الْخَلِيْفَةُ الْمَهْدِىُّ
فِى الْأَحَادِيْثِ الصَّحِيْحَةِ
. تَالِيْفُ لَطِيْف . الْمُحَدِّثُ النَّبِيْلُ وَالْمُجَاهِدُ الْجَلِيْلُ شَيْخُ الْإِسْلَامِ سَيِّد حُسَيْن أَحْمَد مَدَنِى رَحْمَةُ اللهِ عَلَيْهِ
تَقْدِيْمُ ، تَعْلِيْق ، تَحْشِيَة مَوْلَانَا حَبِيْبُ الرَّحْمٰن صَاحِب قَاسِمِى اُسْتَاذُ دَارُالْعُلُوم دِيُوبَنْد
عَالَمِى مَجْلِسِ تَحَفُّظِ خَتْمِ نُبُوَّة
حَضُورِى بَاغ مُلْتَان ☎ 514122
مُقَدِّمَه
اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِيْنَ وَالصَّلٰوةُ وَالسَّلَامُ عَلٰى سَيِّدِالْمُرْسَلِيْنَ وَخَاتِمِ النَّبِيّٖنَ وَعَلٰى اٰلِهِ وَاَصْحَابِهِ اَجْمَعِيْنَ ــــــــــــــــــــ اَمَّابَعْدُ !
قیامت ایک امرِ غیبی ہے جس کا حقیقی علم بجز خدائے عالم الغیب کے کسی کو نہیں ہے قرآن مجید ناطق ہے ” اِنَّ اللّٰهَ عِنْدَهُ عِلْمُ السَّاعَةِ “ اللہ تعالیٰ ہی کو قیامت کا علم ہے۔ ایک دوسرے موقع پر ارشادِ الٰہی ہے ” يَسْئَلُوْنَكَ عَنِ السَّاعَةِ اَيَّانَ مُرْسٰهَا . فِیمَ اَنْتَ مِنْ ذِكْرٰهَا اِلٰی رَبِّكَ مُنْتَهٰهَا “ آپ سے قیامت کے متعلق پوچھتے ہیں وہ کب آئے گی۔ آپ کو اس کے ذکر سے کیا کام اس کے علم کا منتہیٰ تو آپ کے رب کے پاس ہے۔
رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث سے بھی یہی ثابت ہے کہ قیامت کے وقوع کا علم اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی نہیں تھا۔ حدیث جبریل میں ہے۔ فاخبرنی عن الساعة ؟ قال ما المسئول عنها باعلم من السائل“ (مشکوٰة ص۱۱) حضرت جبرئیل علیہ السلام نے چوتھا سوال کیا اچھا مجھے قیامت کے وقتِ وقوع کی خبر دیجیے ؟ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے جواب میں اپنی لاعلمی کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا۔ اسکے بارے میں مسئول (پوچھا جانے والا) سائل (پوچھنے والے) سے زیادہ نہیں جانتا مطلب یہ ہے کہ قیامت کے وقتِ وقوع کے نہ جاننے میں ہم دونوں برابر ہیں۔
البتہ اس کی کچھ علامتیں ہیں جنھیں بطور پیشین گوئی کے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان فرمایا ہے۔ ان میں بعض علامتیں صغریٰ یعنی چھوٹی علامتیں کہلاتی ہیں جو معمول و عادت کے مطابق ظہور پذیر ہوتی رہیں گی۔ ان کی تعداد بھی بہت زیادہ ہے۔ مثلاً حدیث جبریل ہی میں پانچویں سوال کے جواب میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے قیامت کی جن علامتوں کا ذکر کیا ہے وہ علامت صغریٰ ہی کے قبیل سے ہیں۔ حدیث پاک کے الفاظ یہ ہیں:
” قال فاخبرنی من اماراتها اس کی کچھ علامتیں بتائیے قال ان تلد الامة ربتها وان تری الحفاة العراة العالة رعاء الشاء يتطاولون فی البنیان “ لونڈیاں اپنی مالکہ کو جننے لگیں یعنی لڑکیاں اپنی ماؤں پر حکم چلانے لگیں، اور ننگے پیر ننگے بدن تنگدست بکریوں کے چرواہوں کو تو دیکھے کہ عالی شان مکانات پر شیخی بگھارتے ہیں تو سمجھ لو کہ اب قیامت کا زمانہ قریب آگیا ہے۔
اسی طرح رسولِ پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے درج ذیل فرمان میں جن علامتوں کا ذکر ہے ان کا تعلق بھی علامتِ
صغریٰ سے ہے ۔ ان من اشراط الساعة ان يقل العلم ويكثر الجهل ويفشو الزنا ويشرب الخمر ويقل الرجال ويكثر النساء حتّى يكون لخمسين امراة القيم الواحد ؛
(بخاری کتاب العلم ص ۲۱)
قیامت کی نشانیوں میں سے یہ ہے کہ علم کم ہوجائے گا ، جہالت بڑھ جائے گی ، حرام کاری عام ہوگی ، شراب نوشی بہت ہوگی ، مرد کم ہوجائیں گے ، اور عورتوں کی اس حد تک کثرت ہوگی کہ پچاس عورتوں پر صرف فرد واحد نگراں ہوگا۔
ان مذکورہ علامتوں کا یہ مطلب نہیں ہے کہ ان کے ظہور کے بعد قیامت بالکل قریب آجائے گی ۔ بلکہ یہ مطلب ہے کہ قیامت سے پہلے ان کا وجود میں آنا ضروری ہے اسی لیے بہت سے واقعات وحوادث کے بارے میں آپؐ کا ارشاد ہے کہ قیامت اس وقت تک برپا نہیں ہوگی جب تک یہ واقعات ظہور پذیر نہ ہوجائیں۔ خود رحمت عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت بھی علامتِ قیامت میں شمار کی جاتی ہے ۔ حالانکہ آپؐ کی بعثت کو چودہ سو سال ہوچکے ہیں اور خدا جانے ابھی کتنی مدت کے بعد قیامت قائم ہوگی۔
ان کے علاوہ بعض علامتیں وہ ہیں جنھیں علامتِ کبریٰ کہا جاتا ہے۔ یہ علامتیں بالعموم قیامت کے قریب تر زمانہ میں پے بہ پے ظاہر ہوں گی اور عادت ومعمول کے خلاف ہوں گی۔ ان علامتوں کا ذکر بھی بہت سی حدیثوں میں متفرق طور پر موجود ہے ۔ اور حضرت حذیفہ بن اسید الغفاریؓ کی ایک روایت میں اکٹھی دس علامتوں کا بیان ہے۔
حضرت حذیفہ بیان کرتے ہیں :
اطلع النبى صلى الله عليه وسلم علينا ونحن نتذاكر فقال ما تذاكرون ؟ قالوا نذكر الساعة قال انها لن تقوم حتى تروا قبلها عشر آيات فذكر الدخان والدجّال ، والدابّة وطلوع الشمس من مغربها ونزول عيسىٰ ابن مريم وياجوج وماجوج وثلاثة خسوف خسف بالمشرق وخسف بالمغرب وخسف بجزيرة العرب وآخر ذالك نار تخرج من اليمن تطرد الناس الى محشرهم (مسلم باب الفتن واشراط الساعة ص ۳۹۳ ج ۲)
حضرت حذیفہؓ روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بالاخانہ سے ہماری طرف نمودار ہوئے اور ہم آپس میں باتیں کر رہے تھے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا ۔ تم لوگ کس چیز کا تذکرہ کر رہے ہو ۔ لوگوں نے عرض کیا قیامت کا۔ آپؐ نے فرمایا ۔ قیامت برپا نہیں ہوگی تا وقتیکہ تم اس سے پہلے دس علامتیں نہ دیکھ لو ، پھر آپؐ نے ان دسوں کو بیان کیا ، جو یہ ہیں ۔ (۱) دھواں (۲) دجال (۳) دابۃ الارض (۴) پچھم سے سورج کا نکلنا (۵) حضرت عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام کا آسمان سے اترنا (۶) یاجوج ماجوج کا نکلنا (۷ ، ۸ ، ۹) زمین میں تین مقامات میں لوگوں کا دھنس جانا ، ایک مشرق میں دوسرے
مغرب میں اور جزیرہ عرب میں (۱۰) اور ان سب کے آخر میں آگ یمن سے نکلے گی جو لوگوں کو گھیر کر ان کے محشر میں پہنچا دے گی۔ قیامت کی علامت کبریٰ ہی میں سے مہدی آخرالزماں کا ظہور ان کی خلافت اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا ان کی اقتدا میں ایک نماز یعنی فجر کا پڑھنا وغیرہ بھی ہے۔ اوپر بحوالہ حدیث جن دس نشانیوں کا ذکر ہے ان سے پہلے حضرت امام مہدی کا ظہور ہوگا۔ چنانچہ امام السفارینی لکھتے ہیں :
ای من العلامات العظمى وهى اولها ان يظهر الامام المقتدى الخاتم للائمة ........ محمد المهدى
(لوائح الانوار البهية ص ٧٤ ج ٢)
قیامت کی بڑی یعنی قریب تر اور اولین نشانیوں میں خاتم الائمہ محمد مہدی کا ظہور ہے۔
بخاری میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عوف بن مالک رضی اللہ عنہ کو غزوہ تبوک کے موقع پر قیامت کی چھ نشانیاں بتائیں جن میں بنی الاصفر یعنی عیسائیوں اور مسلمانوں کے درمیان صلح ہو جانے کا بھی تذکرہ فرمایا اور یہ بھی فرمایا کہ عیسائی بدعہدی کر کے تمھارے مقابلے میں آئیں گے۔ اس وقت ان کے اسّی جھنڈے ہوں گے اور ہر جھنڈے کے تحت بارہ ہزار سپاہی ہوں گے یعنی ان کی مجموعی تعداد نو لاکھ ہو گی ۔
احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ جب مسلمان ہر طرف سے گھر جائیں گے اور ان کی حکومت صرف مدینہ منورہ سے خیبر تک رہ جائے گی تو مسلمان مایوس ہو کر امام مہدی کی تلاش شروع کر دیں گے۔ وہ اس وقت مدینہ منورہ میں ہوں گے اور امامت کے بار گراں سے بچنے کی غرض سے مکہ مکرمہ چلے جائیں گے۔ مکہ کے لوگ انہیں پہچان لیں گے اور انکار کے باوجود ان سے بیعت خلافت کریں گے۔ خلافت کی خبر جب مشہور ہو گی تو ملک شام سے ایک لشکر آپ سے مقابلہ کے لیے نکلے گا، مگر اپنی منزل تک پہنچنے سے پہلے ہی مقام بیدا میں جو مکہ مدینہ کے درمیان ہے زمین میں دھنسا دیا جائے گا اس واقعہ کی اطلاع پا کر شام کے ابدال اور عراق کے متقی لوگ حضرت مہدی کی خدمت میں پہنچ جائیں گے۔ اس کے بعد آپ سے جنگ کے لیے ایک قریشی النسل بنو کلب پر مشتمل ایک لشکر بھیجے گا جس سے حضرت مہدی کی فوج جنگ کرے گی اور فتحیاب ہو گی ۔
احادیث میں امام مہدی کا نام ، ولدیت ، حلیہ وغیرہ بھی بیان کیا گیا ہے نیز ان کے زمانہ خلافت میں عدل و انصاف کی ہمہ گیری اور مال و دولت کی فراوانی کا تذکرہ بھی ہے۔ غرضیکہ امام مہدی کے متعلق اس کثرت سے احادیث مروی ہیں کہ اصول محدثین کے اعتبار سے وہ حد تواتر کو پہنچ گئی ہیں۔ چنانچہ امام ابوالحسین محمد بن الحسین الآبری السجزی الحافظ المتوفی ۳۶۳ھ اپنی کتاب مناقب الشافعی میں لکھتے ہیں :
وقد تواترت الاخبار واستفاضت بكثرة رواتها عن المصطفى صلى الله عليه وسلم في المهدى وانه من اهل بيته وانه يملك سبع سنين ويملأ الارض عدلاً
وان عيسى عليه الصلوة والسلام يخرج فيساعده على قتل الدجال وانه يؤم هذه الامة وعيسى خلفه في طول من قصته وامره ،، (تہذیب التہذیب ج ۹ ص ۱۴۴ فی ضمن ترجمہ محمد بن خالد الجندی المؤذن) .
" امام مہدی سے متعلق مروی روایتیں اپنے راویوں کی کثرت کی بنا پر تواتر اور شہرت عام کے درجہ میں پہنچ گئی ہیں کہ وہ اہل بیت رسول سے ہوں گے ۔ سات سال تک دنیا میں حکومت کریں گے ۔ اپنے عدل وانصاف سے دنیا کو معمور کر دیں گے اور عیسیٰ علیہ السلام آسمان سے نازل ہو کر قتل دجال میں ان کی مساعدت اور نصرت کریں گے اور اس امت میں مہدی ہی کی امامت میں عیسیٰ علیہ السلام ایک نماز ادا کریں گے وغیرہ ، طویل واقعات ان کے سلسلے میں احادیث میں بیان ہوئے ہیں۔
حافظ آبری کے اس قول کو حافظ ابن القیم نے المنار المنیف میں اور شیخ محمد بن احمد سفارینی نے اپنی مشہور کتاب لوامع الانوار البہیہ میں علامہ مرعی بن یوسف الکرمی کی کتاب فوائد الفکر کے حوالہ سے ذکر کیا ہے ۔ علاوہ ازیں امام القرطبی صاحب الجامع لاحکام القرآن نے بھی التذکرہ فی احوال الموتیٰ و امور الآخرہ میں اسے نقل کیا ہے ۔
شیخ محمد البرزنجی المدنی المتوفیٰ ۱۱۰۳ھ الاشاعۃ لاشراط الساعۃ ص ۱۱۲ پر لکھتے ہیں :
وقد علمت ان احاديث المهدى وخروجه آخر الزمان وانه من عترة رسول الله صلى الله عليه وسلم من ولد فاطمة رضى الله عنها بلغت حد التواتر المعنوى فلا معنى لانكارها ،،
" محقق طور پر معلوم ہے کہ مہدی سے متعلق احادیث کہ آخری زمانہ میں ان کا ظہور ہو گا اور وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نسل اور فاطمۃ الزہرہ رضی اللہ عنہا کی اولاد میں ہوں گے تواتر معنوی کی حد کو پہنچی ہوئی ہیں ۔ لہٰذا ان کے انکار کی کوئی وجہ اور بنیاد نہیں ہے ۔
امام سفارینی کا بیان ہے :
قد كثرت الاقوال فى المهدى حتى قيل لا مهدى الا عيسى والصواب الذى عليه اهل الحق ان المهدى غير عيسى وانه يخرج قبل نزول عيسى عليه السلام وقد كثرت بخروجه الروايات حتى بلغت حد التواتر المعنوى وشاع ذلك بين علماء السنه حتى عد من معتقداتهم (لوامع الانوار البہیہ ج ۲ ص ۸۴)
حضرت مہدی کے بارے میں بہت سارے اقوال ہیں حتی کہ یہ بھی کہا گیا ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام ہی مہدی ہیں اور صحیح بات جس پر اہل حق ہیں یہ ہے کہ مہدی کی شخصیت حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے الگ ہے ۔ ان کا ظہور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول سے پہلے ہو گا ۔ ظہور مہدی سے متعلق روایات اتنی زیادہ ہیں کہ تواتر
معنوی کی حد کو پہنچ گئی ہیں اور علماء اہل سنت کے درمیان اس درجہ عام اور شائع ہوگئی ہیں کہ ظہور مہدی کو ماننا اہل سنت والجماعت کے عقائد میں شمار ہوتا ہے ۔
حضرت جابر ، حذیفہ ، ابوہریرہ ، ابوسعید خدری اور حضرت علی رضی اللہ عنہم سے منقول روایتوں کے ذکر اور نشان دہی کے بعد لکھتے ہیں:
وقد روی عمن ذکر من الصحابۃ وغیر ما ذکر منہم رضی اللہ عنہم بروایات متعددۃ وعن التابعین من بعدہم ما یفید مجموعہ العلم القطعی فالایمان بخروج المہدی واجب کما ہو مقرر عند اہل العلم ومدون فی عقائد اہل السنۃ والجماعۃ (ایضاً ص ۴ )
اوپر مذکور حضرات صحابہ اور ان کے علاوہ دیگر اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے اور ان کے بعد تابعین سے اتنی روایتیں مروی ہیں کہ ان سے علم قطعی حاصل ہو جاتا ہے ۔ لہٰذا ظہور مہدی پر ایمان لانا واجب ہے جیسا کہ یہ امر اہل علم کے نزدیک ثابت شدہ ہے اور اہل سنت اور جماعت کے عقائد میں مدون و مرتب ہے ۔
یہی بات شیخ ابو محمد الحسن بن علی البربہاری الحنبلی المتوفی ۳۲۹ھ نے بھی اپنے عقیدہ میں لکھی ہے عقیدۃ البربہاری کو ابن ابی یعلیٰ نے طبقات الحنابلہ میں شیخ البربہاری کے ترجمہ میں مکمل نقل کر دیا ہے ۔
نواب صدیق حسن خاں قنوجی بھوپالی المتوفی ۱۳۰۷ھ اپنی تالیف الاذاعۃ لما کان ویکون بین یدی الساعۃ میں صراحت کرتے ہیں:
” والاحادیث الواردۃ فی المہدی علی اختلاف روایاتہا کثیرۃ جدا تبلغ حد التواتر وہی فی السنن وغیرہا من دواوین الاسلام من المعاجم والمسانید “
(ص ۲۵ مطبوعہ ۱۳۰۷ھ مطبع الصدیقی بھوپال)
امام مہدی سے متعلق احادیث مختلف روایتوں کے ساتھ بہت زیادہ ہیں جو حد تواتر کو پہنچی ہوئی ہیں یہ حدیثیں سنن کے علاوہ معاجم ، مسانید وغیرہ اسلامی دفتروں میں موجود ہیں ۔
اسی کتاب کے صفحہ ۷ پر لکھتے ہیں :
اقول لاشک ان المہدی یخرج فی أخر الزمان من غیر تعیین لشہر وعام لما تواتر من الاخبار فی الباب واتفق علیہ جمہور الامۃ خلفا عن سلف الا من لا یعتد بخلافہ “
میں کہتا ہوں اس بات میں ادنیٰ شک نہیں ہے کہ آخری زمانہ میں ماہ و سال کی تعیین کے بغیر امام
مہدی کا ظہور ہوگا کیوں کہ اس باب میں احادیث متواتر ہیں اور سلف سے خلف تک جمہور امت کا اس پر اتفاق ہے۔ البتہ بعض ایسے لوگوں نے اس میں اختلاف کیا ہے جن کے اختلاف کا اہل علم کے نزدیک کوئی اعتبار نہیں ہے۔
علامہ محمد بن جعفر الکتانی المتوفیٰ ۱۳۴۵ھ اپنی مشہور تصنیف نظم المتناثر من الحدیث المتواتر میں رقم طراز ہیں :
وتتبع ابن خلدون فى مقدمته طرق احاديث خروجه مستوعبا على حسب وسعه فلم تسلم له من علة لكن ردوا عليه بان الاحاديث الواردة فيه على اختلاف رواتها كثيرة جدا تبلغ حد التواتر وهى عند احمد والترمذى وابى داؤد وابن ماجه والحاكم والطبرانى وابى يعلى الموصلى والبزار وغيرهم من دواوين الاسلام من السنن والمعاجم والمسانيد واسندوها الى جماعة من الصحابة فانكارها مع ذالك مما لا ينبغى ، (ص۱۴۵)
مشہور فیلسوف مؤرخ علامہ ابن خلدون نے اپنے مقدمہ میں اپنی وسعت علمی کے مطابق جملہ طرقِ احادیث کی تخریج کے استیعاب کی کوشش کی ہے اور نتیجتاً ان کے نزدیک کوئی حدیث علت سے خالی نہیں ہے ۔ لیکن محدثین نے علامہ ابن خلدون کے اس خیال کو رد کر دیا ہے کیونکہ امام مہدی کے بارے میں وارد احادیث اپنے راویوں کے مختلف ہونے کے باوجود بہت زیادہ ہیں جو حدِ تواتر کو پہنچ گئی ہیں جنھیں امام احمد بن حنبل، امام ابو داؤد، امام ابن ماجہ، امام حاکم، امام طبرانی، امام ابو یعلی موصلی امام بزار وغیرہ نے دواوینِ اسلام یعنی سنن، معاجم، مسانید میں روایت کی ہیں اور ان احادیث کو صحابہ کی ایک جماعت کی جانب منسوب کیا ہے۔ لہٰذا ان امور کے ہوتے ہوئے ان کا انکار کسی طرح مناسب و درست نہیں ہے۔
امام مہدی سے متعلق جن حضرات صحابہ سے حدیثیں منقول ہیں ان میں حسبِ ذیل اکابر صحابہ رضوان اللہ علیہم شامل ہیں :- خلیفہ راشد حضرت عثمان غنی، خلیفہ راشد حضرت علی مرتضی، طلحہ بن عبید اللہ، عبدالرحمن بن عوف، عبداللہ بن مسعود، عبداللہ بن عمر، عبداللہ بن عمرو، عبداللہ بن عباس، ام المومنین ام سلمہ، ام المومنین ام حبیبہ، ابوہریرہ، ابوسعید خدری، جابر بن عبداللہ، انس بن مالک، عمران بن حصین، حذیفہ بن یمان، عمار بن یاسر، جابر بن ماجد صدفی، ثوبان مولیٰ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، عوف بن مالک رضی اللہ عنہم اجمعین۔
علامہ ابن خلدون اگرچہ فنِ تاریخ اور علم الاجتماع میں بلند مقام ومرتبہ کے مالک ہیں لیکن محدث نہیں تھے۔ اس لئے اس باب میں ان کی بات علمائے حدیث اور اربابِ جرح وتعدیل کے مقابلہ میں لائقِ قبول نہیں ہے۔ چنانچہ علامہ محمد بن جعفر الکتانی مزید لکھتے ہیں:
ولولا مخافة التطويل لاوردت ههنا ما وقفت عليه من احاديثه لانى رايت الكثير من الناس فى هذا الوقت يتشككون فى امره ويقولون ما ترى هل احاديثه قطعية ام لا وكثير منهم يقف مع كلام ابن خلدون ويعتمده ـ مع انه ليس من اهل هذا الميدان والحق الرجوع فى كل فن لاربابه :
(نظم المتناثر من الحديث المتواتر ص۱۴۴)
’’اگر کتاب کے دراز ہو جانے کا اندیشہ نہ ہوتا تو میں اس موقع پر امام مہدی سے متعلق ان احادیث کو جمع کرتا جن کی مجھے واقفیت ہے۔ کیوں کہ اس وقت بہت سارے لوگوں کو دیکھ رہا ہوں کہ انہیں امام مہدی کے امر میں تردد ہے اور اس سلسلے میں وہ یقینی معلومات کے متلاشی ہیں اور دیگر بہت سے لوگ ابن خلدون کے قول پر قائم اور اسی پر اعتماد کرتے ہیں جب کہ ابن خلدون اس میدان کے آدمی نہیں تھے۔ اور حق تو یہ ہے کہ ہر فن میں اس فن کے ماہرین کی جانب رجوع کیا جائے‘‘
ان ساری تفصیلات سے یہ بات روز روشن کی طرح آشکارا ہوگئی کہ امام مہدی سے متعلق احادیث نہ صرف صحیح وثابت ہیں بلکہ متواتر اور اپنے مدلول پر قطعی الدلالت ہیں جن پر ایمان لانا بحسب تصریح علامہ سفارینی واجب اور ضروری ہے۔ اسی بنا پر ظہور مہدی کا مسئلہ اہل سنت والجماعت کے عقائد میں شمار ہوتا ہے البتہ اتنی بات ضرور ہے کہ یہ اسلام کے اہم ترین اور بنیادی عقائد میں داخل نہیں ہے مسئلہ کی اسی اہمیت کے پیش نظر ہر دور کے محدثین واکابر علماء نے مسئلہ مہدی پر ضمناً و مستقلاً شرح وبسط کے ساتھ مدلل کلام کیا ہے جن میں سے بہت سی کتابوں کی نشاندہی خود علامہ ابن خلدون نے بھی مقدمہ میں کی ہے۔
اسی طرح علماء حدیث اور ماہرین نے اس مسئلہ سے متعلق ابن خلدون کے نظریہ کی پر زور تردید کی ہے اور اصول محدثین کی روشنی میں علامہ ابن خلدون کے ظاہر کردہ اشکالات کو دور کر کے ظہور مہدی کی حقیقت اور سچائی کو پورے طور پر واضح کر دیا ہے۔
علماء امت کی ان مساعی جمیلہ کے باوجود ہر دور میں ایک ایسا طبقہ موجود رہا ہے جو علامہ ابن خلدون کے بیان کردہ اشکالات سے متاثر ہو کر ظہور مہدی کے بارے میں شکوک وشبہات میں مبتلا رہا ۔ اس لیے علمائے دین بھی اپنے اپنے عہد میں حسب ضرورت تحریر و تقریر کے ذریعہ اس مسئلہ کی وضاحت کرتے رہے ۔
حضرت شیخ الاسلام مولانا سید حسین احمد مدنی قدس سرہٗ نے بھی اسی مقصد کے تحت یہ زیر نظر رسالہ مرتب کیا تھا۔ چنانچہ اپنے ابتدائیہ میں لکھتے ہیں :
انه قد جرى ببعض اندية العلم ذكر المهدى الموعود فانكر بعض الفضلاء الكاملين صحة الاحاديث الواردة فيه فأحببت ان اجمع الاحاديث
الصحيحه فى هذا الباب واترك الحسان والضعاف رجاء انتفاع الناس وتبليغ ما اتى به النبى عليه السّلام وان لا يغتر الناس بكلام بعض المصنفين الذين لا المام لهم بعلم الحديث كابن خلدون وغيره فانهم وان كانوا من المعتمدين فى التاريخ وامثاله ولا اعتداد لهم فى علم الحديث الغرض بعض مجالس علمیہ میں مہدی موعود کا ذکر آیا تو کچھ ماہرینِ علم نے مہدی موعود سے متعلق وارد حدیثوں کی صحت سے انکار کیا تو مجھے یہ بات اچھی لگی کہ اس موضوع سے متعلق مروی حسن وضعیف روایتوں سے قطع نظر صحیح حدیثوں کو جمع کردوں تاکہ لوگ اس سے نفع اٹھائیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کی تبلیغ بھی ہوجائے ۔ نیز ان حدیثوں کے جمع وتدوین سے ایک غرض یہ بھی ہے کہ بعض اُن مصنفین کے کلام سے لوگ دھوکا نہ کھا جائیں جنھیں علمِ حدیث سے لگاؤ نہیں ہے جیسے علّامہ ابن خلدون وغیرہ یہ حضرات اگرچہ فنِ تاریخ میں معتمد ومستند ہیں لیکن علم حدیث میں ان کے قول کا اعتبار نہیں ہے ۔“
حضرت شیخ الاسلام نے اپنے اس رسالہ میں بطورِ خاص اس بات کا التزام فرمایا ہے کہ جن صحیح احادیث پر علّامہ ابن خلدون نے کلام کر کے ان کی صحت مشکوک ثابت کرنے کی کوشش کی تھی جرح وتعدیل سے متعلق ائمہ حدیث کے مقرر کردہ اصول کی روشنی میں ان کی صحت وحجیّت کو مدلل ومبرہن کردیا ہے ۔ اس اعتبار سے یہ رسالہ ایک قیمتی دستاویز کی حیثیت کا حامل ہے۔ اور اس موضوع پر لکھی گئی ضخیم کتابوں سے بھی زیادہ مفید ہے ۔
کچھ باتیں کتاب کے متعلق
آج سے دس گیارہ سال پہلے کی بات ہے کہ ایک دن بیٹھا ماہنامہ الرشید ساہیوال کا خصوصی شمارہ مدنی و اقبال نمبر دیکھ رہا تھا۔ اس میں حضرت شیخ الاسلام قدّس سرّہ کے غیر مطبوعہ مکاتیب کا ایک مختصر سا مجموعہ مرتبہ جناب محمد دین شوق صاحب بعنوان ”مکتوبات مدنیہ“ بھی شریکِ اشاعت ہے۔ (جسے بعد میں الگ سے پاکستان کے ایک مکتبہ نے شائع کر دیا ہے ۔) اس مجموعہ کا تیسرا مکتوب جو ڈربن افریقہ کے کسی صاحب کے جواب میں ۲۲ صفر ۱۳۵۳ھ کو لکھا گیا ہے۔ اس میں امام مہدی آخر الزماں کے بارے میں حضرت شیخ الاسلامؒ تحریر فرماتے ہیں۔
