت عیسیٰ بن مریم علیہ السلام رعب وجلال کے ساتھ فرمانروائی کریں گے) وہ انبیاء کی شریعت کو پورا کرے گا۔ وہ مشرق و مغرب کو فتح کرے گا۔ (وہ شرق وغرب کے تمام لوگوں کے دل مسخر کر کے انجام کار ایک ملت یعنی دین اسلام پر جمع کر دیں گے) اور اپنے برگزیدہ لوگوں (مسلمانوں) کو عزت بخشے گا۔ وہ اپنے ساتھ ایک ایسا امن کا راج لائے گا کہ حیوان بھی انسانوں کے ساتھ دشمنی کرنا چھوڑ دیں گے۔ بھیڑیا اور برہ ایک ہی چشمہ سے پانی پئیں گے اور خدا کی سب مخلوق امن سے رہے گی۔ (دور بہائی مطبوعہ دہلی ص٢) ظاہر ہے کہ یہ سب علامتیں جو عبدالبہاء نے بیان کی ہیں بہاء اللہ یا غلام احمد قادیانی یا کسی دوسرے خانہ ساز مسیح پر صادق نہیں آتیں۔ اس لئے یہ سب جھوٹے مسیح ہیں۔

بہاء اللہ نے نصاریٰ کو اپنی مسیحیت کی دعوت دیتے ہوئے لکھا تھا۔ اے پیروان مسیح کیا میرا نام (بہاء اللہ) تمہارے نزدیک میری مسیحیت کے منافی ہے۔ تم کس بناء پر شک میں پڑے ہو۔ تم لوگ شب و روز اپنے قادر مطلق (یسوع مسیح) کو پکارا کرتے تھے۔ جب وہ ازلی آسمان سے کامل جلال کے ساتھ آ گیا ہے تو تم اس کے ساتھ نہیں چلتے اور بے اعتنائی کے عالم میں پڑے ہو۔ (بہائی سکرپچرز مطبوعہ نیو یارک ص١٤٢) لیکن عیسائی لوگ اس دعوت کا بے تکلف یہ جواب دے سکتے ہیں کہ ہم تو خود ذات بابرکات حضرت یسوع مسیح کی تشریف آوری کے منتظر ہیں۔ اس لئے ہمیں کسی نقلی اور جعلی مسیح کی ضرورت نہیں ہے۔

پانچ خانہ ساز مسیح موعود

اس کتاب کا مطالعہ کرنے والے حضرات پر یہ حقیقت واضح ہو چکی ہو گی کہ قادیان کے خود ساختہ مسیح موعود سے پہلے چار خانہ برانداز جن (١) حاجی محمد خراسانی۔ (٢) شیخ بھیک۔ (٣) ابراہیم بزلہ اور (٤) بہاء اللہ خانہ ساز مسیحیت کی مسند تزویر پر بیٹھ کر خلق خدا کو ورطۂ ہلاکت میں ڈال چکے تھے اور یہ کہ غلام احمد قادیانی ان کا پانچواں ضلالت کوش ہمجولی تھا۔

خاتمہ

حکام کا فرض

اس کتاب کے مطالعہ سے قارئین کرام پر یہ حقیقت منکشف ہو چکی ہو گی کہ تقدس کے جھوٹے دعویداروں کا وجود اسلام اور پیروان ملت عظمیٰ کے حق میں کس درجہ زبون اور خطرناک

١٠٣

صفحہ ١٨٤

ہے۔ یہ ملاحدہ نہ صرف اپنے متبعین کو مرتد کر کے ان کی کشتی ایمان کو غرق کرتے ہیں۔ بلکہ اپنے کو نہ ماننے والے جرم نا آشنا مومنین کو بھی تہس نہس کرنے میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کرتے اور محض اس قدر نہیں بلکہ اپنی اسلامی حکومت سے بغاوت کر کے اور سالہا سال تک حکمرانوں کو رزم و پیکار کی مصیبتوں اور پریشانیوں میں مبتلا رکھتے ہیں۔ اگر یہی جانی اور مالی طاقت جو دجالوں نے اپنے حکام کے مقابلہ میں خرچ کی اور وہ طاقت جو ان دجالوں کی مدافعت میں حکام کو صرف کرنی پڑی، وہ قوم کی فلاح و بہبود اور تعمیر و ترقی کے کام آتی یا بیرونی اعدائے دین کے مقابلہ میں صرف ہوتی تو قوم اوج و عروج کی انتہائی منزلیں طے کر سکتی تھی۔

ان غداروں کی مار آستینی یہ رنگ لائی کہ اسلامی حکومتیں اغیار کے مقابلہ میں ہمیشہ پستی اور تنزلی کے گڑھے میں پڑی رہیں۔ اس سے ظاہر ہے کہ یہ داخلی اعدائے ملت تمام بیرونی دشمنان دین سے بھی زیادہ خوفناک ہیں۔ کیونکہ مار آستین انسان کو جتنا نقصان پہنچا سکتا ہے بیرونی دشمن سے اس کا عشر عشیر بھی متصور نہیں۔ پس ظاہر ہے کہ وہ حکام بھی دجالی شر و فتن کے شیوخ کے ایک بڑی حد تک ذمہ دار ہیں جنہوں نے ان فتنوں کو پنپنے کا موقع دیا اور قوت پکڑنے سے پہلے ہی ان کو مستاصل نہ کر دیا۔ جس پودے کی جڑیں ہنوز مضبوط نہ ہوئی ہوں اس کا اکھاڑ پھینکنا نہایت آسان ہوتا ہے۔ لیکن جب وہ مضبوط ومستحکم ہو جائے اور اس کی جڑیں دور دور تک پھیل جائیں تو اس کی بیخ کنی بہت مشکل ہے۔

پس مسلم حکمرانوں کا فرض ہے کہ جونہی کوئی بوالہوس کوئی دجالی دعویٰ کر کے فضا کو مکدر کرنا شروع کرے فوراً اس کو کچل کے رکھ دیں اور نہ صرف خدا کی کمزور مخلوق کو اس دست برد سے بروقت بچالیں۔ بلکہ اپنے آپ کو بھی اس کی آیندہ مار آستینیوں سے محفوظ کر لیں۔

مادر مشفقہ پر مرتد بیٹے کا قاتلانہ حملہ

تقدس کے جھوٹے مدعی اور ان کے پیرو جو اسلام سے علاقہ توڑ کر کوئے ضلالت میں سرگشتہ و حیران ہوتے ہیں ان کے دل میں یہود و نصاریٰ سے بھی کہیں زیادہ اسلام اور اہل اسلام کی عداوت کا جذبہ موجزن رہتا ہے۔ یہاں ایک سیاہ دل قرمطی کا واقعہ لکھا جاتا ہے جس نے مرتد ہونے کے بعد اپنی واجب الاطاعت مادر مشفقہ پر محض اس قصور میں قاتلانہ حملہ کیا تھا کہ وہ دین حنیف کی پیرو تھی۔ ١٠٤

حکیم ابوالحسین بغدادی کا بیان ہے کہ ایک عورت میرے پاس آئی اور کہنے لگی کہ میرے یہ عورت زار و قطار رو رہی تھی اور سخت غمزدہ تھی۔ میں آیا ہے؟ بولی میرا بیٹا بہت مدت سے مفقود تھا۔ اور بہت سے شہروں اور قصبوں میں پھری۔ لیکن راستہ میں قرمطی لشکر نظر آیا۔ میں لشکر میں جا کر در نے خیر خیریت نہ پوچھنے کا شکوہ کرتے ہوئے ؟! شروع کئے۔ وہ کہنے لگا ان قصوں کو جانے دو۔ ب معلوم نہیں کہ ہم دین اسلام کے پیرو ہیں؟ بولا ب ہے جس کا میں آج کل پیرو ہوں یعنی قرمطی دین میں چھوڑ کر چل دیا۔

میں چند روز ایک ہاشمی خاتون کے پا بغداد واپس آنے لگی۔ جب تھوڑے فاصلے پر پہنچی رحمی اور شقاوت سے مجھ پر تلوار کا وار کیا۔ میں بری لیتے تو میری جان کی خیر نہ تھی۔ میں وہاں سے ا جو قرمطی قیدی بغداد آئے ہیں میں نے اپنے ناہن تھا۔ میں نے اس سے خطاب کر کے کہا خدا تی دے۔

سقوط بغداد پر قادیان میں چراغاں

اور دور نہ جائیے! غلام احمد قادیانی اور ا اسلام کا آتشکدہ کس شدت سے شعلہ زن ہے۔ ب پر صلیب پرست انگریزوں کا قبضہ ہوا تو دنیا بھر کے کوئی مسلمان ایسا نہ تھا جو سوگوار نہ ہو۔ لیکن مرزائی ہو رہا تھا۔ قادیان کے اخبار الفضل نے لکھا: ”میں ٥

صفحہ ١٨٥

حکیم ابو الحسین بغدادی کا بیان ہے کہ حسین بن زکرویہ قرامطی کی ہلاکت کے ایام میں ایک عورت میرے پاس آئی اور کہنے لگی کہ میرے شانے پر بہت گہرا زخم ہے۔ اس کا علاج کیجئے۔ یہ عورت زار و قطار رو رہی تھی اور سخت غمزدہ تھی۔ میں نے پوچھا تمہارا کیا ماجرا ہے اور زخم کس طرح آیا ہے؟ بولی میرا بیٹا بہت مدت سے مفقود تھا۔ میں نے اس کی تلاش میں دنیا بھر کی خاک چھانی اور بہت سے شہروں اور قصبوں میں پھری۔ لیکن کوئی کھوج نہ ملا۔ آخری مرتبہ شہر رقہ سے چلی تو راستہ میں قرامطی لشکر نظر آیا۔ میں لشکر میں جا کر دیکھ بھال کرنے لگی تو اتفاق سے وہیں مل گیا۔ میں نے خیر خیریت نہ بھیجنے کا شکوہ کرتے ہوئے اس کے خویش واقارب کے حالات بیان کرنے شروع کئے۔ وہ کہنے لگا ان قصوں کو جانے دو۔ مجھے بتاؤ کہ تم کس دین پر ہو؟ میں نے کہا کیا تجھے معلوم نہیں کہ ہم دین اسلام کے پیرو ہیں؟ بولا جس دین پر ہم پہلے تھے وہ باطل ہے۔ سچا دین وہ ہے جس کا میں آج کل پیرو ہوں یعنی قرامطی دین۔ یہ سن کر میرے ہوش اڑ گئے اور وہ مجھے استعجاب میں چھوڑ کر چل دیا۔

میں چند روز ایک ہاشمی خاتون کے پاس رہی جو قرامطیوں کی قید میں تھی۔ اس کے بعد بغداد واپس آنے لگی۔ جب تھوڑے فاصلے پر پہنچی تو میرا نالائق بیٹا پیچھے سے دوڑتا آیا اور سخت بے رحمی اور شقاوت سے مجھ پر تلوار کا وار کیا۔ میں بری طرح مجروح ہوئی۔ اگر ساتھ والے دوڑ کر بچا نہ لیتے تو میری جان کی خیر نہ تھی۔ میں وہاں سے افتان و خیزاں بحال تباہ بغداد پہنچی۔ ابھی حال میں جو قرامطی قیدی بغداد آئے ہیں میں نے اپنے ناہنجار بیٹے کو بھی دیکھا۔ وہ لمبی ٹوپی پہنے اونٹ پر سوار تھا۔ میں نے اس سے خطاب کر کے کہا خدا تیرا برا کرے اور اس قید محن سے تجھے کبھی مخلصی نہ دے۔

(تاریخ کامل ابن اثیر ج ٧ ص ١٧١)

سقوط بغداد پر قادیان میں چراغاں

اور دور نہ جائیے ! غلام احمد قادیانی اور اس کی امت کو دیکھ لیجئے۔ ان کے باطن میں عداوت اسلام کا آتشکدہ کس شدت سے شعلہ زن ہے۔ جب یورپ کی پہلی عالمگیر جنگ میں فخر البلاد بغداد پر صلیب پرست انگریزوں کا قبضہ ہوا تو دنیا بھر کے اسلامی حلقوں میں ہر طرف صف ماتم بچھی تھی اور کوئی مسلمان ایسا نہ تھا جو سوگوار نہ ہو ۔ لیکن مرزائی اس پر خوشیاں منا رہے تھے اور قادیان میں چراغاں ہورہا تھا۔ قادیان کے اخبار الفضل نے لکھا: ”میں اپنے احمدی بھائیوں کو جو ہر بات میں غور اور فکر

١٠٥

صفحہ ١٨٦

کرنے کے عادی ہیں۔ ایک مژدہ سناتا ہوں کہ بصرہ اور بغداد کی طرف جو اللہ تعالیٰ نے ہماری محسن گورنمنٹ کے لئے فتوحات کا دروازہ کھول دیا ہے۔ اس سے ہم احمدیوں کو معمولی خوشی نہیں ہوئی بلکہ سینکڑوں اور ہزاروں برسوں کی خوشخبریاں جو الہامی کتابوں میں چھپی ہوئی تھیں آج ١٣٣٥ھ میں ظاہر ہوکر ہمارے سامنے آ گئیں۔ اس بات سے غیر احمدی (یعنی مسلمان) ناراض ہوں گے۔ لیکن اگر غور کریں تو اس میں ناراضگی کی کوئی بات نہیں۔‘‘

(الفضل مورخہ ١٠؍ اپریل ١٩١٧ء)

مسلمانوں سے کلی مفارقت اور قطع تعلق

غلام احمد قادیانی نے لکھا کہ : ”تمہیں دوسرے فرقوں کو جو دعوائے اسلام کرتے ہیں بکلی ترک کرنا پڑے گا۔“

(تحفہ گولڑویہ ص ١٨ حاشیہ، خزائن ج ١٧ ص ٦٤)

اور خلیفہ محمود احمد نے لکھا: ”سوم یہ کہ کل مسلمان جو حضرت مسیح موعود (غلام احمد قادیانی) کی بیعت میں شامل نہیں ہوئے خواہ انہوں نے حضرت مسیح موعود کا نام بھی نہیں سنا وہ کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہیں۔ میں تسلیم کرتا ہوں کہ یہ میرے عقائد ہیں۔“

(آئینہ صداقت مؤلفہ خلیفہ محمود ص ٣٥)

اور لکھا کہ: ”ہمارا یہ فرض ہے کہ ہم غیر احمدیوں کو مسلمان نہ سمجھیں اور ان کے پیچھے نماز نہ پڑھیں۔ کیونکہ وہ خدا تعالیٰ کے ایک نبی (یعنی غلام احمد قادیانی) کے منکر ہیں۔ یہ دین کا معاملہ ہے۔ اس میں کسی کا اپنا اختیار نہیں کہ کچھ کر سکے۔“

(انوار خلافت مؤلفہ خلیفہ محمود ص ٩٠)

قادیانی دل بیگانوں کی مہر و محبت سے خالی

جب غلام احمد قادیانی نے اپنی خانہ زاد مسیحیت کا نغمہ چھیڑا تو ظاہری مفارقت وانقطاع کے ساتھ ہی اس کا دل بیگانوں کی مہر و محبت سے یکسر خالی ہو گیا۔ یہاں تک کہ اس نے اپنی بیاہتا بیوی محترمہ حرمت بی بی کی جو خان بہادر مرزا سلطان احمد کی والدہ تھیں اور اپنے فرزند مرزا فضل احمد کی نماز جنازہ تک نہ پڑھی خدائے برتر مسلمانوں کو تمام دجالوں کے شر سے محفوظ رکھے۔ آمین! آج مورخہ ٢٦؍ ذیقعدہ ١٣٧٥ھ، مطابق ٦؍ جولائی ١٩٥٦ء کو بروز جمعہ بمقام لاہور یہ کتاب بحمداللہ پایہ تکمیل کو پہنچی۔ ناچیز ابوالقاسم رفیق دلاوری!

١٠٦

PDF 188

ر بغداد کی طرف جو اللہ تعالیٰ نے ہماری اس سے ہم احمدیوں کو معمولی خوشی نہیں اہا کی کتابوں میں چھپی ہوئی تھیں آج ت سے غیر احمدی (یعنی مسلمان) ناراض ت نہیں۔“ (الفضل مورخہ ١٠ اپریل ١٩١٧ء)

ے فرقوں کو جو دعوائے اسلام کرتے ہیں

تحفہ گولڑویہ ص ١٨ حاشیہ ،خزائن ج ١٧ ص ٦٤)

ی جو حضرت مسیح موعود (غلام احمد قادیانی) یح موعود کا نام بھی نہیں سنا وہ کافر اور دائرہ ئد ہیں۔“

(آئینہ صداقت مؤلفہ خلیفہ محمود ص ٣٥)

ی کو مسلمان نہ سمجھیں اور ان کے پیچھے نماز قادیانی) کے منکر ہیں۔ یہ دین کا معاملہ

(انوار خلافت مؤلفہ خلیفہ محمود ص ٩٠)

ت کا نغمہ چھیڑا تو ظاہری مفارقت وانقطاع ہو گیا۔ یہاں تک کہ اس نے اپنی بیاہتا ی والدہ تھیں اور اپنے فرزند مرزا فضل احمد دجالوں کے شر سے محفوظ رکھے۔ آمین! ١٩٥ء کو بروز جمعہ بمقام لاہور یہ کتاب ناچیز ابوالقاسم رفیق دلاوری!

انا خاتم النبیین لا نبی بعدی

میں آخری نبی ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں۔

مرزائیت

اور

عیسائیت

مولانا عبدالقدیر صمدانی

صفحہ ١٨٨

بسم اللہ الرحمن الرحیم ولن ترضى عنك اليهود ولا النصارى حتى تتبع ملتهم

مرزائیت اور عیسائیت

یہ قاہرہ مصر کے اخبار الفتح کے ایک مقالہ کا ترجمہ ہے۔ جس میں مرزائیت اور عیسائیت کے تعلقات مودۃ کو دکھلایا گیا ہے اور یہ ثابت کیا گیا ہے کہ عیسائی پادری مرزائی لٹریچر کو کس طرح مصر میں پہنچانے کے لئے ساعی ہیں۔ خاکسار نے اس کا اخبار ”مجاہد“ میں ترجمہ بمعہ مختصر تمہید کے شائع کرایا تھا۔ اب تبلیغ کی غرض سے اس مضمون کو ٹریکٹ کی صورت میں شائع کیا جاتا ہے۔ خاکسار: محمد عبداللہ معمار

آج جب کہ مجلس احرار کی مساعی جمیلہ سے مرزائیت اپنے اصلی رنگ و روپ میں ظاہر ہو چکی ہے۔ آج جب کہ مسلمان من حیث القوم حکومت سے مرزائیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کا پر زور مطالبہ کر رہے ہیں تو چند مسلمانوں کا نیک نیتی سے دنیاوی اغراض و مقاصد کے پیش نظر یا کسی مصالح کی بناء پر مرزائیوں کو اسلامی فرقہ قرار دینے کی ناکام سعی کرنا نہ صرف مسلمانوں کے سوادِ اعظم کے فیصلہ سے انحراف ہے بلکہ اسلامی روایات پر اظہار بے اعتمادی کے مترادف ہے۔

قاہرہ مصر کے جریدہ فریدہ الفتح میں ایک مضمون ”من انصار القادیانیین“ کے عنوان سے شائع ہوا ہے۔ جس کا ترجمہ قارئین ”مجاہد“ کے لئے ذیل میں درج کیا جاتا ہے تاکہ جو لوگ مرزائیوں کو مسلمان سمجھنے میں ابھی تک گرفتار ہیں وہ اس واقعہ سے عبرت حاصل کریں اور سوچیں کہ اگر مرزائی لٹریچر میں اسلام کی صحیح تعلیم ہوتی یا مرزائی لٹریچر اسلامی روایات کا حامل ہوتا یا اس میں مسائل حقہ اسلامیہ کی تائید ہوتی تو کیا ایک عیسائی پادری مسٹر محمد علی مرزائی رئیس جماعت

٢

لاہور کی تصنیفات کو نشر و اشاعت کی غرض سے کوشش کرتا کہ محکمہ شرعیات کے ملاحظہ اور ام پادری کو یہ یقین نہ ہوتا کہ مصر کا محکمہ شرعیات تو اس کو دوسرے مصری پادریوں کی امداد حاص کی کیا ضرورت تھی۔ بہر حال مرزا آنجہانی دجال کا دشمن اسلام ہونا اظہر من الشمس ہے جو اس کا حامی ہو وہ تعلیم و دعوت کیونکر اسلامی ہے۔ فاضل مدیران انقلاب جو آج کل مر قادیان کے مورد الطاف بنے ہوئے ہیں۔ کی کہ عیسائی پادری کا مرزائی لٹریچر کو ملک مصر می آیا اسلام کی خدمت ہے یا عیسائیت کی اور ہے۔ اب الفتح کے مقالہ کا ترجمہ ملاحظہ ہو۔

”جب سے استعمار برطانیہ نے دین اسلام سے ٹھٹھا کرنے کے لئے استعما اسلام کی عداوت ہے۔ غلام احمد اور اس کے ت حسن ظن پیدا ہو اور لوگوں کو ان کی کتابوں کے اور ہمیں اس کی بہت سی مثالیں معلوم ہیں۔ پادری کا قادیانی کتابوں کو ہند سے مصر کی طر میں کوشش کرنا ہے کہ ان کتابوں کا داخلہ مص

صفحہ ١٨٩

لاہور کی تصنیفات کو نشر و اشاعت کی غرض سے مصر میں لے جاتا اور نہایت دسیسہ کاری سے سرتوڑ کوشش کرتا کہ محکمہ شرعیات کے ملاحظہ اور اجازت کے بغیر یہ ذخیرہ مصر میں داخل ہو جائے۔ اگر پادری کو یہ یقین نہ ہوتا کہ مصر کا محکمہ شرعیات ایسے مؤلفات کی نشر و اشاعت کی اجازت نہیں دے گا تو اس کو دوسرے مصری پادریوں کی امداد حاصل کرنے اور شیخ الازہر کی خدمت میں لجاجت کرنے کی کیا ضرورت تھی۔ بہر حال مرزا احمد قادیانی اور اس کی جماعت پادری گروہ کو دجال کہتے ہیں اور دجال کا دشمن اسلام ہونا اظہر من الشمس ہے۔ پس جس دعوت اور تعلیم کے نشر و اشاعت میں دجالی گروہ ساعی ہو وہ تعلیم و دعوت کیونکر اسلامی تعلیم ہو سکتی ہے اور وہ گروہ کیونکر اسلامی گروہ ہو سکتا ہے۔ فاضل مدیران انقلاب جو آج کل مرزائیوں کو اسلامی فرقہ ثابت کرنے میں خلافت عالیہ قادیان کے مورد الطاف بنے ہوئے ہیں۔ کیا کوئی توجیہہ بیان کرنے کی زحمت گوارا فرمائیں گے کہ عیسائی پادری کا مرزائی لٹریچر کو ملک مصر میں لے جانا اور اس کے داخلہ کے لئے سرتوڑ کوشش کرنا آیا اسلام کی خدمت ہے یا عیسائیت کی اور یہ رشتہ مودت مرزائیت اور عیسائیت کا کن مصالح پر مبنی ہے۔ اب الفتح کے مقالہ کا ترجمہ ملاحظہ ہو۔

"جب سے استعمار برطانی نے اپنے بندے اور خود کاشتہ پودے غلام احمد قادیانی کو دین اسلام سے محاربہ کرنے کے لئے استعمال کیا ہے ہم دیکھتے ہیں کہ ہر وہ شخص جس کے دل میں اسلام کی عداوت ہے۔ غلام احمد اور اس کے متبعین کی تائید کرتا ہے اور چاہتا ہے کہ لوگوں کو ان سے حسن ظن پیدا ہو اور لوگوں کو ان کی کتابوں کے مطالعہ کی طرف آمادہ کرتا ہے۔ یہ ایک مشہور امر ہے اور ہمیں اس کی بہت سی مثالیں معلوم ہیں۔ ان مثالوں میں سے آخری مثال جو دیت کے ایک پادری کا قادیانی کتابوں کو ہند سے مصر کی طرف لانے کا اہتمام کرنا ہے اور مشائخ ازہر کی خدمت میں کوشش کرنا ہے کہ ان کتابوں کا داخلہ مصر میں جائز ہو جائے کہ مصر میں ہندوستان سے ایک

٣

صفحہ ١٩٠

جزویتی پادری آیا ہے جو بیلجئم کا باشندہ ہے اور اس کا نام ’پادری کورتوا‘ ہے اور غالباً وہ اسلام دشمنی میں اپنے ساتھی اور ہم وطن پادری لانس سے کم نہیں اور وہ کتابیں جو یہ مبلغ پادری ہندوستان سے مصر میں داخل کرنے کے لئے اپنے ہمراہ لایا ہے وہ لاہوری مرزائیوں کے امیر محمد علی کی مصنفات کا مجموعہ ہیں۔ چونکہ اس قسم کی کتابوں کا داخلہ مصر میں بدیں وجہ ممنوع ہے کہ ان کتابوں میں قرآن کے معانی کی تحریف اور عقائد اسلام کی غلط تعبیر ہے۔ اس لئے محکمہ چونگی نے ان قادیانیوں کی کتابوں کے داخلہ کی اجازت میں توقف کیا اور حکم دیا کہ ملک کے قانون کے مطابق جب تک محکمہ شرعیات ان کو اچھی طرح سے دیکھ نہ لے اور اپنی رائے کا اظہار نہ کر دے اس وقت تک ان کے داخلہ کی اجازت نہیں مل سکتی۔ مگر ہمارا جزویتی دوست ان کتابوں کو مصر میں داخل کرانے کے لئے بے تاب ہے اور وہ نہیں چاہتا کہ قانون اپنا راستہ اختیار کرے۔ بلکہ وہ مصر کے باشندوں میں سے ایک دوسرے جزویتی پادری سے مدد حاصل کر رہا ہے۔ چنانچہ وہ اس کے ساتھ ادارۂ ازہر میں ان کتابوں کے داخل کرانے کی اجازت اور سعی اور امید میں گیا اور یہی امید لے کر دونوں شیخ ازہر کی خدمت میں حاضر ہوئے کہ وہ ان کی امداد فرمائیں۔ مگر شیخ محترم نے ان کو اطلاع دی کہ اس معاملہ کا فیصلہ قانون کی منشاء کے مطابق ہونا ضروری ہے۔ (محکمہ شرعیات کا احتساب لازمی ہے) لوگ عیسائیوں کی اس خدمت کو جو وہ قادیانیوں کی کتابوں کے لئے کر رہے ہیں۔ تعجب کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ لیکن ہم مرزائیوں اور عیسائیوں کی اس مشارکت کو جو وہ دین اسلام سے ٹھٹھا مخول کرنے میں کر رہے ہیں تعجب کی نگاہ سے نہیں دیکھتے ہیں۔‘‘

(الفتح قاہرہ مورخہ ١٠ شعبان المعظم ١٣٥٤ھ)

خادم العلماء: محمد عبدالقدیر صمدانی، بہاول پور

٤

کیا مرزائی

عورت

مولانا عنایت ال

PDF 192

انا خاتم النبیین لا نبی بعدی

کیا مرزائے قادیانی

عورت تھی؟

مولانا عنایت اللہ لاہوری

صفحہ ١٩٣

کیا مرزا قادیانی عورت تھی؟ یا مرد؟

نبوت کمالات انسانی کا آخری مرتبہ ہے۔ اس سے پہلے کئی مرتبے اور درجے ہیں۔ جب تک انہیں حاصل نہ کیا جائے نبوت کا حصول محال اور ناممکن ہے۔ مثلاً مدعی نبوت کے لئے ضروری ہے کہ مرد ہو، عورت نہ ہو۔ مسلمان ہو صالح۔ صاحب مکالمہ و مخاطبہ ہو اور اس کے الہام قطعی سچے ہوں، جھوٹے نہ ہوں۔ چونکہ مرزا قادیانی مدعی نبوت ہے۔ اس لئے ہر صاحب عقل، طالب صدق و صفا کو حق ہونا چاہئے کہ مراتب مذکورہ کے متعلق جو نبوت کے لئے بمنزلہ سیڑھی کے ہیں۔ دل کھول کر بلا حجاب گفتگو کر سکے۔ لیکن مرزا قادیانی اور اس کے مخلص مریدوں کی کتابوں کے مطالعہ کرنے والا تو پہلے مرحلہ (یعنی یہ کہ مرزا مرد تھا یا عورت) میں ایسا سرگردان ہوگا کہ اس کے لئے کوئی یقینی فیصلہ کرنا سعی لا حاصل ہوگا۔ بلکہ اہل انصاف کو تو مجبوراً عورت ہی کہنا پڑے گا۔

میں چند عبارتیں بمعہ حوالہ جات صفحہ ہٰذا پر ہدیہ ناظرین کر کے مسلمانوں سے درخواست کرتا ہوں کہ امکان نبوت پر گفتگو کرنا لفظ نبی کی توہین ہے۔ آپ ہمیشہ کے لئے موضوع گفتگو یہ رکھیں کہ مرزا مرد تھا یا عورت؟ جب یہ مرحلہ طے ہو جائے تو مسلمان تھا یا کافر۔ علیٰ ہذا القیاس بتدریج نبوت تک پہنچیں۔ مرزا قادیانی کی کتابوں میں اس قدر مواد موجود ہے کہ اس کے حواری خدا کے فضل سے پہلی مرتبہ ہی فیل ہو جائیں گے۔

(نوٹ: جو اصحاب ان عبارتوں کا جواب دینا چاہیں انہیں یاد رکھنا چاہئے کہ ان کی نظیر کسی نبی کے کلام میں دکھائیں۔ غیر نبی کا الہام ہرگز قبول نہ ہوگا۔ کیونکہ نبی بسبب وسیع الظرف ہونے کے اپنے ہر کلام کا ذمہ دار ہوتا ہے۔ غیر نبی خواہ کتنا بڑا ہو، بسبب تنگی ظرف کے غیر ذمہ دار کلموں کا صدور اس سے ممکن ہے)

مندرجہ ذیل امور مرزا کے کلام سے ثابت ہوتے ہیں:

٢

١....... پردے میں نشو و نما پانا

”دو برس تک میں نے صفت مریمیت میں پرورش پائی اور پردے میں نشو و نما پاتا رہا۔“

٢....... حیض کا آنا

”بابو الٰہی بخش چاہتا ہے کہ تیرا حیض دیکھے یا کسی اور ناپاکی اور پلیدی پر اطلاع پائے۔ مگر خدا تعالیٰ تجھے اپنے انعامات دکھلائے گا جو متواتر ہوں گے اور تیرا حیض مراد ہے اور وہ پاک ہو گیا۔ (وہ کا لفظ حیض ہونے کی تصدیق کر رہا ہے جسے بابو الٰہی بخش پر منکشف کیا گیا کہ عورت کو دیکھو۔ سبحان اللہ! واہ نبی صاحب۔ مؤلف!)“

(اربعین نمبر ٣ ص ١٩ حاشیہ، خزائن ج ١٧ ص ٤٠٦)

٣....... خدا کا مرزا قادیانی سے بدفعلی کرنا

قاضی محمد یار بی۔اے وکیل پلیڈر جو مرزا قادیانی کے خاص مرید تھے۔ اور اپنا سب کچھ چھوڑ کر قادیان چلے گئے تھے۔ اصل وطن نور پور ضلع کانگڑہ تھا۔ وہ اپنے ٹریکٹ ”اسلامی قربانی“ مطبوعہ ریاض ہند پریس امرتسر میں لکھتے ہیں: ”آپ ہوئی کہ گویا آپ عورت ہیں اور اللہ تعالیٰ نے رجولیت کی طاقت کا اظہار فرمایا۔“

”سمجھنے والے کے لئے اشارہ کافی ہے۔“

قاضی صاحب کے بیان کی تائیدات خود مرزا قادیانی کے الہامات سے بھی ہوتی ہے۔ میں اختصاراً صرف دو تین پر اکتفا کرتا ہوں۔ مثلاً:

صفحہ ١٩٣

١...... پردے میں نشوونما پانا

”دو برس تک میں نے صفت مریمیت میں پرورش پائی اور پردے میں نشوونما پاتا رہا۔“

(کشتی نوح ص ٤٧، خزائن ج ١٩ ص ٥٠)

٢...... حیض کا آنا

”بابو الہی بخش چاہتا ہے کہ تیرا حیض دیکھے۔ یا کسی پلیدی اور ناپاکی پر اطلاع پائے۔ مگر خدائے تعالیٰ تجھے اپنے انعامات دکھلائے گا جو متواتر ہوں گے اور تجھ میں حیض نہیں۔ بلکہ وہ بچہ ہو گیا۔ (وہ کا لفظ حیض ہونے کی تصدیق کر رہا ہے جو بعد میں بچہ ہو گیا۔ سوال و جواب کی بے ربطی کو دیکھو۔ سبحان اللہ! واہ نبی صاحب۔ مؤلف!)“

(اربعین نمبر ٤ ص ١٩، خزائن ج ١٧ ص ٤٥٢ حاشیہ، حقیقت الوحی ص ١٤٣، خزائن ج ٢٢ ص ٥٨١)

٣...... خدا کا مرزا قادیانی سے بدفعلی کرنا

قاضی محمد یار بی او ایل پلیڈر جو مرزا قادیانی کے خاص مرید ہیں اور بعد میں ہجرت کر کے قادیان چلے گئے تھے۔ اصل وطن نور پور ضلع کانگڑہ۔ اپنے ٹریکٹ نمبر ٣٤ موسومہ اسلامی قربانی مطبوعہ ریاض ہند پریس امرتسر میں لکھتے ہیں: ”آپ پر (مرزا قادیانی) اس طرح حالت طاری ہوئی کہ گویا آپ عورت ہیں اور اللہ تعالیٰ نے رجولیت کی طاقت (معاذ اللہ! یعنی بدفعلی کی) کا اظہار فرمایا تھا۔“

(اسلامی قربانی ص ١٢)

”سمجھنے والے کے لئے اشارہ کافی ہے۔“

قاضی صاحب کے بیان کی تائیدات خود مرزا قادیانی کی کتابوں میں بکثرت ملتی ہیں۔ اختصاراً صرف دو تین پر اکتفا کرتا ہوں۔ مثلاً:

٤

صفحہ ١٩٤

"مجھے خدا سے ایک نہانی تعلق ہے جو قابل بیان نہیں۔"

(براہین احمدیہ حصہ پنجم ص ٦٣، خزائن ج ٢١ ص ٨١)

(افسوس قاضی صاحب نے بیان کردیا۔ مؤلف!)

" (شانک عجیب) اے مرزا تیرے حسن کی شان ہی عجیب ہے۔"

(براہین احمدیہ حصہ پنجم ص ٦١، خزائن ج ٢١ ص ٧٨)

(انجام آتھم ص ٥٥، خزائن ج ١١ ص ٥٥) "انت من مائنا! اے مرزا تو میرے پانی سے ہے۔ (یعنی تجھے میرا مخصوص پانی سیراب کرتا ہے۔ مؤلف!) یحمدک اللہ من عرشہ ویمشی الیک ! عرش سے خدا تیرے محاسن بیان کرتا ہوا تیری طرف آ رہا ہے۔ اکان للناس عجباً! آیا اس تعلق کو لوگ عجب سمجھتے ہیں۔ قل ہو اللہ عجیب ! لوگوں کو کہہ دے کہ میرا خدا ہے ہی عجیب۔ کمثلک در لا یضاع ! تیرے جیسے موتی نہیں ضائع کئے جاتے۔ انت مرادی! میری تیرے سوا مراد ہی نہیں۔"

(انجام آتھم ص ٥٩، خزائن ج ١١ ص ٥٩) "سرک سری ! تیرا میرا بھید ہی ایک ہے۔ خوف طوالت اجازت نہیں دیتی۔ ورنہ ہزاروں اس قسم کی عبارتیں ہیں جو قاضی صاحب کی تائید کرتی ہیں۔ مؤلف ! )"

مرزا قادیانی کا خدا

مضمون بالا سے ناظرین کو ایک گونہ تشویش ہوگی کہ خدا بھی ایسے کام کرتا ہے اس تشویش کو دور کرنے کے لئے یہ سمجھانا بھی ضروری ہے کہ مرزا قادیانی کا خدا کون تھا۔ بلاشبہ رب العالمین کی نسبت ایک لمحے کے لئے ایسا تصور کرنا انسان کو اسلام سے دور کردیتا ہے۔ لیکن جب ناظرین پر مرزا قادیانی کا خدا واضح ہو جائے گا تو تصدیق کریں گے کہ بیشک سچ ہے اور یونہی ہونا چاہئے۔

٤

صفحہ ١٩٥

"انی مع الرسول اجیب ، اخطی واصیب ! (قادیانی کا خدا) خطا بھی کرتا ہے اور کبھی خطا سے بچ بھی جاتا ہے۔"

(حقیقۃ الوحی ص ١٠٣ ، خزائن ج ٢٢ ص ١٠٦ ، البشریٰ ج ٢ ص ٧٩ ، تذکرہ ص ٤٦٢ طبع سوم)

"اصلی واصوم ، اسھر و انام ! نماز پڑھوں گا ، روزہ رکھوں گا ، جاگوں گا ۔ سوؤں گا۔"

(البشریٰ ج ٢ ص ٧٩ ، تذکرہ ص ٤٦٠ طبع سوم)

ان دو عبارتوں سے مندرجہ ذیل اوصاف مستنبط ہوتے ہیں۔ خطا کرنا ، کبھی بچ جانا ، نماز پڑھنا ، روزہ رکھنا ، جاگنا ، سونا ۔ جو سراسر انسان کے خواص ہیں اور انسان تو رات دن ایسے کام کرتے ہی ہیں۔ مرزا قادیانی سے کسی نے عشق کر لیا اور فرط محبت میں آ کر مرزا قادیانی نے اسے خدا سمجھ لیا یا کہہ دیا تو کوئی تعجب کی بات نہیں۔ مرزا قادیانی کا ایک عجیب پر راز و نیاز الہام جس کے صحیح معنی آج تک کسی نے نہیں کئے۔ خدا نے اپنے فضل و کرم سے مجھ پر منکشف کئے ہیں۔ لیکن تہذیب تفصیل کی اجازت نہیں دیتی کہ اسے معرض صحافت پر لایا جائے ۔ الہام یہ ہے۔ ربنا عاج ! شائقین حضرات زبانی دریافت کر سکتے ہیں۔ مؤلف !

٤....... مرزا قادیانی کا حاملہ ہونا

"پھر وہ مریم (یعنی مرزا قادیانی ) عیسیٰ سے حاملہ ہو گئی ۔"

(حقیقۃ الوحی ص ٣٣٧ حاشیہ ، خزائن ج ٢٢ ص ٣٥٠ حاشیہ)

"مجھے حاملہ ٹھہرایا گیا اور آخر کئی مہینے کے بعد جو دس مہینے سے زیادہ نہیں ۔"

(کشتی نوح ص ٤٧ ، خزائن ج ١٩ ص ٥٠)

٥....... دردزہ سے تکلیف پانا

"پھر مریم کو جو مراد اس عاجز سے ہے ، دردزہ تنے کھجور کی طرف لے گئی ۔"

(کشتی نوح ص ٤٧ ، خزائن ج ١٩ ص ٥٠)

٥

صفحہ ١٩٦

ضروری عرضداشت

مذکورہ حوالہ جات کو دیکھ کر ایک منصف تو مجبوراً فیصلہ کرے گا کہ مرزا قادیانی ایک فاحشہ عورت تھی۔ کیونکہ ان حوالہ جات کا انکار کرنا ممکن ہی نہیں اور میں چیلنج دیتا ہوں کہ غلط ثابت کرنے والے کو مبلغ دس روپیہ فی حوالہ انعام دیا جائے گا۔ لیکن جس نے خود مرزائے آنجہانی کو دیکھا یا فوٹو جو حقیقت الوحی میں دیا گیا ہے اس کی نظر سے گزرا تو وہ بھی یقیناً کہے گا کہ مرزا قادیانی عورت نہیں۔ بلکہ ایک خاصہ بھلا داڑھیل مرد تھا اور جس کے سامنے دونوں پہلو موجود (یعنی حوالہ جات مذکورہ اور فوٹو) تو وہ عجب کش مکش میں پڑ جائے گا اور اسے ضرور ایک درمیانی راستہ اختیار کرنا پڑے گا جو مرزا محمود کے متعلق اخبار مباہلہ اور رسالہ تائید الاسلام اچھرہ میں چھپ چکا ہے اور آج تک کسی قادیانی کو تردید کی جرات نہیں ہوئی۔ جو بمنزلہ تصدیق سمجھی جاتی ہے اور بعید نہیں کہ مرزا محمود کو یہ صفت وراثت میں ملی ہو اور بہت ممکن ہے کہ یہ سلسلہ بہت دور تک چلا جائے۔ کیونکہ مرزا قادیانی اپنے آپ کو بڑے شدومد سے فارسی النسل ثابت کرتے ہیں اور یہی لوگ اولین سابقین سے ہیں۔ جنہوں نے لڑکوں سے تعشق ظاہر کیا اور عشقیہ اشعار لڑکوں پر چسپاں کیا۔ تاریخ دانوں پر پوشیدہ نہیں۔ چنانچہ ایک متنبی گزرا ہے جس کا نام ابن ابی زکریا الطامی تھا۔ اس نے اپنی خود ساختہ شریعت میں لونڈے بازی جائز کر رکھی تھی۔ تفصیل کے لئے دیکھو (الآثار الباقیہ لابی ریحان البیرونی ص ٢١٣) ایک اور شق بھی باقی ہے کہ عورت کی داڑھی ہو۔ چنانچہ مرزا قادیانی کے ایک خاص مرید لکھتے ہیں کہ لندن میں ایک عورت کی دس فٹ لمبی داڑھی دیکھی گئی۔ لیکن یاد رہے میری غرض اس بیان سے توہین نہیں۔ بلکہ استفسار واظہار حق ہے۔ فی ذاتہ! میں اس معاملے میں متردد ہوں اور ناظرین سے دریافت کرتا ہوں کہ اگر کوئی صاحب صحیح نتیجے پر پہنچا ہو تو مجھے اطلاع دے کر عنداللہ ماجور ہو۔ واللہ اعلم بالصواب والیہ المرجع والمآب !

خاکسار: عنایت اللہ خوشہ چین دارالعلوم اچھرہ متصل لاہور !

٦

میں نے

کیوں

جناب قاضی خلیل

PDF 198

مجبوراً فیصلہ کرے گا کہ مرزا قادیانی ایک نہیں اور میں چیلنج دیتا ہوں کہ غلط ثابت ۔ لیکن جس نے خود مرزائے آنجہانی کو پڑھا تو وہ بھی یقیناً کہے گا کہ مرزا قادیانی کے سامنے دونوں پہلو موجود (یعنی حوالہ اسے ضرور ایک درمیانی راستہ اختیار کرنا اسلام اچھڑہ میں چھپ چکا ہے اور آج تصدیق سمجھی جاتی ہے اور بعید نہیں کہ یہ سلسلہ بہت دور تک چلا جائے۔ کیونکہ ثابت کرتے ہیں اور یہی لوگ اولین بقیہ اشعار ٹکڑوں پر چسپاں کیا۔ تاریخ بن ابی ذکریا الطامی تھا۔ اس نے اپنی کے لئے دیکھو (الآثار الباقیہ لابی ریحان و۔ چنانچہ مرزا قادیانی کے ایک خاص یاد رکھی گئی۔ لیکن یادرہے میری غرض آہ! میں اس معاملے میں متردد ہوں نتیجہ پر پہنچا ہو تو مجھے اطلاع دے کر ع والمآب! شعبہ تبلیغ دارالعلوم اچھڑہ متصل لاہور!

خاتم النبيين

لا نبي بعدي

میں نے مرزائیت

کیوں چھوڑی

جناب قاضی خلیل احمد سابق قادیانی

صفحہ ١٩

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ الحمدللہ وحدہ والصلوٰۃ والسلام علیٰ من لا نبی بعدہ

عرض مدعا

معزز حضرات ! میں اپنا یہ مختصر سا بیان شائع کر رہا ہوں جس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ آپ کو معلوم ہو جائے کہ احمدیت یعنی قادیانیت دراصل عیاش لوگوں کا ایک منظم گروپ ہے جس میں بھولے بھٹکے نادان اور بے سمجھ لوگوں کو پھنسا کر چندے بٹورے جاتے ہیں اور اس چندے سے عیاشیاں کی جاتی ہیں۔

خدا کرے کہ میرا یہ بیان پڑھ کر گم کردہ راہ اور بھولے بھٹکے انسان راہ راست پر آ جائیں۔ نیز وہ لوگ جو غلام احمدیوں کے دھوکے و چکمے میں پھنس کر اپنے پیارے سچے اور حقیقی مذہب اسلام سے منحرف ہو کر اپنی ایمانی دولت لٹا کر کافر بننے کے لئے پر تول رہے ہیں اگر وہ لوگ بھی سچے دل سے میرے بیان کی صداقت پر غور کریں تو انشاء اللہ تعالیٰ ان پر قادیانیت کی قلعی کھل جائے گی۔

خاکسار کامل یقین سے عرض کرتا ہے کہ وہ لوگ ضرور راہ مستقیم پر گامزن ہو جائیں گے اور اخلاق سے گرے ہوئے شخصوں کو مصلح موعود اور مسیح موعود، نبی وغیرہ کہنا چھوڑ دیں گے جو اپنی ضلالت سے دوسروں کو گمراہ کرتے آئے ہیں۔

میرا خاندان

قارئین کرام ! یہ عاجز ایک کٹر قادیانی خاندان کا چشم و چراغ ہے ، جس کے خاندان کے اکثر افراد نے قادیانیت کی تبلیغ و اشاعت کے لئے اپنی زندگیاں وقف کر رکھی ہیں اور انگریزوں کے ایجاد کردہ مذہب کی خوب تبلیغ و اشاعت کر رہے ہیں۔ ان کا جماعت احمدیہ میں کافی اثر و رسوخ ہے اور وہ اس جماعت کے سر براہ اور سرگرم کارکنوں میں شمار ہوتے ہیں۔

چنانچہ خاکسار کو بھی ان کی طرح مرزائیت کی تبلیغ کا شوق پیدا ہوا۔ میرے شوق کو مدنظر

رکھتے ہوئے میرے والد جناب قاضی محمد صادق نے ربوہ روانہ کر دیا۔

قصر خلافت میں باریابی

چنانچہ خاکسار کو مرزا طاہر احمد صا نے اعلیٰ دینی تعلیم دلوانے کے لئے تعلیمی ادارہ میں ہونا اور پھر خاص زیر سرپرستی میاں طاہر احمد صا ملاقات صاحبزادہ نعیم احمد صاحب سے ہو گئی۔

اور آہستہ آہستہ ان کے ساتھ میر ساتھ قصر خلافت میں بھی آنے جانے کا شرف سے خلیفہ صاحب کے دوسرے صاحبزادے مکرم اوقات ان کی غیر معمولی ہمدردی اور غیر معمولی مہ

رنگین و سنگین تماشے اور میری پریشانی

کچھ عرصہ کے بعد خاکسار کو قصر خلا آئے۔ مگر اندھی عقیدت کے نشے میں سرشار ہ لیکن پھر بعض ایسے واقعات رونما ہوئے کہ مجھ

مگر پھر بھی ان واقعات کی جو حض تاویلیں کرتا رہتا تو یقیناً میری نظروں میں وہ گنہگار (خدا معاف کرے) عرصہ چھ ماہ تک ا

عصمتوں، عزتوں اور ناموسوں کو بھی جماعت کی بدنامی اور اپنی جان کے خو افسوس وہ ظالم بھی اپنے اس کُتّے سے باز نہ

صفحہ ١٩٩

رکھتے ہوئے میرے والد جناب قاضی محمد صادق نے مجھے اشاعت و خدمت دین کے لئے وقف کر کے ربوہ روانہ کر دیا۔

قصر خلافت میں باریابی

چنانچہ خاکسار کو مرزا طاہر احمد صاحب ابن جناب خلیفہ بشیر الدین محمود احمد صاحب ربوہ نے اعلیٰ دینی تعلیم دلوانے کے لئے تعلیمی ادارہ میں داخل کروا دیا۔ خاکسار کا جامعہ احمدیہ میں داخل ہونا اور پھر خاص زیر سرپرستی میاں طاہر احمد صاحب یہ ایک خدائی مصلحت تھی۔ ربوہ میں میری ملاقات صاحبزادہ نعیم احمد صاحب سے ہوگئی۔

اور آہستہ آہستہ ان کے ساتھ میرے تعلقات کافی گہرے ہوگئے۔ حتیٰ کہ مجھے ان کے ساتھ قصر خلافت میں بھی آنے جانے کا شرف حاصل ہوگیا۔ قصر خلافت میں آنے جانے کی وجہ سے خلیفہ صاحب کے دوسرے صاحبزادے بھی اس عاجز انسان پر کافی مہربان تھے۔ لیکن بعض اوقات ان کی غیر معمولی ہمدردی اور غیر معمولی محبت باعث حیرت ہوتی۔

رنگین و سنگین تماشے اور میری پریشانی

کچھ عرصہ کے بعد خاکسار کو قصر خلافت کے ماحول میں بعض رنگین و سنگین واقعات نظر آئے۔ مگر اندھی عقیدت کے نشے میں سرشار ہونے کی وجہ سے خاکسار جنت الحمقاء میں پڑا رہا۔ لیکن پھر بعض ایسے واقعات رونما ہوئے کہ مجھ پر اصل حقیقت عیاں ہونے لگی۔

مگر پھر بھی ان واقعات کی جو حقیقت میں صحیح تھے محض اندھی عقیدت کی بناء پر غلط تاویلیں کرتا رہتا تو یقیناً میری نظروں میں دنیا کی کوئی حقیقت ”حقیقت“ نہ رہتی۔ چنانچہ یہ عاجز گنہگار (خدا معاف کرے) عرصہ چھ ماہ تک اپنے ضمیر کو کچلتا رہا۔

عصمتوں، عزتوں اور ناموسوں کو اپنے سامنے لٹتے دیکھتا رہا۔ ۔۔۔ یہ جانتے ہوئے بھی جماعت کی بدنامی اور اپنی جان کے خوف سے حقیقت ظاہر کرنے کی ہمت نہ کر سکا۔ ۔۔۔

افسوس وہ ظالم بھی اپنے اس ’کسب‘ سے باز نہ آئے جو بظاہر تقدس اور نبوت کا لبادہ اوڑھے ہوئے

٣٠

صفحہ ٢٠١

تھے۔ متواتر معصوم و پاک عزتوں سے ہولی کھیلتے رہے۔ گندا اچھالتے رہے اور دوسروں کو بھی اس جرم عظیم و گناہ کبیرہ میں زبردستی شریک کرتے رہے۔

ہدایت کی پہلی کرن

اس دوران میری نظروں سے مرزائیوں کی لکھی ہوئی چند کتابیں گزریں۔ ”مرتدین کے الزامات“ (مصنف مولانا محمد علی) ”دورِ حاضر کا مذہبی آمر“ اور ”تاریخ محمودیت“ وغیرہ جن میں یہ ثابت کیا گیا تھا کہ خلیفہ صاحب یعنی مرزا بشیر الدین محمود احمد ابن مرزا غلام احمد قادیانی ایک زانی سیاہ کار، دھوکہ باز اور عیاش انسان ہے اور مذہب کے لیبل پر داد عیش و عشرت دیتا رہتا ہے۔ ان کتابوں میں تقریباً ٣٠ خفیہ شہادتیں مؤکد بعذاب قسموں سے درج ہیں اور ہر ایک شہادت دہندہ نے یہ ثابت کیا کہ خلیفہ صاحب نے اس کے ساتھ زنا کیا ہے۔ خلیفہ صاحب نے فلاں کے ساتھ زنا کیا ہے اور خلیفہ صاحب نے مجھ سے یا فلاں سے بدفعلی (اغلام بازی) کا ارتکاب کیا ہے اور ہر ایک شہادت دہندہ نے بالمقابل حضرت خلیفہ صاحب سے مباہلہ کرنے کی دعوت دی ہے۔ لیکن جناب خلیفہ صاحب مباہلہ کے چھ حرفی لفظ سے کچھ اس طرح دہل گئے ہیں کہ ان کے منہ سے اگر کچھ نکلتا ہے تو فقط لفظ بلا ہی نکلتا ہے جو آج کل ان کا تکیہ کلام بنا ہوا ہے۔

چند شہادتیں

میں مشت نمونہ از خروارے کے طور پر ان کتابوں میں سے چند شہادتیں درج کرتا ہوں۔ یہ تمام کتابیں قابلِ مطالعہ ہیں۔

شہادت نمبر: ١

میں اپنے علم، مشاہدے اور رویت یعنی دو آنکھوں دیکھی بات کی بناء پر خدا کو حاضر و ناظر جان کر اس پاک ذات کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ مرزا بشیر الدین محمود احمد نے خود اپنے سامنے اپنی بیوی کا غیر مرد سے زنا کروایا۔ اگر میں اس حلف میں جھوٹا ہوں تو خدا کی لعنت اور عذاب مجھ پر نازل ہو۔ اس بات پر مرزا بشیر الدین کے بالمقابل حلف اٹھانے کو تیار ہوں۔ محمد یوسف ناز! معرفت عبدالقادر تیرتھ سنگھ جے ہوائی روڈ عقب شالیمار ہوٹل لاہور

شہادت نمبر: ٢

مرزا گل محمد مرحوم کی دوسری بیوہ چھوٹی بیگم نے مجھے بیان کیا کہ مرزا محمود کو میں نے اپنی

٤

آنکھوں سے ان کی صاحبزادی اور عورتوں کے سا مرتبہ مرزا محمود سے عرض کی حضور یہ کیا معاملہ ہے؟ اجازت ہے۔ البتہ اس کو عوام میں پھیلانے کی مما حاضر ناظر جان کر تحریر کر رہی ہوں شاید میری مس حاصل کریں۔ فقط: سیدہ ام

شہادت نمبر: ٣

مصری عبدالرحمن صاحب کے بڑے ل شریف ہاتھ میں لے کر یہ لفظ لکھے۔ خدا تعالیٰ مجھے موجودہ خلیفہ نے میرے ساتھ بدفعلی کی ہے اور میں بقلم خود محمد عبداللہ

قارئین کرام! یہ واقعات اور اس قسم کے صاحب کے شعر۔

کیا بتاؤ کس قدر کمزور
سب جہاں بے زار ہو جائے

کی تشریح ہو گئی۔ پہلے میں حیران تھا کہ جن کے بے نقاب ہونے سے جہاں ان سے بیزار مذکورہ کو پڑھنے سے یہ راز بھی طشت از بام ہو گیا۔ ذاتی طور پر معلوم ہی تھے۔ لیکن مرزا محمود کی یہ پاکیز میرے منہ سے یہ نکل گیا۔ ایں خانہ ہمہ آفت

کیا کیا بتاؤں کیا کیا دیکھا

حضرات! میری غیرت مجھے اجازت نہی لاؤں اور انہیں قلمبند کروں جو نہایت ہی گند صاحبزادے اصرار کریں گے تو مجھے وہ واقعات جو می تفصیل کرتے ہوئے شائع کر دوں گا۔

٥

صفحہ ٢٠١

آنکھوں سے ان کی صاحبزادی اور عورتوں کے ساتھ زنا کرتے ہوئے دیکھا ہے۔ میں نے ایک مرتبہ مرزا محمود سے عرض کی حضور یہ کیا معاملہ ہے؟ آپ نے فرمایا! قرآن وحدیث میں اس کی عام اجازت ہے۔ البتہ اس کو عوام میں پھیلانے کی ممانعت ہے۔ (نعوذ باللہ من ذالک) میں خدا کو حاضر ناظر جان کر تحریر کر رہی ہوں شاید میری مسلمان بہنیں اور مسلمان بھائی اس سے کوئی سبق حاصل کریں۔ فقط: سیدہ ام الصالحہ بنت سید ابرار حسین سمن آباد، لاہور

شہادت نمبر: ٣

مستری عبدالرحمن صاحب کے بڑے لڑکے حافظ بشیر احمد نے میرے سامنے قرآن شریف ہاتھ میں لے کر یہ لفظ لکھے۔ خدا تعالیٰ مجھے پارہ پارہ کر دے اگر میں جھوٹ بولتا ہوں کہ موجودہ خلیفہ نے میرے ساتھ بدفعلی کی ہے اور میں خدا کی قسم کھا کر یہ واقعہ لکھ رہا ہوں۔ بقلم خود محمد عبداللہ، احمدی ٹینٹ و فرنیچر ہاؤس مسلم ٹاؤن لاہور

قارئین کرام! یہ واقعات اور اس قسم کے کئی اور واقعات جب میں نے پڑھے تو خلیفہ صاحب کے شعر۔

کیا بتاؤں کس قدر کمزوریوں میں ہوں پھنسا
سب جہاں بے زار ہو جائے جو ہوں میں بے نقاب

کی تشریح ہو گئی۔ پہلے میں حیران تھا کہ مرزا محمود کے اندر آخر وہ کون سی کمزوریاں ہیں جن کے بے نقاب ہونے سے جہاں ان سے بیزار ہو جائے گا اور نفرت کرنے لگے گا۔ کتاب مذکورہ کو پڑھنے سے یہ راز بھی طشت از بام ہو گیا۔ صاحبزادیوں اور اہل خانہ کے حالات تو مجھے ذاتی طور پر معلوم ہی تھے۔ لیکن مرزا محمود کی یہ پاکیزہ سیرت میری نظروں سے گزری تو بے ساختہ میرے منہ سے یہ نکل گیا۔ ایں خانہ ہمہ آفتاب است!

کیا کیا بتاؤں کیا کیا دیکھا

حضرات! میری غیرت مجھے اجازت نہیں دیتی کہ میں وہ تمام واقعات منظر عام پر لاؤں اور انہیں قلمبند کروں جو نہایت ہی گندے اور اخلاق سے گرے ہوئے ہیں۔ اگر صاحبزادے اصرار کریں گے تو مجھے وہ واقعات جو میں نے آنکھوں سے دیکھے ہیں ان کے حکم کی تعمیل کرتے ہوئے شائع کر دوں گا۔

٥

صفحہ ٢٠٢

نیز کوئی صاحب خاندان نبوت کے پوشیدہ واقعات جاننا چاہیں تو وہ مجھ سے خود آ کر ملیں۔ انشاء اللہ تعالیٰ ان کے علم میں اضافہ کرنے کے لئے وہ واقعات اپنی زبانی عرض کروں گا اور اگر کوئی صاحب مرزائیت کے متعلق اعتقادی مسائل پر گفتگو کرنا چاہیں تو وہ میرے استاذی المکرم حضرت مولانا منظور احمد صاحب چنیوٹی سے ملاقات کریں۔ انشاء اللہ! ان کے تمام شکوک رفع ہو جائیں گے اور مرزائیت کا طلسم ہوشربا ان کے سامنے مٹی کے کھلونے کی طرح چور چور ہو جائے گا۔ سو میں عرض کر رہا تھا کہ جب مجھ پر ثابت ہو گیا کہ؎

ایں خانہ ہمہ آفتاب است

تنفر اور بیزاری

میرے دل میں قادیانیت کی وہ قدر اور عزت نہ رہی۔ میں نے سوچا جو لوگ خود گمراہ ہوں وہ گناہوں کے عمیق سمندر میں غوطہ زن ہوں۔ وہ دوسروں کی کیا اصلاح کریں گے۔

آنکہ خود گم است کرا رہبری کند

وہ لوگ کس طرح مصلح موعود کی اولاد اور نبی کی اولاد اور خود مصلح ہو سکتے ہیں اور ان کے باپ دادا کا مذہب کس طریقے سے سچا ہو سکتا ہے۔ میں نے ان تمام سوالوں کا جواب حاصل کرنے کے لئے یہ ہی آسان اور صحیح طریقہ سوچا کہ سلسلہ (جماعت احمدیہ) کا لٹریچر اچھی طرح پڑھنا چاہئے۔ چونکہ میرے دل میں صاحبزادوں کے حالات دیکھ کر ویسے بھی نفرت ہو گئی تھی۔

شرمناک اڈا

لیکن جب خود مرزا محمود کے حالات نظر سے گزرے تو یہ سمجھنے پر مجبور ہو گیا کہ یہ اشاعت و تبلیغ مذہب کے نام سے شہوت رانی اور بدکرداری کا ایک شرمناک اڈا قائم کیا گیا ہے۔ چنانچہ میں نے قصر خلافت جو حقیقتاً قصر غلاظت ہے۔ اس کے تمام رنگین و سنگین واقعات کو نظر انداز کر دیا اور مذہبی نقطہ نگاہ سے غلام احمدیت یعنی قادیانیت کو پرکھنے کے لئے اپنے طور پر تحقیق شروع کر دی۔ اس سلسلہ میں بعض علماء کرام سے بات چیت شروع کی جو اس مذہب باطلہ سے تعلق نہیں رکھتے تھے۔

مولانا منظور احمد چنیوٹی سے تبادلہ خیال

علماء کرام میں سے ایک پاک سیرت علوم باطنی و ظاہری سے پر، جو اس وقت میرے

٦

استاد ہیں۔ یعنی حضرت مولانا منظور احمد صاحب ہیں۔ آپ نے میری اس طرح مدد کی جس طر حق ہوتا ہے۔ خاکسار ہر دوسرے تیسرے روز رہا۔ ہماری گفتگو عموماً حیات و ممات مسیح، رفع و نزو اور جسمانی معراج کے موضوعات پر ہوتی رہی۔ ی رہتی تھی۔ لیکن حضرت مولانا صاحب اپنا قیمتی وقت لئے بے دریغ خرچ کرتے چلے گئے۔

آخر حضرت مولانا صاحب نے میرے س دارومدار ہے تار و پود بکھیر کر رکھ دیا۔ اس طریقہ سے اور میں حق و صداقت کے سامنے بہ صدق دل سر جھکا نکل آیا۔ جس کے اندر میں اپنی سادہ لوحی اور خاندانی اس طرح توفیق خداوندی نے مجھے از سر نو حلقہ بگوش اس علیٰ ذالك!

متوقع مشکلات

مجھے معلوم ہے کہ اب مرزائی حضرات کی ط دشنام طرازیاں کی جائیں گی۔ میرے سامنے مصیبتوں سب سے بڑا پہاڑ میرا اپنا خاندان ہوگا۔ لیکن مجھے ان

پروا نہیں جو آج ز
رستہ وہی چلوں گا جو ٹھیک

میری آرزو اور دعا

زمانہ ہمیشہ حق قبول کرنے والوں کی مخال ان تمام احمدی بھائیوں اور بزرگوں کی خدمت میں در اور جھوٹی ثابت ہونے پر سچے مذہب اسلام میں داخ

٧

صفحہ ٢٠٤

استاد ہیں۔ یعنی حضرت مولانا منظور احمد صاحب چنیوٹی صدر مدرس جامعہ عربیہ چنیوٹ قابل ذکر ہیں۔ آپ نے میری اس طرح مدد کی جس طرح ایک صراط مستقیم کی طرح رہبری کرنے والا مرد حق کرتا ہے۔ خاکسار ہر دوسرے تیسرے روز ربوہ سے چنیوٹ عرصہ ڈیڑھ دو ماہ تک آتا جاتا رہا۔ ہماری گفتگو عموماً حیات و ممات مسیح، رفع و نزول، اجراء و ختم نبوت، حضور پاک ﷺ کے روحانی اور جسمانی معراج کے موضوعات پر ہوتی رہی۔ ہماری بحث دو دو تین تین گھنٹے تک متواتر ہوتی رہتی تھی۔ لیکن حضرت مولانا صاحب اپنا قیمتی وقت اس عاجز اور گم کردہ راہ کو راہ مستقیم پر لگانے کے لئے بے دریغ خرچ کرتے چلے گئے۔

آخر حضرت مولانا صاحب نے میرے سامنے ان تمام باطل عقائد کا جن پر مرزائیت کا دارومدار ہے تار و پود بکھیر کر رکھ دیا۔ اس طریقہ سے کہ میری عقل و فہم کے چودہ طبق روشن ہو گئے اور میں حق وصداقت کے سامنے بہ صدق دل سر جھکانے پر مجبور ہو گیا اور اس غار ضلالت سے باہر نکل آیا۔ جس کے اندر میں اپنی سادہ لوحی اور خاندانی ماحول کی وجہ سے کئی سال تک بھٹکتا رہا اور اس طرح توفیق خداوندی نے مجھے از سر نو حلقہ بگوش اسلام ہونے کی سعادت بخشی۔ فله الحمد علی ذالك!

متوقع مشکلات

مجھے معلوم ہے کہ اب مرزائی حضرات کی طرف سے مجھ پر طرح طرح کے الزامات اور دشنام طرازیاں کی جائیں گی۔ میرے سامنے مصیبتوں کے پہاڑ بن کر کھڑے ہو جائیں گے اور سب سے بڑا پہاڑ میرا اپنا خاندان ہوگا۔ لیکن مجھے ان باتوں کا کوئی خوف نہیں ہے۔

پروا نہیں جو آج زمانہ خلاف ہے
رستہ وہی چلوں گا جو ٹھیک اور صاف ہے

میری آرزو اور دعا

زمانہ ہمیشہ حق قبول کرنے والوں کی مخالفت کرتا آیا ہے اور ابد تک کرتا رہے گا۔ میں ان تمام احمدی بھائیوں اور بزرگوں کی خدمت میں درخواست کرتا ہوں کہ وہ بھی مرزائیت کو پرکھیں اور جھوٹی ثابت ہونے پر سچے مذہب اسلام میں داخل ہوں اور اپنی فریب کاریوں، دھوکہ دہیوں

٧

صفحہ ٢٠٤

اور دشنام طرازیوں سے توبہ کر لیں اور میرے پیارے آقا حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی شان میں بے ادبی کرنے سے باز آ جائیں۔ مرزا غلام احمد حضور ﷺ کے درجہ تک کیا پہنچیں گے؟

یہاں شاہ لولاک کے قدموں کو چوما
نہیں عقل کو بھی مجال پرزنی جس جا

میں امید کرتا ہوں کہ میرے اس بیان کو ٹھنڈے دل سے پڑھا جائے گا اور اس پر زیادہ سے زیادہ غور کیا جائے گا اور میری گزارش پر عمل کیا جائے گا۔

لباس خضر میں یاں سینکڑوں رہزن بھی پھرتے ہیں
اگر دنیا میں رہنا ہے تو کچھ پہچان پیدا کر

بھائیو اور بزرگو! دعا کرو کہ اللہ تعالیٰ تمام منکرین اسلام کو اسلام جیسی نعمت کبریٰ عطاء فرمائے اور مجھے اسلام کی زیادہ سے زیادہ خدمت کرنے کا موقع دے۔ والسلام!

قاضی خلیل احمد صدیقی تائب، سابق متعلم جامعہ عربیہ چنیوٹ

مرزائیوں کی دو ورقی کی ضروری وضاحت

اس رسالہ نے مرزائیوں کی قلعی کھول کر رکھ دی۔ مرزائی اس سے سخت پریشان ہوئے اور انہوں نے اس کی تردید میں ایک دو ورقی خط بعنوان ”مولوی منظور احمد چنیوٹی کے نام کھلی چٹھی“ ربوہ سے شائع کیا جو بالکل جعلی اور سراسر جھوٹ ہے۔

مسجد میں حلفیہ بیان میں کہا کہ یہ خط من گھڑت ہے اور بالکل جعلی ہے۔ میں الحمد للہ! اپنے سابقہ بیان پر علیٰ حالہ قائم ہوں اور انشاء اللہ! قائم رہوں گا۔ میرا اس خط کے مضمون سے قطعاً کوئی تعلق نہیں ہے۔

ہمارے پاس دو عدد خط موجود ہیں ان کے علاوہ ایک اور بیان بھی موجود ہے جس میں خلیفہ آنجہانی مرزا بشیر الدین محمود کی چھوٹی اہلیہ مہر آپا اور چھوٹے لڑکے مرزا نعیم احمد کے متعلق مؤکد بعذاب حلفیہ شہادت موجود ہے۔

اگر قادیانی حضرات برا نہ منائیں اور تحریری اجازت دیں تو اسے منظر عام پر لایا جاسکتا ہے۔ جس سے خاندان خلافت کے تمام راز سربستہ آشکارا ہو جائیں گے جو قاضی صاحب نے اس رسالہ میں اشارۃً ذکر کئے ہیں۔ کیا قادیانی حضرات اس کی اجازت دیں گے؟

٨

پاپائے ربوہ کے خلاف

مرزائیوں کی رو

عبد الرزاق م

PDF 206

خاتم النبیین لا نبی بعدی

پاپائے ربوہ کے خلاف ایک مرید کا استغاثہ

مرزائیوں کی روحانی شکار گاہ

عبدالرزاق مہتہ قادیانی

صفحہ ٢٠٦

دیباچہ!

یہ غنڈہ گردی کیوں؟

”عبدالرزاق مہتہ“ جماعت احمدیہ کراچی میں ہی نہیں پاکستان بھر کے قادیانیوں میں ممتاز حیثیت کے حامل ہیں۔ ان کے والد بھائی عبدالرحمن قادیانی نے قادیانیت کی خاطر اپنے آبائی مذہب کو الوداع کہہ کر اپنا سب کچھ برطانوی سرکار کے اس خودکاشتہ پودا کے لئے وقف کر دیا اور یوں بارگاہ نبوت کاذبہ میں ایک اہم مقام حاصل کر لیا۔ پیسہ تو ربوہ کے ”خاندان نبوت“ کی اتنی بڑی کمزوری ہے کہ وہ اس کے حصول کے لئے اخلاق شرافت و عزت کیا عصمت تک کو داؤ پر لگا دیتے ہیں۔ مہتہ صاحب کی قربانیاں رنگ لائیں اور وہ ”خاندان“ سے قریب تر ہوتے گئے۔ ان کے اخلاص میں حماقت کی حد تک اضافہ ہو گیا تو وہ مرزا محمود احمد قادیانی کی خلوتوں کے ساتھی بن گئے۔ ان کی بیگمات و صاحبزادیوں کے ساتھ مجرے اڑاتے اور احمدیت کی برکات کے ترانے گاتے رہے۔ ایک مرتبہ خود مرزا محمود سے سدومیت کا عملی شوق بھی فرمایا۔ فوٹوگرافی کے رسیا ہونے کی وجہ سے انہوں نے اجنتا اور ایلورا کی غاروں کے مناظر کو کیمرے کی گرفت میں لے کر ہمیشہ کے لئے محفوظ بھی کر لیا۔ مگر آفریں ہے ان کی ہمت مردانہ پر کہ یہ سب کچھ دیکھنے اور کرنے کے بعد بھی احمدیت کی صداقت پر ان کا ایمان متزلزل نہیں ہوا۔ ان رنگین تصویروں کے حصول کے لئے ان کے گھر میں امور عامہ کے ذریعہ چوریاں کروانے کی کوشش کی گئی۔ غنڈہ گردی کے کئی واقعات ظہور میں آئے۔ مگر مہتہ صاحب کا قادیانیت پر ایمان بڑھتا گیا۔ جب معاملات حد سے زیادہ تجاوز کر گئے تو انہوں نے امیر جماعت احمدیہ کراچی کو ایک درخواست دی کہ مرزا ناصر احمد خلیفہ ثالث میرے خلاف جو اوچھے ہتھکنڈے استعمال کر رہے ہیں ان کے خلاف تحقیقات کروائی جائے۔ یہ درخواست اس لحاظ سے حماقت کا نقطہ عروج ہے کہ نام نہاد خلیفہ سالوس کا مقرر کردہ ایک امیر خود اس خلیفہ کے خلاف کیا تحقیقات کر سکتا ہے جس کی اپنی امارت اس Appointing Authority کے اشارہ ابرو کی محتاج ہے۔ لیکن اس ضمن میں انہوں نے ان مظالم کے جو اسباب بیان کئے ہیں انہیں پڑھ کر ایک شریف النفس انسان لرزہ براندام ہو جاتا ہے۔ عصمت و عفت کو بازیچہ اطفال بنانا تو قادیانیت کے ارکان خمسہ میں سے ہے۔ قتل و غارت گری میں بھی وہ بدنام زمانہ کارلوس کے مثیل و بروز ہیں۔ نطلی کا قتل تو کراچی میں ہوا ہے۔ کیا

٢

حکومت پاکستان ان کی نعش کا پوسٹ مارٹم کروا کر ا مرزا ناصر احمد تو طاہرہ خان کے عشق ہیں۔ اب اس خاندان کا تیسرا گدی نشین مرزا کام لے کر اپنے مخالفین پر عرصہ حیات تنگ کر دیکھتے ہوئے ٹک ٹک دیدم دم نہ کشیدم کے مصدا ربوہ کی زمین کی لیز ختم نہیں کی جاتی، وہاں چندہ کا نہیں دیا جاتا یہ غنڈہ گردی ہوتی رہے گی۔

بسم اللہ الرحمٰن بخدمت جناب سیکرٹری صا السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ،

مندرجہ ذیل واقعات مظالم جن میں بھی مرہون منت ہے جس کی تفصیل قدرے بیا کہ مظالم اپنی حد سے تجاوز کر گئے ہیں۔ براہ کرم میں کارروائی، تحقیق فرما کر مشکور فرمائیں۔ یہ خی

آغاز مظالم

١٩٤٦ء میں احرار کا شور شرابا، جما میں مگن، کور ٹروپ لیڈر کی حیثیت سے ایک اہم مرزا ناصر احمد کو انکی کوٹھی پہنچانے بھیجا۔ عریضہ ہ دو۔ جواباً کہا کہ مجھے پہلے اپنے کمانڈنٹ کو ان پس پھر کیا تھا حکم عدولی پر پرنس آف ویلز، ڈکٹیٹر خدام الاحمدیہ (جس کے یہ حضرت کمانڈنٹ تھے ان کمانڈنٹ صاحب نے روک کر کے دوسرے چو نام چھوڑ کر کسی دوسرے کا چناؤ کیا جائے۔" کیو

صفحہ ٢٠٧

حکومت پاکستان ان کی نعش کا پوسٹ مارٹم کروا کر مجرموں کو کیفر کردار تک نہیں پہنچا سکتی۔ مرزا ناصر احمد تو طاہرہ خان کے عشق میں کشتہ کی نسبتاً زیادہ مقدار کھا کر سورگباش ہو چکے ہیں۔ اب اس خاندان کا تیسرا گدی نشین مرزا طاہر احمد ظلم و تشدد کے انہی وحشیانہ ہتھکنڈوں سے کام لے کر اپنے مخالفین پر عرصہ حیات تنگ کر رہا ہے۔ کیا حکومت یہ سارا تماشا اپنی آنکھوں سے دیکھتے ہوئے ٹک ٹک دیدم دم نہ کشیدم کے فشار میں گرفتار رہے گی۔ ہماری رائے میں جب تک ربوہ کی زمین کی لیز ختم نہیں کی جاتی، وہاں چند کارخانے نہیں لگائے جاتے اور ربوہ کو تحصیل کا درجہ نہیں دیا جاتا یہ غنڈہ گردی ہوتی رہے گی۔ نیاز کیش، ابن الحسین گورگانی!

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

بخدمت جناب سیکرٹری صاحب امور عامہ جماعت کراچی

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ،

مندرجہ ذیل واقعات مظالم جن میں ایک حصہ مظالم جماعت کراچی کی ستم ظریفیوں کا بھی مرہون منت ہے جس کی تفصیل قدرے بیان خدمت کرتے درخواست کرتا ہوں کہ اب جب کہ مظالم اپنی حد سے تجاوز کر گئے ہیں۔ براہ کرم آپ سے گزارش ہے کہ اس تفصیل مظالم کی روشنی میں کارروائی، تحقیق فرما کر مشکور فرمائیں۔ یہ خیال رہے کہ یہ بیالیس سالہ مظالم کی داستان ہے۔

آغاز مظالم

١٩٤٦ء میں احرار کا شور شرابا، جماعتی انتظام میں ہر کور کمانڈنٹ اپنے اپنے فرائض میں مگن، کورٹرپ لیڈر کی حیثیت سے ایک اہم امر کی تحریر، مجھے میرے کمانڈنٹ نے صاحبزادہ مرزا ناصر احمد کو انکی کوٹھی پہنچانے بھیجا۔ عریضہ لیتے مجھے حکم ہوتا ہے کہ یہ لاٹھیاں ابھی فلاں جگہ پہنچا دو۔ جواباً کہا کہ مجھے پہلے اپنے کمانڈنٹ کو ان کے حکم کی تعمیل کی اطلاع دینی ہے۔ لہذا مجبور ہوں پس پھر کیا تھا حکم عدولی پر ٹس آف ویلز، ڈکٹیٹرانہ انتقامی جذبہ، محاذ میرے خلاف بنایا جاتا ہے کہ خدام الاحمدیہ (جس کے یہ حضرت کمانڈنٹ تھے) کا محصل مجھے بلا مقابلہ حلقہ نے منتخب کیا۔ جسے ان کمانڈنٹ صاحب نے رد کر کے دوسرے چناؤ کا حکم فرمایا۔ پھر مجھ پر ڈکٹیٹرانہ حکم یوں کہ اس کا نام چھوڑ کر کسی دوسرے کا چناؤ کیا جائے۔ ”کیوں جناب ہے نا“

٣

صفحہ ٢٠٨

یہ تو رہی جڑ مظالم! اب اس جڑ سے تنا اور پھر چوٹی کیونکر؟ اب اس کے بعد وقتاً فوقتاً میرے خلاف من گھڑت مقدمات اپنے اثر و رسوخ سے امور عامہ اور اس کی ہدایات کے ذریعے جہاں قائم کروائے جاتے وہاں مجھے بدنام کرنے کے جو بھی ہتھکنڈے استعمال کر سکتے، کرتے۔

یہاں تک کہ ضلالت کی حد یوں کی گئی کہ مجھے پھانسنے کے لئے عورتوں پر خرچ کرنے سے بھی دریغ نہ کیا جاتا۔ ایک دفعہ مستری دین محمد عرف بلا مستری جس کے پاس ایک گھوڑی تھی۔ خلیفہ ثانی کی روانگی برائے ڈلہوزی نہر تتلے کے قریب سائیکل پر سوار چند دوست الوداع کہنے جا رہے تھے کہ یہ منصوبہ یوں بنا کہ مستری بلے کو مجھ پر گھوڑی چڑھانے، جان سے مروانے کا حکم دیا۔ جس کی کوشش ناکام ہوگئی۔ ”جسے اللہ رکھے اسے کون چکھے“ امور عامہ کی ہدایات کے مطابق چار پانچ مشٹنڈوں کو میرے گھر چوری کی غرض سے داخل کیا۔ مقصد دراصل تلاش تصاویر عیاشیاں تھی۔ پہلی رات ناکامی پر دوسری صبح مجھے حضور لاہور کام سے بھجوا دیتے ہیں۔ اس طرح دوسری رات ایک کمرہ میں مصروف تلاش ہی تھے۔ جب کہ میری بیوی اور والدہ محترمہ ہی گھر پر تھیں۔ میری بیوی نے اوپر کچھ آہٹ پاکے والدہ محترمہ کو ہوشیار کیا۔ وہ ماشاء اللہ دلیر تھیں۔ للکارا تو وہ مشٹنڈے سر پر پاؤں رکھ کر رفو چکر ہوگئے۔ (کمرہ بھی مکرم بھائی کا) اب ذرا غور فرمائیں خدا کو حاضر ناظر جان کر بتائیں کیا یہ موزوں و مناسب وقت تھا۔ ”کون سا“ میری بیوی ایام زچگی کے چھٹے دن میں تھی۔ (بہ پیدائش بچہ عبدالباسط، مورخہ یکم ستمبر ١٩٤٠ء) ٦ ستمبر ١٩٤٠ء کو اپنے زرخرید سب انچارج چوکی قادیان، ہزارہ سنگھ کو معہ دیوان بغیر وارنٹ تلاشی وغیرہ اپنی گارڈ لاتے گھر کا محاصرہ امور عامہ کی معیت میں کرنے گھر میں گھس آیا۔ وقت مقرر تھا۔ عین وقت پر ولی اللہ شاہ بغلیں بجاتا سائیکل سوار ہو کر گزرا کہ آج شکار ضرور ہی قابو آجائے گا۔ اس کے پیچھے پیچھے ناظر اعلیٰ کی سواری چوہدری فتح محمد سیال تماشا دیکھتے گزرتے ہیں۔ تلاش کرنے جو آئے تھے نہ پا کر مجھے اپنے ساتھ لے گیا۔ اتنے میں انچارج صاحب چوکی بھی گورداسپور سے تشریف لے آئے۔ مجھے وہاں دیکھ کر محرر سے معلومات لے کر حکم دیا۔ برخوردار جائیے گھر۔ چوکی سے باہر آ کر حضرت والد صاحب جن کے ساتھ قادیان ہی سے ایک انسان جو فرشتہ تھا، کھڑا کر دیا۔ مخاطب ہوتے کہا: آپ جائیے۔ پھر اگر کوئی بلانے آئے بھی تو مت آئیے۔ میں دیکھ لوں گا۔ اللہ تعالیٰ اس ہمدرد اور اس کے خاندان پر لاکھوں لاکھوں فضل و کرم فرمائے۔ آمین! دوسرے دن کی ٹرین پر انچارج تھانہ پھر گورداسپور تشریف لے ٤

جاتے۔ اس ہزارہ سنگھ کی تبدیلی کے آرڈر لا کر ظلم کی برداشت کب تک۔

تیرے منہ کی ہی
تیری خاطر سے ہ

یہ دل سوز فلک شگاف صدا (حضور بھول سکتے، نہ ہی اس سلسلہ کا خطبہ جمعہ، فرمو جھاڑ پلائی کہ الامان والحفیظ۔ (غیور کے لئے جملہ گواہ ہیں بعد نماز جمعہ ”الفضل“ کے دفتر منتوں خوشامدوں کے ناک رگڑے کہ یہ خطبہ اللہ شاہ پر فالج پڑ گیا۔ لوگوں نے اسے مشور خاکسار) سے معافی مانگ لو۔ جس پر یوں کہا

اب اور سنئے! ایک سکھ لڑکے ۔ پولیس تک پہنچی۔ اس سکھ لڑکے کا باپ اور ماہوار وظیفہ ملتا تھا۔ ان میں سے یہ بھی ا معاملہ بتایا مگر بیٹھے شکار پر نشانہ لگانے کا ا لڑکا بیان دے دے۔

٭

پریس قادیان تو خریدی ہوئی تھی لڑکی کو ہر چند پولیس اور امور عامہ کے حواری کسی دوسرے کی ہوگئی۔ کام ختم، ذلت نے ا

اب چلئے! ذرا ہندو پاک کی پار قادیان کو بسوں کے ذریعہ بھجوانے کے لئے روانگی، مقام، بس نمبر درج تھا۔ باقاعدہ دفتر صاحب نے روانگی سے قبل ہی یہ تحریر کر دیا تھا بھگوڑوں میں نام معہ افراد کنبہ درج فرما دیا۔

صفحہ ٢٠٩

جاتے۔ اس ہزارہ سنگھ کی تبدیلی کے آرڈر لا کر اس کی میز پر ایسے مارے کہ وہ بھنا گیا۔ اس انتہائی ظلم کی برداشت کب تک۔

تیرے منہ کی ہی قسم میرے پیارے احمد
تیری خاطر سے یہ سب بار اٹھایا ہم نے

یہ دل سوز فلک شگاف صدا (حضرت والد صاحب قبلہ ) جسے اہل قادیان کبھی بھی نہیں بھول سکتے، نہ ہی اس سلسلہ کا خطبہ جمعہ، فرمودہ حضور جس میں ولی اللہ شاہ کو ناکامی پر وہ بے نقط جھاڑ پلائی کہ الامان والحفیظ ۔ (غیور کے لئے ڈوب مرنے کا مقام تھا۔ مگر غیرت کہاں ) حاضرین جملہ گواہ ہیں بعد نماز جمعہ ”الفضل“ کے دفتر جا کر ایڈیٹر صاحب خواجہ غلام نبی صاحب کے حضور منتوں خوشامدوں کے ناک رگڑے کہ یہ خطبہ شائع نہ کیا جائے۔ اس صدا کی ہیبت یوں پڑی کہ ولی اللہ شاہ پر فالج پڑ گیا۔ لوگوں نے اسے مشورہ دیا کہ ان سے (یعنی حضرت والد صاحب قبلہ اور خاکسار ) سے معافی مانگ لو۔ جس پر یوں کہا: بھائی جی سے تو معافی مانگ لی ہے۔

اب اور سنئے ! ایک سکھ لڑکے نے ریلوے کوارٹر کی ایک لڑکی کو چھیڑا چھاڑا۔ نوبت پولیس تک پہنچی۔ اس سکھ لڑکے کا باپ اور چچا ممنون تو یوں ہی تھے کہ بعض سکھ گھرانوں کو ماہوار وظیفہ ملتا تھا۔ ان میں سے یہ بھی ایک تھا۔ اس لئے وہ ولی اللہ شاہ کے پاس پہنچے۔ معاملہ بتایا گھر بیٹھے شکار پر نشانہ لگانے کا انتظام ہو گیا۔ کہتے ہیں فکر نہ کرو جس طرح میں کہوں لڑکا بیان دے دے۔

پولیس قادیان تو خریدی ہوئی تھی۔ اس کی بجائے میری شناخت پریڈ کروائی گئی۔ اس لڑکی کو ہر چند پولیس اور امور عامہ کے حواریوں نے میرا حلیہ تک بتا دیا۔ مگر اللہ کی قدرت شناخت کسی دوسرے کی ہوگئی۔ کام ختم، ذلت نے ان کا منہ چوما۔

اب چلئے ! ذرا ہندو پاک کی پارٹیشن کی سیاست کو کہ یہاں کیا گل کھلاتے ہیں۔ اہل قادیان کو بسوں کے ذریعہ بھجوانے کے لئے باقاعدہ تحریری پروگرام بنا جس میں افراد کنبہ، تاریخ روانگی ، مقام، بس نمبر درج تھا۔ باقاعدہ دفتر کی مہر دستخط سرخ سیاہی سے کرتے۔ گو کہ حضرت والد صاحب نے روانگی سے قبل ہی یہ تحریر کر دیا تھا کہ میں قادیان ہی ٹھہروں گا۔ مگر پھر بھی لاہور بورڈ پر بھگوڑوں میں نام معہ افراد کنبہ درج فرما دیا جاتا ہے۔ گویا غیرت کا جنازہ اپنے ہی قلم سے نکالا جاتا

٥

صفحہ ٢١١

ہے ۔ جس پر حضرت والد صاحب قبلہ نے بھی احتجاج فرمایا تو میں نے بھی اس پر کافی لکھا۔ مگر ہٹ دھرمی جواب ندارد۔ اب ملاحظہ فرمائیے:

ایام درویشی حضرت خلیفہ ثانی سے باقاعدہ تحریری اجازت لینے حضرت والد صاحب قبلہ پاکستان تشریف لاتے ہیں۔ موقعہ سے ناجائز فائدہ اٹھاتے بحیثیت نگران درویشاں ڈکٹیٹرانہ انداز میں مکان کا تالا توڑنے، تڑوانے تلاشی (حصول تصاویر) لیتے ناکام و نامراد ہوئے۔ گھر کا کل سامان لوٹا لٹوایا گیا۔ کیوں صاحب! یہی تو ہے ناں ڈکٹیٹری۔ کیا حق تھا تالے توڑنے؟ تڑوانے لوٹ کھسوٹ کرنے کا؟ فرمائیے۔ یہ جذبہ انتقام نہیں تو کیا ہے۔

اب آئیے ذرا جماعت کراچی کے کارنامے اور ان کی حقیقت واصلیت کہ گھمنڈوں اور غروروں کی بھی سیر ہو جائے۔ چوہدری عبداللہ خاں امیر جماعت کے ذریعے نظر عنایت یوں ہوتی ہے کہ میری وصیت کے خلاف ایڑی چوٹی کا زور، جس کی تہہ میں دراصل منہ مانگی رشوت یوں کہ حضور کی آمد کراچی کے موقعہ کی تصاویر۔ ازخود ہر قسم کے اخراجات اٹھاتے پیش حضور عادتاً عقیدۃً پیش کرتا۔ ان چوہدری صاحب نے بھی ایک البم مانگی۔ بعد تیاری مع بل پیش کی۔ آپے سے باہر ہوئے۔ طیش میں نامعلوم کیا کہا؟ آخر مولوی عبدالحمید صاحب نے مجبور کر کے بل دلوایا۔ مگر پارہ چڑھتا ہی گیا۔ دوسری مرتبہ آمد حضور کے موقع پر اٹل توثیق پر ہی ہر چند رکوانے کی ناکام کوشش کرتا رہا اور بیچ لگژری ہوٹل میں ایک ہٹے کٹے کے ذریعے سختی سے نکلوانے کی بھی ناکام کوشش کی۔ میں نے کہا وہ آئی جی پولیس بیٹھے ہیں، جاؤ ان سے شکایت کرو۔ وہ مجھے نکال سکتے ہیں۔ مگر کس کو ہمت ہوتی، ایسی چپت پڑتی کہ ہوش آجاتی۔ اب ذرا انجام دیکھو دوسروں کو ذلیل کرنے والوں کو اللہ کیسے ذلیل کرتا ہے۔ ربوہ جا کر ایک رشتہ کی مانگ پر حضور نے جو پنجابی میں بے نقط سنائیں اور گالیوں کی بھر مار وہ دی کہ ساری کی ساری امارت ہی دھری کی دھری رہ گئی اور برداشت ذلت کر کے دنیا سے رخصت پائی۔

اب باری آتی ہے محترم جناب شیخ رحمت اللہ صاحب کی امارت کی جن کے کان پہلے ہی میرے خلاف بھرے ہوئے تھے۔ رہتی سہی کمی یوں پوری ہوتی ہے کہ بیچ لگژری ہوٹل میں ایک مسئلہ شادی پارٹی پر (جن کا ذکر خطبات الفضل وغیرہ میں بڑے ہی اہتمام، احتشام ، نمائش محض نمائش یا دوسروں کو نصیحت خود را فضیحت کے طور پر ہوتا ) احکامات وغیرہ بیان فرماتے جانے پر شیخ

صاحب محترم کو توجہ دلائی تھی کہ آپے سے باہر ہونے ہو کے جو بھی زہر اگل سکتے تھے، اگلا۔ نہ صرف میری گرامی کے متعلق بھی شدید قسم کے الفاظ استعمال کیے نہ ہوتا تو اس جگہ پر خون خرابہ ہو جاتا۔ باپ کی ذات انشاء اللہ ! آخری دم تک رہے گا۔ نتیجتاً پہلے تو تحریری ایک طرف تو امارت کا خمار تو دوسری طرف بنگلنگ کی ہرن کیا کہ ہوش ٹھکانے آگئے۔ (کاش اس وقت درخواست کی ضرورت ہی پیش نہ آتی۔ یہی سہی کچھ مجھے مجبور کر دیا ہے تو ٹھیک ہے) عقل کے اندھے ای بہتر خیال فرمایا۔ اندر خانہ میری یہی ایک چال تھی طرف ان کا خیال نہ آسکے۔ سو وہی ہوا اور تاریخ میں آج تک تو معافی نامے لکھوائے ہی جاتے تھے۔ ج خصوصاً عاملہ کے علم میں ہے۔ قانونی نوٹس ملتے ہی امیر ہر چند سر پٹکتے مگر جواب وہی فرماتے:”یہ ناممکن

کیسے ممکن ہوا اس خطبہ جمعہ کے نتیجہ میں اطباء پریشان، گیس ٹربل علاج معالجہ کرتے رہے جلسہ کے موقعہ پر قادیان حاضر ہو کر جماعت کر درخواست دعا کی، الوداعی رخصت لیتے۔ پہلے اور فرمایا:”بیٹا بے فکر ہو کر جاؤ میں نے جسے درخواست

غور طلب یہ کہ ظلم وستم عروج پر تھا۔ ب بلوالیا۔ کیسے درخواست قبول فرمائی۔ سبحان اللہ ! ب جلدی غسل کیا۔ احرام باندھ کر مکہ روانہ ہوئے سنتیں ادا کر کے سعی سے فارغ ہو کر جو دعا کے ل شریف پر موسلا دھار بارش ہو رہی ہے اور آواز

صفحہ ٢١١

صاحب محترم کو توجہ دلانی تھی کہ آپے سے باہر ہوئے میرے خلاف خطبہ جمعہ کے اسٹیج پر کھڑے ہو کے جو بھی زہر اگل سکتے تھے، اگلا۔ نہ صرف میری ذات تک بلکہ حضرت والا صاحب کی ذات گرامی کے متعلق بھی شدید قسم کے الفاظ استعمال کئے جو نا قابل برداشت تھے۔ خطبہ میں بولنا منع نہ ہوتا تو اس جگہ پر خون خرابہ ہو جاتا۔ باپ کی ذات گرامی ہو تو میرا آخری قطرہ خون حاضر تھا اور انشاء اللہ! آخری دم تک رہے گا۔ نتیجتاً پہلے تو تحریری کوشش کی کہ اس طرح ازالہ کرلیں۔ مگر نہ جی ایک طرف تو امارت کا خمار تو دوسری طرف بینکنگ کی شہ۔ مجبوراً قانونی نوٹس دیا۔ جس نے ایسا نشہ ہرن کیا کہ ہوش ٹھکانے آ گئے۔ (کاش اس وقت ہی اگر یہ معاملہ سلجھ جاتا تو مجھے آج اس درخواست کی ضرورت ہی پیش نہ آتی۔ یہی سبھی کچھ اس وقت بھی منظر عام پر آ جانا تھا۔ خیر اب مجھے مجبور کر دیا ہے تو ٹھیک ہے ) عقل کے اندھے ایسے ہی تو ہوتے ہیں۔ معافی نامہ لکھ کر دینا بہت بہتر خیال فرمایا۔ اندر خانہ میری یہی ایک چال تھی کہ روز ایسے ہی سٹیج پر گرتے رہیں اور دوسری طرف ان کا خیال نہ آسکے۔ سو وہی ہوا اور تاریخ میں یہ پہلا معافی نامہ ہے جو لکھ کر دیا گیا۔ ورنہ آج تک تو معافی نامے لکھوائے ہی جاتے تھے۔ معافی نامہ لکھ کر دینے کا معاملہ جماعت کراچی خصوصاً عاملہ کے علم میں ہے۔ قانونی نوٹس ملتے صبح صبح ہی جناب چوہدری احمد مختار صاحب نائب امیر ہر چند سر پٹکتے مگر جواب وہی فرماتے : ” یہ ناممکن ہے کہ شیخ صاحب اپنے الفاظ واپس لیں۔“

کیسے ممکن ہوا اس خطبہ جمعہ کے نتیجہ میں۔ میرا خون اس قدر کھولا کہ بیان سے باہر۔ اطباء پریشان، گیس ٹربل علاج معالجہ کرتے رہے۔ حضرت والد صاحب کی خدمت میں سالانہ جلسہ کے موقعہ پر قادیان حاضر ہوکر جماعت کراچی کے آئے دنوں کے مظالم و ستم کے لئے درخواست دعا کی، الوداعی رخصت لیتے ۔ پہلے اور آخری مرتبہ ان کے سینہ سے چپکا۔ جس پر یوں فرمایا : ” بیٹا بے فکر ہوکر جاؤ میں نے جسے درخواست دینی تھی دے دی ہے ۔“

غور طلب یہ کہ ظلم وستم عروج پر تھا۔ جب میرے مولا نے مجھے اپنے در پر عمرہ کے لئے بلوالیا۔ کیسے درخواست قبول فرمائی۔ سبحان اللہ! ہوائی جہاز عصر کے قریب مجھے جدہ لے گیا۔ جلدی جلدی غسل کیا۔ احرام باندھ کر مکہ روانہ ہوئے اور دوسری رکعت نماز مغرب میں شامل ہوئے۔ سنتیں ادا کر کے سعی سے فارغ ہو کر جودعا کے لئے بیٹھا۔ مشغول دعا تھا کہ نظارہ یوں نظر آیا کہ حرم شریف پر موسلادھار بارش ہو رہی ہے اور آواز یوں آئی مانگ آج جو مانگنا ہے قبول ہے۔ واہ

٧

صفحہ ١٣

اے مولا تیری قدرت! اور بھید کس نے پائے قربان تیری قدرت پر جو مانگا اللہ نے دیا اور دکھایا صرف ایک مانگ اپنی کسی غلطی کی وجہ سے صحیح نہ مانگ سکا اس کا بھید اللہ ہی جانتا ہے۔

قصہ مختصر شیخ صاحب محترم کے لئے حقیقت میں بہت سخت بددعا کرتا رہا اور ایک مانگ یہ بھی کہ الٰہی اب جب کہ تو نے اپنے فضل سے اپنے در پر بلا لیا ہے۔ ہم گنہگار، غریب، کمزور، ناتواں اور پھر ملکی قرعہ اندازیاں تو اپنا فضل فرما اور اس فریضہ حج سے بھی نواز دے اور لالچ یوں بڑھتا گیا کہ بچوں کی والدہ کو بھی بلوا دے۔ الحمد للہ، الحمد للہ! کہ اللہ نے قبول فرمائے۔ سال بھر مدینہ زیارتوں کے فیوض سے بارآور ہونے کے مواقع عطاء فرمائے۔ ہاں تو عرض کر رہا تھا محترم شیخ صاحب کے متعلق، ایام حج بالکل قریب آگئے ۔ مجھے حکم ہوتا ہے حج کا اور ان کے لئے عمرہ کا۔ میں شیطان کو دھتکارتا کہ تو پھر ورغلانے آ گیا۔ الغرض دوسرے جمعہ پھر تیسرے بھی وہی حال جس کے بعد چوتھے جمعہ یہ عرض کرتے کہ الٰہی اگر تیری رضا یہی ہے کہ میں ان کے لئے عمرہ کروں سو آج حاضر ہوں۔ احرام باندھا نیت عمرہ محترم شیخ صاحب کی کر کے، عمرہ ادا کرنے کے لئے روانہ ہوا۔ کہا الٰہی اب یہ معاملہ تیرے سپرد ہے۔ میرا دل ان کی طرف سے بالکل صاف ہے۔ کوئی رنج غم نہیں۔ الحمد للہ! کہ آج تک محبت پیار سے ملتے ملاتے ہیں۔

مفصل محاکمہ محترم شیخ صاحب کے پاس ہوگا۔ ان سے تصدیق کی جاسکتی ہے۔ اب رہا وصیت کا معاملہ، مسودہ خلیفہ ثانی کی بیماری کی وجہ سے نگران بورڈ میں حضرت مرزا بشیر احمد صاحب کی خدمت میں پیش کیا۔ انہوں نے معاملہ سلجھانے اور اصل معاملہ کا ذکر نہ فرمانے کی ناکام کوشش کی۔ جب کہ میں ان کی ایک کتاب سیرۃ المہدی کی ایک تحریر کے مطابق اپنا حق مانگنے میں بضد تھا۔ (بقیہ حصہ آگے بیان کروں گا) انہوں نے مجبور ہو کر فائل حضرت مرزا عبدالحق صاحب ایڈووکیٹ کو جو غالباً نگران (نائب) تھے ملاحظہ کرنے کو دی۔ بعد ملاحظہ یوں تحریر فرمایا: ”ان کی طبیعت میں ضد پائی جاتی ہے۔ دوسرے جماعتی کاموں میں حصہ نہیں لیتے۔“ یہ اس وجہ سے غلط تھا کہ دوبارہ میرا بلا مقابلہ منتخب ہونا رد کر دیا تھا۔ (یہ دوسرا واقعہ بلا مقابلہ رد کرنے کا ہے۔ پہلا کمانڈنٹ ڈکٹیٹر مرزا ناصر احمد کا۔ پھر جماعتی کاموں میں حصہ نہیں لیتے ، غلط ہوا) کیا ہی خوب واقعی صحیح نقطہ پکڑا کہ طبیعت میں ضد (فرمائیے ضد، غصہ قدرتی اور فطرتی ہے کہ نہیں) پھر بھی صدر انجمن جس کے انچارج ڈکٹیٹر صاحب بہادر تھے۔ وصیت منسوخ کروا دی۔ حالانکہ منسوخی یا بحالی خلیفہ

٨

وقت کا اختیار ہوتا ہے۔ ٹھیک ہے میری وصیت دیکھیں کیا ہوتا ہے۔

اب آخری ان کا شیوہ، تقدس مآبی بھی خاندان میں پھوٹ، میاں بیوی میں کرانے، ماں باپ کو بچوں سے کٹانے (علیحدہ کر نا تو ان کی ڈکشنری میں کہیں بھی نہیں ملتا) چلتے اپنا ڈھونگ پیٹتے نئی نسل کے رسل رسائل پر گہری نظر رکھنا، مفاد حاصل کرتے رہنا۔ جہاں کوئی ذرہ سا بچہ جس کے ہتھے چڑھا، اپنی روحانیت کا پھندا، ہر قسم کے وہ وہ حربے، خاندانوں کی بڑائی، عہدوں کے لالچ طمع، کام آئے یا نہ، مقصد اپنا اثر و رسوخ جتانا ، ان کے ہمراہ گھومنا پھرنا، یہ ثابت کرنا کہ ہم حق و اخلاص کے حامل ہیں۔

خاندان تمہارا، تم خاندان مغلیہ سے تعبیر کرتے ہو۔ پہلے تو ہم کو مکان سے نکلوایا یہ کہتے ہوئے کہ بات چیت کرنے میں مشکل پیش آتی ہے۔

اب دھمکانا شروع ہو گیا ہے۔ پہلے تو وہم و گماں میں ڈال دیا۔ مطلب ایک طرف پیسہ کھینچنا اور دوسری طرف نکلوانے کا شاید آپ کو یاد ہو گا، فون پر ایک فقرہ

اب اصل مقام غور ہے۔ ذرا توجہ سے سنیے! کہا جاتا ہے کہ جلسہ میں ہمارے گھر رہیں، دوسری طرف سوتیلا بھائی مرزا طاہر ۔ دیکھئے ایک صاحب مع اہلیہ ہمارے ہاں آئیں اور کہیں قیام کریں؟ پھر یکدم ان کے گلے لگ گئے جو ایک دوسرے سے

صفحہ ٢١٣

وقت کا اختیار ہوتا ہے۔ ٹھیک ہے میری وصیت تو منسوخ کرتے کراتے خوش ہو گئے۔ آگے دیکھیں کیا ہوتا ہے۔

اب آخری ان کا شیوہ تقدس مآبی بھی ملاحظہ فرما لیجئے۔

خاندان میں پھوٹ، میاں بیوی میں ناچاقیاں! ایک دوسرے کی جاسوسیاں کرنے کرانے، ماں باپ کو بچوں سے کٹانے (علیحدہ کرنے) کی شاطرانہ چالیں، ہر رنگ ہر چال (جائز تو ان کی ڈکشنری میں کہیں بھی نہیں ملتا) چلتے اپنا الو سیدھا کرنا، شیوہ مخلصی کے بلند بانگ دعوٰی کا ڈھونگ پیٹتے نئی نسل کے رسل رسائل پر گہری نظریں رکھنا کہ ملازمین سے چوری چھپے کوائف وقتاً فوقتاً حاصل کرتے رہنا۔ جہاں کوئی ذرہ سانچہ پڑا پھر وہاں ایسے چمٹتے ہیں۔ جیسے گدھ مردار پر جس کے بعد اپنی روحانیت کا میٹھا زہر، ہر قسم کے سبز باغ دکھاتے، دماغوں میں بھوسہ بھرنے کے وہ وہ حربے، خاندانوں کی بڑائی، عہدوں کے لالچ چہ جائیکہ کوئی ان کو جاننے یا نہ جانے، جماعت میں کبھی آئے یا نہ، مقصد اپنا اثر و رسوخ جتانے، جونک کی طرح چپکے خون چوسنا، ان کی کاروں میں ان کے ہمراہ گھومنا پھرنا، یہ ثابت کرنا کہ جن کو ہم بلند کہتے ہیں۔ وہ ہر رنگ میں بڑے ایمان واخلاص کے حامل ہیں۔

خاندان تمہارا، تم خاندان مغلیہ سے ہو، تو شہزادیاں ہو۔ چنانچہ یہی چال میرے خلاف استعمال کی۔ پہلے تو ہم کو مکان سے نکلوایا یہ کہتے ہوئے کہ طاہر و غیرہم کو تمہاری موجودگی میں بزنس کی بات چیت کرنے میں مشکل پیش آتی ہے۔ شہزادے شہزادیوں کا درد اپنے بہن بھائیوں کو بھی اب دیا جانا شروع ہو گیا ہے۔ پہلے تو وہم و گمان نہ تھا۔ ادھر سیکرٹری شپ لجنہ کے کاموں میں دلوادی۔ مطلب ایک طرف پیسہ کھینچنا اور دوسری طرف اپنی مطلب براری (یہاں ایک سوال، گھر سے نکلوانے کا شاید آپ کو یاد ہوگا، فون پر ایک فروخت کے سلسلہ میں تھا)

اب اصل مقام غور ہے۔ ذرا توجہ سے سنئے گا۔ ایام جلسہ میں شمولیت پر یوں فون پر فون کئے کرائے جاتے ہیں کہ جلسہ میں ہمارے گھر ٹھہرنا ایک طرف مرزا انور برادر مرزا ناصر احمد تو دوسری طرف سوتیلا بھائی مرزا طاہر۔ دیکھئے ایک دوسرے سے کیسی چاہت رکھتے ہیں کہ باسط صاحب مع اہلیہ ہمارے ہاں آئیں اور کہیں قیام نہ کریں۔ مقام غور ہے۔ آخر وہ کون سے سرخاب کے پر یکدم ان کو لگ گئے جو ایک دوسرے سے بازی لینے کی فکر میں فونوں پر فون ہوتے ہیں۔

٩

صفحہ ٢١٥

اب ذرا آپ بھی اپنے گریبان میں منہ ڈالئے۔ اپنا محاسبہ کریں کہ آپ تو ہیں ہی ماشاء اللہ سیکرٹری امور عامہ۔ چلئے! محترم امیر جماعت صاحب کی ذات کو ہی لیجئے۔ اگر آپ کو کبھی ایسا بلاوا آیا ہو تو فرمائیے۔ آیا خیال شریف میں عقدہ حل ہوا۔ صحیح ثابت ان کے حربے ہوئے یا ابھی نہیں۔ غالباً ابھی نہیں۔ فکر نہ کریں۔ ثابت کر کے دکھاؤں گا۔ جناب یہ تو موٹے موٹے مظالم تھے جو عرض کر دیئے ۔ اس کے علاوہ معمولی دوچار ہوں گے۔ کوشش تو کرتا ہوں کہ مختصر کروں۔ لیکن ٤٢ سالہ مظالم کو سمجھنے کے لئے آپ کو قدرے وضاحت تو چاہئے۔

حضرت محترم سیکرٹری صاحب یہ تو تھے ٤٢ سالہ مظالم۔ کرنے کرانے کے لئے ایڑی چوٹی کا پورا زور لگالیا۔ سوال اب یہ ہوتا ہے کہ ان میں ہے کوئی ماں کا لال جو یہ بتائے، دکھائے کہ اتنے مقدمات ، اتنے جھوٹے منصوبے حیلے حوالے ان میں سے کتنوں میں مجھے مجرم و ملزم ثابت کیا کر دیا یا کم از کم یہی سہی کتنوں میں مجھے کم از کم سرزنش کرتے کراتے وارننگ دیتے۔ دستخط کروائے۔ جب کہ امور عامہ کی فائلوں پر فائلیں بھری۔ بھروائیں۔ یا محض جھک مارنا مقصد تھا۔ ڈوب مرنے کا مقام ہے۔ ”فاعتبروا یا اولی الابصار“ ہاں البتہ میری، میرے خاندان کی عزت دوسروں کی نظروں میں گرانی چاہی۔ قادیان کے گلی کوچوں اور جماعت کراچی کی نظروں میں بھی کھینچا تانی فرماتے۔ بغلیں بجاتے ۔ تماشا مدعی کبریا کی دیکھتے دکھاتے ۔ پھر تقدس مآبی کا لبادہ پہننے میں ضرور کامیاب ہوتے ۔ یہاں ایک واقعہ یاد آ گیا۔ ایک جمعہ کی نماز کے بعد سڑک پر کھڑا تھا کہ حضرت امیر جماعت چوہدری احمد مختار صاحب گزرے ۔ سلام کلام ہوا۔ سبحان اللہ ! کیا ہی انداز میں فرماتے ہیں ۔ مہتہ صاحب! کوئی جلوہ دکھاؤ گویا ہمارے امیر صاحب جلوہ دیکھنے کو ترستے ہیں۔ کوشش کروں گا ان کی دلی آرزو پوری کر سکوں تاکہ حسرت تو نکل سکے۔

جلوہ بھی ایسا دکھاؤں گا کہ جو واقعی جلوہ دیکھنے کے لئے ترستے ہیں ۔ نہ صرف انہوں نے بھی عمر میں ایسا جلوہ نہ دیکھا ہوگا۔ بلکہ سلسلہ احمدیہ تو درکنار دنیائے اسلام کی تاریخ میں بھی کبھی نہیں ہوا، نہ ہو سکتا ہے۔

پھر بھی ان کے ٤٢ سالہ مظالم ہر رنگ میں برداشت کئے ۔ منہ سے لفظ تک نہ نکالا ۔ شکوہ تو درکنار، اب جب کہ انہوں نے یہ اپنا آخری ذلیل حربہ کمر میں چھرا گھونپا۔ کوئی فکر نہیں تم صبر کرو وقت آنے دو ۔ بے شک دل و دماغ شل ہوئے ۔ دماغی طور پر ٹارچر ہوئے۔ احساس کمتری

کا شکار ہوئے ۔ نتیجتاً طبیعت میں غم وغصہ نفرت اور ضد فطری تقاضا انسانیت ہے۔ یقیناً یقیناً آپ بھی اس سے میں موقع محل کے لحاظ سے بات چیت کے قابل نہیں پا فکر کے آثار رہتے ۔ بیوی بچوں کی وجہ سے موقع محل کے تلاش وقت کے انتظار میں رہتا۔ گویا ”نہ گھر کا رہا نہ گھ ہوگی ۔ آپ کے مکان پر کسی فروخت کے سلسلہ میں حا معلومات حاصل کرنا چاہیں ۔ بعد میں طرز گفتگو سے آ تھا ۔ وجہ یہ کہ جھوٹ اور غلط بات برداشت سے باہر ہے میں نے کچھ نہ لکھا تھا۔ بلکہ فضا خود ہی ہٹ گئی ۔ حالا پہنچا دیتے ۔ پھر جو وہ لکھتا مجھے بتا دیتے۔ لیکن نہیں۔ سے معاملہ ختم اور جھوٹ ثابت ہونا تھا۔ مثلاً میں نے تاکہ معلوم ہو کہ اس کی شادی کب ہوئی اور وہ کب کا تھا۔ اس طرح جماعت کراچی نے دو ایک جھوٹی و جھٹکے میں معاملہ ختم ۔ آج تک کسی کو دوبارہ اس لائق پیش نہ آنے دی۔ سوال پیدا ہوتا ہے۔ آخر یہ نجی نو ڈھاتا چلا جائے ۔ آخر کچھ تو وجہ ضرور ہوگی۔ سنئے!

وجہ مظالم

محترمی صبر کرتے ، خاموشی سے غور و فکر رکھتے ۔ تسلی سے، سکون سے جذبات پر قابو پا جلوے دیکھنے کا بہت شوق رکھتے ہیں ۔ تبھی تو طر کی عیاشیاں ، لکھوں تو صرف اتنا لکھ دینے سے آ مختصر اور بوقت کارروائی مفصل عرض و پیش کیا جا اور عمل کئے ہوئے ہوں گے۔

صفحہ ٢١٥

کا شکار ہوئے۔ نتیجتاً طبیعت میں غم وغصہ نفرت اور ضد کا بیج بویا جانا میرے بس کا روگ نہیں۔ یہ فطری تقاضا انسانیت ہے۔ یقیناً یقیناً آپ بھی اس سے اتفاق کریں گے۔ جس کی وجہ سے کسی مجلس میں موقع محل کے لحاظ سے بات چیت کے قابل نہیں پاتا۔ حتیٰ کہ شکل و شباہت پر ہر وقت غم وغصہ اور فکر کے آثار رہتے۔ بیوی بچوں کی وجہ سے موقع محل کے لحاظ سے بات چیت کرنے کے لئے کئی دن تلاش وقت کے انتظار میں رہتا۔ گویا ”نہ گھر کا رہا نہ گھاٹ کا“ ایک بات تو آپ کو بھی خوب یاد ہوگی۔ آپ کے مکان پر کسی فروخت کے سلسلہ میں حاضر ہوا تو آپ نے نہایت ہوشیاری سے کچھ معلومات حاصل کرنا چاہیں۔ بعد میں طرز گفتگو سے آپ نے اندازہ فرمالیا کہ مجھے طیش سا آگیا تھا۔ وجہ یہ کہ جھوٹ اور غلط بات برداشت سے باہر ہے۔ یہ اب بتا ہی دو کہ درخواست سے ہٹ کر میں نے کچھ نہ لکھا تھا۔ بلکہ فضا خود ہی ہٹ گئی۔ حالانکہ اصولاً اس کا فرض تھا کہ میرا جواب مدعی کو پہنچا دیتے۔ پھر جو وہ لکھتا مجھے بتا دیتے۔ لیکن نہیں۔ خود بخود طرفداری ہوئی۔ چونکہ میرے جواب سے معاملہ ختم اور جھوٹ ثابت ہونا تھا۔ مثلاً میں نے لکھا تھا کہ مدعی اپنے فارم نکاح پیش کرے تاکہ معلوم ہو کہ اس کی شادی کب ہوئی اور وہ کب کا ذکر کرتا ہے کہ میری بیوی کے نام پر (مکان) تھا۔ اس طرح جماعت کراچی نے دو ایک جھوٹی درخواستیں دلوا کے مجھے جواب لکھا کہ ایک ہی جھٹکے میں معاملہ ختم۔ آج تک کسی کو دوبارہ اس فائل یا درخواست کو کھول کر دیکھنے کی ضرورت ہی پیش نہ آنے دی۔ سوال پیدا ہوتا ہے۔ آخر یونہی تو کسی کا سر پھرا نہیں ہوتا کہ خواہ مخواہ ظلموں پر ظلم ڈھاتا چلا جائے۔ آخر کچھ تو وجہ ضرور ہوگی۔ سنئے!

وجہ مظالم

محترمی صبر کرتے، خاموشی سے غور وفکر کرتے۔ دل قابو میں رکھتے۔ ہوش وحواس قائم رکھتے۔ تسلی سے، سکون سے جذبات پر قابو پاتے۔ جلوؤں کا نظارہ دیکھتے (امیر صاحب محترم جلوے دیکھنے کا بہت شوق رکھتے ہیں۔ تبھی تو طنزیہ فرمایا: جلوہ دکھائیں) اگر صرف ”مغلیہ خاندان کی عیاشیاں“ لکھوں تو صرف اتنا لکھ دینے سے آپ کے پلے کچھ نہ پڑے گا۔ لہٰذا فی الحال مجبوراً مختصر اور بوقتِ کارروائی مفصل عرض و پیش کیا جائے گا۔ تین امور آپ نے بھی بخوبی پڑھے سنے اور عمل کئے ہوئے ہوں گے۔

١١

صفحہ ٢١٧

کے سبب باپ دادے تو جان ماریاں کرتے۔ سلطنتیں بناتے، نام پیدا کرتے رہے۔ وقت آیا تو اولاد عیش وعشرت کی رنگ رلیوں میں غرق ہوگئی۔

دودھ کو ایک دفعہ جاگ لگادی جائے تو پھر وہی جاگ کام آتی رہتی ہے۔ بعینہ اسی طرح اب یہ جاگ آخر (یعنی عیاشیوں کی رنگ رلیاں) انہی مغلیہ خاندان کی نسل ہوتے اس خاندان میں بھی لگنی ضروری تھی۔ سو لگی اور خوب لگی اور غالباً ان کی طرزِ عیاشیوں کو بھی مات کر دیا ہوگا۔

جناب سیکرٹری صاحب ہوشیار باش جاگتے رہیئے۔ نظارہ جلوہ قریب آ رہا ہے۔ دل مضبوط کر لیجئے۔ ہوش وحواس قائم رکھئے گا۔ قادیان کے عوام ہماری اس خاندان سے وابستگی چولی دامن کا ساتھ سمجھتے تھے۔ ایک دن ہوتا کیا ہے۔ غور فرمائیے گا۔ حضرت خلیفہ ثانی حکم فرماتے ہیں۔ عشاء کے بعد ام طاہر کے صحن والی سیڑھیوں کی طرف سے آنا۔ چنانچہ حاضر ہو کر دستک دی۔ حضور خود دروازہ کھول کر اپنے ساتھ صحن میں لے گئے۔ کیا دیکھتا ہوں کہ دو بڑی چارپائیاں ہیں جن پر بستر لگے ہیں۔ جن کی پوزیشن یوں تھی۔ سرہانہ شمال قبلہ رُخ والی چارپائی کے پاس لے جاکر اس پر بیٹھنے کا حکم دیا تو دوسری پر حضور لیٹ گئے۔ مقام خلیفہ کے تقدس کے خیال سے کبھی برابری میں بیٹھنے کا وہم وخیال بھی نہ ہوتا تھا۔ اسی شش وپنج میں حیران پریشان کھڑا بت بنا رہا۔ الٰہی کیا شامت اعمال ہے۔ کیا مصیبت آنے والی ہے کہ اتنے میں حضور تشریف لائے۔ پکڑ کر بٹھاتے ہوئے فرمایا: فکر نہ کرو، شرماؤ نہیں۔ جس کے چند ہی سیکنڈ بعد چارپائی پر بچھی چادر کے نیچے سے کچھ حرکت معلوم ہوئی۔ سکڑا، سنبھلا کہ ایک چٹکی پیٹھ پر لگتی ہے۔ گھبرایا ہوش وحواس گم ہی تھے کہ اب چادر کے نیچے سے کوئی ذرا زیادہ ہلتا معلوم ہوا۔ دراصل کروٹ لی گئی تھی۔ کروٹ لیتے پھر دو چار چٹکیاں لگتی ہیں۔ میں پھر بھی صم بکم بنا بیٹھا تھا کہ پھر حضور آئے شرماؤ نہیں، لیٹ جاؤ۔ فرماتے چادر کے اندر منہ کر کے اس صاحبہ سے کچھ کہا جس نے نصف اٹھتے ہوئے اپنے بازو میری کمر کے گرد حمائل کرتے کھینچ کر اپنے اوپر لٹا لیا۔ اس کھینچنے کے نتیجہ میں میرا ہاتھ اچانک جو اس جسم نفیس سے لگے تو حیرانی ہوئی کہ محترمہ الف ننگی پڑی ہیں۔ ادھر میں بے حس وحرکت پتھر بنا پڑا تھا۔ مجھے علم نہ ہو سکا کہ کس وقت میرے بھی کپڑے اتار پھینکے اور کیسے پوری طرح اپنے اوپر لٹانے لگیں۔ بدمستی کی شرارتیں کرنے۔ آخر جیت ان کی ہوئی ہار میری۔ گویا ان ٹرینڈ کو ٹرینڈ کر کے مستقل ممبر ١٢

سرِ روحانی (یہ نام میرا دیا ہوا ہے) کا اعزاز بخشا گیا کر رہے ہوں گے۔ لیکن فی الحال بغیر نام بتائے ان کی بیٹی صاحبہ تھیں۔ بس پھر کیا تھا پانچوں گھی میں سر کڑاہ ہو یا رات، دفتر یا چوکیدار کی گو پہلے بھی روک ٹوک بیٹیوں سے بڑھتے اب بیگمات کے پیش ہونے یا کئے خلافت کے ایک کمرہ ملحقہ باتھ روم میں جو دراصل فرمایا ہوا تھا۔ جہاں بیک وقت ایک ہی بیٹی اور یا بیگم جاتے۔ گویا تینوں ایک ہی چارپائی پر پڑے محوِ مستیاں اسلام میں پردہ کا حکم سخت بتایا جاتا ہے۔ لیکن یہاں تو زادہ پر کیا نوٹس لیتا ہے۔ کون سی جماعت سے خارج ہو ناراض تو نہیں ہوگئے۔ ابھی تو ابتدائے کہاوت ”پانہ ٹریا متھا سڑیا“ ابھی تو سنسنی خیز جلوؤں رکھئے۔ جناب ہوشیار رہیں۔ غور فرمائیں ایک عرصہ مناتے محوِ مستیاں تھے کہ موذن نے آکر نماز کی اطلاع میں نماز پڑھا کر ابھی آیا۔ چنانچہ اسی حالت جب کہ نہ بھی نہ دھوئے۔ نماز پڑھی اور سنتیں نوافل۔ پھر بیٹی ساتھ کیا خوب کہا ہے؎

تیرا دل تو ہے صنم آشنا تجھے

(جس کسی نے بھی یہ کہا خوب باموقع اور کھنچوایا ہے) مخنث کرنے کے لئے اللہ کو حاضر ناظر کر کے فی الحال تعداد لکھ دیتا ہوں۔ بوقت کارروائی اسمائے صاحبزادیاں بھی تین۔ ان دو صاحبزادیوں سے دو دو یہاں لگے ہاتھوں ایک بیگم صاحبہ (بڑی یوں فرمایا دیکھو ام ناصر ہیں کہ یہ شریک محفل نہیں ہوتی ١٣

صفحہ ٢١٧

سر روحانی (یہ نام میرا دیا ہوا ہے) کا اعزاز بخشا گیا۔ ہاں یہ صاحبہ آخر کون تھیں۔ آپ جستجو تو ضرور کر رہے ہوں گے۔ لیکن فی الحال بغیر نام بتائے اتنا عرض کئے دیتا ہوں کہ وہ صاحبہ حضور خلیفہ ثانی کی بیٹی صاحبہ تھیں۔ بس پھر کیا تھا پانچوں گھی میں سر کڑاہی میں والا معاملہ۔ آئے دن بلاوے۔ دن ہو یا رات، دفتر یا چوکیدار کی گو پہلے بھی روک ٹوک نہ تھی۔ مگر اب تو بالکل ہی ختم، سیدھے اوپر بیٹیوں سے بڑھتے اب بیگمات تک پیش ہونے یا کئے جانے لگے۔ پہلے پہل تو گھروں میں پھر قصر خلافت کے ایک کمرہ ملحقہ باتھ روم میں جو دراصل مستقل داد عیش کی رنگ رلیوں کے لئے مخصوص فرمایا ہوا تھا۔ جہاں بیک وقت ایک ہی بیٹی اور یا بیگم صاحبہ سے خود بھی اکثر شریک رنگ رلیاں ہو جاتے۔ گویا تینوں ایک ہی چارپائی پر پڑے محو مستیاں ہوتے۔ (محترم سیکرٹری صاحب امور عامہ اسلام میں پردہ کا حکم سخت بتایا جاتا ہے۔ لیکن یہاں دیکھتے ہیں آپ کا امور عامہ خلیفہ کے اس پردہ زادہ پر کیا نوٹس لیتا ہے۔ کون سی جماعت سے خارج کرتا ہے) خیر یہ آپ کی درد سری ہے۔

ناراض تو نہیں ہو گئے۔ ابھی تو ابتدائے عشق ہے۔ آگے دیکھئے کیا ہوتا ہے۔ بقول کہاوت ”پاندھریا مقاسریا“ ابھی تو سنسنی خیز جلوؤں کی رونمائی ہونی باقی ہے۔ لہذا دل قابو میں رکھئے۔ جناب ہوشیار رہیں۔ غور فرمائیں ایک عرصہ جب کہ ایک بیٹی سے دونوں ہی رنگ رلیاں مناتے محو مستیاں تھے کہ مؤذن نے آ کر نماز کی اطلاع دی۔ مجھے یوں فرمایا تم مزے کرتے چلو۔ میں نماز پڑھا کر ابھی آیا۔ چنانچہ اسی حالت جب کہ ............ میں شرابور تھے۔ وضو تو درکنار اعضاء بھی نہ دھوئے۔ نماز پڑھی اور سنتیں نوافل۔ پھر بیٹی کے سینہ پر پڑے۔ غرق عیش و عشرت ہو گئے۔

کیا خوب کہا ہے۔

تیرا دل تو ہے صنم آشنا تجھے کیا ملے گا نماز میں

(جس کسی نے بھی یہ کہا خوب باموقع اور اغلبًا انہی کی ذات مبارک کا نقشہ اللہ نے کھنچوایا ہے) مختصر کرنے کے لئے اللہ کو حاضر ناظر کر کے جن سے یہ رنگ رلیاں منائی منوائی گئیں

فی الحال تعداد لکھ دیتا ہوں۔ بوقت کارروائی اسمائے گرامی سے مطلع کروں گا۔ بیگمات تین، صاحبزادیاں بھی تین۔ ان دو صاحبزادیوں سے دو دو دفعہ ایک تو قریباً مستقل۔

یہاں لگے ہاتھوں ایک بیگم صاحبہ (بڑی) ام ناصر کی حسرت جو قبر میں ساتھ لے گئی یوں فرمایا دیکھو ام ناصر ہیں کہ یہ شریک محفل نہیں ہوتیں۔ کیسی تو موٹی بھینس ہوتی جاتی ہیں۔ اس

صفحہ ٢١٨

کے مقابل غور فرمایا جائے۔ امّ مظفر کو دیکھو کیسی خوبصورت نازک سی چلتی پھرتی ہیں۔ کیونکہ یہ کرواتی رہتی ہیں۔ گویا بھاوجوں کو بھی نہ بخشا گیا۔ یہ خیال ذہن نشین ہونا ضروری ہے۔ جن سے یا صاحب مجھ سے کوئی تعلق نہیں ہوا۔ وہ پاک وصاف ہیں اور الفاظ ”رنگ رلیاں“ جس کی نسبت بیان کئے یا کہے گئے وہی تحریر ہذا کر رہا ہو۔ (کسی کا بلاوجہ مبالغہ قطعاً قطعاً اشارہ بھی نہ کروں گا۔ انشاء اللہ)

انسان گنہگار ہے اور ضرور ہے۔ لیکن حد سے تجاوز، ارکانِ اسلام سے استہزاء شاید کوئی نام کا مسلمان بھی نہ کرے گا۔ چہ جائیکہ جو خود کو مقام خلیفہ پر کھڑا کرے۔ استغفر اللہ ربی! جناب عالی یہ تو رہی نماز اور اس کا احترام۔ اب ذرا اچھی طرح سے سنبھل کر اپنی غیرت کے جوش کو دبا کر قرآن پاک کی عظمت پر اس اولوالعزم خلیفہ کے اس چاند سے مکھڑے کی زبانِ مبارک سے ادا کئے ہوئے بولے ہوئے خواہ ایک دفعہ دوسرے کی نسبت کہ وہ یوں کہتا ہے۔ اوّل تو اگر کسی نے ان کے سامنے کہے بھی تو غیرت کا تقاضا اس کو ڈانٹ تھا۔ چہ جائیکہ ان الفاظ کو اپنی زبان مبارک سے نہ صرف ایک دفعہ بلکہ ڈھٹائی کی حد یوں کہ پھر دوسری دفعہ وہی دہرائے جاتے ہیں۔ جناب عالی یقین جانیں ان کے لکھنے کی مجھ میں نہ ہمت نہ ہی سکت ہے۔ سمجھانے کی کوشش کروں گا۔ یوں کہا نعوذ باللہ نعوذ باللہ! قرآن پاک کا نام لیتے ہیں۔ میں اس کو اپنے ............ پر مارتا ہوں۔ استغفرالله ربي من كل ذنب واتوب اليه ! شرم کے مارے میری آنکھیں زمین میں گڑ گئیں۔ کاٹو تو جسم میں خون کا قطرہ نہیں۔ کیا یہی مقام خلیفہ ہے اور یہی وہ بلند بانگ پرچار ہے کہ ہم ہی ہیں جو خدمت قرآن فلاں فلاں زبانوں میں کر رہے ہیں اور ادھر اسی قرآن پاک کی فضیلت وعظمت کا عمل بمحاورہ ”صورت مومناں کرتوت کافراں“ سے دیا جاتا ہے۔ توبہ توبہ!

یہ بھی بتاتا جاؤں کہ یہ کس موڈ میں کہے گئے۔ ایک بیگم صاحبہ کو حضور کے ہر طرح کے قرب، صلاح، مشورے وغیرہ وغیرہ کی بنا پر چہیتی کہا جاتا اور مانا جاتا تھا اور اہل قادیان کی مستورات خصوصاً جانتی تھیں۔ عید منانے رنگ رلیاں حضور کی خوشنودی کے لئے کھڑے محو گفتگو تھے کہ ان بیگم صاحبہ نے مجھے اپنے سینہ سے لگاتے کہا: ”آپ مجھے اپنی چہیتی کہتے ہیں۔ یہ میرا چہیتا ہے۔“ باموقع خوب مذاق ہوا۔ جس میں نعوذ باللہ! وہ الفاظ دو مرتبہ کہے گئے۔ یہ الفاظ پنجابی میں نام لیتے کہے گئے جو ان کی خلافت کی جیتی جاگتی حقیقت واصلیت اسلام اور رسول مقبول ﷺ سے

١٤

صفحہ ٢١٩

وابستگی کی نمایاں جھلک دیتی ہے۔ اب ان کی اصلیت خلیفہ کی نصیحت و وصیت بھی لگے ہاتھوں ملاحظہ فرما لئے جاویں۔ فرمایا: ”میں نے تمام بچوں کو کہہ دیا ہوا ہے کہ جس کے اولاد نہ ہو ایک دوسرے سے کرلی جائے۔“ سبحان اللہ! کیا یہ نصیحت و وصیت خلیفہ کو زیب دیتی ہے۔ گویا اس سے صاف ثابت ہو گیا کہ یہ رنگ رلیاں صرف حضور کی ذات مبارک تک ہی محدود نہیں بلکہ کل اولاد کیا لڑکے اور کیا لڑکیاں جن کو پہلے ہی استعمال کرنا کرانا شروع کر دیا ہوا ہے۔

تو بھلا اس صورت میں لڑکے کہاں متقی و پرہیز گار ہو سکتے ہیں۔ تبھی تو یہ رونا حق بجانب ہے کہ ماؤں، بہنوں، بیٹیوں، بھاوجوں کی عزت و ناموس ہر وقت خطرے میں ہے۔ اب ان ملفوظات میں سے ایک اور فرمان ملاحظہ فرما لیا جائے۔

فرمایا لوگ باہر سے تبرک کے لئے اپنی بیویاں، بیٹیاں، بہوئیں بھیجتے رہتے ہیں۔ لیکن پھر بھی جنون عشق بازی سے تسلی نہیں ہوتی۔ مجبوراً پنجابی کہاوت ”جنے لائی لوئی کرے کی کوئی“ کے مطابق بے شرموں کے ساتھ بے شرم ہونا ہی پڑے گا۔ مجبوراً حقیقت حال بیان کرنا پڑے گی۔ وہ یہ کہ لونڈے بازی کروانے کا بھی شوق باقی تھا۔ چنانچہ یہ چکر میرے ساتھ بھی ہو چکا ہے۔ لیکن چونکہ مجھے اس قبیح عادت سے نفرت تھی۔ مجبورا خود ہی کروٹ لیتے۔ اعضاء پکڑ کے اپنے میں ڈالنے کی ناکام عیاشی تو اس پر ایک دفعہ یوں فرمایا کہ خلیفہ صلاح الدین کا (جو رشتہ میں سالا تھا) ............ (وہی پنجابی لفظ اعضاء) کتنا موٹا اور لمبا ہے۔ اب اس سے غور کریں کہ ان کی عادات، رنگ رلیاں اور عشق مزاجی میرے اس لفظ ممبر محفل سیر روحانی سے بالکل صحیح اور سچ ثابت ہو گیا۔ ابھی اور بھی ممبر اور ممبرات محفل ہیں جن کی تعداد جو میرے علم میں ہے پندرہ بیس ہے اور ان سے آگے جاگ لازمی لگے گی۔ جاگ کا کام ہی یہی ہے۔ اب واقعات کرسچن استانیوں کے، ایک کا ذکر لاہور کے اخبارات میں ہوا۔ خبر یوں لگی کہ ”مرزا قادیانی ہوٹل سے ایک لڑکی لے اڑے ۔“ یہ برگنزا ہوٹل لاہور کا واقعہ ہے۔ ایک دوسرے کو بھیجنے پر ناکامی کے بعد مجھے حکم ملا بعد کامیابی شاباش ملی۔ الغرض اسے لے کر سینما جو ملکہ کے بت کے پاس ریڈ کراس آفس کے بالمقابل ہے۔ (پلازا سینما۔ ناقل!) مع عملہ گئے۔ انٹرول کے قریب یکدم بھاگم بھاگ کاروں میں بیٹھ یہ جا وہ جا بعد میں علم ہوا کہ کیبن میں یہ کرسچن لڑکی بغل میں لئے ہوئے پیار وغیرہ کرتے تھے۔ باہر سے کسی کی نظر کا نظارہ ہو گیا۔ گویا نام کو استانی اندر خانہ عیاشی۔ اب یہاں اصل معاملہ یوں بیٹھتا ہے کہ قادیان پہنچ کر سینما بینی میں کل دنیا جہاں کی خرابیاں گنوائیں خطبہ جمعہ کے سٹیج سے اخبارات رسائل تقاریر کے ذریعہ سینما بینی سے سختی سے منع فرمایا جاتا ہے۔ مگر اس سے پہلے جب

١٥

صفحہ ٢٢١

بھی لاہور گئے سینما ضرور دیکھا جاتا۔ آیا خیال شریف میں۔

جناب سیکرٹری صاحب امور عامہ ! معلوم ہوتا ہے سینما بینی سختی سے منع ہونے پر آپ کا حلق خشک ہو گیا ہے۔ فکر نہ کریں میرے پاس تری کا بھی سامان موجود ہے۔ سو محترم من ! وہ یوں قادیان سے کار لاہور جاتی وہاں سے محترم شیخ بشیر احمد صاحب ایڈووکیٹ بمعہ جج کے ذریعہ شراب کار کی پچھلی سیٹ کے نیچے چھپا کر لائی جاتی ۔ تاکہ عیاشی میں کوئی کمی نہ رہ سکے ۔ (حلق ٹھیک ہو گیا ہو گا ) مگر صاحب میں معافی چاہوں گا اوپر لکھا تو "وجہ مظالم" تھا لیکن مظالم کی بجائے عیاشیوں کی داستانوں میں پڑ گئے۔ مگر جناب مجبور ہوا تھا۔ سوچئے میرے ساتھ قصر خلافت کے اس مخصوص کمرہ رنگینیوں میں سے اس اولوالعزم خلیفہ نے مغلوں کی عیاشیوں کا گہوارہ بنا رکھا تھا ملاحظہ ہو۔ بحیثیت فن فوٹو گرافی ایسے ایسے رنگین نظاروں سے بھلا نظر کیونکر چوک سکتی تھی۔ لہٰذا ظاہری پہلو سے اچھی طرح محفوظ ہوئے۔ بس اور بس یہی ٤٢ سالہ وجہ مظالم ہے جن کی تلاش کے لئے چوریاں، خانہ تلاشیاں، تالے ڈکٹیٹری میں توڑے تڑوائے گئے۔ سر توڑ کوششیں فرماتے ۔ ایڑی چوٹی کا زور لگاتے ناکام و نامراد ہوتے ۔ ذلت کے اتھاہ گڑھے میں ڈبکیاں ہی کھاتے رہے۔ اب جب کہ خاموش بیٹھے بھی صبر نہ آیا مجبور کر دیا۔ تم صبر کرو وقت آنے دو۔ سو وقت آگیا ہے۔ ڈبکیوں کی بجائے ڈوبنے کا بھلا ان عقل کے اندھوں سے کوئی پوچھے ۔ ایسی ایسی رنگینیوں کی تصاویر بھلا کوئی گھروں میں رکھتا ہے۔ خصوصاً جب کہ تلاش میں ہر قسم ذلالت کے حربے استعمال کئے کروائے جاتے ہوں۔ اب وقت آیا ہے ان کے منظر عام پر لانے کا جو پیش کئے جائیں گے۔ تا ان کی عیاشیوں کو حقیقی رنگ میں ننگا کرنے کے لئے بوقت کارروائی ممد و معاون ہوں۔

جناب والا ! شاید جو وجہ مظالم درج کی ہے اس سے غلط مفہوم اخذ کریں کہ اس خاکسار کا سارا وقت انہی مشاغل میں مبتلا رکھا جاتا تھا۔ زیادہ نہیں صرف تین واقعات گوش گذار کر دوں ۔ جیسا کہ اوپر لکھ چکا ہوں کہ ہمارا اس خاندان سے عقیدتاً گہرا تعلق رہا ہے۔ جس کی وجہ سے حضور کے ذاتی باڈی گارڈ کے طور پر ہر وقت ہی حاضر خدمت رہتے ۔ جس کی وجہ سے نہ صرف قادیان بلکہ حضور کی ہمرکابی میں قادیان سے باہر جانے کا شرف نصیب رہا۔ چنانچہ اور مواقع کے علاوہ تین اہم واقع پیش کرتا ہوں۔

تلاوت میں زیر و زبر کی غلطی بسا اوقات سہواً ہو ہی جاتی ہے۔ مگر وہاں تو مقصد دراصل جلسہ کو درہم برہم کرنے کا تھا۔ ایک منچلے نے کھڑے ہو کے شور مچانا شروع کیا ہی تھا کہ اس کے

١٦

دوسرے ساتھی بھی اس کے ساتھ مل کر لگے بکوا صاف کہ ان کو ہمیش یاد رہے گا۔

طرف سے ہوئی۔ میری ڈیوٹی بالکل حضور کے پیچھ وقت غالباً نائب یا تحصیلدار تھے۔ جنہوں نے م کھڑے رہنے کا تھا۔ کھڑے رہے۔ حکم ہمیں تو ی پانچ منٹ میں اگر انتظام کر سکتے ہو تو کر لو ورنہ میں

دعا وہاں تشریف لے گئے۔ کمرہ کے دروازہ سے ب نے حضرت والد صاحب قبلہ کو دروازہ کے باہر کھ (حضرت والد صاحب) تا اگر کوئی کام یا بات وغی بہر حال مطلب اس لکھنے کا یہ ہے کہ کام کرنا ہمیش جلسہ سالانہ ، سٹیج کے پیچھے باڈی گارڈ وغیرہ انہی جلن دکھ درد کو جنم دیا۔ ادھر خاندان کی نظروں میں طعنہ ہی کھاتے۔ ہم پھر بھی حاضر خدمت ہی رہے ا ٦ ستمبر ١٩٣٠ء کی خانہ تلاشی کے بعد مجھ سے حضور ب جب بھی کوئی موقعہ ایسا آئے اور تمہارا ہاتھ اس پر م ہٹنا۔ جسے میں نے خوب پلے باندھ لیا۔ کبھی جب ک ڈٹ کر سامنا کیا۔ عزت پائی۔ یہ اس لئے پیش ک سے طنزاً حقارت کی نگاہ بھی ڈالی جاتی ہے۔ البتہ ال قانونی نوٹس ملنے کے بعد میرے مکان پر تشریف گواہی میں طلب کیا گیا تو اس میں بے شک ضرور

فی الحال سوال جماعت کا ہے۔ جس کے جواب میں ب عزت کا پاس نہیں تو مجھے بھی کوئی پرواہ نہیں۔ کیوں (جاری ہے)

١٧

صفحہ ٢٢١

دوسرے ساتھی بھی اس کے ساتھ مل کر لگے بکواس کرنے۔ نتیجہ میں ہلا گلا ہوا۔ ایسا میدان صاف کہ ان کو ہمیشہ یاد رہے گا۔

طرف سے ہوئی۔ میری ڈیوٹی بالکل حضور کے پیچھے تھی۔ سامنے کی طرف چوہدری محمد عظیم باجوہ اس وقت غالباً نائب یا تحصیلدار تھے۔ جنہوں نے منہ پر پتھر کھائے۔ خون بہتا رہا۔ مگر حکم خاموش کھڑے رہنے کا تھا۔ کھڑے رہے۔ حکم ہمیں تو ملنے کے وقت ملا۔ البتہ حکومت کو خبردار کیا گیا کہ پانچ منٹ میں اگر انتظام کر سکتے ہو تو کر لو ورنہ میں (یعنی حضور ) انتظام کر دکھاؤں گا۔

دعا وہاں تشریف لے گئے۔ کمرہ کے دروازہ سے باہر گو کہ منتظمین نے انتظام پہرہ کیا تھا۔ مگر حضور نے حضرت والد صاحب قبلہ کو دروازہ کے باہر کھڑے ہونے کا حکم فرمایا۔ مجھے مددگار و معاون (حضرت والد صاحب) تا اگر کوئی کام یا بات وغیرہ ہو تو خود وہاں سے نہ ہٹیں بلکہ مجھے بھیجیں۔ بہر حال مطلب اس لکھنے کا یہ ہے کہ کام کرنا ہمیں بھی آتا ہے۔ ایام جلسہ حضور کی روانگی برائے جلسہ و واپسی، سٹیج کے پیچھے باڈی گارڈ وغیرہ انہی خدمات بے لوث نے ان کے دلوں میں حسد، جلن دکھ درد کو جنم دیا۔ ادھر خاندان کی نظروں میں گراتے، جھوٹی غلط من گھڑت رپورٹیں دیتے، غصہ کی کھاتے۔ ہم پھر بھی حاضر خدمت ہی رہے اور ہر قسم کے مظالم سہے، برداشت کئے۔ مورخہ ٦؍ستمبر ١٩٤٠ء کی خانہ تلاشی کے بعد مجھ سے حضور نے یوں فرمایا۔ عبدالرزاق یاد رکھنا اس کے بعد جب بھی کوئی موقعہ ایسا آئے اور تمہارا ہاتھ اس پر مضبوطی سے پڑتا ہو پھر خواہ کوئی بھی کہے، پیچھے نہ ہٹنا۔ جسے میں نے خوب پلے باندھ لیا۔ تبھی جب بھی جماعت نے غلط قدم اٹھانا چاہا۔ بے فکر ہو کر ڈٹ کر سامنا کیا۔ عزت پائی۔ یہ اس لئے پیش خدمت کئے ہیں کہ امیر صاحب محترم کی طرف سے طنزاً حقارت کی نگاہ بھی ڈالی جاتی ہے۔ البتہ ان کی ایک بات بہت ہی پسند آئی۔ جب میرے قانونی نوٹس ملنے کے بعد میرے مکان پر تشریف لائے اور باتوں کے علاوہ یوں فرمایا۔ اگر مجھے گواہی میں طلب کیا گیا تو اس میں بے شک ضرور خطبہ جمعہ کے الفاظ گواہی میں دیں گے۔ مگر فی الحال سوال جماعت کا ہے۔ جس کے جواب میں میں نے بھی یوں کہہ دیا کہ اگر جماعت کو کسی کی عزت کا پاس نہیں تو مجھے بھی کوئی پرواہ نہیں۔ کیوں ( خلیفہ وقت کا فرمان سمجھیں یا وصیت۔ سو عمل جاری ہے)

١٧

صفحہ ٢٢٣

سویوآررائٹ

جناب عالی! اپنی داستان مظالم تو بیان کر دی۔ اب اس خاندان کے ایک فرد کی بھی داستان ”مغلوں کی شکار گاہ“ سولہ صفحات سے بھی کچھ فقرے اقتباسات الفاظ وغیرہ پیش کروں جو بالکل میری ہی داستان بہ پایہ ثبوت پہنچانے کا رونا رویا ہے۔ اتفاق کی بات ہے کہ یہ تحریر ١٩٦٢ء، ١٩٦١ء کی لکھی ہوئی معلوم ہوتی ہے جو مجھے ٢٤ ستمبر ١٩٧٩ء کو کہیں سے ہاتھ لگ گئی۔ حیرانی کی بات یوں کہ میں نے اس داستان مظالم کو عرصہ سات آٹھ ماہ سے لکھنا شروع کیا۔ کبھی دو لفظ کبھی چار۔ دماغ شل، ذرا سا سوچنے سے سر پھٹنا شروع ہو جاتا اور پھر لطف یہ کہ گھر میں لکھ نہیں سکتا۔ تاکہ بیوی بچے نہ دیکھ پائیں۔ اس طرح جب کبھی وہ سوئے یا اتفاق سے کہیں گئے دو چار سطور لکھ پاتا۔ خدا کا شکر ہے کہ آج تک گھر کے کسی بھی فرد کو اس کا علم نہیں اور اسے مکمل لاہور آکر کر رہا ہوں۔ جناب عالی! یہ مناسب سمجھئے کہ پہلے ان حضرات مرزا ناصر احمد صاحب کے خلیفہ بننے اور پھر اپنے عہد کے کارناموں کی جھلکیاں ملاحظہ ہو جائیں۔

ایک جلسہ سالانہ پر حضور افتتاحی تقریر کے لئے جانے کو تیار تھے۔ ان دنوں مولانا عبدالمنان صاحب عمر پر عتاب کا زمانہ تھا۔ اس افتتاحی تقریر میں مولانا موصوف کو معافی کا اعلان ہونا تھا کہ یہ حضرت دوڑے۔ پہنچے پستول سینہ پر تان گویا ہوئے۔ ابا حضور! سنا ہے آپ منان کی معافی کا اعلان کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں؟ فرمایا ہاں! ادھر سینہ پر پستول کی نالی۔ مجبور ہوئے یہ کہنے پر کہ اچھا نہیں کیا جاتا۔

پھر ایک جلسہ سالانہ ہی کے موقع پر میرے بڑے بھائی عبدالقادر صاحب پر قاتلانہ حملہ کروایا جاتا ہے جس کی اطلاع مجھے دوسری صبح ہی مل گئی جس پر نگران بورڈ کو تحریری نوٹس یوں دیا کہ اگر میرے خاندان کے کسی بھی فرد کے متعلق کسی بھی قسم کی غلط حرکت ہوئی تو اس صورت میں مجھے مجبور کیا جائے گا کہ بلا امتیاز رتبہ مردو زن کے خلاف کارروائی کروں۔ اس کے بعد ایک رشتہ کے موقع پر جب کہ لڑکے والے عقیدہ اخلاصاً تجویز پیش کرتے ہیں۔ ملاحظہ ہو (ترقی ایمان کا موجب ہے) فرماتے ہیں میرے ماموں کی صاحبزادی (خلیفہ علیم الدین) ہے۔ چنانچہ وہیں نکاح پڑھواتے چھٹکارا ہوا۔ سبحان اللہ! یہی مقام خلیفہ ومحل اسلام ہے؟ اس پر اللہ کی قدرت کا نظارہ ملاحظہ ہو جائے۔ ان کے داماد کو ایک درزن پر لٹو کرواتے ان کی بیٹی صاحبہ کو طلاق دلواتے۔ جو کسی کے لئے گڑھا کھودتا ہے۔ خود اس میں گرتا ہے۔ سبحان اللہ! مقام عبرت ہے۔

اس طرح ان کے بیٹے (مرزا لقمان احمد) کرتے۔ شادی اپنی مرضی کی کرتے ہیں۔ اب ان کو ولا جاگ لگتی ہے۔ یوں لگی کہ وہاں شرابی مشہور ہوئے۔ عیاش مسجد (بشیر رفیق) لندن کی رپورٹ پر بلوایا جاتا ہے جو ہے۔ اصل چیز ملاحظہ ہو امام مسجد کچھ رشتہ دار تھا لڑکی کا۔ دلوادو ورنہ تمہیں امامت مسجد لندن سے چھٹی، کیوں جی ب حضور ولایت تعلیم کے لئے تشریف لے جاتے ہیں تو ان بچیاں خوب جانتی تھیں۔ مگر حضور کو کن محتاط الفاظ میں نصیح خبردار، خاندانی بچیاں بچیاں یا غرض، جاگ لگی کے او بوقت کارروائی سہی۔ خلیفہ بننے کے خوابوں کے طور طریقے

اپنے سوتیلے بھائی مرزا رفیع احمد صاحب کو کی کے گرد امور عامہ کا پہرہ جو آتے جاتے کو امور عامہ می بات نہیں، مسٹر بٹ سے معلومات حاصل کی جاسکتی ہیں ہوں اور نام بھی تحریر کر رہا ہوں۔ تاکہ یہ خیال پیدا نہ ہو وغیرہ! (یو آر رائٹ) بٹ صاحب سے پوچھا گیا تم انو میں خلیفہ ثانی کے بیٹے اور حضرت مسیح موعود کے پوتے کی جواب تھا۔ چلئے داستان مغلوں کی شکار گاہ انہی کے خاند

”مرزا بشیر الدین محمود احمد امام جماعت کی ت ربوہ کی دردناک داستان غم کہ نہ ہی ہماری جانیں محفو بیٹیوں کی عزت، عصمت محفوظ ہے۔ حمل کئے اور کرائے

مشغلہ بن کر رہ گیا ہے۔

قتل وغارت، ظلم وستم، لوٹ مار، ریا، دغا وفریب اور ب ڈرتے نہ ہی شرماتے ہیں کہ مذہبی دیوانے اب ان گناہ ١٩

صفحہ ٢٢٣

اس طرح ان کے بیٹے (مرزا لقمان احمد) کسی خاندان کی نور نظر پر لٹو رہتے۔ مجبور کرتے۔ شادی اپنی مرضی کی کرتے ہیں۔ اب ان کو ولایت تعلیم کے لئے بھجوایا جاتا ہے۔ آخر جاگ لگتی ہے۔ یوں لگی، کہ وہاں شرابی مشہور ہوئے۔ عیاشیوں میں مزے لیتے۔ چنانچہ واپس امام مسجد (بشیر رفیق) لندن کی رپورٹ پر بلوایا جاتا ہے جو پاکستان پہنچ کر اپنی بیوی کو طلاق دے دیتا ہے۔ اصل چیز ملاحظہ ہو امام مسجد کچھ رشتہ دار تھا لڑکی کا۔ جس پر حکم اسے دیا گیا کہ ہمارا پوتا ہمیں دلوا دو ورنہ تمہیں امامت مسجد لندن سے چھٹی، کیوں جی یہی مقام خلیفہ ہے نا۔ اسی طرح جب آپ حضور ولایت تعلیم کے لئے تشریف لے جاتے ہیں تو ان کی خوشدامن صاحبہ جو خاندان کی اچھیاں بچیاں خوب جانتی تھیں۔ مگر حضور کو کن محتاط الفاظ میں نصیحت فرماتی ہیں۔ محبوب حقیقی کی امانت سے خبردار، خاندانی اچھیاں بچیاں یا مرض، جاگ لگی کے اوپر دوسونے یہ تیسرا، اور کتنے پیش کروں؟ بوقت کارروائی سہی۔ خلیفہ بننے کے خوابوں کے طور طریقے بھی ملاحظہ ہوں۔

اپنے سوتیلے بھائی مرزا رفیع احمد صاحب کو کیوں اور کیونکر نظر بند رکھا گیا اور ان کی کوٹھی کے گرد امور عامہ کا پہرہ جو آتے جاتے کو امور عامہ میں لے جاتے۔ باز پرس کی جاتی۔ دور کی بات نہیں، مسٹر بٹ سے معلومات حاصل کی جاسکتی ہیں۔ میں اپنی معلومات سے بھی کچھ پیش کر رہا ہوں اور نام بھی تحریر کر رہا ہوں۔ تا کہ یہ خیال پیدا نہ ہو کہ اس کی تحریر سے نقل کر دیئے ہیں۔ وغیرہ وغیرہ ! (یو آر رائٹ) بٹ صاحب سے پوچھا گیا تم انہیں کیوں ملنے گئے تو انہوں نے جواب دیا میں خلیفہ ثانی کے بیٹے اور حضرت مسیح موعود کے پوتے کی حیثیت سے انہیں ملنے گیا تھا۔ بہت اچھا جواب تھا۔ چلئے داستان مغلوں کی شکار گاہ انہی کے خاندان کے فرد کی بھی زبانی سن لیجئے۔

”مرزا بشیر الدین محمود احمد امام جماعت کی تشویشناک اور لمبی بیماری کی وجہ سے اہالیان ربوہ کی دردناک داستان غم کہ نہ ہی ہماری جانیں محفوظ ہیں اور نہ ہی ہماری ماؤں، بہنوں، بہو بیٹیوں کی عزت، عصمت محفوظ ہے۔ حمل کئے اور گرائے۔ دوسروں کے نام دھرے جاتے ہیں۔

مشغلہ بن کر رہ گیا ہے۔

قتل و غارت، ظلم و ستم، لوٹ مار، ریا، دغا و فریب اور نہ معلوم کیا کیا ۔ ”مغلوں کا شکار گاہ“ سمجھتے نہ ڈرتے نہ ہی شرماتے ہیں کہ مذہبی دیوانے اب ان گناہوں کو گناہ نہیں جزو ایمان سمجھنے لگ گئے ہیں۔

١٩

صفحہ ٢٢٥

سے لگ چکے ہیں۔ ہر جائز و ناجائز طریق سے راز نکلوائے جاتے ہیں۔ یہاں تک کہ حکومت کو اعتراف کرنا پڑا کہ موجودہ مرزا قادیانی کے بڑے صاحبزادے مرزا ناصر احمد اس کام کے سرپرست اعلیٰ ہیں۔ (کیوں صاحب آیا یقین۔ اس وجہ سے احمدیوں کو اعلیٰ پوسٹوں سے الگ کیا گیا)

کے ننگ و ناموس کے نام پر اپنے کارکنان کے ذریعہ مختلف عہدوں کے لالچ میں لا کر سوشل بائیکاٹ کی دھمکیاں۔ لفظ منافق کا کھلے بندوں اطلاق۔

جائیں کہاں ان چھ چھ بیٹیوں کو ان لوگوں کو ناراض کر کے کہاں بیاہا جائے گا۔

سراسر جھوٹ۔ دراصل مرزا قادیانی کثرت جماع کی وجہ سے دماغی توازن کھو بیٹھے ہیں۔

ذرہ سی جنبش انسان کو مکھی سے بال کی طرح باہر نکال پھینکنے کے لئے کافی ہے۔

داؤد نے ان ٹرسٹیوں کی بدعنوانیوں، فراڈ پر احتجاج کیا تو اسی وقت چھ گھنٹے کے نوٹس پر کوٹھی خالی کروا کے ربوہ بدر کر دیا گیا۔

تھے۔ شدید قسم کی مالی بے اعتدالیوں کے سامنے احتجاج کر بیٹھے۔ اس وقت بیک جنبش قلم بال بچوں سمیت ربوہ بدر کر دیا گیا۔ مگر وہ تمام ریکارڈ جو ان ٹرسٹیوں کی لاکھوں روپے کی ہیرا پھیریوں کا آئینہ دار تھا ساتھ لے گئے۔

لونڈے، لونڈیاں، نوکر چاکر، مالی، گیٹ کیپر، ذاتی باڈی گارڈ فرقان فورس کے نوجوانوں کی تنخواہیں صدر انجمن کی زمینیں تجارتی فیکٹریاں فلور ملیں کارخانے انجمن کے سرمایہ سے ذاتی ناموں پر منتقل ہو رہے ہیں۔ کہنے کو تو لنڈن مشن کے Inspection کا نام مگر علاج Glands

٢٠

کے کروائے جاتے ہیں۔ واپسی پر ائر کنڈیشن سوٹ ریکارڈ کے علاوہ ......

تحریک جدید کا روپیہ ایک فرم میں ٹیکس چکمہ دے ک ڈائریکٹر کہیں ڈاکٹر بن کر جماعت کے کار و بار پر ا آنکھ جھپکنے پر وموٹر کارپوریشن لمیٹڈ کے ذریعہ اپنے پر اندازاً چھ لاکھ روپیہ کیسے دبا کر بیٹھ گئے۔ (ا مرزا طاہر لے گئے۔ جس سے بیعانہ بھی گیا اور اصل

کے اوپر ریاست اندر ریاست کا ایک جیتا جاگتا نم ناک اور شرمناک فضا میں اہالیان ربوہ اپنی زندگی کی

مرزا قادیانی ذہنی خلفشار میں مبتلا ہوئے تو مرزا ناصر گن گن کر گزارتے موقعہ پاتے اپنے ابا حضور میرے مرنے کے بعد ناصر احمد کو خلافت پر منتخب ک کروا دی گئی۔ یہ عالم احمدیت سے فراڈ نہیں تو کیا ہے

لونڈیوں کی اولاد سے منسوب کرتے نہ جھجکتے نہ شرما

نظروں میں ذلیل، غدار منافق کے لیبل لگا کر سوش CID کے بل بوتے فرقان فورس کی بندوقوں کے ٢٦ دسمبر ١٩٦١ء جلسہ سالانہ کے موقعہ پر ان کی کو کہ الامان والحفیظ جس کے نتیجہ میں کرنل ابراہیم، باق عبدالقادر موہلہ جیسے آدمیوں نے پر زور پروٹسٹ کیا ب

اقتدار کے حصول کے لئے سگے بھائیوں نے سوتی

٢١

صفحہ ٢٢٥

کے کروائے جاتے ہیں۔ واپسی پر ائرکنڈیشن سیٹ مہاراجہ پٹیالہ کے محل کے نمونہ کے بیڈ، ٹیپ ریکارڈ کے علاوہ......

تحریک جدید کا روپیہ ایک فرم میں فرضی چکر دے کر قبضہ کیا جاتا ہے۔ کہیں چیئرمین کہیں مینجنگ ڈائریکٹر کہیں ڈاکٹر بن کر جماعت کے کاروبار پر اپنے مالکانہ حقوق جمائے جاتے ہیں۔ مرزا حفیظ آرٹ سلک پروموٹرز کارپوریشن لمیٹڈ کے ذریعہ اپنے بھائیوں مرزا ناصر، مرزا مبارک وغیرہم کی شہ پر اندازاً چھ لاکھ روپیہ کیسے دبا کر بیٹھ گئے۔ (اسی طرح زمین، مسجد، کراچی کے چندہ کی رقم مرزا طاہر لے گئے۔ جس سے بیعانہ بھی کٹا اور اصل بھی جس سے اکثر چیخ چیخ ہوتی رہتی ہے)

کے اوپر ریاست اندر ریاست کا ایک جیتا جاگتا نظارہ پیش کرتا ہے۔ ڈکٹیٹر شپ کی اس دہشت ناک اور شرمناک فضا میں اہالیان ربوہ اپنی زندگی کی آخری سانس لے رہے ہیں۔

مرزا قادیانی ذہنی خلفشار میں مبتلا ہوئے تو مرزا ناصر احمد اپنے باپ کے مرنے کی امید میں گھڑیاں گن گن کر گزارتے موقعہ پاتے اپنے ابا حضور سے بدیں مضمون تحریر لکھوائی یا دستخط کروائے کہ میرے مرنے کے بعد ناصر احمد کو خلافت پر منتخب کر لیا جائے اور یہ تحریر الائیڈ بینک میں جمع بھی کروا دی گئی۔ یہ عام احمدیوں سے فراڈ نہیں تو کیا ہے۔

لونڈیوں کی اولاد سے منسوب کرتے نہ جھجکتے نہ شرماتے خود ”پدرم سلطان بود“

نظروں میں ذلیل، غدار، منافق کے لیبل لگا کر سوشل بائیکاٹ ربوہ بدر کے ہتھکنڈے امور عامہ کی CID کے بل بوتے فرقان فورس کی بندوقوں کے سائے تلے قتل کی دھمکیاں دی جاتیں۔ حتیٰ کہ ٢٦/ دسمبر ١٩٦١ء جلسہ سالانہ کے موقعہ پر ان کی کوٹھی کا محاصرہ کرکے وہ اودھم مچایا، غنڈہ گردی کی کہ الامان والحفیظ جس کے نتیجہ میں کرنل ابراہیم، ڈاکٹر یعقوب، لیفٹیننٹ کمانڈر یحییٰ، قاضی اسلم اور عبدالقادر مجید جیسے آدمیوں نے پر زور پروٹسٹ کیا۔

اقتدار کے حصول کے لئے سگے بھائیوں نے سوتیلے بھائیوں کی آنکھیں نکلوا دیں، قتل کروائے۔

٢١

صفحہ ٢٢٦

باپ بیٹے کے ہاتھوں جیل کی زندگی میں ایڑیاں رگڑ رگڑ کر مرنے پر مجبور ہوا۔ اگر باپ بیٹے سے کہتا ہے اس قید میں بچے ہی پڑھنے کے لئے دے دو تو شہزادے طنزاً جواب میں کہتے ہیں: ”اچھا اب حضور حکومت کا نشہ ابھی نہیں اترا۔“

جناب ملاحظہ فرمائیں! میری داستان مظالم کی کماحقہ تائید ”گھر کا بھیدی لنکا ڈھائے“ کو کیونکر جھٹلایا جاسکتا ہے۔ اہالیان ربوہ کی ماؤں، بہنوں، بیٹیوں، بہوؤں کی عزت و عصمت سے کھیلے۔ حمل کتنے اور رکھے نام دوسروں کے، اپنی تقدس مابی کا سکہ بٹھانے کو، پوچھا جائے وہ کون سے دوسرے ہیں۔ جن سے کن کو حمل ہوا اور پھر کیا سزا دی۔ خلیفہ ثانی کے دور میں ہونے والے غنڈہ گردی کے واقعات میں سے چند بطور نمونہ، آپ کی معلومات میں اضافہ کے لئے پیش کرتا ہوں۔

سے تہس نہس کیوں کروایا۔

ہمرکاب بھی ہوئے۔ اتنے میں بالغ ہو گئے۔ ”کون؟“ ان کے بچے اور پھر ان سے کیا کیا نہ ہوا؟

پٹائی کروائی کہ اپنی طرف سے ختم کروا دیا۔ مگر جسے اللہ رکھے۔

نعش کا جلوس یوں جیسے شہید کا مرتبہ پایا ہو۔

سامنے کھڑا کسی بات پر دھکا دلوا کر نیچے گروا کر مروا دیا گیا۔

جواں سال خوبصورت بیٹی کا مرنا۔

کے شور و غل پر انعام واکرام دے کر خاموش کروایا جانا۔ آپ بھلا کیا کیا جانیں۔ جناب! پولیس کے چار آدمی ہوتے تھے جو ہمیشہ خریدے جاتے تھے۔ اسی طرح ایک کارنامہ جماعت کراچی کے ذریعے لطیفی کے قتل کا انجام پذیر ہو چکا ہے۔ وہ بھی یاد تازہ کرنے کو سن لیجئے۔

مولانا عبدالرحیم درد (جو پرائیویٹ سیکرٹری حضرت خلیفہ ثانی تھے) کے ایک بیٹے لطفی

٢٢

صفحہ ٢٢٧

نامی نے دفتر سے کچھ نہایت ہی اہم کاغذات اڑا لئے۔ مکرم بھائی صاحب عبدالقادر مہتہ کو علم ہونے پر ایک حصہ گراں رقم کے عوض قبضہ کر لیا۔ بقیہ لانے کا موقعہ اس کو یوں نہ ملا کہ بعد تلاش ربوہ سے دو حواری ایک ناظم جائیداد (بھلول پوری غالباً) دوسرے امور عامہ کا S.P عزیز بھامڑی جو مجھ پر مظالم میں پیش پیش ہوتا تھا۔ انہوں نے پیر کالونی میں اسے جالیا۔ محبت پیار سے باتوں میں مٹھائی کھلائی۔ صبح ایک دم مردہ اٹھا ربوہ پہنچ گئے۔ قدرتی موت کا سرٹیفکیٹ غالباً ڈاکٹر جمال الدین جو دراصل ایکسرے ایکسپرٹ تھا سے مجبور کر کے لکھوایا۔ معلومات پر جب معلوم ہوا کہ وہ کاغذات کا ایک حصہ مہتہ صاحب کو دے دیا گیا ہے۔ سٹ پٹاتے یوں بولے تو نے بیڑا غرق کر دیا۔ "مغلوں کی شکار گاہ" والے نے کیا خوب لکھا ہے کہ : "مذہبی دیوانے اب ان گناہوں کو گناہ نہیں بلکہ جزو ایمان سمجھنے لگ گئے ہیں۔ جھوٹ بولو بلواؤ، جھوٹے سرٹیفکیٹ مجبور کر کے حاصل کرو تا اپنے آپ کو زرخرید غلام ثابت کر سکو۔ سبحان اللہ!

جانب عالی! آپ نے فضل عمر اولوالعزم خلیفہ کے کرتوتوں، عیاشوں کی داستانیں سنی، پڑھیں ۔ ڈوب مرنے کا مقام کہ کلام مجید کے مطابق اپنے آپ کو خلیفہ کہنے والا نماز کی ادائیگی نجس حالت میں کرے۔ مسیح موعود نے ؎

دنیا کی سب دکانیں ہم نے ہیں دیکھی بھالی

میں نے جن دکانوں کا ذکر کیا ہے وہ (دوکانیں کاروباری نہیں کیونکہ یہاں تو کاروبار کا سوال نہیں یہاں تو تبلیغ دین اسلام مراد ہے) دوکانوں کا لفظ استعمال کر کے تنبیہ فرمائی۔ کیونکہ ان کے اعمال اور کرتوتوں نے ان کو بھی اسی صف میں کھڑا کیا۔ جیسے ایک بالکل چھوٹی سی دکان والا اپنے گاہک کو نسبتاً اپنے سے بڑی دوکان والے سے پھیرے۔ مثلاً کراچی میں ثناء اللہ کی دکان بہت مشہور ہے کہ اس کے سیلز مین ٹیکٹ فل Tacket Ful ہوتے اپنے گاہکوں کو آخر کار پلہ ڈال ہی لیتے ہیں۔ مگر دوسرے بیچارے محروم ہمیشہ اسی طرح انہوں نے بھی ٹیکٹ خطبات ارشادات تقاریر اپنا لئے۔ پیسہ کے پیر بن رہے ہیں۔ "عزت و آبرو کی پرواہ نہیں۔"

دور نہ جائیے ! خلیفہ ثانی کو ایک پلہ میں تو خلیفہ ثالث کو دوسرے پلہ میں ڈالئے۔ پرکھ لیجئے۔ خود ٹیکٹ واضح ہو جائے گا۔ تو اس طرح امیر کراچی بھی بسا اوقات چندوں وغیرہ کے سلسلہ میں جو جلال میں آتے ہیں وہ جھاڑ پلاتے ہیں کہ نہ مرد حضرات اور نہ مستورات کو بخشتے ہیں۔ غرض صرف اور صرف پیسہ۔ گویا اخلاص مخلص، مخلصی ایمان نہیں۔ پیسہ ہے جو بولتا ہے اور خطبات میں واہ واہ کرواتا ہے۔ اس ضمن میں ایک واقعہ عرض کردوں۔ قادیان میں کیا تھا چھوڑ دیجئے۔ کراچی میں

٢٣

صفحہ ٢٢٨

قالینوں کی درآمد برآمد کرے۔ ایک دفعہ دس ہزار برائے اشاعت قرآن دیئے۔ بس پھر کیا خطبات میں متواتر مخلصی کے گن گائے گئے۔ اس کے بعد پھر کبھی کچھ روپیہ دیتے ہیں تو نام کے اعلانات کا منع کردیتے ہیں۔

جناب عالی! مندرجہ بالا مظالم ٹھہرے میری ذات سے۔ لیکن اب سب سے زیادہ ضرورت اس بات کی ہے۔ قرآن پاک کی غیرت آپ کو کیونکر جھنجھوڑے آپ نے جلال امور عامہ اور امارت کی ایمانی بجلی روشناس کرنی ہے۔ یا روگردانی جیسے امور عامہ پایہ ماند حق ہے تو امارت خطبات کے سٹیجوں پہ کھڑے ہوتے۔ دوسروں کی عزت و آبرو سے کھیلتے ان کے خلاف نفرت کا بیج بوتے ہیں۔ دیکھنا یہ ہے کہ اسلام کی تعلیمات، قرآن پاک کی عظمت پر کلوخ اندازی کرنے کے خلاف کیونکر آپ کا جلال رونما ہوتا ہے۔

اور خدا سے فریب کرنا نہیں تو کیا۔

خلافت راشدہ کی توہین نہیں تو اور کیا ہے؟

قطعہ خاص الخاص میں دفنائے جانے کا اعزاز خلیفہ کو ہر قسم کی ریا کاریوں کے طفیل ہوتا ہے۔

اپنی اس درخواست کو جو اپنی قسم کی پہلی اور آخری ہوگی۔ مندرجہ ذیل الفاظ کے ساتھ ختم کرتا ہوں۔

١٩٥٣ء کے خونی واقعات و حادثات پڑھیں۔ (منیر انکوائری رپورٹ) ”کہ وہ بچہ ابھی مرا نہیں“ گویا کسی بھی وقت وہی خونی ہولی دوبارہ کھیلی جاسکتی ہے۔

اگر اس درخواست کو جھوٹ، الزام تراشی تصور فرماویں تو تادم تحریر ایک بیگم صاحبہ اور دو صاحبزادیاں پاکستان میں بقید حیات ہیں۔ تصدیق و تسلی آسان ہے۔ یہ تو حقیقت ہے کہ بے شرموں کو بے شرم ثابت کرنے کے لئے کچھ نہ کچھ قربانی دینی پڑتی ہے۔ لہٰذا

ظالم کو ظلم کی برچھی سے تم سینہ و دل برما نے دو یہ درد رہے گا بن کے دوا تم صبر کرو وقت آنے دو

کب تک رہو گے ضد، تعصب میں ڈوبے۔ سچ سچ کہو۔ اگر نہ بنا تم سے کچھ جواب خودی سے باز بھی آؤ گے یا نہیں۔ خوامخواہ پاک صاف بناؤ گے یا نہیں۔ دوسروں کی عزت و آبرو سے کھیلنا بند بھی کرو گے یا نہیں۔ لو تمہیں طور تسلی کا بتایا ہم نے۔ والسلام! عبدالرزاق سوہدرا

٢٣

الصلوۃ والسلام علیک یا خاتم النبیین

فتنہ انکارِ

جناب مرزا محمد

PDF 230

انا خاتم النبیین لا نبی بعدی

میں آخری نبی ہوں میرے بعد کوئی نبی نہیں

فتنہ انکار ختم نبوت

جناب مرزا محمد حسین سابق قادیانی

صفحہ ٢٣٠

عرض ناشر

مرزا غلام احمد قادیانی کی تحریرات، تصنیفات اور عقائد باطلہ کی تردید میں یوں تو تمام مکاتب فکر کے علمائے کرام نے اپنے اپنے انداز میں قلم اٹھایا ہے۔ مگر جس اسلوب علمی اور نہج تحقیق سے علمائے اہل حدیث نے اس کا تجزیہ کیا ہے اور جس شرح وبسط سے اس کے تار پود بکھیرے ہیں اور ہر میدان میں خود مرزا غلام احمد قادیانی سے لے کر چھوٹے سے چھوٹے مرزائی کا تعاقب کیا ہے۔ وہ کسی اور کے حصہ میں نہیں آیا۔ علمائے اہل حدیث نے ہر موقع پر مرزائیت کا علمی محاسبہ کیا ہے اور یوں تفصیل سے اس کے ایک ایک پہلو کو نقد و جرح کی کسوٹی پر رکھا ہے۔ ان کی تصنیفات میں جہاں بھی کسی مقدار میں کوئی زہر موجود تھا۔ اس کی نشان دہی کر دی ہے۔ اس موضوع سے متعلق ان کی خدمات گوناگوں کی پورے برصغیر میں کوئی مثال نہیں ملتی۔ جزاهم الله عنا وعن جميع المسلمين!

متحدہ ہندوستان میں انگریز کا یہ خودکاشتہ پودا اس کے زیر سایہ قائم رہا۔ لیکن اس کے بعد مرجھا گیا۔ ٧ ستمبر ١٩٧٤ء میں اس کو اقلیت قرار دینے کے بعد تو اس میں کوئی جان باقی نہیں رہی۔ یہ فیصلہ اس کے تابوت میں آخری کیل ثابت ہوا۔

علمی طور پر تو مرزائیت کو علمائے اہل حدیث نے اپنی پیہم ضربوں سے پہلے ہی ختم کردیا تھا۔ لیکن مولانا الیاس برنی کی تصنیف ”قادیانی مذہب کا علمی محاسبہ“ نے تو رہی سہی کسر بھی نکال دی۔ اب مزید اس موضوع پر لکھنے کی کوئی ضرورت باقی نہیں رہی۔

تاہم اس کا ایک گوشہ ایسا تھا جو ہنوز تشنہ تکمیل تھا۔ اس کی نقاب کشائی کی ضرورت تھی۔ زیر مطالعہ کتاب ”فتنہ انکار ختم نبوت“ کے لائق مؤلف مرزا محمد حسین بی کام نے اس پر سے بھی نہایت خوبصورتی سے پردہ اٹھا دیا ہے۔ مرزا محمد حسین موصوف مرزائیوں کے خلیفہ ثانی مرزا بشیر الدین محمود کے خاندان کی تمام مستورات کے اتالیق رہے ہیں اور اس لحاظ سے وہ ان کے گھر کے بھیدی ہیں۔ انہیں اس خانہ ساز نبوت کے اندرون خانہ کے حالات دیکھنے کے جو مواقع میسر آئے وہ کسی دوسرے شخص کو میسر نہیں آئے۔ مرزا محمد حسین تمام واقعات کے چشم دید گواہ ہیں۔ انہوں نے خلیفہ قادیانی کے گھر کے جو حالات آنکھوں سے دیکھے۔ بعض اصحاب کے کہنے پر اسی کتاب میں جمع کر دیئے ہیں اور گھر کے اس بھیدی نے بہترین انداز سے اس نبوت کی لنکا ڈھا دی ہے۔

٢

صفحہ ٢٣١

کتاب نہایت دلچسپ اور پر از معلومات ہے۔ اس کے مطالعہ سے قاری اس نتیجہ پر پہنچتا ہے کہ اخلاقی طور سے ”قادیانی نبوت“ کی پوری عمارت دھڑام سے نیچے آگری ہے۔ شیخ محمد اشرف، مورخہ ٣١ اکتوبر ١٩٧٨ء

کتاب ضبط کرنے والا طریق ٹھیک نہیں

مرزا محمود احمد قادیانی کا ربوہ سے اعلان: ”اسلام کے خلاف بھارت میں شائع شدہ کتاب ”مذہبی رہنما“ کے جواب کا صحیح طریق یہ ہے کہ ہم اس کا مدلل رد لکھیں اور اس کی وسیع اشاعت کریں۔“

(الفضل مورخہ ٢٣ نومبر ١٩٦١ء)

مرزا محمود کا اس بارے میں دوسرا اعلان

اسی مذموم کتاب کا ذکر کرتے ہوئے خلیفہ ربوہ نے کہا: ”میں نے اس پر خطبہ پڑھا اور کہا کہ یہ ضبط کرنے والا طریق ٹھیک نہیں۔ جب تو ان لوگوں کے دلوں میں شبہ پیدا ہو گا کہ ان کی باتوں کا کوئی جواب نہیں۔ واقعہ میں محمد رسول اللہ ﷺ ایسے ہی ہوں گے۔ تب ہی کتاب ضبط کرتے ہیں۔ اس کا جواب نہیں دیتے۔ اصل طریق یہ تھا کہ اس کا جواب دیا جاتا اور امریکہ اور ہندوستان میں شائع کر دیا جاتا۔“

(الفضل مورخہ ١٢ مارچ ١٩٥٧ء)

اپنے خلاف لکھی ہوئی کتابوں کے متعلق

مرزا محمود کا قادیان سے اعلان: ”بہر حال کسی کتاب کے پڑھنے سے دوسروں کو روکنا اتنی بڑی نادانی کی بات ہے کہ اس سے بڑی نادانی اور کوئی نہیں ہو سکتی۔ پس مصری صاحب نے جو باتیں پیش کی ہیں وہ سچی ہیں تو ان کے پڑھنے سے لوگوں کو روکنا بہت بڑا گناہ ہے اور اگر ہم روکیں تو قیامت کے دن یقیناً ہم ایسی حالت میں اٹھائے جائیں گے کہ ہمارا منہ کالا ہوگا۔ ہم خدا کے حضور لعنتی قرار پائیں گے۔ غیروں کا لٹریچر پڑھنا عیب کی بات نہیں۔ بلکہ میں ان لوگوں کو بے وقوف سمجھتا ہوں جو ایسی کتابیں چھپ چھپ کر پڑھتے ہیں۔ کیونکہ جو کسی دوسرے کو تحقیق سے روکتا ہے وہ اپنے جھوٹے ہونے کا آپ اقرار کرتا ہے۔“

(الفضل مورخہ ٢ اگست ١٩٣٩ء)

مسلمان حکومتوں کو دھمکی

مرزا محمود احمد کا چیلنج: ”اسلام کی ترقی احمدی سلسلہ سے وابستہ ہے اور چونکہ یہ سلسلہ مسلمان کہلانے والی حکومتوں میں نہیں پھیل سکتا۔ اس لئے خدا نے چاہا تو ان مسلمان کہلانے والی حکومتوں کی جگہ اور حکومتیں لے آئے تاکہ اس سلسلہ حقہ کے پھیلنے کے لئے دروازے کھولے جائیں۔“

(الفضل مورخہ ١٢ نومبر ١٩١٤ء)

٣

صفحہ ٢٣٣

تقسیم ہندوستان کے خلاف محمودی سکیم

"ہندوستان کی تقسیم پر اگر ہم رضامند ہوئے ہیں تو خوشی سے نہیں بلکہ مجبوری سے اور پھر یہ کوشش کریں گے کہ یہ کسی نہ کسی طرح پھر متحد ہو جائے۔"

(الفضل مورخہ ١٦ مئی ١٩٤٧ء)

اکھنڈ ہندوستان کے لئے محمود کی آرزو

"بہر حال ہم چاہتے ہیں کہ اکھنڈ ہندوستان بنے اور ساری قومیں شیر وشکر ہو کر رہیں۔"

(الفضل مورخہ ١٥ اپریل ١٩٤٧ء)

حکومت سے لڑنے کی دھمکی

"اگر تبلیغ کے لئے کسی قسم کی رکاوٹ پیدا کی جائے تو ہم یا تو ملک (پاکستان) سے نکل جائیں گے یا پھر اگر اللہ تعالیٰ اجازت دے تو پھر ایسی حکومت سے لڑیں گے۔"

(الفضل مورخہ ١٣ نومبر ١٩٥٣ء)

مؤلف کا قارئین سے خطاب

ان گیدڑ بھبکیوں کو پڑھنے کے بعد قارئین پر منکرین ختم نبوت کے وجود کے خطرات منکشف ہو جائیں گے۔ ان پر یہ بھی روشن ہو جائے گا کہ چاند پر تھوکنے والے کا کیا حشر ہوتا ہے۔ جس گرگ باراں دیدہ کو ١٩٧٠ء کے انتخاب پر چالیس لاکھ روپیہ صرف کیا تھا۔ اسی کے ہاتھوں قہار و جبار خدا نے ان دشمن ایمان لوگوں پر انہی کی تکفیر کی شمشیر چلا کر ان کو نزع میں مبتلا کر دیا۔ مؤلف: مرزا محمد حسین

پیش لفظ

پیش لفظ سے کسی تصنیف یا تالیف کی پیش رفت ہوتی ہے۔ لیکن جب تالیف کا موضوع ایک ایسا شخص ہو جو اپنے کردار اور اطوار سے نادر کالمعدوم کا درجہ رکھتا ہو اور اس کے اعمال وافعال کی صحیح تصویر کشی کے لئے کسی زبان میں کوئی الفاظ نہ ہوں اور بڑے بڑے لسان اور ادیب اس شخص کے احوال واقعی کو بیان کرنے سے قاصر اور عاجز ہوں تو پیش لفظ بڑی پس وپیش کے بعد ہی لکھا جاسکتا ہے۔ منکرین ختم نبوت کے سربراہ ثانی نے جس بے باکی اور ہوشربا جسارت سے خدا کے عتاب وعقاب اور تعزیر وعذاب کو ساری عمر پکارا بلکہ للکارا ہے۔ اس کی مثال تاریخ میں نہیں ملتی۔ ٤

اللہ تعالیٰ نے اپنے کلام (قرآن مجید) نازل کیا ہے اور ہم ہی اس کے محافظ ہیں۔" بڑے دعوے کے آگے سرنگوں ہو گئے۔ سرولیم میور جیسا ط کا متن بالکل اسی طرح ہے جیسے یہ بارہ سو سال پہلے

روح فرسا دعویٰ

اب منکرین کے سربراہ کے لئے تو ناممک متن کے خلاف کوئی جتن کر سکتا۔ لیکن اس نے قرآ بوجہلی تلعب کرنے میں اسلام کے مسلم غیر مسلم دش پلید کردار کے افشاء کا حریف نہ ہو سکا تو اس نے ایک اس کے دفاع کے لئے نازل ہوئی تھی۔ اس روح تصور بھی اثم عظیم ہے۔ قارئین محض کنائے سے اس باطن میں کتنے دوزخ بھرے ہوئے تھے اور اس کو ک کوئی باک نہ تھی۔ سورۃ نور حضرت عائشہ صدیقہ کی براءت کے لئے اللہ نے نازل فرمائی۔ ناہنجار مکار اوجھل کرنے کے لئے بوجہلی کا سہارا لیا۔ گویا اپنی والوں کو بھی دوزخ کا ایندھن بنا دیا۔

فتیلہ سوزاں

آیئے! آپ کو ایک اور گھناؤنے قصے خدام الاحمدیہ مرکزیہ ربوہ نے چند سال ہوئے ایک (سوال و جواب) ہزاروں کی تعداد میں شائع کیا تا کہ ربوہ کی رگ و پے میں سرایت کر جائیں۔ یہ کتابچہ اس عبدالقیوم خاں کی صدارت میں ربوہ والوں کو قانون مضطرب ہوا تھا اور سردار صاحب مذکور کی معزولی پاس موجود ہے۔ اس کے ص ١٠ پر انیسواں سوال ہے "قرآن کریم میں آنحضرت ﷺ کا ا کریں۔" ٥

صفحہ ٢٣٣

اللہ تعالیٰ نے اپنے کلام (قرآن مجید) کے متعلق فرمایا ہے کہ: ”ہم نے اس کلام کو نازل کیا ہے اور ہم ہی اس کے محافظ ہیں۔“ بڑے شدید عیسائی دشمن اور یہودی مستشرقین بھی اس دعوے کے آگے سرنگوں ہو گئے۔ سر ولیم میور جیسا خطرناک دشمن بھی معترف ہے کہ ”قرآن کریم کا متن بالکل اسی طرح ہے جیسے یہ بارہ سو سال پہلے تھا۔“

روح فرسا دعویٰ

اب منکرین کے سر براہ کے لئے تو ناممکن تھا کہ وہ خدا کے دعوے کو چیلنج کر کے قرآنی متن کے خلاف کوئی جتن کر سکتا۔ لیکن اس نے قرآنی متن کی کسی نہ کسی آیت کے معنی کے ساتھ بوجہلی تلعب کرنے میں اسلام کے مسلم غیر مسلم دشمنوں کو بھی مات کر دیا۔ جب وہ اپنے ناقابل بیان کردار کے افشاء کا حریف نہ ہو سکا تو اس نے ایک اعلان داغ دیا کہ سورۂ نور چودہ سو سال پہلے اس کے دفاع کے لئے نازل ہوئی تھی۔ اس روح فرسا اعلان کی کہاں کہاں زد پڑتی ہے۔ اس کا تصور بھی اثم عظیم ہے۔ قارئین محض کنائے سے اندازہ لگا لیں گے کہ ایسے اعلان کرنے والے کے باطن میں کتنے دوزخ بھرے ہوئے تھے اور اس کو کسی مقدس سے مقدس ہستی کی توہین کرنے میں کوئی باک نہ تھی۔ سورۂ نور حضرت عائشہ صدیقہؓ کی بے مثال پاکدامنی کے ثبوت اور اس ثبوت کے خلود کے لئے اللہ نے نازل فرمائی۔ ناہنجار عصیاں کار نے اپنے لرزہ خیز حالات کو نظروں سے اوجھل کرنے کے لئے بوجہلی کا سہارا لیا۔ گویا اپنی سیاہ کاریوں کو جہنم کے شعلے بنا کر اپنے ماننے والوں کو بھی دوزخ کا ایندھن بنا دیا۔

فتیلہ سوزاں

آئیے ! آپ کو ایک اور گھناؤنے فتنے کے فتیلہ سوزاں کی طرف متوجہ کریں۔ مجلس خدام الاحمدیہ مرکزیہ ربوہ نے چند سال ہوئے ایک کتابچہ بعنوان ”دینی معلومات“ (بطرز سوال و جواب) ہزاروں کی تعداد میں شائع کیا تا کہ ربوہ کی نئی نسل میں ملعون مکائد مذہبی عقائد بن کر ان کی رگ و پے میں سرایت کر جائیں۔ یہ کتابچہ اس وقت شائع ہوا جب آزاد کشمیر میں مکرم سردار عبدالقیوم خاں کی صدارت میں ربوہ والوں کو قانوناً غیر مسلم قرار دیا گیا تھا اور اس وقت مسٹر بھٹو بڑا مضطرب ہوا تھا اور سردار صاحب مذکور کی معزولی پر کمر بستہ ہو گیا تھا۔ کتابچے کا ایک نسخہ ہمارے پاس موجود ہے۔ اس کے ص ١٠ پر انیسواں سوال ہے۔

”قرآن کریم میں آنحضرت ﷺ کا اسم مبارک کتنی دفعہ آیا ہے؟ کسی ایک مقام کا ذکر کریں۔“

٥

صفحہ ٢٣٤

جواب....... چار دفعہ۔ ”محمد رسول الله والذين معه اشداء على الكفار رحماء بينهم“

تبصرہ....... جواب میں صرف چار کہا ہے۔ کیونکہ سورۃ الصف کی ساتویں آیت (٦١۔٧) کو مجرمانہ طور پر نظر انداز کردیا ہے۔ وہ آیت یہ ہے جس میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے پیش گوئی کی تھی۔ ”انی رسول الله اليكم مصدقاً لما بين يدى من التورة ومبشراً برسول يأتي من بعدی اسمه احمد“ اس آیت میں احمد سے حضرت رسول اللہ ﷺ مراد ہیں۔ لیکن منکرین کے سربراہ ثانی نے اپنی دیوار گریہ کو سہارا دینے کے لئے اس کو اپنے باپ مرزا غلام احمد پر چسپاں کر دیا اور یہ اب تک اس منکر گروہ کا عقیدہ ہے۔ ایک عامی بھی جانتا ہے کہ احمد سے کسی بھی طرح غلام احمد نام مراد نہیں ہو سکتا۔ ہاں! افتراء کے لئے ہر دروازہ کھلا ہے۔

سوال نمبر: ٢٢....... قرآن کریم میں جن جن انبیاء کے اسماء کا ذکر ہے بیان کریں۔

جواب....... حضرت آدم علیہ السلام سے فہرست شروع کر کے حضرت محمد ﷺ کے نام مبارک کے بعد لکھا ہے۔ حضرت احمد علیہ الصلوٰۃ والسلام۔ (اس سے ان کی مراد مرزا غلام احمد ہے)

(دینی معلومات ص ١١)

اس جواب سے عیاں ہے کہ منکرین ختم نبوت مرزا غلام احمد کو ”حضرت احمد علیہ الصلوٰۃ والسلام“ تسلیم کرتے ہیں۔ اس پر مستزاد یہ کہ یہ قرآن کریم میں درج ہے۔ عیاذ باللہ! یہ قرآن کریم میں اضافہ کی ابلیسی جسارت ہے۔ اصل میں یہ افتراء مذکورہ بالا آیت سے تراشا گیا ہے۔ جس میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام ”مبشراً برسول یأتی من بعدی اسمه احمد“ کہہ کر حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کی بعثت مبارکہ کی بشارت خدا کی طرف سے دی تھی۔

اس افتراء سے اظہر من الشمس ہے کہ یہ لوگ ”غلام احمد“ کو احمد تسلیم کر کے نہ صرف انبیاء کی صف میں کھڑا کرتے ہیں۔ بلکہ اس کو حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کے مقام پر کھڑا کرتے ہیں۔ بلکہ ایک لحاظ سے اس کو ”افضل“ قرار دینے کی ملعون کوشش کرتے ہیں کہ اس کے نہ ماننے سے کفر لازم آتا ہے۔ اسی وجہ سے علامہ اقبالؒ نے فرمایا تھا کہ اس طرح تو مرزا غلام احمد اپنے مریدوں کے نزدیک خاتم النبیین ہوا۔ معاذ اللہ!

خشیتہ اللہ بالائے طاق رکھ کر امت محمدیہ کو ”کافر“ قرار دیتے ہیں۔ اس طرح ان کا یہ عیارانہ انداز کہ وہ حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کی ”غلامی“ سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی پیش گوئی کا مصداق بنا۔ فحش اور فاش ضلالت ہے۔ احمد کے مقدس نام کو غصب کرنا۔ خدا اور اس کے

٦

صفحہ ٢٣٥

رسول ﷺ کو چیلنج کرنا ہے۔ ایسے آدمی کو ”غلام احمد“ کہنا ایسی ہی بات ہے جیسے اللہ تعالیٰ کے بیباک منکر کو غلام اللہ کہا جائے۔ کہاں حضرت احمد مجتبیٰ ﷺ اور کہاں مرزا غلام احمد ۔ چہ نسبت خاک را بعالم پاک۔

ایک اور نقب زنی

قرآن کریم کی اس عریاں تحریف پر قناعت نہیں کی بلکہ خاتم الانبیاء کے مقدس خطاب اور لقب پر بھی چھاپہ مارا ہے۔ لسان العرب عربی کی مستند ڈکشنری ہے۔ اس میں خاتَم اور خاتِم کو (Interchange able) قرار دیا گیا ہے۔ یعنی یہ مترادف الفاظ ہیں اور اس کے معنی لکھے ہیں۔ وہ آخری جو افضل ہو۔ Edward William Lane کی مشہور لغت (Arabic, English Lexicon) میں ختمہ کے معنی لکھے ہیں۔ (Improved, Stamped, Sealed- book:1, part:2, p:703) پر وہ اس کے لئے مثال دیتا ہے۔

اعطانی ختمتی : "He gave me my sufficiency or what sufficed me, because what suffices a Man is the last or utmost of his desires or demand."

جب کوئی گروہ قرآن کریم کی صراطِ مستقیم سے عمداً اور عملاً انحراف کرتا ہے تو عذاب الٰہی اس کا مقدر ہو جاتا ہے۔

ایک اور ضلالت

سورۃ البقرہ کی پانچویں آیت اس طرح ختم ہوتی ہے۔ ”وبالآخرۃ ھم یوقنون “ یہاں آخرۃ سے ان لوگوں نے مرزا قادیانی کی وحی مراد لی ہے۔ آخرت کا لفظ ٣٩ دفعہ قرآن کریم میں آیا ہے۔ سورۃ لقمان کی پانچویں آیت بالکل اسی طرح ہے۔ ٣٧ جگہ آخرت سے قیامت مراد لی ہے اور سورۃ لقمان کی پانچویں آیت میں بھی آخرت سے مراد قیامت ہی ان لوگوں نے لی ہے۔ لیکن سورہ البقرہ میں آخرۃ کو مرزا قادیانی کی وحی قرار دیا ہے۔ یہ عرض کرنا بے محل نہ ہوگا کہ مؤلف نے ایک قلمی نام سے اس گروہ کے مفسر سے اس بارے میں طویل مراسلت کی وہ اس مقام پر آخرۃ سے مرزا قادیانی کی وحی مراد لینے پر مصر رہے۔ ان کے تراجم میں یہی غیر قرآنی مفہوم لیا گیا ہے۔ جب مؤلف نے پوچھا کہ کیا مرزا قادیانی نے خود اس کو اس معنی میں لیا تھا تو انکار کر دیا۔ یعنی جس کی طرف یہ لوگ آخرۃ کو بطور وحی منسوب کرتے ہیں۔ اس کے متعلق خود معترف ہیں کہ اس کو کوئی ایسا علم نہ تھا۔ جب پوچھا کہ کیا حکیم نور الدین بھی آپ والے معنے کرتے تھے تو

٧

صفحہ ٢٣٧

جواب دیا کہ وہ بھی اس کے یہ معنی نہیں لیتے تھے۔ تو اس سے یہی ثابت ہوا کہ ان لوگوں کو محکمات کو متشابہات اور متشابہات کو محکمات بنا کر قرآن کریم کی روح کو مجروح کرنے کی چاٹ پڑ گئی تھی۔ انہی لوگوں پر اپنی بیہودگی واضح ہونی چاہئے کہ جس کی طرف وہ اپنا افتراء منسوب کرتے ہیں۔ اس کو ساری عمر معلوم نہ ہوا کہ اس آیت ”بالاٰخرۃ ھم یوقنون “ میں آخرۃ سے اس کی وحی مراد ہے۔ ضلالت میں یہ اضافہ ١٩١٨ء میں ہوا اور مولوی بشیر علی کو راوی قرار دیا گیا۔

مکہ مبارکہ اور مدینہ منورہ کی توہین

قرآن کریم کی تحریف و تاویل پر قناعت نہیں کی بلکہ مکہ مبارکہ اور مدینہ منورہ کے تقدس پر بھی چھاپہ مارا اور دینی شعور سے بالکل عاری جماعت کے سامنے خطبہ میں کہا گیا کہ اب معاذ اللہ حرمین شریفین کی چھاتیوں میں روحانی دودھ خشک ہو گیا ہے۔ اب یہ قادیان میں ملے گا۔ (حقیقت الرؤیا ص ٤٦) جب رعونت اور فرعونیت دل و دماغ میں مستولی ہو تو دشمنِ ایمان و آگہی بننے اور یاوہ گوئی میں کوئی روک نہیں ہوتی۔ یہ نامور ”خلیفہ“ ابرہہ کا المناک اور عبرت آموز انجام بھول گیا کہ مکہ معظمہ پر حملہ کی پاداش میں اس کا کیا حشر ہوا۔ اس خلیفہ کو اپنے نام سے کوئی نسبت نہ تھی۔ اس سے تو بڑھ کر ابرہہ کا ہاتھی تھا جو حملہ کے لئے نہ بڑھا۔ الحاج محمد اسحاق صاحب نے نوائے وقت مورخہ ٢١ اکتوبر ١٩٧٧ء میں ایک ایمان افروز مقالہ بعنوان ”قصہ ابرہہ کے ہاتھیوں کا“ میں لکھا: ”ابرہہ کے لشکر میں تیاریاں ہونے لگیں۔ ابرہہ نے اپنا خاص ہاتھی جس کا نام کچھ مفسرین نے محمود لکھا ہے ہر اول دستے میں رکھا۔ لشکر کی کمر بندی ہو چکی تو مکہ کی سمت کوچ کا حکم ہوا۔ عین اسی وقت سردار عرب نفیل بن حبیب نے جس کے ساتھ راستے میں ابرہہ کی جنگ ہوئی تھی اور اب بطور قیدی اس کے ساتھ تھا۔ وہ آگے بڑھا اور شاہی ہاتھی (محمود) کا کان پکڑ کر کہا: ”محمود بیٹھ جاؤ اور جہاں سے آیا ہے وہیں خیریت کے ساتھ چلا جا تو خدا تعالیٰ کے محترم شہر میں ہے“ یہ کہہ کر کان چھوڑ دیا اور بھاگ کر قریب کی پہاڑی میں جا چھپا۔ ہاتھی یہ سنتے ہی بیٹھ گیا۔ اب ہزار جتن فیل بان کر رہے ہیں۔ لشکری بھی کوششیں کرتے کرتے ہار گئے۔ ہاتھی اپنی جگہ سے ہلتا ہی نہیں۔ سر پر آنکس پڑ رہے ہیں۔ ادھر ادھر بھالے اور برچھے مار رہے ہیں۔ آنکھوں میں آنکس ڈال رہے ہیں۔ غرض تمام جتن کر لینے کے باوجود بھی ہاتھی نے جنبش تک نہ کی۔ پھر بطور امتحان اس کا منہ یمن کی طرف کر کے چلانا چاہا تو جھٹ کھڑا ہو کر دوڑتا ہوا چل دیا۔ شام کی طرف چلانا چاہا تو بھی پوری طاقت سے آگے بڑھ گیا۔ مشرق کی طرف جانا چاہا تو بھی بھاگا بھاگا گیا۔ پھر مکہ شریف کی طرف منہ کر کے آگے بڑھانا چاہا تو وہیں بیٹھ گیا۔ فیل بانوں نے اسے پھر مارنا پیٹنا شروع کر دیا۔ لیکن کوئی نتیجہ نہ نکلا۔“

٨

منکرین ختمِ نبوت کے محمود کے کان تو ابرہہ پ طرف ہی حملہ کرنے کے لئے دوڑتا تھا۔ اس کو تو لارڈ ک عالمی جنگ میں لارڈ کچنر نے عربوں کو دھمکی دی تھی کہ و اس دھمکی کے بعد ”لوی ٹانیا“ جہاز میں روس جاتے ہوئ اس انجام کا نقشہ یوں ہوا۔

آسمان خاک ترا گو
مرقد سے جو درہم ب

دوسری عالمی جنگ میں مسولینی نے مکہ معظم فاش کا یہ انجام ہوا کہ اس کی قوم نے اس کو گولی کا نشان تھوکتے رہے۔ مؤلف کے معزز و مؤقر دوست کرنل ڈا انہوں نے خود مسولینی کی الٹی لٹکی ہوئی لاش دیکھی۔ ( ١٩٤٧ء میں قادیان سے ”بلکہ دل و در چراغ محفل“ ہو ک سے رخصت ہونے سے سات آٹھ سال پہلے اپنا پای مسولینی کا سا انجام ہوا۔

حضرت خاتم النبیین ﷺ کے خلاف یاوہ گو

یہ ایسا بے لگام تھا اور شتر بے مہار تھا کہ ایک کریم ﷺ سے بڑا نبی آسکتا ہے۔ اس کو زمیندار اخب اسلامی اخبارات اور رسائل اس پر لعن طعن کی بارش کر اشتعال سے خوف پیدا ہوا تو پھر ڈھیلے منہ سے کہہ دیا ک ہے۔ وہ ایسا کر سکتا ہے۔ لیکن وہ کرے گا نہیں۔ منیر فر ہوا کہ کیا وہ حضرت رسول کریم ﷺ کو معصوم عن الخطا م لیکن آنکھیں احتجاج سے خوفزدہ ہو کر دوسرے دن یہان کھڑا کر کے جماعت کے ذہن کو مفلوج کر کے بڑی ب سے اپنے باپ کے ”دعاوی“ کا قائل ہونا تو اس کے ب رہا تھا۔ ہم دیکھتے ہیں کہ دنیا میں کسی پولیس افسر کے پا ہی دل میں باپ کے الہاموں کو ابہام ہی سمجھتا تھا۔ ا

٩

صفحہ ٢٣٧

منکرین ختم نبوت کے محمود کے کان تو امریکہ کے ہاتھ میں تھے۔ اس نے تو مکہ معظمہ کی طرف ہی حملہ کرنے کے لئے دوڑنا تھا۔ اس کو تو لارڈ کچنر کا سمندر میں غرق ہونا بھول گیا۔ پہلی عالمی جنگ میں لارڈ کچنر نے عربوں کو دھمکی دی تھی کہ وہ خانہ کعبہ کو اصطبل بنا دے گا۔ معاذ اللہ! اس دھمکی کے بعد ”لوسی تانیا“ جہاز میں روس جاتے ہوئے شمالی سمندر میں مع جہاز غرق ہو گیا۔ اس انجام کا نقشہ یوں ہوا ۔

آسمان خاک ترا گورے نہ داد
مرقدے جز در یم شورے نہ داد

دوسری عالمی جنگ میں مسولینی نے مکہ معظمہ پر بم پھینکنے کی دھمکی دی۔ اس کی شکست فاش کا یہ انجام ہوا کہ اس کی قوم نے اس کو گولی کا نشانہ بنا کر الٹا لٹکا دیا اور عوام اس کی لاش پر تھوکتے رہے۔ مؤلف کے معزز و مؤقر دوست کرنل ڈاکٹر نور احمد صاحب نے مؤلف کو بتایا کہ انہوں نے خود مسولینی کی الٹی لٹکی ہوئی لاش دیکھی۔ (اس پر تھوکا گیا تھا) اس نامحمود کو بھی اگست ١٩٤٧ء میں قادیان سے ”نالہ دل و دود چراغ محفل“ ہو کر ہندوؤں کا لباس پہن کر نکلنا پڑا اور دنیا سے رخصت ہونے سے سات آٹھ سال پہلے ایڑیاں رگڑ رگڑ کر پیوند خاک ہوا۔ گویا کچنر اور مسولینی کا سا انجام ہوا۔

حضرت خاتم النبیین ﷺ کے خلاف یاوہ گوئی

یہ ایسا بے لگام تھا اور گسستہ مہار تھا کہ ایک دفعہ خطبہ جمعہ میں یہ کہا کہ حضرت رسول کریم ﷺ سے بڑا نبی آ سکتا ہے۔ اس کو زمیندار اخبار نے ہوا دی اور ہندوستان کے سارے اسلامی اخبارات اور رسائل اس پر لعن طعن کی بارش کرنے لگے اور جماعت میں بھی اس ملک گیر اشتعال سے خوف پیدا ہوا تو پھر ڈھیلے منہ سے کہہ دیا کہ میرا مطلب یہ تھا کہ خدا تعالیٰ قادر مطلق ہے۔ وہ ایسا کر سکتا ہے۔ لیکن وہ کرے گا نہیں۔ منیر ٹربیونل میں بھی پہلی پیشی پر جب اس پر سوال ہوا کہ کیا وہ حضرت رسول کریم ﷺ کو معصوم عن الخطاء تسلیم کرتا ہے تو اس نے مبہم سا جواب دیا۔ لیکن اگلی پیشی پر احتجاج سے خوفزدہ ہو کر دوسرے دن بیان کی نفی کر دی۔ اس نے انکار ختم نبوت کا فتنہ کھڑا کر کے جماعت کے ذہن کو مفلوج کر کے بڑی بے شرمی کا کاروبار چلایا۔ بفرض محال یہ دل سے اپنے باپ کے ”دعاوی“ کا قائل ہوتا تو اس کے پاس رہتے ہوئے اخلاقی پوزش کا ڈرامہ نہ رچاتا۔ ہم دیکھتے ہیں کہ دنیا میں کسی پولیس افسر کے پڑوس میں رہ کر آدمی محتاط رہتا ہے۔ چونکہ دل ہی دل میں باپ کے الہاموں کو ابہام ہی سمجھتا تھا۔ اس لئے بڑی بے باکی اور ناپاکی

صفحہ ٢٣٩

سے نہیں چوکتا تھا۔ مبینہ طور پر اپنی نجی مجلسوں میں تو صریح الحاد کی باتوں سے لذت یاب ہوتا تھا۔ کیونکہ اس کو جماعت کی طرف سے اعتراض کا خوف نہ تھا۔ اس نے جماعت کے لوگوں کو بے خبر رکھا اور جو باخبر تھے ان کو بے بس کردیا۔ یہی وجہ ہے کہ وہ کنجری کے ناچ کو فن قرار دیتے ہوئے کہتا تھا کہ علم کی خاطر کوئی چیز بری نہیں۔

(الفضل مورخہ ٣ دسمبر ١٩٥٥ء)

یہی بات اس نے حکیم نورالدین کی طرف منسوب کرکے کہی کہ انہوں نے بھی کنجری کے ناچ کو ایک طرح کا علم قرار دیا اور دیکھنے کی ترغیب دی۔

(الفضل مورخہ ٣ دسمبر ١٩٥٥ء)

اسی اعتراف معاصی کی رو میں اس نے یہ بھی کہا: ”مجھ پر حملے کرتے ہیں۔ میں کہتا ہوں میں نے کب اپنے آپ کو پاک کہا ہے۔“

(الفضل مورخہ ٢ فروری ١٩١٥ء)

خدا کی خدائی میں گناہ کا خاصہ ہے کہ گناہ ہی گنہگار پر سوار ہوتا ہے۔ گناہ پر سوار کرنا اور اس کو اپنے اندر سمیٹے رکھنا فطرتاً ناممکن ہے۔ اس ضمن میں غالب کا کہنا بالکل صحیح ہے ؎

لپٹنا پرنیاں میں شعلۂ آتش کا آساں ہے
ولے مشکل ہے حکمت دل میں سوز غم چھپانے کی

معصیت کا نتیجہ ذہنی امراض

معصیت کے ارتکاب سے چند لمحوں کی نشاط تو ہوتی ہے۔ اس کے محو ہو جانے کے بعد سوز غم دل و دماغ پر محیط ہو جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایسے اشخاص Schizophrenia شقاوت ذہنی کے مریض ہوتے ہیں۔

افشاء راز کے سارے جھروکے اور دریچے بند کرنے کی پیہم سعی میں ایک اور ذہنی عارضے کے شکار ہو جاتے ہیں وہ ہے Paranoia (خبط فضیلت) وہ زندگی کے تلخ ترین حقائق اور ان کے عواقب سے خیالی طور پر بچنے کے لئے Grandiose Delusion (جلال اوہام) کے مریض ہو جاتے ہیں۔ انہی ذہنی عوارض سے ان کے اندر Sadism (ایذا رسانی کی لذت) کا مادہ پیدا ہو جاتا ہے جس کے طفیل وہ اپنے حلقہ بگوشوں کو لذت ایذا طلبی Masochism کا عادی بنا دیتے ہیں۔ یہی وہ ساری کیفیات تھیں جو مرزا محمود کے وجود میں پیدا ہوئیں۔ انہی کے نتیجہ میں جماعت جمود و خمود میں مبتلا ہو کر ایک متحرک لاش ہو کر رہ گئی اور نادانوں نے اس کو تنظیم کا نام دیا۔ حالانکہ یہ انسانیت کی تحقیر و تذلیل تھی۔ وہ یہ نہ سمجھی کہ اس کا خلیفہ اپنی ناپاکی کا اقرار کرکے بھی یہ کہہ گزرتا ہے: ”جو شخص مجھے ناکام بنانا چاہتا ہے وہ اسلام کے غلبے کو روکتا ہے۔“

(الفضل مورخہ ١٨ اگست ١٩٥٦ء)

١٠

”میرا مقابلہ کرنے والا دہریت سے ڈرے نہیں

یہ ذہن کا فالج نہیں تو اور کیا ہے۔ میکاؤولی نے ہے) کے متعلق لکھا ہے کہ اس کو اپنے تحفظ کے لئے لومڑی کی شیر پھندوں سے محفوظ نہیں ہوسکتا اور لومڑی اپنے آپ کو لئے آمر کو یہ خواص اس طرح پیدا کرنے چاہئیں کہ وہ محسوس ہو تو شیر بنا رہے جب پھندا نظر آئے تو لومڑی کی مکاری کام یہی حال مرزا محمود کا تھا۔ جب بے خوفی کی لہر کرتا جب احتجاج کا پھندا یا قانون کا دام ہمرنگ زمین اس

اپنے پیشرو سے حسد

چونکہ جماعت میں سربراہ اوّل حکیم نورالدین تھے اس نے لومڑی کے انداز اختیار کرلئے اور اپنے پیشرو کی ہجو کرتا۔ اس نے کہا: ”خلیفہ اوّل کے زمانے میں، میں لنگر خانے اور دوسرے سب لوگ بھی جانتے ہیں کہ خلیفہ اوّل کے گھر میں کبھی لنگر خانے کا کھانا نہیں آیا۔“

”خدا تعالیٰ نے نوح جیسے نبی کی پروا نہیں کی کو کیا سمجھے بیٹھے ہیں۔“

”اس وقت بھی خلیفہ اوّل کے خاندان کے بقیہ کے مٹانے کے لئے کوشاں تھے۔“ (نوٹ: اس وقت صاحب کی اولاد کا ربوہ سے اخراج نہیں ہوا تھا)

اور بہت سے ایسے فقرات ہیں جن سے اس نے کوشش کی اور کرتا رہا۔

اصل میں اس تحریک انکار ختم نبوت میں کبھی عیسیٰ علیہ السلام کو از روئے قرآن کریم بن باپ مانتا تھا تھا۔ لیکن حکیم نورالدین اس کے زمانے میں ہی اس عیسیٰ السلام کو بن باپ نہیں مانتا تھا۔ ان کے چھ سالہ دور میں

١١

صفحہ ٢٣٩

"میرا مقابلہ کرنے والا دہریت سے درے نہیں رہتا۔"

(الفضل مورخہ ١٥ اگست ١٩٤٧ء)

یہ ذہن کا فالج نہیں تو اور کیا ہے۔ میکاولی نے آمر (وہ آمر کو Prince کہتا ہے) کے متعلق لکھا ہے کہ اس کو اپنے تحفظ کے لئے لومڑی اور شیر کے خواص پیدا کرنے چاہئیں۔ شیر پھندوں سے محفوظ نہیں ہو سکتا اور لومڑی اپنے آپ کو بھیڑیوں سے محفوظ نہیں رکھ سکتی۔ اس لئے آمر کو یہ خواص اس طرح پیدا کرنے چاہئیں کہ وہ محفوظ ہوں۔ یعنی جب پھندے کا خوف نہ ہو تو شیر بنا رہے جب پھندا نظر آئے تو لومڑی کی مکاری کو شیوہ بنالے۔

یہی حال مرزا محمود کا تھا۔ جب بے خوفی کی لہر آتی تو روحانی طور پر اپنے اکابر کی تحقیر کرتا جب احتجاج کا پھندا یا قانون کا دام ہمرنگ زمین اس کو نظر آ جاتا تو پرہیزگار بن جاتا۔

اپنے پیشرو سے حسد

چونکہ جماعت میں سربراہ اوّل حکیم نورالدین کا احترام بہت تھا۔ اس سے خائف ہو کر اس نے لومڑی کے انداز اختیار کر لئے اور اپنے پیشرو کی جو اس کا خسر بھی تھا، مذمت کئی حیلوں سے کرتا۔ اس نے کہا: "خلیفہ اوّل کے زمانے میں میں لنگر خانے کا افسر تھا اور یہ بات بھی جانتا ہوں اور دوسرے سب لوگ بھی جانتے ہیں کہ خلیفہ اوّل کے گھر لنگر سے کھانا جایا کرتا تھا۔ مگر ہمارے گھر میں کبھی لنگر خانے کا کھانا نہیں آیا۔"

(الفضل ٣١ اگست ١٩٣٨ء)

"خدا تعالیٰ نے نوح جیسے نبی کی پروا نہیں کی۔ نہ معلوم یہ لوگ خلیفہ (حکیم نورالدین) کو کیا سمجھے بیٹھے ہیں۔"

(الفضل مورخہ ٢ اگست ١٩٥٦ء)

"اس وقت بھی خلیفہ اوّل کے خاندان کے چند افراد پیغامیوں کے ساتھ مل کر خلافت کے مٹانے کے لئے کوشاں تھے۔" (نوٹ: اس وقت سے مراد شاید وہ زمانہ ہے جب حکیم صاحب کی اولاد کا ربوہ سے اخراج نہیں ہوا تھا)

(الفضل مورخہ ٢٨ اگست ١٩٥٦ء)

اور بہت سے ایسے فقرات ہیں جن سے اس نے حکیم صاحب کو نظروں سے گرانے کی کوشش کی اور کرتا رہا۔

اصل میں اس تحریک انکار ختم نبوت میں کبھی بھی التزام موجود نہ تھا۔ بانی تحریک حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو از روئے قرآن کریم بن باپ مانتا تھا اور ایسا نہ ماننے والوں کو منکرین دین سمجھتا تھا۔ لیکن حکیم نورالدین اس کے زمانے میں ہی اس تصور کے قائل نہ تھے۔ وہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو بن باپ نہیں مانتے تھے۔ ان کے چھ سالہ دور سربراہی میں ان کا خیال ہی غالب رہا اور

صفحہ ٢٤١

لاہوری جماعت اب تک اسی کی قائل ہے۔ ١٩١٤ء کے بعد سربراہ ثانی نے تو اپنے پیشرو کے استخلاف میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہ کیا۔ جیسے کہ مندرجہ بالا حوالہ جات سے عیاں ہے۔ اب تیسرے ”خلیفہ“ نے ڈیوٹی لی اور دعویٰ کیا کہ وہ ازروئے تالمود حضرت موسیٰ علیہ السلام کی پیش گوئی کا مصداق ہے۔ حالانکہ تالمود یہودیوں کی متبرکہ فقہ پر کتاب ہی ہے۔ وہ باوجود تحریر و تقریر کے ملکہ سے عاری ہونے کے اپنے باپ سے افضل عملاً تسلیم ہوتا ہے۔ حالانکہ اس کا کارنامہ ٧؍ستمبر ١٩٧٤ء کو منصہ شہود پر آگیا تھا۔

اپنے اعمال اور احوال کی اذیت ناک زبونی کی بے نتیجہ تلافی کے لئے منکرین کے فرمانروا ادعائے باطل کے بڑے رسیا تھا۔ تاکہ جماعت کے منہ پر مہر لگی رہے۔ اس طرح جماعت بھی کچھ اذیت پسندی سے اور کچھ ”نہ جائے رفتن نہ پائے ماندن“ کا مصداق ہو کر زبان بندی کی قیود کی عادی ہوچکی تھی اور اس کا حال بقول شاعر یہ تھا؎

اپنی منقاروں سے حلقہ کس رہے ہیں جال کا
طائروں پر سحر ہے صیاد کے اقبال کا

منکرین کے قمر الانبیاء کا حشر

موجودہ سربراہ ثالث کا چچا اور ایم ایم احمد کا باپ ”قمر الانبیاء“ کہلاتا تھا اور اس کے بڑے بھائی سربراہ ثانی نے کمر بستہ ہو کر اس کے ساتھ ایسا کھردرا سلوک کیا کہ وہ اس دکھ کی آگ میں جل گیا۔ اس کے صاحب اقبال اور تنومند بیٹے کو اپنا داماد بنا کر بے اولاد رکھا۔ اس داماد کی چھوٹی بہن سربراہ ثانی یعنی اپنے تایا محمود کی بہو تھی۔ اس کو اپنے بیٹے سے طلاق دلوائی۔ اسی ”قمر الانبیاء“ کے دوسرے بیٹے کے نکاح کا مقاطعہ کیا اور اس کو نکاح خواں نہیں ملتا تھا۔ یہ اس خاندان کا حال ہے جو ”خاندان نبوت“ کہلاتا تھا۔ یہ سب انہی باطل ادعاؤں پر خدائی تعزیر تھی۔

سربراہ ثالث پر داماد کی ضرب

اب حال ہی میں سربراہ ثالث کے پھوپھی زاد بھائی داماد نے اس کی پانچ بچوں والی بیٹی کو طلاق دے کر جماعت سے باہر شادی کر لی ہے اور بیان کیا جاتا ہے کہ اس نے درون خانہ کی عفونتوں کی خبر اولوالامروں کو پہنچا دی ہے۔ اس مہم جو جوان کے بزرگ بھائی نے خود مؤلف کو بتایا کہ جو اس نے کیا وہ شریعت کے مطابق کیا ہے اور اس کی خبر رسانی کی تردید نہ کی۔ گویا شخصی منافقت نے زور پکڑ رکھا ہے۔

١٢

ناشدنی اور ناگفتہ سانحہ

مذکورہ بالا قمر الانبیاء نے اپنے والد پر طنز لوگوں کی روایتیں درج کیں۔ اپنی والدہ کی طرف حال ہے اس ”اولاد مبشرہ اور ذریت طیبہ“ کا! کوئی سکتی ہے۔ ”سیرت مہدی“ کی پہلی جلد حکماً واپس

دیکھ جو کچھ سامنے آئے
آنکھ آئینے کی پیدا

یہ سب انکار ختم نبوت کی پھٹکار ہے

تحدیث نعمت

مؤلف ٧٤ سال کے مرحلہ میں ”صبح ہمت نہ تھی۔ لیکن چند صاحبان کرام کی اثر انگیز ت ٧؍ستمبر ١٩٧٤ء کے فیصلے کے بعد مؤلف نے بغور مراسلت کی کیونکہ بقول شخصے انہوں نے خصوصی صادر کیا تھا) کی روئیداد کو فائل پر منتقل کیا تھا۔ کیونکہ ان کی نظر کرسی پر کبھی نہیں رہی۔ بلکہ ان کا عرض کی کہ وہ روئیداد شائع کروادیں۔ کیونکہ پھرتے ہیں کہ ھمدانی رپورٹ اور خصوصی کمیٹی کرتی۔ مبادا آدھا پاکستان مرزائی ہو جائے۔ چ مسلمانوں کو منکرین کے داؤ پر لگا دیا تھا۔ مکرم مراسلہ محفوظ ہے۔

مؤلف نے ان کو Upto-Date صرف نظر کر دیا۔ لیکن تاکیداً لکھا کہ مؤلف ا گہری تاثیر تھی۔ ان سے پہلے ایک مکرم دوست کہلاتے ہیں نے اتنا دباؤ ڈالا کہ دس ہزار فرماتے رہے۔ بڑی مشکل سے دوسرے اح اشاعت مؤلف کے بس کی بات نہیں۔ لیکن م

صفحہ ٢٤١

ناشدنی اور نا گفتہ سانحہ

مذکورہ بالا قمر الانبیاء نے اپنے والد پر کتاب بعنوان ”سیرت مہدی“ لکھی اور اس میں لوگوں کی روایتیں درج کیں۔ اپنی والدہ کی طرف سے ”خلوت صحیحہ“ کی تفصیل بھی درج کی۔ یہ حال ہے اس ”اولاد مبشرہ اور ذریت طیبہ“ کا! کوئی ماں خلوت صحیحہ کی تفصیل اپنے بیٹے کو کیسے بتا سکتی ہے۔ ”سیرت مہدی“ کی پہلی جلد حکماً واپس لی گئی۔ لیکن جماعت کا یہ حال رہا ہے۔

دیکھ جو کچھ سامنے آئے منہ سے کچھ نہ بول
آنکھ آئینے کی پیدا کر دہن تصویر کا

یہ سب انکار ختم نبوت کی پھٹکار ہے

تحدیث نعمت

مؤلف ٧٤ سال کے مرحلہ میں ”صبح کیا یا شام کیا“ کا مصداق ہے۔ کسی طویل تحریر کی ہمت نہ تھی۔ لیکن چند صاحبان کرام کی اثر انگیز ترغیب کا لابدی نتیجہ ہے۔ بھٹو شاہی کے دور میں ٧ ستمبر ١٩٧٤ء کے فیصلے کے بعد مؤلف نے بغیر کسی پہلے تعارف کے ایک آزاد ایم این اے سے مراسلت کی کیونکہ بقول شخصے انہوں نے خصوصی پارلیمانی کمیٹی (جس نے ٧ ستمبر ١٩٧٤ء کا فیصلہ صادر کیا تھا) کی روئیداد کو فائل پر منتقل کیا تھا۔ یہ رکن اسمبلی بڑی قدر و منزلت کے انسان ہیں۔ کیونکہ ان کی نظر کرسی پر کبھی نہیں رہی۔ بلکہ ان کا دل و دماغ آیت الکرسی پر ہی مرتکز رہا۔ ان سے عرض کی کہ وہ روئیداد شائع کروادیں۔ کیونکہ منکرین ختم نبوت اندر ہی اندر پراپیگنڈا کرتے پھرتے ہیں کہ صمدانی رپورٹ اور خصوصی کمیٹی کی رپورٹ حکومت اس خوف سے شائع نہیں کرتی۔ مبادا آدھا پاکستان مرزائی ہو جائے۔ عیاذاً باللہ! گویا بھٹو نے اشاعت روک کر پاکستانی مسلمانوں کو منکرین کے داؤ پر لگا دیا تھا۔ مکرم اس وقت J.U.I کے معزز رکن ہیں۔ ان کا مراسلہ محفوظ ہے۔

مؤلف نے ان کو Bio-Data مختصراً لکھ دیا۔ انہوں نے مؤلف کی بات کو تو صرف نظر کر دیا۔ لیکن تاکیداً لکھا کہ مؤلف اپنے تاثرات اور حقائق ضرور لکھے۔ ان کی تحریر میں گہری تاثیر تھی۔ ان سے پہلے ایک مکرم دوست میاں محمد رفیق سلمہ اللہ جو احباب میں ”علامہ رفیق“ کہلاتے ہیں نے اتنا دباؤ ڈالا کہ دس ہزار کا چیک (Cheque) لے کر مؤلف کا تعاقب فرماتے رہے۔ بڑی مشکل سے دوسرے احباب کے تعاون سے ان کو قائل کیا کہ طباعت اور اشاعت مؤلف کے بس کی بات نہیں۔ لیکن مؤلف ایک ابتلاء میں مبتلا ہو گیا۔ اس ابتلاء سے محض

١٣

صفحہ ٢٤٢

اللہ کے فضل و کرم سے نجات اس طرح ملی کہ اسلامی لٹریچر کے بین الاقوامی شہرت یافتہ ناشر مکرم محترم شیخ محمد اشرف صاحب سلمہ اللہ تعالیٰ نے ایک مختصر سی ملاقات میں محض ایک منظم فتنے کے استیصال کی خاطر اور خالصتاً ختم نبوت کی رفعت اور پاکیزگی کے تحفظ کی خاطر طباعت اور اشاعت کے حامی بن گئے۔

ترغیبات کے سلسلے میں ایک جریدہ فریدہ کے برگزیدہ مدیر اعلیٰ نے بھی جو اسلامی نظریے کے لئے جور اور جبر کا مقابلہ کرتے رہے ہیں۔ مؤلف کو بڑے مؤثر مختصر مکالمے کے بعد کہا کہ مؤلف اپنی وفات سے پہلے ان کو ایک تالیف مرتب کر کے دے جائے۔ وہ اس بارے میں متعلقہ ذمہ داریوں کے لئے تیار معلوم ہوتے تھے۔ ان سب ہمت بندھانے والے احباب کا مخلصانہ شکریہ لازم ہے۔ اصل میں تو خدا کا شکر ہے جس کے فضلِ عمیم سے ان احباب کی دلداریاں مؤلف پر اس طرح گزریں جس طرح صبح صادق کے وقت نسیم کلیوں پر سے گزرتی ہے۔ اس لئے بے اختیار کہنا پڑتا ہے۔

یک منم و یک نغمۂ منت و یک شکر
صد شکر کہ تقدیر چنیں راندہ قلم را

آخر میں عرض ہے کہ اس تالیف کے مشمولات محض لائبریری کی سطح کے نہیں بلکہ لیبارٹری کی سطح کے ہیں۔ یعنی کتابی ہی نہیں تجرباتی ہیں۔ مؤلف نے قادیانی کے دار بے امان میں عصمتوں اور عفتوں کو نار نمرود میں جلتے دیکھا۔ حیاتِ انسانی سے حیا کی قبا بھی مسلسل چاک ہوتے دیکھی۔ اس تجربے کے بعد وہ کہنے میں حق بجانب ہے۔

تیرے محیط میں کہیں گوہر زندگی نہیں
ڈھونڈ چکا میں موج موج دیکھ چکا صدف صدف

مؤلف: مرزا محمد حسین

صدق اور کذب کی قرآنی کسوٹی ہوشربا معصیتیں

یہ تالیف جن واقعات اور واردات پر مشتمل ہے ان کا مؤلف کو حق الیقینی درجے کا علم ہے۔ کیونکہ اس کو قادیان میں اس طبقہ اناث میں بطور اتالیق کے کام کرنے کا موقعہ ملا جو جنسی معصیت کا صید زبوں بنا ہوا تھا اور مؤلف نے ان خاص ”خلافتی“ مساکن کو قریب سے دیکھا جو جنسی یورشوں کے محاذ بنے ہوئے تھے۔ مؤلف نے اپنے مشاہدات کو دل میں مخفی رکھا اور یہ سینے کا داغ بن کر اس کے وجود کو کھاتے رہے۔ ایک روک تھی کہ فواحش کی اشاعت بظاہر کار خیر نہیں۔

١٤

٢٤٣

ایک خوف بھی دل پر مسلط رہا کہ جس 'لاثانی عا سے نہ صرف اشاعت کو روک دے گا بلکہ وہ کچھ عاجز انسان کانپ اٹھتا ہے۔ ان دو وجوہ کے علاوہ نوعیت ایسی سنگین اور خوارق عادت ہے کہ نہ ان اور نہ بیان کر دینے پر بھی ان کو سننے والا پایۂ ثقہ ان موانع کے باوجود مؤلف نے ا ہے۔ اس لئے کہ یہ معصیتیں اخفاء کے پردے م پردہ داری کے لئے دین اسلام کی توہین کی پیہم سے نیم کامیاب سعی جاری ہے۔

پہلی تصانیف کا بنیادی سقم

مؤلف کو اس کا پورا پورا احساس مسموعات کو الفاظ کی قید میں لانا جوئے شیر لا

یہ المیہ کیا ہے؟ ایک ہوش ربا سم ابتداء کی خبر ہے نہ انتہاء معلوم۔ چونکہ اس کے سر کچلا جاسکتا ہے اور غی اور رشد میں تمیز ہو سکتی پر نظر ثانی کرنے کی ترغیب دی جاسکتی ہے۔ ا نقاب کرنا ضروری ہے۔ اس سے پہلے عظیم سازشوں کو کیفر کردار تک پہنچانے کی مساعی ہو کر سواد اعظم کے سامنے اس فتنہ کی تباہ کار ان کی افادیت علماء تک ہی محدود رہی جن مساعی میں ایک سقم تھا کہ ان کی سطح بڑی عالم

صدق و کذب میں امتیاز کا قرآنی

صدق و کذب میں تمیز کا کامیا بارے میں ان الفاظ مبارک میں بتلایا ہے میں نے تم (یعنی کفار) میں چالیس سال دعوے کو پرکھو، کیا تم عقل سے عاری ہو

صفحہ ٢٤٣

ایک خوف بھی دل پر مسلط رہا کہ جس ”لاثانی عاصی“ کی یہ لافانی داستان ہے وہ اپنے بہیمانہ زور سے نہ صرف اشاعت کو روک دے گا بلکہ وہ کچھ ایسے ستم نازل کر دے گا جس کے تصور سے ایک عاجز انسان کانپ اٹھتا ہے۔ ان دو وجوہ کے علاوہ بھی ایک اور بات سد راہ تھی وہ یہ کہ مصیبتوں کی نوعیت ایسی سنگین اور خوارق عادت ہے کہ نہ ان کو دیکھا جا سکتا ہے اور نہ دیکھ کر بیان کیا جا سکتا ہے اور نہ بیان کر دینے پر بھی ان کو سننے والا یا پڑھنے والا کبھی تسلیم کر سکتا ہے۔

ان موانع کے باوجود مؤلف نے ان المیوں کا المناک اور حیرت ناک ذکر چھیڑا ہے۔ اس لئے کہ یہ مصیبتیں اخفاء کے پردے میں ایک جماعت کا مسلک بنی ہوئی ہیں اور ان کی پردہ داری کے لئے دین اسلام کی توہین کی پیہم اور بڑے پیمانے پر نصف صدی سے زیادہ عرصے سے نیم کامیاب سعی جاری ہے۔

پہلی تصانیف کا بنیادی سقم

مؤلف کو اس کا پورا پورا احساس ہے کہ اس کو اپنے مشاہدات، واردات اور یقینی مسموعات کو الفاظ کی قید میں لانا جوئے شیر لانے سے بھی زیادہ مشکل ہے۔

یہ المیہ کیا ہے؟ ایک ہوش ربا معصیت کا ایک حدود فراموش خار زار ہے جس کی نہ ابتداء کی خبر ہے نہ انتہاء معلوم۔ چونکہ اس کے طشت از بام کرنے سے انکار ختم نبوت کے اژدھے کا سر کچلا جا سکتا ہے اور غی اور رشد میں تمیز ہو سکتی ہے اور اس فتنہ عظیم کے حامیوں کو بھی اپنی خامیوں پر نظر ثانی کرنے کی ترغیب دی جا سکتی ہے۔ اس لئے بتوفیق ایزدی اس ضلالت بے پایاں کو بے نقاب کرنا ضروری ہے۔ اس سے پہلے عظیم اصحاب علم و قلم نے فتنہ انکار نبوت کی گمراہیوں اور کفر سازیوں کو کیفر کردار تک پہنچانے کی مساعی جمیلہ کی ہیں۔ لیکن وہ منطق اور فلسفہ کے چکر میں اسیر ہو کر سواد اعظم کے سامنے اس فتنہ کی تباہ کاریوں کو عام فہم انداز میں پیش کرنے میں قاصر رہی ہیں۔ ان کی افادیت علماء تک ہی محدود رہی جن کے لئے یہ کوشش تحصیل حاصل سے زیادہ نہ تھیں۔ ان مساعی میں ایک سقم تھا کہ ان کی سطح بڑی عالمانہ تھی اور دلائل کا انبار تھا۔

صدق و کذب میں امتیاز کا قرآنی معیار

صدق و کذب میں تمیز کا کامیاب طریق قرآن کریم نے حضورﷺ کی صداقت کے بارے میں ان الفاظ مبارک میں بتلایا ہے۔ ”لَقَدْ لَبِثْتُ فِیکُمْ عُمُراً اَفَلَا تَعْقِلُونَ“ تحقیق

میں نے تم (یعنی کفار) میں چالیس سال گزارے ہیں۔ اپنے مشاہدات کی عینک لگا کر میرے دعوے کو پرکھو، کیا تم عقل سے عاری ہو گئے ہو۔

