الصارم المسلول
سرور کونین کی شان میں گستاخی کرنیوالے کی سزا
امام ابن تیمیہؒ کی اہم عربی تصنیف کا اُردو ترجمہ
از : مولانا غلام احمد حریری
ناشران قرآن لمیٹڈ
اردو بازار لاہور
الصَّارِمُ الْمَسْلُول
یعنی
تحفظ ناموس رسالتؐ پر
شیخ الاسلام امام ابن تیمیہؒ کی اہم تصنیف
الصَّارِمُ الْمَسْلُول لِشَاتِمِ الرَّسُول
کی
ترجمانی و تفہیم
از
مولانا غلام احمد حریری
شائع کردہ
ناشران قرآن لمیٹڈ اردو بازار لاہور
(جملہ حقوق بحق ناشر محفوظ)
نام کتاب : ــــــــــــــــــــــــــــــــ الصَّارِمُ المَسلُول اردو ترجمہ الصَّارِمُ المَسلُول لِشَاتِمِ الرَّسُول
مصنف : ــــــــــــــــــــــــــــــــ شیخ الاسلام امام ابو العباس تقی الدین احمد المعروف بابن تیمیہؒ ۶۶۱ھ - ۷۲۸ھ
مترجم ــــــــــــــــــــــــــــــــ مولانا غلام احمد حریری
ایڈیشن ــــــــــــــــــــــــــــــــ اوّل (۱۹۹۱ء)
ادارہ اشاعت ناشران قرآن لمیٹڈ ۳۸ - اردو بازار لاہور
(حقوق بحق ناشر محفوظ)
الصّارم المسلول اردو ترجمہ الصّارم المسلول لشاتم الرسول
شیخ الاسلام امام ابوالعباس تقی الدین احمد المعروف بابن تیمیہؒ ٦٦١ھ ۔ ٧٢٨ھ
مولانا غلام احمد حریری
اوّل (١٩٩١ء)
ادارۂ اشاعت ناشرانِ قرآن لمیٹڈ ٣٨ ۔ اردو بازار لاہور
پیش لفظ
شیخ الاسلام امام ابن تیمیہؒ کی دینی خدمات کا قدر دان ہر مسلمان ہے اور ان کے تبحّر علمی کا اعتراف تو مستشرقین تک کو ہے اردو دان طبقہ کے لیے ان کی کئی کتابوں کا ترجمہ شائع ہو چکا ہے۔ لیکن ناموسِ رسالتؐ کے تحفّظ کے موضوع پر ان کی تصنیف 'الصارم المسلول علی شاتم الرسول' کا اردو ترجمہ تو درکنار عربی متن بھی آسانی سے دستیاب نہیں حالانکہ اس زمانے میں مسلمان گھرانے میں پیدا ہونے والے ایک بدبخت سلمان رشدی نے مغربی تہذیب و ادب میں ڈوب کر جو ہرزہ سرائی کی اُس کا علمی جائزہ لینے کے لیے الصارم المسلول کی بڑے پیمانے پر اشاعت وقت کی اہم ضرورت ہے۔ امام ابن تیمیہؒ نے توہین رسالت کے گناہ کے ارتکاب کے بارے میں جملہ شرعی احکام و مسائل قوی دلائل و براہین کے ساتھ پیش کیے ہیں جو مغرب کے دشمنِ دین دانشوروں کا جواب اور ان سے متاثر ہونے والے مغرب زدہ مسلمانوں کے لیے مشعلِ راہ ہیں۔ یہ کتاب ایک عرب فاضل جناب محمد محی الدین عبدالحمید نے ایڈٹ کی ہے اور اسے عربی کتابوں کے مشہور مترجم جناب مولانا غلام احمد حریری نے اردو میں منتقل کیا ہے۔ ناشرانِ قرآن لمیٹڈ مترجم موصوف کی اجازت سے اب یہ ترجمہ شائع کرنے کی سعادت حاصل کر رہا ہے۔
اللہ تعالیٰ سے دُعا ہے کہ وہ اس کے مطالب سمجھنے کی توفیق ہر مسلمان کو عطا فرمائے۔
الصارم المسلول
فہرست
عنوان صفحہ پیش لفظ ٦ شیخ الاسلام ابن تیمیہؒ ١٣ خطبۂ مؤلف ٢٢ قرآن کریم کے دلائل ٣٨ دین پر طعنہ زنی ٤٠ عہد شکنی ٤٩ شاتم رسولؐ کافر ہے ٦٣ منافق کسے کہتے ہیں ٨١ اللہ اور رسول کا حق لازم و ملزوم ٨٢ اُمہات المومنینؓ پر بہتان طرازی ٩١ آیت قذف ٩٨ کفر میں عمل غیر مقبول ١٠١
عنوان صفحہ عنو حدیث نبوی کے دلائل ١٠٨ خمس کی تقسیم سنت قولی ١١٤ اجماع صحابہ سے استدلال کعب بن اشرف کا واقعہ ١١٦ قیاس سے استدلال ہجو گوئی ١٣٥ حضور کی مدح و ستائش ا واقدی پر اقامہ جرح ١٥٠ آپ کا تحمل اور بردباری ابو عفک کا واقعہ ١٥٩ آپ انتقام بھی لیتے تھے م ابن زنیم الدیلی کا واقعہ ١٦٠ شاتم رسول کی سزا کا خلاصہ ابن ابی سرح کا واقعہ ١٦٣ حدود شرعیہ کا قیام امام ابن تیمیہ کے زمانے کا واقعہ ١٧٢ شاتم سے توبہ کا مطالبہ نہ کیا جائے دو گانے والیوں کا واقعہ ١٨٢ شاتم توبہ کرلے تو اس کا ک عورت کے قتل کی ممانعت کب ہوئی ١٨٦ مرتد سے توبہ کا مطالبہ ابن خطل کا واقعہ ١٩١ شاتم اور مرتد سے متعلق م ابو سفیان بن حارث ١٩٤ ذمی شاتم کا شرعی حکم کعب بن زہیر کی توبہ ٢٠٣ زندیق و منافق صحابہ شاتم کو قتل کر دیتے تھے ٢٠٦ حد شرعی، ثبوت یا اقرا ابن ابی الحقیق کا قتل ٢٠٨ شاتم رسول جنگ کرتا ہے خد اسلام پہلا گناہ ختم کرتا ہے ٢١١ عہد شکن بھی خدا اور رسول ک مہاجرین کے گھر قابضین کے پاس ٢١٨ شاتم رسول کو امان نہیں د آنحضرت پر جھوٹ باندھنے والے کی سزا ٢٣١ قصہ مدعی نبوت کے علاوہ بھ خوارج کے ذکر پر مشتمل احادیث ٢٤٥ کیا ہر شخص اسلام لانے سے خوارج کے فرقے ٢٥٠ مرتد اور شاتم کے قتل میں
عنوان صفحہ ۱۰۰ کا واقعہ ۱۱۰ ۱۱۱ رح ۱۳۵ واقعہ ۱۵۰ قصہ ۱۵۹ مارنے کا واقعہ ۱۶۰ قصہ ۱۶۳ ممانعت کب ہوئی ۱۷۲ ۱۸۲ ۱۸۶ ت ۱۹۱ ل کر دیتے تھے ۱۹۴ ۲۰۳ ۲۰۶ ہے ۲۰۸ ان کے پاس ۲۱۱ ر رکھنے والے کی سزا ۲۱۸ ل احادیث ۲۳۱ ۲۴۵ ۲۵۰
عنوان صفحہ خمس کی تقسیم ۲۶۲ اجماع صحابہؓ سے استدلال ۲۷۰ قیاس سے استدلال ۲۷۷ حضورؐ کی مدح و ستائش اقامت دین ہے ۲۸۳ آپؐ کا تحمل اور بردباری ۲۹۹ آپؐ انتقام بھی لیتے تھے معاف بھی کرتے تھے ۳۱۴ شاتم رسولؐ کی سزا کا خلاصہ ۳۷۷ حدود شرعیہ کا قیام ۳۸۵ شاتم سے توبہ کا مطالبہ نہ کیا جائے ۴۱۴ شاتم توبہ کرے تو اس کا حکم ۴۱۷ مرتد سے توبہ کا مطالبہ ۴۳۹ شاتم اور مرتد سے متعلقہ مسائل ۴۴۶ ذمی شاتم کا شرعی حکم ۴۸۳ زندیق و منافق ۴۸۵ حدّ شرعی، ثبوت یا اقرار ہے ۴۹۰ شاتم رسولؐ جنگ کرتا ہے خدا اور رسولؐ سے ۵۶۰ عہدشکن بھی خدا اور رسولؐ سے جنگ کرتا ہے ۵۶۵ شاتم رسولؐ کو امان نہیں دی جاسکتی ۵۷۰ تصدیق نبوت کے علاوہ بھی رسولؐ کے حقوق ہیں ۵۸۰ کیا ہر سزا اسلام لانے سے ساقط ہوجاتی ہے ۶۰۲ مرتد اور شاتم کے قتل میں فرق ۶۱۱
عنوان صفحہ ناموس رسالت کی حفاظت کے لیے حدِ شرعی ٦٦٠ توبہ کے مواقع ٧١٧ شاتمِ رسول اور کفرِ مجرّد میں امتیاز ٧٢٥ علماء کی تصریحات ٧٤٣ اللہ تعالیٰ کے بارے میں گالی ٧٧٧ اس گناہ کی سزا ٧٨١ گالی کی حقیقت ٨٠١ انبیاءؑ کو گالی دینا کفر و ارتداد یا محاربہ ہے ٨٠٧ اُمّہات المومنینؓ اور صحابہ کرامؓ کے خلاف سبّ و شتم ٨٠٨ صحابہ کرامؓ کے بارے میں قولِ فیصل ٨٣٩
بسم ا اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ ذِى الْجَ ثُمَّ عَلَى اٰلِهٖ وَصَحْبِ
حمد وصلوٰۃ کے بعد ی امام ابوالعباس تقی الدین احم میں سے ایک ہے۔
امام ابن تیمیہؒ کی تصانی ہے کہ ان کو شہرت دی خداوند کریم نے انہیں ج اظہار و بیان کے ساتھ سا تھا کہ اگر اسے دسیوں علما میں سے ہر ایک اس قدر م اشارہ کیا جاسکے۔
مزید برآں (وہا ب اور اس کے افادہ کا ذو کرتے، اور لوگوں کو اس کم دیکھنے میں آیا ہے۔ آ دعوت پر لبیک کہنے می
بسم الله الرحمن الرحيم
الحمد لله ذي الجلال والاكرام، وعلى رسله افضل الصلوة والسلام ثُمَّ على آله وصحبه خيرة الانام ومصابيح الظلام :-
حمد وصلوۃ کے بعد یہ کتاب "الصارم المسلول، علی شاتم الرسول" شیخ الاسلام امام ابوالعباس تقی الدین احمد بن عبدالحلیم بن عبدالسلام، المعروف ابن تیمیہؒ کی تصانیف میں سے ایک ہے۔
امام ابن تیمیہؒ کی تصانیف کا علمی و ادبی پایہ اس سے کہیں زیادہ اعلیٰ و ارفع ہے کہ ان کو شہرت دی جائے یا ان کی مدح و ستائش کی جائے۔ اس لیے کہ خداوند کریم نے انہیں جس زورِ بیان، وسعتِ مطالعہ، قوّتِ حافظہ اور قدرتِ اظہار و بیان کے ساتھ ساتھ فصاحت و بلاغت اور طلاقتِ لسانی سے نوازا تھا کہ اگر اسے دسیوں علماء پر تقسیم کردیا جائے تو سب کے لیے کافی ہوجائے اور ان میں سے ہر ایک اس قدر عظیم و جلیل عالم ہوجائے کہ اُس کی طرف انگلیوں سے اشارہ کیا جاسکے۔
مزید برآں وہّابِ حقیقی نے انہیں جو صبر و تحمل، محنت و کاوش، حبِّ علم اور اس کے افادہ کا ذوق و شوق، طلبِ علم کی راہ میں حوادث و آلام کو برداشت کرنے، اور لوگوں کو اس سے بہرہ ور کرنے کا جو ملکہ آپ کو عطا کیا تھا وہ بہت کم دیکھنے میں آیا ہے۔ آپ دینِ الٰہی کے جس قدر حریص تھے، خدا کے داعی کی دعوت پر لبیک کہنے میں جو عجلت آپ کو پسند تھی، اپنے علم و فضل کی تشہیر سے
آپ جس قدر گریزاں تھے ، خدا کے عطا کردہ علم کو چھپانے سے آپ جس قدر خائف اور ہراساں رہتے تھے ، اُس کا عشر عشیر بھی علمائے کبار اور یکتائے روزگار کے لیے کافی تھا۔
پھر لوگوں نے آپ کی ذات کو جس محبت اور توجہ کا مرکز بنایا اور اس توجہ میں اپنے آپ کو فنا کر دیا ، اس سے کم درجہ کی محبت بھی ایک داعی الی اللہ کو اس بات پر آمادہ کرنے کے لیے کافی ہے کہ وہ کسی ضعف و عجز اور کسی پر بھروسہ کیے بغیر دعوت کے کام کو جاری و ساری رکھے اور اس راہ کی صعوبات کو کشادہ دلی اور اطمینان قلب کے ساتھ برداشت کرتا چلا جائے ۔ یہی وجہ ہے کہ شیخ الاسلام ابن تیمیہؒ کی تصانیف کتاب و سنت کے مباحث نادرہ ، مسائل عجیبہ اور دلائل واضحہ کا گنجینہ ہیں ۔ آپ نے ہر فن و مذہب میں علماء کے اقوال اور قواعد اصول کو نہایت واضح عبارت اور خوبصورت اسلوبِ نگارش میں یکجا کر دیئے ۔ کائناتِ ارضی کے کونہ کونہ سے آپ کے پاس سوالات آتے ۔ جونہی کوئی سوال آپ کے پاس آتا آپ اُس کا جواب لکھنے کے لیے متوجہ ہوتے ، اور چند ہی راتوں کے بعد ایک نادر رسالہ منصۂ شہود پر جلوہ گر ہو جاتا جو موضوع زیر بحث کے جملہ اطراف پر حاوی ہوتا اور اس میں کسی لحاظ سے کوئی نقص و عیب نہ ہوتا ۔ آپ کا انداز استدلال اس قدر محیر العقول ہوتا کہ بڑے بڑے اصحاب عقل و خرد مبہوت ہو کر رہ جاتے ۔ اور مثل مشہور ہے کہ جس کے پاس چُونہ اور اینٹیں ہوں وہ عمارت تعمیر کر ہی لیتا ہے ۔
یہ کتاب ” الصارم المسلول علی شاتم الرسول “ ہے جس کو شیخ الاسلام ابن تیمیہ نے ایک حادثہ کے بعد تصنیف کیا تھا جو آپ کے زمانہ میں رونما ہوا ۔ آپ نے محسوس کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا جو کم از کم حق آپ پر ہے ، اس کا تقاضا یہ ہے کہ رسولِ کریمؐ کی توہین کرنے والا جس سزا کا مستحق ہے ، خواہ وہ مسلم ہو یا کافر ۔ اس کو مع متعلقہ احکام و مسائل صفحۂ قرطاس پر
لایا جائے ۔ مزید برآں اس ضمن میں تمام محکم دلائل اور مستحضر اقوال کو پیش کر دیا جائے ۔ اِس کے ساتھ ساتھ اس کے اسباب وعلل کو ذکر کیا جائے ، اور جس چیز پر اعتماد واجب ہے اس پر روشنی ڈالی جائے ۔
اس لیے کہ ایک مسلم پر جو چیز کم از کم واجب ہے وہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی تائید و حمایت ہے اور یہ کہ ہر موقع اور مقام پر رسولِ کریم کو اپنے نفس و مال پر ترجیح دے اور ہر ایذا دینے والے سے آپ کی عزت کو محفوظ رکھے ۔
اگرچہ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو لوگوں کی نصرت وحمایت سے بے نیاز کر دیا ہے ۔ تاہم اس کے ضروری ہونے کی وجہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنی بعض مخلوقات کو بعض کے ذریعے آزمائے اور اس امر کا اظہار و اعلان کر دے کہ کون اس کے رُسل و انبیاء کی اُن کی عدم موجودگی میں نصرت و حمایت کرتا ہے اور کون نہیں کرتا ۔
اِس کتاب کا نام ”الصارم المسلول علی شاتم الرسول“ (رسولِ کریم کی توہین کرنے والے پر شمشیرِ برہنہ) ہے ۔ اور تمہارے لیے یہ بات بس کرتی ہے کہ یہ شیخ الاسلام ابنِ تیمیہؒ کی تصانیف میں سے ہے ، جن کا طرّہ امتیاز یہ ہے کہ جس موضوع پر لکھتے ہیں اُس میں کہنے والے کے لیے کوئی گنجائش نہیں چھوڑتے اور اللہ تعالیٰ تمہیں اس کتاب سے نفع پہنچائے گا اور اس کے مصنف کی برکات سے تمہیں بہرہ ور کرے گا۔ (آمین)
محمد محی الدین عبدالحمید
والے یہ سمجھتے کہ ابنِ تیمیہؒ اس فن کے سوا دوسرا کوئی علم نہیں جانتے۔ وہ شخص یہ فیصلہ صادر کرتا کہ کوئی دوسرا شخص اِس علم کو ان کی طرح نہیں جانتا۔ تمام مسالک کے فقہاء جب ان کے پاس بیٹھتے تو اپنے مذاہب کے بارے میں ان سے استفادہ کرتے جو انہیں قبل ازیں معلوم نہ ہوتا اُن کے بارے میں یہ معلوم نہیں ہوسکا کہ انہوں نے کسی سے مناظرہ کیا ہو اور خاموش ہو گئے ہوں۔ وہ جب بھی کسی فن کے بارے میں گفتگو کرتے۔ خواہ وہ شرعی ہو یا غیر شرعی ــــ تو اُس فن کے دعویٰ دار اس سے جن کی طرف وہ علم منسوب ہے آگے سبقت لے جاتے۔ حسن تصنیف، تزئین عبارت، ترتیب و تقسیم اور توضیح مطالب میں وہ یدِ طولیٰ رکھتے تھے۔"
مشہور محدث حافظ الذہبی اُن کے بارے میں رقمطراز ہیں :-
" ابنِ تیمیہؒ ذہانت و فطانت اور سُرعتِ ادراک کی آخری حد کو پہنچے ہوئے تھے۔ علومِ کتاب و سنت اور خلافیات میں آپ رئیس العلماء تھے۔ نقلی علوم میں آپ بحرِ ذخار اور علم و زہد، شجاعت، جود و کرم، امر بالمعروف و نہی عن المنکر اور کثرتِ تصانیف میں یکتائے روزگار تھے۔ اگر علمِ تفسیر کا تذکرہ چھڑ جائے تو آپ اُس کے علم بردار تھے اور اگر فقہا کو شمار کیا جانے لگے تو آپ اُن میں مجتہدِ مطلق کے درجہ پر فائز تھے۔ اگر حفاظ بزم آراء ہوتے تو وہ گونگے ہو جاتے اور آپ بولتے۔ اُن کے اقوال کو ردّ کر کے انہیں مایوس کر دیتے اور اگر ابنِ سینا مجلس نشین ہو کر فلاسفہ کو آگے بڑھانے لگے تو آپ انہیں ناکام و نامراد بنا دیتے، اُن کے عیوب و نقائص کو طشت از بام کرتے اور اُن کے معائب کی پردہ دری کرتے۔ آپ عربیت اور صرف و نحو میں ماہرانہ بصیرت رکھتے تھے۔ میری زبان اُن کی مدح و ستائش سے قاصر
ترجمہ و تعارف
شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمۃ اللہ تعالیٰ
نام ونسب
الامام القدوۃ العالم الزاہد، داعی الی اللہ، اپنے علم وفضل سے دنیا کو بھر دینے والے شیخ الاسلام ومفتی الانام، ناصر دین اللہ محی السنۃ، احمد بن عبدالحلیم بن عبدالسلام بن عبداللہ بن الخضر بن محمد بن الخضر بن علی بن عبداللہ المعروف بابن تیمیہ الحرانی نزیل دمشق، صاحب تصانیف کثیرہ غیر مسبوقۃ۔
ولادت و طفولیت
آپ ربیع الاول ۶۶۱ھ کو بروز سوموار حران میں پیدا ہوئے۔ بچپن ہی میں اپنے والد اور دیگر اہل خانہ کے ہمراہ دمشق آئے۔ اپنے عصر و عہد کے حفاظ حدیث، اکابر علماء سے درس حدیث لیا اور اس کام کو برسوں جاری رکھا۔ جو چیز سنتے اُسے حافظہ میں محفوظ کر لیتے۔ قلب بیدار، روشن طبع اور بصیرت نافذہ سے بہرہ ور تھے۔ جہد وسعی، کدو کاوش اور تعلیم و تعلم کا یہ سلسلہ جاری رکھا۔ حتیٰ کہ تفسیر اور اس کے متعلقات میں یگانہ روزگار بن گئے۔ فقہ میں وہ مقام حاصل کیا کہ کہا جاتا ہے کہ وہ اپنے عصر و عہد کے اُن فقہا سے زیادہ فقہ جانتے تھے جو اس فقہ کے حامل اور اُس فقہی مسلک پر عامل تھے۔ بایں ہمہ وہ وجوہ اختلاف اور اس کے مآخذ و ادلہ کے عظیم عالم، اصول و فروع کے ماہر، نحوی، لغوی اور دیگر علوم نقلیہ وعقلیہ کے یکتائے روزگار عالم تھے۔
جو شخص بھی اُن سے کسی فن پر گفتگو کرتا یہ سمجھنے پر مجبور ہو جاتا کہ وہ اس فنّ میں منفرد اور یگانہ ہیں اور اس کے اسرار و رموز اور غوامض کو اُن سے بہتر جاننے والا کوئی نہیں اور علم حدیث کے تو وہ علم بردار اور حافظ تھے ہی۔ آپ احادیثِ صحیحہ و سقیمہ میں امتیاز کرنے والے، اُس کے رجال و رواۃ کے عارف اور قوّت و ضعف کے لحاظ سے اُس کے درجات و مراتب سے آگاہ و آشنا تھے۔ حدیث کے جملہ علوم و فنون میں اُن کی ہمسری کا دعویٰ نہیں کیا جا سکتا۔
ابن تیمیہ کی مدح و ستائش
آپ کے بیشتر علمائے عصر نے آپ کے علوم و فضائل کو خراجِ تحسین پیش کیا ہے۔ مثلاً القاضی، الخوبی، ابن دقیق العید، ابن النحاس، ابن الزملکانی، ابن الحریری الحنفی قاضی قضاۃ مصر و غیرہم۔
ابن الزملکانی اُن کے بارے میں فرماتے ہیں : ”آپ کی ذات میں جملہ شروطِ اجتہاد یکجا ہو گئے تھے۔ آپ حُسنِ تصنیف، جودتِ عبارت، ترتیب و تقسیم اور توضیح و تبیین میں عدیم المثال تھے۔“
ابنِ تیمیہ کی تصانیف پر موصوف نے یہ اشعار رقم کیے ہیں :۔
اس کی تعریف کرنے والے اسے کیا کہیں گے جب کہ اسکے اوصاف ان گنت ہیں۔
وہ اللہ کی حجت قاہرہ ہے وہ ہمارے درمیان زمانے کا عجوبہ ہے
وہ مخلوقات میں خدا کی ظاہر نشانی ہیں اور اس کے انوار فجر سے بھی بڑھ گئے ہیں
ابن شاکر نے ابنِ تیمیہ کے بارے میں الزملکانی کا مندرجہ ذیل قول نقل کیا ہے : ”جب اُن سے کسی فن کے بارے میں سوال کیا جاتا تو دیکھنے سُننے
لے یہ سمجھتے کہ ابن تیمیہؒ اس فن کے سوا دوسرا کوئی علم نہیں جانتے۔ وہ شخص یہ فیصلہ صادر کرتا کہ کوئی دوسرا شخص اِس علم کو ان کی طرح نہیں جانتا۔ تمام مسالک کے فقہاء سب ان کے پاس بیٹھتے تو اپنے مذاہب کے بارے میں ان سے استفادہ کرتے جو انہیں قبل ازیں معلوم نہ ہوتا اُن کے بارے میں یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ انہوں نے کسی سے مناظرہ کیا ہو اور خاموش ہو گئے ہوں ۔ وہ جب بھی کسی فن کے بارے میں گفتگو کرتے ۔ خواہ وہ شرعی ہو یا غیر شرعی — تو اُس فن کے دعویٰ داروں سے جن کی طرف وہ علم منسوب ہے آگے سبقت لے جاتے۔ حسنِ تصنیف ، تزئینِ عبارت ، ترتیب و تقسیم اور توضیحِ مطالب میں وہ یدِ طولیٰ رکھتے تھے۔"
مشہور محدث حافظ الذہبی اُن کے بارے میں رقمطراز ہیں :۔ " ابن تیمیہؒ ذہانت و فطانت اور سُرعتِ ادراک کی آخری حد کو پہنچے ہوئے تھے ۔ علوم کتاب وسنت اور خلافیات میں آپ رئیس العلماء تھے ۔ نقلی علوم میں آپ بحرِ ذخار اور علم و زہد ، شجاعت، جُود و کرم ، امر بالمعروف و نہی عن المنکر اور کثرتِ تصانیف میں یکتائے روزگار تھے ۔ اگر علم تفسیر کا تذکرہ چھڑ جائے تو آپ اُس کے علم بردار نکلتے اور اگر فقہا کو شمار کیا جانے لگے تو آپ اُن میں مجتہدِ مطلق کے درجہ پر فائز تھے ۔ اگر حفاظ بزم آراء ہوتے تو وہ گونگے ہو جاتے اور آپ بولتے۔ اُن کے اقوال کو ردّ کر کے انہیں مایوس کر دیتے اور اگر ابنِ سینا مجلس نشین ہو کر فلاسفہ کو آگے بڑھانے لگے تو آپ انہیں ناکام و نامراد بنا دیتے ، اُن کے عیوب ونقائص کو طشت از بام کرتے اور اُن کے معائب کی پردہ دری کرتے ۔ آپ عربیت اور صرف ونحو میں اپنا ثانی نہ رکھتے تھے ۔ میری زبان اُن کی مدح وستائش سے قاصر
اور میرا قلم اُن کی تحسین سے عاجز ہے ۔ اس لیے کہ اُن کی حیات وسیرت اُن کے بحوث و معارف اور طلب علم میں اُن کے اسفار مجلدہ دو جلدوں میں سما سکتے ہیں ۔“
ابن تیمیہ کے شاگرد رشید محمد بن شاکر الکتبی صاحب ” فوات الوفیات “ المتوفی ٧٦٤ ھ لکھتے ہیں :-
” ہمارے استاذِ مکرم تقی الدین ، امام ربانی ، امام الائمہ ، مفتی الامۃ بحرالعلوم ، سیّد الحفاظ ، فارس المعانی والالفاظ ، فرید العصر، رئیس الدہر، شیخ الاسلام ، قدوۃ الانام ، علامۃ الزمان ، ترجمان القرآن ، علم الزہاد ، اوحد العبّاد ، قامع المبتدعین اور آخر المجتہدین تھے ۔“
ایک دوسری جگہ لکھتے ہیں :
” ابن تیمیہ رحمہ اللہ مخالفین کے لیے شمشیرِ برہنہ ، بدعتیوں کے حلق میں کھٹکتا خار اور اظہارِ حق اور نصرتِ دین کے امام تھے۔ دیار و بلاد میں ہر جگہ آپ کا نام گونجتا تھا اور مادرِ زمانہ آپ کا نظیر ومثیل جننے میں بخیل تھی۔“
حافظ ابو الحجاج فرماتے ہیں :
” میری آنکھوں نے آپ جیسا عالم نہیں دیکھا اور خود انہوں نے بھی اپنا نظیر ومثیل نہیں دیکھا۔ میں نے کتاب اللہ اور سنتِ رسول کا اُن سے بڑا عالم اور اُن سے زیادہ اُن کا اتباع کرنے والا روئے زمین پر کہیں نہیں پایا ۔“
امام ابن تیمیہ کا خاندان
شیخ الاسلام ابن تیمیہ نے علم کا ورثہ کسی کلالہ (جس کا والد اور اولاد نہ ہو) سے نہیں پایا بلکہ آپ کا خاندان علم ، دین ، فقہ ، افتاء ، زُہد، عبادت اور جہاد کا خانوادہ تھا ۔
آپ کے والد : ابن کثیر اُن میں رقمطراز ہیں :
” ابن تیمیہ کے والد عبد ال امام ، علامہ اور مفتی تھے۔ آپ لقب شہاب الدین تھا ۔ یہ اُن کے بیٹے احمد (ابن تیمیہ) اپنے والد شیخ الاسلام عبد ال المعروف بابن تیمیہ سے اخذ و
حافظ الذہبی عبد الحلیم (والد ابن ت
” انہوں نے اپنے والد س حاصل کی۔ اس کے ساتھ سا تالیف میں مشغول رہے ، ح وہاں کے خطیب اور حاکم قرا اور کثیر الفنون تھے۔ علم الفرا میں ماہرانہ بصیرت رکھتے تھے۔ اور اپنے عصر و عہد کی ایک گر
البرزالی اُن کے بارے میں لکھتے ہیں
” شیخ عبد الحلیم اپنے زما کے دار الحدیث السکریہ کی م مسجد میں آپ جمعہ کے روز ای تھے۔ جب وفات پائی تو آو اُن کے جانشین قرار پائے
ابن تیمیہ کے دادا : آپ
آپ کے والد : ابن کثیر اُن کے بارے میں اپنی تاریخ (البدایہ والنہایہ) میں رقمطراز ہیں : " ابن تیمیہ کے والد عبدالحلیم ہمارے استاد مکرم بہت بڑے امام، علامہ اور مفتی تھے۔ آپ کا نام عبدالحلیم، کنیت ابوالمحاسن اور لقب شہاب الدین تھا۔ یہ اُن شیوخ میں سے ہیں جن سے اُن کے بیٹے احمد (ابن تیمیہؒ) نے استفادہ کیا۔ الشیخ عبدالحلیم نے اپنے والد شیخ الاسلام عبدالسلام بن عبداللہ مجد الدین ابوالبرکات المعروف بابن تیمیہ سے اخذ و استفادہ کیا۔"
حافظ الذہبی عبدالحلیم (والد ابن تیمیہؒ) کے بارے میں لکھتے ہیں : " انہوں نے اپنے والد سے حنبلی فقہ پڑھی حتیٰ کہ اس میں مہارت حاصل کی۔ اس کے ساتھ ساتھ درس و تدریس، فتویٰ نویسی اور تصنیف و تالیف میں مشغول رہے، حتیٰ کہ اپنے والد کے بعد شیخ البلد اور وہاں کے خطیب اور حاکم قرار پائے۔ آپ بہت بڑے امام، محقق اور کثیر الفنون تھے۔ علم الفرائض، حساب، ہیئت اور دیگر علوم دینیہ میں ماہرانہ بصیرت رکھتے تھے۔ مزید برآں آپ منکسر مزاج، خلیق، خوش طینت اور اپنے عصر و عہد کی ایک گراں قدر شخصیت تھے۔"
البرزالی اُن کے بارے میں لکھتے ہیں : " شیخ عبدالحلیم اپنے زمانہ میں شیخ الحنابلہ تھے۔ آپ نے دمشق کے دارالحدیث السکریہ کی بنا رکھی اور اسی میں قیام پذیر تھے۔ جامع مسجد میں آپ جمعہ کے روز ایک کرسی پر براجمان ہو کر خطاب فرمایا کرتے تھے۔ جب وفات پائی تو اُن کے بیٹے ابوالعباس (ابن تیمیہؒ) اُن کے جانشین قرار پائے۔"
ابن تیمیہ کے دادا : آپ کے دادا مجد الدین شیخ الاسلام ابوالبرکات
عبدالسلام بن عبداللہ ابن الخضر اکابر حفاظ حدیث میں سے تھے ٥٩٠ھ میں پیدا ہوئے اور ٦٥٢ھ میں وفات پائی۔ مشہور نحوی ابن مالک اُن کے بارے میں فرماتے ہیں :
" شیخ مجدالدین کے لیے فقہ کو اس طرح نرم بنا دیا گیا تھا جس طرح داؤد علیہ السلام کے لیے لوہے کو۔ "
الشیخ نجم الدین بن حمدان صاحب کتاب " الرعایۃ فی تراجم شیوخ حران فرماتے ہیں :
" مجدالدین فقہ حنابلہ اور دیگر علوم میں مہارت تامہ رکھتے تھے میں نے اُن کے ساتھ متعدد مرتبہ مباحثہ و مناظرہ کیا۔ "
حافظ عزالدین الشریف ان کے بارے میں فرماتے ہیں :
" حجاز ، عراق ، شام اور اپنے شہر حران میں حدیث پڑھاتے رہے ساتھ ساتھ شغل تصنیف و تالیف بھی جاری رکھتے تھے ۔ یہ اپنے وقت کے اکابر علماء میں سے تھے۔ "
حافظ الذہبی اُن کے بارے میں لکھتے ہیں :
" ہمارے استاد محترم احمد بن عبدالحلیم نے فرمایا ہمارے دادا احادیث کے حفظ و سماع میں عجیب ملکہ رکھتے تھے ۔ وہ بلا محنت و کاوش دوسرے لوگوں کے مذاہب و مسالک پر حاوی ہو جایا کرتے تھے۔ "
حافظ الذہبی مزید لکھتے ہیں :
" شیخ مجدالدین اپنے عصر و عہد میں عدیم النظیر تھے۔ فقہ و اصول کے رئیس اور حدیث اور اس کے معانی میں سب پر فائق تھے ۔ قراءت و تفسیر میں آپ یدطولیٰ رکھتے تھے۔ متعدد کتب تصنیف کیں۔ آپ کا علمی شہرہ دُور دُور تک پہنچ گیا تھا ۔ فقہ حنابلہ میں یکتائے روزگار تھے۔ ذکاوت و فطانت میں بے مثل اور دیانت و تقویٰ
میں جواب نہ رکھتے تھے۔ "
ابن شاکر اُن کے بارے میں فرماتے ہیں :
" البرہان المراغی فرماتے ہیں کہ میں نے اُن کے سامنے ایک علمی نکتہ پیش کیا ۔ مجدالدین نے اُس کا جواب دیا ۔ یعنی یوں کہ پہلی وجہ ، دوسری وجہ ۔ میں نے اُس سے کہا " آپ کے لیے لوٹ جانا بہتر ہے ۔ " انہوں نے ہو کر اسے تسلیم کر لیا۔ "
ابن تیمیہ کی دادی : السیدہ بدرہ بنت فخر الدین جن کی کنیت اُمّ البدر تھی آپ کی دادی تھیں ۔ آپ نے حاصل کر کے حدیثیں روایت کیا کرتی تھیں ۔ یہ امام بن الخضر کی بیوی تھیں ۔ اپنے شوہر سے صرف ایک
امام ابن تیمیہ کے دادا کے چچا کا نام امام فخر الدین ابن محمد بن الخضر بن علی بن عبداللہ بن تیمیہ تھا ۔ یہ حنبلی حران کے شیخ اور خطیب تھے ۔ طلب علم کے لیے فقہ کا درس لیا ۔ (مشہور محدث) ابن الجوزی کے کی کثرت تصانیف اُن سے سنیں اور پھر تدریس و نہایت ماہر ، نہایت ثقہ فاضل ، صحیح السماع ، خ تھے ۔ متعدد کتب تصنیف کیں ، اُن میں سے تفسیر شعبان ٥٤٤ھ کو حران میں پیدا ہوئے اور وہ ٦٢٢ھ میں وفات پائی ۔
اگر ہم آلِ تیمیہ کے اکابر اہل علم کے احوال بات طویل بھی ہو گی اور اُس کے طرق بھی مختلف ہوں طویل کر کے اس کے قاری کو پریشان نہیں کرنا
میں جواب نہ رکھتے تھے۔"
ابن شاکر اُن کے بارے میں فرماتے ہیں :
" ابو برہان المراغی فرماتے ہیں کہ میں نے ایک ملاقات میں اُن کے سامنے ایک علمی نکتہ پیش کیا۔ مجدالدین نے یک صد طریق سے اس کا جواب دیا۔ یعنی یوں کہ پہلی وجہ، دوسری وجہ علیٰ ہٰذا القیاس—پھر بُرہان سے کہا "آپ کے لیے لوٹ جانا بہتر ہے۔" شیخ برہان نے لاجواب ہو کر اسے تسلیم کر لیا۔"
ابن تیمیہ کی دادی : السیّدہ بدرہ بنت فخر الدین ابی عبداللہ محمد بن الخضر جن کی کنیت اُمّ البدر تھی آپ کی دادی تھیں۔ آپ ضیاء الدین بن الخریف سے اجازت حاصل کر کے حدیثیں روایت کیا کرتی تھیں۔ یہ امام ابن تیمیہ کے دادا عبدالسلام بن الخضر کی بیوی تھیں۔ اپنے شوہر سے صرف ایک روز قبل وفات پائی۔
امام ابن تیمیہ کے دادا کے چچا کا نام امام فخر الدین ابا عبداللہ محمد بن الخضر ابن محمد بن الخضر بن علی بن عبداللہ بن تیمیہ تھا۔ یہ حنبلی فقیہ ، عظیم قاری، واعظ اور حَرّان کے شیخ اور خطیب تھے۔ طلبِ علم کے لیے بغداد کا سفر کیا اور وہاں حدیث و فقہ کا درس لیا۔ (مشہور محدث) ابن الجوزی کے وابستۂ فتراک رہے اور ان کی بکثرت تصانیف اُن سے سنیں اور پھر تدریس کا ڈول ڈالا۔ یہ تفسیرِ قرآن میں نہایت ماہر ، نہایت ثقہ فاضل، صحیح السماع ، خلیق ، صدقِ مقال اور دیندار تھے۔ متعدد کتب تصنیف کیں، اُن میں سے تفسیرِ کبیر تیس جلدوں پر مشتمل ہے ۔ شعبان ٥٤٢ ھ کو حَرّان میں پیدا ہوئے اور وہیں بروز جمعرات ١٠ ماہ صفر ٦٢٢ ھ میں وفات پائی۔
اگر ہم آلِ تیمیہ کے اکابر اہلِ علم کے احوال و اوصاف کا تذکرہ چھیڑ دیں تو بات طویل بھی ہو گی اور اُس کے طرق بھی متنوع ہوں گے ۔ ہم اس مختصر مقدمہ کو طویل کر کے اس کے قاری کو پریشان نہیں کرنا چاہتے۔ اِس ضمن میں تجسس
احوال اور استقصاء و استیعاب کے لیے دوسرا موقعہ موزوں تر ہوگا۔
جس طرح شیخ الاسلام ابن تیمیہ نے اپنے اسلاف سے علم سے محبت و رغبت کا ورثہ پایا تھا۔ اسی طرح زہد و تقویٰ ، تضرع الی اللہ اور دین داری بھی ان کو ورثہ میں ملی تھی ۔ کتب تراجم اور مورخین اسلام کے بیانات اس حقیقت کی آئینہ داری کرتے ہیں کہ :
سیرت و حیات کی پاکیزگی
"ابن تیمیہ نے کامل تصوف، پاکیزگی اور شوق عبادت کے دامن میں نشو و نما پائی تھی۔ آپ نے خورد و نوش اور لباس کے معاملہ میں میانہ روی کو اپنایا تھا۔ آپ ہمیشہ اپنے اخلاق میں صالح، والدین کے اطاعت شعار ، متقی ، عابد و زاہد، قوّام و صوّام اور ہر حال میں ذکر الہی کے دلدادہ تھے ۔ آپ ہر معاملہ میں اللہ کی طرف رجوع کرنے والے، اوامر و نواہی کے پابند، دوسروں کو نیکی کا حکم دینے والے اور برائی سے روکنے والے تھے۔ آپ علم و مطالعہ سے کبھی سیر نہ ہوتے، نہ ہی علمی مباحث سے آپ میں بیزاری اور اکتاہٹ کا احساس کروٹ لیتا۔ بہت کم ایسا ہوتا کہ آپ علم کے کسی دروازہ سے داخل ہوں اور اس میں ایک دروازہ سے آپ پر علم کی نئی نئی شاہراہیں نہ کھلیں۔ اس علم کے ماہرین سے جو باتیں رہ گئی تھیں اور اُن تک ان کی رسائی نہ ہوئی آپ نے اُن کی ٹوہ لگائی۔ بچپن ہی سے علمی مجالس میں حاضری اُن کا شیوہ تھا۔ آپ اُن مجالس میں گویا ہوتے ، علمی مباحث میں شرکت کرتے اور بڑے بڑوں کو آپ کے سامنے یارائے تکلم نہ ہوتا۔ بحر علم میں شناوری کر کے ایسے نایاب موتی نکالتے کہ عوام تو کیا خواص بھی حیرت زدہ رہ جاتے۔ سترہ کی عمر میں فتویٰ نویسی کی طرح ڈالی اور اسی وقت سے جمع و تالیف کا آغاز کر دیا۔
ابن تیمیہ کے اعداء و خصوم
حکمت ایزدی اس امر کی مقتضی ہوئی کہ لوگوں میں شیخ الاسلام ابنِ تیمیہ کا فضل و شرف عام ہو اور آپ کا ذکر جمیل کائنات میں پھیلے پھولے ۔ اس لیے اس نے شیخ کے خلاف حسد و بغض کو زبان دے دی اور جاہ و منصب
کے طالبوں نے اپنے نفوس کو انکے خلاف زبان درازی اور دشنام طرازی کے لیے وقف کر دیا۔ چنانچہ اس نیش زنی اور اذیت رسانی کا سلسلہ جاری رہا اور ان لوگوں کی ریشہ دوانیوں میں کبھی کمی نہ آئی۔ ضرر رسانی کے یہ منصوبے بعض اوقات خفیہ ہوتے اور بعض اوقات کھل کر سامنے آجاتے۔ یہ اعداء و خصوم آپ کے قدموں کے نیچے عمیق گڑھے کھودتے جو عداوت کے سانپوں سے لبریز اور بغض و حقد کے بچھوؤں سے پُر ہوتے تھے کہ آپ ان میں گر کر ہلاک ہو جائیں مگر ان کو خاطر میں لائے بغیر آپ اپنی راہ پر گامزن رہے۔ جس کو اللہ نے ان کے لیے پسند کیا تھا۔ اور اُن کے لیے اس کے اسباب و وسائل مہیا کر دیئے تھے۔ ان کی اذیت رسانی پر آپ صبر کرتے اور اللہ سے اس کے اجر و ثواب کی آس لگائے رہے۔ نہ کبھی تھکتے ، نہ دل ہارتے ، نہ کسی کے سامنے جھکتے ۔
آپ نے نہ کبھی حوصلہ ہارا اور نہ کبھی آپ کی عزیمت میں فرق آیا۔ سرکشوں کی باغیانہ زجر و توبیخ آپ پر کبھی اثر انداز نہ ہوسکی اور نہ کبھی جیل خانہ کی تاریکیوں اور قید و
باب
الصارم المسلول
علی شاتم الرسول
خطبہ مؤلف :-
بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ قال الشيخ ، الامام ، العلامة شيخ الاسلام تقي الدين ابو العباس احمد بن تيمية الحراني ، قَدَّسَ اللهُ رُوْحَهُ ، وَنَوَّرَ ضَرِيْحَهُ - اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ الْهَادِي النَّصِيْرِ فَنِعْمَ النَّصِيْرُ وَنِعْمَ الْهَادِ ، يَهْدِيْ مَنْ يَّشَاءُ اِلٰی صِرَاطٍ مُّسْتَقِيْمٍ ۰ وَيُبَيِّنُ لَهُ سُبُلَ الرَّشَادِ ، كَمَا هَدَی الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لِمَا اخْتَلَفَ فِيْهِ مِنَ الْحَقِّ وَجَمَعَ لَهُمُ الْهُدٰی وَالسَّدَادَ ، وَالَّذِيْ يَنْصُرُ رُسُلَهُ وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَيَوْمَ يَقُوْمُ الْاَشْهَادُ كَمَا وَعَدَهُ فِيْ كِتَابِهِ وَهُوَ الصَّادِقُ الَّذِيْ لَا يُخْلِفُ الْمِيْعَادِ ، وَالصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَی النَّبِيِّ وَ
رَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكَاتُ أَوَّلَهَا ، وَاٰخِرَهَا وَسَلَامًا دَائِمَيْنِ اِ أَبَدًا مِّنْ
حمد وصلوٰۃ کے بعد واضح ر کے ذریعے ہدایت سے نوازا اور لایا۔ اور آپؐ کی رسالت کی برک خیر سے بہرہ ور کیا۔ آپؐ اپنے ر عقول والسنہ اس کی معرفت اد کہ علم و بیان کی آخری منزل کو پہنچ کے دامن میں پناہ لیتی ہیں۔
ایک حادثہ و سانحہ (جو ہما رسول کریمؐ کا جو حق ہم پر واجب جس قدر ممکن ہو ادا کیا جائے۔ آ تعزیر وتوقیر، نصرت و حمایت ترجیح دینا، اور ہر موذی سے آپؐ واجب ٹھہرایا ہے ۔ اگرچہ ذا بے نیاز کر دیا ہے، تاہم ایک د کو نہ مدد کرنے والوں سے مت گیا ہے ۔ تاکہ بندوں کو اُن کے پہلے سے لوح محفوظ میں رقم کر دیا ہمارے دَور کا یہ المناک صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین و تحق
رَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكَاتُهُ اَفْضَلُ تَحِيَّةٍ وَ اَحْسَنُهَا وَ اَوْلَاهَا ، وَ اَبْرَكُهَا وَ اَطْيَبُهَا وَ اَزْكَاهَا ، صَلٰوةً وَّ سَلَامًا دَائِمَيْنِ اِلٰی يَوْمِ التَّنَادِ ، بَاقِيَيْنِ بَعْدَ ذٰلِكَ اَبَدًا مِنَ اللهِ مَا لَهُ مِنْ نَّفَادٍ :
حمد وصلوٰۃ کے بعد واضح رہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں اپنے نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے ہدایت سے نوازا اور آپؐ کی وجہ سے ہمیں تاریکیوں سے نکال کر نور کی طرف لایا۔ اور آپؐ کی رسالت کی برکت وسعادت کے سبب ہمیں دنیا اور آخرت کی خیر سے بہرہ ور کیا۔ آپؐ اپنے ربّ کی طرف سے اُس منصبِ عالی پر فائز تھے کہ عقول واَلسِنَہ اس کی معرفت اور مدح و ستائش سے قاصر ہیں۔ اُس کی حد یہ ہے کہ علم و بیان کی آخری منزل کو چھو لینے کے بعد بھی عقل اور زبان اپنی کوتاہی اور خاموشی کے دامن میں پناہ لیتی ہیں۔
ایک حادثہ و سانحہ (جو ہمارے عصر و عہد میں) رونما ہوا۔ اس کا تقاضا تھا کہ رسولِ کریمؐ کا جو حق ہم پر واجب ہے (استطاعتِ بشری کی حد تک) اُس میں سے جس قدر ممکن ہو ادا کیا جائے۔ اُس سے بڑھ کر یہ کہ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعزیر و توقیر ، نصرت و حمایت ، ہر موقع و مقام پر آپ کو اپنے نفس و مال پر ترجیح دینا ، اور ہر موذی سے آپؐ کی رعایت و نگہداشت اللہ تعالیٰ نے ہم پر واجب ٹھہرایا ہے ۔ اگرچہ ذاتِ ربانی نے اپنے رسول کو مخلوقات کی امداد سے بے نیاز کر دیا ہے ، تاہم ایک دوسرے کو آزمانے اور رسولوں کی مدد کرنے والوں کو نہ مدد کرنے والوں سے ممیز و ممتاز کرنے کے لیے ہم پر اسے واجب ٹھہرایا گیا ہے ۔ تاکہ بندوں کو اُن کے اعمال کا صلہ اسی طرح دیا جائے جس طرح اُس نے پہلے سے لوحِ محفوظ میں رقم کر دیا ہے ۔
ہمارے دور کا یہ المناک سانحہ اس امر کا مُوجب و محرّک ہُوا کہ مَیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی توہین و تحقیر کرنے والے کے لیے جو سزا مقرر ہے اُس کو ضبطِ تحریر
میں لاؤں — خواہ اس کا ارتکاب کرنے والا مسلم کہلاتا ہو یا کافر — نیز اس کے تمام متعلقات و توابع کو شرعی احکام و دلائل کی روشنی میں بیان کروں اور وہ ذکر و بیان اِس قابل ہو کہ اس پر بھروسہ کیا جاسکے۔ اِس کے ساتھ ساتھ علماء کے اُن اقوال کا تذکرہ کروں جو میرے ذہن میں محفوظ ہیں اور ان کے اسباب و علل بھی ذکر کردوں۔ باقی رہی وہ سزا جو عالم آخرت میں اللہ نے اس کے لیے مقدر کر رکھی ہے تو میں اس کی تفصیل میں نہیں جاؤں گا ۔ اس لیے کہ یہاں اُس حکم شرعی کا اظہار و بیان مقصود ہے جس کے مطابق مفتی فتویٰ دے سکے اور قاضی اپنا فیصلہ صادر کر سکے۔ اور امت اور ائمہ دونوں پر اس کی تعمیل بقدر استطاعتِ بشری واجب ہے۔ اور اللہ ہی سیدھی راہ دکھانے والا ہے۔
موضوع کتاب
میں نے اس کتاب کو چار مسائل پر مرتب کیا ہے :- پہلا مسئلہ : نبی کی توہین کرنے والے کو قتل کیا جائے ۔ خواہ وہ مسلم کہلاتا ہو یا کافر۔ دوسرا مسئلہ : وہ ذمی ہو تو بھی اسے قتل کیا جائے ۔ نہ اُس پر احسان کرنا جائز ہے اور نہ فدیہ لینا روا ہے ۔ تیسرا مسئلہ : کیا اُس کی توبہ قبول ہے یا نہیں ؟ چوتھا مسئلہ : سَبّ (گالی دینے) کی تعریف کیا ہے ؟ کون سی چیز سَبّ ہے اور کون سی نہیں ؟ نیز یہ کہ سَبّ اور کفر میں کیا فرق ہے ؟
رسولِ کریمؐ کی توہین کا ارتکاب کرنے والا واجب القتل ہے
اکثر علماء کا موقف یہی ہے ۔ ابن المنذر کہتے ہیں کہ عام علماء کا اس امر پر اجماع ہے کہ نبی کریمؐ کی توہین کرنے والے کی حدّ قتل ہے ۔ امام مالک ، لیثؒ ، احمدؒ اور اسحاقؒ اور امام شافعیؒ کا قول یہی ہے ۔ مگر نعمان (ابو حنیفہؒ) سے منقول ہے کہ اسے قتل نہ کیا جائے ، اس لیے کہ جس شرک پر وہ قائم ہیں وہ توہین
رسالت سے عظیم تر جرم ہے۔
اصحاب شافعی میں سے ابو بکر فارسی نے اس امر پر مسلمانوں کا اجماع نقل کیا ہے کہ جو شخص رسول کریمؐ کو گالی دے اس کی حد شرعی قتل ہے ، جس طرح کسی اور کو گالی دینے کی سزا کوڑے مارنا ہے۔ جو اجماع انہوں نے نقل کیا ہے اس سے صدر اوّل یعنی صحابہؓ تابعین کا اجماع مراد ہے۔ یا اس کا مطلب یہ ہے کہ نبی کریمؐ کو گالی دینے والا اگر مسلم ہو تو وہ واجب القتل ہے ۔ قاضی عیاض نے بھی اسی طرح کہا ہے ۔ فرماتے ہیں :
" اس بات پر امت کا اجماع منعقد ہوا ہے کہ اگر مسلمانوں میں سے کوئی شخص رسول کریمؐ کی توہین کرے یا آپؐ کو گالی نکالے تو اسے قتل کیا جائے۔ اسی طرح دیگر علماء سے بھی رسول کریمؐ کی توہین کرنے والے کے واجب القتل اور کافر ہونے کے بارے میں اجماع نقل کیا گیا ہے"
امام علامہ اسحاق بن راہویہؒ فرماتے ہیں :
" اس بات پر مسلمانوں کا اجماع منعقد ہوا ہے کہ جو شخص اللہ یا اس کے رسولؐ کو گالی دے یا خدا کے نازل کردہ کسی حکم کو ردّ کردے یا کسی نبی کو قتل کرے تو وہ اس کی بنا پر کافر ہوجاتا ہے ، اگرچہ وہ خدا کے نازل کردہ تمام احکام کو مانتا ہو۔"
الخطابی فرماتے ہیں :
" میرے علم کی حد تک کسی مسلمان نے بھی اس کے واجب القتل ہونے میں اختلاف نہیں کیا ۔"
محمد بن سحنونؒ کا قول ہے :
" اس بات پر علماء کا اجماع منعقد ہوا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو گالی دینے والا اور آپؐ کی توہین کرنے والا کافر ہے۔ اس کے بارے میں عذابِ خداوندی کی وعید آئی ہے۔ امت کے نزدیک اس کا حکم یہ ہے کہ اُسے قتل کیا جائے۔ جو شخص اس کے کفر اور اس
سزا میں شک کرے وہ کافر ہے ۔“
گالی دینے والے کے بارے میں احکام کا خلاصہ
الغرض گالی دہندہ اگر مسلمان ہو تو وہ کافر ہو جائے گا اور بلاخوف و نزاع اسے قتل کر دیا جائے گا۔ ائمہ اربعہ اور دیگر علماء کا مذہب یہی ہے۔ قبل ازیں ہم بیان کر چکے ہیں کہ اس ضمن میں اسحاق بن راہویہ اور دیگر اہل علم نے اجماع کا دعویٰ کیا ہے اور اگر ذمی ہو تو امام مالک اور اہل مدینہ کے قول کے مطابق بھی اسے قتل کیا جائے۔ اُن کے اصلی نام ہم آگے چل کر نقل کریں گے ۔ امام احمد اور فقہائے حدیث کا موقف بھی یہی ہے ۔
امام احمد نے متعدد مقامات پر اس کی تصریح کی ہے۔ حنبل کہتے ہیں کہ میں نے ابو عبداللہ کو فرماتے سنا کہ ”جو شخص بھی رسول کریم کو گالی دے یا توہین کرے ۔ خواہ وہ مسلم ہو یا کافر۔ تو اسے قتل کیا جائے ۔ میرا خیال ہے کہ اسے قتل کیا جائے اور اور اس سے توبہ کا مطالبہ نہ کیا جائے وہ کہتے ہیں کہ میں نے ابو عبداللہ کو یہ کہتے سنا کہ
”جو شخص عہد شکنی کرے یا دین اسلام میں کسی نئی بات (بدعت) کو رائج کرے تو میرے نزدیک اسے قتل کرنا واجب ہے ۔ کیا انہوں نے یہ عہد نہیں کیا اور اس کی ذمہ داری قبول نہیں کی تھی ؟“
ابو الصقر کہتے ہیں :
”میں نے ابو عبداللہ سے ایک ذمی شخص کے بارے میں دریافت کیا جو رسول کریم کو گالیاں دیتا تھا کہ اس کے بارے میں شرعی حکم کیا ہے ؟ انہوں نے جواب دیا جب ایسے شخص کے خلاف شہادت مل جائے تو اسے قتل کیا جائے ۔ خواہ وہ مسلم ہو یا کافر ۔“
ہر دو اقوال کو خلّال نے روایت کیا ہے ۔ عبداللہ اور ابوطالب نے امام احمد سے روایت کیا ہے کہ ان سے رسول کریم کو گالی دینے والے کے بارے میں دریافت کیا گیا تو انہوں نے فرمایا ”اسے قتل کیا جائے ۔“ پھر اُن سے پوچھا گیا کہ آیا اس ضمن میں
کچھ احادیث منقول ہیں ؟ فرمایا کہ اس کے بارے میں چند احادیث منقول ہیں، جن میں سے چند یہ ہیں :
- (۱) اُس اندھے شخص سے منقول حدیث جس نے عورت کو قتل کر دیا تھا۔
اس نے کہا میں نے سنا تھا کہ یہ رسول کریم کو گالیاں دیتی ہے۔
- (۲) حضرت حُصین کی روایت ہے کہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما
نے کہا ” جو شخص رسول کریم کو گالی دے اسے قتل کیا جائے “۔
- (۳) خلیفہ عمر بن عبد العزیز فرمایا کرتے تھے کہ اسے قتل کیا جائے اس لیے کہ
رسول کریم کو گالیاں دینے والا مرتد ہوتا ہے مسلمان حضور کو گالی نہیں دے سکتا۔
- (۴) عبد اللہ (بن احمد) نے یہ اضافہ کیا کہ میں نے اپنے والد سے اُس شخص
کے بارے میں پوچھا جو رسول کریم کو گالیاں دیتا ہو کہ آیا اُس سے توبہ کا مطالبہ کیا جاسکتا ہے ؟ فرمایا وہ واجب القتل ہے۔ اُس سے توبہ کا مطالبہ نہیں کیا جائے گا۔ اس لیے کہ حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے ایسے شخص کو قتل کر دیا تھا اور اس سے توبہ کا مطالبہ نہیں کیا تھا۔ ہر دو آثار کو ابو بکر نے الشافی میں روایت کیا ہے ۔
ابو طالب سے مروی ہے کہ امام احمد سے اُس شخص کے بارے میں سوال کیا گیا جو رسول کریم کو گالیاں دیتا ہو۔ فرمایا ” اُسے قتل کیا جائے ۔ کیونکہ اس نے رسول کریم کو گالیاں دے کر اپنا عہد توڑ دیا ۔
حرب کہتے ہیں کہ میں نے امام احمد سے ایک ذمی کے بارے میں سوال کیا۔ جس نے رسول کریم کو گالی دی تھی۔ آپ نے جواب دیا ” اُسے قتل کیا جائے“
ہر دو آثار کو خلال نے روایت کیا ہے۔ ان جوابات کے علاوہ بھی امام احمد نے ایسے شخص کے واجب القتل ہونے کے بارے میں تصریح کی ہے۔
امام احمد کے جملہ اقوال میں ایسے شخص کے واجب القتل ہونے کی تصریح
ہے ۔ اس لیے کہ اُس نے عہد شکنی کا ارتکاب کیا۔ اس مسئلہ میں اُن سے کوئی خلاف منقول نہیں۔
ذمی کا عہد کن باتوں سے ٹوٹتا ہے ؟
امام احمد کے عام اصحاب نے ۔ خواہ وہ متقدمین میں سے ہوں یا متاخرین میں سے۔ بلا خوف و نزاع اسی طرح ذکر کیا ہے البتہ قاضی نے اپنی کتاب "المجرد" میں ان امور کا ذکر کیا ہے جن کو ترک کرنا اہل ذمہ کے لیے واجب ہے ۔ اس لیے کہ ان امور سے مسلمانوں کے نفس و مال کو بحیثیت انفرادی و اجتماعی نقصان پہنچتا ہے ۔
وہ امور حسب ذیل ہیں :-
- (۱) مسلمانوں کے ساتھ لڑنے میں مخالفین کی مدد کرنا ۔
- (۲) مسلمان مرد یا عورت کو قتل کرنا ۔
- (۳) رہزنی کرنا ۔
- (۴) مشرکین کے جاسوس کو پناہ دینا ۔
- (۵) کسی معاملہ میں کفار کی رہنمائی کرنا ۔ مثلاً یہ کہ
- (ا) تحریر کے ذریعے کفار کو مسلمانوں کے حالات سے آگاہ کرے ۔
- (ب) مسلمان عورت سے زنا کرے یا نکاح کے نام سے اس کے ساتھ
بدکاری کرے۔
- (ج) کسی مسلم کو دین سے برگشتہ کرے۔
قاضی مذکور فرماتے ہیں کہ ذمی کو ان سے اجتناب کرنا چاہیے ، خواہ یہ مشروط ہوں یا نہ ہوں ۔ اگر اس کی خلاف ورزی کرے گا تو اس کا عہد ٹوٹ جائے گا۔ بعض جگہ انہوں نے امام احمد کی عبارت بھی نقل کی ہے ۔ مثلاً مسلم عورت کے ساتھ زنا کرے یا مشرکین کے لیے جاسوسی کرنے یا مسلمان کو قتل کرنے کے بارے میں امام احمد کی تصریحات ، وہ غلام ہی کیوں نہ ہو ۔ جیسا کہ
الخرقی نے ذکر کیا ہے۔ پھر وہ امام احمد کی عبارت اس ضمن میں نقل کرتے ہیں کہ مسلم پر بہتان باندھنے سے ذمی کا عہد نہیں ٹوٹے گا۔ بلکہ اس پر حد قذف لگائی جائے گی۔ وہ کہتے ہیں کہ انہوں نے دونوں روایتوں کے مطابق اس مسئلہ کی تخریج کی ہے۔ الخرقی مزید لکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ، اُس کی کتاب ، اُس کے دین اور اُس کے رسول کا تذکرہ اس طرح سے کرنا جو ان کے شایان شان نہ ہو اسی ذیل میں آتا ہے۔ ان چار امور کا وہی حکم ہے جو پہلے آٹھ امور کا ہم ذکر کر چکے ہیں۔ کفار سے معاہدہ کرتے وقت ان امور کا ذکر کرنا ضروری نہیں (بلکہ ذکر کیے بغیر بھی یہ امور عہد میں شامل ہوں گے ۔) اگر کفار مذکورہ صدر امور میں سے کسی کے بھی مرتکب ہوں تو اُن کا عہد ٹوٹ جائے گا۔ قطع نظر اس سے کہ عہد میں مشروط ہو یا نہ ہو۔ ان افعال و اقوال کے ساتھ عہد کے ٹوٹ جانے کا ذکر کر کے وہ لکھتے ہیں کہ اس ضمن میں ایک روایت اور ہے اور وہ یہ کہ اُن کا عہد صرف اس صورت میں ٹوٹتا ہے کہ جزیہ ادا کرنے سے انکار کریں اور ہمارے احکام اُن کے خلاف جاری ہوں۔ پھر انہوں نے اس ضمن میں بھی امام احمد کی عبارت نقل کی ہے کہ اگر ذمی مسلمان پر بہتان لگائے تو اُسے پیٹا جائے ۔ وہ کہتے ہیں کہ گویا بہتان لگانے سے اُن کے نزدیک عہد نہیں ٹوٹتا ۔ حالانکہ بہتان لگانے سے ایک مسلمان کی تذلیل ہوتی ہے اور اس طرح اُسے نقصان پہنچتا ہے۔
امام احمد کے اصحاب میں سے ایک جماعت نے اور اُن کے بعد آنے والوں نے قاضی موصوف کی پیروی کی ہے۔ مثلاً الشریف ابی جعفر ، ابن عقیل، ابوالخطاب اور الحلوانی وغیرہ ہم ۔ وہ کہتے ہیں اس میں کوئی اختلاف نہیں کہ اگر وہ جزیہ ادا کرنے سے انکار کریں ۔ اور مسلم حکومت کے احکام کی پابندی نہ کریں تو اُن کا عہد ٹوٹ جائے گا۔ اس سلسلہ میں انہوں نے تمام ایسے اقوال و افعال کا تذکرہ کیا ہے جس سے مسلمانوں کو انفرادی یا اجتماعی ، جسمانی یا مالی
ضرر لاحق ہوتا ہو۔ یا مسلمانوں کا دینی وقار مجروح ہوتا ہو۔ مثلاً رسول کریم کو گالی دینا اور اس قسم کے دیگر امور و افعال، ان کے بارے میں انہوں نے دو روایتیں ذکر کی ہیں :
- (۱) ایک روایت یہ ہے کہ اس سے اُن کا عہد ٹوٹ جاتا ہے۔
- (۲) دوسری روایت یہ ہے کہ اُن کا عہد نہیں ٹوٹتا ، تاہم انہیں اس کی سزا
دی جائے۔
حالانکہ وہ سب اس بات پر متفق ہیں کہ اس ضمن میں صحیح مذہب یہ ہے کہ ان امور سے اُن کا عہد ٹوٹ جاتا ہے۔
"تاہم قاضی موصوف اور اکثر علماء نے بہتان طرازی کو اُن امور میں شامل نہیں کیا جن سے عہد ٹوٹ جاتا ہے۔ حالانکہ اس کا استخراج اُن کی قذف سے متعلق نص سے کیا گیا ہے۔ باقی رہے ابوالخطاب اور اُن کے متبعین تو انہوں نے قذف کو بھی ان امور میں شامل کر دیا ہے۔ اس طرح قذف سے نقض عہد کے بارے میں انہوں نے دو روایتیں ذکر کی ہیں۔
پھر مذکورہ صدر تمام علماء ربانی اصحاب نے نبی کریم کو گالی دینے کے مسئلہ کو ایک اور جگہ بھی ذکر کیا ہے۔ وہاں انہوں نے اس پر روشنی ڈالی ہے کہ گالی دینے والا اگر ذمی ہو تو بھی اُسے قتل کیا جائے ۔ نیز اس کا عہد بھی اس سے ٹوٹ جائے گا۔ انہوں نے اس ضمن میں امام احمد کی تصریحات کو بلا اختلاف ذکر کیا ہے۔ البتہ الحلوانی کہتے ہیں کہ :۔
" اس امر کا احتمال ہے کہ ذمی کو اللہ اور اُس کے رسول کو گالی دینے کی بنا پر قتل نہ کیا جائے۔ "
قاضی ابوالحسین نے عہد توڑنے والے امور کے بارے میں دوسرا طریقہ اختیار کیا ہے جو اُن کے اس قول سے ہم آہنگ ہے۔ چنانچہ وہ لکھتے ہیں :
"جہاں تک اُن آٹھ امور کا تعلق ہے جن سے مسلمانوں کے
جان و مال کو انفرادی یا اجتماعی ضرر لاحق ہوتا ہے تو دونوں میں سے صحیح تر روایت کے مطابق اُن سے عہد ٹوٹ جاتا ہے۔ باقی رہے وہ امور جن سے دینِ اسلام کی تحقیر و تنقیص ہوتی ہو مثلاً — اللہ ، اُس کی کتاب، اُس کے دین اور رسول کا تذکرہ اس انداز سے کرنا جو اُن کی شایانِ شان نہ ہو تو — اس سے بھی عہد ٹوٹ جاتا ہے۔"
"قاضی ابوالحسین نے اس کی تصریح تو کی ہے مگر اس ضمن میں کسی دوسری روایت کا تذکرہ نہیں کیا، جس طرح ان لوگوں نے دو میں سے ایک جگہ پر کیا ہے۔ یہ طریقہ اُس کی نسبت قریب ہے۔ اور جس روایت کا مفہوم یہ ہے کہ 'اس سے نقضِ عہد نہیں ہوتا' تو یہ اُس صورت میں ہے کہ جب کہ عقدِ عہد کے وقت اس کی شرط نہ لگائی گئی ہو۔ اگر یہ مشروط ہو تو اس میں دو وجوہ ہیں :۔
- (۱) ایک یہ کہ اس سے عہد ٹوٹ جاتا ہے۔ یہ الخرقی کا قول ہے۔ ابوالحسن آمدی کہتے
ہیں کہ یہ اُن تمام معاملات میں صحیح تر ہے جن کو ترک کرنے کی شرط عائد کی گئی ہو۔ ابوالحسن نے عہد ٹوٹ جانے کے بارے میں الخرقی کے قول کو اُن تمام معاملات میں صحیح قرار دیا ہے جن میں وہ مشروط چیز کی مخالفت کریں۔
- (۲) دوسرا قول یہ ہے کہ عہد نہیں ٹوٹتا۔ یہ قول قاضی اور دیگر اہلِ علم کا ہے۔ ابوالحسن
نے اس کی تصریح کی ہے۔ جیسا کہ علماء کی جماعت نے اس صورت میں ذکر کیا ہے جب کہ وہ علانیہ اپنے مذہب پر عمل کریں یا کسی کو نقصان پہنچائے بغیر اپنی شکل و صورت کو تبدیل کر لیں ۔ مثلاً اپنی کتاب کو بلند آواز سے پڑھیں اور مسلمانوں کی سی شکل و صورت اختیار کریں ۔ حالانکہ ان تمام امور کو ترک کرنا بالخصوص اُن پر واجب ہے۔
مگر یہ دونوں وجوہ ضعیف ہیں ۔ ہمارے اصحاب میں سے متقدمین نے جس موقف کو اختیار کیا ہے اور متاخرین نے بھی اُس کی پیروی کی ہے وہ یہ ہے کہ امام احمد کی تصریحات کو علیٰ حالہا رہنے دیا جائے ۔ امام احمدؒ نے متعدد جگہ اس امر کی
تصریح کی ہے کہ اللہ اور اس کے رسول کو گالی دینے سے عہد ٹوٹ جاتا ہے اور ایسے شخص کو قتل کرنا چاہیے۔ اسی طرح جو شخص مسلمانوں کی جاسوسی کرے یا مسلمان عورت کے ساتھ زنا کرے تو اس کا عہد ٹوٹ جاتا ہے اور اسے قتل کرنا واجب ہے۔ الخرقی نے امام احمدؒ سے اُس شخص کے بارے میں اسی طرح نقل کیا ہے جو کسی مسلمان کو قتل کر دے یا رہزنی کرے۔
امام احمدؒ نے متعدد جگہ اس کی تصریح کی ہے کہ جو شخص کسی مسلمان پر بہتان باندھے یا اُس پر جادو کرے تو اس کا عہد نہیں ٹوٹتا۔ واجب امر بھی یہی ہے۔ اس لیے کہ ایک مسئلے کے حکم کو دوسرے پر محمول کرنا ، اور دونوں مسئلوں کو فرق و اختلاف کے باوجود بظاہر استدلالاً ایک بنا دینا ، جب کہ دونوں کے درمیان مستند حدِ فاصل موجود ہو ناروا ہے۔ اور یہاں معاملہ کچھ اسی قسم کا ہے۔ رسول کریم کو گالی دینے سے عہد کے ٹوٹ جانے پر علماء کی ایک جماعت ہماری ہم خیال ہے۔ حالانکہ مذکورہ صدر امور میں سے بعض کے بارے میں وہ ہم سے مختلف رائے رکھتے ہیں۔
امام شافعیؒ کا موقف و مسلک
امام شافعیؒ سے صراحتاً منقول ہے کہ نبی کریم کو گالی دینے سے عہد ٹوٹ جاتا ہے اور ایسے شخص کو قتل کر دینا چاہیے۔ ابن المنذر ، الخطابی اور دیگر علماء نے اُن سے اسی طرح نقل کیا ہے۔ امام شافعیؒ کتاب الاُمّ میں فرماتے ہیں:
" جب حاکم وقت جزیہ کا عہد نامہ لکھنا چاہے تو اس میں یہ شروط کا ذکر کرے۔ عہد نامہ میں تحریر کیا جائے کہ اگر تم میں سے کوئی شخص محمد صلی اللہ علیہ وسلم یا کتاب اللہ یا دینِ اسلام کا تذکرہ نازیبا الفاظ میں کرے گا تو اس سے اللہ تعالیٰ اور تمام مسلمانوں کی ذمہ داری اُٹھ جائے گی۔ جو امان اس کو دی گئی تھی ختم ہو جائے گی اور اُس کا خون اور مال امیر المؤمنین کے لیے اُسی طرح مباح ہو جائے گا جس
اس کے رسول کو گالی دینے سے عہد ٹوٹ جاتا ہے اور ایسے ے۔ اسی طرح جو شخص مسلمانوں کی جاسوسی کرے یا مسلمان کرے تو اس کا عہد ٹوٹ جاتا ہے اور اسے قتل کرنا واجب عنہ سے اُس شخص کے بارے میں اسی طرح نقل کیا ہے جو کسی زنی کرے۔ دیگر اس کی تصریح کی ہے کہ جو شخص کسی مسلمان پر بہتان باندھے تو اس کا عہد نہیں ٹوٹتا۔ واجب امر بھی یہی ہے۔ اس لیے کہ دوسرے پر محمول کرنا ، اور دونوں مسئلوں کو فرق واختلاف مثلاً ایک بنا دینا ، جب کہ دونوں کے درمیان مستند حد ہے۔ اور یہاں معاملہ کچھ اسی قسم کا ہے۔ رسول کریمؐ کو ٹوٹ جانے پر علماء کی ایک جماعت ہماری ہم خیال ہے ۔ اُن میں سے بعض کے بارے میں وہ ہم سے مختلف رائے رکھتے
موقف و مسلک
امام شافعیؒ سے صراحۃً منقول ہے کہ نبی کریمؐ کو گالی دینے سے عہد شخص کو قتل کر دینا چاہیے۔ ابن المنذر، الخطابی اور دیگر طرح نقل کیا ہے۔ امام شافعی کتاب الأم میں فرماتے ہیں: بوقت جزیہ کا عہد نامہ لکھنا چاہے تو اس میں مشروط عہد نامہ میں تحریر کیا جائے کہ اگر تم میں سے کوئی شخص وسلم یا کتاب اللہ یا دین اسلام کا تذکرہ نازیبا گا تو اس سے اللہ تعالیٰ اور تمام مسلمانوں کی ذمہ داری جو امان اس کو دی گئی تھی ختم ہو جائے گی اور اُس کا امیرالمومنین کے لیے اُسی طرح مباح ہو جائے گا جس
طرح حربی کافروں کے اموال اور خون مباح ہیں ۔ نیز یہ کہ اگر اُن میں سے کوئی کسی مسلمان عورت کے ساتھ زنا کرے یا نکاح کے نام پر بدکاری کا مرتکب ہو یا ڈاکہ زنی کرے یا کسی مسلمان کو دین سے برگشتہ کرے یا لڑائی میں کفار کی مدد کرے یا مسلمانوں کی خامیوں سے انہیں مطلع کرے یا کفار کے جاسوسوں کو اپنے یہاں ٹھہرائے، تو اس کا عہد ٹوٹ گیا اور اب اس کا خون و مال مباح ہے ۔ اور اگر کسی مسلمان کے مال اور ناموس میں اس سے کم درجے کے جرم کا مرتکب ہو تو اُسے اس جرم کی سزا دی جائے۔ یہ لازمی شروط ہیں۔ اگر وہ ان پر راضی ہو تو فبہا، ورنہ اس کے ساتھ نہ تو کوئی معاہدہ ہے، نہ جزیہ ۔"
امام شافعیؒ مزید فرماتے ہیں :-
" اگر نقضِ عہد کے لیے ان میں سے کوئی کام کرے اور اسلام لائے تو اسے قتل نہیں کیا جائے گا ۔ بشرطیکہ وہ اپنی زبان سے اسلام کا اقرار کرے۔ اگر فعلاً ایسا کرے تو بھی اسے قتل نہیں کیا جائے گا۔ الاّ یہ کہ دین اسلام میں یہ بات مرقوم ہو کہ ایسا کرنے والے کو حداً یا قصاصاً قتل کیا جائے گا۔ اندریں صورت اُسے حداً یا قصاصاً قتل کیا جائے گا نقضِ عہد کی وجہ سے نہیں۔ اگر مذکورہ صدر امور میں سے کسی امر کا مرتکب ہو اور شرائط کے مطابق اس کا عہد ٹوٹ جائے اور وہ اسلام بھی نہ لائے بلکہ یوں کہے کہ میں توبہ کرتا ہوں اور حسبِ سابق جزیہ ادا کروں گا یا صلح کی تجدید کروں گا ، تو اسے سزا دی جائے ، مگر قتل نہ کیا جائے ۔ اگر مذکورہ صدر افعال و اقوال میں سے کسی کا مرتکب ہو اور شرائط کے مطابق اس سے کم درجہ کا قول و فعل ہو تو اُسے اس کی سزا دی جائے مگر قتل نہ کیا جائے، مگر اس کے باوجود نہ تو وہ اسلام لائے اور نہ جزیہ کا اقرار کرے، تو اسے قتل کیا جائے۔ اور اس کے مال کو فئ سمجھ کر لے لیا جائے ۔"
امام شافعی اپنی کتاب "الام" میں تصریح فرماتے ہیں کہ : "عہد نہ تو رہزنی سے ٹوٹتا ہے ، نہ مسلم کو قتل کرنے اور مسلم عورت کے ساتھ زنا کرنے سے اور نہ جاسوسی کرنے سے ۔ ان میں سے جن احکام پر حد لازم آتی ہے وہاں حد لگائی جائے ورنہ پوری سزا دی جائے جب تک اُس کا قتل واجب نہ ہو اُسے قتل نہ کیا جائے ۔ عہد جزیہ ادا نہ کرنے سے ٹوٹتا ہے یا اقرار کے بعد اس کو عملاً نہ ادا کرنے سے ۔ اگر ذمی کہے کہ میں جزیہ تو ادا کروں گا مگر شرعی احکام کو نہ مانوں گا تو اس کا عہد پھینک دیا جائے گا اس بناء پر اُسے اُسی جگہ قتل نہ کیا جائے۔ اُسے کہا جائے کہ قبل ازیں تجھے جزیہ ادا کرنے اور اس کا اقرار کرنے کی وجہ سے امان دی گئی تھی ۔ ہم نے تجھے مہلت دی تھی کہ تم اسلامی سلطنت کی حدود سے نکل جاؤ۔ پھر جب نکل کر اپنے گھر میں پہنچ جائے تو قابو پانے کی صورت میں اُسے قتل کیا جائے ۔"
امام شافعی کا جو بیان نقل کیا گیا ہے اُس کی بناء پر ضرر بالفعل اور ان امور میں فرق کیا جائے گا جن سے اسلام کی تحقیر و تخفیف لازم آتی ہے ۔ یا یوں کہا جائے گا کہ گالی دینے کی صورت میں ذمی کو قتل کیا جائے گا مگر اس سے اُس کا عہد نہیں ٹوٹے گا ۔ جیسا کہ آگے چل کر بیان کریں گے ۔ ان شاء اللہ تعالیٰ ۔
اصحاب شافعی کے اقوال و آثار
جب ذمی اللہ، اس کی کتاب، اور اس کے رسول کا ذکر بھونڈے انداز سے کرے تو امام شافعی کے اصحاب نے اس میں دو وجوہ ذکر کیے ہیں ۔
- (۱) ایک یہ کہ اس کا عہد ٹوٹ جائے گا، خواہ اس کا ترک اُن کے لیے مشروط ہو یا
نہ ہو۔ بالکل اُسی طرح جس طرح اُن کا عہد اس صورت میں ٹوٹ جاتا ہے جب کہ وہ مسلمانوں کے خلاف نبرد آزما ہوں اور شرعی احکام کی پابندی نہ کریں ۔ ہمارے اصحاب میں سے ابوالحسین اور ابواسحاق مروزی نے اسی طریقہ کو اختیار کیا ہے ۔ بعض کا قول ہے کہ صرف نبی کریم کو گالی دینے سے وہ واجب القتل ہو جاتا ہے ۔
- (۲) دوسرے یہ کہ نبی کریم کو گالی دینے
کا پہلو موجود ہو۔ مثلاً مسلم کو قت کفار کے لیے جاسوسی کرنا اور ان امور میں انہوں نے دو وج
- (ا) ایک وجہ یہ ہے کہ اگر ان ام
ان کا ارتکاب کرنے سے نق
- (ایک یہ کہ عہد ٹوٹ جاتا ہ
- (ب) دوسری وجہ یہ ہے کہ ان ام
ٹوٹتا ۔
ہمارے بعض اصحاب ان وجوہ ک اشارہ کیا جا چکا ہے ۔ اُن کے نزدیک یہ عراقی اصحاب کا طریقہ ہے۔ انہوں ن ٹھہرائی جائے ، اس بات کی شرط نہیں جیسا کہ ہمارے اصحاب نے ذکر کیا ہ
ہمارے خراسانی اصحاب کہتے عائد کی جائے کہ ان کا ارتکاب کرنے اس لیے کہ ان افعال کا ترک تو نفس کہ انہوں نے ان ضرر رساں افعال
- (۱) ایک یہ کہ ان افعال کے ارتکاب
- (۲) دوسرا یہ کہ نہیں ٹوٹے گا ۔
- (۳) تیسرا یہ کہ اگر عقد معاہدہ کے
پنی کتاب ”الام“ میں تصریح فرماتے ہیں کہ : طریقہ سے ٹوٹتا ہے، مسلم کو قتل کرنے اور مسلم عورت کے ساتھ زنا جاسوسی کرنے سے ۔ ان میں سے جن احکام پر حد لازم آتی جائے ۔ ورنہ پوری سزا دی جائے ۔ جب تک اُس کا قتل واجب کیا جائے ۔ عہد جزیہ ادا نہ کرنے سے ٹوٹتا ہے یا اقرار کے بعد کرنے سے ۔ اگر ذمی کہے کہ میں جزیہ تو ادا کروں گا مگر شرعی احکام کا عہد پھینک دیا جائے مگر اس بنا پر اُسے اُسی جگہ قتل نہ کیا گئے کہ قبل ازیں تجھے جزیہ ادا کرنے اور اس کا اقرار کرنے کی وجہ ا۔ ہم نے تجھے مہلت دی تھی کہ تم اسلامی سلطنت کی حدود جب نکل کر اپنے گھر میں پہنچ جائے تو قابو پانے کی صورت کے ۔“
جو بیان نقل کیا گیا ہے اُس کی بنا پر ضرر بالفعل اور ان امور میں ن سے اسلام کی تحقیر و تخفیف لازم آتی ہے۔ یا یوں کہا جائے گا رت میں ذمی کو قتل کیا جائے گا مگر اس سے اُس کا عہد نہیں آگے چل کر بیان کریں گے ۔ ان شاء اللہ تعالیٰ ۔
وی کے اقوال و آثار
جب ذمی اللہ، اس کی کتاب اور اس کے رسول کا ذکر بھونڈے
م شافعیؒ کے اصحاب نے اس میں دو وجوہ ذکر کیے ہیں ۔ کا عہد ٹوٹ جائے گا، خواہ اس کا ترک اُن کے لیے مشروط ہو یا اُسی طرح جس طرح اُن کا عہد اس صورت میں ٹوٹ جاتا ہے مسلمانوں کے خلاف نبرد آزما ہوں اور شرعی احکام کی پابندی ہمارے اصحاب میں سے ابوالحسین اور ابواسحاق مروزی نے ختیار کیا ہے ۔ بعض کا قول ہے کہ صرف نبی کریم کو گالی دینے سے
وہ واجب القتل ہو جاتا ہے ۔
- (۲) دوسرے یہ کہ نبی کریم کو گالی دینا اُن افعال کی مانند ہے جن میں ضرر رسانی
کا پہلو موجود ہو۔ مثلاً مسلم کو قتل کرنا، مسلم عورت کے ساتھ زنا کرنا اور کفار کے لیے جاسوسی کرنا اور دیگر افعال جو قبل ازیں ذکر کیے گئے ہیں ۔
ان امور میں انہوں نے دو وجوہ ذکر کیے ہیں :-
- (i) ایک وجہ یہ ہے کہ اگر ان امور کا ترک کرنا ان کے لیے مشروط نہ ہو تو
ان کا ارتکاب کرنے سے نقض عہد کے لازم آنے میں دو وجوہ ہیں ۔
(ایک یہ کہ عہد ٹوٹ جاتا ہے ۔ اور دوسرا یہ کہ نہیں ٹوٹتا ۔)
- (ii) دوسری وجہ یہ ہے کہ ان امور کا مرتکب ہونے سے عہد مطلقاً نہیں
ٹوٹتا ۔
ہمارے بعض اصحاب ان وجوہ کو اقوال قرار دیتے ہیں، جن کی طرف قبل ازیں اشارہ کیا جا چکا ہے ۔ اُن کے نزدیک ان کو اقوال بھی کہا جاسکتا ہے اور وجوہ بھی ۔
یہ عراقی اصحاب کا طریقہ ہے ۔ انہوں نے تصریح کی ہے کہ ان افعال کو ترک کرنے کی شرط ٹھہرائی جائے، اِس بات کی شرط نہیں کہ ان کو انجام دینے سے عہد ٹوٹ جائے گا۔ جیسا کہ ہمارے اصحاب نے ذکر کیا ہے ۔
ہمارے خراسانی اصحاب کہتے ہیں کہ شرط لگانے سے مراد یہ ہے کہ یہ شرط عائد کی جائے کہ ان کا ارتکاب کرنے سے عہد ٹوٹ جائے گا نہ کہ ان کو ترک کرنیکی شرط
اس لیے کہ ان افعال کا ترک تو نفس معاہدہ سے لازم آجاتا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ انہوں نے ان ضرر رساں افعال میں تین وجوہ ذکر کیے ہیں :-
- (۱) ایک یہ کہ ان افعال کے ارتکاب سے عہد ٹوٹ جائے گا ۔
- (۲) دوسرا یہ کہ نہیں ٹوٹے گا ۔
- (۳) تیسرا یہ کہ اگر عقد معاہدہ کے وقت یہ شرط لگائی گئی ہو کہ ان افعال سے عہد
ٹوٹ جائے گا، تو ٹوٹے گا ورنہ نہیں ۔
- (۳) بعض اصحاب کا قول ہے کہ اگر ان افعال کا ترک مشروط ہو تو اس میں صرف
ایک ہی وجہ ہے اور وہ عہد کا ٹوٹ جانا ہے اور اگر مشروط نہ ہو تو اس میں دو وجوہ ہیں۔ (ایک کے مطابق عہد ٹوٹ جاتا ہے اور دوسرے کے مطابق نہیں) اُن کا خیال ہے کہ عراقی اصحاب کے نزدیک اشتراط کا یہی مفہوم ہے۔ چنانچہ وہ عراقی اصحاب سے نقل کرتے ہیں کہ :
- اگر کسی شرط کا ذکر نہ کیا گیا ہو تو عہد نہیں ٹوٹے گا اور اگر شرط کا ذکر کیا گیا
ہو تو اس میں دو قول ہیں ۔“
اس سے لازم آتا ہے کہ عراقی اصحاب اس بات کے قائل ہیں کہ اگر ان اشیاء سے عہد ٹوٹنے کی شرط نہ لگائی گئی ہو تو عہد نہیں ٹوٹے گا۔ اس صورت میں صرف یہی ایک قول ہے۔ اور اگر ان افعال کو ترک کرنے کی تصریح کی گئی ہو تو عہد ٹوٹ جائے گا۔ مگر یہ بات غلط طور پر اُن کی طرف منسوب کی گئی ہے۔ انہوں نے اپنی کتب خلاف میں جس چیز کی تائید کی ہے وہ یہ ہے کہ نبی کریمؐ کو گالی دینے سے عہد ٹوٹ جاتا ہے اور ایسے شخص کو قتل کرنا واجب ہو جاتا ہے۔ جیسا کہ ہم نے خود امام شافعی رحمہ اللہ سے نقل کیا ہے۔
امام ابو حنیفہؒ کا زاویہ نگاہ
امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ اور اُن کے اصحاب کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو گالی دینے سے نہ تو ذمی کا عہد ٹوٹتا ہے اور نہ اُس کا قتل لازم آتا ہے ۔ مگر علانیہ ایسا کرنے کی وجہ سے اُس پر اسی طرح تعزیر لگائی جائے جس طرح دیگر منکرات کا علانیہ ارتکاب کرنے پر لگائی جاتی ہے۔ مثلاً اپنی مذہبی کتاب کو بآوازِ بلند پڑھنا و مثلِ ایں ۔ طحاوی نے یہ مؤقف الثوری سے نقل کیا ہے ۔ حنفیہ کا اصول یہ ہے کہ جن افعال کے ارتکاب سے فاعل کا قتل لازم نہیں آتا۔ مثلاً بھاری پتھر پھینک کر کسی کو قتل کرنا یا فرج کے سوا کسی اور عضو میں جماع کرنا، اگر ایسے فعل کا
صدور فاعل سے کئی مرتبہ ہو تو حاکم ایسے شخص کو قتل کر سکتا ہے ۔ اسی طرح اگر حاکم اس میں مصلحت دیکھے تو شرعی حد سے زیادہ سزا دے سکتا ہے۔ ایسے جرائم کی سزا میں قتل کی جو روایات رسول کریمؐ اور صحابہ کرامؓ سے منقول ہیں وہ ان کو اسی بات پر محمول کرتے ہیں کہ مصلحت کا تقاضا یہی تھا۔ اس کا نام وہ "سیاسۃ " قتل کرنا رکھتے ہیں ۔ اس کا خلاصہ یہ ہے کہ جن جرائم میں تکرار و اعادہ کی وجہ سے شدت پیدا ہو گئی ہو اُن میں قتل کی سزا دی جاسکتی ہے بنا بریں اکثر حنفیہ نے فتویٰ دیا ہے کہ جو ذمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو گالیاں دے اُسے قتل کیا جائے ۔ اگرچہ گرفتار ہونے کے بعد مسلمان کیوں نہ ہو جائے وہ کہتے ہیں کہ اُسے "سیاسۃ " قتل کیا جائے ۔ یہ بات حنفیہ کے سابق الذکر اصول پر مبنی ہے ۔
گالی دہندہ کے نقض عہد کے دلائل
جب ذمی اللہ اُس کی کتاب اور اس کے رسولؐ کو گالی دے تو اس کا عہد ٹوٹ جاتا ہے اور وہ واجب القتل ہو جاتا ہے۔ اگر کوئی مسلم اس کا مرتکب ہو تو اسے بھی قتل کیا جائے ۔ اس کے دلائل ، کتاب سنت اجماع صحابہ و تابعین اور قیاس میں پائے جاتے ہیں ۔
باب
قرآن کریم کے دلائل
مسئلہ زیر نظر کے دلائل قرآن کریم کے متعدد مقامات سے ماخوذ و مستنبط ہیں :-
پہلی دلیل : قرآن کریم میں فرمایا :-
” جو لوگ اہلِ کتاب میں سے اللہ پر ایمان نہیں لاتے اور نہ روزِ آخرت پر یقین رکھتے ہیں اور نہ اُن چیزوں کو حرام سمجھتے ہیں جو اللہ اور اُس کے رسول نے حرام کی ہیں اور نہ دین حق کو قبول کرتے ہیں۔ اُن سے جنگ کرو یہاں تک کہ ذلیل ہوکر اپنے ہاتھ سے جزیہ دیں۔“
(التوبۃ : ۲۹)
اِس آیتِ کریمہ میں ہمیں اہلِ کتاب سے لڑنے کا حکم دیا گیا۔ یہاں تک کہ وہ ذلیل ہو کر جزیہ ادا کریں۔ اُن کے قتل سے اُس وقت تک رُکنا جائز نہیں جب تک وہ ذلیل و رُسوا ہو کر جزیہ ادا نہ کریں۔ ظاہر ہے کہ جزیہ دینے کی صورت یہ ہے کہ وہ اسے ادا کریں اور اُس کو حکومت کی تحویل میں دیتے وقت وہاں موجود رہیں حتیٰ کہ حاکمِ وقت اس کو اپنے قبضے میں لے لے۔ وہ جب جزیہ دینے کا آغاز کریں گے اور ہم اس پر قابض ہو جائیں گے تو ہم اُن سے کچھ تعرض نہ کریں گے۔ اِس طرح جزیہ کی ادائیگی تکمیل پذیر ہو گی۔ اگر وہ ادائیگی کا التزام نہ کریں یا التزام تو کریں مگر آخر کار ادا کرنے سے انکار کر دیں تو انہیں جزیہ ادا کرنے والا قرار نہیں دیا جائے گا۔ اس لیے کہ ادائیگی کی حقیقت یہاں موجود نہیں۔ اور جب اس پوری مدت میں اُن کا ذلیل رہنا شرط ہے،
قرآن کریم کے دلائل
کے دلائل قرآن کریم کے متعدد مقامات سے ماخوذ و مستنبط ہیں ۔
قرآن کریم میں فرمایا :۔
اہلِ کتاب میں سے اللہ پر ایمان نہیں لاتے اور نہ روزِ ن رکھتے ہیں اور نہ اُن چیزوں کو حرام سمجھتے ہیں جو کے رسول نے حرام کی ہیں اور نہ دینِ حق کو قبول کرتے ہیں۔ لڑو یہاں تک کہ ذلیل ہو کر اپنے ہاتھ سے جزیہ دیں ۔“
(التوبۃ : ۲۹)
میں ہمیں اہلِ کتاب سے لڑنے کا حکم دیا گیا ۔ یہاں تک کہ وہ یں۔ اُن کے قتل سے اُس وقت تک رُکنا جائز نہیں جب ہو کر جزیہ ادا نہ کریں ۔ ظاہر ہے کہ جزیہ دینے کی صورت کریں اور اُس کو حکومت کی تحویل میں دیتے وقت وہاں م وقت اس کو اپنے قبضے میں لے لے۔ وہ جب جزیہ اور ہم اس پر قابض ہو جائیں گے تو ہم اُن سے کچھ س طرح جزیہ کی ادائیگی تکمیل پذیر ہوگی ۔ اگر وہ ادائیگی ام تو کریں مگر آخر کار ادا کرنے سے انکار کر دیں تو انہیں ر نہیں دیا جائے گا ۔ اس لیے کہ ادائیگی کی حقیقت وجب اس پوری مدت میں اُن کا ذلیل رہنا شرط ہے‘
تو ظاہر ہے کہ جو شخص علانیہ ہمارے منہ پر نبی کریمؐ کو گالی دے، برملا ہمارے ربّ کو بُرا بھلا کہے اور ہمارے دین میں طعنہ زنی کا مرتکب ہو تو ایسا شخص ذلیل نہیں ہے۔ اس لیے کہ ”صاغر“ ذلیل اور حقیر کو کہتے ہیں اور جو کام یہ کر رہا ہے ، ایسے آدمی کو مغرور اور متکبر کہتے ہیں۔ بلکہ یوں کہنا چاہئیے کہ یہ شخص ہمیں ذلیل و رُسوا کر رہا ہے۔
اہل لغت کہتے ہیں کہ صغار “ کے معنی ذلّت اور عار کے ہیں۔ عربی محاورہ میں بولتے ہیں صَغُرَ الرَّجُلُ ، يَصغُرُ صَغَراً وصِغَراً “ ذلیل ہونا، رُسوا ہونا۔ ”صاغر“ اس شخص کو کہتے ہیں جو ظلم و زیادتی پر راضی ہو۔ ایک غور و فکر کا عادی انسان سمجھتا ہے کہ اُس امّت کو بُرا بھلا کہنا جو دنیا و آخرت کا شرف و عظمت حاصل کر چکی ہے ۔ ایسے شخص کا کام نہیں جو ذلّت و رسوائی پر راضی ہو۔ یہ ایسی کھلی ہوئی بات ہے جس میں کوئی خفا نہیں۔“
جب اُن سے لڑنا ہم پر واجب ہے تا وقتیکہ وہ ذلیل ہوں اور وہ ذلیل نہیں ہیں تو ہم اُن سے لڑنے کے لیے مامور ہیں اور جن کفار سے بھی ہمیں لڑنے کا حکم دیا گیا ہے جب ہم اُن پر قابو پالیں گے تو انہیں قتل کر دیں گے۔ نیز یہ کہ جب ہم اُن کے خلاف لڑنے کے لیے اس حد تک مامور ہیں تو اس سے کم درجے کا کوئی معاہدہ ہم اُن سے نہیں کریں گے اور اگر کریں گے تو یہ معاہدہ فاسد ہو گا۔ اور وہ بدستور مباح الدم والمال رہیں گے۔ اُن کے بارے میں یہ نہیں کہا جا سکتا کہ وہ سمجھتے ہوں گے کہ ہم نے امن کا معاہدہ کیا ہے ، اس طرح انہیں امان کا شبہ ہو گا۔ اور امان کا شبہ اصلی اور حقیقی امان کی مانند ہے۔ اس لیے کہ جو شخص ایسی بات کرے جس کو کافر امان سمجھتا ہو تو اسے اُس کے حق میں امان تصور کیا جائے گا ۔ اگرچہ مسلم کا ارادہ اسے امان دینے کا نہ ہو۔
اس لیے کہ ہم کہتے ہیں کہ اُن سے یہ امر پوشیدہ نہیں کہ ہم اس بات کو پسند نہیں کرتے ۔ وہ ہمارے زیر سایہ ہوں اور اس کے باوجود ہمارے
نبی اور دین کو گالیاں دیتے رہیں۔ انہیں بخوبی معلوم ہے کہ ہم کسی ذمی کے ساتھ ایسا معاہدہ نہیں کرتے۔ اُن کا یہ دعویٰ کہ وہ یہ سمجھتے ہیں کہ ہم نے انہیں امان دے دی۔ حالانکہ ہم نے یہ شرط عائد کر رکھی ہے کہ وہ ہمارے مطیع ہو کر رہیں اور شرعی احکام اُن پر جاری وساری ہوں — ایک جھوٹا دعویٰ ہے جو قابل التفات نہیں ہے۔ مزید برآں جن لوگوں نے پہلی مرتبہ اُن سے معاہدہ کیا تھا وہ حضرت عمرؓ جیسے صحابہ تھے اور ہمیں معلوم ہے کہ وہ ان سے ایسا معاہدہ نہیں کر سکتے تھے جو کتاب اللہ میں ذکر کردہ احکام کے خلاف ہو۔
آگے چل کر ہم حضرت عمرؓ کے شرائط کا تذکرہ کریں گے اور بتائیں گے کہ اُن میں یہ بات بھی شامل تھی کہ جو شخص برملا ہمارے دین پر طعنہ زنی کرے وہ مباح الدم والمال ہے۔
دوسری دلیل : قرآن کریم میں فرمایا :
"بھلا مشرکوں کے لیے (جنہوں نے عہد توڑ ڈالا) خدا اور اس کے رسول کے نزدیک عہد کیوں کر قائم رہ سکتا ہے۔ ہاں جن لوگوں کے ساتھ تم نے مسجدِ محترم (خانہ کعبہ) کے نزدیک عہد کیا ہے اگر وہ (اپنے عہد پر) قائم رہیں تو تم بھی اپنے قول و قرار پر قائم رہو۔ بے شک خدا پرہیزگاروں کو دوست رکھتا ہے۔ (بھلا اُن سے عہد) کیوں کر پورا کیا جائے جب ان کا یہ حال ہے کہ اگر تم پر غلبہ پالیں تو نہ قرابت کا لحاظ کریں نہ عہد کا۔ یہ منہ سے تو تمہیں خوش کر دیتے ہیں لیکن اُن کے دل ان باتوں کو قبول نہیں کرتے اور اُن میں اکثر نافرمان ہیں"۔
(التوبہ : ۷/۸)
ان آیات میں فرمایا کہ رسولِ کریمؐ نے جن لوگوں سے عہد کیا ہے اُن میں سے کسی کا عہد بھی درست نہیں۔ البتہ اُس قوم کا عہد درست ہے جو اپنے عہد پر قائم ہیں۔ اس سے معلوم ہوا کہ مشرک کے ساتھ عہد اُسی وقت تک قائم رہتا ہے جب تک وہ اپنے معاہدے پر قائم رہے۔ کھلی ہوئی بات ہے کہ جو شخص
برملا ہمارے ربّ اور رسول کو گالیاں دیتا اور دین اسلام کی تنقیص کرتا ہو وہ اپنے معاہدے پر قائم نہیں ہے۔ جس طرح عہد اس وقت ٹوٹ جاتا ہے جب ہم علانیہ حرب و ضرب کا آغاز کریں۔ اگر ہم مومن ہیں تو ان کا یہ طرز عمل ہمارے لیے اس سے زیادہ ناگوار ہے۔ ہم پر واجب ہے کہ اعلاءِ کلمتہ اللہ کے لیے ہم اپنی جان اور مال تک قربان کر دیں اور ہمارے دیار و بلاد میں علانیہ اللہ اور اس کے رسول کو اذیت والا کوئی کام نہ کیا جائے۔ جب وہ ایک معمولی کام میں بھی ثابت قدم نہیں رہ سکتے تو اس سے بڑے کاموں میں مستقل مزاج کیسے رہ سکتے ہیں ؟
مندرجہ ذیل آیت کریمہ اس پر مزید روشنی ڈالتی ہے ۔
كَيْفَ وَ اِنْ يَّظْهَرُوْا عَلَيْكُمْ بھلا ان سے عہد کیوں کر پورا کیا جائے لَا يَرْقُبُوْا فِيْكُمْ اِلًّا وَّ لَا جب ان کا یہ حال ہے کہ اگر تم پر ذِمَّةً ط غلبہ پالیں تو نہ قرابت کا لحاظ کریں (التوبہ : ۸) نہ عہد کا ۔
مطلب یہ ہے کہ ان کے ساتھ معاہدہ کیوں کر ہو سکتا ہے ، جب کہ صورتحال یہ ہے کہ اگر وہ تم پر غلبہ پالیں تو نہ قرابت داری کا لحاظ کریں گے اور نہ اُس عہد کا جو تمہارے اور ان کے درمیان ہے ۔ پس معلوم ہوا کہ جس کا یہ حال ہو اور جو علانیہ ہمارے دین کو ہدف طعن بناتا ہو تو یہ اس امر کی دلیل ہے کہ وہ کسی چیز کی پرواہ نہ کرے گا، خواہ وہ قرابت داری ہو یا پاس عہد ۔ جب عہد نامہ کی موجودگی اور ذلت کے باوجود وہ یہ کام کر سکتا ہے تو غلبہ و قدرت کی صورت میں وہ کیا کچھ نہ کر گزرے گا ۔ برخلاف اس شخص کے جس نے ہمارے ساتھ ایسی گفتگو نہیں کی ، عین ممکن ہے کہ وہ اپنے عہد کو غلبے کی صورت میں بھی پورا کرے ۔ اگرچہ یہ آیت ان لوگوں کے بارے میں وارد ہوئی ہے جو مسلمانوں کے ساتھ مصالحت کر کے اپنے علاقہ میں مقیم ہوں ۔ تاہم یہ اُن اہلِ ذمہ پر بھی بطریقِ اولیٰ صادق آتی ہے جو ہمارے ساتھ دارالاسلام میں رہتے ہوں ۔
تیسری دلیل : قرآن کریم میں فرمایا : اور اگر عہد کرنے کے بعد اپنی وَإِن نَّكَثُوا أَيْمَانَهُم مِّن قسموں کو توڑ ڈالیں اور تمہارے بَعْدِ عَهْدِهِمْ وَطَعَنُوا دین میں طعنے کرنے لگیں تو اُن کفر فِي دِينِكُمْ فَقَاتِلُوا أَئِمَّةَ کے پیشواؤں سے جنگ کرو۔ الْكُفْرِ - (التوبہ : ۱۲)
یہ آیت بوجوہ موضوع زیر بحث پر دلالت کرتی ہے :
وجہ اوّل : پہلی وجہ یہ ہے کہ محض قسم کا توڑنا ہی جنگ و قتال کا مقتضی ہے ۔ طعن فی الدین کا تذکرہ جداگانہ طور پر اس لیے کیا کہ یہ اُن قومی اسباب میں سے ایک ہے جو جنگ کے موجب اور محرک ثابت ہوتے ہیں ۔ اسی لیے دین کو ہدف طعن بنانے والوں کو اس قدر سخت سزا دی جاتی ہے جو دوسرے مجرموں کو نہیں دی جاتی ۔ جیسا کہ ہم آگے چل کر اس پر روشنی ڈالیں گے ۔
یہ بھی ہو سکتا ہے کہ اس کا تذکرہ یہاں مزید توبیخ اور سبب قتال کو بیان کرنے کے لیے کیا گیا ہو ۔ عین ممکن ہے کہ دین کو ہدف طعن بنانا ہی جنگ کا موجب ہو اور مقصد یہ ہو کہ دین کا کلمہ بلند ہو ۔ باقی رہا قسم کو توڑنا تو اس ضمن میں اظہار غیرت و حمیت اور شجاعت و دنیا داری کے لیے بھی لڑا جا سکتا ہے یا طعن فی الدین کا ذکر اس لیے کیا گیا کہ اس آیت میں جنگ و قتال کا موجب وہی ہے ۔ اس کی دلیل ”فَقَاتِلُوا أَئِمَّةَ الْكُفْرِ“ (کفر کے پیشواؤں کو قتل کرو) کے الفاظ ہیں ۔
نیز یہ آیت کریمہ :۔
” بھلا تم ایسے لوگوں سے کیوں نہ لڑو جنہوں نے اپنی قسموں کو توڑ ڈالا اور پیغمبر خدا کے جلاوطن کرنے کا پختہ عزم کر لیا اور انہوں نے تم سے (عہد شکنی کی) ابتدا کی ۔ کیا تم ایسے لوگوں سے ڈرتے ہو ۔ حالانکہ ڈرنے کے لائق تو خدا ہے بشرطیکہ تم ایمان رکھتے ہو ۔ ان سے خوب لڑو خدا ان کو تمہارے ہاتھوں سے عذاب میں ڈالے گا“ ۔ (التوبہ : ۱۳/۱۴)
یہ آیت اس حقیقت کی آئینہ داری کرتی ہے کہ جس شخص نے صرف نقض قسم کا ارتکاب کیا ہو اس سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ ایمان لے آئے گا۔ اور اس کے ساتھ معاہدہ بھی کیا جائے گا مگر دین کو طعن بنانے کے خلاف حرب و قتال ضروری ہے۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا طریق کار یہی تھا۔ آپ اللہ اور رسول کو ایذا دینے والے اور دین کو ہدف طعن بنانے والوں کے خون کو مباح ٹھہرا دیتے تھے مگر دوسروں کو قتل کرنے سے احتراز کرتے تھے۔ جب نقض عہد تنہا قتال کا موجب ہو اور طعن فی الدین اس میں نہ ہو تو سمجھا جائے گا کہ طعن کے سوا یہاں کوئی اور سبب بھی موجود ہے۔ یا کوئی ایسا سبب موجود ہے، جو نقض عہد کو مستلزم ہے۔