”حضرت امام مہدی قیامت سے پہلے بلکہ نزولِ عیسیٰ علیہ السلام اور خروج دجال اور فتنۂ یاجوج و ماجوج و دابّۃ الارض و طلوع شمس من المغرب وغیرہ سے پہلے ظاہر ہوں گے۔ قیامت میں تو تمام انبیاء اور اولیاء کا اجتماع ہوگا۔ حضرت مہدی دنیا میں مذہب اسلام کی زندگی اور اس کی تقویت کے باعث ہوں گے۔ وہ اُس وقت ظہور فرمائیں گے جبکہ دُنیا ظلم وستم سے بھر گئی ہوگی۔ اُن کی وجہ سے دُنیا عدل و انصاف دین و ایمان سے بھر جائے گی۔ ان کا اور ان کے باپ کا نام جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نام اور آپ کے والد ماجد کے نام کے مطابق ہوگا۔ صورت بھی آپ کی صورت کے مشابہ ہوگی آپ ہی کی اولاد ہوں گے۔ یعنی حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کی نسل میں سے :
مکہ مکرمہ میں ظاہر ہوں گے۔ اوّل جو جماعت ان کے ہاتھ پر بیعت کرے گی وہ تین سو تیرہ آدمی ہوں گے۔ حسب عدد اصحابِ بدر و اصحابِ طالوت۔ لوگوں میں یکبارگی انقلاب پیدا ہو گا۔ حجاز کی اصلاح کے بعد سیریہ اور فلسطین وغیرہ کی اصلاح کریں گے۔ دارالسلطنت
بیت المقدس ہوگا۔ ان کی حکومت پانچ یا سات یا نو برس ہوگی۔ اس بارہ میں صحیح روایتیں تقریباً چالیس میری نظر سے گزری ہیں اور حسن وضعيف بہت زیادہ ہیں۔ ترمذی شریف، مستدرک حاکم ، ابو داؤد مسلم شریف وغیرہ میں یہ روایات موجود ہیں۔ آن حضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ اگر قیامت آنے میں صرف ایک دن باقی رہ جائے گا تب بھی اللہ تعالیٰ مہدی کو ضرور ظاہر کرے گا اور قیامت ان کے بعد لائے گا۔ لہٰذا اس میں بجز تسلیم کوئی چارہ نہیں۔ بہت سے جھوٹوں نے اب تک مہدی ہونے کا دعویٰ کیا مگر کسی میں یہ علامتیں نہیں پائی گئیں جو مہدی موعود کے متعلق ذکر کی گئی ہیں۔
میں نے مالٹا جانے سے پہلے مدینہ منورہ کے کتب خانہ میں تلاش کر کے صحیح صحیح روایتیں جمع کی تھیں، مگر افسوس کہ وہ رسالہ روسی انقلاب میں جاتا رہا۔ اب میرے پاس وہ نہیں رہا اور جن لوگوں نے اس کو نقل کیا تھا وہ بھی وفات پاگئے اور رسالہ پھر نہ مل سکا۔
اس مکتوب سے پہلے نہ کسی سے سُنا تھا اور نہ ہی کسی تحریر میں دیکھا تھا کہ حضرت شیخ الاسلام قدس سرہٗ کی اس موضوع پر کوئی تالیف ہے۔ اس لیے فطری طور پر اس نئے انکشاف پر بے حد مسرت ہوئی اور ساتھ ہی دل میں یہ خواہش بھی مچلنے لگی کہ اے کاش کسی طرح یہ قیمتی رسالہ دستیاب ہو جاتا تو اسے شائع کر دیا جاتا ، لیکن حضرت کے اس آخری جملے سے کہ اب میرے پاس وہ نہیں رہا ۔ ۔ ۔ اور رسالہ پھر مل نہ سکا“ ایک طرح کی مایوسی طاری ہو جاتی اسی بیم و رجا اور اُمید و نا اُمیدی کی ملی جلی کیفیت کے ساتھ اس دُرِّ مکنون کی طلب و تحصیل کی تدبیریں سوچنے لگا۔ ایک دن اچانک دل میں یہ بات آئی کہ اس انقلاب میں حضرت کا سارا اثاثہ حکومت نے ضبط کر لیا تھا اس لیے ممکن ہے کہ اس ضبطی کے بعد آپ کی کتابیں اور دیگر کاغذات کسی سرکاری کتب خانے میں جمع کر دیے گئے ہوں۔ اس موہوم خیال نے دھیرے دھیرے جڑ پکڑ لیا اور نا اُمیدی پر اُمید کا غلبہ ہو گیا ۔ بالآخر اس خیال کا اظہار اپنے لائقِ صد احترام اور مشفق و مہربان رفیق بلکہ بزرگ صاحبزادہ محترم مولانا سید ارشد مدنی اعلیٰ اللہ مراتبُہٗ سے کیا اور ان سے عرض کیا کہ حرمین شریفین کے سفر میں اہم سرکاری کتب خانوں میں پتہ لگائیں۔ ممکن ہے کہ یہ گمشدہ رسالہ مل جائے، چونکہ مولانا موصوف اس کے کئی سفر کر چکے تھے اور مکہ مکرمہ و مدینہ منورہ کے کتب خانوں سے بخوبی واقف
کو حضرت شیخ قدس سرہ کے بعض تلامذہ کے ذریعہ یہ بات پہنچی تھی کہ دوران درس حضرت نے اس رسالہ کا تذکرہ فرمایا تھا اس لیے اس تراثِ علمی جس کے وہ سچے حقدار ہیں ان میں خود طلب و جستجو کی فکر تھی، چنانچہ حسب معمول عمرہ و زیارت کے لیے شعبان میں حرمین شریفین حاضر ہوئے تو اہلِ علم و خبر سے اس سلسلے میں معلومات کی مگر کہیں کوئی سراغ نہ مل سکا۔ دوسرے سال جب پھر جانا ہوا تو مزید معلومات حاصل کیں۔ وہاں مقیم بعض لوگوں نے نشاندہی کی کہ اگر یہ رسالہ ضائع نہیں ہوا ہے تو اندازہ ہے کہ مکتبۃ الحرم مکہ معظمہ میں ضرور ہوگا۔ مولانا موصوف مکتبۃ الحرم پہنچ گئے اور خدا کی قدرت مخطوطات کی فہرست میں یہ مل گیا اور خود شیخ الاسلام قدس سرہ کے ہاتھ کا لکھا ہوا۔ چنانچہ اس کا فوٹو لے لیا۔ اس طرح تقریباً پون صدی کی گم نامی کے بعد یہ نادر وقیمتی علمی سرمایہ دوبارہ معرضِ وجود میں آگیا۔
حضرت شیخ الاسلام قدس سرہ کے مکتوب سے پتہ چلتا ہے کہ یہ رسالہ امام مہدی سے متعلق صحیح چالیس احادیث پر مشتمل تھا اور بعض لوگوں نے اس کی نقل بھی لی تھی۔ مگر دستیاب مخطوطہ میں کل ۳۷ احادیث ہیں پھر اس میں متعدد مقامات پر حک وفک بھی ہے ۔ بعض جگہ سبقت قلمی سہو ہے اس لیے اندازہ یہ ہے کہ یہ مبیضہ کی بجائے اصل مسودہ ہے ۔ واللہ اعلم بالصواب ۔
مہدی موعود سے متعلق بہت سی کتابیں لکھی گئی ہیں جن میں بعض نہایت مفصل اور ضخیم بھی ہیں، لیکن یہ مختصر رسالہ اس اعتبار سے خاص اہمیت وافادیت کا حامل ہے کہ اس میں صرف صحیح احادیث کو جمع کیا گیا ہے۔ جب کہ دوسری کتابوں میں اس کا التزام نہیں ہے ۔ علاوہ ازیں امام ابن خَلدُون نے اپنے مقدمہ میں مہدی موعود سے متعلق وارد احادیث پر جو ناقدانہ کلام کیا ہے جس سے متاثر ہوکر بہت سے اہلِ علم بھی مہدی موعود کے ظہور کے بارے میں منکر یا متردد ہیں حضرت شیخ نے علامہ ابن خَلدُون کے اُٹھائے ہوئے سارے اعتراضات کا اسمائے رجال اور اُصولِ محدثین کی روشنی میں جائزہ لے کر مدلل طور پر ثابت کر دیا ہے کہ ان کے یہ اعتراضات دُرست نہیں ہیں اور بلا ریب رسالہ میں منقول احادیث صحیح و حُجّت ہیں۔ اس لیے یہ رسالہ بقامت کہتر و بقیمت بہتر کا صحیح مصداق ہے ۔ احقر نے اپنی بضاعت و ہمت کے مطابق اس نادر و بیش بہا علمی تحفہ کو مفید سے مفید تر بنانے کی پوری کوشش کی ہے ۔ حضرت شیخ الاسلام قدس سرہ نے جن کتب حدیث سے احادیث نقل کی ہیں ۔ ان کی جلد وصفحہ کا حوالہ دے دیا ہے ۔ اسی طرح رجالِ سند پر حضرت نے
جہاں جہاں کلام کیا ہے۔ اُس کا حوالہ نقل کر دیا ہے اور حسبِ ضرورت بعض رجال پر حضرت کے مختصر کلام کی تفصیل کر دی ہے۔ بعض احادیث کے بارے میں نشاندہی کر دی ہے کہ کن کن ائمہ حدیث نے ان کی تخریج کی ہے۔ غریب و مشکل الفاظ کی کتبِ لغت سے تشریح بھی نقل کر دی ہے۔ اسی کے ساتھ رسالہ کو مکمل تر بنانے کی غرض سے بطور تکملہ آخر میں چند احادیث صحیحہ کا اضافہ بھی کیا گیا ہے۔ پھر اس قیمتی علمی سرمایہ کو مفید عام بنانے کی غرض سے تمام حدیثوں کا ترجمہ بھی کر دیا ہے۔ والحمد لله الذی بنعمته تتم الصالحات وصلی الله علی النبی الکریم وعلی جمیع اصحابه و بارك وسلم۔
حبیب الرحمن قاسمی خادم التدریس دارالعلوم دیوبند
بسم الله الرحمن الرحيم
الْحَمْدُ لِلّٰهِ نَحْمَدُه وَ نَسْتَعِيْنُه وَ نَسْتَغْفِرُه وَ نُؤْمِنُ بِهِ وَ نَتَوَكَّلُ عَلَيْهِ وَنَعُوْذُ بِاللّٰهِ مِنْ شُرُوْرِ اَنْفُسِنَا وَسَيِّئَاتِ اَعْمَالِنَا مَنْ يَّهْدِهِ اللّٰهُ فَلَا مُضِلَّ لَه وَمَنْ يُّضْلِلْهُ فَلَا هَادِىَ لَه وَنَشْهَدُ اَنْ سَيِّدَنَا وَ مَوْلَانَا مُحَمَّدًا عَبْدُه وَرَسُوْلُه صَلَّى اللّٰهُ تَعَالٰى عَلَيْهِ وَعَلٰى اٰلِهِ وَصَحْبِهِ وَسَلَّمَ، اَمَّا بَعْدُ، فَيَقُوْلُ اَحْقَرُ طَلَبَةِ الْعُلُوْمِ الدِّيْنِيَّةِ بِبَلْدَةِ سَيِّدِ الْاَنَامِ وَخَيْرِ الْبَرِيَّةِ عَلَيْهِ وَعَلٰى اٰلِهِ اَلْفُ اَلْفِ صَلَاةٍ وَّتَحِيَّةٍ، اَلرَّاجِيْ عَفْوَ رَبِّهِ الصَّمَدِ عَبْدُهُ الْمَدْعُوُّ بِحُسَيْنٍ اَحْمَدُ غَفَرَ لَهُ وَلِوَالِدَيْهِ وَمَشَائِخِهِ الرَّءُوْفُ الْاَحَدُ، اِنَّه قَدْ جَرىٰ بِبَعْضِ اَنْدِيَةِ الْعِلْمِ ذِكْرُ الْمَهْدِىِّ الْمَوْعُوْدِ فَاَنْكَرَ بَعْضُ الْفُضَلَاءِ الْكَامِلِيْنَ صِحَّةَ الْاَحَادِيْثِ الْوَارِدَةِ فِيْهِ فَاَحْبَبْتُ اَنْ اَجْمَعَ الْاَحَادِيْثَ الصَّحِيْحَةَ فِى هٰذَا الْبَابِ وَاَتْرُكَ الْحِسَانَ وَالضِّعَافَ رَجَاءَ انْتِفَاعِ النَّاسِ وَتَبْلِيْغِ مَا اَتٰى بِهِ النَّبِىُّ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ وَاَنْ لَّا يَغْتَرَّ النَّاسُ بِكَلَامِ بَعْضِ الْمُصَنِّفِيْنَ الَّذِيْنَ لَا اِلْمَامَ لَهُمْ بِعِلْمِ الْحَدِيْثِ كَابْنِ خَلْدُوْنَ (١) وَغَيْرِه
حمد وصلوٰة کے بعد ۔۔۔۔۔ تمام مخلوق کے سردار اور تمام مخلوق میں سب سے بہتر ہستی (ان پر اللہ کی کروڑوں رحمتیں ہوں) کے شہر (مدینہ طیبہ) کے دینی طلباء میں سے سب حقیر بندہ جو اپنے بے نیاز پروردگار کی رحمت کا اُمیدوار ہے جسے حسین احمدؒ کہا جاتا ہے، خدائے مشفق و مہربان وحدہٗ لاشریک اُس کی اور اُس کے والدین کی مغفرت فرمائے۔ عرض رساں ہے کہ بعض مجالسِ علمیہ میں مہدیِ موعود کا ذکر آیا تو کچھ ماہرینِ علم نے مہدیِ موعود سے متعلق وارد حدیثوں کی صحت سے انکار کیا تو مجھے یہ بات اچھی لگی کہ اس موضوع سے متعلق مروی حسن وضعیف روایتوں سے قطع نظر صحیح حدیثوں کو جمع کر دوں تاکہ لوگ اس سے نفع اُٹھائیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کی تبلیغ بھی ہو جائے، نیز ان حدیثوں کی جمع وتدوین سے ایک غرض یہ بھی ہے کہ بعض اُن مصنفین کے کلام سے لوگ دھوکا نہ کھا جائیں جنہیں علم حدیث سے لگاؤ نہیں ہے جیسے علامہ ابن خلدونؒ وغیرہ یہ حضرات اگرچہ فنِ تاریخ میں
(١) قاضى القضاة عبد الرحمن بن محمد بن خلدون الأشبيلي الحضرمي المالكي المتوفى ٨٠٨هـ ولد في تونس سنة ٧٣٢هـ مؤرخ وفيلسوف ورجل سياسى درس المنطق والفلسفة والفقه والتاريخ فعينه أبو عنان سلطان تونس ولى الكتابة ثم سافر إلى الأندلس فانتدبه ابن الأحمر صاحب غرناطة سفيرا إلى ملك قشتالة ثم رحل إلى مصر ودرس في الأزهر وتولى قضاء المالكية ولم يتزى بزى القضاة محتفظا بزى بلاده وعزل و أعيد وتوفى فجأة فى القاهرة كان فصيح المنطق جميل الصورة عاقلا
فَإِنَّهُمْ وَإِنْ كَانُوْا مِنَ الْمُعْتَمِدِيْنَ فِى التَّارِيْخِ وَأَمْثَالِهِ فَلَا اعْتِدَادَ لَهُمْ فِي عِلْمِ الْحَدِيْثِ وَقَدْ كُنْتُ اَسْمَعُ قَبْلَ ذَلِكَ الْإِنْكَارَ مِنْ بَعْضِ الْعَوَامِ أَيْضاً لَكِنْ لَّمْ يَحْمِلْنِي إِنْكَارُهُمْ عَلَى الْجَمْعِ وَلَمَّا رَأَيْتُ فُضَلَاءَ الْاَوَانِ وَاَئِمَّةَ الزَّمَانِ يَتَرَدَّدُوْنَ فِيْهِ شَمَّرْتُ ذَيْلِىْ لِهذَا الْمَقْصَدِ الْمُنِيْفِ لَعَلَّهُ يَكُوْنُ ذَرِيْعَةً لِإِزَالَةِ الْإِشْتِبَاهِ عَنْ هَذَا الدِّيْنِ الْمُنِيْفِ وَعَلَى اللّٰهِ التُّكْلَانُ . وَحَيْثُ اِنَّ بَعْضَ الْأَحَادِيْثِ قَدْ تَكَفَّلَ بِه إِمَامٌ مِّنْ اَئِمَّةِ الْحَدِيْثِ أَتَيْتُ بِه بِغَيْرِ تَعَرُّضٍ لِرِجَالِه وَمَا لَمْ يَكُنْ كَذَلِكَ تَعَرَّضْتُ لِرِجَالِه فَمَنْ كَانَ مِنْ رِجَالِ الصَّحِيْحَيْنِ اِكْتَفَيْتُ بِذِكْرِ ذَلِكَ وَمَنْ لَّمْ يَكُنْ كَذَلِكَ اَتَيْتُ بِأَلْفَاظِ التَّوْثِيْقِ الَّتِى ذَكَرَهَا اَئِمَّةُ الْجُرْحِ وَالتَّعْدِيْلِ وَلَمَّا كَانَ الْحَاكِمُ اَبُوْ عَبْدِاللّٰهِ النَّيْسَا بُوْرِىُّ رَحِمَهُ اللّٰهُ تَعَالَى (۱) يُرْ مَى
معتمد اور مستند ہیں، لیکن علم حدیث میں ان کے قول کا اعتبار نہیں ہے۔ میں اس سے پہلے بھی بعض عوام سے مہدی موعود کے بارے میں مروی احادیث کا انکار سن رہا تھا، لیکن عوام کے انکار سے مجھے ان احادیث کے جمع کرنے کی رغبت نہیں ہوئی تھی، لیکن جب فضلاء وقت اور علماء زمانہ کو میں نے اس بارے میں متردد دیکھا تو اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کرتے ہوئے اس بلند مقصد کے لیے میں تیار ہوگیا تاکہ یہ دینِ منیف سے شبہات کے دُور کرنے کا ذریعہ بن جائے اور چونکہ کچھ احادیث تو ایسی ہیں جن کی ائمہ حدیث میں سے کسی نہ کسی امام نے ذمہ داری لی ہے اور کچھ ایسی نہیں ہیں، لہٰذا اگر مجھے کوئی ایسی حدیث ملی جسکی صحت کی کسی نہ کسی معتبر امام حدیث نے ذمہ داری لی ہے تو میں اُسے اُس کے رجال سے تعرض کیے بغیر ذکر کروں گا اور جو حدیث ایسی نہ ہوگی
صادق اللهجة طامحا للمراتب العالية اشتهر بكتابه"العبر وديوان المبتدأ والخبر في تاريخ العرب والعجم والبربر" في سبعة مجلدات أولها المقدمة وهى تعد من أصول علم الاجتماع ومن كتبه شرح البردة وكتاب في الحساب ورسالة في المنطق وشفاء السائل لتهذيب المسائل- وقد طعن ابن خلدون في أحاديث المهدى في مقدمته في الفصل الثانى والخمسين ولكن لا اعتداد بقوله في تصحيح حديث وتضعيفه عند اهل الحديث لأنه ليس من رجال الحديث كما قال الشيخ رحمه الله وقال أيضا الشيخ أحمد شاكر في تخريجه الأحاديث لمسند الامام أحمد ج ٥ ص ١٩٧، أما ابن خلدون فقد قضا ماليس به علم واقحم قحما لم يكن من رجالها (الاعلام للزركلى ج ٣ ص ٣٣٠ والمنجد في الاعلام ص ١٧٩)
(۱) أبو عبد الله محمد بن عبد الله بن محمد بن حمدوية الحاكم الضبى النيسابورى المعروف بابن البيع على وزن قيم صاحب التصانيف التى لم يسبق إلى مثلها كتاب الاكليل وكتاب المدخل اليه وتاريخ نيسابور وفضائل الشافعى والمستدرك على كتاب الصحيحين وغير ذلك توفى عام ٤٠٥ هـ و هو متساهل فى الصحيح واتفق الحفاظ على أن تلميذه البيهقى أشد تحريا منه، (الرسالة المستطرفة (ر.ك)
بِالتَّسْهِيلِ فِي تَصْحِيحِ الْحَدِيثِ لَمْ اَكْتَفِ بِتَصْحِيحِهِ فَقَطْ بَلِ اعْتَمَدْتُ عَلى تَلْخِيْصِ صِحَاحِ الْمُسْتَدْرِكِ لِلذَّهَبِيِّ رَحِمَهُ اللهُ تَعَالى(۱) فَمَا جَرَحَ فِي صِحَّتِهِ تَرَكْتُهُ وَمَا قَبِلَه اَتَيْتُ بِهِ وَتَرَكْتُ كَثِيْراً مِّنَ الْاَحَادِيْثِ لِعَدْمِ الْاِطِّلَاعِ عَلَى اَسَانِيْدِهَا مِمَّا ذَكَرَهُ صَاحِبُ كَنْزِ الْعُمَّالِ وَغَيْرُه(۲) وَاعْتَمَدْتُ فِي تَعْدِيْلِ الرُّوَاةِ وَتَوْثِيْقِهِمْ عَلى تَهْذِيْبِ التَّهْذِيْبِ وَخُلَاصَةِ التَّهْذِيْبِ، هذَا وَعَلَى اللهِ الْاِعْتِمَادُ وَهُوَ حَسْبِى وَ نِعْمَ الْوَكِيْلُ
تو میں اس کے رجال کے بارے میں بحث کروں گا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔پھر اگر رجال صحیحین کے ہوں گے تو میں صرف صحیحین کے ذکر پر اکتفاء کروں گا اور جو رجال صحیحین کے نہ ہوں گے تو پھر میں اُن الفاظ توثیق کو لاؤں گا جن کو ائمہ جرح و تعدیل نے ذکر کیا ہوگا۔ امام حاکم ابو عبداللہ نیشاپوری رحمہ اللہ پر چونکہ تصحیح احادیث میں تساہل کا الزام ہے اس لیے میں نے صرف ان کی تصحیح کو کافی نہیں سمجھا بلکہ امام ذہبی رحمہ اللہ کی مستدرک پر جو تلخیص ہے۔ اس پر اعتماد کیا ہے اور جس حدیث کی صحت پر امام ذہبیؒ نے جرح کی ہے میں نے اس کو چھوڑ دیا ہے اور جن احادیث کو انھوں نے قبول کیا ہے ان کو میں نے بھی ذکر کیا ہے اور میں نے بہت سی احادیث سند معلوم نہ ہونے کی بناء پر ترک کر دی ہیں۔ جن کو صاحب کنز العمال وغیرہ نے ذکر کیا ہے اور رُواۃ کی تعدیل و توثیق میں میں نے تہذیب التہذیب اور خلاصۃ التہذیب پر اعتماد کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہی پر میرا بھروسہ ہے اور وہی مجھے کافی ہیں اور بہترین کارساز ہیں۔
(۱) الحافظ شمس الدين أبو عبد الله محمد بن أحمد بن عثمان التركمانى الفاروقى الاصل الذهبى نسبة الى الذهب كما فى التبصير توفى بدمشق سنة ٧٤٨هـ قد لخص الذهبى المستدرك للحاكم وتعقب كثيرا منه بالضعف والنكارة او الوضع وقال فى بعض كلامه إن العلماء لا يعتدون بتصحيح الترمذى ولا الحاكم (أيضا ص ٢٠).
(۲) الشيخ علاء الدين على الشهير بالمتقى بن حسام الدين عبد الملك بن قاضى خان الشاذلى القادرى الهندى ثم المدنى فالمكى فقيه من علماء الحديث أصله من جونفور ومولده فى برهانفور من بلاد الدكن بالهند علت مكانته عند السلطان محمود ملك غجرات وسكن فى المدينة ثم أقام بمكة مدة طويلة وتوفى بها سنة ٩٧٥هـ، له مصنفات فى الحديث وغيره منها كنز العمال فى سنن الأقوال والأفعال فى ثمانية اجزاء ومختصر كنز العمال ومنهج العمال فى سنن الاقوال (مخطوطة) الجمع بين الحكم القرآنية والحديثية (مخطوطه) قال العيدروسى مؤلفاته نحو مأة ما بين كبير وصغير وقد افرد عبد القادر بن أحمد الفاكهى مناقبه فى تأليف سماه القول النقى فى مناقب المتقى. الرسالة المستطرفة ص: ١٤٩، الأعلام للزركلى ج٤ ص ٣٠٩.
قَالَ الْإِمَامُ الْحَافِظُ أَبُوْ عِيْسَى مُحَمَّدُ بْنُ عِيْسَى بْنِ سُوْرَةَ التِّرْمِذِيُّ رَحِمَهُ اللهُ تَعَالىٰ فِيْ جَامِعِهِ (١)
- (١) حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ أَسْبَاطِ بْنِ مُحَمَّدٍ الْقُرَشِيُّ نَا أَبِيْ نَا سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ عَنْ عَاصِمِ
بْنِ بَهْدَلَةَ عَنْ زِرٍّ (٢) عَنْ عَبْدِ اللهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , , لَا تَذْهَبُ الدُّنْيَا حَتّٰى يَمْلِكَ الْعَرَبَ رَجُلٌ مِّنْ أَهْلِ بَيْتِيْ يُوَاطِئُ (٣) اسْمُه اِسْمِيْ ، ، اِلخ ، وَفِي الْبَابِ عَنْ عَلِيٍّ وَأَبِيْ سَعِيْدٍ وَأُمِّ سَلَمَةَ وَأَبِيْ هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ تَعَالىٰ عَنْهُمْ هٰذَا حَدِيْثٌ حَسَنٌ صَحِيْحٌ (٤)
امام حافظ ابو عیسیٰ محمد بن عیسیٰ بن سورۃ ترمذی رحمہ اللہ اپنی کتاب ”جامع ترمذی“ میں فرماتے ہیں۔
- (١) حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”دنیا اس وقت
تک ختم نہ ہوگی یہاں تک کہ (میرے اہل بیت و آل اولاد) میں سے ایک شخص عرب کا بادشاہ ہو جائے جس کا نام میرے نام کے مطابق (یعنی محمد ہوگا) (مختصراً من جامع ترمذی)
- (١) محمد بن عيسى بن سورة بن موسى السلمي البوغى الترمذى أبو عيسى توفى سنة ٢٧٩ هـ من
أئمة علماء الحديث وحفاظه من اهل ترمذ (على نهر جيحون) تلمذ على البخارى وشاركه فى بعض شيوخه وقام برحلات إلى خراسان والعراق والحجاز وعمى فى أخر عمره وكان يضرب به المثل فى الحفظ مات بـ ”ترمذ“ من تصانيفه الجامع الكبير المعروف باسم الترمذى فى الحديث مجلدان والشمائل النبوية والتأريخ والعلل فى الحديث (الاعلام ج ٢ ص ٣٢٢).
- (٢) زر فى المغنى زِرٌّ بكسر زاى وشدة راء.
- (٣) يواطئ اى يوافق ويماثل.
- (٤) الترمذى ج ٢ ص ٤٧.
(۲) حَدَّثَنَا عَبْدُالْجَبَّارِ بْنُ الْعَلَاءِ الْعَطَّارُ ثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ عَاصِمٍ عَنْ زِرٍّ عَنْ عَبْدِاللّٰهِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَلِيْ رَجُلٌ مِنْ اَهْلِ بَيْتِيْ يُوَاطِئُ اسْمُهٗ اِسْمِيْ قَالَ عَاصِمٌ وَحَدَّثَنَا اَبُوْ صَالِحٍ عَنْ اَبِيْ هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللّٰهُ تَعَالٰى عَنْهُ لَوْ لَمْ يَبْقَ مِنَ الدُّنْيَا اِلَّا يَوْماً لَطَوَّلَ اللّٰهُ ذٰلِكَ الْيَوْمَ حَتّٰى يَلِيَ . اه هٰذَا حَدِيْثٌ حَسَنٌ صَحِيْحٌ (۱) وَقَالَ الْاِمَامُ الْحَافِظُ الْحُجَّةُ اَبُوالْحُسَيْنِ مُسْلِمُ بْنُ الْحَجَّاجِ الْقُشَيْرِيُّ رَحِمَهُ اللّٰهُ تَعَالٰى . (۳) حَدَّثَنِيْ مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمِ بْنِ مَيْمُوْنٍ ثَنَا الْوَلِيْدُ بْنُ صَالِحٍ نَا عُبَيْدُ اللّٰهِ بْنُ عَمْرٍو نَا زَيْدُ بْنُ اَبِيْ اُنَيْسَةَ عَنْ عَبْدِالْمَلِكِ الْعَامِرِيِّ عَنْ يُوْسُفَ ابْنِ مَاهَكٍ قَالَ اَخْبَرَنِيْ عَبْدُ اللّٰهِ بْنُ صَفْوَانَ عَنْ اُمِّ الْمُؤْمِنِيْنَ(۲) رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهَا اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ۔ میرے اہل بیت سے ایک شخص خلیفہ ہو گا جس کا نام میرے نام کے موافق ہو گا ۔ حضرت ابو ہریرہؓ سے مروی ایک روایت میں ہے کہ اگر دنیا کا ایک ہی دن باقی رہ جائے گا تو اللہ تعالیٰ اُسی دن کو دراز کر دیں گے یہاں تک کہ وہ شخص (یعنی مہدی) خلیفہ ہو جائے ۔ (ترمذی ج ۲ ص ۴۶) ان دونوں حدیثِ پاک کا حاصل یہ ہے اس مردِ اہل بیت کا قیامت کے آنے سے پہلے خلیفہ ہونا ضروری ہے ۔ اس کی خلافت کے بعد ہی قیامت آئے گی ۔
حضرت اُمّ المؤمنین (یعنی عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا) روایت کرتی ہیں کہ رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ۔ زمانۂ قریب میں مکہ معظمہ کے اندر ایک قوم پناہ گزیں ہو گی جو شوکت و حشمت اور افرادی (یا ہتھیاروں کی) طاقت سے تہی دست ہو گی ۔ اس سے جنگ کے لیے ایک لشکر (ملک شام سے) چلے گا ۔ یہاں تک کہ یہ لشکر جب (مکہ و مدینہ کے درمیان) ایک چٹیل میدان میں پہنچے گا تو اُسی جگہ زمین میں دھنسا دیا جائے گا
(۱) ايضا واخرجه الامام ابوداود فى سننه وسكت عنه والحافظ ابو بكر البيهقى فى باب ما جاء فى خروج المهدى وله شواهد صحيح عن علي . عند ابى داؤد وعن ابى سعيد الخدرى عند ابن ماجة والحاكم واحمد. (۲) قال الدارقطنى هى عائشة (شرح صحيح مسلم للامام للنووى ج ۲ ص ۳۸۸).