١٥

صفحہ ٢٤٤

چونکہ حضورﷺ اپنی پاکیزگی اور اظہر من الشمس صدق کی وجہ سے الامین مشہور تھے۔ اس لئے حضورﷺ کی عملی زندگی ہی حضورﷺ کی صداقت کا سب سے زیادہ عظیم ثبوت تھا اور ہے۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ اصلی کسوٹی عملی زندگی ہوا کرتی ہے۔ اس لئے منکرین ختم نبوت کو لاجواب کرنے کے لئے ان کے سربراہ ثانی کی اپنی زندگی کو پیش کرنا چاہئے اور اسی سے وہ کتراتے ہیں اور پہلو تہی کرتے ہیں۔ مشاہدات کے مقابلے میں دلائل کی کوئی حیثیت نہیں ہوا کرتی۔ دلائل سے مشاہدات کی نفی نہیں ہوتی۔ ہاں مشاہدات بڑے سے بڑے منطقی براہین کو کاٹ کر رکھ دیتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی توحید کے اثبات کے لئے کائنات کے مناظر کو بار بار پیش کیا ہے۔

جن اصحاب علم و قلم نے فتنہ انکار نبوت کے خلاف قلمی جہاد کیا ہے وہ لائق تحسین ہیں۔ چونکہ ختم نبوت کی صداقت آفتاب آمد دلیل آفتاب کی مصداق ہے۔ اس مقدس حقیقت پر بحث کرنا ایسا ہی ہے جیسے کوئی آسمان و زمین، لیل و نہار، دریا و کوہسار کے وجود کے حقیقی ہونے پر دلائل کا سہارا لے۔ چونکہ منکرین ختم نبوت کے مقابلے میں منطقی موشگافیوں پر تکیہ رہا ہے۔ اس لئے دلائل سے دلائل ٹکرائے جو لوگ ضد پر قائم تھے وہ ٹس سے مس نہ ہوئے۔ اگر شروع سے قرآنی کسوٹی یعنی حقیقی واقعات کو سامنے رکھا جاتا اور ان کے سربراہ ثانی کی جنسی عصبیتوں کو الم نشرح کیا جاتا تو ان منکرین کو یارائے کلام نہ ہوتا۔ یہ اس لئے کہ قادیانی اپنے سربراہ ثانی کو اپنی تحریک کا نقطۂ عروج سمجھتے ہیں۔ گویا اس کی خانہ ساز خلافت میں ان کی تحریک کا مزاج پنہاں ہے اور ان کے عقیدے کے مطابق بیٹے کی خلافت باپ کی پیش گوئیوں کی مصداق ہے گویا یہ قادیانیت کا نقش ثانی ہے۔ چونکہ اس ”سودیشی خلافت“ میں فتنہ انکار ختم نبوت کا منہ زور پروپیگنڈا ہوا۔ اس لئے انکار ختم نبوت کی لعنت اسی دور میں نمایاں ہوئی۔ اس نہج قیادت میں یہ لوگ نہ صرف سوچ بچار سے بلکہ شرم و حیا سے بھی عاری ہو کر رہ گئے۔

مؤلف کے خروج کی وجہ

اس دور میں کئی خروج ہوئے وہ صرف سربراہ ثانی کی جنسی تاخت اور اخلاقی تراج سے پیدا ہوئے۔ ہر دفعہ اس عصیاں کار کے قرب و جوار سے ہی اس کے خلاف بغاوت ہوئی۔ جن لوگوں نے دفاع کیا کچھ عرصے کے بعد مدافعین اس کی غلیظ زندگی کا شکار ہو کر نکلے اور انہوں نے وہی انکشافات کئے جو ان سے پہلے نکلنے والوں نے کئے تھے۔ گویا آج کے مدافعین کل کے مخالفین بن کر برسر پیکار ہوئے۔ مؤلف کا عقیدہ ہے کہ ختم نبوت کے انکار کی سزا سے عصمت

١٦

صفحہ ٢٤٥

وعفت کا تصور ہی ختم ہو جاتا ہے۔ یہی حال ان منکرین کی جماعت کا ہوا۔ اس جماعت کا وجود ملکی اخلاق کے لئے سرطان کا حکم رکھتا ہے۔ اس لئے مؤلف نے احباب کے مسلسل اور پرزور مشورے اور ترغیب کے سامنے ہتھیار ڈال دیئے۔ احباب میں مؤلف اپنے مشاہدات اور معلومات کا ذکر کرتا رہتا تھا۔ بقول شاعر مؤلف کی حالت یہ تھی ؎

جورستم کی داستاں جس سے رقم ہوئی
اس کو ہی میں نے درد کے قصے سنا دیئے

یہ ایک Catharisis (ذہنی جلاب) کا عمل تھا۔ جس سے دل و دماغ کا بوجھ ہلکا سا ہو جاتا تھا۔ کہنے سننے میں علاج درد کی صورت تھی۔ مؤلف کو انکشاف درد سے لذت تو ہوتی۔ لیکن اس لذت میں اذیت ضرور ہوتی تھی۔ حضرت علامہ اقبال کے اس شعر سے ہی اس متضاد کیفیت کا اظہار ہو سکتا ہے۔

علاج درد میں بھی درد کی لذت پہ مرتا ہوں
جو تھے کانٹے جگر میں نوک سوزن سے نکالے ہیں

احباب کے علاوہ متعدد اہل خیر لوگوں کا بھی اصرار اتنا تھا کہ میری کیفیت یہ ہوگئی تھی کہ؎

کیا بنے بات جہاں بات بنائے نہ بنے

مجھے اپنی قلمی خامیوں کا شدید احساس ہے۔ کیونکہ جس ”لاثانی“ داستان عریانی پر قلم اٹھانے کی جسارت کر رہا ہوں۔ وہ کوئی بڑا سخنور اور رستم قلم ہی بیان کرتا تو قارئین کو مزا آجاتا۔ لیکن؎

کوئی بار وفا اٹھا نہ سکا
یہی الزام میرے سر ہی رہا

پاکستان کے داخلی دشمن

مجھ سے کوئی منکر ختم نبوت پوچھ سکتا ہے کہ نصف صدی کے بعد لکھنا چہ معنی دارد؟ تو مؤلف اعتراف میں یہ عرض کرے گا۔ ”خوف غماز، عدالت کا خطرہ، دار کا ڈر۔“ لیکن اب جو یہ بیڑا اٹھایا جارہا ہے وہ محض اس لئے کہ ایک سرطان نے پاکستان میں امت محمدیہ کے مبارک قلعہ میں سرنگ لگا رکھی تھی اور اب محض مشیت ایزدی سے وہ سرنگ ٧ ستمبر ١٩٧٤ء کو بھک سے اڑ گئی۔ اس طرح حضور ﷺ کی حدیث بھی پوری ہوئی کہ خدا بعض دفعہ ایک فاسق فاجر سے بھی اپنا کام لے لیتا ہے۔ ایک فاسق فاجر آمر منکرین ختم نبوت کا بڑا منظور نظر تھا۔ اس نے اپنے دشمن ایمان

١٧

صفحہ ٢٤٦

وآگہی اور رہزن تمکین و ہوش اقتدار میں عظیم فسق و فجور برپا کر رکھا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے اس سیلاب بلا کا ایک دھارا فتنہ انکار ختم نبوت کی طرف بھی پھیر دیا۔ گویا ایک فسق عظیم کا خاتمہ ایک دوسرے فسق عظیم کے دور میں ہو گیا۔

اب بھی کئی قسم کے خوف دامن گیر ہیں۔ لیکن مؤلف کے دامن میں ایک مقدس خوف بھی ہے۔ وہ ہے۔ ”من خاف مقام ربه جنتان“ اور جنت میں نہ خوف ہوتا ہے نہ حزن۔

صداقت کی سند

ایک بات کا ذکر لابدی ہے وہ یہ کہ مؤلف کے پاس تالیف کی کیا صداقت ہے۔ اس بارے میں یہ کہنا کافی ہے کہ جیسے پہلے عرض کیا جاچکا ہے، کسب معاش کے لئے قادیان میں مؤلف کی کارگاہ ہی قادیانی راس پوتین کی جنسی یورشوں کی جولان گاہ تھی۔ یعنی طبقہ اناث۔ مؤلف اتالیق اناث تھا۔ اس کو محض خدا کے فضل سے اس میدان میں کامیابی ہوئی۔ منکرین کے سربراہ ثانی کے قبیلے سے یہ کام شروع ہوا۔ رب العالمین نے معاش کے راستے کشادہ اور ہموار کر دیئے۔ حتیٰ کہ سربراہ ثانی خود مؤلف کی شہرت کا ذریعہ بن گیا۔ بس پھر کیا تھا ہر طرف سے اتالیقی کے لئے مانگ پیدا ہوئی۔ اس طرح اس صنف ضعیف کی مجبوریوں کے لیل ونہار صور محشر بن کر سامنے آنے لگے۔ سربراہ ثانی کے قبیلے کے لئے اس کے گھر میں کئی دفعہ دن میں جانا پڑتا تھا۔ یہ کیسے ہو سکتا تھا کہ مؤلف کا کردار ان سے پوشیدہ رہے اور قبیلے کا کردار معلم سے مخفی رہے۔ ١٩٣١ء میں مؤلف کو سربراہ ثانی شملہ لے گیا۔ وہاں چار ماہ تک ایک چھت کے نیچے ہی رات دن بسر کرنے پڑے۔ مؤلف اپنی مغفرت کے لئے رات کے کسی پہر اٹھتا تھا۔ ادھر سے رات کا ہی کوئی حصہ عادی معصیت کار کے لئے محفوظ ہو سکتا تھا۔ وہاں یہ تجربہ ہوا کہ رات کو ہی مغفرت کے طلبگار اور معصیت کے رسیا کا ملاپ بھی ہو سکتا ہے۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا۔ قارئین کے لئے اشارہ کافی ہوگا۔

ہے حیا مانع کہوں یا نہ کہوں

اشارہ اور کنایہ کے رنگ میں ہی کسی ہوشربا عریانی اور فحش کاری کو بیان کرنے سے ہی تہذیب کا تقاضا پورا ہو سکتا ہے۔ انگریزی کا ایک محاورہ ہے۔ Allusion Explained is Allusion Lost یعنی کنائے کی تفصیل و تشریح سے کنائے کی شائستگی مجروح ہو جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ خلیفہ نامحمود کی جنسی چیرہ دستیوں کو من وعن بیان کرنا مشکل ہے۔ گر فاش بگویم جہاں برہم زنم اس لئے مؤلف اس بات کا محتاج ہے کہ قارئین بصارت سے زیادہ بصیرت سے کام لیں۔

١٨

صفحہ ٢٤٧

افشائے راز نہانی

شملہ سے واپس قادیان آنے کے بعد مؤلف کے ہمزاد (ڈاکٹر) احسان علی نے جو خلیفہ کی سوتیلی خوشدامن کا سگا بھتیجا تھا۔ بے دریغ سارے پردے چاک کر دیئے۔ اس کی معلومات حقیقی کا منبع ”خلیفہ“ کا وہ ڈرائیور تھا جو دن رات سیاہ کاریوں کو دیکھتا تھا۔ بلکہ اس کا راز دار خصوصی تھا۔ اس ڈرائیور نے خود براہ راست مؤلف سے قصر خرافات کے راز ہائے دروں سنانے شروع کر دیئے۔ اس کے علاوہ مؤلف کے ایک شاگرد مصلح الدین سعدی نے جو اس عشرت کدے کا ایک سورما تھا، جو حالات سنائے ان سے ڈرائیور مذکور کی روایات کی پوری تصدیق ہو گئی تھی۔ مسٹر سعدی نے مؤلف کے مسلسل تردد کو اس طرح پاش پاش کیا کہ مؤلف کو عینی قائل کرنے کے لئے کوئی دقیقہ فروگزاشت نہ کیا۔ جب قریبی مشاہدہ اور عملی شرکت معصیت میں اتنا قرب ہو گیا جو دامن کے چاک اور گریبان کے چاک میں ہوتا ہے تو مؤلف کا زہرہ آب ہو گیا۔ جب خلیفہ کو افشائے راز کا اندیشہ ہوا تو اس نے گونا گوں مظالم کے سلسلے سے مؤلف کو دم بخود کر دیا۔ یہ اشارہ جملہ معترضہ کے طور پر ناگزیر تھا تا کہ انکشاف راز کا سارا ڈرامہ سامنے آجائے۔ اگر قارئین کو وضاحت کی طلب ہو تو اتنا عرض کر دینا کافی ہے کہ قصر خرافات عصمتوں کا مقتل بنا ہوا تھا۔ اس قتل عام سے پہلے صید زبوں اس قصر کے نسوانی مکین تھے۔ بلکہ ان کا وجود طعمہ کے طور پر تھا تا کہ گناہ کا خوف فوراً کافور ہو جائے اور ہر آنے والا عصیاں وطغیان کے بحر ظلمات میں کودنے سے احتراز نہ کرے۔

اقلیم معصیت کا شہزادہ

مؤلف نے لرزہ خیز ہوس کاریوں کو اپنی قلمی ناتوانی کے علی الرغم اس لئے بیان کرنے کا تہیہ کیا ہے کہ اقلیم معصیت کے اس شہزادے کے بے سروپا دعاوی اور اس کے پیروؤں کی مبلغانہ مبالغہ آرائیوں کو واقعات و واردات کے ترازو میں تولا جائے تو ان کی کج بحثیوں کو موت کی نیند سلا دیا جائے۔ یہ مقصد دلائل سے نہیں حاصل ہو سکتا تھا۔ یہ نقاب کشائی کا متقاضی تھا۔ افتراء کا کاروبار افشائے راز نہانی سے ختم ہو سکتا ہے۔ اس طرح شاید کسی بھٹکے ہوئے راہی کو راہ نجات کی آرزو پیدا ہو۔ کیونکہ قرآنی فارمولا یہی ہے کہ کسی مدعی کے دعاوی کو عمل کی روشنی میں پرکھا جائے۔ جب خلیفہ کی عملی زندگی بے نقاب ہوگی تو اس کے سارے دعاوی اور مریدوں کی ارادت کیشیاں باطل ہو کر رہ جائیں گی۔ اس بیان کی ضرورت نہیں کہ اس ساری عصیاں کاری میں میخواری کا گہرا تعلق تھا۔ خلیفہ ام الخبائث کی آغوش میں ہوش سے سبکدوش ہو کر اپنی ہوس کاریوں کا ناٹک رچاتا اور سجاتا تھا۔ بنت

١٩

صفحہ ٢٤٨

عنب کے ذخائر جمع رہتے تھے۔ اس نے اپنی محافظت کے لئے اپنے سارے خاندان کو اس متعفن بحیرہ مردار میں غرق کر رکھا تھا۔ یہ تین بھائی تھے اور ہر ایک نے ہوس کاری کے لئے اپنا الگ میدان بنا رکھا تھا۔ ان کے ذوق عشرت کا یہ عالم تھا کہ وہ زبان حال سے کہہ رہے ہوتے تھے۔

طالب دست ہوس کے کئی اور دامن تھے
ہم سے ملتا جو نہ یوسف کے گریباں سے ملا

ان کی خلوتیں ان کی جلوتوں سے خائف اور ان کی جلوتیں ان کی خلوتوں سے نالاں رہیں۔ خلیفہ خود ساحر الموط بنا ہوا تھا۔ اس نے صنف نازک کو انجام سے ایسا بے خبر کر رکھا تھا کہ وہ عصمت کے تصور سے اجنبی ہو کر اس کی قربان گاہ پر بھینٹ چڑھنے کے لئے تیار رہتی تھیں۔ ان کے محافظ بھی ان فتنہ سامانیوں سے مانوس ہو کر خاموش ہو گئے تھے۔

گناہوں کی المناک یورش

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ایک آدمی مسند ارشاد پر بیٹھ کر اور علم و عرفان کے دعوے کرتا ہوا ایسے حدود فراموش گناہوں میں کسی طرح مبتلا ہو گیا اور ان کے مہیب عواقب سے بے خبر ہو کر کیسے رقص ابلیس کرنے لگ گیا۔ اس چیستان کو حل کرنے کے لئے مؤلف کو جرمن کے شہرہ آفاق شاعر و تمثیل نگار گوئٹے کے معرکۃ الآراء ڈرامہ فاؤسٹ (Faust) سے ایک کردار کا بیان مل گیا۔ جس سے عقدہ کشائی ہو جاتی ہے۔ اس جرمن ڈرامہ میں دو عورتیں اپنی ہوس کاریوں اور عصمت فروشیوں کا آپس میں ذکر کرتی ہیں اور اپنے اپنے دوزخی واردات کا مبادلہ کرتی ہیں اور اپنے تاریک ماضی کی یاد سے دل گرفتہ بھی ہو جاتی ہیں پھر ان میں ایک مارگریٹ Margaret اپنے گھر جاتے ہوئے خود کلامی Soliloquies کرتے ہوئے کہتی ہے۔ ”اے خدا! میں نے گناہ کی زندگی اختیار کی تو اس لئے کی کہ زنا کاری میرے سامنے ایسے دلربا اور دلکش انداز میں آئی کہ میں اس کے عشق میں مبتلا ہو کر اسی کی ہو کر رہ گئی۔“

تالیف کے ولین Villain کے ساتھ بھی یہی سانحہ پیش آیا۔ زنا کاری ایسی ہوشربا پری بن کر اس پر مسلط ہوئی کہ وہ جنون زوج کا مریض بن کر رہ گیا۔ خدا کا تصور اس کے دل سے اس طرح نکل گیا جس طرح کوئی پرندہ اپنے نشیمن سے پرواز کر جائے۔ لیکن اپنی پردہ داری کے لئے مذہب کا روپ دھار کر اس معصیت کی پری سے مخاطب ہو کر کہنے لگا۔

سب کچھ اک تیرے سوا بھول گئے
کیا ہوا کیا نہ ہوا بھول گئے

٢٠

تیری منزل
اپنی منزل

نیچر کا انتقام

نیچر بڑی منتقم ہوتی ہے۔ اس کے اس کے is Red in Tooth Velan سفاک گرفت میں آ جاتا ہے۔ انجام کار موت V.D سے کیا بچتا اس کے رگ و پے میں وی پڑھاتا تو کبھی رکوع ترک کر دیتا کبھی سجدے تعزیر کا سماں تھا تا کہ اس کے خم بقم اور کجی مرید حرکات کرتا اس کے مرید ہندوؤں کی تعداد میں تھا۔ ایک جلسہ کے زمانے میں چوہدری ظفر ترین ابتداء حضور کی بیماری ہے کہ ان کے بی صدر خلیفہ زادے میاں رفیع نے شکوہ کے طو پر ایسا تبصرہ کرنے کی جرات کر سکتے ہیں۔ گو شک ذبح ہوتی رہے۔ لیکن اس قتل صلوٰۃ پر کو

بستر بیت الخلا بن گیا

حواس باختگی میں یہ فحش گزیدہ خ ایک دفعہ اس نے کہا کہ وہ جب پاکستان آ ہے۔ اس پر اس کے بیٹے نے صحیح کی تو جل معاملہ ختم ہو گیا اور یہ کہہ کر جلسہ گاہ سے چا حضور کو نماز سے ہٹا دیا گیا اور جلسہ میں آ آخر ان لوگوں کو وہی کچھ کرنا پڑا جو اقبال نے

تیرا امام ہے
ایسے امام سے

اس جنون کی کیفیت میں اس مات کرتا تھا۔ اس جنون میں ایک کفر تاک

صفحہ ٢٤٩
تیری منزل کا پتہ یاد رہا
اپنی منزل کا پتہ بھول گئے

نیچر کا انتقام

نیچر بڑی منتقم ہوتی ہے۔ اس کے ناخن اور دانت بڑے خونی ہوتے ہیں۔ Nature is Red in Tooth Velan اس کے قوانین کے خلاف بغاوت کرنے والا انجام کار اس کی سفاک گرفت میں آ جاتا ہے۔ انجام کار موت سے پہلے یہی حال اس بے باک شہوت کار کا ہوا۔ وہ V.D سے کیا بچتا اس کے رگ و پے میں وی ڈی رچ گئی تھی۔ اس کا حافظہ باطل ہو گیا۔ جب یہ نماز پڑھاتا تو کبھی رکوع ترک کر دیتا کبھی سجدے سے بے خبر ہو کر نماز کا حلیہ بگاڑ دیتا۔ یہ بھی خدائی تعزیر کا سماں تھا تا کہ اس کے صم بکم اور غبی مرید اس سے عبرت حاصل کریں۔ نمازوں میں جو یہ مجنونانہ حرکات کرتا اس کے مرید ہزاروں کی تعداد میں اس کی اقتداء میں وہی کچھ کرتے کسی کو یارائے کلام نہ تھا۔ ایک جلسہ کے زمانے میں چوہدری ظفر اللہ خان نے مبینہ طور پر کہا کہ جماعت کے لئے شدید ترین ابتلاء حضور کی بیماری ہے کہ ان کے پیچھے نماز صحیح طور پر ادا نہیں ہو سکتی۔ اس پر اس تقریر کے صدر خلیفہ زادے میاں رفیع نے شکوہ کے طور پر کہا کہ یہ چوہدری صاحب ہی ہیں کہ حضور کی امامت پر ایسا تبصرہ کرنے کی جرات کر سکتے ہیں۔ گویا حضور کی اطاعت نماز سے زیادہ مقدس تھی۔ نماز بے شک ذبح ہوتی رہے۔ لیکن اس قتلِ صلوٰۃ پر کوئی حرف گیری نہ کرے۔

بستر بیت الخلا بن گیا

حواس باختگی میں یہ فحش گزیدہ خلیفہ جلسہ میں تقریر کے لئے لایا جاتا تو غلیظ باتیں کرتا۔ ایک دفعہ اس نے کہا کہ وہ جب پاکستان آیا تھا تو اس کی عمر ٤٩ سال تھی۔ اب اس کی عمر ١٠٥ سال ہے۔ اس پر اس کے بیٹے نے تصحیح کی تو جلسہ میں ایک دل گرفتہ غریب مرید اٹھا اور کہا کہ حضور کا حافظہ ختم ہو گیا اور یہ کہہ کر جلسہ گاہ سے چلا گیا۔ جب یہ مجنونانہ حرکات مسلسل سرزد ہونے لگیں تو حضور کو نماز سے ہٹا دیا گیا اور جلسہ میں آنے سے روک دیا گیا۔ اس کے ہذیان کی پروا نہ کی گئی۔ آخر ان لوگوں کو وہی کچھ کرنا پڑا جو اقبالؒ نے ایک شعر میں فرمایا ہے:۔

تیرا امام بے حضور، تیری نماز بے سجود
ایسے امام سے گزر ایسی نماز سے گزر

اس جنون کی کیفیت میں اس کے بے اختیار بول و براز سے اس کا بستر بیت الخلا کو مات کرتا تھا۔ اس جنون میں ایک کفر ناک اضافہ یہ ہوا کہ خلیفہ نے چیخ چلا کر کہنا شروع کیا کہ

٢١

صفحہ ٢٥١

اس کو قادیان لایا جائے تا کہ وہ اپنے باپ کی قبر دیکھے۔ اس پر راہ گم کردہ متکلمین نے مرزا قادیانی کا ایک مزار تیار کیا اور اس کو مسیح موعود کا مزار قرار دے کر خلیفہ کو دکھایا گیا۔ یہ وہ ناشدنی حرکت تھی کہ جماعت کا بااثر طبقہ بگڑا اور چوہدری ظفر اللہ خاں نے بقول کسے دباؤ ڈال کر یہ کفر کاری ختم کرا دی۔

لاعلاج مرض سے معزولی

جب ہوش وحواس کامل جواب دے گئے تو ایک انتظامی مجلس Regency قائم کر دی گئی جو جماعت کے کام چلاتی رہی۔ اس حالت میں بھی فریب کاری جاری ہے۔ خلیفہ کی ہمشیرہ کا ایک بیان الفضل میں شائع ہوا کہ حضور کے کرنے کے کام پورے ہو گئے ہیں۔ اس لئے بیماری کوئی روک نہیں۔ نہ معزول ہونے والا خلیفہ اللہ کے حکم سے معذور ہو کر معزول ہو گیا۔ یہ قہر الہی تھا کہ جو جماعت مسلمانوں کی نمازوں کو نماز نہیں سمجھتی تھی اس کو اپنے ہاتھوں اپنی نمازیں محض مذبوحی حرکات بنانی پڑیں۔

خلیفہ کی لاعلاج امراض پر کروڑوں روپے ضائع ہوئے۔ پی۔ آئی۔ اے کی ہر پرواز پر قیمتی ادویات دوسرے ممالک سے آتی تھیں۔ ایک دفعہ جب خلیفہ ہوش کی حالت میں تھا تو ڈاکٹر صاحب نے معائنہ کیا تو اس نے کہا کہ خلیفہ صاحب کے جسم کے علاوہ ان کے خیال میں فالج نفوذ کر چکا ہے۔ چونکہ وہ قادیان کا نام لے لے کر روتا تھا۔ اس لئے اشکباری سے خیال ہٹانے کے لئے یہ مشورہ دیا گیا کہ خلیفہ ایک گیند لے کر دیوار پر مارے اور پکڑے اور پھر مارے اور پکڑے اور یہ عمل جاری رہے۔ اس سے اس کے خیال کا رخ بدل جائے گا۔ جو عیاذ باللہ! حضرت فاروق اعظم سے بڑا بنتا تھا۔ اس کو یہ علاج اپنے کافرانہ تعلی کے منافی معلوم ہوا تو ڈاکٹر مذکور نے کہا کہ ایک ربڑ کا گیند اپنے پاؤں کے محراب کے نیچے رکھ کر پاؤں گھماتے رہو۔ یہ بھی بیمار کے لئے ناقابل عمل تھا۔ الغرض خدا نے مفتریانہ دعاوی کی یہ سزا بھی دی کہ ہر علاج مزاج پر گراں گزرنے لگا۔ اس طرح حالت دگرگوں ہوتی چلی گئی۔ پھر بستر پر اضطراب میں مبتلا ہو کر اس کا جسم چکر کھاتا رہا اور بستر کو اس طرح بنا دیا گیا کہ وہ نیچے نہ گر جائے۔ تحت الشعور کے کواڑ کھل جانے سے جو غلاظت اندر مدفون تھی سب وشتم کے انداز میں نکلنی شروع ہو گئی تھی۔

لاش کو سنوارا گیا

آٹھ سال تڑپ تڑپ کر مجروح روح شکستہ قفس عنصری سے نکلی۔ لاش اتنی متعفن ہو چکی تھی اور چہرہ اس قدر مسخ ہو چکا تھا کہ گھر والوں کو خوف پیدا ہو گیا کہ اس کیفیت سے سارا اٹھا

٢٢

منصوبہ دھرے کا دھرا رہ جائے گا۔ چنانچہ داڑھی کو سنوارا گیا چہرے پر غازہ ملا گیا اور جسم پر کئی من برف رکھ کر منظر کو پوشی کا راعی تہ خاک جا کر زمین کا بوجھ بن گیا۔

اس نے اپنے جنون فرج کی تسکین کے لئے کے عصمت اور حیا کے تصور کے استیصال کے لئے کوئی د اپنے پرچارکوں کو شادی کے بعد معاً دور دراز ملکوں میں بھیج اس کے لئے کال گرلز Call Girls بن جاتیں۔ ا اپنے خاوندوں کی غیر موجودگی میں بچوں کی مائیں بننا پڑ مربی کی بیوی کو یہی سانحہ الیمہ پیش آیا۔ ذرا سی لبرالٹی ۔ وہاں یہ الم ناک حادثہ دب کر رہ گیا۔

مؤلف کا حلف

یہ تفصیلاً عرض کر دینے کے بعد کہ فتنہ انکار باطل کے پرکھنے کا طریق بتانے کے بعد یہ بھی ضروری معل مؤلف حلفاً عرض کرے کہ وہ جو کچھ لکھ رہا ہے وہ سچ ہے اور ایک منتظم کذب کا تار و پود بکھر جائے۔ حسن اتفاق سے یہ سامنے آ گئی۔ جس سے مؤلف کا مافی الضمیر پورے طور پر

گناہوں کا خار زار

مؤلف الفاظ کے محراب میں لب کشائی ک چالیس سال کے دوران خوف زدگی اور حزن وملال کی فض تھے۔ وہ اکثر محفل احباب میں لب بستہ ہوئے۔ مگر ساحر الموت کے مثیل بلکہ اس سے بڑھ کر فتنہ کار کی صدائی علم و آگہی نے اندیشہ ہائے دور دراز کے پردوں کو چاک کرنے لگے۔ سنورنے لگے۔ سینے کے داغ نوک قلم پر رقص مسلسل تقاضا تھا کہ عصمت کے لئے قتل عام کے ہوشربا لئے عبرت کا سامان ہو اور کسی کو ہوش کے ناخن لینے کی تو ہو اس کو علم ہو کہ ختم نبوت کے انکار سے کس طرح حیا اور غیر

٢٣

صفحہ ٢٥١

منصوبہ دھرے کا دھرا رہ جائے گا۔ چنانچہ داڑھی کو سنوارا گیا اور رخسار جو گڑھوں میں تبدیل ہو چکے تھے ان پر غازہ ملا گیا اور جسم پر کئی من برف رکھ کر منظر کو پوشیدہ کر دیا گیا۔ اس طرح شاہراہ معصیت کا راہی تہ خاک جا کر زمین کا بوجھ بن گیا۔

اس نے اپنے جنون فرج کی تسکین کے لئے اپنی عبقریت کو اپنی کوریت میں غرق کر کے عصمت اور حیا کے تصور کے استیصال کے لئے کوئی دقیقہ فروگذاشت نہ کیا۔ وہ قادیان میں اپنے پرچارکوں کو شادی کے بعد معا دور دراز ملکوں میں بھیج دیتا تھا۔ اس طرح ان کی مطلقہ بیویاں اس کے لئے کال گرلز Call Girls بن جاتیں۔ اس طرح یہ بھی ہوا کہ ان مظلوم عورتوں کو اپنے خاوندوں کی غیر موجودگی میں بچوں کی مائیں بننا پڑا۔ اسی طرح نائیجیریا کے مبلغ اور واقف زندگی کی بیوی کو یہی سانحہ المیہ پیش آیا۔ ذراسی لہر اٹھی۔ لیکن جہاں جنسی معصیت کا دور دورہ تھا۔ وہاں یہ الم ناک حادثہ دب کر رہ گیا۔

مؤلف کا حلف

یہ تفصیلاً عرض کر دینے کے بعد کہ فتنہ انکار ختم نبوت کے سالار اور اس کے ادعائے باطل کے پرکھنے کا طریق بتانے کے بعد یہ بھی ضروری معلوم ہوتا ہے کہ آغاز داستان کے ساتھ ہی مؤلف حلفاً عرض کرے کہ وہ جو کچھ لکھ رہا ہے وہ سچ ہے اور یہ سچ اس لئے نذر قرطاس ہورہا ہے کہ ایک منظم کذب کا تار و پود بکھر جائے۔ حسن اتفاق سے بڑی موزوں اور مؤثر مندرجہ ذیل عبارت سامنے آ گئی۔ جس سے مؤلف کا مافی الضمیر پورے طور پر واشگاف ہو جائے گا۔

گناہوں کا خارزار

مؤلف الفاظ کے محراب میں لب کشائی کی پورے یقین سے جرات کر رہا ہے۔ چالیس سال کے دوران خوف زدگی اور حزن و ملال کی فضا میں تنہا تنہا جو ارمان دل میں مچل رہے تھے۔ وہ اکثر محفل احباب میں لب شناس ہوئے۔ مگر زبان خامہ پر سہارا لینے کا یارا نہ ہوا۔ ساحر الموط کے مثیل بلکہ اس سے بڑھ کر فتنہ کار کی صدا کو ندائے فلک سمجھنا تو ترک کر دیا تھا۔ کیونکہ علم و آگہی نے اندیشہ ہائے دور دراز کے پردوں کو چاک کر کے رکھ دیا تھا اور نقوش حیات نکھرنے لگے۔ سنورنے لگے۔ سینے کے داغ نوک قلم پر رقص کرنے لگے۔ اس لئے کہ احباب کرام کا مسلسل تقاضا تھا کہ عصمت کے لئے قتل عام کے ہوش ربا مناظر زینت قرطاس بنیں۔ تاکہ کسی کے لئے عبرت کا سامان ہو اور کسی کو ہوش کے ناخن لینے کی ترغیب ہو اور جس کے دل میں اسلام بس رہا ہو اس کو علم ہو کہ ختم نبوت کے انکار سے کس طرح حیا اور شرم سلب ہو جاتی ہے۔

٢٣

صفحہ ٢٥٣

علم الحیات کے ماہر کی ایک بات

حلفاً مؤلف کو کامل اطمینان ہے کہ وہ گناہوں کے خارزار کے مزاج کا راز دار ہے اور ہوسناکیوں کے سبک شگوفوں کا محرم ہے۔ اس لئے مؤلف عرض پرداز ہے۔ مجھے قسم ہے قلم کی عظمت کی۔ حرف و معنی کی معرفت کی۔ کتاب حکمت ربانی کے گلہائے گرانمایہ کی کہ اس تالیف کا موضوع صدق اور صرف صدق پر مبنی ہے۔ مندرجہ ذیل حکایات خوں چکاں مصدقہ معلومات کے برگ و بار ہیں خدا علیم و خبیر ہے۔ وہ جانتا ہے کہ مؤلف اس کے لکھنے میں حق بجانب ہے کہ منکرین ختم نبوت کی پہلی بستی میں جو اب بھارت میں ویرانہ آباد نما ہے۔ جنسی معصیت کو وہ فروغ نصیب ہوا کہ پاکدامنی کا لفظ شرمندہ معنی ہو کر رہ گیا۔ علم الحیات کے ایک جید عالم نے ایک بات خوب کہی کہ مچھلی کی جسمی ساخت کو انسانی معاشرہ سے ایک خاص مشابہت ہے۔ مچھلی کے سر میں پہلے تعفن پڑتا ہے۔ اس کے بعد یہ تعفن اس کے سارے جسم میں پھیل جاتا ہے اور سڑاند پھیل کر اس کے جسم کو کھا جاتی ہے۔ یہی حال انسانی معاشرہ کا ہے۔ اس میں اخلاقی عفونت اوپر کے طبقے سے شروع ہوتی ہے اور پھر سارے معاشرے کو اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے۔ یہی حال منکرین ختم نبوت کے مریض معاشرہ کا ہوا۔ جب ایک پچیس سالہ پیرزادہ جو معروف تعلیم سے عاری تھا گونا گوں حیلوں اور دلیلوں سے مسند ارشاد پر قابض ہو گیا۔ وہ اپنے باپ کی زندگی میں ہی جنسی معصیت کے جرم میں ماخوذ ہوا تھا اور پھر ماں کے توسط سے بچ نکلا تھا۔ اس کو مقتدر اعلیٰ بن کر کھل کھیلنے کا خوب موقعہ ملا۔ اس نے اپنے اردگرد خانہ ساز الہامات اور خوابوں کی فصیلیں کھڑی کر لیں تا کہ احتساب کو راہ نہ مل سکے۔ اس نے اپنے کردار سے جنسی مزاج کو ایسا فروغ دیا کہ اس کا پیدا کردہ سارا معاشرہ طعمہ دوزخ بن کر رہ گیا۔ اس کا مزاجی مسلک اس کے مریدوں کی نظروں میں ایک "شاخ نور" کے طور پر ابھرا۔ اس کو ظلمتوں نے سینچا اور اس پر شراروں کے پھول آئے اور نیک و بد کی تمیز یکسر مٹ گئی۔

اس تالیف میں تاریخ وار اس خانہ ساز خلیفہ کے وہ بیانات آئیں گے۔ جن کو پڑھ کر ایک عام قاری بادنیٰ تدبر جان لے گا کہ عصمتوں کے اس سوداگر کا باطن محیر العقول آلودگیوں سے معمور تھا۔

میکاولی کا بروز

مؤلف جب بھی مولانا مہر مرحوم و مغفور سے منکرین کے اس سر براہ کے متعلق بات کرتا تو مولانا مرحوم فرمایا کرتے تھے کہ یہ شخص ایک چیستان ہے۔ یہ دنیائے اسلام کو کافر قرار دیتا ہے۔

٢٤

اپنے الہاموں کی دھڑا دھڑ اشاعت کرتا ہے۔ لیکن یہ اس کی گفتگو سے معلوم نہیں ہوتا کہ اس کو مذہب یا اخلاق عجیب بات یہ ہے کہ اس کو ماننے والے ایسے عقل باختہ ہیں کہ اسے اولیاء اور انبیاء سے افضل درجہ دیتے ہیں اور یہ شخص اپنے جھوٹے خوابوں کے انبار لگا دیتا ہے۔ تا کہ جو ہیبت سامعین کے دلوں پر طاری رہے۔

مولانا موصوف نے مؤلف کو ایک ہی جواب دیا ہے کہ اس کے رستے میں کوئی روک نہیں۔ نہ وہ محرم و نا جماعت کی طرف سے کوئی خدشہ ہے۔ کیونکہ اس نے عارضے میں مبتلا کر دیا ہے۔ دہریہ بھی کسی نہ کسی حد تک اوڑھنا بچھونا بن جائے تو پھر یہی کچھ ہوگا۔ جو یہ شخص شر ایک سنڈاس خانہ ہے۔ یہ سارا وبال حضرت رسول کر ہوا۔ اس فتنہ عظیم سے بے اعتنائی کی سزا ساری قوم پا رہ کا قائل نہیں وہ کلمہ طیبہ کا بھی قائل نہیں ہوتا۔

باپ نے بیٹے پر کمیشن بٹھایا

چونکہ یہ سودیشی خلیفہ شروع سے ہی حضرت اس لئے وہ عنفوان شباب میں جنسی دھاندلیوں میں مبت بٹھایا۔ اس کے ارکان چار تھے۔ مولوی نور الدین، شیر علی۔ ان اشخاص کے سامنے اس مجرم کی والدہ نے سے کہا کہ اگر اس کے معصیت کار بیٹے پر گرفت ہوئی لوگوں نے اپنی فقہ کے پردے میں اس مجرم کو بری کر د ہیں۔ اس لئے یہ مستوجب سزا نہیں ٹھہرتا۔ گویا زنا کی نہیں رہتا۔ اللہ تعالیٰ نے ان ہی لوگوں کو اسی مجرم سے کے خلیفہ بننے پر قادیان سے رخصت ہونا پڑا۔ ایک نے یہ بات مؤلف کو ربوہ کی جماعت کے مفسر قرآن نے مشہور قابل معلم تھا۔ اس نے پتھراؤ کا معاملہ سنا اور ر

٢٥

صفحہ ٢٥٣

اپنے الہاموں کی دھڑادھڑ اشاعت کرتا ہے۔ لیکن یہ میکاؤلیانہ سیاست کا ایسا رسیا ہے کہ گھنٹوں اس سے گفتگو سے معلوم نہیں ہوتا کہ اس کو مذہب یا اخلاق سے دور کا بھی کوئی لگاؤ ہے اور سب سے عجیب بات یہ ہے کہ اس کو ماننے والے ایسے عقل باختہ اور ادنیٰ ہوش سے عاری ہیں کہ وہ عملاً اس کو اولیاء اور انبیاء سے افضل درجہ دیتے ہیں اور یہ شخص اپنے خطبوں میں اپنے مضحکہ خیز الہاموں اور خوابوں کے انبار لگا دیتا ہے۔ تاکہ جو موت سامعین کے عقول وقلوب پر وارد ہوچکی ہے۔ وہ قائم رہے۔

مولانا موصوف سے مؤلف کا ایک ہی جواب ہوا کرتا تھا کہ وہ ایسا مادر پدر آزاد دہریہ ہے کہ اس کے رستے میں کوئی روک نہیں۔ نہ وہ محرم وغیر محرم میں کوئی امتیاز کرتا ہے نہ اس کو اپنی جماعت کی طرف سے کوئی خدشہ ہے۔ کیونکہ اس نے اپنے مریدوں کو بھی اسی بے حیائی کے عارضے میں مبتلا کر دیا ہے۔ دہریہ بھی کسی نہ کسی حد تک رک جاتا ہے۔ لیکن جب عصیاں کاری اوڑھنا بچھونا بن جائے تو پھر یہی کچھ ہوگا۔ جو یہ شخص شب وروز کرتا ہے۔ اس کی سیاست کاری بھی ایک سنڈاس خانہ ہے۔ یہ سارا وبال حضرت رسول کریم ﷺ کے مرتبہ عالی سے انکار سے نازل ہوا۔ اس فتنہ عظیم سے بے اعتنائی کی سزا ساری قوم پا رہی ہے۔ کیونکہ جو جماعت یا گروہ ختم نبوت کا قائل نہیں وہ کلمہ طیبہ کا بھی قائل نہیں ہوتا۔

باپ نے بیٹے پر کمیشن بٹھایا

چونکہ یہ سودیشی خلیفہ شروع سے ہی حضرت رسول کریم ﷺ کی عظیم رفعت کا منکر تھا۔ اس لئے وہ عنفوان شباب میں جنسی دھاندلیوں میں مبتلا رہا۔ اس پر اس کے باپ نے ایک کمیشن بٹھایا۔ اس کے ارکان چار تھے۔ مولوی نورالدین، خواجہ کمال الدین، مولوی محمد علی اور مولوی شیر علی۔ ان اشخاص کے سامنے اس مجرم کی والدہ نے اپنا دامن پھیلا کر منت سماجت کی اور ارکان سے کہا کہ اگر اس کے معصیت کار بیٹے پر گرفت ہوئی تو اس کا باپ اس کو نکال باہر کرے گا۔ ان لوگوں نے اپنی فقہ کے پردے میں اس مجرم کو بری کر دیا۔ یعنی یہ فیصلہ کیا کہ چونکہ چار گواہ عینی نہیں ہیں۔ اس لئے یہ مستوجب سزا نہیں ٹھہرتا۔ گویا زنا کار چار گواہوں کے نہ پیش ہونے سے زانی نہیں رہتا۔ اللہ تعالیٰ نے ان ہی لوگوں کو اسی مجرم سے سزا دلوائی۔ ان میں سے دو کو ١٩١٤ء میں اس کے خلیفہ بننے پر قادیان سے رخصت ہونا پڑا۔ ایک یعنی مولوی محمد علی کے مکان پر پہلے پتھراؤ ہوا۔ یہ بات مؤلف کو ربوہ کی جماعت کے مفسر قرآن نے بتائی تھی۔ کیونکہ اس وقت وہ نویں جماعت کا مشہور قابل متعلم تھا۔ اس نے پتھراؤ کا معاملہ سنا اور مولوی محمد علی کی مظلومیت کا حال اس کی زبانی

٢٥

صفحہ ٢٥٥

سنا۔ پھر اڑ کے دوسرے دن وہ (مولوی محمد علی) قادیان سے بھاگ نکلا۔ خواجہ کمال الدین ولایت میں تھا۔ وہ وہیں سے الگ ہو گیا اور قادیان کبھی شاید نہ آسکا۔ مولوی نورالدین کے بیٹوں کو خلیفہ نے ١٩٥٢ء میں ربوہ سے رسوا کر کے نکال دیا۔ یہی حشر مولوی شیرعلی کے پس ماندگان کا ہوا۔ اللہ تعالیٰ نے ناپاک حرکت سے اغماض کرنے کی جلدی یا بدیر سزا نازل فرمادی۔

راسپوتین کا مثیل

اس مثیل راسپوتین کو سربراہ اول نے داماد بنا کر اس کے فروغ کے راستے کشادہ اور ہموار کر دیئے۔ ضمناً عرض کر دینا بے جانہ ہو گا کہ راسپوتین روسی زبان کا لفظ ہے جس کے معنی ہیں Women Chaser (عورتوں کے پیچھے بھاگنے والا) یہ ایک روسی پادری کا نام بن کر رہ گیا تھا۔ حالانکہ اس کا نام مانک گریگوری Monk Gregory تھا۔ چونکہ اس نے زار روس کی بیوی کا مرشد بن کر زنا کاری کا بازار گرم کر دیا تھا تو وہ راسپوتین مشہور ہو گیا۔ لیکن وہ محرم اور نامحرم کی تمیز سے عاری نہ تھا۔ لیکن ہماری تالیف کے راسپوتین نے تمام ریکارڈ مات کر دیئے۔

انگریزی کا ایک مشہور مقولہ ہے کہ Fierce Light Beats on the Throne یعنی تخت پر سورج کی روشنی شدت سے پڑتی ہے۔ اس کا مفہوم یہ ہے کہ کوئی آدمی سربراہ بن کر اپنے اعمال اور افعال کو پردے میں رکھنے پر قادر نہیں ہو سکتا۔ اس پر چار دیواروں سے پھلانگ کر سورج کی روشنی میں آجاتے ہیں اور بے خبر عوام بھی باخبر ہو جاتے ہیں۔ چنانچہ یہی حال اس راسپوتین کا ہوا۔ اندر ہی اندر چہ مے گوئیاں تو ابتداء سے ہی چل پڑی تھیں۔ اس کی بہیمانہ جولانیوں کے صید زبوں ہی ایک وقت باہر آگئے۔ وہ تھے قادیان کے لوگ جو مستری کہلاتے تھے۔ ان کا باپ مستری فضل کریم اور اس کا بڑا بیٹا مولوی عبدالکریم تھا۔ اس کے چھوٹے بھائی اور بہن خلیفہ کی بزم کے رکن رکین تھے۔ جب ان دونوں کو ایک بہانے کسی رات دو چار کروا دیا تو وہ صبر نہ کر سکے اور انہوں نے اپنے باپ اور بھائی کو سارا ماجرا سنا دیا۔ ان لوگوں نے بھر پور حملہ کیا اور ایک ہفتہ وار پرچہ ”مباہلہ“ کے ذریعے درون خانہ کی غلاظتوں کو طشت از بام کرتے رہے۔ حتیٰ کہ ان کے مکانات جلا دیئے گئے۔ بڑے بڑے مقدمے چلے۔ لیکن برطانوی قانون ایک مکڑی کا جالا تھا جس میں مکھی تو پھنس کے رہ جاتی تھی۔ لیکن زنبور بچ کر نکل جاتا تھا۔ یہی حال قادیان میں ہوا۔

مستریوں کا مقابلہ

مستریوں کی یورش کا مقابلہ خلیفہ کے مقرب خاص شیخ عبدالرحمن مصری نے کیا۔ تحریری ٢٦

حملوں کا جواب تحریراً دیا اور اپنی طرف سے بھی وہ بہرہ حاصل ہوا۔ وہ مکافات عمل کے قانون سے بے خبر ہو کر ہوا کہ اس کے قرب نے اس کے گنہگار مرشد کے لئے الہ نقب لگانی شروع کر دی ہے۔ لڑکی کا راز تو کچھ پوشیدہ ہ معاملہ آناً فاناً مصری پر آشکار ہو گیا۔ اس نے بیٹے کو سر کے علامات ظاہر ہونے لگے۔ مصری نے اس کی تفتیش کالج کے ہوسٹل میں جا گھیرا۔ بیٹے نے گھبرا کر ساری مصری کے بیٹے حافظ بشیر احمد نے مؤلف کو لاہور کی جماع تھا اور یہ ساری طلسم ہوشربا کہانی اس تالیف کے اگلے ور

قصر خرافات کے سنگین راز

بہت قریب سے دیکھا ہے رہنماؤں کو
کہہ دوں تو گردش لیل و نہار رک جائے

معمہ میں ملفوف چیستان

اس تالیف سے ایک دیرینہ قرض کو بطور فرض توفیقی الا بالعزیز الحکیم “اس وقت تک the Court of London کا حال قلم وقرطاس کے ذریعہ ادا کر سکا تو قارئین کورٹ آف لند وہ جان لیں گے کہ معصیت میں بھی عمل ارتقاء جاری کھلائے ہیں کہ شیطان بھی ورطۂ حیرت میں غرق ہو بڑے شیطان بھی نابالغ نظر آتے ہیں۔ ان رازوں

گوشم دیدہ اند!

ان کا بیان خلش و تپش کی داستان ہے۔ یہ مکاریوں کے گہوارہ کا دیدہ و شنیدہ نقشہ ہے۔ ان رازوں کام کر گیا۔ یہ اس لئے کہ یہ راز جس شخص کے متعلق ہو کے طور پر مستولی رہا۔ اس کی ہر بات بے خبری کے دو ہر فرمان اس کا ورد زبان تھا۔ اس مجہول حالت میں او ٢٧

صفحہ ٢٥٥

حملوں کا جواب تحریراً دیا اور اپنی طرف سے بھی وہ نبرد آزما ہوا۔ جس سے اس کو اور زیادہ قرب حاصل ہوا۔ وہ مکافات عمل کے قانون سے بے خبر ہو کر گنہگار کے لئے چومکھی لڑتا رہا۔ اس کو علم نہ ہوا کہ اس کے قرب نے اس کے گنہگار مرشد کے لئے اس کے گھر میں راہ کھول دی ہے اور اس نے نقب لگانی شروع کر دی ہے۔ لڑکی کا راز تو کچھ پوشیدہ سا رہا۔ لیکن مصری کے بیٹے کے ذریعے سارا معاملہ آناً فاناً مصری پر آشکار ہو گیا۔ اس نے بیٹے کو سرکش پایا۔ اس کی عادات میں مجرمانہ حرکات کے علامات ظاہر ہونے لگے۔ مصری نے اس کی تفتیش شروع کر دی اور کپور تھلہ میں جا کر بیٹے کو کالج کے ہوسٹل میں جا گھیرا۔ بیٹے نے گھبرا کر ساری تحریرات باپ کو دے دیں۔ یہ سارا واقعہ مصری کے بیٹے حافظ بشیر احمد نے مؤلف کو لاہور کی جماعت کی مسجد کے ایک حجرے میں بیٹھ کر سنایا تھا اور یہ ساری طلسم ہوشربا کہانی اسی تالیف کے اگلے دو بابوں میں بیان کر دی گئی ہے۔

قصر خرافات کے سنگین راز

بہت قریب سے دیکھا ہے رہنماؤں کو بہت قریب سے کچھ راز پائے ہیں میں نے
کہہ دوں تو گردش لیل ونہار رک جائے وہ راز جن سے زخم کھائے ہیں میں نے

معمہ میں ملفوف چیستان

اس تالیف سے ایک دیرینہ قرض کو بطور فرض ادا کرنے کی سعی کر رہا ہوں۔ ”مــــــــا توفیقی الا بالعزیز الحکیم“ اس وقت تک تعلیم یافتہ طبقہ نے Mysteries of the Court of London کا حال سن رکھا ہے۔ اگر مؤلف اپنے معلومات کو قلم وقرطاس کے ذریعہ ادا کر سکا تو قارئین کورٹ آف لندن کے آتشین رازوں کو بھول جائیں گے۔ وہ جان لیں گے کہ معصیت میں بھی عمل ارتقاء جاری ہے۔ معصیت کے نابغوں نے وہ وہ گل کھلائے ہیں کہ شیطان بھی ورطۂ حیرت میں غرق ہو کر رہ جائے اور ان نابغوں کے سامنے بڑے بڑے شیطان بھی نابالغ نظر آتے ہیں۔ ان رازوں کے متعلق مؤلف کہہ سکتا ہے کہ ازراہ گوشم دیدہ اند!

یہ حکایات غلط و ملط کی داستان ہے۔ یہ آبلۂ دل ہے۔ تشنہ کام کی سوغات ہے۔ یہ سیاہ کاریوں کے گہوارہ کا دیدہ و شنیدہ نقشہ ہے۔ ان رازوں کا انکشاف مؤلف کے لئے برق خاطف کا کام کر گیا۔ یہ اس لئے کہ یہ راز جس شخص کے متعلق ہیں وہ کئی برس مؤلف کے دل و دماغ پر مرشد کے طور پر مستولی رہا۔ اس کی ہر بات بے خبری کے دور میں مؤلف کے لئے حرز جان تھی اور اس کا ہر فرمان اس کا ورد زبان تھا۔ اس مجہول حالت میں اس کے خدوخال کی معمولی حرکت مؤلف کے

٢٧

صفحہ ٢٥٦

رگ و پے میں سرایت کر جاتی تھی۔ بقول شاعر اس کی قلبی کیفیت یہ تھی۔

بہر تسکین دل نے رکھ لی ہے غنیمت جان کر
وہ جو وقت ناز اک جنبش تیرے ابرو میں ہے

ایک رات میں سر کے بال گر گئے

ہر چند کہ مؤلف خال مست تھا۔ حالات کا حقیقی تقاضا تھا کہ مؤلف بے خبری کی شب یلدا پر یوم تبلی السرائر طلوع ہو۔ اس کا بلیغ اشارہ پہلے ابواب میں ہو چکا ہے۔ جب راز کا پردہ چاک ہوا تو مؤلف کے اوسان وحواس جواب دے گئے۔ ایک رات میں مؤلف کے سر کے بال غائب ہو گئے۔ یہ حالت جسم تک محدود نہ رہی۔ مؤلف کے دل کے نشیمن سے طائر ایمان پرواز کر گیا اور مؤلف چند روز تک دہریت کے اژدہا کا لقمہ بن کر رہ گیا۔ اس ناگہانی انکشاف سے یہ سب کچھ ہونا بعید از قیاس بات نہ تھی۔ کہاں یہ کہ مؤلف جہالت میں اس کو فضل عمر سمجھتا تھا۔ کہاں یہ کہ مؤلف کو اس کی سیاہ کاریوں کے لئے اب تک موزوں الفاظ نہیں مل سکے۔ شاید ہی کسی بڑے سے بڑے اہل زبان اور اہل قلم کو ان کے بیان کرنے کا یارا ہو۔ مؤلف کے لئے کیسے ممکن ہے کہ الفاظ میں ان معصیتوں کی تصویر کشی کر سکے۔ معاملہ یہ ہے۔

قمری کف خاکستر و بلبل قفس رنگ
اے نالہ! نشان جگر سوختہ کیا ہے

مؤلف اس تالیف کا نام نشان جگر سوختہ رکھتا تو اس عنوان سے مؤلف کے بحر بیان کی کوئی چھلکی سامنے آجاتی۔

اس نامحمود شخص نے انکار ختم نبوت کو ہی اپنا اوڑھنا بچھونا بنالیا اور اس کے پرچار کو دینی مشغلہ قرار دے لیا۔ بس کیا تھا اس پر خدا کا غضب نازل ہوا۔ کیونکہ اقبال نے سچ کہا ہے ۔

مصطفیٰ برساں خویش را کہ دیں ہمہ اوست
اگر بہ او نہ رسیدی تمام بولہبی است

فتنۂ انکار ختم نبوت کے اس موجد پر ایسی بولہبی نازل ہوئی کہ ابولہب بھی ششدر ہو کر رہ جاتا۔ ختم نبوت کے کھلے خزانے انکار اور اس انکار کے منظم پرچار کی لعنت تھی کہ نامحمود خلیفہ اور اس کے عقل باختہ مریدوں کو اللہ تعالیٰ نے ”فی طغیانهم یعمهون“ کے عذاب میں مبتلا کر دیا۔ یہ لوگ تکفیر اہل قبلہ کی تعزیر کے نتیجہ میں کاروان ذلت وضلالت بن کر دھرتی کا بوجھ بنے ہوئے ہیں اور کیفر کردار پر پہنچنے پر بھی ضلالت کو سینے سے لگائے پھرتے ہیں۔ شرم اور حیا تو ان کی

٢٨

٧ زندگی کی تحریر سے معدوم ہو چکا ہے۔ یہی وجہ ہ پیچھے اور اپنے دائیں بائیں دیکھتے ہیں۔ لیکن وہ ہیں۔ مؤلف ان کے معصیت سے مانوس ہو نے انداز میں پوچھتے ہیں کہ وہ ایک طویل عرصہ ساتھ چونکہ ان میں اکثر لوگ بے خبر ہیں کہ ان کا مرکز ”قولا له قولا لينا لعله يتذكره او يخ کہتا ہے۔

کچھ سمجھ کر ہی ہوا ہو
ورنہ میں بھی جانتا ہوں

اس ضمن میں یہ عرض کرنا مناسب ہو قسم کے خلیفہ کے خاندان کی خواتین کا اتالیق ہو اور دنیاوی آسودگی حاصل تھی اور اگر اس کو دو او اور نہ اس کو یہ علم ہوتا کہ اس کو بھی اس بحر ظلمات ظاہری جعلی آسودگی کو ترک کر کے قلبی اذیت عذاب ناکیوں کا شکار ہوتا۔

جب ان لوگوں میں سے بعض لوگ مؤلف ان سے اسی نرم لہجے میں کہتا بلکہ ان ریزیوں کا حق الیقینی علم ہوا تو وہ اس منظر کے ال اس کو تسلیم نہیں کریں گے۔ اگر مرشد بدکار اور ر معلومات اور عینی مشاہدات باطل ہو سکتے ہیں اب جو مؤلف قلم وقرطاس کے سف رہا ہے تو اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ کہیں ان ح عوارض پیدا نہ ہو جائیں۔ شاید غالب نے اس

سینے کا داغ ہے ،
خاک کا رزق ہے

مؤلف کو شدید احساس ہے کہ وہ

صفحہ ٢٥٧

زندگی کی گرائمر سے معدوم ہو چکا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ معصیت کی لہروں کو اپنے سامنے، اپنے پیچھے اور اپنے دائیں بائیں دیکھتے ہیں۔ لیکن وہ اس سے مضطرب ہونے کی اہلیت بالکل کھو چکے ہیں۔ مؤلف ان کے معصیت سے مانوس ہونے پر حیران ہوتا ہے تو یہ لوگ الٹا اس سے معترضانہ انداز میں پوچھتے ہیں کہ وہ ایک طویل عرصہ ساتھ رہنے کے بعد کیوں الگ ہو کر برسر پیکار ہے۔ چونکہ ان میں اکثر لوگ بے خبر ہیں کہ ان کا مرکز ان کے مزعومہ دین کا مرقد بن چکا ہے۔ اس لئے ”قولا له قولا لينا لعله يتذكر او يخشى“ کی قرآنی تعلیم پر عمل کرتے ہوئے مؤلف کہتا ہے۔

کچھ سمجھ کر ہی ہوا ہوں موج دریا کا حریف
ورنہ میں بھی جانتا ہوں عافیت ساحل میں ہے

اس ضمن میں یہ عرض کرنا مناسب ہو گا کہ مؤلف ذاتی طور پر بڑا مطمئن تھا کہ ایک ہٹلر قسم کے خلیفہ کے خاندان کی خواتین کا اتالیق ہونے کی وجہ سے اس کو ایک طرح کا اعزاز حاصل تھا اور دنیاوی آسودگی حاصل تھی اور اگر اس کو دو اور دو چار کی طرح پر ”خلافتی“ سیاہ کاریوں کا علم نہ ہوتا اور نہ اس کو یہ علم ہوتا کہ اس کو بھی اس بحر ظلمات میں گھسیٹنے کی در پردہ کوششیں ہو رہی ہیں تو وہ اس ظاہری جعلی آسودگی کو ترک کر کے قلبی اذیت میں مبتلا نہ ہوتا اور نہ اس راسپوٹین کی جہری اور خفی عذاب ناکیوں کا شکار ہوتا۔

جب ان لوگوں میں سے بعض لوگ ذرا نرمی لیکن اصرار سے راز جوئی کرتے ہیں تو مؤلف ان سے اسی نرم لہجے میں کہتا بلکہ ان سے پوچھتا کہ مؤلف کو جب معصیتوں اور عصمت ریزیوں کا حق الیقینی علم ہوا تو وہ اس منظر کے اثرات کو اس لئے نسیاً منسیاً کر دیتا کہ اسیران ضلالت اس کو تسلیم نہیں کریں گے۔ اگر مرشد بدکار اور سیاہ کار ہے تو کیا بے خبر مریدوں کی بے خبری سے یقینی معلومات اور عینی مشاہدات باطل ہو سکتے ہیں۔

اب جو مؤلف قلم و قرطاس کے سہارے کچھ سنگین حقائق بے نقاب کرنے کی جرأت کر رہا ہے تو اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ کہیں ان حقائق کا مسلسل اخفا بار خاطر نہ بن جائے اور کئی نفسیاتی عوارض پیدا نہ ہو جائیں۔ شاید غالب نے اسی طرف اپنے شعر میں اشارہ کیا ہے۔

سینے کا داغ ہے وہ نالہ جو لب تک نہ گیا
خاک کا رزق ہے وہ قطرہ جو دریا نہ ہوا

مؤلف کو شدید احساس ہے کہ وہ دل کی بات پوری طرح ادا نہ کر سکے گا۔ کیونکہ جو جنسی

٢٩

صفحہ ٢٥٩

جفا کاریاں اور حیا سوزیاں اس کے یقینی علم میں آئیں اور ایک عجوبہ روزگار انداز میں آئیں وہ تو الفاظ کے دامن میں سمائی نہیں جاسکتیں اور اگر ان کے صحیح بیان پر اصرار کیا جائے تو زبان کے سانچے ریزہ ریزہ ہو جائیں گے اور الفاظ و محاورات دم توڑ جائیں گے۔

پاک القاب کی توہین

اس تالیف کے ولین Villain نے اپنے لئے ایسے پاک القاب منتخب کئے جن سے اس کے ماننے والوں کے ذہنوں کا دیوالہ نکل گیا اور ان کی ایسی کردار کشی ہوئی کہ وہ نیک و بد اور شر و خیر میں تمیز کرنے سے قاصر ہو گئے۔ مؤلف ایسی کردار کشی کا تقریباً شکار ہو چکا تھا۔ اس کو بھی طویل مشاہدے کے بعد یقین ہوا اور پیر پرستی کے برگ حشیش کا اثر زائل ہوا۔ لیکن سارا ماجرا بیان کرنے کی استعداد مفقود ہو گئی۔ چونکہ سیاہ کاریاں محیر العقول تھیں۔ اس لئے ان کی نوعیت اس سیاہ کار کے لئے مدافعت بن گئی۔ کون مان سکتا کہ اس نے محرم اور غیر محرم کی تمیز کو روند کر رکھ دیا تھا اور اس کے لئے وہ اپنی جہنمی محفل میں کہا کرتا تھا کہ آدم کی اولاد کی افزائش ہی اس طرح ہوئی ہے کہ کوئی مقدس سے مقدس رشتہ مجامعت میں حائل نہیں ہو سکتا۔ عیاذ باللہ !

جیسا کہ اس تالیف میں ایک جگہ محمد یوسف ناز کا بیان نقل ہوا ہے۔ وہ اپنی مخدرات کو میدان معصیت میں پیش کرتا اور اس کے تربیت یافتگان ان سے حظ اندوز ہوتے اور خود اس روح فرسا منظر کا تماشا کر کے ابلیسی لذت محسوس کرتے۔ یہ واقعات کئی بار منصہ شہود پر آئے۔ لیکن جو گوشہ قفس میں آرام کے عادی ہو چکے تھے وہ کیسے مان سکتے تھے اور جب کوئی مان لیتا تو وہ بے امان ہو کر اپنا منہ لے کر رہ جاتا تھا۔ اس سے لوگوں کو یا تو بے خبر رکھا جاتا یا باخبروں کو بے بس کر دیا جاتا۔ اسی کیفیت کی طرف قرآن کریم کا اشارہ ہے کہ بات یہ ہے کہ آنکھیں اندھی نہیں ہو جایا کرتیں۔ بلکہ دل جو سینوں میں ہیں وہ اندھے ہو جاتے ہیں۔

شاید تاریخ کا زیغ دور ہو جائے

مؤلف کو اس تالیف سے کوئی الفت نہیں۔ کیونکہ گناہوں کے دوزخ کی تصویر کشی میں کیا لذت ہو سکتی ہے۔ ہاں افکار ختم نبوت کے پرچار سے تاریخ میں زیغ آ گئے ہیں۔ شاید اس تالیف کو بغور پڑھنے سے وہ زیغ سیدھے ہو جائیں۔ ہو سکتا ہے ان راہ گم کردہ لوگوں میں سے کوئی خدا کی عطا کردہ توفیق سے عقل کے ناخن لے گا تو اس پر چہرہ روشن اندروں چنگیز سے تاریک تر کا معمہ کھل جائے گا اور وہ جان لے گا۔ اے بسا انسان ابلیسی کند۔

اگر مؤلف سے کوئی اس کی حالت پوچھ بیٹھے تو وہ بقول غالب یہی عرض کرے گا۔

٣٠

جان غالب تاب گفتاری کجا
سخت بے دردی کہ می پر

یا نسبتی کی زبان سے عرض کرے گا۔

پر سید زمن یار کہ احوال
تا حال بہ او شرح دہم

یہ محض شعر آرائی نہیں۔ یہ سارے احوال حزم سے بیان ہوں گے۔ لیکن حزم ایسا نہ ہوگا کہ حقیقت مؤلف کو قارئین کی ہوش مندی کے شعور اور احساس کا بڑا پا

پر ہوں شکوے سے یوں راگ
اک ذرا چھیڑیئے پھر دیکھیے

مؤلف کے شاگردوں کے بیانات

مؤلف کو اس کے طبقہ اناث میں سے بعض ش کی جستجو میں مؤلف نے دیکھا موج موج اور بھنور کھاتی اس دوزخ سے نکل کر لاہور آیا۔ مدت جدید تک مہر بلب رنگ میں لیکن واضح طور پر پمفلٹوں اور چٹان میں مضامی دیا۔ یہ ساری باتیں حکومت کے محکمہ متعلقہ تک پہنچیں ۔ ل بہادر جوان میدان میں آئے۔ ان کے انکشافات نے سے تقریباً تیس سال بعد قادیانی چنگل سے نکل کر آ تجربات میں بال برابر فرق نہ تھا۔

ایس. پی (سی. آئی. ڈی) سے ملاقات

١٩٥٦ء میں ایک شام جب مؤلف کافی مایو معراج خالد صاحب اور عبداللہ بٹ صاحب آئے اور م جو ایس. پی (سی. آئی. ڈی) پولیٹیکل تھے، کے پاس لے ہو چکے ہیں ) کو ربوہ کی اندرونی کشمکش کی تحقیق تفویض سے یہ اندازہ لگایا کہ ان کو مؤلف سے سودمند رہنمائی م تھے۔ انہوں نے مؤلف سے کہا تھا کہ وہ اپنے متعلق احو

٣١

صفحہ ٢٥٩
جان غالب تاب گفتاری گماں داری ہنوز
سخت بے دردی کہ می پرسی زاحوال ما

یا نسیم کی زبان سے عرض کرے گا۔

پرسید زمن یار کہ احوال تو چوں است
تاحال بہ او شرح دہم جاں دگر شد

یہ محض شعر آرائی نہیں۔ یہ سارے احوال اس تالیف کے مختلف ابواب میں عزم اور حزم سے بیان ہوں گے۔ لیکن حزم ایسا نہ ہوگا کہ حقیقت ہی ہضم ہو کر پوشیدہ ہو جائے۔ کیونکہ مؤلف کو قارئین کی ہوش مندی کے شعور اور احساس کا بڑا سہارا ہے۔ مؤلف کی کیفیت یہ ہے۔

پر ہوں شکوے سے یوں راگ سے جیسے باجا
اک ذرا چھیڑیئے پھر دیکھئے کیا ہوتا ہے

مؤلف کے شاگردوں کے بیانات

مؤلف کو اس کے طبقہ اناث میں سے بعض شاگردوں نے اپنی واردات سنائیں۔ حق کی جستجو میں مؤلف نے دیکھا موج موج اور کھوج لگائی صدف صدف۔ جب یقین کامل ہو گیا تو اس دوزخ سے نکل کر لاہور آیا۔ مدت مدید تک مہر بلب رہا۔ جب ذرا طبیعت پلٹی تو کسی نہ کسی رنگ میں لیکن واضح طور پر پمفلٹوں اور چٹان میں مضامین کے ذریعے انکشاف کا سلسلہ شروع کر دیا۔ یہ ساری باتیں حکومت کے محکمہ متعلقہ تک پہنچیں۔ ادھر ربوہ میں ہلڑ بازی شروع ہوئی اور چند بہادر جوان میدان میں آئے۔ ان کے انکشافات نے روزناموں میں جگہ پائی۔ یہ لوگ مؤلف سے تقریباً تیس سال بعد قادیانی چنگل سے نکل کر آئے۔ ان کے مشاہدات اور مؤلف کے تجربات میں بال برابر فرق نہ تھا۔

ایس. پی (سی.آئی.ڈی) سے ملاقات

١٩٥٦ء میں ایک شام جب مؤلف کافی ہاؤس میں احباب کے ساتھ بیٹھا تھا تو ملک معراج خالد صاحب اور عبداللہ بٹ صاحب آئے اور مختصر سی گفتگو کے بعد مؤلف کو مسٹر عباس مرزا جو ایس. پی (سی.آئی.ڈی) پولیٹکل تھے، کے پاس لے گئے۔ عباس مرزا صاحب (جو اب مرحوم ہو چکے ہیں) کو ربوہ کی اندرونی کشمکش کی تحقیق تفویض ہوئی تھی۔ انہوں نے مؤلف کی تحریروں سے یہ اندازہ لگایا کہ ان کو مؤلف سے سودمند رہنمائی ملے گی۔ وہ ان دنوں ماڈل ٹاؤن میں رہتے تھے۔ انہوں نے مؤلف سے کہا تھا کہ وہ اپنے متعلق احوال سنائے۔ مؤلف نے جواباً عرض کیا کہ

٣١

صفحہ ٢٦١

مؤلف کا یک طرفہ بیان تو زخم خوردہ مرید کی فریاد ہوگی جو ان کے فرائض کی ادائیگی میں ممد نہ ہو سکے گی۔ زیادہ بہتر ہوگا کہ وہ سوال وجواب کے طریق سے حالات دریافت فرمائیں۔ انہوں نے سوالات کا سلسلہ چھیڑا۔ مؤلف نے ان کے جوابات دیئے۔ انہوں نے جنسی سیاہ کاریوں کے ہر پہلو پر سوال کئے اور ہر پہلو پر مؤلف نے اپنی پوری استعداد سے جواب دیا۔ عباس مرزا صاحب کا حال یہ ہوا کہ وہ کرسی سے نیچے اتر کر قالین پر دراز ہو کر کہنے لگے کہ ان کے والد مرحوم مرزا عطاء اللہ بیگ S.H.O سے D.S.P تک گئے تھے۔ اس لئے ان کو یعنی عباس مرزا صاحب کو وراثت میں پولیس والی صلاحیت ملی تھی اور وہ خود بھی S.H.O سے کپتان پولیس تک پہنچے تھے۔ اس لئے ان کو CrimeNology کا خاصہ فہم رکھنے کا دعویٰ تھا۔ لیکن نامحمود سر براہ منکرین کی عیاریوں اور گنہگاریوں کا حال سن کر کہنے لگے کہ ان کا فہم جرائم تو بہت پیچھے رہ گیا ہے۔ انہوں نے طویل مکالمہ میں خوب چھان پھٹک کی اور وہ کان پر ہاتھ رکھ کر خاموش ہو گئے اور مؤلف رات کے دس بجے ملک معراج خالد صاحب کی مہربانی سے ان کی کار میں سنت نگر پہنچا۔ ان دنوں مؤلف وہاں رہتا تھا۔

ہاں! ایک بات کہنی ضروری ہے کہ ایس. بی (سی. آئی. ڈی) عباس مرزا نے مؤلف سے وعدہ کیا کہ وہ ان سے ربط رکھے گا اور وہ خود فحش کاری کے اڈوں کے سارے کوائف معلوم کرے گا۔ یعنی کس طرح مضبوط نوجوان کب اور کس طرح بلائے جاتے ہیں اور کس طرح گھر اور باہر سے خلیفہ کے لئے شکار دیا جاتا ہے اور کس طرح عصمت کے قصاب اور بوچرز عادی ہو کر بلاوے کے لئے کس طرح دیدہ براہ اور گوش بر آواز رہتے ہیں اور کس طرح صنف نازک پہلے مجبور ہو کر اور بعد میں آبرو ریزی کی خوگر ہو کر خود عصمت کے مذبح میں حاضر رہتی ہے اور کس طرح ہیڈ بوچر اپنے ناکارہ ہو جانے کی تلافی کے لئے اپنے سامنے حیا اور شرم کی کھال اترتے دیکھتا ہے اور خود کو لباس کے بوجھ سے سبکدوش کر لیتا ہے۔ تاکہ اس عشرت کدہ کے فرش سے چھت تک عریانی ہی عریانی ہو اور حیا کسی روزن سے دخیل نہ ہو سکے۔

ایس. پی صاحب کو یہ بھی بتایا گیا کہ Unmarried Mothers ہونے کے خوف کی پیش بندی کر لی جاتی ہے اور اکثر تو امومت کی صلاحیت سے عاری کر دی جاتی ہے اور اگر کبھی ایسا خطرہ لاحق ہو جائے تو اس کا بھی جراحی علاج کر لیا جاتا ہے۔ ایس. پی صاحب نے سب کچھ سنا۔ اس پر جارحانہ جرح فرمائی اور اس سیلاب معصیت کے آگے بند باندھنے کا وعدہ کیا۔ لیکن ”وہی دیرینہ بیماری وہی ناتمامی دل کی“ کا عارضہ ان پر غالب آ گیا اور وہ ٹس سے مس تک نہ ہوئے۔

٣٢

ان پر اتمام حجت ہو چکا تھا۔ اس لئے شعیب ہوئے تھے۔ ذرا مہلت کا عرصہ طویل ہو گیا۔ پھر جو کچھ شعار حاکم کے ساتھ ہوا وہ سب پر روشن ہے۔ وہ اب دیگر برے سلوک بھی ہوئے اور آخر میں ”ان الینا“ قانون کے ماتحت راہ ملک عدم ہوئے۔ حکومتوں کوٹھریوں سے چنگیز صفت عصمت تراش ربوہ میں اپنے

خضر بھی بے دست و پا، الیاس
میرے طوفاں یم بہ یم، دریا

مولانا مودودی سے ملاقات

١٩٥٦ء میں یا اس سے لگ بھگ ربوہ سے دیکھ کر سر پرست اعلیٰ کے دم خم دیکھ کر گھر بار چھوڑ کر مع بیانات اخبارات میں شائع ہوئے۔ نوائے وقت، کی۔ پاکستان ٹائمز اور کراچی ٹائمز میں بھی ان پر مؤلف ان کی ہمت پر متعجب تھا۔ لیکن براہ راست کو بیٹے مولوی عبد الوہاب نے ان جوانوں کو مؤلف سے ملاقات ہوئی۔ مؤلف قادیان سے ١٩٣٦ء میں آ تھے۔ جب معلومات کا موازنہ کیا تو معلوم ہوا کہ تھے۔ جب لاہور میں ان کی سرگرمیاں جاری تھیں ملاقات ہوئی۔ اس کے مشورہ پر انہوں نے اپنی تنظ رجسٹر بھی کرا لیا۔ اس تنظیم کی بدولت ان کو پریس ہوگئی۔ چنانچہ اس سے فائدہ اٹھا کر انہوں نے مر لیا۔ جب مؤلف کو اس کا علم ہوا تو اس نے بھی ان تاریخ یاد نہیں لیکن یہ یاد ہے کہ مولانا لان میں مغرب کی نماز کے بعد ہوئی۔ مولانا صاح حضرت اپنے وعدے کے مطابق تیار تھے۔ جونہی سلسلہ کلام شروع ہوا۔ مؤلف

صفحہ ٢٦١

ان پر اتمام حجت ہو چکا تھا۔ اس لئے شعوری غفلت کے عواقب تعزیر الٰہی بن کر نازل ہونے تھے۔ ذرا مہلت کا عرصہ طویل ہو گیا۔ پھر جو کچھ ٢٠؍ دسمبر ١٩٧١ء کے بعد اس ذہین مگر غفلت شعار حاکم کے ساتھ ہوا وہ سب پر روشن ہے۔ وہ اپنے منصب سے تعزیراً معزول ہوئے اور تھرڈ ڈگری کے سلوک بھی ہوئے اور آخر میں ’اِن الینا ایابہم ثم اِن علینا حسابہم‘ کے اٹل قانون کے ماتحت راہِ ملک عدم ہوئے۔ حکومتوں اور ان کے افسران متعلقہ کی ان تھک عیش کوششوں سے چنگیز صفت خلیفہ ربوہ میں اپنے المناک انجام تک یہی کہتا رہا۔

خضر بھی بے دست و پا، الیاس بھی بے دست و پا
میرے طوفاں یم بہ یم، دریا بہ دریا، جو بہ جو

مولانا مودودی سے ملاقات

١٩٥٦ء میں یا اس سے لگ بھگ ربوہ سے کچھ مہم جو اور طالع آزما جوان فحش کاریوں کو دیکھ کر سرپرستِ اعلیٰ کے دم خم دیکھ کر گھر بار چھوڑ کر مصیبتوں کے بوجھ سے نبرد آزما ہوئے۔ ان کے بیانات اخبارات میں شائع ہوئے۔ نوائے وقت نے اپنی مسلمہ فراست سے ان کی دست گیری کی۔ پاکستان ٹائمز اور کراچی ٹائمز میں بھی ان باہمت جوانوں کے انکشافات شائع ہوئے۔

مؤلف ان کی ہمت پر متعجب تھا۔ لیکن براہ راست کوئی ملاقات نہیں تھی۔ آخر مولوی نور الدین کے بیٹے مولوی عبدالوہاب نے ان جوانوں کو مؤلف سے ملنے کی تلقین کی۔ ایک شام کافی ہاؤس میں ملاقات ہوئی۔ مؤلف قادیان سے ١٩٣٦ء میں آیا تھا۔ یہ لوگ ١٩٥٢ء میں سربکف ہو کر نکلے تھے۔ جب معلومات کا موازنہ کیا تو معلوم ہوا کہ مؤلف اور ان کے معلومات بالکل ایک جیسے تھے۔ جب لاہور میں ان کی سرگرمیاں جاری تھیں تو اس وقت کے آئی جی سے بھی ان کی مبینہ ملاقات ہوئی۔ اس کے مشورہ پر انہوں نے اپنی تنظیم کا نام ”حقیقت پسند پارٹی“ رکھا اور اس کو رجسٹر بھی کرا لیا۔ اس تنظیم کی بدولت ان کو پریس اور دوسرے بڑے لوگوں سے ملنے میں آسانی ہو گئی۔ چنانچہ اس سے فائدہ اٹھا کر انہوں نے مولانا مودودی صاحب سے بھی ملاقات کا وقت لیا۔ جب مؤلف کو اس کا علم ہوا تو اس نے بھی ان کے ساتھ جانے کا پروگرام بنایا۔

تاریخ یاد نہیں لیکن یہ یاد ہے کہ مولانا مودودی صاحب سے ملاقات ان کی کوٹھی کے لان میں مغرب کی نماز کے بعد ہوئی۔ مولانا صاحب بڑی اچھی طرح ملے۔ ایسا معلوم ہوتا تھا کہ حضرت اپنے وعدے کے مطابق تیار تھے۔

جونہی سلسلۂ کلام شروع ہوا۔ مؤلف نے حضرت کو اپنا نام بتایا اور اپنی کتاب اسلام

٣٣

صفحہ ٢٦٢

اور سوشلزم (انگریزی) کا حوالہ دیا۔ کیونکہ اس میں مؤلف نے بڑے کھلے الفاظ میں اقرار کیا تھا کہ وہ اس کتاب کی تالیف میں مولانا صاحب کی علم افروز تحریرات کا خوشہ چین ہے۔ چونکہ مولانا صاحب اس کتاب کا ملتان جیل میں مطالعہ فرما چکے تھے۔ اس لئے انہوں نے کریمانہ توجہ مبذول فرمائی۔

مولانا صاحب نے بڑے عمدہ انداز میں اس شخص نامحمود کی داخلی زندگی کے حالات دریافت فرمائے۔ مولانا صاحب کی توجہ کا ہدف مؤلف ہی تھا۔ مؤلف نے جواباً عرض کی کہ بتلانے میں تامل کیا ہو سکتا ہے۔ جب باریابی کا مقصد ہی یہی ہے۔ لیکن مشکل یہ ہے ”کیا بنے بات جہاں بات بنائے نہ بنے۔“ مؤلف کے اپنے الفاظ یہ تھے۔ ”جنسی قتل عام کی رواداد ایسی ہے کہ مجھے اس کے بیان کرنے کا یارا نہیں۔ ایک یہ کہ میں آپ کے سامنے کب لب کشا ہو سکتا ہوں۔ جب موضوع اتنا غلیظ ہو کہ اس کے لئے کسی زبان میں الفاظ ہی نہ بنے ہوں اور یہ انسانی فطرت کے اس قدر بعید اور متضاد ہے کہ نہ کہنے والا کہہ سکتا ہے اور نہ سننے والا سن سکتا ہے۔ گناہوں کے ارتکاب میں وہ آرٹ در انداز کیا گیا ہے کہ بیان حال مجرم کے لئے مدافعت بن جائے گا۔ اس لئے اگر میں بیان کروں اور آپ میرے بیان کو تسلیم نہ کریں اور بحیثیت ایک عالم دین اور متقی انسان ہونے کے آپ کو باور بھی نہ کرنا چاہئے تو میں آپ کے نزدیک کاذب قرار دیا جاؤں گا۔ کیونکہ جس ننگ انسانیت کا وہ سراپا ہے وہ Compulsive Sex -Anarchist ہے۔ یعنی وہ سیاہ کاری کے بغیر زندہ ہی نہیں رہ سکتا اور ایسے آدمی کا نہ تصور آسان ہے اور نہ اس کی تصویر کشی سہل امر ہے اور اگر خدا مجھے تاثیر کلام بخشے وہ ’واحلل عقدة من لساني‘ کی نعمت سے سرفراز فرمائے اور آپ میرے بیان کو تسلیم کر لیں تو مجھے آپ کے متعلق تذبذب ہوگا۔ اس لئے میں دو گونہ عذاب میں ہوں۔ ایک طرف ہے Devil اور دوسری طرف Deep Sea ہے۔ پھر یہ بھی عرض کیا کہ جو کچھ مؤلف نے دیکھا وہ مولانا مودودی کے لئے کوئی حجت نہیں۔ وہ بڑی آسانی سے رد کر سکتے ہیں۔ لیکن جس نے دیکھا ہے اور شدید احتساب کے بعد دیکھے اور سنے کا سچ معلوم کیا ہے۔ اس پر تو اتمام حجت ہو چکی ہے۔“

مولانا صاحب بڑے زیرک ہیں۔ انہوں نے فرما دیا کہ وہ سمجھ گئے ہیں۔

ایک نا قابل فراموش بات

دوران گفتگو مولانا مودودی صاحب نے فرمایا کہ ان کے پاس ربوہ کے پرچارک آتے رہتے ہیں۔ خصوصاً اس وقت تک جب تک وہ ربوہ منتقل نہیں ہوئے تھے۔ انہوں نے فرمایا

صفحہ ٢٦٣

کہ ان پرچارکوں کا مطالعہ تو تھا لیکن بات کرنے کا سلیقہ نہ تھا۔ وہ قرآن کریم اور احادیث اور فقہ کی باتیں کر جاتے۔ لیکن اس انداز سے کرتے کہ خشوع کے بجائے خشونت کا اظہار ہوتا۔ تضرع کے بجائے تمرد نمایاں ہوتا اور جرات ایمانی کے بجائے مجرم کا جبن اظہر من الشمس ہوتا تھا۔ لیکن ایک عقدہ پیدا ہوتا کہ ان کے اجزائے نبوت کے فاسد خیال سے یہ کہنا مشکل ہو جاتا کہ یہ دہریہ ہیں۔ حالانکہ جو اثر چھوڑ جاتے وہ دہریت اور الحاد کا ہوتا ہے۔ اس لئے مولانا نے فرمایا کہ وہ اس معمے کو حل نہ کر سکے۔ لیکن مؤلف سے باتیں کرنے کے بعد انہوں نے فرمایا کہ ان کو آج معلوم ہوا ہے کہ ان کا تصور الوہیت ہی باطل تھا۔ اس لئے انہوں نے الوداع کے وقت بڑی الفت سے مؤلف کو مخاطب کر کے فرمایا کہ مؤلف کے بیان نے یہ گرہ کھول دی ہے اور پھر محض از راہ شفقت اور کئی بار ملنے کی اجازت سے نوازا۔ ان کی عدیم الفرصتی کی وجہ سے مؤلف نے شرف باریابی کی سعی کو ان کے آرام پر تجاوز سمجھا۔ اس لئے پھر ملنے کی صورت پیدا نہ ہوسکی۔

مولانا مودودی کے پاس مرزا محمود کا وفد

گفتگو کے دوران حقیقت پسند پارٹی کے اہم رکن بلکہ ستون ملک عزیز الرحمن صاحب نے مولانا سے کہا کہ ربوی اور لاہوری کے مخصوص حلقوں میں ایک بات چل رہی ہے کہ جب مولانا صاحب ١٩٥٣ء کی ایجی ٹیشن میں قلعہ لاہور میں نظر بند تھے تو ان کے پاس لاہوری جماعت کے ہفتہ وار پرچہ لائٹ کے ایڈیٹر مولوی محمد یعقوب خاں اور خواجہ نذیر احمد، مرزا محمود کا ایک پیغام لے کر آئے تھے۔ مؤلف نے اس کی تصدیق کی۔ کیونکہ اس کو میاں محمد شفیع (نامور صحافی) نے ایک خط دکھایا تھا۔ جس میں یہ سارا ماجرا لکھا تھا۔

مولانا مودودی صاحب نے جواباً فرمایا کہ یہ لوگ آئے تھے۔ یہ صراحت بے جا نہ ہوگی کہ مولوی محمد یعقوب خان ہم زلف تھے مولوی محمد علی لاہوری کے اور خواجہ نذیر احمد بیٹے تھے خواجہ کمال الدین کے۔ مزید استفسار پر مولانا صاحب نے فرمایا کہ وہ مرزا محمود کا یہ پیغام لائے تھے کہ وہ اپنے عقائد میں ترمیم کر دے کہ پاکستانی مسلمانوں کو گوارا ہو سکیں۔ اس پر مولانا صاحب نے فرمایا کہ انہوں نے اس وفد کو کہا کہ افتراء تو محمود کرے اور اس کی ترمیم وہ (مولانا صاحب) کریں۔ مرزا محمود کو اپنے نامحمود عقائد یکسر ترک کرنے چاہئیں۔

- ملک عزیز الرحمن نے مولانا صاحب سے کہا کہ ان کو منیر ٹربیونل کے سامنے یہ پول کھول دینا چاہئے تھا۔ اس پر مولانا صاحب نے پوری اثر انگیزی سے فرمایا کہ یہ ایک ایسی شیطنت تھی کہ باوجود معاملہ سچ ہونے کے ٹربیونل اس کو تسلیم نہ کرتا اور اس فتنے کا محرک مرزا محمود مظلوم سمجھا

٣٥

صفحہ ٢٦٤

جاتا۔ مولانا صاحب نے فرمایا کہ مرزا محمود اپنے مکائد کے عواقب سے خائف تو تھا ہی لیکن وہ اس کو فریب کے رنگ میں ان کو بہکانا چاہتا تھا۔ مرزا محمود مولانا صاحب کی زیرکی کا حریف نہ ہو سکا۔ اس نے وہی کچھ کرنے کی ایک کمینہ سعی کی جو بھٹو اپنے دور اقتدار میں کرنا چاہتا تھا۔ اگر بھٹو کے دور میں مرزا محمود زندہ ہوتا تو خبر نہیں کیا کیا واقعات رونما ہوتے۔ کیونکہ مرزا محمود کے دل و دماغ میں کئی بھٹو موجود تھے۔ جس طرح بھٹو کے اندر کئی مرزا محمود آسودہ تھے۔ یہی وجہ ہے کہ ربوہ والوں کو ٧؍ ستمبر ١٩٧٤ء کو غیر مسلم قرار دے کر ان کو اپنی حمایت سے سرمو منحرف نہ ہونے دیا۔ وہ اس واقعہ کے بعد بھی بھٹو پر تکیہ کرتے رہے۔

مولف کا اضطراب انگیز اعلان

مولانا مودودی سے درخواست طلب کرتے وقت مؤلف نے عرض کی کہ مرزا محمود کے دن ختم ہونے والے ہیں۔ وہ فالج سے حواس کھو بیٹھا ہے۔ اس کے تحت الشعور میں جو غلاظت کے انبار تھے وہ گالیوں کی صورت میں نکلتے بیان کئے جاتے ہیں۔ وہ ذہول اور نسیان میں وہ وہ کچھ کہہ جاتا ہے کہ سماعت پر آبلے پڑ جاتے ہیں۔ اگر یہ شخص عبرت انگیز انداز میں نہ مرا تو مؤلف پر خدا کا انکار عقلاً وارد ہو جائے گا۔ مبینہ طور پر خلوت سینہ کے وقت قرآن کریم کو پاس رکھنے والا بھی خدا کی گرفت سے بچ جائے تو اللہ تعالیٰ کے عظیم صبر بخشنے کے بعد ہی اس کی سیاہ کاریوں کے وسیع و عریض رقبے کو جاننے والا اپنے ایمان کی دولت کو محفوظ رکھ سکتا۔ اب تک ہزاروں جوان یا دہریے ہو گئے یا اعصابی امراض میں مبتلا ہو گئے۔ جب یہ شخص اپنے باپ کو بھی نہیں بخشتا تو یہ کیا نہ کرتا ہوگا۔ مولانا صاحب مؤلف کا اضطراب دیکھ کر حیران سے ہوئے لیکن تسلی دی اور مزید ملاقاتوں کی اجازت دی۔

مضحکہ خیز افتراؤں کا تجزیہ

His Holiness

منکرین ختم نبوت کے سربراہ ثانی نے اجراء نبوت (معاذ اللہ) کا ابوالہول کھڑا کر کے اسلامی معاشرہ میں کربناک فضا پیدا کر دی تھی۔ لیکن اس نے اس فتنہ عظیم پر اکتفا نہ کیا۔ اپنے شباب کی تر دامنیوں اور بوقلموں معصیتوں سے عقل باختہ مریدوں کو مستقل طور پر غافل رکھنے کے لئے اس نے فضل عمر ہونے کا افتراء کیا۔ یعنی اس نے زمام کار سنبھالتے ہی یہ دعویٰ داغ دیا کہ خدا نے (معاذ اللہ) اس کو حضرت عمرؓ سے افضل ہونے کا یہ خطاب دیا ہے۔ وہ تو دل ہی دل میں جانتا

٣٦

تھا کہ وہ ہستی باری تعالیٰ کا منکر ہے۔ لیکن اور اس کا ناقد اس کی تعزیر اور جماعت کے غ تمام دنیائے اسلام کے خلاف ملاحظہ ہو کہ اس نے پچیس سالہ الھڑ مکار تسلیم کر کے اپنی عزتوں اور عصمتوں کو اس کلیسائی لقب His Holiness ا دفتری کاغذات پر یہ مفتریانہ لقب چھپتا رہا۔ ہوئی کہ اس کو کہے کہ یہ لقب تجسیم خداوندی جب ١٩٢٢ء میں پرنس آف وی اس کو گورنمنٹ ہاؤس ملنے گیا تو اس کی کار لکھا ہوا تھا۔ چونکہ برطانوی فرمانروا کا بیٹا ا اس پر یہ اثر ہوا کہ یہ کوئی ذہنی مریض ہے۔ رکاب میں ” قادیانی کے لوگ دل ہی دل میں

خودنمائی کا مریضانہ مظاہرہ

خلیفہ لوگوں کی نفرت سے بے کئی دعوے فضا میں اچھالے۔ اس کا ناد شائع ہوا: ” ملکی سیاست میں خلیفہ وقت تائید و نصرت اس کے شامل حال ہوتی ہے گویا وہ اپنے آپ کو اپنے زما تھا کہ ہر نئے آنے والے گورنر اور گورنر جنرل

ساری دنیا کا چارج

٤؍ جون ١٩٤٠ء کے الفضل م ”نہیں معلوم کب خدا کی طرف سے ہمیں رہنا چاہئے کہ دنیا کو سنبھالیں۔“ گویا بحر و بر پر اپنے استیلا کا جا رہی ہے کہ وہ نوائے سروش کے لئے گو

صفحہ ٢٦٥

تھا کہ وہ ہستی باری تعالیٰ کا منکر ہے۔ لیکن یہ افتراء اس کو اپنے مریدوں کی تنقید سے محفوظ کر لے گا اور اس کا ناقد اس کی تعزیر اور جماعت کے غیظ و غضب سے محفوظ نہ رہ سکے گا۔

تمام دنیائے اسلام کے خلاف فتویٰ تکفیر کی اشاعت کرنے والی جماعت کی بے وقوفی ملاحظہ ہو کہ اس نے پچیس سالہ الھڑ مکارم اخلاق سے عاری جوان کو اپنے پہلے سربراہ سے افضل تسلیم کر کے اپنی عزتوں اور عصمتوں کو اس کے حوالے کر دیا۔ اس نے اس انفعالیت کو دیکھ کر ایک کلیسائی لقب His Holiness اختیار کر لیا اور ١٩١٤ء سے ١٩٣٩ء تک اسی کے سارے دفتری کاغذات پر یہ مفتریانہ لقب چھپتا رہا۔ جماعت کی دینی بے غیرتی ایسی تھی کہ کسی کو جرأت نہ ہوئی کہ اس کو کہے کہ یہ لقب تجسیم خداوندی پر مبنی ہے۔ اس لئے یہ عریاں کفر و شرک ہے۔

جب ١٩٢٢ء میں پرنس آف ویلز ہندوستان کی سیر کرتا ہوا لاہور آیا تو یہ خانہ ساز خلیفہ اس کو گورنمنٹ ہاؤس ملنے گیا تو اس کی کار پر ایک پھریرا سا تھا۔ جس پر His Holiness لکھا ہوا تھا۔ چونکہ برطانوی فرمانروا کا بیٹا اس لقب کے تاریخی اور مذہبی پس منظر کو خوب جانتا تھا۔ اس پر یہ اثر ہوا کہ یہ کوئی ذہنی مریض ہے۔ جس کی حالت یہ ہے کہ ”نہ ہاتھ باگ پر ہے نہ پا ہے رکاب میں“ قادیان کے لوگ دل ہی دل میں اس کیفیت سے سخت متنفر تھے۔

خود نمائی کا مریضانہ مظاہرہ

خلیفہ لوگوں کی نفرت سے بے خبر نہ تھا۔ اس نے اس نفرت کو ٹھنڈا کرنے کے لئے نئے کئی دعوے فضا میں اچھالے۔ اس کا نادر نمونہ الفضل مورخہ ٢٥ نومبر ١٩٣٢ء میں ان الفاظ میں شائع ہوا: ”ملکی سیاست میں خلیفہ وقت سے بہتر اور کوئی رہنمائی نہیں کر سکتا۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کی تائید و نصرت اس کے شامل حال ہوتی ہے۔“

گویا وہ اپنے آپ کو اپنے زمانے کا ”خدا کا فرستادہ خلیفہ“ سمجھتا تھا۔ اس فرستادگی کا عالم یہ تھا کہ ہر نئے آنے والے گورنر اور گورنر جنرل کے سامنے زانوئے ادب تہ کئے بغیر اس کا کوئی چارہ نہ تھا۔

ساری دنیا کا چارج

٤ جون ١٩٣٠ء کے الفضل میں خود ستائی کی دھن ایک اور رنگ میں اس طرح آلاپی: ”نہیں معلوم کب خدا کی طرف سے ہمیں دنیا کا چارج سپرد کیا جاتا ہے۔ ہمیں اپنی طرف سے تیار رہنا چاہئے کہ دنیا کو سنبھالیں ۔“

گویا بحر و بر پر اپنے استیلا کا خواب اس کے ہوش پر مسلط ہے اور جماعت کو تلقین کی جا رہی ہے کہ وہ نوائے سروش کے لئے گوش بر آواز رہے۔ پھر اس آرزوئے باطل کو ابھارنے کے

٣٧

صفحہ ٢٦٦

لئے یہ دعویٰ کیا جاتا ہے: ”ہم احمدی حکومت کرنا چاہتے ہیں۔“

(الفضل مورخہ ١٣ فروری ١٩٢٢ء)

اس پر ایک الٹی میٹم کا اضافہ یوں کیا گیا: ”اس وقت تک کہ تمہاری بادشاہت قائم نہ ہو جائے تمہارے راستے سے کانٹے ہرگز دور نہیں ہو سکتے۔“

(الفضل مورخہ ٨ جولائی ١٩٣٥ء)

اس سے صاف ظاہر ہے کہ جماعت کو کہا جا رہا ہے کہ مسلمانان عالم بلکہ اسلام ہی قادیانیت کے فروغ میں ایک کانٹا ہے اور کانٹے کو جماعت چن کر نکال دے۔

دماغی فتور کا ظہور

یہ بے سروپا ”دعاوی“ خدا کی تعزیر کی نشاندہی کر رہے تھے۔ گویا جوں جوں خلیفہ دین اسلام کے خلاف بغاوت کی طرف مائل ہوتا اتنا ہی اس کے دماغی عوارض تیز سے تیز ہوتے جا رہے تھے۔ ہوائی قلعے تعمیر کرنا کسی ہوشمند کا کام تو نہیں ہو سکتا۔ اس کا جماعت پر حدود فراموش اقتدار اس کے دل و دماغ کو ماؤف کرتا جا رہا تھا۔ وہ Paranoma کی مرض کے شکنجے میں پھنسا ہوا تھا۔ اس کی شخصیت دولخت ہو کر رہ گئی تھی۔ وہ دعاوی کرتا اور وہ باطل ہو کر اس پر آ گرتے تو اس کی مرض اور شدت اختیار کر جاتی۔

مرزا ادیب سے مستعار عبارت

اس مفتری کی نفسیاتی حالت کو اجاگر کرنے کے لئے پاکستان کے نامور عالم اور اہل قلم مرزا ادیب کی تحریر سے ایک اقتباس نقل کیا جا رہا ہے۔ جس کے بغور مطالعہ سے خلیفہ کی ماؤف حالت کا اندازہ ہو سکتا ہے۔ مرزا ادیب اپنے کسی مقالہ میں بیابان کی نقشہ کشی یوں کرتے ہیں۔ بیابان کی سب سے بڑی حقیقت سراب ہے اور سراب ”پہچان“ کے ساتھ ایک فریب کارانہ شعبدہ بازی ہے۔ بیابان میں ”پہچان“ اپنے اعتماد کو کھو بیٹھتی ہے اور بیابان کا مسافر سراب کی فریب کاریوں کے بعد اپنی پہچان پر بھروسہ کرنا چھوڑ دیتا ہے۔ پھر بھی اس کے سفر کے تسلسل میں فرق نہیں پڑتا۔ وہ سفر بدستور جاری رکھتا ہے۔ جب عرفی نے یہ شعر کہا تھا تو اس کے ذہن پر بھی یہی خیال چھایا ہوا تھا۔

ز تشنگی تشنہ لبی دان، بہ عقل خویش مناز
دلت فریب اگر جلوۂ سراب نہ خورد

جعلی خلافت کا بیابان

اپنی جعلی خلافت کے بیابان میں یہ خلیفہ ایک سراب کی طرح بھٹکتا رہا۔ اس کی اپنی حقیقت تو بس اتنی ہی تھی۔ لیکن اس کے مرید جلوہ سراب کے فریب سے محفوظ نہ رہ سکے۔ وہ اپنی

٣٨

٧

فریب خوردگی کو عقیدت جان کر اس سراب تک پ رہے۔ خلافت کا نمود سیما محض بے حقیقت اور فر ہو سکتا تھا۔ لیکن جب تک فریب ذہن پر مسلط ہ آخر کار بیابان کا مسافر سراب کا تعاقب کرتے کر جب وہ یہ دوڑ دھوپ چھوڑتا ہے۔ اس میں اس کی سے ہی حقیقت کا فقدان اس پر آشکار ہوتا ہے۔ بیابان میں خلیفہ کے دعاوی کے سراب کے جلوہ تھے۔ خلیفہ سے اس وقت منہ موڑا جب ان کی جان

نیاز فتح پوری کی حیرت انگیز بے خبری

قادیان میں جو حیاسوز ڈرامہ کھیلا جا ر تھا جب کوئی وہاں سے اور پاکستان میں ربوہ س ڈرامے کو مخفی رکھتا تھا اور اس کی اشاعت میں نا کام ملاحظہ ہو کہ لوگ خلیفہ کے صحیح نام سے اب تک بے محمود کے غلط نام سے یاد کرتے ہیں۔ اس کا نام مر لئے خدا داد لقب تھا۔ یعنی دین کی بشارت دینے وا بے خبری کا ذکر کرنا بے سود نہ ہو گا۔ اس نے ”نگار“ اس نے قادیانیوں کی بیس کتابیں پڑھی ہیں اور اب کہ: ”جب ١٩٢٢ء میں بانی احمدیت و بمبلے (ey غرض سے لندن گئے تو جاتے ہوئے دمشق میں بھی

اس نامور ناقد ادیب کو یہ بھی علم نہیں ک ہو گیا تھا۔ مولوی نور الدین پہلا سر براہ تھا۔ جو ١٩١٤ مرزا محمود احمد سر براہ ثانی بنا اور وہ ١٩٢٣ء میں لندن اور بیٹے میں تمیز نہیں کر سکا۔ اس کو یہ کذب بیانی ن کتابیں پڑھی ہیں۔ اس کی بے خبری کا جو عالم ہے کی صورت نہیں دیکھی ہوگی۔

٣٩

صفحہ ٢٦٧

فریب خوردگی کو عقیدت جان کر اس سراب تک پہنچنے کی سعی میں تشنہ لبی کی اذیتوں کو گوارا کرتے رہے۔ خلافت کا نمود مسیحا محض بے حقیقت اور فریب نظر تھا۔ اس کے پالینے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوسکتا تھا۔ لیکن جب تک فریب ذہن پر مسلط ہے عقیدت کی تگ و تاز میں فرق نہیں آسکتا۔ آخر کار بیابان کا مسافر سراب کا تعاقب کرتے کرتے تشنگی سے چور ہو کر تعاقب ترک کر دیتا ہے۔ جب وہ یہ دوڑ دھوپ چھوڑتا ہے۔ اس میں اس کی سوچ کا کوئی دخل نہیں ہوتا۔ بلکہ جانگسل تشنہ لبی سے ہی حقیقت کا فقدان اس پر آشکار ہوتا ہے۔ یہی حال ان لوگوں کا ہوا جو انکار ختم نبوت کے بیابان میں خلیفہ کے دعاوی کے سراب کے جلوہ بے حقیقت کے اثر کے نیچے عقل معطل کر بیٹھے تھے۔ خلیفہ سے اس وقت منہ موڑا جب ان کی جان کے لالے پڑ گئے تھے۔

نیاز فتح پوری کی حیرت انگیز بے خبری

قادیان میں جو حیا سوز ڈرامہ کھیلا جارہا تھا اس کا باہر کے قادیانیوں کو اس وقت علم ہوتا تھا جب کوئی وہاں سے اور پاکستان میں ربوہ سے باہر نکالا جاتا تھا۔ تعصب کا آہنی پردہ اس ڈرامے کو مخفی رکھتا تھا اور اس کی اشاعت میں ناقابل عبور روک بنا ہوا تھا۔ اس روک کی اعجوبہ کاری ملاحظہ ہو کہ لوگ خلیفہ کے صحیح نام سے اب تک بے خبر چلے آتے ہیں اور ابھی تک اس کو بشیر الدین محمود کے غلط نام سے یاد کرتے ہیں۔ اس کا نام مرزا محمود احمد تھا۔ بشیر الدین اس کے مریدوں کے لئے خداداد لقب تھا۔ یعنی دین کی بشارت دینے والا۔ اس ضمن میں جناب نیاز فتح پوری کی جاہلانہ بے خبری کا ذکر کرنا بے سود نہ ہوگا۔ اس نے ”نگار“ (دسمبر ١٩٥٩ء) میں بڑے طمطراق سے لکھا کہ اس نے قادیانیوں کی بیس کتابیں پڑھی ہیں اور اپنے نوٹ میں لایعنی قسم کی تعریف کی تھی اور لکھا تھا کہ: ”جب ١٩٢٤ء میں بانی احمدیت ویمبلے (Wembley) کی مذہبی کانفرنس میں شرکت کی غرض سے لندن گئے تو جاتے ہوئے دمشق میں بھی قیام کیا۔“

(نگار ص ٣٩، ماہ نومبر ١٩٥٩ء)

اس نامور ناقد ادیب کو یہ بھی علم نہیں کہ بانی احمدیت مرزا غلام احمد کا دور ١٩٠٨ء میں ختم ہو گیا تھا۔ مولوی نور الدین پہلا سربراہ تھا۔ جو ١٩١٤ء میں فوت ہوا۔ اس کے بعد بانی احمدیت کا بیٹا مرزا محمود احمد سربراہ ثانی بنا اور وہ ١٩٢٤ء میں لندن گیا اور راستے میں دمشق ٹھہرا تھا۔ جو شخص باپ اور بیٹے میں تمیز نہیں کر سکتا۔ اس کو یہ کذب بیانی زیب نہیں دیتی کہ وہ کہے کہ اس نے پندرہ بیس کتابیں پڑھی ہیں۔ اس کی بے خبری کا جو عالم ہے اس سے تو ظاہر ہوتا ہے کہ اس نے الفضل تک کی صورت نہیں دیکھی ہوگی۔

٣٩

صفحہ ٢٦٩

احرار محمودی سازشوں کا شکار ہو گئے

بعض نامور احرار قائدین بھی قادیانی حقائق سے بالکل بے خبر تھے۔ ان کی حالات سے لاعلمی نے ان کے پروپیگنڈے کو بے اثر کر دیا اور وہ خود خلیفہ کی عیاریوں کا شکار ہو گئے۔ شہید گنج مسجد کے سلسلے میں مرزا محمود احمد کا براہ راست میاں فضل حسین سے تعلق تھا جو احرار کو گرانے پر تلا ہوا تھا۔ اس نے ایک جال بچھا رکھا تھا۔ جس میں احرار پھنس گئے۔ چوہدری افضل حق صاحب نے شہید گنج مسجد کی تحریک میں عدم شرکت کا پرزور بیان لکھا۔ انہوں نے انقلاب کے مدیر کو دکھایا وہ مدیر خود میاں فضل حسین کے معتمد تھے۔ انہوں نے بیان کی تعریف کی اور چوہدری افضل حق صاحب کے کہنے پر اس کی کتابت کرائی اور اپنے پریس واقعہ خالصہ سٹریٹ ریلوے روڈ میں طبع کر کے اپنے کارکنوں کے ذریعے سارے شہر میں تقسیم کر دیا۔ چوہدری صاحب مذکور بھاگے بھاگے دفتر انقلاب آئے تا کہ تقسیم رکوا دیں۔ لیکن ان کے آنے سے پہلے ہی مطبوعہ بیان شائع ہو چکا تھا اور احرار سواد اعظم کی شدید احتجاج کا شکار ہو کر صید زبوں ہو چکے تھے۔ یہ سب کارروائی میاں فضل حسین کے ذریعے مرزا محمود احمد تک پہنچ گئی تھی۔ اس نے جمعہ کے خطبہ میں پیشگویانہ انداز میں اعلان ان الفاظ میں کیا: ”میں احرار کے پاؤں کے نیچے سے زمین نکلتی دیکھ رہا ہوں ۔“ جب احرار کا زور ٹوٹا تو یہ مرزا محمود احمد کی پیش گوئی کی تصدیق بن گئی۔ حالانکہ یہ ایک عیار سیاستدان اور مرزا محمود احمد کی زیر زمین چال تھی جو کامیاب ہو گئی اور احرار کی نظروں سے ساری کارروائی کا مرکز اوجھل رہا۔ احرار کا حال چھوڑئیے۔ حکومتی ادارے معمہ در معمہ محمودی چالوں کا پتہ اب تک نہیں لگا سکے۔

١٩٥٣ء کی تحریک کا اہم واقعہ

١٩٥٣ء میں قادیانیت کے خلاف ایک شدید تحریک چلی۔ لاہور ضلع میں مارشل لاء نافذ کر دیا گیا۔ اس کی لپیٹ میں بہت سے مسلمان سیاسی اور مذہبی لیڈر آ گئے۔ اس دفعہ مرزا محمود کو اپنی جان کے لالے پڑ گئے۔ کیونکہ اس وقت کی مرکزی حکومت بھی کسی مؤثر اقدام کو سوچنے لگی تھی۔ جونہی اس بات کا مرزا محمود کو علم ہوا اس نے حکومتی کارروائی کو بے اثر کرنے کے لئے یہ شوشہ چھوڑا کہ اگر ”احمدی“ غیر مسلم قرار دیئے گئے تو وہ ”احمدی“ نام ساقط کر دے گا۔ اس کے بعد اس نے باقاعدہ اعلان کیا کہ وہ تبلیغ نہیں کرے گا۔ جماعت کے متعلق کوئی استفسار ہو گا تو اس کا جواب اس کی جماعت کے لوگ اپنی مسجدوں میں جواب دیں گے۔ گویا اس نے اپنے عقیدے سے ارتداد کی راہ لی۔ یہ اعلان پاکستان ٹائمز مورخہ ٤؍مارچ ١٩٥٣ء کے پہلے صفحے پر شائع ہوا۔ اگر تحریک کے قائدین غفلت نہ کرتے تو مرزا محمود احمد کے اعلان پر اس کے خلاف موثر کارروائی

٤٠

کر سکتے تھے۔ حکومت نے بھی کوئی اقدام نہ کیا۔ ج احکام جاری کر سکتی تھی جس سے فتنہ انکار ختم نبوت اپ

٧؍ ستمبر ١٩٧٤ء کا فیصلہ ادھورا رہا

مئی ١٩٧٤ء میں ربوہ کے ریلوے اسٹیش تحریک چلی۔ اس ضمن میں صمدانی کمیشن مقرر ہوا او کرنے کا فیصلہ پارلیمانی خصوصی کمیٹی نے کیا۔ اس غیر مسلم قرار دیئے گئے۔ لیکن بھٹو نے عمداً اس کو اد ہوں گے۔ لیکن سردست خاطر خواہ نتیجہ مرتب نہیں بھی مسلمانوں کے عائلی قوانین کے تحت نکاح، طلا میں اس فیصلے نے کوئی مؤثر صورت اختیار نہیں ک باہر ممالک میں پروپیگنڈا کریں کہ ان کے دین و مذ قادیانی پروپیگنڈے کا کمال ملاحظہ ہو ک حالانکہ وہ حضرت محمد ﷺ کو خاتم النبیین تس اللہ تعالیٰ کا آخری نبی ﷺ مانتے ہیں وہ غیر احمدی گویا انکار ختم نبوت کے مجرموں نے مسلمانوں مسلمانان عالم کو کافر قرار دے کر ”غیر احمدی“ کی اص

صحیح فیصلے کے خدوخال

اگر فیصلہ کرنے والے حقیقت شناس رسول اکرم ﷺ کو خاتم النبیین تسلیم نہیں کرتے و بعد اپنے آپ کو احمدی نہیں کہلا سکتے۔ کیونکہ ان منکر میں مداخلت ہے۔ جب احمدی اصطلاح ان کے کاروبار ٹھپ ہو جاتا اور کسی کو جرات نہ ہوتی کہ کہہ سکتا۔ کیونکہ حضرت رسول اللہ ﷺ کی خاتم دینی اصطلاح اپنے لئے نہیں چن سکتا جس سے ہونے میں کسی کو شبہ ہو۔ جہاں تک مسلم اور غیر مسلم کی اصطلاح

صفحہ ٢٦٩

کرا سکتے تھے۔ حکومت نے بھی کوئی اقدام نہ کیا۔ حالانکہ وہ مرزا محمود کے بیان کو بنیاد بنا کر ایسے احکام جاری کر سکتی تھی جس سے فتنہ انکار ختم نبوت اپنی موت آپ مر جاتا۔

٧ ستمبر ١٩٧٤ء کا فیصلہ ادھورا رہا

مئی ١٩٧٤ء میں ربوہ کے ریلوے اسٹیشن پر سنگین قانون شکنی ہوئی جس سے خوفناک تحریک چلی۔ اس ضمن میں صدارتی کمیشن مقرر ہوا اور پھر قادیانی جماعت کو دائرہ اسلام سے خارج کرنے کا فیصلہ پارلیمانی خصوصی کمیٹی نے کیا۔ اس کا اعلان ٧ ستمبر ١٩٧٤ء کو ہوا۔ قادیانی لوگ غیر مسلم قرار دیئے گئے۔ لیکن بھٹو نے عمداً اس کو ادھورا رکھا۔ اس کے مستقبل میں نتائج تو برآمد ہوں گے۔ لیکن سر دست خاطر خواہ نتیجہ مرتب نہیں ہوا۔ یہ لوگ غیر مسلم قرار دیئے جانے کے بعد بھی مسلمانوں کے عائلی قوانین کے تحت نکاح شادی کرتے ہیں اور لین دین اور سوشل معاملات میں اس فیصلے نے کوئی مؤثر صورت اختیار نہیں کی۔ بلکہ ان لوگوں کو یہ موقع مل گیا ہے کہ وہ باہر ممالک میں پروپیگنڈا کریں کہ ان کے دین و مذہب میں مداخلت کی گئی ہے۔

قادیانی پروپیگنڈے کا کمال ملاحظہ ہو کہ وہ نصف صدی تک احمدی کہلاتے رہے۔ حالانکہ وہ حضرت احمد مجتبیٰ ﷺ کو خاتم النبیین تسلیم نہیں کرتے تھے اور مسلمان جو حضور ﷺ کو اللہ تعالیٰ کا آخری نبی ﷺ مانتے ہیں وہ غیر احمدی کی ملعون اصطلاح سے منسوب ہوتے رہے۔ گویا انکار ختم نبوت کے مجرموں نے مسلمانوں کی غفلت اور بے نظیمی سے یہ فائدہ اٹھایا کہ مسلمانان عالم کو کافر قرار دے کر ”غیر احمدی“ کی اصطلاح کو رائج کر دیا۔

صحیح فیصلے کے خدوخال

اگر فیصلہ کرنے والے حقیقت شناس ہوتے تو وہ یہ فیصلہ کرتے کہ جو لوگ حضرت رسول اکرم ﷺ کو خاتم النبیین تسلیم نہیں کرتے وہ دائرہ اسلام سے خارج قرار دیئے جانے کے بعد اپنے آپ کو احمدی نہیں کہلا سکتے۔ کیونکہ ان منکرین ختم نبوت کا احمدی کہلانا مسلمانوں کے دین میں مداخلت ہے۔ جب احمدی اصطلاح ان کے لئے قانوناً ممنوع ہو جاتی تو ان لوگوں کا سارا کاروبار ٹھپ ہو جاتا اور کسی کو جرأت نہ ہوتی کہ وہ ٧ ستمبر ١٩٧٤ء کے فیصلے کو مداخلت فی الدین کہہ سکتا۔ کیونکہ حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کی خاتم النبیین کا منکر خود کلمہ طیبہ کا منکر ہے۔ وہ کوئی ایسی دینی اصطلاح اپنے لئے نہیں چن سکتا جس سے اس کا ملحدانہ انکار واضح نہ ہو اور اس پر غیر مسلم ہونے میں کسی کو شبہ ہو۔

جہاں تک مسلم اور غیر مسلم کی اصطلاحوں کا سوال ہے مؤلف کے علم کے مطابق پچھلے

٤١

صفحہ ٢٧١

ساٹھ سال کے طویل عرصہ میں یہ اصطلاحیں نہ ان منکرین کی تقریروں میں ملتی ہیں اور نہ ان کی تحریروں میں۔ ان میں دوہی اصطلاحیں اب تک رائج ہیں وہ ہیں احمدی اور غیر احمدی۔ وہ نہ اپنے آپ کو مسلم لکھتے ہیں یا کہتے ہیں اور نہ مسلمانوں کے لئے غیر احمدی کے علاوہ کوئی اور اصطلاح استعمال کرتے ہیں۔ چونکہ تکفیر اہل قبلہ ان کی دینی بے راہروی کی جان ہے۔ اس لئے وہ اہل قبلہ کو مسلمان تو کہتے نہیں اس لئے ان کو غیر احمدی قرار دیتے ہیں۔ یہ افسوسناک حقیقت ہے کہ مسلمانوں نے اس عریاں دشنام کے خلاف کبھی انفرادی یا اجتماعی منظم احتجاج نہیں کیا۔ بلکہ ان منکرین ختم نبوت کی خود ساختہ اصطلاح احمدی کو غلط العام کے طور پر گوارا کر کے بین السطور اپنے لئے غیر احمدی کی فاسق اصطلاح کو بے شعوری سے فروغ دیا ہے۔

فیصلہ عملاً کالعدم رہا

اندریں حالات ٧ رستمبر ١٩٧٤ء کے فیصلے کا ان پر کوئی اثر عائد نہیں ہوا۔ اس فیصلہ میں ان کو غیر مسلم قرار دیا گیا ہے جو منحرفین قبلہ ”مسلم“ کی پاکیزہ اصطلاح کو بھی اپنے لئے استعمال نہیں کرتے۔ وہ غیر مسلم کے جملے کو اپنے ہاں نادر کالمعدوم سمجھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ٧ ستمبر ١٩٧٤ء کے فیصلے کی انہوں نے رائی برابر بھی پروا نہیں کی۔ اگر اس آئینی ترمیم کو سرکاری قواعد وضوابط کے ذریعے عملاً نافذ کر دیا جاتا تو یقیناً ان پر انکار ختم نبوت کے شرعی عواقب کا اثر ہو جاتا۔ جب اس دور کی حکومت اس معاملہ میں مکر و فریب سے کام لے رہی تھی اور علماء نے اس فیصلہ پر استیعابی نظر نہ ڈالی تو منکرین نے اس سارے معاملے کو لہو و لعب ہی سمجھنا تھا اور سمجھتے رہیں گے۔ جب تک ان پر کاری ضرب نہ لگے گی اور جب تک وہ پاکستان میں عملاً اور قانوناً غیر مسلم کی سطح پر نہیں لائے جاتے اور ان کے اور مسلمان سواد اعظم کے درمیان شرعی خلیج حائل نہیں ہو جاتی۔ مؤلف کے ناقص خیال میں بھٹو اور بے خبر علماء اللہ تعالیٰ کے سامنے مسئول ہیں کہ ان کو وار کرنے کا موقع ملا۔ لیکن یہ وار بھی ان کی ناقابل فہم غفلت سے خالی گیا۔

بایزیدی قول اور یزیدی عمل

بھٹو معزولی تک یہ دعوے کرتا رہا کہ اس نے نوے سال کا مسئلہ حل کر دیا ہے اور اس دور کے پنجاب کا وزیر اعلیٰ اس کو محافظ ختم نبوت اور پاسبان ختم نبوت کے القاب ارزاں کر کے عذاب الہی کو دعوت دیتا رہا۔ حتی کہ اس کی دارو گیر میں خود اُن کو بھی اس کا دینی شعور بیدار نہ ہوا۔ اس کو یہ علم نہ ہوا کہ ختم نبوت کی نعمت عظمیٰ کا محافظ اور پاسبان خود اللہ تعالیٰ ہے اور حضورﷺ بحیثیت خاتم النبیین ہونے کے امت کے تا روز حشر محافظ اور پاسبان ہیں۔ ان متبعین بھٹو کو یہ انتباہ یاد نہ

٤٢

رہا۔ ”با خدا دیوانہ باش با محمد ہوشیار“ اور نہ ہی ان پر یـ

بمصطفی برساں خویش را کـ
اگر بہ او نہ رسیدی تـ

ان کو اپنی کھلی بے دینی کی وجہ سے یہ بھی مـ لیتے ہوئے اس کے صحیح نام لیواؤں کے دل کی حالت

ادب گاہیست زیر آسماں ا
نفس گم کردہ می آید جنیـ

یہ لوگ منہ سے تو بایزیدی دعوے کرے رہے۔ ہاں کئی بندگان خدا بھی تھے جو صحیح شعور رکھتے تـ دیا۔ ان میں اور دوسروں میں یہ فرق قائم رہا: ”عاقل ا

ربوی مجوسیت پر اقبالی ضرب

منکرین ختم نبوت اپنی بے تقدیس تنظیم کـ کی سعی لاحاصل کرتے رہے ہیں۔ کسی دور ماضی کے متعلق حسن ظن کا اظہار کیا ہوگا اور اپنے فرزند ارجمند بھیجا تھا۔ یہ دور تھا مولوی نور الدین کا جو ان کے گرا نہیں سمجھتا تھا جس کا بعد میں سربراہ ثانی نے بڑا طنـ اس کے عمل سے بھی پتہ چلتا ہے کہ اس کے دور میں وجہ تھی کہ ان دنوں اور بعض مسلمان معززین کی طرح گے۔ ورنہ وہ کبھی ایک لمحہ کے لئے بھی ختم نبوت ۔ تھے۔ چہ جائیکہ وہ اپنے صاحبزادے کو قادیان بھیجتـ اقبالی ضرب تھی۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ اس وقت تھی۔ اس لئے منکرین حضرت علامہ مرحوم کے اس ہی ان دنوں اپنے افتراء سے ہٹ چکے ہوں گے نہ زم ہو گئے تھے۔ کیونکہ وہ انکار ختم نبوت کو جلی شرک کـ

اے کہ بعد از تو نبوت
بزم را روشن ز نور شمـ

٤٣

صفحہ ٢٧١

رہا۔ ”باخدا دیوانہ باش با محمد ہوشیار“ اور نہ ہی ان پر یہ نورانی حقیقت روشن ہوئی۔

بمصطفیٰ برساں خویش را کہ دیں ہمہ اوست
اگر بہ او نہ رسیدی تمام بولہبی است

ان کو اپنی کھلی بے دینی کی وجہ سے یہ بھی خیال نہ رہا کہ اس سید البشر ﷺ کا مبارک نام لیتے ہوئے اس کے صحیح نام لیواؤں کے دل کی حالت کیا ہونی چاہئے۔ ان کو کیا علم تھا کہ

ادب گاہست زیر آسماں از عرش نازک تر
نفس گم کردہ می آید جنید و بایزید ایں جا

یہ لوگ منہ سے تو بایزیدی دعوے کرتے رہے۔ لیکن ان کے مسلسل عمل یزیدی ہی رہے۔ ہاں کئی بندگان خدا بھی تھے جو صحیح شعور رکھتے تھے۔ لیکن سیاسی جبر و قہر نے ان کو کچھ کرنے نہ دیا۔ ان میں اور دوسروں میں یہ فرق قائم رہا: ”عاقل نے ادھر دیکھا غافل نے ادھر دیکھا۔“

ربوی مجوسیت پر اقبالی ضرب

منکرین ختم نبوت اپنی بے تقدیس تعظیم کی شاخِ نازک پر اپنے مکائد کا آشیانہ بنانے کی سعی لاحاصل کرتے رہے ہیں۔ کسی دور ماضی کے دور میں حضرت علامہ اقبالؒ نے قادیان کے متعلق حسن ظن کا اظہار کیا ہوگا اور اپنے فرزند ارجمند آفتاب اقبال کو بھی قادیان میں تعلیم کے لئے بھیجا تھا۔ یہ دور تھا مولوی نورالدین کا جو ان کے گروہ کا سربراہ اوّل تھا۔ جو بانی جماعت کو وہ کچھ نہیں سمجھتا تھا جس کا بعد میں سربراہ ثانی نے بڑا طوفان اور زہرناک پروپیگنڈا پچاس سال کیا۔ اس کے عمل سے بھی پتہ چلتا ہے کہ اس کے دور میں بحث و جدال کی صف لپیٹ دی گئی تھی۔ یہی وجہ تھی کہ ان دنوں اور بعض مسلمان معززین کی طرح حضرت علامہ اقبالؒ بھی حسن ظن رکھتے ہوں گے۔ ورنہ وہ کبھی ایک لمحہ کے لئے بھی ختم نبوت سے خفیف سے خفیف اعراض کو گوارا نہ کرتے تھے۔ چہ جائیکہ وہ اپنے صاحبزادے کو قادیان بھیج دیتے۔ ان کا یہ فعل ہی منکرین کے خلاف پہلی اقبالی ضرب تھی۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ اس وقت قادیان میں ہی قادیانیت روبہ انہدام ہو چکی تھی۔ اس لئے منکرین حضرت علامہ مرحوم کے اس عمل سے کوئی فائدہ نہیں اٹھا سکتے۔ وہ لوگ خود ہی ان دنوں اپنے افتراء سے ہٹ چکے ہوں گے نہ کہ علامہ مرحوم فتنہ انکار ختم نبوت کی مخالفت میں نرم ہو گئے تھے۔ کیونکہ وہ انکار ختم نبوت کو جلی شرک سمجھتے تھے۔ اس ضمن میں وہ فرماتے ہیں ۔

اے کہ بعد از تو نبوت شد بہر مفہوم شرک
بزم را روشن زنور شمع عرفاں کردہ ای

٤٣

صفحہ ٢٧٢

علی گڑھ کا ایک لیکچر

حضرت علامہ اقبالؒ نے علی گڑھ میں ١٩١١ء میں ایک لیکچر دیا تھا۔ لیکچر انگریزی میں تھا۔ اس کا ترجمہ اردو میں مولانا ظفر علی خاں نے کیا تھا۔ اس لیکچر میں قادیان کی اس وقت کی روش کا ذکر اچھے انداز میں کیا گیا۔ کیونکہ قادیان پر مولوی نورالدین کا اثر تھا اور ان دنوں قادیان میں کسی ایسے تبلیغی پروگرام کا کوئی چرچا نہ تھا۔ جس سے انکار ختم نبوت کے فاسد عقیدے کو کسی قسم کا فروغ حاصل ہو۔ جب ١٩١١ء میں پشاور سے مولوی عجب خاں نے مولوی نورالدین سے بانی جماعت کے متعلق فتویٰ مانگا تو جواباً جو تحریر بھیجی گئی۔ اس میں بانی جماعت کے لئے نہ حضرت کا لفظ تھا۔ نہ مولانا کا خطاب تھا۔ علیہ السلام کے کہنے سے بھی شدید اجتناب برتا گیا تھا۔ اگر اس سادہ رویے کو فروغ ہوتا تو اس جماعت کو دنیائے اسلام میں وہ حشر نہ ہوتا جو ہوا۔ لیکن ١٩١٤ء کے بعد تکفیر اہل قبلہ کا شعلہ جوالہ قادیان میں بھڑکا اس میں بعض سوءظن سے پرہیز کرنے والوں کی خوش فہمی بھی بھسم ہو کر رہ گئی اور حضرت علامہ اقبالؒ بھی اس گمراہی کی رو سے سخت بدظن ہو گئے۔ ان کو فوراً احساس ہوا کہ جو کچھ کہ دیکھا خواب تھا۔ جو سنا افسانہ تھا اور انہوں نے اس فتنہ کا پر زور دشنام سے نہیں دلائل قاطعہ سے مقابلہ کیا۔

قادیانی اعتراض کا منہ توڑ جواب

قادیان سے ایک انگریزی ہفتہ واری پرچہ The Sunrise شائع ہوتا تھا۔ اقبالی ضربوں کی تاب نہ لاکر اس پرچہ نے لکھا کہ علامہ اقبالؒ Consistent نہیں رہے۔ یعنی ان کی پہلی رائے قائم نہیں رہی۔ اپنی طرف سے تو اس کو بطور طعنہ کے شائع کیا تھا۔ حالانکہ بات ٹھیک تھی۔ جب خوش فہمی کی بنیاد ہی قادیانی سربراہ ثانی نے خود ہی اپنی طبعی جارحیت سے ختم کر دی تو علامہ کیسے Consistent رہ سکتے تھے۔

حضرت علامہ نے اس اعتراض کا مسکت جواب دیا۔ یہ جواب ان کی تقاریر اور بیانات کے اس مجموعے میں ہے جو کسی نے شملو Shamloo کے قلمی نام سے مرتب کیا تھا۔ یہ مجموعہ المنار اکیڈمی۔ لاہور نے مارچ ١٩٣٥ء اور ستمبر ١٩٤٨ء میں دو دفعہ شائع کیا۔

علامہ اقبال کا دندان شکن جواب

جب علامہ سے پوچھا گیا کہ کیا انہوں نے The Sunrise میں وہ مراسلہ پڑھا ہے جس میں ان کے لیکچر (علی گڑھ) کا حوالہ دے کر یہ الزام لگایا گیا ہے کہ وہ اپنے پہلے

٤٤

صفحہ ٢٧٣

خیال سے منحرف ہو گئے ہیں تو انہوں نے جو فرمایا اس کا اردو ترجمہ مندرجہ ذیل ہے۔ ”ہاں! مجھے افسوس ہے کہ میرے پاس اپنے انگریزی لیکچر کی کاپی نہیں اور نہ ہی میرے پاس اس لیکچر کا اردو ترجمہ ہے جو مولانا ظفر علی خاں نے کیا تھا۔ جہاں تک مجھے یاد پڑتا ہے۔ یہ لیکچر ١٩١١ء میں یا اس سے قبل دیا گیا تھا۔ مجھے یہ تسلیم کرنے میں کوئی تامل نہیں کہ ربع صدی پہلے مجھے کچھ امید سی تھی کہ اس تحریک (قادیان) سے اچھے نتائج بروئے کار آئیں گے۔ اس سے قبل ایک مشہور عالم دین مولوی چراغ علی صاحب نے اسلام پر کئی کتابیں لکھی ہیں اور بانی تحریک سے تعاون کیا اور براہین شائع ہوئی۔ لیکن اسی مذہبی تحریک کا مضمر مزاج ایک ہی دن میں منکشف نہیں ہوتا۔ تحریک مدت کے بعد ہی اپنی اصلیت کو واشگاف کرتی ہے۔ جب یہ جماعت (قادیان) شخصی خلفشار سے دو مخالف گروہوں میں منقسم ہو گئی تو یہ اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ جو افراد ابتداء میں بانی تحریک سے وابستہ تھے۔ ان کو بھی علم نہ تھا کہ یہ تحریک کس رخ مڑ جائے گی۔ میں ذاتی طور پر اس تحریک سے اس وقت متنفر ہوا۔ جب بانی جماعت کے دعویٰ کو دعویٰ نبوت کے طور پر پیش کیا جانے لگا اور معاذ اللہ! اس کی نبوت کو حضرت رسول اکرم ﷺ کی نبوت سے افضل قرار دیا گیا اور اہل قبلہ پر کفر کے فتوے کی تشہیر ہوئی۔ بعد میں میرے تنفر کو ایسی تقویت ملی کہ میں نے اس کے خلاف علم جہاد بلند کر دیا۔ یہ کام میں نے اس وقت کیا جب میں نے خود اپنے کانوں سے سنا کہ ایک قادیانی بڑے گستاخانہ انداز میں حضرت رسول کریم ﷺ کا ذکر کر رہا تھا۔ درخت جڑ سے نہیں پھل سے پہچانا جاتا ہے۔ اگر میرا موجودہ موقف پہلے موقف کے برعکس ہے تو یہ اس وجہ سے ہے کہ ایک زندہ اور صاحب فکر انسان کا حق ہے کہ اس کی صحیح دریافت اس کے پہلے سقیم تصور کو باطل کر دے۔ (اور وہ راہ راست پر گامزن ہو) امریکی مفکر ایمرسن کا قول ہے کہ پتھر ہی ایک جیسے رہتے ہیں۔“

(شملو کے مرتب کردہ مجموعہ ص ١٥٤، تاریخ درج نہیں)

حضرت اقبالؒ کے قول کی تصدیق

علامہ اقبالؒ کے اس قول کی تصدیق کہ فاسد تحریک جب پروان چڑھتی ہے تو اس کے داخلی مضمرات منصۂ شہود پر آتے ہیں۔ ان منکرین کی اپنی تاریخ سے ہوتی ہے۔ قادیانی (حال ربوہ) گروہ اپنے سربراہ ثانی کے پچاس سالہ دور کو عروج و فروغ کا دور کہتا ہے۔ حالانکہ لاہوری گروہ اس سارے عرصے کو زوال اور انحراف کا دور کہتا ہے۔ ان کے اس جملے کے جواب میں ارباب ربوہ برملا کہتا ہے کہ ”لاہوری جماعت ”دوزخ کی چلتی پھرتی آگ ہے اور یہ ’روڑی کی گوبھی‘ ہو کر رہ گئی ہے۔ ١٩٠٨ء تک ان میں سے کسی کو علم نہ تھا کہ وہ یوں دست و گریبان ہو کر اپنا

٤٥

صفحہ ٢٧٥

بھانڈا چوراہے میں پھوڑیں گے۔ محمودی جماعت نے اپنے سربراہ ثانی کو سربراہ اوّل پر فضیلت دی اور اگر کسی نے سربراہ اوّل کی پرزور تعریف کی تو اس کی خوب درگت بنائی گئی۔ اس سربراہ ثانی نے غلو کا یہ عالم پیدا کیا کہ اس نے اپنی سوتیلی خلافت کے انکار کو بھی کفر کا درجہ دیا۔ وہ لاہوری جماعت کو غیر مبائعین کہتا تھا اور ان کا جنازہ بھی ممنوع تھا۔

نیم دروں نیم بروں جماعت

اقبال کے حضور سید نذیر نیازی کی شاندار تالیف ہے۔ اس کے ص ١٩١ تا ١٩٣ پر مکرم نیازی کا ایک سوال درج ذیل ہے۔ علامہ صاحب لاہوری جماعت کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے؟ یہ جماعت تو اہل قبلہ کی تکفیر نہیں کرتی۔ اس کے جواب میں علامہ نے فرمایا۔ ”یہ ٹھیک ہے۔ لیکن مسلمانوں کے نزدیک اس کا جرم یہ ہے کہ یہ جماعت ان لوگوں کو (محمود گزیدہ لوگوں کو) مسلمان بلکہ بہتر مسلمان سمجھتی ہے۔ جو مسلمان کی تکفیر کر رہے ہیں ۔“ اسی روش کی بناء پر لاہوری جماعت ہر بحران میں قادیانی (حال ربوی) جماعت کی تابع مہمل رہی ہے۔ ١٩٥٣ء میں اینٹی قادیانی تحریک میں لاہوری جماعت نے مرزا محمود کا ساتھ دیا۔ حالانکہ وہ منیر ٹربیونل کے سامنے اپنے سارے تکفیری عقائد سے ارتداد کرنے پر آمادہ ہو گیا تھا۔ اس نے تبلیغ ترک کرنے کا اعلان کر دیا تھا۔

١٩٧٤ء میں جو لہر ان لوگوں کے خلاف اٹھی اس میں بھی لاہوری جماعت کی پرزور ہمنوائی کے آثار عیاں تھے۔ یہی وجہ ہے کہ ٧؍ ستمبر ١٩٧٤ء کے فیصلے کو اس نیم دروں نیم بروں جماعت لاہوری پر بھی نافذ کر دیا گیا۔

عمرانی ناسور کی گہرائی

ختم نبوت کلمہ طیبہ میں اس طرح موجود ہے جس طرح صدف میں موتی۔ مرزا محمود نے دینیاتی مجادلوں میں علماء کو الجھائے رکھا۔ حتیٰ کہ علامہ نے ١٩٣٥ء میں The Statesman میں ایک بصیرت افروز مقالہ لکھ کر یہ بات واضح کر دی کہ اگر بانی جماعت کے انکار سے کفر لازم آتا ہے تو اس فاسد عقیدے کے ماننے والے بانی جماعت کو خاتم النبیین مانتے ہیں۔ گویا وہ عملاً اور عقیدتاً بہائیوں کے زمرے میں آتے ہیں۔ علامہ صاحب نے اس بارے میں درست فرمایا تھا کہ بہائی لوگ قادیانیوں اور لاہوریوں سے زیادہ صاف گو ہیں کہ ان کا ظاہر و باطن ایک ہے۔ اس کا عملی ثبوت بھی موجود ہے۔ قادیان سے ١٩٢٠ء یا اس کے لگ بھگ بہت سے پرانے قادیانی اپنے عقیدہ کے اثر کے نیچے بہائی ہو کر جماعت سے نکل آئے تھے۔

٤٦

قادیانی اور لاہوری لوگ اسلامی معاشرے سے فوائد سے مستفیض ہوتے رہیں۔ یہ اصل میں عمرانی ناس گہرے عمرانی ناسور کی صورت اختیار کر لی تھی۔ جس سے علاحد کی ضرب تو ١٩٠٨ء تک رہ گئی۔ حالانکہ ١٩١٤ء کے بعد مرزا دیا۔ اس نے برملا اعلان کیا تھا۔

مجھے یقین ہے کہ جو شخص مجھے چھوڑتا ہے وہ حضر مسیح موعود کو چھوڑتا ہے وہ رسول کریم ﷺ کو چھوڑتا ہے اور ج وہ خدا کو چھوڑتا ہے۔

دیکھا! کس ابلیسی التباس کا ذکر کس بے باکی ا کا فرانہ اعلان سے علامہ اقبال کا تجزیہ اور بھی زیادہ واضح اور کے کٹاؤ کو الم نشرح کرتا ہے۔

فقہ کاظمی اداکاری

فقہ کاظمی اداکاری کی تصدیق کے لئے ہزاروں سے معاملہ طول پکڑ جائے گا۔ مرزا محمود کی تالیف کلمۃ الفصل تالیف منکرین ختم نبوت کے لئے ستیارتھ پرکاش کا درجہ رکھتی

حضرت مسیح موعود نے غیر احمدیوں کے ساتھ وہی عیسائیوں کے ساتھ کیا۔ غیر احمدیوں سے ہماری نمازیں الگ دیا گیا۔ ان کے جنازے پڑھنے سے روکا گیا۔ اگر ان ک (مرزا بشیر) کہتا ہوں کہ نصاریٰ کی لڑکیاں لینے کی بھی اجا سلام کیوں کہا جاتا ہے تو اس کا جواب یہ ہے کہ حدیث سے کریم ﷺ نے یہود تک کو سلام کا جواب دیا۔

اس تحریر سے ظاہر ہوتا ہے کہ منکرین ختم نبو اسلام سے الگ سمجھتے تھے۔ بلکہ یوں سمجھنا چاہئے کہ انہو سے اس لئے خارج کر رکھا تھا کہ وہ حضرت رسول اکرم کرتی ہے اور اجرائے نبوت کو ہر مفہوم میں عریاں کفر قرار فیصلہ ان کے لئے بے معنی تھا۔ کیونکہ وہ مندرجہ بالا تحریر کی

٤٧

صفحہ ٢٧٥

قادیانی اور لاہوری لوگ اسلامی معاشرے سے اس لئے وابستہ رہے کہ وہ معاشرتی فوائد سے مستفیض ہوتے رہیں۔ یہ اصل میں عمرانی Qui Zlings تھے۔ انہوں نے ایک گہرے عمرانی ناسور کی صورت اختیار کر لی تھی۔ جس سے علامہ اقبال بھی کما حقہ واقف نہ تھے۔ ان کی ضرب تو ١٩٠٨ء تک رہ گئی۔ حالانکہ ١٩١٤ء کے بعد مرزا محمود نے اپنی خلافت کو ماننا لازم قرار دیا۔ اس نے برملا اعلان کیا تھا۔

مجھے یقین ہے کہ جو شخص مجھے چھوڑتا ہے وہ حضرت مسیح موعود کو چھوڑتا ہے۔ جو حضرت مسیح موعود کو چھوڑتا ہے وہ رسول کریم ﷺ کو چھوڑتا ہے اور جو حضرت رسول کریم ﷺ کو چھوڑتا ہے وہ خدا کو چھوڑتا ہے۔

(الفضل ٢٢؍جنوری ١٩٢٨ء)

دیکھا! کس ابلیسی التباس کا ذکر کس بے باکی اور کس مشرکانہ انداز سے کیا ہے۔ اس کافرانہ اعلان سے علامہ اقبال کا تجزیہ اور بھی زیادہ واضح اور نمایاں ہو کر اس عمرانی اور روحانی ناسور کے کٹاؤ کو الم نشرح کرتا ہے۔

فقہی کلامی اداکاری

فقہی کلامی اداکاری کی تصدیق کے لئے ہزاروں تحریرات موجود ہیں۔ ان کے اندراج سے معاملہ طول پکڑ جائے گا۔ مرزا محمود کی تالیف کلمۃ الفصل کا ایک اقتباس ہی کافی ہے۔ کیونکہ یہ تالیف منکرین ختم نبوت کے لئے ستیارتھ پرکاش کا درجہ رکھتی ہے۔ تالیف نگار لکھتا ہے۔

حضرت مسیح موعود نے غیر احمدیوں کے ساتھ وہی سلوک جائز رکھا جو نبی کریم ﷺ نے عیسائیوں کے ساتھ کیا۔ غیر احمدیوں سے ہماری نمازیں الگ کی گئیں۔ ان کو لڑکیاں دینا حرام قرار دیا گیا۔ ان کے جنازے پڑھنے سے روکا گیا۔ اگر ان کی لڑکیاں لینے کی اجازت ہے تو میں (مرزا بشیر) کہتا ہوں کہ نصاریٰ کی لڑکیاں لینے کی بھی اجازت ہے۔ اگر یہ کہو کہ غیر احمدیوں کو سلام کیوں کہا جاتا ہے تو اس کا جواب یہ ہے کہ حدیث سے ثابت ہے کہ بعض اوقات حضرت نبی کریم ﷺ نے یہود تک کو سلام کا جواب دیا۔

اس تحریر سے ظاہر ہوتا ہے کہ منکرین ختم نبوت ابتداء سے ہی اپنے آپ کو دنیائے اسلام سے الگ سمجھتے تھے۔ بلکہ یوں سمجھنا چاہئے کہ انہوں نے دنیائے اسلام کو دائرہ اسلام سے اس لئے خارج کر رکھا تھا کہ وہ حضرت رسول اکرم ﷺ کو ہر مفہوم میں خاتم النبیین تسلیم کرتی ہے اور اجرائے نبوت کو ہر مفہوم میں عریاں کفر قرار دیتی ہے۔ اس لئے ٧ ستمبر ١٩٧٤ء کا فیصلہ ان کے لئے بے معنی تھا۔ کیونکہ وہ مندرجہ بالا تحریر کی رو سے زندگی خصوصاً مذہبی اور عمرانی

٤٧

صفحہ ٢٧٧

زندگی کے ہر شعبے میں اپنے آپ کو بالکل الگ سمجھتے تھے اور عرف عام میں وہ مسلم بھی اپنے آپ کو نہ کہتے تھے۔ مسلم کی اصطلاح انہوں نے متروک کی ہوئی تھی۔ اس لئے ان کے لئے غیر مسلم کی اصطلاح عملاً بے معنی تھی۔

اگر علامہ اقبال زندہ ہوتے

تشکیل پاکستان کے بعد مسلم لیگی حکومتیں داخلی انتشار سے دوچار ہیں۔ اس جماعت کے اپنے حصے بخرے ہوتے چلے گئے۔ اس لئے پاکستان کی معمار جماعت نے منکرین ختم نبوت کو بطور مسلمان کے پاکستان میں آنے کے خطرات کو نظر انداز کر دیا۔ پاکستان کلمہ طیبہ کے نام پر مسلمانوں کے لئے خدا کے فضل سے بنا تھا۔ جو جماعت مسلمانوں کو کافر کہنا اپنا مذہب سمجھتی تھی وہ پاکستان میں کیسے داخل ہو سکتی تھی۔ لیکن وہ داخل ہوئی اور بڑے زوروں سے داخل ہوئی اور اس کے اپنے افسر بڑے بڑے مناصب پر فائز تھے۔ انہوں نے الاٹ منٹوں میں بڑی فیاضی برتی۔ حتیٰ کہ جماعت کو ایک مرکز (ربوہ) بخشا۔

اگر علامہ اقبال زندہ ہوتے تو وہ یہ تعدی نہ ہونے دیتے۔ وہ قائد اعظم کو منکرین کے عزائم سے آگاہ کرتے اور قائد اعظم یقیناً علامہ اقبال کے مشورہ کو قبول کرتے اور یہ لوگ یا تو ہرگز نہ آتے یا اپنے تکفیری دین سے توبہ کر کے آتے اور پاکستان میں مسلم معاشرہ ایک سنگین خطرہ سے محفوظ رہتا۔ علماء نے بھی اس فرض سے غفلت برتی۔ ورنہ وہ بھی اگر مسئلہ کی طرف توجہ کرتے تو ١٤ اگست ١٩٤٧ء سے پہلے ہی سارا فتنہ فرو ہو جاتا۔

اگر مسلمانوں کو کافر کہنے والی جماعت اور اس کے سر براہ ثانی کو ذرا بھر حیا ہوتی تو وہ خود اپنے تکفیر اہل قبلہ کے فتویٰ کے پیش نظر پاکستان نہ آتے۔ نہ ان کو شرم آئی اور نہ پاکستانی مسلمانوں نے غیرت سے کام لیا۔ اس طرح نحوست کا کارواں چل پڑا اور یہ قضائے مبرم ہے کہ جب تک کسی ملک میں ختم نبوت کے تقدس کی توہین کھلے بندوں ہوتی رہے گی اور اس سے صرف نظر ہوتا رہے گا تو وہ ملک انہی بحرانوں سے دوچار ہوتا رہے گا جو انکار ختم نبوت کے جلو میں آتے رہیں گے۔

آخر کار ایک مرحلہ آیا

آخر کار ایک مرحلہ آیا۔ اس کی تفصیل تو بعد کے باب میں ہے۔ لیکن یہاں یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ ایک فاسق فاجر کے ہاتھوں منکرین ختم نبوت کے خلاف ایک آئینی سطح پر اقدام ہوا۔ گویا فاسق فاجر کے ہاتھوں فاسق فاجر منکرین ختم نبوت اور ان کے حمایتی آئینی تعزیر کی زد میں آئے۔

٤٨

لیکن یہ ضرب کاری ثابت نہیں ہوئی۔ کیونکہ یہ کیسے خدمت کرنی نصیب ہوتی۔ اگر صمدانی کمیشن رپورٹ جاتیں تو فتنہ انکار ختم نبوت کا ایک رنگ میں خاتمہ ہو رپورٹوں کو مخفی رکھا گیا۔ ٧ ستمبر ١٩٧٤ء کے فیصلے کو تو بھی وہ سزا ملی جس کی مثال تاریخ میں نہیں ملتی۔ ختم نب کیسے بچ سکتے ہیں۔

مؤلف نے صمدانی کمیشن رپورٹ اور کے لئے مولانا ظفر احمد انصاری صاحب کو لکھا تھا رپورٹ کو فائلوں پر لانے کا کام تفویض ہوا تھا۔ لیک اقلیتوں کے نائب وزیر مکرم ملک محمد جعفر صاحب کا یہ موقف ہی تھا۔

علامہ اقبال کا عالمانہ نوٹ

علامہ اقبال نے بانی جماعت منکرین ختم اس میں بھی مشعل ہدایت تھی۔ لیکن کسی نے توجہ نہیں بانی احمدیت کے الہامات کا جو مجموعہ شائع کیا ہے ا مواد موجود ہے۔ میری رائے میں یہ کتاب بانی احم امید ہے کہ کسی دن نفسیات جدید کا کوئی معلم اس کا کو اپنا معیار قرار دے (اور چند وجوہ سے اس کو ای جاسکتی) اور اپنے مطالعہ کو بانی احمدیت اور اس کے تجربوں تک پھیلائے تو اس کو اس تجربہ کی اصل ماہ بانی احمدیت نبوت کا دعویدار ہے۔‘‘ (قرآن اور اق شاہ عالم مارکیٹ لاہور، طابع نیاز احمد مطبع استقلال پریس ل

مسلم لیگ میں قادیانیوں کی شمولیت کا خ

مکرم سید نذیر نیازی اپنی مقبول عام تا مسلمانوں کے ذہنی خلفشار کا ذکر ہوتا اور جب یہ س عبارت ہے اس میں ہماری اطاعت کا محور کیا ہے تو

٤٩

صفحہ ٢٧٧

لیکن یہ ضرب کاری ثابت نہیں ہوئی۔ کیونکہ یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ فاسق فاجر کو اسلام کی صحیح اور موثر خدمت کرنی نصیب ہوتی ۔ اگر صمدانی کمیشن رپورٹ اور اسمبلی کی خصوصی کمیٹی کی رپورٹیں شائع ہو جاتیں تو فتنہ انکار ختم نبوت کا ایک رنگ میں خاتمہ ہو جاتا۔ چونکہ یہ ساری تدبیر بازی اس لئے ان رپورٹوں کو مخفی رکھا گیا۔ ٧؍ستمبر ١٩٧٤ء کے فیصلے کو قواعد اور ضوابط کے ماتحت نافذ نہ کرنے والے کو بھی وہ سزا ملی جس کی مثال تاریخ میں نہیں ملتی۔ ختم نبوت کی تقدیس سے کھیلنے والے خدا کے قہر سے کیسے بچ سکتے ہیں۔

مؤلف نے صمدانی کمیشن رپورٹ اور دوسری پارلیمانی خصوصی رپورٹ کی اشاعت کے لئے مولانا ظفر احمد انصاری صاحب کو لکھا تھا۔ کیونکہ معلوم ہوا تھا کہ ان کو خصوصی کمیٹی کی رپورٹ کو فائلوں پر لانے کا کام تفویض ہوا تھا۔ لیکن وہ بلطائف الحیل اس کو ٹال گئے۔ اس وقت اقلیتوں کے نائب وزیر مکرم ملک محمد جعفر صاحب سے بھی التماس کیا۔ لیکن وہاں بھی سکوت لایموت ہی تھا۔

علامہ اقبال کا عالمانہ نوٹ

علامہ اقبالؒ نے بانی جماعت منکرین ختم نبوت کے متعلق ایک عالمانہ نوٹ بھی لکھا تھا۔ اس میں بھی مشعل ہدایت تھی۔ لیکن کسی نے توجہ نہیں کی۔ علامہ فرماتے ہیں: ”مولوی منظور الٰہی نے بانی احمدیت کے الہامات کا جو مجموعہ شائع کیا ہے اس میں نفسیاتی تحقیق کے لئے متنوع اور مختلف مواد موجود ہے۔ میری رائے میں یہ کتاب بانی احمدیت کی سیرت اور شخصیت کی کنجی ہے اور مجھے امید ہے کہ کسی دن نفسیات جدید کا کوئی متعلم اس کا سنجیدگی سے مطالعہ کرے گا۔ اگر وہ قرآن کریم کو اپنا معیار قرار دے (اور چند وجوہ سے اس کو ایسا ہی کرنا پڑے گا۔ جن کی تشریح یہاں نہیں کی جاسکتی) اور اپنے مطالعہ کو بانی احمدیت اور اس کے ہم عصر غیر مسلم صوفیاء جیسے رام کرشنا بنگالی کے تجربوں تک پھیلائے تو اس کو اس تجربہ کی اصل ماہیت کے متعلق بڑی حیرت ہوگی۔ جس کی بنیاد پر بانی احمدیت نبوت کا دعویدار ہے ۔“ (قرآن اور اقبال ص٤٢، مرتبہ ابومحمد صالح، ناشر سنگ میل پبلیکیشنز، شاہ عالم مارکیٹ لاہور، طابع نیاز احمد مطبع استقلال پریس لاہور)

مسلم لیگ میں قادیانیوں کی شمولیت کا خطرہ ...... ان کی دھمکی پر اقبالی محاسبہ

مکرم سید نذیر نیازی اپنی مقبول عام تالیف (اقبال کے حضور ص٥٠٤) پر لکھتے ہیں: ”جب مسلمانوں کے ذہنی خلفشار کا ذکر ہوتا اور جب یہ سوال ہوتا کہ اسلام جس نظام اجتماع وعمران سے عبارت ہے اس میں ہماری اطاعت کا محور کیا ہے تو اس صورتحال پر غور کرتے ہوئے حضرت علامہ کا

٤٩

صفحہ ٢٧٨

ذہن طبعاً جماعت احمدیہ کی طرف منتقل ہو جاتا۔ اس لئے کہ جماعت احمدیہ اگرچہ اصولاً سواد اعظم سے کٹ چکی تھی بلکہ سواد اعظم کو سواد اعظم ہی نہیں مانتی تھی۔ لیکن مصلحتاً اس سے تعلق اور وابستگی پر مصر تھی ...... ایک طرف اس کی کوشش تھی کہ سواد اعظم سے باہر اپنا الگ تھلگ وجود قائم رکھے۔ دوسری طرف اس کی کوشش تھی کہ مسلمان اسے امت کا جز تسلیم کرلیں۔ محض اس وجہ سے کہ ہندو اور عیسائی ان کو مسلمان کہتے ہیں۔ لیکن مسلمانوں کے لئے یہ سطحی اور بے روح اتحاد نا قابل قبول تھا ...... تبلیغ دین کے پردے میں بھی علامہ اس جماعت کے شمول کو بغایت ناگوار اور نا قابل برداشت سمجھتے تھے۔ کیونکہ وہ سمجھتے تھے کہ تبلیغ اسلام سے مقصود تبلیغ عقائد ہی نہیں ...... یہ اپنے مخصوص عقائد کی چار دیواری میں بند حقائق سے بے خبر ہے کہ اسلام کی رہنمائی قبول کرنے کے بعد اور فکر و عمل کا رخ کس طرح موڑنا ہوگا ...... اس کی علیحدگی سے اس کے لئے تسکین ذات کا پہلو نکلتا ہے۔ لیکن اس میں دیر پا افادیت مفقود ہے۔

قائداعظم کے نام مرزا محمود کا خط

اس مذکورہ تالیف (اقبال کے حضور ص ١٩٢، ١٩٣) میں درج ہے کہ علامہ نے فرمایا : ” جناح نے مرزا محمود کا خط مجھے دیا ہے۔ مرزا محمود کہتا ہے : ”ہماری جماعت میں روز افزوں اضافہ ہورہا ہے۔ اگر آپ نے ہمیں لیگ میں شامل نہ کیا تو مجبوراً ہمیں کانگریس میں شامل ہونا پڑے گا۔“ اس پر مکرم نیازی صاحب نے پوچھا : ”آپ کی کیا رائے ہے؟“ فرمایا رائے کا کیا سوال ہے۔ ہم ان کی شمولیت کو کوئی اہمیت نہیں دیتے ...... مرزا محمود لیگ اور کانگریس سے سودا کرنا چاہتا ہے۔ میں (اقبال) نے بہر حال جناح صاحب کو لکھ دیا ہے کہ اس قسم کے خطوط کا کوئی جواب نہ دیں۔“

سرطان زدہ معاشرے کی حالت زار

لیکن اس مدبرانہ مشورے کے باوجود چوہدری ظفر اللہ خاں کے ذریعے مرزا محمود لیگ میں در انداز ہو گیا اور اپنے عقیدے کے مطابق پاکستان کو ”نامسلمانوں“ کا وطن قرار دیتے ہوئے بمعہ جماعت پاکستان میں گھس آیا اور کسی کے کان پر جوں تک نہ رینگی۔ اس کو دل ہی دل میں خدشہ تھا اس لئے جب اپنے ذاتی ہوائی جہاز کے ذریعے لاہور آیا تو اس کو جماعت سے پوشیدہ رکھنے کی سعی لاحاصل کی۔ جب خبر عام ہوگئی تو مرزائیوں کو یہ کہا گیا کہ ان کا سربراہ ثانی صرف قائداعظم سے مشورہ کرنے آیا ہے۔ جب یہ خبر گوارا ہو گئی اور لاہور کے مقامی لیڈروں اور علماء نے کوئی احتجاج نہ کیا تو مرزا محمود کو رتن باغ اور جودھا مل بلڈنگ، تھارٹن روڈ پر جگہ مل گئی۔ یہ اس وقت کی عظیم عمارتوں میں سے تھیں۔ کچھ عرصہ کے بعد مرزا محمود کے داماد اور بھتیجے ایم ایم احمد

٥٠

صفحہ ٢٧٩

بحالیات کے کمشنر بن گئے۔ پھر کیا تھا نہ صرف پہلی آلات مشینیں پختہ ہو گئیں اور عمدہ عمدہ عمارتیں بخش دی گئیں۔ بلکہ سیٹھ جاکفید اس کی عمارت پام دیو بھی مل گئی۔ حالانکہ قادیان میں حکمران ٹولے کی ساری عمارتیں ملا کر کسی ایک عمارت کے لگ بھگ بھی نہ تھیں۔

اگر تکفیر کے اژدھا کے ڈسے ہوئے عوام اور علماء اور سیاسی لیڈر حضرت قائد اعظم کو مسلمانوں کے مکفرین کے سر براہ کی تینتیس سالہ کفر بازیوں اور سیاست کاریوں سے آگاہ کرتے تو وہ ضرور اس شخص سے نپٹ لیتے۔ کم از کم اس کے متعلق حضرت اقبال کے اقوال کو ہی مشتہر کیا جاتا تو پاکستانی معاشرہ اس جان لیوا سرطان سے محفوظ ہو جاتا۔ جب تک یہ سرطان جڑ سے نہیں اکھیڑا جاتا اس وقت تک پاکستان معاشرہ رو بصحت نہ ہو سکے گا۔ اسلام کے نام پر بننے والی مملکت میں اپنے جعلی مذہب کو اسلام کہنے والے خدائی وعید کو دعوت دیتے رہیں گے۔ اس تیس سالہ بحران میں اب تک کسی نے یہ نہیں دیکھا نہ اس کا کسی نے ادراک کیا ہے کہ منکرین ختم نبوت کو ڈھیل دینے کی یہ سزا ہے کہ پاکستان کی سیاست کا نا قابل علاج ناسور اندر ہی اندر کھائے جا رہا ہے۔ ان مجرمین کو حفاظت دے کر یہاں کی حکومتیں ربانی حفاظت سے محروم چلی آ رہی ہیں۔

یہ مؤلف کا ایمان ہے اور علیٰ وجہ البصیرت ایمان ہے کہ جو اخلاقی سفاکیاں ربوہ کے مذہبی مذبحہ میں ہو رہی ہیں۔ انہوں نے رحمت خداوندی کے دروازے بند کر دیئے ہیں۔ اس میں خدا اور رسول اور تاریخ کی عدالت میں علماء مسئول ہیں کہ وہ جمہوریت، جمہوریت کی صدائیں لگا رہے ہیں اور دین میں جو نقب دن دھاڑے لگ رہی ہے اس کو نظر انداز کیئے ہوئے ہیں۔ کبھی وہ معاشرہ برکت کا گہوارہ بن سکتا ہے جو حضرت رسول کریم ﷺ کے استخفاف سے اغماض کر رہا ہے؟ اور یہ سمجھا جا رہا ہے کہ علیم و خبیر خدا بھی معاذ اللہ بے خبر ہے ۔ یا اس نے ان فراموش گاروں کو ان کے حال پر چھوڑ دیا ہے۔ اسلام، اسلام کا نعرہ سنائی دیتا ہے۔ لیکن اس نعرے کی روح کو مجروح کرنے والی ابلیسی قوت پر ضرب نہیں لگ رہی۔

٧؍ ستمبر ١٩٧٤ء کے تاریخی فیصلے کے محرکات

شاید چند ہی لوگ ہوں گے جن کو یہ معلوم ہو کہ قادیانیوں کے خلاف ٧؍ ستمبر ١٩٧٤ء کے فیصلے کے محرکات کیا تھے۔ ایک دیرینہ محرک تو بدستور چلا آ رہا تھا کہ منکرین ختم نبوت نے اہل قبلہ کو فقہی اعتبار سے نہیں بلکہ اپنے عقیدے کی بناء پر کافر قرار دے کر مسلمانوں کے قلوب میں آتش انتقام کو روشن کر رکھا تھا۔ جیسے کہ پہلے ذکر آ چکا ہے کہ وہ مسلمانوں کو غیر مسلم کہہ کر ان سے کسی قسم کے رابطے کو اپنے مذہب کے خلاف سمجھتے تھے اور اگر ان کی جماعت کا کوئی رکن خفیف سا

٥١

صفحہ ٢٨١

بھی انحراف کرتا تو اس کو جماعت سے خارج کر دیا جاتا تھا۔ اگر مرزائی باپ نے مسلم بیٹے کی مسرت یا ملال میں کوئی دلچسپی لی یا مرزائی بیٹے نے مسلم باپ سے احسان کا سلوک کیا تو وہ باغی قرار دیا جاتا تھا۔

ظہور پاکستان سے پہلے برطانوی استعمار قادیانیوں کا نگہبان تھا۔ ان کی کفربازی پر انگریز حکومت ٹس سے مس نہ ہوتی۔ وہ اس کو نظر انداز کر جاتی تھی کہ اس کی تکفیر سے کئی سماجی فتنے رونما ہو سکتے ہیں۔ لیکن جب مسلمان اپنی دینی غیرت سے ان منکرین کا سدباب کرتے اور ان کے مساجد میں داخلے کو انہی لوگوں کے عقائد کے پیش نظر روکتے اور ہائی کورٹوں کی طرف رجوع کرتے تو برطانوی عدالتیں ان لوگوں کو دائرہ اسلام کے اندر قرار دے کر ان کو کھلی چھٹی دیتی رہیں۔ اس قسم کے مقدمات پٹنہ ہائی کورٹ، مدراس ہائی کورٹ اور غالباً پنجاب ہائی کورٹ میں ہوئے۔ ہر جگہ ان کو مسلمان ہی قرار دیا گیا۔ گویا اس دور کی عدالتوں کے نزدیک یہی مسلمان تھے یا بالفاظ دیگر دنیائے اسلام کو کافر کہنے والے ہی مسلمان کہلوانے کے قانونی حقدار تھے۔

پاکستان میں بھی ان کا غلبہ قائم رہا

جب پاکستان میں یہ منکرین ختم نبوت فوج ظفر موج کی طرح آئے تو حکومت پاکستان نے ان کے تکفیری فتوؤں کو نظر انداز کر کے ان کو بطور مسلمان الاٹ منٹیں عطا کیں۔ بلکہ ان کے ساتھ ترجیحی سلوک کیا گیا اور وہ ربوہ میں قلعہ بند ہو کر مسلمانوں کو کافر کہتے رہے۔ حتیٰ کہ قائد اعظم کا جنازہ بھی نہ پڑھا اور چوہدری ظفر اللہ خاں نے دون کی لی اور ایک استفسار کے جواب میں اپنے جنازہ نہ پڑھنے کے متعلق کہا کہ وہ کافر حکومت کا مسلمان وزیر خارجہ ہے یا مسلمان حکومت کا کافر وزیر خارجہ ہے۔ اس بات کا ذکر صمدانی کمیشن کی کارروائی میں زیر بحث آیا۔ لیکن عملاً کوئی اقدام نہ ہوا۔

پاکستانی حکومت پر چوہدری ظفر اللہ خاں چھایا ہوا تھا۔ اس لئے اس کا خلیفہ بھی ربوہ میں اس طرح رہا گویا وہ قادیان میں برطانوی سنگینوں کے سائے میں ہے۔ اس نے پانچ لیکچر دیئے۔ جن کا ایک ہی عنوان تھا۔ پاکستان اور اس کا مستقبل۔ ان لیکچروں میں بین السطور اس نے پاکستان کی مزعومہ کمزوری کی طرف بلیغ اشارات کئے۔ ان لیکچروں کی صدارت شیخ عبدالقادر صاحب اس وقت کے مسٹر جسٹس ایس اے رحمان صاحب اور ملک فیروز خاں نون صاحب نے کی۔ ان میں سے کسی کو خیال نہ آیا کہ مرزا محمود تو ان کو عقیدتاً مسلمان ہی نہیں سمجھتا۔ یہ تھی پاکستان کی غیرت دینی۔

٥٢

خدا کی لاٹھی کی پہلی ضرب

مرزا محمود کی خود فراموشی کا یہ حال تھا کہ نز کے مدیران کرام نے خلیفہ کے رجعتی کردار پر قلم فر مدیران کو دھمکی دی کہ وقت آ رہا ہے کہ یہ معترضین اس مکہ کا سا سانحہ ہوگا اور وہ لا تثریب علیکم الیوم گا۔ اس وقت کوئی فوری ردعمل نہ ہوا۔ اس لئے ربوہ میں ایک طوفانی تحریک چل پڑی۔ اس کے انسداد کے گیا۔ مگر سارے صوبے میں سراسیمگی پیدا ہو گئی۔ م عدالتوں نے ان کے خلاف سنگین فیصلے صادر کئے۔ ا قادیانیوں کے دو اہم اشخاص دار و گیر چھوٹا بھائی مرزا شریف احمد اور دوسرا تھا اس کا بڑا ب پر براجمان ہوا۔

حالت یہ تھی کہ مسلمان علماء تو اپنے آقا نشے سے سرشار تھے۔ مؤلف کو سنٹرل جیل کے وا مودودی صاحب کو پھانسی کا حکم سنایا گیا تھا اور وہ الہ گئے۔ ان کی ہمت عالی اور جوش شہادت کا یہ حال تھ ملنے آئے تو وہ ان کو پھانسی والے لباس میں دیکھ کر سوگوار ہونے کی کوئی وجہ نہیں۔ اللہ کی باغی حکومت میں پہنچ گیا ہے۔ اگر حضرت رسول اکرمﷺ کے باغی معاف کر دیتی تو یہ وہ سانحہ المیہ ہوتا جس پر اشکبار ہو

یہ ضمناً عرض کر دینا ضروری ہے کہ یہ وار یہ بات سنائی۔ وہ قادیانی تھا۔ اس کی قریبی عزیزہ کی اپنی عزیزہ کے پراویڈنٹ فنڈ کے سلسلے میں مؤلف ب صدر دفتر میں سینئر سپرنٹنڈنٹ تھا۔

منیر دارڈن قادیانی نے یہ بھی سنایا ک دندناتے پھرتے ہیں اور کہتے پھرتے ہیں کہ ان کو

٥٣

صفحہ ٢٨١

خدا کی لاٹھی کی پہلی ضرب

مرزا محمود کی خود فراموشی کا یہ حال تھا کہ زرعی اصلاحات کے سلسلے میں جب اخبارات کے مدیران کرام نے خلیفہ کے رجعتی کردار پر قلم فرسائی کی تو اس نے جلسہ سالانہ کے موقع پر مدیران کو دھمکی دی کہ وقت آرہا ہے کہ یہ معترضین اس کے سامنے سرنگوں ہوں گے اور معاذ اللہ! فتح مکہ کا سا سانحہ ہوگا اور وہ لا تثریب علیکم الیوم کہہ کر ان خطا کار ایڈیٹروں کو معاف کر دے گا۔ اس وقت کوئی فوری ردعمل نہ ہوا۔ اس لئے ربوہ سے جارحیت کی رو چلتی رہی۔ حتیٰ کہ ١٩٥٣ء میں ایک طوفانی تحریک چل پڑی۔ اس کے انسداد کے لئے لاہور ڈویژن میں مارشل لا نافذ کر دیا گیا۔ مگر سارے صوبے میں سراسیمگی پیدا ہوگئی۔ مسلمان علماء اور سیاسی لیڈر قید ہوئے۔ فوجی عدالتوں نے ان کے خلاف سنگین فیصلے صادر کئے۔

قادیانیوں کے دو اہم اشخاص داروگیر میں آگئے۔ ایک تھا مرزا محمود کا سب سے چھوٹا بھائی مرزا شریف احمد اور دوسرا تھا اس کا بڑا بیٹا مرزا ناصر احمد جو اس کے بعد اس کی گدی پر براجمان ہوا۔

حالت یہ تھی کہ مسلمان علماء تو اپنے آپ کو شہادت گہہ الفت میں سمجھ کر ایک روحانی نشے سے سرشار تھے۔ مؤلف کو سنٹرل جیل کے وارڈن مسٹر منیر (قادیانی) نے بتایا کہ مولانا مودودی صاحب کو پھانسی کا حکم سنایا گیا تھا اور وہ Condemned Cell میں بند کر دیئے گئے۔ ان کی ہمت عالی اور جوش شہادت کا یہ حال تھا کہ جب ان سے ان کے خاندان کے لوگ ملنے آئے تو وہ ان کو پھانسی والے لباس میں دیکھ کر اشکبار ہوئے تو مولانا صاحب نے فرمایا کہ سوگوار ہونے کی کوئی وجہ نہیں۔ اللہ کی باغی حکومت میں اللہ کے بندے کو جہاں پہنچنا چاہئے وہ وہاں پہنچ گیا ہے۔ اگر حضرت رسول اکرم ﷺ کے باغیوں کی طرفدار حکومت ان کو یہ سزا نہ دیتی بلکہ معاف کر دیتی تو یہ وہ سانحہ المیہ ہوتا جس پر اشکبار ہونا ضروری تھا۔

یہ ضمناً عرض کر دینا ضروری ہے کہ یہ وارڈن منیر کون تھا اور اس نے مؤلف کو کس طرح یہ بات سنائی۔ وہ قادیانی تھا۔ اس کی قریبی عزیزہ کسی زمانے میں مؤلف سے پڑھا کرتی تھی۔ منیر اپنی عزیزہ کے پراویڈنٹ فنڈ کے سلسلے میں مؤلف کے پاس آیا تھا۔ مؤلف ان دنوں محکمہ تعلیم کے صدر دفتر میں سینئر سپرنٹنڈنٹ تھا۔

منیر وارڈن قادیانی نے یہ بھی سنایا کہ مولانا عبدالستار نیازی صاحب جیل میں دندناتے پھرتے ہیں اور کہتے پھرتے ہیں کہ ان کو قید اور پھانسی دینے والی حکومت کے جیل کوئی

٥٣

صفحہ ٢٨٢

نقصان نہیں پہنچا سکتے۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا۔ اس شخص نے یہ بھی سنایا کہ مرزا شریف احمد اور مرزا ناصر احمد پژمردہ رہتے ہیں اور اس کے ذریعے رتن باغ سے پان وان منگا کر اپنی عادت پوری کرتے ہیں اور ہر وقت پریشان حال رہتے ہیں۔

مارشل لا تو اٹھ گیا لیکن اندر ہی اندر آگ سلگتی رہی۔ اس کے لئے منیر ٹربیونل قائل ہوا۔ اس کی روداد ایک الگ باب میں درج ہے۔ لیکن یہاں اتنا ذکر کرنا کافی ہوگا کہ خلیفہ ربوہ کے ناپاکستانی عزائم کی دھجیاں فضا میں بکھر گئیں۔

ٹربیونل کے چیئرمین نے اپنی رپورٹ میں یہ لکھا: ”١٩٣٥ء سے لے کر ١٩٤٧ء کے آغاز تک احمدیوں کی بعض تحریروں سے منکشف ہوتا ہے کہ وہ برطانیہ کے جانشین بننے کا خواب دیکھ رہے تھے۔ وہ نہ تو ایک ہندو سیکولر حکومت کو پسند کرتے تھے اور نہ پاکستان (کی اسلامی حکومت۔ مؤلف) کو پسند کرتے تھے۔“

(منیر رپورٹ ص ١٩٤)

خلیفہ ربوہ کی ہیبت زدگی

مرزا محمود ١٩٥٣ء کے واقعات سے ایسا خوفزدہ ہوا کہ اس پر اپنے عزائم سے لرزہ طاری ہو گیا تھا۔ وہ ”احمدی“ نام ترک کرنے کے ارادہ کا اعلان بھی کرنے والا تھا۔ اس کا ایک اعلان پاکستان ٹائمز مورخہ ٤/مارچ ١٩٥٣ء میں شائع ہوا کہ وہ تبلیغ نہیں کرے گا اپنے اپنے اور اپنی جماعت سے متعلق استفسارات کا جواب صرف اپنی مسجدوں میں دے گا۔ مؤلف کو اس کا مفہوم یاد ہے کہ وہ اعلان صاف ارتداد کے رنگ میں تھا۔ چنانچہ اسی دن مؤلف کے پاس مرزا محمود کا بھانجا میاں عباس احمد خان (جو ان دنوں پام ویو نزد شملہ پہاڑی میں مقیم ہے) اپنی جماعت کے مفسر قرآن ملک غلام فرید کے ساتھ آیا۔ مؤلف کے پاس پاکستان ٹائمز کا وہ پرچہ تھا اس نے ان دونوں کو وہ اعلان دکھایا اور تڑپ کر کہا کہ یہ وہ خلیفہ ہے جو اپنے آپ کو فضل عمر کہہ کر فریب دیتا رہا ہے اور یہ کہ اس کے اعلان سے ثابت ہے کہ وہ لا مذہب ہے۔ محض مذہب کے پردے میں جماعت کا استحصال کرتا رہا ہے اور جماعت کو بحرانوں میں مبتلا کرتا چلا جاتا ہے۔ یہ دونوں مہر بلب ہو گئے۔ لیکن قدرت کا کرشمہ ملاحظہ ہو کہ ١٩٥٣ء کے مارشل لا میں سزا پانے والے علماء اور سیاسی لیڈروں نے اس کھلے بزدلانہ اعلان سے کوئی فائدہ نہ اٹھایا اور نہ ہی اس وقت کی حکومت نے اس اعتراف شکست کی بناء پر قواعد وضوابط بنا کر مستقبل کو فتنہ انکار ختم نبوت کے خطرات سے پاکستان کو محفوظ کرنے کی کوشش کی۔ اگر اس وقت خلیفے کے اس غیر مبہم Commitment کو نظر انداز نہ کیا جاتا تو اس فتنے کی صف لپیٹ دی گئی ہوتی۔

٥٣

صفحہ ٢٨٣

خلیفہ ثالث کے متعلق اس کے باپ کی رائے

جب خلیفہ ثانی راہی ملک عدم ہوا تو جماعت کے لئے اذیت ناک ورثہ چھوڑ گیا۔ اپنے ہوش کے دنوں اس نے ایک ایسا انتخابی ادارہ بنایا جس کا لازمی نتیجہ یہ تھا کہ اس کا بڑا بیٹا مرزا ناصر احمد اس کا جانشین بنتا۔ چونکہ ١٩٦٥ء کی جنگ کی وجہ سے بھارت سے کوئی رابطہ نہ تھا اور اس وقت مشرقی پاکستان سے جنگ کے دوران تعلق ٹوٹ چکا تھا۔ اس لئے مرزا ناصر احمد ہی منتخب ہو گیا۔ اس کے مقابلے میں اس کا سوتیلا بھائی مرزا رفیع احمد بھی امیدوار تھا۔ لیکن وہ کامیاب نہ ہو سکا۔ اگر مندرجہ بالا مواصلاتی مواقع نہ ہوتے تو مرزا ناصر احمد اتنی آسانی سے کامیاب نہ ہوتا۔

مرزا ناصر احمد اپنے باپ کے مقابلے میں غبی اور بلید الذہن تھا۔ باوجود بہت سی ڈگریوں کے وہ نہ تقریر کر سکتا ہے اور نہ ہی تحریر کا اس کو کوئی ملکہ ہے۔ اس کے باپ کا ایک قول ہے جس سے اس کی عدم صلاحیت واضح ہو جاتی ہے۔ جب اس کا باپ لاہور میں ”پاکستان اور اس کا مستقبل“ پر لیکچروں کا سلسلہ جاری کئے ہوئے تھا تو ایک لیکچر جو ”مینارڈ ہال“ میں ہوا اس میں تلاوت قرآن کے لئے کسی نے مرزا ناصر احمد کا نام لیا تو فوراً اس کا باپ بول اٹھا۔ ”ناصر احمد کی تلاوت نے تو ہم پر خشت باری ہی کرائی ہے۔“ یہ ایک دہلی کے ناکام جلسے کی طرف اشارہ تھا۔ جب وہاں مرزا محمود احمد کا لیکچر ہونے لگا تو اس سے پہلے اس کے بیٹے ناصر احمد نے جو حافظ تھا، تلاوت قرآن کریم کی تو اس کی تلاوت کی متعدد غلطیوں پر کہرام مچ گیا۔ مسلمان قرآن دانوں نے کہا کہ یا تو اس جماعت کو قرآن کریم سے کوئی سروکار نہیں ہے۔ اس لئے اس کو تلاوت کی غلطیاں معلوم نہیں ہوتیں اور اگر ان کو قرآن کریم کا کچھ بھی مطالعہ ہے تو انہوں نے گوارا کر لیا ہے کہ قرآن غلط پڑھا جائے۔ مگر صاحبزادے کو ٹوکا نہ جائے۔ اس پر ہر طرف سے خشت باری ہوئی۔

ویسے ایک بلید الذہن بیٹے کو جانشین بنانے میں عیار باپ کی ایک حکمت تھی۔ وہ یہ کہ ایک غبی بیٹا ہی اس کی لرزہ خیز غلط کاریوں سے بے خبر رہ سکتا ہے۔ کیونکہ ایک ذہین بیٹا باپ کی جنسی درندگیوں کے علم سے ضرور باغی ہو جاتا۔

غبی بیٹا بھٹو کا شکار ہو گیا

یہی بلید الذہن بیٹا ہی تھا جو مئی ١٩٧٤ء میں ربوہ اسٹیشن پر طلباء کی یورش کا سدباب نہ کر سکا۔ جب ٢٢ مئی ١٩٧٤ء کو ملتان سے نشتر میڈیکل کالج کی جمعیت طلباء کا ایک گروہ ربوہ سے گزرا تو کچھ تصادم ہوا۔ اس پر مرزا ناصر احمد نے جو خلیفہ ربوہ بن چکا تھا، مسٹر بھٹو کو ٹیلی فون پر اطلاع دی اور مدد طلب کی۔ بھٹو ایک عفریتی نابغہ تھا۔ وہ مرزا ناصر احمد کی ”عقل“ سے واقف ہو چکا

٥٥

صفحہ ٢٨٤

تھا۔ اس نے بڑی بے تکلفی سے خلیفہ کو کہا کہ وہ کیوں خاموش رہے۔ ان کو چاہئے تھا کہ وہ غنڈوں کی ٹانگیں توڑ کر ان کو خوب سبق دیتے۔ اس فریب کارانہ چال کو خلیفہ نے کھلی اجازت سمجھا۔ جب ٢٩ مئی ١٩٧٤ء کو ملتان کے وہی طلباء ربوہ سے واپس گزرے تو اس نے وہی کچھ کیا جو اس کو اسلام آباد سے کہا گیا تھا۔

یہ محض بلوہ تھا۔ ملک میں آگ لگ گئی۔ بھٹو نے فوراً صمدانی کمیشن بٹھا دیا۔ عقائد کی بحث شروع ہو گئی۔ اس میں خلیفہ ربوہ (مرزا ناصر احمد) کو بلایا گیا۔ وہ وہاں سخت بے نقاب ہوا۔ جو اس نے کہا وہ ربوہ میں صمدانی کمیشن کے معائنہ پر سچ ثابت نہ ہو سکا۔

بھٹو نے اس پر بس نہ کی۔ اس نے قومی اسمبلی کو اسی کی ووٹ سے خصوصی کمیٹی میں بدل دیا اور ”قادیانی“ اور ”لاہوری“ عقائد کا مسئلہ چل پڑا۔ وہاں بھی سات دن کی جرح سے خلیفہ ربوہ معاملہ کو سلجھانے میں ناکام رہا۔ اس کی اپنی ہی شہادت پر ٧ ستمبر ١٩٧٤ء کے فیصلے کے مطابق ربوہ کی جماعت کو غیر مسلم قرار دیا گیا۔ ایک روایت ہے کہ ”لاہوریوں نے ایک مؤثر درجہ میں ربوہ والوں کی ہمنوائی کی صورت اختیار کرنے کی کوشش کی تو وہ بھی دھر لئے گئے۔“

ایک روایت ہے کہ مرزا ناصر احمد اور مسٹر بھٹو کی تخلیے میں طویل ملاقات ہوئی۔ بیان کیا جاتا ہے کہ مسٹر ناصر احمد نے بھٹو کو مشورہ دیا کہ اگر اس نے لاہوری جماعت پر فیصلہ صادر نہ کیا تو سارے ”احمدی“ اس جماعت میں داخل ہو جائیں گے اور اسی کے ساتھ وابستگی رکھیں گے۔ سنا ہے کہ یہ بات کارگر ثابت ہوئی۔ واللہ اعلم بالصواب!

اسرائیلی شاخسانہ

اس سارے ڈرامے کے پیچھے ایک عظیم محرک تھا۔ وہ یہ کہ ایک باہمت اور دیدہ ور نوجوان عالم شفیق مرزا نے لاہوری جماعت کے مبلغ مقیم لندن شیخ محمد طفیل کے ذریعے یروشلم سے اسرائیل میگزین المجلہ اسلامیہ (انگریزی اور عربی) منگوالیا۔ اس میگزین کا ایڈیٹر جو یعقوب یوشع تھا۔ یہ اسرائیل کی وزارت ادیان، یروشلم کی زیر نگرانی شائع ہوتا ہے۔ اس کے اگست ١٩٧٢ء کے پرچہ میں تیرہ صفحہ کا مضمون تھا جو جماعت ربوہ کے متعلق تھا اور تعریفی لہجہ میں لکھا گیا تھا۔ مقالہ نگار کا نام عبداللہ خودا تھا۔

اس مقالہ سے ظاہر تھا کہ یروشلم سے کسی نہ کسی صورت میں ربوہ کا رابطہ ضرور ہے۔ تعلق کی یہ نوعیت تھی کہ جو مبلغ نائیجیریا یا افریقہ کے کسی ملک میں جاتے وہ وہاں سے اسرائیل پہنچ کر اپنے پرانے مشن کا چارج لے کر تقسیم ملک سے پہلے قادیان کے ساتھ اور پاکستان بننے کے بعد

٥٦

صفحہ ٢٨٥

ربوہ سے مؤثر تعلق قائم رکھنے کے پابند سمجھے جاتے تھے۔

حضرت شاہ فیصل نے بھٹو کو ڈانٹا

راقم کے مشورہ پر مکرم شفیق مرزا وہ یہودی رسالہ (المجلہ اسلامیہ) شورش مرحوم کے پاس لے گیا۔ اس وقت جماعت اسلامی کے دو بزرگ رکن مولانا نعیم صدیقی صاحب اور مکرم چوہدری رحمت الٰہی صاحب بیٹھے تھے۔ مکرم شفیق مرزا نے جس کو عربی میں ماہرانہ دسترس ہے۔ اس یہودی رسالہ کے چند اقتباس اردو میں ترجمہ کر کے سنائے۔ شورش مرحوم نے جو پروپیگنڈا میں یدطولیٰ رکھتے تھے وہ رسالہ رکھ لیا۔ اس کا وہ محض مقالہ ایک پمفلٹ کی صورت میں چھاپ دیا۔ جب اسلامی سربراہی کانفرنس Islamic Summit ہو رہی تھی۔ شورش مرحوم نے وہ پمفلٹ سربراہان کرام میں بانٹ دیا۔ جب وہ مقالہ حضرت شاہ فیصل نے پڑھا تو ان کے تیور بدل گئے۔ ان کو یقین ہو گیا کہ ربوہ کا تعلق اسرائیل سے ہے۔ اس پر بیان کیا جاتا ہے کہ انہوں نے بھٹو سے سخت باز پرس کی۔ معاملے کے اس پہلو کو شاید بھٹو کو بھی علم نہ تھا۔ وہ حضرت شاہ فیصل مرحوم کی ملامت کی تاب نہ لا سکا۔ لیکن وہ اپنے فن سازش کا ماہر تھا۔ چنانچہ اس کی کسی خفیہ ایجنسی نے تار ہلائے اور ربوہ کے ریلوے اسٹیشن کا ہنگامہ برپا ہوا۔ اس میں خلیفہ ربوہ کی بے دانشی نے بڑا کام کیا۔ اگر اس کا باپ ہوتا تو وہ اپنے فن میں کئی بھٹوؤں پر بھاری تھا۔ وہ ٢٩ مئی ١٩٧٤ء کے فساد کے بعد اپنے مریدوں کا ربوہ آنا جانا ایک مدت تک روک دیتا۔ اگر بھٹو کا اس سے واسطہ پڑتا تو بھٹو اس کو گرو مان جاتا اور اس کو بہکانے کی جرأت نہ ہوتی۔ اگر خدانخواستہ یہ دو بھٹو اکٹھے ہو جاتے تو پاکستان میں طوفان مچا دیتے۔ ادھر علماء نے پرزور تحریک چلا رکھی تھی۔ بھٹو نے ٧ ستمبر ١٩٧٤ء کے فیصلہ سے حضرت شاہ فیصل کو اس وقت ایک رنگ میں اپنی وفاداری کا قائل کر لیا۔ اُدھر پاکستان میں علماء بھی اس فیصلے سے خاموش ہو گئے۔ حالانکہ وہ فیصلہ اس طرح مؤثر نہ ہو سکا جس کی توقع تھی۔

ربوہ والوں نے بھٹو کے ١٩٧٠ء کے انتخاب میں چالیس لاکھ (ایک روایت کے مطابق) صرف کئے تھے۔ ان کو بھٹو نے تسلی دی کہ اس نے بے اثر فیصلہ سے قتل وغارت سے ان کو بچا لیا ہے۔ اسی لئے وہ منقاد زیر پر رہے۔

خلیفہ سے جماعت کی مایوسی

لیکن جماعت میں تاثر یہ تھا کہ ان کے خلیفہ نے صحیح اور مؤثر مدافعت نہیں کی۔ وہ یہ کہہ کر ٹال سکتا تھا کہ ١٩٥٤ء میں منیر ٹربیونل کے سامنے قادیانیوں کے عقائد آ چکے ہیں اور ان پر

٥٧

صفحہ ٢٨٦

ٹربیونل مذکور کی رائے بھی آچکی ہے اور یہ دستاویز شائع ہوچکی ہے۔ یہ بھی سنا گیا ہے کہ ربوہ جماعت کے ایک اعلیٰ فضائی افسر کو پیرزادہ عبدالحفیظ نے اس انداز کا مشورہ دیا تھا کہ گریز کا پہلو نکل سکتا تھا۔ لیکن جس شخص کی عقل کے نقطے ڈھیلے پڑ گئے ہوں اور قاف سے ایک نقطہ ڈھلک کر عین پر آ گیا ہو اور عقل غفل بن گئی ہو تو دانشمندانہ مشورے کو کیسے قبول کر سکتا ہے۔

صمدانی رپورٹ اور خصوصی کمیٹی کی رپورٹ کے شائع نہ ہونے پر ربوہ والوں کو ایک غلط بیانی کا موقعہ مل گیا ہے۔ وہ کہتے پھرتے ہیں کہ حکومت اس اندیشہ کے مارے نہیں شائع کرتی۔ مبادا مرزائیت کو فروغ مل جائے۔ اس فریب کا پردہ چاک کرنا حکومت کا فرض ہے۔

چوہدری ظفر اللہ خاں کی سعی لا حاصل

مؤلف کو خلیفہ ربوہ کے پھوپھی زاد بھائی (جو مؤلف کا شاگرد رہ چکا ہے) نے بتایا کہ چوہدری ظفر اللہ خاں نے خلیفہ صاحب سے آئینی چارہ جوئی کی اجازت مانگی۔ لیکن وہ اجازت نہ ملی۔ کیونکہ خلیفہ بھٹو کی حکمت عملی کے شکنجے میں کسا ہوا تھا۔ یہ بھی روایت ہے کہ بھٹو کو اس عرصہ میں یہ رپورٹ ملی کہ چوہدری ظفر اللہ خاں کوئی اقدام کرنے والا ہے۔ اس نے کمال عیاری سے راوی کو جواب دیا کہ ہو سکتا ہے کہ چوہدری ظفر اللہ خاں کچھ کر گزرے۔ لیکن بعد کی خونریزی کا ذمہ دار کون ہوگا۔ یہ ایسی چال تھی جو ربوہ والوں کو خاموش رکھنے میں کامیاب رہی۔

دین اسلام اور بنی اسرائیل

پھر پرسش جراحت دل کو چلا ہے عشق
سامان صد ہزار نمک داں کئے ہوئے

قادیانیت احیائے ملت کے ادعائے باطل سے شروع ہوئی۔ اب سلب حیات ملت پر ختم ہو کر دم واپسیں کے سہارے زندہ ہے۔ سلب حیات ملت کا عمل ١٩١٤ء میں پورے زور سے شروع ہو چکا تھا۔ اس وقت قادیانی جماعت کے عوام کالانعام ”فقیہان مصلحت بین“ اور ابن الوقت عوام نے ایک ابلہ کندہ ناتراش اور گونا گوں آلائشوں سے ملوث پچیس سالہ جوان کو اپنا مذہبی امام اور مقتداء تسلیم کر لیا۔ اس کے پُر ہوا دعاوی کے دفتر بے معنی کو غرق مے ناب کرنے کے بجائے اپنی دانش و بینش کو ان میں غرق کر دیا۔ پیر پرستی کے مشرکانہ جذبے سے مغلوب ہو کر ایک تازہ وارد بساط ہوائے دل کو خلیفہ چن کر اپنی لادینی تحریک کو اور تاریک کر دیا۔ ان لوگوں نے اپنے اس انتخاب سے ثابت کر دیا کہ ان کے دلوں میں پیر زادے کے لئے تڑپ کا جذبہ موجزن ہے۔ باہر کے ارباب بصیرت اسی وقت سمجھ گئے کہ جماعت کی یہ نامحمود حرکت اس کے لئے مہلک ثابت

٥٨

ہوگی۔ اس انتخاب کے پیچھے مرزا محمود احمد کی ہا کے زور سے مخمور ہو کر ایسے دعاوی کا اعلان کر مسلمانوں کی حالت انتشار سے فائدہ اٹھایا اور ز تراشنے شروع کر دیئے۔ ایک سانس میں مطا ”نقیب ختم رسل“ کہہ کر پکارا تھا، اپنا درجہ بلند کر اور اپنے آپ کو فضل عمر (معاذ اللہ) اضطرابی انتخاب سے خودکشی کر چکی تھی۔ اس لئے سب سے افضل تسلیم کر لیا۔ اس نے یہ سوچنا بھی ہوئے خلیفہ سے کیسے لگا سکتا ہے۔ چونکہ صحیح شعو بچار کا سوال کیسے پیدا ہو سکتا تھا۔ چنانچہ اس ا Holiness بھی تسلیم کر لیا۔ گویا اپنے مزعو اس کی مطلوب و مقصود خلیفہ کی ذات تھی۔ دین اس چونکہ مرزا محمود احمد طبعاً اور مزاجاً سیاس ذریعے جماعت کو سیاست کے میدان میں لے آ کر دیا کہ اس کے دور خلافت میں قادیانیوں کو حکو اٹھایا گیا تھا بڑی سریع الاثر ثابت ہوئی۔ جماعت بھی رقص کرنے لگ گیا۔ مبادا ماضی کی یادوں میں کے تدارک کے لئے مرزا محمود احمد نے اپنے باپ کمینے کہہ کر ان کے خلاف اور ان کے کارناموں پہل غیر شعوری طور پر اور بعد میں شعوری طور پر لے کر ١٩٠٨ء تک پاسبان تصور ہوتے تھے۔ وہ تجزیہ نہ کیا کہ اس کی لپیٹ میں خود بانی سلسلہ کی خلاف نفرت اور حقارت کی افزائش کی جا رہی تھی احمد کے پروپیگنڈا کے مطابق واقعی جھوٹے اور غد دیکھتی ہے تو ہر لاہوری مرزائی اور محمودی قادیانی ج تھا۔ کیونکہ وہ حسن و قبح میں تمیز نہیں کر سکتا تھا۔ قاد

صفحہ ٢٨٧

ہوگی۔ اس انتخاب کے پیچھے مرزا محمود احمد کی اپنی زیر زمین مساعی خبیثہ بھی تھیں۔ وہ اپنی آمریت کے زور سے مخمور ہو کر ایسے دعاوی کا اعلان کرنے لگ گیا تھا جو اس ہی پر طنز بن کر رہ گئے۔ اس نے مسلمانوں کی حالت انتشار سے فائدہ اٹھایا اور خود ساختہ فضیلت اور افضلیت کے بے سروپا دعوے تراشنے شروع کر دیے۔ ایک سانس میں معاذ اللہ حضرت فاروق اعظمؓ سے جن کو مولانا شبلیؒ نے ”نقیب حشم رسول“ کہہ کر پکارا تھا، اپنا درجہ بلند قرار دیا۔ عیاذ باللہ!

اور اپنے آپ کو فضلِ عمر (معاذ اللہ) منوانا شروع کیا۔ چونکہ جماعت اپنے لایعنی اور اضطرابی انتخاب سے خودکشی کر چکی تھی۔ اس لئے اس نے بلا حیل و حجت اپنے ساختہ پرداختہ خلیفے کو سب سے افضل تسلیم کر لیا۔ اس نے یہ سوچنا بھی گوارا نہ کیا کہ انگریز کا بنایا ہوا خلیفہ خدا کے بنائے ہوئے خلیفہ سے کیسے لگ سکتا ہے۔ چونکہ صحیح شعور کی جگہ تعصب نے لے لی تھی۔ اس واسطے سوچ بچار کا سوال کیسے پیدا ہو سکتا تھا۔ چنانچہ اس جماعت نے اس خلیفہ کو اس کے حکم پر His Holiness بھی تسلیم کر لیا۔ گویا اپنے مزعومہ اسلام کو بھی عیسائی شرک کے نذر کر دیا۔ کیونکہ اس کی مطلوب و مقصود خلیفہ کی ذات تھی۔ دین اسلام سے اس کا کوئی دور کا واسطہ بھی نہ تھا۔

چونکہ مرزا محمود احمد طبعاً اور مزاجاً سیاسی تھا۔ اپنی کبریائی کا سکہ جما کر خواب اور رؤیا کے ذریعے جماعت کو سیاست کے میدان میں لے آیا۔ اس اعتزال کے جواز میں اس نے کہنا شروع کر دیا کہ اس کے دور خلافت میں قادیانیوں کو حکومت مل جائے گی۔ یہ تدبیر جس کا خمیر تزویر سے اٹھایا گیا تھا بڑی سریع الاثر ثابت ہوئی۔ جماعت کا کثیر حصہ بیک بینی و دو گوش اس کی شطحیات پر بھی رقص کرنے لگ گیا۔ مبادا ماضی کی یاد دلوں میں تازہ ہو کر جماعت میں خروج پیدا کر دے، اس کے تدارک کے لئے مرزا محمود احمد نے اپنے باپ کے نورتنوں کو خائن، غدار، نالائق، کذاب اور کمینے کہہ کر ان کے خلاف اور ان کے کارناموں کے خلاف جذبہ نفرت پیدا کر دیا۔ جماعت پہلے پہل غیر شعوری طور پر اور بعد میں شعوری طور پر یہ سمجھنے لگ گئی کہ جو لوگ تحریک کے ١٨٨٩ء سے لے کر ١٩٠٨ء تک پاسبان تصور ہوتے تھے۔ وہ کمینے اور کذاب تھے۔ لیکن کسی نے اس نفرت کا تجزیہ نہ کیا کہ اس کی لپیٹ میں خود بانی سلسلہ کی ذات بھی تو آ جاتی ہے۔ کیونکہ جن افراد کے خلاف نفرت اور حقارت کی افزائش کی جا رہی تھی وہ تحریک کے ستون تھے۔ چونکہ وہ لوگ مرزا محمود احمد کے پروپیگنڈا کے مطابق واقعی جھوٹے اور غدار تھے اور ان کی جماعت بھی ان کو اسی نگاہ سے دیکھتی ہے تو ہر لاہوری مرزائی اور محمودی قادیانی خود مرزا محمود احمد کے الزام و دشنام کی زد میں آ جاتا تھا۔ کیونکہ وہ حسن و قبح میں تمیز نہیں کر سکتا تھا۔ قادیانی جماعت نے نفرت کے جذبے سے مغلوب

٥٩

صفحہ ٢٨٨

ہو کر اس پہلو پر کبھی غور ہی نہیں کیا۔ کیونکہ غور کا مادہ ہی سلب ہو چکا تھا۔

مرزا محمود احمد نے بڑی عیاری سے مولوی نورالدین جو اس کے خسر، استاد اور مرشد تھے پر بھی خوب ہاتھ صاف کیا۔ وہ خلافت پر قابض ہو کر رخش عناں تاب بن گیا تھا۔ اس کا پیش رو خلیفہ بھی مطعون ہو کر رہ گیا۔ مرزا محمود نے جماعت میں ایک خبر چلا دی کہ جب اس نے انجمن کا نظام سنبھالا تو انجمن کے خزانے میں چند پیسے تھے۔ اس کا مطلب صاف تھا کہ نورالدین یا نااہل تھا یا خائن۔ نااہل اور خائن منہ سے نہ کہا مگر بات وہ منوالی جس کا منطقی نتیجہ اس کے سوا کچھ نہ تھا۔ ویسے نورالدین کا مرزا قادیانی سے تعلق بھی عجیب تھا۔ وہ عقیدتاً مرزا قادیانی کو مسیح موعود تسلیم نہیں کرتے تھے۔ کیونکہ وہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو بن باپ نہیں مانتے تھے۔ حالانکہ مرزا قادیانی بن باپ کے عقیدے کے قائل تھے۔ اس بنیادی فرق سے پیری مریدی کا تعلق محض حادثہ سا تھا۔ گویا مولوی نورالدین کے عقیدے کے مطابق مرزا قادیانی مثیل مسیح کے مدعی ہو کر بھی حضرت مسیح علیہ السلام کے حالات سے بے خبر تھے۔

مرزا محمود احمد نے بلطائف الحیل جماعت کے مذہبی مذاق اور میلان کو ماؤف اور مجروح کرنا شروع کر دیا۔ وہ جماعت جو کبھی بڑے بڑے دعوے کرتی نہ تھکتی تھی۔ وہ اپنے منہ بولے خلیفہ کی خواب کاریوں سے خواب ناک ہو کر رہ گئی۔ خلیفہ کے مقرر کردہ حاطب اللیل راویوں نے ان کے فریب کا خوب فروغ دیا۔ تقویٰ وطہارت کے بجائے سیاسی تزک واحتشام کے نقشے جمنے لگے۔ یہ سب کچھ سوچے سمجھے منصوبے کے ماتحت ہو رہا تھا۔ کیونکہ خلیفہ کی خلوتی زندگی اجالوں سے خائف رہتی تھی۔ عفت اس کے لئے بے معنی لفظ تھا اور قادیانی زندگی میں تو یہ حال تھا؎

ہے یہ وہ لفظ جو شرمندۂ معنی نہ ہوا

اگر جماعت کے مزاج کو کسی درجے میں اخلاق سے لگاؤ ہوتا تو خلیفہ عصمتوں کے ساتھ وہ تلعب نہ کر سکتا تھا جو اس کا شیوہ ہو چکا تھا۔ کیونکہ اخلاق خود ایک قسم کا احتساب ہوتا ہے۔ وہ ان حیا سوز طریقوں اور سلیقوں کو کبھی گوارا نہیں کرتا۔ خلیفہ کی عافیت اسی میں تھی کہ اخلاقی مزاج کو کمزور کیا جائے۔ جماعت کو سرگشتہ خمار رسوم و قیود کر کے ایک جسد بے جان بنا کر چھوڑ دیا جائے۔ تاکہ نہ خلیفہ کی نمازوں سے خصوصاً نماز فجر سے مسلسل غیر حاضری بار خاطر بنے نہ اس کا نماز مغرب کو قضا کر کے پڑھنا کسی کو دوبھر ہو۔ جب منبر و محراب کے سیاق و سباق میں کھڑے ہو کر وہ اپنے روحانی مدارج کی بلندی کا ذکر کر رہا ہو تو دائیں ہاتھ کی کنج ران اور اس کے قرب و جوار میں

٦٠

صفحہ ٢٨٩

شورشیں کسی کو کبیدہ نہ کریں۔ جب اس کے مقرب نوجوان دامن دریدہ اور چاک گریبان ہو کر قصر خرافات کے رنگین اور سنگین رومان سنائیں تو ان پر کوئی کان تک نہ دھرے۔ معصیت کاریاں کچھ تو خوارق عادت سنگینی کے پردے میں مستور ہو جائیں اور کچھ جماعت کے سیاسی اور عریاں دنیاوی مزاج کے دامن میں چھپ کر آنکھوں سے اوجھل ہو جائیں۔ چنانچہ اس کیفیت کے لئے ضروری تھا کہ جماعت کے مزاج میں نراج برپا کیا جائے۔ ”خلیفہ“ اس طالع آزمائی میں کامیاب ہو گیا۔ جماعت قادیانیت سے بھی ہجرت کر کے نامحمودیت کے ”ویرانہ آباد نما“ میں بس گئی۔ نامحمودیت کا پیرہن ان کے مسلک کا کفن بنتا چلا گیا۔ اگر چہ دس دس سال کے وقفوں پر خلیفہ کے عصیان جنسی کو ہوا ملی۔ لیکن جماعت میں کوئی ایسا ردعمل نہ ہوا جو اس کی خفیف ترین دین داری کی آئینہ داری کرتا۔ بعض گوشوں میں ردعمل ہوا تو بیٹے کے لئے باپ کی آرزوؤں کو پیش کر دیا گیا۔ لیکن بانی جماعت نے بیٹے کی بڑائی کو بڑا اچھالا تھا۔ حالانکہ نیک چلنی کا معاملہ آفتاب آمد دلیل آفتاب کا ہوتا ہے۔ لیکن یہاں تو لوگوں کو فریب میں مبتلا رکھنا مقصود تھا۔ خلیفہ نے باپ کی دعاؤں کو اپنے لئے برہان قاطع بنا دیا۔ حالانکہ اس کے ذاتی اعمال کے دفتر میں پاکیزگی عنقا کا حکم رکھتی ہے۔ لیکن اس نے جماعت کی تربیت اس طرح کی کہ وہ سمجھنے لگ گئی کہ خلیفہ کے لئے خوابوں اور خواہشوں کا تکرار کافی ہے۔ کیونکہ اس کے باطل دعوؤں سے شبستان خلافت روشن ہو جاتا ہے اور خلیفہ بڑے طمطراق سے کہہ دیا کرتا تھا۔

بیان کس سے ہو ظلمت گستری میرے شبستان کی
شب مہ ہو جو رکھ دیں پنبہ دیواروں کے روزن میں

ذاتی اعمال کی ذمہ داری سے سبکدوش ہو کر خلیفہ سیاست میں الجھ گیا۔ اپنے سارے نظام کو بھی اسی طرح ڈھال لیا۔ اس کے نظام کا ڈھانچہ جو اسی تالیف میں تفصیل سے بیان کیا گیا ہے اس بات کی دلیل ہے کہ تبلیغ اسلام محض دھوکے کی ٹٹی تھی۔ ورنہ کسی اچھے کام کے لئے اس آہنی نظام کی کیا ضرورت تھی جس میں حکومت کے سارے محکمے ہوں اور سارا زور کار خاص بنکاری، عسکریت اور تادیب و تعزیر پر ہو۔ چونکہ چندہ اسلام کے نام پر ہی مل سکتا تھا۔ اس لئے اس کو بطور اشتہار کے رکھنا ضروری تھا۔ ورنہ نظام کی آمرانہ شدت مقامرانہ سیاست کی غمازی کر رہی تھی۔ چونکہ جماعت کا نوجوان طبقہ اس کی جنسی یلغاروں سے زیادہ زخمی ہوا۔ اس نے خلیفہ کے چال چلن کے خلاف جہاد کیا اور اپنا زور خلافت کی سیاہ کاریوں کو بے نقاب کرنے میں لگا دیا ہے۔ اس سے ایک فائدہ ہوا کہ خلیفہ کی تقدیس کی فصیلیں مسمار ہوگئیں اور معاشرہ ایک خطرے سے آگاہ ہو گیا۔

٦١

صفحہ ٢٩١

لیکن ملک اور قوم کو اصلی خطرہ محمودی سیاست کا تھا جو محلاتی عفونتوں سے ملوث تھی۔ کیونکہ خلافت ربوی کے عفونت زار سے غلیظ سیاست ہی جنم لے سکتی تھی۔ اسی سیاست کا صحیح و سالم نقشہ اس تالیف میں پیش کیا گیا ہے اور یہ سارا نقشہ خلیفہ کے اپنے خطبات سے ماخوذ ہے۔ اس کی تقاریر کی تصویب اور ترتیب سے محمودی منصوبہ ایک عالم پر بھی واضح ہو جاتا ہے۔ اب تک ارباب اختیار خلیفہ کی خلوتی زندگی کی بے اعتدالیوں کو مرکز توجہ بنانے سے گریز کرتے رہے ہیں۔ لیکن جب ان پر خلیفہ کے سیاسی عزائم کا انکشاف ہوگا تو ان کے لئے نچلا بیٹھنا ناممکن ہو جائے گا۔ ارباب حکومت نہ صرف اپنی گذشتہ غفلت پر نادم ہوں گے۔ بلکہ فتنہ انکار ختم نبوت کے عواقب کا قلع قمع کرنے پر آمادہ ہو جائیں گے۔

اس تالیف کے مندرجات کی صحت کے متعلق اتنا عرض کر دینا کافی ہے کہ خلیفہ اپنی تقاریر اور اعلانات کے اقتباسات پڑھ کر خود ہی بے اختیار کہہ اٹھتا۔

کھلتا کسی پہ کیوں مرے دل کا معاملہ
شعروں کے انتخاب نے رسوا کیا مجھے

مسلمانوں کا سواد اعظم تو شروع سے ہی یقین رکھتا ہے کہ منکرین ختم نبوت کا نظام ایک غلیظ جذام کا درجہ رکھتا ہے اور متعدی ہونے کی وجہ سے اس کا استیصال لازمی ہے۔

مولانا محمد اسماعیل غزنوی مرحوم کی روایت

مولانا محمد اسماعیل غزنوی حکیم نورالدین کے نواسے تھے۔ لیکن وہ ممتاز اہل حدیث تھے۔ لیکن ان کو نانا سے جذباتی لگاؤ تھا۔ جب مرزا محمود نے حکیم نورالدین کے بیٹوں کو جماعت سے نکال باہر کیا اور ان کے خلاف طوفانی پروپیگنڈا کیا اور رپورٹوں میں حکیم نورالدین کو بھی نہ بخشا تو مولانا غزنوی مرحوم بھی مرزا محمود سے نبردآزما ہو گئے۔ چونکہ وہ مرزا محمود کو بچپن سے جانتے تھے۔ انہوں نے اس کی تیرہ باطنی کو خوب ہوا دی۔ انہوں نے اپنی رہائش گاہ پر مؤلف کو بلایا اور مؤلف کی معلومات کا امتحان لیا اور پوچھا: ” کیا تم کو علم ہے اس عورت کا جو مرزا محمود کے گھر رہتی تھی اور ایک رات کی اجرت پانچ سو روپیہ لیتی تھی۔“

مؤلف نے اپنی اس بارے میں لاعلمی کا اعتراف کیا۔ اس پر مولانا مذکور نے خود اپنی حیرت کا اقرار کیا اور بتایا کہ انہوں نے اس عورت کا تحقیقاً سراغ لگایا اور اس سے اس کی رات کی اجرت کا اشارہ کیا۔ اس عیار عورت (بقول مولانا مذکور) نے فوراً بے باکانہ جواب دیا۔ مولانا تجربہ کرلیں۔ اگر عمر رسیدگی کے باوجود مجھے کوئی خوشی خوشی پانچ سو روپے دے جائے تو میں ایک ہزار

٦٢

روپے ہرجانہ فی الفور ادا کر دوں گی۔ مولانا مذکور نے عشرت کدہ بھیروچی دریائے بیاس کے کنارے بن سامنے جوان لڑکیاں لباس شفاف میں قطار باندھے آنکھیں بند کرلیں۔ جب محمود نے پوچھا یہ کیوں؟ و مہم احقاق حق کے لئے مولانا نے کی تھی۔

دین کے پردے میں بھیانک سیاست کا

کسی جماعت کے لئے اس سے زیا اوڑھ کر چور دروازے سے سیاسی اقتدار، دنیاوی کوشش کرے۔ کسی مذہب تحریک یا اس سے پید حمایت حاصل ہوتی ہے وہ ہمیشہ اس حد تک ہوتی خالصتاً مذہبی مشن کے دائرہ کے اندر محدود رہتی س ایک المناک حقیقت ہے کہ مرزا محمود احمد کی گندی حکومت کے خواب دیکھنا شروع کر دیئے اور بے اور وہ جماعت جو دین کو دنیا پر مقدم رکھنے کا ادعا خلیفہ کی یہ خواب کاری برطانوی سنگینوں کے سا آقاؤں کا یہی منشا تھا کہ خلیفہ پا در ہوا منصوبوں وقلوب کو بھی اس میں الجھائے رکھے اور اس طر جماعت غلاظت کا انبار بن جائے۔ ایک عرصے رفتہ ایسی صورت بروئے کار آ گئی کہ برطانوی ح بالکل بیکار ہو چکا ہے۔ وہاں قتل ہوتے ہیں ان پولیس ناکام ہو جاتی ہے۔ اس سے انگریز کی حک حکومت کے خلاف اقدام شروع کر دیا۔ اس کا ہے۔ فاضل جج نے اپنے فیصلے میں مرزا محمود احم نے مولوی عبدالکریم (مباہلہ والے) کے خلا مولوی صاحب مذکور پر قاتلانہ حملہ ہوا۔ لیکن ال قاتل عدالت کے فیصلے کے بعد پھانسی پا گیا تو

صفحہ ٢٩١

روپے ہرجانہ فی الفور ادا کردوں گی۔ مولانا مذکور نے ایک اور واقعہ سنایا کہ ان کو مرزا محمود نے اپنے عشرت کدہ بچھڑو چھی دریائے بیاس کے کنارے بلایا۔ وہاں انہوں نے دیکھا کہ مرزا محمود کے سامنے جوان لڑکیاں لباس شفاف میں قطار باندھے کھڑی ہیں۔ مولانا نے ہوش ربا منظر دیکھ کر آنکھیں بند کر لیں۔ جب محمود نے پوچھا یہ کیوں؟ تو مولانا نے کہا کہ حیا غالب آ گیا ہے۔ یہ سب مہم احقاق حق کے لئے مولانا نے کی تھی۔

دین کے پردے میں بھیانک سیاست کاری

کسی جماعت کے لئے اس سے زیادہ معیوب بات کوئی نہیں کہ وہ مذہب کا لبادہ اوڑھ کر چور دروازے سے سیاسی اقتدار، دنیاوی غلبہ اور جماعتی تفوق حاصل کرنے کی غاصبانہ کوشش کرے۔ کسی مذہبی تحریک یا اس سے پیدا شدہ مذہبی جماعت کو حکومت کی طرف سے جو حمایت حاصل ہوتی ہے وہ ہمیشہ اس حد تک ہوتی ہے جس حد تک وہ مذہبی جماعت اپنے آپ کو خالصتاً مذہبی مشن کے دائرہ کے اندر محدود رکھتی ہے اور سیاسی امور سے مجتنب رہتی ہے۔ لیکن یہ ایک المناک حقیقت ہے کہ مرزا محمود احمد کی گندی سیاست کا سب سے گھناؤنا پہلو یہ تھا کہ اس نے حکومت کے خواب دیکھنا شروع کر دیئے اور بے حس جماعت کو اپنے سیاسی عزائم کے تابع کر دیا اور وہ جماعت جو دین کو دنیا پر مقدم رکھنے کا ادعائے باطل کر چکی تھی محض تابع مہمل ہو کر رہ گئی۔

خلیفہ کی یہ خواب کاری برطانوی سنگینوں کے سائے میں خوب پروان چڑھی۔ کیونکہ سفید فام آقاؤں کا یہی منشا تھا کہ خلیفہ پروردہ منصوبوں میں خود بھی مستغرق رہے اور جماعت کے عقول وقلوب کو بھی اس میں الجھائے رکھے اور اس طرح جماعت میں اخلاقی توانائی نہ پیدا کر سکے اور جماعت غلاظت کا انبار بن جائے۔ ایک عرصے تک یہی کیفیت رہی۔ لیکن قادیان میں ہی رفتہ رفتہ ایسی صورت بروئے کار آگئی کہ برطانوی حکومت کو بھی احساس ہوا کہ اس کا قانون وہاں بالکل بیکار ہو چکا ہے۔ وہاں قتل ہوتے ہیں ان کا سراغ بھی مل جاتا ہے لیکن عدالت میں آ کر پولیس ناکام ہو جاتی ہے۔ اس سے انگریز کی حکومتی غیرت پر تازیانہ لگا اور اس نے اس متوازی حکومت کے خلاف اقدام شروع کر دیا۔ اس کا پہلا سراغ مسٹر جی۔ ڈی کھوسلہ کے فیصلہ سے ملتا ہے۔ فاضل جج نے اپنے فیصلے میں مرزا محمود احمد کی ان جارحانہ کارروائیوں کا ذکر کیا ہے جو اس نے مولوی عبدالکریم (مباہلہ والے) کے خلاف کیں۔ کس طرح اس کے خطبے کے نتیجے میں مولوی صاحب مذکور پر قاتلانہ حملہ ہوا۔ لیکن ان کا ایک مددگار محمد حسین قتل ہو گیا۔ جب قادیانی قاتل عدالت کے فیصلے کے بعد پھانسی پا گیا تو اس کی لاش کو بڑے تزک واحتشام کے ساتھ

٦٣

صفحہ ٢٩٢

قادیان کے بہشتی مقبرے میں دفن کیا گیا۔ اس فیصلے میں محمد امین کے قتل کا بھی ذکر ہے اور فاضل جج نے لکھا ہے کہ محمد امین مورد عتاب ہو کر کلہاڑی کے وار سے قتل ہوا۔ اس کے مبینہ قاتل چوہدری فتح محمد سیال نے اقرار بھی کر لیا ہے۔ لیکن پولیس کارروائی کرنے سے قاصر رہی۔ فیصلہ مذکور میں یہ مرقوم ہے کہ:

جج کھوسلہ کا فیصلہ

”مرزائی طاقت اتنی بڑھ گئی تھی کہ کوئی سامنے آکر سچ بولنے کے لئے تیار نہ تھا۔ ہمارے سامنے عبدالکریم کے مکان کا واقعہ بھی ہے۔ عبدالکریم کو قادیان سے نکالنے کے بعد اس کا مکان جلا دیا گیا۔ اسے قادیان کی سمال ٹاؤن کمیٹی سے حکم حاصل کر کے نیم قانونی طریقے سے گرانے کی کوشش بھی کی گئی۔ یہ افسوسناک واقعات ظاہر کرتے ہیں کہ قادیان میں طوائف الملوکی تھی۔ جس میں آتش زنی اور قتل تک ہوتے تھے۔“

”ایسا معلوم ہوتا ہے کہ حکام ایک غیر معمولی درجہ کے فالج کے شکار ہو چکے تھے اور دنیاوی اور دینی معاملات میں مرزا محمود احمد کے حکم کے خلاف کبھی آواز نہ اٹھائی گئی۔ مقامی افسروں کے پاس کئی مرتبہ شکایات کی گئیں۔ لیکن کوئی انسداد نہ ہوا۔ مسل پر ایک دو ایسی شکایات ہیں لیکن ان کے مضمون کا حوالہ دینا غیر ضروری ہے اور اس مقدمہ کے لئے یہ بیان کر دینا کافی ہے کہ قادیان میں ظلم و جور جاری ہونے کے متعلق غیر مشتبہ الزام عائد کئے گئے۔ لیکن معلوم ہوتا ہے کہ ان کی طرف مطلقاً توجہ نہ کی گئی۔“

پھر فیصلہ میں یہ بھی لکھا ہے کہ: ”مرزا (یعنی مرزا محمود احمد) مسلمانوں کو کافر، سور اور ان کی عورتوں کو کتیوں کا خطاب دے کر ان کے جذبات کو مشتعل کر دیا کرتا تھا۔“

(فیصلہ مسٹر جی ڈی کھوسلہ سیشن جج گورداسپور)

یہ عدالتی فیصلہ محمودی سیاست کاریوں کی غمازی کرتا ہے۔ قادیان میں خلیفہ کے لئے قتل کرنا اور قتل کے عواقب سے بچ نکلنا یا کم از کم خلیفہ کا محفوظ و مصئون رہنا ایک ضرب المثل بن چکا تھا۔ قتل کے بعد معاملہ بقول شاعر یہ تھا:

بے کس کا لہو مقتل کی زمین پر
نہ دامن پر نہ ان کی آستین پر

یہی معاملہ بدرجہ اتم ربوہ میں رونما ہو چکا ہوگا۔ کیونکہ یہ خالص قادیانی بستی ہے۔ یہاں قانون کی بے بسی ناقابل بیان ہوگی۔ اگر حکومت دور اندیشی سے کام لیتی اور مرزا محمود کو

٦٤

پاکستان کی سرزمین کا ایک خطہ کوڑیوں کے جماعت کسی شہر میں متوطن ہوں یا حکومتیں خلیفہ کی سیاست کاریوں اور سازشوں پر م ایک وسیع رقبہ قادیانیوں کو متوطن کرنے ک پاکستان کی دوسری آبادیوں سے منقطع کر د اب اس قصبے میں باوجود دس ہزار کی آبادی مدنظر رکھتے ہوئے پاکستان کی منیر ٹربیونل ر ”١٩٢٥ء سے لے کر ١٩٤٧ء ت وہ برطانیہ کا جانشین بننے کے خواب دی ہندوستان کو اپنے لئے پسند کرتے تھے اور ن

خلیفہ کا اپنا فرعونی بیان

اب ہم خلیفہ کی سیاست کاری صاحب کے اپنے ارشادات ہدیہ قارئین ک فعل نہیں بلکہ یہ ایک دینی مقاصد میں شامل کے مطابق لیڈران قوم کا فرض ہے۔..... تکالیف کو دور کرنے کی تدبیر کرنا اور ملکی سیا کر سکتا۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کی نصرت اور تائی پندرہ سال کے تاریخی واقعات ہمارے اس

”اسلام کی ترقی احمدی سلسل حکومتوں میں پھیل نہیں سکتا۔ اس لئے خل پس مسلمانوں کی بداعمالیوں کی وجہ سے خد

”ہمیں نہیں معلوم ہمیں کب اپنی طرف سے تیار رہنا چاہئے کہ دنیا کو مسخ

صفحہ ٢٩٣

پاکستان کی سرزمین کا ایک خطہ کوڑیوں کے مول نہ دیتی۔ بلکہ اس کو مجبور کرتی کہ وہ اور اس کی جماعت کسی شہر میں متوطن ہوں یا حکومت کے تجویز کردہ مضافاتی قصبوں میں سکونت پذیر ہوں تو خلیفہ کی سیاست کاریوں اور سازشوں پر قفل پڑ جاتے۔ مگر ایسا نہ ہوا۔ چنانچہ اس کو ضلع جھنگ میں ایک وسیع رقبہ قادیانیوں کو متوطن کرنے کے لئے ملا اور اس نے کمال چابک دستی سے اس کو پاکستان کی دوسری آبادیوں سے منقطع کر کے ایک یاغستان سا بنا دیا اور اس کا نام ربوہ رکھ دیا۔ اب اس قصبے میں باوجود دس ہزار کی آبادی کے خلیفہ کا سکہ رواں تھا۔ اس مطلق العنانی کی کیفیت کو مدنظر رکھتے ہوئے پاکستان کی منیر ٹربیونل رپورٹ میں مرقوم ہے۔

”١٩٤٥ء سے لے کر ١٩٤٧ء کے آغاز تک احمدیوں کی بعض تحریرات سے منکشف ہے کہ وہ برطانیہ کا جانشین بننے کے خواب دیکھ رہے تھے۔ وہ نہ تو ایک ہندو دنیاوی حکومت یعنی ہندوستان کو اپنے لئے پسند کرتے تھے اور نہ پاکستان کو منتخب کر سکتے تھے۔“

(رپورٹ منیر انکوائری کمیٹی ص ١٩٦)

خلیفہ کا اپنا فرعونی بیان

اب ہم خلیفہ کی سیاست کاری اور حکومت کا غلبہ حاصل کرنے کے بارے میں خلیفہ صاحب کے اپنے ارشادات ہدیہ قارئین کرتے ہیں: ”غرض سیاست میں مداخلت کوئی غیر دینی فعل نہیں بلکہ یہ ان دینی مقاصد میں شامل ہے۔ جس کی طرف توجہ کرنا وقتی ضروریات اور حالات کے مطابق لیڈران قوم کا فرض ہے۔۔۔۔۔۔ پس قوم کے پیش آمدہ حالات کو مدنظر رکھنا اور اس کی تکالیف کو دور کرنے کی تدبیر کرنا اور ملکی سیاسیات میں رہنمائی کرنا خلیفہ وقت سے بہتر اور کوئی نہیں کرسکتا۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کی نصرت اور تائید اس کے شامل حال ہوتی ہے اور اس زمانہ میں گذشتہ پندرہ سال کے تاریخی واقعات ہمارے اس بیان کی صداقت پر مہر لگا رہے ہیں۔“

(الفضل ٢٤/دسمبر ١٩٣٢ء)

”اسلام کی ترقی احمدی سلسلہ سے وابستہ ہے اور چونکہ یہ سلسلہ مسلمان کہلانے والی حکومتوں میں پھیل نہیں سکتا۔ اس لئے خدا نے چاہا ہے کہ ان کی جگہ اور حکومتوں کو لے آئے۔۔۔۔۔۔ پس مسلمانوں کی بداعمالیوں کی وجہ سے خدا تعالیٰ نے تمہاری ترقی کا راستہ کھول دیا ہے۔“

(الفضل مورخہ ١٢/نومبر ١٩١٤ء)

”ہمیں نہیں معلوم، ہمیں کب خدا کی طرف سے دنیا کا چارج سپرد کیا جاتا ہے۔ ہمیں اپنی طرف سے تیار رہنا چاہئے کہ دنیا کو سنبھال سکیں؟“

(الفضل مورخہ ٤/جون ١٩٤٠ء)

٦٥

صفحہ ٢٩٤

"انگریز اور فرانسیسی وہ دیواریں ہیں جن کے نیچے احمدیت کی حکومت کا خزانہ مدفون ہے اور خدا تعالیٰ چاہتا ہے کہ یہ دیوار اس وقت تک قائم رہے۔ جب تک کہ خزانہ کے مالک جوان نہیں ہو جاتے۔ ابھی احمدیت چونکہ بالغ نہیں ہوئی اور بالغ نہ ہونے کی وجہ سے وہ اس خزانہ پر قبضہ نہیں کر سکتی۔ اس لئے اگر اس وقت یہ دیوار گر جائے تو نتیجہ یہ ہوگا کہ دوسرے لوگ اس پر قبضہ جمالیں گے۔"

(الفضل مورخہ ٢٧؍ فروری ١٩٢٢ء)

"اصل تو یہ ہے کہ ہم نہ انگریز کی حکومت چاہتے ہیں نہ ہندوؤں کی ہم تو احمدیت کی حکومت قائم کرنا چاہتے ہیں۔"

(الفضل مورخہ ١٣؍ فروری ١٩٢٢ء)

"میں تو اس بات کا قائل ہوں کہ انگریزی حکومت چھوڑ ، دنیا میں سوائے احمدیوں کے اور کسی کی حکومت نہیں رہے گی۔ پس جب کہ میں اس بات کا قائل ہوں بلکہ اس بات کا خواہشمند ہوں کہ دنیا کی ساری حکومتیں مٹ جائیں اور ان کی جگہ احمدی حکومتیں قائم ہو جائیں تو میرے متعلق یہ خیال کرنا کہ میں اپنی جماعت کے لوگوں کو انگریزوں کی دائمی غلامی کی تعلیم دیتا ہوں۔ کہاں تک درست ہو سکتا ہے۔"

(الفضل مورخہ ١٦؍ نومبر ١٩٣٩ء)

"ہم میں سے ہر ایک آدمی یہ یقین رکھتا ہے کہ تھوڑے عرصہ کے اندر ہی (خواہ اس وقت ہم زندہ رہیں یا نہ رہیں ۔ لیکن بہرحال وہ عرصہ غیر معمولی طور پر لمبا نہیں ہو سکتا) ہمیں تمام دنیا پر نہ صرف عملی برتری حاصل ہوگی بلکہ سیاسی اور مذہبی برتری بھی حاصل ہو جائے گی۔ یہ خیال ایک منٹ کے لئے کسی سچے احمدی کے دل میں غلامی کی روح پیدا نہیں کر سکتا۔ جب ہمارے سامنے بعض حکام آتے ہیں تو ہم اس یقین اور شوق کے ساتھ ان سے ملاقات کرتے ہیں کہ کل یہ نہایت عجز وانکسار کے ساتھ ہم سے استمداد کر رہے ہوں گے۔" (الفضل مورخہ ٢٢؍ اپریل ١٩٢٨ء)

"اس وقت حکومت احمدیت کی ہوگی۔ آمدنی زیادہ ہوگی۔ مال واموال کی کثرت ہوگی۔ جب تجارت اور حکومت ہمارے قبضہ میں ہوگی اس وقت اس قسم کی تکلیف نہ ہوگی۔"

(الفضل مورخہ ٨؍ جون ١٩٢٦ء)

"اس وقت تک کہ ہماری بادشاہت قائم نہ ہو جائے تمہارے راستے سے یہ کانٹے ہرگز دور نہیں ہو سکتے۔"

(الفضل مورخہ ٨؍ جولائی ١٩٣٠ء)

دیکھ لیجئے! خلیفہ صاحب مستقبل قریب میں حصول اقتدار کی امیدیں کس قدر وثوق سے لگائے بیٹھے ہیں اور حصول آزادی ہی نہیں بلکہ حصول حکومت کے لئے ان کی راہیں دوسرے ابنائے وطن اور دوسرے مسلمانوں سے کس قدر مختلف تھیں اور یہ اعلان بالوضاحت کیا جا رہا تھا کہ

٦٦

مسلمانوں کی بداعمالیوں کی وجہ سے حکوم

"اور مسلمان جنہوں نے ا گرتے گرتے یہودیوں کی طرح ہو جا کی وجہ سے ذلیل ہوئے تھے..... اور مح بلند ہے۔ اس لئے آپ کے نائب کا ا

ظاہر ہے کہ مسلمانوں سے نہیں مل سکی اور نہ ہی یہ حکومت برطانی بقول ان کے احمدیت کا خزانہ مدفون تھ تھا تو پاکستان کا استقلال اور اس کا ق خصوصاً جب کہ حکومت ان مسلمانو احمدی سلسلہ کے ساتھ وابستہ ہے اور سکتا۔ اسلئے خدا نے چاہا ہے کہ ان کی ح لئے دروازے کھولے جائیں۔"

چنانچہ ان کی اس نیت کو ک ارشاد پیش خدمت ہے۔ "ہندوستان مجبوری سے اور پھر یہ کوشش کریں گے ک

پھر کہا: "بہرحال ہم چا ہو کر رہیں۔"

پس ان اقتباسات سے ص جاتا ہے۔ اس کے یہ اقوال اس کی پاکستان اور ہندوستان کی سرحدیں خت ہیں۔ اس خلیفہ کی منافقت اور سیاسی ا تھے کہ مسلمانوں کو نہیں بلکہ جماعت ا کے ساتھ مل کر اور ان کے شانہ بشا

صفحہ ٢٩٥

مسلمانوں کی بداعمالیوں کی وجہ سے حکومت ان کو نہیں بلکہ صرف اور صرف احمدیوں کو ہی ملے گی۔

"اور مسلمان جنہوں نے احمدیت سے اپنا تعلق نہیں جوڑا وہ گرتے ہی جائیں گے اور گرتے گرتے یہودیوں کی طرح ہو جائیں گے۔ یہودی موسیٰ علیہ السلام کے نائب کا انکار کرنے کی وجہ سے ذلیل ہوئے تھے...... اور محمد رسول اللہ ﷺ کی شان موسیٰ علیہ السلام کی شان سے بہت بلند ہے۔ اس لئے آپ کے نائب کا انکار کرنے والوں کی ذلت یہودیوں سے بڑھ کر ہو گی۔"

(الفضل مورخہ ١٢/نومبر ١٩١٤ء)

ظاہر ہے کہ مسلمانوں سے پہلے ان کے پروگرام اور دعوؤں کے مطابق حکومت ان کو نہیں مل سکی اور نہ ہی یہ حکومت برطانیہ کے جانشین بن سکے اور وہ دیوار بھی گر گئی جس کے نیچے بقول ان کے احمدیت کا خزانہ مدفون تھا اور جس کے بل بوتے پر انہوں نے ہر پنپنے والے سے نپٹنا تھا تو پاکستان کا استقلال اور اس کا قیام اور اس کی سالمیت انہیں کس طرح گوارا ہو سکتی تھی اور خصوصاً جب کہ حکومت ان مسلمانوں کو مل گئی جن کے متعلق خلیفہ نے کہا: "پس اسلام کی ترقی احمدی سلسلہ کے ساتھ وابستہ ہے اور چونکہ یہ سلسلہ مسلمان کہلانے والی حکومتوں میں نہیں پھیل سکتا۔ اسلئے خدا نے چاہا ہے کہ ان کی جگہ اور حکومتوں کو لے آئے تاکہ اس سلسلہ حقہ کے پھیلنے کے لئے دروازے کھولے جائیں۔"

(الفضل مورخہ ١٢/نومبر ١٩١٤ء)

چنانچہ ان کی اس نیت کو کہ وہ پاکستان بننے سے خوش نہیں ہوئے تھے۔ خلیفہ کا اپنا ایک ارشاد پیش خدمت ہے: "ہندوستان کی تقسیم پر اگر ہم رضامند ہوئے ہیں تو خوشی سے نہیں بلکہ مجبوری سے اور پھر یہ کوشش کریں گے کہ یہ کسی نہ کسی طرح پر متحد ہو جائے۔"

(الفضل مورخہ ١٦/مئی ١٩٤٧ء)

پھر کہا: "بہر حال ہم چاہتے ہیں کہ اکھنڈ ہندوستان بنے اور ساری قومیں باہم شیر و شکر ہو کر رہیں۔"

(الفضل مورخہ ٥/اگست ١٩٤٧ء)

پس ان اقتباسات سے مرزا محمود احمد کی حکومت کے بارے میں ریشہ دوانیوں کا علم ہو جاتا ہے۔ اس کے یہ اقوال اس کی نیت کی غمازی کر رہے ہیں۔ اکھنڈ ہندوستان کی تجویزیں پاکستان اور ہندوستان کی سرحدیں ختم کرنے کے الہامات مملکت در مملکت قائم کرنے کا بین ثبوت ہیں۔ اس خلیفہ کی منافقت اور سیاسی دجل کا بھانڈا چوراہے میں پھوٹا ہے۔ اس کے اپنے دعوے یہ تھے کہ مسلمانوں کو نہیں بلکہ جماعت احمدیہ کو حکومت اور آزادی ملے گی اور یہ کہ احمدی مسلمانوں کے ساتھ مل کر اور ان کے شانہ بشانہ حصول آزادی کی کوششیں نہیں کر رہے بلکہ وہ ان سے الگ