یہ امر ناگزیر ہے کہ کوئی ایسا سبب ضرور ہو جو وجوب قتال میں مؤثر ہو ورنہ اس کے ذکر کرنے کا کچھ فائدہ نہیں۔
اگر معترض کہے کہ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ جو شخص عہد شکنی اور طعن فی الدین دونوں کا مرتکب ہو تو اس سے لڑنا واجب ہے۔ مگر جو شخص صرف طعن فی الدین کا ارتکاب کرے آیت اس کے بارے میں خاموش ہے۔ آیت سے صاف واضح ہوتا ہے کہ محض طعن فی الدین کرنے والے کے خلاف جنگ واجب نہیں۔ اس لیے کہ جو حکم دو صفات سے معلق ہو ایک صفت کی موجودگی میں اس کا حکم واجب نہیں ہے۔
ہم اس کے جواب میں کہیں گے کہ ہر صفت وجود حکم کے لیے مؤثر ہوتی ہے۔ اگر مؤثر نہ ہو تو حکم کو اس کے ساتھ معلق کرنا درست نہیں۔ مثلاً ایک شخص کہے کہ ”جو شخص زنا کرے اور کھائے تو اس کو کوڑے مارے جائیں“ (اس میں کوڑے مارنے کا حکم زنا کرنے اور کھانے دونوں کے ساتھ معلق ہے) مگر بعض دفعہ ایسا بھی ہوتا ہے کہ ہر صفت جدا گانہ طور پر بھی تاثیر میں مستقل ہوتی ہے۔ مثلاً کہا جائے کہ ”فلاں شخص کو قتل کیا جائے اس لیے کہ وہ مرتد زانی ہے“۔ بعض اوقات مجموعی طور پر جزا مجموعے پر مرتب ہوتی ہے اور ہر وصف بذاتہ مؤثر ہوتا ہے
مثلاً یہ آیت کریمہ :-
مَعَ اللَّهِ إِلَهًا آخَرَ " دوسرے معبود کو نہیں پکارتے
(الفرقان : ۶۸)
گاہے ایسا بھی ہوتا ہے کہ یہ صفات باہم ایک دوسری کو مستلزم ہوتی ہیں کہ اگر اسے تنہا فرض کیا جائے تو برسبیل تذکرہ استدلال یا اشتراک مؤثر ثابت ہو۔ مگر مزید وضاحت وصراحت کے لیے اسے الگ ذکر کیا جاتا ہے۔ مثلاً کہا جاتا ہے کہ ” انہوں نے اللہ اور رسول کے ساتھ کفر کیا ، اور اس نے اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کی “ کبھی ایسا ہوتا ہے کہ ایک صفت دوسری کو مستلزم ہوتی ہے مگر اس کا عکس نہیں ۔ مثلاً قرآن میں فرمایا :
بِآيَاتِ اللَّهِ وَيَقْتُلُونَ کا انکار کرتے ہیں اور نبیوں کو
النَّبِيِّينَ بِغَيْرِ حَقٍّ - ناحق قتل کرتے ہیں ۔
(آل عمران : ۲۱)
اس آیت کو کسی قسم سے بھی فرض کر لیا جائے یہ اپنے مفہوم پر دلالت کرتی ہے ۔ اس لیے کہ جو بات زیادہ سے زیادہ کہی جاسکتی ہے وہ یہ ہے کہ نقض عہد قتال کو مباح کرنے والا ہے اور طعن فی الدین اس کا مؤکد اور موجب ہے ۔ لہٰذا ہم کہتے ہیں کہ جب طعن فی الدین اُن لوگوں کے ساتھ جنگ میں شدّت پیدا کر دیتا ہے ۔ جن کے ساتھ ہم نے معاہدہ نہیں کیا ہوتا ، تو جن کے ساتھ ہمارا معاہدہ ہے اگر ان کے ساتھ قتال کو واجب کردے اور وہ ذمّت کا التزام بھی کیے ہو تو یہ عین قرینِ قیاس ہے اس کی وضاحت آگے آرہی ہے۔
علاوہ بریں معاہد اپنے ملک میں اپنے مذہبی امور کا اظہار کر سکتا ہے جن سے ہمیں کچھ نقصان نہیں پہنچتا ۔ بخلاف ازیں ذمی کو یہ حق حاصل نہیں کہ دارالاسلام
میں اپنے باطل مذہب کا اظہار کرے۔ اگرچہ اُس سے ہمیں کچھ نقصان نہ پہنچتا ہو اس اعتبار سے اس کا حال مزید شدّت کا حامل ہے۔ اور اہلِ مکہ جن کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی معاہد تھے ذمّی نہ تھے۔ اگر فرض کر لیا جائے کہ محض ان کے طعن فی الدین سے عہد نہیں ٹوٹتا تو ذمّی کے لیے یہ جائز نہ ہوگا۔
وجہ ثانی : ایک ذمّی شخص اگر اللہ یا رسول کو گالی دے یا علانیہ اسلام میں عیب نکالے تو اس نے طعن فی الدین کا ارتکاب کرکے اپنی قسم کو توڑ دیا۔ اس لیے بلاخوف و نزاع اسے سزا دی جائے گی اور اس کی تادیب کی جائے گی۔ پس معلوم ہوا کہ وہ معاہد نہیں ہے۔ اس لیے کہ عہد کرکے وہ ایسا کام کرے تو اسے سزا نہیں دی جاسکتی۔ جب ہم اس سے معاہدہ کر چکے ہیں کہ وہ ہمارے دین پر نقد و جرح نہیں کرے گا مگر اس کے باوجود وہ طعن کرتا ہے تو اس نے اپنے عہد کو توڑ دیا۔ اس لیے نصِّ قرآنی کے مطابق اسے قتل کیا جائے گا۔ اور یہ نہایت قوی اور خوبصورت استدلال ہے۔ اس لیے کہ فریقِ مخالف اس امر کا اعتراف کرتا ہے کہ ہمارے ساتھ معاہدہ کرنے کی وجہ سے وہ اس کا مجاز نہ تھا۔ مگر ہم کہتے ہیں کہ ہر اُس چیز کا اظہار جس سے کسی کو روکا گیا ہے نقضِ عہد نہیں ہے۔ مثلاً شراب ، خنزیر اور اس قسم کی چیزوں کا اظہار ۔ پس ہم کہتے ہیں کہ اس سے دو ایسے افعال کا صدور ہوا ہے جس سے عہد مانع تھا۔ علاوہ بریں اس نے طعن فی الدین کا ارتکاب بھی کیا۔ بخلاف ان لوگوں کے کہ ان سے صرف ایسے فعل کا صدور ہوا جو بوجہ عہد ان کے لیے ممنوع تھا اور قرآن ایسے شخص کے قتل کو واجب ٹھہراتا ہے جو عہد باندھ کر اس کو توڑے اور دین کو ہدفِ طعن بنائے۔
یوں کہنا ممکن نہیں کہ اس نے نقضِ عہد کا ارتکاب نہیں کیا۔ اس لیے کہ وہ عہد کی خلاف ورزی کا مرتکب تو ہوا ہے۔ اور جب بھی وہ کوئی ایسا کام کریں جس سے مصالحت مانع ہے تو اسی کو ”نکث“ (نقضِ عہد) کہا جانا چاہیے۔ یہ عربی محاورہ ” نَكَثَ الْحَبْلَ “ سے ماخوذ ہے، جس کے معنی یہ ہیں کہ رسّی کو
اجزاء کو الگ الگ کر دیا جائے۔ اور ”نکث الحبل“ اس طرح بھی وجود پذیر ہوتا ہے کہ اس کے ایک جزو کو الگ کر دیا جائے، اور اس صورت میں بھی جب کہ اس کے تمام ریشوں کو جُدا کر دیا جائے۔ تاہم ایک تار کے الگ ہونے سے رسّی کی قوت قدرے باقی رہتی ہے۔ اور بعض اوقات رسّی بالکل ہی کمزور پڑ جاتی ہے۔
معاہد کی مخالفت بعض اوقات عہد کو کلّیۃً ختم کر کے اس کو حربی بنا دیتی ہے اس کا عہد ٹوٹ جاتا ہے اور بنا بریں اسے سزا بھی دی جا سکتی ہے۔ جس طرح بیع اور نکاح کے بعض شروط بعض اوقات بیع کو کلّیۃً ختم کر دیتے ہیں۔ مثلاً بائع نے گھوڑا کہہ کر فروخت کیا مگر وہ اونٹ نکلا۔ اور بعض اوقات اس سے بیع کو فسخ کرنا مباح ہو جاتا ہے۔ مثلاً رہن اور ضمانت میں خلل اندازی۔ یہ اُن اہلِ علم کے نزدیک ہے جو عہد کی مخالفت میں فرق و امتیاز کے قائل ہیں۔ مگر جو لوگ کہتے ہیں کہ ہر قسم کی مخالفت سے عہد ٹوٹ جاتا ہے تو اُن کے نزدیک معاملہ واضح ہے۔ بہر کیف دونوں صورتوں میں عقدِ عہد اس امر کا مقتضی ہے کہ وہ ہمارے دین پر نقد و جرح نہ کریں اور اگر انہوں نے ایسا کیا تو ان کا معاہدہ ٹوٹ گیا۔ بنا بریں لفظاً و معناً وہ آیت کے عموم میں داخل ہوں گے اور ایسا عموم نص کے درجہ تک پہنچ جاتا ہے۔
وجہ ثالث : تیسری وجہ یہ ہے کہ طعن فی الدین کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے اُن کو ائمّۃ الکفر کہا ہے اور ضمیر کی جگہ اسمِ ظاہر استعمال کیا ہے۔ ائمّۃ الکفر سے یا تو وہ لوگ مراد ہیں جنہوں نے اپنا عہد توڑا یا دینِ اسلام کو ہدفِ طعن بنایا یا اُن میں سے بعض مراد ہیں۔ مگر ان میں سے بعض مراد لینا اس لیے درست نہیں کہ جو فعل جنگ کا موجب ہوا ہے وہ سب سے صادر ہوا ہے۔ اس لیے کہ بعض کو سزا کے لیے مخصوص کرنا جائز نہیں۔ اس لیے کہ علّت کا سب میں پایا جانا ضروری ہے۔ الّا یہ کہ کوئی مانعِ شرعی موجود ہو۔ مگر یہاں کوئی مانع نہیں ہے۔
اللہ نے دوسری علّت یہ بتائی ہے کہ ان کی قسموں کا کوئی اعتبار نہیں۔ اور
یہ علت سب عہد توڑنے والوں اور طعن فی الدین کا ارتکاب کرنے والوں میں پائی جاتی ہے۔ نیز یہ کہ ”نکث“ (عہد شکنی) اور طعن فی الدین ایک وصف مشتق ہے۔ جو وجوب قتال کا مناسب ہے اور یہاں جزاء کو شرط پر حرف الفاء کے ساتھ مرتب کیا گیا ہے۔ یہ اس بات پر نص ہے کہ یہ فعل سزا کا موجب ہے۔ پس ثابت ہوا کہ اللہ تعالیٰ کی مراد وہ سب لوگ ہیں، اور اس لیے وہ سب ”ائمۃ الکفر“ ہیں۔ اور کفر کا امام وہ ہوتا ہے جو کفر کا داعی ہو اور اس ضمن میں اُس کی پیروی کی جاتی ہو۔ دین میں طعن زنی کی وجہ سے وہ کفر کا امام بنا۔ ورنہ محض عہد شکنی قتال کا موجب نہیں بن سکتی۔ اور یہ بات مناسب بھی ہے۔ طعن فی الدین کا مطلب یہ ہے کہ اس میں عیوب و نقائص نکالے جائیں اور اس کی مخالفت کی طرف لوگوں کو دعوت دی جائے۔ اور امام کا یہی کام ہے۔ پس ثابت ہوا کہ ہر وہ شخص جو دین پر طعنہ زنی کرتا ہے وہ کفر کا امام ہے اور اس آیت کے پیش نظر اُس سے لڑنا واجب ہے۔
اس کی قسم پر بھروسہ کرنا جائز نہیں۔ اس لیے کہ اس نے ہمارے ساتھ اس بات کا معاہدہ کیا تھا کہ دین اسلام میں کیڑے نہیں نکالے گا، مگر اس نے اس کی خلاف ورزی کی۔ قسم سے یہاں عہد مراد ہے اللہ کی قسم کھانا مراد نہیں، جیسا کہ مفسرین نے ذکر کیا ہے۔ مفسرین کی یہ بات درست ہے، اس لیے کہ صلح حدیبیہ کے روز نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کفار کو اللہ کی قسم نہیں دی تھی بلکہ اُن کے ساتھ ایک معاہدہ کیا تھا۔ اُس عہد نامے کا نسخہ معروف ہے اُس میں قسم کا کوئی ذکر نہیں ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ قسم کو ”یمین“ اسی لیے کہا جاتا ہے۔ اس لیے کہ معاہدہ کرنے والے اپنا دایاں ہاتھ دوسرے کی طرف بڑھاتے ہیں۔ پھر اس لفظ کا اس قدر غلبہ ہوا کہ عہد کے بارے میں گفتگو کرنے کو یمین کہا جانے لگا۔ یعنی اہل علم کہتے ہیں کہ یمین کے معنی قوت اور شدت کے ہیں۔ قرآن کریم میں فرمایا
لَاَخَذْنَا مِنْهُ بِالْيَمِيْنِ ہم اسے زور سے پکڑ لیتے
(الحاقة : ۴۵)
چونکہ حلف (قسم) کے وقت ایک مضبوط عہد نامہ باندھا جاتا ہے اس لیے اسے یمین کہا جاتا ہے۔ اس لیے یمین کا لفظ جامع ہے۔ اور اس عہد پر بولا جاتا ہے جو بندے اور ربّ کے درمیان قرار پاتا ہے۔ رسولِ کریم کی مندرجہ ذیل حدیث کا مطلب یہی ہے۔
" النَّذْرُ حَلْفَةٌ " (نذر حلف کا نام ہے) ایک اور حدیث میں ہے کہ " كَفَّارَةُ النَّذْرِ كَفَّارَةُ الْيَمِيْنِ " (نذر کا کفارہ وہی ہے جو قسم کا ہے) جو شخص خفا اور غضب کی وجہ سے نذر مانتا تو صحابہ اسے کہتے " كَفِّرْ يَمِيْنَكَ " (اپنی قسم کا کفارہ ادا کرو) جو عہد لوگ آپس میں کرتے ہیں اس کو بھی یمین کہا جاتا ہے قرآن میں فرمایا : وَلَا تَنْقُضُوا الْاَيْمَانَ بَعْدَ قسموں کو پختہ کرنے کے بعد اُن کو تَوْكِيْدِهَا - (سورة النحل: ٩١) مت توڑو۔ نقض عہد کی ممانعت کو یمین کہتے ہیں۔ اگرچہ اس میں قسم نہیں ہوتی۔ قرآن میں فرمایا: وَمَنْ اَوْفٰى بِمَا عَاهَدَ اور جس نے اللہ کے ساتھ عہد عَلَيْهُ اللّٰهَ (الفتح : ١٠) باندھ کر اسے پورا کیا۔ عہد کے لفظ میں قسم نہیں ہے۔ قرآن کریم میں ہے : بَايَعْنَاكَ عَلٰى اَنْ لَّا نَفِرَّ ہم نے آپ کی بیعت کی ہے کہ ہم (جنگ سے) نہیں بھاگیں گے۔
تاہم اُن کا نام معاہدہ رکھا گیا ہے۔ قرآن میں فرمایا : وَاتَّقُوا اللّٰهَ الَّذِيْ تَسَآءَ اور خدا سے جس کے نام کو تم اپنی حاجت برآری لُوْنَ بِهٖ وَالْاَرْحَامَ کا ذریعہ بناتے ہو ڈرو اور (قطع محبت) (النساء : ١) ارحام سے (بچو)
علماء کہتے ہیں اس آیت کے معنی یہ ہیں کہ عہد باندھنے اور معاہدہ کرتے ہیں۔ اس لیے کہ معاہدین میں سے ہر ایک نے اللہ کی امانت، کفالت اور شہادت کے ساتھ عہد باندھا ہے۔ پس ثابت ہوا کہ جو شخص بھی ہم سے عہد باندھنے کے بعد دینِ اسلام کو ہدف طعن بناتا ہے اسے اس سے احتراز کرنا چاہیے۔ لہٰذا وہ کفر کا امام ہے اور اس کی قسم کا کوئی اعتبار نہیں، اس لیے اس کو قتل کرنا واجب ہے۔ اسی طرح کفر کے امام اور غیر امام میں جو فرق واختلاف ہے وہ واضح ہو جاتا ہے۔ غیر امام وہ ہے جو کسی بات پر مصالحت کر کے اس کی خلاف ورزی کرے مگر طعن فی الدین کا مرتکب نہ ہو۔
رسولؐ کو گالی دینے سے ذمّی کا عہد ٹوٹ جاتا ہے ۔
وجہ رابعہ : چوتھی وجہ یہ ہے کہ نبی کریمؐ کو گالی دینے سے ذمّی کا عہد ٹوٹ جاتا ہے قرآن میں فرمایا :
" بھلا تم ایسے لوگوں سے کیوں نہ لڑو جنہوں نے اپنی قسموں کو توڑ ڈالا۔ اور پیغمبر خدا کے جلاوطن کرنے کا عزم مصمم کر لیا۔ اور انہوں نے تم سے (عہد شکنی کی) ابتدا کی ۔"
(التوبۃ : ۱۳)
اس آیت میں کفار کے رسول کریمؐ کو جلاوطن کرنے کے ارادے کو اُن کے ساتھ جنگ کا محرک اور موجب قرار دیا ہے۔ اس لیے کہ اس سے رسول کریمؐ کو تکلیف پہنچتی ہے۔ مگر آپؐ کو گالی دینا جلاوطن کرنے کے ارادے سے بھی زیادہ شدید ہے۔ اس کی دلیل یہ ہے کہ جن لوگوں نے آپؐ کو جلاوطن کرنے کا ارادہ کیا تھا فتح مکہ کے روز اُن کو رسول کریمؐ نے معاف کر دیا تھا، مگر گالی دینے والوں کو معاف نہیں کیا تھا۔
بنابریں ذمّی جب رسول کریمؐ کو گالی دے گا تو اپنے عہد کو توڑ دے گا اور ایسے فعل کا مرتکب ہوگا جو رسولِ کریمؐ کو جلاوطن کرنے کے ارادے سے بھی عظیم تر ہے۔ اور چونکہ اس نے ایذا رسانی کی طرح ڈالی ہے، لہٰذا اس سے لڑنا واجب ہے۔
وجہ خامس : پانچویں وجہ مندرجہ ذیل آیت میں بیان کی گئی ہے :
" اُن سے خوب لڑو خدا اُن کو تمہارے ہاتھوں سے عذاب میں ڈالے گا اور رُسوا کرے گا اور تم کو اُن پر غلبہ دے گا اور مومن لوگوں کے سینوں کو شفا بخشے گا اور اُن کے دلوں سے غصّہ دور کرے گا اور جس پر چاہے گا رحمت کرے گا اور خدا سب کچھ جانتا اور حکمت والا ہے "
(التوبۃ : ۱۴ / ۱۵)
عہد شکنی کرنے والوں سے لڑنا واجب ہے ۔
مذکورہ صدر آیت کریمہ میں عہد شکنی کرنے والوں اور دین کو ہدف طعن بنانے والوں سے جنگ کرنے کا حکم دیا اور ہمیں یقین دلایا کہ اگر ہم اس طرح کریں گے تو وہ ہمارے ہاتھوں انہیں عذاب دے گا ، انہیں رسوا کرے گا ، اُن کے خلاف ہمیں مدد دے گا اور مومنین کے سینوں کو شفا دے گا جو کفار کے نقضِ عہد اور طعن کی وجہ سے زخم خوردہ ہوچکے ہیں۔ اس طرح اُن کے دل میں جو غصّہ ہے وہ دُور ہو جائے گا۔ اس لیے کہ اس کو ہمارے جنگ کرنے پر اس طرح مرتب کیا گیا ہے جس طرح جزا شرط پر مترتب ہوتی ہے۔ عبارت کا مفہوم یہ ہے کہ اگر تم اُن سے لڑو گے تو یہ سب کچھ ہوکر رہے گا۔ پس معلوم ہوا کہ عہد شکنی کرنے والا ان سب باتوں کا مستحق ہوتا ہے ورنہ کفار کبھی ہم پر غالب ہوتے ہیں اور کبھی ہم اُن پر غلبہ حاصل کرتے ہیں۔ اگرچہ انجام کار کامیابی متقی لوگوں کے حصّہ میں آتی ہے ۔ حدیث میں جو کچھ آیا ہے، یہ آیت اس کی تصدیق کرتی ہے۔ حدیث میں فرمایا :
" جو قوم بھی عہد شکنی کرتی ہے دشمن اُس پر غالب آجاتا ہے "
ہمارے ہاتھوں عذاب دینے سے مراد قتل ہے۔ لہٰذا عہد شکنی کرنے والا اور طعن فی الدین کا ارتکاب کرنے والا قتل کا مستحق ہے۔ اور ظاہر ہے کہ رسولِ کریمؐ کو گالی دینے والا اپنے عہد کو توڑ دیتا ہے۔ جیسا کہ پیچھے گزرا۔ اس لیے وہ قتل
کیے جانے کا مستحق ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے مذکورہ صدر آیات میں کفار پر غلبے کا ذکر کیا اور فرمایا کہ اس کے بعد وہ جس کی طرف چاہے اپنی رحمت کے ساتھ لوٹ آئے ۔ اس لیے کہ یہاں زیر بحث وہ فریق ہے جو اس سے باز رہتا ہے مگر جو شخص قتل کا مستحق ہوچکا ہے اس کے بارے میں کوئی تقسیم نہیں ۔ تاکہ اُس کے بارے میں کہا جاسکے کہ " اللہ اُسے عذاب دے گا اور اس کے بعد وہ جس کی طرف چاہے گا لوٹ آئے گا ۔"
یہاں یہ احتمال بھی موجود ہے کہ "مَنْ يَّشَاءُ" کا تعلق اُس شخص کے ساتھ ہو جو بذاتِ خود طعن نہ کرے بلکہ طعن کرنے والے کی تائید کرے ۔ اُس گروہ کو اس لیے طعن دینے والا کہا گیا ہے ۔ اور جب اُن کو جانچا پرکھا جائے گا تو کچھ لوگ خود طعن دینے والے ہوں گے اور بعض نہیں ۔ اور تائب ہونے والے کی طرف رجوع کرنے سے یہ لازم نہیں آتا کہ اصل طاعن کی طرف بھی رجوع کیا گیا ہے ۔ کیا آپ کو معلوم نہیں کہ فتح مکہ کے سال آپؐ نے لوگوں کو مباح الدّم قرار دیا تھا جنہوں نے بذاتِ خود آپؐ کی ہجو کا ارتکاب کیا ۔ مگر اُن کو مباح الدّم نہ ٹھہرایا جنہوں نے اس ہجو کو سنا تھا ۔ اسی طرح بنو بکر کے خون کو مباح قرار دیا اور اُن کے خون کو مباح نہ ٹھہرایا جنہوں نے اُن کو اسلحہ عاریۃً دیا تھا ۔
وجہ سادس : چھٹی وجہ اس آیت کریمہ میں زیر بحث آئی ہے ۔
وَيَشْفِ صُدُوْرَ قَوْمٍ مومنین کے سینوں کو شفا دے گا مُّؤْمِنِيْنَ وَيُذْهِبْ غَيْظَ اور اُن کے دل کے غصّہ کو دُور قُلُوْبِهِمْ - (التوبۃ : ۱۴/۱۵) کردے گا ۔
یہ آیت اس امر کی دلیل ہے کہ سینوں کو نقض عہد اور طعن سے شفا دینا اور اس غصّے کو دُور کرنا جو اہل ایمان کے دلوں میں اس کی وجہ سے پیدا ہو گیا ہے شارع کا اصلی مقصود و مطلوب ہے ۔ اور یہ اس صورت میں حاصل ہوتا ہے جب اہل ایمان جہاد کریں ۔ جیسا کہ حدیثِ مرفوع میں آیا ہے کہ :
" جہاد کا دامن تھامے رکھو اس لیے کہ یہ اللہ کے دروازوں میں سے ایک دروازہ ہے۔ اس کے ذریعے اللہ دل سے غم وحزن کو دور کرتا ہے۔ "
اس میں شبہ نہیں کہ جو ذمی رسول کریم کو گالی دیتا ہے تو وہ اہل ایمان کو ناراض کرتا اور انہیں ایسا دکھ پہنچاتا ہے جو ان کا خون بہانے اور ان کا مال لینے سے بھی زیادہ المناک ہے۔
اس لیے کہ رسولؐ کو گالی دینے سے اللہ اور اُس کے رسولؐ کے لیے غضب و حمیت کے جذبات بیدار ہوتے ہیں اور اس سے بڑا غیظ وغضب مومن کے دل میں کسی اور چیز سے نہیں بھڑکتا۔ بلکہ صراط مستقیم پر چلنے والا مومن صرف اللہ کے لیے ہی اس قدر غضب ناک ہو سکتا ہے۔ شارع چاہتا ہے کہ اہل ایمان کے سینہ کو شفا حاصل ہو اور اس کا غم و غصہ دور ہو جائے۔ اور یہ مقصد صرف گالی دینے والے کو قتل کرنے سے حاصل ہوتا ہے۔ اس کے حسب ذیل وجوہ ہیں :
پہلی وجہ : اس کی پہلی وجہ یہ ہے کہ اگر کافر کسی مسلم کو گالی دے تو اس کی تعزیر و تادیب سے مسلمان کا غصہ دور ہو جاتا ہے۔ اگر وہ رسول کریم کو گالی دے اور اس کی تعزیر و تادیب سے مسلمان کا غصہ رفع ہو جائے تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ رسولؐ کو گالی دینے سے ایک مومن کو اتنا ہی غصہ آیا جو ایک مومن کو گالی دینے سے آتا ہے اور یہ باطل ہے۔
دوسری وجہ : کافر کو گالی دینے سے اسے اس قدر غصہ آتا ہے کہ اس کا مال لینے سے اتنا غصہ نہیں آتا۔ اگر ایک شخص کسی کافر کو قتل کر دے تو ان کا غصہ تبھی دور ہو گا اگر قاتل کو قتل کیا جائے۔ اسی طرح ایک مسلم کا غصہ تبھی دور ہو گا جب رسول کریم کو گالی دینے والے کو قتل کیا جائے۔ یہی وجہ اولیٰ و افضل ہے۔
تیسری وجہ : اللہ تعالیٰ نے کفار سے جنگ کرنے کو وجہ شفا قرار دیا ہے۔
اور کسی وجہ سے شفا کا حصول ناممکن ہے۔ لہٰذا واجب ٹھہرا کہ اہلِ ایمان کے سینوں کو شفا دینے کے لیے قتل و قتال کے سوا دوسری کسی چیز کو اختیار نہ کیا جائے۔
چوتھی وجہ : جب مکہ فتح ہوا تو رسولِ کریم نے بنو خزاعہ کے اہلِ ایمان کے سینوں کو بنو بکر سے شفا دینا چاہی جو اُن سے لڑے تھے۔ چناںچہ عین دوپہر کے وقت اُن کو یہ اختیار دیا۔ جب کہ دیگر تمام لوگوں کو آپؐ نے امان دے دی تھی۔ اگر بنو بکر کو قتل کیے بغیر بنو خزاعہ کا غصّہ دُور ہو سکتا اور اُن کے سینوں کو شفا مل سکتی تو آپؐ اُن کو قتل نہ کرتے۔ جب کہ آپؐ نے دوسرے تمام لوگوں کو امان دے دی تھی۔
چوتھی دلیل : قرآن کریم کی چوتھی دلیل یہ آیتِ کریمہ ہے :۔
أَلَمْ يَعْلَمُوا أَنَّهُ مَنْ يُحَادِدِ اللّٰهَ کیا اُن لوگوں کو معلوم نہیں کہ جو شخص وَرَسُولَهُ فَإِنَّ لَهُ نَارَ جَهَنَّمَ خدا اور اُس کے رسولؐ سے مقابلہ خَالِدًا فِيهَا ذٰلِكَ الْخِزْيُ کرتا ہے تو اُس کے لیے جہنم کی آگ الْعَظِيمُ o (التوبہ : ۶۳) (تیار) ہے جس میں وہ ہمیشہ (جلتا) رہے گا۔ یہ بڑی رسوائی ہے۔
اس آیت سے مستفاد ہوتا ہے کہ رسولِ کریم کی ایذا رسانی، اللہ اور اُس کے رسولؐ کا مقابلہ کرنے کے مترادف ہے۔ کیوں کہ اس سے پہلے یہ آیت ہے :۔
وَمِنْهُمُ الَّذِينَ يُؤْذُونَ النَّبِيَّ اور اُن میں سے بعض ایسے ہیں جو وَيَقُولُونَ هُوَ أُذُنٌ ۔ نبی کو ایذا دیتے اور کہتے ہیں کہ یہ (التوبہ : ۶۱) شخص تو نِرا کان ہے ۔
پھر اس کے آگے فرمایا :
” اے ایمان والو ! یہ لوگ تمہارے سامنے خدا کی قسمیں کھاتے ہیں تاکہ تم کو خوش کر دیں ۔ حالاںکہ اگر یہ دل سے مومن ہوتے تو خدا اور اُس کے پیغمبرؐ خوش کرنے کے زیادہ مستحق ہیں۔ کیا اُن لوگوں کو معلوم نہیں کہ جو شخص خدا
اور اس کے رسولؐ کا مقابلہ کرتا ہے ۔“ (التوبہ : ۶۲ - ۶۳)
اگر رسول کریمؐ کو اذیت پہنچا کر وہ اللہ اور اس کے رسولؐ کا مقابلہ کرنے والے نہ ہوتے تو اُن کو یوں دھمکی دینا مناسب نہ ہوتا کہ مقابلہ کرنے والے کے لیے جہنم کی آگ ہے ۔ اُس وقت یوں کہنا ممکن ہوتا کہ ” انہیں معلوم ہے کہ مقابلہ کرنے والے کے لیے جہنم کی آگ ہے ۔ مگر انہوں نے تو مقابلہ نہیں کیا بلکہ صرف ایذا دی ہے ۔“ اس طرح یہ آیت اُن کی وعید پر مشتمل نہ ہوتی ۔ پس معلوم ہوا کہ یہ فعل مقابلہ کے عموم میں داخل ہے ۔ تاکہ مقابلہ کرنے والے کے لیے جو وعید ہے وہ اُن کی وعید بن سکے ۔ اور کلام میں ربط و نظم پیدا ہو جائے ۔
اس پر وہ حدیث بھی دلالت کرتی ہے جس کو حاکم نے اپنی صحیح میں باسناد صحیح حضرت ابن عباسؓ سے روایت کیا ہے کہ ” رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے حجروں میں سے کسی حجرہ کے سایہ میں تشریف فرما تھے ۔ اور آپ کے پاس مسلمانوں کی ایک جماعت بھی تھی ۔ آپؐ نے فرمایا تمہارے پاس ایک انسان آئے گا جو شیطان کی نگاہ سے دیکھنے والا ہوگا ۔ وہ جب تمہارے پاس آئے تو اُس سے بات چیت نہ کریں ۔ اندریں اثنا ایک نیلے آنکھوں والا شخص آیا ۔ رسول کریمؐ نے اس کو بلا کر کہا ” تم اور فلاں فلاں اشخاص مجھے گالیاں کیوں دیتے ہو ؟ وہ شخص چلا گیا اور اُن کو بلا لایا ۔ انہوں نے قسم کھائی اور آپؐ سے معذرت کی ۔ تب یہ آیتِ کریمہ نازل ہوئی : ” جب اُن سب کو اللہ (قبروں سے) اٹھائے گا تو وہ قسمیں کھائیں گے جیسے تمہارے سامنے کھاتے ہیں ۔ اور اُن کا گمان یہ ہو گا کہ ایسا کرنے سے کام بن جائے گا ۔ آگاہ رہو کہ وہ جھوٹے ہیں ۔“
(المجادلہ : ۱۸)
پھر اس کے آگے فرمایا : اِنَّ الَّذِیْنَ یُحَادُّوْنَ اللّٰهَ جو لوگ اللہ اور اُس کے رسولؐ کا وَرَسُوْلَهٗ ۔ (المجادلہ : ۲۰) مقابلہ کرتے ہیں ۔
اس آیت سے معلوم ہوا کہ یہ بات مقابلہ میں داخل ہے ۔
ایک دوسری صحیح روایت میں آیا ہے کہ آیت کریمہ " يَحْلِفُونَ لَكُمْ لِتَرْضَوْا عَنْهُمْ " (تمہارے سامنے اللہ کی قسمیں کھاتے ہیں کہ تم ان سے راضی ہو جاؤ) نازل ہوئی۔ اس سے قبل یہ آیت نازل ہوئی تھی " يَحْلِفُونَ بِاللّٰهِ لَكُمْ لِيُرْضُوكُمْ " (التوبہ ۶۲) (تمہارے سامنے اللہ کی قسمیں کھاتے ہیں کہ تمہیں راضی کر دیں) پھر اس کے آگے فرمایا :
اَلَمْ يَعْلَمُوْا اَنَّهُ مَنْ کیا انہیں معلوم نہیں کہ جو شخص اللہ يُّحَادِدِ اللّٰهَ وَرَسُوْلَهُ اور اُس کے رسول کا مقابلہ کرتا ہے (التوبہ : ۶۳)
پس ثابت ہوا کہ یہ گالیاں دینے والے ہی مقابلہ کرنے والے ہیں۔ اس کی مزید توضیح آگے آئے گی۔ ان شاء اللہ تعالیٰ ۔
جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ایذا دینا اللہ اور اُس کے رسول سے مقابلہ کا مترادف ہے تو فرمانِ ربانی ہے :
اِنَّ الَّذِيْنَ يُحَادُّوْنَ اللّٰهَ جو لوگ خدا اور اُس کے رسول کی وَرَسُوْلَهُ اُولٰئِكَ فِي الْاَ مخالفت کرتے ہیں وہ نہایت ذَلِّيْنَ كَتَبَ اللّٰهُ لَاَغْلِبَنَّ ذلیل ہوں گے ۔ خدا کا حکم ناطق اَنَا وَرُسُلِيْ ، اِنَّ اللّٰهَ قَوِيٌّ ہے کہ میں اور میرے پیغمبر ضرور عَزِيْزٌ - غالب رہیں گے ۔ بے شک خدا زور آور اور زبردست ہے ۔
ظاہر ہے کہ " اَذَلّ " کا لفظ ذلیل سے بلیغ تر ہے ۔ اَذَلّ اسی صورت میں ہو سکتا ہے جب مخالفت کی صورت میں اُس کی جان و مال کو خطرہ لاحق ہو۔ اس لیے کہ اگر اُس کی جان اور مال محفوظ ہے تو وہ اَذلّ نہیں ہو سکتا ۔ اس کی دلیل مندرجہ ذیل آیت ہے :
ضُرِبَتْ عَلَيْهِمُ الذِّلَّةُ ذلت ان سے چمٹ رہی ہے ۔ یہ اَيْنَمَا ثُقِفُوْا اِلَّا بِحَبْلٍ جہاں بھی ہوں۔ بجز اس کے کہ
مِنَ اللّٰهِ وَحَبْلٍ مِّنَ النَّاسِ خدا اور (مسلمان) لوگوں کی پناہ (آل عمران : ۱۱۲) میں آجائیں۔
اِس آیت میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ یہ جہاں کہیں بھی ہوں ذلت ان کے ساتھ چمٹ رہی ہوگی ، بجز اس کے کہ یہ کسی سے معاہدہ کر لیں۔ معلوم ہوا کہ جس شخص نے معاہدہ کر کے کسی کے دامن میں پناہ لی ہو اس پر کوئی ذلت نہیں۔ اگرچہ وہ مسکنت اور افلاس میں مبتلا ہوسکتا ہے۔ اس لیے کہ بعض اوقات مسکنت تو ہوتی ہے ، مگر ذلت نہیں ہوتی۔ اللہ تعالیٰ نے دھوکہ دینے والوں کو ذلیل ترین لوگوں میں شمار کیا ہے۔ لہٰذا ان کے لیے عہد نہیں ، اس لیے کہ عہد ذلت کے منافی ہے۔ جیسا کہ اس آیت سے مستفاد ہوتا ہے۔ اور یہ بات نہایت واضح ہے۔ کیوں کہ ”اَذَلّ“ وہ شخص ہوتا ہے کہ اگر کوئی شخص اُس سے بُرا سلوک کرنا چاہے تو اُس سے بچنے کے لیے اُس کے پاس قوت نہ ہو۔ جب مسلمانوں نے اس سے معاہدہ کیا ہو گا تو اس کی وجہ سے اس کی تائید و نصرت اور اُس کا دفاع اُن پر واجب ہے۔ اس لیے وہ اَذَلّ نہیں ہے۔ پس ثابت ہوا کہ جو شخص اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کرتا ہے اُس کے لیے کوئی عہد نہیں ہے۔ جو اُسے بچا سکے۔ اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ایذا دینے والا اُن کا مخالف ہے۔ پس موذی کے لیے کوئی عہد نہیں جو اُس کے خون کی حفاظت کر سکے۔ اور یہی بات مطلوب و مقصود ہے۔ قرآن کریم میں فرمایا :
اِنَّ الَّذِيْنَ يُحَادُّوْنَ اللّٰهَ بے شک وہ لوگ جو اللہ اور اس وَرَسُوْلَهُ كُبِتُوْا كَمَا کے رسول کی مخالفت کرتے ہیں كُبِتَ الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ اُن کو ذلیل کیا جائے گا جس طرح (المجادلہ : ۵) اُن لوگوں کو ذلیل کیا گیا جو اُن سے پہلے تھے۔
اس آیت میں ”الکبت“ کا لفظ استعمال کیا گیا ہے جس کے معنی ذلیل کرنے ، رُسوا کرنے اور گرانے کے ہیں۔ خلیل کہتے ہیں کہ کبت کے معنی منہ کے بل گرانے کے ہیں۔
النضر بن شمیل اور ابن قتیبہ کے نزدیک سے اشتقاق اکبر کے طور پر ماخوذ جارہا ہے۔ جیسے عربی محاورہ میں بولتے رغم اور عداوت نے اس کے جگر کو معنی ہیں کہ انہیں ہلاک کیا گیا، رُسوا مخالفت کرنے والا ذلیل و خوار ہو صورت میں ہوتا ہے جب مخالف قتل کیا جائے گا۔ ورنہ جو شخص بھی محفوظ ہو تو وہ ذلیل و رُسوا آیت کریمہ کے الفاظ ہیں یعنی جن لوگوں نے قبل ازیں رسولوں عذاب میں مبتلا کر کے ہلاک کر دیا اگرچہ ”کبت“ کا لفظ ہـ مطلوب و مقصود کو نہ پاسکا ہـ لِيَقْطَعَ طَرَفًا مِّنَ الَّذـ كَفَرُوْا أَوْ يَكْبِتَهـ آل عمران : مگر ”كُبِتَ الَّذِيْنَ مِـ یعنی وہ یا تو ہلاک ہوگئے یا انہو ہے کہ منافق مخالفین میں سے لیے کہ وہ ڈرتے تھے کہ اگر انہو کیا جائے گا۔ پس واجب ہـ نیز یہ کہ فرمان باری تعا
وَحَبْلٍ مِّنَ النَّاسِ خدا اور (مسلمان) لوگوں کی پناہ (آل عمران : ۱۱۲) میں آجائیں۔
یں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ یہ جہاں کہیں بھی ہوں ذلت ان کے ساتھ ہے۔ بجز اس کے کہ یہ کسی سے معاہدہ کرلیں۔ معلوم ہوا کہ جس شخص نے معاہدہ میں پناہ لی ہو اس پر کوئی ذلت نہیں۔ اگرچہ وہ مسکنت اور ہو سکتا ہے۔ اس لیے کہ بعض اوقات مسکنت تو ہوتی ہے ، مگر اللہ تعالیٰ نے دھوکہ دینے والوں کو ذلیل ترین لوگوں میں شمار کیا یہ عہد نہیں، اس لیے کہ عہد ذلت کے منافی ہے۔ جیسا کہ اس آیت ۔ اور یہ بات نہایت واضح ہے۔ کیوں کہ " اَذَلّ " وہ شخص ہوتا س سے بُرا سلوک کرنا چاہے تو اُس سے بچنے کے لیے اُس کے پاس نہوں نے اس سے معاہدہ کیا ہوگا تو اس کی وجہ سے اس کی تائید و ع اُن پر واجب ہے۔ اس لیے وہ اَذَلّ نہیں ہے۔ پس ثابت اس کے رسول کی مخالفت کرتا ہے اُس کے لیے کوئی عہد نہیں اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ایذا دینے والا اُن کا مخالف کوئی عہد نہیں جو اُس کے خون کی حفاظت کر سکے۔ اور یہی ہے۔ قرآن کریم میں فرمایا :
حَادُّوْنَ اللّٰهَ بے شک وہ لوگ جو اللہ اور اس سُوْلَهٗ كُبِتُوْا كَمَا کے رسول کی مخالفت کرتے ہیں مِنْ قَبْلِهِمْ اُن کو ذلیل کیا جائے گا جس طرح مجادلہ : ۵) اُن لوگوں کو ذلیل کیا گیا جو اُن سے پہلے تھے۔
ت" کا لفظ استعمال کیا گیا ہے جس کے معنی ذلیل کرنے ، ہیں۔ خلیل کہتے ہیں کہ کبت کے معنی منہ کے بل گرانے کے ہیں۔
النضر بن شمیل اور ابن قتیبہ کے نزدیک اس کے معنی غصّے اور غم کے ہیں۔ یہ لفظ "کبد" سے اشتقاق اکبر کے طور پر ماخوذ و مشتق ہے۔ گویا غم و غصّہ اس کے جگر کو کھائے جا رہا ہے۔ جیسے عربی محاورہ میں بولتے ہیں "احرق الحزن والعداوة كبدًا" (غم اور عداوت نے اس کے جگر کو جلا دیا) مفسرین کہتے ہیں کہ "كُبِتُوا" کے معنی ہیں کہ انہیں ہلاک کیا گیا، رُسوا کیا گیا اور غم زدہ کیا گیا۔ پس یہ ثابت ہوا کہ مخالفت کرنے والا ذلیل و خوار ہوگا اور غم و غصّہ سے ہلاک ہوجائے گا۔ اور یہ اس صورت میں ہوتا ہے جب مخالفت کرنے والا اس بات سے ڈرتا ہو کہ اُسے قتل کیا جائے گا۔ ورنہ جو شخص اُسے مخالفت کی قدرت عطا کرے اور اس کا خون بھی محفوظ ہو تو وہ ذلیل و رسوا نہیں بلکہ مسرور و شاد کام ہے۔
آیت کریمہ کے الفاظ ہیں : كُبِتُوا كَمَا كُبِتَ الَّذِينَ مِنْ قَبْلِهِمْ یعنی جن لوگوں نے قبل ازیں رسولوں کی مخالفت کی تھی اللہ تعالیٰ نے انہیں یا تو خود عذاب میں مبتلا کر کے ہلاک کر دیا یا اہل ایمان کے ہاتھوں تباہ و برباد کر دیا۔
اگرچہ "کبت" کا لفظ ہر ایسی جگہ استعمال کیا جاتا ہے جہاں کوئی شخص اپنے مطلوب و مقصود کو نہ پاسکا ہو، جیسے قرآن میں فرمایا :
لِيَقْطَعَ طَرَفًا مِّنَ الَّذِينَ یہ خدا نے اس لیے کیا کہ کافروں كَفَرُوْا اَوْ يَكْبِتَهُمْ کی ایک جماعت کو ہلاک یا انہیں (آل عمران : ۱۲۷) ذلیل و مغلوب کر دے۔
مگر "كُبِتَ الَّذِينَ مِنْ قَبْلِهِمْ" سے رسولوں کے مخالفین مراد ہیں۔ یعنی وہ یا تو ہلاک ہوگئے یا انہوں نے ایذا رسانی کو چھپا لیا۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ منافق مخالفین میں سے تھے۔ وہ اپنا غصّہ دل میں لیے ہلاک ہوگئے۔ اس لیے کہ وہ ڈرتے تھے کہ اگر انہوں نے اپنے قلبی احساسات کا اظہار کیا تو انہیں قتل کیا جائے گا۔ پس واجب ٹھہرا کہ ہر مخالف کی یہی حالت ہو۔
نیز یہ کہ فرمان باری تعالیٰ " كَتَبَ اللّٰهُ لَاَغْلِبَنَّ اَنَا وَرُسُلِيْ"
(”اللہ نے لکھ رکھا ہے کہ میں اور میرے رسول غالب رہیں گے۔“)
اور اس سے قبل یہ آیت کہ ”جو لوگ اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کرتے ہیں وہ ذلیل لوگوں میں سے ہیں ۔“ (المجادلہ : ۲۰) اس امر کی دلیل ہے ، کہ ”المحادّۃ“ کے معنی مقابلہ اور مخالفت کے ہیں ، تاکہ مخالفین میں سے ایک غالب ہو اور دوسرا مغلوب ۔ یہ مقابلہ جنگجو فریقین کے درمیان ہوتا ہے ۔ صلح جو لوگوں کے درمیان نہیں ۔ اس سے معلوم ہوا کہ جو مخالف ہوتا ہے وہ صلح کرنے والا نہیں ہوتا اور رسولوں کو جو غلبہ حاصل ہوتا ہے وہ دلائل اور مخالف کو مغلوب کرنے کی وجہ سے ہوتا ہے ۔ جس کو لڑنے کا حکم دیا جاتا ہے وہ اپنے دشمن پر غالب آجاتا ہے اور جس کو لڑنے کا حکم نہیں دیا جاتا وہ دشمن پر قابو پالیتا ہے اور یہ اس شخص کے قول سے احسن ہے جو کہتا ہے کہ لڑنے والے کو غلبہ تائید و نصرت کی وجہ سے حاصل ہوتا ہے۔ اور غیر محارب کو دلائل کی بنا پر۔ پس یہ بات کھل کر سامنے آئی کہ یہ مخالفین لڑتے تو ہیں مگر مغلوب ہیں ۔
مزید برآں ”المحادّۃ“ کے معنی ایک طرف ہونے کے ہیں۔ اس لیے کہ یہ لفظ حَدّ سے نکلا ہے جس کے معنی جُدا ہونے اور الگ ہونے کے ہیں ۔ اسی طرح لفظ ”المشاقّۃ“ ”شَقّ“ سے ماخوذ ہے اور اس کے معنی بھی یہی ہیں ۔ بایں طور یہ دونوں لفظ مقاطعہ اور مفاصلہ (جدائی اور علیحدگی) کے لیے بولے جاتے ہیں۔ اس کو المشاقّۃ کہنے کی وجہ یہی ہے کہ دونوں مخالفین ایک دوسرے سے الگ ”شِقّ من الآخر“ (اور جدا رہتے ہیں) اس کا مطلب اس رشتے کا ٹوٹ جانا ہے جو دو عہد کرنے والوں کے درمیان پایا جاتا ہے اور یہ اس وقت ہوتا ہے جب وہ دونوں ایک دوسرے کی مخالفت کرتے ہیں ۔ لہٰذا اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کرنے والے کے ساتھ کوئی علاقہ اور رابطہ نہیں ہوتا ۔
مزید برآں جب ”المحادّۃ“ کے معنی ”المشاقّۃ“ کے ہیں تو ارشادِ خداوندی ہے :
ذَلِكَ بِأَنَّهُمْ شَاقُّوا اللَّهَ یہ اس لیے کہ انہوں نے اللہ اور وَرَسُولَهُ ۔ (الانفال : ١٣) اس کے رسول کی مخالفت کی ہے
اس آیت میں مخالفت کی وجہ سے اُن کو قتل کرنے کا حکم دیا گیا ہے ۔ بنا بریں جو شخص بھی مخالفت کرے اور دوسروں سے علیحدہ ہو اس کے ساتھ یہی سلوک روا رکھنا چاہیے ۔ اس لیے کہ دونوں میں ایک ہی علت پائی جاتی ہے ۔
قرآن کریم میں فرمایا :
وَلَوْلَا أَن كَتَبَ اللَّهُ عَلَيْهِمُ اور اگر خدا نے اُن کے بارے الْجَلَاءَ لَعَذَّبَهُمْ فِي الدُّنْيَا ط میں جلاوطن کرنا نہ لکھ رکھا ہوتا وَلَهُمْ فِي الْآخِرَةِ عَذَابُ تو اُن کو دنیا میں بھی عذاب دے النَّارِ ط ذَلِكَ بِأَنَّهُمْ دیتا اور آخرت میں تو اُن کے لیے شَاقُّوا اللَّهَ وَرَسُولَهُ ج آگ کا عذاب تیار ہے ۔ یہ اس (الحشر : ۴/۳) لیے کہ انہوں نے خدا اور رسول کی مخالفت کی ۔
اور تعذیب سے مراد اس آیت میں —— واللہ اعلم —— قتل ہے ۔ اس لیے کہ اس سے کم درجہ کا عذاب مثلاً جلاوطنی ، اموال کا لینا ، وغیرہ قبل ازیں انہیں دیا جا چکا تھا ۔ لہٰذا اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کرنے والے کو سزا دینا واجب ہے ۔ اور جو کُھل کر مقابلہ کرتا ہے وہ اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کرتا ہے ۔
اور جو چھپ کر مقابلہ کرتا ہے وہ نہ تو " مُحَادِّ " ہے اور نہ " مُشَاقّ " ۔ یہ اندازِ استدلال دلالت میں قوی تر ہے ۔ کہا جاتا ہے کہ فلاں شخص " مُحَادِّ " ہے مگر " مُشَاقّ " نہیں ہے ۔ اسی لیے " مُحَادِّ " کی سزا مطلقاً پہلے لوگوں کی طرح " مَكْبُوتًا " (ذلیل و رسوا ہونا) اور " اَذَلِّينَ " (ذلیل تر لوگوں میں) شامل ہونا ہے ۔ بخلاف ازیں " مُشَاقّ " (علانیہ مخالفت کرنے والا) کی سزا قتل اور دنیا کی سزا ہے ۔ اور " مَكْبُوت " ، " اَذَلِّينَ " (رسوا تر) میں تبھی شامل ہوگا جب
اُسے کھُل کر مخالفت کرنے کا موقع نہ ملا ہو۔ بنا بریں ”المُحَادَّةِ“ کا لفظ اعم ہے۔ اسی لیے مفسّرین کہتے ہیں کہ آیتِ کریمہ :
بِاللّٰهِ وَ الْيَوْمِ الْاٰخِرِ پر ایمان رکھتے ہیں تم اُن کو خدا
يُوَادُّوْنَ مَنْ حَادَّ اللّٰهَ اور رسول کے دشمنوں سے دوستی
وَ رَسُوْلَهٗ ۔ (المجادلہ:۲۲) کرتے ہوئے نہ دیکھو گے۔
اُن مسلمانوں کے بارے میں نازل ہوئی جنہوں نے جہاد میں اپنے قریبی رشتہ داروں کو قتل کر دیا تھا۔ نیز اُن لوگوں کے بارے میں جو اُن کافر اور منافق رشتہ داروں کو سزا دینے کے درپے تھے جو رسولِ کریم کو ستاتے تھے۔ پس معلوم ہوا کہ ”المحادّ“ کا لفظ ” المشاقّ “ کی نسبت عام تر ہے۔ مندرجہ ذیل بھی اس پر روشنی ڈالتی ہے:
قَوْمًا غَضِبَ اللّٰهُ عَلَيْهِمْ ط جو ایسے لوگوں سے دوستی کرتے
مَا هُمْ مِّنْكُمْ وَ لَا مِنْهُمْ... ہیں جن پر خدا کا غضب ہو۔ وہ
... تا آیت لَا تَجِدُ قَوْمًا ۔ نہ تم میں ہیں نہ اُن میں (آخر تک)
(المجادلہ : ۱۴ - ۲۲)
یہ آیات اُن منافقین کے بارے میں نازل ہوئیں جنہوں نے خدا کے مغضوب علیہم یہودیوں سے دوستی قائم کر لی تھی۔ ان یہودیوں نے رسولِ کریم کے ساتھ عہد کیا ہُوا تھا۔ اُس کے آگے فرمایا کہ اہلِ ایمان اُن لوگوں سے کبھی دوستی نہیں لگاتے جو اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کرتے ہیں۔ اس کے معنی یہ ہوئے کہ یہود کے ساتھ بھی دوستانہ مراسم استوار نہ کیے جائیں، اگرچہ وہ ذمّی ہی کیوں نہ ہوں۔ اس لیے کہ آیت کا سببِ نزول یہی ہے ۔ اس کا تقاضا یہ ہے کہ اہلِ کتاب عہد کرنے کے با وجود اللہ اور اُس کے رسول کی مخالفت کرنے والے ہیں۔
اس کی دلیل یہ ہے کہ اللہ نے مسلم اور کافر کی دوستی کو منقطع کر دیا ہے ، اگرچہ
اس نے عہد کیا ہو اور وہ ذمی ہو۔ بنا بریں تقدیر عبارت یوں ہے کہ " اُن سے عہد لیا گیا تھا کہ مخالفت کا اظہار و اعلان نہیں کریں گے " جیسا کہ ہم بیان کر چکے ہیں کہ اس پر اجماع منعقد ہو چکا ہے ۔ اس کا مزید بیان آگے آئے گا ۔ جب اُنہوں نے علانیہ مخالفت کا آغاز کیا تو ان کا عہد باقی نہ رہا ۔ ان لوگوں کو " مُحَادِّین " (علانیہ مخالفت کرنے والے) کہا جائے گا ۔ بخلاف ازیں وہ لوگ " مُنَافِقُون " (خفیہ مخالفت کرنے والے) تھے ۔ اس لیے وہ لوگ دنیا کی رسوائی مثلاً قتل اور عذابِ آخرت کے مستحق ہیں۔
اللہ اور اُس کے رسول کی مخالفت کرنے والے کا عہد باقی نہیں رہتا ۔
اگر معترض کہے کہ ہر یہودی اللہ اور اُس کے رسول کا مخالف ہوتا ہے۔ تو معلوم ہوا کہ یہودی ہونے کے باوجود اُن کا عہد قائم رہتا ہے ۔ اور یہ اُس بات کے خلاف ہے کہ " مُحَادّ " کا عہد باقی نہیں رہتا ۔
اس کا جواب یہ دیا جاتا ہے کہ اظہارِ مخالفت کی موجودگی میں مخالف کا عہد باقی نہیں رہتا ۔ مگر جب وہ مخالفت کا اظہار نہیں کرے گا تو ہم اُس کے ساتھ معاہدہ کر لیں گے ۔ اس کی دلیل یہ آیت ہے :
" یہ جہاں نظر آئیں گے ذلت ان سے چمٹ رہی ہو گی بجز اس کے کہ یہ خدا اور مسلمانوں کی پناہ میں آ جائیں ۔ "
(آل عمران : ۱۱۲)
اس آیت سے مستفاد ہوتا ہے کہ ذلت اُن کے ساتھ لازم ہو جاتی ہے ، اور وہ اُسی صورت میں زائل ہوتی ہے جب وہ اللہ تعالیٰ یا مسلمانوں کی پناہ میں آ جائیں ۔ اور مسلمانوں کی پناہ اُنہیں اسی صورت میں حاصل ہو گی جب وہ بالاتفاق مخالفت کا اظہار نہ کریں ۔ لہٰذا اُسے جو پناہ حاصل ہے وہ مطلق نہیں بلکہ مقیّد ہے۔ پس یہ عہد اُسے ذلّت سے نہیں روک سکتا ، جب وہ ایسا کام کرے جو عہد کے منافی ہو۔
جن اہل علم نے یہ مؤقف اختیار کیا ہے وہ یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ ” ذلت اُن کے لیے ہر حال میں لازم ہے ۔ “ جیسا کہ سورۃ البقرہ میں علی الاطلاق اس کا ذکر کیا گیا ہے رہی یہ آیت ” اِلَّا بِحَبْلٍ مِّنَ اللّٰهِ “ تو ہو سکتا ہے یہ ذلت کی تفسیر ہو ۔ آیت کا مطلب یہ ہو گا کہ ” وہ جہاں کہیں بھی ہوں ذلت اُن کے ساتھ چسپاں ہوگی اور اُنہیں پکڑ کر قتل کر دیا جائے گا ۔ بجز اس صورت کے جب کہ وہ لوگوں کی پناہ میں ہوں ۔ “ اس پناہ سے ذلت تو دُور نہیں ہوگی ، البتہ اُس کے بعض موجبات رفع ہو جائیں گے اور وہ قتل ہے ۔ اس لیے کہ جس کا خون عہد کے بغیر محفوظ نہ رہ سکتا ہو وہ ذلیل ہے ، اگرچہ اُس کا خون عہد کی وجہ سے محفوظ ہو جاتا ہو ۔ مگر اس صورت میں ” المحادّۃ “ سے جو استدلال کیا گیا تھا وہ کمزور ہو جائے گا ۔ پس پہلا طریقہ ہی احسن ہے جیسا کہ پیچھے گزرا ۔ اس کی مزید وضاحت طوالت کی موجب ہے ۔
پانچویں دلیل : قرآن کریم میں فرمایا :
اِنَّ الَّذِیْنَ یُؤْذُوْنَ اللّٰهَ جو لوگ اللہ اور اُس کے رسول کو وَرَسُوْلَهٗ لَعَنَهُمُ اللّٰهُ ایذا دیتے ہیں اللہ نے اُن پر دنیا فِی الدُّنْیَا وَالْاٰخِرَۃِ “ اور آخرت میں لعنت کی ہے ۔
(الاحزاب : ۵۷)
یہ آیت اس امر پر دلالت کرتی ہے کہ اللہ اور اُس کے رسول کو اذیت دینے والا واجب القتل ہے ۔ اور معاہدہ بھی اس کو بچا نہ سکے گا ۔ اس لیے کہ ہم نے معاہدہ اس بات پر نہیں کیا تھا کہ وہ اللہ اور اُس کے رسول کو ایذا دے گا ۔ اس کی وضاحت اس حدیث سے ہوتی ہے جس میں رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا :
” کعب بن اشرف کا کون ذمہ دار ہے ، کیوں کہ اُس نے اللہ اور اُس کے رسول کو ایذا دی ہے ۔ “
اس حدیث میں آپ نے مسلمانوں کو ایک یہودی کے قتل کرنے کا حکم دیا جس نے معاہدہ کیا ہوا تھا۔ محض اس لیے کہ اس نے اللہ اور اُس کے رسول کو ایذا دی تھی۔ اس سے معلوم ہوا کہ ہر ذمّی کے بارے میں یہ نہیں کہا جا سکتا کہ وہ اللہ اور اُس کے رسول کو ایذا دیتا ہے۔ ورنہ اُس کے اور دوسروں کے درمیان کچھ فرق نہیں رہے گا۔ اور یوں کہنا بھی صحیح نہیں کہ ”یہودی دنیا اور آخرت میں ملعون ہیں، جب کہ وہ اپنے مذہب کے واجبات پر قائم بھی ہوں“ اس لیے کہ ہم نے اُن سے یہ نہیں کہا تھا کہ وہ اللہ اور اُس کے رسول کو علانیہ ایذا دیں۔ ہم نے اُن کے ساتھ صرف یہ عہد کیا تھا کہ وہ اپنے مذہبی احکام پر عمل پیرا رہیں۔
شاتم رسول کافر ہے
پہلی دلیل : قرآن کریم میں بکثرت ایسی آیات موجود ہیں جن سے شاتم رسول کا کفر اور وجوب قتل یا ان میں سے ایک ثابت ہوتا ہے ۔ بشرطیکہ وہ معاہد نہ ہو ــــــ اگرچہ وہ علانیہ اسلام کا اظہار کرتا ہو ــــــ اس پر علماء کا اجماع بھی منعقد ہوچکا ہے ۔ جیسا کہ ہم قبل ازیں متعدد علماء سے اجماع کا فیصلہ نقل کر چکے ہیں۔ اُن آیات میں سے ایک آیت یہ ہے :
" اور ان میں سے بعض ایسے ہیں جو پیغمبر کو ایذا دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ شخص نرا کان ہے ۔ ان سے کہہ دو کہ وہ کان رہے تو ، تمہاری بھلائی کے لیے ۔ وہ خدا کا اور مومنوں (کی بات) کا یقین رکھتا ہے اور جو لوگ تم میں ایمان لائے ہیں ان کے لیے رحمت ہے اور جو لوگ رسول خدا کو رنج پہنچاتے ہیں ان کے لیے عذاب الیم تیار ہے"
(التوبہ - ۶۱)
اس آیت سے معلوم ہوا کہ رسول کریم کی ایذا رسانی اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی اور مخالفت پر مبنی ہے ۔ اس لیے کہ ایذا کا ذکر ہی "المحادۃ" کے ذکر کا موجب ہوا ہے ، اس کا اس میں داخل ہونا واجب ہے ۔ اور اگر اسے تسلیم نہ کیا جائے تو کلام بے ربط ہو جائیگا جب یہ کہنا ممکن ہو کہ وہ "محاذ" (مخالف) نہیں ہے ۔
اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ ایذا رسانی اور رسول کی مخالفت کفر کی موجب ہے ، اس لیے کہ اللہ نے یہ خبر دی ہے کہ اس کے لیے آتشِ جہنم تیار ہے جس میں وہ ہمیشہ رہے گا یوں نہیں فرمایا کہ "اس کی سزا یہ ہے" ظاہر ہے کہ ان دونوں جملوں میں فرق ہے ۔ بلکہ "المحادۃ"
"مخالفت" ہی کو عداوت اور علیحدگی سے تعبیر کیا جاتا ہے اور اس کا نام کفر اور محاربہ ہے۔ بریں وجہ یہ لفظ تنہا کفر سے بھی سنگین تر ہے ۔
بنا بریں رسول کریم کو ایذا دینے والا کافر، اللہ اور اس کے رسول کا دشمن اور اُن کے خلاف جنگ لڑنے والا ہوگا۔ اس لیے کہ " المحادّۃ " کے معنی ہیں جُدا ہونا۔ بایں طور کہ ہر ایک کی حدّ جدا ہو ، جس طرح کہا گیا ہے کہ " المشاقّۃ " یہ ہے کہ ہر شخص ایک شِق یعنی ایک جانب ہو جائے اور " المُعاداہ " یہ ہے کہ دونوں ایک دوسرے کے دشمن بن جائیں ۔
حدیث نبوی میں ہے کہ ایک شخص رسول کریم کو گالیاں دیا کرتا تھا۔ یہ سن کر آپؐ نے فرمایا : " مَن یَّکفِینِی عَدُوِّی " (کون میرے دشمن کے لیے کافی ہوگا) یہ ایک واضح امر ہے جس کا تذکرہ پہلے کیا جا چکا ہے ۔ بدیں وجہ ایسا شخص کافر اور مباح الدم ہے جیسا کہ
قرآن کریم میں فرمایا : " اِنَّ الَّذِیْنَ یُحَادُّوْنَ اللهَ وَرَسُوْلَهُ اُولٰٓئِكَ فِي الْاَذَلِّیْنَ " (جو لوگ اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کرتے ہیں وہ ذلیل لوگوں میں سے ہوں گے)
(المجادلۃ ۔ ۲۰)
اگر وہ مومن اور معصوم الدم ہوتا تو ذلیل نہ ہوتا ۔ اس کی دلیل یہ آیت ہے : " وَ لِلّٰهِ الْعِزَّةُ وَ لِرَسُوْلِهٖ وَ لِلْمُؤْمِنِیْنَ " (اور عزت اللہ ، اس کے رسول اور مومنوں ہی کے لیے ہے) ۔
(المنافقین ۔ ۸)
نیز فرمایا : " كُبِتُوْا كَمَا كُبِتَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ " (ان کو ہلاک کیا جائے گا جس طرح ان لوگوں کو ہلاک کیا گیا جو ان سے پہلے تھے)
(المجادلۃ ۔ ۵)
ظاہر ہے کہ ایک مومن کو رسول کی تکذیب کرنیوالوں کی طرح ہلاک نہیں کیا جاتا ۔ فرمانِ باری تعالیٰ ہے :
”جو لوگ خدا پر اور روز قیامت پر ایمان رکھتے ہیں تم اُن کو خدا اور اس کے رسول کے دشمنوں سے دوستی کرتے ہوئے نہ دیکھو گے“
(المجادلۃ - ٢٢)
جب اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کرنے والے سے دوستی رکھنے والا مومن نہیں ہے تو مخالفت کرنے والا کیوں کر مومن ہو سکتا ہے۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس آیت کا شانِ نزول یہ ہے کہ ابو قحافہ نے رسولِ کریمؐ کو گالی دی تو ان کے بیٹے، ابو بکر صدیقؓ نے اُسے قتل کرنا چاہا۔ یا عبداللہ بن ابیؓ نے رسولِ کریمؐ کی تحقیر کی تو اس کے بیٹے نے رسولِ کریمؐ سے اپنے باپ کو قتل کرنے کی اجازت مانگی۔ اس سے معلوم ہوا کہ اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کرنے والا کافر اور مباح الدم ہے۔
اللہ اور رسول کی مخالفت کرنیوالوں اور
مسلمانوں کے درمیان کوئی دوستی نہیں
اس کی دلیل یہ آیت ہے : ”جو لوگ خدا پر اور روزِ قیامت پر ایمان رکھتے ہیں تم ان کو خدا اور اس کے رسول کے دشمنوں سے دوستی کرتے ہوئے نہ دیکھو گے خواہ وہ ان کے باپ یا بیٹے ہوں ۔
(المجادلۃ - ٢٢)
نیز فرمایا :- ”اے ایمان والو! اگر تم میری راہ میں لڑنے اور میری خوشنودی طلب کرنے کے لیے (مکہ سے) نکلے ہو تو میرے اور اپنے دشمنوں کو دوست مت بناؤ، تم تو ان کو دوستی کا پیغام بھیجتے ہو اور وہ دینِ حق سے جو تمہارے پاس آیا ہے منکر ہیں۔“
(الممتحنہ - ١)
اس آیت سے معلوم ہوا کہ وہ مومن نہیں ہیں۔ قرآنِ کریم میں فرمایا : ”اور اگر خدا نے جلاوطن کرنا نہ لکھ رکھا ہوتا تو اُن کو دنیا میں بھی عذاب دے دیتا اور آخرت میں تو ان کے لیے آگ کا عذاب تیار ہے۔ یہ اس لیے کہ انہوں نے خدا اور اس کے رسول کی مخالفت کی اور جو شخص خدا کی مخالفت کرے تو خدا سخت عذاب دینے والا ہے۔“
(الحشر - ٣-٤)
ان آیات میں اللہ اور اس کے قرار دیا بظاہر ہے کہ رسولِ کریم کو ایذا سے مراد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اُن پر سے انہیں تباہ و برباد کرے گا۔ ہے ۔ مثلاً ملعون کا چلا جانا اور در ”جب تمہارا پروردگار فرشتوں کو تسلی دو کہ ثابت قدم رہیں۔ میں ہوں۔ تو اُن کے سر مار کر اُڑا دو ۔ نے خدا اور اس کے رسول کی مخا ہے تو خدا بھی سخت عذاب دی ان آیات میں اُن کے دی کہ وہ اللہ اور اس کے رسول کی کی مخالفت کرے گا اس عذا
ھُوَ اُذُنٌ کی تفسیر
بات مان لیں گے۔ واہبی ،ا ” ھُوَ اُذُنٌ “ یعنی و یعنی مفسرین کہتے ہیں منافقوں نے کہا : کیوں نہ یک سزا دیں۔ اخنس کہتے ہیں اس پاس جائیں گے تو آپ ہماری سننے والے کان ہیں۔ تب
ان آیات میں اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کو دنیوی اور اخروی عذاب کا باعث قرار دیا ظاہر ہے کہ رسول کریم کو ایذا دینے والا اللہ اور اس کے رسول کا مخالف ہے ۔ عذاب سے مراد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اُن پر عذاب نازل کر کے اُن کو ہلاک کرے گا یا ہمارے ہاتھوں سے انہیں تباہ و برباد کرے گا ۔ ورنہ اس سے کم درجہ کا عذاب تو اُن پر نازل ہوچکا ہے ۔ مثلاً مالوں کا چلا جانا اور دیار و بلاد سے جلا وطن ہونا ۔ قرآن کریم میں فرمایا :
”جب تمہارا پروردگار فرشتوں کو ارشاد فرماتا تھا کہ میں تمہارے ساتھ ہوں۔ تم مومنوں کو تسلی دو کہ ثابت قدم رہیں۔ میں ابھی ابھی کافروں کے دلوں میں رُعب و ہیبت ڈالے دیتا ہوں۔ تو اُن کے سر مار کر اڑا دو ۔ ان کا پور پور مار کر توڑ دو ۔ یہ سزا اس لیے دی گئی کہ انہوں نے خدا اور اس کے رسول کی مخالفت کی اور جو شخص خدا اور اس کے رسول کی مخالفت کرتا ہے تو خدا بھی سخت عذاب دینے والا ہے “
(الانفال - ۱۱ - ۱۲)
ان آیات میں اُن کے دلوں پر رُعب جمانے اور اُن کو قتل کا حکم دینے کی وجہ یہ بتائی کہ وہ اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کرتے ہیں ۔ پس جو شخص بھی اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کرے گا اس عذاب کا مستحق ہوگا ۔
هُوَ اُذُنٌ کی تفسیر
مجاہد کہتے ہیں اس کے معنی یہ ہیں کہ ” جو بات ہمارا دل چاہے گا کہیں گے اور ہر قسم کھالیں گے جس کے نتیجہ میں رسول کریم ہماری بات مان لیں گے ۔ واہبی ، ابن عباس سے روایت کرتے ہیں کہ : ”هُوَ اُذُنٌ“ یعنی وہ ہر ایک کی بات سن لیتے ہیں ۔
یعنی مفسرین کہتے ہیں کہ منافق رسول کریم کو ایذا دیتے اور نازیبا باتیں کہتے تھے۔ بعض منافقوں نے کہا : یہ نہ کہو ہمیں ڈر ہے کہ ہماری باتیں آپ تک پہنچ جائیں اور آپ ہمیں سزا دیں “
اخنس کہتے ہیں اس کا مطلب یہ ہے کہ ” جو ہم چاہیں گے کہیں گے ، پھر جب آپ کے پاس جائیں گے تو آپ ہماری تصدیق کریں گے ۔ اس لیے کہ محمد ﷺ تو صرف ایک سننے والے کان ہیں ۔ تب یہ آیت کریمہ نازل ہوئی “
ابن اسحاق فرماتے ہیں :۔
"نبتل بن حارث ایک آدمی تھا جس کے بارے میں رسولِ کریمؐ نے فرمایا تھا " جو شخص شیطان کو دیکھنا چاہے وہ نبتل کو دیکھ لے " نبتل رسولِ کریمؐ کی باتیں منافقوں تک پہنچایا کرتا تھا۔ اسے کہا گیا کہ یوں نہ کرو، تو اُس نے کہا " محمدؐ تو نرے کان ہے" ۔ کوئی شخص جو کہتا ہے اسے مان لیتے ہیں۔ ہم جو چاہیں اس سے کہیں گے، پھر آکر قسم کھالیں گے تو وہ ہماری بات کو تسلیم کر لے گا ۔ تب اللہ نے یہ آیتِ کریمہ نازل فرمائی :
اُن کے قول " اُذُنٌ " کا مفہوم یہ ہے کہ اُن کی بات آپ کے نزدیک مقبول ہے ۔
اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں فرمایا کہ رسول کریمؐ صرف متقی لوگوں کی بات مانتے ہیں۔ آپؐ خبر سنتے ہیں، جب وہ قسم کھاتے ہیں تو آپ انہیں معاف کر دیتے ہیں۔ یہ اس لیے ہے کہ "آپ خیر کا کان ہیں، اس لیے نہیں کہ آپ اُن کی تصدیق کرتے ہیں۔
سفیان بن عُیینہؒ کہتے ہیں :
"آپ خیر کا کان ہیں کہ جو بات آپ بتاتے ہیں اسے مان لیتے ہیں اور تمہاری دل کی باتوں پر تمہیں نہیں پکڑتے۔ تمہارے اسرارِ نہانی کو اللہ پر چھوڑ دیتے ہیں ۔ بعض اوقات اس لفظ میں مذاق اور تحقیر کا پہلو بھی ہوتا ہے ۔
اگر معترض کہے کہ نعیم بن حماد نے بطریق محمد بن ثور از یونس از حسن روایت کیا ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اے اللہ ! کسی فاسق وفاجر کو مجھ پر احسان کرنیکی توفیق عطا نہ کر، کیونکہ جو وحی مجھ پر کی جاتی ہے۔ اس میں مجھے کہا گیا ہے "جو لوگ خدا پر اور روزِ قیامت پر ایمان رکھتے ہیں تم ان کو خدا اور اُس کے رسول کے دشمنوں سے دوستی کرتے ہوئے نہ دیکھوگے"۔
(المجادلۃ ۔ ۲۲)
سفیان کہتے ہیں اہلِ علم کا خیال ہے کہ یہ آیت اُن لوگوں کے بارے میں اُتری جو حاکمِ وقت سے ملے جلے رہتے ہوں ۔ اس کو ابو احمد العسکری نے روایت کیا ہے۔ اس آیت کا ظاہری مفہوم یہ ہے کہ کسی فاسق سے دوستی نہیں لگانا چاہیے ۔ اس لیے کہ وہ اللہ اور اس کے رسول کا مخالف ہے۔ حالانکہ ان میں ایسا نفاق نہیں پایا جاتا جس کی بنا پر وہ مباح الدم ہو جائیں ۔
فرماتے ہیں :- نبتل ابن حارث ایک آدمی تھا جس کے بارے میں رسول کریم نے فرمایا تھا ”جو شخص شیطان کو دیکھنا چاہے وہ نبتل کو دیکھ لے“ ۔ نبتل رسول کریم کی باتیں منافقوں تک پہنچایا کرتا تھا۔ اسے روکا گیا، تو اس نے کہا، ”محمدؐ تو نرے کان ہے۔“ کوئی شخص جو کہتا ہے اسے مان لیتے ہیں۔ ہم جو چاہیں اس سے کہیں گے، پھر آ کر قسم کھا لیں گے تو وہ ہماری بات کو تسلیم کر لے گا۔ “ اللہ نے یہ آیت کریمہ نازل فرمائی :
”وَيُؤْمِنُ لِلْمُؤْمِنِينَ“ کا مفہوم یہ ہے کہ اُن کی بات آپ کے نزدیک مقبول ہے ۔ اس آیت میں فرمایا کہ رسول کریمؐ صرف متقی لوگوں کی بات مانتے ہیں۔ آپؐ خبر دیتے ہیں تو وہ قسم کھاتے ہیں تو آپ انہیں معاف کر دیتے ہیں ۔ یہ اس لیے ہے کہ آپؐ رحیم ہیں، اس لیے نہیں کہ آپ اُن کی تصدیق کرتے ہیں ۔
ابن ابی ملیکہؒ کہتے ہیں :
اُن کا گمان ہے کہ جو بات آپ سنتے ہیں اسے مان لیتے ہیں اور تمہاری دل کی باتوں سے بے خبر رہتے ہیں۔ آپؐ کا طریقہ یہ ہے کہ اسرار نہانی کو اللہ پر چھوڑ دیتے ہیں۔ بعض اوقات اس لفظ میں طنز کا پہلو بھی ہوتا ہے ۔
جیسے کہ نعیم بن حماد نے بطریق محمد بن ثور از یونس از حسن روایت کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اے اللہ ! کسی فاسق و فاجر کو مجھ پر احسان کرنے کی توفیق نہ دے ۔ کہ اس کی محبت میرے دل میں پیدا ہو جائے ۔ اس میں مجھے کہا گیا ہے ۔ جو لوگ خدا پر اور روز قیامت پر ایمان رکھتے ہیں تم ان کو خدا اور اس کے رسول کے دشمنوں سے دوستی کرتے ہوئے نہ پاؤ گے۔“
(المجادلہ ۔ ۲۲)
بعض اہل علم کا خیال ہے کہ یہ آیت اُن لوگوں کے بارے میں اتری جو کافروں سے دوستی رکھتے تھے ۔ اس کو ابو احمد العسکری نے روایت کیا ہے ۔ اس آیت کا ظاہری مفہوم یہ ہے کہ ان سے دوستی نہیں رکھنا چاہیے ۔ اس لیے کہ وہ اللہ اور اس کے رسول کا مخالف ہے۔ ان میں ایسا نفاق نہیں پایا جاتا جس کی بنا پر وہ مباح الدم ہو جائیں ۔
منافق کسے کہتے ہیں
کہا گیا ہے کہ جو مومن اللہ اور اس کے رسول کو چاہتا ہو وہ علی الاطلاق تو اللہ اور اس کے رسول کا مخالف نہیں ہے۔ جس طرح علی الاطلاق وہ کافر اور منافق بھی نہیں ہے۔ اگرچہ اس نے بہت سے گناہوں کا ارتکاب کیا ہو۔ جس طرح رسول کریمؐ نے نُعَیمان سے کہا تھا جس کو شراب نوشی کی وجہ سے کئی مرتبہ کوڑے مارے گئے تھے کہ ”وہ اللہ اور اس کے رسول سے محبت رکھتا ہے ۔“
اس لیے کہ ”مُحَادَّة“ علی الاطلاق، عداوت، قطع تعلق اور علیحدگی کو کہتے ہیں اور ظاہر ہے کہ مومن ایسا نہیں ہوتا ۔ مگر نفاق کا لفظ گاہے نفاق کے شعبوں میں سے کسی شعبہ پر بھی بولا جاتا ہے۔ اسی لیے علماء کہتے ہیں کہ ”کفر کی ایک قسم دوسری قسم سے کم درجہ کی ہوتی ہے یہی حال ظلم اور فسق کا ہے۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”جس نے کسی نسب سے اظہار براءت کیا وہ کافر ہو گیا اگرچہ یہ کتنا ہی معمولی ہو اور اور جس نے غیر اللہ کی قسم کھائی وہ مشرک ہو گیا۔ منافق کی نشانیاں تین ہیں : (۱) جب بات کرے تو جھوٹ بولے (۲) جب وعدہ کرے تو اس کی خلاف ورزی کرے (۳) جب اسے امانت سونپی جائے تو اس میں خیانت کرے “۔
ابن ابی ملیکہؒ کہتے ہیں :
”میں تیس صحابہؓ سے ملا ہوں، ان میں سے ہر ایک اس بات سے ڈرتا تھا کہ کہیں وہ منافق نہ ہو “۔
بنابریں اس حدیث کا مفہوم یہ ہے کہ رسول کریمؐ نے فاجر سے منافق مراد لیا ہو، لہٰذا اس سے استدلال نہیں ٹوٹتا۔ یا اس سے ہر فاجر مراد ہو۔ اس لیے کہ فجور پر نفاق کا گمان کیا جا سکتا ہے۔ ہر فاجر اس امر سے خائف رہتا ہے کہ اُس کے گناہ دل کی کسی بیماری کی وجہ سے صادر نہ ہوتے ہوں یا مرض کے موجب نہ ہوں۔ اس لیے کہ معاصی کفر کے قاصد ہیں جب کوئی شخص فاسق سے محبت کرتا ہے تو گویا وہ منافق سے محبت کرنے والا ہے ۔
پس اللہ اور روز قیامت پر ایمان لانے کے معنی یہ ہیں کہ ایسے شخص سے محبت نہ کرے جس سے ایسے افعال کا صدور ہوتا ہو جو اللہ اور اس کے رسول کے خلاف ہیں۔ اس طرح بھی
استدلال بحال رہتا ہے یا کسی ایک شعبہ سے وابستہ ہوں جو اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کا شعبہ ہے۔ پس ان کا مرتکب بھی بوجہ مخالفت کافر ہونے والا ہے ، اگر چہ دوسری وجہ سے وہ اللہ اور اس کے رسول سے محبت رکھنے والا ہو اور جس قدر مخالفت اس میں پائی جاتی ہے اسی قدر ذلت و رسوائی اس کو لاحق ہوتی ہے۔ جیسا کہ الحسن نے کہا : ”اگرچہ وہ خچروں پر سوار ہوں اور تُرکی گھوڑے انہیں تیزی سے لیے جا رہے ہوں ، تاہم گناہ کی ذلت اُن کی گردنوں سے چسپاں ہوتی ہے، اللہ اپنی نافرمانی کرنے والے کو ضرور رسوا کرتا ہے۔ عاصی کو اس کی معصیت کے مطابق ذلت و ہلاکت لاحق ہوتی ہے اور اس کے ایمان کے بقدر اس کو عزت ملتی ہے ، جس طرح اُسے مذمت اور سزا بھی ملتی ہے“
ایمان کی حقیقت یہ ہے کہ مومن کسی صورت میں بھی احکامِ الہی کی مخالفت کرنے والے سے ”مَوَدَّتِ مطلقہ“ (محبت علی الاطلاق) روا نہ رکھے۔ یہ بات انسانی فطرت میں رکھی گئی ہے کہ جو اس پر احسان کرتا ہے انسان اُس سے محبت کرتا ہے اور جو اس سے بُرا سلوک کرتا ہے تو وہ اس سے دشمنی رکھتا ہے۔ جب ایک فاجر آدمی اس کی طرف دوستی کا ہاتھ بڑھاتا اور احسان کرتا ہے تو وہ اس سے ایسی محبت روا رکھتا ہے جو انسانی فطرت کے عین مطابق ہے ۔ اس طرح وہ اس کا دوست بن جاتا ہے ، حالانکہ حقیقتِ ایمان اس وجہ سے اس کے ساتھ عدمِ محبت کی متقاضی ہے۔ حالانکہ جس ایمان سے وہ بہرہ ور ہے وہ اس امر کا مقتضی ہے کہ مَوَدَّت و محبت کے علاقے صرف مومن کے ساتھ استوار کیے جائیں نہ کہ کافر و منافق کے ساتھ۔ اسی بنا پر بھی یہ استدلال نہیں ٹوٹے گا، کیونکہ جو شخص رسولِ کریمؐ کو ایذا دیتا ہے وہ اصلی مخالفت کا اظہار کرتا ہے، جس میں مخالفت کی تمام انواع و اقسام شامل ہیں۔ اس لیے وہ سزا کے مطلق کا مستوجب ہے اور وہ کفار کی سزا ہے جس طرح نفاق کا اظہار کرنے والا اس کا مستوجب اور مستحق ہوتا ہے، مگر جو شخص نفاق کے کسی ایک شعبہ کا اظہار کرتا ہے وہ اس سزا کے لائق نہیں ہے۔ واللہ اعلم۔
دوسری دلیل : موضوعِ زیر قلم کی دوسری دلیل یہ آیات ہیں۔ ارشاد فرمایا :
” منافق ڈرتے رہتے ہیں کہ ان کے بارے میں کہیں کوئی ایسی سورت نہ اُتر آئے کہ ان کے دل کی باتوں کو اُن (مسلمانوں) پر ظاہر کردے ۔ کہہ دو کہ
ہنسی کیے جاؤ، جس بات سے تم ڈرتے ہو خُدا اور اگر تم اُن سے (اس بارے میں) دریافـ بات چیت اور دل لگی کرتے تھے۔ کہو کیا تـ کے رسول سے ہنسی کرتے تھے۔ بہانے مت بـ چکے ہو اگر ہم تم میں سے ایک جماعت کو معا سزا بھی دیں گے کیوں کہ وہ گناہ کرتے رہـ یہ آیت اس ضمن میں نص ہے کہ اللہ تعا کا مذاق اُڑانا کفر ہے۔ پس گالی دینا بطریقِ اولیٰ کـ کرتی ہے کہ جو شخص رسولِ کریمؐ کی توہین کرے ، ا ــــــــــــــــ وہ کافر ہو جاتا ہے ۔
متعدد اہل علم سے مروی ہے ، جن میں ابـ شامل ہیں ۔
ــــــــــــــــ حدیث کے الفاظ ایک دو ایک منافق نے غزوہ تبوک میں کہا : ”میں نے دیکھا جن کے پیٹ اتنے بڑے ہوں ، جـ اس سے زیادہ بزدل ہوں۔ اس کی مراد رسـ اس سے آگاہ کروں گا“ عوف رسولِ کریمؐ کـ میں پہلے ہی قرآن نازل ہو چکا ہے۔ یہ شخـ سفر کے لیے اپنی ناقہ پر سوار ہوچکے تھے۔ اُ تھے جس طرح قافلہ والے کرتے ہیں اور ا حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فـ رسولِ کریمؐ کی ناقہ کی رسی کے ساتھ لٹکا ہـ
ہنسی کیے جاؤ ، جس بات سے تم ڈرتے ہو خدا اس کو ضرور ظاہر کر دے گا۔ اور اگر تم اُن سے اس بارے میں ، دریافت کرو تو کہیں گے کہ ہم تو یونہی بات چیت اور دل لگی کرتے تھے۔ کہو کیا تم خدا اور اس کی آیتوں اور اس کے رسول سے ہنسی کرتے تھے۔ بہانے مت بناؤ تم ایمان لانے کے بعد کافر ہو چکے ہو اگر ہم تم میں سے ایک جماعت کو معاف کر دیں تو دوسری جماعت کو سزا بھی دیں گے کیوں کہ وہ گناہ کرتے رہے ہیں۔
(التوبہ ۔ ۶۴-۶۶)
یہ آیت اس ضمن میں نص ہے کہ اللہ تعالیٰ ، اس کی آیت اور اس کے رسول کا مذاق اُڑانا کفر ہے ۔ پس گالی دینا بطریقِ اولیٰ مقصود ہے ۔ یہ آیت اس امر پر دلالت کرتی ہے کہ جو شخص رسولِ کریم کی توہین کرے — خواہ سنجیدگی سے ہو یا ازراہِ مذاق — وہ کافر ہو جاتا ہے ۔
متعدد اہل علم سے مروی ہے ، جن میں ابن عمر ، محمد بن کعب ، زید بن اسلم اور قتادہ شامل ہیں ۔
— حدیث کے الفاظ ایک دوسرے سے مخلوط ہو گئے ہیں — کہ ایک منافق نے غزوۂ تبوک میں کہا ” میں نے اپنے ان قاریوں جیسا کوئی شخص نہیں دیکھا جن کے پیٹ اتنے رغبت دار ہوں ، جن کی زبان اتنی جھوٹی ہو اور جو جنگ میں ان سے زیادہ بزدل ہوں ۔ اس کی مراد رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپؐ کے قاری صحابہؓ سے تھی ۔ عوف بن مالک نے اس سے کہا : تم منافق ہو اور جھوٹ کہتے ہو ، میں رسولِ کریم کو اس سے آگاہ کر دوں گا ۔“ عوف رسولِ کریم کو بتانے کے لیے گئے تو پتہ چلا کہ اس کے بارے میں پہلے ہی قرآن نازل ہو چکا ہے ۔ یہ شخص رسولِ کریمؐ کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپؐ سفر کے لیے اپنی ناقہ پر سوار ہو چکے تھے ۔ اُس نے کہا یا رسول اللہ ! ہم ہنسی مذاق کرتے تھے جس طرح قافلہ والے کرتے ہیں اور اس طرح اپنا سفر طے کرتے تھے ۔
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں گویا میں اسے دیکھ رہا ہوں ۔ وہ رسولِ کریمؐ کی ناقہ کی رسی کے ساتھ لٹکا ہوا تھا ، پتھر اس کے پاؤں کو زخمی کر رہے تھے اور
وہ کہہ رہا تھا کہ ”ہم تو صرف کھیل تماشا کر رہے تھے “ رسول کریمؐ اُسے فرما رہے تھے کہ کیا تم اللہ اس کے رسول اور اس کی آیات کا مذاق اڑا رہے تھے “ (التوبۃ - ۶۵)
مجاہد کہتے ہیں کہ ایک منافق نے کہا محمدؐ ہمیں بتاتے ہیں کہ فلاں شخص کی ناقہ فلاں فلاں وادی میں ہے ۔ حالانکہ وہ غیب نہیں جانتے ۔ تب یہ آیت کریمہ نازل ہوئی ۔ مخمر ، قتادہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول کریم غزوہ تبوک میں تشریف فرما تھے ۔ آپ کے سامنے سے منافقین کا ایک قافلہ جا رہا تھا ۔ وہ کہنے لگے اس شخص کا گمان ہے کہ یہ روم کے محل اور قلعے فتح کر لے گا اللہ نے اپنے رسولؐ کو اُن کی باتوں سے آگاہ کر دیا ۔ آپؐ نے فرمایا ” ان لوگوں کو میرے پاس لاؤ “ آپؐ نے اُن کو بلا کر کہا کیا تم نے فلاں فلاں کہی تھی ؟ انہوں نے قسم کھائی کہ ہم تو ہنسی مذاق کر رہے تھے ۔
مُخَمِّر کہتے ہیں کہ کلبی نے کہا (منافقین) میں سے ایک شخص باتوں میں اُن کے ساتھ شریک نہ تھا، بلکہ اُن کی مذمت کرتے ہوئے چلا آ رہا تھا ۔ تب یہ آیت نازل ہوئی : ” اِنْ نَّعْفُ عَنْ طَآئِفَةٍ مِّنْكُمْ (اگر ہم تمہارے ایک گروہ کو معاف کر دیں نُعَذِّبْ طَآئِفَةً “ (التوبۃ - ۶۶) تو دوسرے گروہ کو سزا دیں گے )
وہ ایک ہی شخص تھا جس کو گروہ سے تعبیر کیا ۔
ان لوگوں نے جب رسول کریمؐ اور آپ کے اہل علم صحابہؓ کی تحقیر اور مذمت کی اور آپ کی باتوں کو اہمیت نہ دی تو اللہ نے خبر دی کہ ان لوگوں نے کفر کا ارتکاب کیا ہے اگرچہ یہ بات انہوں نے مذاق کے طور پر کہی تھی ۔ پھر جو چیز اس سے شدید تر ہوگی اس کا کیا حال ہو گا ؟ اُن پر حدّ اس لیے نہ لگائی کہ ابھی منافقین کے خلاف جہاد کرنے کا حکم نازل نہیں ہوا تھا ۔ بخلاف ازیں آپ کو حکم دیا گیا تھا کہ اُن کی ایذا رسانی کو نظر انداز کر دیں نیز اس لیے کہ آپ کو یہ حق حاصل تھا کہ آپ کی تحقیر کرنے والوں کو معاف کر دیں ۔
تیسری دلیل : قرآن کریم میں فرمایا :
” وَمِنْهُمْ مَّنْ يَّلْمِزُكَ فِي (اور اُن میں سے وہ لوگ بھی ہیں جو صدقات الصَّدَقَاتِ “ (التوبۃ - ۵۸) کے بارے میں آپ کو طعن دیتے ہیں )
”لَمْز“ کے معنی عیب اور طعن کے ہیں۔ مجاہد کہتے ہیں اس کے معنی یہ ہیں کہ تجھ پر تہمت لگاتے ہیں اور تحقیر کرتے ہیں۔ عطاء کہتے ہیں اس کے معنی یہ ہیں کہ تیری چغلی کھاتے ہیں
قرآن میں فرمایا :
”وَمِنْهُمُ الَّذِيْنَ يُؤْذُوْنَ النَّبِيَّ“ (اور اُن میں سے ایسے لوگ بھی ہیں جو نبی کو (التوبہ ۔ ۶۱) ایذا دیتے ہیں)
اِن آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ جو شخص بھی رسول کریمؐ کو طعن دیتا یا ایذا پہنچاتا ہے۔ وہ ان میں سے ہے۔ اس لیے کہ ”اَلَّذِيْنَ“ ”مَنْ“ کے الفاظ اسم موصول ہیں۔ اور عموم کا مفہوم دیتے ہیں۔ یہ آیت اگرچہ ایک قوم کے طعن دینے اور ایذا پہنچانے کی وجہ سے نازل ہوئی مگر اس کا حکم ان آیات کی طرح عام ہے جو خاص اسباب کے تحت نازل ہوتیں اس بات میں کوئی اختلاف نہیں پایا جاتا کہ اس سے وہ شخص بھی مراد ہے جس کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی اور وہ شخص بھی جو اس کی مانند ہو۔ جب کوئی لفظ کسی خاص وجہ سے اعم ہو تو کہا گیا ہے کہ وہ اپنے سبب کے اندر محدود ہوگا۔ مگر جمہور کا مذہب یہ ہے کہ عموم قول پر عمل کرنا واجب ہے، جب تک کہ سبب کے اندر محدود ہونے پر دلیل قائم نہ ہوجائے جیسا کہ اپنی اصلی جگہ میں مرقوم ہے ۔
علاوہ بریں اس شخص کا اُن میں سے ہونا ایک ایسا حکم ہے جس کا تعلق ایذا کے ساتھ ہے جو اَذًی اور اَذِیَّۃ سے مشتق ہے۔ اور یہ اس امر کو مقتضی ہے کہ وہ انہی میں سے ہے۔ پس جس سے اس کا اشتقاق کیا گیا ہے وہ اس حکم کی علت ہے، لہٰذا اس کا ہر جگہ پایا جانا (جامع ہونا) واجب ہے۔ مزید برآں اگرچہ اس قول سے پہلے بھی اللہ تعالیٰ کو اُن کا منافق ہونا معلوم تھا۔ مگر جن لوگوں نے اپنے نفاق کا اظہار نہیں کیا تھا اُن کے بارے میں اللہ نے اپنے نبی کو بتایا نہ تھا۔ بلکہ یوں فرمایا :
”اور تمہارے گرد و نواح کے بعض دیہاتی منافق ہیں اور بعض مدینے والے بھی نفاق پر اڑے ہوئے ہیں تم انہیں نہیں جانتے ہم جانتے ہیں“ (التوبہ ۔ ۱۰۱)
پھر اللہ تعالیٰ نے لوگوں کو چند امور کی بنا پر آزمایا جن سے مومنین و منافقین کے درمیان امتیاز
پیدا ہو جاتا ہے ۔ مثلاً قرآن میں فرمایا : "وَلَيَعْلَمَنَّ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا اور خدا ان کو ضرور معلوم کرے گا جو ایماندار وَلَيَعْلَمَنَّ الْمُنَافِقِينَ " ہیں اور اُن کو معلوم کرے گا جو منافق ( العنکبوت - ۱۱ ) ہیں )
نیز فرمایا : "مَا كَانَ اللَّهُ لِيَذَرَ الْمُؤْمِنِينَ لوگو ! جب تک خدا ناپاک کو پاک سے الگ عَلَى مَا أَنْتُمْ عَلَيْهِ حَتَّى يَمِيزَ نہ کر دے گا مومنوں کو اس حال میں جس الْخَبِيثَ مِنَ الطَّيِّبِ" میں تم ہو ہر گز نہیں رہنے دے گا ۔ (آل عمران - ۱۷۹)
اس لیے کہ دراصل ایمان اور نفاق دل سے ہوتا ہے ۔ اقوال وافعال جو اس سے ظاہر ہوتے ہیں اس کی فرع اور دلیل ہوتے ہیں ۔ جب کسی آدمی سے ایسی کوئی چیز ظاہر ہوتی ہے تو اس پر حکم مترتب ہو جاتا ہے ۔ جب اللہ تعالیٰ نے بتا دیا کہ جو لوگ رسول کریمؐ پر طعن کرتے اور ایذا دیتے ہیں وہ منافق ہیں تو معلوم ہوا کہ یہ نفاق کی دلیل ہے اور اُس کی فرع ظاہر ہے کہ جب کسی کی فرع اور دلیل ظاہر ہوتی ہے تو اس کا اصل مدلول بھی ظاہر ہو جاتا ہے پس ثابت ہوا کہ جس میں یہ بات ثابت ہو گی وہ منافق ہو گا ۔ خواہ اس قول سے پہلے ہی منافق ہو یا اس قول کی وجہ سے اس میں نفاق نے جنم لیا ۔
اگر معترض کہے کہ ایسا کیوں نہیں ہو سکتا کہ یہ بات رسول کریمؐ کے لیے اس امر کی دلیل ہو کہ یہ اشخاص منافق ہیں جو آپ کی زندگی میں ایسی باتیں کہتے ہیں ۔ اگرچہ یہ بات دوسروں کے لیے دلیل نہ ہو ۔
ہم اس کے جواب میں کہتے ہیں کہ جب یہ بات رسول کریمؐ کے لیے دلیل ہے بایں کہ ان کے لیے یہ امکان بھی موجود تھا کہ وحی الٰہی کی بنا پر اللہ ان کو اس استدلال سے بے نیاز کر دیتا ، تو دوسروں کے لیے کیوں کر دلیل نہیں ۔ جن کے لیے دوسروں کے باطن کو جاننا کسی طرح ممکن نہ تھا ۔ بنابریں دوسروں کے لیے اس کا دلیل ہونا اولیٰ و أحریٰ ہے ۔ مزید برآں
اگر دوسروں کے حق میں یہ دلالت جامع نہ ہوتی جن سے ایسا قول صادر ہو تو ایسی بات کہنے والوں کے لیے آیت زجر و عتاب کا پہلو کیسے ہوتا ؟ نہ ہی آیت سے اس قول کی اہمیت واضح ہو سکے گی۔ اس لیے کہ کسی خاص منافق پر دلالت کبھی تو اس کی ذات کے ساتھ مخصوص ہوتی ہے۔ اگرچہ وہ مباح کام ہوتا ہے۔ جیسے کہا جائے کہ " سرخ اونٹ والا منافق ہے" اور سیاہ کپڑوں والا منافق ہے" ۔ اور اس قسم کے الفاظ ۔
جب قرآن نے عین اس قول کی مذمت کی اور اس کے قائل کو وعید سنائی تو اس سے معلوم ہوا کہ اس سے خصوص منافقین کی نشان دہی مقصود نہیں بلکہ منافقین کی ایک نوع پر روشنی ڈالنا مقصود ہے ۔ مزید برآں یہ قول نفاق سے پوری مناسبت رکھتا ہے۔ اس لیے کہ وہ شخص رسول کریمؐ کو طعن اور اذیت نہیں پہنچا سکتا جس کا عقیدہ یہ ہو کہ آپؐ سچے رسول ہیں یا آپؐ اس کی جان سے قریب تر ہیں، اور آپؐ وہی بات کہتے ہیں جو سچی ہو اور وہی فیصلہ کرتے ہیں جو قرینِ عدل و انصاف ہو، آپؐ کی اطاعت اللہ کی اطاعت ہے اور یہ کہ آپؐ کی تکریم و توقیر تمام مخلوقات پر واجب ہے اور جب یہ بات نفسِ نفاق کی دلیل ہے تو جہاں بھی یہ پائی جائے گی وہاں ہی نفاق موجود ہوگا۔
مزید برآں یہ بات بلاشبہ حرام ہے۔ اب یا تو یہ کفر سے کم درجے کی خطاء ہوگی یا کفر ہوگی۔ ظاہر ہے کہ یہ کفر سے کم درجہ کی خطاء نہیں ہو سکتی اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں نافرمانوں کی انواع و اقسام کی نشان دہی کی ہے ۔ مثلاً زانی ، بہتان لگانے والا، چور، کم تولنے والا اور خائن اور اس کو نفاقِ معین اور مطلق کی دلیل قرار نہیں دیا۔ جب ان اقوال کے قائلین کو منافق قرار دیا تو معلوم ہوا کہ یہ اقوال کفر کے موجب ہیں، صرف معصیت ہی نہیں ۔ اس لیے کہ بعض معاصی کو نفاق ٹھہرانا اور بعض کو نہ ٹھہرانا درست نہیں ۔ جب تک کسی دلیل سے اسکا اختصاص نہ ثابت ہوتا ہو ۔ ورنہ یہ ترجیح بلامرجح ہوگی۔ پس ثابت ہوا کہ ان اقوال کا کسی ایسے وصف کے ساتھ مخصوص ہونا ناگزیر ہے جس سے ان کا دلیل نفاق ہونا لازم آتا ہو۔ اور جہاں بھی یہ بات موجود ہوگی اسے کفر قرار دیا جائے گا ۔
منافقین کے اقوال عدم ایمان کی علامت ہیں
اللہ تعالیٰ نے منافقین کے بعض اقوال کا ذکر کیا ہے جن کی وجہ سے انہیں منافق قرار دیا گیا۔
دیکھئے درج ذیل آیات :
- (۱) ” اِئْذَنْ لِّيْ وَلَا تَفْتِنِّيْ “ مجھے تو اجازت ہی دیجیے اور آفت میں
نہ ڈالیے ،
(التوبۃ ۔ ۴۹)
۔ جو لوگ خدا پر اور روز آخرت پر ایمان رکھتے ہیں وہ تم سے اجازت نہیں مانگتے (کہ پیچھے رہ جائیں بلکہ چاہتے ہیں کہ) اپنے مال اور جان سے جہاد کریں اور خدا ڈرنے والوں سے واقف ہے ۔ اجازت وہی لوگ مانگتے ہیں جو خدا پر اور پچھلے دن پر ایمان نہیں رکھتے اور ان کے دل شک میں پڑے ہوئے ہیں سو وہ اپنے شک میں ڈانواں ڈول ہورہے ہیں “ ۔
(التوبۃ ۔ ۴۴ ۔ ۴۵)
اللہ تعالیٰ نے اس کو عدم ایمان اور شک کی جامع علامت قرار دیا۔ رسول کریم کے جہاد کے لیے نکلنے کے بعد یہ جہاد سے انحراف، اور جہاد میں شامل نہ ہونیوالے کی طرف سے اظہارِ معذرت بھی ہے، جس کا خلاصہ جہاد میں عدم شمولیت نکلتا ہے۔ پس آپ کو طعن دینا اور ایذا رسانی بالاولیٰ اس کی جامع دلیل ہے۔ اس لیے کہ پہلی بات اس کیلئے رسوائی کی موجب ہے اور دوسری بات اس کے محاربہ پر مبنی ہے اور یہ ظاہر بات ہے ۔
منافقین ایمان سے عاری ہیں
جب یہ بات ثابت ہوگئی کہ جو شخص آپ کو طعن دے اور ایذا پہنچائے تو وہ منافقین میں سے ہے ۔ پس اس کی ضمیر منافقین اور کفار کی طرف لوٹتی ہے ۔ ارشاد خداوندی ہے :
” تم سبک بار ہو یا گراں بار (یعنی مال و اسباب تھوڑا رکھتے ہو یا بقوہ ) گھروں سے نکل آؤ اور خدا کے راستے میں مال اور جان سے لڑو، یہی تمہارے حق میں اچھا ہے، بشرطیکہ سمجھو ۔ اگر مالی غنیمت آسانی سے مل جائے اور سفر بھی کم ہو تو تمہارے
اقوال عدم ایمان کی علامت ہیں
اللہ تعالیٰ نے منافقین کے بعض اقوال کا ذکر کر کے انہیں منافق قرار دیا گیا۔
درج ذیل آیات :
”وَلَا تَفْتِنِّی“ ”مجھے تو اجازت ہی دیجیے اور آفت میں نہ ڈالیے “
(التوبۃ - ۴۹)
”جو خدا اور روزِ آخرت پر ایمان رکھتے ہیں وہ تم سے اجازت نہیں مانگتے (کہ وہ رہ جائیں بلکہ چاہتے ہیں کہ) اپنے مال اور جان سے جہاد کریں۔ خدا ڈرنے والوں سے واقف ہے۔ اجازت وہی لوگ مانگتے ہیں جو خدا اور پچھلے دن پر ایمان نہیں رکھتے اور ان کے دل شک میں پڑے ہیں سو وہ اپنے شک میں ڈانواں ڈول ہو رہے ہیں۔“
(التوبۃ - ۴۴ - ۴۵)
قرآن نے اس کو عدمِ ایمان اور شک کی جامع علامت قرار دیا۔ رسولِ کریمؐ کے جذبہ جہاد سے انحراف، اور جہاد میں شامل نہ ہونیوالے کی طرف سے یہ علامت ظاہر ہوتی ہے جس کا خلاصہ جہاد میں عدم شمولیت نکلتا ہے۔ پس آپؐ کو طعن کا نشانہ بنانا بالاولیٰ اس کی جامع دلیل ہے۔ اس لیے کہ پہلی بات اس کیلئے رسوائی کا باعث ہے اور دوسری بات اس کے محاربہ پر مبنی ہے اور یہ ظاہر بات ہے۔
جہاد سے عاری ہیں
جب یہ بات ثابت ہو گئی کہ جو شخص آپؐ کو طعن دے اور ایذا پہنچائے تو وہ منافقین میں سے ہے اور یقیناً کفار کی طرف لوٹتی ہے۔ ارشادِ خداوندی ہے :
”نکلو ہلکے یا گراں بار (یعنی مال واسباب تھوڑا رکھے ہو یا بکثرت، گھروں سے نکل کھڑے ہو) اور خدا کے راستے میں مال اور جان سے لڑو، یہی تمہارے حق میں اچھا ہے، اگر تم سمجھو۔ اگر مالِ غنیمت آسانی سے مل جائے اور سفر بھی کم ہو تو تمہارے