وَسَلَّمَ قَالَ سَيَعُوذُ بِهٰذَا الْبَيْتِ يَعْنِي الْكَعْبَةَ قَوْمٌ لَيْسَ لَهُمْ مَنَعَةٌ (۱) وَلَا عَدَدٌ وَلَا عُدَّةٌ يُبْعَثُ إِلَيْهِمْ جَيْشٌ حَتّٰى إِذَا كَانُوا بِبَيْدَاءَ (۲) مِنَ الْأَرْضِ خُسِفَ بِهِمْ- قَالَ يُوْسُفُ وَأَهْلُ الشَّامِ يَوْمَئِذٍ يَسِيرُوْنَ إِلٰی مَكَّةَ فَقَالَ عَبْدُاللّٰهِ بْنُ صَفْوَانَ اَمَ وَاللّٰهِ مَا هُوَ بِهٰذَا الْجَيْشِ وَ فِيْ رِوَايَةٍ اُخْرٰی عِنْدَهُ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللّٰهُ تَعَالٰی عَنْهَا قَالَتْ عَبَثَ (۳) رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيْ مَنَامِهِ فَقُلْنَا يَا رَسُوْلَ اللّٰهِ (صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ) صَنَعْتَ شَيْئاً فِيْ مَنَامِكَ لَمْ تَكُنْ تَفْعَلُهُ فَقَالَ الْعَجَبُ إِنَّ نَاساً مِنْ اُمَّتِيْ يَؤُمُّوْنَ بِرَجُلٍ مِنْ قُرَيْشٍ قَدْ لَجَأَ بِالْبَيْتِ حَتّٰى إِذَا كَانُوْا بِالْبَيْدَاءِ خُسِفَ بِهِمْ فَقُلْنَا يَا رَسُوْلَ اللّٰهِ إِنَّ
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے ایک دوسری روایت میں یوں مروی ہے کہ ایک مرتبہ نیند کی حالت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے جسم مبارک میں (خلافِ معمول) حرکت ہوئی تو ہم نے عرض کیا یا رسول اللہ ! آج نیند میں آپؐ سے ایسا کام ہوا جسے آپؐ نے اس سے پہلے کبھی نہیں کیا ؟ اس سوال کے جواب میں آپ نے فرمایا عجیب بات ہے کہ کعبۃ اللہ میں پناہ گزیں ایک قریشی (یعنی مہدی) سے جنگ کے ارادے سے میری اُمت کے کچھ لوگ آئیں گے اور جب مقامِ بیدا (یعنی مکہ و مدینہ کے درمیان واقع چٹیل بیابان) میں پہنچیں گے تو زمین میں دھنسا دیے جائیں گے۔ ہم نے عرض کیا یا رسول ان میں تو بہت سے راہ گیر بھی ہوسکتے ہیں جو اتفاقاً راستہ میں ان کے ساتھ ہو گئے ہوں گے تو اُنھیں کس جرم میں دھنسایا جائے گا؟ آپؐ نے فرمایا ہاں ان میں کچھ باارادۂ جنگ آنے والے ہوں گے، کچھ مجبور ہوں گے۔ (یعنی زبردستی اُنھیں ساتھ لے لیا جائے گا) اور کچھ راہ گیر ہوں گے۔ یہ سب کے سب اکٹھا دھنسا دیے جائیں گے۔ البتہ قیامت میں ان کا حشر ان کی نیتوں کے لحاظ سے ہوگا۔
مطلب یہ ہے کہ نزولِ عذاب کے وقت مجرمین کے ساتھ رہنے والے بھی عذاب سے محفوظ
- (۱) منعة بفتح النون وكسرها اى ليس لهم من يحميهم ويمنعهم .
- (۲) البيداء كل ارض ملساء لا شئ بها .
- (۳) عبث قيل معناه اضطرب بجسمه وقيل حرك اطرافه كمن ياخذ شيئاً او يدفعه.
الطَّرِيقَ قَدْ يَجْمَعُ النَّاسَ قَالَ نَعَمْ فِيهِمُ الْمُسْتَبْصِرُ (١) وَالْمَجْبُورُ وَابْنُ السَّبِيْلِ يَهْلِكُوْنَ مَهْلَكاً وَاحِداً وَ يَصْدُرُوْنَ مَصَادِرَ شَتَّى يَبْعَثُهُمُ اللّٰهُ عَلَى نِيَّاتِهِمْ . اه (٢)
(٤) حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَعَلِیُّ بْنُ حُجْرٍ وَاللَّفْظُ لِزُهَيْرٍ قَالَانَا اِسْمَاعِيْلُ بْنُ إِبْرَاهِيْمَ عَنِ الْجُرَيْرِیِّ عَنْ اَبِیْ نَضْرَةَ قَالَ كُنَّا عِنْدَ جَابِرِ بْنِ عَبْدِاللّٰهِ رَضِیَ اللّٰهُ عَنْهُمَا فَقَالَ يُوْشِكُ اَهْلُ الشَّامِ اَنْ لَّا يُجْبٰى اِلَيْهِمْ دِيْنَارٌ وَلَا مُدْیٌ(٣) . قُلْنَا مِنْ اَيْنَ ذٰلِكَ قَالَ مِنْ قِبَلِ الرُّوْمِ ثُمَّ سَكَتَ هُنَيَّةً ثُمَّ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَكُوْنُ فِیْ آخِرِ اُمَّتِیْ خَلِيْفَةٌ يَحْثِی(٤) الْمَالَ حَثْياً وَلَا يَعُدُّه عَدًّا قَالَ قُلْتُ لِاَبِیْ نَضْرَةَ وَاَبِى الْعَلَاءِ اَتَرَيَانِ اَنَّه عُمَرُ بْنُ عَبْدِالْعَزِيْزِ فَقَالَا لَا الخ (٥)
نہیں ہوں گے، بلکہ عذاب کی ہمہ گیری میں وہ بھی شامل ہوں گے، البتہ قیامت کے دن سب کے ساتھ معاملہ ان کی نیت وعمل کے مطابق ہوگا۔ (صحیح مسلم ج ۲ ص ۳۸۸)
- (۴) ابو نضرہ تابعی بیان کرتے ہیں کہ ہم حضرت جابر بن عبداللہ کی خدمت میں تھے کہ انھوں نے فرمایا
قریب ہے وہ وقت جب اہل شام کے پاس نہ دینار لائے جاسکیں گے اور نہ ہی مُدّ، ہم نے پوچھا یہ بندش کن لوگوں کی جانب سے ہوگی؟ حضرت جابر رضی اللہ عنہ نے فرمایا رومیوں کی طرف سے۔ پھر تھوڑی دیر خاموش رہ کر فرمایا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے۔ میری آخری اُمت میں ایک خلیفہ ہوگا (یعنی خلیفہ مہدی) جو مال لپ بھر بھر دے گا، اور اسے شمار نہیں کرے گا۔
اس حدیث کے راوی الجریری کہتے ہیں کہ میں نے (اپنے شیخ) ابو نضرہ اور ابو العلاء سے دریافت کیا۔ کیا آپ حضرات کی رائے میں حدیث پاک میں مذکور خلیفہ حضرت عمر بن عبدالعزیز ہیں؟ تو اُن دونوں حضرات نے فرمایا نہیں یہ خلیفہ حضرت عمر بن عبدالعزیز کے علاوہ ہوں گے۔ (مسلم ج۲ ص۳۹۵)
- (١) المستبصر فهو المستبين لذلك القاصد له عمدا.
- (٢) صحیح مسلم ج ٢ ص ٣٨٨ وقد ذکر مسلم الحديث قبل هذه الرواية من رواية أم سلمة
- (٣) مدی مكيال في الشام ومصر يسع ١٩ صاعا.
- (٤) يحثى حثيا وحثوا هو الحفن باليدين.
- (٥) صحیح مسلم ج ٢ ص ٣٩٥ وقال مسلم بعد هذه الرواية عن أبى سعيد الخدری نحوه.
قُلْتُ وَلَا يُقْلِقُكَ اَنَّكَ لَا تَجِدُ فِىْ شَيْءٍ مِّنْ هٰذِهِ الرِّوَايَاتِ ذِكْرَ الْمَهْدِىِّ. اِنَّ الْاَحَادِيْثَ الصَّحِيْحَةَ الَّتِىْ سَيَاتِىْ ذِكْرُهَا تُصَرِّحُ اَنَّ ذٰلِكَ الرَّجُلَ الْعَائِدَ بِالْبَيْتِ اِنَّمَا هُوَالْمَهْدِىُّ وَكَذٰلِكَ الْخَلِيْفَةُ الَّذِىْ يَحْثِى الْمَالَ حَثْيًا هُوَالْمَهْدِىُّ وَاَنَّ الْاَحَادِيْثَ يُفَسِّرُ بَعْضُهَا بَعْضاً كَمَا لَا يَخْفٰى عَلٰى مَنْ لَّهٗ نَوْعُ اِلْمَامٍ بِالْحَدِيْثِ وَاللّٰهُ اَعْلَمُ.
وَقَالَ الْاِمَامُ الْحَافِظُ الْحُجَّةُ اَبُوْ دَاوُدَ سُلَيْمَانُ (١) بْنُ الْاَشْعَثِ السِّجِسْتَانِىُّ رَحِمَهُ اللّٰهُ تَعَالٰى فِىْ سُنَنِه.
(٥) حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ اَنَّ عُمَرَ بْنَ عُبَيْدٍ حَدَّثَهُمْ ح وَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ نَا اَبُوْبَكْرٍ يَعْنِى ابْنَ عَيَّاشٍ ح وَثَنَا مُسَدَّدٌ نَا يَحْيٰى عَنْ سُفْيَانَ ح وَثَنَا اَحْمَدُ بْنُ اِبْرَاهِيْمَ قَالَ نَا عُبَيْدُ اللّٰهِ بْنُ مُوْسٰى اَنَا زَائِدَةُ ح ثَنَا اَحْمَدُ بْنُ اِبْرَاهِيْمَ ثَنِىْ عُبَيْدُ اللّٰهِ بْنُ مُوْسٰى عَنْ فِطْرٍ الْمَعْنٰى كُلُّهُمْ عَنْ عَاصِمٍ عَنْ زِرٍّ عَنْ عَبْدِ اللّٰهِ رَضِىَ اللّٰهُ تَعَالٰى عَنْهُ عَنِ النَّبِىِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَوْ لَمْ يَبْقَ مِنَ الدُّنْيَا اِلَّا يَوْمٌ قَالَ زَائِدَةُ لَطَوَّلَ اللّٰهُ ذٰلِكَ الْيَوْمَ حَتّٰى يَبْعَثَ رَجُلًا مِّنِّىْ اَوْ مِنْ اَهْلِ بَيْتِىْ يُوَاطِى اِسْمُه اِسْمِىْ وَاسْمُ اَبِيْهِ اِسْمَ اَبِىْ زَادَ فِىْ حَدِيْثِ فِطْرٍ
تنبیہ : اوپر مذکور ان احادیث میں اگرچہ صراحتاً خلیفہ مہدی کا ذکر نہیں ہے لیکن دیگر صحیح حدیثوں میں صاف طور پر مذکور ہے کہ کعبہ میں پناہ لینے والے خلیفہ مہدی ہی ہوں گے جن سے جنگ کے لیے سفیانی کا لشکر شام سے چلے گا اور جب مقام بیداء میں پہنچے گا تو دھنسا دیا جائیگا اسی طرح صحیح احادیث میں یہ تصریح موجود ہے کہ بغیر شمار کیے لپ بھر بھر مال عطا کرنے والے خلیفہ مہدی ہی ہیں اس لیے بلا ریب ان مذکورہ حدیثوں میں خلیفہ مہدی کی طرف واضح اشارہ ہے اور یہ حدیثیں انہی سے متعلق ہیں۔
(۵) حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر دنیا کا
(١) الحافظ الحجة سليمان بن الاشعث بن اسحاق بن بشير الازدى السجستانى ابوداؤد امام اهل الحديث فى زمانه اصله من سجستان رحل رحلة كبيرة وتوفى بالبصرة سنة ٢٧٥ هـ، له السنن فى جزئين وهو احد الكتب الستة جمع فيه ٤٨٠٠ حديثا فانتخبها من ٥٠٠٠٠٠ حديثا وله المراسيل الصغيرة فى الحديث وكتاب الزهد، مخطوطة فى خزانة القرويين بخط اندلسى والبعث والنشور مخطوطة رسالة وتسمية الاخوة مخطوطة رسالة: الاعلام ج ٣ ص ١٢٢.
يَمْلَأُ الْأَرْضَ قِسْطًا وَعَدْلًا كَمَا مُلِئَتْ ظُلْمًا وَجَوْرًا وَقَالَ فِي حَدِيْثِ سُفْيَانَ لَاتَذْهَبُ أَوْلَا تَنْقَضِي الدُّنْيَا حَتَّى يَمْلِكَ الْعَرَبَ رَجُلٌ مِّنْ اَهْلِ بَيْتِيْ يُوَاطِي اِسْمُهٗ اِسْمِيْ قَالَ أَبُوْدَاوُدَ لَفْظُ عَمْرٍو وَ أَبِيْ بَكْرٍ بِمَعْنَى سُفْيَانَ. (۱) قُلْتُ مَدَارُ هٰذِهِ الرِّوَايَةِ عَلَى عَاصِمِ(۲) بْنِ بَهْدَلَةَ الْمَعْرُوْفِ بِابْنِ أَبِي النَّجُوْدِ أَحَدِ الْقُرَّاءِ السَّبْعَةِ أَخْرَجَ لَهُ الْبُخَارِيُّ وَمُسْلِمٌ رَحِمَهُمَا اللّٰهُ تَعَالَى مَقْرُوْنًا وَالْأَرْبَعَةُ ، وَثَّقَهُ أَحْمَدُ وَالْعِجْلِيُّ وَ يَعْقُوْبُ بْنُ سُفْيَانَ وَأَبُوْزُرْعَةَ وَأَمَّا زِرٌّ فَهُوَ ابْنُ حُبَيْشِ الْأَسَدِيُّ الْكُوْفِيُّ اَخْرَجَ لَهُ السِّتَّةُ وَأَمَّا عَبْدُ اللّٰهِ بْنُ مَسْعُوْدٍ رَّضِيَ اللّٰهُ عَنْهُ الصَّحَابِيُّ الْفَقِيْهُ الْمَعْرُوْفُ فَعُلِمَ بِمَا ذُكِرَ أَنَّ الْحَدِيْثَ صَحِيْحٌ عَلَى شَرْطِهِمَا قَالَ أَبُوْ عَبْدِ اللّٰهِ الْحَاكِمُ فِيْ مُسْتَدْرَكِهٖ مَا نَصُّهٗ وَالْحَدِيْثُ الْمُفَسِّرُ بِذٰلِكَ الطَّرِيْقِ وَطُرُقِ حَدِيْثِ عَاصِمٍ عَنْ زِرٍّ عَنْ عَبْدِاللّٰهِ كُلُّهَا صَحِيْحَةٌ أَىْ كُلُّ طُرُقِهٖ صَحِيْحَةٌ عَلَى مَا أَصَّلْتُهٗ فِي هٰذَا الْكِتَابِ بِالْاِحْتِجَاجِ بِأَخْبَارِ عَاصِمِ ابْنِ أَبِي النَّجُوْدِ إِذْ هُوَ إِمَامٌ مِّنْ أَئِمَّةِ الْمُسْلِمِيْنَ (۳)
- (٦) حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِيْ شَيْبَةَ ثَنَا الْفَضْلُ بْنُ دُكَيْنٍ حَدَّثَنَا فِطْرٌ عَنِ الْقَاسِمِ
بْنِ أَبِيْ بَزَّةَ عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ عَنْ عَلِيٍّ رَّضِيَ اللّٰهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَوْ لَمْ يَبْقَ مِنَ الدَّهْرِ إِلَّا يَوْمٌ لَّبَعَثَ اللّٰهُ رَجُلًا مِّنْ أَهْلِ بَيْتِيْ يَمْلَأُهَا عَدْلًا كَمَا مُلِئَتْ
صرف ایک دن باقی بچے گا تو اللہ تعالیٰ اسی دن کو دراز فرما دیں گے تاکہ میرے اہل بیت سے ایک شخص کو پیدا فرمائیں جن کا نام اور ولدیّت میرے نام اور ولدیّت کے مطابق ہو گا۔ وہ زمین کو عدل و انصاف سے بھر دے گا۔ یعنی پوری دنیا میں عدل و انصاف اس کی حکمرانی ہوگی، جس طرح وہ اس سے پہلے، ظلم و زیادتی سے بھری ہو گی۔
(ابو داؤد ج ۲ ص ۵۸۸)
- (۶) حضرت علی رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد نقل کرتے ہیں کہ اگر زمانہ سے ایک ہی
- (۱) سنن ابي داود اول كتاب المهدي ج ۲ ص ۵۸۸.
- (۲) عاصم بن بهدله راجع تهذيب التهذيب ج ۵ ص ۳۵ وخلاصه التذهيب ص ۱۸۱ وزر بن
حبيش تهذيب التهذيب ج ۳ ص ۲۷۷.
- (۳) المستدرك كتاب الفتن والملاحم ج ۴ ص ۵۵۷ - وقال صاحب عون المعبود سكت عنه ابو
داود والمنذرى وابن القيم وله شاهد صحيح من حديث على عند ابی داود ورواه الترمذی كما مر وابن ماجة واحمد من حديث ابی سعيد الخدری هذا الحديث صحيح بشواهده والله اعلم.
جَوْرًا اِلَخ (١). اَقُوْلُ اَمَّا عُثْمَانُ بْنُ اَبِيْ شَيْبَةَ فَهُوَ عُثْمَانُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ اَبِيْ شَيْبَةَ اِبْرَاهِيْمُ بْنُ عُثْمَانَ الْعَبْسِيُّ اَبُو الْحَسَنِ الْكُوْفِيُّ الْحَافِظُ اَحَدُ الْاَعْلَامِ اَخْرَجَ لَهُ الشَّيْخَانِ وَاَبُوْ دَاوُدَ وَالنَّسَائِيُّ وَابْنُ مَاجَةَ قَالَ ابْنُ مَعِيْنٍ ثِقَةٌ اَمِيْنٌ (٢) وَاَمَّا الْفَضْلُ بْنُ دُكَيْنٍ فَهُوَ عَمْرُو بْنُ حَمَّادِ بْنِ الزُّهَيْرِ التَّيْمِيُّ مَوْلٰى اٰلِ طَلْحَةَ اَبُوْ نُعَيْمٍ الْكُوْفِيُّ الْمُلَائِيُّ الْاَحْوَلُ الْحَافِظُ الْعَالِمُ قَالَ اَحْمَدُ ثِقَةٌ يَقْظَانُ عَارِفٌ بِالْحَدِيْثِ وَقَالَ الْفَسَوِيُّ اَجْمَعَ اَصْحَابُنَا عَلٰى اَنَّ اَبَا نُعَيْمٍ كَانَ غَايَةً فِي الْاِتْقَانِ اَخْرَجَ لَهُ السِّتَّةُ، وَاَمَّا فِطْرٌ فَهُوَ ابْنُ خَلِيْفَةَ الْقُرَشِيُّ الْمَخْزُوْمِيُّ اَبُوْ بَكْرٍ الْخَيَّاطُ الْكُوْفِيُّ اَخْرَجَ لَهُ الْبُخَارِيُّ وَالْاَرْبَعَةُ وَثَّقَهُ اَحْمَدُ وَ ابْنُ مَعِيْنٍ وَالْعِجْلِيُّ وَابْنُ سَعْدٍ. اَمَّا الْقَاسِمُ بْنُ اَبِيْ بَزَّةَ وَاَمَّا اَبُو الطُّفَيْلِ فَهُوَ عَامِرُ بْنُ وَاثِلَةَ الْكِنَانِيُّ اللَّيْثِيُّ اَحَدُ الصَّحَابَةِ وَاٰخِرُهُمْ وَفَاتًا عَلَى الْاِطْلَاقِ وَاَخْرَجَ لَهُ السِّتَّةُ وَالْحَاصِلُ اَنَّ الْحَدِيْثَ صَحِيْحٌ عَلٰى شَرْطِ الْبُخَارِيِّ رَحِمَهُ اللّٰهُ تَعَالٰى.
- (٧) حَدَّثَنَا اَحْمَدُ بْنُ اِبْرَاهِيْمَ ثَنِيْ عَبْدُ اللّٰهِ بْنُ جَعْفَرٍ الرَّقِيُّ ثَنَا اَبُو الْمَلِيْحِ الْحَسَنُ
بْنُ عُمَرَ عَنْ زِيَادِ بْنِ بَيَانٍ عَنْ عَلِيِّ بْنِ نُفَيْلٍ عَنْ سَعِيْدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ عَنْ اُمِّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللّٰهُ تَعَالٰى عَنْهَا قَالَتْ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُوْلُ اَلْمَهْدِيُّ مِنْ
دن باقی رہ جائے گا (جب بھی) اللہ تعالیٰ میرے اہل بیت میں سے ایک شخص کو بھیجے گا جو زمین کو عدل و انصاف سے معمور کر دے گا جس طرح وہ اس سے قبل ظلم سے بھری ہو گی۔ ایضاً
- (۷) حضرت ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں ، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے
ہوئے سنا کہ مہدی میری نسل اور فاطمہ رضی اللہ عنہا کی اولاد سے ہوگا۔ (ابو داؤد ج ۲ ص ۵۸۸)
- (١) سنن ابی داود ج ۲ ص ۵۸۸ .
- (٢) عثمان بن ابي شيبة روى عنه الجماعة سوى الترمذى وسوى النسائى فروى فى اليوم والليلة عن
زكريا بن يحيى السجزى عنه ومسند على عن ابي بكر المروزي عنه - تهذيب التهذيب جـ ۷ ص ١٣٥ - الفضل بن دكين ولد سنة ١٣٠هـ ومات سنة ٢١٨ روى عنه البخارى فاكثر راجع تهذيب التهذيب ج ٨ ص ٢٤٣ وخلاصة تذهيب ص ٣٠٨ - فطر بن خليفة القرشى المخزومى مولاهم ابو بكر الخياط الكوفى قال العجلى كوفى ثقة حسن الحديث وكان فيه تشيع قليل وقال النسائى ليس به بأس وقال فى موضع أخر ثقة، حافظ، كيس مات سنة ١٥٣هـ روى له البخارى مقرونا وقال ابن سعد كان ثقة ان شاء الله ومن الناس من يستضعفه وكان لا يدع احدا يكتب عنه وكان احمد بن حنبل يقول هو خشبى مفرط (اى من الخشبية فرقة من الجهمية) قال الساجى وكان يقدم عليا على عثمان وقال السعدى زائغ غير ثقة وقال الدار قطنى فطر زائغ ولم يحتج به البخارى وقال عدى له احاديث صالحة عند الكوفيين وهو متماسك وارجو انه لا بأس به تهذيب التهذيب ج ٨ ص ٢٧٠ وخلاصة تذهيب ص ٣١١.
عِتْرَتِىْ (۱) . مِنْ وُلْدِ فَاطِمَةَ قَالَ عَبْدُ اللّٰهِ بْنُ جَعْفَرٍ وَ سَمِعْتُ اَبَا الْمَلِيْحِ ثَنِىْ عَلِىُّ بْنُ نُفَيْلٍ وَيُذْكَرُ مِنْهُ سِلَاحًا (۲)
اَقُوْلُ اَمَّا اَحْمَدُ بْنُ (۳) اِبْرَاهِيْمَ فَهُوَ اَبُو عَلِىٍّ اَحْمَدُ بْنُ اِبْرَاهِيْمَ بْنِ خَالِدٍ الْمَوْصِلِىُّ نَزِيْلُ بَغْدَادَ كَتَبَ عَنْهُ اَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ وَيَحْيَى بْنُ مَعِيْنٍ وَقَالَ لَا بَأْسَ بِه وَقَالَ صَاحِبُ تَارِيْخِ الْمَوْصِلِ كَانَ ظَاهِرَ الصَّلَاحِ وَالْفَضْلِ وَذَكَرَهُ ابْنُ حِبَّانَ فِى الثِّقَاتِ وَقَالَ اِبْرَاهِيْمُ بْنُ الْجُنَيْدِ عَنِ ابْنِ مَعِيْنٍ ثِقَةٌ صَدُوْقٌ اَخْرَجَ لَه اَبُوْ دَاوُدَ وَابْنُ مَاجَةَ فِى تَفْسِيْرِه وَاَمَّا عَبْدُ اللّٰهِ (۴) بْنُ جَعْفَرٍ الرَّقِىُّ فَهُوَ اَبُو عَبْدِ الرَّحْمٰنِ عَبْدُ اللّٰهِ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ غَيْلَانَ الْاُمَوِىُّ وَثَّقَه اَبُوْ حَاتِمٍ اَخْرَجَ لَه السِّتَّةُ- وَاَمَّا اَبُو الْمَلِيْحِ (۵) الْحَسَنُ بْنُ عُمَرَ فَهُوَ ابْنُ يَحْيَى الْفَزَارِىُّ اَبُو الْمَلِيْحِ الرَّقِىُّ قَالَ اَحْمَدُ ثِقَةٌ ضَابِطُ الْحَدِيْثِ صَدُوْقٌ اَخْرَجَ لَهُ الْبُخَارِىُّ تَعْلِيْقًا وَاَبُو دَاوُدَ وَالنَّسَائِىُّ وَابْنُ مَاجَةَ قَالَ اَبُوْ زُرْعَةَ ثِقَةٌ وَقَالَ اَبُو حَاتِمٍ يُكْتَبُ حَدِيْثُه وَذَكَرَهُ ابْنُ حِبَّانَ فِى الثِّقَاتِ وَقَالَ الدَّارَ قُطْنِىُّ ثِقَةٌ وَقَالَ عُثْمَانُ الدَّارِمِىُّ عَنِ ابْنِ مَعِيْنٍ ثِقَةٌ وَاَمَّا زِيَادُ بْنُ (۶) بَيَانٍ فَهُوَ الرَّقِىُّ
- (م) القاسم بن ابى بزة (بزة بفتح الموحدة وتشديد الزاى) المخزومى مولاهم وجده من فارس اسلم
على يد السائب بن صيفى وكان ثقة قليل الحديث وقال ابن حبان لم يسمع التفسير من مجاهد احد غير القاسم وكل من يروى عن مجاهد التفسير فانما اخذه من كتاب القاسم وذكر البخارى فى الاوسط بسنده مات سنة ١١٥هـ تهذيب التهذيب ج٨ ص٢٧٨ وخلاصة تذهيب ص٣١١.
- (م) وفى مشكوة المصابيح ج٣ ص ٤٧٠ من عترتى من أولاد فاطمة.
- (۱) عترتى قال الخطابى العترة ولد الرجل من صلبه وقد تكون العترة الاقرباء وبنى العمومة.
- (۲) سنن ابى داود اول كتاب المهدى ج ٢ ص ٥٨٨.
- (۳) أحمد بن ابراهيم بن خالد الموصلى تهذيب التهذيب ج ١ ص ٨.
- (۴) عبد الله بن جعفر بن غيلان ابو عبد الرحمن القرشى مولاهم قال ابن ابى خيثمة عن ابن معين
ثقة وقال النسائى ليس به بأس قبل أن يتغير وقال هلال بن العلاء ذهب بصره سنة (١٦) وتغير سنة (١٨)هـ ومات سنة ٢٢٠هـ وقال ابن حبان فى الثقات لم يكن اختلاطه فاحشا ربما خالف ووثقه العجلى تهذيب التهذيب ج ٥ ص ١٥١.
- (۵) ابو المليح الحسن بن عمر الفزارى مولاهم اخرج له النسائى فى اليوم والليلة= تهذيب التهذيب
ج٢ ص٢٦٧ وخلاصة التذهيب ص٨٠.
- (۶) زياد بن بيان الرقى صدوق عابد من السادسة من رواة ابى داود وابن ماجة تقريب التهذيب ص
٨٣ وخلاصة التذهيب ص١٢٧ وقال البخارى فى اسناده (اى زياد بن بيان) نظر وقال ابن عدى والبخارى انما أنكر من حديث زياد بن بيان هذا الحديث وهو معروف به والظاهر ان زياد بن بيان وهم فى رفعه لكن هذا الحديث اسناده جيد لان زياد بن بيان صدوق عابد وعلى بن نفيل لا بأس به فليس للوهم وجود علما بان هناك أحاديث اخرى تشهد له.