٦٧

صفحہ ٢٩٧

کوشش کر رہے ہیں۔ ان الفاظ نے خلیفہ ربوہ کی تمام جدوجہد سے پردہ اٹھا دیا ہے اور انہیں بالکل عیاں کر کے رکھ دیا ہے۔ کس قدر غداری کے ساتھ اور کس قدر دجل کے ساتھ مسلمانوں کا جزو ہو کر اور ان کا حصہ بن کر ان کے نام سیاسی حقوق لے کر سوچا یہ جا رہا تھا کہ آزادی اور حکومت صرف مسلمانوں کی سرکوبی کے لئے حاصل کی جائے گی۔ خلیفہ ربوہ کی سرکاری گزٹ الفضل نے لکھا تھا۔ ”جو فتح اپنے وقت سے ذرا پیچھے ہٹ جاتی ہے اس کی کوئی وقعت نہیں رہتی۔“

(الفضل مورخہ ٨؍نومبر ١٩٣٠ء)

سنگین نگرانی کی اشد ضرورت

اب اپنی فتح کی امیدوں کو پاش پاش ہوتا دیکھ کر زخمی سانپ کی طرح بے تاب ہیں اور مسلمانوں میں انتشار پھیلانے کے لئے سیاسی جوڑ توڑ میں مشغول ہیں۔

ہم حکومت کو اس بات سے آگاہ کر دینا اپنا فرض سمجھتے ہیں کہ وہ مرزا محمود کی سازشوں اور حرکات کو اپنی نگاہوں میں رکھے اور اسے سمجھنے کی کوشش کرے۔ کسی دشمن کا مقابلہ اس کے طریق کار کو سمجھنے کے بعد ہی کامیابی سے کیا جا سکتا ہے۔ پس ضروری تھا کہ اس کی دسیسہ کاریوں اور روباہی چالوں کو پہلے سے سمجھ لیا جاتا۔ دنیا کا چارج سنبھالنا، حکومت پر قبضہ کرنا۔ اپنا اقتدار قائم کرنا، یہی وہ تصورات تھے جن کی بدولت خلیفہ ربوہ کے بعض سادہ لوح مریدوں کا ذہنی توازن بگڑ گیا اور بنگال کی گورنری وغیرہ کے خواب دیکھنے لگ گئے۔ لیکن یہ محض تصورات و نظریات ہی نہ تھے بلکہ خلیفہ ربوہ نے اپنی جماعت کو ان نظریات کی عملی تدبیر کے لئے جماعت کی باقاعدہ تربیت کی اور اپنے سحر سامری سے اپنے مریدوں کو حکومت پر قبضہ کرنے کے لئے شعوری اور غیر شعوری طور پر ابھارتے رہے۔ اس ضمن میں خلیفہ ہذا کے اپنے اقوال ملاحظہ فرمائیے۔

”اس وقت اسلام کی ترقی خدا تعالیٰ نے میرے ساتھ وابستہ کر دی ہے۔ یاد رکھو کہ سیاسیات اور اقتصادیات اور تمدنی امور حکومت کے ساتھ وابستہ ہیں۔ پس جب تک ہم اپنے نظام کو مضبوط نہ کریں اور تبلیغ اور تعلیم کے ذریعہ سے حکومتوں پر قبضہ کرنے کی کوشش نہ کریں ہم اسلام کی ساری تعلیموں کو جاری نہیں کر سکتے۔“

(الفضل مورخہ ٥؍جنوری ١٩٣٧ء)

”یہ مت خیال کرو کہ ہمارے لئے حکومتوں اور ملکوں کا فتح کرنا بند کر دیا گیا ہے۔ بلکہ ہمارے لئے بھی حکومتوں اور ملکوں کا فتح کرنا ایسا ہی ضروری ہے۔“ (الفضل مورخہ ٨؍جنوری ١٩٣٧ء)

اسی طرح خلیفہ محمود ربوہ کے ہاں جو بھی اندرونی نظام ہے وہ حفاظت مرکز خدام الاحمدیہ کور یا دیگر کسی نام سے بھی قائم کیا جاتا ہے۔ خلیفہ خود ہی اس کا سالار اعظم اور فیلڈ مارشل ہوتا

٦٨

ہے اور جماعت کی ہر قسم کی فوجی تنظیموں کی سربراہی خود خلیفہ نے کہا: ”مجلس شوریٰ ہو یا ص غیر فوج، خلیفہ کا مقام بہرحال سرداری کا ہے۔“

”انتظامی لحاظ سے صدر انجمن کے ما تعین کے لحاظ سے بھی وہ مجلس مشاورت کے نما رکھتا ہے۔“

”جماعت کی فوج کے الگ دو حصے تسلیم کا بھی کمانڈر ہے اور دونوں کے نقائص کا بھی ذمہ دا ہے۔“

خلیفہ کی مزعومہ بادشاہت

غرض جماعت احمدیہ میں خلافت ایک ہر حکم مذہبی یا سیاسی جماعت کے ممبروں کے نزدی اشارہ پر اپنی جان و مال قربان کر دیا جاتا ہے۔ ا ہو جاتا ہے۔ پاکستان کے علاوہ دنیا کے مختلف مما اور سفارت خانے ہیں اور تمام بیرونی ممالک کی ت کو استعمال کرتے ہیں اور لاکھوں روپے گورنمنٹ اپنی من مانی کارروائیوں کے لئے صرف کرتے مساجد کی تعمیر کے لئے ہزاروں روپے گورنمنٹ اپنی مرضی کے مطابق کر لیا جاتا ہے۔ جن لوگوں چندہ کہاں جاتا ہے۔ ٥٠ سال غیر ملکوں میں تب ایکسچینج یہ لے چکے ہیں۔ اس کے بالمقابل وہاں خلیفہ کا نظام اس قدر خطرناک ہے کہ ایک بڑی ر کافی ہے۔ دوسری حکومتوں میں اپنے حلیف پی اور قوتیں مجھ سے ڈرتی ہیں۔ خلیفہ اپنے کار خاص اپنی عدلیہ، مقننہ، انتظامیہ، فوج اور بنک ہے۔ کرتے ہیں ان کا یہ فعل ملک وملت سے غداری

صفحہ ٢٩٧

ہے اور جماعت کی ہر قسم کی فوجی تنظیموں کی سربراہی اور سر پرستی اس کو حاصل ہے۔ خود خلیفہ نے کہا: ”مجلس شوریٰ ہو یا صدر انجمن احمدیہ، انتظامیہ ہو یا عدلیہ، فوج ہو یا غیر فوج، خلیفہ کا مقام بہر حال سرداری کا ہے۔“

(الفضل مورخہ یکم ستمبر ١٩٣٢ء)

”انتظامی لحاظ سے صدر انجمن کے لئے بھی راہ نما ہے اور آئین سازی و بحث کی تعین کے لحاظ سے بھی وہ مجلس مشاورت کے نمائندوں کے لئے بھی صدر اور راہنما کی حیثیت رکھتا ہے۔“

”جماعت کی فوج کے الگ دو حصے تسلیم کر لئے جائیں تو وہ اس کا بھی سردار ہے اور اس کا بھی کمانڈر ہے اور دونوں کے نقائص کا بھی ذمہ دار ہے اور دونوں کی اصلاح اس کے ذمہ واجب ہے۔“

(الفضل مورخہ ٢٧ اپریل ١٩٣٨ء)

خلیفہ کی مزعومہ بادشاہت

غرض جماعت احمدیہ میں خلافت ایک دنیاوی بادشاہت کی حیثیت رکھتی ہے۔ خلیفہ کا ہر حکم مذہبی یا سیاسی جماعت کے ممبروں کے نزدیک قانون کی حیثیت رکھتا ہے۔ خلیفہ کے ادنیٰ اشارہ پر اپنی جان و مال قربان کر دیا جاتا ہے۔ احمدیوں کی کمائی کا اکثر حصہ خلیفہ کی جیب کی نذر ہو جاتا ہے۔ پاکستان کے علاوہ دنیا کے مختلف ممالک میں جو مبلغ ہیں وہ دراصل خلیفہ کے کار خاص اور سفارت خانے ہیں اور تمام بیرونی ممالک کی کرنسی جو چندہ کی صورت میں ان کو ملتی ہے، وہ اس کو استعمال کرتے ہیں اور لاکھوں روپے گورنمنٹ کی کرنسی سے بھی حاصل کر کے بیرونی ممالک میں اپنی من مانی کارروائیوں کے لئے صرف کرتے ہیں۔ کبھی مبلغوں کی تنخواہوں کے بہانہ اور کبھی مساجد کی تعمیر کے لئے ہزاروں روپے گورنمنٹ کی قیمتی غیر ملکی کرنسی سے لئے جاتے ہیں اور خرچ اپنی مرضی کے مطابق کر لیا جاتا ہے۔ جن لوگوں کے لئے وہاں مسجدیں تعمیر ہو رہی ہیں ان کا اپنا چندہ کہاں جاتا ہے۔ ٥٠، ٦٠ سال غیر ملکوں میں تبلیغ کرتے ہو گئے ہیں۔ کروڑوں روپے کا فارن ایکسچینج یہ لے چکے ہیں۔ اس کے بالمقابل وہاں کتنے احمدی ہوئے ہیں۔ یہ پوچھنے والا کوئی نہیں۔ خلیفہ کا نظام اس قدر خطرناک ہے کہ ایک بڑی سے بڑی حکومت کے نظام کا مقابلہ کرنے کے لئے کافی ہے۔ دوسری حکومتوں میں اپنے حلیف پیدا کئے جاتے ہیں۔ خلیفہ کا کہنا ہے کہ حکومتیں ملک اور قومیں مجھ سے ڈرتی ہیں۔ خلیفہ اپنے کار خاص کے ذریعہ مملکت کے راز معلوم کرتا ہے۔ اس کی اپنی عدلیہ، مقننہ، انتظامیہ، فوج اور بنک ہے۔ پس حکومت پاکستان کے جو ارکان اسے نظر انداز کرتے ہیں ان کا یہ فعل ملک و ملت سے غداری کے مترادف ہے۔ مملکت محمودیہ ربوہ میں کسی احمدی

٦٩

صفحہ ٢٩٩

کو قبل از وقت اجازت حاصل کئے بغیر داخل ہونے کی اجازت نہیں۔ اس بارے میں سرکاری گزٹ الفضل کا مندرجہ ذیل اعلان قادیان کے متعلق ملاحظہ فرمائیے۔

"مضافات قادیان ، ننگل ، باغبان ، بانگر خوردوکلاں ، نواں پنڈ ، قادر آباد دار احمد آباد وغیرہ میں سکونت اختیار کرنے کے لئے باہر سے آنے والے احمدی دوستوں کے لئے ضروری ہوگا کہ وہ پہلے نظارت ہذا سے اجازت حاصل کریں۔"

(الفضل مورخہ ٢٥ جنوری ١٩٣٩ء)

پھر ربوہ میں آ کر خلیفہ کا اعلان : "حسب تفصیل بالا میں کوئی احمدی بلا اجازت انجمن زمین نہیں خرید سکتا۔"

پھر ربوہ میں داخل ہونے کے بارے میں خلیفہ محمود کا حکم امتناعی ملاحظہ ہو۔ "ہم یہ اعلان کرتے ہیں کہ آئندہ ایسے لوگوں کو جن کو یا تو ہم نے جماعت سے نکال دیا ہے یا جنہوں نے خود اعلان کر دیا ہوا ہے کہ وہ جماعت میں شامل نہیں۔ آئندہ انہیں ہماری مملوکہ زمین میں آکر ہمارے جلسوں میں شامل ہونے کی اجازت نہیں۔"

(الفضل مورخہ ٢٤ فروری ١٩٥٦ء)

چہ دلاور است دزدی کہ بکف چراغ دارد

اب اس اعلان کی رو سے وہ لوگ جنہوں نے انجمن کی مملوکہ زمین میں سے زمین خرید کی ہوئی ہے ان کو ربوہ میں جا کر اپنی زمین اور مکان کی حفاظت کی اجازت نہیں۔ کیونکہ اگر وہ وہاں جائیں گے تو ان پر پولیس کی امداد سے کوئی جھوٹا مقدمہ کھڑا کر دیا جائے گا۔ گویا ان کی زمینیں بھی ضبط کر لی گئی ہیں۔ یہ بھی ریاست اندر ریاست کا ایک بین ثبوت ہے۔

محمودی چارٹر

مملکت محمودیہ میں کاروبار کرنے کے لئے ہر شخص کو ذیل کا معاہدہ کرنا پڑتا ہے۔

"میں اقرار کرتا ہوں کہ ضروریات جماعت قادیان کا خیال رکھوں گا اور ناظر تجارت جو حکم کسی چیز کے بہم پہنچانے کا دیں گے اس کی تعمیل کروں گا اور جو حکم ناظر امور عامہ دیں گے اس کی بلا چون و چرا تعمیل کروں گا۔ نیز جو ہدایات وقتاً فوقتاً جاری ہوں گی ان کی پابندی کروں گا اور اگر کسی حکم کی خلاف ورزی کروں گا تو جو جرمانہ تجویز ہو گا ادا کروں گا۔"

"میں عہد کرتا ہوں کہ جو میرا جھگڑا احمدیوں سے ہوگا اس کے لئے امام جماعت احمدیہ کا فیصلہ میرے لئے حجت ہوگا اور ہر قسم کا سودا احمدیوں سے ہی کروں گا۔ نیز میں عہد کرتا ہوں کہ احمدیوں کی مخالف مجالس میں کبھی شریک نہ ہوں گا۔"

یہ ہے وہ معاہدہ جو خلیفہ ربوہ کی ریاست میں ہر اس شخص سے لکھوایا جاتا ہے جو

٧٠

وہاں کا جزو بن کر رہنا چاہے۔ نظارت امور عامہ ۔ اور غیر از جماعت لوگوں کو ایک معاہدہ تجارت پرو دین کی اجازت ملتی تھی۔ بلکہ ہر شخص کی شخصی جائیداد پر کا اعلان پڑھئے۔

اعلان

"قبل ازیں میاں فضل حق موچی سکنہ دارالما دوست نہ خریدیں۔ اب اس میں ترمیم کی جاتی ہے کہ ف کے توسط سے ہو سکتا ہے۔"

اب بھی ربوہ میں یہی صورتحال موجود ہے ۔ کے ساتھ لین دین کے تعلقات بھی منقطع کر دیئے ج بتوسط ناظر امور عامہ حکم سنئے۔

"یعنی میاں فخر الدین ملتانی، شیخ عبدالرحمن کسی دوست کا لین دین ہو تو نظارت ہذا کی وساطت ۔ رکھنے ممنوع ہیں۔"

سوشل بائیکاٹ کی مثالیں

پس خلیفہ ربوہ کا یہ عذر لنگ پیش کرنا کہ لین سے مراد جزوی بائیکاٹ یعنی سلام کلام تک ہے۔ اس سوشل بائیکاٹ میں صرف لین دین ہی منع نہیں بلکہ کسی کہ رشتہ تک کرنا ممنوع ہے۔ اس ضمن میں یہ ارشاد ملا

"میں چوہدری عبداللطیف کو اس شرط پر مکان واقع نسبت روڈ پر وہ افراد نہ آئیں جن کا عبداللطیف نے یقین دلایا کہ میں ذمہ لیتا ہوں کہ وہ اس کو کہہ دیا ہے کہ جماعت لاہور ( قادیانی ) اس کی سے تعلق رکھا یا اپنے مکان پر آنے دیا تو پھر اس کی مع

اسی طرح خلیفہ صاحب نے اپنے ایک ر

٧١

صفحہ ٢٩٩

وہاں کا جزو بن کر رہنا چاہئے۔ نظارت امور عامہ سے ایک اجازت نامہ حاصل کرنا پڑتا تھا اور غیر از جماعت لوگوں کو ایک معاہدہ تجارت پر دستخط کرنے کے بعد احمدیوں کے ساتھ لین دین کی اجازت ملتی تھی۔ بلکہ ہر شخص کی شخصی جائیداد پر بھی ان کا تصرف تھا۔ اس ضمن میں ذیل کا اعلان پڑھئے۔

اعلان

”قبل ازیں میاں فضل حق موچی سکنہ دارالعلوم کے مکان کی نسبت اعلان کیا تھا کہ کوئی دوست نہ خریدیں۔ اب اس میں ترمیم کی جاتی ہے کہ اس کے مکان کا سودا رہن و بیع نظارت ہٰذا کے توسط سے ہو سکتا ہے۔“

(الفضل مورخہ ٨ اگست ١٩٣٧ء)

اب بھی ربوہ میں یہی صورتحال موجود ہے۔ جس شخص کا سوشل بائیکاٹ کیا جاتا ہے اس کے ساتھ لین دین کے تعلقات بھی منقطع کر دیئے جاتے ہیں۔ چنانچہ اس بارے میں خلیفہ کا بتوسط ناظر امور عامہ حکم سنئے۔

”یعنی میاں فخر الدین ملتانی، شیخ عبدالرحمن مصری اور حکیم عبدالعزیز۔ ان کے ساتھ اگر کسی دوست کا لین دین ہو تو نظارت ہٰذا کی وساطت سے طے کریں۔ کیونکہ ان کے ساتھ تعلقات رکھنے ممنوع ہیں۔“

(الفضل مورخہ ٧ جولائی ١٩٣٠ء)

سوشل بائیکاٹ کی مثالیں

پس خلیفہ ربوہ کا یہ عذر لنگ پیش کرنا کہ لین دین منع نہیں۔ صرف تعلقات منقطع کرنے سے مراد جزوی بائیکاٹ یعنی سلام کلام تک ہے۔ اس کی روشنی میں سراسر جھوٹ اور فریب ہے۔ سوشل بائیکاٹ میں صرف لین دین ہی منع نہیں بلکہ کسی سے کسی قسم کا تعلق رکھنا ، اس کے گھر جانا حتیٰ کہ رشتہ تک کرنا ممنوع ہے۔ اس ضمن میں یہ ارشاد ملاحظہ ہو:

”میں چوہدری عبداللطیف کو اس شرط پر معاف کرنے کو تیار ہوں کہ آئندہ اس کے مکان واقع نسبت روڈ پر وہ افراد نہ آئیں جن کا نام اخبار میں چھپ چکا ہے....... چوہدری عبداللطیف نے یقین دلایا کہ میں ذمہ لیتا ہوں کہ وہ آئندہ اس جگہ پر نہیں آئیں گے اور میں نے اس کو کہہ دیا ہے کہ جماعت لاہور ( قادیانی ) اس کی نگرانی کرے گی اور اگر اس نے پھر ان لوگوں سے تعلق رکھا یا اپنے مکان پر آنے دیا تو پھر اس کی معافی کو منسوخ کر دیا جائے گا۔“

(الفضل مورخہ ٢٢ نومبر ١٩٥٦ء)

اسی طرح خلیفہ صاحب نے اپنے ایک رشتہ دار ڈاکٹر علی اسلم کی بیگم امۃ السلام صاحبہ کا

٧١

صفحہ ٣٠١

سوشل بائیکاٹ کرتے ہوئے اپنی بہو کو جو امۃ السلام کی ہمشیرہ ہے یہ دھمکی دی تھی کہ: ”اب اگر تنویر بیگم جو میری بہو ہے الفضل میں اعلان نہ کرے کہ میرا اپنی بہن سے کوئی تعلق نہیں تو میں اس کے متعلق الفضل میں اعلان کرنے پر مجبور ہوں گا کہ لجنہ (قادیانی عورتوں کی انجمن) اس کو کوئی کام سپرد نہ کرے اور میرے خاندان کے وہ افراد جو مجھ سے تعلق رکھنا چاہتے ہیں اس سے تعلق نہ رکھیں۔“

(الفضل مورخہ ٢١؍ جون ١٩٥٧ء)

چنانچہ خلیفہ محمود کا یہ اعلان شائع ہونے کی دیر تھی۔ فوراً تنویر الاسلام نے سوشل بائیکاٹ کے ڈر سے اپنی بہن کے خلاف یہ اعلان الفضل میں شائع کرا دیا۔ ”ڈاکٹر سید علی اسلم صاحب (حال ساکن نیروبی) اور سیدہ امۃ الاسلام (بیگم ڈاکٹر علی اسلم) نے جماعت کے نظام کو توڑنے کی وجہ سے میرے رشتے کو بھی توڑ دیا ہے۔ لہٰذا آئندہ ان سے میرا کسی قسم کا تعلق نہ ہوگا۔“

(الفضل مورخہ ٢٥؍ جون ١٩٥٧ء)

یہ ہیں چند مثالیں سوشل بائیکاٹ وغیرہ کی جن کی طرف تمام ملکی اخبار اور جرائد نے ارباب بست و کشاد کی توجہ دلائی اور خصوصاً نوائے وقت نے بھی اس ریاست اندر ریاست کے کھیل کو ختم کرنے کا حکومت پر زور دیا۔ مگر یہ آواز بھی صدا بصحرا ثابت ہوئی۔ کیونکہ گورنمنٹ نے اس وقت تک اس ریاست کے بارے میں کوئی واضح اور ٹھوس قدم نہیں اٹھایا۔ ہم یہ بات واضح کر دینا ضروری خیال کرتے ہیں کہ خلیفہ ربوہ ہر اس آدمی کو شدید نقصان پہنچانے سے بھی گریز نہیں کرتا جو اس کے احکام کی تعمیل نہ کرے اور ان کی مخالفت کرے۔ چنانچہ انہی دنوں اسی سوشل بائیکاٹ پر عمل نہ کرنے کے سبب اور سوشل بائیکاٹ کئے گئے افراد کو اشیاء خورد و نوش مہیا کرنے کے جرم کی پاداش میں اللہ یار بلوچ پر قاتلانہ حملہ کیا گیا۔ جس کا مقدمہ چل رہا ہے۔

خلیفہ محمود کا دستور تھا کہ وہ اپنے مخالفین کے خلاف اپنے مریدوں کو ابھارتے ہیں۔ چنانچہ اس ضمن میں ان کی تقریر کا ایک اقتباس ملاحظہ ہو: ”اگر تم میں رائی کے دانہ کے برابر بھی حیا ہے اور تمہارا سچ مچ یہی عقیدہ ہے کہ دشمن کو سزا دینی چاہئے تو پھر یا تم دنیا سے مٹ جاؤ گے یا گالیاں دینے والے کو مٹا دو گے۔ اگر کوئی انسان سمجھتا ہے کہ اس میں مارنے کی طاقت ہے تو میں اسے کہوں گا۔ اے بے شرم! تو آگے کیوں نہیں جاتا۔ او! اس کے منہ کو کیوں نہیں توڑتا۔“

(الفضل مورخہ ٥؍ جون ١٩٣٧ء)

ان مذکورہ بالا امور کی طرف توجہ دلانے کے بعد گورنمنٹ کی توجہ ان بنیادی اجزاء اور عناصر کی طرف مبذول ہونی چاہئے جو ریاستوں اور حکومتوں میں پائے جاتے ہیں، اور جو ربوہ کی

٧٢

مصنوعی ریاست میں بدرجہ اتم موجود ہیں۔ چنانچہ وہ یہ ہیں۔ دارالحکومت اور بینک وغیرہ وغیرہ۔ اپنے انتظام کے بارے م جماعت کا نظام ایک مضبوط سے مضبوط گورنمنٹ کے نظام کا مقا

اب ہم بالتفصیل ان مذکورہ بالا امور کے بارے م ڈالیں گے۔ یہاں ایک اور بات کا ذکر کرنا نہایت ضروری ہے کے بارے میں ہے۔ مہاجرین جو قادیان میں جائیداد چھوڑ آ کرنے سے منع کر دیا ہے۔ جس کی وجہ سے لاکھوں روپے کے گورنمنٹ پاکستان کو اس وجہ سے لاکھوں روپے کے کلیم کم آ خلاف ورزی نہیں تھی۔

خلافتی حکومت کا تفصیلی

اب ہم ذیل میں ربوی مملکت کے اجزائے ترکیبی پر روشنی ڈالیں گے۔

سربراہ

”ریاست میں حکومت کے اس نیابتی فرد کا نام ہ نگرانی سپرد کرتے ہیں۔“

ربوہ کی اصطلاح میں جماعت کے سربراہ کو خلیفہ منزہ نہیں کہلا سکتا۔ لیکن احتساب سے بالا ضرور ہوتا ہے۔ ملاحظہ فرمائیے: ”جس مقام پر ان کو کھڑا کیا جاتا ہے اس کی م والے ٹھوکر سے بچ نہیں سکتے۔“

”مجھ پر سچا اعتراض کرنے والا خدا کی لعنت ۔ وبرباد کردے گا۔“

مقننہ (یعنی مجلس مشاورت)

مقننہ کو خلیفہ ربوہ کے نظام میں مجلس شوریٰ کہا جا کلیتاً خلیفہ کے ماتحت ہوتی ہے اور خلیفہ ربوہ کے نزدیک اس

٧٣

صفحہ ٣٠١

مصنوعی ریاست میں بدرجہ اتم موجود ہیں۔ چنانچہ وہ یہ ہیں۔ سربراہ، مقننہ، عدلیہ، انتظامیہ، فوج دارالحکومت اور بینک وغیرہ وغیرہ۔ اپنے انتظام کے بارے میں خلیفہ کا اپنا دعویٰ یہ ہے: ”ان کی جماعت کا نظام ایک مضبوط سے مضبوط گورنمنٹ کے نظام کا مقابلہ کر سکتا ہے۔“

(الفضل مورخہ ١١ جولائی ١٩٤٧ء)

اب ہم بالتفصیل ان مذکورہ بالا امور کے بارے میں اگلے باب میں علیحدہ علیحدہ روشنی ڈالیں گے۔ یہاں ایک اور بات کا ذکر کرنا نہایت ضروری ہے وہ قادیان میں چھوڑی ہوئی جائیداد کے بارے میں ہے۔ مہاجرین جو قادیان میں جائیداد چھوڑ آئے۔ ان کو خلیفہ ربوہ نے کلیم داخل کرنے سے منع کر دیا ہے۔ جس کی وجہ سے لاکھوں روپے کے کلیم احمدیوں نے داخل نہیں کئے اور گورنمنٹ پاکستان کو اس وجہ سے لاکھوں روپے کے کلیم کم آئے۔ کیا یہ گورنمنٹ کے حکم کی صریحاً خلاف ورزی نہیں تھی۔

خلافتی حکومت کا تفصیلی خاکہ

اب ہم ذیل میں ربوی مملکت کے اجزائے ترکیبی کے ہر جزو پر خلیفہ صاحب کی زبان سے روشنی ڈالیں گے۔

سربراہ

”ریاست میں حکومت کے اس نیابتی فرد کا نام ہے جس کو لوگ اپنے مشترکہ حقوق کی نگرانی سپرد کرتے ہیں۔“

(الفضل مورخہ ١٥ اکتوبر ١٩٣٦ء)

ربوہ کی اصطلاح میں جماعت کے سربراہ کو خلیفہ کہتے ہیں اور ایسا خلیفہ اگر چہ غلطی سے منزہ نہیں کہلا سکتا۔ لیکن احتساب سے بالا ضرور ہوتا ہے۔ خلیفہ ربوہ کے اپنے ارشادات گرامی ملاحظہ فرمائیے: ”جس مقام پر ان کو کھڑا کیا جاتا ہے اس کی عزت کی وجہ سے ان پر اعتراض کرنے والے ٹھوکر سے بچ نہیں سکتے۔“

(الفضل مورخہ ١٨ جون ١٩٤٦ء)

”مجھ پر سچا اعتراض کرنے والا خدا کی لعنت سے نہیں بچ سکتا اور خدا تعالیٰ اسے تباہ و برباد کر دے گا۔“

(الفضل مورخہ ٢٩ جولائی ١٩٢٨ء)

مقننہ (یعنی مجلس مشاورت)

مقننہ کو خلیفہ ربوہ کے نظام میں مجلس شوریٰ کہا جاتا ہے۔ یہ بھی دیگر محکمہ جات کی طرح کلیتاً خلیفہ کے ماتحت ہوتی ہے اور خلیفہ ربوہ کے نزدیک اس مجلس کی وہی پوزیشن ہے جو خلفائے

٧٣

صفحہ ٣٠٣

راشدین میں قائم شدہ مجلس شوریٰ کو حاصل تھی۔ اس مجلس کا کام ہے کہ ان امور میں مشورہ دے جن میں خلیفہ مشورہ طلب کرے۔ اس کا کوئی مشورہ جب تک خلیفہ منظوری نہ دے اور جاری نہ فرمائے۔ صدر انجمن کے لئے واجب التعمیل نہ ہوگا۔ اس کے علاوہ ہر محکمہ کی نگرانی خلیفہ ربوہ خود فرماتے ہیں۔ اس ضمن میں ان کا قول ملاحظہ ہو۔

”تمام محکموں پر خلیفہ کی نگرانی ہے۔“

(الفضل مورخہ ١٥ نومبر ١٩٣٠ء)

”اسے یہ حق ہے (یعنی خلیفہ کو) کہ جب چاہے جس امر میں چاہے مشورہ طلب کرے۔ لیکن اسے یہ بھی حق حاصل ہے کہ مشورہ لے کر رد کر دے۔“

(الفضل مورخہ ٢٧ اپریل ١٩٣٧ء)

مقننہ کے ممبروں کی تعداد معین نہیں۔ اس میں دو قسم کے نمائندے ہوتے ہیں۔ ایک وہ جو جماعتوں کی طرف سے آتے ہیں۔ لیکن ان کی منظوری بھی خلیفہ کی طرف سے ہوتی ہے۔ جماعت کے چنے ہوئے نمائندے خلیفہ رد کر سکتا ہے اور ان کو مقننہ میں شامل ہونے سے روک سکتا ہے۔ اس کے علاوہ خلیفہ خود جتنے افراد کو چاہے اپنی طرف سے مقننہ کا ممبر بنا سکتا ہے۔ مقننہ کے اس اجلاس میں کوئی شخص بغیر اجازت خلیفہ ایوان کو خطاب نہیں کر سکتا اور نہ ہی بغیر منظوری خلیفہ اس مجلس سے باہر جا سکتا ہے۔ اس ضمن میں خلیفہ کا ارشاد بغرض تصدیق پیش ہے۔

”پارلیمنٹوں میں وزراء کو وہ جھاڑیں پڑتی ہیں...... جن کی حد نہیں۔ یہاں تو میں روکنے والا ہوں۔ گالی گلوچ کو سپیکر روکتا ہے۔ سخت تنقید کو نہیں۔“

(الفضل مورخہ ٢٧ اپریل ١٩٣٨ء)

لیکن خلیفہ کو حق حاصل ہے کہ وہ جسے چاہے بولنے کا موقع دے اور جسے چاہے اس حق سے بالکل محروم کر دے۔

یہ مجلس صرف ایک دفعہ سال میں منعقد ہوتی ہے اور اس میں بحث وغیرہ کی منظوری کو اہمیت دی جاتی ہے۔ مگر بحث کی منظوری کے متعلق بھی خلیفہ صاحب کہہ دیا کرتے ہیں کہ بعد میں اس پر غور کر کے میں خود ہی دے دوں گا۔ یعنی اس مقننہ کو اصل میں کوئی اختیار نہیں۔

انتظامیہ

اس کے بعد ہم خلیفہ کی انتظامیہ کے بارے میں کچھ عرض خدمت کریں گے۔ بہتر معلوم ہوتا ہے کہ ہم اس ضمن میں خلیفہ کے ارشادات ہی نقل کر دیں۔ جس میں اس انتظامیہ کی ضرورت اور ماہیت کا اجمالی نقشہ موجود ہے۔ خلیفہ صاحب فرماتے ہیں: ”تیسری بات تنظیم کے لئے یہ ضروری ہوگی کہ اس کے مرکزی کام کو مختلف ڈیپارٹمنٹوں میں اس طرح تقسیم کیا جائے جس

٧٤

طرح گورنروں کے محکمے ہوتے ہیں۔ سیکرٹری شپ کا طریقہ ایک صیغہ کا ایک انچارج ہو۔“

خلیفہ کی اس انتظامیہ کو جسے صدر انجمن احمدیہ کے ہاں ہر ایسے وزیر کو ناظر کہا جاتا ہے۔ ایسے ناظران کی نا ہاتھ میں ہے۔ ملاحظہ ہو ارشاد گرامی: ”ناظر ہمیشہ میں نامزد کر یہ انتظامیہ اپنے سارے کام خلیفہ کی قائم مقا اپیل خلیفہ سنتا ہے اور اس کے لئے خلیفہ کا حکم قطعی اور ناطق کے بغیر تبدیل نہیں کر سکتی اور اس کے فیصلوں کی تمام تر انتظامیہ خلیفہ کی نمائندہ ہوتی ہے۔ ”صدر انجمن جو کچھ کر لئے خلیفہ بھی اس کا ذمہ دار ہے۔“

لیکن اس انتظامیہ کو بھی خلیفہ کی برائے نام نما ایک آمر مطلق ہے۔ خود خلیفہ کا اعلان : ”ناظر یعنی (وزراء میں رکاوٹیں پیدا کی جا رہی ہیں۔“

صدر انجمن احمدیہ

ہر صوبہ میں ایک انجمن ہوتی ہے۔ یہ انجمن ضل ضلع کی انجمن تحصیلوں کی انجمنوں پر مشتمل ہوتی ہے۔ ا کے مشورہ کے بعد کرتی ہے۔

اغراض

اس انجمن کے اغراض میں وہ سب کام شامل جاتے ہیں یا آئندہ کئے جائیں۔

اراکین

تمام صیغہ جات سلسلہ کے ناظر اور تمام اصحا انجمن کا زائد ممبر مقرر کیا جائے۔

ناظر سے مراد سلسلہ کے ہر مرکزی صیغہ کا وہ نام سے مقرر کیا ہے۔

٧٥

صفحہ ٣٠٣

طرح گورنمنٹوں کے محکمے ہوتے ہیں۔ سیکرٹری شپ کا طریق نہ ہو۔ بلکہ وزراء کا طریق ہو اور ہر ایک صیغہ کا ایک انچارج ہو۔“

(الفضل مورخہ ١٨؍ جولائی ١٩٢٥ء)

خلیفہ کی اس انتظامیہ کو جسے صدر انجمن احمدیہ قادیان کی اصطلاح میں نظارت کہا جاتا ہے ان کے ہاں ہر ایسے وزیر کو ناظر کہا جاتا ہے۔ ایسے ناظران کی نامزدگی، عزل، ترقی یا تنزل خلیفہ کے اپنے ہاتھ میں ہے۔ ملاحظہ ہو ارشاد گرامی: ”ناظر ہمیشہ میں نامزد کرتا ہوں ۔“

(الفضل ٢٣ اگست ١٩٣٧ء)

یہ انتظامیہ اپنے سارے کام خلیفہ کی قائم مقامی میں کرتی ہے۔ اس کے ہر فیصلہ کی اپیل خلیفہ سنتا ہے اور اس کے لئے خلیفہ کا حکم قطعی اور ناطق ہوتا ہے۔ یہ اپنے قواعد خلیفہ کی منظوری کے بغیر تبدیل نہیں کر سکتی اور اس کے فیصلوں کی تمام تر ذمہ داری خلیفہ پر ہوتی ہے۔ کیونکہ یہ انتظامیہ خلیفہ کی نمائندہ ہوتی ہے۔ ”صدر انجمن جو کچھ کرتی ہے چونکہ وہ خلیفہ کے ماتحت ہے اس لئے خلیفہ بھی اس کا ذمہ دار ہے۔“

(الفضل مورخہ ٢٣؍ اپریل ١٩٢٨ء)

لیکن اس انتظامیہ کو بھی خلیفہ کی برائے نام نمائندگی کا حق ہے۔ عملاً خلیفہ کی حیثیت ایک آمر مطلق ہے۔ خود خلیفہ کا اعلان: ”ناظر یعنی (وزراء) بعض دفعہ چلا اٹھتے ہیں کہ ہمارے کام میں رکاوٹیں پیدا کی جا رہی ہیں۔“

(الفضل مورخہ ٢٧؍ اپریل ١٩٣٨ء)

صدر انجمن احمدیہ

ہر صوبہ میں ایک انجمن ہوتی ہے۔ یہ انجمن ضلعوں کی انجمنوں پر مشتمل ہوتی ہے۔ ہر ضلع کی انجمن تحصیلوں کی انجمنوں پر مشتمل ہوتی ہے۔ ان کی حد بندی صدر انجمن متعلقہ انجمنوں کے مشورہ کے بعد کرتی ہے۔

(الفضل مورخہ ٢؍ اگست ١٩٢٩ء)

اغراض

اس انجمن کے اغراض میں وہ سب کام شامل ہیں جو خلفاء سلسلہ کی طرف سے سپرد کئے جاتے ہیں یا آئندہ کئے جائیں۔

اراکین

تمام صیغہ جات سلسلہ کے ناظر اور تمام اصحاب جنہیں خلیفہ وقت کی طرف سے صدر انجمن کا زائد ممبر مقرر کیا جائے۔

ناظر سے مراد سلسلہ کے ہر مرکزی صیغہ کا وہ افسر اعلیٰ ہے جسے خلیفہ وقت نے ناظر کے نام سے مقرر کیا ہے۔

٧٥

صفحہ ٣٠٤

تقرر یا علیحدگی ممبران صدر انجمن

خلیفہ وقت کی ہدایت کے ماتحت ممبران صدر انجمن کا تقرر اور علیحدگی عمل میں آتی ہے۔

اندرونی انتظام

صدر انجمن کے فیصلے کثرت رائے سے ہوتے ہیں۔ لیکن ان کا صدر ان کو ویٹو کر سکتا ہے۔ اس انجمن کے صدر خلیفہ کی زندگی میں ان کے بڑے بیٹے مرزا ناصر احمد پرنسپل ٹی آئی کالج ربوہ تھے۔ اس وقت ربوہ میں صدر انجمن احمدیہ کی جو نظارتیں (وزارتیں) قائم ہیں ان کا ایک خاکہ درج ذیل ہے۔

عمومی نگرانی ہوگی اور وہ خلیفہ اور صدر انجمن احمدیہ یعنی کابینہ کے درمیان واسطہ ہوگا۔

اور حکومت سے روابط قائم کرنا اس محکمہ کا کام ہے)

ملک کاروائیاں اور سیاسی گٹھ جوڑ)

حفاظت کا بندوبست)

اختیارات و فرائض ناظران

ناظران کے اختیارات و فرائض وقتاً فوقتاً خلیفہ کی طرف سے تفویض ہوتے رہتے

٧٦

ہیں ۔ ناظروں کی تعداد خلیفہ کی طرف سے مقرر خلیفہ کی طرف سے تفویض ہیں۔ جنہیں وہ خلیفہ مجالس خواہ مرکزی ہوں یا مقامی ۔ قواعد کا نفاذ منظوری سے طے اور اس کی منظوری سے جاری ہ صدر انجمن خلیفہ کے پاس اپیل ہوتی ہے۔ ہر ایک تمام مقامی انجمنوں کے لئے حکم قطعی اور ناطق ہ تغیر و تبدیل صرف خلیفہ کی منظوری سے ہوسکتا ۔ ہوں، صدر انجمن تبدیلی نہیں کر سکتی۔ صدر انجمن جاری کرے جو خلیفہ کے کسی حکم کے خلاف ہو یا آتی ہو ۔ ناظروں اور مفتی کا سلسلہ تقرر و ترقی ہے۔ صدر انجمن کو سلسلہ کی جائیداد غیر منقولہ کا کوئی اختیار نہیں اور خلیفہ خود ہی ناظر اعلیٰ صیغہ جات کے کام کی ہفتہ وار رپورٹ خلیفہ کو ہے کہ خلیفہ کی تحریری و تقریری ہدایات کے علا و ہدایات جماعت کے نظام کے متعلق ہوں ان ناظر بحیثیت ناظر کسی جگہ جائے تو جماعت کا ف اعزاز کرے۔ (مذکورہ بالا تمام کوائف قواعد صد

عدلیہ

انتظامیہ کے علاوہ خلیفہ صاحب عدالت ہے اور خود ہی ناظم قضایا رجسٹرار مقرر میں ہے ۔ ربوی سپریم کورٹ کے جج یا اپیل جس مرحلہ پر چاہے مقدمہ کی نقل اپنے ملاحظہ سننے کا نااہل قرار دے۔ ایسے مقدمات میں اجازت نامہ دیا جاتا ہے۔ اس کے بغیر خلیفہ کے باوجود پیش ہونے کا حق نہیں۔ خلیفہ کا ح ہے اور فیصلوں کی نقول مہیا کرنے پر جو آم

صفحہ ٣٠٥

ہیں ۔ ناظروں کی تعداد خلیفہ کی طرف سے مقرر ہوتی ہے۔ صدر انجمن کے تمام فرائض وہی ہیں جو خلیفہ کی طرف سے تفویض ہیں۔ جنہیں وہ خلیفہ کی قائم مقامی کے طور پر ادا کرتی ہے۔ تمام ماتحت مجالس خواہ مرکزی ہوں یا مقامی۔ قواعد کا نفاذ خلیفہ کی منظوری کے بعد ہوتا ہے۔ بجٹ خلیفہ کی منظوری سے طے اور اس کی منظوری سے جاری ہوتا ہے۔ صدر انجمن کے ہر فیصلے کے خلاف بتوسط صدر انجمن خلیفہ کے پاس اپیل ہوتی ہے۔ ہر ایک معاملہ میں صدر انجمن کا اس کی ماتحت مجالس اور تمام مقامی انجمنوں کے لئے حکم قطعی اور ناطق ہوتا ہے۔ قواعد اساسی اور ان کے متعلق نوٹوں میں تغیر و تبدیل صرف خلیفہ کی منظوری سے ہو سکتا ہے۔ اپنے قواعد وضوابط میں جو خلیفہ نے تجویز کئے ہوں، صدر انجمن تبدیلی نہیں کر سکتی۔ صدر انجمن کو یہ اختیار حاصل نہیں کہ وہ کوئی ایسا قاعدہ یا حکم جاری کرے جو خلیفہ کے کسی حکم کے خلاف ہو یا جس سے خلیفہ کی مقرر کردہ پالیسی میں کوئی تبدیلی آتی ہو۔ ناظروں اور مفتی کا سلسلہ تقرر و ترقی و تنزل و برطرفی وغیرہ صرف خلیفہ کے اختیار میں ہے۔ صدر انجمن کو سلسلہ کی جائیداد غیر منقولہ کی فروخت ہبہ، رہن و تبدیل کرنے کا بغیر منظوری خلیفہ ربوہ اختیار نہیں اور خلیفہ ربوہ ہی ناظر اعلیٰ کا قائم مقام مقرر کرتا ہے۔ ناظران اور افسران صیغہ جات کے کام کی ہفتہ وار رپورٹ خلیفہ ربوہ کی خدمت میں پیش کرے۔ ناظر اعلیٰ کا یہ فرض ہے کہ خلیفہ کی تحریری و تقریری ہدایات کے علاوہ ان کے تمام خطبات و تقاریر وغیرہ میں جو احکام و ہدایات جماعت کے نظام کے متعلق ہوں ان کی تعمیل کروائے۔ اسی طرح قاعدہ ہے کہ جب کوئی ناظر بحیثیت ناظر کسی جگہ جائے تو جماعت کا فرض ہے کہ اس کا استقبال کرے اور اس کا مناسب اعزاز کرے۔ (مذکورہ بالا تمام کوائف قواعد صدر انجمن طبع شدہ سے لئے گئے ہیں)

عدلیہ

انتظامیہ کے علاوہ خلیفہ صاحب کے ہاں ایک مربوط عدلیہ بھی ہے۔ خلیفہ خود آخری عدالت ہے اور خود ہی ناظم قضا یا رجسٹرار مقرر کرتا ہے اور اس کا عزل اور ترقی بھی خود اس کے ہاتھ میں ہے۔ ربوہ سپریم کورٹ کے جج یا اپیل بورڈ کے ممبران کی نامزدگی بھی خلیفہ خود کرتا ہے اور وہ جس مرحلہ پر چاہے مقدمہ کی نقل اپنے ملاحظہ کے لئے طلب کر لیتا ہے اور جس جج کو چاہے مقدمہ سننے کا نااہل قرار دے۔ ایسے مقدمات میں جو وکیل پیش ہوتے ہیں انہیں ناظم ہذا سے باقاعدہ اجازت نامہ دیا جاتا ہے۔ اس کے بغیر خلیفہ کی عدالتوں میں کسی وکیل کو حکومت کے اجازت نامہ کے باوجود پیش ہونے کا حق نہیں۔ خلیفہ کا یہی ناظم قضا یا رجسٹرار مقدمہ مختلف قاضیوں کے سپرد کرتا ہے اور فیصلوں کی نقول مہیا کرنے پر جو آمدنی ہوتی ہے اس کو داخل خزانہ کرنے کا بھی ذمہ دار

٧٧

صفحہ ٣٠٦

ہے۔ سلسلہ احمدیہ کے فرائض دربارہ قضاء اور فیصلہ تنازعات کی ادائیگی کے لئے یہی محکمہ قضا ہے۔ اس میں ناظم قضا کا یہ کام بھی ہوتا ہے کہ احمدیوں کے تنازعات کے فیصلوں کے لئے مناسب انتظام کرے۔ اس کو حسب ضرورت خلیفہ کے ایماء سے قاضی اور قاضی القضاۃ مقرر کرنے کا اختیار ہے۔ آخری اپیل خلیفہ کے پاس ہوتی ہے۔

(الفضل مورخہ ٦ جنوری ١٩٢١ء)

قاضی سلسلہ سمن جاری کرنے کا مجاز ہے۔ نوٹس بھی دیتا ہے۔ ڈگریوں کا اجراء بھی کرایا جاتا ہے۔ یک طرفہ اور ضابطہ کی کارروائیاں بھی یہاں ہوتی ہیں۔ مثال ملاحظہ ہو:

نوٹس: بنام شیخ منظور احمد۔ مدعی: مستری بدرالدین معمار ساکن قادیان۔ بنام: شیخ منظور احمد ولد شیخ محمد حسین مرحوم۔ دعویٰ: اجراء ڈگری مبلغ ٢ روپے۔

مقدمہ مندرجہ عنوان میں محکمہ قضاء نے مورخہ ٤ اگست ١٩٣٣ء کو یک طرفہ ڈگری ٢ روپے کی دی تھی۔ مدعی نے امور عامہ میں اجراء ڈگری کی درخواست ١٤ اگست ١٩٣٣ء کو دی۔ لہٰذا آپ کو بذریعہ اخبار نوٹس دیا جاتا ہے کہ مندرجہ بالا ٢٣ نومبر ١٩٣٣ء تک دفتر امور عامہ میں جمع کراویں تو بہتر ورنہ آپ کے خلاف ضابطہ کی کارروائی عمل میں لائی جاوے گی۔

(الفضل مورخہ ١٩ نومبر ١٩٣٣ء)

اب سمن کے بارے میں سنئے: ”ملک عبدالحمید صاحب ولد غلام حسین صاحب محلہ دارالرحمٰن قادیان کے خلاف چند مقدمات برائے ڈگری دائر ہیں۔ کئی دفعہ ان کے نام علیحدہ علیحدہ مقدمات میں سمن جاری کئے گئے ہیں۔ مگر وہ تعمیل سے پہلو تہی کرتے ہیں۔ چنانچہ یکم نومبر ١٩٣٣ء کو ایک سمن اگلے روز کی حاضری کے لئے جاری کیا گیا۔ اس پر ملک عبدالحمید نے عذر کیا میں ١٥ یوم کے لئے باہر جا رہا ہوں۔ لہٰذا مجبور ہوں۔ اس پر اسی وقت ان کو اطلاع بھیجی گئی کہ آپ کو اس سمن کی اطلاع یابی کے بعد باہر جانے کی اجازت نہیں۔ بلکہ اس سمن کی تعمیل واجب ہے۔ اگر واقعی آپ کو کوئی اتنا اشد ضروری کام ہے جو رک نہیں سکتا تو آپ کو لازم ہے کہ درخواست پیش کر کے عدم حاضری کی اجازت حاصل کریں۔ لہٰذا ان کو بذریعہ اخبار اطلاع دی جاتی ہے کہ اگر وہ اس اعلان کی تاریخ سے دس روز کے اندر اندر دفتر امور عامہ میں حاضر نہ ہوئے تو سخت نوٹس لیا جائے گا۔“

(ناظر امور عامہ)

(الفضل مورخہ ٩ دسمبر ١٩٣٣ء)

٧٨

صفحہ ٣٠٧

خلیفہ کا عسکری نظام

اپنی مزعومہ ریاست کی فوجی ضروریات کی تکمیل کا ابتدائی بندوبست تو خلیفہ نے یہ کیا کہ ایک رؤیا کا سہارا لے کر جماعت کو یہ تلقین کی کہ ٹریٹوریل فوج میں بھرتی جماعت کے لئے نہایت ضروری اور مفید ہے اور مجھے اللہ تعالیٰ نے بتایا ہے کہ یہ کام آئندہ جماعت کے لئے بابرکت ہوگا۔

(الفضل مورخہ ١٨؍ اکتوبر ١٩٣٨ء)

بار بار جماعت کے نوجوان طبقہ کو یہ بھی تحریک کی جاتی تھی: ”احمدی نوجوانوں کو چاہیے کہ ان میں سے جو بھی شہری ٹیری ٹوریل فورس میں شامل ہو سکتے ہیں، شامل ہو کر فوجی تربیت حاصل کریں۔“

(الفضل مورخہ ٨؍ مارچ ١٩٣٩ء)

اس کے بعد اپنی مستقل فوجی تنظیم ضروری قرار دی۔ ”جیسا کہ پہلے اعلان کیا جا چکا ہے۔ یکم ستمبر ١٩٣٨ء سے قادیان میں فوجی تربیت کے لئے ایک کلاس کھولی جائے گی جس میں بیرونی جماعتوں کے نوجوانوں کی شمولیت نہایت ضروری ہے۔ ہندوستان میں حالات جس سرعت کے ساتھ تغیر پذیر ہورہے ہیں، ان کا تقاضا یہ ہے کہ مسلمان جلد از جلد اپنی فوجی تنظیم کی طرف متوجہ ہوں اور خاص کر جماعت احمدیہ ایک لمحہ کے لئے بھی اس میں توقف نہ کرے اور یہ اس طرح ممکن ہے کہ ہر مقام کے نوجوان پہلے خود فوجی تربیت لیں۔ پھر اپنے اپنے مقام پر دوسرے نوجوانوں کو تربیت دیں اور ان کی ایسی تنظیمیں کریں کہ ضرورت کے وقت مفید ثابت ہو سکیں۔“

(الفضل مورخہ ١٧؍ اگست ١٩٣٨ء)

”صدر انجمن نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ انجمن کے تمام کارکن والنٹیر کور کے ممبر ہوں گے اور مہینہ میں کم از کم ایک دن اپنے فرائض منصبی کور کی وردی میں ادا کریں گے۔ نیز بیرونی جماعتوں کے امراء و پریذیڈنٹ بحیثیت عہدہ مقامی کور کے افسر اعلیٰ ہوں گے۔ جہاں کور کے ایک سے تین دستے ہوں گے جن میں سے ہر ایک سات آدمیوں پر مشتمل ہوگا۔ وہاں ہر دستہ کا ایک افسر دستہ مقرر ہوگا اور جہاں چار دستے ہوں گے وہاں ایک پلٹون گنی جائے گی۔ جن پر ایک افسر دستہ کے علاوہ ایک افسر پلٹون بھی ہوگا اور ایک نائب افسر پلٹون مقرر کیا جائے گا۔ جہاں چار پلٹونیں ہوں گی وہاں پر پلٹون کے مذکورہ بالا افسروں کے علاوہ ایک افسر کمپنی اور ایک نائب افسر کمپنی بنا دیا جائے گا۔ حضرت امیر المومنین نے احمدیہ کور اپنی سرپرستی کے فخر سے سرفراز کرنا بھی منظور فرمالیا ہے۔“

(الفضل مورخہ ١٧؍ اگست ١٩٣٨ء)

٧٩

صفحہ ٣٠٨

”یکم ستمبر صبح سات بجے تعلیم الاسلام ہائی سکول کی گراؤنڈ میں احمدیہ کور ٹریننگ کلاس کا آغاز زیر نگرانی حضرت صاحبزادہ کیپٹن مرزا شریف احمد ہوا۔“

(الفضل مورخہ یکم ستمبر ١٩٣٢ء)

”یہ فوج علاوہ دوسرے کاموں کے اپنے سربراہ کی سلامی بھی اتارا کرتی تھی۔ چنانچہ ایک دفعہ مرزا شریف احمد ناظم احمدیہ کور کو بذریعہ تار خبر موصول ہوئی کہ خلیفہ یکم؍ اکتوبر ١٩٣٢ء صبح دس بجے یا تین بجے بعد دوپہر تشریف فرمائے دارالامان ہوں گے۔ احمدیہ کور کارکنان صدر انجمن احمدیہ اور بہت سے دیگر افراد حسب الحکم حضرت میاں شریف احمد کور کی وردی میں ملبوس ہو کر ہائی سکول کی گراؤنڈ میں جمع ہو گئے۔ جہاں سے مارچ کراکر بٹالہ والی سڑک پر کھڑے کر دیئے گئے۔ خلیفہ آئے فوج نے فوجی طریقہ پر سلامی اتاری۔ حضور نے ہاتھ کے اشارے سے فوجی سلام کا جواب دیا۔“

(الفضل مورخہ ٤ اکتوبر ١٩٣٢ء)

اس فوج کا اپنا ایک جھنڈا بھی تھا جو سبز رنگ کے کپڑے کا تھا اور اس پر منارۃ المسیح بنا کر ایک طرف اللہ اکبر اور دوسری طرف عباد اللہ لکھا ہوا تھا۔ جو اس فوج کا اصلی نام تھا۔ یہی وہ فوج تھی جو Coup وغیرہ کرنے دریائے بیاس کے کنارے بھی بھیجی گئی تھی۔

(الفضل مورخہ ١٤ ستمبر ١٩٣٣ء)

یاد رہے دریائے بیاس کا ہی وہ رنگین اور پر بہار کنارہ تھا جہاں خلیفہ صاحب اپنی مستورات اور دیگر ممبران صنف نازک کو لے جا کر چاند ماری کی مشق کرایا کرتے تھے۔

جبری بھرتی

اس فوج کے لئے خلیفہ صاحب نے جبری بھرتی کا اصول اختیار فرمایا تھا۔ میں ایک دفعہ امورِ عامہ کو توجہ دلاتا ہوں...... کہ میرا فیصلہ یہ ہے کہ پندرہ سال کی عمر سے لے کر پینتیس سال کی عمر تک کے تمام نوجوانوں کو اس میں جبری طور پر بھرتی کیا جائے۔

(الفضل ١٥ اکتوبر ١٩٣٢ء)

”ابتداء میں ناظر صاحب امورِ عامہ نے اس فوج کی کمان سنبھالی تھی۔ لیکن جلد ہی خلیفہ کی بارگاہ سے اس بارے میں سرزنش آ گئی۔ کمانڈر انچیف اور وزارت کا عہدہ کبھی بھی اکٹھا نہیں ہوا۔“

(الفضل مورخہ ٥ اپریل ١٩٣٣ء)

اس فوجی تنظیم کے بر وقت قیام پر خلیفہ کو اتنا ناز تھا کہ سرکاری گزٹ الفضل نے ایک موقعہ پر لکھا کہ: ”حضور نے احمدیہ کور کی سکیم آج سے تقریباً پانچ سال پہلے تجویز فرمائی تھی۔ اس کی اہمیت اور افادیت کا اندازہ اس سے ہو سکتا ہے کہ عام اقوام تو الگ ہیں۔ اس وقت بعض بڑی

٨٠

بڑی حکومتیں بھی اپنی قوتِ رفعت میں اضافہ اس تحریک کے اجزاء ہیں۔“

اگر قادیانی خلافت کا مقصد محض اور اشاعتی ادارے قائم ہوتے نہ کہ اس فوراً عسکری نظام قائم کیا جاتا۔ اصل میں خلیفہ رہی تھیں۔ اشاعتِ اسلام کا نعرہ محض دھو وصول کرنے کا اور کوئی طریق نہ تھا۔ اسلام صرف ہو جاتا تھا۔ یہ طرزِ عمل نہ صرف ان کی منصوبوں کو بھی طشت از بام کرتا ہے۔ اپنے کی گئی۔ اس کا باقاعدہ ایک پرچم بنایا گیا الاحمدیہ میں داخل ہونا اور اس کے مقررہ قواع

میں نے (محمود) ان ہی مقاص تیار کرنے کی اجازت دی تھی۔ پھر جس ق حیثیت سے ہوں ان کی فہرستیں تیار کروائی اسی طرح جماعت کو یہ حکم دیا لائسنس حاصل کریں اور جہاں تلوار رکھنے

خلیفہ کی خود ساختہ فوجی تنظیم

”فوجی تنظیم تھی۔ برصغیر کا ہر احمدی باشندہ ٹیری ٹوریل فورس میں انگریزی حکومت رجمنٹ میں احمدی کمپنیوں کا ہونا اور تمام کے لئے تھا۔ سندھ میں حر تحریک کو احم گیا۔ تقسیم ملک کے بعد سیالکوٹ، جھول

صفحہ ٣٠٩

بڑی حکومتیں بھی اپنی قوت مدافعت میں اضافہ کرنے کے لئے بعض ایسے احکام نافذ کر رہی ہیں جو اس تحریک کے اجزاء ہیں۔

(الفضل مورخہ ١٢/ اگست ١٩٣٩ء)

اگر قادیانی خلافت کا مقصد محض اشاعت مذہب تھا تو اس مقصد کے لئے تصنیفی، تالیفی اور اشاعتی ادارے قائم ہوتے نہ کہ اس فوجی تربیت پر زور دیا جاتا اور اس کے لئے ایک باقاعدہ عسکری نظام قائم کیا جاتا۔ اصل میں خلیفہ کے لاشعور میں بادشاہ بننے کی آرزوئیں انگڑائیاں لے رہی تھیں۔ اشاعت اسلام کا نعرہ محض دھوکے کی ٹٹی تھی۔ کیونکہ قادیانی عوام کالانعام سے روپیہ وصول کرنے کا اور کوئی طریق نہ تھا۔ اسلام کے نام پر وصول کیا ہوا روپیہ ہوس اقتدار کی تسکین پر صرف ہو جاتا تھا۔ یہ طرز عمل نہ صرف ان کی نیت اور ارادے کی غمازی کرتا ہے۔ بلکہ ان کے سیاسی منصوبوں کو بھی طشت از بام کرتا ہے۔ اپنے عسکری مقاصد کے حصول کے لئے خدام الاحمدیہ قائم کی گئی۔ اس کا باقاعدہ ایک پرچم بنایا گیا۔ اس کے متعلق خلیفہ صاحب فرماتے ہیں: ”خدام الاحمدیہ میں داخل ہونا اور اس کے مقررہ قواعد کے ماتحت کام کرنا ایک اسلامی فوج تیار کرنا ہے۔“

(الفضل مورخہ ٧/اپریل ١٩٣٩ء)

میں نے (محمود) ان ہی مقاصد کے لئے جو خدام الاحمدیہ کے ہیں، نیشنل لیگ کو تیار کرنے کی اجازت دی تھی۔ پھر جس قدر احمدی برادران کسی فوج میں ملازم ہیں۔ خواہ وہ کسی حیثیت سے ہوں ان کی فہرستیں تیار کروائی جائیں۔

(الفضل مورخہ ١٠/اپریل ١٩٣٨ء)

اسی طرح جماعت کو یہ حکم دیا کہ: ”جو احباب بندوق کا لائسنس حاصل کر سکتے ہیں وہ لائسنس حاصل کریں اور جہاں تلوار رکھنے کی اجازت ہے، وہ تلوار رکھیں۔“

(الفضل مورخہ ٢٢/جولائی ١٩٣٠ء)

خلیفہ کی خود ساختہ فوجی تنظیم

امن پسندانہ اشاعت اسلام کی دعویدار جماعت کی قادیان میں احمدیہ کور ایک خالص ”فوجی تنظیم تھی۔ ہر بالغ احمدی باشندہ عمر ١٥/سال سے ٤٠/سال تک اس کا جبری ممبر بنایا گیا۔ ٹیری ٹوریل فورس میں انگریزی حکومت کی طرف سے فوجی تربیت سکھلائے۔ پھر ٨/١٥ پنجاب رجمنٹ میں احمدی کمپنیوں کا ہونا اور تمام احمدی جوانوں کو فوج میں بھرتی ہو جانے کا حکم کن مقاصد کے لئے تھا۔ سندھ میں حر تحریک کو احمدیہ کمپنیوں کے فوجیوں کے گولہ بارود سے ہی کیوں کچل دیا گیا۔ تقسیم ملک کے بعد سیالکوٹ، جموں سرحد پر ان ہی احمدی کمپنیوں کے ریلیز شدہ سپاہی منظم

٨١

صفحہ ٣١٠

طور پر کیوں پہنچ گئے اور ان کو دھڑا دھڑ اسلحہ کہاں سے ملتا رہا۔ فرقان فورس احمدیوں کی فوج کشمیر میں کیوں کھڑی کی گئی اور خلیفہ نے اپنی جماعت کی فوجی تنظیم اور محاذ جنگ کا خود ملاحظہ کیوں کیا؟ اس فوج کو استعمال کرنے کے لئے خلیفہ کا حکم : ”انڈین یونین کا مقابلہ کوئی آسان بات نہیں۔ مگر انڈین یونین چاہے صلح سے ہمارا مرکز ہمیں دے چاہے جنگ سے دے، ہم نے وہ مقام لینا ہے اور ضرور لینا ہے۔ اگر جنگ کے ساتھ ہمارے مرکز کی واپسی مقدر ہے۔ تب بھی ضروری ہے کہ آج ہی سے ہر احمدی جان قربان کرنے کے لئے تیار رہے۔“

(الفضل مورخہ ٣٠؍ اپریل ١٩٤٨ء)

اب اس اقتباس کو ملاحظہ فرمائیے کہ کس طرح خلیفہ ربوہ انڈین یونین جو ایک بہت بڑی حکومت ہے، اس کے ساتھ جنگ کرنے کو تیار ہو رہے ہیں۔ نیز کسی حکومت کی بنیادی عناصر سے اس کے Base مرکز اور دارالخلافہ کا مسئلہ بھی ہے اور خلیفہ نے ١٣؍ اگست ١٩٤٨ء کو جب کہ پاکستان قائم ہوئے ابھی سال بھی نہ گزرا تھا اپنے عزائم حشریہ پر ایک ہیجان خیز خطبہ دیا اور فرمایا: ”یاد رکھو تبلیغ اس وقت تک کامیاب نہیں ہو سکتی جب تک ہمارا Base مضبوط نہ ہو۔ پہلے Base مضبوط ہو تو تبلیغ مضبوط ہو سکتی ہے...... بلوچستان کو احمدی بنایا جائے تا کہ ہم کم از کم ایک صوبہ کو تو اپنا سکیں ...... میں جانتا ہوں کہ اب یہ صوبہ ہمارے ہاتھوں میں سے نکل نہیں سکتا۔ یہ ہمارا ہی شکار ہوگا۔ دنیا کی ساری قومیں مل کر بھی ہم سے یہ علاقہ چھین نہیں سکتیں۔“

(الفضل مورخہ ١٣؍ اگست ١٩٤٨ء)

ضلع گورداسپور کی تسخیر خلافتی منصوبہ

یہ واقعہ اخبارات میں آچکا ہے۔ لیکن بہت کم لوگ اس حقیقت سے آگاہ ہوں گے کہ خلیفہ کا یہ عسکری پلان بہت پرانا ہے۔ تقسیم ملک سے پہلے آپ کی نظر ضلع گورداسپور پر تھی۔ یہ داستان خلیفہ کی زبان سے سنئے : ”گورداسپور کے متعلق میں نے غور کیا ہے۔ اگر ہم پورے زور سے کام کریں تو ایک سال میں فتح کر سکتے ہیں ...... اس وقت ڈائنا میٹ رکھا جاچکا ہے اور قریب ہے کہ مخالفت کا قلعہ اڑا دیا جائے۔ اب صرف دیا سلائی دکھانے کی دیر ہے۔ جب دیا سلائی دکھائی گئی تو قلعہ کی دیوار پھٹ جائے گی اور ہم داخل ہو جائیں گے۔“

(الفضل مورخہ ١٢؍ مارچ ١٩٣١ء)

پھر فرماتے ہیں : ”مردم شماری کے دنوں میں گورنمنٹ بھی جبراً لوگوں کو اس کام پر لگا

٨٤

صفحہ ٣١١

سکتی ہے۔ اگر کوئی انکار کرے تو سزا کا مستوجب ہوتا ہے۔ پس میں بھی ناظروں کو حکم دیتا ہوں کہ جسے چاہیں مدد کے لئے پکڑ لیں۔ مگر کسی کو انکار کا حق نہ ہوگا اور اگر کوئی انکار کرے تو میرے پاس اس کی رپورٹ کریں۔

(الفضل مورخہ ١٢؍ جون ١٩٣٢ء)

انہی مقاصد کے پیش نظر قادیان اور ماحول قادیان کا نقشہ بھی تیار کروایا گیا۔ ”ایک تو جماعت کو اس طرف توجہ دلاتا ہوں کہ اور نہیں تو اس ضلع (گورداسپور) کو تو اپنا ہم خیال بنالیں۔ احمدیوں کے پاس کوئی ایسی جگہ نہیں جہاں وہ ہی ہوں اور دوسروں کا کچھ اثر نہ ہو ...... احمدیوں کے پاس ایک چھوٹے سے چھوٹا ٹکڑا بھی نہیں ہے۔ جہاں احمدی ہی احمدی ہوں۔ کم از کم ایک علاقہ تو مرکز بنا لو اور جب تک اپنا مرکز نہ ہو جس میں کوئی غیر نہ ہو۔ اس وقت تک تم مطلب کے مطابق امور جاری نہیں کر سکتے۔ ایسا علاقہ اس وقت تک ہمیں نصیب نہ ہوگا جو خواہ چھوٹے سے چھوٹا ہو، مگر اس میں غیر نہ ہوں۔ جب تک یہ نہ ہو اس وقت تک ہمارا کام بہت مشکل ہے۔“

(الفضل مورخہ ١٢؍ جون ١٩٣٢ء)

صدر مقام کی جستجو

یہ ہے وہ کام جو خلیفہ کے ذہن پر مسلط ہے۔ کیا خالص دینی مہمات کی سرانجام دہی کے لئے ان کو ایسے علاقے مطلوب ہیں خواہ بڑے پیمانے پر خواہ چھوٹے پیمانے پر۔ کچھ علاقے ہوں جو بلا شرکت غیرے کلیۃً ان کی ملکیت ہوں۔ کیا حضرت محمد مصطفےٰ ﷺ نے اپنے لئے ایسے صدر مقام کی تلاش نہ کی تھی۔ جس میں کوئی غیر نہ ہو۔ جہاں سے وہ تبلیغ اسلام کے کام کو جاری رکھ سکیں۔ پس یہ کام جس کی تکمیل کا خلیفہ متمنی تھا کہ ان کو ایسی جگہ مل جائے جہاں وہ ہی ہوں ان کا قانون وہاں چل سکے اور اپنی ریاست کا قیام عمل میں لایا جا سکے اور قادیان میں بھی اس لحاظ سے کامیابی کا حصول اپنے لئے مشکل سمجھتے تھے۔ مگر ربوہ میں ان کو یہ بات میسر آگئی ہے وہ عجمی اسرائیل اپنی پوری شان سے قائم کر چکے ہیں۔ کیونکہ اس میں سوائے ان کے قادیانی مریدوں کے اور کوئی آباد نہیں۔ پاکستان میں صرف ایک حصہ ہے جس میں ایک ہی فرقے کے لوگ بستے ہیں اور وہ ایک آہنی تنظیم میں جکڑے ہوئے ہیں۔ ظاہر ہے ملک کا قانون ان کے لئے حرف غلط سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتا۔ ایسی آئین سوز کیفیت کو مدنظر رکھتے ہوئے صوبائی پریس ایک عرصہ سے یہ مطالبہ کر رہا ہے کہ عجمی اسرائیل ربوہ کو کھلا شہر قرار دیا جائے یعنی اس میں دوسرے لوگ ایک عمرانی منصوبے کے ماتحت بسائے جائیں۔ تا کہ محمودی آمریت قانون کے راستے میں حائل نہ ہو سکے۔ لیکن ابھی تک یہ مطالبہ تشنہ تکمیل ہے۔

٨٣

صفحہ ٣١٢

نظام بینکاری

قومی بینکوں اور ڈاکخانہ جات میں روپیہ جمع کرانے سے روکنا

ربوہ میں سٹیٹ بینک آف پاکستان کے بالمقابل مرزا محمود کی زیر نگرانی ایک غیر منظور شدہ بینک بھی جاری ہوا تھا۔ جسے خلیفہ صاحب کی خود ساختہ اصطلاح میں ’’امانت فنڈ‘‘ کہا جاتا ہے۔ ربوہ کے اس قادیانی بینک کی طرف سے باقاعدہ چیک بک اور پاس بک بھی جاری کی جاتی ہے۔ جن کا ڈیزائن عام مروجہ بینکوں کی چیک بکوں اور پاس بکوں سے ملتا جلتا ہے۔ سطحی نظر سے کوئی شخص ان کے متعلق گمان نہیں کر سکتا کہ یہ چیک بک یا پاس بک گورنمنٹ کے کسی غیر منظور شدہ بینک کی ہے۔ اس بینک کے متعلق بعض اعلانات پڑھئے: ’’چالیس سال سے قائم شدہ صیغہ امانت صدر انجمن احمدیہ اس صیغہ کو حضرت امیر المومنین خلیفۃ المسیح ایدہ اللہ کی بابرکت سرپرستی کے علاوہ بفضل تعالیٰ اس وقت مشہور انگلش بینک سے تربیت یافتہ ٹرینڈ اور مخلص نوجوانوں کی خدمات حاصل ہیں۔ آپ کا یہ قومی امانت فنڈ اس وقت خدا کے فضل و رحم سے ملکی بینکوں کے دوش بدوش اپنے حساب داران امانت کی خدمت پورے اخلاص اور محنت سے سرانجام دے رہا ہے۔ تقسیم ملک کے بعد اس صیغہ نے جو شاندار خدمات انجام دی ہیں، وہ بھی آپ سے پوشیدہ نہیں۔ اس لئے اب آپ کو اپنا فالتو روپیہ ہمیشہ صیغہ امانت صدر انجمن احمدیہ میں ہی جمع کرانا چاہئے۔‘‘

(الفضل مورخہ ١٩؍مارچ ١٩٥٧ء)

’’کیا آپ کو علم ہے کہ صدر انجمن احمدیہ پاکستان کے خزانہ میں احباب اپنی امانت ذاتی کا حساب کھول سکتے ہیں اور جو روپیہ اس طرح پر جمع ہو وہ حسب ضرورت جس وقت بھی حساب دار چاہے واپس لے سکتا ہے جو روپیہ احباب کے پاس بیاہ شادی، تعمیر مکان، بچوں کی تعلیم یا کسی اور ایسی ہی غرض کے لئے جمع ہو۔ اس کو بجائے ڈاکخانہ یا دوسرے بینکوں میں رکھنے کے خزانہ صدر انجمن احمدیہ میں جمع کرانا چاہئے۔‘‘

(الفضل مورخہ ١٠؍فروری ١٩٣٨ء)

ملاحظہ ہو کس طرح کھلم کھلا گورنمنٹ کے ڈاکخانوں میں روپیہ جمع کرنے سے لوگوں کو روکا گیا۔ ہمارے خیال میں کسی بڑے سے بڑے بینک نے بھی یہ جرات نہیں کی ہوگی کہ وہ لوگوں کو یہ تلقین کرے کہ ڈاکخانوں میں رقوم جمع نہ کروائیں۔

یہ بینک خلیفہ کی ریاست کو بوقت ضرورت روپیہ مہیا کرتا ہے۔ خود خلیفہ صاحب اور ان کے عزیزوں کو Over Drafts کے ذریعہ متعدد بار رقمیں مہیا کر چکا ہے۔ اس وقت

٨٤

صفحہ ٣١٤

خلیفہ اور اس کا خاندان اسی بینک سے مبلغ سات لاکھ روپے کی رقم لے چکے ہیں۔ اسی بینک کی سیاسی افادیت کا حال بھی خلیفہ کی زبانی سنئے: ”اس کے علاوہ اس کے ذریعہ احرار کو خطرناک شکست ہوئی۔“

(الفضل مورخہ ١٤ جنوری ١٩٣٧ء)

”اگر دس بارہ سال ہماری جماعت کے لوگ اپنے نفسوں پر زور ڈال کر اس میں روپیہ جمع کرواتے رہیں تو خدا تعالیٰ کے فضل سے قادیان ...... اور اس کے گردونواح میں ہماری جماعت کی مخالفت ٩٥ فیصد کم ہو جائے۔“

(الفضل مورخہ ١٣ جنوری ١٩٣٧ء)

پس کس طرح قادیان اور اس کے ماحول کو سنبھالنے کی اس بینک کے ذریعے تجاویز مرتب کی گئیں اور پھر کس طرح احرار کو اسی بینک کی طاقت سے شکست دی گئی۔ کیا یہی بینک کل کسی اور کو شکست دینے کے لئے استعمال نہیں کیا جائے گا۔ کیونکہ خلیفہ صاحب خود فرماتے ہیں: ”ہم اس روپیہ سے تمام وہ کام کر سکتے ہیں جو حکومتیں کیا کرتی ہیں۔“

(الفضل مورخہ ١٠ فروری ١٩٣٨ء)

اور پھر بالفاظ خلیفہ صاحب: ”میں اس مد (امانت تحریک) کی تفصیلات کو بیان نہیں کر سکتا۔“

(الفضل ١٣ جنوری ١٩٣٧ء)

اگر گویم زبان سوزد: ”اور یہ بھی یاد رکھئے کہ امانت فنڈ کی تحریک الہامی تحریک ہے۔“

(الفضل مورخہ ١٨ فروری ١٩٣٧ء)

صیغہ امانت بینک ہے۔ لیکن بینک کی سی کوئی ذمہ داری اس پر عائد نہیں ہوتی ہے۔

لیکن یہ ایسا بینک ہے جس کا نام امانت فنڈ ہے، جو اگر ضائع ہو جائے تو امین اس کا شرعاً ذمہ دار نہیں ہوتا۔ صیغہ امانت میں گورنمنٹ کے افسروں کے کھاتے کھلے ہیں۔ ہم محکمہ انکم ٹیکس والوں کو بھی توجہ دلاتے ہیں کہ وہ بھی اس دھاندلی کی چھان بین کریں۔ انہیں بڑی مفید معلومات حاصل ہوں گی اور وہ تمام لوگ جو گورنمنٹ ٹیکس سے بچنے کے لئے بینکوں کے بجائے یہاں روپیہ رکھتے ہیں، منظر عام پر آجائیں گے اور گورنمنٹ کے ملازم جن کے لئے اپنی مالی پوزیشن کو صاف رکھنا ضروری ہے۔ ان کے متعلق تمام کوائف طشت از بام ہو جائیں گے۔ بینکاری کا معاملہ بڑا سنگین معاملہ ہے۔ اگر کوئی بینک بیٹھ جائے تو کتنے لوگ برباد ہو جاتے ہیں۔ پیپلز بینک جب دیوالیہ ہوا تھا تو کس طرح ملک میں کہرام مچ گیا تھا۔ بینک تو بند ہو گیا مگر ان بیواؤں اور یتیموں کا رونا کسی طرح بند نہ ہوا جن کا روپیہ اس میں امانت پڑا ہوا تھا۔ گورنمنٹ نے اس کا کیا انسداد کیا ہے۔ اگر خلیفہ صاحب کی بے تدبیری اور بڑھتے ہوئے اخراجات اور آئے دن کی اوور ڈرافٹس Over Drafts اور صیغہ امانت سے قرض کے نام پر نکلوائی ہوئی بھاری رقم سے یہ بینک دیوالیہ ہوا

٨٥

صفحہ ٣١٤

جس کا دیوالیہ ہو جانا ایک یقینی امر ہے تو امانت والوں کا کیا بنے گا۔ پاکستان کے شہریوں کے اموال کی حفاظت کا کیا بندوبست ہے۔ حکومت کو اس حقیقت سے آگاہ ہونا چاہئے کہ ربوہ کا یہ بینک خلیفہ صاحب کی مبینہ بے اعتدالیوں کے باعث شدید مالی بحران کا شکار ہے اور اس کے کل سرمایہ میں سے جو تقریباً ٢٣ لاکھ روپیہ ہے ١٩ لاکھ روپیہ کی گرانقدر رقم مبینہ طور پر خرد برد کی جا چکی ہے۔ اگر اس بینک کا کوئی باقاعدہ میزانیہ تیار کروایا جائے تو حکومت کو خود علم ہو جائے گا کہ یہ عملاً دیوالیہ ہو چکا ہے اور اس کے واجبات زیادہ اور اثاثہ اس کے بالمقابل برائے نام ہے۔

مخفی اخراجات

حکومت کو بعض اوقات مخفی طور پر بعض اخراجات برداشت کرنے پڑتے ہیں۔ خلیفہ صاحب کے ریاستی بجٹ میں بھی یہ موجود ہے۔ خلیفہ کا اپنا بیان: ”صرف ایک مد خاص ایسی ہے جس کے اخراجات مخفی ہوتے ہیں۔ مگر میں ان کے متعلق بھی بتا دینا چاہتا ہوں کہ ان مخفی اخراجات کی مد میں سے بعض دفعہ خبر رسانوں اور ایسے ہی اور اخراجات پر جو ہر شخص کو بتائے نہیں جا سکتے، خرچ ہوتے ہیں۔“

(الفضل مورخہ ٢ جولائی ١٩٣٧ء)

آزادی رائے پر پہرے

آمرانہ حکومتوں میں آزادی رائے عنقا ہوتی ہے۔ ایسا ہونا آمریت کے مزاج کے مطابق ہے۔ وہاں افکار پر سنگین پہرے ہوتے ہیں۔ ہٹلر کے دور اقتدار میں کوئی جرمن باشندہ آزادی سے سوچ بھی نہیں سکتا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ وہاں بڑے بڑے مفکر اور سائنسدان بھاگ کر جمہوری ملکوں میں آباد ہو گئے تھے۔ جاپان میں دوسری عالمگیر جنگ سے پہلے شاہ میکاڈو کی حکومت میں پولیس کا ایک حصہ تھا۔ جس کو Thought Police کہتے تھے۔ اس کا یہ فرض تھا کہ وہ ملک میں گفتار و کردار کے علاوہ افکار کا جائزہ لیتی رہے۔ یہی حال قادیانی میکاڈو کا تھا اور ربوہ میں خلیفہ بھی اپنی مملکت میں کسی کو نہ سوچنے دیتا تھا نہ ہی کسی کو اجازت تھی کہ وہ آزادانہ طور پر تفکر کا کوئی کام کرے۔ ان کے ہاں اس محکمے کو نظارت تالیف و اشاعت کہتے ہیں۔ بظاہر یہ کتنی معصوم اصطلاح ہے۔ لیکن اس کا اولین فرض ہے کہ تالیف اور اشاعت پر قدغن لگادے۔ اگر اس کو نظارت سنسر و احتساب کہا جاتا تو زیادہ صحیح ہوتا۔ قاعدہ یہ ہے کہ تمام وہ لٹریچر جو احمدی احباب تصنیف کریں، اگر وہ کسی موضوع پر ہو تو نظارت تالیف و اشاعت میں احتساب کے لئے روانہ کریں اور محکمہ مذکورہ بغور ملاحظہ و منظوری کے بعد اسے اشاعت کے لئے منظور کرے اور کوئی کتاب یا رسالہ بغیر محکمہ مذکورہ سے پاس کرائے احمدیہ لٹریچر میں شامل نہیں ہو سکتا۔

(الفضل ١٨ مئی ١٩٣٢ء)

٨٠٤

تعزیری اعلانات

”اسی طرح مجلس معتمد ریزولیوشن نمبر ١: ١٩٢٨ء یہ فیصلہ کیا نظارت تالیف و اشاعت چھپنے اور کتاب کی اشاعت بند کر دی جائے چنانچہ ان تجاویز پر عمل تھا جس کے ایڈیٹر ایک مشہور قادیان تھے کہ ان کے ہوتے ہوئے ”المہدی تھی۔

اسی طرح اعلان کیا گیا احمدیہ (تعلیم الاسلام کالج) نے شا نظارت دعوۃ وتبلیغ کی طرف سے ا

ایک ٹریکٹ کے متعلق

ہے کہ جس صاحب کے پاس یہ ٹر صاحب سے جواب طلب کیا گیا ہ ان کے پاس ہوں وہ سب تلف کر

جب نظارت تالیف اشاعت ممنوع قرار دے دی اور ٹریکٹ شائع کرنے والے سے ج غور فرمائیے کہ اب ر اعلان ۔ ”اب تک تین رسالوں کو

اس سلسلہ میں خلیفہ م اخبارات کو ضبط نہیں کر سکتے یا کر جماعت اسے نہ پڑھے۔ کیا ایک ہوتی ہے۔ اس کی طرف سے تعز

صفحہ ٣١٥

تعزیری اعلانات

”اسی طرح مجلس معتمدین صدر انجمن احمدیہ نے بمنظوری حضرت خلیفۃ المسیح بذریعہ ریزولیوشن نمبر ١: ١٩٢٨ء یہ فیصلہ کیا تھا کہ سلسلہ کی طرف سے کوئی کتب ٹریکٹ وغیرہ بغیر منظوری نظارت تالیف و اشاعت چھپنے اور شائع ہونے نہ پائے۔ اگر اس کے خلاف ورزی ہوئی تو اس کتاب کی اشاعت بند کر دی جائے گی۔“

(الفضل مورخہ ٢٩؍ جنوری ١٩٣٣ء)

چنانچہ ان تجاویز پر عمل شروع کر دیا گیا۔ ”المبشر“ نام سے قادیان سے ایک رسالہ نکلتا تھا جس کے ایڈیٹر ایک مشہور قادیانی صحافی تھے۔ لیکن ریاست محمودیہ کے نزدیک بعض نقائص ایسے تھے کہ ان کے ہوتے ہوئے ”المبشر“ کو مرکز سلسلہ سے شائع کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی تھی۔

(الفضل ٢٨؍ اگست ١٩٣٧ء)

اسی طرح اعلان کیا گیا کہ کتاب بیان الجابر (جو مولوی غلام احمد سابق پروفیسر جامعہ احمدیہ وتعلیم الاسلام کالج) نے شائع کی ہے۔ کوئی صاحب اس وقت تک نہ خریدیں۔ جب تک نظارت دعوۃ وتبلیغ کی طرف سے اس کی خریداری کا اعلان نہ ہو۔

(الفضل مورخہ ١٠؍ ستمبر ١٩٣٣ء)

ایک ٹریکٹ کے متعلق اعلان کیا گیا کہ اس ٹریکٹ کو ضبط کیا جاتا ہے اور اعلان کیا جاتا ہے کہ جس صاحب کے پاس یہ ٹریکٹ موجود ہو وہ اسے فوراً تلف کر دیں اور شائع کرنے والے صاحب سے جواب طلب کیا گیا ہے اور انہیں ہدایت کی گئی ہے کہ جس قدر کاپیاں اس ٹریکٹ کی ان کے پاس ہوں وہ سب تلف کر دی جائیں۔

(الفضل مورخہ ٧؍ دسمبر ١٩٣٣ء)

جب نظارت تالیف و تصنیف کو اس ٹریکٹ کی اشاعت کا علم ہوا تو اس نے اس کی اشاعت ممنوع قرار دے دی اور اسے بحق جماعت ضبط کر کے تلف کر دینے کا حکم دے دیا۔ نیز ٹریکٹ شائع کرنے والے سے جواب طلب کیا۔

(الفضل مورخہ ١٤؍ دسمبر ١٩٣٣ء)

غور فرمائیے کہ اب ریاست کے مکمل ہونے میں کوئی شک باقی رہ جاتا ہے۔ خلیفہ کا اعلان۔ ”اب تک تین رسالوں کو میں اس جرم میں ضبط کر چکا ہوں ۔“

(الفضل مورخہ ١٤؍ مارچ ١٩٣٦ء)

اس سلسلہ میں خلیفہ کی ریاست کی سیاست کا سب سے گندا پہلو یہ تھا کہ جن کتب یا اخبارات کو ضبط نہیں کر سکتے یا کروا سکتے۔ ان کے متعلق اپنی رعایا یا مریدوں کو ارشاد ہوتا ہے کہ جماعت اسے نہ پڑھے۔ کیا ایک مذہبی اور تبلیغی جماعت جس نے دوسروں تک اپنی بات پہنچانی ہوتی ہے۔ اس کی طرف سے تعزیری اقدام اس کے لئے باعث فخر ہو سکتے ہیں؟ چنانچہ روزنامہ

٨٧

صفحہ ٣١٦

نوائے پاکستان جو وقتاً فوقتاً خلیفہ کے متعلق بعض اہم حقائق کو منظر عام پر لاتا رہتا تھا۔ خلیفہ نے اپنے ہوم سیکرٹری (ناظر امور عامہ) کے ذریعہ اس اخبار کے بائیکاٹ کا اعلان کر دیا۔ اس سے پہلے جلسہ سالانہ ١٩٥٦ء کے موقعہ پر اعلان ہو چکا ہے کہ حقیقت پسند پارٹی (یہ باہمت جوانوں کی باغی پارٹی تھی) کا شائع کردہ لٹریچر کوئی احمدی نہ پڑھے۔ بلکہ پھاڑ کر پھینک دے یا خلیفہ کے ہوم سیکرٹری یا محکمہ حفاظت مرکز کے پاس بحفاظت پہنچادے۔

(الفضل ٧ اپریل ١٩٥٧ء)

خلیفہ محمود اپنے دارالخلافہ میں جس طرح لوگوں کو اپنی ریاست کا مطیع اور فرمان بردار بنا رکھتا تھا۔ باشندگان ربوہ یہ یقین رکھتے ہیں کہ ان کے حاکم اعلیٰ ان کے خلیفہ صاحب ہیں۔ حکومت بھی ان کو خلیفہ کے چنگل سے نہیں بچا سکتی۔ ان کے سامنے قادیان سے لے کر ربوہ تک کی مثالیں موجود ہیں کہ حکومتی نظام سنگین واردات کی کھوج لگانے میں ناکام رہا۔ اگر کھوج لگا سکا تو عدالت میں جا کر مقدمات فیل ہو گئے۔ ان حالات میں قادیانی لوگ خلیفہ کو راعی اور اپنے آپ کو رعایا نہ سمجھیں تو کیا کریں۔ کیا ایسا منظر کسی با قاعدہ آئینی حکومت کو گوارا ہو سکتا ہے۔ لیکن ربوہ میں اس کو گوارا کیا جا رہا ہے۔

خلیفہ جی کی خروجی تدابیر

سیاست کاری اور سیاست بازی خلیفہ جی کا اوڑھنا بچھونا تھا۔ مذہب یا تو زیب داستان کے لئے تھا یا اس کا مصرف سیاست کی پردہ داری تھی۔ اگر بغور مطالعہ کیا جائے اور ان کے اعلانات کا نفسیاتی تجزیہ کیا جائے تو صاف معلوم ہوتا ہے کہ محراب ومنبر کے سیاق وسباق میں پناہ گزین ہو کر وہ سیاست کا کھیل کھیلتے تھے۔ وہ سیاست کی سر بلندیوں سے سرفراز تو ہونا چاہتے تھے مگر اس کی ابتلا انگیزیوں کے حریف نہیں ہو سکتے تھے۔ اس واسطے ان کا نظریہ خروج پہلو دار باتوں میں ملفوف ہو کر ان کے مریدوں کے سامنے آتا ہے۔ مثلاً وہ اکثر کہا کرتے تھے: ”ہم قانون کے اندر رہتے ہوئے اس کی روح کو نچوڑیں گے۔“

ایسے ہی مقاصد کے لئے یہ دفتر امور عامہ ایسے احمدی افسران جو گورنمنٹ یا ڈسٹرکٹ بورڈوں یا فوج یا پولیس، سول، بجلی، جنگلات، تعلیم وغیرہ کے محکموں میں کام کرتے ہیں۔ ان کے مکمل پتے مہیا رکھتا ہے۔

(الفضل مورخہ ٨ نومبر ١٩٣٢ء)

خلیفہ جی کی سیاست حکومت کی سیاست سے افضل تھی

کبھی ان پر سیاست کا ایسا جنون مسلط ہو جاتا تھا کہ وہ حزم واحتیاط کے سارے پردے چاک کر کے برملا کہہ دیتے تھے: ”پس وہ لوگ جو کہتے ہیں کہ ہم میں سیاست نہیں، وہ

٨٨

صفحہ ٣١٧

نادان ہیں۔ وہ سیاست کو سمجھتے ہی نہیں جو شخص یہ نہیں مانتا کہ خلیفہ کی بھی سیاست ہے۔ وہ بیعت ہی کیا کرتا ہے۔ اس کی کوئی بیعت نہیں۔ دراصل بات تو یہ ہے کہ ہماری سیاست گورنمنٹ کی سیاست بھی زیادہ ہے۔ پس اس مسئلہ کو اگر میں نے بار بار بیان نہیں کیا تو اس کی وجہ صرف یہی ہے کہ میں نے اس سے جان بوجھ کر اجتناب کیا۔ آپ لوگوں کو یہ بات خوب سمجھ لینی چاہئے کہ خلافت کے ساتھ ساتھ سیاست بھی ہے اور جو شخص یہ نہیں مانتا وہ جھوٹی بیعت کرتا ہے۔“

(الفضل مورخہ ٣؍اگست ١٩٢٦ء)

اس ضمن میں خروجی عزائم کو یوں بے نقاب کر جاتے تھے۔

حکومت پر قابض ہونے کے عزائم

”میرا یہ خیال ہے کہ ہم حکومت سے صحیح تعاون کر کے جس قدر جلد حکومت پر قابض ہو سکتے ہیں، عدم تعاون سے نہیں۔ اگر ہم کالجوں اور سکولوں کے طلباء کے اندر یہ روح پیدا کر دیں تو جو ان میں سے ملازمت کو ترجیح دیں وہ اس غرض سے ملازمت کریں کہ اپنی قوم اور اپنے ملک کو فائدہ پہنچائیں گے تو یہ لوگ چند ماہ میں ہی حکومت کو اپنی آزاد رائے اور بے دھڑک مشورے سے مجبور کر سکتے ہیں کہ وہ ہندوستانی نقطۂ نگاہ کی طرف مائل ہو۔ بے شک ایسے لوگوں کی ملازمت خطرہ میں ہوگی۔ مگر جب یہ لوگ ملازم ہی اس خطرہ کو مدنظر رکھ کر ہوئے ہوں گے۔ ان کے دل اس بات سے ڈریں گے نہیں۔ دوسرے کوئی گورنمنٹ ایک وقت میں ہزاروں لاکھوں ملازموں کو اس جرم میں الگ نہیں کر سکتی کہ کیوں سچائی سے اصل واقعات پیش کرتے ہو۔ اگر پولیس کے محکمہ پر ہی ایسے حب الوطنی سے سرشار لوگ قبضہ کر لیں تو حکومت ہند میں بہت کچھ اصلاح ہو سکتی ہے۔“

(الفضل مورخہ ١٨؍ جولائی ١٩٢٥ء)

ربوہ میں بھی ایسا ہی ہو رہا ہے۔

مستورات کی چھاتیوں میں خفیہ دستاویزات کا باندھنا

جب اس شاطر سیاست کے خفیہ اڈوں پر حکومت چھاپہ مارتی تھی تو یہ اسلحہ اور کاغذات کمال ہوشیاری سے زیر زمین دفن کر دیتا تھا۔ قادیان کی سرزمین میں فسادات کے موقع پر احمدی نوجوانوں اور سابق فوجیوں کے ہاتھوں جو ماڈرن اسلحہ مہیا کیا اور ان کی فوجی گاڑیاں حرکت میں آئیں تو اس پر حکومت کی جانب سے یکدم چھاپہ پڑا۔ جس کی اطلاع قبل از وقت خلیفہ کو نہ ہو سکی۔ کیونکہ وہاں احمدی سی آئی ڈی ناکام رہی۔ لیکن خلیفہ کی اپنی اہریمنی فراست ان کے کام آئی۔ کیونکہ جب پولیس سر پر آ گئی تو اس مقدس، پاکباز، ملہم، مصلح دوران نے اپنی مستورات کی

٨٩

صفحہ ٣١٩

چھاتیوں پر خفیہ دستاویزات باندھ کر کوٹھی دارالسلام (قادیان) بھجوا دیں اور قادیانی فوجیوں نے فوراً اسلحہ زیر زمین کر دیا۔

١٩٥٣ء میں اسلحہ کا اخفا

١٩٥٣ء کے فسادات اور پھر مارشل لاء کے اختتام پر جب گورنمنٹ نے یہ فیصلہ کیا کہ ربوہ کے فوجی اور ربوی پولیس کے دفاتر اور قصر خلافت پر چھاپہ مارا جائے تو یہ خبر دو دن قبل ربوہ پہنچ گئی۔ خفیہ اور ضروری کاغذات جن پر خلیفہ صاحب کے دستخط تھے ان کو دو حصوں میں تقسیم کر کے ایک حصہ تلف کر دیا گیا اور دوسرا حصہ چناب ایکسپریس پر سندھ روانہ کر دیا گیا۔ جب پولیس دفتر کی تلاشی لے رہی تھی۔ خفیہ کاغذات قادیانی اٹیچیوں میں چھپائے جا رہے تھے۔

خلیفہ صاحب ہر اس فرد کو بغاوت کا حق دیتے تھے جس نے دل سے اور عمل سے حکومت وقت کی اطاعت نہ کی ہو۔ ایک دفعہ کسی شخص نے خلافت مآب سے پوچھا کہ جس ملک کے لوگوں نے کسی حکومت کی اطاعت نہ کی ہو۔ کیا انہیں حق ہے کہ وہ اس حکومت کا مقابلہ کرتے رہیں تو ارشاد ہوا کہ : "اگر کسی قوم کا ایک فرد بھی ایسا باقی رہتا ہے جس نے اطاعت نہیں کی، نہ عمل سے نہ زبان سے تو وہ آزاد ہے اور دوسرے لوگوں کو اپنے ساتھ شامل کر کے مقابلہ کر سکتا ہے ۔"

(الفضل مورخہ ١٩ ستمبر ١٩٣٣ء)

پھر فرماتے ہیں : "اگر تبلیغ کے لئے کسی قسم کی رکاوٹ پیدا کی جائے تو ہم یا تو اس ملک سے نکل جائیں گے یا پھر اگر اللہ تعالیٰ اجازت دے تو پھر ایسی حکومت سے لڑیں گے ۔"

(الفضل مورخہ ١٣ نومبر ١٩٣٥ء)

یعنی ایک حکومت میں رہ کر اس کے متعلق اعلان جنگ کے مواقع اور ان پر غور سب کچھ ہو سکتا ہے۔ ان اقتباسات سے بالکل عیاں ہے کہ خلیفہ جی اپنے جماعت کے ذہنوں میں اسی جنوں کی پرورش کر رہے تھے جو ان کے اپنے ذہن میں سمایا ہوا تھا۔ انہوں نے ربوہ کو اپنی کمین گاہ بنا رکھا تھا اور اسی تاک میں بیٹھے تھے کہ کب وطن عزیز میں انتشار ہو اور وہ اس سے فائدہ اٹھا کر اقتدار کی نشستوں پر قابض ہو کر ملک کے حکمران بن جائیں۔ وہ فرماتے تھے کہ : "قبولیت کی رو چلانے کے لئے طاقت کی ضرورت ہوتی ہے۔"

(الفضل مورخہ ١١ جولائی ١٩٣٦ء)

ان کا اپنا قول ہے کہ : "پنجاب جنگی صوبہ کہلاتا ہے۔ شاید اس کے اتنے یہ معنی نہیں کہ ہمارے صوبہ کے لوگ فوج میں زیادہ داخل ہوتے ہیں جتنے اس کے یہ معنی ہیں کہ ہمارے صوبہ کے لوگ دلیل کے محتاج نہیں بلکہ سوٹے کے محتاج ہیں ۔"

(الفضل مورخہ ٢٧ جولائی ١٩٣٦ء)

٩٠

گویا خلیفہ صاحب مغرب کی پو توفیق باندازۂ آنکھوں میں ہے وہ چنانچہ محکومی کی حالت میں بھی خارج بھی کرتے تھے۔ مثلاً یہ فرمایا: "کہ کوئی قوم و دنیا اس سے زیادہ مجرم اور کوئی قوم نہیں ہو سکتی جو اب سیاسی خود کشی ہے۔"

دشمنوں کے حلیف بننے کی سعی

اب پاکستان میں رہتے ہوئے اس کریں گے۔ چاہے اس کی کوئی بھی صورت ہو دلوں میں جگہ پیدا کرنے کی کوشش بھی کرینگے منسوب کیا کہ اس نے دوران گفتگو میں ان سے اس دفعہ فوج آپ کی مدد نہیں کرے گی۔ جب اخبارات میں اس قابل اعتر ان کی وہی تقریر دوبارہ شائع ہوئی اور اس میں اشارہ تھا۔ تردید کرنے کی اخلاقی جرات نہ تھی

قادیانی خلافت

کے خبر تھی کہ جہاں میں آگ

ابلیسی تلبیس کاریاں

معصیت مجسم ہو کر غیر معلم معصوم مثال قادیانی نظام ہے۔ اس نظام کا بطن اور مغز کے حواریوں نے محض تنظیم کے زور سے مکا ر سے یزیدی خلافت کو استوار کیا ہوا تھا۔ خلیفہ میں مستور کر رکھا تھا۔ مریدوں کی نفسیاتی

صفحہ ٣١٩

گویا خلیفہ صاحب مغرب کی پولیٹکس کے قائل تھے۔ لیکن کیا کریں؎

توفیق باندازہ ہمت ہے ازل سے
آنکھوں میں ہے وہ قطرہ جو گوہر نہ ہوا تھا

چنانچہ محکومی کی حالت میں بھی خارجی حکومتوں سے ساز باز کے متمنی تھے اور اس کی تلقین بھی کرتے تھے۔ مثلاً یہ فرمایا: ”کہ کوئی قوم دنیا میں بغیر دوستوں کے زندہ نہیں رہ سکتی۔ اس لئے اس سے زیادہ مجرم اور کوئی قوم نہیں ہو سکتی جو اپنے لئے دشمن تو بناتی ہے مگر دوست نہیں۔ کیونکہ یہ سیاسی خود کشی ہے۔“

(الفضل مورخہ ١٨؍ جون ١٩٢٦ء)

دشمنوں کے حلیف بننے کی سعی

اب پاکستان میں رہتے ہوئے اس کے دشمنوں کے حلیف بننے کی کوشش کیوں نہیں کریں گے۔ چاہے اس کی کوئی بھی صورت ہو۔ مثلاً وہ راز افشاء کر کے پاکستان کے دشمنوں کے دلوں میں جگہ پیدا کرنے کی کوشش بھی کر سکتے تھے۔ انہوں نے فوج کے ایک کرنل کی طرف یہ منسوب کیا کہ اس نے دوران گفتگو میں ان سے یہ کہا کہ: ”حالات پھر خراب ہو رہے ہیں۔ لیکن اس دفعہ فوج آپ کی مدد نہیں کرے گی۔“

(الفضل مورخہ ٨؍ مارچ ١٩٥٤ء)

جب اخبارات میں اس قابل اعتراض بات پر تبصرے ہوئے تو خلیفہ جی کے ایماء سے ان کی وہی تقریر دوبارہ شائع ہوئی اور اس میں سے وہ فقرہ حذف کر دیا گیا جس میں فوج کی طرف اشارہ تھا۔ تردید کرنے کی اخلاقی جرأت نہ تھی۔ ہاں قانون سے بچنے کا حیلہ نکال لیا۔

قادیانی خلافت کا کاغذی پیراہن

کسے خبر تھی کہ لے کر چراغ مصطفوی
جہاں میں آگ لگاتی پھرے گی بولہبی

ابلیسی تلبیس کاریاں

معصیت منظم ہو کر غیر منظم معصومیت پر کس طرح غالب آ جاتی ہے۔ اس کی عبرتناک مثال قادیانی نظام ہے۔ اس نظام کا بطن اور مغز جذام کا شکار ہو چکا ہے۔ لیکن خود ساختہ خلیفہ اور اس کے حواریوں نے محض تنظیم کے زور سے مکائد کو عقائد کا رنگ دے رکھا تھا اور یزیدی اصطلاحوں سے یزیدی خلافت کو استوار کیا ہوا تھا۔ خلیفہ جی نے اپنے اخلاقی جرائم کو ان کی خوارق عادت سنگینی میں مستور کر رکھا تھا۔ مریدوں کی نفسیاتی بے بسی عقیدت متصور ہوتی ہے۔ مسلم معاشرے سے

٩١

صفحہ ٣٢٠

مفتون ہو کر وہ بیچارے مجبور ہیں کہ کہانیوں کے ”عمروعیار“ کو حضرت عمر فاروقؓ سے افضل سمجھیں (توبہ نعوذ باللہ) اور اپنی عاقبت خراب کریں۔ ایک سانس میں اس کو His Holiness کہہ کر کلیسائی شرک کا اعتراف کرتے تھے اور دوسری سانس میں اسلام کا دم بھرتے تھے۔ خلیفہ جی نے الہام تراشے تاکہ مسئولیت سے نجات حاصل کریں۔ خوابوں کے انبار لگا دیئے...... تاکہ مریدوں پر خواب گراں مسلط ہو جائے۔ جہاد کی تعلیم کو ساقط کیا تاکہ برطانوی سامراج کے ساتھ تعاون اور استخلاص وطن سے گریز کا جواز نکل آئے۔

پاکستان میں فتنے کا آغاز

پاکستان کی تشکیل خلیفہ قادیان کے عزائم کے لئے پیغام اجل ثابت ہوئی۔ تقسیم ملک کے فیصلے کے ساتھ ہی اس نے اعلان کیا کہ وہ خدا کے ساتھ عہد کر چکے ہیں کہ وہ قادیان کو نہیں چھوڑیں گے۔ اس اعلان کی خوب اشاعت ہوئی۔ لیکن ستمبر ١٩٤٧ء میں ہی ہندو سادھو کا روپ دھار کر پاکستان میں پناہ گزین ہو گئے۔ لیکن کسی قادیانی کے ذہن میں یہ سوال پیدا نہ ہوا کہ ان کے خلیفہ صاحب خدا کے ساتھ بدعہدی کے مرتکب ہوئے ہیں۔ یہ اس وجہ سے کہ ان کی دینی فراست خلیفہ کی خوابناک تربیت سے مفلوج ہو چکی تھی وہ ان کے فرار کو بھی قرار ہی سمجھتے تھے اور زبان حال سے کہتے تھے ۔”قلوبنا فی اکنة مما تدعونا“

پاکستان میں خلیفہ محمود نے اپنی سیاست کا چکر چلایا۔ پاکستان کی معیشت، معاشرت اور آئین پر لیکچروں کا ایک سلسلہ شروع کیا۔ جس کا مقصد مسلمانوں پر قنوطیت طاری کرنا تھا۔ جب ایک پڑھے لکھے احمدی سے کسی نے لیکچروں کے بارے میں استفسار کیا تو اس نے جواب میں کہا: ”ہمارا بابر سلطنت کی تلاش میں ہے۔“

لعبت چین

پریس کو ماؤف کرنے کے لئے ہفت روزہ پریس کانفرنسوں کا چکر چلایا اور کشمیر جیسے اہم مسئلے کو لعبت چین بنا کر اس سے تلعب کرنا شروع کیا اور اپنی قیادت کی ضرورت ثابت کرنے کے لئے بڑی افترا پردازیاں کیں۔ یہ راز بھی افشاء ہو گیا اور ان کے متضاد بیانات پر پریس میں کڑی نکتہ چینی ہوئی۔ مرکزی حکومت نے تعزیر کی دھمکی دی۔ اس پر اللہ کا بنایا ہوا خلیفہ اخبارات میں اعتذار کرنے پر آمادہ ہو گیا۔

قائد اعظم کی وفات پر اپنے مریدوں کو نماز جنازہ میں شرکت سے حکماً روک دیا۔ مرکزی حکومت نے اپنی ناقابل فہم مصلحت کی بناء پر اس سنگین کارروائی پر پردہ ڈال دیا۔ مسلمانوں

٩٢

صفحہ ٣٢١

کے دلوں کے اندر آگ سلگتی رہی۔ اس سکوت سے شہ پا کر خلیفہ صاحب نے ایک لیکچر میں Reunion کا کھلے بندوں ذکر کر دیا۔ اس پر صوبائی حکومت نے تنبیہ کی اور خلیفہ صاحب نے معافی مانگ کر پنڈا چھڑایا۔

ربوہ میں شکمی ریاست کی تاسیس

انگریز گورنر سر موڈی نے اپنے خود کاشتہ پودے کو خطرہ میں دیکھ کر اس کو کوڑیوں کے مول ایک وسیع عریض خطہ زمین عطا فرمایا اور قادیانیت کے فتنے کو پنپنے کا موقع دیا۔ اگر یہ جماعت لاہور یا کسی اور شہر میں متوطن کی جاتی تو شہر کی وسعتیں اور عمرانی تقاضے اس تمدنی فتنے کو تھوڑے عرصے میں ختم کر دیتے۔ لیکن ربوہ کے نئے مسکن میں اس عمرانی فتنے کو فروغ ملنا شروع ہوا۔ قادیان سے بڑھ کر اس کو فضا سازگار نصیب ہوئی۔ کیونکہ اس آبادی میں سوائے قادیانیوں کے اور کوئی نہیں، اس واسطے خلیفہ محمود کی شکمی ریاست ربوہ میں پھلنے پھولنے لگی۔ اس کے زمانے میں اس میں نہ کوئی پولیس کی چوکی تھی اور نہ حکومت کی طرف سے کوئی تعزیری نظام تھا۔ چنانچہ خلیفہ نے پھر نئی افتراق انگیزیاں شروع کر دیں۔ ١٩٥٠ء کے سالانہ جلسے پر انہوں نے سارے پنجابی پریس کو ابو جہل کہہ کر پکارا اور پیش گوئی کی کہ عنقریب صحافی ان کے پاؤں پر لا کر ڈال دیئے جائیں گے اور حکومت کی زرعی اصلاحات کے خلاف جی بھر کر زہر اگلا اور ایک کتاب شائع کر کے اپنے مبلغ علم کا راز طشت از بام کیا۔ قرآن کریم کی بعض آیات سے ذاتی ملکیت کا جواز ثابت کیا۔ حالانکہ ١٩٣٢ء میں اپنی نام نہاد تفسیر کبیر میں انہی آیات سے قومی تملیک ثابت کر چکے تھے۔ ملک کے آئین کو اسلامی طرز پر تشکیل دینے کے خلاف جدوجہد شروع کر دی۔ یہ اس شخص کا حال ہے جو خدا سے الہام پانے کا مدعی تھا۔

١٩٥٣ء کے واقعات کے محرکات

ربوہ میں بیٹھ کر نئے نئے انداز سے خلیفہ محمود نے اسلامی معاشرے میں شگاف ڈالنے کی کوششیں کیں۔ شریعت اسلامی کو اپنی الحاد خیز تفسیروں میں چھپانے میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہ کیا۔ انہی مساعی سیئہ کا نتیجہ تھا کہ ١٩٥٣ء میں لاوا پھوٹ پڑا جو عرصہ سے اندر ہی اندر کھول رہا تھا۔ اس وقت کی حکومت کی مصلحت بینیوں نے معاملہ کو دگرگوں کر دیا۔ حکومت اس فریب میں مبتلا تھی کہ قادیانی جماعت ایک مذہبی جماعت ہے۔ اس کی نظر ربوہ کی شکمی ریاست کی ریشہ دوانیوں پر نہ پڑی۔ اس بے بصری سے صوبہ بھر میں معرکہ کار زار گرم ہو گیا اور کئی خاندان بے چراغ و بے سراغ ہو گئے۔ اس پر پردہ ڈالنے کے لئے حکومت نے ایک ٹربیونل مقرر کیا تاکہ صحیح مسئلہ نظروں سے

٩٣

صفحہ ٣٢٢

اوجھل ہو جائے۔ اس میں جو کچھ ہوا وہ لوگوں کے سامنے ہے۔ قادیانیت کی سرکوبی تو نہ ہوئی لیکن خلیفہ محمود کے اپنے بیان سے ثابت ہو گیا کہ وہ سیاسی زیادہ اور مذہبی کم تھا۔ اس لئے وہ اس حفاظت کے مستحق نہیں تھا جو مذہبی جماعتوں کو دی جاتی ہے۔ انہوں نے ایک ابتلاء سے بچنے کے لئے اپنے ان تمام عقائد سے ارتداد کا اعلان کر دیا جن سے معمولی انحراف پر خلافت مآب اپنے مریدوں کو شدید سزائیں دیا کرتے تھے۔ بلکہ ان کو جماعت سے خارج کر دیا کرتے تھے۔ انہوں نے کھلے بندوں کہا کہ احمدیت کے بانی کو ماننا جزو ایمان نہیں۔ ماننا اس پر لازم ہے جو ان کے دعاوی کو صحیح سمجھتا ہے۔ گویا خلیفہ صاحب کا دین لوگوں کی صوابدید پر موقوف ہے۔ انہوں نے مسلمانوں کے جنازوں کے مقاطعہ پر بھی نظر ثانی کا اعلان کیا۔ کیونکہ اس کی تردید میں ان کو بانی جماعت کی تحریر بیالیس سال کے بعد مل گئی تھی۔ وہ ٹربیونل کے سامنے اپنے عقائد کی ترمیم و تنسیخ سے حفظ جان کا سامان کر رہے تھے۔ ادھر ساری جماعت ضغطۂ دم Blood Pressure میں مبتلا تھی۔ بقول شاعر

وہ شاخ گل پہ زمزموں کی دھن تراشتے رہے
ادھر نشیمنوں پہ بجلیوں کا کارواں گزر گیا

قادیانیوں کا قلیل ہوشمند گروہ اسی وقت بھانپ گیا کہ ”حضور“ کو اپنی جان مذہب سے زیادہ پیاری ہے۔ دین کو دنیا پر مقدم کرنے کا عہد صرف مریدوں کے لئے ہے۔

ایک دلچسپ واقعہ

اس ارتداد پر بڑی چہ میگوئیاں ہوئیں۔ کراچی میں پاکستان کے ایک مشہور صحافی نے (جو ایک قادیانی گھر میں پیدا ہونے کی وجہ سے عمر کا کثیر حصہ احمدی رہ چکے تھے) خلیفہ صاحب کو اس ارتداد پر مبارکباد دی۔ اس کے جواب میں خلیفہ صاحب نے فرمایا کہ محض رفع شر کے لئے انہوں نے جنازوں کی حرمت کے حکم کو نرم کیا ہے۔ ورنہ ان کا مسلک پہلے والا ہے۔ انہوں نے اپنے مریدوں کو کہہ دیا ہے کہ وہ جنازوں میں اسی طرح جا کر کھڑے ہو جائیں جس طرح راشن ڈپوؤں کے سامنے کھڑے ہوتے ہیں۔ ان کو نماز کے الفاظ کی قرأت نہیں کرنی چاہئے تا کہ وہ محض قطار بندی ہو کر رہ جائے۔ اس پر اس (سابق قادیانی) اور اب نامور پاکستانی صحافی نے کہا کہ وہ اس مداہنت سے کس کو دھوکہ دینا چاہتے ہیں۔ اپنی جماعت کو یا مسلمانوں کو یا خدا کو؟ اس تبصرے پر خلیفہ جی صرف زیر لب شرمندہ سا مسکرا کر رہ گئے۔ اس واقعہ سے خلیفہ محمود کے اسلوب کار پر روشنی پڑتی ہے کہ وہ عبادت کو بھی بازیچہ اطفال ہی سمجھتے تھے اور ہماری حکومت محض ایک دھوکہ

٩٤

صفحہ ٣٢٤

میں اسیر رہی کہ یہ ایک مذہبی جماعت ہے۔ خلیفہ محمود نے دوسرے ممالک میں مساجد کی تعمیر کی مہم محض دوسرے ممالک کی کرنسی حاصل کرنے کے لئے شروع کر رکھی ہے۔ حالانکہ ان کے دل میں نماز کا وہی احترام ہے جو مندرجہ بالا واقعہ سے ظاہر ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ چند مریض قسم کے لوگوں کے لئے متعدد مساجد کی کون سی اشد ضرورت تھی۔ جب کہ ان کے اعلان تبلیغ سے جلب زر ہی مقصود تھا۔

جماعت کا فہیم حصہ خلیفہ محمود کے عزائم سے آشنا ہو چکا تھا۔ ان پر آشکارا ہو چکا تھا کہ وہ اپنے بیٹے کو اپنا جانشین بنانے پر تلے بیٹھے ہیں اور ربوہ کا سارا نظام محض سیاسی ہے۔ اس پر مذہب کا لیبل حکومت کی آنکھوں پر پردہ ڈالنے کے لئے لگا رکھا تھا۔ ورنہ ایک مذہبی جماعت کو فوج، پولیس اور کار خاص کا نظام تعزیر و احتساب اور عمرانی مقاطعہ کے لئے دفاتر جاری کرنے کی کیا ضرورت ہو سکتی ہے۔ خلیفہ صاحب کی شکمی ریاست کا نقشہ پہلے صفحات پر پوری تفصیل سے بیان کیا گیا ہے۔ اس کے مطالعہ سے ارباب بست و کشاد کی بے خبری اور بے علمی کا راز طشت از بام ہو جاتا ہے۔

حکایت جنوں

یہ فتنہ جو اپنے اندر آدمی کی خانہ ویرانی کے سارے سامان رکھتا ہے اپنے استیصال کے لئے حکومتی اقدام کا محتاج نہیں بلکہ یہ فطری تپش سے ہی خاکستر ہو جائے گا۔ چنانچہ اس کے سارے آثار اب پیدا ہو چکے تھے۔ خلیفہ محمود ایک عرصہ سے دماغی ہذیان اور قلبی بحران میں مبتلا ہو گئے تھے۔ کچھ عرصہ کے بعد انہوں نے اپنے بڑھتے ہوئے نسیان اور روز افزوں ضعف بصارت کا ذکر کیا تھا۔ اب یہ کیفیات ان کی نمازوں میں جلوہ گر ہونے لگ گئی تھی۔ کیونکہ وہ بار بار آیات بھول جاتے تھے اور جو عجلت کرتے تھے اس سے تو نماز کی نفی ہو جاتی تھی۔ اس پر قادیانی مہر بلب رہے اور عبادات کی صریح توہین پر پردہ ڈالنے کا اعلان ہوتا رہا کہ تفسیر کبیر کو تفسیر صغیر میں منتقل کرنے کی مصروفیت اور مشقت سے حضور پر نقاہت طاری رہتی ہے۔

جنوں کا آغاز جانشینی کا سٹنٹ کھڑا کرنے پر ہوا۔ جب ایک بڑے دھڑے کو اپنا حریف قرار دے کر وہ وہ افسانے تراشے کہ جماعت بحران میں مبتلا ہو گئی۔ جب کہ حریف نے اپنے گوسفندانہ رویے اور شان مغروری سے اپنی بے حیثیتی کو بے نقاب کر دیا۔ خلیفہ صاحب ناخنوں سے اپنے نظام کو ہی چھلنی کرتے رہے اور ربوہ کے قادیانی حضرات یہ کہنے لگ گئے۔

تمہیں رہبر سمجھنا پڑ گیا ہے
ہماری بے بسی کی انتہا ہے

٩٥

صفحہ ٣٢٤

جماعت سے باہر قادیانیت کی ساکھ اتنی گر گئی کہ صوبائی حکومت نے بھی قادیانی ملازمین کو احتیاط کی نگاہ سے دیکھنا شروع کر دیا تھا اور اہل علم کی نفرت کا اندازہ اس سے ہو سکتا ہے کہ اسلامی مجلس مذاکرہ میں ان کا داخلہ بند کر دیا گیا ہے۔ حتیٰ کہ چوہدری ظفر اللہ خان کا نام بھی پروگرام سے حذف کر دیا گیا تھا۔ کیا یہ حقیقت زوال قادیانیت کی دلیل محکم نہیں؟ اب بقول حضرت علامہ اقبالؒ الحاد کا قافلہ سکرات کی آخری منزل میں ہے۔

تونے دیکھا سطوت رفتار دریا کا عروج
موج مضطر کس طرح بنتی ہے اب زنجیر دیکھ

١٩٥٨ء کے سالانہ جلسے سے غیر حاضر اور حاضرین کی نگاہوں سے مستور ہونا اور اس کی بے ربط، لعنت آمیز اور غیر واضح تقریریں روز افزوں زوال کی غمازی کر رہی تھیں۔ لیکن حکومت کے خلاف اپنی وعید کا اعلان کیا۔ مسٹر چندریگر کی گورنری سے سبکدوشی اور وزارت عظمیٰ سے استعفیٰ کو اپنی دعاؤں کا کارنامہ قرار دیا۔ مسلمانوں میں قادیانیت کی تبلیغ پر زور دیا۔ آئندہ انتخابات پر اپنی طاقت کا مظاہرہ کرنے کا اعلان کیا اور بھارت پر فتح پا کر قادیان کو قبضے میں لینے کا پرزور دعویٰ کیا۔ بقول حضرت علامہ اقبالؒ۔۔

رکھ دیئے مرجھائے ہوئے پھول قفس میں
شاید کہ گوارا ہو اسیروں کو اسیری

(یہاں پر قاضی خلیل احمد صدیقی سابق قادیانی کا رسالہ ”میں نے قادیانیت کیوں چھوڑی“ مصنف نے درج کتاب کیا تھا۔ وہ علیحدہ اسی جلد میں شامل اشاعت ہے۔ اس لئے یہاں حذف کر دیا۔ مرتب!)

ربوہ کا خلیفہ یا پاکستان کا راسپوٹین

شورش مرحوم کا البرز شکن حملہ

پچھلی دو اشاعتوں میں ہم قادیان کے خلیفہ مرزا محمود احمد کے الہامات کا جائزہ لے چکے ہیں۔ خدا گواہ ہے ہمیں ان سے کوئی عناد، کوئی بغض، کوئی عداوت نہیں اور نہ ہم ان کے خلاف کسی عنوان سے کوئی مورچہ بندی کرنا چاہتے ہیں۔ ہمیں یہ بھی معلوم ہے کہ مرزا محمود احمد جب اپنی جماعت کے شیرازہ کو بکھرتا دیکھتے ہیں تو اپنی جماعت کے بعض ”نفوس قدسیہ“ کی معرفت اس قسم کے ہنگامے برپا کرا دیتے ہیں۔ بعض غیر قادیانی اخباروں سے مرزا غلام احمد کے خلاف (اپنے

٩٦

صفحہ ٣٢٥

خلاف نہیں) مسلسل لکھواتے اور اس طرح فرضی وغیر فرضی خطرات پیدا کر کے قادیانی مریدوں کی ضعیف الاعتقادی سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔

حقیقت یہ ہے کہ ہم اس موضوع پر قلم اٹھانا ہی نہیں چاہتے تھے۔ لیکن پچھلے دو ماہ سے مرزا محمود احمد نے رؤیا و کشوف کی جو زندگی اختیار کی ہے اور اپنی خلافت کو خلافت الہیہ ثابت کرنے کے لئے جس لب ولہجہ میں گفتگو شروع کی ہے اس کے پیش نظر ہم نے ٹوکنا اس لئے مناسب سمجھا کہ مسلمان اس چہیتی اقلیت کے دفاع کی پہلے ہی کافی سزا بھگت چکے ہیں۔ اب اگر مصرع اس طرح اٹھایا گیا تو خدا معلوم نتائج کیا ہوں؟ اور صورت حالات افسوسناک ہو کر مقطع پر ختم ہو؟

بحمد اللہ! اب کے قادیانی خلیفہ کے محاسبہ میں وہ لوگ پیش پیش ہیں جن کے متعلق یہ الزام نہیں لگایا جا سکتا کہ انہیں خلیفہ صاحب کے خلاف کوئی تحریک اٹھانے کا شوق ہے یا وہ ماضی قریب میں کسی فتنے کو ہوا دیتے رہے ہیں یا سی آئی ڈی کی معصوم یادداشتوں (مندرجہ تحقیقاتی رپورٹ) کے الفاظ میں بدگو ہیں۔ جن لوگوں نے اب خلیفہ صاحب پر گرفت شروع کی ہے وہ تقریباً سبھی ایسے عناصر ہیں جنہوں نے نہ صرف مرزا قادیانی کے عقائد کو مسخرا پن سمجھ کر نظر انداز کیا بلکہ ملک وقوم کی عظیم مصلحتوں کے پیش نظر یہی بہتر سمجھا کہ درگذر سے کام لیں۔ کیونکہ یہ بات قریب قریب یقینی ہے بلکہ ہم میاں محمود احمد کی نفسیاتی ساخت کے مطابق پیش گوئی کرتے ہیں کہ قادیانی امت کی جو شمع روشن ہے اس کی لو صرف میاں محمود احمد کی حیات تک ہے۔ اس برطانوی چراغ میں سے روغن ختم ہو چکا ہے۔ اب صرف بجھتے دیے سے اٹھتا دھواں مرتی روشنی کا سہارا لے رہا ہے۔

لیکن جیسا کہ ہم نے پہلے لکھا تھا میاں محمود احمد کو بڑھاپے کے انجام نے اس درجہ خوفزدہ کر دیا ہے کہ وہ موت کے ڈر سے ژاژ خوانی پر اتر آئے ہیں۔ ان کی اس ژاژ خوانی کا دائرہ اگر ان کی اپنی ہی جماعت تک محدود رہتا تو ہمیں شاید ان سے تعرض کا کوئی حق نہ ہوتا۔ لیکن انہوں نے حسب عادت اپنی ہفوات میں عام مسلمانوں، قرآن کی آیتوں، خلفائے راشدین اور ائمہ معصومین کو بھی لپیٹنا شروع کیا اور ریاست اندر ریاست کے زعم میں یہاں تک بڑھ گئے کہ ؎

ناوک نے تیرے صید نہ چھوڑا زمانے میں
تڑپے ہے مرغِ قبلہ نما آشیانے میں

خلیفہ صاحب کے ارشادات کی بعض جھلکیاں ہم گذشتہ شمارے میں پیش کر چکے ہیں۔ اب حال ہی میں ایک اور خط الفضل ربوہ میں شائع ہوا ہے۔ اس خط میں اپنی جانشینی کی وضاحت

٩٧

صفحہ ٣٢٦

کرتے ہوئے میاں محمود احمد صاحب فرماتے ہیں کہ: ”ان کا ذاتی عقیدہ یا طرزعمل، علیؓ ، کرم اللہ وجہہ کے بجائے عمرؓ کے قریب ہے۔“ اور شوخی چشمی ملاحظہ ہو کہ امام حسن بھی مجھ سے متفق نظر آتے ہیں۔ ”انا للہ وانا الیہ راجعون“ ممکن ہے وہ لوگ جو اقتدار کی گدیوں پر بیٹھے ہیں اس گستاخی کو چنداں اہمیت نہ دیں؟ کیونکہ ان کے نزدیک مقدم چیز سیاسیات ہے اور ان میں سے بیشتر کو اس سے غرض نہیں کہ خدا اور رسول ﷺ کے بارے میں کون کیا سوچتا اور کون کیا کہتا ہے۔ خدا کا شکر ہے کہ سی. آئی. ڈی کے افسران مجاز کا پرانا طائفہ دوسرے فرائض کی طرف منتقل ہو چکا ہے۔ ورنہ ہم ان سے سوال کرتے کہ: ”آپ کو ملکہ الزبتھ اور ملکہ وکٹوریہ کے بارے میں سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ کے لب ولہجہ سے جو شکایتیں پیدا ہوئی تھیں اور ان پر آپ نے میاں محمود احمد صاحب کی شکایت کا حق دفاع جس اضطراب سے ادا کیا تھا کیا اب بھی مسلمان ہی خطا کار ہیں؟ اور کیا یہ واقعہ نہیں کہ مرحوم قیادت کی اخلاقی اور قانونی اعانت نے میاں محمود احمد اور ان کے حواریوں کے حوصلے بڑھا دیئے ہیں۔“

ہمار خیال تھا کہ مرزا محمود احمد سینکڑوں مسلمانوں کو مروانے کے بعد امن اور چین کا سانس لیں گے اور آئندہ کے لئے احتیاط برتیں گے۔ لیکن معلوم ہوتا ہے کہ ان کے منہ کو خون کی جو چاٹ لگ چکی ہے وہ کسی مرحلے میں بھی ختم نہیں ہوتی۔ سانپ اپنی کینچلی بدل سکتا ہے لیکن محمود احمد اپنا رویہ بدلنے کو تیار نہیں۔ انہوں نے اسلام کی تمام مقدس اصطلاحات اپنے اوپر اوڑھ لیں اور اسلام اور الہام سے لے کر قرآن وایمان تک کے سب الفاظ اپنے اوپر استعمال کرنے شروع کئے ہیں۔ یہاں تک کہ تاریخ اسلام سے بعض خاص روایتیں نکال نکال کر اپنے حالیہ اختلافات پر چسپاں کر رہے ہیں۔

کہیں انہیں اپنا وجود عمرؓ کے پہلو بہ پہلو نظر آتا ہے۔ کہیں انہیں علیؓ سے اختلاف محسوس ہوتا ہے۔ کہیں وہ امام حسینؓ کو اپنے سے متفق پاتے ہیں۔ کہیں انہیں حضرت صدیق اکبرؓ کی طرح حکیم نور الدین کا سر خدا کے سامنے جھکا ہوا اور آنکھیں محجوب نظر آتی ہیں۔ کہیں ایک بدو کے ہاتھ عثمانؓ کی داڑھی طبری کی روایت سے دکھائی پڑتی ہے۔ کہیں اپنے الہام کا رسول اللہ ﷺ کے علم سے بالواسطہ موازنہ کیا جاتا ہے اور ان کی صحت پر اصرار ہوتا ہے۔ کہیں قرآن مجید پر عیسائیوں کے اس اعتراض کی آڑ لے کر اس میں لواطت اور حیض کا ذکر ہے اپنے کمالات بلاغت کی داد حاصل کی جاتی ہے۔ یہ سب کچھ الفضل کی حالیہ اشاعتوں میں چھپ چکا ہے۔

افسوس ہے کہ کئی ہفتوں سے یہ پورا تماشا حکومت کے مجاز افسر بھی دیکھ رہے ہیں۔

٩٨

انہیں یہ بھی معلوم ہوگا کہ منیر انکوائری رپورٹ صاحبان نے تسلیم کیا ہے کہ جمہور المسلمین مگر ابھی تک معلوم نہیں ہوسکا کہ حکومت نے ا تو ہم دیکھ رہے ہیں کہ خان عبدالغفار خان مقدمہ چل رہا ہے۔ سید عطاء اللہ شاہ بخاری سے زیادہ لذیذ ہے اور ان کی زبان بندی کے علماء کو اختلاف بین المسلمین کی آڑ لے کر پابند لیکن قدغن نہیں تو صرف میاں اصطلاحوں اور مقدس شخصیتوں کے نام اس پونجی ہوں اور وہ انہیں لٹانے یا بکھیرنے کا پو نسبت ہے جو پاپوش کو سورج سے ہوتی ہے او ہے جیسے گالی کو بلاغت سے تعبیر کیا جائے۔

میاں محمود احمد جب اپنی ذات کو ال صرف مسلمانوں کے جذبات کو مشتعل کرتے فائدہ اٹھاتے ہیں جنہیں چوہدری ظفر اللہ خاں کیا ارباب اختیار محمود احمد کی ان یہ سمجھیں کہ حکومت کے اعوان وانصار میں وزارت کے کانوں تک پہنچانے سے مصل بھی درست ہے تو ہمارے نزدیک بظاہر ع محتاط بات یہ کہہ سکتے ہیں کہ ہمارے سیاس سے غافل ہیں اور انہیں مطلقاً خبر نہیں کہ مس حد تک طیش آچکی ہے؟

میاں محمود احمد بڑے شاطر ہیں دل خواہ فائدہ اٹھایا ہے۔ ایک قادیانی کی وج سے ان کی فائل ہی سرکار کے دفتر سے عنقا ہ ہے۔ اگر یہ درست ہے تو مغربی پاکستان کی

صفحہ ٣٢٧

انہیں یہ بھی معلوم ہوگا کہ منیر انکوائری رپورٹ میں ان دل آزاریوں کا ذکر موجود ہے اور فاضل جج صاحبان نے تسلیم کیا ہے کہ جمہور المسلمین کے دلوں میں اس سے غبار پیدا ہونا قدرتی بات ہے۔ مگر ابھی تک معلوم نہیں ہوسکا کہ حکومت نے اس کے بارے میں کیا قدم اٹھایا ہے۔ سیاسیات میں تو ہم دیکھ رہے ہیں کہ خان عبدالغفار خاں جیل میں ہیں۔ خان عبدالصمد اچکزئی کے خلاف بھی مقدمہ چل رہا ہے۔ سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ کا گوشت تو غالباً فرزندان احتساب کے نزدیک سب سے زیادہ لذیذ ہے اور ان کی زبان بندی کے احکام ساتھ ساتھ چلتے ہیں۔ وہ کون سا شہر ہے جہاں علماء کو اختلاف بین المسلمین کی آڑ لے کر پابند نہیں کیا گیا۔

لیکن قدغن نہیں تو صرف میاں محمود احمد اور الفضل پر کوئی قدغن نہیں جو مقدس اصطلاحوں اور مقدس شخصیتوں کے نام اس بے تکلفی سے استعمال کرتا ہے کہ جیسے وہ اس کی جیب کی پونجی ہوں اور وہ انہیں لٹانے یا بکھیرنے کا پورا حق رکھتا ہے۔ حالانکہ میاں محمود احمد کو علیؓ سے وہی نسبت ہے جو پاپوش کو سورج سے ہوتی ہے اور عمرؓ کے ساتھ اس کا اپنے آپ کو منسلک کرنا ایسا ہی ہے جیسے گالی کو بلاغت سے تعبیر کیا جائے۔

میاں محمود احمد جب اپنی ذات کو ان مقدس شخصیتوں کے ساتھ بریکٹ کرتے ہیں تو وہ نہ صرف مسلمانوں کے جذبات کو مشتعل کرتے ہیں بلکہ جان بوجھ کر ان مسلمانوں کی بے بسی سے فائدہ اٹھاتے ہیں جنہیں چوہدری ظفر اللہ خان کی وزارت خارجہ کے زمانے میں خوفزدہ کر دیا گیا تھا۔

کیا ارباب اختیار محمود احمد کی ان تحریروں کو بے ضرر سمجھتے ہیں یا مجذوب کی بڑ یا پھر ہم یہ سمجھیں کہ حکومت کے اعوان وانصار میں مرزائیوں کی بوقلموں کھیپ موجود ہے جو اصلیت کو وزارت کے کانوں تک پہنچانے سے مصلحتاً اغماض کرتی ہے۔ اگر ان میں سے کوئی سی صورت بھی درست ہے تو ہمارے نزدیک بغایت افسوس ہے اور ہم اس بارے میں زیادہ سے زیادہ محتاط بات یہ کہہ سکتے ہیں کہ ہمارے سیاست دان کسی نئے تماشے کے انتظار میں ہیں یا وہ اس سے غافل ہیں اور انہیں مطلقاً خبر نہیں کہ مسلمانوں کے جذبات کو اس قسم کی یاوہ گوئیوں سے کس حد تک ٹھیس پہنچتی ہے؟

میاں محمود احمد بڑے شاطر ہیں۔ انہوں نے ماضی قریب میں افسران مجاز سے حسب دل خواہ فائدہ اٹھایا ہے۔ ایک قادیانی کی وساطت سے ہمیں یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ ١٩٣٥ء کے بعد سے ان کی فائل ہی سرکار کے دفتر سے عنقا ہو گئی ہے۔ ہم نہیں کہہ سکتے اس میں کہاں تک صداقت ہے۔ اگر یہ درست ہے تو مغربی پاکستان کی حکومت کا فرض ہے کہ وہ اس کا سراغ لگائے۔ ہمیں

٩٩

صفحہ ٣٢٩

اس کے پس منظر میں مرزا محمود احمد کا پراسرار ہاتھ نظر آتا ہے۔ اب بھی ہمارا خیال ہے کہ وہ حکومت کو پریشان کرنے کے لئے یہ تمام کھڑاک رچا رہے ہیں۔ انہیں یقین ہو چکا ہے کہ وہ خود تو گور کنارے ہیں۔ آج مرے یا کل۔ لیکن وہ اپنی موت کا انتقام ایک نفسیاتی مریض کی طرح (ماہرین نفسیات اس کو بخوبی سمجھتے ہیں) پورے معاشرے سے لینا چاہتے ہیں۔ انہیں مسلمانوں یا پاکستان سے کوئی دلچسپی نہیں۔ حتیٰ کہ اب انہیں اپنے پیروؤں سے بھی کوئی دلچسپی نہیں۔ وہ ان کی زندگیوں پر بھی رحم نہیں کرتے۔ خود محفوظ زندگی بسر کرتے ہیں۔ انہیں معلوم ہے کہ حکومت ہمہ وجوہ ان پر کوئی آنچ نہ آنے دے گی اور ویسے بھی تنخواہ دار مریدوں کی ایک ضعیف الاعتقاد کھیپ اپنی حفاظت کے لئے ساتھ رکھتے ہیں۔ مگر نقصان کن کو پہنچتا ہے؟ ان لوگوں کو جو ان کی خرافات سے مشتعل ہو کر اپنی دینی وحدت کو بچانے کے لئے آگے بڑھتے ہیں یا پھر قادیانی جماعت کے وہ گمراہ مخلصین جنہیں کسی نہ کسی وجہ سے یہ یقین ہے کہ میاں محمود احمد واقعی مصلح موعود ہیں۔

کیا ١٩٥٣ء کے ہنگامے میں یہ نہیں ہوا؟ کون مارا گیا غریب الحال قادیانی یا وہ مسلمان جن کے لئے حضور سرور کائنات ﷺ کی ختم المرسلینی سے بڑھ کر کائنات کی کوئی چیز بھی عزیز نہیں ہے۔ لازم تھا کہ منیر انکوائری کمیٹی کی رپورٹ کے بعد حکومت خلیفہ صاحب کی سرگرمیوں کا احتساب کرتی اور محمود احمد صاحب کو بھی ایک دن لاہور کے شاہی قلعے کی سیر کراتی۔ تاکہ اس پر واضح ہوتا کہ خانہ ساز خلافت کا منشاء و مفہوم کیا ہے۔ ہم پورے یقین اور احترام کے ساتھ عرض کریں گے کہ میاں محمود احمد کو فی الواقعہ Interrogate کرنے کی ضرورت ہے۔ کچھ دنوں کے لئے انہیں سیفٹی ایکٹ یا سیکورٹی ایکٹ کے تحت قلعہ میں رکھئے۔ آپ کو معلوم ہو جائے گا کہ مصلح موعود ہیں کیا؟ قلعہ میں کون نہیں رہا۔ محمود احمد بھی کچھ دن بحالی صحت کے لئے قیام کریں گے تو اس میں حرج کی کون سی بات ہے۔ آخر یہ قلعہ بھی تو مغلوں ہی کی یادگار ہے۔

اب تک ماضی کی حکومتوں نے بحالی امن کے لئے کیا کچھ نہیں کیا۔ کیا مارشل لاء نافذ نہیں کیا۔ (١٩٥٣ء) ؟ عوام پر گولیاں نہیں چلائی گئیں؟ سب کچھ ہوا اور امن عامہ کے لئے ہوا۔ آج بھی امن عامہ کا تقاضا ہے کہ مرزا محمود احمد کچھ دن کے لئے قلعہ میں تشریف رکھیں؟ اور مسلمان ان کے خلاف جو چارجز Charges لگاتے ہیں ان کی تفتیش ہو۔

اسی ملک میں قیام پاکستان سے پہلے انگریزی حکومت نے امن عامہ کے نام پر پیر پگاڑو پر ہاتھ ڈالا تھا اور مسلمانوں کے اس جلیل القدر فرزند کو پھانسی پر لٹکا دیا تھا۔ لیکن آج ہماری حکومت ہے اور ہم امن عامہ ہی کے نام پر اپنی حکومت سے اپیل کرتے ہیں کہ مرزا محمود احمد جو زہر

١٠٠

پھیلا رہے ہیں، اس کا ہمیشہ کے لئے سدباب کیا جا پاکستان پہلے ہی ان جھمیلوں اور جھگڑوں کو سختی سے دبا دینے کی ضرورت ہے۔ قانون یا مم خلیفہ کو صرف اس لئے یاوہ گوئی کی اجازت دی جا پالیسی اس لئے اختیار کر لی جائے کہ وہ اکثریت روا نہیں رکھا گیا۔ آج سب سے بڑی ضرورت یہ اور مغربی پاکستان کے گورنرز و وزیر اعلیٰ دور حاضرہ مسلمانوں کی دینی وحدت کو تباہ کرنے کے لئے نہ ہیں بلکہ اپنی عظمت کا مصنوعی بت قائم کرنے کے فاروقؓ، عثمان غنیؓ، علی کرم اللہ وجہہ اور امام حسن خاک بدہن ان کے ساتھ کیا کھیلا ہوا ہے۔ حالانکہ افضل ہے۔

چٹان کی تجاویز کا رستہ اب صاف ہو اسلام کو خارج از اسلام کہنے والی اور تکفیر اہل قبلہ ک قرار دی جا چکی ہے۔ اسلئے اگر اس آئینی ترمیم کے تو بغیر کسی سنگین کارروائی کے یہ فتنہ انکار ختم نبوت ہو سکتا ہے۔ اگر یہ نہ ہوا تو آئینی ترمیم کے باوجود پا گا۔ غیر مسلم اپنی عبادت گاہوں کو مساجد کہیں گے اپنی غیر مسلمی کو پھیلاتے رہیں گے اور معاملہ جوں ک

(نوٹ: یہاں پر مصنف نے جناب چونکہ اس کتاب میں علیحدہ شامل اشاعت ہے اس

فطرت کا نا

اے اہل نظر ذوق
جو شے کی حقیقت کو

اگر ریاست ربوہ کا عمرانی احتساب کی

١٠١

صفحہ ٣٢٩

پھیلا رہے ہیں، اس کا ہمیشہ کے لئے سدباب کیا جائے۔

پاکستان پہلے ہی ان جھمیلوں اور جھگڑوں سے کافی بدنام ہو چکا ہے۔ اب ان تنازعات کو سختی سے دبا دینے کی ضرورت ہے۔ قانون یا مصلحت کا منشاء یہ نہیں کہ ایک جماعت یا اس کے خلیفہ کو صرف اس لئے یاوہ گوئی کی اجازت دی جائے کہ وہ اقلیت میں ہیں اور دوسروں کو دبانے کی پالیسی اس لئے اختیار کر لی جائے کہ وہ اکثریت میں ہیں۔ اس قسم کی رواداری کو کسی ملک میں بھی روا نہیں رکھا گیا۔ آج سب سے بڑی ضرورت یہ ہے کہ صدر جمہوریہ پاکستان، وزیر اعظم پاکستان اور مغربی پاکستان کے گورنر وزیر اعلیٰ دور حاضرہ کے اس اسلامی راسپوٹین کا احتساب کریں جو مسلمانوں کی دینی وحدت کو تباہ کرنے کے لئے نہ صرف کرنل لارنس کے فرائض انجام دے رہے ہیں بلکہ اپنی عظمت کا مصنوعی بت قائم کرنے کے لئے خدا اور رسول ﷺ کے علاوہ صدیق اکبر، عمر فاروق، عثمان غنی، علی کرم اللہ وجہہ اور امام حسن کے نام اس شوخ چشمی سے استعمال کرتا ہے گویا خاکم بدہن ان کے ساتھ کا کھیلا ہوا ہے۔ حالانکہ ان کا بول و براز بھی اس کے داغدار وجود سے افضل ہے۔

(چٹان لاہور)

چٹان کی تجاویز کا رستہ اب صاف ہو گیا ہے۔ کیونکہ ٧ ستمبر ١٩٧٤ء کو تمام دنیائے اسلام کو خارج از اسلام کہنے والی اور تکفیر اہل قبلہ کرنے والی جماعت خود از روئے آئین غیر مسلم قرار دی جاچکی ہے۔ اسلئے اگر اس آئینی ترمیم کے ماتحت تعزیری قواعد و ضوابط بھی نافذ ہو جائیں تو بغیر کسی سنگین کارروائی کے یہ فتنہ انکار ختم نبوت اپنے تمام مہیب عواقب کے ساتھ پیوند خاک ہوسکتا ہے۔ اگر یہ نہ ہوا تو آئینی ترمیم کے باوجود پاکستانی معاشرہ ایک مہلک الجھن میں اسیر رہے گا۔ غیر مسلم اپنی عبادت گاہوں کو مساجد کہیں گے اور اپنے تبلیغی وسیع انتظامات اور دفاتر کے ساتھ اپنی غیر مسلمی کو پھیلاتے رہیں گے اور معاملہ جوں کا توں رہے گا۔

(نوٹ: یہاں پر مصنف نے جناب صالح نور کا ایک رسالہ کتاب کا جزو بنایا وہ رسالہ چونکہ اس کتاب میں علیحدہ شامل اشاعت ہے اس لئے یہاں سے خارج کر دیا ہے۔ مرتب!)

فطرت کا ناگزیر انتقام

اے اہل نظر ذوق نظر خوب ہے لیکن
جو شے کی حقیقت کو نہ دیکھے وہ نظر کیا

اگر ریاست ربوہ کا عمرانی احتساب کیا جائے تو یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ مغربی پاکستان

١٠١

صفحہ ٣٣٠

میں اس کی وہی حیثیت ہے جو اسرائیل کی بلاد اسلامیہ میں ہے۔ اسلامی معاشرے کے دل میں یہ تیر نیم کش کی طرح پیوست ہے۔ اس کی خلش سے سارا سماج نڈھال ہو رہا ہے۔ قانون کی مصلحت اندیش بے بسی نے اس دینی یرقان کو ایک قسم کا فروغ بخشا ہے۔ عوام اور حکام اس ابتلاء سے خوب آگاہ ہیں۔ ملکی قانون میں اس کے کامل استیصال کا کوئی نسخہ موجود نہیں۔ اس واسطے ربوہ کا مذہبی آمر (خلیفہ) تقریر اور تحریر میں ایسے تمرد کا مظاہرہ کر جاتا ہے جس کا تصور بھی اسلامی ریاست میں مشکل ہے۔ اس دور کی حکومت اپنی مصلحت بینیوں کی وجہ سے عاجز تھی اور عوام حکومت کے عجز پر نوحہ کناں تھے۔ عوامی لیڈروں کا یہ حال تھا۔

کیا بنے بات جہاں بات بنائے نہ بنے

وہ مہر بلب ہو کر رہ جاتے تھے اور یہ ناسور ہمارے تمدن و عمران کو اندر ہی اندر کھائے جارہا تھا۔ اس پر کب نتیجہ خیز عمل جراحی ہو گا یہ خدا ہی جانتا ہے لیکن ہو گا ضرور۔

شاخ نازک پہ آشیانہ

٧ ستمبر ١٩٧٤ء کے فیصلے سے آغاز ضرور ہو چکا ہے۔ کیونکہ خدا نے پاکستان کی داغ بیل اس لئے نہیں ڈالی تھی کہ وہ حکومتی معذوریوں کی وجہ سے ایک عمرانی فتنہ کا شکار ہو جائے۔ جوں جوں کوئی حکومت مصلحت کی آڑ لے کر اپنے فرائض سے گریز کرے گی۔ توں توں خدا اس وطن مقدس کی بقاء اور عروج کے سامان پیدا کرے گا۔ اس کا باطنی فتنہ اپنے خرقہ پوش شاطر کے ہاتھوں فنا ہو جائے گا۔ جن لوگوں کو حکومت سے زیادہ خدا اور اس کی سنت قدیم کے اعجاز اور کرشموں پر نظر ہے۔ وہ دیکھ رہے ہیں کہ قادیانی خلافت داخلی انتشار میں مبتلا ہے۔ جماعتی نظام پر جذام کی سی کیفیت طاری ہے۔ اب حکومت کوئی سہارا دینے کو تیار نہیں۔ وہ خلیفہ جو ہوا پر گرہ لگایا کرتا تھا جب اس کے ہوش و حواس رخصت ہوئے اس کی تقریریں اس کے جنون کی غمازی کرنے لگی تھیں۔ ایک عمرانی مبصر وثوق سے کہہ سکتا ہے۔

تمہاری تحریک اپنے عجز سے آپ ہی خود کشی کرے گی
جو شاخ نازک پہ آشیاں بنے گا ناپائیدار ہو گا

انسانیت پر شبخون

اس دور کا مسلمان نصف صدی سے زیادہ مرزا محمود کے تلبیس و التباس کے چکر دیکھتا رہا۔ ابتداء میں اس نے عمرانی فتنے سے اغماض کیا۔ لیکن خلیفہ ربوہ کی بڑھتی ہوئی جارحیت سے اس کی چشم بصیرت وا ہو گئی۔ اب ایک کوچہ نورد کو بھی شعور ہے کہ اس شخص نے دین کے نظر فریب

١٠٢

پردے میں چہار سو دام تزویر پھیلا رکھا تھا ب خلاف علم بغاوت کھڑا کر رکھا تھا بلکہ اس ن مریدوں کو ” قردۃ خاسئین “ بنا دیا۔ وہ اس م مداری کے ہاتھ میں ۔ بندر مداری سے بھاگ ہوچکی ہوتی ہے اور وہ جنگل کے بندروں می دے تو وہ بھاگ کر اس کے کھونٹے پر آ جاتا ہ اگر وہ کہیں جنگل میں جا نکلے تو جنگل کے بند کی تربیت سے یہ اپنی فطری خواص کھو چکا ہ جنسی تباہ ہو چکی ہے۔ یہی حال قادیانیوں ک ایک اجنبی قوم بن چکے ہیں۔ نہ وہ مسلما مسلمانوں کا سواد اعظم ہی ان کو قبول کرنا چاہ اور دن رات اس کا ڈھنڈورا پیٹنا اور اپنی عم اس کے بعد بھی یہی کچھ ہو رہا ہے۔

غلیظ سازش کی پیداوار

خلیفہ محمود نے یہ کارنامہ کس طر کا ایک سنگین باب قلم و قرطاس کے تعاون س اختصار کے ساتھ کچھ کہنا بے جا نہ ہوگا۔ یہ عقی قادیانی جماعت کا خلیفہ بن بیٹھا۔ خلافت ک صورت اختیار کرلی۔ اس وقت اس شخص کی ع بڑی ناپختگی کی عمر ہے۔ کیونکہ عمر کے اس ح حاوی رہتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کی سنت کے مطا بعد تفویض ہوتا ہے۔ کیونکہ اس وقت افکا لحاظ سے بھی پھسلنے کے امکان بہت کم ہوت استعمار سے ٹھکرا دیا اور خام عمر میں ہی زار کا دعویٰ کر دیا اور اس کے قول کے مطابق رسول اللہ ﷺ (فداہ ابی وامی) پر قرآن

صفحہ ٣٣١

پردے میں چہار سو دام تزویر پھیلا رکھا تھا۔ اس نے خود ساختہ الہاموں سے نہ صرف الوہیت کے خلاف علم بغاوت کھڑا کر رکھا تھا بلکہ اس نے انسانوں کی انسانیت پر بھی شبخون مارا۔ اس نے مریدوں کو ”قردۃ خاسئین“ بنادیا۔ وہ اس کے ہاتھ میں اس طرح رقص کرتے تھے جس طرح بندر مداری کے ہاتھ میں۔ بندر مداری سے بھاگ کر جنگل میں نہیں جانا چاہتا۔ کیونکہ اس کی فطرت مسخ ہو چکی ہوتی ہے اور وہ جنگل کے بندروں میں رہنے کے قابل نہیں رہتا۔ اگر مداری اس کو چھوڑ بھی دے تو وہ بھاگ کر اس کے کھونٹے پر آ جاوے گا۔ اس کو اب مداری کی زنجیر میں ہی آرام ہے۔ اگر وہ کہیں جنگل میں جا نکلے تو جنگل کے بندر اس کو مار ڈالیں گے۔ کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ مداری کی تربیت سے یہ اپنی فطری خواص کھو چکا ہے۔ اس کی صورت بندر کی سی ہے۔ اس کی فطری ہم جنسی تباہ ہو چکی ہے۔ یہی حال قادیانیوں کا ہے۔ ساٹھ سال ذہنی غلامی میں رہ کر وہ ہر لحاظ سے ایک اجنبی قوم بن چکے ہیں۔ نہ وہ مسلمان معاشرے سے واسطہ پیدا کرنا چاہتے ہیں اور نہ مسلمانوں کا سواد اعظم بھی ان کو قبول کرنا چاہتا ہے۔ اس عمل مسخ کو خلیفہ ربوہ اپنا شاہکار تصور کرتا تھا اور دن رات اس کا ڈھنڈورا پیٹتا اور اپنی عمرانی غارت گری کو اپنی دینی کامرانی سے موسوم کرتا تھا۔ اس کے بعد بھی یہی کچھ ہو رہا ہے۔

غلیظ سازش کی پیداوار

خلیفہ محمود نے یہ کارنامہ کس طرح سر انجام دیا۔ یہ ایک طویل داستان ہے۔ گویا تاریخ کا ایک سنگین باب قلم و قرطاس کے تعاون سے ایک حسین انداز میں محفوظ ہونا ضروری ہے۔ اختصار کے ساتھ کچھ کہنا بے جا نہ ہوگا۔ یہ غلیظ سازش کا ایک کامیاب چکر چلا کہ ٢٠؍ فروری ١٩١٤ء کو قادیانی جماعت کا خلیفہ بن بیٹھا۔ خلافت اور الوہیت کے اس امتزاج نے ایک دجالیاتی فتنہ کی سی صورت اختیار کر لی۔ اس وقت اس شخص کی عمر پچیس سال تھی جو قیادت کے ابدی اصول کے مطابق بڑی نا پختگی کی عمر ہے۔ کیونکہ عمر کے اس دور میں جذبات میں تلاطم ہوتا ہے اور وہ عقل خام پر حاوی رہتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کی سنت کے مطابق قوم کی رہبری اور رہنمائی کا فرض چالیس سال کے بعد تفویض ہوتا ہے۔ کیونکہ اس وقت افکار و اعمال میں اعتدال اور توازن آ جاتا ہے۔ عام نفسیاتی لحاظ سے بھی پھسلنے کے امکان بہت کم ہو جاتے ہیں۔ مرزا محمود نے خدا کی اس سنت قدیم کو پائے استحقار سے ٹھکرا دیا اور خام عمر میں ہی زاغ ہوتے ہوئے عقاب بن بیٹھا۔ اس نے فوراً ملہم ہونے کا دعویٰ کر دیا اور اس کے قول کے مطابق قرآن کریم کی آیات اس پر نازل ہونی شروع ہو گئیں۔ رسول اللہ ﷺ (فداہ ابی وامی) پر قرآن چالیس سال کے بعد نازل ہونا شروع ہوا۔ اس شخص پر

١٠٣

صفحہ ٣٣٣

اس کے (معاذ اللہ) نزول کی تجدید پچیس سال سے پیشتر ہی شروع ہو گئی۔ افتراء پردازی کا اس سے زیادہ گھناؤنا شاہکار تاریخ پیش کرنے سے قاصر ہے۔ قوم کے جھکاؤ کو دیکھتے ہی اس نے فضل عمر ہونے کا اعلان کر دیا۔ یعنی وہ معاذ اللہ حضرت عمر فاروقؓ سے افضل بن بیٹھا۔ جس خود ساختہ نبی کا وہ خلیفہ تھا وہ تو اپنی صیانت کے لئے اپنے آپ کو حضرت محمد رسول اللہﷺ کا ادنیٰ ترین غلام ہونے کا مدعی تھا اور یہ مادر پدر آزاد بیٹا رسول اللہﷺ کے خلیفہ ثانی حضرت فاروق اعظمؓ سے افضل ہونے کا مدعی بنا اور اپنی بے روح اور بے ضمیر قوم سے یہ ابلیسی دعویٰ تسلیم کروالیا۔ اس ایک واقعہ سے اس شخص اور اس کی جماعت کی خانہ ساز روحانیت کا راز طشت از بام ہو جاتا ہے اور یہ حقیقت عیاں ہو جاتی ہے کہ یہ سراسر کذب، فریب کا مرکب ہے۔

اس شاطر کذاب نے مسلمانوں کی دو عظیم نعمتوں پر ابلیسی چھاپہ مارنے کی ناکام اور نامراد کوشش کی۔ ایک ختم المرسلینی پر اور دوسری فاروقیت عظمیٰ پر ۔ یہ افتراء برطانوی سنگینوں کے سائے میں پروان چڑھا۔ ہر چند کہ مسلمان اس دجل وفریب کے خلاف مجادلہ آراء رہے۔ لیکن ان کے اپنے باطنی انتشار نے مرزا محمود کے نامحمود نظام کی رسی دراز کر دی۔ مسلمانوں پر بے بسی کا عالم طاری رہا۔ مسلمانوں کی اس قنوطیت کو دیکھ کر مرزا محمود یہ کہتا رہا؎

خضر بھی بے دست وپا، الیاس بھی بے دست وپا
مرے طوفان یم بہ یم نہ دریا جو بہ جو

گوسالہ سامری پر ضربِ کلیمی

لیکن حق دیر تک پسپا نہیں رہ سکتا۔ وہ باطنی توانائی سے بروئے کار آکر رہتا ہے۔ اسی وجہ سے یہ کہا جاتا ہے۔ ”الحق يعلوا ولا يعلى“ جونہی برطانوی استعمار حریت کی قربان گاہ پر بھینٹ چڑھا اور مرزا محمود کے سفید آقا بیک بینی و دوگوش وطن عزیز سے رخصت ہوئے مرزا محمود کا برپا کیا ہوا فتنہ بھی حالت نزع میں مبتلا ہو گیا۔ ١٩٤٧ء میں قادیانیوں نے ”دارالامان“ کو ”دارالبوار“ کہہ کر ترک کیا۔ محمودیت کے گوسالہ سامری پر یہ پہلی ضرب کلیمی تھی۔

یہ نام نہاد اولوالعزم خلیفہ معرکہ روح و بدن میں مبتلا ہو گیا۔ اس کو ”اشداء علی الکفار“ کی آیت بھول گئی۔ ”موتوا قبل ان تموتوا“ کی آیت کریمہ بھی صرف نسیان ہو گئی۔ کیونکہ معرکہ سخت ہے اور جان عزیز کا معاملہ درپیش تھا۔ اس نے قادیانیت کی دیوار گریہ کو تھامنے کی ایک ناکام کوشش کی۔ اس نے اعلان کیا کہ وہ قادیان کو ترک نہیں کرے گا۔ کیونکہ اس نے باپ کی نعش کو سپرد لحد کرتے ہوئے خدا سے عہد کیا تھا کہ اگر سارے لوگ بھی اس مقدس زمین

١٠٤

کو چھوڑ جائیں گے تو وہ اسی میں رہے گا اور اس کا ہی ہو کر ر بھیج دی جس سے قادیانیوں کو جعلی تقویت ملی۔ ان کی ہم اخباروں میں مقالے چھپے۔ لیکن مقالوں کی سیاہی ابھی خشک رکھ کر بھاگے اور اس ارض مقدس میں پناہ گزین ہوئے۔ ناکام فتنے تخلیق کئے تھے۔ یہ یادرہے کہ خلیفہ محمود ہندوستا ہوئے۔ جان بچانے کے لئے یہ مہم مشرک قوم سے گٹھ جوڑ منہم“ کا مصداق بنا۔

قادیانیت کی دیوار گریہ

مریدوں نے اس کے بھاگنے کے منظر کو دیکھا اس کو اس طرح نہ چھوڑ سکے جس طرح سدھایا ہوا بندر مداری کمال نہیں۔ ہاں! مداری کے تخریبی فن کو نظر انداز نہیں کیا میں اسی قسم کا کارنامہ سرانجام دیا ہے۔ اس نے فطرتوں کو فروغ کیا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ اس کے قادیانی مرید اس سے الگ رہنے کی صلاحیت کھو بیٹھے تھے۔ ان کی رفتار، گفتار چکے ہیں۔ ان کی ذہنی افتاد کا یہ عالم ہے کہ یہ مہرہ جس ہاتھ ک برگِ حیات، نقلی گٹھلی، اضغاث احلام کو الہام اور شرار بو ہیں۔ اب ان کے سامنے قادیانیت کی دیوار گریہ کے سوا روکنا ممکن نہیں۔ یہ قلیل عرصے کی مہمان ہے۔ کیونکہ اس ہے۔ وہ اپنا عمل کر کے رہے گی۔

یہ لوگ اپنے خلیفہ کی دامے، درمے، قدمے سے بچاتے تھے۔ پھر بھی اسی کو اپنا رہنما سمجھتے رہے۔ اس سلب کر لی ہے تا کہ وہ دانہ و دام میں تمیز نہ کر سکیں۔

ختم نبوت کی برق آسا تحریک

ان کی نیاز مندیوں کو وہ لعبت چین سے زیادہ بدل دیتا ہے۔ اس نے منیر ٹربیونل کے سامنے مسلمانو قادیانی کے کان پر جوں نہ رینگی۔ حالانکہ اس سے پہلے

١٠٥

صفحہ ٣٣٣

کو چھوڑ جائیں گے تو وہ اسی میں رہے گا اور اس کا ہی ہو کر رہے گا۔ ایک گشتی چٹھی تمام جماعتوں کو بھیج دی جس سے قادیانیوں کو جعلی تقویت ملی۔ ان کی ہمت پر دوسرے لوگ ششدر رہ گئے۔ اخباروں میں مقالے چھپے۔ لیکن مقالوں کی سیاہی ابھی خشک نہیں ہوئی تھی کہ یہ حضرت سر پر پاؤں رکھ کر بھاگے اور اس ارض مقدس میں پناہ گزین ہوئے۔ جس کی تخلیق کے خلاف انہوں نے کئی ناکام فتنے تخلیق کئے تھے۔ یہ یاد رہے کہ خلیفہ محمود ہندو سادھو کے بھیس میں قادیان سے رخصت ہوئے۔ جان بچانے کے لئے یہ ملہم مشرک قوم سے تشبہ پیدا کر کے ”من تشبه بقوم فهو منهم“ کا مصداق بنا۔

قادیانیت کی دیوار گریہ

مریدوں نے اس کے بھاگنے کے منظر کو دیکھا تو راستے میں اس کی حفاظت کی۔ لیکن وہ اس کو اس طرح نہ چھوڑ سکے جس طرح سدھایا ہوا بندر مداری کو نہیں چھوڑ سکتا۔ اس میں بندر کا کوئی کمال نہیں۔ ہاں! مداری کے تخریبی فن کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ اس شخص نے بھی بیالیس سال میں اسی قسم کا کارنامہ سرانجام دیا ہے۔ اس نے فطرتوں کو مسخ، بصیرتوں کو بے نور اور عقلوں کو بے فروغ کیا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ اس کے قادیانی مرید اس سے الگ نہیں ہو سکتے تھے۔ کیونکہ اس سے الگ رہنے کی صلاحیت کھو بیٹھے تھے۔ ان کی رفتار، گفتار اور کردار پیر پرستی کے سانچے میں ڈھل چکے ہیں۔ ان کی ذہنی افتاد کا یہ عالم ہے کہ یہ مبروص ہاتھ کو ید بیضا، دم افعی کو دم عیسیٰ، برگ حشیش کو برگ نبات، تعلی کو تجلی، اضغاث احلام کو الہام اور شرار بولہبی کو چراغ مصطفوی سمجھنے کو خوگر ہو گئے ہیں۔ اب ان کے سامنے قادیانیت کی دیوار گریہ کے سوا کچھ نہیں۔ اس کے انہدام کو آہ و بکا سے روکنا ممکن نہیں۔ یہ قلیل عرصے کی مہمان ہے۔ کیونکہ اس کی تعمیر میں ایک ”صورت خرابی“ ہی مضمر ہے۔ وہ اپنا عمل کر کے رہے گی۔

یہ لوگ اپنے خلیفہ کی دامے، درمے، قدمے، سخنے مدد کر کے اس کو ہر ابتلاء اور بحران سے بچاتے تھے۔ پھر بھی اسی کو اپنا رہنما سمجھتے رہے۔ اس تربیت نے ان سے تخلیقی عمل کی صلاحیت سلب کر لی ہے تا کہ وہ دانہ و دام میں تمیز نہ کر سکیں۔

ختم نبوت کی برق آسا تحریک

ان کی نیاز مندیوں کو وہ لعبت چین سے زیادہ حیثیت نہیں دیتا۔ وہ جب چاہے عقائد بدل دیتا ہے۔ اس نے منیر ٹربیونل کے سامنے مسلمانوں کے جنازے کے جواز کا اقرار کیا۔ کسی قادیانی کے کان پر جوں نہ رینگی۔ حالانکہ اس سے پہلے وہ سینکڑوں مریدوں کو اس ایک بات پر

١٠٥

صفحہ ٣٣٥

سزائیں دے چکا تھا کہ کسی وقت ایک قادیانی باپ نے اپنے مسلمان بیٹے کا جنازہ پڑھایا، کسی وقت ایک قادیانی بیٹے نے اپنے مسلمان باپ کا جنازہ پڑھایا۔ اس کے جنازے کو کندھا دیا۔ جونہی ختم نبوت کی برق آسا تحریک نے زور پکڑا۔ اس نے فوراً قادیانیت کی تبلیغ کو منسوخ کر دیا۔ اپنے متعلقہ محکموں کے نام بدل ڈالے۔ پریس میں اعلان کیا کہ وہ اس کی جماعت اپنے خانہ ساز دین کی تبلیغ سے مجتنب رہے گی۔ گویا اس نے ثابت کر دیا کہ اس کی خلافت انگریزوں کا خود ساختہ پودا ہے۔ اپنے عقائد کے مہیب عواقب سے بچنے کے لئے اس نے مسلمانوں سے الگ رہنے کے ہر فعل کو ایک بزدلانہ مدافعت قرار دینے میں ذرا دریغ سے کام نہ لیا۔ کیونکہ اس کے صم بکم عمی قسم کے مرید اس کے ارتداد کو بھی الہامی سمجھ کر سرنگوں ہو جائیں گے۔ کیونکہ ان کو یہ نصیحت ہے؎

دیکھ جو کچھ سامنے آئے منہ سے کچھ نہ بول
آنکھ آئینے کی پیدا کر دہن تصویر کا

خلافت پر متمکن ہوتے ہی اس دشمن ایمان و آگہی اور رہزن تمکین و ہوش نے اپنے سے بڑے قادیانیوں کو کمال چابکدستی سے حقیر مناصب پر مقرر کیا۔ ان پر اپنے یاران سر پل کو مسلط کیا۔ کیونکہ یہ وہ لوگ تھے جو حسن و قبح کے معیار کے لئے اس کے چشم و ابرو کو دیکھتے تھے اور اس کی پیشانی کی شکنوں کو گنتے رہتے تھے۔ اس کے احکام کو آواز سروش سمجھتے تھے۔ یہ نوشتہ دیوار تھا کہ انہوں نے پرانے قادیانیوں کو غبار راہگزار بنا کر رکھ دیا۔ جب یہ لوگ چکی کے پاٹوں میں پس کر سرمہ مفت نظر ہو گئے تو تقریباً بیس سال کے بعد اس نے ساختہ پرداختہ نظام کی نیو ڈالی اس کا نام رکھا ”تحریک جدید“ اس طرح جماعت میں یہ تاثر پیدا کیا کہ باپ کی چلائی ہوئی تحریک اپنے اثر سے عاری ہو چکی ہے اور جماعت ایک تازہ زندگی کی محتاج ہے۔ اس تحریک جدید میں تازہ واردان بساط ہوائے دل کو فروغ نصیب ہوا۔ انہوں نے ١٩١٤ء کی بنائی ہوئی انجمن کے ناظروں کو اس طرح بے اثر کر دیا۔ جس طرح ناظروں نے بانی سلسلہ کے رفقاء کو ١٩١٤ء میں بے دخل اور بے اثر کر دیا تھا۔ جوں جوں تحریک جدید زور پکڑتی گئی توں توں ناظران صاحبان متروکات سخن ہو کر رہ گئے۔ تحریک جدید خود ایک سازش کی آفریدہ تھی۔ اس کے توسط سے مرکزی نظام صید لاغر ہو کر خلیفہ کے پاؤں پر آ گرا۔ اس تحریک پر اس کے اپنے خاندان کے لوگ مستولی ہو گئے اور دفتری نظام اور اس کے تمام شعبہ جات ایک گھر یلو صنعت ہو کر رہ گئے۔ مریدوں نے اپنی ارادتوں کے مرکز کو اپنی آنکھوں کے سامنے مرقد بنتے دیکھا مگر وہ بول نہ سکے۔ کیونکہ معاشی احتیاج نے ان کے جذبہ احتجاج کو موت کی نیند سلا دیا تھا۔ دیکھا! خدا کا کرنا، خدا نے بیٹے کے ہاتھوں ہی باپ کی بنائی ہوئی عمارت مسمار کرا دی۔

١٠٦

راز درون خانہ کا افشاء

تحریک جدید کو فروغ دینے کے لئے خلیفہ زندگی کی اپیل کی۔ نوجوان دینی خدمت کی تمناؤں ہو گئے۔ خلیفہ محمود نے پرانے اور قدیم لوگوں کو معزو عہدے تفویض کئے جو ان کی عمر اور تجربے سے کم تخریب کے معمار بن کر تقدیر کی تعزیر کو دعوت عم خلیفہ کے چوکھٹ پر سرنگوں ہوتے تھے۔ وہ خلیفہ کدوں کے اسرار و غوامض سے آگاہ ہو کر دہریت کے رنگین و سنگین مناظر ان کی عقیدتوں کے لئے خروج کی روح بیدار ہو گئی۔ کیونکہ جو کچھ روز دیکھت اس عریانی کے دیکھنے کے لئے نہ بنی تھیں۔ جو عقی تھیں ان میں سے اکثر پھسل کر غلاظت کے اس کے درون خانہ کی عفونت کا حق الیقین ہو گیا۔ ان بعضوں کو علم الیقین تھا۔ ہر چند کہ وہ خلافت کی خر بھی لگا سکتے تھے۔ قادیان میں ہی خلیفہ کے مجلس تھے۔ ربوہ کے ویرانہ آباد نما میں خلیفہ کے جنو غلاظت ابل کر کوچہ و بازار میں آ گئی۔ وہ نوجوا راز ہو کر نکلنے لگے۔ خلیفہ صاحب کا ایک ہی سہار راز کہہ سکتا ہے اور نہ کوئی باور کر سکتا ہے۔ گویا وہ ا فطری حیا پر تکیہ کئے بیٹھے تھے۔ جو انسان اپن ہے۔ وہ خود کتنا بے بس ہوتا ہے۔

منحصر مرنے پہ ہ
نا امیدی اس ک

قلمی خلفشار

واقفین راز بھی ایک عجیب قلمی خلفش قصر خرافات میں دیکھنے میں آتے تھے۔...... ان م

صفحہ ٣٣٥

راز درون خانہ کا افشاء

تحریک جدید کو فروغ دینے کے لئے خلیفہ محمود نے جماعت کے نوجوانوں سے وقف زندگی کی اپیل کی۔ نوجوان دینی خدمت کی تمناؤں سے سرشار ہو کر خلیفہ کے یمین و یسار میں جمع ہو گئے۔ خلیفہ محمود نے پرانے اور قدیم لوگوں کو عضو معطل بنانے کے لئے نوجوانوں کو ایسے ایسے عہدے تفویض کئے جو ان کی عمر اور تجربے سے کہیں بڑھ کر تھے۔ گویا خلیفہ محمود اپنی جماعت کی تخریب کے معمار بن کر تقدیر کی تعمیری دعوتِ عمل دے رہے تھے۔ نوجوان جو نیاز مندی سے خلیفہ کے چوکھٹ پر سرنگوں ہوتے تھے۔ وہ خلیفہ محمود کے کرب انگیز قرب سے اس کے خلوت کدوں کے اسرار و غوامض سے آگاہ ہو کر دہریت کی طرف مائل ہو گئے۔ خلیفہ محمود کی نجی زندگی کے رنگین و سنگین مناظر ان کی عقیدتوں کے لئے پیغام اجل ثابت ہوئے۔ ان کے طبائع میں خروج کی روح بیدار ہو گئی۔ کیونکہ جو کچھ روز دیکھنے میں آتا تھا۔ وہ دیکھا نہ جاسکتا تھا۔ آنکھیں اس عریانی کے دیکھنے کے لئے نہ بنی تھیں۔ جو جنسی دلدلیں قصرِ خرافات کے اندر باہر پھیلی ہوئی تھیں ان میں سے اکثر پھسل کر غلاظت کے اس جوہڑ میں جا گرے۔ گویا ان کو خلافت مآب کے درونِ خانہ کی عفونت کا حق الیقین ہو گیا۔ ان میں بعض وہ تھے جن کو ان کا عین الیقین تھا۔ بعضوں کو علم الیقین تھا۔ ہر چند کہ وہ خلافت کی قہرمانیوں سے لرزتے تھے۔ وہ اپنی زبانوں پر قفل بھی لگا سکتے تھے۔ قادیان میں ہی خلیفہ کے مجلسِ مشورات کے سارے راز زبان زدِ خلائق ہو گئے تھے۔ ربوہ کے ویرانہ آباد نما میں خلیفہ کے جنونِ زوج نے وہ وہ گل کھلائے کہ ان کی باطنی غلاظت ابل کر کوچہ و بازار میں آ گئی۔ وہ نوجوان جو وقف زندگی ہو کر رہ گئے تھے۔ وہ واقفِ راز ہو کر نکلنے لگے۔ خلیفہ صاحب کا ایک ہی سہارا تھا وہ نجی راز کی سنگینی۔ ان کو یقین تھا کہ نہ کوئی وہ راز کہہ سکتا ہے اور نہ کوئی باور کر سکتا ہے۔ گویا وہ اپنے ہر شرمناک اعمال کی پردہ پوشی کے لئے انسان کی فطری حیا پر تکیہ کئے بیٹھے تھے۔ جو انسان اپنے جرائم ..... کے لئے لوگوں کی بے بسی کا سہارا لیتا ہے۔ وہ خود کتنا بے بس ہوتا ہے۔

منحصر مرنے پہ ہو جس کی امید
نا امیدی اس کی دیکھا چاہئے

قلبی خلفشار

واقفینِ راز بھی ایک عجیب قلبی خلفشار میں مبتلا تھے۔ جب وہ گھناؤنے مناظر ..... جو قصرِ خرافات میں دیکھنے میں آتے تھے ..... ان کے سامنے آئے تو وہ باور نہ کر سکے۔ جب باور کیا تو

١٠٧

صفحہ ٣٣٧

اس کو اپنے وجود کے اندر سمو نہ سکے۔ جب ان کو سمولیا تو بیان نہ کر سکے۔ جب وہ آتشیں راز دل و دماغ کی گہرائیوں سے ابل کر لب تک آیا تو وہ سامعین کو تسلیم نہ کروا سکے۔ کیونکہ جو عریانی رؤیت پر برق خاطف بن کر گرتی ہے۔ وہ سماعت کو کیونکر گوارا ہو سکتی ہے۔ دل کی یہ کیفیت اوائل میں محض بے بسی تھی۔ لیکن یہ بے بسی مداوا نہ پا کر برق و رعد بنی۔ اس نے مجروح قلب نوجوانوں کو ایک نقطہ پر منظم کیا۔ انہوں نے زیر زمین تحریک چلائی۔ کیونکہ یہ ناممکن تھا کہ وہ اس آتشیں راز کو اپنے سینے میں محفوظ کر لیتے۔ غالب نے خوب کہا ہے۔

لپٹنا پرنیاں میں شعلہ آتش کا آسان ہے
ولے مشکل ہے حکمت دل میں سوز غم چھپانے کی

شکمی پیکار کی فتنہ سامانیاں

ویسے بھی تحلیل نفس نے اس بات کا انکشاف کیا ہے کہ وہ اذیت وایزا جو لاشعور میں چلا جاتا ہے۔ وہ تمام شعوری اعمال کو متاثر کرتا رہتا ہے۔ اس کے شعوری مظاہر میں بجلی کا اثر ہوتا ہے۔ یہی وہ بجلیاں تھیں جو ربوہ میں کوندیں اور ایوان خلافت کو متزلزل کر دیا۔ خلیفہ محمود خود "یوم تبلى السرائر" کے خوف سے لرزہ براندام ہو گئے اور اس کے روک تھام کی تدبیریں سوچنے لگا۔ اس نے علاج بالمثل کے اصول پر عمل کرتے ہوئے ایک اور فتنہ کھڑا کر دیا۔ وہ فتنہ تھا۔ اپنے بیٹے میاں ناصر احمد کو خلافت کا وارث بنایا۔ اس ترکیب سے اس نے چاہا کہ لوگوں کی توجہ اس کے اعمال سے ہٹ جائے گی اور وہ ایک اور فتنے سے الجھ جائیں گے۔ لیکن یہ تدبیر بھی کارگر نہ ہوئی۔ کیونکہ اس سے ایک شکمی پیکار کا آغاز ہوا اور اس پیکار سے چند صالح اور سرفروش نوجوان کھل کر سامنے آگئے۔ انہوں نے اپنی مساعی کو منظم کیا اور اس تنظیم کا نام "حقیقت پسند پارٹی" رکھا۔ وہ خلیفہ محمود کے ہتھکنڈوں سے خوب واقف تھے۔ وہ مسائل میں بالکل نہ الجھے اور عوام اور حکام کی توجہ کو قصر خلافت کے باطنی رازوں پر مرکوز کرنا شروع کر دیا۔ ان کے جوش و خلوص کا یہ نتیجہ تھا کہ اسلامی اخبارات کا غیور طبقہ ان کے ساتھ تعاون کرتا رہا۔ ارباب بصیرت کی نظریں بھی من قال سے زیادہ ما قال پر لگی رہیں۔ یہ دلیر نوجوان خلیفہ کی سفاکیوں اور تعدیوں کا مقابلہ کرتے ہوئے برابر نبرد آزما رہے اور اس کی بوسیدہ شخصیت کو قادیانیت اور مسلمانوں کے سواد اعظم کے سامنے بے نقاب کر کے چھوڑا۔ حتیٰ کہ اس کی متعفن لاش زمین کا ناسور بن گئی۔

داغ داغ اجالا

انہوں نے کمال تدبر سے خلیفہ محمود کی زندگی کے تاریک گوشوں کو اجالے میں لانے کی ١٠٨

کامیاب کوششیں کیں۔ انہوں نے قادیانیوں ک گزیدہ ہے۔ انہوں نے خلیفہ کے چہرے سے ن انہوں نے بتایا ہے کہ جو شخص اپنے آپ کو پندر لقب سے ملقب کرتا رہا۔ وہ اسلام سے کتنا د اسلام مجسم خداوندی کا دشمن ہے اور عیسائیت ک کا نتیجہ ہے کہ خلیفہ محمود بوکھلا کر توازن کھو بیٹھ رہا۔ کبھی اپنے آپ کو فخر رسل کہہ کر اسلام اور پاکستان اور ہندوستان کی حد فاصل کو مٹا وفادار نہ وطن کا بہی خواہ۔

اس طرح اس شخص نے اپنی اکا شریعت کو بازی گاہ بنائے رکھا اور اپنے فن وفر کی پردہ داری کے لئے وقف کر دیا۔ اسی تالیف پر پیش کیا گیا ہے۔ کیونکہ اگر جماعت دین کا گزر کر تاریخ میں ایک عبرت ناک باب نہ ثـ ہے۔ یہ خدا کی تقدیر سے کیسی بچ سکتی ہے۔ کو پڑھ کر ایک قاری اس نتیجہ پر پہنچتا ہے ک و آسمان حرکت میں ہیں۔ فطرت کی تعزیر معاف نہیں کر سکتا جو ساٹھ سال سے قادیا

فطرت افراد ۔
کبھی کرتی نہیں

قادیانی سرکر

وہ شاخ نور جسے ظلمت نے سینچا ۔
نہ پھل سکی تو بنی فصل گل کے آنے ت

جارحانہ فتنه انکار ختم نبوت کی بھی ایک دور تھا جو ١٩١٤ء کو ختم ہوا۔ دوسـ

صفحہ ٣٣٧

کامیاب کوششیں کیں۔ انہوں نے قادیانیوں کو بتایا کہ تمہارا اجالا داغ داغ اور تمہاری سحر شب گزیدہ ہے۔ انہوں نے خلیفہ کے چہرے سے نقاب اٹھا کر اس کی لادینی کو لوگوں پر روشن کیا ہے۔ انہوں نے بتایا ہے کہ جو شخص اپنے آپ کو پندرہ سال ہز ہولی نیس His Holiness کے لقب سے ملقب کرتا رہا۔ وہ اسلام سے کتنا دور اور کلیسائی شرک سے کتنا قریب ہے۔ کیونکہ اسلام تجسیم خداوندی کا دشمن ہے اور عیسائیت اس کی علمبردار ہے۔ یہ ان نوجوانوں کی سعی مشکور کا نتیجہ ہے کہ خلیفہ محمود بوکھلا کر توازن کھو بیٹھا۔ خطبات سے اپنے رازوں کو طشت از بام کرتا رہا۔ کبھی اپنے آپ کو فخر رسل کہہ کر اسلام اور رسالت مآب کے خلاف بغاوت کرتا رہا۔ کبھی پاکستان اور ہندوستان کی حد فاصل کو مٹانے کے لئے دعائیں کرتا رہا۔ گویا نہ وہ دین کے وفادار نہ وطن کا بہی خواہ۔

اس طرح اس شخص نے اپنی اکاون سالہ خلافت میں دین کے ساتھ تلعب کیا اور شریعت کو بازی گاہ بنائے رکھا اور اپنے فن و فراست اور جماعت کے وسائل و ذرائع کو اپنے اعمال کی پردہ داری کے لئے وقف کر دیا۔ اسی تالیف میں اس شخص کی زندگی کو ایک ملت کے گناہ کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔ کیونکہ اگر جماعت دین کو خلیفہ کی تمناؤں پر مقدم رکھتی تو وہ آج قصر ذلت میں گر کر تاریخ میں ایک عبرت ناک باب نہ بنتی۔ چونکہ اس معصیت میں ایک ملت کی ملت شریک ہے۔ یہ خدا کی تقدیر سے کیسے بچ سکتی ہے۔ یہی وہ المیہ ہے جو اس تالیف میں پیش کیا گیا ہے۔ اس کو پڑھ کر ایک قاری اس نتیجہ پر پہنچتا ہے کہ قادیانی جماعت کا المناک انجام قریب ہے۔ زمین و آسمان حرکت میں ہیں۔ فطرت کی تعزیریں عمل کے لئے بے تاب ہیں۔ خدا کبھی اس جرم کو معاف نہیں کر سکتا جو ساٹھ سال سے قادیانی نظام کے حدود اربعہ میں ہو رہا ہے۔

فطرت افراد سے اغماض تو کر لیتی ہے
کبھی کرتی نہیں ملت کے گناہوں کو معاف

قادیانی سرکس کے مناظر کی تاریخ

وہ شاخ نور جسے ظلمت نے سینچا ہے اگر پھلی تو شراروں کے پھول لائے گی
نہ پھل سکی تو نئی فصل گل کے آنے تک ضمیر ارض میں اک زہر چھوڑ جائے گی

جارحانہ فتنہ انکار ختم نبوت کی عمر اس وقت تقریبا پون صدی ہو چکی ہے۔ اس سے پہلے بھی ایک دور تھا جو ١٩١٤ء کو ختم ہوا۔ دوسرا دور محمودی ( بلکہ نامحمودی ) استبداد کا تھا۔ اس کی عمر پچاس

١٠٩

صفحہ ٣٣٩

سال تھی۔ قادیانیوں کے اپنے عقیدہ کے مطابق پہلے دور کو دوسرے دور سے وہی تعلق ہے جو شجر کو ثمر سے ہوتا ہے۔ گویا انہوں نے اپنی تحریک کے پرکھنے کی کسوٹی خود ہی تجویز کر دی ہے۔ وہ کسوٹی خلیفہ محمود کی وہ لن ترانیاں ہیں جو الفضل کی پیشانی پر ہر روز جلوہ گر ہوتی رہیں۔ وہ لن ترانیاں قیادت کے مزاج اور جماعت کی ذہنیت کی غماز ہیں۔ ابتداء میں ہی مرزا محمود احمد پر لیڈری کا کابوس سوار تھا۔ اس نے جماعت کے پیر پرستار جذبے سے فائدہ اٹھا کر Brain Washing کا عمل حکیم نور الدین کے دور خلافت میں ہی شروع کر دیا تھا۔ اس نے چالیس آدمیوں کے دستخطوں سے صدر انجمن کے خلاف ایک بیان جاری کیا تھا اور اپنے لئے زمین ہموار کرنی شروع کر دی۔ اب اپنے دور میں معمولی اختلاف کو بھی گوارا نہیں کرتا تھا۔ اپنے پیشرو کی وفات تک اس نے اپنے زیر زمین سازش کی سرنگیں دور دور تک جماعت میں بچھا دی تھیں۔ اس کے حریف اگر چہ بے خبر نہ تھے۔ لیکن بے ہنر ضرور ثابت ہوئے۔ کیونکہ انہوں نے نہ کوئی تدارک کیا اور نہ ہی تاب مقاومت کا مظاہرہ کیا۔

سازشوں کا ابوالہول

جونہی حکیم نور الدین کی وفات ہوئی۔ محمودی سازشوں کا ابوالہول نمودار ہوا اور اس وقت کے ارباب اختیار جو بانی کے نورتن تھے۔ بھاگ کھڑے ہوئے ان کا فرار مرزا محمود کے لئے نعمت غیر مترقبہ ثابت ہوا۔ موروثی خلافت کا تاج پہن کر اس نے برطانوی حکومت کے ساتھ سیاسی تعلقات استوار کئے اور اس کی پشت پناہی حاصل کی۔

چونکہ مرزا محمود پچیس سال کی عمر میں ہی خلافت پر قابض ہو گیا تھا۔ اس لئے ڈکٹیٹروں کی طرح نفرت کی فصلیں استوار کر کے ہی زندہ رہ سکتا تھا اور جماعت کو اپنے ساتھ وابستہ رکھ سکتا تھا اور اس میں کلام نہیں کہ یہ کارنامہ اس نے اس طرح انجام دیا جس کی اسے آرزو تھی۔ اس نے مسئلہ تکفیر کو خوب اچھالا اور مسلمانوں سے عمرانی مقاطعہ کر کے جماعت کو تدریجاً اپنے سامنے بے بس بنا کر چھوڑ دیا۔

ڈکٹیٹر شپ کا پروان چڑھنا

اس کے لئے قادیان (اور اس کے بعد ربوہ) کی فضا بڑی سازگار ثابت ہوئی۔ قادیان سے باہر مرید اپنے پیر کی تعلیمات کی پیروی میں مسلمانوں کے سوادِ اعظم سے کٹ گئے تھے۔ ان کا ملجا و ماوی قادیان (ربوہ) بن گیا تھا۔ اس پر قدرت کی ستم ظریفی کہ خلیفہ محمود کو اپنی جماعت کی تربیت کے لئے اس وقت تک (علالت کا عرصہ نکال کر) پینتالیس سال ملے اور اس طویل مدت میں

١١٠

قادیانیوں کی نئی نسلیں خلافتی استبداد سے خوگر ہو گئیں اپنی آمریت کو قائم کرنا اور جماعت میں تسمہ جماعت میں اپنے لئے عملاً وہی مرتبہ پیدا کیا جو اس تخریبی اور ابلیسی تربیت کے لئے اس نے چ دلیل اور حجت کی گنجائش نہیں تھی اور پھر اپنے خوا چلایا کہ مریدان کو الہام اور وحی متصور کر کے اس جعلی اصطلاحات کو رائج کیا تا کہ کسی مرید کی نظر نظر پڑ بھی جائے تو دوسروں کی اندھی ارادت ا میں خلافت مآب کا معاشی شکنجہ تنقید کی قوتوں کو افشائے راز کا خطرہ تھا اور مرکز میں ہی خلافت م

بائیکاٹ کا جان لیوا حربہ

الفضل کے صفحات سوشل بائیکاٹ ہوتا اس کی زندگی اجیرن ہو جاتی۔ اگر کوئی عزیز لئے رحم کے جذبات سے مغلوب ہو کر کوئی سع انحراف کی پاداش میں وہ روح فرسا مقاطعہ کا بے باکی سے یہ اعلان کیا جاتا کہ رسول اللہ ﷺ تھے۔ پہلے عرض کیا جا چکا ہے کہ اپنی آمرانہ غیر مسئول اطاعت چاہتے تھے۔ جو صحابہ العالمین ﷺ پر یہ ابلیسانہ بہتان کسی قادیا اسلامیت کا ابتدائی تصور کاملاً نکل چکا تھا۔ وہ میں اس پر انقباض پیدا ہوتا تبھی تو خلافتی است کا حال ہے جو دین کو دنیا پر مقدم رکھنے کا دعو کی آرزو رکھتی ہے۔ عملاً محض معمولی اختلا کی قیادت میں کفار مکہ مسلمانوں کے خلاف

پاک الفاظ کا ناپاک استعمال

اس خوف و ہراس کی کیفیت

صفحہ ٣٤٩

قادیانیوں کی کئی نسلیں خلافتی استبداد سے گزر گئیں۔ خلیفہ محمود کے سارے پروگراموں کا مفاد اس کی اپنی آمریت کو قائم کرنا اور جماعت میں ”سمعنا واطعنا“ کی ذہنیت پیدا کرنا تھا۔ اس نے جماعت میں اپنے لئے عملاً وہی مرتبہ پیدا کیا جو مذہب میں نبی اور سیاست میں ڈکٹیٹر کا ہوتا ہے۔ اس مخربانہ اور ابلیسی تربیت کے لئے اس نے خواب اور رؤیا کا سہارا لیا۔ کیونکہ ان کے سامنے دلیل اور حجت کی گنجائش نہیں تھی اور پھر اپنے خوابوں کے قافلے کو اس ہنرمندی اور چابکدستی سے چلایا کہ مرید ان کو الہام اور وحی متصور کر کے اپنی عقل کو معطل کر دیتے رہے۔ جماعت کے اندر جعلی اصطلاحات کو رائج کیا تاکہ کسی مرید کی نظر ان کے ذاتی اعمال پر نہ پڑے۔ اگر کوئی بے باک نظر پڑ بھی جائے تو دوسروں کی اندھی ارادت اس کو بے اثر کر دے۔ اگر یہ بھی کارگر نہ ہو تو مرکز میں خلافت مآب کا معاشی شکنجہ تنقید کی قوتوں کو مفلوج کرنے کے لئے کافی تھا۔ کیونکہ مرکز میں ہی افشائے راز کا خطرہ تھا اور مرکز میں ہی خلافت مآب کی گرفت ہمیشہ آہنی رہی۔

بائیکاٹ کا جان لیوا حربہ

الفضل کے صفحات سوشل بائیکاٹ کے اعلانات سے معمور رہتے تھے۔ جس کا بائیکاٹ ہوتا اس کی زندگی اجیرن ہو جاتی۔ اگر کوئی عزیز ترین رشتہ دار مرض اور موت کے وقت بھی اس کے لئے رحم کے جذبات سے مغلوب ہو کر کوئی معمولی ہمدردی کا کام کر بیٹھتا یا اس کا ارادہ کرتا تو اس انحراف کی پاداش میں وہ روح فرسا مقاطعہ کا شکار ہو جاتا اور ہر مقاطعہ پر بڑی بے حیائی اور بے باکی سے یہ اعلان کیا جاتا کہ رسول اللہ ﷺ بھی معاذ اللہ منحرفین کے ساتھ ایسا ہی سلوک روا رکھتے تھے۔ پہلے عرض کیا جا چکا ہے کہ اپنی آمرانہ ہنرمندی سے خلیفہ محمود اپنے مریدوں سے اسی قسم کی غیر مشروط اطاعت چاہتے تھے۔ جو صحابہ کرام کو حضرت رسول اکرم ﷺ سے تھی۔ رحمتہ اللعالمین ﷺ پر یہ ابلیسانہ بہتان کسی قادیانی کو ناگوار نہ گزرا۔ کیونکہ ان کے دل اور دماغ سے اسلامیت کا ابتدائی تصور کاملاً نکل چکا تھا۔ وہ ”کالانعام بل ہم اضل“ ہو چکے تھے۔ اگر کسی میں اس پر انقباض پیدا ہوتا بھی تو خلافتی استبداد سے ڈر کر اس کا اظہار نہیں کرتا تھا۔ یہ اس جماعت کا حال ہے جو دین کو دنیا پر مقدم رکھنے کا دعویٰ کرتی ہے اور مسلمانوں کو کافر کہہ کر ان پر غالب آنے کی آرزو رکھتی ہے۔ عملاً محض معمولی اختلاف کے خفیف شبہ پر اس بائیکاٹ کو روا رکھتی تھی جو ابو جہل کی قیادت میں کفار مکہ مسلمانوں کے خلاف نافذ کیا کرتے تھے۔

پاک الفاظ کا ناپاک استعمال

اس خوف و ہراس کی کیفیت کو عقیدت کہا جاتا ہے۔ کتنے پاک لفظ کا کتنا ناپاک

١١١

صفحہ ٣٤٠

استعمال ہے۔ صالح مرشد سے صحیح عقیدت کرگس کو بھی شاہین بنا دیتی ہے۔ لیکن جس عقیدت سے شاہین کرگس بن جائیں وہ ذہنی غلامی کا بدترین نمونہ ہے۔ اس دینیاتی استبداد کو نظام کہا جاتا تھا اور اس نظام کے آئینی ہونے پر اب بھی فخر کیا جاتا ہے۔ حالانکہ جس نظام کا مزاج روح پرور ہو اس کو آہنی ہونے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ اسی نظام کو آہنی ہونے کی ضرورت ہے جو انسان کی جبلتوں کو مردہ کر کے زندہ رہ سکتا ہے۔ آہنی نظام اور آئینی نظام میں فرق ہوتا ہے۔ ایک موت وارد کرتا ہے اور دوسرا حیات بخشتا ہے۔

اس قادیانی نظام میں عقل وخرد کو اس واسطے ذبح کیا جاتا ہے کہ ان کے فروغ سے صحیح دینی غلبہ کا چراغ گل ہو جاتا ہے۔ قادیانی خلافت کے نظام میں اخلاقی جرائم کی سزا رسمی اور عارضی اور نمائش کے لئے ہوتی ہے۔ ربوہ میں شاید ہی کوئی ایسا ناظر یا عالم ہو گا جس پر کسی اخلاقی لغزش کی پاداش میں خلیفہ محمود نے فرد جرم نہ لگایا ہو۔ لیکن وہ مجرم کبھی اپنے عہدے سے برطرف نہیں ہوا۔ اگر برطرف ہوا بھی تو بحال بھی ہو گیا۔ عالموں کو طاغوتی چوہے اور جمعراتی ملاؤں کے القاب عطاء ہوئے۔ مگر وہ بدستور فائز المرام رہے۔ ان کے ایک برادر نسبتی ناظر امور عامہ تھے۔ ان کے متعلق شارع عام میں بورڈ پر یہ اعلان ہوا کہ وہ عادتاً جھوٹ بولتے ہیں۔ لوگ ان سے متنبہ رہیں۔ لیکن وہ اپنے منصب سے الگ نہ کئے گئے۔ اس کے برعکس کسی کے متعلق قادیانی خلافت کو یہ شبہ ہو کہ وہ ان کی کسی رائے سے اختلاف رکھتا ہے یا اس نے کوئی نکتہ چینی کی ہے تو اس پر تعزیرات سے عرصہ حیات تنگ کر دیا جاتا تھا۔ گویا قادیانی نظام میں خدائی نافرمانی قابل عفو ہو سکتی ہے۔ مگر خلیفہ کی نافرمانی کا محض شک بھی ناقابل معافی جرم سمجھا جاتا ہے۔ اسی واسطے ایمان بالخلافت پر ان دنوں بھی بڑا زور ہے۔ جماعت کے افراد کا بے بس ہو جانا قادیانی خلافت پر ایک سنگین طنز ہے۔

رنگ ماسٹری کا کردار

اگر یہ عقیدت بھی سمجھی جائے تو اس میں کوئی خصوصیت نہیں۔ کیونکہ دوسرے شخصیت کش پیر خانوں کا بھی یہی حال ہے۔ مرید اپنے مرشد کی ہر لغزش کو رشد سمجھتے ہیں۔ ایسی کیفیت کیوں پیدا ہو جاتی ہے۔ اس کا مختصر جواب یہ ہے کہ ایک نفسیاتی بے بسی ہے جو سرکسی تربیت سے ہر پیر اپنے پیروؤں میں پیدا کر دیتا ہے۔ سرکس کا رنگ ماسٹر Ring Master درندوں کو سدھا کر ان سے وہ کام لیتا ہے جو ان کی فطرت کے منافی ہوتے ہیں۔ سرکس کا شیر اپنے رنگ ماسٹر کے چابک کی آواز پر ناچتا ہے۔ کیا کوئی کہہ سکتا ہے کہ درندے کی فطرت کو مسخ کرنا اس پر احسان ہے۔ ایک عام مداری چڑیا کی ایسی تربیت کر دیتا ہے کہ وہ عام مجمعے میں تماشائیوں کے

١١٢

صفحہ ٣٤١

ہاتھوں سے تانبے چاندی کے سکے چونچ میں لاکر مداری کی گود میں ڈال دیتی ہے اور اس کام کے لئے اس کو تماشائیوں کے ہجوم سے ڈر نہیں لگتا۔ لیکن اگر کوئی اپنی ہتھیلی میں دانے رکھ کر اس کو دکھانے کی کوشش کرے تو نہ وہ دانے دیکھے گی اور نہ وہ اڑ کر آئے گی۔ اپنی خوراک مداری کے ہاتھوں سے ہی لے گی۔ خلیفہ محمود نے بھی طویل تربیت سے اپنے مریدوں میں سرکس کے شیر اور مداری کی چڑیا والی کیفیت پیدا کر دی تھی۔ جس طرح شیر سرکس سے الگ ہو کر جنگل میں نہیں جاسکتا اور چڑیا پنجرے سے اڑ کر دوسری چڑیوں میں نہیں مل سکتی۔ کیونکہ وہ دونوں اپنی فطری داعیات سے عاری ہوچکے ہوتے ہیں اور وہ اس مغائرت پر جو ان میں اور ان کے ہم جنسوں میں پیدا ہوچکی ہے۔ غالب نہیں آسکتے۔ یہی حال قادیانیوں کا ہے۔ وہ سودیشی خلافت کی خلوتوں کا مشاہدہ کرتے اور تعزیروں کا نشانہ بنتے ہیں لیکن وہ اس عذاب حیات سے نجات حاصل نہیں کر سکتے۔ وہ زبان حال سے کہتے ہیں ” جائیں تو جائیں کہاں؟ “

تنظیم کی خونی قربان گاہ

خلافت سرکس نے نظام کو اپنے اور اپنے خاندان کے لئے رحمت اور جماعت کے لئے لعنت بنادیا ہے۔ قادیانی جماعت میں نظام کی وہی کیفیت ہے جو شریعت کی یہودیوں میں ہو گئی ہے۔

نظام اس وقت تک ہی رحمت رہتا ہے جب تک اس کا مقصد جماعتی بہبود ہو۔ لیکن جب جماعت کے مفادات نظام کی قربان گاہ پر بھینٹ چڑھنے لگیں تو یہ آمرین کا شکنجہ بن جاتا ہے اور جولوگ نفسیاتی تربیت اور اضطرارات مشروط کی تدبیروں سے اس شکنجے میں مقید ہوجاتے ہیں۔ ان کی بصارت اور بصیرت ڈکٹیٹر کی مرضی کے تابع ہوتی ہے اور ان کو کہنا سننا بیکار ہوتا ہے۔

پھول کی پتی سے کٹ سکتا ہے ہیرے کا جگر
مرد ناداں پر کلام نرم و نازک بے اثر

شہزادہ ویلز کے حضور مرزا محمود

پہلی جنگ عظیم کے بعد جب شہزادہ ویلز ہندوستان کی سیاحت کے لئے لاہور آیا تو خلیفہ محمود کورنش بجالانے کے لئے قادیان سے آئے۔ اس وقت ان کی موٹر کے پھریرے پر His Holiness لکھا تھا۔ حالانکہ عیسائیوں میں پوپ His Holiness کہلاتا ہے۔ وہ بھی بادشاہوں اور شہزادوں کے پاس نہیں جاتا۔ اس ایک غلامانہ فعل سے خلیفہ کے فضل عمر بننے کی ملعون تدبیر کی بھی قلعی کھل گئی۔ حضرت فاروق اعظم کا رب ذوالجلال کے علاوہ کسی بادشاہ کے

١١٣

صفحہ ٣٤٢

در بار میں جانے کا سوال ہی پیدا نہ ہوتا تھا۔ ان کی خلافت دنیاوی بادشاہوں پر بھاری تھی۔ لیکن کہاں قادیانی ناٹک کا بہروپ اور کہاں نقیب ختم رسل ﷺ! لیکن اس خلیفہ کا بیک وقت پوپ کا روپ دھارنا اور اسلام کا نام لینا کسی قادیانی کی عقل و دانش پر گراں نہیں گزرتا۔ چونکہ قادیانی کی صحت اور صلاحیت کی بقاء کے لئے جماعت کا غیور ہونا ضروری ہے اور جونہی جماعت میں غیرت ختم ہوتی ہے۔ جماعت کا سربراہ کبائر میں مبتلا ہو جاتا ہے۔ کیونکہ دنیا میں اس کا احتساب کرنے والا کوئی نہیں رہتا۔ یہی حال قادیانی خلافت کا ہوا۔ مرزا محمود نے جنسی عارضہ سے مغلوب ہو کر وہ وہ حرکات کی ہیں کہ ان کے بیان کے لئے زبان کے سانچے نہیں بنے۔ اگر ان کو بیان کرنے کی کوشش بھی کی جائے تو ادب کی پیشانی پر شکنیں پڑ جائیں۔ قصر خرافات عفت اور عصمت کی لاشوں کا قبرستان تھا۔ کیونکہ وہ افعال دیکھنے پر بھی مانے نہیں جاسکتے۔ سننے پر کیسے تسلیم ہو سکتے ہیں۔

لیکن سوال یہ ہے:

زندگی جبر کے سانچوں میں ڈھلے گی کب تک ان فضاؤں میں ابھی موت ملے گی کب تک

بدنامی سے بچنے کا کمزور سہارا

جب قادیانی خلافت کی سنگین خلوتوں کے رنگین راز باہر فضا میں نالہ دل اور دود چراغ محفل بن کر پھیلے تو اپنی صفائی میں حضرت فاروق سے افضل بننے والے نے یہ مطالبہ کیا کہ ایک واقعہ کے چار گواہ لاؤ۔ کبریائی کا دعویٰ اور صفائی کا یہ معیار! اس طریق سے تو قحبہ خانے کے لوگ بھی زنا کے الزام کی تردید کر سکتے ہیں۔ خدا کے بندے اپنی صفائی کے لئے دنیاوی عدالتوں کے وضع کردہ حیلوں کا سہارا نہیں لیتے۔ وہ اپنی مدافعت اور حفاظت کے لئے خدا کا فیصلہ طلب کرتے ہیں تاکہ سیاہ و سفید میں تمیز ہو جائے۔ لیکن وہ خلیفہ جو ہر وقت یہ کہتا ہے خدا کی انگلی ہل رہی ہے۔ خدا میری طرف بھاگا آرہا ہے۔ اپنی صفائی کے لئے آسمان پر دستک دینے سے خائف ہے۔ تیس سال سے اس کو مباہلہ کا چیلنج دیا جا رہا ہے۔ مسٹر یوسف ناز کی مؤکد بالعذاب قسم نے تو اس کو کہیں کا نہیں رکھا۔ اس نے حلفیہ بیان ہزاروں کی تعداد میں تقسیم کیا کہ خلیفہ اپنی ازواج کو خود پیش کرتا تھا۔

(ماخوذ از کمالات محمودیہ ص ٣٩)

یوسف ناز اس کی محفل کا ہیرو تھا۔ اس نے کراچی کے فرم مختار لمیٹڈ کے مالک کے سامنے وضو کر کے حلفاً کہا کہ وہ اس قتل عفت کا عینی شاہد ہے۔ اسی وجہ سے اس کو خلیفہ کے پاس رسائی تھی۔ قادیانی لوگ اس کی دست گیری کے محتاج رہتے تھے۔ جب اس نے خوف خدا سے معصیت سے توبہ کی تو اس کو جماعت سے نکلنا پڑا۔

١١٤

صفحہ ٣٤٣

خلیفہ کے ماموں کی شہادت

خلیفہ صاحب کے ماموں نے جو ڈاکٹر تھے ١٩٣٧ء میں انہی الزامات کے جواب میں کہا تھا کہ جماعت کو ان پر کان نہیں دھرنے چاہئیں۔ اگر ان میں حقیقت ہے تو وہ خلیفہ صاحب کی دماغی صحت کے زوال میں جلوہ گر ہو کر رہے گی۔ چنانچہ اب وہ وقت بھی موت سے پہلے آیا جب خلیفہ کے دل و دماغ پر نسیان اور ہذیان کا غلبہ ہو گیا۔ اس کی گفتگو غیر واضح۔ اس کی نماز اور خطبات بے ربط ہو کر اعجوبہ روز گار بن گئے۔ کیونکہ جس سرعت اور عجلت سے وہ سجدہ کرتا تھا وہ ایک مجنون کی سیمابی حرکات معلوم ہوتی تھیں۔ لوگوں نے بھی خفیہ میں کہنا شروع کر دیا ہے کہ خلیفہ صاحب کے پیچھے نماز کا مقصد فوت ہو جاتا ہے۔ لیکن مسجد میں ان کو کوئی روک نہیں سکتا تھا۔ خدا کے گھر میں قادیانیوں کی نمازیں ان کی خود ساختہ خلافت کے ہاتھوں رسوا ہوتی رہیں اور یہ بول نہیں سکتے تھے۔ کیونکہ وہ کچھ کہتے اور ترمیم و تنسیخ کے بعد کچھ اور شائع ہو جاتا تھا۔ علماء کا منقار زیر پر ہونا تعجب کا مقام ہے۔ کیونکہ عبادت کی تضحیک پر بھی ان کی رگ حمیت نہیں پھڑکتی تھی۔ آخر وہ ایڑیاں رگڑ رگڑ کر اور تڑپ تڑپ کر اور بول و براز میں شرابور ہو کر مرا۔ اس کے گھر والوں نے یہ انجام دیکھا۔

چونکہ ساری قادیانی ملت اپنے خلیفہ صاحب کے جرائم میں شریک رہی ہے۔ اس واسطے خدا کے بطش شدید سے بچ نہیں سکتی۔ اگر محض خلیفہ صاحب کی شامت کا معاملہ ہوتا تو رسی اور دراز ہو جاتی۔ مگر ساری ملت اپنے کردار کے عواقب سے بچ نہ سکی اور ٧ ستمبر ١٩٧٤ء کو قانوناً غیر مسلم قرار دی گئی اور سنا ہے کہ اب حرمت شراب کے نفاذ کے بعد وہ ہندوؤں، سکھوں اور عیسائیوں کی طرح بغیر پرمٹ شراب لے سکتی ہے اور اب بنت عنب کے عشاق قادیانی بن کر اپنی حرص پوری کریں گے یا قادیانیوں کو اپنا ایجنٹ بنائیں گے۔ اب منکرین ختم نبوت تعزیر الٰہی کا شکار ہو کر ام الخبائث کے دامن سے وابستہ ہو کر یہ کہیں گے۔ ”دیکھو ہمیں جو دیدۂ عبرت نگاہ ہو“ اور زمین سے آسمان تک سوختنی کا باب بن کر ختم ہو جائیں گے۔

مالی خیانت کے لرزہ خیز انکشافات

قادیانی پولیس افسر کی کھلی چٹھی بنام چوہدری ظفر اللہ خاں

نوٹ ...... سابق پولیس افسر (مولوی) صدر الدین (مرحوم) (سکنہ چک سکندر تحصیل کھاریاں ضلع گجرات) نے چوہدری ظفر اللہ خاں صاحب کے نام ایک کھلی چٹھی (١٥؍ مئی ١٩٥٨ء) میں مختصر طریق سے اپنا تعارف کرایا۔ بعد ازیں اس میں جن لرزہ خیز مالی خیانت کاریوں کا پردہ چاک

١١٥

صفحہ ٣٤٤

ہوا ان کو اختصار کے ساتھ اپنی چٹھی میں بیان کیا ہے۔ لیکن جس ناپاک تنظیم میں جان اور ایمان پر ڈاکے پڑ رہے تھے وہاں اپنے ساختہ پرداختہ دین لادین کے پردہ میں جو مال اکٹھا کیا جا رہا تھا اس کو کس طرح کھلے خزانے لوٹا گیا۔ پہلے تو مراسلہ نگار کو اپنے عقیدے سے تائب ہونا پڑا۔ اس کے بعد اس نے دائیں بائیں ہاتھ پاؤں مارے کہ کس طرح لوٹ کھسوٹ بند ہو۔ اس نے اس وقت کی حکومت کو، کبھی سیکرٹریٹ کے سامنے کبھی اسمبلی ہال کے سامنے بھوک ہڑتال کر کے ربوہ کے درون خانہ کی مالی عقوبتوں کا احتساب کرانے کی سعی بلیغ کی۔ لیکن حکومت نے تعزیری دھمکیوں سے اس کو بے بس کر دیا۔ حالانکہ اس وقت کے وزیر اعلیٰ سردار عبدالرشید صاحب نے انسداد کا وعدہ فرمایا۔ لیکن وہ مرکزی حکومت کے کسی اشارہ پر شاید کچھ نہ کر سکے۔ اپنی کوششوں کے ضمن میں اس نے چوہدری ظفر اللہ خاں کے دل پر دستک دی۔ شاید کہ اس کے دل میں اتر جائے اس کی بات۔ لیکن انکار ختم نبوت کے متعفن حمام میں کون ننگا نہ تھا۔ جتنا کوئی دنیاوی طور پر بڑا قادیانی سمجھا جاتا تھا اتنا ہی اس کی عریانی ہوشربا تھی۔ چوہدری صاحب مذکور جو خلیفہ کے ساتھ پیرس میں Blue Cinema بلیوسینما اکٹھے دیکھنے کا شغل فرماتے رہے۔ وہ ایک دیانتدار پریس ایڈیٹر کے انکشافات سے کیسے متاثر ہو سکتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے حضور سرور کائنات ﷺ کی لاثانی رفعت کے انکار کی تعزیر میں ان لوگوں کو حسن و قبح، رشد و غی، میں تمیز کرنے کی صلاحیت سے کاملاً محروم کر دیا تھا۔ چنانچہ اس تاریخی مراسلہ کا مکتوب الیہ پر کوئی اثر نہ ہوا۔ (مؤلف)

یہ چٹھی خلیفہ صاحب کے مسیح موعود کے اقوال کی روشنی میں لکھی گئی تھی۔

اور ہر ایک محقق اور حق گو کا فرض ہے کہ سچی بات پورے طور پر بمخالفت گم گشتہ کے کانوں تک پہنچا دے۔ پھر اگر وہ سچ سن کر برافروختہ ہو تو ہوا کرے۔

(ازالہ اوہام ص ١٩، ٢٠، خزائن ج ٣ ص ١١٢)

دوسرے کو مفتری اور زانی قرار دیتے ہیں۔

(اخبار الحکم مورخہ ٢٤ مارچ ١٩٠٢ء)

میں سخت حملوں سے سخت جواب دیں۔

(کتاب البریہ ص ١٠، ١١، خزائن ج ١٣ ص ١٢)

ہیں۔

(کشتی نوح ص ١٨، خزائن ج ١٩ ص ١٩)

١١٦

صفحہ ٣٤٥

گزارش احوال واقعی

مکرمی چوہدری ظفر اللہ خاں صاحب

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!

چونکہ آپ کو جماعت ہائے احمدیہ میں ایک خاص مقام حاصل ہے۔ نیز اس کے علاوہ آپ ایک بین الاقوامی شخصیت بھی ہیں۔ جس کی وجہ سے آپ کی جماعت خاص طور پر عوام الناس کی نظر میں خاص اہمیت رکھتی ہے۔ نیز وقت بے وقت جماعت بھی آپ کی شخصیت اور اثر و رسوخ سے فائدہ اٹھاتی ہے اور چونکہ یہ عاجز اپنی داستان مظلومیت کو فرداً فرداً بیان کرنے سے قاصر ہے۔ اسی لئے اس کھلی چٹھی کے ذریعے آپ کی وساطت سے جماعت ہائے احمدیہ کے فہمیدہ اشخاص سے خصوصاً اور اپنے دوست و احباب سے اور اہل ملک تک عموماً اپنی نحیف اور دردناک آواز گوش گزار کرنا فرض منصبی سمجھتا ہوں۔ کیونکہ میری درد بھری داستان اس شخص کے مظالم کے خلاف احتجاج ہے جو آیات استخلاف کے مطابق خلیفۃ اللہ ہونے کا مدعی ہے اور بقول آپ کے خلیفہ صاحب (مرزا محمود احمد) کا ہر ارشاد دین کے معاملہ میں جماعت کے لئے قانون کا درجہ رکھتا ہے۔

(بیان تحقیقی عدالت ١٩٥٤ء)

یہ عاجز آبائی طور پر چک سکندر ضلع گجرات کا باشندہ ہے۔ میری عمر اس وقت تقریباً ٦٢ سال ہے اور میں پیدائشی طور پر جماعت قادیان سے تعلق رکھتا تھا۔ میں نے ١٩٢٤ء میں دوسری شادی کے بعد مستقل طور پر قادیان میں رہائش اختیار کر لی۔ مگر بسلسلہ ملازمت قادیان سے باہر ہی رہا۔ جس کی وجہ سے مجھ پر قادیان کے کسی سربستہ راز کا انکشاف نہ ہوا۔ حتیٰ کہ میں قیام پاکستان کے بعد دوبارہ اپنے سابقہ وطن کھاریاں ضلع گجرات میں بحیثیت مہاجر آباد ہو گیا اور ١٩٥٠ء میں ملازمت سے پنشن حاصل کر لی اور ١٩٥٣ء میں حسب ارشاد خلیفہ صاحب ربوہ چھوٹی سرکاری ملازمت چھوڑنے کے حکم سے صدر انجمن احمدیہ پاکستان ربوہ کے حسابات کی پڑتال پر مامور ہوا۔ معمول کے مطابق خلیفہ صاحب کے مواعظ حسنہ سے متاثر ہو کر میں نے انتہائی اخلاص اور محنت اور جانفشانی سے کام کیا اور انجمن میں لاکھوں روپے کا غبن اور مالی بدعنوانیاں ثابت کیں اور ان کو میں نے تحریری طور پر خلیفہ صاحب کو پیش کر دیا۔ چونکہ منبر پر خلیفہ صاحب کے وعظ کا نچوڑ یہ ہوتا تھا کہ دیانت داری ہمارا اصل اصول ہے اور جماعت کی بہترین خدمت یہ ہے کہ بددیانتوں کا سراغ لگایا جائے اور قومی بیت المال کو ایسے لوگوں سے صاف کیا

١١٧

صفحہ ٣٤٦

جائے تاکہ اشاعت اسلام کا بے نظیر کام صحیح اور عمدہ طریق پر چلایا جائے اور یہ کہ اس خدمت کو انجام دینے والے میری خاص دعاؤں کے مستحق ہوں گے۔ یقیناً مجھے بھی اس خدمت کے بجا لانے کا شوق دامن گیر ہو گیا اور مجھے یقین تھا کہ میری دیانتدارانہ محنت کی حقیقی داد دی جائے گی اور ملزموں کو قرار واقعی سزا دی جائے گی اور میں اس خدمت کے سلسلہ میں حضور کا مقرب بن جاؤں گا۔ حضور خوش ہوں گے تو خدا راضی ہو جائے گا۔ مگر وائے قسمت! کہ بعد کے واقعات نے کچھ اور ہی منظر پیش کئے۔ جن کا اسی چٹھی میں دوبارہ بیان کرنا تصدیع اوقات ہے۔ نیز یہ ایک طویل لرزہ خیز داستان ہے جسے چند جملوں میں بیان کرنا ممکن نہیں۔ المختصر اس سچ بولنے اور دیانتداری اخلاص اور تقویٰ کی پاداش میں ایک سوچی سمجھی سکیم کے ماتحت مجھے قتل کرنے کی سازش کی گئی۔ مگر اللہ تعالیٰ نے محض اپنے فضل سے محفوظ رکھا اور اس طرح جماعت اور حکومت کے سامنے اصل حقائق پیش کرنے کی توفیق ملی۔ (الحمد للہ) اور آج اس آواز کو اٹھائے ایک سال سے زیادہ عرصہ ہو چکا ہے۔ میں نے حق وانصاف حاصل کرنے کی ہر ممکن کوشش کی۔ مگر خلیفہ ربوہ اور اس کے رفقاء اپنے اثر و رسوخ کو بروئے کار لاتے ہوئے میرے انصاف حاصل کرنے کی راہ میں حائل رہے۔ مجھ سے میری جائیداد اولاد بھی چھین لی گئی ہے۔

جناب چوہدری صاحب! آپ چونکہ جماعت کے چوٹی کے بااثر بزرگ سمجھے جاتے ہیں اور جماعت کی نظریں بھی خلیفہ کے بعد آپ ہی کی طرف اٹھتی ہیں۔ اس لئے میں اس کھلی چٹھی کے ذریعہ آپ سے درخواست کرتا ہوں کہ آپ ایک معزز بین الاقوامی شخصیت ہونے کی حیثیت کا ہی ذرا خیال کرتے ہوئے حق کی آواز اٹھانے میں میری مدد کریں اور جماعت کے فہمیدہ اصحاب تک اصل واقعات پہنچانے میں تعاون کریں۔ میری شکایات حسب ذیل ہیں جو آپ کی جماعت کے بارے میں ہیں۔

تحریک جدید سے کئی لاکھ روپیہ کا سرمایہ غائب ہے۔ یہ سرمایہ کہاں ہے؟ کس کے استعمال میں ہے اور اب تک اس قدر سرمایہ کس کس کے ذریعہ اور کس کس غرض سے ضائع ہوا ہے۔

انسٹیٹیوٹ میں لگایا گیا ہے اور ان میں آج تک کیا ہوا ہے۔ گوشوارہ شائع کیا جائے تاکہ حقیقت واضح ہو۔

١١٨

پرائیویٹ افراد کے پاس قرض ہیں حاصل کر رہے ہیں۔ یہ قرض کتنے ہوئی اور انجمن کو اس سے کیا مالی فوائد

خلیفہ صاحب خود بھی وسیع پیمانے پر اسلام بنیادی طور پر سود کے لین د جائے۔

لمیٹڈ کمپنیاں جو قریباً دو درجن سے میں اپنے کاروبار کرتی ہیں۔ اس باتوں کا علم رکھنے کے ان باتوں پر سب کچھ ان کے ایماء اور ہدایت

ڈگریاں دارالقضاء صدر انجمن بیچارے غریب احمدیوں کی سار سلسلہ کے خاندان کے افراد کی برعکس خلیفہ صاحب نے جن احم سے بھی دریغ نہیں کرتے۔

جو بیت المال سے تنخواہ حاصل کر کے اسباب و وجوہات کیا ہیں نہیں؟

بجٹ میں (صدر انجمن اور تحری جماعت کے سامنے آخری تو

صفحہ ٣٤٧

پرائیویٹ افراد کے پاس قرض ہیں۔ جس کے ذریعہ وہ لوگ اپنی ذاتی تجارت کر کے مالی فوائد حاصل کر رہے ہیں۔ یہ قرض کتنے سال سے ان لوگوں کے پاس ہے اور اس کی واپسی کیوں نہیں ہوئی اور انجمن کو اس سے کیا مالی فوائد حاصل ہو رہے ہیں۔

خلیفہ صاحب خود بھی وسیع پیمانے پر احمدیوں سے نفع کے نام پر سودی کاروبار کرتے ہیں۔ حالانکہ اسلام بنیادی طور پر سود کے لین دین کے خلاف ہے۔ اس قول اور فعل کے تضاد کی وضاحت کی جائے۔

لمیٹڈ کمپنیاں جو تقریباً دو درجن سے بھی زائد ہیں، جعلی حساب کتاب بناتی ہیں اور اکثر چور بازاری میں اپنے کاروبار کرتی ہیں۔ اس کے اسباب کیا ہیں؟ اور خلیفہ صاحب ربوہ باوجود ذاتی طور پر ان باتوں کا علم رکھنے کے ان باتوں کا تدارک کبھی نہیں کرتے۔ کیا اس کا صاف مطلب یہ نہیں کہ یہ سب کچھ ان کے ایماء اور ہدایت پر کیا جاتا ہے۔

ڈگریاں دارالقضاء صدر انجمن احمدیہ (ربوہ) (جماعت کی عدالت عالیہ) دے چکی ہے جو بیچارے غریب احمدیوں کی ساری عمر کی پونجی ہے وہ اپنے اخلاص اور عقیدت کے نتیجہ میں بانی سلسلہ کے خاندان کے افراد کی نذر کر چکے ہیں۔ آخر ان کی ادائیگی میں روک کیا ہے۔ اس کے برعکس خلیفہ صاحب نے جن احمدیوں سے اپنا ذاتی روپیہ لینا ہوتا ہے ان کو خارج از جماعت کرنے سے بھی دریغ نہیں کرتے۔

جو بیت المال سے تنخواہ حاصل کرتے ہیں اور بعض دیگر افراد کے نجی کام کیوں کرتے ہیں۔ آخر ان کے اسباب و وجوہات کیا ہیں۔ کیا یہ قومی اموال میں خیانت نہیں اور ہر طرح قابل مذمت فعل نہیں؟

بجٹ میں (صدر انجمن اور تحریک جدید جو دونوں رجسٹرڈ شدہ ہیں) پیش کرنے سے روکا جاتا ہے۔ جماعت کے سامنے آخر ان تمام امور کو پیش کرنے سے کیا روک باقی ہے۔ اشاعت اسلام کے

١١٩

صفحہ ٣٤٨

ادارے میں آخر کیا خفیہ کارروائی ہے جو جماعت کے سامنے رکھنا مناسب نہیں۔ اس سے کیا خطرات ہیں؟

تنقید پر مشتمل لٹریچر جن میں بیت المال صدر انجمن کی مالی بدعنوانیوں کو بے نقاب کیا جاتا ہے کے مطالعہ سے جماعت کو منظم طور پر آخر کیوں روکا جاتا ہے۔ جب کہ ان عیوب کی نشاندہی کرنے والے شاہد پر غور کرنے کی دعوت دی جاتی ہے اور ان معترضین کا سوشل بائیکاٹ منظم طور پر وسیع پیمانے پر قراردادوں اور مرکز کے حکم ناموں کے ذریعے کیوں کیا جاتا ہے۔ کیا اس لئے تو نہیں کہ کہیں حضرات مرکز کی دھاندلیوں اور اصل حقائق سے واقف نہ ہو جائیں۔

کریکٹر کے متواتر جو بار بار لگائے جا رہے ہیں ان کا جواب وضاحتی بیان سے کیوں نہیں دیا جاتا۔ جب کہ محمد یوسف ناز صاحب آف کراچی مباہلہ کے لئے مرزا محمود احمد کو بار بار دعوت دے رہے ہیں اور بانی سلسلہ کا قول نمبر ٢ اوپر درج کیا گیا ہے...... اگر مباہلہ مناسب نہ ہو تو پھر ان الزام لگانے والے اصحاب کے خلاف ملکی عدالت میں ہتک عزت کا دعویٰ کیوں نہیں کیا جاتا۔ الزامات سے برأت کے یہی دو طریقے ہیں اور محض سکوت اور خاموشی سے الزام نہ صرف قائم رہتا ہے۔ بلکہ مستحکم ہو جاتا ہے۔ (خاموشی نیم رضا) اگر موجودہ خلیفہ کی زندگی میں ان الزامات کی صفائی نہ ہو سکی تو ان کی وفات کے بعد جماعت ربوہ مخالفین کے سامنے ان کا دفاع کیسے کرے گی اور خصوصاً ان کی اولاد کو صفائی پیش کرنا مشکل ہوگی۔

آخر میں یہ بھی عرض کرتا ہوں کہ میرے علم مشاہدہ اور تحقیقات کے نتیجہ سے یہ امر بھی ثابت ہے کہ آپ نے بھی انجمن احمدیہ کی امانت سے مبلغ پچاس ہزار روپیہ سال ١٩٥٢ء میں وصول کیا ہے۔ جس کو خلیفہ صاحب نے خفیہ رکھنے کی ہدایت کی ہے اور رقم ابھی تک واپس نہیں ہوئی۔ یہ کیون بدیں وجہ آپ کے لئے یہ ضروری ہے کہ آپ اپنی پوزیشن پبلک کے سامنے واضح کریں اور صدر انجمن احمدیہ رجسٹرڈ کے موجودہ نجمن سے لاتعلقی کا اظہار کریں اور میرے الزامات کی تحقیقات کے لئے جماعت کو مجبور کریں اور میرے خلاف موجودہ سماجی بائیکاٹ سے جماعت کو روکیں اور دنیا کو بتا دیں کہ آپ کی جماعت غیرت ایمانی رکھتی ہے اور پیر پرست نہیں اور اسلام کی صحیح روح اور خدمت ان کا نصب العین ہے تا کہ کسی کو یہ کہنے کا موقع نہ ملے کہ اس جماعت کے قول اور فعل میں

١٢٠

بڑا تضاد ہے۔ محترم چوہدری صاحب! ہم دو... ہم نے اپنے مولا حقیقی کے پاس جانا ہے۔... دلا کر آپ کو اپنے فرض کی طرف توجہ دلاتا ہو... اور ان کو صحیح راہ پر لانے کے لئے اپیل کری... کریں۔ والسلام!

ہم آہ بھی کرتے...
وہ قتل بھی کر...

خاکسار (مولوی) ص...

وظی... سلب و... (سلب حیا کی داستانوں کے ساتھ سلب زر... اب ذرا ان امدادی رقوم پر نظ... کرتے تھے۔ مرزا محمود کے لئے باپ کی... کی اس گزر اوقات کے لئے مقرر کیا گیا... اور خلیفہ بن کر یہ رقم بدستور وصول کرتے... کیا تھا کہ میرے لئے انجمن ماہوار کچھ ر... دیا جانا بہر حال ضروری ہے کہ آئندہ آ... لئے بیت المال سے کوئی رقم لینے میں رو... خلیفہ محمود نے اس چیز کو اپنے کاسہ گدا... صاحب انجمن سے باقاعدہ ایک رقم ہتھ... نبھاؤ‘ طور پر ہی یہ رقم رکھی جانی تھی اور مح... ظاہری شکل دینا مد نظر تھا تو یہ چھ ہزار رو... بطور ٹوکن (Token) رکھ دینا کافی...

صفحہ ٣٤٩

بڑا تضاد ہے۔

محترم چوہدری صاحب! ہم دونوں ہی تقریباً زندگی کے آخری حصہ میں ہیں اور آخر ہم نے اپنے مولا حقیقی کے پاس جانا ہے۔ اس لئے میں اس حقیقی عدالت کے عدل وانصاف کی یاد دلا کر آپ کو اپنے فرض کی طرف توجہ دلاتا ہوں۔ آپ جماعت کے فہمیدہ اصحاب کی رہنمائی کریں اور ان کو صحیح راہ پر لانے کے لئے پہل کریں اور اسی طرح حق وانصاف حاصل کرنے میں میری مدد کریں۔ والسلام!