ساتھ شوق سے چل دیتے، لیکن مسافت اُن کو دور دراز نظر آئی تو عذر کریں گے اور خدا کی قسمیں کھائیں گے کہ اگر ہم طاقت رکھتے تو آپ کے ساتھ نکل کھڑے ہوتے ۔“
(التوبۃ - ۴۱ - ۴۲)
”سَيَحْلِفُونَ“ کی ضمیر کا مرجع مذکور نہیں اور یہ قسم کھانے والے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ اگر ہم نکل سکتے تو تمہارے ساتھ نکلتے۔ بلاشبہ و خلاف ایسے لوگ منافق ہیں۔ پھر اگلی آیت میں ضمیر ’ھم‘ کو ان کی طرف لوٹایا ۔ ارشاد فرمایا :
”کہہ دو کہ تم (مال) خوشی سے خرچ کرو یا نا خوشی سے تم سے ہرگز قبول نہیں کیا جائیگا تم نافرمان لوگ ہو اور ان کے خرچ (اموال) کے قبول ہونے سے کوئی چیز مانع نہیں ہوئی سوا اس کے کہ انہوں نے خدا سے اور اس کے رسول سے کفر کیا“
(التوبۃ - ۵۳ - ۵۴)
ان آیات سے معلوم ہوا کہ ضمیر کا مرجع یہی لوگ ہیں اور انہوں نے ہی اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ کفر کیا ہے ۔ ان میں سے کچھ لوگ طعن دیتے ہیں اور کچھ ایذا پہنچاتے ہیں۔ وَمَا هُم مِّنكُمْ ”(وہ تم میں سے نہیں ہیں) کہہ کر بھی ان کو خارج از ایمان قرار دیا گیا ہے۔
قرآنِ کریم کے متعدد مقامات میں منافقین کو خارج از ایمان قرار دیا گیا اور بتایا گیا ہے کہ وہ کفار سے بھی بدتر ہیں اور وہ جہنم کے سب سے نچلے درجہ میں ہوں گے۔ منافق روزِ قیامت اہلِ ایمان سے کہیں گے کہ ”ٹھہریئے ہم تمہارے نور سے کچھ اخذ کریں۔ پھر ان سے کہا جائے گا کہ آج تم سے اور کفار سے کوئی فدیہ قبول نہیں کیا جائے گا ۔“
(الحدید - ۱۳ - ۱۵)
آخر میں اپنے نبی کو حکم دیا کہ ان کا جنازہ نہ پڑھائیں اور یہ بھی بتایا کہ وہ انہیں ہرگز نہیں بخشے گا۔ پھر اُن کے ساتھ جہاد کرنے اور سختی برتنے کا حکم دیا، نیز فرمایا کہ ”اگر منافق اور وہ لوگ جن کے دلوں میں مرض ہے اور جو بُری بُری خبریں اُڑایا کرتے ہیں اپنے کردار سے باز نہ آئیں گے تو ہم تم کو ان کے پیچھے لگا دیں گے ۔ پھر وہاں تمہارے پڑوس میں نہ رہ سکیں گے مگر تھوڑے دن ۔“
(الاحزاب - ۶۰)
چوتھی دلیل : درج ذیل آیت کریمہ ہے :
"تمہارے پروردگار کی قسم یہ لوگ جب تک اپنے تنازعات میں تمہیں منصف نہ بنائیں اور جو فیصلہ تم کر دو اس سے اپنے دل میں تنگ نہ ہوں بلکہ اُسے خوشی سے مان لیں تب تک مومن نہیں ہوں گے"
(النساء - ۶۵)
باری تعالیٰ نے قسم کھا کر فرمایا کہ یہ لوگ مومن نہیں ہوں گے جب تک کہ اپنے باہمی منازعات میں آپ کو حکم نہ بنائیں ، پھر آپ کے فیصلہ پر کوئی تنگی محسوس نہ کریں ، بلکہ اپنے ظاہر و باطن کو اس کے سامنے جھکا دیں ۔ اس سے قبل یہ آیت ہے :
"کیا تم نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جو دعویٰ تو یہ کرتے ہیں کہ جو کتاب تم پر نازل ہوئی ہے اور جو کتابیں تم سے پہلے نازل ہوئیں ان سب پر ایمان رکھتے ہیں اور چاہتے یہ ہیں کہ اپنا مقدمہ ایک سرکش کے پاس لے جا کر فیصلہ کرائیں حالانکہ اُن کو حکم دیا گیا تھا کہ اس سے اعتقاد نہ رکھیں ۔ اور شیطان تو یہ چاہتا ہے کہ ان کو بہکا کر راستہ سے دُور ڈال دے ۔ اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ جو حکم خدا نے نازل فرمایا ہے اُس کی طرف رجوع کرو اور پیغمبر کی طرف آؤ تو تم منافقوں کو دیکھتے ہو کہ تم سے اعراض کرتے اور رُکے جاتے ہیں "
(النساء - ۶۰ - ۶۱)
خدا وند تعالیٰ نے بیان فرمایا کہ جس کو کتاب اللہ کے ساتھ فیصلہ کرنے کی اور رسول کریمؐ کی طرف دعوت دی جائے اور وہ اللہ کی راہ سے لوگوں کو روک دے تو ایسا شخص منافق ہوتا ہے ۔ قرآن کریم میں فرمایا :
"اور کہتے ہیں کہ ہم خدا پر اور اس کے رسول پر ایمان لائے اور ان کا حکم مان لیا ، پھر اس کے بعد اُن میں سے ایک فرقہ پھر جاتا ہے اور یہ لوگ صاحب ایمان ہی نہیں ہیں ۔ اور جب ان کو خدا اور اس کے رسول کی طرف بلایا جاتا ہے تاکہ اُن کا قضیہ چکا دیں ، تو ان میں سے ایک فرقہ منہ پھیر لیتا ہے اور اگر معاملہ حق ہو اور ان کو پہنچتا ہو تو اُن کی طرف مطیع ہو کر چلے آتے ہیں ۔ کیا ان کے دلوں میں بیماری ہے یا یہ شک میں ہیں یا ان کو یہ خوف ہے کہ خدا اور اس کا
پروردگار کی قسم یہ لوگ جب تک اپنے تنازعات میں تمہیں منصف نہ بنائیں اور اس سے اپنے دل میں تنگ نہ ہوں بلکہ اسے خوشی سے مان لیں تب تک مومن
(النساء - ۶۵)
ا نے قسم کھا کر فرمایا کہ یہ لوگ مومن نہیں ہوں گے جب تک کہ اپنے باہمی پ کو حکم نہ بنائیں، پھر آپ کے فیصلہ پر کوئی تنگی محسوس نہ کریں، بلکہ اپنے اس کے سامنے جھکا دیں۔ اس سے قبل یہ آیت ہے :
نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جو دعویٰ تو یہ کرتے ہیں کہ جو کتاب تم پر تی ہے اور جو کتابیں تم سے پہلے نازل ہوئیں ان سب پر ایمان رکھتے ہتے یہ ہیں کہ اپنا مقدمہ ایک سرکش کے پاس لے جاکر فیصلہ کرائیں کو حکم دیا گیا تھا کہ اس سے اعتقاد نہ رکھیں۔ اور شیطان تو یہ کہ ان کو بہکا کر راستہ سے دُور ڈال دے ۔ اور جب ان سے کہا جاتا کم خدا نے نازل فرمایا ہے اُس کی طرف رجوع کرو اور پیغمبر کی طرف منافقوں کو دیکھتے ہو کہ تم سے اعراض کرتے اور رکے جاتے ہیں۔"
(النساء - ۶۰ - ۶۱)
عالی نے بیان فرمایا کہ جس کو کتاب اللہ کے ساتھ فیصلہ کرنے کی اور رسولِ کریم ئی جائے اور وہ اللہ کی راہ سے لوگوں کو روک دے تو ایسا شخص منافق ہوتا میں فرمایا :
ہیں کہ ہم خدا پر اور اس کے رسول پر ایمان لائے اور ان کا حکم مان اس کے بعد ان میں سے ایک فرقہ پھر جاتا ہے اور یہ لوگ صاحب نہیں ہیں۔ اور جب ان کو خدا اور اس کے رسول کی طرف بلایا جاتا ہے قضیہ چکا دیں۔ تو ان میں سے ایک فرقہ منہ پھیر لیتا ہے اور اگر معاملہ حق میں فیصلہ ہو تو ان کی طرف مطیع ہو کر چلے آتے ہیں۔ کیا ان کے وں میں بیماری ہے یا یہ شک میں ہیں یا ان کو یہ خوف ہے کہ خدا اور اس کا
رسول ان کے حق میں ظلم کریں گے (نہیں) بلکہ یہ خود ظالم ہیں۔ مومنوں کی تو یہ بات ہے کہ جب خدا اور اس کے رسول کی طرف بلائے جائیں تاکہ وہ ان میں فیصلہ کریں تو کہیں کہ ہم نے سن لیا اور مان لیا اور یہی لوگ فلاح پانے والے ہیں۔"
(النور - ۴۷ - ۵۱)
مذکورہ صدر آیات میں بیان فرمایا کہ جو شخص اطاعتِ رسول سے منہ موڑے اور آپ کے حکم سے اعراض کرے تو وہ منافق ہے مومن نہیں۔ مومن وہ ہے جو کہتا ہے کہ ہم نے سنا اور اطاعت کی۔ جب رسولِ کریمؐ کی اطاعت سے اعراض کرنے اور اپنا فیصلہ شیطان کی طرف لے جانے سے ایمان زائل ہو جاتا ہے اور نفاق کا اثبات ہوتا ہے، حالانکہ یہ ترکِ محض ہے جس کا سبب حرص و ہوا کی قوت ہے تو آپ کی تحقیر اور سبّ و شتم کیونکر کفر کا باعث نہ ہوگا،
ایک شخص رسولِ کریمؐ کے فیصلے پر راضی
نہ تھا حضرت عمرؓ نے اسے قتل کر دیا
اس کی تائید اس حدیث سے ہوتی ہے جس کو ابو اسحاق ابراہیم بن عبدالرحمن بن ابراہیم بن دُحیم نے اپنی تفسیر میں بطریقِ شعیب بن شعیب از ابو المغیرہ از عتیبہ بن ضمرہ از والد خود، دو آدمیوں سے روایت کیا ہے جو اپنا جھگڑا عدالتِ نبوی میں لائے۔ آپؐ نے جھوٹے کے خلاف سچے آدمی کے حق میں فیصلہ صادر فرمایا۔ جس کے خلاف فیصلہ ہوا تھا اس نے کہا میں اس پر راضی نہیں ہوں۔ اس کے ساتھی نے کہا تم کیا چاہتے ہو؟ کہا میں ابو بکر صدیقؓ سے فیصلہ کرانا چاہتا ہوں۔ چنانچہ وہ دونوں حضرت ابو بکر صدیقؓ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ جس کے حق میں فیصلہ ہوا تھا اس نے کہا ہم رسولِ کریمؐ کی خدمت میں حاضر ہوئے تھے اور آپؐ نے میرے حق میں فیصلہ فرمایا۔ حضرت ابو بکرؓ نے کہا تمہارا فیصلہ وہی ہے جو رسولِ کریمؐ نے کیا ہے۔ اس کے ساتھی نے اسے تسلیم نہ کیا اور کہا کہ ہم حضرت عمرؓ کے پاس چلتے ہیں۔ چنانچہ دونوں حضرت عمرؓ کے ہاں حاضر ہوئے۔ جس کے حق میں فیصلہ ہوا تھا اس نے کہا : ہم پہلے رسولِ کریمؐ کی خدمت میں حاضر ہوئے تھے اور پھر حضرت ابو بکرؓ کے یہاں، دونوں نے میرے حق میں فیصلہ صادر فرمایا مگر میرا ساتھی نہیں مانتا۔ حضرت عمرؓ نے دوسرے ساتھی سے پوچھا
تو اس نے بھی واقعہ اسی طرح دہرایا حضرت عمرؓ گھر کے اندر داخل ہوئے اور تلوار لے کر باہر آئے ۔ اور آپ نے وہ تلوار اس شخص کے سر پر دے ماری جس نے انکار کیا تھا اور اسے قتل کر دیا ۔ تب یہ آیتِ کریمہ ”فَلَا وَ رَبِّکَ“ نازل ہوئی ۔
(النساء ۔ ۶۵)
اس مُرسل روایت کی تائید ایک اور روایت سے بھی ہوتی ہے جو لائقِ اعتماد ہے ۔ نیز ابنِ مردویہ نے بطریقِ ابنِ ابی حاتم زبانی از ابوالاسود از ابنِ لھیعہ از ابوالاسود از عُروہ بن زُبیر سے روایت کی ہے کہ دو آدمی اپنا جھگڑا لے کر رسولِ کریمؐ کی خدمت میں حاضر ہوئے ۔ آپؐ نے ایک کے حق میں فیصلہ دیدیا ۔ دوسرے نے کہا ”ہمیں حضرت عمرؓ کے پاس بھیجئے “ رسولِ کریمؐ نے فرمایا ”ہاں ! عمر کے یہاں چلے جاؤ “ چنانچہ وہ دونوں چلے گئے ۔ جس شخص کے حق میں فیصلہ ہوا تھا اس نے کہا اے ابن الخطاب ! رسولِ کریمؐ نے میرے حق میں فیصلہ صادر کیا تھا ۔ مگر اس نے کہا کہ ہمیں عمرؓ کے پاس بھیجئے ۔ چنانچہ رسولِ کریمؐ نے ہمیں آپ کے بھیجا ۔ حضرت عمرؓ نے دوسرے آدمی سے پوچھا کیا یہ ٹھیک کہتا ہے ؟ اس نے کہا جی ہاں ! حضرت عمرؓ نے فرمایا ٹھہرو ۔ میں واپس آ کر فیصلہ کروں گا ۔ گھر سے تلوار نکال کر لائے اور اس آدمی کے سر پر دے ماری ۔ جس نے کہا تھا کہ ہمیں عمرِ فاروق کے پاس بھیجئے ۔ حضرت عمرؓ نے اسے قتل کر دیا اور دوسرا آدمی رسولِ کریمؐ کے یہاں لوٹ آیا ۔ اس نے عرض کیا کہ عمرؓ نے میرے ساتھی کو قتل کر دیا ۔ اگر میں انہیں اس کا موقع دیتا تو وہ مجھے بھی مار ڈالتے ۔ یہ سُن کر رسولِ کریمؐ نے فرمایا :
”مجھے یہ گمان نہ تھا کہ عمرؓ ایک مومن کو قتل کرنے کی جسارت بھی کر سکتا ہے “ تب مذکورہ بالا آیت ”فَلَا وَرَبِّکَ“ نازل ہوئی ۔ اور اللہ نے حضرت عمر کو اس کے قتل سے بری قرار دیا ۔
یہ واقعہ مذکورہ بالا دو سندوں کے علاوہ بھی بسندِ دیگر منقول ہے ۔ امام احمدؒ فرماتے ہیں کہ ابنِ لھیعہ کی روایت دوسری روایت کی تائید و حمایت کے لیے لکھا کرتا ہوں ۔ میں نے اس کی روایت یہاں اس لیے نقل کی ہے کہ اس کی تائید دیگر روایات سے ہوتی ہے یوں نہیں کہ ابن لھیعہ روایت کرنے میں منفرد ہو تب بھی میں اُس کی روایت کو حُجّت تسلیم کروں ۔
پانچویں دلیل : علماء نے مندرجہ ذیل آیت سے بھی استدلال کیا ہے : " جو لوگ خدا اور اس کے رسول کو رنج پہنچاتے ہیں ان پر خدا دنیا اور آخرت میں لعنت کرتا ہے اور ان کے لیے اس نے ذلیل کرنے والا عذاب تیار کر رکھا ہے اور جو لوگ مومن مردوں اور مومن عورتوں کو ایسے کام (کی تہمت) سے جو انہوں نے نہ کیا ہو ایذا دیں تو انہوں نے بہتان اور صریح گناہ کا بوجھ اپنے سر پر رکھا۔"
(الاحزاب ۔ ۵۷-۵۸)
رسولؐ کی ایذا اللہ کی ایذا ہے | یہ آیت کئی وجوہ سے مسئلہ زیر قلم پر
دلالت کرتی ہے :
پہلی وجہ : پہلی وجہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی ایذا کو رسولؐ کی ایذا اور اپنی اطاعت کو رسولؐ کی اطاعت کے ساتھ مقرون و متصل کر کے بیان کیا ہے ، یہ بطریق منصوص بھی آپ سے منقول ہے اور جو شخص اللہ کو ایذا دے وہ کافر اور مباح الدم ہے ، اس سے مستفاد ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی اور رسولؐ کی محبت ، اپنی اور رسولؐ کی رضا مندی، اپنی اطاعت اور رسولؐ کی اطاعت کو ایک ہی چیز قرار دیا ہے ۔
قرآن کریم میں فرمایا : " کہہ دو کہ اگر تمہارے باپ اور بیٹے اور بھائی اور عورتیں اور خاندان کے آدمی اور مال جو تم کماتے ہو اور تجارت جس کے بند ہونے سے ڈرتے ہو اور مکانات جن کو پسند کرتے ہو خدا اور اس کے رسول سے اور خدا کی راہ میں جہاد کرنے سے تمہیں زیادہ عزیز ہوں تو ٹھہرے رہو یہاں تک کہ خدا اپنا حکم (یعنی عذاب) بھیجے اور خدا نافرمان لوگوں کو ہدایت نہیں دیا کرتا۔"
(التوبۃ ۔ ۲۴)
قرآن میں فرمایا : وَاللّٰهُ وَرَسُوْلُهُ اَحَقُّ اَنْ يُّرْضُوْهُ " (اللہ اور اس کا رسول اس بات کے بہت حقدار ہیں کہ ان کو راضی کریں)
(التوبۃ ۔ ۶۲)
اس آیت میں ”يُرْضُوْهُ“ کی ضمیر واحد ہے (اس سے اللہ اور اس کا رسولؐ دونوں مراد ہیں)
ارشاد فرمایا :
اِنَّ الَّذِيْنَ يُبَايِعُوْنَكَ اِنَّمَا (جو لوگ آپ کی بیعت کرتے ہیں وہ يُبَايِعُوْنَ اللّٰهَ ط (الفتح - ۱۰) اللہ کی بیعت کرتے ہیں) يَسْأَلُوْنَكَ عَنِ الْاَنْفَالِ ط قُلِ (تجھ سے مال غنیمت کے بارے میں الْاَنْفَالُ لِلّٰهِ وَ الرَّسُوْلِ ج (الانفال - ۱) پوچھتے ہیں، کہہ دیجیے کہ مال غنیمت اللہ اور اس کے رسول کے لیے ہے) ۔
مندرجہ ذیل آیات میں اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت، عداوت، اذیت اور معصیت کو ایک ہی چیز قرار دیا گیا ہے :
- (۱) ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ شَاقُّوا اللّٰهَ (یہ اس لیے ہے کہ انہوں نے اللہ اور اس
وَ رَسُوْلَهٗ ج (الانفال - ۱۳) کے رسول کی مخالفت کی)
- (۲) اِنَّ الَّذِيْنَ يُحَادُّوْنَ اللّٰهَ وَ (بے شک وہ لوگ جو اللہ اور اس کے
رَسُوْلَهٗ (المجادلہ - ۲۰) رسول کی مخالفت کرتے ہیں)
- (۳) اَلَمْ يَعْلَمُوْا اَنَّهٗ مَنْ يُّحَادِدِ (کیا انہیں معلوم نہیں کہ جو شخص اللہ اور
اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ (التوبۃ - ۶۳) اس کے رسول کی مخالفت کرتا ہے،
- (۴) وَ مَنْ يَّعْصِ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ (اور جو اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی
(النساء - ۱۴) کرے)
اللہ اور اس کے رسول کا حق باہم لازم و ملزوم ہیں
متذکرہ صدر آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ اور اس کے رسول کا حق باہم لازم و ملزوم ہیں۔ نیز یہ کہ اللہ اور اس کے رسول کی حُرمت کی جہت ایک ہی ہے۔ لہٰذا جس نے رسولؐ کو ایذا دی اس نے اللہ کو ایذا دی، اور جس نے رسول کی اطاعت کی اس نے اللہ کی اطاعت کی ۔
اس لیے کہ امت کے تعلق باللہ کا رشتہ صرف رسول کے واسطہ سے استوار ہو سکتا ہے ۔ کسی کے پاس بھی اس کے سوا دوسرا کوئی طریقہ یا سبب نہیں ہے ، اوامر و نواہی اور اخبار و بیان میں اللہ نے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنا قائم مقام مقرر کیا ہے ۔ اس لیے مذکورہ بالا امور میں اللہ اور رسول کے مابین تفریق جائز نہیں ۔
دوسری وجہ : دوسری وجہ یہ ہے کہ اس نے اللہ اور رسول کی ایذا اور مومنین اور مومنات کی ایذا میں تفریق کی ہے ۔ اہل ایمان کی ایذا کے بارے میں فرمایا کہ : ”اس نے بہتان باندھا اور واضح گناہ کا ارتکاب کیا “ (الاحزاب ۔ ۵۸) جب کہ اللہ اور اس کے رسول کو ایذا دینے والے پر دنیا و آخرت میں لعنت کی اور اس کے لیے رسوا کرنے والا عذاب تیار کیا ، ظاہر ہے کہ اہل ایمان کو ایذا کبھی تو کبائر کا ارتکاب کر کے دی جاتی ہے اور اس میں کوڑے مارنا بھی شامل ہے ۔ اس سے اوپر صرف کفر اور قتل باقی رہ جاتا ہے ۔
تیسری وجہ : اللہ نے ذکر کیا ہے کہ اُس نے اُن پر دنیا اور آخرت میں لعنت کی اور رسوا کن عذاب تیار کیا ہے ۔ لعنت کے معنی رحمت سے دور کرنے کے ہیں ۔ اور دنیا و آخرت میں اس کی رحمت سے محروم صرف کافر ہوتا ہے ، اس لیے کہ مومن بعض اوقات لعنت کے قریب تو پہنچ جاتا ہے مگر وہ مباح الدم نہیں ہوتا ۔ اس لیے کہ خون کی حفاظت اللہ کی طرف سے عظیم رحمت ہے جو اس کے حق میں ثابت نہیں ہوتی ۔ اس کی تائید درج ذیل آیت سے ہوتی ہے : ”اگر منافق اور وہ لوگ جن کے دل میں مرض ہے اور وہ مدینے کے شہر میں ، بُری بُری خبریں اڑایا کرتے ہیں ، اپنے کردار سے باز نہ آئیں گے تو ہم تم کو اُن کے پیچھے لگا دیں گے پھر وہاں تمہارے پڑوس میں نہ رہ سکیں گے مگر تھوڑے دن ۔ وہ بھی پھٹکارے ہوئے ۔ جہاں پائے گئے پکڑے گئے اور جان سے مار ڈالے گئے “ (الاحزاب ۔ ۶۰ - ۶۱) ان کو پکڑنا اور قتل کرنا ان کی لعنت کی توضیح اور اس کے حکم کا تذکرہ ہے ۔ اس لیے اعراب میں اسکا کوئی محل نہیں اور وہ حال ثانی بھی نہیں ہے ۔ اس لیے کہ جب ملعون کی صورت
میں وہ آپ کے پڑوس میں رہیں گے اور ان پر لعنت کا اثر دنیا میں ظاہر نہ ہوا تو یہ ان کے حق میں وعید نہ ہو گی بلکہ یہ لعنت وعید سے قبل اور بعد بھی ثابت ہے پس یہ امر ناگزیر ہے کہ ان کو پکڑنا اور قتل کرنا اس لعنت کے آثار میں سے ہے جس کی وعید انہیں سنائی گئی ہے، پس یہ اس شخص کے حق میں ثابت ہو گی جس پر اللہ نے دنیا اور آخرت میں لعنت کی ۔
اس کی مؤید وہ حدیث ہے جس میں آپؐ نے فرمایا ”مومن پر لعنت کرنا اُس طرح ہے جیسے اس کو قتل کر دیا جائے“ (صحیح بخاری و مسلم) جب اللہ نے اس پر دنیا اور آخرت میں لعنت کی ہے تو یہ اس طرح ہے جس طرح اُسے قتل کیا گیا ۔ پس اس سے معلوم ہوا کہ اس کا قتل مباح ہے۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ لعنت کا مستوجب کافر ہوتا ہے علی الاطلاق اس کا استعمال درست نہیں ۔ اس کی مؤید یہ آیت ہے :
”بھلا تم نے اُن لوگوں کو نہیں دیکھا جن کو کتاب سے حصہ دیا گیا کہ بتوں اور شیطان کو مانتے ہیں اور کفار کے بارے میں کہتے ہیں کہ یہ لوگ مومنوں کی نسبت سیدھے راستہ پر ہیں۔ یہی لوگ ہیں جن پر خدا نے لعنت کی ہے اور جس پر خدا لعنت کرے تو تم اس کا کسی کو مددگار نہ پاؤ گے ۔
(النساء ۔ ۵۱ ۔ ۵۲)
اگر وہ معصوم الدم ہوتا تو مسلمانوں پر اس کی مدد واجب ہوتی اور اس کے مددگار ہوتے اسکی مزید توضیح اس سے ہوتی ہے کہ یہ آیت ابن اشرف کے بارے میں نازل ہوئی اس پر یہ لعنت ہوئی کہ اُسے قتل کیا گیا ، اس لیے کہ وہ اللہ اور اس کے رسول کو ایذا دیا کرتا تھا ۔ واضح رہے کہ اس پر یہ اعتراض نہیں وارد ہوتا کہ لعنت ایسے لوگوں پر بھی کی گئی ہے جن کو قتل کرنا جائز نہیں، اس کی چند وجوہ ہیں :
پہلی وجہ : پہلی وجہ یہ ہے کہ اس کے بارے میں کہا گیا ہے کہ ”اللہ نے اس پر دنیا اور آخرت میں لعنت کی“ اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایا کہ اللہ نے دونوں جہانوں میں اس کو اپنی رحمت سے دور کر دیا ہے ۔ دیگر ملعونوں کے بارے میں کہا گیا کہ ”اللہ نے اس پر لعنت کی“ یا یہ کہ ”اس پر اللہ کی لعنت ہے“ یہ اُسی صورت میں ممکن ہے جب کسی وقت
اس کو رحمت الٰہی سے دُور کیا گیا ہو۔ ان الفاظ میں فرق ہے کہ کہا جائے کہ "اللہ نے اس پر لعنت کی" یا یوں کہا جائے کہ "اُس پر ابدی اور عام لعنت ہے" اور وہ شخص کہ "جس پر مطلق لعنت کی گئی ہو"۔
دوسری وجہ : دوسری وجہ یہ ہے کہ تمام ایسے لوگ جن پر اللہ نے اپنی کتاب میں لعنت کی ہے ۔ مثلاً :
- (۱) کتاب اللہ کے مندرجات کو چھپانے والے ۔
- (۲) وہ ظالم جو اللہ کی راہ سے روکتے اور اس میں کجی ڈھونڈتے ہیں ۔
- (۳) جو دانستہ مومن کو قتل کرے ۔
کافر یا مباح الدم ہیں۔ برخلاف بعض ان لوگوں کے جن پر سال میں کسی وقت لعنت کی گئی ہو ۔
تیسری وجہ : تیسری وجہ یہ ہے کہ اس صیغہ کے ذریعے اللہ کے لعنت کرنے کی خبر دی گئی ہے ۔ اسی لیے "وَاَعَدَّ لَهُمْ" کو اس پر معطوف کیا گیا ہے۔ عام ملعون جن کو قتل نہیں کیا جاتا یا ان کو کافر قرار نہیں دیا جاتا، ان پر لعنت دعا کے صیغہ کے ساتھ کی گئی ہے۔ مثلاً یہ حدیث کہ : "اللہ اس پر لعنت کرے جو زمین کی مقرر کردہ حدود کو تبدیل کردے"۔ "اللہ چور پر لعنت کرے" یا "اللہ سُود کے کھانے اور کھلانے والے پر لعنت کرے"۔ اور اس قسم کے الفاظ ۔
مگر اس پر مندرجہ ذیل آیت سے اعتراض وارد ہوتا ہے ۔ قرآن میں فرمایا : "جو لوگ پرہیزگار اور بُرے کاموں سے بے خبر اور ایمان دار عورتوں پر بدکاری کی تہمت لگاتے ہیں ان پر دنیا و آخرت دونوں میں لعنت ہے ۔ اور ان کو سخت عذاب ہوگا ۔
(النور - ۲۳)
اس آیت میں ذکر کیا گیا ہے کہ اُن پر دنیا اور آخرت میں لعنت ہے۔ حالانکہ صرف بہتان لگانے سے نہ کفر لازم آتا ہے نہ ایسا شخص مباح الدم ہوتا ہے ۔
اس آیت کا جواب دو طرح سے دیا جاتا ہے ۔ ایک مجمل طریقہ ہے اور دوسرا مفصل ۔ مجمل جواب یہ ہے کہ صرف مومن پر بہتان لگانا ایذا رسانی کی ایک قسم ہے ۔ اور اگر یہ جھوٹ بھی ہو، بہتانِ عظیم ہے ۔ جیسا کہ قرآن میں فرمایا :
وَلَوْلَا اِذْ سَمِعْتُمُوْهُ قُلْتُمْ اور جب تم نے اسے سنا تو کیوں نہ کہہ مَّا يَكُوْنُ لَنَآ اَنْ نَّتَكَلَّمَ بِهٰذَا دیا کہ ہمیں زیب نہیں دیتا کہ ایسی بات سُبْحٰنَكَ هٰذَا بُهْتَانٌ عَظِيْمٌ زبان پر لائیں (پروردگار) تو پاک ہے (النور - ١٦) یہ تو بہت بڑا بہتان ہے،
قرآن نے اس امر کی تصریح کی ہے کہ اللہ، رسول کو ایذا دینے اور اہل ایمان کو ایذا دینے میں فرق ہے ۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے :
"جو لوگ خدا اور اس کے پیغمبر کو رنج پہنچاتے ہیں اُن پر خدا دنیا اور آخرت میں لعنت کرتا ہے اور ان کے لیے اس نے ذلیل کرنے والا عذاب تیار کر رکھا ہے ۔ اور جو لوگ مومن مردوں اور مومن عورتوں کو ایسے کام کی تہمت سے جو انہوں نے نہ کیا ہو ایذا دیں تو انہوں نے بہتان اور صریح گناہ کا بوجھ اپنے سر پر رکھا ۔"
(الاحزاب - ۵۷ - ۵۸)
یہ بات جائز نہیں کہ صرف اہل ایمان کو بلا وجہ ایذا دینا دُنیا اور آخرت میں اللہ کی لعنت اور رُسوا کُن عذاب کا مستوجب ہو۔ اگر ایسا ہوتا تو اللہ، رسول کی ایذا رسانی اور مومن کی ایذا رسانی میں کچھ فرق نہ ہوتا ۔ اور اللہ اور اس کے رسول کو ایذا دینے والا لعنت مذکورہ کے ساتھ مخصوص نہ ہوتا اور اہل ایمان کو ایذا دینے والے کو صرف اس لیے سزا دی جاتی کہ اس نے بہتان باندھا اور بظاہر گناہ کا ارتکاب کیا ہے ۔ قرآن میں دوسری جگہ فرمایا :
"اور جو کوئی گناہ کرتا ہے، تو اس کا وبال اسی پر ہے اور خدا جاننے والا اور حکمت والا ہے اور جو شخص کوئی قصور یا گناہ تو خود کرے لیکن اس سے کسی بیگناہ کو متہم کرے تو اُس نے بہتان اور صریح گناہ کا بوجھ اپنے سر پر رکھا ۔"
(النساء - ١١١ - ١١٢)
یہ کیسے ممکن ہے ، اس لیے کہ خدا وند علیم و حکیم جب کسی گناہ پر عتاب کرتا اور اس سے روکتا ہے تو ضروری ہے کہ اس کی آخری سزا ذکر کرے۔ جب دو گناہوں کا ذکر کرتا ہے ، جن میں سے ایک دوسرے سے بڑا ہوتا ہے تو وہ دونوں پر زجر و توبیخ کرتا ہے پھر ایک گناہ کی سزا کا ذکر کرتا ہے اور دوسرے کی سزا اس سے کم بتاتا ہے ۔ پھر دوسری جگہ اس گناہ کا ذکر کرتا ہے اور اس پر کم درجے کے عذاب کی دھمکی دیتا ہے ۔ اس سے معلوم ہوا کہ چھوٹے گناہ پر وہ سزا نہیں دی جاتی جو بڑے کی وجہ سے دی جاتی ہے ۔
اس دلیل سے واضح ہوتا ہے کہ صرف بہتان لگانے سے ، جس میں اللہ اور رسول کی ایذا رسانی نہیں ہوتی ، دنیا و آخرت کی لعنت اور رسوا کن عذاب نہیں دیا جاتا ۔ یہ بات اس امر کو ثابت کرنے کے لیے کافی ہے کہ یہ دلیل جامعیت سے بہرہ ور اور ہر خامی و نقص سے مبرا ہے ۔
باقی رہا جواب مفصل تو وہ تین وجوہ پر مبنی ہے :
پہلی وجہ : پہلی وجہ یہ ہے کہ اکثر اہلِ علم کے نزدیک یہ آیت بطور خاص امہات المومنین کے بارے میں نازل ہوئی ہے ۔ چنانچہ ہشیم نے بطریق عوام بن حوشب از مردے از بنو کاہل روایت کیا ہے کہ حضرت ابن عباسؓ سورۃ النور کی تفسیر کرتے ہوئے جب آیت کریمہ يَرْمُونَ الْمُحْصَنَاتِ تک پہنچے تو فرمایا یہ آیت بطور خاص حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے بارے میں نازل ہوئی ۔ یہ آیت اس لیے مبہم ہے کہ اس میں توبہ کا ذکر نہیں کیا گیا۔ جو شخص کسی مومن عورت پر بہتان باندھے تو اسے توبہ کا حق حاصل ہے پھر انہوں نے یہ آیت تلاوت فرمائی ” جو لوگ پاک دامن عورتوں پر بہتان طرازی کرتے ہیں پھر چار گواہ پیش نہیں کرتے “
(النور - ۴)
اس آیت میں ان کو توبہ کا حق دیا گیا ہے ۔ مگر اللہ اور اس کے رسول کو ایذا دینے والوں کو توبہ کا موقع نہیں دیا گیا ۔ حاضرین میں سے ایک کو یہ تفسیر اس قدر پسند آئی کہ اس نے ارادہ کیا کہ اٹھ کر ابن عباسؓ کا سر چوم لے ۔ ابو سعید الاشج بطریق عبداللہ بن حراش از عوام از سعید بن جبیر از ابن عباسؓ روایت کرتے ہیں کہ یہ آیت خصوصاً حضرت عائشہؓ کے بارے
میں نازل ہوئی۔ اس میں منافقین پر عمومی لعنت کا ذکر کیا گیا ہے۔
حضرت ابن عباسؓ نے ذکر کیا کہ یہ آیت ان لوگوں کے بارے میں نازل ہوئی جنہوں نے حضرت عائشہؓ اور اُمہات المومنین پر بہتان طرازی کی تھی۔ اس لیے کہ ان پر بہتان لگانے سے رسولِ کریم پر طعنہ زنی اور عیب جوئی لازم آتی ہے۔ اس لیے کہ بیوی پر بہتان طرازی خاوند اور اس کے بیٹے کے لیے اذیت رسانی کی موجب ہوتی ہے۔ کیونکہ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ اس کا شوہر بے غیرت ہے اور اُس کی بیوی نقص و فساد سے مبرا نہیں۔ بیوی کے ساتھ زنا کاری شوہر کے لیے حد درجہ اذیت رساں ہے۔ اسی لیے شارع نے اس کے لیے جائز قرار دیا ہے کہ اگر بیوی زنا کی مرتکب ہو تو شوہر اس پر بہتان لگائے اور لعان کے ذریعے شوہر سے حد کو ساقط کر دیا۔ مگر کسی اور کے لیے مباح نہیں کسی صورت میں بھی کسی عورت پر بہتان طرازی کرے۔ بیوی پر بہتان لگانے سے بعض لوگوں کو جو ننگ و عار لاحق ہوتی ہے وہ اس عار سے سے کہیں بڑھ کر ہے جو ان کی اپنی ذات پر بہتان طرازی سے لاحق ہوتی ہے۔ چنانچہ امام احمدؒ سے اس ضمن میں جو دو منصوص روایات مذکور ہیں ان میں سے ایک کے مطابق انہوں نے یہ مؤقف اختیار کیا ہے کہ جو غیر محصنہ پر بہتان لگائے مثلاً لونڈی یا ذمیہ پر، جب کہ اس عورت کا خاوند یا بیٹا محصن ہو تو بہتان لگانے والے پر حد لگائی جائے گی۔ اس لیے کہ بہتان طرازی کی وجہ سے اس کے محصن بیٹے اور شوہر کو عار لاحق ہوتی ہے۔
امام احمدؒ سے دوسری روایت ــــــ اور وہی اکثر علماء کا موقف ہے ــــــ یہ نقل کی گئی ہے کہ بہتان طرازی کرنے والے پر کوئی حد نہیں ہے، اس لیے کہ خاوند اور بیٹے کو اس سے ایذا تو پہنچتی ہے مگر ان پر بہتان نہیں لگایا گیا، اور مکمل حد قذف کی وجہ سے لگائی جاتی ہے۔ مگر رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات کے بارے میں ایذا رسانی بھی قذف کی مانند ہے، جو رسول کریمؐ کی ازواج کی تنقیص کر کے حضورؐ پر عیب لگائے وہ منافق ہے اور یہی مفہوم ہے ابن عباسؓ کے اس قول کا کہ ”منافقین کے بارے میں عام لعنت ہے“۔
اہل علم کی ایک جماعت اس ضمن میں حضرت ابن عباسؓ کی ہمنوا ہے۔ چنانچہ امام احمدؒ اور الاثرمؒ نے خصیف سے روایت کیا ہے کہ میں نے سعید بن جبیر سے پوچھا کہ آیا زنا زیادہ
تھی۔ اس میں منافقین پر عمومی لعنت کا ذکر کیا گیا ہے۔ ابن عباسؓ نے ذکر کیا کہ یہ آیت ان لوگوں کے بارے میں نازل ہوئی جنہوں نے اُمّہات المؤمنین پر بہتان طرازی کی تھی۔ اس لیے کہ اُن پر بہتان لگانے سے نافرمانی اور عیب جوئی لازم آتی ہے۔ اس لیے کہ بیوی پر بہتان طرازی خاوند اور کے لیے اذیت رسانی کی موجب ہوتی ہے۔ کیونکہ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ اس خراب ہے اور اُس کی بیوی نقص و فساد سے مبرا نہیں۔ بیوی کے ساتھ زنا کاری درجہ اذیت رساں ہے۔ اسی لیے شارع نے اس کے لیے جائز قرار دیا ہے کا مرتکب ہو تو شوہر اس پر بہتان لگائے اور لعان کے ذریعے شوہر سے حد کو کسی اور کے لیے مباح نہیں کسی صورت میں بھی کسی عورت پر بہتان طرازی بہتان لگانے سے بعض لوگوں کو جو ننگ و عار لاحق ہوتی ہے وہ اس عار سے کم ہے جو ان کی اپنی ذات پر بہتان طرازی سے لاحق ہوتی ہے، چنا نچہ امام میں جو دو منصوص روایات مذکور ہیں ان میں سے ایک کے مطابق انہوں بیان کیا ہے کہ جو غیر محصنہ پر بہتان لگائے مثلاً لونڈی یا ذمیہ پر، جب کہ اس مقصود توہین ہو تو بہتان لگانے والے پر حد لگائی جائے گی۔ اس لیے کہ بہتان اس کے شخص، بیٹے اور شوہر کو عار لاحق ہوتی ہے ۔
دوسری روایت ـــــــــ اور وہی اکثر علماء کا موقف ہے ـــــــــ یہ طرازی کرنے والے پر کوئی حد نہیں ہے ، اس لیے کہ خاوند اور بیٹے ہوتی ہے مگر ان پر بہتان لگایا گیا ، اور مکمل حدّ قذف کی وجہ سے لگائی جاتی صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات کے بارے میں ایذا رسانی بھی قذف کی مانند ازواج کی تنقیص کر کے حضور پر عیب لگائے وہ منافق ہے اور یہی کے اس قول کا کہ ” منافقین کے بارے میں عام لعنت ہے “۔ جماعت اس ضمن میں حضرت ابن عباسؓ کی ہمنوا ہے۔ چنانچہ امام حنیفہ سے روایت کیا ہے کہ یحییٰ نے سعید بن جبیر سے پوچھا کہ ”آیا زنا زیادہ
بُرا فعل ہے یا پاکدامن عورت پر بہتان طرازی؟“ تو انہوں نے کہا کہ ”زنا زیادہ بُرا ہے“۔ میں نے کہا کہ قرآن میں تو آیا ہے کہ
”جو لوگ پاکدامن اور احساسِ گناہ سے غافل مومن عورتوں پر بہتان لگاتے ہیں اُن پر دنیا اور آخرت میں لعنت ہے“۔
(النور - ۲۳)
یہ سن کر ابن عباسؓ نے کہا ”یہ بطور خاص حضرت عائشہؓ کے بارے میں ہے“۔
امام باسناد خود ابوالجوزاء سے اس آیت کے بارے میں نقل کرتے ہیں کہ یہ آیت بطور خاص اُمّہات المؤمنین کے ساتھ متعلق ہے۔ اسی طرح الاشعث بن عبد الملک سے آیت کے ضمن میں نقل کرتے ہیں کہ یہ آیت اُمّہات المؤمنین سے متعلق ہے۔ علاوہ ازیں معمر، الکلبی سے روایت کرتے ہیں اس سے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویاں مراد ہیں۔ اگر کوئی شخص مسلم عورت پر بہتان لگائے تو وہ نصّ قرآنی کے مطابق فاسق ہے یا وہ توبہ کرے۔
اس کی وجہ ہم قبل ازیں بیان کر چکے ہیں کہ محض بہتان لگانے سے کوئی شخص دنیا اور آخرت کی لعنت کا مستوجب نہیں ہو سکتا۔ بنابریں ”المحصنات الغافلات المؤمنات“ کا لام تعریف، عہد کے لیے ہے اور مقصود یہاں رسولِ کریمؐ کی ازواجِ مطہرات ہیں۔ اس لیے کہ آیت کے سیاق و سباق میں واقعہ افک اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا پر بہتان لگانے والوں کا ذکر کیا گیا ہے یا یوں کہیے کہ خصوصِ سبب کی وجہ سے لفظِ عام کو مخصوص و محدود کر دیا گیا ہے ۔
اس کا مؤید یہ امر ہے کہ اس وعید کو پاکدامن اور غافل طبع مومن عورتوں پر بہتان لگانے پر مرتب کیا گیا ہے،
سُورۂ نور کے آغاز میں فرمایا :
”وَالَّذِيْنَ يَرْمُوْنَ الْمُحْصَنَاتِ وہ لوگ جو پاک دامن عورتوں پر بہتان ثُمَّ لَمْ يَأْتُوْا بِاَرْبَعَةِ شُهَدَاءَ لگاتے ہیں اور پھر چار گواہ نہیں لاتے فَاجْلِدُوهُمْ ثَمَانِيْنَ جَلْدَةً “ انہیں اسی کوڑے مارو،
(النور - ۴)
اس آیت میں کوڑے مارنے، شہادت کے رَد کرنے اور فسق کو محض بہتان لگانے پر مرتب کیا گیا ہے۔ لہٰذا پاکدامن، غافل طبع اور مومن عورتوں کو محض پاکدامن عورتوں پر ترجیح ہونی چاہیئے۔ واللہ اعلم۔
اس لیے کہ ازواج مطہرات کے ایمان کی سب سے بڑی شہادت یہ ہے کہ وہ اہل ایمان کی مائیں ہیں۔ وہ دنیا اور آخرت میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویاں ہیں جب کہ عام مسلمان عورتوں کے ایمان کا پتہ محض اُن کے ظاہر سے چلتا ہے۔ نیز اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت عائشہ کا واقعہ بیان کرتے ہوئے فرمایا:
"وَالَّذِيْ تَوَلّٰى كِبْرَهُ مِنْهُمْ لَهُ (اور جس نے ان میں سے اِس بہتان عَذَابٌ عَظِيْمٌ" (النور ۔ ۱۱) کا بوجھ اٹھایا اُس کو بڑا عذاب ہوگا)
اس آیت میں "تَوَلّٰى كِبْرَهُ" (بڑا بوجھ اٹھانے) کی تخصیص اس کے عذابِ عظیم کے ساتھ مختص ہونے کی دلیل ہے۔
نیز فرمایا:
"وَلَوْلَا فَضْلُ اللّٰهِ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَتُهٗ (اور اگر دنیا اور آخرت میں خدا کا فضل فِي الدُّنْيَا وَالْاٰخِرَةِ لَمَسَّكُمْ فِيْمَا اور اس کی رحمت نہ ہوتی تو جس بات کا اَفَضْتُمْ فِيْهِ عَذَابٌ عَظِيْمٌ" تم چرچا کرتے تھے اُس کی وجہ سے تم پر (النور - ۱۴) بڑا سخت عذاب نازل ہوتا)
اس آیت سے مستفاد ہوتا ہے کہ بڑے عذاب میں ہر شخص کو مبتلا نہیں کیا جائے گا، بلکہ اس سے وہ شخص دوچار ہوگا جس نے اس میں بڑا پارٹ ادا کیا ہے۔ یہاں فرمایا: "لَمَسَّكُمْ عَذَابٌ عَظِيْمٌ" اس سے معلوم ہوا کہ یہ وہی شخص ہے جس نے اُمہات المؤمنین پر بہتان باندھا، رسولِ کریم کو عیب دار بنانا چاہا اور اس واقعہ میں سرگرم حصہ لیا۔ یہ عبداللہ بن ابی منافق کی علامات ہیں۔
رسول کو ایذا پہنچانے والے کی توبہ قبول نہیں کی جاتی
واضح رہے کہ اس قول
کی بنا پر یہ آیت بھی حجت ہوگی اور اس آیت سے ہم آہنگ ہوگی ۔ اس لیے کہ جب امہات المومنین پر بہتان طرازی ایذائے رسول کی مترادف ہے تو ایسا کرنے والا دنیا اور آخرت میں ملعون ہے ۔ اس لیے حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ 'اس میں توبہ کی گنجائش نہیں' اس لیے کہ اگر رسول کریم کو ایذا دینے والا بہتان طرازی سے تائب بھی ہوجائے تو اس کی توبہ مقبول نہیں ، یہاں تک کہ از سر نو اسلام قبول کرے ۔ بنا بریں امہات المومنین پر بہتان لگانا نفاق ہے اور اس سے خون مباح ہو جاتا ہے، جب اس کا مقصد رسول کریم کو ایذا پہنچانا ہو ۔ یا وہ ازواج مطہرات کو یہ جان لینے کے بعد ایذا پہنچاتا ہو کہ وہ آخرت میں بھی آپ کی بیویاں ہوں گی ۔ اس لیے کہ نبی کی بیوی پر کبھی لعنت نہیں کی جاتی ۔
امہات المومنین پر بہتان طرازی ایذاء رسول کی موجب ہے
اس امر کی دلیل کہ امہات المومنین پر بہتان طرازی رسول کو ایذا پہنچانے کے مترادف ہے صحیحین کی حدیث جس کو انہوں نے واقعہ افک میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کیا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر کھڑے ہوئے اور عبداللہ بن اُبی سے معذرت طلب کرتے ہوئے فرمایا "اے گروہ مسلمین ! مجھے اس شخص سے کون چھڑائے گا جس نے میرے اہل خانہ کے بارے میں مجھے ایذا دی ہے ۔ بخدا مجھے اپنے گھر والوں کے بارے میں بھلائی کے سوا کسی چیز کا علم نہیں ۔ اس ضمن میں وہ ایک آدمی کا نام لیتے ہیں جس کے متعلق میں بھلائی کے سوا اور کچھ نہیں جانتا اور وہ میرے اہل خانہ کے پاس میری موجودگی میں آیا کرتا تھا ۔
حضرت سعد بن معاذ انصاری رضی اللہ عنہ کھڑے ہو گئے اور فرمایا رسول اللہ ! میں آپ کو اُس سے چھڑاؤں گا ۔ اگر وہ قبیلہ اوس سے تعلق رکھتا ہے تو میں اُس کی گردن اُڑا دوں گا اور اگر وہ ہمارے برادر خزرج کا آدمی ہے تو ہم آپ کے حکم کی تعمیل کریں گے ۔ پھر خزرج قبیلہ کے سردار سعد بن عبادہ کھڑے ہوگئے — وہ بڑے نیک آدمی تھے — مگر غیرت نے ان کو مشتعل کر دیا ۔ سعد بن معاذ کو مخاطب کر کے کہنے لگے ' بخدا تم اسے قتل نہیں کر سکتے ، تم میں
اس کی قدرت نہیں ہے ۔ پھر اُسید بن حضیر کھڑے ہوگئے جو سعد بن معاذ کے چچا زاد بھائی تھے ۔ اس نے سعد بن عبادہ سے کہا "تم جھوٹ کہتے ہو بخدا ! ہم اُسے ضرور قتل کریں گے تم منافق ہو اور منافقین کی طرفداری کرتے ہو ۔ حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ اُوس اور خزرج دونوں قبیلے اٹھ کھڑے ہوئے اور آمادۂ پیکار ہوگئے ۔ رسول کریمؐ منبر پر کھڑے تھے ، آپؐ ان کا غصہ دور کرتے رہے ، یہاں تک کہ خاموش ہوگئے اور آپؐ نے بھی سکوت فرمایا :
ایک دوسری صحیح روایت میں ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا ”جب میرا واقعہ لوگوں میں مشہور ہوا ، جب کہ مجھے اس کا علم نہ تھا ، تو رسول کریمؐ میرے بارے میں خطبہ دینے کے لیے کھڑے ہوئے ۔ آپؐ نے کلمۂ شہادت پڑھا ، اور اللہ کی حمد و ثنا کی جس کا وہ اہل ہے ۔ پھر حمد و صلوٰۃ کے بعد فرمایا ”مجھے ان لوگوں کے بارے میں مشورہ دیجیے جنہوں نے میرے اہل خانہ پر بہتان طرازی کی ہے ۔ بخدا میں نے اپنے اہل خانہ میں کوئی برائی نہیں دیکھی ، اور متہم بھی اس شخص کے ساتھ کیا جس میں میں نے کوئی بُرائی نہیں دیکھی ، اور جب بھی میرے گھر میں آیا جب میں موجود ہوتا تھا ۔ میں جب بھی سفر پر جاتا تو وہ بھی جاتا ۔ سعد بن معاذ نے کھڑے ہو کر کہا یا رسول اللہ ! مجھے حکم دیجیے کہ ان کی گردن اڑا دوں ۔
رسول کریمؐ کے یہ الفاظ کہ " مَنْ يَّعْذِرُنِيْ " یعنی کون مجھے انصاف دلائے گا اور جب میں بدلہ لوں تو کون مجھے معذور قرار دے گا ، اس لیے کہ اس نے مجھے میرے اہل خانہ کے بارے ایذا دی ہے ۔ اس سے معلوم ہوا کہ رسول کریمؐ کو اس سے اتنی تکلیف پہنچی کہ اس سے معذرت چاہی ، اور ان اہل ایمان نے کہا جن کو غیرت نے برانگیختہ کیا تھا کہ ”ہمیں حکم دیجیے کہ ان کی گردن اڑا دیں ۔ اگر آپؐ ہمیں ان کی گردن اڑانے کا حکم دیں گے تو ہم آپؐ کو معذور تصور کریں گے"۔ حضرت سعدؓ نے ان کو قتل کرنے کے بارے میں جو مشورہ مانگا تھا اور یہ کہا تھا کہ ایسا کرنے میں ہم آپؐ کو معذور تصور کریں گے ، اس پر آپؐ نے کچھ اعتراض نہ کیا ۔
بہتان لگانے والوں میں کچھ مومن بھی تھے
اب یہ بات باقی رہی کہ بہتان طرازی کرنے والوں
میں حسّان ، مسطح اور حمنہ بھی تھے ۔ یہ لوگ کسی کو بھی اس وجہ سے قتل نہیں کیا تھا بلکہ ان جاتا ہے ۔ اس کا جواب یہ ہے کہ ان کا ارادہ و حرکت سرزد ہوئی جو ایذا رسانی پر دلالت اذیت پہنچانے کا تھا ۔ مزید برآں ! جب کہ دنیا میں آپ کی جو بیویاں ہیں وہ آ بات کا آپؐ کی بیویوں سے صادر ہو حتیٰ کہ حضرت علی اور زید رضی اللہ عنہ کیا ۔ اور جس نے ایذا رسانی کا ارادہ کہ تہمت زدہ عورت کو آپؐ کہیں طلا آخرت میں بھی آپؐ کی بیویاں ہو پر بہتان طرازی رسول کریم کے لیے با صادر ہو ۔ کیونکہ اس کا نتیجہ یہ ہ اور اہلِ ایمان کی ماں اس عیب اسی لیے قرآن میں فرمایا ”يَعِظُكُمُ اللّٰهُ اَنْ تَعُوْدُ اَبَدًا اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِ النور کتاب کے آخری حصہ جو آپ کی بیویوں پر تہمت دوسری وجہ : دوسری الْمُحْصَنٰتِ سے م
نہیں ہے ۔ پھر اُسید بن حضیر کھڑے ہوگئے جو سعد بن معاذ کے چچا زاد بھائی ہیں، سعد بن عبادہ سے کہا ”تم جھوٹ کہتے ہو بخدا ! ہم اُسے ضرور قتل کریں گے تم منافق ہو، طرفداری کرتے ہو۔“ حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ اُوس اور خزرج دونوں قبیلے کھڑے ہو گئے اور آمادہ پیکار ہو گئے۔ رسولِ کریمؐ منبر پر کھڑے تھے، آپؐ ان کا غصہ ٹھنڈا کرتے رہے، یہاں تک کہ خاموش ہو گئے اور آپؐ نے بھی سکوت فرمایا :
ایک صحیح روایت میں ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا ”جب مجھ پر تہمت کا واقعہ مشہور ہوا ، جب کہ مجھے اس کا علم نہ تھا، تو رسولِ کریمؐ میرے بارے میں لوگوں سے مشورہ کرتے ہوئے ۔ آپؐ نے کلمہ شہادت پڑھا ، اور اللہ کی حمد و ثنا کی پھر حمد و صلوٰۃ کے بعد فرمایا ”مجھے ان لوگوں کے بارے میں مشورہ دیجئے جنہوں نے میرے اہل خانہ پر بہتان طرازی کی ہے ۔ بخدا میں نے اپنے اہل خانہ میں کوئی برائی نہیں دیکھی ، اور یہ نام بھی اس شخص کے ساتھ لیا جس میں میں نے کوئی برائی نہیں دیکھی ، نہیں آیا مگر جب میں موجود ہوتا تھا۔ میں جب بھی سفر پر جاتا تو وہ بھی ساتھ جاتا۔ یہ سن کر سعد بن معاذ نے کھڑے ہو کر کہا یا رسول اللہ ! مجھے حکم دیجئے کہ اس کی گردن اڑا دوں ۔ اور آگے فرمایا ، یہ الفاظ کہ ” مَنْ يَّعْذِرُنِيْ “ یعنی کون مجھے انصاف دلائے گا اور جب کہ میں اسے معذور قرار دوں گا ، اس لیے کہ اس نے مجھے میرے اہل خانہ کے بارے میں اتنی تکلیف پہنچائی ۔ یہ معلوم ہوا کہ رسولِ کریمؐ کو اس سے اتنی تکلیف پہنچی کہ اس سے معذرت طلب کی ۔ اور حضرت سعدؓ نے کہا جن کو غیرت نے برانگیختہ کیا تھا کہ ”ہمیں حکم دیجئے کہ ہم اس کی گردن اُڑا دیں ۔“ اگر آپؐ ہمیں ان کی گردن اڑانے کا حکم دیں گے تو ہم آپ کے حکم کی تعمیل کریں گے ۔ حضرت سعدؓ نے ان کو قتل کرنے کے بارے میں جو مشورہ دیا تھا ، اور اگر ہم اسے قتل کر دیں تو ہم آپؐ کو معذور تصور کریں گے، اس پر آپؐ نے کچھ
اب یہ بات باقی رہی کہ ان میں کچھ مومن بھی تھے بہتان طرازی کرنے والوں
میں حسان، مسطح اور حمنہ بھی تھے۔ یہ لوگ نفاق سے متہم نہ تھے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی کو بھی اس وجہ سے قتل نہیں کیا تھا بلکہ ان کو کوڑے مارنے کے بارے میں بھی اختلاف پایا جاتا ہے ۔
اس کا جواب یہ ہے کہ ان کا ارادہ رسول کریمؐ کو ایذا دینے کا نہ تھا اور نہ اُن سے کوئی ایسی حرکت سرزد ہوئی جو ایذارسانی پر دلالت کرتی ہو۔ بخلاف ازیں عبداللہ ابن ابیّ کا ارادہ اذیت پہنچانے کا تھا۔ مزید برآں ابھی تک یہ بات اُن کے نزدیک ثابت نہیں ہوئی تھی کہ دنیا میں آپ کی جو بیویاں ہیں وہ آخرت میں بھی آپؐ کی بیویاں ہوں گی اور عقلاً ایسی بات کا آپؐ کی بیویوں سے صادر ہونا ممکن تھا ۔ اسی لیے اس واقعہ میں آپؐ نے توقف فرمایا حتیٰ کہ حضرت علی اور زید رضی اللہ عنہما سے اس ضمن میں مشورہ بھی لیا اور بریرہ سے بھی دریافت کیا۔ اور جس نے ایذارسانی کا ارادہ نہیں کیا تھا ان کو منافق نہ ٹھہرایا۔ کیونکہ یہ امکان تھا کہ تہمت زدہ عورت کو آپؐ کہیں طلاق نہ دیدیں۔ جب یہ بات پایہ ثبوت کو پہنچ گئی کہ یہ آخرت میں بھی آپؐ کی بیویاں ہوں گی، نیز یہ کہ یہ مومنوں کی مائیں ہیں۔ اس لیے ان پر بہتان طرازی رسولِ کریم کے لیے باعث ایذا ہے اور یہ جائز نہیں کہ ان سے بے حیائی کا کام صادر ہو۔ کیونکہ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ آپ ایک زانیہ عورت کے ساتھ ایک گھر میں رہیں ۔ اور اہل ایمان کی ماں اس عیب سے داغدار ہو۔ یہ باطل ہے ۔
اسی لیے قرآن میں فرمایا : ” يَعِظُكُمُ اللّٰهُ اَنْ تَعُوْدُوْا لِمِثْلِهٖ خدا تمہیں نصیحت کرتا ہے کہ اگر مومن اَبَدًا اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِيْنَ “ ہو تو پھر کبھی ایسا کام نہ کرنا
(النور - ۱۷)
کتاب کے آخری حصہ میں ہم اُس شخص کے بارے میں فقہا کے اقوال نقل کریں گے جو آپ کی بیویوں پر تہمت باندھے ، نیز یہ کہ اس کو آپؐ کی اذیت رسانی تصور کیا جاتا ہے ۔
دوسری وجہ : دوسری وجہ یہ ہے کہ یہ آیت عام ہے ضحاک کہتے ہیں کہ ” يَرْمُوْنَ الْمُحْصَنٰتِ “ سے بطور خاص رسول کریمؐ کی بیویاں مراد ہیں ۔ جب کہ دیگر علماء کے
نزدیک اس سے مومنین کی بیویاں مراد ہیں ۔
ابوسلمہ بن عبدالرحمن کہتے ہیں کہ پاکدامن عورت پر بہتان لگانے سے جہنم واجب ہو جاتی ہے۔ پھر یہ آیت تلاوت فرمائی : "اِنَّ الَّذِيْنَ يَرْمُوْنَ (جو لوگ پاک دامن عورتوں پر تہمت الْمُحْصَنَاتِ" (النور - ۲۳) لگاتے ہیں)
عمرو بن قیس کہتے ہیں کہ پاک دامن عورت پر بہتان لگانے سے سو سال کے اعمال ضائع ہو جاتے ہیں ۔ ان دونوں کو الاشجّ نے روایت کیا ہے ۔
اعتبارِ عموم لفظ کا ہونا ہے
یہ بہت سے لوگوں کا قول ہے اور ظاہری خطاب سے بھی ہوتا ہے کہ یہ آیت عام ہے۔ لہٰذا اسے اس کے عموم پر رکھنا واجب ہے ، اس لیے کہ خصوص کی کوئی دلیل موجود نہیں اور نفسِ سبب کی وجہ سے بھی یہ آیت بالاتفاق مخصوص نہیں ہے ، کیوں کہ حضرت عائشہؓ کے علاوہ دیگر ازواج کا معاملہ بھی اس کے عموم میں داخل ہے ۔ علاوہ ازیں یہ سبب نہیں ہے ، اس لیے کہ یہ جمع کا صیغہ ہے اور سبب واحد ہوتا ہے ، نیز اس لیے کہ عموماتِ قرآن کو ان کے اسبابِ نزول تک محدود کرنا باطل ہے۔ اس لئے کہ عام آیات خاص اسباب کی وجہ سے نازل ہوئی تھیں جو ان کے نزول کے مقتضی ہوئے اور ظاہر ہے کہ ان میں سے کوئی چیز بھی اپنے سبب پر محدود نہ تھی ۔ دونوں آیات میں فرق یہ ہے کہ سورت کے آغاز میں اُن شرعی سزاؤں کا ذکر کیا گیا ہے جو مکلفین کے ہاتھوں دوسروں کو دی جاتی ہیں ۔ مثلاً کوڑے مارنا ، شہادت کو ردّ کرنا اور کسی کو فاسق قرار دینا اور یہاں اُن سزاؤں کا ذکر کیا جو اللہ کی طرف سے دی جاتی ہیں ۔ مثلاً لعنت فی الدارین اور عذابِ عظیم ۔
آیت قذف کس کے بارے میں نازل ہوئی
رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے باسانید متعدد اور آپؐ کے صحابہؓ سے منقول ہے کہ پاکدامن عورت پر بہتان لگانا گناہِ کبیرہ ہے ۔ روایاتِ صحیحہ میں "پاکدامن غافل طبع اور مومن عورتوں پر بہتان لگانے کے الفاظ ہیں" ۔ بعض اہلِ علم
س سے مومنین کی بیویاں مراد ہیں۔ عبدالرحمٰن کہتے ہیں کہ پاکدامن عورت پر بہتان لگانے سے جہنم واجب یہ آیت تلاوت فرمائی : یَرْمُوْنَ (جو لوگ پاک دامن عورتوں پر تہمت (النور - ۲۳) لگاتے ہیں) کہتے ہیں کہ پاک دامن عورت پر بہتان لگانے سے سو سال کے اعمال ۔ ان دونوں کو ابو الشیخ نے روایت کیا ہے۔
کا ہونا ہے | یہ بہت سے لوگوں کا قول ہے اور ظاہری خطاب سے یہی ہوتا ہے کہ یہ آیت عام ہے۔ لہٰذا اسے اس ب ہے، اس لیے کہ خصوص کی کوئی دلیل موجود نہیں اور نفسِ سبب کی لِاتفاق مخصوص نہیں ہے، کیوں کہ حضرت عائشہؓ کے علاوہ دیگر ازواج وم میں داخل ہے۔ علاوہ ازیں یہ سبب نہیں ہے، اس لیے کہ یہ ب واحد ہوتا ہے، نیز اس لیے کہ عموماتِ قرآن کو ان کے اسبابِ نزول ۔ اس لیے کہ عام آیات خاص اسباب کی وجہ سے نازل ہوتی تھیں جو ہوئے اور ظاہر ہے کہ ان میں سے کوئی چیز بھی اپنے سبب پر محدود ں فرق یہ ہے کہ سورت کے آغاز میں اُن شرعی سزاؤں کا ذکر کیا عقوبتوں دوسروں کو دی جاتی ہیں۔ مثلاً کوڑے مارنا، شہادت کو ردّ عونا اور یہاں اُن سزاؤں کا ذکر کیا جو اللہ کی طرف سے دی جاتی ن اور عذابِ عظیم ۔
کے بارے میں نازل ہوئی | رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے باسانید متعددہ اور آپؐ پاکدامن عورت پر بہتان لگانا گناہِ کبیرہ ہے۔ روایات صحیحہ میں مومن عورتوں پر بہتان لگانے کے الفاظ ہیں"۔ بعض اہلِ علم
مندرجہ ذیل آیت کی تفسیر اسی طرح کرتے ہیں : " اِنَّ الَّذِیْنَ یَرْمُوْنَ الْمُحْصَنٰتِ (جو لوگ پاکدامن، غافل طبع اور مومن الْغٰفِلٰتِ الْمُؤْمِنٰتِ " النور عورتوں پر بہتان لگاتے ہیں) ۲۳
ابو حمزہ الثمالی کہتے ہیں، ہمیں معلوم ہوا ہے کہ یہ آیت مشرکین مکہ کے بارے میں نازل ہوئی کیوں کہ اُن کے درمیان اور رسولِ کریمؐ کے درمیان معاہدہ تھا۔ اُن میں سے کوئی عورت اگر ہجرت کر کے مدینہ چلی جاتی تو مشرکین مکہ اس پر بہتان لگاتے اور کہتے کہ یہ بدکاری کے لیے نکلی ہے۔ لہٰذا یہ آیت ان لوگوں کے بارے میں ہے جو مومن عورتوں پر ایسا بہتان لگاتے ہیں جس کی وجہ سے وہ ایمان لانے سے باز رہتی ہیں۔ اس سے ان کا مقصد اہلِ ایمان کی مذمت اور اُن سے نفرت دلانا ہوتا ہے تا کہ لوگ اسلام سے نفرت کرنے لگیں۔ جس طرح کعب بن اشرف نے کیا تھا۔ بنا بریں جو ایسا کرے گا وہ کافر ہو گا ، جس طرح وہ شخص جو رسولِ کریمؐ کو بُرا بھلا کہے ۔
ان کا یہ قول کہ "یہ آیت عہد کے زمانہ میں نازل ہوئی"۔ یعنی اس آیت سے عہد کرنے والے مشرکین مراد ہیں۔ ورنہ یہ آیت واقعۂ افک کی راتوں میں نازل ہوئی اور یہ واقعہ خندق سے پہلے غزوہ بنی المصطلق کے موقع پر پیش آیا۔ اور کفار کے ساتھ مصالحت دو سال بعد ہوئی ۔ بعض اہلِ علم نے اس آیت کو اس کے ظاہری عموم پر محمول کیا ہے۔ اس لیے کہ اس کا سببِ نزول حضرت عائشہ صدیقہؓ پر بہتان کا واقعہ ہے۔ اور بہتان لگانے والوں میں مومن اور منافق دونوں قسم کے لوگ تھے۔ ظاہر ہے کہ سببِ نزول کا عموم میں مندرج ہونا ضروری ہے اور یوں بھی تخصیص کا اثبات کسی دلیل سے نہیں ہوتا۔
اندریں صورت اس کا جواب یہ ہے کہ قرآنِ کریم کے الفاظ یہ ہیں : " لُعِنُوْا فِی الدُّنْیَا وَالْاٰخِرَۃِ " (اُن پر دنیا اور آخرت میں لعنت (النور - ۲۳) کی گئی)
یہاں ماضی مجہول کا صیغہ استعمال کیا گیا ہے اور لعنت کرنے والے کا نام نہیں لیا گیا۔ مگر وہاں یہ الفاظ ہیں :
" لَعَنَهُمُ اللّٰهُ فِي الدُّنْيَا وَ الْاٰخِرَةِ وَ (اللہ نے دنیا اور آخرت میں ان پر (الاحزاب - ۵۷) لعنت کی)
اور جب فاعل کا نام مذکور نہیں تو ہو سکتا ہے کہ اُن پر فرشتوں اور لوگوں نے لعنت کی ہو نہ کہ اللہ تعالیٰ نے ۔ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ ایک وقت اُن پر اللہ نے لعنت کی ہو اور دوسرے وقت بعض مخلوقات نے ۔ اس امر کا بھی احتمال ہے کہ بعض پر اللہ نے لعنت کی اور وہ ایسے لوگ ہیں جنہوں نے دین پر طعن کرنے کے لیے بہتان لگایا اور دوسروں پر مخلوقات نے لعنت کی ۔ مخلوقات کی لعنت کا مفہوم بعض دفعہ بددعا ہوتا ہے اور گاہے اللہ کی رحمت سے دور ہونا ۔
اس کی تائید اس امر سے ہوتی ہے کہ ایک شخص جب اپنی بیوی پر بہتان لگاتا ہے تو دونوں لعان کرتے ہیں اور پانچویں دفعہ شوہر کہتا ہے کہ " اگر میں جھوٹا ہوں مجھ پر خدا کی لعنت "۔ گویا جھوٹا ہونے کی صورت میں وہ بددعا کرتا ہے کہ اللہ اس پر لعنت کرے جس طرح اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو حکم دیا تھا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں جھگڑنے والوں کے ساتھ ، جن کے پاس علم آچکا تھا ، مباہلہ کریں اور جھوٹے پر خدا کی لعنت کریں ۔ تو گویا بہتان طرازی کرنے والے پر اس طرح لعنت کی جاتی ہے ۔ اس پر لعنت کرنے کا ایک طریقہ یہ بھی ہے کہ اسے کوڑے مارے جائیں ، اس کی شہادت کو تسلیم نہ کیا جائے اور اُسے فاسق ٹھہرایا جائے ۔ یہ اس کے لیے بمنزلہ سزا کے ہے ۔ کیوں کہ اس طرح وہ امن و قبول کے مقامات سے جو سراسر رحمت ہیں دُور ہو جاتا ہے ۔
یہ اس شخص سے مختلف ہے جس کے بارے میں اللہ نے خبر دی ہے کہ اللہ نے اس پر دنیا اور آخرت میں لعنت کی ہے ۔ اللہ کی لعنت کا تقاضا یہ ہے کہ اللہ کی تائید و نصرت اس سے بہر وجہ زائل ہو جائے اور وہ دونوں جہانوں میں اسبابِ رحمت سے دور ہو جائے ۔
رسوا کن عذاب صرف کفار کو دیا جانا ہے
جس بات سے دونوں آیات کا فرق واضح ہوتا
...هُ فِی الدُّنْیَا وَالْاٰخِرَةِ " (اللہ نے دنیا اور آخرت میں ان پر
لعنت کی) (الاحزاب ۔ ۵۷)
فاعل کا نام مذکور نہیں تو ہو سکتا ہے کہ اُن پر فرشتوں اور لوگوں نے لعنت کی ہو نہ ۔ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ ایک وقت اُن پر اللہ نے لعنت کی ہو اور دوسرے اوقات نے ۔ اس امر کا بھی احتمال ہے کہ بعض پر اللہ نے لعنت کی اور وہ ایسے نے دین پر طعن کرنے کے لیے بہتان لگایا اور دوسروں پر مخلوقات نے وقات کی لعنت کا مفہوم بعض دفعہ بددعا ہوتا ہے اور گاہے اللہ کی رحمت ید اس امر سے ہوتی ہے کہ ایک شخص جب اپنی بیوی پر بہتان لگاتا ہے تو تے ہیں اور پانچویں دفعہ شوہر کہتا ہے کہ اگر میں جھوٹا ہوں مجھ پر خدا کی ٹھا ہونے کی صورت میں وہ بددعا کرتا ہے کہ اللہ اس پر لعنت کرے لی نے اپنے رسول کو حکم دیا تھا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں ے ساتھ ، جن کے پاس علم آچکا تھا ، مباہلہ کریں اور جھوٹے پر خدا کی لعنت ن طرازی کرنے والے پر اس طرح لعنت کی جاتی ہے ۔ اس پر لعنت کرنے ہی ہے کہ اسے کوڑے مارے جائیں ، اُس کی شہادت کو تسلیم نہ جائے اور بجائے ۔ یہ اس کے لیے بمنزلہ سزا کے ہے ۔ کیوں کہ اس طرح وہ امن و سے سراسر محروم ہو جاتا ہے ۔ سے مختلف ہے جس کے بارے میں اللہ نے خبر دی ہے کہ اللہ نے اس پر لعنت کی ہے۔ اللہ کی لعنت کا تقاضا یہ ہے کہ اللہ کی تائید و نصرت ائل ہو جائے اور وہ دونوں جہانوں میں اسباب رحمت سے دور
...ب صرف کفار کو دیا جانا ہے
جس بات سے دونوں آیات کا فرق واضح ہوتا
ہے یہ ہے کہ یہاں فرمایا : " وَاَعَدَّ لَهُمْ عَذَابًا مُّهِيْنًا " (اور تیار کیا ان کے لیے رسوا کرنے
والا عذاب) (الاحزاب ۔ ۵۷)
قرآن میں رسوا کنندہ عذاب صرف کفار کے لیے تیار کیا گیا ہے۔ قرآن میں فرمایا : جو خود بھی بخل کریں اور لوگوں کو بھی بخل سکھائیں اور جو مال خدا نے اُن کو اپنے فضل سے عطا فرمایا ہے اُسے چھپا چھپا کر رکھیں اور ہم نے ناشکروں کے لیے ذلیل کرنے والا عذاب تیار کر رکھا ہے" (النساء ۔ ۳۷) نیز فرمایا :
"وہ اُس کے غضب بالائے غضب میں مبتلا ہو گئے اور کافروں کے لیے ذلیل
کرنے والا عذاب ہے"۔ (البقرہ ۔ ۹۰)
" ہم جو اُن کو مہلت دیتے جاتے ہیں تو یہ اُن کے حق میں اچھا ہے (نہیں) بلکہ ہم ان کو اس لیے مہلت دیتے ہیں کہ اور گناہ کر لیں۔ آخر کار ان کو ذلیل
کرنے والا عذاب ہوگا۔ (آل عمران ۔ ۱۷۸)
باقی رہی مندرجہ ذیل آیت کریمہ :
"جو شخص اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کرے اور اس کی حدود سے تجاوز کرے تو اسے آگ میں داخل کرے گا، جس میں وہ ہمیشہ رہے گا اور اس کیلئے رسوا کن
عذاب ہے" (النساء ۔ ۱۴)
تو یہ اُن لوگوں کے بارے میں نازل ہوئی ہے جو فرائض سے انکار کرتے ہیں اور ان کو کچھ اہمیت نہیں دیتے ۔ مزید برآں اس میں مذکور نہیں کہ اس کے لیے عذاب تیار کیا گیا ہے ۔
عذاب عظیم کفار کے ساتھ مخصوص نہیں
عذاب عظیم کی وعید مومنین کے لیے بھی آئی ہے ۔
قرآن میں فرمایا گیا : " لَوْلَا كِتَابٌ مِّنَ اللّٰهِ سَبَقَ لَمَسَّكُمْ (اگر خدا کا حکم پہلے نہ آچکا ہوتا تو جو فدیہ فِيْمَا اَخَذْتُمْ عَذَابٌ عَظِيْمٌ " تم نے لیا ہے اس کے بدلے تم پر بڑا عذاب نازل ہوتا)
(الانفال ۔ ۶۸)
"وَلَوْلَا فَضْلُ اللہِ عَلَیْکُمْ وَ رَحْمَتُہٗ (اگر دنیا اور آخرت میں خدا کا فضل اور فِی الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَۃِ لَمَسَّکُمْ فِیْمَا اس کی رحمت نہ ہوتی تو جس بات کا تم چرچا اَفَضْتُمْ فِیْہِ عَذَابٌ عَظِیْمٌ“ کرتے تھے اس کی وجہ سے تم پر بڑا عذاب (النور - ۱۴) نازل ہوتا)
نیز فرمایا : "وَمَنْ یُّہِنِ اللہُ فَمَا لَہٗ مِنْ (اور جس کو اللہ ذلیل کرے تو کوئی اُسے مُّکْرِمٍ“ (الحج - ۱۸) عزت دینے والا نہیں ہے)
یہ اس لیے کہ اہانت نام ہے تذلیل، تحقیر اور رسوائی کا۔ اور یہ عذاب کے دکھ سے ایک زائد چیز ہے بعض اوقات ایک معزز آدمی کو عذاب تو دیا جاتا ہے مگر اس کو رسوا نہیں کیا جاتا۔ چونکہ اس آیت میں ”وَاَعَدَّ لَہُمْ عَذَابًا فرمایا ہے، اس لیے معلوم ہوا کہ یہ اس قسم مُّھِیْنًا“ (الاحزاب - ۵۷) کا عذاب ہے جس کی دھمکی اس نے کفار اور منافقین کو دی ہے۔ چونکہ وہاں ”وَلَہُمْ عَذَابٌ عَظِیْمٌ“ (البقرۃ - ۷) فرمایا ہے ، اس لیے معلوم ہوا کہ یہ اُسی قسم کا عذاب ہے ۔
جس کا تذکرہ ”لَمَسَّکُمْ فِیْمَا اَفَضْتُمْ (تو جس بات کا تم چرچا کرتے تھے اس کی وجہ فِیْہِ عَذَابٌ عَظِیْمٌ“ (النور - ۱۴) سے تم پر بڑا سخت عذاب نازل ہوتا)
اس سے بھی دونوں کا فرق واضح ہوتا ہے کہ یہاں فرمایا : ”وَاَعَدَّ لَہُمْ عَذَابًا مُّھِیْنًا“ (اور ان کے لیے رسوا کن عذاب تیار (الاحزاب - ۵۷) کیا )
ظاہر ہے کہ عذاب کفار کے لیے تیار کیا گیا ہے، اس لیے کہ جہنم کو انہی کے لیے پیدا کیا گیا ہے۔ کیونکہ وہ لازماً اس میں داخل ہوں گے اور اُن کو وہاں سے نکالا نہیں جائے گا ۔ باقی رہے کبائر کا ارتکاب کرنے والے اہل ایمان تو ہو سکتا ہے کہ اللہ انہیں معاف کردے اور وہ جہنم میں داخل نہ ہوں ۔ اور اگر داخل ہوئے بھی تو اس میں سے نکل جائیں گے اگرچہ کچھ مدت کے بعد کیوں نہ نکلیں ۔
قرآن میں فرمایا :
"وَاتَّقُوا النَّارَ الَّتِي أُعِدَّتْ (اور اُس آگ سے ڈرو جو کافروں کے لیے لِلْكَافِرِينَ" تیار کی گئی ہے)
خدا وند کریم نے حکم دیا کہ سود نہ کھائیں، اللہ سے ڈرتے رہیں اور اُس آگ سے ڈریں جس کو کفار کے لیے تیار کیا گیا ہے ۔
اس آیت سے معلوم ہوا کہ اُن کے جہنم میں داخل ہونے کا خطرہ اُسی صورت میں ہے جب کہ وہ سود کھائیں اور گناہ کے کام کریں۔ نیز یہ کہ جہنم کی آگ کفار کے لیے تیار کی گئی ہے اُن کے لیے نہیں ۔ حدیث میں بھی اسی طرح آیا ہے :
" باقی رہے اہلِ جہنم تو وہ اس میں نہ جئیں گے نہ مریں گے ۔ اور جن لوگوں نے کچھ گناہوں کا ارتکاب کیا ہے تو ان تک آگ کی لپٹ پہنچے گی پھر اللہ اُن کو وہاں سے نکال دے گا "
یہ اُسی طرح ہے جیسے جنت اُن متقی لوگوں کے لیے تیار کی گئی ہے جو خوشی اور غمی میں خرچ کرتے ہیں ۔ اگرچہ اس میں بعضے بھی اپنے بُرے اعمال کی وجہ سے داخل ہوں گے ۔ کچھ لوگ اس میں شفاعت کی وجہ سے اور کچھ رحمت کی بنا پر داخل ہوں گے جنت کا جو حصہ بچ رہے گا اس کے لیے وہ دوسری مخلوقات کو پیدا کر کے اس میں داخل کر دے گا اس کی وجہ یہ ہے کہ کسی چیز کو اس کے لیے تیار کیا جاتا ہے جو اس کا حقیقی مستحق اور سزاوار ہو اور جو باقی لوگوں کی نسبت اس کے زیادہ لائق ہو۔ اس کے بعد کچھ اور لوگوں کو بطریقِ تبّع یا کسی اور وجہ سے اس میں داخل کر دیا جاتا ہے ۔
چھٹی دلیل : قرآن میں فرمایا :
مومن اپنی آواز کو رسولِ کریم کی آواز سے زیادہ بلند نہ کرے :
"اے ایمان والو! اپنی آوازیں پیغمبر کی آواز سے اونچی نہ کرو اور جس طرح آپس میں ایک دوسرے سے زور سے بولتے ہو (اس طرح) اُن کے رُوبرو زور سے نہ بولا کرو (ایسا نہ ہو) کہ تمہارے اعمال ضائع ہو جائیں اور تم کو خبر بھی نہ ہو"
(الحجرات - ۲)
بصریوں کے نزدیک تقدیر عبارت یوں ہے کہ ” اس ڈر سے کہ تمہارے اعمال ضائع نہ ہوں یا اس کراہت کی بنا پر کہ تمہارے اعمال برباد نہ ہوں ۔ اور کوفیوں کے یہاں اس عبارت کا مفہوم یہ ہے کہ ” تاکہ تمہارے اعمال ضائع نہ ہوں “۔
وجہ استدلال یہ ہے کہ اللہ نے اُن کو اس بات سے منع کیا کہ اپنی آوازوں کو نبی کی آواز سے زیادہ بلند کریں یا اس طرح بآوازِ بلند اُن سے مخاطب ہوں جیسے آپس میں ہوتے ہیں۔ اس لیے کہ یہ رفع و جہر حبوطِ اعمال کا موجب بن سکتا ہے ۔ جب کہ آواز بلند کرنے والے کو پتہ بھی نہیں چلتا ۔ اس آیت میں ترکِ جہر کی علت یہ بیان کی گئی ہے کہ حبوطِ اعمال سے سلامت رہے
اس آیت میں جس خرابی کی نشاندہی کی گئی ہے وہ حبوطِ اعمال کا جواز ہے اور جو چیز حبوطِ اعمال تک نہ ہو سکتی ہو، اس کا ترک کرنا واجب ہے اور اعمال کا حبط کفر کی وجہ سے ہوتا ہے ۔
اس ضمن میں قرآن کریم میں متعدد آیات وارد ہوئی ہیں:
- ١۔ ” اور جو کوئی تم میں سے اپنے دین سے پھر کر کافر ہو جائے گا اور کافر ہی مرے گا تو ایسے
لوگوں کے اعمال دنیا اور آخرت دونوں میں برباد ہو جائیں گے “۔ (البقرہ - ٢١٧)
- ٢۔ " وَمَنْ يَّكْفُرْ بِالْإِيْمَانِ فَقَدْ (اور جو ایمان کا انکار کرے تو اس کے اعمال
حَبِطَ عَمَلُهُ " (المائدة - ٥) ضائع ہو گئے)
- ٣۔ " وَلَوْ اَشْرَكُوْا لَحَبِطَ عَنْهُمْ مَّا (اور اگر انہوں نے شرک کیا تو جو اعمال وہ
كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ " (الانعام - ٨٨) کرتے تھے ضائع ہو جائیں گے)
- ٤۔ " لَئِنْ اَشْرَكْتَ لَيَحْبَطَنَّ عَمَلُكَ " (اگر تو نے شرک کیا تو تمہارے اعمال ضائع
(الزمر - ٦٥) ہو جائیں گے)۔
- ٥۔ " ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ كَرِهُوْا مَا (یہ اس لیے ہوا کہ انہوں نے خدا کے
اَنْزَلَ اللّٰهُ فَاَحْبَطَ اَعْمَالَهُمْ " نازل کردہ کو ناپسند کیا پس ان کے اعمال (سورة محمد - ٩) ضائع کر دیئے)
کے نزدیک تقدیر عبارت یوں ہے کہ "اس ڈر سے کہ تمہارے اعمال ضائع کی کراہت کی بنا پر کہ تمہارے اعمال برباد نہ ہوں ۔ اور کوفیوں کے یہاں کا مفہوم یہ ہے کہ تاکہ تمہارے اعمال ضائع نہ ہوں " دلالت یہ ہے کہ اللہ نے اُن کو اس بات سے منع کیا کہ اپنی آوازوں کو نبی کی بلند کریں یا اس طرح بآواز بلند اُن سے مخاطب ہوں جیسے آپس میں ہوتے کہ یہ رفع و جہر حبطِ اعمال کا موجب بن سکتا ہے ۔ جب کہ آواز بلند کرنے نہیں چلتا۔ اس آیت میں ترکِ جہر کی علت یہ بیان کی گئی ہے کہ حبطِ اعمال ہے میں جس خرابی کی نشاندہی کی گئی ہے وہ حبط اعمال کا جواز ہے اور جو چیز حبط ہو سکتی ہو ، اس کا ترک کرنا واجب ہے اور اعمال کا حبط کفر کی وجہ سے
میں قرآن کریم میں متعدد آیات وارد ہوئی ہیں : تم میں سے اپنے دین سے پھر کر کافر ہو جائے گا اور کافر ہی مرے گا تو ایسے دنیا اور آخرت دونوں میں برباد ہو جائیں گے “ (البقرہ - ۲۱۷) كْفُرْ بِالْإِيْمَانِ فَقَدْ (اور جو ایمان کا انکار کرے تو اس کے اعمال “ (المائدۃ - ۵) ضائع ہوگئے ) حَبِطَ عَنْهُم مَّا (اور اگر انہوں نے شرک کیا تو جو اعمال وہ “ (الانعام - ۸۸) کرتے تھے ضائع ہو جائیں گے) ئِنْ شْرَكْتَ لَيَحْبَطَنَّ عَمَلُكَ (اگر تو نے شرک کیا تو تمہارے اعمال ضائع (الزمر - ۶۵) ہو جائیں گے)۔ كَرِهُوا مَا (یہ اس لیے ہوا کہ انہوں نے خدا کے فَأَحْبَطَ أَعْمَالَهُمْ “ نازل کردہ کو ناپسند کیا پس ان کے اعمال سورۃ محمد - ۹) ضائع کر دیئے)
کفر کی موجودگی میں عمل مقبول نہیں
کفر کی موجودگی میں جو عمل انجام دیا جائے اسے قبول نہیں کیا جاتا۔ قرآن مجید میں فرمایا: ”إِنَّمَا يَتَقَبَّلُ اللَّهُ مِنَ الْمُتَّقِينَ“ ”اللہ متقی لوگوں کے اعمال قبول کرتا (المائدۃ - ۲۷) ہے“
”جن لوگوں نے کفر کیا اور دوسروں کو خدا کے راستہ سے روکا تو خدا نے ان کے اعمال برباد کر دیئے “ (محمد - ۱) ”اور اُن کے خرچے (اموال) کے قبول ہونے سے کوئی چیز مانع نہیں ہوئی سوا اس کے کہ انہوں نے خدا سے اور رسول سے کفر کیا “ (التوبۃ - ۵۴)
یہ بات ظاہر ہے اور کفر کے سوا دوسری کوئی چیز اعمال کو ضائع نہیں کر سکتی۔ اس لیے کہ جو شخص مومن ہوتے ہی فوت ہو اس کا جنت میں داخل ہونا ناگزیر ہے ۔ اگر وہ جہنم میں داخل ہوا بھی تو وہاں سے نکل آئے گا ۔ اور اگر اُس کے سارے اعمال ضائع ہو جائیں تو ہرگز جنت میں نہیں جائے گا ۔ نیز اس لیے کہ اعمال کو وہ چیز ضائع کرتی ہے جو ان کے منافی ہو اور اعمال کے منافی صرف کفر ہوتا ہے ۔ یہ اہل السنۃ کا معروف اصول ہے ۔ البتہ بعض اعمال کسی خرابی کی وجہ سے باطل ہو جاتے ہیں ۔
قرآن میں فرمایا : ”لَا تُبْطِلُوْا صَدَقَاتِكُمُ بِالْمَنِّ اپنے صدقات کو احسان جتا کر اور دُکھ وَ الْاَذى “ (البقرۃ - ۲۶۴) دے کر ضائع نہ کرو)
یہی وجہ ہے کہ اللہ نے اپنی کتاب میں حبطِ اعمال کا موجب صرف کفر کو قرار دیا ہے ۔ جب یہ بات ثابت ہو گئی کہ نبی کی آواز کے اوپر آواز بلند کرنے سے اس بات کا اندیشہ ہے کہ وہ کافر ہو جائے اور اسے پتہ بھی نہ ہو اور اس وجہ سے اس کے اعمال بھی ضائع ہو جائیں اس طرح رفعِ صوت حبطِ اعمال کا سبب اور مظنّہ ہے ۔ اس سے معلوم ہوا کہ جس کی وجہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعزیر و توقیر اور اکرام و اجلال ہے ۔ نیز اس لیے کہ نبی کی آواز پر آواز بلند کرنے سے اُسے ایذا پہنچتی ہے اور ساتھ ہی اُس کی تحقیر بھی ہوتی ہے۔ اگرچہ آواز
بند کرنے والے کا یہ ارادہ نہ ہو۔ جب ایذا اور تحقیر جو غیر شعوری طور پر گستاخی کی موجب ہوتی ہے ۔ کفر تک پہنچا دیتی ہے، تو جو ایذا اور تحقیر ارادی طور پر کی جائے اور وہ فاعل کا مقصد بھی ہو تو بطریقِ اولیٰ کفر کی موجب ہو گی ۔
ساتویں دلیل : قرآن کریم میں فرمایا :
" مومنو ! پیغمبر کے بلانے کو ایسا خیال نہ کرنا جیسا تم آپس میں ایک دوسرے کو بلاتے ہو بے شک خدا کو یہ لوگ معلوم ہیں جو تم میں سے آنکھ بچا کر چل دیتے ہیں تو جو لوگ ان کے حکم کی مخالفت کرتے ہیں اُن کو ڈرنا چاہئیے کہ (ایسا نہ ہو کہ) ان پر کوئی آفت پڑ جائے یا تکلیف دینے والا عذاب نازل ہو " (النور ۔ ۶۳)
رسولِ کریمؐ کے مخالفین کو حکم دیا کہ فتنہ سے احتراز کریں ۔ فتنہ سے ارتداد اور کفر مراد ہے ۔ قرآن میں فرمایا :
فِتْنَةٌ " (البقرہ ۔ ۱۹۳) باقی نہ رہے )
" وَالْفِتْنَةُ اَكْبَرُ مِنَ الْقَتْلِ " (اور فتنہ قتل سے بھی بُرا ہوتا )
(البقرہ ۔ ۲۱۷)
فضل بن زیاد امام احمدؒ سے روایت کرتے ہیں کہ میں نے اطاعتِ رسولؐ کا ذکر قرآن کے تینتیس مقامات پر دیکھا ہے ۔ پھر اس آیت کو پڑھنا شروع کر دیا :
عَنْ اَمْرِهٖ اَنْ تُصِيْبَهُمْ فِتْنَةٌ " اُن کو ڈرنا چاہئیے (ایسا نہ ہو کہ) ان پر
(النور ۔ ۶۳) کوئی آفت پڑ جائے)
امام احمدؒ اس آیت کو بار بار تلاوت کرتے رہتے اور فرماتے تھے کہ فتنہ سے شرک مراد ہے ۔ عین ممکن ہے کہ جب وہ شخص رسولِ کریمؐ کے فرمان کو ردّ کرے تو اس کے دل میں کجی پیدا ہو جائے ، جو اس کی ہلاکت کی موجب ہو ۔ پھر یہ آیت پڑھنے لگے :۔
"تیرے ربّ کی قسم وہ ایمان نہیں لائیں گے یہاں تک کہ آپؐ کو اپنے
کا یہ ارادہ نہ ہو ۔ جب ایذا اور تحقیر جو غیر شعوری طور پر گستاخی کی موجب ہوتی پہنچا دیتی ہے ، تو جو ایذا اور تحقیر ارادی طور پر کی جائے اور وہ فاعل کا مقصود بھی ہی کفر کی موجب ہوگی ۔
دلیل : قرآن کریم میں فرمایا :
"پیغمبر کے بلانے کو ایسا خیال نہ کرنا جیسا تم آپس میں ایک دوسرے کو بلاتے ہو خدا کو یہ لوگ معلوم ہیں جو تم میں سے آنکھ بچا کر چل دیتے ہیں تو جو لوگ ان کی مخالفت کرتے ہیں اُن کو ڈرنا چاہیے کہ ایسا نہ ہوکہ ، ان پر کوئی آفت پڑ تکلیف دینے والا عذاب نازل ہو" (النور - ۶۳)
حکم کے مخالفین کو حکم دیا کہ فتنہ سے احتراز کریں ۔ فتنہ سے ارتداد اور کفر مراد فرمایا :
حَتّٰى لَا تَكُوْنَ اور اُن سے لڑو یہاں تک کہ فتنہ (البقرہ - ۱۹۳) باقی نہ رہے، كْبَرُ مِنَ الْقَتْلِ" اور فتنہ قتل سے بھی بُرا ہوتا، (البقرة - ۲۱۷)
یضاً امام احمدؒ سے روایت کرتے ہیں کہ میں نے اطاعتِ رسول کا ذکر قرآن کے پر دیکھا ہے۔ پھر اس آیت کو پڑھنا شروع کر دیا :
ذِيْنَ يُخَالِفُوْنَ جو لوگ اُن کے حکم کی مخالفت کرتے ہیں تُصِيْبَهُمْ فِتْنَةٌ" اُن کو ڈرنا چاہیے ایسا نہ ہو کہ ، ان پر (النور - ۶۳) کوئی آفت پڑ جائے،
اس آیت کو بار بار تلاوت کرتے رہتے اور فرماتے تھے کہ فتنہ سے شرک ہے کہ جب وہ شخص رسولِ کریم کے فرمان کو ردّ کرے تو اس کے دل میں جو اس کی ہلاکت کی موجب ہو ۔ پھر یہ آیت پڑھنے لگے :
ب کی قسم وہ ایمان نہیں لائیں گے یہاں تک کہ آپ کو اپنے
تنازعات میں حکم نہ بنائیں۔
(النساء - ۶۵)
ابو طالب الشوکانی سے دریافت کیا گیا کہ بعض لوگ عامل بالحدیث ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں مگر وہ حدیث کے مقابلے میں ، سفیان کی رائے کو اختیار کرتے ہیں ، ان کے بارے میں آپ کیا فرماتے ہیں ؟
ابو طالب نے فرمایا :
"میں اس قوم پر حیران ہوتا ہوں جنہوں نے کوئی حدیث سُن رکھی ہوتی ہے اور وہ اس کی اسناد اور صحت سے بھی آگاہ و آشنا ہوتے ہیں ، تاہم وہ سفیان وغیرہ کی رائے کو اختیار کرتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :۔
"ان لوگوں کو ڈرنا چاہیے جو آپ کے حکم کی مخالفت کرتے ہیں کہ انہیں کوئی آفت لاحق ہو جائے یا وہ درد ناک عذاب میں مبتلا ہو جائیں "۔
(النور - ۶۳)
کیا تجھے معلوم ہے کہ فتنہ کیا چیز ہے ؟ فتنہ سے مراد کفر ہے ۔ قرآن میں فرمایا :
"وَالْفِتْنَةُ اَكْبَرُ مِنَ فتنہ قتل سے بھی بُرا (گناہ الْقَتْلِ" (البقرة - ۲۱۷) ہے)
ایسے لوگ حدیثِ رسولؐ کو چھوڑ کر اپنی خواہشات کی پیروی میں رائے کو اختیار کرتے ہیں ۔ جب آپ کے حکم کی خلاف ورزی کرنے والے کو کفر و شرک اور عذابِ الیم سے ڈرایا گیا ہے ، تو اس سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ آپ کے حکم کی خلاف ورزی کفر یا عذابِ الیم تک پہنچانے والی ہے ۔ ظاہر ہے کہ عذاب تک پہنچانا محض فعلِ معصیت کی وجہ سے ہے اور کفر تک پہنچانے کی وجہ یہ ہے کہ معصیت کے ساتھ ساتھ اس میں حکم دینے والے (رسولِ کریمؐ) کی تحقیر و استخفاف بھی شامل ہو جاتا ہے ۔ پھر اُس فعل کی سزا کیا ہوگی جو اس سے شدید تر ہے ۔ مثلاً آپ کو گالی دینا اور تحقیر کرنا وغیرہ "۔
یہ نہایت وسیع باب ہے ، تاہم بحمد اللہ اس پر اجماع ہو چکا ہے اور جب دلائل متعدد ہوں تو گالی دینے والے کے کفر اور اس کی سزا کی شدت کے مسئلہ کو مزید تاکید و تقویت حاصل ہو جائے گی اور یہ بات کھل کر سامنے آجائے گی کہ رسولؐ کا عدم احترام خواہ وہ ادنیٰ
ایسے کفر کی موجب ہو سکتی ہے جس سے جملہ اعمال غارت ہو جائیں ۔ اس سے ہمارا مقصد بڑے بلیغ تر انداز سے پورا ہو جائے گا ۔
جان لینا چاہیے کہ ”اَذیٰ“ کا لفظ لغت میں اُس شَر اور ناپسندیدہ فعل پر بولا جاتا ہے ۔ جو معمولی درجے کا ہو اور جس کا اثر کمزور ہو ، الخطابیؒ و دیگر اہل علم نے اس کا ذکر کیا ہے اور یہ بات درست ہے ۔ اس لفظ کے مواقع استعمال معلوم کرنے سے اس کی تائید ہوتی ہے ۔ مثلاً یہ آیات :
”لَنْ يَّضُرُّوْكُمُ اِلَّا اَذًى“ (وہ تمہیں معمولی تکلیف دیں گے) (آل عمران - ۱۱۱)
”وَيَسْئَلُوْنَكَ عَنِ الْمَحِيْضِ قُلْ اور تم سے حیض کے بارے میں دریافت هُوَ اَذًى“ (البقرة - ۲۲۲) کرتے ہیں کہہ دو کہ وہ تو نجاست ہے)
رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” سردی تکلیف کی موجب ہے اور گرمی اذیت ہے “
کسی عربی عورت سے دریافت کیا گیا کہ کیا سردی شدید تر ہوتی ہے یا گرمی ؟ اس نے جواب دیا ”اَلْبُؤْس ، اور اَذًی“ برابر کیسے ہو سکتے ہیں ؟ اَلْبُؤْس ، النَّعْم کی ضِدّ ہے ، یعنی وہ چیز جو بدن کو نقصان پہنچاتی ہو ۔ برخلاف ”اَذًی“ کے کہ وہ اس حد تک نہیں پہنچتی ۔ قرآن میں فرمایا :
”اِنَّ الَّذِيْنَ يُؤْذُوْنَ اللّٰهَ وَرَسُوْلَهُ“ (جو لوگ اللہ اور اس کے رسول کو ایذا (الاحزاب - ۵۷) دیتے ہیں)
ایک حدیث قدسی میں آیا ہے کہ : ” ابن آدم مجھے ایذا دیتا ہے وہ زمانے کو گالی نکالتا ہے “ ۔
رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کعب بن اشرف کا کون ذمہ لے گا ، اُس نے اللہ اور اس کے رسول کو ایذا دی ہے “
آپؐ نے فرمایا :
"ایذا دینے والی چیز کو سن کر اللہ سے زیادہ صبر کرنے والا اور کوئی نہیں۔ لوگ اللہ کے لیے اولاد اور شریک ثابت کرتے ہیں اور وہ انہیں معاف کرتا اور رزق دیتا ہے"
حدیث قدسی میں فرمایا :
"اے میرے بندو! تمہارے اندر مجھے ضرر پہنچانے کی طاقت نہیں کہ مجھے ضرر پہنچا سکو، اور تم میں مجھے نفع پہنچانے کی قدرت بھی نہیں کہ مجھے نفع پہنچا سکو"۔
قرآن کریم میں فرمایا :
"اور جو لوگ کفر میں جلدی کرتے ہیں اُن کی وجہ سے غمگین نہ ہونا یہ خدا کا کچھ نقصان نہیں کر سکتے "
(آل عمران - ۱۷۶)
اس آیت کریمہ میں فرمایا کہ مخلوق اپنے کفر کی وجہ سے اللہ کو نقصان نہیں پہنچا سکتی۔ البتہ اللہ تعالیٰ کو گالیاں دے کر اور اس کے لیے اولاد اور شریک ثابت کر کے اسے ایذا دیتے ہیں۔ علاوہ ازیں لوگ اس کے رسولوں اور بندوں کو بھی ایذا دیتے ہیں۔ پھر وہ ایذا رسانی جس سے اللہ تعالیٰ کو کچھ ضرر لاحق نہیں ہوتا، جب رسول کے حق سے متعلق ہو تو اس کی اہمیت اور بھی بڑھ جاتی ہے۔ یعنی ایسا شخص کفر میں سب سے بڑھ جاتا ہے اور اُسے شدید ترین سزا دی جاتی ہے۔ اس سے واضح ہوا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو کم درجہ کی ایذا پہنچانے سے بھی ایسا کرنے والا کافر اور مباح الدم ہو جاتا ہے۔
مندرجہ ذیل آیت اس موقف کے منافی نہیں ہے :-
"اے ایمان والو ! پیغمبر کے گھر میں نہ جایا کرو مگر اس صورت میں کہ تم کو کھانے کے لیے اجازت دی جائے اور اس کے پکنے کا انتظار بھی نہ کرنا پڑے لیکن جب تمہاری دعوت کی جائے تو جاؤ اور جب کھانا کھا چکو تو چل دو اور باتوں میں جی لگا کر نہ بیٹھ رہو۔ یہ بات پیغمبر کو ایذا دیتی ہے اور وہ تم سے شرم کرتے ہیں (اور کہتے نہیں ہیں)"
(الاحزاب - ۵۳)
اس آیت میں جس ایذا دینے والی چیز کا ذکر کیا گیا ہے وہ رسولِ کریمؐ کے گھر میں دیر تک بیٹھے رہنا اور باتوں میں لگے رہنا ہے۔ یہ مطلب نہیں کہ صحابہؓ رسولِ کریمؐ کو ایذا دیتے تھے۔
اور کسی فعل سے جب رسولِ کریم کو تکلیف پہنچتی ہو، مگر اس کے فاعل کو معلوم نہ ہو کہ وہ آپؐ کو اذیت پہنچا رہا ہے اور نہ ہی اس کا ارادہ ایذا پہنچانے کا ہو تو پھر بھی اس فعل سے اُسے روکا جا رہا ہے اور یہ فعل گناہ کا موجب ہے۔ جیسے رسولِ کریمؐ کی آواز سے زیادہ اونچی آواز میں بولنا۔ مگر جب وہ قصداً ایذا دے رہا ہو اور اسے معلوم بھی ہو کہ وہ آپؐ کو ایذا دے رہا ہے اور اس علم کے استحضار کے باوجود وہ اس کی جسارت کر رہا ہو تو یہ فعل کفر اور حبطِ اعمال کا موجب ہے۔ واللہ اعلم ۔
آٹھویں دلیل : اس کی آٹھویں دلیل مندرجہ ذیل آیت قرآنی ہے :۔
" اور تمہارے لیے یہ مناسب نہیں کہ پیغمبرِ خدا کو تکلیف دو اور نہ یہ کہ ان کی بیویوں سے کبھی ان کے بعد نکاح کرو بے شک یہ خدا کے نزدیک بڑا گناہ کا
کام ہے ۔ (الاحزاب - ۵۳)