الْعَابِدُ قَالَ الْبُخَارِيُّ قَالَ عَبْدُالْغَفَّارِ ثَنَا أَبُوالْمَلِيْحِ أَنَّهُ سَمِعَ زِيَادَ بْنَ بَيَانٍ وَذَكَرَ فَضْلَهُ وَقَالَ النَّسَائِيُّ لَيْسَ بِهِ بَأْسٌ وَذَكَرَهُ ابْنُ حِبَّانَ فِي الثِّقَاتِ وَقَالَ كَانَ شَيْخًا صَالِحًاـ وَأَمَّا عَلِيُّ(١) بْنُ نُفَيْلٍ فَهُوَابْنُ نُفَيْلِ بْنِ ذِرَاعٍ النَّهْدِيُّ أَبُو مُحَمَّدٍ الْجَزَرِيُّ الْحَرَّانِيُّ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ الرَّقِّيُّ سَمِعْتُ أَبَاالْمَلِيْحِ الرَّقِّيَّ يُثْنِي عَلَى بْنِ نُفَيْلٍ وَيَذْكُرُ مِنْهُ صَلَاحًا وَقَالَ أَبُوْحَاتِمٍ لَابَأْسَ بِهِ وَذَكَرَهُ ابْنُ حِبَّانَ فِي الثِّقَاتِ وَذَكَرَهُ الْعُقَيْلِيُّ فِي كِتَابِهِ وَقَالَ لَايُتَابَعُ عَلَى حَدِيْثِهِ فِي الْمَهْدِيِّ وَلَا يُعْرَفُ إِلَّا بِهِ وَ فِي الْمَهْدِيِّ حَدِيْثٌ جِيَادٌ مِنْ غَيْرِ هَذَا الْوَجْهِ وَأَمَّا سَعِيْدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ فَهُوَ إِمَامٌ مَشْهُورٌـ فَالْحَدِيثُ صَحِيْحٌ لَاضَعْفَ فِيْهِ وَأَمَّا قَوْلُ الْعُقَيْلِيِّ أَنَّهُ لَايُتَابَعُ عَلَى حَدِيْثِهِ فِي الْمَهْدِيِّ فَلَا يَضُرُّ فِي صِحَّةِ الْحَدِيثِ إِذْلَا يُشْتَرَطُ فِي صِحَّتِهِ وُجُودُ الْمُتَابِعِ - وَتَبَيَّنَ مِنْ قَوْلِ الْعُقَيْلِيِّ أَنَّ الْأَحَادِيثَ الصَّحِيحَةَ مَوْجُودَةٌ فِي الْمَهْدِيِّ -
الحديث(٨) حَدَّثَنَا سَهْلُ بْنُ تَمَّامِ بْنِ بَزِيْعٍ ثَنَاعِمْرَانُ الْقَطَّانُ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَبِي نَضْرَةَ عَنْ أَبِي سَعِيْدِنِ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَهْدِيُّ مِنِّي أَجْلَى(٢) الْجَبْهَةِ أَقْنَى(٣) الْأَنْفِ يَمْلَأُ الْأَرْضَ قِسْطاً وَ عَدْلاً كَمَا مُلِئَتْ ظُلْماً وَجَوْراً وَيَمْلِكُ سَبْعَ سِنِيْنَ الخ(٤)۔
أَقُوْلُ أَمَّا سَهْلُ(٥) بْنُ تَمَّامِ بْنِ بَزِيْعٍ فَهُوَالطَّفَاوِيُّ السَّعْدِيُّ أَبُو عَمْرٍو الْبَصْرِيُّ قَالَ أَبُوْزُرْعَةَ لَمْ يَكُنْ بِكَذَّابٍ رُبَّمَا وَهِمَ فِي الشَّيْءِ وَقَالَ أَبُوْحَاتِمٍ شَيْخٌ وَذَكَرَهُ ابْنُ حِبَّانَ فِي الثِّقَاتِ وَقَالَ
٨): حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مہدی مجھ سے ہوگا (یعنی میری نسل سے ہوگا) اس کا چہرہ خوب نورانی، چمک دار اور ناک ستواں و بلند ہوگی ۔ زمین کو عدل و انصاف سے بھردے گا، جس طرح پہلے وہ ظلم وجور سے بھری ہوگی۔ (مطلب یہ ہے کہ مہدی کی خلافت سے پہلے دنیا میں ظلم وزیادتی کی حکمرانی ہوگی اور عدل وانصاف کا نام ونشان تک نہ ہوگا ۔) ایضاً
(١) علی بن نفیل - خلاصة التذهيب ص ٢٧٨ وتهذيب التهذيب ج ٧ ص ٣٤٢ والتقريب ص١٨٦۔
(٢) اجلى الجبهة: الذی انحسر الشعر عن جبهته۔
(٣) اقنى الأنف: الذی طول في أنفه ورقة في ارنبه مع حدب في وسطه۔
(٤) سنن أبى داؤد اول كتاب المهدى ج٢ ص ٥٨٨ واخرجه الحافظ ابوبكر البيهقي في البعث والنشور۔
(٥) سهل بن تمام بن بزيع الطفاوي: تهذيب التهذيب ج ٤ ص٢١٧۔
مُخْطِئٍ أَخْرَجَ لَهُ أَبُوْ دَاوُدَ وَأَمَّا عِمْرَانُ (١) الْقَطَّانُ فَهُوَ عِمْرَانُ بْنُ دَاوُدَ الْعَمِّيُّ أَبُو الْعَوَّامِ الْبَصْرِيُّ أَحَدُ الْعُلَمَاءِ وَأَثْنَى عَلَيْهِ يَحْيَى بْنُ سَعِيْدِ الْقَطَّانُ وَوَثَّقَهُ عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ وَقَالَ أَحْمَدُ أَرْجُو أَنْ يَكُوْنَ صَالِحَ الْحَدِيْثِ قَالَ فِي التَّقْرِيْبِ صَدُوْقٌ يَهِمُ وَرُمِيَ بِرَأْيِ الْخَوَارِجِ وَ فِي تَهْذِيْبِ التَّهْذِيْبِ قَالَ عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ كَانَ ابْنُ مَهْدِيٍّ يُحَدِّثُ عَنْهُ وَكَانَ يَحْيَى لَا يُحَدِّثُ عَنْهُ وَقَدْ ذَكَرَهُ يَحْيَى يَوْمًا فَأَحْسَنَ الثَّنَاءَ عَلَيْهِ وَقَالَ الْآجُرِّيُّ عَنْ أَبِي دَاوُدَ هُوَ مِنْ أَصْحَابِ الْحَسَنِ وَمَا سَمِعْتُ إِلَّا خَيْرًا وَقَالَ ابْنُ عَدِيٍّ هُوَ مِمَّنْ يُكْتَبُ حَدِيْثُهُ وَذَكَرَهُ ابْنُ حِبَّانَ فِي الثِّقَاتِ وَقَالَ السَّاجِيُّ صَدُوْقٌ وَثَّقَهُ عَفَّانُ وَقَالَ الْعُقَيْلِيُّ مِنْ طَرِيْقِ ابْنِ مَعِيْنٍ كَانَ يَرَى رَأْيَ الْخَوَارِجِ وَلَمْ يَكُنْ دَاعِيَةً وَقَالَ التِّرْمِذِيُّ قَالَ الْبُخَارِيُّ صَدُوْقٌ يَهِمُ وَقَالَ ابْنُ شَاهِيْنٍ فِي الثِّقَاتِ كَانَ مِنْ أَخَصِّ النَّاسِ بِقَتَادَةَ وَقَالَ الْعِجْلِيُّ بَصْرِيٌّ ثِقَةٌ وَقَالَ الْحَاكِمُ صَدُوْقٌ الخ -
فَهَذِهِ أَقْوَالُ الْأَئِمَّةِ فِي تَعْدِيْلِهِ وَقَدْ جَرَحَهُ قَوْمٌ بِجَرْحٍ مُّبْهَمٍ فَقَالَ الدُّوْرِيُّ عَنِ ابْنِ مَعِيْنٍ لَيْسَ بِالْقَوِيِّ وَقَالَ مَرَّةً لَيْسَ بِشَيْءٍ لَّمْ يَرْوِ عَنْهُ يَحْيَى بْنُ سَعِيْدٍ وَهَذَا الْقَوْلُ مِنِ ابْنِ مَعِيْنٍ لَا يَضُرُّهُ فَإِنَّ الْجَرْحَ الْمُبْهَمَ لَا يُتَرَجَّحُ عَلَى التَّعْدِيْلِ ، وَعَدَمُ رِوَايَةِ يَحْيَى بْنِ سَعِيْدٍ لَا يَدُلُّ عَلَى مَجْرُوْحِيَّتِهِ وَقَدْ نُقِلَ عَنْهُ حُسْنُ الثَّنَاءِ عَلَيْهِ كَمَا تَقَدَّمَ وَقَالَ أَبُوْ دَاوُدَ مَرَّةً ضَعِيْفٌ أَفْتَى فِي أَيَّامِ إِبْرَاهِيْمَ بْنِ عَبْدِاللَّهِ بْنِ حَسَنٍ بِفَتْوَى شَدِيْدَةٍ فِيْهَا سَفْكُ الدِّمَاءِ قَالَ وَقَدَّمَ أَبُوْ دَاوُدَ أَبَاهِلَالٍ الرَّاسِبِي عَلَيْهِ تَقْدِيْماً شَدِيْدًا وَقَالَ النَّسَائِيُّ ضَعِيْفٌ الخ وَهَذَا أَيْضاً جَرْحاً مُبْهَماً لَا يُقَدَّمُ عَلَى تَعْدِيْلِهِ وَقَدْ نَقَلْنَا عَنْ أَبِي دَاوُدَ أَنَّهُ قَالَ مَا سَمِعْتُ عَلَيْهِ إِلَّا خَيْرًا وَأَمَّا مَاقَالَهُ أَبُو الْمِنْهَالِ عَنْ يَزِيْدَ بْنِ زُرَيْعٍ كَانَ حَرُوْرِيًّا كَانَ يَرَى السَّيْفَ عَلَى أَهْلِ الْقِبْلَةِ فَقَدِ انْتَقَدَهُ الْحَافِظُ الْعَسْقَلَانِيُّ رَحِمَهُ اللَّهُ حَيْثُ قَالَ قُلْتُ فِي قَوْلِهِ حَرُوْرِيًّا نَظَرٌ وَلَعَلَّهُ شَبَّهَهُ بِهِمْ قَدْ ذَكَرَ أَبُوْ يَعْلَى فِي مُسْنَدِهِ الْقِصَّةَ عَنْ أَبِي الْمِنْهَالِ فِي تَرْجُمَةِ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَلَفْظُهُ قَالَ يَزِيْدُ كَانَ إِبْرَاهِيْمُ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِاللَّهِ بْنِ حَسَنٍ لَّمَا خَرَجَ يَطْلُبُ الْخِلَافَةَ اسْتَفْتَاهُ عَنْ شَيْءٍ فَأَفْتَاهُ بِفُتْيَا قُتِلَ بِمَارِجَانَ مَعَ إِبْرَاهِيْمَ الخ وَكَانَ إِبْرَاهِيْمُ وَمُحَمَّدُ خَرَجَا عَلَى الْمَنْصُوْرِ فِي طَلَبِ الْخِلَافَةِ لِأَنَّ الْمَنْصُوْرَ كَانَ فِي زَمَنِ أُمَيَّةَ بَايَعَ مُحَمَّدًا بِالْخِلَافَةِ فَلَمَّا زَالَتْ دَوْلَةُ بَنِيْ أُمَيَّةَ وَوُلِيَ الْمَنْصُوْرُ الْخِلَافَةَ يَطْلُبُ مُحَمَّدًا فَفَرَّ فَأَلَحَّ فِي طَلَبِهِ فَظَهَرَ بِالْمَدِيْنَةِ وَبَايَعَهُ قَوْمٌ وَأَرْسَلَ أَخَاهُ إِبْرَاهِيْمَ إِلَى الْبَصْرَةِ فَمَلَكَهَا وَبَايَعَهُ قَوْمٌ فَقُدِرَ أَنَّهُمَا قُتِلَا وَقُتِلَ مَعَهُمَا جَمَاعَةٌ كَثِيْرَةٌ وَلَيْسَ هَؤُلَاءِ مِنَ الْحَرُوْرِيَّةِ فِي شَيْءٍ الخ كَلَامِ الْحَافِظِ رحمه الله تعالى -
(١) عِمْرَان القطان بن داود العمى البصرى ابو العوام تهذيب التهذيب ج ٨ ص ١١٥ و ١١٦ و ١١٧ وتقريب التهذيب ص ١٩٧ وخلاصة التذهيب ص ٢٩٥ .
وَخُلَاصَةُ الْكَلَامِ اَنَّ الْمُعَدِّلِيْنَ فِیْ شَانِ عِمْرَانَ اَکْثَرُ، ثَنَاءُهُمْ اَقْوَى وَاَمَّا الْجَارِحُوْنَ فَاَقَلُّ وَجَرْحُهُمْ غَيْرُ مُعْتَدٍّ بِهِ وَ مِنْ هٰهُنَا نَرَی الْحَافِظَ ابْنَ حَجَرٍ رَحِمَهُ اللّٰهُ تَعَالٰی فِیْ تَقْرِیْبِهِ لَمْ یَذْهَبْ اِلٰی جَرْحِهِ بَلِ اخْتَارَ تَعْدِيْلَهُ وَتَوْثِيْقَهُ حَيْثُ قَالَ صَدُوْقٌ يَهِمُ وَقَدْ صَحَّحَ الْحَاكِمُ رِوَایَاتِهِ وَاِنَّمَا اَطْنَبْنَا الْكَلَامَ فِيْهِ لِاَنَّ الذَّهَبِیَّ رَحِمَهُ اللّٰهُ تَعَالٰی لَمْ یُسَلِّمْ تَصْحِيْحَ الْحَاكِمِ لِرِوَایَاتٍ وَقَعَ فِيْهَا ذِكْرُ عِمْرَانَ الْقَطَّانِ وَاسْتَنَدَ بِجَرْحِ بَعْضِ الْاَئِمَّةِ فِيْهِ حَيْثُ قَالَ عِمْرَانُ الْقَطَّانُ جَرَحَ عَلَيْهِ غَيْرُ وَاحِدٍ مِّنَ الْاَئِمَّةِ مَعَ اَنَّه، لَمْ یُوَازِنْ بَيْنَ جَرْحِهِ وَ تَعْدِيْلِهِ حَتّٰی یَسْبُرَ الرَّاجِحُ حَسْبَ الْقَوَاعِدِ الْاُصُوْلِیَّةِ وَقَدْ اَخْرَجَ لَهُ الْبُخَارِیُّ تَعْلِيْقاً وَّالْاَرْبَعَةُ وَاللّٰهُ تَعَالٰی اَعْلَمُ ۔
وَاَمَّا قَتَادَةُ (۱) فَهُوَ ابْنُ دِعَامَةَ السَّدُوْسِیُّ اَحَدُ الْاَئِمَّةِ الْمُعْرُوْفِيْنَ اَخْرَجَ لَهُ السِّتَّةُ۔
وَاَمَّا اَبُوْ نَضْرَةَ (۲) فَهُوَ الْمُنْذِرُ بْنُ قِطْعَةَ الْعَبْدِیُّ الْعَوْقِیُّ اَخْرَجَ لَهُ الْبُخَارِیُّ تَعْلِيْقاً وَّ مُسْلِمٌ وَالْاَرْبَعَةُ وَثَّقَهُ ابْنُ مَعِيْنٍ وَّالنَّسَائِیُّ وَاَبُوْ زُرْعَةَ وَابْنُ سَعْدٍ وَّ حَاصِلُ الْكَلَامِ اَنَّ الْحَدِيْثَ صَحِيْحٌ لَّا غُبَارَ عَلَيْهِ ۔
(۱) قتادة بن دعامة: تهذيب التهذيب ج ۸ ص ۳۱۵ وتقريب التهذيب ص ۲۰۸ وفى خلاصة التذهيب ص ۳۱۵ أحد الأئمة الاعلام حافظ مدلس وقد احتج به أرباب الصحاح.
(۲) ابو نضرة المنذر بن مالك بن قطعة بضم قاف وفتح المهملة العبدى العوقى بفتح المهملة والواو ثم قاف البصرى ثقة من الثالثة مات سنة ثمان أو تسع مأة - تقريب التهذيب ص ٢٥٤ وفى تهذيب الكمال العوقة بطن من عبد القيس حاشية تهذيب التهذيب ج١ ص ٢٦٨- وفى خلاصة التذهيب ص ۳۸۷ قطعة بكسر القاف وسكون المهملة - قال ابن ابى حاتم سئل ابى عن ابى نضرة وعطية فقال ابو نضرة احب الى وقال ابن سعد ثقة كثير الحديث وليس كل احد يحتج به وأورده العقيلى فى الضعفاء ولم يذكر فيه قدحا لأحد - تهذيب التهذيب ج۱۰ ص٢٦٨و٢٦٩،
(۹) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ ثَنِيْ أَبِيْ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ صَالِحٍ أَبِي الْخَلِيْلِ عَنْ صَاحِبٍ لَّه عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَازَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَكُونُ اخْتِلَافٌ عِنْدَ مَوْتِ خَلِيْفَةٍ فَيَخْرُجُ رَجُلٌ مِّنْ أَهْلِ الْمَدِيْنَةِ هَارِبًا إِلَى مَكَّةَ فَيَأْتِيْهِ نَاسٌ مِّنْ أَهْلِ مَكَّةَ فَيُخْرِجُوْنَه وَهُوَكَارِهٌ فَيُبَايِعُوْنَه بَيْنَ الرُّكْنِ وَالْمَقَامِ وَيُبْعَثُ إِلَيْهِ بَعْثٌ مِّنَ الشَّامِ فَيُخْسَفُ بِهِمْ بِالْبَيْدَاءِ بَيْنَ مَكَّةَ وَالْمَدِيْنَةِ فَإِذَارَ أَى النَّاسُ ذلِكَ اَتَاهُ اَبْدَالُ (۱) الشَّامِ وَعَصَائِبُ(۲) أَهْلِ الْعِرَاقِ فَيُبَايِعُوْ نَه ثُمَّ يَنْشَأُ رَجُلٌ مِّنْ قُرَيْشٍ اَخْوَالُه كَلْبٌ فَيَبْعَثُ إِلَيْهِمْ بَعْثًا فَيَظْهَرُوْنَ عَلَيْهِمْ وَ ذلِكَ كَلْبٌ وَالْخَيْبَةُ لِمَنْ لَّمْ يَشْهَدْ غَنِيْمَةَ كَلْبٍ
۹-۱۰۔ حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد نقل کرتی ہیں کہ ایک خلیفہ کی وفات کے وقت (نئے خلیفہ کے انتخاب پر مدینہ کے مسلمانوں میں) اختلاف ہوگا ایک شخص (یعنی مہدی اس خیال سے کہ کہیں لوگ مجھے نہ خلیفہ بنا دیں) مدینہ سے مکہ چلے جائیں گے ۔ مکہ کے کچھ لوگ (جو انہیں بحیثیت مہدی کے انہیں پہچان لیں گے) ان کے پاس آئیں گے اور انھیں (مکان) سے باہر نکال کر حجر اسود و مقام ابراہیم کے درمیان ان سے بیعت (خلافت) کر لیں گے۔ (جب ان کی خلافت کی خبر عام ہوگی) تو ملک شام سے ایک لشکر ان سے جنگ کے لیے روانہ ہوگا (جو آپ تک پہنچنے سے پہلے ہی) مکہ و مدینہ کے درمیان بیداء (چٹیل میدان) میں زمین کے اندر دھنسا دیا جائے گا (اس عبرت خیز ہلاکت کے بعد) شام کے ابدال اور عراق کے اولیاء آکر آپ سے بیعت
(۱) الابدال: قوم من الصالحين لا تخلو الدنيا منهم، اذا مات واحد منهم ابدل الله تعالى مكانه بآخر والواحد بدل : مجمع البحار ج ۱ ص ۸۱ - وقال الشيخ المحقق عبد الفتاح ابو غدة في تعليقه على "المنار المنيف" ص ۱۳۷ وقد خبطت مسألة الابدال فى العصور المتأخرة كثيرا من العلماء فاطالوا الكلام فيها وافردها بعضهم بالتاليف كما ترى السخاوى فى المقاصد الحسنة قد اطال فيها ص ۸ - ۱۰ وافردها بجزء سماه "نظام الآل على الأبدال" وكذلك معاصره السيوطى اطال فيها فى "اللآلى المصنوعة ۳۳۰/۲ - ۳۳۲ ثم قال وقد جمعت طرق هذا الحديث كلها فى تاليف مستقل فاغنى عن سوقها هنا وتأليفه هو الخبر الدال على وجود القطب والأوتاد والنجباء والأبدال وهو مطبوع في ضمن كتابه الحاوى للفتاوى، وساق ابن القيم هذا الخبر ص ١٤٤ وصححه بينما هو فى ص١٣٦ قد عد احاديث الأبدال كلها من الأحاديث الباطلة وهذا التعميم خطاء والصواب ان معظمها باطل وليس كلها ولا سيما وقدصحح هو حديث منها (حاشية عقدالدرر ص ۱۳۹) . ←
فَيَقْسِمُ الْمَالَ وَيَعْمَلُ فِى النَّاسِ بِسُنَّةِ نَبِيِّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَ يُلْقِى الْإِسْلَامُ بِجِرَانِهِ إِلَى الْاَرْضِ فَيَلْبَثُ سَبْعَ سِنِيْنَ ثُمَّ يُتَوَفَّى وَيُصَلِّى عَلَيْهِ الْمُسْلِمُوْنَ قَالَ أَبُوْدَاوُدَ وَ قَالَ بَعْضُهُمْ عَنْ هِشَامٍ تِسْعَ سِنِيْنَ وَ قَالَ بَعْضُهُمْ سَبْعَ سِنِيْنَ - (۱۰) ثُمَّ قَالَ حَدَّثَنَا هَارُوْنُ بْنُ عَبْدِاللَّهِ اَنَا عَبْدُالصَّمَدِ عَنْ هَمَّامٍ عَنْ قَتَادَةَ بِهذَا الْحَدِيْثِ قَالَ تِسْعَ سِنِيْنَ قَالَ غَيْرُ مُعَاذٍ عَنْ هِشَامٍ تِسْعَ سِنِيْنَ - (۱۱) حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى قَالَ ثَنَا عَمْرُو بْنُ عَاصِمٍ قَالَ أَبُو الْعَوَّامِ نَا قَتَادَةُ عَنْ اَبِى الْخَلِيْلِ عَنْ عَبْدِاللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهذَا الْحَدِيْثِ وَحَدِيْثُ مُعَاذٍ اَتَمُّ الخ (۱)
أَقُوْلُ هذَا الْحَدِيْثُ بِالطُّرُقِ الثَّلَاثَةِ فِى غَايَةٍ مِّنَ الْقُوَّةِ وَالصِّحَّةِ فَإِنَّ مُحَمَّدَ(۲) بْنَ الْمُثَنَّى هُوَ الْعَنَزِىُّ اَبُوْ مُوْسَى الزَّقِيُّ الْبَصْرِىُّ الْحَافِظُ اَخْرَجَ لَهُ السِّتَّةُ قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيى حُجَّةٌ - وَاَمَّا مُعَاذُ(۳) بْنُ هِشَامٍ فَهُوَ الدَّسْتَوَائِيُّ الْبَصْرِىُّ نَزِيْلُ الْيَمَنِ اَخْرَجَ لَهُ السِّتَّةُ ، وَاَمَّا اَبُوْهُ فَهُوَ هِشَامُ(۴) بْنُ اَبِى عَبْدِاللَّهِ
خلافت کریں گے۔ بعدازاں ایک قریشی النسل شخص (یعنی سفیانی) جس کی ننہال قبیلہ کلب میں ہوگی خلیفہ مہدی اور اُن کے اعوان و انصار جنگ کے لیے ایک لشکر بھیجے گا۔ یہ لوگ اس محاذ اور لشکر پر غالب ہوں گے یہی (جنگ) کلب ہے اور خسارہ ہے اس شخص کے واسطے جو کلب سے حاصل شدہ غنیمت میں شریک نہ ہو (اس فتح و کامرانی کے بعد) خلیفہ مہدی خوب داد و دہش کریں گے اور لوگوں کو ان کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سُنّت پر چلائیں گے اور اسلام مکمل طور پر زمین میں مستحکم ہو جائے گا (یعنی دُنیا میں پُورے طور پر اسلام کا رواج و غلبہ ہوگا) بحالتِ خلافت، مہدی دُنیا میں سات سال اور دوسری روایات کے اعتبار سے نو سال رہ کر فوت ہو جائیں گے اور مسلمان ان کی نماز جنازہ ادا کریں گے۔ (ابو داؤد ج ۲ ص ۵۸۹)
(۲) العصائب جمع عصابة وهم الجماعة من الناس من العشرة الى الأربعين لا واحد لها من لفظها وقيل اريد جماعة من الزهاد سماهم العصائب (النهاية) جران : باطن العنق ومعناه قر قراره واستقام كما ان البعير اذا برك واستراح مد عنقه على الأرض. (۱) سنن ابى داؤد كتاب المهدى ج ۲ ص ۵۸۹. (۲) محمد بن المثنى بن عبيد بن قيس العنزى بفتح العين والنون خلاصة التذهيب ص ۲۵۷.
بْنِ سَنْبَرٍ الدَّسْتُوَائِيُّ أَبُو بَكْرِ بْنِ الْبَصْرِيُّ اَخْرَجَ لَهُ السِّتَّةُ وَأَمَّا قَتَادَةُ فَهُوَ ابْنُ دِعَامَةَ السَّدُوْسِيُّ أَبُو الْخَطَّابِ الْبَصْرِيُّ الْأَكْمَهُ اَحَدُ الْأَئِمَّةِ الْأَعْلَامِ اَخْرَجَ لَهُ السِّتَّةُ - وَأَمَّا صَالِحُ(١) أَبُو الْخَلِيْلِ فَهُوَ ابْنُ أَبِيْ مَرْيَمَ الضَّبْعِيُّ أَبُو الْخَلِيْلِ الْبَصْرِيُّ اَخْرَجَ لَهُ السِّتَّةُ وَأَمَّا صَاحِبُه فَهْوَ عَبْدُ اللهِ بْنُ الْحَارِثِ بْنِ نَوْفَلٍ، وَقَدْ صَرَّحَ بِهِ فِي الرِّوَايَةِ إِحْدَى عَشَرَ وَنَصَّ عَلَيْهِ فِيْ كُتُبِ الرِّجَالِ وَهٰذَا عَبْدُ اللهِ(٢) بْنُ الْحَارِثِ مِنْ اَوْلَادِ الصَّحَابَةِ حَنَّكَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اَخْرَجَ لَهُ السِّتَّةُ وَثَّقَهُ ابْنُ مَعِيْنٍ وَغَيْرُه فَالْحَدِيْثُ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ وَالْاَرْبَعَةِ فِيْ غَايَةٍ مِّنَ الْجَوْدَةِ وَالصِّحَّةِ وَهٰكَذَا الطَّرِيْقَانِ اللَّذَانِ بَعْدَه وَاللهُ أَعْلَمُ -
ضروری وضاحت
”ابدال“ بدل کی جمع ہے۔ ابدال اولیائے کرام کی اس جماعت کو کہتے ہیں جن کا بدل اللہ تعالیٰ پیدا کرتا رہتا ہے۔ دنیا ان کے وجود سے کبھی خالی نہیں ہوتی، ایک کی وفات ہوتی ہے اور دوسرا اُس کی جگہ آجاتا ہے۔ تبادلہ کے اسی غیر منقطع سلسلہ کی بناء پر اُنھیں ابدال کہا جاتا ہے۔ ابدال کے بارے میں امام سخاویؒ نے ”مقاصدِ حسنہ“ میں طویل کلام کیا ہے۔ اسی طرح امام سیوطیؒ نے اللآلی المصنوعہ میں مبسوط بحث کی ہے۔ علاوہ ازیں ایک مستقل رسالہ بھی اس موضوع پر لکھا ہے جو ان کے فتاویٰ الحاوی میں شامل ہے۔ ابدال سے متعلق اگرچہ اکثر روایتیں غیر معتبر اور بے اصل ہیں، لیکن بلاشبہ بعض روایتیں صحیح بھی ہیں چنانچہ پیشِ نظر روایت صحیح ہے اور اس میں بصراحت ابدال کا ذکر موجود ہے۔ اس لیے جن لوگوں نے اس سلسلہ کی روایتوں کو سرے سے باطل قرار دے دیا ہے، ان کا قول صحت سے بعید ہے۔
(۳) معاذ بن هشام بن سنبر الدستوائى قال ابن معين صدوق ليس بحجة وقال ابن عدى له حديث كثير ربما يغلط وارجو انه صدوق خلاصة التذهيب ص ٣٨٠ وفى تقريب التهذيب ص ٢٤٨ صدوق ربما وهم من التاسعة مات سنة مأتين. (٤) هشام بن ابى عبدالله بن سنبر الدستوائى ابوبكر البصرى كان يبيع الثياب التى تجلب من دستواء فنسب إليها قال على بن الجعد سمعت شعبة يقول كان هشام احفظ منى واعلم عن قتادة وقال البزار الدستوائى احفظ من ابى هلال - تهذيب التهذيب ج١١ ص ٤٠-٤١. (١) صالح ابو الخليل ابن ابى مريم الضبعى مولاهم وثقه ابن معين والنسائى، تقريب التهذيب ص ١١٢ وخلاصة التذهيب ص ١٧١. (٢) عبد الله بن الحارث بن نوفل بن الحارث بن عبد المطلب بن هاشم الهاشمى ابو محمد المدنى لقبه ببّه قال ابن معين وابو زرعة والنسائى ثقة وقال ابن عبد البر فى الاستيعاب اجمعوا على انه ثقة وقال ابن حبان هو من فقهاء اهل المدينة - تهذيب التهذيب ج٥ ص ١٥٧ - ١٥٨.