ہم آہ بھی کرتے ہیں تو ہو جاتے ہیں بدنام
وہ قتل بھی کرتے ہیں تو چرچا نہیں ہوتا

گجرات، مورخہ ١٥؍ مئی ١٩٥٨ء

خاکسار (مولوی) صدرالدین ساکن چک سکندر تحصیل کھاریاں ضلع گجرات

وظیفہ خوار خلیفہ

سلب ونہب کی ہوشربا داستان

(سلب حیا کی داستانوں کے ساتھ سلب زر جلب منفعت کی الف لیلوی داستان ملاحظہ ہو۔ مؤلف)

اب ذرا ان امدادی رقوم پر نظر ڈالئے جو خلیفہ صاحب علی الاعلان انجمن سے وصول کرتے تھے۔ مرزا محمود کے لئے باپ کی وفات کے بعد ١٩٠٨ء میں ساٹھ روپے کا ایک وظیفہ ان کی اس گذراوقات کے لئے مقرر کیا گیا۔ یہ چیز اب آپ کے دائمی استحقاق میں تبدیل ہو چکی تھی اور خلیفہ بن کر یہ رقم بدستور وصول کرتے رہے۔ خلیفہ صاحب نے غالباً ١٩٢٤ء میں یہ ڈھونگ کھڑا کیا تھا کہ میرے لئے انجمن ماہوار کچھ رقم مقرر کردے۔ میں لیا نہیں کروں گا۔ لیکن اس کا مقرر کر دیا جانا بہر حال ضروری ہے کہ آئندہ آنے والے خلیفہ کے لئے راستہ بند نہ ہو جائے اور اس کے لئے بیت المال سے کوئی رقم لینے میں روک نہ ہو۔ یہ ایسا لغو اور مضحکہ خیز عذر تھا کہ حیرت آتی ہے کہ خلیفہ محمود نے اس چیز کو اپنے کاسۂ گدائی کے لئے پردہ کس طرح سمجھ لیا۔ بات صاف تھی خلیفہ صاحب انجمن سے باقاعدہ ایک رقم ہتھیانا چاہتے تھے۔ نام لے دیا اگلے خلیفہ کا۔ اگر محض ”نام نہاد“ طور پر ہی یہ رقم رکھی جانی تھی اور محض خانہ پری ہی مقصود تھی اور محض ایک راستہ کھولنے کے لئے ظاہری شکل دینا مد نظر تھا تو یہ چھ ہزار روپے سالانہ کی رقم کس مقصد سے رکھی گئی۔ محض ایک روپیہ بطور ٹوکن (Token) رکھ دینا کافی تھا۔ انجمن کو اپنے بجٹ کو متوازن رکھنے کے لئے جو پریشانی

١٢١

صفحہ ٣٥١

اٹھانا پڑتی تھی اس میں بہت حد تک کمی آجاتی۔ لیکن چونکہ اصل مقصد مالی استحصال تھا۔ چھ ہزار کی رقم مالی بجٹ میں رکھوائی گئی۔ اس سے بھی بڑھ کر بات سنئے کہ اس وقت خلیفہ محمود نے پردہ رکھنے کے لئے یہ تو کہہ دیا کہ میں اس رقم کو وصول نہیں کروں گا۔ لیکن آج تک اس کے مرنے کے بعد بھی اس رقم سے ایک حبہ بھی انجمن کے خزانے کو واپس نہیں ملا اور خلیفہ صاحب تادم مرگ باقاعدہ ابتداء سال میں ہی چھ ہزار کی رقم وصول کرتے رہے۔ اللہ تعالیٰ جب کسی کی پردہ دری پر آتا ہے تو بڑے بڑے محتاط اس کی زد میں آنے سے نہیں بچ سکتے۔ اسی خلیفہ صاحب نے جو بڑی چابکدستی سے اپنے اس مالی استحصال کو چھپاتے آتے تھے۔ خود ایک سال ایسا قدم اٹھایا جس سے پردہ چاک ہو گیا۔

استحصال کی پردہ دری

١٩٥٧ء کو خلیفہ صاحب کی پردہ دری سے خاص نسبت ہے۔ صدر انجمن احمدیہ کا بجٹ ٥٨۔١٩٥٧ء ملاحظہ کیجئے۔ خلیفہ صاحب کے نذرانہ کی یہ رقم جو سالہا سال سے چھ ہزار روپیہ اور جسے محض بطور Token بجٹ میں رکھا گیا تھا۔ مرزا محمود کی مالی امداد اس سے مقصود نہ تھی۔ صرف یہ مقصد تھا کہ آئندہ کسی آنے والے خلیفہ کے لئے بیت المال کے بجٹ میں رقم کا رکھوانا مشکل نہ ہو جائے۔ اسے بڑھا کر یک دم بارہ ہزار روپے کردیا گیا۔

(بجٹ صدر انجمن احمدیہ ٥٨۔١٩٥٧ء ص ١٩)

مالیات پر دست درازی

بات بالکل صاف اور واضح ہے۔ اگر نذرانہ خلافت کا مقصد خلیفہ صاحب کی مالی امداد نہیں اور اس کی تہہ میں خلیفہ صاحب کو مالی استحصال مدنظر نہیں تھا تو اس رقم کو چھ ہزار رکھوانے کی کیا ضرورت تھی اور اب اس وقت اسے بڑھا کر بارہ ہزار کس مقصد سے کرایا گیا ہے۔ جب کہ یہ سال جماعت کے چندوں کے لئے بڑا ہی مشکلات کا سال ہے۔ تحریک جدید کو ایک لاکھ کا خسارہ ہے۔ اس کے وکیل المال لکھتے ہیں: ”وکالت مال اپنی تمامتر کوششوں کے باوجود آمد بجٹ کے مطابق پیدا نہیں کرسکی۔ اس وجہ سے بجٹ غیر متوازن ہو گیا ہے اور ایک لاکھ روپے کا خسارہ متوقع ہے۔“

(بجٹ تحریک جدید ٥٨۔١٩٥٧ء)

یہی حال صدر انجمن کا تھا۔ بہت سے ضروری اخراجات میں تخفیف کی گئی تھی۔ کئی ایک ضروری اخراجات ترک کر دیئے گئے۔ انجمن کے کارکنوں میں بیس فیصد کی تخفیف کی جارہی

١٢٢

تھی۔ لیکن خلیفہ صاحب کا وظیفہ چھ ہزار سے بڑھا صاحب قوم پر اثر تو یہ ڈالنا چاہتے تھے کہ میری وجہ کام مفت سرانجام دے رہا ہوں۔ لیکن عملی حالت لوٹ رہے تھے۔

کسی شخص کی حقیقی ضروریات کھانا، کپ اخراجات ہوا کرتے ہیں۔ خلیفہ صاحب کے کھاب موجود ہیں اور بجٹ کی پوری رقم یہ وصول رکھے تھے۔ پہلے فوری طور پر ربوہ کی رہائش کے رہائش رکھی۔ پھر آدھی عارضی رہائش کے لئے دو با

خلیفہ کے اللے تللے

اب تیسرے مرحلے پر پختہ مکانات بیویاں چار ہی رہتی تھیں۔ اگر چہ ہوش لیوا مرض ب سے آپ نے پانچ لے رکھے تھے اور ان کے سا مستقر کے لئے جابہ (خوشاب) میں کوٹھی تھی ۔ ک تھی۔ خلیفہ صاحب کی ضروریات کا یہ سارا ضروریات کے لئے بجٹ میں سفر خرچ کے مضا

اولاد کی تعلیم کے لئے اتالیق میسر لئے قوم کے عمائدین کی جیبوں پر عجیب و غری نے لے کر دے رکھی تھیں۔ نجی کاموں کے ۔ پہرا دار دن رات مستعد کھڑے رہتے تھے۔ یہ ابھی بیچارے خلیفہ صاحب کا کسی رنگ میں طریق سے چل رہے ہیں۔ اب تیرہ چودہ ک رقوم سیاست پاکستان کے بگاڑ میں بڑ۔ صاحب کا یہ کہنا کہاں تک درست تھا۔ ”ب طور پر کوئی نفع نہیں پہنچتا۔“

صفحہ ٣٥١

تھی۔ لیکن خلیفہ صاحب کا وظیفہ چھ ہزار سے بڑھا کر بارہ ہزار پورا دو گنا کر دیا گیا تھا۔ خلیفہ صاحب قوم پر اثر تو یہ ڈالنا چاہتے تھے کہ میری وجہ سے صدر انجمن پر کوئی بار نہیں۔ میں خلافت کا کام مفت سر انجام دے رہا ہوں۔ لیکن عملی حالت یہ تھی کہ دو دو ہاتھوں سے سلسلہ کے اموال لوٹ رہے تھے۔

کسی شخص کی حقیقی ضروریات کھانا، کپڑا، مکان، ضروری سفر اور اولاد کی تعلیم کے اخراجات ہوا کرتے ہیں۔ خلیفہ صاحب کے کھانے، کپڑے کے لئے بارہ ہزار روپے بجٹ میں موجود ہیں اور بجٹ کی پوری کی پوری رقم یہ وصول کر لیتے تھے۔ مکانات انجمن نے بنوا کر دے رکھے تھے۔ پہلے فوری طور پر ربوہ کی رہائش کے لئے عارضی تعمیر کر کے دی۔ کچھ دن اس میں رہائش رکھی۔ پھر آدھی عارضی رہائش کے لئے دوبارہ مکانات بنوا کر دیئے۔

خلیفہ کے اللے تللے

اب تیسرے مرحلے پر پختہ مکانات بن گئے اور سب انجمن کے خرچ پر۔ آپ کی بیویاں چار ہی رہتی تھیں۔ اگرچہ ہوش ربا مرض سے پہلے تعداد میں کمی آگئی تھی۔ لیکن مکان انجمن سے آپ نے پانچ لے رکھے تھے اور ان کے ساتھ پائیں باغ بنوانے کا ارشاد فرما رکھا تھا۔ گرمائی مستقر کے لئے جابہ (خوشاب) میں کوٹھی تھی۔ کراچی کی سیر کے لئے وہاں ایک وسیع کوٹھی بن چکی تھی۔ خلیفہ صاحب کی ضروریات کا یہ سارا بندوبست قوم کے روپیہ سے کیا گیا تھا۔ سفری ضروریات کے لئے بجٹ میں سفر خرچ کے مصارف کے لئے رقم موجود تھی۔

(بجٹ صدر انجمن احمدیہ ٥٨-١٩٥٧ء ص ١٩)

اولاد کی تعلیم کے لئے اتالیق میسر تھے اور اگر یورپ کی تعلیم کی ضرورت ہو تو اس کے لئے قوم کے عمائدین کی جیبوں پر عجیب و غریب ڈھنگوں سے ڈاکہ ڈالا جاسکتا تھا۔ موٹریں انجمن نے لے کر دے رکھی تھیں۔ نجی کاموں کے لئے نوکر موجود تھے۔ پہرے دار حاضر تھے۔ ڈیوڑھی پر دن رات مستعد کھڑے رہتے تھے۔ یہ سارا بندوبست قوم ہی کے روپیہ سے تو کیا گیا تھا لیکن ابھی بیچارے خلیفہ صاحب کا کسی رنگ میں بار قوم کے سر پر نہیں۔ یہ اللے تللے اب بھی روز افزوں طریق سے چل رہے ہیں۔ اب تیرہ چودہ کروڑ روپیہ جوبلی کے لئے جمع کر دیا گیا تھا اور اب خطیر رقوم سیاست پاکستان کے بگاڑ میں بڑے انتظام سے لگ رہی تھیں۔ ان حالات میں خلیفہ صاحب کا یہ کہنا کہاں تک درست تھا۔ ”یہ مال دین کی خدمت میں صرف ہوتا ہے اور مجھ کو ذاتی طور پر کوئی نفع نہیں پہنچتا۔“

١٢٣

صفحہ ٣٥٢

میں جانتا ہوں جو وہ کہیں گے جواب میں

خلیفہ صاحب جس طرح قومی مال کو خرد برد کرتے تھے اس کے دفاع میں تین جواب ہماری نظر سے آج تک گزر چکے تھے۔

پہلا جواب ان کے ماموں اور خسر جناب ڈاکٹر محمد اسماعیل کے قلم سے تھا جو کہتے تھے کہ لوگ مالیات کے بارے میں خلیفہ صاحب پر اعتراض کرتے ہیں۔ حالانکہ ”قرآن مجید میں خدا نے سلیمان علیہ السلام کو مخاطب کر کے فرمایا: هذا عطاؤنا فامنن او امسك بغير حساب“

(الفضل مورخہ ١٨؍ جون ١٩٢٦ء)

دیکھئے کس بے حیائی سے ایک ننگ انسانیت وجود کو حضرت سلیمان علیہ السلام سے مشابہت دی گئی تھی۔ قرآن کی ازلی اور ابدی صداقتوں پر اس طرح حملے اب بھی جاری ہیں۔ موجودہ خلیفہ جو ”القينا على كرسيه جسداً“ کا مصداق ہے۔ اس کو حضرت موسیٰ علیہ السلام کا موعود قرار دیا جارہا ہے۔

آسماں را حق بود گر خوں ببارد بر زمیں

چور ہے چور

دوسرا جواب خلیفہ صاحب خود فرماتے ہیں۔ ارشاد ہوتا ہے : ”تمہاری اور میری مثال تو اس شخص کی سی ہے جو کسی گھر میں اپنا مال رکھے۔ جب لینے جائے تو گھر والا شور مچا دے، چور ہے چور ہے۔“

(الفضل مورخہ ١٩؍ مارچ ١٩٣٩ء، الفضل مورخہ ٣؍ جنوری ١٩٢٥ء)

تیسرا جواب ملاحظہ ہو: ” جب یہاں ہمارے عقیدہ کے مطابق خدا تعالیٰ خلیفہ قائم کرتا ہے وہ اگر اموال تلف کرتا ہے یا تلف کر دیتا ہے تو وہ خود خدا کے حضور جواب دہ ہے تم اس پر اعتراض نہیں کر سکتے۔“

سبحان اللہ! اس ملعون جماعت کے نزدیک معاذ اللہ خدا ایسے خلیفہ بنایا کرتا ہے۔ حضرت ابو بکرؓ جسے خدا نے خلیفہ بنایا تو وہ فرماتے ہیں : ”اگر میں نیک کام کروں تو میری امداد کرنا اور اگر غلط راہ اختیار کروں تو مجھے فوراً ٹوک دینا۔ جب تک میں خدا اور رسول کے احکام پر چلتا رہوں تو میرا کہا مانو اور اگر ان کی اطاعت سے منہ پھیر لوں تو میری بات نہ مانو۔“

لیکن یہ خلیفہ یہ تعلیم دیتا ہے کہ میری بے راہ رویوں پر مجھے مت روکو۔ افسوس! خلیفہ صاحب مالی استحصال میں کس پست ذہنیت پر اتر آئے تھے۔ اصل بات یہ ہے کہ یہ سب کچھ ایک اجتماعی محاسبہ قوت کے فقدان کی وجہ سے ہو رہا تھا۔ ہم جانتے ہیں کہ خلیفہ صاحب نے کمال

١٢٤

صفحہ ٣٥٣

چابکدستی سے اس روح کو بیدار ہونے سے روکے رکھا۔ لیکن ذہنوں میں جو حقائق پرورش پا رہے تھے۔ جماعت کا لیڈر طبقہ جس نہج پر سوچنے لگ گیا تھا اس کی موجودگی میں مقاطعہ و اخراج، منافقت اور مندرجہ بالا پروپیگنڈے کے کمزور اور لایعنی سہارے اب زیادہ دیر تک کام نہیں آسکتے۔ لوگ یہ سوچنے پر مجبور ہورہے تھے کہ ساٹھ روپیہ کا یہ وظیفہ خوار تھا۔ جس کے پاس خلافت کے پہلے دن ایک اشتہار چھاپنے کے لئے بھی پیسہ نہ تھا اور جو خود اقراری ہے کہ: ”بیسیوں مرتبہ میں نے اپنی آمد اور اخراجات کا حساب کیا ہے تو اخراجات ہمیشہ آمد سے دوگنا ہوتے ہیں۔“

(الفضل مورخہ ٧؍ ستمبر ١٩٣٧ء)

اور تقسیم ملک کے وقت جس کی حالت یہ تھی کہ وہ خود کہتا ہے: ”قادیاں سے نکلتے وقت مجھ پر لاکھوں روپیہ قرض تھا۔ جس کی ادائیگی کی کوئی صورت نظر نہ آتی تھی۔“

(الفضل مورخہ ٧؍ اپریل ١٩٥٢ء)

کروڑ پتی خلیفہ

آج وہ لاکھوں کا مالک کیسے بنا۔ ربوہ میں یہ دھڑا دھڑ درجنوں کوٹھیاں کہاں سے بن رہی ہیں۔ ڈھیروں ڈھیر افراد خانہ کے ساتھ یورپ و انگلستان کے سفر کس برتے پر ہوتے رہتے ہیں۔ یہ نئی نئی کمپنیوں میں حصے کہاں سے خریدے جا رہے تھے۔

دنیا سمجھنے لگ گئی تھی اور خوب سمجھنے لگ گئی ہے کہ خلیفہ صاحب کی ساری دولت گھناؤنے فریب سے بنی ہے۔ خلیفہ صاحب ساری عمر جماعت کے روپیہ میں ناجائز تصرف کرتے رہے اور مختلف حیلوں بہانوں سے جماعت کی جیبوں سے روپیہ کھینچا گیا۔ ہم نے تو یہاں پر چند اشارے کئے ہیں۔ اس اجمال کی تفصیلات بڑی لمبی داستان ہے۔ اگر موجودہ خلیفہ صاحب کو ان حقائق سے انکار ہے تو وہ غیر جانبدار آڈٹ کمیشن کو قبول کرکے اخلاقی جرات کا ثبوت دیں۔ حقائق خود بخود منظر عام پر آجائیں گے۔ آڈٹ کے اخراجات ان کے معترضین ادا کرنے کے لئے تیار ہیں۔

اور تو خرقے میں سب چھپ جائے گا
مے کی بوتل بھی چھپا لی جائے گی؟

غرض لاکھوں بطور خلافت الاؤنس وصول کرکے اور لاکھوں روپے بطور نذرانہ وصول کرکے اور لاکھوں روپے قرضہ جات کے ذریعہ حاصل کرکے اور لاکھوں روپے بذریعہ جوبلی فنڈ وصول کرکے اور لاکھوں روپے خرید و فروخت اراضی کی پر اسرار راہیں اختیار کرکے اور لاکھوں

١٢٥

صفحہ ٣٥٤

روپے مساجد فنڈ کو استعمال کر کے اور لاکھوں روپے قومی سرمایہ سے نت نئی کمپنیاں کھول کر اور ان میں اپنے بیٹوں اور دامادوں کو بطور ڈائریکٹر خطیر تنخواہیں دلوا کر لاکھوں روپے زکوٰۃ فنڈ کے وصول کر کے یہ قوم کو مخمور خلیفہ پر اسرار ساٹھ روپے ماہوار کا وظیفہ خوار عمر بھر دنیا میں العیاذ باللہ محمد رسول اللہ ﷺ کا نام بلند کرنے اور اسلام کا جھنڈا بلند کرنے کے نعرے لگاتا رہا اور یہ ساٹھ روپے ماہوار کا وظیفہ خوار کروڑوں روپے کی منقولہ اور غیر منقولہ جائیداد کا مالک بن گیا۔ قوم گمراہی میں چندے دے دے کر تھک گئی۔ لیکن اس نام نہاد خلافت کی جملہ مزعومہ برکات خلیفہ صاحب خود سمیٹ کر آج اپنی اولاد کو وصیت کر رہے ہیں کہ میں نے تمہارے ساتھ بڑی خیر خواہی کی ہے۔ واقعی ساٹھ روپے کے وظیفہ خوار کا اولاد کے لئے کروڑوں روپے کی جائیداد بنا ڈالنا بڑی بھاری خیر خواہی ہے۔

خلافت جوبلی فنڈ

جس کی تحریک بھی حضور ہی کے ایماء پر چوہدری ظفر اللہ خان نے کی اور مدتوں الفضل میں پروپیگنڈا کر کے اور چوہدری صاحب موصوف نے شبانہ روز کوششوں کے نتیجہ میں تین لاکھ کی رقم جناب خلیفہ صاحب کی جھولی میں ڈال دی۔ پہلے تو اس امداد کو چندہ قرار دیا گیا اور جماعت کو بتایا گیا کہ یہ چندہ قومی ضروریات اور سلسلہ کے مفاد ہی پر خرچ ہوگا۔ اعتراض پر مرزا بشیر احمد نے بیان دیا کہ : ”بعض لوگ دریافت کرتے ہیں کہ خلافت جوبلی کا چندہ کہاں خرچ ہوگا۔ اس کا جواب یہ ہے کہ یہ رقم جمع کر کے ”حضرت امیر المؤمنین“ کے سامنے پیش کی جائے گی اور حضور اس سلسلہ کے مفاد ہی میں جس طرح پسند فرمائیں گے خرچ فرمائیں گے“

(الفضل مورخہ ١٤؍ جنوری ١٩٣٩ء)

اور یہ وعدے دے کر اور اس طرح جوش دلا کر کہ : ”خلافت جوبلی کی تقریب تاریخ اسلامی میں اپنی نوعیت کی پہلی اور نادر تقریب ہے۔“

(الفضل مورخہ ٢٥؍ مارچ ١٩٣٩ء)

اور ”وفد بھیج کر لوگوں سے ان کی ماہوار آمد سے ڈیڑھ گنا چندہ طلب کر لیا گیا ۔“

(الفضل مورخہ ٩؍ فروری ١٩٣٩ء)

اور آخر میں اسے خلیفہ صاحب کی خدمت میں ان کی ذاتی ضروریات کے لئے نذرانہ قرار دے کر کلیتاً ان کے تصرف میں یہ ساری رقم دے دی گئی۔ اوّل اوّل تو خلیفہ صاحب نے بھی اس رقم سے لاکھوں لاکھ ٹریکٹوں کی اشاعت وغیرہ کا ذکر کر کے حساب برابر کر دیا۔ لیکن اس کا انجام بڑی دلچسپ تاریخ ہے۔

١٢٦

صفحہ ٣٥٥

خلیفہ صاحب کو نذرانہ دینے کے لئے جوبلی فنڈ کی تحریک مالی لحاظ سے کن نازک ایام میں ہوئی اس کا اندازہ خلیفہ صاحب کے الفاظ سے کیجئے۔ مجلس مشاورت ١٩٣٨ء کا افتتاح کرتے ہوئے خلیفہ صاحب نے فرمایا: ”مالی قربانیوں کے لحاظ سے جماعت کے لئے یہ نازک ایام ہیں۔ صدر انجمن کے قرضہ کی مقدار چار لاکھ تک پہنچ گئی ہے۔“

(الفضل اپریل ١٩٣٨ء)

سوال یہ ہے کہ جب جماعت کے لئے مالی لحاظ سے نہایت نازک ایام تھے اور انجمن چار لاکھ کی مقروض ہو چکی تھی۔ کارکنوں کو تین تین ماہ کی تنخواہیں نہیں مل رہی تھیں تو ایسے نازک اور مخدوش ایام میں جوبلی فنڈ کی تحریک کیوں چلائی گئی۔ کیا اس کا مطلب یہ نہ تھا کہ قوم اپنے پیٹ کاٹ کر اور انجمن کا خزانہ اپنا روپیہ اگل کر تین لاکھ روپے خلیفہ صاحب کی جھولی میں ڈال دے۔ کیا خلیفہ صاحب کا فرض نہیں تھا کہ اپنی جیب میں تین لاکھ روپیہ ڈلوانے سے پہلے سلسلہ کا چار لاکھ روپیہ قرض ادا کرنے کا انتظام کرتے۔ فی الحقیقت جوبلی کی تحریک خود خلیفہ صاحب نے کروائی۔ ١٩٣١ء میں ایک موقع پر فرمایا: ”ہم کو اس سال چالیس سالہ جوبلی منانی چاہئے۔“

(الفضل مورخہ ١٢ جون ١٩٣١ء)

حدیث شریف میں آتا ہے: ”من لم یشکر الناس لم یشکر اللہ“ خلیفہ صاحب کی ناشکر گزار اور احسان فراموش طبیعت کا ان الفاظ سے اندازہ کیجئے: ”جو شخص مجھ کو کوئی تحفہ دیتا ہے وہ مجھ پر احسان نہیں کرتا۔ بلکہ خدا تعالیٰ اس ذریعہ سے اس پر احسان کرتا ہے۔“

(الفضل مورخہ ١٤ اکتوبر ١٩٣٢ء)

لوٹ کھسوٹ کے ہتھکنڈے

خلیفہ کی مالی پالیسی کو دیکھو، برابر وہ جماعت کو کہتے چلے گئے کہ میں تمہارے لئے ریزرو فنڈ تیار کر رہا ہوں۔ میں ایسی جائیداد بنا رہا ہوں جس سے سلسلہ کی تبلیغی ضروریات کے لئے روپیہ مہیا ہوتا رہے گا۔ تحریک جدید گذشتہ بیس اکیس سال سے اس ریزرو فنڈ اور قیمتی جائیدادوں کے بنانے میں مصروف بیان کی جاتی ہے۔ پھر کمپنیوں اور تجارتوں میں بیوقوف جماعت کو لاکھوں روپیہ یہ کہہ کر تلف کروا دیا کہ بڑے بڑے منافع ہوں گے اور فریب کارانہ مشن ان ہی کی آمد سے چلا کریں گے۔

آج تک ان فریب خوردہ لوگوں نے ایسی تجارتوں اور کمپنیوں سے کیا فائدہ اٹھایا۔ خدا نے اس کا وہی حشر کیا جس کے یہ مستوجب تھے۔ احمدیہ سٹور کا کیا حشر ہوا۔ گلوب ٹریڈنگ کمپنی کہاں گئی۔ گٹ فیکٹری کا کیا نتیجہ ہوا۔ سٹار ہوزری کہاں دم توڑتی رہی ہے۔ دارالصناعت کے

١٢٧

صفحہ ٣٥٦

پڑے کیا ہوئے۔ ہمالیہ گلاس فیکٹری کہاں گئی، ویدک یونانی دواخانہ زینت محل دہلی کا کیا بنا؟ سندھ دیشی کیمیکل آئل اینڈ الائیڈ کمپنی اب تک کتنا منافع دے چکی ہے؟

بے راہ رو جماعت کا لاکھوں روپیہ اس طرح برباد کروا دیا گیا کہ یہ سلسلہ ڈوبنے والی تجارتوں کے لئے قائم ہوا تھا۔ کیا کبھی الہی سلسلوں نے بھی تجارتوں اور صنعتوں کے بل بوتے پر اپنی اشاعت کی ہے۔ اصل میں اس جماعت کا دین سے کوئی واسطہ نہ تھا۔ اس لئے ”مال حرام جائے حرام رفت“ کا معاملہ کر کے خدا نے اس کو دنیا میں بھی جعلی خلافت کے ہاتھوں سزا کا مزا چکھا دیا۔

خلیفہ نے درجنوں مشترک سرمایہ کی کمپنیوں میں جماعت کا لاکھوں روپیہ پھنسا کر رکھا ہوا ہے۔ اس میں بہت سی حکمتیں ہیں۔ ایک حکمت یہ ہے کہ خلیفہ صاحب نے ایسی کمپنیوں میں کچھ روپیہ اپنے بیٹوں اور دامادوں کے نام سے بھی لگوائے ہیں اور پھر انہیں اس کمپنی میں ڈائریکٹر، مینیجنگ ڈائریکٹر اور چیئرمین بھی بنوا دیتے ہیں اور اس طرح نہ صرف قوم کے خرچ پر ٹریننگ دلوانے میں بلکہ سفر خرچ، اجلاسوں کی شرکت کی بھاری فیسوں اور بعض معلوم اور غیر معلوم طریقوں سے ان کی آمد کی سبیلیں پیدا کرواتے ہیں اور خلیفہ صاحب کی اپنی اولاد کی آمدنیوں کا بہت بڑا حصہ انہیں کمپنیوں کے حصص اور ان کی ڈائریکٹریاں اور صدارتیں ہیں۔

آخر تک قوم کو یہ کہتے چلے گئے کہ بڑا عظیم الشان ریزرو فنڈ قائم ہورہا ہے۔ روپیہ منافع پر لگا ہوا ہے۔ بڑے بڑے مفید کام اس سے انجام پذیر ہوں گے۔ للہ غور کرو، اب تک پرائیویٹ اور پبلک لمیٹڈ اور غیر لمیٹڈ کمپنیوں پر بے شمار روپیہ صرف ہو چکا ہے۔ قوم مقروض پر مقروض ہوتی چلی گئی۔ تجربہ پر تجربہ فیل ہوتا رہا۔ آپ کو آخر کس حکیم نے نسخہ بتایا ہے کہ تجارت کرواتے چلے جائیں اور خسارے کے سودے بند نہ ہوں اور ان معاملات کو قوم کے سامنے بھی نہ لائیں۔

امانت فنڈ

صدر انجمن احمدیہ پر لاکھوں روپیہ کی ذمہ داری امانت فنڈ کے نام سے موجود ہے۔ یہ اتنی بڑی ذمہ داری ہے۔ لیکن خلیفہ صاحب مختلف آنوں بہانوں سے اسے قوم کے سر پر اپنی موجودہ شکل میں مسلط کئے رکھنے پر مصر تھے۔ قطع نظر اس کے جو اس نے اب ایک بظاہر باقاعدہ لیکن درحقیقت بالکل بے قاعدہ بینک کی شکل اختیار کر لی ہے جسے سٹیٹ بینک آف پاکستان اور کوآپریٹو سوسائٹی کے مرکزی دفتر کی اجازت کے بغیر چلایا جارہا ہے۔ جو آئینی رنگ میں سخت قابل اعتراض بات ہے۔

١٢٨

مسجدوں کا روپیہ تجارتوں پر

خلیفہ نے خانہ خدا کی تعمیر کے راہ گم کردہ جماعت کی سب سے پہلی م جہاں کی مسجد کے لئے اب دوبارہ فرینک کی مسجد کے لئے ایک لاکھ روپیہ جمع ہوا تھا۔

لیکن جرمنی میں تو مسجد بنوا خریدی گئی تھی اس پر بہت تھوڑی رقم صر میں واقع ہے۔ اس پر معترضین نے شور وصول کیا گیا ہے۔ خریدی زمین پر تو معمو بے ڈھب سوال تھا۔ اس لئے پہلے تو کرنے کے لئے کی جارہی ہیں۔“

لیکن سوال بڑے پتے کا ہزار روپیہ مکان اور فرنیچر وغیرہ کے خر گیا ...... تین ہزار کی یہاں جائیداد خری

ملاحظہ کیجئے کہ کس طرح خریدنے، تجارتی کام چلانے اور قادی

جب قوم نے مساجد فنڈ نے اس میں سے روپیہ نکلوا کر تجارت لئے ان کی آنکھوں کو موندنے کے باتیں کرنے والے منافق اور جہنمی ہ تو مساجد سے بھی زیادہ بابرکت کا ابدالآباد کے لئے لندن مشن چلا کر کے پاؤں نہیں ہوتے۔ ایک عی تجارت پر کتنا روپیہ لگا ہوا ہے۔ پہ اسی ہزار۔

صفحہ ٣٥٧

مسجدوں کا روپیہ تجارتوں پر

خلیفہ نے خانہ خدا کی تعمیر کو بھی استحصال مال کا ذریعہ بنا رکھا تھا۔ مثال کے طور پر اس راہ گم کردہ جماعت کی سب سے پہلی مسجد لندن میں بنی۔ معروف مسجد جرمنی کا حال سن لیجئے۔ جہاں کی مسجد کے لئے اب دوبارہ فرینکفورٹ (جرمنی) کے نام سے چندہ مانگا جا رہا ہے۔ لندن کی مسجد کے لئے ایک لاکھ روپیہ جمع ہوا تھا اور ستر ہزار روپیہ برلن (جرمنی) کی مسجد کے لئے جمع ہوا تھا۔

(الفضل مورخہ ٩ نومبر ١٩٣٦ء)

لیکن جرمنی میں تو مسجد بنوائی ہی نہ گئی اور لندن کی مسجد کے لئے جو زمین اس وقت خریدی گئی تھی اس پر بہت تھوڑی رقم صرف ہوئی تھی۔ کیونکہ پٹنی جہاں یہ مسجد ہے مضافات لندن میں واقع ہے۔ اس پر معترضین نے شور مچایا کہ جناب ایک لاکھ ستر ہزار روپیہ مسجدوں کے نام سے وصول کیا گیا ہے۔ خرید زمین پر تو معمولی رقم صرف ہوئی۔ یہ باقی کا روپیہ کہاں گیا؟ بڑا ٹیڑھا اور بے ڈھب سوال تھا۔ اس لئے پہلے تو فرمایا: ”یہ فتنہ گروں کی فتنہ گریاں ہیں جو جماعت کو پست کرنے کے لئے کی جا رہی ہیں۔“

(الفضل مورخہ ٩ نومبر ١٩٣٦ء)

لیکن سوال بڑے پتے کا تھا۔ جواب کے بغیر چارہ نہ تھا۔ فرمایا: ”اس میں سے ستراسی ہزار روپیہ مکان اور فرنیچر وغیرہ کے خریدنے پر صرف ہوا اور ساٹھ ہزار روپیہ سے تجارتی کام چلایا گیا...... تین ہزار کی یہاں جائیداد خریدی گئی ہے۔“

(الفضل مورخہ ٩ نومبر ١٩٣٦ء)

ملاحظہ کیجئے کہ کس طرح مساجد کی تعمیر کے لئے بٹورا ہوا روپیہ فرنیچر وغیرہ کے خریدنے، تجارتی کام چلانے اور قادیان میں جائیدادوں کی خرید پر صرف کر دیا گیا۔

جب قوم نے مساجد فنڈ کا حساب پوچھا تو آخر بادل نخواستہ انہیں اقرار کرنا پڑا کہ میں نے اس میں سے روپیہ نکلوا کر تجارت پر لگا دیا ہے۔ یہ جرم بہتوں کی آنکھیں کھولنے والا تھا۔ اس لئے ان کی آنکھوں کو موندنے کے لئے کئی ایک حربے استعمال کئے گئے۔ کبھی تو یہ کہا گیا کہ یہ باتیں کرنے والے منافق اور جہنمی ہیں۔ یہ لوگ جماعت کو پست کرنے والے ہیں۔ باقی رہا روپیہ تو مساجد سے بھی زیادہ بابرکت کام پر صرف ہوا ہے اور لگے سبز باغ دکھانے، اس کی آمد سے ابدالآباد کے لئے لندن مشن چلا کرے گا اور سلسلہ کے چندوں پر اس مشن کا بار نہیں رہے گا۔ جھوٹ کے پاؤں نہیں ہوتے۔ ایک ہی خطبہ میں اس بارے میں تضاد بیانیاں شروع کر دیں کہ اس تجارت پر کتنا روپیہ لگا ہوا ہے۔ پہلے کہا ساٹھ ہزار، پھر کہا پچھتر ہزار اور پھر کہا ستر ہزار، واقعتاً یہ تھا اسی ہزار۔

(الفضل مورخہ ٩ نومبر ١٩٣٦ء)

١٢٩

صفحہ ٣٥٨

شیخ مصری کا نفسیاتی تجزیہ

”قیس تصویر کے پردے میں بھی عریاں نکلا“

شیخ مصری نے تین خطوط لکھے اور بیعت ترک کر کے نبرد آزما ہوا۔ یہ جرأت کسی باغی نے اس وقت تک نہیں کی تھی۔ اس کا ایک خط بڑی اہمیت کا حامل ہے۔ یہ شخص منکرین ختم نبوت کے سربراہ ثانی کا ایک ایسا مرید تھا جو جب تک مریدی کی زنجیر میں اسیر رہا اس نے اپنا ذہن، اپنا علم بلکہ اپنا سب کچھ اپنے سربراہ کے لئے وقف کر رکھا تھا۔ اس کے تاریخی خط کو درج کرنے سے پہلے ضروری ہے کہ اس کی دین حقیقی سے مغائرت اور غیرت فروش مریدی کی ابتداء اور انتہاء کا ذکر کیا جائے تاکہ خط کی زلزلہ خیز اہمیت قارئین پر اجاگر ہو جائے۔ یہ لاہور میں ہندو گھرانے میں پیدا ہوا۔ اس کا ہندوانہ نام شکر داس تھا۔ اس نے ١٩٠٥ء میں اپنا آبائی مذہب چھوڑا اور قادیانی جماعت میں شامل ہو گیا۔ یہ خوش رنگ پست قامت نوجوان تھا۔ یہ بڑا ذہین تھا۔ جدی وراثت سے خوشامد اور بڑوں کی رضا جوئی کا ملکہ ملا تھا۔ ان اوصاف کی بدولت وہ نوزائیدہ اور اسلامی معاشرہ سے منحرف جماعت میں جلدی گھل مل گیا۔ ذہانت اور محنت سے اس نے اپنی نئی جماعت کی رائج کردہ اسلامی تعلیم میں نوجوانی میں ہی امتیازی مرتبہ حاصل کر لیا۔ ١٩٠٨ء کے بعد وہ زیادہ تر جماعت کے سربراہ کی صحبت میں رہنے لگا اور اتنا قریب ہو گیا کہ اس کو سربراہ اوّل نے تعلیم اور تبلیغ کے لئے مصر بھیج دیا۔ اس کی اپنی روایت ہے کہ وہ مصر کے مایہ ناز مفسر رشید رضا صاحب کا ہم جماعت تھا۔

لاہوریوں کا قادیان سے فرار

مصر سے واپسی کے بعد قادیان میں اس نے حالات کو بدلا ہوا پایا۔ ١٩١٤ء میں سربراہ اوّل نے وفات پائی اور بانی سلسلہ کا بیٹا پونے پچیس سال کی عمر میں جماعت قادیان کا سربراہ بن گیا۔ اس نے طویل مدت تک بڑی چابکدستی سے زیر زمین سازش قائم کر رکھی تھی۔ جونہی سربراہ اوّل بہت لمبی بیماری کے بعد وفات پا گیا تو انتخاب کے وقت مرزا محمود احمد کے Storm Troopers (طوفانی دستے) مصروف کار خاص تھے۔ ان کے سامنے قادیان کے بڑے لوگوں کی جن کے ہاتھ میں زمام کار تھی، پیش نہ گئی۔ ان کے اعصاب پر اس نے یہ کہہ کر چھاپہ مارا کہ اس کا باپ نبی تھا اور اس کے نہ ماننے والے (معاذ اللہ) کافر ہیں۔ یہ تدبیر کام کر گئی۔ اس کے حریف لوگ جو بہت تھوڑے رہ گئے تھے قادیان سے فرار ہو کر لاہور میں رام گلی میں آگئے۔ کیونکہ

١٣٠

صفحہ ٣٥٩

اس گلی میں ان کے چند سر بر آوردہ افراد رہتے تھے۔ ان کی وجہ سے اس رام گلی کا وہ حصہ جو برانڈرتھ روڈ کے ساتھ تھا احمدیہ بلڈنگس کے نام سے مشہور ہو گیا۔ یہ لوگ لاہوری جماعت کہلائے۔

ہٹلر معکوس کا ٹولہ

جس طرح مرزا محمود برسراقتدار آیا۔ اس کا تقاضا تھا کہ اس کو اپنے ڈھب کے کچھ اہل علم لوگ ملیں۔ کچھ اہل قلم دستیاب ہوں اور کچھ چرب زبان مقرر ملیں۔ تاکہ نئے اور ترقی یافتہ فتنے کا کاروبار چلے۔ اہل علم میں یہ شیخ مصری اور میر محمد اسحاق تھے۔ لکھاڑ قسم کے لوگوں میں اس کو شیخ یعقوب علی عرفانی ایڈیٹر الحکم اور مفتی محمد صادق ایڈیٹر البدر اور میر قاسم علی ایڈیٹر الفاروق مل گئے۔ آخر الذکر دہلی کا باسی ہونے کی وجہ سے بڑا طرار قسم کا اسٹیج مقرر تھا۔ اس کی تحریروں میں بھی سوقیانہ ڈرامائیت تھی۔ یہ سب لوگ باری باری اپنے ساختہ پرداختہ ہٹلر معکوس کے مظالم کا شکار ہو کر رہے اور صید زبوں ہو کر دنیا سے رخصت ہوئے۔ سب سے زیادہ اہم اوّل الذکر شخص شیخ مصری تھا۔ یہ نثر نگاری کا اہل نہ تھا اور نہ ہی شعلہ بیان تھا۔ یہ ایک لفظ میں ادا ہونے والی بات کئی فقروں میں ادا کرتا تھا۔ فقروں میں ادا ہونے والی بات کئی صفحوں پر پھیل جاتی تھی۔ ویسے سوسائٹی میں ”عبس وتولیٰ“ ہو کر رہتا تھا۔ سربراہ ثانی کے فریب نے اس کے مزاج کو خاصہ بگاڑ دیا تھا۔ ویسے اس بستی کے شہرۂ آفاق جنسی معائب اور مالی خیانت کاریوں کے الزام سے وہ جب تک وہاں رہا، پاک رہا۔ وہ اپنی دربار داری کی وجہ سے بڑا نامقبول تھا۔ چونکہ اس کے خلاف اخلاقی قسم کے سنگین الزامات کبھی نہیں لگے۔ اس لئے سربراہ ثانی کے لئے اس کا شب و روز بہت مفید تھا۔ خلیفہ کبھی پسند نہ کرتا تھا کہ اس کے حاشیہ نشین افراد لوگوں میں معتبر متصور ہوں۔ نہ ہی اس کے لئے وہ لوگ کار برار تھے جو اس کے معائب کے پردے میں گنہگاریوں کے ارتکاب کرتے رہیں۔ خلیفہ چاہتا تھا کہ وہ اس کے افعال ناقصہ کے لئے فصیل ہوں نہ کہ وہ ہی جرائم اور خباثت کی پردہ داری اور مدافعت کرتا رہے۔ اس اصول کے مطابق مصری سے بڑھ کر اس کے اثم اور عدوان میں کوئی کامیاب معاون نہ بن سکا۔

مرید آمریت کے شکنجے میں

جب احرار نے فتنہ انکار ختم نبوت کے خلاف محاذ گرم کیا اور اپنا ایک عالم مولوی عنایت اللہ صاحب بھیجا اور مسلمانوں اور دوسرے لوگوں نے اس کا ساتھ دیا تو خلیفہ نے اپنی حفاظت اور مریدوں کی حراست کے لئے آمریت کا جال بچھایا اور جاسوسی کاروبار کو فروغ دے کر اپنوں اور ١٣١

صفحہ ٣٦٠

غیروں کو ہراساں کر دیا۔ اس سیاق و سباق میں مصری نے سی۔آئی۔اے کا کام کیا۔ وہ الفضل میں بھی اس کی قصیدہ خوانی کر کے باہر کی جماعتوں کو اندھیرے میں رکھتا تھا۔ جلسوں میں تھکا دینے والی تقریریں کرتا تھا۔

مصری کی سمال ٹاؤن کمیٹی کی رکنیت

ان خدمات کی بدولت اس کو قادیان کی سمال ٹاؤن کمیٹی کا نامزد رکن کرایا گیا۔ وہ کمیٹی کے اجلاسوں میں اس انداز سے باتیں کرتا گویا کمیٹی صدر انجمن احمدیہ کی اضافی شاخ ہے۔ اس لئے جب ہاؤس ٹیکس کی نادہندگی کے خلاف کسی اقدام کا فیصلہ ہوتا تو وہ روک بن جاتا۔ قادیان میں خلیفہ نے گلبرگ کی سی آبادی دارالصدر بنائی اور اپنی کوٹھی دارالحمد کے علاوہ اپنے زلہ برداروں کے مکانات تعمیر کرائے۔ وہ سمال ٹاؤن کمیٹی کے دائرہ اختیار سے باہر تھے۔ لیکن مصری نے بڑا زور لگایا کہ کمیٹی شہر سے اس بستی تک پختہ سڑک بنائے۔ چونکہ یہ قانوناً ناممکن تھا۔ اس لئے مصری کی بیل منڈھے نہ چڑھی۔ لیکن اس ناکامی کا انتقام اس طرح لینے کی سعی لاحاصل کی کہ اس نے سارا بار ملامت کمیٹی کے چیئرمین کے سر پر ڈال دیا۔ یہ چیئرمین مولوی محمد دین کے نام سے قادیان کی ساری آبادی میں معروف تھے۔ اپنی جماعت میں ضدی مشہور تھے۔ لیکن اپنی جماعت سے باہر حتیٰ کہ ضلعی حکام میں ان کی سادگی اور راست گوئی کی بڑی شہرت تھی۔ اس لئے وہ خلیفہ کی آنکھوں میں کھٹکتے تھے۔ کیونکہ ناجائز سفارشات کو وہ رد کر دیتے تھے۔ چونکہ وہ جماعت کے ہائی اسکول (تعلیم الاسلام ہائی سکول) کے ہیڈ ماسٹر بھی تھے۔ اس لئے ان کو انجمن کے اور خلیفہ کے اقتدار کو محکمہ تعلیم کے اختیار کے ساتھ متوازن رکھنا پڑتا تھا۔ اس رویے سے خلیفہ کو چڑ تھی۔ اس لئے وہ مولوی محمد دین سے مسلسل ناراض رہا۔ ایک دفعہ اس نے خطبہ میں کہا تھا کہ مولوی محمد دین کی ہیڈ ماسٹری میں تعلیم الاسلام ہائی سکول میں قادیانیت کے خلاف بم تیار ہو رہے ہیں۔ یہی وجہ تھی کہ شیخ مصری موقعہ بے موقعہ ہائی سکول کے اس بے باک ہیڈ ماسٹر کے خلاف محاذ آرائی کرتا رہتا تھا۔

عبدالرحیم درد کا فتنہ

جب مصری ”خلیفہ“ کی کوٹھی تک سڑک بنوانے میں ناکام ہوا اور خلیفہ بھی اس بارے میں خائب و خاسر رہا تو مصری کو ایک اور موقعہ ہاتھ آ گیا۔ خلیفہ کا ایک ناخلف منظور نظر تھا وہ تھا عبدالرحیم درد۔ وہ ناظر تعلیم و تربیت تھا۔ اس کے رویے سے تمام ماتحت تعلیمی ادارے نالاں تھے۔ وہ جب قادیان سے باہر کسی شہر میں بطور معلم کے ملازم تھا تو وہ چھٹی لے کر قادیان میں آن کر سکول میں ملازم ہو گیا اور وہ بدستور دو مقامات سے تنخواہیں لیتا رہا۔ جب یہ جرم طشت از بام ہوا تو

١٣٢

صفحہ ٣٦١

مولوی محمد دین نے انکشاف راز میں کوئی لیت ولعل نہ کیا۔ اس لئے جب عبدالرحیم درد قادیان میں آن کر مولوی محمد دین کا افسر لگا تو اس نے بھی بڑھ چڑھ کر خفیف حرکتیں کیں۔ اب مصری اور درد کا متحدہ محاذ بن گیا اور ان کا مقصد خلیفہ خود تھا۔

درد کی مقبولیت بڑھتی جارہی تھی۔ کیونکہ وہ شخص ”جس طرف اُلٹو درد ہے“ کا مصداق تھا۔ خلیفہ نے اس کو لندن میں اپنی مسجد کا امام بنا کر بھیج دیا۔ جب ریلوے اسٹیشن پر مشایعت ہو رہی تھی تو اس وقت ایک اور مبلغ فضل الرحمٰن حکیم ناجی بھی روانہ ہورہا تھا۔ زخم خوردہ طلباء کو موقعہ غنیمت ہاتھ آیا۔ انہوں نے صرف فضل الرحمٰن سے مصافحہ کیا اور درد کو کمال بے دردی سے چھوڑ دیا۔ خلیفہ بھی وہاں تھا۔ لیکن اس کو علم نہ ہوا۔ شیخ مصری نے فوراً خلیفہ کی توجہ اس منظر کی طرف مبذول کرائی اور کہا کہ حضور آپ کی موجودگی میں یہ احتجاج بے باکی سے ہو رہا ہے۔

شیخ مصری کی گہری چال

شیخ مصری نے اس عیاری سے خلیفہ کو مشتعل کیا کہ خلیفہ نے دوسرے دن جمعہ کے خطبہ میں ساری جماعت کو ابلیس کی اولاد اور شیطان کی ذریت کہا اور سخت تعزیری کارروائی کی دھمکی دے کر ایک کمیشن مقرر کیا جس کے ارکان مرزا بشیر احمد خلیفہ کا منجھلا بھائی اور ایم۔ ایم احمد کا باپ چوہدری فتح محمد سیال، مولوی شیر علی اور مفتی محمد صادق تھے اور خلیفہ خود صدر تھا۔ کارروائی کے لئے دو زود نویس تھے۔ ایک الفضل کا ایڈیٹر غلام نبی ملانوی اور دوسرا فخر الدین جو کچھ عرصے کے بعد خلیفہ کی سیکورٹی فورس کے ہاتھوں قتل ہوا اور طویل مقدمہ کے بعد اس کا قاتل پھانسی لگا اور اس کی لاش قادیان میں زیارت گاہ بن گئی۔

ہائی کورٹ کے اس وقت کے چیف جسٹس سر ڈگلس نے فیصلہ لکھا اور حکومت کے ایماء پر یہ فیصلہ ہندوستان کے تمام مشہور روزناموں میں شائع ہوا تھا۔

یہ کمیشن پندرہ دن کام کرتا رہا اور سارے شہر پر خوف مسلط تھا۔ اس کارروائی کے دوران مؤلف کے سامنے مصری نے خلیفہ سے کہا کہ یہ ساری شرارت مولوی محمد دین کی ہے۔ چونکہ مؤلف خلیفہ کی مستورات کا اتالیق تھا اور مصری بھی عربی کا اتالیق تھا۔ اس لئے خلیفہ کی شام کی چائے پر مؤلف اور مصری اکٹھے تھے۔ اس لئے مصری کی غمازی کا علم ہوا۔ مصری کی بات سے خلیفہ سیخ پا ہو گیا۔ ازاں بعد مؤلف نے الفضل کے نائب ایڈیٹر رحمت اللہ شاکر کو جب وہ کمیشن کے سامنے پیش ہو کر واپس جا رہا تھا، اتفاقاً کہہ دیا کہ مولوی محمد دین کے خلاف الزام مصری کی

١٣٣

صفحہ ٣٦٣

سازش ہے۔ کیونکہ وہ تو الزامی طور پر مرد کو خود ملے تھے۔ اس پر مؤلف کو خلیفہ نے سمن کر لیا اور آٹھ گھنٹے تک جرح ہوتی رہی۔ لیکن خلیفہ اپنے ارادے میں سرخرو نہ ہو سکا۔ گویا یہ آفت بھی مصری نے برپا کی تھی۔ اس وجہ سے وہ ہر وقت ہر بات سے خلیفہ کی کبریائی ثابت کرنا چاہتا تھا۔

دولہا دلہن کے لئے سڑک

ان خدمات رذیلہ کے بدلے مصری قادیان میں صدر عمومی مقرر ہو گیا۔ اس کا تسلط مسجدوں کے ذریعے ہر محلہ پر تھا۔ اس نے قادیان میں مسلمان محنت کاروں کا ناک میں دم کر دیا۔ مسلمان بہشتیوں کو کنوؤں سے پانی لینے سے روک دیا۔ انہی دنوں خلیفہ کے بڑے بیٹے ناصر احمد (جو آج کل خلیفہ ربوہ ہے) کی شادی اپنی پھوپھی کی بڑی لڑکی منصورہ سے ہونے والی تھی۔ بارات مالیر کوٹلہ میں شیروانی کوٹ جانی تھی۔ وہاں سے تزک واحتشام سے واپس ہونی تھی۔ قادیان کی مرکزی آبادی اور اضافی آبادی میں ایک وسیع نشیبی میدان تھا۔ جس کو ریتی چھلہ کہتے تھے۔ برسات سے یہ ایک وسیع تالاب بن جاتا تھا۔ مصری نے خلیفہ کی خدمت کا منصوبہ بنایا کہ مرکزی آبادی کے آخری سرے پر ایک کیمسٹ بھائی محمود کی دکان تھی۔ اضافی آبادی کے شروع میں خلیفہ کے ماموں ڈاکٹر محمد اسماعیل کا مکان تھا۔ بیچ میں ریتی چھلہ واقع تھا۔ مصری نے قادیانیوں سے چندہ اکٹھا کر کے سڑک تیار کرادی تا کہ دولہا اور دلہن جب مالیر کوٹلہ سے قادیان آئیں تو ان کی بارات موٹروں میں ہی مرکزی آبادی میں واقع گھر سے ہوتے ہوئے دارالحمد پہنچے اور ریتی چھلے کا وجود روک نہ بن سکے۔

چونکہ خلیفہ کے راز ہائے درون خانہ فضا میں پرواز کرتے پھرتے تھے۔ اس لئے بے پرواہ اور در پردہ احتجاج کی کیفیت پیدا ہو رہی تھی۔ اس معرکہ و مقاومت میں مصری کا وجود خلیفہ کے لئے بڑا سازگار ثابت ہوا۔ وہ ہر خفیہ یا مفروضہ باغی پر کمیشن مقرر کرواتا تھا اور سنگین و روح فرسا سزائیں صادر کرواتا تھا۔ وہ آلہ کار بن کر خلیفہ کے قریب سے قریب تر ہوتا گیا۔ لیکن عوام میں اس کے خلاف نفرت طوفان کی صورت اختیار کرتی چلی جاتی تھی۔

اس کی ایک لڑکی بی اے کر کے اڑدلی کا شرف حاصل کر چکی تھی اور خلیفہ کے قصر خلافت میں اس کی بڑی آؤ بھگت ہوتی تھی۔ مؤلف بطور اٹاچی کے جب وہاں جایا کرتا تھا تو اس کو اس خاتون کے نزول کی خبر ملتی تھی۔ وہ دوسری خواتین کی طرح ”فـاقـع لـونها تسر الناظرین“ بن کر ضیافت نظر ہوا کرتی تھی۔ مصری بھی بی اے کر کے دوسرے علماء سے برتر تسلیم ہونے لگا تھا۔ حالانکہ اس کو انگریزی میں نہ تقریر کا ملکہ تھا نہ تحریر کا۔

١٣٤

خلیفہ کے لئے مشرکانہ القاب

چونکہ خلیفہ ادعائے باطل کا مریض تھا میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہ کیا۔ پہلے اس کو کامیاب ترغیب دی۔ حالانکہ یہ عیسائی لقب ہے جو جب باہر لومتہ لائم کا سیلاب امڈا تو اس لقب کو ترک ک نے ساز و سامان کیا۔ اس سلسلہ کو جاری رکھتے ہوئے کوششیں شروع کر دیں۔ اس نے سارے علمی مطا گوسالہ سامری بن کر رہ گیا۔ دوسرے پڑھے لکھے ہوئے تھے۔

تخم کی لازوال تاثیر

اب یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اتنا پڑھ حرکات کیوں کیں۔ اس کی وجہ صاف ہے۔ وہ النسل ہے کہ انسان فیض سے باہر نکل سکتا ہے۔ ا میں سرایت کر جائے اور کوئی قوت قدسی مصلحہ کے ہے۔ اگر یہ نعمت روحانی نصیب نہ ہو تو محض تعلیم مبارکہ ہے کہ احد اپنی جگہ سے بدل سکتا ہے۔ بکی انگریزی میں اس کو اس طرح بیان کیا جاتا ہے۔ Brain but you cannot

(یعنی تعلیم سے ذہنی تغیر تو ہو سکتا ہے اثرات تعلیم سے زائل نہیں ہو سکتے)

ایسے آدمی کے متعلق کہا جاتا ہے کہ لئے بے روح دین ماننے والا بیج تقویٰ سے محروم بھی اس پر اس کے علم کا اثر ہوتا تو وہ خلیفہ سے جب خلیفہ نے ختم نبوت کے پاکیزہ دینی مسلک اور ظل اور بروز کی اصطلاحوں کے مفہوم مسخ کئے

٥

صفحہ ٣٦٣

خلیفہ کے لئے مشرکانہ القاب

چونکہ خلیفہ ادعائے باطل کا مریض تھا۔ مصری نے اس کے لئے مواد خام مہیا کرنے میں کوئی دقیقہ فروگذاشت نہ کیا۔ پہلے اس کو His Holiness کا لقب اختیار کرنے کی کامیاب ترغیب دی۔ حالانکہ یہ عیسائی لقب ہے جو تجسیم خداوندی کے ناپاک عقیدے پر مبنی ہے۔ جب باہر لومۃ لائم کا سیلاب امڈا تو اس لقب کو ترک کر دیا۔ پھر فضل عمر کے خطاب کے لئے مصری نے ساز و سامان کیا۔ اس سلسلہ کو جاری رکھتے ہوئے مصلح موعود کے بانس پر چڑھانے کی ناپاک کوششیں شروع کر دیں۔ اس نے سارے علمی مطالعہ کو اس طرح استعمال کیا کہ خلیفہ قادیان میں گوسالہ سامری بن کر رہ گیا۔ دوسرے پڑھے لکھے ”ٹک ٹک دیدم دم نہ کشیدم“ کے مصداق بنے ہوئے تھے۔

تخم کی لازوال تاثیر

اب یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اتنا پڑھا لکھا ہونے کے باوجود مصری نے یہ ناشائستہ حرکات کیوں کیں۔ اس کی وجہ صاف ہے۔ وہ ہندوانہ ذہنیت سے آزاد نہ ہو سکا۔ انگریزی کی ضرب المثل ہے کہ انسان قمیص سے باہر نکل سکتا ہے۔ اپنی چمڑی سے باہر نہیں آسکتا۔ اسلام رگ و پے میں سرایت کر جائے اور کوئی قوت قدسی مصیطر کے طور پر نگران ہو تو کفر کی سمیات کا استیصال ہو سکتا ہے۔ اگر یہ نعمت روحانی نصیب نہ ہو تو محض تعلیم کفر کی زہر کا تریاق نہیں بن سکتی۔ ایک حدیث مبارکہ ہے کہ احد اپنی جگہ سے بدل سکتا ہے۔ لیکن انسان اپنا مزاج اور سرشت نہیں بدل سکتا۔ انگریزی میں اس کو اس طرح بیان کیا جاتا ہے۔

You can Educate Brain but you cannot Educate Blood.

(یعنی تعلیم سے ذہنی تغیر تو ہو سکتا ہے لیکن نظام دموی یعنی صلب اور بطن سے آئے ہوئے اثرات تعلیم سے زائل نہیں ہو سکتے)

ایسے آدمی کے متعلق کہا جاتا ہے کہ اس نے صدق شاید جانا ہے مانا بالکل نہیں۔ اس لئے بے روح دین ماننے والا بیخ تقویٰ سے محروم رہتا ہے۔ یہی حال شیخ مصری کا تھا۔ اگر رائی بھر بھی اس پر اس کے علم کا اثر ہوتا تو وہ خلیفہ سے اپنے ربط خاطر کو جنون کے درجہ تک نہ لے جاتا۔ جب خلیفہ نے ختم نبوت کے پاکیزہ دینی مسلک کے خلاف ناپاک اور کافرانہ تعبیریں شروع کیں اور ظل اور بروز کی اصطلاحوں کے مفہوم مسخ کئے اور دنیائے اسلام کو کافر قرار دیا تو مصری نے جو

١٣٥

صفحہ ٣٦٤

خلیفہ سے زیادہ عالم تھا اور عربی زبان کا خاصہ درک رکھتا تھا۔ التباس و تلبیس سے خلیفہ کی ضلالت کاری کا پورا پورا ساتھ دیا۔ عقائد کو مکائد بنانے میں وہ کسی سے پیچھے نہ رہا۔

افشائے راز کا سانحہ

اس زمانہ میں جب مصری خلیفہ کی آنکھ کا تارا بنا ہوا تھا۔ خلیفہ نے اس کے خاندان میں نقب لگائی۔ مصری اپنی اولاد کو ہم عمروں سے ملنے نہیں دیتا تھا۔ اس نے اپنے سکول اور ہوسٹل کے صحن میں ایک اکھاڑا بنا رکھا تھا۔ اس کا بڑا بیٹا حافظ بشیر احمد اکھاڑے میں تن سازی کرتا تھا۔ ایسا نوخیز جوان خلیفہ کے عشرت کدہ کا کارساز رکن بن گیا۔ جب بیٹے نے حضور کے ہاں آنا جانا شروع کر دیا اور حضور نے اس کی پاکبازی اور ترکتازی کی تعریفیں کیں تو مصری کی مسرت کی کوئی انتہاء نہ رہی۔ اس نے سمجھا اس کا بیٹا حضور کی نظر کرم سے ولایت کے راستے پر پڑ گیا ہے۔ لیکن حضور کے اس بازار کی آب و ہوا ہی مختلف تھی۔ چنانچہ وہ لڑکا بڑا بانکا اور بے باک ہو کر گھر میں بھی دما دم مست قلندر ہو کر رہنے لگا۔ مصری جو عادی نمازی اور صوفی دعویٰ قسم کا واعظ تھا، بڑا متحیر ہوا۔ جب وہ بیٹے کو نماز کے لئے کہتا تو بیٹے کے جواب میں الحاد کا پورا پورا انداز ہوتا تھا۔ مصری کو خدا سے تعلق کا ہمیشہ بڑا دعویٰ رہا اور اپنی بیوی کی اولیائی پر بھی اس کو پورا بھروسہ تھا۔ لیکن ان دونوں کو خلیفہ کی سیاہ کاریوں کا خاک علم بھی نہ ہوا۔ وہ ابلیس صفت ننگ انسانیت شخص کو قریباً قریباً پیغمبر کے برابر ولی مانتے تھے۔ ادھر بیٹے کا یہ حال تھا کہ وہ خلیفہ کی سیاہ کار مجلس کا کرتا دھرتا رکن تھا۔ اس کے دل سے مذہب کا مادہ نکل چکا تھا۔ ادھر وہ اپنے باپ کی حماقت کے تماشے دیکھتا تھا۔ گویا اس کو باپ سے وہی تعلق رہ گیا جو ایک جنگلی انسان کو والد سے ہوتا ہے۔ وہ دل ہی دل میں باپ اور ماں کی عبادتوں اور عقیدتوں کا مخول اڑاتا رہا۔ اس سے مصری کے گھر میں خطرناک بے سکونی آگئی۔ کیونکہ بیٹا کبھی کبھی بر ملا خلیفہ کی ناپاک زندگی کی طرف اشارہ کر دیتا تھا اور مذہب پر تو تمسخر کرتا ہی تھا۔ مصری نے سمجھا کہ قادیان میں خلیفہ کے مخالف گروپ نے اس کے بیٹے کو اپنی مجرمانہ لپیٹ میں لے لیا ہے۔ اس لئے اس نے با ادب باملاحظہ حضور سے اس کیفیت کی شکایت کی۔ جواب میں حضور نے اس کے بیٹے کی پاکدامنی اور کریکٹر کی بڑی تعریف کی تا کہ مصری کے شکوک کا ازالہ ہو جائے۔ خلیفہ کو پورا علم نہ تھا کہ مصری کا بیٹا گھر میں اس کے متعلق کیا کھیل کھیل رہا ہے۔ اس طرح صیاد اپنے جال میں خود آ گیا۔ اس کی تعریف تازیانہ بن کر مصری کے قلب پر لگی کہ دیکھو! حضور پر نور تو بشیر کی تعریف میں رطب اللسان ہیں اور یہ نالائق بیٹا حضور پر کیچڑ اچھال دیتا ہے۔ چنانچہ تحقیق دقیق و عمیق کرنے کا خیال اس کے دل پر غالب آ گیا۔ ان دنوں بشیر کپور تھلہ میں کالج کی

١٣٦

تعلیم حاصل کر رہا تھا۔ مصری نے حضور سے و اندھی عقیدت نے خلیفہ کو پریشان کر دیا۔ اس پریشانی ہوئی کہ یا باپ کو ترک کرے یا خلیفہ کو دونوں طرف تھی

اتنے میں خلیفہ نے عبدالرحیم درد کرے تا کہ راز افشاء نہ ہو۔ اس غصے میں بشی حضور کے احکام دے۔ کیونکہ بورڈنگ کے کا رقعوں میں خلیفہ کی طرف سے ساری باتیں ک باوجود اس نے سلطان محمود کے سارے رقعے سنبھال لیتا رہا اور جعلی کاغذ کے ٹکڑے پھاڑ رہا۔ اب مصری وہاں پہنچا تو اس نے سختی سے ملامت کرتا رہا۔ بشیر اب باپ سے کیا کہتا۔ دیئے اور آپ لحاف میں منہ لپیٹ کر لیٹ گ طرح مصری پر گرا اور وہ ساری رات روتا رہا۔ اس کی فیملی قادیان سے رخصت ہو کر لاہوری

جوابی حملے کی تیاریاں

اب پانسا پلٹا۔ مصری نے در پر دنوں یا اس سے پہلے خلیفہ نے اپنے ماموں کر کے مصری کو سارے جلسہ کا ناظم اعلیٰ بنا د کارروائی پر مائل ہو گیا۔ اتنے میں بشیر کی ش مائیں کے متعلق افواہ اڑی کہ اس نے مص عدالت میں مقدمہ دائر کر دیا۔ لیکن جماع مصری کو مقدمے میں بڑی دقتیں پیش آئیں کسی زمانے میں اسی کے ہاتھوں مظالم اور ع

رمضان کا مہینہ تھا۔ مصری اب گیا۔ مصری خاص طور پر مؤلف کو ملا اور خلی

صفحہ ٣٦٥

تعلیم حاصل کر رہا تھا۔ مصری نے حضور سے وہاں جا کر تحقیق کرنے کی اجازت طلب کی۔ اس کی اندھی عقیدت نے خلیفہ کو پریشان کر دیا۔ اس نے مصری کو بڑا روکا لیکن وہ نہ رکا۔ ادھر بشیر کو بھی پریشانی ہوئی کہ یا باپ کو ترک کرے یا خلیفہ کو بچائے۔

دونوں طرف تھی آگ برابر لگی ہوئی

اتنے میں خلیفہ نے عبدالرحیم درد کے بھائی سلطان محمود کو کپور تھلہ بھیجا کہ وہ بشیر کو پکا کرے تا کہ راز افشاء نہ ہو۔ اس مخمصے میں بشیر نے یہ تجویز کی کہ سلطان سے کہا کہ وہ اس کو لکھ کر حضور کے احکام دے۔ کیونکہ بورڈنگ کے کمرے میں اس کے اور کلاس فیلو بھی ہیں۔ سلطان محمود رقعوں میں خلیفہ کی طرف سے ساری باتیں لکھتا گیا اور بشیر لکھ کر جواب دیتا رہا۔ لیکن اقرار کے باوجود اس نے سلطان محمود کے سارے رقعے جن میں حضور کی طرف سے اخفاء کی ہدایات تھیں سنبھال لیتا رہا اور جعلی کاغذ کے ٹکڑے پھاڑ پھاڑ کر خلیفہ کے جاسوس سلطان محمود کو جھوٹی تسلی دیتا رہا۔ اب مصری وہاں پہنچا تو اس نے سختی سے بشیر سے باز پرس کی اور اس کو خلیفہ سے باغی ہونے پر ملامت کرتا رہا۔ بشیر اب باپ سے کیا کہتا۔ اس نے سلطان محمود کے سارے رقعے باپ کو دے دیئے اور آپ لحاف میں منہ لپیٹ کر لیٹ گیا۔ خلیفہ کی سیاہ کاریوں کا انکشاف برق خاطف کی طرح مصری پر گرا اور وہ ساری رات روتا رہا۔ یہ سارا ماجرا بشیر نے مؤلف کو خود سنایا۔ جب وہ اور اس کی فیملی قادیان سے رخصت ہو کر لاہوری جماعت کی پناہ میں آ گئی تھی۔

جوابی حملے کی تیاریاں

اب پانسا پلٹا۔ مصری نے در پردہ تحقیق شروع کر دی۔ لیکن خاموش رہا۔ حالانکہ ان دنوں یا اس سے پہلے خلیفہ نے اپنے ماموں میر محمد اسحاق کو جلسہ سالانہ کی نظامت علیا سے معزول کر کے مصری کو سارے جلسہ کا ناظم اعلیٰ بنا دیا تھا۔ لیکن بشیر کا معمہ واشگاف ہونے پر مصری انتقامی کارروائی پر مائل ہو گیا۔ اتنے میں بشیر کی شادی ہوئی اور خلیفہ کے منظور نظر نوجوان عبدالرحمن عرف مائیں کے متعلق افواہ اڑی کہ اس نے مصری کی بہو کے زیور چرا لئے ہیں۔ مصری نے سرکاری عدالت میں مقدمہ دائر کر دیا۔ لیکن جماعت کی طرف سے مبینہ سارق کی تائید شروع ہوگئی اور مصری کو مقدمے میں بڑی دقتیں پیش آئیں۔ وہ ان افراد سے مل کر حالات دریافت کرنے لگا جو کسی زمانے میں اسی کے ہاتھوں مظالم اور خلیفہ کی سزاؤں کے ہدف بنے تھے۔

رمضان کا مہینہ تھا۔ مصری اپنے حصے کا درس قرآن دے رہا تھا کہ مؤلف قادیان گیا۔ مصری خاص طور پر مؤلف کو ملا اور خلیفہ کے حالات دریافت کرنے لگا۔ چونکہ مؤلف کو بہت

١٤٧

صفحہ ٣٦٧

کچھ معلوم تھا۔ مؤلف نے مصری کو بتایا اور بین السطور ملامت بھی کی کہ اب اس کی مظلومیت اور بے بسی اس کی خلیفہ سے فداکاریوں اور ستم رانیوں کا ثمرہ ہے اور ”چاہ کن را چاہ در پیش“ کا معاملہ ہے۔

شغال کی شیرانہ جرأت

جب مصری نے اپنے خیال میں کافی مواد اکٹھا کر لیا تو اس نے خلیفہ کو پہلے ایک بہت طویل خط لکھا جس میں اس کی سیاہ کاریوں کا مفصل اور مؤثر ذکر کیا اور اس بات کا بھی کھلا ذکر کیا کہ کس طرح اس نے اپنے مرید (مصری) کے گھر بھی نقب لگائی اور اس کی اولاد کو اپنی فحش کاری اور ہوسناکی کا شکار بنائے رکھا۔ (یہ خط بہت اہمیت کا حامل ہے۔ اس لئے اس باب کے بعد درج کیا جارہا ہے) اور خط کے ساتھ ہی خلیفہ کی بیعت سے نکلنے کا اعلان کر دیا اور یہ اعلان الفضل میں خلیفہ نے اپنے ڈھنگ پر شائع کرایا۔ لیکن جواب نہ ملنے پر یکے بعد دیگرے دو مختصر خط بطور یاد دہانی مصری نے لکھے۔ یہ مصری کو خاص امتیاز ہے کہ اس نے خروج کا آغاز کیا اور بیعت ترک کرنے کا خود جلی اقدام کیا۔ حالانکہ وہ ربع صدی تک خلیفہ کا مرغ دست آموز بنا رہا۔ ایسے غلام ذہن اور چاپلوس ذہنیت والے مرید کا خود نکلنے کا اعلان کرنا ایک تاریخی سانحہ تھا۔ یہ خلیفہ کے لئے بھی قدرت کی طرف سے تازیانہ عبرت تھا کہ شغال صفت پیرو کے ہاتھوں رسوا و خوار ہوا۔ وہ مصری کی بغاوت سے اتنا پریشان ہوا کہ اس نے اپنی ایک تقریر کے دوران کہا کہ وہ اس وقت آسمان کے نیچے اور زمین کے اوپر سب سے زیادہ یتیم ہے۔ ساری ساری رات ماں اس کو چھت پر لئے پھرتی تھی اور اس کا غم غلط کرتی تھی۔ ضمناً بطور جملہ معترضہ ایک چھوٹا سا واقعہ عرض کر دینا بے جا نہ ہوگا۔ خلیفہ کے ہم زلف شیخ بشیر احمد نے جو ہائیکورٹ پنجاب کے کچھ عرصہ جج رہے تھے۔ مؤلف سے جماعت چھوڑنے کا ذکر کرتے ہوئے بڑے تنفر سے کہا کہ دیکھو ہمارے بانی سلسلہ نے شغالوں کو شیر بنا دیا ہے اور انہوں نے بڑی بڑی قربانیاں دی ہیں۔

مؤلف نے جواباً کہا کہ ”دل کے بہلانے کو غالب یہ خیال اچھا ہے۔“ لیکن یہ بات اظہر من الشمس ہے کہ باپ کے بنائے ہوئے نام نہاد شیروں کے بیٹے خلیفہ نے کس ہنرمندی سے شغال بنا کر رکھ دیا ہے۔ پھر مؤلف نے شیخ بشیر احمد سے ان کے اپنے شغال ہونے اور سیاہ کاریوں کو دیکھ کر کف لسان ہونے کا حال پوچھا تو انگشت بدندان ہو کر رہ گئے۔ کیونکہ شیخ بشیر خود پورے طور پر آگاہ نہ تھے۔

بارگاہِ محمود میں مصری کا استغاثہ

شیخ مصری نے خروج کے بعد ایک بڑا اقدام یہ کیا کہ الزامات کی طویل فہرست بنا کر ١٣٨

بارگاہ خلافت جعلی میں پیش کر کے خلیفہ کے خلاف استغاثہ واقفانِ راز کو مل کر گواہ بنانے کی سعی کی۔ ان میں مؤلف بھی گویا جماعت شدید قسم کے تصادم میں مبتلا تھی۔ مصری کی ا کاریوں کی سزا میں معزول ہونا چاہئے۔ اس کے حلیف کر قادیان کو فحش کے اڈوں کا مرکز قرار دیا۔ ان دنوں مؤلف پڑوس کی کوٹھی میں خان بہادر عبدالعزیز مرحوم (بھگت سـ کرنے والے پولیس افسر) کے خاندان کی ایک قریبی صاحبزادے مسٹر ایس اے محمود صاحب اس وقت بیرسٹر ریٹائر ہوئے تھے اور سروسز ٹربیونل کے صدر بھی رہے۔

پھر مؤلف کو کسی آدمی نے بتایا وہ فخر الدین تھا۔ ہم دونو نے مجھ سے کہا کہ مصری نے اپنے استغاثہ میں مؤلف کو اور یہ اقدام اس گفتگو پر مبنی ہے جو اس کی کچھ عرصہ پیشت سے ہوئی تھی۔ ساتھ ہی اس نے یہ کہا کہ قادیان میں شہرت رکھتے ہیں کہ وہ جرأت سے راستی پر قائم رہتے معلوم۔ لیکن یہ بات ٹھیک تھی کہ مؤلف اور دوسرے معا یہ بات خلیفہ کو بڑی کھٹکتی تھی۔

مؤلف کا اندیشہ شہادت

مؤلف نے فخر الدین سے وعدہ کیا کہ وہ میں متشددانہ کشمکش جاری تھی اور پوسٹر بازی ہو رہی تھی کے بعد مؤلف کے پاس بعض شناسا لوگ آنے لگے تدابیر کرنے لگے۔ مؤلف کو اس بات کا اعتراف Warning کے اس کے دل پر قادیانی فرعون بھی اس کا حامی تھا اور اندیشہ تھا کہ ہو سکتا ہے کہ کسی ہوسکے۔ اس کی پیش بندی کے لئے مؤلف نے ہر شہادت کے لئے دیدہ براہ ہے۔ یہ طریق اس لـ کرتوتوں کے نتیجے میں خود شغال صفت ہو کر رہ ـ

صفحہ ٣٦٧

بارگاہ خلافت عالیہ میں پیش کر کے خلیفہ کے خلاف استغاثہ دائر کر دیا۔ اس سے پہلے اس نے چند واقفان راز کو مل کر گواہ بنانے کی سعی کی۔ ان میں مؤلف بھی تھا۔ قادیان کی فضا میں شدید کھچاؤ تھا۔ گویا جماعت شدید داخلی تصادم میں مبتلا تھی۔ مصری کی طرف سے پوسٹر لگتے تھے کہ خلیفہ سیاہ کاریوں کی سزا میں معزول ہونا چاہئے۔ اس کے حلیف جج فخرالدین نے بڑے بڑے پوسٹر لگا کر قادیان کو غنڈوں کے اڈوں کا مرکز قرار دیا۔ ان دنوں مؤلف ٢٨۔ ایمپریس روڈ پر احمدیہ ہوسٹل کے پڑوس کی کوٹھی میں خان بہادر عبدالعزیز مرحوم (بھگت سنگھ کے مقدمہ میں سرکاری انعام حاصل کرنے والے پولیس افسر) کے خاندان کی ایک قریبی شاخ میں بطور اتالیق مقیم تھا۔ ان کے صاحبزادے مسٹر ایس اے محمود صاحب اس وقت بیرسٹر تھے۔ حال ہی میں وہ جج ہائیکورٹ ہو کر ریٹائر ہوئے تھے اور سروسز ٹربیونل کے صدر بھی رہے۔ ایک رات انہی ایام میں رات کے پچھلے پہر مؤلف کو کسی آدمی نے جگایا وہ فخرالدین تھا۔ ہم دونوں میں اچھی خاصی جان پہچان تھی۔ اس نے مجھ سے کہا کہ مصری نے اپنے استغاثہ میں مؤلف کو گواہ کے طور پر پیش کرنے کا ارادہ کیا ہے اور یہ اقدام اس گفتگو پر مبنی ہے جو اس کی کچھ عرصہ پیشتر رمضان کے دوران قادیان میں مؤلف سے ہوئی تھی۔ ساتھ ہی اس نے یہ کہا کہ قادیان میں مؤلف، مولوی محمد دین اور ملک غلام فرید شہرت رکھتے ہیں کہ وہ جرأت سے راستی پر قائم رہنے والے ہیں۔ یہ تملق تھا یا تدبر، یہ خدا کو معلوم۔ لیکن یہ بات ٹھیک تھی کہ مؤلف اور دوسرے دو اشخاص آپس میں گہرے تعلق رکھتے تھے اور یہ بات خلیفہ کو بڑی کھٹکتی تھی۔

مؤلف کا اندیشہ شہادت

مؤلف نے فخرالدین سے وعدہ کیا کہ وہ ٹھیک ٹھیک شہادت دے گا۔ چونکہ قادیان میں شدید کشمکش جاری تھی اور پوسٹر بازی ہو رہی تھی۔ مؤلف کے گواہ بننے کی بات نکل گئی۔ اس کے بعد مؤلف کے پاس بعض شناسا لوگ آنے لگے اور کئی رنگ اور کئی ڈھنگ سے باز رکھنے کی تدابیر کرنے لگے۔ مؤلف کو اس بات کا اعتراف ہے کہ بوجہ ماضی کی منفی ہوئی Brain Washing کے اس کے دل پر قادیانی فرعون کا خوف ضرور طاری تھا۔ کیونکہ برطانوی راج بھی اس کا حامی تھا اور اندیشہ تھا کہ ہو سکتا ہے کہ کسی خوف یا ناجائز فنکاری سے گواہی تیر بہدف نہ ہو سکے۔ اس کی پیش بندی کے لئے مؤلف نے ہر ملنے والے قادیانی سے یہ کہنا شروع کر دیا کہ وہ شہادت کے لئے آمادہ ہے۔ یہ طریق اس لئے اختیار کیا گیا کہ مؤلف کو علم تھا کہ خلیفہ اپنے کرتوتوں کے نتیجے میں خود شغال صفت ہو کر رہ گیا ہے۔ چنانچہ یہی ہوا۔ خلیفہ نے مؤلف کو نہ

١٣٩

صفحہ ٣٦٨

بلایا۔ ویسے بھی اس کے گھر میں طبقہ اناث کا اتالیق ہونے کی وجہ سے خلیفہ پر اس کی خشن طبیعت کا اثر تھا۔ کچھ اس وجہ سے اور کچھ اپنی جنسی خطاکاریوں کے اضطراب شعور سے خلیفہ کو مؤلف کی شہادت سے خدا نے اسے خوفزدہ کر رکھا تھا۔

صداقت کی تیغ بے دریغ

اس ضمن میں ایک واقعہ قابل ذکر ہے۔ ایک دن احمدیہ ہوسٹل سے گزرتے ہوئے قادیانی جماعت کے اس وقت کے مقامی امیر اور خلیفہ کے ہم زلف شیخ بشیر احمد مل گئے۔ وہ منصوبہ سے ملے یا مفاجاتی طور پر۔ یہ خدا کو معلوم ہے۔ مؤلف کچھ نہیں کہہ سکتا۔ تاہم ملے اور کہنے لگے کہ آپ کی (مؤلف کی) گواہی کا قادیان میں بڑا چرچا ہو رہا ہے۔ کیا ارادہ ہے؟ مؤلف نے جواب دیا کہ کتمان شہادت تو گناہ ہے اور جھوٹی گواہی بہت ہی مکروہ گناہ ہے۔ اس پر شیخ بشیر مؤلف کے خروج کی بے خبری کے عالم میں کہنے لگے کہ اگر سچی گواہی سے جماعت (قادیان) کو نقصان پہنچے تو پھر؟ مؤلف نے کہا کہ اگر یہ جماعت اس حد کو پہنچ گئی ہے کہ سچ سے مجروح اور جھوٹ سے محفوظ رہتی ہے تو مصری وصری کی بات بہت پیچھے رہ جاتی ہے۔ اندریں حالات ان کو خود فیصلہ کرنا چاہئے کہ اس جماعت سے خود مذہب کو کتنا خطرہ لاحق ہے جو جماعت جھوٹ سے پنپتی ہے اور سچ سے مرجھا جاتی ہے۔ اس کو ختم کرنا ہی اسلام کی بڑی خدمت ہے۔ اس صاف گوئی بلکہ تلخ نوائی سے امیر مقامی جو خود راز درون خانہ سے واقف تھے، چپ ہو کر چلے گئے۔ مؤلف کا خیال ہے کہ ان کی رپورٹ قصر خلافت میں پہنچ گئی ہوگی۔ جب خلیفہ نے اپنی عدالت قائم کی تو مصری کے بتائے ہوئے گواہوں کو مؤلف کے سوا سب کو بلا لیا گیا۔ اس کے بعد ساری کارروائی الفضل میں ضمیمہ صورت میں شائع ہوئی۔ مؤلف کا کہیں ذکر نہ تھا۔ اس پر فخر الدین کی طرف سے یا احرار کی طرف سے بڑے بڑے پوسٹر قادیان میں لگے۔ جن کے عنوان میں مؤلف کا نام جلی حروف میں تھا اور مطالبہ کیا گیا تھا کہ مرزا محمد حسین سے گواہی کیوں نہیں لی گئی۔ یہ صداقت کی تیغ بے دریغ کا جان لیوا خوف تھا کہ خلیفہ نے مؤلف کی گواہی نہ لی۔

ایک حیلہ پرویزی

چونکہ مؤلف کو ابتداء میں فحش کاریوں کی خبر خلیفہ کی سوتیلی خوش دامن مراد بیگم کے سگے بھتیجے (ڈاکٹر) احسان علی نے دی تھی اور اس کے بھائی عبدالرحمن (المعروف مائیں) سے مصری کا مقدمہ چل رہا تھا۔ اس لئے جماعت کی طرف سے احسان علی نے چند پوسٹر لگائے جس میں مؤلف کو دھمکی دی گئی تھی۔ مؤلف نے ایک زبانی پیغام سے احسان علی کو اس اقدام کے عواقب سے آگاہ

١٤٠

صفحہ ٣٦٩

کیا تو اس نے چپ سادھ لی۔ اس کے بعد مؤلف کی ضمیر پر ایک اور سمت سے حملہ ہوا۔ مؤلف کے گہرے محبت کرنے والے ایک اہل قلم ملک غلام فرید تھے۔ ان کی طرف سے مؤلف کو خط آیا جس میں مؤلف کو ترغیب دی گئی کہ وہ قادیان میں آئے اور میاں عبداللہ خاں (خلیفہ کے بہنوئی) کے گھر میں قیام کرے۔ چونکہ اس سے پہلے دور میں ملک صاحب کے ہاں ہی قیام ہوا کرتا تھا۔ اس لئے مؤلف کو یہ ناگوار ہوا اور جواب میں احتجاج کیا۔ اس پر ملک صاحب نے اپنی بے بسی اور معذوری کا ذکر کیا اور اصرار کیا کہ مؤلف ضرور آئے اور خلیفہ کے بہنوئی میاں عبداللہ خاں کے پاس ہی ٹھہرے جو اس وقت خلیفہ کی دارالصدر والی کوٹھی دارالحمد میں رہتے تھے۔ یہ حیلہ پرویزی تھا جس کے پیچھے خلیفہ کا خفیہ ہاتھ کارفرما تھا۔

ایک پہلو دار تحریر

مؤلف نے ملک صاحب کو لکھا کہ جو کچھ مصری نے لکھا ہے وہ خلیفہ کے تاریک حالات سے بہت کمتر ہے اور یہ کہ مؤلف تو جماعت کو تیاگ چکا ہے اور بعض مصلحتوں کی بناء پر خاموش ہے۔ کیونکہ خوف غماز ، عدالت کا خطرہ دار کا ڈر نظر انداز نہیں ہوسکتا۔ ساتھ ہی قادیان آنے کے لئے لکھ دیا۔ کچھ عرصہ بعد ملک صاحب نے مؤلف کو بتایا کہ وہ مؤلف کے خط سے بہت مطمئن ہوئے تھے اور گھر والوں سے مؤلف کی سچ کی پاسداری کا ذکر کیا تھا۔ مؤلف قادیان گیا اور خلیفہ کے بہنوئی کے پاس اضطراراً قیام کیا۔ ان کی بیگم صاحبہ نے جو مؤلف کی شاگرد رہ چکی تھیں کہا کہ ان کے بھائی (خلیفہ) مؤلف کے رویے سے خائف ہیں۔ کیونکہ مؤلف ان کے گھر کی خواتین کا کئی سال اتالیق رہ چکا ہے اور اس کے ہولناک معلومات کا توڑ مشکل ہے اور یہ بھی کہا کہ ان کے بھائی کو امید ہے کہ ان (خلیفہ کی بہن) کے کہنے سننے سے معاملہ نظروں سے اوجھل ہو جائے گا۔

مؤلف نے پہلو دار خط بنام خلیفہ اس کی ہمشیرہ کو دیا۔ وہ پڑھ کر خاموش ہوگئیں اور اس خط کو منزل مقصود تک پہنچا دیا۔ اس میں یہ لکھا تھا کہ اگر خلیفہ نے مؤلف کے خلاف در پردہ جارحانہ کارروائی چھوڑی تو مؤلف بھی مصلحتاً خاموش رہے گا۔ لیکن خلیفہ طبعاً اس پر پابندی نہ کر سکا۔ لیکن خدا نے مؤلف کو اس کے گزند سے محفوظ رکھا۔ اس عارضی قیام کے دوران خلیفہ کے ایک سالے صاحب ولی اللہ شاہ ملے اور کہنے لگے جاؤ فوراً معافی مانگ لو۔ مؤلف نے کہا: ”کیوں! ڈاکہ تو نہیں مارا، چوری تو نہیں کی ہے۔“

اس پر طعنے کے طور پر خلیفہ کا سالا کہنے لگا: ”تم گندے لطیفے بڑے سناتے ہو۔“

١٤١

صفحہ ٣٧٠

مؤلف نے جواب دیا میں گندے فعل تو نہیں کرتا۔ میرے لطیفوں کا معاملہ تو آپ کی ایجاد ہے۔ مجھے آپ لوگوں کے اور آپ کے مرشد کے گندے افعال واعمال کا حق الیقینی علم ہے۔ اس صاف گوئی سے ان کے منہ پر قفل پڑ گئی۔

خلیفہ کا خط بنام مولانا سالک (مرحوم)

آگے فخر الدین ایک اشتعال انگیز خطبے کے چند گھنٹے بعد قتل ہو گیا۔ خلیفہ نے ایک طویل خط میں مولانا سالک مرحوم کو اپنے خطبے کا حال لکھا اور بڑے فخر ومباہات سے سامعین کا اس کے خطبے کے بعد پچھاڑیں کھا کھا کر گرنے کا منظر بیان کیا۔ مؤلف کو مولانا مرحوم سے گہرا قلمی تعلق تھا۔ انہوں نے سارا خط مؤلف کو دفتر انقلاب میں سنایا اور ساتھ ہی بتایا کہ انہوں نے خلیفہ سے قادیان کی کیفیت دریافت کی تھی اور یہ مشورہ دیا تھا کہ ان کو فخر الدین سے زیادہ مصری سے خائف ہونا چاہئے۔ کیونکہ جو مصری نے معزولی کا مسئلہ چلایا ہے یہ دور تک مستقبل میں پھیل جائے گا۔

مذموم را محمود ساخت

جب تک مصری لاہور نہیں آیا تھا۔ اس کا گھر خلیفہ کی طرف سے یورشوں کا نشانہ بنا رہا۔ اس کو کئی اطراف سے اور کئی ایک ہتھ چھٹ جوانوں سے خونیں حملے کا خطرہ تھا۔ ایک قتل کے بعد خون منہ لگ گیا تھا۔ مؤلف کو سرحد کے مرحوم وزیر اعظم صاحبزادہ عبدالقیوم مرحوم کے ایک قادیانی عزیز نے بتایا تھا کہ اسے اور اس کے دوسرے ساتھیوں کو حکم تھا کہ مصری کی لڑکیوں کو اٹھایا جائے۔ اس کے گھر کا دودھ بند کر دیا گیا تھا۔ قادیان کے ایک مشہور دودھ فروش محمد یوسف خان نے مؤلف کو بالمشافہ یہ حال بتایا ہے۔ جب سر سے پانی گزر گیا تو مصری دود چراغ محفل بن کر قادیان سے نکل آیا اور لاہوری جماعت کے سائے میں پناہ گزین ہوا۔ اس کے بعد اس نے اس قدرے منظم جماعت کو اپنے جوڑ توڑ کی جولان گاہ بنالیا۔ وہ پچیس سال خلیفہ قادیان کی مدح اور مولوی محمد علی کی قدح کرتا رہا۔ چونکہ پرستاری عادت مستمرہ تھی۔ اس لئے لاہور آنے کے بعد مرزا محمود کی دشنام آمیز قدح اور مولوی محمد علی کی مبالغہ آمیز مدح کرنے لگا۔ اس کی جبیں کسی نہ کسی آستان کی محتاج تھی۔ اب پچیس سالہ مقہور ذات پر گلہائے عقیدت نچھاور ہونے لگے۔ خوشامد کے تیر نشانے پر بیٹھے اور مولوی محمد علی نے اس کو جماعت کی انتظامیہ کا دوامی رکن بنا دیا۔ وہ محمود را مذموم ساخت اور مذموم را محمود ساخت کے قدیم مشغلے میں مصروف ہو گیا۔ چونکہ وفاداری بشرط استواری اس کی فطرت کے منافی تھی۔ اس لئے جب مولوی محمد علی بیماری کے ہاتھوں معذور ہوا تو مصری نے اس ١٤٤

صفحہ ٣٧١

کے مخالفین کے ساتھ گٹھ جوڑ کر لیا اور مولوی محمد علی جس پر مصری اپنے مرشد کی ساری (پیش گوئیاں) لگاتا رہا تھا وہ اب اس کی سازش کا شکار ہو گیا۔ گویا: ”ناوک نے تیرے صید نہ چھوڑا زمانے میں۔“ کا مضمون بن گیا اور مولوی محمد علی نے وصیت کی کہ مصری کو اس کا جنازہ نہ پڑھنے دیا جائے۔ جب وہ جنازے کے ساتھ جا رہا تھا تو مولوی محمد علی کے بھتیجے چوہدری فضل حق نے اس کو لات مار کر گرا دیا۔

نادانوں کی نادانی نہیں جاتی

لاہوری جماعت کے متعلق مصری کے کارہائے نمایاں سے اس صدا بصحرا جماعت کے متعلق اس باب میں اتنا لکھنا ہی کافی ہے کہ یہ جماعت یقیناً غیر منظم ہے۔ یہ جمود ہے اور خمود ہے۔ اس کے دعاوی تو بڑے ہیں۔ لیکن ساٹھ سال میں ایک گلی کو رام نہیں کر سکے۔ وہ بدستور رام گلی ہے۔ اب اس گلی سے بھی نکل رہے ہیں۔ ان کے جمعے، ان کی عیدیں اور ان کے جلسے ان کی جماعت کی قسمی خلفشار کے غماز ہیں۔ اگر حالات کا تیر ہدف پر نہ بیٹھے تو ان کا حال یہ ہے۔ آپ اٹھا لاتے ہیں گر تیر خطا ہوتا ہے۔

مولوی محمد علی کی پالیسی نے علمی نسل کشی کی۔

یعنی اپنے سوا کسی کو علمی سطح پر ابھرنے نہ دیا۔ جو چند پہلے سے عالم تھے ان سے اپنی تالیفات کا کام اس انداز سے لیا کہ وہ حسرت اور لاعلاج مرض کی حالت میں دنیا سے رخصت ہو گئے۔ جب مصری کا نزول ہوا تو وہ خطرہ بن سکتا تھا۔ کیونکہ وہ یقیناً مولوی محمد علی سے زیادہ عربی کا عالم تھا اور اس کا قادیانی لٹریچر کا مطالعہ بھی وسیع تھا۔ چونکہ وہ اپنی بات کو مختصر موزوں الفاظ میں سمو سکنے کے ملکہ سے یکسر عاری تھا اور مولوی محمد علی اس کا بہت ملکہ رکھتا تھا۔ اس لئے مصری کو ابتداء میں ہی محفوظ سمجھ لیا گیا اور دوامی رکنیت کا انعام عطا کر کے اسے کالانعام بنا کر رکھ دیا۔ لیکن مصری اپنی بات کر کے رہا۔ مولوی محمد علی کے مخالفین کا سرغنہ بن کر مولوی کی تالیفات کو اس کے خاندان کے تصرف میں دینے میں مؤثر روک بنا دیا اور چھوٹی سی تنظیم بھی کھڑی کر دی جس سے مجبور ہو کر مولوی محمد علی نے مرض الموت کی حالت میں فیملی ٹرسٹ بنانے کی تجویز واپس لے لی۔ جب مصری اس جماعت میں شامل ہوا تو اس جماعت نے نہ آؤ دیکھا نہ تاؤ ، اس کا خیر مقدم کیا۔ یہ بغض معاویہ کے طور پر کیا مصری کے راستے میں اس کا اپنا ماضی حائل تھا۔

اس نے یہ ترکیب نکالی کہ اس نے قادیانی کتب کا دوبارہ بالاستیعاب مطالعہ کیا اور اس مطالعہ سے اس پر اس کے قول کے مطابق یہ بات روشن ہوئی کہ وہ چالیس سال پہلے کے مطالعہ

١٣٣

صفحہ ٣٧٢

سے تائب ہو کر لاہوری جماعت کا ہم نوا ہو گیا۔ یہ محض ملائی عیاری تھی۔ لاہوری جماعت کے ایک امیر کبیر رکن شیخ محمد فاروق نے جب مصری سے یہ پوچھا کہ قادیان میں قادیانی لٹریچر کے گہرے مطالعہ سے تو اس پر مرشد مرزا کی نبوت ثابت ہوئی۔ لیکن رام گلی میں آ کر مطالعہ کرنے سے پہلا مطالعہ باطل ہو کر رہ گیا۔ یہ کیا معمہ ہے تو مصری نے جواباً کہا کہ یہ طویل بحث کا موضوع ہے۔ لیکن لاہوری جماعت ”غشاوۃ بصر اور وقر اذان“ کی مریض تھی اور وہ اپنی دیرینہ نادانی سے حالات کا صحیح جائزہ لینے سے عاجز تھی۔ وہ یہ نہ سمجھ سکی کہ مصری نے محمودی مظالم سے نجات اور عافیت حاصل کرنے کے لئے یہ قلابازی لگائی ہے۔ اگر محمود جیسا جابر، قاہر، ہمہ گیر آمر مصری کو سنبھال نہ سکا تو لاہوری جماعت جن کے بطون وقلوب پر اسلام سے زیادہ رام گلی کی چھاپ لگی ہوئی تھی، مصری کو کیسے سنبھال سکتی تھی۔

وصیت اور وصیت کرنے والے کا جنازہ

مولوی محمد علی نے جو وصیت کی اس کو پیش افتادہ چیز سمجھ کر ردی کی ٹوکری میں ڈال دیا گیا۔ تمام وہ زور دار مخالفین بحق مصری کے جماعت پر مسلط رہے۔ امیر بھی وہی بنا جس سے مولوی محمد علی اپنے اعلانات کے مطابق ساری عمر نالاں رہے اور اس کی بیگم نے اپنی مظلومیت کی روئیداد شائع کی، وہ بھی صدائے برخخواست ہو کر رہ گئی۔ اب میدان میں مصری سے زیادہ عالم کوئی نہ تھا۔ اس کے سارے عقائد محمودیت کا گہرا رنگ لئے ہوئے تھے۔ وہ تکفیر اہل قبلہ کا قائل تھا اور اس اثم کبیر کا مبلغ بھی تھا۔ وہ مسلمانوں کے جنازے کے خلاف فتوے دیتا تھا۔ وہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بن باپ پیدا ہونے کا قائل تھا۔ حالانکہ مولوی محمد علی نے اس کے خلاف اپنی تفسیر میں بہت کچھ لکھا تھا۔ محمودی جماعت رفع الی السماء کی قائل نہ تھی۔ لیکن حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بن باپ ہونے کی قائل تھی۔ لیکن یک نہ شد دو شد کے طور پر لاہوریے باپ کے ہونے کے بھی قائل تھے۔ سر آغا خان مرحوم کی وفات کے بعد جب جماعت کے ایک حصہ نے نماز جنازہ پڑھا تو کچھ لوگ مصری کے ساتھ مل کر جنازے سے الگ ہو گئے۔ یہ وہ اعمال تھے جن کی پاداش میں مصری کی اولاد ساری کی ساری دین سے عملاً باغی ہو چکی تھی۔ اس کے دو بیٹے مؤلف کے ایک قسم کے شاگرد تھے۔ وہ کہا کرتے تھے کہ وہ مسجد سے پیٹھ پھیر کر گزرنا اپنا مسلک سمجھتے ہیں۔ جماعت کے شعبہ نشر واشاعت کے ایک انچارج نے جو (اب وہ سبکدوش ہو چکے ہیں اور لندن میں مقیم ہیں) کئی دفعہ مؤلف کو بتایا کہ مصری کو مولوی محمد علی کی تفسیر پر شدید اعتراضات ہیں۔ وہ اس کو سقیم تفسیر تصور کرتا ہے۔ چونکہ جماعت گروہی تصادم میں محصور تھی۔ مصری ”مولوی ادھر علی ادھر“ بنا ہوا تھا۔ جب

١٤٤

صفحہ ٣٧٣

ایک حصہ پھٹ کر نکل گیا اور مال روڈ کی ایک دکان پر میاں محمد کے ساتھ مل گیا تو مصری وہاں بھی کبھی کبھی امامت کیا کرتا تھا اور مرکز کے وابستگان سے کہتا تھا کہ وہ اس لئے وہاں جاتا تھا کہ کہیں وہ بہت دور نہ نکل جائیں۔ پھر جب پھٹا ہوا حصہ واپس لوٹا تو مصری پھر پردھان بنا رہا۔ کیونکہ جماعت جمود و خمود بن چکی تھی۔ کارخانہ داروں کے داؤ اور تھے اور مصری کے داؤ اور۔ وہ استحصال کرتے تھے اور مصری بھی سلب ونہب میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہ کرتا تھا۔“

”مولوی ادھر علی ادھر“ کے بیٹے کا عقبی حملہ

مصری نے اپنے بیٹے کو دوکنگ مسجد کا پہلے کارکن پھر امام بنا کر بھجوا دیا۔ حالانکہ ایک ریٹائرڈ ڈی آئی جی قسم کے ایک رکن نے کہا کہ اس مجذوب الحال جوان کا ماضی بہت داغدار ہے۔ لیکن جماعت کے اس شعبے کا انچارج ایک کرنل مذہبی روح سے بیگانہ تھا۔ اس نے کسی کی نہ سنی اور بشیر کو دوکنگ بھجوا دیا۔ حالانکہ اس سے پہلے یہ محمود کا صید زبوں اب لاہوریوں کا مبلغ بن کر مشرقی افریقہ (شاید یوگنڈا) کے کسی ملک میں گیا۔ کئی ہزار روپے برائے تبلیغ لئے۔ جب اس سے حساب طلب کیا گیا تو اس نے جواباً یہ کہا کہ اس نے تبلیغی لٹریچر شائع کیا ہے اور وہاں سے سواحلی زبان کی انٹ سنٹ کتابیں بھیج دیں۔ کیونکہ اس کو لاہوری جماعت کی حماقت کا پورا علم تھا۔ لیکن ہوا یہ کہ یہاں کسی کے مشورے پر ان کتب کو کسی سواحلی زبان کے جاننے والے سے پڑھوایا گیا تو بلی تھیلے سے باہر آ گئی۔ حافظ بشیر نے اقرار جرم کے بعد بھی وہ خطیر رقم شاید واپس کی ہو۔ اس سانحہ خبیثہ کے باوجود اس ”مولوی ادھر علی ادھر“ نے اپنے بیٹے کو دوکنگ مسجد میں پہلے نائب امام اور پھر پورا امام بنا کر بھجوا دیا۔ اس نے اس منصوبے سے پورا پورا فائدہ اٹھایا۔ جب لندن میں فتنہ انکار ختم نبوت کے خلاف اشتعال پیدا ہوا اور اس غاصب امام سے معاملہ نہ سنبھالا گیا اور مولوی لال حسین اختر صاحب سے شکست کھا کر دوکنگ مرکز میں اس کی پر تکلف دعوت کر کے دوکنگ مسجد کے سارے کاروبار کو مولوی لال حسین اختر صاحب کے حوالے کر دیا۔ یہ خبر پہلے پہل پاکستان میں فیصل آباد کے ہفتہ وار میگزین لولاک میں نکلی۔ پھر جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی۔ لاہوریوں میں خفیف سا اضطراب نمایاں ہوا۔ لیکن وہ کتمی خصوصیات میں اسیر تھے۔ وہ چپ ہی رہے۔ بامر مجبوری ”مولوی ادھر علی ادھر“ کے بیٹے کو فارغ کیا گیا۔ لیکن وہ باپ کے توسط سے نو سو پونڈ کی رقم لے کر گیا۔ گویا یہ رقم اس کے فریب عظیم کا معاوضہ تھا۔

جناب بیگم بھوپال مرحومہ کی پیشکش کی توہین

اس واقعہ سے ارباب ربوہ کو پروپیگنڈا کا خوب خوب موقع ملا۔ چونکہ دوکنگ مسجد

١٤٥

صفحہ ٣٧٤

جناب بیگم بھوپال مرحومہ نے خواجہ کمال الدین کو خالص اسلام کی تبلیغ کے لئے تفویض کی تھی۔ بادی النظر میں لاہوریے مرزا محمود سے سبقت لے گئے تھے۔ کیونکہ منکرین ختم نبوت کا مرکز چنی میں بہت بعد میں بنا تھا۔ پہلے پہل ٹرسٹ کے زیر سایہ دوکنگ مسجد کا معاملہ صراط مستقیم پر چلانے کی سعی جاری رہی۔ لیکن مغائرت اسلام کا غبار اس پر چھا گیا۔ یہی وجہ ہے کہ مصری جیسے مکر کے بیٹے کو اس کی نگرانی مل گئی۔ مرزا محمود لاہوریوں کی نام نہاد سبقت سے ملول رہتا تھا۔ جب اس کے تربیت گزیدہ مصری کے بیٹے نے خوب خوب استیصال کے بعد مسجد کو اپنی ملعون نگرانی سے پاک کر دیا اور مسجد پھر اہل اسلام کے پاس آگئی۔

"لاہوریوں کی اس سبقت کے خاتمہ کو مرزا محمود نے اپنی کامیابی سمجھ لیا۔ بلکہ اس کے پرچارکوں نے یہ پروپیگنڈا بڑے زور سے کیا کہ مصری نے مرزا محمود کی ایمازی سے نکل کر انجام کار کام وہ ہی کیا جو مرزا محمود کے مفاد کے فروغ کا موجب بنا۔"

شیخ مصری کی بوالعجبی

مصری کو جب بھی جمعہ کا خطبہ دینے کا موقع ملتا تو وہ اپنے مرشد مرزا کی اولاد کے متعلق پیشینگوئیوں کا ذکر کیا کرتا تھا۔ اس طرح وہ اپنی ماضی کی محمود پرستیوں کی یاد تازہ کرتا رہا۔ وہ اپنے مرشد کی ایک عزیزہ کے اسراف و تبذیر کا اس طرح ذکر کرتا اور اس کے لباس فاخرہ اور زیورات کو اس انداز سے بیان کرتا گویا یہ خدا کی طرف سے انعام تھے۔ یہ کالانعام عالم خدا کی نعمت اور خدا کی لعنت میں تمیز کے ملکہ سے عاری ہو چکا تھا۔ لاہوریے اس کی بوالعجبی کی تشخیص نہ کر سکے۔ حالانکہ اس کے اعمال واقوال کی رسی اس کے گلے میں طوق عقوبت بن کر پڑی ہوئی تھی۔

اب اس باب کے بعد اس کا وہ خط پیش کیا جاتا ہے جس سے ثابت ہوگا کہ وہ کس طرح مکافات عمل کا شکار ہو کر اپنے جلیسوں کے لئے درس عبرت بن کر قید حیات و بند غم میں گھر کر زندگی بسر کر رہا ہے۔

مصری نے اکیلے جنگ کیوں لڑی

اس باب کے ختم پر یہ لکھنا بے ربط نہ ہوگا کہ اتنا بزدل ہو کر مصری کو خلیفہ جیسے جابر اور قاہر کے مقابلے کی جرات کیسے ہوئی۔ اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ اخراج اور مقابلہ ناگزیر ہو چکا تھا۔ اس نے صلح کی پیشکش کی تھی۔ خلیفہ خائف ہو کر اس کو نابود کرنے پر تل گیا تھا۔ ابتدائاً اس کو نبرد آزمائی کی جرات اس واسطے ہوئی کہ خلیفہ کا سگا ماموں میر محمد اسحاق مصری کا شاید حلیف بن گیا تھا۔ ماموں اور بھانجا دونوں جنسی فضا میں ہم پرواز تھے۔ بعد اس نا گفتہ بہ جرم نے ٹکراؤ کی

١٣٦

صفحہ ٣٧٥

صورت پیدا کر دی۔ میر محمد اسحاق خلیفہ کے پیچھے نماز نہیں پڑھتا تھا۔ خلیفہ نے اس کا قادیان میں مقبول عام درس بند کر دیا تھا اور الفضل میں نام کے اخفاء کے ساتھ ماموں کو بے نقاب کیا اور ماموں کو احساس دلایا کہ وہ اب ماموں نہیں۔ لیکن ایک وقت جا کر اپنی بہن یعنی خلیفہ کی ماں کے کہنے پر پیچھے ہٹ گیا اور مصری کو اپنے اشتعال خو ساتھی فخر الدین کے ساتھ مل کر جنگ لڑنی پڑی۔ جب وہ قتل ہو گیا تو مصری اکیلا رہ گیا۔ اس کے لئے مفر نہ تھا اس واسطے اس کو قادیان سے فرار میں قرار ملا۔ لیکن دم تحریر تک اس کے خوف زدگی کی یہ حالت ہے کہ اگر گھر میں کسی ملاقاتی سے ملتا ہے تو تمام دروازے اندر سے مقفل کر لیتا ہے۔

یہ ہیں وہ لوگ جو ختم نبوت کے انکار سے عملاً اور عقلاً اپاہج ہو کر رہ گئے۔ گویا خدائی تعزیر اس زندگی میں شروع ہو گئی ہے۔ جنسی جفا کاری نے خلیفہ کو بھی ایک متعفن لاش بنا کر چھوڑا۔ اس کے اہل خانہ اس سے گریز کرتے تھے۔

مصری کا خط بنام مرزا محمود ...... افشائے راز کا شاہکار

مدت سے میں چاہتا تھا کہ آپ سے دوٹوک بات کروں۔ مگر جن باتوں کا درمیان میں ذکر آنا لازمی تھا وہ جیسا کہ آپ اچھی طرح جانتے ہیں ایسی تھیں کہ انکے ذکر سے آپ کو سخت شرمندگی لاحق ہونی لازمی تھی اور جن کے نتیجے میں آپ میرے سامنے منہ دکھانے کے قابل نہ رہ سکتے تھے اور چونکہ اکثر ہمیں آپس میں ملنے کی ضرورت پیش آتی تھی۔ تہذیب اس بات کو گوارا نہیں کر سکتی تھی کہ آپ ہمیشہ کے لئے میرے سامنے شرمندگی کی حالت میں آئیں۔ اس لئے میں اس وقت تک آپ کے ساتھ فیصلہ کن بات سے رکا رہا ہوں۔ لیکن اب حالات نے مجبور کر دیا ہے کہ میں آپ کے سامنے آپ کی اصل Situation رکھ دوں اور آپ کو بتاؤں کہ جس طرف آپ جا رہے ہیں وہ آپ کے لئے کیسی پر خطر بات ہے۔ یہ عجیب بات ہے کہ میں نے تو مظلوم ہو کر بھی (جس کو شریعت نے بھی ظالم کے ظلم کے علی الاعلان اظہار کی اجازت دی ہے) اس بات میں شرم محسوس کرتا رہا کہ آپ کے سامنے بالمشافہ یا تحریر کے ذریعے آپ کی ان خاص راز کی باتوں کا ذکر لاؤں لیکن آپ جو ظالم تھے اور ایسے افعال شنیعہ کے مرتکب تھے جن کے سننے سے بھی ایک معمولی شریف آدمی کی بھی روح کانپتی ہے۔ اس آدمی کو جس کا قصور اور جرم صرف اسی قدر تھا کہ بدقسمتی سے اس کو آپ کے افعال شنیعہ کا علم ہو گیا اور آپ کو یہ علم ہو گیا کہ اسے علم ہو گیا ہے۔ دکھ دینے اور قسم قسم کے مصائب کا اسے نشانہ بنانے اور اس کو جماعت کی نظر میں گرانے کے لئے

١٤٧

صفحہ ٣٧٦

طرح طرح بہتان اس پر باندھنے اور ان بہتانوں کو ہاتھ میں لے کر اس کے خلاف جھوٹا پروپیگنڈا کرنے کی لگا تار انتھک کوشش کرنے میں ذرا شرم محسوس نہیں کی۔

انکشاف روکنے کے لئے محمود کی ذلیل کوشش

یہ سب کچھ اس لئے کیا گیا کہ آپ کا مجرم ضمیر ہر وقت آپ کو اس بے شرر اور بے ضرر انسان کے متعلق اندر سے یہی آواز دیتا رہا کہ اگر اس شخص نے میری ان کارروائیوں کا جو میں اندر خانے کر رہا ہوں، جماعت کو علم دے دیا تو میرا سارا کاروبار بگڑ جائے گا اور میں شہرت سے گر کر قعر مذلت میں جا پڑوں گا۔ کیونکہ آپ اچھی طرح جانتے تھے کہ اس شخص کو قادیانی جماعت میں عزت حاصل ہے۔ مستریوں کے متعلق تو اس قسم کے عذر گھڑ لئے گئے تھے کہ ان کے خلاف مقدمہ کیا گیا تھا یا ان کی لڑکی پر سوت لانے کا مشورہ دیا تھا۔ مگر یہاں اس قسم کا کوئی بھی عذر نہیں چل سکتا۔ اس کی بات کو قادیانی جماعت مستریوں کی طرح رد نہیں کرے گی۔ بلکہ اس پر اسے کان دھرنا پڑے گا اور وہ ضرور دھرے گی۔ اس لئے آپ نے اسی میں اپنی خیر سمجھی کہ آہستہ آہستہ اندر ہی اندر اس شخص کو جھوٹے پراپیگنڈے کے ذریعہ جماعت کی نظر سے گرا دیا جائے اور اس کو اس مقام پر لے آیا جائے کہ اگر یہ میرے گندے راز کو فاش کرے تو جماعت توجہ نہ کرے اور اس کی بات کو بھی اس طرف منسوب کرنے لگ پڑے کہ اس شخص کو بھی کچھ ذاتی اغراض اور خواہشات تھیں جن کو چونکہ پورا نہیں کیا گیا۔ اس لئے یہ بھی ایسا کہنے لگ پڑے ہیں اور ادھر ادھر سے آپ شور مچانا شروع کر دیں کہ دیکھا میں نہیں کہتا تھا کہ یہ اندر سے مستریوں یا پیغامیوں یا احراریوں سے ملے ہوئے ہیں اور ایسے لوگوں کا منہ بند کرنے کے لئے جن کو آپ کے ان گندے رازوں کا علم ہو جاتا ہے آپ کے پاس زیادہ تر یہی ایک حربہ ہے۔ یہ آپ مت خیال کریں کہ جو کچھ آپ میرے خلاف کر رہے ہیں، اس کا مجھے علم نہیں ہوتا۔ مجھے آپ کی ہر کارروائی کا علم ہوتا رہا ہے۔ اگر میں بھی آپ کے اشتعال انگیز طریق سے متاثر ہو کر جلد بازی سے کام لیتا اور ابتداء ہی میں اپنا مبنی برحقیقت بیان شائع کر دیتا اور جو تقدس کا سراسر جھوٹا پردہ اپنے اوپر ڈالا ہوا ہے اس کو اٹھا کر آپ کی اصلی شکل دنیا کے سامنے ظاہر کر دیتا تو آج نامعلوم آپ کا کیا حشر ہوتا۔ یعنی میں نے محض صبر سے کام لیا۔ آپ کے ظلم پر ظلم دیکھے اور اف تک نہیں کی۔ میں نے سمجھا تھا کہ میری خاموشی سے آخر آپ سبق حاصل کریں گے اور سمجھ لیں گے کہ یہ شخص اس راز کو فاش کرنے کا ارادہ نہیں رکھتا اور کچھ عرصہ تک میرے رویہ کو دیکھ کر خود بخود اپنی غلطی محسوس کر کے نادم ہو کر اپنی ان ناجائز اور ظالمانہ کارروائیوں

١٤٨

صفحہ ٣٧٧

اور جھوٹے پراپیگنڈے سے باز آجائیں گے۔ لیکن آپ کا مجرم ضمیر آپ کو کب آرام سے بیٹھنے دے سکتا تھا اور آپ کا اضطراب اور گھبراہٹ سے بھرا ہوا دل اس وقت تک آپ کو چین کی نیند نہیں لینے دے سکتا تھا۔ جب تک آپ اس شخص کو اپنی راہ سے دور نہ کر لیں۔ جس سے آپ کو ذرا سا بھی خطرہ خواہ وہم ہی محسوس ہورہا ہو۔ آپ غالباً اس وقت تک اس غلط فہمی کا شکار ہورہے ہیں۔ کیا اس وقت تک جو میں خاموش رہا ہوں، اپنی ملازمت کے چلے جانے کے ڈر سے رہا ہوں۔ اس غلط فہمی کو جتنی جلدی بھی ہوسکے اپنے دل سے نکال دیں اور آپ کی دلیری بھی زیادہ تر اسی وجہ سے ہے کہ آپ سمجھتے ہیں کہ لوگوں کی روزی آپ کے قبضے میں ہے۔ مگر میں مشرک نہیں ہوں کہ ایک سیکنڈ کے لئے بھی اس بات کا خیال کرنا تو کجا اس کو وہم میں بھی لاسکوں۔ پس یہ آپ کو یاد رہے کہ میں جو اس وقت تک باوجود آپ کی غلط کاریوں کا علم ہو جانے کے اور اپنے خلاف غلط کارروائیوں کو دیکھنے کے خاموش چلا آرہا ہوں۔ اس کی وجہ کسی قسم کے مالی یا جانی نقصان کا ڈر نہ تھا۔

ابلیسی جارحیت کی انتہاء

آپ کو تعلقات کا اتنا بھی پاس نہ ہوا جتنا کہ ایک معمولی قماش کے بدچلن انسان کا ہوتا ہے۔ میں نے سنا ہے کہ بدچلن آدمی بھی اپنے دوستوں کی اولاد پر ہاتھ ڈالنے سے احتراز کرتا ہے۔ لیکن افسوس آپ نے اتنا بھی نہ کیا اور اپنے ان مخلص دوستوں کی اولاد پر ہی ہاتھ صاف کرنا چاہا جو آپ کے لئے اور آپ کے خاندان کے لئے جانیں تک قربان کر دینا بھی معمولی قربانی سمجھتے تھے۔ میرے اخلاص کا تو یہ عالم ہے کہ جس وقت آپ کے ایک مرید (فضل داد) سے اجمالی علم ہوا اور پھر اپنے بیٹے بشیر احمد نے اس کی تفصیلی تصدیق کی تو میرا یہی فیصلہ تھا کہ اپنے بیٹے بشیر احمد کو گھر سے نکال دوں اور ہمیشہ کے لئے اس سے تعلقات منقطع کرلوں۔ مگر میں نے اس سے نرمی اس لئے کی کہ اس کے ذریعہ سے اب میں اس سازش کا پتہ لگانے میں کامیاب ہو جاؤں گا جس کے متعلق میں پہلے یقین کئے بیٹھا تھا کہ آپ کے چال چلن کی باتیں آپ کو بدنام کرنے کے لئے کوئی زیر زمین گروہ اپنا کام کر رہا ہے۔ مجھے اس وقت یہی خیال غالب تھا کہ میرا بیٹا بشیر احمد بدقسمتی سے ان لوگوں کے ہتھے چڑھ گیا ہے جو اس سازش کے بانی مبانی ہیں۔ کیونکہ مجھے یہ علم ہے کہ اس کو آپ کے اور آپ کے خاندان کے ساتھ بڑا اخلاص تھا اور اس اخلاص کی موجودگی میں وہ کبھی بھی جھوٹے الزام آپ پر نہیں لگا سکتا تھا۔ پس ایسی حالت میں میرے نزدیک دو ہی صورتیں ہو سکتی تھیں یا یہ الزامات سچے ہیں یا یہ کہ بشیر احمد بعض ایسے آدمیوں کے ہاتھ چڑھ گیا ہے اور انہوں

١٤٩

صفحہ ٣٧٨

نے اس کو قتل وغیرہ کی دھمکیاں دے کر اس سے یہ کہلوایا ہے۔ مجھے یقین تھا کہ میں بشیر احمد سے اس سازش کا پتہ لگانے میں کامیاب ہو جاؤں گا۔ چنانچہ اس بناء پر اوّل میں نے بشیر احمد کے ساتھ مختلف رنگوں میں انتہائی کوشش کی کہ وہ ان باتوں کے غلط ہونے کا اقرار کرے۔ مگر قطعاً کامیابی نہ ہوئی اور کامیابی ہوتی کس طرح اور کسی سازش کا پتہ لگتا کس طرح جب کہ کسی سازش کا نام و نشان ہی نہ تھا۔ بلکہ برخلاف اس کے اس نے بعض ایسے دلائل پیش کئے جو ایک حد تک قائل کر دینے والے تھے۔ ان میں قطعاً بناوٹ نہ معلوم ہوتی تھی۔

قصہ مصری کے بیٹے کا

دوسری طرف میں حیران تھا کہ وہ سب باتیں ان باتوں سے پوری پوری مطابقت کھاتی ہیں جو آپ کے خلاف بغاوت کرنے والے مصریوں کی بیٹی اور بیٹا کہہ چکے تھے۔ پس جب میں ادھر سے اپنے مقصد میں ناکام رہا تو میں نے اپنی تحقیق کا رخ دوسری طرف موڑا اور میں نے لوگوں میں زیادہ ملنا جلنا شروع کیا اور اس وقت تک میری یہی نیت تھی کہ میں سازش کا سراغ لگاؤں۔ اس گہری سازش کا سراغ تو کیا لگانا تھا۔ الٹا چاروں طرف سے واقعات اور حقائق کا طومار میرے سامنے لا کھڑا کیا جو بشیر احمد کے بیان کے لفظ لفظ کی تصدیق کرنے کے لئے کافی تھا۔ پس اس وقت میں نے بشیر احمد کو معذور سمجھ کر اس کو سزا دہی کا خیال ترک کر دیا۔ معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس بے گناہ بچے کو اتنے بڑے ظلم سے جو میں اس پر آپ کے ساتھ اپنے فرط محبت اور فرط اخلاص کی وجہ سے کرنے لگا تھا۔ یعنی ساری عمر کے لئے اس کو تباہ و برباد کرنے کا جو تہیہ کر لیا تھا اس سے بچانے کے لئے یہ سامان پیدا کر دیئے کہ کئی جگہوں سے اس کے بیان کی تصدیق ہوتی چلی گئی اور ایسی ایسی جگہوں سے ہوئی جن کے متعلق وہم بھی نہیں کیا جاسکتا کہ وہ کوئی شرارت کریں گے یا کسی شریر کی سازش کا شکار ہوں گے یا خود سازش کے بانی ہوں گے۔ آپ تو اچھی طرح سے واقف ہیں کہ اشارہ سے ہی آپ کو فوراً مشارالیہ کا پتہ چل جائے گا اور میں کسی مصلحت سے اپنی تحریر کو تفصیل دلائل سے خالی رکھنا چاہتا ہوں۔ غرضیکہ میرے پاس ان باتوں کے اثبات کے لئے دلائل کا ایک بڑا ذخیرہ جمع ہو گیا ہے کہ اگر ضرورت پڑی تو پبلک میں ظاہر کیا جائے گا۔ مجھے یقین ہو گیا ہے کہ بشیر احمد سچا ہے اور یہ سب افعال جو اس نے بیان کئے ہیں آپ سے سرزد ہوتے رہے ہیں۔ مگر باوجود ان تمام باتوں کا علم ہو جانے کے جو میرے اور میری بیوی کے لئے سخت دکھ کا موجب تھیں اور جنہوں نے ہم دونوں کی صحت پر اتنا گہرا اثر کیا کہ آج تک بھی ہم اپنی صحت

١٥٠

صفحہ ٣٧٩

بحال نہیں کر سکے۔ کافی عرصہ تک ہم دونوں کمرہ میں اکیلے دروازہ بند کر کے روتے رہتے تھے۔ بچے بھی ہماری حالت دیکھ کر سخت پریشان تھے۔ مگر ان کو کوئی علم نہیں کہ معاملہ کیا ہے۔ وہ ہماری آنکھیں سرخ دیکھتے اور سہم جاتے ہیں۔ مگر ادب سے وجہ دریافت نہ کرتے۔ باوجود اس قدر شدید صدمہ کے پھر بھی میں نے اس قدر شرافت سے کام لیا اور اپنے نفس پر اس قدر قابو رکھا کہ کس کے سامنے ان باتوں کا اظہار نہیں کیا۔ یہاں تک کہ جن لوگوں سے مجھے مختلف واقعات کا علم ہوتا رہا۔ ان سے بھی صرف واقعات سنتا رہا اور یہاں تک احتیاط سے کام لیا کہ کسی ایک کو بھی کسی دوسرے کے بتائے ہوئے واقعات کا علم نہیں ہونے دیا۔ اس کا علم صرف اس کے بتائے ہوئے واقعات تک ہی محدود رہنے دیا۔ (یہ خدائی کوڑا تھا جو مصری کی پیٹھ پر برس کر اس کو اپنی جلادیاں یاد دلاتا رہا۔ مؤلف )

بیٹے کی تہدید ...... باپ کی تلقین

ادھر بشیر احمد کو یہ سمجھایا: ”ان الحسنت یذھبن السیات“ کے ماتحت ممکن ہے اللہ تعالیٰ معاف کر دے اور اسے تاکید کی کہ کسی کے سامنے اب ان باتوں کو دہرانا نہیں۔ حتیٰ کہ اگر کوئی پوچھے بھی تو صاف انکار کر دینا۔ بشیر احمد نے جب دیکھا کہ آپ میرے خلاف پراپیگنڈا کر کے مجھے جماعت میں گرانے کی کوشش کر رہے ہیں اور ادھر اس کو بھی گرانے کے درپے ہیں تو اس نے کئی دفعہ مجھ پر زور دیا کہ میں اعلان کر دوں۔ لیکن میں نے اس کو ہمیشہ صبر کی تلقین کی۔ آخر تنگ آ کر اس نے خود اعلان کا فیصلہ کر لیا اور ایک اعلان لکھ کر میری طرف بھیج دیا۔ چنانچہ اسے بجنسہ اس خط کے ساتھ ارسال کر رہا ہوں۔ یہ بھی اللہ تعالیٰ کا شکر ہے کہ اس نے اجازت کے بغیر شائع نہیں کر دیا۔ ورنہ ”تیر از کمان جستہ“ کا معاملہ ہو جاتا۔ لیکن میں اسے ہمیشہ روکتا رہا اور اس اعلان کو بھی روک لیا اور ہمیشہ اسے یہی تلقین کی کہ خواہ کتنا ہی ہم کو بدنام کر لیں اور کتنی ہی کوشش ہمیں جماعت سے گرانے کی کر لیں ہم نے ابتدا نہیں کرنی اور ہماری طرف سے یہی کوشش رہے گی کہ ہم صبر سے برداشت کرتے چلے جائیں۔ حتیٰ کہ وہ وقت آ جائے کہ ہم جوابی طور پر اپنا بیان شائع کرنے پر مجبور سمجھے جائیں تو جب کسی سے مقابلہ آ پڑے تو مقابلہ میں کامیابی حاصل کرنے کے لئے جو نقطہ نگاہ ہوتا ہے۔ اس کے لحاظ سے مدافعت بہت بعید از وقت ہوگی۔ لیکن اللہ تعالیٰ کی خوشنودی اس میں ہے۔ چنانچہ اس وقت تک میں اس پر کار بند رہا ہوں۔

صفحہ ٣٨١

تنگ آمد بجنگ آمد

اور اب جو میں یہ تحریر لکھ رہا ہوں وہ بھی اس لئے کہ آپ پر آخری دفعہ حجت پوری کر دوں اور آپ کو متنبہ کر دوں کہ کہیں آپ مجھے اپنی مدافعت پیش کرنے پر مجبور نہ کر دیں۔ چنانچہ اگر آپ نے اس قسم کا قدم اٹھانے کی غلطی کی تو میں مجبور ہوں گا کہ اصل واقعات کو روشنی میں لاؤں اور جو اخفاء کا پردہ آج تک ان واقعات پر پڑا آ رہا ہے، اسے اٹھا دوں۔ مبادا میں دائمی طور پر بدنامی کے ساتھ یاد کیا جاؤں۔ پس اگر میں آپ کے افعال مذمومہ کے اظہار پر مجبور ہوا تو پھر اس کی ساری ذمہ داری آپ پر ہوگی اور سمجھ لیں کہ ”الفتنة نائمة لعن الله من ایقظها“ کا مصداق کون بنے گا۔ میں نے آپ کے ظلم پر ظلم دیکھے اور صبر سے کام لیا۔ لیکن آپ باز آنے میں ہی نہیں آتے اور اپنے مظالم میں حد سے بڑھتے چلے جاتے ہیں۔ پس اب میرے صبر کا پیمانہ بھی لبریز ہو چکا ہے۔ اس لئے انجام کو آپ اچھی طرح سے سوچ لیں۔ اس کی ذمہ داری آپ پر آئے گی۔ میں تو آپ یا درکھیں اب تنگ آ چکا ہوں اور اگر آپ نے مجبور ہی کیا تو میں نے مقابلہ کے لئے مصمم ارادہ کر لیا ہے اور جب تک میری جان میں جان ہے۔ انشاء اللہ تعالٰی! آپ کا مقابلہ کروں گا اور آپ کے تمام دجل وفریب کو آشکارا کر کے چھوڑوں گا۔

شیخ مصری کا چیلنج اور انکشاف

مجھے اس بات کی پروا نہیں کہ اس مقابلہ میں میری جان جائے یا مجھے مالی نقصان ہو۔ میں خاموش ہوں تو خدا تعالیٰ کے لئے اور اگر اٹھوں گا تو محض خدا تعالیٰ کے لئے۔ میں دیکھ رہا ہوں کہ ایک طرف تو آپ نے اپنی عیاشی کو انتہاء تک پہنچایا ہوا ہے۔ جس لڑکی کو چاہا اپنی عجیب وغریب عیاری سے بلایا اور اس کی عصمت دری کر دی اور پھر ایک طرف سے اس کی طبعی شرم وحیا سے ناجائز فائدہ اٹھا لیا اور دوسری طرف دھمکی دے دی کہ اگر تو نے کسی کو بتایا تو تیری بات کون مانے گا۔ تجھے ہی لوگ پاگل اور منافق کہیں گے۔ میرے متعلق تو کوئی یقین نہ کرے گا اور اگر کسی نے جرأت سے اظہار کر دیا تو مختلف بہانوں سے ان کے خاوندوں یا والدین کو ٹال دیا۔ مگر آپ یہ یاد رکھیں کہ آپ کا یہ طلسم صرف اس لئے ان پر چل جاتا تھا کہ وہ اپنے معاملہ کو انفرادی معاملہ سمجھتے ہیں۔ لیکن جس وقت ان کے سامنے تمام واقعات مجموعی حیثیت سے آئے تو پھر ان کو بھی پتہ لگ جائے گا کہ یہ سب دھوکا ہی تھا جو ہمیں دیا جا رہا تھا۔ لڑکیوں اور لڑکوں کو پھنسانے کے لئے جو جال آپ نے ایجنٹ مردوں اور ایجنٹ عورتوں کے ذریعے بچھایا ہوا ہے اس کا راز جب فاش کیا جائے گا تو لوگوں کو پتہ لگے گا کہ کس طرح ان کے گھروں پر ڈاکہ پڑتا ہے۔ وہ جو آپ کے ساتھ اور ١٥٢

آپ کے خاندان کے ساتھ تعلق پیدا کرنا فخر سمجھتے پڑے گا اور دوسری طرف جن لوگوں کو آپ کی غلط کا جاتے ہیں اور اسے کچلنے میں رحم آپ کے نزدیک تک ساتھ اس پر گرتے ہیں اور آپ کی سزا دہی میں اشتد مستریوں کی عزیزہ ہی کو لے لو۔ کس قدر ظلم اس پر تھا اس کی سچائی تو اب بالکل ثابت ہو چکی ہے۔ لیک سے بدتر زندگی بسر کر رہی ہوگی۔ اس کی صحت بھی ہے۔ اس کو بھی آپ نے اس وجہ سے سزا دی ہے کہ آپ پر یہ خوف غالب ہے کہ یہ مجھے بدنام کرے گا ۔

روٹی کی مار کا خوف

چنانچہ اس وہم کی ہی بناء پر آپ مدرسہ موقع ہاتھ آئے تو اسے جماعت سے نکال دیا جائے مانگ لے۔ پھر ساری عمر آپ کی سیاہ کاریوں کے اطمینان سے اپنی عیاشیوں میں مشغول رہیں۔ جن آدمیوں کو چپ کرا چکے ہیں۔ قاضی اکمال صاحب کیا گیا اس کی تہہ میں بھی یہی مقصد کام کر رہا تھا آنے پر پیش کیا جائے گا اور ان تمام مظالم کی داستان ہیں، وقت آنے پر کھول کھول کر لوگوں کو بتائی ج جرأت ایک تو اس وجہ سے ہو رہی ہے کہ آپ ۔ لوگوں کو یہ بات ذہن نشین کرا دی ہے کہ آپ موعود کی پیش گوئی کا مصداق بتایا ہے۔ کہیں موقع ٹوٹ جائے گا۔ لوگ آپ کے اس طلسم کے نیچ کے غلیظ چال چلن کا صحیح علم نہیں ہوتا اور ان کو پھ کے لئے دیئے گئے ہیں وہ سب غلط ہیں۔

اقتدار کا گھمنڈ

ایک طرف تو آپ کو اس وجہ سے ج

صفحہ ٣٨١

آپ کے خاندان کے ساتھ تعلق پیدا کرنا فخر سمجھتے تھے ان کے گھروں میں سب سے زیادہ ماتم پڑے گا اور دوسری طرف جن لوگوں کو آپ کی غلط کاریوں کا علم ہو جائے اسے کچلنے کے درپے ہو جاتے ہیں اور اسے کچلنے میں رحم آپ کے نزدیک تک نہیں پھٹکتا اور پتھر سے بھی زیادہ سخت دل کے ساتھ اس پر گرتے ہیں اور آپ کی سزا دہی میں انتقامی پہلو ہی ہوتا ہے۔ چنانچہ مثال کے طور پر مستریوں کی عزیزہ ہی کو لے لو۔ کس قدر ظلم اس پر آپ کی طرف سے ہو رہا ہے جو کچھ اس نے کہا تھا اس کی سچائی تو اب بالکل ثابت ہو چکی ہے۔ لیکن وہ بے چاری باوجود سچی ہونے کے قیدیوں سے بدتر زندگی بسر کر رہی ہوگی۔ اس کی صحت بھی تباہ ہو چکی ہوگی۔ ایک اور مثال فخر الدین کی ہے۔ اس کو بھی آپ نے اس وجہ سے سزادی ہے کہ اس کو آپ کی غلط کاریوں کا علم ہو چکا ہے اور آپ پر یہ خوف غالب ہے کہ یہ مجھے بدنام کرے گا۔ حالانکہ یہ آپ کا وہم ہی تھا۔

روئی کی مار کا خوف

چنانچہ اس وہم کی ہی بناء پر آپ مدت سے اس کے پیچھے لگے ہوئے تھے کہ کبھی کوئی موقع ہاتھ آئے تو اسے جماعت سے نکال دیا جائے۔ تاکہ یہ روئی سے تنگ آکر ذلیل ہو کر معافی مانگ لے۔ پھر ساری عمر آپ کی سیاہ کاریوں کے متعلق ایک لفظ بھی منہ سے نہ نکال سکے اور آپ اطمینان سے اپنی عیاشیوں میں مشغول رہیں۔ جیسا کہ اب آپ پہلے اس طریق سے بعض ایسے آدمیوں کو چپ کرا چکے ہیں۔ قاضی اکمال صاحب (نامور صحافی اے،آر شبلی کے والد) پر جو ظلم کیا گیا اس کی تہہ میں بھی یہی مقصد کام کر رہا تھا۔ اس طرح اور بہت سی مثالیں ہیں جن کو وقت آنے پر پیش کیا جائے گا اور ان تمام مظالم کی داستانیں جو بناوٹی تقدس کے پردہ میں آپ کر رہے ہیں، وقت آنے پر کھول کھول کر لوگوں کو بتائی جائیں گی۔ ان تمام مظالم کو ڈھانے میں آپ کو جرأت ایک تو اس وجہ سے ہو رہی ہے کہ آپ نے لمبے عرصے تک مختلف رنگوں میں کوشش کر کے لوگوں کو یہ بات ذہن نشین کرا دی ہے کہ آپ ایک مقدس انسان ہیں۔ کہیں اپنے آپ کو مصلح موعود کی پیش گوئی کا مصداق بتایا ہے۔ کہیں موعود خلیفہ۔ لیکن یاد رکھیں کہ یہ طلسم آپ کا بہت جلد ٹوٹ جائے گا۔ لوگ آپ کے اس طلسم کے نیچے صرف اس وقت تک ہی ہیں جب تک ان کو آپ کے غلیظ چال چلن کا صحیح علم نہیں ہوتا اور ان کو پتہ نہیں لگتا کہ جس قدر دلائل آپ کو مصلح موعود بنانے کے لئے دیئے گئے ہیں وہ سب غلط ہیں۔

اقتدار کا گھمنڈ

ایک طرف تو آپ کو اس وجہ سے جرأت ہے کہ لوگوں کے دلوں میں غلط طور پر آپ کا

١٥٣

صفحہ ٣٨٢

تقدس بتلایا گیا ہے۔ جس کی وجہ سے لوگ آپ کی بات کو خدائی بات سمجھ بیٹھے ہیں۔ دوسری طرف آپ کو اپنی طاقت اور اقتدار کا گھمنڈ ہے جو اول الذکر کی وجہ سے آپ نے حاصل کیا ہوا ہے۔ تیسرے اس وجہ سے آپ نے یہ چال چلی ہوئی ہے کہ لوگوں کو ایک دوسرے سے ملنے نہ دیا جائے اور منافقوں سے بچو! منافقوں سے بچو! کے شور سے لوگوں کو خوفزدہ کیا ہوا ہے اور ہر ایک کو دوسرے پر بدظن کر دیا ہوا ہے۔ اب ہر شخص ڈرتا ہے کہ میرا مخاطب کہیں میری رپورٹ ہی نہ کر دے اور پھر فوراً مجھ پر منافق کا فتویٰ لگ کر جماعت سے اخراج کا اعلان کر دیا جائے گا اور یہ سب کچھ آپ نے اس لئے کیا ہوا ہے کہ آپ کی سیاہ کاریوں کا لوگوں کو علم نہ ہو سکے۔ لیکن یہ آپ کا غلط خیال ہے قادیان میں بھی اور باہر بھی ایک بڑی تعداد ہے جو آپ کی سیاہ کاریوں سے واقف ہے اور روز بروز یہ تعداد بڑھتی جاتی ہے۔ عنقریب یہ مواد پھوٹے گا۔ بہت سے لوگ کسی جرأت کرنے والے کا انتظار کر رہے ہیں اور یہ انسانی فطرت ہے کہ اکثر لوگ خود جرأت نہیں کر سکتے۔ لیکن جرأت کے ساتھ کسی کو اٹھتا دیکھ کر خود اٹھ کھڑے ہوتے ہیں۔ آخری بات جو آپ کو ان تمام مظالم پر جرأت دلا رہی ہے وہ بائیکاٹ کا حربہ ہے۔ آپ نے قادیان کے نظام کو ایسے رنگ میں چلا دیا ہوا ہے کہ تمام کی روزی کو اپنے ہاتھ میں رکھا ہوا ہے اور یہ ایسی چیز ہے جس سے انسان بے بس ہو جاتا ہے۔ بے شک ان باتوں کی وجہ سے جو اقتدار آپ کو حاصل ہو چکا ہے آپ یقین رکھتے ہیں کہ آپ اپنے مد مقابل کا سر ایک آن میں کچل سکتے ہیں اور اب تو آپ فدائیوں کا گروہ بھی بنانے کی کوشش میں لگے ہوئے ہیں اور اس میں شک نہیں کہ میں جو آپ کے مقابلے کے لئے کھڑا ہونا چاہتا ہوں۔ ایک نہایت ہی کمزور، بے بس، بے کس، بے مال، بے یار و مددگار ہوں اور جہاں آپ کو اپنی طاقت پر ناز ہے وہاں مجھے اپنی کمزوری کا اقرار ہے۔ ہاں! میں اتنا ضرور جانتا ہوں کہ حق کی قوت میرے ساتھ ہے اور غلبہ ہمیشہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اسی کو ہوتا ہے جو حق کی تلوار لے کر کھڑا ہوتا ہے۔ ہو سکتا ہے کہ ابتداء میں میری بات کی طرف توجہ نہ کی جائے اور میں اس مقابلہ میں کچلا جاؤں۔ لیکن حق کی تائید کے لئے اور باطل کا سر کچلنے کی غرض سے کھڑے ہونے والے مرد اس قسم کے انجاموں سے کبھی نہیں ڈرتے۔ حضرت ابن زبیر حق کی خاطر باطل کی فوجوں کے مقابل میں اکیلے ہی میدان جنگ میں نکلے اور جان دے دی۔ لیکن باطل کے سامنے سر نہیں جھکایا...... حضرت امام حسین چند آدمیوں کے ساتھ باطل کی فوجوں کے ساتھ صف آراء ہو گئے اور ایک ایک کر کے جان دے دی۔ لیکن باطل کی اطاعت نہیں کی۔ نتیجہ یہ ہوا کہ جس بات کو وہ ثابت کرنا چاہتے تھے، آخر ثابت ہو کر رہی۔

١٥٤

صفحہ ٣٨٣

مصری کی انجام سے بے پرواہی

پس اس مقابلہ میں مجھے اس بات کی قطعاً کوئی پروا نہیں کہ میرا انجام کیا ہوگا اور میری بات کوئی سنے گا یا نہیں۔ میری تقویت اور ہمت بڑھانے کے لئے صرف یہی کافی ہے کہ میں حق پر ہوں اور آپ باطل پر ہیں اور باطل کا سر کچلتے ہوئے اگر میں اور میرے اہل وعیال بھی شہید کر دیئے گئے جس کا اقدام بھی اگر کیا گیا تو سخت نا عاقبت اندیشانہ ہوگا اور خطرناک نتائج پیدا کرے گا۔ ہم کامیاب رہیں گے ناکام نہیں۔ انشاء اللہ تعالیٰ! آپ ہمیں اس مقابلہ پر پیٹھ پھیرتے نہیں دیکھیں گے اور مجھے یقین ہے کہ اللہ تعالیٰ ضرور ہماری تائید کرے گا اور اگر آج نہیں تو آئندہ لوگ حقیقت سے آگاہ ہو کر رہیں گے اور ان پر سچائی ظاہر ہو کر رہے گی۔ ہماری قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی اور آپ کے چال چلن سے واقف ہو کر جماعت خلافت کے حقیقی مفہوم سے آگاہ ہوگی اور آئندہ اپنے انتظام کی بنیاد محکم اصولوں پر رکھے گی اور ان فریب کاریوں سے جن میں آپ نے قوم کو رکھا ہوا ہے ہمیشہ کے لئے محفوظ ہو جائے گی۔ کیونکہ دلائل اور حقائق کا مقابلہ آخر لوگ کب تک کریں گے۔ کس قدر ظلم ہے کہ جس شخص کے متعلق پیچھے جاسوس لگوا دیئے جاتے ہیں اور ان کو مقرر کرنے سے قبل انہیں یقین دلایا جاتا ہے کہ فلاں شخص منافق ہے۔ اس کے نفاق کو روشنی میں لانا ہے۔ اب وہ یہ سمجھ کر کہ خلیفہ نے بتایا ہے کہ فلاں منافق ہے۔ اگر ہم ایسی رپورٹیں نہ دیں جو اس کے نفاق کی تائید کرتی ہوں تو ہم نالائق سمجھے جائیں گے۔ فوراً اس کی ہر نقل و حرکت سے اس کے ہر لفظ و حرف کو اسی رنگ میں ڈھالتے چلے جاتے ہیں اور رپورٹوں پر رپورٹیں بھیجتے چلے جاتے ہیں۔ جن سے ایک فائل تیار ہوتی رہتی ہے اور اس غریب کو علم بھی نہیں ہوتا کہ اس کو پکڑنے کے لئے کس کس قسم کے جال بچھائے جارہے ہیں اور وہ اس میں پھنستا چلا جاتا ہے۔ حتی کہ وہ وقت آجاتا ہے کہ ایک ذرا سے بہانے پر اس کو پکڑ کر سزا دی جاتی ہے اور گذشتہ تمام رپورٹوں کو بھی دلیل بنالیا جاتا ہے۔ جن کی کوئی تحقیق نہیں کی جاتی۔

آپ کو خود چاہئے کہ جلد از جلد اپنی سیاہ کاریوں سے توبہ کریں اور یہ مظالم جو آئے دن آپ سے سرزد ہوتے رہتے ہیں تھوڑے تھوڑے وقفوں کے بعد کوئی نہ کوئی آپ کا راز دان آپ کی ذات پر اتہام لگانے لگ جاتا ہے۔ یاد رکھیں یہ بات ضرور جماعت کی توجہ کو تحقیق کی طرف پھیر دے گی اور پھر آپ کی خیر نہیں۔ اس لئے آپ فوراً ان باتوں سے توبہ کر کے اپنے اوپر رحم کریں۔

١٥٥

صفحہ ٣٨٤

زلزلہ خیز بدکاری

میں آپ کو صاف بتا دینا چاہتا ہوں کہ فخر الدین کو نکالنے میں آپ نے سخت غلطی کی ہے اور جلد بازی سے کام لیا ہے۔ اس کو آپ کے چال چلن کے متعلق بہت سے واقعات معلوم ہیں اور اس نے ان کی اشاعت سے باز نہیں آنا۔ صرف واقعات ہی نہیں بلکہ ان تمام اشخاص کے نام بھی شائع کرے گا جنہوں نے آپ کی بدچلنی کی نہ صرف شہادتیں دی ہوئی ہیں بلکہ کئی واقعات اپنی تفصیل کے ساتھ بیان کئے ہوئے ہیں۔ ایسے لوگوں کی تعداد اتنی زیادہ ہے کہ وہ نہ صرف آپ کو حیران کر دینے والی ہوگی بلکہ دنیا کو بھی حیرت میں ڈال دے گی اور جماعت میں قیامت خیز زلزلہ پیدا کر دے گی۔ پھر ان میں سے ایسے لوگ ہیں جن کو جھٹلانا یا جن کو جماعت سے نکالنا مشکل ہو جائے گا۔ میں نے آپ کو عین وقت پر بتلا دیا ہے۔’ فقد اعذر من انذر‘

گو آپ اپنی بدچلنی کی وجہ سے معزول ہونے کے قابل ہیں۔ مگر جماعت آپ کے ہاتھ میں اپنے نظام کی باگ ڈور دے چکی ہے۔ میں آپ کے پیچھے نماز نہیں پڑھ سکتا۔ کیونکہ مجھے مختلف ذرائع سے معلوم ہو چکا ہے کہ آپ جنبی ہونے کی حالت میں ہی بعض دفعہ نماز پڑھانے آجاتے ہیں۔

میں نے جو کچھ عرض کرنا تھا سچائی اور دیانتداری کے ساتھ سلسلہ کی اور آپ کی بہتری کو مدنظر رکھ کر عرض کر دیا ہے۔ اب معاملہ اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے۔ اس کی جو قضا ہو گی وہ جاری ہو کر رہے گی۔ یہ خط یکم جون ١٩٣٧ء کو لکھا گیا اور ١١ جون ١٩٣٧ء کو بھیجا گیا۔

ماخوذ از کمالات محمودیہ مرتبہ مظہر الدین ملتانی!

(نوٹ: اس خط میں جن باتوں کا اعادہ اور تکرار تھا یا بہت ہی عریاں باتیں تھیں ان کو حذف کر دیا گیا ہے۔ کیونکہ باقی کثیر حصہ اس مراسلہ کے حق کو اظہر من الشمس کرنے کے لئے کافی ہے۔ مؤلف)

محمد یوسف ناز کا حلفیہ بیان

اگرچہ میں نے خلیفہ صاحب ربوہ کا مباہلے کا مطالبہ پورا کر دیا ہے۔ ہو سکتا ہے کہ ان تحریروں میں کسی نقص کا جواز نکال لیں۔ عین ممکن ہے کہ یہ کہیں کہ اس کی زنا کاری کی وضاحت نہیں کی گئی۔ اس لئے مباہلہ نہیں کر سکتا۔ وقت کی بچت کی خاطر میں محمد یوسف ناز اپنا بیان ہدیہ ناظرین کرتا ہوں۔

١٥٦

بسم اللہ ”نحمدہ ونصلی علیٰ رس لا شريك له واشهد ان محمداً عبده میں اقرار کرتا ہوں کہ حضرت مذہب ہے اور اس کے بعد میں مؤکد بعذا ”میں اپنے علم، مشاہدہ اور رو و ناظر جان کر اس پاک ذات کی قسم کھا کر ک سامنے اپنی مخدرات کے ساتھ دیوثی کا م لعنت اور عذاب مجھ پر نازل ہو۔ اس با اٹھانے کو تیار ہوں۔“

ماخوذ از (نوٹ: اس حلفیہ بیان میں

جادو و

سول سرجن کی شہادت

ڈاکٹر میر محمد اسماعیل سول س ہیں: ”بڑا الزام یہ لگایا جاتا ہے کہ خلیفہ میں جانتا ہوں کہ وہ لوگ جو چند دن بھ میں Wreck کہتے ہیں۔ ایسے ا حرکات صحیح طور پر کرتے رہتے ہیں۔ ی پیر تک اس پر نظر ڈالنے سے فوراً معلو ہے۔ اسی لئے کہتے ہیں: الزنا يخ

خلیفہ ربوہ بعینہ ان امراض کام کرتی تھی نہ اعضاء صحیح طور پر کام

صفحہ ٣٨٥

بسم الله الرحمن الرحيم!

"نحمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم . اشہد ان لا الہ الا اللہ وحدہ لاشریک لہ واشہد ان محمداً عبدہ ورسولہ"

میں اقرار کرتا ہوں کہ حضرت محمد ﷺ خدا کے نبی اور خاتم النبیین ہیں اور اسلام سچا مذہب ہے اور اس کے بعد میں مؤکد بعذاب حلف اٹھاتا ہوں۔

"میں اپنے علم، مشاہدہ اور رؤیت عینی اور آنکھوں دیکھی بات کی بناء پر خدا کو حاضر و ناظر جان کر اس پاک ذات کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ مرزا بشیر الدین محمود احمد خلیفہ ربوہ نے خود اپنے سامنے اپنی مخدرات کے ساتھ دیوثی کا منظر سٹیج کروایا۔ اگر میں اس حلف میں جھوٹا ہوں تو خدا کی لعنت اور عذاب مجھ پر نازل ہو۔ اس بات پر مرزا بشیر الدین محمود احمد کے ساتھ بالمقابل حلف اٹھانے کو تیار ہوں۔"

دستخط: محمد یوسف ناز! معرفت عبدالقادر تیرتھ سنگھ جے بلوائی روڈ عقب شالیمار ہوٹل کراچی ماخوذ از: کمالات محمودیہ ص ٣٩، ناشر: بیت القرآن پوسٹ بکس نمبر ١٠٤٨ لاہور (نوٹ: اس حلفیہ بیان میں عریانی کے ازالے کی سعی کی گئی ہے۔ مؤلف)

جادو وہ جو سر چڑھ کر بولے

سول سرجن کی شہادت

ڈاکٹر میر محمد اسماعیل سول سرجن خلیفہ صاحب کے ماموں اور خسر بھی تھے۔ وہ کہتے ہیں: "بڑا الزام یہ لگایا جاتا ہے کہ خلیفہ عیاش ہے۔ اس کے متعلق میں کہتا ہوں میں ڈاکٹر ہوں اور میں جانتا ہوں کہ وہ لوگ جو چند دن بھی عیاشی میں پڑ جائیں وہ ایسے ہو جاتے ہیں جنہیں انگریزی میں Wreck کہتے ہیں۔ ایسے انسان کا نہ دماغ کام کا رہتا ہے نہ عقل درست رہتی ہے۔ نہ حرکات صحیح طور پر کرتے رہتے ہیں۔ غرض سب قوئی اس کے برباد ہو جاتے ہیں اور سر سے لے کر پیر تک اس پر نظر ڈالنے سے فوراً معلوم ہو جاتا ہے کہ وہ عیاشی میں پڑ کر اپنے آپ کو برباد کر چکا ہے۔ اسی لئے کہتے ہیں: "الزنا يخرج البناء" کہ زنا انسان کو بنیاد سے نکال دیتا ہے۔"

(الفضل مورخہ ١٠/ جولائی ١٩٢٧ء)

خلیفہ ربوہ بعینہ ان امراض میں مبتلا ہو کر مرا ...... اس کا دماغ ماؤف ہو چکا تھا۔ نہ عقل کام کرتی تھی نہ اعضاء صحیح طور پر کام کرتے تھے۔ جیسا کہ ڈاکٹر صاحب نے کہا ہے کہ زنا انسان کو

١٥٧

صفحہ ٣٨٦

بنیاد سے نکال دیتا ہے۔ من وعن یہی حالت طاری تھی۔ خبیث مرض یعنی فالج کا شکار تھا۔ خصوصاً لوگوں نے اس کی عقل و فہم کا اندازہ جلسہ سالانہ پر بخوبی لگا لیا تھا کہ کس طرح وہ اپنی عقل کے دیوالیہ پن کا مظاہرہ کرتے تھے اور حاشیہ بردار درمیان میں لقمہ دیتے تھے۔ مگر یہ لقمہ بے سود ثابت ہوتا تھا۔ خود خلیفہ صاحب کا بیان بھی اس کی تصدیق کر رہا ہے۔ اس کی اپنی عبارت درج ذیل ہے:

”میری بیماری کی وجہ سے دماغ کو خوراک پہنچنی بند ہو گئی ہے۔ ڈاکٹروں کا خیال تھا کہ چند ہفتوں میں دماغی حالت اپنے معمول پر آجائے گی۔ لیکن اب تک جو ترقی ہوئی ہے اس کی رفتار اتنی تیز نہیں ...... آدمیوں کے سہارے سے ایک دو قدم چل سکتا ہوں۔ مگر وہ بھی مشکل سے۔ دماغ اور زبان کی کیفیت ایسی ہے کہ میں تھوڑی دیر کے لئے بھی خطبہ نہیں دے سکتا اور ڈاکٹروں نے دماغی کاموں سے قطعی طور پر منع کر دیا ہے۔“

مجھ پر فالج کا حملہ ہوا اور اب میں پاخانہ پیشاب کے لئے بھی امداد کا محتاج ہوں۔ دو قدم بھی نہیں چل سکتا۔

(الفضل مورخہ ١٢؍اپریل ١٩٥٥ء)

”٢٦ فروری کو مغرب کے قریب مجھ پر بائیں طرف فالج کا حملہ ہوا اور تھوڑے وقت کے لئے میں ہاتھ پاؤں سے معذور ہو گیا ...... دماغ کا عمل معطل ہو گیا اور دماغ نے کام کرنا چھوڑ دیا۔ میں اس وقت بالکل بے کار ہوں اور ایک منٹ نہیں سوچ سکتا۔“

(الفضل مورخہ ٢٦؍اپریل ١٩٥٥ء)

باپ کی بیٹے کے متعلق پیش بینی

”جو اس مقدس تعلیم کو اپنی بدکرداری کے نمونہ سے ناپاک کرے گا اس کا حشر ڈاکٹر ڈوئی سے کم نہ ہوگا۔ نہایت سخت دُکھ کی مار۔ قہر الٰہی، غضب الٰہی اور خبیث امراض یعنی فالج اور پاگل پن کا شکار ہوگا۔“

خلیفہ صاحب خود کہتے ہیں: ”میں اب ٦٨ سال کی عمر کا ہوں اور فالج کا شکار ہوں۔“

(الفضل مورخہ ٤؍اگست ١٩٥٦ء)

محمودی اعمال نامہ کی ایک جھلک

خلیفہ صاحب قادیان (ربوہ) کی اپنی شریعت میں سب کچھ جائز ہے۔ فرانس کے ناچ گھر میں ننگے ناچ دیکھنا شریعت محمودیہ کے عین مطابق ہے۔ پھر اطالوی حسینہ کو سسل ہوٹل سے لے جانا ان کے جھوٹے تقدس کی ادنیٰ مثال ہے۔ مرزا محمود نے خود ہی تسلیم کیا: ”جب میں ولایت گیا تو مجھے خصوصیت سے خیال تھا کہ یورپین سوسائٹی کا عیب والا حصہ بھی دیکھوں گا۔ قیام

١٥٨

صفحہ ٣٨٧

انگلستان کے دوران میں مجھے اس کا موقع نہ ملا۔ واپسی پر جب ہم فرانس آئے تو میں نے چوہدری ظفر اللہ خان صاحب سے جو میرے ساتھ تھے کہا کہ مجھے کوئی ایسی جگہ دکھائیں جہاں یورپین سوسائٹی عریاں نظر آسکے۔ وہ بھی فرانس سے واقف تو نہ تھے۔ مجھے اوپیرا Opera میں لے گئے جس کا نام مجھے یاد نہیں رہا۔ چوہدری صاحب نے بتایا یہ وہی سوسائٹی کی جگہ ہے اسے دیکھ کر آپ اندازہ لگا سکتے ہیں۔ میری نظر چونکہ کمزور ہے اس لئے دور کی چیز اچھی طرح سے نہیں دیکھ سکتا۔ تھوڑی دیر کے بعد میں نے جو دیکھا تو ایسا معلوم ہوا کہ سینکڑوں عورتیں بیٹھی ہیں۔ میں نے چوہدری صاحب سے کہا کیا یہ ننگی ہیں؟ انہوں نے بتایا کہ یہ ننگی نہیں بلکہ شفاف کپڑے پہنے ہوئے ہیں۔ اس لئے ننگی معلوم ہوتی ہیں۔"

(الفضل مورخہ ٢٨ جنوری ١٩٢٤ء)

اطالوی حسینہ اور خلیفہ قادیان

انگریزی ہوٹلوں میں اکثر جوان لڑکیاں خدمت گار ہوتی ہیں۔ جو معزز لوگ وہاں کھانے پینے جاتے ہیں وہ جوان لڑکیاں ان کے سامنے ان کی خوشی کی اشیاء لا کر پیش کرتی ہیں۔ آج کل کی تہذیب کی رو سے ان مہذبوں کا بھی دستور ہے کہ کھانا لانے والیوں کی بھی تواضع کرتے ہیں اور وہ عموماً اس کھانے میں شریک ہو جاتی ہیں۔ اسی اثناء میں تفریحی گفتگو ہوتی رہتی ہے۔ حتیٰ کہ دوران گفتگو میں ہی سب مراحل طے ہو جایا کرتے ہیں۔ خلیفہ قادیان لاہور سسل ہوٹل منٹگمری روڈ میں گئے۔ وہاں پر جو کچھ ہوا اخبارات کی زبانی سنئے :”مرزا محمود کی آمد اور سسل ہوٹل کی منتظمہ کی گمشدگی تلاش کے باوجود اس کا کوئی پتہ نہیں مل سکا۔ یکم مارچ ١٩٣٣ء کو سسل ہوٹل کی طرف سے مشتہر ہوا تھا کہ جمعرات یکم مارچ پانچ بجے سے ساڑھے نو بجے رات تک ناچ ہوگا۔ بڑے بڑے انعامات بدستور تقسیم کئے جائیں گے۔ تماشائی شام چار بجے سے جمع ہونے شروع ہو گئے اور پانچ بجے اچھا خاصا مجمع ہو گیا۔ ہر ایک شخص کھیل شروع ہونے کا منتظر تھا۔ مگر خلاف توقع کبرٹ ڈانس شروع نہ ہوا۔ ناچ کا بینڈ بجنا بند ہوا۔ آخر استفسار پر سسل ہوٹل کے ایک بیرے سے معلوم ہوا کہ کبرٹ ڈانس کا تمام سامان منتظمہ کے کمرے میں ہے اور منتظمہ کو مرزا محمود موٹر میں بٹھا کر لے گئے ہیں۔"

(نامہ نگار آزاد مورخہ ١٣ مارچ ١٩٣٣ء)

اس واقعہ کو زمیندار نے نظم کی صورت میں یوں شائع کیا۔

اطالوی حسینہ از نقاش

اے کشور اطالیہ اے باغ کی بہار لاہور کا دامن ہے تیرے فیض سے چمن

١٥٩

صفحہ ٣٨٨
پیغمبر جمال تیری چلبلی ادا پروردگار عشق تیرا دلربا چلن
الجھے ہوئے ہیں دل تیری زلف سیاہ میں ہیں جس کے ایک تار سے وابستہ سو ختن
پروردۂ فسوں ہے تیری آنکھ کا خمار اور وہ جنوں ہے تیری بوئے پیرہن
پیمانہ نشاط تیری ساق صندلیں میخانہ سرور تیرا مرمری بدن
رونق ہے ہوٹلوں کی تیرا حسن بے حجاب جس پر فدا ہے شیخ تو لٹو ہے برہمن
جب قادیاں پہ تیری نشیلی نظر پڑی سب نشہ نبوت ظلی ہوا ہرن
میں بھی ہوں تیری چشم پر فسوں کا معترف جادو وہی ہے آج اے قادیاں شکن

(زمیندار لاہور ١٧ر مارچ ١٩٣٣ء از مغان قادیان ص ٤٩ مکتبہ کارواں لاہور)

اطالوی رقاصہ کا (قادیان آنے کا) الفضل میں اعتراف

اس کے بعد مختلف اخباروں میں شور و غوغا ہوا کہ خلیفہ صاحب قادیان کے خطبہ کی جو تقریر شائع ہوئی اس میں اس اطالوی لیڈی کے لے جانے کا اعتراف کیا۔ مگر اس کی وجہ یہ بتائی کہ میں اس لیڈی کو اپنی بیویوں اور لڑکیوں کو انگریزی لہجہ سکھانے کے لئے لایا تھا۔

(الفضل مورخہ ١٨ مارچ ١٩٣٢ء)

اس کا جواب اہل حدیث نے یوں لکھا: ”پس مطلع صاف ہو گیا مگر سوال یہ ہے کہ اطالوی عورت خالص ولایتی انگریزی کیا پڑھائے گی۔ اطالوی لوگ تو خود انگریزی صحیح نہیں بول سکتے۔ انگریزی زبان میں دو حرف (D) اور (T) بالخصوص ممتاز ہیں۔ دونوں حروف اطالوی لوگ عربوں کی طرح ادا نہیں کر سکتے۔ علاوہ اس کے ایسی معلمۂ معصیات کا اثر لڑکیوں اور پردہ نشیں بیویوں پر کیا ہوگا۔“

(اہل حدیث، امرتسر)

اطالوی حسینہ

سیسل ہوٹل لاہور کی ایک اطالوی طوائفہ جو ہوٹل میں مرزا محمود احمد خلیفہ قادیان کے ایک روزہ قیام کے بعد اچانک غائب ہوگئی تھی۔ دوسرے دن قادیان کی سرزمین میں دیکھی گئی اور اخبار زمیندار نے نظم کی صورت میں اسے یوں شائع کیا۔

ہوٹل سیسل کی رونق عریاں کہاں گئی

عشاق شہر کا ہے زمیندار سے سوال ہوٹل سیسل کی رونق عریاں کہاں گئی
اس کے جلو میں جان گئی ایمان کے ساتھ ساتھ کیا کیا نہ تھا جو لے کے وہ جان جہاں گئی

١٦٠

٩

خوف خدائے پاک دلوں سے نکل گیا
بن کر عروس حلقۂ رندان لم یزل
روما سے ڈھل کے برق کے سانچے میں آئی تھی
یہ چیستاں سنی تو زمیندار نے کہا

(زمیندار مورخہ ١٥ مارچ ١٩٣٧ء)

جب چاردانگ عالم میں شور مچا تو خلیفہ نے پانچ ہزار روپے دے کر قادیان سے رخصت کیا وجہ بتائی تھی۔ لاہور آن کر حسینہ نے لوگوں سے اس وقت ایک وکیل کے پاس گئی۔ (جو جج اعلیٰ ہوئ کہ پیشہ ور لڑکیاں یہاں اس کسب کے لئے آتی ہ تو عصمت شکنی ثابت کر سکتی ہو۔ جواباً اس پیشہ کہ جس بات سے صدمہ ہوا ہے وہ خلوت سیہ خا اپنے پاس بٹھا لینا مجھ پر شاق گذرا۔“ جونہی اس ب کہ یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ کوئی معصیت کے وقت ن لیکن اس کو فوراً احساس ہو گیا کہ خلیفہ کا یہ طر عذر نامقبول ہو کر رہ جائے۔ بلکہ مقدمہ کرنے کی مدافعت بن جاتی تھی۔

توہین رسالت کا المیہ

جماعت احمدیہ ربوہ نے اپنی پا جو تمام عالم اسلام کے لئے نہ صرف موجب ہو گیا۔

روزنامہ الفضل ربوہ کی اشاعت (مرزا محمود کے بھائی تھے) نے ایک طویل مضمون جس میں آنحضرت ﷺ کو نعوذ باللہ صلح حدیبیہ کے مقابلے میں اس کو فتح مبین کہا گیا ہے اور انگ

صفحہ ٣٨٩
خوف خدائے پاک دلوں سے نکل گیا آنکھوں سے شرم سرور کون و مکاں گئی
بن کر فروش حلقۂ زندان لم یزل لے کر گئی وہ حشر کا سامان جہاں گئی
روما سے ڈھل کے برق کے سانچے میں آئی تھی اب کس حریم ناز میں جان جاں گئی
یہ چیستاں سنی تو زمیندار نے کہا اتنا ہی جانتا ہوں کہ وہ قادیاں گئی

(زمیندار مورخہ ١٥ مارچ ١٩٢٧ء، ارمغان قادیان ص ٥٠، مکتبہ کارواں کچہری روڈ ملتان)

جب چار دانگ عالم شور مچا تو خلیفہ نے اطالوی حسینہ کو اپنے راز دار ڈرائیور کے ساتھ پانچ ہزار روپے دے کر قادیان سے رخصت کر دیا۔ یہ بات ڈرائیور مذکور نے مؤلف کو قادیان میں بتائی تھی۔ لاہور آ کر حسینہ نے لوگوں کے کہنے سننے پر مقدمہ کی تیاری پر کمر باندھی۔ وہ اس وقت ایک وکیل کے پاس گئی۔ (جو جج اعلیٰ ہو کر ریٹائر ہوا) تو اس وکیل نے اس سے کہا۔ تم جیسی پیشہ ور لڑکیاں یہاں اس کسب کے لئے آتی ہیں۔ تم کو عصمت کا دعویٰ زیب نہیں دیتا اور نہ ہی تم عصمت شکنی ثابت کر سکتی ہو۔ جواباً اس پیشہ ور حسینہ نے کہا: ”آپ کی بات صحیح ہے۔ لیکن مجھے جس بات سے صدمہ ہوا ہے وہ خلوت سیئہ نہ تھی بلکہ اس جنسی ملاپ کے وقت خلیفہ کا اپنی بیٹی کو پاس بٹھا لینا مجھ پر شاق گزرا۔“ جونہی اس نے یہ کہا وکیل نے اس کے کاغذات پھینک دیئے کہ یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ کوئی معصیت کے وقت بیٹی کو پاس بٹھا لے۔ اطالوی حسینہ کی بات ٹھیک تو تھی لیکن اس کو فوراً احساس ہو گیا کہ خلیفہ کا یہ طریقہ واردات ہے کہ اس کی ہوس زدہ لڑکی کی بات نامقبول ہو کر رہ جائے۔ بلکہ مقدمہ کرنے پر وہ خود پھنس جائے۔ خلیفہ کی معصیت ہی اس کی مدافعت بن جاتی تھی۔

توہین رسالتؐ کا المیہ، عالم اسلام کے لئے لمحۂ فکریہ

جماعت احمدیہ ربوہ نے اپنی پرانی روایات کے پیش نظر ایک بار پھر ایسا موضوع پیدا کیا جو تمام عالم اسلام کے لئے نہ صرف موجب کرب و قلق ہے۔ بلکہ اس سے اختلاف کا ایک نیا باب وا ہو گیا۔

روزنامہ الفضل ربوہ کی اشاعت مورخہ ٣ جولائی ١٩٥٩ء میں مرزا بشیر احمد (جو خلیفہ محمود کے بھائی تھے) نے ایک طویل مضمون میں اس بات کو ثابت کرنے کی ناکام کوشش کی ہے کہ آنحضرت ﷺ کو نعوذ باللہ صلح حدیبیہ کے غم میں نسیان کی بیماری لاحق ہو گئی تھی۔ حالانکہ قرآن کریم میں اس کو فتح مبین کہا گیا ہے اور انگریز مستشرق مانٹ گمری واٹ نے اس کو Non-

١٦١

صفحہ ٣٩٠

Aggression Pact قرار دیا ہے۔ وہ لکھتا ہے کہ اس میثاق حدیبیہ سے محمد ﷺ کو مدینے میں اسلامی نظام کو مستحکم کرنے کا موقعہ ملا اور یہودیوں کے فتنے کا سدباب کیا۔ مکے کے کفار رسول اللہ ﷺ کی تیغ تدبر سے ذبح ہو کر واپس لوٹے۔ اس سے عرب قبائل فوج در فوج اسلام میں داخل ہو گئے۔

(Muhammad At Medina p:49)

مرزا بشیر احمد نے کوئی چوبیس خطرناک بیماریوں کا تذکرہ کرتے ہوئے یہ دعویٰ کیا ہے کہ یہ تمام عوارض انبیاء کو ہو سکتے ہیں اور ہوتے رہے ہیں۔ ہم اس مضمون کو ضروری حصہ من وعن درج ذیل کرتے ہیں۔ قارئین خود اس امر کا اندازہ لگا لیں گے کہ موجودہ حالات میں ایسے موضوع پر قلم اٹھانا کن ناگفتہ بہ حالات پر منتج ہوا کرتا ہے۔ مرزا بشیر احمد لکھتا ہے: ”بالآخر یہ سوال رہ جاتا ہے کہ آنحضرت ﷺ جو خدا تعالیٰ کے ایک عالیشان نبی بلکہ افضل الرسل اور خاتم النبیین تھے۔ آپ کو نسیان کا عارضہ کیوں لاحق ہوا۔ جو بظاہر فرائض نبوت کی ادائیگی میں رخنہ انداز ہو سکتا ہے تو اس کے جواب میں اچھی طرح یاد رکھنا چاہئے کہ آنحضرت ﷺ مرض ٹائیفائڈ سے فوت ہوئے تھے۔ سل، دق، دمہ، نزلہ، کھانسی، نقرس، دورانِ سر، پھوڑے پھنسیاں، آنکھوں کا آشوب، جسم کے درد، جگر کی بیماری، دانتوں کی تکلیف، اسہال کی بیماری، انتڑیوں کی بیماری، گردے کی بیماری، پیشاب کی بیماری، اعصابی تکلیف، ذکاوت حس، گھبراہٹ اور بے چینی، دماغی کوفت، نسیان، حوادث کے نتیجہ میں چوٹیں اور زخم، لڑائی کی ضربات وغیرہ وغیرہ سب کی زد میں آ سکتے ہیں اور آتے رہے ہیں۔“

آپ بعض اوقات نماز پڑھاتے ہوئے رکعتوں کی تعداد کے متعلق بھی بھول گئے اور لوگوں کے یاد کرانے پر یاد آیا۔ ”آنحضرت ﷺ کو کبھی کبھی عام اور وقتی نسیان ہو جاتا تھا۔ اسی طرح صلح حدیبیہ کے بعد کچھ عرصہ کے لئے بیماری کے رنگ میں نسیان ہو گیا ۔“

مرزا بشیر احمد نے اپنے مضمون میں جن چوبیس بیماریوں کا ذکر کرتے ہوئے درپردہ اپنے معذور بھائی خلیفہ کا دفاع کیا ہے۔ میاں صاحب اپنے دعویٰ کی تصدیق میں ان انبیاء کے اسماء گرامی بھی درج کئے جن کو یہ بیماریاں لاحق ہوتی رہی ہیں۔ مرزا بشیر احمد کے اس مضمون کی اشاعت کے بعد بیشتر حلقوں نے اس کے خلاف اپنی آراء کا اظہار کیا تھا ہفت روزہ چٹان کے مدیر شہیر آغا شورش کاشمیری نے وقت کی نزاکت کے پیش نظر جس محتاط انداز میں حکومت وقت کی توجہ اس امر کی طرف مبذول کرائی ہے اس سے زیادہ محتاط طریق اس بارہ میں اختیار نہیں کیا جا سکتا۔

١٦٢

٩١

چٹان مورخہ ٢٤ ستمبر ١٩٥٩ء کے اداریہ محمود بڑے زمانے سے بیمار ہیں۔ عمر کے ساتھ میں نسیان اور اس کے ہم قافیہ عوارض بھی شریک قسم کی تقدیس کا درجہ حاصل کر رکھا ہے۔ اس تاویلات و تعبیرات گھڑ رہے ہیں۔ ہمارے پاس شمارہ لائے ہیں۔ اس شمارہ کے پورے چار صفحات زیر بحث لا کر نہایت ہوشیاری سے مرزا محمود کی سے آپ کے پیروؤں کی ایک جماعت اعتقاد سے صرف یہ التماس کریں گے کہ جس باریک بینی معترضین کی زبان و قلم کا جائزہ لیتی ہیں۔ اگر اس پر ڈال چکے ہوتے تو ہم ان ملفوف الفاظ میں عرض

الفضل کو اپنے امام کی مدح و ستائش بالواسطہ رسول اللہ ﷺ کی بیماری سے ملا کر ان اس سے ہم ایسے لوگوں کے جذبات کو صدمہ پہنچتا کو رسول اللہ کے کتوں سے مماثلت دیتے ہوئے بھی نہیں ہیں۔

نسبتے خود بہ سگ
زآنکہ نسبت بہ سگ

مرزا بشیر احمد نے تمام بحث نسیان نسیان ہو گیا ہے جو نعوذ باللہ! رسالت مآب پیش کی ہے وہ پکار پکار کر یہ کہہ رہی ہے کہ جو ہوا تو حضور ﷺ نے خود جا کر اس جگہ کو پامال میں حضور ﷺ کو کوئی نسیان کی بیماری لاحق ہو بعد وہی تاثر پیدا کرنا چاہا ہے جو اس زمان کے ولا قوة الا بالله العلى العظيم“

صفحہ ٣٩١

چٹان مورخہ ١٤؍ستمبر ١٩٥٩ء کے اداریہ کا نوٹ درج ذیل کیا جاتا ہے: ”مرزا بشیر الدین محمود بڑے زمانے سے بیمار ہیں۔ عمر کے ساتھ مختلف بیماریوں نے گھیر رکھا ہے۔ انہی بیماریوں میں نسیان اور اس کے ہم قافیہ عوارض بھی شریک ہیں۔ چونکہ آپ نے اپنے معتقدوں میں خاص قسم کی تقدیس کا درجہ حاصل کر رکھا ہے۔ اس لئے اپنی بیماریوں کی صفائی میں عجیب و غریب تاویلات و تعبیرات گھڑ رہے ہیں۔ ہمارے نوٹس میں ایک دوست ١٣؍جولائی ١٩٥٩ء کا الفضل کا شمارہ لائے ہیں۔ اس شمارہ کے پورے چار صفحوں میں آنحضرت ﷺ کے امراض کی حدیثیں زیر بحث لا کر نہایت ہوشیاری سے مرزا محمود کی ان بیماریوں کا دفاع کیا گیا ہے۔ جن کے احساس سے آپ کے پیروؤں کی ایک جماعت اعتقاداً متزلزل ہے۔ ہم محکمہ تعلقات عامہ کے افسروں سے صرف یہ التماس کریں گے کہ جس باریک بینی سے ان کی احتسابی نگاہیں دنیوی خداوندوں کے معترضین کی زبان و قلم کا جائزہ لیتی ہیں۔ اگر اسی نسبت سے ایک اچٹتی ہوئی نگاہ اس مقالہ پر ڈال چکے ہوتے تو ہم ان ملفوف الفاظ میں عرض کرنے کی جسارت نہ کرتے۔“

الفضل کو اپنے امام کی مدح و ستائش کا پورا حق حاصل ہے۔ لیکن ان بیماریوں کو بالواسطہ رسول اللہ ﷺ کی بیماری سے ملا کر ان کے تقدس کا پروپیگنڈا نہ صرف بے ادبی ہے۔ بلکہ اس سے ہم ایسے لوگوں کے جذبات کو صدمہ پہنچتا ہے جن عاجزوں کی معراج یہ ہے کہ اپنے آپ کو رسول اللہ کے کتوں سے مماثلت دیتے ہوئے بھی خوف محسوس کرتے ہیں کہ شاید ہم اس قابل بھی نہیں ہیں۔

نسبتے خود بہ سگت کردم و بس منفعلم
زآنکہ نسبت بہ سگ کوئے تو شد بے ادبی

(چٹان مورخہ ١٤؍ستمبر ١٩٥٩ء)

مرزا بشیر احمد نے تمام بحث نسیان پر کی ہے اور یہ تاثر پیدا کیا ہے کہ خلیفہ کو محض ذرا سا نسیان ہو گیا ہے جو نعوذ باللہ ! رسالت مآب کو بھی ہو گیا تھا۔ حالانکہ جو حدیث مرزا بشیر احمد نے پیش کی ہے وہ پکار پکار کر یہ کہہ رہی ہے کہ جب حضور علیہ السلام کو یہود کی اس ناپاک سازش کا علم ہوا تو حضور ﷺ نے خود جا کر اس جگہ کو پامال کر دیا اور لوگوں کی یہ غلط فہمی دور کر دی کہ سحر کے نتیجہ میں حضور ﷺ کو کوئی نسیان کی بیماری لاحق ہو گئی ہے۔ صد افسوس کہ مرزا بشیر احمد نے چودہ سو سال بعد وہی تاثر پیدا کرنا چاہا ہے جو اس زمانہ کے شر پسند یہودیوں نے پیدا کرنا چاہا تھا۔ ”لا حول ولا قوة الا بالله العلى العظيم“

١٦٣

صفحہ ٣٩٢

مرزا بشیر احمد چاہتے تھے کہ انبیاء کی طرف سل دق منسوب کر کے خلیفہ کی بیماریوں کا دفاع کیا جائے۔ مگر کیا وجہ ہے کہ وہ خلیفہ کی اصل بیماری ”فالج“ اور اس کے جنسی محرکات کا ذکر کرتے ہوئے کتراتے ہیں۔ جس میں ان کے بھائی نام نہاد مصلح ربانی خلیفہ ثانی بطور عذاب مبتلا ہیں۔ اگر مرزا بشیر احمد کو بھی اس بارہ میں نسیان ہو گیا ہے تو وہ الفضل کے فائل کھول کر دیکھیں جن میں جا بجا فالج کا چرچا ہے اور پھر ایک اور مضمون لکھا ہے کہ انبیاء (نعوذ باللہ) مدقوق اور مسلول ہی نہیں مفلوج بھی ہو جایا کرتے ہیں۔ سل اور دق کے مریض کو تو حکماء عامۃ الناس سے علیحدہ رکھنے کی کوشش کرتے ہیں اور جب مامورین کو ہمہ وقت بندگان خدا سے رابطہ رکھنا پڑتا ہے اور فریضہ تبلیغ میں شب و روز مشغول رہتے ہیں تو پھر یہ امر خدا تعالیٰ کی حکمت بالغہ کے منافی نہیں ہے کہ وہ ایسے متعدی مرض میں مبتلا شخص کو ہدایت کے لئے مامور فرمائے جو خود مدقوق و مسلول ہو اور دوسروں کے لئے باعث خطرہ۔

دراصل مرزا بشیر احمد خدا تعالیٰ کی طرف وہ بات منسوب کرنا چاہتے ہیں جو شان خداوندی کے خلاف ہے اور رسول کی ذات پر وہ بیماری چسپاں کرنا چاہتے ہیں جو شان رسالت کے منافی ہے۔ اس کفر کاری اور جہنمی جسارت کا خدا نے یہ انتقام لیا کہ مرزا بشیر احمد خود اور اس کا بڑا بھائی خلیفہ اور سب سے چھوٹا بھائی مرزا شریف احمد گونا گوں عوارض اور امراض میں مدتوں مبتلا ہو کر ایڑیاں رگڑ رگڑ کر مرے۔ چھوٹے بھائی کا تو یہ حال تھا کہ وہ لوگوں سے مانگ مانگ کر پیتھ ڈین کا چسکا پورا کرتا تھا۔ مؤلف کو لاہوریوں کے امیر نے بالمشافہ بتلایا کہ یہ شخص چور نڈھال ہورہا تھا۔ انجمن کے خزانے سے اس کو رقم خطیر دی۔ یہ اس بیٹے کا حال تھا جس کے متعلق اس الہام کو اچھالا جاتا ہے۔ بادشاہ آتا ہے وہ متعدد اشخاص کا مقروض تھا اور جن لوگوں نے کسی حیلے بہانے کے چکر میں آن کر اپنی ریٹائرمنٹ کے بعد اپنی جمع شدہ فنڈ کی رقوم اس کو بطور قرضہ حسنہ دی تھیں۔ وہ قرضہ سیہ ہو کر ان کی موت کا پیغام بن گئیں۔

حضرت رسول اکرم ﷺ کے متعلق مزعومہ اور ملعونہ فہرست امراض بنانے والوں کے درون خانہ کا اگر طبی محاسبہ ہو تو محاسبہ کرنے والے طبیب ورطہ حیرت میں غرق ہو کر رہ جائیں۔

١٦٤

PDF 394

انا خاتم النبیین لا نبی بعدی

میں آخری نبی ہوں میرے بعد کوئی نبی نہیں

وادیٔ طلسمات

یعنی

ساحران ربوہ کی داستان

خواجہ محمد اسماعیل لندنی جھوٹا مدعی نبوت

صفحہ ٣٩٤

"ان ھؤلاء متبر ماهم فيه وباطل ماكانوا يعملون (الاعراف)"

یارو خودی سے باز بھی آؤ گے یا نہیں خو اپنی پاک صاف بناؤ گے یا نہیں
باطل سے میل دل کی ہٹاؤ گے یا نہیں حق کی طرف رجوع بھی لاؤ گے یا نہیں
کب تک رہو گے ضد و تعصب میں ڈوبتے آخر قدم بصدق اٹھاؤ گے یا نہیں
کیونکر کرو گے رد جو محقق ہے ایک بات کچھ ہوش کر کے عذر سناؤ گے یا نہیں
سچ سچ کہو اگر نہ بنا تم سے کچھ جواب پھر بھی یہ منہ جہاں کو دکھاؤ گے یا نہیں

"اعوذ بالله من الشیطن الرجیم ، بسم الله الرحمن الرحیم ، نحمده ونصلی علی رسوله الکریم ، و لا شريك له"

وادیٔ طلسمات یعنی ساحران ربوہ کی داستان

(فصل دوم)

فصل اوّل میں واضح ہو چکا ہے کہ قرآن حکیم نے مرسلین کی بعثت کی غرض مبشر و انذار بتائی ہے اور ان کی پہچان نشانات آسمانی سے کرنے کی ہدایت کی ہے۔ برعکس اس کے کفار کی سنت یہ بیان کی گئی ہے کہ وہ باطل کی راہوں سے جھگڑ کر حق پر پردہ ڈالنے کی کوشش کرتے ہیں اور نشانات اور انذار کو ہنسی میں ہی ٹال دیتے ہیں۔ چنانچہ قاضی محمد نذیر اکل پوری صاحب آف ربوہ کو اس حقیقت سے آگاہ کر کے لکھا گیا تھا۔ "مزید تفصیل ان احکام کی انشاء اللہ اگلے حصہ میں بیان کی جائے گی ۔"

ایک ضروری وضاحت

اصل موضوع کو شروع کرنے سے پہلے ایک اور اہم امر کی وضاحت کی ضرورت پیش آ گئی ہے جس کا سبب قاضی محمد نذیر صاحب کا تیسرا خط ہوا ہے جو انہوں نے مجھے ٥ اپریل کو روانہ کیا اور ١٦ مئی کو یہاں پہنچا ہے۔ چنانچہ انہوں نے اس میں حسب ذیل بیان لکھا ہے : "واضح ہو کہ آپ کے جواب تمہید بصورت فصل اوّل بعنوان "وادیٔ ظلمات" مجھے موصول ہوئی۔ (افسوس ہے کہ قاضی صاحب نے ربوہ کے ایک ذمہ دار عالم ہونے کے باوجود میرے رسالہ بعنوان "وادیٔ طلسمات" کا نام غلط لکھا ہے۔ یعنی "وادیٔ ظلمات" اور اس طرح انہوں نے اپنی انتہائی بے پرواہی کا ثبوت دیا ہے۔ لہذا اس اصلاح کی ضرورت پیش آئی ہے) جس میں آپ نے میرے خط پر ٢٣ فروری ١٩٦٥ء کی بجائے ٢٤ فروری ١٩٦٤ء لکھا جانے اور اس کے بعد یاد دہانی والے خط پر بقول آپ کے ١٨ مارچ ١٩٦٥ء (در حقیقت خط پر تاریخ اس طرح درج ہوئی ہے۔ ١٨ / مارچ ناقل) لکھا جانے پر یوں شبہ ظاہر لکھی گئی ہیں جن سے کتمان حق کی راہ نکلت ١٩٦٤ء میں لکھا تھا جس کی یاد دہانی کروائی پر بدظنی کی انتہاء ہے۔ ورنہ میرے ذہن کے خلاف تقویٰ الزام دوں ۔" قاضی صاحب "آپ بھی 'اجتنبوا كثیراً من الظ ربنا لا تواخذنا ان نسینا او اخط

تحریف

فصل اوّل میں میں نے قاضی امر سنت اللہ میں داخل ہے کہ ہر رسول کے ہیں، بدتدبیریں کرتے ہیں۔ جس کی سزا ا ہے۔ چنانچہ قاضی صاحب کے اپنے بیان اس طرح کہ انہوں نے اپنے ٢٤ فروری کرنے کی کوشش کر کے خود اپنے ہی بیانات میں اللہ تعالیٰ کی خشیت ہوتی تو وہ اس عظیم ا کو قبول کر کے بخشش کے امیدوار ہوتے ۔ کرتے ہیں اور مہدی علیہ السلام نے لوگوں

اک نشاں کافی ہے

تو جب کہ قاضی صاحب نے سے ظاہر ہے کہ ان کی نظر سے وہ پیش گویاں پھر انہیں پورا ہوتے بھی انہوں نے دیکھا۔ پانے والوں نے شائع کر کے رسالت مآ لئے ان میں ہدایت اور نور ہے۔ لیکن اگر ا کی آنکھ نہ کھل سکی تھی تو جو بین نشان ان کی ہونا چاہئے تھا۔ لیکن بجائے اس کے کہ قاض خطرناک قدم اٹھایا ہے جس کا سبب اور ان

صفحہ ٣٩٥

١٨/ مارچ ناقل) لکھا جانے پر یوں شبہ ظاہر کیا ہے کہ دونوں خطوں میں تاریخیں اس طریق سے لکھی گئی ہیں جن سے کتمان حق کی راہ نکالی جائے۔ چنانچہ وہ کہہ سکتے ہیں کہ میں نے ایک خط ١٩٦٤ء میں لکھا تھا جس کی یاد دہانی کروائی گئی۔ لیکن مجھے جواب نہیں ملا۔ جواباً عرض ہے کہ یہ مجھ پر بدظنی کی انتہاء ہے۔ ورنہ میرے ذہن کے کسی گوشہ میں بھی یہ خیال نہ تھا کہ آپ کو اس طرح کا خلاف تقویٰ الزام دوں۔‘‘ قاضی صاحب نے اپنے اس خط کے آخر پر مجھے یہ بھی لکھا ہے کہ: ”آپ بھی ” اجتنبوا کثیراً من الظن “ کو سامنے رکھیں۔ انسان سے سہو و خطا ممکن ہے۔ ربنا لا تواخذنا ان نسينا أو أخطانا“

تحریف

فصل اوّل میں میں نے قاضی صاحب کو بتایا تھا کہ قرآن کریم کے حکم کے مطابق یہ امر سنّت اللہ میں داخل ہے کہ ہر رسول کے خلاف اس کے زمانہ کے لوگ جو اکابر میں شمار ہوتے ہیں، بدتدبیریں کرتے ہیں۔ جس کی سزا انہیں اس طرح ملتی ہے کہ ان کا مکر الٹ کر انہی پر پڑتا ہے۔ چنانچہ قاضی صاحب کے اپنے بیان ہی سے اس صداقت کا زندہ ثبوت مہیا کیا گیا تھا اور وہ اس طرح کہ انہوں نے اپنے ٢٣/ فروری گذشتہ والے خط میں میرے بیانات میں تضاد ثابت کرنے کی کوشش کر کے خود اپنے ہی بیانات میں تضاد پیدا کر لیا تھا۔ پس اگر قاضی صاحب کے دل میں اللہ تعالیٰ کی خشیت ہوتی تو وہ اس عظیم الشان نشان کو دیکھ کر توبہ کرتے اور اللہ تعالیٰ کی رسالت کو قبول کر کے بخشش کے امیدوار ہوتے۔ قاضی صاحب حضرت مہدی علیہ السلام پر ایمان کا دعویٰ کرتے ہیں اور مہدی علیہ السلام نے لوگوں کو بتایا تھا کہ:

اک نشاں کافی ہے گر ہو دل میں خوف کردگار

تو جب کہ قاضی صاحب نے اقرار کیا ہے کہ انہیں میری کتابیں پہنچتی رہی ہیں۔ اس سے ظاہر ہے کہ ان کی نظر سے وہ پیش گوئیاں بھی گزری ہیں جو وحی الٰہی کے ماتحت کی جاتی رہیں اور پھر انہیں پورا ہوتے بھی انہوں نے دیکھا ہے۔ علاوہ ازیں ان میں ایسے رسائل بھی تھے جو ہدایت پانے والوں نے شائع کر کے رسالت حقہ کی شہادت دی ہے اور یہ ایسے امور ہیں کہ ایک متقی کے لئے ان میں ہدایت اور نور ہے۔ لیکن اگر اس قدر نشانات کے باوجود بھی قاضی صاحب کی بصیرت کی آنکھ نہ کھل سکی تھی تو جو بین نشان ان کی ذات میں ظاہر ہوا ہے اس سے ان کے دل میں خوف پیدا ہونا چاہئے تھا۔ لیکن بجائے اس کے کہ قاضی صاحب اس سے فائدہ اٹھاتے ۔انہوں نے ایک اور خطرناک قدم اٹھایا ہے جس کا سبب اور اس کے نتائج کا ذکر قرآن کریم میں اس طرح ہوا ہے کہ:

٣

صفحہ ٣٩٧

”فبما نقضهم ميثاقهم لعنهم وجعلنا قلوبهم قاسية يحرفون الكلم عن مواضعه ونسوا حظا مما ذكروا به ولا تزال تطلع على خائنة منهم (المائدة)“ گویا جب لوگ اللہ تعالیٰ کا عہد توڑ دیتے ہیں یعنی تقویٰ سے منہ موڑ لیتے ہیں تو وہ خدا سے دور ہو کر سخت قلب ہو جاتے ہیں۔ پس جب وہ حق سے مغلوب ہوں تو یہ طریق اختیار کرتے ہیں کہ صداقت کے الفاظ کو ان کی اصل جگہ سے بدل دیتے ہیں اور ان کی یہ خیانت بار بار ظاہر ہوتی ہے۔

چنانچہ قاضی صاحب نے بھی یہی راستہ اختیار کر کے میری تحریر میں سراسر تحریف کی ہے اور مولویانہ فن مناظرہ سے کام لے کر میرے بیان میں سے صرف چند سطور لکھ دی ہیں اور ان کے سیاق و سباق کو حذف کر دیا ہے۔ تاکہ بآسانی مجھ پر بدظنی کا الزام لگا سکیں۔ اس لئے میں اپنے بیان کا مضمون اس جگہ نقل کرتا ہوں: ”اس بیان سے ظاہر ہے کہ قاضی صاحب کو یہ شبہ بھی ہوا ہے کہ شاید ان کا خط مجھے ملا ہی نہ ہو۔ پس ایک تجربہ کار عمر رسیدہ عالم کے لئے یہ بات سمجھنا چنداں مشکل نہیں کہ ایسی صورت میں انہیں لکھنا چاہئے تھا کہ فلاں تاریخ کو میں نے خط لکھا تھا مگر چونکہ انہوں نے ایسا نہیں کیا۔ لہذا ان کے اس طرز تحریر سے شبہ ہو سکتا ہے کہ دونوں خطوں میں تاریخیں اس طرح سے لکھی گئی ہیں کہ جن سے کتمان حق کی راہ نکالی جائے چنانچہ وہ کہہ سکتے ہیں کہ میں نے ایک خط ١٩٦٤ء میں لکھا تھا جس کی یاد دہانی بھی کروائی گئی ۔ لیکن مجھے جواب نہیں ملا۔ خصوصاً اس صورت میں یہ شبہ اور بھی مضبوط ہو جاتا ہے کہ قاضی صاحب نے اپنے پہلے خط میں بالارادہ غلط بیانیاں کی ہیں اور جیسا کہ میری سابقہ تحریروں میں ایسی نمایاں مثالیں پیش کی جا چکی ہیں جن سے ثابت ہو گیا ہے کہ جماعت ربوہ کے لوگ نہایت بے باک ہو کر جھوٹ بولتے ہیں اور ان میں سب سے بڑی مثال ان کے خلیفہ کی ہے۔ جس نے ١٩٥٧ء میں اپنے پرائیویٹ سیکرٹری کے ذریعہ اخبار الفضل میں میری ذات پر اس قدر خوفناک افتراء کیا تھا کہ گویا میں نے قادیان میں رہتے ہوئے اسلام کے خلاف تقریریں کی تھیں اور آنحضرت ﷺ کی ہتک کی تھی۔ (نعوذ باللہ من ذالك ) لہذا میں نے ان امور کی وضاحت کرنا ضروری خیال کیا ہے اور اگرچہ قاضی صاحب کے دل کا حال اللہ تعالیٰ ہی کو معلوم ہے یا وہ خود جانتے ہیں۔ مگر بہر حال اس کے دونوں پہلو ہیں۔ سو اگر قاضی صاحب کی نیت بخیر ہے تو میری اس وضاحت سے انہیں کوئی نقصان نہ پہنچے گا۔ برعکس اس کے اگر ان کا ارادہ کوئی پیچ ڈالنے کا ہو تو مندرجہ بالا حقائق حق پسندوں کے لئے یقیناً نور ہدایت ثابت ہوں گے ۔“

اب قاضی صاحب اگر میرا مندرجہ بالا بیان خواہ دس دفعہ بھی پڑھیں تو انہیں ہرگز ہرگز اس میں کوئی ایسی بات نظر نہ آئے گی جس سے یہ ظاہر ہو کہ میں نے قاضی صاحب پر بدظنی کی تھی۔ ٤

بلکہ یہ نہایت ہی صاف اور سادہ کلام ہے۔ جس کی اصل سے بالکل واضح ہے کہ میں نے صرف اللہ تعالیٰ کے حکم مجھے دیا ہے اور وہ کلام الہی میرے رسالہ عصمۃ النبی میں آمنوا ان جاءكم فاسق فتبينوا، فقد لبثت في اور اس کلام اللہ کا مفہوم میں نے یہ بیان ہوشیار کیا کہ فاسق لوگ آ کر تم کو میرے مرسل کے خلاف باتوں کا ثبوت طلب کرو اور میری طرف سے یہ دعویٰ نے کتنا طویل عرصہ تمہارے سامنے گزارا ہے۔ تو کیا چھوٹی سی غلط بات بھی کہی تھی؟“

سو اس میں فاسقوں سے محتاط رہنے کی دار بالا کے مطابق یہ بات ثابت شدہ ہے کہ ربوہ کے لوگو بلکہ ان کے خلیفہ نے بھی مجھ پر خوفناک افتراء کیا تھا تو نذیر لائل پوری صاحب جو جماعت ربوہ ہی کے ایک چاہتا کہ انہوں نے اپنے ٢٣؍ فروری والے خط کی تا ١٩٦٤ء کیوں لکھا تھا؟ اور کہ بعد میں یاد دہانی والے ٨ چنانچہ مندرجہ بالا بیان سے صاف صاف ظاہر ہے کہ سے لکھا کہ: ”اگرچہ قاضی صاحب کے دل کا حال اللہ جس سے ظاہر ہے کہ میں نے اس بات اس سے آگے یہ مزید وضاحت بھی میری تحریر میں ہے تو میری اس وضاحت سے انہیں کوئی نقصان نہ ڈالنے کا ہو تو مندرجہ بالا حقائق حق پسندوں کے لئے

اب قاضی صاحب جو تقویٰ کے مدعی ہ ایسی وضاحت چاہنے کے لئے بدظن کی اصطلاح ا اپنے ربوائی تبحر فی العلم کے باوجود بھی میری اس سیدھ ان سے پوچھتا ہوں کہ انہوں نے میرے سامنے الف رکھنے سے پہلے اس بات پر کیوں غور نہیں

صفحہ ٣٩٧

بلکہ یہ نہایت ہی صاف اور سادہ کلام ہے۔ جس کی اصل حقیقت اس کی آخری زیر خط کشیدہ سطور سے بالکل واضح ہے کہ میں نے صرف اللہ تعالیٰ کے حکم کی اتباع کی ہے جو اس نے اپنی وحی میں مجھے دیا ہے اور وہ کلام الٰہی میرے رسالہ عصمۃ النبی میں درج ہوچکا ہے کہ: ”يـا ايها الذين آمنوا ان جاءكم فاسق فتبينوا، فقد لبثت فيكم عمراً من قبله افلا تعقلون“

اور اس کلام اللہ کا مفہوم میں نے یہ بیان کیا تھا کہ: ”پس اللہ تعالیٰ نے مومنوں کو ہوشیار کیا کہ فاسق لوگ آکر تم کو میرے مرسل کے خلاف جھوٹی باتیں کہیں گے۔ سو تم ان سے ایسی باتوں کا ثبوت طلب کرو اور میری طرف سے یہ دعویٰ پیش کیا گیا ہے کہ اے مکارو! غور کرو کہ میں نے کتنا طویل عرصہ تمہارے سامنے گزارا ہے۔ تو کیا تم بتا سکتے ہو کہ میں نے تم میں سے کسی کو کوئی چھوٹی سی غلط بات بھی کہی تھی؟“

سو اس میں فاسقوں سے محتاط رہنے کی واضح ہدایت ہے اور جیسا کہ میرے بیان مندرجہ بالا کے مطابق یہ بات ثابت شدہ ہے کہ ربوہ کے لوگ نہایت بے باک ہو کر جھوٹ بولتے ہیں۔ بلکہ ان کے خلیفہ نے بھی مجھ پر خوفناک افتراء کیا تھا تو کیا اس صورت میں ضروری نہ تھا کہ قاضی محمد نذیر لائل پوری صاحب جو جماعت ربوہ ہی کے ایک فرد ہیں، میں ان سے اس بات کی وضاحت چاہتا کہ انہوں نے اپنے ٢٤؍فروری والے خط کی تاریخ درج کرتے وقت بجائے ١٩٦٥ء کے ١٩٦٤ء کیوں لکھا تھا؟ اور کہ بعد میں یاد دہانی والے ١٨؍مارچ ١٩٦٥ء کے خط کا سن کیوں محو کیا تھا؟ چنانچہ مندرجہ بالا بیان سے صاف صاف ظاہر ہے کہ میں نے یہی سوال پوچھنے کے بعد صاف دلی سے لکھا کہ: ”اگرچہ قاضی صاحب کے دل کا حال اللہ تعالیٰ ہی کو معلوم ہے یا وہ خود جانتے ہیں۔“

جس سے ظاہر ہے کہ میں نے اس بات کا فیصلہ ہرگز نہیں کیا کہ ان کا ارادہ بد تھا۔ بلکہ اس سے آگے یہ مزید وضاحت بھی میری تحریر میں موجود ہے کہ: ”اگر قاضی صاحب کی نیت بخیر ہے تو میری اس وضاحت سے انہیں کوئی نقصان نہ پہنچے گا۔ برعکس اس کے اگر ان کا ارادہ کوئی پیچ ڈالنے کا ہو تو مندرجہ بالا حقائق حق پسندوں کے لئے یقیناً نور ہدایت ثابت ہوں گے۔“

اب قاضی صاحب جو تقویٰ کے مدعی ہیں۔ تقویٰ ہی کے مدنظر سچ سچ بیان دیں کہ کیا ایسی وضاحت چاہنے کے لئے بدظن کی اصطلاح استعمال کرنا جائز ہے؟ لیکن اگر قاضی صاحب اپنے ربوائی تبحرِ علم کے باوجود بھی میری اس سیدھی سادی بات سے مطمئن نہ ہوسکے ہوں تو میں ان سے پوچھتا ہوں کہ انہوں نے میرے سامنے اللہ تعالیٰ کا کلام: ”اجتنبوا کثیراً من الظن“ رکھنے سے پہلے اس بات پر کیوں غور نہیں کیا کہ اس حکم سے پہلے اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد بھی

٥

صفحہ ٣٩٩

موجود ہے کہ: ”یا ایھا الذین آمنوا ان جاءکم فاسق بنباء فتبینوا“ گویا مومنوں کے لئے ضروری ہے کہ فاسق کی ہر بات کی تحقیق کر لیا کریں۔ پس اگر قاضی صاحب بھی خود کو اس حکم کا پابند خیال کرتے ہیں تو ظاہر ہے کہ کسی فاسق سے واسطہ پڑنے کی صورت میں وہ بھی اس سے بالکل اسی طرح وضاحت چاہیں گے جیسا کہ میں نے ان سے طلب کی ہے۔ سو وہ بتائیں کہ کیا اس فاسق کو یہ حق حاصل ہے کہ قاضی صاحب پر بدظنی کا الزام لگا دے؟ اور اگر نہیں تو یقیناً قاضی صاحب نے عدل نہیں کیا۔ کیونکہ جو بات انہوں نے اپنے معاملہ میں ناپسند کی وہی میرے معاملہ میں جائز خیال کر لی تو ایسی صورت میں قاضی صاحب تقویٰ کے معیار سے گر گئے اور یہ تو صاف بات ہے کہ عدل کو مٹانے کے لئے ظلم کی راہ اختیار کرنی پڑتی ہے۔ چنانچہ مجھ پر بدظنی کا الزام تھوپنے کی غرض سے قاضی صاحب نے اس قدر ظلم کیا ہے کہ سیاق و سباق کو حذف کر کے میری ایک عبارت اس طریق سے نقل کر دی ہے کہ جس سے ان کا ناجائز مقصود حاصل ہو جائے۔

پس اللہ تعالیٰ کے حکیم کلام کی صداقت ایک دفعہ پھر ظاہر ہو گئی۔ ”وما يمکرون الا بانفسهم وما يشعرون “ گویا کفار اکابر جو بھی بدتدبیر رسالت الٰہیہ کے خلاف کریں گے وہ ان کی کم عقلی کے باعث انہی کو نقصان دے گی۔

اب چاہئے کہ قاضی صاحب میرے اس فیصلہ پر ٹھنڈے دل سے علیحدگی میں غور کریں اور اگر پسند کریں تو اپنے محکمہ قضا کے کسی قابل اعتماد دوست سے مل کر اس پر تدبر کریں۔ سو اگر ان کی روح شہادت دے کہ یہی فیصلہ برحق ہے اور قاضی صاحب سے خطا سرزد ہوئی تو میرے حکم اور عدل ہونے میں کیا شک باقی رہ گیا؟ پس یقیناً میں ہی وہ موعود مسیح ہوں جس کی خبر قرآن حکیم کی سورۃ یونس کے پانچویں رکوع میں اس طرح دی گئی تھی کہ: ”اذا جاء رسولهم قضی بينهم بالقسط وهم لا يظلمون“ کیونکہ شجرۂ طیبہ کی پہچان صاف صاف اس کے طیب پھل سے ہو گی۔ سبحان ربی العظیم

قاضی صاحب کے ایمان کا امتحان

قاضی محمد نذیر صاحب نے یہ تصدیق کرنے کے بعد کہ درحقیقت ان کا ٢٣؍فروری والا خط اور ١٨؍مارچ کی یاد دہانی ١٩٦٥ء میں ہی لکھی گئی تھی۔ آخر میں پھر اپنے تقویٰ کا یقین اس طرح دلایا ہے کہ: ”میں جھوٹ بول کر آپ کو نیچا دکھانا نہیں چاہتا۔ خدا مجھے ایسے خلاف تقویٰ فعل سے باز رکھے ۔“

اس بیان سے بظاہر تو یہی سمجھا جائے گا کہ قاضی صاحب اللہ تعالیٰ سے ڈرنے والے انسان ہیں اور نہیں چاہتے کہ کسی غلط راہ پر ان کا قدم پڑے۔ سو میں انہیں یقیناً ان کی بھلائی کے

٦

لئے نہایت ہی نیک مشورہ دیتا ہوں۔

قاضی صاحب! یہ تو آپ جانتے ہی ہیں عمر کو پہنچ چکے ہیں۔ پس غور کریں کہ میں نے بہت بڑ کی غرض سے اپنا نبی اور رسول بنا کر بھیجا ہے اور مجھ احادیث نبوی میں دی گئی تھی اور میں گزشتہ چار سال مطابق میں نے وقتاً فوقتاً پیش گوئیاں شائع کیں۔ جن مثال نہیں ملتی۔ پھر مسیح کی بعثت کا نمایاں نشان جو قر یاجوج و ماجوج ہر ایک بلندی پر تیزی سے چڑھتے چلے دیکھا ہے اور یہ کہ آسمان بروج سے بھر جائے گا تو اس فضا میں بھیجے جاتے ہیں وہ بالکل برج کی طرح کے زیر و زبر کر دیا ہے۔ جس سے لاتعداد انسانی جانیں ہلاک نشان امریکہ میں آندھی کا طوفان ہے۔ جس سے ا بعنوان نشرۃ أسماء مورخہ ٣؍اگست ١٩٦٤ء میں شائع کی اموات کے علاوہ ٥ بلین کا مالی نقصان ہوا اور میں نے امریکہ کا پریذیڈنٹ خود موجود تھا اور اس نے یہ فقرہ اس seen such complete

یعنی میں نے ایسی مکمل تباہی اس پریذیڈنٹ جانسن نے اس تباہی کے تین علاقوں ک نیز اس سے قبل ١١؍ستمبر ١٩٦٤ء کو امریکہ کے پ Disaster Area قرار دیا تھا جو میراُت میرے اشتہار ”عذاب شدید کی خبر“ اور ”ایک ک ٢٥؍دسمبر ١٩٦٤ء کو یہ خبر نشر کی گئی کہ ریاستہائے ہوئیں جس سے سترہ ہزار خاندان بے گھر ہو گئے پریذیڈنٹ نے Disaster Area قرار آف انڈیا“ مورخہ ٢٨؍دسمبر ١٩٦٤ء میں ہو چکا۔

صفحہ ٣٩٩

لئے نہایت ہی نیک مشورہ دیتا ہوں۔

قاضی صاحب! یہ تو آپ جانتے ہی ہیں کہ زندگی کا بھروسہ نہیں۔ پھر آپ تو یوں بھی آخری عمر کو پہنچ چکے ہیں۔ پس غور کریں کہ میں نے بہت بڑا دعویٰ کیا ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے مجھے اصلاح خلق کی غرض سے اپنا نبی اور رسول بنا کر بھیجا ہے اور میں وہی موعود مسیح ہوں جس کی خبر انجیل قرآن اور احادیث نبوی میں دی گئی تھی اور میں گزشتہ چار سال سے دنیا کو انذار کرتا چلا آ رہا ہوں اور وحی الٰہی کے مطابق میں نے وقتاً فوقتاً پیش گوئیاں شائع کیں۔ جن کا ظہور اس شان سے ہوا ہے کہ تاریخ میں اس کی مثال نہیں ملتی۔ پھر مسیح کی بعثت کا نمایاں نشان جو قرآن کریم میں اس طرح بتایا گیا تھا کہ اس وقت یاجوج و ماجوج ہر ایک بلندی پر تیزی سے چڑھتے چلے جائیں گے۔ اسے پورا ہوتے آپ نے بچشم خود دیکھا ہے اور یہ کہ آسمان بروج سے بھر جائے گا تو اس کی صحیح شکل ظہور میں آ گئی ہے۔ چنانچہ جو راکٹ فضا میں بھیجے جاتے ہیں وہ بالکل برج کی طرح کے ہوتے ہیں اور زمین کو زلازل اور طوفانوں نے زیر و زبر کر دیا ہے۔ جس سے لاتعداد انسانی جانیں ہلاک ہوچکی ہیں اور اس سلسلہ میں تازہ ہیبت ناک نشان امریکہ میں آندھی کا طوفان ہے۔ جس سے اللہ تعالیٰ کا کلام Disaster جو میرے اشتہار بعنوان نشرۃ السماء مورخہ ٣؍اگست ١٩٦٤ء میں شائع کیا گیا تھا۔ تیسری بار ظہور میں آیا ہے۔ چنانچہ انسانی اموات کے علاوہ ٨ بلین کا مالی نقصان ہوا اور میں نے اس تباہی کی تصویر ٹیلی ویژن پر دیکھی ہے۔ جہاں امریکہ کا پریذیڈنٹ خود موجود تھا اور اس نے یہ فقرہ اس موقع پر کہا کہ: "I have never seen such complete destruction." یعنی میں نے ایسی مکمل تباہی اس سے پہلے کبھی نہ دیکھی تھی اور پھر بتایا گیا کہ پریذیڈنٹ جانسن نے اس تباہی کے تین علاقوں کو Disaster Area قرار دے دیا ہے۔ نیز اس سے قبل ١١؍ستمبر ١٩٦٤ء کو امریکہ کے پریذیڈنٹ نے جارجیا اور فلوریڈا کے علاقوں کو Disaster Area قرار دیا تھا جو تیز آندھی سے تباہ ہوئے تھے اور ان تباہیوں کی تفصیل میرے اشتہار ”عذاب شدید کی خبر“ اور ”ایک کشف“ میں بیان کی جا چکی ہے اور اس کے بعد ٢٥؍دسمبر ١٩٦٤ء کو یہ خبر نشر کی گئی کہ ریاستہائے متحدہ امریکہ میں پانچ ریاستیں سیلاب سے تباہ ہوئیں جس سے سترہ ہزار خاندان بے گھر ہو گئے اور نہایت شدید تباہی والے علاقوں کو امریکہ کے پریذیڈنٹ نے Disaster Area قرار دے دیا اور اس کا ذکر میرے اشتہار بعنوان ”وسط آف انڈیا“ مورخہ ٢٨؍دسمبر ١٩٦٤ء میں ہو چکا ہے۔

صفحہ ٤٠٠

جس سے صاف صاف ثابت ہو گیا کہ جو پیغامات میں لوگوں تک پہنچاتا ہوں، وہ آسمان سے ہی مجھ پر نازل ہوتے ہیں اور اس کے علاوہ میری سچائی کو ظاہر کرنے والا یہ تازہ نشان ہے کہ میں نے اپنے اشتہار بعنوان ”عذاب شدید کی خبر“ مورخہ ٢٨؍ اگست ١٩٦٣ء میں وحی الٰہی ”فاما الذین كفروا فاعذبهم عذاباً شديداً“ درج کر کے اس کے ساتھ ہی اپنا ایک خواب بھی درج کیا تھا کہ: ”اس کے بعد میں نے رؤیا میں دیکھا کہ آسمان سے ایک بندوق چلی جس کی نالی زمین کی طرف نشانہ کر رہی تھی اور ایک وسیع علاقہ میں پانی میں لاتعداد سیاہ کبوتر تھے جن میں سے ان کی بہت بڑی تعداد یکدم ہلاک ہو گئی اور باقی جو مرنے والوں سے زیادہ تھے وہ حرکت کر رہے تھے۔“ اور اس کلام الٰہی اور رؤیا کی حقیقت میں نے اس طرح بیان کی تھی کہ: ”سو اس طرح اللہ تعالیٰ نے پہلے تو اپنے کلام پاک میں مجھے اطلاع دی کہ آسمان پر یہ فیصلہ کیا جا چکا ہے کہ اس کی رسالت کا انکار کرنے والوں کو سخت عذاب دیا جائے گا اور پھر اپنے اس حکم کے نفاذ کی عملی صورت کا نظارہ مجھے دکھایا۔“

یہ کس قدر صاف پیش گوئی تھی جس کا ظہور لفظ بلفظ ویت نام میں ہوا ہے کہ بیشمار جانیں آتشین اسلحہ سے ہلاک ہو چکی ہیں اور اس خطہ ارض میں جہنم ہی کا نظارہ نظر آتا ہے۔ جس سے اقوام عالم تھرا اٹھی ہیں اور ہر قوم اس فکر میں ہے کہ کسی طرح یہ آگ بجھ جائے۔ مگر باوجود ہر قسم کی کوشش کے یہ آگ ہر لمحہ تیز سے تیز تر ہوتی چلی جا رہی ہے۔ پس صاحب بصیرت اگر وحی موصوف اور اس رؤیا کو ایک طرف رکھے جو ”عذاب شدید کی خبر“ میں بیان کی گئی تھی اور دوسرے طرف ویت نام کے ہلاکت کے منظر پر نظر کرے تو ہرگز ممکن نہیں کہ اس کی روح چلا نہ اٹھے کہ اس ہولناک تباہی کا نقشہ صحیح صحیح اللہ تعالیٰ نے اپنی وحی اور اس رؤیا میں کھینچا تھا جو اس نے اپنے مرسل کو قبل از وقت دکھا دی تھی۔

پس اے قاضی صاحب! اب قضا کا حق اپنے نفس سے ادا کریں اور اپنی ضمیر کی آواز کو سنیں اور پھر بتائیں کہ جس انسان کو اللہ تعالیٰ ایسی واضح خبریں بار بار دے کر بڑی شان سے ان کو پورا کرتا ہے۔ اس کے رسول اللہ ہونے میں کیا شک ہو سکتا ہے؟ ورنہ کلام الٰہی ”فلا یظهر علی غیبه احداً الا من ارتضیٰ من الرسول“ کا کوئی اور مفہوم بیان کریں اور واضح ہو کہ میری صداقت کی شہادت دنیا کے ہر حصہ سے مہیا ہو سکتی ہے۔ کیونکہ جن اردو اشتہارات میں ان پیش گوئیوں کا ذکر ہے جو اوپر بیان کی جا چکی ہیں ان کے علاوہ میرے انگریزی اعلانات بھی اسی سلسلہ میں شائع ہو کر مختلف ممالک میں بھیجے گئے تھے۔ مثلاً Another Alarming vision اور Disaster a vision ، West of India news جن میں وحی الہی کا ٨

ترجمہ انگریزی میں کر کے قبل از وقت وہ خبر دی گئی اور اس سے بڑھ کر یہ امر ہے کہ میرے ان

”انا اوحينا اليك كما اوح یعنی ہم نے تجھ پر بالکل اسی طر کی تھی اور اس رسول پر کی تھی جو خاتم النبیین کرنے والی ذات وہی ہے جس نے جمیع ان اس کے عہد کا واضح ثبوت بھی کئی رنگوں میں اشتہار وسط آف انڈیا مورخہ ٢٨؍ دسمبر ١٩٦٢ ساتھ ہی وحی الہی ایسا عظیم الشان نشان کے قریب وقت میں ظاہر ہو بعد یعنی ٣٠؍ جنوری کو سر ونسٹن چرچل کا ما میرے رسالہ اردو بعنوان ٣٠؍ جنوری میں میں بیان کی جا چکی ہے کہ اس عظیم ماتم سے سال پیشتر اسرائیلی مسیح پر نازل فرمایا تھا ک وقت زمین کی سب قومیں چھاتی پیٹیں گی ا بادلوں پر آتے دیکھیں گی۔“

گویا موعود مسیح کا نشان کلام کے مطابق زمین کی سب قومیں ماتم کر آسمان ہی سے بھیجا گیا ہے۔ چنانچہ مسٹر حکومتوں کے نمائندگان اکٹھے ہوئے ج کھلی کھلی شہادت دی کہ جس غالب خد نازل فرمائے گا۔ اس نے اپنے عہد میر

اور اے قاضی صاحب! ج الشان نشانات میری اس پکار کے بع بعنوان ”سب سے بڑا ظالم کون ہے“ نے یہ افتراء تیری ذات پر کیا ہے تو

صفحہ ٤٠١

ترجمہ انگریزی میں کر کے قبل از وقت وہ خبریں دی گئیں اور پھر ان کے ظہور کی تفصیل بھی بیان کی گئی اور اس سے بڑھ کر یہ امر ہے کہ میرے ابتدائی اعلان میں ہی اللہ تعالیٰ کا کلام یوں درج ہوا: "انا اوحينا اليك كما اوحينا الى عيسى وموسى والنبيين" یعنی ہم نے تجھ پر بالکل اسی طرح اپنی وحی نازل کی ہے۔ جیسا کہ عیسیٰ اور موسیٰ پر نازل کی تھی اور اس رسول پر کی تھی جو خاتم النبیین کہلایا۔ جس سے یہ ظاہر کرنا مقصود تھا کہ مجھ سے کلام کرنے والی ذات وہی ہے جس نے جمیع انبیائے کرام سے خطاب فرمایا تھا اور اس کے فعل نے اس کے عہد کا واضح ثبوت بھی کئی رنگوں میں مہیا کیا۔ جس کی ایک عجیب مثال یہ ہے کہ میرے اشتہار وائس آف انڈیا مورخہ ٢٨؍دسمبر ١٩٦٤ء میں اللہ تعالیٰ کا کلام ٣٠؍جنوری شائع ہوا۔ جس کے ساتھ ہی وحی الٰہی الرعب تنزل منہ فتحاً قريباً عظيماً بھی درج کی گئی جس میں اس عظیم الشان نشان کے قریب وقت میں ظاہر ہونے کی خبر صاف صاف دی گئی تھی۔ چنانچہ اس کے جلد ہی بعد یعنی ٣٠؍جنوری کو سر ونسٹن چرچل کا ماتم منایا گیا جو ایک غیر معمولی ماتم تھا اور جس کی تفصیل میرے رسالہ اردو بعنوان ٣٠؍جنوری میں اور انگریزی اشتہار : "30th of January" میں بیان کی جا چکی ہے کہ اس عظیم ماتم سے اللہ تعالیٰ کا وہ وعدہ پورا ہوا جو اس نے آج سے دو ہزار سال پیشتر اسرائیلی مسیح پر نازل فرمایا تھا کہ: ”اس وقت ابن آدم کا نشان آسمان پر ظاہر ہوگا اور اس وقت زمین کی سب قومیں چھاتی پیٹیں گی اور ابن آدم کو بڑی قدرت اور جلال کے ساتھ آسمان کے بادلوں پر آتے دیکھیں گی۔“

گویا موعود مسیح کا نشان کلام الٰہی سے ملے گا جو آسمان ہی سے آتا ہے اور پھر اسی کلام کے مطابق زمین کی سب قومیں ماتم کریں گی۔ جس سے اس موعود کی صداقت ظاہر ہوگی کہ اسے آسمان ہی سے بھیجا گیا ہے۔ چنانچہ مسٹر چرچل کے ماتم میں اقوام عالم کے شاہان اور شہزادگان نیز حکومتوں کے نمائندگان اکٹھے ہوئے جنہوں نے مل کر ماتم کیا اور اپنے عمل سے میری صداقت پر کھلی کھلی شہادت دی کہ جس غالب خدا نے دو ہزار برس پیشتر وعدہ دیا تھا کہ وہ دوبارہ ابن آدم کو نازل فرمائے گا۔ اس نے اپنا عہد میرے وجود میں پورا کر دکھایا۔ سبحان ربی الاعلیٰ

اور اے قاضی صاحب! خشیت اللہ کو دل میں لے کر یہ بھی سوچیں کہ اس قدر عظیم الشان نشانات میری اس پکار کے بعد ظاہر ہوئے جو میں نے ٢٧؍اگست ١٩٦٤ء کو اپنے رسالہ بعنوان ”سب سے بڑا ظالم کون ہے“ میں ان الفاظ میں اس قہار و جبار کے حضور کی تھی کہ اگر میں نے یہ افتراء تیری ذات پر کیا ہے تو اے علیم و خبیر ذات جس سے کوئی بات پوشیدہ نہیں تو اس ٩

صفحہ ٤٠٤

سارے کاروبار کو تباہ و برباد کر دے اور اس کا نام ونشان نہ چھوڑتا ، تیری مخلوق گمراہی سے بچ جائے۔ لیکن اے میرے محسن و مہربان رب! اگر تو نے ہی مجھے فرمایا کہ:

تجھ کو ساری دنیا کا امام بناتا ہوں

اور تو نے ہی مجھے اپنا نبی اور رسول قرار دیا ہے اور تو نے ہی میرا نام مسیح رکھا ہے اور تین سال سے زیادہ عرصہ سے تو ہی میری صداقت ظاہر کرنے کے لئے آسمان سے قہری نشانات ظاہر کر رہا ہے۔ تو اے قہار و جبار اور غالب آقا تو ان ظالموں کے گھروں پر آگ برسا جو تیرے راست باز نبی و رسول پر بہتان باندھتے ہیں اور ایسے کذاب کا نام و نشان مٹا دے اور ایسے نمایاں قہری نشانات ظاہر فرما کہ جس سے ان نیک لوگوں کی آنکھیں کھلیں جن کے دل ماحول کے بد اثرات سے زنگ آلود ہو چکے ہیں۔ تا زمین کے چپہ چپہ پر تیری ہی بادشاہت قائم ہو اور یہ دنیا راست بازوں سے بھر جائے۔ جو ہر آن تیرے ہی آستانہ پر پڑے رہیں۔ اے مالک! تیری ہی توحید غالب ہو۔ اللہم آمین ثم آمین

اور اس کے بعد میں نے رسالہ عصمۃ النبی میں اللہ تعالیٰ کا کلام: ”فقد لبثت فیکم عمراً من قبلہٖ افلا تعقلون“ اور ”یا ایھا الذین آمنوا ان جاءکم فاسق بنبأ فتبینوا“ درج کر کے آپ لوگوں کو چیلنج کیا کہ میری پچیس سالہ زندگی جو آپ لوگوں میں گزری اس میں کوئی خفیف سے خفیف غلط بیانی ثابت کریں جو میں نے کی ہو اور ساتھ ہی یہ بھی لکھا کہ یہی معیار صداقت ہے کہ جو قرآن حکیم نے پیش کیا ہے اور اسے حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کی راست بازی کی زبردست دلیل ٹھہرایا ہے۔ پس میری دعا جو اوپر نقل کی گئی ہے۔ بالکل وہی ہے جو حضرت مہدی نے اپنی ایک فارسی نظم میں کی تھی جس کا پہلا مصرعہ یہ ہے کہ:

اے قدیر و خالق ارض و سما

اور آپ لوگ اسے مہدی کی صداقت کا سب سے بڑا ثبوت قرار دیتے ہیں۔ پس عدل کا تقاضا یہی ہے کہ آپ شرح صدر سے مجھ پر ایمان لے آئیں۔ ورنہ آپ لوگ مہدی کے بھی منکر ہیں۔ پھر جب کہ حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کی راست بازی کا نشان یہ ہے کہ آپ کے دعویٰ سے پہلے کی زندگی میں آپ کی سچائی پر کوئی شخص حرف نہ رکھ سکا تو یہی چیلنج جب کہ میری طرف سے بھی آپ لوگوں کو رسالہ ”عصمۃ النبی“ میں پیش کیا جا چکا ہے جو یکم/ فروری ١٩٦٥ء کو شائع ہوا۔ گویا ڈھائی ماہ سے زیادہ عرصہ اس پر گزر چکا۔ مگر آج تک آپ لوگوں میں سے ایک فرد

١٠

صفحہ ٤٠٣

بھی ایسا نہیں اٹھا جو میرے دعوٰی سے پہلے زندگی میں میری کوئی خفیف سے خفیف غلط بیانی ہی ثابت کر سکے تو ظاہر ہے کہ اس صورت میں میرا انکار حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کا انکار ہے۔ لہٰذا جمیع انبیائے کرام علیہم السلام کا انکار ہے۔ رہیں آپ لوگوں کی فاسقانہ چالیں سو ہر کذاب جو مقابل پر آیا اس نے اپنا عبرت ناک انجام خود دیکھ لیا ہے۔ جس پر ہزار ہا انسان شاہد ہیں اور آئندہ کے لئے میری یہ پیش گوئی رسالہ عصمت النبی میں موجود ہے کہ : ”مگر اے فاسقو! جو جھوٹی خبریں اڑا کر اللہ کی راہ میں روک بننا چاہتے ہو۔ سن رکھو کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے وعدہ دیا ہے کہ ”والله یعصمک من الناس“ پس اگر ساری دنیا کی طاقتیں مل کر بھی زور لگائیں تو آسمانی ارادوں میں ذرہ بھر بھی خارج نہ ہو سکیں گی۔ اس کی رسالت ضرور ضرور غالب آئے گی اور ساری زمین پر آسمانی حکومت قائم ہوگی۔“ اب بتائیے قاضی صاحب ! ”فبأی حدیث بعده تؤمنون“

وادیٔ ظلمات

قاضی صاحب نے میرے رسالہ ”وادیٔ طلسمات“ کا نام ”وادیٔ ظلمات“ لکھ دیا ہے۔ چنانچہ اس امر کا ذکر اوپر ہو چکا ہے۔ وہ ضرور یہی کہیں گے کہ اس کا سبب لغزش قلم ہوا ہے۔ مگر میں انہیں ایک معرفت کی بات بتاتا ہوں کہ بسا اوقات ایسے امور اس حکیم ذات کے خاص تصرف کے ماتحت ظہور میں آتے ہیں۔ پس درحقیقت فطرت صحیحہ انسان کے قلب پر بار بار ٹھوکر مارتی ہے اور یہ تو ظاہر ہی ہے کہ ہر قلبی کیفیت انسان کے دماغ کو متاثر کرتی ہے۔ پس گو قاضی صاحب کا نفس تکلف سے غیر طبعی رجحان اختیار کر لے ۔ مگر اس کی ذرہ سی غفلت سے حقیقت پھسل کر باہر آجائے گی اور دراصل یہی صورت اس موقع پر بھی ان سے پیش آئی ہے اور اب ہم اسی اجمال کی تفصیل بیان کرتے ہیں۔

گذشتہ آٹھ سال سے میری تحریرات میں یہ افسوسناک واقعہ بیان کیا جاتا رہا ہے کہ مارچ ١٩٥٧ء میں اللہ تعالیٰ کی خاص تائید سے میرے ہاتھوں سے کتاب ”حقیقت آزادی“ لکھی گئی۔ جس میں انسان کو اس کے مقصود حقیقی کی طرف متوجہ کیا گیا۔ تا وہ مادی الجھنوں کی قید سے آزاد ہو کر صعود الی اللہ کرنے لگے۔ مگر چونکہ یہ امر مذہبی سیاستدانوں کے کھیل کو بگاڑنے والا تھا۔ لہٰذا مرزا بشیر الدین خلیفہ ربوہ اس لاجواب بیان کو پڑھ کر اس قدر مغلوب الغضب ہوا کہ اس نے اپنے پرائیویٹ سیکرٹری کے ذریعہ روزنامہ الفضل مورخہ ٧/ جون ١٩٥٧ء کی اشاعت میں میری شہرت کو خراب کرنے کے لئے ایک نہایت ہی نامعقول بیان شائع کروا دیا کہ: ”گویا جب میں قادیان میں تھا تو میں نے (نعوذ باللہ ) اسلام کے خلاف کئی تقریریں کی تھیں اور رسول اللہ ﷺ کی ہتک کی تھی۔“

١١

صفحہ ٤٠٤

اور کہ اس سبب سے مجھے جماعت سے بلکہ قادیان سے بھی نکال دیا گیا تھا۔ قاضی صاحب! غور کیجئے کہ جو شخص اسلام کے خلاف تقریریں کرے گا۔ ظاہر ہے کہ وہ اسلام کو ترک کر چکا ہے اور کوئی اور دین اس نے اختیار کر لیا ہے۔ پس جب کہ آپ کے خلیفہ صاحب کے کہنے کے مطابق میں نے کئی تقریروں میں (نعوذ باللہ) اسلام کو ترک کر دینے کا اعلان کر دیا تھا تو لازماً اس میں یہ بات بھی شامل تھی کہ میں آپ کی جماعت سے علیحدہ ہو چکا تھا۔ اب خوب سوچ کر جواب دیجئے کہ اس کے بعد آپ کے خلیفہ صاحب کا مجھے اپنی جماعت سے علیحدہ کرنے کا مفہوم کیا سمجھا جائے؟ اندریں حالات آپ خود ہی فیصلہ دیں کہ جو بیان آپ کے خلیفہ صاحب نے میرے متعلق روزنامہ الفضل مورخہ ٧؍ جون ١٩٥٧ء میں شائع کروایا تھا۔ اس کے مطابق انہیں مخبوط الحواس سمجھا جائے یا کذاب؟ کیونکہ اس کے سوائے کوئی اور تیسری صورت ممکن نہیں۔ آپ قاضی کہلاتے ہیں۔ سو ان دو میں سے جو فیصلہ بھی آپ دیں گے ہم پختہ عہد کرتے ہیں کہ ہمیں اس پر کوئی عذر نہ ہوگا۔ بلکہ ہم اسے یقیناً خوشی خوشی قبول کر لیں گے۔ باقی رہا یہ سوال کہ خلیفہ صاحب کے قول کے مطابق انہوں نے جبراً مجھے قادیان سے نکالا تھا تو اس کی ضرورت انہیں کیوں پیش آگئی؟ ظاہر ہے کہ معاذ اللہ اسلام کو ترک کر دینے کے بعد مجھے قادیان کے ماحول سے کوئی دلچسپی نہ ہو سکتی تھی۔ کیونکہ یہ تو سیدھی سادی بات ہے کہ ہر شخص ایسی ہی فضا میں رہنا پسند کرتا ہے جہاں اس کے ہم خیال لوگ ہوں۔ چنانچہ آپ کے خلیفہ نے بھی اسی غرض سے پاکستان میں ایک شوریلی زمین ہی کو قبول کر کے ربوہ کی بستی بسائی تھی۔ پس اگر میں نے اسلام کو ترک کر کے کوئی اور دین اختیار کر لیا تھا تو مجھے خود ہی قادیان کو چھوڑ کر ان لوگوں کے پاس چلا جانا چاہئے تھا۔ جن کا دین میں نے قبول کیا تھا تو یقیناً یہ بعید از قیاس امر ہے کہ خلیفہ صاحب کو مجھے قادیان سے نکالنے کے لئے جبر سے کام لینے کی ضرورت تھی۔ بایں ہمہ اگر بفرض محال کوئی ایسی وجہ تھی کہ میں نے قادیان میں ہی رہنا پسند کیا تھا تو محض دینی اختلاف کی بناء پر آپ کے خلیفہ کا مجھے جبراً وہاں سے نکالنا سراسر ظالمانہ فعل تھا۔ لیکن قاضی صاحب! اگر اس خیال سے کہ جو کچھ بھی آپ کا خلیفہ کرے آپ کو اس پر آمنا و صدقنا کہنا چاہئے۔ آپ اس فعل کو جائز بلکہ مستحسن یقین کریں تو پھر کیوں نہ پاکستان کے لوگ احمدیوں کو جبراً ملک بدر کر دیں؟ جب کہ وہ انہیں بے دین اور مرتد قرار دیتے ہیں۔ قاضی صاحب! انصاف کیجئے۔

اور اس کے بعد میں آپ سے یہ سوال بھی پوچھنا چاہتا ہوں کہ قادیان میں جب میں اسلام کے خلاف تقریریں کیا کرتا تھا تو وہ کہاں کیا کرتا تھا؟ اور اپنی تقریر کرنے کے لئے سامعین کو

١٢

کیونکر اکٹھا کرتا تھا؟ قاضی صاحب! آپ آ بھی آپ وہیں تھے جب میرا بائیکاٹ کیا گیا کے نظام کی اجازت کے ممکن تھا؟ اگر نہیں لیکن اگر یہ فرض کر لیا جائے کہ لوگ نظام کو تو تو اس میں خلیفہ صاحب کو کیا اعتراض ہو سکتا ہیں کہ آپ ساری دنیا پر چھا گئے ہیں اور کیا عجیب بات نہیں کہ آپ کے خلیفہ صاحب قادیان میں رہا تو سب احمدی اس کی تقریر قادیان سے نکالنے کی ضرورت ہی کیا تھی؟

حقیقت حال

اور اس کے بعد میں اس حقیق قادیان میں کس مبحث پر تقریریں کی تھیں کرنے کی ضرورت پیش آئی۔ اللہ واحد اس کی لعنت ہوتی ہے کہ جب تک میں قا تک کہ میرا بائیکاٹ کر دیا گیا۔ سو اس کے لوگوں کو بلند آواز سے اللہ اور رسول کے ہے وہ قرآن کے حکم کے خلاف ہے۔ عمل اس کے مطابق نہیں۔ چنانچہ جب عمر رسیدہ خاتون نے مجھے پیغام بھیجا کہ پیالہ بھر کر تمہیں بھیجوں۔ مگر ڈرتی ہوں کریں گے۔ جو تم سے کر رہے ہیں۔ ب مجھے دودھ کی ضرورت نہیں۔ آپ دعا

پس یہ ہیں اصل حالات (نعوذ باللہ) میں نے قادیان میں اس کی تھی۔ تو یہ کس قدر اندھیر نگری ہے عقل بیانات کو بغیر سوچے سمجھے تسلیم

صفحہ ٤٠٥

کیونکر اکٹھا کرتا تھا؟ قاضی صاحب! آپ ایک لمبا عرصہ قادیان میں رہے ہیں اور غالباً ان دنوں بھی آپ وہیں تھے جب میرا بائیکاٹ کیا گیا تھا تو بتائیے کہ کیا قادیان میں کوئی اجتماع بغیر وہاں کے نظام کی اجازت کے ممکن تھا؟ اگر نہیں اور یقیناً نہیں تو پھر میں اپنی تقریریں کس کو سناتا تھا؟ لیکن اگر یہ فرض کر لیا جائے کہ لوگ نظام کو توڑ کر میری تقریریں سننے کے لئے کہیں جمع ہو جاتے تھے تو اس میں خلیفہ صاحب کو کیا اعتراض ہو سکتا تھا؟ حیرت ہے کہ آپ لوگ بلند بانگ دعاوی کرتے ہیں کہ آپ ساری دنیا پر چھا گئے ہیں اور کہ ہر ملک میں آپ لوگوں کو احمدی بنا رہے ہیں۔ تو کیا یہ عجیب بات نہیں کہ آپ کے خلیفہ صاحب اکیلے خواجہ محمد اسماعیل سے اس قدر خائف تھے کہ اگر وہ قادیان میں رہا تو سب احمدی اس کی تقریریں سن کر اس کے ہم خیال ہو جائیں گے؟ ورنہ اسے قادیان سے نکالنے کی ضرورت ہی کیا تھی؟

حقیقت حال

اور اس کے بعد میں اس حقیقت کو واضح کرتا ہوں کہ قطع نظر اس سے کہ میں نے قادیان میں کس مبحث پر تقریریں کی تھیں جس کی بناء پر خلیفہ صاحب کو مجھے جماعت سے علیحدہ کرنے کی ضرورت پیش آئی۔ اللہ واحد قہار گواہ ہے جو سینے کے بھیدوں کو جانتا ہے اور جھوٹوں پر اس کی لعنت ہوتی ہے کہ جب تک میں قادیان میں رہا میں نے ہرگز ہرگز کوئی تقریر نہیں کی۔ یہاں تک کہ میرا بائیکاٹ کر دیا گیا۔ سو اس کے بعد شام کے وقت میں اپنے گھر کے صحن میں پڑوس کے لوگوں کو بلند آواز سے اللہ اور رسول کے احکام بتاتا تھا اور کہتا تھا کہ جو طریق انہوں نے اختیار کیا ہے وہ قرآن کے حکم کے خلاف ہے۔ اور حضرت مہدی نے جو تعلیم آپ لوگوں کو دی تھی آپ کا عمل اس کے مطابق نہیں۔ چنانچہ جیسا کہ میرے رسالہ الحکم میں بیان ہو چکا ہے۔ پڑوس کی ایک عمر رسیدہ خاتون نے مجھے پیغام بھیجا کہ جب میں تمہارا کلام سنتی ہوں تو دل چاہتا ہے کہ دودھ کا پیالہ بھر کر تمہیں بھیجوں۔ مگر ڈرتی ہوں کہ ایسا کرنے سے یہ ظالم لوگ مجھ سے بھی ایسا ہی سلوک کریں گے۔ جو تم سے کر رہے ہیں۔ میں نے اس کے جواب میں شکریہ ادا کر کے یہ پیغام بھیجا کہ مجھے دودھ کی ضرورت نہیں۔ آپ دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو ہدایت دے دے۔

پس یہ ہیں اصل حالات اور کذاب خلیفہ ربوہ نے مجھ پر سراسر بہتان باندھا ہے کہ (نعوذ باللہ) میں نے قادیان میں اسلام کے خلاف کئی تقریریں کی تھیں اور رسول اللہ ﷺ کی ہتک کی تھی۔ تو یہ کس قدر اندھیر نگری ہے کہ ربوائی جاہل قوم کے لوگ اپنے خلیفہ کے ایسے لغو اور خلاف عقل بیانات کو بغیر سوچے سمجھے تسلیم کر لیتے ہیں۔ پس حقیقت الامر یہی ہے کہ اسی اندھیر نگری کا

١٣٠

صفحہ ٤٠٦

تصور قاضی محمد نذیر لائل پوری صاحب کے ذہن کو ہر وقت پریشان رکھتا ہے۔ جس کے نتیجہ میں ان کی قلم نے لغزش کھا کر میرے رسالہ کا نام بجائے ”وادی طلسمات“ کے ”وادی ظلمات“ لکھ دیا ہے اور ان کے تحت الشعور میں ہر لمحہ یہ صداقت ابھرتی رہتی ہے کہ وہ وادی ظلمات میں بری طرح اسیر ہیں۔ سو ان کی اس نہایت ہی قابل رحم حالت کے مدنظر میں انہیں صراط مستقیم کی طرف بلاتا ہوں۔ قاضی صاحب ! ”یقین کریں کہ میں ہی وہ موعود مسیح ہوں جس کے متعلق حضرت مہدی کو اللہ تعالیٰ نے اپنی وحی میں خبر دی تھی کہ وہ آکر اسیروں کی رستگاری کا موجب ہوگا ۔“ پس اگر آپ اس خوفناک ظلمت سے نجات کے خواہاں ہیں تو اللہ تعالیٰ پر کامل توکل کر کے اس کے مرسل کا ہاتھ تھام لیجئے۔ جونہی کہ آپ میری ہدایت پر عمل کریں گے آپ خود کو نورانی فضا میں پائیں گے اور ہر غم سے آپ کا چھٹکارا ہو جائے گا۔

شہادات

قاضی صاحب نے میرے صرف یہ دریافت کرنے پر کہ ان کے خطوں میں تاریخوں کی غلطی کیوں ہے۔ مجھ پر بدظنی کا الزام لگا دیا جس کی تردید اوپر کی جاچکی ہے۔ پس چاہئے کہ وہ غور کریں کہ ان کے خلیفہ نے میری ذات پر کس قدر خطرناک افتراء کیا ہے۔ سو میرے لئے یہ کس قدر دکھ کا باعث ہے۔ چونکہ قاضی صاحب نے تقویٰ کا دعویٰ کیا ہے۔ لہٰذا میں ان کو تقویٰ ہی کا واسطہ دے کر حسب ذیل شہادات پیش کرتا ہوں۔ وہ ان سے مؤکد بعذاب قسم کے ماتحت شہادت لے کر حق گوئی کریں۔

ایک سائل نے خلیفہ کے چھوٹے بھائی مرزا بشیر احمد سے استفسار کیا تھا جس کے جواب میں مرزا بشیر احمد نے چٹھی نمبر ١٧٥ مورخہ ١٨؍ جولائی ١٩٦٢ء لکھی جس میں سراسر مکر وفریب سے کام لیا۔ چنانچہ اسی چٹھی کا کچھ اقتباس میں نے اپنے رسالہ الحکم میں درج کر کے اصل حقیقت ظاہر کی تھی۔ مگر اس چٹھی کے آخر میں یہ بیان بھی درج تھا کہ : ”بہر حال آپ کو مولانا جلال الدین صاحب مناسب جواب دیں گے ۔“ سو مولوی جلال الدین صاحب بتائیں کہ انہوں نے سائل کو خط اس کے بعد لکھا؟ اگر نہیں تو اس کا سبب کیا ہوا؟

ریکارڈ دیکھ کر بتائیں کہ کیا سائل موصوف کو ٩؍ اگست کو کوئی چٹھی اس سلسلہ میں لکھی گئی تھی؟ اگر جواب مثبت میں ہو تو بتائیں کہ اس میں کیا بیان درج ہوا تھا؟ نیز یہ کہ کیا اس کے آخر میں یہ وعدہ

١٤

صفحہ ٤٠٨

بھی کیا گیا تھا کہ مکمل جواب بعد میں دیا جائے گا؟ اگر یہ ٹھیک ہے تو کیا آپ نے کوئی مکمل جواب اس کے بعد بھیجا تھا؟ اور اگر نہیں تو کیوں؟

تو کیا آپ ان دنوں ناظر امور عامہ تھے؟ اور کیا آپ ہی نے میرے بائیکاٹ کا اعلان کیا تھا؟ اگر یہ صحیح ہے تو بتائیے کہ میرے بائیکاٹ کا سبب آپ نے کیا بتایا تھا؟ اور کیا یہ صحیح نہیں کہ آپ نے میرے بائیکاٹ کے اعلان میں اس کا سبب ”اتحاد عالمین“ بتایا تھا جو میرا ایک رسالہ تھا جس میں میں نے مذاہب اور اقوام عالم کو آپس میں محبت اور اتحاد کی تحریک کی تھی؟ نیز یہ بھی بتائیں کہ کیا یہ صحیح نہیں کہ آپ نے میری یہ کتاب اپنے دفتر میں دیکھ کر یہ کہا تھا کہ یہ تو سلسلہ کی خدمت آپ کر رہے ہیں۔ ہم اس میں آپ کی مدد کریں گے اور آپ کے اسسٹنٹ شیخ یوسف علی نے جب آپ کی بات کو ٹوکا تو آپ نے اسے بلند آواز سے کہا کہ:

"No, I finally decide it."