اس آیت میں امت پر ہمیشہ کے لیے نبی کی بیویوں کو حرام قرار دیا گیا، کیونکہ اس سے آپؐ کو ایذا پہنچتی ہے ۔ پھر اس کی حُرمت کی عظمت کی وجہ سے اس کو اللہ کے نزدیک عظیم جرم قرار دیا گیا ۔ ذکر کیا گیا ہے کہ یہ آیت تب اتری جب بعض لوگوں نے کہا " اگر رسولِ کریمؐ وفات پا گئے ہوتے تو حضرت عائشہؓ عقدِ ثانی کر لیتیں " یہ جو شخص آپؐ کی بیویوں یا لونڈیوں کے ساتھ نکاح کرے تو اس کی سزا قتل ہے۔ یہ حُرمتِ نبوی کو توڑنے کی سزا ہے تو قیاس بریں نبیؐ کو گالیاں دینے والا بالْاولیٰ اس سزا کا مستحق ہے ۔
اس کی دلیل وہ حدیث ہے جس کو مسلم نے اپنی صحیح میں بطریق زُہیر از عَفّان از حمّاد از ثابت از انسؓ روایت کیا ہے کہ ایک شخص کو رسولِ کریمؐ کی اُمّ ولد کے ساتھ متہم کیا جاتا تھا ۔ رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علیؓ کو حکم دیا کہ جا کر اسے قتل کر دو۔ حضرت علیؓ اُس کے پاس آئے تو وہ ایک ٹب میں نہا رہا تھا ۔ حضرت علیؓ نے اُسے نکلنے کو کہا اور اپنا ہاتھ اسے پکڑا کر اسے باہر نکالا ۔ جب دیکھا تو اس کا آلہِ تناسل کٹا ہوا تھا ۔ حضرت علیؓ اس کے قتل سے باز رہے اور حضورؐ کی خدمت میں حاضر ہو کر کہا یا رسول اللہ ! وہ مقطوع الذکر ہے ۔ رسولِ کریمؐ نے اس کو قتل کرنے کا حکم دیا ، کیونکہ اس نے آپؐ کی حُرمت کو پامال کیا تھا ۔ آپؐ نے اس
پر زنا کی حد لگانے کا حکم نہیں دیا تھا، اس لیے کہ زنا کی سزا قتل نہیں ہے بلکہ شادی شدہ کو رجم کیا جاتا ہے اور غیر شادی شدہ کو کوڑے لگائے جاتے ہیں اور حدّ جلد سَو ضربیں لگائی جاتی ہیں اگر چار گواہ موجود ہوں یا وہ بذاتِ خود اعترافِ جرم کرلے ۔
جب رسول کریمؐ نے یہ تفصیل معلوم کیے بغیر اس کو قتل کرنے کا حکم دیا کہ آیا وہ شادی شدہ ہے یا مجرد ، تو اس سے معلوم ہوا کہ قتل کا حکم اس کی حُرمت شکنی کی وجہ سے دیا گیا تھا۔ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ دو گواہوں نے آپؐ کے سامنے شہادت دی ہو کہ انہوں نے اُسے اس عورت کے ساتھ مباشرت کرتے دیکھا تھا یا اس سے ملتے جلتے الفاظ میں شہادت دی ہو اور آپؐ نے اسے قتل کرنے کا حکم دیا ۔ جب پتہ چل گیا کہ وہ مقطوع الذکر ہے تو معلوم ہوا کہ اس فساد کا کوئی اندیشہ نہیں ہے یا آپؐ نے حضرت علیؓ کو اس واقعہ کی تحقیق کرنے کے لیے بھیجا ہو کہ اگر یہ واقعہ صحیح ہے تو اُسے قتل کر دیا جائے۔ اسی لیے آپؐ نے اس واقعہ یا کسی اور واقعہ کے بارے میں ارشاد فرمایا :
نہیں دیکھتا
اس کی دلیل یہ بھی ہے کہ رسول کریمؐ نے قتیلہ بنت قیس بن مَعْدِیکرِب سے جو اشعث کی بہن تھی ، نکاح کیا ۔ مگر اس کو گھر میں آباد کرنے سے قبل آپؐ وفات پا گئے ۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ آپؐ نے اُسے اختیار دیا کہ یا تو دیگر ازواج کی طرح پردہ میں رہو اور یا مجھ سے طلاق لیکر کسی اور کے ساتھ نکاح کر لو ۔ اُس نے نکاح کرنے کو ترجیح دی ۔ جب رسول کریمؐ نے وفات پائی تو عکرمہ بن ابو جہل نے حضر موت میں اس سے نکاح کر لیا ۔ جب حضرت ابو بکرؓ کو پتہ چلا تو فرمایا ” میں نے ارادہ کیا تھا کہ اُن کی موجودگی میں اُن کے گھر کو نذرِ آتش کر دوں حضرت عمرؓ نے فرمایا ”کہ یہ عورت اُمّہات المومنین میں سے نہیں، نہ ہی آپؐ کے یہاں آباد ہوئی ہے اور نہ ہی اس کو حُرم سرا میں داخل کیا گیا ۔“
بعض لوگ کہتے ہیں کہ وہ مُرتد ہوگئی تھی ۔ اس لیے حضرت عمرؓ نے حضرت ابو بکرؓ کے خلاف یہ احتجاج کیا کہ مُرتد ہونے کی وجہ سے یہ آپؐ کی ازواج میں شامل نہیں رہی ۔
انداز استدلال یہ ہے کہ حضرت صدیقؓ نے اُس عورت اور مرد کو جلانے کا عزم کیا تھا۔ کیوں کہ اُن کا خیال یہ تھا کہ یہ آپ کی ازواج مطہرات میں سے ہیں ۔ حتیٰ کہ حضرت عمرؓ نے اُن سے مناظرہ کیا کہ وہ آپ کی ازواج میں سے نہیں ہیں ۔ اس لیے آپ اس سے باز رہے ۔ اس سے معلوم ہوا کہ صحابہ رسولِ کریمؐ کی حُرمت توڑنے والے کو قتل کر دیا کرتے تھے یہ نہیں کہا جا سکتا کہ قتل کرنا زنا کی حد تھی ، اس لیے کہ وہ عورت اس پر حرام تھی اور جو شخص ذات محرم سے نکاح کرے اس پر زنا کی حد لگائی جاتی ہے یا اُسے قتل کیا جاتا ہے ۔ اس کی دو وجہ ہیں :-
- (۱) ایک یہ کہ زنا کی حد رجم ہے ۔
- (۲) دوسرے یہ کہ یہ حدّ لگانے کے لیے جماع کا ثبوت مطلوب ہے ۔ اور وہ یا تو شہادت
قائم ہونے سے ہوتا ہے یا اقرار سے ۔
حضرت ابوبکرؓ نے جب ان کے گھر کو جلانے کا ارادہ کیا ، حالانکہ یہ احتمال موجود تھا کہ اس نے مجامعت نہ کی ہو ، تو معلوم ہوا کہ یہ سزا رسولِ کریمؐ کی حُرمت شکنی کی وجہ سے دی جانے والی تھی ۔
حدیثِ نبویؐ کے دلائل
چند احادیث سے اس پر استدلال کیا جاتا ہے :-
پہلی حدیث
شعبی نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے کہ ایک یہودی عورت رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو گالیاں دیا کرتی تھی ایک شخص نے اس کا گلا گھونٹ کر اُسے ہلاک کر دیا تو آپ نے اُس عورت کے خون کو رائیگاں قرار دیا ۔ اس حدیث کو ابوداؤد اور ابنِ بطّہ نے اپنے اپنے سُنن میں روایت کیا ہے ۔ امام احمدؒ کے بیٹے عبداللہ کی روایت کے مطابق ، انہوں نے بھی اس سے استدلال کیا ہے ۔ چنانچہ امام احمدؒ بطریق جریر از مغیرہ از شعبی روایت کرتے ہیں کہ ایک نابینا مسلمان ایک یہودی عورت کے یہاں قیام پذیر تھا ۔ وہ عورت اُسے کھلاتی پلاتی اور نیک سلوک کیا کرتی تھی ۔ مگر اس کے ۔
ساتھ ساتھ وہ رسول کریم کو گالیاں دیتی اور ایذا رسانی کرتی تھی۔ ایک رات اندھے نے اس کا گلا گھونٹ کر اسے ہلاک کر دیا۔ جب صبح ہوئی تو رسول کریم سے اس کا ذکر کیا گیا آپ نے لوگوں کو اس ضمن میں حلف دی۔ اندریں اثنا ایک اندھے شخص نے کھڑے ہو کر ماجرا بیان کیا۔ چنانچہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس عورت کے خون کو ھدر (رائیگاں) قرار دیا۔
یہ صحیح حدیث ہے۔ اس لیے کہ شعبی نے حضرت علیؓ کو دیکھا اور شراحہ ہمدانی کی حدیث ان سے روایت کی ہے۔ حضرت علیؓ کے عہد خلافت میں شعبی کی عمر تقریباً بیس سال تھی۔ یہ کوفہ میں رہتے تھے چونکہ شعبی کی ملاقات حضرت علیؓ سے ثابت ہے اس لیے یہ حدیث متصل ہے۔ تاہم اگر یہ حدیث مرسل بھی ہو ——— اس لیے کہ شعبی کا سماع حضرت علیؓ سے بعید ہے ——— تاہم یہ اجماعاً حجت ہے۔ کیوں کہ شعبی کی مراسیل محدثین کے نزدیک صحیح ہوا کرتی ہیں۔ مزید براں شعبی حضرت علی رضی اللہ عنہ اور ثقہ صحابہؓ کی مرویات کے سب سے بڑے عالم تھے۔ علاوہ بریں ابن عباس کی اگلی روایت اس کی شاہد ہے۔ اس لیے کہ ہر دو روایات میں یا تو ایک ہی واقعہ بیان کیا گیا ہے یا دونوں کا مطلب ایک ہے عام اہل علم اس پر عمل کرتے ہیں، اور صحابہ سے دیگر احادیث بھی منقول ہیں جو اس کی مؤید ہیں۔ اس قسم کی مرسل روایات سے فقہاء بلا جھجک استدلال کرتے ہیں۔
اس حدیث سے مستنبط احکام
یہ حدیث اس مسئلہ میں نص کا حکم رکھتی ہے کہ نبی کریم کو گالیاں دینے والے کو قتل کرنا جائز ہے۔ نیز یہ کہ ایسے ذمی کو بھی قتل کیا جاسکتا ہے۔ مسلم مرد یا عورت اگر آپ کو گالیاں دیں تو ان کو بطریق اولیٰ قتل کرنا جائز ہے۔ اس لیے کہ یہ عورت ان لوگوں میں سے تھی جن کے ساتھ معاہدہ کیا گیا تھا۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب مدینہ منورہ تشریف لائے تو مدینہ کے تمام یہودیوں کے ساتھ مطلقاً معاہدہ کیا گیا تھا۔ اور ان پر جزیہ بھی نہیں لگایا گیا تھا ۔ اہل علم کے مابین یہ مسئلہ متواتر کا درجہ رکھتا ہے۔ امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : "علمائے سیر میں سے کوئی بھی اس کا مخالف نہیں کہ جب رسول کریم مدینہ منورہ
تشریف لائے تو تمام یہودیوں سے بلا جزیہ معاہدہ کیا گیا تھا ، اور امام شافعی کا یہ قول درست ہے ۔
مدینہ کے ارد گرد رہنے والے یہود کی اقسام
مدینہ کے ارد گرد تین قسم کے یہود سکونت گزیں تھے ۔ یعنی (۱) بنو قینقاع (۲) بنو نضیر (۳) بنو قریظہ ۔
بنو قینقاع اور بنو نضیر خزرج کے اور قریظہ قبیلہ اوس کے حلیف تھے ۔ جب رسول کریم مدینہ تشریف لائے تو یہود کے ساتھ معاہدہ صلح کر لیا ۔ یہود کے جو معاہدے مدینہ کے ارد گرد رہنے والے مشرکین کے ساتھ تھے اور جو انصار کے حلیف تھے آپ نے ان کی تجدید کر دی ۔ آپ نے یہود کے ساتھ یہ معاہدہ بھی کیا کہ اگر آپ کسی دشمن کے ساتھ لڑیں گے تو یہودی آپ کی مدد کریں گے ۔ مگر پہلے بنو قینقاع نے اور پھر بنو نضیر اور بنو قریظہ نے اس معاہدے کو توڑ ڈالا ۔
محمد بن اسحاق کہتے ہیں کہ رسول کریم نے مدینہ آتے ہی مہاجرین اور انصار کے مابین ایک دستاویز تحریر کی ، اس میں یہود کے ساتھ بھی معاہدہ کیا ۔ ان کے مذہب اور اموال میں عدم مداخلت کا عہد کیا ۔ کچھ شرطیں ان پر عائد کیں اور کچھ ان کو لکھ کر دیں ۔
محمد بن اسحاق رقمطراز ہیں :
" میں نے بطریق عثمان بن محمد بن عثمان بن الاخنس بن شریق روایت کیا ہے کہ میں نے آل عمر بن الخطاب سے یہ دستاویز لی ، جو اس کتاب الصدقہ کے ساتھ مقرون و متصل تھی جو حضرت عمرؓ نے عمال کو لکھ کر دی تھی ۔ اس میں بسم اللہ الرحمن الرحیم کے بعد تحریر کیا تھا کہ یہ محمد نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے قریش اور یثرب کے اہل ایمان اور ان کے متبعین کے درمیان تحریر کی ہے ۔ اس میں وہ لوگ بھی شامل ہیں جو ان کی پیروی کریں ، اُن سے مل جائیں اور ان کے ساتھ مل کر جہاد کریں ۔ یہ کہ باقی لوگوں کے علاوہ وہ ایک اُمّت ہیں ۔
قریشی مہاجرین اپنی سیادت و قیادت پر باقی رہیں گے اور دور جاہلیت کی طرح باہم دیت ادا کرتے رہیں گے ۔ انصاف اور بھلائی کے طریقہ پر مومن قیدیوں کو فدیہ دے کر
چھڑوائیں گے ۔ بنو عوف کے قبیلہ والے اپنی ریاست پر قائم رہیں گے اور حسب سابق اپنے قبیلہ والوں کی دیت ادا کرتے رہیں گے ۔ ہر گروہ اپنے قیدیوں کا فدیہ دے کر انصاف اور بھلائی کے ساتھ ان کو رہا کروائے گا ۔ پھر آپؐ نے انصار کے خاندان یعنی بنو حارث ، بنو ساعدہ ، بنو جشم ، بنو نجار ، بنو عمرو بن عوف ، بنو الاوس ، اور بنو النبیت کے باہمی شرائط کا ذکر کیا ۔
پھر فرمایا جو شخص قرض کے زیر بار ہوگا اہل ایمان حسب دستور اس کو فدیہ یا تاوان ادا کریں گے ۔ اور آپؐ سے مشورہ کیے بغیر کوئی مومن دوسرے مومن کو اپنا حلیف نہیں بنائے گا ۔ اللہ کا ذمہ ایک ہی ہے ، اُن میں سے ادنیٰ شخص دوسرے کو پناہ دے سکے گا ۔ مومن باہم ایک دوسرے کے حلیف ہیں ، دوسرے لوگوں کا معاملہ یوں نہیں ۔ یہودیوں سے جو ہمارے تابع ہو گا ہم اسے مدد دیں گے اور اپنے برابر تصور کریں گے ۔ کسی پر ستم نہیں ڈھایا جائے گا ۔ اور نہ اس کے خلاف کسی کو مدد دی جائے گی ۔ مسلمانوں کی صلح ایک ہے ، جب تک دشمن سے لڑتے رہیں گے یہودی بھی مسلمانوں کے ساتھ مل کر خرچ کریں گے ۔ قبیلہ بنی عوف کے یہود اہل ایمان کی پناہ میں ہیں ۔ یہود اپنے مذہب پر عمل پیرا ہوں گے اور مسلمان اپنے دین پر ۔ یہود کے حلیف اور وہ خود مسلمانوں کی پناہ میں ہوں گے ۔ جو ظلم اور گناہ کا مرتکب ہو گا تو وہ اپنے اہل خانہ کو ہلاک کرے گا ۔
یہود بنی نجار کے حقوق بھی وہی ہوں گے جو یہود بنی عوف کے ۔ بنی الحارث کے یہود ، بنی عوف کے یہودیوں کی طرح ہوں گے ۔ یہود بنی ساعدہ بھی یہود بنی عوف کی مانند ہوں گے ۔ بنو جشم کے یہودیوں کو وہی کچھ ملے گا جو بنی عوف کے یہود کو ملے گا ۔ بنی الاوس کے یہود بنی عوف کے یہود کی مانند ہوں گے ۔ قبیلہ ثعلبہ کے یہود بنی عوف کے یہود کی طرح ہوں گے ۔ جو ظلم و گناہ کا ارتکاب کرے گا وہ اپنے آپ اور اپنے اہل خانہ کی ہلاکت کا موجب ہو گا ۔ بنی ثعلبہ کا ایک خاندان جفنہ اُسی کی مانند ہو گا ۔ بنو الشطبہ انہی حقوق کے مستحق ہوں گے جو یہود بنی عوف کو دیئے جاتے ہیں ۔ ثعلبہ کے حلیف انہی کی مانند ہوں گے ۔ اسی طرح یہود کے دوستوں سے وہی سلوک کیا جائے گا جو خود ان سے کیا جاتا ہے ۔ پڑوسی اپنی جان کی مانند ہو گا ، نہ اسے ضرر پہنچایا جائے گا اور نہ
اس سے ظلم و گناہ کا سلوک ہوگا۔
معاہدہ کرنے والوں کی جو کھیتی یا درخت ہوں گے جن کے خراب ہو جانے کا اندیشہ ہو تو اسے اللہ تعالیٰ اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف لوٹایا جائے گا۔ قبیلہ اوس کے یہود، ان کے حلیف اور وہ خود اس صحیفہ والے نیک لوگوں کے ساتھ شامل ہوں گے۔ ان عہد نامہ میں کچھ اور باتیں بھی تھیں۔ یہ عہد نامہ اہل علم کے یہاں معروف ہے۔ مسلم نے اپنی صحیح میں حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ رسول کریم نے ہر قبیلہ کے ذمے جو دیت تھی وہ تحریر کی۔ پھر تحریر فرمایا کہ کوئی مسلمان کسی کو اس کی اجازت کے بغیر حلیف نہ بنائے۔ یہودیوں میں سے جو مسلمانوں کے تابع ہوگا اس کی مدد کی جائے گی۔ اور تابع ہونے کے یہ معنی ہیں کہ وہ مسلمانوں کے ساتھ صلح رکھے اور جنگ نہ کرے۔ دین کی پیروی مراد نہیں، جیسا کہ خود عہد نامہ میں مذکور ہے ۔ مدینہ میں رہنے والے یہود اور ان کے مخالفین جو اُن سے لڑ رہے ہوں سب اس میں شامل ہیں ۔
اس عہد نامہ میں ذکر کیا کہ انصار کے تمام یہودی خاندان اہل ایمان کی پناہ میں ہوں گے۔ مدینہ منورہ میں جو یہودی سکونت پذیر تھے وہ یا تو اوس کے حلیف تھے یا خزرج کی بعض شاخوں کے۔
قبیلہ بنوقینقاع کے یہودی مدینہ میں بودوباش رکھتے تھے۔ حضرت عبداللہ بن سلام کا تعلق اسی قبیلہ سے تھا۔ یہ بنی عوف بنی خزرج کے حلیف تھے جو ابن ابی رحم کا گروہ تھا۔ اس دستاویز کا آغاز انہی کے ذکر سے کیا گیا ہے۔
بنو قینقاع نے سب سے پہلے عہد توڑا
ابن اسحاق نے بطریق عاصم بن عمر بن
قتادہ روایت کیا ہے کہ بنوقینقاع
کے قبیلہ نے یہود میں سب سے پہلے عہد شکنی کا ارتکاب کیا۔ انہوں نے غزوہ بدر واُحد کے درمیان مسلمانوں کے ساتھ جنگ کا آغاز کیا۔ چنانچہ رسول کریم نے ان کا محاصرہ کیا اور یہ آپ کے حکم کے مطابق قلعوں سے اُتر آئے۔ جب آپ نے اُن پر قابو پایا تو رئیس المنافقین عبداللہ بن اُبیّ نے رسولِ کریم کی خدمت اقدس میں حاضر ہو کر کہا : اے محمد ! میرے حلیفوں پر مہربانی کیجیے آپ نے اس سے اپنا رُخ مبارک پھیر لیا۔ اس نے اپنا ہاتھ رسولِ کریم کے گریبان کے اندر داخل
لیا ۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا " مجھے چھوڑ دیجیے" آپ اس قدر ناراض ہوئے کہ چہرے سے ناراضگی کے آثار ظاہر ہوئے ۔ آپؐ نے ارشاد فرمایا " تجھ پر افسوس ، مجھے چھوڑ دیجئے ۔" اس نے کہا بخدا ! میں آپ کو اس وقت تک نہ چھوڑوں گا جب تک آپ میرے حلیفوں پر مہربانی نہ فرمائیں گے ۔ چار سو ننگے جسم کے جوان اور تین سو زرہ پوش جنہوں نے مجھے سرخ و سیاہ سے بچایا تھا آپ انہیں ایک ہی صبح میں کاٹ کر رکھ دیں گے ؟ بخدا میں زمانے کی گردشوں کا خطرہ محسوس کر رہا ہوں ۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : میں نے ان کو تمہاری خاطر آزاد کیا ۔
باقی رہے بنو نضیر اور بنو قریظہ کے قبائل تو وہ مدینہ سے باہر رہتے تھے اور رسول کریمؐ کے ساتھ انہوں نے جو معاہدہ کیا ہوا تھا وہ کسی سے پوشیدہ نہ تھا ۔ یہ مقتول عورت (جس کو نابینا آدمی نے قتل کیا تھا) قینقاع کے قبیلے سے تھی ۔ کیوں کہ یہ واقعہ مدینہ میں پیش آیا ۔ بہرکیف اس عورت کا تعلق قبیلہ قینقاع سے ہو یا کسی اور قبیلے سے وہ ذمی عورت تھی ۔ اس لیے کہ مدینہ کے سب یہودی ذمی تھے ۔ یہ یہودیوں کی تین قسمیں تھیں اور وہ سب کے سب ذمی تھے ۔
- (۷) واقدی بطریق عبداللہ بن جعفر از حارث بن الفضیل از محمد بن کعب القرظی روایت کرتا
ہے کہ جب رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ تشریف لائے سب سے پہلے یہودیوں نے آپ کو خوش آمدید کہا ۔ آپؐ نے ان کے ساتھ ایک تحریری معاہدہ کر لیا ۔ ہر قبیلہ کو آپ نے ان کے حلفاء کے ساتھ ملحق کر دیا اور انہیں امان نامہ لکھ دیا۔ ان پر چند شرطیں عائد کیں جن میں سے ایک شرط یہ تھی کہ آپ کے دشمنوں کی مدد نہیں کریں گے ۔ جب غزوہ بدر میں کفار مکہ کو شکست ہوئی اور آپ مدینہ آئے تو یہود نے بغاوت کر دی اور رسول کریمؐ کے معاہدے کو توڑ دیا۔
رسول کریمؐ نے پیغام بھیج کر یہود کو بلایا اور ان کو مخاطب کر کے کہا : ”اے گروہ یہود! اسلام قبول کرلو۔ بخدا تم جانتے ہو کہ میں اللہ کا رسول ہوں۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ تمہیں وہی ماجرا پیش آئے جو قریش کو آیا ۔“ یہود نے کہا :
”اے محمد ! آپ کو ان لوگوں سے دھوکہ نہ لگے جن سے آپ لڑے ہیں ۔ آپ ناتجربہ کار لوگوں سے لڑے ہیں ۔ ہم جنگ جو قوم ہیں، جب ہمارے ساتھ جنگ ہو گی تو تمہیں پتہ چل جائے گا کہ ہم کیا
سے تمھاری رسوائی کبھی نہیں ہوتی ۔
پھر اُن کے محاصرے اور اَذرِعات (ملک شام) کی طرف اُن کو جلا وطن کرنے کا ذکر کیا یہ بنو قینقاع کا قبیلہ تھا جو مدینہ میں اقامت گزین تھا ۔ ابن کعب نے اسی طرح ذکر کیا جس طرح کہ عہد نامہ میں مذکور ہے ۔ اس نے ذکر کیا ہے کہ آپ نے تمام یہودیوں سے معاہدہ کیا تھا۔ اور یہ وہ بات ہے جس پر تمام اہل سیرت متفق چلے آتے ہیں ۔ جو شخص بھی احادیث ماثورہ اور کتب سیرت کا مطالعہ کرے گا اس پر اصل حقیقت عیاں ہو جائے گی ۔
مقتولہ عورت ذمی تھی
ہم نے یہ بات اس لیے کہی ہے کہ بعض مصنفین اس کے خلاف ہیں ۔ وہ کہتے ہیں ہو سکتا ہے کہ یہ عورت ذمّی نہ ہو ۔ مگر اس بات کا قائل علم حدیث سے بے بہرہ ہے ، اور فن حدیث سے صرف اسی قدر آشنا ہے جس قدر عوام ہوتے ہیں ۔ مگر اس کا یہ احتمال باطل ہے ۔ اس لیے کہ اگر وہ ذمی نہ ہوتی تو خون کو رائیگاں کرنے کے کچھ معنی نہ ہوتے ۔ جب اس کے گالیاں دینے کا ذکر کیا گیا اور ساتھ ہی خون کو رائیگاں کرنے کا تو یہ دونوں آپس میں یوں وابستہ ہو گئے جس طرح رجم زنا سے متعلق ہے اور قطع ید سرقہ کے ساتھ اور یہ صحیح ہے ۔ اس لیے کہ نفس حدیث کے اندر یہ بات مذکور ہے کہ وہ دو وجہ سے ذمی تھی ۔
حکم کو وصف مناسب کے ساتھ متعلق کرنے
سے اس کا علت ہونا ثابت ہوتا ہے
پہلی وجہ : اس کی مبنی وجہ یہ ہے کہ یہ ایک یہودی عورت تھی اور رسول کریم ﷺ کو گالیاں دیا کرتی تھی ۔ ایک آدمی نے اس کا گلا گھونٹ کر اسے ہلاک کر دیا تو رسول کریم ﷺ نے اس کے خون کو ”ھدر“ (جس کا قصاص و دیت نہ ہو) قرار دیا حضرت علیؓ نے اس کے خون کے بطلان کو بوجہ شتم گالی دینے پر مرتب فرمایا ۔ اس سے معلوم ہوا کہ بطلان دم بوجہ اس کا گالی دینا ہے ۔ اس لیے کسی حکم کو وصف مناسب اور حرف فا کے ساتھ مرتب کرنے سے اس وصف کا علت ہونا ثابت ہوتا ہے ۔ اگرچہ یہ الفاظ کسی صحابی کے ہوں ۔ جیسے کہا جائے کہ : ”زَنَا مَاعِزٌ فَرُجِمَ“ (ماعز نے زنا کیا تو اسے سنگسار کیا گیا)
اور اس قسم کے الفاظ ۔ اس لیے کہ جب کوئی صحابی رسولِ کریم کے امر ونہی اور حکم و تعلیل کو یا تو رسولِ کریم کے الفاظ میں روایت کرتا ہے یا رسولِ کریم کے مفہوم کو اپنے الفاظ میں نقل کرے، دونوں احتجاج کے طور سے یکساں ہیں۔ جب صحابی کہے کہ رسولِ کریم نے ہمیں یہ حکم دیا یا فلاں بات سے منع فرمایا یا فلاں بات کا فیصلہ کیا یا فلاں کام فلاں وجہ سے انجام دیا تو یہ حجت ہے اس لیے کہ صحابی اس بات کی جسارت اسی صورت میں کرتا ہے جب اُسے معلوم ہو کہ یہ بات نقل کرنا اس کے لیے جائز ہے ۔ ایسا کرنے میں غلطی کا وقوع و صدور ناقابل التفات ہے اس لیے کہ سہو و نسیان کی گنجائش تو روایت میں ہوتی ہی ہے ۔ اس کی تفصیل اپنی جگہ پر مذکور ہے ۔ اس کی مزید توضیح اس سے ہوتی ہے کہ جب آپ کو پتہ چلا کہ اس عورت کو قتل کیا گیا ہے تو آپ نے اس بارے میں لوگوں کو قسم دی ۔ جب آپ کو اس کا مجرم بتایا گیا تو آپ نے اس کے خون کو ”ھدر“ قرار دیا ۔ جب کوئی حکایت آپ کو سنائی جائے اور اس کے بعد آپ کسی بات کا حکم دیں تو یہ اس کی دلیل ہے کہ یہ حکایت ہی اس حکم کی موجب ہے اس لیے کہ یہ ایک نیا حکم ہے جس کے لیے سبب حادث کی ضرورت ہے اور سبب وہ حکایت ہے جو بیان کی گئی اور وہ مناسب بھی ہے کہ اس حکم کی نسبت اُس حکایت کی طرف کی جائے گی۔
دوسری وجہ : دوسری وجہ یہ ہے کہ رسول کریم کا لوگوں کو اس کے معاملہ میں قسم دینا ، پھر اس کے خون کو باطل قرار دینا، اس بنا پر ہے کہ وہ عورت معصوم الدم تھی اور اس کو قتل کرنے والا اس کا ضامن ہوتا ۔ بشرطیکہ رسول کریم اس کے خون کو باطل نہ ٹھہراتے ۔ اس لیے کہ اگر وہ عورت حربی ہوتی تو آپ اس کے بارے میں لوگوں کو حلف نہ دیتے اور نہ ہی اس کے خون کو ”ھدر“ قرار دینے کی ضرورت تھی۔ کیونکہ کسی کے خون کو ھدر اس صورت میں ٹھہرایا جاتا ہے جب وہ محفوظ و معصوم ہو۔ آپ دیکھتے نہیں کہ جب ایک جنگ میں آپ نے ایک عورت کو مقتول دیکھا تو اس پر معترض ہوئے اور عورتوں کو قتل کرنے سے منع فرمایا۔ مگر اس کو ”باطل یا ھدر“ قرار نہیں دیا ۔ اس لیے کہ جب اس کا خون فی نفسہ ھدر ہے، اور مسلمان اس حقیقت سے آگاہ ہیں کہ حربی کا خون معصوم نہیں ہوتا، بلکہ ھدر ہوتا ہے تو اس کو باطل اور ھدر قرار دینے کا کچھ مطلب نہیں ۔ اور یہ بات بالکل واضح ہے ۔ وللہ الحمد۔
جب رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہودیوں کے ساتھ جزیہ کے بغیر معاہدہ کیا پھر ایک یہودی عورت کے خون کو اس لیے ”ہدر“ قرار دیا کہ وہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو گالیاں دیا کرتی تھی۔ تو ایک یہودی عورت کے خون کو_____ جن پر جزیہ عائد کیا گیا تھا اور وہ دینی احکام کے پابند بھی تھے_____ ہدر ٹھہرا دیں تو یہ اولیٰ و افضل ہے اور اگر اس عورت کا قتل جائز نہ ہوتا تو آپ اس عورت کے قاتل کے فعل کی مذمت فرماتے۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے :
"جس نے کسی معاھد کو بلاوجہ قتل کیا تو وہ جنت کی خوشبو بھی نہیں پائے گا۔" اور آپ اس عورت کی ضمانت یا معصوم کو قتل کرنے کا کفارہ واجب کرتے۔ جب اس عورت کے خون کو آپ نے ہدر قرار دیا تو اس سے معلوم ہوا کہ اس کا خون مباح تھا۔
دوسری حدیث
اسماعیل بن جعفر نے بطریق اسرائیل از عثمان شحام از عکرمہ، ابن عباس سے روایت کیا ہے کہ ایک اندھے شخص کی ایک اُمّ ولد لونڈی تھی جو رسول اکرم کو گالیاں دیا کرتی تھی۔ وہ اسے روکتا مگر وہ باز نہ آتی، وہ ڈانٹتا مگر وہ رکتی نہ تھی۔ ایک رات اس نے رسول کریم کو گالیاں دینے کا آغاز کیا۔ اس نے بھالا لے کر اس کے شکم میں پیوست کر دیا اور اُسے زور سے دبایا، جس سے وہ ہلاک ہوگئی۔ صبح کو اس کا تذکرہ رسول کریم سے کیا گیا تو لوگوں کو جمع کر کے آپ نے فرمایا :
نابینا جس نے اپنی اُمّ ولد لونڈی کو ہلاک کر دیا تھا
میں اس آدمی کو قسم دیتا ہوں، جس نے کیا جو کچھ کیا اور میرا اس پر حق ہے کہ وہ کھڑا ہو جائے" یہ سن کر اندھا آدمی کھڑا ہوا اور لوگوں کی گردنیں پھلانگتا ہوا آپ کے پاس آیا اور بیٹھ گیا وہ کانپ رہا تھا۔ اس نے کہا یا رسول اللہ ! اُسے میں نے قتل کیا ہے، وہ آپ کو گالیاں دیا کرتی تھی میں اسے روکتا مگر وہ باز نہ آتی تھی۔ میں اُسے ڈانٹ ڈپٹ کرتا مگر وہ پرواہ نہ کرتی۔ میں نے بھالا لے کر اس کے پیٹ میں گاڑ دیا اور اُسے زور سے دبایا۔ اس کے بطن سے میرے دو موتیوں جیسے بیٹے ہیں، جو میری رفیقہ حیات تھی۔ گذشتہ شب جب وہ آپ کو گالیاں
بکنے لگی تو میں نے بھالا لے کر اُس کے پیٹ میں گاڑ دیا اور اسے زور سے دبایا، حتیٰ کہ وہ مرگئی۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
"تم گواہ رہو کہ اس کا خون ھدر ہے۔"
اس کو ابو داؤد اور نسائی نے روایت کیا ہے ۔ الخطابی کہتے ہیں کہ مِغْوَل ایک بھالا ہوتا ہے جس کا پھل بڑا باریک اور تیز ہوتا ہے۔ دیگر اہل علم نے بھی اسی طرح کہا ہے کہ وہ ایک تیز تلوار ہوتی ہے جس کا ایک دستہ ہوتا ہے اور اس کا غلاف چابک کی طرح ہوتا ہے۔ مِشْمَلٌ، چھوٹی تلوار کو کہتے ہیں ۔ اس کی وجہ تسمیہ یہ ہے کہ آدمی اس کو چھپائے رکھتا ہے یعنی کپڑے سے اسے ڈھانپ دیتا ہے ۔ "مِغْوَل" کا مادہ غول اور اغتیال ہے جس کے معنی اچانک کسی چیز کو پکڑ لینے کے ہیں ۔
اسی حدیث سے امام احمدؒ نے احتجاج کیا ہے ۔ (امام احمدؒ کے بیٹے) عبداللہؒ نے بطریق رَوْح از عثمان الشحام از عکرمہ مولیٰ ابن عباسؓ سے روایت کیا ہے کہ ایک نابینا شخص تھا ۔ اُس کی اُمّ ولد لونڈی رسول کریمؐ کو گالیاں دیا کرتی تھی ۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ "فلاں عورت کا خون ھدر ہے" ۔
ممکن ہے کہ یہ ایک ہی واقعہ ہو ــــــ جب کہ امام احمدؒ کے کلام سے واضح ہوتا ہے۔ بروایت عبداللہؒ امام احمدؒ سے دریافت کیا گیا کہ ذمّی اگر رسول کریمؐ کو گالیاں دے تو اس کو قتل کرنے کے بارے میں کوئی حدیث وارد ہوئی ہے ؟ فرمایا جی ہاں ! ان میں سے ایک حدیث اندھے شخص کے بارے میں ہے جس نے عورت کو قتل کیا تھا۔ فرمایا کہ اس نے اُسے گالیاں دیتے ہوئے سنا تھا ۔ پھر عبداللہؒ نے امام احمدؒ سے دونوں حدیثیں روایت کیں۔ ممکن ہے کہ پہلے اس شخص نے اُس کا گلا گھونٹا ہو اور پھر بھالا اس کے شکم میں پیوست کر دیا ہو ۔ یہ ہو سکتا ہے کہ ایک روایت میں قتل کی کیفیت محفوظ نہ ہو۔
کیا یہ ایک ہی واقعہ ہے یا دو عورتوں کا قصہ ہے یہ امر بعید از قیاس ہے کہ یہ دو واقعات ہوں ۔ دو اندھے آدمیوں میں سے ہر ایک کی عورت رسول کریمؐ کو گالیاں دیا کرتی ہو اور
دونوں نے اپنی اپنی بیوی کو قتل کر دیا اور دونوں ہی کے بارے میں رسول کریمؐ نے لوگوں کو قسم دی ۔ صحیح یہ ہے کہ مقتولہ ایک یہودی عورت تھی جیسا کہ ایک روایت میں صراحۃً ذکر کیا گیا ہے ۔ قاضی ابو یعلیٰ وغیرہ کا قول بھی یہی ہے۔ اس حدیث سے انہوں نے استدلال کیا ہے کہ ذمی اگر نقضِ عہد کا مرتکب ہو تو اسے قتل کیا جائے۔ ان کے خیال میں ہر دو احادیث میں ایک ہی واقعہ بیان کیا گیا ہے ۔
اس امر کا بھی احتمال ہے کہ یہ دو واقعات ہوں ۔ الخطابی کہتے ہیں ۔ اس حدیث سے مستفاد ہوتا ہے کہ رسول کریمؐ کو گالیاں دینے والے کو قتل کیا جاسکتا ہے۔ اس لیے کہ اس عورت کا آپ کو گالیاں دینا ارتداد عن الدین ہے ۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ الخطابی اس عورت کو مسلمان تصوّر کرتے ہیں، حالانکہ حدیث میں اس کی کوئی دلیل موجود نہیں۔ بلکہ اس کا کافرہ ہونا واضح ہے ۔ اس کو امان اس لیے دی گئی تھی کہ وہ ایک مسلم کی مملوکہ تھی۔ اس لیے کہ مسلمانوں کے غلام کو بھی ذمی کے حقوق حاصل ہوتے ہیں ۔ بلکہ معاہدین کی نسبت اُن پر زیادہ پابندی ہوتی ہے یا اس لیے اسے پناہ ملی کہ وہ ایک مسلم کی منکوحہ تھی۔ کیونکہ مسلمانوں کی اہل کتاب بیویاں محفوظ الدم ہونے کے اعتبار سے ذمیوں کا حکم رکھتی ہیں۔ اس لیے کہ غالباً حضورؐ کو گالیاں دینا صرف مرتد سے صادر ہو سکتا ہے جس نے کوئی اور دین اختیار کر لیا ہو ۔
اگر وہ مرتد عورت ہوتی اور اس نے کوئی اور مذہب اختیار کر لیا ہوتا تو اس کا مالک ایک طویل عرصہ تک اُسے اس حالت میں نہیں رکھ سکتا تھا۔ وہ اسے گالیوں سے روکنے پر ہی اکتفاء نہ کرتا، بلکہ اُس سے مطالبہ کرتا کہ اپنے اسلام کی تجدید کرے خصوصاً اگر وہ اس سے ہم بستر ہوتا ہو ، اس لیے کہ مرتد عورت کے ساتھ مجامعت جائز نہیں ۔ اصل بات یہ ہے کہ وہ اپنے مذہب پر بدستور قائم تھی اور اس میں کوئی تبدیلی نہیں آئی تھی ۔ بایں ہمہ اُس آدمی نے یہ نہیں کہا کہ وہ تو کافر یا مرتد ہو گئی ہے، بلکہ اس نے صرف اس کی گالیوں کا تذکرہ کیا ہے ۔ اس سے کھل کر یہ بات سامنے آتی ہے کہ اس سے گالیاں دینے کے سوا دوسرا کوئی جرم سرزد نہیں ہوا تھا، مثلاً ارتداد یا ایک مذہب سے دوسرے مذہب کی طرف انحراف وغیرہ ۔
بہرکیف یہ عورت یا تو اس کی منکوحہ بیوی ہوگی یا مملوکہ لونڈی ۔ دونوں صورتوں میں اگر اس کو قتل کرنا ناروا ہوتا تو رسول کریمؐ فرما دیتے کہ اس کو قتل کرنا حرام ہے اور اس کا خون معصوم ہے ۔ معصوم کو قتل کرنے کی وجہ سے اس پر کفارے کو واجب قرار دیتے اور اگر وہ اس کی لونڈی نہ ہوتی تو اس پر دیت کو واجب قرار دیتے ، جب آپؐ نے فرمایا کہ ”اس کا خون ہدر ہے“ ۔ ـــــــــ اور ہدر وہ خون ہوتا ہے جس کا قصاص دیا جاتا ہے نہ دیت اور کفارہ ـــــــــــ تو اس سے معلوم ہوا کہ وہ ذمی ہونے کے باوجود مباح الدم تھی۔ گویا گالیاں دینے نے اس کے خون کو مباح الدم کر دیا تھا۔ آپؐ نے اس کے خون کو اس وقت ہدر قرار دیا جب آپؐ کو بتایا گیا کہ گالیاں دینے کی وجہ سے اسے قتل کیا گیا ہے۔ پس معلوم ہوا کہ اس کا موجب ومحرک یہی ہے ۔ اور اس واقعہ کی دلالت اس پر واضح ہے ۔
کعب بن اشرف یہودی کا واقعہ
تیسری حدیث : تیسری حدیث جس سے امام شافعیؒ نے اس امر پر استدلال کیا ہے کہ ذمی اگر رسول کریمؐ کو گالیاں دے تو اسے قتل کیا جائے ، اس کا عہد و امان اس سے باقی نہیں رہتا ۔ وہ کعب بن اشرف یہودی کا واقعہ ہے ۔ الخطابی امام شافعیؒ سے نقل کرتے ہیں کہ ذمی اگر رسول کریمؐ کو گالیاں دے تو اسے قتل کیا جائے ، اس فعل سے مسلمانوں کی ذمہ داری ختم ہو جاتی ہے ۔ اس پر انہوں نے کعب بن اشرف کے واقعہ سے استدلال کیا ہے۔ امام شافعیؒ ”کتاب الام“ میں فرماتے ہیں : ”رسول کریمؐ کے سامنے یا آپؐ کے قرب وجوار میں یہود مدینہ کے سوا کوئی مشرک کتابی نہ تھا۔ یہ انصار کے حلیف تھے اور انصار نے حضورؐ کی آمد کے آغاز میں اسلام لانے کا پختہ ارادہ نہیں کیا تھا ۔ چنانچہ یہود نے رسول کریمؐ کے ساتھ مصالحت کر لی اور جنگ بدر ہونے تک اُن کے کسی قول وفعل سے عداوت کا اظہار نہیں ہوتا تھا ۔ جنگ بدر کے بعد یہودیوں نے اظہار عداوت کا آغاز کیا اور لوگوں کو آپؐ کے خلاف بھڑکانے لگے ۔ چنانچہ رسول کریمؐ نے بھی یہود کے خلاف جنگ و پیکار کا ارادہ کیا ، اس ضمن میں پہلا واقعہ
کعب بن اشرف کا پیش آیا ۔
یہ واقعہ مشہور ہے۔ اس کو عمرو بن دینار نے جابر بن عبداللہ سے نقل کیا ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
"کعب بن اشرف کو کون ٹھکانے لگائے گا ۔ اُس نے اللہ اور اس کے رسولؐ کو ایذا پہنچائی ہے" ۔
محمد بن مسلمہ نے کہا " یا رسول اللہ! میں اس کے لیے تیار ہوں ۔ کیا آپ چاہتے ہیں کہ میں اسے قتل کر دوں؟"
رسولِ کریمؐ نے اثبات میں جواب دیا۔ محمد بن مسلمہ نے کہا " کہ پھر مجھے کچھ کہنے کی اجازت دیجیے" فرمایا " کہو" چنانچہ محمد بن مسلمہ اُس کے پاس گئے اور کہا " یہ آدمی (محمدؐ) ہم سے صدقہ مانگتا ہے اور ہمیں بڑی تکلیف میں مبتلا کر رکھا ہے"۔ یہ سن کر کعب نے کہا "بخدا تم اس سے بیزار ہو جاؤ گے"۔ محمد بن مسلمہ نے کہا : اب جبکہ ہم اس کے پیروکار بن ہی چکے ہیں تو مناسب نہیں معلوم ہوتا کہ اس کا ساتھ چھوڑ دیں ۔ یہاں تک کہ دیکھیں کہ اس کا انجام کیا ہوتا ہے اچھا ہم چاہتے ہیں کہ آپ ہمیں ایک وسق یا دو وسق غلہ دیدیں ۔ کعب نے کہا : میرے پاس کچھ رہن رکھو ۔ محمد بن مسلمہ نے کہا : آپ کون سی چیز پسند کریں گے ۔ کعب نے کہا : اپنی عورتوں کو میرے پاس رہن رکھ دو ۔ محمد بن مسلمہ نے کہا : بھلا ہم اپنی عورتیں آپ کے پاس کیسے رہن رکھ دیں جب کہ آپ عرب کے سب سے خوبصورت انسان ہیں ۔ اس نے کہا : تو پھر اپنے بیٹوں ہی کو رہن رکھ دو ۔
محمد بن مسلمہ نے کہا : ہم اپنے بیٹوں کو کیسے رہن رکھ دیں؟ اگر ایسا ہو گیا تو انہیں گالی دی جائے گی کہ یہ ایک وسق یا دو وسق کے بدلے رہن رکھا گیا تھا۔ یہ ہمارے لیے عار کی بات ہے ۔ البتہ ہم آپ کے پاس ہتھیار رہن رکھ سکتے ہیں۔ اس کے بعد دونوں میں طے ہو گیا کہ محمد بن مسلمہ ہتھیار لے کر اس کے پاس آئیں گے ۔
پھر محمد بن مسلمہ عبّس بن جبر اور عبّاد بن بشر کے پاس آیا۔ یہ سب لوگ رات کے وقت کعب کے یہاں آئے اور اُسے آواز دی ۔ کعب اُتر کر اُن کی طرف آیا، سفیان
نے کہا ، عمرو کے سوا دوسرے راویوں کا بیان ہے کہ اس کی بیوی نے کہا ”میں ایسی آواز سنتی ہوں جس سے خون ٹپک رہا ہے ۔ کعب نے کہا، یہ تو میرا بھائی محمد بن مسلمہ اور میرا دودھ کا ساتھی ابو نائلہ ہے ۔ شریف آدمی کو اگر نیزے کی مار کی طرف بلایا جائے تو اس پکار پر بھی وہ جاتا ہے ۔ اس کے بعد وہ باہر آگیا ۔ ابو نائلہ نے اپنے ساتھیوں سے کہہ رکھا تھا کہ جب وہ آجائے گا تو میں اس کے بال پکڑ کر سونگھوں گا ۔ جب تم دیکھو کہ میں نے اس کا سر پکڑ کر اسے قابو میں کر لیا ہے تو اس پر پل پڑنا اور اُسے مار ڈالنا ۔
جب کعب اُترا تو اس نے چادر اوڑھ رکھی تھی ۔ انہوں نے کہا ، ہمیں آپ کی طرف سے نہایت عمدہ خوشبو آ رہی ہے ۔ اس نے کہا، میرے پاس عرب کی سب سے زیادہ خوشبو والی عورت ہے ، ابو نائلہ نے کہا، اجازت ہو تو ذرا آپ کا سر سونگھ لوں ؟ وہ بولا : ہاں ہاں ! ابو نائلہ نے اس کے سر پر اپنا ہاتھ ڈالا ۔ ابو نائلہ نے کہا : بھئی ایک بار اور ! کعب نے کہا ہاں ہاں ! ابو نائلہ نے اس کے سر میں ہاتھ ڈال کر اچھی طرح پکڑ لیا ۔ پھر بولے اس کو پکڑ لو ۔ چنانچہ انہوں نے اسے قتل کر دیا ۔ (صحیح بخاری ومسلم)
ابن ابی اُویس نے بطریق ابن جعفر بن محمد بن مسلمہ از والد خود، حضرت جابر بن عبداللہ سے روایت کیا ہے کہ کعب بن اشرف نے رسول کریمؐ سے معاہدہ کیا تھا کہ آپ کے دشمن کی مدد نہیں کرے گا اور نہ آپ سے جنگ کرے گا ۔ پھر وہ مکہ گیا اور مدینہ واپس آکر رسول کریمؐ کی عداوت کا اعلان کیا اور آپؐ کی ہجو میں اشعار کہے ۔ تب رسول کریمؐ نے صحابہ کو اس کے قتل کرنے کے لیے کہا ۔ یہ ابن ابی اُویس سے منقول ہے، اس کو الخطابی اور دیگر محدثین نے روایت کیا ہے ۔
علمائے مغازی اور تفسیر مثلاً محمد بن اسحاق نے ذکر کیا ہے کہ کعب بن اشرف نے دیگر یہود کی طرح رسول کریمؐ کے ساتھ مصالحت کر لی تھی ۔ یہ بنو نضیر کے قبیلہ سے تعلق رکھتا تھا، اُس کی ماں بنو نضیر میں سے تھی جب غزوہ بدر میں بہت سے اہل مکہ مارے گئے تو اس پر بڑا ناگوار گزرا ۔ چنانچہ وہ مکہ گیا اور مرنے والوں کا مرثیہ کہا ۔ اُس نے جاہلیت کے دین کو دین اسلام پر ترجیح دی ۔ حتیٰ کہ اُس کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی :
"بھلا تم نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جن کو کتاب سے حصہ دیا گیا ہے کہ بتوں اور شیطان کو مانتے ہیں اور کفار کے بارے میں کہتے ہیں کہ یہ لوگ مومنوں کی نسبت سیدھے راستہ پر ہیں"
(النساء ۔ ۵۱)
کعب بن اشرف جب مدینہ واپس آیا تو رسول کریمؐ کی شان میں ہجویہ اشعار کہنے لگا۔ اشعار میں مسلم خواتین کا ذکر کرتا اور ایذا دیتا تھا۔ حتیٰ کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا "کعب بن اشرف سے کون نمٹے گا اس نے اللہ اور اس کے رسول کو ایذا دی ہے۔" پھر تفصیل سے اس کے قتل کا واقعہ بیان کیا ۔
واقدی نے بطریق عبدالحمید بن جعفر از یزید بن رومان و معمر از زھری از ابن کعب بن مالک وابراہیم بن جعفر از والد خود حضرت جابرؓ سے روایت کیا اور کعب کے قتل کا واقعہ بیان کیا ہے۔ راوی کا بیان ہے کہ اس واقعہ کی وجہ سے یہودی اور اس کے ہمنوا مشرکین گھبرا اٹھے۔ جب صبح ہوئی تو رسول کریمؐ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہا "گزشتہ رات ہمارے ساتھی کو قتل کیا گیا۔ وہ ہمارے سرداروں میں سے ایک سردار تھا اور اُسے بلاجرم و گناہ جس کا ہمیں علم ہو قتل کیا گیا ہے"۔ آپؐ نے فرمایا "اگر وہ بھی اسی طرح امن و سکون سے رہتا جس طرح اس کے دوسرے ہم خیال رہتے تھے تو اُسے اچانک قتل نہ کیا جاتا۔ مگر اس نے ہمیں اذیت دی اور ہماری ہجو میں اشعار کہے تو جو بھی اسی طرح کرے گا اسے قتل کر دیا جائے گا"۔
چنانچہ رسول کریمؐ نے یہود کو دعوت دی کہ میں انہیں ایک عہدنامہ لکھ دیتا ہوں وہ اس پر عمل پیرا ہوں۔ اس طرح رسول کریمؐ نے یہود اور مسلمانوں کے درمیان ایک عہدنامہ کھجور کے درخت کے نیچے بیٹھ کر رملہ بنت حارث کے گھر میں لکھ کر دیا۔ یہود اب ایسی حرکتوں سے باز آگئے، جب سے کعب بن اشرف قتل ہو گیا، وہ ڈر گئے اور رسوا ہو گئے۔
کعب بن اشرف کے قتل سے استدلال دو وجہ سے کیا جاتا ہے :
پہلی وجہ : یہ ہے کہ کعب معاہد تھا اور اس نے مسلمانوں کے ساتھ صلح کر لی تھی ۔ مغازی اور سیر کے علماء اس پر متفق ہیں۔ اس کا عام لوگوں کو علم تھا اور اس
میں خاص لوگوں سے منقول ہونے کی ضرورت نہیں ۔
اہلِ علم کے نزدیک یہ بات کسی شک و شبہ سے پاک ہے کہ رسولِ کریمؐ جب مدینہ منورہ تشریف لائے تو آپ نے یہود کے تمام گروہوں کے ساتھ معاہدہ کر لیا تھا۔ ان میں بنو قینقاع، نضیر اور قریظہ کے قبائل سب شامل تھے۔ پھر جب بنو قینقاع نے معاہدہ توڑ دیا تو آپ نے ان کے ساتھ جنگ کی۔ پھر کعب بن اشرف نے اپنا معاہدہ توڑ لیا اور اس کے بعد بنو نضیر نے اور پھر بنو قریظہ نے۔ کعب بن اشرف کا تعلق بنی نضیر کے ساتھ تھا۔ ان کا معاملہ ظاہر ہے کہ انہوں نے رسولِ کریمؐ کے ساتھ مصالحت کر لی تھی۔ انہوں نے یہ معاہدہ اس وقت توڑا تھا جب آپ اُن دو آدمیوں کی دیت اُن کے پاس لینے گئے تھے جن کو عمرو بن امیہ الضمری نے قتل کیا تھا۔ یہ کعب بن اشرف کے قتل کے بعد کا واقعہ ہے۔ ہم اس روایت پر روشنی ڈال چکے ہیں کہ کعب بن اشرف رسولِ کریمؐ کا معاہد تھا۔ پھر اس نے آپ کی ہجو کہی اور اپنی زبان سے آپ کو ایذا پہنچائی تو آپ نے اسے معاہدہ توڑ نیوالا قرار دیدیا۔
باقی رہی اس امر کی دلیل کہ اس نے اس طرح سے اپنا عہد توڑا تھا تو وہ یہ ہے کہ آپؐ نے فرمایا :
”کعب بن اشرف سے کون نمٹے گا، کیوں کہ اس نے اللہ اور اس کے رسول کو ایذا دی ہے۔ گویا اس کی ایذا رسانی کو آپ نے اس کے قتل کی علت ٹھہرایا۔ اور ایذا مطلق وہ ہوتی ہے جو زبان سے دی جاتی ہے جیسا کہ قرآن کی مندرجہ ذیل آیات میں وارد ہوا ہے :
- (۱) ”اور تم اہلِ کتاب سے اور اُن لوگوں سے جو مشرک ہیں بہت سی ایذا کی باتیں
سنو گے“
(آلِ عمران - ۱۸۶)
- (۲) ”اور یہ تمہیں خفیف سی تکلیف کے سوا کچھ نقصان نہیں پہنچا سکیں گے“۔
(آلِ عمران - ۱۱۱)
- (۳) ”اور اُن میں سے بعض ایسے ہیں جو پیغمبر کو ایذا دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ شخص
تو نرا کان ہے“۔
(التوبۃ - ۶۱)
- (۴) ”مومنو! تم اُن لوگوں جیسے نہ ہونا جنہوں نے موسیٰ کو عیب لگا کر،
رنج پہنچایا تو خدا نے اُن کو بے عیب ثابت کیا“
(الاحزاب - ۶۹)
- (۵) ”اور باتوں میں جی لگا کر نہ بیٹھے رہو یہ بات پیغمبر کو ایذا دیتی ہے“
(الاحزاب - ۵۳)
- (۶) ”جو لوگ خدا اور اس کے پیغمبر کو رنج پہنچاتے ہیں ان پر خدا دنیا اور آخرت
میں لعنت کرتا ہے اور ان کے لیے اس نے ذلیل کرنے والا عذاب تیار کر رکھا ہے۔ اور جو لوگ مومن مردوں اور عورتوں کو بے گناہ (کی تہمت) سے جو انہوں نے نہ کیا ہو ایذا دیں تو انہوں نے بہتان اور صریح گناہ کا بوجھ اپنے سر پر رکھا ہے۔
(الاحزاب - ۵۷ - ۵۸)
حدیث قدسی
حدیث قدسی میں فرمایا : ”زمانے کو گالی دے کر بندہ مجھے رنج پہنچاتا ہے اور زمانہ میں ہوں“۔
ایسی متعدد احادیث ہیں۔ ہم قبل ازیں بیان کر چکے ہیں کہ ”اذیٰ“ معمولی سی تکلیف کو کہتے ہیں۔ بخلاف ضرر کے ۔ اسی لیے ”اذیٰ“ کا اطلاق زبانی اذیت پر ہوتا ہے۔ کیونکہ ایذا دینے والے کو اس سے حقیقی اذیت نہیں پہنچتی مزید برآں اس میں اللہ اور اس کے رسول کو مطلق ایذا پہنچانے کی وجہ ایک معاہد کو قتل کیا گیا ۔
ظاہر ہے کہ اللہ اور اس کے رسول کو گالی دینا ان کو اذیت دینے کے مترادف ہے ۔ اور جب وصف کو حکم پر حرف فاء کے ساتھ مرتب کیا جائے تو یہ اس امر کی دلیل ہوتی ہے کہ یہ وصف اس حکم کی علت ہے، خصوصاً جب کہ حکم اور وصف باہم موافق اور ہم آہنگ بھی ہوں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ اور اس کے رسول کی ایذا مسلمانوں کو ایسے شخص کے قتل پر آمادہ کرنے کی علت ہے جو معاہد ہو کر ایسا فعل انجام دیتا ہے، یہ اس امر کی واضح دلیل
ہے کہ اللہ اور اس کے رسول کو ایذا دینے سے اُس کا عہد ٹوٹ جاتا ہے ۔ اور گالی دینا بالاتفاق اللہ اور اس کے رسول کو ایذا پہنچانا ہے ۔ بلکہ یہ ایذا کی ایک خاص نوع ہے ۔
مزید براں ہم جابرؓ کی روایت میں ذکر کر چکے ہیں کہ کعب نے سب سے پہلے عہد شکنی کا ارتکاب اُس وقت کیا جب اس نے مدینہ واپس آکر قصیدہ میں رسول کریمؐ کی ہجو کہی ۔ تب آپؐ نے مسلمانوں کو اس کے قتل پر آمادہ کیا ۔ یہ تنہا اس امر کی دلیل ہے کہ ہجو گوئی سے اس نے اپنے عہد کو توڑ دیا ،صرف مکہ جانے کی وجہ سے اُس کا عہد نہیں ٹوٹا ۔
واقدی نے اپنے شیوخ سے جو کچھ نقل کیا ہے وہ بھی اس کا مؤید ہے ۔ اگرچہ واقدی اگر تنہا روایت کرے تو اس کی روایت قابل احتجاج نہیں ہوتی ۔ مگر اس کے ماہرِ مغازی ہونے اور اس کی تفصیلات سے آگاہ ہونے میں شبہ نہیں ۔ ہم نے واقدی سے لے کر وہی کچھ ذکر کیا ہے جو ہم نے مسنداً دوسروں سے نقل کیا ہے ۔
رسولِ کریمؐ کا یہ ارشاد کہ ”اگر وہ دوسروں کی طرح امن و چین سے رہتا“ اس امر پر نص کا حکم رکھتا ہے کہ کعب کا عہد ہجو گوئی کی وجہ سے ٹوٹا تھا ۔ نیز یہ کہ معاہدین میں سے جو بھی ایسا کرے گا وہ تلوار کا مستحق ہوگا ۔ اور جابرؓ کی روایت جو دو سندوں کے ساتھ مرفوعاً منقولہ ہے اس سے ہم آہنگ ہے اور احتجاج کے سلسلہ میں اسی پر اعتماد کیا جاتا ہے ۔
مزید براں جب کعب مکہ گیا اور لوٹ کر مدینہ آیا تو آپؐ نے مسلمانوں کو اس کے قتل پر نہیں بھڑکایا ۔ جب اس کی ہجو گوئی کا پتہ چلا تو آپؐ نے مسلمانوں کو اس کے قتل پر آمادہ کیا ۔ اور نئے حکم کو نئے پیدا ہونے والے سبب کی طرف منسوب کیا جاتا ہے ۔ اس سے معلوم ہوا کہ ہجو گوئی اور ایذا جو کعب نے مکہ سے لوٹ کر دی اسے نقضِ عہد اور قتل کی موجب ہے ۔
جب یہ اس شخص کا حال ہے جس سے معاہدہ کیا ہوا ہے اور جو جزیہ بھی ادا نہیں کرتا۔ پھر اُس ذمی کے بارے میں کیا خیال ہے جو جزیہ ادا کرتا ہے اور ملی احکام کا پابند ہے ۔
اگر معترض کہے کہ کعب بن اشرف کو گالی دینے اور ہجو کے بغیر ہی مارا گیا تھا ۔
چنانچہ امام احمدؒ نے بطریق محمد بن ابی عدی از داؤد از عکرمہ از ابن عباسؓ روایت کیا ہے کہ جب کعب بن اشرف مکہ گیا تو قریش نے کہا ”اس تن تنہا بے یارومددگار کی قوم کے
بھولے ہوئے آدمی کو نہیں دیکھتے، جو اپنے آپ کو ہم سے بہتر سمجھتا ہے ہم حاجیوں کی دیکھ بھال کرتے ہیں اور سدانہ (کعبہ کی خدمت) اور سقایہ (حاجیوں کو پانی پلانا) کے مناصب ہمارے پاس ہیں۔ کعب نے قریش سے کہا تم مسلمانوں سے بہتر ہو۔ تب یہ آیت اتری:
"اِنَّ شَانِئَكَ هُوَ الْاَبْتَرُ" تمہارا دشمن ہر خیر و برکت سے (الکوثر - ۳) محروم ہے)
نیز یہ آیت نازل ہوئی: "بھلا تم نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جن کو کتاب سے حصہ دیا گیا کہ بتوں اور شیطان کو مانتے ہیں اور کفار کے بارے میں کہتے ہیں یہ لوگ مومنوں کی نسبت سیدھے راستہ پر ہیں۔"
(النساء - ۵۱)
نیز وہ بطریق عبدالرزاق از معمر از ایوب از عکرمہ روایت کرتے ہیں کہ کعب بن اشرف کفار قریش کے پاس گیا، اُن کو رسول کریمؐ کے خلاف ابھارا اور ان کو آپ کے ساتھ لڑنے کا حکم دیا اور کہا کہ میں تمہارے ساتھ ہوں۔ قریش مکہ نے کہا کہ "تم اہل کتاب ہو اور وہ صاحب کتاب ہے، ہو سکتا ہے کہ یہ ہمیں نقصان پہنچانے کی ایک تدبیر ہو۔ کہ اگر آپ چاہتے ہیں کہ ہم آپ کے ساتھ ملیں تو ان دو بتوں کو سجدہ کیجیے اور ان پر ایمان لائیے۔ کعب نے اس کی تعمیل کی۔ پھر قریش نے اس سے کہا کہ آیا ہم راہ راست پر ہیں یا محمد؟ ہم حج کرتے ہیں، مہمان نوازی کرتے ہیں، بیت اللہ کا طواف کرتے ہیں، تندرست و توانا ناقہ ذبح کرتے ہیں، دودھ میں پانی ملا کر پلاتے ہیں۔ جب کہ محمد نے اپنی قرابت داری کو توڑ دیا ہے اور اپنے شہر سے نکل گیا ہے"۔ کعب نے کہا "تم اُن سے بہتر اور ہدایت پر ہو"۔ تب مذکورہ آیت نازل ہوئی۔
نیز امام احمد بطریق عبدالرزاق از اسرائیل از السدی، ابو مالک سے روایت کرتے ہیں کہ جب کعب مکہ آیا تو اہل مکہ نے اس سے کہا کیا ہمارا دین بہتر ہے یا محمدؐ کا؟ کعب نے کہا "اپنا دین میرے سامنے پیش کیجیے"۔ انہوں نے کہا کہ ہم اپنے ربّ کا گھر آباد کرتے ہیں، جوان اور توانا اونٹنیاں ذبح کر کے لوگوں کو کھلاتے ہیں، حاجیوں کو پانی پلاتے ہیں، صلہ رحمی کرتے
ہیں ، مہمان نوازی کرتے ہیں ۔ کعب نے کہا ”تمہارا دین محمد کے دین سے بہتر ہے “ تب مذکورہ صدر آیت نازل ہوئی ۔
موسیٰ بن عقبہ زہری سے روایت کرتے ہیں کہ کعب بن اشرف یہودی بنو نضیر میں سے تھا یا ان میں سکونت پذیر ہو گیا تھا۔ اس نے ہجو کہہ کر رسول کریم کی توہین کی۔ سوار ہو کر قریش مکہ کی طرف گیا اور رسول کریم کے خلاف ان سے مدد مانگی ۔ ابو سفیان نے کہا ”میں تمہیں قسم دے کر پوچھتا ہوں کہ کیا اللہ کو ہمارا دین عزیز تر ہے یا محمد اور ان کے اصحاب کا دین ؟ تمہارے خیال میں کون راہِ راست پر اور حق سے قریب تر ہے ؟ ہم موٹے تازے اونٹ مہمانوں کو کھلاتے ہیں ، پانی میں دودھ ملا کر پلاتے ہیں اور جب تک بادِ شمال چلتی رہے گی ہم یہ مشغلہ جاری رکھیں گے۔
کعب بن اشرف نے کہا ”تم راہِ راست پر ہو “ پھر سیدھا مدینہ چلا گیا ۔ مشرکینِ مکہ رسول کریم کے خلاف لڑنے پر متفق ہو گئے ۔ کعب بن اشرف عداوتِ رسول کا علانیہ اظہار کرتا رہا اور آپ کے بارے میں ہجویہ اشعار کہتا رہا ۔ آخر رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
”کون ہے جو ہمیں کعب سے مخلصی دلائے ؟ اس نے علانیہ ہماری عداوت اور ہجو گوئی کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے ۔ وہ قریش کے یہاں بھی گیا اور ان کو ہمارے ساتھ لڑنے پر آمادہ کیا مجھے اللہ تعالیٰ نے اس سے آگاہ کر دیا ہے ۔ قریش کے بارے میں جو بدترین انتظار وہ کر رہا تھا کہ مدینہ آکر رسول کریم سے نبرد آزما ہوں ، اس کی وہ امید بر آئی ۔ پھر رسول کریم نے صحابہ کو پڑھ کر وہ آیات سنائیں جو کعب کے بارے میں اتری تھیں ۔ وہ سابق الذکر آیت ہے اور چند دیگر آیات جو کعب بن اشرف اور قریش کے بارے میں نازل ہوئیں ۔
ہمیں بتایا گیا ہے کہ رسول کریم نے فرمایا : اے اللہ ! جیسے تو چاہے مجھے کعب بن اشرف سے بچالے “ محمد بن مسلمہ نے رسول کریم سے عرض کیا ”یا رسول اللہ ! میں اسے قتل کر دوں گا ۔ پھر کعب بن اشرف کے قتل کا پورا واقعہ ذکر کیا ۔ حتیٰ کہ اللہ تعالیٰ نے کعب بن اشرف کو اس کی عداوتِ رسول ، ہجو گوئی اور آپ کے خلاف قریش کو اشتعال دلانے اور اس کا اعلان کرنے کی وجہ سے ہلاک کر دیا ۔
محمد بن اسحاق کہتے ہیں کعب بن اشرف کا واقعہ یہ ہے کہ جب کفارِ مکہ نے بدترین شکست
کہا ، تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے زید بن حارثہ کو زیریں علاقہ والوں کی طرف اور عبداللہ بن رواحہ کو بالائی علاقہ والوں کی طرف خوش خبری دے کر بھیجا کہ اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو فتح سے نوازا ہے اور مشرکین میں سے بہت سے مارے گئے ہیں۔ جب کہ مجھے عبداللہ بن المغیث بن ابی بردہ ظفری ، عبداللہ بن ابی بکر، عاصم بن عمر بن قتادہ اور صالح بن ابی امامہ بن سہل میں سے ہر ایک نے اس واقعہ کا کچھ حصہ بتایا ۔ انہوں نے کہا کعب بن اشرف قبیلہ طے میں سے تھا اور پھر بنی نبھان میں جا کر بس گیا تھا۔ اس کی ماں قبیلہ بنی نضیر سے تعلق رکھتی تھی۔
جب کعب کو پتہ چلا کہ محمدؐ نے بہت سے مشرکین مکہ کو قتل کر دیا ہے تو اس نے پوچھا کہ زید اور عبداللہ بن رواحہ جو بات کہتے ہیں کیا وہ سچ ہے ، یہ لوگ تو اشراف العرب اور لوگوں کے بادشاہ تھے ۔ بخدا اگر محمدؐ نے ان لوگوں کو قتل کر دیا ہے تو پھر ہمارے لیے زمین کا بطن اس کی سطح سے بہتر ہے ۔ جب اسے اس خبر کی صداقت کا یقین آگیا تو دشمن خدا جل کر مکہ آگیا۔ اس نے المطلب بن ابی وداعہ سہمی کے یہاں قیام کیا ۔ عاتکہ بنت ابی العیص بن امیہ اس کی بیوی تھی، جس نے اس کے اکرام و احترام کا کوئی دقیقہ فروگزاشت نہ کیا ۔ اس نے لوگوں کو رسول کریمؐ کے خلاف بھڑکانا شروع کیا ۔ وہ اشعار پڑھتا اور ان لوگوں پر روتا جو بدر میں مارے گئے تھے۔ راوی نے اس کے اشعار ذکر کیے اور حضرت حسانؓ نے ان کا جو جواب دیا تھا وہ بھی بتایا ۔ پھر کعب بن اشرف مدینہ آکر اشعار کہنے لگا ۔ اور ان میں مسلم خواتین کے ساتھ تشبیب کرتا ۔ اس طرح وہ رسول کریمؐ کو ایذاء دیا کرتا تھا۔ جیسا کہ عبداللہ بن ابی المغیث کا بیان ہے۔ رسول کریمؐ نے فرمایا کعب بن اشرف سے کون نمٹے گا ؟ محمد بن مسلمہ نے کہا یا رسولؐ اللہ ! میں اسے ٹھکانے لگاؤں گا ۔ پھر راوی نے پورا واقعہ بیان کیا۔
(واقدی بطریق عبدالحمید بن جعفر از یزید بن رومان و عمر از زہری از ابن کعب بن مالک و ابراہیم بن جعفر از والد خود ، حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، واقدی کہتے ہیں کہ ان میں سے ہر ایک نے مجھے اس واقعہ کا کچھ حصہ سنایا ۔ جس واقعہ پر وہ سب متفق اللسان تھے وہ یہ ہے کہ انہوں نے کہا:-
" کعب بن اشرف شاعر تھا اور رسول کریمؐ اور صحابہؓ کی ہجو کہا کرتا تھا ۔ وہ اپنے اشعار میں
کفار قریش کو رسول کریمؐ کے خلاف بھڑکایا میں جلے بھنے لوگ رہتے تھے۔ ان میں مسلمان ، اور گڑھیوں میں رہنے والے بھی تھے۔ ا جب مدینہ تشریف لاتے تو ان میں صلح و کہ ایک شخص مسلم ہوتا اور اس کا باپ ز کو سخت ایذاء دیتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے ا کرنے کا حکم دیا ۔ ان کے بارے میں
" اور تم اہلِ کتاب اور ان لوگوں تو اگر صبر اور پرہیزگاری کرتے
" بہت سے اہلِ کتاب اپنے دل کو پھر کافر بنادیں ، حالانکہ ان درگزر کرو یہاں تک کہ خدا اپ
جب کعب بن اشرف نے رسول اور زید بن حارثہ فتح بدر اور مشرکین نے قیدیوں کو جکڑے ہوئے دیکھا تو ا ہو بخدا ! زمین کا بطن تمہارے لیے جن کو قتل کیا گیا اور قیدی بنایا گیا، جب تک زندہ رہیں گے اُس سے نے تو اپنی قوم کو کچل دیا اور قتل کر مشتعل کروں گا اور اُن کے مقتولو اور میں بھی اُن کے ساتھ جنگ کیے
کفار قریش کو رسول کریمؐ کے خلاف بھڑکایا کرتا تھا۔ جب رسول کریمؐ مدینہ تشریف لائے تو اس میں ملے جلے لوگ رہتے تھے۔ ان میں مسلمان بھی تھے جن کو دعوتِ اسلام نے یکجا کر دیا تھا۔ ان میں معاہدین اور گڑھیوں میں رہنے والے بھی تھے۔ ان میں اوس اور خزرج کے حلیف بھی تھے۔ رسول کریمؐ جب مدینہ تشریف لائے تو ان میں صلح و امن کے جذبات پیدا کرنے کا ارادہ فرمایا۔ ایسا بھی ہوتا کہ ایک شخص مسلم ہوتا اور اس کا باپ مشرک ہوتا مشرکین اور یہود مدینہ رسول کریمؐ اور صحابہ کو سخت ایذا دیتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی اور مسلمانوں کو اس پر صبر کرنے اور ان کو معاف کرنے کا حکم دیا۔ ان کے بارے میں یہ آیات نازل ہوئیں :
”اور تم اہل کتاب اور اُن لوگوں سے جو مشرک ہیں بہت سی ایذا کی باتیں سنو گے ، تو اگر صبر اور پرہیزگاری کرتے رہو گے تو یہ بڑی ہمت کے کام ہیں ۔“
(آل عمران - ۱۸۶)
”بہت سے اہل کتاب اپنے دل کی جلن سے یہ چاہتے ہیں کہ ایمان لاچکنے کے بعد تم کو پھر کافر بنادیں ، حالانکہ ان پر حق ظاہر ہو چکا ہے تو تم معاف کر دو اور درگزر کرو یہاں تک کہ خدا اپنا دوسرا حکم بھیجے بیشک خدا ہر بات پر قادر ہے ۔“
(البقرہ - ۱۰۹)
جب کعب بن اشرف نے رسول کریمؐ اور صحابہ کی ایذا رسانی سے باز رہنے سے انکار کر دیا اور زید بن حارثہ فتح بدر اور مشرکین کو قتل کرنے اور قیدی بنانے کی بشارت لایا اور اس نے قیدیوں کو جکڑے ہوئے دیکھا تو ذلیل و رسوا ہو گیا۔ پھر اس نے اپنی قوم سے کہا تم پر افسوس ہو بخدا ! زمین کا بطن تمہارے لیے اس کی سطح سے افضل ہے۔ یہ لوگوں کے سردار تھے جن کو قتل کیا گیا اور قیدی بنایا گیا ، اب تمہارے پاس کیا باقی رہا ؟ انہوں نے کہا : ہم جب تک زندہ رہیں گے اُس سے عداوت رکھیں گے ۔ کعب نے کہا تم کیا ہو ، اس نے تو اپنی قوم کو کچل دیا اور قتل کر دیا ہے ۔ البتہ میں قریش کی طرف جاؤں گا ، انہیں مشتعل کروں گا اور اُن کے مقتولوں پر نوحہ گری کروں گا ۔ ہو سکتا ہے کہ برانگیختہ ہو جائیں اور میں بھی اُن کے ساتھ جنگ کے لیے نکلوں ۔
چنانچہ کعب مکہ آیا اور اپنا سامان ابی وداعہ بن ابی صبرہ سہمی کے پاس رکھ دیا ۔ اس کی بیوی عاتکہ بنت اسد بن العیص تھی ۔ اس نے قریش کے مرثیہ پر لکھے گئے کعب کے اشعار ذکر کیئے اور اس کے جواب میں حسان نے جو شعر کہے تھے وہ بھی نقل کیے ۔ اس نے بتایا کہ کعب کس کے یہاں ٹھہرا ہے ۔ حسان نے وہ اشعار سنائے جن میں اس نے اُن اہل خانہ کی ہجو کہی تھی جن کے یہاں وہ قیام پذیر تھا ۔ جب عاتکہ کو اس کی ہجو گوئی کی خبر پہنچی تو اس نے کعب کا سامان باہر پھینک دیا اور کہا ” اس یہودی سے ہمیں کیا سروکار؟ تم دیکھتے نہیں کہ حسان ہمارے ساتھ کیا سلوک کرتا ہے ؟ چنانچہ کعب وہاں سے چلا گیا ۔ وہ جب کسی کے پاس قیام کرتا تو رسول کریم حسان کو بلاتے اور فرماتے کہ کعب فلاں شخص کے پاس ٹھہرا ہوا ہے ۔ حضرت حسان اس کی ہجو کہتے ہیں وہ کعب کا سامان باہر پھینک دیتا ۔
جب کعب کو رہنے کے لیے کوئی جگہ نہ ملی تو مدینہ آیا ۔ جب رسول کریمؐ کو اس کی آمد کا پتہ چلا تو فرمایا ” اے اللہ ! مجھے کعب بن اشرف سے بچا ، اس نے شر کا اعلان کیا اور میری ہجو کہی ہے “ رسول کریمؐ نے فرمایا ” کون مجھے کعب بن اشرف سے نجات دلائے گا ، اس نے مجھے بہت ستایا ہے “ محمد بن مسلمہ نے کہا ”یا رسول اللہ ! میں اسے قتل کروں گا“ فرمایا ” تو ایسا کیجئے “ ۔ ( تا آخر )
کعب بن اشرف کے جرائم
کعب بن اشرف کی ذات میں کئی جرائم جمع ہو گئے تھے :۔
- (۱) اس نے قریش کے مقتولوں کا مرثیہ کہا ۔
- (۲) قریش کو رسول کریمؐ کے خلاف ابھارا اور اُن کی پشت پناہی کی ۔
- (۳) اس نے قریش سے کہا کہ تمہارا دین محمدؐ کے دین سے بہتر ہے ۔
- (۴) اس نے رسول کریمؐ اور مسلمانوں کی ہجو کہی ۔
ہم کہتے ہیں کہ اس کے جواب میں چند وجوہ ہیں : پہلا جواب : آپؐ نے کعب کو اسی لیے قتل کرنا نہیں چاہا تھا کہ وہ مکہ گیا ہے اور اس نے جو کچھ کہنا تھا کہا ، آپؐ نے اس کو قتل کرنے کا حکم اس وقت دیا جب وہ مدینہ آیا
اور اُس نے آپؐ کی ہجو کہی ۔ جیسا کہ جابرؓ کی روایت میں اس کی تفصیل موجود ہے کہ
"پھر وہ مدینہ آیا اور علانیہ عداوتِ رسول کا اظہار کرنے لگا ۔ پھر بیان کیا کہ نقضِ عہد کا باعث وہ اشعار ہیں جو اس نے مدینہ آکر کہے۔ تب آپؐ نے اس کو قتل کرنے کی ترغیب دلائی ۔ موسیٰ بن عقبہ کی روایت میں ہے کہ
"ہمیں ابنِ اشرف سے کون بچائے گا اس نے ہماری عداوت اور ہجو کا اعلان کیا ہے ۔"
اس کی تائید دو باتوں سے ہوتی ہے :
- (۱) ایک یہ کہ سفیان بن عُیَیْنَہ نے بطریق عمرو بن دینار، عکرمہ سے نقل کیا ہے کہ حُیَی بن
اخطب اور کعب اہل مکہ کے یہاں آئے ۔ انھوں نے کہا اہل کتاب اور صاحب علم ہو ہمیں بتائیے کہ ہمارے اور محمدؐ کے درمیان کیا فرق ہے؟ مکہ والوں نے کہا "تم کیا ہو اور محمدؐ کیا ہیں ؟ انھوں نے کہا "ہم صلہ رحمی کرتے ہیں اور طاقتور اور صحت مند اونٹنیاں ذبح کرکے مہمانوں کو کھلاتے ہیں، دودھ میں پانی ملا کر پلاتے ہیں ۔ قیدیوں کو چھڑاتے ہیں ، حاجیوں کو پانی پلاتے ہیں ۔ محمدؐ ایک تن تنہا آدمی ہے، اس نے ہماری قرابت داریوں کو منقطع کر دیا ہے ، حاجیوں کے چور بنو غفار نے اس کی پیروی کی ہے، تو آیا وہ بہتر ہے یا ہم ؟ انھوں نے کہا "تم بہتر اور صحیح راستے پر ہو" تب مندرجہ ذیل آیات نازل ہوئیں :
"بھلا تم نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جن کو کتاب سے حصہ دیا گیا ہے کہ بتوں اور شیطان کو مانتے ہیں اور کفار کے بارے میں کہتے ہیں کہ یہ لوگ مومنوں کی نسبت سیدھے راستہ پر ہیں ۔ یہی لوگ ہیں جن پر خدا نے لعنت کی ہے اور جس پر خدا لعنت کرے تو تم اس کا کسی کو مددگار نہ پاؤ گے "
(النساء : ۵۱ - ۵۲)
اسی طرح قتادہ نے ذکر کیا کہ یہ آیت کعب بن اشرف اور حُیَی بن اخطب کے بارے میں نازل ہوئی ۔ یہ دونوں قبیلہ بنی نضیر کے یہودی تھے جو ایامِ حج میں قریش سے ملے تھے۔ مشرکین نے ان سے کہا "کیا ہم ہدایت پر ہیں یا محمدؐ اور اس کے صحابہ؟ ہم کعبہ کی حفاظت کرتے ہیں ، حاجیوں کو پانی پلاتے ہیں ، ہم اہلِ حرم ہیں" ۔ دونوں نے کہا "تم محمدؐ اور
اُس کے اصحاب سے زیادہ ہدایت یافتہ ہو۔ حالانکہ وہ جانتے تھے کہ دونوں جھوٹے ہیں ۔ صرف محمد اور آپ کے اصحاب پر حسد کرنے کے لیے اس طرح کہہ رہے تھے ۔ ان کے بارے مذکورہ صدر آیت نازل ہوئی ۔ جب وہ دونوں اپنی قوم کی طرف واپس آئے تو ان کی قوم نے کہا : "محمد کا دعویٰ ہے کہ تمہارے بارے میں فلاں فلاں آیت نازل ہوئی ہے" ۔ دونوں نے کہا : "یہ سچ ہے ہمیں حسد و بغض نے یہ بات کہنے پر آمادہ کیا تھا" ۔
یہ دونوں روایات مرسل ہیں اور دو مختلف سندوں سے منقول ہیں ۔ ان دونوں میں مذکور ہے کہ یہ دونوں آدمی مکہ گئے اور جو کہنا تھا کہا ۔ پھر یہ دونوں واپس مدینہ آگئے ۔ رسولِ کریمؐ نے کعب بن اشرف کو قتل کرنے پر صحابہ کو آمادہ کیا اور ابن اخطب کے بارے میں خاموشی اختیار کی ۔ پھر بنو نضیر نے عہد شکنی کی تو ان کو خیبر کی طرف جلا وطن کر دیا ۔ پھر وہ آپ کے خلاف لشکر جمع کر کے لایا ۔ جب لشکر شکست کھا کر بھاگ گئے تو بنو قریظہ کے ہمراہ ان کے قلعہ میں داخل ہوا اور اُن کے ساتھ ہی مقتول ہوا ۔
اس سے معلوم ہوا کہ جس وجہ سے وہ دونوں مکہ آئے وہ کعب بن اشرف کو قتل کرنے کا موجب نہ تھا ۔ اس کو قتل کرنے کی وجہ اس کا مخصوص فعل ہجو گوئی وغیرہ تھا ۔ اُس نے جو کچھ مکہ میں کیا وہ دونوں نے مل کر کیا تھا اور اُس کو دوسرے کی تائید و حمایت بھی حاصل تھی ۔ اس کے قتل کی موجب اور محرّک وہ ایذا تھی جو اس نے اللہ اور اس کے رسول کو دی تھی ۔ جیسا کہ خود رسولِ کریمؐ نے اس کی علت بتائی تھی ۔ آپؐ نے فرمایا :
"کعب بن اشرف سے کون نمٹے گا ، اس نے اللہ اور اس کے رسول کو ایذا دی ہے " ۔
جیسا کہ جابرؓ نے اپنی روایات میں بیان کیا ہے :
- (۲) دوسری وجہ یہ ہے کہ ابنِ ابی اُویس نے بطریق ابراہیم بن جعفر حارثی از والد خود ،
حضرت جابرؓ سے روایت کیا ہے کہ جب رسولِ کریمؐ اور بنو قریظہ کا وہ واقعہ پیش آیا ۔ اس روایت میں یہ بھی مذکور ہے کہ کعب بن اشرف بنو قینقاع سے الگ ہو کر مکہ چلا گیا اور وہاں قیام پذیر ہوا ۔ کہنے لگا : "نہ تو میں محمد کے خلاف کسی کو مدد دوں گا
اور نہ اُس سے لڑوں گا ۔"
مکہ میں کعب سے دریافت کیا گیا کہ "کیا ہمارا دین اچھا ہے یا محمدؐ اور اُس کے اصحاب کا؟ اُس نے کہا تھا ، تمہارا دین محمد کے دین سے بہتر اور قدیم تر ہے۔ محمد کا دین نیا ہے۔" یہ اس امر کی دلیل ہے کہ اس نے رسولِ کریم کے خلاف اعلانِ جنگ نہیں کیا تھا ۔
دوسرا جواب : کعب بن اشرف کا جرم صرف یہ تھا کہ وہ لسانی ایذا کا موجب ہوا تھا ، مشرکینِ مقتولوں کا مرثیہ ، اس کا کفار کو بھڑکانا ، گالی دینا اور ہجو کہنا ، دینِ اسلام پر طعنہ زنی اور کفار کے دین کو فوقیت دینا ، یہ سب کچھ اُس نے زبان سے کیا تھا ۔ کوئی ایسا کام نہ کیا جس کا تعلق حرب و پیکار سے ہو ۔ جو شخص رسولِ کریم کو گالی دینے کے بارے میں ہم سے جھگڑتا ہے ۔ تو وہ کفار کے مذہب کو فوقیت دینے اور ان کو مسلمانوں کے خلاف ابھارنے کے سلسلہ میں اور زیادہ جھگڑنے والا ہوگا ۔
اس لیے کہ ذمی اگر حربی کافروں کے لیے جاسوسی کرے ، انہیں مسلمانوں کے نقائص سے آگاہ کرے اور کفار کو مسلمانوں کے ساتھ لڑنے پر اُبھارے تو ہمارے نزدیک اس کا عہد ٹوٹ جائے گا ، جس طرح گالی دینے والے کا عہد ٹوٹ جاتا ہے ، جو اہلِ علم کہتے ہیں کہ گالی دینے والے کا عہد نہیں ٹوٹتا تو اُن کے نزدیک کفار کیلئے جاسوسی کرنے اور کفار کو مسلمانوں کے حالات سے آگاہ کرنے سے بالاولیٰ ان کا عہد نہیں ٹوٹتا ۔
امام ابو حنیفہ اور ثوری کا مذہب بھی یہی ہے ۔ امام شافعی نے بھی اسی کو اختیار کیا ہے ، مگر ان کے اصحاب میں اختلاف پایا جاتا ہے اور کعب بن اشرف سے صرف ایذا باللسان کا جرم صادر ہوا تھا ۔ لہٰذا اس کا واقعہ اُن لوگوں پر حجت ہے جو اِن مسائل میں نزاع و اختلاف رکھتے ہیں ۔ اس ضمن میں ہمارا موقف یہ ہے کہ ان تمام باتوں سے ذمی کا عہد ٹوٹ جاتا ہے ۔
تیسرا جواب : تیسرا جواب یہ ہے کہ کفار کے دین کو مسلمانوں کے دین پر فوقیت دینا بلاشبہ رسولِ کریم کو گالی دینے سے کم درجے کا جرم ہے۔ اس لیے کہ کسی چیز کا مفضول (گھٹیا ، ادنیٰ ) ہونا اس کے معیوب یا مشتوم (گالی دیا جانا) ہونے سے اولیٰ (جن
ہے ۔ اگر کفار کے مذہب کو برتری دینے سے ذمی کا عہد ٹوٹ جاتا ہے تو گالی دینے سے بطریق اولیٰ ٹوٹ جانا ہے ۔ باقی رہی یہ بات کہ کعب نے بدر کے مقتولوں کا مرثیہ کہا اور ان کا انتقام لینے پر آمادہ کیا ، زیادہ سے زیادہ اس میں یہ بات ہے کہ قریش کو جنگ پر آمادہ کیا گیا ہے ۔ قریش جنگ بدر کے بعد یوں بھی مسلمانوں کے خلاف لڑنے کے لیے تیار تھے ۔ انہوں نے ابوسفیان کے زیر قیادت ایک تجارتی کاروان اس لیے بھیجا تھا کہ اس کے منافع کو جنگ پر خرچ کیا جائے ۔ اس لیے انہیں کعب بن اشرف کے ترغیب دینے کی ضرورت نہ تھی ۔ البتہ اس کی مرثیہ گوئی اور قریش کے مذہب کو برتری دینے سے قریش کا غیظ و غضب اور بڑھ گیا ۔
تاہم کعب کے نبی کریمؐ کو گالیاں دینے اور آپؐ اور آپؐ کے مذہب کی مذمت کرنے نے مسلمانوں کو اس کے خلاف آمادہ جنگ و پیکار کیا ، اس سے معلوم ہوا کہ ہجو گوئی میں جو فساد پایا جاتا ہے وہ دوسری باتوں سے کہیں زیادہ ہے ۔ جب دوسرا کلام نقض عہد کا موجب ہے تو ہجو گوئی بالاولیٰ ناقض عہد ہے ، یہی وجہ ہے کہ رسول کریمؐ نے عورتوں کی اس جماعت کو قتل کر دیا تھا جو آپؐ کو گالیاں دیتیں اور ہجو گوئی کرتی تھیں جب کہ ان عورتوں کو معاف کر دیا جو دشمن کی مدد کرتیں اور اُن کو رسول کریمؐ سے جنگ کرنے پر آمادہ کرتی تھیں ۔
چوتھا جواب : چوتھا جواب یہ ہے کہ اُس نے جو کچھ ذکر کیا ہے وہ ہمارے لیے کئی وجوہ سے حُجّت ہے ۔ اور وہ یہ کہ اہلِ علم کے یہاں مشہور ہے کہ آیت کریمہ اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِيْنَ اُوْتُوْا کعب بن اشرف کی ان باتوں کے بارے میں نازل ہوئی جو اس نے کفار مکہ سے کہی تھیں ۔ ان آیات میں ، اللہ تعالیٰ نے اطلاع دی ہے کہ اس نے کعب پر لعنت کی اور جس پر وہ لعنت کرے کوئی اُس کا مدد گار نہیں ہوتا ۔ یہ اس امر کی دلیل ہے کہ اُس کا عہد باقی نہیں رہا اگر اس کا عہد باقی ہوتا تو مسلمانوں پر اس کی امداد واجب تھی ۔ اس سے معلوم ہوا کہ اس قسم کی گفتگو سے عہد ٹوٹ جاتا ہے اور کوئی اُس کا مدد گار نہیں ہوتا اور جب سَبّ و شتم اس سے غلیظ تر ہے تو اس سے
عہد کیوں نہ ٹوٹے گا ؟ دیا واللہ اعلم ، اس لیے رسول کو وحی کے ذریعے رسول کریمؐ کی مسلم کسی گناہ کا مرتکب نہ ہو ۔ اظہار کیا تو وہ قتل کا مستحق ہو گئی ۔ البتہ جس سے جائے ۔ البتہ اس سے پیکار کا اظہار نہ کرے
کیا شعر ہجو گوئی کے
اور شعر ایک باوزن کلام ہے کے ساتھ اسے پڑھا جاتا ہے ۔ مؤثر ہوتا ہے ۔ نثر میں یہ تاثیر ہجو گوئی کرنے کا حکم دیتے اور فر ہے : حسان کی ہجو گوئی ان پر کہ اگر نثر میں شعروں سے کم
کیا گالیوں کی تکرار کو
لونڈی سے گالیاں دینے کا فعل سے جو کیفیت پیدا ہوتی ہے ۔ ا نقل کر چکے ہو کہ جس شخص سے اگر یہ فعل متکرر نہ ہو تو اسے قتل
عہد کیوں نہ ٹوٹے گا؟ رسول کریم نے اس کی صرف اسی بات کو عہد کا ناقض قرار نہیں دیا واللہ اعلم ، اس لیے کہ اُس نے علانیہ یہ بات نہیں کہی تھی۔ بلکہ اللہ نے اپنے رسول کو وحی کے ذریعے سے مطلع کیا ۔ جیسا کہ احادیث میں گزر چکا ہے۔ رسول کریمؐ کسی مسلم یا مُعاہد کو اس وقت تک نہیں پکڑتے تھے جب تک وہ علانیہ کسی گناہ کا مرتکب نہ ہو۔ جب وہ مدینہ لوٹ کر آیا اور اس نے کھلم کھلا ہجو و عداوت کا اظہار کیا تو وہ قتل کا مستحق ٹھہرا۔ اس لیے کہ اُس کی ایذا رسانی لوگوں پر واضح ہو گئی ۔ البتہ جس سے خیانت کا اندیشہ دامنگیر ہو اس کے عہد کو اُس کے منہ پر مارا جائے ۔ البتہ اس سے اُس وقت تک لڑا نہیں جا سکتا جب تک وہ حرب و پیکار کا اظہار نہ کرے اور اس پر یہ بات ثابت نہ ہو۔
کیا شعر ہجو گوئی کے لیے مؤثر ہے
اگر کہا جائے کہ کعب بن اشرف نے ہجو گوئی کے ذریعے رسول کریمؐ کو گالیاں دیں اور شعر ایک باوزن کلام ہے ۔ جسے حفظ کیا جاتا ۔ لوگوں تک پہنچایا جاتا اور خوش الحانی کے ساتھ اسے پڑھا جاتا ہے ۔ اور شعر ایذا رسانی اور اسلام سے روکنے میں جس قدر مؤثر ہوتا ہے ، نثر میں یہ تاثیر نہیں ہوتی ۔ اسی لیے رسول کریم حضرت حسان کو ان کی ہجو گوئی کرنے کا حکم دیتے اور فرماتے ”ہجو گوئی تیر اندازی سے زیادہ ان کی گردن توڑتی ہے“ حسان کی ہجو گوئی ان پر بری طرح اثر انداز ہوتی اور وہ ایسی باتوں سے باز آجاتے کہ اگر نثر میں شعروں سے کہیں زیادہ اُن کو گالیاں دی جاتیں تو بھی باز نہ آتے ۔
کیا گالیوں کی تکرار کو بھی اس میں دخل ہے
مزید برآں کعب بن اشرف اور سابق الذکر لونڈی سے گالیاں دینے کا فعل بتکرار و اعادہ سرزد ہوا ۔ اور کسی چیز کی کثرت اور استمرار سے جو کیفیت پیدا ہوتی ہے۔ انفرادی صورت سے نہیں ہوتی ۔ اور تم حنفیہ کا یہ قول نقل کر چکے ہو کہ جس شخص سے بکثرت ایسے فعل کا صدور ہو اس کو قتل کرنا جائز ہے اور اگر یہ فعل متکرر نہ ہو تو اسے قتل کرنا روا نہیں، جب حدیث سے بھی یہ بات ثابت ہو تو
ہو سکتا ہے کہ مخالف اس کو تسلیم کرے ۔
قول اول : اس ضمن میں ہمارا پہلا قول تو یہ ہے کہ اس سے خون مباح اور عہد کا ٹوٹنا ثابت ہوتا ہے اور وہ یہ کہ گالی علی الاطلاق ذمی کے عہد کو توڑنے والی اور اس کے خون کو رائیگاں کرنے والی ہے ۔ اب ناقض عہد کے بارے میں گفتگو باقی رہی کہ آیا عہد کسی خاص نوع کی گالی سے ٹوٹتا ہے —— یعنی جو کثیر بھی ہو اور غلیظ بھی —— یا عام قسم کی گالی سے ؟ یہ ایک جدا گانہ بحث ہے ۔ پس جو گالی کثیر و غلیظ ہو اُس کے بارے میں یہ کہنا واجب ہے کہ اس سے ذمّی کا خون رائیگاں ہو جاتا ہے تاکہ کوئی شخص نصِ حدیث کی خلاف ورزی نہ کر سکے، اگر کوئی شخص یہ دعویٰ کرے کہ ذمی کی کوئی گفتگو اور ایذا رسانی اس کے خون کو مباح نہیں کر سکتی، تو ایسا شخص سخت گنہگار اور مجرم ہے جو ایسی خلاف ورزی کا مرتکب ہو گا جس میں اُس کے لیے عذر کی کوئی گنجائش موجود نہیں
جرم بعض اوقات زمان و مکان اور
احوال کے لحاظ سے بھی بڑھ جاتا ہے
قول دوّم : ہمارا دوسرا قول یہ ہے کہ جو جرم سزا کا موجب ہوتا ہے بعض اوقات اس میں اپنی صفت یا مقدار یا دونوں کی وجہ سے شدّت پیدا ہو جاتی ہے ۔ مثلاً کسی عام آدمی کو قتل کرنا ، والدہ یا اولاد صالح کو قتل کرنے کی مانند نہیں ۔ اسی طرح کسی عام آدمی پر ظلم کرنا ایک یتیم بے نوا پر ظلم کرنے کے برابر نہیں جو صالح والدین کی اولاد ہو ۔ علیٰ ھٰذا القیاس عام اوقات ، مقامات اور حالات میں گناہ کرنا ، حرم ، احرام اور حرام مہینہ میں گناہ کرنے کے برابر نہیں ۔ خلفائے راشدین کی سنت رہی ہے کہ جب قتل میں کسی وجہ سے شدّت پیدا ہو جائے تو اس میں دیّت مغلظہ ادا کی جاتی ہے ۔
رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا گیا کہ کون سا گناہ سب سے بڑا ہے ؟ فرمایا یہ کہ تو اللہ کا شریک ٹھہرائے حالانکہ اسی نے تم کو پیدا کیا ہے ۔ عرض کیا گیا اس کے بعد ؟ فرمایا ” یہ کہ تو اپنی اولاد کو اس ڈر سے قتل کرے کہ وہ تمہارے ساتھ کھائے گی“۔ دریافت کیا اس کے بعد کیا ؟ فرمایا ” یہ کہ تو اپنے پڑوسی کی بیوی سے زنا کرے “۔ اس میں شبہ نہیں کہ جو شخص کئی دفعہ راہزنی کرے ، بہت سے لوگوں کا خون بہائے اور مال چھینے ، اس کا جرم اس
اس کو تسلیم کرے۔ اس ضمن میں ہمارا پہلا قول تو یہ ہے کہ اس سے خود ہمارا دعویٰ ثابت ہوتا ہے اور یہ نقضِ ذمّی کے عہد کو توڑنے والی اور اس کے خون کو رائیگاں کرنے والی ہے ۔ اس کے بارے میں گفتگو باقی رہی کہ آیا عہد کسی خاص نوع کی گالی سے ٹوٹتا ہے ہی ہو اور غلیظ بھی — یا عام قسم کی گالی سے؟ یہ ایک جداگانہ بحث غلیظ ہو اُس کے بارے میں یہ کہنا واجب ہے کہ اس سے ذمّی کا خون تاکہ کوئی شخص نصِ حدیث کی خلاف ورزی نہ کرسکے، اگر کوئی شخص بدعہدی گفتگو اور ایذا رسانی اس کے خون کو مباح نہیں کر سکتی، تو ایسا شخص حدّ خلاف ورزی کا مرتکب ہوگا جس میں اُس کے لیے عذر کی کوئی گنجائش موجود نہیں
تفاوت زمان و مکان اور لحاظ سے بھی بڑھ جاتا ہے
قیاسِ دوم : ہمارا دوسرا قول یہ ہے کہ جو جرم سزا کا موجب ہوتا ہے بعض اوقات اس میں اپنی صفت کی وجہ سے شدّت پیدا ہو جاتی ہے۔ مثلاً کسی عام آدمی کو قتل کرنا، والد یا ولد کی مانند نہیں۔ اسی طرح کسی عام آدمی پر ظلم کرنا ایک یتیم بے نوا پر ظلم کرنے کی طرح نہیں۔ علیٰ ھٰذا القیاس عام اوقات، مقامات اور حالات کا احترام اور حرام مہینے میں گناہ کرنے کے برابر نہیں۔ خلفائے راشدین کی رائے ہے کہ قتل میں کسی وجہ سے شدّت پیدا ہو جائے تو اس میں دیّت مغلّظہ ادا
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا گیا کہ کون سا گناہ سب سے بڑا ہے؟ شریک ٹھہرائے حالانکہ اسی نے تجھ کو پیدا کیا ہے۔ عرض کیا گیا، اس کے بعد؟ نے فرمایا : یہ کہ تو اس ڈر سے قتل کرے کہ وہ تمہارے ساتھ کھائے گی۔ دریافت کیا گیا : اس کے بعد؟ فرمایا ”یہ کہ تو اپنے پڑوسی کی بیوی سے زنا کرے“۔ اس میں شبہ نہیں کہ ایسے شخص کا جرم جو کسی کو قتل کرے، بہت سے لوگوں کا خون بہائے اور مال چھینے، اس کا جرم اس
شخص کے جرم سے کہیں بڑھ کر ہوگا جو صرف ایک دفعہ راہزنی کا مرتکب ہو۔ بلاشبہ جو شخص رسول کریم کو زیادہ گالیاں دے یا جو یہ اشعار کہے تو اس کا جرم اُس شخص کی نسبت شدید تر ہے جو نثر میں ایک لفظ کہہ کر آپ کو گالی دے۔ ظاہر ہے کہ پہلے شخص پر حدّ قائم کرنا مؤکد تر ہے۔ اسی طرح رسول کریم پر کی گئی زیادتی کا انتقام لینا واجب تر ہے۔ اگرچہ گالیاں دینے والا معافی کا اہل ہے تو یہ اس کا ہرگز اہل نہیں ہے۔
تاہم یہ حدیث دیگر احادیث کی طرح اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ اللہ اور اس کے رسول کو علی الاطلاق (بلا لحاظ قلّت و کثرت) ایذا پہنچانے اور گالی دینے سے ذمّی کا عہد ٹوٹ جاتا اور اس کا خون مباح ہوجاتا ہے۔ اگرچہ بعض اشخاص کا جرم اپنی نوعیت اور مقدار کے لحاظ سے دوسروں کی نسبت شدید تر ہوتا ہے۔
اس کی متعدّد وجوہ ہیں :
وجہ اوّل : پہلی وجہ یہ ہے کہ رسول کریمؐ نے فرمایا : ”کعب بن اشرف سے کون نمٹے گا، اس نے اللہ اور اس کے رسولؐ کو ایذا دی ہے“۔ رسول کریمؐ نے اس کی ایذا رسانی کو اس کے قتل کی علت ٹھہرایا۔ یہاں علی الاطلاق بلا قید نوع و مقدار ایذا رسانی کا ذکر کیا گیا ہے جس سے واجب ٹھہرا کہ مطلق ایذا کو قتل کی علت ٹھہرایا جائے، خواہ قاتل ذمّی ہو یا کوئی اور۔ ظاہر ہے کہ گالی کم ہو یا زیادہ، نظم میں ہو یا نثر میں بلاشبہ ایذا ہے، بنا بریں حکم اس سے متعلق ہو جائیگا اور وہ اسے قتل کرنے کا حکم ہے۔ اگر آپؐ کا یہ مطلب نہ ہوتا تو آپؐ فرماتے ”اس نے ایذا رسانی میں مبالغہ کیا ہے یا کثرت سے کام لیا ہے یا اس پر مداومت کی ہے“۔ حالانکہ آپؐ کو ”جوامع الکلم“ عطا ہوئے تھے اور آپؐ وحی کے بغیر بولتے نہ تھے۔ آپؐ خواہ ناراض ہوتے یا راضی آپؐ کے لبوں سے وہی بات نکلتی جو حق ہوتی۔ دوسری حدیث میں آیا ہے کہ ”اس نے ہمیں ایذا دی ہے، اشعار میں ہماری ہجو کہی ہے، اور تم میں سے جو کوئی بھی اس کا مرتکب ہوگا اسے تہہ تیغ کیا جائے گا“ آپؐ نے اس میں کثرت کی قید نہیں لگائی۔
نظم کی علّت میں کوئی تاثیر نہیں
دوسری وجہ : دوسری وجہ یہ ہے کہ کعب نے نظم میں آپؐ کی ہجو کہی اور
نیز دین یہودیت کو فوقیت دی ۔ اور دونوں کی وجہ سے اُسے مباح الدم قرار دیا گیا، اس سے معلوم ہوا کہ اصل حکم میں نظم کی کوئی تاثیر نہیں ہے ۔ اس لیے کہ ناظم کی کوئی تخصیص نہیں۔ اور کوئی حکم وصف کے بغیر وجود میں آجائے تو وصف غیر مؤثر ہوگا اور اُسے علت کا جزو قرار نہیں دیا جائے گا۔ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ یہاں ایک حکم کو دو علتوں سے معلل کیا گیا ہو ۔ کیونکہ یہ اُس صورت میں ہوتا ہے جب ایک علت دوسری میں مندرج نہ ہو ۔ مثلاً قتل اور زنا ۔ جب دونوں علتیں ایک دوسری میں مندرج ہوں تو وصفِ اعم کو علت ٹھہرایا جاتا ہے ۔ اور وصفِ اخص غیر مؤثر ہوتا ہے ۔