(۱۲) قَالَ اَبُوْ دَاوُدَ وَ حُدِّثْتُ عَنْ هَارُوْنَ بْنِ الْمُغِيْرَةِ قَالَ نَا عَمْرُو بْنُ اَبِىْ قَيْسٍ عَنْ شُعَيْبِ بْنِ خَالِدٍ عَنْ اَبِىْ اِسْحَاقَ قَالَ قَالَ عَلِىٌّ رَضِىَ اللهُ عَنْهُ وَنَظَرَ اِلَى ابْنِه الْحَسَنِ فَقَالَ اِنَّ ابْنِىْ هذَا سَيِّدٌ كَمَا سَمَّاهُ النَّبِىُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَ سَيَخْرُجُ مِنْ صُلْبِهِ رَجُلٌ يُسَمّى بِاسْمِ نَبِيِّكُمْ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُشْبِهُه(۱) فِى الْخُلْقِ وَلَا يُشْبِهُه فِى الْخَلْقِ ثُمَّ ذَكَرَ قِصَّةً يَمْلَاءُ الْاَرْضَ عَدْلاً اِلَخ(۲) اَقُوْلُ اَمَّا هَارُوْنُ (۳) بْنُ الْمُغِيْرَةِ فَهُوَ الْبَجَلِىُّ اَبُوْ حَمْزَةَ الرَّازِىُّ قَالَ جَرِيْرٌ لَا اَعْلَمُ بِهذِهِ الْبَلْدَةِ اَصَحَّ حَدِيْثًا مِنْهُ وَقَالَ النَّسَائِيُّ كَتَبَ عَنْهُ يَحْيَى بْنُ مَعِيْنٍ وَقَالَ صَدُوْقٌ وَقَالَ الْآجُرِىُّ عَنْ اَبِىْ دَاوُدَ لَيْسَ بِهِ بَأْسٌ هُوَ فِى الشِّيْعَةِ وَذَكَرَ ابْنُ حِبَّانَ فِى الثِّقَاتِ وَقَالَ رُبَّمَا اَخْطَأَ وَقَالَ عَبْدُاللهِ بْنُ اَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ عَنْ يَحْيَى بْنِ مَعِيْنٍ شَيْخٌ صَدُوْقٌ ثِقَةٌ وَقَالَ السُّلَيْمَانِىُّ فِيْهِ نَظَرٌ اَخْرَجَ لَهُ اَبُوْ دَاوُدَ وَالتِّرْمِذِىُّ وَاَمَّا عَمْرُو بْنُ(٤) اَبِىْ قَيْسٍ فَهُوَ الرَّازِىُّ الْاَزْرَقُ الْكُوْفِىُّ نَزَلَ الرَّىَّ قَالَ عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيْزِ الْمُقْرِىُّ دَخَلَ الرَّازِيُّوْنَ عَلَى الثَّوْرِىِّ فَسَاَلُوْهُ الْحَدِيْثَ فَقَالَ اَلَيْسَ عِنْدَكُمُ الْاَزْرَقُ يَعْنِى عَمْرُو بْنَ اَبِىْ قَيْسٍ وَقَالَ الْآجُرِىُّ عَنْ اَبِىْ دَاوُدَ فِى حَدِيْثِه خَطَأٌ وَقَالَ فِى مَوْضِعٍ لَا بَأْسَ بِه وَذَكَرَ ابْنُ حِبَّانَ فِى الثِّقَاتِ -
(۱۲) ابو اسحاق السبیعی روایت کرتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اپنے برخودار حضرت حسن کو دیکھتے ہوئے کہا میرا یہ بیٹا سیّد ہے جیسا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے سیّد نامزد کیا ہے۔ اس کی اولاد میں ایک شخص پیدا ہوگا اس کا نام وہی ہوگا جو تمہارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا اسم گرامی ہے۔ (یعنی اس کا نام محمد ہوگا) سیرت و اخلاق میں (میرے بیٹے) حسن کے مشابہ ہوگا اور شکل وصورت میں اس کے مشابہ نہ ہوگا ۔ اس کے بعد پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد نقل کیا کہ یہ شخص زمین کو عدل و انصاف سے بھر دے گا۔
(ابوداؤد ج ۲ ص ۵۸۹)
تنبیہ
يُشْبِهُه فِى الْخُلْقِ وَلَا يُشْبِهُه فِى الْخَلْقِ کا ترجمہ بعض حضرات نے یہ کیا ہے کہ وہ سیرت و اخلاق میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مشابہ ہوں گے اور شکل وصورت
(۱) اى يشبه فى السيرة ولا يشبه فى الصورة. (۲) سنن ابى داود كتاب المهدى ج ۲ ص ۵۸۹ – قال المنذرى هذا حديث منقطع لان ابا اسحاق السبيعى فى سنده رأى عليا رؤية - مختصر سنن ابى داود ۱٦۲/٦ تعليق عقد الدرر ۸۲. (۳) هارون بن المغيرة بن حكيم البجلى الرازى ، تهذيب التهذيب ج ۱۱ ص ۱۲. (٤) عمرو بن ابى قيس الرازى الأزرق، تهذيب التهذيب ج ۸ ص ۸۲.
وقال ابن شاهين فـ البزار في السنن فهو البجلي الرازي حفظ من الزهري عن ابن معين ليس السبيعي (٢) المُفَرِّ يكون الشيباني او هذه الطبقة ولم يخـ لقاه ابی داود بهارو وقـ
(۱۳) رسول الله صلي میں مشابہ نہیں ہو لیکن میرے نزدیک مہدی شکل وصور مفعول کی ضمیر کا مر (۱۳) حضرت ام کے ایک شخص (مہ بیعت خلافت بیعت خلافت کی یہاں تک کہ یہ لڑ
(۱) شعیب بن (۲) هو السبيعي عمرو بن عبد اللـ شعبة وقد را هما
وَقَالَ ابْنُ شَاهِيْنِ فِى الثِّقَاتِ قَالَ عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ لَا بَأْسَ بِهِ كَانَ يَهِمُ فِى الْحَدِيْثِ قَلِيْلًا وَقَالَ أَبُوبَكْرِنِ الْبَزَّارُ فِى السُّنَنِ مُسْتَقِيْمُ الْحَدِيْثِ اَخْرَجَ لَهُ الْبُخَارِيُّ تَعْلِيْقًا وَالْاَرْبَعَةُ - وَاَمَّا شُعَيْبُ بْنُ خَالِد (۱) فَهُوَ الْبَجَلِيُّ الرَّازِيُّ كَانَ قَاضِيَ الْمَجُوْسِ وَالذَّهَاقِيْنَ وَعَنْبَسَةُ بْنُ سَعِيْدٍ قَاضِى الْمُسْلِمِيْنَ وَقَالَ ابْنُ عُيَيْنَةَ حَفِظَ مِنَ الزُّهْرِيِّ وَ مَالِكٍ شَابًّا وَقَالَ النَّسَائِيُّ لَيْسَ بِهِ بَأْسٌ وَذَكَرَهُ ابْنُ حِبَّانَ فِى الثِّقَاتِ وَقَالَ الدُّوْرِيُّ عَنِ ابْنِ مَعِيْنٍ لَيْسَ بِهِ بَأْسٌ وَقَالَ الْعِجْلِيُّ رَازِيٌّ ثِقَةٌ اَخْرَجَ لَهُ أَبُوْ دَاوُدَ - وَاَمَّا اَبُوْ اِسْحَقَ فَالظَّاهِرُ أَنَّهُ السَّبِيْعِيُّ (۲) الْمَعْرُوْفُ بِالْعَدَالَةِ وَالْعِلْمِ اَحَدُ الْاَئِمَّةِ الْاَعْلَامِ اَخْرَجَ لَهُ السِّتَّةُ وَإِنْ لَّمْ يَكُنْ هُوَ فَاِمَّا اَنْ يَّكُوْنَ الشَّيْبَانِيَّ اَوِ الْمَدَنِيَّ وَكِلَاهُمَا مِنَ الثِّقَاتِ الْمُعْتَبَرِيْنَ اَخْرَجَ لَهُمَا السِّتَّةُ وَاَمَّا غَيْرُ هؤُلَاءِ فَلَيْسُوْا مِنْ هذِهِ الطَّبَقَةِ وَلَمْ يُخْرِجْ اَبُوْ دَاوُدَ حَدِيْثَهُمْ وَاللَّهُ اَعْلَمُ وَالْحَاصِلُ اَنَّ الْحَدِيْثَ صَحِيْحٌ جَيِّدُ اِسْنَادُه اِنْ ثَبَتَ لِقَاءُ أَبِى دَاوُدَ بِهَارُوْنَ وَإِلَّا فَالْحَدِيْثُ مُعَلَّقٌ يَصِحُّ الْاِحْتِجَاجُ بِه عَلَى رَأْىِ مَنْ يَّرَى الْاِرْسَالَ حُجَّةً -
وَقَالَ الْإِمَامُ الْحَافِظُ الْحُجَّةُ اَبُوْ عَبْدِ اللَّهِ الْحَاكِمُ فِى مُسْتَدْرَكِهِ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى
ذَكَرَ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى بِاِسْنَادِه اِلَى اُمِّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ قَالَ (۱۳)
رَسُوْلُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُبَايِعُ رَجُلٌ مِّنْ أُمَّتِىْ بَيْنَ الرُّكْنِ وَالْمَقَامِ كَعِدَّةِ أَهْلِ
میں مشابہ نہیں ہوں گے۔ اس ترجمہ میں بِشِبْهِهِ کی ضمیر مفعول کی نبی علیہ السلام کی جانب راجع کیا ہے، لیکن میرے نزدیک یہ ترجمہ درست نہیں ہے کیونکہ ایک حدیث میں صراحت کے ساتھ مذکور ہے کہ خلیفۂ مہدی شکل وصورت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مشابہ ہوں گے۔ اس لیے اس حدیث کے پیش نظر مفعول کی ضمیر کا مرجع بجائے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حضرت حسنؓ ہی ہیں۔ واللہ اعلم بالصواب ۔
- (۱۳) حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا روایت کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ میری امت
کے ایک شخص (مہدی) سے رکن حجر اسود اور مقام ابراہیم کے درمیان اہل بدر کی تعداد کے مثل (یعنی ۳۱۳) افراد بیعت خلافت کریں گے۔ بعدازاں اس خلیفہ کے پاس عراق کے اولیاء اور شام کے ابدال آئیں گے، بیعت خلافت کی خبر مشہور ہو جانے پر، اس خلیفہ سے جنگ کے لیے ایک لشکر شام سے روانہ ہوگا یہاں تک کہ یہ لشکر جب مکہ مدینہ کے درمیان، بیداء میں پہنچے گا، زمین کے اندر دھنسا دیا جائے گا۔
- (۱) شعیب بن خالد البجلی الرازی، تهذیب التهذیب ج ٤ ص ٣٠٨.
- (۲) هو السبیعی کما جزم به المنذری فی مختصر سنن ابی داود فهو اسحاق السبیعی الکوفی هو
عمرو بن عبد الله بن عبید ویقال علی ویقال ابن ابی شجرة روى عن علی بن ابی طالب والمغیرة بن شعبة وقد رأهما وقیل لم یسمع منهما ، تهذیب التهذیب ج ۸ ص ٥٦.
بَدْرٍ فَيَأْتِيْهِ عَصْبُ الْعِرَاقِ وَاَبْدَالُ الشَّامِ فَيَأْتِيْهِمْ جَيْشٌ مِّنَ الشَّامِ حَتَّى اِذَا كَانُوْا بِالْبَيْدَاءِ خُسِفَ بِهِمْ ثُمَّ يَسِيْرُ اِلَيْهِ رَجُلٌ مِّنْ قُرَيْشٍ اَخْوَالُهُ كَلْبٌ فَيَهْزِمُهُمُ اللّٰهُ قَالَ وَكَانَ يُقَالُ اِنَّ الْخَائِبَ يَوْمَئِذٍ مَنْ خَابَ مِنْ غَنِيْمَةِ كَلْبٍ (۱)
(١٤) وَبِاِسْنَادِه عَنْ اَبِىْ هُرَيْرَةَ رَضِىَ اللّٰهُ تَعَالٰى عَنْهُ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ اَلْمَحْرُوْمُ مَنْ حُرِمَ غَنِيْمَةَ كَلْبٍ وَلَوْعِقَالاً وَالَّذِىْ نَفْسِىْ بِيَدِه لَتُبَاعُنَّ نِسَاءَهُمْ عَلٰى دَرَجِ دِمَشْقَ حَتّٰى تُرَدَّالْمَرْأَةُ مِنْ كَسْرٍ يُوْجَدُ بِسَاقِهَا قَالَ اَبُوْعَبْدِاللّٰهِ هٰذَا حَدِيْثٌ صَحِيْحُ الْاِسْنَادِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ (۲)
اس کے بعد ایک قریشی النسل جس کی ننہال کلب میں ہوگی۔ (مراد سفیانی) چڑھائی کرے گا۔ اللہ تعالیٰ اسے بھی شکست دے گا۔ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ اس وقت کہا جائے گا آج کے دن وہ شخص خسارے میں رہا جو کلب کی غنیمت سے محروم رہا۔ (مستدرک ج ۴ ص ۴۳۱)
(۱۴) حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ محروم وہ شخص ہے جو کلب کی غنیمت سے محروم رہا۔ اگرچہ ایک عقال ہی کیوں نہ ہو۔ اس ذات پاک کی قسم جس کی قدرت میں میری جان ہے۔ بلاشبہ کلب کی عورتیں (بحیثیت لونڈی کے) دمشق کے راستے پر فروخت کی جائیں گی یہاں تک کہ ان میں سے ایک عورت پنڈلی ٹوٹی ہونے کی بناء پر واپس کر دی جائے گی۔
مطلب یہ ہے کہ جو شخص خلیفہ مہدی کے زیر قیادت سفیانی کے لشکر سے جس میں غالب اکثریت قبیلہ کلب کے سپاہیوں کی ہوگی جنگ نہیں کرے گا اور ان کے مال کو بطور غنیمت حاصل نہیں کر سکے گا۔ خواہ وہ مال مثل عقال کے معمولی قیمت ہی کا کیوں نہ ہو وہ دین و دنیا دونوں ہی کے اندر خسارہ میں رہے گا کہ جہاد کے ثواب سے بھی محروم رہا اور مال غنیمت بھی حاصل نہ کر سکا ۔ بعد ازاں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خلیفہ مہدی کی کامیابی کی بشارت سنائی کہ ان کا لشکر سفیانی کی فوج پر غالب ہوگا اور ان کی عورتوں کو جو غنیمت میں حاصل ہوں گی فروخت کرے گا۔
(۱)۔المستدرك للحاكم مع تلخيص للذهبى ج ٤ ص ٤٣١ ، وفى سنده ابو العوام عمران القطان قال الذهبى ضعفه غير واحد وكان خارجيا وقال الهيثمى فى الصحيح طرف منه ورواه الطبرانى فى الكبير والأوسط باختصار وفيه عمران القطان وثقه ابن حبان وضعفه جماعة وبقية رجاله رجال
(١٥) وَبِإِسْنَادِهِ إِلَى عُبَيْدِ اللهِ بْنِ الْقِبْطِيَّةِ قَالَ دَخَلَ الْحَارِثُ بْنُ أَبِي رَبِيعَةَ وَ عَبْدُ اللهِ بْنُ صَفْوَانَ وَأَنَا مَعَهُمَا عَلَى أُمِّ سَلَمَةَ رضيَ اللهُ عَنْهَا فَسَأَلَاهَا عَنِ الْجَيْشِ الَّذِي يُخْسَفُ بِهِ وَكَانَ ذلِكَ فِي أَيَّامِ ابْنِ الزُّبَيْرِ فَقَالَتْ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ يَعُوْذُ عَائِذٌ بِالْحَرَمِ فَيُبْعَثُ إِلَيْهِ بِجَيْشٍ فَإِذَا كَانُوا بِبَيْدَاءَ مِنَ الْأَرْضِ خُسِفَ بِهِمْ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللهِ كَيْفَ بِمَنْ يُخْرَجُ كَارِهًا قَالَ يُخْسَفُ بِهِمْ مَعَهُمْ وَلكِنَّهُ يُبْعَثُ عَلَى نِيَّتِهِ يَوْمَ الْقِيمَةِ ثُمَّ قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَعُوْذُ عَائِذٌ بِالْبَيْتِ قَالَ أَبُو عَبْدِ اللهِ رَحِمَهُ اللهُ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِهِمَا وَ وَافَقَهُ الذَّهَبِيُّ رَحِمَهُ اللهُ تعالى (۱)
(١٦) وَبِإِسْنَادِهِ عَنِ النَّبِيِّ أَنَّهُ قَالَ، لَا تَذْهَبُ الْأَيَّامُ وَاللَّيَالِي حَتَّى يَمْلِكَ رَجُلٌ
(۱۵) عبید اللہ بن القبطیہ بیان کرتے ہیں کہ حارث بن ربیعہ اور عبداللہ بن صفوان حضرت ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے پاس حاضر ہوئے میں بھی ان دونوں حضرات کے ساتھ تھا۔ ان دونوں حضرات نے حضرت ام المؤمنین سے اس لشکر کے بارے میں پوچھا جو زمین میں دھنسا دیا جائے گا۔ یہ اس زمانہ کی بات ہے جب عبدالملک بن مروان بن الحکم نے عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما پر چڑھائی کی تھی۔ حضرت ام سلمہؓ نے ان کے جواب میں فرمایا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سُنا ہے کہ ایک پناہ لینے والا حرم کعبہ میں پناہ گزیں ہوگا۔ تو اس پر ایک لشکر حملہ کے لیے چلے گا اور جب مقام بیداء میں پہنچے گا تو زمین میں دھنسا دیا جائے گا۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا، بعض وہ لوگ جو مجبوراً ان کے ہمراہ ہوگئے ہوں گے (آخر وہ کس جرم میں) دھنسائے جائیں گے تو آپؐ نے فرمایا، یہ لوگ بھی ان کے ساتھ ہی دھنسا دیے جائیں گے۔ البتہ قیامت کے دن اُن کی نیت و ارادہ کے مطابق ان کا حشر ہوگا۔ پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بطور تاکید کے دوبارہ فرمایا پناہ لینے والا پناہ لے گا۔
(مستدرک ج ۴ ص ۴۳۹)
الصحيح (مجمع الزوائد باب ما جاء في المهدي) وعمران القطان ايضا ثقة ان شاء الله تعالى كما حققه الشيخ فى رواية رقم ٩ مع هذا له شواهد قوية.
(۲) المستدرك مع التلخيص ج ٤ ص ٤٣١ - ٤٣٢ وقال الذهبي في تلخيصه صحيح.
(۱) المستدرك مع التلخيص ج ٤ ص ٤٢٩.
مِنْ اَهْلِ بَیْتِیْ یُوَاطِئُ اسْمُهُ اِسْمِیْ وَاسْمُ اَبِیْهِ اسْمَ اَبِیْ فَیَمْلَأُ الْاَرْضَ قِسْطًا وَعَدْلًا كَمَا مُلِئَتْ ظُلْمًا وَجَوْرًا - قَالَ اَبُوْ عَبْدِاللّٰهِ صَحِیْحُ الْاِسْنَادِ وَلَمْ یُخْرِجَاهُ وَ وَافَقَهُ الذَّهَبِیُّ رَحِمَهُ اللّٰهُ تَعَالٰى(۱)
(۱۷) وَبِاِسْنَادِه عَنْ سَعِیْدِ بْنِ سَمْعَانَ قَالَ سَمِعْتُ اَبَاهُرَیْرَةَ یُحَدِّثُ اَبَا قَتَادَةَ رَضِیَ اللّٰهُ عَنْهُمَا اَنَّ النَّبِیَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ قَالَ یُبَایِعُ رَجُلٌ بَیْنَ الرُّكْنِ وَالْمَقَامِ وَلَنْ یَسْتَحِلَّ هٰذَا الْبَیْتَ اِلَّا اَهْلُه فَاِذَا اسْتَحَلُّوْهُ فَلَاتَسْئَلْ عَنْ هَلَكَةِ الْعَرَبِ ثُمَّ تَجِیْئُ الْحَبَشَةُ فَتُخَرِّبُ خَرَابًا لَا یَعْمُرُ بَعْدَه اَبَدًا وَهُمُ الَّذِیْنَ یَسْتَخْرِجُوْنَ كَنْزَه - قَالَ اَبُوْعَبْدِاللّٰهِ هٰذَا حَدِیْثٌ صَحِیْحٌ عَلٰى شَرْطِ الشَّیْخَیْنِ وَلَمْ یُخْرِجَاهُ وَ وَافَقَهُ الذَّهَبِیُّ رَحِمَهُ اللّٰهُ تَعَالٰى(۲)
(۱۶) حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا (دنیا کے) روز و شب ختم نہ ہوں گے یہاں تک کہ میرے اہل بیت سے ایک شخص خلیفہ ہو گا جس کا نام اور ولدیت میرے نام اور ولدیت کے مطابق ہو گی (یعنی اس کا نام محمد بن عبداللہ ہو گا) جو زمین کو عدل و انصاف سے بھر دے گا۔ جس طرح وہ ظلم و جور سے بھری ہو گی۔ (مستدرک ج ۴ ص ۴۲۸)
(۱۷) حضرت ابو ہریرہ حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہما سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ایک شخص (مہدی) سے حجر اسود اور مقام ابراہیم کے درمیان بیعت (خلافت) کی جائے گی اور بیت اللہ کی حرمت وہیں کے لوگ پامال کریں گے اور جب یہ پامالی ہو گی تو اس وقت اہل عرب کی ہمہ گیر ہلاکت ہو گی۔ بعد ازاں حبشی قوم چڑھائی کرے گی اور کعبۃ اللہ کو بالکل ویران کر دے گی۔ اس ویرانی کے بعد یہ کبھی آباد نہ ہو گا۔ یہی حبشی اس کا (مدفون) خزانہ نکال کر لے جائیں گے۔ (مستدرک ج ۴ ص ۴۵۲)
- (١) المستدرك مع التلخيص ج٤ ص ٤٤٢ قال الامام الحاكم وانه لولى من هذا الحديث (الذى مر ذكره) ذكره فى هذا الموضع حديث سفيان الثورى وشعبة وزائدة وغيرهم من أئمة المسلمين عن عاصم بن بهدلة عن زر بن حبيش عن عبد الله بن مسعود رضى الله عنه عن النبى صلى الله عليه وسلم انه قال لاتذهب الايام والليالى الخ وقال الذهبى عقبه صحيح.
(۲) ج ٤ ص ٤٥٢ - ٤٥٣ وفى سنده ابن ذئب عن سعيد بن سمعان وقال الذهبى بعد الموافقة ما خرج ابن سمعان شيئا وروى عنه ابن أبى ذئب ، وقد تكلم فيه، وسعيد بن سمعان قال فيه النسائى ثقة وذكره ابن حبان فى الثقات وقال البرقانى الدارقطنى ثقة وقال الحاكم تابعى معروف وقال الازدى ضعيف اخرج له البخارى فى جزء القراءة من خلف الامام وابو داود والترمذى والنسائى تهذيب
وباسناده عن جابر بن عبدالله رضی الله عنهما قال يوشك أهل العراق
(۱۸)
لا يجيئ اليهم درهم ولاقفيز (۱) قالوا لم ذلك يا ابا عبدالله قال من قبل العجم يمنعون ذلك ثم سكت هنية ثم قال يوشك اهل الشام لايجيئ اليهم دينار ولا مدى قالوا لم ذلك قال من قِبَلِ الرُّوم يَمْنَعُونَ ذلِكَ ثُمَّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَكُونُ فِي أُمَّتِي خَلِيفَةٌ يَحْثِي الْمَالَ حَثْياً لا يَعُدُّه عَدًّا ثُمَّ قَالَ وَالَّذِي نَفْسِي بيده لَيَعُودَنَّ الْأَمْرُ كَمَا بَدَأ لَيَعُودَنَّ كُلُّ إِيْمَانٍ إِلى الْمَدِينَةِ كَمَا بَدَأَ بِهَا حَتَّى يَكُون كُلُّ إِيْمَانٍ بِالْمَدِينَةِ ثُمَّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لا يَخْرُجُ رَجُلٌ مِنَ الْمَدِينَةِ رَغْبَةً عَنْهَا إِلَّا أَبْدَلَهَا خَيْرًا مِّنْهُ وَلَيَسْمَعَنَّ نَاسٌ بِرُخْصِ أَسْعَارٍ وَرِيْفٍ (۲) فَيَتْبَعُونَه وَالْمَدِينَةُ خَيْرٌ لَّهُمْ لَوْ
- (۱۸) حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ انھوں نے فرمایا وہ وقت قریب ہے جب کہ
عراق والوں کے پاس روپے اور غلے آنے پر پابندی لگا دی جائے گی۔ حضرت جابر سے پوچھا گیا۔ یہ پابندی کن لوگوں کی جانب سے ہو گی؟ تو انھوں نے فرمایا عجمیوں کی جانب سے؟ پھر کچھ دیر خاموش رہنے کے بعد کہا وہ وقت قریب ہے جبکہ اہل شام پر بھی یہ پابندی عائد کر دی جائے گی۔ پوچھا گیا یہ رکاوٹ کس کی جانب سے ہو گی؟ فرمایا اہل روم کی جانب سے۔ پھر فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ میری اُمت میں ایک خلیفہ ہوگا (یعنی خلیفہ مہدی) جو لوگوں کو اموال لپ بھر بھر دے گا اور شمار نہیں کرے گا۔ نیز آپؐ نے فرمایا اس ذات پاک کی قسم جس کی قدرت میں میری جان ہے یقیناً اسلام اپنی پہلی حالت کی طرف لوٹے گا۔ یقیناً سارا ایمان مدینے کی طرف لوٹے گا جس طرح کہ ابتداء مدینہ سے ہوئی تھی۔ حتیٰ کہ ایمان صرف مدینہ میں ہوگا۔ پھر آپؐ نے فرمایا مدینہ سے جب بھی کوئی اس سے بے رغبتی کی بناء پر نکل جائے گا۔ اللہ تعالیٰ اس سے بہتر کو وہاں آباد کر دے گا۔ کچھ لوگ سنیں گے کہ فلاں جگہ ارزانی اور باغ وزراعت کی فراوانی ہے تو مدینہ کو چھوڑ کر وہاں چلے جائیں گے۔ حالانکہ ان کے واسطے مدینہ ہی بہتر تھا۔ کاش کہ وہ لوگ اس بات کو جانتے۔
(مستدرک ج ۴ ص ۴۵۶)
التهذيب ج ٤ ص ٤٠ وقال الحافظ في تقريب ص ٢٣٨ مطبوعه بيروت ١٤٠٨هـ ثقة لم يصب الازدي في تضعيفه من الثالثة وذكره الحا في فتح الباري ج ٣ ص ٤٦١ مستشهدا به.
- (۱) القفيز مكيال معروف لاهل العراق خمس كيلجات (شرح صحيح مسلم للنووى ج ٢ ص ٣٨٨).
- (۲) الريف كل أرض فيها زرع ونخل.
كَانُوا يَعْلَمُوْنَ قَالَ اَبُوْ عَبْدِ اللّٰهِ هٰذَا حَدِيْثٌ صَحِيْحٌ عَلٰى شَرْطِ مُسْلِمٍ وَّلَمْ يُخَرِّجَاهُ بِهٰذِهِ السِّيَاقَةِ وَ وَافَقَهُ الذَّهَبِيُّ رَحِمَهُ اللّٰهُ تَعَالٰى (١)
(١٩) وَبِاِسْنَادِه عَنْ ثَوْبَانَ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُ يَقْتَتِلُ عِنْدَ كَنْزِكُمْ ثَلَاثَةٌ كُلُّهُمْ اِبْنُ خَلِيْفَةٍ ثُمَّ لَايَصِيْرُ اِلٰى وَاحِدٍ مِّنْهُمْ ثُمَّ تَطْلُعُ الرَّايَاتُ السُّوْدُ مِنْ قِبَلِ الْمَشْرِقِ فَيُقَاتِلُوْنَكُمْ قِتَالًا لَّمْ يُقَاتِلْهُ قَوْمٌ ثُمَّ ذَكَرَ شَيْئاً فَقَالَ إِذَا رَأَيْتُمُوْهُ فَبَايِعُوْهُ وَلَوْ حَبْوًا عَلَى الثَّلْجِ فَإِنَّه خَلِيْفَةُ اللّٰهِ الْمَهْدِيُّ قَالَ أَبُوْعَبْدِاللّٰهِ هٰذَا حَدِيْثٌ صَحِيْحٌ عَلٰى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ وَوَافَقَهُ الذَّهَبِيُّ رَحِمَهُ اللّٰهُ تَعَالٰى(٢)
(۱۹) حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ۔ تمہارے خزانہ کے پاس تین شخص جنگ کریں گے۔ یہ تینوں خلیفہ کے لڑکے ہوں گے۔ پھر بھی یہ خزانہ ان میں سے کسی کی طرف منتقل نہیں ہوگا۔ اس کے بعد مشرق کی جانب سے سیاہ جھنڈے نمودار ہوں گے اور وہ تم سے اس شدت کے ساتھ جنگ کریں گے کہ اس سے پہلے کسی قوم نے اس قدر شدید جنگ نہ کی ہوگی (راوی حدیث یعنی حضرت ثوبانؓ کہتے ہیں) کہ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کوئی بات بیان فرمائی (جس کو یہ سمجھ نہ سکے) ابن ماجہ کی روایت میں اس جملہ کی تصریح بایں الفاظ ہے ۔ ثم یجئ خلیفۃ اللہ المھدی یعنی پھر اللہ کے خلیفہ مہدی کا ظہور ہوگا۔ پھر فرمایا کہ جب تم لوگ انہیں دیکھنا تو ان سے بیعت کر لینا اگرچہ اس بیعت کے لیے برف پر گھسٹ کر آنا پڑے، بلاشبہ وہ اللہ کے خلیفہ مہدی ہوں گے۔
(مستدرک ج ۴ ص ۴۶۳)
ضروری وضاحت
حافظ ابن حجرؒ فتح الباری شرح بخاری ج ۱۳ ص ۸۱ پر اس حدیث کو نقل کرنے کے بعد لکھتے ہیں۔ اس حدیث مذکور میں خزانہ سے مراد اگر وہ خزانہ ہے جس کا ذکر حضرت ابوہریرہ کی حدیث میں ان الفاظ کے ساتھ کیا گیا ہے ۔ "یوشك الفرات ان یحسر عن کنز من الذھب" قریب ہے کہ دریائے فرات (خشک ہو کر) سونے کا خزانہ ظاہر کر دیگا تو یہ حدیث اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ یہ واقعات ظہور مہدی کے وقت رونما ہوں گے۔
(١) ج ٤ ص ٤٥٦ وسكت عنه الذهبي. (٢) ج ٤ ص ٤٦٣ - ٤٦٤
- (۲۰) وَبِاِسْنَادِهِ عَنْ اَبِيْ هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ تَعَالٰی عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّی
اللهُ تَعَالٰی عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْرُجُ رَجُلٌ يُقَالُ لَهُ السُّفْيَانِيُّ فِيْ عُمْقِ دِمَشْقَ وَعَامَّةُ مَنْ يَتَّبِعُه مِنْ كَلْبٍ فَيَقْتُلُ حَتّٰی يَبْقَرَ بُطُوْنَ النِّسَاءِ وَيَقْتُلَ الصِّبْيَانَ فَتَجْتَمِعُ لَهُمْ قَيْسٌ فَيَقْتُلُهَا حَتّٰی لَا يَمْنَعَ ذَنَبَ تَلْعَةٍ (۱) وَيَخْرُجُ رَجُلٌ مِنْ اَهْلِ بَيْتِيْ فِي الْحَرَمِ فَيَبْلُغُ السُّفْيَانِيَّ فَيَبْعَثُ اِلَيْهِ جُنْدًا مِنْ جُنْدِهِ يَهْزِمُهُمْ فَيَسِيْرُ اِلَيْهِ السُّفْيَانِيُّ بِمَنْ مَعَه حَتّٰی اِذَا صَارَ بِبَيْدَاءَ مِنَ الْاَرْضِ خُسِفَ بِهِمْ فَلَا يَنْجُوْ مِنْهُمْ اِلَّا الْمُخْبِرُ عَنْهُمْ - قَالَ اَبُوْ عَبْدِ اللهِ هَذَا حَدِيْثٌ صَحِيْحُ الْاِسْنَادِ عَلٰی شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ وَلَمْ يُخْرِجَاهُ وَوَافَقَهُ الذَّهَبِيُّ رَحِمَهُ اللهُ تَعَالٰی (۲)
- (۲۱) وَبِاِسْنَادِهِ عَنْ اَبِي الطُّفَيْلِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَنَفِيَّةِ قَالَ كُنَّا عِنْدَ عَلِيٍّ
رَضِيَ اللهُ عَنْهُ فَسَأَلَه رَجُلٌ عَنِ الْمَهْدِيِّ فَقَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ هَيْهَاتَ ثُمَّ عَقَدَ بِيَدِهِ
- ۲۰ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ دمشق کے
اطراف سے سفیانی نامی ایک شخص خروج کرے گا۔ جس کے عام پیرو کار قبیلہ کلب کے لوگ ہوں گے یہ جنگ کرے گا۔ یہاں تک کہ عورتوں کے پیٹ چاک کرے گا اور بچوں تک کو قتل کرے گا۔ اس کے مقابلہ کے لیے قبیلہ قیس کے لوگ مجتمع ہوں گے۔ سفیانی ان سے بھی جنگ کرے گا اور اس کثرت سے لوگوں کو قتل کرے گا کہ مقتولین سے کوئی وادی خالی نہ بچے گی (اسی دوران) میرے اہل بیت میں سے ایک شخص کا ظہور حرم میں ہوگا (مراد خلیفہ مہدی ہیں) سفیانی کو اس کی اطلاع پہنچے گی تو اپنا ایک لشکر ان سے جنگ کے لیے بھیجے گا۔ اس کا لشکر شکست کھا جائے گا تو خود سفیانی اپنے ہمراہیوں کو لے کر چلے گا۔ یہاں تک کہ جب مقام بیداء (یعنی مکہ و مدینہ کے درمیان واقع چٹیل میدان) میں پہنچے گا تو ان سب کو زمین دھنسا دیا جائے گا اور بجز ایک مخبر کے کوئی بچ نہ سکے گا۔ (مستدرک ج ۴ ص ۵۲۰)
- ۲۱ حضرت ابو الطفیل رضی اللہ عنہ محمد بن الحنفیہ سے روایت کرتے ہیں کہ محمد بن الحنفیہ نے کہا کہ وہ حضرت
علی رضی اللہ عنہ کی مجلس میں بیٹھے تھے کہ ایک شخص نے ان سے مہدی کے بارے میں پوچھا ؟ تو حضرت نے بربنائے
- (۱) ذنب تلعة- يريد كثرته وانه لا يخلوا منه موضع - والتلاع هى مسيل الماء من علو الى
سفل جمع تلعة (مجمع البحار ج ١ ص ١٤٤.