لیکن اس کے کچھ عرصہ بعد جب آپ میرے مکان پر مولوی ابو العطاء کے ہمراہ آئے تو آپ نے مجھے اس رسالہ کی اشاعت سے منع کیا اور جب میں نے آپ کو یاد دلایا کہ آپ نے تو اسے سلسلہ کی خدمت قرار دیا تھا تو آپ نے صاف جھوٹ بول دیا کہ گویا ایسی کوئی بات ہوئی ہی نہیں اور یہ بھی بتائیں کہ کیا میرے بائیکاٹ کا سبب اسلام کے خلاف تقریریں اور آنحضرت ﷺ کی ہتک بھی تھا؟

آپ سید زین العابدین ولی اللہ شاہ صاحب کے ہمراہ میرے مکان پر آئے تھے اور آپ لوگوں نے مجھے ”اتحاد عالمین“ کی اشاعت سے روکا تھا؟

بعد آپ کے سلسلہ نے مجھ پر ایک مقدمہ بٹالہ کی عدالت میں کیا تھا؟ اور کہ اس مقدمہ کے دوران میں ایک پیشی قادیان کے سمال ٹاؤن کمیٹی کے دفتر میں ہوئی تھی؟ جس میں آپ بطور گواہ پیش ہوئے تھے؟ اور کیا یہ ٹھیک ہے کہ وکیل ملزمان نے آپ پر جرح کی تھی اور اس میں آپ نے سوال کیا تھا کہ آپ کے پاس کوئی ایسا کاغذ ہے جس پر آپ نے نوٹ کئے ہوئے ہیں؟ جس کا جواب آپ نے پہلے تو یہ دیا کہ میرے پاس ایسا کاغذ کاہے کو ہونے لگا؟ مگر جب وکیل نے آپ کو ڈانٹ کر کہا کہ بتاؤ کہ تمہارے پاس کوئی ایسا کاغذ ہے کہ نہیں تو آپ نے اقرار کیا کہ ہاں ہے اور پھر

١٥

صفحہ ٤٠٨

آپ نے وہ کاغذ اپنے جیب سے نکالا جس کے ساتھ ہی آپ کے منہ کے پٹھے کھنچ گئے اور آپ یکدم بیہوش ہو کر زمین پر گر پڑے اور آپ کو ایک چارپائی پر ڈالا گیا۔ جس کے کچھ عرصہ بعد آپ کو ہوش آئی؟ اور کیا آپ کو معلوم ہے کہ میرا بائیکاٹ کیوں کیا گیا تھا؟

پریذیڈنٹ تھے۔ (جہاں میری رہائش تھی) جب کہ میرا بائیکاٹ کیا گیا تھا اور کیا آپ بتا سکتے ہیں کہ میرے بائیکاٹ کا سبب کیا بتایا گیا تھا؟

ہی تھے۔ جب کہ میرا بائیکاٹ کیا گیا تھا؟ کیا آپ اللہ سے ڈر کر سچ سچ بتا سکتے ہیں کہ میرے بائیکاٹ کا سبب کیا ہوا تھا؟ اور کیا یہ صحیح نہیں کہ آپ کے ابا جان نے مجھ پر یہ سراسر افتراء کیا تھا کہ میں نے اسلام کے خلاف کئی تقریریں کی تھیں اور آنحضرت ﷺ کی ہتک کی تھی؟ اس جگہ فصل دوم ختم ہوئی۔ النبی خواجہ محمد اسماعیل (المسیح الموعود )،لندن مورخہ ٢٠؍ اپریل ١٩٦٥ء

”اعوذ بالله من الشیطن الرجیم ٠ بسم الله الرحمن الرحیم“

سلسلہ الہیہ کی غرض

رسالت الہیہ کا انحصار روح القدس پر ہے جس کا مقصد محض مردہ روح انسانی کو زندہ کرنا ہے۔ پس تمام وہ لوگ جو جماعت السابقون میں شامل ہیں۔ ان پر واضح ہو کہ ملازمت میں بڑے عہدہ کی خواہش اموال کی کثرت کی آرزو، جائیدادوں کے حصول کی سعی اور سیاسی قیادت کی ہوس، یہ سب ایسے امور ہیں جن سے میں تمہیں منع کرتا ہوں اور اگر پوچھو کہ پھر تمہیں کیا کرنا چاہئے؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ صرف حصول تقویٰ اور ترغیب تقویٰ، تمہارا آغاز بھی یہی ہے اور اسی پر تمہارا انجام ہونا چاہئے۔ پس اگر کسی کے دل کی تہہ میں اس کے سوائے کچھ اور ہے تو اسے چاہئے کہ فوراً السابقون سے علیحدہ ہو جائے۔ ورنہ وہ منافق ہے اور ہمارا سب سے بڑا دشمن۔

یہی ہدایت ان لوگوں کے لئے ہے جو اللہ تعالیٰ کی مقدس جماعت میں شامل ہونا چاہئیں۔ سوا اگر ان کی روح گواہی دے کہ وہ معیار مذکور پر پورے اتر سکتے ہیں تو ضرور اس آسمانی جہاد میں شامل ہوں کہ اس سے بڑا انعام اللہ تعالیٰ کی طرف سے اور کوئی نہیں۔ بصورت دیگر جو بھی یہ قدم اٹھائے گا۔ وہ سخت خطرہ میں ہے۔ کیونکہ سب سے بڑی سزا منافق کے لئے ہے۔ پس نہ دھوکہ دو اور نہ دھوکہ کھاؤ۔ النبی خواجہ محمد اسماعیل (المسیح الموعود )،لندن مورخہ ١٦؍ اپریل ١٩٦٥ء

١٦

خلیفہ ربوہ

عدالت

عدالت

جناب محمد صا

PDF 410

انا خاتم النبیین لا نبی بعدی

میں آخری نبی ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں

خلیفہ ربوہ کے دو مذہب

عدالت سے باہر

اور

عدالت کے اندر

جناب محمد صالح نور سابق قادیانی

صفحہ ٤١٠

برادران اسلام !

احمدیہ تحریک کے متعلق عامتہ المسلمین میں گونا گوں غلط فہمیاں پائی جاتی ہیں۔ ہمارے مسلمان بھائی مرزا غلام احمد قادیانی کی تعلیم اور عقائد کا اندازہ موجودہ جماعت احمدیہ ربوہ کے مخترعانہ اعتقادات سے لگاتے ہیں جو ایک خطرناک غلطی ہے۔ دراصل ١٩١٤ء میں مولانا حکیم نورالدین صاحب کی وفات کے بعد ایک ایسا گروہ پیدا ہو گیا جس نے پیر پرستی کے رجحان کو فروغ دیتے ہوئے اپنے عقائد کی پونجی کو مرزا قادیانی کے صاحبزادہ مرزا محمود احمد کے دامن میں ڈال دیا اور ان کا ساختہ پرداختہ ہی جماعت کے اس حصہ کا ایمان ہو گیا اور انہوں نے مرزا غلام احمد قادیانی کی اصل اسلامی تعلیم کو پس پشت ڈالتے ہوئے چند ایسے خلاف اسلام عقائد کی نیو ڈالی۔ جس سے وہی مسلمان جو مرزا قادیانی کو اسلام کا پہلوان یقین کرتے تھے وہی ان نئے نویلے اعتقادات کی وجہ سے احمدیہ تحریک کو شک و شبہ اور نفرت و حقارت کی نظر سے دیکھنے لگ گئے۔ اس گروہ کے متعلق جو اب جماعت احمدیہ ربوہ کہلاتا ہے۔ مرزا قادیانی کو قبل از وقت خدا تعالیٰ نے بتلا دیا تھا کہ یہ ضرور اس قسم کی دیوانہ جرات سے کام لیں گے۔ حضور فرماتے ہیں : ”پھر اس کے بعد الہام کیا گیا کہ ان علماء نے میرے گھر کو بدل ڈالا۔ میری عبادت گاہ میں ان کے چولہے ہیں میری پرستش کی جگہ میں ان کے پیالے اور ٹھوٹھیاں رکھی ہوئی ہیں۔ چوہوں کی طرح میرے نبی کی حدیثوں کو کتر رہے ہیں ۔“

(ازالہ اوہام ص ٧٦ حاشیہ خزائن ج ٣ ص ١٤٠)

مرزا قادیانی کی اس تحریر کا واضح ثبوت یہ ہے کہ حدیث ”لا نبي بعدي“ جو مختلف پیرایوں میں قریباً چالیس مرتبہ احادیث میں آئی ہے۔ اس کے خلاف خلیفہ اس حدیث کو کترتے ہوئے مرزا قادیانی کو نبی مانتے ہیں۔

مرزا قادیانی کی تعلیم، عمل اور اعتقادات قرآن پاک اور سنت نبوی کے عین مطابق تھے۔ ضرورت ہے کہ بطور مثال حضور کے چند اقوال ہدیہ قارئین کئے جائیں۔ اس کے بعد بتلایا جائے گا کہ خلیفہ صاحب ربوہ ان انوکھے اعتقادات سے جو انہوں نے بعض ذاتی مفادات کی بناء پر اپنائے ہوئے تھے اور ١٩٥٣ء تک ان عقائد و خیالات کو فروغ دیتے رہے۔ مگر اللہ تعالیٰ کی خاص مصلحت کے پیش نظر وہ ان باطل عقائد سے ایک وقت میں آکر کس طرح منحرف ہو گئے اور یہ سانحہ اُس وقت پیش آیا جب پنجاب میں قادیانی جماعت کے خلاف ایک تحریک نے زور

٢

پکڑا اور حکومت نے اس تحریک کے نتیجہ میں عدالتی کمیشن کا تقرر کیا اور خلیفہ صاحب کو عدالـ صفائی دینی پڑی۔

بعد کوئی نبی نہیں آسکتا۔ جیسا کہ آپ فرما ہے کہ خیالات ردیہ کی پیروی کر کے نصوص بعد ایک نبی کا آنا مان لیا جائے اور بعد اس کـ جاری کر دیا جائے۔ کیونکہ جس میں شان نبوت

نبوت کا دعویٰ نہیں کیا تھا۔ بلکہ آپ کا دعویٰ ہیں : ”میں نبی نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی طرف مصطفےٰ کی تجدید کروں اور اس نے مجھے محدث

نیز دعویٰ نبوت کے متعلق غلط فہـ بھائیوں کی خدمت میں واضح کرنا چاہتا ہوں پر یہ الفاظ شاق ہیں تو وہ ان الفاظ کو ترمیم شد سے سمجھ لیں۔..... ابتداء سے میری نیت مگـ مراد نبوت حقیقی نہیں ہے۔ بلکہ صرف محدث جگہ سمجھ لیں اور اس کو (یعنی لفظ نبی کو ) کاٹ

(اشتـ

قرار نہیں دیا۔ جیسا کہ آپ فرماتے ہیں:

صفحہ ٤١١

پکڑا اور حکومت نے اس تحریک کے نتیجہ میں ہونے والے فسادات کی تحقیقات کے لئے ایک عدالتی کمیشن کا تقرر کیا اور خلیفہ صاحب کو عدالت کے روبرو بطور گواہ پیش ہو کر اپنے اعتقادات کی صفائی دینی پڑی۔

بعد کوئی نبی نہیں آ سکتا۔ جیسا کہ آپ فرماتے ہیں: ”پس یہ کس قدر جرأت اور دلیری اور گستاخی ہے کہ خیالات رکیکہ کی پیروی کر کے نصوص صریحہ قرآن کو عمداً چھوڑ دیا جائے اور خاتم الانبیاء کے بعد ایک نبی کا آنا مان لیا جائے اور بعد اس کے کہ وحی نبوت منقطع ہو چکی تھی۔ پھر سلسلہ وحی نبوت کا جاری کر دیا جائے۔ کیونکہ جس میں شان نبوت باقی ہے۔ اس کی وحی بلا شبہ نبوت کی وحی ہوگی۔“

(ایام الصلح ص ١٤٦، خزائن ج ١٤ ص ٣٩٢)

نبوت کا دعویٰ نہیں کیا تھا۔ بلکہ آپ کا دعویٰ محض مجدد اور محدث ہونے کا تھا۔ جیسا کہ آپ فرماتے ہیں: ”میں نبی نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے محدث ہوں اور اللہ تعالیٰ کا کلیم ہوں۔ تاکہ دین مصطفےٰ کی تجدید کروں اور اس نے مجھے صدی کے سر پر بھیجا۔“

(آئینہ کمالات اسلام ص ٣٨٣، خزائن ج ٥ ص ایضاً)

نیز دعویٰ نبوت کے متعلق غلط فہمی کا ازالہ اس طرح فرماتے ہیں: ”سو میں تمام مسلمان بھائیوں کی خدمت میں واضح کرنا چاہتا ہوں کہ اگر وہ ان لفظوں سے ناراض ہیں اور ان کے دلوں پر یہ الفاظ شاق ہیں تو وہ ان الفاظ کو ترمیم شدہ تصور فرما کر بجائے اس کے محدث کا لفظ میری طرف سے سمجھ لیں۔...... ابتداء سے میری نیت میں جس کو اللہ جل شانہ خوب جانتا ہے۔ اس لفظ نبی سے مراد نبوت حقیقی نہیں ہے۔ بلکہ صرف محدث مراد ہے...... بجائے لفظ نبی کے محدث کا لفظ ہر ایک جگہ سمجھ لیں اور اس کو (یعنی لفظ نبی کو) کاٹا ہوا خیال فرما لیں۔“

(اشتہار مورخہ ٣ فروری ١٨٩٢ء، مجموعہ اشتہارات حصہ اوّل ص ٣١٣)

قرار نہیں دیا۔ جیسا کہ آپ فرماتے ہیں: ”پھر اس جھوٹ کو تو دیکھو کہ ہمارے ذمہ یہ الزام لگاتے

٣

صفحہ ٤١٢

ہیں کہ گویا ہم نے بیس کروڑ مسلمانوں اور کلمہ گویوں کو کافر ٹھہرایا ہے۔‘‘

(حقیقت الوحی ص ١٢٠، خزائن ج ٢٢ ص ١٢٣)

اجازت فرمائی ہے۔ جیسا کہ فرمایا : ”متوفی اگر مکذب اور منکر نہ ہو تو اس کا جنازہ پڑھ لیا جائے تو کوئی حرج نہیں۔ کیونکہ علام الغیوب خدا ہی کی ذات ہے۔“

(مجموعہ فتاویٰ احمدیہ جلد اول ص ١١٨، مورخہ ١٨؍اپریل ١٩٠٢ء)

خلیفہ ربوہ نے جن نئے اعتقادات کو از خود جنم دیا تھا اور ان کو زبردستی مرزا غلام احمد قادیانی کی ذات کی طرف منسوب کرتے رہے۔ چونکہ وہ حقیقت میں غیر اسلامی عقائد تھے۔ اس لئے ایک نہ ایک دن ان سے انحراف ضروری تھا اور دوسری طرف اللہ تعالیٰ نے مرزا غلام احمد قادیانی سے وعدہ کیا تھا کہ تیرا قبیلہ ایک دفعہ گمراہ ہو جائے گا۔ مگر اللہ تعالیٰ تیری جماعت کی اصلاح ضرور کر دے گا۔ ”يصلح الله جماعتي انشاء الله “ (اللہ تعالیٰ میری جماعت کی ضرور اصلاح کر دے گا)

(تذکرہ ص ٧٦، طبع ٣)

لہٰذا ١٩١٤ء سے ١٩٥٣ء تک موسیٰ علیہ السلام کی قوم کی مانند چالیس سال تک گمراہ رہنے کے بعد فسادات پنجاب کی تحقیقاتی عدالت میں خلیفہ کو سابقہ اعتقادات سے منہ پھیرنا پڑا کہ یہی مقدر تھا۔

١٩٥٣ء سے پہلے خلیفہ کا عقیدہ تھا:

یہ کہو کہ آنحضرت ﷺ کے بعد کوئی نبی نہیں آئے گا تو میں اسے کہوں گا تو جھوٹا ہے۔ کذاب ہے۔ آپ کے بعد نبی آ سکتے ہیں اور ضرور آ سکتے ہیں۔“

(انوار خلافت ص ٦٥، ٦٦)

مگر عدالت میں فرماتے ہیں:

سوال...... کیا مرزا غلام احمد قادیانی کے روحانی درجہ کا کوئی شخص آئندہ آسکتا ہے؟

جواب...... اس کا امکان ہے۔ لیکن یہ نہیں کہا نہیں۔

آپ ﷺ کو خاتم النبیین کے مرتبہ پر قائم کر

گو خلیفہ ١٩١١ء میں ختم نبوت کے

سوال...... مرزا قادیانی نے پہلی مرتبہ کب ک

جواب...... جہاں تک مجھے یاد ہے انہوں نے

(١٨٩١ء میں خلیفہ صاحب کی عمر حالانکہ ١٨٩٣ء میں مرزا قادیانی

چلا ئی کہ اے میرے رب میں قیامت تک اللہ تعالیٰ نے زمین کی طرف وحی فرمائی کہ م کے قلوب سے مشابہ ہوں گے۔“

آپ کا نام خاتم الانبیاء رکھا۔ پس کہاں سے

غیر احمدیوں کو مسلمان نہ سمجھیں اور ان کے ایک نبی کے منکر ہیں۔ یہ دین کا معاملہ ہے

مگر عدالت میں فرماتے ہیں

سوال...... اگر کوئی شخص مرزا غلام احمد ق سے اس نتیجہ پر پہنچتا ہے کہ آپ کا دعویٰ نب

صفحہ ٤١٣

جواب...... اس کا امکان ہے۔ لیکن یہ نہیں کہا جاسکتا کہ آیا اللہ تعالیٰ ایسے اشخاص مبعوث کرے گا یا نہیں۔

(عدالتی بیان)

آپ ﷺ کو خاتم النبیین کے مرتبہ پر قائم کر کے آپ پر ہر قسم کی نبوتوں کا خاتمہ کر دیا۔

(بدر مورخہ ٢٣ مارچ ١٩١١ء)

گو خلیفہ ١٩١١ء میں ختم نبوت کے قائل تھے۔ مگر عدالت میں ذیل کا بیان دیتے ہیں:

سوال...... مرزا قادیانی نے پہلی مرتبہ کب کہا کہ وہ نبی ہیں؟

جواب...... جہاں تک مجھے یاد ہے انہوں نے ١٨٩١ء میں نبی ہونے کا دعویٰ کیا۔

(١٨٩١ء میں خلیفہ صاحب کی عمر دو سال تھی)

حالانکہ ١٨٩٣ء میں مرزا قادیانی فرماتے ہیں:

چلائی کہ اے میرے رب میں قیامت تک کے لئے نبیوں کے آنے سے محروم کر دی گئی۔ پس اللہ تعالیٰ نے زمین کی طرف وحی فرمائی کہ تجھ پر میں ایسے لوگ پیدا کروں گا جن کے قلوب انبیاء کے قلوب سے مشابہ ہوں گے۔“

(تحفہ بغداد ص ١١، خزائن ج ٧ ص ١٥)

آپ کا نام خاتم الانبیاء رکھا۔ پس کہاں سے آپ کے بعد نبی آ سکتا ہے۔“

(تحفہ بغداد ص ٢٨، خزائن ج ٧ ص ٣٣)

غیر احمدیوں کو مسلمان نہ سمجھیں اور ان کے پیچھے نماز نہ پڑھیں۔ ہمارے نزدیک وہ خدا تعالیٰ کے ایک نبی کے منکر ہیں۔ یہ دین کا معاملہ ہے۔ اس میں کسی کا اپنا اختیار نہیں کہ کچھ کر سکے۔“

(انوار خلافت ص ٩٠)

مگر عدالت میں فرماتے ہیں:

سوال...... اگر کوئی شخص مرزا غلام احمد قادیانی کے دعویٰ پر واجبی غور کرنے کے بعد دیانتداری سے اس نتیجہ پر پہنچتا ہے کہ آپ کا دعویٰ غلط تھا تو کیا پھر بھی وہ مسلمان رہے گا؟

٥

صفحہ ٤١٤

جواب ...... جی ہاں !

سوال ...... آپ نے اب اپنی شہادت میں کہا ہے کہ جو شخص نیک نیتی کے ساتھ مرزا غلام احمد قادیانی کو نہیں مانتا وہ پھر بھی مسلمان رہتا ہے۔ کیا شروع سے آپ کا یہی نظریہ رہا ہے؟

جواب ...... ہاں!

٤ ...... ١٩٥٣ء سے پہلے خلیفہ کا عقیدہ تھا: "یہ کہ کل مسلمان جو حضرت مسیح موعود کی بیعت میں شامل نہیں ہوئے۔ خواہ انہوں نے حضرت مسیح موعود کا نام بھی نہ سنا ہو وہ کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہیں۔ میں تسلیم کرتا ہوں کہ میرے یہ عقائد ہیں ۔"

(آئینہ صداقت ص ٣٥)

مگر عدالت میں فرماتے ہیں:

سوال ...... کیا آپ مرزا غلام احمد قادیانی کو ان مامورین میں شمار کرتے ہیں جن کا ماننا مسلمان کہلانے کے لئے ضروری ہے؟

جواب ...... میں اس سوال کا جواب پہلے دے چکا ہوں کہ کوئی شخص جو مرزا غلام احمد قادیانی پر ایمان نہیں لاتا، دائرہ اسلام سے خارج قرار نہیں دیا جاسکتا۔

(عدالتی بیان)

٥ ...... ١٩٥٣ء سے قبل کسی غیر احمدی کی نماز جنازہ کے متعلق خلیفہ کا عقیدہ تھا کہ: "اب ایک سوال رہ جاتا ہے کہ غیر احمدی تو حضرت مسیح موعود کے منکر ہوئے۔ اس لئے ان کا جنازہ نہیں پڑھنا چاہئے۔ لیکن اگر کسی غیر احمدی کا چھوٹا بچہ مر جائے تو اس کا جنازہ کیوں نہ پڑھا جائے۔ میں یہ سوال کرنے والوں سے پوچھتا ہوں کہ اگر یہ بات درست ہے تو پھر ہندوؤں اور عیسائیوں کے بچوں کا جنازہ کیوں نہیں پڑھا جاتا اور کتنے لوگ ہیں جو ان کا جنازہ پڑھتے ہیں۔ پس غیر احمدی کا بچہ بھی غیر احمدی ہے۔ اس لئے اس کا جنازہ بھی نہیں پڑھنا چاہئے ۔"

(انوار خلافت ص ٩٣)

مگر عدالت میں فرماتے ہیں: "احمدیہ کریڈ میں کوئی ایسی بات نہیں ہے کہ جو شخص حضرت بانی سلسلہ احمدیہ کو نہیں مانتا اس کے حق میں نماز جنازہ Infuctous (ناجائز) ہے ...... اس سال حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی ایک تحریر اپنے قلم سے لکھی ہوئی ملی ہے ...... جس سے معلوم ہوتا ہے کہ جو شخص حضرت بانی سلسلہ احمدیہ کا منکر یا مکذب نہ ہو اس کا جنازہ پڑھ لینے میں حرج نہیں۔ کیونکہ جنازہ صرف دعا ہے۔"

(عدالت کے سات سوالوں کا جواب)

٦ ...... تحقیقاتی عدالت سے قبل خلیفہ صاحب کا عقیدہ تھا کہ: "جو شخص غیر احمدی کو رشتہ دیتا

٦

صفحہ ٤١٥

ہے وہ یقیناً حضرت مسیح موعود کو نہیں سمجھتا اور نہ جانتا ہے کہ احمدیت کیا چیز ہے۔ کیا کوئی غیر احمدیوں میں ایسا بے دین ہے جو کسی ہندو یا عیسائی کو اپنی لڑکی دے دے۔ ان لوگوں کو تم کافر کہتے ہو۔ مگر اس معاملہ میں وہ تم سے اچھے رہے کہ کافر ہو کر کسی کافر کو لڑکی نہیں دیتے۔ مگر تم احمدی کہلا کر کافر کو دیتے ہو۔“

(ملائکۃ اللہ ص٤٦)

مگر عدالت میں فرماتے ہیں: ”کسی احمدی مرد کی غیر احمدی لڑکی سے شادی کی کوئی ممانعت نہیں۔ البتہ احمدی لڑکی کے غیر احمدی مرد سے نکاح کو ضرور روکا جاتا ہے۔ لیکن باوجود اس کے اگر کسی احمدی لڑکی اور غیر احمدی مرد کا نکاح ہو جائے تو اسے کالعدم قرار نہیں دیا جاتا اور اولاد کو جائز سمجھا جاتا ہے۔..... حقیقتاً نکاح کا مسئلہ ایک سوشل قسم کا مسئلہ ہے۔ ایسے مسائل میں یہ دیکھا جاتا ہے کہ لڑکی کو کہاں آرام رہے گا...... لیکن باوجود مخالفت کے اگر کوئی احمدی اپنی لڑکی کا نکاح غیر احمدی مرد سے کر دے تو اس کے نکاح کو کالعدم قرار نہیں دیا جاتا۔“

(عدالت کے سات سوالوں کا جواب)

صاحب فرماتے ہیں: ”پس اس آیت میں ضمنی طور پر رسول کریم ﷺ کی بھی خبر دی گئی ہے اور..... اس کے اصل مصداق حضرت مسیح موعود ہیں۔“ پس اس آیت میں جس رسول احمد نام والے کی خبر دی گئی ہے وہ آنحضرت ﷺ نہیں ہو سکتے ہیں۔

(انوار خلافت ص ٢٤،٢٣)

اس کے برعکس عدالت میں فرماتے ہیں: ”ہمارے نزدیک اس کا اطلاق اصلی طور پر تو آنحضرت ﷺ پر ہوتا ہے۔ لیکن ظلی طور پر مرزا غلام احمد قادیانی پر بھی ہوتا ہے۔“

(عدالت کا بیان ص١٦)

”ورنہ حضرت مسیح موعود نے تو فرمایا ہے کہ ان کا اسلام اور ہے اور ہمارا اور، ان کا خدا اور ہے اور ہمارا اور، ہمارا حج اور ہے اور ان کا حج اور۔ اس طرح ان سے ہر بات میں اختلاف ہے۔“

(اخبار الفضل مورخہ ٢١ اگست ١٩١٧ء ص ٧)

مگر عدالت میں فرماتے ہیں کہ مسلمانوں سے ہمارے اختلافات فروعی ہیں۔ حالانکہ فروعی اختلافات کی بناء پر کسی کلمہ گو کو کافر اور دائرہ اسلام سے خارج کیسے قرار

٧

صفحہ ٤١٦

دیا جاسکتا ہے اور کبھی کسی نبی کا انکار بھی فروعی اختلاف ہوا ہے۔ دراصل پہلے تمام اختلافات بنیادی تھے۔ مگر عدالت میں جا کر فروعی ہو گئے۔ ایں چہ بوالعجبی است!

سوال...... کیا احمدیوں اور غیر احمدیوں کے درمیان اختلافات بنیادی ہیں؟ جواب...... اگر بنیادی کا وہی مفہوم ہے جو ہمارے رسول کریم ﷺ نے اس لفظ کا لیا ہے۔ تب یہ اختلافات بنیادی نہیں ہیں۔

سوال...... اگر لفظ بنیادی عام معنوں میں لیا جائے تو پھر؟ جواب...... عام معنوں میں اس کا مطلب اہم ہے۔ لیکن اس مفہوم کے لحاظ سے بھی اختلافات بنیادی نہیں بلکہ فروعی ہیں۔

(الفضل مورخہ ٢٠؍مئی ١٩١٤ء)

پیروی نہیں کرے گا اور تیری بیعت میں داخل نہیں ہو گا اور تیرا مخالف رہے گا وہ خدا اور رسول کی نافرمانی کرنے والا اور جہنمی ہے۔“

(الفضل مورخہ ٦؍مئی ١٩١٤ء، مجموعہ اشتہارات ج٣ ص٢٧٥)

مگر عدالت میں فرماتے ہیں:

سوال...... کیا ایسا شخص جو ایسے نبی کو نہیں مانتا جو رسول کریم ﷺ کے بعد آیا ہو۔ اگلے جہاں میں سزا کا مستوجب ہوگا۔ جواب...... ہم ایسے شخص کو گنہگار تو سمجھتے ہیں۔ مگر یہ کہ اللہ تعالیٰ اس کو سزا دے گا یا نہیں۔ اس کا فیصلہ کرنا خدا کا کام ہے۔

سوال...... تو کیا مرزا غلام احمد قادیانی پر ایمان لانا جزو ایمان ہے؟ جواب...... جی نہیں۔

(عدالتی بیان)

خلیفہ ربوہ کے دونوں مذہب اوپر بیان کر دیئے گئے ہیں۔ اب قارئین کرام از خود اندازہ لگا لیں کہ عدالت سے پہلے خلیفہ کا کیا مذہب تھا اور عدالت میں جا کر کیا ہو گیا؟ اتنے واضح بیانات پر ہمارے کسی تبصرہ کی ضرورت نہیں ہے۔

تحفہ قادیانیت خلیفہ ثالث جناب سبطین

PDF 418

خاتم النبیین لا نبی بعدی

فرمودہ نبی عربی ﷺ

خلیفہ ربوہ کی

مالی بے اعتدالیاں

جناب سبط نور، رکن حقیقت پسند پارٹی

صفحہ ٤١٨

تعارف

رسالہ ہذا میں ایک ایسے شخص کی مالی دراز دستیوں کا مجمل احوال بیان کیا گیا ہے جس کے روحانی خطابات کی فہرست طویل ہے اور منجملہ ان خطابات کے وہ فضل عمر ہونے کا مدعی ہے۔ مریدوں کا ایمان ہے کہ اس کی آمد سے گویا (نعوذ باللہ) خود خدا تعالیٰ آسمان سے نازل ہوا ہے۔ یہ پر اسرار شخصیت تقدس مآب خلیفہ ربوہ ہے جس کی ذاتی کردار اور شہرت کی وجہ سے ایک خالص روحانی تحریک یعنی تحریک احمدیت اپنے ملک میں اس قدر بدنام و مشتبہ ہوگئی کہ اس سے ملک کا فہمیدہ طبقہ حیران و بدظن ہو گیا۔ جس کے چلن کی آلودگی کے بارے میں اس کے اپنے مریدوں کی حلفیہ مؤکد بعذاب شہادتیں متواتر پریس میں آ رہی ہیں۔ جس نے پروپیگنڈا ٹکنیک سے ایک پوری قوم کی ذہنی صلاحیتوں کو مفلوج و ناکارہ کر کے رکھ دیا اور صرف ایک صلاحیت باقی رہنے دی کہ گردش لیل و نہار صرف اور صرف خلافت مآب کی خاطر برپا کی گئی ہے۔ جس نے کروڑوں روپیہ غریب قوم سے وصول کیا اور اس کا بیشتر حصہ ذاتی عیش و آرام پر خرچ کر دیا جس کو رات دن اسلام کے جھنڈے گاڑنے کی فکر رہتی ہے اور جس نے ایسے درباری مولوی تیار کئے کہ جنہوں نے ہیگل اور فرائیڈ کے فلسفہ کے پرخچے فضا میں اڑا دیئے اور یورپ پر ایسی یلغار کی کہ عرصہ قریب پچاس سال میں ایک بھی معروف و مشہور شخصیت حلقہ بگوشِ اسلام نہ ہوسکی۔ رات دن یہ درباری مولوی خلافت مآب کے فلک بوس مقام کی رفعت معلوم کرنے میں سرگرداں ہیں مگر بیکار۔ تاحال انہیں ان کے ارفع واعلیٰ مقام کی انتہاء نظر نہ آئی۔ خلافت مآب کا یہ گرانڈیل بت جسے کہ خود ساختہ قواعد وضوابط کے ذریعہ موروثی بنانے کی کوشش کی گئی ہے اور جو کہ ایک قوم کی پچاس سالہ کدوکاوش کا سرمایہ ہے۔ آج مفلوج ہو چکا ہے۔ اس خود تراشیدہ گرتے ہوئے بت کو اب کون سنبھالا دے ایک طرف انسانی تدبیر ہے۔ دوسری طرف خدائے جبار وقہار کی تعزیر۔ شاید کہ مکافات کا وقت آن پہنچا۔ فی الحال ہم قارئین کو اس کی مالی دراز دستیوں کی ایک جھلک دکھاتے ہیں اور اس کی ذہنی حیثیت کو سمجھنے کے لئے انہیں رسالہ ”بلائے دمشق“ اور ”خلافت اسلامیہ“ کے پڑھنے کی دعوت دیتے ہیں۔ فقط!

٢

٤١٩ بسم اللہ الرحمٰن الر نحمده ونصلى على ر

ساٹھ روپے کا ور

روحانی معلمین اور پاک باز اور بے لوث ثبوت یہ ہوا کرتا ہے کہ وہ اپنی لیڈری اور قیادت اٹھاتے۔ اس عہدہ کے بعد اور اس کی وجہ سے وہ کوئی جا من اجر“ کی عملی تفسیر ہوتے ہیں۔ پاک محمد مصطفیٰﷺ یہ کہ آپ نے تمام عمر قوم کے روپیہ سے ایک حبہ کی جا حضرت خدیجۃ الکبریٰ کا لاکھوں کا کاروبار دین کی راہ بسر کی۔ وفات کے وقت اتنا بھی پاس نہ رکھا کہ آخر عمر بوقت وفات دریافت فرمایا کہ کیا گھر میں کچھ ہے ہے۔ حضور نے فرمایا کہ اسے تقسیم کر دو۔ ”نہ آپ مال جمع کرتے نہ کھانے میں حل ہیں، نہ کوئی جائیداد مہیا کرتے ہیں۔ نہ اپنے نفس کا د آپ کی آمد پر کھڑے ہوں۔ خاکساری ایسی کہ گدھے خود گانٹھ لیتے۔ مجلس میں جہاں جگہ ملتی بیٹھ جاتے۔ ان لئے منتخب نہ فرمایا۔“

ان ایام جدال و قتال میں زرہ نہایت ضرور سیر دانوں کے عوض رہن تھی۔ باقی رہی اولاد اسے بھ مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ”لقد كان لكم في ر اللہﷺ ہمارے لئے نمونہ اور اسوۂ حسنہ ہیں۔ آں حضو ہارون الرشید، کسی خلیفہ سلیمان، کسی زید و بکر کی راہ لائق اگر کوئی ہے اور رہبری اور نمونہ کا کام کوئی دے س ذات ہے۔ پھر فرمایا: ”ان كنتم تحبون ال عمران:٣١) ”آج اللہ تعالیٰ کا محبوب بننے کا ذریعہ

٣

صفحہ ٤١٩

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ نحمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم

ساٹھ روپے کا وظیفہ خوار

روحانی مصلحین اور پاک باز اور بے لوث قائدین قوم کی صداقت کا ایک عظیم الشان ثبوت یہ ہوا کرتا ہے کہ وہ اپنی لیڈری اور قیادت سے دنیوی لحاظ سے قطعاً کوئی فائدہ نہیں اٹھاتے۔ اس عہدہ کے بعد اور اس کی وجہ سے وہ کوئی جائیداد نہیں بناتے۔ وہ ”لا اسئلکم علیہ من اجر“ کی عملی تفسیر ہوتے ہیں۔ پاک محمد مصطفیٰ ﷺ کی زندگی ہمارے سامنے ہے۔ نہ صرف یہ کہ آپ نے تمام عمر قوم کے روپیہ سے ایک حبہ کی جائیداد بھی نہ بنائی بلکہ اپنی ورثہ کی جائیداد اور حضرت خدیجۃ الکبریٰ کا لاکھوں کا کاروبار دین کی راہ میں صرف کر دیا اور عمر بھر نہایت سادہ زندگی بسر کی۔ وفات کے وقت اتنا بھی پاس نہ رکھا کہ آخر عمر میں بقدر ایام مرض بآرام زندگی بسر کرتے۔ بوقت وفات دریافت فرمایا کہ کیا گھر میں کچھ ہے۔ جناب عائشہ صدیقہؓ نے فرمایا کہ ایک دینار ہے۔ حضور نے فرمایا کہ اسے تقسیم کر دو۔

(بحوالہ الحکم مورخہ ١٧؍ستمبر ١٨٩٨ء)

”نہ آپ مال جمع کرتے نہ کھانے میں تکلف نہ پہننے میں، نہ آپ کوئی مکان بناتے ہیں، نہ کوئی جائیداد مہیا کرتے ہیں۔ نہ اپنے نفس کا اعزاز چاہتے ہیں یہ بھی نہیں چاہتے کہ لوگ آپ کی آمد پر کھڑے ہوں۔ خاکساری ایسی کہ گدھے پر بغیر کاٹھی سواری کر لیتے ہیں۔ اپنی جوتی خود گانٹھ لیتے۔ مجلس میں جہاں جگہ ملتی بیٹھ جاتے۔ اپنے خاندان سے کسی کو اپنے بعد سلطنت کے لئے منتخب نہ فرمایا۔“

(الفضل مورخہ ٣؍اگست ١٩٢٣ء)

ان ایام جدال و قتال میں زرہ نہایت ضروری سامان حرب تھا۔ لیکن وہ بھی جو کے چند سیر دانوں کے عوض رہن تھی۔ باقی رہی اولاد اسے بھی زکوٰۃ اور صدقہ لینے سے منع کر دیا۔ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ”لقد کان لکم فی رسول اللہ اسوۃ حسنۃ“ کہ محمد رسول اللہ ﷺ ہمارے لئے نمونہ اور اسوۂ حسنہ ہیں۔ آئندہ دنیا کی نجات کسی عبدالقادر، کسی داؤد، کسی ہارون الرشید، کسی خلیفہ سلیمان، کسی زید و بکر کی راہ کے اختیار کرنے میں نہیں۔ بلکہ متابعت کے لائق اگر کوئی ہے اور رہبری اور نمونہ کا کام کوئی دے سکتا ہے تو وہ محمد رسول اللہ ﷺ کی پاک اور مطہر ذات ہے۔ پھر فرمایا: ”ان کنتم تحبون اللہ فاتبعونی یحببکم اللہ (آل عمران: ٣٢)“ آج اللہ تعالیٰ کا محبوب بننے کا ذریعہ محمد رسول اللہ کی متابعت اور پیروی ہے اور کسی

٣

صفحہ ٤٢١

کے متعلق معلوم کرنا ہو کہ وہ اللہ تعالیٰ کا محبوب ومقرب ہے یا نہیں تو یہ دیکھو کہ اس کا اٹھنا بیٹھنا، کھانا پینا، رہنا سہنا، اس کی سادگی اس کے مالی معاملات وغیرہ اس ذات اقدس واطہر کے مطابق ہیں یا نہیں ۔ اگر دیکھو کہ رسول اللہ ﷺ کا طریق اور تھا اور اس شخص کا اور، آپ ﷺ کا انداز رہائش سادہ تھا اور دوسرا عیش وعشرت کی راہوں پر گامزن ہے تو اس شخص کے ہزار دعوؤں، ہزار تقیوں اور ہزار کشوف ورؤیا کی فراوانیوں کے باوجود یقین رکھو کہ وہ جھوٹا ہے۔ لاف زن ہے۔ تمہیں دھوکہ دے رہا ہے اور ابلہ فریبی سے کام لینا چاہتا ہے۔

آیئے ! اس معیار پر ہم جناب خلیفہ ربوہ محمود احمد صاحب کی زندگی کو جانچیں اور دیکھیں کہ یہ شخص جو اللہ تعالیٰ کا مقرب ومحبوب ہونے کا مدعی ہے اور کہتا ہے کہ: ”اس زمانہ کا مصلح میں ہوں اور اس وقت اسلام کی ترقی خدا تعالیٰ نے میرے ساتھ وابستہ کر دی ہے۔“ (الفضل مورخہ ١٥ جنوری ١٩٤٧ء) اور میرے لئے اتنے نشانات ظاہر ہوئے ہیں کہ اولیاء امت میں سے کسی کے لئے ظاہر نہیں ہوئے۔

(الفضل مورخہ ١٠ بحوالہ خلیفہ ربوہ کی مالی بے اعتدالیاں ص ٥)

خود یہ اپنے دعوؤں میں کس حد تک سچا ہے اور اس کی عملی زندگی پاک محمد مصطفے ﷺ کے اسوہ حسنہ سے کس حد تک مطابق رکھتی ہے۔ اس وقت ہم اس شخص کی سادہ زندگی اور مالی حالت کو لیتے ہیں۔ رہن سہن کا طریق اور انداز بود و ماند کوئی مخفی چیز تو ہے نہیں جس کے لئے بڑے دلائل اور براہین کی ضرورت ہو۔ ہر شخص آسانی سے اسے دیکھ سکتا اور پرکھ سکتا ہے۔ خلیفہ صاحب کی غذا ان کا لباس، ان کا مکان، مکان کا فرنیچر اور طرز رہائش پر نظر کرو۔ آپ کو نظر آئے گا کہ خلیفہ صاحب خوش خور وخوش لباس ہیں۔ کوٹھیوں میں رہتے ہیں۔ موٹریں رکھی ہوئی ہیں۔ گرمی کی معمولی تپش انہیں رول کر دیتی ہے۔ ہمیشہ شملہ، ڈلہوزی، پالم پور، کانگڑہ، منالی، دھرمسالہ، منصوری، مری، جابہ وغیرہ میں گرمیاں بسر کی ہیں۔ بلکہ پہاڑوں اور ٹھنڈے مقامات پر ہزاروں اور لاکھوں کے صرف سے کوٹھیاں بھی بنواتے رہے ہیں۔ ڈلہوزی میں کوٹھی تھی ”دارالفضل“ ۔ اب جابہ (خوشاب) خالص قومی روپیہ سے محض اپنے عیش وآرام کے لئے کوٹھی بنوائی ہے۔ معمولی مکان آپ کو کفایت نہیں کرتا۔ خوش نما اور خوش وضع بنگلے ہونے چاہئیں۔ ضروری ہے ساتھ بڑے باغ بھی ہوں۔ ربوہ میں لاکھ روپیہ کے متجاوز خرچ سے جو مکان قومی روپیہ سے اپنی رہائش خاص کے لئے بنوارکھا ہے اس کے متعلق متعدد بار انجمن کو کہہ چکے ہیں کہ اس کے ساتھ میری بیویوں کی تفریح کے لئے باغ تیار کرنے کی طرف توجہ دی جائے۔ ورنہ ان کی صحت کا کون ضامن ہوگا۔ خود ان کے خاندان کی خواتین کے انداز آرائش وزیبائش اور ہار وسنگھار اور نئے نئے ڈیزائنوں کے مخملیں اور

٤

ریشمی لباسوں پر ہزاروں کا صرف ہے۔ مکانات مزین ہیں۔ ریشمی پردے لٹک رہے ہیں۔ قیمتی ق صوفے موجود ہیں۔ مینٹل پیس عجیب عجیب نواد وعشرت کے سامانوں سے مخمور ہیں۔ ڈرائنگ رو ہے۔...... سوال تو صرف اس کا ہے۔ ہزاروں احمدی ب ان کے غیر احمدی رشتہ داروں اور عزیزوں نے سادگی پر وعظ کو خلیفہ اور ان کے گھر کی عملی حالت پ

جناب خلیفہ صاحب کی بیویاں چا پانچ ہیں۔ ابھی پیچھے کراچی میں بقول ان کے صا سے تعمیر کروائی گئی ہے۔ یہ وہی کوٹھی ہے جس ک نے چند دن کے لئے اپنا رہائشی سامان رکھنا تھا تو کو میری کچھ پرواہ نہیں۔ اب میں اپنی بحالی ص رہوں۔ سفروں کا بھی خلیفہ کو بڑا شوق ہے۔ قادی بمبئی سے حیدر آباد، حیدر آباد سے آگرہ، آگر دفعہ یورپ وانگلستان کی سیاحت ہو چکی ہے دھرمسالہ، جابہ وغیرہ کسی نہ کسی پہاڑ پر جاتے ہ آتا ہوں۔“

لیکن تسلی یہ ہے کہ میں نے ٢ کے کچھ سفر تو وہ ہیں جن کا ذکر اخبارات میں آ ایسے بھی ہوتے ہیں جن کا ذکر اخبارات میں نہی دن رات مصروف رہنے کے بعد حضور کی صحت کے لئے باہر تشریف لے جاتے ہیں۔ تا کام حضور کے کسی مختصر سے سفر کا جو صرف بحالی ص وجوہات ہیں۔“

دو بار یورپ کی سیاحت کے سلس مغرب کو فتح کرنے، دوسری دفعہ ١٩٥٥ء می

صفحہ ٤٢١

ریشمی لباسوں پر ہزاروں کا صرف ہے۔ مکانات نہایت اعلیٰ اور بیش قیمت ساز و سامان کے ساتھ مزین ہیں۔ ریشمی پردے لٹک رہے ہیں۔ قیمتی غالیچے بچھے ہوئے ہیں۔ اعلیٰ سے اعلیٰ ڈیزائن کے صوفے موجود ہیں۔ مینٹل پیس عجیب عجیب نوادرات سے بھرے پڑے ہیں۔ خواب گاہیں عیش وعشرت کے سامانوں سے مخمور ہیں۔ ڈرائنگ روم سجے بنے ہوتے ہیں۔ سلیقے کا نہ ہونا اور بات ہے۔......سوال تو صرف کا ہے۔ ہزاروں احمدی ہیں جن کی گردنیں شرم سے منکس ہوگئیں۔ جب ان کے غیر احمدی رشتہ داروں اور عزیزوں نے محمد رسول اللہﷺ کی سادگی اور خلیفہ صاحب کی سادگی پر وعظ کو خلیفہ اور ان کے گھر کی عملی حالت پر پیش کیا۔ ”لم تقولون مالا تفعلون“

جناب خلیفہ صاحب کی بیویاں چار ہیں۔ لیکن مکان جو قومی روپیہ سے بنوائے ہیں پانچ ہیں۔ ابھی پیچھے کراچی میں بقول ان کے صدر مملکت سے بھی زیادہ کمروں والی کوٹھی قومی خرچ سے تعمیر کروائی گئی ہے۔ یہ وہی کوٹھی ہے جس کے ایک آدھے کمرہ میں امیر جماعت احمدیہ کراچی نے چند دن کے لئے اپنا رہائشی سامان رکھنا تھا تو خلیفہ نے ایک جلالی خطبہ دے دیا تھا کہ ان اُلوؤں کو میری کچھ پرواہ نہیں۔ اب میں اپنی بحالی صحت کے لئے جو کراچی جانا چاہتا ہوں کہاں جاکر رہوں۔ سفروں کا بھی خلیفہ کو بڑا شوق ہے۔ قادیان سے سندھ وہاں سے کراچی ، کراچی سے بمبئی، بمبئی سے حیدرآباد، حیدرآباد سے آگرہ، آگرہ سے دہلی، دہلی سے قادیان۔ یہ ایک سفر ہے۔ دو دفعہ یورپ وانگلستان کی سیاحت ہوچکی ہے۔ ہر سال شملہ، ڈلہوزی، مری، کانگڑہ، منالی، دھرمسالہ، جابہ وغیرہ کسی نہ کسی پہاڑ پر جاتے ہیں: ”لاہور تو قادیان کا محلہ بنا رہا۔ یہاں اکثر ہی آتا ہوں۔“

(الفضل مورخہ ١٥؍فروری ١٩٣٢ء)

لیکن تعلی یہ ہے کہ میں نے عہد کیا ہوا ہے کہ حتی الوسع مرکز نہیں چھوڑوں گا۔ خلیفہ کے کچھ سفر تو وہ ہیں جن کا ذکر اخبارات میں آتا رہتا ہے۔ لیکن انداز سیاحت نرالے ہیں۔ کچھ سفر ایسے بھی ہوتے ہیں جن کا ذکر اخبارات میں نہیں آتا۔ چنانچہ الفضل لکھتا ہے: ”مہمات دینیہ میں دن رات مصروف رہنے کے بعد حضور کی صحت بہت کمزور ہو جاتی ہے۔ تو مجبوراً حضور بحالی صحت کے لئے باہر تشریف لے جاتے ہیں۔ تا کام کا بار کسی قدر ہلکا ہوکر کسی قدر قوت حاصل ہو۔ پس حضور کے کسی مختصر سے سفر کا جو صرف بحالی صحت کے لئے کیا جاتا ہے عام اعلان نہ ہونے کی یہ وجوہات ہیں۔“

(الفضل مورخہ ١٧؍نومبر ١٩٢٥ء)

دو بار یورپ کی سیاحت کے لئے تشریف لے جاچکے ہیں۔ ایک دفعہ ١٩٢٤ء میں مغرب کو فتح کرنے، دوسری دفعہ ١٩٥٥ میں اپنے فالج اور بعض دوسری پوشیدہ امراض کا علاج

٥

صفحہ ٤٢٢

کروانے ، ہر دفعہ اپنے ساتھ ہزاروں ہزار روپیہ کا سامان لائے اور کسٹم سے بچنے کے لئے بیسیوں حیلے کئے۔ اس سامان میں یورپ کے نوادرات، لندن سے نئے نئے ڈیزائن کے کپڑے، سوئٹزرلینڈ کے کلاک اور رسٹ واچیں، جرمنی کی استریاں اور سلائی کی مشینیں، ہالینڈ سے لیدر بیگ اور دیگر مختلف النوع چمڑے کے بکس، دمشق سے سونے کے زیورات اور مختلف جگہوں سے مختلف سامان بلکہ موٹریں تک بھی شامل ہیں۔ یہ اس شخص کا حال ہے جس کی متاہل زندگی کا آغاز ٦٠ روپے ماہوار کے وظیفہ سے ہوا۔ مجلس مشاورت ١٩٥٧ء کے موقع پر سفر امریکہ کی بھنک ابھی جماعت کے کانوں میں ڈال دی گئی ہے۔ تو امید ہے ایسی نوبت نہیں آئے گی۔ اس صورت حال پر نظر ڈالو اور یہ بتاؤ کیا یہ ایک پاکباز، بے لوث، دنیا سے منقطع انسان کی زندگی کا روپ ہے؟۔ یہ طریق رہائش، یہ انداز بود و ماند، یہ بیویوں کی تن آسانیاں، یہ متاع الحیاۃ الدنیا کی فراوانی۔ یہ ٹھاٹھ، یہ عیش وعشرت کی زندگی۔ یہ اللے تللے، اسوۂ نبوی ﷺ کی پیروی میں ہیں۔ خلیفہ کو حضرت عمرؓ کا مثیل بلکہ فضل عمر کہلانے کا بڑا شوق ہے۔ نور ہسپتال کے نام کو بدل کر فضل عمر ہسپتال کا نام دے کر شاید انہوں نے بڑی آسودگی پائی ہوگی۔ لیکن کیا وہ یہ سب کچھ بھول گئے ہیں کہ عمر فاروقؓ وہ بادشاہ تھا جس کے کپڑوں میں بیسیوں پیوند تھے۔ جس کی گذران جویں پر تھی۔ ابو بکرؓ، عثمانؓ اور علیؓ کی زندگی کی کتنی سادہ تھی۔ یہی پاکبازانہ، سادہ اور دنیوی آلائشوں سے منقطع زندگی حضرت مسیح موعود کی اور حضرت حکیم الامت علامہ نور الدین کی بھی تھی۔ آپ کو دیکھنے والے ابھی ہزاروں زندہ ہیں۔ ان سے پوچھ کر دیکھ لو وہ خلیفہ کے مقابل آپ کو بتائیں گے:

چہ نسبت خاک را با عالم پاک

خلیفہ کی پستی، کہتری، ذلت اور تردامنی کا اس سے بھی زیادہ کمزور پہلو یہ ہے کہ یہ سب ٹھاٹھ باٹھ جماعت کے سر پر ہیں۔ گھر کی جائیداد کے وسیلے سے نہیں بلکہ قوم کے سر پر کیا گیا ہے۔ اس ناپاک زندگی کے لئے قوم کی جیبوں سے روپیہ نکلوایا گیا ہے۔ مختلف حیلے بہانے کر کے متنوع تدبیریں اختیار کر کے رہن وقرض کے پردے رکھ کر اور ڈرافٹ تک نوبت پہنچا کر بلکہ کاسۂ گدائی ہاتھ میں لیتے ہوئے ان سب دنیوی گندی اغراض کے لئے روپیہ مہیا کیا گیا ہے اور یہ سب کچھ قوم کا امام اور خلیفہ بننے کے بعد میسر آیا۔ قادیان اور اس کے ملحقہ دیہات کی ملکیت، تعلقہ داری، دخیل کاری اور وراثت کے بلند بانگ دعاوی سب پر فریب باتیں ہیں۔

بدحالی یا سقیم مالی حالت

مسیح موعود یکسر ایک روحانی انسان تھا۔ انہیں دنیا داری سے کوئی لگاؤ نہ تھا۔ اپنے والد

٦

صفحہ ٤٢٤

صاحب سے فرمایا کرتے: ”دو جوڑے کھدر کے اور معمولی روٹی مل جائے کافی ہے۔“ اخبار الفضل کے الفاظ میں ہی سنو۔ مسیح موعود کے والد ماجد کا ذکر کرنے کے بعد لکھتا ہے: ”اس کا چھوٹا بیٹا (مسیح موعود) دنیا سے زیادہ سے زیادہ کنارہ کش ہوتا چلا گیا اور اہل دنیا سے بیش از بیش بخل اختیار کرتا چلا گیا۔ وہ دن کو چھ چھ ماہ تک روزوں کو خشوع و خضوع میں بھری ہوئی نمازوں میں اس قدر محو ہوتا کہ اگر کوئی شخص اس کے باپ سے پوچھتا کہ آپ کا چھوٹا بیٹا کہاں ہے تو وہ نہایت افسردگی سے کہتا کہ جاؤ دیکھو وہ مسجد میں ہوگا۔ اگر وہاں نظر نہ آئے تو مسجد کے سقاوہ کی ٹونٹی میں ہوگا یا وہاں نہ ملے تو کہیں کوئی شخص مسجد کی صف میں نہ لپیٹ گیا ہو۔ اللہ اکبر! یہ تھی اس دنیا دار اور رئیس کے بیٹے کی حالت اور یہ تھا اس کا انقطاع الی اللہ! کہ اس نے جلوت کو چھوڑ کر محض خدا کے لئے خلوت اور سیاست کا خیال چھوڑ کر محض خدا کی چاکری اور امارت کے حصول کے منصوبے چھوڑ محض خدا کے لئے غربت اختیار کی۔“

(الفضل مورخہ ٢٩؍ جنوری ١٩٢٩ء)

غرض مسیح موعود نے دنیا داری کی طرف بالکل توجہ نہ فرمائی۔ بس آخر دم تک وہی جائیداد رہی جو آباؤ اجداد سے ورثہ میں ملی تھی۔ بلکہ دینی کاموں میں صرف کر کے اور بہشتی مقبرہ وغیرہ کے لئے اراضی دے کر اس میں معتدبہ کمی آ چکی تھی۔ آباؤ اجداد سے کل جائیداد جو آپ کے حصہ میں آئی تھی اس کی قیمت زیادہ سے زیادہ دس ہزار روپیہ تک تھی اور یہی وہ رقم ہے جس کا آپ نے براہین احمدیہ کے اشتہار میں ذکر کیا ہے۔

(الفضل مورخہ ٢٣؍ اپریل ١٩٣٣ء)

پھر حضور فرماتے ہیں: ”اگر وہ امور غیبیہ کے ظاہر ہونے اور دعاؤں کے قبول ہونے میں میرا مقابلہ کر سکا تو میں اللہ جل شانہ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ اپنی تمام جائیداد غیر منقولہ جو دس ہزار روپیہ کے قریب ہوگی اس کے حوالے کردوں گا۔“ (آئینہ کمالات اسلام ص ٢٧٦ وخزائن ج ٥ ص ایضاً)

اور اس ساری جائیداد سے جو سالانہ آمدنی ہوتی تھی اس کی تفصیل یہ ہے جسے حضور علیہ السلام نے اپنے ایک حلفی بیان میں لکھوایا۔

آمد از تعلقہ داری سالانہ تخمیناً .......................... ١٠ روپے آمد از زمین .......................... ٤٠٠ روپے آمد از باغ حد درجہ .......................... ٥٠٠ روپے میزان .......................... ٨٨٢/١٠ روپے

اس کے علاوہ آپ کی کسی قسم کی آمدنی نہیں تھی اور قومی آمدنی آپ کے ذاتی خرچ میں نہیں آتی تھی۔

(ضرورت الامام ص ٣٥، خزائن ج ١٣ ص ٥١٦)

صفحہ ٤٢٤

اب دیکھئے! یہ خود خلیفہ کے والد مرزا قادیانی کا اپنا حلفی بیان ہے۔ مرزا قادیانی جب فوت ہوا تو اس کی جائیداد کے شرعی وارث حسب ذیل تھے۔ ایک بیوی، چار لڑکے اور دو لڑکیاں۔ لڑکوں میں سے مرزا سلطان احمد کو بوجوہ اس جائیداد میں سے حصہ نہیں دیا گیا اور باغ بیوی کو حق مہر وغیرہ کے سلسلہ میں مل گیا۔ بلکہ دراصل یہ مرزا قادیانی انہیں اپنی زندگی میں ہی دے چکے تھے اور چند رہائشی مکانات کے علاوہ بالکل معمولی سی زمین خلیفہ کے حصہ میں آئی جو دو روپیہ مرلہ کی بھی نہ تھی۔

(الفضل مورخہ ١١؍ فروری ١٩٤٧ء)

اس طرح دو ہزار روپیہ سے بھی کم جائیداد خلیفہ کے حصہ میں آئی۔ بہر حال جو کچھ بھی خلیفہ کے حصہ میں آیا اس سے اتنی آمد بھی نہیں ہو سکتی تھی کہ خلیفہ کی روٹی بھی چلے۔ قادیان کے سوا پہلے ہی کوئی جائیداد نہ تھی۔

(الفضل مورخہ ١٢؍ اپریل ١٩٥٨ء)

اس صورتحال کو دیکھ کر رشتہ داروں نے سازشیں شروع کر دیں کہ جماعت کے چندہ پر اپنا استحقاق جتایا جائے۔

(الفضل مورخہ ٨؍ نومبر ١٩٥٨ء)

اگر اس وقت کسی خادم، کسی اللہ دتہ، کسی جمعراتی مولوی وغیرہ کا انجمن کے انتظام وانصرام میں دخل ہوتا تو شاید سازش کامیاب ہو جاتی اور خاندان مسیح موعود کی عزت و حرمت کے واسطے دے دے کر وہ اس سلسلہ کو آج سے بہت پہلے تباہ کر چکے ہوتے اور پورا کا پورا الٰہی سلسلہ کسی پیر کی خانقاہ اور کسی فقیر کے تکیہ میں تبدیل ہو چکا ہوتا۔ جس کے مجاور اس خاندان کے لوگ ہوتے اور نذر و نیاز کی آمد حصہ رسدی تقسیم کر لیا کرتے۔ لیکن یہ اللہ تعالیٰ کا بہت بڑا فضل ہے اور مسیح موعود کے ان خادموں کو جو اس وقت اس سازش کو ناکام بنانے کا موجب بنے، اتنا بڑا کارنامہ ہے جو رہتی دنیا تک یاد رہے گا۔ پھر خلیفہ ویسی ہی ریشہ دوانیوں میں منہمک ہیں۔ پھر اس سلسلہ کو اپنے خاندان کی جاگیر بنانے کے خواب دیکھ رہے ہیں۔ لیکن اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے اپنے سلسلہ کی حفاظت فرمائے گا۔ سحر کی یہ رسیاں آخر بے حقیقت ثابت ہوں گی۔ خلیفہ کا یہ اقتدار اور ان کے چند بے قیمت کاسہ لیسوں کا یہ گٹھ جوڑ اپنی موت مر جائے گا اور اللہ تعالیٰ کا یہ الہام بہر حال پورا ہوگا: ”یصلح اللہ جماعتی انشاء اللہ“ اللہ تعالیٰ میری جماعت کی انشاء اللہ تعالیٰ اصلاح فرمائے گا۔

(تذکرہ ص ٧١٦، طبع سوم)

یہ الہام بتاتا ہے کہ جماعت میں ایک بگاڑ مقدر ہے۔ لیکن انجام بخیر ہے۔ یہ الہام خلیفہ اول کی نوٹ بک سے دستیاب ہوا ہے اور آپ کے اپنے قلم مبارک کا لکھا ہوا ہے۔

ہم بتا رہے تھے کہ مرزا قادیانی کی جائیداد سے جو حصہ خلیفہ کو ملا وہ برائے نام تھا اور

٨

صفحہ ٤٢٥

حضور کی وفات کے وقت خلیفہ بالکل بے زر تھا۔ ان کی جائیداد ان کے گزارہ کے لئے بھی کفایت نہ کرتی تھی۔ جسے دیکھ کر ان کے بعض رشتہ داروں نے قومی بیت المال پر ہاتھ ڈالنے کی صورتیں تجویز کرنا شروع کر دیں۔ دیکھئے کہ کس طرح خلیفہ خود اپنی سقیم حالت کے مقر ہیں فرماتے ہیں: "مسیح موعود فوت ہوئے تو بظاہر گزارہ کی کوئی صورت نہ تھی۔"

(الفضل مورخہ ٨؍ نومبر ١٩٣٩ء)

اس وقت آپ کا گزارہ صرف ساٹھ روپیہ ماہوار کے وظیفہ پر تھا جو نورالدین کے ایماء پر صدر انجمن احمدیہ قادیان کی طرف سے آپ کے لئے مقرر کر دیا گیا تھا یا اس امداد پر تھا جو ان کے والد کی محبت اور عقیدت کی وجہ سے خلیفہ اوّل وقتاً فوقتاً برابر کرتے رہتے تھے۔ ظاہر ہے کہ اس ساٹھ روپے کے وظیفہ سے (جو ١٩٠٨ء میں مقرر ہوا) اور گاہے بگاہے کی امداد سے مرزا محمود احمد کوئی جائیداد نہیں بنا سکتے تھے اور گو خلیفہ اوّل نے انہیں انجمن کا صدر بنوا دیا تھا۔ لیکن اس عظیم انسان کی موجودگی میں کسی قسم کا خورد برد ناممکن تھا۔ چنانچہ ١٩١٢ء میں جب خلیفہ نے حج کیا تو اس کا خرچ بھی صدر انجمن احمدیہ نے دیا تھا اور کچھ وہ امداد بھی تھی جو حضرت سیٹھ ابوبکر آف جدہ نے دی۔

١٩١٣ء میں جب خلیفہ نے پیغام صلح کے مقابلہ میں الفضل جاری کرنا چاہا تو ان کے پاس کوئی روپیہ نہ تھا گو سستا سماں تھا۔ لیکن اس معمولی تیسرے درجہ کے اخبار کے لئے بھی جو اس وقت ہفتہ واری تھا، خلیفہ تہی دست اور بے مال وزر تھے۔ ان کی بڑی اہلیہ نے بقول خلیفہ اس امر کو جانتے ہوئے کہ اخبار میں روپیہ لگانا ایسا ہی ہے جیسے کنوئیں میں پھینک دینا اور خصوصاً اس اخبار میں جس کا جاری کرنے والا محمود ہو ...... اپنے دونوں کڑے مجھے دے دیئے کہ میں ان کو فروخت کر کے اخبار جاری کردوں۔

(الفضل مورخہ ٢؍ جولائی ١٩٢٦ء)

اسی طرح فرماتے ہیں: "میں نے جب الفضل جاری کیا تو اس وقت میرے پاس پیسہ نہ تھا۔ حکیم محمد عمر میرے پاس آئے اور کہنے لگے میں آپ کو کچھ خریدار لا دیتا ہوں اور تھوڑی دیر میں ایک پوٹلی روپوں کی وہ میرے پاس لے آئے۔"

(الفضل مورخہ ٢٣؍ اپریل ١٩٢٧ء)

قطع نظر اس کے کہ ١٩٢٤ء میں خلیفہ نے الفضل کے اجراء کی جو کہانی بتائی اور جس میں انہوں نے اپنی بیوی کے کڑوں کی فروخت کا ذکر کیا تھا۔ اس میں حکیم محمد عمر والی پوٹلی کا کوئی ذکر نہیں تاہم دونوں حوالوں سے یہ ظاہر ہے کہ خلیفہ کی مالی حالت اس وقت بڑی سقیم تھی۔ ١٩١٣ء میں خلیفہ صاحب کی مالی حالت یہ تھی کہ فرماتے ہیں: "پیغامیوں کے خلاف پہلا اشتہار جاری کرنے کے لئے میرے پاس روپیہ نہ تھا۔"

(الفضل مورخہ ٢٣؍ اپریل ١٩٥٧ء)

خلاصہ کلام یہ کہ مسیح موعود کی جائیداد سے خلیفہ کو جو حصہ ملا وہ برائے نام تھا اور حضور کی

٩

صفحہ ٤٢٧

وفات کے وقت وہ بالکل بے زر تھے۔ ان کی جائیداد ان کے لئے بھی کفایت نہ کرتی تھی۔ شاید کوئی خیال کرے کہ اس معمولی جائیداد کو انہوں نے دن رات محنت کر کے ترقی دے لی ہوگی۔ لیکن نہیں۔ یہ ”غریب“ تو عمر بھر مہمات امور دینیہ میں اپنا سارا وقت دیتا رہا اور اپنے ذاتی معاملات کی طرف توجہ دینے کے لئے ایک لمحہ بھر کی بھی اسے فرصت میسر نہیں آئی۔ بلکہ سوتے ہوئے بھی قوم کے کاموں میں مصروف رہتا۔ کیونکہ اس وقت بھی قوم کے لئے خوابیں دیکھتا۔ عمر بھر میں ملازمت نہیں کی۔ جو دنیوی علوم پڑھے ہوئے ہیں وہ سب کو معلوم ہیں۔ دراصل پرائمری بھی پاس نہیں۔ میٹرک تک رعایتی ترقی دیئے جاتے رہے۔ باقی رہی کاروباری قابلیت وہ جیسی کچھ تھی وہ بیوی کی زبانی سن چکے ہو۔ جو سب سے بہتر اور درست نقاد ہوتی ہے۔

"اس امر کو جانتے ہوئے کہ اخبار میں روپیہ لگانا ایسا ہی ہے جیسے کنوئیں میں پھینک دینا اور خصوصاً اس اخبار میں جس کا جاری کرنے والا محمود ہو......"

(الفضل مورخہ ٢٤ مارچ ١٩٤٠ء)

علاوہ ازیں عملی زندگی میں ہم دیکھتے ہیں کہ ١٩٠٨ء سے لے کر جب مسیح موعود کی وفات ہوئی ١٩١٤ء تک، جب کہ یہ خود سر برآرائے خلافت ہوئے۔ ان کی مالی حالت نہیں سدھری، گھر کا معمولی گزارہ تھا۔ لیکن جب یہ خود خلیفہ بن جاتے ہیں تو دیکھتے ہی دیکھتے ان کی مالی حالت میں تبدیلی شروع ہو جاتی ہے۔ اب بتائیے! جس خاندان کی جائیداد اتنی بے حیثیت ہو اور جس شخص کو وراثت میں اتنا بھی نہ ملا ہو کہ وہ گذر اوقات کر سکے اور جو عمر بھر مہمات امور دینیہ میں اپنا سارا وقت دے رہا ہو اور اسے اپنے ذاتی معاملات میں وقت صرف کرنے کے لئے ایک لمحہ کی بھی فرصت نہ ہو اور وہ ایسی ٹھاٹھ باٹھ کی زندگی بسر کرتا ہو جس کا ماہانہ خرچ ہزاروں سے متجاوز ہو۔ جس کی کروڑوں کی جائیداد بن چکی ہو اور جو اپنے بھائیوں کے ساتھ مل کر صرف مشرقی پنجاب میں چھوڑی ہوئی جائیداد کے لئے کروڑوں روپیہ کا کلیم داخل کرتا ہے۔ اس کی دیانت اور امانت کے متعلق آپ کا کیا خیال ہے؟ کیا مذہب کی آڑ میں جلب زر کے حیرت انگیز مناظر آنکھوں کے آگے نہیں آ جاتے۔ مریدوں کے لکھوکھا روپیہ کے مصارف کی توجیہہ سمجھ میں نہیں آ جاتی اور معلوم نہیں ہو جاتا کہ خلیفہ کی گدی در حقیقت محض مذہب، دین، روحانیت، احمدیت، اشاعت اسلام اور قرآن و مساجد کی آڑ میں جلب زر کا ایک ڈھونگ ہے؟

سوچنے کی بات ہے کہ ایک بالکل بے مال و زر ساٹھ روپیہ کے وظیفہ خوار کا یہ حال کہ ربوہ میں ڈیڑھ دو درجن سے زائد کوٹھیاں بنوا چکا ہے۔ سندھ میں لاکھوں کے مربعے موجود ہیں انڈو ایشیو افریقین کمپنی لمیٹڈ، الشركۃ الاسلامیہ لمیٹڈ، دی اورئینٹل رائس کارپوریشن، نیشنل پیپر ملز لمیٹڈ، پین

اسلامک سٹیم شپ کمپنی لمیٹڈ، آئی سی ڈی سی لمیٹڈ پاکستان، سندھ جننگ فیکٹری کوٹری وغیرہ میں خ ہیں۔ خلیفہ میں ایمانی جرات ہے تو بذریعہ اعلان کاروباروں میں میرے بیٹوں اور دامادوں کے نا تعلق نہیں۔ نہ میں نے وہ ادا کیا اور نہ میرا اس کا رقوم کے ذاتی طور پر مالک نہیں اور میرا ان پر کوئی دعویٰ مثیل عمر ہونے کا ہے اور عملی زن پر مخالف ہے۔ عیش و عشرت پر ہزاروں ہزار روپیہ ساٹھ روپیہ کا وظیفہ خوار آج کا کروڑ پتی کہاں سے ہے۔ شب و روز حضور امور دینیہ کی سرانجام دہی قدموں میں بچھی جا رہی ہے اور دنیا کی آنکھ پاک بندوں کو اسی طرح نوازتا ہے۔ مصلح موعود لیکن کیا مکاریوں، دھوکہ دہیوں، فریب کاریوں قومی روپیہ میں ذاتی تصرفات، اور اوور ڈرافٹ کے ہے ایسی عزت اور ایسی دولت پر۔ وہ زمانے لد گا۔ یہ سب قوم کا روپیہ ہے۔ یہ سب ٹھاٹھ با کمائی ہے۔ یہ اشاعت اسلام اور تعمیر مساجد بارش، ریزرو فنڈ اور امانت فنڈ کے بادلوں سے غبن اور کھلے طور پر حاصل کردہ رقموں اور نذران کیا گیا ہے۔

گورنمنٹ کا ملازم جب معمولی ذ کی تفتیش کی جاتی ہے۔ لیکن ساٹھ روپیہ کا و بہانوں سے اپنا احتساب کروانے سے اجتناب

حضرت عمرؓ خطبہ دینے کے لئے کھ سے کہا کہ خطبہ کا کیا اثر ہو سکتا ہے۔ پہلے اپنی ہوئے ہیں، کہاں سے آیا۔ بظاہر حالات ک

صفحہ ٤٢٧

اسلامک سٹیم شپ کمپنی لمیٹڈ، آئی بی ڈی سی لمیٹڈ، سٹیٹ بینک آف پاکستان، نیشنل بینک آف پاکستان، سندھ جننگ فیکٹری کنری وغیرہ میں بیٹوں اور دامادوں کے نام لاکھوں روپیہ کے حصص ہیں۔ خلیفہ میں ایمانی جرأت ہے تو بذریعہ اعلان عام مشتہر کر دیں کہ ان کمپنیوں یا تمام دوسرے کاروباروں میں میرے بیٹوں اور دامادوں کے نام سے جتنا روپیہ لگا ہوا ہے میرا اس سے قطعاً کوئی تعلق نہیں۔ نہ میں نے وہ ادا کیا اور نہ میرا اس سے کوئی واسطہ ہے اور وہ کلیتہً ان حصص اور ان کی رقوم کے ذاتی طور پر مالک ہیں اور میرا ان پر کوئی کلیم نہیں۔ تا حقیقت حال کا اظہار ہو جائے۔

دعوٰیٰ مثیل عمر ہونے کا ہے اور عملی زندگی اس پاکباز اور بے لوث انسان سے قدم قدم پر مختلف ہے۔ عیش و عشرت پر ہزاروں ہزار روپیہ کا صرف ہے۔ یہ سارا روپیہ کہاں سے آیا ہے۔ ساٹھ روپیہ کا وظیفہ خوار آج کا کروڑ پتی کہاں سے بن گیا؟ دن رات اسے قوم کا فکر کھائے جا رہا ہے۔ شب و روز حضور امور دینیہ کی سرانجام دہی میں مصروف رہتے ہیں۔ لیکن لکشمی دیوی ہے کہ قدموں میں بچھی جا رہی ہے اور دنیا کی آنکھوں میں دھول جھونکی جا رہی ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے پاک بندوں کو اسی طرح نوازتا ہے۔ مصلح موعود نے صاحب عزت و دولت ہونا تھا۔ درست ہے۔ لیکن کیا مکاریوں، دھوکہ دہیوں، فریب کاریوں، غبن اور دوسروں کے اموال میں خرد برد کر کے قومی روپیہ میں ذاتی تصرفات، اوور ڈرافٹ کے ذریعہ سے یہ عزت و دولت حاصل کرنا تھی۔ لعنت ہے ایسی عزت اور ایسی دولت پر۔ وہ زمانے لد گئے اب اس قسم کی لفظی مکاریوں سے کام نہیں چلے گا۔ یہ سب قوم کا روپیہ ہے۔ یہ سب ٹھاٹھ باٹھ اور کس بل غریب جماعت کے گاڑھے پسینے کی کمائی ہے۔ یہ اشاعت اسلام اور تعمیر مساجد کے نام پر دیئے ہوئے چندوں کا ظہور ہے۔ نور کی بارش، ریزرو فنڈ اور امانت فنڈ کے بادلوں سے برسی ہے۔ جسے خفی و جلی عملی جعلسازیوں، مسلسل غبن اور کھلے طور پر حاصل کردہ رقموں اور نذرانوں، دعا کے وعدوں اور قرضوں کے ذریعے حاصل کیا گیا ہے۔

گورنمنٹ کا ملازم جب معمولی ذرائع رکھتے ہوئے جائیدادوں کا مالک بنتا ہے تو اس کی تفتیش کی جاتی ہے۔ لیکن ساٹھ روپیہ کا وظیفہ خوار کروڑوں کا مالک بن چکا ہے لیکن اِن بہانوں سے اپنا احتساب کروانے سے اجتناب کر رہا ہے۔

حضرت عمرؓ خطبہ دینے کے لئے کھڑے ہوئے تو کسی شخص نے بڑی جرأت اور دلیری سے کہا کہ خطبہ کا کیا اثر ہو سکتا ہے۔ پہلے اپنی پوزیشن کو صاف کیجئے۔ اس قمیص کا کپڑا جو آپ پہنے ہوئے ہیں، کہاں سے آیا۔ بظاہر حالات آپ کے پاس اس کے آنے کی کوئی وجہ نہیں۔ بات

ادان کے لئے بھی کفایت نہ کرتی تھی۔ شاید دن رات محنت کر کے ترقی دے لی ہوگی۔ میں اپنا سارا وقت دیتا رہا اور اپنے ذاتی کبھی اسے فرصت میسر نہیں آئی۔ بلکہ سوتے س وقت بھی قوم کے لئے خوابیں دیکھتا۔ عمر ہیں وہ سب کو معلوم ہیں۔ دراصل پرائمری کر ہے۔ باقی رہی کاروباری قابلیت وہ جیسی اور درست نگاہ ہوتی ہے۔ لگانا ایسا ہی ہے جیسے کنوئیں میں پھینک دینا

....... (الفضل مورخہ ٢٣ مارچ ١٩٤٠ء)

١٩٠٨ء سے لے کر جب مسیح موعود کی وفات ہوئے۔ ان کی مالی حالت نہیں سدھری، گھر کا تو دیکھتے ہی دیکھتے ان کی مالی حالت میں ں جائیداد اتنی بے حیثیت ہو اور جس شخص کو حو عمر بھر مہمات امور دینیہ میں اپنا سارا وقت کرنے کے لئے ایک لمحہ کی بھی فرصت نہ یانہ خرچ ہزاروں سے متجاوز ہو۔ جس کی کے ساتھ مل کر صرف مشرقی پنجاب میں کرتا ہے۔ اس کی دیانت اور امانت کے پ زر کے حیرت انگیز مناظر آنکھوں کے ف کی توجیہہ سمجھ میں نہیں آجاتی اور معلوم اور روحانیت، اشاعت اسلام اور ر ساٹھ روپیہ کے وظیفہ خوار کا یہ حال کہ ربوہ لاکھوں کے مربے موجود ہیں لیدر اینڈ شو س کارپوریشن، کرناٹکی پیپر ملز لمیٹڈ، مین

صفحہ ٤٢٨

معقول ہے۔ ایک قائد کا اولین فرض ہے کہ وہ قوم کے ذہن میں پیدا ہونے والے اعتراضات کو صاف کرتا رہے اور جب اس کی ذات زیر الزام آ جائے تو ممکن ذریعہ سے جلد از جلد اپنی پوزیشن صاف کر لے۔ چنانچہ حضرت عمرؓ نے اس وقت اس شخص کو منافق کہہ کر بٹھا نہیں دیا۔ اس کا بائیکاٹ نہیں کروایا۔ لوگوں کی غیرت کو نہیں ابھارا کہ اس سے سلام و کلام منقطع کریں اور نفرت و حقارت کا اظہار کریں، ریزولیوشن پاس کریں اور اخلاص نامے بھجوائیں۔ بلکہ اس وقت بڑے پیار اور وضاحت کے ساتھ اپنی پوزیشن صاف کر دی۔ یہ نہند نام زنگی کا فور کا مصداق ، حضرت عمرؓ سے بھی افضل کہلاتے۔ گذشتہ تینتالیس سال سے قوم کا روپیہ مختلف طریقوں سے کھا رہا ہے۔ لیکن کسی کھلی تحقیقات کے لئے تیار نہیں۔ بلکہ اپنی عیاری سے قوم کے ذہنوں میں یہ تصور بٹھانا چاہتا ہے کہ میں قوم پر بار نہیں۔ میری وجہ سے بیت المال مقروض نہیں۔ بلکہ میں تو خود قوم کی امداد کرتا رہتا ہوں اور حساب کر کر کے ”لا تبطلوا صدقاتکم بالمن“ اگر کوئی چندہ دیا بھی ہے تو اسے اکارت کر کے بتاتا رہتا ہے کہ اب تک میں اتنا چندہ دے چکا ہوں اور اب تک اتنا چندہ۔ ہمارا خیال ہے کہ لاکھوں کی جماعت میں سے شاید کوئی ایک شخص بھی ایسا نہیں ملے گا جو اپنے عمر بھر کے چندوں کو جمع کرتا ہو اور جماعت میں ان کا ڈھنڈورہ پیٹتا رہتا ہو۔ لیکن یہ شخص بار بار کہتا رہتا ہے۔ اب تک میں اتنا چندہ دے چکا ہوں۔ اب اتنا ہو گیا ہے اور اس طرح یہ تاثر زندہ کرنا چاہتا ہے کہ سلسلہ ان کا زیر بار ہے۔ شاید لاکھوں روپے ہضم کرنے کا یہ بھی ایک طریقہ ہے۔ جناب خلیفہ صاحب اپنے زمانہ خلافت کے آغاز سے جماعتی استحصال میں مصروف ہیں اور تب سے ہی غیور جماعت کے بیدار افراد اس بارہ میں چیختے ہی رہے ہیں۔ ١٩٢٩ء میں ایک اخبار نے اس طرح خبر چھاپی کہ قادیاں کی سرمایہ داری، مذہب کے آڑ میں جلب زر کے حیرت انگیز مظہر مریدوں کے لکھوکھا روپیہ کا صریح غبن۔ پھر تحریک جدید کے ذریعہ خرد برد کا دروازہ کھولا۔ چنانچہ خلیفہ تقریر کرتے ہیں۔

یہ کسی کمبخت نے کہا ہے کہ خلیفہ المسیح نے جو تحریک جدید جاری کی ہے۔ یہ اپنے لئے انہوں نے روپیہ جمع کرنے کے لئے کی ہے۔

(الفضل مورخہ ٤؍ جنوری ١٩٤٧ء)

اس وقت اخبارات میں ایسی خبریں شائع ہو رہی ہیں۔ ”بیت المال کی لاکھوں روپیہ کی رقومات سے مرزا صاحب جائیدادیں خرید رہے ہیں“۔

جماعتی ذرائع اور ذاتی مفاد

قادیان کی ترقی کے متعلق حضرت مسیح موعود کے متعدد الہامات ہیں اور حضور کی بعض کشوف سے معلوم ہوتا ہے کہ قادیان دریائے بیاس تک پھیل جائے گا۔ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام

١٢

صفحہ ٤٢٩

کے ذہن میں پیدا ہونے والے اعتراضات کو نے تو ممکن ذریعہ سے جلد از جلد اپنی پوزیشن س کو منافق کہہ کر بٹھا نہیں دیا۔ اس کا بائیکاٹ سلام و کلام منقطع کریں اور نفرت و حقارت کا ے بھجوائیں۔ بلکہ اس وقت بڑے پیار اور نام زنگی کافور کا مصداق، حضرت عمرؓ سے بھی تلف طریقوں سے کھا رہا ہے۔ لیکن کسی کھلی کے ذہنوں میں یہ تصور بٹھانا چاہتا ہے کہ میں ۔ بلکہ میں تو خود قوم کی امداد کرتا رہتا ہوں آکر کوئی چندہ دیا بھی ہے تو اسے اکارت کر یا اور اب تک اتنا چندہ۔ ہمارا خیال ہے کہ نہیں ملے گا جو اپنے عمر بھر کے چندوں کو جمع لیکن یہ شخص بار بار کہتا رہتا ہے۔ اب تک رح یہ تاثر زندہ کرنا چاہتا ہے کہ سلسلہ ان ب طریقہ ہے۔ جناب خلیفہ صاحب اپنے ۔ ہیں اور تب سے ہی بھی جماعت کے ایک اخبار نے اس طرح خبر چھاپی کہ حیرت انگیز منظر مریدوں کے لکھوکھا روپیہ کھولا۔ چنانچہ خلیفہ تعریف کرتے ہیں۔ جاری کی ہے۔ یہ اپنے سب انہوں نے

(الفضل مورخہ ٢٤ جنوری ١٩٤٧ء)

ی ہیں۔ ”بیت المال کی لاکھوں روپیہ کی

کے متعلق الہامات ہیں اور حضور کی بعض یل جائے گا۔ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام

ہجرت کی تحریک فرما چکے تھے۔ ”خدا تعالیٰ نے ان ہی اصحاب صفہ کو تمام جماعت سے پسند کیا ہے جو شخص سب کچھ چھوڑ کر یہاں آ کر آباد نہیں ہوتا اور کم سے کم یہ تناول میں نہیں رکھتا، اس کی حالت کی نسبت مجھ کو بڑا اندیشہ ہے کہ وہ پاک کرنے والے تعلقات میں ناقص نہ رہے اور یہ پیش گوئی عظیم الشان ہے اور ان لوگوں کی عظمت ظاہر کرنا ہے کہ جو خدا تعالیٰ کے علم میں تھے وہ اپنے گھروں اور وطنوں اور املاک کو چھوڑ دیں گے اور میری ہمسائیگی کے لئے قادیان میں آ کر بودوباش کریں گے۔“

(تریاق القلوب ص٦٠، خزائن ج١٥ ص٣٦٣)

پھر فرماتے ہیں: ”ہم اپنے دوستوں کو بار بار یہاں آنے اور رہنے کی تاکید کرتے ہیں۔“ (٢٣ جولائی ١٩٠٤ء) اس ارشاد گرامی کے تحت بہت سے احمدی احباب ہجرت کر کے قادیان آنے شروع ہوچکے تھے اور قادیان کی ترقی کا آغاز ہوچکا تھا۔ اندرون قصبہ میں جگہ ختم ہونے کے بعد خلافت اولیٰ میں بیرون قصبہ جات جانب شمال محلہ دارالعلوم کی آبادی شروع ہوگئی تھی۔ نواب محمد علی خان صاحب مالیرکوٹلہ کی کوٹھی دارالسلام بن چکی تھی۔ تعلیم الاسلام ہائی سکول کی عمارت قریب الاختتام تھی۔ اس کے بورڈنگ کی تعمیر مکمل ہوچکی تھی۔ حضرت مولانا شیر علی صاحب مفسر تفسیر القرآن انگریزی کا وسیع مکان بن چکا تھا اور اس طرح اور بہت سے مکان آباد ہوچکے تھے۔ اس صورتحال کا لازمی نتیجہ یہ ہوا کہ احمدی تو احمدی غیرمسلم لوگ بھی اس یقین سے بھر گئے کہ قادیان ضرور ترقی کر جائے گا اور آخر ایک دن بڑا شہر بن جائے گا۔ چنانچہ قادیان میں جہاں بعد میں محلہ دارالرحمت آباد ہوا ہے۔ وہ زمین سردار تیجا سنگھ نے خریدی۔ اس لئے کہ وہ جانتا ہے کہ اس سے بہت فائدہ ہوگا۔ وہ کہتا تھا کہ میں نہیں کہہ سکتا میں نے زمین خریدی ہے بلکہ یہی کہتا ہوں کہ میں نے سونا خریدا ہے۔

اور دن بدن قادیان کی زمین کی قیمت بڑھنی شروع ہوگئی اور ہر شخص محسوس کر رہا تھا کہ بلکہ عملاً دیکھ رہا تھا کہ حضرت مسیح موعود کی پیش گوئی وسعت قادیان کے متعلق پوری ہو نہیں سکتی جب تک کہ قادیان کی پرانی آبادی سے باہر نہ نکلا جائے۔ بہت سے دوستوں کی خواہش تھی کہ وہ قادیان میں مکان بنائیں۔ لیکن زمین نہ مل سکنے کی وجہ سے وہ اس خواہش کو پورا نہیں کر سکتے تھے۔

جناب مرزا محمود احمد خلیفہ نے اس صورتحال سے فائدہ اٹھانا شروع کیا۔ عام حالات میں کوئی کاروبار کرنا قابل اعتراض بات نہیں۔ لیکن اگر کوئی شخص اپنے جماعتی مقام سے ناجائز فائدہ اٹھائے اور جماعتی ضروریات کو پس پشت پھینک کر اس سے ذاتی منفعت حاصل کرنا چاہے تو یہ بہت بڑی خودغرضی ہی نہیں بلکہ سخت غداری بھی ہے اور افسوس ہے کہ خلیفہ نے اس

١٣

صفحہ ٤٣٠

جماعت کی ترقی کی پیش گوئیاں تھیں۔ یہ چیز مسلمہ تھی کہ ان کی تکمیل کا اندازہ یہ ہماری چاردیواری سے باہر نکل جائے اور یہ صورتحال دیکھ کر یقیناً بعض طبقے اس میں آ جائیں گے۔ فروخت اراضی کا کام ترقی کر جائے۔ زمین کی قیمت بڑھتی چلی گئی اور ہر ایک عام آدمی کے لئے یہ ابتداء میں تاثر جماعت میں پڑنے دیا گیا یہ صرف اپنے مفاد کے لئے تھا۔ یہ محض اتفاق نہیں بلکہ باقاعدہ سوچی سمجھی سکیم تھی۔ جو زمین کبھی دو آنہ مرلہ میں بھی گراں تھی۔ دو دو ہزار روپیہ مرلہ پر فروخت ہوئی اور قوم کا لاکھوں روپیہ اکابر کی جیبوں میں چلا گیا۔ نہ صرف یہ بلکہ بالکل پرائیویٹ Enter Prise ہونے کی وجہ سے شہر کا کوئی نقشہ بھی تجویز نہ کیا گیا۔ محلے بدصورت بنے۔ گلیاں تنگ رکھی گئیں۔ بچوں کے لئے پرائمری اور مڈل سکولوں اور تفریح گاہوں بلکہ مسجدوں تک کے لئے کوئی مناسب جگہ محلہ جات میں نہ چھوڑی گئی۔ آبادی کی صحت الگ برباد ہو گئی اور اس طرح اٹھارہ ہزار کی جائیداد پانچ لاکھ روپیہ میں فروخت کی۔

(الفضل مورخہ ١٣ اپریل ١٩٥٨ء)

بجائے اس کے کہ پرانی آبادی کے ماحول کا سروے کر کے ایک ترقی پذیر شہر کے انداز کا نقشہ تیار کروایا جاتا۔ جس میں شہری اور جماعتی ضروریات مدنظر رکھی جاتیں۔ جماعتی سرمایہ سے آہستہ آہستہ گردا گرد کی زمین خریدی جاتی اور معمولی ڈیویلپمنٹ چارجز لے کر اصل قیمت پر مہاجرین میں تقسیم کی جاتی۔ اگر لالچ اور خود غرضی کو پس پشت ڈال کر یہ صورت اختیار کر لی جاتی تو سلسلہ کو کس قدر فائدہ پہنچتا۔ لوگوں کا لاکھوں روپیہ بچ جاتا۔ موجودہ تعداد سے کئی گنا زیادہ لوگ ربوہ میں مکانات بنا لیتے۔ کیونکہ انہیں سستی اراضی ملتی۔ غرباء بھی زمین خرید لیتے۔ لیکن خلیفہ لالچ میں اندھے ہو رہے تھے۔ انہوں نے جماعتی ضروریات، افراد جماعت کے مفاد، حضرت مسیح موعود کے الہامات کی تکمیل کے فریضہ کو پس پشت پھینک کر اس تجارت کو Monoply اپنے خاندان میں کرنے کے ڈھنگ سوچنے شروع کر دیئے۔ اگر خلیفہ وقت ربوہ میں کچھ اراضی کے مالک ہوتے تو اوّل تو ان کا فرض تھا کہ وہ قومی ضروریات کے پیش نظر مناسب قیمت پر سلسلہ کے ہاتھ فروخت کر کے اس شاندار کام کی عملی داغ بیل ڈال دیتے۔ لیکن جیسے کہ پیچھے بیان ہو چکا ہے واقعہ تو یہ ہے کہ خلیفہ صاحب اور ان کے خاندان کا اپنے والد ماجد کی طرف سے حصہ جائیداد بہت ہی معمولی تھا اور وہ اس قابل نہیں تھا کہ اس کے بل پر خلیفہ کے گھر کے معمولی اخراجات بھی پورے ہو سکتے۔ اس وقت ان کے پاس آبادی کے قابل زمین چھ سات ایکڑ تھی۔

ان صورت حالات میں خلیفہ نے جماعتی مفاد کو پس پشت پھینک کر اس اہم کاروبار کو جماعت کے ہاتھوں میں دینے کی بجائے خود اس پر قبضہ کرنے کی تدبیریں کرنا شروع کیں اور اپنے مقام خلافت کو اس کا ذریعہ بنایا۔

١٤

اوپر بیان ہو چکا ہے کہ محلہ دارال چاہا خواہ کچھ ہو اس زمین کو خرید لیا جائے زیورات تک فروخت کر کے یہ زمین خری امام اور خلیفہ تھے جماعتی ضروریات الف بڑی روک یہ پیدا ہو رہی ہے کہ سکنی ارا جب باہر آبادی کی خواہش ہو گی تو وہ دو طرح ہماری جماعت کو نقصان ہو گا ۔ تو پ سلسلہ کے لئے کیوں نہیں کیا؟ یہ زمین فروخت کر کے اسے خریدنا ضروری سمجھا

اس سلسلہ میں خلیفہ صاحب سے یہ زمین جماعتی دباؤ کے ماتحت خری اور اگر احمدی اسے نہیں خریدیں گے تو اسے دی اور کہا ”اگر ہمارے پاس تم خریدے گا ۔“ چنانچہ بائیکاٹ کا یہ حربہ ک مند سودا کیا ہے اور زمین نہیں بلکہ سونا زمین کو فروخت کرنے پر بادل نخواستہ کر کے یا اسے ذاتی طور پر خلیفہ صاحب خریدا، اس موقع پر یہ سوال بھی پیدا ہ خلیفہ صاحب کے پاس روپیہ نہ تھا، زیورات بیچ کر کیا تھا۔ ساٹھ روپیہ کے کہاں سے آ گیا۔ جس سے سردار ج پہلا حربہ تھا جو جلب زر کی خاطر جماعتی ذاتی مفاد پر قربان کر دیا۔ حالانکہ جم ضروریات کو مقدم رکھتے۔

اس قسم کا دوسرا حملہ خلیفہ

صفحہ ٤٣١

اپنے مقام خلافت کو اس کا ذریعہ بنایا۔

اوپر بیان ہو چکا کہ محلہ دارالرحمت کی اراضی دراصل ایک سکھ خرید چکا تھا۔ خلیفہ نے چاہا خواہ کچھ ہو اس زمین کو خرید لیا جائے۔ چنانچہ جس طرح بھی ہوا کوشش کر کے ہم نے گھر کے زیورات تک فروخت کر کے یہ زمین خریدی۔ ہمارا سوال یہ ہے کہ خلیفہ قوم کے سربراہ تھے اس کے امام اور خلیفہ تھے جماعتی ضروریات ان کے سامنے تھیں وہ جانتے تھے کہ ہجرت قادیان میں بہت بڑی روک یہ پیدا ہو رہی ہے کہ سکنی اراضی مل نہیں رہی۔ قیمتیں دن بدن بڑھ رہی ہیں اور لوگوں کو جب باہر آبادی کی خواہش ہوگی تو وہ دوسروں سے زمین قیمتاً خریدیں گے جو مہنگی دیں گے اور اس طرح ہماری جماعت کو نقصان ہوگا۔ تو پھر انہوں نے پچھتر ایکڑ زمین کا سودا ذاتی طور پر کیوں کیا۔ سلسلہ کے لئے کیوں نہیں کیا؟ یہ زمین آپ کو سونا نظر آئی۔ آپ نے اپنے گھر کے زیورات تک فروخت کر کے اسے خریدنا ضروری سمجھا۔ لیکن سلسلہ کے مفاد آپ کو نظر نہ آئے۔

اس سلسلہ میں خلیفہ صاحب کا سب سے بڑا جرم یہ ہے کہ انہوں نے سردار تیجا سنگھ سے یہ زمین جماعتی دباؤ کے ماتحت خریدی وہ یہ جانتا تھا کہ زمین بہر حال احمدیوں نے خریدنی ہے اور اگر احمدی اسے نہیں خریدیں گے تو اس کے کسی کام نہیں آئے گی۔ چنانچہ یہی دھمکی آپ نے اسے دی اور کہا ”اگر ہمارے پاس تم اس زمین کو فروخت نہیں کرو گے تو تم سے کوئی زمین نہیں خریدے گا ۔“ چنانچہ بائیکاٹ کا یہ حربہ کامیاب ہو گیا اور یہ جاننے کے باوجود کہ اس نے بہت فائدہ مند سودا کیا ہے اور زمین نہیں بلکہ سونا خریدا ہے۔ پھر بھی وہ خلیفہ اور ان کے بھائیوں کے ہاتھ اس زمین کو فروخت کرنے پر بادل ناخواستہ تیار ہو گیا۔ اب دیکھو نہ صرف جماعتی ضروریات کو نظر انداز کر کے یا اسے ذاتی طور پر خلیفہ صاحب نے خریدی بلکہ جماعتی ذرائع اور جماعتی دباؤ کے ماتحت خریدا، اس موقع پر یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ ١٩١٤ء میں ایک اشتہار شائع کرنے کے لئے بھی خلیفہ صاحب کے پاس روپیہ نہ تھا اور اس سے پہلے الفضل کا اجراء بھی انہوں نے بیوی کے زیورات بیچ کر کیا تھا۔ ساٹھ روپیہ کے تو وہ دکھیہ خوار تھے۔ چار سال کے اندر اندر اٹھارہ ہزار روپیہ کہاں سے آ گیا۔ جس سے سردار تیجا سنگھ سے پچھتر ایکڑ کی زمین خریدی گئی۔ یہ غالباً سب سے پہلا حربہ تھا جو جلب زر کی خاطر جماعت کے مفاد پر اور قوم کی اجتماعی اور انفرادی ضروریات کو اپنے ذاتی مفاد پر قربان کر دیا۔ حالانکہ جماعتی سربراہ ہونے کی حیثیت سے ان کا فرض تھا کہ وہ جماعتی ضروریات کو مقدم رکھتے ۔

اس قسم کا دوسرا حملہ خلیفہ صاحب نے ١٩٢٠ء میں کیا۔ اس اجمال کی تفصیل درج ذیل

١٥

صفحہ ٤٣٤

ہے ۔ یہ خلیفہ صاحب کا جھوٹا اور واقعات سے بعید پراپیگنڈا ہے کہ وہ جدی طور پر امیر کبیر ہیں اور قادیان کے وہ مالک ہیں۔ زمینیں ان کے قبضہ میں تھیں۔ وہ یہاں کے بڑے زمیندار تھے۔ واقعہ یہ ہے کہ جیسا کہ ہم اوپر درج کر چکے ہیں۔ خلیفہ کو وراثت میں ایک معمولی سی جائیداد آئی تھی جو دراصل چند مکانات پر مشتمل تھی۔ ان کے اور ان کے بھائیوں کے پاس ملا کر کل چھ سات ایکڑ اراضی آبادی کے قابل تھی۔ واقعہ یہ ہے کہ ریاست بیکانیر کا اپنا سپرنٹنڈنٹ پولیس مرزا اکرم بیگ ولد مرزا فضل بیگ (جو دراصل پٹی کے رہنے والے تھے) قادیان کی زمین کے ١١/١٦ حصہ کے مالک تھے۔ محلہ دارالرحمت والی زمین جس کا اوپر اوپر ذکر گزر چکا ہے۔ یہ بھی دراصل مرزا اکرم بیگ صاحب کی ہی تھی اور اس سکھ نے انہیں سے اس کا سودا کیا تھا۔ (الفضل مورخہ ١١ اپریل ١٩٥٨ء)

جماعتی کوششوں سے مرزا اکرم بیگ صاحب و مسماۃ سردار بیگم بیوہ مرزا فضل بیگ نے جو ان کی والدہ تھی ”ایک لاکھ اڑتالیس ہزار روپیہ میں قادیان کی کل جائیداد غیر منقولہ از قسم سکنی واراضیات زرعی و غیر زرعی ہر قسم اندرون و بیرون سرخ لکیر معہ حصہ شاملات دیہہ وحقوق داخلی و خارجی متعلق جائیداد مذکور فروخت کر دیئے۔“ ٢١/ جون ١٩٢٠ء کو یہ بیعنامہ تحریر ہوا اور ٥/ جولائی ١٩٢٠ء کو اس کی رجسٹری ہوئی اور بعد میں ١٩٢٩ء میں اسی سودے پر دعویٰ واستقرار حق ہو گیا تھا جس کے لئے الفضل میں دعاؤں کے اعلانات چھپتے رہے ہیں۔ اس دفعہ پھر خلیفہ نے قوم سے غداری کی اور یہ غداری کئی جہتوں سے ہے۔

رجسٹری خلیفہ اور ان کے بھائیوں کے نام سے کروائی گئی۔ جن کی طرف سے ادا شدہ رقم ساڑھے تین ہزار روپیہ بتائی جاتی ہے۔

کر یہ کیا کہ زمین کے اتنے حصہ کے مالک وہ ہو جائیں گے۔ خلیفہ صاحب کی تحریک سے مختلف لوگوں نے حصے خرید کر روپیہ جمع کیا تھا۔ لیکن خلیفہ صاحب نے یہ تحریک نہیں کی کہ انجمن ساری زمین خرید لے۔

بعض حقیقی مصالح اور غیر حقیقی خطرات کی وجہ سے کروائی گئی ہے۔ پھر بھی وہ غلط طور پر الفضل وغیرہ میں یہ پراپیگنڈا کرواتے رہے کہ اراضی قادیان کے ہم مالک ہیں۔

خلیفہ صاحب فرماتے ہیں: ”اس وقت بھی قادیان کی زرعی زمین کے مالک صرف

١٦

میں اور میرے بھائی ہیں اور محض تھوڑی سی زم وہ زمین ہم سے بغرض آبادی حاصل کی ہے حالانکہ جیسا بیان ہوا یہ بالکل یہاں صرف ٧/ ایکڑ زمین تھی۔ بعد میں ص اس میں خلیفہ نے بھی ناجائز طور پر اور ا نادرست طور پر شرکت کر لی۔ پھر بعض دو کئے۔ مثلاً حضرت مولانا مولوی شیر علی ، ڈ خلیفہ نے اس جگہ صریح کذب بیانی سے کا

ماحول قادیان میں ان کی اجازت کے بغیر درخواست نہ کریں۔ حالانکہ جب اس سو دیہہ وحقوق داخلی وخارجی میں بھی اس کا قادیان میں اراضی خریدنے سے روکتے وہ فروخت کر دیئے۔ خریدنے والوں میں ہے کہ وہ حقوق اس کی طرف بھی منتقل ہو پر بنالیا کہ اب کوئی احمدی قادیان اور ماح

شاید یہ بھی سانپ یعنی ابلیس

اٹھارہ ہزار کا سودا کر چکے تھے۔ اس س کے حصے کہاں سے چڑھ گئی کہ ایک س آمد کے باوجود ١٩٠٨ء سے لے کر ١٩ لئے ان کے پاس روپیہ ہوتا۔ یا اب ج توجہ طلب ہیں اور اس قابل ہیں کہ مع پر قوم نے اعتماد کر کے اپنی باگ ڈور ا لئے جماعتی مفاد کو قربان کر دیتا ہے۔

صفحہ ٤٣٤

میں اور میرے بھائی ہیں اور محض تھوڑی سی زمین بعض احمدی احباب کے قبضہ میں ہے، جنہوں نے وہ زمین ہم سے بغرض آبادی حاصل کی ہے۔"

(الفضل مورخہ ٢٠؍ ستمبر ١٩٢٩ء)

حالانکہ جیسا بیان ہوا یہ بالکل جھوٹ ہے۔ خلیفہ صاحب اور ان کے بھائیوں کی تو یہاں صرف ١٧ ایکڑ زمین تھی۔ بعد میں صدر انجمن احمدیہ نے مرزا اکرم بیگ سے زمین خریدی۔ اس میں خلیفہ نے بھی ناجائز طور پر اور اپنی خلافت اور امامت سے ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے نادرست طور پر شرکت کر لی۔ پھر بعض دوستوں نے مرزا اکرم بیگ سے براہ راست بھی سودے کئے۔ مثلاً حضرت مولانا مولوی شیر علی، ڈاکٹر میر محمد اسماعیل اور شیخ احمد اللہ وغیرہ نے، اس طرح خلیفہ نے اس جگہ صریح کذب بیانی سے کام لیا ہے۔

چہارم...... اس کے بعد خلیفہ نے اس سلسلہ میں ایک جہاد شروع کر دیا کہ کوئی صاحب قادیاں اور ماحول قادیاں میں ان کی اجازت کے بغیر زمین کا سودا نہ کریں۔ بلکہ ان سے اجازت کے لئے بھی درخواست نہ کریں۔ حالانکہ جب اس سودے میں صدر انجمن احمدیہ شریک غالب تھی اور شاملات دیہہ و حقوق داخلی و خارجی میں بھی اس کا حصہ غالب تھا تو خلیفہ کون ہوتے ہیں جو احمدی پبلک کو قادیان میں اراضی خریدنے سے روکتے؟ مرزا اکرم بیگ جملہ حقوق مالکانہ رکھتے تھے۔ انہوں نے وہ فروخت کر دیئے۔ خریدنے والوں میں سے سب سے بڑی خریدار دراصل صدر انجمن تھی۔ ظاہر ہے کہ وہ حقوق اس کی طرف بھی منتقل ہوئے۔ یہ خلیفہ نے اپنا اور اپنے بھائیوں کا استحقاق کس بناء پر بنالیا کہ اب کوئی احمدی قادیان اور ماحول قادیان میں اراضی نہیں خرید سکتا۔

(الفضل مورخہ ٤؍ مارچ ١٩٣٨ء)

شاید یہ بھی سانپ یعنی ابلیس کا سر کچلنے کا ایک طریقہ ہے جس پر خلیفہ عمل کرتے رہے ہیں۔

پنجم...... خلیفہ ساٹھ روپیہ کے وظیفہ خوار تھے۔ ابھی دو سال پیچھے ١٩١٨ء میں وہ ایک سکھ سے اٹھارہ ہزار کا سودا کر چکے تھے۔ اس کے بعد ١٩٢٠ء میں ساڑھے تینتیس ہزار روپیہ کی کثیر رقم ان کے ہتھے کہاں سے چڑھ گئی کہ ایک نئے سودے پر انہوں نے ہاتھ ڈال لیا۔ یا تو اپنے تمام ذرائع آمد کے باوجود ١٩٠٨ء سے لے کر ١٩١٤ء تک خلیفہ کی اتنی حیثیت بھی نہ ہوئی کہ ایک اشتہار کے لئے ان کے پاس روپیہ ہوتا۔ یا اب دھڑا دھڑ ہزاروں کے سودے ہونے لگ گئے۔ یہ امور بڑے توجہ طلب ہیں اور اس قابل ہیں کہ دوست ان پر غور کریں اور دیکھیں کس طرح اس شخص نے جس پر قوم نے اعتماد کر کے اپنی باگ ڈور اسے تھمادی تھی، قدم قدم پر غداری کر رہا ہے اور اپنے مفاد کے لئے جماعتی مفاد کو قربان کر دیتا ہے۔

١٧

صفحہ ٤٣٤

ششم...... بیان ہو چکا ہے کہ اس سودے پر مرزا اکرم بیگ کے لڑکے مرزا اعظم بیگ نے استقرار حق کا مقدمہ کر دیا تھا جو سالہا سال چلتا رہا۔ جس میں سلسلہ کی مشنری، اس کا نظام اس کی ساکھ اس کے کارکنوں کا بلا معاوضہ حصہ رسدی استعمال ہوتا رہا۔

ہفتم....... پھر جب یہ اراضی حاصل ہو گئی تو اس کی قیمتیں ان وجوہات کی بناء پر چڑھاتے چلے گئے کہ جو سلسلہ کے خرچ یا سلسلہ کی ساکھ یا ایسی ہی کسی دوسری بناء پر پیدا ہو گئی تھیں۔ مثلاً قادیان میں سکول کھل گئے۔ انجمن نے بہت سا روپیہ خرچ کر کے تار گھر اور ٹیلیفون آفس کھلوائے۔ خاص راستے سے ریل گاڑی لائی گئی اور ان اراضی میں اور ان کے قریب اسٹیشن بنوایا گیا جو اکرم بیگ والے سودے میں خلیفہ صاحب کے حصہ میں آئی تھیں۔ تاکہ اس کا فائدہ ان کو پہنچے۔

ہشتم....... اراضی کو ان کی قیمتیں خوب چڑھا چڑھا کر فروخت کیا گیا۔

نہم....... یہ رجسٹری خلیفہ اور ان کے بھائیوں کے نام تھی۔ گویا ایک بے نامی سودا تھا۔ لیکن بیشتر حصہ انجمن کا تھا۔ لیکن آج پاکستان گورنمنٹ کو بتایا جاتا ہے کہ ہم وہاں لاکھوں لاکھ کی جائیداد کے مالک تھے۔

دہم....... یہ خریدی ہوئی زمین بھی فروخت کر دی گئی تھی۔ لیکن سرکاری کاغذات میں نام پھر بھی خلیفہ اور ان کے بھائیوں کا رہا۔ کیونکہ جو احمدی یہ زمین خریدتے تھے ان کو رجسٹری کرا کر نہ دی جاتی تھی اور اس وجہ سے یہ فروخت شدہ زمینیں خلیفہ اور ان کے بھائیوں ہی کے نام پر سرکاری کاغذات میں درج رہی اور اس طرح خلیفہ، محمد رسول اللہ کا نام بلند کرنے اور اسلام کے جھنڈے گاڑتے چلے گئے۔ خلیفہ سلسلہ کے مفاد پر ہی ہاتھ نہیں ڈالتے رہے بلکہ اپنے ذاتی مفاد کی حفاظت کے لئے سلسلہ کے ذرائع کو بھی استعمال کرتے رہے۔ بلکہ اس مقصد کے حصول کے لئے انہوں نے مسیح موعود کی تعلیم کی بھی خلاف ورزی کی۔ حکومت کو دھمکیاں دیں۔ ابنائے وطن سے تعلقات خراب کروائے۔ قادیان میں چند مرلے اراضی ایسی تھی جس پر سکھوں کا دعویٰ تھا کہ ہماری ہے اور خلیفہ کا خیال تھا کہ اس کے مالک خلیفہ اور ان کے بھائی ہیں۔ یہ اختلاف محض اس بناء پر بڑھتا چلا گیا کہ خلیفہ نے سمجھا کہ قادیان میں احمدیوں کی اکثریت ہے۔ وہ جھگڑے کے وقت ان کو جھونک دیں گے۔ چنانچہ بات بڑھتی چلی گئی اور آخر وقت آگیا کہ اہالیان قادیان سے الفضل ایڈیٹر کی زبان سے کہلوایا گیا کہ ہم اپنی جانیں قربان کر دیں گے۔ مگر اس ٹکڑہ زمین پر سکھوں کا قبضہ نہیں ہونے دیں گے۔ وہ ہماری لاشوں کے اوپر سے ہی گذر کر وہاں تک پہنچ سکیں گے۔

(الفضل مورخہ ٢٣ دسمبر ١٩٤٨ء)

١٨

صفحہ ٤٣٥

یہ کوئی مذہبی اختلاف نہیں تھا۔ عقائد پر جھگڑا نہیں تھا۔ بابانانک کے مسلمان ہونے یا نہ ہونے کا نزاع نہیں تھا، جس پر احمدیوں کی جانیں قربان کی جا رہی تھیں۔ خلیفہ اور ان کے بھائیوں کی چند مرلہ زمین کے لئے یہ سارا خون بہانے کا منصوبہ تھا۔ کیا اللہ تعالیٰ کے پاک بندے اور بے نفس وجود قوم کو اپنے ذاتی مفاد کے لئے اس طرح بھینٹ چڑھا دیا کرتے ہیں؟

الفضل لکھتا ہے: ”ایک زمین جس کے مالک حضرت امیر المؤمنین خلیفۃ المسیح اور آپ کے بھائی ہیں اس کے متعلق سکھ یہ کوشش کر رہے ہیں کہ وہاں مٹی ڈال کر یا کوئی چھوٹا موٹا مکان بنا کر اپنا قبضہ جمالیں ...... ہم حکومت کو قبل از وقت ان کی اس فتنہ انگیزی اور شرارت کی طرف توجہ دلاتے ہوئے مطالبہ کرتے ہیں کہ مالکان کے حقوق کی حفاظت کی جائے ...... ہم یہ برداشت نہیں کر سکتے کہ جو زمین ہماری ہے اس پر کوئی جابرانہ اور ظالمانہ قبضہ کرے۔“

اور مرزا عبدالحق کی زیر صدارت ٢٠/ مارچ ١٩٣٩ء کو نیشنل لیگ قادیان کا ایک ہنگامہ خیز جلسہ کروایا گیا۔ الفضل کو حسب معمول اس پروپیگنڈے کے لئے وقف کر دیا گیا اور بڑے طمطراق اور خود سرانہ انداز میں لکھا گیا بعض سکھوں کے فساد انگیز ارادوں کے خلاف نیشنل لیگ کیا کرنا چاہتی ہے اور سکھوں کے پشتے لگا دینے کی دھمکیاں دی گئیں۔ یہ سب کچھ مذہب، قوم اور دین کے لئے نہیں، صرف چند مرلے زمین کے ٹکڑے کے لئے سادہ لوح مریدوں کو خون آشامی کے لئے مشتعل کیا جا رہا تھا۔ جس کا فیصلہ ایک جوڈیشل عدالت ہی کر سکتی تھی۔

غرض قادیان کی ترقی کی پیش گوئی ہے۔ حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) ہجرت کی تحریک فرماتے ہیں۔ خود خلیفہ نے اس مغالطہ ہجرت کو تحریک جدید کے مطالبات میں شامل کیا ہے اور اس پیش گوئی اور تحریک کو پورا کرنے کے لئے جماعت کے مخلصین اپنے وطنوں کو خیر باد کہہ کر اپنی جائیدادوں کو ترک کر کے قادیان میں آبسے اور بسنا چاہتے تھے۔ پھر دنیا میں امیر بھی ہوتے ہیں اور غریب بھی ہوتے ہیں اور الہی سلسلوں میں تو اللہ تعالیٰ کی سنت ہے کہ ابتداء میں اس میں غرباء کی کثرت ہوتی ہے اور قادیان کی ترقی میں بھی غرباء کے لئے قادیان جا کر بسنا مشکل ہو گیا تھا۔ اگر یہ طبعی ترقی ہوتی تب بھی مرکز کا فرض تھا کہ ایسے ذرائع اختیار کرتا کہ وہاں زمینوں کی قیمتیں اتنی نہ بڑھتیں جتنی کہ بڑھ گئی تھیں یا بڑھا دی گئی تھیں۔

اندریں حالات یہ تسلیم کرنا پڑے گا کہ قادیان کی ترقی کے راستہ میں وہ لوگ یقیناً روک تھے جنہوں نے قادیان میں زمینوں کی خرید و فروخت کا نجی طور پر کام شروع کئے رکھا۔ انہیں اگر قوم کے لئے درد تھا تو انہیں سوچنا چاہئے تھا کہ جماعت کے لوگ اتنا روپیہ کہاں سے لائیں

١٩

صفحہ ٤٣٦

گے۔ جماعت کے لوگ جو پہلے ہی غریب ہیں۔ پھر چندوں کا بوجھ بھی ان پر ہے۔ وہ ان قیمتوں کے ہرگز متحمل نہیں ہوسکیں گے۔ یقیناً اگر شروع سے ہی دیانتداری کے ساتھ یہ قاعدہ مقرر ہو جاتا کہ کوئی زمین تجارتی اغراض کے لئے فروخت نہ ہو تمام اراضی سلسلہ خریدتا اور پھر سلسلہ کی طرف سے واجبی قیمت پر آگے فروخت ہوتی تو یہ صورتحال پیدا ہی نہ ہوتی اور شہر بھی ایسے طور پر نہ بنتا جس کا کوئی موزوں نقشہ ہی نہیں۔ لیکن افسوس خلیفہ زمینوں کی فروخت میں روپے بٹورتے رہے اور ان امور کی طرف جو جماعتی فلاح و بہبود کی خاطر ضروری تھے، کوئی توجہ نہ دی۔

یہ صورتحال بڑی ہی خوفناک تھی اور خلیفہ بڑی تیزی کے ساتھ اس پر گامزن رہے۔ جب تک کہ خود ان کی زمینیں اتنی کم نہ رہ گئیں کہ وہ اس تجارت پر کوئی اثر نہ ڈال سکتے تھے، تب انہوں نے اس کے خلاف قدم اٹھایا۔ لیکن پانی سر سے گزر چکا تھا اور سب سے بڑی بات یہ ہے کہ وہ خود خون کا آخری قطرہ نچوڑ چکے تھے۔ تب انہوں نے اعلان کیا کہ: ”میرا منشاء ہے کہ آئندہ انفرادی خرید وفروخت کو کلیتاً روک دیا جائے۔“

(الفضل مورخہ ١١؍فروری ١٩٤٧ء)

لیکن اس سے پہلے خلیفہ کو یہ خیال کیوں نہ آیا کہ آخر لوگ قادیان میں کیوں زمینیں خرید رہے ہیں۔ قادیان میں لوگوں کا یہ زمین خریدنا محض اس لئے ہے کہ وہ قادیان ہجرت کرنے کی خواہش رکھتے ہیں۔ اگر خدا کا حکم نہ ہوتا کہ جماعت کے مخلصین قادیان میں ہجرت کر کے آئیں۔ اگر اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد نہ ہوتا کہ قادیان کو بڑھاؤ۔ اگر مسیح موعود کی پیش گوئیاں قادیان کی وسعت اور ترقی کے متعلق نہ ہوتیں تو دیوانہ وار ان سے بڑی بڑی قیمتوں پر زمین کیوں خریدتے؟ وہ زمین خریدتے ہیں۔ محض اس لئے کہ خدا کا حکم پورا ہو اور وہ مسیح موعود کی پیش گوئی کے پورا کرنے کے ثواب میں شریک ہوں۔ ان اخلاص اور ایمان کے ساتھ آنے والوں سے اس قدر قیمتیں وصول کرنا ایسا ہی ہے جیسا قرآن مجید میں آتا ہے کہ بعض لوگ خدا تعالیٰ کی آیتوں کو بیچ کھاتے ہیں۔ ایسے تاجر بھی خدا تعالیٰ کی آیات کو بیچ کر کھانے والے ہیں۔ لوگ آتے ہیں خدا کی بات پوری کرنے کے لئے۔ ان کا اخلاص اور ان کا ایمان تقاضا کرتا ہے کہ خدا تعالیٰ کا حکم پورا ہو مگر یہ تاجران کے اخلاص سے اس رنگ ہی میں فائدہ اٹھاتے ہیں کہ وہ ان سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھانے کی کوشش کرتے ہیں۔

دارالانوار ہاؤسنگ سوسائٹی (ماڈل ٹاؤن قادیان)

ہاؤسنگ سوسائٹیز کے طریق پر خلیفہ اور ان کے بھائیوں نے کس طرح جماعت کا روپیہ لوٹا۔ اس کی مثال دارالانوار کمیٹی ہے۔ ساری دنیا جانتی ہے کہ جب امپروومنٹ ٹرسٹ یا کوئی

٢٠

ہاؤسنگ سوسائٹی کسی آبادی کے لئے کوئی قطعہ ہے اور پھر نقشے وغیرہ تجویز کر کے آگے فروخت ڈھنگ نرالا ہے۔ قادیان کے مشرق کی طر ہوئی۔ نقشے تیار اور قطعے فروخت ہونے شرو زمین ریزرو کے نام سے بہترین جگہوں پر مرکزی جگہیں اور اچھے اچھے ٹکڑے خود رکھ بنالی۔ چنانچہ اس غلط فہمی کا ازالہ اس طرح کی زبانی اور تحریری گفتگو سے معلوم ہوا ہے کہ دارالانوار میں زمین کے ٹکڑے تجویز کر کے نق واضح رہے کہ ریزرو جگہ نقشہ م رکھی ہے۔۔۔ اس جگہ یہ سوال پیدا نہیں ہوسکت زمین رکھ لینے کا حق حاصل ہے۔ ہر شخص حاصل ہے کہ وہ اپنی زمین کو جس طرح چا سے نفع اٹھائے، خواہ مکانات بنوا کر، اس یہ معاہدہ کیا تھا کہ مالکان کو یہ حق حاصل لئے ریزرو کرلیں۔ پس ان دو وجوہات رکھتے ہیں اور انہوں نے اپنے لئے زمین ا یہ مالکان زمین کون تھے۔ جن کرنے والے کون تھے۔ یہ بھی خلافت م ہے۔ ”آپی میں رجی چنگی آپے میرے ب بنانے والے، خود ہی معاہدہ کرنے والے طرح دھول جھونکی جارہی ہے کہ نامعلوم تمام معاملات انجام پذیر ہو رہے ہیں۔ ریزرو کرنی تھی وہ کر لیتے۔ بعد میں نقش کے لئے چھوڑتے۔ لیکن انہوں نے اس اور باموقع جگہیں دیکھیں وہاں وہاں

صفحہ ٤٣٧

ہاؤسنگ سوسائٹی کسی آبادی کے لئے کوئی قطعہ زمین تجویز کرتی ہے تو زمین مالکان سے لے لی جاتی ہے اور پھر نقشے وغیرہ تجویز کر کے آگے فروخت کر دی جاتی ہے۔ لیکن خلیفہ کی ہاؤسنگ سوسائٹی کا ڈھنگ نرالا ہے۔ قادیان کے مشرق کی طرف نئی آبادی میں ماڈل ٹاؤن آباد کرنے کی تجویز ہوئی۔ نقشے تیار اور قطعے فروخت ہونے شروع ہوئے۔ لیکن خلیفہ اور ان کے عزیزوں نے بہت سی زمین ریزرو کے نام سے بہترین جگہوں پر علیحدہ رکھ لی۔ آخر لوگ چلائے کہ یہ کیا ظلم کرتے ہو مرکزی جگہیں اور اچھے اچھے ٹکڑے خود رکھ لئے اور باقی لوگوں کے ہاتھ فروخت کرنے کی سکیم بنا لی۔ چنانچہ اس غلط فہمی کا ازالہ اس طرح کرنے کی کوشش کرنی شروع کر دی کہ بعض دوستوں کی زبانی اور تحریری گفتگو سے معلوم ہوا ہے کہ ان کے نزدیک حصہ داروں نے پہلے ہی اپنے لئے دارالانوار میں زمین کے ٹکڑے تجویز کر کے تقسیم زمین کا معاملہ آسان کر لیا ہے۔

واضح رہے کہ ریزرو جگہ نقشہ میں وہی دکھائی گئی ہے جو مالکان اراضی نے اپنے لئے رکھی ہے۔۔۔۔۔۔ اس جگہ یہ سوال پیدا نہیں ہو سکتا کہ کیا مالکان اراضی کو اپنی زمین میں سے اپنے واسطے زمین رکھ لینے کا حق حاصل ہے۔ ہر شخص جانتا ہے کہ جو شخص کسی زمین کا مالک ہے اسے یہ حق حاصل ہے کہ وہ اپنی زمین کو جس طرح چاہے، استعمال کرے۔ خواہ زراعت کی صورت میں اس سے نفع اٹھائے، خواہ مکانات بنوا کر، اس کے علاوہ دارالانوار کمیٹی نے مالکان سے زمین لیتے وقت یہ معاہدہ کیا تھا کہ مالکان کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اپنی زمین میں سے جس قدر زمین چاہیں اپنے لئے ریزرو کر لیں۔ پس ان دو وجوہات سے مالکان اراضی اپنے لئے زمین ریزرو رکھ لینے کا حق رکھتے ہیں اور انہوں نے اپنے لئے زمین ریزرو رکھی ہے۔

(الفضل مورخہ ٢ مئی ١٩٣٣ء)

یہ مالکان زمین کون تھے۔ جناب خلافت مآب اور ان کے بھائی وغیرہ اور یہ معاہدہ کرنے والے کون تھے۔ یہ بھی خلافت مآب اور ان کے بھائی وغیرہ۔ پنجابی زبان کی مثل مشہور ہے۔ ”آپی میں رجی پجی آپے میرے بچے جیون“ جو ہو بہو یہاں چسپاں ہوتی ہے۔ خود ہی سکیم بنانے والے، خود ہی معاہدہ کرنے والے۔ خود ہی منظوری دینے والے اور دنیا کی آنکھوں میں اس طرح دھول جھونکی جا رہی ہے کہ نامعلوم کتنی دیانت، انصاف، قانون، صفائی اور خوبی کے ساتھ تمام معاملات انجام پذیر ہو رہے ہیں۔ پھر اگر مالکان نے اپنے لئے فرض کیجئے ، دس ایکڑ زمین ریزرو کرنی تھی وہ کر لیتے۔ بعد میں نقشہ تجویز ہوتا اور حصہ رسدی وہ اپنی اراضی میں سڑکوں وغیرہ کے لئے چھوڑتے۔ لیکن انہوں نے اس دس ایکڑ کی تعیین پہلے کر لی اور پھر نقشہ کے بعد جو بہترین اور باموقع جگہیں دیکھیں وہاں وہاں ٹکڑے مخصوص کر کے یہ دس ایکڑ پورے کر لئے۔ اس طرح

٢١

صفحہ ٤٣٨

دو دو ہاتھوں سے بیچارے حصہ داروں کو جن میں انجمن کے بھی چوبیس حصے تھے، لوٹنا شروع کر دیا۔ یعنی اصلی اراضی کی قیمت بھی وصول کر لی اور ڈویلپمنٹ چارجز بھی نہیں دیئے۔

دارالانوار کمیٹی میں پہلے تو یہ عذر تھا کہ مالکان سے معاہدہ تھا کہ مالکان اپنے لئے نہ کہ آگے فروخت کے لئے جس قدر چاہیں زمین رکھ لیں۔ لیکن ان ہی مالکان نے پہلے اپنے نام سے زمین ریزرو کروا کر پھر آگے اس کا مزید نفع لے کر فروخت شروع کر دی اور کہہ دیا کہ یہ اراضی کمیٹی دارالانوار کی خاص اجازت سے پرائیویٹ طور پر فروخت کی جا رہی ہے۔

(الفضل مورخہ ٣٠؍ اپریل ١٩٣٣ء)

(خیال رہے ایسا کرنے والوں میں پیش پیش خلیفہ صاحب کے ایک بہنوئی تھے)

خلاصہ کلام یہ کہ مرکز جماعت کی تمام جدوجہد کا نقطہ مرکزی ہے۔ اس کی حفاظت کے لئے قوم سے جان مال کی قربانی طلب کر لی جاتی ہے۔ وہ تمام سلسلہ کی جدوجہد کے لئے بمنزلہ قلب کے ہے۔ پھر ہجرت کی تحریک بھی ہے۔ اس لئے اسے کسی فرد یا خاندان کے لئے جلب زر کا ذریعہ نہیں بننے دینا چاہئے۔ مگر ایسا کیا گیا اور خلیفہ صاحب کے ایماء سے کیا گیا۔

(الفضل مورخہ ٣٠؍ مئی ١٩٣٣ء)

اور اس لئے کیا گیا کہ سلسلہ کے سربراہ کی ذات اور اس کے خاندان کے مفاد کا یہی تقاضا تھا۔ اگر خلیفہ کے ذاتی مفاد نہ ہوتے تو الہامات کے انبار سلسلہ کے مفادات کی طولانی فہرستیں منطق کے صغریٰ، کبریٰ جمع کر دیئے جاتے۔ یہ نام نہاد خالد بن ولید لنگر لنگوٹ کس کر میدان میں اتر آتے کہ قادیان کی آبادی اور ماحول قادیان کی آبادی مرکزی سکیم کے ماتحت ہوگی اور اسے کسی کے لئے بھی جلب زر کا ذریعہ نہیں بننے دیا جائے گا۔ لیکن کیونکہ ایسی کسی سکیم کا بنانا خلیفہ کے ہاتھ میں تھا۔ اس لئے انہوں نے اسے نہ بنایا اور اس وقت تک قادیان کی اراضی کی قیمت دس دوگنی اور رات چوگنی بڑھنے دی گئی۔ جب تک کہ خلیفہ کے خاندان کی ذاتی اور مرزا اکرم بیگ وغیرہ سے خرید کردہ اراضی بالکل ختم نہ ہوگئی۔ ظاہر ہے کہ قادیان کی آبادی خلیفہ کی قابلیتوں کی مرہونِ منت نہ تھی۔ لوگ اپنے خلوص اور دینی وابستگی کے لئے گئے۔ لیکن اس خلوص اور دینی وابستگی کا مالی فائدہ خلیفہ نے جی بھر وصول کیا اور اس کے باوجود دعویٰ یہ ہے کہ ہم نے جماعت سے کوئی ذاتی فائدہ نہیں اٹھایا۔ عمرؓ کا مثیل بننے کا یہ مدعی کس قدر کھوکھلا ہے۔

بے نامی سودے

صدر انجمن احمدیہ ایک رجسٹرڈ باڈی ہے اور ہر قسم کی خرید و فروخت، حصص کی بیع و شراء

٢٢

اور بینکوں کا حساب اس کے نام پر ہو سکتا ہے عذرات کی آڑ لے کر قانونی طور پر اپنے واسطے ہیں اور مختلف طریقوں سے اس سے مالی فوائد

واقعہ یہ ہے کہ خلیفہ اور ان کے بہن سات ایکڑ اراضی تھی۔ مرزا اکرم بیگ جو قادی کے مالک تھے۔ ١٩٢٠ء میں ایک لاکھ پینتالیس بے نامی کا سودا تھا۔ جو دراصل صدر انجمن کے بیان کیا جاتا ہے، ساڑھے پینتیس ہزار روپے ایک آدمی جس کے پاس اشتہار چھاپنے کے اٹھارہ ہزار کا سودا کرتا ہے۔ حالانکہ اس وقت بیویوں کے زیور فروخت کرنا پڑے۔

اور اس کے دو سال بعد ساڑھے طرح ہو گیا اور پھر اس پورے سودے کی ر شامل تھا۔ خلیفہ اور ان کے بھائیوں کے ن سے کتنے انداز میں فائدہ اٹھایا گیا اور قائدین

اوّل ...... ١٩٣٢ء میں خلیفہ یورپ کی منافقین نے اعتراض کر دیا کہ خلیفہ کے پ روپے کے وظیفہ خوار تھے۔ یہ سارا سفر یور ہوا۔ اس کا جو تحقیقی جواب تھا وہ تو واقفان

یہی بے نامی سودے اور رقبہ قادیان کی قیو خدا کے فضل سے اس وقت آپ کا خاند طرح اور مختلف طریقوں سے جماعت خدمت اور اشاعت کا باعث بھی بن رہ

امانت پر خلیفہ کے سفر یورپ کے اخراجات ملاحظہ فرمایا کس کس طرح ر کو یہ کہہ کر خاموش کروایا گیا کہ حضور خلی

صفحہ ٤٣٩

اور بینکوں کا حساب اس کے نام پر ہو سکتا ہے۔ لیکن خلیفہ بسا اوقات مختلف حیلوں بہانوں اور عذرات کی آڑ لے کر قانونی طور پر اپنے و اپنے بھائیوں کے نام ایسی خرید و فروخت کرتے رہتے ہیں اور مختلف طریقوں سے اس سے مالی فوائد حاصل کرتے ہیں۔

واقعہ یہ ہے کہ خلیفہ اور ان کے بھائیوں کے پاس ابتداء میں آبادی کے قابل صرف چھ سات ایکڑ اراضی تھی۔ مرزا اکرم بیگ جو قادیان کی اراضی کے سولہ حصوں میں سے گیارہ حصوں کے مالک تھے۔ ١٩٢٠ء میں ایک لاکھ پینتالیس ہزار روپیہ میں ان کی بقیہ ملکیت کا سودا کیا گیا۔ یہ بے نامی کا سودا تھا۔ جو دراصل صدر انجمن کے لئے ہوا تھا۔ خلیفہ اور ان کے بھائیوں نے اس میں بیان کیا جاتا ہے، ساڑھے پینتیس ہزار روپیہ اپنا بھی شامل کیا تھا۔ گو یہ بھی حیرت انگیز بات ہے کہ ایک آدمی جس کے پاس اشتہار چھاپنے کے لئے پیسے نہ تھے۔ پہلے ١٩١٨ء میں شریمتی سنگھ سے اٹھارہ ہزار کا سودا کرتا ہے۔ حالانکہ اس وقت بھی اس کے پاس تیرہ سو روپیہ بھی نہیں ہوتا اور اسے بیویوں کے زیور فروخت کرنا پڑے۔

(الفضل مورخہ ١٤؍اپریل ١٩٥٨ء)

اور اس کے دو سال بعد ساڑھے پینتیس ہزار روپیہ تک کا سودا کرنے کے قابل کس طرح ہو گیا اور پھر اس پورے سودے کی رجسٹری میں صدر انجمن کا ایک لاکھ سے متجاوز روپیہ بھی شامل تھا۔ خلیفہ اور ان کے بھائیوں کے نام کروائی گئی اور بعد میں دھوکہ پر مبنی اس قانونی ملکیت سے کتنے انداز میں فائدہ اٹھایا گیا اور فائدہ اٹھایا جارہا ہے۔ چند مثالیں سنئے:

اوّل ...... ١٩٣٣ء میں خلیفہ یورپ کی سیاحت کے لئے تشریف لے گئے تو بعض سرپھرے منافقین نے اعتراض کر دیا کہ خلیفہ کے پاس تو علاج کے لئے بھی پیسے نہیں ہوا کرتے تھے وہ ساٹھ روپے کے وظیفہ خوار تھے۔ یہ سارا سفر یورپ کا خرچ جو ہزاروں سے تجاوز کرتا ہے، کہاں سے مہیا ہوا۔ اس کا جو حقیقی جواب تھا وہ تو واقفان راز کو معلوم ، لیکن مخلص مریدوں کو چپ کرانے کے لئے یہی بے نامی سودے اور رقبہ قادیان کی قدرتی ملکیت کام آ گئی اور الفضل نے ڈھنڈورہ پیٹ دیا۔ خدا کے فضل سے اس وقت آپ کا خاندان سارے رقبہ قادیان کا واحد مالک ہے اور یہ ملکیت جس طرح اور مختلف طریقوں سے جماعت کے لئے برکات کا باعث ہو رہی ہے اس طرح دین کی خدمت اور اشاعت کا باعث بھی بن رہی ہے اور ہمیں معلوم ہوا ہے کہ اس جائیداد کے ایک حصہ کی امانت پر خلیفہ کے سفر یورپ کے اخراجات مہیا ہوتے ہیں۔

(الفضل مورخہ ٥؍اگست ١٩٣٣ء)

ملاحظہ فرمایا کس کس طرح یہ بے نامی سودے خلیفہ کے کام آتے ہیں۔ ایک تو مریدوں کو یہ کہہ کر خاموش کروایا گیا کہ حضور تو بڑے امیر کبیر ہیں۔ ان کا خاندان سارے قصبہ قادیان کا

٢٣

صفحہ ٤٤٠

واحد مالک ہے۔ (حالانکہ یہ بھی جھوٹ تھا۔ صدر انجمن احمدیہ مرزا اکرم بیگ والی زمین کی خرید میں حصہ دار تھی۔ چوہدری ظفر اللہ خاں، چوہدری حاکم علی صاحب چک پنیار، شیخ احمد اللہ صاحب وغیرہ اور دوسرے لوگوں کا بھی اس میں حصہ تھا)

پھر دھوکہ دہی ملاحظہ ہو کہ: ”خاندان مالک ہے ۔“ اس خاندان میں تو اس وقت پھوٹ تھی۔ نام نہاد جائیداد کا بڑا حصہ خاندان کے ان لوگوں کے پاس تھا جن کے ساتھ خلیفہ کے تعلقات نا گفتہ بہ تھے۔ پھر ان کی ملکیت کے ذکر کا کیا مطلب۔ سفر یورپ کے اخراجات کے لئے ان کی جائیداد جو ہے اور پھر اس جعلی جائیداد کی کفالتوں پر قرضے بھی حاصل کرتے ہیں۔ ایک تو غریب انجمن نے اس رقبہ کی خرید کے لئے اپنے پاس سے روپیہ دیا۔ پھر اس رقبہ کی کفالت پر قرضہ بھی مہیا کیا۔ پھر ساکھ کے بنانے میں یہ بے نامی سودے کیسے کچھ مفید ہوا کرتے ہیں۔ ہر شخص خوب جانتا ہے۔ پھر اس جھوٹے پراپیگنڈہ کی حقیقت سمجھ میں آ سکتی ہے کہ قادیان سارا ہماری ملکیت ہے...... وہاں کے لوگ ہماری رعایا ہیں۔

(الفضل مورخہ ٢٣؍ اپریل ١٩٣٤ء)

یہاں تک ہی بس ہوتا تب بھی عافیت تھی۔ مرزا اکرم بیگ سے خریدی ہوئی یہ اراضی خلیفہ دوسرے مالکان کے آگے فروخت کرتے رہتے تھے اور ایک معمولی سادہ کاغذ بطور یادداشت لکھ دیا جاتا تھا۔ جس کی قانونی کوئی حیثیت نہ تھی۔ اب جب ملک تقسیم ہو گیا تو وہ ساری جائیداد جو نہ معلوم خرید و فروخت کے کتنے مراحل گزار چکی ہے۔ ”قانوناً“ خلیفہ اور ان کے خاندان کی ہے اور یہ اس کی برکات ہیں کہ چار کروڑ روپیہ کا کلیم خاندان کی طرف سے داخل کیا گیا ہے۔

رجسٹر اور رجسٹریاں

خلیفہ کا ایک بڑا مشہور اور معنی خیز فقرہ ہے۔ مالی معاملات کے متعلق میں جو بھی کرتا ہوں، رجسٹروں کے ذریعہ کرتا ہوں۔

(الفضل مورخہ ٢؍ جولائی ١٩١٧ء)

خلیفہ کے مالی معاملات کو سمجھنے اور پرکھنے کی یہ کنجی ہے۔ دیکھئے کس طرح رجسٹروں اور رجسٹریوں کے ذریعہ معاملہ کیا۔ آج ربع صدی سے بھی زیادہ عرصہ گزر جانے کے بعد اس سے فائدہ اٹھایا جا رہا ہے۔ صدر انجمن احمدیہ کا قاعدہ ہے کہ کوئی کارکن صدر انجمن احمدیہ کے لئے کوئی چیز خریدتے وقت اس سودے میں اور اسی رسید میں اپنی چیزیں نہیں خرید سکتا۔ لیکن یہ قاعدہ تو رعایا کے لئے ہے۔ راعی قواعد کا تھوڑا ہی پابند ہوتا ہے۔ یہ دراصل رجسٹروں اور رجسٹریوں ہی کا چکر ہے جس کے فریب میں بات کو ڈال کر وہ سلسلہ کا لاکھوں روپیہ غبن کر چکے ہیں۔

خلیفہ فرماتے ہیں: ”جب بھی کوئی شخص سوال کرے اسے وہ رجسٹرات دکھائے جا سکتے

٢٤

ہیں اور خدا تعالیٰ کے فضل سے ہمیشہ میرا ا

یہ اتنا بڑا جھوٹ اور فریب ہے آپ کے رجسٹر سے ہی ثابت کر دیں گے ہزار دیتے ہیں تو دوسری مد سے اٹھارہ ہزا مقروض ہو گئے۔ اس کی کئی ایک مثالیں اعلیٰ ہیں۔ آمر مطلق ہیں۔ آپ پر باز پ ہیں۔ جب تک خلیفہ نہیں ہوئے آپ وارے نیارے ہو گئے۔ ایسی مشکوک حا کرتے کس مقصد سے ہیں؟ لاکھوں رو رہے ہوں گے اور اس لیئے دینے کا ای سالوں پتہ نہیں چلتا کہ آپ نے انجمن ذرا ان تفصیلات سے پردہ ا کیا تھا کہ میری کچھ رقم انجمن سے لینی ہ کام تھا۔ اس نے خوب ڈھیر سی رقم نکال شیخ پر فن کو انعام میں نہ دی جس کا وعد ہے۔ آخری قاضی اور جج ہے۔ اسے کہ کرے۔ ”لا تاكلوا اموالهم الى ام اور رقوم کے روپیہ کو رجسٹروں اور رجسٹر

زکوٰۃ کا بے محل استعمال

یہ تو معلوم نہیں خلیفہ نے خو ہے وہ یہ کہ زکوٰۃ کا تمام روپیہ براہ راس اپنی صوابدید کے مطابق خرچ کیا کریں خلافت ہے۔ ذیل کا اعلان پڑھئے : " زکوٰۃ کی رقوم محاسب صدر انجمن کے آنی چاہئے ۔“

صفحہ ٤٤١

ہیں اور خدا تعالیٰ کے فضل سے ہمیشہ میرا ہی دینا نکلے گا۔ میرے ذمہ کسی کا کچھ نہیں نکلے گا۔“

(الفضل جولائی ١٩٣٧ء)

یہ اتنا بڑا جھوٹ اور فریب ہے کہ جس کی انتہاء نہیں۔ ہم اس چیلنج کو قبول کرتے ہیں اور آپ کے رجسٹر سے ہی ثابت کر دیں گے کہ قدم قدم پر آپ مقروض ہیں۔ مثلاً آپ ایک مد کو دس ہزار دیتے ہیں تو دوسری مد سے اٹھارہ ہزار وصول بھی کر لیتے ہیں۔ نتیجہ یہ ہے کہ آپ آٹھ ہزار کے مقروض ہو گئے۔ اس کی کئی ایک مثالیں ہمارے علم میں ہیں۔ لیکن اصل بات تو یہ ہے کہ آپ حاکم اعلیٰ ہیں۔ آمر مطلق ہیں۔ آپ پر بار بار خرد برد کا الزام لگتا ہے۔ حالانکہ صریحاً آپ کے خلاف ہیں۔ جب تک خلیفہ نہیں ہوئے آپ کی مالی حالت سخت خراب رہی۔ خلافت کے بعد جلد جلد وارے نیارے ہو گئے۔ ایسی مشکوک حالت کے باوجود آپ انجمن کے ساتھ مالی لین دین آخر کرتے کس مقصد سے ہیں؟ لاکھوں روپیہ آپ انجمن سے لے رہے ہیں اور لاکھوں ہی دے رہے ہوں گے اور اس لینے دینے کا ایسا مکروہ گورکھ دھندہ بنا رکھا ہے کہ ہزاروں ہزار کی رقوم کا سالوں پتہ نہیں چلتا کہ آپ نے انجمن سے لینی ہیں یا دینی ہیں۔

ذرا ان تفصیلات سے پردہ اٹھائیے جو آپ نے اپنے ذاتی کارکن کے لئے انعام مقرر کیا تھا کہ میری کچھ رقم انجمن سے لینی ثابت کر دو۔ تمہیں اتنا انعام دیا جائے گا اور یہ کون سا ناممکن کام تھا۔ اس نے خوب ڈھیر سی رقم نکال کر دکھادی۔ یہ علیحدہ بات ہے کہ پھر آپ نے اتنی رقم اس شیخ پر فن کو انعام میں نہ دی جس کا وعدہ کیا تھا۔ ایک ایسے شخص کے لئے جو خود ایک آخری حاکم ہے۔ آخری قاضی اور جج ہے۔ اسے کب روا ہے کہ آپ ذاتی لین دین اپنے ماتحت اداروں سے کریں۔ ”لاتاكلوا اموالهم الى اموالكم“ یہی وہ حکم ہے جس کی آپ نے صریحاً نافرمانی کی اور قوم کے روپیہ کو رجسٹروں اور رجسٹریوں کے ذریعہ سے لوٹا۔

زکوٰۃ کا بے محل استعمال

یہ تو معلوم نہیں خلیفہ نے خود بھی زکوٰۃ دی ہے یا نہیں۔ لیکن ایک چیز پر انہیں بڑا اصرار ہے وہ یہ کہ زکوٰۃ کا تمام روپیہ براہ راست ان کی تحویل میں رہے اور وہ اسے جہاں پسند فرماویں اپنی صوابدید کے مطابق خرچ کیا کریں اور کوئی شخص حضور سے اس کا حساب نہ پوچھے۔ یہ خاص حق خلافت ہے۔ ذیل کا اعلان پڑھئے: ”خلیفہ کے ارشاد کے ماتحت یہ اعلان کیا جاتا ہے کہ آئندہ زکوٰۃ کی رقوم محاسب صدر انجمن کے نام نہ بھیجی جایا کریں۔ زکوٰۃ براہ راست خلیفہ وقت کے حضور آنی چاہئے۔“

(الفضل مورخہ ٢٥ مئی ١٩٢٢ء)

٢٥

صفحہ ٤٤٢

یہ صریحا خلاف شریعت اور خلاف قانون کام ہے۔ قطعا خلیفہ کو یہ حق حاصل نہیں تھا کہ وہ محاسب سے بالا بالا سلسلہ کی بعض رقوم کو وصول کریں۔ اس کے لئے قطعا کوئی وجہ جواز نہیں۔ سلسلہ کے ایک ایک روپیہ کا حساب ہونا ضروری ہے۔ یہ بددیانتی کی انتہا ہے کہ ایک شخص اعلان کر دیتا ہے کہ قومی بیت المال سے بالا بالا بعض رقوم جن کے صرف کے متعلق وہ قوم کو مطمئن کرنے کو بھی تیار نہیں بلکہ مختلف عذرات پیش کر کے ایسا راستہ کھولتا ہے جس میں بددیانتی ،غبن اور بعض ناجائز، ناواجب اخراجات کے صریح اور واضح امکانات پیدا ہو جاتے ہیں۔ صدر انجمن، محاسب، نظارتیں، وکالتیں، دفاتر، سب کیا ہیں؟ ایک نظام کی مختلف کڑیاں اور خلیفہ کے دست وبازو۔ پھر کیا وجہ ہے کہ انہوں نے بعض رقوم کو بالا بالا منگوانا اور بالا بالا صرف کر دینا ضروری سمجھا ہے۔ اس چیز نے غبن کا صریح دروازہ ہی نہیں کھولا بلکہ ہم اپنے قطعی اور یقینی علم کی بناء پر جانتے ہیں کہ خلیفہ کی بہت سی بدکاریوں کا موجب یہ طریق عمل ہوا ہے۔ وہ زکوٰۃ کے روپیہ میں سے ان عورتوں اور لڑکیوں کی مالی امداد کرتے ہیں جن سے بدکاری کرتے اور کرواتے ہیں اور اسی روپیہ کی وجہ سے وہ اپنے بہت سے جرائم پر پردہ ڈالنے میں کامیاب ہوتے ہیں۔

مسیح موعود خلیفہ مسیح اول کا طریق عمل سب کے سامنے ہے۔ انہوں نے زکوٰۃ فنڈ کے متعلق وہ طریق نہیں اختیار کیا جو خلیفہ کر رہے ہیں۔ پچیس سے تیس ہزار روپیہ سالانہ زکوٰۃ کا ہوتا ہے۔ یہ پوری کی پوری رقم خلیفہ سلسلہ کے بیت المال کے احتساب سے بالا بالا صرف کر دیتے ہیں۔ کیا وجہ ہے کہ یہ نہ سمجھ لیا جائے کہ اس میں سے معتد بہ رقم ان کی دجالیوں، بے راہ رویوں اور بدکاریوں پر خرچ ہو جاتی ہے۔ غریب، بے نوا، بے سہارا چند پیسوں کی خاطر عصمتیں لٹوانے والے کہاں نہیں مل جاتے؟ یہ مکروہ خلیفہ صاحب اس رقم کی امداد سے اپنے گروہ تیار رکھتے ہیں اور زکوٰۃ کی رقم کا کثیر حصہ ان واہیاتوں کے معاشقے پر صرف ہو جاتا ہے۔ ہم بڑے درد مند دل سے خود ان کی خدمت میں بھی گزارش کرتے ہیں کہ خدا کے لئے اس طریق کو چھوڑ دیں۔ تا مریض معاشرہ سنبھل جائے اور تائب اپنی سیاہ کاریوں سے بچنے کے لئے یہ بہت بڑا سہارا مل جائے اور قوم سے بھی کہتے ہیں کہ وہ خلیفہ کو اس طرز عمل کے بدلنے پر مجبور کرے اور دیکھ لے کہ اس کا زکوٰۃ کے روپیہ کا مصرف کیا ہے؟

کمپنیاں

جب بھی سلسلہ کی حقیقی ضرورتوں تبلیغ کے پھیلاؤ، لٹریچر کی اشاعت، نئے شعبوں کے کھولنے اور ایسے ہی ضروری اور بنیادی کاموں کا سوال آتا ہے تو خلیفہ جماعت کے سامنے مالی

٤٦

مشکلات، مجبور ہوں، تہہ بہ تہہ قرضوں کا بوجھ نوازی، اپنے بڑھے ہوئے اخراجات کے روزگار کا سوال سامنے آتا ہے تو تجارتی کمپن کے لئے سلسلہ کا ڈھیروں ڈھیر روپیہ انہیں بڑی معصومیت سے کہہ دیا جاتا ہے ”ہمارے ہے ۔“

مالیات کے متعلق خلیفہ کی سار تحریک کو لاکھوں کے بوجھ سے دبا ہوا جان کر چکے ہوں گے تو بے دھڑک مزید قرض ان کے ذہن کو پریشان نہ کرے گا کہ سار آئی سی ڈی سی لمیٹڈ وغیرہ کمپنیوں کے لئے

یہ سوال بھی بڑا اہم ہے کہ جما آمد سے کم تجویز کیا جاتا ہے اور ہر سال و مجوزہ بجٹ سے زیادہ ہوتی ہے۔ لیکن ہمیش پھر مقروض ہو گیا ہے اور اس کا قرض لا جماعت کے لئے بڑی توجہ طلب ہے۔ چ کے ہمیشہ مقروض بتاتے چلے جانے میں کی

دیکھ لو قرضوں کا ذکر ہمیشہ ہی اس وقت آ وہ جانتے ہیں کہ شریف آدمی کا فرض ہے

کے لئے مال خرد برد کا امکان نہیں۔

سے کھلتا ہے۔

صفحہ ٤٤٣

مشکلات، مجبوریوں، تہہ بہ تہہ قرضوں کا پورا دفتر کھول دیتے ہیں اور جب اپنی تن پروری، اقربا نوازی، اپنے بڑھے ہوئے اخراجات کے لئے آمد کی نئی سبیلوں کے کھولنے اور بچوں کے لئے روزگار کا سوال سامنے آتا ہے تو تجارتی کمپنیوں، صنعتی اداروں، بینکوں کے حصوں، روٹ پرمٹوں کے لئے سلسلہ کا ڈھیروں ڈھیر روپیہ انہیں نظر آنے لگ جاتا ہے اور اگر خزانہ خالی بھی ہو جائے تو بڑی معصومیت سے کہہ دیا جاتا ہے ۔” ہمارا کام خزانہ بھرنا نہیں بلکہ جو کچھ آئے، اسے خرچ کرنا ہے۔“

مالیات کے متعلق خلیفہ کی ساری تقریروں کا تفصیلی جائزہ لے کر دیکھ لو ہمیشہ انجمن اور تحریک کو لاکھوں کے بوجھ سے دبا ہوا بیان کرتے رہیں گے اور جب خود کسی جگہ خرچ کی پخت و پز کر چکے ہوں گے تو بے دھڑک مزید قرض کے احکام صادر فرمائیں گے اور اس وقت کبھی یہ سوال ان کے ذہن کو پریشان نہ کرے گا کہ سلسلہ پہلے ہی مقروض ہے۔ پھر یہ افریقن کمپنی لمیٹڈ، آئی سی بڑی سی لمیٹڈ وغیرہ کمپنیوں کے لئے مزید قرضہ کیوں دیا جا رہا ہے۔

یہ سوال بھی بڑا اہم ہے کہ جماعت کے خرچ کا بجٹ برسوں سے سال گذشتہ کی اصل آمد سے کم تجویز کیا جاتا ہے اور ہر سال وکالت و نظارت مال کی رپورٹیں یہ ہوتی ہیں کہ اصل آمد مجوزہ بجٹ سے زیادہ ہوتی ہے۔ لیکن ہمیشہ ہی آپ حضور پرنور کے منہ سے یہی سنیں گے کہ سلسلہ پھر مقروض ہو گیا ہے اور اس کا قرض لاکھوں سے متجاوز ہے۔ اوّل تو حالات کی یہ صورت ہی جماعت کے لئے بڑی توجہ طلب ہے۔ لیکن اس موقع پر ہم صرف یہ بتانا چاہتے ہیں کہ جماعت کے ہمیشہ مقروض بتاتے چلے جانے میں کیا حکمت ہے؟ اسے ذرا توجہ سے سمجھ لیجئے۔

دیکھ لو قرضوں کا ذکر ہمیشہ ہی اس وقت آتا ہے جب چندوں کی اپیل اور تحریک جاری ہوتی ہے۔ وہ جانتے ہیں کہ شریف آدمی کا فرض ہے کہ اپنے قرضوں کی ادائیگی کا فکر کرے۔

کے لئے مال خرد برد کا امکان نہیں۔

سے کھلتا ہے۔

٢٧

صفحہ ٤٤٤

نمائندوں کے سامنے رکھنے کی انہیں جرأت نہیں ہوتی۔ یہ ایک بڑی تلخ حقیقت ہے کہ جماعت کے اس نظام میں مالی اعتبار سے جو نقصان خلیفہ نے جماعت کو پہنچایا ہے۔ اس کی نظیر نہیں۔

علاوہ اس خرد برد کے جو خود خلیفہ کرتے ہیں، چھوٹی موٹی رقوم کے لئے انہوں نے اپنی کابینہ میں جو نورتن جمع کر رکھے ہیں ان میں سے بھی بعض نیک نامی، دیانتداری نفع اندوزی اور بلیک مارکیٹ کے اعتبار سے گوہر یکدانہ اور ایمان کے ستارے ہیں۔

تمام الہی سلسلوں پر نظر کر کے دیکھو کہ ان کے آغاز واوائل میں دین کی اشاعت پر خرچ کئے ہوئے روپیہ کی بڑی اہمیت ہوتی ہے۔ ایک تو اس لئے کہ وہ وقت انتشار روحانیت کا ہوتا ہے۔ مامور کی قوت قدسیہ اپنے قرب کی وجہ سے زیادہ اثر ڈال رہی ہوتی ہے۔ اس وقت کا معمولی خرچ بہت زیادہ فوائد کا موجب ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مسیح موعود (مرزا قادیانی) نے لکھا ہے کہ آج کا دیا ہوا ایک پیسہ بعد کے لاکھوں کے برابر ہے۔ دوسرے اس لئے کہ بعد میں سلسلہ نے ترقی کر ہی جانا ہوتی ہے۔ دنیوی فتوحات اور اعلیٰ کامیابیوں کے دروازے بھی اس پر کھل جاتے ہیں۔ اصل چیز تو غربت اور ضرورت کے وقت کی امداد ہے۔ ایک بھوکے شخص کے لئے روٹی کا خشک ٹکڑا بھی بہت کچھ ہے۔ ایک پیٹ بھرے ہوئے شخص کے لئے پلاؤ، زردہ، متنجن اور بریانی کی قابیں بھی بے قیمت ہیں۔ لیکن خلیفہ صاحب کی مالی پالیسی کو دیکھو برابر وہ جماعت کو کہتے چلے آ رہے ہیں کہ میں تمہارے لئے ریزرو فنڈ تیار کر رہا ہوں۔ میں ایسی جائیداد بنا رہا ہوں۔ جس سے سلسلہ کی تبلیغی ضروریات کے لئے روپیہ مہیا ہوتا رہے گا۔ تحریک جدید گذشتہ بیس اکیس سال سے اس ریزرو فنڈ اور قیمتی جائیدادوں کے بنانے میں مصروف بیان کی جاتی ہے۔ پھر کمپنیوں اور تجارتوں میں غریب سلسلہ کا لاکھوں روپیہ یہ کہہ کر تلف کروا دیا کہ بڑے بڑے منافع ہوں گے۔ ہمارے مشن ان ہی کی آمد سے چلا کریں گے۔ اچھی طرح غور کر کے دیکھ لو کہ ”يعدهم ويمنيهم“ کا کامل پرتو آپ کو خلیفہ کے ایسے خطبوں سے ملے گا۔ آج تک سلسلہ نے کیا فائدہ ایسی تجارتوں اور کمپنیوں سے اٹھایا۔ پوری تاریخ ہمارے سامنے ہے۔ احمدیہ سٹور کا کیا حشر ہوا؟ گلوب ٹریڈنگ کمپنی کہاں گئی؟ گٹ فیکٹری کا کیا نتیجہ ہوا؟ سٹار ہوزری کہاں دم توڑ رہی ہے؟ دارالصناعت کے پرزے کیا ہوئے؟ ہمالیہ گلاس فیکٹری کہاں پہنچی؟ ویدک یونانی دواخانہ زینت محل دہلی کا کیا بنا؟ سندھ ویجی ٹیبل آئل اینڈ الائیڈ کمپنی اب تک کتنا منافع دے چکی ہے؟ قوم کا لاکھوں روپیہ اس طرح برباد کروا دیا گیا۔ کیا یہ سلسلہ ڈوبنے والی تجارتوں کے لئے قائم ہوا تھا۔ کیا کبھی الہی سلسلوں نے بھی تجارتوں اور صنعتوں کے بل بوتے پر اپنی اشاعت کی ہے۔ کاش یہ سارا روپیہ جو صنعتوں، تجارتوں

٢٨

٤٤٥ اور کمپنیوں کے نام سے خرد برد کیا گیا، سلسلہ کی تبلیغ واشا

خلیفہ نے درجنوں مشترک سرمایہ کی کمپن ہوا ہے۔ اس میں بہت سی حکمتیں ہیں۔ ایک حکمت بیٹوں اور دامادوں کے نام سے بھی لگواتے ہیں ا ڈائریکٹر اور چیئرمین بنوا دیتے ہیں اور اس طرح نہ صر خرچ، اجلاسوں کی شرکت کی بھاری فیسوں اور بعض سبیلیں پیدا کرواتے ہیں اور خلیفہ کی اپنی اولاد کی آم اور ان کی ڈائریکٹریاں اور صدارتیں ہیں۔ ہم بو مناسب موقع پر ایسے ایسے پوست کندہ حالات پبل کیا غیر احمدی انگشت بدنداں رہ جائیں گے۔

آخر آپ کب تک قوم کو یہ کہتے چلے جا ہے۔ روپیہ منافع پر لگا ہوا ہے۔ بڑے بڑے مفید اب تک پرائیویٹ اور پبلک لمیٹڈ اور غیر لمیٹڈ ک مقروض پر مقروض ہوتی چلی جارہی ہے۔ تجربہ پر نسخہ بتایا ہے کہ تجارت کرواتے چلے جائیں اور خ قوم کے سامنے بھی نہ لائیں۔

امانت فنڈ

صدر انجمن احمدیہ پر لاکھوں روپیہ کی اتنی بڑی ذمہ داری ہے کہ ایک دردمند دل اس صاحب مختلف آنوں بہانوں سے اسے قوم کے ہیں۔ قطع نظر اس کے جو اس نے اب ایک بظا شکل اختیار کر لی ہے۔ جسے سٹیٹ بینک آف اجازت کے بغیر چلایا جارہا ہے۔ جو آئینی رنگ ان فوائد کی طرف اشارہ کرنا چاہتے ہیں جو سلس سے حاصل کرتے ہیں۔

اوپر بیان ہو چکا ہے کہ خلیفہ نے

صفحہ ٤٤٥

اور کمپنیوں کے نام سے خرد برد کیا گیا، سلسلہ کی تبلیغ واشاعت پر صرف ہوتا۔

خلیفہ نے درجنوں مشترک سرمایہ کی کمپنیوں میں جماعت کا لاکھوں روپیہ پھنسا کر رکھا ہوا ہے۔ اس میں بہت سی حکمتیں ہیں۔ ایک حکمت یہ ہے کہ خلیفہ ایسی کمپنیوں میں کچھ روپیہ اپنے بیٹوں اور دامادوں کے نام سے بھی لگواتے ہیں اور پھر انہیں اس کمپنی میں ڈائریکٹر، مینیجنگ ڈائریکٹر اور چیئرمین بنوا دیتے ہیں اور اس طرح نہ صرف قوم کے سر پر ٹریننگ دلوانے میں بلکہ سفر خرچ، اجلاسوں کی شرکت کی بھاری فیسوں اور بعض معلوم اور غیر معلوم طریقوں سے ان کی آمد کی سبیلیں پیدا کرواتے ہیں اور خلیفہ کی اپنی اولاد کی آمدنیوں کا بہت بڑا حصہ انہیں کمپنیوں کے حصص اور ان کی ڈائریکٹریاں اور صدارتیں ہیں۔ ہم بوجوہ اس مرحلہ پر انہیں واشگاف نہیں کرتے۔ مناسب موقع پر ایسے ایسے پوست کنندہ حالات پبلک کے سامنے لائے جائیں گے کہ کیا احمدی اور کیا غیر احمدی انگشت بدنداں رہ جائیں گے۔

آخر آپ کب تک قوم کو یہ کہتے چلے جائیں گے کہ بڑا عظیم الشان ریزرو فنڈ قائم ہورہا ہے۔ روپیہ منافع پر لگا ہوا ہے۔ بڑے بڑے مفید کام اس سے انجام پذیر ہوں گے۔ للہ غور کرو! اب تک پرائیویٹ اور پبلک لمیٹڈ اور غیر لمیٹڈ کمپنیوں پر بے شمار روپیہ صرف ہو چکا ہے۔ قوم مقروض پر مقروض ہوتی چلی جارہی ہے۔ تجربہ پر تجربہ فیل ہورہا ہے۔ آپ کو آخر کس حکیم نے یہ نسخہ بتایا ہے کہ تجارت کرواتے چلے جائیں اور خسارے کے سودے بند نہ ہوں اور ان معاملات کو قوم کے سامنے بھی نہ لائیں۔

امانت فنڈ

صدر انجمن احمدیہ پر لاکھوں روپیہ کی ذمہ داری امانت فنڈ کے نام سے موجود ہے۔ یہ اتنی بڑی ذمہ داری ہے کہ ایک دردمند دل اس کے تصور سے بھی کانپ جاتا ہے۔ لیکن خلیفہ صاحب مختلف آنوں بہانوں سے اسے قوم کے سر پر اپنی موجودہ شکل میں مسلط کئے رکھنے پر ہیں۔ قطع نظر اس کے جو اس نے اب ایک بظاہر با قاعدہ لیکن در حقیقت بالکل بے قاعدہ بینک کی شکل اختیار کر لی ہے۔ جسے سٹیٹ بینک آف پاکستان اور کو اپریٹو سوسائٹی کے مرکزی دفتر کی اجازت کے بغیر چلایا جارہا ہے۔ جو آئینی رنگ میں سخت قابل اعتراض بات ہے۔ اس موقع پر ہم ان فوائد کی طرف اشارہ کرنا چاہتے ہیں جو سلسلہ کو اتنی بھاری ذمہ داری کے نیچے پھنسا کر خلیفہ اس سے حاصل کرتے ہیں۔

اوپر بیان ہو چکا ہے کہ خلیفہ نے اپنے ذاتی مفاد کے لئے درجنوں کاروبار جاری کر

٢٩

صفحہ ٤٤٦

رکھے ہیں اور تجارتی سوجھ بوجھ رکھنے والے دوست آپ کو بتائیں گے کہ تجارتوں میں جو عوامل سب سے زیادہ کام کرنے والے ہیں۔ ان میں ساکھ اور مضبوط بنیاد کی بڑی سخت ضرورت ہے۔ بڑی بڑی کمپنیاں بینکوں کی امداد سے اور بینک، مرکزی بینک کی ضمانتوں پر چلتے ہیں۔ خلیفہ کی ان تمام کمپنیوں کے پشت پناہ یہ صیغہ امانت ہے اور اس کی ساکھ پر بغیر کسی حقیقی Transaction کے مدّت سے مالی فوائد اٹھائے جا رہے ہیں۔ اس سے لین دین کی تفصیلات کا جائزہ لے کر ہمارے اس قول کی صداقت کو پرکھا جا سکتا ہے۔ جاننے والے جانتے ہیں کہ کاروبار میں ایسے ایسے نازک وقت آ جاتے ہیں کہ بعض اوقات فوری نوٹس پر روپیہ کی ضرورت آ پڑتی ہے۔ اس وقت التواء، توقف سخت نقصان دہ ہوتا ہے۔ اس غرض سے اچھی کمپنیاں ہزاروں ہزار روپیہ بے مصرف موجود رکھتی ہیں۔ بینکوں سے معاہدے کرتی ہیں کہ بوقت ضرورت ہمیں وہ روپیہ مہیا کر دیں اور اس غرض سے سالہا سال تک مقررہ رقوم ادا کرتی رہتی ہیں۔ خواہ انہیں روپیہ کی ضرورت پڑے یا نہ پڑے۔ خلیفہ بغیر ایک پیسہ کی ادائیگی کے یہ فوائد اس امانت فنڈ سے حاصل کرتے ہیں اور فوری نوٹس پر جب چاہیں جتنی رقم چاہیں برآمد کروا سکتے ہیں اور کرواتے رہتے ہیں۔ ایک عام شخص کو یہ سہولت حاصل نہیں، لیکن خلیفہ اس سہولت سے مالا مال ہیں۔ وقت پر قرضی کفالت کے ساتھ ہی سہل قرضوں کا مل جانا بڑی غنیمت ہے۔ یہ غنیمت بھی خلیفہ کو اس امانت فنڈ کے توسط سے ملتی رہتی ہے۔ Over Draft کے قصہ میں تو خلیفہ کی کافی رسوائی ہو چکی ہے اور برسرِ منبر وہ خود اپنے اس مالی جرم کا اقرار کر چکے ہیں:

آخر کار ہم ہوئے قائل کہ بعد از ہزار رسوائی

لیکن یہ ایک اقرار ہے وہ حسابات کو آڈٹ کروانے دیں۔ ایسے کتنے ہی جرائم کا اقرار انہیں کرنا پڑے گا۔

دیکھ لو قوم کو بڑی بھاری ذمہ داری کے بوجھ کے نیچے کچل کر اور مذہبی اور روحانی رنگ میں تحریکیں کر کے اور یہ بتا کر کہ تمہارے جانی دشمن امانت فنڈ کے ذریعہ شکست کھاتے ہیں اور یہ امانت فنڈ کی تحریک ایک الہامی تحریک ہے۔

(الفضل مورخہ ١٨ جنوری ١٩٤٨ء)

کس طرح اس سے مالی اور مادی فوائد اٹھائے جا رہے ہیں۔

مسجدوں کا روپیہ تجارتوں پر

خانہ خدا کا بنانا کتنی نیکی کا کام ہے۔ لیکن کس طرح خلیفہ نے اسے بھی جلبِ زر کا ذریعہ بنا رکھا ہے۔ آپ جو آئے دن خلیفہ کی طرف سے مساجد کے لئے روپیہ کی تحریک پڑھتے رہتے

٣٠

ہیں ۔ یہ بھی خالی از علت نہیں۔ خلیفہ اوّل کہا کرتے اور محنت سے ایک مسجد کے بنوانے کی تحریک کریں ہے۔ کس طرح خانہ خدا کی تعمیر کی اسے فکر ہے ن کی امامت چھن چکی تھی اور اب تلاش روزگار ہے۔ انہوں نے بھی خانہ خدا کی تعمیر کو استحصال ب سب سے پہلی عبادت گاہ لندن اور مشہور و معروف عبادت گاہ کے لئے اب دوبارہ فرنکفورٹ عبادت گاہ کے لئے ایک لاکھ روپیہ جمع ہوا تھا ال لئے جمع ہوا تھا۔

لیکن جرمنی میں تو عبادت گاہ بنوائی اس وقت خریدی گئی تھی اس پر بہت تھوڑی رقم خر مضافات لندن میں واقع ہے۔ اس پر منافع ب عبادت گاہوں کے نام سے چندہ وصول کیا گیا باقی کا روپیہ کہاں گیا۔ بڑا لیڈر طالوت ہے ب فتنہ قادیان ہیں جو جماعت کو پست کرنے کے ل

لیکن سوال بڑے پتہ کا تھا۔ جماع ہزار روپیہ مکان اور فرنیچر وغیرہ کے خریدنے پ گیا...... تین ہزار روپیہ کی بیعان جائیداد خریدی ملاحظہ کر لیجیے ! کس طرح عبادت کے طریقہ سے، تجارتی کام چلانے اور قادیان صاحبزادیوں نے اپنے زیورات ہی بیچ د اپنے گاڑھے پسینے کی کمائی اسی واسطے چندہ لیں ۔ تجارتیں چلائیں اور فرنیچر وغیرہ پر اسے کہ ان ہی دنوں خلیفہ نے جماعت کی آنکھ دکھائے تھے کہ میں نے ایسا انتظام کر دیا ہے کے اخراجات کا بار سلسلہ کے خزانہ پر نہیں ر

صفحہ ٤٤٧

ت آپ کو بتائیں گے کہ تجارتوں میں جو عوامل کھ اور مضبوط بنیاد کی بڑی سخت ضرورت ہے۔ ز کی بینک کی ضمانتوں پر چلتے ہیں۔ خلیفہ کی ان کی ساکھ پر بغیر کسی حقیقی Transaction نا سے لین دین کی تفصیلات کا جائزہ لے کر نے والے جانتے ہیں کہ کاروبار میں ایسے ایسے ا پر روپیہ کی ضرورت آ پڑتی ہے۔ اس وقت اچھی کمپنیاں ہزاروں ہزار روپیہ بے مصرف بوقت ضرورت ہمیں وہ روپیہ مہیا کر دیں اور تی ہیں۔ خواہ انہیں روپیہ کی ضرورت پڑے یا ن امانت فنڈ سے حاصل کرتے ہیں اور فوری اور کرواتے رہتے ہیں۔ ایک عام شخص کو یہ ل ہیں۔ وقت پر فرضی کفالت کے ساتھ ہی خلیفہ کو اس امانت فنڈ کے توسط سے ملتی رہتی سوائی ہو چکی ہے اور برسر منبر وہ خود اپنے اس

بعد از ہزار رسوائی کروانے دیں۔ ایسے کتنے ہی جرائم کا اقرار

کے نیچے کچل کر اور مذہبی اور روحانی رنگ ت فنڈ کے ذریعہ شکست کھاتے ہیں اور یہ

(الفضل مورخہ ٨؍ جنوری ١٩٣٨ء)

ئے جا رہے ہیں۔

طرح خلیفہ نے اسے بھی جلب زر کا ذریعہ د کے لئے روپیہ کی تحریک پڑھتے رہتے

ہیں۔ یہ بھی خالی از علت نہیں۔ خلیفہ اوّل کہا کرتے تھے کہ میں نے دیکھا کہ ایک شخص بڑی کوشش اور محنت سے ایک مسجد کے بنوانے کی تحریک کر رہا تھا۔ مجھے خیال پیدا ہوا کہ یہ بڑا ہی نیک آدمی ہے۔ کس طرح خانہ خدا کی تعمیر کی اسے فکر ہے۔ لیکن بعد میں معلوم ہوا کہ کسی دوسری مسجد سے اس کی امانت چھن چکی تھی اور اب تلاش روزگار میں یہ سب سعی اور کوشش ہے۔ یہی حال خلیفہ کا ہے۔ انہوں نے بھی خانہ خدا کی تعمیر کو استحصال مال کا ذریعہ بنا رکھا ہے۔ مثال کے طور پر سلسلہ کی سب سے پہلی عبادت گاہ لندن اور مشہور و معروف عبادت گاہ جرمنی کا حال سن لیجئے۔ جہاں کی عبادت گاہ کے لئے اب دوبارہ فرینکفورٹ (جرمنی) کے نام سے چندہ مانگا جا رہا ہے۔ لندن کی عبادت گاہ کے لئے ایک لاکھ روپیہ جمع ہوا تھا اور ستر ہزار روپیہ برلن (جرمنی) کی عبادت گاہ کے لئے جمع ہوا تھا۔

(الفضل مورخہ ٩ نومبر)

لیکن جرمنی میں تو عبادت گاہ بنوائی ہی نہ گئی اور لندن کی عبادت گاہ کے لئے جو زمین اس وقت خریدی گئی تھی اس پر بہت تھوڑی رقم صرف ہوئی تھی۔ کیونکہ پٹنی جہاں یہ عبادت گاہ ہے، مضافات لندن میں واقع ہے۔ اس پر منافقوں نے شور ڈالا کہ جناب ایک لاکھ ستر ہزار روپیہ عبادت گاہوں کے نام سے چندہ وصول کیا گیا ہے۔ خرید زمین پر تو معمولی رقم صرف ہوئی۔ یہ باقی کا روپیہ کہاں گیا۔ بڑا ٹیڑھا اور بے ڈھب سوال تھا۔ اس لئے پہلے تو فرمایا: ”یہ فتنہ گروں کی فتنہ گریاں ہیں جو جماعت کو پست کرنے کے لئے کی جا رہی ہیں ۔“

(الفضل مورخہ ٩ نومبر ١٩٣٦ء)

لیکن سوال بڑے پتہ کا تھا۔ جواب کے بغیر چارہ نہ تھا فرمایا: ”اس میں سے ستر، اسی ہزار روپیہ مکان اور فرنیچر وغیرہ کے خریدنے پر صرف ہوا اور ساٹھ ہزار روپیہ سے تجارتی کام چلایا گیا...... تیس ہزار روپیہ کی یہاں جائیداد خریدی گئی ہے ۔“

(الفضل مورخہ ٩ نومبر ١٩٣٦ء)

ملاحظہ کر لیجئے! کس طرح عبادت گاہوں کی تعمیر کے لئے بٹورا ہوا روپیہ فرنیچر وغیرہ کے خریدنے، تجارتی کام چلانے اور قادیان میں جائیدادوں کی خرید پر صرف کر دیا گیا۔ کیوں صاحب عورتوں نے اپنے زیورات ہی نیک و پاک مقاصد کے لئے دے ڈالے تھے۔ مردوں نے اپنے گاڑھے پسینے کی کمائی اسی واسطے چندہ میں بہادی تھی کہ خلیفہ قادیان میں جائیدادیں خرید لیں ۔ تجارتیں چلائیں اور فرنیچر وغیرہ پر اسے برباد کر دیا جائے۔ اس سلسلہ کی دلچسپ بات یہ ہے کہ ان ہی دنوں خلیفہ نے جماعت کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے لئے یہ سبز باغ بھی انہیں دکھائے تھے کہ میں نے ایسا انتظام کر دیا ہے اور ایسی تجارت کی بنیاد رکھ دی ہے کہ لندن کے مشن کے اخراجات کا بار سلسلہ کے خزانہ پر نہیں رہے گا۔

(الفضل مورخہ ١٦ جنوری ١٩٣٣ء)

٣١

صفحہ ٤٤٨

بڑی خوش کن سکیم تھی۔ خلیفہ نے اس نام سے قوم کو اسی ہزار روپیہ خزانہ سے نکلوا لیا اور سارے انتظام کو براہ راست اپنے ہاتھ میں رکھا۔ قابل دریافت یہ سوال ہے کہ خلیفہ بڑے دانا، بڑے ذہین اور فطین اور بڑے کامیاب کاروباری آدمی ہیں۔ ان کے ہاتھ میں مٹی سونا بن جاتی ہے۔ چھ ایکڑ زمین کو ترقی دے کر وہ قادیان کی ساری زمین کے واحد مالک بن گئے تھے۔ یہ اسی ہزار کا تجارتی کاروبار یقیناً بیس سال بعد لاکھوں تک تو پہنچ چکا ہوگا اور لندن مشن کا سارا بار اس تجارت نے اٹھا لیا ہوگا اور اب لندن کا مشن جیسا کہ کہا گیا تھا کہ اس (تجارت) کی غرض یہ ہے کہ اس آمد سے وہاں کا مشن چلایا جائے گا۔

(الفضل مورخہ ٩؍ نومبر ١٩١٦ء)

اس کی آمد سے چل رہا ہوگا اور سلسلہ کے چندوں پر اس کا بار نہ ہوگا۔

(الفضل مورخہ ١٦؍ جنوری ١٩٣٢ء)

لیکن نہیں قوم بدستور اس مشن کا خرچ برداشت کر رہی ہے۔ یہ تجارت خلیفہ نے قوم کو پوچھے بغیر شروع کی تھی اور عبادت گاہوں کے فنڈ کا اسی ہزار روپیہ اس پر لگا دیا تھا۔ جب قوم نے عبادت گاہوں کے فنڈ کا حساب पूछा تو آخر بادل ناخواستہ انہیں اقرار کرنا پڑا کہ میں نے اس میں سے روپیہ نکلوا کر تجارت پر لگا دیا ہے۔ یہ جرم بہتوں کی آنکھیں کھولنے والا تھا۔ اس لئے ان کی آنکھوں کو موندنے کے لئے کئی ایک حربے اختیار کئے گئے۔ کبھی تو کہا کہ یہ باتیں کرنے والے منافق اور متخفی ہیں۔ یہ لوگ جماعت کو پست کرنے والے ہیں۔ باقی رہا روپیہ تو عبادت گاہوں سے بھی زیادہ بابرکت کام پر صرف ہوا ہے اور لگے سبز باغ دکھانے۔ اس کی آمد سے ابدالآباد کے لئے لندن مشن چلا کرے گا اور سلسلہ کے چندوں پر اس مشن کا بار نہیں رہے گا۔

جھوٹ کے پاؤں نہیں ہوتے۔ ایک ہی خطبہ میں اس بارہ میں تضاد بیانیاں شروع کر دیں کہ اس تجارت پر کتنا روپیہ لگا ہوا ہے۔ پہلے کہا ساٹھ ہزار پھر کہا پچھتر ہزار اور پھر کہا ستر ہزار واقعہ تھا۔ اسی ہزار۔

عبادت گاہ برلن کے چندے کو جس طرح خرد برد کیا گیا۔ اس کی طرف سے قوم کو مطمئن کرنے کے لئے کیسی قلابازیاں کھائیں۔ خلیفہ کی اپنی زبان سے سنئے : ’’اب میں عورتوں میں تحریک کرنے کا ارادہ رکھتا ہوں کہ یا تو وہ عبادت گاہ لندن اپنے اس روپیہ کے معاوضہ میں لے لیں اور یا اپنا روپیہ بطور قرضہ ہمارے پاس رہنے دیں۔ تاہم اسے سلسلہ کی اور ضروریات کے لئے کام میں لے آویں۔ ان دو باتوں میں سے جو بات وہ پسند کریں اس کے لئے ہم تیار ہیں۔‘‘

(الفضل مورخہ ١٤؍ جنوری ١٩٢٠ء)

٣٢

صفحہ ٤٤٩

صاف بات ہے کہ عورتوں نے جرمنی کی عبادت گاہ کے لئے روپیہ دیا اور مختلف تجارتوں کے نام سے خرد برد کیا گیا۔ عملاً اس کا کہیں وجود نہ تھا۔ اب امام جماعت عورتوں کے ساتھ سودا بازی فرما رہے ہیں۔ مجھ سے لندن کی عبادت گاہ چندہ کے عوض لے لو۔ کیا طفلانہ اور مضحکہ خیز باتیں ہیں۔ لیکن ستم یہ ہے کہ خلیفہ ان ہی میں اپنی پردہ پوشی سمجھتے ہیں۔ اب خلیفہ روتا رہے ہیں۔ جماعت نے ہیمبرگ (جرمنی) کی عبادت گاہ کے لئے چندہ جمع کرنے میں سستی دکھائی ہے۔

(الفضل مورخہ ١٣/ مارچ ١٩٥٧ء)

اس کے پیچھے بھی یہی حقیقت کارفرما ہے کہ جماعت پہلے ایک بار جرمنی کی عبادت گاہ کے لئے روپیہ دے چکی ہوئی ہے۔ اب پھر خلیفہ نے بڑے زور و شور سے عبادت گاہوں کے فنڈ کی تحریک شروع کر رکھی ہے اور بڑے تاجر، چھوٹے تاجر، ملازمین، وکلاء، ڈاکٹر، کنٹریکٹر صاحبان، صناع، زمیندار، مزارع سے التجا کی ہے کہ وہ رنگا رنگ طریق سے اس مد میں روپیہ جمع کرا دیں اور شادی بیاہ مکان کی تعمیر، امتحانات میں کامیابی، گریڈوں کی ترقی اور برکت کے سودوں کے مواقع پر جھولی پھیلائی ہے۔ لیکن جماعت کے دوستوں کو خلیفہ کے الفاظ میں یہی کہتے ہیں۔ جماعت کے اموال کے متعلق آپ لوگوں کو واقفیت حاصل کرنا چاہئے کہ وہ کہاں سے آتا ہے۔ کتنا آتا ہے اور کیونکر خرچ ہوتا ہے؟

(الفضل مورخہ ٥/ نومبر ١٩٢٦ء)

سندھ کی اراضی پر اسرار

سندھ کی اراضی ١٩٣٢ء میں خریدی گئی۔ کل سودا پانچ لاکھ کا تھا۔ تیس ہزار شروع میں ادا ہوا۔ پچیس ہزار سالانہ کی قسط تھی اور تیس ہزار سالانہ کی ابتداء میں آمد کا خیال تھا۔

(الفضل مورخہ ٨/ جنوری ١٩٣٣ء)

یہ وہ عظیم الشان ریزرو جائیداد ہے جس کے نام سے خلیفہ گذشتہ بائیس سال سے قوم کی جیبوں سے روپیہ نکلوا رہے ہیں۔ سندھ کی اراضی کی جو بھی قیمت ہو، بہر حال اس پر قومی خزانہ کا صرف تیس ہزار روپیہ ہوا۔ لیکن تحریک جدید کا کتنا روپیہ آج تک اس عظیم الشان جائیداد کی تعمیر میں صرف ہو چکا ہے۔ جس کے سر پر ابدالآباد کے لئے چندہ دینے والوں کا نام دنیا میں سنہری حروف سے لکھا جائے گا اور اشاعت اسلام کی عظیم الشان بنیاد ڈال دی جائے گی۔

خلیفہ نے حسب دستور اس کاروبار کو بھی جماعتی احتساب سے اس وقت تک باہر رکھا جب تک اس کے خون کا آخری قطرہ نہیں چوس لیا۔ تمام کاروباری اور تجارتی معاملات کئے۔ یہ قطعی خلیفہ کی سوچی سمجھی تدبیر ہے کہ پہلے وہ اسے جماعت کے سامنے رکھے بغیر شروع کر دیتے ہیں۔

٣٣

صفحہ ٤٥٠

پھر اس کے متعلق بڑے بڑے سبز باغ دکھاتے ہیں۔ ابتداء میں اسے عام آڈٹ سے علیحدہ رکھتے ہیں۔ نئے نئے دفاتر کھلوا دیتے ہیں۔ حتی الوسع براہ راست اپنی نگرانی میں رکھتے ہیں۔ جب کچھ وقت گزر جاتا ہے۔ اس کاروبار کا خون چوسا جا چکتا ہے تو اسے عام دفاتر کی طرف منتقل کر دیتے ہیں اور ساتھ ہی آہستہ آہستہ تمام ابتدائی حساب و کتب نئے نئے ہاتھوں میں گھما کر برباد کروا دیا جاتا ہے۔ قانوناً ذمہ دار کوئی اور ہوتا ہے اور براہ راست خلیفہ ہدایات دوسرے کو دیتے ہیں۔ اس سے کام کرنے والوں ہی میں بد مزگی اور خلفشار ہی نہیں پیدا ہوتا بلکہ خلیفہ کا غبن اور دست برد بھی پردہ غیب میں چلی جاتی ہے۔ سندھ کی اراضی کا بھی یہی ہوا۔ ہزاروں ہزار کے ماہوار صرف سے مرکزی دفاتر قائم ہیں۔ نظارتیں ہیں، وکالتیں ہیں۔ محاسب ہے۔ دوہرے دوہرے آڈیٹر ہیں۔ لیکن اس طویل وعریض انتظام کے باوجود جب سندھ کے مربے حاصل کئے گئے تو سنڈیکیٹ کے نام سے ایک نیا دفتر کھول دیا گیا۔ جس کا صدر انجمن سے کوئی تعلق نہ تھا۔ جس میں کبھی مرزا محمد اشرف کو محاسب بنا دیا۔ کبھی منشی فرزند علی خان کو، حیرت ہے قوم سے تحریک جدید کے نام سے یہ کہہ کر روپیہ وصول کیا کہ اشاعت اسلام ہو گی۔ پھر کہا میں قوم کے لئے جائیدادیں بنا رہا ہوں۔ صدر انجمن سے روپیہ علیحدہ وصول کیا۔ اس حالت میں خلیفہ کا فرض تھا کہ وہ اس کا حساب صدر انجمن احمدیہ یا تحریک جدید میں رکھواتے۔ لیکن انہوں نے نئے محکمے کھول کر علیحدہ کارندے، علیحدہ محاسب اور سیکرٹری مقرر کر دیئے۔ خود اپنے پاس اس کا انتظام رکھا۔ آخر اس کی کیا وجہ جواز ہے؟ جب قوم کا روپیہ ہے، قوم کی جائیداد ہے اور قوم کے پاس ہزاروں ہزار کے صرف سے حساب کتاب اور نگرانی کا انتظام موجود ہے تو پھر سندھ کی اراضی کے انتظام کو علیحدہ رکھ کر اسے گورکھدھندہ بنانے اور براہ راست اپنی ذاتی نگرانی میں رکھنے میں کیا حکمت ہے؟ خاص طور پر جب کہ خود آپ کی اپنی زمین اور اس کا حساب کتاب بھی اس میں شامل اور مشترک ہے اور پھر آپ خاص طور پر اپنے بیٹوں اور دامادوں کے سپرد اس کام کو کرتے رہے ہیں۔

خلیفہ کہتے ہیں، سندھ کی زمین مجھے سونا اگل کر دے رہی ہے اور اسے ہی انہوں نے اپنے موجودہ عیش وعشرت کے مصارف کا پردہ بنا رکھا ہے۔ سونا نہیں تحریک اور انجمن کو چاندی ہی میسر آجاتی۔ انہیں تو جھانکنے کے لئے وہاں سے خاک بھی نہ ملی۔ بعد میں جب اس مرغی کے انڈوں کے ختم ہونے کا وقت آیا اور زمین کی ساری طاقت چوس لی گئی۔ وہاں کلر اور سیم پھوٹنے لگ گئی اور ادھر تحریک اور انجمن کا انتظام اپنے رشتہ داروں کی گرفت میں آ چکا تھا۔ سندھ کا انتظام بھی قومی اداروں کو دے دیا گیا۔ لیکن اس میں بھی احتیاط کر لی گئی کہ تحریک اور انجمن کے سپرد علیحدہ

صفحہ ٤٥١

علیحدہ انتظام کیا جائے۔ مقصد یہ تھا کہ اصل ریکارڈ کسی کے بھی پاس نہ رہے یا تو اشتراک کا اتنا زور تھا کہ انجمن تحریک کی اراضی کے ساتھ اپنے نام سے بھی کچھ اراضی شامل کر دی اور سارا حساب مشترک کر لیا اور جب دیکھا کہ ذاتی فائدہ علیحدہ کر دینے میں ہے تو تحریک اور انجمن کی اراضی کے انتظام کو بھی مشترک نہ رہنے دیا اور انجمن میں نظارت زراعت قائم کر کے معلیٰ القاب، کمہار القوم ماہر اراضیات جن کی سات پشتیں گدھے ہانکتی تھیں نہ کہ زراعت کا پیشہ کرتی آئی تھیں کے سپرد کر دیا۔ (ان الفاظ پر کوئی صاحب ناراض نہ ہوں۔ یہ بھی سنت محمودیہ ہے)

کاسہ گدائی

مرزا محمود احمد کی آمد کا ایک ذریعہ نذرانے بھی ہیں جو جماعت کے دوستوں کی طرف سے وقتاً فوقتاً انہیں ملتے رہتے ہیں۔ جس حد تک دلی جذبہ سے کوئی نذر دینے کا سوال ہے۔ یہ چیز قطعاً قابل اعتراض نہیں۔ لیکن قابل اعتراض بات یہ ہے کہ خود خلیفہ بھی مختلف طریق سے اس کی تحریک کرتے رہتے ہیں اور ایسے حالات پیدا کرتے رہتے ہیں کہ ان کے پاس نذر و نیاز کی رقمیں پہنچتی رہیں۔ ”فقدموا بین یدی نجواکم صدقة (المجادلہ:١٢)“ کا پراپیگنڈہ کہ حضور کو جب ملو کچھ نذر ضرور دو۔ جلسہ سالانہ پر ملاقات کے خاص انتظامات اور تحریک کہ: ”جلسہ کے موقعہ پر خلیفہ سے ملاقات بھی ضروری ہے۔“

(الفضل مورخہ ٨؍ جنوری ١٩٣٤ء)

تحفہ تحائف دینے والوں کا الفضل اور خطبات میں ذکر ان چیزوں کو اخلاص کا معیار قرار دینا۔ ان ذرائع سے لوگوں کے بہت سے رکے ہوئے کاموں کا انجام پذیر ہو جانا مرکز میں اس ذہنیت کا پیدا کر دیا جانا کہ وہ شادی اور بیاہ یا دوسری تقاریب جس میں حضور اور حضور کی مقدس ازواج شامل نہ ہوں، بارونق، یا بابرکت نہیں ہو سکتی اور اس شمولیت کی بنیاد نذرانوں کا پیش کیا جانا اس سلسلہ کی کڑیاں ہیں۔

خلیفہ کس کس طرح کاسہ گدائی لے کر پھرتے ہیں۔ اس کی ایک صورت یہ ہے کہ جماعت کو تلقین کی جاتی ہے کہ خلیفہ کے اوقات گرامی کو مالی ضروریات اور مشکلات سے مشوش کرنا ہماری حرارت دینی جائز نہیں سمجھتی۔

(الفضل دسمبر ١٩٣٢ء)

لیکن اس کے ساتھ ہی خلیفہ اپنی بے زری کا گلہ بھی کرتے رہتے ہیں اور ڈھنڈورہ پیٹتے رہتے ہیں: ”میں کالج میں اپنے بچوں کو پڑھا نہیں سکتا۔ میں خود باہر سے ڈاکٹر اپنے لئے یا اپنے خاندان کے لوگوں کے لئے نہیں بلایا کرتا..... میرے پاس روپیہ نہیں ہے۔“

(الفضل مورخہ یکم جون ١٩٣٣ء)

صفحہ ٤٥٢

پھر اس قسم کی روایتوں کو بھی شہرت دی جاتی ہے: ”ان کے (سیٹھ عبدالرحمٰن صاحب مدراس) اخلاص کی یہ حالت تھی کہ اگر ان کے پاس کچھ بھی نہ ہوتا تو بھی وہ حضرت کو قرض لے کر روپیہ بھیج دیتے۔“

(الفضل ستمبر ١٩٣٥ء)

کبھی فرماتے ہیں: ”میں بیمار ہوں۔ ڈاکٹر مجھے مشورہ دیتے ہیں کہ گرمیاں پہاڑ پر گزاروں۔ لیکن مالی زیر باری کے خیال سے میں اس کی جرأت نہ کر سکا۔ کیونکہ پچھلے تجارب سے میں اس نتیجہ پر پہنچا تھا کہ مالی زیر باری اس فائدہ کو جو تبدیلی آب و ہوا سے ہوتا ہے، بالکل مٹا دیتی ہے۔“

(الفضل مورخہ ٢٧ جولائی ١٩٢٦ء)

میں امیر آدمی نہیں۔ بسا اوقات مجھے بیماری میں دواؤں اور ضروری لباس اور ضروریات کے لئے سامان میسر نہیں آتا۔ ایک طرف جماعت کو یہ تلقین کروانی کہ حضور کے اوقات گرامی کو مالی ضروریات اور مشکلات سے مشوش کرنا حرارت دینی کے خلاف ہے اور بیماریوں پر دعاؤں کے لئے چیخ و پکار کرنا، ہزار ہزار روپیہ قربانیوں پر صرف کروا دینا اور دوسری طرف یہ کہنا کہ میں غریب ہوں۔ بسا اوقات مجھے بیماری میں دواؤں کے لئے پیسے میسر نہیں ہوتے اور اس طرح اپنی حالت دنیا کے سامنے اس طرح پیش کرنی کہ مجھے علاج، سفر، لباس، بچوں کی تعلیم اور دیگر ضروریات کے لئے سامان میسر نہیں۔ یہ صریح رنگ سوال اور حسن طلب نہیں تو اور کیا ہے؟

اس حسن طلب کا نتیجہ یہ ہے کہ جماعت دامے، درمے ان کی امداد کرتی ہے اور وقتاً فوقتاً روپیہ وغیرہ ان کی جھولی میں ڈالتی رہتی ہے۔ پرنسپل مآب مرزا ناصر احمد جن کی خلافت کا قیام خلیفہ کے گلے پڑا ہوا ہے۔ اسی حسن طلب کے نتیجہ میں ولایت گئے تھے۔ جس کا ڈھنڈورہ آج خلیفہ اس طرح پیٹ رہے ہیں کہ وہ آکسفورڈ کا پڑھا ہوا ہے۔ ان کی تعلیم کے تمام تر اخراجات چوہدری محمد ظفر اللہ خاں صاحب نے ادا کئے تھے اور اسی حسن طلب کا کرشمہ، کیا یہ جماعت سے ذاتی مفاد حاصل کرنے کی بدترین اور قابل صد نفرین حرکت نہیں؟

خلافت جوبلی فنڈ

جس کی تحریک بھی حضور ہی کے ایماء پر چوہدری صاحب موصوف نے کی اور مدتوں الفضل میں پراپیگنڈہ کر کے اور چوہدری موصوف کی شبانہ روز کوششوں کے نتیجہ میں تین لاکھ کی رقم جناب خلیفہ کی جھولی میں ڈال دی گئی۔ پہلے تو اس امداد کو چندہ قرار دیا گیا اور جماعت کو بتایا گیا کہ یہ چندہ قومی ضروریات اور سلسلہ کے مفاد ہی پر خرچ ہوگا۔ میاں بشیر احمد صاحب فرماتے ہیں:

٣٦

”بعض لوگ دریافت کرتے ہیں کہ خلافت جو رقم جمع کر کے حضرت امیر المؤمنین ..... کے س مفاد ہی میں جس طرح پسند فرمائیں گے خرچ ف اور یہ وعدے دے کر اور اس ط اسلامی میں اپنی نوعیت کی پہلی اور نادر تقریب اور وفد بھیج بھیج کر لوگوں سے ان

اور آخر میں اسے خلیفہ کی خدم دے کر کلیتاً ان کے تصرف میں یہ ساری رقم لاکھوں لاکھ ٹریکٹوں کی اشاعت وغیرہ کا ق دلچسپ تاریخ ہے۔

خلیفہ کو نذرانہ دینے کے لئے ب ہوئی۔ اس کا اندازہ خلیفہ کے الفاظ سے ہ خلیفہ نے فرمایا کہ مالی قربانیوں کے لحاظ س انجمن کے قرضہ کی مقدار چار لاکھ تک پہنچ گئی

سوال یہ ہے کہ جب جماعت چار لاکھ کی مقروض ہوچکی تھی۔ کارکنوں کو ت مخدوش ایام میں جوبلی فنڈ کی تحریک کیوں کر اور انجمن کا خزانہ اپنا روپیہ اگل کر تین نہیں تھا کہ اپنی جیب میں تین لاکھ روپیہ انتظام کرتے۔ پھر فی الحقیقت جوبلی کی ت

”ہم کو اس سال چالیس سالہ جوبلی منانی حدیث شریف میں آتا ہے ک خلیفہ کی ناشکر گزار اور احس مجھے کوئی تحفہ دیتا ہے وہ مجھ پر احسان نہیں

صفحہ ٤٥٣

”بعض لوگ دریافت کرتے ہیں کہ خلافت جوبلی کا چندہ کہاں خرچ ہوگا۔ اس کا یہ جواب ہے کہ یہ رقم جمع کر کے حضرت امیر المومنین ...... کے سامنے پیش کر دی جائے گی اور حضور اسے سلسلہ کے مفاد ہی میں جس طرح پسند فرمائیں گے خرچ فرمائیں گے۔“

(الفضل مورخہ ١٤؍ جنوری ١٩٣٩ء)

اور یہ وعدے دے کر اور اس طرح جوش دلا کر کہ خلافت جوبلی کی تقریب تاریخ اسلامی میں اپنی نوعیت کی پہلی اور نادر تقریب ہے۔

(الفضل مورخہ ٢٥؍ مارچ ١٩٣٩ء)

اور وفود بھیج بھیج کر لوگوں سے ان کی ماہوار آمد سے ڈیڑھ گنا چندہ طلب کر لیا گیا۔

(الفضل مورخہ ٩؍ فروری ١٩٣٥ء)

اور آخر میں اسے خلیفہ کی خدمت میں ان کی ذاتی ضروریات کے لئے نذرانہ قرار دے کر کلیتاً ان کے تصرف میں یہ ساری رقم دے دی گئی۔ اول اول تو خلیفہ نے بھی اس رقم سے لاکھوں لاکھ ٹریکٹوں کی اشاعت وغیرہ کا ذکر کر کے حساب برابر کر دیا۔ لیکن اس کا انجام بڑی دلچسپ تاریخ ہے۔

خلیفہ کو نذرانہ دینے کے لئے جوبلی فنڈ کی تحریک مالی لحاظ سے کن نازک ایام میں ہوئی۔ اس کا اندازہ خلیفہ کے الفاظ سے کیجئے۔ مجلس مشاورت ١٩٣٨ء کا افتتاح کرتے ہوئے خلیفہ نے فرمایا کہ مالی قربانیوں کے لحاظ سے جماعت کے لئے یہ نہایت نازک ایام ہیں۔ صدر انجمن کے قرضہ کی مقدار چار لاکھ تک پہنچ گئی ہے۔

(الفضل اپریل ١٩٣٨ء)

سوال یہ ہے کہ جب جماعت کے لئے مالی لحاظ سے نہایت نازک ایام تھے اور انجمن چار لاکھ کی مقروض ہو چکی تھی۔ کارکنوں کو تین تین ماہ کی تنخواہیں نہیں مل رہی تھیں تو ایسے نازک اور مخدوش ایام میں جوبلی فنڈ کی تحریک کیوں چلائی۔ کیا اس کا مطلب یہ نہ تھا کہ قوم اپنے پیٹ کاٹ کر اور انجمن کا خزانہ اپنا روپیہ اگل کر تین لاکھ روپیہ خلیفہ کی جھولی میں ڈال دے۔ کیا خلیفہ کا فرض نہیں تھا کہ اپنی جیب میں تین لاکھ روپیہ ڈلوانے سے پہلے سلسلہ کا چار لاکھ روپیہ قرض اتروانے کا انتظام کرتے۔ پھر فی الحقیقت جوبلی کی تحریک خود خلیفہ نے کروائی۔ ١٩٣١ء میں ایک موقع پر فرمایا: ”ہم کو اس سال چالیس سالہ جوبلی منانی چاہئے ۔“

(الفضل مورخہ ١٢؍ جون ١٩٣١ء)

حدیث شریف میں آتا ہے : ”من لم یشکر الناس لم یشکر الله“ خلیفہ کی ناشکر گزار اور احسان فراموش طبیعت کا ان الفاظ سے اندازہ کیجئے۔ جو شخص مجھے کوئی تحفہ دیتا ہے وہ مجھ پر احسان نہیں کرتا بلکہ خدا تعالیٰ اس ذریعہ سے اس پر احسان کرتا ہے۔

(الفضل مورخہ ٤؍ اکتوبر ١٩٢٤ء)

٣٧

صفحہ ٤٥٤

وظیفہ خوار خلیفہ

اب ذرا ان امدادی رقوم پر نظر ڈالئے جو خلیفہ علی الاعلان انجمن سے وصول کرتے ہیں ۔ خلیفہ کے لئے ١٩٠٨ء میں ساٹھ روپیہ کا ایک وظیفہ ان کی گذراوقات کے لئے مقرر کیا گیا ۔ یہ چیز اب آپ کے دائمی استحقاق میں تبدیل ہو چکی ہے اور خلیفہ آج بھی یہ رقم بدستور وصول کر رہے ہیں ۔ خلیفہ نے غالباً ١٩٢٣ء میں یہ ڈھونگ کھڑا کیا تھا کہ میرے لئے انجمن ماہوار کچھ رقم مقرر کر دے، میں لیا نہیں کروں گا۔ لیکن اس کا مقرر کر دیا جانا بہر حال ضروری ہے کہ آئندہ آنے والے خلیفہ کے لئے راستہ بند نہ ہو جائے اور اس کے لئے بیت المال سے کوئی رقم لینے میں روک نہ ہو ۔ یہ ایسا لغو اور مضحکہ خیز عذر تھا کہ حیرت آتی ہے کہ خلیفہ نے اس چیز کو اپنے کاسہ گدائی کے لئے پردہ کس طرح سمجھ لیا ۔ بات صاف تھی خلیفہ انجمن سے باقاعدہ ایک رقم ہتھیا نا چاہتے تھے ۔ نام لے دیا اگلے خلیفہ کا ۔ اوّل تو اسوۂ حسنہ یہ خلیفہ کب ٹھہرے؟ محمد رسول اللہ ﷺ کا مقام انہیں کہاں سے حاصل ہو گیا؟ پھر اگر ابو بکرؓ و عمرؓ کے بیت المال سے رقوم لے لینا کافی اسوہ نہیں تو خلیفہ کے لئے رقم لینے میں وہ چیز اسوہ کیسے ہو جائے گی؟ کیا اگلے خلیفہ کے لئے حضرت ابو بکرؓ اور حضرت عمرؓ کا اسوہ کافی نہیں ہے؟ پھر آپ نے تو کہا ہے کہ میں اس رقم کو لوں گا نہیں۔ محض برائے نام رکھی جائے گی تو اگلے آنے والے خلیفہ پر اگر کسی نے اعتراض کرنا بھی ہے تو وہ کیا یہ نہیں کہے گا کہ پہلے خلیفہ نے گو رقم بجٹ میں تو رکھوا لی لیکن عملاً وصول نہیں کی اور یہ خلیفہ عملاً وصول کرتا ہے۔ چوتھے یہ کہ اگر محض نام نہاد طور پر ہی یہ رقم رکھی جانی تھی اور محض خانہ پری ہی مقصود تھی اور محض ایک راستہ کھولنے کے لئے ظاہری شکل دینا مدنظر تھا تو یہ چھ ہزار روپیہ سالانہ کی رقم کس مقصد سے رکھی گئی ۔ محض ایک روپیہ بطور Token رکھ دینا کافی تھا۔ انجمن کو اپنے بجٹ کو متوازن رکھنے کے لئے جو پریشانی اٹھانا پڑتی ہے اس میں بہت حد تک کمی آ جاتی ۔ لیکن چونکہ اصل مقصد مالی استحصال تھا۔ چھ ہزار کی رقم بجٹ میں رکھوائی گئی ۔ اس سے بھی اگلی بات سنئے کہ اس وقت خلیفہ نے پردہ رکھنے کے لئے یہ کہہ تو دیا کہ میں اس رقم کو وصول نہیں کروں گا۔ لیکن آج تک اس رقم سے ایک حبہ بھی انجمن کے خزانہ کو واپس نہیں ملا اور خلیفہ باقاعدہ ابتداء سال میں چھ ہزار کی رقم وصول کرتے چلے جا رہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ جب کسی کی پردہ دری پر آتا ہے تو بڑے بڑے محتاط اس کی زد میں آنے سے نہیں بچتے۔ یہی خلیفہ جو بڑی چابکدستی سے اپنے اس مالی استحصال کو چھپاتے چلے آئے ہیں ۔ خود ان سے گذشتہ سال ایسا قدم اٹھوا لیا گیا ہے۔ جس سے سارا پردہ چاک ہو جاتا ہے۔ معلوم ہوتا ہے ١٩٥٧ء کو خلیفہ کی پردہ دری سے خاص نسبت ہے۔ صدر انجمن احمدیہ کا بجٹ ٥٨۔١٩٥٧ء ملاحظہ

٤٨

کیجئے۔ خلیفہ کے نذرانہ کی یہ رقم جو بجٹ میں رکھا گیا تھا مرزا محمود احمد ک آنے والے خلیفہ کے لئے بیت الم یکدم بارہ ہزار روپیہ کر دیا گیا ہے ۔ بات بالکل صاف اور کی تہہ میں خلیفہ کو مالی استحصال مدن اس وقت اسے بڑھا کر بارہ ہزار کے لئے بڑا ہی مشکلات کا سال فرماتے ہیں: ”وکالت مال اپنی آ اس وجہ سے بجٹ غیر متوازن ہو

یہی حال صدر انجمن ضروری اخراجات ترک کر دیئے ہے۔ لیکن خلیفہ کا وظیفہ چھ ہزار س ڈالنا چاہتے ہیں کہ میری وجہ سے ہوں ۔ لیکن عملی حالت یہ ہے کہ کسی شخص کی حقیق اخراجات ہوا کرتے ہیں ۔ خل اور بجٹ کی پوری کی پوری رق پہلے فوری طور پر ربوہ کی رہائ آدھی عارضی رہائش کے لئے ہیں اور سب انجمن کے خرچ نے پانچ لے رکھے ہیں اور مستقر کے لئے جابہ میں کوٹ کی ضروریات کا یہ سارا بند میں سفر خرچ کے مصارف ۔

صفحہ ٤٥٥

کیجئے۔ خلیفہ کے نذرانہ کی یہ رقم جو سالہا سال سے چھ ہزار روپیہ اور جسے محض بطور Token بجٹ میں رکھا گیا تھا مرزا محمود احمد کی مالی امداد اس سے مقصود نہ تھی۔ صرف یہ مقصد تھا کہ آئندہ کسی آنے والے خلیفہ کے لئے بیت المال کے بجٹ میں رقم کا رکھوانا مشکل نہ ہو جائے۔ اسے بڑھا کر یکدم بارہ ہزار روپیہ کر دیا گیا ہے۔

(بجٹ صدر انجمن احمدیہ ص ١٩، ٥٨-١٩٥٧ء)

بات بالکل صاف اور واضح ہے اگر نذرانہ خلافت کا مقصد خلیفہ کی مالی امداد نہیں اور اس کی تہہ میں خلیفہ کو مالی استحصال مدنظر نہیں تھا تو اس رقم کو چھ ہزار رکھوانے کی کیا ضرورت تھی اور اب اس وقت اسے بڑھا کر بارہ ہزار کس مقصد سے کرایا گیا ہے؟ جب کہ یہ سال سلسلہ کے چندوں کے لئے بڑا ہی مشکلات کا سال ہے۔ تحریک جدید کو ایک لاکھ کا خسارہ ہے۔ اس کے وکیل المال فرماتے ہیں: ”وکالت مال اپنی تمام تر کوششوں کے باوجود آمد بجٹ کے مطابق پیدا نہیں کرسکی۔ اس وجہ سے بجٹ غیر متوازن ہو گیا ہے اور ایک لاکھ روپیہ کا خسارہ متوقع ہے۔“

(بجٹ تحریک جدید ١٨، ٥٧-٥٨ء)

یہی حال صدر انجمن کا ہے۔ بہت سے ضروری اخراجات میں تخفیف کی گئی ہے۔ کئی ایک ضروری اخراجات ترک کر دیئے گئے ہیں۔ انجمن کے کارکنوں میں بیس فیصدی کی تخفیف کی جا رہی ہے۔ لیکن خلیفہ کا وظیفہ چھ ہزار سے بڑھا کر بارہ ہزار یعنی پورا دوگنا کر دیا گیا ہے۔ خلیفہ قوم پر اثر تو یہ ڈالنا چاہتے ہیں کہ میری وجہ سے صدر انجمن پر کوئی بار نہیں۔ میں خلافت کا کام مفت سرانجام دے رہا ہوں۔ لیکن عملی حالت یہ ہے کہ دودو ہاتھوں سے سلسلہ کے اموال کو لوٹ رہے ہیں۔

کسی شخص کی حقیقی ضروریات کھانا، کپڑا، مکان، ضروری سفر اور اولاد کی تعلیم کے اخراجات ہوا کرتے ہیں۔ خلیفہ کے کھانے، کپڑے کے لئے بارہ ہزار روپیہ بجٹ میں موجود ہے اور بجٹ کی پوری کی پوری رقم یہ وصول کر لیتے ہیں۔ مکانات انجمن نے بنا کر دئے رکھے ہیں۔ پہلے فوری طور پر ربوہ کی رہائش کے لئے عارضی تعمیر کر کے دی۔ کچھ دن اس میں رہائش رکھی۔ پھر اچھی عارضی رہائش کے لئے دوبارہ مکانات بنوا کر دیئے۔ اب تیسرے مرحلہ پر پختہ مکان موجود ہیں اور سب انجمن کے خرچ پر۔ آپ کی بیویاں ماشاء اللہ چار ہیں۔ لیکن مکان انجمن سے آپ نے پانچ لے رکھے ہیں اور ان کے ساتھ پائیں باغ بنوائے جانے کا ارشاد فرمایا ہوا ہے۔ گرمائی مستقر کے لئے جابہ میں کوٹھی ہے۔ کراچی کی سیر کے لئے وہاں ایک وسیع کوٹھی بن چکی ہے۔ خلیفہ کی ضروریات کا یہ سارا بندوبست قوم کے روپیہ سے کیا گیا ہے۔ سفری ضروریات کے لئے بجٹ میں سفر خرچ کے مصارف کے لئے رقم موجود ہے۔

(بجٹ صدر انجمن احمدیہ ص ١٩٥٨-١٩٥٧ء)

صفحہ ٤٥٦

اولاد کی تعلیم کے لئے اتالیق میسر ہیں اور اگر یورپ کی تعلیم کی ضرورت ہو تو اس کے لئے بھی قوم کے عمائدین کی جیبوں پر عجیب و غریب ڈھنگوں سے ڈاکہ ڈالا جاسکتا ہے۔ موٹریں انجمن نے لے کر دے رکھی ہیں۔ نجی کاموں کے لئے نوکر موجود ہیں۔ پہرے دار حاضر ہیں۔ ڈیوڑھی بردار دن رات مستعد کھڑے ہیں۔ یہ سارا بندو بست قوم ہی کے روپیہ سے تو کیا گیا۔ لیکن ابھی بیچارے خلیفہ کا کسی رنگ میں بار قوم کے سر پر نہیں۔

ان حالات میں خلیفہ کا یہ کہنا کہاں تک درست ہے: ’’یہ مال دین کی خدمت میں صرف ہوتا ہے اور مجھ کو ذاتی طور پر کوئی نفع نہیں پہنچتا۔‘‘

میں جانتا ہوں جو وہ کہیں گے جواب میں

خلیفہ جس جس طرح قومی مال کو خرد برد کرتے ہیں اس کے دفاع میں تین جواب ہماری نظر سے آج تک گذر چکے ہیں۔

پہلا جواب !! ان کے ماموں اور خسر جناب ڈاکٹر محمد اسماعیل کے قلم سے ہے، جو فرماتے ہیں کہ لوگ مالیات کے بارہ میں خلیفہ پر اعتراض کرتے ہیں۔ حالانکہ: ”قرآن مجید میں خدا نے حضرت سلیمان کو مخاطب کر کے فرمایا: ’’هٰذا عطاؤنا فامنن او امسك بغير حساب‘‘ ہماری بخشش ہے خواہ اسے دے خواہ روک لے۔ تجھ پر اس کے حساب کی ذمہ داری نہیں۔ اس سے معلوم ہوا کہ انبیاء سے حساب نہیں لیا جاسکتا۔ دوسرے یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ خلیفہ المسیح ثانی کو بھی مسیح موعود کے الہامات میں سلیمان کہا گیا ہے۔ اس لئے حضور پر بھی اخراجات کے بارہ میں کوئی اعتراض نہیں ہوسکتا۔ ’’فامنن او امسك بغير حساب‘‘ کا حکم حضور پر بھی حاوی ہے۔‘‘

(الفضل مورخہ ١٨؍ جون ١٩٢٦ء)

دوسرا جواب !! خلیفہ خود فرماتے ہیں۔ ارشاد ہوتا ہے: ’’تمہاری اور میری مثال تو اس شخص کی سی ہے جو کسی کے گھر میں اپنا مال رکھے جب لینے جائے تو گھر والا شور مچا دے، چور ہے، چور ہے۔‘‘

(الفضل مورخہ ١٩؍ مارچ ١٩٣٩ء)

تیسرا جواب !! ملاحظہ ہو: ’’جب یہاں ہمارے عقیدہ کے مطابق خدا تعالیٰ خلیفہ قائم کرتا ہے۔ وہ اگر اموال تلف کرتا ہے یا تلف کرنے دیتا ہے تو وہ خود خدا کے حضور جواب دہ ہے۔ تم اس پر اعتراض نہیں کر سکتے۔‘‘

سبحان اللہ ! اب معلوم ہوا کہ خلیفہ خدا بناتا ہے اور میں بھی خدا کا بنایا ہوا خلیفہ ہوں۔ اس کی مار کہاں کہاں تک ہے۔

٤٠

صفحہ ٤٥٧

خلیفہ پر احتساب ممنوع ہے۔ حضرت ابوبکرؓ جسے خدا نے خلیفہ بنایا تھا وہ تو فرماتا ہے: ”اگر میں نیک کام کروں تو میری امداد کرنا اور اگر غلط راہ اختیار کروں تو مجھے فوراً ٹوک دینا۔ جب تک میں خدا اور رسول کے احکام پر چلتا رہوں تم میرا کہا مانو اور اگر ان کی اطاعت سے منہ پھیرلوں تو میری بات نہ مانو۔“ لیکن یہ خلیفہ یہ تعلیم دیتا ہے کہ میری بے راہ رویوں پر مجھے مت روکو۔

افسوس خلیفہ مالی استحصال میں کس پست ذہنیت پر اتر آتے ہیں۔ اصل بات یہ ہے کہ یہ سب کچھ ایک اجتماعی محاسب قوت کے فقدان کی وجہ سے ہو رہا ہے۔ ہم جانتے ہیں کہ خلیفہ نے کمال چابکدستی سے اس روح کو بیدار ہونے سے اب تک روکے رکھا ہے۔ لیکن ذہنوں میں جو حقائق پرورش پارہے ہیں اور جماعت کا بیدار طبقہ جس نہج پر سوچنے لگ گیا ہے ان کی موجودگی میں مقاطعہ، اخراج، منافقت اور مندرجہ بالا پراپیگنڈے کے کمزور اور لا یعنی سہارے اب زیادہ دیر تک کام نہیں آئیں گے۔ لوگ یہ سوچنے پر مجبور ہو رہے ہیں کہ ساٹھ روپیہ کا یہ وظیفہ خوار جس کے پاس خلافت کے پہلے دن ایک اشتہار چھاپنے کے لئے بھی پیسہ نہ تھا اور جو خود اقراری ہے کہ بیسیوں مرتبہ میں نے اپنی آمد اور اخراجات کا حساب کیا ہے تو اخراجات ہمیشہ آمد سے دوگنا ہوتے ہیں۔

(الفضل مورخہ ٤؍ ستمبر ١٩٣٧ء)

اور تقسیم ملک کے وقت جس کی یہ حالت تھی کہ وہ خود کہتا ہے: ”قادیان سے نکلتے وقت مجھ پر لاکھوں روپیہ قرض تھا۔ جس کی ادائیگی کی کوئی صورت نظر نہ آتی تھی۔“

(الفضل مورخہ ١٧؍ اپریل ١٩٥٢ء)

آج وہ پھر لاکھوں کا مالک کیسے بنا۔ ربوہ میں یہ دھڑا دھڑ درجنوں کوٹھیاں کہاں سے بن رہی ہیں۔ ڈھیروں ڈھیر افراد خاندان کے ساتھ یورپ وانگلستان کے سفر کس برتے پر ہو رہے ہیں۔ یہ نئی سی نئی کمپنیوں میں حصے کہاں سے خریدے جا رہے ہیں؟ خلیفہ کا ارشاد ہے: ”تم میں سے کون ہے جو کہہ سکے کہ میں نے کبھی اس سے کچھ مانگا ہو ......کوئی ہے جو مجھ پر دنائت کا الزام لگا سکے۔ کوئی ہے جو مجھ پر خیانت ثابت کر سکے۔ کوئی ہے جو میری طرف لالچ اور حرص کو منسوب کر سکے۔ اگر کوئی شخص دنیا کے پردہ پر اس قسم کا موجود ہے تو میں اس کو قسم دیتا ہوں اس ہستی کی جس کے ہاتھ میں اس کی جان ہے کہ وہ خاموش نہ بیٹھے اور مجھے دنیا کی نظروں میں ذلیل کرے...... اگر میں احمدیت سے غداری کرنے والا ہوں۔ اگر میں لوگوں کے مال کھانے والا ہوں۔ اگر میں لالچ اور حرص کے مرض میں مبتلا ہوں تو میری مدد کرنے والا۔ میرے راز پر پردہ ڈالنے والا خدا کا اور اس کے دین کا دشمن ہے۔“

٤١

صفحہ ٤٥٨

اب اگر ان کی دنائت، ان کی گدائی، خیانت، لالچ، حرص وغیرہ کا پردہ چاک کیا جا رہا ہے اور دنیا کی نظروں میں ان کی ذلت کا سامان ہو رہا ہے اور اس شخص مقدس کی ذلت اور اہانت ہو رہی ہے تو انہیں ناراض نہیں ہونا چاہئے۔

دنیا سمجھنے لگ گئی ہے اور خوب سمجھنے لگ گئی ہے کہ خلیفہ کی ساری دولت، گھناؤنی فتوحات ہیں۔ خلیفہ گذشتہ تینتالیس سال سے جماعت کے روپیہ میں ناجائز تصرفات کر رہے ہیں اور مختلف حیلوں بہانوں سے جماعت کی جیبوں سے روپیہ کھینچا جا رہا ہے۔ ہم نے تو یہاں پر چند اشارے کئے ہیں۔ اس اجمال کی تفصیلات بڑی لمبی ہیں۔ اگر خلیفہ کو ان حقائق سے انکار ہے تو وہ غیر جانبدار آڈٹ کمیشن کی پیشکش کو قبول کر کے اخلاقی جرأت کا ثبوت دیں۔ حقائق خود بخود منظر عام پر آجائیں گے۔ آڈٹ کے اخراجات ہم ادا کرنے کے لئے تیار ہیں۔

اور تو خرقے میں سب چھپ جائے گا مے کی بوتل بھی چھپا لی جائے گی؟

غرض لاکھوں روپے بطور خلافت الاؤنس وصول کر کے اور لاکھوں روپے بطور نذرانہ وصول کر کے اور لاکھوں روپے قرضہ جات کے ذریعہ حاصل کر کے اور لاکھوں روپے بذریعہ جوبلی فنڈ وصول کر کے اور لاکھوں روپے خرید و فروخت اراضی کی پراسرار راہیں اختیار کر کے اور لاکھوں روپے عبادت گاہوں فنڈ کو استعمال میں لا کر اور لاکھوں روپے قومی سرمایہ سے نت نئی کمپنیاں کھول کر اور ان میں اپنے بیٹوں اور دامادوں کو بطور ڈائریکٹر خطیر تنخواہیں دلوا کر اور لاکھوں روپے غریب قوم کے اپنی ذاتی کوٹھیوں پر لگوا کر اور لاکھوں روپے بطور سفر الاؤنس وصول کر کے اور لاکھوں روپے زکوٰۃ فنڈ کے وصول کر کے یہ قوم کا غمخوار، خلیفہ پراسرار ساٹھ روپے ماہوار کا وظیفہ خوار عمر بھر دنیا میں محمد رسول اللہ ﷺ کا نام بلند کرنے اور اسلام کا جھنڈا گاڑنے کے نعرے لگاتا رہا اور آج یہ ساٹھ روپے ماہوار کا وظیفہ خوار کروڑوں روپے کی منقولہ اور غیر منقولہ جائیداد کا مالک ہے۔ قوم بیچاری چندہ دے دے کر تھک گئی۔ لیکن اس نام نہاد خلافت کی جملہ برکات خلیفہ خود سمیٹ کر آج اپنی اولاد کو وصیت کر رہے ہیں کہ میں نے تمہارے ساتھ بڑی خیر خواہی کی ہے۔ واقعی ساٹھ روپے کے وظیفہ خوار کا اولاد کے لئے کروڑوں روپے کی جائیداد بنا ڈالنا بڑی بھاری خیر خواہی ہے۔

(سبط نور)

احمدیہ حقیقت پسند پارٹی مرکزیہ

٤٢

خاتم النبیین

لا نبی بعدی

مرزا غلام احمد

مرزا محمود

مرکزی حقیقت

PDF 460

خاتم النبیین لا نبی بعدی

میں آخری نبی ہوں، میرے بعد کوئی نبی نہیں۔

مرزا غلام احمد کی تحریر میں

مرزا محمود کی تصویر

مرکزی حقیقت پسند پارٹی

صفحہ ٤٦٠

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

”نحمده ونصلی علیٰ رسوله الكريم وعلىٰ عبده المسيح الموعود“

احباب جماعت احمدیہ اور دیگر متلاشیان حق مرزا غلام احمد اور حکیم نور الدین کی مندرجہ ذیل تحریروں کو بغور پڑھیں اور پھر آواز خلق جو گذشتہ تیس سال سے بڑی شدت کے ساتھ بلند ہو رہی ہے، پر کان دھریں اور سوچیں کہ جماعت ١٩١٤ء سے لے کر اب تک کیوں مختلف پارٹیوں میں بٹتی چلی جا رہی ہے اور نیکی وتقویٰ کا فقدان اور سیاست کی راہوں پر قدم مارنے کی کیا وجہ ہے؟

حضور فرماتے ہیں: ”بسااوقات تو ایسے آدمی کو پائے گا جو باوجود فسق و فجور میں مبتلا ہونے کے خوب مضبوط اور خوش و خرم پھرتا اور خوشی کے لباسوں میں متک متک کر چلتا ہے۔ خوشیوں کے نشانے سے اس کا تیر کبھی خطا نہیں جاتا ہے۔ اس کے لئے تازہ گوشت کے لذیذ کباب تیار ہوتے ہیں۔ چوزے اس کے لئے بھونے جاتے ہیں اور اعلیٰ قسم کے کھانے اس کے لئے تیار کئے جاتے ہیں اور وہ ہرنوں کی مانند خوشی سے اچھلتا پھرتا ہے۔ بیابانوں میں اسے خزانے مل جاتے ہیں اور وہ سراب مانند انسانوں کا شکار کرتا پھرتا ہے اور باوجود اس حالت کے اس پر کوئی تنگی اور تکلیف وارد نہیں ہوتی اور نہ مشکلات سے دوچار ہوتا ہے۔ نازک اندام اور گانے والی عورتوں سے اسے حظ وافر دیا جاتا ہے۔ اموال اور اولاد اور جائیدادیں اور زمینیں، ملازم اور خادم کثرت سے اسے عطاء کئے جاتے ہیں۔ لیکن اس کی حالت یہ ہے کہ وہ بدکاریوں میں نہایت تیز رو ہوتا ہے اور ممنوعات سے کبھی رجوع نہیں کرتا اور بدیوں کو نیکیوں کے ذریعہ دور کرنے میں کبھی سعی نہیں کرتا اور موت سے پہلے اپنی لغزشوں کی تلافی کرنے کی اسے کبھی فکر لاحق نہیں ہوتی بلکہ اس کے خلاف دلیری سے ان تمام باتوں کا مرتکب ہو جاتا ہے، جن سے خدا تعالیٰ نے روکا ہوا ہے اور عاصی آدمیوں کی مانند اللہ تعالیٰ کی حدود سے تجاوز کرتا ہے اور پرہیز گاری کو اختیار نہیں کرتا ہے اور لوگوں اور اہل دیانت لوگوں کے قرب سے مجتنب رہتا ہے۔ بلکہ اس کا میلان طبیعت خوش آواز عورتوں کو دیکھنے کی طرف ہوتا ہے اور وہ نہ غیروں کی نصیحت پر اور نہ اپنوں کی نصیحت پر کان دھرتا ہے۔ بلکہ بچھوؤں کی مانند نصیحت کرنے والوں کو ڈنک مارتا ہے اور بجائے ان کی نصیحت کی طرف توجہ دینے کے، سانپوں کی مانند ان پر حملہ کرتا ہے۔ اس کا پراگندہ اعمال نامہ لپیٹنے میں نہیں آتا۔ بلکہ وہ ہر روز کھلے کھلے گناہ میں ترقی کرتا جاتا ہے۔ وہ طویل وعریض اور سبک رفتار گھوڑے پر سوار ہوتا ہے اور اپنے ہر دشمنی رکھنے والے مد مقابل سے آگے نکل جاتا ہے اور بڑے سر والے اونٹ ٢ کے مشابہ ہوتا ہے اور اپنی عمر کے ایام اس آوارگ چھوڑی گئی ہو اور جس کی غفلت کا زمانہ لمبا ہو گی گھروں کو دور رکھتا ہے اور اہل فسق اور بدکارا سونے یعنی دنیا کے مال ومتاع کا طالب رہت طرف اس کا دل مائل رہتا ہے اور دوستوں س ہے۔ دنیا کو اس نے اپنا بت بنایا ہوا ہے۔ ج محبت کرتا ہے اور اس کا ہر وقت دیوانہ بنا رہت اس کی عمر مال ومتاع کے جمع کرنے میں خت آرزوئیں اس کے دل پر بھڑک رہی ہوتی ہ ہوتے ہیں اور اس کا مطلوب اس کے لئے آم ہیں اور اس کے دن اس سے پھرتے نہیں ہ چیزیں اس سے دور کر دی جاتی ہیں اور اس دنیاوی نعمتوں میں محرومی کا دن اسے نہیں دکھ ہوتا۔ باوجود اس کے کہ وہ اپنی عمر بدکاریوں کوئی سانپ نہیں ڈستا ہے۔ اس کا نام روس بدن زیادہ ہوتی جاتی ہے۔ یہاں تک کہ اولا مجلس اور پر رونق محفل کا صدر ہوتا ہے۔ وہ ظ ہے۔ اس کے خادم اس کے سر پر کھڑے رہ وہ کھاتا ہے اور پیتا ہے۔ یہاں تک کہ اس کا ہے اور اسے بدہضمی نہیں ہوتی۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ چو عمر بسر کرنا، اس طرح معلوم ہوتا ہے، گویا ہ غلمان کی محبت اس کے دل میں سمائی ہوئی ہ چھوٹے گناہ کو چھوڑتا ہے نہ وہ کسی بڑے گن تعریف نہیں ہوتی۔ باوجود اس کے وہ خاص کو اپنا دوست بناتے ہیں۔ یہاں تک کہ اہ ہے اور اس کے معتقدین کی جماعتیں جمع ہ

صفحہ ٤٦١

کے مشابہ ہوتا ہے اور اپنی عمر کے ایام اس آدمی کی طرح گزارتا ہے جس کی شہوات کی رسی ڈھیلی چھوڑی گئی ہو اور جس کی غفلت کا زمانہ لمبا ہو گیا ہو اور وہ اہل اصلاح لوگوں کے گھروں سے اپنے گھروں کو دور رکھتا ہے اور اہل فسق اور بدکار لوگوں کا رفیق بنا رہتا ہے۔ وہ مسجد میں نہیں آتا۔ بلکہ سونے یعنی دنیا کے مال و متاع کا طالب رہتا ہے اور سرخ شراب سے بھرے ہوئے پیالوں کی طرف اس کا دل مائل رہتا ہے اور دوستوں کے حلقہ میں اور ساتھیوں کے مجمع میں بیٹھ کر شراب پیتا ہے۔ دنیا کو اس نے اپنا بت بنایا ہوا ہے۔ جس کی طرف وہ ہر وقت راغب رہتا ہے اور اس سے محبت کرتا ہے اور اس کا ہر وقت دیوانہ بنا رہتا ہے اور عقبیٰ اور دین کے لئے وہ کوئی زاد راہ نہیں لیتا۔ اس کی عمر مال ومتاع کے جمع کرنے میں خرچ ہوتی ہے اور بھڑکتی ہوئی آگ کی مانند دنیا کی آرزوئیں اس کے دل پر بھڑک رہی ہوتی ہے۔ ہر طرف لوگوں کے دل اس کی طرف جھک رہے ہوتے ہیں اور اس کا مطلوب اس کے لئے آسان رکھا جاتا ہے۔ اس کی دیگیں کبھی بیکار نہیں رہتی ہیں اور اس کے دن اس سے پھرتے نہیں ہیں۔ نہ اس کے اقبال میں کمی آتی ہے۔ تکلیف دہ چیزیں اس سے دور کر دی جاتی ہیں اور اس کے آب شیریں میں برکت ڈال دی جاتی ہے اور دنیاوی نعمتوں میں محرومی کا دن اسے نہیں دکھایا جاتا ہے اور اس کے بخت کا ستارہ کبھی غروب نہیں ہوتا۔ باوجود اس کے کہ وہ اپنی عمر بدکاریوں میں صرف کرتا ہے۔ اس پر کوئی بجلی نہیں گرتی۔ اس کو کوئی سانپ نہیں ڈستا ہے۔ اس کا نام روئے زمین سے مٹایا نہیں جاتا ہے۔ بلکہ اس کی اولاد دن بدن زیادہ ہوتی جاتی ہے۔ یہاں تک کہ اولاد کی اولاد بھی اس کے گرد جمع ہو جاتی ہے۔ وہ ہر بھری مجلس اور پر رونق محفل کا صدر ہوتا ہے۔ وہ محفلوں کے نئے ماہ کامل اور لوگوں کا سردار قرار دیا جاتا ہے۔ اس کے خادم اس کے سر پر کھڑے رہتے ہیں۔ یہاں تک کہ وہ اپنی نیند سے بیدار ہوتا ہے۔ وہ کھاتا ہے اور پیتا ہے۔ یہاں تک کہ اس کا پیٹ قبہ کی مانند ہو جاتا ہے بندہ دودھ پیالے بھر کر پیتا ہے اور اسے بدہضمی نہیں ہوتی ............ وہ ہر آرام دہ سواری پر سوار ہوتا ہے اور اس کا ناز ونعمت میں عمر بسر کرنا ، اس طرح معلوم ہوتا ہے، گویا وہ چیز اسے بطور عطیہ کے ملی ہوئی ہے۔ جائیدادوں اور غلمان کی محبت اس کے دل میں سمائی ہوئی ہوتی ہے۔ وہ نہیں جانتا کہ ایمان کیا چیز ہے۔ نہ وہ کسی چھوٹے گناہ کو چھوڑتا ہے نہ وہ کسی بڑے گناہ سے مجتنب رہتا ہے۔ اس کا کوئی خلق اور سیرت قابل تعریف نہیں ہوتی۔ باوجود اس کے وہ خاص و عام لوگوں کا مرجع عام ہے اور وہ کامل محبت کے ساتھ اس کو اپنا دوست بناتے ہیں۔ یہاں تک کہ اس کی موت کے بعد اس کی قبر بھی زیارت گاہ بن جاتی ہے اور اس کے معتقدین کی جماعتیں صبح وشام اس کے مزار پر باقاعدگی کے ساتھ آتی جاتی ہیں۔

٣

صفحہ ٤٦٢

اس بات کی کوئی دلیل نہیں ہو سکتی کہ ایسے شخص کو یہ اقبال کیوں نصیب ہوا ہے اور ایسی بڑی نعمت اسے کیوں ملی ہے۔ یہ راز کی باتیں ہیں جن کی انتہاء تک نظیریں نہیں پہنچ سکتی اور جن کی تہ تک افکار کی رسائی نہیں۔“

(انجام آتھم ص ١٠٣، ١٠٩ خزائن ج ١١ ص ایضاً)

”حضرت یوسف کی وجہ سے بنی اسرائیل کو مصر میں بہت عزت حاصل ہوگئی تھی۔ مگر کوئی قوم جب آسودہ حال ہو جاتی ہے اور ان میں کوئی ”بڑا ولی“ پیدا ہو جاتا ہے تو پھر آہستہ آہستہ کچھ مدت بعد اس نسل کے لوگوں میں کاہلی اور سستی آجاتی ہے۔ اس ولی کے جو صاحبزادے ہوتے ہیں وہ بھی چونکہ مریدوں سے حضور، حضور سننے کے عادی ہو جاتے ہیں۔ اس واسطے ان کو بہت سی بیماریاں لاحق ہو جاتی ہیں۔ پھر ان کا اثر قوم پر پڑتا ہے اور آخر وہ قوم پانچوں عیب شرعی ہو جاتی ہے۔ چنانچہ اسی قانون کے موافق بنی اسرائیل میں یہ عیوب آگئے اور پھر ان پر خدا کی طرف سے ذلت و مسکنت لگا دی گئی۔ بیگاروں میں پکڑے جاتے تو وہی اینٹیں پکوانے کے کام لئے جاتے تو اب پھر ایک اور قانون الہی ہے کہ جب اصل گناہوں والے لوگ ہلاک ہو جاتے ہیں تو پھر اس نکبت زدہ قوم میں ہی سے خدا کا کوئی پاک بندہ پیدا ہوتا ہے اور پھر اس کے ذریعہ وہ قوم سنبھلتی ہے۔“

(درس القرآن نور الدین بحوالہ بدر قادیان مورخہ ١٨ اپریل ١٩٠٩ء)

اے مسیح محمدی کے ماننے والو! انصاف پسند احمدی بھائیو! مذکورہ بالا عبارتوں کو ذہن میں رکھ کر مندرجہ ذیل تین شہادتوں پر غور کر کے فیصلہ کرو اور راہ حق پاؤ۔

مولانا عبدالرحمن مصری کا عدالت میں بیان

”موجودہ خلیفہ سخت بدچلن ہے۔ یہ تقدس کے پردہ میں عورتوں کا شکار کھیلتا ہے۔ اس کام کے لئے اس نے بعض مردوں اور بعض عورتوں کو بطور ایجنٹ رکھا ہوا ہے۔ ان کے ذریعہ یہ معصوم لڑکوں اور لڑکیوں کو قابو کرتا ہے۔ اس نے ایک سوسائٹی بنائی ہوئی ہے جس میں مرد اور عورتیں شامل ہیں اور اس سوسائٹی میں زنا ہوتا ہے۔“ (ماخوذ از ٹریکٹ بعنوان ”میاں محمود احمد صاحب پر ان کے مریدین کے الزامات اور بریت کا نرالا طریق“ تحریر کردہ مولانا محمد علی امیر جماعت احمدیہ لاہور مورخہ ٩ دسمبر ١٩٣٨ء)

محمد یوسف ناز کا حلفیہ بیان

”بسم الله الرحمن الرحيم . نحمده ونصلي على رسوله الكريم . اشهد ان لا اله الا الله وحده لا شريك له واشهد ان محمدا عبده ورسوله“

میں اقرار کرتا ہوں کہ حضرت محمد ﷺ سچا مذہب ہے۔ میں احمدیت کو بھی برحق سمجھ ایمان رکھتا ہوں اور مسیح موعود مانتا ہوں اور اس میں اپنے علم مشاہدہ اور رویت جان کر اس پاک ذات کی قسم کھا کر کہتا ہوں سامنے اپنی بیوی کے ساتھ غیر مرد سے زنا کر اور عذاب مجھ پر نازل ہو۔ اس بات پر مرزا تیار ہوں۔“ (دستخط محمد یوسف ناز معرفت

ایک احمدی خاتون کا بیان

”میں میاں صاحب کے متعلق چاہتی ہوں کہ وہ کیسی روحانیت رکھتے ہیں۔ زانی شخص ہیں۔ مگر اعتبار نہیں آتا تھا۔ کیونکہ اجازت نہ دیتی تھیں کہ ان پر ایسا بڑا الزام لگ نے جو ہر کام کے لئے حضور سے اجازت حا حضرت صاحب کو پہنچانے کے لئے دیا۔ ج میں رقعہ لے گئی۔ اس وقت میاں صاحب اپنے ہمراہ ایک لڑکی لی جو وہاں تک میرے ایک رقعہ لے کر جانا پڑا۔ اس وقت بھی دفت کی نشست گاہ میں پہنچیں تو اس لڑکی کو کسی پیش کیا اور جواب کے لئے عرض کیا۔ مگر مت۔ باہر ایک دو آدمی میرا انتظار کر رہے باہر کی طرف چلے گئے اور چند منٹ بعد بھی باہر والا دروازہ بند کر دیا اور چٹھیاں میں یہ حالت دیکھ کر سخت گھبرائی اور طرح نے مجھ سے چھیڑ چھاڑ شروع کی اور مجھ

صفحہ ٤٦٣

میں اقرار کرتا ہوں کہ حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ خدا کے نبی اور خاتم النبیین ہیں اور اسلام سچا مذہب ہے۔ میں احمدیت کو بھی برحق سمجھتا ہوں اور حضرت مرزا غلام احمد قادیانی کے دعویٰ پر ایمان رکھتا ہوں اور مسیح موعود مانتا ہوں اور اس کے بعد میں مؤکد عذاب حلف اٹھاتا ہوں۔

میں اپنے علم مشاہدہ اور رویت عینی اور آنکھوں دیکھی بات کی بناء پر خدا کو حاضر ناظر جان کر اس پاک ذات کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ مرزا بشیر الدین محمود احمد خلیفہ ربوہ نے خود اپنے سامنے اپنی بیوی کے ساتھ غیر مرد سے زنا کروایا۔ اگر میں اس حلف میں جھوٹا ہوں تو خدا کی لعنت اور عذاب مجھ پر نازل ہو۔ اس بات پر مرزا بشیر الدین محمود احمد کے ساتھ بالمقابل حلف اٹھانے کو تیار ہوں۔"

(دستخط محمد یوسف ناز معرفت عبد القادر تیرتھ سنگھ جے ملانی روڈ عقب شالیمار ہوٹل کراچی)

ایک احمدی خاتون کا بیان

"میں میاں صاحب کے متعلق کچھ عرض کرنا چاہتی ہوں اور لوگوں میں ظاہر کر دینا چاہتی ہوں کہ وہ کیسی روحانیت رکھتے ہیں۔ میں اکثر اپنی سہیلیوں سے سنا کرتی تھی کہ وہ بڑے زانی شخص ہیں۔ مگر اعتبار نہیں آتا تھا۔ کیونکہ ان کی مومنانہ صورت اور نیچی شرمیلی آنکھیں ہرگز یہ اجازت نہ دیتی تھیں کہ ان پر ایسا برا الزام لگایا جا سکے۔ ایک دن کا ذکر ہے کہ میرے والد صاحب نے جو ہر کام کے لئے حضور سے اجازت حاصل کیا کرتے ہیں اور بڑے مخلص احمدی ہیں ایک رقعہ حضرت صاحب کو پہنچانے کے لئے دیا۔ جس میں اپنے ایک کام کے لئے اجازت مانگی تھی۔ خیر میں رقعہ لے کر گئی۔ اس وقت میاں صاحب نئے مکان (قصر خلافت) میں مقیم تھے۔ میں نے اپنے ہمراہ ایک لڑکی لی جو وہاں تک میرے ساتھ گئی اور ساتھ ہی واپس آ گئی۔ چند دن بعد مجھے پھر ایک رقعہ لے کر جانا پڑا۔ اس وقت بھی وہی لڑکی میرے ہمراہ تھی، جونہی ہم دونوں میاں صاحب کی نشست گاہ میں پہنچیں تو اس لڑکی کو کسی نے پیچھے سے آواز دی۔ میں اکیلی رہ گئی۔ میں نے رقعہ پیش کیا اور جواب کے لئے عرض کیا۔ مگر انہوں نے فرمایا کہ میں تم کو جواب دے دوں گا۔ گھبراؤ مت۔ باہر ایک دو آدمی میرا انتظار کر رہے ہیں۔ ان سے مل آؤں۔ مجھے یہ کہہ کر اس کمرے کے باہر کی طرف چلے گئے اور چند منٹ بعد پیچھے کے تمام کمروں کو قفل لگا کر اندر داخل ہوئے اور اس کا بھی باہر والا دروازہ بند کر دیا اور چٹخنیاں لگا دیں۔ جس کمرے میں میں تھی وہ اندر کا چوتھا کمرہ تھا۔ میں یہ حالت دیکھ کر سخت گھبرائی اور طرح طرح کے خیال دل میں آنے لگے۔ آخر میاں صاحب نے مجھ سے چھیڑ چھاڑ شروع کی اور مجھ سے برا فعل کروانے کو کہا۔ میں نے انکار کیا۔ آخر زبردستی

صفحہ ٤٦٤

انہوں نے مجھے پلنگ پر گرا کر میری عزت برباد کر دی اور ان کے منہ سے اس قدر بو آ رہی تھی کہ مجھ کو چکر آ گیا اور وہ گفتگو بھی ایسی کرتے تھے کہ بازاری آدمی بھی ایسی نہیں کرتے۔ ممکن ہے جسے لوگ شراب (میاں صاحب کے شراب پینے کے متعلق حکومت پاکستان کے کیمیکلز ایگزامینر مقیم کراچی کی شہادت بھی ہے جو بوقت ضرورت پیش کی جاسکتی ہے) کہتے ہیں۔ انہوں نے پی ہو۔ کیونکہ ان کے ہوش و حواس بھی درست نہیں تھے۔ مجھ کو دھمکایا کہ اگر کسی سے ذکر کیا تو تمہاری بدنامی ہوگی۔ مجھ پر کوئی شک بھی نہ کرے گا۔

(مباہلہ اخبار جون ١٩٢٩ء دور حاضر کا مذہبی آمر ص ٧٧، ٧٨)

مرزا محمود احمد جوا بھی کھیلتے ہیں

میاں صاحب کے زنا اور شراب کی شہادتیں تو آپ اوپر ملاحظہ فرما چکے ہیں۔ اب سٹہ جو خالصتاً جوا ہے کے کاروبار کا تحریری ثبوت پیش کیا جاتا ہے۔ یہ شیخ احسان الٰہی صاحب ہائیڈ مارکیٹ امرتسر کے رجسٹرڈ خط کا جواب ہے جو انہوں نے خلیفہ کو قادیان میں لکھا تھا کہ لوگ آپ کے سٹہ کا کاروبار کرنے پر بڑے اعتراض کر رہے ہیں۔ آپ ایسا کیوں کرتے ہیں۔ جواب ملاحظہ ہو۔

مکرمی السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ! آپ کا خط ملا بابت ”تجارت سٹہ“ مورخہ ٩؍ستمبر ١٩٤٠ء آیا ہوا ہے۔ حضرت امیرالمؤمنین ایدہ اللہ بنصرہ العزیز نے فرمایا ہے کہ میں اس کے متعلق جواب لکھاؤں گا۔ اب قرآن مجید کے کام کی وجہ سے حضور بہت مصروف ہیں۔ امید ہے کہ جلسہ سالانہ کے بعد جواب دیا جاسکے۔ انشاء اللہ!