قلیل و کثیر میں کچھ فرق نہیں
قیاس کی وجہ : یہ ہے کہ جو فعل خون کو مباح کر رہا ہے اس کے قلیل و کثیر اور غلیظ و خفیف میں خون کو مباح کرنے کے اعتبار سے کچھ فرق نہیں ہے ، خواہ وہ قول ہو یا فعل مثلاً ارتداد زنا اور حرب و پیکار وغیرہ ۔ یہ علمائے اصول کا قیاس ہے ۔ جو شخص یہ دعویٰ کرے کہ بعض اقوال و افعال ایسے ہوتے ہیں کہ بصورتِ کثرت خون کو مباح کرنے والے ہوتے ہیں ۔ اور جب کم ہوں تو مباح نہیں کرتے ، تو ایسا شخص علمائے اصول کے قیاس سے تجاوز کر جاتا ہے اس کا یہ خیال اس صورت میں صحیح ہوتا ہے جب ایسی نص موجود ہو جسے اصل بنفسہ قرار دیا جا سکے ۔ اور یہ بات کسی نص سے ثابت نہیں کہ کثیر کی صورت میں اس کا خون مباح ہے ۔ اور قلیل میں نہیں ۔ ہمارے حریف کا یہ موقف کہ اگر قاتل وزنی چیز مار کر زیادہ آدمیوں کو قتل کرے تو اسے قتل کیا جائے ورنہ نہیں یا دُبر میں زنا کرنا فاحشہ ہے اور قبل میں نہیں، تو یہ ایک مذہب کی حکایت ہے ۔ ان سب جرائم کے بارے میں ایک ہی طرح کی گفتگو کی جاسکتی ہے۔
رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بسند صحیح منقول ہے کہ آپؐ نے ایک یہودی کا سر دو پتھروں کے درمیان رکھ کر کچل دیا تھا ۔ کیوں کہ اس نے ایک انصاری لڑکی سے یہی سلوک کیا تھا ۔ بھاری پتھر کے ساتھ کچلنے والے کو اس حدیث میں قصاصاً اسی طرح قتل کیا گیا، حالانکہ اس نے یہ فعل ایک ہی بار انجام دیا، قوم لوط کا فعل انجام دینے والے کے بارے میں فرمایا کہ فاعل اور مفعول کو قتل کر دو، اس میں بھی تکرار و اعادہ کا اعتبار نہیں کیا گیا۔ رسول کریمؐ کے بعد آپؐ
کے صحابہ بھی ایسا کرنے والے کو سنگسار کرتے رہے یا جلاتے رہے ۔ مگر تکرار کی شرط معتبر نہ تھی ۔ جب کہ اباحت دم کے اصول منصوصہ یا اجماعیہ ایک دفعہ اور متعدد دفعات میں مساوی ہیں تو اباحت دم کے سلسلہ میں دونوں کے درمیان فرق روا رکھنا اثبات حکم بلا اصل ہے جس کی کوئی نظیر موجود نہیں ۔ بلکہ اصول کلیہ کے خلاف ہے اور یہ جائز نہیں ۔
اس کی توضیح یوں ہے کہ جن اقوال سے قسم ٹوٹ جاتی ہے اس میں واحد اور کثیر مساوی ہیں۔ اگرچہ کفر کی تصریح نہ کی گئی ہو ۔ مثلاً کوئی شخص ایک آیت یا ظاہری فریضہ کا انکار کرے یا رسول کریمؐ کو ایک مرتبہ گالی دے ، تو یہ اسی طرح ہے جیسے کوئی شخص صراحتاً رسول کی تکذیب کرے جن اقوال کی تصریح سے قسم ٹوٹ جاتی ہے اُن کا بھی یہی حال ہے ۔ مثلاً کہے کہ میں نے عہد توڑ دیا اور میں تمہارے ذمے سے بری ہو گیا تو اس سے اس کا عہد ٹوٹ جائے گا ۔ اگرچہ اس نے مکرر نہ کہا ہو ۔ اسی طرح وہ افعال جن سے گالی دینا یا طعن فی الدین لازم آتا ہے ، تکرار و اعادہ کے محتاج نہیں ہیں ۔
وجہ چہارم : چوتھی وجہ یہ ہے کہ اگر ان افعال و اقوال کو زیادہ مرتبہ انجام دے تو یا تو اسے قتل کیا جائے ، اِس لیے کہ ان افعال کی جنس خون کو مباح کرنے والی ہے یا اس لیے کہ ان افعال و اقوال کی ایک خاص مقدار خون کو مباح کرنے والی ہے ۔ اگر پہلی صورت ہے تو وہی مطلب ہے اور اگر دوسری صورت ہے تو سوال یہ ہے کہ خون کو مباح کرنے والی مقدار کتنی ہے اور اس کی حد کیا ہے ؟ ظاہر ہے کہ تجدید کے لیے نص یا اجماع یا قیاس کی ضرورت ہے ، اُن لوگوں کے نزدیک جو مقدرات میں قیاس کو حجت مانتے ہیں مگر ان تینوں (نص ، اجماع ، قیاس) میں سے کوئی بھی یہاں موجود نہیں ۔ اس لیے کہ اصول میں کوئی ایسا قول یا فعل نہیں جس کی ایک خاص تعداد خون کو مباح کرتی ہو اور اگر اس سے کم ہو تو مباح نہ کرتی ہو ۔
ہمارا یہ اصول اقرار فی الزنا سے نہیں ٹوٹے گا ، کیونکہ اس کا اثبات چار دفعہ کے اقرار سے ہوتا ہے ۔ وہ بھی اس کے نزدیک جو اس کا قائل ہو ۔ اسی طرح قسامہ کے قتل سے بھی یہ قاعدہ نہیں ٹوٹتا ، کیونکہ اس کا اثبات پچاس قسموں کے بعد ان علمائے
نزدیک ہوتا ہے جو اس صورت میں قصاص کے قائل ہیں ۔ لعان کی گئی عورت کو رجم کرنے سے بھی ہمارا قاعدہ برقرار رہتا ہے ۔ اس لیے کہ اس کا اثبات تب ہوتا ہے جب اس کا شوہر چار مرتبہ شہادت دیتا ہے اور یہ اُن اہل علم کے نزدیک ہے جو کہتے ہیں کہ اگر عورت انکار کرے تو خاوند کے شہادت دینے کے بعد اسے رجم کیا جائے ۔ اس لیے کہ اقرار اور قسموں میں سے کوئی چیز بھی اس کے خون کو مباح نہیں کرتی ۔ مباح کرنے والا صرف زنا یا قتل کا فعل ہے ۔ اقرار اور قسم اس کے ثبوت کی صرف ایک دلیل اور حجت ہے ۔ ہمارا اختلاف اس بات میں نہیں کہ شرعی دلائل کا ایک نپا تلا نصاب ہے ۔ ہم جو بات کہتے ہیں وہ صرف یہ ہے کہ خون کو مباح کرنے والے نفس قول یا عمل کے لیے شرع میں کوئی نصاب نہیں ہے، کیوں کہ شرعی حکم صرف اُن کی جنس سے معلق ہے ، اُن کی خاص مقدار کے ساتھ نہیں،
وجہ تحکم : پانچویں وجہ یہ ہے کہ ان اشیاء کی کثرت کی صورت میں قتل یا تو ایک شرعی حد ہوتی ہے جو واجب التعمیل ہے ، یا تعزیر ہے جو امام کی رائے پر موقوف ہے اگر پہلی صورت ہے تو اس کو واجب کرنیوالے کی تحدید ضروری ہے اس کی حد یہ ہے کہ اس کو جنس کے ساتھ معلق کیا جائے ۔ ورنہ یہ سینہ زوری اور تحکم کے سوا کچھ نہیں ۔ اور اگر دوسری صورت ہے تو تعزیر بالقتل اصول شرعیہ میں موجود نہیں ۔ اس کا اثبات کسی خاص دلیل سے ہوتا ہے ۔ اور کتاب و سنت میں، وارد شدہ عمومات بھی اس پر دلالت کرتے ہیں مثلاً یہ حدیث کہ "مسلمان کا خون صرف تین چیزوں میں سے کسی ایک سے ہوتا ہے"۔
استدلال کی قسم ثانی
استدلال کی دوسری قسم یہ ہے کہ جن پانچ مسلمانوں نے کعب کو قتل کیا تھا یعنی محمد بن مسلمہ، ابو نائلہ عباد بن بشر، حارث بن اوس، ابو عبس بن جبر، رسول کریمؐ نے ان کو اچانک حملہ کرنے اور اس سے ایسی گفتگو کرنے کی اجازت دی تھی جس سے ظاہر ہو کہ یہ اس کے ہمنوا ہیں اور پھر اسے قتل کر دیں ۔ ظاہر ہے کہ جو شخص کافر کو امان دے تو اس کے لیے جائز نہیں کہ کفر کی بنا پر اُسے قتل کرے ۔ بلکہ اگر حربی کافر اگر یہ اعتقاد رکھتا ہو کہ مسلم نے اسے امن دیا ہے اور اس بارے میں اس سے ہم کلام بھی ہو تو وہ مُستامن (امن طلب کرنے والا) ہو جاتا ہے ۔ عمرو بن
اسحق نے رسول کریمؐ سے روایت کیا ہے کہ آپؐ نے فرمایا : "جس نے کسی آدمی کے خون اور مال کو مامون قرار دے کر اُسے قتل کر دیا تو میں اس سے بَری ہوں اگرچہ مقتول کافر ہو" ۔ اس کو امام احمد اور ابن ماجہ نے روایت کیا ہے ۔
سلیمان بن صُرَد رسول کریمؐ سے روایت کرتے ہیں کہ آپؐ نے فرمایا : "جب کوئی شخص تمہیں اپنے خون کا امین بنائے تو اسے مت قتل کیجیے"۔
(ابن ماجہ)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپؐ نے فرمایا : "امان کسی کو قتل کرنے کی زنجیر ہے ، مومن کسی کو اچانک قتل نہیں کرتا"۔
(ابوداؤد و دیگر کتب حدیث)
ہجوگو کا خون امان دینے سے محفوظ نہیں ہوتا
الخطابی کہتے ہیں کہ کعب بن اشرف کو انہوں نے اس لیے قتل کیا کہ اس نے امان توڑ دی تھی اور اس سے قبل وہ عہد شکنی کرچکا تھا ۔ خطابی کا خیال ہے کہ یہ سلوک اُس کافر کے ساتھ جائز ہے جس نے عہد نہ کیا ہو جس طرح اس پر شبخون مارنا اور غفلت کے اوقات میں اس پر تاخت و تاراج جائز ہے ۔
مگر اس پر یہ اعتراض کیا جاتا ہے کہ دکعب بن اشرف کے قاتلوں نے، جو گفتگو اس سے کی تھی اس کی بنا پر وہ امان یافتہ ہو گیا تھا ۔ اور اس کی کم از کم حالت یہ تھی کہ اسے امان کا شبہ حاصل ہو گیا تھا ۔ اور ایسے آدمی کو محض کفر کی وجہ سے قتل کرنا جائز نہیں اس لیے کہ امان دینے سے تو حربی بھی معصوم الدم ہو جاتا ہے اور مستامن تو اس سے کم درجہ کے الفاظ کے ساتھ بھی ہو جاتا ہے ، جیسا کہ اپنی جگہ مذکور ہے ۔ کعب کو انہوں نے اس کی ہجو گوئی اور اللہ اور اس کے رسول کو ایذا دینے کی وجہ سے قتل کیا تھا ۔
اور جو شخص اس وجہ سے مباح الدم ہو چکا ہو ، عہد و امان کی بنا پر وہ معصوم الدم نہیں ہو سکتا ۔ مثلاً مسلم اس شخص کو امان دے جس کا قتل راہزنی، اللہ، رسول سے جنگ
کرے اور فساد فی الارض کی وجہ سے واجب ہو چکا ہو یا اس شخص کو امان دے جو زنا یا ارتداد یا ارکان اسلام کو ترک کرنے کی وجہ سے واجب القتل ہو چکا ہو ۔ مسلم کے لیے جائز نہیں کہ ایسے شخص کے ساتھ ذمّہ شرعی عقد باندھے ۔ خواہ وہ دائمی امان کا عہد ہو یا عارضی امان کا یا ذمّی ہونے کا ۔ اس لیے کہ اس کو حدّ شرعی کے مطابق قتل کیا جائے گا اور اس کا قتل محض ایک حربی کافر ہونے کی وجہ سے نہیں جیسا کہ آگے آ رہا ہے ۔ باقی رہی غارت گری اور شب خون مارنا تو یہاں ایسا کوئی قول و فعل وجود میں نہیں آیا جس کی وجہ سے انہیں امن حاصل ہو گیا ہو اور ان کا اپنا عقیدہ بھی یہ نہیں کہ انہیں امان دی جا چکی ہے ۔ برخلاف کعب بن اشرف کے واقعہ کے ! پس یہ بات ثابت ہو گئی کہ چونکہ اللہ ، رسول کو ایذا دینے والے کو اگر امان دیدی جائے تو بھی اس کا خون محفوظ نہیں ہوتا ۔ تو دائمی ذمّی بننے یا ہنگامی مصالحت کرنے سے اس کا خون بالاولیٰ معصوم نہ ہوگا ۔ امان ہر کافر کو دی جاسکتی ہے اور ہر مسلم امان دینے کا مجاز ہے ۔ مثلاً مستأمن (امن کا طالب کافر) پر کوئی شرط نہیں لگائی جاسکتی ۔ ذمّی کے ساتھ معاہدہ یا تو حاکم وقت کر سکتا ہے یا اس کا نائب ۔ اس میں اہل ذمّہ پر بہت سی شرطیں عاید کی جاتی ہیں مثلاً ذلّت کا التزام وغیرہ
ابن یامین اور محمد بن مسلمہ حضرت معاویہؓ کے دربار میں
کعب بن اشرف کے قتل کے بارے میں بعض کم عقل آدمیوں کو شبہ لاحق ہوا تھا ۔ اس کا گمان ہے کہ ایسے آدمی کا خون سابقہ ذمّی ہونے کی بنا پر یا ظاہری امان کی وجہ سے معصوم ہو سکتا ہے ۔ یہ اس قسم کا شبہ ہے جو بعض فقہاء کو پیش آیا تھا۔ حتیٰ کہ اس نے گمان کیا کہ اس سے عہد نہیں ٹوٹتا ۔ چنانچہ ابن دحیہ نے بطریق سفیان بن عُیَینَہ از عمرو بن سعید برادر سفیان بن سعید ثوری از والد خود از عبایہ نقل کیا ہے کہ امیر المومنین حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس کعب بن اشرف کے قتل کا ذکر کیا گیا ، تو ابن یامین نے کہا اس کو قتل کرنا عہد شکنی ہے ۔ محمد بن مسلمہ نے کہا اے معاویہؓ ! تمہاری موجودگی میں رسول کریمؐ کو غدار کہا جا رہا ہے مگر تم اس پر معترض نہیں ہوئے ؟ بخدا میں کبھی ایک چھت کے نیچے تمہارے ساتھ نہیں بیٹھوں گا ۔ اور مجھے جب بھی موقع ملے گا میں اس (ابن یامین)
کو قتل کر دوں گا ۔
واقدی نے بطریق ابراہیم بن جعفر والد خود روایت کیا ہے کہ مروان بن الحکم جب مدینہ کا والی تھا تو اُس کے پاس ابن یامین النضری تھا۔ مروان نے کہا: کعب بن اشرف کو کیسے قتل کیا گیا ؟ ابن یامین نے کہا یہ معاہدہ کی خلاف ورزی ہے۔ محمد بن مسلمہ اس وقت وہاں موجود تھے اور بہت بوڑھے ہوچکے تھے۔ انہوں نے کہا اے مروان کیا تمہارے سامنے رسول کریم ﷺ کو غدار کہا جارہا ہے ؟ بخدا ہم نے اس کو رسول کریم ﷺ کے حکم سے قتل کیا تھا ۔ بخدا میں تمہارے ساتھ ایک چھت کے نیچے نہیں بیٹھوں گا سوائے مسجد کے۔ اور اے ابن یامین ! میں اللہ کے ساتھ عہد کرتا ہوں کہ اگر میرے ہاتھ میں تلوار ہوئی اور میں نے تم پر قابو پالیا تو میں تمہیں قتل کردوں گا۔ ابن یامین جب بھی بنو قریظہ کے قبیلے میں جاتا تو پہلے آدمی بھیج کر معلوم کرتا کہ محمد بن مسلمہ وہاں موجود ہے یا نہیں ۔ اگر وہ اپنی اراضی گیا ہوتا تو ابن یامین وہاں جاتا اور اپنا کام کر کے واپس آجاتا ۔ ورنہ وہاں جانے سے احتراز کرتا ۔ ایک دفعہ محمد بن مسلمہ ایک جنازہ میں شریک تھے اور ابن یامین بقیع کے قبرستان میں تھا۔ ابن یامین نے دیکھا کہ محمد بن مسلمہ پر درختوں کی شاخیں جھکی ہوئی ہیں اور اس لیے مجھے دیکھ نہیں رہے اس نے جلدی سے چلا جانا چاہا ۔ لوگوں نے کھڑے ہو کر اسے کہا اے ابوعبدالرحمٰن آپ کیا کر رہے ہیں؟ ہم تمہیں بچالیں گے ۔ محمد بن مسلمہ اس کے پاس آئے اور ایک ٹہنی پکڑ کر اسے مارنے لگے ، یہاں تک کہ یہ ٹہنی اس کے سر اور چہرہ کی ضربوں سے ٹوٹ گئی اور ابن یامین زخمی ہوگیا پھر اسے نیم جان کر کے چھوڑ دیا ۔
اگر معترض کہے کہ کعب اور اس کے قبیلہ بنو نضیر نے مسلمانوں کے ساتھ صلح کی ہوئی تھی تو ابن اسحاق نے جو کچھ لکھا ہے اس کا کیا مطلب ہے ؟ ابن اسحاق نے بطریق مولیٰ زید بن ثابت از بنت محیصہ از والد خود روایت کیا ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” تم جس یہودی پر قابو پاؤ اسے قتل کر دو“ محیصہ بن مسعود نے ایک یہودی تاجر ابن سنینہ پر حملہ کر کے اسے قتل کر دیا۔ وہ ان سے ملا کرتا اور خرید و فروخت کیا کرتا تھا اور حویصہ بن مسعود ابھی تک اسلام نہیں لایا تھا۔ وہ محیصہ سے بڑا تھا۔ جب محیصہ نے یہودی کو
قتل کر دیا تو حُوَیِّصہ اسے مارنے لگا اور کہتا جاتا تھا اے دشمن خدا ! تو نے اسے قتل کر دیا۔ بخدا اس کے مال کی وجہ سے تمہارے پیٹ پر چربی چڑھی ہوئی ہے ۔ مُحَیِّصہ نے کہا بخدا مجھے اس شخص نے یہودی کو قتل کرنے کا حکم دیا تھا کہ اگر وہ مجھے تمہارے قتل کرنے کا حکم دیتا تو میں تمہاری گردن اڑا دیتا ۔ حُوَیِّصہ نے کہا ”جس دین نے تم کو اس درجہ پر پہنچا دیا ہے بڑا عجیب ہے“۔ واقدی نے باسانید سابقہ کہا ہے کہ لوگوں نے کہا جس رات کی صبح کو کعب بن اشرف کو قتل کیا گیا تھا۔ رسولِ کریمؐ نے فرمایا ”جس یہودی پر تم قابو پالو اسے قتل کر دو“ یہ یہودی ڈر گئے ۔ اور اُن کے بڑے بڑے سرداروں کا کہیں پتہ نہیں چلتا تھا، حالانکہ وہ باہر نہیں گئے تھے ۔ وہ ہراساں تھے کہ کعب بن اشرف کی طرح ان پر شبخون نہ مارا جائے ۔ اس لئے انہوں نے سُنینہ کے قتل کا ذکر کیا اور کہا کہ یہودی اور ان کے ساتھی مشرکین گھبرا گئے اور حسبِ سابق واقعہ بیان کیا ۔
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ انہوں نے معاہدہ نہیں کیا تھا ورنہ یہ نہ فرماتے کہ جو یہودی ملے اسے قتل کردو۔ مزید برآں اس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ یہود کے ساتھ یہ معاہدہ آپ نے کعب کے قتل کے بعد کیا تھا۔ اندریں صورت کعب بن اشرف معاہد نہ تھا ۔
ہم اس کے جواب میں کہتے ہیں کہ آپ نے یہود کو قتل کرنے کا حکم اس لیے دیا تھا کہ کعب بن اشرف ان کا سردار تھا۔ اس نے یہود سے دریافت کیا تھا کہ محمدؐ کے بارے میں تمہارا کیا خیال ہے ؟ انہوں نے جواب دیا کہ ”جب تک ہم زندہ رہیں گے ان سے عداوت رکھیں گے“ وہ مدینہ سے باہر رہتے تھے ، اس لیے کعب کا قتل ان پر بڑا ناگوار گزرا ۔ لہٰذا مقتول کا انتقام لینے اور اس کا دفاع کرنے کے لیے وہ حرب و ضرب اور نقضِ عہد پر آمادہ ہوئے ۔ جو لوگ وہاں مقیم تھے وہ اپنے سابقہ عہد پر قائم تھے ۔ انہوں نے عداوت کا اظہار نہیں کیا تھا ، اس لیے رسولِ کریمؐ نے ان کا محاصرہ کیا نہ ان سے لڑے ۔ اس کے بعد انہوں نے عداوت کا اظہار کیا ۔ باقی رہا یہ عہد نامہ تو اس کا تذکرہ تنہا واقدی نے کیا ہے ۔
کعب بن اشرف کو کب قتل کیا گیا
واقدی نے ذکر کیا ہے کہ کعب بن اشرف کے قتل کا واقعہ ماہ ربیع الآخَر
سنہ ۲ھ کو پیش آیا ۔ غزوہ بنی قینقاع اس سے پہلے ماہ شوال سنہ ۲ھ کو غزوہ بدر سے ایک ماہ بعد پیش آیا تھا ۔ واقدی مزید کہتے ہیں کہ جس عہد نامہ میں رسول کریم ﷺ نے ساتھ مصالحت کی تھی بدر سے پہلے مدینہ آنے کے بعد لکھا تھا ۔ اس کے بعد جب بنو نضیر نے عداوت کا اظہار کیا تو اُن کو ایک اور عہد نامہ لکھ کر دیا گیا جس میں سابقہ عہد نامہ کی تجدید کی گئی تھی ۔ یہ پہلے معاہدے سے الگ ایک جدا گانہ دستاویز تھی ۔
پہلے گزر چکا ہے کہ ابن اشرف معاہد تھا اور یہ کہ رسول کریم ﷺ نے یہ معاہدہ مدینہ آتے ہی تحریر کیا تھا ۔ یہ واقعہ بھی اس پر دلالت کرتا ہے ۔ اگر یہ معاہدہ نہ لکھا گیا ہوتا تو یہودی رسول کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر کعب کے قتل کا شکوہ نہ کرتے ۔ اگر وہ حربی ہوتے تو کعب کا قتل چنداں عجیب نہ ہوتا ۔ سب نے ذکر کیا کہ کعب کے قتل کا واقعہ بدر کے بعد پیش آیا ، اور رسول کریم ﷺ کا معاہدہ بدر سے پہلے کا واقعہ ہے ۔ جیسا کہ واقدی نے ذکر کیا ہے ابن اسحاق کہتے ہیں کہ غزوہ بدر اور غزوہ الفُرع کے درمیان جو بدر سے اگلے سال جمادی الاولٰی میں پیش آیا تھا غزوہ بنی قینقاع کا واقعہ ظہور پذیر ہوا ۔ واقدی بیان کرتے ہیں کہ بنو قینقاع پہلا قبیلہ تھا جو جنگ آزما ہوا اور عہد شکنی کا ارتکاب کیا ۔
چوتھی حدیث | حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
" جس نے نبی کو گالی دی اسے قتل کیا جائے اور جس نے آپ کے صحابہ کو گالی دی اسے کوڑے مارے جائیں ۔"
اس کو ابو محمد الخلال اور ابو القاسم اللالکائی نے روایت کیا ہے ۔ اس کو ابو ذرّ الھروی نے بھی نقل کیا ہے ۔ اس کے الفاظ یہ ہیں کہ :
" جو کسی نبی کو قتل کرے اسے قتل کر دو اور جو میرے صحابہ کو گالی دے اُسے کوڑے مارو ۔"
اس حدیث کو عبد العزیز بن الحسن بن زیدویہ نے بطریق عبد اللہ بن موسیٰ بن جعفر از علی بن موسیٰ الرضا از والد ماجد خود از محمد بن علی ابن الحسین از والد خود از الحسین بن علی از والد خود
روایت کیا ہے ۔ مگر اس حدیث کے بارے میں دل مطمئن نہیں ہے ۔ اس لیے کہ اس اسنادِ ضعیف پر بڑے عجیب و غریب سوال پیدا ہو گئے ہیں اور جو شخص اس کو اہل بیت سے روایت کرتا ہے وہ ضعیف ہے ، اگر اس کی صحت ثابت ہو جائے تو یہ حدیث اس امر کی دلیل ہے کہ نبی کو گالی دینے والے کا قتل واجب ہے ، بظاہر معلوم ہوتا ہے کہ اسے توبہ کا مطالبہ کیے بغیر قتل کیا جائے ۔ نیز یہ کہ قتل اس کے لیے حدِ شرعی ہے ۔
پانچویں حدیث
عبداللہ بن قدامہ نے ابو برزہ سے روایت کیا ہے کہ ایک آدمی نے حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کو بُرا بھلا کہا، میں نے کہا : کیا میں اسے قتل کر دوں ؟ انہوں نے مجھے ڈانٹ کر کہا کہ رسول کریم کے بعد یہ حق کسی کو حاصل نہیں ۔ نسائی نے اس کو بطریق شعبہ از توبۃ العنبری نقل کیا ہے ۔ ابوبکر عبدالعزیز بن جعفر الفقیہ نے ابو برزہ سے روایت کی ہے کہ ایک شخص نے حضرت ابوبکرؓ کو گالیاں دیں، میں نے عرض کیا : اے خلیفہ رسول ! کیا میں اسے قتل نہ کر دوں ؟ آپ نے کہا تجھ پر افسوس ہو ! رسول کریمؐ کے بعد کسی کو یہ حق حاصل نہیں ۔
ابو داؤد نے سنن میں اس کو باسنادِ صحیح عبداللہ بن مطرف سے اور اس نے ابو برزہ سے روایت کیا ہے کہ میں حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس تھا۔ وہ کسی آدمی سے ناراض ہوئے تو اس نے آپ کی شان میں سخت سُست کہا ۔ میں نے کہا اجازت دیجیے کہ اس کی گردن اُڑا دوں ۔ کہا کہ میری اس بات سے ان کا غصہ جاتا رہا۔ آپ کھڑے ہوئے، پھر گھر کے اندر داخل ہوئے اور مجھے بلا کر پوچھا کہ ابھی ابھی تو نے کیا کہا تھا ؟ میں نے کہا کہ میں نے عرض کیا تھا مجھے اجازت دیجیے کہ اس کی گردن اُڑا دوں ۔ حضرت ابو بکرؓ بولے اگر میں حکم دیتا تو آپ ایسا کر دیتے ؟ میں نے کہا جی ہاں ! فرمایا " نہیں ، بخدا رسول کریمؐ کے بعد یہ حق کسی کو حاصل نہیں ہے " ۔
ابو داؤد نے مسائل میں کہا ہے کہ میں نے سنا ابو عبداللہ (امام احمد بن حنبل) سے ابوبکر کی روایت کے بارے میں دریافت کیا گیا تو انہوں کہا حضرت ابوبکرؓ کسی آدمی کو تین میں سے کسی ایک جرم میں قتل کر سکتے تھے۔ جیسا کہ رسول کریمؐ نے ارشاد فرمایا ہے ان میں
سے ایک تو ایمان کے بعد کفر کرنا ہے ۔ دوسرا شادی شدہ ہو کر زنا کرنا ۔ تیسرا کسی کو بلاوجہ قتل کرنا ۔ البتہ رسول کریمؐ کے لیے کسی کو قتل کرنا جائز ہے ۔
اس حدیث سے وجہ استدلال
علماء کی ایک جماعت نے اس حدیث سے استدلال کیا ہے کہ رسول کریمؐ کو گالی دینے والے کو قتل کرنا جائز ہے ۔ ان میں سے ابو داؤد ، اسماعیل بن اسحاق القاضی ، ابو بکر عبد العزیز ، قاضی ابو یعلیٰ اور دیگر علماء ۔ اس لیے ابو برزہ نے جب دیکھا کہ ایک شخص نے حضرت ابو بکرؓ کو گالیاں دیں ہیں تو اس نے حضرت ابو بکرؓ سے اس کو قتل کرنے کی اجازت مانگی ۔ اس نے بتایا تھا کہ اگر حضرت ابو بکرؓ اسے حکم کرتے تو وہ اسے قتل کر دیتا ۔ حضرت ابو بکرؓ نے کہا ”رسول کریمؐ کے بعد کسی کو یہ حق حاصل نہیں“۔
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ رسول کریمؐ کو یہ حق حاصل تھا کہ اپنے گالی دینے والے کو قتل کر سکتے تھے ۔ آپؐ کو یہ حق بھی حاصل تھا کہ اس شخص کو قتل کرنے کا حکم دیتے جس کے بارے میں لوگوں کو کچھ علم نہ ہو کہ اسے کیوں قتل کیا جا رہا ہے ۔ اس معاملہ میں لوگوں کو آپؐ کی اطاعت کرنا چاہیئے ۔ اس لیے کہ آپؐ اُسی بات کا حکم دیتے ہیں جس کا اللہ نے انہیں حکم دیا ہو ۔ آپؐ اللہ کی نافرمانی کا کبھی حکم نہیں دیتے جو آپؐ کی اطاعت کرتا ہے وہ اللہ کی اطاعت کرتا ہے ۔
اس حدیث سے مستفاد ہوتا ہے کہ رسول کریمؐ کی خصوصیات ہیں :
- (۱) آپؐ جس کو قتل کرنے کا حکم دیں اس میں آپؐ کی اطاعت کی جائے ۔
- (۲) جو شخص آپؐ کو گالیاں دے اور سخت سُست کہے آپؐ اس کو قتل کر سکتے ہیں ۔
آپؐ کو یہ دوسرا اختیار جو دیا گیا تھا وہ آپؐ کی وفات کے بعد بھی باقی ہے ۔ لہٰذا جو شخص آپؐ کو گالی دے یا آپؐ کی شان میں سخت الفاظ کہے اُسے قتل کرنا بلاشبہ جائز ہے ۔ بلکہ آپؐ کی وفات کے بعد یہ حکم مؤکد تر ہو جاتا ہے ۔ اس لیے کہ آپؐ کا تقدس اور حرمت وفات کے بعد اور زیادہ کامل ہو جاتی ہے ۔ اور آپؐ کی وفات کے بعد آپؐ کی ناموس و آبرو میں سہل انگاری اور تغافل شعاری ممکن نہیں ۔ اس حدیث سے مستفاد ہوتا ہے کہ آپؐ کو مطلقاً (قلت و کثرت کو ملحوظ رکھے بغیر) گالی دینے والے شخص کا قتل مباح ہو جاتا ہے ۔ علاوہ بریں اس حدیث کے عموم سے اس امر پر استدلال کیا جاتا ہے کہ ایسے شخص کو قتل کیا جائے ، قطع نظر اس سے کہ وہ مسلم ہو یا کافر ۔
چھٹی حدیث
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ خطمہ قبیلے کی ایک عورت نے رسول کریمؐ کی ہجو کہی ۔ آپؐ نے فرمایا ” اس عورت سے کون نمٹے گا؟ “ اس کی قوم سے ایک آدمی نے کہا ” یا رسول اللہ ! یہ کام میں انجام دوں گا “ چنانچہ اس نے جاکر اسے قتل کر دیا ۔ آپؐ نے فرمایا ” دو بکریاں اس میں سینگوں سے نہیں ٹکرائیں “ ۔ اصحابِ مغازی اور دیگر اہل علم نے اس واقعہ کو پوری تفصیل کے ساتھ بیان کیا ہے :
قبیلہ خطمہ کی ایک عورت کا واقعہ
جو رسول کریمؐ کی ہجو گوئی کرتی تھی
واقدی نے بطریق عبداللہ بن حارث بن فضیل از والد خود روایت کیا ہے کہ عصماء بنت مروان، بنی امیہ بن زید کے خاندان سے تھی اور یزید بن زید بن حصن الخطمی کی بیوی تھی ۔ یہ رسول کریمؐ کو ایذا دیا کرتی تھی، اسلام میں عیب نکالتی اور آپؐ کے خلاف لوگوں کو بھڑکایا کرتی تھی ۔ عُمَیر بن عدی الخطمی کو جب اس کی باتوں اور اشتعال بازی کا علم ہوا تو اس نے کہا اے اللہ ! میں تیرے حضور نذر مانتا ہوں کہ اگر تو نے رسول کریمؐ کو (بخیر و عافیت) مدینہ لوٹا دیا تو میں اس عورت کو قتل کر دوں گا ۔ رسول کریمؐ اس وقت بدر میں تھے ۔ جب آپ بدر سے واپس آئے تو عُمیر بن عدی آدھی رات کے وقت اس عورت کے گھر میں داخل ہوئے ۔ اس کے ارد گرد اس کے بچے سوئے ہوئے تھے ۔ ایک بچہ اس کے سینے کے ساتھ چمٹا ہوا تھا اور وہ اسے دودھ پلا رہی تھی ۔ عمیر نے اپنے ہاتھ سے عورت کو ٹٹولا تو معلوم ہوا کہ وہ بچے کو دودھ پلا رہی ہے ۔ عمیر نے بچے کو الگ کیا ، پھر اپنی تلوار کو اس کے سینے پر رکھا اور اُس کی پشت کے پار کر دیا ۔ پھر صبح کی نماز رسولِ کریمؐ کے ساتھ ادا کی ۔ جب آپؐ نماز سے فارغ ہوئے تو عمیر کی طرف دیکھ کر فرمایا : ” کیا تو نے بنت مروان کو قتل کر دیا ؟“ عرض کیا جی ہاں ! میرا باپ آپؐ پر قربان ہو، عمیر اس بات سے ڈرا کہ اس نے رسول کریمؐ کی مرضی کے خلاف کام کیا ہو۔ اس نے کہا یا رسول اللہ ! کیا اس ضمن میں مجھ پر کوئی چیز واجب ہے ؟ فرمایا ” نہیں دو بکریاں اس میں سینگوں سے نہیں ٹکرائیں “۔ یہ فقرہ پہلی مرتبہ رسولِ کریمؐ سے سنا گیا۔ عمیر کہتے ہیں کہ رسول کریمؐ نے ارد گرد دیکھا اور فرمایا ” اگر تم ایسا شخص دیکھنا چاہو جس نے اللہ اور اس کے رسولؐ
کی غیبی مدد کی ہے تو عمیر بن عدی کو دیکھ ۔"
حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا " اس اندھے کو دیکھو جس نے رات اللہ کی اطاعت میں گزاری ہے " آپؐ نے فرمایا " اسے اندھا نہ کہو وہ بینا ہے "۔ جب عمیر رسول کریمؐ کے یہاں سے لوٹ کر آیا تو دیکھا کہ اس عورت کے بیٹے لوگوں کی ایک جماعت کے ساتھ اسے دفن کر رہے ہیں ۔ جب سامنے آئے دیکھا تو وہ لوگ عمیر کی طرف آئے اور کہا اے عمیر ! اسے تو نے قتل کیا ہے ؟ عمیر نے کہا ہاں ! تم نے جو کرنا کر لو اور مجھے ڈھیل نہ دو ۔ مجھے اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اگر تم سب وہ بات کہو جو وہ کہا کرتی تھی تو میں اپنی تلوار سے تم پر وار کروں گا یہاں تک کہ میں مارا جاؤں یا تمہیں قتل کر دوں ۔ اس دن سے اسلام بنی خطمہ میں پھیل گیا قبل ازیں ان میں سے کچھ آدمی ڈر کے مارے اپنے اسلام لانے کو پوشیدہ رکھتے تھے ۔
یہاں واقدی نے بروایت عبداللہ بن حارث حضرت حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ کے وہ اشعار نقل کیے ہیں جو انہوں نے عمیر بن عدی کی مدح میں کہے ہیں ۔ عبداللہ بن حارث اپنے باپ سے نقل کرتے ہیں کہ عورت کے قتل کا واقعہ اس رات پیش آیا جب رمضان کی پانچ راتیں ابھی باقی تھیں اور رسول کریمؐ غزوۂ بدر سے لوٹ کر آئے تھے ۔ ابو احمد عسکری نے اس واقعہ کو اس سے زیادہ اختصار کے ساتھ نقل کیا ہے ۔ پھر کہا ہے کہ یہ عورت رسول کریمؐ کی ہجو کہتی اور ایذا دیا کرتی تھی ۔ رسول کریمؐ نے بکری تخصیص اس لیے فرمائی کہ ایک بکری دوسری بکری کو منحوس سمجھ کر اس سے الگ ہو جاتی ہے اور مینڈھوں کی طرح ایک دوسری کو سینگ نہیں مارتیں ۔ محمد بن سعد نے طبقات میں واقعہ کو اختصار کے ساتھ ذکر کیا ہے ۔
ابو عبید کتاب الاموال میں فرماتے ہیں :
ایک یہودی عورت عصماء کا واقعہ بھی اسی قسم کا ہے ۔ رسول کریمؐ کو گالیاں دینے کی وجہ سے اسے قتل کیا گیا ۔ یہ عورت وہ نہیں ہے جس کو اس کے نابینا آقا نے قتل کیا تھا اور نہ ہی وہ یہودی عورت ہے جسے قتل کیا گیا تھا ۔ اس لیے کہ یہ عورت قبیلہ بنی اُمیہ بن زید سے تعلق
رکھتی تھی جو انصار کی ایک شاخ ہے ۔ اس کا شوہر قبیلہ بنی خطمہ سے تھا ۔ اسی لیے حضرت ابن عباسؓ کی روایت میں اس عورت کو بنی خطمہ کی طرف منسوب کیا گیا ہے ۔ اس کا قاتل اس کا شوہر نہیں بلکہ ایک اور شخص تھا ۔ اس کے چھوٹی بڑی عمر کے بیٹے بھی تھے ، البتہ قاتل اس کے شوہر کے خاندان سے تعلق رکھتا تھا ۔ جیسا کہ حدیث میں مذکور ہے“ ۔
محمد بن اسحاق رقمطراز ہیں : ”مصعب بن عمیرؓ نے اسعد بن زرارہ کے یہاں قیام کیا اور لوگوں کو دعوتِ اسلام دینے لگے ۔ حتیٰ کہ انصار کے خاندانوں میں سے کوئی خاندان ایسا نہ تھا جس میں مسلمان مرد و عورت نہ ہوں ماسوا خاندانِ بنو اُمیّہ بن زید ، خطمہ ، وائل ، واقف اور اَوسُ اللہ یعنی اوس بن حارثہ کے ۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ ابوقیس نامی شخص جس کے اشعار وہ سنتے اور اُس کی تعظیم کرتے تھے“۔
واقدی پر نقد و جرح
ابن اسحاق کا یہ بیان واقدی کے اس بیان کی تصدیق کرتا ہے کہ بنو خطمہ میں اسلام کا ظہور تاخیر سے ہوا ۔ حضرت حسّان سے جو اشعار نقل کیے گئے ہیں وہ بھی اس سے ہم آہنگ ہیں ۔ ہم نے یہ واقعہ بروایتِ اہل المغازی ذکر کیا ہے ، حالانکہ واقدی ضعیف ہے ۔ اس لیے کہ یہ واقعہ اہلِ سیرت کے یہاں مشہور ہے ۔ اس میں بھی کوئی اختلاف نہیں کہ واقدی مغازی کے احوال و امور کی تفصیلات کو سب سے بہتر جانتے ہیں ۔ امام شافعی ، احمد اور دیگر محدثین ، سیرت کا علم ان کی کتب سے حاصل کرتے تھے ۔ البتہ سیرت کے باب میں روایات باہم مخلوط ہو جاتی ہیں ۔ بظاہر یوں نظر آتا ہے کہ واقدی نے پورا واقعہ اپنے شیوخ سے سُنا ہے ، حالانکہ انہوں نے ہر راوی سے واقعہ کا ایک حصہ سنا ہے ۔ پھر اس کو محفوظ کر دیا ، اور راویوں کے بیانات میں امتیاز روا نہیں رکھا ۔
پھر اس کے ساتھ یہ چیز بھی شامل ہوتی ہے کہ واقدی مُرسل اور مقطوع روایات سے بھی اخذ کرتے ہیں ۔ پھر وہ اس حد تک اس میں کثرت کرتے ہیں کہ اس کی وجہ سے ان کی روایت کو مبالغہ اور عدمِ ضبط پر محمول کیا جاتا ہے اور اُن کی منفرد روایات سے احتجاج ممکن نہیں رہتا ۔ جہاں تک ان کی روایت سے استشہاد اور دوسری روایات کو تائید و
تقویت دینے کا تعلق ہے ، اس میں نزاع و خلاف نہیں جس میں واقدی قاتل و مقتول کا نام اور وا کہ واقدی اور اس کے نظائر و امثال اُن لوگو باوجود بلند ہو گیا ہے ۔ مزید براں ہم نے گالی د اساس پر نہیں کیا ۔ بلکہ اس کا ذکر صرف ت کے لیے تو واقدی سے کم درجہ کے لوگوں کی
عصماء خطمیہ کے واقعہ سے ا
اس عورت کو محض اذیت رسانی اور ہجو گو ابن عباسؓ کے قول سے نمایاں ہوتی ہے کہ نب آپؐ نے فرمایا ”اس عورت سے کون نمٹے گا گیا ۔ اسی طرح دوسری روایت میں ہے کہ ج تو کہا ، ”اے اللہ ! میں تیرے حضور نذر مان آئے تو میں اس عورت کو قتل کردوں گا کہا ، ”کیا تُو نے اسے قتل کیا ہے ؟“ اس اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری تو میں تمہیں اپنی تلوار سے مارتا یا خود یہ ایک تمہیدی بات تھی ۔ دوسری خلاف جنگ لڑنے پر نہیں اکسایا تھا ، تا نے صرف اس بات پر لوگوں کو اُبھارا تھ نے آپؐ اور آپؐ کے معتقدین کی مذمت اس دین میں نہ آئے اور جو داخل ہوچکے ہ اُسلوب و انداز ہوتا ہے ۔
تقویت دینے کا تعلق ہے۔ اس میں نزاع و خلاف کی کوئی گنجائش نہیں۔ خصوصاً اس مکمل واقعہ میں جس میں واقدی قاتل و مقتول کا نام اور واقعہ کی صورت حال تک بیان کر دیتا ہے۔ اس لیے کہ واقدی اور اس کے نظائر و امثال اُن لوگوں سے بہتر ہیں جن کا نام کاذب و وضاع ہونے کے باوجود بلند ہو گیا ہے۔ مزید برآں ہم نے گالی دینے والے کے قتل کا اثبات محض اس حدیث کی اساس پر نہیں کیا۔ بلکہ اس کا ذکر صرف توکید و تقویت کے لیے کیا گیا ہے۔ اور تائید و تقویت کے لیے تو واقدی سے کم درجہ کے لوگوں کی روایات تک کو بھی نقل کیا جاتا ہے۔
عصماء خطمیہ کے واقعہ سے استدلال کیسے کیا جاتا ہے
وجہ استدلال یہ ہے کہ
اس عورت کو محض اذیت رسانی اور ہجو گوئی کی وجہ سے قتل کیا گیا۔ اور یہ بات حضرت ابن عباسؓ کے قول سے نمایاں ہوتی ہے کہ قبیلہ خطمہ کی ایک عورت نے رسول کریمؐ کی توہین کی تو آپؐ نے فرمایا "اس عورت سے کون نمٹے گا؟" اس سے معلوم ہوا کہ اُسے ہجو گوئی کی وجہ سے قتل کیا گیا۔ اسی طرح دوسری روایت میں ہے کہ جب عمیر کو اس کے اقوال اور اشتعال بازی کا پتہ چلا تو کہا: اے اللہ! میں تیرے حضور نذر مانتا ہوں کہ اگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ لوٹ آئے تو میں اس عورت کو قتل کر دوں گا۔ حدیث میں آیا ہے کہ جب عمیر کو اس کی قوم نے کہا "کیا تو نے اسے قتل کیا ہے؟" اس نے کہا جی ہاں! تم جو چاہو کر لو اور مجھے ڈھیل مت دو۔ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اگر تم سب وہ بات کہتے جو وہ کہا کرتی تھی تو میں تمہیں اپنی تلوار سے مارتا یا خود مر جاتا۔"
یہ ایک تمہیدی بات تھی۔ دوسری یہ ہے کہ اس نے اپنے اشعار میں رسول کریمؐ کے خلاف جنگ لڑنے پر نہیں اکسایا تھا۔ تاکہ یہ کہا جاسکے کہ "لڑائی پر اکسانا بھی جنگ ہوتا ہے" اس نے صرف اس بات پر لوگوں کو ابھارا تھا کہ آپؐ کے دین کو قتل کر دیا جائے، علاوہ بریں اس نے آپؐ اور آپؐ کے معتقدین کی مذمت بھی کی تھی۔ اس کا انتہائی مقصد یہ تھا کہ کوئی نیا شخص اس دین میں نہ آئے اور جو داخل ہوچکے ہیں وہ اسے چھوڑ کر چلے جائیں۔ ہر گالی دینے والے کا یہی اسلوب و انداز ہوتا ہے۔
اس کی مزید توضیح اس سے ہوتی ہے کہ اس عورت نے مدینہ میں آپ کی اس وقت ہجو کہی جب مدینہ کے اکثر قبائل حلقہ بگوش اسلام ہوچکے تھے اور مسلمانوں کی عزت کفار سے زیادہ تھی۔ ظاہر ہے کہ گالی دینے والا ایسے حال میں یہ نہیں چاہتا کہ رسولِ کریم اور صحابہ سے لڑا جائے۔ بخلاف ازیں اس کا مقصد وحید اُن کا اشتعال دلانا ہوتا ہے اور یہ کہ لوگ آپ کی پیروی نہ کریں۔
مزید براں وہ آپ کے خلاف لوگوں کو بھڑکانا نہیں چاہتی تھی۔ اس لیے کہ تمام علمائے سیر و مغازی اس بات پر متفق ہیں کہ اُوس و خزرج کے تمام قبائل میں کوئی شخص ایسا نہ تھا جو ہاتھ یا زبان سے رسولِ کریم سے لڑسکے۔ نہ ہی مدینہ کا کوئی شخص اس کے اظہار و اعلان پر قادر تھا۔ کافر یا منافق کا انتہائی مقصد یہ ہوتا ہے کہ لوگوں کو آپ کی پیروی سے ہٹا دے یا اس امر میں اُسے مدد دے کہ وہ مدینہ سے مکہ لوٹ جائے اور اس قسم کے کام جن کا مقصد لوگوں کو آپ سے دُور کرنا اور آپ کے ساتھ کفر کرنے کی ترغیب دلانا تھا۔ علاوہ بریں ہجو گوئی اگر ایک طرح کا قتال ہو تو اس کے ساتھ عہد کا ٹوٹ جانا واجب ہے اور اس کی وجہ سے ذمی کو قتل کیا جاسکتا ہے۔ ذمی جب جنگ کرے گا تو اس کا عہد ٹوٹ جائے گا۔ اس لیے کہ عہد قتال سے باز رہنے کا مقتضیٰ ہے تو جب اس نے ہاتھ یا زبان کے ساتھ جنگ کی تو اس نے ایسا کام کیا جس سے عہد ٹوٹ جاتا ہے اور جنگ کے بعد نقض عہد کا کوئی مقصد نہیں۔
جب یہ بات کھل کر سامنے آگئی اور رسولِ کریم کی سیرت و حیات کا علم رکھنے والے شخص کو اس کا علم ہے کہ رسولِ کریم جب مدینہ طیبہ تشریف لائے تو کسی سے جنگ نہ کی۔ بلکہ یہود تک سے صلح کا معاہدہ کرلیا۔ خصوصاً اوس اور خزرج کے تمام خاندانوں اور اُن کی شاخوں سے۔ آپ ہر لحاظ سے اُن کے ساتھ الفت و محبت کے مراسم استوار کرتے تھے۔ جب آپ مدینہ تشریف لائے تو وہاں لوگوں کے مختلف طبقات تھے ان میں اہل ایمان بھی تھے جن کی تعداد زیادہ تھی اور کچھ وہ تھے جو اپنے دین پر قائم رہے۔ آپ نہ خود کسی سے لڑتے تھے نہ کوئی آپ سے برسرِ پیکار تھا۔ رسولِ کریم بذاتِ خود اور آپ کے
قبیلہ کے اہل ایمان اور حلفاء امن پسند تھے جنگ جو نہ تھے۔ حتی کہ رسول کریم نے انصار کے حلیفوں کو اپنی حلف پر قائم رہنے دیا ۔
موسیٰ بن عقبہ ابن شہاب سے روایت کرتے ہیں کہ جب رسول کریم مدینہ طیبہ وارد ہوئے تو انصار کے ہر خاندان میں مسلمانوں کا ایک گروہ پایا جاتا تھا ۔ ماسوا بنی خطمہ، بنی واقف اور بنو وائل کے، کہ یہ لوگ سب کے بعد اسلام لائے ۔ مدینہ کے اردگرد انصار کے حلیف آباد تھے جن سے وہ لڑائی کی صورت میں مدد لیا کرتے تھے۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انصار کو حکم دیا کہ حلفاء کو ان کے حلف پر قائم رہنے دیا جائے اس لیے کہ رسول کریم اور اعدائے اسلام کے درمیان اس وقت جنگ کی حالت تھی ۔
واقدی کا قول بھی یہی ہے جیسا کہ اس نے بطریق یزید بن رومان وابن کعب بن مالک، حضرت جابر سے کعب بن اشرف کے واقعہ میں نقل کیا ہے ۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب مدینہ تشریف لائے تو اس میں ملے جلے لوگ رہتے تھے ۔ ان میں اہل اسلام بھی تھے جن کو دعوت اسلام نے ایک شیرازے میں منسلک کر دیا تھا ۔ ان میں قلعوں اور گڑھیوں والے لوگ بھی تھے ان میں اوس و خزرج کے حلفاء بھی تھے ۔ رسول کریم مدینہ آئے تو سب کے ساتھ مصالحت کرنی چاہی ۔ اس وقت حالت یہ تھی کہ ایک آدمی مسلمان ہوتا اور اُس کا باپ مشرک ہوتا ۔ اور ظاہر ہے کہ اُوس کے قبائل باہم ایک دوسرے کے حلیف تھے ۔
چونکہ رسول کریم نے اُن کو ان کے حال پر رہنے دیا ۔ اور یہ عورت بھی معاہدین میں سے تھی ۔ اُن میں ایسے لوگ بھی تھے جو اسلام کا اظہار کرتے اور اندر سے کافر تھے ۔ اپنی زبان سے وہ بات کہتے جو ان کے دل میں نہ ہوتی تھی ۔ اسلام اور ایمان ایک ایک کرکے انصار کی تمام شاخوں میں پھیلتا جا رہا تھا۔ حتیٰ کہ اُن میں کفر کا اظہار کرنے والا کوئی بھی باقی نہ رہا ۔ بلکہ وہ دو فرقوں میں بٹ گئے، ایک فرقہ اہل ایمان کا تھا اور دوسرا منافقین کا۔ ان میں سے جو اسلام نہیں لائے تھے انہوں نے یہود کی طرح صلح کا معاہدہ کر لیا تھا یا یوں کہیے کہ ان کی حالت یہود سے بایں طور بہتر تھی کہ اُن میں اپنی قوم کے لیے عصبیت پائی جاتی تھی اور وہ ان کی مرضی کے مطابق چلنے کے خواہاں تھے ۔ وہ اپنی جماعت سے باہر نہیں نکلنا چاہتے تھے ، رسول کریم
ان سے خوش اخلاقی کا معاملہ کرتے اور ان کی ایذا رسانی کو گوارا کرتے تھے ۔ ان کے ساتھ آپ کا خوش اخلاقی کا برتاؤ یہود سے زیادہ تھا ۔ اس لیے کہ آپ کو امید تھی کہ کسی روز یہ اپنی قوم کی طرح مشرف باسلام ہو جائیں گے ۔ آپ کو یہ اندیشہ دامن گیر تھا کہ اگر ان سے سختی روا رکھی تو ان میں سے جن لوگوں نے برملا اسلام کا اظہار کیا تھا ان کے دل بُرے ہونگے ۔ ایسا کرنے میں آپ مندرجہ ذیل آیت کی پیروی فرماتے تھے :-
"تمہیں تمہاری مال و جان کے بارے میں آزمایا جائے گا ۔ اور تم ان لوگوں سے جن کو تم سے پہلے کتاب دی گئی ہے اور مشرکین سے بڑی دکھ دینے والی باتیں سنو گے ، اور اگر تم صبر کرو اور ڈرتے رہو تو یہ بڑی بات ہے"
(آل عمران - ۱۸۶)
بایں ہمہ رسول کریم نے لوگوں کو اُس عورت کے قتل پر آمادہ کیا جو ہجو کیا کرتی تھی اور اس کے قاتل کے بارے میں فرمایا:
" اگر تم ایسے شخص کو دیکھنا چاہتے ہو جس نے اللہ اور اس کے رسول کو غیبی مدد دی ہے تو اس شخص کو دیکھ لو"
اس سے ثابت ہوا کہ رسول کریم کی ہجو ازراہ مذمت کفر کے بغیر بھی قتل کی موجب ہے اور گالی دینے والا واجب القتل ہے ، وہ حلیف اور معاہد کیوں نہ ہو۔ جب کہ ایسی حالت میں ان لوگوں کا خون محفوظ ہوتا ہے جو گالی نہ دیتے ہوں، اگرچہ معاہدہ بھی نہ کیا ہو ۔
عام عورت کو قتل کرنا جائز نہیں الا یہ کہ وہ جنگ میں عملی حصہ لیتی ہو ۔ اس لیے کہ ایک جنگ میں رسول کریم نے ایک عورت دیکھی جسے قتل کیا گیا تھا ، نیز فرمایا "یہ جنگ تو نہیں لڑتی تھی" پھر آپ نے عورتوں اور بچوں کو قتل کرنے سے منع فرمایا ۔ مگر آپ نے اس عورت کو قتل کرنے کا حکم دیا ، حالانکہ وہ اپنے ہاتھ سے لڑتی نہ تھی۔ اگر گالی دینا قتل کا موجب نہ ہوتا تو اس کا قتل کرنا روا نہ تھا ۔ اس لیے کہ محض کفر کی بنا پر عورت کو قتل کرنا جائز نہیں ۔ ہمیں نہیں معلوم کہ کسی کافرہ عورت کو جو جنگ میں حصہ نہ لیتی ہو کسی وقت بھی قتل کیا گیا ۔ بلکہ قرآن کریم اور اس کی ترتیب نزول اس کی عدم اباحت پر دلالت
کرتی ہے اس لیے کہ قتال کے بارے میں پہلی آیت یہ نازل ہوئی :-
"جن لوگوں سے لڑا جاتا تھا اب اُن کو قتال کی اجازت دی گئی ہے اس لیے کہ وہ مظلوم ہیں اور اللہ ان کی مدد پر قادر ہے وہ لوگ جن کو اُن کے گھروں سے نکالا گیا "
(الحج - ۳۹ - ۴۰)
اپنا دفاع کرنے کے لیے مومنین کو قتال کی اجازت دی گئی ، یہ اُن لوگوں کو سزا دی گئی تھی جنہوں نے اُن کو اُن کے گھروں سے نکالا ، اللہ کی توحید و عبادت سے باز رکھا ۔ ظاہر ہے کہ ان امور میں عورتوں کا کچھ حصہ نہیں ہے ۔
پھر مسلمانوں پر جنگ کو مطلقاً فرض ٹھہرایا گیا ۔ اس کی مزید توضیح اس آیت میں فرمائی :
" وَقَاتِلُوْا فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ الَّذِيْنَ (اور اللہ کی راہ میں اُن لوگوں سے لڑو جو يُقَاتِلُوْنَكُمْ " (البقرة - ۱۹۰) تم سے لڑتے ہیں)
اس آیت سے معلوم ہوا کہ جو لڑتا نہ ہو اس سے جنگ و قتال جائز نہیں ۔ ظاہر ہے کہ خواتین اہل قتال میں شامل نہیں ہیں ۔ جب اس عورت کو قتل کرنے کا حکم دیا گیا تو یا تو کہا جائے گا کہ اس کی ہجو گوئی قتال کے ہم معنی ہے ۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ قولی ہجو گوئی قتال کی مترادف ہے ، لہٰذا اس سے عہد ٹوٹ جاتا ہے اور خون مباح ہو جاتا ہے یا کہا جائے گا کہ ہجو گوئی قتال نہیں ہے اور ظاہر تر بات بھی یہی ہے ۔ جیسا کہ ہم قبل ازیں بیان کرچکے ہیں کہ اس میں جنگ و قتال کی اشتعال بازی نہ تھی اور نہ ہی وہ عورت جنگ کے حق میں تھی ۔ پس ثابت ہوا کہ گالی دینا مسلمانوں کے لیے ایک ضرر رسان جرم ہے ، مگر یہ قتال نہیں جو قتل کا موجب ہوتا ہے ، جیسے اُن کے حق میں راہزنی اور اس قسم کے کام ۔ اس سے معلوم ہوا کہ گالی دینا بوجوہ قتل کا موجب ہے ۔
ایسے وجوہ گالی دینے والے کے قتل کے موجب ہیں
پہلی وجہ :
پہلی وجہ یہ ہے
کہ گالی دینا قتل کا موجب نہ ہوتا تو اس عورت کو قتل کرنا جائز نہ تھا ۔ اگرچہ وہ عورت
حربی ہو ۔ اس لیے کہ اگر حربی عورت ہاتھ اور زبان سے لڑتی نہ ہو تو اس کو قتل کرنا جائز نہیں، مگر اس جرم کی بنا پر جو قتل کی موجب ہو ۔ اس بات کو شرعی اصولوں کے خلاف قرار دیا گیا ہے خصوصاً ان لوگوں کے نزدیک جو اس کے قتل کرنے کو اس طرح سمجھتے ہیں جس طرح خنزیر اور کو قتل کیا جاتا ہے۔
دوسری وجہ : دوسری وجہ یہ ہے کہ گالی دینے والی عورت معاہدین میں سے تھی اور اس وقت کے عام معاہدین سے بہتر تھی ۔ اگر گالی دینے سے اس کا خون مباح نہ ہوتا تو اسے قتل نہ کیا جاتا اور اس کو قتل کرنا جائز بھی نہ ہوتا ۔ اسی لیے اس کا قاتل اس امر سے خائف تھا کہ کہیں فتنہ رونما نہ ہو۔ یہاں تک کہ رسول کریم نے فرمایا : اس میں دو بکریاں سینگوں سے نہیں ٹکرائیں گی “۔ حالانکہ دو بکریوں کی ملاقات کو منحوس سمجھا جاتا ہے۔ اس کلام سے رسول کریمؐ کا مقصود یہ تھا کہ اس سے فتنہ پروری کا ظہور نہیں ہوگا، خواہ وہ کم ہو یا زیادہ ۔ یہ واقعہ اہلِ ایمان پر اللہ کی رحمت اور اس کے رسول اور دین کے لیے نصرت و حمایت کا موجب ہوگا۔
تیسری وجہ : حدیث میں اس بات کی صراحت ہے کہ اس عورت کو ہجو گوئی کی وجہ سے قتل کیا گیا۔ باقی قوم کو اس لیے چھوڑ دیا گیا کہ انہوں نے ہجو نہیں کی تھی۔ اگر وہ ہجو کے مرتکب ہوتے تو ان کے ساتھ بھی وہی سلوک کیا جاتا جو اس عورت کے ساتھ کیا گیا تھا اس سے واضح ہوا کہ ہجو گوئی بذات خود قتل کی موجب ہے ۔ قطع نظر اس سے کہ ہجو گو حربی ہو یا مسلم یا معاہد ۔ حتیٰ کہ اُس کی بناء پر ایسے شخص کو بھی قتل کیا جاتا ہے جس کو ہجو کے بغیر قتل نہیں کیا جاسکتا تھا۔ اور اگر حربی مقاتل ہو تو اُس کو دوسری وجہ سے بھی قتل کیا جاسکتا ہے۔ مسلم کے بارے میں تو یہ ظاہر ہے ۔ معاہد میں اس لیے کہ جب ہجو گوئی سے عورت کا خون مباح ہو جاتا ہے تو گویا وہ قتال کی مانند بلکہ اس سے بھی بدتر ہے ۔
چوتھی وجہ : مسلمانوں کو قبل از ہجرت اور آغاز ہجرت میں جنگ کا آغاز کرنے سے منع کیا گیا تھا۔ اور کفار کو قتل کرنا اس وقت حرام تھا ۔ بلکہ وہ کسی کو بلاوجہ قتل کرنے کے مترادف تھا ۔ قرآن میں فرمایا :
”بھلا تم نے بنی اسرائیل کی ایک جماعت کو نہیں دیکھا جس نے موسیٰ کے بعد اپنے
پیغمبر سے کہا کہ آپ ہمارے راہ میں جہاد کریں ۔ پیغمبر نے کہ لڑنے سے پہلو تہی کرو جب کہ ہم وطن سے نکالے اُن کو جہاد کا حکم دیا گیا تو چند خوب واقف ہے ۔“
”جن مسلمانوں سے بلاوجہ لڑیں ۔ کیوں کہ ان پر ظلم کی مدد پر قادر ہے“ ۔
سیرت دان اہل علم اس بـ ہجرت سے پہلے اور اس کے آغاز انصار نے بیعت عقبہ کی تھی اور جنگ کی اجازت نہیں دی گئی ۔ ر نہیں دیا گیا تھا ۔ مثلاً حضرت نوح عـ کے علاوہ دیگر انبیاء میں سے اکثر رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سرداروں میں سے کسی کو قتـ آیات اس وقت نازل ہوئیں مسلمانوں کو ان کے گھروں سے نکـ مدینہ کے کافروں کو قتل کرنے کی ا رہنا اس بات پر دلالت کرتا تـ واجب ۔ بلکہ اس کا وجوب ظا رہنا آپ پر واجب تھا اور جو چیز
پیغمبر سے کہا کہ آپ ہمارے لیے ایک بادشاہ مقرر کر دیں تاکہ ہم خدا کی راہ میں جہاد کریں۔ پیغمبر نے کہا کہ اگر تم کو جہاد کا حکم دیا جائے تو عجب نہیں کہ لڑنے سے پہلو تہی کرو ۔ وہ کہنے لگے کہ ہم راہِ خدا میں کیوں نہ لڑیں گے جب کہ ہم وطن سے نکالے گئے اور بال بچوں سے جُدا کر دیے گئے۔ لیکن جب اُن کو جہاد کا حکم دیا گیا تو چند آدمیوں کے سوا سب پھر گئے اور خدا ظالموں سے خوب واقف ہے ۔
(البقرة - ۲۴۶)
”جن مسلمانوں سے بلاوجہ لڑائی کی جاتی ہے اُن کو اجازت ہے کہ وہ بھی لڑیں ۔ کیوں کہ ان پر ظلم ہو رہا ہے اور خدا ان کی مدد کرے گا وہ یقیناً ان کی مدد پر قادر ہے“۔
(الحج - ۳۹)
سیرت دان اہلِ علم اس امر سے بخوبی آگاہ ہیں اور کسی سے یہ بات پوشیدہ نہیں کہ ہجرت سے پہلے اور اس کے آغاز میں قتل و قتال کا آغاز کرنے سے منع کیا گیا تھا ۔ جب انصار نے بیعتِ عقبہ کی تھی اور اہل مِنیٰ پر حملہ کی اجازت طلب کی تو آپ نے فرمایا ”مجھے جنگ کی اجازت نہیں دی گئی ۔ رسول کریمؐ اس وقت ان انبیا کی طرح تھے جن کو جنگ کا حکم نہیں دیا گیا تھا مثلاً حضرت نوح ، ہود، صالح ، ابراہیم اور عیسیٰ علیہم السلام ۔ بلکہ بنی اسرائیل کے علاوہ دیگر انبیاء میں سے اکثر کو جنگ کی اجازت نہیں دی گئی تھی ۔
رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ کے رہنے والوں میں سے جنگ نہ کی اور نہ ان کے سرداروں میں سے کسی کو قتل کرنے کا حکم دیا جو اُن کو کفر پر جمع کیے ہوئے تھے۔ جو آیات اس وقت نازل ہوئیں ان میں صرف اُن لوگوں سے لڑنے کا حکم دیا گیا ہے جنہوں نے مسلمانوں کو ان کے گھروں سے نکالا اور ان سے لڑے ۔ اس کا ظاہری مفہوم یہ ہے کہ اس وقت مدینہ کے کافروں کو قتل کرنے کی اجازت نہ تھی۔ رسول کریمؐ کا لڑائی سے ہمیشہ کے لیے رُکے رہنا اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ قتال سے باز رہنا اس وقت آپ کے لیے مستحب تھا یا واجب ۔ بلکہ اس کا وجوب ظاہر تر ہے ، جیسا کہ ہم نے ذکر کیا ۔ اس لیے لڑائی سے رُکے رہنا آپ پر واجب تھا اور جو چیز اس حکم کو تبدیل کرتی ہے وہ اہلِ مدینہ میں موجود نہ تھی ،
لہٰذا بموجب سابق آپ کے فعل میں باقی رہے گا ۔
موسیٰ بن عقبہ زہری سے روایت کرتے ہیں کہ سورۃ التوبۃ کے نزول سے قبل اپنے اعداء کے ساتھ رسول کریم کا برتاؤ یہ تھا کہ جو آپ سے لڑتا آپ اس کے خلاف نبرد آزما ہوتے اور جو شخص اپنا ہاتھ روک کر آپ سے معاہدہ کر لیتا آپ بھی اس سے رک جاتے ۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : "پھر اگر وہ تم سے جنگ کرنے سے کنارہ کشی کریں اور لڑیں نہیں اور تمہاری طرف صلح کا پیغام بھیجیں تو خدا نے تمہارے لیے ان پر زبردستی کرنے کی کوئی سبیل مقرر نہیں کی"
(النساء ۔ ۹۰)
اور قرآن کا ایک حصہ دوسرے کو منسوخ کرتا ہے ۔ جب کوئی آیت نازل ہوتی ہے پہلی آیت منسوخ ہو جاتی اور نئی نازل شدہ آیت پر عمل کیا جاتا ۔ پہلی آیت منتہائے عمل کو پہنچ جاتی ۔ قبل ازیں اس پر جو عمل کیا جا چکا ہوتا اس کو اللہ کی اطاعت پر محمول کیا جاتا تھا یہاں تک کہ سورۃ التوبۃ نازل ہوئی ۔ جب ہجو گوئی کرنے والی عورت کو قتل کا حکم دیا گیا ۔ اور اس کے کافر قبیلہ کو قتل کرنے کا حکم نہ دیا گیا تو اس سے معلوم ہوا کہ گالی دینا ہی اُس کے قتل کا موجب ہے ۔ اگر چہ اس موقع پر عام قتال کی اجازت نہ تھی، بشرطیکہ قتال کا کوئی موجب نہ ہو ۔ مثلاً معاہدہ کرنا ، عورت ہونا ، ملک کافر کو قتل کرنے کی ممانعت یا اس کی عدم اباحت ۔
یہ وجہ نہایت معقول اور ژرف نگاہی کی آئینہ دار ہے ۔ کیوں کہ اصل بات یہ ہے کہ آدمی کا خون ۔۔۔ محترم ہوتا ہے ۔ اس کو صرف جائز وجہ کی بنا پر قتل کیا جا سکتا ہے ۔ کفر کی بنا پر قتل کرنا ایسا امر نہیں جس پر تمام شرائع کا اتفاق ہو ۔ اور نہ ہی ایک شرع کے تمام اوقات میں اس پر عمل رہا ہے ۔ مثلاً قصاص میں قتل کرنا کہ یہ ایسی بات ہے جس پر جملہ شرائع اور عقول متفق ہوتی ہیں ۔ آغاز اسلام میں کافر کا خون عصمت اصلیہ کی وجہ سے معصوم تھا، اور اس لیے بھی کہ اہل ایمان کو اللہ نے اس کے قتل کرنے سے روکا ہے ۔ ان لوگوں کا خون اس قبطی کے خون کی طرح تھا جس کو موسیٰ علیہ السلام نے قتل کر دیا تھا یا اس کافر
کی طرح جس کو ہمارے عصر و ع موسیٰ علیہ السلام نے دنیا و آخرت یا خطاء محض کے قبیل سے تھا ا پس ہمارے نبی اکرم صلی دیا گیا تھا اس کا ظاہری تقاضا طرح تھی ۔ جب ان میں سے ک وہ حربی کافر نہ تھے جن سے ج عورت کی حالت بھی اسی طرح ت ہم نے عہد لیا ہے وہ گالیاں ت کی ۔ جب کہ غیر ذمی سے ہم نے
ابو عفک یہودی کا وا
مُحَمَّد بن اسماعیل بن زید بن ثا بنو عمرو بن عوف میں ایک شیخ عمر ایک سو بیس سال تھی کرتا تھا ۔ اس نے اسلام قبو تعالیٰ نے آپ کو فتح و کامرانی رسول کریمؐ اور صحابہ کی مذمت سالم بن عمیر نے نذر ما باؤں گا ۔ سالم غفلت کی تلا قبیلہ بنی عمرو بن عوف کے مح جگر پر رکھ دی ۔ دشمن خد آئے ۔ پہلے اسے اس کے گ
کی طرح جس کو ہمارے عصر و عہد میں دعوتِ اسلام نہ پہنچی ہو یا اس سے اعلیٰ نہ پائے ۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے دنیا و آخرت میں اس کو گناہ تصور کیا تھا۔ حالانکہ قبطی کا قتل خطاء شبہ عمد یا خطاء محض کے قبیل سے تھا اور خالص عُمد نہ تھا ۔
پس ہمارے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ظاہری سیرت اور جس بات کا آپؐ کو اذن دیا گیا تھا اس کا ظاہری تقاضا یہ ہے کہ اُس وقت مدینہ کے غیر مسلموں کی حالت بالکل اسی طرح تھی ۔ جب ان میں سے ہجو گوئی کرنے والی عورت کو قتل کیا گیا اور آپ کے نزدیک وہ حربی کافر نہ تھے جن سے جنگ کرنا مطلقاً روا ہو تو اہلِ ذمہ میں سے ہجو گوئی کرنے والی عورت کی حالت بھی اسی طرح ہو گی بلکہ اس سے اعلیٰ واحسن ۔ اس لیے کہ ذمی عورت سے ہم نے عہد لیا ہے وہ گالیاں نہیں دے گی اور خاکساری اور انکساری کے عالم میں رہے گی۔ جب کہ غیر ذمی سے ہم نے کوئی عہد نہیں لیا ۔
ابو عفک یہودی کا واقعہ
ساتویں حدیث : واقدی نے بطریق شعبہ بن محمد از عمارہ بن غزیہ و از ابو مصعب اسماعیل بن ثابت بن اسماعیل بن زید بن ثابت، اپنے شیوخ سے روایت کیا ہے ۔ دونوں کہتے ہیں کہ بنو عمرو بن عوف میں ایک شیخ تھا جس کو ابو عفک کہتے تھے نہایت بڈھا تھا اور اس کی عمر ایک سو بیس سال تھی۔ یہ شخص مدینہ آ کر لوگوں کو رسول کریمؐ کی عداوت پر بھڑکایا کرتا تھا ۔ اس نے اسلام قبول نہیں کیا تھا۔ جب رسول کریمؐ بدر تشریف لے گئے اور اللہ تعالیٰ نے آپ کو فتح و کامرانی سے نوازا تو وہ حسد کرنے لگا اور بغاوت پر اتر آیا۔ اس نے رسول کریمؐ اور صحابہ کی مذمت میں ایک ہجویہ قصیدہ کہا ۔
سالم بن عمیر نے نذر مانی کہ میں ابو عفک کو قتل کروں گا یا اسے قتل کرتے ہوئے مارا جاؤں گا۔ سالم غفلت کی تلاش میں تھا، موسم گرما کی ایک رات تھی ۔ ابو عفک موسم گرما میں قبیلہ بنی عمرو بن عوف کے صحن میں سو رہا تھا۔ اندریں اثنا سالم بن عمیر آیا اور تلوار اس کے جگر پر رکھ دی ۔ دشمنِ خدا بستر پر چیخنے لگا۔ اس کے ہم خیال بھاگتے ہوئے اس کے پاس آئے ۔ پہلے اسے اس کے گھر میں لے گئے اور پھر قبر میں دفن کر دیا ۔ کہنے لگے اسے کس
نے قتل کیا ہے ؟ بخدا اگر ہمیں قاتل کا پتہ چل جائے تو ہم اُسے قتل کردیں گے ۔
ابو عَفَک کو کب قتل کیا گیا
محمد بن سعد نے ذکر کیا ہے کہ وہ یہودی تھا ہم قبل ازیں ذکر کر چکے ہیں مدینہ کے تمام یہودی معاہد تھے ۔ مگر جب اس نے ہجو کہی اور آپ کی مذمّت کی تو اسے قتل کیا گیا ۔ واقدی ، ابن زقش سے روایت کرتے ہیں کہ ابو عفک کو ماہِ شوال میں ہجرتِ نبوی کے بیس ماہ بعد قتل کیا گیا ۔ یہ واقعہ کعب بن اشرف کے قتل سے پہلے کا ہے ۔ اس واقعہ میں اس امر کی واضح دلیل موجود ہے کہ معاہد اگر علانیہ نبی کریم کو گالیاں دے تو اس کا عہد ٹوٹ جاتا ہے ۔ اسے دھوکے سے قتل کیا جاسکتا ہے ۔ مگر یہ اہلِ مغازی کی روایت ہے اور بلاشبہ دوسری روایات کی مؤیّد ہو سکتی ہے ۔
انس بن زُنیم الدیلی کا واقعہ
آٹھویں حدیث : یہ واقعہ علمائے سیرت کے نزدیک مشہور ہے ۔ ابن اسحاق ، واقدی اور دیگر اہلِ سیرت نے اسے ذکر کیا ہے ۔ واقدی نے بطریق عبداللہ بن عمرو بن زہیر از عمّین بن وہب ذکر کیا ہے کہ آخری واقعہ جو خزاعہ اور کنانہ کے مابین پیش آیا وہ یہ ہے کہ انس بن زُنیم الدیلی نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجو کہی ۔ قبیلہ خُزاعہ کے ایک لڑکے نے سن لیا ۔ اس نے انس پر حملہ کر دیا اور اس کے سر پر چوٹ ماری ۔ وہ اپنی قوم کے پاس آیا اور اُن کو اپنا زخم دکھایا فتنہ بازی کا آغاز ہوا ، بنو بکر پہلے ہی خزاعہ سے اپنے خون کا مطالبہ کر رہے تھے ۔
واقدی نے بطریق حرام بن ہشام بن خالد الکعبی اپنے والد سے روایت کی ہے کہ عمرو بن سالم خزاعی قبیلہ خزاعہ کے چالیس سواروں میں رسول کریم سے مدد طلب کرنے کے لئے نکلا ۔ انہوں نے اس واقعہ کا تذکرہ کیا جو اُن کو پیش آیا تھا اور اُس قصیدے کا بھی ذکر کیا جس کا پہلا مصرعہ یہ ہے ۔
جب قافلہ والے فارغ ہوئے تو انہوں نے کہا یا رسول اللہ ! انس بن زُنیم الدیلی نے آپ کی ہجو کہی ہے ۔ رسول کریم نے اس کے خون کو ہدر قرار دیا ۔ جب انس بن زُنیم کو پتہ
چلا تو وہ معذرت طلبی کے لیے رسول کریم کی خدمت میں حاضر ہوا۔ اس نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ و سلم کی شان میں جو قصیدہ کہا تھا وہ آپ کو سنایا ۔
واقدی کہتے ہیں کہ ”حزام“ نامی شخص نے مجھے وہ قصیدہ سنایا ۔ رسول کریم کے پاس وہ قصیدہ بھی پہنچا اور اُس نے جو معذرت چاہی تھی وہ بھی پہنچی اور نَوفَل بن معاویہ الدیلی آپ سے ہم کلام ہوا۔ اس نے عرض کی یا رسول اللہ ! آپ سب لوگوں سے زیادہ معاف کرنے کے اہل ہیں ۔ ہم میں سے کون ہے جس نے آپ سے عداوت نہ رکھی ہو اور آپ کو ستایا نہ ہو ۔ دور جاہلیت میں ہمیں کچھ معلوم نہ تھا کہ کیا چیز لیں اور کیا نہ لیں ۔ حتی کہ آپ کے ذریعہ اللہ نے ہمیں ہدایت سے نوازا ۔ اور آپ کی وجہ سے ہمیں ہلاکت سے چھڑایا ۔ غفلہ والوں نے اس پر جھوٹ باندھا اور آپ کے پاس مبالغہ آمیزی سے کام لیا ۔ آپ نے فرمایا : قافلہ کو چھوڑئیے ہم نے سر زمین تہامہ میں کسی کو دور و نزدیک کے رشتہ دار کو نہیں دیکھا جو خزاعہ سے زیادہ اطاعت شعار ہو ۔ آپ نے نَوفَل بن معاویہ کو خاموش کرا دیا ۔ جب وہ خاموش ہو گیا تو رسول کریم نے فرمایا : میں نے اسے معاف کیا ۔ نوفل نے کہا : ”میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں “
ابن اسحاق نے کہا کہ انس بن زُنیم نے اُن باتوں سے معذرت کی جو اُن کے بارے میں عمرو بن سالم نے کہی تھیں ، جب وہ رسول کریم کے پاس مدد طلب کرنے کے لیے آیا تھا۔ اس نے ذکر کیا کہ انہوں نے رسول کریم کی توہین کی تھی ۔ اور پھر وہ قصیدہ پڑھا جس میں یہ شعر بھی تھا ؎
هُمُ الْكَاذِبُوْنَ الْمُخْلِفُوْ كُلَّ مَوْعِدِ جھوٹے ہیں اور ہر وعدہ کی خلاف ورزی
کرنے والے ہیں ۔
واقعہ انس بن زنیم کی وجہ دلالت
وجہ استدلال یہ ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حُدیبیہ والے سال دس برس کے لیے قریش کے ساتھ مصالحت کر لی تھی ۔ قبیلہ خزاعہ آپ کا حلیف بن گیا تھا۔ ان میں سے اکثر مسلمان ہو چکے تھے۔ ان کے مسلم اور کافر رسول کریم کے لیے ہمہ تن پیکر ہمدردی و خیر خواہی تھے ۔
بنو بکر قریش کے حلیف بن گئے ۔ یہ سب لوگ آپ کے مُعَاہِد بن گئے اور یہ وہ بات ہے جو نقلِ متواتر سے ثابت ہے اور اہل علم کے یہاں اس میں کوئی اختلاف نہیں پایا جاتا ۔
انس بن زُنیم کے بارے میں آپؐ کو بتایا گیا تھا کہ معاہد ہونے کے باوجود اس نے آپ کی ہجو کہی ہے چنانچہ قبیلہ خُزاعہ کے کسی آدمی نے اس کے سر پر چوٹ ماری اور رسولِ کریمؐ کو بتایا کہ اس نے آپؐ کی ہجو لکھی ہے ۔ اس سے اُن کا مقصد رسولِ کریمؐ کو بنو بکر کے خلاف بھڑکانا تھا ۔ رسولِ کریمؐ نے اس کے خون کو ”ھَدَرٌ“ (جس میں قصاص و دیت نہ ہو) قرار دیدیا اور کسی اور کے خون کو ”ھدر“ قرار نہ دیا ۔ اگر انہیں یہ بات معلوم نہ ہوتی کہ معاہد کے ہجو کہنے سے اس سے انتقام لینا واجب ہو جاتا ہے تو وہ ایسا نہ کرتے ۔ اسی وجہ سے رسولِ کریمؐ نے اس کے خون کو ھدر قرار دیا ، حالانکہ اس نے معاہد ہوتے ہوئے ہجو گوئی کا ارتکاب کیا تھا ۔ لہٰذا یہ اس ضمن میں نص ہے کہ ہجو گو معاہد کا خون مباح ہو جاتا ہے ۔
بعد ازاں جب وہ آپؐ کی خدمت میں حاضر ہوا تو اس نے اپنے اشعار میں اسلام لانے کا اظہار کیا ۔ اسی لیے اُسے آپؐ کے صحابہ میں شمار کیا گیا ہے ۔ اس کے اشعار میں یہ الفاظ کہ ”تَعَلَّم رَسُولُ اللہ“ اور ”نَبِیَّ رَسُولُ اللہ“ اس بات پر دلالت کرتے ہیں کہ وہ پہلے اسلام لا چکا تھا یا یہ کہ اس کا یوں کہنا ہی اُس کا اسلام لانا ہے ۔ اس لیے کہ بُت پرست جب کہے ”مُحَمَّد رَسُول اللہ“ تو اسے مسلم قرار دیا جائے گا ۔ اس نے ہجو گوئی سے انکار بھی کیا تھا اور ان لوگوں کی شہادت کو یہ کہہ کر رَدّ کر دیا تھا کہ وہ اس کے دشمن ہیں ۔ اس لیے کہ دونوں قبیلوں کے درمیان عرصہ سے حرب و ضرب کا سلسلہ چلا آ رہا تھا ۔ اگر اپنی اس حرکت سے وہ مباح الدّم نہ ہو جاتا تو اسے اس بات کی ضرورت نہ تھی ۔
پھر اسلام لانے ، معذرت خواہی ، مخبرین کی تردید اور رسولِ کریمؐ کی مدح گوئی کے بعد اس نے خون کو ھدر قرار دینے کے بارے میں رسولِ کریمؐ سے معافی طلب کی حالانکہ معافی تب دی جاتی ہے جب جرم کی سزا دینے کا جواز موجود ہو ۔ اس سے معلوم ہوا کہ اسلام لانے اور معذرت خواہی کے بعد بھی آپؐ اسے سزا دے سکتے تھے ۔ مگر آپؐ نے تحمل و بردباری کے پیش نظر اُس پر کرم نوازی فرمائی اور اُسے معاف کر دیا ۔
مزید برآں اس حدیث میں ہے کہ نوفل بن معاویہ نے رسول کریم کے پاس اس کی سفارش کی تھی ، حالانکہ علمائے سیرت نے علی العموم ذکر کیا ہے کہ نوفل اُن متکبرین میں سے تھا جنہوں نے حدود سے تجاوز کرکے خزاعہ والوں کو قتل کیا تھا ، اور قریش نے ان کی مدد کی تھی ! اس طرح قریش اور بنو بکر کا معاہدہ ٹوٹ گیا ۔
پھر نوفل نے فتح مکہ سے پہلے اسلام قبول کیا اور ہجو کہنے والے کی رسولِ کریمؐ سے سفارش کی ۔ اس سے معلوم ہوا کہ ہجو گوئی ، مذکورہ عہد توڑ دینے سے بھی بڑا جرم ہے ۔ حتیٰ کہ اگر ایک قوم نے لڑ کر عہد شکنی کی ہو اور دوسری نے ہجو کہی ہو ۔ پھر دونوں اسلام قبول کرلیں تو لڑنے والے کا خون معصوم ہوگا مگر ہجو گو سے انتقام لینا جائز ہوگا ۔ یہی وجہ ہے کہ اس نے توہین وتحقیر کو خون بہانے کے ساتھ ملا دیا تھا ۔ اس سے معلوم ہوا کہ یہ دونوں امور قتل کے موجب ہیں ۔ بلکہ کسی کو بے آبرو کرنا اُن کے نزدیک اہلِ اسلام اور معاہدین کا خون بہانے سے بھی بڑا جرم تھا ۔
اس کی مزید توضیح اس سے ہوتی ہے کہ رسولِ کریمؐ نے عہد شکنی کرنے والے بنو بکر میں سے کسی کے خون کو بھی ھدر قرار نہ دیا ۔ البتہ ان کے اخیر حصے میں فتح مکہ کے روز آپؐ نے بنو خزاعہ کو بنو بکر سے انتقام لینے کی قدرت بخشی تھی ۔ اور ہجو کہنے والے شخص کے خون کو ھدر ٹھہرایا حتیٰ کہ وہ اسلام لایا اور معذرت خواہی کی ۔ حالانکہ وہ عہدِ مصالحت پر مبنی تھا اور اس میں جزیہ قبول کرنے اور ذمّی بنانے کی شرط شامل نہ تھی ۔ صلح کرنے والا کافر جو اپنے شہر میں مقیم ہو خواہ کسی قسم کے احوال واقوال کا ارتکاب علانیہ کرتا ہو جو اس کے دین یا دنیا سے متعلق ہوں اس کا عہد اس وقت تک نہیں ٹوٹتا جب تک مسلمانوں کے خلاف نبرد آزما نہ ہو ۔ اس سے معلوم ہوا کہ ہجو گوئی جنسِ حرب میں سے ہے بلکہ اس سے غلیظ تر ہے ۔ اور یہ کہ ہجو گو ذمّی نہیں رہتا (بلکہ اس کا ذمّہ ٹوٹ جاتا ہے)
واقعہ ابن ابی سرح
توجیہ حدیث : اس واقعہ کی صحت پر اہل علم کا اتفاق ہے ۔ یہ واقعہ اُن کے یہاں اس قدر مشہور ہے کہ آحاد کے روایت کرنے سے بے نیاز ہے ۔ یہ واقعہ ایک ثقہ عادل راوی کی روایت سے اثبت واقویٰ ہے ہم اس واقعہ کو پورے شرح وبسط کے ساتھ ذکر کرتے ہیں تاکہ اس سے وجہ دلالت واضح ہو جائے ۔
مصعب بن سعد، حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ فتح مکہ کے دن عبداللہ بن سعد بن ابی سرح، حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے پاس چھپ گیا۔ حضرت عثمانؓ نے اسے لا کر رسول کریمؐ کے پاس کھڑا کر دیا اور کہا ۔ یا رسول اللہ ! عبداللہ کو بیعت کیجیے رسول کریمؐ نے نظر اٹھا کر اسے تین مرتبہ دیکھا ۔ آپ ہر دفعہ بیعت کرنے سے انکار کرتے تھے پھر تیسری مرتبہ کے بعد اس کو بیعت کر لیا ، پھر صحابہ کی جانب متوجہ ہوئے اور فرمایا : کیا تم میں کوئی دانا آدمی نہ تھا جو اس کی طرف اٹھ کر اُسے قتل کر دیتا ، جب اس نے دیکھا تھا کہ میں نے اس کو بیعت کرنے سے اپنا ہاتھ روک دیا تھا ۔ صحابہ نے عرض کیا یا رسول اللہ ! ہمیں کیا معلوم تھا کہ آپؐ کے جی میں کیا بات ہے ؟ آپؐ نے اپنی آنکھ سے اشارہ کیوں نہ کر دیا ۔ فرمایا " نبی کو زیب نہیں دیتا کہ اس کی خیانت کرنے والی آنکھ ہو" ۔ اس کو ابو داؤد نے بسند صحیح روایت کیا ہے ۔
نسائی نے اس کو زیادہ تفصیل کے ساتھ حضرت سعدؓ سے روایت کیا ہے ۔ کہا کہ فتح مکہ کے دن چار آدمیوں کے سوا باقی سب کو امن دے دیا ۔ فرمایا ان چار آدمیوں کو قتل کر دو اگرچہ کعبہ کے پردے کے ساتھ لٹکتے ہوئے ہوں ، وہ آدمی یہ تھے :
- (۱) عکرمہ بن ابی جہل (۲) عبداللہ بن خطل
- (۳) مقیس بن صبابہ (۴) عبداللہ بن سعد بن ابی سرح
ان میں سے عبداللہ بن خطل کعبہ کے پردوں کے ساتھ لٹکا ہوا تھا کہ اُسے پکڑ لیا گیا ۔ سعید بن حارث اور عمار بن یاسر اس کی طرف بھاگے سعید زیادہ جوان تھا اس نے عمار سے آگے بڑھ کر اسے قتل کر دیا ۔ مقیس کو لوگوں نے بازار میں پکڑ کر قتل کر دیا ۔ باقی رہا عکرمہ تو وہ بحری جہاز میں سوار ہوا اور جہاز آندھی کی زد میں آگیا ۔ جہاز والوں نے کہا توحید کے قائل ہو جاؤ اس لیے کہ تمہارے بت تمہارے کسی کام نہیں آتے ۔ عکرمہ نے کہا بخدا ! اگر سمندر میں ایک خدا نجات دیتا ہے تو خشکی میں بھی اس کے سوا کوئی نجات نہیں دے سکتا ۔ اے اللہ ! میں تیرے حضور عہد کرتا ہوں کہ اگر تو نے مجھے اس مصیبت سے نجات دی تو میں محمدؐ کے پاس جا کر اپنا ہاتھ اُن کے ہاتھ میں دیدوں گا ۔ اور میں انہیں معاف کرنے والا اور سخی پاؤں گا ۔ چنانچہ عکرمہ آیا اور اسلام قبول کیا ۔
باقی رہا عبداللہ بن سعد بن ابی سر نے لوگوں کو دعوت بیعت دی تو حضرت پھر ابو داؤد کی طرح حدیث کا باقی حصہ
حضرت ابن عباسؓ فرماتے ہیں کہ شیطان نے اسے پھسلایا تو وہ کفار کا حکم دیا ۔ حضرت عثمانؓ نے اس
محمد بن سعد نے طبقات میں رسول کریمؐ نے فتح مکہ کے دن ابن ابی کا حکم دیا ۔ ابو برزہ اسلمیؓ خطل کے پا نے اس کا پیٹ چاک کر دیا ۔ انصا کو دیکھے گا تو اسے قتل کر دے گا ۔ ح ان کے پاس آیا ۔ حضرت عثمانؓ کے زانو پر ہاتھ رکھا ہوا تھا اور ضا کریں ۔ حضرت عثمانؓ نے سفارش " تم نے اپنی نظر کیوں نہ پھیری ؟" ا منتظر تھا کہ آپ مجھے اس کے قتل کا ۔ کسی نبی کو زیب نہیں دیتا کہ وہ آ
ابن بکیر نے محمد بن اسحاق سے ب ابی بکر بن حزم نے کہا کہ رسول اک کو الگ الگ مقرر کیا تو انہیں ع کا نام لے کر آپؐ نے فرمایا " کہ ان وہ مندرجہ ذیل اشخاص تھے ۔
- (۱) عبداللہ بن خطل
باقی رہا عبد اللہ بن سعد بن ابی سرح تو وہ حضرت عثمانؓ کے یہاں چھپ گیا ۔ جب رسول کریمؐ نے لوگوں کو دعوتِ بیعت دی تو حضرت عثمانؓ نے اسے لا کر رسول کریمؐ کے پاس لا کر کھڑا کر دیا ۔ پھر ابو داؤد کی طرح حدیث کا باقی حصہ ذکر کیا ۔
حضرت ابن عباسؓ فرماتے ہیں کہ عبد اللہ بن سعد بن ابی سرح رسول کریمؐ کا کاتب تھا لیکن شیطان نے اسے پھسلایا تو وہ کفار کے ساتھ مل گیا ۔ فتح مکہ کے دن آپؐ نے اس کو قتل کرنے کا حکم دیا ۔ حضرت عثمانؓ نے اس کے لیے پناہ مانگی، جو آپؐ نے دیدی ۔
(ابو داؤد)
محمد بن سعد نے طبقات میں بطریق علی بن زید از سعید بن المسیب روایت کی ہے کہ رسول کریمؐ نے فتح مکہ کے دن ابن ابی سرح ، فرتنی ، ابن الزبعری اور ابن خطل کو قتل کرنے کا حکم دیا ۔ ابو برزہ ابن خطل کے پاس آیا اور وہ کعبہ کے پردوں سے لٹکا ہوا تھا ، ابو برزہ نے اس کا پیٹ چاک کر دیا ۔ انصار کے ایک شخص نے نذر مانی تھی کہ اگر وہ ابن ابی سرح کو دیکھے گا تو اسے قتل کر دے گا ۔ حضرت عثمانؓ اس کے رضاعی بھائی تھے، اس لیے ابن ابی سرح ان کے پاس آیا ۔ حضرت عثمانؓ نے رسول کریمؐ کے پاس اس کی سفارش کی انصاری نے تلوار کے دستہ پر ہاتھ رکھا ہوا تھا اور منتظر تھا کہ آپؐ اسے ابن ابی سرح کو قتل کرنے کا اشارہ کریں ۔ حضرت عثمانؓ نے سفارش کی تو آپؐ نے اسے چھوڑ دیا ۔ پھر آپؐ نے انصاری سے کہا : ”تم نے اپنی نذر کیوں نہ پوری کی ؟“ اس نے کہا : ”یا رسول اللہ ! میں تلوار کے دستہ پر ہاتھ رکھے منتظر تھا کہ آپ مجھے اس کے قتل کا اشارہ کریں گے ۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”کسی نبی کو زیب نہیں دیتا کہ وہ آنکھ سے اشارہ کرے“
ابن بکیر نے محمد بن اسحاق سے روایت کیا ہے کہ ابو عبیدہ بن محمد بن عمار بن یاسر اور عبد اللہ بن ابی بکر بن حزم نے کہا کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب مکہ میں داخل ہوئے اور اپنے لشکروں کو الگ الگ مقرر کیا تو انہیں حکم دیا کہ صرف اسی کو قتل کریں جو ان سے لڑے ۔ مگر چند آدمیوں کا نام لے کر آپ نے فرمایا ”کہ انہیں قتل کر دو اگرچہ وہ کعبہ کے پردوں کے ساتھ لٹکے ہوئے ہوں ۔ وہ مندرجہ ذیل اشخاص تھے ۔
- (١) عبد اللہ بن خطل (٢) عبد اللہ بن ابی سرح
آپ نے عبداللہ بن ابی سرح کو قتل کرنے کا حکم اس لیے دیا کہ وہ مسلمان ہوگیا تھا ۔ اور رسول کریمؐ کے حکم سے وحی لکھا کرتا تھا ۔ وہ پھر مشرک ہو کر مکہ چلا گیا ۔ وہ کہا کرتا تھا کہ میں جدھر چاہوں محمدؐ کو موڑ سکتا ہوں ۔ وہ مجھے کسی چیز کے لکھنے کا حکم دیتے ہیں تو میں کہتا ہوں کیا میں فلاں طرح لکھ لوں ؟ تو وہ کہتے ہیں کہ ”ٹھیک ہے“ اور وہ اس طرح کہ رسول کریمؐ اسے فرماتے لکھو ”غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ“ تو وہ کہتا کیا میں ”عَزِيْزٌ حَکِیْمٌ“ لکھ لوں ؟ تو آپؐ فرماتے ”دونوں برابر ہیں“
ابن اسحاق کہتے ہیں کہ مندرجہ ذیل آیت اُسی کے بارے میں نازل ہوئی :۔
”اس شخص سے بڑھ کر ظالم اور کون ہے جو اللہ پر جھوٹ باندھتا ہے یا کہے کہ مجھ پر وحی آئی ہے ، حالانکہ اس پر کوئی وحی نازل نہیں ہوئی اور جو کہے کہ میں بھی اللہ کی طرح وحی نازل کرسکتا ہوں“
(الانعام ۔ ٩٣)
جب رسول کریمؐ مکہ میں داخل ہوئے تو وہ حضرت عثمانؓ کے یہاں بھاگ آیا جو اُس کے رضاعی بھائی تھے ۔ حضرت عثمانؓ نے اُسے اپنے پاس چھپائے رکھا ، یہاں تک کہ مکہ والے مطمئن ہوگئے ۔ حضرت عثمانؓ اُسے رسول کریمؐ کے پاس لائے اور اُس کے لیے امان طلب کی ۔ رسول کریمؐ دیر تک خاموش رہے اور وہ ٹھہرا رہا ۔ پھر فرمایا ہاں ! حضرت عثمانؓ اُسے لے کر واپس چلے گئے ۔ جب وہ پیٹھ پھیر کر چل دیئے تو آپؐ نے فرمایا ”میں تو اس لیے خاموش تھا کہ تم میں سے کوئی اُٹھ کر اسے قتل کر دے گا“ ایک انصاری نے کہا : ”یا رسول اللہ ! آپؐ نے قتل کرنے کا اشارہ کیوں نہ کر دیا“ فرمایا : ”نبی کسی کو اشارہ سے قتل کرنے کا حکم نہیں دیتا“ ۔
ابراہیم بن سعد نے ابن اسحاق سے روایت کی ہے کہ ہمارے بعض علماء نے ہمیں بتایا کہ ابن ابی سرح قریش کی طرف لوٹ گیا تھا ۔ وہ کہا کرتا تھا کہ ”اگر چاہوں تو میں بھی محمدؐ جیسا کلام لاسکتا ہوں ۔ آپ ایک بات کہتے ہیں اور میں اسے کسی اور چیز کی طرف موڑ دیتا ہوں ، پھر آپ کہتے ہیں کہ تم نے ٹھیک کیا“ تو سابق الذکر آیت کریمہ نازل ہوئی اسی لیے رسول کریمؐ نے اسے قتل کرنے کا حکم دیا ۔
ابن اسحاق، ابن ابی خثیمہ، ابن اسحاق سے روایت کرتے ہیں کہ مکہ میں داخل ہوتے وقت رسول کریم نے مسلم امرا سے عہد لیا تھا کہ صرف اسی شخص سے لڑیں جو لڑائی کا آغاز کرے مگر آپ نے چند آدمیوں کا نام لے کر ان کو قتل کرنے کا حکم صادر فرمایا تھا اگرچہ وہ کعبہ کے پردوں کے ساتھ لٹکے ہوئے ہوں۔ ان میں سے ایک عبداللہ بن سعد بن ابی سرح تھا۔ آپ نے اس کے قتل کرنے کا حکم اس لیے دیا کہ وہ مسلمان ہو گیا تھا اور رسول کریم کے لیے وحی الٰہی لکھا کرتا تھا۔ مگر وہ مرتد ہو کر مکہ لوٹ گیا۔
عبداللہ کہا کرتا تھا کہ ”میں جدھر چاہوں محمدؐ کو موڑ سکتا ہوں .... مجھے لکھوانا ہے تو میں کہتا ہوں کہ اس کے بجائے فلاں الفاظ لکھ دوں، وہ کہتا ہے کہ ٹھیک ہے اسی طرح لکھ دو “۔ بات یہ تھی کہ رسول کریم فرماتے ”عَزِیزٌ حَکِیمٌ“ تو وہ اس کی جگہ ”عَلِیمٌ حَکِیمٌ “ لکھ دیتا تو آپ فرماتے ”سب ٹھیک ہے “۔
ہم نے مغازی معمر میں زہری سے فتح مکہ کے واقعہ میں لکھا ہے کہ رسول کریم مکہ میں داخل ہوئے تو صحابہ کو قتل و قتال سے منع کیا۔ فرمایا ”اسلحہ سے باز رہو“ البتہ تھوڑی دیر کے لیے قبیلہ خُزاعہ کو قبیلہ بنو بکر سے انتقام لینے کی اجازت دی گئی۔ پھر آپ نے روک دیا تو وہ رک گئے۔ سب لوگ امن میں رہے سوا چار آدمیوں کے۔ یعنی ابن ابی سرح، ابن خطل، مقیس کنانی اور ایک عورت۔ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”مکہ کو میں نے حرم قرار نہیں دیا بلکہ اللہ نے دیا ہے۔ اس کو مجھ سے پہلے کسی کے لیے حلال نہیں کیا گیا اور نہ روزِ قیامت تک کسی کے لیے حلال کیا جائے گا۔ اس کو اللہ نے میرے لیے تھوڑے وقت کے لیے حلال ٹھہرایا ہے “۔
پھر حضرت عثمانؓ، ابن ابی سرح کو لے کر آگئے اور کہا یا رسول اللہ ! اس کو بیعت کیجیے مگر آپ نے منہ موڑ لیا۔ پھر دوسری طرف سے آئے اور کہا اس کو بیعت کیجیے، مگر آپ نے اعراض فرمایا۔ پھر دوسری جانب سے آئے اور کہا اس کو بیعت کیجیے۔ (تیسری دفعہ میں ) آپ نے ہاتھ بڑھا کر اسے بیعت کر لیا۔ رسول کریم نے فرمایا ”میں نے اس لیے اعراض کیا تھا کہ تم میں سے کوئی اسے قتل کر دے گا “۔ ایک انصاری نے کہا یا رسول اللہ ! آپ نے
مجھے آنکھ سے اشارہ کیوں نہ کر دیا ؟ فرمایا " نبی آنکھ سے اشارہ نہیں کر سکتا " گویا آپؐ نے اسے عذر شکنی تصور کیا ۔
مغازی موسیٰ بن عقبہ میں ابن شہاب سے مروی ہے کہ رسول کریمؐ نے صحابہ کو لڑنے سے روکا اور فرمایا صرف اس سے لڑیں جو لڑائی کا آغاز کر دے ۔ آپ نے چار آدمیوں کو قتل کرنے کا حکم دیا یعنی :
- (۱) عبداللہ بن سعد بن ابی سرح
- (۲) حُویرث بن نُقَید
- (۳) ابن خطل
- (۴) مقیس بن صبابہ یکے از بنی لیث
آپ نے ابن خطل کی دو گلوکار لونڈیوں کو قتل کرنے کا حکم دیا جو رسول کریمؐ کے خلاف ہجویہ اشعار گایا کرتی تھیں ۔
بیان کرتے ہیں کہ رسول کریمؐ نے چند آدمیوں کو بشمول ابن سرح قتل کرنے کا حکم دیا وہ ہجرت کرنے کے بعد مرتد ہو گیا تھا ۔ وہ چھپا رہا یہاں تک کہ اہل مکہ مطمئن ہو گئے ۔ پھر آپؐ کی بیعت کرنے کے ارادے سے حاضر ہوا ۔ مگر آپؐ نے اس لیے اعراض فرمایا کہ صحابہ میں سے کوئی اٹھ کر اسے قتل کر دے گا ۔ مگر کوئی نہ کسی کو پتہ چل سکا کہ حضورؐ کے دل میں کیا بات ہے ۔ صحابہ میں سے ایک نے کہا یا رسول اللہ ! اگر آپ اشارہ کر دیتے تو میں اسے قتل کر دیتا " فرمایا " نبی ایسا نہیں کرتا " کہا جاتا ہے کہ یہ حضرت عثمانؓ کا رضاعی بھائی تھا اور انہوں نے اسے پناہ دی تھی ۔ ایک گلوکار لونڈی کو قتل کیا گیا اور دوسری چھپ گئی یہاں تک کہ اسے امان دی گئی ۔
محمد بن عائذ نے اپنے مغازی میں اس واقعہ کو اسی طرح ذکر کیا ہے ۔
واقدی نے اپنے شیوخ سے ذکر کیا ہے کہ عبداللہ بن سعد بن ابی سَرح رسول کریمؐ کے لیے وحی لکھا کرتا تھا ۔ بعض اوقات رسول کریمؐ اُسے لکھواتے "سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ" اور وہ "عَلِیْمٌ حَکِیْمٌ" لکھتا ۔ رسول کریمؐ اُسے پڑھتے تو فرماتے اللہ نے اسی طرح فرمایا ہے ۔ اس سے وہ شخص فتنے میں مبتلا ہو گیا اور کہنے لگا " محمدؐ جو کچھ کہتے ہیں وہ سمجھتے نہیں ۔ میں جو چاہتا ہوں انہیں لکھ دیتا ہوں ۔ میں جو کچھ لکھتا ہوں وہ میری طرف وحی کے ذریعہ آتا ہے جیسے محمدؐ پر وحی آتی ہے ۔ چنانچہ وہ مرتد ہو کر مکہ بھاگ گیا ۔ فتح مکہ کے روز رسول کریمؐ نے اس کے خون کو " ہَدَر " قرار دیا ۔ اس روز ابن ابی سرح حضرت عثمانؓ کے پاس آیا — وہ اُن کا رضاعی بھائی تھا — کہنے لگا اے بھائی !