- (۲) ج ٤ ص ٥٢٠.
سَبْعًا فَقَالَ ذَاكَ يَخْرُجُ فِى آخِرِ الزَّمَانِ اِذَا قَالَ الرَّجُلُ اللهَ اللهَ قُتِلَ فَيَجْمَعُ اللهُ تَعَالَى لَه قَوْمًا قَزَعَ(۱) كَقَزَعِ السَّحَابِ يُؤَلِّفُ اللهُ قُلُوْبَهُمْ لاَيَسْتَوْحِشُوْنَ اِلَى اَحَدٍ وَلاَيَفْرَحُوْنَ بِاَحَدٍ يَدْخُلُ فِيْهِمْ عَلَى عِدَّةِ اَصْحَابِ بَدْرٍ لَمْ يَسْبِقْهُمُ الْأَوَّلُوْنَ وَلاَ يُدْرِكُهُمُ الْآخِرُوْنَ وَعَلَى عَدَدِ اَصْحَابِ طَالُوْتَ الَّذِيْنَ جَاوَزُوْا مَعَهُ النَّهْرَ قَالَ اِبْنُ الْحَنَفِيَّةِ اَتُرِيْدُه قُلْتُ نَعَمْ قَالَ اِنَّه يَخْرُجُ مِنْ بَيْنِ هٰذَيْنِ الْخَشَبَتَيْنِ قُلْتُ لاَجَرَمَ وَاللهِ لاَ اَرِيْمُهُمَا(۲) حَتّٰى اَمُوْتَ فَمَاتَ بِهَا يَعْنِىْ بِمَكَّةَ حَرَسَهَا اللهُ تَعَالَى قَالَ اَبُوْ عَبْدِ اللهِ الْحَاكِمُ هٰذَا حَدِيْثٌ صَحِيْحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ وَوَافَقَهُ الذَّهَبِىُّ رَحِمَهُ اللهُ تَعَالَى (۳)
سات فرمایا اور پھر ہاتھ سے اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ مہدی کا ظہور آخر زمانہ میں ہوگا (اور بے دینی کا اس قدر غلبہ ہوگا کہ) اللہ کے نام لینے والے کو قتل کر دیا جائے گا ظہورِ مہدی کے وقت، اللہ تعالیٰ ایک جماعت کو اُن کے پاس اکٹھا کر دے گا، جس طرح بادل کے متفرق ٹکڑوں کو مجتمع کر دیتا ہے اور اُن میں یگانگت والفت پیدا کر دے گا۔ یہ نہ تو کسی سے متوحش ہوں گے اور نہ کسی کو دیکھ کر خوش ہوں گے۔ (مطلب یہ ہے کہ ان کا باہمی ربط و ضبط سب کے ساتھ یکساں ہوگا) خلیفۂ مہدی کے پاس اکٹھا ہونے والوں کی تعداد اصحابِ بدر (غزوۂ بدر میں شریک ہونے والے صحابہ کرام) کی تعداد کے مطابق (یعنی ۳۱۳) ہوگی۔ اس جماعت کو ایسی (خاص و جزوی) فضیلت حاصل ہو گی جو نہ اُن سے پہلے والوں کو حاصل ہوئی ہے نہ بعد والوں کو حاصل ہو گی۔ نیز اس جماعت کی تعداد اصحابِ طالوت کی تعداد کے برابر ہو گی۔ جنھوں نے طالوت کے ہمراہ نہر (اردن) کو عبور کیا تھا۔ حضرت ابو الطفیل کہتے ہیں کہ محمد بن الحنفیہ نے مجھ سے پوچھا کیا تم اس جماعت میں شریک ہونے کا ارادہ اور خواہش رکھتے ہو، میں نے کہا ہاں تو اُنھوں نے (کعبہ شریف کے) دو ستونوں کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ خلیفۂ مہدی کا ظہور انھیں کے درمیان ہوگا۔ اس پر حضرت ابو الطفیل نے فرمایا ، بخدا میں ان سے تاحیات جدا نہ ہوں گا۔ (راویِ حدیث کہتے ہیں) چنانچہ حضرت ابو الطفیل کی وفات مکہ معظمہ ہی میں ہوئی۔ (مستدرک ج ۴ ص ۵۵۴)
(۱) الْقَزَعُ: قِطَعُ السَّحَابِ الْمُتَفَرِّقَةُ (مجمع البحار ج٣ص١٤٢) (۲) لااريمهما اى لاافارقها (۳) المستدرك مع التلخيص ج٤ص٥٥٤.
- (٢٢) وَبِإِسْنَادِهِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍنِ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ مَرْفُوْعًا
لَا تَقُوْمُ السَّاعَةُ حَتَّى تَمْلَأَ الْأَرْضُ ظُلْمًا وَجَوْرًا وَعُدْوَانًا ثُمَّ يَخْرُجُ مِنْ أَهْلِ بَيْتِيْ مَنْ يَمْلَأُ هَا قِسْطًا وَعَدْلًا : قَالَ أَبُوْ عَبْدِ اللَّهِ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى صَحِيْحٌ عَلَى شَرْطِهِمَا وَوَافَقَهُ الذَّهَبِيُّ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى (١)
- (٢٣) وَبِإِسْنَادِهِ عَنْ أَبِي سَعِيدٍنِ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مَرْفُوْعًا الْمَهْدِيُّ مِنَّا
أَهْلَ الْبَيْتِ أَشَمُّ الْأَنْفِ (۲) أَقْنَى أَجْلَى يَمْلَأُ الْأَرْضَ قِسْطًا وَعَدْلًا كَمَا مُلِئَتْ جَوْرًا وَظُلْمًا يَعِيْشُ هٰكَذَا وَبَسَطَ يَسَارَهُ وَإِصْبَعَيْنِ مِنْ يَمِيْنِهِ الْمُسَبِّحَةَ وَالْإِبْهَامَ وَعَقَدَ ثَلَاثَةً - قَالَ أَبُوْ عَبْدِ اللَّهِ الْحَاكِمُ صَحِيْحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ وَقَالَ الذَّهَبِيُّ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى وَفِيْهِ عِمْرَانُ (الْقَطَّانُ) ضَعِيْفٌ وَلَمْ يُخْرِجْ لَهُ مُسْلِمٌ (۳)
قُلْتُ قَدْ تَقَدَّمَ أَنَّ الْقَوْلَ الرَّاجِحَ فِيْهِ أَنَّهُ لَيْسَ بِضَعِيْفٍ وَمَادِحُوْهُ أَكْثَرُ وَجَارِحُوْهُ قَلِيْلُوْنَ مَعَ كَوْنِ جَرْحِهِمْ غَيْرَ مُسَلَّمٍ وَمُبْهَمًا وَأَخْرَجَ لَهُ الْبُخَارِيُّ تَعْلِيْقًا وَاللَّهُ أَعْلَمُ -
- ۲۲ حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، قیامت قائم
نہیں ہوگی یہاں تک کہ زمین ظلم و جور اور سرکشی سے بھر جائے گی، بعد ازاں میرے اہل بیت سے ایک شخص (مہدی) پیدا ہوگا جو زمین کو عدل و انصاف سے بھر دے گا۔ (مطلب یہ ہے کہ خلیفہ مہدی کے ظہور سے پہلے قیامت نہیں آئے گی)
(مستدرک ج ۴ ص ۵۵۷)
- ۲۳ حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ مرفوعاً روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مہدی
میری نسل سے ہوگا۔ اس کی ناک ستواں و بلند اور پیشانی روشن اور نورانی ہوگی۔ زمین کو عدل و انصاف سے بھر دے گا جس طرح (اس سے پہلے وہ) ظلم و زیادتی سے بھر گئی ہوگی اور انگلیوں پر شمار کرکے بتایا کہ وہ خلافت کے بعد) سات سال تک زندہ رہے گا
(مستدرک ج ۴ ص ۵۵۷)
- ۲۴۔ حضرت ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مہدی کا تذکرہ
فرمایا اور اس میں فرمایا کہ) وہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کی اولاد سے ہوگا۔ (ایضاً)
- (۱) ایضا ج ٤ ص ٥٥٧، واخرجه الامام احمد فی مسند ابی سعید الخدری بسند صحیح رجاله ثقات.
- (۲) اشمّ الأنف، ارتفاع قصبة الأنف واستواء اعلاها واشراف الارنبة قليلا (مجمع البحار ج ۲ ص ۲۱۴)
- (۳) ایضا ج ٤ ص ٥٥٧.
(٢٤) وَعِنْدَهُ عَنْ أَبِي الْمُلَيْحِ الرَّقِيِّ ثَنَا زِيَادُ بْنُ بَيَانٍ عَنْ عَلِيِّ بْنِ نُفَيْلٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ ذَكَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَهْدِيَّ وَهُوَ مِنْ وُّلْدِ فَاطِمَةَ-
سَكَتَ عَلَيْهِ اَبُوْعَبْدِ اللّٰهِ الْحَاكِمُ رَحِمَهُ اللّٰهُ تَعَالَى مَعَ تَخْرِيْجِهِ فِي الْمُسْتَدْرَكِ وَ كَذَالِكَ سَكَتَ عَلَيْهِ الذَّهَبِىُّ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى مَعَ تَخْرِيْجِهِ فِى تَلْخِيْصِ الْمُسْتَدْرَكِ وَقَدْ مَرَّ مِنَّا بَيَانُ رِجَالِ السَّنَدِ تَفْصِيْلًا فِى رِوَايَاتِ أَبِى دَاوُدَ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى اَنَّ الرِّوَايَةَ صَحِيْحَةٌ (۱) وَاللَّهُ أَعْلَمُ-
(٢٥) وَبِاِسْنَادِهِ عَنْ أَبِى سَعِيْدِنِ الْخُدْرِىِّ رَضِىَ اللَّهُ عَنْهُ مَرْفُوْعًا يَخْرُجُ فِى اٰخِرِ اُمَّتِى الْمَهْدِىُّ يَسْقِيْهِ اللَّهُ الْغَيْثَ وَيُخْرِجُ الْاَرْضُ نَبَاتَهَا وَيُعْطِى الْمَالَ صِحَاحًا (۲) وَتَكْثُرُ الْمَاشِيَةُ وَ تَعْظُمُ الْاُمَّةُ يَعِيْشُ سَبْعًا اَوْ ثَمَانِيًا يَعْنِى حِجَجًا- وَقَالَ اَبُوْعَبْدِ اللَّهِ هَذَا حَدِيْثٌ صَحِيْحُ الْاِسْنَادِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ وَوَافَقَهُ الذَّهَبِىُّ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى (۳)
(٢٦) وَبِاِسْنَادِهِ عَنْ أَبِى سَعِيْدِنِ الْخُدْرِىِّ رَضِىَ اللَّهُ عَنْهُ اَنَّ رَسُوْلَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ تَمْلَأُ الْاَرْضُ جَوْرًا وَظُلْمًا فَيَخْرُجُ رَجُلٌ مِّنْ عِتْرَتِى فَيَمْلِكُ سَبْعًا اَوْ
۲۵۔ حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میری آخری اُمت میں مہدی پیدا ہوگا۔ اللہ تعالیٰ اس پر خوب بارش برسائے گا اور زمین اپنی پیداوار باہر نکال دے گی اور وہ لوگوں کو مال یکساں طور پر دے گا۔ اس کے زمانہ (خلافت) میں مویشیوں کی کثرت اور اُمت میں عظمت ہوگی وہ (خلافت کے بعد) سات سال یا آٹھ سال زندہ رہے گا۔ (مستدرک ج ۴ ص ۵۵۸)
۲۶۔ حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا (آخری زمانہ میں) زمین جور و ظلم سے بھر جائے گی تو میری اولاد سے ایک شخص پیدا ہوگا اور سات سال یا نو سال خلافت کرے گا اور (اپنے زمانہ خلافت میں) زمین کو عدل و انصاف سے بھر دے گا جس طرح اس سے پہلے وہ جور و ظلم سے بھر گئی ہوگی۔ (ایضاً)
(۱) ایضاً ج ٤ ص ٥٥٧.
(۲) ويعطى المال صحاحا اى يعطى اعطاءا صحيحا وسويا
(۳) ايضاً ج ٤ ص ٥٥٨.
تِسْعًا فَيَمْلَأُ الْاَرْضَ عَدْلًا وَقِسْطًا كَمَا مُلِئَتْ جَوْرًا وَ ظُلْمًا(١) - قَالَ أَبُوْ عَبْدِ اللّٰهِ هٰذَا حَدِيْثٌ صَحِيْحٌ عَلٰى شَرْطِ مُسْلِمٍ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ وَ اَخْرَجَهُ الذَّهَبِيُّ رَحِمَهُ اللّٰهُ فِىْ تَلْخِيْصِهٖ ثُمَّ سَكَتَ عَلَيْهِ(٢)-
قَالَ الْاِمَامُ الْحَافِظُ أَبُو الْعَبَّاسِ الْعَلَّامَةُ نُوْرُ الدِّيْنِ الْهَيْثَمِيُّ رَحِمَهُ اللّٰهُ تَعَالٰى فِىْ مَجْمَعِ الزَّوَائِدِ-(٣)
- (۲۷) عَنْ أَبِىْ سَعِيْدِ نِ الْخُدْرِىِّ رَضِيَ اللّٰهُ تَعَالٰى عَنْهُ قَالَ قَالَ اُبَشِّرُكُمْ
بِالْمَهْدِىِّ يُبْعَثُ فِىْ اُمَّتِىْ عَلٰى اخْتِلَافٍ مِّنَ النَّاسِ وَزِلْزَالٍ فَيَمْلَأُ الْاَرْضَ قِسْطًا وَّعَدْلًا كَمَا مُلِئَتْ جَوْرًا وَ ظُلْمًا يَرْضٰى عَنْهُ سَاكِنُ السَّمَاءِ وَسَاكِنُ الْاَرْضِ يَقْسِمُ الْمَالَ صِحَاحًا . قَالَ لَهٗ رَجُلٌ مَا صِحَاحًا؟ قَالَ بِالسَّوِيَّةِ بَيْنَ النَّاسِ وَيَمْلَأُ اللّٰهُ قُلُوْبَ اُمَّةِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ
- ۲۷. حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
میں تمہیں مہدی کی بشارت دیتا ہوں جو میری اُمت میں اختلاف و اضطراب کے زمانہ میں بھیجا جائے گا تو وہ زمین کو عدل و انصاف سے بھر دے گا جس طرح وہ (اس سے پہلے) ظلم وجور سے بھری ہوگی. زمین اور آسمان والے اس سے خوش ہوں گے ۔ وہ لوگوں کو مال یکساں طور پر دے گا (یعنی اپنے داد و دہش میں وہ کسی کا امتیاز نہیں برتے گا) اللہ تعالیٰ اس کے دَورِ خلافت میں، میری اُمّت کے دلوں کو استغناء و بے نیازی سے بھر دے گا ۔ (اور بغیر امتیاز و ترجیح کے) اس کا انصاف سب کو عام ہوگا وہ اپنے منادی کو حکم دے گا کہ عام اعلان کر دے کہ جسے مال کی حاجت ہو وہ مہدی کے پاس آ
(١) ايضا ج ٤ ص ٥٥٨ .
(٢) وسكت عنه الذهبى مكتفيا بكلامه على الحديث الذى اخرجه الحاكم من طريق آخر قبل
هذا الموضع بصفحة فى ج ٤ص٥٥٧ ونقله الشيخ ايضا تحت رقم ٢٢ والله اعلم.
(٣) هو العلامة الإمام الحافظ نور الدين على بن ابى بكر بن سليمان ابو الحسن الهيثمى
المصرى القاهرى ولد سنة ٧٣٥هـ وتوفى سنة ٨٠٧هـ له كتب وتخاريج فى الحديث منها مجمع
الزوائد ومنبع الفوائد طبع فى عشرة اجزاء قال الكتانى وهو من انفع كتب الحديث بل لم يوجد مثله
كتاب ولا صنف نظيره فى هذا الباب وللسيوطى بغية الرائد فى الذيل على معجم الزوائد، لكنه لم يتم
وترتيب الثقات لابن حبان، (مخطوطة) وتقريب البغية فى ترتيب احاديث الحلية(مخطوطة)
وَ سَلَّمَ غِنًى وَ يَسَعُهُمْ عَدْلُهُ حَتَّى يَأْمُرَ مُنَادِيًا فَيُنَادِيْ فَيَقُوْلُ : مَنْ لَّهُ فِى الْمَالِ حَاجَةٌ؟ فَمَا يَقُوْمُ مِنَ النَّاسِ إِلَّا رَجُلٌ وَاحِدٌ فَيَقُوْلُ : أَنَا فَيَقُوْلُ لَهُ ! ائْتِ السَّدَانَ يَعْنِى الْخَازِنَ فَقُلْ لَهُ إِنَّ الْمَهْدِيَّ يَأْمُرُكَ أَنْ تُعْطِيَنِىْ مَالاً فَيَقُوْلُ لَهُ اِحْثِ فَيَحْثِىْ حَتَّى إِذَا جَعَلَهُ فِىْ حِجْرِهِ وَانْتَزَرَهُ نَدِمَ فَيَقُوْلُ كُنْتُ اَجْشَعَ أُمَّةِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَفْسًا اَوْ عَجَزَ عَنِّىْ مَا وَسِعَهُمْ؟ قَالَ فَيَرُدُّهُ فَلَا يُقْبَلُ مِنْهُ فَيُقَالُ لَهُ إِنَّا لَا نَأْخُذُ شَيْئًا أَعْطَيْنَاهُ فَيَكُوْنُ كَذَالِكَ سَبْعَ سِنِيْنَ اَوْ ثَمَانَ سِنِيْنَ اَوْ تِسْعَ سِنِيْنَ ثُمَّ لَا خَيْرَ فِى الْعَيْشِ بَعْدَه أَوْ قَالَ ثُمَّ لَا خَيْرَ فِى الْحَيَاةِ بَعْدَه
قُلْتُ رَوَاهُ التِّرْمِذِىُّ وَ غَيْرُه بِاخْتِصَارٍ كَثِيْرٍ وَرَوَاهُ اَحْمَدُ بِاَسَانِيْدِه وَ أَبُوْ يَعْلَى بِاخْتِصَارٍ كَثِيْرٍ وَرِجَالُهُمَا ثِقَاتٌ(١)
(اس اعلان پر) مسلمانوں کی جماعت میں سے بجز ایک شخص کے کوئی بھی نہیں کھڑا ہوگا۔ مہدیؑ اس سے کہے گا ، خازن کے پاس جاؤ اور اس سے کہو کہ مہدی نے مجھے مال دینے کا تمہیں حکم دیا ہے (یہ شخص خازن کے پاس پہنچے گا ) تو خازن اس سے کہے گا اپنے دامن میں بھر لے چنانچہ وہ (حسب خواہش) دامن میں بھر لے گا اور خزانے سے باہر لائے گا تو اسے (اپنے اس عمل پر) ندامت ہوگی اور (اپنے دل میں کہے گا کیا) اُمت محمدیہ علی صاحبہا الصلوٰۃ والسلام میں سب سے بڑھ کر لالچی اور حریص میں ہی ہوں یا یوں کہے گا ۔ میرے ہی لیے وہ چیز ناکافی ہے جو دوسروں کے واسطے کافی و وافی ہے۔ (اس ندامت پر) وہ مال واپس کرنا چاہے گا۔ مگر اس سے یہ مال قبول نہیں کیا جائے گا اور کہہ دیا جائے گا کہ ہم دے دینے کے بعد واپس نہیں لیتے ۔ مہدی عدل و انصاف اور داد و دہش کے ساتھ آٹھ یا نو سال زندہ رہے گا۔ اس کی وفات کے بعد زندگی میں کوئی خوبی نہیں ہوگی۔
ومجمع البحرين فى زوائد المعجمين والمقصد العلى فى زوائد أبى يعلى الموصلى (مخطوطة) وزوائد ابن ماجة على الكتب الخمسة(مخطوطه) وموارد الظمآن إلى زوائد ابن حبان وغاية المقصد فى زوائد أحمد، والبحر الزخار فى زوائد مسند البزار، والبدر المنير فى زوائد المعجم الكبير، وبغية الباحث عن زوائد مسند الحارث، الاعلام للزركلى ج ٤ ص ٢٦٦ والرسالة المستطرفة للكتانى ص ١٤٠-١٤١.
(١) مجمع الزوائد ج ٧ ص ٣١٣.
(۲۸) وَعَنْ أُمّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهَا قَالَتْ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُوْلُ يَكُوْنُ اخْتِلَافٌ عِنْدَ مَوْتِ خَلِيْفَةٍ فَيَخْرُجُ رَجُلٌ مِنْ بَنِيْ هَاشِمٍ فَيَأْتِيْ مَكَّةَ فَيَسْتَخْرِجُهُ النَّاسُ مِنْ بَيْتِهِ وَهُوَ كَارِهٌ فَيُبَايِعُوْهُ بَيْنَ الرُّكْنِ وَالْمَقَامِ فَيُجَهَّزُ إِلَيْهِ جَيْشٌ مِّنَ الشَّامِ حَتَّى إِذَا كَانُوْا بِالْبَيْدَاءِ خُسِفَ بِهِمْ فَيَأْتِيْهِ عَصَائِبُ الْعِرَاقِ وَأَبْدَالُ الشَّامِ وَيَنْشَؤُ رَجُلٌ بِالشَّامِ وَأَخْوَالُهُ مِنْ كَلْبٍ فَيُجَهَّزُ إِلَيْهِ جَيْشٌ فَيَهْزِمُهُمُ اللَّهُ فَتَكُوْنُ الدَّائِرَةُ عَلَيْهِمْ فَذَالِكَ يَوْمُ كَلْبٍ الْخَائِبُ مَنْ خَابَ مِنْ غَنِيْمَةِ كَلْبٍ فَيَفْتَحُ الْكُنُوْزَ وَ يَقْسِمُ الْأَمْوَالَ وَيُلْقِى الْإِسْلَامُ بِجِرَانِهِ إِلَى الْأَرْضِ فَيَعِيْشُوْنَ بِذَالِكَ سَبْعَ سِنِيْنَ أَوْ قَالَ تِسْعَ رَوَاهُ الطَّبْرَانِيُّ فِى الْأَوْسَطِ وَ رِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ (١)
۲۸۔ حضرت ام المومنین امّ سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سُنا کہ خلیفہ کی وفات پر اختلاف ہوگا۔ (یعنی اس کی جگہ دوسرے خلیفہ کے انتخاب پر یہ صورت حال دیکھ کر) خاندان بنی ہاشم کا ایک شخص (اس خیال سے کہیں لوگ میرے اُوپر بار خلافت نہ ڈال دیں) مدینہ سے مکہ چلا جائے گا۔ کچھ لوگ اسے پہچان کر (کہ یہی مہدی ہیں) اسے گھر سے نکال کر باہر لائیں گے اور حجر اسود و مقامِ ابراہیم کے درمیان زبردستی اسکے ہاتھ پر بیعت خلافت کرلیں گے (اس کی بیعت خلافت کی خبر سن کر ایک لشکر مقابلہ کے لیے) شام سے اس کی سمت روانہ ہوگا۔ یہاں تک کہ جب مقامِ بیداء (مکہ و مدینہ کے درمیانی میدان) میں پہنچے گا تو زمین میں دھنسا دیا جائے گا۔ اس کے بعد اس کے پاس عراق کے اولیاء اور شام کے ابدال حاضر ہوں گے اور ایک شخص شام سے (سفیانی) نکلے گا جس کی ننہال قبیلۂ کلب میں ہوگی اور اپنا لشکر خلیفۂ مہدی کے مقابلہ کے لیے روانہ کرے گا۔ اللہ تعالیٰ سفیانی کے لشکر کو شکست دے دے گا۔ یہی کلب کی جنگ ہے۔ وہ شخص خسارہ میں رہے گا جو کلب کی غنیمت سے محروم رہا پھر خلیفۂ مہدی خزانوں کو کھول دیں گے اور خوب داد و دہش کریں گے اور اسلام
(١) ايضا ج ٧ ص ٣١٥ وحكاه ابن القيم في المنار المنيف ص ١٤٤ وقال رواه الإمام احمد باللفظين و رواه ابو داؤد من وجه أخر عن قتادة عن ابى الخليل عن عبد الله بن الحارث عن ام سلمة نحوه (وقد مر تحت رقم ١١) و رواه ابو يعلى الموصلى فى مسنده من حديث قتادة عن صالح ابى الخليل عن صاحب له وربما قال صالح عن مجاهد عن ام سلمة والحديث حسن ومثله مما يجوز ان يقال فيه صحيح.
(۲۹) وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ قَالَ ذَكَرَ رَسُوْلُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَهْدِيَّ قَالَ إِنْ قَصُرَ فَسَبْعٌ وَإِلَّا ثَمَانٌ وَإِلَّا فَتِسْعٌ وَلَيَمْلَأَنَّ الْأَرْضَ قِسْطًا كَمَا مُلِئَتْ ظُلْمًا وَ جَوْرًا رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ وَفِي بَعْضِهِمْ بَعْضُ ضُعْفٍ(۱)
(۳۰) وَعَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَكُوْنُ فِي أُمَّتِي خَلِيْفَةٌ يَحْثِي الْمَالَ فِي النَّاسِ حَثْيَا لَا يَعُدُّهُ عَدًّا ثُمَّ قَالَ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَيَعُوْدَنَّ رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَ رِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيْحِ (۲)
(۳۱) وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَكُوْنُ فِي أُمَّتِي الْمَهْدِيُّ إِنْ قَصُرَ فَسَبْعٌ وَإِلَّا ثَمَانٌ وَإِلَّا فَتِسْعٌ تَنْعَمُ أُمَّتِي فِيْهَا نِعْمَةً لَّمْ يَنْعَمُوْا مِثْلَهَا
پورے طور پر دنیا میں تمام ہو جائے گا۔ لوگ اسی عیش و راحت کے ساتھ سات یا نو سال رہیں گے ، (یعنی جب تک خلیفہ مہدی حیات رہیں گے لوگوں میں فارغ البالی اور چین و سکون رہے گا۔ مجمع الزوائد ص ۳۱۴ ج ۷)
۲۹۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مہدی کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا اگر ان کی مدّتِ خلافت کم ہوئی تو سات برس ہوگی ورنہ آٹھ یا نو سال ہو گی وہ زمین کو عدل و انصاف سے بھر دیں گے جس طرح اس سے پہلے ظلم و جور سے بھری ہوگی ۔ (مجمع الزوائد ص ۳۱۴ ج ۷)
۳۰۔ حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ۔ میری اُمت میں ایک خلیفہ ہوگا ۔ جو لوگوں کو مال لپ بھر بھر تقسیم کرے گا شمار نہیں کرے گا ۔ (یعنی سخاوت اور دریا دلی کی بناء پر بغیر گنے کثرت سے لوگوں میں عطایا تقسیم کرے گا) اور قسم ہے اس ذات پاک کی جس کی قدرت میں میری جان ہے ، البتہ ضرور لوٹے گا (یعنی امرِ اسلام مضمحل ہو جانے کے بعد ان کے زمانہ میں پھر سے فروغ حاصل کر لے گا ۔)
(مجمع الزوائد ج ۷ ، ص ۳۱۴)
۳۱۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میری اُمت میں ایک مہدی ہوگا، ( اس کی مدّتِ خلافت) اگر کم ہوئی تو سات یا آٹھ یا نو سال ہو گی ۔ میری اُمت اس کے زمانہ میں اس قدر خوش حال ہو گی کہ اتنی خوش حالی اسے کبھی نہ ملی ہوگی۔ آسمان سے (حسبِ ضرورت)
(۱) ایضاً ج ۷ ص ۳۱۷ .