خاکسار! دستخط: ملک صلاح الدین پرائیویٹ سیکرٹری خلیفۃ المسیح قادیان پنجاب

اس کے بعد شیخ احسان الٰہی صاحب نے پھر یاددہانی کرائی اور دوحرفی جواب مانگا۔ چنانچہ جب دیکھا کہ خاموشی سے کام نہیں بنتا تو حسب ذیل جواب لکھوایا۔

مکرمی احسان الٰہی صاحب، السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ! آپ کا خط مورخہ ٩؍نومبر ١٩٤٠ء حضرت خلیفۃ المسیح الثانی ایدہ اللہ بنصرہ العزیز نے ملاحظہ فرما کر جواباً فرمایا ہے کہ آئندہ کپاس یا گندم فروخت کرنے کا کام (یعنی فارورڈ سودے) ضرور ہوا ہے۔ جب ہم نے سندھ میں زمین لی تو وہاں کے واقف کاروں نے بتایا کہ یہاں

٦

صفحہ ٤٦٥

زمیندار سب اس طرح کرتے ہیں۔ اس کے بغیر قیمت پوری نہیں مل سکتی۔ کیونکہ روپیہ کی فصل نکلتے وقت اشد ضرورت ہوتی ہے اور فوراً گاہک سے فیصلہ کرنا نقصان دہ ہوتا ہے۔ مجھے یہ صورت بیع سلم کی نظر آئی اور میں نے اس کی اجازت دے دی۔ اب تک بھی میں اسے بیع سلم سمجھتا ہوں جو جائز ہے۔ مگر چونکہ آپ لوگوں کو اس کی زیادہ واقفیت ہے اس لئے اگر آپ اس کا وہ نقص بتا سکیں جس کی وجہ سے آپ کو یا آپ کے دوستوں کو شبہ ہوا ہے تو ممنون ہوں گا۔ اگر کوئی خلاف شریعت معلوم ہوا تو آئندہ اس سے روک دیا جائے گا۔ والسلام! خاکسار: ملک صلاح الدین!

نوٹ: بوقت ضرورت اصل خطوط یا عکس پیش کئے جاسکتے ہیں۔

سٹہ کا کاروبار خلاف شریعت ہے یا نہیں۔ اس کے متعلق تو مولانا ابوالاعلیٰ مودودیؒ، مولانا محمد شفیعؒ دیوبندی، مولانا احتشام الحق تھانویؒ، مولانا عبدالحامدؒ بدایونی اور مولانا ابوالحسنات احمدؒ ہی مرزا محمود احمد کی تسلی کر سکتے ہیں۔ ہمیں یہاں ان علماء حضرات اور جماعت کے فہمیدہ طبقہ کی اطلاع کے لئے صرف اتنا عرض کرنا ہے کہ میاں صاحب اور ان کا شعبہ تجارت جوا کا یہ کاروبار اب تک جاری رکھے ہوئے ہیں اور اس پر لائل پور کے چیمبر اور کراچی کاٹن مارکیٹ کا ریکارڈ شاہد ہے۔ پھر ہمیں یہ تحریر پڑھ کر حیرانی اس لئے بھی ہوئی ہے کہ جب میاں صاحب سٹہ کے کاروبار کو جائز سمجھتے ہیں تو پھر اپنے ادنیٰ مرید سے جواز یا عدم جواز کا فتویٰ کیسے پوچھ رہے ہیں۔ اگر فتویٰ کی ضرورت تھی تو کاروبار کرنے سے پہلے ہی پوچھ لیا ہوتا اور پھر اس پر طرہ یہ کہ مرزا محمود احمد نے آج تک مانی کب ہے جو وہ ١٩٤٠ء میں اپنے مرید سے طنزاً مشورہ طلب کر کے اس کی اور جماعت کی آنکھوں میں دھول جھونکنے بیٹھ گئے۔ کیا انہی ہیرا پھیریوں اور دھوکہ بازیوں کا ربوی اصطلاح میں روحانیت نام ہے۔

مرزا محمود احمد ظرافت طبع کے لئے جھوٹ بھی بول لیتے ہیں

خدا کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ حضرت خلیفۃ المسیح کی زندگی میں اس پیش گوئی (مصلح موعود، ناقل!) کا مجھے کچھ علم نہ تھا۔ بلکہ بعد میں ہوا۔“

”اس الہام میں دوسرے فرزند کا نام بھی بشیر رکھا ہے۔ چنانچہ فرمایا کہ ایک دوسرا بشیر بھی تمہیں

٧

صفحہ ٤٦٦

دیا جائے گا۔ یہ وہی بشیر ہے جس کا دوسرا نام محمود ہے۔ جس کی نسبت فرمایا وہ اولوالعزم ہوگا اور حسن و جمال میں تیرا نظیر ہوگا۔“

کیا حوالہ نمبر ١ سے ٦ سال قبل پیش گوئی کے علم اور پڑھنے کے بغیر ہی سب کچھ لکھا اور تبصرہ کیا جا رہا ہے؟

پھر اس پر ہی بس نہیں۔ آگے چلئے حضور فرماتے ہیں:

میں لکھا ہے: ”حضور سے دریافت کیا کہ کیا حضور اپنے آپ کو مصلح موعود والی پیش گوئی کا مصداق خیال فرماتے ہیں۔ حضور نے فرمایا ہاں! پھر میں نے عرض کیا کہ حضور کو اس بارہ میں کوئی شبہ تو نہیں۔ حضور نے فرمایا نہیں ۔“

”مصری صاحب نے مصلح موعود کی پیش گوئی کے متعلق ایک کتاب لکھی ہے۔.... میرے نزدیک تو ان کے دلائل اپنے اندر کوئی حقیقت نہیں رکھتے۔ محض ان کی بناوٹ اور لسانی ہے۔..... اس پیش گوئی کے متعلق میرا نظریہ (بغیر پڑھے؟ ناقل!) یہ ہے کہ پیش گوئی کسی مامور کے متعلق نہیں۔ بلکہ غیر مامور کے متعلق ہے (حالانکہ یہ پیش گوئی کسی غیر مامور کے لئے ہو ہی نہیں سکتی۔ ناقل!) اور جب یہ پیش گوئی مامور کے متعلق نہیں تو ایک غیر مامور کو بولنے اور دعویٰ کرنے کی کیا ضرورت ہے۔ (پھر نہ جانے ١٩٤٤ء میں غیر مامور ہوتے ہوئے مرزا محمود احمد صاحب مصلح موعود کا دعویٰ کرنے پر کیوں مجبور ہوئے) مثلاً مصلح موعود کے متعلق اللہ تعالیٰ نے جو علامات بتائی ہیں ان میں سے بعض یہ ہیں کہ وہ اسیروں کی رستگاری کا موجب ہوگا۔ (لیکن مرزا محمود نے تو پیر پرستی کی زنجیروں میں مریدوں کو بہت بری طرح جکڑ رکھا ہے) زمین کے کناروں تک شہرت پائے گا اور قومیں اس سے برکت پائیں گی۔ (میاں صاحب نے نیکی اور تقویٰ میں تو کیا شہرت پائی ہے۔ بدی کی وجہ سے خوب مشہور ہورہے ہیں) اب اگر یہ علامات میرے متعلق نہیں تو کسی کو کچھ لکھنے کی کیا ضرورت ہے۔“ کسی نے ٹھیک کہا ہے کہ دروغگو را حافظہ نباشد!

یکم فروری ١٩٤٤ء کے الفضل میں مذکورہ بالا حوالہ جات کے پانچ سال بعد مرزا محمود

٨

صفحہ ٤٦٧

صاحب کا سفید جھوٹ ملاحظہ ہو: ”لوگوں نے کہا اور بار بار کہا کہ آپ کی ان پیش گوئیوں کے بارے میں کیا رائے ہے۔ مگر میری یہ حالت تھی کہ میں نے سنجیدگی سے ان پیش گوئیوں کو پڑھنے کی کبھی کوشش نہیں کی۔ آج میں نے پہلی دفعہ وہ تمام پیش گوئیاں منگوا کر اس نیت سے دیکھیں کہ میں ان پیش گوئیوں کی حقیقت کو سمجھوں۔“ (یہ پہلی دفعہ کی بھی ایک ہی کہی)

اے کج فہمی کے پکے عاشقو اور میرے مخلص احمدی بھائیو! کیا میاں محمود احمد صاحب کے جھوٹا ہونے میں اب بھی کوئی شبہ ہے؟ آپ مذکورہ بالا حوالوں کو ایک بار پھر غور سے پڑھ لیں اور خود ہی فیصلہ کریں کہ کیا ایسا ملمع ساز شخص مصلح موعود تو کیا کوئی معمولی قسم کا شریف انسان کہلانے کا بھی مستحق ہو سکتا ہے؟

قول وفعل میں تضاد

”قرآن پاک کی تعلیم ہے کہ جو تم خود نہیں کرتے وہ کہتے کیوں ہو۔“ اس کے برخلاف مرزا محمود احمد اور اس کے حاشیہ برداروں نے یہ اصول بنا رکھا ہے کہ جو کہو خود نہ کرو۔ اس کی ایک مثال ملاحظہ ہو۔ الفضل ٢؍اگست ١٩٣٩ء میں مرزا محمود احمد نے فرمایا: ”بہر حال کسی کتاب کے پڑھنے سے دوسرے کو روکنا اتنی بڑی نادانی ہے کہ اس سے بڑی نادانی اور کوئی نہیں ہو سکتی۔ پس اگر مصری صاحب نے جو باتیں پیش کی ہیں وہ سچی ہیں تو ان کے پڑھنے سے لوگوں کو روکنا بہت بڑا گناہ ہے اور اگر ہم روکیں تو قیامت کے دن یقیناً ہم ایسی حالت میں اٹھائے جائیں گے کہ ہمارا منہ کالا ہوگا۔ ہم خدا کے حضور لعنتی قرار پائیں گے...... غیروں کا لٹریچر پڑھنا عیب کی بات نہیں۔ بلکہ میں ان لوگوں کو بہت بیوقوف سمجھتا ہوں جو ایسی کتابیں چھپ چھپ کر پڑھتے ہیں کیونکہ جو کسی دوسرے کو تحقیق سے روکتا ہے وہ اپنے جھوٹا ہونے کا آپ اقرار کرتا ہے۔“

میاں صاحب کے ان زریں ارشادات کے بعد الفضل مورخہ ٢٥؍اپریل کا ایک ضروری اعلان ملاحظہ ہو: ”احباب کی آگاہی کے لئے اعلان کیا جاتا ہے کہ کچھ عرصہ سے نام نہاد حقیقت پسند پارٹی لاہور کی طرف سے دل آزار لٹریچر احباب جماعت کو بذریعہ ڈاک V.P.P بھیجا جا رہا ہے۔ اس قسم کا لٹریچر کبھی مکتبہ احمدیہ ٢٣ مال روڈ لاہور کے نام سے اور کبھی مکتبہ انصار احمدیہ کے نام سے بھیجا جاتا ہے۔ احباب محتاط رہیں۔“ (یعنی یہ لٹریچر ہرگز نہ لیں اور نہ پڑھیں۔ ناقل!)

احباب کرام مذکورہ بالا حوالوں کو پڑھ کر خلیفہ صاحب اور ان کے حواریوں کے قول

٩

صفحہ ٤٦٨

فعل کے تضاد کا خود اندازہ فرمالیں۔ حالانکہ خلیفہ صاحب تو بڑی فراخدلی سے یہاں تک فرما چکے ہیں کہ میں اپنے لڑکوں کو حکم دیتا ہوں کہ وہ ستیارتھ پرکاش کا چودھواں باب ضرور پڑھیں۔ قارئین کو یاد رہے کہ ستیارتھ پرکاش میں حضرت ختمی مآب حضور، سرور کائنات، فخر موجودات، محمد مصطفیٰ، احمد مجتبیٰ ﷺ کو پنڈت دیانند سوامی آریہ سماجی نے طرح طرح کے غلیظ الزامات اور اعتراضات کا نشانہ بنایا ہے۔ اس لئے مرزا محمود کے نزدیک اسے پڑھ لینا ناپسندیدہ نہیں بلکہ ضروری ہے۔ کیونکہ نعوذ باللہ! شاید وہ میاں صاحب کے نزدیک دل آزار نہیں۔ لیکن مرزا محمود کے خلاف سچی باتوں کا پڑھنا بھی جماعت کے لئے روا نہیں۔ اسے کہتے ہیں دینداری اور عشق رسول ﷺ ۔

اب انصاف پسند طبیعتیں خود ہی فیصلہ فرمالیں کہ وہ کون سا شرعی عیب ہے۔ جس میں مرزا محمود احمد صاحب ملوث نہیں ہیں۔ اب تم ہی بتاؤ کہ کس بوتے پر میاں صاحب کو ”خلیفۃ اللہ“، ”مصلح موعود“ اور ”فضل عمر“ مان لیں۔

جب کھل گئی صداقت پھر اس کو مان لینا
نیکوں کی ہے یہ خصلت راہ ہدیٰ یہی ہے

خلافت ربوہ کے تفصیلی خدوخال اور حقیقت درونِ خانہ سے آگاہ ہونے کے لئے احمدیہ حقیقت پسند پارٹی کا شائع کردہ لٹریچر مثلاً بلائے دمشق اور خلافت اسلامیہ۔ ”ربوی راج کے محمودی منصوبے“، ”احمدیت سے محمودیت تک“ حضرت علامہ نورالدین، محمد یوسف ناز کا حلفیہ بیان۔ جماعت ربوہ کے فہمیدہ اصحاب سے۔ وغیرہ منگوا کر ضرور پڑھیں۔

حضرات ٹریکٹ ہٰذا کو پڑھ کر احمدیت کے متعلق وساوس میں گرفتار نہ ہوں۔ یہ خدا تعالیٰ کے ہاتھ کا لگایا ہوا پودا ہے۔ اس کو مرزا محمود احمد کا خود ساختہ طاغوتی اور جالوتی نظام اور اس کا کردار ہرگز نہیں ہلا سکتا۔ آنے والا اپنے وقت پر آئے گا اور ان سب تاریکیوں کو پھوڑ دے گا۔ سیدنا حضرت مسیح موعود کے مندرجہ ذیل حوالہ کو بار بار پڑھیں اور پر امید رہیں کہ صدی کا آخر سر پر آن پہنچا ہے اور کسی دل پر الہامی بارش ہونے والی ہے۔ انشاء اللہ!

”جب تم دیکھو کہ مذاہب کی جستجو میں ہر ایک شخص کھڑا ہو گیا ہے اور زمینی پانی کو کچھ ابال آیا ہے تو اٹھو اور خبردار ہو جاؤ اور یقیناً سمجھو کہ آسمان سے زور کا مینہ برسا ہے اور کسی دل پر الہامی بارش ہو گئی ہے۔“

(اسلامی اصول کی فلاسفی ص ٧٧، خزائن ج ١٠ ص ٤٣٠)

وآخر دعوانا ان الحمد للہ رب العالمین!

خاکسار: سیکرٹری نشر و اشاعت مرکزی احمدیہ حقیقت پسند پارٹی!

١٠

PDF 470

خاتم النبیین لا نبی بعدی

میں آخری نبی ہوں میرے بعد کوئی نبی نہیں

ربوی راج

کے

محمودی منصوبے

مرکزی حقیقت پسند پارٹی

صفحہ ٤٧٠

فہرست

نمبر شمار نام مضمون صفحہ ١ احمدیت سے محمودیت تک ٤٧١ ٢ دین کے پردے میں سیاست کاری ٤٧٣ ٣ خلافتی حکومت کا تفصیلی خاکہ ٤٨٣ ٤ خلیفہ کا عسکری نظام ٤٩٠ ٥ نظام بیکاری ٤٩٥ ٦ آزادی رائے پر پہرے ٤٩٧ ٧ خلیفہ کی خروجی تدابیر ٤٩٩

احمدیت سے محمودیت تک

پھر پیش جماعت دل کو چلا ہے عشق

تحریک احمدیت انیسویں صدی اب انتہائے ملت پر ختم ہو کر دم واپسیں کے تھا۔ اس وقت جماعت کے عوام کا اندھا پن جلیل القدر عالم اور بزرگ شخصیت کی ذ آلائشوں سے ملوث پچیس سالہ جوان کو اپنا کے دفتر بے معنی کو غرق مے ناب کرنے کے کے مشرکانہ جذبے سے مغلوب ہو کر ایک ن چن کر اپنے دین کو بے نور اور ..... اپنی تحری ثابت کر دیا کہ ان کے دلوں میں دین ۔ جذبہ موجزن ہے۔ ارباب بصیرت اسی مہلک ثابت ہوگی۔ اس انتخاب کے نی سعی مشکور سے مخمور ہو کر ایسے دعاوی کا ا اس نے اجتماعی شکست خوردگی سے فائ کر دیئے۔ ایک سانس میں حضرت فا پکارا تھا، اپنا درجہ بلند قرار دیا اور اپنے انتخاب سے روحانی خودکشی کر چکی تھی راشدین سے افضل تسلیم کر لیا۔ اس ۔ کیسے افضل ہو سکتا ہے؟ چونکہ دینی شعو کیسے پیدا ہو سکتا تھا۔ چنانچہ اس جماع تسلیم کیا۔ گویا اپنی مزعومہ اسلام دوستی کی ذات تھی۔

صفحہ ٤٧١

پیش لفظ

احمدیت سے محمودیت تک

گلہ پرسش جراحت دل کو جلا ہے عشق
سامان صد ہزار نمک دان کئے ہوئے

تحریک احمدیت انیسویں صدی کے آخر میں احیائے ملت کے ادعا سے شروع ہوئی۔ اب استحالہ ملت پر ختم ہو کر دم واپسیں کے سہارے زندہ ہے۔ عمل استحالہ ١٩١٤ء میں شروع ہو چکا تھا۔ اس وقت جماعت کے عوام کالانعام ”گلہ بان مصلحت بین“ اور ابن الوقت اخلاف نے ایک جلیل القدر عالم اور بزرگ شخصیت کی جانشینی کے لئے ایک الہڑ، کندہ ناتراش اور گوناگوں آلائشوں سے ملوث پچیس سالہ جوان کو اپنا مذہبی امام اور مقتداء تسلیم کر لیا۔ اس کے پادرہوا دعاوی کے دفتر بے معنی کو غرق مے ناب کرنے کے بجائے اپنی دانش و بینش کو ان میں غرق کر دیا۔ پیر پرستی کے مشرکانہ جذبے سے مغلوب ہو کر ایک تازہ وارد بساط ہوائے دل کو اکاسی سالہ نورالدین کا خلیفہ چن کر اپنے دین کو بے نور اور ...... اپنی تحریک کو تاریک کر دیا۔ ان لوگوں نے اپنے اس انتخاب سے ثابت کر دیا کہ ان کے دلوں میں دین کے لئے تپش سے کہیں زیادہ پیرزادے کے لئے تپاک کا جذبہ موجزن ہے۔ ارباب بصیرت اسی وقت سمجھ گئے ۔ کہ جماعت کی یہ نامحمود حرکت اس کے لئے مہلک ثابت ہو گی۔ اس انتخاب کے پیچھے مرزا محمود احمد کی اپنی زیر زمین مساعی بھی تھیں۔ وہ اپنی سعی مشکور سے مخمور ہو کر ایسے دعاوی کا اعلان کرنے لگ گیا تھا جو تمام تحریک پر طنز بن کر رہ گئے۔ اس نے اجتماعی شکست خوردگی سے فائدہ اٹھایا اور فضیلت اور افضلیت کے دعوے تراشنے شروع کر دیئے۔ ایک سانس میں حضرت فاروق اعظمؓ سے جن کو مولانا شبلیؒ نے نقیب چشم رسول کہہ کر پکارا تھا، اپنا درجہ بلند قرار دیا اور اپنے آپ کو ”فضل عمر“ منوانا شروع کر دیا۔ چونکہ جماعت اپنے انتخاب سے روحانی خودکشی کر چکی تھی۔ اس نے بلا حیل و حجت اپنے ساختہ پرداختہ خلیفے کو خلفاء راشدین سے افضل تسلیم کر لیا۔ اس نے یہ سوچنا بھی گوارا نہ کیا کہ خادم کا خلیفہ آقا کے خلیفہ سے کیسے افضل ہو سکتا ہے؟ چونکہ دینی شعور کی جگہ تعصب نے لے لی تھی۔ اس واسطے سوچ بچار کا سوال کیسے پیدا ہو سکتا تھا۔ چنانچہ اس جماعت نے اس خلیفہ کو ہز ہولی نس His Holiness بھی تسلیم کیا۔ گویا اپنی مزعومہ اسلام دوستی کو عیسائی شرک کے نذر کر دیا۔ کیونکہ اس کا کعبہ مقصود ”خلیفہ“ کی ذات تھی۔

صفحہ ٤٧٣

چونکہ مرزا محمود احمد طبعاً اور مزاجاً سیاسی تھے۔ اپنی کبریائی کا سکہ جما کر خواب اور رؤیا کے ذریعے جماعت کو سیاست کے میدان میں لے آئے۔ اس اعتزال کے جواز میں انہوں نے کہنا شروع کر دیا کہ ان کے دور خلافت میں احمدیوں کو حکومت مل جائے گی۔ یہ تدبیر جس کا خمیر تزویر سے اٹھایا گیا تھا بڑی سریع الاثر ثابت ہوئی۔ جماعت کا کثیر حصہ بیک بینی و دو گوش ان کی شطحیات پر بھی رقص کرنے لگ گیا۔ مبادا ماضی کی یاد دلوں میں تازہ ہو کر جماعت کو پھر دین سے وابستہ کردے۔ اس کے تدارک کے لئے مرزا محمود احمد نے بانی سلسلہ کے نورتنوں کو خائن، غدار، نالائق، کذاب اور کمینے کہہ کر ان کے خلاف اور ان کے کارناموں کے خلاف جذبہ نفرت پیدا کر دیا۔ جماعت پہلے پہل غیر شعوری طور پر اور بعد میں شعوری طور پر سمجھنے لگ گئی کہ جو لوگ تحریک کے ١٨٨٩ء سے لے کر ١٩٠٨ء تک پاسبان بنے رہے۔ وہ کمینے اور کذاب تھے۔ لیکن کسی نے اس نفرت کا تجزیہ نہ کیا کہ اس کی لپیٹ میں خود بانی سلسلہ کی ذات بھی آ جاتی ہے۔ کیونکہ جن افراد کے خلاف نفرت اور حقارت کی افزائش کی جارہی تھی وہ تحریک کے ستون تھے۔ اگر وہ لوگ مرزا محمود کے خیال میں واقعی جھوٹے اور غدار تھے اور ان کی جماعت بھی ان کو اسی نگاہ سے دیکھتی ہے تو ان کو اپنی تحریک کے عمائد سمجھنے والا خود مرزا محمود احمد کے الزام دشنام کی زد میں آجاتا ہے۔ گویا وہ خود حسن و قبح میں تمیز نہیں کر سکتا تھا۔ قادیانی جماعت نے جذبے سے مغلوب ہو کر اس پہلو پر کبھی غور ہی نہیں کیا۔ کیونکہ غور کا مادہ ہی سلب ہو چکا تھا۔

مرزا محمود احمد نے بڑی عیاری سے مولوی نورالدین جو ان کے خسر استاد اور مرشد تھے، پر بھی ہاتھ صاف کیا۔ وہ خلافت پر قابض ہو کر رخش عناں تاب بن گئے تھے۔ اگر حضرت فاروق اعظمؓ ان کے دعاوی کی زد سے نہ بچ سکے۔ ان کے پیشرو خلیفہ کیسے بچ سکتے تھے۔ انہوں نے جماعت میں ایک خبر چلا دی کہ جب انہوں نے انجمن کا نظام سنبھالا تو انجمن کے خزانے میں چند آنے تھے۔ اس کا مطلب صاف تھا کہ مولانا نورالدین یا نااہل تھے یا خائن۔ نااہل اور خائن منہ سے نہ کہا مگر بات وہ منوائی جس کا منطقی نتیجہ اس کے سوا کچھ نہ تھا۔

مرزا محمود احمد نے بلطائف الحیل جماعت کے دینی مذاق اور میلان کو مجروح کرنا شروع کر دیا۔ وہ جماعت جو کبھی بانی سلسلہ اور مولوی نور الدین کی تاب کاریوں سے تابناک ہونے کی مدعی تھی۔ وہ اپنے منہ بولے خلیفہ کی خواب کاریوں سے خواب ناک ہو کر رہ گئی۔ خلیفہ کے مقرر کردہ حاطب اللیل راویوں نے ان کے فریب کو خوب فروغ دیا۔ تقویٰ و طہارت کی بجائے سیاسی ترک و احتشام کے نقشے جمنے لگے۔ یہ سب کچھ سوچے سمجھے منصوبے کے ماتحت ہورہا تھا۔ کیونکہ ٤

خلیفہ کی خلوتی زندگی اجالوں سے خائف رہتی تھی م ہے یہ وہ لفظ جو ۔ اگر جماعت کا مزاج بدستور دینی رہتا سکتے جو ان کا شیوہ ہو چکا تھا۔ کیونکہ دینی مزاج ا اور سلیقوں کو کبھی گوارا نہیں کرتا جو بانی سلسلہ کے دور میں نظر آئے۔ اس لئے خلیفہ کی عافیت اسی می سرگشتہ خمار رسوم و قیود کر کے ایک جسد بے جان ب (خصوصاً نماز فجر سے) مسلسل غیر حاضری بار خا کو دو بھر ہو جب منبر و محراب کے سیاق و سباق میں ذکر کر رہے ہوں۔ تو دائیں ہاتھ کی بیخ ران اور اُس جب ان کے مقرب نوجوان دامن دریدہ اور چ رومان سنائیں تو ان پر کوئی کان تک نہ دھرے پردے میں مستور ہو جائیں اور کچھ جماعت کے آنکھوں سے اوجھل ہو جائیں۔ چنانچہ اس کیفی انقلاب برپا کیا جائے۔ خلیفہ صاحب اس طال سے ہجرت کر کے محمودیت کے ویرانہ آباد نما میں گیا۔ اگرچہ دس دس سال کے وقفوں پر خلیفہ س رد عمل نہ ہوا جو اس کی دین داری کی آئینہ دار ہ منظوم آرزوؤں کو پیش کر دیا گیا۔ حالانکہ نیک ب لیکن یہاں تو لوگوں کو فریب میں مبتلا رکھنا مقصود دو بیٹوں کے لئے بھی ہیں۔ لیکن وہ کسی کے ج ترازو میں تلتی رہیں۔ لیکن خلیفہ نے ایسی ہی پی کے ذاتی اعمال کے دفتر میں پاکیزگی عنقا کا حک طرح یہ گروہ سمجھنے لگ گئی۔ کہ خلیفہ صاحب کے ان کی ضو سے شبستان خلافت روشن ہو جاتا ہے

صفحہ ٤٧٣

خلیفہ کی خلوتی زندگی اجالوں سے خائف رہتی تھی۔ عفت ان کے لئے بے معنی لفظ تھا۔

ہے یہ وہ لفظ جو شرمندۂ معنی نہ ہوا

اگر جماعت کا مزاج بدستور دینی رہتا تو خلیفہ صاحب عصمتوں کے ساتھ وہ تلعب نہ کر سکتے جو ان کا شیوہ ہو چکا تھا۔ کیونکہ دینی مزاج خود ایک قسم کا احتساب ہوتا ہے۔ وہ ان طریقوں اور سلیقوں کو کبھی گوارا نہیں کرتا جو بانی سلسلہ کے وقت میں دیکھے گئے اور نہ مولوی نورالدین کے دور میں نظر آئے۔ اس لئے خلیفہ کی عافیت اسی میں تھی کہ دینی مزاج کو کمزور کیا جائے۔ جماعت کو سرگشتہ خمار رسوم و قیود کر کے ایک جسد بے جان بنا کر چھوڑ دیا جائے ۔ تاکہ نہ خلیفہ کی نمازوں سے (خصوصاً نماز فجر سے ) مسلسل غیر حاضری بار خاطر بنے نہ ان کا نماز مغرب کو قضا کر کے پڑھنا کسی کو دوبھر ہو جب منبر و محراب کے سیاق و سباق میں کھڑے ہو کر وہ اپنے روحانی مدارج کی بلندی کا ذکر کر رہے ہوں۔ تو دائیں ہاتھ کی کنج ران اور اس کے قرب وجوار میں یورشیں کسی کو کبیدہ نہ کریں جب ان کے مقرب نوجوان دامن دریدہ اور چاک گریباں ہو کر قصر خلافت کے رنگین اور سنگین رومان سنائیں تو ان پر کوئی کان تک نہ دھرے۔ معصیت کاریاں کچھ تو خوارق عادت سمجھنے کے پردے میں مستور ہو جائیں اور کچھ جماعت کے سیاسی اور دنیاوی مزاج کے دامن میں چھپ کر آنکھوں سے اوجھل ہو جائیں۔ چنانچہ اس کیفیت کے لئے ضروری تھا کہ جماعت کے مزاج میں انقلاب برپا کیا جائے۔ خلیفہ صاحب اس طالع آزمائی میں کامیاب ہو گئے۔ جماعت، احمدیت سے ہجرت کر کے محمودیت کے ویرانہ آباد نما میں بس گئی۔ محمودیت کا پیرہن احمدیت کا کفن بنتا چلا گیا۔ اگرچہ دس دس سال کے وقفوں پر خلیفہ کے عصیان جنسی کو ہوا ملی۔ لیکن جماعت میں کوئی ایسا رد عمل نہ ہوا جو اس کی دین داری کی آئینہ داری کرتا۔ بعض گوشوں میں رد عمل ہوا تو والد مرحوم کی منظوم آرزوؤں کو پیش کر دیا گیا۔ حالانکہ نیک چلنی کا معاملہ آفتاب آمد دلیل آفتاب کا ہوتا ہے۔ لیکن یہاں تو لوگوں کو فریب میں مبتلا رکھنا مقصود تھا۔ حالانکہ ویسی ہی دعائیں اور امنگیں دوسرے دو بیٹوں کے لئے بھی ہیں۔ لیکن وہ کسی کے حجت نہ بن سکیں۔ ان کی شخصیتیں اپنے اعمال کے ترازو میں تلتی رہیں۔ لیکن خلیفہ نے ایسی ہی دعاؤں کو اپنے لئے برہان قاطع بنا دیا۔ حالانکہ ان کے ذاتی اعمال کے دفتر میں پاکیزگی عنقا کا حکم رکھتی ہے۔ لیکن انہوں نے جماعت کی زیست اس طرح کی کہ وہ سمجھنے لگ گئی۔ کہ خلیفہ صاحب کے لئے خوابوں اور خواہشوں کا سہارا کافی ہے۔ کیونکہ ان کی ضو سے شبستان خلافت روشن ہو جاتا ہے اور خلیفہ بڑے طمطراق سے کہہ دیا کرتے ہیں:

٥

صفحہ ٤٧٥
بیان کس سے ہو ظلمت گستری میری شبستاں کی
شب مہ ہو جو رکھ دیں چند دیواروں کے روزن میں

ذاتی اعمال کی ذمہ داری سے سبکدوش ہو کر خلیفہ سیاست میں الجھ گئے۔ اپنے سارے نظام کو بھی اس طرح ڈھال لیا۔ ان کے نظام کا ڈھانچہ جو کتابچے میں تفصیل سے بیان کیا گیا ہے۔ اس بات کی دلیل ہے کہ تبلیغ اسلام محض دھوکے کی ٹٹی تھی۔ ورنہ اس مقدس کام کے لئے اس آہنی نظام کی کیا ضرورت تھی۔ جس میں حکومت کے سارے محکمے ہوں اور سارا زور خفیہ پولیس، عسکریت اور تادیب و تعزیر پر ہو۔ چونکہ چندہ اسلام کے نام پر ہی مل سکتا تھا۔ اس لئے اس کو بطور اشتہار کے رکھنا ضروری تھا۔ ورنہ نظام کی آمرانہ شدت متامرانہ سیاست کی غمازی کر رہی ہے۔ چونکہ جماعت کا نوجوان طبقہ ان کی جنسی یلغاروں سے زیادہ زخمی ہوا۔ اس لئے خلیفہ صاحب کے چال چلن کے خلاف جہاد کیا اور اپنا زور عورات خلافت کو بے نقاب کرنے میں لگا دیا ہے۔ اس سے ایک فائدہ ہوا کہ خلیفہ کی تقدیس کی فصیلیں مسمار ہو گئیں اور معاشرہ ایک خطرے سے آگاہ ہو گیا۔ لیکن ملک اور قوم کو اصلی خطرہ محمودی سیاست کا تھا جو محلاتی عفونتوں سے ملوث تھی۔ کیونکہ خلافت ربوی کے عفونت زار سے غلیظ سیاست ہی جنم لے سکتی تھی۔ اسی سیاست کا صحیح و سالم نقشہ اس کتابچے میں پیش کیا گیا ہے اور یہ سارا نقشہ خلیفہ کے اپنے خطبات سے ماخوذ ہے۔ ان کی تقاریر کی تبویب اور ترتیب سے محمودی منصوبہ ایک عالم پر بھی واضح ہو جاتا ہے۔ اب تک ارباب اختیار خلیفہ کی خلوتی زندگی کی بے اعتدالیوں کو مرکز توجہ بنانے سے گریز کرتے رہے۔ لیکن جب ان پر خلیفہ کے سیاسی عزائم کا انکشاف ہو گا تو ان کے لئے نچلا بیٹھنا یقینا ناممکن ہو جائے گا۔

اس کتابچے کو حق پسند پارٹی نے اجتماعی کوشش سے مرتب کیا ہے۔ وہ اس کو شائع کر کے عوام اور حکام کو ایک زیر زمین چھپے ہوئے ڈائنامیٹ سے آگاہ کرنا چاہتی ہے۔ اس کے مندرجات کی صحت کے متعلق اتنا عرض کر دینا کافی ہے کہ خلیفہ اپنی تقاریر اور اعلانات کے اقتباسات پڑھ کر خود بے اختیار کہہ اٹھیں گے۔

کھلتا کسی پہ کیوں مرے دل کا معاملہ
شعروں کے انتخاب نے رسوا کیا مجھے

جنرل سیکرٹری مرکزی حقیقت پسند پارٹی لاہور ....... ١٢؍ستمبر ١٩٧٥ء!

دین کے پردے میں سیاست کاری

کسی جماعت کے لئے اس سے زیادہ معیوب بات کوئی نہیں کہ وہ مذہب کا لبادہ اوڑھ

٦

کر چور دروازے سے سیاسی اقتدار، دنیوی غلبہ اور ح کسی مذہبی تحریک یا اس سے پیدا شدہ مذہبی جماعت کی ہے وہ ہمیشہ اس حد تک ہوتی ہے جس حد تک وہ اپنے دائرہ کے اندر محدود رکھتی ہے اور سیاسی امور سے اجتناب ک کہ مرزا محمود احمد کی گندی سیاست کا سب سے گھناؤنا ر دیکھنے شروع کر دیئے اور ایک روحانی اور مذہبی نظام کی ب جس کی غایت الغایات معاشرے میں پاکیزہ اخلاق ک کر دیا اور وہ جماعت جو دین کو دنیا پر مقدم رکھنے کا عہد ک یہ جلوہ کاری برطانوی سنگینوں کے سائے میں خوب پ منشا تھا کہ خلیفہ پادر ہوا منصوبوں میں خود بھی مشغول ر میں الجھائے رکھے اور اس طرح اپنے اصلی اور صحیح مقا نہ پیدا کر سکے۔ ایک عرصے تک یہی کیفیت رہی۔ ا بروئے کار آ گئی کہ برطانوی حکومت کو بھی احساس ہ ہے۔ وہاں قتل ہوتے ہیں ان کا سراغ بھی مل جاتا ہ ہو جاتی ہے۔ اس سے انگریز کی حکومتی غیرت پر تاثی خلاف اقدام شروع کر دیا۔ اس کا پہلا سراغ مسٹر ب نے اپنے فیصلے میں مرزا محمود احمد کی ان جارحانہ کا عبدالکریم (مباہلہ) کے خلاف کیں۔ کس طرح الع قاتلانہ حملہ ہوا۔ لیکن ان کا ایک مددگار محمد حسین قتل کے بعد پھانسی پا گیا تو اس کی لاش کو بڑے تزک وا دفن کیا گیا۔ اس فیصلے میں محمد امین کے قتل کا بھی ذ مورد عتاب ہو کر کلہاڑی کے وار سے قتل ہوا۔ اس م ہے۔ لیکن پولیس کارروائی کرنے سے قاصر رہی۔ ا اتنی بڑھ گئی تھی کہ کوئی سامنے آ کر سچ بولنے کے لئے ت کا واقعہ بھی ہے۔ عبدالکریم کو قادیان سے نکالنے ک سمال ٹاؤن کمیٹی سے حکم حاصل کر کے نیم قانونی ش

صفحہ ٤٧٥

کر چور دروازے سے سیاسی اقتدار، دنیوی غلبہ اور جماعتی تفوق حاصل کرنے کی کوشش کرے۔ کسی مذہبی تحریک یا اس سے پیدا شدہ مذہبی جماعت کو حکومت کی طرف سے جو حمایت حاصل ہوتی ہے وہ ہمیشہ اس حد تک ہوتی ہے جس حد تک وہ مذہبی جماعت اپنے آپ کو خالصتاً مذہبی مشن کے دائرہ کے اندر محدود رکھتی ہے اور سیاسی امور سے مجتنب رہتی ہے۔ لیکن یہ ایک المناک حقیقت ہے کہ مرزا محمود احمد کی گندی سیاست کا سب سے گھناؤنا پہلو یہ ہے کہ انہوں نے حکومت کے خواب دیکھنے شروع کر دیئے اور ایک روحانی اور مذہبی نظام کو جو اشاعت اسلام کے لئے قائم کیا گیا تھا اور جس کی غایت الغایات معاشرے میں پاکیزہ اخلاق پیدا کرنا تھی اس کو اپنے سیاسی عزائم کے تابع کر دیا اور وہ جماعت جو دین کو دنیا پر مقدم رکھنے کا عہد کر چکی تھی محض تابع مہمل ہو کر رہ گئی۔ خلیفہ کی یہ خواب کاری برطانوی سنگینوں کے سائے میں خوب پروان چڑھی۔ کیونکہ سفید فام آقاؤں کا یہی منشا تھا کہ خلیفہ باد ہوائی منصوبوں میں خود بھی مستغرق رہے اور جماعت کے عقول و قلوب کو بھی اس میں الجھائے رکھے اور اس طرح اپنے اصلی اور صحیح مشن سے غافل ہو کر جماعت میں روحانی توانائی نہ پیدا کر سکے۔ ایک عرصے تک یہی کیفیت رہی۔ لیکن قادیان میں ہی رفتہ رفتہ ایسی صورت بروئے کار آ گئی کہ برطانوی حکومت کو بھی احساس ہوا کہ اس کا قانون وہاں بالکل بے کار ہو چکا ہے۔ وہاں قتل ہوتے ہیں ان کا سراغ بھی مل جاتا ہے۔ لیکن عدالت میں آ کر پولیس ناکام ہو جاتی ہے۔ اس سے انگریز کی حکومتی غیرت پر تازیانہ لگا اور اس نے اس متوازی حکومت کے خلاف اقدام شروع کر دیا۔ اس کا پہلا سراغ مسٹر جی ڈی کھوسلہ کے فیصلہ میں ملتا ہے۔ فاضل جج نے اپنے فیصلے میں مرزا محمود احمد کی ان جارحانہ کارروائیوں کا ذکر کیا ہے جو انہوں نے مولوی عبدالکریم (مباہلہ) کے خلاف کیں۔ کس طرح ان کے خطبے کے نتیجے میں مولوی صاحب مذکور پر قاتلانہ حملہ ہوا۔ لیکن ان کا ایک مددگار محمد حسین قتل ہو گیا۔ جب قادیانی قاتل عدالت کے فیصلے کے بعد پھانسی پا گیا تو اس کی لاش کو بڑے تزک و احتشام کے ساتھ قادیان کے بہشتی مقبرے میں دفن کیا گیا۔ اس فیصلے میں محمد امین کے قتل کا بھی ذکر ہے اور فاضل جج نے لکھا ہے کہ محمد امین مورد عتاب ہو کر کلہاڑی کے وار سے قتل ہوا۔ اس کے قاتل فتح محمد نے اقرار کیا کہ اس نے قتل کیا ہے۔ لیکن پولیس کارروائی کرنے سے قاصر رہی۔ فیصلہ مذکور میں مرقوم ہے کہ: ”مرزائی طاقت اتنی بڑھ گئی تھی کہ کوئی سامنے آ کر سچ بولنے کے لئے تیار نہ تھا۔ ہمارے سامنے عبدالکریم کے مکان کا واقعہ بھی ہے۔ عبدالکریم کو قادیان سے نکالنے کے بعد اس کا مکان جلا دیا گیا۔ اسے قادیان کی سمال ٹاؤن کمیٹی سے حکم حاصل کر کے نیم قانونی طریقے سے گرانے کی کوشش بھی کی گئی۔ یہ

صفحہ ٤٧٧

افسوسناک واقعات ظاہر کرتے ہیں کہ قادیان میں طوائف الملوکی تھی جس میں آتش زنی اور قتل تک ہوتے تھے۔‘‘

”ایسے معلوم ہوتا ہے کہ حکام ایک غیر معمولی درجہ کے فالج کے شکار ہو چکے تھے اور دنیاوی اور دینی معاملات میں مرزا محمود احمد کے حکم کے خلاف کبھی آواز نہ اٹھائی گئی۔ مقامی افسروں کے پاس کئی مرتبہ شکایات کی گئیں۔ لیکن کوئی انسداد نہ ہوا۔ مسل پر ایک دو ایسی شکایات ہیں لیکن ان کے مضمون کا حوالہ دینا غیر ضروری ہے اور اس مقدمہ کے لئے یہ بیان کر دینا کافی ہے کہ قادیان میں ظلم و جور جاری ہونے کے متعلق غیر مشتبہ الزام عائد کئے گئے ۔ لیکن معلوم ہوتا ہے کہ ان کی طرف مطلقاً توجہ نہ کی گئی ۔“

پھر فیصلہ میں یہ بھی لکھا ہے کہ : ” مرزا (یعنی مرزا محمود احمد ) نے مسلمانوں کو کافر، سور اور ان کی عورتوں کو کتیوں کا خطاب دے کر ان کے جذبات کو مشتعل کر دیا کرتا تھا۔“

(فیصلہ مسٹر جی ڈی کھوسلہ سیشن جج گورداسپور )

یہ عدالتی فیصلہ محمودی سیاست کاریوں کی غمازی کرتا ہے۔ قادیان میں خلیفہ کے لئے قتل کرنا اور قتل کے عواقب سے بچ نکلنا یا کم از کم خلیفہ کا محفوظ و مصئون رہنا ایک ضرب المثل بن چکا تھا۔ قتل کے بعد معاملہ بقول شاعر یہ تھا۔

بے کس کا لہو مقتل کی زمین پر
نہ دامن پر نہ ان کی آستیں پر

یہی معاملہ بدرجہ اتم ربوہ میں رونما ہو چکا ہے۔ کیونکہ یہ خالص قادیانی بستی ہے۔ یہاں قانون کی بے بسی ناقابل بیان ہے۔ اگر حکومت دور اندیشی سے کام لیتی اور مرزا محمود کو پاکستان کی پاک سرزمین کا ایک خطہ کوڑیوں کے مول نہ دیتی۔ بلکہ اس کو مجبور کرتی کہ وہ اور اس کی جماعت کسی شہر میں متوطن ہوں یا حکومت کے تجویز کردہ مضافاتی قصبوں میں سکونت پذیر ہوں۔ تو خلیفہ کی سیاست کاریوں اور سازشوں پر قفل پڑ جاتے۔ مگر ایسا نہ ہوا۔ چنانچہ ان کو ضلع جھنگ میں ایک وسیع رقبہ مہاجروں کو متوطن کرنے کے لئے ملا اور انہوں نے کمال چابک دستی سے اس کو پاکستان کی دوسری آبادیوں سے منقطع کر کے ایک باغستان سا بنا دیا اور اس کا نام ”ربوہ‘ رکھ دیا۔ اب اس قصبے میں باوجود دس ہزار کی آبادی کے کوئی تھانہ نہیں۔ اس میں خلیفہ کا سکہ رواں ہے۔ اس مطلق العنانی کی کیفیت کو مد نظر رکھتے ہوئے پاکستان کی منیر ٹربیونل رپورٹ میں مرقوم ہے۔

”١٩٤٥ء سے لے کر ١٩٤٧ء کے آغاز تک احمدیوں کی بعض تحریرات منکشف ہیں کہ

٨

وہ برطانیہ کا جانشین بننے کے خواب دیکھ رہے تھے۔ ہندوستان کو اپنے لئے پسند کرتے تھے اور نہ پاکستان کو محفو

اب ہم خلیفہ کی سیاست کاری اور حکومت کا اپنے ارشادات ہدیہ قارئین کرتے ہیں۔

”غرض سیاست میں مداخلت کوئی غیر دی شامل ہے جس کی طرف توجہ کرنا وقتی ضروریات اور ہے۔..... پس قوم کے پیش آمدہ حالات کو مد نظر رکھنا اور ا ملکی سیاسیات میں رہنمائی کرنا خلیفہ وقت سے بہتر اور کو اور تائید اس کے شامل حال ہوتی ہے اور اس زمانہ می ہمارے اس بیان کی صداقت پر مہر لگا رہے ہیں۔“

”اسلام کی ترقی احمدی سلسلہ سے وابستہ ہ حکومتوں میں پھیل نہیں سکتا۔ اس لئے خدا نے چاہا ہے ک پس مسلمانوں کی بداعمالیوں کی وجہ سے خدا تعالیٰ نے جہا

”ہمیں نہیں معلوم ہمیں کب خدا کی طرف اپنی طرف سے تیار ہو رہنا چاہئے کہ دنیا کو سنبھال سکیں۔

”انگریز اور فرانسیسی وہ دیواریں ہیں جن ک ہے اور خدا تعالیٰ چاہتا ہے کہ یہ دیوار اس وقت تک قا نہیں ہو جاتے۔ ابھی احمدیت چونکہ بالغ نہیں ہوئی ا قبضہ نہیں کر سکتی۔ اس لئے اگر اس وقت یہ دیوار گر جا جمالیں گے۔“

”اصل تو یہ ہے کہ ہم نہ انگریز کی حکومت حکومت قائم کرنا چاہتے ہیں۔“

”میں تو اس بات کا قائل ہوں کہ انگریز اور کسی کی حکومت نہیں رہے گی۔ پس جبکہ میں اس بات

٩

صفحہ ٤٧٧

وہ برطانیہ کا جانشین بننے کے خواب دیکھ رہے تھے۔ وہ نہ تو ایک ہندو دنیاوی حکومت یعنی ہندوستان کو اپنے لئے پسند کرتے تھے اور نہ پاکستان کو منتخب کر سکتے تھے۔‘‘

(رپورٹ منیر انکوائری کمیٹی ص ١٩٦)

اب ہم خلیفہ کی سیاست کاری اور حکومت کا غلبہ حاصل کرنے کے بارہ میں خلیفہ کے اپنے ارشادات ہدیہ قارئین کرتے ہیں۔

”غرض سیاست میں مداخلت کوئی غیر دینی فعل نہیں۔ بلکہ یہ ایک دینی مقاصد میں شامل ہے جس کی طرف توجہ کرنا وقتی ضروریات اور حالات کے مطابق لیڈران قوم کا فرض ہے۔۔۔۔ پس قوم کے پیش آمدہ حالات کو مدنظر رکھنا اور اس کی تکالیف کو دور کرنے کی تدبیر کرنا اور ملکی سیاسیات میں رہنمائی کرنا خلیفہ وقت سے بہتر اور کوئی نہیں کر سکتا۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کی نصرت اور تائید اس کے شامل حال ہوتی ہے اور اس زمانہ میں گزشتہ پندرہ سال کے تاریخی واقعات ہمارے اس بیان کی صداقت پر مہر لگا رہے ہیں۔‘‘

(الفضل مورخہ ٢٥؍نومبر ١٩٣٢ء)

”اسلام کی ترقی احمدی سلسلہ سے وابستہ ہے اور چونکہ یہ سلسلہ مسلمان کہلانے والی حکومتوں میں پھیل نہیں سکتا۔ اس لئے خدا نے چاہا ہے کہ ان کی جگہ اور حکومتوں کو لے آئے۔۔۔۔۔۔ پس مسلمانوں کی بداعمالیوں کی وجہ سے خدا تعالیٰ نے تمہاری ترقی کا راستہ کھول دیا ہے۔‘‘

(الفضل مورخہ ١٢؍نومبر ١٩١٤ء)

”ہمیں نہیں معلوم ہمیں کب خدا کی طرف سے دنیا کا چارج سپرد کیا جاتا ہے۔ ہمیں اپنی طرف سے تیار ہو رہنا چاہئے کہ دنیا کو سنبھال سکیں۔‘‘

(الفضل مورخہ ٤؍جون ١٩٤٠ء)

”انگریز اور فرانسیسی وہ دیواریں ہیں جن کے نیچے احمدیت کی حکومت کا خزانہ مدفون ہے اور خدا تعالیٰ چاہتا ہے کہ یہ دیوار اس وقت تک قائم رہے جب تک کہ خزانہ کے مالک جوان نہیں ہو جاتے۔ ابھی احمدیت چونکہ بالغ نہیں ہوئی اور بالغ نہ ہونے کی وجہ سے وہ اس خزانہ پر قبضہ نہیں کر سکتی۔ اس لئے اگر اس وقت یہ دیوار گر جائے تو نتیجہ یہ ہوگا کہ دوسرے لوگ اس پر قبضہ جمالیں گے۔‘‘

(الفضل مورخہ ٢٧؍فروری ١٩٣٤ء)

”اصل تو یہ ہے کہ ہم نہ انگریز کی حکومت چاہتے ہیں نہ ہندوؤں کی ہم تو احمدیت کی حکومت قائم کرنا چاہتے ہیں۔‘‘

(الفضل مورخہ ١٤؍فروری ١٩٣٣ء)

”میں تو اس بات کا قائل ہوں کہ انگریزی حکومت چھوڑ دنیا میں سوائے احمدیوں کے اور کسی کی حکومت نہیں رہے گی۔ پس جبکہ میں اس بات کا قائل ہوں بلکہ اس بات کا خواہشمند ہوں

٩

PDF 479

گر دنیا کی ساری حکومتیں مٹ جائیں اور ان کی جگہ احمدی حکومتیں قائم ہو جائیں تو میرے متعلق یہ خیال کرنا کہ میں اپنی جماعت کے لوگوں کو انگریزوں کی دائمی غلامی کی تعلیم دیتا ہوں۔ کہاں تک درست ہو سکتا ہے۔"

(الفضل مورخہ ٢١ نومبر ١٩٣٩ء)

"ہم میں سے ہر ایک آدمی یہ یقین رکھتا ہے کہ تھوڑے عرصہ کے اندر ہی، خواہ ہم اس وقت زندہ رہیں یا نہ رہیں لیکن بہرحال وہ عرصہ غیر معمولی طور پر لمبا نہیں ہو سکتا۔ ہمیں تمام دنیا پر نہ صرف عملی برتری حاصل ہوگی بلکہ سیاسی اور مذہبی برتری بھی حاصل ہو جائے گی۔ یہ خیال ایک منٹ کے لئے کسی سچے احمدی کے دل میں غلامی کی روح پیدا نہیں کر سکتا۔ جب ہمارے سامنے بعض حکام آتے ہیں تو ہم اس یقین اور وثوق کے ساتھ ان سے ملاقات کرتے ہیں کہ کل یہ نہایت عجز وانکسار کے ساتھ ہم سے استمداد کر رہے ہوں گے ۔"

(الفضل مورخہ ٢٣ اپریل ١٩٣٨ء)

"اس وقت حکومت احمدیت کی ہوگی۔ آمدنی زیادہ ہوگی۔ مال و اموال کی کثرت ہوگی۔ جب تجارت اور حکومت ہمارے قبضہ میں ہو گی اس وقت اس قسم کی تکلیف نہ ہوگی۔"

(الفضل مورخہ ٨ جون ١٩٢٦ء)

"اس وقت تک کہ تمہاری بادشاہت قائم نہ ہو جائے۔ تمہارے راستے سے یہ کانٹے ہرگز دور نہیں ہو سکتے۔"

(الفضل مورخہ ٨ جولائی ١٩٣٠ء)

دیکھ لیجئے! خلیفہ صاحب مستقبل قریب میں حصول اقتدار کی امیدیں کس قدر وثوق کے ساتھ لگائے بیٹھے ہیں اور حصول آزادی ہی نہیں بلکہ حصول حکومت کے لئے ان کی راہیں دوسرے ابنائے وطن اور دوسرے مسلمانوں سے کس قدر مختلف تھیں اور یہ اعلان بالوضاحت کیا جارہا تھا کہ مسلمانوں کی بداعمالیوں کی وجہ سے حکومت ان کو نہیں بلکہ صرف اور صرف احمدیوں کو ہی ملے گی اور مسلمان جنہوں نے احمدیت سے اپنا تعلق نہیں جوڑا وہ گرتے ہی جائیں گے اور گرتے گرتے یہودیوں کی طرح ہو جائیں گے : ”یہودی موسیٰ علیہ السلام کے نائب کا انکار کرنے کی وجہ سے ذلیل ہوئے تھے...... اور محمد رسول اللہ کی شان موسیٰ علیہ السلام کی شان سے بہت بلند ہے۔ اس لئے آپ کے نائب کا انکار کرنے والوں کی ذلت یہودیوں سے بڑھ کر ہوگی۔"

(الفضل مورخہ ١٢ نومبر ١٩١٤ء)

ظاہر ہے کہ مسلمانوں سے پہلے ان کے پروگرام اور دعوؤں کے مطابق حکومت ان کو نہیں مل سکی اور نہ ہی یہ حکومت برطانیہ کے جانشین بن سکے اور وہ دیوار بھی گر گئی۔ جس کے نیچے بقول ان کے احمدیت کا خزانہ مدفون تھا اور جس کے بل بوتے پر انہوں نے ہر نپٹنے والے سے نپٹنا

١٠

تھا تو پاکستان کا استقلال اور اس کا قیام اور خصوصاً جب کہ حکومت ان مسلمانوں کو مل گئی احمدی سلسلہ کے ساتھ وابستہ ہے اور چونکہ سکتا۔ اس لئے خدا نے چاہا ہے کہ ان کی حکو کے لئے دروازے کھولے جائیں۔"

چنانچہ ان کی اس نیت کو کہ وہ ارشاد پیش خدمت ہے: "ہندوستان کی مجبوری سے اور پھر یہ کوشش کریں گے کہ یہ

پھر فرمایا : ” بہر حال ہم چاہت شیر وشکر ہو کر رہیں۔"

پس ان اقتباسات سے مرزا م ہے۔ اس کے یہ اقوال اس کی نیت کی غما اور ہندوستان کی باؤنڈریاں ختم کرنے کے منافقت اور سیاسی دجل کا بھانڈا پھوڑا ہے نہیں بلکہ جماعت احمدیہ کو حکومت اور آق ان کے شانہ بشانہ حصول آزادی کی کوش ہیں۔ ان الفاظ نے خلیفہ ربوہ کی تمام چا رکھ دیا ہے۔ کس قدر غداری کے ساتھ ا حصہ بن کر ان کے نام پر سیاسی حقوق حا ان کی ہی سرکوبی کے لئے حاصل کی جا "جو فتح اپنے وقت سے ذرا پیچھے ہٹ جا

اب اپنی فتح کی امیدوں کو مسلمانوں میں انتشار پھیلانے کے لئ ہم حکومت کو اس بات ب

صفحہ ٤٧٩

تھا تو پاکستان کا استقلال اور اس کا قیام اور اس کی سالمیت انہیں کس طرح گوارا ہو سکتی تھی اور خصوصاً جب کہ حکومت ان مسلمانوں کو مل گئی جن کے متعلق خلیفہ فرماتے ہیں: ”پس اسلام کی ترقی احمدی سلسلہ کے ساتھ وابستہ ہے اور چونکہ یہ سلسلہ مسلمان کہلانے والی حکومتوں میں نہیں پھیل سکتا۔ اس لئے خدا نے چاہا ہے کہ ان کی جگہ اور حکومتوں کو لے آئے تاکہ اس سلسلہ حقہ کے پھیلنے کے لئے دروازے کھولے جائیں۔“

(الفضل مورخہ ٢٢؍نومبر ١٩٤٣ء)

چنانچہ ان کی اس نیت کو کہ وہ پاکستان بننے سے خوش نہیں ہوئے تھے۔ خلیفہ کا اپنا ایک ارشاد پیش خدمت ہے: ”ہندوستان کی تقسیم پر اگر ہم رضامند ہوتے ہیں تو خوشی سے نہیں بلکہ مجبوری سے اور پھر یہ کوشش کریں گے کہ یہ کسی نہ کسی طرح پھر متحد ہو جائے۔“

(الفضل مورخہ ١٦؍مئی ١٩٤٧ء)

پھر فرمایا: ”بہر حال ہم چاہتے ہیں کہ اکھنڈ ہندوستان بنے اور ساری قومیں باہم شیرو شکر ہو کر رہیں۔“

(الفضل مورخہ ٥؍اگست ١٩٤٧ء)

پس ان اقتباسات سے مرزا محمود احمد کی حکومت کے بارہ میں ریشہ دوانیوں کا علم ہو جاتا ہے۔ اس کے یہ اقوال اس کی نیت کی غمازی کر رہے ہیں۔ اکھنڈ ہندوستان کی تجویزیں پاکستان اور ہندوستان کی باؤنڈریاں ختم کرنے کے الہامات مملکت در مملکت کا ناپاک ثبوت ہیں۔ اس خلیفہ کی منافقت اور سیاسی دجل کا بھانڈا چوراہے میں پھوٹا ہے۔ اس کے اپنے دعوے یہ تھے کہ مسلمانوں کو نہیں بلکہ جماعت احمدیہ کو حکومت اور آزادی ملے گی اور یہ کہ احمدی مسلمانوں کے ساتھ مل کر اور ان کے شانہ بشانہ حصول آزادی کی کوششیں نہیں کر رہے۔ بلکہ وہ ان سے الگ کوشش کر رہے ہیں۔ ان الفاظ نے خلیفہ ربوہ کی تمام جدوجہد سے پردہ اٹھا دیا ہے اور انہیں بالکل عریاں کر کے رکھ دیا ہے۔ کس قدر غداری کے ساتھ اور کس قدر دجل کے ساتھ مسلمانوں کا جزو ہو کر اور ان کا حصہ بن کر ان کے نام پر سیاسی حقوق لے کر سوچا یہ جا رہا تھا کہ آزادی حکومت مسلمانوں سے پہلے ان کی ہی سرکوبی کے لئے حاصل کی جائے گی۔ خلیفہ ربوہ کے سرکاری گزٹ الفضل نے لکھا تھا: ”جو فتح اپنے وقت سے ذرا پیچھے ہٹ جاتی ہے۔ اس کی کوئی وقعت نہیں رہتی۔“

(الفضل مورخہ ٨؍نومبر ١٩٤٣ء)

اب اپنی فتح کی امیدوں کو پاش پاش ہوتا دیکھ کر زخمی سانپ کی طرح بے تاب ہیں اور مسلمانوں میں انتشار پھیلانے کے لئے سیاسی جوڑ توڑ میں مشغول ہیں۔ ہم حکومت کو اس بات سے آگاہ کر دینا اپنا فرض سمجھتے ہیں کہ وہ مرزا محمود کی سازشوں

١١

صفحہ ٣٨٠

اور حرکات کو اپنی نگاہ میں رکھے اور اسے سمجھنے کی کوشش کرے۔ کسی دشمن کا مقابلہ اس کے طریق کار کو سمجھنے کے بعد ہی کامیابی سے کیا جاسکتا ہے۔ پس ضروری ہے کہ اس کی دسیسہ کاریوں اور روباہی چالوں کو پہلے سے سمجھ لیا جائے۔ دنیا کا چارج سنبھالنا، حکومت پر قبضہ کرنا، اپنا اقتدار قائم کرنا۔ یہی وہ تصورات تھے جن کی بدولت خلیفہ ربوہ کے بعض سادہ لوح مریدوں کا ذہنی توازن بگڑ گیا اور بنگال کی گورنری وغیرہ کے خواب دیکھنے لگ گئے۔ لیکن یہ محض تصورات و نظریات ہی نہ تھے۔ بلکہ خلیفہ ربوہ نے اپنی جماعت کو ان نظریات کی عملی تعبیر کے لئے جماعت کی باقاعدہ تربیت کی اور اپنی ”سحر سامری“ سے اپنے مریدوں کو حکومت پر قبضہ کرنے کے لئے شعوری اور غیر شعوری طور پر ابھارتے رہے۔ اس ضمن میں خلیفہ ہٰذا کے اپنے ارشادات ملاحظہ فرمائیے۔

”اس وقت اسلام کی ترقی خدا تعالیٰ نے میرے ساتھ وابستہ کر دی ہے۔ یاد رکھو کہ سیاسیات اور اقتصادیات اور تمدنی امور حکومت کے ساتھ وابستہ ہیں۔ پس جب تک ہم اپنے نظام کو مضبوط نہ کریں اور تبلیغ اور تعلیم کے ذریعہ سے حکومتوں پر قبضہ کرنے کی کوشش نہ کریں۔ ہم اسلام کی ساری تعلیموں کو جاری نہیں کر سکتے۔“

(الفضل مورخہ ٥ جنوری ١٩٣٧ء)

”یہ مت خیال کرو کہ ہمارے لئے حکومتوں اور ملکوں کا فتح کرنا بند کر دیا گیا ہے۔ بلکہ ہمارے لئے بھی حکومتوں اور ملکوں کا فتح کرنا ایسا ہی ضروری ہے۔“

(الفضل مورخہ ٨ جنوری ١٩٣٧ء)

اسی طرح خلیفہ ربوہ کے ہاں جو بھی اندرونی نظام ہے۔ وہ حفاظت مرکز، خدام الاحمدیہ، احمدیہ کور یا دیگر کسی نام سے بھی قائم کیا جاتا ہے۔ خلیفہ خود ہی اس کا سالار اعظم اور فیلڈ مارشل ہوتا ہے اور جماعت کی ہر قسم کی فوجی تنظیموں کی سربراہی اور سرپرستی آپ کو حاصل ہے۔ خود خلیفہ فرماتے ہیں: ”مجلس شوریٰ ہو یا صدر انجمن احمدیہ، انتظامیہ ہو یا عدلیہ، فوج ہو یا غیر فوج، خلیفہ کا مقام بہرحال سرداری کا ہے۔“

(الفضل یکم ستمبر ١٩٣٧ء)

”انتظامی لحاظ سے صدر انجمن کے لئے بھی راہ نما ہے اور آئین سازی و بحث کی تعیین کے لحاظ سے بھی وہ مجلس مشاورت کے نمائندوں کے لئے صدر اور رہنما کی حیثیت رکھتا ہے۔ جماعت کی فوج کے الگ دو حصے تسلیم کر لئے جائیں تو وہ اس کا بھی سردار ہے اور اس کا بھی کمانڈر ہے اور دونوں کے نقائص کا ذمہ دار ہے اور دونوں کی اصلاح اس کے ذمہ واجب ہے۔“

(الفضل ٢٧ اپریل ١٩٣٨ء)

غرض جماعت احمدیہ میں خلافت ایک دنیاوی بادشاہت کی حیثیت رکھتی ہے۔ خلیفہ کا ہر حکم مذہبی یا سیاسی جماعت کے ممبروں کے نزدیک قانون کی حیثیت رکھتا ہے۔ خلیفہ کے ادنیٰ

١٢

اشارہ پر اپنی جان و مال قربان کر دیا جاتا ہے جاتا ہے۔ پاکستان کے علاوہ دنیا کے مختلف اور سفارت خانے ہیں اور تمام بیرونی ممالک استعمال کرتے ہیں اور لاکھوں روپے گورنمنٹ اپنی من مانی کارروائیوں کے لئے صرف ک مساجد کی تعمیر کے لئے ہزاروں روپے گز خرچ اپنی مرضی کے مطابق کر لیا جاتا ہے ن اپنا چندہ کہاں جاتا ہے؟ ٤٢ سال غیر ملکو اسٹیج پر لے چکے ہیں۔ اس کے بالمقابل خلیفہ کا نظام اس قدر خطرناک ہے کہ ایک ب کافی ہے۔ دوسری حکومتوں میں اپنے خلیفہ اور قومیں مجھ سے ڈرتی ہیں۔ خلیفہ اپنی کا اپنی عدلیہ، مقننہ، انتظامیہ، فوج اور بینک کرتے ہیں ان کا یہ فعل ملک وملت سے غ کو قبل از وقت اجازت حاصل کئے بغیر و الفضل کا مندرجہ ذیل اعلان ملاحظہ فرمائی

”مضافات قادیان ، بٹالہ، وغیرہ میں سکونت اختیار کرنے کے لئے کہ وہ پہلے نظارت ہٰذا سے اجازت حاص

پھر ربوہ میں آکر ١٩٤٨ء می احمدی بلا اجازت انجمن زمین نہیں خرید س

پھر ربوہ میں داخل ہونے کرتے ہیں کہ آئندہ ایسے لوگوں کو جن اعلان کر دیا ہوا ہے کہ وہ ہماری جماع آ کر ہمارے جلسوں میں شامل ہونے

چہ دلاور است

صفحہ ٤٨١

اشارہ پر اپنی جان و مال قربان کر دیا جاتا ہے۔ احمدیوں کی کمائی کا اکثر حصہ خلیفہ کی جیب کی نذر ہو جاتا ہے۔ پاکستان کے علاوہ دنیا کے مختلف ممالک میں جو مبلغ ہیں، وہ دراصل خلیفہ کے کار خاص اور سفارت خانے ہیں اور تمام بیرونی ممالک کی کرنسی جو چندہ کی صورت میں ان کو ملتی ہے وہ اس کو استعمال کرتے ہیں اور لاکھوں روپے گورنمنٹ کی کرنسی سے بھی حاصل کر کے بیرونی ممالک میں اپنی من مانی کارروائیوں کے لئے صرف کرتے ہیں۔ کبھی مبلغوں کی تنخواہوں کے بہانہ اور کبھی مساجد کی تعمیر کے لئے ہزاروں روپے گورنمنٹ کی قیمتی فارن کرنسی سے لے لئے جاتے ہیں اور خرچ اپنی مرضی کے مطابق کر لیا جاتا ہے۔ جن لوگوں کے لئے وہاں مسجدیں تعمیر ہو رہی ہیں ان کا اپنا چندہ کہاں جاتا ہے؟ ٤٢ سال غیر ملکوں میں تبلیغ کرتے ہو گئے ہیں۔ کروڑوں روپیہ کا فارن ایکسچینج یہ لے چکے ہیں۔ اس کے بالمقابل وہاں کتنے احمدی ہوئے ہیں؟ یہ پوچھنے والا کوئی نہیں۔ خلیفہ کا نظام اس قدر خطرناک ہے کہ ایک بڑی سے بڑی حکومت کے نظام کا مقابلہ کرنے کے لئے کافی ہے۔ دوسری حکومتوں میں اپنے حلیف پیدا کئے جاتے ہیں۔ خلیفہ کا کہنا ہے کہ حکومتیں، ملک اور قومیں مجھ سے ڈرتی ہیں۔ خلیفہ اپنی کار خاص کے ذریعہ مملکت کے راز معلوم کرتا ہے۔ اس کی اپنی عدلیہ، مقننہ، انتظامیہ، فوج اور بینک ہے۔ پس حکومت پاکستان کے جو ارکان اسے نظر انداز کرتے ہیں ان کا یہ فعل ملک وملت سے غداری کے مترادف ہے۔ مملکت محمودیہ ربوہ میں کسی احمدی کو قبل از وقت اجازت حاصل کئے بغیر داخل ہونے کی اجازت نہیں۔ اس بارہ میں سرکاری گزٹ الفضل کا مندرجہ ذیل اعلان ملاحظہ فرمائیے۔

”مضافات قادیان، ننگل، باغباناں، بانگر خورد وکلاں، نواں پنڈ، قادر آباد اور احمد آباد وغیرہ میں سکونت اختیار کرنے کے لئے باہر سے آنے والے احمدی دوستوں کے لئے ضروری ہوگا کہ وہ پہلے نظارت ہذا سے اجازت حاصل کریں۔“

(الفضل مورخہ ٢٥ جنوری ١٩٣٩ء)

پھر ربوہ میں آکر ١٩٤٨ء میں خلیفہ اعلان فرماتے ہیں: ”سب تحصیل لالیاں میں کوئی احمدی بلا اجازت انجمن زمین نہیں خرید سکتا۔“

پھر ربوہ میں داخل ہونے کے بارہ میں خلیفہ کا حکم امتناعی ملاحظہ ہو: ”ہم یہ اعلان کرتے ہیں کہ آئندہ ایسے لوگوں کو جن کو یا تو ہم نے جماعت سے نکال دیا ہے یا جنہوں نے خود اعلان کر دیا ہوا ہے کہ وہ ہماری جماعت میں شامل نہیں۔ آئندہ انہیں ہماری مملوکہ زمینوں میں آکر ہمارے جلسوں میں شامل ہونے کی اجازت نہیں۔“

(الفضل مورخہ ٤ فروری ١٩٥٦ء)

چہ دلاور است دزدے کہ بکف چراغ دارد

١٣

صفحہ ٤٨٢

اب اس اعلان کی رو سے وہ لوگ جنہوں نے انجمن کی مملوکہ زمین میں سے زمین خرید کی ہوئی ہے۔ ان کو ربوہ میں جا کر اپنی زمین اور مکان کی حفاظت کی اجازت نہیں۔ کیونکہ اگر وہ وہاں جائیں گے تو ان پر پولیس کی امداد سے کوئی جھوٹا مقدمہ کھڑا کر دیا جائے گا۔ گویا ان کی زمینیں بھی ضبط کر لی گئی ہیں۔ یہ بھی ریاست اندر ریاست کا ایک بین ثبوت ہے۔

مملکت محمودیہ میں کاروبار کرنے کے لئے ہر شخص کو ذیل کا معاہدہ کرنا پڑتا ہے: ”میں اقرار کرتا ہوں کہ ضروریات جماعت قادیان کا خیال رکھوں گا اور مدبر تجارت جو حکم کسی چیز کے بہم پہنچانے کا دیں گے۔ اس کی تعمیل کروں گا اور جو حکم ناظر امور عامہ دیں گے اس کی بلاچون و چرا تعمیل کروں گا۔ نیز جو ہدایات وقتاً فوقتاً جاری ہوں گی ان کی پابندی کروں گا اور اگر کسی حکم کی خلاف ورزی کروں گا تو جو جرمانہ تجویز ہوگا ادا کروں گا۔ میں عہد کرتا ہوں کہ جو میرا جھگڑا احمدیوں سے ہوگا اس کے لئے امام جماعت احمدیہ کا فیصلہ میرے لئے حجت ہوگا اور ہر قسم کا سودا احمدیوں سے خرید کروں گا۔ نیز میں عہد کرتا ہوں کہ احمدیوں کی مخالف مجالس میں بھی شریک نہ ہوں گا۔“

یہ ہے وہ معاہدہ جو خلیفہ ربوہ کی ریاست میں ہر اس شخص سے لکھوایا جاتا ہے جو وہاں کا جزو بن کر رہنا چاہے۔ نظارت امور عامہ سے ایک اجازت نامہ حاصل کرنا پڑتا تھا اور غیر از جماعت لوگوں کو ایک معاہدۂ تجارت پر دستخط کرنے کے بعد احمدیوں کے ساتھ لین دین کی اجازت ملتی تھی۔ بلکہ ہر شخص کی شخصی جائیداد پر بھی ان کا تصرف تھا۔ اس ضمن میں ذیل کا اعلان پڑھئے ۔

اعلان

”قبل ازیں میاں فضل حق موچی سکنہ دارالعلوم کے مکان کی نسبت اعلان کیا تھا کہ کوئی دوست نہ خریدیں۔ اب اس میں ترمیم کی جاتی ہے کہ اس کے مکان کا سودا برضامندی نظارت ہند کے توسط سے ہوسکتا ہے۔“

(الفضل مورخہ ١٨ اگست ١٩٣٧ء)

اب بھی ربوہ میں یہی صورتحال موجود ہے۔ جس شخص کا سوشل بائیکاٹ کیا جاتا ہے اس کے ساتھ لین دین کے تعلقات بھی منقطع کر دیئے جاتے ہیں۔ چنانچہ اس بارہ میں خلیفہ کا بتوسط ناظر امور عامہ حکم سنئے : ”یعنی میاں فخرالدین ملتان، شیخ عبدالرحمٰن مصری اور حکیم عبدالرحمٰن ان کے ساتھ اگر کسی دوست کا لین دین ہو تو نظارت ہٰذا کی وساطت سے طے کریں۔ کیونکہ ان کے ساتھ تعلقات رکھنے ممنوع ہیں۔“

(الفضل مورخہ ١٧ جولائی ١٩٣٧ء)

پس خلیفہ ربوہ کا یہ عذر لنگ پیش کرنا کہ لین دین منع نہیں۔ صرف تعلقات منقطع کرنے

١٤

سے مراد جزوی بائیکاٹ یعنی سلام کلام تک سوشل بائیکاٹ میں صرف لین دین ہی منع نہیں کہ رشتہ تک کرنا منع ہے۔ اس ضمن میں یہ ام شرط پر معاف کرنے کو تیار ہوں کہ آئندہ اس نام اخبار میں چھپ چکا ہے۔۔۔۔ چوہدری ظ آئندہ اس جگہ پر نہیں آئیں گے اور میں کرے گی اور اگر اس نے پھر ان لوگوں سے کو منسوخ کر دیا جائے گا۔“

اسی طرح خلیفہ نے اپنے ایک بائیکاٹ کرتے ہوئے اپنی بہو کو جو امۃ السلام میری بہو ہے۔ الفضل میں اعلان نہ کرنے الفضل میں اعلان کرنے پر مجبور ہوں گا کہ کرے اور میرے خاندان کے وہ افراد جو

چنانچہ خلیفہ کا اعلان شائع ہو ڈر سے اپنی بہن کے خلاف یہ اعلان الفضل نیروبی ) اور سیدہ امۃ السلام، ( بیگم ڈاکٹر میرے رشتہ کو بھی توڑ دیا ہے۔ لہٰذا آئندہ

یہ ہیں چند مثالیں سوشل بائی ارباب بست و کشاد کی توجہ دلائی اور خصو کھیل کو ختم کرنے کا حکومت پر زور دیا۔ مگ اس وقت تک اس ریاست کے بارہ میں ا کر دینا ضروری خیال کرتے ہیں کہ خلیفہ نہیں کرتے جو ان کے احکام کی تعمیل نہ کر بائیکاٹ پر عمل نہ کرنے کے سبب اور سوش

صفحہ ٤٨٣

سے مراد جزوی بائیکاٹ یعنی سلام کلام تک ہے۔ اس کی روشنی میں سراسر جھوٹ اور فریب ہے۔ سوشل بائیکاٹ میں صرف لین دین ہی منع نہیں بلکہ کسی سے کسی قسم کا تعلق رکھنا اس کے گھر جانا حتیٰ کہ رشتہ تک کرنا منع ہے۔ اس ضمن میں یہ ارشاد ملاحظہ فرمائیں: ”میں چوہدری عبداللطیف کو اس شرط پر معاف کرنے کو تیار ہوں کہ آئندہ اس کے مکان واقع نسبت روڈ پر وہ افراد نہ آئیں جن کا نام اخبار میں چھپ چکا ہے...... چوہدری عبداللطیف نے یقین دلایا کہ میں ذمہ لیتا ہوں کہ وہ آئندہ اس جگہ پر نہیں آئیں گے اور میں نے اس کو کہہ دیا ہے کہ جماعت لاہور اس کی نگرانی کرے گی اور اگر اس نے پھر ان لوگوں سے تعلق رکھا یا اپنے مکان پر آنے دیا تو پھر اس کی معافی کو منسوخ کر دیا جائے گا۔“

(الفضل مورخہ ٢٢ نومبر ١٩٥٦ء)

اسی طرح خلیفہ نے اپنے ایک رشتہ دار ڈاکٹر علی اسلم کی بیگم امۃ السلام صاحبہ کا سوشل بائیکاٹ کرتے ہوئے اپنی بہو کو جو امۃ السلام کی ہمشیرہ ہے، یہ دھمکی دی تھی کہ: ”اب اگر تنویر بیگم جو میری بہو ہے، الفضل میں اعلان نہ کرے کہ میرا اپنی بہن سے کوئی تعلق نہیں تو میں اس کے متعلق الفضل میں اعلان کرنے پر مجبور ہوں گا کہ لجنہ (قادیانی عورتوں کی انجمن) اس کو کوئی کام سپرد نہ کرے اور میرے خاندان کے وہ افراد جو مجھ سے تعلق رکھنا چاہتے ہیں اس سے تعلق نہ رکھیں۔“

(الفضل مورخہ ٢١ جون ١٩٥٧ء)

چنانچہ خلیفہ کا اعلان شائع ہونے کی دیر تھی۔ فوراً تنویر الاسلام نے سوشل بائیکاٹ کے ڈر سے اپنی بہن کے خلاف یہ اعلان الفضل میں شائع کرا دیا ۔ ”ڈاکٹر سید علی اسلم (حال ساکن نیروبی) اور سیدہ امۃ السلام، (بیگم ڈاکٹر علی اسلم) نے جماعت کے نظام کو توڑنے کی وجہ سے میرے رشتہ کو بھی توڑ دیا ہے۔ لہٰذا آئندہ ان سے میرا کسی قسم کا کوئی تعلق نہ ہوگا۔“

(الفضل مورخہ ٢٥ جون ١٩٥٧ء)

یہ ہیں چند مثالیں سوشل بائیکاٹ وغیرہ کی جن کی طرف تمام ملکی اخبار اور جرائد نے ارباب بست و کشاد کی توجہ دلائی اور خصوصاً نوائے وقت نے بھی اس ریاست اندر ریاست کے کھیل کو ختم کرنے کا حکومت پر زور دیا۔ مگر یہ آواز بھی صدا بصحرا ثابت ہوئی۔ کیونکہ گورنمنٹ نے اس وقت تک اس ریاست کے بارہ میں کوئی واضح اور ٹھوس قدم نہیں اٹھایا۔ یہاں ہم یہ بات واضح کر دینا ضروری خیال کرتے ہیں کہ خلیفہ ربوہ ہر اس آدمی کو شدید نقصان پہنچانے سے بھی گریز نہیں کرتے جو ان کے احکام کی تعمیل نہ کرے اور ان کی مخالفت کرے۔ چنانچہ انہی دنوں اسی سوشل بائیکاٹ پر عمل نہ کرنے کے سبب اور سوشل بائیکاٹ کئے گئے افراد کو اشیاء خوردونوش مہیا کرنے کے

١٥

صفحہ ٤٨٤

جرم کی پاداش میں اللہ یار بلوچ پر قاتلانہ حملہ کیا گیا۔ جس کا مقدمہ چل رہا ہے۔

خلیفہ کا دستور ہے کہ وہ اپنے مخالفین کے خلاف اپنے مریدوں کو ابھارتے ہیں۔ چنانچہ اس ضمن میں ان کی تقریر کا ایک اقتباس ملاحظہ ہو: ”اگر تم میں رائی کے دانہ کے برابر بھی حیا ہے اور تمہارا سچ مچ یہی عقیدہ ہے کہ دشمن کو سزا دینی چاہئے تو پھر یا تم دنیا سے مٹ جاؤ گے یا گالیاں دینے والوں کو مٹا دو۔ اگر کوئی انسان سمجھتا ہے کہ اس میں مارنے کی طاقت ہے تو میں اسے کہوں گا اے بے شرم! تو آگے کیوں نہیں جاتا اور اس منہ کو کیوں نہیں توڑتا۔“

(الفضل مورخہ ٥/ جون ١٩٣٧ء)

ان مذکورہ بالا امور کی طرف توجہ دلانے کے بعد ہم گورنمنٹ کی توجہ ان بنیادی اجزاء اور عناصر کی طرف مبذول کرانا چاہتے ہیں جو ریاستوں اور حکومتوں میں پائے جاتے ہیں اور جو ربوہ ریاست میں بدرجہ اتم موجود ہیں۔ چنانچہ وہ یہ ہیں۔ سربراہ، مقننہ، عدلیہ، انتظامیہ، فوج، دارالحکومت اور بینک وغیرہ وغیرہ۔ اپنے انتظام کے بارے میں خلیفہ کا اپنا دعویٰ یہ ہے: ”ان کی جماعت کا نظام ایک مضبوط سے مضبوط گورنمنٹ کے نظام کا مقابلہ کر سکتا ہے۔“

(الفضل مورخہ ١١/ جولائی ١٩٣٧ء)

اب ہم بالتفصیل ان مذکورہ بالا امور کے بارے میں اگلے باب میں علیحدہ علیحدہ روشنی ڈالیں گے۔ یہاں ایک اور بات کا ذکر کرنا نہایت ضروری ہے۔ وہ قادیان میں چھوڑی ہوئی جائیداد کے بارے میں ہے۔ مہاجرین جو قادیان میں جائیداد چھوڑ آئے۔ ان کو خلیفہ ربوہ نے کلیم داخل کرنے سے منع کر دیا ہے۔ جس کی وجہ سے لاکھوں روپے کے کلیم احمدیوں نے داخل نہیں کئے اور گورنمنٹ پاکستان کو اس وجہ سے لاکھوں روپے کے کلیم آئے۔ کیا یہ گورنمنٹ کے حکم کی صریحاً خلاف ورزی نہیں۔

خلافتی حکومت کا تفصیلی خاکہ

اب ہم ذیل میں ربوہ مملکت کے اجزائے ترکیبی کے ہر جزو پر خلیفہ کی زبان سے روشنی ڈالیں گے۔

سربراہ

”ریاست میں حکومت اس نیابتی فرد کا نام ہے جس کو لوگ اپنے مشترکہ حقوق کی نگرانی سپرد کرتے ہیں۔“

(الفضل مورخہ ١٥/ اکتوبر ١٩٣٦ء)

خلیفہ ربوہ کی اصطلاح میں اسے خلیفہ کہتے ہیں اور ایسا خلیفہ اگرچہ غلطی سے منزہ نہیں

١٦

کہلا سکتا۔ لیکن احتساب سے بالا ضرور فرمایئے: ”جس مقام پر ان کو کھڑا کیا جاتا ٹھوکر سے بچ نہیں سکتے۔“ ”مجھ پر سچا اعتراض کرنے والا وبرباد کر دے گا۔“

مقننہ (یعنی مجلس مشاورت)

مقننہ کو خلیفہ ربوہ کے نظام میں کلیۃً خلیفہ کے ماتحت ہوتی ہے اور خلیفہ راشدین میں قائم شدہ مجلس شوریٰ کو حاصل میں خلیفہ مشورہ طلب کرے۔ اس کا کوئی صدر انجمن کے لئے واجب التعمیل نہ ہو ہیں۔ اس ضمن میں ان کا قول ملاحظہ ہو: ”

”اسے یہ حق ہے (یعنی خلیفہ کرے۔ لیکن اسے یہ بھی حق حاصل ہے

مقننہ کے ممبروں کی تعداد مقرر جو جماعتوں کی طرف سے آتے ہیں۔ جماعت کے چنے ہوئے نمائندے خلیفہ نہیں۔ اس کے علاوہ خلیفہ خود جتنے افراد اس اجلاس میں کوئی شخص بغیر اجازت اس مجلس سے باہر جاسکتا ہے۔ اس ممبر میں وزراء کو وہ جھاڑیں پڑتی ہیں جن کی روکتا ہے۔ سخت تنقید کو نہیں۔“ لیکن خلیفہ کو حق حاصل ہے سے بالکل محروم کردے۔ یہ مجلس صرف

صفحہ ٤٨٥

کہلا سکتا۔ لیکن احتساب سے بالا ضرور ہوتا ہے۔ خلیفہ ربوہ کے اپنے ارشادات گرامی ملاحظہ فرمائیے: ”جس مقام پر ان کو کھڑا کیا جاتا ہے اس کی عزت کی وجہ سے ان پر اعتراض کرنے والے ٹھوکر سے بچ نہیں سکتے۔“

(الفضل مورخہ ١٨؍جون ١٩٢٦ء)

”مجھ پر سچا اعتراض کرنے والا خدا کی لعنت سے نہیں بچ سکتا اور خدا تعالیٰ اسے تباہ و برباد کر دے گا۔“

(الفضل مورخہ ٢٩؍مئی ١٩٢٨ء)

مقننہ (یعنی مجلس مشاورت)

مقننہ کو خلیفہ ربوہ کے نظام میں مجلس شوریٰ کہا جاتا ہے۔ یہ بھی دیگر محکمہ جات کی طرح کلیۃً خلیفہ کے ماتحت ہوتی ہے اور خلیفہ ربوہ کے نزدیک اس مجلس کی وہی پوزیشن ہے جو خلفائے راشدین میں قائم شدہ مجلس شوریٰ کو حاصل تھی۔ اس مجلس کا کام ہے کہ ان امور میں مشورہ دے جن میں خلیفہ مشورہ طلب کرے۔ اس کا کوئی مشورہ جب تک خلیفہ منظوری نہ دے اور جاری نہ فرمائے، صدر انجمن کے لئے واجب التعمیل نہ ہوگا۔ اس کے علاوہ ہر محکمہ کی نگرانی خلیفہ ربوہ خود فرماتے ہیں۔ اس ضمن میں ان کا قول ملاحظہ ہو: ”تمام محکموں پر خلیفہ کی نگرانی ہے۔“

(الفضل مورخہ ١٥؍نومبر ١٩٣٠ء)

”اسے یہ حق ہے (یعنی خلیفہ کو) کہ جب چاہے جس امر میں چاہے مشورہ طلب کرے۔ لیکن اسے یہ بھی حق حاصل ہے کہ مشورہ لے کر رد کر دے۔“

(الفضل مورخہ ٢٧؍اپریل ١٩٣٧ء)

مقننہ کے ممبروں کی تعداد مقرر نہیں۔ اس میں دو قسم کے نمائندے ہوتے ہیں۔ ایک وہ جو جماعتوں کی طرف سے آتے ہیں۔ لیکن ان کی منظوری بھی خلیفہ کی طرف سے ہوتی ہے۔ جماعت کے چنے ہوئے نمائندے خلیفہ رد کر سکتا ہے اور ان کو مقننہ میں شامل ہونے سے روک سکتا ہے۔ اس کے علاوہ خلیفہ خود جتنے افراد کو چاہے اپنی طرف سے مقننہ کا ممبر بنا سکتا ہے۔ مقننہ کے اس اجلاس میں کوئی شخص بغیر اجازت خلیفہ ہاؤس کو خطاب نہیں کر سکتا اور نہ ہی بغیر منظوری خلیفہ اس مجلس سے باہر جا سکتا ہے۔ اس ضمن میں خلیفہ کا ارشاد بغرض تصدیق پیش ہے: ”پارلیمنٹوں میں وزراء کو وہ جھاڑیں پڑتی ہیں جن کی حد نہیں۔ یہاں تو میں روکنے والا ہوں۔ گالی گلوچ کو سپیکر روکتا ہے، سخت تنقید کو نہیں۔“

(الفضل مورخہ ٢٧؍اپریل ١٩٣٨ء)

لیکن خلیفہ کو حق حاصل ہے کہ وہ جسے چاہے بولنے کا موقع دے اور جسے چاہے اس حق سے بالکل محروم کر دے۔ یہ مجلس صرف ایک دفعہ سال میں منعقد ہوتی ہے اور اس میں بجٹ وغیرہ

١٧

صفحہ ٤٨٦

کی منظوری کو اہمیت دی جاتی ہے۔ مگر بجٹ کی منظوری کے متعلق بھی خلیفہ کہہ دیا کرتے ہیں کہ بعد میں اس پر غور کر کے میں خود ہی دے دوں گا۔ یعنی اس مقننہ کو اصل میں کوئی اختیار نہیں۔

انتظامیہ

اس کے بعد ہم خلیفہ کی انتظامیہ کے بارے میں کچھ عرض خدمت کریں گے۔ بہتر معلوم ہوتا ہے کہ ہم اس ضمن میں خلیفہ کے ارشادات ہی نقل کر دیں جن میں اس انتظامیہ کی ضرورت اور ماہیت کا اجمالی نقشہ موجود ہے۔ خلیفہ فرماتے ہیں: ”تیسری بات تنظیم کے لئے یہ ضروری ہوگی کہ اس کے مرکزی کام کو مختلف ڈپارٹمنٹوں میں اس طرح تقسیم کیا جائے جس طرح گورنمنٹوں کے محکمے ہوتے ہیں۔ سیکرٹری شپ کا طریق نہ ہو۔ بلکہ وزراء کا طریق ہو اور ہر ایک صیغہ کا ایک انچارج ہو ۔“

(الفضل مورخہ ١٨؍ جولائی ١٩٢٥ء)

خلیفہ کی اس انتظامیہ کو جسے صدر انجمن احمدیہ ربوہ کی اصطلاح میں ”نظارت“ کہا جاتا ہے ان کے ہاں ہر ایسے وزیر کو ناظر کہا جاتا ہے۔ ایسے ناظران کی نامزدگی اخلاقاً، ترقی یا تنزل خلیفہ کے اپنے ہاتھ میں ہے۔ ملاحظہ ہو ارشاد گرامی: ”ناظر ہمیشہ میں نامزد کرتا ہوں ۔“

(الفضل مورخہ ٢٣؍ اگست ١٩٣٧ء)

یہ انتظامیہ اپنے سارے کام خلیفہ کی قائم مقامی میں ادا کرتی ہے۔ اس کے ہر فیصلہ کی اپیل خلیفہ سنتا ہے اور اس کے لئے خلیفہ کا حکم قطعی اور ناطق ہوتا ہے۔ یہ اپنے قواعد خلیفہ کی منظوری کے بغیر تبدیل نہیں کر سکتی اور اس کے فیصلوں کی تمام تر ذمہ داری خلیفہ پر ہوتی ہے۔ کیونکہ یہ انتظامیہ خلیفہ کی نمائندہ ہوتی ہے۔ صدر انجمن جو کچھ کرتی ہے چونکہ وہ خلیفہ کے ماتحت ہے۔ اس لئے خلیفہ بھی اس کا ذمہ دار ہے۔

(الفضل مورخہ ٢٣؍ اپریل ١٩٣٨ء)

لیکن اس انتظامیہ کو بھی خلیفہ کی برائے نام نمائندگی کا حق ہے۔ عملاً خلیفہ کی حیثیت ایک آمر مطلق کی ہے۔ خود خلیفہ فرماتے ہیں: ”ناظر یعنی (وزراء) بعض دفعہ چلا اٹھتے ہیں کہ ہمارے کام میں رکاوٹیں پیدا کی جا رہی ہیں۔“

(الفضل مورخہ ٢٧؍ اپریل ١٩٣٨ء)

صدر انجمن احمدیہ

”ہر صوبہ میں ایک انجمن ہوتی ہے۔ یہ انجمن ضلعوں کی انجمنوں پر مشتمل ہوتی ہے۔ ہر ضلع کی انجمن تحصیلوں کی انجمنوں پر مشتمل ہوتی ہے۔ ان کی حد بندی صدر انجمن متعلقہ انجمنوں کے مشورہ کے بعد کرتی ہے۔“

(الفضل مورخہ ٢؍ اگست ١٩٤٩ء)

١٨

٨٧

اغراض

اس انجمن کے اغراض میں وہ سب کام جاتے ہیں یا آئندہ کئے جائیں۔

اراکین

تمام صیغہ جات سلسلہ کے ناظر اور قرا انجمن کا زائد ممبر مقرر کیا جائے۔ ناظر سے مراد سلسلہ وقت نے ناظر کے نام سے مقرر کیا ہے۔

تقرر، علیحدگی ممبران صدر انجمن

خلیفہ وقت کی ہدایت کے ماتحت ممبران

اندرونی انتظام

صدر انجمن کے فیصلے کثرت رائے س ہے۔ اس انجمن کے صدر اس وقت خلیفہ کے بھ ہیں۔ اس وقت ربوہ میں صدر انجمن احمدیہ کی ظ درج ذیل ہے۔

ناظر اعلیٰ

نگرانی ہوگی اور وہ خلیفہ اور صدر انجمن احمدیہ یعنی

پولیس اور حکومت سے روابط قائم کرنا اس محکمہ کا ک

کارروائیاں اور سیاسی گٹھ جوڑ)

صفحہ ٤٨٧

اغراض

اس انجمن کے اغراض میں وہ سب کام شامل ہیں جو خلفاء سلسلہ کی طرف سے سپرد کئے جاتے ہیں یا آئندہ کئے جائیں۔

اراکین

تمام صیغہ جات سلسلہ کے ناظر اور تمام اصحاب جنہیں خلیفہ وقت کی طرف سے صدر انجمن کا زائد ممبر مقرر کیا جائے۔ ناظر سے مراد سلسلہ کے ہر مرکزی صیغہ کا وہ افسر اعلیٰ ہے جسے خلیفہ وقت نے ناظر کے نام سے مقرر کیا ہے۔

تقرر، علیحدگی ممبران صدر انجمن

خلیفہ وقت کی ہدایت کے ماتحت ممبران صدر انجمن کا تقرر اور علیحدگی عمل میں آتی ہے۔

اندرونی انتظام

.. صدر انجمن کے فیصلے کثرت رائے سے ہوتے ہیں۔ لیکن ان کا صدر ان کو ویٹو کر سکتا ہے۔ اس انجمن کے صدر اس وقت خلیفہ کے بڑے بیٹے مرزا ناصر احمد پرنسپل ٹی آئی کالج ربوہ ہیں۔ اس وقت ربوہ میں صدر انجمن احمدیہ کی جو نظارتیں (وزارتیں) قائم ہیں ان کا ایک خاکہ درج ذیل ہے۔

ناظر اعلیٰ

نگرانی ہوگی اور وہ خلیفہ اور صدر انجمن احمدیہ یعنی کابینہ کے درمیان واسطہ ہوگا۔

پولیس اور حکومت سے روابط قائم کرنا اس محکمہ کا کام ہے )

کارروائیاں اور سیاسی گٹھ جوڑ)

١٩

صفحہ ٤٨٨

حفاظت کا بندوبست)

اختیارات و فرائض ناظران

ناظران کے اختیارات و فرائض وقتاً فوقتاً خلیفہ کی طرف سے تفویض ہوتے رہتے ہیں۔ ناظروں کی تعداد خلیفہ کی طرف سے مقرر ہوتی ہے۔ صدر انجمن کے تمام فرائض وہی ہیں جو خلیفہ کی طرف سے تفویض ہیں۔ جنہیں وہ خلیفہ کی قائم مقامی کے طور پر ادا کرتی ہے۔ تمام ماتحت مجالس خواہ مرکزی ہو یا مقامی۔ قواعد کا نفاذ، خلیفہ کی منظوری کے بعد ہوتا ہے۔ بجٹ خلیفہ کی منظوری سے طے اور اس کی منظوری سے جاری ہوتا ہے۔ صدر انجمن کے ہر فیصلے کے خلاف بتوسط صدر انجمن خلیفہ کے پاس اپیل ہوتی ہے۔ ہر ایک معاملہ میں صدر انجمن کا اس کی ماتحت مجالس اور تمام مقامی انجمنوں کے لئے حکم قطعی اور ناطق ہوتا ہے۔ قواعد اساسی اور ان کے متعلق نوٹوں میں تغیر وتبدل صرف خلیفہ کی منظوری سے ہوسکتا ہے۔ اپنے قواعد و ضوابط میں جو خلیفہ نے تجویز کئے ہوں صدر انجمن تبدیلی نہیں کرسکتی۔ صدر انجمن کو یہ اختیار حاصل نہیں کہ وہ کوئی ایسا قاعدہ یا حکم جاری کرے جو خلیفہ کے کسی حکم کے خلاف ہو یا جس سے خلیفہ کی مقرر کردہ پالیسی میں کوئی تبدیلی آتی ہو۔ ناظروں اور مفتی کا سلسلہ تقرر و ترقی وتنزل و تبدیلی و برطرفی وغیرہ صرف خلیفہ کے اختیار میں ہے۔ صدر انجمن کو سلسلہ کی جائیداد غیر منقولہ کی فروخت ، ہبہ، رہن وتبدیل کرنے کا بغیر منظوری خلیفہ ربوہ اختیار نہیں اور خلیفہ ربوہ ہی ناظر اعلیٰ کا قائم مقام مقرر کرتا ہے۔ ناظران اور افسران صیغہ جات کے کام کی ہفتہ وار رپورٹ خلیفہ ربوہ کی خدمت میں پیش کرے۔ ناظر اعلیٰ کا یہ فرض ہے کہ خلیفہ کی تحریری وتقریری ہدایات کے علاوہ ان کے تمام خطبات وتقاریر وغیرہ میں جو احکام وہدایات جماعت کے نظام کے متعلق ہوں ان کی تعمیل کروائے۔ اسی طرح قاعدہ ہے کہ جب کوئی ناظر بحیثیت ناظر کسی جگہ جائے تو جماعت کا فرض ہے کہ اس کا استقبال کرے اور اس کا مناسب اعزاز کرے۔ مذکورہ بالا تمام کوائف، قواعد صدر انجمن طبع شدہ سے لئے گئے ہیں۔

٢٠

صفحہ ٤٨٩

عدلیہ

انتظامیہ کے علاوہ خلیفہ کے ہاں ایک مربوط عدلیہ بھی ہے۔ خلیفہ خود آخری عدالت ہیں اور وہ خود ہی ناظم قضا یا رجسٹرار مقرر کرتے ہیں اور اس کا عزل اور ترقی بھی خود ان ہی کے ہاتھ میں ہے۔

ربوہ سپریم کورٹ کے جج یا اپیل بورڈ کے ممبران کی نامزدگی بھی خلیفہ خود کرتے ہیں اور وہ جس مرحلہ پر چاہیں مقدمہ کی مسل اپنے ملاحظہ کے لئے طلب کر لیتے ہیں اور جس جج کو چاہیں مقدمہ سننے کا نااہل قرار دے دیتے ہیں۔ ایسے مقدمات میں جو وکیل پیش ہوتے ہیں، انہیں ناظم ہٰذا سے باقاعدہ اجازت نامہ دیا جاتا ہے۔ اس کے بغیر خلیفہ کی عدالتوں میں کسی وکیل کو حکومت کے اجازت نامہ کے باوجود پیش ہونے کا حق نہیں دیا۔ خلیفہ کا یہی ناظم قضا یا رجسٹرار مقدمہ مختلف قاضیوں کے سپرد کرتا ہے اور فیصلوں کی نقول مہیا کرنے پر جو آمدنی ہوتی ہے اس کو داخل خزانہ کرنے کا بھی ذمہ دار ہے۔ سلسلہ احمدیہ کے فرائض دربارہ قضا اور فیصلہ تنازعات کی ادائیگی کے لئے یہی محکمہ قضا ہے۔ اس میں ناظم قضا کا یہ کام بھی ہوتا ہے کہ احمدیوں کے تنازعات کے فیصلوں کے لئے مناسب انتظام کرے۔ اس کو حسب ضرورت خلیفہ کے ایماء سے قاضی اور قاضی القضاء مقرر کرنے کا اختیار ہے۔ آخری اپیل خلیفہ کے پاس ہوتی ہے۔

(الفضل مورخہ ٦ جنوری ١٩٣١ء)

قاضی سلسلہ سمن جاری کرنے کا مجاز ہے۔ نوٹس بھی دیتا ہے ڈگریوں کا اجراء بھی کرایا جاتا ہے۔ یک طرفہ اور ضابطہ کی کارروائیاں بھی یہاں ہوتی ہیں۔ مثال ملاحظہ ہو: نوٹس: بنام شیخ منظور احمد۔ مدعی: مستری بدرالدین معمار ساکن قادیان۔ بنام: شیخ منظور احمد ولد شیخ محمد حسین مرحوم۔ دعویٰ: اجراء ڈگری مبلغ پینسٹھ روپے دو آنے۔

مقدمہ مندرجہ عنوان میں محکمہ قضا نے ٤ اگست ١٩٣٣ء کو یک طرفہ ڈگری پینسٹھ روپے دو آنے کی دی تھی۔ مدعی نے امور عامہ میں اجراء ڈگری کی درخواست ١٤ اگست ١٩٣٣ء کو دی۔ لہٰذا آپ کو بذریعہ اخبار نوٹس دیا جاتا ہے کہ مندرجہ بالا ٢٤ نومبر ١٩٣٣ء تک دفتر امور عامہ میں جمع کرا دیں تو بہتر ورنہ آپ کے خلاف ضابطہ کی کارروائی عمل میں لائی جاوے گی۔

(الفضل مورخہ ١٩ دسمبر ١٩٣٣ء)

٢١

صفحہ ٤٩٠

اب سمن کے بارہ میں سنئے: ”ملک عبدالحمید صاحب ولد غلام حسین محلہ دارالرحمت قادیان کے خلاف چند مقدمات برائے ڈگری دائر ہیں۔ کئی دفعہ ان کے نام علیحدہ علیحدہ مقدمات میں سمن جاری کئے گئے ہیں۔ مگر وہ حیل سے پہلو تہی کرتے ہیں۔ چنانچہ یکم نومبر ١٩٣٣ء کو ایک سمن اگلے روز کی حاضری کے لئے جاری کیا گیا۔ اس پر ملک عبدالحمید نے عذر کیا، میں ١٥ یوم کے لئے باہر جارہا ہوں۔ لہٰذا مجبور ہوں۔ اس پر اسی وقت ان کو اطلاع بھیجی گئی کہ آپ کو اس سمن کی اطلاع یابی کے بعد باہر جانے کی اجازت نہیں۔ بلکہ اس سمن کی تعمیل واجب ہے۔ اگر واقعی آپ کو کوئی اتنا اشد ضروری کام ہے جو رک نہیں سکتا تو آپ کو لازم ہے کہ درخواست پیش کر کے عدم حاضری کی اجازت حاصل کریں....... لہٰذا ان کو بذریعہ اخبار اطلاع دی جاتی ہے کہ اگر وہ اس اعلان کی تاریخ سے دس روز کے اندر اندر دفتر امور عامہ میں حاضر نہ ہوئے تو سخت نوٹس لیا جائے گا۔“ (ناظر امور عامہ)

(الفضل مورخہ ٩؍ دسمبر ١٩٣٣ء)

خلیفہ کا عسکری نظام

اپنی ریاست ربوہ کی فوجی ضروریات کی تکمیل کا ابتدائی بندوبست تو خلیفہ نے یہ کیا کہ ایک رویا کا سہارا لے کر جماعت کو تلقین کی: ”میری فوریل فوج میں بھرتی جماعت کے لئے نہایت ضروری اور مفید ہے اور مجھے اللہ تعالیٰ نے بتایا ہے کہ یہ کام آئندہ جماعت کے لئے بابرکت ہوگا۔“

(الفضل مورخہ ١١؍ اکتوبر ١٩٣٩ء)

بار بار جماعت کے نوجوان طبقہ کو یہ بھی تحریک کی جاتی تھی ۔ ”احمدی نوجوانوں کو چاہئے کہ ان میں سے جو بھی شہری میری فوریل فورس میں شامل ہو سکتے ہیں، شامل ہو کر فوجی تربیت حاصل کریں۔“

(الفضل مورخہ ٨؍ مارچ ١٩٣٩ء)

اس کے بعد اپنی مستقل فوجی تنظیم ضروری قرار دی گئی: ”جیسا کہ پہلے ہی اعلان کیا جاچکا ہے۔ یکم ستمبر ١٩٣٣ء سے قادیان میں فوجی تربیت کے لئے ایک کلاس کھولی جائے گی جس میں بیرونی جماعتوں کے نوجوانوں کی شمولیت نہایت ضروری ہے۔ ہندوستان میں حالات جس سرعت کے ساتھ تغیر پذیر ہورہے ہیں۔ ان کا تقاضا ہے کہ مسلمان جلد از جلد اپنی فوجی تنظیم کی طرف متوجہ ہوں اور خاص کر جماعت احمدیہ ایک لمحہ کے لئے بھی اس میں توقف نہ کرے اور یہ اس طرح ممکن ہے کہ ہر مقام کے نوجوان پہلے خود فوجی سکھلائی کریں۔ پھر اپنے اپنے مقام پر

٢٢

دوسرے نوجوانوں کو سکھلائیں اور ان ک ہوسکیں۔“

”صدر انجمن نے یہ فیصلہ کیا ہ اور مہینہ میں کم سے کم ایک دن اپنے فرائ جماعتوں کے امراء و پریذیڈنٹ بحیثیت عہ جماعتوں کو اپنے ہاں کور کی بھی بھرتی لازم جن میں سے ہر ایک سات آدمیوں پر مشتم چار دستے ہوں گے وہاں ایک پلٹون سمجھی ج بھی ہوگا اور ایک نائب افسر پلٹون مقرر کیا ج مذکورہ بالا افسروں کے علاوہ ایک افسر ک امیر المومنین نے احمدیہ کور کو اپنی سرپرستی م

”حضور کا منشا وارشاد اس تحریک

”یکم ستمبر صبح سات بجے تعلیم آغاز زیر نگرانی حضرت صاحبزادہ کیپٹن مر یہ فوج علاوہ دوسرے کاموں دفعہ مرزا شریف احمد ناظم احمدیہ کور کو بذری دس بجے یا تین بجے بعد دوپہر تشریف فرما احمدیہ اور بہت سے دیگر افراد حسب الحکم سکول کے گراؤنڈ میں جمع ہوگئے۔ جہاں گئے۔ خلیفہ صاحب تشریف لائے۔ فوج اشارے سے فوجی سلام کا جواب دیا۔“

”اس فوج کا اپنا ایک خاص تر اسٹیج بنا کر ایک طرف اللہ اکبر اور دوسری ط

صفحہ ٤٩١

دوسرے نوجوانوں کو سکھلائیں اور ان کی ایسی تنظیم کریں کہ ضرورت کے وقت مفید ثابت ہوسکیں۔“

(الفضل مورخہ ٧؍اگست ١٩٣٢ء)

”صدر انجمن نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ انجمن کے تمام کارکن والنٹیر کور کے ممبر ہوں گے اور مہینہ میں کم سے کم ایک دن اپنے فرائض منصبی کور کی وردی میں ادا کریں گے۔ نیز بیرونی جماعتوں کے امراء و پریذیڈنٹ بحیثیت عہدہ مقامی کور کے افسر اعلیٰ ہوں گے۔ ہر مقام کی احمدی جماعتوں کو اپنے ہاں کور کی بھی بھرتی لازمی ہوگی۔ جہاں کور کے ایک سے تین دستے ہوں گے۔ جن میں سے ہر ایک سات آدمیوں پر مشتمل ہوگا۔ وہاں ہر دستہ کا ایک افسر دستہ مقرر ہوگا اور جہاں چار دستے ہوں گے وہاں ایک پلٹن سمجھی جائے گی جس پر ایک افسر دستہ کے علاوہ ایک افسر پلٹن بھی ہوگا اور ایک نائب افسر پلٹن مقرر کیا جائے گا۔ جہاں چار پلٹنیں ہوں گی وہاں پر پلٹن کے مذکورہ بالا افسروں کے علاوہ ایک افسر کمپنی اور ایک نائب افسر کمپنی بنا دیا جائے گا۔ حضرت امیرالمومنین نے احمدیہ کور کو اپنی سرپرستی کے فخر سے بھی سرفراز کرنا بھی منظور فرمالیا ہے۔“

(الفضل مورخہ ٧؍اگست ١٩٣٢ء)

”حضور کا منشاء و ارشاد اس تحریک کو نہایت باقاعدگی اور عمدگی کا ساتھ چلانے کا تھا۔“

(الفضل یکم ستمبر ١٩٣٢ء)

”یکم ستمبر صبح سات بجے تعلیم الاسلام ہائی سکول کی گراؤنڈ میں احمدیہ کور ٹریننگ کلاس کا آغاز زیر نگرانی حضرت صاحبزادہ کیپٹن مرزا شریف احمد صاحب ہوا۔“

(الفضل مورخہ ٤؍ستمبر ١٩٣٢ء)

یہ فوج علاوہ دوسرے کاموں کے اپنے سربراہ کی سلامی بھی اتارا کرتی تھی۔ چنانچہ ایک دفعہ مرزا شریف احمد ناظم احمدیہ کور کو بذریعہ تار خبر موصول ہوئی کہ: ”خلیفہ کا کیمپ ٣١؍اکتوبر ١٩٣٢ء صبح دس بجے یا تین بجے بعد دوپہر تشریف فرمائے دارالامان ہوں گے۔ احمدیہ کور کارکنان صدر انجمن احمدیہ اور بہت سے دیگر افراد حسب الحکم حضرت میاں شریف احمد کور کی وردی میں ملبوس ہو کر ہائی سکول کے گراؤنڈ میں جمع ہو گئے۔ جہاں سے مارچ کرا کر بٹالہ والی سڑک پر کھڑے کر دیئے گئے۔ خلیفہ صاحب تشریف لائے۔ فوج نے فوجی طریقہ پر سلامی اتاری۔ حضور نے ہاتھ کے اشارے سے فوجی سلام کا جواب دیا۔“

(الفضل مورخہ ١٤؍اکتوبر ١٩٣٢ء)

”اس فوج کا اپنا ایک خاص جھنڈا بھی تھا جو سبز رنگ کے کپڑے کا تھا اور اس پر منارۃ المسیح بنا کر ایک طرف اللہ اکبر اور دوسری طرف عباداللہ لکھا ہوا تھا۔ جو اس فوج کا اصلی نام تھا۔ یہی

٢٣

صفحہ ٤٩٢

وہ فوج تھی جو Camp وغیرہ کرنے دریائے بیاس کے کنارے بھی بھیجی گئی تھی۔“

(الفضل مورخہ ١٤ اکتوبر ١٩٣٣ء)

یادرہے دریائے بیاس کا ہی وہ رنگین اور پر بہار کنارہ تھا جہاں خلیفہ اپنی مستورات اور دیگر نامحرم لڑکیوں کو لے جا کر چاند ماری کی مشق کرایا کرتے تھے۔

جبری بھرتی

اس فوج کے لئے خلیفہ نے جبری بھرتی کا اصول اختیار فرمایا تھا: ”میں ایک دفعہ امور عامہ کو توجہ دلاتا ہوں...... کہ میرا فیصلہ یہ ہے کہ پندرہ سال کی عمر سے لے کر پینتیس سال کی عمر تک کے تمام نوجوانوں کو اس میں جبری طور پر بھرتی کیا جائے۔“

(الفضل مورخہ ١٥ اکتوبر ١٩٣٣ء)

اس فوج کی باقیات الصالحات تھی۔ جس کے باوردی والنٹیرز نے سر ڈگلس ینگ جو اس وقت پنجاب ہائی کورٹ کے چیف جسٹس تھے کا استقبال کیا تھا۔ (الفضل مورخہ ٦؍ اپریل ١٩٣٩ء) اور لاہور جا کر پنڈت جواہر لال نہرو کو بھی سلامی دی تھی۔

ابتداء میں ناظر امور عامہ نے اس فوج کی کمان سنبھالی تھی۔ لیکن جلد ہی خلیفہ کی بارگاہ سے اس بارہ میں سرزنش آ گئی: ”کمانڈر انچیف اور وزارت کا عہدہ کبھی بھی اکٹھا نہیں ہوا۔“

(الفضل مورخہ ٥؍ اپریل ١٩٣٢ء)

اس فوجی تنظیم کے بروقت قیام پر خلیفہ کو اتنا ناز تھا کہ سرکاری گزٹ الفضل نے ایک موقعہ پر لکھا کہ: ”حضور نے احمدیہ کور کی جو سکیم آج سے تقریباً پانچ سال پہلے تجویز فرمائی تھی اس کی اہمیت اور افادیت کا اندازہ اس سے ہو سکتا ہے کہ عام اقوام تو الگ رہیں اس وقت بعض بڑی بڑی حکومتیں بھی اپنی قوت مدافعت میں اضافہ کرنے کے لئے بعض ایسے احکام نافذ کر رہی ہیں کہ جو اس تحریک کے اجزاء ہیں۔“

(الفضل مورخہ ١٢ اگست ١٩٣٩ء)

اگر قادیانی خلافت کا مقصد محض روحانی اور اشاعت اسلام تھا تو اس مقدس مقصد کے لئے تصنیفی، تالیفی اور اشاعتی ادارے قائم ہوتے نہ کہ فوجی تربیت پر زور دیا جاتا اور اس کے لئے ایک باقاعدہ عسکری نظام قائم کیا جاتا۔ اصل میں خلیفہ کے لاشعور میں بادشاہ بننے کی آرزوئیں انگڑائیاں لے رہی تھیں۔ اشاعت اسلام کا نعرہ محض دھوکے کی ٹٹی تھی۔ کیونکہ قادیانی عوام کالانعام سے روپیہ وصول کرنے کا اور کوئی طریق نہیں تھا۔ اسلام کے نام پر حاصل کیا ہوا روپیہ ہوس اقتدار کی تسکین پر صرف ہو جاتا۔ یہ طرز عمل نہ صرف ان کی نیت اور ارادے کی غمازی کرتا ہے۔ بلکہ ان کے سیاسی منصوبوں کو بھی طشت از بام کرتا ہے۔ اپنے عسکری مقاصد کے حصول کے لئے خدام ٢٤

الاحمدیہ قائم کی گئی۔ اس کا باقاعدہ ایک پر الاحمدیہ میں داخل ہونا اور اس کے مقررہ قوان

یہ تنظیم مع پرچم اب بھی موجود کے لئے جو خدام الاحمدیہ کے ہیں پینشن لی برادران کسی فوج میں ملازم ہیں۔ خواہ وہ ک

اسی طرح جماعت کو یہ حکم دیا ک لائسنس حاصل کریں اور جہاں تلوار رکھنے کی اج

امن پسندانہ اشاعت اسلام کی فوجی تنظیم تھی۔ برصغیر کا ہر احمدی باشندہ عم ٹیر یٹوریل فورس میں انگریزی حکومت کی رجمنٹ میں احمدیہ کمپنیوں کا ہونا اور تمام احم کے لئے تھا؟ سندھ میں حُر تحریک احمدیہ کپ گئی۔ تقسیم ملک کے بعد سیالکوٹ، جموں، طور پر کیوں پہنچ گئے اور ان کو دھڑا دھڑ اسل میں کیوں کھڑی کی گئی اور خلیفہ نے اپنی جما اس فوج کو استعمال کرنے کے آسان بات نہیں۔ مگر انڈین یونین چاہے ہم نے وہ مقام لینا ہے اور ضرور لینا ہے۔ تب بھی ضروری ہے کہ آج ہی سے ہر احمدی

اب اس اقتباس کو ملاحظہ فرما بڑی حکومت ہے اس کے ساتھ جنگ کر کے بنیادی عناصر سے اس کے ase ١٣؍ اگست ١٩٤٨ء کو جب کہ پاکستان قائم

صفحہ ٤٩٣

الاحمدیہ قائم کی گئی۔ اس کا باقاعدہ ایک پرچم بنایا گیا۔ اس کے متعلق خلیفہ فرماتے ہیں: ”خدام الاحمدیہ میں داخل ہونا اور اس کے مقررہ قواعد کے ماتحت کام کرنا ایک اسلامی فوج تیار کرنا ہے۔“

(الفضل مورخہ ٧؍اپریل ١٩٣٩ء)

یہ تنظیم مع پرچم اب بھی موجود ہے۔ پھر خلیفہ فرماتے ہیں: ”میں نے ان ہی مقاصد کے لئے جو خدام الاحمدیہ کے ہیں نیشنل لیگ کو تیار کرنے کی اجازت دی تھی۔ پھر جس قدر احمدی برادران کسی فوج میں ملازم ہیں۔ خواہ وہ کسی حیثیت میں ہوں ان کی فہرستیں تیار کروائی جائیں۔“

(الفضل مورخہ ١٠؍اپریل ١٩٣٨ء)

اسی طرح جماعت کو یہ حکم دیا کہ: ”جو احباب بندوق کا لائسنس حاصل کر سکتے ہیں وہ لائسنس حاصل کریں اور جہاں تلوار رکھنے کی اجازت ہے وہ تلوار رکھیں۔“

(الفضل مورخہ ٢٢؍جولائی ١٩٣٠ء)

امن پسندانہ اشاعت اسلام کی دعویدار جماعت کی قادیان میں احمدیہ کور ایک خالص فوجی تنظیم تھی۔ برعظیم کا ہر احمدی باشندہ عمر ١٥ سال سے ٤٠ سال تک اس کا جبری ممبر بنایا گیا۔ ٹیریٹوریل فورس میں انگریزی حکومت کی طرف سے فوجی تربیت سکھلائے۔ پھر ٨/١٥ پنجاب رجمنٹ میں احمدیہ کمپنیوں کا ہونا اور تمام احمدی جوانوں کو فوج میں بھرتی ہو جانے کا حکم کن مقاصد کے لئے تھا؟ سندھ میں حُر تحریک احمدیہ کمپنیوں کے فوجیوں کے گولہ بارود سے ہی کیوں کچل دی گئی۔ تقسیم ملک کے بعد سیالکوٹ، جموں، سرحد پر ان ہی احمدیہ کمپنیوں کے ریلیز شدہ سپاہی منظم طور پر کیوں پہنچ گئے اور ان کو دھڑا دھڑ اسلحہ کہاں سے ملتا رہا؟ فرقان فورس احمدیوں کی فوج کشمیر میں کیوں کھڑی کی گئی اور خلیفہ نے اپنی جماعت کی فوجی تنظیم اور محاذ جنگ کا خود ملاحظہ کیونکر کیا؟

اس فوج کو استعمال کرنے کے لئے خلیفہ فرماتے ہیں: ”انڈین یونین کا مقابلہ کوئی آسان بات نہیں۔ مگر انڈین یونین چاہے صلح سے ہمارا مرکز ہمیں دے، چاہے جنگ سے دے۔ ہم نے وہ مقام لینا ہے اور ضرور لینا ہے۔ اگر جنگ کے ساتھ ہمارے مرکز کی واپسی مقدر ہے۔ تب بھی ضروری ہے کہ آج ہی سے ہر احمدی اپنی جان قربان کرنے کے لئے تیار رہے۔“

(الفضل مورخہ ٣٠؍اپریل ١٩٤٨ء)

اب اس اقتباس کو ملاحظہ فرمائیے کہ کس طرح خلیفہ ربوہ انڈین یونین جو ایک بہت بڑی حکومت ہے اس کے ساتھ جنگ کرنے کے لئے کس طرح تیار ہو رہے ہیں۔ نیز کسی حکومت کے بنیادی عناصر سے اس کے Base مرکز اور دارالخلافہ کا مسئلہ بھی ہے اور خلیفہ نے ١٣؍اگست ١٩٤٨ء کو جب کہ پاکستان قائم ہوئے ابھی سال بھی نہیں گزرا تھا اپنے عزائم حشریہ پر

٢٥

صفحہ ٤٩٤

ایک ہیجان خیز خطبہ دیا اور فرمایا: ”یاد رکھو تبلیغ اس وقت تک کامیاب نہیں ہو سکتی۔ جب تک ہماری Base مضبوط نہ ہو پہلے Base مضبوط ہو تو تبلیغ مضبوط ہو سکتی ہے ...... بلوچستان کو احمدی بنایا جائے تا کہ ہم کم از کم ایک صوبہ کو تو اپنا کہہ سکیں ...... میں جانتا ہوں کہ اب یہ صوبہ ہمارے ہاتھوں میں سے نکل نہیں سکتا۔ یہ ہمارا ہی شکار ہوگا۔ دنیا کی ساری قومیں مل کر بھی ہم سے یہ علاقہ چھین نہیں سکتیں۔“

(الفضل مورخہ ١٣؍ اگست ١٩٤٨ء)

یہ واقعہ اخبارات میں آ چکا ہے۔ لیکن بہت کم لوگ اس حقیقت سے آگاہ ہوں گے کہ خلیفہ کا یہ عسکری پلان بہت پرانا ہے۔ تقسیم ملک سے پہلے آپ کی نظر ضلع گورداسپور پر تھی۔ یہ داستان خلیفہ کی زبان سے سنئے: ”گورداسپور کے متعلق میں نے غور کیا ہے اگر ہم پورے زور سے کام کریں تو ایک سال میں فتح کر سکتے ہیں ...... اس وقت ڈائنامیٹ رکھا جا چکا ہے اور قریب ہے کہ مخالفت کا قلعہ اڑا دیا جائے۔ اب صرف دیا سلائی دکھانے کی دیر ہے۔ جب دیا سلائی دکھائی گئی۔ قلعہ کی دیوار پھٹ جائے گی اور ہم داخل ہو جائیں گے ۔“

(الفضل مورخہ ١٢؍ مارچ ١٩٤١ء)

پھر فرماتے ہیں: ”مردم شماری کے دنوں میں گورنمنٹ بھی جبراً لوگوں کو اس کام پر لگا سکتی ہے۔ اگر کوئی انکار کرے تو سزا کا مستوجب ہوتا ہے۔ پس میں بھی ناظروں کو حکم دیتا ہوں کہ جسے چاہیں مدد کے لئے پکڑ لیں۔ مگر کسی کو انکار کا حق نہ ہوگا اور اگر کوئی انکار کرے تو میرے پاس اس کی رپورٹ کریں۔“

(الفضل مورخہ ١٢؍ جون ١٩٢٢ء)

انہی مقاصد کے پیش نظر قادیان اور ماحول قادیان کا نقشہ بھی تیار کروایا گیا: ”ایک تو جماعت کو اس طرف توجہ دلاتا ہوں کہ اور نہیں تو اس ضلع (گورداسپور) کو تو اپنا ہم خیال بنالیں۔ احمدیوں کے پاس کوئی ایسی جگہ نہیں جہاں وہ ہی ہوں اور دوسروں کا کچھ اثر نہ ہو ...... احمدیوں کے پاس ایک چھوٹے سے چھوٹا ٹکڑا بھی نہیں ہے۔ جہاں احمدی ہی احمدی ہوں۔ کم از کم ایک علاقہ کو مرکز بنالو اور جب تک اپنا مرکز نہ ہو، جس میں کوئی غیر نہ ہو۔ اس وقت تک تم مطلب کے مطابق امور جاری نہیں کر سکتے۔ ایسا علاقہ اس وقت تک ہمیں نصیب نہیں ہوا۔ جو خواہ چھوٹے سے چھوٹا ہو مگر اس میں غیر نہ ہوں۔ جب تک یہ نہ ہو اس وقت تک ہمارا کام بہت مشکل ہے۔“

(الفضل مورخہ ١٢؍ جون ١٩٢٢ء)

یہ ہے وہ کام جو خلیفہ کے ذہن پر مسلط ہے۔ کیا خالص دینی مہمات کی سرانجام دہی کے لئے ان کو ایسے علاقے مطلوب ہیں۔ خواہ بڑے پیمانے پر خواہ چھوٹے پیمانے پر کچھ علاقے ہوں جو بلا شرکت غیر کلیتہً ان کی ملکیت ہوں۔ کیا حضرت محمد مصطفےٰ ﷺ نے اپنے لئے ایسے صدر

٢٦

صفحہ ٤٩٥

مقام کی تلاش کی تھی جس میں کوئی غیر نہ ہو۔ جہاں سے وہ تبلیغ اسلام کے کام کو جاری رکھ سکیں۔ پس یہ کام جس کی تکمیل کے خلیفہ متمنی تھے کہ ان کو ایسی جگہ مل جائے جہاں وہ ہی ہوں ان کا قانون وہاں چل سکے اور اپنی ریاست کا قیام عمل میں لایا جاسکے اور قادیان میں بھی اس لحاظ سے کامیابی کا حصول اپنے لئے مشکل سمجھتے تھے۔ مگر ربوہ میں ان کو یہ بات میسر آ گئی ہے وہ یہ ریاست اپنی پوری شان سے قائم کر چکے ہیں۔ کیونکہ اس میں سوائے ان کے قادیانی مریدوں کے اور کوئی آباد نہیں۔ پاکستان میں صرف ایک حصہ ہے جس میں ایک ہی فرقے کے لوگ بستے ہیں اور وہ ایک آہنی تنظیم میں جکڑے ہوئے ہیں۔ ظاہر ہے ملک کا قانون ان کے لئے حرف غلط سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتا۔ ایسی آئین سوز کیفیت کو مدنظر رکھتے ہوئے صوبائی پریس ایک عرصہ سے یہ مطالبہ کر رہا ہے کہ ربوہ کو کھلا شہر قرار دیا جائے۔ یعنی اس میں دوسرے لوگ ایک عمرانی منصوبے کے ماتحت بسائے جائیں۔ تاکہ محمودی آمریت قانون کے رستے میں حائل نہ ہو سکے۔ لیکن ابھی تک یہ مطالبہ صدا بصحرا ثابت ہو رہا ہے۔

نظام بینکاری

ربوہ میں سٹیٹ بینک آف پاکستان کے بالمقابل مرزا محمود کی زیر نگرانی ایک غیر منظور شدہ بینک بھی جاری ہے۔ جسے خلیفہ کی خود ساختہ اصطلاح میں امانت فنڈ کہا جاتا ہے۔ ربوہ کے اس جعلی بینک کی طرف سے باقاعدہ چیک بک اور پاس بک بھی جاری کی جاتی ہے۔ جن کا ڈیزائن عام مروجہ بینکوں کی چیک بکوں اور پاس بکوں سے ملتا جلتا ہے۔ سطحی نظر سے کوئی شخص ان کے متعلق یہ گمان نہیں کر سکتا کہ یہ چیک بک یا پاس بک کسی جعلی اور گورنمنٹ کے غیر منظور شدہ بینک کی ہے۔ اس بینک کے متعلق بعض اعلانات پڑھئے ”چالیس سال سے قائم شدہ صیغہ امانت صدر انجمن احمدیہ اس صیغہ کو حضرت امیر المومنین خلیفۃ المسیح ایدہ اللہ کی بابرکت سرپرستی کے علاوہ بفضلہ تعالیٰ اس وقت مشہور انگلش بینک سے تربیت یافتہ ٹرینڈ اور مخلص نوجوانوں کی خدمات حاصل ہیں۔ آپ کا یہ قومی امانت فنڈ اس وقت خدا کے فضل و رحم سے ملکی بینکوں کے دوش بدوش اپنے حساب داران امانت کی خدمت پورے اخلاص اور محنت سے سرانجام دے رہا ہے۔ تقسیم ملک کے بعد اس صیغہ نے جو شاندار خدمات سرانجام دی ہیں۔ وہ بھی آپ سے پوشیدہ نہیں۔ اس لئے اب آپ کو اپنا فالتو روپیہ ہمیشہ صیغہ امانت صدر انجمن احمدیہ میں ہی جمع کروانا چاہئے۔“

(الفضل مورخہ ١٩؍مارچ ١٩٥٧ء)

٢٧

صفحہ ٤٩٦

”کیا آپ کو علم ہے کہ صدر انجمن احمدیہ پاکستان کے خزانہ میں احباب اپنی امانت ذاتی کا حساب کھول سکتے ہیں اور جو روپیہ اس طرح پر جمع ہو وہ حسب ضرورت جس وقت بھی حساب دار چاہے واپس لے سکتا ہے۔ جو روپیہ احباب کے پاس بیاہ، شادی، تعمیر، مکان، بچوں کی تعلیم یا کسی اور ایسی ہی غرض کے لئے جمع ہو اس کو بجائے ڈاکخانہ یا دوسرے بینکوں میں رکھنے کے خزانہ صدر انجمن احمدیہ میں جمع کرانا چاہئے ۔“

(الفضل مورخہ ١٠؍ فروری ١٩٣٨ء)

ملاحظہ ہو کسی طرح کھلم کھلا گورنمنٹ کے ڈاکخانوں میں روپیہ جمع کرنے سے لوگوں کو روکا گیا۔ ہمارے خیال میں کسی بڑے سے بڑے بینک نے بھی یہ جرأت نہیں کی ہوگی کہ وہ لوگوں کو یہ تلقین کرے کہ ڈاکخانہ میں رقم جمع نہ کروائی جائیں۔

یہ بینک خلیفہ کی ریاست کو بوقت ضرورت روپیہ مہیا کرتا ہے۔ خود خلیفہ اور ان کے عزیزوں کو Over Draft کے ذریعہ متعدد بار رقمیں مہیا کر چکا ہے۔ اس وقت خلیفہ اور ان کا خاندان اسی بینک سے مبلغ سات لاکھ روپے کی رقم لے چکے ہیں۔ اسی بینک کی سیاسی افادیت کا حال بھی خلیفہ کی زبانی سنئے: ”اس کے علاوہ اس کے ذریعہ احرار کو خطرناک شکست ہوئی۔“

(الفضل مورخہ ١٣؍ جنوری ١٩٣٧ء)

نیز فرمایا: ”اگر اس بارہ سال تک ہماری جماعت کے لوگ اپنے نفسوں پر زور ڈال کر اس میں روپیہ جمع کرواتے رہیں تو خدا تعالیٰ کے فضل سے قادیان ...... اور اس کے گردو نواح میں ہماری جماعت کی مخالفت ٩٥ فیصد کم ہو جائے۔“

(الفضل ١٣؍ جنوری ١٩٣٧ء)

پس کس طرح قادیان اور اس کے ماحول کو سنبھالنے کی اس بینک کے ذریعہ تجاویز مرتب کی گئیں اور پھر کس طرح احرار کو اسی بینک کی طاقت سے شکست دی گئی۔ کیا یہی بینک کل کسی اور کو شکست دینے کے لئے استعمال نہیں کیا جائے گا۔ کیونکہ خلیفہ خود فرماتے ہیں: ”ہم اس روپیہ سے تمام وہ کام کر سکتے ہیں جو حکومتیں کیا کرتی ہیں۔“

(الفضل مورخہ ١٠؍ فروری ١٩٣٨ء)

اور پھر بالفاظ خلیفہ صاحب: ”میں اس مد (امانت تحریک) کی تفصیلات کو بیان نہیں کر سکتا۔“

(الفضل مورخہ ١٣؍ جنوری ١٩٣٧ء)

اگر گویم زبان سوزد: ”اور یہ بھی یاد رکھئے کہ امانت فنڈ کی تحریک الہامی تحریک ہے۔“

(الفضل مورخہ ١٨؍ فروری ١٩٣٧ء)

صیغہ امانت بینک ہے۔ لیکن بینک کی سی کوئی ذمہ داری اس پر عائد نہیں ہوتی ہے۔ لیکن یہ ایسا بینک ہے جس کا نام امانت فنڈ ہے جو اگر ضائع ہو جائے تو امین اس کا شرعاً ذمہ دار نہیں

٢٨

ہوتا۔ صیغہ امانت میں گورنمنٹ دلاتے ہیں کہ وہ بھی اس ٹولہ اور وہ تمام لوگ جو گورنمنٹ ٹیکس منظر عام پر آجائیں گے اور گورنمنٹ ان کے متعلق تمام کوائف طشت از بام کوئی بینک بیٹھ جائے تو کتنے لوگ ملک میں کہرام مچ گیا تھا۔ بینک جن کا روپیہ اس میں امانت پڑا تدبیری اور بڑھتے ہوئے اخراجات سے قرض کے نام پر نکلوائی ہوئی امر ہے تو امانت والوں کا کیا بنے ہے۔ حکومت کو اس حقیقت سے باعث شدید مالی بحران کا شکار ١٨ لاکھ روپے کی گراں قدر رقم کر دیا جائے تو حکومت کو خود اور اثاثہ اس کے بالمقابل برائے

مخفی اخراجات

حکومت کو بعض اوقات کے ریاستی بجٹ میں بھی یہ مد جس کے اخراجات مخفی ہوتے ہیں مد میں سے جو بعض دفعہ کثیر خرچ ہوئے ہیں۔“

آمرانہ حکومتوں مطابق ہے۔ بلکہ وہاں افکار

صفحہ ٤٩٧

ہوتا۔ صیغہ امانت میں گورنمنٹ کے افسروں کے کھاتے کھلے ہیں ہم محکمہ انکم ٹیکس والوں کو بھی توجہ دلاتے ہیں کہ وہ بھی اس ڈیلنگ کی چھان بین کرے۔ انہیں بڑی مفید معلومات حاصل ہوں گی اور وہ تمام لوگ جو گورنمنٹ ٹیکسوں سے بچنے کے لئے بینکوں کی بجائے یہاں روپیہ رکھتے ہیں۔ منظر عام پر آ جائیں گے اور گورنمنٹ ملازم جن کے لئے اپنی مالی پوزیشن کو صاف رکھنا ضروری ہے ان کے متعلق تمام کوائف طشت از بام ہو جائیں گے۔ بینکاری کا معاملہ بڑا سنگین معاملہ ہے۔ اگر کوئی بینک بیٹھ جائے تو کتنے لوگ برباد ہو جاتے ہیں۔ پیپلز بینک جب دیوالیہ ہوا تھا تو کس طرح ملک میں کہرام مچ گیا تھا۔ بینک تو بند ہو گیا مگر ان بیواؤں اور یتیموں کا رونا کسی طرح بند نہ ہوا۔ جن کا روپیہ اس میں امانت پڑا ہوا تھا۔ گورنمنٹ نے اس کا کیا انسداد کیا ہے؟ اگر خلیفہ کی بے تدبیری اور بڑھتے ہوئے اخراجات کی اور آئے دن کی اوور ڈرافٹس Drafts اور صیغہ امانت سے قرض کے نام پر نکلوائی ہوئی بھاری رقوم سے یہ بینک دیوالیہ ہوگا جس کا دیوالیہ ہو جانا ایک یقینی امر ہے تو امانت والوں کا کیا بنے گا۔ پاکستان کے شہریوں کے اموال کی حفاظت کا کیا بندوبست کیا ہے۔ حکومت کو اس حقیقت سے آگاہ ہونا چاہئے کہ ربوہ کا یہ بینک خلیفہ کی بے اعتدالیوں کے باعث شدید مالی بحران کا شکار ہے اور اس کے کل سرمایہ میں سے جو تقریباً ٢٣ لاکھ روپیہ ہے۔ ١٨ لاکھ روپے کی گراں قدر رقم عملاً خورد برد کی جاچکی ہے۔ اگر اس بینک کا کوئی باقاعدہ میزانیہ تیار کروایا جائے تو حکومت کو خود علم ہو جائے گا کہ یہ عملاً دیوالیہ ہو چکا ہے اور اس کے واجبات زیادہ اور اثاثہ اس کے بالمقابل برائے نام ہے۔

مخفی اخراجات

حکومت کو بعض اوقات مخفی طور پر بعض اخراجات برداشت کرنے پڑتے ہیں۔ خلیفہ کے ریاستی بجٹ میں بھی یہ مد موجود ہے۔ خلیفہ خود فرماتے ہیں: ”صرف ایک مد خاص ایسی ہے جس کے اخراجات مخفی ہوتے ہیں مگر میں ان کے متعلق بھی بتا دینا چاہتا ہوں کہ ان مخفی اخراجات کی مد میں سے جو بعض دفعہ خبر رسانیوں اور ایسے ہی اور اخراجات پر جو ہر شخص کو بتائے نہیں جا سکتے، خرچ ہوئے ہیں۔“

(الفضل مورخہ ٢ جولائی ١٩٤٧ء)

آزادی رائے پر پہرے

آمرانہ حکومتوں میں آزادی رائے عنقا ہوتی ہے۔ ایسا ہونا آمریت کے مزاج کے مطابق ہے۔ بلکہ وہاں افکار پر سنگین پہرے ہوتے ہیں۔ ہٹلر کے دور اقتدار میں کوئی جرمن باشندہ

٢٩

صفحہ ٤٩٨

آزادی سے سوچ بھی نہیں سکتا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ وہاں سے بڑے بڑے مفکر اور سائنس دان بھاگ کر جمہوری ملکوں میں آباد ہو گئے تھے۔ جاپان میں دوسری عالمگیر جنگ سے پہلے شاہ میکاڈو کی حکومت میں پولیس کا ایک حصہ تھا۔ جس کو Thought Police کہتے تھے۔ اس کا یہ فرض تھا کہ وہ ملک میں گفتار و کردار کے علاوہ افکار کا جائزہ لیتی رہے۔ یہی حال قادیانی میکاڈو کا ہے۔ یہ بھی اپنی مملکت میں کسی کو نہ سوچنے دیتا ہے نہ ہی کسی کو یہ اجازت ہے کہ وہ آزادانہ طور پر تصنیفی یا تالیفی کام کرے۔ ان کے ہاں اس Thought Police کو نظارت تالیف و اشاعت کہتے ہیں۔ بظاہر یہ کتنی معصوم اصطلاح ہے۔ حالانکہ اس کا اولین فرض ہے کہ تالیف اور اشاعت پر قفل لگا دے۔ اگر اس کو نظارت تعزیر واحتساب کہا جاتا تو زیادہ صحیح ہوتا۔ قاعدہ یہ ہے کہ: ”تمام وہ لٹریچر جو احمدی احباب تصنیف فرماویں۔ اگر وہ کسی موضوع پر ہو تو محکمہ تالیف واشاعت میں روانہ فرماویں اور محکمہ مذکورہ بعد ملاحظہ و تصحیح ضرور یہ اسے اشاعت کے لئے منظور کرے اور کوئی کتاب یا رسالہ بغیر محکمہ مذکور کے پاس کرنے کے احمدیہ لٹریچر میں شائع نہیں ہو سکتا۔“

(الفضل مورخہ ١٨؍مئی ١٩٢٢ء)

”اسی طرح مجلس معتمدین صدر انجمن احمدیہ نے بمنظوری حضرت خلیفہ بذریعہ ریزولیوشن نمبر ایک ١٩٢٨ء یہ فیصلہ کیا تھا کہ سلسلہ کی طرف سے کوئی کتاب ٹریکٹ وغیرہ بغیر منظوری نظارت تالیف و اشاعت چھپنے اور شائع ہونے نہ پائے۔ اگر اس کی خلاف ورزی ہوئی تو اس کتاب کی اشاعت بند کر دی جائے گی۔“

(الفضل مورخہ ٢٩؍جنوری ١٩٣٣ء)

چنانچہ ان تجاویز پر عمل شروع کر دیا گیا۔ ”المبشر“ نام سے قادیان سے ایک رسالہ نکلتا تھا جس کے ایڈیٹر ایک مشہور قادیانی صحافی تھے۔ لیکن ریاست محمودیہ کے نزدیک: ”بعض نقائص ایسے تھے کہ ان کے ہوتے ہوئے المبشر کو مرکز سلسلہ سے شائع کرنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی تھی۔“

(الفضل مورخہ ٢٨؍اگست ١٩٣٧ء)

”اسی طرح اعلان کیا گیا کہ کتاب بیان المجاہد ( جو مولوی غلام احمد سابق پروفیسر جامعہ احمدیہ تعلیم الاسلام کالج) نے شائع کی ہے۔ کوئی صاحب اس وقت تک نہ خریدیں جب تک نظارت دعوۃ وتبلیغ کی طرف سے اس کی خریداری کا اعلان نہ ہو۔“

(الفضل مورخہ ١٠؍ستمبر ١٩٣٣ء)

”ایک ٹریکٹ کے متعلق اعلان کیا گیا کہ اس ٹریکٹ کو ضبط کیا جاتا ہے اور اعلان کیا جاتا ہے کہ جس صاحب کے پاس یہ ٹریکٹ موجود ہو۔ ورنہ اسے فوراً تلف کردیں اور شائع کرنے والے صاحب سے جواب طلب کیا گیا ہے اور انہیں ہدایت کی گئی ہے کہ جس قدر کاپیاں اس

٤٠

ٹریکٹ کی ان کے پاس ہوں وہ

”جب نظارت تا اشاعت ممنوع قرار دے دی ج ٹریکٹ شائع کرنے والے سے غور فرمائیے کہ اس فرماتے ہیں: ”اب تک تین رس

اس سلسلہ میں خلیفہ اخبارات کو ضبط نہیں کر سکتے یا ک اسے پڑھیں نہیں۔ کیا ایک مذ ہوتی ہے۔ ان کی طرف سے نوائے پاکستان جو وقتاً فوقتاً خ اپنے ہوم سیکرٹری (ناظر امور پہلے جلسہ سالانہ ١٩٥٦ء کے م کوئی احمدی نہ پڑھے۔ بلکہ ج پاس بحفاظت پہنچا دیں۔“

خلیفہ اپنے دارالا رکھتے ہیں۔ باشندگان ربوہ بھی ان کو خلیفہ کے چنگل س مثالیں موجود ہیں کہ حکومتی ف عدالت میں جا کر مقدمات سمجھیں تو کیا کریں ۔

صفحہ ٤٩٩

ٹریکٹ جن کے پاس ہوں وہ سب تلف کر دی جائیں۔“ (الفضل مورخہ ٧؍دسمبر ١٩٣٣ء) ”جب نظارت تالیف وتصنیف کو اس ٹریکٹ کی اشاعت کا علم ہوا تو اس نے اس کی اشاعت ممنوع قرار دے دی اور اسے بحق جماعت ضبط کر کے تلف کر دینے کا حکم دے دیا۔ نیز ٹریکٹ شائع کرنے والے سے جواب طلب کیا۔“ (الفضل مورخہ ١٤؍دسمبر ١٩٣٣ء) غور فرمائیے کہ اب ریاست کے مکمل ہونے میں کوئی شک باقی رہ جاتا ہے۔ خلیفہ فرماتے ہیں: ”اب تک تین رسالوں کو میں اس جرم میں ضبط کر چکا ہوں۔“

(الفضل مورخہ ٤؍مارچ ١٩٣٦ء)

اس سلسلہ میں خلیفہ کی ریاست کی سیاست کا سب سے گندا پہلو یہ ہے کہ جن کتب اور اخبارات کو ضبط نہیں کر سکتے یا کروا سکتے۔ ان کے متعلق اپنی رعایا یا مریدوں کو یہ ارشاد ہوتا ہے کہ وہ اسے پڑھیں نہیں۔ کیا ایک مذہبی، دینی اور تبلیغی جماعت جنہوں نے دوسروں تک اپنی بات پہنچانی ہوتی ہے۔ ان کی طرف سے تعزیری اقدام ان کے لئے باعث فخر ہو سکتے ہیں؟ چنانچہ روزنامہ نوائے پاکستان جو وقتاً فوقتاً خلیفہ کے متعلق بعض اہم حقائق کو منظر عام پر لاتا رہتا ہے۔ خلیفہ نے اپنے ہوم سیکرٹری (ناظر امور عامہ) کے ذریعہ اس اخبار کے بائیکاٹ کا اعلان کر دیا۔ اس سے پہلے جلسہ سالانہ ١٩٥٦ء کے موقعہ پر اعلان ہو چکا ہے کہ: ”حقیقت پسند پارٹی کا شائع کردہ لٹریچر کوئی احمدی نہ پڑھے۔ بلکہ پھاڑ کر پھینک دے یا خلیفہ کے ہوم سیکرٹری یا محکمہ حفاظت مرکز کے پاس بحفاظت پہنچا دیں۔“ (الفضل مورخہ ٧؍اپریل ١٩٥٧ء)

خلیفہ اپنے دارالخلافہ میں جس طرح لوگوں کو اپنی ریاست کا مطیع اور فرمانبردار بنا رکھتے ہیں۔ باشندگان ربوہ یہ یقین رکھتے ہیں کہ ان کے حاکم اعلیٰ ان کے خلیفہ ہیں۔ حکومت بھی ان کو خلیفہ کے چنگل سے نہیں بچا سکتی۔ ان کے سامنے قادیان سے لے کر ربوہ تک کی مثالیں موجود ہیں کہ حکومتی نظام سنگین واردات کی کھوج لگانے میں ناکام رہا۔ اگر کھوج لگا سکا تو عدالت میں جا کر مقدمات فیل ہو گئے۔ ان حالات میں خلیفہ کو راعی اور اپنے آپ کو رعایا نہ سمجھیں تو کیا کریں۔

خلیفہ کی خارجی تدابیر

سیاست کاری اور سیاست بازی خلیفہ کا اوڑھنا بچھونا ہے۔ مذہب یا تو محض زیب داستان کے لئے ہے یا اس کا مصرف سیاست کی پردہ داری ہے۔ اگر بغور مطالعہ کیا جائے اور ان

٣١

صفحہ ٥٠٠

کے اعلانات کا نفسیاتی تجزیہ کیا جائے تو صاف معلوم ہوتا ہے کہ محراب و منبر کے سیاق و سباق میں پناہ گزین ہو کر وہ سیاست کا کھیل کھیلتے ہیں۔ وہ سیاست کی سربلندیوں سے سرفراز تو ہونا چاہتے ہیں۔ مگر اس کی ابتلاء انگیزیوں کے حریف نہیں ہو سکتے۔ اس واسطے ان کا نظریہ خروج پہلو دار باتوں میں ملفوف ہو کر ان کے مریدوں کے سامنے آتا ہے۔ مثلاً وہ اکثر کہا کرتے ہیں۔ ہم قانون کے اندر رہتے ہوئے اس کی روح کو کچل دیں گے۔ ایسے ہی مقاصد کے لئے یہ دفتر امور عامہ ایسے احمدی افسران جو گورنمنٹ یا ڈسٹرکٹ بورڈوں یا فوج یا پولیس، سول بجلی، جنگلات، تعلیم وغیرہ کے محکموں میں کام کرتے ہیں۔ ان کے مکمل پتے مہیا رکھتا ہے۔

(الفضل مورخہ ٨؍نومبر ١٩٤٦ء)

کبھی ان پر سیاست کا ایسا جنون مسلط ہو جاتا ہے کہ وہ حزم و احتیاط کے سارے پردے چاک کر کے برملا کہہ دیتے ہیں۔ ”پس وہ لوگ جو کہتے ہیں کہ ہم میں سیاست نہیں وہ نادان ہیں۔ وہ سیاست کو سمجھتے ہی نہیں۔ جو شخص یہ نہیں مانتا کہ خلیفہ کی بھی سیاست ہے وہ بیعت ہی کیا کرتا ہے۔ اس کی کوئی بیعت نہیں۔ دراصل بات تو یہ ہے کہ ہماری سیاست گورنمنٹ کی سیاست سے بھی زیادہ ہے۔ پس اس مسئلہ کو اگر میں نے بار بار بیان نہیں کیا تو اس کی وجہ صرف یہی ہے کہ میں نے اس سے جان بوجھ کر اجتناب کیا۔ آپ لوگوں کو یہ بات خوب سمجھ لینی چاہئے کہ خلافت کے ساتھ ساتھ سیاست بھی ہے اور جو شخص یہ نہیں مانتا وہ جھوٹی بیعت کرتا ہے۔“

(الفضل مورخہ ٣؍اگست ١٩٤٦ء)

اسی دھن میں خروجی عزائم کو یوں بے نقاب کر جاتے ہیں: ”میرا یہ خیال ہے کہ ہم حکومت سے صحیح تعاون کر کے جس قدر جلد حکومت پر قابض ہو سکتے ہیں، عدم تعاون سے نہیں اگر ہم کالجوں اور سکولوں کے طلباء کے اندر یہ روح پیدا کر دیں تو جو ان میں سے ملازمت کو ترجیح دیں وہ اس غرض سے ملازمت کریں کہ اپنی قوم اور اپنے ملک کو فائدہ پہنچائیں گے تو یہ لوگ چند ماہ میں ہی حکومت کو اپنی آزاد رائے اور بے دھڑک مشورے سے مجبور کر سکتے ہیں کہ وہ ہندوستانی نقطہ نگاہ کی طرف مائل ہو بے شک ایسے لوگوں کی ملازمت خطرہ میں ہوگی۔ مگر جب یہ لوگ ملازم ہی اس خطرہ کو مدنظر رکھ کر ہوئے ہوں گے ان کے دل اس بات سے ڈریں گے نہیں۔ دوسرے کوئی گورنمنٹ ایک وقت میں ہزاروں لاکھوں ملازموں کو اس جرم میں الگ نہیں کر سکتی کہ تم کیوں سچائی سے اصل واقعات پیش کرتے ہو۔ اگر پولیس کے محکمہ پر ہی ایسے حب الوطنی سے سرشار لوگ قبضہ کر لیں تو حکومت ہند میں بہت کچھ اصلاح ہو سکتی ہے۔“

(الفضل مورخہ ١٨؍جولائی ١٩٢٥ء)

٣٢

صفحہ ٥٠١

جب اس شاطر سیاست کے خفیہ اڈوں پر حکومت چھاپہ مارتی ہے تو یہ اسلحہ اور کاغذات کمال ہوشیاری سے زیر زمین دفن کر دیتا ہے۔ قادیان کی سرزمین میں فسادات کے موقع پر احمدی نوجوانوں اور سابق فوجیوں کے ہاتھوں جو ماڈرن اسلحہ مہیا کیا اور ان کی فوجی گاڑیاں حرکت میں آئیں تو اس پر حکومت کی طرف سے یکدم چھاپہ پڑا۔ جس کی اطلاع قبل از وقت خلیفہ کو نہ ہوسکی۔ کیونکہ وہاں احمدی سی آئی ڈی ناکام رہی۔ لیکن خلیفہ کی اپنی اہریمنی فراست ان کے کام آئی۔ کیونکہ جب پولیس سر پر آگئی تو اس مقدس، پاکباز، ملہم، مصلح دوراں نے اپنی مستورات کی چھاتیوں پر خفیہ دستاویزات باندھ کر کوٹھی دارالسلام (قادیان) بھجوا دیں اور قادیانی فوجیوں نے فوراً اسلحہ زیر زمین کر دیا۔ ١٩٥٣ء کے فسادات اور پھر مارشل لاء کے اختتام پر جب گورنمنٹ نے یہ فیصلہ کیا کہ ربوہ کے فوجی اور ریزرو پولیس کے دفاتر اور قصر خلافت پر چھاپہ مارا جائے تو یہ خبر دو دن قبل ربوہ پہنچ گئی۔ خفیہ اور ضروری کاغذات جن پر خلیفہ کے دستخط تھے۔ ان کو دو حصوں میں تقسیم کر کے ایک حصہ تلف کر دیا گیا اور دوسرا حصہ چناب ایکسپریس پر سندھ روانہ کر دیا گیا۔ جب پولیس دفتر کی تلاشی لے رہی تھی۔ خفیہ کاغذات قادیانی اصطبلوں میں چھپائے جا رہے تھے۔ خلیفہ ہر اس فرد کو بغاوت کا حق دیتے ہیں۔ جس نے دل سے اور عمل سے حکومت وقت کی اطاعت نہ کی ہو۔ ایک دفعہ کسی شخص نے خلافت مآب سے پوچھا کہ جس ملک کے لوگوں نے کسی حکومت کی اطاعت نہ کی ہو کیا انہیں حق ہے کہ وہ اس حکومت کا مقابلہ کرتے رہیں؟ تو ارشاد ہوا کہ: ”اگر کسی قوم کا ایک فرد بھی ایسا باقی رہتا ہے جس نے اطاعت نہیں کی نہ عمل سے نہ زبان سے تو وہ آزاد ہے اور دوسرے لوگوں کو اپنے ساتھ شامل کر کے مقابلہ کر سکتا ہے۔“

(الفضل مورخہ ١٩ ستمبر ١٩٣٣ء)

پھر فرماتے ہیں: ”اگر تبلیغ کے لئے کسی قسم کی رکاوٹ پیدا کی جائے تو ہم یا تو اس ملک سے نکل جائیں گے۔ یا پھر اگر اللہ تعالیٰ اجازت دے تو پھر ایسی حکومت سے لڑیں گے۔“

(الفضل مورخہ ١٣ نومبر ١٩٤٥ء)

یعنی ایک حکومت میں رہ کر اس کے متعلق اعلان جنگ کے مواقع اور ان پر غور سب کچھ ہو سکتا ہے۔ بغاوت کا ذکر ہو رہا ہے تو ایک اور ارشاد بھی سنیے فرماتے ہیں: ”شاید کابل کے لئے کسی وقت جہاد کرنا پڑجائے۔“

(الفضل مورخہ ٢٧ فروری ١٩٢٢ء)

خلیفہ نے ایک مرتبہ یہ بھی کہا تھا کہ: ”جماعت ایک ایسے مقام پر پہنچ چکی ہے کہ بعض حکومتیں بھی اسے ڈر کی نگاہ سے دیکھنے لگی ہیں اور قومیں بھی اسے ڈر کی نگاہ سے دیکھنے لگی ہیں۔“

(الفضل مورخہ ٢٠ اپریل ١٩٤٨ء)

٤٣٣

صفحہ ٥٠٢

ان اقتباسات سے بالکل عیاں ہے کہ خلیفہ اپنی جماعت کے ذہنوں میں اسی جنون کی پرورش کر رہے ہیں جو ان کے اپنے ذہن میں سمایا ہوا ہے۔ انہوں نے ربوہ کو اپنی کمین گاہ بنا رکھا ہے اور اسی تاک میں بیٹھے ہیں کہ کب وطن عزیز میں انتشار ہو اور وہ اس سے فائدہ اٹھا کر اقتدار کی نشستوں پر قابض ہو کر ملک کے حکمران بن جائیں۔ وہ فرماتے ہیں کہ: ”قبولیت کی رو چلانے کے لئے طاقت کی ضرورت ہوتی ہے۔“

(الفضل مورخہ ١١؍ جولائی ١٩٣٦ء)

ان کا اپنا قول ہے کہ: ”پنجاب جنگی صوبہ کہلاتا ہے۔ شاید اس کے اتنے یہ معنے نہیں کہ ہمارے صوبہ کے لوگ فوج میں زیادہ داخل ہوتے ہیں جتنے اس کے یہ معنی ہیں کہ ہمارے صوبہ کے لوگ دلیل کے محتاج نہیں بلکہ سوٹے کے محتاج ہیں۔“

(الفضل مورخہ ٢٧؍ جولائی ١٩٣٦ء)

گویا خلیفہ مغرب کی Big Stick پالیٹکس کے قائل ہیں۔ لیکن کیا کریں۔

توفیق با اندازۂ ہمت ہے ازل سے
آنکھوں میں ہے وہ قطرہ جو گوہر نہ ہوا تھا

چنانچہ محکومی کی حالت میں بھی خارجی حکومتوں سے ساز باز کے متمنی ہیں اور اس کی تلقین بھی کرتے ہیں۔ مثلاً فرماتے ہیں: ”کہ کوئی قوم دنیا میں بغیر دوستوں کے زندہ نہیں رہ سکتی۔ اس لئے زیادہ مجرم اور کوئی قوم نہیں ہو سکتی جو اپنے لئے دشمن تو بناتی ہے مگر دوست نہیں۔ کیونکہ یہ سیاسی خود کشی ہے۔“

(الفضل مورخہ ١٨؍ جون ١٩٤٦ء)

اب پاکستان میں رہتے ہوئے اس کے دشمنوں کے حلیف بننے کی کوشش کیوں نہیں کریں گے۔ چاہے اس کی کوئی سی بھی صورت ہو۔ مثلاً وہ راز افشاء کر کے پاکستان کے دشمنوں کے دلوں میں جگہ پیدا کرنے کی کوشش بھی کریں گے۔ انہوں نے فوج کے ایک کرنل کی طرف یہ منسوب کیا کہ اس نے دوران گفتگو میں ان سے یہ کہا کہ: ”حالات پھر خراب ہو رہے ہیں۔ لیکن اس دفعہ فوج آپ کی مدد نہیں کرے گی۔“

(الفضل مورخہ ٨؍ مارچ ١٩٥٧ء)

”جب پہلی دفعہ خلیفہ کی یہ تقریر الفضل میں چھپی تو اس میں یہ بھی لکھا تھا کہ کرنل نے کہا کہ: ”فوج آپ کی مدد نہیں کرے گی۔ کیونکہ وہ بدنام ہو چکی ہے۔“

جب اخبارات میں اس قابل اعتراض بات پر تبصرے ہوئے تو خلیفہ کے ایماء سے ان کی وہی تقریر دوبارہ شائع ہوئی اور ان میں سے وہ فقرہ حذف کر دیا گیا جس میں فوج کی بدنامی کی طرف اشارہ تھا۔ تردید کرنے کی اخلاقی جرات نہ تھی۔ ہاں! قانون سے بچنے کا حیلہ نکال لیا۔

٣٤

PDF 504

عت کے ذہنوں میں اسی جنون کی ں نے ربوہ کو اپنی کمین گاہ بنا رکھا وہ اس سے فائدہ اٹھا کر اقتدار کی ہیں کہ: ”قبولیت کی رو چلانے

(الفضل مورخہ ١١؍ جولائی ١٩٣٦ء)

شاید اس کے اپنے یہ معنے نہیں کہ کے یہ معنی ہیں کہ ہمارے صوبہ

(الفضل مورخہ ٢٧؍ جولائی ١٩٣٦ء)

مل ہیں۔ لیکن کیا کریں۔

-

سے ہوا تھا

از کے متمنی ہیں اور اس کی تلقین ں کے زندہ نہیں رہ سکتی۔ اس ر دوست نہیں۔ کیونکہ یہ سیاسی

(الفضل مورخہ ١٨؍ جون ١٩٣٦ء)

ف بننے کی کوشش کیوں نہیں ہ کر کے پاکستان کے دشمنوں ج کے ایک کرنل کی طرف یہ ر خراب ہورہے ہیں۔ لیکن

(الفضل مورخہ ١٨؍ مارچ ١٩٥٧ء)

ا یہ بھی لکھا تھا کہ کرنل نے کہا نے تو خلیفہ کے ایماء سے ان ا جس میں فوج کی بدنامی کی سے بچنے کا حیلہ نکال لیا۔

خاتم النبیین لا نبی بعدی

سیدنا فخر موجودات سرور کائنات سید مرسلین شفیع امم

ربوہ

کا

مذہبی آمر

جناب راحت ملک سابق قادیانی

صفحہ ٥٠٤

انتساب!

سیدی مولائی خاتم النبیین محمد مصطفے ﷺ کی اس معصومیت کے نام، جسے میاں محمود احمد خلیفہ ربوہ معصوم نہیں سمجھتے۔ راحت ملک !

زمین و آسمان اپنی جائے قیام بدل سکتے ہیں۔ فرشتے زمین پر اور انسان آسمان پر منتقل ہو سکتے ہیں لیکن خدائے برتر ایسے انسان کو کبھی بھی معاف نہیں کرے گا جس کی مذہبی قیادت نے ہزاروں عصمتوں پر ڈاکے ڈالے، جو رہبری کے بھیس میں دنیا کے سامنے آیا، لوگ اسے رہنما سمجھ کر پیچھے ہولئے۔ لیکن وہ رہزن نکلا، دنیا نے اسے انسان سمجھا۔ لیکن وہ بھیڑیا ثابت ہوا۔ اس نے اپنے چاروں طرف ظلمتیں پھیلا دیں تا کہ اس کی بے راہ روی پر پردے پڑے رہیں۔

مجھے قادیانی نبوت سے سب سے بڑا اختلاف یہی ہے کہ جب خود مرزا غلام احمد اور ان کی ساری جماعت اس بات پر متفق ہے کہ قرآن مجید کے بعد کسی کتاب کی ضرورت نہیں اور عرب کے ریتیلے میدانوں میں جنم لینے والا محمد ﷺ ہی افضل الانبیاء ہے تو پھر قادیانی نبوت کی ضرورت کیا ہے؟ اگر اس نبوت کا مقصد مردہ روحانیت کو زندہ کرنا، اور مسلمانوں کے اخلاقی اقدار کو بلند کرنا تھا تو پھر مجھے بتایا جائے کہ مردہ روحانیت کہاں زندہ ہوئی؟ پاکستان اور بھارت کے کس کنارے پر اخلاقی اقدار کا عروج معرض وجود میں آیا؟ راحت ملک، ١٩٥٧ء

نمبر شمار

صفحہ ٥٠٥

کی اس معصومیت کے نام، جسے میاں راحت ملک! ا۔ فرشتے زمین پر اور انسان آسمان ا معاف نہیں کرے گا جس کی مذہبی ا کے بھیس میں دنیا کے سامنے آیا، دنیا نے اسے انسان سمجھا۔ لیکن وہ پلا دیں تا کہ اس کی بے راہ روی پر

ت یہی ہے کہ جب خود مرزا غلام آن مجید کے بعد کسی کتاب کی الا محمدﷺ ہی افضل الانبیاء ہے کا مقصد مردہ روحانیت کو زندہ سے بتایا جائے کہ مردہ روحانیت اخلاقی اقدار کا عروج معرض راحت ملک، ١٩٥٧ء

فہرست

نمبر شمار نام مضمون صفحہ ١ حرف آغاز ٥٠٦ ٢ دیباچہ ٥٠٨ ٣ آمریت کا مفہوم ٥١٣ ٤ اسلام اور آمریت ٥١٥ ٥ پس منظر ٥٢٣ ٦ سازشوں کے دور کا آغاز ٥٢٧ ٧ مذہبی یا سیاسی؟ ٥٣٢ ٨ پادشاہت یا خلافت؟ ٥٣٨ ٩ محمودیت سے پہلا اختلاف ٥٤٠ ١٠ قادیانی خاتون کا بیان ٥٤٥ ١١ شیخ عبدالرحمٰن مصری ٥٤٧ ١٢ فخر الدین ملتانی کا قتل ٥٥٢ ١٣ تاریخی انقلاب ٥٥٤ ١٤ گواہ اور ان کی شہادتیں ٥٦٣ ١٥ آزادی ضمیر ٥٦٦ ١٦ سوشل بائیکاٹ ٥٧٣ ١٧ زبان اور اخلاق ٥٧٧ ١٨ پیر اور استاد کا احترام ٥٨٥ ١٩ اپنے منہ میاں مٹھو ٥٨٨ ٢٠ مسئلہ تکفیر ٥٩٠ ٢١ حضرت عمر فاروق سے مماثلت ٥٩٣ ٢٢ رؤیا و کشوف کا دباؤ ٥٩٨ ٢٣ لومڑی کون ہے؟ ٦٠٣ ٢٤ استقامت میں فرق آ گیا ٦١١ ٢٥ باپ سچا یا بیٹا؟ ٦١٥ ٢٦ خلافت مآب کے منافق ٦١٦ ٢٧ آمرانہ خصوصیات ٦١٨ ٢٨ فرزانگی سے دیوانگی تک ٦١٩ ٣

صفحہ ٥٠٦

حرف آغاز

خدائے برتر کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ اس نے مجھے اس کتاب کی اشاعت ثانی کی توفیق بخشی۔ پہلے ایڈیشن میں بے شمار خامیاں رہ گئی تھیں۔ کتابت اور طباعت بھی معیار کے مطابق نہیں تھی۔ لیکن ان تمام نقائص کے باوجود عوام نے اسے بے حد پسند کیا ہے جس کے لئے میں ان کا شکر گزار ہوں۔ دوسرے ایڈیشن میں بعض غیر ضروری حصے حذف کر دیئے گئے ہیں اور ان کی جگہ چند اور پہلو شامل کئے گئے ہیں۔ قارئین میں سے بیشتر نے حوصلہ افزا خطوط لکھے ہیں۔ ان کی اس حوصلہ افزائی کے لئے تہ دل سے ممنون ہوں، ان میں سے بعض نے اپنی قیمتی ہدایات سے بھی نوازا ہے۔ سو ان کی ان نوازشات کے پیش نظر ترامیم کر دی گئی ہیں۔ بہت سے کرم فرماؤں نے گالیاں بھی لکھ بھیجی ہیں۔ میں ان کی گالیوں سے بہت لطف اندوز ہوا۔ مجھے رہ رہ کر خیال آیا کہ میرے آقا و مولا حضرت محمد مصطفےٰ ﷺ کو ابو جہل اور ابولہب نے کیا کم گالیاں دی تھیں۔ جب دشمنان اسلام محبوب خدا ﷺ کو گالیاں دینے سے باز نہیں آئے تو میری حیثیت ہی کیا ہے؟ میں تو اس آمنہ کے لال کی خاک پا کے برابر بھی نہیں۔ میرے آقا کا نمونہ یہ تھا کہ آپ ﷺ نے مخالفین کی گالیاں سنیں لیکن جواب نہیں دیا۔ اظہار برہمی بھی نہیں کیا۔ چشم غضب ناک سے بھی نہیں دیکھا۔ بددعا نہیں کی اور نہ ہی اپنے لبوں تک شکوہ، گلہ آنے دیا ہے بلکہ دشنام طرازی کی انتہاء کرنے والوں کے لئے درد دل سے دعائیں کی ہیں۔ ان کا ہمیشہ بھلا چاہا ہے ......مگر...... میں اپنے ان کرم فرماؤں سے کیا کہوں۔ خود انہی کے مرزا غلام احمد کا ایک مصرع رقم کئے دیتا ہوں۔ جو انہوں نے اپنے اور اپنے مریدان باصفا کے لئے موزوں کیا تھا۔

گالیاں سن کے دعا دو پا کے دکھ آرام دو

(درثمین اردو ص ٨٤)

اے کاش مجھے ”مرتد، بے دین اور کافر“ کا خطاب دینے سے قبل میرے محترم بزرگ اپنے گریبان میں جھانک لیتے کہ جس بات کا گلہ وہ کسی سے کر رہے ہیں۔ اس پر ان کا اپنا عمل بھی ہے یا نہیں؟ ان کرم فرماؤں سے مجھے صرف اس قدر استفسار کرنا ہے کہ میری اس کتاب کے ان ٹوٹے پھوٹے الفاظ سے انہیں جس نبوت کے برباد اور تباہ ہونے کا خوف دامنگیر ہو گیا ہے اور انہوں نے اس نبوت سے وابستگی خلوص کا اظہار کر کے مجھے جو بے نقط سنائی ہیں تو کیا انہوں نے اس مضحکہ خیز پہلو پر غور نہیں کیا کہ ان کو خود اس نبوت کے متعین کئے ہوئے اصولوں میں کتنا دخل

٤

صفحہ ٥٠٧

ہے؟ ایک طرف مجھے احاطہ نبوت سے نکلنے کے جرم میں سزا کے طور پر مرتد، کافر، ملعون اور نہ جانے کیا کیا القاب نواز دیئے ہیں اور دوسری طرف خود اس نبوت کے فرمودات سے قطعی بیگانگی، خدا معلوم کن جذبات کی آئینہ دار ہے۔ گالیاں دینا تو آسان ہے۔ لیکن گالیاں سن کر ماتھے پر شکن لائے بغیر دعا کرنا بہت بڑی بات ہے۔ جس کا دعویٰ زبان سے تو ممکن ہے لیکن اس پر عمل کرنا ایک پر خار راہگذر پر چلنے کے مترادف ہے۔ مجھے قادیانی نبوت سے بڑا اختلاف یہی ہے کہ جب خود مرزا غلام احمد اور ان کی ساری جماعت اس بات پر متفق ہے کہ قرآن مجید کے بعد کسی کتاب کی ضرورت نہیں اور عرب کے ریتلے میدانوں میں جنم لینے والا محمدﷺ افضل الانبیاء ہے تو پھر قادیانی نبوت کی ضرورت کیا ہے؟ اگر اس نبوت کا مقصد مردہ روحانیت کو زندہ کرنا اور مسلمانوں کی اخلاقی اقدار کو بلند کرنا تھا تو پھر مجھے بتایا جائے کہ مردہ روحانیت کہاں زندہ ہوئی اور پاکستان و بھارت کے کس کنارے پر اخلاقی اقدار کا عروج معرض وجود میں آیا؟ قادیانی نبوت کو گلہ تھا کہ اس کے مخالفین گالیاں دیتے ہیں اور اس نے اپنے مریدوں کو گالیاں سن کر دعا دینے کی جو تلقین کی تھی میرے قادیانی دوستوں میں سے بعض نے اپنے نبی کے اس حکم کی تعمیل نہیں کی۔ اس طرح میرے پاس سینکڑوں بلکہ ہزاروں مثالیں ایسی ہیں جن سے ثابت ہوتا ہے کہ قادیانی نبوت کی تخلیق کے لئے جن ضرورتوں کا ذکر کیا گیا تھا وہ ضرورتیں اس نبوت کے بعد آج تک پوری نہیں ہوئیں۔ مجھے میرے محسن دوستوں نے گالیاں دے کر میرے اعتراض کو تقویت بخشی ہے اور اپنے آپ کو دشمنان دین محمدﷺ سے اور مجھے شمع رسالت کے پروانوں سے مماثلت دی ہے۔ جس کے لئے میں ان کا شکر گزار ہوں اور دعا گو ہوں کہ خدا انہیں صراط مستقیم دکھائے اور انہیں توفیق بخشے کہ وہ اس دام دلنواز کے اندرونی خدوخال کا جائزہ لے کر اپنے لئے جہنم کی آگ سلگانے کی بجائے جنت کے انعامات سے مستفید ہونے کی سعی و جہد کر سکیں۔ آمین!

قارئین سے التماس ہے کہ اگر انہیں اس کتاب میں کوئی خوبی نظر آئے تو وہ میرے لئے دعا کریں کہ خدائے برتر مجھے استقامت بخشے۔ میں جس مقصد کو لے کر اٹھا ہوں اس میں کامیابی عطا فرمائے۔ مجھے خلوص، محبت، عقیدت اور گرمجوشی سے اسلام کی خدمت کی توفیق بخشے اور میرے وہ قریبی رشتہ دار جو ہنوز اس دوزخ کو جنت سمجھ رہے ہیں، صراط مستقیم دکھائے اور وہ اس آگ کی طرف دوڑنے سے بچ جائیں۔ جسے اللہ تعالیٰ نے جہنم کی آگ قرار دیا ہے۔

آمین، ثم آمین!

راحت ملک

٥

صفحہ ٥٠٨

دیباچہ

وہ شاخ نور جسے ظلمتوں نے سینچا ہے
اگر پھلی تو شراروں کے پھول لائے گی
نہ پھل سکی تو نئی فصل گل کے آنے تک
خمیر ارض میں اک زہر چھوڑ جائے گی

قادیانی تحریک کی عمر اس وقت تقریباً ستر برس ہو چکی ہے۔ اس کا پہلا دور جس میں اس کی داغ بیل پڑی۔ پچیس سال بعد ١٩١٤ء کو ختم ہوا۔ دوسرا دور محمودی استبداد کا ہے۔ اس پر پینتالیس سال بیت چکے ہیں۔ قادیانیوں کے اپنے عقیدہ کے مطابق پہلے دور کو دوسرے دور سے وہی تعلق ہے جو شجر کو ثمر سے ہوتا ہے۔ گویا انہوں نے اپنی تحریک کے پرکھنے کی کسوٹی خود ہی تجویز کر دی ہے۔ وہ کسوٹی ”خلیفہ“ کی وہ لن ترانیاں ہیں جو الفضل کی پیشانی پر ہر روز جلوہ گر ہوتی ہیں۔ وہ لن ترانیاں قیادت کے مزاج اور جماعت کی ذہنیت کی غماز ہیں۔ ابتداء میں ہی مرزا محمود احمد پر لیڈری کا بھوت سوار تھا۔ انہوں نے جماعت کے پیر پرستانہ جذبے سے فائدہ اٹھا کر اذہان کا عمل حکیم نور الدین کے دور خلافت میں ہی شروع کر دیا تھا۔ انہوں نے چالیس آدمیوں کے دستخطوں سے صدر انجمن کے خلاف ایک بیان جاری کیا تھا اور اپنے لئے زمین ہموار کرنی شروع کر دی۔ اب اپنے دور میں معمولی اختلاف کو بھی گوارا نہیں کرتے۔ اپنے پیشرو کی وفات تک انہوں نے اپنی عمیق سازش کی سرنگیں دور دور تک جماعت میں بچھا دی تھیں۔ ان کے حریف اگرچہ بے خبر نہ تھے۔ لیکن بے ہنر ضرور ثابت ہوئے۔ کیونکہ انہوں نے نہ کوئی تدارک کیا اور نہ ہی تاب مقاومت کا مظاہرہ کیا۔ جونہی حکیم نور الدین کی وفات ہوئی۔ محمودی سازشوں کا ابوالہول نمودار ہوا اور اس وقت کے ارباب اختیار جو مرزا غلام احمد کے نور تن تھے، بھاگ کھڑے ہوئے۔ ان کا فرار مرزا محمود احمد کے لئے نعمت غیر مترقبہ ثابت ہوا۔ خلافت کا تاج پہن کر اس نے برطانوی حکومت کے ساتھ سیاسی تعلقات استوار کئے اور اس کی پشت پناہی حاصل کی۔

چونکہ مرزا محمود احمد پچیس سال کی عمر میں ہی خلافت پر قابض ہو گئے تھے۔ اس لئے ڈکٹیٹروں کی طرح نفرت کی فصیلیں استوار کر کے ہی زندہ رہ سکتے اور جماعت کو اپنے ساتھ وابستہ رکھ سکتے تھے اور اس میں کلام نہیں کہ یہ کارنامہ انہوں نے اسی طرح سرانجام دیا جس کی ان کو آرزو تھی۔ انہوں نے مسئلہ تکفیر کو خوب اچھالا اور مسلمانوں سے عمرانی مقاطعہ کر کے جماعت کو تہہ دام اپنے سامنے صید زبوں بنا کر چھوڑ دیا۔ اس کے لئے قادیان (اور اب ربوہ) کی فضا بڑی سازگار ثابت ہوئی۔ قادیان سے باہر مرید اپنے پیر کی تعلیمات کی پیروی میں مسلمانوں کے سواد اعظم

٦

صفحہ ٥٠٩

سے کٹ گئے تھے۔ ان کا ملجاء و ماویٰ قادیان (اب ربوہ) بن گیا تھا۔ اس پر قدرت کی ستم ظریفی کہ خلیفہ کو اپنی جماعت کی تربیت کے لئے اس وقت تک تینتالیس سال ملے اور اس طویل مدت میں قادیانیوں کی کئی نسلیں خلافتی استبداد سے جکڑ گئیں۔ خلیفہ کے سارے پروگراموں کا مفاد اپنی آمریت کو قائم کرنا اور جماعت میں سمعنا واطعنا کی ذہنیت پیدا کرنا تھا۔ انہوں نے جماعت میں عملاً وہی مرتبہ پیدا کیا جو مذہب میں نبی اور سیاست میں ڈکٹیٹر کو ہوتا ہے۔ اس تخریبی تربیت کے لئے انہوں نے خواب اور رؤیا کا سہارا لیا۔ کیونکہ ان کے سامنے دلیل اور حجت کی گنجائش نہیں رہتی اور پھر اپنے خوابوں کے قافلے کو اس ہنرمندی اور چابکدستی سے چلایا کہ مریدان کو الہام اور وحی متصور کر کے اپنی عقل کو معطل کر دیتے رہے۔ جماعت کے اندر دینی اصطلاحات کو رائج کیا تاکہ کسی مرید کی نظر ان کے ذاتی اعمال پر نہ پڑے۔ اگر کوئی بیباک نظر پڑ بھی جائے تو دوسروں کی اندھی ارادت اس کو بے اثر کر دے۔ اگر یہ بھی کارگر نہ ہو تو مرکز میں خلافت مآب کا معاشی شکنجہ تنقید کی قوتوں کو مفلوج کرنے کے لئے کافی ہے۔ کیونکہ مرکز میں ہی افشائے راز کا خطرہ ہے اور مرکز میں ہی خلافت مآب کی گرفت ہمیشہ آہنی رہتی ہے۔ الفضل کے صفحات سوشل بائیکاٹ کے اعلانات سے معمور ہیں۔ جس کا بائیکاٹ ہوتا ہے اس کی زندگی اجیرن ہو جاتی ہے۔ اگر کوئی عزیز ترین رشتہ دار مرض اور موت کے وقت بھی اس کے لئے رحم کے جذبات سے مغلوب ہو کر کوئی معمولی ہمدردی کا کام کر بیٹھتا ہے یا اس کا ارادہ کرتا ہے تو وہ اس انحراف کی پاداش میں اسی روح فرسا مقاطعہ کا شکار ہو جاتا ہے اور ہر مقاطعہ پر بڑی بے باکی سے یہ اعلان کیا جاتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ بھی منحرفین کے ساتھ ایسا ہی سلوک روا رکھتے تھے۔ (توبہ نعوذ باللہ)

پہلے عرض کیا جا چکا ہے کہ اپنی آمرانہ ہنرمندی سے خلیفہ اپنے مریدوں سے اسی قسم کی غیر مسئول اطاعت چاہتے ہیں جو صحابہ کرام کو حضرت رسول اکرم ﷺ سے تھی۔ رحمت اللعالمین ﷺ پر یہ ابلیسانہ بہتان کسی قادیانی کو ناگوار نہ گزرا۔ اگر کسی میں اس پر انقباض پیدا ہوتا بھی ہے تو خلافتی استبداد سے ڈر کر اس کا اظہار نہیں کرتا۔ یہ اس جماعت کا حال ہے جو دین کو دنیا پر مقدم رکھنے کا دعویٰ کرتی ہے اور سارے مسلمانوں کو کافر کہہ کر ان پر غالب آنے کی آرزو رکھتی ہے۔ عملاً محض معمولی اختلاف کے خفیف شبہ پر اس بائیکاٹ کو روا رکھتی ہے جو ابو جہل کی قیادت میں کفار مکہ مسلمانوں کے خلاف نافذ کیا کرتے تھے۔

ڈھونڈنے والا ستاروں کی گزر گاہوں کا اپنے افکار کی دنیا میں سفر کر نہ سکا

٧

صفحہ ٥١٠

اس خوف و ہراس کی کیفیت کو عقیدت کہا جاتا ہے۔ کتنے پاک لفظ کا کتنا ناپاک استعمال ہے۔ مرشد سے صحیح عقیدت کرگس کو بھی شاہین بنا دیتی ہے۔ لیکن جس عقیدت سے شاہین کرگس بن جائیں وہ ذہنی غلامی کا بدترین نمونہ ہے۔ کبھی اس دیہاتی استبداد کو نظام کہا جاتا ہے اور اس نظام کے آئینی ہونے پر فخر کیا جاتا ہے۔ حالانکہ جس نظام کا مزاج افادی ہو اس کو آہنی ہونے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ اسی نظام کو آہنی ہونے کی ضرورت ہے جو انسان کی جہتوں کو مردہ کر کے زندہ رہ سکتا ہے۔

اس قادیانی نظام میں عقل وخرد کو اس واسطے ذبح کیا جاتا ہے کہ ان کے فروغ سے دینی آمریت کا چراغ گل ہو جاتا ہے۔ خلافت مآب کے نظام میں اخلاقی جرائم کی سزا رسمی اور عارضی ہوتی ہے۔ ربوہ میں شاید ہی کوئی ایسا ناظر یا عالم ہوگا جس پر کسی اخلاقی لغزش کی پاداش میں خلیفہ نے فرد جرم نہ لگایا ہو۔ لیکن وہ مجرم کبھی اپنے عہدے سے برطرف نہیں ہوا۔ اگر برطرف ہوا بھی تو بحال ہو گیا۔ چیدہ علماء کو "طاعونی چوہے اور جمعراتی ملاؤں" کے القاب عطا فرمائے۔ مگر وہ بدستور فائز المرام رہے۔ ان کے ایک برادر نسبتی ناظر امور عامہ تھے۔ ان کے متعلق شارع عام میں بورڈ پر یہ اعلان ہوا کہ وہ عادتاً جھوٹ بولتے ہیں۔ لوگ ان سے متنبہ رہیں۔ لیکن وہ اس وقت اپنے منصب سے الگ نہ کئے گئے۔ اس کے برعکس کسی کے متعلق خلافت مآب کو یہ شبہ ہو کہ وہ ان کی کسی رائے سے اختلاف رکھتا ہے یا اس نے کوئی نکتہ چینی کی ہے تو اس پر تعزیرات سے عرصہ حیات تنگ کر دیا جاتا ہے۔ گویا قادیانی نظام میں خدائی نافرمانی قابلِ عفو ہے۔ مگر خلیفہ کی نافرمانی کا محض شک بھی ناقابل معافی جرم سمجھا جاتا ہے۔ اسی واسطے ایمان بالخلافت پر ان دنوں بڑا زور ہے۔

جماعت کے افراد کا بے بس ہو جانا خلافت مآب پر ایک سنگین طنز ہے۔ اگر یہ عقیدت بھی سمجھی جائے تو اس میں کوئی خصوصیت نہیں۔ کیونکہ دوسرے پیر خانوں کا بھی یہی حال ہے۔ مرید اپنے مرشد کی ہر لغزش کو ثواب سمجھتے ہیں۔ ایسی کیفیت کیوں پیدا ہو جاتی ہے؟ اس کا مختصر جواب یہ ہے کہ یہ ایک نفسیاتی بے بسی ہے جو سرکسی تربیت سے ہر پیر اپنے پیروؤں میں پیدا کر دیتا ہے۔ سرکس کا رنگ ماسٹر Ring Master درندوں کو سدھا کر ان سے وہ کام لیتا ہے جو ان کی فطرت کے منافی ہوتے ہیں۔ سرکس کا شیر اپنے رنگ ماسٹر کے چابک کی آواز پر ناچتا ہے۔ کیا کوئی کہہ سکتا ہے کہ درندے کی فطرت کو مسخ کرنا اس پر احسان ہے۔ ایک عام مداری چڑیا کی ایسی تربیت کر دیتا ہے کہ وہ عام مجمعے میں تماشائیوں کے ہاتھوں سے تانبے، چاندی کے سکے چونچ میں لا کر مداری کی گود میں ڈال دیتی ہے اور اس کام کے لئے اس کو تماشائیوں کے ہجوم سے ڈر نہیں

٨

لگتا۔ لیکن اگر کوئی اپنی ہتھیلی میں دانے رکھ اور نہ وہ اڑ کر آئے گی۔ اپنی خوراک مداری تربیت سے اپنے مریدوں میں سرکس کے طرح شیر سرکس سے الگ ہو کر جنگل میں پہ نہیں مل سکتی۔ کیونکہ وہ دونوں اپنی فطری مغائرت پر حیوان ہیں اور ان کے ہم جنسوں قادیانیوں کا ہے۔ وہ خلافت مآب کی مخلوق وہ اس عذاب حیات سے نجات حاصل نہیں ک کہاں؟ خلافتی سرکس نے نظام اور تنظیم کو اب لئے لعنت بنا دیا ہے۔ قادیانی جماعت میں ہو گئی ہے۔ نظام اس وقت تک رحمت ہے جماعت کے مفادات نظام کی قربان گاہ پر بھ جو لوگ نفسیاتی تربیت اور اضطراری مشروط کی بصارت اور بصیرت ڈکٹیٹر کی مرضی کے تابع

پھول کی پتی سے کٹ سکتا ہے ہیرے کا جگر

پہلی جنگ عظیم کے بعد جب شم ہوئے تو خلیفہ کورنش بجالانے کے لئے قادیا His Holiness لکھا تھا۔ حالانکہ ہے۔ وہ بھی بادشاہوں اور شہزادوں کے پاس ہونے کی بھی قلعی کھل گئی۔ حضرت فاروقِ ا جانا اپنی خلافت کی توہین سمجھتے تھے۔ لیکن رسول ﷺ! لیکن اس خلیفہ کا بیک وقت قادیانی کی عقل و دانش پر گراں نہیں گزرتا، جماعت کا غیور ہونا ضروری ہے اور جو نہی میں مبتلا ہو جاتا ہے۔ کیونکہ دنیا میں اس کا ا مآب" کا ہوا۔ انہوں نے جنونِ زوج سے

صفحہ ٥١١

لگتا۔ لیکن اگر کوئی اپنی ہتھیلی میں دانے رکھ کر اس کو دکھانے کی کوشش کرے تو نہ وہ دانے دیکھے گی اور نہ وہ اڑ کر آئے گی۔ اپنی خوراک مداری کے ہاتھوں سے ہی لے گی۔ خلیفہ نے پینتالیس سالہ تربیت سے اپنے مریدوں میں سرکس کے شیر اور مداری کی چڑیا والی کیفیت پیدا کر دی ہے۔ جس طرح شیر سرکس سے الگ ہو کر جنگل میں نہیں جاسکتا اور چڑیا پنجرے سے اڑ کر دوسری چڑیوں میں نہیں مل سکتی۔ کیونکہ وہ دونوں اپنی فطری داعیات سے عاری ہوچکے ہوتے ہیں اور وہ اس مغائرت پر جو ان میں اور ان کے ہم جنسوں میں پیدا ہوچکی ہے، غالب نہیں آسکتے۔ یہی حال قادیانیوں کا ہے۔ وہ خلافت مآب کی خلوتوں کا مشاہدہ کرتے اور تعزیروں کا نشانہ بنتے ہیں۔ لیکن وہ اس عذاب حیات سے نجات حاصل نہیں کر سکتے۔ وہ زبان حال سے کہتے ہیں، جائیں تو جائیں کہاں؟ خلافتی سرکس نے نظام اور تنظیم کو اپنے اور اپنے خاندان کے لئے رحمت اور جماعت کے لئے لعنت بنا دیا ہے۔ قادیانی جماعت میں نظام کی وہی کیفیت ہے جو شریعت کی یہودیوں میں ہو گئی ہے۔ نظام اس وقت تک رحمت ہے جب تک وہ جماعتی بہبود کے لئے ہو۔ لیکن جب جماعت کے مفادات نظام کی قربان گاہ پر بھینٹ چڑھنے لگیں تو یہ آمریت کا شکنجہ بن جاتا ہے اور جو لوگ نفسیاتی تربیت اور انعکاسات مشروط کی تدبیروں سے اس شکنجے میں مقید ہوجاتے ہیں۔ ان کی بصارت اور بصیرت ڈکٹیٹر کی مرضی کے تابع ہوتی اور ان کو کہنا سننا بیکار ہوتا ہے۔

پھول کی پتی سے کٹ سکتا ہے ہیرے کا جگر مرد ناداں پر کلام نرم و نازک بے اثر

پہلی جنگ عظیم کے بعد جب شہزادہ ویلز ہندوستان کی سیاحت کے لئے لاہور میں وارد ہوئے تو خلیفہ کورنش بجا لانے کے لئے قادیان سے آئے۔ اس وقت ان کے موٹر کے پھریرے پر His Holiness لکھا تھا۔ حالانکہ عیسائیوں میں پوپ His Holiness کہلاتا ہے۔ وہ بھی بادشاہوں اور شہزادوں کے پاس نہیں جاتا۔ اس ایک غلامانہ فعل سے خلیفہ کے فضل عمر ہونے کی بھی قلعی کھل گئی۔ حضرت فاروق اعظمؓ رب ذوالجلال کے علاوہ کسی بادشاہ کے دربار میں جانا اپنی خلافت کی توہین سمجھتے تھے۔ لیکن کہاں قادیانی ناٹک کا بہروپیا اور کہاں نقیب چشم رسولﷺ! لیکن اس خلیفہ کا بیک وقت His Holiness اور حضرت عمرؓ سے افضل بننا کسی قادیانی کی عقل و دانش پر گراں نہیں گزرتا۔ چونکہ قیادت کی صحت اور صلاحیت کے بقا کے لئے جماعت کا غیور ہونا ضروری ہے اور جونہی جماعت میں غیرت ختم ہوتی ہے جماعت کا امام تکبر میں مبتلا ہو جاتا ہے۔ کیونکہ دنیا میں اس کا احتساب کرنے والا کوئی نہیں رہتا۔ یہی حال ”خلافت مآب“ کا ہوا۔ انہوں نے جنون فرج سے مغلوب ہو کر وہ وہ حرکات کی ہیں کہ ان کے بیان کے

٩

صفحہ ٥١٢

لئے زبان کے سانچے نہیں بنے۔ اگر ان کو بیان کرنے کی کوشش بھی کی جائے تو ادب کی پیشانی پر شکنیں پڑ جائیں۔ قصر خلافت، عفت اور عصمت کی لاشوں کا قبرستان ہے۔ کیونکہ وہ افعال دیکھنے پر بھی مانے نہیں جاسکتے۔ سننے پر کیسے تسلیم ہوسکتے ہیں۔ لیکن سوال یہ ہے:

زندگی جبر کے سانچوں میں ڈھلے گی کب تک؟ ان فضاؤں میں ابھی موت پلے گی کب تک؟

جب خلافت مآب کی سنگین خلوتوں کے رنگین راز باہر فضا میں نالۂ دل اور دودِ چراغ محفل بن کر پھیلے تو اپنی صفائی میں حضرت فاروقؓ سے افضل بننے والے نے یہ مطالبہ کیا کہ ایک واقعہ کے چار گواہ لاؤ۔ کبریائی کا دعویٰ اور صفائی کا یہ معیار؟ اس طریق سے تو قحبہ خانے کے لوگ بھی زنا کے الزام کی تردید کر سکتے ہیں۔ خدا کے بندے اپنی صفائی کے لئے دنیاوی عدالتوں کے وضع کردہ حیلوں کا سہارا نہیں لیتے۔ وہ اپنی حفاظت کے لئے خدا کا فیصلہ جو ہر وقت یہ کہتا ہے ”خدا کی انگلی ہل رہی ہے خدا میری طرف بھاگا آ رہا ہے“ اپنی صفائی کے لئے آسمان پر دستک دینے سے خائف ہے۔ تیس سال سے اس کو مباہلہ کا چیلنج دیا جا رہا ہے۔ مسٹر یوسف ناز کی مؤکد بالخدا اپیل نے اس کو کہیں کا نہیں رکھا۔ خلیفہ کے ماموں نے جو ڈاکٹر تھے ١٩٣٧ء میں انہی الزامات کے جواب میں کہا تھا کہ جماعت کو ان پر کان نہیں دھرنے چاہئیں۔ اگر ان میں حقیقت ہے تو وہ خلیفہ کی دماغی صحت کے زوال میں جلوہ گر ہو کر رہے گی۔ چنانچہ اب وہ وقت آ گیا ہے۔ اب خلیفہ کے دل و دماغ پر نسیان و ہذیان کا غلبہ ہے۔ ان کی گفتگو غیر واضح، ان کی نماز اور خطبات بے ربط ہو چکے ہیں۔ کیونکہ جس سرعت اور عجلت سے وہ سجدے کرتے ہیں ۔ وہ ایک مجنون کی سیمابی حرکات معلوم ہوتی ہیں۔ اب لوگوں نے بھی کھلم کھلا کہنا شروع کر دیا ہے کہ خلیفہ کے پیچھے نماز کا مقصد فوت ہو جاتا ہے۔ لیکن ان کو کوئی روک نہیں سکتا۔ خدا کے گھر میں قادیانیوں کی نمازیں ان کی خود ساختہ خلافت کے ہاتھوں رسوا ہو رہی ہیں اور یہ بول نہیں سکتے۔ ان کے خطبے بھی شعبہ زود نویسی کی ذمہ داری پر شائع ہوتے ہیں۔ کیونکہ وہ کچھ کہتے ہیں اور ترمیم و تنسیخ کے بعد کچھ اور شائع ہوتے ہیں۔ علماء کا مفاد پر تکیہ ہونا تعجب کا مقام ہے۔ کیونکہ عبادت کی تضحیک پر بھی ان کی رگ حمیت نہیں پھڑکتی۔

چونکہ ساری قادیانی ملت اپنے خلیفہ کے جرائم میں شریک رہی ہے۔ اس واسطے خدا کی بطش شدید سے بچ نہیں سکتی۔ اگر محض خلیفہ کی ذات کا معاملہ ہوتا تو رسی اور دراز ہو جاتی مگر ساری ملت اپنے کردار کے عواقب سے بچ نہیں سکتی۔

فطرت افراد سے اغماض تو کر لیتی ہے
پر نہیں کرتی وہ ملت کے گناہوں کو معاف

(عطاء الرحمٰن، گجرات، مورخہ ٥؍ جولائی ١٩٥٨ء)

١٠

آمر

آمریت (ڈکٹیٹر شپ) اس میں ہوتی ہے اور حکومت کرنے والے کو آ حکومت وراثت میں حاصل نہیں کرتا۔ بلکہ اور قوت بازو کا نتیجہ ہوتا ہے۔ وہ ملک کے حاصل ہوتے ہیں اور ملک کا آئین اس ب سمجھے جاتے ہیں۔ وہ تمام معاملات میں ہوتا۔ اس کے فرمان کی اطاعت قرآن پا شمشیر اپنے احکام منواتا اور حکومت کرتا ہے ہوتی۔ ملک کے کونے کونے میں جاسوسو میں رہتا ہے۔ جسے صرف اسی کے پروپی دوسری جماعت کا قیام ناممکن ہوتا ہے اور کو جور و استبداد کا نشانہ بنا دیا جاتا ہے۔ موت کے گھاٹ اتار دیا جاتا ہے۔ شہری برابر بھی نہیں ہوتی۔ تاریخ کے اوراق شا یونان، فرانس، جرمنی، روس، جاپان، ا رہا ہے۔ قدیم اور جدید آمروں کے اندا امتیاز بھی موجود ہے۔ مختلف ادوار میں مخ رنگ میں رنگین ہو کر حکومت کرتے رہے وجود میں آتا رہا اور جب بھی ملک میں فرائض سرانجام دینے لگتا اور ایک محد حکومت میں ایک مجلس بھی ہوتی ۔ ج اختیارات محدود اور اس کا حلقہٴ قدرت کی تمام روئیداد لیتا اور اس کے استعفیٰ دور اقتدار کی میعاد ختم کر چکا اور اپنا است

صفحہ ٥١٣

آمریت کا مفہوم

آمریت (ڈکٹیٹر شپ) اس نظام حکومت کا نام ہے جس کی زمام فرد واحد کے ہاتھوں میں ہوتی ہے اور حکومت کرنے والے کو آمر (ڈکٹیٹر) کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے۔ آمر زمام حکومت وراثت میں حاصل نہیں کرتا۔ بلکہ اس کا تخت اقتدار پر فائز ہونا سازشوں، سیاسی جوڑ توڑ اور قوت بازو کا نتیجہ ہوتا ہے۔ وہ ملک کے سیاہ سفید کا مالک تصور کیا جاتا ہے۔ اسے تمام اختیارات حاصل ہوتے ہیں اور ملک کا آئین اس کے اقوال کا تابع ہوتا ہے۔ بلکہ اس کے افکار ہی قانون سمجھے جاتے ہیں۔ وہ تمام معاملات میں خود مختار ہوتا ہے اور کسی شخص کے سامنے جواب دہ نہیں ہوتا۔ اس کے فرمان کی اطاعت قرآن پاک کی آیات کی طرح فرض متصور ہوتی ہے اور وہ بزور شمشیر اپنے احکام منواتا اور حکومت کرتا ہے۔ اس کے عہد حکومت میں تنقید و تبصرہ کی اجازت نہیں ہوتی۔ ملک کے کونے کونے میں جاسوسوں کا جال پھیلا دیا جاتا ہے۔ پریس اس کے احاطہ قدرت میں رہتا ہے۔ جسے صرف اسی کے پروپیگنڈہ کے لئے مختص کر دیا جاتا ہے۔ اس کے خلاف کسی دوسری جماعت کا قیام ناممکن ہوتا ہے اور اس کی پالیسی سے ایک ذرہ بھر بھی اختلاف کرنے والوں کو جور و استبداد کا نشانہ بنا دیا جاتا ہے۔ ناقدین کو تختہ دار کے ذریعہ یا دوسرے ہتھکنڈوں سے موت کے گھاٹ اتار دیا جاتا ہے۔ شہری آزادی مفقود ہوتی ہے اور ایک فرد کی حیثیت تنکے کے برابر بھی نہیں ہوتی۔ تاریخ کے اوراق شاہد ہیں کہ آمریت کا وجود زمانہ قدیم میں بھی رہا ہے۔ روم، یونان، فرانس، جرمنی، روس، جاپان، اطالیہ اور مصر میں آمری حکمرانوں کا ایک وسیع سلسلہ جاری رہا ہے۔ قدیم اور جدید آمروں کے انداز حکومت اور اقوال و افکار میں یک رنگی کے باوجود ان میں امتیاز بھی موجود ہے۔ مختلف ادوار میں مختلف آمر منظر عام پر آئے اور اپنے اپنے ماحول اور فضا کے رنگ میں رنگین ہو کر حکومت کرتے رہے۔ روم کا آمرانہ نظام وقت کی ضرورت کے پیش نظر معرض وجود میں آتا رہا اور جب بھی ملک میں بحرانی کیفیات اجاگر ہو جاتیں ایک آمر مطلق عنانی کے فرائض سر انجام دینے لگتا اور ایک محدود مدت معینہ کے بعد خود بخود مستعفی ہو جاتا۔ اس کے عہد حکومت میں ایک مجلس بھی ہوتی۔ جسے ایوان اعلیٰ کے نام سے موسوم کیا جاتا۔ لیکن اس کے اختیارات محدود اور اس کا حلقۂ قدرت مفقود ہوتا تھا۔ ایوان اعلیٰ کا مقصد آمر مطلق کے عہد حکومت کی تمام روئیداد لینا اور اس کے استعفیٰ پر غور کرنا تھا۔ یہ روئیداد وہ اس وقت پیش کیا کرتا جب اپنے دور اقتدار کی میعاد ختم کر چکا ہوتا اور اپنا استعفیٰ ایوان اعلیٰ کے سامنے پیش کر دیتا تھا۔ ١١

صفحہ ٥١٤

یونان کی آمریت، آمریت روما سے تھوڑی سی مختلف ہے۔ روما کے آمر وقت کے تقاضوں کے باعث منظر عام پر آئے۔ لیکن یونانی آمر قوت بازو اور جور و استبداد کی تند و تیز ہواؤں کے شانوں پر بیٹھ کر مخالف کے ایوانوں کو مسمار کرتے ہوئے مطلق العنانی کی زمام اپنے ہاتھوں میں لے لیتے اور اوّل سے آخر تک ظلم و ستم کا ایک وسیع باب وا کئے رکھتے۔ ان آمروں کو آمر کی بجائے جابر کہا جاتا تھا اور ان کے لئے وقت کی قید نہیں تھی۔

وقت کا تیز دھارا بہتا رہا اور دنیا کی فضا کی رنگت میں تبدیلی پیدا ہوتی رہی۔ انسان کا ذہن بدلتا رہا اور رفتہ رفتہ ایک وقت ایسا آ گیا جب اذہان میں ایک چمک سی پیدا ہو گئی اور اس دور کے آمروں نے وقت کی روشنی اور اذہان کی بلندی کے پیش نظر آمریت کے اصولوں اور آمرانہ خصوصیات میں بھی قابل ذکر تبدیلی پیدا کر لی اور آمریت جمہوری اقدار کے قریب ہو گئی۔ لیکن اس کے باوجود اسے کامیابی حاصل نہ ہوئی اور بعض حکمرانوں نے آمریت اور جمہوریت کے باہمی امتزاج سے حکومت کرنا چاہی۔ لیکن ان کی راہ میں ان کے ذاتی عزائم حائل ہو کر رہ گئے اور لوگوں نے انہیں ان کے ذاتی عزائم کی وجہ سے شکست فاش دی اور خالص جمہوریت کی طرف قدم بڑھانے شروع کر دیئے۔ لیکن آج جمہوریت کے اس دور میں بھی بعض شخصیتیں ایسی ہیں جنہوں نے اپنی کامیابی کے لئے نئی نئی راہیں نکالی ہیں اور آمریت کو جمہوریت کا چوغہ پہنا دیا ہے اور جمہوریت کا نعرہ بلند کر کے اپنی آمرانہ خواہشات کی تکمیل کرتے ہیں اور پریس کے ذریعہ و دیگر ذرائع کے توسط سے وہ دنیا کے سامنے اپنی جمہوریت کا ڈھنڈورہ پیٹتے چلے جاتے ہیں۔

یہ دور ذہنی عروج کے اعتبار سے بے مثال ہے۔ انسان ہر لمحہ کسی نہ کسی رنگ میں جدت طرازی میں مصروف ہے۔ چنانچہ اس عہد میں ایسے لوگ بھی موجود ہیں جنہوں نے مذہبی لبادہ اوڑھ کر جمہوریت کا علم لہرایا اور آمریت کی بنیادیں استوار کرنا شروع کر دیں اور الہام و کشوف کے ذریعہ فطرت انسانی کی خوف کھانے والی حس سے فائدہ اٹھانے کی تگ و دو میں مصروف ہو گئے۔ لہٰذا آمریت کی یہ قسم اپنی جگہ پر بالکل جدید اور اسے منظر عام پر لانے والی شخصیت جو مرزا محمود کے نام سے مشہور ہے، کی اپنی جدت ہے اور اس پر انہیں مبارک باد نہ دینا نا انصافی ہو گا۔

الغرض اس وقت میرے پیش نظر دور حاضر کا وہ مذہبی آمر ہے جس کی آمریت آہنی پردوں کے پیچھے جنم لیتی ہے اور اسے جمہوریت کا چوغہ پہنا کر بھولے بھالے لوگوں کے سامنے پیش کر دیا جاتا ہے اور وہ اسے جمہوری اقدار کی سربلندی تصور کرتے ہوئے امیر المؤمنین زندہ باد کے نعرے بلند کرنا شروع کر دیتے ہیں۔ اس آمریت کو محمودیت کا نام بھی دیا جا سکتا ہے۔ جس کا

١٢

صفحہ ٥١٥

عروج آج کل ربوہ میں دم توڑ رہا ہے۔ لہٰذا خلیفہ ربوہ کی آمریت کا تفصیلی جائزہ پیش کرنے سے پیشتر آمریت کو اسلامی نظریات کی روشنی میں دیکھنا ضروری ہے۔

اسلام اور آمریت

اسلامی نظریات کے مطابق آمریت ایسے گھناؤنے نظام کا نام ہے جو نہ صرف انسانوں کے نزدیک ناپسندیدہ ہے بلکہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک بھی قابل نفرت ہے۔ چنانچہ جب سرور کائنات ﷺ دنیا میں مبعوث ہوئے تو اس وقت دنیا مختلف قبائل میں بٹی ہوئی تھی اور ہر قبیلے کا سردار ہی حکمران مطلق سمجھا جاتا تھا۔ ہر قبیلہ آمریت وحیوانیت کا اچھا خاصہ اکھاڑہ تھا اور بربریت وجوراستبداد کی گھٹا ٹوپ گھٹائیں چاروں طرف چھائی ہوئی تھیں کہ ایسے میں سیدی ومولائی حضرت محمد رسول اللہ ﷺ نے دنیا کو جو سب سے پہلا سبق دیا وہ یہ تھا کہ کسی شخص کے احکام وفرمان کی پابندی سراسر ناجائز ہے۔ بلکہ تیرگیوں اور ظلمتوں میں ٹامک ٹوئیاں مارنے والے لوگو! ساری دنیا میں اگر کسی کے احکام کی پابندی ضروری ہے۔ اگر سارے عالم میں کسی کے فرمان کی اطاعت لازم ہے تو وہ صرف اور صرف وہی رحمٰن ورحیم خدا ہے جو سارے جہاں کی ربوبیت کرتا ہے۔ جس نے تمہیں پیدا کیا اور آخر جس کی طرف تم اٹھائے جاؤ گے۔ چنانچہ فرمایا: ”الحمد للہ رب العالمین“ کہ اے مومنو! حمد وثنا کے لئے صرف اور صرف وہی ہستی مختص ہے جو ساری دنیا کی ربوبیت کے فرائض سرانجام دیتی ہے۔ جس کے احکام کا ماننا ضروری اور جس کے فرمان کی اطاعت فرض ہے۔ پس ”الحمد للہ رب العالمین“ کی تعلیم دے کر ہمارے آقاسیدی ومولائی ”خاتم المرسلین ﷺ“ نے ساری دنیا پر واضح کر دیا کہ احکام وہدایات کا جاری کرنا خدا کا کام ہے اور کوئی انسان بھی جو اپنے دماغ پر بھروسہ کر کے دنیا سے اپنے فرمان منواتا ہے اور اس سے اسے اپنی بڑائی ثابت کرنا مقصود ہوتی ہے۔ خدا تعالیٰ کے نزدیک قابل احترام نہیں ہے۔ بلکہ جو شخص بھی دنیا میں اپنی حکومت قائم کرتا ہے وہ خائن ہے اور خدا تعالیٰ کے احکام کا بدترین دشمن ہے۔ پس یہ امر مسلّم ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے اس محبوب کو بھی دنیا پر اپنے ذاتی نظریات منوانے کی اجازت نہیں دی۔ جس کے لئے اس نے زمین وآسمان پیدا کئے اور نیز جمہور سے مشورہ لینا اشد ضروری قرار دیا ہے۔ سرور کائنات ﷺ کی زندگی سے ہمیں بیشتر واقعات اس بات کے ثبوت میں ملتے ہیں کہ حضور ﷺ نے کوئی قدم اٹھانے سے پہلے صحابہ کرامؓ سے مشورہ لیا اور پھر اس مشورے کی روشنی میں فیصلہ صادر کیا۔ یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ سرور کائنات ﷺ صرف ان امور میں جمہور مسلمانوں سے مشورہ لیتے تھے کہ جن کے متعلق انہیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی ہدایت

١٣

صفحہ ٥١٦

جاری نہیں ہوتی تھی۔ چنانچہ اس سلسلہ میں خلیفہ ربوہ کا سرکاری اخبار الفضل بھی متفق ہے۔ لکھتا ہے: ”رسول اکرم ﷺ شارع نبی تھے۔ اس لئے ان امور میں جن کے متعلق آپ کو وحی الٰہی سے رہنمائی حاصل ہو جاتی، صحابہ سے مشورہ لینے کی ضرورت نہ پڑتی تھی۔ بلکہ جمیع امت اس وحی الٰہی کی اتباع کی پابند تھی۔ لیکن جن امور کے متعلق آپ کو وحی الٰہی نہ ہوتی تھی۔ ان میں آپ صحابہ کرامؓ سے مشورہ لیتے تھے۔“

(الفضل مورخہ ٦؍ اکتوبر ١٩٥٦ء)

لیکن وہ امور جن کے لئے وحی کے ذریعہ آپ کو رہنمائی نہیں ہوتی تھی آپ جمہور سے مشورہ لیتے تھے۔ چنانچہ جنگ بدر کے موقع پر جب ایک طرف صرف ٣١٣ نہتے مسلمان تھے اور ان کے مقابلے میں دشمن کے ایک ہزار مسلح جنگجو تھے تو اس وقت حضور ﷺ کو یقین تھا کہ جمہور ان کے حکم کی پابندی کریں گے۔ لیکن اس کے باوجود آپ ﷺ نے صحابہؓ سے مشورہ لینا ضروری خیال کیا۔ چنانچہ جب تمام صحابہ نے حضور ﷺ کو جنگ کرنے کا مشورہ دیا تو آپ ﷺ نے انصار سے بھی مشورہ لینا ضروری سمجھا تاکہ شہر کے رہنے والے اور مہاجرین کو پناہ دینے والے صحابہؓ کو بھی اپنا نقطہ نظر پیش کرنے کا موقع مل سکے۔ جب آپ ﷺ کے ایک ایک ساتھی نے پوری ہم آہنگی کے ساتھ یہ مشورہ دیا کہ خدا کا نام لے کر آپ ہمیں جدھر چاہیں لے چلیں۔ حضور ﷺ نے کوچ کرنے کا حکم دیا۔

(سیرۃ ابن ہشام، جنگ بدر)

آنحضرت ﷺ کی وفات کے بعد حضرت ابو بکر صدیقؓ کی خلافت کا عہد آیا۔ آپ کے عہد خلافت میں بھی آپ کا یہی دستور رہا کہ جب کوئی کام کرتے تو صحابہ انصار و مہاجرین سے مشورہ کر لیتے۔ اس کے بعد قدم اٹھاتے۔ حضرت عمر فاروقؓ کا زمانہ جمہوریت کا بہترین نمونہ تھا۔ آپ نے مشوروں کے لئے مجلس شوریٰ قائم کی ہوئی تھی۔ جس کے ارکان حضرت عثمانؓ، حضرت علیؓ، ابو عبیدہ بن جراحؓ، عبدالرحمن بن عوفؓ، معاذ بن جبلؓ، ابی بن کعبؓ اور زید بن ثابتؓ وغیرہ تھے۔ لیکن اس کے علاوہ ایک عام مجلس شوریٰ تھی۔ اس کے انعقاد کا طریق یہ تھا کہ جب بھی کسی مشورے کی ضرورت پیش آتی۔ شہر بھر میں منادی کرا دی جاتی۔ لوگ مسجد میں جمع ہو جاتے۔ حضرت عمر فاروقؓ منبر پر چڑھ کر زیر بحث معاملہ پیش کرتے اور لوگ اپنی اپنی آراء دے دیتے۔ غرض اسلامی تاریخ ایسے سینکڑوں واقعات سے بھری پڑی ہے۔ جن سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ آنحضرت ﷺ اور خلفائے راشدین کے نزدیک آمریت قابل نفرت تھی۔ اسلام میں جب بھی بادشاہت کا قیام عمل میں آیا اور آمریت نے اپنا سر نکالا تو اسلامی حکومتوں پر زوال آنا شروع ہو گیا۔

موجودہ زمانے میں بعض لوگ اپنے کسی رہنما کی آمریت کو چھپانے اور عوام الناس کو

١٤

فریب دینے کی غرض سے صلح حدیبیہ کا وا باللہ ! آنحضرت ﷺ بھی بعض اوقات م میاں محمود احمد کا ایک مرید (وظیفہ خوار واقعات بھی موجود ہیں کہ آپ (آنحضو نزدیک امت کی بہبودی اور بھلائی م آپ ﷺ نے اپنی رائے کے مطابق عم پر عمل کیا ۔“

یہ دلیل پیش کر کے خلیفہ ربو حالات میں جائز ہوتی ہیں۔ لہٰذا اس س ہیں۔ چنانچہ آگے چل کر صلح حدیبیہ کا واق ”صلح حدیبیہ کا واقعہ کون نہیں بنا پر حج بیت اللہ کے لئے چودہ صد ہمر نہیں پہنچتے کہ قریش مکہ آپ کو راستہ ہی آنحضرت ﷺ کے درمیان ایک صلح نام

حضرت عمرؓ جیسے جلیل القدر طبری نے وہ گفتگو ان الفاظ میں نقل کی کے پاس آئے اور کہا۔ اے ابوبکرؓ ! ابوبکرؓ نے جواب میں فرمایا: کیوں نہیں مسلمان نہیں؟ آپ نے جواب دیا: مشرک نہیں ہیں؟ آپ نے فرمایا: کیو ذلت آمیز شرائط پر صلح کیوں کی گئی ن آنحضرت ﷺ کی فرمانبرداری اور ف آپ ﷺ اللہ تعالیٰ کے رسول ہیں ۔ آپ اللہ تعالیٰ کے رسول ہیں۔ اس آنحضرت ﷺ کی خدمت میں حاض تھے۔ آنحضرت ﷺ نے جواب م

صفحہ ٥١٧

فریب دینے کی غرض سے صلح حدیبیہ کا واقعہ پیش کر کے یہ ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ نعوذ باللہ! آنحضرت ﷺ بھی بعض اوقات من مانی کارروائیاں کر لیتے تھے۔ چنانچہ امام جماعت ربوہ میاں محمود احمد کا ایک مرید (وظیفہ خوار) الفضل مورخہ ٦؍ اکتوبر ١٩٥٦ء میں رقمطراز ہے: ”ایسے واقعات بھی موجود ہیں کہ آپ (آنحضرت ﷺ) نے صحابہ سے مشورہ لیا۔ لیکن آپ ﷺ کے نزدیک امت کی بہبودی اور بھلائی صحابہ کے مشورہ کے خلاف کسی دوسری صورت میں تھی تو آپ ﷺ نے اپنی رائے کے مطابق عمل کرنے کا حکم صادر فرمایا اور صحابہ نے بلا چون و چرا اس حکم پر عمل کیا۔“

یہ دلیل پیش کر کے خلیفہ ربوہ کا مرید ثابت یہ کرنا چاہتا ہے کہ من مانی کارروائیاں بعض حالات میں جائز ہوتی ہیں۔ لہٰذا اس کے ”امیر المؤمنین“ جو من گھڑت اقدام کرتے ہیں وہ جائز ہیں۔ چنانچہ آگے چل کر صلح حدیبیہ کا واقعہ بیان کرتے ہوئے ایڈیٹر الفضل رقمطراز ہے۔ ”صلح حدیبیہ کا واقعہ کون نہیں جانتا کہ رسول اللہ ﷺ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک خبر کی بنا پر حج بیت اللہ کے لئے چودہ صد ہمراہیوں کے ساتھ روانہ ہوتے ہیں۔ لیکن ابھی آپ مکہ میں نہیں پہنچتے کہ قریش مکہ آپ کو راستہ ہی میں روک لیتے ہیں۔ بڑی لیت و لعل کے بعد قریش مکہ اور آنحضرت ﷺ کے درمیان ایک صلح نامہ تجویز ہوتا ہے۔“