میں آپ کی پناہ میں آتا ہوں ۔ مجھے یہاں روک لیجیے اور آپ محمدؐ کے پاس جائیے اور میرے بارے میں بات کیجیے ۔ اگر محمدؐ نے مجھے دیکھ لیا تو میرا (سر) کاٹ دے گا جس میں میری دونوں آنکھیں ہیں ۔ میں نے بہت بڑے جرم کا ارتکاب کیا ہے اور میں تائب ہو کر آیا ہوں ۔
حضرت عثمانؓ نے کہا ”تم میرے ساتھ چلو“ عبد اللہ نے کہا ”بخدا اگر اس نے مجھے دیکھ لیا تو میری گردن اڑا دے گا ۔ اور مجھے مہلت نہ دے گا ۔ کیوں کہ اس نے میرے خون کو ھدر قرار دیا ہے ۔ اور اُس کے صحابہ ہر جگہ مجھے تلاش کر رہے ہیں“ حضرت عثمانؓ نے کہا ”تم میرے ساتھ چلو ، انشاء اللہ تجھے قتل نہیں کریں گے“ رسول کریمؐ یہ دیکھ کر گھبرا گئے کہ عثمان عبد اللہ کا ہاتھ پکڑے آ رہے ہیں اور آپ کے سامنے آکر ٹھہر گئے ہیں ۔ حضرت عثمانؓ نے آپ کی طرف متوجہ ہو کر کہا : ”یا رسول اللہ ! اس کی ماں مجھے اٹھا لیا کرتی اور اسے چلنے پر مجبور کرتی ۔ مجھے دودھ پلاتی اور اس کا دودھ چھڑا دیتی ۔ وہ میرے ساتھ مہربانی کا سلوک کرتی اور اسے اس کے حال پر چھوڑ دیتی ۔ لہٰذا اسے مجھے بخش دیجیے“ رسول کریمؐ نے منہ موڑ لیا ۔ آپ جدھر کو منہ موڑتے حضرت عثمانؓ اُسی طرف سے آپؐ کے سامنے آ جاتے اور اس کلام کو دُہراتے ۔ آپ کے منہ موڑنے کی وجہ یہ تھی کہ کوئی آدمی اُٹھ کر اس کی گردن اُڑا دے گا ۔ کیونکہ آپؐ نے اسے امان نہیں دی تھی ۔ جب آپ نے دیکھا کہ کوئی شخص کھڑا نہیں ہو رہا حضرت عثمانؓ سرنگوں ہو کر رسول کریمؐ کا سر چوم رہے تھے اور کہہ رہے تھے کہ یا رسول اللہ ! اس کو بیعت کر لیجیے میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں ۔ رسول کریمؐ نے فرمایا ”بہت اچھا“ پھر صحابہ کی طرف متوجہ ہو کر کہا : ”تمہارے لیے کیا چیز مانع تھی کہ تم میں سے ایک اس کُتّے یا یہ فرمایا کہ اس فاسق کی طرف کھڑا ہوتا اور اسے قتل کر ڈالتا“
عبّاد بن بشر نے کہا ”یا رسول اللہ ! آپؐ نے مجھے اشارہ کیوں نہ کیا ؟ مجھے اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے میں ہر طرف سے آپ کی نگاہ کو دیکھ رہا تھا ، بدیں امید کہ آپ مجھے اشارہ کریں گے اور میں اس کی گردن اُڑا دوں گا ۔ اور کہا جاتا ہے کہ یہ بات ابو الیسر نے کہی تھی اور بعض کہتے ہیں کہ حضرت عمرؓ نے کہی تھی ۔ رسول کریمؐ نے فرمایا ”میں کسی کے قتل کے لیے اشارہ نہیں کرتا “ بعض لوگ کہتے ہیں کہ رسول کریمؐ نے فرمایا تھا ”نبی کی خیانت کرنے والی آنکھ
نہیں ہوتی ۔
اسلام لانے سے سابقہ گناہ ساقط ہوجاتے ہیں
رسول کریم صلی اللہ علیہ
وسلم نے اسے بیعت کرلیا
اس کے بعد وہ جب بھی آپ کو دیکھتا تو بھاگنے لگتا ۔ حضرت عثمانؓ نے رسول کریمؐ سے کہا: میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں عبداللہ جب بھی آپ کو دیکھتا ہے بھاگ جاتا ہے ۔ رسول کریمؐ یہ سن کر مسکرا دیئے اور فرمایا ”کیا میں نے اس کو بیعت نہیں کیا اور اسے امان نہیں دی؟“ حضرت عثمانؓ نے کہا ”کیوں نہیں یا رسول اللہ ! مگر اسے اپنا جرم یاد آتا ہے جو اس نے اسلام لا کر کیا تھا ۔ رسول کریمؐ نے فرمایا ”اسلام سابقہ گناہوں کو ساقط کر دیتا ہے“ ۔ حضرت عثمانؓ ، ابن ابی سرح کی طرف لوٹے اور اسے بتایا ۔ چنانچہ وہ اس کے بعد آپؐ کے پاس آتا اور لوگوں کے ہمراہ آپؐ کو سلام کہتا ۔
ابن ابی سرح کے واقعہ سے انداز استدلال
اس واقعہ میں وجہ
دلالت یہ ہے کہ
عبداللہ نے رسول کریمؐ پر یہ جھوٹ باندھا تھا کہ وہ آپ کی وحی کی تکمیل کرتا اور جو چاہتا آپ کو لکھ دیتا اور آپؐ اس پر صاد فرما دیتے ، بزعم اس کے وہ جدھر چاہتا آپ کو پھیر دیتا ، جس وحی کا آپ کو حکم دیا جاتا تھا اُسے تبدیل کر دیتا اور آپؐ اُس کی تائید فرماتے اور وہ اسی طرح رہتی جیسے اسے اللہ نے نازل کیا ہو۔ وہ اس زعم باطل میں مبتلا تھا کہ رسول کریمؐ کی طرح اس پر بھی وحی کی جاتی ہے ۔ رسول کریمؐ اور کتاب اللہ پر اس طعن اور افتراء پردازی کا نتیجہ یہ ہو سکتا ہے کہ نبوت ورسالت مشکوک ہو کر رہ جائے اور یہ کفر و ارتداد سے بھی بڑا گناہ اور گالی کی ایک قسم ہے ۔
اسی طرح جس کاتب نے بھی اسی قسم کی افتراء پردازی سے کام لیا اللہ تعالیٰ نے اُسے توڑ پھوڑ دیا اور اُسے خلاف معمول سزا دی ۔ اس لیے کہ بیمار دلوں میں اس سے شکوک و شبہات جنم لیتے ہیں ۔ ایک شخص کہہ سکتا ہے کہ یہ شخص رسول کریمؐ کے باطن اور حقیقت نفس الامری کو سب لوگوں سے زیادہ جانتا ہے ۔ اس لیے اس نے جو خبر دی ہے وہ درست ہے اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو یوں مدد فرمائی کہ اس میں ایسی نشانی پیدا کر دی جس سے اس
کا مفتری ہونا واضح ہوتا ہے
ایک اور مفتری کا ان
رضی اللہ عنہ سے کہ ایک عیسائی پڑھیں ۔ یہ رسول کریمؐ کے لیے کرتا تھا ” محمدؐ وہی کچھ سمجھتے ہیں جب صبح ہوئی تو قبر نے اسے ہے۔ انہوں نے قبر کھود کر اسے سکتے تھے کھودی ۔ صبح کو وہ نہیں۔ پھر انہوں نے اسے پھ مسلم نے بطریق سلیمان آدمی تھا جس نے سورۃ البق کرتا تھا وہ بھاگ کر اہل کتاب کہ یہ شخص محمدؐ کے لیے وحی تھی کہ اللہ نے اس کی گردن نے اسے باہر پھینک دیا تھ پھر اُسے باہر پھینک دیا ۔ اس افتراء پرداز ک جو میں لکھ دیتا ہوں ، تو قبر نے اس کو کئی مرتبہ پھ کے قول کی سزا تھی اور یہ جُرم محض ارتداد سے آتا ۔ نیز یہ کہ جو شخص رس
کا مفتری ہونا واضح ہوتا ہے ۔
ایک اور مفتری کاتب کا واقعہ
امام بخاریؒ نے اپنی صحیح میں عبدالعزیز بن صہیب سے روایت کی اور اس نے انسؓ رضی اللہ عنہ سے کہ ایک عیسائی مسلمان ہو گیا اور اس نے سورۃ البقرۃ اور سورۃ آل عمران پڑھیں ۔ یہ رسول کریمؐ کے لیے وحی لکھا کرتا تھا ۔ اس نے پھر عیسائی مذہب اختیار کر لیا اور کہا کرتا تھا ”محمدؐ وہی کچھ سمجھتے ہیں جو میں اسے لکھ دیتا ہوں ۔ وہ مر گیا اور لوگوں نے اسے دفن کیا جب صبح ہوئی تو قبر نے اسے نکال پھینکا تھا ۔ لوگوں نے کہا یہ محمدؐ اور اس کے اصحاب کا فعل ہے ۔ انہوں نے قبر کھود کر اسے باہر پھینک دیا ہے ۔ چنانچہ وہ جس قدر زمین کھود سکتے تھے کھودی ۔ صبح کو وہ قبر سے باہر پڑا تھا ۔ اب انہیں پتہ چل گیا کہ یہ لوگوں کا فعل نہیں ۔ پھر انہوں نے اسے پھینک دیا ۔
مسلم نے بطریق سلیمان بن المغیرہ از ثابت از انسؓ روایت کیا ہے کہ بنو نجار کا ایک آدمی تھا جس نے سورۃ البقرۃ و آل عمران پڑھی ہوئی تھی اور وہ رسول کریمؐ کے لیے وحی لکھا کرتا تھا وہ بھاگ کر اہل کتاب سے مل گیا ۔ انہوں نے اسے بڑی قدر و منزلت کی نگاہ سے دیکھا کہ یہ شخص محمدؐ کے لیے وحی لکھا کرتا تھا ۔ وہ اس سے بڑے خوش ہوئے ۔ تھوڑی مدت ہوئی تھی کہ اللہ نے اس کی گردن توڑ دی ۔ انہوں نے گڑھا کھود کر اسے چھپا دیا ۔ صبح ہوئی تو زمین نے اسے باہر پھینک دیا تھا ۔ انہوں نے دوبارہ گڑھا کھود کر اسے چھپا دیا ۔ زمین نے صبح کو پھر اسے باہر پھینک دیا ۔ چنانچہ لوگوں نے اسے اسی حالت میں رہنے دیا ۔
اس افتراء پردازی کرنے والے ملعون کو جو کہا کرتا تھا کہ محمدؐ کو وہی بات معلوم ہوتی ہے جو میں لکھ دیتا ہوں ، توڑ پھوڑ دیا اور اسے رسوا کر دیا ۔ اور وہ یہ کہ قبر میں دفن کرنے کے بعد قبر نے اس کو کئی مرتبہ پھینک دیا ۔ یہ خارقِ عادت امر اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ اس کے قول کی سزا تھی اور یہ کہ وہ جھوٹا تھا ۔ اس لیے کہ عام مردوں کی یہ حالت نہیں ہوتی ، اور یہ جرم محض ارتداد سے بہت بڑا ہے ۔ عام مرتد مر جاتے ہیں اور اُن کو ایسا واقعہ پیش نہیں آتا ۔ نیز یہ کہ جو شخص رسول کریمؐ کو گالی دیتا اور آپ پر طعن کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اپنے رسول کا
انتقام لیتا اور اس کے کذب کو نمایاں کرتا ہے ۔ کیوں کہ لوگوں کے لیے اُس پر حد قائم کرنا ممکن نہیں ہوتا ۔
امام ابن تیمیہ کے عہد میں جو رسول کریمؐ
کو گالیاں دے کر مسلمانوں سے لڑتا تھا
اس سے ملتا جلتا وہ واقعہ ہے جس کو بہت سے عادل، ثقہ اور اہل علم فقہاء بار ہا آزما چکے ہیں ۔ وہ واقعہ یہ ہے کہ ابن تیمیہ کے زمانہ میں جب مسلمانوں نے شامی ساحل کے بہت سے قلعوں اور شہروں پر حملہ کر کے رومیوں کا محاصرہ کر لیا ، تو اس وقت کے مسلمانوں کا بیان ہے کہ ہم کسی قلعہ یا شہر کا ایک مہینہ یا اس سے زیادہ عرصہ تک محاصرہ جاری رکھتے ۔ مگر قلعہ فتح نہ ہوتا اور ہم مایوس ہو جاتے ۔ اچانک قلعہ والے رسول کریمؐ کو گالیاں دینا اور آپؐ کی توہین کرنے کا آغاز کر دیتے تو قلعے کا فتح کرنا ہمارے لیے آسان ہو جاتا اور ہم ایک دو دن میں اس کو فتح کر لیتے ۔ پھر اس علاقے کو لشکر کشی کر کے فتح کر لیتے اور وہاں گھمسان کی جنگ ہوتی ۔ ہماری حالت یہ تھی کہ جب ہم سنتے کہ انھوں نے رسول کریمؐ کی توہین کا آغاز کر دیا ہے تو ہم آپس میں ایک دوسرے کو فتح کی بشارت دیتے ۔ حالانکہ اُن کے رسول کریمؐ کو گالیاں دینے کی وجہ سے ہمارے دل غصّہ سے بھر جاتے تھے ۔
اسی طرح ہمارے معتبر اصحاب نے بیان کیا ہے کہ مغرب کے مسلمانوں کی حالت بھی عیسائیوں کے ساتھ اسی طرح تھی ۔ یہ اللہ کی سنت ہے کہ وہ بعض اوقات اپنے اعداء کو اپنی طرف سے عذاب دیتا ہے اور بعض اوقات اپنے مومن بندوں کے ہاتھ سے ۔ اسی طرح جب رسول کریمؐ نے ابن ابی سرح پر قابو پا لیا تو اس کے خون کو ھدر قرار دیا ۔ کیوں کہ اُس نے رسول کریمؐ کو ہدفِ طعن بنایا اور آپ پر جھوٹ باندھا تھا ۔ حالانکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان تمام اہل مکہ کو امان دے دی تھی جنہوں نے آپ کے ساتھ شدید جنگ کی ۔ اس کے باوجود کہ مرتد کے بارے میں سنت یہ ہے کہ اس سے توبہ کا مطالبہ کیے بغیر اسے قتل نہ کیا جائے ، توبہ کا مطالبہ کرنا واجب ہے یا مستحب ۔
ہم آگے چل کر بیان کریں گے ــــــ اِنْ شَاءَ اللّٰهُ تَعَالٰی ــــــ کہ لوگوں کی
بلکہ عہد رسالت میں مرتد ہو گئے تھے۔ پھر انہیں توبہ کی دعوت دی گئی تو انہوں نے توبہ کر لی اور اُسے قبول کر لیا گیا۔ اس سے معلوم ہوا کہ رسول کریم کو گالیاں دینے والے اور طعن کی آماجگاہ ٹھہرانے والے کا جرم مرتد سے بھی بڑھ کر ہے ۔
رسول کریم نے پہلے ابن ابی سرح کے خون کو ھدر قرار دیا تھا حالانکہ وہ مسلمان ہو کر توبہ کرنے کے لیے آیا تھا۔ پھر آپ نے فرمایا : ”تم نے اسے قتل کیوں نہ کیا ؟ اس کے بعد اسے معاف کر دیا۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ رسول کریم اسے قتل کرنے کے مجاز تھے مگر اس کے ساتھ ساتھ اسے معاف کرنے اور اس کے خون کو بچانے کا حق بھی رکھتے تھے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ گالی دینے والا اگر توبہ کر کے اسلام کی طرف لوٹ آئے تو رسول کریم پھر بھی اس کو قتل کر سکتے ہیں ۔ اس کی وضاحت مندرجہ ذیل امور سے ہوتی ہے :
توبہ کرنے کے باوجود گالی دہندہ کو قتل کرنا جائز ہے
اس کی ایک
دلیل یہ ہے
کہ عکرمہ سے مروی ہے کہ فتح مکہ سے قبل ابن ابی سرح اسلام کی طرف لوٹ آیا ۔ دیگر علماء نے بھی ذکر کیا ہے کہ ابن سرح فتح مکہ سے پہلے جب کہ آپ اس میں اقامت گزیں ہوئے مسلمان ہو گیا تھا ۔ پیچھے گزر چکا ہے کہ رسول کریم کے پاس لانے سے قبل ابن ابی سرح نے حضرت عثمان سے کہا تھا کہ میرا جرم بہت بڑا ہے ۔ میں توبہ کرنے کے لیے آیا ہوں اور مرتد کی توبہ یہ ہے کہ وہ دوبارہ اسلام قبول کرلے ۔ پھر فتح مکہ کے بعد وہ رسول کریم کی خدمت میں حاضر ہوا ، جب کہ شہر میں امن و سکون کا دور دورہ تھا اور وہ تائب بھی ہو چکا تھا۔ رسول کریم اس وقت چاہتے تھے کہ مسلمان اسے قتل کر دیں، تھوڑی دیر آپ اس کا انتظار بھی کرتے رہے ۔ آپ کا خیال تھا کہ کوئی مسلم اسے قتل کر دے گا ۔ یہ اس امر کی واضح دلیل ہے کہ اسلام لانے کے بعد بھی اُسے قتل کرنا جائز ہے ۔
حضرت عثمان نے جب آپ سے کہا کہ وہ آپ کو دیکھ کر بھاگ جاتا ہے تو آپ نے فرمایا : کیا میں نے اسے بیعت نہیں کیا اور اسے امان نہیں دی حضرت عثمان نے کہا جی ہاں ! مگر وہ اسلام لانے کے بعد اپنے عظیم جرم کو یاد کرتا ہے ۔ یہ سن کر آپ نے فرمایا ” اسلام پہلے
گناہوں کو ساقط کر دیتا ہے ۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان فرمایا کہ بیعت اور امان دینے سے قتل کا خون زائل ہو گیا اور گناہ اسلام لانے کی وجہ سے ساقط ہو گئے ۔ اس سے معلوم ہوا کہ گالی دینے والا جب اسلام کی طرف لوٹ آئے تو اسلام گالی کے گناہ کو ساقط کر دیتا ہے البتہ اس کو قتل کرنا جائز ہوتا ہے ، تا وقتیکہ قتل کا اسقاط اس شخص کی طرف سے صادر ہو جو اس کا استحقاق رکھتا ہے ۔
اس کا تفصیلی تذکرہ ان شاء اللہ اپنی جگہ پر آئے گا ۔ ہم یہاں صرف یہ ذکر کرنا چاہتے ہیں کہ رسول کریم پر طعنہ زنی اور تحقیر اس حال میں قتل کو واجب کر دیتی ہے جبکہ محض ارتداد کی بناء پر قتل کرنا جائز نہیں ہوتا ، جب یہ امر قتل کا موجب ہے تو اس میں مسلم اور ذمی یکساں ہیں ۔ نیز اس لیے کہ ہر وہ فعل جس میں قتل واجب ہے — ماسوا ارتداد کے — اس میں مسلم اور ذمی یکساں ہیں ، صحابہ کے ابن ابی سرح اور دو گلو کار لونڈیوں میں سے ایک کو چھپانے میں اس امر کی دلیل ہے کہ رسول کریم کو ان کے قتل کو واجب نہیں ٹھہرایا تھا بلکہ ان کے قتل کو مباح قرار دیا تھا مگر اس کے ساتھ ساتھ ان کو معاف کرنا بھی جائز تھا ۔ یہ اس امر کی دلیل ہے کہ رسول کریم کو ان کے قتل کرنے کا یا معاف کرنے کا اختیار دیا گیا تھا ۔ یہ بات اس امر کی مؤید ہے کہ قتل کا جواز رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حق کی وجہ سے تھا ۔
ابن ابی سرح اور نصرانی کے افتراء کی تردید
واضح ہو کہ ابن ابی سرح اور نصرانی کاتب کا آپ پر یہ افتراء کہ آپ ان سے سیکھتے تھے بہت نمایاں قسم کا افتراء ہے ۔ اس کا یہ قول کہ ”میں جدھر چاہوں آپ کو پھیر دوں“ بہت واضح قسم کا جھوٹ ہے ۔ رسول کریم اس کو وہی چیز لکھواتے تھے جو اللہ کی نازل کردہ ہوتی تھی ۔ نیز آپ اس کو وہی قرآن لکھنے کا حکم دیتے تھے جو وحی کے ذریعے آپ پر نازل ہوتا تھا ۔ ایسا نہیں تھا کہ آپ جدھر چاہتے مڑ جاتے ، بلکہ اللہ جدھر چاہتا آپ کو موڑ دیتا ۔
اسی طرح اس کا یہ قول کہ ”میں جو چاہوں لکھتا ہوں“ سفید جھوٹ ہے ۔ اس لیے کہ
رسول کریم اس کو اپنی مرضی سے نہیں لکھواتے تھے اور نہ اس پر وحی نازل ہوتی تھی ۔ علی ھذا القیاس نصرانی کا یہ قول کہ محمد نہیں سمجھتے مگر میں جو کچھ ان کے لیے لکھ دوں ۔ بھی اسی قبیل سے ہے ۔ اس افتراء کی بنا پر عذاب اس پر محیط ہو گیا اور وہ سزا کا مستوجب ہوا ۔ اہلِ علم کے مابین یہ امر متنازع فیہ ہے کہ جو کچھ وہ لکھ لیتا تھا آیا رسول کریم اسے برقرار رکھتے تھے، حالانکہ وہ اس سے مختلف ہوتا تھا جو رسول کریم نے اسے لکھوایا تھا ۔ کیا رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس ضمن میں اسے کچھ فرمایا تھا یا نہیں ؟ اس میں دو قول ہیں :۔
ابن ابی سرح اور نصرانی کے بارے میں علماء کی آراء
پہلا قول :
پہلا قول یہ ہے کہ یہ محض نصرانی اور ابن ابی سرح کی افتراء پردازی ہے ۔ ورنہ رسول کریم سے ایسا قول صادر نہیں ہوا کہ آپ نے ان کی تحریر کو قرآن کی حیثیت سے تسلیم کیا ہو ۔ البتہ جب شیطان نے ان کے لیے ارتداد کو آراستہ و پیراستہ انداز میں پیش کیا تو انہوں نے آپ پر جھوٹ باندھنا شروع کیا تاکہ لوگوں کو آپ سے متنفر کر دیں ۔ اُن کی بات کو تسلیم کرنے کی وجہ صرف یہ ہے کہ انہوں نے باخبر ہونے کے بعد آپ سے علیحدگی اختیار کی تھی ۔ کسی نے یہ بات نہیں کہی کہ انہوں نے رسول کریم کو یہ کہتے سنا ہو کہ ”میں نے یہی بات کہی یا لکھوائی تھی اور یہی درست ہے“ البتہ مرتد ہونے کے بعد انہوں نے یہ بات کہی کہ رسول کریم نے اُن سے اس طرح فرمایا تھا ، ظاہر ہے کہ وہ اس حال میں غادر اور دشمن خدا تھے ، اس حال میں وہ اللہ پر جو جھوٹ بھی باندھتے اللہ تعالیٰ اُس سے عظیم تر ہے ۔
اس کی مزید وضاحت اس صحیح روایت سے ہوتی ہے جس میں آیا ہے کہ نصرانی نے کہا ” محمد وہی کچھ سمجھتے ہیں جو میں انہیں لکھ دیتا ہوں“ البتہ وہ بعض اوقات ایسی چیزیں بھی لکھ دیتا تھا جو آپ نے نہیں لکھوائی ہوتی تھیں ، اس میں کمی بیشی کر دیتا اور اس کو تبدیل کر دیا کرتا تھا اس لیے اس نے سمجھا کہ رسول کریم اس کی تحریر پر تبدیلی کے باوجود اعتماد کرتے ہیں ۔ اسے معلوم نہیں تھا کہ آیاتِ خدا وندی اہل علم کے سینوں میں واضح اور روشن ہوتی ہیں ۔ کہ وہ پانی سے انہیں دھو کر صاف نہیں کر سکتا اور اس کی
حفاظت و صیانت اللہ کے ذمے ہے ۔ اللہ اپنے نبی کو پڑھا دیتا ہے اور پھر وہ بھولتا نہیں ، مگر وہ جس کو اللہ چاہے اور وہ اس کو اٹھا لینا چاہتا ہو اور اس کی تلاوت کو منسوخ کر دینا چاہتا ہو جبریل ہر سال رسول کریمؐ کو قرآن سنایا کرتے تھے ۔ رسول کریمؐ پر جب کوئی آیت نازل ہوتی چند مسلمانوں کو پڑھوا دیتے اور پھر تواتر کے ساتھ وہ ان سے منقول ہوتی رہتی ۔ اکثر مفسرین جنہوں نے اس واقعہ کو رسول کریمؐ سے نقل کیا تھا ذکر کرتے ہیں کہ آپ اسے لکھواتے : ”سَمِیْعًا عَلِیْمًا“ اور وہ لکھتا ”عَلِیْمًا حَکِیْمًا“ اور جب لکھواتے ”عَزِیْزًا حَکِیْمًا“ وہ لکھتا ”غَفُوْرًا رَّحِیْمًا“ اور اس کے نظائر و امثال ۔ اس نے یہ ذکر نہیں کیا کہ رسول کریمؐ نے اُسے کچھ کہا تھا ۔
وہ کہتے ہیں جب اس شخص کو معلوم تھا کہ وہ جھوٹا ہے ، یہاں تک کہ اللہ نے اس کے کاذب ہونے کی نشانی بھی ظاہر کر دی اور روایات صحیحہ میں صرف یہ بات موجود ہے کہ اس نے جو کچھ کہا رسول کریمؐ سے سن کر کہا یا جو چاہا اس نے لکھا ، بایں ہمہ اُسے معلوم تھا کہ رسول کریمؐ نے اسے کچھ نہیں کہا ۔ وہ کہتے ہیں کہ بعض روایات میں جو مذکور ہے کہ نبی کریمؐ صلے اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تو وہ روایت منقطع یا معلّل ہے ۔ ہو سکتا ہے کہ قائل نے یہ بات اس بنا پر کہی ہو کہ کاتب ہی نے یہ بات کہی ہے ۔ ایسی جگہ معاملہ مشتبہ ہو جاتا ہے یہاں تک کہ رسول کریمؐ کے فرمودات میں بھی شبہ لاحق ہو جاتا ہے ۔
دوسرا قول : دوسرا قول یہ ہے کہ رسول کریمؐ نے اسے کوئی بات کہی تھی ۔ چنانچہ امام احمدؒ نے بطریق حماد بن سلمہ از ثابت از انسؓ روایت کی ہے کہ ایک آدمی رسول اکرم صلے اللہ علیہ وسلم کا کاتب تھا ۔ جب آپ اسے ”سَمِیْعًا عَلِیْمًا“ لکھواتے تو وہ کہتا کہ میں نے ”سَمِیْعًا بَصِیْرًا“ لکھا ہے ۔ آپ فرماتے اسی طرح رہنے دو ۔ اور جب ”عَلِیْمًا حَکِیْمًا“ لکھواتے تو وہ ”عَزِیْزًا حَکِیْمًا“ لکھتا ۔ حماد نے بھی اسی طرح کہا ہے ۔ اس نے سورۃ البقرۃ اور سورۃ آل عمران پڑھی ہوئی تھی اور جس نے یہ دونوں سورتیں پڑھ لیں اس نے قرآن کا بہت سا حصہ پڑھ لیا ۔ وہ شخص جاکر نصرانی ہو گیا اور کہنے لگا کہ محمد کے لیے جو چاہتا تھا لکھتا تھا اور محمد کہتے تھے جو لکھا ہے اسے رہنے دو ۔ وہ مر گیا اور اسے دفن کیا گیا تو قبر نے اسے دو یا تین مرتبہ باہر
پھینک دیا ۔ ابو طلحہ کہتے ہیں کہ میں نے دیکھا تو وہ زمین پر پڑا ہوا تھا ۔ اس کو امام احمدؒ نے روایت کیا ہے ۔
ہم نے بطریق یزید بن ہارون از حمید از انسؓ روایت کیا ہے کہ رسول کریمؐ کا ایک کاتب تھا ۔ اس نے سورۃ بقرۃ اور آل عمران پڑھی ہوئی تھی اور کوئی آدمی جب سورۃ البقرۃ اور آل عمران پڑھ لیتا تو وہ ہماری نگاہ میں معزز ہو جاتا ۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس کو "غَفُوْرًا رَّحِيْمًا" لکھواتے اور وہ "عَلِيْمًا حَكِيْمًا" لکھتا ۔ رسول کریمؐ فرماتے فلاں فلاں آیات لکھو ، تو میں جیسے چاہتا لکھ دیتا ۔ آپ اُسے "عَلِيْمًا حَكِيْمًا" لکھواتے اور وہ "سَمِيْعًا بَصِيْرًا" لکھتا ۔ وہ کہتا کہ میں جیسے چاہوں گا لکھوں گا ۔ وہ آدمی اسلام سے منحرف ہو گیا اور مشرکوں میں جا ملا ۔ وہ کہنے لگا ، میں محمدؐ کو تم سے بہتر جانتا ہوں میں جو چاہتا تھا لکھ دیا کرتا تھا ۔ وہ آدمی مر گیا تو رسول کریمؐ نے فرمایا " زمین اسے قبول نہیں کرے گی " حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں مجھے ابو طلحہؓ نے بتایا کہ وہ اس جگہ گئے جہاں وہ فوت ہوا تھا ۔ دیکھا کہ قبر نے اسے پھینک دیا ہے ۔ ابو طلحہؓ نے پوچھا اس آدمی کا کیا معاملہ ہے ؟ لوگوں نے کہا : ہم نے اس کو کئی دفعہ دفن کیا ہے مگر زمین نے اسے قبول نہیں کیا ۔ اس کی اسناد صحیح ہے ۔
جن لوگوں نے پہلے قول کو اختیار کیا ہے وہ کہتے ہیں کہ البزار نے اس حدیث کو معلول قرار دیا ہے جس کو ثابت نے انسؓ سے روایت کیا ہے ۔ وہ کہتے ہیں اس کو ثابت نے انسؓ سے روایت کیا ہے مگر اس کی تائید کسی دوسری روایت سے نہیں ہوتی ۔ اس کو حمید نے انسؓ سے روایت کیا ہے ۔ میرا خیال ہے کہ حمید نے اس کو ثابت سے سُنا ہے ۔ اہل علم کہتے ہیں کہ حضرت انسؓ نے یہ نہیں ذکر کیا کہ انہوں نے یہ حدیث رسول کریمؐ سے سنی ہے یا اس وقت موجود تھے جب آپؐ یہ حدیث ارشاد فرما رہے تھے ۔ غالباً انہوں نے ایک سنی سنائی بات بیان کر دی ۔
اس کلام میں بظاہر تکلف پایا جاتا ہے ۔ ہم نے جو کچھ ابن اسحاق اور واقدی کی روایت کے بارے میں کہا ہے اس روایت کے ظاہری مفہوم کے عین موافق ہے مفسرین
کی ایک جماعت نے بھی اسی طرح ذکر کیا ہے ۔ کچھ ایسے آثار بھی منقول ہیں جن میں اس قول کی پوری تفصیل بیان کی گئی ہے ۔ چنانچہ ابن اسحاق کی روایت میں ہے کہ رسول کریم اسے فرماتے لکھو ”عَلِيْمٌ حَكِيْمٌ“ تو وہ کہتا کیا میں ”عَزِيزٌ حَكِيمٌ“ لکھ لوں ؟ رسول کریم فرماتے ہاں ! دونوں یکساں ہیں ۔ دوسری روایت میں ہے کہ رسول کریم اُسے لکھواتے ”عَزِيزٌ حَكِيمٌ“ یا ”حَكِيْمٌ عَلِيْمٌ“ تو وہ دونوں میں سے ایک طرح لکھ دیتا ۔ رسول کریم فرماتے ”سب ٹھیک ہے“
اس روایت میں اسی امر کی وضاحت ہے ، اِس لیے کہ دونوں کلمات نازل ہو چکے تھے ۔ رسولِ کریم دونوں کو پڑھتے اور اُسے فرماتے کہ ان دونوں حروف کو جیسے چاہو لکھو دونوں ٹھیک ہیں ۔ ایک روایت میں صراحۃً رسولِ کریم سے منقول ہے کہ قرآن کریم جو سات حروف پر اتارا گیا ہے ، ان میں ہر ایک کافی شافی ہے۔ اگر تم کہو ”عَزِيزٌ حَكِيمٌ“ یا ”غَفُورٌ رَّحِيمٌ“ تو دونوں ٹھیک ہیں۔ مگر ایسا نہ ہو کہ جس آیت میں رحمت کا ذکر کیا گیا ہے اسے عذاب کے ذکر پر ختم کرو یا جس آیت میں عذاب کا ذکر کیا گیا ہے اسے رحمت کے ذکر پر ختم کرو ۔
صحابہ کی ایک جماعت نے آیتِ کریمہ ”وَإِنْ تَغْفِرْ لَهُمْ فَإِنَّكَ أَنْتَ الْغَفُورُ الرَّحِيمُ“ (المائدۃ ۔ ۱۱۸) کو اس طرح پڑھا ہے ۔ جب کہ قرآن مجید میں ”الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ“ ہے ۔ بکثرت احادیث اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ جن سات حروف پر قرآن کو نازل کیا گیا ہے اس میں یہ بات بھی شامل ہے کہ ایک آیت کے آخر میں علیٰ سبیل البدل مختلف اسماء الٰہی میں سے کسی ایک اسم کو تبدیل کر کے پڑھا جائے ۔ قاری کو اختیار ہے کہ جو اسمِ الٰہی چاہے تلاوت کرے ۔ رسولِ کریم اسے اختیار دیتے تھے کہ ان حروف کو جیسے چاہے لکھے ۔ بعض اوقات رسولِ کریم چند حروف میں ایک حرف تلاوت فرماتے ۔ وہ آپ سے کہتا ”کیا میں اس طرح لکھ لوں ؟ اس لیے کہ اُس نے بکثرت آپ کو دو حروف کے درمیان اختیار دیتے سنا تھا ۔ رسولِ کریم اسے فرماتے ”دونوں یکساں ہیں“ اس لیے کہ آیت دو حروف کے مطابق اتری تھی ۔ بعض اوقات وہ دو میں ایک حرف لکھتا اور رسولِ کریم
بھی اسی طرح ذکر کیا ہے۔ کچھ ایسے آثار بھی منقول ہیں جن میں اس قول کی گئی ہے۔ چنانچہ ابن اسحاق کی روایت میں ہے کہ رسول کریم اسے ”حَكِيْمٌ“ تو وہ کہتا کیا میں ”عَزِيْزٌ حَكِيْمٌ“ لکھ لوں؟ رسول کریم یکساں ہیں۔ دوسری روایت میں ہے کہ رسول کریم اسے لکھواتے ”حَكِيْمٌ عَلِيْمٌ“ تو وہ دونوں میں سے ایک طرح لکھ دیتا، رسول ٹھیک ہے“۔ اس امر کی وضاحت ہے ، اس لیے کہ دونوں کلمات نازل لوگوں کو پڑھتے اور اُسے فرماتے کہ ان دونوں حروف کو جیسے چاہو لکھو ایک روایت میں صراحتہً رسول کریم سے منقول ہے کہ قرآن کریم محکم ہے، ان میں ہر ایک کافی شافی ہے۔ اگر تم کہو ”عَزِيْزٌ حَكِيْمٌ“، یا دونوں ٹھیک ہیں۔ مگر ایسا نہ ہو کہ جس آیت میں رحمت کا ذکر ذکر پر ختم کرو یا جس آیت میں عذاب کا ذکر کیا گیا ہے اسے رحمت
حضرت نے آیت کریمہ ”وَإِنْ تَغْفِرْ لَهُمْ فَإِنَّكَ أَنْتَ الْغَفُوْرُ (۱۱۸) کو اس طرح پڑھا ہے۔ جب کہ قرآن مجید میں ”الْعَزِيْزُ احادیث اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ جن سات حروف پر ان میں یہ بات بھی شامل ہے کہ ایک آیت کے آخر میں علیم حکیم میں سے کسی ایک اسم کو تبدیل کر کے پڑھا جائے۔ قاری کو چاہے تلاوت کرے۔ رسول کریم اسے اختیار دیتے تھے کہ ان بعض اوقات رسول کریم چند حروف میں ایک حرف تلاوت یا ”میں اس طرح لکھ لوں؟“ اس لیے کہ میں نے بکثرت آپ کو وہ ایسے سنا تھا۔ رسول کریم اسے فرماتے ”دونوں یکساں ہیں“ اس طرح اتری تھی۔ بعض اوقات وہ دو میں ایک حرف لکھتا اور رسول کریم
کو پڑھ کر سناتا تو آپ اس کی تائید فرماتے کہ ٹھیک ہے۔ اس لیے کہ وہ آیت میں بھی اتری تھی۔ قرآنی آیات کو ”سَمِيعٌ عَلِيمٌ“، ”عَلِيمٌ حَلِيمٌ“، ”غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ“، ”سَمِيعٌ بَصِيْرٌ“، ”عَلِيْمٌ حَكِيْمٌ“ یا ”حَكِيْمٌ حَمِیْدٌ“ کے الفاظ سے اکثر جگہ ختم کیا گیا ہے۔ کسی ایک آیت کا متعدد حروف پر نازل ہونا ایک عام سی بات تھی، جب جبریل ہر رمضان میں رسول کریم کے ساتھ قرآن کا اعادہ فرماتے، تو اللہ نے اس موقع پر بعض حروف کو منسوخ کر دیا۔ جب آخری مرتبہ قرآن کریم کا مذاکرہ ہوا تو اُس وقت اس کو حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کی قراءت کے مطابق پڑھا گیا، جو آج بھی لوگوں میں مقبول ہے۔ اسی قراءت پر حضرت عثمان اور صحابہ رضی اللہ عنہم نے لوگوں کو جمع کیا تھا۔ اسی لیے حضرت ابن عباس نے اس واقعہ کو ”الناسخ والمنسوخ“ میں ذکر کیا ہے۔ اسی طرح امام احمد نے اس کو اپنی کتاب ”الناسخ والمنسوخ“ میں ذکر کیا ہے۔ کیونکہ اس میں بعض حروف کے نسخ کا ذکر کیا گیا ہے۔
اس میں ایک اور وجہ کا ذکر بھی کیا گیا ہے جس کو امام احمد نے اپنی کتاب ”الناسخ والمنسوخ“ میں بیان کیا ہے۔ فرماتے ہیں کہ ہم نے بطریق مسکین ابن بکیر از ضحاک از خلف روایت کیا ہے کہ ابن ابی سرح رسول کریم کے لیے قرآن لکھا کرتا تھا۔ جب بھی رسول کریم اسے آیات کے آخری لفظ ”يَعْلَمُوْنَ، يَفْعَلُوْنَ“ کے بارے میں سوال کرتا تو رسول کریم اسے فرماتے ”ان میں سے جو لفظ چاہو لکھ لو“۔ راوی نے کہا ”پھر اللہ اسے صحیح لفظ پہچاننے کی توفیق دیتا“۔ ابن سرح مرتد ہو کر اہل مکہ کے یہاں آ گیا۔ انہوں نے کہا اے ابن ابی سرح! تم ابن ابی کبشہ (نعوذ باللہ من ذالک کفار مکہ تحقیرًا آپ کو اس نام سے یاد کیا کرتے تھے) کے لیے قرآن کیسے لکھا کرتے تھے؟ اس نے کہا ”میں جیسے چاہتا لکھتا تھا“۔ تب مندرجہ ذیل آیت کریمہ نازل ہوئی : وَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرى عَلَى اللهِ اور اس سے بڑھ کر ظالم کون ہے جو اللہ پر كَذِبًا اَوْ قَالَ اُوْحِيَ اِلَيَّ وَلَمْ يُوْحَ جھوٹ باندھے یا کہے کہ میری طرف وحی اِلَيْهِ شَيْئًا (الانعام - ٩٣) کی گئی ہے حالانکہ اس کی طرف کچھ بھی وحی نہیں کیا گیا ۔
فتح مکہ کے دن رسول کریمؐ نے فرمایا ”جو شخص ابن ابی سرح کو پکڑے تو اس کی گردن اڑا دے، جہاں بھی اُسے پاتے اگرچہ وہ کعبہ کے پردوں کے ساتھ لٹکا ہوا ہو“۔ اس اثر میں ہے کہ وہ رسول کریمؐ سے دو جائز حروف کے بارے میں سوال کرتا ، تو آپ اُسے فرماتے : ”ان میں سے جو چاہو لکھ لو“۔ اللہ اس کو درست لکھنے کی توفیق دیتا اور دونوں میں سے جو حرف اللہ کو عزیز ہوتا وہ لکھتا ۔ وہ دونوں حرف نازل شدہ ہوتے یا صرف وہ لکھتا جو اللہ کا نازل کردہ ہوتا ، بشرطیکہ دوسرا نازل شدہ نہ ہوتا ۔ رسول کریمؐ کی طرف سے یہ اختیار یا تو وسعت پر مبنی ہوتا ، اگر وہ دونوں نازل شدہ ہوتے یا اللہ کی حفاظت پر اعتماد کرتے اور یہ جانتے ہوئے کہ وہ صرف وہی لکھے گا جس کو اللہ نے نازل کیا ہے ۔ اور اس کتاب میں اس بات کا انکار نہیں کیا جا سکتا جس کی حفاظت کی ضمانت خود اللہ نے لی ہو اور جس کے بارے میں فرمایا ہو کہ باطل نہ اس کے آگے سے اِس میں گھس سکتا ہے نہ پیچھے سے۔
بعض علماء نے ایک تیسری وجہ بھی ذکر کی ہے ۔ اور وہ یہ کہ بعض اوقات وہ رسول کریمؐ سے مکہ میں ایک آیت سنتا، اور جب اس میں سے ایک یا دو کلمات باقی رہتے تو جو کچھ پڑھا ہوتا تھا اس سے اندازہ لگاتا کہ اس کے آگے فلاں الفاظ باقی ہیں جیسا کہ ایک ذہین وفطین آدمی کا شیوہ ہے ۔ چنانچہ وہ اسے لکھ لیتا اور پھر رسول کریمؐ کو پڑھ کر سناتا تو آپؐ فرماتے ”یہ اسی طرح اُتری ہے“ جیسا کہ حضرت عمرؓ کو آیت ”فَتَبَارَكَ اللَّهُ اَحْسَنُ الْخَالِقِيْنَ “ (پس بابرکت ہے وہ اللہ جو سب پیدا (المؤمنون - ۱۴) کرنے والوں سے اچھا ہے)
کلبی نے بطریق ابوصالح از ابن عباسؓ اس واقعہ میں اسی طرح روایت کیا ہے اگرچہ یہ اسناد ثقہ نہیں ہے ۔ حضرت ابن عباسؓ نے ابن ابی سرح سے نقل کیا ہے کہ اس نے زبان سے اسلام کا اقرار کیا تھا اور بعض اوقات وہ وحی بھی لکھا کرتا تھا ۔ جب آپ اسے ”عَزِيْزٌ حَکِيْمٌ “ لکھواتے تو وہ ”غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ “ لکھ دیتا ۔ رسول کریمؐ فرماتے کہ ”دونوں یکساں ہیں“ جب یہ آیت اُتری کہ : ”وَلَقَدْ خَلَقْنَا الْإِنْسَانَ مِنْ سُلَالَةٍ مِّنْ طِيْنٍ “ (ہم نے انسان کو مٹی کے خلاصے سے .... تا ”خَلْقًا آخَرَ“ (المؤمنون - ۱۲ - ۱۴) پیدا کیا )
وہی رسول کریمؐ نے فرمایا "جو شخص ابن ابی سرح کو پکڑے تو اس کی گردن اُسے پائے اگرچہ وہ کعبہ کے پردوں کے ساتھ لٹکا ہوا ہو"۔ اس اثر میں ہم سے وہ جائزہ حروف کے بارے میں سوال کرتا ، تو آپ اُسے فرماتے : "جو لکھ لو"۔ اللہ اس کو درست لکھنے کی توفیق دیتا اور دونوں میں سے جو ہوتا وہ لکھتا۔ وہ دونوں حرف نازل شدہ ہوتے یا صرف وہ لکھتا جو ہوتا ، بشرطیکہ دوسرا نازل شدہ نہ ہوتا۔ رسولِ کریمؐ کی طرف سے یہ اختیار تھا ، اگر وہ دونوں نازل شدہ ہوتے یا اللہ کی حفاظت پر اعتماد کرتے کہ وہ حرف وہی لکھے گا جس کو اللہ نے نازل کیا ہے۔ اور اس کتاب کا انکار نہیں کیا جا سکتا جس کی حفاظت کی ضمانت خود اللہ نے لی ہو اور فرمایا ہو کہ باطل نہ اس کے آگے سے اِس میں گھس سکتا ہے نہ پیچھے سے۔
یہ ایک تیسری وجہ بھی ذکر کی ہے۔ اور وہ یہ کہ بعض اوقات وہ رسول کریمؐ کی آیت سنتا ، اور جب اس میں سے ایک یا دو کلمات باقی رہتے تو وہ اس سے اندازہ لگاتا کہ اس کے آگے فلاں الفاظ باقی ہیں جیسا کہ منشی کا شیوہ ہے۔ چنانچہ وہ اسے لکھ لیتا اور پھر رسولِ کریمؐ کو پڑھ کر سناتا ، "یہ اِسی طرح اُتری ہے" جیسا کہ حضرت عمرؓ کو آیت " فَتَبَارَكَ اللّٰهُ " (پس بابرکت ہے وہ اللہ جو سب پیدا کرنے والوں سے اچھا ہے)
(المومنون - ۱۴)
ابو صالح از ابن عباسؓ اس واقعہ میں اسی طرح روایت کیا ہے اگرچہ حضرت ابن عباسؓ نے ابن ابی سرح سے نقل کیا ہے کہ اس نے زبانی سنی اور بعض اوقات وہ وحی بھی لکھا کرتا تھا۔ جب آپ اسے "غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ" لکھاتے تو "عَزِیْزٌ حَکِیْمٌ" لکھ دیتا۔ رسولِ کریمؐ فرماتے کہ دونوں یکساں ہیں " مِنْ سُلٰلَةٍ مِّنْ طِیْنٍ " (ہم نے انسان کو مٹی کے خلاصے سے پیدا کیا)
(المومنون - ۱۲ - ۱۴)
تو عبداللہ بن سعد نے اظہارِ حیرت کیا اور کہا : " فَتَبٰرَكَ اللّٰهُ اَحْسَنُ الْخٰلِقِیْنَ " (پس بابرکت ہے اللہ جو سب پیدا کرنے والوں سے بہتر ہے)
(المومنون - ۱۲ - ۱۴)
رسولِ کریمؐ نے فرمایا : یہ آیت اسی طرح اتاری گئی ہے ، تم اسے لکھ لو، تب اسے شک ہوا اور کہا کہ اگر محمدؐ سچے ہیں تو مجھ پر بھی انہی کی طرح وحی نازل ہوئی ہے اور اگر جھوٹے ہیں تو میں نے بھی اسی طرح کہا جس طرح انہوں نے کہا " یہ سورة الانعام کی آیت نمبر ۹۳ نازل ہوئی۔
مگر اس روایت کو اس لیے ضعیف قرار دیا گیا ہے کہ مشہور یہ ہے کہ یہ بات حضرت عمرؓ بن الخطاب رضی اللہ عنہ نے کہی تھی ۔ بعض اہلِ علم نے ایک اور بات کہی ہے کہ حضرت انسؓ کی روایت میں صرف یہ بات مذکور ہے کہ ابن ابی سرح لکھنے کے بعد رسولِ کریمؐ کو سنایا کرتا تھا۔ آپؐ اس کو لکھواتے "سَمِیْعًا عَلِیْمًا" تو وہ کہتا میں نے "سَمِیْعًا بَصِیْرًا" لکھ لیا ہے ۔ رسولِ کریمؐ فرماتے کہ "اسے رہنے دو" یا فرماتے "تم جیسے چاہو لکھ لو"۔ واقدی کی روایت ہے کہ رسولِ کریمؐ اسے فرماتے، اللہ نے اسی طرح نازل کیا ہے، پھر آپؐ اسے برقرار رہنے دیتے۔
رسولِ کریمؐ کو کاتبوں کی ضرورت تھی
علماء کہتے ہیں کہ رسولِ کریمؐ کو کاتبوں کی ضرورت تھی، کیوں کہ صحابہ میں لکھنے والوں کی قلت تھی۔ اور ضرورت کے وقت کاتب نہ ملتے تھے۔ مزید برآں عربوں پر اُمّیت غالب تھی، حتیٰ کہ اس عظیم ملک میں کاتب تلاش کیا جاتا مگر نہیں ملتا تھا۔ ان میں سے جب کوئی خط یا عریضہ لکھنے کا ارادہ کرتا تو کاتب کے حصول میں بڑی دشواری پیش آتی۔ جب رسولِ کریمؐ کو کاتب میسر آجاتا تو اس کو غنیمت سمجھتے۔ اگر کاتب اس میں کمی بیشی کر دیتا تو کاتب کی نایابی کی وجہ سے اس سے کچھ تعرض نہ کرتے ۔ آپؐ اسے تبدیل کرنے کا حکم اس لیے نہ دیتے کہ کہیں ناراض ہو کر، تحریر مکمل کرنے سے قبل لکھنا بند نہ کردے ۔ اس بات پر بھروسہ کرتے ہوئے کہ قاری جب اگلے الفاظ کو پڑھے گا تو ان ایک دو کلمات کو اپنے دل یا حافظہ میں محفوظ کلام کی بنیاد پر خود ہی درست کرلے گا ۔ جیسا کہ قرآن میں فرمایا گیا ہے کہ: "سَنُقْرِئُكَ فَلَا تَنْسٰی ، اِلَّا مَا شَاءَ اللّٰهُ" (ہم تجھے پڑھائیں اور تو نہیں بھولے گا مگر
إِنَّهُ يَعْلَمُ الْجَهْرَ وَمَا يَخْفَى جو اللہ چاہے ۔ وہ اس کو جانتا ہے جو بلند (الاعلیٰ ۔ ۶ - ۷) ہو اور جو پوشیدہ ہو ۔
مصحف عثمانؓ عرضہ اخیرہ پر مبنی ہے
ان وجوہ میں سے پہلی وجہ صحیح تر ہے اور وہ یہ کہ قرآن مجید کو متعدد حروف پر نازل کیا گیا تھا ۔ اس لیے کہ علمائے سلف کے نزدیک پسندیدہ قول جس پر عام احادیث اور صحابہ کی مختلف قرائتیں دلالت کرتی ہیں یہ ہے کہ حضرت عثمانؓ نے لوگوں کو جس مصحف پر جمع کیا تھا وہ "حروف سبعہ" میں سے ایک ہے ۔ اور یہ "عرضہ اخیرہ" کے مطابق ہے جب دوسری مرتبہ رسول کریمؐ نے جبریل امین کے ساتھ قرآن مجید کا مذاکرہ کیا تھا ۔ نیز یہ کہ حروف سبعہ اس مصحف سے خارج ہیں ۔ حروف سبعہ میں کلمات مختلف ہو جاتے تھے مگر معنی و مفہوم میں تضاد یا اختلاف نہیں پیدا ہوتا تھا ۔
دو گلوکار لونڈیوں کا واقعہ
دسویں حدیث دو گلوکار لونڈیوں کے واقعہ پر مشتمل ہے جو رسول کریمؐ کی ہجو پر مشتمل اشعار گایا کرتی تھیں ۔ تیسری بنی ہاشم کی لونڈی تھی علمائے سیرت کے نزدیک یہ مشہور واقعہ ہے ۔ قبل ازیں سعید بن المسیب کی روایت میں ذکر کیا جاچکا ہے آپؐ نے "فرتنی" نامی لونڈی کو قتل کرنے کا حکم دیا تھا ۔ موسیٰ بن عقبہ نے اپنے مغازی میں زھری سے روایت کی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کو حکم دیا تھا کہ اپنے ہاتھوں کو روکے رکھیں اور صرف اسی سے لڑیں جو لڑائی کا آغاز کریں ۔ آپؐ نے چار آدمیوں کو قتل کرنے کا حکم دیا ۔ علاوہ ازیں آپؐ نے ابن خطل کی دو لونڈیوں قتل کرنے کا حکم دیا جو رسول کریمؐ کی ہجو پر مشتمل اشعار گایا کرتی تھیں ۔ راوی نے کہا کہ ایک لونڈی کو قتل کیا گیا ، دوسری چھپ گئی اور پھر اسے امان دی گئی ۔ محمد بن عائذ القرشی نے اپنے مغازی میں اسی طرح ذکر کیا ہے ۔ ابن بکیر نے ابن اسحاق سے روایت کیا ہے کہ ابو عبیدہ بن محمد بن عمار بن یاسر اور عبد اللہ بن ابی بکر بن حزم نے کہا کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب مکہ میں داخل ہوئے
سِرًّا وَ مَا يَخْفَى، جو اللہ چاہے ۔ وہ اس کو جانتا ہے جو بلند ہو اور جو پوشیدہ ہو ۔
(٨٧ - ٦ - ٧)
کہ عرضہ اخیرہ پر مبنی ہے | ان وجوہ میں سے پہلی وجہ صحیح تر ہے اور وہ یہ کہ قرآن مجید کو حروف سبعہ پر نازل کیا گیا تھا ۔ اس لیے کہ علمائے سلف کے نزدیک پسندیدہ قول جس پر احادیث کی مختلف قرأتیں دلالت کرتی ہیں یہ ہے کہ حضرت عثمانؓ نے لوگوں کو اس مصحف پر جمع کیا جو ان حروف سبعہ میں سے ایک ہے ۔ اور یہ 'عرضہ اخیرہ' کے موافق ہے جس میں رسولِ کریمؐ نے جبریل امین کے ساتھ قرآن مجید کا مذاکرہ کیا تھا ۔ باقی حروف اس کے بعد اس مصحف سے خارج ہیں ۔ حروف سبعہ میں کلمات مختلف ہو سکتے ہیں لیکن مفہوم میں تضاد یا اختلاف نہیں پیدا ہوتا تھا ۔
گویوں کا واقعہ
دسویں حدیث دو گلوکار
لونڈیوں کے واقعہ پر
اس کی ہجو پر مشتمل اشعار گایا کرتی تھیں ۔ تیسری بنی ہاشم کی لونڈی تھی جس کا ایک یہ مشہور واقعہ ہے ۔ قبل ازیں سعید بن المسیب کی روایت میں آیا ہے کہ آپؐ نے 'فرتنی' نامی لونڈی کو قتل کرنے کا حکم دیا تھا ۔ موسیٰ بن عقبہ نے اپنے مغازی میں زھری سے روایت کی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ اپنے ہاتھوں کو روکے رکھیں اور صرف اسی سے لڑیں جو لڑائی کرے ۔ آپؐ نے چار آدمیوں کو قتل کرنے کا حکم دیا ۔ علاوہ ازیں آپؐ نے ابن خطل کی دو لونڈیوں کو قتل کرنے کا حکم دیا جو رسولِ کریمؐ کی ہجو پر مشتمل اشعار گایا کرتی تھیں ۔ ان میں سے ایک لونڈی کو قتل کیا گیا ، دوسری چھپ گئی اور پھر اسے امان دی گئی ۔ ابن اسحاق نے اپنے مغازی میں اسی طرح ذکر کیا ہے ۔
یونس بن بکیر نے ابن اسحاق سے روایت کیا ہے کہ ابو عبیدہ بن محمد بن عمار بن یاسر اور عبداللہ بن ابی بکر نے ہم سے کہا کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب مکہ میں داخل ہوئے
اور اپنے لشکر کو تقسیم کر دیا تو انہیں حکم دیا کہ صرف اسی کو قتل کریں جو اُن سے لڑے ۔ ماسوا چند اشخاص کے جن کا نام لیکر رسولِ کریمؐ نے فرمایا کہ ان کو قتل کر دو اگرچہ ان کو کعبہ کے پردوں کے نیچے پاؤ ۔ ان میں سے ایک عبداللہ بن خطل تھا ۔ رسولِ کریمؐ نے ابن خطل کو قتل کرنے کا حکم اس لیے دیا کہ وہ مسلمان تھا اور رسولِ کریمؐ نے اس کو صدقات کی وصولی کے لیے بھیجا ۔ آپؐ نے اس کے ہمراہ انصار کے ایک آدمی کو بھیجا ۔ اس کے ساتھ ایک آزاد کردہ غلام تھا جو مسلمان تھا اس کی خدمت کیا کرتا تھا ۔ اس نے ایک جگہ پڑاؤ کیا اور اپنے غلام کو ایک مینڈھا ذبح کرنے اور کھانا تیار کرنے کا حکم دیا ۔ وہ سو کر اُٹھا اور کھانا تیار نہ کیا ۔ ابن خطل نے اس پر تجاوز کیا اور اُسے قتل کر دیا پھر مرتد ہو کر مشرکین سے جا ملا ۔
اس کی ایک لونڈی تھی جس کی ایک سہیلی تھی ۔ دونوں رسولِ کریمؐ کے خلاف ہجویہ اشعار گایا کرتی تھیں ۔ رسولِ کریمؐ نے ابن خطل اور اس کی دونوں لونڈیوں کو قتل کرنے کا حکم دیا ان میں ایک شخص مقیس بن صبابہ تھا جس نے ایک انصاری کو اسلیے قتل کیا تھا کہ انصاری نے اس کے بھائی کو قتل کیا تھا ۔ نیز سارہ بنی عبدالمطلب کی آزاد کردہ لونڈی ، جو مکہ میں رسولِ کریمؐ کو ایذا دیا کرتی تھی ۔
اُموی اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ ابن اسحاق نے کہا کہ رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے چند آدمیوں اور عورتوں کے قتل کرنے کا حکم دیا۔ آپؐ نے فرمایا ' اگر تمہیں وہ کعبہ کے پردوں کے نیچے بھی ملیں تو قتل کردو ۔ آپؐ نے اُن چھ آدمیوں کے نام لیے جو یہ ہیں :-
- (١) ابن ابی سرح (٢) ابن خطل (٣) حویرث بن نقیذ ۔ (٤) مقیس بن صبابہ
- (٥) ایک آدمی بنی تیم بن غالب سے ۔
ابن اسحاق کہتے ہیں کہ مجھے ابوعبیدہ بن محمد بن عمار بن یاسر نے بتایا کہ وہ چھ آدمی تھے ۔ اس نے دو آدمیوں کے نام چھپالیے اور چار کے نام بتائے جن میں ابن خطل کی دو گلوکار لونڈیاں تھیں ۔ اور ایک سارہ بنی عبدالمطلب کی آزاد لونڈی ۔ پھر کہا کہ دونوں گلوکار لونڈیاں رسولِ کریمؐ کی ہجو پر مشتمل اشعار گایا کرتی تھیں اور سارہ جو بنی عبدالمطلب کی آزاد کردہ
لونڈی تھی وہ اپنی زبان سے رسول کریمؐ کو ایذا دیا کرتی تھی۔
واقدی اپنے شیوخ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول کریمؐ نے جنگ لڑنے سے منع کیا۔ آپ نے چھ آدمیوں اور چار عورتوں کو قتل کرنے کا حکم دیا۔ پھر اس نے ان کو گنا۔ ابن خطل کہتے ہیں کہ سارہ عمرو بن ہاشم کی لونڈی تھی۔ اور دو گلوکار لونڈیاں ابن خطل کی تھیں ایک کا نام "فَرْتَنٰی" اور دوسری کا قَرِیبَہ تھا۔ اور بعض ان کا نام فَرْتَنٰی اور اَرْنَب بتاتے ہیں۔ پھر کہا ابن خطل کا جرم یہ تھا کہ اسلام لایا اور مدینہ کی طرف ہجرت کی۔ رسول کریمؐ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو عامل بنا کر بھیجا اور اس کے ساتھ قبیلہ خزاعہ کے ایک آدمی کو بھی بھیجا۔ وہ کھانا پکاتا اور اس کی خدمت کرتا تھا۔ ابنِ سُریح ایک مجلس میں اترا اس نے خزاعی کو کھانا پکانے کا حکم دیا۔ ابنِ سُریح دوپہر کو سو گیا وہ جاگا تو خزاعی ابھی سو رہا تھا اور اس نے کھانا تیار نہ کیا۔ ابنِ سُریح اُسے مارنے لگا یہاں تک کہ اُسے قتل کر دیا۔ پھر کہنے لگا بخدا اگر میں محمدؐ کے پاس گیا تو وہ مجھے قتل کر دے گا۔ چنانچہ اسلام سے منحرف ہو کر مکہ پہنچا اور جو صدقہ فراہم کیا تھا وہ بھی لے گیا۔
اہل مکہ نے اس سے دریافت کیا کیسے آنا ہوا؟ اس نے کہا میں نے تمہارے دین سے بہتر کوئی دین نہیں پایا۔ چنانچہ وہ شرک پر برقرار رہا۔ اس کی دو فاسق گلوکار لونڈیاں تھیں۔ ابن خطل ہجویہ اشعار کہتا اور ان کو گانے کا حکم دیتا۔ اس کے اور اس کی لونڈیوں کے پاس لوگ آتے، شراب پیتے اور یہ انہیں ہجویہ اشعار گا کر سناتیں۔
عمرو بن ہاشم کی لونڈی سارہ مکہ میں نوحہ گر عورت تھی۔ عمرو اسے ہجویہ اشعار سناتا اور وہ انہیں گاتی تھی۔ یہ صلہ مانگنے کے لیے رسول کریمؐ کی خدمت میں حاضر ہوئی اور اپنی حاجت طلب کی۔ رسول کریمؐ نے فرمایا کیا گلوکاری اور نوحہ گری تمہارے لیے کافی نہیں ہے۔ اُس نے کہا اے محمدؐ! جب سے بدر میں سردارانِ مکہ مارے گئے ہیں لوگوں نے گانا سننا چھوڑ دیا ہے۔ چنانچہ رسول کریمؐ اس سے خوش اخلاقی سے پیش آئے اور ایک بارِ شتر غلّہ اسے دیا۔ پھر یہ قریش کی طرف لوٹ آئی اور ان کے دین پر قائم رہی۔ فتحِ مکہ کے روز آپؐ نے اس کو قتل کرنے کا حکم دیا اور وہ ماری گئی۔
باقی رہیں دو گلوکار لونڈیاں تو رسول کریمؐ نے ان کو قتل کرنے کا حکم دیا۔ ان میں سے ایک ارنب یا قریبہ ماری گئی۔ فرتنی کو امان دے دی گئی۔ وہ زندہ رہی اور خلافت عثمانی میں اس کی ایک پسلی ٹوٹ گئی جس سے اس کی موت واقع ہو گئی ۔ حضرت عثمانؓ نے اس کی دیت آٹھ ہزار درہم مقرر کی اور حریم کی وجہ سے اس میں دو ہزار کا اضافہ کیا ۔
لونڈیوں کے واقعہ سے استدلال
دونوں گلوکار لونڈیوں کے بارے میں علمائے سیرت کے یہاں اتفاق پایا جاتا ہے ۔ اس واقعہ کو اس قدر شہرت نصیب ہوئی کہ اخبار آحاد کی ضرورت باقی نہ رہی ۔ بنی ہاشم کی لونڈی کا تذکرہ عام اہل مغازی اور بڑے باخبر اہل علم نے کیا ہے ۔ تاہم بعض نے اس کا تذکرہ نہیں کیا ۔ انداز استدلال یہ ہے کہ محض کفر اصلی کی وجہ سے عورت کو دانستہ قتل کرنا اجماعاً جائز نہیں ۔ یہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مشہور سنت ہے ۔ صحیحین میں حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ کسی لڑائی میں ایک عورت کی لاش ملی تو رسول کریمؐ نے عورتوں اور بچوں کو قتل کرنے سے منع فرمایا ۔
ایک اور حدیث میں آیا ہے کہ کسی جنگ میں عورت کی لاش ملی۔ رسول کریمؐ نے اُس کے قتل کو ناپسند فرمایا اور کہا کہ ” یہ جنگ تو نہیں کرتی تھی“ پھر ایک شخص سے کہا: ”خالد کو مل کر کہو کہ مزدور اور بچے کو قتل نہ کرے “
(ابو داؤد)
امام احمد نے مسند میں کعب بن مالک سے روایت کی ہے ، اس نے اپنے چچا سے روایت کی کہ رسول کریمؐ نے جب اس کو خیبر میں ابن ابی الحقیق کی طرف بھیجا تو آپؐ نے ”عورتوں اور بچوں کو قتل کرنے سے منع کیا “ ۔ علمائے سیرت کے نزدیک یہ بات مشہور ہے ۔ حدیث میں بروایت زہری از عبداللہ بن کعب مروی ہے کہ پھر اس کے بالا خانے پر چڑھے اور دروازہ کھٹکھٹایا ۔ ان کی طرف ایک عورت نکلی اور اس نے کہا تم کون ہو؟ انہوں نے کہا ”ہم عرب سے ایک قبیلے سے تعلق رکھتے ہیں اور غلہ لینے کے لیے آئے ہیں“ عورت نے دروازہ کھول دیا اور کہا ”گھر میں تمہارے قریب ہی ایک آدمی بھی ہے“ ہم نے کمرے کا دروازہ بند کر دیا ” وہ عورت اونچی آواز سے بولنے اور چلانے لگی “ رسول کریمؐ نے جب ہمیں بھیجا تھا
اس وقت بچوں اور عورتوں کے قتل سے منع کیا تھا۔ ہم میں سے ایک شخص اس پر تلوار اٹھاتا اور پھر اسے رسول کریم کی ممانعت یاد آجاتی تو اپنا ہاتھ روک لیتا۔ اگر یہ بات نہ ہوتی تو ہم رات ہی کو فارغ ہو جاتے“ (تا آخر)
اسی طرح یونس بن بکیر نے بطریق عبداللہ بن کعب بن مالک از عبداللہ بن اُنیس نقل کیا ہے کہ عورت کھڑی ہوئی اور اس نے دروازہ کھولا ”میں نے عبداللہ بن عتیق سے کہا ”اسے پکڑ لو، چنانچہ اس نے تلوار بلند کی۔ پھر اس کی عورت آگی تو میں نے اس پر تلوار بلند کی“ اندریں اثنا مجھے یاد آگیا کہ رسول کریم نے عورتوں اور بچوں کے قتل سے منع فرمایا ہے، تو میں رُک گیا۔ اسی طرح متعدد راویوں نے ابن اُنیس سے روایت کیا ہے کہ اس کی عورت چلائی۔ ہم میں سے بعض نے اس طرف جانے کا ارادہ کیا ۔ پھر ہمیں یاد آگیا کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں کے قتل سے منع کیا ہے ۔
عورتوں کو قتل کرنے کی ممانعت کب ہوئی؟
بلا اختلاف یہ واقعہ فتح مکہ بلکہ فتح خیبر سے بھی پہلے کا ہے ۔ واقدی نے ذکر کیا ہے کہ یہ سرّیہ ماہ ذوالحجہ غزوۂ خندق سے پہلے کا واقعہ ہے ، ابن اسحاق نے ذکر کیا ہے کہ یہ واقعہ خندق کے بعد پیش آیا ۔ ان دونوں کا خیال ہے کہ خندق کا واقعہ ماہ شوال ۵ھ کو پیش آیا ۔ بخلاف ازیں موسیٰ بن عقبہ کہتے ہیں کہ خندق کا واقعہ ۴ھ کو پیش آیا۔ حضرت ابن عمر کی روایت اس پر دلالت کرتی ہے کہ مکہ مکرمہ ماہِ رمضان ۸ھ کو فتح ہوا ۔
ہم نے اس کا تذکرہ اس شخص کے وہم کو دُور کرنے کے لیے کیا ہے جو اس زعم میں مبتلا ہو سکتا ہے کہ فتح مکہ والے سال عورتوں کو قتل کرنا مباح تھا اس کے بعد حرام ہوا ۔ ورنہ اہلِ علم کے نزدیک اس میں شبہ نہیں کہ عورتوں کو قتل کرنا کسی وقت بھی مباح نہ تھا ۔ اس لیے کہ آیاتِ قتال اور ان کی ترتیب نزول اس پر دلالت کرتی ہے کہ عورتوں کو قتل کرنا جائز نہ تھا ۔ علاوہ ازیں وہ عورتیں جو اس وقت ابن ابی الحقیق کے قلعہ میں تھیں یہ لوگ ان کو قیدی نہیں بنانا چاہتے تھے ۔ بلکہ یہ عورتیں اہل خیبر کے نزدیک اس کے
فتح ہونے سے بہت پہلے وہاں بند تھیں۔ نیز یہ کہ عورت چلائی اور وہ اس کی آواز کی وجہ سے شر سے خائف تھے تاہم انہوں نے اس عورت کو قتل نہ کیا۔ انہیں امید تھی کہ ڈرانے سے اس کی شر باقی رہے گی ۔
ہاں یہ بات ہے کہ عورت کو قتل کرنے کا ارادہ حرام ہے ۔ البتہ اگر ہم مردوں پر غارت گری کریں، یا منجنیق سے پتھر پھینکیں یا شہر کا ایک حصہ فتح کریں یا آگ پھینکیں اور اس سے عورتیں اور بچے تلف ہو جائیں تو ہم اس سے گناہ گار نہ ہوں گے۔ اس کی دلیل صعب بن جثامہ کی روایت ہے کہ اس نے رسول کریمؐ سے دریافت کیا کہ اگر ہم کسی محلہ پر شبخون ماریں اور کچھ بچے قتل ہو جائیں تو ان کے بارے میں کیا حکم ہے ؟ فرمایا ”وہ انہیں میں سے ہیں“ (بخاری و مسلم)
نیز اس لیے کہ رسول کریمؐ نے طائف والوں پر منجنیق سے پتھر پھینکے تھے۔ حالاں کہ پتھر بچے اور عورت کو بھی لگ سکتا ہے ۔ بہرکیف حربی عورت کی کوئی ضمانت ہے نہ دیت و قصاص اور کفارہ ۔ اس لیے کہ لڑائیوں میں اگر کوئی شخص کسی عورت کو قتل کر دیتا تو رسول کریمؐ اسے کسی چیز کا حکم نہ دیتے تھے ۔ اس سے حربی اور ذمی عورت کا فرق واضح ہو جاتا ہے اگر حربی عورت لڑتی ہو تو اسے قتل کرنا بالاتفاق جائز ہے ۔ اس لیے کہ عورت کو قتل کرنے کی ممانعت کی علت رسول کریمؐ نے یہ فرمائی تھی کہ وہ لڑتی نہ تھی ۔ جب وہ عملاً جنگ میں حصہ لے گی تو اس کو قتل کرنے کا مقتضیٰ پایا جائے گا اور مانع باقی نہیں رہے گا۔ مگر امام شافعیؒ فرماتے ہیں کہ عورت سے لڑا جائے گا جس طرح ایک مسلم حملہ آور سے لڑتا ہے ۔ اس کو قتل کرنے کا ارادہ نہیں کیا جائے گا ۔ بلکہ دفاع مقصود ہوگا۔ اگر عورت پر قابو پالیں تو اسے قتل کرنا جائز نہ ہوگا۔ دوسرے علماء کے نزدیک لڑنے کی صورت میں عورت جنگجو آدمی کی طرح ہوگی اور اسے قتل کرنا جائز ہوگا )
جب یہ بات طے ہوچکی تو ہم کہتے ہیں کہ یہ عورتیں ، عورت ہونے کی بنا پر معصوم الدم تھیں۔ پھر آپؐ نے محض ہجو کرنے کی بنا پر ان کے قتل کا حکم دیا۔ حالانکہ وہ دارالحرب میں تھیں۔ اس سے معلوم ہوا کہ جو شخص آپؐ کی ہجو کرے اور گالی دے تو ہر حال میں اسے
قتل کرنا جائز ہے۔ اس کی تائید وحمایت مندرجہ ذیل وجوہ سے ہوتی ہے :
پہلی وجہ : جو کفر اور گالی گلوچ یا تو قتال باللّسان کی قسم سے ہے اور اس لیے قتال بالید میں شامل ہے۔ جوکہ عورت اس خاتون کی مانند ہے جس کی رائے سے مسلمانوں کے خلاف جنگ میں فائدہ اٹھایا جائے ۔ مثلاً ملکہ یا اس قسم کی عورت ۔ جیسے ہند بنت عتبہ بن ربیعہ زوجہ ابی سفیان و والدہ امیر المومنین حضرت معاویہؓ، یا اللہ اور اس کے رسول کو ایذا دینے کی وجہ سے بذات خود قتل کیے جانے کی موجب ہو، اس لیے کہ یہ بھی ایک قسم کا نقض عہد ہے یا ان میں سے کچھ بھی نہ ہو ۔ اگر عورت پہلی یا دوسری قسم سے تعلق رکھتی ہو تو گالیاں دینے کی صورت میں ذمی عورت کو قتل کرنا جائز ہے ۔ کیونکہ اندریں صورت وہ محاربہ ہے اور اس نے ایسے کام کا ارتکاب کیا ہے جو اس کے قتل کا موجب ہے ۔ اگر ذمی عورت ایسا کرے گی تو اس کا عہد ٹوٹ جائے گا ۔ اور اسے قتل کیا جائے گا ۔ وہ ان دو قسموں سے ہرگز خارج نہیں ہو سکتی۔ کیونکہ اس سے لازم آتا ہے کہ ایک حربی عورت کو قتال بالید و للسان اور کسی ایسے کام کے ارتکاب کے بغیر قتل کیا جائے جو بنفسہ قتل کا موجب ہو۔ ایسی عورت کو قتل کرنا سنت و اجماع کے خلاف ہے ۔
دوسری وجہ : دوسری وجہ یہ ہے کہ یہ حربی عورتیں ہیں ۔ انہوں نے دارالحرب میں رسول کریم کو ستایا تھا ، لہٰذا گالی دینے کی وجہ سے ان کو قتل کیا گیا۔ جیسا کہ احادیث میں وارد ہوا ہے ۔ پس ذمی عورت کو مسلمہ کی طرح قتل کرنا اولیٰ و احسن ہے اس لیے کہ ہمارے اور ذمی عورت کے درمیان عہد ہے جو علانیہ گالی دینے سے اسے مانع ہے ۔ علاوہ ازیں ذلت و رسوائی کا التزام ذمی عورت پر لازم ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اگر وہ مسلم کا خون بہائے یا اس کی ناموس و آبرو کو نقصان پہنچائے تو اسے پکڑا جا سکتا ہے اور ان جرائم کی بنا پر حربی عورت کو پکڑا نہیں جا سکتا ۔ جب حربی عورت کو رسول کریم کو گالی دینے کی وجہ سے قتل کیا جا سکتا ہے، حالانکہ وہ کسی مانع کے بغیر اسے مباح سمجھتی ہے ، تو ذمی عورت کو اس جرم میں قتل کرنا ------ جبکہ
گالی دینے سے اُسے عہد کی بنا پر روکا گیا ہے —— اولیٰ و افضل ہے ۔ اگر معترض کہے کہ ذمی کے خون کا معصوم ہونا موکد تر ہے اس لیے کہ اس کی ضمانت دی گئی ہے اور حربی کے خون کی ضمانت نہیں دی گئی ۔ تو ہم اس کے جواب میں کہیں گے کہ ذمی بھی خونِ مسلم کا ضامن ہے اور حربی غیر ضامن ہے پس ذمی ضامن بھی ہے اور مضمون بھی ۔ اس لیے کہ اس عہد کا تقاضا ہے جو ہمارے اور اس کے درمیان منعقد ہوا ہے ۔ باقی رہی حربی عورت تو ہمارے اور اس کے درمیان کوئی معاہدہ نہیں جو اس کا مقتضی ہو ۔ پس اگرچہ ہم ذمی کی جان کے ضامن ہیں اور اس کی حفاظت ہم پر لازم ہے ، مگر اس کا یہ مطلب نہیں کہ اس کی بنا پر ناموسِ رسول میں رخنہ اندازی اور ہتکِ حُرمت اس کے لیے جائز ہو جائے بلکہ اس سے اس کا جرم بڑھ جاتا ہے ۔ اور وہ اس بات کے بہت لائق ہوگا کہ ایذا رسانی کی بنا پر اس کا مواخذہ کیا جائے ۔ جس جرم کی وجہ سے حربی عورت کو قصداً قتل کرنا درست ہے ۔ اس میں ذمی عورت کو بالاولیٰ قتل کیا جاسکتا ہے ۔
تیسری وجہ : تیسری وجہ یہ ہے کہ ان عورتوں نے فتح مکہ والے سال جنگ میں حصہ نہیں لیا تھا بلکہ یہ ذلیل و رسوا اور مسلمانوں کی اطاعت گزیں تھیں اور جو کوئی اہلِ قتال شمار ہوتی ہے تو وہ وہی ہے جو وہ پہلے بھی موجود تھی ایک حربی عورت اگر کسی جگہ میں پُرامن رہے تو اُسے اس بنا پر قتل نہیں کیا جاسکتا کہ قبل ازیں اس نے جنگ لڑی تھی پس معلوم ہوا کہ گالی بنفسہ ان عورتوں کے خون کو مباح کرنے والی ہے نہ کہ وہ سابقہ لڑائی جو انہوں نے لڑی تھی ۔
چوتھی وجہ : رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تمام اہلِ مکہ کو امن دیا تھا بجز اُن کے جو جنگ کریں ۔ حالانکہ قبل ازیں وہ آپؐ سے لڑ کر آپ کے صحابہ کو قتل کر چکے تھے اور انہوں نے اس معاہدہ کو توڑ دیا تھا جو ہمارے اور ان کے درمیان تھا ۔ مگر اس کے باوجود آپؐ نے ان عورتوں کے خون کو ہدر قرار دیا اور استثناء کردہ لوگوں میں شامل نہ کیا ، اگرچہ انہوں نے جنگ نہیں کی تھی ۔ محض اس لیے کہ یہ آپ کو ایذا دیا کرتی تھیں ۔ پس ثابت ہوا کہ
گالی دے کر رسولِ کریمؐ کو ستانے والے کا جرم لڑائی سے بھی شدید تر ہے ۔ لہٰذا اس کو اسی وقت قتل کیا جائے جب کہ اُسے لڑنے اور قتل کرنے سے منع کیا گیا تھا۔
پانچویں وجہ : دونوں گلوکار عورتیں لونڈیاں تھیں اور ان کو ہجو گوئی کا حکم دیا گیا تھا اور لونڈی کو قتل کرنا آزاد عورت کے قتل کرنے سے بھی بعید تر ہے ۔ اس لیے کہ رسولِ کریمؐ نے مزدور کو قتل کرنے سے منع کیا تھا ۔ اور اس سے لونڈی کا جرم خفیف تر ہو جاتا ہے کہ اُسے ہجو گوئی کا حکم دیا گیا ۔ اس لیے کہ اس نے از خود ابتداءً اس کا ارتکاب نہیں کیا۔ اس کے باوجود آپؐ نے اُن کو قتل کرنے کا حکم دیا ۔ اس سے معلوم ہوا کہ موجباتِ قتل ہی میں سے گالی دینا غلیظ ترین جرم ہے ۔
چھٹی وجہ : چھٹی وجہ یہ ہے کہ ان عورتوں کو یا تو ہجو گوئی کی وجہ سے قتل کیا گیا ۔ اس لیے کہ انھوں نے عہد کے باوجود اس کا ارتکاب کیا ۔ پس یہ ذمّی کی ہجو گوئی کے قبیل سے ہے یا محض ہجو گوئی کی وجہ سے ان کو قتل کیا گیا اور ان کے ساتھ معاہدہ نہ تھا۔ اگر پہلی بات ہے تو مطلوب بھی وہی ہے ۔ اگر دوسری بات ہے تو جب گالیاں دینے والی غیر معاہدہ کو قتل کیا جاسکتا ہے، تو جس کو عہد کی بنا پر گالی دینے سے روکا گیا ہے اس کو گالی دینے کے جرم میں قتل کرنا اولیٰ ہے۔ اس لیے کہ کسی عورت کا کفرِ محض اور اس کا حربی ہونا اُس کے خون کو بالاتفاق مباح نہیں کرتا ۔ جیسا کہ پیچھے گزر چکا ہے ۔ خصوصاً جب کہ گالی دینا قتال کے برابر نہیں ہے۔ جیسا کہ ہم قبل ازیں بیان کر چکے ہیں۔
اگر معترض کہے کہ تخصیص کی وجہ کیا ہے، جب کہ سب اہل مکہ عہد توڑ کر محارب بن چکے تھے؟ ہم اس کے جواب میں کہیں گے کہ اس نقضِ عام کے باوجود رسولِ کریمؐ نے اُن کا مال لینے اور بچوں اور عورتوں کو قیدی بنانے کی اجازت نہیں دی تھی یا تو آپؐ نے اس طرح معاف کر دیا جس طرح لڑائی نہ کرنے والے کے قتل کو معاف کیا یا اس لیے کہ بعض آدمیوں سے جو نقضِ عہد کا جرم بنو بکر کی امداد کرنے کی وجہ سے صادر ہوا تھا اور بعض سے اس کا اقرار کرنے کی بنا پر، اس کا حکم ان کی اولاد کی طرف متعدی نہیں ہوا تھا ۔
اس کی توضیح اس امر سے ہوتی ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خزاعہ کی شاخ بنو بکر اور دس یا اس سے کم و بیش آدمیوں کے نام لے کر ان کے سوا باقی سب لوگوں کو امان دے دی تھی ۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ بنو بکر نے خزاعہ کے آدمیوں کو قتل کر کے عہد شکنی کا ارتکاب کیا تھا ۔ اس سے معلوم ہوا کہ عہد توڑ کر خون کو مباح کرنے والا کام کرنے اور محض عہد توڑنے اور دوسرا کوئی جرم نہ کرنے کے درمیان فرق و امتیاز پایا جاتا ہے ۔ بہر کیف ، ان عورتوں کو حرب عام اور نقض عام کی وجہ سے قتل نہیں کیا گیا تھا ۔ بلکہ ان کا خاص جرم گالی دینا ہے جس کے فاعل کا عہد ٹوٹ جاتا ہے خواہ اس کے ساتھ اس کے معاہد ہونے کو شامل کیا جائے یا نہ کیا جائے ۔
واضح رہے کہ قبل ازیں جن عورتوں کا ذکر کیا گیا ہے کہ رسول کریم ﷺ کو گالی دینے کی وجہ سے ان کو قتل کیا گیا ۔ مثلاً یہود کی عورت ، اُمّ ولد اور خطمہ ، تو اگر ان کا معاہد ثابت نہ بھی ہو تو اس کے ساتھ استدلال جائز ہوگا ۔ اس لیے کہ افعال و اقوال جن کی وجہ سے ایک غیر مسلمہ اور غیر معاہد کو قتل کیا جاسکتا ہے ، معاہد کو اُن کے باعث قتل کرنا اولیٰ و احسن ہے ۔ اس لیے کہ قتل کے موجبات ذمیہ کے حق میں غیر ذمیہ کی نسبت وسیع تر ہیں جو بات اس پر دلالت کرتی ہے اُن میں سے ایک عورت کا واقعہ ہے جو آپ کو گالیاں دیا کرتی تھی ۔ آپؐ نے فرمایا ”کون مجھے میرے دشمن سے بچائے گا ؟“ چنانچہ خالد بن ولید رضی اللہ عنہ اس کی طرف گئے اور اسے قتل کر دیا ۔
ابن خطل کا واقعہ ، حدیث : ۱۱
بعض اہل علم نے اس پر ابن خطل کے واقعہ سے بھی استدلال کیا ہے ۔ صحیح بخاری و مسلم میں بطریق زہری از انس رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فتح مکہ والے سال مکہ میں داخل ہوئے اور آپؐ نے آہنی خود پہن رکھی تھی ۔ جب آپؐ نے اسے اتارا تو ایک آدمی آیا اور اس نے کہا کہ ابن خطل کعبہ کے پردوں کے ساتھ لپٹا ہوا ہے ۔ آپؐ نے فرمایا : اسے قتل کر دو ۔ اس روایت کے نقل کرنے پر سب اہل علم کا
اتفاق ہے اور وہ یہ کہ رسول کریمؐ نے ابن خطل کے خون کو فتح مکہ کے روز ھدر قرار دیا اور اسے قتل کیا گیا۔ پیچھے گزر چکا ہے کہ ابن خطل پردہ کے ساتھ لٹکا ہوا تھا کہ ابو برزہ اس کے پاس آیا اور اس کا پیٹ چاک کر دیا ۔ واقدی نے ابو برزہ سے روایت کیا ہے کہ آیت کریمہ "لَا أُقْسِمُ بِهٰذَا الْبَلَدِ" (البلد ۔ ۱) میرے بارے میں نازل ہوئی ، عبداللہ بن خطل کعبہ کے پردوں کے ساتھ لٹکا ہوا تھا۔ میں نے اسے باہر نکالا اور رکن ومقام کے درمیان اس کی گردن اڑا دی ۔
واقدی نے ذکر کیا کہ ابن خطل مکہ کی بالائی جانب سے آیا ۔ وہ لوہے میں ڈوبا ہوا تھا ۔ پھر نکل کر "خندمہ" کے پہاڑ کے قریب آیا تو اس نے مسلمانوں کا لشکر دیکھا اور سمجھا کہ لڑائی ہونے والی ہے وہ اس قدر مرعوب ہوا کہ اس پر کپکپی طاری تھی۔ یہاں تک کہ کعبہ پہنچا، اپنے گھوڑے سے اترا اور ہتھیار پھینک دیئے۔ وہ بیت اللہ میں آکر اس کے پردوں میں داخل ہو گیا۔ ہم علمائے مغازی سے نقل کر چکے ہیں کہ رسول کریمؐ نے اسے صدقہ کی فراہمی پر مقرر کیا تھا۔ ایک آدمی اسے خدمت کے لیے دیا۔ وہ اپنے رفیق پر اس لئے ناراض ہوا کہ اس نے کھانا نہ پکایا۔ چنانچہ ابن خطل نے اُسے قتل کر دیا۔ پھر ڈر کے مارے مرتد ہو گیا اور زکوٰۃ کے اُونٹ بھی لے گیا۔ وہ اشعار میں رسول کریمؐ کی ہجو کہا کرتا تھا اور اپنی دونوں لونڈیوں سے یہ اشعار گانے کی فرمائش کرتا تھا۔ اس طرح اس کے تین ایسے جرائم تھے جس سے کسی کا خون مباح ہو جاتا ہے ۔ (۱) قتل نفس (۲) ارتداد (۳) ہجو گوئی ۔
ابن خطل کے واقعہ سے استدلال کرنے والے کہتے ہیں کہ اس کو قتلِ نفس کی وجہ سے نہیں مارا گیا تھا۔ اس لیے کہ جو شخص کسی کو قتل کر کے مرتد ہو جائے اس کی زیادہ سے زیادہ سزا یہ ہے کہ اسے قصاص میں قتل کیا جائے۔ خزاعہ کے قبیلے میں سے جس شخص کو قتل کیا گیا اس کے اولیاء بھی تھے ۔ اگر اسے قصاص میں قتل کرنا ہوتا تو اسے مقتول کے اولیاء کی تحویل میں دے دینا چاہیے۔ یا تو وہ اسے قتل کریں گے، یا معاف کر دیں گے یا دیت قبول کریں گے۔ اسے محض ارتداد کی وجہ سے بھی قتل نہیں کیا گیا۔ اس لیے کہ مرتد سے توبہ کرنے کا مطالبہ کیا جاتا ہے۔ اگر وہ مہلت طلب کرے تو اسے مہلت
دی جاتی ہے۔ اور ابن خطل بیت اللہ میں امان لینے آیا تھا۔ اس نے جنگ کو ترک کر دیا اور اسلحہ پھینک دیا تھا۔ یہاں تک کہ اس کے معاملہ میں غور کیا گیا۔ جب رسول کریم کو پتہ چلا تو آپ نے اسے قتل کرنے کا حکم دیا۔ جس کو محض ارتداد کی بنا پر قتل کیا جائے اس کے ساتھ یہ برتاؤ نہیں کیا جاتا۔ پس ثابت ہوا کہ اس کے قتل میں یہ سختی گالی گلوچ اور ہجوگوئی کی وجہ سے ہے۔ گالی دینے والا مرتد بھی ہو جائے تو وہ محض مرتد کی طرح نہیں، جس کو توبہ کا مطالبہ کرنے سے قبل قتل نہیں کیا جاتا۔ اُس کو قتل کرنے میں تاخیر نہیں کی جاتی۔ یہ اس امر کی دلیل ہے کہ توبہ کے بعد اس کو قتل کرنا جائز ہے۔
ابن خطل کے واقعہ سے استدلال
ابن خطل کے واقعہ سے فقہاء کی ایک جماعت نے اس بات پر استدلال کیا ہے کہ رسول کریم کو گالیاں دینے والا مسلمان بھی ہو تو اُسے حداً قتل کیا جائے ۔ اس پر اعتراض یہ کیا گیا ہے کہ ابن خطل حربی تھا اس لیے اسے قتل کیا گیا ۔ مگر صحیح بات یہ ہے کہ وہ بلاشبہ علمائے سیرت کے نزدیک مرتد تھا ۔ اس لیے توبہ کا مطالبہ کیے بغیر اس کو قتل کرنا ضروری تھا ۔ حالانکہ وہ اطاعت شعار تھا قیدی کی طرح اس نے صلح کو قبول کر لیا تھا ۔ پس معلوم ہوا کہ جو شخص مرتد ہو اور گالی دے تو توبہ کا مطالبہ کیے بغیر اسے قتل کیا جائے ۔ مگر مرتد شخص کا معاملہ اس سے مختلف ہے ۔
اس کی مؤید یہ بات ہے کہ فتح مکہ والے سال رسول کریم نے تمام محاربین کو امان دے دی تھی ۔ ماسوا چند آدمیوں کے جو خصوصی مجرم تھے اور رسول کریم نے صرف ان کے خون کو ھدر قرار دیا تھا کسی اور کے خون کو نہیں ۔ پس معلوم ہوا کہ اُسے صرف کفر اور جنگ کرنے کی وجہ سے قتل نہیں کیا گیا تھا ۔
رسول کریم نے جن کو قتل کرنیکا حکم دیا تھا۔ حدیث بارہ
رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے چند آدمیوں کو قتل کرنے کا حکم دیا تھا ، اس لیے کہ وہ آپ کو گالیاں دیتے تھے ۔ اس وجہ سے ان کو قتل بھی کیا گیا تھا ۔ حالانکہ آپ نے محض کافروں کو قتل کرنے سے
منع فرمایا تھا، وہ حرمی ہی کیوں نہ ہوں۔ جیسا کہ ہم نے قبل ازیں سعید بن المسیب سے یہ روایت کیا ہے کہ رسول کریمؐ نے فتح مکہ کے دن ابن الزبعریٰ کو قتل کرنے کا حکم دیا تھا۔ ظاہر ہے کہ سعید بن المسیب کی مُرسل روایت نہایت قابلِ اعتماد ہوتی ہے۔ اگر بعض علمائے مغازی اس کا ذکر نہ بھی کریں تو اس سے روایت کو کچھ نقصان نہیں پہنچتا، علمائے سیرت کے یہاں اس میں اختلاف پایا جاتا ہے کہ امان سے کن لوگوں کو مستثنیٰ قرار دیا گیا تھا۔ ہر شخص کو اس بارے میں کچھ علم تھا اُسے بیان کر دیا اور جو شخص کسی چیز کا ذکر سنے تو وہ نہ ذکر کرنے والے پر حُجت ہوتا ہے۔
بُجیر اور اس کے بھائی کعب بن زُہیر کا واقعہ
ابن اسحاق رقمطراز ہیں : جب رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم طائف سے لوٹ کر مدینہ آئے تو بجیر بن زہیر بن ابی سُلمیٰ نے اپنے بھائی کعب بن زُہیر کو اطلاع دی کہ مکہ میں جو شخص رسول کریمؐ کی توہین کیا کرتے تھے آپؐ نے ان کو قتل کر دیا ہے۔ اور قریش کے جو شاعر باقی تھے مثلاً عبداللہ بن الزبعریٰ اور ہبیرہ ابن ابی وہب ادھر اُدھر بھاگ گئے ہیں۔ اس واقعہ میں اس امر کی وضاحت کی گئی ہے کہ رسول کریمؐ نے اُن تمام شعراء کو قتل کرنے کا حکم نہ دیا تھا جو مکہ میں شعر کہہ کر آپؐ کو دکھ دیتے تھے۔ مثلاً ابن الزبعریٰ وغیرہ
ابن الزبعریٰ : اس میں کوئی خفاء نہیں کہ ابن الزبعریٰ کا گناہ یہ تھا کہ وہ رسول کریمؐ کے ساتھ حد درجہ عداوت رکھتا تھا اور زبان سے اس کا اظہار کرتا تھا۔ یہ بہت بڑا شاعر تھا اور شعرائے اسلام کی ہجو کہا کرتا تھا۔ مثلاً حسان اور کعب بن مالک ۔ باقی گناہوں میں یہ دوسروں کے ساتھ شریک تھا ، قریش کے بہت سے لوگ اس پر مزید تھے۔ ابن الزبعریٰ نجران کی طرف بھاگ گیا تھا اور پھر اسلام قبول کر کے رسول کریمؐ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ اس نے توبہ اور معذرت خواہی کے طور پر عمدہ اشعار کہے تھے۔ گالیاں دینے کی وجہ سے آپؐ نے اس کے خون کو ہدر قرار دیا تھا، حالانکہ آپؐ نے تمام اہلِ مکہ کو امان دے دی تھی۔ ماسوا اُن لوگوں کے جو اس جیسے جرائم کے مرتکب ہوئے تھے ۔