(۲) ایضاً ج ۷ ص ۳۱۷ .
يُرْسِلُ السَّمَاءَ عَلَيْهِمْ مِدْرَارًا وَلَا يَدَّخِرُ الْاَرْضُ شَيْئًا مِّنَ النَّبَاتِ وَالْمَالِ كُدُوْسٌ يَقُوْمُ الرَّجُلُ يَقُوْلُ يَا مَهْدِيُّ اَعْطِنِيْ فَيَقُوْلُ خُذْهُ، رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْاَوْسَطِ وَرِجَالُه ثِقَاتٌ (۱)
قَالَ الْاِمَامُ الْحَافِظُ الْحُجَّةُ اَبُوْبَكْرِ بْنُ اَبِيْ شَيْبَةَ رَحِمَهُ اللّٰهُ تَعَالٰی (۲)
(۳۲) حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ دُكَيْنٍ (۳) وَ اَبُوْ دَاوُدَ (۴) عَنْ يَّاسِيْنَ (۵) الْعِجْلِيِّ عَنْ اِبْرَاهِيْمَ (۶) بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَنَفِيَّةِ عَنْ اَبِيْهِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللّٰهُ تَعَالٰی عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اَلْمَهْدِيُّ مِنَّا اَهْلِ الْبَيْتِ يُصْلِحُهُ اللّٰهُ تَعَالٰی فِيْ لَيْلَةٍ (۷)
(۳۳) حَدَّثَنَا وَكِيْعٌ (۸) عَنْ يَّاسِيْنَ عَنْ اِبْرَاهِيْمَ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ اَبِيْهِ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُ مِثْلَهُ، وَلَمْ يَرْفَعْهُ (۹)
موسلادھار بارش ہوگی اور زمین اپنی تمام پیداوار کو اُگادے گی۔ ایک شخص کھڑا ہو کر مال کا سوال کرے گا تو مہدی کہیں گے کہ اپنی حسبِ خواہش خزانہ میں جاکر لے لو۔ (مجمع الزوائد ج ۷ ص ۳۱۷، ۳۱۸) ۳۲۔ حضرت علیؓ سے مرفوعاً و موقوفاً مروی ہے کہ رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مہدی میرے اہلِ بیت سے ہوگا۔ اللہ تعالیٰ اسے ایک ہی رات میں صالح بنادے گا (یعنی اپنی توفیق وہدایت سے ایک ہی شب میں ولایت کے اس بلند مقام پر پہنچادے گا جہاں وہ پہلے نہیں تھے)
(مصنف ابن ابی شیبہ ج ۱۵ ص ۱۹۷)
(۱) ایضاً ج ۷ ص ۳۱۷ (۲) الامام ابوبکر عبد اللہ بن محمد بن ابی شیبۃ العبسی مولاھم الکوفی ولد سنۃ ۱۵۹ وتوفی سنۃ ۲۳۵ھ حافظ للحدیث لہ فیہ کتب منھا المسند والمصنف جمع فیہ الاحادیث علی طریقۃ المحدثین بالاسانید وفتاوی التابعین واقوال الصحابۃ مرتبا علی الکتب والابواب علی ترتیب الفقہ وھو اکبر من مصنف عبد الرزاق بن ھمام رتبۃ (الاعلام للزرکلی ج۱ ص۱۱۷ و ۱۱۸ والمستطرفۃ للکتانی ص ۳۶)۔ (۳) الفضل بن دکین وھو لقب واسمہ عمرو بن حماد بن زھیر بن درھم التیمی مولیٰ آل طلحۃ ابو نعیم الملائی الکوفی الاحول روی عنہ البخاری فاکثر قال احمد ابو نعیم صدوق ثقۃ موضع للحجۃ فی الحدیث وقال ابن سعد وکان ثقۃ مامونا کثیر الحدیث حجۃ الخ (تہذیب التہذیب ج۸ ص۲۴۳۔ ۲۴۸)۔ (۴) عمر بن سعد بن عبید ابو داود الحفری الکوفی وحفر موضع بالکوفۃ قال ابن معین ثقۃ، وقال ابو حاتم صدوق کان رجلا صالحا وقال الآجری عن ابی داود کان جلیلا جدا وقال ابن سعد کان ناسکا زاھدا لہ فضل وتواضع الخ تہذیب التہذیب ج۷ص۳۹۷-۳۹۸۔
<----
أَقُوْلُ إِنَّ الْفَضْلَ بْنَ دُكَيْنٍ وَأَبَادَاوُدَ أَعْنِي الْحَضْرَمِيَّ الْكُوفِيَّ وَوَكِيْعًا مِنَ الْأَئِمَّةِ الْمَعْرُوْفِيْنَ أَخْرَجَ لَهُمُ السِّتَّةُ إِلَّا أَبَادَاوُدَ الْحَضْرَمِيَّ فَلَمْ يُخْرِجْ إِلَّا مُسْلِمٌ رَحِمَهُ اللّٰهُ تَعَالٰی وَالْأَرْبَعَةُ وَأَمَّا يَاسِيْنُ فَهُوَ ابْنُ شَيْبَانَ وَيُقَالُ ابْنُ سِنَانَ الْكُوفِيُّ قَالَ الدُّوْرِيُّ عَنْ ابْنِ مَعِيْنٍ لَيْسَ بِهِ بَأْسٌ، وَقَالَ إِسْحَاقُ بْنُ مَنْصُوْرٍ عَنِ ابْنِ مَعِيْنٍ صَالِحٌ وَقَالَ أَبُوْزُرْعَةَ لَا بَأْسَ بِهِ وَقَالَ الْبُخَارِيُّ فِيْهِ نَظَرٌ وَلَا أَعْلَمُ حَدِيْثًا غَيْرَ هٰذَا وَقَالَ يَحْيٰی بْنُ يَمَانٍ رَأَيْتُ سُفْيَانَ الثَّوْرِيَّ يَسْأَلُ يَاسِيْنَ عَنْ هٰذَا الْحَدِيْثِ قَالَ ابْنُ عَدِيٍّ، وَ هُوَ مَعْرُوْفٌ بِهِ وَوَقَعَ فِيْ سُنَنِ ابْنِ مَاجَةَ عَنْ يَاسِيْنَ غَيْرِ مَنْسُوْبٍ فَظَنَّهُ بَعْضُ الْحُفَّاظِ الْمُتَأَخِّرِيْنَ يَاسِيْنَ بْنَ مُعَاذٍ الزَّيَّاتِ فَضَعَّفَ الْحَدِيْثَ بِهِ فَلَمْ يَصْنَعْ شَيْئًا اِلخ مِنْ تَهْذِيْبِ التَّهْذِيْبِ وَأَمَّا إِبْرَاهِيْمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَنَفِيَّةِ فَذَكَرَهُ ابْنُ حِبَّانَ رَحِمَهُ اللّٰهُ تَعَالٰی فِي الثِّقَاتِ وَقَالَ الْعِجْلِيُّ ثِقَةٌ أَخْرَجَ لَهُ التِّرْمِذِيُّ وَ ابْنُ مَاجَةَ وَالنَّسَائِيُّ فِيْ مُسْنَدِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُ اِلخ وَالْحَاصِلُ أَنَّ الرِّوَايَةَ رِجَالُهَا ثِقَاتٌ وَ تَبَيَّنَ مِنْ كَلَامِ الْحَافِظِ ابْنِ حَجَرِ الْعَسْقَلَانِيِّ رَحِمَهُ اللّٰهُ تَعَالٰی أَنَّ تَضْعِيْفَ مَنْ ضَعَّفَ الْحَدِيْثَ إِنَّمَا كَانَ نَاشِئًا بِظَنِّهِ الْفَاسِدِ وَلِأَجْلِ هٰذَا صَرَّحَ فِي التَّقْرِيْبِ أَيْضًا، نَعَمْ لَوْكَانَ الْمُرَادُ يَاسِيْنَ الزَّيَّاتَ لَكَانَتِ الرِّوَايَةُ ضَعِيْفَةً وَقَدْنَصَّ ابْنُ أَبِيْ شَيْبَةَ عَلٰی أَنَّهُ الْعِجْلِيُّ فَالْحَدِيْثُ لَا غُبَارَ عَلَيْهِ وَاللّٰهُ أَعْلَمُ -
- (۵) ياسين بن شيبان ويقال ابن سنان العجلى الكوفى - تهذيب التهذيب ج ١١ ص ١٩٦ وقال
الحافظ ايضا فى التقريب ياسين بن شيبان وابن سنان العجلى الكوفى لاباس به من السابعة ووهم من زعم انه ابن معاذ الزيات-ص٢٧٣،
- (۶) ابراهيم بن محمد ابن الحنفية قال محمد بن اسحاق العجلى ثقة الخ تهذيب التهذيب ج ١
ص١٣٦.
- (۷) مصنف ابن ابى شيبة ج ١٥ ص ١٩٧ طبع الدار السلفية، بمبئى الهند. تهذيب التهذيب ج ١١
ص ١٠٩-١١٤. اى يتوب عليه ويوافقه ويلهمه ويرشده بعد ان لم يكن كذلك (الفتن والملاحم ابن كثير ج ١ ص ٣١) وهذا الحديث اخرجه الحفاظ فى كتبهم منهم الحافظ ابو عبد الله محمد بن يزيد ابن ماجة فى سننه فى كتاب الفتن والحافظ ابو بكر البيهقى والامام احمد بن حنبل فى مسند على بن ابى طالب وقال الشيخ احمد شاكر اسناده صحيح .
- (۸) وكيع بن الجراح بن مليح الرواسى ابو سفيان الكوفى الحافظ قال الامام احمد بن حنبل ما
رايت ادعى للعلم من وكيع ولا احفظ منه وقال نوح بن حبيب القومسى رأيت الثورى ومعمرا ومالكا فما رأيت عيناى مثل وكيع الخ تهذيب التهذيب ج ١١ ص ١٠٩ - ١١٤.
- (۹) مصنف ابن ابى شيبة ج ١٥ ص ١٩٧، طبع الدار السلفية، بمبئى.
(۳۴) حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ دُكَیْنٍ ثَنَا فِطْرٌ عَنْ زِرٍّ عَنْ عَبْدِ اللّٰهِ رَضِیَ اللّٰهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّی اللّٰهُ عَلَیْهِ وَ سَلَّمَ لَا تَذْهَبُ الدُّنْیَا حَتّٰی یَبْعَثَ اللّٰهُ رَجُلًا مِّنْ اَهْلِ بَیْتِیْ یُوَاطِی اسْمُهٗ اسْمِیْ وَاسْمُ اَبِیْهِ اسْمَ اَبِیْ اِلَخ (۱)
اَقُوْلُ رِجَالُ هٰذَا السَّنَدِ كُلُّهُمْ رِجَالُ الصِّحَاحِ السِّتَّةِ غَیْرُ فِطْرٍ فَاِنَّهٗ لَمْ یَرْوِ عَنْهُ مُسْلِمٌ رَحِمَهُ اللّٰهُ تَعَالٰی وَاَمَّا الْبُخَارِیُّ وَ الْاَرْبَعَةُ فَقَدْ اَخْرَجُوْا لَهٗ وَثَّقَهٗ اَحْمَدُ وَ ابْنُ مَعِیْنٍ وَالْعِجْلِیُّ وَ ابْنُ سَعْدٍ وَّ مِنَ النَّاسِ مَنْ یَّسْتَضْعِفُهٗ(۲)
(۳۵) حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ دُكَیْنٍ ثَنَا فِطْرٌ عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ اَبِیْ بَزَّةَ عَنْ اَبِیْ الطُّفَیْلِ عَنْ عَلِیٍّ رَضِیَ اللّٰهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰهُ عَلَیْهِ وَ سَلَّمَ قَالَ لَوْ لَمْ یَبْقَ مِنَ الدَّهْرِ اِلَّا یَوْمٌ لَّبَعَثَ اللّٰهُ رَجُلًا مِّنْ اَهْلِ بَیْتِیْ یَمْلَاُ هَا عَدْلًا كَمَا مُلِئَتْ جَوْرًا(۳)
اَقُوْلُ رِجَالُ هٰذَا السَّنَدِ كُلُّهُمْ رِجَالُ الصِّحَاحِ السِّتَّةِ غَیْرُ فِطْرٍ فَاِنَّهٗ مِنْ رُوَاةِ الْبُخَارِیِّ وَالْاَرْبَعَةِ خَلَا مُسْلِمٍ كَمَا مَرَّ.
۳۴۔ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دنیا ختم نہ ہوگی یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ میرے اہل بیت میں سے ایک شخص (مراد مہدی ہیں) بھیجے گا جس کا نام میرے نام کے اور اُس کے والد کا نام میرے والد کے نام کے مطابق ہوگا۔ (یعنی اس کا نام بھی محمد بن عبداللہ ہوگا)۔
(مصنف ابن ابی شیبہ ج ۱۵ ص ۱۹۷)
۳۵۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپؐ نے فرمایا اگر دنیا کا صرف ایک دن باقی رہ جائے گا تو اللہ تعالیٰ اسی کو طویل اور دراز کر دے گا اور میرے اہل بیت میں سے ایک شخص (مہدی) کو پیدا کریگا جو دُنیا کو عدل وانصاف سے بھر دے گا جس طرح وہ (اس سے پہلے) ظلم سے بھری ہوگی۔
(مصنف ابن ابی شیبہ ج ۱۵ ص ۱۹۸)
(۱) مصنف ابن ابی شیبة ج ۱۵ ص ۱۹۸.
(۲) فطر بن خليفة القرشی المخزومی مولاهم ابو بكر الخياط الكوفی قال الامام احمد بن حنبل ثقة صالح الحديث وقال احمد كان عند يحيی بن سعيد ثقة قال ابن ابی خيثمة عن ابن معين ثقة وقال العجلی كوفی ثقة حسن الحديث وكان فيه تشيع قليل وقال ابو حاتم صالح الحديث وقال ابو داود عن احمد بن يونس كنا نمر على فطر وهو مطروح لا نكتب عنه وقال النسائى لا بأس به وقال فی موضع آخر ثقة حافظ كيس وقال ابن سعد كان ثقة انشاء الله ومن الناس من يستضعفه وقال
←
- (٣٦) حَدَّثَنَا عَبْدُ اللّٰهِ بْنُ نُمَيْرٍ ثَنَا مُوْسَى الْجُهَنِىُّ ثَنِى عُمَرُ بْنُ قَيْسِ الْمَاصِرُ
عَنْ مُجَاهِدٍ ثَنِىْ فُلاَنُ رَجُلٍ مِّنْ اَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَ سَلَّمَ اَنَّ الْمَهْدِىَّ لَا يَخْرُجُ حَتَّى يُقْتَلَ النَّفْسُ الزَّكِيَّةُ فَاِذَا قُتِلَتِ النَّفْسُ الزَّكِيَّةُ غَضِبَ عَلَيْهِمْ مَّنْ فِى السَّمَاءِ وَمَنْ فِى الْاَرْضِ فَاَتَى النَّاسُ الْمَهْدِىَّ فَزَفُّوْهُ كَمَا تُزَفُّ الْعَرُوْسُ اِلَى زَوْجِهَا لَيْلَةَ عِرْسِهَا وَهُوَ يَمْلَاءُ الْاَرْضَ قِسْطًا وَّعَدْلاً وَّ يُخْرِجُ الْاَرْضُ نَبَاتَهَا وَ تُمْطِرُ السَّمَاءُ مَطَرَهَا وَتَنْعَمُ اُمَّتِىْ فِىْ وِلَايَتِه نِعْمَةً لَّمْ تَنْعَمْهَا قَطُّ (۱) اَقُوْلُ اَمَّا عَبْدُ اللّٰهِ (۲) بْنُ نُمَيْرٍ فَهُوَالْهَمْدَانِيُّ الْخَارِثِيُّ الْكُوْفِيُّ اَخْرَجَ لَهُ السِّتَّةُ وَاَمَّا مُوْسَى (٣) الْجُهَنِيُّ فَهُوَ مُوْسَى بْنُ عَبْدِاللّٰهِ اَوِ ابْنُ عَبْدِالرَّحْمٰنِ الْجُهَنِيُّ الْكُوْفِيُّ وَثَّقَه اَحْمَدُ وَابْنُ مَعِيْنٍ
- ٣٦۔ امام مجاہد (مشہور تابعی) ایک صحابی رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ انھوں نے کہا ”نفسِ زکیہ“
کے قتل کے بعد ہی خلیفہ مہدی کا ظہور ہوگا۔ جس وقت نفسِ زکیہ قتل کر دیے جائیں گے تو زمین و ۔ ۔ آسمان والے ان قاتلین پر غضب ناک ہوں گے۔ بعد ازاں لوگ مہدی کے پاس آئیں گے اور انھیں دُلہن کی طرح آراستہ و پیراستہ کریں گے اور میری زمین کو عدل و انصاف سے بھردیں گے۔ (ان کے زمانۂ خلافت میں) زمین اپنی پیداوار کو اُگا دے گی اور آسمان خوب برسے گا اور اُن کے دورِ خلافت میں اُمت اس قدر خوش حال ہوگی کہ ایسی خوش حالی اسے کبھی نہ ملی ہوگی۔
(مصنف ابن ابی شیبہ ج ۱۵ ص ۱۹۸)
ضروری تنبیہ
ایک نفسِ زکیہؒ محمد بن عبداللہ بن حسین بن علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہم ہیں جنھوں نے خلیفۂ منصور عباسی کے خلاف ۱۴۵ھ میں خروج کیا تھا اور شہید ہوئے تھے۔ حدیثِ بالا میں مشہور ”نفسِ زکیہ“ سے مُراد یہ نہیں ہیں بلکہ یہ ایک دوسرے بزرگ ہیں جو آخرِ زمانہ میں ہوں گے اور ان کی شہادت کے فوراً بعد مہدی کا ظہور ہوگا۔ شیخ محمد بن عبد الرسول البرزنجی نے اپنی مشہور تالیف ”الاشاعۃ لاشراط الساعۃ“ میں یہ بات بصراحت تحریر کی ہے۔
> - - السَّاجِى صَدُوْقٌ . وَ قَالَ السَّاجِى أَيْضاً وَكَانَ يُقْدِمُ عَلِيًّا عَلٰى عُثْمَانَ وَكَانَ اَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ يَقُوْلُ هُوَ خَشَبِىٌّ (اَىْ مِنَ الْخَشَبِيَّةِ فِرْقَةٌ مِنَ الْجَهْمِيَّةِ) وَقَالَ الدَّارَ قُطْنِىْ فِطْرٌ زَائِغٌ وَلَمْ يَحْتَجَّ بِهِ الْبُخَارِى اِلَخْ تَهْذِيْبِ التَّهْذِيْبِ ج٨ ص ٢٧٠ - ٢٧١ . (۲) مصنف ابن ابی شیبہ ج ۱۵ ص ۱۹۸. (۱) مصنف ابن ابی شیبہ ج ۱۵ ص ۱۹۹ هو من كلام الصاحبى ولكن له حكم المرفوع لانه لا ينطق من قبل الرأى. < - - -
وَالنَّسَائِىُّ وَقَالَ اَبُوْ حَاتِمٍ لَا بَأْسَ بِهِ ثِقَةٌ صَالِحٌ اَخْرَجَ لَهُ مُسْلِمٌ وَالتَّرْمِذِىُّ وَالنَّسَائِىُّ وَابْنُ مَاجَة وَاَمَّا عُمَرُ (۱) بْنُ قَيْسٍ الْمَاصِرُ فَهُوَ الْكُوْفِىُّ وَثَّقَهُ ابْنُ مَعِيْنٍ وَاَبُوْ حَاتِمٍ. وَاَبُوْدَاوُدَ رَحِمَهُمُ اللّٰهُ تَعَالَى اَخْرَجَ لَهُ اَبُوْدَاوُدَ وَ الْبُخَارِىُّ فِى الْاَدَبِ الْمُفْرَدِ ذَكَرَهُ ابْنُ حِبَّانَ فِى الثِّقَاتِ وَذَكَرَهُ ابْنُ شَاهِيْنٍ فِى الثِّقَاتِ قَالَ قَالَ اَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ يَعْنِى الْمِصْرِىَّ عُمَرُ بْنُ قَيْسٍ ثِقَةٌ وَاَمَّا مُجَاهِدٌ (م) فَهُوَ اِمَامٌ مَشْهُوْرٌ اَخْرَجَ لَهُ الْاَئِمَّةُ السِّتَّةُ وَغَيْرُهُمْ فَالْحَاصِلُ اَنَّ الرِّوَايَةَ صَحِيْحٌ وَرِجَالُهَا كُلُّهُمْ مُوَثَّقُوْنَ وَاللّٰهُ اَعْلَمُ .
(۳۷) حَدَّثَنَا يَزِيْدُ بْنُ هَارُوْنَ نَا ابْنُ اَبِىْ ذِئْبٍ عَنْ سَعِيْدِ بْنِ سَمْعَانَ قَالَ سَمِعْتُ اَبَا هُرَيْرَةَ يُخْبِرُ اَبَا قَتَادَةَ رَضِىَ اللّٰهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِىِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَ سَلَّمَ قَالَ يُبَايَعُ لِلرَّجُلِ بَيْنَ الرُّكْنِ وَالْمَقَامِ وَلَنْ يَسْتَحِلَّ الْبَيْتَ اِلَّا اَهْلُه فَإِذَا اسْتَحَلُّوْهُ فَلَا تَسْئَلْ عَنْ هَلَكَةِ الْعَرَبِ ثُمَّ تَأْتِى الْحَبَشَةُ فَيُخَرِّبُوْنَ خَرَابًا لَا يُعَمَّرُ بَعْدَه أَبَدًا وَهُمُ الَّذِيْنَ يَسْتَخْرِجُوْنَ كَنْزَه
اَقُوْلُ اَمَّا يَزِيْدُ(م) بْنُ هَارُوْنَ فَهُوَالسُّلَمِىُّ اَبُوْ خَالِدِ نِ الْوَاسِطِيُّ اَحَدُ الْاَعْلَامِ الْحُفَّاظِ الْمَشَاهِيْرِ رَوَى عَنْهُ السِّتَّةُ قَالَ اَحْمَدُ كَانَ حَافِظًا مُتْقِنًا وَقَالَ اَبُوْ حَاتِمٍ اِمَامٌ لَايُسْئَلُ عَنْ مِثْلِهٖ وَاَمَّا ابْنُ اَبِىْ
۳۷۔ حضرت ابوقتادہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’ ایک شخص (یعنی مہدی) سے حجر اسود اور مقام ابراہیم کے درمیان بیعت کی جائے گی اور کعبہ کی حرمت وعظمت اس کے اہل ہی پامال کریں گے اور جب اس کی حرمت پامال کر دی جائے گی تو پھر عرب کی تباہی کا حال مت پوچھو (یعنی ان پر اس قدر تباہی آئے گی جو بیان سے باہر ہے) پھر حبشی چڑھائی کر دیں گے اور مکہ معظمہ کو بالکل ویران کر دیں گے اور یہی کعبہ کے (مدفون) خزانہ کو نکالیں گے ۔ (مصنف ابن ابی شیبہ ج ۱۵ ص ۱۹۹)
>------- (۲) عبد الله بن نمير الهمداني الخارفي ابو هشام الكوفي ثقة صاحب حديث من اهل السنة من كبار التاسعة الخ (تقريب ص ١٤٤ وخلاصة التذهيب ص ٢١٧ وقال العجلي ثقة صالح الحديث صاحب سنة وقال ابن سعد كان ثقة كثير الحديث صدوق تهذيب التهذيب ج١ ص٥٢-٥٣.
(۳)موسى الجهني فهو موسى بن عبد الله ويقال ابن عبد الرحمن الجهني ابو سلمة الكوفي ثقة عابد، لم يصح ان القطان طعن فيه (التقريب ص٢٥٧) ووثقه القطان وقال العجلي ثقة في عداد الشيوخ وقال ابوزرعة صالح وذكره ابن حبان في الثقات وقال ابن سعد كان ثقة قليل الحديث (تهذيب التهذيب ج١٠ص٣١٦).
(١)عمر بن قيس الماصر بن ابى مسلم الكوفي ابو الصباح مولى ثقيف قال ابن معين وابو حاتم ثقة وقال الأجرى سئل ابو داؤد عن عمر بن قيس فقال من الثقات وابوه اشهر واوثق وذكره ابن حبان <-------
ذِئْبٍ(۱) فَهُوَ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ أَبِى ذِئْبٍ الْقُرَشِىُّ الْعَامِرِىُّ مِنْ أَئِمَّةِ الْمَدِينَةِ اَحَدُ الْأَعْلَامِ اَخْرَجَ لَهُ السِّتَّةُ قَالَ أَحْمَدُ يُشْبِهُ بِابْنِ الْمُسَيِّبِ وَهُوَ اَصْلَحُ وَ اَوْرَعُ وَأَقْوَمُ بِالْحَقِّ مِنْ مَالِكٍ وَأَمَّا سَعِيدُ بْنُ سِمَانٍ(۲) فَهُوَالْأَنْصَارِىُّ الزُّرَقِىُّ اَخْرَجَ لَهُ أَبُو دَاوُدَ وَالتِّرْمِذِىُّ وَالنَّسَائِىُّ وَالْبُخَارِىُّ فِى جُزْءِ الْقِرَاءَةِ وَ قَالَ النَّسَائِىُّ ثِقَةٌ وَذَكَرَهُ ابْنُ حِبَّانَ فِى الثِّقَاتِ وَقَالَ الْبَرْقَانِىُّ عَنِ الدَّارِ قُطْنِىِّ ثِقَةٌ وَقَالَ الْحَاكِمُ تَابِعِىٌّ مَعْرُوفٌ وَقَالَ الْأَزْدِىُّ ضَعِيفٌ الخ
وَهٰذَا مَا وَجَدْنَاهُ بِخَطِّ الشَّيْخِ الْمَدَنِى قُدِّسَ سِرُّه وَقَدِ اطَّلَعْتُ عَلَى طَائِفَةٍ مِّنَ الْأَحَادِيْثِ الصَّحِيحَةِ الْوَارِدَةِ فِى ذِكْرِ الْمَهْدِىِّ فَاَوْرَدْتُهَا تَتِمَّةً وَتَعْمِيمًا لِلْفَائِدَةِ وَإِلَيْكُمُ تِلْكَ الْأَحَادِيْثَ -
تشریح
مشکوۃ میں حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب تک اہلِ حبشہ تم سے جنگ نہ کریں تم بھی ان سے نہ لڑو کیونکہ خانہ کعبہ کا خزانہ دو چھوٹی پنڈلیوں والا نکالے گا۔ اس مضمون کی دیگر صحیح حدیثیں بھی موجود ہیں۔ حضرت شاہ رفیع الدین دہلوی قدس سرہٗ اپنے رسالہ ”قیامت نامہ“ میں لکھتے ہیں کہ جب سارے ایمان دار جہاں سے اُٹھ جائیں گے، تو حبشیوں کی چڑھائی ہوگی اور ان کی سلطنت ساری روئے زمین پر پھیل جائے گی۔ وہ کعبہ کو ڈھا ڈالیں گے اور حج موقوف ہو جائے گا
(ترجمہ قیامت نامہ ص ۲۲ از مولانا محمد ابراہیم داناپوریؒ)
في الثقات وذكره ابن شاهين في الثقات (تهذيب التهذيب ج٧ ص ٤٣٠ - ٤٣١).
(٢) اما مجاهد، فهو مجاهد بن جبر امام مشهور من كبار التابعين قال الذهبى اجمعت الامة على امامة مجاهد والاحتجاج به (تهذيب التهذيب ج١٠ ص ٣٨ - ٤٠)
(٣) مصنف ابن ابى شيبة ج ١٥ ص ٥٣.
(٤) يزيد بن هارون بن وادى ويقال زاذان بن ثابت السلمى مولاهم ابو خالد الواسطى احد الاعلام الحفاظ المشاهير قيل اصله من بخارى قال احمد كان حافظا للحديث وقال ابن المدينى ما رايت احفظ منه وقال ابن معين ثقة وقال العجلى ثقة ثبت وقال ابو حاتم ثقة امام صدوق لا يسال عن مثله (تهذيب التهذيب ج١١ ص ٣٦١- ٣٦٣)
(١) ابن ابى ذئب فهو محمد بن عبد الرحمن بن المغيرة بن الحارث بن ابى ذئب القرشى العامرى وابو الحارث المدنى قال احمد صدوق افضل من مالك الا مالكا اشد تنقية للرجال منه وقال ابن معين ابن ابى ذئب ثقة وكل من روى عنه ابن ابى ذئب ثقة الا ابا جابر البياضى وكل من روى عنه مالك ثقة الا عبد الكريم ابا امية وقال ابن حبان فى الثقات كان من فقهاء اهل المدينة وعبادهم وكان اقول اهل زمانه للحق (تهذيب التهذيب ج٩ ص ٢٧٠- ٢٧١).
(٢) سعيد بن سمعان الانصارى الزرقى مولاهم المدنى (تهذيب التهذيب ج٤ ص ٤٠ وقال الحافظ فى التقريب سعيد بن سمعان الانصارى الزرقى مولاهم المدنى ثقة لم يصب الازدى فى تضعيفه من الثالثة. (٢٣٨ طبع فى بيروت ١٤٠٨ هـ).