حضرت عمرؓ جیسے جلیل القدر صحابی نے حضرت ابوبکرؓ سے اس موقعہ پر جو بات چیت کی طبری نے وہ گفتگو ان الفاظ میں نقل کی ہے: اس معاہدہ کے بعد حضرت عمرؓ جلدی سے حضرت ابوبکرؓ کے پاس آئے اور کہا۔ اے ابوبکرؓ ! کیا آنحضرت ﷺ اللہ تعالیٰ کے رسول نہیں ہیں؟ حضرت ابوبکرؓ نے جواب میں فرمایا: کیوں نہیں۔ اس کے بعد حضرت عمرؓ نے دوسرا سوال یہ کیا۔ کیا ہم مسلمان نہیں؟ آپ نے جواب دیا: کیوں نہیں۔ حضرت عمرؓ نے تیسرا سوال یہ کیا کہ کیا قریش مشرک نہیں ہیں؟ آپ نے فرمایا کیوں نہیں۔ حضرت عمرؓ نے کہا اگر یہ باتیں درست ہیں تو پھر ذلت آمیز شرائط پر صلح کیوں کی گئی ہے؟ اس کے جواب میں حضرت ابوبکرؓ نے فرمایا اے عمرؓ ! تم آنحضرت ﷺ کی فرمانبرداری اور اطاعت پر قائم رہو۔ میں اس امر کی شہادت دیتا ہوں کہ آپ ﷺ اللہ تعالیٰ کے رسول ہیں۔ حضرت عمرؓ نے جواب میں کہا کہ میں بھی گواہی دیتا ہوں کہ آپ اللہ تعالیٰ کے رسول ہیں۔ اس گفتگو کے باوجود حضرت عمرؓ کی تسلی نہ ہوئی۔ چنانچہ آپ خود آنحضرت ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور وہی تمام سوالات کئے جو حضرت ابوبکرؓ سے کئے تھے۔ آنحضرت ﷺ نے جواب میں فرمایا: ”میں اللہ تعالیٰ کا بندہ اور اس کا رسول ہوں۔ میں

١٥

صفحہ ٥١٨

اللہ تعالیٰ کے احکام کی خلاف ورزی نہیں کرتا۔ اس لئے اللہ تعالیٰ بھی مجھے ضائع نہیں کرے گا۔‘‘

اس جواب کے بعد حضرت عمرؓ کی تسلی ہوگئی۔‘‘

الفضل نے اس سارے واقعہ کے بیان سے یہ ثابت کرنے کی سعی ناکام کی ہے کہ گویا نعوذ باللہ سرور کائنات ﷺ نے صحابہ کے مشوروں کے خلاف اپنے دل کی بات منوائی اور ایسا فیصلہ کیا جسے صحابہ نعوذ باللہ ایک غلط فیصلہ سمجھتے تھے۔ لہٰذا اگر خلیفہ ربوہ کوئی من مانی کارروائی کر لیں تو اعتراض کرنے والوں کے لئے گنجائش نہیں ہے۔ میرا خیال ہے سرکار ربوہ کے وظیفہ خوار کی سمجھ میں آنحضرت ﷺ کا وہ جواب نہیں آیا جو انہوں نے حضرت عمرؓ کو دیا تھا اور جس سے اس نے غلط مفہوم نکالنے کی کوشش کی ہے۔ سرور کائنات ﷺ کے الفاظ حسب ذیل ہیں: ”میں اللہ کا بندہ ہوں اور اس کا رسول ہوں۔ میں اللہ تعالیٰ کے احکام کی خلاف ورزی نہیں کرتا۔ اس لئے اللہ تعالیٰ بھی مجھے ضائع نہیں کرے گا۔‘‘

ان سطور میں دو باتیں قابل غور ہیں۔ اوّل یہ کہ میں اللہ کا بندہ اور اس کا رسول ہوں اور دوسرا یہ کہ میں اللہ تعالیٰ کے احکام کی خلاف ورزی نہیں کرتا۔ اس لئے اللہ تعالیٰ مجھے ضائع نہیں کرے گا۔ جہاں تک الفضل کے استدلال کا تعلق ہے۔ اگر اس مثال سے وہ ثابت یہ کرنا چاہتا ہے کہ اس کے امیر المومنین کا من مانی کارروائیاں کرنا اس لئے جائز ہے کہ رسول کریم ﷺ نے من مانی کارروائی کی تھی۔ (نعوذ باللہ) تو پہلے اسے یہ بھی ثابت کرنا پڑے گا کہ میاں محمود احمد خدا کا بندہ اور اس کے رسول ہیں۔ دوسری بات جو سرور کائنات ﷺ کے جواب میں بتائی گئی ہے وہ یہ ہے کہ میں اللہ تعالیٰ کے احکام کی خلاف ورزی نہیں کرتا۔ اس لئے اللہ تعالیٰ مجھے ضائع نہیں کرے گا۔ یعنی سرور کائنات فخر موجودات ﷺ نے حضرت عمرؓ کے سوال کے جواب میں یہ کہہ کر بات بالکل صاف کر دی کہ میں خدا تعالیٰ کے احکام کی خلاف ورزی نہیں کرتا۔ جس کا واضح مطلب یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے صلح حدیبیہ کے وقت صحابہ کے مشوروں کے خلاف جو عمل کیا وہ ان کے ذہن کی پیداوار نہ تھا۔ بلکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کی رہنمائی ہو چکی تھی اور حضور ﷺ نے خدا تعالیٰ کے حکم کے مطابق فیصلہ کیا۔ پس اگر آنحضرت ﷺ نے اللہ تعالیٰ سے رہنمائی حاصل کر کے صحابہ کے مشورہ کے خلاف فیصلہ کیا تو وہ فیصلہ ان کا اپنا نہ تھا بلکہ اللہ تعالیٰ کا تھا۔ کیونکہ ”میں اللہ تعالیٰ کے احکام کی خلاف ورزی نہیں کرتا‘‘ کے الفاظ سے صاف ظاہر ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضور ﷺ کو ان شرائط پر صلح کرنے کا حکم دے دیا تھا۔ اس لئے صلح حدیبیہ کے واقعہ سے کسی رنگ میں بھی یہ بات ثابت نہیں ہوتی کہ نعوذ باللہ سرور کائنات ﷺ بعض حالات میں آمرانہ طریق کار اختیار کرتے تھے۔

١٦

صفحہ ٥١٩

صلح حدیبیہ کا واقعہ بیان کرنے کے بعد الفضل نے حضرت ابوبکر صدیقؓ کا جنگ موتہ کا واقعہ قلمبند کیا ہے: ’’آنحضرت ﷺ نے اپنی وفات سے کچھ دیر قبل رومیوں سے جنگ موتہ کا انتقام لینے کے لئے ایک لشکر کی تیاری کا حکم دیا تھا۔ غزوہ موتہ میں زید بن حارثہؓ جو کہ اس مہم کے سردار تھے۔ شہید ہو گئے تھے۔ اس کا انتقام لینے کے لئے آپ نے جس لشکر کی تیاری کا ارشاد فرمایا۔ ابھی یہ لشکر روانہ ہوا تھا...... کہ آنحضرت ﷺ بیمار ہو گئے اور اس بیماری میں آپ کی وفات ہو گئی۔ آپ ﷺ کی وفات کے بعد حضرت ابوبکر خلیفۃ المسلمین منتخب ہوئے۔ آنحضرت ﷺ کی وفات کے بعد عربوں میں ارتداد کی وبا پھیل گئی۔ وہ نو مسلم قبیلے جن کے ایمان ابھی پختہ نہ ہوئے تھے۔ آپ کی وفات کے بعد یکے بعد دیگرے مرتد ہونے لگے۔ چونکہ یہ وقت مسلمان کے لئے بڑا نازک تھا۔ اس لئے بعض کبار صحابہؓ نے حضرت ابوبکرؓ کو مشورہ دیا کہ کچھ عرصہ کے لئے اسامہ کے لشکر کی روانگی کو ملتوی کر دیا جائے اور پہلے مرتدین کی سرکوبی کی جائے۔ لیکن حضرت ابوبکرؓ نے اس مشورہ کو قبول نہ کیا اور فرمایا کہ میں اس جھنڈے کو کھول نہیں سکتا۔ جسے آنحضرت ﷺ نے خود اپنے ہاتھوں سے باندھا ہے۔‘‘

(الفضل مورخہ ١٦؍اکتوبر ١٩٥٦ء)

اس واقعہ کے بیان سے انہوں نے یہ ثابت کرنے کی کوشش ناپاک کی ہے کہ حضرت ابوبکرؓ و دیگر خلفائے راشدینؓ صحابہ کے مشوروں کو مسترد کر دیا کرتے تھے۔ لہٰذا اس کار نبوت کرنے والا خلیفہ ربوہ اگر اپنی بات منواتا ہے تو وہ ناجائز نہیں بلکہ اسی طرح جائز ہے۔ جس طرح سرور کائنات ﷺ اور خلفائے راشدین کے لئے جائز تھا۔ چنانچہ اس نے اپنے مقصد کے حصول کی خاطر حضرت ابوبکر صدیقؓ کا جو واقعہ قلمبند کیا ہے۔ اس میں ایسا کوئی لفظ نہیں جس سے یہ ثابت ہو کہ حضرت ابوبکرؓ نے صحابہؓ کے مشورہ کو مسترد کر کے اپنے دل کی بات منوائی۔ بلکہ حضرت ابوبکرؓ کی طرف سے جو جواب خود الفضل نے رقم کیا ہے۔ اس کے الفاظ یہ ہیں: ’’میں اس جھنڈے کو کھول نہیں سکتا۔ جسے رسول اکرم ﷺ نے خود اپنے ہاتھوں سے باندھا ہے‘‘ یعنی جس بات کا فیصلہ خود سرور کائنات ﷺ اپنی زندگی میں فرما چکے ہیں۔ اس فیصلہ کو بدلنے یا اس میں ترمیم کرنے کا ہمیں کوئی حق حاصل نہیں ہے۔ پس ظاہر ہے کہ حضرت ابوبکرؓ نے اوّل تو اپنے پاس سے کوئی فیصلہ نہیں کیا۔ دوسرے انہوں نے صحابہؓ سے اس سلسلہ میں مشورہ نہیں مانگا اور سوم یہ کہ انہوں نے اپنے کسی فیصلہ سے صحابہ کے مشورہ کو مسترد نہیں کیا۔ بلکہ حضرت محمد مصطفےٰ ﷺ ہی کے فیصلہ پر قائم رہنے کے عزم کا اظہار فرمایا ہے۔ پس ان واقعات کو اپنی ذاتی غرض کے لئے پیش کرنا ایک ایسی بددیانتی ہے جسے کوئی صحیح العقل شخص ایک لمحہ کے لئے بھی برداشت نہیں کر سکتا اور نہ صرف یہ کہ کذب بیانی

١٧

صفحہ ٥٢٠

ہے۔ بلکہ ہمارے پیارے آقا حضرت محمد مصطفےٰ ﷺ اور ان کے خلفاء کی توہین ہے اور ان کے بلند اور بے نظیر اخلاق پر بد نما دھبہ لگانے کی ایک ایسی بیہودہ کوشش ہے کہ جس سے جس قدر بھی اظہار نفرت کیا جائے کم ہے۔ یہ بات کتنی تعجب انگیز اور کیسی بھیانک ہے کہ اپنی آمرانہ خصوصیات کو جائز ثابت کرنے کی غرض سے سرور کائنات ﷺ اور خلفائے راشدینؓ کو آمر اور پست اخلاق ثابت کرنا شروع کر دیا ہے۔ ادارہ الفضل کو معلوم ہونا چاہئے کہ بد اعمال لوگ یہ کہہ کر کسی صورت میں بھی بلند اخلاق نہیں ہو سکتے کہ خلفائے راشدینؓ یا سرور کائنات ﷺ بھی نعوذ باللہ اسی قماش کے تھے۔ سچائی بہر حال سچائی ہے اور اسے جھوٹے اور بے جان استدلال سے جھوٹ ثابت نہیں کیا جا سکتا۔ اگر وہ اپنے امام میاں محمود کا حق نمک ادا کرنے کی غرض سے ان کی ہر ناجائز بات کو جائز ثابت کرنے کے کام پر مامور ہے۔ تو کم از کم اسے اس خدا کا تو کچھ خوف ہونا چاہئے جو مالک حقیقی ہے اور جو اس کے ربوبیت کرنے والے کا بھی ربوبیت کرنے والا اور اس کی رسی کو دراز کرنے والا ہے۔

پس اسلام ہی ایک ایسا مذہب ہے جس نے جمہوریت کا صحیح مفہوم دنیا کے سامنے پیش کیا اور مساوات کی تعلیم سے دنیا کی بے نور آغوش کو منور کر دیا۔ آمریت اسلام میں کسی وقت بھی جائز نہ تھی اور محبوب خدا حضرت محمد مصطفےٰ ﷺ اسے پسند نہیں فرماتے تھے۔ بلکہ انہوں نے اپنے اسوۂ حسنہ سے بھی یہ بات ثابت کر دی کہ جمہوریت انسانیت کی بقاء اور ملت اسلامیہ کی روح ہے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں فرماتا ہے: ”وامرهم شوریٰ بینهم (شوریٰ)“ یعنی کسی کام کے شروع کرنے سے قبل ایک دوسرے سے مشورہ کر لیا کرو۔ اللہ تعالیٰ نے مومنین کو یہ تعلیم اس لئے دی تا کہ کہیں وہ اپنے اذہان پر اعتماد کر کے غلط راستے پر نہ چل نکلیں۔ آج روس، امریکہ و دیگر ممالک جمہوریت کا نعرہ بلند کر رہے ہیں اور نظام جمہوریت پر نازاں ہیں۔ لیکن جمہوریت کے نظریہ کی تخلیق اسلام نے کی اور آج سے ساڑھے تیرہ سو سال قبل عرب کی بے آب و گیاہ وادی میں خدائے برتر نے اپنے محبوب حضرت محمد مصطفےٰ ﷺ کی زبان سے دنیا میں جمہوریت کا نعرہ بلند کیا۔ جس پر آج دنیا کی ہر بڑی سے بڑی طاقت فخر محسوس کر رہی ہے اور یہی وہ عظیم نظریہ حیات ہے۔ جس سے دور رہ کر انسانیت کا پودا مرجھا جاتا اور آمریت کے دیو سر نکال لیتے ہیں۔ آمریت انسان کو خدا سے دور اور حیوانیت کے قریب لے جانے کا راستہ ہے۔ جسے اللہ تعالیٰ نے پسند نہیں فرمایا۔ بلکہ ”بسم الله الرحمٰن الرحیم“ میں بھی یہ نکتہ بیان فرما دیا ہے کہ اللہ تعالیٰ تکبر و نخوت کو پسند نہیں کرتا۔ بلکہ جو لوگ کاروبار میں یا دوسرے مشاغل میں کسی کام کی ابتداء سے ١٨ پہلے اپنے آپ پر بھروسہ کرتے ہیں اور سمجھ لیتے کیا ہے وہی درست ہے۔ وہ غلطی پر ہیں۔ بـ رکھنے اور اسی کے نام سے کام اور اپنے مشاغل کسی کام کی ابتداء سے قبل اللہ تعالیٰ کا نام لو۔ تـ کر سکتی اور پھر یاد رکھو صرف کسی شخص کی دنیاوی بلکہ ایسا شخص احمق ہے جو کسی انسان کی عظمت کـ کرتا ہے۔ کیونکہ ”الرحمٰن الرحیم“ تو ا توقعات وابستہ کر لینا اور اس پر بھروسہ رکھنا کفر رہا کرو۔ تاکہ وہ خدا جو بن مانگے عطاء کرنے اس کی رحیمیت کے نور سے فیض یاب ہو سکو۔

پس ”بسم الله الرحمٰن الرحیـ بچاؤ“ کی تلقین کی ہے اور اس میں یہ پہلو موجو اختیار دینا ناجائز اور اللہ تعالیٰ کے نزدیک ناپسنـ بحیثیت جماعت طریق انتخاب کو استعمال کر کرتے ہیں کہ تمام اختیارات کو خلافت کی خاطـ پر بیعت کر کے اس کو سب اختیارات قیادت و سـ

اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں مشاورے بقاء کے لئے لازمی قرار دیتا ہے۔ لیکن الفضل میں خدا اور اس کے رسول کے پیغامات و تعلیمـ اختیارات سے دست بردار ہو جانے کی تلقین اور اختیارات قربان کرنے کو کامیابی قرار دیتا انسان کے لئے اپنے اختیارات چھوڑنا اور ا اس کی وجہ یہ ہے کہ جمہور سے تمام اختیارات مذہبی رہنما یا امیر قوم کو لے کر غلط راہ پر گامزن اور تنقید کا ہتھیار جسے اسلام نے قومی اصلاح

صفحہ ٥٢١

پہلے اپنے آپ پر بھروسہ کرتے ہیں اور سمجھ لیتے ہیں کہ ہمارے اذہان وقلوب نے جو طریق کار وضع کیا ہے وہی درست ہے۔ وہ غلطی پر ہیں۔ بلکہ کسی کام کی ابتداء سے پہلے بھی خدا ہی پر بھروسہ رکھنے اور اسی کے نام سے کام اور اپنے مشاغل کی ابتداء کرنے کی تعلیم دی اور فرمایا کہ اے مومنو! کسی کام کی ابتداء سے قبل اللہ تعالیٰ کا نام لو۔ کیونکہ اس کے سوا کوئی دوسری چیز تمہاری رہنمائی نہیں کر سکتی اور پھر یاد رکھو صرف کسی شخص کی دنیاوی جاہ وحشمت کو دیکھ کر شخصیت پرستی کا زہر نہ کھا لینا۔ بلکہ ایسا شخص احمق ہے جو کسی انسان کی عظمت کی طرف دھیان کرتا اور اس سے اپنی توقعات وابستہ کرتا ہے۔ کیونکہ ”الرحمن الرحیم“ تو اللہ تعالیٰ ہے۔ سوا اس کے سوا کسی خاکی جسم کے ساتھ توقعات وابستہ کر لینا اور اس پر بھروسہ رکھنا گمراہ کن ہے۔ جس سے ہر لمحہ بچنے کی سعی وجہد کرتے رہا کرو۔ تاکہ وہ خدا جو بن مانگے عطاء کرنے والا ہے تمہیں اپنی نعمتوں سے مالا مال کر دے اور تم اس کی رحیمیت کے نور سے فیض یاب ہو سکو۔

پس ”بسم اللہ الرحمن الرحیم“ میں بھی اللہ تعالیٰ نے ”نظریہ آمریت سے بچاؤ“ کی تلقین کی ہے اور اس میں یہ پہلو موجود ہے کہ کسی شخص کو بھی چاہے وہ کوئی ہی کیوں نہ ہوں اختیار دینا ناجائز اور اللہ تعالیٰ کے نزدیک ناپسندیدہ ہے۔ لیکن ادارہ الفضل رقمطراز ہے: ”احباب بحیثیت جماعت طریق انتخاب کو استعمال کرنے کی بجائے اسی امر میں سعادت دارین یقین کرتے ہیں کہ تمام اختیارات کو خلافت کی خاطر قربان کر دیں۔ کیونکہ ترقیات ایک شخص کے ہاتھ پر بیعت کر کے اس کو سب اختیارات قیادت وسیادت دینے ہی میں مضمر ہیں۔“

(الفضل مورخہ ١٥؍ اکتوبر ١٩٣٧ء)

اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں مشاورت کی ہدایت کرتا ہے اور جمہوری اقدار کو مسلمانوں کی بقاء کے لئے لازمی قرار دیتا ہے۔ لیکن الفضل جو خلیفہ ربوہ کا ذاتی گزٹ ہے۔ وظیفہ خواری کے زعم میں خدا اور اس کے رسول کے پیغامات وتعلیمات کے بالکل برعکس لوگوں کو خلیفہ کی خاطر اپنے تمام اختیارات سے دست بردار ہو جانے کی تلقین کرتا ہے اور ایک شخص پر اعتماد کر کے اپنے جملہ حقوق اور اختیارات قربان کرنے کو کامیابی قرار دیتا ہے۔ حالانکہ قرآن مجید نے اللہ تعالیٰ کے سوا کسی انسان کے لئے اپنے اختیارات چھوڑنا اور اس کے سوا کسی شخص پر اعتماد کرنا ناجائز قرار دیا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ جمہور سے تمام اختیارات چھین لینے سے مطلب یہ بنتا ہے کہ اگر خلیفہ یا امام یا مذہبی رہنما یا امیر قوم کو لے کر غلط راہ پر گامزن ہو پڑے تو قوم اس کا محاسبہ کرنے کی مجاز نہیں رہتی اور تنقید کا ہتھیار جسے اسلام نے قومی اصلاح کے لئے ضروری قرار دیا ہے، سلب ہو کر رہ جاتا ہے۔

١٩

صفحہ ٥٢٣

حالانکہ احادیث میں بھی بعض واقعات ایسے موجود ہیں جن میں تنقید کو قومی زندگی کے لئے اسی طرح اشد ضروری قرار دیا گیا ہے۔ جس طرح جسم خاکی کے لئے متحرک دل کا ہونا لازمی ہے۔ مثلاً سفیان بن عیینہ سے مروی ہے کہ حضرت عمر فاروقؓ فرمایا کرتے تھے: ”مجھے سب سے زیادہ وہ شخص محبوب ہے جو میرے عیوب مجھ پر ظاہر کرتا ہے۔“ حضرت عمر فاروقؓ کا یہ قول جمہوریت کے حق میں ایک زندہ جاوید ثبوت ہے جسے کوئی شخص بھی جھٹلا نہیں سکتا۔ امام جماعت ربوہ کا ذاتی گزٹ پھر ایک دوسری جگہ پر رقمطراز ہے: ”گو ڈکٹیٹر شپ خلافت سے مشابہت رکھتی ہے۔ لیکن دراصل خلافت کی شان ڈکٹیٹر شپ سے بہت بڑھ کر ہے جو موازنہ ذیل سے ظاہر ہے۔ متبعین خلافت خلیفہ کے ہاتھ پر بیعت کرتے ہیں۔ گویا وہ خلیفہ وقت کے پاس بھی کچھ بیچ کر اس سے نجات اخروی کا سودا کرتے ہیں۔ اس بیعت کے بعد کوئی چیز بھی ان کی نہیں رہتی۔“

(الفضل مورخہ ١٥ اکتوبر ١٩٣٧ء)

مندرجہ بالا عبارت میں بتایا گیا ہے کہ ڈکٹیٹر شپ یعنی آمریت خلافت سے مشابہت رکھتی ہے۔ الفاظ دیگر خلافت آمریت کا دوسرا نام ہے اور یہیں تک نہیں بلکہ خلافت کی شان آمریت سے بھی زیادہ ہے۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر خلافت آمریت کا دوسرا نام ہے تو اسلام نے جمہوریت کو قوم کی روح کیوں قرار دیا ہے۔ دوسرا سوال یہ ہے کہ خلافت کا مقام آمریت سے بھی زیادہ ہے، سے کیا مراد ہے؟

اگر یہ تسلیم کر لیا جائے کہ خلافت آمریت کا دوسرا نام ہے تو پھر خلافت کا مقام آمریت سے بھی زیادہ اسی طرح ہو سکتا ہے کہ خلیفہ کے اختیارات آمر مطلق سے زیادہ تسلیم کئے جائیں۔ یعنی الفضل نے ان سطور میں قارئین کے ذہن نشین یہ بات کروانا چاہی ہے کہ خلیفہ آمر مطلق ہوتا ہے۔ بلکہ اس کے اختیارات آمر سے بہت زیادہ ہوتے ہیں۔ چنانچہ ہمارے اس استدلال کی تصدیق اس کی حسب ذیل سطور سے ہو جاتی ہے: ”متبعین خلافت خلیفہ کے ہاتھ پر بیعت کرتے ہیں۔ گویا وہ خلیفہ وقت کے پاس بھی کچھ بیچ کر اس سے نجات اخروی کا سودا کرتے ہیں۔ اس بیعت کے بعد کوئی چیز بھی ان کی نہیں رہتی۔“

یعنی آمر کی حیثیت اور خلیفہ کی حیثیت میں یہ امتیاز ہے کہ آمر صرف اپنی قوم کے جسم سے کھیلنے کے اختیارات کا حامل ہوتا ہے۔ لیکن خلیفہ انسانی جسم کے علاوہ روح سے بھی اپنی من مانی منوانے کے اختیارات رکھتا ہے اور خلیفہ اور مرید میں یہ ایک ایسا سودا ہوتا ہے کہ مرید کے حقوق کسی چیز پر بھی نہیں رہتے۔ ”انا للہ وانا الیہ راجعون“ لیکن اس کے ساتھ ہی الفضل اس بات کا

٢٠

بھی مدعی ہے کہ خلیفہ ربوہ جمہوریت کے سب س آمریت اس کے نزدیک خلافت کا دوسرا نام ح آمریت ہی کی کوئی قسم ہو۔

اے شیخ بات کر کوئی

پس منظر

ربوہ کی فسطائیت کو سمجھنے کے لئے ضرور ابتداء سے لے کر اب تک کی تاریخ کا ایک ہلکا سا خا طرف سے کسی قسم کی قطع و برید نہ کروں تا کہ دور حاضر

مرزا غلام احمد

مرزا غلام احمد، مرزا غلام مرتضیٰ کے گھر مسیح موعود ہونے کا دعویٰ کیا۔ چونکہ ان میں علمی صلا بہت سے لوگ ان کے پیرو بن گئے۔ مرزا قادیانی اسلام کے مسئلہ کی مخالفت کی اور وفات مسیح علیہ السلا رقم کیں اور دعویٰ کیا، اللہ تعالیٰ کی طرف سے مجھ پر و

تعلیمات

مرزا غلام احمد نے مختلف مقامات پر حسد ہر ایک پہلو سے چھوڑ دو اور باہمی ناراضی جانے دو او تاکہ تم بخشے جاؤ۔“

”بدکار خدا کا قرب حاصل نہیں کر سکتا۔ ایک جو اس کے نام کے لئے غیرت مند نہیں اس کی چیونٹیوں یا کیڑوں کی طرح مرتے ہیں اور دنیا سے سکتے۔ ہر ایک ناپاک آنکھ اس سے دور ہے۔ ہر ایک

”نوع انسان کے لئے روئے زمین زادوں کے لئے اب کوئی رسول اور شفیع نہیں مگر م

صفحہ ٥٢٤

بھی مدعی ہے کہ خلیفہ ربوہ جمہوریت کے سب سے بڑے علمبردار ہیں۔ ممکن ہے جس طرح آمریت اس کے نزدیک خلافت کا دوسرا نام ہے۔ اسی طرح اس کے نزدیک جمہوریت بھی آمریت ہی کی کوئی قسم ہو۔

اے شیخ بات کر کوئی عقل وشعور کی

پس منظر

ربوہ کی فسطائیت کو سمجھنے کے لئے ضروری معلوم ہوتا ہے کہ میں یہاں اس جماعت کی ابتداء سے لے کر اب تک کی تاریخ کا ایک ہلکا سا خاکہ پیش کر دوں اور اسے پیش کرتے وقت اپنی طرف سے کسی قسم کی قطع و برید نہ کروں تا کہ دور حاضر کی اس فسطائی ریاست کو سمجھنے میں آسانی ہو۔

مرزا غلام احمد

مرزا غلام احمد، مرزا غلام مرتضیٰ کے گھر ١٨٣٩ء میں پیدا ہوئے۔ ١٨٩١ء میں مہدی یا مسیح موعود ہونے کا دعویٰ کیا۔ چونکہ ان میں علمی صلاحیتیں موجود تھیں۔ اس لئے دیکھتے ہی دیکھتے بہت سے لوگ ان کے پیرو بن گئے۔ مرزا قادیانی نے مسئلہ جہاد کو مسترد قرار دیا۔ حیات مسیح علیہ السلام کے مسئلہ کی مخالفت کی اور وفات مسیح علیہ السلام کا عقیدہ پیش کیا۔ وحی والہام پر متعدد کتب رقم کیں اور دعویٰ کیا، اللہ تعالیٰ کی طرف سے مجھ پر وحی کا نزول ہوتا ہے۔

تعلیمات

مرزا غلام احمد نے مختلف مقامات پر حسب ذیل تعلیمات پیش کیں: ”تم اپنی نفسانیت ہر ایک پہلو سے چھوڑ دو اور باہمی ناراضی جانے دو اور سچے ہو کر جھوٹے کی طرح تذلل اختیار کرو۔ تا کہ تم بخشے جاؤ۔“

(کشتی نوح ص ١٢، خزائن ج ١٩ ص ١٢)

”بدکار خدا کا قرب حاصل نہیں کر سکتا۔ متکبر اس کا قرب حاصل نہیں کر سکتا...... اور ہر ایک جو اس کے نام کے لئے غیرت مند نہیں اس کا قرب حاصل نہیں کر سکتا۔ وہ جو دنیا پر کتوں، چیونٹیوں یا گدوں کی طرح گرتے ہیں اور دنیا سے آرام یافتہ ہیں وہ اس کا قرب حاصل نہیں کر سکتے۔ ہر ایک ناپاک آنکھ اس سے دور ہے۔ ہر ایک ناپاک دل اس سے بے خبر ہے۔“

(کشتی نوح ص ١٣، خزائن ج ١٩ ص ١٣)

”نوع انسان کے لئے روئے زمین پر اب کوئی کتاب نہیں مگر قرآن اور تمام آدم زادوں کے لئے اب کوئی رسول اور شفیع نہیں مگر محمد مصطفیٰ ﷺ۔ تم کوشش کرو کہ سچی محبت اس جاہ

٢١

صفحہ ٥٢٤

وجلال کے نبی کے ساتھ رکھو اور اس کے غیر کو اس پر کسی نوع کی بڑائی مت دو تاکہ آسمان پر تم نجات یافتہ لکھے جاؤ۔"

(کشتی نوح ص ١٣، خزائن ج ١٩ ص ١٣)

"جو شخص جھوٹ اور فریب کو نہیں چھوڑتا وہ میری جماعت میں سے نہیں ہے۔ جو شخص پورے طور پر ہر ایک بدی سے اور ہر ایک بد عمل سے یعنی شراب سے قمار بازی سے، بد نظری سے اور خیانت سے، رشوت سے اور ہر ایک ناجائز تصرف سے توبہ نہیں کرتا وہ میری جماعت میں سے نہیں ہے۔"

(کشتی نوح ص ١٧، خزائن ج ١٩ ص ١٨، ١٩)

"جس شخص اپنی اہلیہ اور اس کے اقارب سے نرمی اور احسان کے ساتھ معاشرت نہیں کرتا وہ میری جماعت میں سے نہیں ہے۔ ہر ایک مرد جو بیوی سے، بیوی خاوند سے خیانت سے پیش آتی ہے وہ میری جماعت میں سے نہیں ہے۔"

(کشتی نوح ص ١٧، خزائن ج ١٩ ص ١٩)

"ہر ایک زانی، فاسق، شرابی، خونی، چور، قمار باز، خائن، مرتشی، غاصب، ظالم، دروغ گو، جعلساز اور ان کا ہمنشیں اور اپنے بھائیوں اور بہنوں پر تہمتیں لگانے والا جو اپنے افعال شنیعہ سے توبہ نہیں کرتا اور خراب مجلسوں کو نہیں چھوڑتا وہ میری جماعت میں سے نہیں ہے۔"

(کشتی نوح ص ١٨، خزائن ج ١٩ ص ١٩)

شرائط بیعت

یکم دسمبر ١٨٨٨ء (مجموعہ اشتہارات ج ١ ص ١٨٩، ١٩٠) کو مرزا غلام احمد نے اعلان کیا کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے بیعت لینے کا حکم دیا ہے۔ چنانچہ انہوں نے بیعت لینی شروع کر دی جس کی شرائط حسب ذیل تھیں:

ہو جائے۔ شرک سے مجتنب رہے گا۔

طریقوں سے بچتا رہے گا اور نفسانی جوشوں کے وقت ان کا مغلوب نہیں ہوگا۔ اگرچہ کیسا ہی جذبہ پیش آئے۔

اللہ تعالیٰ کے احسانوں کو یاد کر کے اس کی حمد اور تعریف کو ہر روز اپنا ورد بنائے گا۔

ناجائز تکلیف نہیں دے گا۔ نہ زبان سے نہ ہاتھ سے نہ کسی اور طرح سے۔

٢٢

٥

گا اور بہر حالت راضی بقضاء ہوگا اور ہر ایک ذلت تیار رہے گا اور کسی مصیبت کے وارد ہونے پر اس گا۔

سے زندگی بسر کرے گا۔

اور اپنے عزیز سے عزیز تر سمجھے گا۔

اپنی خداداد طاقتوں اور نعمتوں سے بنی نوع کو فائ

بکلی اپنے پر قبول کرے گا اور "قال اللہ وقال قرار دے گا۔

مرگ قائم رہے گا اور اس عقد اخوت میں ایسا ا اور تمام خادمانہ حالتوں میں پائی نہ جاتی ہو۔

مولوی نور الدین

حکیم نور الدین اس جماعت کے م مرزا غلام احمد بانی سلسلہ احمدیہ کے پاس بیعت مسیحیت کے منصب پر فائز ہونے کا دعویٰ نہی معروف تھے۔ ابھی مرزا قادیانی نے بیعت ل انہیں بیعت کے لئے کہا۔ جس کے جواب میں رہا۔ چنانچہ جب مرزا غلام احمد قادیانی نے ١٨ نور الدین ہی کی بیعت لی گئی۔ وہ متقی اور پابند میں اطاعت کرتے تھے۔ چنانچہ مرزا قادیانی میرے دوست سب متقی ہیں۔ لیکن ان سب س

صفحہ ٥٢٥

گا اور بہر حالت راضی بقضاء ہوگا اور ہر ایک ذلت اور دکھ کے قبول کرنے کے لئے اس کی راہ میں تیار رہے گا اور کسی مصیبت کے وارد ہونے پر اس سے منہ نہیں پھیرے گا۔ بلکہ قدم آگے بڑھائے گا۔

سے زندگی بسر کرے گا۔

اور اپنے عزیز سے عزیز تر سمجھے گا۔

اپنی خداداد طاقتوں اور نعمتوں سے بنی نوع کو فائدہ پہنچائے گا۔

بکلی اپنے پر قبول کرے گا اور ”قال اللہ وقال الرسول“ کو اپنی ہر ایک راہ میں دستورالعمل قرار دے گا۔

مرگ قائم رہے گا اور اس عقد اخوت میں ایسا اعلیٰ درجہ ہوگا کہ اس کی نظیر دنیوی رشتوں اور تعلقوں اور تمام خادمانہ حالتوں میں پائی نہ جاتی ہو۔

مولوی نور الدین

حکیم نور الدین اس جماعت کے خلیفہ اوّل تھے اور بھیرہ کے رہنے والے تھے۔ وہ مرزا غلام احمد بانی سلسلہ احمدیہ کے پاس بیعت کے لئے اس وقت گئے جب ابھی مرزا قادیانی نے مسیحیت کے منصب پر فائز ہونے کا دعویٰ نہیں کیا تھا اور جب وہ براہین احمدیہ کی تصنیف میں مصروف تھے۔ ابھی مرزا قادیانی نے بیعت لینی شروع نہیں کی تھی کہ حکیم مولوی نور الدین نے انہیں بیعت کے لئے کہا۔ جس کے جواب میں مرزا قادیانی نے کہا کہ ابھی میں بیعت نہیں لے رہا۔ چنانچہ جب مرزا غلام احمد قادیانی نے بیعت لینی شروع کی تو سب سے پہلے حکیم مولوی نور الدین ہی کی بیعت لی گئی۔ وہ متقی اور پابند صوم و صلوٰۃ تھے اور اپنے پیر مرزا غلام احمد کی ہر بات میں اطاعت کرتے تھے۔ چنانچہ مرزا قادیانی نے ان کے متعلق حسب ذیل سطور لکھی ہیں: ”اور میرے دوست سب متقی ہیں۔ لیکن ان سب سے قوی بصیرت اور کثیر العلم اور زیادہ تر نرم اور حلیم اور

٢٣

صفحہ ٥٢٦

اکمل الایمان اور سخت محبت اور معرفت خشیت اور یقین اور اثبات والا ایک مبارک شخص، بزرگ، متقی، عالم، صالح، فقیہہ اور جلیل القدر محدث اور عظیم الشان حاذق حکیم، حاجی الحرمین، حافظ قرآن، قوم کا قریشی، نسب کا فاروقی ہے۔ جس کا نام نامی معہ لقب گرامی مولوی حکیم نورالدین بھیروی ہے۔ اللہ تعالیٰ اس کو دین و دنیا میں بڑا اجر دے اور صدق و وفا اور اخلاص و محبت اور وفاداری میں میرے سب مریدوں سے وہ اوّل نمبر پر ہے۔"

(حمامتہ البشریٰ ص ٦، خزائن ج ٧ ص ١٨٠)

مرزا قادیانی (بانی سلسلہ احمدیہ) کی مندرجہ بالا سطور اس لئے رقم کی ہیں تاکہ قارئین کے ذہن میں یہ بات جاگزین ہو جائے کہ مرزا قادیانی نے حکیم مولوی نورالدین کے متعلق تعریفی کلمات میں کیا کچھ کہا تاکہ آئندہ آنے والے مضامین کو پڑھتے وقت تمام امور کے سمجھنے میں آسانی رہے اور یہ بات واضح ہو سکے کہ مولوی نورالدین کے ساتھ کیا بیتی۔

انہوں نے اپنے عہد خلافت میں تصنیف وتالیف کا سلسلہ جاری رکھا اور اپنی ساری زندگی تصنیفات کی تخلیق میں گزار دی۔ حیات بھر شان و شوکت اور جاہ و حشمت سے گریزاں رہے اور جب موت کے فرشتے آئے تو اس وقت اپنی اولاد کے لئے جائیداد نہیں چھوڑی۔ بیت المال سے اسراف نہیں کیا اور نہ ہی ان پر کسی نے ایسا کوئی الزام تراشا۔ ان کی زندگی زناء جیسے الزامات سے بھی مبرّا رہی اور آخر کار ان کی روح قفس عنصری سے پرواز کر گئی۔

حکیم مولوی نورالدین کے حالات زندگی رقم کرنے سے دو باتیں مقصود ہیں۔ اوّل یہ کہ خلافت مآب مرزا محمود احمد ہی کی جماعت میں اسی مسند خلافت پر کہ جہاں اب وہ تشریف فرما ہیں۔ حکیم مولوی نورالدین بھی متمکن رہے۔ لیکن ان پر کسی نے بھی خیانت کا یا مخفی بے راہ روی کا الزام عائد نہیں کیا۔ لیکن اس کے برعکس کیا وجہ ہے کہ اسی مسند پر بیٹھ کر جب وہ اپنے مریدوں پر حکومت کرتے ہیں تو ان پر ان ہی کے مرید بے شمار الزامات عائد کرتے چلے جاتے ہیں۔ اگر کسی اور شخص کی مثال دی جائے جو ان کی جماعت کا نہ ہو تو وہ کہہ سکتے ہیں کہ ہمیں غیروں کی مثال دینے سے مطلب؟ اس لئے میں نے انہی کی جماعت میں سے اس مسند پر بیٹھنے والے ایک شخص کی مثال دی ہے تاکہ ان کے فرار کی کوئی گنجائش ہی نہ رہے۔

میں نے اس سے پیشتر مرزا غلام احمد کی تعلیمات اور شرائط بیعت بھی اس لئے درج کی ہیں۔ تاکہ ہر شخص دیکھ سکے کہ خلافت مآب اپنے مسیح کی تعلیمات پر کتنا عمل کرتے ہیں اور شرائط بیعت کے بھی پابند ہیں یا نہیں۔ لیکن اگر پیری مریدی کے نظریہ سے ہٹ کر دیکھا جائے تو اس صورت میں بھی مرزا قادیانی ان کے باپ ہیں اور وہ اپنے باپ کی قائم کی ہوئی حدود کو توڑ کر نکل

٢٤

جاتے ہیں۔ پھر ان ہی کی جماعت میں ال الزام نہیں لگایا۔ بلکہ مولوی نورالدین جم دوسری طرف خلافت مآب کی ذاتی جائیداد

سازشوں

جیسا کہ میں بتا چکا ہوں مولو خلافت کے لئے سازشیں شروع ہو گئی تھیں اگر کسی شخص پر جماعت کی نظر پڑی تھی تو و خلافت ثانیہ کے امیدوار تھے۔ جماعت میں اور پرہیز گار تھے اور سیاست کی صلاحیتیں رک تھے۔ چنانچہ میاں محمود احمد نے حالات کا جائ اپنا اثر و رسوخ پیدا کرنے کی غرض سے حکیم م انہیں منسوب مولوی محمد علی کے نام کیا تاکہ پمفلٹوں کے جوابات لکھ کر اپنے نام سے شائ کر لی۔ جس دن حکیم مولوی نورالدین فو میاں محمود احمد نے مرحوم کی لاش دفنانے میں میں جنازہ اٹھانے نہیں دوں گا۔ جب تک نے درخواست کی کہ میاں صاحب مرحوم کی میں بھی طے ہو سکتا ہے۔ چونکہ مرحوم کی لاش صورت میں بھی درست نہیں۔ جانشینی کا مسل مصر رہے کہ لاش اس وقت تک دفنائی نہیں ج میاں صاحب کے چند خوشامدیوں نے بھی تھے۔ اس بات پر زور دینا شروع کیا کہ ج صاحب کے ہاتھوں میں زمام خلافت دے ہوشیاری سے دونوں کے گٹھ جوڑ سے خلافت ہوئی خلافت کو اہلی خلافت کہنا شروع کر دیا غرض سے یہاں تک کہہ دیا کہ میری زبا

صفحہ ٥٢٧

جاتے ہیں۔ پھر ان ہی کی جماعت میں ان کے باپ پر یا مولوی نورالدین پر کسی نے خیانت کا الزام نہیں لگایا۔ بلکہ مولوی نورالدین جب فوت ہوئے تو ایک پائی کی جائیداد نہیں چھوڑی۔ دوسری طرف خلافت مآب کی ذاتی جائیداد اور سرمایہ دارانہ ٹھاٹھ باٹھ معنی خیز ہے۔

سازشوں کے دور کا آغاز

جیسا کہ میں بتا چکا ہوں مولوی نورالدین (خلیفہ اول) ہی کی زندگی میں آئندہ خلافت کے لئے سازشیں شروع ہوگئی تھیں۔ جب وہ زندہ تھے اس وقت ان کی جانشینی کے لئے اگر کسی شخص پر جماعت کی نظر پڑتی تھی تو وہ مولوی محمد علی تھے جو عمر اور علم کے اعتبار سے منصب خلافت ثانیہ کے امیدوار تھے۔ جماعت میں ان کی مقبولیت اظہر من الشمس تھی۔ وہ عالم باعمل متقی اور پرہیز گار تھے اور سیاست کی صلاحیتیں رکھتے ہوئے بھی اللہ اللہ کرنے میں فرض کی ادائیگی سمجھتے تھے۔ چنانچہ میاں محمود احمد نے حالات کا جائزہ لے کر مولوی محمد علی کو بدنام کرنے اور جماعت میں اپنا اثر و رسوخ پیدا کرنے کی غرض سے حکیم مولوی نورالدین کے خلاف گمنام پمفلٹ شائع کئے اور انہیں منسوب مولوی محمد علی کے نام کیا تا کہ مولوی صاحب جماعت میں بدنام ہو جائیں اور ان پمفلٹوں کے جوابات لکھ کر اپنے نام سے شائع کئے اور اس طرح اپنی خلافت کے لئے زمین ہموار کرلی۔ جس دن حکیم مولوی نورالدین فوت ہوئے اور ان کی لاش کو دفنانے کا سوال پیدا ہوا تو میاں محمود احمد نے مرحوم کی لاش دفنانے میں رکاوٹ ڈال دی اور کہنا شروع کیا کہ اس وقت تک میں جنازہ اٹھانے نہیں دوں گا۔ جب تک خلافت کا فیصلہ نہ ہو جائے۔ جماعت کے بعض لوگوں نے درخواست کی کہ میاں صاحب مرحوم کی لاش کو دفنانے میں دیر نہیں ہونی چاہئے۔ یہ مسئلہ تو بعد میں بھی طے ہو سکتا ہے۔ چونکہ مرحوم کی لاش کو پڑے کافی دیر ہو چکی ہے۔ لہٰذا مزید دیر کرنا کسی صورت میں بھی درست نہیں۔ جانشینی کا مسئلہ تو پھر بھی طے ہو سکتا ہے۔ لیکن میاں محمود اسی بات پر مصر رہے کہ لاش اس وقت تک دفنائی نہیں جائے گی۔ جب تک جانشینی کا فیصلہ نہ ہو جائے۔ چنانچہ میاں صاحب کے چند خوشامدیوں نے بھی جو ان کے حق میں پروپیگنڈا کرنے کے کام پر مامور تھے۔ اس بات پر زور دینا شروع کیا کہ جانشینی کا فیصلہ ہونا چاہئے۔ آخر تنگ آکر میاں صاحب کے ہاتھوں میں زمام خلافت دے دی گئی اور اس طرح اس شاطر سیاست نے کمال ہوشیاری سے ووٹوں کے گٹھ جوڑ سے خلافت نشینی کا علم لہرا دیا اور ان دوغلہ ذرائع سے حاصل کی ہوئی خلافت کو الٰہی خلافت کہنا شروع کر دیا اور سیدھے سادھے کم فہم لوگوں کو بے وقوف بنانے کی غرض سے یہاں تک کہہ دیا کہ میری زبان سے خدا بول رہا ہے اور نیز یہ کہ اگر میں مٹ گیا تو

٢٥

PDF 529

مرزا قادیانی (مسیح موعود) مٹ جائیں گے اور مسیح موعود مٹ گئے تو محمد رسول اللہ ﷺ مٹ جائیں گے۔ محمد رسول اللہ ﷺ مٹ گئے تو خدا مٹ جائے گا۔ یعنی اگر میں مٹ گیا تو خدا مٹ جائے گا۔ (لا حول ولا قوۃ الا باللہ)

اس طرح انہوں نے اندھی عقیدت رکھنے والے سیدھے سادھے انسانوں کے قلوب پر اپنی عظمت کے نشان منقش کرنے شروع کر دیئے اور اندرون جماعت سازشوں کا ایک وسیع جال پھیلا دیا۔ دور حاضر کے اس عظیم الشان شاطر سیاست نے نہ صرف اپنی جماعت میں اپنی فطری شاطرانہ صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا بلکہ اس نے اپنے جاسوس حکومت کے تمام محکموں میں چھوڑ دیئے۔ نیلی پوش، مجلس احرار و دیگر مخالف جماعتوں میں جاسوسوں کا دام پھیلا کر ان جماعتوں کا ستیاناس کر کے رکھ دیا۔ مسجد شہید گنج اور تحریک آزادی کشمیر کا ایسا عبرتناک حشر کیا کہ آنے والا مورخ اس شاطر بے مثل کی قومی خدمات کو سنہرے حروف سے قلمبند کرے گا۔ زمام خلافت ہاتھ میں لیتے ہی پہلا کام یہ کیا کہ جماعت میں جاسوسی کا ایک وسیع دام پھیلا دیا اور تنقید و تبصرہ پر سختی سے پابندی عائد کر دی۔ ایسے لوگوں کو اپنے ارد گرد جمع کرنا شروع کیا۔ جن کا علم محدود تھا۔ ان کی حریت کی حس مردہ ہو چکی تھی اور یا ایسے لوگوں کو اپنی قربت میں رہنے کا موقعہ دیا جو اقتصادی اعتبار سے بہت کمزور تھے اور ہر لمحہ ان کی مدد کے محتاج رہتے تھے۔ اپنے ماحول کو بھی اس نے دو حصوں میں تقسیم کر دیا۔ ایک حصہ قرابت دار اور دوسرا حصہ قریب تر۔ قرابت دار کی فہرست میں صرف ان لوگوں کو شامل کیا جو اس کے قریبی رشتہ دار تھے۔ مثلاً بھائی، بہنوئی اور بیٹے وغیرہ۔ قریب تر میں وہ لوگ شامل کئے گئے جنہیں اس کی قربت میں رہنے کا موقع دیا گیا۔ لیکن اسے بھی دو حصوں میں تقسیم کر دیا۔ ایک تو قریب تر وہ لوگ قرار دیئے گئے جن میں ذہنی اور علمی صلاحیتیں مفقود تھیں اور وہ اس کی آمریت اور ذاتی لغزشوں کی باریکیوں کو سمجھنے سے عاری تھے اور دوسرے قریب تر وہ لوگ قرار دیئے جاتے جن سے غیرت روٹھ چکی ہوتی یا بدعنوانیوں اور بڑی سے بڑی لغزشوں کو گناہ نہ سمجھتے یا سب کچھ آنکھوں سے دیکھ کر روٹی کے چند ٹکڑوں کی خاطر پردہ پوشی کے فن میں ید طولیٰ رکھتے تھے۔ اپنے ذاتی نقائص اور بدعنوانیوں پر پردہ ڈالنے کے لئے مندرجہ بالا تدابیر اختیار کرنے کے علاوہ اپنے اور عوام الناس کے درمیان قصر خلافت کی دیوار حائل کر دی تاکہ عوام الناس اور ان کے درمیان ایک طویل فاصلہ قائم رہے۔ عوام الناس کو چند لمحوں کی ملاقات کی خاطر گھنٹوں کی مسافت طے کرنی پڑے اور ایک طویل انتظار کے بعد چند لمحوں کی ملاقات میں ملاقاتی اس کا تفصیلی جائزہ لینے کی بجائے تشنہ کام لوٹ جائے۔ بلکہ اس کے قلب و ذہن پر تقدس کا نقش اور بھی ابھر ٢٦

آئے۔ اپنے سرکاری اخبار میں ایڈیٹراپو ایڈیٹر کے لئے قابلیت کا معیار یہ رکھا کہ فرمائی کی دعوت دینے کے فن میں بے مثل

ان کی محفل
دیکھ کر ان

چنانچہ اخبار کو اپنے ذاتی پروپ شروع کر دیں اور ان کے خلاف سوشل بائ کر دیا۔ چنانچہ گورداسپور کے سیشن جج مسٹ دیا اس میں لکھا: ”مقابلتہً محفوظ ہونے تقریباً تمرد کی شکل اختیار کر لی۔ اپنے والد ان ہتھیاروں کا استعمال شروع کیا جن کو اشخاص کے دلوں میں جنہوں نے ان کی اخراج اور بعض اوقات اس سے بھی بدتر انہوں نے ان دھمکیوں کو عملی جامہ پہنانا ک مرتب کی گئی جس کا منشاء غالباً اپنے احکام اختیارات کا استعمال بھی اپنے ذمہ لیا۔ و گیا۔ فوجداری مقدمات میں سزا کے حک قادیان سے نکال دیا۔ قصہ یہیں ختم نہ مکانوں کو تباہ کیا اور جلایا اور قتل تک بھی واقعات محض احرار کے تخیل کی اختراع ہ مقدمہ کی مثل پر لائی گئی ہیں۔ کم از کم دو خیالات مرزا کے خیالات سے متفق نہ ایک ایک چٹھی ڈی زیڈ نمبر ٣٣ موجود ہے۔..... کہ حبیب الرحمن گواہ صفائی نم مرزا بشیر الدین محمود گواہ صفائی نمبر ٣٧ تسلیم کیا ہے کہ اسماعیل کو جماعت سے

صفحہ ٥٢٩

آئے۔ اپنے سرکاری اخبار میں ایڈیٹر ایسے شخص کو رکھا جو پیدائشی طور پر صحافتی صلاحیتیں نہ رکھتا تھا۔ ایڈیٹر کے لئے قابلیت کا معیار یہ رکھا کہ آمر مطلق کی ہدایات و اشارات پر اپنے نوک قلم کو رقص فرمائی کی دعوت دینے کے فن میں بے مثل ہو۔

ان کی محفل میں وہی شخص ہے محبوب نظر
دیکھ کر ان کو جو سر اپنا جھکا دیتا ہے

چنانچہ اخبار کو اپنے ذاتی پروپیگنڈا کے لئے وقف کر دیا گیا۔ ناقدین کو سخت سزائیں دینی شروع کر دیں اور ان کے خلاف سوشل بائیکاٹ و دیگر اوچھے ہتھیاروں کے استعمال کا سلسلہ شروع کر دیا۔ چنانچہ گورداسپور کے سیشن جج مسٹر جی ڈی کھوسلہ نے مقدمہ بخاری کے سلسلہ میں جو فیصلہ دیا اس میں لکھا: ”مقابلتاً محفوظ ہونے کے اس احساس نے غرور پیدا کر دیا جس نے قادیانیوں میں تقریباً تمرد کی شکل اختیار کر لی۔ اپنے دلائل کو منوانے اور فرقے کو ترقی دینے کے لئے انہوں نے ان ہتھیاروں کا استعمال شروع کیا جن کو عام طور پر نہایت ناپسندیدہ کہا جائے گا۔ انہوں نے ان اشخاص کے دلوں میں جنہوں نے ان کی جماعت میں شامل ہونے سے انکار کیا نہ صرف بائیکاٹ، اخراج اور بعض اوقات اس سے بھی بدتر مصائب کی دھمکیوں سے دہشت انگیزی پیدا کی۔ بلکہ اکثر انہوں نے ان دھمکیوں کو عملی جامہ پہنا کر اپنے تبلیغی سلسلہ کو مضبوط کیا۔ قادیان میں ایک والنٹیر کور مرتب کی گئی جس کا منشاء غالباً اپنے احکام کو منوانے کے لئے قوت پیدا کرنا تھا۔ انہوں نے عدالتی اختیارات کا استعمال بھی اپنے ذمہ لیا۔ دیوانی مقدمات میں ڈگریاں صادر کی گئیں اور اجراء بھی کرایا گیا۔ فوجداری مقدمات میں سزا کے حکم سنائے گئے اور سزائیں بھی دی گئیں۔ لوگوں کو فی الحقیقت قادیان سے نکال دیا۔ قصہ یہیں ختم نہیں ہوتا۔ قادیانیوں پر صریح الزام لگایا گیا کہ انہوں نے مکانوں کو تباہ کیا اور جلایا اور قتل تک بھی کئے۔ اس خیال سے کہ کہیں یہ نہ سمجھا جائے کہ مذکورہ بالا واقعات محض احرار کے تخیل کی اختراع ہیں۔ لازمی ہے کہ میں چند واقعی مثالیں بیان کر دوں جو اس مقدمہ کی مثل پر لائی گئی ہیں۔ کم از کم دو اشخاص کو اپنے وطن قادیان سے باہر نکالا گیا۔ کیونکہ ان کے خیالات مرزا کے خیالات سے متفق نہ تھے۔ وہ اشخاص حبیب الرحمن نمبر ٢٨ اور اسماعیل ہیں۔ مثل پر ایک چٹھی ڈی زیڈ نمبر ٣٣ موجود ہے۔ جس کا کاتب خود موجودہ مرزا اور جس میں حکم دیا گیا ہے۔...... کہ حبیب الرحمن گواہ صفائی نمبر ٢٨ کو قادیان میں آنے کی اجازت نہیں۔ اس چٹھی کو مرزا بشیر الدین محمود گواہ صفائی نمبر ٣٧ نے تسلیم کیا ہے۔ گواہ نمبر ٢٠ (خان صاحب فرزند علی) نے تسلیم کیا ہے کہ اسماعیل کو جماعت سے خارج کیا گیا اور قادیان میں داخل نہ ہونے کا حکم دیا گیا۔

٢٧

صفحہ ٥٣٠

بہت سے دیگر گواہوں نے تشدد اور ظلم کی داستانیں بیان کی ہیں۔ بھگت سنگھ گواہ صفائی نمبر ٤٩ بیان کرتا ہے کہ مرزائیوں نے اس پر حملہ کیا۔ ایک شخص غریب شاہ کو قادیانیوں نے مارا اور جب اس نے مقدمہ کرنا چاہا تو کوئی شخص اس کی شہادت دینے کے لئے آگے نہ آیا۔ قادیانی ججوں کے فیصلے کی وہ مقدمات کی مثلیں پیش کی گئیں اور مثل پر موجود ہیں۔ مرزا (یعنی محمود احمد ) نے تسلیم کیا ہے کہ عدالتی اختیارات قادیان میں استعمال کئے جاتے ہیں اور ان معاملات میں وہ خود آخری عدالت اپیل ہے۔ عدالت کی ڈگریوں کے اجراء کئے جاتے ہیں اور ایک مثال بھی موجود ہے۔ جہاں ڈگری کے اجراء میں ایک مکان کو نیلام کیا گیا (مرزا قادیانی ) کو جو عرضیاں دی جاتی ہیں ان کے لئے قادیانی ساخت کا اسٹامپ کاغذ اور فیس ٹکٹ ( گھر میں ) تیار کر کے فروخت اور استعمال کیا جاتا ہے۔ یہ پوشیدہ ہے۔ قادیان میں ایک والنٹیر کور کی موجودگی کی شہادت گواہ صفائی نمبر ٤٠ (مرزا شریف احمد ) نے دی ہے۔ علاوہ ازیں سب سے سنگین معاملہ عبدالکریم کا ہے جس کی داستان حقیقتاً ایک داستان درد ہے۔ اس شخص نے مرزائی مذہب قبول کیا اور قادیان چلا گیا۔ مگر وہاں اس کے دل میں مذہبی شکوک وشبہات پیدا ہوئے اور اس نے مرزائیت سے توبہ کر لی۔ تب اس پر ستم آرائی کی ابتداء ہوئی۔ اس نے ایک اخبار مباہلہ نامی جاری کیا۔ جس کا مقصد مرزائی جماعت کے معتقدات پر تنقید کرنا تھا۔ مرزا ( محمود احمد ) نے ایک تقریر میں جو دستاویز ڈی زیڈ نمبر ٣٩ (الفضل مورخہ یکم اپریل ١٩٣٠ء) میں شائع ہوئی ہے۔ اخبار مباہلہ والوں کی موت کی پیشین گوئی کی۔ اس تقریر میں ان لوگوں کی طرف اشارہ بھی کیا جو اپنے مذہب کی خاطر قتل کرنے کو بھی تیار ہوتے ہیں۔ اس تقریب کے جلد بعد عبدالکریم پر قاتلانہ حملہ بھی ہوا۔ لیکن وہ بچ گیا۔ ایک شخص محمد حسین نامی، عبدالکریم کی امداد کرتا تھا اور ایک فوجداری مقدمہ میں جو عبدالکریم پر چل رہا تھا۔ اس میں گواہ تھا۔ اس پر حملہ ہوا وہ قتل ہو گیا۔ قاتل پر مقدمہ چلا اور اسے پھانسی کی سزادی گئی۔ پھانسی کے حکم کی تعمیل ہوئی اور پھانسی پانے کے بعد لاش قادیان میں لائی گئی اور بڑی دھوم دھام سے اسے اس جگہ دفن کیا گیا۔ جس کا بہشتی مقبرہ نام رکھتے ہیں۔ الفضل اخبار میں جو مرزائی جماعت کا اخبار ہے قتل کی تعریف اور قاتل کی مدح سرائی کی گئی۔ یہ لکھا گیا ہے کہ مجرم شہید تھا اور اس واقعہ سے قبل ہی جان دے کر پھانسی کی بدنام کنندہ سزا سے بچ گیا۔ خدا نے اپنے عدل وانصاف میں یہ مناسب سمجھا کہ پھانسی کی ذلت سے پہلے ہی اس کی روح قبض کرے۔ جب عدالت میں مرزا ( محمود احمد ) کا ایک معاملہ کے متعلق بیان لیا گیا تو اس نے بالکل مختلف کہانی بیان کی اور کہا کہ محمد حسین کے قاتل کو باعزت طریق پر اس لئے دفن کیا گیا تھا کہ اس نے اپنے جرم پر اظہار ندامت کیا تھا اور اس طرح گناہ سے بری ہو چکا تھا۔ ٢٨

صفحہ ٥٣١

دستاویز ڈی زیڈ نمبر ٤٠ اس کی تردید کرتی ہے اور مرزا کی نیت اور اس کی دلی کیفیت کا اظہار خیال سے بالکل عیاں ہے جو اس نے ڈی زیڈ نمبر ٤٠ میں کیا۔ میں یہاں یہ بھی کہدوں کہ اس دستاویز کا مضمون لاہور ہائیکورٹ کی توہین بھی ہے۔ ایک اور واقعہ بھی ہے جو محمد امین کے قتل سے تعلق رکھتا ہے۔ محمد امین بھی مرزائی تھا اور یہ امر واقعہ ہے کہ وہ اس فرقہ کا ایک مبلغ تھا۔ اس کو بخارا بھیجا گیا تھا کہ وہ اس مذہب کی تبلیغ کرے۔ لیکن کسی وجہ سے اس کو ملازمت سے سبکدوش کیا گیا۔ اس کی موت کلہاڑی کی ایک ضرب سے ہوئی جو چوہدری فتح محمد گواہ صفائی نمبر ٦١ نے لگائی۔ عدالت ماتحت نے اس معاملہ کو سرسری نظر سے دیکھا ہے۔ لیکن اس پر نظر غائر ڈالنے کی ضرورت ہے۔ محمد امین اگرچہ مرزائی تھا لیکن وہ مرزا کا مورد عتاب ہو چکا تھا۔ اس لئے مستحق رحم نہیں رہا تھا۔ اس کی موت کے واقعات خواہ کچھ ہی ہوں یہ امر نا قابل انکار ہے کہ محمد امین تشدد کی موت مرا اور کلہاڑی کے وار سے قتل کیا گیا۔ پولیس کو وقوعہ کی اطلاع دی گئی۔ لیکن بالکل کوئی کارروائی نہ کی گئی۔ یہ بحث کرنا فضول ہے کہ قاتل نے حفاظت خودی کی تھی۔ لیکن یہ طے کرنا تو اس عدالت کا کام ہے جو مقدمہ کی سماعت کرے یہ اختیار پولیس کو نہ تھا۔ کیونکہ فتح محمد نے عدالت میں باقرار صالح بیان دیا ہے کہ اس نے محمد امین کو قتل کیا تھا۔ مگر پولیس اس معاملہ میں کچھ کارروائی نہ کر سکی اور اس کی وجہ یہ بیان کی گئی ہے کہ مرزائی طاقت اتنی بڑھ گئی تھی کہ کوئی سامنے آکر سچ بولنے کے لئے تیار نہ تھا۔ ہمارے سامنے عبدالکریم کے مکان کا واقعہ بھی ہے۔ عبدالکریم کو قادیان سے نکالنے کے بعد اس کا مکان جلا دیا گیا۔ اسے قادیان کی سمال ٹاؤن کمیٹی سے حکم حاصل کر کے نیم قانونی طریقے سے گرانے کی کوشش بھی کی گئی۔ یہ افسوس ناک واقعات ظاہر کرتے ہیں کہ قادیان میں طوائف الملوکی تھی جس میں آتش زنی اور قتل تک ہوتے تھے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ حکام ایک غیر معمولی درجہ کے فالج کے شکار ہو چکے تھے اور دنیاوی اور دینی معاملات میں مرزا (محمود احمد) کے حکم کے خلاف کبھی آواز نہ اٹھائی گئی۔ مقامی افسروں کے پاس کئی مرتبہ شکایات کی گئیں۔ لیکن کوئی انسداد نہ ہوا۔ مثل پر ایک دو ایسی شکایات ہیں۔ لیکن ان کے مضمون کا حوالہ دینا غیر ضروری ہے اور اس مقدمہ کے فیصلہ کے لئے یہ بیان کر دینا کافی ہے کہ قادیان میں ظلم وجور جاری ہونے کے متعلق غیر مشتبہ الزامات عائد کئے گئے لیکن معلوم ہوتا ہے کہ ان کی طرف مطلقاً توجہ نہ کی گئی۔"

پھر فیصلہ میں یہ بھی لکھا ہے کہ: "مرزا (یعنی محمود احمد) نے مسلمانوں کو کافر، سور اور ان کی عورتوں کو کتیاؤں کا خطاب دے کر ان کے جذبات کو مشتعل کر دیا تھا۔"

(فیصلہ جی ڈی کھوسلہ سیشن جج گورداسپور)

٢٩

صفحہ ٥٣٢

مسٹر جی ڈی کھوسلہ سیشن جج گورداسپور کے اس مشہور فیصلہ و دیگر واقعات وحقائق کی روشنی میں یہاں شبہ کی گنجائش نہیں کہ اس جماعت کی بنیاد رکھتے وقت جس کا مقصد مذہبی اور نیکی اور تقویٰ اور محبت ایزدی بتایا گیا تھا۔ ١٩١٤ء میں مسند خلافت پر متمکن ہونے والے شخص نے اسے سازشوں کی آماجگاہ اور خالص سیاسی جماعت ثابت کر دیا اور اقوال وافعال سے اپنی فسطائیت کے لئے ایسے نقوش چھوڑ دیئے کہ اب ان کو مٹا کر آمریت کے بد نما دھبوں کی بجائے جمہوری عظمت کے نورانی نشان دنیا کے سامنے پیش کرنا ناممکن ہو گیا ہے اور اب اس عظیم شاطر سیاست کے لئے اس کے سوا کوئی چارہ کار نہیں کہ اپنی آمریت کو جائز قرار دینے کے لئے سرور کائنات ﷺ اور خلفائے راشدین کو فسطائیت کے علمبردار ثابت کیا جائے۔ چنانچہ اخبار الفضل کے اوراق شاہد ہیں کہ حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کی زندگی واقعات سے فسطائیت ثابت کرنے اور اپنی آمریت کو جائز قرار دینے کی سعی ناکام کی گئی۔

مذہبی یا سیاسی؟

اگر چہ اس جماعت کا دعویٰ ہے کہ اس کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں اور وہ ایک خالص مذہبی جماعت ہے اور نیز یہ کہ اس کے بانی مرزا غلام احمد نے اس کی بنیاد خالصتاً مذہبی اقدار پر قائم کی تھی۔ لیکن پاکستان کے تحفظ ، بقاء اور سالمیت کے لئے ضروری معلوم ہوتا ہے کہ میں اس جماعت کا تجزیہ اس انداز سے بھی کروں کہ یہ جماعت مذہبی ہے یا اس کا مطمح نظر خالصتاً سیاسی ہے۔ چونکہ اس وقت زیر نظر مبحث ربوہ کے فسطائیت مآب کے کارہائے نمایاں قلمبند کرنا اور اس کی آمریت ثابت کرنا ہے۔ اس اعتبار سے بھی ضروری معلوم ہوتا ہے کہ اس جماعت کا تمام پہلوؤں سے محاسبہ کیا جائے۔ اگر یہ جماعت مذہبی ہے اور اس کی رہنمائی کرنے والا اسے مذہبی اقدار ہی پر چلاتا ہے اور اس کا ملک کی سیاست سے دخل نہیں تو پھر ہمیں اس کی فسطائی خصوصیات و عادات پر دوسرے انداز سے بحث کرنا ہو گی۔ لیکن اس جماعت کو جو مذہبی تعلیمات کو رواج دینے کی غرض سے قائم کی گئی تھی اور جو آج بھی یہ دعویٰ کرتی ہے کہ اس کا منشور خالصتاً مذہبی ہے۔ اگر سیاسی پگڈنڈیوں پر جادہ پیمائی کی مشق دی جا رہی ہے اور اس کا نام مذہب رکھا جا رہا ہے تو پھر ہمیں اس جماعت کے رہنما کی آمریت کے دلائل پیش کرتے وقت کوئی دوسرا انداز تحریر اختیار کرنا پڑے گا۔

١٩١٤ء سے پہلے کے زمانہ سے قطع نظر اس جماعت کا سارا لٹریچر اس بات کا شاہد ہے کہ اس کی رہنمائی کرنے والا مذہبیت کے پردہ میں سیاست کا علم لہرا رہا ہے۔ یہ حالت سخت خطرناک اور نتائج کے اعتبار سے شدید بھیانک ہے۔ اگر انسانیت کے لباس میں انسان جلوہ گر ہو

٣٠

تو اس سے کسی قسم کے خطرہ کی توقع نہیں ک پھر رہا ہو تو اس سے کسی قسم کے نقصان کی ہوگا۔ اسی طرح وہ شخص جو پولیس کی دس سکتا۔ جس قدر کہ وہ شخص جو شرافت اور ہے۔ پولیس کی دس نمبر کی فہرست میں آ دنیا کو ہوتا ہے اور پولیس فوراً اس کی تل اوڑھ کر بدعنوانیوں کا ارتکاب کرنے والا مرتکب ہونے کے باوجود شریف کا شریف یہ نکلتا ہے کہ اس قسم کا شخص اپنے تقدس ہزاروں حسرتوں کا خون کرتا چلا جاتا ہے سیاسی ہو اس کے متعلق ہر شخص جانتا ہے کہ کیا جاتا ہے اور اگر وہ جماعت ملک وقو چارہ جوئی کے لئے کسی تردد کی ضرورت لیکن وہ جماعت جس کا منشور مذہبی ہو جس دعویٰ یہ ہو کہ اس کا ملک کی سیاست سے گہرا تعلق بھی رکھے اس جماعت کے متعل لئے لازمی ہے۔ جہاں تک اس جماعت کہ اس جماعت نے عملاً ہمیشہ خاموشی اعلان کیا اور اس جماعت کا یہی اقدام م اس جماعت کا رہنما سیاست دان ہے ا زمام حکومت اپنے ہاتھوں میں لے لی ج جائیں۔ ١٩٤٧ء سے قبل جب ہندوست اس کی حمد وثناء میں قصیدے گا کر زمین و اور ملک میں مختلف سیاسی پارٹیاں قائم تھ گٹھ جوڑ قائم رکھا۔ اس پارٹی کے ساتھ غیرمقبول تھی اور کانگریس زبان زد خلا

صفحہ ٥٣٣

تو اس سے کسی قسم کے خطرہ کی توقع نہیں کی جاسکتی۔ لیکن اگر انسانیت کا لبادہ اوڑھ کر کوئی ناگ چل پھر رہا ہو تو اس سے کسی قسم کے نقصان کی توقع نہ کرنا اور آنکھیں بند کر کے بیٹھے رہنا یقیناً نقصان دہ ہوگا۔ اسی طرح وہ شخص جو پولیس کی دس نمبر کی فہرست میں ہو اس قدر انسانیت سوز حرکات نہیں کر سکتا۔ جس قدر کہ وہ شخص جو شرافت اور مذہب کا لبادہ اوڑھ کر اس قسم کی حرکات کا مرتکب ہو سکتا ہے۔ پولیس کی دس نمبر کی فہرست میں آنے والا شخص اگر کوئی ایسی حرکت کرتا ہے تو اس کا علم ساری دنیا کو ہوتا ہے اور پولیس فوراً اس کی تلاش شروع کر دیتی ہے۔ لیکن شرافت اور مذہبیت کا لبادہ اوڑھ کر بدعنوانیوں کا ارتکاب کرنے والا شخص شدید سے شدید بھیانک اور ذلیل ترین حرکات کا مرتکب ہونے کے باوجود شریف کا شریف اور فرشتہ سیرت کا فرشتہ سیرت ہی رہتا ہے۔ جس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ اس قسم کا شخص اپنے تقدس کے پردے میں درجنوں آرزوؤں، سینکڑوں امنگوں اور ہزاروں حسرتوں کا خون کرتا چلا جاتا ہے اور کسی کو خبر تک نہیں ہوتی۔ وہ جماعت جس کا نصب العین سیاسی ہو اس کے متعلق ہر شخص جانتا ہے کہ فلاں جماعت سیاسی ہے۔ لہٰذا اس پر اسی انداز سے غور کیا جاتا ہے اور اگر وہ جماعت ملک وقوم کے لئے کوئی خطرناک اقدام کرے تو اس کے خلاف چارہ جوئی کے لئے کسی تردد کی ضرورت نہیں پڑتی۔ بلکہ آسانی سے اس کا احتساب ہو جاتا ہے۔ لیکن وہ جماعت جس کا منشور مذہبی ہو جس کا نصب العین دین و مذہب میں جینا اور مرنا ہو جس کا دعویٰ یہ ہو کہ اس کا ملک کی سیاست سے کوئی تعلق نہیں اور پھر وہ اندرونی طور پر ملکی سیاسیات سے گہرا تعلق بھی رکھے اس جماعت کے متعلق غور وفکر ہر زندہ ملک مضبوط حکومت اور بیدار عوام کے لئے لازمی ہے۔ جہاں تک اس جماعت کی گذشتہ بیالیس سالہ تاریخ کا تعلق ہے ہر شخص جانتا ہے کہ اس جماعت نے عملاً ہمیشہ خاموشی سے سیاسیات میں حصہ لیا اور قولاً سیاست سے لاتعلقی کا اعلان کیا اور اس جماعت کا یہی اقدام ملک وقوم کے لئے سخت بھیانک ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس جماعت کا رہنما سیاست دان ہے اور اس کے اغراض و مقاصد یہ ہیں کہ چور دروازے سے زمام حکومت اپنے ہاتھوں میں لے لی جائے اور دنیا کو خبر اسی وقت ہو جب چڑیاں کھیت چگ جائیں۔ ١٩٤٧ء سے قبل جب ہندوستان میں انگریز حکمران تھے تو انگریزی حکومت کی خوشامد اور اس کی حمد وثناء میں قصیدے گا کر زمین و آسمان کے قلابے ملا دیئے۔ چونکہ حکومت انگریزوں کی تھی اور ملک میں مختلف سیاسی پارٹیاں قائم تھیں۔ اس لئے اس وقت شاطر سیاست نے کانگریس سے گٹھ جوڑ قائم رکھا۔ اس پارٹی کے ساتھ روابط کے قیام کی وجہ یہ تھی کہ اس وقت لیگ ملک میں غیر مقبول تھی اور کانگریس زبان زد خلائق تھی۔ اس لئے مسلم لیگ سے تعاون کی بجائے کانگریس

٣١

صفحہ ٥٣٤

سے گہرے تعلقات قائم کئے گئے۔ چنانچہ اس جماعت کا سرکاری اخبار رقمطراز ہے۔

"اس میں شک نہیں کہ (حضرت امیر المؤمنین ) امیر جماعت احمدیہ ہندو مسلم اتحاد کے بے حد خواہاں ہیں اور اس کے لئے ہر موقعہ پر کوشش بھی کرتے رہے ہیں۔ نیز آپ کی نگاہ میں کانگریس کی ان قربانیوں کی بھی بڑی قدر ہے جو اس نے ملک کی خاطر کیں اور ان کا کئی بار تعریفی رنگ میں ذکر بھی کر چکے ہیں۔ لیکن اس میں بھی کوئی شبہ نہیں کہ آپ کے نزدیک ہندو مسلم اتحاد اس وقت تک ممکن نہیں جب تک اکثریت عملی طور پر اقلیت کو اپنی خیر خواہی کا قائل نہ کر دے۔ یہی وجہ ہے کہ آپ کئی بار کانگریس کو اس طرف توجہ دلا چکے ہیں اور حال ہی میں پھر توجہ دلائی ہے۔ اگر کانگریس یہ منظور کر لے اور نہ صرف زبانی بلکہ عملی طور پر اس میں مصروف ہو جائے تو یقیناً مسلمانوں میں اسے بہت بڑی کامیابی حاصل ہو سکتی ہے اور کوئی ہمدرد اور خیر خواہ وطن اپنی خدمات اس کے سامنے پیش کرنے سے دریغ نہیں کرے گا۔ لیکن مصیبت یہی ہے کہ کانگریس اس طرف متوجہ نہیں ہوتی اور ہندوستان کے سات صوبوں میں کانگریس وزارتیں قائم کر لینے کی وجہ سے اسے جو موقعہ ملا ہے اس سے نہ صرف ہندو مسلم اتحاد کے قیام کے لئے فائدہ نہیں اٹھا رہی بلکہ اسے نقصان رساں بنا رہی ہے۔"

(الفضل مورخہ ٢٣ اکتوبر ١٩٣٧ء)

مندرجہ بالا سطور سے صاف ظاہر ہے کہ انگریزی حکومت کے دوران کانگریس کا بہت زور تھا اور مسلم لیگ ابھی مقبول خاص و عام نہیں ہوئی تھی۔ مہاتما گاندھی جو ہندوؤں میں بہت مقبول تھے ہندو مسلم اتحاد کے بہت بڑے علمبردار تھے اور اس کے لئے بیشتر اعلانات کرتے رہتے تھے۔ چنانچہ جماعت احمدیہ کے اس سیاسی شاطر اعظم نے وقت کی نزاکت کے پیش نظر ان دنوں کانگریس کی خوشامد ہی میں اپنی خیریت سمجھی اور اس میں اپنا سیاسی مفاد تصور کیا۔ چنانچہ مہاتما گاندھی کی حمایت میں ہندو مسلم اتحاد کا نعرہ بلند کرنے سے ایک طرف تو مہاتما گاندھی کی توجہ اپنی طرف مبذول کرنا مقصود تھا اور دوسری طرف اس قسم کی نعرہ بازی کا مقصد مہاتما گاندھی کو خصوصاً اور کانگریس کو عموماً خوش کرنا تھا۔ سو اخبار الفضل کی مندرجہ بالا سطور کے مطابق آپ (یعنی میاں محمود احمد) کی نگاہ میں کانگریس کی قربانیوں کی بڑی قدر تھی۔ چنانچہ قدر شناسی کے اس جذبہ کے اظہار کے بعد نفسیاتی طور پر کانگریس کو اپنی طرف سے اس جذبہ خلوص محبت کا جواب خیر خواہی کے جذبہ سے دینا چاہئے تھا۔ لیکن کانگریس نے جب قدر شناسی کے اس جذبہ کو کوئی اہمیت نہ دی تو الفضل نے اپنی تمام تر خفت یہ کہہ کر دور کرنے کی کوشش کی کہ اس میں بھی کوئی شبہ نہیں کہ آپ (یعنی میاں محمود احمد) کے نزدیک ہندو مسلم اتحاد اس وقت تک ممکن نہیں جب تک اکثریت عملی طور پر اقلیت کو اپنی خیر خواہی کا قائل نہ کر دے ذکر کیا ہے اور اس مایوسی کا بھی اظہار کیا ہے پہلی خواہش جو ان سطور سے ظاہر ہوتی ہے ہماری خیر خواہ رہے گی اور ہر حالت میں ہما میں اس کے ساتھ تعاون کرنے کو ہر لمحہ تیا ساتھ خیر خواہی کا معاہدہ نہ کرے تو اس صو کریں گے۔ گویا ایڈیٹر الفضل نے اس دھم خوب بڑھا چڑھا کر بیان کی تا کہ کانگریس کی غرض سے میاں محمود احمد کی پر خلوص خدم مسلم اتحاد کے علمبردار تھے خود چل کر میاں نے اس سلسلہ میں مہاتما گاندھی سے ملاقا نہ ہوئی اور مہاتما گاندھی نے ملاقات کے دو نوک قلم کو ناکامی کا اظہار ان الفاظ میں کر متوجہ نہیں ہوئی۔' اگر یہ جماعت خالصتاً کانگریس کے ساتھ جو اس وقت برسر اقتدا ایڈیٹر الفضل ایک دوسری جگہ رقمطراز ہے جائے کہ کیا وہ احمدیوں کو اپنے ساتھ سیا سے جواب آنے پر مناسب فیصلہ کیا جائے

ان سطور سے صاف ظاہر ہے کے تحت کرتی ہے۔ اس کا مقصد سیاست مطلب یہ تو کسی صورت میں بھی نہیں ہو میں اپنے ساتھ شامل کر لو۔ جب کہ اس جماعت ہیں اور ہمارا سیاست سے کوئی

١٩٣٧ء سے قبل اس جماعت اس وقت اس جماعت کے امام کا نظریہ قابل ذکر تھا اسے مسلم لیگ کے ساتھ

صفحہ ٥٣٥

پر اقلیت کو اپنی خیر خواہی کا قائل نہ کر دے۔ ان سطور میں ایڈیٹر الفضل نے اپنی ہر دو خواہشات کا ذکر کیا ہے اور اس مایوسی کا بھی اظہار کیا ہے جس کو چھپانے کی سعی کے باوجود بھی وہ چھپا نہیں سکا۔ پہلی خواہش جو ان سطور سے ظاہر ہوتی ہے یہ تھی کہ کانگریس اگر عملی طور پر ہمیں یقین دلا دے کہ وہ ہماری خیر خواہ رہے گی اور ہر حالت میں ہمارا ساتھ دے گی تو ہم ہندو مسلم اتحاد کا نعرہ بلند کرنے میں اس کے ساتھ تعاون کرنے کو ہر لمحہ تیار ہیں اور دوسرے اگر وہ کوئی اہمیت نہ دے اور ہمارے ساتھ خیر خواہی کا معاہدہ نہ کرے تو اس صورت میں ہندو مسلم اتحاد ناممکن ہے۔ یعنی ہم مخالفت کریں گے۔ گویا ایڈیٹر الفضل نے اس وقت کانگریس کو بلیک میل کرنے کی غرض سے اپنی اہمیت خوب بڑھا چڑھا کر بیان کی تاکہ کانگریس یہ سوچنے پر مجبور ہو جائیں کہ مسلمانوں کو قابو میں لانے کی غرض سے میاں محمود احمد کی پر خلوص خدمات کا حاصل کرنا ضروری ہے اور مہاتما گاندھی جو ہندو مسلم اتحاد کے علمبردار تھے خود چل کر میاں محمود احمد کے قدموں میں آ گریں۔ چنانچہ میاں محمود احمد نے اس سلسلہ میں مہاتما گاندھی سے ملاقات بھی کی۔ لیکن افسوس کہ میاں صاحب کی حسرت پوری نہ ہوئی اور مہاتما گاندھی نے ملاقات کے دوران ان کو ذرہ بھر بھی اہمیت نہ دی اور ایڈیٹر الفضل کے نوک قلم کو ناکامی کا اظہار ان الفاظ میں کرنا پڑا۔ ”لیکن مصیبت یہی ہے کہ کانگریس اس طرف متوجہ نہیں ہوئی ۔“ اگر یہ جماعت خالصتاً مذہبی ہے اور اس کا ملک کی سیاست سے کوئی تعلق نہیں تو کانگریس کے ساتھ جو اس وقت برسر اقتدار تھی گٹھ جوڑ کرنے کی سعی و جہد کا مقصد خدا معلوم کیا تھا۔ ایڈیٹر الفضل ایک دوسری جگہ رقمطراز ہے: ”کانگریس اور مسلم لیگ دونوں سے تحریری طور پر پوچھا جائے کہ کیا وہ احمدیوں کو اپنے ساتھ سیاسی معاملات میں شریک کرنے کو تیار ہیں۔ ان کی طرف سے جواب آنے پر مناسب فیصلہ کیا جائے گا۔“

(الفضل مورخہ ٩؍ نومبر ١٩٤٧ء)

ان سطور سے صاف ظاہر ہے کہ یہ جماعت مذہبی ہونے کا دعویٰ کسی خاص مصلحت کے تحت کرتی ہے۔ اس کا مقصد سیاست بازی ہے۔ ورنہ سیاسی معاملات میں شراکت کرنے کا مطلب یہ تو کسی صورت میں بھی نہیں ہو سکتا کہ ہم مذہبی جماعت ہیں۔ لہٰذا ہمیں سیاسی معاملات میں اپنے ساتھ شامل کر لو۔ جب کہ اس جماعت کا دعویٰ اپنی جگہ پر موجود ہے کہ ہم خالصتاً مذہبی جماعت ہیں اور ہمارا سیاست سے کوئی تعلق نہیں۔

١٩٤٧ء سے قبل اس جماعت کا تمام تر خلوص کانگریس اور انگریز سے وابستہ تھا۔ چنانچہ اس وقت اس جماعت کے امام کا نظریہ مسلم لیگ کے متعلق یہ تھا۔ ”اس وقت مسلمانوں کی کوئی قابل ذکر جماعت مسلم لیگ کے ساتھ نہیں ہے۔ بلکہ سب کی سب کانگریس میں شریک ہیں یا

٣٤

صفحہ ٥٣٦

ہونے والی ہیں۔“

(الفضل مورخہ ٢٣؍ اکتوبر ١٩٣٧ء)

لیکن ١٩٣٨ء میں ان کا نظریہ حسب ذیل ہے: ”مسلم لیگ نے مسلمانوں کے لئے بے شمار قربانیاں کی ہیں۔ اسی اعتبار سے وہ کبھی بھی ناکام نہیں ہوگی۔“

اس متضاد نظریہ سے قطع نظر اس جماعت کو سیاسی ثابت کرنے کی غرض سے مزید اقتباسات الفضل سے نقل کئے جا رہے ہیں۔ پنجاب اسمبلی کے انتخابات میں چوہدری فتح محمد سیال قادیان سے انتخاب لڑ رہے تھے۔ چنانچہ لکھا ہے: ”بعض لوگ اس معاملہ میں مذہبی سوال اٹھا کر عوام کو بھڑکانا چاہتے ہیں۔ مگر یہ ان کی سراسر غلطی بلکہ بددیانتی ہے۔ کیونکہ کونسلوں کا معاملہ کوئی مذہبی معاملہ نہیں ہے۔ بلکہ یہ ایک خالص سیاسی سوال ہے۔“

”آپ اپنے اپنے علاقہ میں ظاہراً یا خفیہ جس طرح آپ مناسب سمجھیں یہ پروپیگنڈہ کریں کہ یہ کوئی مذہبی سوال نہیں ہے بلکہ محض سیاسی سوال ہے اور چونکہ اس لحاظ سے (یعنی سیاسی لحاظ سے) چوہدری فتح محمد سیال سب سے بہتر امیدوار ہیں۔ اس لئے انہیں ووٹ دینی چاہئے۔“

”آپ اپنے علاقہ کے ووٹروں کو سمجھائیں کہ ووٹ ایک نہایت قیمتی امانت ہے اور آئندہ اسمبلی میں اہم سیاسی سوالات پیش ہونے والے ہیں۔ پس وہ کسی غیر اہل (یعنی غیر سیاسی) شخص کو ووٹ دے کر اپنی امانت کو ضائع نہ کریں۔“

(الفضل مورخہ ١٠؍ جنوری ١٩٣٧ء)

”یہ حالات بتاتے ہیں کہ ملکی اور سیاسی لیڈروں کو ہندوستان کے لئے مکمل آزادی حاصل کرنے کی جدوجہد کے ساتھ ہی اہل ملک کی تربیت کی طرف پوری توجہ دینی چاہئے۔ ورنہ ممکن ہی نہیں کہ ملک کو سیاسی لحاظ سے آگے بڑھانے کا موقعہ مل سکے۔“

(الفضل ٣١؍ جنوری ١٩٣٧ء)

اس اقتباس میں ملک کو سیاسی اعتبار سے ارتقاء کی طرف لے جانے کے لئے اہل ملک کی تربیت کو ضروری قرار دیا گیا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ ہندوستان اس وقت تک مکمل طور پر آزاد نہیں ہوسکتا۔ جب تک اہل ملک کی تربیت نہیں ہو جاتی اور چونکہ ملکی اور سیاسی لیڈروں سے اہل ملک کی تربیت و اصلاح ناممکن ہے۔ لہٰذا ہندوستان کی مکمل آزادی کا خواب بھی شرمندۂ تعبیر نہیں ہوگا۔ ہندوستان کی مکمل آزادی کے لئے اہل ملک کی تربیت لازمی ہے اور تربیت ”جماعت احمدیہ“ کے سوا دوسری کوئی جماعت یا انسان نہیں کرسکتا۔ لہٰذا اگر ہندوستان کے سیاسی لیڈر ہندوستان کی آزادی کے خواہاں ہیں تو ان کے لئے ضروری ہے کہ وہ جماعت احمدیہ میں شامل ہو جائیں۔ بالفاظ دیگر جماعت احمدیہ ہی اس وقت وہ سیاسی جماعت ہے جو ہندوستان کو مکمل آزادی دلاسکتی ہے۔ پس اس بات میں کسی شبہ کی گنجائش نہیں ہے کہ یہ خالصتاً سیاسی جماعت ہے

٣٤

صفحہ ٥٣٧

جو نہایت خاموشی کے ساتھ آہستہ آہستہ مسند حکومت پر قابض ہونا چاہتی ہے اور اس کے امام کے دل میں حکومت کرنے کی آرزو انگڑائیاں لیتی ہوئی دکھائی دیتی ہے۔ چنانچہ الفضل کے حسب ذیل اقتباسات اس کی تائید کرتے ہیں۔ ”میرا کہا مانو تو ایک صلاح دیتا ہوں۔ ساری دنیا میں ایک ہی خلیفہ ہو اور ساری دنیا کی انجمنیں صدر انجمن کے ماتحت ہوں۔“

(الفضل مورخہ ٤؍ اپریل ١٩١٤ء)

”اب تو احمدی پانچ چھ لاکھ ہیں۔ اگر سارے مسلمان احمدی ہو جائیں تو وہ چالیس کروڑ ہو جاتے ہیں اور اگر چالیس کروڑ اخرجت للناس بن جائیں تو سوال ہی باقی نہیں رہتا کہ ہم غریب ہیں۔ ہم امریکہ اور یورپ کو یوں دبوچ لیں جیسے باز چڑیاں کو دبوچ لیتا ہے۔“

(الفضل مورخہ ٢٨؍ نومبر ١٩٥٦ء)

”پس جو بادشاہ بھی احمدی ہو گا وہ اپنے آپ کو خلیفہ وقت کے ماتحت اور اس کا نائب سمجھے گا۔“

(الفضل مورخہ ٢٧؍ اگست ١٩٣٧ء)

مندرجہ بالا اقتباسات اس جماعت کو سیاسی سمجھنے کے لئے کافی ہیں اور نیز یہ کہ اس جماعت کے عزائم مسند حکومت حاصل کرنا ہیں جو شخص ساری دنیا پر حکومت کرنے کا خواہاں ہو اور جو امریکہ اور یورپ کو اس طرح دبوچ لینے کا خواب دیکھ رہا ہو جیسے باز چڑیا کو دبوچ لیتا ہے تو پاکستان کے متعلق اس شخص کے عزائم کا اندازہ کرنا کوئی مشکل کام نہیں ہے۔

١٩٤٧ء کے بعد جب مسلم لیگ برسر اقتدار آئی تو خلیفہ ربوہ نے مسلم لیگ کی خوشامد شروع کر دی اور اسی میں اپنی سیاست اور مفاد سمجھا۔ قائد ملت خان لیاقت علی خان جب پہلے وزیر اعظم مقرر ہوئے تو شاطر سیاست نے ان کے ساتھ اپنا تمام تر خلوص وابستہ کر دیا۔ ان کی وفات کے بعد خواجہ ناظم الدین برسر اقتدار آئے تو ان کی خوشامد کی گئی۔ مسٹر محمد علی کے زمانہ میں ان سے وفاداری کے عہد کئے گئے۔ چوہدری محمد علی کی وزارت میں ان کے قصیدے گائے گئے۔ حسین شہید سہروردی وزیر اعظم تھے تو ان کی وفاداری کے گیت گائے گئے۔ سابق پنجاب میں جب مسلم لیگ برسر اقتدار تھی تو شاطر سیاست اس کی مدح سرائی کے لئے وقف تھی اور وحدت مغربی پاکستان کے بعد ری پبلکن پارٹی برسر اقتدار آئی تو اس کی مدح سرائی کے لئے وقف ہو گئے۔

یہ تمام حقائق اس بات کا بین ثبوت ہیں کہ اس جماعت کا سربراہ سیاسی شخص ہے اور اس کا مذہب اور روحانیت سے دور کا بھی تعلق نہیں۔ وہ خالص سیاسی نظریات کی روشنی میں اپنی جماعت کو منزل مقصود کی طرف لے جا رہے ہیں۔ لیکن اس کا نام اس نے مذہبیت رکھا ہوا ہے۔

٣٥

صفحہ ٥٣٨

بادشاہت یا خلافت

ایک سیاسی جماعت پر حکمرانی کرنے والے کا نام بادشاہ ہو یا خلیفہ۔ نام اس کا خواہ کچھ دیا جائے مفہوم کے اعتبار سے یہ دونوں الفاظ خاص امتیاز رکھتے ہیں۔ ابتدائے آفرینش سے خلیفہ اور بادشاہ کے دو علیحدہ علیحدہ مفہوم رہے ہیں۔ خلیفہ مذہبی اور بادشاہ سیاسی یا ملکی رہنما کو کہا جاتا ہے۔ لیکن اگر کوئی بادشاہت کو مذہبیت کا لبادہ پہنا کر اس کا نام خلافت رکھ لے تو ہمیں اسے بادشاہ ہی سمجھنا پڑے گا۔ میں اس سے قبل ثابت کر چکا ہوں کہ یہ جماعت سیاسی ہے۔ اس اعتبار سے بھی یہ فیصلہ کرنے کی ضرورت نہیں رہتی کہ اس کا حکمران بادشاہ ہے یا خلیفہ؟ کیونکہ جب ایک جماعت سیاسی ہے تو اس کا حکمران چاہے اپنے آپ کو خلیفہ کہے، بادشاہ ہی متصور ہوگا۔ لیکن اس سیدھے سادھے استدلال کے باوصف حسب ذیل امور غور طلب ہیں۔

ابن سعد نے سلمانؓ سے روایت کی ہے کہ حضرت عمرؓ نے سلمانؓ سے دریافت کیا کہ میں بادشاہ ہوں یا خلیفہ۔ حضرت سلمانؓ نے جواب دیا کہ اگر آپ مسلمانوں سے ایک درہم بھی وصول کر کے بے جا خرچ کریں تو آپ بادشاہ ہیں، ورنہ آپ خلیفہ ہیں۔ حضرت عمرؓ نے اس سے نصیحت پکڑی۔

مندرجہ بالا حدیث میں دو باتیں قابل غور ہیں۔ اوّل یہ کہ حضرت عمرؓ ملوکیت کی بجائے جمہوری طریق کار کو پسند کرتے تھے اور دوسرے یہ کہ بادشاہت اور خلافت کی تعریف حضرت عمرؓ کے نزدیک کیا تھی۔ حضرت عمرؓ کا یہ سوال کرنا کہ میں بادشاہ ہوں یا خلیفہ؟ اپنی جگہ پر خود اس بات کی دلیل ہے کہ وہ خلیفہ تھے۔ کیونکہ کوئی بادشاہ کبھی اپنی ذات سے متعلق کسی دوسرے شخص سے کسی قسم کا مشورہ لینا جائز نہیں سمجھتا۔ لہٰذا ان کی جمہوریت پسندی اسی سے ظاہر ہے کہ انہوں نے خود اپنے متعلق دوسروں سے استفسار کیا اور تنقید و تبصرہ کو اپنی ذات کے لئے ہمیشہ پسند فرمایا۔ حضرت سلمانؓ نے بادشاہت اور خلافت کی جو تعریف کی اس میں بادشاہت کے لئے بیت المال سے بے جا صرف کو ضروری قرار دیا اور خلیفہ کے لئے بیت المال کے روپیہ کو دیانت اور ایمانداری سے خرچ کرنا خلافت کی بنیاد ٹھہرایا۔ حضرت سلمانؓ نے جب خلافت اور بادشاہت کی یہ تعریف کی تو حضرت عمرؓ نے اسے بے حد پسند فرمایا اور اس پر مزید عمل پیرا ہونے کی سعی و جہد کی۔ اس طرح سفیان بن ابی العرجاء سے مروی ہے کہ حضرت عمرؓ بن خطاب نے ایک روز فرمایا کہ واللہ میں نہیں جانتا کہ میں خلیفہ ہوں یا بادشاہ۔ اگر میں بادشاہ ہوں تو بہت بڑا بوجھ ہے۔ حاضرین میں سے ایک شخص نے جواب دیا یا امیر المؤمنین! خلیفہ اور بادشاہ میں بہت فرق ہے۔ آپ نے فرمایا

٣٦

صفحہ ٥٣٩

٥٣٩ وہ کیا۔ اس نے کہا خلیفہ وہ ہے جو نہ کسی سے بے جا وصول کرے اور نہ بے جا کسی کو دے اور الحمد للہ! آپ ایسے ہی ہیں اور بادشاہ وہ ہے جو ظلم سے وصول کرے جس سے چاہے لے اور جسے چاہے دے دے۔

حضرت سفیان بن ابی العرجاء کی یہ روایت حضرت سلمانؓ کی تائید کرتی ہے اور اس حدیث میں بھی بادشاہت اور خلافت کے مابین وہی حد فاصل قائم کی گئی ہے جو حضرت سلمانؓ کی حدیث میں ہے۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ بیت المال کے روپیہ کے دیانت دارانہ مصرف کو خلافت کی کسوٹی ٹھہرایا گیا ہے۔ آئیے! دیکھیں کہ امام جماعت ربوہ میاں محمود احمد اس کسوٹی پر پورے اترتے ہیں یا نہیں؟

حضرت عمر فاروقؓ کے ماننے والے ان کی دیانتداری اور ان کے صحیح مصرف کے قائل تھے اور ان کے ماننے والوں میں سے ایک شخص بھی ایسا نہ تھا جسے حضرت عمرؓ کی دیانت پر اعتراض ہو اور وہ اس اعتراض کے باعث ملت اسلامیہ سے منحرف ہوا ہو۔ لیکن اس کے برعکس میاں محمود احمد (جو عمر ثانی ہونے کا بھی دعویٰ کرتے ہیں) متعدد مریدوں نے ان کی دیانت پر اعتراض کے باعث ان کی جماعت سے علیحدگی اختیار کر لی۔ حضرت عمر فاروقؓ اور میاں محمود احمد کے اس عظیم امتیاز سے قطع نظر وہ جماعت کے بیت المال سے اسراف کے حامل ہیں۔ چنانچہ وہ خود اپنے سرکاری اخبار الفضل میں اپنے خسر وسالے زین العابدین سید ولی اللہ شاہ صاحب سے متعلق رقمطراز ہیں: ”جس کے خاندان کے سفر پر صدر انجمن احمدیہ اور تحریک جدید نے تیرہ ہزار روپیہ خرچ کیا ہے۔ اس کو اس لئے دمشق بھیج دیا گیا کہ کہیں خلیفہ نہ بن جائے۔“

(الفضل مورخہ ١٣ ستمبر ١٩٥٦ء)

یعنی انہوں نے انجمن کے روپیہ میں سے مبلغ تیرہ ہزار روپیہ اپنے خسر وسالے کو اس کے ذاتی اخراجات کی غرض سے دیا۔ (جس کا اقرار وہ خود اپنے سرکاری اخبار میں بھی کر چکے ہیں) جو اسراف ہے۔

اسی طرح انہوں نے اپنی سب سے چھوٹی بیوی کے بھائیوں اور اپنے بیٹوں کو انگلستان تعلیم حاصل کرنے کی غرض سے انجمن کے روپیہ سے بھیجا۔ ظاہر ہے کہ جماعت میں روپیہ کے ایسے اسراف کو کسی صورت میں بھی جائز قرار نہیں دیا جاسکتا۔ پھر صیغہ امانت فنڈ سے آپ نے خود ”اوور ڈرافٹ“ کیا ہے اور اپنے اعزاء کو روپیہ دیا ہوا ہے اور قرضہ کی مد کا حساب نہیں اور نہ ہی کسی کو احتساب کرنے کا اختیار ہے۔ حفاظت مرکز کے روپے کا نہ ہی کوئی حساب ہے اور نہ ہی اس کا حساب لینے کا کوئی مطالبہ کر سکتا ہے۔ تحریک جدید کا روپیہ سندھ میں اپنی ذاتی جائیداد بنانے میں

صفحہ ٥٤٠

استعمال کیا گیا ہے اور جماعت کو بتایا جاتا ہے کہ تحریک جدید خسارہ اٹھا رہی ہے۔ بیت المال کا روپیہ کارخانوں اور ٹرانسپورٹ کمپنیوں میں لگایا اور بیرونی ممالک میں بھیج دیا گیا تاکہ جب کبھی بھی پاکستان سے بھاگ کر دوسرے ممالک میں جانا پڑے تو وہ روپیہ کام آسکے۔ ان تمام حالات کی روشنی میں اس بات کا اقرار کرنا ہی پڑے گا کہ میاں صاحب نے بیت المال کے روپیہ کا بے جا مصرف کیا اور اس طرح انہوں نے حضرت سلمانؓ کی تشریح کے مطابق اپنے آپ کو بادشاہ ثابت کر دیا۔ پس حضرت عمر فاروقؓ اس لئے خلیفہ تھے کہ وہ بیت المال کے روپیہ کو ذاتی تصرف میں نہیں لاتے تھے اور میاں محمود احمد اس لئے بادشاہ ہیں کہ وہ اپنی مرضی سے جسے چاہتے ہیں دے دیتے ہیں اور اس طرح اسراف کے مرتکب ہوتے ہیں۔ لہٰذا انہیں خلافت کا درجہ دینا یا ان کی بادشاہت کا نام خلافت رکھنا قابل صد نفرین ہے۔ بلکہ وہ لوگ جو انہیں خلیفہ کا لقب دے رہے ہیں وہ اسلام سے صریحاً دشمنی کا ثبوت بہم پہنچا رہے ہیں اور بادشاہت کو خلافت کا نام دے کر غلیظ اور گندی شے کو پاکیزہ اور ارفع چیز سے تعبیر کر رہے ہیں اور یہ حرکت سرور کائنات فخر موجودات حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ اور خلفائے راشدینؓ کی عزت و ناموس پر ڈاکہ ڈالنے کے مترادف ہے۔

بادشاہت کو خلافت کہا دین احمد سے عداوت ہی تو ہے

روز روشن کی طرح ان واضح دلائل و حقائق کی موجودگی میں جو شخص بھی میاں محمود احمد کو خلیفہ کا درجہ دیتا ہے وہ دشمن اسلام ہے اور میرے نزدیک ایسا شخص اپنے لئے دوزخ کے دروازے کھول رہا ہے۔ لہٰذا انہیں خلافت کا منصب بخشنا معصیت کی ایسی ہیبت ناک صورت ہے کہ جس کا مرتکب قہر خداوندی کو خود دعوت دیتا ہے۔ بادشاہت اور خلافت کا تجزیہ کرنے کے بعد آئیے اب دور محمودیت کے واقعات و حالات کا بھی جائزہ لیں اور اس جماعت کو اوّل سے آخر تک پرکھیں تاکہ شاطر سیاست کی آمریت ثابت کرنے میں آسانی ہو۔

محمودیت سے پہلا اختلاف

حکیم مولوی نور الدین کی وفات سے قبل ہی ان کی زندگی میں میاں محمود احمد نے خلافت کے حصول کی خاطر جدوجہد شروع کر دی تھی۔ چنانچہ جب وہ فوت ہوئے تو انہوں نے مولوی محمد علی (جن کا جماعت میں اثر و رسوخ تھا) کی سادگی اور شرافت سے فائدہ اٹھا کر ووٹوں کے گٹھ جوڑ سے مسند خلافت پر قبضہ کر لیا۔ مولوی محمد علی (لاہوری مرزائی) اور ان کے رفقائے کار نے جو میاں صاحب کے اخلاق و عادات سے بخوبی واقف تھے ان کے مسند خلافت پر متمکن ٤٨ ہونے پر شدید احتجاج کیا اور واشگاف الفا بتایا اور کہا کہ جس شخص کا اخلاق پست ہو وہ صورت میں بھی بیٹھنے کا حق دار نہیں ہے۔ مولوی نے دور حاضر کے اس بہت بڑے شاطر سیاس یہ اقدام کیا کہ مولوی محمد علی کے لئے سوائے قادیان چھوڑ کر لاہور ہجرت کرنا پڑی۔

مولوی محمد علی امیر احمدیہ انجمن اشاع بعد چند اور مریدوں نے شاطر سیاست سے علیحد شاطر سیاست کی اخلاقی پستی بیان کی۔ چنانچہ مباحثے کی دعوت دی اور قادیان ہی سے ایک ا میں مباہلہ کے چیلنج کو بار بار دہرایا اور بتایا کہ دور نہایت بھیانک اقدام کرتی ہے۔ چنانچہ اخبار می چلن پر الزامات کوئی انوکھی بات نہ تھی۔ بلکہ جب وقت سے ہی وقتاً فوقتاً ان الزامات کا سلسلہ شرو بھی تھے۔ لیکن زیادہ تر زور قادیان دارالامن کی طریق سے دبا دیتے رہے۔ لیکن یہ قاعدہ کلیہ ن چھپانے کے لئے حکمت عملی یا ہوشیاری ہی ہمیشہ سوالات کا اٹھنا ایک لازمی امر تھا۔ بلکہ دباؤ س بزور اٹھیں چنانچہ یہی ہوا کہ اس مرتبہ منافقت بائیکاٹ غرضیکہ تمام حربے ناکام ثابت ہوئے ۔ میں لانا اس امر کا اور بھی واضح ثبوت تھا کہ یہ احم نہایت آسان تھا اور ہے کہ اگر خلیفہ کے خ اختیار کرتے جو حق و باطل میں فیصلہ کر دیتا۔“

اس عبارت سے حسب ذیل امور کا

و کردار تھا۔ جس کا مقربین میں سے کھسک کر وق

صفحہ ٥٤١

ہونے پر شدید احتجاج کیا اور واشگاف الفاظ میں میاں محمود کے اخلاق کو منصب خلافت کے برعکس بتایا اور کہا کہ جس شخص کا اخلاق پست ہو اور جو شخص پاکیزگی سے تہی دست ہو وہ خلافت پر کسی صورت میں بھی بیٹھنے کا حق دار نہیں ہے۔ مولوی محمد علی کے ان الزامات اور اس مخالفت کے جواب میں دور حاضر کے اس بہت بڑے شاطر سیاست نے اپنے چند غنڈہ قسم کے خوشامدیوں کی مدد سے یہ اقدام کیا کہ مولوی محمد علی کے لئے بڑے خطرناک حالات پیدا کر دیئے۔ چنانچہ انہیں مجبوراً قادیان چھوڑ کر لاہور ہجرت کرنا پڑی۔

مولوی محمد علی امیر احمدیہ انجمن اشاعت اسلام لاہور کے اختلاف کے دس پندرہ برس بعد چند اور مریدوں نے شاطر سیاست سے علیحدگی اختیار کی اور اس علیحدگی اور اختلاف کی وجہ شاطر سیاست کی اخلاقی پستی بیان کی۔ چنانچہ مکرمی عبدالکریم اور ان کے رفقائے کار نے انہیں مباہلے کی دعوت دی اور قادیان ہی سے ایک اخبار شائع کیا جس کا نام بھی ”مباہلہ“ رکھا اور اس میں مباہلہ کے چیلنج کو بار بار دہرایا اور بتایا کہ دور حاضر کی عظیم سیاسی شخصیت تقدس کے پردے میں نہایت بھیانک اقدام کرتی ہے۔ چنانچہ اخبار مباہلہ یکم نومبر میں لکھا ہے: ”خلیفہ قادیان کے چال چلن پر الزامات کوئی انوکھی بات نہ تھی۔ بلکہ جب سے جناب نے مسند خلافت پر قبضہ جمایا ہے اس وقت سے ہی وقتاً فوقتاً ان الزامات کا سلسلہ شروع رہا ہے۔ گویا اعتراض قادیان سے کسی قدر باہر بھی تھے۔ لیکن زیادہ تر زور قادیان دارالامن تک ہی محدود رہا۔ خلیفہ صاحب ان الزامات کو کئی طریق سے دباتے رہے۔ لیکن یہ قاعدہ کلیہ ہے کہ نہ تو ہر وقت یکساں ہوتا ہے اور نہ ہی کسی راز کو چھپانے کے لئے حکمت عملی یا ہوشیاری ہی ہمیشہ کام آیا کرتی ہے۔ اس لئے کسی نہ کسی وقت ان سوالات کا اٹھنا ایک لازمی امر تھا۔ بلکہ دباؤ سے الزامات کو روکنے کا لازمی نتیجہ یہ تھا کہ کسی وقت بزور اٹھیں چنانچہ یہی ہوا کہ اس مرتبہ منافقت کے فتوے اور مختلف قسم کی دھمکیاں زدوکوب اور بائیکاٹ غرضیکہ تمام حربے ناکام ثابت ہوئے۔ بلکہ خلیفہ کا دلائل کو چھوڑ کر اپنی طاقت کو استعمال میں لانا اس امر کا اور بھی واضح ثبوت تھا کہ یہ اعتراض بالکل سچے ہیں۔ کیونکہ ان اعتراضات کا حل نہایت آسان تھا اور ہے کہ اگر خلیفہ کے نزدیک معترضین کاذب تھے تو وہ طریق مباہلہ اختیار کرتے جو حق و باطل میں فیصلہ کر دیتا۔“

اس عبارت سے حسب ذیل امور کا علم ہوتا ہے۔

و کردار تھا۔ جس کو معترضین پست تصور کرتے تھے۔

٣٩

صفحہ ٥٤٢

کردار پر اعتراض کیا تھا۔

علاوہ بعض لوگ زدوکوب بھی کئے گئے تھے۔

چنانچہ معترضین نے اخبار مباہلہ میں اپنی طرف سے مباہلہ کی دعوت کو بار بار شائع کیا اور کہا کہ ہمارے نزدیک میاں صاحب کا اخلاق پست ہے اور وہ زنا جیسے قبیح فعل کے بھی مرتکب ہوتے ہیں۔ اگر معترضین اس دعویٰ میں جھوٹے ہیں اور شاطر سیاست اپنے آپ کو بے عیب سمجھتے ہیں تو وہ دعوت مباہلہ قبول کریں تاکہ حق و باطل میں فیصلہ ہو سکے۔ معترضین کی طرف سے مباہلہ کے لئے بار بار اصرار پر مجبوراً اس عظیم سیاسی شطرنج باز کو جواب دینا پڑا۔ چنانچہ انہوں نے لکھا کہ:

”مجھے یہ یقین کامل ہے اور ایک اور ایک دو کی طرح یقین ہے کہ ایسے امور کے متعلق مباہلہ کا مطالبہ کرنا یا ایسے مباہلہ کو منظور کرنا ہرگز درست نہیں بلکہ شریعت کی ہتک ہے۔“

(مکتوب خلیفہ قادیان ص٢)

میاں محمود احمد کی دعوت مباہلہ سے صریحاً فرار اختیار کرنے پر معترضین نے اخبار میں اپنے اعلان مباہلہ کو پھر دہرایا اور اس دعوت مباہلہ کے جواز میں مرزا غلام احمد کا حسب ذیل فتویٰ شائع کیا سو واضح رہے کہ مباہلہ صرف دو صورت میں جائز ہے۔

کچھ غیر اللہ کی نسبت خدا کی صفتیں میں مانتا ہوں وہ یقینی امر ہے۔ یہ تمام خبریں تحقیقات طلب ہیں۔

ایک مستورہ عورت کو کہتا ہے کہ میں یقیناً جانتا ہوں کہ یہ عورت زانیہ ہے۔ کیونکہ میں نے بچشم خود اس کو زنا کرتے دیکھا ہے یا مثلاً ایک شخص کو کہتا ہے کہ میں یقیناً جانتا ہوں کہ یہ شراب خور ہے کیونکہ بچشم خود شراب پیتے دیکھا ہے۔ سو اس حالت میں بھی مباہلہ جائز ہے۔ کیونکہ اس جگہ کوئی اجتہادی اختلاف نہیں بلکہ ایک شخص اپنے یقین اور رویت پر بناء رکھ کر ایک مؤمن بھائی کو ذلت پہنچانا چاہتا ہے۔ جیسے مولوی اسماعیل صاحب نے کہا تھا کہ یہ میرے ایک دوست کی چشم دید بات ہے کہ مرزا غلام احمد یعنی یہ عاجز پوشیدہ طور پر آلات نجوم اپنے پاس رکھتا ہے اور انہی کے ذریعہ کچھ

٤٠

صفحہ ٥٤٤

کچھ خبریں معلوم کر کے لوگوں کو کہہ دیتا ہے کہ الہام ہوا۔ سو مولوی اسماعیل نے کوئی اجتہادی مسئلہ میں اختلاف نہیں کیا تھا۔ بلکہ اس عاجز کی دیانت اور صدق پر ایک تہمت لگائی ہے۔ جس کی اپنے ایک دوست کی روایت پر بناء کی تھی۔ لیکن بناء اگر صرف اجتہاد پر ہو اور اجتہادی طور پر اگر کوئی کسی شخص کو کافر کہے یا ملحد نام رکھے تو یہ کوئی تہمت نہیں بلکہ جہاں تک اس کی سمجھ اور علم تھا اس نے فتویٰ دیا ہے۔ غرض مباہلہ صرف ایسے لوگوں سے ہوتا ہے جو اپنے قول کی قطع اور یقین پر بناء رکھ کر دوسرے کو مفتری اور زانی قرار دیتے ہیں۔“

(الحکم نمبر ١١ ج ٨ ص ٧، ٨ مورخہ ٢٤ مارچ ١٩٠٤ء)

جب معترضین نے مرزا غلام احمد قادیانی کا مباہلہ سے متعلق یہ واضح فتویٰ شائع کیا اور اس پر ہی پے در پے دعوت مباہلہ کے اعلانات شائع کئے تو تنگ آکر چودھویں صدی کے اس عظیم شاطر اور رؤیا و کشوف کے بہت بڑے علمبردار کو حسب ذیل الفاظ میں مباہلہ سے گریز کی راہ ڈھونڈنا پڑی: ”میں اس امر پر مباہلہ کرنے کو تیار ہوں کہ میں خلیفہ برحق ہوں اور جس شخص کو میری خلافت پر شک ہو وہ مجھ سے مباہلہ کرے۔“

(الفضل مورخہ ١٣ دسمبر ١٩٢٧ء)

معترضین نے خلافت مآب کو اس بات پر مباہلہ کی دعوت دی تھی کہ آپ زنا جیسے قبیح فعل کا ارتکاب کرتے ہیں۔ گر نہیں کرتے تو آئیے مباہلہ سے حق و باطل کا فیصلہ کرلیں۔ ہر دو فریق میں سے جو بھی جھوٹا ہوگا وہ تباہ ہو جائے گا اور دنیا پر یہ حقیقت واضح ہو جائے گی۔ خلافت مآب نے مباہلہ کی اس دعوت پر کہ ان کی زندگی بے عیب ہے۔ مباہلہ کرنے کی بجائے جواب یہ دیا۔ اگر کسی کو میرے اخلاق پر شبہ ہے تو ہوا کرے میں مباہلہ کے لئے تیار نہیں۔ ہاں! جس شخص کو میری خلافت پر شبہ ہو وہ میرے ساتھ مباہلہ کرے۔ حالانکہ معترضین نے ان پر زنا کا الزام لگایا تھا اور مباہلہ کی دعوت بھی اسی الزام پر دی تھی۔ لیکن شاطر سیاست نے اس دعوت کو قبول کرنے کی بجائے ایک دوسری دعوت دے کر جہاں مباہلہ کے جواز کا اقرار کر لیا وہاں یہ بھی ثابت کر دیا کہ معترضین کے الزامات صحیح تھے۔ چنانچہ جب انہوں نے معترضین کی دعوت مباہلہ کو قبول کرنے کی بجائے اپنی خلافت سے متعلق مباہلہ کرنے پر رضامندی کا اظہار کیا تو معترضین نے اسے بھی قبول کر لیا۔ اب شاطر سیاست بہت گھبرائے اور اپنے مریدوں کو بیوقوف بنانے اور ان کی توجہ کو دوسری طرف مبذول کرانے کی غرض سے رؤیا و کشوف بیان کرنے شروع کر دیئے۔ چنانچہ (الفضل مورخہ ٢٨ مئی ١٩٢٨ء) میں رقم ہے: ”میں نے خواب میں دیکھا کہ ایک شخص خلافت پر اعتراض کر رہا ہے۔ میں اسے کہتا ہوں اگر تم سچے اعتراض تلاش کر کے بھی میری ذات پر کرو گے تو خدا کی تم پر لعنت ہوگی اور تم تباہ ہو جاؤ گے۔“

٤١

صفحہ ٥٤٤

اور پھر ایک دوسرے موقعہ پر فرماتے ہیں: ’’دنیا میں ہر قسم کی غلطیاں ہوتی ہیں۔ بعض غلطیاں ایسی بھی ہوتی ہیں جن سے خدا تعالیٰ کے انبیاء تو پاک ہوتے ہیں۔ لیکن خلفاء پاک نہیں ہوتے۔ دیکھنے والی جو چیز ہے وہ صلاحیت اور قابلیت ہوتی ہے۔‘‘

(قول خلیفہ الفضل مورخہ ٤ نومبر ١٩٢٧ء)

یعنی معترضین جو اعتراضات مجھ پر کر رہے ہیں یہ بے معنی ہیں۔ کیونکہ زنا کے الزام کی اس لئے کوئی اہمیت نہیں کہ یہ غلطی صرف مجھ ہی سے سرزد نہیں ہوئی۔ بعض غلطیاں انبیاء سے بھی ہو جاتی رہی ہیں اور بعض غلطیاں انبیاء نہیں کرتے بلکہ خلفاء سے سرزد ہو جاتی ہیں۔ اس لئے زنا یا اس قسم کی دوسری غلطیاں اگر مجھ میں موجود بھی ہیں تو یہ کوئی اعتراض کی بات نہیں ہے۔ بلکہ اصل چیز جو خلافت کے لئے ضروری ہے وہ تو صرف صلاحیت اور قابلیت ہے اور وہ دیکھ لو مجھ میں موجود ہے۔ لہٰذا میں خلیفہ برحق ہوں۔

شاطر سیاست کی اس حیرت انگیز تشریح اور عجیب و غریب منطق نے معترضین کو غور و فکر کے ایک اتھاہ سمندر میں غوطہ زن کر دیا۔ جو لوگ تقدس کے پردے میں عبرتناک حرکات کا ارتکاب دیکھ کر پہلے ہی سخت پریشان تھے اور جن کی دنیا میں پاکیزگی کے دعویداروں کے اعمال دیکھ کر ایک زلزلہ بپا تھا اور وہ بڑے حیران ہو کر اور یہ سمجھ کر کہ زنا حرام ہے اللہ تعالیٰ اس کی سزا دیتا ہے۔ بڑے جوش وخروش سے دعوت مباہلہ دے رہے تھے۔ ان لوگوں کے کانوں تک شاطر سیاست کے مندرجہ بالا الفاظ پڑے اور انہیں معلوم ہوا کہ زنا حرام ہی نہیں اور نیز یہ کہ خلافت کے لئے پاک ہونا لازمی نہیں بلکہ صرف صلاحیت وقابلیت کا ہونا ضروری ہے تو ان کی امیدوں کے ایوان دھڑام سے گر پڑے۔ ان کا دعوت مباہلہ فضا میں معلق ہو گیا۔ وہ زنا کے حرام اور حلال ہونے کے مسئلہ پر غور کرتے رہ گئے اور دور حاضر کا یہ عظیم سیاسی شاطر اپنے لکیر کے فقیر مریدوں کی توجہ کو یہ کہہ کر دوسری طرف لے گیا کہ ایسی غلطیاں تو (نعوذ باللہ) نبی بھی کرتے رہے ہیں۔ اگر میں بھی کوئی ایسی غلطی کرلوں تو کوئی بات نہیں۔ تم صرف میری صلاحیت وقابلیت دیکھو گناہ نہیں ہے جو چھپ کر کہیں کیا جائے۔ لکیر کے فقیر مریدوں نے نعرۂ تکبیر، اللہ اکبر! حضرت امیر المومنین زندہ باد کے نعرے بلند کئے اور بات آئی گئی ہو گئی۔ معترضین کچھ روز تو سکتہ کی سی حالت میں رہے۔ اس سانحہ پر غور کرتے رہے کہ زنا بھی جائز ہے اور پھر خلفاء یہ فعل قبیح کرتے رہے ہیں (نعوذ باللہ) لیکن کئی روز کے بعد آخر انہیں سمجھ آ ہی گئی اور انہوں نے سوچا کہ زنا جائز نہیں بلکہ اس عظیم شاطر سیاست نے انہیں یہ کہہ کر کہ یہ فعل قبیح جائز ہے دعوت مباہلہ سے بچنے کا ایک راستہ تلاش کیا ہے۔ چنانچہ

٤٢

صفحہ ٥٤٥

انہوں نے کمر ہمت باندھی اور پھر دعوت مباہلہ دی اور کہا کہ آؤ اسی بات پر مباہلہ کر لو کہ تم خلیفہ برحق ہو۔ لیکن خلافت مآب کی طرف سے کوئی جواب نہ ملا۔ آخر معترضین نے تنگ آ کر اپنی ایک عزیزہ کا خط شائع کیا جس میں بتایا گیا تھا کہ وہ جب اپنے باپ کا ایک خط لے کر خلافت مآب کے حضور میں گئی تو اسے کس قیامت کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ اس خط کے ساتھ انہوں نے یہ بھی اعلان کیا کہ اگر کسی کو یہ خیال گزرے کہ خط جعلی ہے تو اس کے لئے ہم تجویز پیش کرتے ہیں کہ ایک کمیشن مقرر کیا جائے جس میں چند ہندو، کچھ مسلمان وکیل ہوں دو ایک جج ہوں ایک وفد شاطر سیاست کا اور ایک مسلمانوں کا ہو اس کمیشن کی موجودگی میں وہ لڑکی اپنا بیان دے سکے گی ۔ لیکن شرط یہی ہوگی کہ اس کمیشن کا کوئی فرد لڑکی کے نام کا اعلان نہیں کرے گا۔

قادیانی خاتون کا بیان

"میں میاں صاحب کے متعلق کچھ عرض کرنا چاہتی ہوں اور لوگوں میں ظاہر کر دینا چاہتی ہوں کہ وہ کیسی روحانیت رکھتے ہیں۔ میں اکثر اپنی سہیلیوں سے سنا کرتی تھی کہ وہ بڑے زانی شخص ہیں۔ مگر اعتبار نہیں آتا۔ کیونکہ ان کی مؤمنانہ صورت اور نیچی شرمیلی آنکھیں ہرگز یہ اجازت نہ دیتی تھیں کہ ان پر ایسا بڑا الزام لگایا جاسکے۔ ایک دن کا ذکر ہے کہ میرے والد صاحب نے جو ہر کام کے لئے حضور سے اجازت حاصل کیا کرتے ہیں اور بڑے مخلص احمدی ہیں۔ ایک رقعہ حضرت صاحب کو پہنچانے کے لئے دیا جس میں اپنے ایک کام کے لئے اجازت مانگی تھی۔ فجر میں رقعہ لے کر گئی۔ اس وقت میاں صاحب نئے مکان (قصر خلافت) میں مقیم تھے۔ میں نے اپنے ہمراہ ایک لڑکی لی جو وہاں تک میرے ساتھ گئی اور ساتھ ہی واپس آ گئی۔ چند دن بعد مجھے پھر ایک رقعہ لے کر جانا پڑا۔ اس وقت بھی وہی لڑکی میرے ہمراہ تھی جونہی ہم دونوں میاں صاحب کی نشست گاہ میں پہنچیں تو اس لڑکی کو کسی نے پیچھے سے آواز دی۔ میں اکیلی رہ گئی۔ میں نے رقعہ پیش کیا اور جواب کے لئے عرض کیا۔ مگر انہوں نے فرمایا کہ میں تم کو جواب دے دوں گا۔ گھبراؤ مت۔ باہر ایک دو آدمی میرا انتظار کر رہے ہیں ان سے مل آؤں۔ مجھے یہ کہہ کر اس کمرے کے باہر کی طرف چلے گئے اور چند منٹ بعد پیچھے کے تمام کمروں کو قفل لگا کر اندر داخل ہوئے اور اس کا بھی باہر والا دروازہ بند کیا۔ یہ چوتھا کمرہ تھا۔ میں یہ حالت دیکھ کر سخت گھبرائی اور طرح طرح کے خیال دل میں آنے لگے۔ آخر میاں صاحب نے مجھ سے چھیڑ چھاڑ شروع کی اور مجھ سے برا فعل کروانے کو کہا۔ میں نے انکار کیا۔ آخر زبردستی انہوں نے مجھے پلنگ پر گرا کر میری عزت برباد کر دی اور ان کے منہ سے اس قدر بدبو آ رہی تھی کہ مجھ کو چکر آ گیا اور وہ گفتگو بھی ایسی کرتے تھے کہ بازاری آدمی

٤٣

صفحہ ٥٤٦

بھی ایسی نہیں کرتے۔ ممکن ہے جسے لوگ شراب کہتے ہیں۔ انہوں نے پی ہو کیونکہ ان کے ہوش و حواس بھی درست نہیں تھے۔ مجھ کو دھمکایا کہ اگر کسی سے ذکر کیا تو تمہاری بدنامی ہو گی مجھ پر کوئی شک بھی نہ کرے گا۔"

(مباہلہ جون ١٩٢٩ء)

اس خط کا شائع ہونا تھا کہ قصر خلافت قادیان میں ایک زلزلہ آ گیا جب حقائق و براہین اور صداقت کی تند و تیز ہوائیں چلتی ہیں تو جھوٹ خزاں رسیدہ درختوں کے سوکھے ہوئے پتوں کی طرح چشم زدن میں ایک جگہ سے دوسری جگہ جا گرتا ہے۔ بحر زخار کے مچلتے ہوئے طوفان کی زد میں آیا ہوا انسان اپنے آپ کو پانی کے سہارے چھوڑ دیتا ہے اور تنکوں کا سہارا تلاش کرتا ہے۔ عدل و انصاف کے کٹہرے میں جھوٹا اور کذاب شخص ریت کی چٹانوں پر اپنے آپ کو محفوظ نہ دیکھ کر جھوٹی قسموں اور جھوٹے دعاوی کا شکار ہو جاتا ہے۔ بعینہ ربوہ کے اس آمریت مآب نے جب یہ دیکھا کہ پانی سر سے گزر گیا ہے تو اس نے حکومت کا دروازہ کھٹکھٹانا شروع کیا اور اپنے انگریز دیوتاؤں سے رحم کی بھیک مانگی۔ کئی وفود ارباب بست و کشاد کے پاس بھیجے اور انہیں نازک صورتحال سے آگاہ کیا۔ انگریز نے اپنے اس دیرینہ خدمت گار اور مخلص مدح سرا کی ناؤ ڈوبتی ہوئی دیکھی تو اس کا جی بھر آیا اور اس نے معترضین کے اخبار پر دفعہ ١٤٤ نافذ کر دی۔ آخر کار اس اخبار کو بند کر دیا۔ معترضین کی زبان بندی کے لئے متعدد تدابیر اختیار کی گئیں۔ انہیں قید و بند کی صعوبتیں پہنچانے کی دھمکی دی گئی اور وہ مظلوم اور بے بس لوگ دانتوں میں زبانیں داب کر خاموش ہو رہے۔ اس طرح ”حق و صداقت“ کا یہ سب سے بڑا علمبردار اپنی لغزشوں پر پردہ ڈالنے میں کامیاب ہو گیا اور مباہلہ کا وہ چیلنج جسے معترضین بار بار دہرا رہے تھے اور جو بلائے ناگہانی کی طرح سر پر منڈلا رہا تھا ٹل گیا اور چودھویں صدی کا یہ رنگیلا قصر خلافت سوسائٹی کے رنگا رنگ پروگراموں میں پھر کھو گیا۔ رسوائی اس خاتون کی ہوئی جس نے اپنی حالت زار بیان کی اور کسی نے بھی قصر خلافت سوسائٹی کے ڈرامہ کے اس ولن سے باز پرس نہ کی اور نہ ہی اس کے اخلاق کو شک کی نظروں سے دیکھا اور اس نے اپنی وہ بات سچ کر دکھائی جو اس نے اس خاتون کو کہی تھی کہ: ”تمہاری بدنامی ہو گی۔ مجھ پر کوئی شک بھی نہ کرے گا۔“ اور دوسری طرف وہ مظلوم خاتون اور اس کا سارا خاندان اپنی مظلومیت پر آنسو بہاتا خاموش ہو گیا۔ لیکن ان کے دل آج بھی دھیمی سروں میں ظلم و تعدی کے خلاف آواز بلند کرنے میں مصروف ہیں۔

یہاں خلوص کے پردے میں سانپ پلتے ہیں
عجیب رنگ زمانہ ہے کیا کیا جائے

٤٤

صفحہ ٥٤٧

شیخ عبدالرحمن مصری

مباہلہ والوں کے الزامات اور دعوت مباہلہ کے نقوش ابھی تازہ ہی تھے کہ ١٩٣٧ء میں کچھ اور لوگ منظر عام پر آئے اور انہوں نے بھی شاطر سیاست پر یہی اعتراض کیا کہ آپ کی زندگی آلودہ ہے۔ شیخ عبدالرحمن مصری جماعت احمدیہ قادیان کے بہت بڑے عالم تھے اور ایک بزرگ کی حیثیت سے بھی جماعت میں ان کا بہت اثر و رسوخ تھا۔ صوم و صلوٰۃ کے پابند، تہجد گزار اور متقی ہیں اور ہر لمحہ خدمت دین میں مصروف رہتے ہیں۔ ان دنوں تعلیم الاسلام ہائی سکول کے ہیڈ ماسٹر تھے اور ان پر شاطر سیاست کی خاص الخاص عنایات ہوتی رہتی تھیں۔ شیخ صاحب شاطر سیاست کو نجات کا باعث سمجھتے ہر ایک کام میں مشورہ لینا دعا کے لئے درخواستیں کرتے رہنا اور شاطر سیاست سے اندھی عقیدت رکھنا جزو ایمان تصور کرتے تھے۔ لیکن ان کے دل و دماغ پر اچانک ایک زلزلہ آیا اور عقیدت کے پہاڑ گر پڑے۔ اپنی ناموس سے زیادہ عزیز شے شاید دنیا میں کوئی نہ ہو اور یہی ایک غیرت ہی تو ہے جو انسان کو عروج پر لے جاتی ہے۔ دنیا میں آئے دن اپنی عزت و ناموس پر سینکڑوں لوگ جانیں دے دیتے ہیں۔ شیخ عبدالرحمن مصری بھی انہی غیور انسانوں میں سے ایک ہیں جو اپنی ناموس کے لئے جان کی پرواہ نہیں کرتے۔ چنانچہ جب انہیں علم ہوا کہ امیر المومنین کہلانے والا خدا کا محبوب ہونے کا دعویٰ کرنے والا اور اپنے آپ کو عورتوں اور مردوں کا روحانی باپ کہنے والا تقدس کے پردے میں بھولی بھالی لڑکیوں کا شکار کھیلتا ہے تو انہیں مباہلہ والوں کے الزامات یاد آگئے۔ جب مباہلہ والوں نے شاطر سیاست پر یہی الزام عائد کئے تھے تو شیخ عبدالرحمن صاحب مصری اسے مباہلہ والوں کے ذاتی عناد کی وجہ سمجھتے تھے۔ چنانچہ شیخ صاحب نے اس وقت اندھی عقیدت کے جوش میں مباہلہ والوں کے الزامات کی تردید اور شاطر سیاست کے حق میں مضامین بھی لکھے اور معترضین کے الزامات کو ان کی ذاتی رنجش قرار دیا۔ شیخ صاحب کو علم نہ تھا کہ معترضین حق پر ہیں اور ایک وقت آنے والا ہے۔ جب خدا شیخ صاحب پر بھی ان کی سچائی ظاہر کرے گا اور شیخ صاحب کو خود بھی اپنے روحانی باپ پر وہی الزامات عائد کرنا پڑیں گے۔ سو شیخ صاحب نے مباہلہ والوں کے الزامات پر متعدد مضامین شائع کئے اور انہیں جھوٹ اور کذب بیانی سے تعبیر کیا۔ لیکن چند ہی سال بعد جب انہوں نے اپنی عزت پر ڈاکہ پڑتے دیکھا تو ان کا سر چکرا گیا۔ ان کی دنیا بدل گئی۔ ان پر سکتہ کا سا عالم طاری ہو گیا اور ایمان پر ایسا زلزلہ آیا کہ مباہلہ والوں کے الزامات پر یقین ہو گیا۔ اب شیخ صاحب کو احساس ہوا کہ تقدس کا یہ بہت بڑا علمبردار کیا گل کھلاتا ہے۔ چنانچہ انہوں نے اپنے آقا شاطر سیاست کو چند خطوط لکھے اور دریافت کیا کہ زنا جائز ہے؟

٤٥

صفحہ ٥٤٨

مصری صاحب کا یہ سوال کرنا ہی تھا کہ شاطر سیاست نے مصری صاحب کی نیت بھانپ لی۔ انہوں نے سمجھ لیا کہ اب یہ شخص ہاتھوں سے نکل چکا ہے اور مریدوں کے ایمانوں کے تزلزل کرنے کا باعث بن سکتا ہے۔ لہٰذا پیشتر اس سے کہ وہ کوئی الزام مجھ پر جماعت کے سامنے عائد کرے۔ خیر اسی میں ہے کہ الزام عائد ہونے سے پہلے ہی اسے جماعت میں بدنام کر دیا جائے۔ چنانچہ شاطر سیاست نے اپنے سرکاری اخبار میں ایک مضمون شائع کیا۔ جس میں لکھا مصری صاحب مجھے اپنی لڑکی کا رشتہ دیتے تھے۔ چونکہ میں نے رشتہ نہیں لیا۔ لہٰذا اب مصری صاحب جماعت میں میرے خلاف زہر اگل رہے ہیں۔ احباب جماعت ہوشیار رہیں۔ حالانکہ ابھی مصری صاحب نے جماعت کے کسی شخص سے بھی اس کا ذکر نہیں کیا تھا۔

چنانچہ الفضل مورخہ ٣ جولائی ١٩٣٧ء میں لکھا ہے کہ: ”چونکہ ان کی (مصری صاحب) لڑکی کا رشتہ خاندان نبوت میں نہ ہو سکا۔ لہٰذا وہ علیحدہ ہو گئے ہیں۔“

اس قسم کے متعدد مضامین شائع کئے گئے اور اپنا ایک خاص آدمی بھیج کر تمام جماعتوں میں یہ زہر پھیلا دیا کہ مصری صاحب اپنی لڑکی کا رشتہ خاندان نبوت میں کرنا چاہتے تھے۔ چونکہ ہو نہیں سکا۔ اس لئے اب مصری صاحب جماعت سے علیحدہ ہو گئے ہیں۔ حالانکہ اتنی معمولی سی بات پر کوئی صحیح العقل شخص اتنا بڑا فیصلہ نہیں کرتا اور ایمان کی ٹھوکر کا باعث اتنی سی بات کبھی نہیں ہوئی۔ چنانچہ شاطر سیاست نے الفضل میں اس قسم کے مضامین شائع کرنے کے علاوہ تمام اسلامی جماعتوں سے مصری صاحب کے خلاف قراردادیں منگوانی شروع کر دیں اور ان قراردادوں میں حقارت ونفرت کا اظہار کروایا گیا۔ ایک طرف تو الفضل کے صفحات پر قراردادوں کی نفرت انگیزی بکھیر دی اور دوسری طرف اپنے وظیفہ خواروں سے مصری صاحب کے خلاف اور اپنی خلافت کے حق میں مضامین لکھوانے شروع کر دیئے۔ وظیفہ خواروں نے حق نمک ادا کرتے ہوئے اپنے فن شعبدہ بازی کا پورا ثبوت دیا اور دنیا کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے وہ جوہر دکھائے کہ خود حیرت بھی محو حیرت ہو جاتی ہے۔ حقیقت کو چھپا کر جھوٹ کو حقیقت ثابت کرنا بھی ایک ایسا فن ہے کہ جو صرف شاطر سیاست کے وظیفہ خواروں ہی کا حصہ ہے۔ چنانچہ اصل واقعات کو خلط ملط کرنے کا حسب ذیل انداز ملاحظہ فرمائیے۔ ایک وظیفہ خوار رقمطراز ہے: ”احباب جماعت کو معلوم ہے کہ سیدنا حضرت امیر المومنین ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے عبدالرحمٰن صاحب مصری کے ناپاک خیالات اور دھمکی آمیز اور گندے خطوط کی بناء پر انہیں جماعت سے خارج فرما دیا ہے۔“

(الفضل ٣ جولائی ١٩٣٧ء)

٤٦

صفحہ ٥٤٩

سبحان اللہ! کس چابکدستی سے حقیقت کو چھپانے اور جھوٹ کو سچ ثابت کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔

کوئی کہے کہ یہ انداز گفتگو کیا ہے

پھر لکھا ہے کہ: ”شیخ صاحب (عبدالرحمن مصری) ایک طرف تو میاں محمود احمد صاحب کو حضرت امیر المومنین لکھتے ہیں اور دوسری طرف حضور کی خلافت سے بغاوت کا اعلان کرتے ہیں اور آپ کی طرف نقائص منسوب کرتے ہیں۔“

ان سطور سے یہ ثابت کرنے کی سعی و جہد کی گئی ہے کہ مصری صاحب ایک طرف شاطر سیاست کو امیر المومنین کہتے ہیں اور دوسری طرف اُن کی طرف نقائص منسوب کرتے ہیں۔ لہٰذا ثابت ہوا کہ مصری صاحب نے جھوٹے الزامات لگائے ہیں۔ وظیفہ خوار نے یہ استدلال پیش کر کے ہوش و خرد سے تہی دامنی کا مکمل ثبوت دیا ہے اور اپنی کم علمی کا بزبان خود اقرار کیا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ مصری صاحب کا امیر المومنین کہہ کر شاطر سیاست سے یہ استفسار کرنا کہ بتائیے زنا جائز ہے؟ نیز یہ کہ آپ رجس سے پاک ہیں؟ مصری صاحب کا جھوٹا ہونا ثابت نہیں کرتا۔ بلکہ شاطر سیاست کے وظیفہ خوار کی یہ سطور تو خود اس کے ربوبیت کرنے والے (شاطر سیاست) کے خلاف جاتی ہیں اور اس کا تو صاف مطلب یہ ہے کہ ایک شخص ساری عمر شاطر سیاست کو امیر المومنین سمجھتا رہا ہے اور اس کا ایمان رہا کہ وہ خلیفہ برحق ہیں۔ لیکن جب اسے معلوم ہوتا ہے کہ یہاں تقدس کے پردے میں بڑے گھناؤنے اقدام معرض وجود میں آتے ہیں تو اس کا ایمان متزلزل ہو جاتا ہے۔ اس کے قدم لڑکھڑانے لگتے ہیں اور وہ عجیب و غریب خیالات میں کھو جاتا ہے اور اس صورت میں اگر وہ امیر المومنین کے الفاظ لکھتا ہے تو اُس سے اُسے طنز مقصود ہوتی ہے جسے وظیفہ خوار بھی اچھی طرح سمجھتا ہے۔ لیکن اندھی عقیدت رکھنے والے لکیر کے فقیر مریدوں کو بے وقوف بنانے کی غرض سے اتنا بھولا بن جاتا ہے کہ جیسے ان الفاظ کی سمجھ ہی نہیں آتی۔ اندھی عقیدت رکھنے والے مریدوں کو بے وقوف بنانے اور اپنی بدعنوانیوں پر پردہ ڈالنے کی غرض سے چند دو رُخے ہتھیار بھی استعمال کئے جاتے ہیں۔ مثلاً جس شخص سے متعلق علم ہو جائے کہ اُسے بدعنوانیوں کا علم ہو گیا ہے اور اب وہ بغاوت کے لئے پر تول رہا ہے تو اس پر لاہوری جماعت یعنی پیغامیوں یا مجلس احرار کے ساتھی ہونے کا الزام لگا دیا جاتا ہے۔ یاد رہے شاطر سیاست انجمن احمدیہ اشاعت اسلام لاہور اور مجلس احرار سے متعلق اپنے مریدوں میں ہر لمحہ زہر اگلتے رہتے ہیں، چنانچہ انہوں نے اپنے مریدوں کے اذہان میں یہ بات منقش کر دی ہے کہ مجلس احرار اور انجمن

صفحہ ٥٥٠

احمدیہ اشاعت اسلام لاہور ہر دو جماعتیں گھٹیا قسم کے لوگوں پر مشتمل ہیں جو ان سے ذاتی عناد اور بغض محمود کی وجہ سے ہر لمحہ مخالفت کرتی رہتی ہیں۔ اب ان مریدوں کو جن کے اذہان ان ہر دو جماعتوں سے متعلق نفرت و حقارت کے جذبات سے بھرے پڑے ہیں یہ بتایا جاتا ہے کہ جماعت کا فلاں شخص لاہوری احمدیوں یا مجلس احرار سے مل کر مخالفت کر رہا ہے تو سیدھے سادھے مرید بغیر سوچے سمجھے اس شخص سے متعلق غلط رائے قائم کر لیتے ہیں۔ چنانچہ جب شیخ عبدالرحمن مصری اور فخر الدین صاحب ملتانی اور ان کے ساتھیوں نے شاطر سیاست سے علیحدگی اختیار کی تو جہاں لکیر کے فقیر مریدوں نے بے وقوف بنانے کی غرض سے دوسرے ہتھکنڈے استعمال کئے گئے وہاں یہ طریق بھی اپنایا گیا کہ شیخ صاحب اور ان کے ساتھی پیغاموں اور احراریوں سے مل کر خلیفہ صاحب کی مخالفت کر رہے ہیں۔ لہٰذا جماعت ہوشیار رہے۔ اس کے ثبوت میں میں حسب ذیل اقتباس نقل کرتا ہوں: ”وہ شوق سے اہل پیغام (انجمن احمدیہ اشاعت اسلام لاہور) کو سہارا بنائیں۔ ان کے ہاتھوں سلسلہ کے نظام کو برباد کرنے کی کوشش کریں۔ احرار کے ہمنوا بن جائیں۔ دیگر دشمنان احمدیت کی امداد حاصل کریں۔ مگر وہ سب کے سب مل کر بھی سلسلۂ احمدیہ کی روک نہیں بن سکتے۔“

(الفضل مورخہ ٣ جولائی ١٩٣٧ء)

مصری صاحب کے الزامات کیا تھے؟ اور ان الزامات کا اثر زائل کرنے کی غرض سے کس قدر مکر و ریاء سے کام لیا گیا اور کس ہوشیاری سے اندھی عقیدت رکھنے والوں کی توجہ دوسری طرف مبذول کرادی گئی اور شریف النفس مصری صاحب کا درد بھرا دل بزبان خاموش چلایا۔

ایک انسان خدا ہے ہمیں معلوم نہ تھا
صاحب مکر و ریا ہے ہمیں معلوم نہ تھا

مصری صاحب نے شاطر سیاست کو جو خطوط ارقام کئے تھے ان میں لکھا تھا کہ جماعت کے سینکڑوں اشخاص سیاسی شاطر اعظم کی ذاتی بدعنوانیوں کو دیکھ کر دہریت کی طرف مائل ہو چکے ہیں۔ اس کے جواب میں شاطر سیاست کا ایک وظیفہ خوار رقمطراز ہے: ”ہم شیخ صاحب کو چیلنج کرتے ہیں کہ وہ لاکھوں کی جماعت میں سے ایسے سو اشخاص کا ہی پتہ بتائیں جو بقول ان کے جماعت کے بگاڑ کو دیکھ کر دہریہ بن چکے ہیں۔ نیز ایسے احمدیوں کا پتہ بتائیں جو اندر ہی اندر دہریہ بن چکے ہوں۔“

(الفضل مورخہ ٤ جولائی ١٩٣٧ء)

پھر اس مضمون میں دوبارہ لکھا ہے کہ: ”ہم پھر اپنے چیلنج کو دہراتے ہیں اور شیخ صاحب سے پرزور مطالبہ کرتے ہیں کہ اگر وہ سچے ہیں تو کم از کم سو ایسے دہریوں کا پتہ دیں جو بقول ان کے جماعت کے بگاڑ کو دیکھ کر دہریہ بن گئے ہیں اور سو ایسے اشخاص کا نام بتائیں جو ابھی دہریت

٤٨

صفحہ ٥٥١

کی منازل طے کر رہے ہیں۔“

نہ جانے سادہ لوح مصری صاحب نے وظیفہ خوار کا یہ چیلنج کیوں قبول نہ کیا۔ شاید اس کی وجہ مصری صاحب کی سادہ لوحی تھی۔ ورنہ شاطر سیاست کی بدعنوانیوں اور دھاندلیوں اور خلوت کی شعبدہ بازیوں کو دیکھ کر جو لوگ اسی وقت دہریہ ہو چکے تھے ان میں سرفہرست تو خود شاطر سیاست ہی کا نام لکھا جاسکتا تھا اور اس کے بعد وظیفہ خواروں اور پھر بعض دھواں دھار تقریریں کرنے والوں کے اسمائے گرامی لکھے جاسکتے تھے اور دہریت کی طرف مائل ہونے والوں میں ان لوگوں کے نام رقم کئے جاسکتے تھے جن کو ١٩٥٦ء میں فتنہ منافقین کے سلسلہ میں خارج از جماعت کیا گیا جو خلافت مآب کے قریب رہ کر دہریت کی طرف مائل تھے۔ لیکن علیحدہ ہو کر پھر خدا کی ہستی کے قائل ہو گئے اور ان پر یہ بات کھل گئی کہ شاطر سیاست کے بداعمال ہونے سے خدا کے انکار کا کیا تعلق ہے؟ پس مصری صاحب کی یہ بات درست تھی اور پھر ان ایک ہزار منافقوں کی فہرست بھی لکھی جاسکتی تھی جو اب شاطر سیاست نے تیار کی ہے اور جسے مشتہر کرنے کی جسارت اس لئے نہیں کی گئی کہ کہیں اتنی بڑی تعداد میں منافقین ایک جگہ جمع ہوکر خلافت مآب کی شاطرانہ صلاحیتوں کا قلع قمع نہ کردیں۔

اگر کوئی شخص دنیا کو دھوکا دینے کے لئے صرف زبان سے کہتا ہے کہ میں خدا کا قائل ہوں اور اس کا عمل اس کے بالکل منافی ہو تو ایسے شخص کو دہریہ ہی سمجھا جائے گا اور پھر وہ لوگ جن کی بنیاد ہی دھوکہ دہی اور مکر و فریب پر ہو اور جو سیاسی مطمح نظر رکھتے ہوئے بھی مذہبی ہونے کے دعویدار ہوں ان سے اس دجل کی بھی توقع کی جاسکتی ہے کہ وہ دنیا کو بیوقوف بنانے کی غرض سے خدا پر یقین نہ رکھتے ہوئے بھی زبان سے خدا خدا کے الفاظ پکارتے چلے جائیں۔ ورنہ کیا شاطر سیاست کو دہریہ ثابت کرنے کی غرض سے ان کے اپنے یہ الفاظ ناکافی ہیں جو انہوں نے زنا کے ایک الزام میں مباہلہ کی دعوت کے جواب میں کہے:

”دنیا میں ہر قسم کی غلطیاں ہوتی ہیں۔ بعض غلطیاں ایسی بھی ہوتی ہیں جن سے خدا تعالیٰ کے انبیاء تو پاک ہوتے ہیں لیکن خلفاء پاک نہیں ہوتے۔“ (الفضل مورخہ ٤؍ نومبر ١٩٢٧ء)

اور پھر اسی اخبار میں لکھا ہے کہ: ”خدا کا رسول غلطی کر سکتا ہے۔“

اور پھر جو شخص صاف الفاظ میں یہ کہتا ہے کہ آنحضرت ﷺ بھی معصوم نہیں تھے۔ (نعوذ باللہ) اس شخص کے متعلق یہ کہنا کہ وہ خدا پر یقین رکھتا ہے اور یہ کہ اللہ تعالیٰ اس سے باتیں کرتا ہے۔ دروغ گوئی کی انتہا نہیں تو اور کیا ہے۔

٤٩

صفحہ ٥٥٢
جس کی آغوش میں ہر شب ہے نئی ماہ لقا اس کے سینے میں خدا ہے ہمیں معلوم نہ تھا

"موجودہ خلیفہ سخت بدچلن ہے۔ یہ تقدس کے پردہ میں عورتوں کا شکار کھیلتا ہے۔ اس کام کے لئے اس نے بعض مردوں اور بعض عورتوں کو بطور ایجنٹ رکھا ہوا ہے۔ ان کے ذریعہ یہ معصوم لڑکوں اور لڑکیوں کو قابو کرتا ہے۔ اس نے ایک سوسائٹی بنائی ہوئی ہے۔ جس میں مرد اور عورتیں شامل ہیں اور اس سوسائٹی میں زنا ہوتا ہے۔" (الفضل) بیان عدالت مولوی عبدالرحمن صاحب مصری ہیڈ ماسٹر احمدیہ و سابق امیر جماعت احمدیہ مقامی قادیان۔

فخر الدین ملتانی کا قتل

ابھی مصری صاحب کا سلسلہ جاری ہی تھا اور الفضل ان پر کیچڑ اچھالنے میں مصروف تھا کہ فخر الدین ملتانی نے جو شاطر سیاست کے بڑے مخلص مرید تھے اور جنہوں نے ذاتی مشاہدات کی بناء پر جماعت احمدیہ سے علیحدگی اختیار کی تھی۔ ایک پمفلٹ بعنوان ”محض مرکز“ لکھا۔ جس میں خلافت مآب موصوف کی پرائیویٹ زندگی پر تنقید کی اور اسے فحش قرار دیا۔ جس پر قادیانی گزٹ نے چند مضامین لکھے اور بڑے دردمندانہ انداز میں اپنی مظلومیت کا رونا رویا اور ساتھ ہی اپنے مریدوں کو پرامن رہنے اور اشتعال میں نہ آنے کی تلقین کی اور اس قسم کی تلقین بار بار کی جس کا مقصد اس اقدام کا حفظ ما تقدم تھا جس کا انہوں نے پروگرام مرتب کر لیا تھا۔ چنانچہ چند ہی روز بعد فخر الدین ملتانی پر قاتلانہ حملہ کیا گیا۔ جس کے نتیجہ میں وہ ہسپتال میں فوت ہو گئے۔ بیان کیا جاتا ہے کہ خلافت مآب نے چند غنڈوں کو روپیہ دے کر انہیں قتل کروایا تھا۔ چنانچہ جس غنڈے نے انہیں قتل کیا تھا جب عدالت نے اسے سزائے موت دی اور وہ تختہ دار پر لٹکایا گیا تو خود میاں محمود احمد نے اس کا جنازہ بڑی دھوم دھام سے نکلوایا اور اسے بڑی شان وشوکت سے دفن کیا گیا۔

یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ جس دن فخر الدین ملتانی فوت ہوئے اس سے چند ہی روز بعد الفضل میں ایک مضمون شائع کیا گیا جس میں مقتول کے گناہ گنے گئے اور اسے مجرم گردانا گیا۔ جس کا ایک ہی مطلب ہے اور وہ یہ کہ فخر الدین ملتانی کے قتل میں شاطر سیاست کا ہاتھ تھا۔ ان دنوں ہندوستان پر سفید فام اجنبی حکمران تھا اور میاں صاحب اس کے پرانے خدمت گار تھے۔ لہٰذا اخبارات نے شور مچایا لیکن حکومت کے کانوں پر جوں تک نہ رینگی۔ فخر الدین ملتانی وفات پا گئے اور دنیا میاں محمود احمد کے ان الفاظ کا مفہوم سمجھنے میں مصروف رہی کہ احباب پرامن رہیں اور اشتعال میں نہ آئیں۔ بہت سے لوگوں نے اس کا مفہوم سمجھ بھی لیا۔ لیکن انگریز حکمرانوں نے انہیں سمجھتے ہوئے بھی کچھ نہ سمجھنے دیا اور شاطر سیاست کا کارواں چلتا رہا۔ قصر خلافت کے خلوت

کدے جگمگاتے رہے اور شیطان اندر مسکراتا رہا۔ الفضل کے صفحات فخر ا خلافت مآب کی معصومیت کا ڈھنڈورا ہوئی سوئے گردوں پرواز کرتی گئی ۔ ہے معترف یہ جہاں جن کی پارسا

اور شاطر سیاست کے رہے کہ اگر ہم اپنی آنکھوں سے بھی م کا دھوکہ تصور کریں گے۔

ریاست اندر ریاست

غرض قادیان میں یکجا م کے خلاف آواز اٹھائی اسے سنگین سزا اپنی عدالتیں کارفرما تھیں اور خلافت مآ رہے۔ سابق فوجیوں کی ایک علیحدہ فو وستم کا کام لیا جاتا رہا۔ ١٩٤٧ء کے بعد کیا گیا اور اس میں اپنی استعماریت اور کو بھی خلافت مآب پر انگشت نمائی کی کرنے کی اجازت نہیں ہے۔ قادیان م متعدد وارداتیں ایسی بھی منصہ شہود پر آ سفید فام اجنبی حکمرانوں کے عہد اقتدار ہاتھ رکھنے کی اس لئے جرات تھی کہ ریاست کی حقانیت اسی سے ظاہر ہے سے دی جاتی تھی تو رجسٹری کئے بغیر ہی جو شخص بھی اسلام کا سن کر قادیان میں ہوتی تھی تو اس کے لئے اپنا سب کچھ اپنا مکان بیچ کر قادیان سے واپس آ رجسٹری نہ ہوتی اور خلافت مآب

صفحہ ٥٥٣

کدے جگمگاتے رہے اور شیطان انسانوں کی غفلت شعاری، اندھی عقیدت اور شخصیت پرستی پر مسکراتا رہا۔ الفضل کے صفحات فخر الدین ملتانی کو ظالم اور مجرم گردانتے اور اپنی مظلومیت اور خلافت مآب کی معصومیت کا ڈھنڈورہ پیٹتے رہے اور اس مظلوم شخص کی روح کسی کا یہ شعر الاپتی ہوئی سوئے گردوں پرواز کرتی گئی۔

ہے معترف یہ جہاں جن کی پارسائی کا وہ میکدے میں کئی بار مجھ سے ٹکرائے

اور شاطر سیاست کے اندھے عقیدت مند بغیر سوچے سمجھے اپنی دھن میں یہی کہتے رہے کہ اگر ہم اپنی آنکھوں سے بھی خلافت مآب کو ”روسیاہ“ دیکھ لیں تو ہم اسے اپنی آنکھوں ہی کا دھوکہ تصور کریں گے۔

ریاست اندر ریاست

غرض قادیان میں یہی صورت تھی کہ جب کبھی بھی کسی نے خلافت مآب کی لغزشوں کے خلاف آواز اٹھائی اسے سنگین سزائیں دی گئیں۔ سرکاری عدالتوں کے علاوہ خلافت مآب کی اپنی عدالتیں کارفرما تھیں اور خلافت مآب خود ان عدالتوں کے چیف جج کے فرائض سرانجام دیتے رہے۔ سابق فوجیوں کی ایک علیحدہ فوجی تنظیم کا قیام عمل میں لایا گیا۔ جس سے جور و استبداد اور ظلم و ستم کا کام لیا جاتا رہا۔ ١٩٤٧ء کے بعد جب مجبوراً قادیان چھوڑنا پڑا تو ربوہ کی سرزمین کا انتخاب کیا گیا اور اس میں اپنی استعماریت اور آمرانہ نظام کی بنیاد ڈالی۔ جس طرح قادیان میں کسی شخص کو بھی خلافت مآب پر انگشت نمائی کی جرأت نہ تھی۔ بعینہ آج بھی ربوہ میں کسی شخص کو گریہ وزاری کرنے کی اجازت نہیں ہے۔ قادیان میں نہ صرف فخر الدین ملتانی کے خون سے ہولی کھیلی گئی بلکہ متعدد وارداتیں ایسی بھی منصہ شہود پر آئیں جن کا ذکر قصر خلافت کی دیواروں سے باہر نہ نکل سکا۔ سفید فام اجنبی حکمرانوں کے عہد اقتدار میں خلافت مآب کو بیکس و بے بس انسانوں کے خون سے ہاتھ رنگنے کی اس لئے اجازت تھی کہ خلافت مآب انگریز کا خود ساختہ پودا تھے۔ ریاست اندر ریاست کی حقانیت اسی سے ظاہر ہے کہ قادیان میں جن لوگوں کو زمین، مکان تعمیر کرنے کی غرض سے دی جاتی تھی تو رجسٹری کے بغیر ہی ایک چٹ پر انہیں بسا دیا جاتا تھا۔ جس کا نتیجہ یہ نکلتا تھا کہ جو شخص بھی اسلام کا نام سن کر قادیان میں غلط فہمی کی بناء پر آباد ہوتا تھا جب اس پر حقیقت حال واضح ہوتی تھی تو اس کے لئے اپنا سب کچھ اجاڑ کر کسی دوسری جگہ جانا مشکل ہو جاتا تھا اور اگر کوئی شخص اپنا مکان بیچ کر قادیان سے واپس آنا چاہتا تھا تو اس کے لئے مشکل یہ تھی کہ زمین اس کے نام رجسٹری نہ ہوتی اور خلافت مآب برہمی کے موڈ میں اسے اپنا ملبہ اٹھا لینے کا حکم صادر فرما دیتے۔

صفحہ ٥٥٤

تاریخی انقلاب

فخر الدین ملتانی اور شیخ عبدالرحمن مصری کی شاطر سیاست سے علیحدگی کے تقریباً بیس سال بعد جولائی ١٩٥٦ء میں کچھ لوگوں نے خلافت مآب کی دھاندلیوں اور ان کے خلوت کدے کی زندگی پر کڑی تنقید کی جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ شاطر سیاست نے انہیں منافق قرار دے کر جماعت سے خارج کر دیا۔ ان تمام حالات پر مفصل بحث کرنے سے قبل ضروری معلوم ہوتا ہے کہ اس کا پس منظر بیان کر دیا جائے۔ تاکہ قارئین کو سمجھنے میں آسانی ہو اور تلاش حق میں سرگرداں رہنے والوں کے لئے باعث عبرت ہو۔

شیخ عبدالرحمن مصری کی علیحدگی سے دس سال بعد ہندوستان تقسیم ہوا اور پاکستان معرض وجود میں آیا تو شاطر سیاست اس وقت قادیان میں تھے۔ اس وقت انہوں نے اعلان کیا تھا کہ چاہے دشمن احمدیوں کی لاشوں پر سے گزرتا ہوا مج مجھ تک پہنچ جائے۔ میں قادیان سے نہیں جاؤں گا۔ اپنے اس فیصلہ کے حق میں انہوں نے ایک واقعہ بھی بیان کیا اور کہا کہ جب مرزا غلام احمد (مسیح موعود) فوت ہوئے تھے۔ میں نے (یعنی میاں محمود احمد نے) ان کے سرہانے کھڑے ہو کر یہ عہد کیا تھا کہ اے مسیح موعود! اگر قادیان سے سارے احمدی بھی آپ کو چھوڑ کر چلے گئے تو میں یہاں سے نہیں جاؤں گا۔ تا وقتیکہ موت نہ آ جائے۔ چنانچہ اپنے اس عہد کو پورا کرنے کی غرض سے ١٩٤٧ء میں خلافت مآب نے قادیان میں اعلان کیا کہ میں قادیان سے نہیں جاؤں گا۔ لیکن اس اعلان کے چند ہی روز بعد جب حالات مزید مخدوش ہوئے تو سادھو کا بھیس بدل کر لاہور آ پہنچے اور یہاں آ کر یہ کہا کہ میں چند روز کے لئے آیا ہوں۔ پھر واپس چلا جاؤں گا۔ لیکن آج تک واپس جانا نصیب نہیں ہوا۔

چند لوگوں نے علاوہ اس اعتراض کے جو اخلاق پر تھا یہ اعتراض بھی کیا کہ جب آپ نے اعلان کیا تھا کہ میں قادیان کو کسی صورت میں بھی نہیں چھوڑوں گا تو آپ بھیس بدل کر بزدلوں کی طرح کیوں بھاگ آئے؟ نیز جب آپ عمر ثانی ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں تو پھر آپ نے عمرؓ کا نمونہ پیش کیوں نہ کیا اور کیوں اس جگہ پر نہ ڈٹے رہے؟ جہاں خطرہ جان تھا اسلامی تاریخ شاہد ہے کہ حضرت عمرؓ نے جب اسلام قبول کیا تھا تو وہ مسلمانوں کو لے کر ان مقامات پر چلے جاتے جہاں سو فی صدی آبادی کفار کی ہوتی اور اس بات کا شدید خطرہ ہوتا کہ کفار مل کر حملہ ہی نہ کر دیں۔ ایسے حالات میں وہ مسلمانوں کے ہمراہ وہاں چلے جاتے اور وہاں بلند آواز سے اذان دے کر نماز باجماعت پڑھتے۔ لیکن جہاں ایک طرف حضرت عمر فاروقؓ کا نمونہ ہمارے سامنے ہے وہاں

٥٢

دوسری طرف میاں صاحب کا بزدلانہ نمونہ ہونے کا جو دعویٰ کرتے ہیں۔ وہ بے بنیاد

اب آئیے یہ دیکھیں کہ خلیفہ اور اس کا محرک کون ہے؟ ١٩٤٨ء میں جب میں لایا گیا۔ انتخاب کا طریق کار حسب ذیل ہر شہر و قصبہ کی جماعت سے مجل ایک نمائندہ منتخب کر کے اسے مجلس کی طرف دے۔ مجلس کا جنرل سیکرٹری ایک خط مرکز سے فلاں شخص نمائندہ منتخب ہوا ہے اور مجل ہے۔ چنانچہ تمام مجالس خدام الاحمدیہ نے ن مرکز (ربوہ) میں ایک ایک خط بھیج دیا۔ ج شخص کو ووٹ دے گا۔ مجالس کی یہ رپورٹ میں شائع کر دی گئی جو رپورٹ الفضل میں مجالس نے اپنے نمائندوں کو صاحبزادہ مرز اتنی مجالس نے مولوی عبدالمنان عمر کے حق کی اکثریت تھی۔ اس اشاعت کے چند عرص رات کی تاریکیوں میں چناب کے کنارے ہوئے۔ صاحب صدر نے کرسی صدارت س ابھی کارروائی شروع ہی ہوئ اجازت مانگی۔ انہوں نے اجازت دی ت مجالس کی ہدایات کو بدل کر ووٹ دینے کا دینا چاہا، لیکن صاحبزادہ مرزا ناصر احمد فور ہدایات کے بدلنے کا حق حاصل نہیں ہے نمائندوں کو اپنی مجالس کی ہدایات کے م ڈھونگ ہے۔ کیونکہ مجالس کی ہدایات کے اس میں بتایا جاچکا ہے کہ مجالس کی اکثریت

صفحہ ٥٥٥

دوسری طرف میاں صاحب کا بزدلانہ نمونہ ہے جسے دیکھ کر یہ کہنا پڑتا ہے کہ میاں صاحب عمر ثانی ہونے کا جو دعویٰ کرتے ہیں۔ وہ بے بنیاد اور بے سر و پا ہے۔

اب آئیے یہ دیکھیں کہ خلیفہ صاحب کا ”فتنہ منافقین“ معرض وجود میں کس طرح آیا اور اس کا محرک کون ہے؟ ١٩٤٨ء میں جب دستور ”مجلس خدام الاحمدیہ“ کی صدارت کا انتخاب عمل میں لایا گیا۔ انتخاب کا طریق کار حسب ذیل تھا۔

ہر شہر وقصبہ کی جماعت سے مجلس خدام الاحمدیہ (جو مرزائی نوجوانوں کی تنظیم ہے) کا ایک نمائندہ منتخب کر کے اسے مجلس کی طرف سے یہ ہدایت کر دی جاتی کہ وہ فلاں شخص کو ووٹ دے۔ مجلس کا جنرل سیکرٹری ایک خط مرکز (ربوہ) میں لکھ دیتا کہ انتخاب کے لئے ہماری طرف سے فلاں شخص نمائندہ منتخب ہوا ہے اور مجلس نے اسے فلاں امیدوار کو ووٹ دینے کی ہدایت کی ہے۔ چنانچہ تمام مجالس خدام الاحمدیہ نے اپنے اپنے نمائندے منتخب کئے اور انہیں ہدایت دے کر مرکز (ربوہ) میں ایک ایک خط بھیج دیا۔ جس میں لکھا کہ ہمارا فلاں شخص نمائندہ ہے اور وہ فلاں شخص کو ووٹ دے گا۔ مجالس کی یہ رپورٹ جو بذریعہ خطوط ربوہ پہنچی۔ وہ انتخاب سے قبل الفضل میں شائع کر دی گئی جو رپورٹ الفضل میں شائع ہوئی اس میں یہ بتایا گیا تھا کہ بذریعہ خطوط اتنی مجالس نے اپنے نمائندوں کو صاحبزادہ مرزا ناصر احمد کے حق میں ووٹ دینے کی ہدایت کی ہے اور اتنی مجالس نے مولوی عبدالمنان عمر کے حق میں۔ اس رپورٹ کے مطابق صاحبزادہ مرزا ناصر احمد کی اکثریت تھی۔ اس اشاعت کے چند ہی روز بعد نمائندے مقررہ جگہ پر پہنچے۔ دسمبر کا مہینہ تھا اور رات کی تاریکیوں میں چناب کے کنارے سردی سے ٹھٹھرے ہوئے نمائندے مقررہ جگہ پر جمع ہوئے۔ صاحب صدر نے کرسی صدارت سنبھالی اور کارروائی کے آغاز کا اعلان کر دیا گیا۔

ابھی کارروائی شروع ہی ہوئی تھی کہ گجرات کے نمائندے نے صاحب صدر سے اجازت مانگی۔ انہوں نے اجازت دی تو اس نمائندے نے کہا کہ کیا ہم سب نمائندوں کو اپنی مجالس کی ہدایات کو بدل کر ووٹ دینے کا حق حاصل ہے یا نہیں۔ اس پر صاحب صدر نے جواب دینا چاہا، لیکن صاحبزادہ مرزا ناصر احمد فوراً اٹھ کھڑے ہوئے اور کہا کہ نمائندوں کو اپنی مجالس کی ہدایات کے بدلنے کا حق حاصل نہیں ہے۔ اس پر گجرات کا وہی نوجوان تھا اور اس نے کہا کہ اگر نمائندوں کو اپنی مجالس کی ہدایات کے بدلنے کا حق حاصل نہیں ہے تو پھر یہ انتخاب محض ایک ڈھونگ ہے۔ کیونکہ مجالس کی ہدایات کے مطابق انتخاب کا نتیجہ تو الفضل میں شائع ہو چکا ہے اور اس میں بتایا جا چکا ہے کہ مجالس کی اکثریت صاحبزادہ مرزا ناصر احمد کے حق میں ہے۔ اس کے بعد

٥٣

صفحہ ٥٥٦

اگر تو نمائندوں کو مجالس کی ہدایت کے بدلنے کا حق ہو تو پھر اس انتخاب کا کوئی مقصد بنتا ہے۔ لیکن اگر نمائندے اپنی مجالس کی ہدایات کو بدلنے کے مجاز نہیں اور انہوں نے بھی اسی نمائندے کے حق میں ووٹ دینا ہے۔ جس کے متعلق مجالس نے ہدایات دی ہیں تو پھر مجالس کی ہدایات کا نتیجہ تو اخبار میں شائع ہو چکا ہے۔ کیا یہ بہتر نہ تھا کہ جو اطلاع بذریعہ خطوط پہنچ گئی تھی اور جو اخبار میں شائع بھی ہو چکی ہے اس پر انتخاب کے نتیجہ کا اعلان کر دیا جاتا۔ لیکن یہ کیا دھاندلی ہے کہ مجالس کی ہدایات کے مطابق آپ نتیجہ اخبار میں شائع کر چکے ہیں اور اب ہم سے یہ مطالبہ ہے کہ تم آؤ اور وہی فیصلہ کر جاؤ جو مشتہر ہو چکا ہے۔ گجرات کے اس نوجوان کا یہ کہنا تھا کہ مختلف اطراف سے اعتراضات کی بوچھاڑ ہوئی اور چند خوشامدیوں اور وظیفہ خوار نوجوانوں کے سوا سب نے گجرات کے اس نوجوان کی حمایت کی۔ اب صفدر کے لئے بڑی مشکل تھی۔ چنانچہ صاحبزادہ مرزا ناصر احمد پھر اٹھے اور کہا کہ اس کا فیصلہ حضور یعنی میاں شاطر سیاست کریں گے۔ چنانچہ ایک شخص کو میاں صاحب کے پاس بھیجا گیا جو تقریباً نصف گھنٹہ کے بعد واپس آیا اور ایک کاغذ دیا جس پر لکھا تھا کہ نمائندوں کو اپنی مجالس کی ہدایات بدلنے کا حق حاصل نہیں ہے۔ چنانچہ انتخاب ہوا اور صاحبزادہ مرزا ناصر احمد قلیل اکثریت سے کامیاب ہو گئے۔ اس انتخاب میں جن لوگوں نے حق بات کہی تھی اور اٹھ کر تقریریں کی تھیں۔ ان کی ایک فہرست بنائی گئی اور انہیں بلیک لسٹ یعنی منافقین کی فہرست کا نام دیا گیا۔

انتخاب کو ابھی چند ماہ ہی گزرے تھے کہ شاطر سیاست نے ایک خطبہ پڑھا اور کہا کہ میں نے فیصلہ کیا ہے کہ آئندہ مجلس خدام الاحمدیہ کا صدر میں خود ہوں گا اور اس کا انتخاب نہیں ہوا کرے گا۔ لہٰذا کام کو چلانے اور اپنی مدد کی غرض سے صاحبزادہ مرزا ناصر احمد کو نائب صدر نامزد کرتا ہوں۔ اس اعلان پر بہت سے لوگ چکرا گئے۔ لیکن بہت تھوڑے تھے جنہیں اس بات کی سمجھ آئی کہ شاطر سیاست نے نوجوانوں کی اس مجلس کی صدارت کے فرائض حسب ذیل امور کی بناء پر خود سر انجام دینے کا فیصلہ کیا تھا۔

انتخاب میں ناکام ہو جائے گا اور اس طرح اس کی بنی بنائی ساکھ ختم ہو جائے گی۔

جانشینی کے لئے اس کے تمام مواقع ختم ہو جائیں گے۔

صفحہ ٥٥٧

٤....... ان کو علم تھا کہ میرے صاحبزادے میں ایسی کوئی اہلیت نہیں جس کے ذریعہ وہ مجلس میں اور اسی طرح جماعت میں مقبول خاص رہے۔ لہٰذا ان کے نزدیک یہ انتخاب نتائج کے اعتبار سے دور رس تھا۔ چنانچہ ضروری تھا کہ اس بنیاد کو ہی ختم کر دیا جاتا جو ان کے صاحبزادے کے لئے خطرناک تھی۔ نہ رہے بانس اور نہ بجے بانسری۔ چنانچہ یہی ہوا کہ انتخاب کا سلسلہ ہی ختم کر دیا۔ اس کے بعد جب صاحبزادہ ناصر احمد کی عمر چالیس سال سے زیادہ ہو گئی اور وہ مجلس خدام الاحمدیہ کا رکن نہیں رہ سکتا تھا تو میاں صاحب نے شفقت پدری اور ذاتی مصلحت کے پیش نظر اپنے بیٹے کو مجلس انصار اللہ کا صدر بنا دیا اور مولوی عبدالمنان عمر کو بھی جو ابھی مرزا ناصر احمد سے عمر میں چھوٹے ہی تھے زبردستی مجلس انصار اللہ میں شامل کر دیا تا کہ انہیں مجلس خدام الاحمدیہ کا نائب صدر نہ بنانا پڑے۔ کسی نے میاں محمود احمد سے عرض کیا۔ ”حضور! مولوی عبدالمنان عمر ابھی چالیس سال کے نہیں ہوئے۔ لہٰذا مجلس انصار اللہ میں وہ کیسے ہو گئے؟ تو میاں صاحب نے بڑے غصے میں آکر جواب دیا۔ ”منان کی عمر کتنی ہے یہ میں بہتر سمجھتا ہوں یا تم۔“ میاں صاحب کا یہ مدلل جواب سن کر استفسار کرنے والا نوجوان خاموش ہو گیا اور شاطر سیاست نے اپنے دوسرے بیٹے کو مجلس خدام الاحمدیہ کا نائب صدر نامزد کر دیا۔

کئی سال بیت گئے اور آخر نو سال کے بعد شاطر سیاست پر فالج کا حملہ ہوا اور انہیں اپنی شمع حیات گل ہوتی دکھائی دی۔ موت کا فرشتہ مسکراتا ہوا ان کی آنکھوں کے سامنے آیا تو بہت گھبرائے۔ گھبراہٹ کے عالم میں انہیں اپنے اہل و عیال کا خیال آ گیا۔ اتنا بڑا خاندان، سات بیویوں کی اولاد، چار بیویاں زندہ۔ آخر ان کا کیا بنے گا۔ اگر خلافت کسی دوسرے کے ہاتھ میں چلی گئی تو یہ بنا بنایا کھیل بگڑ جائے گا۔ سکول ہیں، کالج ہے، ہسپتال ہیں، لائبریریاں ہیں، انجمن ہے۔ آخر یہ سب کچھ اپنے ہاتھوں سے جائے گا اور کوئی غیر اس کے اثمار کھائے گا۔ اگرچہ یہ تمام چیزیں صدر انجمن احمدیہ ہی کی ہیں۔ لیکن انجمن والے کون ہیں۔ اجارہ داری تو اپنی ہی ہے۔ ہر چیز ہمارے ہاتھوں میں ہے۔ ہم جیسے چاہتے ہیں اسے استعمال کرتے ہیں۔ لیکن یہ چیزیں آنکھیں بند کرتے ہی اگر کسی غیر کے ہاتھوں میں چلی گئیں تو بہت برا ہو گا۔ لہٰذا میرا جانشین میرے بیٹے ہی کو ہونا چاہئے اور پھر میں نے ساری زندگی جماعت میں اس کا ایک مقام پیدا کرنے کی سعی و جہد کی ہے۔ وہ تقریر نہیں کر سکتا۔ جماعت میں سینکڑوں اشخاص اس سے بہتر تھے۔ لیکن میں نے ہمیشہ اسے جلسہ سالانہ پر تقریر کے لئے وقت دیا۔ جماعت کے اچھے اچھے عہدوں پر اس کو فائز کیا اور صدر انجمن کا پہلے کوئی صدر نہ تھا۔ صرف اس کو اس کا صدر بنانے کے لئے میں نے صدارت کا عہدہ بھی

٥٥

صفحہ ٥٥٨

جاری کیا اور اس کا پہلا صدر اس کو بنایا۔ تعلیم الاسلام کالج کا پرنسپل بھی اسی کو بنایا تا کہ وہ نوجوانوں پر مسلط رہے اور نوجوانوں میں اس کا اثر و رسوخ پیدا ہو۔ حالانکہ جماعت میں اس سے زیادہ قابلیت رکھنے والے لوگ موجود تھے۔ میں نے آج تک اس کے لئے جس قدر تگ و دو کی ہے اور جس غرض کے لئے کی ہے اگر میری زندگی کے بعد وہ خلیفہ نہ بن سکا تو میری زندگی بھر کی آرزو پوری نہ ہو سکے گی اور یہ ساری جائیداد کسی دوسرے کے ہاتھوں میں چلی جائے گی اور اہل وعیال کی زندگیاں اجیرن ہو جائیں گی۔ یہ خیال آتے ہی اپنے صاحبزادے کو بلایا اور حال دل سنایا۔ صاحبزادے نے بتایا کہ ابا حضور صرف چند لوگ جماعت میں میرے مخالف ہیں۔ اگر آپ کی زندگی کے بعد کسی کی طرف سے مخالفت کا خدشہ ہے تو انہی چند اشخاص سے ہے۔ اگر اس وقت انہیں جماعت سے نکال دیں تو میرا سارا راستہ صاف ہو جائے گا۔ شاطر سیاست نے کہا وہ کون ہیں۔ مجھے بتاؤ میں اس کا انتظام کرتا ہوں۔ چنانچہ وہ فہرست منگوائی گئی جو ١٩٣٨ء میں مجلس خدام الاحمدیہ کے انتخاب کے وقت انتخاب کی دھاندلی کے خلاف آواز بلند کرنے والوں کی مرتب کی گئی تھی اور ایک سوچی سمجھی سکیم کے تحت فتنہ منافقین کا بگل بجا دیا گیا اور اس کا آغاز اس طرح کیا۔

شاطر سیاست نے اپنے اخبار الفضل میں لکھا کہ : ”ایک شخص اللہ رکھا ہے جو میری جماعت میں فتنہ بپا کر رہا ہے۔ وہ پیغامیوں یعنی لاہوری احمدیوں سے ملا ہوا ہے اور ان کے ایماء پر جماعت کے لوگوں کو گمراہ کرنے کی کوششوں میں مصروف ہے۔“ اس کے برعکس خلافت مآب نے اللہ رکھا سے متعلق خود یہ تسلیم کیا ہے اور ان کے گواہوں نے بھی اس بات کی شہادت دی ہے کہ وہ شخص درویش صفت ہے۔ چنانچہ الفضل مورخہ ٢٨ اگست ١٩٥٦ء میں ایک گواہ لکھتا ہے : ”مجھے اس کی شکل کی طرف دیکھتے ہی کچھ نفرت سی ہو گئی ۔“

پھر شاطر سیاست خود فرماتے ہیں : ”اللہ رکھا جیسا رذیل آدمی جس کے سپرد کوئی اہم کام نہیں سوائے اس کے کہ بعض گھرانوں میں چپڑاسی کا کام کرتا ہے۔“

(الفضل مورخہ ٣٠ جولائی ١٩٥٦ء)

ایک ایسا شخص جس کی شکل ہی کو دیکھ کر نفرت ہو جائے جو بقول میاں صاحب گھٹیا ہو اور جس کے سپرد کوئی اہم کام کیا ہی نہیں جا سکتا۔ اس شخص کا نام لے کر ”فتنہ منافقین“ کا اعلان کیا گیا اور اس قدر واویلا کیا کہ ساری دنیا کی توجہ اپنی طرف مرکوز کر لی۔ ”مجھے اللہ رکھا قتل کرنا چاہتا ہے وہ میری جماعت میں فتنہ پیدا کر رہا ہے۔“

اس بات سے تو کوئی شخص بھی انکار نہیں کر سکتا کہ اللہ رکھا درویش سے اس قسم کے

٥٦

صفحہ ٥٥٩

انقلاب کی توقع ہی نہیں کی جاسکتی۔ جس کا خود شاطر سیاست نے بھی اقرار کیا ہے۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ پھر میاں صاحب نے سارے ہنگامے کو اللہ رکھا کے نام کیوں منسوب کیا تو اس کے جواب میں میاں صاحب کا دوسرا قدم ملاحظہ ہو۔

جب الفضل میں اللہ رکھا سے متعلق شور بپا کر دیا گیا اور احباب جماعت کو ہوشیار رہنے کی تلقین ہو چکی تھی تو پھر چوہدری غلام رسول ایم اے سٹوڈنٹ کا نام لیا اور اس کے ساتھ گجرات کے ایک مخلص احمدی خاندان کے تین نوجوانوں کا ذکر شروع کر دیا۔ (یاد رہے یہ وہی لوگ تھے جنہوں نے ١٩٤٨ء میں مجلس خدام الاحمدیہ کی صدارت کے انتخاب کے وقت انتخابی قواعد میں دھاندلی کے خلاف آواز بلند کی تھی اور ان کی ایک فہرست مرتب کر لی گئی تھی) اور پھر آہستہ آہستہ اس فہرست میں سے ہر شخص کا نام لے کر سب کو منافق قرار دے دیا اور ان پر الزام یہ عائد کیا کہ انہوں نے اللہ رکھا کو روپے دے کر میرے (یعنی میاں محمود احمد صاحب) قتل کے لئے کوہ مری بھیجا تھا۔ (لعنت الله على الكاذبين)

چنانچہ لکھا کہ: ”گجرات کے امیر جماعت احمدیہ عبدالرحمان خادم کو یقیناً اس کا علم ہونا چاہئے تھا۔ کیونکہ اس شخص کو کوہاٹ کرایہ دے کر بھجوانے والوں میں وہ ان کے اپنے بھائی شامل تھے اور تیسرا ان کا بہنوئی راجہ علی محمد صاحب کا لڑکا تھا۔“

(الفضل مورخہ ٢٩ جولائی ١٩٥٦ء)

چونکہ شاطر سیاست کے اس الزام کی حقیقت میں (یعنی مصنف) خود بھی جانتا ہوں اس لئے ضروری معلوم ہوتا ہے کہ اس کے متعلق وضاحت کر دی جائے۔ جہاں تک میاں صاحب کے اس الزام کا تعلق ہے۔ یہ الزام اتنا غلط، اتنا بیہودہ اور اتنا خلاف واقعہ ہے کہ تھوڑی سی انسانیت، انصاف اور خوف خدا رکھنے والا شخص ایسی کذب بیانی نہیں کر سکتا۔ میرے چار بھائی ہیں۔ سب سے بڑا بقول میاں صاحب ان کا مخلص مرید ہے۔ باقی تین بھائیوں میں سے دو پر یہ الزام عائد کیا گیا ہے کہ انہوں نے اللہ رکھا کو روپیہ دے کر کوہاٹ بھیجا۔ اب میاں صاحب نے یہاں نام نہیں لئے اس لئے علیحدہ تینوں سے متعلق وضاحت کر دینا ضروری ہے اور اسی سے میاں صاحب کی صداقت کی قلعی کھل جائے گی۔ میں اپنے بھائیوں میں سے سب سے چھوٹا ہوں۔ ربوہ میں ١٩٤٨ء کے انتخابات میں گجرات کے جس نوجوان نے اٹھ کر سوال کیا تھا وہ میں ہی تھا۔ اس انتخاب میں میاں صاحب کی دھاندلی سے متنفر دل، مزید متنفر ہوا اور پھر اس کے بعد اس جماعت سے مکمل علیحدگی اختیار کرلی اور پورے آٹھ سال سے اس جماعت میں نہ چندہ دیا اور نہ ہی ان کی کسی کارروائی میں حصہ لیا۔ بلکہ مکمل طور پر چپ سادھ لی۔ لیکن میاں صاحب نے جب آٹھ سال

٥٧

صفحہ ٥٦٠

کے بعد اپنی منافقت کا بگل بجایا تو اسی فہرست کے مطابق میرا نام بھی اخبار میں شائع کر دیا۔ حالانکہ میں نے اور میرے متذکرہ بالا بھائیوں نے اللہ رکھا کی صورت بھی نہ دیکھی تھی۔ بلکہ کبھی اس کا نام بھی نہ سنا تھا۔ لیکن ہمارے نام محض اس لئے شائع کئے گئے کہ ١٩٣٨ء کی فہرست میں ہمارے نام تھے اور ہمیں میاں صاحب اور ان کا صاحبزادہ جانشینی کے مسئلہ میں راستے کا خار تصور کرتے تھے۔ ”میں اس خدا کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ جس کے قبضہ میں میری جان ہے۔ جس نے ساری دنیا کو پیدا کیا اور جو مالک یوم الدین ہے اور جسے چاہے موت اور جس کو چاہے زندگی بخشتا ہے اور جس کی رضا کے خلاف ایک پتہ بھی اپنی جگہ سے حرکت نہیں کر سکتا اور جس کی جھوٹی قسم کھانا لعنتیوں اور جہنمیوں کا کام ہے کہ میں نے اللہ رکھا مذکور کو نہ کبھی دیکھا تھا اور نہ ہی کبھی اس کا نام سنا تھا اور نہ ہی اس کے کہیں بھیجنے میں میرا ہاتھ تھا اور نہ ہی کسی سازش کا مجھے وہم و گمان بھی تھا اور مجھ پر یہ افتراء ایسی کذب بیانی ہے جس کی مثال نہیں ملتی اور یہ کذب بیانی حضور ہی کا حصہ ہے۔“

یہی حال میرے دوسرے بھائیوں اور ساتھیوں کا ہے۔ اب اس متذکرہ بالا حلف کے بعد بھی اگر شاطر سیاست یا ان کا کوئی وظیفہ خوار یہی دعویٰ کرے کہ ہم میں سے کسی کا اللہ رکھا یا اس فتنہ سے کسی قسم کا کوئی تعلق تھا تو ہم سب اس سلسلہ میں ان کے ساتھ مباہلہ کرنے کو تیار ہیں۔ اگر وہ اپنے اخلاق پر مباہلہ کرنے سے گریز کرتے ہیں۔ اگر وہ اپنی خلافت کی صداقت پر مباہلہ کرنے سے گریزاں ہیں تو چلئے مباہلہ اسی بات پر ہو جائے کہ جو الزامات انہوں نے موجودہ سازش میں (جو ان کی اپنی پیدا کردہ ہے) ہم پر عائد کئے ہیں۔ وہ درست ہیں تو پھر دنیا خود دیکھ لے گی کہ ان کے دعاوی اور شاطرانہ چالیں کیا ہیں۔

اگر وہ اس بات پر بھی مباہلہ کرنے سے گریز کریں تو پھر میں ان پر یہ الزام عائد کرتا ہوں کہ موجودہ ”فتنہ منافقین“ خود انہی کا پیدا کردہ ہے۔ اب ان کا فرض ہے کہ وہ اس الزام کے جواب میں اصولی طور پر مجھے دعوت مباہلہ دیں۔ لیکن اگر وہ حسب معمول چپ سادھ لیں تو میں ہی انہیں اس موضوع پر بھی مباہلہ کی دعوت دیتا ہوں۔ یقین جانئے کہ باتیں بناتے ہوئے انہوں نے یہ فتنہ خود کھڑا کیا اور محض اپنے بیٹے کو اپنا جانشین بنانے کی غرض سے یہ سازش کی ہے۔ ورنہ حکیم مولوی نورالدین (خلیفہ اوّل) کی اولاد کو خارج کرنا اس بات کا بین ثبوت ہے کہ انہوں نے ہر اس شخص کو جماعت سے نکالنے کی کوشش کی جو ان کے نزدیک صاحبزادہ مرزا ناصر احمد کی خلافت کی راہ میں دیوار تھا۔ یا جس کے متعلق انہیں شبہ تھا کہ وہ جانشینی کے مسئلہ پر ان کے صاحبزادے کی مخالفت کرے گا۔ چنانچہ انہی لوگوں کو جماعت سے خارج کرنے کا اعلان کیا گیا۔ جنہوں نے

٥٨

صفحہ ٥٦١

١٩٤٨ء میں مجلس خدام الاحمدیہ کے انتخاب کے وقت انتخابی دھاندلی کے خلاف آواز اٹھائی تھی۔ اس کا ایک ثبوت یہ بھی ہے کہ میں نے ١٩٤٨ء ہی میں اس جماعت سے کنارہ کشی اختیار کر لی تھی اور عملاً اس جماعت سے نفرت کا اظہار کرنا شروع کر دیا تھا۔ اس کے بعد آج تک نہ چندہ دیا اور نہ ہی اس جماعت کی کسی کارروائی میں حصہ لیا۔ بلکہ علیحدگی کا باقاعدہ اعلان کیا۔ لیکن آٹھ سال کے بعد جب شاطر سیاست پر فالج کا حملہ ہوا اور پرانی فہرست نکالی گئی تو چونکہ اس میں میرا نام بھی تھا۔ لہٰذا بغیر سوچے سمجھے اسے بھی شائع کر دیا اور یہ نہ سوچا کہ اس شخص کا جماعت سے کوئی تعلق ہی نہیں۔

پس اس حقیقت کے ثبوت میں کسی مزید دلیل کی ضرورت نہیں کہ شاطر سیاست نے اپنے خاص مقصد کے حصول کی غرض سے یہ سازش کی اور اس کو دوسروں کے گلے کا ہار بنا کر جماعت کے اندھی عقیدت رکھنے والوں کو بیوقوف بنانے کی کوشش کی ہے۔ اب کسی کو کیا معلوم کہ ربوہ کا یہ سازش مآب رؤیا و کشوف کا علم لہرا کر ہر لمحہ نت نئی بدعنوانیوں کو جنم دیتا ہے اور بھولے بھالے شریف لوگ اسے پھر بھی تقدس مآب ہی سمجھتے رہتے ہیں۔ اے کاش انہیں کوئی بتا دے کہ ؎

یزداں یزداں ورد زباں مقصد لیکن راہ زنی
ماتھے پر نقش محراب دل میں بتوں کی جلوہ گری

الزامات

دور حاضر کے اس عظیم سیاسی شطرنج باز نے جب سے مسند خلافت سنبھالی ہے اس پر اعتراضات والزامات کی بارش اسی نسبت سے ہوتی رہتی ہے جس نسبت سے اس پر رؤیا و کشوف نازل ہوتے رہتے ہیں۔ بہت تھوڑے لوگ ہیں جنہوں نے دل کی باتیں ان کے منہ پر کہہ دیں اور جنہیں منافق کا خطاب دے کر جماعت سے خارج کر دیا گیا۔ لیکن اس جماعت میں اکثریت ان لوگوں کی ہے جو شاطر سیاست پر اعتراضات اپنی نجی مجالس میں کرتے ہیں۔ لیکن اعتراضات کرنے والوں میں سے جن کا علم ہو گیا وہ تو منافق قرار پائے۔ باقی لوگ معترض تو ہیں لیکن ابھی میاں صاحب کی چشم عتاب سے محفوظ ہیں جو لوگ منافق قرار دیئے گئے ان کے اعتراضات اور جو ابھی منافق قرار نہیں پائے ان کے اعتراضات والزامات چونکہ مختلف نہیں بلکہ نوعیت کے اعتبار سے قدرے مشترک ہیں۔ اس لئے انہیں درج کیا جاتا ہے۔

بعد ہی زنا جیسے قبیح فعل کا ارتکاب نہیں کیا؟

٥٩

صفحہ ٥٦٢

مربے جو ان کی ذاتی ملکیت ہیں کہاں سے نازل ہوئے ہیں؟

ہے۔ اس میں سے میاں صاحب ذاتی اغراض کے لئے جو روپیہ لیتے ہیں اس کا حساب کیا ہے؟ اور وہ روپیہ کی صورت میں لیا جاتا ہے؟

ہے اور کیا بیت المال سے روپیہ لے کر اپنے رشتہ داروں کو کارخانے یا ٹرانسپورٹ چلانے کی غرض سے دے دینا جائز ہے؟

دیئے جاتے ہیں اور اس کے لئے اہلیت و قابلیت کا معیار پیش نظر کیوں نہیں رکھا جاتا؟

مرزا ناصر احمد کو ہر سال تقریر کے لئے وقت کیوں کیا جاتا ہے۔ جب کہ تقریر کرنے میں ابھی وہ طفل مکتب ہی ہے؟

جو چار فقرے انگریزی میں بول سکتا ہو اور جو اس عہدہ کے لئے موزوں ہو اور کیا میاں محمود کے نزدیک جماعت میں ان کے صاحبزادے کے سوا کوئی دوسرا شخص اس غرض کو پورا کرنے کو نہیں ہے؟

نہیں کرتے؟

شخص کا فرض ہے۔ لیکن وہ دوران خطابت ان کی عزت کا بھی خیال نہیں رکھتے اور جو منہ میں آتا ہے کہہ دیتے ہیں۔

ہے کہ وہ اپنے آپ کو انبیاء سے بھی ارفع اور اعلیٰ سمجھتے ہیں۔ (نعوذ باللہ)

ہے۔ کیونکہ خلیفہ انسانوں کے ووٹوں سے مسند خلافت سے اتر بھی سکتا ہے۔ لیکن شاطر سیاست کہتے ہیں مجھے کوئی معزول نہیں کر سکتا۔

٦٠

وحی نبوت کا درجہ دینا اور اپنے ہر کشف کی ان تعلیمات کے منافی ہے جو میں درج کی ہیں۔

ہے۔ لیکن کتنے تعجب کی بات ہے کہ کہنے لگتے ہیں اور جواب دینے کی ب

یہ وہ اعتراضات ہیں ج سے عتاب کے سوا کوئی جواب نہیں م انہوں نے جب اس سازش کا آغا شروع کر دیں اور خوشامدیوں نے بھی لیا کہ دروغ گوئی کے گذشتہ ریکارڈ بھی تہس نہس کر د گو

خلافت مآب نے جب کے نام کر دیا اور اس کے لئے جو گواہ یا وہ ہیں جن پر دباؤ ڈال کر بیانات سیاست کو خوش کرنے کی غرض سے و چند ایک گواہوں اور ان کی شہادتو سیاست کی خود ساختہ ہے اور گواہوں کے خلاف اپنی نجی مجلسوں میں خود بھی سے کوئی بلند مقام نہیں رکھتے یا ایسے لئے مجبور تھے۔

الفضل مورخہ ١٨ اگس ہے۔ اس کے نام سے ظاہر ہے کہ و میں سے دروغ گوئی کی بو آتی ہے۔

صفحہ ٥٦٣

وحی نبوت کا درجہ دینا اور اپنے ہر کشف سے اپنی صداقت ثابت کرنا قطعاً ناجائز اور خود مرزا غلام احمد کی ان تعلیمات کے منافی ہے جو رویا و کشوف اور وحی کا الہام سے متعلق انہوں نے حقیقت الوحی میں درج کی ہیں۔

ہے۔ لیکن کتنے تعجب کی بات ہے کہ جو شخص بھی ان کی ذات پر اعتراضات کرتا ہے وہ اسے منافق کہنے لگتے ہیں اور جواب دینے کی بجائے اسے جماعت سے خارج کر دیتے ہیں۔

یہ وہ اعتراضات ہیں جو شاطر سیاست پر ہر لمحہ ہوتے رہتے ہیں۔ لیکن ان کی طرف سے عتاب کے سوا کوئی جواب نہیں ملتا۔ چنانچہ مولودہ فتنہ منافقین میں بھی ان کا مسلک یہی ہے اور انہوں نے جب اس سازش کا آغاز کیا تو اپنے خوشامدیوں سے اپنے مطلب کی شہادتیں لکھوانی شروع کر دیں اور خوشامدیوں نے بھی شہادت دینے میں کمال کر دیا اور اس قدر دروغ گوئی سے کام لیا کہ دروغ گوئی کے گذشتہ ریکارڈ بھی مات کر دیئے اور اپنے پیر کو بھی آئینہ دکھا دیا۔ آئیے اب ذرا

قیس کو دیکھ کے لیلیٰ کا تصور کر لیں

گواہ اور ان کی شہادتیں

خلافت مآب نے جب بھی کبھی کوئی فتنہ بپا کیا خود ہی کیا اور اسے منسوب، دوسروں کے نام کر دیا اور اس کے لئے جو گواہ پیش کئے ان میں اکثریت خوشامدی مریدوں پر مشتمل ہے اور یا وہ ہیں جن پر دباؤ ڈال کر بیانات لئے گئے ہیں اور بعض ایسے ہیں کہ جنہوں نے محض شاطر سیاست کو خوش کرنے کی غرض سے بیان گھڑے اور لفافے میں ڈال کر ارسال کر دیئے۔ ذیل میں چند ایک گواہوں اور ان کی شہادتوں کا تجزیہ کیا جاتا ہے جن سے ظاہر ہے کہ یہ سازش شاطر سیاست کی خود ساختہ ہے اور گواہوں کی اکثریت ایسے لوگوں پر مشتمل ہے جو یا تو شاطر سیاست کے خلاف اپنی نجی مجلسوں میں خود بھی باتیں کرتے رہتے ہیں اور یا وہ لوگ ہیں جو اخلاقی اعتبار سے کوئی بلند مقام نہیں رکھتے یا ایسے لوگ ہیں کہ جنہیں محض خوشامد مقصود تھی یا وہ بیان دینے کے لئے مجبور تھے۔

الفضل مورخہ ١٨ اگست ١٩٥٦ء میں ڈیرہ اسماعیل خان کے ایک شخص کا بیان شائع ہوا ہے۔ اس کے نام سے ظاہر ہے کہ وہ کوئی معروف شخصیت نہیں ہے اور اس نے جو بیان دیا ہے اس میں سے دروغ گوئی کی بو آتی ہے۔ لکھا ہے: ”مجھے اللہ رکھا کو دیکھتے ہی نفرت ہوگئی اور اس کے

٦١

صفحہ ٥٦٤

بیان پر کہ مجھے حضور نے معاف فرمادیا ہے اور بھی نفرت ہو گئی ۔“ (الفضل مورخہ ١٨؍اگست ١٩٥٦ء) اس بیان میں گواہ نے دو باتیں بیان کی ہیں۔ پہلی یہ کہ اسے اللہ رکھا کو دیکھتے ہی نفرت ہوگئی اور دوسری اس کے بیان پر کہ حضور نے مجھے معاف فرما دیا ہے اور بھی نفرت ہوگئی۔ جہاں تک بیان کے پہلے حصے کا تعلق ہے۔ گواہ کہتا ہے کہ مجھے اللہ رکھا کو دیکھتے ہی نفرت ہوگئی۔ نفسیاتی تجزیہ کیا جائے تو اس فقرے کے رقم کرنے کی دو وجوہات ہو سکتی ہیں۔ اوّل یہ کہ یہ فقرہ محض خلافت مآب کو خوش کرنے کی غرض سے لکھا گیا ہے اور دوم یہ کہ چونکہ نفرت کرنے کا تعلق انسان کے جذبہ محسوسات سے ہے۔ اس لئے ممکن ہے کہ اسے ایک نامعلوم شخص کو دیکھتے ہی نفرت ہوگئی۔ بیان کا یہ حصہ قابل غور ہے۔ کیونکہ جب اللہ رکھا نے یہ کہا تھا کہ مجھے حضور نے (شاطر سیاست) معاف کردیا ہے تو نفسیاتی طور پر گواہ کے دل میں جذبہ عقیدت پیدا ہونا چاہئے تھا نہ کہ جذبہ نفرت؟ لیکن اس بات کی دلیل ہے کہ گواہ خوشامدی ہے اور اس لئے شاطر سیاست کو خوش کرنے کی غرض سے یہ سطور لکھی ہیں۔ ورنہ اس کے دل میں نہ ہی نفرت پیدا ہوئی تھی اور نہ ہی اس کا اظہار کیا تھا۔

(اللہ رکھا نے) بہت سی باتیں کیں کہ کس طرح وہ مسجد میں رہے۔ لیکن میں نے اسے مسجد میں رہنے نہ دیا اور وہ نماز سے پہلے اپنا بستر اٹھا کر چلا گیا۔ پھر میں نے دوستوں کو ہدایت کردی کہ مسجد میں اس کو آنے نہ دیا جائے ۔“

اس گواہ کے بیان میں بھی تصنع ہے۔ پہلی بات یہ کہ اللہ رکھا نے مسجد میں رہنا چاہا۔ لیکن اس نے (گواہ نے) اسے مسجد میں رہنے نہ دیا اور دوسری یہ کہ دوستوں کو بھی یہ ہدایت کردی کہ وہ بھی اسے مسجد میں نہ آنے دیں۔ جہاں تک پہلی بات کا تعلق ہے کسی کو مسجد میں رہنے سے روکنا بداخلاقی ہے اور جو شخص اتنی بڑی بداخلاقی کرسکتا ہے اس سے جھوٹی شہادت یا جھوٹا بیان دینے کی معمولی بداخلاقی کی توقع بھی کی جاسکتی ہے۔ باقی رہا بیان کا دوسرا حصہ تو جب اللہ رکھا مسجد سے چلا ہی گیا تھا تو دوسرے دوستوں کو یہ تلقین کرنے کی ضرورت کیسے پڑی کہ اسے مسجد میں نہ آنے دیں۔ کیا اس سے یہ بات واضح نہیں ہورہی کہ شہادت دینے والا خوشامد کے موڈ میں ہے۔

ہے کہ ”جب اللہ رکھا میرے سامنے ہی آیا تو مجھے اس سے شدید نفرت ہوگئی۔ یہ الفاظ لکھ کر گواہ نے پھر لکھا ہے کہ اللہ رکھا نے میرے ساتھ فلاں بات بھی کی اور فلاں بھی ۔“ یہ عجیب منطق ہے کہ جس شخص کو دیکھتے ہی دل میں نفرت پیدا ہوگئی تھی۔ پھر اس کی تمام باتیں کیسے سن لیں اور جس سے

٦٢

صفحہ ٥٦٥

نفرت پیدا ہوئی اس نے کیسے سنادیں اور پھر شہادت دینے والے کو جب شدید نفرت پیدا ہوگئی تھی تو اس نے اللہ رکھا کی تمام باتیں کیوں سنیں؟ اس بیان سے تو صاف ظاہر ہے کہ اس میں ذرہ بھر صداقت بھی موجود نہیں۔

ہے: ”ہم خدا کو حاضر ناظر جان کر کہتے ہیں کہ ہم نے آج تک اللہ رکھا کا نام نہیں سنا تھا۔ محض ایک احمدی سمجھ کر اس کو دو رات رہنے دیا ۔“

شاطر اعظم کے ان چند گواہوں کی یہ شہادت اہل خرد کے لئے عبرتناک ہے اور اس میں ایک ایسا جھوٹ ہے کہ جس کی مثال نہیں۔ پہلا جھوٹ یہ کہ وہ دو رات ان کے پاس رہا اور اس کے باوجود ان کے کانوں نے اس کا نام نہ سنا اور نہ ہی اس کا نام کہیں سنا تھا۔ اس جملے میں آج تک کے الفاظ قابل غور ہیں۔ ان گواہوں کی یہ شہادت ٢٩ اگست کے الفضل میں شائع ہوئی۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ انہوں نے انیس یا بیس اگست کو یہ تحریر لکھی ہوگی۔ لیکن الفضل میں شاطر سیاست نے اللہ رکھا کا نام ٢٥ جولائی سے لینا شروع کر دیا تھا اور جماعت کے بچے بچے کی زبان پر اللہ رکھا کا نام تھا۔ مقام حیرت ہے کہ ان شہادتوں کے کانوں میں ایک ماہ تک اللہ رکھا کا نام نہیں پڑا۔ کیا کوئی ذی فہم شخص اسے تسلیم کر سکتا ہے؟

پس یہ اور اسی قسم کے دوسرے گواہوں کے بیانات کا مطالعہ کرنے سے یہ بات بالکل واضح ہو جاتی ہے کہ خلافت مآب نے جن گواہوں کی شہادتوں پر تکیہ کیا ہے وہ شہادتیں بڑی کمزور ہیں اور ان کے ہر لفظ سے تصنع اور کذب بیانی کی بو آتی ہے۔ در حقیقت شاطر سیاست نے ایک غلط بات کا سہارا لیا تھا اور اپنی اس سازش کو حقیقت ثابت کرنے کے لئے اپنے خوشامدیوں سے شہادتیں حاصل کی تھیں۔ پس جو شہادتیں جھوٹ کو سچ ثابت کرنے کی غرض سے حاصل کی گئی تھیں۔ ان کی اہمیت کیا ہو سکتی ہے۔

ان شہادتوں کا اصل مقصد تو مریدوں کی آنکھوں میں دھول جھونکنا تھا اور معترضین کو جماعت سے خارج کرنے کے لئے کسی بہانہ کی ضرورت تھی۔ بہانہ یہ بنایا کہ ان لوگوں نے میرے قتل کا منصوبہ بنایا ہے اور اس بہانے کی تقویت کے لئے شہادتیں شائع کی گئیں۔ تاکہ کسی شخص کو بھی یہ احساس نہ ہونے پائے کہ اس سازش سے انہیں کیا مقصود ہے۔ چنانچہ اندھی عقیدت رکھنے والوں کی توجہ کو دوسری طرف مبذول کرا کے اپنے بیٹے کے لئے راہ ہموار کر لی اور خود اپنے مریدوں کی موٹی عقل پر مسکرائے۔

٦٣

صفحہ ٥٦٦
مذہب فریب بن چکا ہے بے بس جہاں کا خدا ہے

غرض گواہوں نے آمریت مآب کی خوشی کے لئے دروغ گوئی اور کذب بیانی سے دریغ نہ کیا اور جو جی میں آیا کہہ دیا اور بعض باتوں میں تو اخلاقی اقدار کی وہ مٹی پلید کی کہ انہیں رقم کرتے ہوئے صفحہ قرطاس پر قلم رک رک جاتا ہے۔ لیکن شاطر بے مثل اس قسم کی بداخلاقی پر داد تحسین دیتے ہیں اور شاباش کے ڈونگرے برستے ہوئے خوشامدی گواہوں کی پیٹھ ٹھونکتے اور اس بداخلاقی کو مؤمنانہ فراست سے تعبیر کرتے ہیں۔ چنانچہ ملاحظہ ہو ایک گواہ کا بیان اور اس پر شاطر سیاست کا تبصرہ۔ گواہ رقمطراز ہے: ”اللہ رکھا ایک احمدی سلطان احمد بسرا کے پاس سرگودھا گیا اور اسے کہا کہ ملازمت دلوا دو۔ جس پر اس احمدی نے اللہ رکھا سے کہا قادیان میں تم جو کچھ کر چکے ہو وہ ابھی ہمیں بھولا نہیں۔ اس پر اللہ رکھا نے جواب دیا۔ مجھے معافی مل چکی ہے۔ اس پر وہ احمدی پھر بولا لاکھ معافی ملے تمہاری کارکردگی بھلائی جانے والی نہیں۔“

(الفضل ١٨ اگست ١٩٥٦ء)

گواہ کے مندرجہ بالا بیان کے مطابق اللہ رکھا عجز و انکساری سے کہتا ہے کہ مجھے میری خطا کی معافی مل چکی ہے۔ لیکن وہ احمدی اس کا جواب دیتا ہے کہ تمہیں لاکھ معافی ملے تمہارا قصور بھلایا نہیں جاسکتا۔

اس احمدی کا یہ جواب غیر مؤمنانہ ہے۔ کیونکہ خود اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اگر انسان سے کوئی غلطی سرزد ہو جائے۔ وہ معافی مانگ لے تو میں بھی اسے معاف کر دیتا اور اس کے گناہ کو نظر انداز کر دیتا ہوں۔ لیکن گواہ خدا سے بھی سبقت لے جانا چاہتا ہے۔ شاطر سیاست کو اس بیان پر لکھنا چاہئے تھا کہ اس نے غیر مؤمنانہ حرکت کر کے بہت بڑا گناہ کیا ہے۔ لیکن شاطر سیاست کا جواب ملاحظہ ہو۔ ”مؤمنانہ فراست اسی کو کہتے ہیں۔ تعجب ہے کہ الفضل کے بار بار اعلان کے باوجود یہی لوگ اس کے دھوکے میں آگئے۔ اگر اسی طرح مؤمنانہ فراست سب لوگ استعمال کرتے تو یہ لوگ کسی کو دھوکا نہ دے سکتے۔“

(الفضل مورخہ ١٨ اگست ١٩٥٦ء)

گویا کسی کے گناہ کو یا غلطی کو معاف نہ کرنا شاطر سیاست کے نزدیک مؤمنانہ فراست ہے اور غالباً اسی مؤمنانہ فراست کا نام اخلاق ہے۔ جس کی نشر و اشاعت کے لئے آمریت مآب روز و شب مصروف ہیں۔

آزادی ضمیر

اسلام میں آزادی ضمیر کا ایک ایسا مسئلہ ہے کہ جسے جتنی اہمیت دی جائے کم ہے۔ اسلام نے اظہار رائے کی آزادی ہی پر اپنے تمام اعتقادات کی بنیاد رکھی ہے۔ چنانچہ قرآن مجید

٦٣

میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ ”لا اکراہ جائز نہیں ہے۔ چنانچہ تاریخ شاہد ہے تمام تر بنیاد آزادی ضمیر پر ہی رکھی یہ ثابت کر دکھایا کہ اسلام ایک دفعہ زبان سے ہی اس کا اعلان کیا جاتا ہ دیتا ہے کہ اے مسلمانو! کسی بات کو سے منوانے کے طریق کار پر عمل کر ایسے دور میں داخل ہو جائے گی کہ ج بجائے محبت و خلوص سے مانیں گے داخل ہو رہا تھا کہ جس میں خلوص و محب جور و استبداد اور قتل و غارت سے مبرا مستقبل کے تمام حالات سے واقف حالات کے پیش نظر دین میں اکراہ طریق کار سے دین محمدﷺ کو پھیلان نے مسلمانوں کو کفار کے ساتھ محبت دین حقہ کو بھی اپنی تنظیم کے اندر اسی کے زمانہ میں مسلمانوں میں سے بعض بنائے گئے۔ ان کے والدین کو کہہ کر مثالیں ایسی ملتی ہیں کہ بعض مسلمانو مانا۔ بلکہ ان کے الزامات کا جواب صب لیکن اسلام کے اس وا خیالات الگ اور اعتقادات مختلف مریدوں کی آنکھوں میں دھول جھونک رکھتے ہوئے مذہبی رہنمائی کا دعویٰ دعویٰ کرتے ہیں کہ مذہب میں جبر ن خلاف احمد

صفحہ ٥٦٧

میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ ’’لا اکراہ فی الدین (بقرہ:٢٥٦)‘‘ کہ دین میں جبر کسی طرح بھی جائز نہیں ہے۔ چنانچہ تاریخ شاہد ہے کہ حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ نے اسلامی نظریات واعتقادات کی تمام تر بنیاد آزادیِ ضمیر پر ہی رکھی ہے اور نہ صرف زبان سے بلکہ انہوں نے اپنے اسوۂ حسنہ سے یہ ثابت کر دکھایا کہ اسلام ایک زندہ مذہب ہے اور اس کے زندہ ہونے کی دلیل یہ نہیں کہ صرف زبان سے ہی اس کا اعلان کیا جاتا ہے۔ بلکہ اس کے زندہ ہونے کا ثبوت قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ دیتا ہے کہ اے مسلمانو! کسی بات کو جبر و تشدد کے ذریعہ منوانے کی بجائے محبت، اخوت اور نرمی سے منوانے کے طریق کار پر عمل کرو۔ کیونکہ اب ایک زمانہ ایسا آنے والا ہے کہ جب دنیا ایک ایسے دور میں داخل ہو جائے گی کہ جس میں عامۃ الناس ڈنڈے کی ضرب سے کوئی بات ماننے کی بجائے محبت وخلوص سے مانیں گے اور پھر خود سرور کائنات ﷺ کا زمانہ بھی ایک ایسے دور میں داخل ہو رہا تھا کہ جس میں خلوص ومحبت سے دنیا کو صراطِ مستقیم دکھانے کی ضرورت تھی۔ ظلم وتعدی، جور واستبداد اور قتل وغارت سے سعید روحیں گھبرائی ہوئی تھیں۔ اس لئے اللہ تعالیٰ نے جو حال اور مستقبل کے تمام حالات سے واقف ہے۔ عرب کے زمانہ حال اور دنیا کے زمانہ مستقبل کے تمام حالات کے پیش نظر دین میں اکراہ کو ناجائز قرار دیا اور مسلمانوں کو اخوت، محبت اور خلوص کے طریق کار سے دین محمد ﷺ کو پھیلانے اور توحید کو دنیا میں قائم کرنے کی تلقین کی۔ جہاں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو کفار کے ساتھ محبت کے اظہار اور خلوص کے برتاؤ کا حکم دیا۔ وہاں اسی حکم میں اہل دین حقہ کو بھی اپنی تنظیم کے اندر اسی طریق کار پر عمل پیرا ہونے کا سبق دیا۔ حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کے زمانہ میں مسلمانوں میں سے بعض کی سنگین خطاؤں کے باوجود ان کے قتل کے منصوبے نہیں بنائے گئے۔ ان کے والدین کو پکڑ کر ملک بدر یا شہر بدر نہیں کروایا۔ حضرت عمرؓ کے عہد میں سینکڑوں مثالیں ایسی ملتی ہیں کہ بعض مسلمانوں نے برسرِ مجلس حضرت عمرؓ پر تنقید کی اور حضرت عمرؓ نے برا نہیں مانا۔ بلکہ ان کے الزامات کا جواب محبت اور خلوص سے دیا۔

لیکن اسلام کے اس واضح اصول کی موجودگی میں شاطر سیاست کے نظریات جدا خیالات الگ اور اعتقادات مختلف ہیں۔ ان کے نزدیک دنیا کو دھوکا دینا ہی اسلام اور اپنے مریدوں کی آنکھوں میں دھول جھونکنا ہی رضائے الٰہی ہے۔ چنانچہ جہاں وہ ایک سیاسی مطمح نظر رکھتے ہوئے مذہبی رہنمائی کا دعویٰ کرتے ہیں۔ وہاں وہ مذہب میں جبر کو جائز سمجھتے ہوئے بھی دعویٰ کرتے ہیں کہ مذہب میں جبر روا نہیں ہے۔ بعینہ اسی طرح کہ جب وہ اپنی جماعت کو کسی کے خلاف اشتعال دینا چاہتے ہوں تو یہ کہنا شروع کر دیتے ہیں کہ احباب جماعت پر امن رہیں اور

٦٥

صفحہ ٥٦٨

اشتعال میں نہ آئیں۔ جس طرح ان کے اس حکم کا مطلب اشتعال میں آجانا ہوتا ہے۔ اسی طرح جب وہ یہ کہتے ہیں کہ مذہب میں جبر روا نہیں تو اس سے ان کی مراد یہ ہوتی ہے کہ مذہب میں جبر روا ہے۔ میں اپنے اس استدلال کے جواز میں چند دلائل پیش کر کے ثابت کروں گا کہ سازش مآب اشارات واعلانات میں جو باتیں کرتے ہیں۔ ان سے ان کی مراد کیا ہوتی ہے؟ مثلاً ان کے اخبار الفضل میں لکھا ہے: ”باقی رہی آزادی ضمیر تو مذہبی جماعتوں میں صرف جماعت احمدیہ ہی واحد جماعت ہے جو آزادی ضمیر کے اصول کو کلی طور پر تسلیم کرتی ہے اور عقیدہ کے طور پر مانتی ہے کہ اسلام کا اصول ”لا اکراہ فی الدین“ اتنا وسیع ہے کہ مغربی جمہوری اصول اس کے پاسنگ بھی نہیں۔“

(الفضل مورخہ ٦؍ ستمبر ١٩٥٦ء)

مندرجہ بالا سطور میں جس بات کو اپنا عقیدہ تسلیم کیا گیا ہے۔ اگر شاطر سیاست کا عملی طور پر بھی یہی عقیدہ ہے۔ ہمیں ان کے عقیدے کی صداقت پر یقین کرنا پڑے گا۔ لیکن اگر سیاست مآب کا عمل اس عقیدہ کے منافی ثابت ہو جائے تو مندرجہ بالا سطور کی قلعی کھل جائے گی اور معلوم ہو جائے گا کہ شاطرِ اعظم اس عقیدہ پر صرف زبان ہی سے ایمان رکھتے ہیں۔ ورنہ ان کے دل میں اس عقیدہ کی عزت واحترام نہیں ہے۔

شاطر رویا و کشوف نے جب سے مسند خلافت پر قبضہ کیا ہے ایک شخص بھی ایسا نہیں جس نے ان پر کوئی اعتراض کیا ہو اور وہ منافق نہ گردانا گیا ہو۔ تاریخ کے اوراق شاہد ہیں کہ جس کسی نے جب بھی خلافت مآب کے کارہائے نمایاں پر تنقید کا نشتر چلایا۔ انہوں نے یا تو اسے منافق قرار دے کر جماعت سے خارج کر دیا اور یا اسے اپنی خلافت کے لئے خار سمجھ کر قتل کر ڈالا اور وہ ناقدین جنہوں نے جرات سے کام لے کر حضور سے واشگاف الفاظ میں استفسارات کئے۔ انہیں طرح طرح سے اذیتیں پہنچائیں اور ان کی تشہیر اور رسوائی کے لئے تمام تدابیر اختیار کیں۔ ان کے رشتہ داروں کو ان سے تعلقات رکھنے سے روک دیا اور اگر بس چلا تو ان کے بیوی بچے چھین لئے اور اس طرح ان کی زندگیاں اجیرن بنادیں۔

خلافت مآب کے زیر خلافت دو قسم کے لوگ ہیں۔ ایک وہ جنہوں نے مرزا غلام احمد کے ہاتھ پر بیعت کی اور دوسرے وہ جو احمدی باپ کے گھر پیدا ہوئے۔ جہاں تک پہلی قسم کے مریدوں کا تعلق ہے۔ چونکہ انہوں نے خود اپنے آپ کو اس جماعت سے وابستہ کیا تھا۔ اس لئے ان پر تو عقیدہ کے اعتبار سے جبر نہیں ہوتا بلکہ ان پر جبر کا انداز دوسرا ہے۔ لیکن وہ لوگ جو پیدائشی طور پر خلافت مآب سے وابستہ ہیں۔ ان پر جبر کا یہ عالم ہے کہ انہیں بڑی مجبوری اور بے بسی کے

٦٦

صفحہ ٥٦٩

عالم میں شاطر سیاست سے وابستہ رہنا پڑتا ہے۔ حضور کے اسی فی صد نوجوان مریدوں کے اعتقادات حضور پرنور سے محض اس لئے وابستہ ہیں کہ ان کے باپ حضور کے مرید ہیں۔ ورنہ اگر ان کے والدین آج انہیں آزادی ضمیر دے دیں تو اسی فی صد نوجوان حضور سے عدم وابستگی کا اعلان کردیں۔ یہ بات عام مشاہدے میں آئی ہے کہ اگر کسی نوجوان کو حضور سے ذرا سا اختلاف بھی پیدا ہوا ہے تو حضور نے باپ کو حکم دے کر اسے جائیداد سے محروم کرا دیا اور یا اسے جائیداد سے محروم کرنے کی دھمکیاں دی جاتی ہیں۔ اگر کوئی نوجوان طالب علم ہو اور وہ حضور سے عدم وابستگی کا اعلان کرنا چاہے تو اس کے لئے مشکل یہ ہے کہ اس کے کھانے پینے اور سکول یا کالج کا خرچ بند کر دیا جاتا ہے۔ جس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ اسے مجبوراً حضور کے قدموں میں نجات سمجھنے کا اقرار کرنا پڑتا ہے۔ اس حقیقت کے جواز میں سینکڑوں مثالیں پیش کی جاسکتی ہیں۔ لیکن دور جانے کی ضرورت نہیں۔ میں خود اس مصیبت سے دو چار ہوں اور اس کا زندہ ثبوت ہوں۔ لہٰذا میں قارئین کی معلومات کے لئے تھوڑی سی حقیقت حال صفحہ قرطاس کی نذر کئے دیتا ہوں۔

”لا اکراہ فی الدین“ کے علمبرداروں سے متعلق ایک واقعہ بیان کرنے سے قبل ضروری معلوم ہوتا ہے کہ حلف اٹھایا جائے تاکہ ہم پر حضور کی طرف سے کذب بیانی کے الزام کی گنجائش نہ رہے۔

”بسم الله الرحمن الرحیم ، اشہد ان لا الہ الا اللہ واشہد ان محمداً عبده ورسولہ“ میں خدا کو حاضر ناظر جان کر کہتا ہوں کہ جو واقعہ میں ابھی رقم کروں گا اس میں ایک ذرہ بھر بھی جھوٹ نہیں ہوگا اور میں واقعہ کو من وعن تحریر کروں گا۔“

والد احمدی تھے اور ساری عمر انہوں نے اسی جماعت میں گزار دی۔ طالب علمی کے زمانہ میں ہی مجھے حضور پرنور اور ان کے چند خوشامدیوں اور چند ذمہ دار عہدہ داروں سے ان کی بدعنوانیوں کی بناء پر شدید نفرت ہوگئی تھی اور میں اس بات پر اعلانیہ اعتراض کر دیتا تھا جسے غلط سمجھتا تھا۔ میرے بڑے بھائی کو جو حضور کا مخلص مرید تھا۔ جب ان خیالات کا علم ہوا تو اس نے بعض ذاتی رنجشوں کا بدلا چکانے کی غرض سے والد کو میرے خلاف بھڑکایا۔ چنانچہ جب انہیں بلاواسطہ ان خیالات کا علم ہوا تو بڑے بھائی کی سکیم کے مطابق اس عاجز سے وقتاً فوقتاً متعدد تحریریں لکھوائی گئیں۔ جن میں یہ بھی لکھوایا کہ میں احمدی ہوں اور حضور پرنور کے قدموں میں نجات سمجھتا ہوں۔ وغیرہ وغیرہ۔ والد بزرگوار صاف الفاظ میں کہتے تھے کہ اگر تم یہ نہیں لکھو گے تو نہ کالج کا خرچ دیا جائے گا اور نہ ہی تمہیں گھر میں رہنے دیں گے۔ چنانچہ طالب علمی کے اس زمانہ میں مصلحت اسی

٦٧

صفحہ ٥٧٠

میں تھی کہ میں خلافت مآب کے مرید ہونے کا اقرار کر لیتا۔ سو جاہلیت کے اس زمانے میں مجھے ہر طرح سے جبراً حضور کی اطاعت گذاری کے لئے مجبور کیا جاتا رہا۔

اس واقعہ کے علاوہ بعض واقعات بڑے سنگین اور لرزہ خیز ہیں جن کے اظہار کے لئے دل بیتاب ہے اور قلم مضطرب اور وہ واقعات ایسے ہیں کہ جنہیں اگر میں بیان کروں تو ہر سننے والا دانتوں میں انگلیاں داب لے اور اس کی آنکھیں ساون کی گھٹا کی طرح برسیں۔ لیکن ابھی ان واقعات کو منظر عام پر لانے کا وقت نہیں۔ اگر حالات نے اجازت دی تو قارئین سے وعدہ کرتا ہوں کہ ان واقعات سے ضرور نقاب کشائی کروں گا۔ اپنے بیان کے علاوہ چند اور واقعات ملاحظہ فرمائیے۔

رابعاً بشیر احمد رازی میرے بہنوئی ہیں۔ جب انہوں نے خلافت مآب سے عدم وابستگی کا اعلان کیا تو حضور نے ایک شخص کو ربوہ سے گجرات بھیجا اور رازی صاحب کے والد صاحب سے ایک تحریر ان کے خلاف لکھوائی اور اس طرح ان کی تشہیر کی گئی۔ علاوہ ازیں محمد یونس ملتانی نے جب خلافت مآب سے علیحدگی کا اعلان کیا تو ان کے باپ سے حکماً ایک تحریر اپنے بیٹے کے خلاف لکھوا کر الفضل میں شائع کر دی۔ جس میں لکھا کہ میرے بیٹے کا آئندہ میرے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے۔ چنانچہ تادم تحریر سب مخربین سے ہمارے رشتہ داروں نے بول چال بند کر رکھی ہے۔ بعض رشتہ دار ایسے ہیں جو ملنا چاہتے ہیں۔ لیکن خلافت مآب سے خوف کھاتے ہیں کہ کہیں جماعت سے خارج کر کے بے عزت نہ کر دیں۔ بعض رشتہ دار ملتے ہیں۔ لیکن چھپ کر اور جب بھی ملتے ہیں اپنی مجبوریوں کا اظہار کرتے ہیں۔ ان میں سے ہر ایک اپنی اپنی علیحدہ مجبوری بیان کرتا ہے۔ لیکن جو مجبوری بھی بیان کی جاتی ہے۔ اس کی بنیاد حضور کا خوف ہی ہوتا ہے۔ یہ ہے وہ آزادی ضمیر جس کا دعویٰ خلافت مآب کرتے ہیں اور یہ ہے ”لا اکراہ فی الدین“ کی وہ عملی تفسیر جو شاطر سیاست نے پیش کی ہے۔ کسی نے کیا ہی خوب کہا ہے۔

تھا یقین آیت اکراہ پہ اپنا لیکن
دین میں جبر روا ہے ہمیں معلوم نہ تھا

ان تمام دلائل و حقائق کے باوجود بھی اگر خلافت مآب یا ان کے کسی خوشامدی یا کسی وظیفہ خوار کی تسلی نہ ہو اور وہ دین میں جبر کو ناجائز ثابت کرنے اور خلافت مآب کے طریق کار کو ”لا اکراہ فی الدین“ کی آیت کے مطابق ثابت کرنے کی سعی و جہد فرمائے تو اسے اندھی عقیدت رکھنے والوں کو بے وقوف بناتے وقت اس بات کا خیال رکھنا چاہئے کہ میں نے جو کچھ بیان کیا ہے وہ حلفیہ کیا ہے اور میں اس سلسلہ میں چیلنج کرتا ہوں کہ اگر خلافت مآب دین میں جبر سے متعلق

٦٨

صفحہ ٥٧١

قرآن مجید کے اس واضح حکم کی عملی طور پر اتباع کرنے کا اب بھی دعویٰ کرتے ہیں تو میری طرف سے مباہلے کا چیلنج قبول کریں اور عمل سے دنیا پر اپنی حقانیت ثابت کریں۔ ورنہ ان کے وظیفہ خواروں یا خوشامدیوں کا الفضل کے صفحات پر سیاہی بکھیرنے سے اہل خرد کے سامنے جھوٹ کو سچ ثابت کرنا ناممکن ہے۔

اپنے مریدوں پر جبر شاطر سیاست کے نزدیک جماعت کا اندرونی مسئلہ ہے اور وہ جو چاہیں کریں۔ لیکن بیرونی دنیا کے ساتھ ان کا جو مسلک ہے وہ ملاحظہ فرمائیے: ”خدا تعالیٰ نے آپ (مرزا غلام احمد قادیانی) کا نام عیسیٰ رکھا تاکہ عیسیٰ کو تو یہودیوں نے سولی پر لٹکایا تھا۔ مگر آپ اس زمانے کے یہودی صفت لوگوں (یعنی مسلمانوں) کو سولی پر لٹکائیں۔“

(تقدیر الٰہی ص ١٢٩)

یعنی مرزا غلام احمد کی آمد کا مقصد بیان کرتے ہوئے آمریت مآب فرماتے ہیں کہ ان کی آمد کا مقصد یہ ہے کہ یہ مسلمان جو یہودی صفت میں (نعوذ باللہ) ان کو سولی پر چڑھائیں۔ سبحان اللہ! کتنی معرفت کی بات ہے۔ ایک طرف تو یہ کہا جاتا ہے کہ مرزا غلام احمد قادیانی کی آمد کا مقصد تجدید دین اور اشاعت اسلام ہے اور دوسری طرف ان کی آمد کا مقصد یہ بیان کرتے ہیں کہ ان کی بعثت کی غرض و غایت شمع رسالت ﷺ کے پروانوں کو سولی پر چڑھانا ہے۔ کیا کسی گروہ کو سولی پر چڑھانا اکراہ نہیں؟ اگر کسی گروہ پر ظلم و ستم کرنا جبر ہے تو پھر میاں صاحب یہ دعویٰ کیسے کرتے ہیں کہ وہ دین میں جبر کو قطعاً ناروا اور ناجائز سمجھتے ہیں۔ اگر ان کا یہ دعویٰ صداقت پر مبنی ہے تو جب تک وہ قادیان رہے۔ انہوں نے وہاں اپنے مخالفین پر جور و استبداد کا وسیع باب کیوں وا کئے رکھا اور پھر اب جب کہ ربوہ ان کا مرکز ہے تو کیا وجہ ہے کہ ربوہ میں دوسری کوئی جماعت نہ دفتر کھول سکتی ہے اور نہ ہی وہاں جلسہ کر سکتی ہے۔ دور حاضر کا یہ عظیم سیاسی شطرنج باز ایک طرف تو آہ و بکا اور نالہ و شیون سے کہرام مچا دیتا ہے کہ دیکھو روس میں مذہبی نشر و اشاعت کی آزادی نہیں ہے اور دوسری طرف اس کا اپنا عمل اس کے اپنے قول و افکار کی صریحاً نفی ہے۔ چنانچہ شاطر اعظم کے ایک مرید نے عدالت میں جو بیان دیا وہ ملاحظہ ہو۔ ”مذہبی عقیدہ ہے کہ قادیان میں کوئی غیر احمدی (مسلمان) نہیں رہ سکتا۔“

(بیان ماسٹر غلام محمد بی اے بعدالت جناب لالہ اقبال رائے مجسٹریٹ درجہ اول)

اب اگر روس کے ارباب بست و کشاد کسی دوسرے ملک یا کسی دوسری جماعت کو اپنے ملک میں مذہبی نشر و اشاعت کی اجازت نہیں دیتے تو اس پر امام جماعت ربوہ کو کیا اعتراض ہے؟ اگر ان کے اپنے گھر میں مذہبی آزادی ہو اور وہ اپنے عمل سے یہ ثابت کر سکتے ہوں کہ ان کے ہاں مذہبی آزادی ہے تو پھر وہ روس پر اعتراض کرتے۔ بھلے معلوم ہوں گے۔ لیکن ان کا اپنا عمل جس

٦٩

صفحہ ٥٧٢

بات کے سو فیصد منافی ہے اس کا کسی دوسرے کو طعنہ دینا تو ایسا ہی ہے جیسے کوئی شرابی کسی دوسرے شرابی کو شراب پینے کا طعنہ دے۔ باقی رہا یہ سوال کہ ربوہ کی زمین ان کی ذاتی ملکیت ہے۔ لہذا وہ کسی دوسری جماعت کو وہاں دفتر کھولنے یا تبلیغ کرنے کی اجازت کیوں دیں؟ تو اس کے جواب میں عرض ہے کہ روس کی ساری زمین قومی ملکیت ہے۔ یعنی روس میں اراضی کسی کی ذاتی ملکیت نہیں ہے۔ بلکہ وہاں کی حکومت ہی اس کی مالک ہے۔ پس اگر اہل ربوہ کا استدلال درست ہے کہ چونکہ ربوہ کی زمین ان کی اپنی ملکیت ہے۔ لہذا وہ کسی دوسری جماعت کو وہاں نشرواشاعت کی اجازت کیوں دیں؟ تو پھر روس کی زمین میں جو روس کی قومی ملکیت ہے اگر شاطر سیاست کا مبلغ نشرواشاعت نہیں کر سکتا اور حکومت روس اس کی اجازت نہیں دیتی تو اس میں اعتراض کرنے اور آہ و بکا کرنے کی کون سی بات ہے؟ لیکن یہ عجیب منطق ہے کہ ایک طرف تو وہ روس پر یہ الزام لگاتے ہیں کہ وہاں مذہبی آزادی نہیں ہے اور دوسری طرف خود اپنے مرکز ربوہ میں مذہبی آزادی کو ناجائز سمجھتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ ہماری اپنی زمین ہے۔ لہذا ہم کسی کو اس میں تبلیغ کی اجازت کیوں دیں۔

پس اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جاسکتا اور کوئی شخص بھی اس صداقت پر تصنع اور بناوٹ کی حاشیہ آرائی سے یہ ثابت نہیں کر سکتا کہ خلافت مآب کا عمل قرآن مجید کے اس حکم کے مطابق ہے۔ جس میں جبر کو اسلامی نظریات کے صریحاً خلاف گردانا گیا ہے۔ بلکہ ان کا عمل روس کے عمل سے اور قول قرآن پاک کے فرمان سے مطابقت رکھتا ہے۔ ان کا یہ اقدام بھی ویسا ہی ہے جیسے وہ عمل کے اعتبار سے بادشاہ ہیں اور قول کے اعتبار سے خلیفہ ہیں۔ جس طرح انہوں نے دنیا کو بے وقوف بنانے کے لئے بادشاہت کو خلافت، آمریت کو جمہوریت اور سیاست کو مذہبیت کا لبادہ پہنا دیا ہے۔ بعینہ انہوں نے بھولے بھالے انسانوں کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کی غرض سے جبر کا نام مذہبی آزادی رکھا ہوا ہے۔