ابو سفیان بن حارث
اُن میں سے ایک ابو سفیان بن الحارث بن عبدالمطلب بھی تھا۔ اس کی ہجو گوئی اور جب وہ تائب ہو کر آیا تو
رسول کریمؐ کے اعراض کرنے کا واقعہ بہت مشہور ہے، واقدی نے بطریق سعید بن مسلم بن قماذ از عبد الرحمن بن سابط وغیرہ روایت کیا ہے کہ ابو سفیان رسول کریمؐ کا رضاعی بھائی تھا۔ حضرت حلیمہ سعدیہ نے چند روز اُسے دودھ پلایا تھا۔ یہ رسول کریمؐ کا ہم عمر تھا اور آپؐ سے بہت محبت کرتا تھا۔ جب آپ کو مبعوث کیا گیا تو آپ سے اس قدر عداوت کرنے لگا کہ کسی نے نہ کی ہوگی۔ یہ شعب ابی طالب میں اقامت گزیں نہیں ہوا تھا اس نے رسول کریمؐ اور صحابہ کی ہجو کہی تھی (تا آنکہ پھر اللہ نے اس کے دل میں اسلام کی محبت ڈال دی۔ ابو سفیان نے کہا ”اب میں نے مدینہ کی سمت اختیار کر لی ، بایں ارادہ کہ اسلام قبول کرلوں ۔ پھر میں اپنی بیوی اور بچوں کے پاس آیا اور کہا : ” باہر نکلنے کے لیے تیار ہو جاؤ“۔ محمدؐ کا لشکر آ گیا ہے“۔ انھوں نے کہا ” اب وقت آ گیا ہے کہ تم محمدؐ کی مدد کرو۔ سب عرب و عجم نے آپ کی اطاعت قبول کر لی ہے اور تم ان کی عداوت میں بڑھے جا رہے ہو۔ حالانکہ تم اُن کی امداد کے بہت لائق ہو۔ میں نے اپنے غلام مذکور نامی سے کہا ”میرے اونٹ اور گھوڑے جلدی سے تیار کرو“۔
پھر ہم چلے یہاں تک کہ ابوا میں اترے ۔ رسول کریمؐ کا ہراول دستہ ابوا میں اُتر چکا تھا۔ مجھے عجیب سا لگا اور میں ڈرا کہ مجھے قتل کر دیا جائے گا۔ رسول کریمؐ نے میرے خون کو ہدر قرار دیدیا تھا۔ چنانچہ میں اور میرا بیٹا جعفر صبح کے وقت ایک میل چل کر وہاں پہنچے جہاں آپؐ اترے تھے۔ لوگ تھوڑی تھوڑی جماعتوں کی صورت میں آئے۔ میں صحابہ کے ڈر سے (باقی لوگوں سے) الگ تھلگ رہا۔ جب آپ اپنے لشکر میں نمودار ہوئے تو میں آپ کے چہرے کی طرف سے سامنے آیا ۔ آپؐ نے ترچھی نگاہوں سے مجھے دیکھا اور چہرہ دوسری طرف پھیر لیا میں دوسری طرف سے آپ کے سامنے آیا ۔ مگر آپؐ نے کئی دفعہ مجھ سے اعراض فرمایا ۔
میرے ذہن پر دُور و نزدیک کے کئی خیالات ابھرے۔ میں نے کہا ”مجھے آپ کے پاس پہنچنے سے قبل ہی قتل کر دیا جائے گا ۔ پھر مجھے آپؐ کا لطف و کرم اور قرابت داری کا خیال آیا تو یہ وہم کافور ہو گیا ۔ مجھے اس امر کا یقین تھا کہ رسول کریمؐ اور صحابہ میرے اسلام پر مَسَرّت کا اظہار کریں گے ۔ اس لیے کہ وہ میری قرابت داری سے آگاہ تھے۔ جب مسلمانوں نے دیکھا کہ رسول کریمؐ مجھ سے اعراض فرما رہے ہیں تو انھوں نے مجھ سے انحراف کیا۔ ابو سفیان
ابوبکر مجھے ملے اور مجھ سے منہ موڑ لیا۔ میں نے مُڑ کر دیکھا کہ وہ میرے خلاف ایک انصاری کو بھڑکا رہے ہیں ۔
ایک آدمی مجھ سے چمٹ گیا اور کہنے لگا اے دشمنِ خدا! تو ہی وہ شخص ہے جو رسولِ کریمؐ اور آپؐ کے صحابہ کو ایذا دیا کرتا تھا ؟ آپ کی عداوت میں تو مشرق و مغرب کی انتہاء کو پہنچ گیا تھا۔ میں نے کسی حد تک اپنا دفاع کیا۔ اس نے میرے ساتھ دست درازی کی اور مجھے آدمیوں کے گھیرے میں لے لیا جو میرے ساتھ ہونے والے سلوک سے خوش ہو رہے تھے ۔ ابوسفیان کہتے ہیں کہ پھر میں اپنے چچا عباس کے پاس گیا۔ میں نے کہا اے عباس! مجھے امید تھی کہ رسولِ کریمؐ میری قرابت داری اور میری عظمت و شرف کی وجہ سے میرے اسلام لانے سے خوش ہوں گے ۔ مگر اس کا حشر آپ نے دیکھ لیا ۔ لہٰذا آپؐ رسولِ کریمؐ سے بات کر کے انہیں راضی کیجیے۔ حضرت عباسؓ نے کہا نہیں اللہ کی قسم میں تمہارے بارے میں ہرگز ان سے ایک کلمہ بھی نہیں کہوں گا۔ میں نے جو کچھ دیکھنا تھا دیکھ لیا ۔ الّا یہ کہ مجھے کوئی صورت نظر آئے ۔ میں رسولِ کریمؐ کو بڑی عظمت کی نگاہ سے دیکھتا اور آپ سے ڈرتا ہوں ۔
میں نے کہا چچا جان! آپ مجھے کس کے سپرد کر رہے ہیں ؟ عباس نے کہا : ”بس یہی ہے“ ۔
پھر میں نے حضرت علیؓ سے مل کر یہی ماجرا بیان کیا ۔ انہوں نے بھی یہی جواب دیا تاآنکہ ابوسفیان کہتے ہیں کہ پھر میں نکل کر رسولِ کریمؐ کی جائے قیام کے پاس بیٹھ گیا ، یہاں تک کہ آپ جحفہ جانے لگے ۔ آپ اور مسلمانوں میں سے کوئی بھی میرے ساتھ بات نہیں کرتا تھا پھر میں آپ جہاں پڑاؤ کرتے میں اس کے دروازے پر بیٹھ جاتا۔ میرے ساتھ میرا بیٹا جعفر کھڑا تھا۔ جونہی آپ مجھے دیکھتے تو منہ موڑ لیتے ۔ یہاں تک کہ میں آپ کے ساتھ فتح مکہ کے موقع پر حاضر ہوا۔ میں آپ کے لشکر میں موجود تھا۔ حتیٰ کہ آپ اَذَاخِر نامی جگہ سے اتر کر وادی ابطح میں پہنچے پھر آپؐ نے مجھے ایسی نگاہ سے دیکھا جو پہلے سے بہت نرم تھی، جس سے مجھے امید تھی کہ آپؐ مسکرائیں گے ۔ بنو عبدالمطلب کی خواتین آپ کے یہاں آئیں۔ اُن میں میری بیوی بھی تھی۔ اس نے رسولِ کریمؐ کے ساتھ بات چیت کر کے ان کو میرے بارے میں نرم کیا۔ پھر
آپ مسجد کی طرف گئے اور ہوتا تھا۔ پھر آپ موازنہ واقعہ ذکر کیا جو کہ مشہور
واقدی کہتے ہیں کہ میں ابوسفیان کہتے ہیں کہ میں طرح ابن اسحاق نے بیا ابن اسحاق کہتے ہیں سے ثنیّۃ العقاب؟ میں اُمّ سلمہ رضی اللہ عنہا نے ابوسفیان آپ کے چچا ا کی ضرورت نہیں۔ می تو اُس نے مجھے مکہ میں
جب دونوں تک کہ بخدا! یا تو رسول کر چاہیں گے چلے جائیں کو یہ اطلاع ملی تو دونو اور ابوسفیان نے اپنے ا واقدی کی روای چاہی ۔ مگر آپ نے شر ابوسفیان آپ کا خ کرکے آپ کے پاس رسول کریم نے ہے اس نے تو مجھے م
آپ مسجد کی طرف گئے اور میں آپ کے آگے آگے تھا اور کسی حالت میں آپ سے جدا نہیں ہوتا تھا۔ پھر آپ ھوازن قبیلہ کی طرف گئے تو میں بھی آپ کے ساتھ گیا۔ پھر ھوازن کا واقعہ ذکر کیا جو کہ مشہور ہے
واقدی کہتے ہیں کہ میں نے ابوسفیان کے اسلام لانے کا واقعہ ایک اور طریقہ سے بھی سنا ہے۔ ابوسفیان کہتے ہیں کہ میں رسول کریمؐ سے ”ثنیّۃُ العقاب“ میں ملا۔ آگے اسی طرح ذکر کیا جس طرح ابن اسحاق نے بیان کیا ہے ۔
ابن اسحاق کہتے ہیں کہ ابوسفیان بن الحارث اور عبداللہ بن ابی امیہ بن المغیرہ رسول کریمؐ سے ”ثنیۃ العقاب“ میں مکہ اور مدینہ کے درمیان ملے اور داخل ہونے کی اجازت مانگی ۔ حضرت اُمّ سلمہ رضی اللہ عنہا نے دونوں کے بارے میں گفتگو کی ۔ انہوں نے کہا یا رسول اللہ ! ابوسفیان آپ کے چچا اور پھوپھی کا بیٹا اور آپ کا خسر ہے ۔ آپؐ نے فرمایا ”مجھے ان دونوں کی ضرورت نہیں ۔ میرے چچا زاد نے تو میری بے عزتی کی، باقی رہا میرا پھوپھی زاد اور خسر تو اُس نے مجھے مکہ میں کہا جو کچھ کہا ۔
جب دونوں تک یہ خبر پہنچی اور ابوسفیان کے ہمراہ اس کا بیٹا بھی تھا ۔ اس نے کہا بخدا ! یا تو رسول کریمؐ مجھے اجازت دیں گے یا میں اپنے بیٹے کا دامن تھام کر جدھر منہ اُٹھائے چلے جائیں گے یہاں تک کہ ہم بھوک پیاس سے مرجائیں ۔ جب رسول کریمؐ کو یہ اطلاع ملی تو دونوں کے لیے آپؐ کا دل نرم ہوگیا ۔ دونوں آپؐ کی خدمت میں حاضر ہوگئے اور ابوسفیان نے اپنے اسلام لانے اور سابقہ خطاؤں سے معذرت پر مبنی اشعار آپؐ کو سنائے ۔
واقدی کی روایت میں ہے کہ دونوں نے رسول کریمؐ کی خدمت میں حاضر ہونے کی اجازت چاہی ۔ مگر آپؐ نے شرفِ باریابی بخشنے سے انکار کر دیا ۔ آپؐ کی بیوی اُمّ سلمہؓ نے کہا یا رسول اللہ ! ابوسفیان آپؐ کا خسر، چچا زاد ، پھوپھی زاد اور رضاعی بھائی ہے ۔ اللہ ان دونوں کو مسلمان کر کے آپؐ کے پاس لایا ہے ۔ یہ آپؐ کے فیوض و برکات ، سے محروم نہ رہیں ۔ رسول کریمؐ نے فرمایا ”مجھے ان دونوں کی ضرورت نہیں ۔ جہاں تک تیرے بھائی کا تعلق ہے اس نے تو مجھے مکہ میں کہا جو کچھ کہا ۔ اس نے کہا تھا کہ ”وہ مجھ پر ایمان نہیں لائے گا
یہاں تک کہ میں آسمان پر چڑھ جاؤں“ اُمّ سلمہ نے کہا ”یا رسول اللہ ! وہ آپ کی قوم کا ایک فرد ہے۔ آپ تمام قریش سے پیوستہ ہیں اور اس کے بارے میں قرآن نازل ہو چکا ہے۔ آپ نے ایسے لوگوں کو بھی معاف کر دیا ہے جو اس سے بڑے مجرم تھے۔ ابوسفیان آپ کا چچا زاد ہے اور آپ کا اس کے ساتھ قریبی رشتہ ہے۔ آپ اس کا جرم معاف کرنے کے بہت حقدار ہیں۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” اس نے میری بے عزتی کی ہے، لہٰذا مجھے اس کی کچھ ضرورت نہیں۔“
جب دونوں کو اس کا پتہ چلا تو ابوسفیان نے کہا اور اس کے ساتھ اس کا بیٹا بھی تھا۔ یا تو وہ میری بات مانیں گے یا میں اپنے بیٹے کا ہاتھ پکڑ کر نکل جاؤں گا اور چلتے چلتے ہم بھوک پیاس سے مرجائیں گے اور آپ سب لوگوں سے زیادہ حلیم اور کریم تر ہیں، اور آپ میرے رشتہ دار بھی ہیں۔ جب رسولِ کریم کو اس کے الفاظ کا پتہ چلا تو آپ کا دل نرم ہوگیا۔ عبداللہ ابن ابی امیہ نے کہا ” میں آپ کی تصدیق کرنے آیا ہوں۔ آپ کے خسر (ابوسفیان) کی طرح میں بھی آپ کا رشتہ دار ہوں“ اُمّ سلمہ رضی اللہ عنہا دونوں کے بارے میں آپ سے گفتگو کرتی تھیں۔ چنانچہ رسولِ کریم کا دل دونوں پر نرم ہوگیا اور آپ نے شرفِ باریابی بخشا۔ دونوں آپ کی خدمت میں حاضر ہو کر مشرف باسلام ہوئے اور ان کا اسلام بہت اچھا ثابت ہوا۔
عبداللہ بن ابی امیہ طائف میں مقتول ہوئے اور ابوسفیان نے مدینہ میں خلافتِ فاروقی میں وفات پائی۔ اور کسی جنگ میں ان پر کوئی عیب گیری نہ کی گئی۔ ملاقات سے پہلے رسولِ کریم نے ابوسفیان کے خون کو ھدر قرار دیدیا تھا۔
واقعہ ابی سفیان استدلال
ابوسفیان کے واقعہ سے اس طرح احتجاج کیا گیا ہے کہ رسول کریم نے مشرکین کے بڑے بڑے رؤساء کو چھوڑ کر صرف ابوسفیان کے خون کو ھدر قرار دیا تھا۔ حالانکہ ان کی وجہ سے جہاد بالسیف والمال کی زیادہ ضرورت پیش آئی۔ جب کہ رسول کریم مدینہ سے مکہ تشریف لائے تھے اور اہالیانِ مکہ کی خون ریزی آپ کا مطلوب و مقصود نہ تھا۔ بلکہ آپ نرمی سے ان کو دعوتِ اسلام دیتے تھے۔ ابوسفیان میں پایا جانے والا تخصص سبب ہو گا محض کفر کے سوا دوسرا
کوئی نہ تھا۔ پھر وہ اسلام لانے کے لیے آیا مگر آپؐ اعراض فرماتے رہے ۔ حالانکہ آپؐ دوسرے لوگوں کی اسلام کے لیے تالیف قلب فرماتے تھے ، پھر قریبی رشتہ داروں کی دلجوئی تو اور بھی ضروری ہے ۔ اس کی وجہ صرف یہ تھی کہ ابوسفیان آپؐ کی تحقیر و تنقیص کرتا تھا ۔ جیسا کہ حدیث میں تفصیلاً مذکور ہے ۔
حُوَیْرِث ابن نُقَیْد کا واقعہ
رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فتحِ مکہ کے روز حُوَیْرِث بن نُقَیْد کے قتل کا حکم بھی دیا تھا ۔ یہ علمائے سیرت کے یہاں معروف ہے ۔ موسیٰ بن عقبہ نے اپنے مغازی میں زھری سے روایت کی ہے ۔۔۔۔۔۔۔ اور یہ صحیح ترین مغازی ہے ۔۔۔۔۔۔۔ امام مالکؒ فرمایا کرتے تھے: "جو مغازی لکھنا چاہے تو وہ مردِ صالح موسیٰ بن عقبہ کا وابستہ دامن ہو جائے ۔ رسولِ کریمؐ نے صحابہ کو ہاتھ روکنے کا حکم دیا ۔ ماسوا اس کے جو خود جنگ کی طرح ڈالے ۔ آپؐ نے چار آدمیوں کے قتل کا حکم دیا ، اُن میں سے ایک حُوَیْرِث ابن نُقَیْد تھا ۔" سعد بن یحییٰ اموی اپنے مغازی میں رقم فرماتے ہیں کہ مجھے میرے باپ نے بتایا اور اس نے ابن اسحاق سے سنا کہ "رسولِ کریمؐ نے فتحِ مکہ کے موقع پر چند آدمیوں اور عورتوں کے قتل کا حکم دیا تھا اگرچہ وہ کعبہ کے پردوں سے لٹکے ہوئے ہوں ۔ پھر ان کے نام بتائے جو یہ ہیں :-
- (۱) عبداللہ بن سعد بن ابی سرح (۲) عبداللہ بن خطل (۳) حُوَیْرِث بن نُقَیْد
- (۴) مِقْیَس بن صُبابہ اور بنی خیم بن غالب کا ایک آدمی"۔
ابن اسحاق کہتے ہیں کہ مجھے ابوعبیدہ بن محمد بن عمار بن یاسر نے کہا کہ وہ چھ آدمی تھے ۔ اس نے دو آدمیوں کے نام چھپائے اور چار آدمیوں کے نام بتائے ۔ اس کا خیال ہے کہ عکرمہ بن ابی جہل بھی ان میں سے ایک ہے ، حُوَیْرِث کو حضرت علیؓ نے قتل کیا تھا جب کہ ابن بکیر وغیرہ نے ابن اسحاق سے اُن آدمیوں کے نام ذکر کیے ہیں جن کو رسولِ کریمؐ نے قتل کرنے کا حکم دیا تھا ۔ آپؐ نے فرمایا " ان کو قتل کر دو ، اگرچہ تم ان کو کعبہ کے پردوں سے لٹکتے ہوئے پاؤ " حُوَیْرِث بن نُقَیْد رسولِ کریمؐ کو ستایا کرتا تھا ۔ واقدی نے اپنے شیوخ سے روایت کیا ہے کہ رسولِ کریمؐ نے جنگ سے منع کیا ، مگر چھ
آدمیوں اور چار عورتوں کو قتل کرنے کا حکم دیا۔ اُن کے نام یہ ہیں: (۱) عکرمہ بن ابی جہل (۲) ھبار بن الاسود (۳) ابن ابی سرح (۴) مقیس بن صبابہ (۵) حُوَیْرِث بن نُقَید (۶) ابن خطل ۔ وہ کہتے ہیں کہ حویرث بن نقید رسول کریمؐ کو ایذا دیا کرتا تھا اس لیے آپؐ نے اس کے خون کو ھدر قرار دیا ۔ فتح مکہ والے دن اس نے اپنے گھر کا دروازہ بند کر رکھا تھا ۔ حضرت علیؓ اُس کے بارے میں پوچھتے ہوئے آئے ، تو کہا گیا کہ وہ جنگل کو گیا ہے ۔ حویرث کو پتہ چل گیا کہ اسے تلاش کیا جا رہا ہے ۔ حضرت علیؓ اُس کے دروازے سے الگ ہوئے تو حویرث گھر سے نکل کر ایک گھر سے دوسرے گھر میں جانے لگا۔ حضرت علیؓ نے مل کر اس کی گردن اڑا دی ۔
یہ واقعہ زہری ، ابن عقبہ ، ابن اسحاق ، واقدی اور اموی وغیرہم کے نزدیک مشہور ہے زیادہ سے زیادہ اس میں یہ بات ہے کہ یہ مرسل روایت ہے ۔ اور مرسل جب متعدد طرق سے مروی ہو اس کے راوی فن روایت میں مہارت رکھتے ہوں اور اس کی مؤید روایات بھی موجود ہوں تو وہ مسند و مرفوع روایت کی طرح ہوتی ہے ۔ بلکہ بعض روایات جو اہل سیرت کے یہاں مشہور ہیں ، مسند واحد کے ساتھ مروی روایات سے اقویٰ ہوتی ہیں ۔ اور اس وجہ سے یہ روایت ضعیف نہیں کہلاتی کہ اس کا ذکر اس روایت میں نہیں کیا گیا جو سعد اور عمرو بن شعیب عن ابیہ عن جدہ ، منقول ہے ۔ اس لیے کہ مثبت روایت نافی سے مقدم ہوتی ہے جس راوی نے کہا کہ آپ نے اس کو قتل کرنے کا حکم دیا تھا اُس کے یہاں زائد علم ہے ممکن ہے کہ رسول کریمؐ نے پہلے اُس کو قتل کرنے کا حکم نہ دیا ہو اور بعد ازاں یہ حکم صادر کر دیا ہو۔ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ آپ نے صحابہ کو جنگ سے روکا ہو اور صرف ان کے ساتھ لڑنے کا حکم دیا تھا جو جنگ کا آغاز کریں ۔ ماسوا ان چاروں کے کہ ان کو قتل کرنے کا حکم دیا خواہ وہ کہیں بھی ہوں ۔ بعد ازاں حکم دیا کہ اس کو اور دوسرے کو بھی قتل کر دیں ۔ محض آپ کا جنگ سے منع کرنا اپنے دامن میں یہ مفہوم نہیں رکھتا کہ جن سے ہاتھ روکا گیا ہے ان کا خون معصوم ہے ۔ مگر اس کے بعد آپ نے ان کو ایسی امان دے دی جو خون کو
بچانے والی ہے ۔ رسول کریمؐ نے آدمی کو قتل کرنے کا حکم صرف اس لیے دیا کہ یہ آپ کو ایذا دیا کرتا تھا ۔ حالانکہ آپ نے شہر کے ان تمام لوگوں کو امان دے دی تھی جو آپ اور آپ کے صحابہ کے خلاف نبرد آزما رہتے تھے اور انواع و اقسام کے کام کیا کرتے تھے ۔
نضر بن حارث اور عقبہ بن ابی محیط
ان میں سے ایک واقعہ یہ ہے کہ آپ جب بدر سے مدینہ لوٹے تو النضر بن الحارث اور عقبہ بن ابی محیط کو قتل کر دیا ۔ بدر کے قیدیوں میں سے اور کسی کو قتل نہیں کیا ۔ ان دونوں کا واقعہ معروف ہے ۔
ابن اسحاق رقمطراز ہیں ۔ "قیدیوں میں عقبہ بن ابی محیط اور النضر بن الحارث بھی تھے ۔ جب رسول کریمؐ الصفراء میں پہنچے تو حضرت علیؓ نے النضر کو قتل کر دیا ۔ مجھے اسی طرح بتایا گیا ہے ۔ پھر آپ سفر پر روانہ ہو گئے ۔ جب "عرق الظبیۃ" کے مقام پر پہنچے تو عقبہ بن ابی محیط کو قتل کر دیا ۔ اس کو عاصم بن ثابت نے قتل کیا ۔"
موسیٰ بن عقبہ ، زہری سے روایت کرتے ہیں کہ (بدر کے) قیدیوں میں سے باندھ کر صرف عقبہ کو قتل کیا گیا ۔ اس کو عاصم بن ثابت ابن ابی الافلح نے قتل کیا ۔ جب عقبہ نے اسے آتے دیکھا تو قریش کے نام کی فریاد کی اور کہا اے گروہِ قریش ! کیا وجہ ہے کہ سب لوگوں میں سے مجھے ہی قتل کیا جا رہا ہے ۔" رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا "اس لیے کہ تم اللہ اور اس کے رسول سے دشمنی رکھتے ہو۔" محمد بن عائذ نے اپنے مغازی میں اسی طرح ذکر کیا ہے۔
اس کی وجہ یہ ہے کہ النضر کو بدر کے قریب "الصفراء" نامی جگہ میں قتل کیا گیا ۔ اس قائل کے نزدیک النضر کو قیدیوں میں شمار نہیں کیا تھا ، اس لیے کہ اسے قریشیوں کی مقتل گاہ کے نزدیک قتل کیا گیا تھا ۔ ورنہ ہمارے علم کی حد تک اس میں کچھ اختلاف نہیں کہ النضر اور عقبہ دونوں کو قید کرنے کے بعد قتل کیا گیا تھا ۔ البزار نے ابن عباس سے روایت کیا ہے کہ عقبہ پکارا ۔ اے گروہِ قریش ! یہ کیا بات ہے کہ مجھے باندھ کر قتل کیا جا رہا ہے ۔ رسول کریمؐ نے فرمایا :
"تمہارے کفر اور رسول اللہ پر افترا پردازی کی وجہ سے " واقدی لکھتے ہیں : " النضر بن الحارث کو مقداد بن اسود نے قید کیا تھا ۔ جب رسول کریم بدر سے نکلے اور "اُثیل" نامی جگہ میں پہنچے اور قیدیوں کو آپ کے سامنے لایا گیا۔ آپ النضر کو ٹکٹکی باندھے دیکھتے رہے ۔ اس کے پہلو میں ایک آدمی تھا النضر نے اُسے کہا: "بخدا ! محمد مجھے قتل کردے گا" اُس نے مجھے ایسی آنکھوں سے دیکھا ہے جن میں موت کے آثار نظر آتے تھے" اس شخص نے جواب دیا :" بخدا تم ڈر گئے ہو اور کوئی بات نہیں " النضر نے مُصعب بن عُمَیر سے کہا " اے مُصعب ! تم میرے قریبی رشتہ دار ہو اپنے ساتھی (حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم) سے کہو کہ میرے ساتھ میرے رفقا جیسا سلوک کیا جائے ۔ اگر تو نے ایسا نہ کیا تو وہ مجھے قتل کر دیں گے" مصعب نے کہا " تو اللہ کی کتاب اور اس کے رسول کے بارے میں فلاں فلاں بات کہا کرتا تھا " اے مُصعب ! مجھ سے میرے ساتھیوں جیسا سلوک کیا جائے ۔ اگر انہیں قتل کیا جائے تو مجھے بھی قتل کیا جائے " اور اگر ان پر احسان کیا جائے تو مجھ پر بھی کیا جائے " مُصعب نے کہا " تم رسول کریم کے صحابہ کو دکھ دیا کرتے تھے " (تا آخر) یہاں تک کہ راوی نے کہا حضرت علیؓ نے باندھ کر اسے قتل کر دیا"
واقدی نے کہا کہ رسول کریم قیدیوں کو لئے یہاں تک کہ " عِرْقُ الظَّبْیَةِ " نامی جگہ میں پہنچے تو آپ نے عاصم بن ثابت بن ابی الاقلح کو حکم دیا کہ عُقْبَہ کی گردن اڑا دے ۔ عُقْبَہ نے کہنا شروع کیا "ہائے افسوس اے قریش ! سب لوگوں میں سے مجھے ہی کیوں قتل کیا جا رہا ہے ؟ رسول کریم نے فرمایا : اس لیے کہ تم اللہ اور اس کے رسول سے دشمنی رکھتے ہو" اس نے کہا اے محمّد ! تمہارا احسان کرنا بہت اچھا ہے ۔ مجھے میری قوم کا ایک فرد تصور کیجئے اگر آپ انہیں قتل کریں تو مجھے بھی قتل کر دیں اگر ان پر احسان کریں تو مجھ پر بھی احسان کریں اگر ان سے فدیہ لیں تو میں بھی ان میں سے ایک جیسا ہوں گا۔ اے محمد ! بچوں کی حفاظت کون کرے گا ؟ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا" جہنم ! اے عاصم اسے آگے کرو اور اس کی گردن اڑا دو" عاصم نے اسے آگے بڑھایا اور اس کی گردن اڑا دی۔ رسول کریم نے فرمایا :
"تو بہت بڑا آدمی تھا ۔۔۔ بخدا ۔۔۔ میں نے اللہ، اُس کی کتاب اور اس کے رسول کا انکار کرتے کسی شخص کو نہیں دیکھا جو اس کے نبی کو ایذا دیتا ہو۔ میں اللہ کی تعریف کرتا ہوں جس نے تجھے قتل کر کے میری آنکھیں ٹھنڈی کیں"۔
اندازِ استدلال
یہ بیان اس حقیقت کی آئینہ داری کرتا ہے کہ تمام قبیلوں میں سے ان دو آدمیوں کو قتل کرنے کی وجہ یہ تھی کہ یہ اپنے قول وفعل سے اللہ اور اس کے رسولؐ کو ایذا دیتے تھے۔ جو آیات النضر کے بارے میں نازل ہوئیں وہ معروف ہیں۔ اسی طرح عقبہ اپنی زبان اور ہاتھوں سے جو ایذا دیا کرتا تھا وہ معروف ہے اس شخص نے رسولِ کریمؐ ۔۔۔ میرے ماں باپ آپؐ پر قربان ہوں ۔۔۔ کا گلا اپنی چادر سے پورے زور سے دبایا، یہ آپ کو قتل کرنا چاہتا تھا۔ اسی طرح رسول کریمؐ سجدہ کی حالت میں تھے تو اس نے آپؐ کی پشت مبارک پر اونٹ کا اوجھ لا کر رکھ دیا تھا ۔
کعب ابن زہیر بن ابی سلمیٰ کا واقعہ
جو لوگ فتح مکہ کے بعد قریش یا دوسرے لوگوں میں سے آپؐ کی ہجو کہا کرتے تھے رسول کریمؐ نے اُن کو قتل کرنے کا حکم دیا تھا۔ مثلاً کعب بن زہیر وغیرہ۔
اموی کہتے ہیں کہ میرے باپ نے مجھے بتایا کہ ابن اسحاق نے کہا، اور یونس بن بکیر اور البکائی وغیرہ نے ابن اسحاق سے روایت کیا ہے کہ جب رسول کریمؐ طائف سے لوٹ کر مدینہ تشریف لائے تو بُجیر بن زُہیر نے اپنے بھائی کعب بن زہیر کو لکھا کہ رسول کریمؐ نے مکہ کے چند آدمیوں کو قتل کرنے کا حکم دیا جو ہجو گوئی کر کے آپؐ کو ایذا دیا کرتے تھے۔ یونس اور البکائی کے الفاظ یہ ہیں کہ مکہ میں ایک شخص رسول کریمؐ کو ہجو کہہ ایذا دیا کرتا تھا رسول کریمؐ نے اس کو قتل کر دیا۔ اور قریش کے شعراء میں سے جو باقی رہ گئے تھے۔ مثلاً ابنِ الزّبعریٰ اور ہبیرہ بن ابی وہب وہ ادھر اُدھر بھاگ گئے۔ اگر تمہیں اپنی جان کی ضرورت ہے تو اُڑ کر رسول کریمؐ کی خدمت میں پہنچ جاؤ۔ کیونکہ جو شخص تائب ہو کر آ جاتا ہے آپؐ اسے قتل نہیں کرتے ۔ اگر تم نے ایسا نہ کیا تو پناہ لینے کے لیے دور دراز چلے جاؤ ۔
جب کعب کو یہ خط ملا تو زمین اس پر تنگ ہو گئی۔ اسے اپنی جان خطرے میں نظر آئی۔
اس کے جو دشمن موجود تھے وہ افواہیں اڑانے لگے ۔ وہ کہنے لگے اسے قتل کیا جائے گا ۔ جب اسے کوئی چارہ کار نظر نہ آیا تو رسول کریم کی شان میں مدحیہ قصیدہ لکھا ۔ اس میں کعب نے اپنے خوف اور چغل خوروں کی افواہوں کا ذکر کیا ۔ پھر مدینہ آکر قبیلہ جہینہ کے ایک شخص کے یہاں قیام پذیر ہوا جو پہلے سے اسے جانتا تھا ۔ صبح کی نماز کے وقت وہ شخص کعب کو رسول کریم کی خدمت میں لے گیا ۔ جب کعب لوگوں کے ساتھ نماز پڑھ چکا تو اُس نے کہا یہ رسول کریم ہیں اٹھ کر آپ کے پاس جاؤ ۔ اس نے ہمیں بتایا کہ وہ اٹھ کر رسول کریم کے پاس آیا اور اپنا ہاتھ آپ کے ہاتھ میں رکھ دیا ۔ رسول کریم اسے پہچانتے نہ تھے ۔ اس نے کہا یا رسول اللہ ! کعب بن زہیر مسلمان ہو کر توبہ کرنے اور آپ سے امان طلب کرنے کے لیے آیا ہے، اگر میں آپ کے پاس لاؤں تو کیا آپ اس کی توبہ قبول کرلیں گے ؟ رسول کریم نے فرمایا ہاں ! اس نے کہا یا رسول اللہ ! میں ہی کعب بن زہیر ہوں ۔
ابن اسحاق کہتے ہیں مجھے عاصم بن عمر نے بتایا کہ ایک انصاری نے کعب پر حملہ کر دیا اور کہا " یا رسول اللہ ! مجھے چھوڑئیے کہ میں اس منافق کی گردن اڑا دوں " رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا " اسے جانے دیجیے یہ توبہ کرنے اور اس کام سے باز رہنے کے لیے آیا ہے راوی نے کہا کہ کعب کو انصار کے اس قبیلے پر بڑا غصہ آیا ، ان کے اس ساتھی کی وجہ سے جو کچھ اس نے کہا تھا اور یہ اس لیے کہ مہاجرین میں سے جس نے بھی کوئی بات کہی اچھی کہی تھی کعب نے اپنا وہ قصیدہ سنایا جو اُس نے یہاں آتے وقت کہا تھا ۔ پھر ابن اسحاق نے کعب کا مشہور قصیدہ ” بَانَتْ سُعَادُ “ تحریر کیا ۔ اس میں یہ اشعار بھی ہیں :
وَالْعَفْوُ عِنْدَ رَسُوْلِ اللّٰهِ مَأْمُوْلُ ہے حالانکہ رسول کریم سے معافی کی امید
کی جاتی ہے ۔
۲- مَهْلًا هَدَاكَ الَّذِيْ نَفَّلَكَ الـ ذرا ٹھہرئیے ! تجھے اللہ نے قرآن کا انعام
قُرْآنَ فِيْهِ مَوَاعِيْظُ وَتَفْصِيْلُ دیا ہے جس میں نصیحت کی باتیں اور
تفصیل ہے ۔
اَذْنَبْتُ وَلَوْ كَثُرَتْ فِيَّ ال
دوسری حدیث میں ہے بنا پر اس کے خون کو ھدر قرا آپ کی مسجد میں آیا اور یہ قص کا حکم دیا ۔ اس لیے کہ وہ آپ نجران چلے گئے ۔ ابن الزب نجران میں مقیم رہا اور شرک کعب کے خون کو ھدر قرار د دین اسلام کو ہدف طعن پھر قبل اس کے کہ اس پر تھا تاہم اس نے اپنے اش اس ضمن میں ایک نتیجہ دیتے اور اسے قتل کر وا د بچائے گا ؟ سعد بن یحییٰ بن مجمع از عکرمہ ، ابن عبا اللہ علیہ وسلم کو گالیاں دی حضرت زبیر بن العوام میں حملہ کر دیا اسے قتل کر دی خیال میں یہ واقعہ خیبر میں نے روایت کیا ہے ۔ مروی ہے کہ ایک
- ۳۔ لَا تَأْخُذَنِيْ بِاَقْوَالِ الْوُشَاةِ وَلَمْ مجھے چغل خوروں کے کہنے پر نہ پکڑئیے،
اُذْنِبْ وَلَوْ كَثُرَتْ فِيَّ الْاَقَاوِيلُ جب کہ میں نے کوئی گناہ نہیں کیا اگرچہ میرے بارے میں بہت کچھ کہا گیا ہے ۔
دوسری حدیث میں ہے کہ کعب کو پتہ چلا کہ رسول کریم نے ایک بات سنی تھی اس کی بنا پر اس کے خون کو ھدر قرار دیا۔ وہ مسلمان ہو کر رسول کریم کی خدمت میں حاضر ہوا ، آپ کی مسجد میں آیا اور یہ قصیدہ پڑھا ۔ رسول کریم نے مکہ کے چند آدمیوں کو قتل کرنے کا حکم دیا ۔ اس لیے کہ وہ آپ کی ہجو کہہ کر آپ کو ایذا دیتے تھے ۔ اُن میں سے کچھ تو نجران چلے گئے ۔ ابن الزبعریٰ اسلام قبول کر کے توبہ کرنے کے لیے حاضر ہوا ۔ ہبیرہ نجران میں مقیم رہا اور شرک کی حالت میں مر گیا ۔ ہجو گوئی کی وجہ سے رسول کریم نے کعب کے خون کو ھدر قرار دیا، حالانکہ اس کی کہی ہوئی ہجو چنداں بلیغ نہ تھی ۔ اس نے دین اسلام کو ہدف طعن بنایا ، اس پر تنقید کی اور آپ کی دعوت کی تنقیص کی تھی پھر قبل اس کے کہ اس پر قابو پایا جاتا وہ توبہ کر کے اسلام لایا ۔ اگرچہ وہ حربی کافر تھا تاہم اس نے اپنے اشعار میں معذرت خواہی کی ۔
اس ضمن میں ایک بات یہ بھی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہجو کہنے والے کی طرف توجہ دیتے اور اسے قتل کروا دیا کرتے تھے ۔ آپ فرمایا کرتے تھے ” مجھے میرے دشمن سے کون بچائے گا ؟ سعد بن یحییٰ بن سعید اموی اپنے مغازی میں بطریقِ والد خود از عبدالملک بن جریج از عکرمہ ، ابن عباس سے روایت کرتے ہیں کہ ایک مشرک نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو گالیاں دی ۔ رسول کریم نے فرمایا ”کون مجھے میرے دشمن سے بچائے گا ؟“ حضرت زبیر بن العوام رضی اللہ عنہ کھڑے ہو گئے اور کہا ” میں بچاؤں گا “ پھر میدان میں نکل کر اسے قتل کر دیا ، رسول کریم نے مقتول کا سامان حضرت زبیر کو دیدیا۔ میرے خیال میں یہ واقعہ خیبر میں پیش آیا ، جہاں زبیر نے یاسر کو قتل کر دیا ۔ اس کو عبدالرزاق نے روایت کیا ہے ۔
مروی ہے کہ ایک آدمی رسول کریم کو گالیاں دیا کرتا تھا ۔ آپ نے فرمایا : مجھے
میرے دشمن سے کون بچائے گا ؟" حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے کہا "یا رسول اللہ! میں بچاؤں گا"۔ چنانچہ رسول کریمؐ نے ان کو اس کی طرف بھیجا اور انھوں نے اسے قتل کر دیا۔
صحابہ کرام گالی دہندہ کو قتل کر دیا کرتے
تھے خواہ ان کا قریبی رشتہ دار ہوتا
آپؐ کے صحابہؓ جب کسی کے بارے میں سنتے کہ وہ رسول کریمؐ کو گالیاں دیتا اور دکھ پہنچاتا ہے تو اسے قتل کر ڈالتے، اگرچہ وہ ان کا قریبی رشتہ دار ہوتا اس معاملہ میں آپؐ ان کی تائید کرتے اور اس سے خوش ہوتے۔ بعض اوقات آپؐ کرنے والے کو اللہ اور اس کے رسول کے "ناصر" کا لقب دیتے۔
ابو اسحاق الفزاری نے سیرت پر اپنی مشہور کتاب میں بطریق سفیان ثوری از اسماعیل بن سمیع مالک بن عمیر سے روایت کیا ہے کہ ایک شخص نے رسول کریمؐ کی خدمت میں حاضر ہو کر کہا کہ میں نے اپنے والد کو مشرکین میں پایا اور آپؐ کے حق میں اس سے ایک قبیح جملہ سنا۔ میں اس وقت تک چین سے نہ بیٹھ سکا جب تک نیزہ مار کر اُسے موت کی نیند نہ سلا دیا۔ اور یہ بات اس پر ناگوار نہ گزری۔ ایک اور آدمی آپؐ کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہا کہ میں نے اپنے والد کو مشرکین میں پایا اور اسے قتل کر دیا، اور یہ بات اس پر ناگوار نہ گزری۔ اُموی وغیرہ نے اس کو یہیں تک روایت کیا ہے ۔
اسی طرح ابو اسحاق الفزاری نے اپنی کتاب میں حَسَّان بن عطیہ سے نقل کیا ہے کہ رسول کریمؐ نے ایک لشکر بھیجا جس میں حضرت عبداللہؓ بن رواحہ اور جابرؓ بھی تھے ۔ جب مشرکین نے صف آرائی کی تو ان میں سے ایک آدمی سامنے آکر رسول کریمؐ کو گالیاں دینے لگا۔ مسلمانوں میں سے ایک شخص کھڑا ہوا اور کہنے لگا کہ میں فلاں ابن فلاں ہوں اور میری ماں فلاں عورت ہے، تم مجھے اور میری والدہ کو گالیاں دے لو مگر رسول کریمؐ کو گالی دینے سے باز آ جاؤ۔ اس سے وہ اور مشتعل ہو گیا اور پھر گالیوں کا اعادہ کرنے لگا۔ مسلمان نے پھر اسے منع کیا، پھر تیسری مرتبہ کہا "اگر تم نے پھر اس کا اعادہ کیا تو میں تلوار لے کر تم پر چڑھ جاؤں گا ۔ اُس نے پھر گالی دی ۔ مسلمان نے اس پر حملہ کر دیا۔ مشرک پیچھے ہٹا مسلمان نے اس کا تعاقب کیا اور مشرکین نے اسے شہید کر دیا۔ یہ دیکھ کر "کی قسم میں اس آدمی پر ج پھر اس شخص کے زخم مند تھا ۔ اُموی نے اس کو اپنے مغاز عمیر بن عدی کا واقعہ پیچھے کو ایذا دے رہی ہے تو اس نے کریمؐ لوٹ کر مدینہ آگئے تو میں سے اجازت لیے بغیر اسے قتل ک "اگر تم ایسے شخص کو دیک مدد کی ہے تو عمیر بن عدی کو
اسی طرح یہودی عورت اسے قتل کیا گیا۔ اُس آدمی کا وا نذر مانی تھی ۔ رسول کریمؐ اُس قتل کر کے اپنی نذر پوری کر لے
کافر جنّوں میں سے
تھا مومن جن اس
قتل کر دیتے تھے جو رسول کریمؐ کو ہے جب کہ جنّ وانس کے خلا والے کی تائید کرتے اور اس سعد بن یعلیٰ اُموی نے ل از محمد بن المنکدر حضرت
کون بچائے گا ؟ حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے کہا ”یا رسول اللہ ! چنانچہ رسول کریمؐ نے ان کو اس کی طرف بھیجا اور انہوں نے اسے قتل کر دیا۔
گالی دہندہ کو قتل کر دیا کرتے
ان کا قریبی رشتہ دار ہوتا
آپؐ کے صحابہؓ جب کسی کے بارے میں سنتے کہ وہ رسول کریمؐ کو دکھ پہنچاتا ہے تو اسے قتل کر ڈالتے، اگرچہ وہ ان کا قریبی رشتہ دار ہوتا تھا۔ آپؐ ان کی تائید کرتے اور اس سے خوش ہوتے۔ بعض اوقات آپؐ اللہ اور اس کے رسول کے ”ناصر“ کا لقب دیتے۔
الفزاری نے سیرت پر اپنی مشہور کتاب میں بطریق سفیان ثوری از مالک بن مغول سے روایت کیا ہے کہ ایک شخص نے رسول کریمؐ کی خدمت میں نے اپنے والد کو مشرکین میں پایا اور آپؐ کے حق میں اس سے ایک اس وقت تک چین سے نہ بیٹھ سکا جب تک نیزہ مار کر اُسے موت کی یہ بات اس پر ناگوار نہ گزری ۔ ایک اور آدمی آپؐ کی خدمت میں جس نے اپنے والد کو مشرکین میں پایا اور اسے قتل کر دیا، اور یہ بات اس اموی وغیرہ نے اس کو اسی سند روایت کیا ہے۔
ابو اسحاق الفزاری نے اپنی کتاب میں حسّان بن عطیہ سے نقل کیا ہے کہ لشکر جھجاہ میں حضرت عبداللہ بن رواحہ اور جابرؓ بھی تھے ۔ صف آرائی کی تو ان میں سے ایک آدمی سامنے آکر رسول کریمؐ کو گالیاں میں سے ایک شخص کھڑا ہوا اور کہنے لگا کہ میں فلاں ابن فلاں ہوں اور کہتا ہوں تم مجھے اور میری والدہ کو گالیاں دے لو مگر رسول کریمؐ کو گالی نہ دو۔ اس سے وہ اور مشتعل ہو گیا اور پھر گالیوں کا اعادہ کرنے لگا۔ مسلمان نے اسے تیسری مرتبہ کہا ”اگر تم نے پھر اس کا اعادہ کیا تو میں تلوار لیکر تم پر اس نے پھر گالی دی۔ مسلمان نے اس پر حملہ کر دیا۔ مشرک پیچھے ہٹا مسلمان نے اس کا تعاقب کیا اور مشرکین کی صفوں کو چیرتے ہوئے اس پر تلوار کا وار کیا مشرکین نے اسے شہید کر دیا۔ یہ دیکھ کر رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”کیا تمہیں اس آدمی پر حیرت ہوتی ہے جس نے اللہ اور اس کے رسولؐ کی مدد کی“۔ پھر اس شخص کے زخم مندمل ہو گئے اور وہ اسلام لے آیا۔ اس شخص کو ”اصیل“ کہا جاتا تھا۔ اموی نے اس کو اپنے مغازی میں اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
عمیر بن عدی کا واقعہ پیچھے گزر چکا ہے کہ جب اُسے پتہ چلا کہ بنت مروان رسول کریمؐ کو ایذا دے رہی ہے تو اس نے کہا ”اے اللہ ! میں تیرے حضور نذر مانتا ہوں کہ اگر رسول کریمؐ لوٹ کر مدینہ آگئے تو میں اس عورت کو قتل کر دوں گا“۔ چنانچہ اس نے رسول کریمؐ سے اجازت لیے بغیر اسے قتل کر دیا۔ رسول کریمؐ نے فرمایا : ”اگر تم ایسے آدمی کو دیکھنا چاہو جس نے اللہ اور اس کے رسولؐ کی غیبی مدد کی ہے تو عمیر بن عدی کو دیکھ لو“۔
اسی طرح یہودی عورت اور امّ ولد کا واقعہ ہے کہ حضورؐ کو گالیاں دینے کی وجہ سے اسے قتل کیا گیا۔ اس آدمی کا واقعہ بھی گزر چکا ہے جس نے ابن ابی سرح کو قتل کرنے کی نذر مانی تھی۔ رسول کریمؐ اس کو بیعت کرنے سے اس لیے رکے رہے کہ یہ شخص اسے قتل کر کے اپنی نذر پوری کرے۔
کافر جنّوں میں سے جو رسول کریمؐ کو گالی دیتا
تھا مومن جنّ اس کو قتل کر دیتے تھے
علامہ نے لکھا ہے کہ مومن جنّ اس کافر جن کو قتل کر دیتے تھے جو رسول کریمؐ کو گالی دیا کرتا تھا۔ یہ ہجرت سے پہلے اور اُس وقت کا واقعہ ہے جب کہ جنّ و انس کے خلاف قتال کا حکم نازل نہیں ہوا تھا۔ رسول کریمؐ ایسا کرنے والے کی تائید کرتے اور اس کا شکریہ ادا کرتے ۔
سعد بن یحییٰ اموی نے اپنے مغازی میں بطریق محمد بن سعید ــــ یعنی مخرمہ ــــ از محمد بن المنکدر، حضرت ابن عباسؓ سے نقل کیا ہے کہ ایک جنّ نے جبل ابو قبیس پر
بڑھ کر چند اشعار پڑھے ۔ مکہ میں ان اشعار کا بہت چرچا ہوا ۔ رسولِ کریمؐ نے فرمایا : "یہ شیطان ہے جس نے بتوں کے بارے میں یہ اشعار کہے ہیں ۔ اس کا نام مُسعر ہے ، اللہ تعالیٰ اس کو ذلیل کرے گا ۔" ابھی تین دن گزرے تھے کہ اسی پہاڑ پر کوئی یہ اشعار سنا رہا ہے :
- ١۔ نَحْنُ قَتَلْنَا فِیْ ثَلَاثٍ مِسْعَرًا ہم نے تین دنوں میں مِسْعَر کو قتل کر دیا
اِذْ سَفَّهَ الْحَقَّ وَسَنَّ الْمُنْكَرًا اس نے حق کی تحقیر کی اور برائی کی طرح ڈالی تھی ۔
- ٢۔ فَقَنَعْنُهُ سَيْفًا حُسَامًا مُبْتَرًا ہم نے اس کو تیغِ بُرّاں کے ساتھ دھانہ پہ
بِشَتْمِهِ نَبِيَّنَا الْمُطَهَّرَا دیا، اس لیے کہ وہ ہمارے پاک نبی کو گالیاں دیتا تھا ۔
رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا "یہ ایک سرکش جِنّ تھا جس کا نام سُمَح تھا میں نے اس کا نام عبداللہ رکھ دیا ۔ اس نے مجھے بتایا کہ میں تین روز سے شعر کہنے والے سرکش جن کی تلاش میں ہوں ۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا "یا رسول اللہ ! اللہ اسے جزائے خیر دے"۔
ابن ابی الحقیق کا قتل
جن لوگوں کو ایذائے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی وجہ سے قتل کیا گیا ان میں سے ایک ابو رافع بن ابی الحقیق یہودی ہے ۔ علماء کے یہاں اس کا واقعہ معروف ہے ۔ بَقدَرِ ضرورت ہم یہاں اس پر روشنی ڈالتے ہیں ۔
حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابو رافع یہودی کی طرف چند انصار صحابہ کو بھیجا ۔ عبداللہ بن عَتِيْک کو ان کا امیر مقرر کیا (ابو رافع رسولِ کریمؐ کو ایذاء دیتا اور آپ کے مخالفین کی مدد کیا کرتا تھا ۔ وہ ارض حجاز میں ایک قلعے میں اقامت گزین تھا ۔ جب انصار وہاں پہنچے تو سورج غروب ہو چکا تھا اور لوگ اپنے چوپایوں کو گھروں کی طرف لا رہے تھے ۔ عبداللہ نے اپنے رفقاء سے کہا تم یہاں بیٹھو، میں دربان کے پاس جا کر نرم انداز میں بات کروں گا ۔ ہو سکتا ہے کہ وہ مجھے
اندر جانے دے ۔ چنانچہ عبد ا پاخانے کے لیے بیٹھا ہو ۔ لوگ دربان نے اُسے پکار کر کہا کیونکہ میں دروازہ بند کرنا چا جب لوگ داخل ہو چکے تو اس میں نے اٹھ کر چابیاں پکڑلیں جب کہ وہ اپنے بالا خانے میں دروازہ کھولتا تو اسے اندر بھی گیا تو میں ان کے پہنچنے ت تاریک کمرے میں اپنے ک میں نے کہا یہاں ابو رافع جھکا اور اسے تلوار مار سے نکل گیا اور قریب ہی میں پھر اس کی طرف ایک آدمی نے مجھے گھر میں مگر وہ مرا نہیں ۔ پھر میں تک پہنچ گئی ۔ میں نے کھول لیا ۔ یہاں تک خیال تھا کہ میں زمین میں نے اسے اپنی رات بھر یہاں سے ن جب مرغ نے اذ تاجر اہل حجاز کی مو
اندر جانے دے۔ چنانچہ عبداللہ دروازے کے پاس آئے اور کپڑا اوڑھ لیا جیسے کوئی پاخانے کے لیے بیٹھا ہو ۔ لوگ اندر داخل ہو گئے ۔
دربان نے اُسے پکارا کہ اے اللہ کے بندے اگر تم اندر داخل ہونا چاہو تو ہو جاؤ کیونکہ میں دروازہ بند کرنا چاہتا ہوں ۔ عبداللہ کہتے ہیں کہ میں اندر داخل ہو کر چھپ گیا ۔ جب لوگ داخل ہو چکے تو اس نے دروازہ بند کر لیا اور چابیاں ایک میخ کے ساتھ لٹکا دیں میں نے اٹھ کر چابیاں پکڑ لیں اور دروازہ کھولا ۔ افسانہ گو ابو رافع کو افسانہ سنا رہا تھا ، جب کہ وہ اپنے بالا خانے میں تھا۔ جب افسانہ گو چلے گئے تو بالا خانہ پر چڑھا ۔ جب میں کوئی دروازہ کھولتا تو اسے اندر سے بند کر لیتا ۔ میں نے کہا کہ اگر لوگوں کو میری آمد کا پتہ چل بھی گیا تو میں ان کے پہنچنے تک اسے قتل کر چکا ہوں گا ۔ جب میں اس کی طرف پہنچا تو وہ ایک تاریک کمرے میں اپنے کنبے کے درمیان پڑا تھا ۔ اور کچھ پتہ نہ چلتا تھا کہ وہ کہاں ہے ۔ میں نے کہا اے ابو رافع ! اس نے پوچھا کون ہے ؟ جہاں سے آواز آئی تھی میں اُدھر جھپکا اور اسے تلوار ماری ۔ مگر میں خوف زدہ تھا اس کا کچھ نہ بگاڑ سکا ۔ وہ چیخا تو میں دروازے سے نکل گیا اور قریب ہی ٹھہرا رہا ۔
میں پھر اس کی طرف لوٹا اور کہا ابو رافع یہ آواز کیسی ہے ؟ اس نے کہا تیری ماں مرے ایک آدمی نے مجھے گھر میں تلوار ماری ہے (یہ سنتے ہی) میں نے تلوار مار کر اُسے لہو لہان کر دیا مگر وہ مرا نہیں ۔ پھر میں نے تلوار کی نوک اس کے بطن میں رکھی یہاں تک کہ اس کی پشت تک پہنچ گئی ۔ میں نے سمجھا کہ میں نے اسے قتل کر دیا ۔ میں ایک ایک کر کے دروازے کھولتا گیا۔ یہاں تک کہ میں ایک سیڑھی کے پاس پہنچا اور اس پر اپنا پاؤں رکھ دیا۔ میرا خیال تھا کہ میں زمین پر پہنچ گیا ہوں ، میں چاندنی رات میں گر پڑا اور میری پنڈلی ٹوٹ گئی ۔ میں نے اسے اپنی پگڑی سے باندھا اور جا کر دروازے پر بیٹھ گیا ۔ میں نے کہا کہ میں رات بھر یہاں سے نہیں جاؤں گا جب تک مجھے پتہ نہ چلے کہ میں نے اسے قتل کر دیا ہے ۔
جب مؤذن نے اذان دی تو موت کی خبر دینے والا فصیل پر چڑھ کر پکارا کہ میں ابو رافع تاجر اہل حجاز کی موت کی اطلاع دیتا ہوں ۔ میں اپنے ساتھیوں کے پاس گیا اور کہا اب نجات
کی راہ ڈھونڈھو ، اللہ نے ابو رافع کو ہلاک کر دیا ، میں نے رسول کریم کی خدمت میں پہنچ کر ماجرا سنایا۔ آپ نے فرمایا ” اپنا پاؤں پھیلاؤ۔ میں نے پاؤں پھیلا دیا ، آپ نے اُسے چھوا تو وہ ایسے ہو گیا کہ گویا کبھی تکلیف نہ ہوئی تھی“
(صحیح بخاری)
ابن اسحاق نے بطریق زہری از عبد اللہ بن کعب بن مالک روایت کیا ہے کہ اللہ نے اپنے رسول پر جو احسانات کیے اُن میں سے ایک یہ ہے کہ انصار کے یہ دو گروہ اوس اور خزرج باہم ایسے لڑتے بھڑتے رہتے تھے جیسے مینڈھے ۔ اگر ایک گروہ ایک کام کرتا تو دوسرا بھی اسی طرح کرتا کہا کرتے تھے کہ دوسرا گروہ دین اسلام میں اور رسول کریم کے نزدیک ہم پر سبقت نہ لے جائے جب اوس والوں نے کعب بن اشرف کو ہلاک کر دیا تو خزرج کو خیال گزرا کہ ایک شخص عداوت رسول میں اسی کی مانند ہے اور خیبر میں رہنے والا ابن ابی الحقیق ہے انہوں نے رسول کریم سے اس کے قتل کی اجازت مانگی تو آپ نے اجازت دے دی ۔ پھر آخر تک حدیث سنائی کہ وہ اس کے بالا خانے پر چڑھ گئے اور دروازہ کھٹکھٹایا ۔ اس کی بیوی ان کی طرف آئی اور کہا تم کون ہو؟ کہنے لگے ہمارا تعلق عرب کے ایک قبیلے سے ہے ، ہم غلہ لینے کے لیے آئے ہیں۔ عورت نے دروازہ کھول دیا اور کہا گھر میں تمہارے پاس یہ آدمی ہے ۔ (یعنی ابو رافع گھر میں ہے) اور پھر قتل کا پورا واقعہ بیان کیا ۔
حضرت البراء اور ابن کعب کی روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول کریم سے اجازت لے کر رات کو اُسے قتل کرنے کے لیے گئے ۔ اس لیے کہ وہ رسول کریم کو ایذا دیتا اور عداوت رکھتا تھا ۔ گویا وہ کعب بن اشرف کی مانند تھا ۔ اس فرق کے ساتھ کہ کعب بن اشرف معاہد تھا ۔ اور جب اس نے اللہ اور اُس کے رسول کو ایذا دی تو آپ نے مسلمانوں کو اُس کے قتل کرنے کے لیے کہا ، مگر ابو رافع معاہد نہ تھا ۔
ان احادیث سے استدلال کی نوعیت
مذکورہ صدر جملہ احادیث اس امر کی آئینہ داری کرتی ہیں کہ جو شخص بھی رسول کریم کو ایذا دیتا یا گالیاں نکالتا تو رسول کریم اس کو قتل کرنے کا ارادہ کر لیتے اور اسی وجہ سے لوگوں کو اس کے قتل پر ابھارتے ۔ آپ کے صحابہ بھی
آپؐ کے حکم سے ایسا کرتے ۔ دوسرے لوگ اگرچہ کافر اور غیر معاہد ہوتے مگر مسلمان ان پر ہاتھ نہ اٹھاتے بلکہ ان کو امان دیتے، کسی عہد کے بغیر ان پر احسان کرتے ۔ پھر ان میں سے بعض کو قتل کیا گیا۔ بعض تائب ہو کر مسلمان ہو گئے اور تین وجوہ کی بنا پر وہ معصوم الدم قرار پائے ۔
آپ نے بعض کے خون کو ھدر فرمایا
تھا مگر بوجوہ وہ معصوم الدم قرار پاتے
- (۱) اس کی ایک وجہ یہ
ہے کہ قابو پائے جاتے سے قبل اس نے توبہ کر لی اور مسلم جس پر حد واجب ہو چکی ہو مگر قدرت پائے جانے سے قبل توبہ کر لے تو اس کی حد ساقط ہو جاتی ہے ۔ پھر حربی کافر تو اس کا زیادہ استحقاق رکھتا ہے ۔
- (۲) دوسری وجہ یہ تھی کہ رسول کریمؐ ایسے لوگوں کو معاف فرما دیا کرتے تھے ۔
- (۳) تیسری وجہ یہ ہے کہ حربی جب اسلام لائے تو جاہلیت کے گناہوں کی وجہ سے اس پر
گرفت نہیں کی جاتی ۔ خواہ اس کے ذمے حقوق اللہ ہوں یا حقوق العباد ۔ اس میں علماء کا کوئی اختلاف نہیں ہے ۔ قرآن نے فرمایا :
" قُلْ لِّلَّذِيْنَ كَفَرُوْا اِنْ يَّنْتَهُوْا يُغْفَرْ لَهُمْ مَّا قَدْ سَلَفَ "
(الانفال - ۳۸)
جو لوگ کافر ہیں اُن سے کہہ دیں کہ اگر وہ باز آجائیں تو اُن کے سابقہ گناہ معاف کر دیئے جائیں گے)
اسلام سابقہ گناہوں کو ساقط کر دیتا ہے
نیز رسول کریمؐ کے اس فرمان کی وجہ سے کہ :
"اسلام سابقہ گناہ معاف کر دیتا ہے"۔ (مسلم)
"جو شخص اسلام میں نیک اعمال انجام دے تو جاہلیت کے کاموں پر اس کی گرفت نہیں ہو گی" (صحیح بخاری ومسلم)
یہی وجہ ہے کہ بکثرت لوگ حلقہ بگوشِ اسلام ہوئے اور انہوں نے معروف لوگوں کو قتل کیا تھا۔ مگر اُن میں کسی سے بھی قصاص ودیت طلب کی گئی نہ کفارہ ۔ مثلاً حضرت حمزہؓ کا قاتل وحشی، ابنِ قوقل کا قاتل ابن العاص ، خبیب بن عدی کا قاتل عقبہ بن حارث اور
اَن گنت لوگ جن کے بارے میں روایات صحیح میں مذکور ہے کہ وہ اسلام لائے اور بعض نے کسی مسلمان کو بھی قتل کیا تھا ، مگر رسولِ کریمؐ نے ان میں سے کسی پر بھی قصاص واجب نہ ٹھہرایا ، بلکہ ارشاد فرمایا ” اللہ تعالیٰ دو آدمیوں کو دیکھ کر ہنستا ہے کہ دونوں ایک دوسرے کے قاتل ہیں اور دونوں ہی جنت میں داخل ہو جاتے ہیں۔ اُن میں سے ایک تو اللہ کی راہ میں جہاد کرتے ہوئے دوسرے کو قتل کرتا ہے اور جنت میں داخل ہو جاتا ہے پھر قاتل کو اللہ توبہ کی توفیق عطا فرماتا ہے ۔ اور وہ اسلام لاتا ہے ، پھر اللہ کی راہ میں مارا جاتا ہے اور جنت میں داخل ہو جاتا ہے ۔ (بخاری و مسلم)
جو شخص اسلام لاتا اور کفر میں اس نے کسی
کو قتل کیا ہوتا یا کسی کا مال لیا ہوتا تو
رسولِ کریمؐ اس کے ضامن نہیں ہوتے تھے
اگر کسی نے حالتِ کفر میں مسلمان کا مال تلف کیا ہوتا تو رسولِ کریمؐ اس کے ضامن نہیں ہوتے تھے اور اگر کسی نے کافر ہوتے ہوئے زنا یا چوری کا ارتکاب کیا یا شراب پی یا کسی پر بہتان لگایا تو اُس پر شرعی حد نہیں لگایا کرتے تھے ، خواہ قیدی ہونے کے بعد اسلام لایا ہو یا اس سے قبل ۔ ہمارے علم کی حد تک نہ اس کی روایت میں اختلاف ہے اور نہ فتویٰ میں ۔
بلکہ اگر کوئی حربی کافر اسلام لایا اور اسکے قبضہ میں کسی مسلم کا مال ہوتا جو اس نے غنیمت کے طور پر لیا ہوتا تو وہ اس کی ملکیت ہوتا اور وہ اُسے اس مسلم کو واپس نہ کرتا جو اس کا اصلی مالک ہوتا اور وہ مال اس نوعیت کا ہوتا جس کو ایک مسلم دوسرے سے لیکر اس کا مالک نہ بن سکتا ، اس لیے کہ وہ دینِ اسلام میں حرام ہے ۔ یہ تابعین کے جمہور علماء اور اُن کے بعد آنے والوں کا موقف ہے ۔ خلفائے راشدین سے بھی اسی طرح منقول ہے ۔ امام اعظم ابو حنیفہؒ ، امام مالکؒ اور امام احمدؒ کا منصوص قول یہی ہے ۔ امام احمدؒ کے جمہور اصحاب بھی اسی کے قائل ہیں ۔ اس کی اساس یہ ہے کہ اس کے ہاتھ میں جو مال تھا اور جس کو وہ اپنی ملکیت تصور کرتا تھا اسلام لانے یا معاہدہ کرنے نے اس کو مزید استحکام
ان کے بارے میں روایات صحیح میں مذکور ہے کہ وہ اسلام لائے اور صحابہ کو بھی قتل کیا تھا ، مگر رسول کریمؐ نے ان میں سے کسی پر بھی قصاص نہ لیا ، بلکہ ارشاد فرمایا اللہ تعالیٰ دو آدمیوں کو دیکھ کر ہنستا ہے کہ دونوں قاتل اور مقتول دونوں ہی جنت میں داخل ہو جاتے ہیں۔ اُن میں سے ایک اللہ کی راہ میں جہاد کرتے ہوئے دوسرے کو قتل کرتا ہے اور جنت میں داخل ہو جاتا ہے پھر دوسرے کو بھی توفیق عطا فرماتا ہے ۔ اور وہ اسلام لاتا ہے ، پھر اللہ کی راہ میں مارا جاتا ہے اور جنت میں داخل ہو جاتا ہے ۔
(بخاری و مسلم)
اسلام لانا اور کفر میں اس نے کسی
کو قتل کیا ہوتا یا کسی کا مال لیا ہوتا تو
اسلام اس کے ضامن نہیں ہوتے تھے
اگر کسی نے حالتِ کفر میں مسلمان کا مال تلف کیا ہوتا تو رسولِ کریمؐ اس کے ضامن نہیں ہوتے تھے اور اگر اس نے حالتِ کفر میں زنا یا چوری کا ارتکاب کیا یا شراب پی یا کسی پر بہتان لگایا تو اس پر حد نہیں لگایا کرتے تھے ، خواہ قیدی ہونے کے بعد اسلام لایا ہو یا اس سے قبل۔ کسی حد تک نہ اس کی روایت میں اختلاف ہے اور نہ فتوٰی میں ۔
البتہ اگر کوئی کافر اسلام لایا اور اسکے قبضہ میں کسی مسلم کا مال ہوتا جو اس نے غصب کر لیا ہوتا تو وہ اس کی ملکیت ہوتا اور وہ اُسے اس مسلم کو واپس نہ کرتا جس کا وہ مال ہوتا اور وہ مال اس نوعیت کا ہوتا جس کو ایک مسلم دوسرے مسلم سے نہ لے سکتا ، اس لیے کہ وہ دینِ اسلام میں حرام ہے۔ یہ تابعین کے جمہور علماء اور ائمہ فتوٰی کا موقف ہے ۔ خلفائے راشدین سے بھی اسی طرح منقول ہے ۔ امام ابو حنیفہؒ، امام مالکؒ اور امام احمدؒ کا منصوص قول یہی ہے ۔ امام احمدؒ کے اصحاب بھی اس کے قائل ہیں۔ اس کی اساس یہ ہے کہ اس کے ہاتھ میں جو مال تھا وہ اُس کو اپنی ملکیت تصور کرتا تھا اسلام لانے یا معاہدہ کرنے نے اس کو مزید استحکام
بخشا۔ اس لیے کہ وہ مال فی سبیل اللہ اپنے اصلی مالک کے ہاتھ سے جو مسلم تھا نکلا اور اس کا اجر اللہ پر واجب ہو گیا۔ اور جس نے اس کو لیا ہے وہ اسے حلال سمجھتا ہے ، اور اللہ نے اس سے اسلام لانے کی وجہ سے مسلمانوں کے تمام خون اور مال اسے معاف کر دیئے جو اس نے لیے تھے۔ اب مالک کی طرف اس مال کا لوٹانا اس کے ذمے واجب نہیں۔ جس طرح وہ ان نفوس و اموال کا ضامن نہیں جو اس نے تلف کیے۔ البتہ اس نے حالتِ کفر میں، جو عبادات ترک کیے وہ ان کی قضا نہیں دے گا۔ اس لیے کہ جمیع عبادات اعتقاد کے تابع ہیں۔ جب اُس نے اُس عقیدے کو ترک کر دیا تو اس کے ذمہ جو گناہ تھے وہ معاف ہو گئے۔ اسی طرح اسکے ہاتھ میں جو مال ہے اس میں اس پر کوئی تاوان وغیرہ نہیں ہے جو اس سے لیا جائے جس طرح اس کے قبضہ میں جو عقود فاسدہ ہیں جن کو وہ قبل از اسلام، حلال تصور کرتا تھا مثلاً ربا وغیرہ ۔
علماء کی ایک جماعت کے نزدیک وہ یہ مال اس کے مسلم مالک کو لوٹانے کا پابند ہے امام شافعیؒ ، اور حنابلہ میں سے ابو الخطاب کا زاویۂ نگاہ یہی ہے۔ اس لیے کہ کفار کا اس کو مال غنیمت سمجھنا ایک حرام فعل ہے ۔ اس لیے غنیمت سمجھ کر وہ مسلم کے مال کے مالک نہیں بن سکتے۔ جس طرح غصب سے مالک نہیں بن سکتے ۔ نیز اس لیے کہ کوئی مسلم اُن سے اس طریق سے لے لے جس کے مطابق ایک مسلم دوسرے مسلم سے مال لے کر اس کا مالک نہیں بن سکتا مثلاً اسے غنیمت بنالے یا چوری کر لے تو وہ اس کے مسلم مالک کو لوٹانے کا پابند ہے۔ جس طرح رسول کریمؐ کی ناقہ کے ذکر پر مشتمل حدیث میں ہے اور ہمارے علم کی حد تک لوگوں کا اس پر اتفاق ہے۔ اور اگر وہ اس کے مالک ہو سکتے تو غنیمت حاصل کرنے والا بھی اُن میں سے اس کا مالک ہوتا اور اُسے واپس نہ کرتا ۔
مگر پہلا قول صحیح تر ہے ۔ اس لیے کہ مشرکین مسلمانوں کا بہت سا مال غنیمت میں حاصل کرتے تھے۔ مثلاً گھوڑے اور اسلحہ وغیرہ ۔ اور ان میں سے بکثرت مشرکین اسلام لا چکے تھے مگر آپؐ نے کسی سے بھی مال واپس نہ لیا حالانکہ ان میں سے بہت سے اموال ابھی تک موجود ہوں گے۔
اس ضمن میں یہی بات کافی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا :- " ان تنگ دست مہاجرین کے لیے جن کو اپنے گھروں اور مالوں سے بے دخل کیا گیا ، وہ اللہ کا فضل اور اس کی رضا مندی تلاش کرتے ہیں "
(الحشر - ۸)
نیز فرمایا : "جن مسلمانوں سے (خواہ مخواہ) لڑائی کی جاتی ہے ان کو اجازت ہے (کہ وہ بھی لڑیں) کیوں کہ ان پر ظلم ہو رہا ہے اور خدا (ان کی مدد کرنے پر) وہ یقیناً ان کی مدد پر قادر ہے ۔ یہ وہ لوگ ہیں کہ اپنے گھروں سے ناحق نکال دیے گئے (انہوں نے کچھ قصور نہیں کیا ہاں یہ کہتے ہیں کہ ہمارا پروردگار خدا ہے اور اگر خدا لوگوں کو ایک دوسرے سے نہ ہٹاتا رہتا تو (راہبوں کے) صومعے اور عیسائیوں کے گرجے اور (یہودیوں کے) عبادت خانے اور (مسلمانوں کی) مسجدیں جن میں خدا کا بہت سا ذکر کیا جاتا ہے ویران ہوچکی ہوتیں اور جو شخص خدا کی مدد کرتا ہے خدا اس کی ضرور مدد کرتا ہے بے شک خدا توانا اور غالب ہے"
(الحج - ۳۹ - ۴۰)
" اور خدا کی راہ سے روکنا اور اس سے کفر کرنا اور مسجد حرام (یعنی خانہ کعبہ میں جانے) سے بند کرنا اور اہل مسجد کو اس میں سے نکال دینا۔"
(سورۃ البقرۃ - ۲۱۷)
" خدا انہی لوگوں کے ساتھ تم کو دوستی کرنے سے منع کرتا ہے جنہوں نے تم سے دین کے بارے میں لڑائی کی اور تم کو تمہارے گھروں سے نکالا اور تمہارے نکالنے میں اوروں کی مدد کی ، تو جو لوگ ایسوں سے دوستی کریں گے وہی ظالم ہیں"
(الممتحنہ - ۹)
ان آیات میں بیان فرمایا کہ مسلمانوں کو ان کے گھروں سے نکالا گیا اور بلاوجہ مالوں سے محروم کیا گیا ، حتیٰ کہ دولت مند ہونے کے بعد وہ تنگ دست ہو گئے ۔ پھر مشرکین ان گھروں اور مالوں پر قابض ہو گئے ، جب کہ فتح مکہ تک وہ ان کے قبضے میں تھے ۔ جو لوگ دَورِ جاہلیت میں ان پر قابض تھے انہوں نے
اسلام قبول کیا ۔ جن لوگوں کو گھروں سے نکالا گیا تھا۔ اسلام لانے اور فتح مکہ کے بعد رسول کریمؐ نے نہ ان کو گھر واپس دلوایا اور نہ مال۔ رسول کریمؐ کو فتح مکہ کے روز کہا گیا کہ آیا آپ اپنے گھر میں قیام نہیں کریں گے ؟ فرمایا : ”کیا عقیل نے ہمارے لیے کوئی گھر چھوڑا بھی ہے ؟“ مہاجرین نے آپ سے کہا کہ ہمارے مال ، واپس دلوائے جائیں جن پر کفار قابض ہو گئے ہیں رسول کریمؐ نے اس سے انکار کیا اور مالوں کو انہی کے ہاتھوں میں رہنے دیا جو اسلام لانے کے بعد اس پر قابض ہو گئے تھے ۔
عقیل بن ابی طالب نے رسول کریمؐ کے گھروں پر قبضہ کر لیا
واقعہ یوں ہے کہ رسول کریمؐ کے ہجرت کر جانے کے بعد عقیل بن ابی طالب اپنے بھائیوں، رسول کریمؐ اور دیگر رجال و خواتین کے گھروں پر قابض ہو گئے، اور اپنے والد سے جو ورثہ پایا تھا وہ اس پر مزید ہے ۔ ابو رافع کہتے ہیں کہ رسول کریمؐ سے کہا گیا کہ آپ اپنے آبائی گھر میں قیام نہیں کریں گے ؟ آپ نے فرمایا ”کیا عقیل نے ہمارے لیے کوئی گھر چھوڑا بھی ہے ؟ عقیل نے رسول کریمؐ اور اپنے بھائیوں اور رجال و خواتین کے تمام گھر جو مکہ میں تھے فروخت کر دیئے تھے ۔
علمائے سیرت نے جن میں سے ایک ابوالولید ازرقی بھی ہیں ، ذکر کیا ہے کہ عبدالمطلب کے جو گھر مکہ میں تھے بنو عبدالمطلب کے قبضہ میں آ گئے ۔ اُن میں سے ایک شعب ابن یوسف اور بنی یوسف کے بعض گھر ابو طالب کے قبضہ میں تھے ۔ اور وہ کشادہ جگہ جو اس کے اور دار ابن یوسف کے درمیان ہے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی جائے ولادت ہے ۔ اور اس کے آس پاس جو جگہ ہے وہ رسول کریمؐ کے والد جناب حضرت عبداللہ بن حضرت عبدالمطلب کی ملکیت میں تھی ۔ بلاشبہ یہ گھر رسول کریمؐ کی ملکیت میں تھا ، جو آپؐ نے اپنے والد محترم سے ورثہ میں پایا تھا اور وہیں آپؐ کی ولادت ہوئی آپ کا ایک گھر اور تھا جو آپ اور آپؐ کی اولاد نے حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا سے ورثہ میں پایا ۔
اَزرقی کہتے ہیں کہ رسول کریمؐ نے اپنے دو گھروں کے بارے سکوت اختیار فرمایا۔ ایک وہ گھر جہاں آپ پیدا ہوئے، اور دوسرا وہ گھر جہاں حضرت خدیجہ بنت خویلد کی رخصتی ہوئی اور اُن کے تمام بچوں نے وہاں جنم لیا۔
اَزرقی نے کہا کہ عقیل بن ابی طالب نے وہ گھر لے لیا جس میں آپ پیدا ہوئے تھے۔ باقی رہا حضرت خدیجہ کا مکان تو وہ عُتَیّب بن ابی لہب نے لے لیا۔ وہ اس کا قریب ترین پڑوسی تھا، پھر اُس نے حضرت معاویہؓ کے پاس اُسے فروخت کر دیا۔ علمائے سیرت نے اس کی توضیح کی ہے جو کچھ ہم نے مہاجرین کے گھروں کے بارے میں ذکر کیا ہے۔
آلِ جحش کی حویلی اور ابوسفیان کا اس پر قبضہ
ازرقی مکے میں جحش بن رئاب کا وہ گھر جو معلّٰی میں تھا اولادِ جحش کے قبضہ میں رہا۔ جب اللہ نے اپنے نبیؐ اور صحابہ کرام کو ہجرتِ مدینہ کی اجازت دی تو آلِ جحش کے تمام مردوں اور عورتوں نے مدینہ کی طرف ہجرت کی اور اپنا گھر خالی چھوڑ دیا۔ وہ حرب بن امیہ کے حلیف تھے۔ ابوسفیان نے ان کے اس گھر کو چار سو دینار کے عوض عمرو بن علقمہ عامری کے پاس فروخت کر دیا۔ جب آلِ جحش کو پتہ چلا کہ ابوسفیان نے اُن کے گھر کو فروخت کر دیا ہے تو ابو احمد نے ابوسفیان کی ہجو کہی اور مکان فروخت کرنے کی وجہ سے اُس کی مذمت کی۔ پھر اس نے چند اشعار کہے۔ فتح مکہ کے دن ابو احمد بن جحش رسول کریمؐ کے پاس آیا اور مکان کے بارے میں گفتگو کی۔ اس وقت اس کی بینائی جا چکی تھی۔ اس نے کہا یا رسول اللہ ! ابوسفیان نے میرا مکان فروخت کر دیا ہے۔ رسول کریمؐ نے اس کو بلا کر آہستہ سے کچھ کہا۔ ابو احمد نے بعد ازاں اس کا ذکر کبھی نہیں کیا۔ ابو احمد سے دریافت کیا گیا کہ تجھ سے رسول اللہؐ نے کیا کہا تھا؟ ابو احمد نے کہا کہ رسول کریمؐ نے فرمایا تھا "اگر تو صبر کرے تو تمہارے لیے بہتر ہو گا اور اس کے عوض تجھے جنت میں گھر ملے گا" میں نے کہا: "میں صبر کروں گا" چنانچہ ابو احمد نے اُسے ترک کر دیا۔
دارِ عتبہ ابن غزوان | عتبہ بن غزوان کا ایک گھر تھا جس کو ذات الوجّین
کہتے تھے۔ جب اس نے ہجرت کی تو اسے یعلیٰ بن اُمیّہ نے لے لیا ۔ ہجرت کرتے وقت عتبہ نے یعلیٰ کو اُس کی وصیّت کی تھی ۔ فتح مکہ والے سال جب بنو جحش نے اپنے مکان کے بارے میں رسول کریم سے گفتگو کی تو رسول کریم نے اس بات کو ناپسند کیا کہ اپنا وہ مال واپس لیں جو اُن سے رضائے الٰہی کے لیے لیا گیا اور جسے انہوں نے اللہ کے لیے چھوڑا ۔ یہ بات سن کر عتبہ نے رسول کریم سے اپنے مکان کے بارے میں گفتگو کرنے کا ارادہ ترک کر دیا ۔ باقی مہاجرین بھی خاموش رہے اور انہوں نے اپنے مکان کے بارے میں بات نہ کی جسے انہوں نے اللہ اور اس کے رسول کی خاطر چھوڑا تھا۔ اسی طرح رسول کریم بھی خاموش رہے اور اپنے اس مکان کے بارے میں گفتگو نہ کی جس میں آپ پیدا ہوئے تھے اور جس مکان میں حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کی رخصتی ہوئی تھی ۔ یہ واقعہ اہل علم کے نزدیک معروف ہے ۔
محمد بن اسحاق نے بطریق عبداللہ بن ابی بکر بن ابی حزم و زُھَیر بن عُکاشہ بن ابی احمد روایت کیا ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فتح مکہ کے دن اس محلے مکہ میں دیر تک رہے لوگوں نے ابو احمد سے کہا اے ابو احمد ! رسول کریم اس بات کو ناپسند کرتے ہیں کہ جو چیز تم نے اللہ کی راہ میں دی ہے اسے واپس لو ۔ اور زیاد بن عبید اللہ بکائی نے ابن اسحاق سے روایت کیا ہے کہ تمام مہاجرین رسول کریم کے ساتھ نکلے اور مکہ میں صرف وہی شخص رہا جو یا تو بیمار ہو یا قید خانہ میں بند ہو ۔ مکہ میں چند خاندان ایسے تھے جو اپنی جان و مال سمیت پورے کے پورے مکہ سے ہجرت کر گئے تھے ۔ اُن میں سے ایک تو بنو مَطْعُون کا خاندان تھا جو بنی جُمَح میں سے تھے اور دوسرا بنو جحش بن رِئاب کا خاندان ۔ بنو مَطْعُون اور بنو جُمَح ، بنو امیہ کے حلیف تھے ۔ تیسرا بنو بُکَیر کا خاندان جو بنی سعد بن لیث سے تھا اور وہ عدی بن کعب کے حلیف تھے ۔ ان سب کے مکانات مکہ میں مقفل ہو چکے تھے اور اُن میں کوئی بھی رہنے والا نہ تھا ۔
جب بنو جحش بن رِئاب اپنے گھر سے ہجرت کے لیے نکلے تو ابوسفیان نے تجاوز کر کے ان کے گھر کو عمرو بن علقمہ ، برادرِ بنی عامر بن لُوَی کے پاس فروخت کر دیا ۔ جب بنو جحش کو پتہ چلا کہ ابوسفیان نے اُن کے گھر کے ساتھ کیا سلوک کیا تو عبداللہ بن جحش نے یہ ماجرا رسول کریم
سے کہا۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا "عبداللہ ! تم اس بات پر راضی نہیں ہو کہ اللہ تمہیں اس کے عوض جنت میں ایک گھر دیدے ۔ عبداللہ نے کہا کیوں نہیں ۔ رسول کریم نے فرمایا "تو پھر وہ گھر تمہیں ملے گا ۔ جب رسول کریم نے مکہ فتح کیا تو ابو احمد نے اپنے گھر کے بارے میں رسول کریم سے بات کی رسول کریم دیر تک اس سے باتیں رہے۔ لوگوں نے ابو احمد کو بتایا کہ رسول کریم اس بات کو پسند نہیں فرماتے کہ جو مال تم سے راہِ خدا میں لیا گیا ہے تم اُسے واپس لو ۔ چنانچہ ابو احمد یہ سن کر خاموش ہو گیا ۔
واقدی اپنے شیوخ سے روایت کرتے ہیں کہ ابو احمد بن جحش مسجد حرام کے دروازے پر اپنے اونٹ کے اوپر کھڑا ہو گیا ۔ یہ اس وقت کی بات ہے جب رسول کریم اپنے خیمے سے فارغ ہو کر کعبہ کے دروازے پر ٹھہرے ہوئے تھے ۔ اس سے پہلے آپ نے کعبہ کے اندر داخل ہو کر نماز ادا کی تھی اور پھر وہاں سے باہر آئے تھے تو ابو احمد چلا چلا کر کہہ رہا تھا : اے بنی عبد مناف ! میں تمہیں اللہ کی قسم دیتا ہوں میرا گھر واپس دلوا دو ) ۔ رسول کریم نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو بلا کر آہستہ سے کوئی بات کہی ۔ حضرت عثمان ابو احمد کے پاس گئے اور ان سے راز دارانہ طریقے سے بات کی ۔ ابو احمد اپنے اونٹ سے اُترا اور لوگوں کے ساتھ مل کر بیٹھ گیا اور اس کے بعد کبھی نہیں سنا گیا کہ ابو احمد نے اپنے گھر کے بارے میں کسی سے کوئی بات کہی ہو ۔
رسول کریم نے مہاجرین کے گھر اُنہی کے پاس رہنے دیئے جو ان پر قابض تھے
مندرجہ صدر بیان اس ضمن میں نص ہے کہ مہاجرین نے اپنے مکانات واپس لینا چاہے تھے مگر رسول کریم نے اس سے روکا ۔ آپ نے مکانات انہیں کے پاس رہنے دیے جو ان پر قابض ہو گئے تھے یا جنہوں نے وہ مکانات خرید لیے تھے ۔ جو مکانات اُن سے لیے گئے تھے رسول کریم نے اُن کو بمنزلہ ان اموال کے قرار دیا جو ان سے لے لیے گئے تھے یا جو انہوں نے راہِ خدا میں خرچ کیے تھے ۔ جو خون اور اموال وہ تھے جن کو اللہ نے خرید لیا اور اُسے سپرد کر دیے گئے اور ان کا اجر اللہ کے ذمے واجب ہو گیا ۔ اس لیے ان کو واپس نہیں لیا جا سکتا ۔ اس کی وجہ
صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا " عبداللہ ! تم اس بات پر راضی نہیں ہو کہ اس کے عوض جنت میں ایک گھر لے لو " عبداللہ نے کہا کیوں نہیں ۔ فرمایا " تو پھر وہ گھر تمہیں ملے گا " جب رسول کریمؐ نے مکہ فتح کیا تو ابواحمد کے بارے میں رسول کریمؐ سے بات کی رسول کریمؐ دیر تک اس سے باتیں رہے ۔ فرمایا کیا تم رسول کریمؐ کی اس بات کو پسند نہیں فرماتے کہ جو مال تم سے راہ خدا میں لٹ گیا اسے واپس لو ۔ چنانچہ ابواحمد یہ سن کر خاموش ہو گیا ۔ ابن اسحاق ابو العویر سے روایت کرتے ہیں کہ ابواحمد بن جحش مسجد حرام کے دروازے پر اونٹنی پر سوار ہو کر کھڑا ہو گیا ۔ یہ اس وقت کی بات ہے جب رسول کریمؐ اپنے خطبے سے فارغ ہو کر کعبہ کے دروازے پر ٹھہرے ہوئے تھے ۔ اس سے پہلے آپؐ نے کعبہ کی چابی عثمان بن طلحہ سے لی تھی اور پھر وہاں سے باہر آئے تھے تو ابواحمد چلا چلا کر کہہ رہا تھا ، اے آل مناف ! میں تمہیں اللہ کی قسم دیتا ہوں میرا گھر واپس دلوا دو ۔ اس پر حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو بلا کر آہستہ سے کوئی بات کہی ۔ حضرت عثمان اس کے پاس گئے اور ان سے راز دارانہ طریقے سے بات کی ۔ ابواحمد اپنے اونٹ سے اتر پڑا اور اپنے گھر میں بیٹھ گیا اور اس کے بعد کبھی نہیں سنا گیا کہ ابواحمد نے اپنے گھر کے بارے میں کوئی بات کہی ہو ۔
مہاجرین کے گھر انہی کے
پاس رہنے دیے جائیں
مندرجہ صدر بیان اس ضمن میں نص ہے کہ مہاجرین نے اپنے مکانات واپس لینا چاہے تھے مگر رسول کریمؐ نے مکانات انہیں کے پاس رہنے دیے جو ان پر قابض ہو گئے تھے اور ان سے نہ خریدے تھے ۔ جو مکانات ان سے لے لیے گئے رسول کریمؐ نے ان کے عوض جنت قرار دیا جو ان سے لے لیے گئے تھے یا جو انہوں نے راہ خدا میں خرچ کر دیے تھے یا جو مال وہ لے گئے جن کو اللہ نے خرید لیا اور ان کے سپرد کر دیے گئے اور وہ ان کا عوض اور بدل ہو گیا ۔ اس لیے ان کو واپس نہیں لیا جا سکتا ۔ اس کی وجہ
یہ ہے کہ مشرکین ہمارے خونوں اور مالوں کو حلال سمجھتے تھے اور یہ سب کچھ انہوں نے حلال سمجھ کر لیا تھا۔ بحال کفر میں وہ گنہگار بھی تھے۔ جب وہ مشرف باسلام ہو گئے تو اسلام نے اس گناہ کو ساقط کر دیا اور وہ ایسے ہو گئے گویا انہوں نے کسی خون و مال سے تعرض کیا ہی نہیں ۔ اس لیے ان کے ہاتھوں میں جو کچھ بھی ہے ۔ اسے ان سے چھیننا جائز نہیں ۔
عقیل رسول کریمؐ کے مکانات پر کیسے قابض ہوئے
اگر معترض کہے کہ صحیح بخاری و مسلم میں بطریق زہری از علی بن حسین از عمرو بن عثمان ، اسامہ بن زید سے مروی ہے کہ اس نے کہا یا رسول اللہ ! کیا آپ اپنے مکہ والے گھر میں داخل نہیں ہوں گے ؟ فرمایا : کیا عقیل نے ہمارے لیے کوئی گھر یا مکان چھوڑا بھی ہے ؟ عقیل اور طالب دونوں بھائیوں نے وراثت حاصل کی تھی ۔ مگر جعفر اور علی رضی اللہ عنہما کو کوئی ورثہ نہ دیا گیا ۔ اس لیے کہ وہ دونوں مسلمان تھے ، جب کہ عقیل اور طالب کافر تھے ۔
صحیح بخاری کی ایک روایت میں ہے کہ ایک شخص نے کہا یا رسول اللہ ! کل کو آپ کا قیام کہاں ہو گا ؟ یہ فتح مکہ کے دنوں کی بات ہے ۔ آپؐ نے فرمایا : کیا عقیل نے ہمارے لیے کوئی مکان چھوڑا بھی ہے ؟ پھر فرمایا " کافر مومن کا وارث نہیں ہوتا اور مومن کافر کا وارث نہیں ہوتا ۔" امام زہری سے دریافت کیا گیا کہ ابوطالب کا وارث کون ہوا تھا ؟ انہوں نے جواب دیا : ابو طالب کے وارث عقیل اور طالب تھے معمر نے زہری سے روایت کیا ہے کہ رسول کریمؐ سے دریافت کیا گیا کہ کل منیٰ میں کہاں قیام کریں گے ؟
(بخاری)
ان احادیث سے مستفاد ہوتا ہے کہ مکانات عقیل کی طرف بطریق وراثت منتقل ہوئے تھے ، غلبہ کے طور پر نہیں ۔ پھر انہوں نے ان مکانات کو فروخت کر دیا ۔
ہم کہتے ہیں کہ رسول کریمؐ کا وہ گھر جو رسول کریمؐ نے اپنے والد سے ورثہ میں پایا تھا، اور دوسرا وہ گھر جو آپؐ اور آپؐ کے بچوں کو حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا سے ملا تھا ، عقیل کا اس میں کچھ حق نہ تھا ، تو اس سے معلوم ہوا کہ عقیل یونہی اس پر قابض ہو گئے
تھے ۔ باقی ابوطالب کے مکانات گو وہ ہجرت سے کئی سال قبل فوت ہو گئے تھے اور وراثت کے حصص اس وقت تک متعین نہیں ہوئے تھے ۔ ابھی تک یہ حکم نازل بھی نہیں ہوا تھا کہ مسلمان کافر کا وارث نہیں ہو سکتا ۔ بلکہ مکہ میں جو مشرک فوت ہوتے تھے انہوں نے اپنی مسلم اولاد کو دوسرے بچوں کی طرح وراثت کا حصہ دیا تھا ۔ اس پر طرّہ یہ کہ مشرکین مسلمان عورتوں سے نکاح بھی کرتے تھے جو تقسیم وراثت سے بھی بڑی بات ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں اور کافروں میں موالات کا رشتہ میں باہم نکاح اور وراثت کو منع کر دیا تھا ۔ مزید برآں جہاد کا حکم دیا جو عصبیت کو قطع کرنے والا ہے ۔
حربی کافر جب مسلمان ہو جائے تو اس سے
مسلمانوں کے مال کا مطالبہ نہیں کیا جائیگا
ابن اسحاق ابن ابی نجیح سے روایت کرتے ہیں کہ جب رسول کریمؐ مکہ تشریف لائے تو ان مکانات کو دیکھا۔ ان میں سے جن کو جاہلیت کے طریقے پر تقسیم کیا گیا تھا آپؐ نے اُن سے کچھ تعرض نہ کیا ۔ اور جو ہنوز غیر مقسوم تھے ان کو دین اسلام کے احکام کے مطابق تقسیم کر دیا ۔