اَلذَّیْلُ وَالْاِسْتِدْرَاكُ
(١) عَنْ اَبِیْ هُرَيْرَةَ رَضِیَ اللّٰهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَيْفَ اَنْتُمْ اِذَا نَزَلَ ابْنُ مَرْيَمَ فِیْكُمْ وَاِمَامُكُمْ مِنْكُمْ (۱) رَوَاهُ الْاِمَامُ الْبُخَارِیُّ فِیْ صَحِیْحِه فِیْ كِتَابِ الْاَنْبِيَاءِ، بَابُ نُزُوْلِ عِیْسَی ابْنِ مَرْيَمَ عَلَيْهِ السَّلَامُ . (ج ١، ص ٤٩٠)
(۲) وَعَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰهِ الْاَنْصَارِیِّ رَضِیَ اللّٰهُ عَنْهُ قَالَ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰهِ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُوْلُ لَا تَزَالُ طَائِفَةٌ مِّنْ أُمَّتِیْ يُقَاتِلُوْنَ عَلَی الْحَقِّ ظَاهِرِيْنَ اِلَی يَوْمِ الْقِيٰمَةِ
۱: حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم لوگوں کا (اس وقت خوشی سے) کیا حال ہوگا، جب تم میں عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام آسمان سے اُتریں گے اور تمہارا امام تمہی میں سے ہوگا۔
(صحیح بخاری ج ۱ ص ۴۹۰)
۲: حضرت جابر بن عبداللہ انصاریؓ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ میری اُمت میں سے ایک جماعت قیامِ حق کے لیے کامیاب جنگ قیامت تک کرتی رہے گی، حضرت جابرؓ کہتے ہیں ان مبارک کلمات کے بعد آپؐ نے فرمایا آخر میں عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام آسمان سے اُتریں گے تو مسلمانوں کا امیر ان سے عرض کرے گا تشریف لائیے ہمیں نماز پڑھائیے (اس کے جواب میں) عیسیٰ علیہ السلام فرمائیں گے (اس وقت) امامت نہیں کروں گا، تمہارا بعض بعض پر امیر ہے (یعنی حضرت عیسیٰ علیہ السلام اس وقت امامت سے انکار فرما دیں گے) اس فضیلت و بزرگی کی بناء پر جو اللہ تعالیٰ نے اس اُمت کو عطا کی ہے۔
(صحیح مسلم ج ۱ ص ۸۷)
(۱) ”امامكم منكم“ معناه یصلی (أى عیسیٰ عليه السلام) معكم بالجماعة والامام من هذه الامة (عمدة القاری ج ١٦ ص ٤٠) ونقل ملا علی القاری والحاصل ان امامكم واحد منكم دون عیسیٰ عليه السلام ( مرقاة شرح المشكوة ج ٥ ص ٢٢٢) وقال الحافظ ابن حجر قال ابو الحسین الخسعمی الأدرى فى مناقب الشافعی تواترت الاخبار بان المهدى من هذه الامة وان عیسیٰ عليه السلام یصلی خلفه (فتح البارى ج ٦ ص ٤٩٣).
قَالَ يَنْزِلُ عِيْسَى ابْنُ مَرْيَمَ عَلَيْهِ السَّلَامُ فَيَقُوْلُ أَمِيْرُهُمْ تَعَالَ صَلِّ لَنَا فَيَقُوْلُ لَا ، اِنَّ بَعْضَكُمْ عَلَى بَعْضٍ أُمَرَاءُ تَكْرِمَةَ اللهِ هٰذِهِ الْاُمَّةَ (أَخْرَجَهُ الْاِمَامُ مُسْلِمٌ فِىْ صَحِيْحِهِ ج ١ ص ٨٧)
(٣) وَ عَنِ الْحَارِثِ بْنِ أَبِى أُسَامَةَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيْلُ بْنُ عَبْدِ الْكَرِيْمِ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيْمُ بْنُ عَقِيْلٍ عَنْ أَبِيْهِ عَنْ وَهْبِ بْنِ مُنَبِّهٍ عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْزِلُ عِيْسَى ابْنُ مَرْيَمَ عَلَيْهِ السَّلَامُ فَيَقُوْلُ أَمِيْرُهُمُ الْمَهْدِىُّ تَعَالَ صَلِّ لَنَا ، الْحَدِيْثَ ذَكَرَهُ الشَّيْخُ ابْنُ الْقَيِّمِ فِى الْمَنَارِ الْمُنِيْفِ (١٤٧) وَعَزَاهُ لِلْحَافِظِ ابْنِ أَبِى أُسَامَةَ فِى مُسْنَدِهِ وَقَالَ وَ هٰذَا اِسْنَادٌ جَيِّدٌ .
أَقُوْلُ الْحَارِثُ بْنُ أَبِى أُسَامَةَ هُوَ الْإِمَامُ الْحَافِظُ أَبُوْ مُحَمَّدِنِ الْحَارِثُ بْنُ مُحَمَّدِ ابْنِ أُسَامَةَ التَّمِيْمِيُّ الْبَغْدَادِىُّ صَاحِبُ الْمُسْنَدِ (الْمُتَوَفّٰى ٢٨٢ھ) (١) وَ أَمَّا إِسْمَاعِيْلُ بْنُ عَبْدِ الْكَرِيْمِ فَهُوَ إِسْمَاعِيْلُ بْنُ عَبْدِ الْكَرِيْمِ بْنِ مَعْقِلِ بْنِ مُنَبِّهٍ أَبُوْ هِشَامٍ الصَّنْعَانِىُّ صَدُوْقٌ أَخْرَجَ لَهُ أَبُوْ دَاوُدَ فِىْ سُنَنِهِ وَ ابْنُ مَاجَةَ فِىْ تَفْسِيْرِهِ (٢) وَ أَمَّا إِبْرَاهِيْمُ فَهُوَ ابْنُ عَقِيْلِ بْنِ مَعْقِلِ الصَّنْعَانِىُّ صَدُوْقٌ أَخْرَجَ لَهُ أَبُوْ دَاوُدَ (٣) وَ أَمَّا عَقِيْلٌ
تشریح : مطلب یہ ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام نزول کے وقت جماعت کے ساتھ نماز ادا کریں گے اور امام خود عیسیٰ علیہ السلام نہیں ہوں گے ، بلکہ اُمت کا ایک فرد یعنی خلیفہ مہدی ہوں گے چنانچہ حافظ ابن حجر بحوالہ مناقب الشافعی از امام ابو الحسین آبری لکھتے ہیں کہ اس بارے میں احادیث متواتر ہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام ایک نماز خلیفہ مہدی کی اقتداء میں ادا کریں گے ۔
(فتح الباری ج ٦ ص ٣٩٣)
- ٣ : حضرت جابر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ عیسیٰ ابن مریم
علیہ السلام (آسمان سے) اُتریں گے تو اُمت کا امیر مہدی ان سے عرض کرے گا آگے تشریف لائیے اور نماز پڑھائیے تو عیسیٰ علیہ السلام فرمائیں گے تمہارا بعض بعض پر امیر ہے ۔ اس فضیلت کی بنا پر جو اللہ تعالیٰ نے اس اُمت کو مرحمت فرمائی ہے ۔
( المنار المنیف ١٤٧ بحوالہ مسند ابی اسامہ )
- (١) الرسالة المستطرفة ص ٥٦ .
- (٢) تقريب التهذيب ص ٨ .
- (٣) ايضا ص ٩٢ .
فَهُوَ ابْنُ مَعْقِلِ بْنِ مُنَبِّهِ الْيَمَانِيُّ ابْنُ اَخِ وَهْبِ بْنِ مُنَبِّهِ صَدُوْقٌ اَخْرَجَ لَهُ اَبُوْدَاوُدَ (۱) وَ اَمَّا وَهْبٌ فَهُوَ ابْنُ مُنَبِّهِ بْنِ كَامِلٍ الْيَمَانِيُّ اَبُوْعَبْدِاللّٰهِ الْاَبْنَاوِىُّ (بِفَتْحِ الْهَمْزَةِ وَ سُكُوْنِ الْمُوَحَّدَةِ بَعْدَه نُوْنٌ) ثِقَةٌ اَخْرَجَ لَهُ اَصْحَابُ السِّتَّةِ سِوَى ابْنِ مَاجَةَ وَهُوَ اَخْرَجَ لَهُ اَيْضًا فِىْ تَفْسِيْرِه (۲) فَالْحَاصِلُ اِسْنَادُ هٰذَا الْحَدِيْثِ جَيِّدٌ كَمَا قَالَ الشَّيْخُ ابْنُ قَيِّمٍ وَقَدْ صَرَّحَ فِيْهِ وَصْفُ الْاَمِيْرِ الْمَذْكُوْرِ بِاَنَّه الْمَهْدِىُّ فَيَكُوْنُ هٰذَا الْحَدِيْثُ مُفَسِّرًا لِلْمُرَادِ بِهٰذَا الْحَدِيْثِ الَّذِيْ اَوْرَدَهُ الْبُخَارِىُّ وَ مُسْلِمٌ فَتَنَبَّهْ .
(٤) وَعَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْرُجُ الدَّجَّالُ فِىْ خِفَّةٍ مِّنَ الدِّيْنِ وَ ذَكَرَ الدَّجَّالَ ثُمَّ قَالَ ثُمَّ يَنْزِلُ عِيْسَى ابْنُ مَرْيَمَ عَلَيْهِ السَّلَامُ فَيُنَادِىْ مِنَ السَّحَرِ فَيَقُوْلُ يَا اَيُّهَا النَّاسُ مَا يَمْنَعُكُمْ اَنْ تَخْرُجُوْا اِلَى هٰذَا الْكَذَّابِ الْخَبِيْثِ فَيَقُوْلُوْنَ هٰذَا رَجُلٌ جِنِّىٌّ فَيَنْطَلِقُوْنَ فَاِذَاهُمْ بِعِيْسَى ابْنِ مَرْيَمَ عَلَيْهِ السَّلَامُ فَتُقَامُ الصَّلٰوةُ فَيُقَالُ لَه تَقَدَّمْ يَارُوْحَ اللّٰهِ فَيَقُوْلُ لِيَتَقَدَّمْ اِمَامُكُمْ فَلْيُصَلِّ بِكُمْ فَاِذَا صَلُّوْا صَلٰوةَ الصُّبْحِ خَرَجُوْا اِلَيْهِ قَالَ فَحِيْنَ يَرَاهُ الْكَذَّابُ يَنْمَاثُ كَمَا يَنْمَاثُ الْمِلْحُ فِى الْمَاءِ
تشریح : اس حدیث میں امام کے بارے میں تصریح آگئی کہ وہ خلیفہ مہدی ہوں گے۔ لہٰذا بخاری شریف و مسلم شریف کی مذکورہ حدیث میں بھی امام اور امیر سے مراد خلیفہ مہدی ہی ہیں۔ ۴ : حضرت جابر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دین کے کمزور ہوجانے کی حالت میں دجال نکلے گا اور دجال سے متعلق تفصیلات بیان کرنے کے بعد فرمایا بعد ازاں عیسیٰ ابن مریم علیہ السّلام آسمان سے اتریں گے اور بوقت سحر (یعنی صبح صادق سے پہلے) آواز دیں گے کہ اے مسلمانو! تمہیں اس جھوٹے خبیث سے مقابلہ کرنے میں کیا چیز مانع ہے ؟ تو لوگ کہیں گے کہ یہ کوئی جنات ہے۔ پھر آگے بڑھ کر دیکھیں گے تو انھیں عیسیٰ علیہ السّلام نظر آئیں گے۔ پھر نمازِ فجر کے لیے اقامت ہوگی تو ان کا امیر کہے گا اے روح اللہ امامت کے واسطے آگے تشریف لائیے حضرت عیسیٰ علیہ السّلام فرمائیں گے۔ تمہارا امام ہی تمہیں نماز پڑھائے۔ جب لوگ نماز سے فارغ ہو جائیں گے تو (حضرت عیسیٰ علیہ السّلام کی قیادت میں) دجال سے مقابلہ کے لیے نکلیں گے، دجال جب حضرت عیسیٰ علیہ السّلام کو دیکھے گا تو (مارے خوف کے) نمک کے گھلنے کی طرح پگھلنے لگے گا۔
(۱) ايضا ص ٣١٦ .
(۲) ايضا ص ٥٨٥ .
(رَوَاهُ الْحَاكِمُ فِي الْمُسْتَدْرَكِ وَقَالَ هَذَا حَدِيْثُ صَحِيْحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ . وَقَالَ الشَّيْخُ الذَّهَبِيُّ فِيْ تَلْخِيْصِهِ هُوَ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ )(١) لِيَتَقَدَّمْ اِمَامُكُمْ فَلْيُصَلِّ بِكُمْ وَالْاِمَامُ حِيْنِئِذٍ هُوَالْمَهْدِىُّ كَمَا جَاءَ التَّصْرِيْحُ فِي الْحَدِيْثِ رَقْم ٤٠ .
- (٥) وَعَنْ أَبِيْ هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ تَنْعَمُ أُمَّتِيْ
فِيْ زَمَنِ الْمَهْدِيِّ نِعْمَةً لَّمْ يَنْعَمُوْا قَطُّ وَيُرْسِلُ السَّمَاءُ عَلَيْهِمْ مِدْرَارًا وَلَا تَدَعُ الْأَرْضُ شَيْئًا مِنْ نَّبَاتِهَا إِلَّا اَخْرَجَتْهُ اَوْرَدَهُ الْهَيْثَمِيُّ فِيْ مَجْمَعِ الزَّوَائِدِ وَقَالَ اَخْرَجَهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَرِجَالُه ثِقَاتٌ (٢) .
- (٦) عَنْ أَبِيْ أُمَامَةَ الْبَاهِلِيِّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ مَرْفُوْعًا فَقَالَتْ أُمُّ شَرِيْكٍ بِنْتُ أَبِي الْعُكَرِ
يَا رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَيْنَ الْعَرَبُ يَوْمَئِذٍ؟ قَالَ هُمْ يَوْمَئِذٍ قَلِيْلٌ وَجَلُّهُمْ
- ۵ : حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مہدی کے زمانے
میں میری اُمت اس قدر خوشحال ہوگی کہ ایسی خوشحالی اسے کبھی نہ ملی ہوگی۔ آسمان سے (حسب ضرورت) بارش ہوگی اور زمین اپنی تمام پیداوار اُگا دے گی۔
(مجمع الزوائد ج ۷ ص ۳۱۷)
- ۶ : حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک طویل حدیث روایت کرتے ہیں
جس میں ہے کہ ایک صحابیہ ام شریک بنت ابی العکر رضی اللہ عنہا نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عرب اس وقت کہاں ہوں گے۔ (مطلب یہ ہے کہ اہل عرب دین کی حمایت میں مقابلے کے لیے کیوں سامنے نہیں آئیں گے ) تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ۔ عرب اس وقت کم ہوں گے اور ان میں بھی اکثر بیت المقدس (یعنی شام) میں ہوں گے اور ان کا امام و امیر ایک رجل صالح (مہدی) ہوگا۔ جس وقت ان کا امام نماز فجر کے لیے آگے بڑھے گا۔ اچانک عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام اسی وقت (آسمان سے) اُتریں گے۔ امام پیچھے ہٹے گا تاکہ عیسیٰ علیہ السلام نماز پڑھائیں۔ عیسیٰ علیہ السلام امام کے مونڈھوں کے درمیان ہاتھ رکھ کر فرمائیں گے آگے بڑھو اور نماز پڑھاؤ کیونکہ تمہارے ہی لیے اقامت کہی گئی ہے تو امام لوگوں کو نماز پڑھائے گا۔
(سنن ابن ماجہ ، ص ۳۰۸)
(١) المستدرك ج ٤ ص ٥٣٠ . (٢) مجمع الزوائد ج ٧ ص ٣١٧ .
بِبَيْتِ الْمَقْدِسِ وَ اِمَامُهُمْ رَجُلٌ صَالِحٌ قَدْ تَقَدَّمَ يُصَلِّى بِهِمُ الصُّبْحَ اِذْ نَزَلَ عَلَيْهِمُ ابْنُ مَرْيَمَ الصُّبْحَ فَرَجَعَ ذلِكَ الْاِمَامُ يَنْكُصُ يَمْشِى الْقَهْقَرى لِيَتَقَدَّمَ عِيْسَى ابْنُ مَرْيَمَ يُصَلِّى بِالنَّاسِ فَيَضَعُ عِيْسَى يَدَه بَيْنَ كَتِفَيْهِ ثُمَّ يَقُوْلُ لَه تَقَدَّمْ فَصَلِّ فَاِنَّهَا لَكَ اُقِيْمَتْ فَيُصَلِّى بِهِمْ اِمَامُهُمُ الْحَدِيْثُ.
رَوَاهُ الْحَافِظُ ابْنُ مَاجَةَ الْقَزْوِيْنِىُّ وَ ذَكَرَه الْمُحَدِّثُ الْكَشْمِيْرِىُّ فِى كِتَابِه التَّصْرِيْحِ ص ١٤٢ وَ عَزَاهُ اِلَى ابْنِ مَاجَةَ (١) وَ قَالَ اِسْنَادُه قَوِىٌّ وَاَمَّا فِى الْحَدِيْثِ وَ اِمَامُهُمْ رَجُلٌ صَالِحٌ. فَالْمُرَادُ بِه الْمَهْدِىُّ كَمَا جَاءَ التَّصْرِيْحُ بِه فِى الْحَدِيْثِ الَّذِى مَرَّ سَابِقًا تَحْتَ رَقْمِ (١١).
- (٧) وَ عَنْ عُثْمَانَ بْنِ اَبِى الْعَاصِ رَضِىَ اللّٰهُ عَنْهُ مَرْفُوْعًا وَيَنْزِلُ عِيْسَى عَلَيْهِ السَّلَامُ
عِنْدَ صَلوةِ الْفَجْرِ فَيَقُوْلُ لَه اَمِيْرُهُمْ يَارُوْحَ اللّٰهِ تَقَدَّمْ صَلِّ فَيَقُوْلُ هٰذِهِ الْاُمَّةُ اُمَرَاءُ بَعْضُهُمْ عَلٰى بَعْضٍ فَيَتَقَدَّمُ اَمِيْرُهُمْ فَيُصَلِّى، اَلْحَدِيْثَ.
رَوَاهُ الْحَاكِمُ فِى الْمُسْتَدْرَكِ وَصَحَّحَه وَاَوْرَدَهُ الشَّيْخُ الْهَيْثَمِىُّ فِى مَجْمَعِ الزَّوَائِدِ عَنْ اَحْمَدَ وَ الطَّبَرَانِىِّ ثُمَّ قَالَ وَفِيْهِ عَلِىُّ بْنُ زَيْدٍ وَفِيْهِ ضَعْفٌ وَقَدْ وُثِّقَ وَ بَقِيَّةُ رِجَالِهِمَا رِجَالُ الصَّحِيْحِ (٢)
- (٨) وَعَنْ عَلِىِّ ابْنِ اَبِىْ طَالِبٍ رَضِىَ اللّٰهُ عَنْهُ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
قَالَ تَكُوْنُ فِى آخِرِ الزَّمَانِ فِتْنَةٌ يُحَصَّلُ النَّاسُ فِيْهَا كَمَا يُحَصَّلُ الذَّهَبُ فِى الْمَعْدِنِ فَلَا تَسُبُّوْا
- ۷ : حضرت عثمان بن ابو العاص رضی اللہ عنہ مرفوعاً روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے
فرمایا ”عیسیٰ علیہ السلام نماز فجر کے وقت (آسمان سے) اُتریں گے تو مسلمانوں کا امام ان سے عرض کرے گا۔ اے رُوح اللہ آگے تشریف لایئے ، نماز پڑھایئے ، تو عیسیٰ علیہ السلام فرمائیں گے ۔ اس اُمّت کا بعض بعض پر امیر ہے تو مسلمانوں کا امیر آگے بڑھے گا اور نماز پڑھائے گا ۔
(المستدرک ج ۴ ص ۴۷۸ و مجمع الزوائد ج ۷ ص ۳۴۲ )
تشریح : عیسیٰ علیہ السلام اس دن کی نماز فجر اس وقت کے امام کی اقتداء میں ادا کریں گے۔ اس کے بعد پھر حضرت عیسیٰ علیہ السلام ہی امامت کے فرائض انجام دیں گے جیسا کہ دیگر حدیثوں سے معلوم ہوتا ہے۔
(١) سنن ابن ماجه فی حدیث طویل ص ٣٠٧، ٣٠٨.
(٢) المستدرک ج ٤ ص ٤٧٨ ومجمع الزوائد ج ٧ ص ٣٤٢.
أَهْلَ الشَّامِ وَلَكِنْ سُبُّوْا شِرَارَهُمْ فَإِنَّ فِيْهِمُ الْاَبْدَالَ يُوْشِكُ اَنْ يُّرْسَلَ عَلَى اَهْلِ الشَّامِ سَيْبٌ مِّنَ السَّمَاءِ فَيُغْرِقَ جَمَاعَتَهُمْ حَتّٰى لَوْ قَاتَلَتْهُمُ الثَّعَالِبُ غَلَبَتْهُمْ فَعِنْدَ ذٰلِكَ يَخْرُجُ خَارِجٌ مِّنْ أَهْلِ بَيْتِيْ فِيْ ثَلٰثِ رَايَاتٍ اَلْمُكْثِرُ يَقُوْلُ لَهُمْ خَمْسَةَ عَشَرَ اَلْفًا وَالْمُقَلِّلُ يَقُوْلُ اِثْنَا عَشَرَ، اَمَارَاتُهُمْ اُمَّتْ اُمَّتْ يَلْقَوْنَ سَبْعَ رَايَاتٍ تَحْتَ كُلِّ رَايَةٍ رَجُلٌ يَّطْلُبُ الْمُلْكَ فَيَقْتُلُهُمُ اللّٰهُ جَمِيْعًا وَيَرُدُّ اللّٰهُ إِلَى الْمُسْلِمِيْنَ أُلْفَتَهُمْ وَنَعِيْمَهُمْ وَقَاصِيَهُمْ وَ دَانِيَهُمْ .
قَالَ الشَّيْخُ الْهَيْثَمِيُّ أَخْرَجَهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَفِيْهِ ابْنُ لَهِيْعَةَ وَ هُوَ لَيِّنٌ وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ وَرَوَاهُ الْحَاكِمُ فِي الْمُسْتَدْرَكِ وَقَالَ صَحِيْحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخْرِجَاهُ وَ اَقَرَّهُ الذَّهَبِيُّ وَفِيْهِ رِوَايَةٌ ثُمَّ يَظْهَرُ الْهَاشِمِيُّ فَيَرُدُّ اللّٰهُ النَّاسَ أُلْفَتَهُمْ وَلَيْسَ فِيْ هٰذَا الطَّرِيْقِ ابْنُ لَهِيْعَةَ وَهُوَ إِسْنَادٌ صَحِيْحٌ كَمَا ذُكِرَ (١) .
۸ : ”حضرت علی رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا آخر زمانہ میں فتنے برپا ہوں گے۔ ان فتنوں سے لوگ اس طرح چھنٹ جائیں گے جس طرح سونا کان سے چھانٹا جاتا ہے ۔ (یعنی فتنوں کی کثرت و شدت کی وجہ سے پختہ مومن ہی ایمان پر ثابت رہیں گے ۔) لہٰذا تم لوگ اہل شام کو بُرا بھلا مت کہو بلکہ اُن میں جو بُرے لوگ ہیں اُن کو بُرا بھلا کہو اس لیے کہ اہل شام میں اولیاء بھی ہیں۔ عنقریب اہلِ شام پر آسمان سے سیلاب آئے گا (یعنی آسمان سے موسلا دھار بارش ہو گی جو سیلاب کی شکل اختیار کر لے گی) جو ان کی جماعت کو غرق کر دے گا ۔ (اس سیلاب کی بناء پر ان کی حالت اس قدر کمزور ہو جائے گی کہ) اگر اُن پر لومڑی حملہ کر دے تو وہ بھی غالب ہو جائے گی۔ اسی (انتہائی فتنہ و ضعف کے زمانہ میں) میرے اہلِ بیت سے ایک شخص (یعنی مہدی) تین جھنڈوں میں ظاہر ہو گا (یعنی ان کا لشکر تین جھنڈوں پر مشتمل ہو گا) اس کے لشکر کو زیادہ تعداد میں بتانے والے کہیں گے کہ ان کی تعداد پندرہ ہزار ہے اور کم بتانے والے اُسے بارہ ہزار بتائیں گے۔ اس لشکر کا علامتی کلمہ امت امت ہوگا۔ (یعنی جنگ کے وقت اس لشکر کے سپاہی لفظ امت امت کہیں گے تاکہ ان کے ساتھی سمجھ جائیں کہ یہ ہمارا آدمی ہے، عام طور پر جنگوں کے موقع پر اس طرح کے الفاظ باہم طے کر لیے جاتے تھے ۔ بطورِ خاص شب خون کے
(١) مجمع الزوائد ج٧ ص ٣١٧ والمستدرك ج٤ ص٥٥٣.
(۹) وَعَنْ أُمِّ سَلَمَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَذْكُرُ الْمَهْدِيَّ فَقَالَ هُوَ حَقٌّ وَهُوَ مِنْ بَنِيْ فَاطِمَةَ . رَوَاهُ الْحَاكِمُ فِي الْمُسْتَدْرَكِ مِنْ طَرِيْقِ عَلِيِّ بْنِ نُفَيْلٍ عَنْ سَعِيْدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ وَ سَكَتَ وَأَيْضًا عَنْهُ الْإِمَامُ الذَّهَبِيُّ (١) وَ أَوْرَدَهُ النَّوَّابُ صِدِّيْق حَسَنْ خَانْ الْقَنُّوْجِيُّ فِي الْاِذَاعَةِ وَقَالَ صَحِيْحٌ (٢) قَدْ تَمَّ التَّعْلِيْقُ وَالتَّحْقِيْقُ وَالْاِسْتِدْرَاكُ بِعَوْنِ اللَّهِ عَزَّ اسْمُه عَلَى يَدِ الْعَاجِزِ حَبِيْبِ الرَّحْمٰنِ الْقَاسِمِيِّ فِيْ ١٢، رَبِيْعِ الثَّانِيْ ١٤١٤ه وَ لِلّٰهِ الْحَمْدُ اَوَّلًا وَآخِرًا وَ صَلَّى اللَّهُ عَلَى النَّبِيِّ الْاُمِّيِّ خَاتَمِ النَّبِيّٖنَ وَالْمُرْسَلِيْنَ .
موقعوں پر اس اصطلاح کا استعمال اہم سمجھا جاتا تھا تاکہ لاعلمی میں اپنے آدمی کے ہاتھوں اپنا ہی آدمی نہ مار دیا جائے۔ ویسے اَمِتْ اَمِتْ کا معنی یہ ہے کہ اے اللہ دشمنوں کو موت دے یا اے مسلمانو ! دشمنوں کو مارو، مسلمانوں کا یہ لشکر سات جھنڈوں پر مشتمل لشکر سے بدر مقابل ہوگا جس میں سے ہر جھنڈے کے تحت لڑنے والا سربراہ ملک و سلطنت کا طالب ہوگا۔ یعنی یہ لوگ ملک و سلطنت حاصل کرنے کی غرض سے مسلمانوں سے جنگ کریں گے، اللہ تعالیٰ ان سب کو (مسلمانوں کے لشکر کے ہاتھوں) ہلاک کردے گا (نیز) اللہ تعالیٰ مسلمانوں کی جانب ان کی باہمی یگانگت و الفت، نعمت و آسودگی لوٹا دے گا اور ان کے قریب و دور کو جمع کردے گا۔
(مجمع الزوائد ج ۷ ص ۳۱۷ المستدرک ج ۴ ص ۵۵۳)
۹ : ام المومنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا روایت کرتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مہدی کا ذکر کرتے ہوئے سنا آپ نے فرمایا مہدی حق ہے۔ (یعنی ان کا ظہور برحق اور ثابت ہے) اور وہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کی اولاد سے ہوگا۔
(المستدرک ج ۴ ص ۵۵۷)
(١) المستدرك ج ٤ ص ٥٥٧ . (٢) الاذاعة لما كان ويكون بين يدى الساعة ص ٦٠ مطبوعة الصديقى بريس ١٢٩٤ .
ماہنامہ لولاک ملتان
☆ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کا ترجمان ماہنامہ لولاک جو دفتر مرکزیہ ملتان سے ہر ماہ باقاعدگی سے شائع ہوتا ہے۔
☆ عقیدہ ختم نبوت کی ترجمانی ☆ حالات حاضرہ کا جاندار تجزیہ ☆ قادیانی شبہات کے جوابات ☆ عالمی مجلس کی سرگرمیاں ☆ فتنہ قادیانیت کے رد میں عمدہ علمی مضامین ☆ اصلاحی مقالہ جات ☆ امت مسلمہ کی رہنمائی ☆ مجاہدین ختم نبوت کے تذکرے ☆ قادیانیت چھوڑنے والے نو مسلموں کے ایمان پرور حالات و واقعات ☆ اکابر کے غیر مطبوعہ خطوط و یاد گار تقاریر ☆ جہاد آفریں حقائق افروز معلومات کا حسین گلدستہ ☆ ۴۸ صفحات ☆ رنگین آرٹ پیپر کا ٹائٹل ☆ کمپیوٹر کتابت ☆ عمدہ طباعت ☆ سفید کاغذ
ان تمام تر خوبیوں کے باوجود سالانہ چندہ صرف روپیہ /100 ہے۔ ایجنسی 5 پرچوں سے کم کی جاری نہیں ہوتی۔ ایجنسی ہولڈر حضرات کو 33٪ کمیشن دیا جاتا ہے۔ پرچہ وی پی نہیں کیا جاتا۔ پیشگی /100 روپیہ سالانہ خریداری کا منی آرڈر کر کے ہر ماہ گھر بیٹھے ڈاک سے پرچہ منگوایا جا سکتا ہے۔
رقوم بھیجنے کے لئے پتہ :
ناظم ماہنامہ لولاک دفتر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت حضوری باغ روڈ ملتان : فون نمبر 514122
(نوٹ) عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کا ہفت روزہ ترجمان ہفت روزہ ختم نبوت کراچی سے شائع ہوتا ہے۔ جو اس وقت پاکستان کے دینی جرائد و رسائل کا بہترین نمونہ ہے۔ اس کا زر سالانہ اڑھائی سو روپے /250 ہے۔ زر سالانہ کی ترسیل و جملہ خط و کتابت کے لئے ' سرکولیشن منیجر ہفت روزہ ختم نبوت سے رجوع کریں۔
مسجد باب الرحمت پرانی نمائش ایم اے جناح روڈ کراچی : فون نمبر 7780397