خرد کا نام جنوں رکھ دیا جنوں کا خرد جو چاہے آپ کا حسن کرشمہ ساز کرے

ہماری یہ بات حاشیہ آرائی نہیں۔ تصنع اور بناوٹ نہیں۔ عداوت و رنج و محن نہیں اور نہ ہی اس کی غرض دنیا کو بے وقوف بنانا ہے۔ بلکہ یہ تجزیہ میرے ان مشاہدات و تجربات پر مبنی ہے جو میں نے قریب تر رہ کر بلکہ گھر کا بھیدی بن کر کیا ہے۔

ہماری تلخ نوائی نہیں متاع جنوں بہت قریب سے دیکھی ہے زندگی ہم نے

٧٠

سوشل

مسند خلافت کے حصول کے لئے خلافت ہاتھوں میں آگئی تو یہ سوچنا شروع کر دیا جاسکتی ہیں۔ چنانچہ انہوں نے حسب ذیل تین کے اندر رہنے کی سختی سے تلقین کی۔ (١) مسئلہ تکفیر

مسئلہ تکفیر

وہ مسلمان جنہوں نے مرزا غلام سے شاطر سیاست کو یہ مقصود تھا کہ وہ لوگ جو جماعت میں شمولیت اختیار کر لی ہے مسلمانوں خلافت مآب ہی کی طرف لگی رہیں۔

نماز جنازہ

اسی طرح وہ مسلمان جنہوں نے مر مریدوں کو ان کی نماز جنازہ ادا کرنے سے روکا کے مریدوں کے لئے جذبہ نفرت بھر جائے اور مر رہے کہ وہ ہر لمحہ خلافت مآب ہی کے احکام کی اط دلوں میں خلافت مآب کی عظمت کے نشان نقش

سوشل بائیکاٹ

اپنے مریدوں سے دو طرح کے سو مقصود رہا کہ ان کے مرید دوسری دنیا سے جدا ہو مشکل ہو جائے۔ چنانچہ ایک طرف اپنے مریدوں سے منع کیا اور دوسری طرف اپنی جماعت کے گئے۔ جنہوں نے خلافت مآب سے کسی مسئلہ انقطاع تعلقات کا مقصد صرف اپنی خلافت کی تعلقات کے لئے مسلمانوں کے ساتھ شادی اور کے ساتھ ہی یہ پابندی بھی عائد کر دی کہ جماعتی

صفحہ ٥٧٣

سوشل بائیکاٹ

مسند خلافت کے حصول کے لئے خلافت مآب نے بیحد کوشش کی اور جب زمام خلافت ہاتھوں میں آگئی تو یہ سوچنا شروع کر دیا کہ کس طرح اب خلافت کی بنیادیں مضبوط کی جاسکتی ہیں۔ چنانچہ انہوں نے حسب ذیل تین حدود متعین کیں اور اپنے مریدوں کو ان دائروں کے اندر رہنے کی سختی سے تلقین کی۔ (١) مسئلہ تکفیر۔ (٢) نماز جنازہ۔ (٣) سوشل بائیکاٹ۔

مسئلہ تکفیر

وہ مسلمان جنہوں نے مرزا غلام احمد کو نہیں مانا۔ انہیں کافر قرار دیا۔ اس مسئلہ کے اجراء سے شاطر سیاست کو یہ مقصود تھا کہ وہ لوگ جو مرزا قادیانی کے مرید ہیں اور جنہوں نے ان کی جماعت میں شمولیت اختیار کر لی ہے مسلمانوں سے کٹ جائیں اور اس طرح ہر وقت ان کی نگاہیں خلافت مآب ہی کی طرف لگی رہیں۔

نماز جنازہ

اسی طرح وہ مسلمان جنہوں نے شاطر سیاست کے ہاتھوں پر بیعت نہیں کی اپنے مریدوں کو ان کی نماز جنازہ ادا کرنے سے روک دیا تاکہ مسلمانوں کے دلوں میں خلافت مآب کے مریدوں کے لئے جذبہ نفرت بھر جائے اور مریدوں کے لئے اس کے سوا کوئی چارہ کار باقی نہ رہے کہ وہ ہر لمحہ خلافت مآب ہی کے احکام کی اطاعت میں اپنی خیر سمجھنے لگیں اور اس طرح ان کے دلوں میں خلافت مآب کی عظمت کے نشان منقش ہو جائیں۔

سوشل بائیکاٹ

اپنے مریدوں سے دو طرح کے سوشل بائیکاٹ کروائے اور اس سے بھی انہیں یہی مقصود رہا کہ ان کے مرید دوسری دنیا سے جدا ہو جائیں کہ ان کے لئے خلافت مآب کے بغیر جینا مشکل ہو جائے۔ چنانچہ ایک طرف اپنے مریدوں کو غیر مرزائیوں سے مذہبی تعلقات اور لین دین سے منع کیا اور دوسری طرف اپنی جماعت کے ان لوگوں سے معاشرتی تعلقات منقطع کرا لئے گئے۔ جنہوں نے خلافت مآب سے کسی مسئلہ میں اختلاف کیا۔ اندرونی و بیرونی طور پر معاشرتی انقطاع تعلقات کا مقصد صرف اپنی خلافت کی بنیادیں استوار کرنا ہے۔ چنانچہ بیرونی انقطاع تعلقات کے لئے مسلمانوں کے ساتھ شادی اور نماز جنازہ کی ادائیگی کو ممنوع قرار دے دیا اور اس کے ساتھ ہی یہ پابندی بھی عائد کر دی کہ جماعتی نظام کے پیش نظر غیر از جماعت دکانداروں (یعنی

٧١

صفحہ ٥٧٤

غیر احمدیوں) سے ضروریات زندگی کی اشیاء نہ خریدی جائیں اور صرف احمدی دکانداروں ہی سے ضروریات زندگی کی تمام اشیاء حاصل کی جائیں۔ چنانچہ قادیان میں احمدی دکانداروں سے ناظر امور عامہ اور شعبہ ترقی تجارت کی طرف سے ایک عہد نامہ پر دستخط کرائے جاتے تھے جو حسب ذیل تھا۔

”میں اقرار کرتا ہوں کہ ہر قسم کی اشیاء کی خریداری صرف اپنے بھائیوں (مرزائیوں) ہی سے کروں گا۔ اگر میں اس عہد کی خلاف ورزی کروں یا میری بیوی یا میرا بچہ یا میرا نوکر میرے زیر انتظام رہنے والا میرا رشتہ دار اس کی خلاف ورزی کرے تو میں جو جرمانہ خلیفہ المسیح تجویز کریں ادا کروں گا۔ میں عہد کرتا ہوں کہ میں نہ مخفی طور پر نہ علانیہ طور پر کوئی چیز غیر احمدیوں سے خریدوں گا۔ جماعت نے جو معاہدہ ترقی تجارت تجویز کیا ہے مجھے منظور ہے میں اقرار کرتا ہوں کہ ضروریات جماعت قادیان کا خیال رکھوں گا اور مدیر تجارت جو حکم دیں گے اس کی تعمیل کروں گا اور جو حکم ناظر امور عامہ دیں گے اس کی بھی بلا چون و چرا تعمیل کروں گا اور نیز جو اور ہدایات وقتاً فوقتاً جاری ہوں گی ان کی پابندی کروں گا۔ اگر میں کسی حکم کی خلاف ورزی کروں گا تو جو جرمانہ بھی تجویز ہوگا ادا کروں گا۔ میں عہد کرتا ہوں کہ میرا جو جھگڑا کسی احمدی سے ہوگا اس کے لئے امام جماعت احمدیہ کا فیصلہ میرے لئے حجت ہوگا۔ ہر قسم کا سودا احمدیوں سے خریدوں گا۔ معاہدہ کی خلاف ورزی کی صورت میں میں سو روپیہ تک جرمانہ ادا کروں گا اور دس روپے پیشگی جمع کراؤں گا۔ اگر میرا جمع شدہ روپیہ ضبط ہو جائے تو مجھے اس کی واپسی کا حق نہ ہوگا۔ نیز میں عہد کرتا ہوں کہ احمدیوں کی مخالف مجالس میں کبھی شریک نہ ہوں گا۔“ (ماخوذ)

اس معاہدہ سے صاف طور پر عیاں ہے کہ شاطر سیاست نے اپنے مریدوں کو مسلمانوں سے تعلقات منقطع کرنے پر مجبور کیا اور کوشش کی کہ ہر اعتبار سے ان کے مرید جمہور سے کٹ جائیں اور ان کے لئے خلافت مآب کا سہارا تلاش کرنے کے سوا دوسرا کوئی راستہ ہی باقی نہ رہے۔

بیرونی انقطاع تعلقات کے علاوہ شاطر سیاست نے اندرونی طور پر تعلقات کے منقطع کرنے کے رواج کی بناء ڈالی اور اپنے مفاد کے لئے اس پر سختی سے عمل کروایا۔ وہ لوگ جنہوں نے حضور کے ذاتی کارہائے نمایاں دیکھے اور جماعت سے علیحدہ ہوئے ان کے ساتھ بھی اپنے مریدوں کو عموماً اور علیحدگی اختیار کرنے والوں کو خصوصاً تعلقات منقطع کرنے پر مجبور کیا۔ اس روش سے جہاں شاطر سیاست کو یہ مقصود تھا کہ ان کے مرید دوسروں سے لاتعلق ہو جائیں وہاں ان کا مقصد اپنی بدعنوانیوں پر پردہ پوشی بھی تھا۔ چنانچہ جو شخص بھی خلافت مآب کی ذاتی بدعنوانیوں کو

٧٢

صفحہ ٥٧٥

دیکھ کر علیحدگی اختیار کرے۔ اس شخص سے مریدوں کو عموماً اور اس کے رشتہ داروں کو خصوصاً انقطاع تعلقات کے لئے اس لئے مجبور کیا جاتا ہے کہ کہیں وہ لوگ بھی اس شخص کی باتوں سے متاثر ہو کر خلافت مآب سے متنفر نہ ہو جائیں۔ چنانچہ شاطر سیاست سوشل بائیکاٹ کا حربہ استعمال کرتے ہیں۔ لیکن اس کے باوجود یہی کہتے ہیں کہ ہم نے کبھی بھی کسی کو سوشل بائیکاٹ کی سزا نہیں دی۔ فرماتے ہیں: ”یہ افتراء ہے کہ کسی کو سوشل بائیکاٹ کی سزا دی گئی ہے۔ یہ افتراء ہے کہ ان کے رشتہ داروں یا عزیزوں کو قطع تعلق کے لئے مجبور کیا گیا ہے۔“

(الفضل مورخہ ٦ ستمبر ١٩٥٦ء)

مندرجہ بالا سطور میں شاطر سیاست نے اس بات سے صاف انکار کیا ہے کہ انہوں نے کبھی کسی کو سوشل بائیکاٹ کی سزا دی ہے۔ لیکن الفضل ٢١ اکتوبر ١٩٥٦ء میں فرماتے ہیں: ”وہ (یعنی ملک فیض الرحمٰن فیضی) الفضل میں ان لوگوں سے بیزاری کا اظہار کریں جو مخالفت کر رہے ہیں اور آئندہ ان کو فلاں فلاں رشتہ دار سے ملنے کی اجازت ہوگی۔“

مندرجہ بالا سطور میں شاطر سیاست ایک شخص کے معافی نامہ پر اسے مشروط معافی دیتے ہیں اور شرط یہ رکھتے ہیں کہ وہ شخص میرے (خلافت مآب) فلاں فلاں مخالف سے بیزاری کا اعلان کرے۔ نیز اسے اس شرط پر معافی دی جاتی ہے کہ وہ فلاں رشتہ دار کے سوا اپنے دوسرے رشتہ داروں سے جو میرے (خلافت مآب) مخالف ہیں تعلقات نہیں رکھے گا۔ اب یہ سوشل بائیکاٹ نہیں تو پھر سوشل بائیکاٹ اور کسے کہتے ہیں؟ یہ اور بات ہے کہ شاطر سیاست نے حسب عادت سوشل بائیکاٹ کا نام اظہار بیزاری رکھا ہوا ہے۔ لیکن سوشل بائیکاٹ کا نام بدلنے سے اس کی نوعیت میں تو تبدیلی نہیں ہوتی۔ سوشل بائیکاٹ کا نام چاہے اظہار بیزاری رکھ دیا جائے یا کچھ اور۔ نام کے بدلنے سے مفہوم اور نوعیت اپنی ہی جگہ پر قائم رہتے ہیں۔ میرے اس استدلال پر اگر شاطر سیاست یہ کہیں کہ یہ میری اختراع ہے۔ کوئی ایسی دلیل ہونی چاہئے جس میں سوشل بائیکاٹ کی ہدایت جاری کی گئی ہو تو اس کے لئے میں الفضل سے حسب ذیل اقتباس پیش کرتا ہوں۔

”احباب جماعت کی اطلاع کے لئے اعلان کیا جاتا ہے کہ جن لوگوں کو جماعت سے خارج کیا گیا ہے یعنی میاں فخر الدین ملتانی، شیخ عبدالرحمٰن مصری اور حکیم عبدالعزیز ان کے ساتھ اگر کسی دوست کا لین دین ہو تو وہ نظارت ہٰذا کی وساطت سے طے کریں۔ کیونکہ ان کے ساتھ تعلقات رکھنے ممنوع ہیں۔“

(الفضل مورخہ ٧ جولائی ١٩٣٧ء)

اگر شاطر سیاست یا ان کے کسی وظیفہ خوار کی مندرجہ بالا اقتباس سے بھی تسلی نہ ہو اور وہ اپنے جھوٹ کو ثابت کرنے کی ناپاک خواہش کو اس اقتباس پر بھی ترک نہ کرنا چاہے تو ایک خط پیش

صفحہ ٥٧٦

کیا جاتا ہے۔ اس کا اصل میرے پاس موجود ہے۔ وہ خط امیر جماعت احمدیہ لاہور کی طرف سے ایک احمدی کو لکھا گیا ہے۔ ملاحظہ ہو:

”مکرمی محمد اسلم صاحب سیمنٹ بلڈنگ، لاہور

السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ

رپورٹ موصول ہوئی ہے کہ احسان الٰہی ولد منگو کمہار نے اپنی شادی کرانے کے لئے احمدیت سے توبہ کی اور اس شرط پر اس کی شادی ہو گئی اور ٢٦؍نومبر ١٩٥٦ء کو دعوت ولیمہ ہوئی۔ جس میں آپ نے اور آپ کے اہل وعیال نے شمولیت اختیار کی۔ مکرم جناب امیر صاحب کی اطلاع کے لئے بواپسی مطلع کریں کہ آپ نے ایسی شادی میں کیوں شرکت اختیار کی۔“ (نقل مطابق اصل)

والسلام خاکسار

دستخط: عبدالحق، نائب امیر جماعت احمدیہ لاہور

اس خط میں شادی میں شرکت کرنے پر اظہار برہمی کیا گیا ہے۔ لیکن شاطر سیاست کہتے ہیں: ”یہ افتراء ہے کہ کسی کو قطع تعلق کی سزا دی گئی ہے۔“

یعنی شاطر سیاست کے نزدیک اس قسم کے انقطاع تعلق کا نام سوشل بائیکاٹ نہیں بلکہ ان کے نزدیک سوشل بائیکاٹ کسی جانور کا نام ہے اور اس طرح کے تعلقات کے انقطاع کا نام اظہار بیزاری ہے۔ سو اس اعتبار سے اگر کوئی شخص ان پر یہ الزام عائد کرتا ہے تو وہ واقعی افتراء گھڑتا ہے۔ لیکن میرا خیال ہے کہ اگر شاطر سیاست پر یہ الزام عائد کیا جائے کہ وہ اظہار بیزاری کراتے ہیں اور اس سے مراد چاہے سوشل بائیکاٹ ہی ہو تو مجھے یقین ہے کہ وہ اس کی تردید نہیں کریں گے۔ پس جیسا کہ میں اس سے پہلے بتا چکا ہوں کہ شاطر سیاست نے بعض الفاظ کے نام بدل دیئے ہوئے ہیں۔ مثلاً آمریت کا نام جمہوریت، بادشاہت کا نام خلافت، سیاست کا نام مذہب۔ اسی طرح انہوں نے سوشل بائیکاٹ کا نام بھی اظہار بیزاری رکھ دیا ہے۔ اب جو شخص بھی ان پر سوشل بائیکاٹ کا الزام عائد کرتا ہے تو وہ فوراً حلفیہ کہہ دیتے ہیں کہ ہم نے سوشل بائیکاٹ نہیں کیا۔ کیونکہ وہ تو سوشل بائیکاٹ کو جانور سمجھتے ہیں اور اظہار بیزاری سے مراد وہی مفہوم لیتے ہیں جو ہم سوشل بائیکاٹ کا کرتے ہیں۔ سو معلوم ہوا کہ سوشل بائیکاٹ کی تردید شاطر سیاست مفہوم کے اعتبار سے نہیں کرتے ہیں۔ واللہ ! کیا منطق ہے۔

اس سادگی پہ کون نہ مر جائے اے خدا

اس سلسلہ میں ایک عدالت کے فاضل مجسٹریٹ کی چند سطور صفحہ قرطاس کی نذر کی جاتی

صفحہ ٥٧٧

ہیں جو انہوں نے مقدمہ بخاری کے سلسلہ میں اپنے فیصلہ میں لکھی ہیں۔ ”اپنے دلائل کو منوانے اور فرقے کو ترقی دینے کے لئے انہوں (مرزائیوں) نے ان ہتھیاروں کا استعمال شروع کیا جن کو عام طور پر ناپسندیدہ کہا جائے گا۔ ان اشخاص کے دلوں میں جنہوں نے ان کی جماعت میں شامل ہونے سے انکار کیا۔ نہ صرف بائیکاٹ، اخراج اور بعض اوقات اس سے بھی بدتر مصائب کی دھمکیوں سے دہشت انگیزی پیدا کی۔“

(فیصلہ جی ڈی کھوسلہ مجسٹریٹ)

ان سطور میں فاضل مجسٹریٹ نے صاف الفاظ میں لکھا ہے کہ شاطر سیاست نے بائیکاٹ و دیگر ایسے ہتھیاروں کا استعمال شروع کیا جن کو رہتی دنیا تک ناپسندیدگی سے دیکھا جائے گا۔ شاطر سیاست کا ہر ایک مرید اور بیرونی دنیا کا بچہ بچہ اس حقیقت سے آشنا ہے کہ وہ سوشل بائیکاٹ کے سراسر بیہودہ اور خلاف شریعت ہتھیار سے اپنی خلافت کی بنیادیں مضبوط بنانے کی سعی وجہد کرتے ہیں۔ لیکن کمال ہے اس جرأت اور دلیری کا کہ جس کے تحت وہ یہ کہہ کر پھر صداقت کا علم لہراتے ہیں کہ ہم نے کبھی بھی سوشل بائیکاٹ نہیں کیا۔ حقائق و براہین اور واقعات کی موجودگی میں شاطر سیاست کا یہ دعویٰ بڑی جرأت اور فن دروغ گوئی میں کمال ہے اور پھر لطف یہ کہ ان کے اندھی عقیدت رکھنے والے مرید۔ ان کی حق گوئی کے ترانے الاپتے اور ان کی صداقت کے قصیدے گاتے ہیں۔ لیکن ؎

ہم نے ان کو بھی مختلف پایا دھوم ہے جن کی پارسائی کی

زبان اور اخلاق

شاطر سیاست کا دعویٰ ہے کہ انہیں مسند خلافت پر اللہ تعالیٰ نے بٹھایا ہے اور نیز یہ کہ وہ مصلح موعود ہیں اور اللہ تعالیٰ ان کی زبان سے بولتا ہے۔ ان دعاوی کی روشنی میں ضروری معلوم ہوتا ہے کہ ہم ان کی زندگی کا جائزہ لیں اور دیکھیں کہ ان کا عمل اور قول ان دعاوی پر پورے اترتے ہیں یا نہیں اگر ان کا عمل اور ان کا قول ان کے ان دعاوی پر پورے اتریں تو ہمیں ان دعاوی پر ایمان لانا پڑے گا۔ لیکن اگر ان کا عمل اور قول ان کے دعاوی سے اتنے ہی دور ہوں۔ جتنا آسمان زمین سے دور ہے تو پھر ہمیں یہ کہنا پڑے گا کہ خلافت مآب کے دعاوی کذب بیانی کے سوا کچھ بھی نہیں ہیں۔ لہٰذا ان کے اخلاق پر...... قلم کو جنبش دینے سے قبل یہ بتا دینا بھی ضروری ہے کہ میں کسی کے اخلاق کو زیر بحث لانا معاشرتی اور اخلاقی آئین کے منافی سمجھتا ہوں۔ لیکن چونکہ خلافت مآب کا دعویٰ مصلح موعود اور اللہ تعالیٰ کا محبوب ہونے اور مرزا غلام احمد کی اس پیش گوئی کا مصداق ہونے کا ہے جو انہوں نے اپنی ذریت میں مصلح موعود کے بارے میں کی تھی اور اس پیش گوئی میں

٧٥

صفحہ ٥٧٨

چونکہ مصلح موعود ہونے کے لئے پاک ہونے کی شرط رکھی گئی ہے۔ اس لئے خلافت مآب کے اخلاق کو زیر بحث نہ لانے کی کوشش اور تمنا کے باوجود میں مجبور ہوں کہ ان کی زندگی کو ان تمام دعاوی کے تحت پرکھوں جن کی کسوٹی کے طور پر پاک ہونے کی شرط رکھی گئی ہے۔ اس لئے میں ان کی زندگی کو قول اور عمل کی کسوٹی پر پرکھنے سے قبل قارئین سے عموماً اور ان کے مریدوں سے خصوصاً معذرت خواہ ہوں۔

ان کا ایک دعویٰ یہ ہے کہ خدا ان کی زبان سے بولتا اور ان سے محبت کرتا ہے۔ آئیے دیکھیں کہ خدا ان کی زبان سے کیا بولتا ہے۔

الفضل مورخہ ٢٧؍اگست میں رقمطراز ہے: ”خلیفہ اوّل کی اولاد اوّل درجہ کی کذاب ہو چکی ہے۔“

پھر الفضل مورخہ ٣١؍اگست میں لکھتے ہیں: ”جو بھی مسلمان تمہیں ورغلانے کے لئے آتا ہے وہ شیطان ہے۔ پس جب بھی کوئی ایسا شخص تمہارے پاس آئے تم فوراً لاحول پڑھنے لگ جاؤ اور کہو کہ ہمیں مدت سے شیطان دیکھنے کا شوق تھا آج تمہیں دیکھنے کی حسرت پوری ہوئی۔“

الفضل مورخہ ١١؍ستمبر ١٩٥٦ء میں فرماتے ہیں: ”اس وقت جن لوگوں نے اس فتنہ میں حصہ لیا ہے وہ نہایت ذلیل اور گھٹیا قسم کے ہیں۔“

الفضل مورخہ ١١؍ستمبر ١٩٥٦ء میں پھر رقمطراز ہیں: ”میں چوہدری غلام رسول صاحب میجر بھٹہ کا نام کذاب رکھتا ہوں۔ اس لئے ساری جماعت ان کو کذاب سمجھے۔“

علاوہ ازیں مختلف مقامات پر بکواسی، لومڑی، مسیلمہ کذاب، حرامزادہ اور کمینہ صفت کتے کے الفاظ بھی استعمال کئے ہیں۔ خلافت مآب کے علاوہ الفضل جو ان کا سرکاری گزٹ ہے اور جسے ان ہی کی زبان سمجھنا بے جا نہیں اور ان کی خوشامدی جنہیں وہ اپنے خالد بن ولید گردانتے ہیں (نعوذ باللہ) کی زبانیں بھی ملاحظہ فرمائیے۔

الفضل مورخہ ١١؍ستمبر میں ایک صاحب رقمطراز ہیں: ”ان تمام آدمیوں پر جو اس فتنہ میں شریک ہیں لعنت بھیجتا ہوں۔“

”لیکن اخبار مذکور (سفینہ) کی خباثت ملاحظہ ہو کہ میرا نام بھی اس نے ان لعنتیوں میں شامل کر دیا ہے۔“

الفضل مورخہ ٣؍جولائی ١٩٤٧ء میں لکھا ہے: ”ہم فتنہ پرداز منافقین کی کمینہ اور مکروہ حرکات کے خلاف نفرت و حقارت کا اظہار کرتے ہیں۔“

٧٦

صفحہ ٥٧٩

مولانا ظفر علی خاں صاحب کے متعلق لکھا ہے: ”جہاں بھر کا فریبی، مکار، بدبخت، سیاہ کار، بے بصیرت، ناعاقبت اندیش، حیوان بشکل انسان، دیوانہ، بدخواہ انسان، بدقسمت، بدطینت، گرگٹ، ابن الوقت۔“

مولوی محمد علی صاحب سے متعلق ارشاد ہوتا ہے: ”دھوکا باز، بدگو، معاند، منافق، بے حیا، پطرس ثانی، امیر المنکرین، رئیس المنکرین۔“

بزرگان امت کے لئے: ”بدخصال، لغو گو، یہودی، حمار، بازاری لوگ، ظالم، جاہل۔“

قاضی احسان اللہ سابق ایڈیٹر روزنامہ زمیندار سے متعلق لکھتے ہیں: ”دروغ گو، اندھا، غلط گو، ریا کار، ملعون، حریص، بے اصولا، خودغرض، مکار۔“

علاوہ ازیں اپنے ایک نام نہاد خالد بن ولید مولوی ابوالعطاء جالندھری کو ”طاعون کا چوہا“ کہہ کر پکارتے ہیں۔

اور پھر الفضل مورخہ ٢٢ اگست میں خلافت مآب رقمطراز ہیں: ”مولوی عبدالوہاب عمر کو بیہودہ بکواس کی عادت ہے۔“

الغرض خلافت مآب اور ان کے وظیفہ خوار جب کبھی بھی بات کرتے ہیں تو ان کے منہ سے لفظ بکواس ہی نکلتا ہے اور یوں محسوس ہوتا ہے کہ شاید ان کا منہ نہیں غلاظت کا سٹور ہے کہ جب بھی منہ کھلا غلاظت کے ڈھیر باہر آ پڑے۔ لیکن خلافت مآب فرماتے ہیں کہ ان کی زبان سے خدا بولتا ہے۔ اب کون بتائے کہ مندرجہ بالا الفاظ خدا کے الفاظ ہیں یا خلافت مآب کے اپنے ہیں۔ اگر کوئی کہے کہ یہ خدا کے نہیں بلکہ خلافت مآب کی اپنی ایجاد ہیں تو پھر بھی یہ ماننا پڑے گا کہ جس شخص کی زبان سے اس قسم کے الفاظ نکلتے ہوں وہ خدا کی طرف سے نہیں اور اس کا خدا سے دور کا بھی واسطہ نہیں ہے۔

خلافت مآب کی زبان پر ایک کتاب لکھی جاسکتی ہے۔ لیکن اس موضوع پر مختصر سی بحث کے بعد میں ان کے اخلاق کا نمونہ لکھ دیتا ہوں تاکہ ان کے جملہ دعاوی کو سمجھنے میں آسانی ہو۔ خلافت مآب نے ١٩١٤ء میں زمام خلافت سنبھالی اور اُس سے قبل جب ابھی ان کے والد (مرزا غلام احمد قادیانی) زندہ ہی تھے تو ان (شاطر سیاست) پر زنا کا الزام عائد ہوا۔ جس پر ایک تحقیقاتی کمیشن مولوی محمد علی کی زیر نگرانی قائم کیا گیا۔ مخلص مریدوں کو باپ (مرزا غلام احمد) کے ساتھ جو والہانہ عقیدت تھی اس کے تحت اور شاطر سیاست کی والدہ کی مریضانہ الفتوں پر انہوں نے بیٹے (میاں محمود احمد) کو اس الزام سے بری الذمہ قرار دیا۔ لیکن باپ (مرزا غلام احمد قادیانی) کی

٧٧

صفحہ ٥٨٠

وفات کے بعد جب مولوی نورالدین (خلیفہ اول) فوت ہوئے اور شاطر سیاست نے زمام خلافت سنبھالی تو مولوی محمد علی جنہوں نے شاطر سیاست کو اپنے پیر (مرزاغلام احمد قادیانی) سے بے پناہ عقیدت کے تحت زناء کے الزام سے بری قرار دیا تھا۔ شاطر سیاست کی خلافت سے انکار کر دیا اور اس کی وجہ شاطر سیاست کی اخلاقی پستی ہی بیان کی۔ مولوی محمد علی کی علیحدگی کے پندرہ سال بعد مستری عبدالکریم جو شاطر سیاست کے عقیدت مند تھے۔ شاطر سیاست سے علیحدہ ہوئے اور اپنی علیحدگی کی وجہ ان کی ذاتی اخلاقی بے راہ روی بیان کی۔ مباہلہ والوں کی علیحدگی کو ابھی آٹھ سال ہی کا عرصہ گزرا تھا کہ ان پر چند مزید اشخاص نے زناء کا الزام لگایا اور وہ جماعت سے علیحدہ ہو گئے۔ ١٩٣٧ء میں علیحدہ ہونے والوں اور شاطر سیاست پر زنا کا الزام عائد کرنے والوں میں ان کے وہ مخلص اور فرشتہ سیرت مرید تھے۔ جنہیں جماعت میں خاص اہمیت حاصل تھی اور جو شاطر سیاست کے چوٹی کے مریدوں میں سے تھے۔ شیخ عبدالرحمن مصری اور فخر الدین ملتانی کے اسمائے گرامی سے کون واقف نہیں۔ انہوں نے شاطر سیاست سے اپنی مخلصانہ وابستگی کے باوجود ان سے علیحدگی اختیار کرتے وقت ان کی دھاندلیوں اور زنا جیسے قبیح فعل کے ارتکاب کے الزامات عائد کئے۔ فخر الدین ملتانی نے ایک پمفلٹ شائع کیا اور اس کا عنوان فحش مرکز رکھا۔ اس میں انہوں نے شاطر سیاست کی نجی اور خلوت کدوں کی زندگی کا ننگا نقشہ پیش کیا اور بتایا کہ ربوہ کا یہ رنگیلا، خلافت کا لبادہ اوڑھ کر عیش عشرت کو کیسے جنم دیتا ہے۔ انکا پمفلٹ شائع ہوا ہی تھا کہ خلافت مآب نے اپنے چند غنڈوں کو ان کے قتل پر مامور کر دیا۔ چنانچہ چند ہی دنوں میں ان کے وظیفہ خوار (تنخواہ دار غنڈے) مریدوں نے فخر الدین ملتانی کا کام تمام کر دیا۔ فخر الدین ملتانی کے قتل کے بعد الفضل نے متعدد مضامین شائع کئے اور ان کو مجرم اور خطاکار قرار دیا۔ اس کے معاً بعد جب مقتول کے قاتل کو عدالت نے سزائے موت دی اور اسے تختہ دار پر لٹکایا گیا تو اس کی لاش کو قادیان میں بڑی دھوم دھام سے سپرد خاک کیا گیا۔ ١٩٣٧ء کے ان مجاہدوں کے الزامات کے نقوش ابھی خشک بھی نہ ہوئے تھے کہ ١٩٥٦ء میں چند اور نوجوانوں نے ان پر تنقید کے بے شمار نشتر چلائے اور زنا کے الزام کے علاوہ خیانت اور بددیانتی کے الزامات بھی عائد کئے۔ ایک پمفلٹ بعنوان ”مرزا محمود احمد ہوش میں آؤ“ شائع کیا گیا اور اس میں جن بارہ امور پر ان کو دعوت مباہلہ دی گئی۔ ان میں سے ایک الزام زنا کا بھی تھا۔ لیکن شاطر سیاست نے حسب معمول ان الزامات کا بھی کوئی جواب نہ دیا۔ حالانکہ مرزاغلام احمد قادیانی کے فتویٰ کے مطابق جس شخص پر زنا کا الزام عائد ہو اسے الزام عائد کرنے والے کو دعوت مباہلہ دینی چاہئے۔ تاکہ کوئی شخص اس الزام کی بناء پر

٧٨

ٹھوکر نہ کھا جائے۔ سو مرزاغلام احمد قادیانی عائد کرنے والوں کو دعوت مباہلہ دیتے۔ دی گئی اور انہوں نے چپ سادھ لی اور کوئی ١٩٥٦ء کے وہ مجاہد جنہوں نے ان خاندانوں سے تعلق رکھتے ہیں جو شاطر اور قربانیوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے رہے بدظن کیا تو انہوں نے اپنے خیالات کی ع جواب نہ دے سکے۔ صرف چند وظیفہ خوارو کے الزامات تو خلفائے راشدین اور آنحضور کتنا ظلم ہے اور وظیفہ خواروں ک کہ اپنے ظاہری ربوبیت کرنے والے (مر محمد مصطفیٰ ﷺ پر بھی بہتان تراشنے سے ن سراسر کذب بیانی ہے۔ کیونکہ سرور کائنات الزام عائد نہیں ہوا تھا۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے سرور کائنات ﷺ نے اس کو اپنی سچائی کے قبلہ افلا تعقلون (یونس:١٦) ” میری اس زندگی پر اعتراض کر سکتے ہو۔ اعتراض کرنے کی جرات نہ ہوئی۔ باقی ر گئے۔ لیکن ان کے اپنے مریدوں میں سے لیکن شاطر سیاست پر بیگانے تو ایسے الز اعتراضات والزامات کی وجہ کیا ہے؟ جس کی آغوش میں ہر شب بے حیا اور واقعہ یہ ہے کہ شاطر سیا بالرضا کو جائز قرار دیتے ہیں۔ ان کا ع یہ کہہ رہی ہے کہ

صفحہ ٥٨١

ٹھوکر نہ کھا جائے۔ سو مرزا غلام احمد قادیانی کے فتویٰ کے مطابق ان کے لئے ضروری تھا کہ وہ الزام عائد کرنے والوں کو دعوت مباہلہ دیتے۔ لیکن دعوت مباہلہ الزام عائد کرنے والوں کی طرف سے دی گئی اور انہوں نے چپ سادھ لی اور کوئی جواب نہ دیا۔

١٩٥٦ء کے وہ مجاہد جنہوں نے ان سے علیحدگی ان کی پست اخلاقی کی وجہ سے اختیار کی ان خاندانوں سے تعلق رکھتے ہیں جو شاطر سیاست کی جماعت میں بہت مشہور ہیں اور جو اخلاص اور قربانیوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے رہے۔ لیکن جب مشاہدات نے انہیں شاطر سیاست سے بدظن کیا تو انہوں نے اپنے خیالات کی علانیہ نشرواشاعت کی۔ لیکن شاطر سیاست اس کا کوئی جواب نہ دے سکے۔ صرف چند وظیفہ خواروں نے ان الزامات کے جواب میں لکھا ہے کہ اس قسم کے الزامات تو خلفائے راشدین اور آنحضرت ﷺ پر بھی عائد ہوتے رہے ہیں۔ (نعوذ باللہ)

کتنا ظلم ہے اور وظیفہ خواروں کی یہ کتنی بڑی جسارت ہے کہ وہ اپنے حقیقی رب کو بھول کر اپنے ظاہری ربوبیت کرنے والے (مرزا محمود احمد) کو خوش کرنے کے لئے محبوب خدا حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ پر بھی بہتان تراشنے سے نہیں گھبراتے۔ حالانکہ جو استدلال وہ پیش کرتے ہیں وہ سراسر کذب بیانی ہے۔ کیونکہ سرور کائنات ﷺ پر دعویٰ نبوت سے قبل اور بعد میں کسی قسم کا بھی کوئی الزام عائد نہیں ہوا تھا۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے ان کی معصومیت اور پاکیزہ زندگی کی گواہی دی ہے اور سرور کائنات ﷺ نے اس کو اپنی سچائی کے لئے دلیل ٹھہرایا ہے۔ ”فقد لبثت فیکم عمراً من قبلہ افلا تعقلون (یونس:١٦)“ ”یعنی میں نے تمہارے ساتھ ایک لمبی عمر گزاری ہے۔ کیا تم میری اس زندگی پر اعتراض کر سکتے ہو۔ لیکن آپ ﷺ کے سب سے بڑے دشمن ابو جہل کو بھی اعتراض کرنے کی جرات نہ ہوئی۔ باقی رہے خلفائے راشدین تو ان پر اغیار نے تو اعتراضات کئے۔ لیکن ان کے اپنے مریدوں میں سے کسی نے بھی ان پر زنا جیسے شنیع فعل کا الزام نہیں لگایا۔ لیکن شاطر سیاست پر بیگانے تو ایسے الزامات عائد کرتے ہیں کہ ان کے اپنے مریدوں کے اعتراضات والزامات کی وجہ کیا ہے؟

جس کی آغوش میں ہر شب ہے نئی ماہ لقا اس کے سینے میں خدا ہے ہمیں معلوم نہ تھا

لیکن واقعہ یہ ہے کہ شاطر سیاست اور ان کے چند خوشامدی زنا بالجبر کو ناجائز اور زنا بالرضا کو جائز تصور کرتے ہیں اور ان کا عقیدہ یہ ہے کہ وہ گناہ جس کا کسی کو بھی علم نہ ہو گناہ نہیں ہے۔

یہ کہہ رہی ہے ہمیں واعظوں کی بے عملی گناہ نہیں ہے جو چھپ کر کہیں کیا جائے

چنانچہ اپنی بداعمالیوں کو چھپانے ، اپنی سیاہ کاریوں پر پردہ ڈالنے اور اپنے اندھی

٧٩

صفحہ ٥٨٢

عقیدت رکھنے والے مریدوں کو بے وقوف بنانے کے لئے سرور کائنات ﷺ پر بھی حملہ کرنے سے نہیں چوکتے اور بڑی جرأت اور ہوشیاری سے کہہ دیتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ بھی معصوم نہیں تھے۔ ”لا حول ولا قوة الا بالله“

مجرمانہ ذہنیت، نفسیاتی جائزہ

جیسا کہ میں اوپر بیان کر چکا ہوں۔ خلافت مآب کے نزدیک زنا بالجبر ناجائز اور زنا بالرضا جائز ہے۔ اسی طرح ان کے نزدیک ایسی قبیح حرکات کا ارتکاب کرنے والا قابل سرزنش نہیں۔ بلکہ اس قسم کی حرکت کو دیکھ کر اس کے خلاف آہ و بکا کرنے والا شخص قابل سزا ہے۔ یہاں یہ بات بھی خالی از دلچسپی نہ ہوگی کہ خلافت مآب اور شاطر بے مثل بڑے دور اندیش واقع ہوئے ہیں۔

اپنی حماقتوں کے نتیجہ میں ہونے والے اعتراضات کی پیش بندی کافی عرصہ پہلے کر لیتے ہیں۔ مثلاً جو شخص مجرمانہ ذہنیت رکھتا ہے یعنی جو بدعمل ہے اور اس اعتبار سے اس کے ذہن میں ہر لمحہ جرم کے ارتکاب کا تصور کارفرما رہتا ہے۔ ایسا شخص چونکہ اپنے اعمال سے واقف ہوتا ہے اور اسے معلوم ہوتا ہے کہ اس میں فلاں غلطی ہے اور بعض لوگوں پر اس غلطی کا آشکار ہونا ضروری ہے۔ اس لئے وہ لوگوں کو پیش بندی کے طور پر تیار کرنا شروع کر دیتا ہے۔ یہی حال شاطر سیاست کا ہے۔ چونکہ انہیں اپنی سیاہ کاریوں کا علم ہے اور وہ یہ بھی جانتے ہیں کہ معاشرے میں کسی نہ کسی پر حقیقت حال کا ظاہر ہونا ضروری ہے۔ اس لئے وہ اپنے بھولے بھالے مریدوں کو ان حالات کے متعلق تیار کرتے رہتے ہیں۔ مثلاً ایک جگہ اپنے مریدوں سے مخاطب ہوتے ہیں: ”پس یاد رکھو کہ آنے والا فتنہ بہت خطرناک ہے۔ اس سے بچنے کے لئے بہت بہت تیاری کرو۔ پہلوں (خلفائے راشدین) سے یہ غلطیاں ہوئیں کہ انہوں نے ایسے لوگوں کے متعلق حسن ظن سے کام لیا جو بدظنیاں پھیلانے والے تھے۔ حالانکہ اسلام اس کی حمایت کرتا ہے جس کی نسبت بدظنی پھیلائی جائے اور اس کو جھوٹا قرار دیتا ہے جو بدظنی پھیلاتا ہے اور جب تک کہ باقاعدہ تحقیقات پر کسی شخص پر کوئی الزام ثابت نہ ہو اس کا پھیلانے والا اور لوگوں کو ستانے والا اسلام کے نزدیک نہایت خبیث اور شقی ہے۔ پس تم تیار ہو جاؤ کہ تم اس قسم کی غلطی کا شکار نہ ہو جاؤ۔“

(انوار خلافت ص ١٠٩)

اس اقتباس کا نفسیاتی جائزہ لینے سے معلوم ہوتا ہے کہ:

٨٠

کے خلاف واویلا کرنے والا خطاوار ہے

والوں پر دوسرے لوگ یقین کر لیتے تھے

کرنا چاہئے۔

ان کے اس اقتباس کا اس فقرہ کو پڑھنے سے ذہن میں فوراً اس سوال کا جواب انہوں نے اسی کہ انہوں نے ایسے لوگوں کے متعلق ح اسلام اس کی حمایت کرتا ہے۔ جس کی بدظنی پھیلاتا ہے۔“

ان سطور میں لفظ فتنہ کو بدظل والا ہے۔ وہ فتنہ کیا ہوگا۔ یہی کہ بعض گے۔ گویا انہوں نے یہ بھی نشان دہی بعض لوگ بدظنیاں پھیلائیں گے۔ ل اس کے لئے شاطر سیاست نے بتاو پھیلائی جائے اور اس کو جھوٹا قرار دیتا شخص پر کوئی الزام ثابت نہ ہو اس کو پہ خبیث اور شقی ہے۔

اس اقتباس میں انہوں گردانا ہے۔ آئیے! اب دیکھیں کہ اسلام نے زنا کے سلسلہ میں یہ قاع انہوں نے زنا کرتے دیکھا ہے۔ اس شخص کسی پر زنا کا تو وہ مجرم ہے

صفحہ ٥٨٣

کے خلاف واویلا کرنے والا خطاوار ہے۔

والوں پر دوسرے لوگ یقین کر لیتے تھے۔

کرنا چاہئے۔

ان کے اس اقتباس کا پہلا فقرہ ہے۔ ”یاد رکھو کہ آنے والا فتنہ بہت خطرناک ہے۔“ اس فقرہ کو پڑھنے سے ذہن میں فوراً یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس آنے والے فتنہ کی نوعیت کیا ہو گی؟ اس سوال کا جواب انہوں نے اسی اقتباس میں دیا ہے۔ لکھتے ہیں: ”پہلوں سے یہ غلطیاں ہوئیں کہ انہوں نے ایسے لوگوں کے متعلق حسن ظن سے کام لیا جو بدظنیاں پھیلانے والے تھے۔ حالانکہ اسلام اس کی حمایت کرتا ہے۔ جس کی نسبت بدظنی پھیلائی جائے اور اس کو جھوٹا قرار دیتا ہے جو بدظنی پھیلاتا ہے۔“

ان سطور میں لفظ فتنہ کو بدظنی پھیلانے والوں سے تعبیر کیا گیا ہے۔ یعنی ایک فتنہ آنے والا ہے۔ وہ فتنہ کیا ہوگا۔ یہی کہ بعض لوگ میرے (شاطر سیاست) خلاف بدظنیاں پھیلائیں گے۔ گویا انہوں نے یہ بھی نشان دہی کر دی کہ فتنہ اٹھے گا اور وہ یہ ہو گا کہ شاطر سیاست سے متعلق بعض لوگ بدظنیاں پھیلائیں گے۔ اب یہاں یہ دیکھنا پڑے گا کہ بدظنیوں سے کیا مراد ہے۔ سو اس کے لئے شاطر سیاست نے بتا دیا کہ اسلام اس کی حمایت کرتا ہے۔ جس کی نسبت بدظنی پھیلائی جائے اور اس کو جھوٹا قرار دیتا ہے جو بدظنی پھیلاتا ہے اور جب تک باقاعدہ تحقیقات پر کسی شخص پر کوئی الزام ثابت نہ ہو اس کو پھیلانے والا اور لوگوں کو ستانے والا اسلام کے نزدیک نہایت خبیث اور شقی ہے۔

اس اقتباس میں انہوں نے بدظنی پھیلانے والے کو اسلامی نظریات کے مطابق مجرم گردانا ہے۔ آیئے! اب دیکھیں کہ اسلام کے نزدیک کس قسم کی بدظنی پھیلانے والا مجرم ہے۔ اسلام نے زنا کے سلسلہ میں یہ قاعدہ کلیہ بنایا ہے کہ جب تک چار گواہ یہ نہ کہیں کہ فلاں شخص کو انہوں نے زنا کرتے دیکھا ہے۔ اس وقت تک کسی ایک شخص کی گواہی قابل قبول نہیں اور اگر کوئی شخص کسی پر زنا کا الزام عائد کرتا ہے اور اس کی تشہیر کرتا ہے اور اس کے لئے چار گواہ پیش نہیں کر سکتا تو وہ مجرم ہے۔ اب اس وضاحت کے بعد ہمیں معلوم ہو گیا کہ ان کے نزدیک بدظنی کا مفہوم زنا کا

٨١

صفحہ ٥٨٤

الزام ہے۔ اب اس تشریح کی روشنی میں مندرجہ بالا اقتباس پڑھا جائے تو یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ انہیں قبل از وقت علم تھا کہ ان پر اس قسم کے الزامات عائد ہوں گے؟ ظاہر ہے کہ اس قسم کا علم مجرمانہ ذہنیت کا واضح اظہار ہے۔ چونکہ انہیں اپنی بداعمالیوں کا علم تھا۔ اس لئے انہوں نے اپنے مریدوں کو بے وقوف بنانے کی غرض سے پیش بندی کر دی اور گول مول الفاظ میں جہاں اپنے جرم کا اقرار کر لیا۔ وہاں زنا جیسے فعل کو جائز کہہ دیا اور پھر یہاں تک کہہ دیا کہ یہ فعل صرف میں ہی نہیں کرتا بلکہ پہلے (یعنی خلفائے راشدین وغیرہ) بھی کرتے رہے ہیں۔ (نعوذ باللہ)

آئینہ دیکھیں تو رخ اپنا نظر آتا ہے

حلفیہ شہادت

شاطر سیاست کے اخلاق کا تذکرہ چل نکلا ہے تو لگے ہاتھوں چند مزید حقائق بھی ملاحظہ فرمائیے۔ ہمیں ایک نوجوان محمد یوسف کی ایک تحریر موصول ہوئی ہے۔ مسٹر یوسف کا خاندان شاطر سیاست کے خاص الخاص مریدوں سے ایک ہے اور وہ ان دنوں کراچی میں مقیم ہیں۔ میں ان کی وہ تحریر من وعن شائع کر رہا ہوں۔

بسم الله الرحمن الرحیم ، نحمده ونصلی علی رسولہ الکریم! ”اشهد ان لا اله الا الله وحده لا شريك له واشهد ان محمدا عبده ورسوله“ میں اقرار کرتا ہوں کہ حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ خدا کے نبی اور خاتم النبیین ہیں اور اسلام سچا مذہب ہے۔ میں احمدیت کو بھی برحق سمجھتا ہوں اور مرزا غلام احمد قادیانی کے دعویٰ پر ایمان رکھتا ہوں اور مسیح موعود مانتا ہوں اور اس اقرار کے بعد میں مؤکد بعذاب حلف اٹھاتا ہوں۔

”میں اپنے علم اور مشاہدہ اور رؤیت عینی اور آنکھوں دیکھی بات کی بناء پر خدا کو حاضر ناظر جان کر اس کی پاک ذات کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ مرزا بشیر الدین محمود احمد خلیفہ ربوہ نے خود اپنے سامنے اپنی بیوی کے ساتھ غیر مرد سے زنا کروایا۔ اگر میں اس حلف میں جھوٹا ہوں تو خدا کی لعنت اور عذاب مجھ پر نازل ہو۔ میں اس بات پر مرزا بشیر الدین محمود احمد کے ساتھ بالمقابل حلف اٹھانے کے لئے بھی تیار ہوں۔“

دستخط : محمد یوسف معرفت عبد القادر تیرتھ سنگھ جے بھوانی روڈ عقب شالیمار ہوٹل کراچی

خشوع وخضوع

معترضین نے جب کبھی بھی شاطر سیاست پر زنا کا الزام لگایا تو ان کے بعض بھولے بھالے مریدوں نے کہا کہ جو شخص جب بھی بات کرتا ہے آنحضرت ﷺ کا نام لیتا اور اسلام کے

٨٢

لئے اتنی تڑپ کا اظہار کرتا ہے اس کے ح ہوگا۔ اس کے متعلق مرزا غلام احمد کا فرمان جو بغیر ترک لغویات ہو کچھ فخر کرنے کی ج ہے۔“

یعنی شاطر سیاست اسٹیج پر کائنات ﷺ کا نام لے کر اور اسلام کی حقا ظاہر یہ کرتے ہیں گویا انہیں قرب الٰہی حا فہمی میں مبتلا ہو جاتے ہیں کہ خلافت مآ کی زندگی لغویات سے پاک او دل میں لغویات بھری ہوئی ہیں او نہ ہو تو کم از کم مرزا غلام احمد کا فرمان ترک لغویات ہو کچھ فخر کرنے کی جگہ نہیں ہے کہ ان کی زندگی لغویات کا مجموعہ ہے اور گریہ زاری محض دکھاوا ہے اور تعلق باللہ ک و خضوع کرنا ان کے پاک ہونے کی دلیل ن اور منافقت کی بین دلیل ہے۔

پیر اور

جہاں ماں باپ کی عزت اور اح پیر اور استاد کا احترام بھی لازم قرار دیا گیا ۔ احکام اور رسول پاک ﷺ کے اسوۂ حسنہ آسانی سے صحیح اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ حکیم شاطر سیاست نے ان سے بہت کچھ پڑھا ا علاوہ ازیں انہوں نے اپنے عہد خلافت میں اس اعتبار سے وہ شاطر سیاست کے محسن بھی اور محسن کے احسانات کا بدلہ کیا دیا۔

حکیم نور الدین خلیفہ اول احمد

صفحہ ٥٨٥

لئے اتنی تڑپ کا اظہار کرتا ہے اس کے متعلق یہ تصور بھی غلط ہے کہ وہ زنا جیسے قبیح فعل کا ارتکاب کرتا ہوگا۔ اس کے متعلق مرزا غلام احمد کا فرمان تو حجت ہے۔ فرماتے ہیں: ”خشوع اور گریہ وزاری کہ جو بغیر ترک لغویات ہو کچھ فخر کرنے کی جگہ نہیں اور نہ یہ قرب الہی اور تعلق باللہ کی کوئی علامت ہے۔“

(ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم ص ٣٨، خزائن ج ٢١ ص ١٩٤)

یعنی شاطر سیاست اسٹیج پر کھڑے ہوکر مریدوں کو بیوقوف بنانے کے لئے سرور کائنات ﷺ کا نام لے کر اور اسلام کی تڑپ کا اظہار کر کے رونا شروع کر دیتے ہیں اور اس سے ظاہر یہ کرتے ہیں گویا انہیں قرب الہی حاصل ہے اور ان کے بعض بھولے بھالے مرید بھی اس غلط فہمی میں مبتلا ہو جاتے ہیں کہ خلافت مآب کا رونا تعلق باللہ کی علامت ہے۔ حالانکہ وہ شخص جس کی زندگی لغویات سے پاک نہ ہو اس کا اس طرح کا اظہار منافقت پر مبنی ہوتا ہے۔ کیونکہ اس کے دل میں لغویات بھری ہوئی ہیں اور اس کی زبان پر اللہ اللہ ہوتا ہے۔ اگر میرا یہ استدلال قابل قبول نہ ہو تو کم از کم مرزا غلام احمد کا فرمان تو حجت ہونا چاہئے۔ وہ فرماتے ہیں کہ گریہ وزاری کہ جو بغیر ترک لغویات ہو کچھ فخر کرنے کی جگہ نہیں اور نہ ہی یہ قرب الہی کی کوئی علامت ہے۔ پس یہ امر مسلم ہے کہ ان کی زندگی لغویات کا مجموعہ ہے اور وہ جب تک انہیں ترک نہ کر دیں اس وقت تک ان کی گریہ زاری محض دکھاوا ہے اور تعلق باللہ کا ذریعہ نہیں ہے اور ان کا اس طرح ظاہر طور پر خشوع وخضوع کرنا ان کے پاک ہونے کی دلیل نہیں۔ بلکہ ایسا اقدام لوگوں کو دھوکا دینے کی سعی ناپاک اور منافقت کی بین دلیل ہے۔

پیر اور استاد کا احترام

جہاں ماں باپ کی عزت اور ان کا احترام، اخلاقیات کے مطابق ضروری ہے۔ وہاں پیر اور استاد کا احترام بھی لازم قرار دیا گیا ہے۔ جو شخص ان معاشرتی قوانین اور قرآن پاک کے احکام اور رسول پاک ﷺ کے اسوۂ حسنہ کے خلاف عمل کرتا ہے۔ اس کے اخلاق سے متعلق آسانی سے صحیح اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ حکیم نور الدین (خلیفہ اوّل) شاطر سیاست کے پیر تھے اور شاطر سیاست نے ان سے بہت کچھ پڑھا اور سیکھا تھا۔ اس اعتبار سے وہ ان کے استاد بھی تھے۔ علاوہ ازیں انہوں نے اپنے عہد خلافت میں شاطر سیاست پر بہت سے احسانات بھی کئے تھے۔ اس اعتبار سے وہ شاطر سیاست کے محسن بھی تھے۔ آئیے ! اب دیکھیں کہ حضور نے اپنے پیر، استاد اور محسن کے احسانات کا بدلہ کیا دیا۔

حکیم نور الدین، مرزا غلام احمد کی وفات کے بعد پہلے خلیفہ تھے۔ وہ اگر چاہتے تو شاطر

٨٣

صفحہ ٥٨٦

سیاست کی وہ مٹی پلید کرتے کہ رہتی دنیا تک شاطر سیاست کے کارنامے نمایاں و درخشاں رہتے۔ لیکن انہوں نے اپنے عہد خلافت میں شاطر سیاست اور ان کے سارے خاندان کو اپنی اولاد سے زیادہ عزیز رکھا اور شاطر سیاست کی ہر مقام پر مدد کی۔ لیکن سازش مآب نے جہاں ان کی زندگی ہی میں جانشینی کی سعی و جہد شروع کر دی۔ وہاں مسند خلافت پر بیٹھتے ہی جو کام کیا وہ یہ تھا کہ اپنے محسن پیر اور استاد کی اولاد کو جماعتی طور پر ختم کرنے کی کوشش شروع کر دی۔ تاکہ ان میں سے کوئی شاطر سیاست کی زندگی کے بعد خلیفہ نہ بن جائے۔ چنانچہ اپنے نااہل بیٹے مرزا ناصر احمد کو ہر اہم شعبے کا انچارج بنایا اور کوشش کی کہ جماعت میں اس کا اثر و رسوخ بڑھے اور خلافت آئندہ انہی کے خاندان میں رہے۔ لیکن افسوس کہ ان کو اپنی اس کوشش میں ناکامی ہوئی۔ انہوں نے اپنے بیٹے کو جس شعبہ کا بھی انچارج بنایا وہ اپنی نااہلیت کی وجہ سے ماسوا چند خوشامدیوں کے کسی کو بھی متاثر نہ کر سکا۔ چنانچہ جب اپنے ٤٢ سالہ عہد خلافت کے بعد بھی انہیں یہ محسوس ہوا کہ ان کا بیٹا نااہل ہے اور جماعت کو وہ اپنی اہلیت کا قائل نہیں کر سکا۔ انہوں نے دوسری غلطی یہ کی کہ عبدالمنان عمر کو جو حکیم نورالدین (خلیفہ اول) کے بیٹے ہیں۔ یہ الزام لگا کر کہ وہ خلافت کے امیدوار ہیں۔ جماعت سے خارج کر دیا تاکہ ان کے اپنے بیٹے مرزا ناصر احمد کے لئے راہ ہموار ہو جائے اور اپنی اس مذموم حرکت کے ساتھ ہی انہوں نے اپنے محسن اور استاد پر برسنا شروع کر دیا اور ان کی شان میں بڑے نازیبا الفاظ استعمال کئے۔ چنانچہ فرماتے ہیں: ”ہم حضرت خلیفہ اول کا بڑا ادب کرتے ہیں۔ مگر یہ لوگ بتائیں کہ وہ کون سے ملک ہیں۔ جن میں حضرت مولوی نورالدین نے اسلام کی تبلیغ کی۔ یورپ، امریکہ، افریقہ اور ایشیاء میں وہ کوئی ایک ملک ہی دکھا دیں جس میں انہوں نے اسلام پھیلایا ہو۔“

(خطبہ جمعہ الفضل مورخہ ٢٣ ستمبر ١٩٥٦ء)

اس اقتباس میں وہ اپنے اور اپنے استاد اور محسن کا موازنہ کر کے اپنی بڑائی ثابت کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ میں نے تو امریکہ، یورپ، افریقہ اور ایشیاء میں تبلیغ کی ہے۔ لیکن کوئی بتائے کہ مولوی نورالدین نے کیا کیا۔ پھر فرماتے ہیں: ”ایک نورالدین کیا ایسے ہزاروں نورالدین سلسلہ پر قربان کئے جاسکتے ہیں۔“

سبحان اللہ! اپنے پیر استاد اور محسن کی شان میں کتنا پیارا فقرہ چست کیا ہے اور اپنے بیٹے کو اپنا جانشین بنانے اور خلافت کو گدی بنانے کی خواہش میں وہ اتنے اندھے ہو جاتے ہیں کہ انہیں یہ بھی خیال نہیں رہتا کہ ان کے منہ سے جو الفاظ نکل رہے ہیں وہ ان کے کسی بیٹے کے متعلق نہیں ۔ بلکہ اپنے ایک بزرگ، پیر، محسن اور استاد سے متعلق ہیں اور اپنے پیر، محسن یا استاد کا مقام

باپ کے مقام کے برابر ہوتا ہے۔ لیکن ا بلکہ اپنے باپ سے متعلق کہے ہیں اور اس بھی توقع نہیں رکھی جاسکتی۔ جب ان کے مورخہ ١٨؍اکتوبر میں نوجوانوں کے اس ا احمدیہ اشاعت اسلام لاہور نے بھی مولوی اول تو مولوی محمد علی نے مولوی فرض بھی کر لیا جائے کہ انہوں نے گستاخی کرنے کا جواز کیسے پیدا ہو گیا؟ اگر مولوی اقدام بھی ناجائز تھا اور اگر شاطر سیاست فعل کو کسی کے ناجائز فعل کی مثال دے کر جا اپنی ذات میں ناپسندیدہ اور اخلاق سوز ہے مثال دے کر اخلاق سوز بات کو اخلاق فہم دروغ گوئی ہے کہ جب کبھی بھی کسی شخص پ شخص کی مثال دے دی کہ فلاں شخص بھی پ لیں تو ان پر اعتراض کیوں کیا جاتا ہے؟ ان کی زبان اور اخلاق پر غور کر سکتا ہے۔ جس کا اخلاق پست اور جس کی ز رکھنے والا شخص جاہل نہیں تو اور کیا ہے؟ وہ کہتا ہو (اس کے متعلق علیحدہ باب میں بح کے احسانات کا بدلہ یہ دیا ہو کہ اس کی اولاد ک کے دعاوی اور اس شخص کے باخدا ہونے کے ذاتی اغراض کے پیش نظر اور شفقت پدری راہ میں جائز و ناجائز فعل کرتے ہوئے خلیفہ ا سے زیادہ اہمیت دیتا ہے۔ دوسروں کو پکارے یہاں پر

٨٤

صفحہ ٥٨٧

باپ کے مقام کے برابر ہوتا ہے۔ پس انہوں نے یہ الفاظ مولوی نورالدین سے متعلق نہیں کہے۔ بلکہ اپنے باپ سے متعلق کہے ہیں اور اس قسم کے الفاظ کی ایک معمولی اخلاق رکھنے والے شخص سے بھی توقع نہیں رکھی جاسکتی۔ جب ان کے ان الفاظ پر چند مرزائی نوجوانوں نے تنقید کی تو الفضل مورخہ ١٨؍اکتوبر میں نوجوانوں کے اس اعتراض کا جواب یہ دیا گیا کہ: ”مولوی محمد علی امیر انجمن احمدیہ اشاعت اسلام لاہور نے بھی مولوی نورالدین کی انہی الفاظ میں توہین کی تھی۔“

اول تو مولوی محمد علی نے مولوی نورالدین کی شان میں کبھی گستاخی نہیں کی۔ لیکن اگر فرض بھی کرلیا جائے کہ انہوں نے گستاخی کی تھی تو شاطر سیاست کے لئے گستاخانہ الفاظ استعمال کرنے کا جواز کیسے پیدا ہوگیا؟ اگر مولوی محمد علی نے اپنے پیر کی شان میں گستاخی کی تھی تو ان کا اقدام بھی ناجائز تھا اور اگر شاطر سیاست نے یہی اقدام کیا ہے تو یہ بھی ناجائز ہے۔ ایک ناجائز فعل کو کسی کے ناجائز فعل کی مثال دے کر جائز ثابت نہیں کیا جاسکتا۔ سوال تو یہ ہے کہ اس قسم کا فعل اپنی ذات میں ناپسندیدہ اور اخلاق سوز ہے یا نہیں؟ مرتکب ہونے والا شخص چاہے کوئی ہو اس کی مثال دے کر اخلاق سوز بات کو اخلاق ثابت کرنا جاہلیت ہے۔ یہ عجیب منطق اور حیرت انگیز فن دروغ گوئی ہے کہ جب کبھی کسی شخص نے ان پر کوئی اعتراض کیا انہوں نے جھٹ کسی دوسرے شخص کی مثال دے دی کہ فلاں شخص بھی یہ غلطی کرتا رہا ہے۔ اس لئے شاطر سیاست اگر یہ غلطی کر لیں تو ان پر اعتراض کیوں کیا جاتا ہے؟

ان کی زبان اور اخلاق پر غور کرنے کے بعد ہر شخص ان کے دعاوی کو آسانی سے پرکھ سکتا ہے۔ جس کا اخلاق پست اور جس کی زبان اتنی گھٹیا ہو اس شخص کے دعاوی کی بلندی پر ایمان رکھنے والا شخص جاہل نہیں تو اور کیا ہے؟ وہ شخص جو اپنے حقیقی باپ (مرزا غلام احمد قادیانی) کو نادان کہتا ہو (اس کے متعلق علیحدہ باب میں بحث کی گئی ہے) وہ شخص جس نے اپنے پیر، استاد اور محسن کے احسانات کا بدلہ یہ دیا ہو کہ اس کی اولاد کو جماعت سے خارج کرکے ذلیل و خوار کیا۔ اس شخص کے دعاوی اور اس شخص کے باخدا ہونے کے اعلانات افتراء کے سوا کچھ بھی نہیں اور وہ شخص جو اپنی ذاتی اغراض کے پیش نظر اور شفقت پدری کے تحت اپنے بیٹے کو ناجائز مراعات دیتا ہے اور اس کی راہ میں جائز اعتراض کرنے والے کو منافق قرار دیتا چلا جاتا ہے۔ اس شخص کے دعاوی کو احمق کی بڑ سے زیادہ اہمیت دینا حماقت ہے۔

دوسروں کو پکارنے کا انداز

یہاں یہ بتا دینا بھی ضروری ہے کہ جب کبھی کسی شخص نے شاطر سیاست سے

٨٥

صفحہ ٥٨٨

علیحدگی اختیار کی انہوں نے اس شخص کو منافق کہہ کر اپنے مریدوں کی توجہ اصل حقائق سے ہٹادی اور معترضین و مجرمین کے رشتہ داروں سے ان کے خلاف تحریریں لے کر شائع کیں اور اس طرح اپنے مریدوں پر یہ ظاہر کرنے کی سعی فرمائی کہ مجھ پر اعتراض کرنے والے بڑے گھٹیا ہیں۔

علاوہ ازیں انہوں نے جہاں اور خلاف اخلاق باتیں کیں وہاں اپنے معترضین کو تو وہ الو کہہ کر پکارا۔ حالانکہ دوسروں کو ادب سے پکارنا ایک مذہبی جماعت کے سربراہ کے لئے اشد ضروری ہے۔ لیکن وہ مجرمین، مخالفین اور معترضین کو یوں خطاب کرتے ہیں۔ جیسے کسی چپڑاسی یا بھنگی کو اور اپنے کسی پوتے کا بھی ذکر کریں تو حضرت فلاں صاحب کہہ کر پکارتے ہیں۔ مجھے ان کے اس انداز خطابت پر اعتراض نہیں۔ لیکن اپنے قارئین کو یہ بتانا مقصود ہے کہ اخلاق کا یہ سب سے بڑا علمبردار کتنی گھٹیا باتیں کرتا ہے اور دنیا کی آنکھوں میں کس طرح دھول جھونک کر اپنی خلافت کا علم لہراتا ہے اور بھولے بھالے اندھی عقیدت رکھنے والے مرید یہ نہیں سمجھ سکتے کہ محمد رسول اللہ ﷺ کا نام لے کر چندہ کی تحریک کرنے والا یہ تقدس مآب پست اخلاق کی کس منزل پر بھول بھلیوں میں مبتلا ہے۔

اپنے منہ میاں مٹھو

یہ شاطر سیاست کی کوئی تقریر اور کوئی تحریر ایسی نہیں جس میں اپنی تعریفیں نہ کی گئی ہوں۔ میں نے یہ کر دیا۔ میں نے وہ کر دیا۔ میں نے یورپ اور ایشیا میں اتنے مشن کھولے۔ میں نے سورۃ فاتحہ کا ایسا ترجمہ کیا ہے کہ آج تک کسی کو نہیں سوجھا۔ میں مٹ گیا تو محمد رسول اللہ ﷺ مٹ جائیں گے۔ میں جب مسند خلافت پر بیٹھا تو جماعت کی حالت ناگفتہ بہ تھی۔ لیکن میں نے جماعت کو بلندیوں پر پہنچا دیا ہے۔ ساری دنیا میری قابلیت کے ترانے گاتی ہے۔ میں نے جو تفسیر کبیر لکھی ہے ابتدائے آفرینش سے آج تک کسی نے نہیں لکھی: ”میری اطاعت میں خدا کی اطاعت اور میری نافرمانی میں خدا کی نافرمانی ہے۔“

(الفضل مورخہ ٢٤ ستمبر ١٩٣٧ء)

”الغرض ان کی ”میں“ بہت مشہور ہے۔ آئیے ! اب ذرا ان کی ”میں“ کا بھی محاسبہ کر لیں۔ فرماتے ہیں: ”قرآن کریم کے ترجمہ کا کام خدا تعالیٰ کے فضل سے ختم ہوگیا۔ اس ترجمہ سے متعلق لوگوں کی رائے کا تو اس وقت پتہ لگے گا جب یہ ترجمہ چھپے گا۔ لیکن میری رائے یہ ہے کہ اس وقت تک قرآن کریم کے جتنے ترجمے ہو چکے ہیں ان میں سے کسی ترجمہ میں بھی اردو محاورے اور عربی محاورے کا اتنا خیال نہیں رکھا گیا جتنا اس میں رکھا گیا ہے۔“

(خطبہ جمعہ مورخہ ٢٤ اگست ١٩٥٦ء)

٨٦

مندرجہ بالا اقتباس میں اپنے منصہ شہود میں آتا ہے۔ اگر اسے اپنے نام کے تمام تر نوٹ ان کے وظیفہ خوار ملا تیار کر اب رہا یہ سوال کہ ان ترجموں میں تمام تر نوٹس وظیفہ خوار ملا تیار کرتے ہیں ترجمہ کیا ہوگا؟ لہذا وہ لوگ جنہیں شاطر سیا اس میں قصے کہانیوں، عورتوں کی داستانوں اب ذرا غور فرمائیے کہ قرآن مجید کی اس کی سول میرج کا ذکر کر جائے تو نہیں سمجھا۔ کیونکہ میرے نزدیک انہوں غلطی کا ارتکاب کیا ہے۔ میں کسی کی لڑکی کے سبک حرکت سمجھتا ہوں۔ ہاں صرف یہ بتا دینا ایک لیڈر کی لڑکی کا نام لے کر ایک واقعہ بیان اب قرآن مجید کی تفسیر لکھتے وقت ہے کہ شاطر سیاست نے زندگی میں جو ایک مواد پیش کیا ہے وہ کیسا ہے اور پھر اس پر طر کرتے ہیں جو انہی کا حصہ ہے۔ پھر ان کی دوسری ”میں“ یہ ہے۔ ملے۔“ (نعوذ باللہ) اب ان سے کون پوچھے کہ حضور کی نہیں؟ کجا پدی اور کجا پدی کا شوربا! اور انہیں مدیر چٹان حضرت شورش کیا آپ حضرت عمرؓ کے بول و براز کے برابر دعاوی پر نگاہ دوڑائیے اب ان کی تیسری ”میں“ یہ ہے۔ میں خدا کی نافرمانی ہے۔

صفحہ ٥٨٩

روں کی توجہ اصل حقائق سے ہٹادی یں لے کر شائع کیں اور اس طرح نے والے بڑے گھٹیا ہیں۔ تیں کیں وہاں اپنے معترضین کو تو وہ ا جماعت کے سربراہ کے لئے اشد ب کرتے ہیں۔ جیسے کسی چپڑاسی یا احب کہہ کر پکارتے ہیں۔ مجھے ان یہ بتانا مقصود ہے کہ اخلاق کا یہ سب میں کس طرح دھول جھونک کر اپنی نے والے مرید یہ نہیں سمجھ سکتے کہ محمد مآب پست اخلاق کی کس منزل پر

میں جس میں اپنی تعریفیں نہ کی گئی ور ایشیا میں اتنے مشن کھولے۔ میں ۔ میں مٹ گیا تو محمد رسول اللہ ﷺ حالت ناگفتہ بہ تھی۔ لیکن میں نے کے ترانے گاتی ہے۔ میں نے جو تفسیر لکھی: ”میری اطاعت میں خدا کی

(الفضل مورخہ ٤ ستمبر ١٩٣٧ء)

ب ذرا ان کی ”میں“ کا بھی محاسبہ کر کے فضل سے ختم ہو گیا۔ اس ترجمہ جمعہ چھپے گا۔ لیکن میری رائے یہ ہے ان میں سے کسی ترجمہ میں بھی اردو ل رکھا گیا ہے۔“

(خطبہ جمعہ مورخہ ٢٣ اگست ١٩٥٦ء)

مندرجہ بالا اقتباس میں اپنے لکھے ہوئے ترجمہ کی تعریف کی گئی ہے۔ یہ ترجمہ جس طرح منصہ شہود میں آتا ہے۔ اگر اسے اپنے نام سے منسوب کرتے ہیں تو یہ بھی زیادتی ہے۔ اس ترجمہ کے تمام تر نوٹ ان کے وظیفہ خوار ملا تیار کرتے ہیں اور وہ ان نوٹس کو آپس میں ملا دیتے ہیں۔

اب رہا یہ سوال کہ ان ترجموں میں کیا ہوتا ہے؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ جس ترجمہ کے تمام تر نوٹس وظیفہ خوار ملا تیار کرتے ہیں جن کا علم چند حوالوں کی قطع و برید تک ہی محدود ہے۔ وہ ترجمہ کیا ہوگا؟ لہٰذا وہ لوگ جنہیں شاطر سیاست کی تفسیر پڑھنے کا اتفاق ہوا ہے۔ وہ جانتے ہیں کہ اس میں قصے کہانیوں، عورتوں کی داستانوں اور مہمل قسم کی بحث و تمحیص کے سوا کچھ بھی نہیں ہے۔ اب ذرا غور فرمائیے کہ قرآن مجید کی تفسیر میں وہ پاکستان کے ایک سیاسی راہنما کی لڑکی کا نام لکھ کر اس کی سول میرج کا ذکر کر جاتے ہیں۔ میں نے اس راہنما کا نام اور اس لڑکی کا نام لکھنا مناسب نہیں سمجھا۔ کیونکہ میرے نزدیک انہوں نے کسی کی لڑکی کا ذکر کر کے بہت بڑا گناہ اور بہت بڑی غلطی کا ارتکاب کیا ہے۔ میں کسی کی لڑکی کے نجی معاملہ کا ذکر کرنا یا اس کا یہاں نام لکھنا بھی اخلاق سوز حرکت سمجھتا ہوں۔ ہاں صرف یہ بتا دیتا ہوں کہ انہوں نے اپنی تفسیر کبیر میں مغربی پاکستان کے ایک لیڈر کی لڑکی کا نام لے کر ایک واقعہ بیان کیا ہے جو بداخلاقی کا بدترین مظاہرہ ہے۔

اب قرآن مجید کی تفسیر لکھتے وقت اس قسم کے قصوں کی کیا ضرورت تھی؟ اسی سے ظاہر ہے کہ شاطر سیاست نے زندگی میں جو ایک کارنامہ سرانجام دیا ہے وہ بھی کتنا بڑا ہے اور اس میں جو مواد پیش کیا ہے وہ کیسا ہے اور پھر اس پہ طرّہ یہ کہ اس قسم کی ہرزہ سرائی کی تعریف اپنے منہ سے کرتے ہیں جو انہی کا حصہ ہے۔

پھر ان کی دوسری ”میں“ یہ ہے۔ ”اگر میں مٹ گیا تو محمد رسول اللہ ﷺ مٹ جائیں گے۔“ (نعوذ باللہ)

اب ان سے کون پوچھے کہ حضور کبھی آپ نے آئینے میں اپنی صورت بھی دیکھی ہے یا نہیں؟ کجا پدی اور کجا پدی کا شوربا!

اور انہیں مدیر چٹان حضرت شورش کاشمیری کا یہ فقرہ کون سنائے کہ محمد رسول اللہ ﷺ تو کیا آپ حضرت عمرؓ کے بول و براز کے برابر بھی نہیں ہیں۔ لیکن شاطر سیاست کو دیکھئے اور ان کے دعاوی پر نگاہ دوڑائیے تو معلوم ہوتا ہے کہ مینڈکی کو بھی زکام ہونے لگا ہے۔

اب کی تیسری ”میں“ یہ ہے۔ ”میری اطاعت میں خدا کی اطاعت اور میری نافرمانی میں خدا کی نافرمانی ہے۔“

٨٧

صفحہ ٥٩٠

چنانچہ ان کے مرید بھی جہاں کہیں لکھتے ہیں یہی کہتے ہیں کہ: ”ہم حضور کی اطاعت میں نجات تصور کرتے ہیں۔“ حالانکہ سرور کائنات ﷺ کی اطاعت میں نجات قرار دی گئی ہے۔ قرآن مجید کی ایک ایک آیت حضور پر نازل ہوئی اور اللہ تعالیٰ نے ہر جگہ اپنے محبوب حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی اطاعت کو انسانوں کی نجات کے لئے ضروری قرار دیا ہے۔ لیکن مینڈکی کو خواہ مخواہ زکام ہوا چاہتا ہے۔ الغرض انہوں نے ساری زندگی ”میں، میں“ میں گزار دی اور اپنے منہ میاں مٹھو بن کر ہزاروں انسانوں کو بے وقوف بنایا اور آج تک بنا رہے ہیں اور اس وقت تک اپنا فرض ادا کرتے چلے جائیں گے۔ جب تک کہ موت کا فرشتہ ان کی روح قبض نہ کرلے۔ فرعون کی سوانح حیات کا مطالعہ کرنے سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ اتنی ”میں، میں“ اس نے بھی نہ کی تھی بلکہ انہوں نے تو فرعون کو بھی مات کر دیا ہے۔

مسئلہ تکفیر

١٩١٤ء میں مسند خلافت پر متمکن ہونے والے اس سیاستدان نے شطرنج کا نقشہ سامنے رکھا اور اپنی خلافت کی بنیادیں استوار کرنی شروع کر دیں۔ چنانچہ انہوں نے محسوس کیا کہ اگر ان کے مرید دوسرے مسلمانوں سے متعلق رہے اور اگر ان کے درمیان دیوار حائل نہ کی گئی تو اس کا لازمی نتیجہ یہ نکلے گا کہ ان کے مریدوں کے دلوں میں خلافت مآب کی قدرومنزلت قائم نہ ہوگی۔ چنانچہ انہوں نے اپنے مریدوں کو دوسرے مسلمانوں سے بالکل جدا رکھنے کی سعی و جہد شروع کی اور اس کے لئے جہاں متعدد دوسرے اقدامات کئے وہاں ایک قدم یہ بھی اٹھایا کہ مسلمانوں کو کافر قرار دیا۔ چنانچہ فرماتے ہیں: ”ہم منکرین مسیح موعود کو اس لئے کافر سمجھتے ہیں کہ حضور نبی تھے اور نبی کا منکر کافر ہوتا ہے۔ ظاہر ہے کہ یہ وہ واحد دلیل ہے جسے احمدیہ عقائد میں روزِ ازل سے پیش کیا گیا ہے۔“

(الفضل مورخہ ٢٢ فروری ١٩٢٧ء)

ان سطور میں صاف الفاظ میں منکرین مرزا قادیانی کو کافر کہا گیا ہے اور اس عقیدہ کو روز ازل سے اپنی جماعت کا عقیدہ کہا ہے۔ پھر لکھتے ہیں: ”جو شخص غیر احمدی کو رشتہ دیتا ہے وہ یقیناً حضرت مسیح موعود کو نہیں سمجھتا اور نہ یہ جانتا ہے کہ احمدیت کیا چیز ہے۔ کیا کوئی غیر احمدیوں میں ایسا بے دین ہے جو کسی ہندو یا کسی عیسائی کو اپنی لڑکی دے۔ ان لوگوں کو تم کافر کہتے ہو ...... مگر تم احمدی کہلا کر کافر کو رشتہ دیتے ہو۔“

(ملائکہ اللہ ص ٤٦)

٨٨

صفحہ ٥٩١

یعنی جو شخص بھی غیر احمدی کو اپنی لڑکی کا رشتہ دیتا ہے گویا وہ ایک کافر کو رشتہ دیتا ہے۔ پھر ایک دوسری جگہ فرماتے ہیں: ”کل مسلمان جو مسیح موعود کی بیعت میں شامل نہیں ہوئے خواہ انہوں نے حضرت مسیح موعود کا نام بھی نہ سنا ہو کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہیں۔“

(آئینہ صداقت ص ٣٥)

مندرجہ بالا اقتباس میں شاطر سیاست صاف الفاظ میں فرماتے ہیں کہ وہ شخص جس نے مرزا قادیانی کا نام سنا ہے اور پھر بیعت نہیں کی۔ وہ بھی کافر ہے اور جس نے ان کا نام بھی نہیں سنا وہ بھی کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہے۔ وہ اپنی ٤٢ سالہ خلافت میں علانیہ مسلمانوں کو کافر گردانتے رہے اور اپنے اس عقیدہ پر سختی سے قائم رہے۔ لیکن جب ختم نبوت تحریک نے فضا مسموم کر دی اور تحقیقات کے لئے عدالت بیٹھی تو اس عدالت کے سامنے ان کے قدم ڈگمگا گئے اور انہوں نے خوف کے مارے اپنے عقیدہ میں تبدیلی پیدا کر لی۔ ڈنڈے کی ضرب نے انہیں اپنا پرانا عقیدہ تبدیل کرنے پر مجبور کر دیا۔ چنانچہ عدالت کے سامنے شاطر سیاست نے جو بیان دیا وہ حسب ذیل ہے: ”کوئی شخص جو مرزا غلام احمد قادیانی پر ایمان نہیں لاتا وہ دائرہ اسلام سے خارج نہیں قرار دیا جا سکتا۔“

(رپورٹ تحقیقاتی عدالت ص ٢١٨)

لیکن (آئینہ صداقت ص ٣٥) پر واضح الفاظ میں لکھتے ہیں کہ: ”وہ شخص جس نے مرزا غلام احمد قادیانی کا نام بھی نہیں سنا کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہے۔ اب اگر انہوں نے اپنا دیرینہ عقیدہ ڈنڈے کی ضرب سے نہیں بدلا اور اگر انہوں نے عدالت کے خوف سے تبدیل نہیں کیا تو پھر نہ جانے ان کے عقیدہ میں تبدیلی کی وجہ اور کیا ہو سکتی ہے؟

گجرات کے ایک وکیل چوہدری محمد حسین چیمہ نے اپنے ایک مضمون فتنہ سیاست میں شاطر سیاست کے عقیدہ تبدیل کرنے کی وجہ ڈنڈے کی ضرب قرار دی تو شاطر سیاست کا سرکاری اخبار الفضل پورا ایک ماہ ہر پرچہ میں صفحات سیاہ کرتا رہا۔ حالانکہ ایک مضمون کے جواب میں اگر جواب ٹھوس ہو تو چند سطور بھی کافی ہوتی ہیں۔ لیکن پورا ایک ماہ قسط وار چیمہ کے مضمون کا جواب دیا جاتا رہا۔ لیکن وہ سارے جوابات برائے جواب ہی تھے۔ مثلاً چوہدری محمد حسین چیمہ نے شاطر سیاست کے تبدیلی عقیدہ کی وجہ ڈنڈے کی ضرب قرار دی تو شاطر سیاست کے سرکاری اخبار الفضل نے بہت ٹھوس اور شاندار جواب دیا۔ جس پر جتنی داد دی جائے کم ہے۔ لکھتا ہے: ”حضرت امیر المؤمنین ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے یہ عقیدہ تحقیقاتی عدالت میں نہیں بدلا تھا۔ بلکہ ١٩٤٥ء میں تبدیل کیا تھا۔“

٨٩

صفحہ ٥٩٢

یعنی اہل ربوہ نے یہ ثابت کر دیا کہ عقیدہ میں تبدیلی ڈنڈے کی ضرب کا نتیجہ نہیں۔ چیمہ نے اسے ڈنڈے کی ضرب قرار دے کر بہت بڑا گناہ کیا ہے۔ لیکن چیمہ کی اس بات کا اقرار کر لیا جو ان کا اعتراض تھا اور جسے ڈنڈے کی ضرب کا نتیجہ سمجھتے تھے۔ بقول الفضل شاطر سیاست نے اگر اپنا عقیدہ تحقیقاتی عدالت میں تبدیل نہیں کیا تھا۔ ١٩٣٥ء میں تبدیل کیا تھا تو سوال یہ ہے کہ عقیدہ تو تبدیل کیا گیا۔ ہمیں اس سے بحث نہیں کہ عقیدہ ڈنڈے کی ضرب سے تبدیل ہوا یا نہیں۔ ہم تو یہ کہتے ہیں کہ انہوں نے اپنا عقیدہ تبدیل کر لیا اور یہی اعتراض محمد حسین چیمہ کا تھا جس کا اقرار اہل ربوہ نے خود کر لیا۔

شاطر سیاست کے سرکاری گزٹ نے یہ کہہ کر کہ عقیدہ ١٩٣٥ء میں تبدیل کر لیا تھا۔ یہ تو ثابت کر دیا کہ وہ عقیدہ ڈنڈے کی ضرب سے تبدیل نہیں ہوا۔ لیکن چند دیگر عقائد جو تحقیقاتی عدالت میں تبدیل کئے گئے کیا وہ بھی ١٩٣٥ء میں تبدیل کر لئے گئے تھے؟ اگر جواب نفی میں ہو تو پھر اگر ان عقائد کی تبدیلی کی وجہ ڈنڈے کی ضرب قرار دی جائے تو شاطر سیاست کے پاس کیا جواب ہے؟ مثلاً تحقیقاتی عدالت سے قبل شاطر سیاست فرمایا کرتے تھے: ”ہم اس امت میں صرف ایک نبی کے قائل ہیں ..... پس ہمارا عقیدہ یہ ہے کہ امت محمدیہ میں کوئی اور شخص نبی نہیں گزرا۔“

(حقیقت النبوۃ ص ١٣٨)

لیکن تحقیقاتی عدالت میں ایک سوال کے جواب میں فرماتے ہیں کہ: ” ہزاروں نبی ہو چکے ہوں گے۔“ سوال اور جواب ملاحظہ ہو:

عدالت کا سوال ..... آنحضرت ﷺ کے بعد اور کتنے سچے نبی گزرے ہیں؟ جواب ..... اس اعتبار سے کہ ہمارے رسول کریم ﷺ کی حدیث کے مطابق آپ کی امت کے علماء تک میں آپ کی عظمت اور شان کا انعکاس ہوتا ہے۔ سینکڑوں اور ہزاروں ہو چکے ہوں گے۔

کیا مندرجہ بالا دونوں بیانات میں واضح تضاد نہیں ہے۔ اگر ہے تو پھر کیا یہ عدالت کے ڈنڈے کی ضرب کا نتیجہ تو نہیں؟

علاوہ ازیں نماز جنازہ کے عقیدہ میں بھی انہوں نے عدالت میں تبدیلی کر لی۔ چنانچہ عدالت میں پیش ہونے سے قبل نماز جنازہ سے متعلق ان کا عقیدہ حسب ذیل تھا: ”ایک اور سوال رہ جاتا ہے کہ غیر احمدی تو حضرت مسیح موعود کے منکر ہوئے۔ لیکن ان کے بچوں کا جنازہ کیوں نہ

٩٠

صفحہ ٥٩٣

پڑھا جائے۔ وہ تو مسیح موعود کا منکر نہیں۔ میں یہ سوال کرنے والے سے پوچھتا ہوں کہ اگر یہ بات درست ہے تو پھر ہندوؤں اور عیسائیوں کے بچوں کا جنازہ کیوں نہیں پڑھا جاتا۔ کتنے لوگ ہیں جو ان کا جنازہ پڑھتے ہیں؟ اصل بات یہ ہے....... کہ غیر احمدی کا بچہ بھی غیر احمدی ہی ہوا۔ اس لئے اس کا جنازہ بھی نہیں پڑھنا چاہئے۔“

(انوار خلافت ص٩٣)

لیکن جب تحقیقاتی عدالت میں یہ حوالے پیش کئے گئے تو فرماتے ہیں: ”یہ بات میں نے اس لئے کہی تھی کہ غیر احمدی علماء نے یہ فتویٰ دیا کہ احمدی کے بچوں کو بھی قبرستان میں دفن نہ ہونے دیا جائے۔ اب ہمیں بانی سلسلہ کا ایک فتویٰ ملا ہے جس کے مطابق ممکن ہے کہ غور و خوض کے بعد پہلے فتویٰ میں ترمیم کر دی جائے۔“

(رپورٹ تحقیقاتی عدالت بیان ص ١٧)

ان کے اس مندرجہ بالا بیان میں جہاں ڈنڈے کی ضرب نظر آتی ہے۔ وہاں یہ بات بھی عیاں دکھائی دیتی ہے کہ انہوں نے دو جھوٹ بولے ہیں۔ پہلا جھوٹ یہ کہ انہوں نے مندرجہ بالا بیان غیر احمدی علماء کے فتویٰ کے جواب میں دیا تھا۔ انوار خلافت میں انہوں نے جہاں اپنے فتویٰ کا ذکر کیا ہے وہاں غیر احمدی علماء کے فتویٰ کا ذکر کیوں نہیں کیا؟ اس سے تو صاف ظاہر ہے کہ عدالت سے جان بچانے کے لئے انہوں نے جھوٹ بولا۔ دوسرا جھوٹ یہ بولا کہ بانی سلسلہ احمدیہ کا ایک فتویٰ مل گیا ہے اور ملا بھی اس شب کو ہے جس کے دوسرے دن عدالت میں پیش ہونا تھا۔ یہ صریحاً کذب بیانی ہے۔ کیونکہ اگر ایسا فتویٰ ملا ہے تو اسے ابھی تک شائع کیوں نہیں کیا گیا۔ تیسرے یہ کہنا کہ ممکن ہے غور و خوض کے بعد اس فتویٰ میں تبدیلی پیدا کر دی جائے گی۔ جان چھڑانے کا ایک بہانہ تھا۔ ورنہ کیا وجہ ہے کہ آج اتنا عرصہ گزر جانے کے بعد بھی اس پر غور و خوض نہیں ہو سکا اور مرزا غلام احمد کی وہ تحریر ابھی تک شائع نہیں کی گئی۔ جس کی آڑ لے کر شاطر سیاست نے جان بچائی تھی۔

ہم حیران ہیں کہ وہ شخص جس کا دعویٰ یہ ہو کہ وہ فضل عمر ہے۔ وہ ڈنڈے سے گھبرا کر اپنے عقائد تبدیل کر لیتا ہے اور پھر اپنے آپ کو اس عمرؓ سے مشابہت دیتا ہے جو بہادری اور دلیری میں بے مثل تھے اور جنہوں نے عرب میں اپنی شجاعت اور بہادری کے کارناموں سے دھوم مچا دی تھی اور جن کا نام سن کر عرب کا بڑے سے بڑا لیڈر مارے خوف کے کانپنے لگتا تھا۔

حضرت عمر فاروقؓ سے مماثلت

خلافت مآب عمر ثانی ہونے کا دعویٰ بھی کرتے ہیں اور ان کے مریدوں کا خیال ہے کہ وہ مثیل عمر ہیں۔ چنانچہ الفضل مورخہ ١٥؍ اگست ١٩٣٧ء میں ایک صاحب رقمطراز ہیں: ”ہمارا

٩١

صفحہ ٥٩٤

ایمان ہے کہ حضرت مسیح موعود کے خلفائے کرام کو بھی خلفائے راشدین سے مماثلت ہے۔ بالخصوص حضرت امیر المومنینؓ کے عہد مبارک کی ترقیاں وفتوحات حضور کی معاملہ فہمی، سیاست دانی، دور بینی، انتظام جماعت اور طریق عمل جمیع امور سے صاف طور پر عیاں ہے کہ حضرت امیر المومنین کو حضرت عمرؓ سے واضح مشابہت ہے۔“

ان سطور میں صاف الفاظ میں خلافت مآب کو حضرت عمرؓ سے مماثلت دی گئی ہے۔ اب جن لوگوں نے انہیں بہت قریب سے دیکھا ہے اور جن کا دعویٰ ہے کہ ان کی زندگی آلودگیوں کا مجموعہ ہے۔ وہ جب سنتے ہیں کہ انہیں عمر ثانی قرار دیا جارہا ہے تو سننے اور جاننے والوں پر کیا گزرتی ہوگی اور حضرت عمرؓ کے متعلق وہ کیا سوچتے ہوں گے؟ اسی طرح شاطر سیاست نے اپنے تین مریدوں کو خالد بن ولید قرار دیا ہے۔ ان میں سے بعض سخت ذلیل اور بے حد گندے ہیں۔ اب وہ خالدؓ بن ولید جن کو سرور کائنات ﷺ نے اللہ کی تلوار قرار دیا تھا ان کے متعلق ایک محدود علم رکھنے والا شخص کیا رائے قائم کرتا ہوگا۔ کیا یہ خلفائے راشدین، صحابہ کرامؓ اور سرور کائنات ﷺ کی کھلی توہین نہیں؟ جب یہ کہا جاتا ہے کہ شاطر سیاست حضرت عمر فاروقؓ کے مثیل ہیں اور جو شخص شاطر سیاست کو دیکھتا ہے وہ حضرت عمر فاروقؓ کے متعلق کیا سوچتا ہوگا؟ میں یہاں حضرت عمرؓ کی محبت اور عقیدت کے جذبات میں بہت کچھ لکھنا چاہتا ہوں۔ لیکن اپنے قلم کو قابو میں رکھتے ہوئے شاطر سیاست کی یہ گستاخی نظر انداز کر رہا ہوں۔ کیونکہ حضرت عمرؓ کے خلوص اور جوش محبت میں ممکن ہے۔ میرے قلم سے شاطر سیاست سے متعلق کوئی سخت فقرہ نکل جائے۔ لیکن یہاں یہ بات کر دینا ضروری خیال کرتا ہوں کہ وہ اپنے آپ کو حضرت عمر فاروقؓ کے ساتھ مماثلت دے کر مسلمانان عالم کے جذبات کو مجروح کر رہے ہیں۔ کیونکہ میرے نزدیک حضرت عمر فاروقؓ کا مقام بہت بلند ہے اور ایک گندی اور غلیظ چیز کو ان کے ساتھ مشابہت دینا ان کی سراسر توہین کرنا اور ہمارے جذبات کو مجروح کرنا ہے۔ جس طرح کسی کنجری یا کسی ذلیل ترین چیز کے ساتھ کسی بزرگ کی مماثلت قائم کرنا گناہ اور بداخلاقی ہے۔ بعینہ شاطر سیاست کا حضرت عمرؓ سے اپنی مماثلت قائم کرنا بد اخلاقی کا بدترین مظاہرہ ہے اور مسلمانان عالم کی غیرت کے لئے ایک کھلا چیلنج ہے۔ حضرت عمر فاروقؓ کا مقام یہ تھا کہ سرور دو عالم حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ نے انہیں جنت میں سن رسیدہ اشخاص کا سردار گردانا تھا۔ چنانچہ حضرت انسؓ سے مروی ہے کہ آنحضرت ﷺ نے حضرت ابوبکرؓ اور حضرت عمرؓ کی شان میں فرمایا کہ دونوں انبیاء مرسلین کے علاوہ تمام اولین وآخرین سن رسیدہ اشخاص کے جنت میں سردار ہوں گے۔

(بیان الامراء ص ٤٦)

٩٢

ایک دوسری جگہ حضور ﷺ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرما میرے کان اور آنکھ ہیں۔ اے کاش نبی کریم ﷺ کا ابوبکرؓ اور حضرت عمرؓ کے ساتھ ان کا نا حضور ﷺ نے فرمایا تھا کہ دجال کی د نے جب حضرت عمرؓ کو اپنی آنکھ قرار دیا جب دجال کا ذکر آیا تو اللہ تعالی نے سیاست خود کہا کرتے ہیں کہ میرے د ”آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ میرے

اگر شاطر سیاست کا درجہ حض بھول ہی گئے، ورنہ انہیں تو کہنا چاہئے مرزا بشیر الدین محمود احمد یا ان کے والد بھول ہی گئے اور اللہ تعالی کو بھی اس وقت ہونے والا ہے۔ ورنہ اگر اللہ تعالی کو اس سیاست کا نام پھونک دیتا اور پھر اگر شاط چکر چلا کر ہی آنحضرت ﷺ سے اپنا ب اس زمانے میں کہ جس میں دجال کا آ پھر (ابن ماجہ ص ١١، باب فضل سرور کائنات ﷺ سے سنا ہے کہ اللہ تع کہ وہ حق ہی بولیں۔ اس حدیث میں یہ سیاست میں ایک کمی یہ بھی ہے کہ انہی جواب نہیں دے سکے۔ اس طرح ایک دج ساری دنیا کے علم پر فضیلت دی ہے۔

صفحہ ٥٩٥

ایک دوسری جگہ حضور ﷺ نے حضرت عمرؓ کو اپنی آنکھ قرار دیا۔ چنانچہ عبداللہ بن حنطبہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ایک مرتبہ حضرت ابوبکرؓ و حضرت عمرؓ کو دیکھ کر فرمایا کہ یہ دونوں میرے کان اور آنکھ ہیں۔

(حدیث ترمذی ص ٢٠٨، باب مناقب ابی بکر صدیقؓ)

اے کاش نبی کریم ﷺ کو اس وقت شاطر سیاست کا بھی پتہ چل جاتا اور وہ حضرت ابوبکرؓ اور حضرت عمرؓ کے ساتھ ان کا نام بھی لے دیتے اور دجال والی پیش گوئی نہ کرتے۔ جس میں حضور ﷺ نے فرمایا تھا کہ دجال کی دائیں آنکھ کمزور ہوگی۔ معلوم ہوتا ہے کہ سرور کائنات ﷺ نے جب حضرت عمرؓ کو اپنی آنکھ قرار دیا تھا تو اس وقت شاطر سیاست کا وجود ذہن میں نہیں آیا۔ بلکہ جب دجال کا ذکر آیا تو اللہ تعالیٰ نے فوراً شاطر سیاست کی صورت سامنے کر دی۔ کیونکہ شاطر سیاست خود کہا کرتے ہیں کہ میری دائیں آنکھ کمزور ہے۔ پھر عقبہ بن عامر سے مروی ہے کہ: ”آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ میرے بعد کوئی نبی ہوتا تو حضرت عمرؓ بن خطاب ہی ہوتے۔“

(حدیث ترمذی ص ٢٠٩، باب مناقب عمر بن خطابؓ)

اگر شاطر سیاست کا درجہ حضرت عمرؓ کے برابر ہے تو سرور کائنات ﷺ شاطر سیاست کو بھول ہی گئے، ورنہ انہیں تو کہنا چاہئے تھا کہ اگر میرے بعد کوئی نبی ہو سکتا ہے تو وہ حضرت عمرؓ یا مرزا بشیر الدین محمود احمد یا ان کے والد مرزا غلام احمد ہوں گے۔ لیکن افسوس کہ وہ ان ہر دو کا نام بھول ہی گئے اور اللہ تعالیٰ کو بھی اس وقت یاد نہیں رہا کہ حضرت عمرؓ کا مثیل بھی ایک زمانے میں پیدا ہونے والا ہے۔ ورنہ اگر اللہ تعالیٰ کو اس کا علم ہوتا تو وہ ضرور آنحضرت ﷺ کے کان میں شاطر سیاست کا نام پھونک دیتا اور پھر اگر شاطر سیاست اس زمانہ میں ہوتے تو کسی نہ کسی طریق سے کوئی چکر چلا کر ہی آنحضرت ﷺ سے اپنا نام بھی کہلوا لیتے۔ لیکن برا ہو قسمت کا کہ پیدا بھی ہوئے تو اس زمانے میں کہ جس میں دجال کا آنا ضروری قرار دیا گیا ہے۔

پھر (ابن ماجہ ص ١١، باب فضل عمرؓ) اور حاکم نے ابوذرؓ سے روایت کی ہے کہ: ”میں نے سرور کائنات ﷺ سے سنا ہے کہ اللہ جل شانہ نے حضرت عمرؓ کی زبان اور دل پر حق رکھ دیا ہے۔“ کہ وہ حق ہی بولیں۔ اس حدیث میں سرور کائنات ﷺ نے حضرت عمرؓ کو حق گو کہا ہے۔ لیکن شاطر سیاست میں ایک کمی یہ بھی ہے کہ انہوں نے کبھی بھی سچ نہیں بولا ۔ بلکہ فن دروغ گوئی میں اپنا جواب نہیں رکھتے ۔ اس طرح ایک دوسری حدیث میں سرور کائنات ﷺ نے حضرت عمرؓ کے علم کو ساری دنیا کے علم پر فضیلت دی ہے۔ لیکن شاطر سیاست کہتے ہیں کہ ان جیسا عالم پیدا ہی نہیں ہوا۔

٩٣

صفحہ ٥٩٦

جب حضرت عمرؓ فوت ہوئے اور حضرت علیؓ آئے اور انہوں نے دیکھا کہ حضرت عمرؓ کی لاش کپڑے سے ڈھانپی ہوئی ہے تو انہوں نے فرمایا کہ مجھے نبی کریم ﷺ کے بعد اس کپڑا اوڑھنے والے سے زیادہ کسی کے اعمال پسند نہیں۔

(حاکم)

لیکن اس کے برعکس شاطر سیاست ابھی فوت نہیں ہوئے۔ فوت ہونے کی تیاریاں فرما رہے ہیں کہ متعدد لوگ ان سے ان کی پاکیزگی سے متعلق استفسار کر رہے ہیں۔ لیکن شاطر سیاست ہیں کہ قیامت کی سی چپ سادھ رکھی ہے۔ میرے نزدیک ان کا حضرت عمر فاروقؓ کے ساتھ موازنہ کرنا درست نہیں۔ لیکن چونکہ ان کے مریدوں کی اکثریت لاعلمی کا شکار ہو کر ان کے دعاوی پر آمنا وصدقنا کہہ رہی ہے اور ان کے یہ مرید لاعلمی کی وجہ سے ان کو عمر ثانی سمجھنے میں مخلص ہیں۔ اس لئے یہاں موازنہ سے شاطر سیاست کی کذب بیانی ثابت کرنا ضروری ہے۔ چنانچہ میں مزید خصوصیات قلمبند کر رہا ہوں جو حسب ذیل ہیں۔

حضرت عمرؓ

شاطر سیاست (جعلی عمر)

لگوائے جس کو زنا کی وجہ سے سزا دی گئی اور وہ مر گیا۔

دیتے ہوئے اپنے ایک وظیفہ خوار ملا کو تنبیہ کر دی کہ میرے بیٹے سے پوچھ گچھ نہ کی جائے۔ حالانکہ اس وظیفہ خوار ملا کے پاس شاطر سیاست کے بیٹے کی تحریر تھی۔ جس میں اس نے زنا کا اقرار کیا تھا۔

کمیشن مقرر کر دیا ہے۔

بالاتر سمجھتا ہے۔

بڑے تیر آزما ان کا نام سن کر کانپتے تھے۔

کے وقت بھیس بدل کر بھاگ آیا۔

٩٣

کے لئے سب کچھ قربان کر دینا جائز سمجھتا ہے۔

کرتا۔ بلکہ ناقدین کے خلاف قتل کی سازش دوسرے ہتھکنڈے استعمال کرنے شروع کر دیتا

عائد کئے۔

کا الزام لگایا۔

لئے التزام کے ساتھ دعاؤں کا محتاج رہتا ہے۔

ناپسندیدہ رویہ اختیار کیا۔

صفحہ ٥٩٧

کے لئے سب کچھ قربان کر دینا جائز سمجھتا ہے۔

کو ناپسند فرمایا۔

کے حالات معلوم کرتے تھے۔

سمجھتے تھے۔

کرتا۔ بلکہ ناقدین کے خلاف قتل کی سازشیں اور دوسرے ہتھکنڈے استعمال کرنے شروع کر دیتا ہے۔

”مجھے سب سے زیادہ محبوب وہ شخص ہے جو مجھ پر تنقید کرتا ہے۔“

عائد کئے۔

کیا۔

کا الزام لگایا۔

لگایا۔ بلکہ ان کو امین گردانا گیا اور صادق القول اور صادق الوعد کا لقب دیا گیا۔

لئے التزام کے ساتھ دعاؤں کا محتاج رہتا ہے۔

التزام کے ساتھ دعاؤں کی ضرورت پیش نہیں آئی۔

ناپسندیدہ رویہ اختیار کیا۔

بائیکاٹ نہیں کیا۔

کر دیا اور وہ اپنے بارے میں تعریف ناپسند فرماتے تھے۔

٩٥

صفحہ ٥٩٨

(٢٣) وہ زندگی بھر اس قسم کی وباؤں سے محفوظ رہے۔ بلکہ (٢٣) یہ فالج جیسی بیماری میں مبتلا ہوا جس کے متعلق ان کے قرب و جوار میں بھی ایسی وبا کبھی نازل نہیں ہوئی۔ (مرزا غلام احمد ) نے کہا تھا کہ فالج لعنتی بیماری ہے۔ (٢٤) انہوں نے لاتعداد فتوحات سے دنیا کو اپنی (٢٤) اس نے قادیان بھی اپنے ہاتھوں سے دے دیا۔ شجاعت کا قائل کر لیا۔ (٢٥) وہ لوگوں کے گھروں پر جا کر انہیں تہجد کی نماز کے (٢٥) یہ صبح کی نماز کے وقت سویا رہتا ہے اور نوکر کے لئے خود جگایا کرتے تھے۔ جگانے پر کہہ دیتا ہے کہ ”پڑھا دی جائے ۔“

کیا ان خصوصیات کی روشنی میں بھی کوئی ذی فہم شخص شاطر سیاست کے متعلق مثیل عمرؓ ہونے کا تصور کر سکتا ہے۔ بلکہ ان کو مثیل عمرؓ قرار دینا حضرت عمرؓ کے ساتھ دشمنی اور انہیں گالی دینا ہے۔ جسے کوئی مسلمان بھی ایک لمحہ کے لئے برداشت نہیں کر سکتا۔ اگر آج ہم خاموش رہے اور ...... اس کا کوئی حل نہ سوچا تو ممکن ہے کہ کل کوئی بازاری عورت امہات المومنین سے اپنی مماثلت کا دعویٰ کر دے۔ (نعوذ باللہ ) پس ظاہر ہے کہ اس قسم کی اجازت دینا اور اس قسم کے دعویٰ پر خاموشی اختیار کرنا بے غیرت ہونے کا کھلا اقرار کرنا ہے۔ اگر اس وقت شاطر سیاست کو حضرت عمرؓ کے صحیح مقام کا احساس نہیں تو کم از کم ہمیں تو حضرت عمرؓ کے مقام پر پاس ہے اور اگر ہم نے آج حضرت عمرؓ کی عزت و احترام کا احساس نہ کیا تو ہم گنہگار بن کر روز جزا جوابدہ ہوں گے۔

نظر بلند نظر کا مقام اس سے بلند کوئی مقام نہ تھا میر کارواں کے لئے

رؤیا و کشوف کا دباؤ

انسان کی فطرت میں ایک خوف کھانے والی حس ہے اور انسان اللہ تعالیٰ کے وجود کا قائل ہونے کے بعد جنت اور جہنم کے نظریات کے پیش نظر اللہ تعالیٰ کے خوف سے پاکیزگی اور صالح اعمال بجا لانے کی طرف زیادہ سے زیادہ توجہ کرتا ہے۔ شاطر سیاست کو انسان کی اس کمزوری کا علم ہے۔ چنانچہ وہ اپنے بھولے بھالے مریدوں کو رؤیا و کشوف سنا سنا کر ڈراتے رہتے ہیں اور عاقبت کا خوف دلا کر اپنا الو سیدھا کرتے ہیں۔ آخری شادی جو انہوں نے چند ہی سال قبل کی تھی وہ بھی رؤیا کے ذریعہ ہی معرض وجود میں آئی تھی۔ ایک دن خطبہ جمعہ میں انہوں نے کہا کہ رات میں نے رؤیا میں دیکھا کہ میرا نکاح فلاں لڑکی سے ہو رہا ہے۔ اس کی خصوصیات فلاں فلاں ہیں۔ اگر اس کے باپ نے اپنی لڑکی کا نکاح میرے ساتھ نہ کیا تو اللہ تعالیٰ کا عذاب اس پر نازل ہوگا۔ چنانچہ اس لڑکی کے باپ نے اللہ تعالیٰ کے عذاب سے گھبرا کر اور حضور پرنور کے رؤیا سے ڈر

صفحہ ٥٩٩

کراچی لڑکی کا رشتہ حضور پر نور کو دے دیا۔ اسی طرح شاطر سیاست دوسرے معاملات میں بھی بھولے بھالے مریدوں پر عاقبت کا خوف طاری کرتے اور رؤیا و کشوف کا دباؤ ڈال کر اپنے مقاصد پورے کرتے رہتے ہیں۔ جب کبھی بھی کسی شخص نے ان کی نجی زندگی کا جائزہ لیا اور اپنے ذاتی مشاہدات کی روشنی میں ان کے خلاف علم بغاوت بلند کیا تو انہوں نے اس شخص کے باپ یا دیگر رشتہ داروں پر عاقبت کا خوف طاری کر کے اس کے خلاف تحریریں لکھوا کر اپنے سرکاری گزٹ میں شائع کر دیں۔ چنانچہ ١٩٥٦ء میں ایک نوجوان محمد یونس نے ان کی بدعنوانیوں، دھاندلیوں اور نجی آلودگیوں کو بچشم خود دیکھ کر جب ان سے عدم وابستگی کا اعلان کیا تو انہوں نے محمد یونس کے والد پر عاقبت کا خوف طاری کیا اور ان سے بیٹے کے خلاف ایک تحریر لکھوائی جس میں لکھا ہے: ”حضور میرے دل میں منافقانہ رنگ نہیں ہے۔ میں اللہ تعالیٰ کے خوف اور عاقبت کے ڈر سے یہ تحریر لکھ کر بری الذمہ ہوں۔“

(الفضل مورخہ ٢٨ اگست ١٩٥٦ء)

اس خط میں مسٹر محمد یونس کے والد نے جو احمدی ہیں صاف الفاظ میں لکھا ہے کہ میں یہ تحریر شاطر سیاست کے حکم اور اس خوف کے تحت لکھ رہا ہوں جو ان کی طرف سے طاری کیا گیا ہے۔ شاطر سیاست اس قسم کے ہتھکنڈوں کو جو اسلامی نظریات کے صریحاً خلاف اور ناپسندیدہ ہیں اپناتے ہیں اور اس پر طرہ یہ کہ ان ہتھکنڈوں کو مؤمنانہ فراست یا مؤمنانہ دلیری گردانتے ہیں۔ اللہ رکھا درویش نے جو ان کے گھر میں کام کاج پر بھی مامور رہا جب ان سے اپنے مشاہدات کی روشنی میں علیحدگی اختیار کی تو انہوں نے اس کے بھائیوں سے جو احمدی ہیں اس کے خلاف تحریریں لکھوا کر الفضل میں شائع کیں اور ان تحریروں کی اشاعت کے بعد ارشاد فرمایا: ”اللہ رکھا درویش کے حقیقی بھائیوں نے ایک خط ارسال کیا ہے (حالانکہ یہ خط خود لکھوا لیا گیا تھا) جس میں انہوں نے صحیح مؤمنانہ طریق کے مطابق ایمان کو رشتہ پر مقدم کرتے ہوئے اللہ رکھا کی ان حرکات سے بیزاری کا اظہار کیا ہے۔ بلاشبہ یہ مؤمنانہ دلیری ہے جو اللہ رکھا کے بھائیوں نے دکھائی ہے۔“

(الفضل مورخہ ٢٩ اگست ١٩٥٦ء)

شاطر سیاست کی مؤمنانہ دلیری ملاحظہ ہو۔ اسلام کے نزدیک ناقدین قوم کی روح ہوتے ہیں اور حضرت عمرؓ فرمایا کرتے تھے کہ مجھے سب سے زیادہ محبوب شخص وہ ہے جو مجھ پر تنقید کرتا ہے اور شاطر سیاست ناقدین کے خلاف اظہار بیزاری کرنے کو مؤمنانہ دلیری قرار دیتے ہیں۔

علاوہ ازیں وہ رؤیا و کشوف کو اپنی ڈھال بناتے ہیں۔ کبھی کسی نے کوئی سوال کیا اور ان

٩٧

صفحہ ٦٠٠

سے کوئی جواب نہ بن آیا تو رؤیا سنا دیا۔ کسی نے پوچھا کہ حضور یہ سندھ کے مربے جو آپ کی ذاتی ملکیت ہیں کہاں سے آئے تو کشف سنا دیا۔ کسی نے استفسار کیا کہ حضور آپ خویش پروری کرتے ہیں تو اس پر عاقبت کا عذاب نازل کر کے اسے منافق قرار دے دیا۔ الغرض وہ رؤیا و کشوف سے اپنا تمام تر کاروبار چلاتے ہیں اور وہ بھولے بھالے لوگ جو خدمت اسلام اور شمع رسالت حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی محبت کی بناء پر شاطر سیاست سے وابستہ ہیں۔ غلط بے جوڑ اور مہمل قسم کے رؤیا وکشوف کا تجزیہ کئے بغیر آمنا وصدقنا کہتے چلے جاتے ہیں۔ ان کے رؤیا و کشوف من گھڑت اور الہام کی زندہ مثال ہوتے ہیں۔ ہر ذی شعور شخص موجودہ حالات سے آئندہ حالات کا اندازہ کر لیتا ہے۔ چنانچہ شاطر سیاست شیطان کی آنت کی طرح ایک گول مول رؤیا شائع کر دیتے ہیں اور جب وہ حالات معرض موجود میں آجاتے ہیں تو الفضل میں جلی حروف کے ساتھ رؤیا کے عظیم الشان طریق سے پورا ہونے کا ڈھنڈورہ پیٹ دیا جاتا ہے۔ حالانکہ اگر رؤیا و کشوف ان کے اپنے ذہن کی پیداوار نہ بھی ہوں تو ضروری نہیں کہ ہر کشف درست ہی ہو۔ چنانچہ مرزا غلام احمد قادیانی کہتا ہے: ”سنت اللہ قدیم ہے اور جب سے دنیا کی بناء ڈالی گئی ہے اس طرح پر جاری ہے کہ نمونہ کے طور پر عام لوگوں کو قطع نظر اس کے کہ وہ نیک ہوں یا بد ہوں اور صالح ہوں یا فاسق ہوں اور مذہب میں سچے ہوں یا جھوٹا مذہب رکھتے ہوں ...... سچی خوابیں اور سچے الہام وجاہت اور بزرگی پر دلالت نہیں کرتے ...... یہ کمال شقاوت اور نادانی اور بدبختی ہے کہ یہ سمجھ لیا جائے کہ انسان کمال بس اسی پر ختم ہے کہ کسی کو کوئی سچی خواب آجائے یا اس کو الہام ہو جائے بلکہ انسان کمال کے لئے اور بہت سے لوازم اور شرائط ہیں اور جب تک وہ محقق نہ ہوں تب تک یہ خوابیں اور الہام بھی مکر اللہ میں داخل ہیں۔“

(حقیقت الوحی ص ٨، ٩، خزائن ج ٢٢ ص ١٠)

یعنی سچے خواب فاسق اور غیر صالح لوگوں کو بھی آجاتے ہیں۔ اس لئے یہ نادانی اور بدبختی ہے کہ بعض خوابوں پر اپنی وجاہت اور بزرگی کا دعویٰ کیا جائے۔ علاوہ ازیں مرزا غلام احمد قادیانی ایک دوسری جگہ پھر لکھتے ہیں: ”یاد رکھنا چاہئے کہ شیطان انسان کا سخت دشمن ہے وہ طرح طرح کی راہوں سے انسان کو ہلاک کرنا چاہتا ہے اور ممکن ہے کہ ایک خوب سچی بھی ہو اور پھر بھی شیطان کی طرف سے ہو۔ کیونکہ اگرچہ شیطان بڑا جھوٹا ہے۔ لیکن کبھی سچی بات بتلا کر دھوکا دیتا ہے۔“

(حقیقت الوحی ص ٣، خزائن ج ٢٢ ص ٣)

٩٨

صفحہ ٦٠١

یعنی کسی سچے خواب سے یہ نہیں سمجھ لینا چاہئے کہ جس شخص کو وہ خواب آیا ہے وہ بزرگی کی کسی منزل پر پہنچ گیا ہے۔ بلکہ بعض اوقات شیطان بھی انسان کو گمراہ کرنے کے لئے سچے خواب دکھا دیتا ہے۔ اس لئے اپنے کسی سچے خواب کو بھی اپنی بزرگی اور بڑائی کے لئے دلیل ٹھہرانا ناجائز ہے۔ پھر مرزا غلام احمد قادیانی ان لوگوں کے متعلق بھی وضاحت کرتے ہیں جو اپنے خوابوں اور الہامات پر بناء رکھ کر غلط اعتقادوں اور ناپاک مذہبوں کو فروغ دیتے ہیں۔ چنانچہ انہوں نے لکھا ہے: ”افسوس کہ اکثر لوگ ایسے ہیں کہ ابھی شیطان کے پنجہ میں گرفتار ہیں۔ مگر پھر بھی اپنی خوابوں اور الہاموں پر بھروسہ کر کے اپنے ناراست اعتقادوں اور ناپاک مذہبوں کو ان خوابوں اور الہاموں کے ذریعہ فروغ دینا چاہتے ہیں۔ بلکہ بطور شہادت ایسی خوابوں اور الہاموں کو پیش کرتے ہیں۔“

(حقیقت الوحی ص ٢، خزائن ج ٢٢ ص ٤)

یعنی اپنے چند سچے خوابوں کو بنیاد اور دلیل ٹھہرا کر اپنے غلط اعتقادات اور غلط مذہب کا پرچار کرنا بھی ناجائز ہے اور جو شخص اپنے خوابوں پر اپنی بزرگی کی بناء رکھتا ہے وہ بھی شیطان کا اسیر ہے۔ چنانچہ شاطر سیاست کی سوانح حیات دیکھئے تو ایک لمحہ بھی ایسا نہیں ملتا جب رؤیا و کشوف سے انہوں نے اپنی بزرگی اور اپنے اعتقادات کی سچائی نہ ثابت کی ہو۔ وہ لوگ جو الفضل کا باقاعدہ مطالعہ کرتے ہیں وہ جانتے ہیں الفضل میں جہاں ان کے رؤیا و کشوف کثرت سے شائع ہوتے رہتے ہیں وہاں بڑی سرخیوں میں ان کے عظیم الشان طریق سے پورا ہونے کا ڈھنڈورا بھی پیٹا جاتا ہے جو ان کے والد مرزا غلام احمد کے نزدیک ناجائز اور شیطان کے اسیر ہونے کی نشانی ہے۔ مرزا غلام احمد مزید رقمطراز ہیں: ”اور بعض محض فضولی اور فخر کے طور پر اپنی خوابیں سناتے ہیں اور بعض ایسے بھی ہیں کہ چند خوابیں یا الہام ان کے جو ان کے نزدیک سچے ہو گئے ہیں۔ ان کی بناء پر وہ اپنے تئیں اماموں یا پیشواؤں یا رسولوں کے رنگ میں پیش کرتے ہیں۔ یہ وہ خرابیاں ہیں جو اس ملک میں بہت بڑھ گئی ہیں اور ایسے لوگوں میں بجائے دینداری اور راستبازی کے بے جا تکبر اور غرور پیدا ہو گیا ہے۔“

(حقیقت الوحی ص ٢، خزائن ج ٢٢ ص ٤)

ان سطور میں جو باتیں بیان کی گئی ہیں یوں معلوم ہوتا ہے کہ وہ مرزا قادیانی نے اپنے بیٹے (شاطر سیاست) سے متعلق ہی لکھی تھیں۔ کیونکہ وہ اپنے رؤیا و کشوف کی بناء پر اپنے آپ کو مصلح موعود اور خلیفہ برحق ثابت کرتے ہیں اور اپنے بھولے بھالے مریدوں پر اپنی بزرگی ثابت کرتے ہیں۔ حالانکہ ان کے والد مرزا غلام احمد کہتے ہیں کہ یہ وہ خرابیاں ہیں جو اس ملک میں بہت بڑھ گئی ہیں اور ایسے لوگوں میں بجائے دینداری کے بے جا تکبر اور غرور پیدا ہو گیا ہے۔ یہی عالم

٩٩

صفحہ ٦٠٢

شاطر سیاست کا ہے ان میں بھی جب سے یہ نقص پیدا ہوا ہے۔ غرور اور تکبر نے انہیں بری طرح جکڑ رکھا ہے اور ان سے دینداری اور راست بازی بھی اسی وجہ سے کوسوں دور ہے کہ وہ اپنے رؤیا وکشوف کو اپنی بزرگی کی بناء گردانتے ہیں۔ حالانکہ سچی خوابیں تو ہر شخص کو آجاتی ہیں۔ خواہ وہ بازاری عورت ہی کیوں نہ ہو یہ بات صرف میں اپنے پاس ہی سے نہیں لکھ رہا۔ بلکہ مرزا غلام احمد بھی اس کی تصدیق کرتے ہیں۔ چنانچہ انہوں نے لکھا ہے: ”ایک اور امر بھی ہے اور وہ یہ کہ بعض فاسق اور فاجر اور زانی اور ظالم اور غیر متدین اور چور اور حرام خور اور خدا کے احکام کے مخالف چلنے والے بھی ایسے دیکھے گئے ہیں کہ ان کو بھی کبھی کبھی سچی خوابیں آجاتی ہیں اور یہ میرا ذاتی تجربہ ہے کہ بعض عورتیں جو قوم کی چوہڑی یعنی بھنگن تھیں جن کا پیشہ مردار کھانا اور ارتکاب جرائم کا تھا۔ انہوں نے ہمارے روبرو بعض خوابیں بیان کیں اور وہ سچی نکلیں۔ اس سے بھی عجیب تر یہ کہ بعض زانیہ عورتیں اور قوم کے کنجر جن کا رات دن زنا کاری کام تھا ان کو دیکھا گیا کہ بعض خوابیں انہوں نے بیان کیں اور وہ پوری ہوگئیں اور بعض ایسے ہندوؤں کو بھی دیکھا کہ جو نجاست شرک سے ملوث اور اسلام کے سخت دشمن ہیں۔ بعض خوابیں ان کی جیسا کہ دیکھا تھا ظہور میں آگئیں۔“

(حقیقت الوحی ص ٢٧٢، خزائن ج ٢٢ ص ٢٨٥)

ان سطور میں صاف الفاظ میں بتایا گیا ہے کہ سچے خواب بعض ہندوؤں کو بھی آجاتے ہیں۔ اس لئے ان پر اپنی صداقت کی دلیل ٹھہرانا درست نہیں۔ میرے اس استدلال پر اگر کوئی یہ کہے کہ مرزا قادیانی کی مندرجہ بالا سطور عام انسانوں سے متعلق ہیں۔ خواص سے متعلق نہیں اور چونکہ شاطر سیاست عوام الناس میں سے نہیں خواص میں سے ہیں۔ اس لئے ان سطور کو ان پر چسپاں کرنا غلط ہے تو میں مرزا قادیانی کا حسب ذیل اقتباس پیش کئے دیتا ہوں۔ انہوں نے یہاں فرمایا ہے: ”دنیا میں بعض ایسے لوگ بھی ہیں جو کسی حد تک زہد اور عفت کو اختیار کرتے اور علاوہ اس بات کے کہ ان میں رؤیا اور کشوف کے حصول کے لئے ایک غیر فطری استعداد ہوتی ہے اور دماغی بناوٹ اس قسم کی واقع ہوتی ہے کہ خواب و کشف کا کسی قدر نمونہ ان پر ظاہر ہو جاتا ہے۔۔۔۔ جس کی وجہ سے ایک محدود دائرہ تک رؤیا صادقہ اور کشوف صحیحہ کے انوار ان میں پیدا ہو جاتے ہیں۔ مگر تاریکی سے خالی نہیں ہوتے۔ بلکہ ان کی بعض دعائیں بھی منظور ہوجاتی ہیں۔ مگر عظیم الشان کاموں میں نہیں ۔ کیونکہ ان کی راست بازی کامل نہیں ہوتی۔ بلکہ اس شفاف پانی کی طرح ہوتی ہے جو اوپر سے تو شفاف نظر آتا ہو مگر نیچے اس کے گوبر اور گند ہو۔“

(حقیقت الوحی ص ١١، خزائن ج ٢٢ ص ١٤)

صفحہ ٦٠٣

یعنی دنیا میں بعض لوگ ایسے بھی ہیں جن کے ذہن کی بناوٹ ہی اس قسم کی ہوتی ہے کہ انہیں رؤیا و کشوف نظر آ جاتے ہیں۔ لیکن ان کشوف کی حالت یہ ہے کہ ایک محدود دائرہ تک ہی رؤیا وکشوف کے انوار ظاہر ہوتے ہیں اور وہ بھی تاریکی سے خالی نہیں ہوتے۔ بلکہ ان رؤیا و کشوف میں بھی بعض خلا ہوتے ہیں۔ اسی طرح بعض لوگوں کی چند دعائیں بھی قبول ہو جاتی ہیں۔ چونکہ ان لوگوں کی راست بازی کامل نہیں ہوتی۔ اس لئے ان کی دعائیں کسی عظیم الشان کام میں پوری نہیں ہوتیں۔ یہاں مرزا قادیانی نے ان لوگوں کی راست بازی کی بھی تشریح کر دی کہ ان کی راست بازی اس شفاف پانی کی طرح ہوتی ہے جو اوپر سے شفاف نظر آتا ہے۔ مگر اس کے نیچے گوبر اور گند ہوتا ہے۔ جس شخص نے بھی قریب سے شاطر سیاست کو دیکھا ہے وہ مرزا قادیانی کے مندرجہ بالا اقتباس کے مطالعہ سے بخوبی اندازہ لگا سکتا ہے کہ یہ اقتباس ایک سو پچاس فیصدی شاطر سیاست ہی سے متعلق ہے۔ کیونکہ ان کی راست بازی مشکوک ہے اور ان کا ظاہر شفاف پانی کی مانند اور باطن گوبر اور گندگی کے مانند ہے اور یہی وجہ ہے کہ ان کی دعائیں کبھی بھی کسی قابل ذکر کام میں پوری نہیں ہوتیں اور نہ ہی ان کا کوئی کشف ایسا ہے جسے کشفی انوار کے اعتبار سے مکمل کہا جاسکے۔ پس چونکہ اس قسم کے رؤیا و کشوف دنیا میں بے شمار لوگوں پر ظاہر ہوتے رہتے ہیں۔ اس لئے ان سے اپنی بڑائی ثابت کرنا اور ان کا ڈھنڈورہ پیٹ کر خلافت حقہ کا ثبوت بہم پہنچانا سراسر ناجائز دھوکا اور حقائق کے خلاف ہے۔ بلکہ شاطر سیاست کے رؤیا و کشوف کا جو تجزیہ ہم نے کیا ہے وہ یہ ہے کہ ان کو بعض خواب سچے بھی آ جاتے ہیں۔ لیکن انہیں اکثر خواب ایسے آتے ہیں جو مبہم اور ان کے اپنے ذہن کی پیداوار ہوتے ہیں۔ اس قسم کے خوابوں سے انہیں اپنے مریدوں کو بیوقوف بنانا مقصود ہوتا ہے اور وہ اس طرح کی ریا کاری سے اپنا مقصد حل کر لیتے ہیں۔ گویا دوسرے الفاظ میں وہ رؤیا کے ساتھ بھی ریا کرنے سے نہیں ٹلتے۔

یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ انہوں نے اپنے خوابوں کے لئے رؤیا کا لفظ پسند کیا ہے اور اکثر رؤیا ہی کا لفظ استعمال کرتے ہیں۔ عجیب سانحہ ہے کہ ان کا چونکہ ریا کاری سے بھی دخل ہے اور رؤیا سنانے سے ان کی مراد بھی ریا کاری سے لوگوں کو بیوقوف بنانا ہے۔ اس لئے خدا نے ان سے لفظ بھی وہی انتخاب کروایا جو حقیقت حال کے عین مطابق تھا۔ لفظ رؤیا کے چار حروف ہیں۔ چاروں حروف میں سے اگر واؤ نکال دیں تو باقی ریا رہ جاتا ہے۔ واؤ سے مراد وحی یا خواب

١٠١

صفحہ ٦٠٤

وغیرہ ہے۔ جس کا مطلب یہ ہوا کہ واؤ کا حرف لفظ ریا کے درمیان ہے۔ گویا وحی کو بھی ریا کاری کا آلہ کار بنایا جا رہا ہے۔

مثل برسات برستے ہیں چھما چھم رؤیا واؤ بھی بین ریا ہے ہمیں معلوم نہ تھا

لومڑی کون ہے؟

گذشتہ باب میں میں نے رؤیا و کشوف کے اصولی پہلو پر بحث کی ہے۔ لیکن اس کے ساتھ ہی ضروری معلوم ہوتا ہے کہ شاطر سیاست کے رؤیا و کشوف کا عملی پہلو سے بھی تجزیہ کروں۔ جیسا کہ میں نے بتایا ہے۔ بعض خواب ہر شخص کو سچے بھی آجاتے ہیں۔ اس میں فخر کی کوئی بات نہیں ہے۔ شاطر سیاست کو بھی بعض خواب سچے آجاتے ہیں یا وہ بعض خواب خود بنا لیتے ہیں۔ جو حالات کو دیکھ کر ہر شخص بیان کر سکتا ہے۔ ذیل میں ان کا ایک خواب درج کرتا ہوں۔ تاکہ قارئین کو معلوم ہو کہ ان کے خواب کیا چیز ہیں اور وہ اپنے مریدوں کو بے وقوف کس طرح بناتے ہیں۔

١٩٥٦ء میں جب ان پر فالج کا حملہ ہوا اور انہیں محسوس ہوا کہ وہ اب چند دنوں کے مہمان ہیں تو انہوں نے اپنے بیٹے کو اپنا جانشین بنانے کے لئے اپنے خاندان کے بعض لوگوں کو جمع کیا اور یہ فیصلہ ہوا کہ جماعت میں ان کے بیٹے کے جس قدر مخالف ہیں۔ ان کو جماعت سے خارج کر دیا جائے۔ تاکہ جانشینی کے لئے راستہ صاف ہو جائے۔ سو انہوں نے ایک فتنہ خود کھڑا اور اپنے بیٹے کے مخالفین پر برسنا شروع کر دیا اور انہیں ایک ایک کر کے جماعت سے خارج کر دیا۔ اس موقعہ پر انہوں نے ١٩٥٤ء کا ایک رؤیا نکالا اور اسے مخالفین میں سے ایک شخص پر چسپاں کیا اور ”١٩٥٤ء کا ایک رؤیا شاندار طریق سے پورا ہو گیا“ کا عنوان دے کر جلی حروف میں شائع کر دیا۔ وہ رؤیا حسب ذیل ہے: ”میں نے دیکھا کہ ایک مجلس میں حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) ہیں۔ میں ہوں اور کچھ اور دوست ہیں۔ میں اور حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) آمنے سامنے دوزانو بیٹھے ہیں۔ اتنے میں ایک شخص آیا جو ہندوستانی معلوم ہوتا ہے۔ اس نے آ کر حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) سے اجازت لی کہ میں کچھ سنانا چاہتا ہوں۔ آپ کی اجازت سے اس نے اپنے فارسی اشعار سنانے شروع کر دیئے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ بڑا قادر الکلام شاعر ہے۔ پہلے اس نے ایک قصیدہ سنایا جس میں حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) کے مناقب ..... بیان کئے گئے ہیں اور کچھ میری مدح کی گئی ہے۔ اس تمام عرصہ میں میں اور حضرت مسیح موعود آمنے سامنے دوزانو بیٹھے رہے۔ لیکن باقی لوگ شاعر کی طرف منہ کر کے بیٹھ گئے۔ پہلے

١٠٢

صفحہ ٦٠٥

قصیدہ کے ختم ہونے کے بعد اس نے پھر اجازت لی اور اجازت سے پھر قصیدہ سنانا شروع کر دیا۔ وہ بھی فارسی میں تھا اور اس میں بھی حضرت مسیح موعود ہی مخاطب تھے۔ ان کا مضمون کچھ اس قسم کا تھا کہ آپ کو اللہ تعالیٰ نے دنیا کی ہدایت اور روشنی پہنچانے کے لئے مامور کیا تھا اور آپ کا لایا ہوا نور دنیا کے مختلف گوشوں میں پھیل گیا۔ پھر وہ متعدد لوگوں کا نام لیتا ہے۔ اس کے بعد وہ اس مضمون سے گریز کرتا ہوا ادھر آتا ہے کہ کاٹھیا واڑ یا ایسا ہی کوئی علاقہ اس نے ہندوستان میں بتایا کہ وہاں بھی گیا اور لوگ وہاں آپ کے نام سے ناواقف تھے اور آپ کی تعلیم کسی تک نہیں پہنچی تھی۔ آخر میں چند شعر آپ کو غیرت دلانے کے لئے تھے اور ان کا مضمون یہ تھا کہ اے مسیح موعود کیا آپ اس علاقے کے لئے مبعوث نہیں ہوئے یا آپ کے پیغام کو اس علاقہ میں ناکامی ہوئی؟ جب وہ آخری شعر پڑھنے لگا تو مجلس مسحور ہو گئی اور خود حضرت مسیح موعود بھی متاثر نظر آتے تھے اور بار بار ذکر الٰہی کرتے تھے۔ اس کے بعد اس نے مزید کلام پڑھنے کی اجازت لی اور پھر ایک فارسی نظم پڑھنی شروع کی جس میں احمدیہ جماعت مخاطب تھی۔ اشعار کا مطلب یہ تھا کہ اے احمدیو اللہ تعالیٰ نے انسان کو پیدا کیا اور تقویٰ کی عادت اور پرہیزگاری کا مادہ اس میں رکھا اور اگر وہ غلطی کر بیٹھے تو توبہ اور استغفار اور خدا سے معافی مانگنے کی طاقت اور رغبت اس میں پیدا کی۔ لیکن لومڑی میں اس نے خصلتیں نہیں رکھیں۔ میں دیکھتا ہوں کہ ایک لومڑی تمہارے اندر رسوخ پیدا کر رہی ہے اور تم اس کے اظہار خیال پر خوش ہو۔ حالانکہ تم نہیں سوچتے کہ جو مادہ انسان میں پیدا کیا گیا ہے۔ اگر انسان ایسی باتیں ظاہر کرے تو تم دھوکے میں آ سکتے ہو کہ شاید یہ وہی ہو۔ لیکن اگر ایک لومڑی ایسی باتیں کرے تو پھر دھوکا لگنا کیسے ممکن؟ کیونکہ جو چیز اللہ تعالیٰ نے اس میں پیدا ہی نہیں کی وہ اس سے کس طرح ظاہر ہو سکتی ہے۔“

(الفضل مورخہ ٥ ستمبر ١٩٥٦ء)

شیطان کی آنت کی طرح اس طویل رویا کی تشریح کرتے ہوئے شاطر سیاست فرماتے ہیں: ”یہ لومڑی تو وہی ہے جو پدرم سلطان بود کا نعرہ لگاتی پھرتی ہے۔“ پھر لکھا ہے: ”مجھے رویا میں ایک لومڑی کی خبر دی گئی تھی جس سے مراد درحقیقت ایسے لوگ ہیں جو کہتے ہیں کہ پدرم سلطان بود ہم فلاں آدمی کے بیٹے ہیں۔“

(الفضل مورخہ ١٣ ستمبر ١٩٥٦ء)

شاطر سیاست نے یہ رویا محترمین میں سے جس شخص پر چسپاں کیا ہے درحقیقت رویا کے الفاظ اس شخص کے لومڑی ہونے کی تصدیق نہیں کرتے اور پھر انہوں نے اس کی وضاحت میں کہا ہے کہ اس سے مراد وہ شخص ہے جو پدرم سلطان بود کا نعرہ لگاتا ہے اور کہتا ہے کہ ہم فلاں آدمی کے بیٹے ہیں۔ اس اعتبار سے بھی یہ رویا اس شخص کے متعلق نہیں ہے۔ کیونکہ اس شخص نے کبھی بھی

١٠٣

صفحہ ٦٠٦

اپنے باپ کی بڑائی کا دعویٰ نہیں کیا اور پھر اس کے باپ نے نہ ہی کبھی نبوت کا دعویٰ کیا اور نہ ہی خلافت کا علم لہرا کر چندے بٹورے۔ اس لئے یہ کہنا کہ وہ اپنے باپ کی بڑائی بیان کرتا ہے۔ سراسر کذب بیانی ہے۔ اصل میں بات یہ ہے کہ شاید شاطر سیاست نے اپنا یہ خواب خواہ مخواہ کسی مظلوم پر لگانے کی سعی و جہد کی ہے۔ اس سے مراد کسی صورت میں بھی وہ شخص نہیں ہے اور میں چیلنج کرتا ہوں کہ انہوں نے یہ خواب جس شخص پر چسپاں کیا ہے اس کے الفاظ سے خواب اس شخص پر چسپاں نہیں ہوتا۔ اب رہا یہ سوال کہ پھر یہ رؤیا کس کے متعلق ہے تو ان کی اپنی تشریح کے مطابق باپ کی بڑائی بیان کرنے والا شخص اس رؤیا کا مصداق ہے۔ جہاں تک میری معلومات کا تعلق ہے جماعت میں صرف اور صرف ایک شخص ایسا ہے جو پدرم سلطان بود بنتا ہے اور وہ شاطر سیاست خود ہیں۔ یہ انہی کو کمال ہے کہ ١٩١٤ء سے لے کر اب تک صرف باپ ہی کا نام لے کر باپ کے مریدوں میں اپنی خلافت کا علم لہرائے رکھا اور اپنی بدعنوانیوں پر بھی باپ کا نام لے کر ہی پردہ ڈالے رکھا۔ (مرید باپ یعنی مرزا غلام احمد سے اندھی عقیدت رکھتے ہیں) چنانچہ انہوں نے اس رؤیا کی وضاحت کرتے ہوئے ایک اور خواب بیان کیا ہے۔ اس وضاحتی رؤیا میں فرماتے ہیں: ”خدا تعالیٰ نے مجھے حضرت مسیح موعود (یعنی اپنے باپ) کی بعثت کی غرض میں شامل کیا ہے۔ اس لئے وہ میرے نام کو تبھی مٹا سکتے ہیں جب وہ حضرت مسیح موعود (یعنی میرے باپ) کا نام بھی مٹادیں۔“

(الفضل مورخہ ١٣ نومبر ١٩٥٦ء)

ان کی اپنی تشریح کے مطابق لومڑی والے خواب سے مراد وہ شخص ہے جو اپنے آپ کو پدرم سلطان بود کہتا ہے تو پھر پدرم سلطان بود کا نعرہ تو وہ خود ہی لگاتے ہیں۔ اب میں کیسے کہوں کہوں کہ لومڑی والے رؤیا سے مراد وہ خود ہیں۔ میں اپنے استدلال کے علاوہ ان کے سارے خواب کا تجزیہ کرنا بھی ضروری خیال کرتا ہوں۔ کیونکہ میرا دعویٰ ہے کہ ان کا یہ خواب خود انہی کے متعلق ہے۔

خواب کا تجزیہ

میں نے خواب کو آٹھ حصوں میں تقسیم کر دیا ہے۔ ہر حصے پر نمبر لگا دیئے گئے ہیں اور تمام خواب کا نمبر وار تجزیہ کیا جائے گا۔

کچھ اور دوست ہیں۔ میں اور حضرت مسیح موعود آمنے سامنے دوزانو بیٹھے ہیں۔“

خواب کے ابتداء میں شاطر سیاست اپنے باپ کو دیکھتے ہیں اور اپنے باپ کے سامنے

١٠٤

دوزانو بیٹھے ہیں۔ دوزانو بیٹھنے سے مراد اپنے باپ کے سامنے دوزانو بیٹھنا اس با سامنے باپ کا ادب و احترام اور اس کی جیسا کہ انہوں نے خود اس خواب کی تشریح قرار دیا ہے۔ یہ تشریح درست ہے اور واقعی سلطان بود کا نعرہ لگاتا ہے اور اس سے مراد

سے اجازت لی کہ میں کچھ سنانا چاہتا ہوں گئے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ بڑا قادر الکلام ش

خواب کے اس حصے میں ایک واضح مطلب یہ ہے کہ پدرم سلطان بود کی ہندوستانی ہوں گے اور ان میں ایک شاعر بھ اور غیر اسلامی حرکات کے خلاف واویلا ک ہوئے ہیں۔ ان میں ایک شاعر بھی ہے جو دینے کی کوشش ناکام کی گئی ہے۔

باقی لوگ شاعر کی طرف منہ کر کے بیٹھ گئے

شاطر سیاست کا ان کے باپ کہ وہ اپنے باپ کا ادب احترام اور اس بدعنوانیوں کے خلاف وہ شاعر آواز بلند کرت چنانچہ یہی ہوا کہ جب ١٩٥٦ء میں نوجوان بدعنوانیوں پر تنقید کی ہے تو ان کے مرید وہ بیٹھا اور دل سے متوجہ ہے۔

قصیدہ سنانا شروع کیا۔“

صفحہ ٦٠٧

دوزانو بیٹھے ہیں۔ دوزانو بیٹھنے سے مراد اظہار ادب واحترام ہوتا ہے۔ اس لئے ان کا سر مجلس اپنے باپ کے سامنے دوزانو بیٹھنا اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ وہ اپنے باپ کے مریدوں کے سامنے باپ کا ادب واحترام اور اس کی بڑائی ظاہر کر کے اپنا اولوالعزم ہونا ثابت کرتے ہیں اور جیسا کہ انہوں نے خود اس خواب کی تشریح میں لومڑی سے مراد پدرم سلطان بود کا نعرہ لگانے والا قرار دیا ہے۔ یہ تشریح درست ہے اور واقعی اس خواب میں لومڑی سے مراد وہی شخص ہے جو پدرم سلطان بود کا نعرہ لگاتا ہے اور اس سے مراد وہ خود ہیں۔

سے اجازت لی کہ میں کچھ سنانا چاہتا ہوں۔ آپ کی اجازت سے اس نے اشعار سنانے شروع کئے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ بڑا قادر الکلام شاعر ہے۔“

خواب کے اس حصے میں ایک قادر الکلام شاعر دکھایا گیا ہے جو ہندوستانی ہے۔ جس کا واضح مطلب یہ ہے کہ پدرم سلطان بود کی آمرانہ اور غیر اسلامی حرکات کا انکشاف کرنے والے ہندوستانی ہوں گے اور ان میں ایک شاعر بھی ہوگا۔ چنانچہ جن لوگوں نے شاطر سیاست کی آمرانہ اور غیر اسلامی حرکات کے خلاف واویلا کیا ہے۔ اور جو ١٩٥٦ء میں شاطر سیاست سے علیحدہ ہوئے ہیں۔ ان میں ایک شاعر بھی ہے جو اس گروہ کا صدر ہے۔ جن میں سے ایک کو لومڑی قرار دینے کی کوشش ناکام کی گئی ہے۔

باقی لوگ شاعر کی طرف منہ کر کے بیٹھ گئے۔“

شاطر سیاست کا ان کے باپ مرزا غلام احمد کے سامنے دوزانو بیٹھنے سے یہی مراد ہے کہ وہ اپنے باپ کا ادب احترام اور اس کی بڑائی بیان کرتے ہیں اور جب شاطر سیاست کی بدعنوانیوں کے خلاف وہ شاعر آواز بلند کرتا ہے تو لوگ اس کی طرف منہ کر کے بیٹھ جاتے ہیں۔ چنانچہ یہی ہوا کہ جب ١٩٥٦ء میں نوجوانوں نے ایک شاعر کی قیادت میں شاطر سیاست کی بدعنوانیوں پر تنقید کی ہے تو ان کے مریدوں کا سنجیدہ طبقہ ان نوجوانوں کی باتوں پر کان دھرے بیٹھا اور دل سے متوجہ ہے۔

قصیدہ سنانا شروع کیا۔“

١٠٥

صفحہ ٦٠٨

مرزاغلام احمد قادیانی کے سامنے قصیدہ پڑھنے سے مراد یہ ہے کہ وہ شاعر اور اس کے ساتھی مرزاغلام احمد قادیانی کے مرید ہیں اور وہ شاطر سیاست کی بدعنوانیوں سے تنگ آ کر گریہ وزاری کرتے ہیں۔ چنانچہ اس شاعر کی قیادت میں جو گروپ شاطر سیاست سے علیحدہ ہوا ہے وہ مرزا غلام احمد قادیانی کو تو نبی مانتا ہے۔ لیکن شاطر سیاست کی خلافت کا منکر ہے۔

تھے۔ اس کا مضمون کچھ اس قسم کا تھا کہ آپ کو اللہ تعالیٰ نے دنیا کی ہدایت اور اس کو روشنی پہنچانے کے لئے مامور کیا اور آپ کا لایا ہوا نور دنیا کے مختلف گوشوں میں پھیل گیا۔"

اس حصہ میں بھی اس طرف اشارہ ہے کہ شاطر سیاست سے عدم وابستگی کا اعلان کرنے والے صرف ان کی خلافت سے عدم وابستگی کا اظہار کریں گے۔ مرزا کی نبوت سے نہیں۔

ادھر آتا ہے کہ کالمبیا داریا ایسا ہی علاقہ اس نے ہندوستان کا بتایا ہے کہ وہاں بھی گیا اور لوگ وہاں آپ کے نام سے ناواقف تھے اور آپ کی تعلیم کسی تک نہیں پہنچی تھی۔"

شاطر سیاست فخر سے کہا کرتے ہیں کہ انہوں نے فلاں ملک میں اسلام کی تبلیغ کی یورپ میں مشن کھولا۔ امریکہ میں اسلام پھیلایا۔ شاعر ان ممالک کا ذکر کرتا ہے اور کہتا ہے کہ ان ممالک میں آپ (مرزا غلام احمد قادیانی) کا نام پہنچا ہے لیکن وہ یہ کہہ کر اس مضمون سے اس لئے گریز کر جاتا ہے کیونکہ وہ سمجھتا ہے کہ ان ممالک میں بھی تسلی بخش کام نہیں ہوا۔ چنانچہ اس کا فوراً ہندوستان کے ایک شہر کا نام لے کر یہ کہنا کہ وہاں آپ کی تعلیم نہیں پہنچی۔ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ آپ (یعنی مرزا غلام احمد قادیانی) کی تعلیم تو صحیح طریق سے ہندوستان میں بھی نہیں پہنچی۔ چہ جائیکہ دوسرے ممالک کا نام لیا جائے۔ شاعر نے اس بات میں طنزیہ طور پر بھی کہہ دیا۔ بلکہ شکایت کی کہ آپ (یعنی مرزا غلام احمد قادیانی) کی تعلیم کو پیش نہیں کیا جاتا اور ابھی دنیا اس سے آشنا نہیں ہوئی۔ چنانچہ ایک شاعر کی قیادت میں شاطر سیاست سے عدم وابستگی کرنے والے نوجوانوں نے جہاں اور اعتراض کئے وہاں انہوں نے شاطر سیاست پر ایک اعتراض یہ بھی کیا ہے کہ وہ اپنے باپ کا نام لے کر اپنے مقاصد تو پورے کرتے ہیں لیکن اپنے باپ کی تعلیمات کی اشاعت کی بجائے اپنی مہمل تصانیف کی اشاعت کرتے ہیں یا سندھ میں اپنے نام پر اراضی خریدتے ہیں۔

١٠٦

ان کا مضمون یہ تھا کہ اے مسیح م آپ کے پیغام کو اس علاقہ میں خود حضرت مسیح موعود بھی متاثر نظر اس حصہ میں اس ب مرزا قادیانی کا نظام ایسے ہاتھوں پیش کرنے کی بجائے اس نے مرزا قادیانی کی روح تڑپ کر چنانچہ شاطر سیاس اپنے باپ کی تعلیمات کی اشاع سے اندھا دھند لٹریچر شائع کیا ۔ یہ بھی تھا کہ مرزا قادیانی کی تعلیما لہٰذا مرزا قادیانی کی روح اس ب ہوئے پودے کا بیڑہ غرق ان کے

کو پیدا کیا اور تقویٰ کی عادت او استغفار اور خدا سے معافی مانگنے خصلتیں نہیں رکھیں۔ میں دیکھتا اور استغفار اور انابت الی اللہ کا ا کے اظہار خیالات پر خوش ہو ۔“

رؤیا کے اس حصہ میں لومڑی میں استغفار توبہ اور انابت والا ایک شخص جس میں داخل ہو گیا پیدا کر رہا ہے اور تم اس کے اظہار جس شخص کو شاطر سیا

صفحہ ٦٠٩

ان کا مضمون یہ تھا کہ اے مسیح موعود کیا آپ اس علاقے کے لئے مبعوث ہی نہیں ہوئے تھے یا آپ کے پیغام کو اس علاقہ میں ناکامی ہوئی؟ جب وہ آخری شعر پڑھنے لگا تو مجلس مسحور ہوگئی اور خود حضرت مسیح موعود بھی متاثر نظر آتے تھے اور بار بار ذکر الٰہی کرتے تھے۔“

اس حصہ میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ ایک وقت ایسا بھی آئے گا جب مرزا قادیانی کا نظام ایسے ہاتھوں میں چلا جائے گا جو مرزا قادیانی کی تعلیمات کو دنیا کے سامنے پیش کرنے کی بجائے اس سے بھی مہمل اور تھرڈ کلاس قسم کا لٹریچر شائع کریں گے اور اس وقت مرزا قادیانی کی روح تڑپ کر غیرت میں آجائے گی اور وہ متاثر ہوکر ذکر الٰہی شروع کردیں گے۔

چنانچہ شاطر سیاست کا رؤیا کا یہ حصہ بھی خود ان ہی سے متعلق ہے۔ کیونکہ انہوں نے اپنے باپ کی تعلیمات کی اشاعت کی بجائے اپنے مصلح موعود ہونے کا پروپیگنڈا کرنے کی غرض سے اندھا دھند لٹریچر شائع کیا۔ ان کے باغیوں نے ان پر جو الزامات عائد کئے ان میں ایک الزام یہ بھی تھا کہ مرزا قادیانی کی تعلیمات کی اشاعت کے بجائے فضول قسم کا لٹریچر شائع کررہے ہیں۔ لہٰذا مرزا قادیانی کی روح اس رؤیا کے مطابق اس وقت تڑپ رہی ہوگی۔ کیونکہ ان کے لگائے ہوئے پودے کا بیڑہ غرق ان کے بیٹے ہی کے ہاتھوں سے ہورہا ہے۔

کو پیدا کیا اور تقویٰ کی عادت اور پرہیزگاری کا مادہ اس میں رکھا اور اگر وہ غلطی کر بیٹھے تو توبہ اور استغفار اور خدا سے معافی مانگنے کی طاقت اور رغبت اس میں پیدا کی۔ لیکن لومڑی میں اس نے یہ خصلتیں نہیں رکھیں۔ میں دیکھتا ہوں کہ ایک لومڑی تمہارے اندر داخل ہوگئی ہے اور بہت ہی توبہ اور استغفار اور انابت الی اللہ کا اظہار کرتے ہوئے تمہارے اندر رسوخ پیدا کررہی ہے اور تم اس کے اظہار خیالات پر خوش ہو۔“

رؤیا کے اس حصہ میں لومڑی کی خصلت بیان کی گئی ہے اور بتایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے لومڑی میں استغفار توبہ اور انابت الی اللہ کی خصلتیں نہیں رکھیں۔ لیکن لومڑی کے سے خصائل رکھنے والا ایک شخص تم میں داخل ہوگیا ہے اور وہ عجز وانکسار اور انابت الی اللہ کا اظہار کر کے تم میں رسوخ پیدا کررہا ہے اور تم اس کے اظہار خیال پر خوش ہورہے ہو۔

جس شخص کو شاطر سیاست نے اس رؤیا کے مطابق لومڑی قرار دینے کی سعی کی ہے۔

١٠٧

صفحہ ٦١٠

اس نے کبھی بھی استغفار اور انابت الی اللہ سے لوگوں میں رسوخ پیدا کرنے کی کوشش نہیں کی۔ اس لئے اس شخص کو اس کا مصداق قرار دینا کذب بیانی ہے۔ ہاں شاطر سیاست اپنے باپ کے مریدوں میں انابت الی اللہ استغفار اور توبہ کا اظہار کر کے اپنا اثر رسوخ پیدا کرتے رہے اور کر رہے ہیں اور وہی ہیں جن کے اظہار خیال پر ان کے مرید سر دھنتے ہیں۔ چنانچہ وہ ایک جگہ فرماتے ہیں: ”پس دوستوں کو چاہئے کہ اگر دل میں غصہ پیدا ہو تو استغفار کریں۔“

(الفضل مورخہ ١٠؍ اگست ١٩٣٧ء)

”جوں جوں اللہ تعالیٰ کے انعامات تم پر بڑھتے چلے جائیں۔ تم انکسار اور انابت الی اللہ میں بڑھ جاؤ۔“

(خطبہ جمعہ الفضل مورخہ ٥؍ فروری ١٩٥٧ء)

پھر ایک دوسری جگہ فرماتے ہیں: ”اے دوستو! اب بھی وقت ہے توبہ کرو اور سنبھلو۔ توبہ کرو اور سنبھلو۔ پھر توبہ کرو اور سنبھلو۔“

(الفضل مورخہ ٢٠؍ اگست ١٩٣٧ء)

اب بتائیے کہ ان کے سوا اور کون ہے جو انابت الی اللہ، استغفار اور توبہ سے اپنے مریدوں میں اثر و رسوخ پیدا کرتا ہے؟ رؤیا میں صاف الفاظ میں بتایا گیا ہے کہ ایک لومڑی انابت الی اللہ ذکر کر کے رسوخ پیدا کر رہی ہے اور لوگ اس کے اظہار خیالات پر سر دھننے میں مصروف ہیں۔ انہیں اس لومڑی کے اظہار خیالات پر خوش نہیں ہونا چاہئے۔ مندرجہ بالا دلائل کی روشنی میں صاف طور پر واضح ہے کہ اس رؤیا میں ان کو جس لومڑی کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ اس سے مراد خود ہیں۔ لیکن آئیے ذرا لومڑی کے خصائل بھی دیکھ لیں کہ آیا شاطر سیاست خصائل کے اعتبار سے بھی رؤیا والی لومڑی کے مصداق ہیں یا نہیں۔

لومڑی کے خصائل

لومڑی کے جو خصائل بیان کئے جاتے ہیں وہ حسب ذیل ہیں:

ان خصائل کی روشنی میں دیکھا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ ان میں یہ تمام خصوصیات موجود ہیں۔ ان کی ذہانت کا کون قائل نہیں۔ موقع شناسی ان کی مشہور ہے۔ ریاکاری عجز و انکساری اور مکاری بھی ان کا طرہ امتیاز ہے۔ مثلاً سارے جہان کو وہ بدخصال، لغو

١٠٨

صفحہ ٦١١

گو، بازاری لوگ، حرامزادے، حریص، خودغرض، بے ایمان، منافق، مسیلمہ کذاب، سیاہ کار، یہودی اور بے حیا تک کی گالیاں دے جاتے ہیں۔ لیکن جب ان کے خلاف کوئی جماعت یا کوئی گروہ اقدام کرے تو حکومت وقت کے دروازے پر پہنچ کر مظلوم بن جاتے ہیں اور کہنا شروع کر دیتے ہیں کہ حضور دیکھئے ہم بڑے پرامن ہیں۔ یہ لوگ ہمیں تنگ کرتے ہیں۔ ہمیں قتل کرنا چاہتے ہیں۔ ہماری حفاظت کی جائے۔ ہم پرامن ہیں اور پرامن رہیں گے۔ یہ ہمارے مخالف بڑے کمینے لوگ ہیں۔ ہمیں چین سے بیٹھنے نہیں دیتے۔ دوڑیو بچائیو! مار گئے۔ دوڑیو دوڑیو بچائیو!

یہ خصوصیت لومڑی کی ہے اور اسی کا نام مکر و ریا ہے۔ پس مندرجہ بالا دلائل کی روشنی میں شبہ کی گنجائش باقی نہیں رہتی کہ شاطر سیاست کا شیطان کی آنت جتنا لمبا خواب اگر فی الحقیقت انہوں نے دیکھا ہے تو خود ان ہی سے متعلق ہے اور اس رؤیا میں جس شخص کو لومڑی قرار دیا گیا ہے۔ اس سے بھی وہی مراد ہیں اور ان کے سوا کوئی دوسرا شخص اس کا مصداق نہیں ہے۔ لیکن اس کے باوجود ہم یہ کہنے کی جسارت کبھی بھی نہیں کریں گے کہ شاطر سیاست لومڑی ہیں۔

کہیں تو کیسے کہیں ہم کو تم سے الفت ہے
تمہاری بات ہے ہم سے کہی نہیں جاتی

استقامت میں فرق آ گیا

جس طرح شاطر سیاست نے نوجوان ملزمین میں سے ایک شخص کو اپنے لومڑی والے رؤیا کا مصداق قرار دیا تھا۔ بعینہ انہوں نے مرزاغلام احمد قادیانی کے الہام ”استقامت میں فرق آ گیا“ کہ ملزمین میں سے ایک شخص عبدالمنان عمر پر چسپاں کیا ہے۔ عبدالمنان عمر حکیم نورالدین (خلیفہ اوّل) کے لڑکے ہیں اور انہیں شاطر سیاست نے محض اس لئے اپنی جماعت سے خارج کر دیا ہے کہ وہ ان کی زندگی کے بعد خلیفہ ہی نہ بن جائیں۔ سوانہوں نے اس موقع پر حسب معمول مرزا غلام احمد قادیانی کا ایک ”الہام“ جلی حروف میں شائع کیا ہے اور اس الہام کا مصداق عبدالمنان عمر کو قرار دیا ہے۔ آئیے دیکھیں کہ ان کا استدلال کہاں تک درست ہے۔ تاکہ یہ واضح ہو جائے کہ انہیں ایسی باتیں کرنے سے کیا مقصود ہوتا ہے اور نیز یہ کہ وہ کہاں تک حق گو ہیں اور پھر یہ بھی دیکھیں کہ کہیں مرزا غلام احمد قادیانی کا یہ الہام یا رؤیا یا کشف بھی شاطر سیاست سے متعلق ہی تو نہیں۔ ہماری اس بحث سے خلافت مآب کی حقانیت کا پول کھل جائے گا۔

مرزا غلام احمد قادیانی کہتے ہیں: ”میں نے خواب میں دیکھا کہ ایک شخص اپنی جماعت

١٠٩

صفحہ ٦١٢

میں سے گھوڑے پر سے گر پڑا۔ پھر آنکھ کھل گئی۔ سوچتا رہا کہ کیا تعبیر کریں۔ قیاسی طور پر جو بات اقرب ہو لگائی جاسکتی ہے کہ اس اثناء میں غنودگی غالب ہوئی اور الہام ہوا۔ ”استقامت میں فرق آ گیا۔“

(تذکرہ ص ٤٦٦ طبع ٣، بدر ج ٢ نمبر ١٠ مورخہ ٢٧ مارچ ١٩٠٣ء)

مرزا قادیانی کے اس الہام کے بعد ایک روز حکیم نورالدین (خلیفہ اوّل) گھوڑے پر سے گر پڑے۔ شاطر سیاست نے جو نورالدین کے عہد خلافت میں ہی ان کے مخالف تھے اور اندرونی طور پر ان کے خلاف سازشیں کر رہے تھے۔ حکیم نورالدین کو ایک گمنام خط لکھا جس میں تحریر کیا کہ نورالدین کے گھوڑے سے گرنے سے مرزا غلام احمد کا الہام پورا ہوگیا ہے۔ جب وہ خط حکیم کو ملا تو انہوں نے کہا: ”ایک نے مجھے خط چھپوا کر بھیجا اور پوچھا کہ میں اسے شائع کردوں۔ میں نے کہا تم نے قرآن کے خلاف کیا تم بدبخت ہو۔ اس نے کہا تم گھوڑے پر سے گر گئے ہو، تم میں استقامت ہی نہیں۔“

(تقریر نورالدین مورخہ ٢٨ دسمبر ١٩١٣ء)

جب شاطر سیاست نے حکیم نورالدین کی یہ تقریر سنی تو حکیم نورالدین کو خوش کرنے کی غرض سے اس گمنام خط کا ایک جواب لکھا (یاد رہے کہ انہوں نے گمنام خط بھی خود ہی لکھا تھا) اور اسے اظہار حقیقت کے عنوان سے ایک ٹریکٹ کی صورت میں شائع کیا جس میں لکھا کہ: ”اس سے معلوم ہوا کہ استقامت میں فرق آ گیا۔ اس خواب کی تعبیر ہے۔ پس جس شخص کی نسبت وہ الہام ہے وہ تو گھوڑے سے نہیں گرے گا۔ بلکہ اس کے گھوڑے سے گرنے کی تعبیر یہ ہے کہ اس کی استقامت میں فرق آ گیا۔ لیکن نورالدین صاحب (خلیفہ المسیح) تو خود گھوڑے پر سے گر گئے۔ پس وہ الہام آپ کی نسبت نہیں ہوسکتا۔“

(اظہار حقیقت)

اس وضاحت میں بھی اس بات کا اقرار موجود ہے کہ یہ الہام حکیم نورالدین سے متعلق نہیں تھا۔ چنانچہ اس وضاحت کی روشنی میں حسب ذیل دو باتیں غور طلب ہیں۔ جنہیں پیش نظر رکھنا ضروری ہے۔

گھوڑے سے گرتے ہوئے ایک شخص کو دکھانے کی تعبیر یہ ہے کہ استقامت میں فرق آ گیا ہے۔

١١٠

صفحہ ٦١٣

اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر یہ الہام حکیم نورالدین سے متعلق نہیں تو پھر کس کے متعلق ہے۔ شاطر سیاست نے اس الہام کا مصداق حکیم نورالدین کی اولاد کو قرار دینے کی کوشش کی ہے۔ انہوں نے لکھا ہے: ”علم تعبیر الرؤیا کا علم رکھنے والے جانتے ہیں کہ بعض دفعہ خواب میں باپ دکھایا جاتا ہے ۔ لیکن اس کے بیٹے کے ذریعہ خواب پوری ہوتی ہے۔ جیسا کہ رسول کریم ﷺ نے خواب میں دیکھا کہ ابو جہل نے انگور کا ایک خوشہ حضور ﷺ کو دیا ہے۔ لیکن اس کی تعبیر یہ ظاہر ہوئی کہ اس کا بیٹا اسلام قبول کر کے اسلام میں داخل ہو گیا۔ پس الہام استقامت میں فرق آگیا کے مصداق حضرت خلیفہ اوّل کسی صورت میں بھی نہیں ہو سکتے۔ ہاں! آپ کی اولاد اپنے عمل سے اپنے آپ کو اس کا ضرور مصداق ثابت کر رہی ہے۔“

(الفضل مورخہ ٢٩ ستمبر ١٩٥٦ء)

انہوں نے اس بھونڈے استدلال سے یہ ثابت کرنے کی سعی فرمائی ہے کہ اس الہام سے مراد نورالدین کی معتوب اولاد ہے اور علم تعبیر الرؤیا کی رو سے یہ تو درست ہے کہ بعض دفعہ خواب میں باپ دکھایا جاتا ہے۔ لیکن اس کے بیٹے کے ذریعہ خواب پورا ہوتا ہے۔ لیکن اس کشف میں باپ نہیں دکھایا گیا۔ بلکہ گرنے والا نامعلوم شخص ہے اور اس کی تعبیر استقامت میں فرق آنا بیان کی گئی ہے۔ شاطر سیاست نے اپنے استدلال کے حق میں جو مثال پیش کی ہے۔ اس میں خواب دیکھنے والے سرور کائنات ﷺ ہیں اور ان کو انگور کا خوشہ دینے والا ابو جہل ہے۔ اب اگر مرزا قادیانی اپنے کشف میں نورالدین کو گھوڑے سے گرتے ہوئے دیکھتے تو پھر شاطر سیاست کا استدلال ٹھیک تھا۔ لیکن گھوڑے سے گرنے والا نامعلوم شخص ہے اور پھر گھوڑے سے گرنے سے مراد گھوڑے سے گرنا نہیں بلکہ استقامت میں فرق آنا ہے۔ جیسا کہ شاطر سیاست نے خود تسلیم کیا ہے۔ پس اس الہام پر غور کرنے سے صاف طور پر ظاہر ہے کہ وہ الہام نہ ہی حکیم مولوی نورالدین کے متعلق ہے اور نہ ہی اس کی مصداق ان کی اولاد ہے۔ اب رہا یہ سوال کہ پھر اس کا مصداق کون ہے تو آئیے اس کے تمام پہلوؤں کا بغور جائزہ لیں۔

مرزا قادیانی پر کشفی حالت طاری ہوتی ہے اور وہ دیکھتے ہیں کہ ان کی جماعت میں سے ایک شخص گھوڑے سے گر پڑا ہے۔ وہ اس کی تعبیر پر غور کرتے ہیں کہ الہامی کیفیت طاری ہو جاتی ہے اور الہام ہوتا ہے کہ استقامت میں فرق آگیا۔ اب ہمیں یہ دیکھنا پڑے گا کہ استقامت سے کیا مراد ہے۔ کس کی استقامت میں فرق آیا ہے اور نیز کشفی نظارہ کا اس الہامی فقرہ سے کیا تعلق ہے۔

١١١

صفحہ ٦١٤

جب کسی شخص کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے نور میسر آتا ہے تو سب سے پہلے اس کا تعلق ہدایت سے ہوتا ہے اور ہدایت کی مثال گھوڑے سے دی جاسکتی ہے۔ جس پر انسان سوار ہو کر منزل مقصود کی طرف گامزن ہو پڑتا ہے۔ اس سلسلہ میں شاطر سیاست بھی ہمارے ساتھ متفق ہیں: ”مؤمن کو اپنی منزل مقصود پر پہنچنے کے لئے کسی اور سواری کی ضرورت نہیں رہتی۔ بلکہ ہدایت ہی اس کا گھوڑا بن جاتی ہے اور وہ اس پر سوار ہو کر اپنے رب کے پاس پہنچ جاتا ہے۔“

(الفضل مورخہ ١٨؍اکتوبر ١٩٥٦ء)

پھر شاطر سیاست فرماتے ہیں کہ: ”علیحدگی کے یہ معنی ہیں کہ مؤمن ہدایت پر سوار ہوتا ہے۔“

(الفضل مورخہ ١٨؍اکتوبر ١٩٥٦ء)

پس یہ امر مسلم ہے کہ ہدایت ہی انسان کا گھوڑا ہوتی ہے۔ جس پر انسان سوار ہو کر اپنی منزل کی طرف روانہ ہو پڑتا ہے۔ ہدایت کے بعد دوسرا مقام عقائد کا ہے۔ جب انسان کو ہدایت میسر آتی ہے تو اس کے ساتھ ہی عقائد بھی اسے دے دیئے جاتے ہیں۔ عقائد کو گھوڑے کی زین (کاٹھی) سے تعبیر کیا جاسکتا ہے۔ یعنی ہدایت اور عقائد دونوں چیزیں ہم آہنگ ہو کر انسان کو منزل مقصود پر پہنچاتی ہیں اور ان دونوں چیزوں کا تعلق انسان کی قوت و استقامت سے ہے۔ پس کشفی حالت میں گھوڑے سے گرتے ہوئے جس شخص کو دکھایا گیا ہے اس سے مراد یہ ہے کہ وہ شخص ہدایت اور عقائد کا دامن چھوڑ دے گا اور ہدایت اور عقائد کے اعتبار سے اس کی استقامت میں فرق آجائے گا۔ اب آئیے دیکھیں کہ ہدایت اور عقائد کے اعتبار سے کس کی استقامت میں فرق آیا ہے؟

تحقیقاتی کمیشن کے سامنے انہوں نے فرمایا تھا کہ آنحضرت ﷺ بھی معصوم نہیں ہیں اور نیز یہ کہ اگر کوئی شخص چاہے تو آنحضرت ﷺ سے بھی تقویٰ اور پرہیزگاری میں بڑھ سکتا ہے۔ علاوہ ازیں شاطر سیاست خدا تعالیٰ کی طرف بھی غلط باتیں منسوب کر کے اپنی مصلحتیں پوری کرتے ہیں۔ جس کا واضح مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ پر بھی ان کا ایمان نہیں ہے۔ لہٰذا انہوں نے ہدایت سے روگردانی کر لی۔

باقی رہا عقائد تو تحقیقاتی کمیشن میں انہوں نے اپنے عقائد بھی تبدیل کر لئے اور کہہ دیا کہ مرزا قادیانی کا منکر کافر نہیں ہے۔ حالانکہ اس سے قبل وہ مرزا قادیانی کے منکر کو کافر کہتے تھے۔ ”کسی مدعی ماموریت کو جب کوئی نہ مانے تو اسے کافر کے سوا کیا کہا جاسکتا ہے۔“

(الفضل مورخہ ٧؍اگست ١٩٣٧ء)

١١٢

جس کا واضح مطلب یہ ہے کہ ہدایت اور عقائد دونوں سے انحراف کر کے دی۔ پس یہ ثابت ہو گیا کہ استقامت لیکن ان کی طرف سے اس ا سراسر زیادتی اور لوگوں کو بے وقوف بنانے سیاست کے سوا کسی سے متعلق نہیں ہو سکتا۔ تجزیہ کرنے سے ہمیں صرف یہ مقصود ہے کہ حالات پر چسپاں کر کے اپنے مطلب کے وقوف بناتے ہیں۔ حالانکہ ایسے رویا و کشوف باب

مرزا غلام احمد قادیانی

بخششوں نے ہمیں گستاخ کر دیا۔

(براہین احمدیہ ص ٥٥٦، ٥٥٥)

شخص کامل طور پر رسول اللہ کہلاتا ہے اس کا کامل دوسرے نبی کا مطیع اور امتی ہو جانا نصوص قرآنیہ حدیثیہ کی رو سے بکلی ممتنع ہے۔ اللہ جل شانہ فرماتے ”وما ارسلنا من رسول الا ليطاع ب الله“ یعنی ہر ایک رسول مطاع اور امام بنانے کے بھیجا جاتا ہے۔ اس غرض سے نہیں بھیجا جاتا ک دوسرے کا مطیع اور تابع ہو۔“

(ازالۃ الاوہام حصہ دوم ص ٥٦٩)

صفحہ ٦١٥

جس کا واضح مطلب یہ ہے کہ انہوں نے عقائد بھی تبدیل کر لئے۔ لہٰذا انہوں نے ہدایت اور عقائد دونوں سے انحراف کر کے گھوڑے سے گرنے کی کشفی حالت کی عملاً وضاحت کر دی۔ پس یہ ثابت ہو گیا کہ ”استقامت میں فرق آ گیا“ والا الہام شاطر سیاست ہی سے متعلق تھا۔ لیکن ان کی طرف سے اس الہام کا عبدالمنان عمر یا کسی دوسرے شخص پر چسپاں کرنا سراسر زیادتی اور لوگوں کو بے وقوف بنانے کی سعی ناپاک ہے۔ ورنہ مرزا قادیانی کا یہ الہام شاطر سیاست کے سوا کسی سے متعلق نہیں ہو سکتا۔ مرزا قادیانی کے اس الہام اور شاطر سیاست کے رؤیا کا تجزیہ کرنے سے ہمیں صرف یہ مقصود ہے کہ خلافت مآب مہمل خود ساختہ رؤیا و کشوف والہامات کو حالات پر چسپاں کر کے اپنے مطلب کے مطابق معنی نکال کے بھولے بھالے مریدوں کو بے وقوف بناتے ہیں۔ حالانکہ ایسے رؤیا و کشوف محض دروغ گوئی ہیں۔

باپ سچا ہے یا بیٹا؟

مرزا غلام احمد قادیانی

مرزا محمود احمد قادیانی

(١) ”کرم ہائے تو مارا کرد گستاخ“ ترجمہ: تیری بخششوں نے ہمیں گستاخ کر دیا۔

(براہین احمدیہ ص ٥٥٥،٥٥٦ حاشیہ)

(١) ”نادان ہے وہ شخص جس نے کہا ہے: ”کرم ہائے تو مارا کرد گستاخ“ کیونکہ خدا کے فضل انسان کو گستاخ نہیں بنایا کرتے۔ بلکہ اور زیادہ شکر گزار اور فرمانبردار بناتے ہیں ۔“

(الفضل مورخہ ٢٣ جنوری ١٩٢٧ء)

(٢) ”صاحب نبوت تامہ ہرگز امتی نہیں ہو سکتا اور جو شخص کامل طور پر رسول اللہ کہلاتا ہے اس کا کامل طور پر دوسرے نبی کا مطیع اور امتی ہو جانا نصوص قرآنیہ اور حدیثیہ کی رو سے بکلی ممتنع ہے۔ اللہ جل شانہ فرماتا ہے: ”وما ارسلنا من رسول الا ليطاع باذن اللہ “ یعنی ہر ایک رسول مطاع اور امام بنانے کے لئے بھیجا جاتا ہے۔ اس غرض سے نہیں بھیجا جاتا کہ کسی دوسرے کا مطیع اور تابع ہو۔“

(ازالہ اوہام حصہ دوم ص ٥٦٩، خزائن ج ٣ ص ٤٠٧)

(٢) ”بعض نادان کہہ دیا کرتے ہیں کہ نبی کسی دوسرے کا متبع نہیں ہو سکتا اور اس کی دلیل یہ دیتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں فرماتا ہے کہ: ”ومـــــا ارسلنا من رسول الا ليطاع باذن الله“ اور اس آیت سے حضرت مسیح موعود کی نبوت کے خلاف استدلال کرتے ہیں۔ لیکن یہ سب بسبب قلت تدبر ہے۔“

(حقیقت النبوۃ حصہ اوّل ص ١٥٥)

١١٣

صفحہ ٦١٦

(٣) ”انبیاء اس لئے آتے ہیں تاکہ ایک دین دوسرے دین میں داخل کریں اور ایک قبلہ سے دوسرا قبلہ مقرر کرا دیں اور بعض احکام کو منسوخ کر دیں اور بعض نئے احکام لاویں۔“

(آئینہ کمالات اسلام ص ٣٣٩ ، خزائن ج ٥ ص ایضاً)

(٣) ”نادان مسلمانوں کا خیال تھا کہ نبی کے لئے یہ شرط ہے کہ وہ کوئی نئی شریعت لائے یا پہلے احکام میں سے کچھ منسوخ کرے یا بلاواسطہ نبوت پائے۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے مسیح موعود کے ذریعہ اس غلطی کو دور کر دیا۔“

(حقیقت النبوۃ حصہ اوّل ص ١٣٢)

(٤) ”میرے پر یہی کھولا گیا ہے کہ حقیقی نبوت کے دروازے بالکل بند ہیں۔ اب نہ کوئی حقیقی معنوں کی رو سے آسکتا ہے اور نہ کوئی قدیم نبی۔ مگر ہمارے ظالم مخالف ختم نبوت کے دروازوں کو پورے طور پر بند نہیں سمجھتے۔“

(سراج المنیر ص ٣ ، خزائن ج ١٢ ص ٥)

(٤) ”اور یہی محبت تو ہے جو مجھے اس بات پر مجبور کرتی ہے کہ باب نبوت کے بالکل بند ہونے کے عقیدہ کو جہاں تک ہو سکے باطل کروں کہ اس میں آنحضرت ﷺ کی ہتک ہے۔“

(حقیقت النبوۃ حصہ اوّل ص ١٨٦)

خلافت مآب کے منافق

خلافت مآب نے ایک نہیں دو نہیں بلکہ تقریباً ہر اس شخص کو منافق قرار دے دیا ہے جس نے کبھی کسی جہت سے بھی ان کی کسی دھاندلی کے خلاف آواز اٹھائی یا ان کے دل میں اس کے خلاف بدظنی پیدا ہو گئی۔ چنانچہ مرزا غلام احمد کے بڑے مخلص مریدوں میں سے بعض کو منافق قرار دیا گیا ہے اور بعض کی اولاد پر منافقت کا لیبل لگا کر انہیں ذلیل و خوار کیا ہے۔ ذیل میں شاطر سیاست کے چند منافقین کے اسمائے گرامی درج کئے جارہے ہیں۔ ان میں سے بعض کو منافق قرار نہیں دیا گیا۔ بلکہ ان کی اولاد کو منافق قرار دیا گیا۔

مفتی صاحب بڑے پرانے قادیانی تھے۔ انہوں نے مرزا غلام احمد کے ہاتھ پر بیعت کی اور پھر ساری زندگی انہی کے مشن کی تبلیغ میں صرف کر دی۔ انہی دنوں فوت ہوئے ہیں۔ زندگی کے آخری ایام میں ان کی خدمات کا جو صلہ شاطر سیاست نے انہیں دیا وہ شاطر سیاست کے پرائیویٹ سیکرٹری کے خط سے ظاہر ہے جو اس نے شاطر سیاست کے توسط سے مفتی صاحب کو لکھا تھا اور جس میں مفتی صاحب کو بھی منافق قرار دیا گیا۔ خط کا اصل میرے پاس موجود ہے۔ اس کی نقل ملاحظہ فرمائیے:

١١٤

بخدمت السلام علیکم ورحمۃ اللہ آپ کی خدمت میں العزیز عائشہ صاحبہ کے ایک خط کی نے پالا وہ اولاد کیا حرکتیں کرتی ہے میں ایسا گند پیدا ہو گیا ہے۔ آ... مولوی نورالدین صاحب؟ اور ن... کتاب جو کہ مولوی صاحب ... مقابل پر پیش کی جاسکتی ہے؟ (...)

اس خط میں مفتی صا... ہے کہ مفتی صاحب اسی غم میں راہ...

سارا خاندان منافق ق...

ان کی اولاد کو منافق ک...

یہ شاطر سیاست کے...

منافق کا لقب حاصل القاب سے نوازا جاتا ہے۔ اخرام...

غیر مومن کی ڈگری...

منافقت کی ڈگری...

صفحہ ٦١٧

بخدمت مکرم و محترم مفتی محمد صادق صاحب

السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ، آپ کی خدمت میں حسب ذیل ارشاد سیدنا حضرت امیر المومنین ایدہ اللہ بنصرہ العزیز عائشہ صاحبہ کے ایک خط کی نقل ارسال ہے۔ حضور پر نور فرماتے ہیں۔ جن کو آپ نے بیٹا کر کے پالا وہ اولاد کیا حرکتیں کرتی ہے۔ آپ کے اندر بھی ضرور منافقت ہوگی۔ تبھی تو آپ کی اولاد میں ایسا گند پیدا ہو گیا ہے۔ آپ قسم کھا کر بتلائیں کہ کتابیں حضرت مسیح موعود لکھا کرتے تھے یا مولوی نورالدین صاحب؟ اور پھر آپ اپنے بچوں کے سر پر ہاتھ رکھ کر قسم کھا کر بتائیں کہ فلاں کتاب جو کہ مولوی صاحب نے لکھی ہے اس کی ایک سطر بھی حضرت مسیح موعود کی کسی کتاب کے مقابل پر پیش کی جاسکتی ہے؟ (نقل مطابق اصل)

والسلام! پرائیویٹ سیکرٹری

اس خط میں مفتی صاحب کو صاف الفاظ میں منافق کہا گیا ہے۔ چنانچہ بیان کیا جاتا ہے کہ مفتی صاحب اسی غم میں راہی ملک عدم ہوگئے۔ ”انا للہ وانا الیہ راجعون“

سارا خاندان منافق قرار دیا جاچکا ہے۔

ان کی اولاد کو منافق گردانا جا چکا ہے۔

یہ شاطر سیاست کے بھائی ہیں۔ منافق اور بزدل کے القاب سے نوازے جاچکے ہیں۔

منافق کا لقب حاصل کر چکے ہیں اور نہ جانے ان کو شاطر سیاست کی طرف سے کن کن القاب سے نوازا جاتا ہے۔ اخراج و مقاطعہ اور روبہ بدر کے انعامات بھی حاصل کر چکے ہیں۔

غیر مؤمن کی ڈگری حاصل کرچکے ہیں۔

منافقت کی ڈگری سے سرفراز ہوچکے ہیں۔

١١٥

صفحہ ٦١٨

چار بیٹوں میں سے تین منافق قرار دیئے جاچکے ہیں اور ایک منافقین کی ”ویٹنگ لسٹ“ میں ہی تھا کہ فوت ہوگیا۔

بڑا لڑکا منافق گردانا جاچکا ہے اور باقی زیر غور ہیں۔

اولاد میں سے بعض منافق قرار دیئے جاچکے ہیں۔

لڑکے کو منافق کی ڈگری دی گئی ہے اور ربوہ بدر کردیا گیا ہے۔

منافق قرار دیئے جاچکے ہیں۔

آمرانہ خصوصیات

میں نے گذشتہ مضامین میں شاطر سیاست کی چند بدعنوانیوں اور غیر اسلامی حرکات کا ذکر کیا ہے۔ ان میں بتایا گیا ہے کہ وہ اسلام کی آڑ لے کر ایک سیاسی نصب العین کے تحت بادشاہت کے رنگ میں آمریت قائم کئے ہوئے ہیں اور ان کی وہ تمام بدعنوانیاں اور دھاندلیاں ہی ان کی آمریت کا بین ثبوت ہیں۔ آمر جس عہد میں بھی منصہ شہود پر آئے ۔ انہوں نے ہر جائز وناجائز طریق سے عوام الناس میں اپنی بات منوائی اور جنہوں نے ان پر نکتہ چینی کی۔ انہوں نے ان پر رنگا رنگ ستم ڈھائے۔ یہی سب باتیں ہمیں شاطر سیاست میں ملتی ہیں۔ ان کی زندگی کا نفسیاتی تجزیہ کرنے سے یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہو جاتی ہے کہ گو زبان سے وہ ہستی باری تعالیٰ پر یقین رکھنے کا دعویٰ کرتے ہیں۔ لیکن دل میں وہ اپنے آپ کو خدا کے برابر سمجھتے ہیں۔ میں اپنے اس دعویٰ کے جواز میں ان کا ایک اقتباس نقل کرتا ہوں۔ جب انہوں نے اپنے لخت جگر (مرزا ناصر احمد) کو اپنے بعد خلیفہ بنانے کی سازش کا آغاز کیا اور اپنے صاحبزادے کے مخالفین پر یا جن کے متعلق ان کا خیال تھا کہ وہ مخالف ہیں چند الزامات عائد کیے تو مولوی علی محمد اجمیری نے

١١٦

صفحہ ٦١٩

جو راولپنڈی کے رہنے والے ہیں ان کو ایک خط میں لکھا کہ انہوں نے بعض لوگوں پر جو الزامات عائد کئے ہیں ان کی تحقیقات کے لئے غیر جانبدار کمیشن مقرر کیا جائے۔ مولوی علی محمد اجمیری کے لئے مطالبہ کے جواب میں شاطر سیاست فرماتے ہیں: ”عیسائی تو خدا پر بھی اعتراض کرتے ہیں کہ قرآن میں حیض اور لواطت کا ذکر ہے۔ ایسی علمی کتاب جس کے پڑھنے کا عورتوں اور لڑکیوں کو بھی حکم ہے۔ اس میں ایسا ذکر آنا بہت نامناسب ہے۔ لیکن خدا تعالیٰ نے ان معترضین کی بات نہیں مانی۔ میں بھی آپ کی بات کو کوئی اہمیت نہیں دیتا۔“

(الفضل مورخہ ١٣؍ ستمبر ١٩٥٦ء)

گویا شاطر سیاست اپنے اور خدا کے مقام میں کوئی فرق نہیں سمجھتے۔ بلکہ اپنے آمرانہ جواب کے جواز میں جو مثال دیتے ہیں اس میں اللہ تعالیٰ نے ایک اعتراض کو مسترد کیا ہے۔ لیکن وہ اس مثال کو وجہ جواز گردان کر جب ایک اعتراض کو مسترد کرتے ہیں تو سننے والے پر یہ اثر ہوتا ہے کہ گویا وہ بھی اپنا مقام اللہ تعالیٰ کے برابر سمجھتے ہیں۔ مقنع نے پہلے پیغمبری کا دعویٰ کیا تھا اور بعد میں خدا بن بیٹھا تھا۔ اگر شاطر سیاست اب ایسا کوئی دعویٰ زبان سے بھی کر دیں تو کوئی مضائقہ نہیں۔ جب دل میں وہ اپنا مقام خدا تعالیٰ سے کم نہیں سمجھتے تو اسے زبان پر لانے میں شرم کیسی؟

شاطر سیاست کے مندرجہ بالا جواب میں ایک اور بات بھی قابل غور ہے اور وہ یہ کہ ان کا انداز گفتگو کتنا بھونڈا اور متکبرانہ ہے۔ حالانکہ جب ان کا دعویٰ فضل عمر اور مثیل عمر ہونے کا ہے تو پھر جواب میں نرمی تدبر اور حقائق و براہین ہونے چاہئیں۔ حضرت عمرؓ کا چادر والا واقعہ کتنا مشہور ہے۔ جب ایک جوان نے سرِ مجلس ان پر اُٹھ کر اعتراض کیا تو انہوں نے یہ نہیں فرمایا کہ چونکہ اللہ تعالیٰ نے عیسائیوں کا اعتراض نہیں مانا تھا۔ لہٰذا میں بھی آپ کے اعتراض کو کوئی اہمیت نہیں دیتا۔ بلکہ انہوں نے بڑی حلیمی بردباری اور محبت سے معترض کی تسلی کر دی۔ اسی طرح آمریت مآب کا ایک اور اقتباس ملاحظہ ہو۔ مولوی علی محمد اجمیری کے تحقیقاتی کمیشن کے مطالبہ کے جواب میں فرماتے ہیں: ”آپ (مولوی علی محمد اجمیری) نے لکھا ہے کہ ان باتوں کی جانچ کے لئے کمیشن مقرر کر دیں۔ میں خلیفہ ہوں۔ آپ خلیفہ نہیں ہیں جو احمدی کمیشن کے حق میں ہیں۔ آپ ان کو اور منان (مولوی عبدالمنان عمر) کو لے کر الگ ہو جائیں اور اپنی الگ خلافت قائم کر لیں۔“

(الفضل مورخہ ١٣؍ ستمبر ١٩٥٦ء)

سبحان اللہ! کیا اندازِ خطابت ہے۔ بیان میں کتنی شیرینی اور کتنی بردباری ہے۔ ایک

١١٧

صفحہ ٦٢٠

ایک لفظ دلائل و براہین کا آئینہ دار ہے۔ بات بات سے علم و عرفان کے چشمے ابل رہے ہیں۔ جو شخص بھی ان سطور کو پڑھ لے حضور کی علمی صلاحیتوں کا فوراً قائل ہو جاتا ہے اور حق تو یہ ہے کہ اس قسم کا جواب دینا حضور ہی کا حصہ ہے۔ بلکہ یہ عظیم الشان جواب اس بات کی دلیل ہے کہ آپ واقعی فضل عمر ہیں۔ کیونکہ ایسا جواب تو حضرت عمرؓ کو بھی نہیں سوجھا تھا اور سوجھ بھی کیسے سکتا تھا۔ وہ میدان کے مرد اور اخلاق کی زندہ تصویر تھے۔ ان سے ایسے جواب کی توقع کیسے کی جاسکتی تھی۔ جو لوگ نفسیات سے واقف ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ اوچھے ہتھیاروں پر وہی لوگ اتر آتے ہیں جو کمزور ہوتے ہیں یا جن میں علمی صلاحیتیں مفقود ہوتی ہیں یا جن میں علمی صلاحیتوں کا فقدان ہوتا ہے۔ حلیمی اور بردباری ان لوگوں کا شیوہ ہوتا ہے جو دلیر اور علم و عمل میں لاثانی ہوتے ہیں۔ حضرت عمرؓ حلیم اور بردبار تھے۔ دلیری اور شجاعت میں ان کا ثانی نہ تھا۔ اس لئے وہ اس قسم کا جواب نہیں دے سکتے تھے۔ لیکن شاطر سیاست کا جواب سفاہت کی باتیں ہیں جو صرف انہی کا حصہ ہیں۔

جب حضرت عمرؓ پر چادر کے سلسلہ میں ایک جوان نے اٹھ کر اعتراض کیا تھا تو حضرت عمرؓ کو چاہئے تھا کہ اسے فوراً یہ جواب دیتے کہ خلیفہ میں ہوں۔ آپ نہیں ہیں۔ جو لوگ اس بات کے حق میں ہیں کہ میں نے دو چادریں کیوں لی ہیں۔ آپ (معترض) ان کو لے کر الگ ہو جائیں اور اپنی الگ خلافت قائم کر لیں۔ لیکن افسوس کہ حضرت عمرؓ کے متعلق سرور کائنات ﷺ نے فرمایا تھا کہ ”حضرت عمرؓ میری آنکھ ہیں اور نیز یہ کہ اگر میرے بعد کوئی نبی ہوتا تو وہ حضرت عمرؓ ہی ہوتے۔“ کو بھی ایسا جواب نہ سوجھا۔ کیونکہ اگر انہیں ایسا جواب سوجھ جاتا تو آج شاطر سیاست فضل عمر کیسے بنتے؟ الغرض کوئی پڑھا لکھا شخص ان کے اس جواب سے مطمئن نہیں ہوسکتا۔ بلکہ نفسیاتی طور پر ان کا یہ جواب احساس شکست اور احساس کمتری کا کھلا اقرار اور آمرانہ انداز بیان کا واضح ثبوت ہے۔

پھر اسلام کا تو ذکر ہی کیا وہ اپنے باپ (مرزا غلام احمد قادیانی) کی تعلیمات کی خلاف ورزی کرتے ہیں۔ ان کے باپ نے اپنی تعلیمات میں کہا تھا کہ جو برے افعال کا ارتکاب کرتا ہے۔ وہ میری جماعت میں سے نہیں ہے اور شاطر سیاست انہی افعال سے تمام عمر کھیلتے رہے ہیں۔ باپ نے شرائط بیعت میں جو پابندیاں اور جو قیود قائم کی تھیں شاطر سیاست ان قیود کو بھی توڑ کر بڑی تمکنت سے گزر جاتے ہیں۔ حالانکہ مرزا غلام احمد قادیانی نے شرائط بیعت اور اپنی تعلیمات میں جو حدود قائم کی تھیں ان کے نزدیک ان کو توڑنے والا ان کی جماعت کا رکن ہی نہیں رہ سکتا۔ چہ جائیکہ کسی ذمہ دار عہدہ پر فائز رہے۔ لیکن قیود و حدود کو وہی شخص توڑ سکتا ہے جس میں

١١٨

آمرانہ کیفیات اور آمرانہ ٹھاٹھ باٹھ ہو۔ چنا اور دھاندلیوں سے یہ ثابت کر دیا کہ وہ آمر دھول جھونک رہے ہیں۔ ان تمام حقائق کی روشنی میں یہ ب ہیں اور ان کو ربوہ کا مذہبی آمر کہنا کسی صورت

فرزانگی

دنیا میں جس قدر جھوٹے مدعی نے سب سے پہلے پیغمبری کا دعویٰ کیا اور ب دیا۔ اسی طرح شداد اور فرعون، نمرود وغیرہ نے ان میں سے ہر ایک نے تقدس بس اور غریب لوگوں کی بیوقوفیوں کی عزت دیا۔ تاریخ شاہد ہے کہ متنبی کا انجام نہایت ب کہ موت کی آغوش میں ہمکنار ہو گیا تھا۔ گی بزدلوں کی طرح پھر بھی قبول نہیں کیا۔ لیکن ہیں۔ چنانچہ وہ بھی متنبی اور شداد کے نقش جوش میں آتی۔ سو آج ہم سن رہے ہیں کہ ربوہ ان کی اس حالت کو چھپانے کی کوششوں راز میں رکھا جارہا ہے۔ یہ خبر غیر مصدقہ ٢٤ جنوری ١٩٥٧ء کا خطبہ بین ثبوت ہے۔ کچھ بھی نہیں سمجھ سکا اور میرا دعویٰ ہے کہ اس خطبہ کے علاوہ الفضل ٢٧ جنوری ١٩٥٧ء جگہ شاطر سیاست کے بھائی مرزا بشیر احمد ا چند پیش گوئیاں درج کی گئی ہیں۔ ان میں فرمائیے۔ لکھا ہے: ”پانچویں نمبر پر حضرت

صفحہ ٦٢١

آمرانہ کیفیات اور آمرانہ ٹھاٹھ باٹھ ہو۔ چنانچہ شاطر سیاست نے ان قیود کو توڑا۔ اپنی بدعنوانیوں اور دھاندلیوں سے یہ ثابت کر دیا کہ وہ آمر ہیں اور مذہبیت کا لبادہ اوڑھ کر لوگوں کی نگاہوں میں دھول جھونک رہے ہیں۔

ان تمام حقائق کی روشنی میں یہ بات پایہ ثبوت کو پہنچ گئی ہے کہ شاطر سیاست آمر مطلق ہیں اور ان کو ربوہ کا مذہبی آمر کہنا کسی صورت میں بھی بے جا نہیں ہے۔

فرزانگی سے دیوانگی تک

دنیا میں جس قدر جھوٹے مدعی نبوت ہوئے ہیں ان کا انجام ہمارے سامنے ہے۔ مقنعی نے سب سے پہلے پیغمبری کا دعویٰ کیا اور جب چند لوگ اس کے گرد جمع ہو گئے تو خدائی کا دعویٰ کر دیا۔ اسی طرح شداد، فرعون، نمرود وغیرہ نے خدائی اور پیغمبری کے دعوے کئے۔

ان میں سے ہر ایک نے تقدس کی آڑ میں جور و استبداد اور سیاہ کاریوں کو جنم دیا۔ بے بس اور غریب لوگوں کی بہو بیٹیوں کی عزت و ناموس پر ڈاکے ڈالے اور غیرت خداوندی کو بھڑکا دیا۔ تاریخ شاہد ہے کہ مقنعی کا انجام نہایت عبرتناک ہوا تھا اور وہ ابلتے ہوئے تیل میں چھلانگ لگا کر موت کی آغوش میں ہمکنار ہو گیا تھا۔ گو اس کا یہ انجام بھی عبرتناک تھا۔ لیکن اس نے موت کو بزدلوں کی طرح پھر بھی قبول نہیں کیا۔ لیکن ان کے دعاوی نبوت اور خدائی کے دعوے سے کم نہیں ہیں۔ چنانچہ وہ بھی مقنعی اور شداد کے نقش قدم پر چلتے رہے۔ لہٰذا ضروری تھا کہ غیرت خداوندی جوش میں آتی۔ سو آج ہم سن رہے ہیں کہ آمریت مآب کی ذہنی صلاحیتیں مخدوش ہیں اور اہل ربوہ ان کی اس حالت کو چھپانے کی کوششوں میں مصروف ہیں اور ہنوز ان کی کیفیت دیوانگی کو صیغہ راز میں رکھا جا رہا ہے۔ یہ خبر غیر مصدقہ نہیں بلکہ اس کی تصدیق کے لئے خلافت مآب کا ٢٤؍جنوری ١٩٥٧ء کا خطبہ بین ثبوت ہے۔ اس خطبہ میں خلافت مآب نے کیا فرمایا ہے۔ میں تو کچھ بھی نہیں سمجھ سکا اور میرا دعویٰ ہے کہ اس خطبہ کا مفہوم ہر ذی فہم شخص کی سمجھ سے بالاتر ہے۔ اس خطبہ کے علاوہ الفضل ٢٧؍جنوری ١٩٥٧ء کا اداریہ قابل غور ہے۔ یہ اداریہ نہیں بلکہ اداریئے کی جگہ شاطر سیاست کے بھائی مرزا بشیر احمد ایم۔اے کا مضمون شائع ہوا ہے جس میں مرزا غلام احمد کی چند پیش گوئیاں درج کی گئی ہیں۔ ان میں سے جو پیش گوئی خاص طور پر قابل غور ہے وہ ملاحظہ فرمائیے۔ لکھا ہے: ’’پانچویں نمبر پر حضرت مسیح موعود کا ایک رؤیا ہے جسے میں (مرزا بشیر احمد) اس

١١٩

صفحہ ٦٢٢

جگہ من وعن درج کرتا ہوں۔ حضور (مرزاغلام احمد قادیانی) فرماتے ہیں۔ میں نے خواب میں دیکھا کہ قادیان کی طرف آتا ہوں اور نہایت اندھیرا ہے اور مشکل راہ ہے اور میں رہنما بالغیب قدم مارتا جاتا ہوں اور ایک غیبی ہاتھ مجھ کو مدد دیتا جاتا ہے۔ یہاں تک کہ میں قادیان میں پہنچ گیا اور جو مسجد سکھوں کے قبضہ میں ہے وہ مجھے نظر آئی۔ پھر میں سیدھی گلی میں جو کشمیریوں کی طرف سے آتی ہے چلا اس وقت میں نے اپنے تئیں سخت گھبراہٹ کے عالم میں پایا کہ گویا اس گھبراہٹ سے بے ہوش ہو جاتا ہوں اور اس وقت بار بار ان الفاظ سے دعا کرتا ہوں ..... ”رب تجل رب تجل“ (یعنی اے میرے رب اب تجلی فرما۔ اے میرے رب اب تجلی فرما اور روشنی کردے) اور ایک دیوانہ کے ہاتھ میں میرا ہاتھ ہے۔ وہ بھی رب تجلی کہتا ہے اور بڑے زور سے میں دعا کرتا ہوں اور اس سے پہلے مجھے یاد ہے کہ میں نے اپنے لئے اپنی بیوی کے لئے اور اپنے لڑکے محمود کے لئے بہت دعا کی ہے۔“

(تذکرہ ایڈیشن دوم ص ٨٣٤،٨٣٣)

مرزا قادیانی کا یہ رؤیا درج کر کے مضمون نگار اشارتاً کنایتاً رقمطراز ہے۔

نوٹ ...... اس رؤیا میں جو دیوانہ کا لفظ ہے اس کے حقیقی معنی اپنے وقت پر کھلیں گے۔

پھر لکھا ہے: ”یہ الہامات اور مکاشفات جو آج سے تقریباً ساٹھ پینسٹھ سال قبل کے ہیں اور عرصہ دراز سے شائع شدہ ہیں۔ نہایت درجہ معنی خیز اور خدائی قدرت نمائی کی پیش خبر یوں سے بھر پور ہیں۔ جن کے بعض پہلو اب بھی ظاہر ہیں اور بعض آئندہ چل کر اپنے وقت پر ظاہر ہوں گے۔ دوستوں کو خاص طور پر دعا کرتے رہنا چاہئے۔“

اس کے بعد مضمون نگار نے لکھا ہے: ”نیز یہ بھی ضرور دعا کریں کہ جیسا کہ بعض صورتوں میں ہوا کرتا ہے کہ اگر کسی آنے والی مبارک اور شیریں تقدیر کے ساتھ خدا کے علم میں اس کی کوئی تلخ تقدیر بھی لپٹی ہوئی ہو تو وہ اپنے خاص الخاص فضل کے ساتھ اس تلخ تقدیر کو ٹال دے۔“

(الفضل مورخہ ٢٧؍جنوری سنہ ١٩٥٧ء)

سب سے پہلے قابل غور بات یہ ہے کہ اس مضمون کو اداریہ کی جگہ شائع کیا گیا ہے اور اس کے آغاز میں لکھا ہے کہ ہم یہ مضمون اشارے کے طور پر لکھ رہے ہیں۔ پھر قابل غور مرزاغلام احمد کے رؤیا کے حسب ذیل الفاظ ہیں: ”اور ایک دیوانہ کے ہاتھ میں میرا ہاتھ ہے اور میں نے اپنے لئے اپنی بیوی کے لئے اور اپنے لڑکے محمود کے لئے بہت دعا کی ہے۔“

١٢٠

اور پھر اس رؤیا کو نہایت تصدیق ہوتی ہے کہ شاطر سیاست کی وقت ایک دیوانے کے ہاتھ میں ہے پہلے سے زمین ہموار کرنی شروع کرد کا علم ہو تو وہ اسے سننے کے لئے پہ خوشامدیوں اور نام نہاد خالد بن ولید و کیا ان کے پاس کوئی ایسی مثال ہے یا دیوانگی کا کبھی دورہ ہی پڑا ہو اور کیا با

جس شخص نے اپنی زندگی اور پھر ان پر پردہ ڈالنے پر صرف کئے دعاؤں کی لاکھ درخواستیں کرے۔ لیکن اپنی جائے قیام بدل سکتے ہیں۔ فرشتے برتر ایسے انسان کو کبھی بھی معاف نہیں ڈالے جو راہبر کی صورت میں دنیا کے ہولئے۔ لیکن وہ راہزن نکلا۔ دنیا نے چاروں طرف ظلمتیں پھیلا دیں۔ تا مرید اس کی ایسی تدابیر کو نہ سمجھ سکے اور نے شب گزیدہ سحر کو صبح تاباں دیکھنے کی کوشادی کے شادیانوں میں نہ بدل سکے

شب تیرہ چراغ راہزن

یا تو خاموش ہو رہے اور اچھالیں اور غنڈوں اور گھٹیا قسم کے کائنات کا خالد بن ولید فاتح کا دیتا ہے۔ وہ گیدڑ کی طرح بزدل ہیں

صفحہ ٦٢٣

اور پھر اس رؤیا کو نہایت درجہ معنی خیز اور تلخ تقدیر قرار دیا ہے۔ جس سے اس خبر کی تصدیق ہوتی ہے کہ شاطر سیاست کی ذہنی صلاحیتیں مخدوش ہو چکی ہیں اور مرزا غلام احمد کا ہاتھ اس وقت ایک دیوانے کے ہاتھ میں ہے اور الفضل نے مریدوں کو اس خبر سے آشنا کرنے کے لئے پہلے سے زمین ہموار کرنی شروع کر دی ہے۔ تا کہ جب مریدوں کو خلافت مآب کی حالت دیوانگی کا علم ہو تو وہ اسے سننے کے لئے پہلے سے تیار رہیں۔ میں آمریت مآب کے وظیفہ خواروں، خوشامدیوں اور نام نہاد خالد بن ولیدوں سے صرف اس قدر استفسار کرنا ضروری خیال کرتا ہوں کہ کیا ان کے پاس کوئی ایسی مثال ہے کہ خلفائے راشدین میں سے کوئی پاگل ہوا ہو۔ نعوذ باللہ یا دیوانگی کا کبھی دورہ ہی پڑا ہو اور کیا پاگل ہو جانا الٰہی عذاب نہیں؟

جس شخص نے اپنی زندگی کے بیالیس سال بے اعتدالیوں اور بدعنوانیوں کے جنم دینے اور پھر ان پر پردہ ڈالنے پر صرف کئے ممکن نہیں ایسا شخص عذاب الٰہی سے بچ سکے۔ وہ اپنے لئے دعاؤں کی لاکھ درخواستیں کرے۔ لیکن قہر خداوندی نازل ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا۔ زمین و آسمان اپنی جائے قیام بدل سکتے ہیں۔ فرشتے زمین پر اور انسان آسمان پر منتقل ہو سکتے ہیں۔ لیکن خدائے برتر ایسے انسان کو کبھی بھی معاف نہیں کر سکتا۔ جس کی مذہبی قیادت نے ہزاروں عصمتوں پر ڈاکے ڈالے جو راہبر کی صورت میں دنیا کے سامنے جلوہ نما ہوا۔ سعید فطرت انسان اسے رہنما سمجھ کر پیچھے ہو لئے۔ لیکن وہ راہزن نکلا۔ دنیا نے اسے انسان سمجھا۔ لیکن وہ بھیڑیا ثابت ہوا۔ اس نے اپنے چاروں طرف ظلمتیں پھیلا دیں۔ تا کہ اس کی بے راہ رویوں پر پردہ پڑا رہے۔ بھولے بھالے مرید اس کی ایسی تدابیر کو نہ سمجھ سکے اور چند روشن فہم اور ذی شعور مریدوں کو جب سمجھ آئی تو انہوں نے شب گزیدہ سحر کو صبح تاباں دیکھنے کی تمنا کی۔ لیکن وہ اپنی تمناؤں، آرزوؤں اور حسرتوں کے ماتم کو شادی کے شادیانوں میں نہ بدل سکے اور یہ کہہ کر ؎

شب تیرہ چراغ راہزن ہے ہمارے راہبر کو کیا سحر سے

یا تو خاموش ہو رہے اور یا علیحدہ ہو گئے۔ اس نے اپنے شریف ناقدین کی پگڑیاں اچھالیں اور غنڈوں اور گھٹیا قسم کے ملاؤں کو خالد بن ولید بنا دیا اور یہ سب کچھ بھول گیا کہ سرور کائنات ﷺ کا خالد بن ولید فاتح کار زار اور دلیر انسان تھا۔ لیکن جن لوگوں کو وہ خالد بن ولید قرار دیتا ہے۔ وہ گیدڑ کی طرح بزدل ہیں۔ رسول کریم ﷺ کا خالد بن ولید صالح اور نیک فطرت تھا۔

صفحہ ٦٢٤

اس کے خالد بن ولیدوں میں سے بعض زانی ہیں اور فن اغلامیات میں ید طولیٰ رکھتے ہیں۔

قصر خلافت کے اس اداکار نے نہ صرف اپنے مرید ناقدین کے خون سے ہاتھ رنگے بلکہ اپنے حرم میں بھی اس خونچکاں معرکہ آرائی کے مناظر پیش کئے وہ کہ جنہوں نے اس کی بات مان کر مدہوش وادیوں میں جادہ پیمائی کرنا منظور کر لی۔ چمن کی بہاریں بنیں۔ لیکن وہ کہ جنہوں نے اپنی عزت و ناموس اور خاندانی وجاہت کے لئے غیرت کا ثبوت دیتے ہوئے اس کی ناجائز باتیں ماننے سے انکار کیا۔ انہیں زہر کے گھونٹ پلا کر میٹھی نیند سلا دیا۔ امۃ الحیٰ کی روح کیوں اور کیسے قفس عنصری سے پرواز کر گئی۔ حرم میں سے وہ تھی۔ جس نے قصر کے اس ولن اور ہیرو کی ناجائز باتیں ماننے سے انکار کر دیا تھا۔ نہ صرف منکر بنی بلکہ علم بغاوت بلند کیا اور آخر اس کا بھی وہی حشر ہوا جو ہیرو کی بے راہ روی کو دیکھنے والوں کا ہوتا ہے۔

نہ رہے بانس اور نہ بجے بانسری

امۃ الحیٰ نے بھی آنکھیں موند لیں اور قصر کے باہر بھی بہت سے ایسے تھے جن کو دیکھنے کے جرم میں راز داری کی سزا دی گئی اور جو قتل نہ ہو سکے۔ ان کی زندگیاں اجیرن بنادیں۔ گویا وہ زندہ تو ہیں لیکن چلتی پھرتی لاشیں ہیں۔ وہ عقیدت مند ہو کر گئے تھے اور عقیدت بند ہو کر لوٹ آئے۔ لیکن وہ لوگ جن کے خون سے ہاتھ رنگے گئے۔ ان کا خون رائیگاں نہیں گیا۔ بلکہ ان کے خون کی ایک ایک بوند جہاں کہیں بھی گری، بڑھی اور سینکڑوں انسانوں کے جسموں میں تحلیل کر گئی۔ دنیا میں جب کبھی بھی انقلاب نے انگڑائی لی ہے۔ مظلوم اور بے بس و بیکس انسانوں کے خون ہی نے اسے دعوت عمل دی ہے۔ پس ان لوگوں کا خون رائیگاں نہیں گیا۔ بلکہ ان کے خون کی بوندوں نے انقلاب کے نشانات پیدا کئے ہیں اور آج بھی اور کل بھی اور قیامت تک صداقت اور حق گوئی میں جس کا خون بھی بہے گا وہ رائیگاں نہیں جائے گا۔ بلکہ مقتول کے خون کے جس قدر قطرے زمین پر گریں گے۔ مادر وطن اس کا انتقام لینے کے لئے لاکھوں اور کروڑوں انسانوں میں وہ قطرات تحلیل کر دے گی جو رد عمل کی تھیوری کا عملی ثبوت بہم پہنچائیں گے۔ پس وہ دن دور نہیں بلکہ بہت قریب ہیں کہ جب ریت پر بنایا ہوا یہ قصر دھڑام سے زمین پر آ رہے گا اور حق ساری دنیا پر چھا جائے گا۔

"جاء الحق وزھق الباطل ان الباطل کان زھوقا"

١٢٢

PDF 626

ن اغلامیات میں ید طولیٰ رکھتے ہیں۔ اپنے مرید ناقدین کے خون سے ہاتھ رنگے ناظر پیش کئے وہ کہ جنہوں نے اس کی بات ۔ جن کی مزاریں بنیں۔ لیکن وہ کہ جنہوں غیرت کا ثبوت دیتے ہوئے اس کی ناجائز ابدی نیند سلا دیا۔ رحمۃ اللہ کی روح کپکپا اٹھی اور جس نے قوم کے اس فرعون اور نمرود کی ناجائز م بغاوت بلند کیا اور آخر اس کا بھی وہی حشر

بجے بانسری

کے باہر بھی بہت سے ایسے تھے جن کو دیکھنے ۔ ان کی زندگیاں اجیرن بنادیں۔ گویا وہ ہو کر گئے تھے اور عقیدت مند ہو کر لوٹ ان کا خون رائیگاں نہیں گیا۔ بلکہ ان کے سینکڑوں انسانوں کے جسموں میں تحلیل کر مظلوم اور بے بس و بیکس انسانوں کے خون رائیگاں نہیں گیا۔ بلکہ ان کے خون کی ی اور کل بھی اور قیامت تک صداقت اور ئے گا۔ بلکہ مقتول کے خون کے جس قدر کے لئے لاکھوں اور کروڑوں انسانوں میں وت بہم پہنچائیں گے۔ پس وہ دن دور عزائم سے زمین پر آ گرے گا اور حق ساری

باطل كان زهوقا"

خاتم النبيين

لا نبي بعدي

سب نے سمجھا آخری نبی تجھ کو۔ صحابہ کی بھی نظریں تیری طرف

مرزا محمود

ہوش میں آؤ

جناب راحت ملک سابق قادیانی

صفحہ ٦٢٦

تعارف!

پیشتر اس کے کہ کچھ عرض کروں۔ تعارف کرانا ضروری سمجھتا ہوں کہ عزیز ملک عطاء الرحمان صاحب، راحت ملک نہ صرف مخلص نوجوان بلکہ وضع قطع کے لحاظ سے بھی خوش پوش نوجوان ہیں۔ انداز گفتگو میں متانت، سنجیدگی اور شرافت کو بہت دخل ہے۔ مخفی در مخفی حقائق کو سامنے لانے کے لئے ملک صاحب موصوف نے نہایت ہی پر امن طریق اختیار کیا۔ بات میں ہیر پھیر کرنا ان کا شیوہ نہیں۔ بلکہ جیسا کہ ٹریکٹ کے مطالعہ سے معلوم ہوگا کہ بات کو واضح سمجھانے کے لئے کچھ صاف گوئی کے خوبصورت اور محتاط الفاظ انہوں نے مجبوراً استعمال فرمائے ہیں تا کہ آئے دن میاں محمود احمد اشتعال انگیزی کرتے ہیں، ان کو اپنے ذاتی کردار بھی سمجھ میں آجائے اور مریدوں پر کم از کم اصل حقیقت واضح ہو جائے۔ ان کی یہ جسارت نہ صرف قابل داد ہے بلکہ آنے والی نسلیں اس بے خوف مجاہد کی روش کو بطور دلیل پیش کریں گی۔ بہر حال ان کا مطلب بقول غالب یہ ہے۔

ہر چند کہ ہو مشاہدہ حق کی گفتگو بنتی نہیں بادہ و ساغر کہے بغیر

اپنی بیالیس سالہ آمریت میں میاں محمود احمد پرستش کے خوگر ہو گئے ہیں۔ یہی وجہ ہے ان کی زندگی میں گونا گوں بے اعتدالیاں آ گئیں اور جماعت جانتے ہوئے بھی خاموش رہی۔ اب جماعت کے مفاد کا اور تحریک احمدیت کے فروغ کا تقاضا ہے۔ ان سے اب باز پرس بھی کی جائے۔ آخر وہ کب تک جیتے جی۔

حروف زیر لب شرمندہ گوش سماعت رہیں گے

اور کب تک جماعت کا ذہنی ہوش مند طبقہ محض اپنی حیاء اور وضع داری کی وجہ سے لب بستہ رہ کر ان کو یعنی خلیفہ اور ان کے خاندان کو من مانی کرنے کی اجازت دے گا۔

عزیز راحت ملک نے نقاب کشائی کرکے ایک رندانہ اقدام کیا ہے۔ خلیفہ کے تہذیب سوز حالات کو وہ کہاں تک مہذب الفاظ میں بیان کرتے۔ چنانچہ انہوں نے جس اخلاق

٢

غلاظت کو برائی العین دیکھا اس کو من وعن عام ٹریکٹ میں خلیفہ کی رنگین اور سنگین مذا

اتنی نہ بڑھا پاکی داماں کی حکای

جماعت کے ارباب نظر کو کہ دعوت دی ہے۔

احباب کرام اور دوستوں س لئے میں امید کرتا ہوں کہ اس کی مزید اش نظر انداز فرمائیں گے بلکہ اس کی اشاع وقتاً فوقتاً نمایاں تعاون سے مستفید فرماو

ہر اس شخص سے معذرت خ اور لعن طعن کو بعید از اخلاق اور بے حیا تحریک ہے جو مرزا محمود احمد کے اس طری ایک عرصہ سے اختیار کر رکھا ہے اور جن شروع کر دی ہیں۔

لاہور کے تقریباً تمام مؤقر اندرونی خلفشار کی طرف مبذول کراد اچھالنے کی جو مہم شروع کر رکھی ہے ا

صفحہ ٦٢٧

غلاظت کو برائی العین دیکھا اس کو من وعن قارئین کے سامنے پیش کر دیا۔ انہوں نے اپنے مقبول عام ٹریکٹ میں خلیفہ کی رنگین اور سنگین زندگی کی عکاسی کی ہے۔ بقول شاعر خلیفہ سے کہا ہے ؎

اتنی نہ بڑھا پاکی داماں کی حکایت
دامن کو ذرا دیکھ ذرا بند قبا دیکھ

جماعت کے ارباب نظر کو بھی خلیفہ کے دامن اور بند قبا کے امتحان کا جائزہ لینے کی دعوت دی ہے۔

احباب کرام اور دوستوں کی شدید مانگ کی وجہ سے بار سوم شائع کیا جا رہا ہے۔ اس لئے میں امید کرتا ہوں کہ اس کی مزید اشاعت میں جو غیر معمولی تاخیر واقع ہو گئی ہے اس کو نہ صرف نظر انداز فرمائیں گے بلکہ اس کی اشاعت خاص میں وقت کے تقاضہ اور اصلاحی پہلو کے پیش نظر وقتاً فوقتاً نمایاں تعاون سے مستفید فرماویں گے۔ نیاز مند : ایم ایم یتیم!

معذرت!

ہر اس شخص سے معذرت کے ساتھ جو مرزا محمود احمد کی موجودہ روش یعنی دشنام طرازی اور لعن طعن کو بعید از اخلاق اور بے حیائی تصور کرتا ہے اور یہ پمفلٹ ہر اس شخص کے لئے ہدیہ تبریک ہے جو مرزا محمود احمد کے اس طریق کار کو جائز اور عین اخلاق تصور کرتا ہے۔ جو انہوں نے ایک عرصہ سے اختیار کر رکھا ہے اور جس کے تحت اب انہوں نے ماؤں اور بہنوں کی گالیاں بکنی شروع کر دی ہیں۔ راحت ملک!

حکومت سے التماس

لاہور کے تقریباً تمام موقر روزناموں نے حکومت پاکستان کی توجہ جماعت احمدیہ کے اندرونی خلفشار کی طرف مبذول کرائی تھی اور لکھا تھا کہ مرزا محمود احمد نے شریف لوگوں کی پگڑیاں اچھالنے کی جو مہم شروع کر رکھی ہے اسے بند کیا جائے لیکن اس کے باوجود نہ ہی ارباب حل و عقد

صفحہ ٦٢٨

کے کانوں پر جوں رینگی ہے اور نہ ہی مرزا محمود احمد کے طریق کار میں کوئی فرق آیا ہے۔ جس کا واضح مطلب یہ ہے کہ ارباب حکومت نے مرزا محمود احمد کو پاکستان کے شریف شہریوں کی پگڑیاں اچھالنے کی کھلی چھٹی دے رکھی ہے۔ ہم وزیر اعلیٰ ڈاکٹر خان صاحب گورنر مغربی پاکستان، میاں مشتاق احمد گورمانی اور وزیر اعظم پاکستان حسین شہید سہروردی کی توجہ حالات کی اس نزاکت کی طرف مبذول کرانا چاہتے ہیں جسے محمود احمد خود پیدا کر رہے ہیں۔ میں نے آج تک مرزا محمود احمد کے ہاتھ پر بیعت نہیں کی اور نہ ہی ان کی آسمانی وائرلیس پر کبھی عقیدت کا اظہار کیا ہے۔ لیکن اس کے باوجود مجھے بھی اپنی دشنام طرازی میں محض اس لئے شامل کیا جا رہا ہے کہ کہیں میں ان کے وہ تمام اندرونی حالات جو میں جانتا ہوں افشا نہ کردوں۔ میرا ایک مکتوب نوائے پاکستان میں شائع ہو چکا ہے۔ جس میں میں نے واضح الفاظ میں تحریر کیا تھا کہ میرا اس جماعت سے کسی قسم کا کوئی تعلق نہیں۔ لہذا میرا نام الفضل میں شائع کرنا ناجائز اور شرانگیز ہے۔ لیکن اس کے باوجود آج مورخہ ٢٣ اکتوبر کے الفضل میں پھر میرا نام شائع کیا گیا ہے اور گول مول الفاظ میں مجھے ماں کی گالی دی گئی ہے۔ اس واضح گالی کی طرف میں ارباب متعلقہ کی توجہ مبذول کرانے کے بعد صرف اس قدر استفسار کرنا ضروری سمجھتا ہوں کہ کیا ارباب حکومت مرزا محمود احمد کی زبان کو لگام دیں گے؟

یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ میں نے مرزا محمود احمد کو اس سے پہلے متنبہ کر دیا تھا اور کہا تھا کہ وہ اس قسم کی روش چھوڑ دیں اور کم از کم میرا نام شائع کرنے سے گریز کریں۔ لیکن چونکہ اب وہ ماؤں اور بہنوں کی گالیوں پر اتر آئے ہیں۔ اس لئے یہ پمفلٹ جوابی کارروائی کے طور پر لکھ رہا ہوں اور تقریباً وہی الفاظ ان کے لئے استعمال کر رہا ہوں جو وہ دوسروں کے لئے استعمال کرنا عین اخلاق تصور کرتے ہیں۔ یوں تو میں مرزا محمود احمد کو لکھتا بھی نہیں۔ لیکن چونکہ وہ اپنی روش سے باز نہیں آتے اور گالیاں دینے پر مصر ہیں۔ لہذا جواب تحریر کرنے پر مجبور ہوں۔

مخلص: راحت ملک

٤

مرزا محمود

مکرمی میاں صاحب! آپ کا دعویٰ ہے کہ خدا آپ صاحب الہام ہیں۔ علاوہ ازیں آپ کا عاشق ہے اور ہر لمحہ آپ سے مکالمہ و مخاطب ہے۔ اگر آپ کے مندرجہ بالا تمام دعاوی کہ:

کمینہ صفت کتے، مسیلمہ کذاب، بکواس، بو

مریدوں میں سے بعض کو محض اس لئے خا

صاحبزادے کو اپنا جانشین بنانے کی دل میں مرزا ناصر احمد کے لئے زمین ہموار کرنے

سے اپنے عزیز و اقربا کو فائدہ نہیں پہنچایا رہے۔

ناجائز اسلحہ زیر زمین نہیں رکھا ہوا اور نہ ہی

صفحہ ٦٢٩

مرزا محمود احمد کے نام کھلی چٹھی

مکرمی میاں صاحب! سلام مسنون!

آپ کا دعویٰ ہے کہ خدا آپ سے خلوت اور جلوت میں باتیں کرتا ہے اور نیز یہ کہ آپ صاحب الہام ہیں۔ علاوہ ازیں آپ کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ آپ خدا کے محبوب ہیں۔ خدا آپ پر عاشق ہے اور ہر لمحہ آپ سے مکالمہ و مخاطبہ کرتا ہے اور آپ کو خلافت کے منصب پر اسی نے بٹھایا ہے۔ اگر آپ کے مندرجہ بالا تمام دعاوی درست ہیں تو میں یہ دریافت کرنے کی جسارت کروں گا کہ:

کینہ صفت کتے، مسیلمہ کذاب، بکواسی، لومڑی وغیرہ۔

مریدوں میں سے بعض کو محض اس لئے خارج کر دیا ہو کہ وہ اس خلیفہ پر تنقید کرتے تھے۔

صاحبزادے کو اپنا جانشین بنانے کی دل میں کبھی آرزو نہیں کی اور موجودہ تحریک اپنے صاحبزادے مرزا ناصر احمد کے لئے زمین ہموار کرنے کی غرض سے نہیں چلائی۔

سے اپنے عزیز واقربا کو فائدہ نہیں پہنچایا اور نیز یہ کہ آپ چھ ہزار روپیہ سالانہ انجمن سے نہیں لے رہے۔

ناجائز اسلحہ زیر زمین نہیں رکھا ہوا اور نہ ہی آپ کو اس کا علم ہے۔

٥

صفحہ ٦٣٠

طاری نہیں رہا۔

اور اس گڑ بڑ کا آپ کو کوئی علم نہیں یا یہ گڑ بڑ آپ کے ایماء پر نہیں ہو رہی ہے۔

سے خارج کیا گیا ہے ان کا قصور سوائے اس کے کچھ نہیں کہ وہ آپ کی بدعنوانیوں پر تنقید کرتے ہیں۔

کی قدر و منزلت اور احترام ہے۔

مندرجہ بالا شقوں کے علاوہ اور بھی بہت سے امور ہیں۔ لیکن فی الحال میں آپ کی توجہ ان امور کی طرف مبذول کرانے کے بعد آپ کو مباہلے کی دعوت دیتا ہوں۔ اگر آپ اپنے آپ کو خدا کا محبوب کہتے ہیں تو آئیے فیصلہ انہی امور پر ہو جائے۔ یقیناً خدا فیصلہ کرے گا اور ہم میں سے جو بھی جھوٹا ہو گا وہ ڈاکٹر ڈوئی کی طرح فالج کی موت مرے گا۔ اگر آپ اپنے دعاوی میں سچے ہیں تو آئیے اس چیلنج کو منظور فرمائیے اور فیصلہ خدا کے ہاتھ میں چھوڑ دیجئے۔ لیکن میں دعویٰ سے کہہ سکتا ہوں کہ آپ ان امور پر کبھی بھی مباہلہ کے لئے تیار نہیں ہو سکتے۔ کیونکہ آپ اپنے اعمال سے بخوبی واقف ہیں اور ڈاکٹر ڈوئی کی موت مرنا پسند نہیں کریں گے:

”قبلہ میاں صاحب! میں نے نوائے پاکستان کے توسط سے اور ایک براہ راست خط کی وساطت سے جناب سے گزارش کی تھی کہ مجھ پر چشم التفات چھوڑ دیجئے۔ کیونکہ میں آپ کی جماعت کا ایک پائی کا بھی رکن نہیں اور نہ ہی میرا آپ سے کوئی سروکار ہے۔ لیکن مقام حیرت ہے کہ آپ کو میرے ان سیدھے سادھے شریفانہ الفاظ کا مفہوم سمجھ میں نہیں آیا اور آپ بار بار اپنے سرکاری اخبار میں مجھے یاد فرما رہے ہیں۔ آج مورخہ ٢٣؍اکتوبر کے الفضل میں آپ نے مجھے کچھ

٦

ایسے الفاظ میں یاد فرمایا ہے کہ جناب نے تو خود یہ اعلان کر دیا ہے کہ میں آٹھ دادوں میں لینے کی ضرورت نہیں۔ جماعت ہیں۔ البتہ ہم عطاء الرحمٰن صاحب سے یہ مرتد تھے اور اب ان کی والدہ بھی کافرہ اور مر آپ کی اس تحریر کے دو حصے ہیں استفسار اور ارشاد کا پہلا حصہ ”جماعت میں بعد شروع ہوگا۔

جہاں تک پہلے حصے کا تعلق ہے شرارت کا پہلو ہے۔ جب آپ خود تسلیم کر آپ ہر روز بار بار اس کا نام اخبار میں کیو اخبار میں کرنا ہی مقصود تھا تو البتہ کے بعد جو تحریر فدائی جماعتوں کے ارکان کا ہو سکتا ہے پہنچے گی۔ اس لئے میں اسے یہیں چھوڑتا ہوں

آپ کی تحریر کا دوسرا حصہ بہت اعلیٰ علم کا مکمل طور پر مظاہرہ کیا ہے۔ وہ فق کہ وہ بتائیں کہ کیا ان کے والد مرحوم بھی ہیں یا نہیں۔“

میاں صاحب! یہ تو بتائیے کہ کو کافر نہیں کہا تو پھر مجھ سے یہ سوال ہے کافر نہیں کہا۔ آپ مجھ سے اس کا جواب ل

صفحہ ٦٣١

ایسے الفاظ میں یاد فرمایا ہے کہ جواب دینے پر مجبور ہوں۔ آپ نے لکھا ہے۔ عطاء الرحمن راحت نے تو خود یہ اعلان کر دیا ہے کہ میں آٹھ سال سے جماعت سے علیحدہ ہوں۔ لہٰذا ان کا نام قرار دادوں میں لینے کی ضرورت نہیں۔ جماعت کو صرف یہ نوٹ کر لینا چاہئے کہ وہ جماعت میں نہیں ہیں۔ البتہ ہم عطاء الرحمن صاحب سے یہ پوچھتے ہیں کہ وہ بتائیں کہ ان کے والد مرحوم بھی کافر اور مرتد تھے اور اب ان کی والدہ بھی کافرہ اور مرتد ہیں یا نہیں؟“

آپ کی اس تحریر کے دو حصے ہیں اور میں ان کا الگ الگ جواب دوں گا۔ آپ کے استفسار اور ارشاد کا پہلا حصہ ”جماعت میں نہیں ہیں“ کے الفاظ تک ہے۔ اور دوسرا حصہ البتہ کے بعد شروع ہوگا۔

جہاں تک پہلے حصے کا تعلق ہے ہر ذی فہم و ذی شعور شخص سمجھ سکتا ہے کہ اس میں محض شرارت کا پہلو ہے۔ جب آپ خود تسلیم کرتے ہیں کہ فلاں شخص کا جماعت سے کوئی سروکار نہیں تو آپ ہر روز بار بار اس کا نام اخبار میں کیوں شائع کرتے چلے جاتے ہیں اور اگر آپ کو یہ اعلان اخبار میں کرنا ہی مقصود تھا تو البتہ کے بعد جو خرافات بکی ہیں اس کی کیا ضرورت تھی اور اگر یہ انداز تحریر خدائی جماعتوں کے ارکان کا ہو سکتا ہے یا خدا کے محبوب کا ہو سکتا ہے تو پھر بات بہت دور تک پہنچے گی۔ اس لئے میں اسے یہیں چھوڑتا ہوں۔

آپ کی تحریر کا دوسرا حصہ بہت اہم ہے۔ جس میں آپ نے اپنے حسن اخلاق اور اعلیٰ علم کا مکمل طور پر مظاہرہ کیا ہے۔ وہ فقرہ یہ ہے۔ ”البتہ ہم عطاء الرحمن سے یہ پوچھتے ہیں کہ وہ بتائیں کہ کیا ان کے والد مرحوم بھی کافر اور مرتد تھے اور ان کی والدہ بھی کافرہ اور مرتدہ ہیں یا نہیں۔“

میاں صاحب! یہ تو بتائیے کہ میں نے کب کسی کو کافر کہا ہے۔ اگر میں نے کبھی بھی کسی کو کافر نہیں کہا تو پھر مجھ سے یہ سوال بے معنی اور لغو ہے۔ باوجود اس کے کہ میں نے کبھی بھی کسی کو کافر نہیں کہا۔ آپ مجھ سے اس کا جواب لینے پر ہی مصر ہیں تو گذارش ہے کہ اوّل تو ملک عبدالرحمن

صفحہ ٦٣٢

خادم سے جو آپ کے مخلص مرید ہیں اس کا جواب حاصل کیا جاسکتا تھا۔ لیکن چونکہ آپ نے خاص طور پر مجھے ہی یاد فرمایا ہے تو پھر میں ہی جواب دینے کی جسارت کرتا ہوں۔ محترمی میاں صاحب! آپ کے نزدیک آپ کی دادی مرحومہ اور آپ کے دادا مرحوم کافرہ اور کافر تھے یا نہیں؟ جو جواب اب آپ اس سوال کا دیں گے وہ اپنے سوال کے جواب میں میرا جواب سمجھ لیں۔ آپ صاف الفاظ میں یہ کیوں نہیں کہتے کہ جو شخص مرزا قادیانی کو نبی نہیں سمجھتا وہ کافر ہے اور گول مول الفاظ میں جو بحث آپ چھیڑنا چاہتے ہیں میں اسے بخوبی سمجھتا ہوں۔ کیا آپ میں اتنی اخلاقی جرات ہے کہ آپ اپنے اور مرزا قادیانی کے منکر کو کافر سمجھنے کے عقیدہ کا اعلان فرمائیں۔

دراصل جب سانپ کی موت آتی ہے تو وہ راستے میں آ بیٹھتا ہے اور جب کتے کی موت آتی ہے تو مسجد میں پیشاب کرتا ہے۔ خدا کے لئے اپنے الفاظ پر غور فرمائیے۔ اس قسم کے الفاظ کیا کسی صحیح الدماغ شخص کے قلم سے نکل سکتے ہیں۔ آپ کی ان تمام زیادتیوں کے باوجود میں آپ کو پھر شریفانہ انداز میں متنبہ کرتا ہوں کہ آپ ہمیں ان واقعات کو منظر عام پر لانے کے لئے مجبور نہ کریں۔ جن سے آپ کی بیگمات کی توہین ہوگی۔ ہمیں ١٩٤٧ء کے بعد کے وہ کارہائے نمایاں قلم بند کرنے پر مجبور نہ کریں جو قادیان سے لاہور آکر آپ کی بیگمات نے سرانجام دیئے تھے۔ ہمیں ان ہولناک واقعات سے پردہ اٹھانے پر مجبور نہ کیجئے جو آپ کی ذات والا صفات سے وابستہ ہیں۔ ہمیں ان بے بس اور بے کس عورتوں کے افسانے رقم کرنے پر مجبور نہ کریں جن کی عصمتیں لٹ گئیں اور اس کے باوجود اللہ تعالیٰ آپ سے عشق فرماتا ہے۔ ہوش میں آنے کی کوشش کیجئے۔ ورنہ اس طوفان سے ٹکرانے کو تیار ہو جائیے۔ جو سر اٹھانے کو بے تاب ہے۔ میں شرافت اور انسانیت کے نام پر پھر یہی مشورہ دوں گا کہ اپنی گندی پالیسی پر نظر ثانی فرمائیے اور شریف لوگ کی پگڑیاں اچھالنے کا سلسلہ بند کر دیجئے۔ ورنہ ملک کے قانون کو اپنے ہاتھ میں لے کر اس امن کو نذر آتش کرنے سے کمیونٹی کو نقصان ہوگا۔

مخلص: راحت ملک !

٨