ابن ابی نجیح کی یہ روایت اس ضمن میں وارد شدہ مرفوع احادیث سے ہم آہنگ ہے ۔ مثلاً ابن عباسؓ کی یہ روایت کہ "جو تقسیم دورِ جاہلیت میں وقوع پذیر ہوئی اسے ویسا ہی رہنے دیا جائے ۔ اور جو تقسیم اسلام کے زمانہ میں ہوئی تو وہ اسلامی اصولوں کے مطابق ہوگی ۔"
(ابو داؤد ۔ ابن ماجہ)
اس روایت کا مفہوم کتاب اللہ کے عین موافق ہے اور ہمارے علم کی حد تک اس میں کوئی اختلاف نہیں پایا جاتا ۔ اس لیے کہ حربی کافر اگر کوئی فاسد معاملہ انجام دے مثلاً ربا یا خمر و خنزیر کی خرید و فروخت وغیرہ کا اور اس کی قیمت وصول کرنے کے بعد اسلام لائے تو اس کے پاس جو مال موجود ہے اُس پر حرام نہ ہوگا ۔ اس کو واپس کرنا بھی اس پر واجب نہیں اور اگر اس نے قیمت وصول نہیں کی تو وہ صرف وہی قیمت وصول کر سکتا ہے جو ایک مسلم کے لیے جائز ہے ۔ قرآن کریم میں فرمایا :
وَ ذَرُوْا مَا بَقِیَ مِنَ الرِّبٰوا اِنْ كُنْتُمْ (اور جو سود باقی ہے وہ چھوڑ دو اگر مُؤْمِنِيْنَ ۔ (البقرة - ۲۷۸) تم ایمان دار ہو)
اس آیت میں حکم دیا کہ جو سود لوگوں کے ذمے باقی ہے اس کو چھوڑ دو ۔ مگر یہ نہیں فرمایا کہ جو لے چکے ہو اسے واپس کر دو ۔
جب آپ نے حجۃ الوداع کے موقع پر خطبہ دیا تو جاہلیت کے تمام خون اور ربا معاف کر دیا ۔ حتیٰ کہ حضرت عباسؓ کا جو سود لوگوں کے ذمے واجب الادا تھا وہ بھی معاف کر دیا ۔ مگر جو لے چکے اسے واپس کرنے کا حکم نہ دیا ۔ میراث کا معاملہ بھی اسی طرح ہے ۔ جب کوئی شخص دورِ جاہلیت میں مرگیا اور اس کی وراثت تقسیم کر دی گئی تو اس تقسیم کو نافذ کر دیا جائے گا ۔ اگر تقسیم سے پہلے ورثہ پانے والے مسلمان ہو جائیں یا تقسیم سے پہلے اپنا معاملہ مسلمانوں کی عدالت میں لائیں تو اُسے اسلامی اصولوں کے مطابق تقسیم کیا جائے جب ابوطالب نے وفات پائی تو اس کی وراثت ساری اولاد میں تقسیم کرنی چاہئیے تھی ۔ مگر ان کے مکانات کو تقسیم نہ کیا گیا یہاں تک کہ حضرت علی اور جعفر رضی اللہ عنہما ہجرت کر کے مدینہ چلے گئے ۔ عقیل نے ان مکانات پر قبضہ کر کے ان کو فروخت کر دیا ۔ اسی ضمن میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا "عقیل نے ہمارے لیے کوئی مکان نہیں چھوڑا، بلکہ مکانوں پر قابض ہو کر انہیں فروخت کر دیا"۔
اس کلام کا مطلب یہ ہے کہ ان مکانات پر قابض ہو گیا جن کے ہم مستحق تھے اگر یہ بات نہ ہوتی تو مکانات کو عقیل کی طرف منسوب نہ کیا جاتا اور نہ ہی اُن کے چچا زاد بھائیوں کی طرف ، کیوں کہ مکانات میں ان کا کوئی حق نہ تھا ۔
رسول کریمؐ نے اس کے بعد فرمایا : " مومن کافر کا وارث نہیں ہوتا اور کافر مسلم کا وارث نہیں ہوتا "
آپؐ کا مطلب یہ تھا کہ اگر ہنوز مکانات اس کے قبضہ میں ہیں تقسیم نہیں ہوئے تو ہم تمام مکانات اُسی کو دے دیں گے اور اس کے بھائیوں کو نہیں دیں گے ۔ اس لیے کہ وہ ایک غیر مقسوم میراث ہے لہٰذا اب اُسے اسلامی احکامات کے مطابق تقسیم کیا
جائے گا۔ اور اسلامی تقسیم کی رُو سے ایک مسلم کافر کا وارث نہیں ہوتا۔ اگرچہ یہ حکم ابو طالب کی وفات کے بعد نازل ہوا۔ چونکہ ترکہ اس وقت تک تقسیم نہیں ہوا تھا، اس لیے اسے اسلامی احکام کے مطابق تقسیم کیا جاسکتا تھا ۔ لہٰذا رسولِ کریمؐ نے واضح کیا کہ جعفر اور علی کو ابوطالب کی وراثت سے حصہ طلب کرنے کا کوئی حق نہیں، اگرچہ جائیداد موجود ہو اور جب اُن سے یہ جائیداد فی سبیل اللہ لی گئی تو اب وہ اسے کیونکر واپس لے سکتے ہیں؟ اس کی مثال یہ ہے کہ مشرک حربی سے اس کے اسلام لانے کے بعد اُن دماء و اموال اور حقوق اللہ کا مطالبہ نہیں کیا جاسکتا جن کا ارتکاب اس نے دور جاہلیت میں کیا تھا اور نہ ہی اس لیے ہاتھ سے وہ اموال چھینے جاسکتے ہیں جو بطور غنیمت اس نے مسلمانوں سے لیے۔ اسی طرح اس سے ان گالیوں کا بھی محاسبہ نہیں کیا جائے گا جو اس سے دَور جاہلیت میں صادر ہوئیں۔ بنا بریں ان لوگوں کو معاف کر دیا جائے گا ۔
گالی دہندہ کو قتل کرنا سنتِ رسول کا حتمی تقاضا ہے
ہم نے جو کہا ہے کہ گالی دینے والے مشرک کو حتمی طور پر قتل کیا جائے اور اس قسم کے کافر کو معاف کر دیا جائے ۔ یہ بات عہد رسالت میں اور اس کے بعد صحابہ کے نفوس میں جاگزیں تھی ۔ وہ گالی دینے والے کو قصداً قتل کرتے اور لوگوں کو اس کی ترغیب دیا کرتے تھے ۔ وہ گالی دینے کو اس کے قتل کا موجب اور مُحرِّک قرار دیتے تھے اور اس راہ میں اپنی جان دینے سے بھی گریز نہ کرتے تھے ۔ جیسا کہ قبل ازیں حدیث میں گزر چکا ہے کہ ایک شخص نے کہا ” مجھے اور میری ماں کو بے شک گالی دے لو مگر رسولِ کریمؐ کو گالی دینے سے احتراز کرو“ پھر حملہ کر کے اس کا کام تمام کر دیا ۔ نیز اُس شخص کا واقعہ بھی پہلے گزر چکا ہے کہ اس نے اپنے باپ کو سنا کہ وہ رسول کریمؐ کو گالیاں دے رہا ہے تو اس نے اُسے قتل کر دیا ۔ علاوہ ازیں انصاری کی روایت جس نے عصماء کو قتل کرنے کی نذر مانی تھی ، پھر اُسے قتل کر دیا تھا اور اُس آدمی کی روایت جس نے ابن ابی سَرح کو قتل کرنے کی نذر مانی تھی ۔ اور رسولِ کریمؐ نے اس کو بیعت کرنے میں تاخیر کی تھی تاکہ وہ اسے قتل کر کے اپنی نذر پوری کرے ۔
غزوہ بدر میں ابوجہل
صف میں کھڑا تھا کہ میں نے آئے ۔ میری یہ آرزو تھی کہ دونو ایک نے مجھے اشارہ کر کے دیا ۔ اور پوچھا، بھتیجے ! تمہیں ا کریمؐ کو گالیاں دیتا ہے ۔ مج نے اسے دیکھ لیا تو اُسے ز آتی ہے وہ مر جائے ۔ عبدالرحمٰن کہتے ہیں کہ کے اسی قسم کی بات کہی ۔ جو دونوں سے کہا کیا تم اسے د پوچھتے ہو ۔ اس نے کہا کہ د آکر رسولِ کریمؐ کو اطلاع دونوں میں سے ہر ایک نے اپنی تلوار کو پونچھ لیا ہے ؟ دیکھا اور فرمایا ” تم دونو بن عمرو بن الجموح کو جہ رسولِ اکرم صلی اللہ علی لانے کا واقعہ مشہور ہے " هَذَا فِرْعَوْنُ هَذِهِ ا اس کے باوجود رسو وہ غیر معاہَد کافر تھا ۔ اِ
غزوہ بدر میں ابو جہل کا قتل
صحیح بخاری و مسلم میں حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ بدر کے روز میں صف میں کھڑا تھا کہ میں نے اپنے دائیں بائیں دیکھا ، اچانک مجھے دو انصاری نوجوان نظر آئے ۔ میری یہ آرزو تھی کہ دونوں میں سے جو طاقت ور ہے میں اسکے پاس ٹھہروں دونوں میں سے ایک نے مجھے اشارہ کر کے پوچھا چچا ! کیا تم ابو جہل کو پہچانتے ہو ؟ میں نے اثبات میں جواب دیا ۔ اور پوچھا بھتیجے ! تمہیں اس سے کیا سروکار ؟ لڑکے نے کہا مجھے بتایا گیا ہے کہ وہ رسول کریم کو گالیاں دیتا ہے ۔ مجھے اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اگر میں نے اسے دیکھ لیا تو اُسے زندہ نہیں چھوڑوں گا ، یہاں تک کہ جس کی تقدیر پہلے آئی ہے وہ مر جائے ۔
عبدالرحمن کہتے ہیں کہ میں اس پر بڑا حیران ہوا ۔ پھر دوسرے لڑکے نے اشارہ کر کے اسی قسم کی بات کہی ۔ جلدی ہی میں نے ابو جہل کو لوگوں میں گھومتے دیکھا ، میں نے دونوں سے کہا کیا تم اسے دیکھتے نہیں ؟ یہ وہی شخص ہے جس کے بارے میں تم مجھ سے پوچھتے ہو ۔ یہ سنتے ہی دونوں تلواریں لے کر اس پر جھپٹ پڑے اور اسے مار ڈالا ۔ پھر آکر رسول کریم کو اطلاع دی ۔ آپ نے فرمایا : تم میں سے کس نے اُسے قتل کیا ہے ؟ دونوں میں سے ہر ایک نے کہا کہ میں نے اسے قتل کیا ہے ۔ آپ نے فرمایا ”کیا تم نے اپنی اپنی تلوار کو پونچھ لیا ہے ؟ دونوں نے کہا ”نہیں“ چنانچہ حضور نے دونوں کی تلواروں کو دیکھا اور فرمایا ”تم دونوں نے اسے قتل کیا ہے“ رسول کریم نے ابو جہل کا سامان معاذ بن عمرو بن الجموح کو دیدیا ۔ ان کا نام معاذ بن عمرو بن الجموح اور معاذ بن عفراء تھا۔
رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ابو جہل کے قتل سے خوش ہونے اور سجدہ شکر بجا لانے کا واقعہ مشہور ہے ۔ آپ نے ارشاد فرمایا تھا : ” هٰذَا فِرْعَوْنُ هٰذِهِ الْأُمَّةِ “ (یہ اس امت کا فرعون ہے)
اس کے باوجود رسول کریم نے ابوالبختری ابن ہشام کے قتل سے منع کیا ، حالانکہ وہ غیر معاند کافر تھا ۔ اس لیے کہ وہ آپ کے ساتھ لڑنے سے باز رہا اور ظلم کی دستاویز
کو منافع کر کے اس نے رسول کریم کی مدد کی تھی، جو آپ پر بڑا احسان تھا۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی فرمایا تھا :
” اگر مطعم بن عدی زندہ ہوتا اور ان ناپاک لوگوں کی سفارش کرتا تو میں اس کی خاطر ان کو چھوڑ دیتا ۔ اس طرح آپ مطعم کو اس احسان کا بدلہ دینا چاہتے تھے کہ اس نے مکہ میں رسول کریم کو پناہ دی تھی، اور مطعم معاہد نہ تھا۔ پس ثابت ہوا کہ رسول کریم کو ایذا دینے والے کو قتل کرنا اور اس سے انتقام لینا ایک طے شدہ بات ہے ۔ برخلاف اس کے جو جنگ و قتال سے باز رہے ، اگرچہ کفر میں دونوں برابر ہیں۔ جس طرح آپ محسن کو اس کے احسان کا بدلہ دیتے تھے ، اگرچہ وہ کافر ہو ۔
ابولہب کی رسوائی
یہ امر اس کا مؤید ہے کہ ابولہب آپ کا قرابت دار تھا۔ جب اس نے آپ کو ایذا دی اور بنو ہاشم کی مدد نہ کی تو اس کی لعنت پر مشتمل قرآن نازل ہوا اور نام لے کر اس کو وعید سنائی گئی یہ ایسی رسوائی ہے ۔ جس سے دیگر کفار دوچار نہیں ہوئے ۔ جیسا کہ ابن عباسؓ سے مروی ہے کہ ابولہب اپنی قوم کے کفار میں سے تھا ۔ جب ہمارے خلاف قریش متحد ہو گئے تو ہم سے الگ ہو گیا اور ہمارے اعداء کی پشت پناہی کرنے لگا۔ اس لیے اللہ نے اس کی مذمت کی ۔ بنو المطلب اگرچہ نسبت کے لحاظ سے عبدشمس اور نوفل کے مساوی تھے ، چونکہ انہوں نے رسول کریم کی نصرت و اعانت کی جب کہ عبدشمس اور نوفل کافر تھے ۔ اللہ تعالیٰ نے اُن کی اِس کاوش کو قبول فرمایا اور اسلام لانے کے بعد آپ کے اقارب میں ان کا مرتبہ بنی ہاشم کے بعد رکھا ۔ چونکہ ابوطالب نے بھی رسول کریم کی مدد کی اور آپ کا دفاع کیا تھا ۔ اس لیے ان کو جہنمیوں کی نسبت ہلکا عذاب دیا جائے گا ۔
جن سے مسلمان انتقام نہ لے سکیں ان کے بارے میں اللہ کی سنت
مروی ہے کہ ابولہب کو (روز قیامت) انگوٹھے کے نشیب میں پانی پلایا جائے گا ۔ اس لیے کہ رسول کریم جب پیدا ہوئے اور اس کی لونڈی ثویبہ نے اسے آپ کی ولادت کی خوشخبری سنائی
تو ابولہب نے اسے آزاد کر دیا ۔ اللہ کی یہ سنت رہی ہے کہ جو لوگ اللہ اور اس کے رسول کو ایذا دیتے ہوں اور اہل ایمان انہیں سزا نہ دے سکیں تو اللہ تعالیٰ ان سے اپنے رسول کا انتقام لیتا ہے اور اس کی مدد کرتا ہے ۔ جیسا کہ مقری کاتب کا واقعہ بیان کرتے ہوئے کسی حد تک ہم نے اس پر روشنی ڈالی ہے ۔
قرآن میں فرمایا : " فَاصْدَعْ بِمَا تُؤْمَرُ وَاَعْرِضْ (پس جو حکم تم کو خدا کی طرف سے ملا ہے عَنِ الْمُشْرِكِيْنَ ، اِنَّا كَفَيْنَاكَ وہ لوگوں کو سنا دو اور مشرکوں کا ذرا خیال الْمُسْتَهْزِئِيْنَ " نہ کرو ۔ ہم تمہیں ان لوگوں کے شر سے بچانے (الحجر ۔ ۹۴ - ۹۵) کے لیے جو تم سے استہزاء کرتے ہیں کافی ہیں) ۔
ان مذاق اڑانے والوں کو اللہ نے ایک ایک کر کے ہلاک کیا ۔ ان کا واقعہ معروف ہے جس کو علمائے سیرت اور مفسرین نے ذکر کیا ہے ۔ اور جیسا کہ کہا گیا ہے یہ قریش کے چند سردار تھے ۔ ان میں سے ولید بن مغیرہ ، عاص بن وائل ، اسود بن المطلب ، اسود بن عبد یغوث اور حارث بن قیس تھے ۔
رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے قیصر وکسریٰ کو بھی دعوتِ اسلام پر مشتمل خطوط تحریر کیے تھے ، مگر دونوں نے اسلام قبول نہ کیا ۔ قیصر نے رسول کریم اور ان کے خط کو احترام کی نگاہ سے دیکھا اس لیے اس کی سلطنت قائم رہی ۔ کہا جاتا ہے کہ اُس کے خاندان میں ابھی تک حکومت وسلطنت باقی ہے ۔ بخلاف ازیں کسریٰ نے رسول کریم کے خط کو چاک کر دیا اور رسول کریم کا مذاق اڑایا ، اس لیے بہت جلد اللہ نے اُسے تباہ وبرباد کر دیا ، اس کی سلطنت کو پارہ پارہ کر دیا اور اس کے خاندان میں حکومت باقی نہ رہی ۔
اس کی تصدیق اس آیت سے ہوتی ہے : " اِنَّ شَانِئَكَ هُوَ الْاَبْتَرُ " (بے شک تیرا دشمن ہی خیر و برکت سے (الکوثر ۔ ۳) محروم ہے)
جو شخص بھی رسول کریمؐ سے بغض وعناد رکھے گا اللہ اسکی جڑ کاٹ دے گا اور اسکا نام ونشان مٹا دے گا۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ آیت عاص بن وائل یا عقبہ بن ابی معیط یا کعب بن اشرف کے بارے میں نازل ہوئی۔ اور اللہ نے انکے ساتھ جو کچھ کیا وہ آپ دیکھ چکے ہیں۔
عربی میں مثل مشہور ہے کہ :
"لُحُومُ الْعُلَمَاءِ مَسْمُوْمَةٌ" (علماء کا گوشت زہریلا ہوتا ہے)
تو پھر انبیاء علیہم السلام کا گوشت کیسا ہو گا ؟
حدیث قدسی : روایات صحیحہ میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ”جس نے میرے ولی سے دشمنی رکھی اس نے میرے ساتھ اعلانِ جنگ کیا“ تو پھر اس شخص کی کیا حالت ہو گی جو انبیاء علیہم السلام سے دشمنی رکھے جو اللہ سے جنگ کرتا ہے اس سے جنگ کی جاتی ہے، انبیاء کے جو واقعات قرآن کریم میں مذکور ہیں ان سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کی اُمتوں نے جب انبیاء کو ایذا دی اور قول وعمل سے ان کی مخالفت کی تو ان کو ہلاک کیا گیا۔ اسی طرح بنی اسرائیل کو ذلیل کیا گیا ، وہ غضبِ الٰہی سے دوچار ہوئے اور ان کا کوئی مددگار نہ تھا۔ اور وہ اس لیے کہ انہوں نے ناحق انبیاء کو قتل کیا جب کہ وہ کافر بھی تھے، جیسا کہ اللہ نے اپنی کتاب میں ذکر کیا ہے ۔
آپ کسی ایسے شخص کو نہ پائیں گے جس نے کسی نبی کو ایذا دی ہو اور پھر توبہ نہ کی تو اس پر کوئی نہ کوئی آفت ضرور آئے گی قبل ازیں ہم ذکر کر چکے ہیں اور مسلمان اس کو آزما چکے ہیں کہ کفار جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو گالیاں دینے لگتے ہیں تو ان سے جلد انتقام لیا جاتا ہے ۔ متعدد واقعات سے یہ بات ہم تک پہنچی ہے ۔ یہ ایک وسیع باب ہے جس کا احاطہ نہیں کیا جاسکتا اور نہ ہی یہ چیز یہاں ہمارے پیشِ نظر ہے۔ بخلاف ازیں ہمارا مقصد صرف حکمِ شرعی کو بیان کرنا تھا ۔
اللہ اپنے رسول کی حفاظت کرتا
اور لوگوں سے اسے بچاتا ہے
اللہ تعالیٰ اپنے رسول کی حفاظت کرتا اور اس سے لوگوں کی ایذا اور سَبّ و شتم کو ہر ممکن طریق سے دور کرتا ہے حتیٰ کہ الفاظ
رسولِ کریمؐ سے بغض وعناد رکھنے والے کی جڑ کاٹ دینے اور اسکا نام ونشان مٹانے کا۔ یہ آیہ عاص بن وائل یا عقبہ بن ابی معیط یا کعب بن اشرف پر نازل ہوئی۔ اور اللہ نے انکے ساتھ جو کچھ کیا وہ آپ دیکھ چکے ہیں۔ مشہور ہے کہ : "لحوم العلماء مسمومة" (علماء کا گوشت زہریلا ہوتا ہے) تو انبیائے علیہم السلام کا گوشت کیسا ہوگا؟ ایک روایت صحیحہ میں رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول ہے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ”جس نے میرے ولی سے دشمنی رکھی اس نے میرے ساتھ اعلانِ جنگ کیا“۔ تو پھر کیا حالت ہوگی جو انبیائے علیہم السلام سے دشمنی رکھے جو اللہ سے جنگ کرتا ہے۔ یہی وجہ بتائی جاتی ہے انبیاء کے جو واقعات قرآن کریم میں مذکور ہیں ان سے معلوم ہوتا ہے کہ پچھلی اُمتوں نے جب انبیاء کو ایذا دی اور قول و عمل سے ان کی مخالفت کی تو انہیں تباہ کر دیا گیا۔ اسی طرح بنی اسرائیل کو ذلیل کیا گیا، وہ غضبِ الٰہی سے دوچار ہوئے اور ان پر لعنت کی گئی۔ اور وہ اس لیے کہ انہوں نے ناحق انبیاء کو قتل کیا جیسا کہ اللہ نے اپنی کتاب میں ذکر کیا ہے ۔ ایسے شخص کو نہ پائیں گے جس نے کسی نبی کو ایذا دی ہو اور پھر توبہ نہ کی تو اس پر آفت ضرور آئے گی۔ قبل ازیں ہم ذکر کر چکے ہیں اور مسلمان اس کو آزما چکے ہیں کہ جب رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو گالیاں دینے لگتے ہیں تو ان سے جلد انتقام لیا جاتا ہے اور واقعات سے یہ بات ہم تک پہنچی ہے۔ یہ ایک وسیع باب ہے جس کا احاطہ نہیں ہو سکتا اور نہ ہی یہ چیز یہاں ہمارے پیشِ نظر ہے۔ بخلاف ازیں ہمارا مقصد تو اس بات کو بیان کرنا تھا ۔
رسول کی حفاظت کرنا
سے اسے بچانا ہے
اللہ تعالیٰ اپنے رسول کی حفاظت کرتا اور اس سے لوگوں کی ایذا اور سبّ وشتم کو ہر ممکن طریق سے دور کرتا ہے حتیٰ کہ الفاظ
میں بھی اس کو پیشِ نظر رکھا جاتا ہے۔ چنانچہ صحیح بخاری و مسلم میں حضرت ابو ہریرہؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”تم دیکھتے نہیں کہ اللہ تعالیٰ کس طرح مجھ سے کفار کے سبّ وشتم اور لعن طعن کو دور رکھتا ہے۔ اور وہ اس طرح کہ وہ مذمَّم کو برا بھلا کہتے ہیں اور میں محمدؐ ہوں“۔ اس طرح اللہ نے آپ کے اسم اور صفت کو ایذا سے بچا کر اس شخص کی طرف موڑ دیا جو ”مذمم“ ہے۔ اگرچہ ایذا دینے والا آپ ہی کو ستانا چاہتا تھا۔
گالی دینے والے کے قتل کا تعین اور اس کا سبب
جب یہ بات طے ہو چکی جو ہم نے سنت رسول اور سیرت صحابہ کے بارے میں ذکر کی ہے کہ رسول کو گالی دینے والے کا قتل ایک مسلّمہ بات ہے تو ہم کہتے ہیں کہ یا تو اسے صرف حربی کافر ہونے کی وجہ سے قتل کیا جاتا ہے یا رسولِ کریمؐ کو گالی دینے کی وجہ سے جو اس کے کافر ہونے کے ساتھ ایک مزید جرم ہے اور یہ بات غلط ہے کہ اسے محض حربی کافر ہونے کی وجہ سے قتل کیا جاتا ہے اس لیے کہ احادیثِ نبویہ میں اس امر کی تصریح ہے کہ اُسے محض حربی کافر ہونے کی وجہ سے قتل نہیں کیا گیا۔ بلکہ اکثر احادیث اس بارے میں نص کا درجہ رکھتی ہیں کہ اس کے قتل کا موجب صرف گالی دینا ہے تو ہم کہتے ہیں۔ جب یہ مسلّمہ بات ہے کہ حربی کے قتل کا موجب گالی دینا ہے تو مسلم اور ذمّی بالاولیٰ اس بات کے مستحق ہیں کہ گالی دینے کی بنا پر انہیں قتل کیا جائے۔ اس لیے کہ قتل کا موجب وہی گالی دینا ہے نہ کہ محض کفر اور حرب و پیکار۔ جیسا کہ واضح ہوچکا۔ لہٰذا جہاں کہیں یہ موجب موجود ہوگا تو قتل واجب ہوگا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ کفر خون کو مباح کر دیتا ہے مگر اس بات کا موجب نہیں کہ کافر کو بہر حال قتل کیا جائے۔ اس لیے کہ کافر کو امان دے سکتے ہیں، اس کے ساتھ مصالحت کرسکتے ہیں، اس پر احسان کرسکتے اور فدیہ لے کر بھی اسے رہا کیا جاسکتا ہے۔ لیکن جب کافر عہد کرے تو اس کا خون محفوظ ہوجاتا ہے جس کو کفر نے مباح کیا تھا : پس حربی اور ذمّی کافر کے مابین یہ فرق وامتیاز ہے۔ مگر قتل کے دوسرے موجبات
عہد کے حکم میں داخل نہیں ہوتے ۔
حدیث نبوی سے یہ بات ثابت ہو چکی ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم گالی دینے والے کے لیے قتل کا حکم محض گالی کی وجہ سے دیتے تھے ، نہ کہ کفر کے باعث پس جس سے عہد نہ کیا گیا ہو، جب قتل کا موجب یعنی گالی موجود ہے اور عہد نے بھی اس کے خون کو بچایا نہیں تو اب قتل کے سوا چارہ نہیں۔ اس کے بارے میں جو بات زیادہ سے زیادہ کہی جا سکتی ہے وہ یہ ہے کہ وہ حربی کافر تھا اور ساتھ ہی گالی بھی دیتا تھا اور مسلم جب رسول کریم کو گالی دے تو وہ مرتد اور گالی دہندہ ہو جاتا ہے اور مرتد کا قتل اصلی کافر کے قتل سے واجب تر ہے لیکن ذمی جب گالی دیتا ہے تو وہ کافر، محارب اور گالی دہندہ بن جاتا ہے ، جب کہ پہلے عہد بھی کر چکا ہے ۔ ظاہر ہے کہ ایسے شخص کا قتل زیادہ ضروری ہے ۔
مزید برآں ذمی سے جو معاہدہ ہوا تھا نہیں کیا گیا کہ وہ برملا رسول کریمؐ کو گالی دے گا ۔ اسی لیے جب وہ علانیہ گالی دینے کا مرتکب ہوگا تو مسلمانوں کے اجماع کے مطابق اسے سزا دی جائے گی ۔ اس کی سزا یا قتل ہے یا تعزیر (جس کا مدار و انحصار حاکم کی صوابدید پر ہوتا ہے) اسے سزا اس لیے نہیں دی جا رہی کہ وہ ایسے فعل کا مرتکب ہوا جس پر اس سے عہد لیا گیا تھا ——— وہ عین کفر ہی کیوں نہ ہو ——— ایسے فعل پر سزا دینا جائز نہیں جس پر اس سے عہد لیا گیا ہو۔ بشرطیکہ عہد ایسا نہ ہو جو اس کے فعل کو جائز ٹھہرائے اور یہ بات ثابت ہو چکی ہے کہ رسول کریم نے اس کی وجہ سے قتل کا حکم دیا ۔ بایں طور اُس نے وہ کام کیا جس کی وجہ سے اسے قتل کیا جا سکتا ہے ۔ اور عہد کی وجہ سے وہ کام اس کے لیے جائز بھی نہیں اور ایسے شخص کا قتل بلاشبہ جائز ہے ۔
یہ توجیہ اس کے قتل کی مقتضی ہے ، قطع نظر اس کے کہ اس نے عہد توڑا یا نہیں اس لیے کہ قتل کے وہ موجبات جن کی اجازت ہم نے اسے نہیں دی ۔ ان کی بنا پر اسے قتل کیا جا سکتا ہے اگر کہا جائے کہ ذمی عورت کے ساتھ زنا کرنے ، ذمی پر ڈاکہ ڈالنے اور ذمی کو قتل کرنے سے اس کا عہد نہیں ٹوٹتا اور اگر انہی افعال کا ارتکاب مسلمانوں کے ساتھ کرے تب بھی یہی صورت ہے ۔ ہم کہتے ہیں کہ اس کا عہد نہیں ٹوٹتا تاہم اُسے قتل کیا جائے گا ۔
داخل نہیں ہوتے ۔ ی سے یہ بات ثابت ہو چکی ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم گالی دینے والے کا حکم محض گالی کی وجہ سے دیتے تھے ، نہ کہ کفر کے باعث جس میں عہد نہ کا موجب یعنی گالی موجود ہے اور عہد نے بھی اس کے خون کو بچایا نہیں تو اب نہیں ۔ اس کے بارے میں جو بات زیادہ سے زیادہ کہی جا سکتی ہے وہ یہ تھا اور ساتھ ہی گالی بھی دیتا تھا اور مسلم جب رسول کریم کو گالی دے تو وہ ندہ ہو جاتا ہے اور مرتد کا قتل اصلی کافر کے قتل سے واجب تر ہے لیکن ذمی وہ کافر محارب اور گالی دہندہ بن جاتا ہے ، جب کہ پہلے عہد بھی کر چکا ایسے شخص کا قتل زیادہ ضروری ہے ۔ ی سے جو معاہدہ ایجاباً نہیں کیا گیا کہ وہ بر ملا رسول کریم کو گالی دے گا ۔ علانیہ گالی دینے کا مرتکب ہو گا تو مسلمانوں کے اجماع کے مطابق اُسے سزا کی سزا یا قتل ہے یا تعزیر (جس کا مدار حاکم کی صوابدید پر ہوتا ہے) نہیں دی جا رہی کہ وہ ایسے فعل کا مرتکب ہوا جس پر اس سے عہد لیا گیا تھا۔ کفر ہی کیوں نہ ہو —— ایسے فعل پر سزا دینا جائز نہیں جس پر اس بشرطیکہ عہد ایسا نہ ہو جو اس کے فعل کو جائز ٹھہرائے اور یہ بات ثابت ہو چکی اس کی وجہ سے قتل کا حکم دیا ۔ بایں طور اُس نے وہ کام کیا جس کی وجہ سکتا ہے ۔ اور عہد کی وجہ سے وہ کام اس کے لیے جائز بھی نہیں اور ایسے جائز ہے۔ کے قتل کی مقتضی ہے ، قطع نظر اس کے کہ اس نے عہد توڑا یا نہیں اس بات جن کی اجازت ہم نے اسے نہیں دی ۔ ان کی بنا پر اسے قتل کیا جا سکتا ذمی عورت کے ساتھ زنا کرنے ، ذمی پر ڈاکہ ڈالنے اور ذمی کو قتل کرنے ٹوٹتا اور اگر انہی افعال کا ارتکاب مسلمانوں کے ساتھ کرے تب بھی یہی ہیں کہ اس کا عہد نہیں ٹوٹتا تاہم اُسے قتل کیا جائے گا ۔
۲۴۹ مزید براں مسلم گالی اس لیے نہیں دیتا کہ اس نے علانیہ اپنے ایمان کا اظہار کیا ہے ۔ اور ذمی گالی سے اس لیے باز رہتا ہے کہ اس نے ذمی ہونے کا اظہار کیا اور ذلت و رسوائی کے التزام کو قبول کیا ہے اور اگر وہ ذلیل ہونے کی وجہ سے اس لیے باز نہیں رہتا تو ایسا کرنے کی صورت میں اسے کوئی سزا نہیں دی جا سکتی اور نہ تعزیر ہی جائز ہے ۔ اور جب گالی دینے کی وجہ اس کافر کو قتل کیا جا سکتا ہے جو ظاہرًا و باطنًا اس فعل کو جائز قرار دیتا ہے اور اس نے اس فعل کو چھوڑنے کا ہمارے ساتھ معاہدہ بھی نہیں کیا ۔ تو اُس شخص کو بالاولیٰ قتل کیا جائے گا جس نے علانیہ گالی نہ دینے کا ہمارے ساتھ التزام اور معاہدہ کیا ہے ۔
علاوہ بریں مذکورہ صدر احادیث اس امر کی آئینہ داری کرتی ہیں کہ گالی دہندہ واجب القتل ہے ۔ اس لیے کہ رسول کریمؐ نے متعدد مقامات پر گالی دہندہ کو قتل کرنے کا حکم دیا ہے ۔ امر وجوب کو چاہتا ہے ۔ جس شخص کے بارے میں بھی آپ کو پتا چلا کہ وہ گالی دیتا ہے تو آپ نے اس کے خون کو ھدر قرار دیا ۔ صحابہؓ نے بھی اسی کی پیروی کی ۔ حالانکہ اس کو معاف کرنا آپ کے لیے ممکن تھا اور جہاں معاف کرنے کا امکان مفقود ہو تو وہاں گالی دہندہ کو قتل کرنا واجب تر اور اس کام کی رغبت شدید تر ہوتی ہے ۔ یہ فعل جہاد کی ایک نوع ہے اسی کا نام کفار و منافقین کے ساتھ سختی برتنا ، اللہ کے دین کا اظہار و اعلان اور اعلاء کلمۃ اللہ ہے اور ظاہر ہے کہ یہ واجب ہے۔
اس سے معلوم ہوا کہ گالی دہندہ کا قتل فی الجملہ واجب ہے اور جہاں رسول کریمؐ کو معاف کرنے کا اختیار ہے تو وہ اس شخص کے بارے میں ہے جس پر قابو پا لیا گیا ہو ۔ جب کہ وہ اسلام کا اظہار کرتا اور اس کے احکام کی اطاعت کرتا ہو یا جو آپؐ کے پاس امن و سلامتی تلاش کرنے کے لیے آئے ۔ ایسا نہ کرنے والوں میں سے کسی کو بھی معاف نہیں کیا گیا ۔ اس پر یہ اعتراض وارد نہ ہو گا کہ بعض صحابہؓ نے دو میں سے ایک گلوکارہ باندی کو معاف کر دیا تھا ۔ اور بعض نے ابن ابی سرح کو امن دیا تھا تو اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ دونوں امن و آشتی کی تلاش میں اسلام لانے اور توبہ کرنے کے ارادے سے آئے تھے اور آپؐ ایسے آدمی کو معاف کر سکتے ہیں ۔ لہٰذا اس کا قتل متعین نہیں ۔ جب ثابت ہو گیا کہ گالی دہندہ کا قتل واجب تھا اور حربی کافر نے گالی نہیں دی لہٰذا اس کا قتل واجب نہیں بلکہ اسے قتل کرنا جائز ہے ۔ اس سے واضح ہوا کہ ذمی بننے سے
واجب القتل کا خون معصوم نہیں ہوتا بلکہ اس شخص کا جو جائز القتل ہو۔ کیا آپ دیکھتے نہیں کہ مرتد ذمی نہیں ہوتا، اسی طرح ڈاکہ زنی کرنے والا اور زانی چونکہ واجب القتل ہیں اس لیے ذمی بننے سے وہ قتل سے بچ نہیں سکتے ۔
اسی طرح ذمی کو حربی پر جو برتری حاصل ہے وہ عہد کی وجہ سے ہے اور عہد کی بنا پر اس کے لیے گالی کا اظہار اجماعاً مباح نہیں ہو جاتا ۔ بایں طور ذمی اور حربی گالی کے اظہار و اعلان میں جو موجب قتل ہے شریک ہیں اور ذمی میں عہد کی جو خصوصیت پائی جاتی ہے وہ گالی کے اظہار کو مباح نہیں کرتی تو گویا وہ ایسے فعل کا مرتکب ہوا جو قتل کا موجب ہے اور اس کی اجازت اسے نہیں دی گئی تھی، پس اس کو قتل کرنا ضروری ٹھہرا ۔
علاوہ ازیں رسول کریم نے گالی دینے والے کو قتل کرنے کا حکم دیا ۔ حالانکہ جان و مال کے ساتھ لڑائی کرنے والے کو آپ نے امان دیدی تھی ۔ اس سے معلوم ہوا کہ گالی دینا محاربہ سے شدید تر یا اس جیسا ہے اور ذمی اگر لڑے گا تو اسے قتل کیا جائے گا تو بنابریں گالی دینے کی صورت میں بالاولیٰ اسے قتل کیا جائے گا ۔ نیز یہ کہ ذمی اگرچہ عہد کی وجہ سے معصوم الدم ہے۔ مگر اس عہد کی وجہ سے گالی دینے سے روکا گیا ہے۔ بخلاف ازیں حربی نے کوئی عہد نہیں کیا جس کی وجہ سے وہ معصوم الدم ہو اور گالی دینے سے کوئی چیز اسے مانع نہیں اس لیے ذمی ممنوع السب ہونے کی بنا پر حربی سے بدتر ، عداوت میں شدید تر اور اس کا جرم بھی بڑا ہے۔ اس لیے ذمی اس سزا کا زیادہ مستحق ہے جو حربی کو گالی دینے کی وجہ سے دی جاتی ہے اور وہ عہد جس کی بنا پر وہ معصوم الدم تھا اس نے اپنے موجب کو پورا نہیں کیا ۔ اس لیے بے کار ہے ۔ اس لیے کہ ہمارا رویہ اسی وقت تک اس کے ساتھ درست ہوگا جب تک اس کا برتاؤ ہمارے ساتھ صحیح ہے، مگر وہ بالاتفاق درست نہیں ، لہٰذا اسے سزا دی جائے گی اور عہد اس کے جسم اور خون کی حفاظت تو کرتا ہے مگر جب اس پر کوئی حق واجب ہو، تو اس کا جسم اور خون معصوم نہیں رہتا ، جب اس کو سزا دینا بالاتفاق جائز ہے تو معلوم ہوا کہ اس نے ایسا فعل انجام دیا ہے جو سزا کا موجب ہے ۔
سنت کے ساتھ ثابت ہو چکا ہے کہ اس گناہ کی سزا قتل ہے ۔ ان احادیث سے
خون معصوم نہیں ہوتا بلکہ اس شخص کا جو جائز القتل ہو ۔ کیا آپ دیکھتے نہیں ہوتا ، اسی طرح ڈاکہ زنی کرنے والا اور زانی چونکہ واجب القتل ہیں اس لیے قتل سے بچ نہیں سکتے ۔ ذمی کو حربی کافر پر جو برتری حاصل ہے وہ عہد کی وجہ سے ہے اور عہد کی گالی کا اظہار اجماعاً مباح نہیں ہو جاتا ۔ بایں طور ذمی اور حربی گالی کے ہیں جو موجب قتل ہے شریک ہیں اور ذمی میں عہد کی جو خصوصیت پائی جاتی ظہار کو مباح نہیں کرتی تو گویا وہ ایسے فعل کا مرتکب ہوا جو قتل کا موجب جازت اُسے نہیں دی گئی تھی ، پس اس کو قتل کرنا ضروری ٹھہرا ۔ ہاں رسول کریم نے گالی دینے والے کو قتل کرنے کا حکم دیا ۔ حالانکہ جان و مال گ کرنے والے کو آپ نے امان دیدی تھی ۔ اس سے معلوم ہوا کہ گالی دینا تر یا اس جیسی ہے اور ذمی اگر لڑے گا تو اُسے قتل کیا جائے گا تو بنا بریں گالی میں بالاولیٰ اسے قتل کیا جائے گا ۔ نیز یہ کہ ذمی اگرچہ عہد کی وجہ سے معصوم الدم ہے ، جو اسے گالی دینے سے روکا گیا ہے ۔ بخلاف ازیں حربی نے کوئی عہد وجہ سے وہ معصوم الدم ہو اور گالی دینے سے کوئی چیز اسے مانع نہیں اس بسبب ہونے کی بنا پر حربی سے بدتر ، عداوت میں شدید تر اور اس کا جرم س لیے ذمی اس سزا کا زیادہ مستحق ہے جو حربی کو گالی دینے کی وجہ سے دی ر عہد جس کی بنا پر وہ معصوم الدم تھا اس نے اپنے موجب کو پورا نہیں یکار ہے ۔ اس لیے کہ ہمارا رویہ اسی وقت تک اس کے ساتھ درست اس کا برتاؤ ہمارے ساتھ صحیح ہے ، مگر وہ بالاتفاق درست نہیں ، دی جائے گی اور عہد اس کے جسم اور خون کی حفاظت تو کرتا ہے مگر جب اجب ہو تو اس کا جسم اور خون معصوم نہیں رہتا ، جب اس کو سزا دینا ہے تو معلوم ہوا کہ اس نے ایسا فعل انجام دیا ہے جو سزا کا موجب ہے ۔ کے ساتھ ثابت ہو چکا ہے کہ اس گناہ کی سزا قتل ہے ۔ ان احادیث سے
استدلال کا راز یہ ہے کہ ذمی کو صرف عہد کے ٹوٹ جانے کی بنا پر قتل نہیں کیا جاتا ۔ اس لیے کہ محض عہد کے ٹوٹ جانے سے وہ غیر معاہد کافر ہے ۔ بلکہ اُسے گالی دینے کی وجہ سے قتل کیا ، حالانکہ گالی کفر ، عداوت اور محاربہ کو مستلزم ہے ۔ اور یہ بات جہاں بھی ہو قتل کی موجب ہے ، باقی مزید گفتگو اس موضوع پر آگے آئے گی ۔
رسول پر جھوٹ باندھنے والے کی سزا ۔ حدیث نمبر ۱۴
ہم نے بطریق ابو القاسم
عبد اللہ بن محمد بغوی اور یحییٰ بن عبد الحمید الحمانی از علی بن مسہر از صالح بن حیان از ابن بریدہ از والد خود روایت کیا ہے کہ رسول کریم کو پتہ چلا کہ ایک شخص نے ایک قوم سے کہا کہ رسول کریم نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں تمہارے اور تمہارے اموال کے بارے میں اپنی رائے سے فیصلہ کروں ۔ اس نے دور جاہلیت میں ان سے ایک عورت کا رشتہ مانگا تھا اور انہوں نے عورت کو اس کے نکاح میں دینے سے انکار کر دیا تھا ۔ پھر جا کر اس عورت کے یہاں مقیم ہو گیا ۔ اُن لوگوں نے رسول کریم کو بلا بھیجا ۔ آپ نے فرمایا ”دشمن خدا نے جھوٹ بولا“ پھر ایک آدمی کو بھیجا اور فرمایا ” اگر تم اُسے زندہ پاؤ تو اسے قتل کر دو اور اگر مردہ پاؤ تو اسے نذر آتش کر دو“ جب وہ شخص پہنچا تو اس نے دیکھا کہ وہ سانپ کے ڈسنے سے مر چکا تھا ۔ چنانچہ اس نے اسے آگ میں جلا دیا ۔ تب رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
”جس نے دانستہ مجھ پر جھوٹ بولا وہ اپنا گھر دوزخ میں تلاش کرے“
ابو احمد بن عدی نے اس کو اپنی کتاب الکامل میں نقل کیا ہے ۔ کہا ہم نے بطریق حسین بن محمد بن عنبر از حجاج بن یوسف ، الشاعر از زکریا بن عدی از علی بن مسہر از صالح بن حیان از ابن بریدہ از والد خود روایت کیا ہے کہ بنو لیث کا ایک خاندان مدینہ سے دو میل کے فاصلے پر رہتا تھا ۔ دور جاہلیت میں ایک آدمی نے ان سے رشتہ مانگا تھا مگر انہوں نے نہ دیا ۔ ایک روز وہ شخص ان کے پاس آیا اور اس نے حلہ پہن رکھا تھا ۔ اس نے کہا رسول کریم نے یہ حلہ مجھے پہنایا اور حکم دیا تھا کہ تمہارے خون و مال میں جیسے چاہوں فیصلہ کروں پھر جا کر اس عورت کے یہاں مقیم ہوا جسے وہ چاہتا تھا ۔ اُس قوم نے رسول کریم کی طرف پیغام
بھیجا تو آپ نے فرمایا ”دشمن خدا نے جھوٹ بولا“ پھر ایک آدمی کو بھیج کر آپ نے حکم دیا کہ اگر تم اسے زندہ پاؤ ـــــــــ اور میرا خیال ہے کہ تم اسے زندہ نہ پاؤ گے ـــــــــ تو اس کی گردن اڑا دو اور اگر مردہ پاؤ تو آگ میں جلا دو“ آپ نے حدیث میں فرمایا : ”جس نے مجھ پر دانستہ جھوٹ باندھا وہ اپنا گھر جہنم میں بنائے“۔
اس حدیث کی سند صحیح اور شروط الصحیح کے مطابق ہے۔ ہمارے نزدیک اس میں کوئی علت نہیں۔ بسند دیگر اس کی مؤید ایک اور روایت بھی ہے۔ اس کو الثعلبی نے زکریا بن یحیی نے کتاب الجلیس میں بطریق ابو حامد المصری از السری بن مرثد الخراسانی از ابوجعفر محمد بن علی الفزاری از داؤد بن الزبرقان از عطاء ابن السائب از عبداللہ بن زبیرؓ روایت کیا ہے کہ انہوں نے ایک روز اپنے اصحاب سے کہا کہ تم جانتے ہو کہ اس حدیث کا مطلب کیا ہے کہ جس نے مجھ پر دانستہ جھوٹ بولا وہ اپنا گھر دوزخ میں بنالے“۔ ابن زبیرؓ نے کہا کہ ایک شخص ایک عورت پر عاشق تھا وہ اس عورت کے اہل خانہ کے پاس شام کے وقت گیا اور کہا کہ رسول کریمؐ نے مجھے آپ کے پاس بھیجا اور کہا ہے کہ میں جس کے پاس چاہوں ٹھہروں کہا کہ وہ رات گزارنے کا انتظار کر رہا تھا۔ ان میں سے ایک آدمی رسول کریمؐ کے پاس گیا اور کہا کہ فلاں آدمی کہتا ہے کہ آپ نے اسے حکم دیا ہے کہ وہ ہمارے گھروں میں سے جہاں چاہے رات گزارے۔ آپ نے فرمایا ”اس نے جھوٹ بولا، اے فلاں شخص اس کے ساتھ جاؤ اور اگر اللہ تعالیٰ تمہیں اس پر قدرت عطا کرے تو اس کی گردن اڑا دو اور اسے آگ میں جلا دو اور میرا خیال ہے کہ تمہاری جان اس سے چھوٹ جائے گی“۔
جب وہ آدمی نکل گیا تو رسول کریمؐ نے فرمایا ”اسے بلاؤ میں نے تمہیں اس کی گردن اڑانے اور اسے آگ میں جلانے کا حکم دیا ہے۔ تو اگر اللہ تجھے اس پر قدرت عطا کرے تو اس کی گردن اڑا دو اور اسے آگ میں مت جلاؤ، اس لیے کہ آگ کا عذاب صرف وہ ذات دیتی ہے جو آگ کی مالک ہے۔ اور میرا خیال ہے کہ تمہاری جان اس سے چھوٹ جائے گی“۔
اندریں اثناء گرج دار بادل آسمان پر چھا گیا۔ وہ آدمی وضو کرنے کے لیے نکلا اور اس کو سانپ نے ڈس لیا۔ جب رسول کریمؐ کو اطلاع ہوئی تو فرمایا ”وہ جہنم میں جائے گا“۔
ابوبکر بن مردویہ بطریق ا اکرم ﷺ نے فرمایا ”جو نہیں کہی وہ اپنا گھر دوزخ میں بنا نے ایک شخص کو بھیجا اور اس نے آ پیٹ چاک کیا گیا تھا اور اسے زمیـ آپ پر جھوٹ باندھا تو رسول کریـ کرنے کا حکم دیا۔ اس حدیث کے با
رسول کریم پر جھوٹ بانـ
کے بارے میں علماء کا
لوگ اس کو کافر قرار دیتے ہیں۔ الـ ابو الفضل ہمدانی سے روایت کر ہیں۔ اس لیے کہ ملاحدہ باہر رہ کر کو بگاڑتے ہیں ۔ وہ ایک شہر والو اس کے برعکس ملاحدہ ایسے ہیـ اندر ہیں وہ قلعے کا دروازہ کھو والوں سے بدتر ہیں ۔
اس قول کی توجیہہ یہ ہے ہے۔ اسی لیے رسول کریمؐ نے فـ میں بڑا فرق ہے۔ کیوں کہ رسول بالکل اسی طرح واجب ہوتی کی خبر دیں اس کی تصدیق ا کی خبر اللہ نے دی ہو۔
ابوبکر بن مَردوَیْہ بطریق الوازع از ابوسلمہ از اُسامہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا "جو شخص میری طرف ایسی بات کو منسوب کرے جو میں نے نہیں کہی وہ اپنا گھر دوزخ میں بنالے"۔ یہ بات آپ نے اس ضمن میں فرمائی جب آپ نے ایک شخص کو بھیجا اور اس نے آپ پر جھوٹ باندھا ۔ وہ شخص مردہ پایا گیا ، اس کا پیٹ چاک کیا گیا تھا اور اسے زمین نے قبول نہیں کیا تھا۔ مروی ہے کہ ایک آدمی نے آپ پر جھوٹ باندھا تو رسول کریم نے حضرت علی اور زبیر رضی اللہ عنہما کو بھیج کر اسے قتل کرنے کا حکم دیا۔ اس حدیث کے بارے میں علماء کے دو اقوال ہیں :
رسول کریم پر جھوٹ باندھنے والے
کے بارے میں علماء کا اختلاف
ایک قول یہ ہے کہ حدیث کے ظاہری مفہوم پر عمل کیا جائے اور جھوٹ باندھنے والے کو قتل کیا جائے ۔ ان میں سے کچھ لوگ اس کو کافر قرار دیتے ہیں۔ ان میں سے ابو محمد الجوینی ہیں ۔ حتی کہ ابن عقیل اپنے شیخ ابو الفضل ہمدانی سے روایت کرتے ہیں کہ بدعتی، کذاب اور وضاع ملحدین سے زیادہ بُرے ہیں ۔ اس لیے کہ ملاحدہ باہر رہ کر دین کو بگاڑتے ہیں ، جب کہ کذاب و وضاع اندر سے دین کو بگاڑتے ہیں ۔ وہ ایک شہر والوں کی مانند ہیں جو اس کو برباد کرنے کی سعی کرتے ہیں ۔ اس کے برعکس ملاحدہ ایسے ہیں جیسے باہر سے شہر کا محاصرہ کرنے والے ۔ پس جو لوگ اندر ہیں وہ قلعے کا دروازہ کھولتے ہیں ۔ اس لیے وہ اسلام کے حق میں باہر سے آنے والوں سے بدتر ہیں ۔
اس قول کی توجیہہ یہ ہے کہ رسول کریم پر جھوٹ باندھنا اللہ پر جھوٹ باندھنا ہے۔ اسی لیے رسول کریم نے فرمایا "مجھ پر جھوٹ باندھنے اور دوسروں پر جھوٹ باندھنے میں بڑا فرق ہے ۔ کیوں کہ رسول جو حکم دیتا ہے وہ دراصل اللہ کا حکم ہوتا ہے جس کی پیروی بالکل اسی طرح واجب ہوتی ہے جس طرح حکم خداوندی کی پیروی۔ رسول کریم جس بات کی خبر دیں اس کی تصدیق اسی طرح واجب ہے جس طرح اس بات کی تصدیق جس کی خبر اللہ نے دی ہو ۔
جو رسول کریم کی دی ہوئی خبر کو جھٹلائے یا آپؐ کے حکم کی پیروی سے باز رہے — اور ظاہر ہے کہ جو شخص اللہ پر جھوٹ باندھے مثلاً یوں کہے کہ میں اللہ کا رسول یا نبی ہوں۔ یا اللہ کی طرف کسی جھوٹی خبر کو منسوب کرے، جیسے مُسیلمہ یا اسود عنسی اور جھوٹے مدعیانِ نبوت نے کیا — تو وہ کافر اور مباح الدم ہے۔ اور جو شخص عمداً اللہ کے رسول پر جھوٹ باندھے تو وہ بھی کافر ہے۔
مندرجہ صدر بیان اس حقیقت کی غمازی کرتا ہے کہ آپؐ پر جھوٹ باندھنا اسی طرح ہے جس طرح آپ کی تکذیب کرنا۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے ان دونوں کو یکجا کر دیا ہے۔ قرآن میں فرمایا:
"وَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرىٰ عَلَى اور اس سے بڑھ کر ظالم اور کون ہے جو اللّٰهِ كَذِبًا اَوْ كَذَّبَ بِالْحَقِّ لَمَّا اللہ پر جھوٹ باندھے یا جب حق آئے تو جَآءَ هٗ" (العنکبوت - ۶۸) اس کی تکذیب کرے ۔
بلکہ بعض اوقات آپ پر جھوٹ باندھنے والا آپ کو جھٹلانے والے سے بھی بڑھ جاتا ہے اسی لیے اللہ تعالیٰ نے کاذب کا ذکر پہلے کیا ہے ۔ بالکل اسی طرح جس طرح سچی بات کو آپ کی طرف منسوب کرنے والا آپ کی تصدیق کرنے والے سے درجے میں بڑھ کر ہے جب کہ کاذب مُکَذِّب کی طرح ہوا یا اس سے بدتر اور اللہ پر جھوٹ باندھنے والا اسکو جھٹلانے والے کی مانند ہوا تو کاذب علی بھی رسول کو جھٹلانے والے کی مانند ہوگا۔
اس کی توضیح یہ ہے کہ تکذیب (جھٹلانا) کذب کی ایک قسم ہے۔ تکذیب کا معنی و مفہوم یہ ہے کہ آپ کی بتائی ہوئی خبر کے بارے میں کہا جائے کہ یہ سچی نہیں ہے اور یہ اللہ کے دین کا ابطال ہے اور اس میں کچھ فرق نہیں کہ آپ کی بتائی ایک خبر کو جھٹلایا جائے یا سب کو۔ ایسا شخص اس لیے کافر ہو جاتا ہے کہ اس سے اللہ کی رسالت اور اس کے دین کا ابطال لازم آتا ہے۔ اور جو شخص آپؐ پر جھوٹ باندھتا ہے وہ اللہ کے دین میں عمداً اس چیز کو داخل کرتا ہے جو اس میں سے نہیں ہے۔ وہ اس زعم باطل کا شکار ہے کہ امت پر اس خبر کی تصدیق اور اس امر کی اطاعت واجب ہے ۔ اس لیے کہ یہ
کی دی ہوئی خبر کو جھٹلائے یا آپ کے حکم کی پیروی سے باز رہے ۔ یا اللہ پر جھوٹ باندھے مثلاً یوں کہے کہ میں اللہ کا رسول یا نبی ہوں ۔ یا نبوت کو منسوب کرے ، جیسے مُسیلمہ یا اسود عَنسی اور جھوٹے مدعیانِ نبوت ۔ تو وہ کافر اور مباح الدم ہے۔ اور جو شخص عمداً اللہ کے رسول پر جھوٹ بولے وہ بھی کافر ہے ۔
بیان اس حقیقت کی غمازی کرتا ہے کہ آپ پر جھوٹ باندھنا اسی طرح ہے جیسے آپ کی تکذیب کرنا ۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے ان دونوں کو یکجا کر دیا ہے ۔ چنانچہ فرمایا :
فَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرٰى عَلَى اور اس سے بڑھ کر ظالم اور کون ہے جو اللّٰهِ كَذِبًا اَوْ كَذَّبَ بِالْحَقِّ لَمَّا اللہ پر جھوٹ باندھے یا جب حق آئے تو جَاءَ هٗ ۔ (العنکبوت ۔ ۶۸) اس کی تکذیب کرے ۔
پس آپ پر جھوٹ باندھنے والا آپ کو جھٹلانے والے سے بھی بڑھ جاتا ہے اس لیے کہ اس نے کاذب کا ذکر پہلے کیا ہے۔ بالکل اسی طرح جس طرح سچی بات کو تسلیم کرنے والا آپ کی تصدیق کرنے والے سے درجے میں بڑھ گیا ۔ تو مکذّب کی طرح ہوا یا اس سے بدتر اور اللہ پر جھوٹ باندھنے والا مکذّب کی مانند ہوا تو کاذب علیٰ رسول کو جھٹلانے والے کی مانند ہوگا۔
وجہ یہ ہے کہ تکذیب (جھٹلانا) کذب کی ایک قسم ہے ۔ تکذیب کا معنی یہ ہے کہ آپ کی بتائی ہوئی خبر کے بارے میں کہا جائے کہ یہ سچی نہیں ہے ۔ اور اس میں کچھ فرق نہیں کہ آپ کی بتائی ہوئی خبر کو جھٹلائے یا سب کو ۔ ایسا شخص اس لیے کافر ہو جاتا ہے کہ اس سے اللہ کے دین کا ابطال لازم آتا ہے ۔ اور جو شخص آپ پر جھوٹ باندھتا ہے وہ اس چیز کو داخل کرتا ہے جو اس میں سے نہیں ہے ۔ وہ اس زعمِ باطل کا شکار ہے کہ اس خبر کی تصدیق اور اس امر کی اطاعت واجب ہے ۔ اس لیے کہ یہ
اللہ کا دین ہے حالانکہ وہ جانتا ہے کہ یہ اللہ کا دین نہیں ہے ۔ اور دین میں کسی چیز کا اضافہ کرنا اسی طرح ہے جیسے اس میں سے کسی چیز کو کم کر دیا جائے اور اس بات میں کچھ فرق نہیں کہ قرآن کی ایک آیت کو جھٹلایا جائے یا کوئی بات تصنیف کر کے عمداً کہہ دیا جائے کہ یہ قرآن کی سورت ہے ۔ مزید برآں دانستہ آپ پر جھوٹ باندھنا آپ کا مذاق اڑانے اور تحقیر کرنے کا مترادف ہے ۔ اس لیے کہ وہ دعویٰ کرتا ہے کہ آپ نے یہ حکم دیا ہے حالانکہ آپ نے یہ حکم نہیں دیا ہوتا ۔ بلکہ یہ حکم دینا آپ کے لیے جائز بھی نہیں ۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ وہ شخص اسے سنت ٹھہراتا ہے ۔ یا یوں کہتا ہے کہ آپ باطل اشیاء کی خبر دیتے ہیں ۔ گویا یہ آپ کو جھوٹ کی طرف منسوب کرنے والی بات ہے جو صریح کفر ہے ۔
مزید برآں اگر کوئی شخص یہ دعویٰ کرے کہ اللہ نے رمضان کے علاوہ کسی اور ماہ کے روزے فرض کیے ہیں یا یوں کہے کہ چھ نمازیں فرض ہیں یا کہے کہ اللہ نے روٹی اور گوشت کو حرام قرار دیا ہے ۔ حالانکہ وہ جانتا ہو کہ وہ جھوٹ بول رہا ہے تو ایسا شخص بالاتفاق کافر ہے
جو شخص یہ دعویٰ کرے کہ فلاں چیز کو رسول کریمؐ نے واجب ٹھہرایا ہے حالانکہ آپ نے اسے واجب قرار نہیں دیا ۔ یا یوں کہے کہ رسول کریمؐ نے فلاں چیز کو حرام قرار دیا ، حالانکہ آپ نے اسے حرام نہیں ٹھہرایا ، تو اس نے اللہ پر جھوٹ باندھا ، جس طرح پہلے نے جھوٹ بولا اور اس پر یہ اضافہ کیا کہ صراحتاً اس قول کو رسول کریمؐ کی طرف منسوب کیا ۔ اس نے یہ نہیں کہا کہ یہ رسول کریمؐ کا اجتہاد یا استنباط ہے (بلکہ وہ تصریح کرتا ہے کہ آپ نے یوں فرمایا) ۔
خلاصہ یہ کہ جو شخص عمداً اللہ پر صریح جھوٹ باندھے وہ دانستہ اللہ کی تکذیب کرتا ہے اور وہ زیادہ برا ہے اور پوشیدہ نہ رہے کہ جو شخص اس ذات پر جھوٹ باندھے جس کی تعظیم واجب ہو تو وہ اس کی توہین و تحقیر کا ارتکاب کرتا ہے ۔ مزید برآں اس پر جھوٹ باندھنے والا اس پر افترا کر کے اسے عیب دار ظاہر کرتا اور اس کی تنقیص کرتا ہے اور یہ بات عیاں را چہ بیان کی مصداق ہے کہ جو شخص رسول کریمؐ پر جھوٹ باندھے جس طرح ابنِ سُریج نے
نے باندھا تھا۔ اس نے کہا تھا ”کہ محمد مجھ سے سیکھتا ہے“ یا اس کو بعض مہلک فواحش یا اقوالِ خبیثہ کے ساتھ متہم کرے تو اس سے وہ کافر ہو جاتا ہے ۔ اسی طرح آپ پر جھوٹ باندھنے والا بھی کافر ہو جاتا ہے۔
اسی لیے کہ جھوٹ باندھنے والا یا تو کوئی خبر یا امر یا فعل نقل کرے گا ، تو اگر اس نے آپ سے ایسا امر نقل کیا جس کا حکم آپ نے نہیں دیا تو اس نے آپ کی شریعت میں اضافہ کیا یہ فعل ایسا نہیں ہو سکتا تھا کہ آپ اس کا حکم صادر فرماتے ۔ اگر ایسا ہوتا تو لازماً آپ اس کا حکم دیتے ۔ کیونکہ حضور کا ارشاد ہے کہ :
" میں نے ایسی کوئی چیز نہیں چھوڑی جو تمہیں جنت کے قریب لے جانیوالی ہوتی مگر اس کا حکم تمہیں دیدیا ۔ اور نہ ہی کوئی ایسی چیز ترک کی جو تمہیں جہنم سے دُور لے جانے والی ہوتی مگر اس سے منع کر دیا "
جب آپ نے اس کا حکم نہیں دیا تو اس کا حکم دینا آپ کے لیے جائز نہ تھا۔ جو شخص آپ سے روایت کرے کہ آپ نے اس کا حکم دیا ہے تو اس نے آپ کی طرف ایک ایسا امر منسوب کیا، جس کا حکم دینا آپ کے لیے جائز نہ تھا ، اس کے معنی یہ ہوئے کہ اس نے آپ کی نسبت حماقت اور کم عقلی کی طرف کی ۔ اسی طرح اگر کسی نے آپ سے ایک خبر نقل کی ، تو اگر وہ خبر اس قسم کی ہوتی کہ اس کا بتانا ضروری تھا تو آپ از خود اس کی خبر دے دیتے ۔ اس لیے کہ اللہ نے دین کو کامل کر دیا ہے تو جب آپ نے کسی چیز کی خبر نہیں دی تو وہ اس قابل نہیں تھی کہ اس کی خبر دی جاتی ۔ اگر کوئی شخص جھوٹ موٹ آپ سے کسی فعل کو نقل کرتا ہے تو اگر وہ فعل اس قابل ہوتا کہ اس پر عمل کیا جائے اور عمل کرنے کا پہلو راجح ہوتا تو آپ اس کو انجام دیتے اور جب آپ نے ایسا نہیں کیا تو اس کو ترک کرنا اولیٰ ہے ۔
متذکرہ بالا امور کا حاصل یہ ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے تمام احوال میں اکمل البشر ہیں ۔ لہٰذا جس قول و فعل کو آپ نے ترک کیا ہے اس کا ترک کرنا اس پر عمل کرنے سے بہتر ہے اور جو کام کیا اس کا کرنا اس کو ترک کرنے سے افضل ہے ۔ جب کوئی آدمی دانستہ اس پر جھوٹ باندھے یا آپ کی جانب سے اس بات کی خبر دے جو وجود پذیر نہیں ہوئی تو
آپ کی طرف سے یہ خبر دینا آپ کی ذات میں عیب ونقص ثابت کرنے والی بات ہے اس لیے کہ اگر وہ فعل کمال کا موجب ہوتا تو آپ سے ضرور صادر ہوتا ۔
واضح رہے کہ یہ قول نہایت قوی ہے ، جیسا کہ آپ سمجھتے بھی ہیں ، مگر یہ بات قرین عقل و قیاس ہے کہ کذب کی دو قسموں میں فرق و امتیاز روا رکھا جائے ۔ مثلاً ایک شخص وہ ہے جو آپ کے رُو برو آپ پر جھوٹ باندھتا ہے اور ایک وہ ہے جو بالواسطہ اس کا ارتکاب کرتا ہے ۔ جیسا کہ وہ یوں کہے کہ فلاں بن فلاں نے مجھے رسول کریمؐ سے حدیث سن کر بتائی ۔ تو یہ دراصل اس شخص پر افترا ہے جس کی طرف اس نے حدیث کو منسوب کیا ۔
بخلاف ازیں اگر یوں کہے کہ یہ حدیث صحیح ہے یا یوں کہے کہ آپ سے ثابت ہو چکا ہے کہ آپ نے یوں فرمایا ۔ حالانکہ وہ جانتا ہو کہ یہ جھوٹ ہے ۔ یہ رسول کریمؐ پر افترا پردازی ہے ۔ لیکن اگر کوئی شخص ایک حدیث کو گھڑ کر سادہ طریقے سے روایت کر دے تو اس میں نزاع کی گنجائش ہے۔ خصوصاً اس لیے کہ سب صحابہ عدول ہیں اور اللہ تعالیٰ نے انکی تعدیل کی ہے ۔
اگر کذب کا مبدء کسی ایسے شخص سے ہو جو صحابہ میں شامل ہو تو وہ دین کے لیے سخت ضرر رساں ہے اسی لیے جو شخص آپ پر جھوٹ باندھتا آپ اس کو قتل کرنے کا ارادہ کرتے اور اسے جلد سزا دیتے ۔ تاکہ عدول میں ایسا شخص داخل نہ ہو جائے جو اُن میں سے نہیں بلکہ منافقین میں سے ہے ۔ جو شخص کوئی حدیث روایت کرے اور وہ جانتا ہو کہ یہ جھوٹ ہے تو اس کا یہ فعل حرام ہے ۔ جیسا کہ حدیث صحیح میں آیا ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "جس نے مجھ سے کوئی حدیث روایت کی اور وہ جانتا ہو کہ یہ جھوٹی ہے تو وہ جھوٹوں میں سے ایک ہے ۔"
مگر ایسا شخص کافر نہیں ہو گا جب تک وہ اپنی روایت میں اس چیز کو شامل نہ کرے جو کفر کی موجب ہو ۔ اس لیے کہ وہ اس بات میں صادق ہے کہ اس کے شیخ نے اسے حدیث سنائی ۔ چونکہ وہ جانتا تھا کہ اس کا شیخ اس سے روایت کرنے میں جھوٹا ہے ، روایت کرنا اس کے لیے جائز نہ تھا ۔ تو گویا یہ اس طرح ہے جیسے کسی کے اقرار یا شہادت یا عقد پر شہادت دے جب کہ اُسے معلوم ہو کہ یہ باطل ہے۔ ظاہر ہے کہ یہ شہادت حرام ہے مگر اسے جھوٹا گواہ
قرار نہیں دیا جا سکتا ۔
اس قول کی بنا پر آپؐ کو گالی دینے والا، آپؐ پر جھوٹ باندھنے والے کی نسبت زیادہ قابلِ مذمت ہے۔ اس لیے کہ جھوٹ باندھنے والا تو دین میں اس چیز کا اضافہ کرتا ہے جو اس میں شامل نہیں ہے۔ مگر گالی دینے والا تو پورے دین کو ہدفِ طعن بناتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ رسول کریمؐ نے جھوٹ باندھنے والے کو توبہ کا مطالبہ کیے بغیر قتل کا حکم دیا۔ اور گالی دینے والا تو اس سے زیادہ قتل کا مستحق ہے ۔
اگر معترض کہے کہ آپؐ پر جھوٹ باندھنے میں بڑا فساد ہے اور وہ یوں کہ اگر اس کی بات کو مان لیا جائے تو اس سے دین میں اس چیز کا بڑھانا لازم آتا ہے جو اس میں شامل نہیں یا دین میں سے اس چیز کو کم کرنا لازم آتا ہے جو اس میں شامل ہے۔ جب کہ طعن کرنے والا اپنے کلام کے بطلان کو اُن آیاتِ بیّنات کی وجہ سے جانتا ہے جو اللہ نے آپؐ پر ظاہر کیں ۔
تو اس کے جواب میں کہا جائے گا کہ جو شخص آپؐ سے حدیث روایت کرتا ہے اگر وہ عادل و ضابط نہ ہو تو اس کی روایت قبول نہیں کی جائے گی۔ ہر روایت کرنے والے کی روایت قبول نہیں کی جائے گی، مگر بعض اوقات اسے ثقہ تصور کیا جاتا ہے حالانکہ وہ ثقہ نہیں ہوتا۔ بخلاف ازیں طعن کنندہ کا طعنہ بہت سے لوگوں پر مؤثر ہوتا ہے اور آپؐ کی حُرمت بہت سے دلوں سے ساقط ہو جاتی ہے۔ اس لیے اس کا جرم موکد تر ہے۔ مزید برآں آپؐ سے جو حدیث روایت کی جاتی ہے اس میں ایسے دلائل ہوتے ہیں جن کی وجہ سے صدق و کذب میں امتیاز ہو جاتا ہے ۔
رسول کریمؐ پر جھوٹ باندھنے والے کی
سزا کے بارے میں قول ثانی ،
رسول کریمؐ پر جھوٹ بولنے والے کو سخت سزا دی جاتی ہے مگر اسے کافر قرار نہیں دیا جاتا۔ اسے قتل کرنا بھی جائز نہیں۔ اس لیے کہ کفر اور قتل کے موجبات معلوم ہیں اور یہ اُن میں سے نہیں اور یہ جائز نہیں کہ اس چیز کو ثابت کیا جائے جس کی کوئی اصل نہ ہو۔ اور جو شخص اس کا قائل ہے اس کے قول کو اس طرح مقیّد کیا جائے گا کہ آپؐ پر افترا پردازی کسی ظاہر عیب
کو متضمن نہ ہو۔ لیکن اگر وہ خبر دے کہ اس نے ایسی بات سنی ہے جو بظاہر آپ کے نقص و عیب پر دلالت کرتی ہے۔ مثلاً وہ حدیث جس میں گھوڑوں کے پسینے اور اس قسم کی خرافات کا تذکرہ کیا گیا ہے تو یہ کھلا ہوا استہزاء اور تضحیک ہے۔ بلاشبہ ایسا شخص کافر اور مباح الدم ہے۔ جن لوگوں نے اس قول کو اختیار کیا ہے وہ حدیث کا یہ جواب دیتے ہیں کہ رسول کریم کو یہ معلوم تھا کہ وہ کافر ہے، اس لیے آپ نے اُسے قتل کر دیا ، افترا پردازی کی وجہ نہیں ہے۔
یہ جواب بے کار ہے ۔ اس لیے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ شیوہ نہ تھا کہ کسی منافق کو اس بنا پر قتل کر دیں کہ کسی ثقہ آدمی نے اُسے منافق ٹھہرایا ہے یا قرآن سے اس کا منافق ہونا ثابت ہوتا ہے ۔ پھر آپ ایسے شخص کو کیونکر قتل کر سکتے ہیں جس کے منافق ہونے کا صرف آپ کو علم ہے ۔ رسول کریم نے بہت سے آدمیوں کو منافق کہا مثلاً حذیفہ وغیرہ، مگر اُن میں سے کسی کو بھی قتل نہ کیا۔ مزید برآں حدیث میں جس سبب کا ذکر کیا گیا ہے وہ رسول کریم پر ایسی افترا پردازی ہے ، جس میں اس کی کوئی ذاتی غرض شامل نہ ہو۔ قتل کو بھی اسی پر مرتب کیا گیا ہے لہٰذا قتل کو کسی اور سبب کی طرف منسوب کرنا جائز نہیں ۔
مزید برآں جھوٹ باندھنے سے اس آدمی کا مقصد شہوت رانی تھا اور ایسی بات کا ظہور و صدور جیسے کفار سے ہوتا ہے ، اسی طرح فساق سے بھی ہوتا ہے ۔ نیز یہ کہ اس کا نفاق یا تو اس جھوٹ کی وجہ سے ہو گا یا کسی گذشتہ سبب کی بنا پر اگر اس جھوٹ کی وجہ سے ہے تو ثابت ہو چکا ہے کہ آپ پر جھوٹ باندھنا نفاق کا ہم معنی ہے ۔ اور منافق کافر ہوتا ہے ۔ جب نفاق پہلے سے ہے اور وہی قتل کا موجب ہے نہ کہ اور کوئی فعل، تو پھر اس کے قتل کو اس وقت تک موخر کیوں کیا گیا؟ اور اس نفاق کی بنا پر اللہ نے اس پر گرفت کیوں نہ کی، حتیٰ کہ اس نے کیا جو کچھ کیا؟ علاوہ بریں لوگوں نے رسول کریم کو اس شخص کے قول سے آگاہ کر دیا تھا اور آپ نے فرمایا تھا :
" دشمن خدا نے جھوٹ بولا " پھر آپ نے فرمایا : کہ اگر وہ زندہ ہو تو اسے قتل کر دو" پھر فرمایا : میرا خیال ہے کہ تم اسے زندہ نہ پاؤ گے " کیوں کہ آپ کو معلوم تھا کہ اس کے گناہ کا تقاضا یہ ہے کہ اسے جلد سزا دی جاتی ۔
جب فعل کی علّت معلوم ہو جائے تو اسے سزا دینی چاہیے
رسول اکرم صلے اللہ وسلم جب کسی فعل کے بعد قتل، کفارہ یا کوئی اور سزا دیتے اور وہ فعل اس قابل ہوتا ہے کہ اُس پر سزا کو مرتب کیا جائے تو وہی فعل سزا کا مستوجب ہوتا نہ کہ کوئی اور فعل مثلاً جب اعرابی نے ذکر کیا کہ اس نے ماہِ رمضان میں جماع کیا ہے تو آپؐ نے اسے کفّارے کا حکم دیا۔ اسی طرح جب ماعزؓ اور غامدیہؓ نے زنا کا اقرار کیا تو آپؐ نے ان کو رجم کرنے کا حکم دیا۔ ہمارے علم کی حد تک اس میں کوئی اختلاف نہیں ہے۔ البتہ بعض اوقات اس امر میں اختلاف رُونما ہوتا ہے کہ سزا کا نفسِ موجب آیا اِن اوصاف کا مجموعہ ہے یا ان میں سے بعض اور یہ تنقیح المناط کی ایک قسم ہے ، اب یا تو اس فعل کے بارے میں کہا جائے گا کہ یہ سزا کے تعین میں غیر مؤثر ہے۔ اور اس سزا کا موجب کوئی اور فعل ہے جو یہاں مذکور نہیں اور یہ بات لازماً فاسد ہے۔ تا ہم اس کے بارے میں ایک بات کہی جاسکتی ہے جو اس سے قریب تر ہے اور وہ یہ اُس شخص نے آپؐ پر ایسا جھوٹ باندھا جس سے آپؐ کی تنقیصِ شان لازم آتی ہے۔ اس نے کہا تھا کہ رسولِ کریمؐ نے اُسے اُن لوگوں کے خون و مال میں حَکَم بنایا اور اسے حکم دیا ہے کہ جس گھر میں چاہے رات بسر کرے۔ اس کا مقصد یہ تھا کہ اس عورت کے یہاں رات بسر کرے اور اس کے ساتھ بدکاری کرے اور جب وہ ان کے خون و مال میں حَکَم ہو تو ان کے لیے اس سے انکار ممکن نہیں ہے ۔
رسول کریم محرّمات کو حلال نہیں بنا سکتے
ظاہر ہے کہ رسولِ کریم حرام کو حلال نہیں ٹھہرا سکتے اور جس شخص کا یہ گمان ہے کہ رسولِ کریم نے حرام خون و مال کو حلال قرار دیا تھا اس نے آپؐ کی تحقیر کی اور رسول کریمؐ کی طرف اس بات کو منسوب کیا کہ آپؐ نے اسے ایک اجنبی عورت کے پاس خلوت میں رات بسر کرنے کی اجازت دی تھی اور یہ کہ آپؐ مسلمانوں کو جو حکم چاہیں دے سکتے ہیں۔ یہ رسول کریم کی ذات اقدس پر بہت بڑا عیب اور طعن ہے۔ اندریں صورت آپؐ نے توبہ کا مطالبہ کیے بغیر اُس شخص کو قتل کرنے کا حکم دیا جس نے آپ کی عیب چینی
الصارم کی اور آپ کو ہدف طعن و ملامت بنایا اور اس جگہ بھی مقصود ہے ۔ پس ثابت ہوا کہ یہ حدیث اس بارے میں نص کا درجہ رکھتی ہے کہ جو شخص آپ پر طعن کرے ، تو دونوں اقوال کے مطابق اُسے توبہ کا مطالبہ کیے بغیر قتل کیا جائے ۔
قولِ اوّل کی مؤید یہ بات ہے کہ اگر اُن لوگوں کو علم ہوتا کہ یہ کلام گالی اور طعنہ زنی کا مترادف ہے تو کمالِ عجلت اس سے انکار کر دیتے ۔ یوں بھی کہا جاسکتا ہے کہ اس شخص کے معاملہ نے انہیں شک میں ڈال دیا ۔ اس لیے انہوں نے توقف سے کام لیا اور رسولِ کریمؐ سے اس کی تصدیق چاہی۔ اس لیے کہ یہاں دو چیزیں باہم متعارض تھیں ۔ ایک تو اطاعتِ رسول کا وجوب اور اس ملعون کا عجیب و غریب دعویٰ ۔
قولِ اوّل کے مؤیدین کہتے ہیں کہ رسول کریمؐ پر افترا پردازی آپ پر طعن کرنے کے مترادف ہے۔ جیسا کہ پیچھے گزرا ۔ مگر اس شخص کے بارے میں حدیث مذکور نہیں کہ اس کا ارادہ آپ کو ہدفِ طعن و لعن بنانے کا تھا ۔ آپ پر جھوٹ باندھ کر یہ شہوت رانی کی راہ نکالنا چاہتا تھا اور بس۔ ہر جھوٹ گھڑنے والا دانستہ ایسا کرتا ہے۔ اس کا مقصد محض مطلب برآری ہے ، اگر وہ استہزاء کا خواہاں نہیں اور غرض اکثر و بیشتر یا تو مال کا حصول ہوتا ہے یا عزت افزائی ۔ جس طرح غلط کار اگر کسی کو گمراہ کرنے کا خواہاں نہ ہو تو اس کا مقصد ریاست واقتدار اور تعظیم کا حصول ہوتا ہے یا ظاہری شہوات کی راہ نکالنا ۔ خلاصہ یہ کہ جس شخص سے ایسا قول وفعل صادر ہو جو کفر کا موجب ہو تو وہ کافر ہو جاتا ہے اگرچہ اس نے کفر کے ارادے سے یہ بات نہ کہی ہو۔ اس لیے کہ کفر کا ارادہ تو کوئی شخص بھی نہیں کرتا ۔ اِلَّا مَاشَاءَ اللّٰہ ۔
جو شخص نبی کو ایذا دے اور اسے قتل
کیا جائے تو وہ جہنم میں داخل ہوگا
حدیث ۴۱۷ : یہ حدیث اس بدّو کے تذکرہ پرمشتمل ہے، جس کو رسول کریمؐ نے کچھ دیا تو اس نے کہا تھا ۔ آپ نے اچھا نہیں کیا ، تو مسلمانوں نے اسے قتل کرنا چاہا ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ جب اس آدمی نے کہا جو کچھ کہا اگر اس وقت میں تمہیں نہ روکتا اور
تم اسے قتل کر دیتے تو وہ جہنم میں داخل ہو جاتا ۔ اس کا ذکر آگے چل کر ان احادیث کے ضمن میں آئے گا جس میں ایذا دہندہ کو آپ کے معاف کرنے کا ذکر کیا گیا ہے ۔
اس حدیث سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ جو شخص آپ کو ایذا دے اور اسے قتل کیا جائے تو وہ جہنم میں جائے گا ۔ یہ حدیث اس امر کی دلیل ہے کہ وہ کافر ہے اور اس کو قتل کرنا جائز ہے ۔ ورنہ وہ شہید ہوتا اور اس کا قاتل جہنمی ہوتا ۔
رسول کریمؐ نے اس کو معاف کر دیا تھا، پھر اسے راضی کرنا چاہا تو وہ راضی ہو گیا۔ اس لیے کہ آپ ایذا دینے والے کو معاف کر سکتے تھے ۔ جیسا کہ آگے آئے گا ۔ اِن شاء اللہ تعالیٰ ۔
جب رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حنین کا مال غنیمت تقسیم کیا تو ایک شخص نے کہا ”یہ ایسی تقسیم ہے جس میں رضائے الٰہی کو پیش نظر نہیں رکھا گیا“ حضرت عمرؓ نے کہا ”یا رسول اللہ! مجھے اجازت دیجیے کہ اس منافق کو قتل کر دوں“ آپ نے فرمایا ”پناہ بخدا کہ لوگ میرے بارے میں کہیں کہ میں اپنے صحابہ کو قتل کرتا ہوں ۔ پھر آپ نے بتایا کہ اس کی نسل سے ایسی قومیں پیدا ہوں گی جو قرآن کی تلاوت کریں گی مگر قرآن ان کے گلے سے نیچے نہیں اترے گا“ پھر آپ نے خوارج کا تذکرہ کیا ۔ (صحیح مسلم)
رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عمرؓ کو اس کے قتل کرنے سے صرف اس لیے منع کیا کہ لوگ باتیں نہ کریں کہ محمدؐ اپنے صحابہ کو قتل کرتے ہیں ۔ حضرت عمرؓ کو روکنے کی وجہ یہ نہ تھی کہ رسول کریمؐ بذات خود معصوم ہیں ۔ جیسا کہ حاطب بن ابی بلتعہ کی روایت میں ہے جب حاطب نے کہا ”میں نے یہ کام اس لیے نہیں کیا تھا کہ میں کافر ہوں یا اس لیے کہ مجھے اپنے دین سے دلچسپی نہیں اور اس لیے کہ میں کفر پر راضی ہوں“۔ رسول کریمؐ نے فرمایا ”اس نے تم سے سچ کہا“ حضرت عمرؓ نے کہا ”مجھے اجازت دیجیے کہ اس منافق کی گردن اڑا دوں“۔ رسول کریمؐ نے فرمایا ”یہ جنگ بدر میں حصہ لے چکا ہے اور تمہیں کیا خبر کہ اللہ نے اہل بدر کی طرف جھانکا اور کہا ہو کہ ”جو چاہو کرو میں نے تمہیں معاف کر دیا ہے“ رسول کریمؐ نے فرمایا ”یہ شخص اپنے ایمان پر قائم ہے اور یہ ایسے کام کر چکا ہے جس سے گناہ معاف ہو جاتے ہیں“
اس سے معلوم ہوا کہ اس کا خون معصوم ہے اور فساد کی جو علت بیان کی گئی تھی وہ زائل
دیتے تو وہ جہنم میں داخل ہو جاتا ۔" اس کا ذکر آگے چل کر ان احادیث کے ضمن میں آئے گا جس میں ایذا دہندہ کو آپ کے معاف کرنے کا ذکر کیا گیا ہے ۔ احادیث سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ جو شخص آپ کو ایذا دے اور اسے قتل کیا جائے گا ۔ یہ حدیث اس امر کی دلیل ہے کہ وہ کافر ہے اور اس کو قتل کرنا جائز ہے ورنہ اس کا خون معصوم ہوتا اور اس کا قاتل جہنمی ہوتا ۔
ہم نے اس کو معاف کر دیا تھا ، پھر اسے راضی کرنا چاہا تو وہ راضی ہو گیا۔ اس لئے آپؐ ایذا دینے والے کو معاف کر سکتے تھے ۔ جیسا کہ آگے آئے گا ۔ ان شاء اللہ تعالیٰ ۔
جب رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حُنین کا مالِ غنیمت تقسیم کیا تو ایک شخص نے کہا "یہ تقسیم ہے جس میں رضائے الٰہی کو پیشِ نظر نہیں رکھا گیا" ۔ حضرت عمرؓ نے کہا "یا رسول اللہ ! اجازت دیجیے کہ اس منافق کو قتل کر دوں" ۔ آپؐ نے فرمایا "پناہ بخدا کہ لوگ میرے بارے میں کہیں کہ میں اپنے صحابہؓ کو قتل کرتا ہوں ۔ پھر آپ نے بتایا کہ اس کی نسل سے ایسی قومیں پیدا ہوں گی جو قرآن کی تلاوت کریں گی مگر قرآن اُن کے گلے سے نیچے نہیں اترے گا"۔ پھر آپ نے اسے چھوڑ دیا ۔ (صحیح مسلم)
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عمرؓ کو اس کے قتل کرنے سے صرف اس لیے منع فرمایا تھا کہ لوگ یہ نہ کہیں کہ محمّدؐ اپنے صحابہؓ کو قتل کرتے ہیں ۔ حضرت عمرؓ کو روکنے کی وجہ یہ نہ تھی کہ منافقین بذاتِ خود معصوم ہیں ۔ جیسا کہ حاطب بن ابی بلتّعہ کی روایت میں ہے جب انہوں نے یہ کہا کہ میں نے یہ کام اس لیے نہیں کیا تھا کہ میں کافر ہوں یا اس لیے کہ مجھے اپنے دین سے نفرت ہے ، میں اور اس لیے کہ میں کفر پر راضی ہوں"۔ رسولِ کریمؐ نے فرمایا "اس نے سچ کہا ہے"۔ حضرت عمرؓ نے کہا "مجھے اجازت دیجیے کہ اس منافق کی گردن اڑا دوں"۔ رسولِ کریمؐ نے فرمایا "یہ جنگِ بدر میں حصہ لے چکا ہے اور تمہیں کیا خبر کہ اللہ نے اہلِ بدر کو دیکھ کر یہ فرمایا ہو کہ "جو چاہو کرو میں نے تمہیں معاف کر دیا ہے"۔ رسولِ کریمؐ نے فرمایا "جو دین پر قائم ہے اور یہ ایسے کام کر چکا ہے جس سے گناہ معاف ہو جاتے ہیں"۔ اس سے معلوم ہوا کہ اس کا خون معصوم ہے اور فساد کی جو علت بیان کی گئی تھی وہ زائل
ہوچکی ہے ۔
اس سے معلوم ہوا کہ ایسی بات کہنے والے کو قتل کرنا جائز ہے بشرطیکہ ایسے فساد کا خطرہ نہ ہو ۔ قرآن میں فرمایا : "جَاهِدِ الْكُفَّارَ وَالْمُنَافِقِينَ (کفار اور منافقین سے جہاد کیجیے اور ان وَأَغْلُظْ عَلَيْهِمْ" (التوبۃ - ۷۳) ان سے سختی کا سلوک کیجیے ) "وَلَا تُطِعِ الْكَافِرِينَ وَالْمُنَافِقِينَ (کافروں اور منافقوں کی اطاعت نہ کیجیے وَدَعْ أَذَاهُمْ" اور ان کی ایذا کو نظر انداز کیجیے)
(الاحزاب - ۴۸)
زید بن اسلم کہتے ہیں کہ آیت "جَاهِدِ الْكُفَّارَ" نے سابقہ حکم کو منسوخ کر دیا ۔اس سے ملتی جلتی یہ آیت ہے کہ عبداللہ بن اُبیّ نے جب کہا کہ : "اگر ہم مدینہ لوٹ آئے تو جو معزز ہے وہ ذلیل تر آدمی کو وہاں سے نکال دے گا "
(المنافقون - ۸)
عبداللہ بن اُبیّ نے یہ بھی کہا تھا کہ : "رسول اللہ کے پاس جو لوگ ہیں ان پر خرچ نہ کیجیے تاکہ بکھر جائیں"۔
(المنافقون - ۷)
حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے رسولِ کریمؐ سے عبداللہ کو قتل کرنے کے بارے میں مشورہ کیا تو آپ نے فرمایا : "کہ مدینہ کے بہت سے لوگ اس پر ناراض ہوں گے ۔ نیز فرمایا "لوگ اس قسم کی باتیں نہ کریں کہ محمّدؐ اپنے صحابہؓ کو قتل کرتے ہیں " ۔ یہ واقعہ مشہور ہے اور صحیح بخاری و مسلم میں مذکور ہے ۔ اس کی تفصیل آگے آئیگی ان شاء اللہ تعالیٰ ۔
ان سے معلوم ہوا کہ جو شخص ایسی بات کہے کہ رسولِ کریمؐ کو ایذا دے تو قابو پانے کی صورت میں اسے قتل کرنا جائز ہے ۔ عبداللہ کو اس لیے قتل نہ کیا کہ قتل کرنے کی صورت میں
یہ خطرہ دامن گیر تھا کہ لوگ اسلام سے نفرت کرنے لگیں گے ۔ کیونکہ اسلام اس وقت کمزور تھا ۔ اور یہ بات بھی اسی باب سے متعلق ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”مجھے اس آدمی سے کون چھڑائے گا ۔ جو میرے اہل خانہ کو دکھ دے رہا ہے “ ۔ حضرت سعد بن معاذ نے کہا ” یا رسول اللہ ! میں آپ کو رہائی دلاؤں گا ۔ اگر وہ قبیلہ اوس میں سے ہو گا تو میں اس کی گردن اڑا دوں گا“ یہ واقعہ مشہور ہے ۔ چونکہ کسی نے حضرت سعد بن معاذ پر اعتراض نہ کیا ۔ اس سے معلوم ہوا کہ جو شخص رسولِ کریمؐ کو ایذا دے اور آپؐ کی تنقیص کرے اُسے قتل کرنا جائز ہے ۔ عبداللہ بن اُبی اور اُن لوگوں میں جنہوں نے حضرت عائشہؓ پر بہتان باندھا یہ فرق ہے کہ اس سے عبداللہ کا مقصد رسول کریمؐ کی عیب جوئی، آپؐ پر طعنہ زنی اور آپ کو غصہ دلانا تھا ۔ وہ ایسے انداز سے گفتگو کرتا تھا جس سے رسول کریم کی تحقیر ہوتی تھی ۔ اسی لیے صحابہؓ نے کہا کہ ہم اُسے قتل کر دیں گے ۔ برخلاف حسّان، مسطح اور حمنہ کے کہ ان کا ارادہ یہ نہ تھا اور نہ ہی انہوں نے ایسی گفتگو کی جو اس پر دلالت کرتی ہو ۔ اسی لیے آپؐ نے عبد بن اُبی سے مخلصی چاہی کسی اور سے نہیں ، اور اسی لیے آپ نے خطبہ دیا ، جس کے نتیجے میں قریب تھا کہ دونوں قبیلے (اوس اور خزرج) باہم برسرِ پیکار ہوں ۔
عُزّیٰ نامی بُت کا مال ۔ حدیث : ۱۵
سعید بن یحییٰ بن سعید اُموی نے اپنے مغازی میں بطریقِ والد خود از المہاجر بن سعید از شعبی روایت کیا ہے کہ جب رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ فتح کیا تو عُزّیٰ بت کا مال منگوایا اور اُسے اپنے سامنے بکھیر دیا ۔ پھر نام لے کر ایک آدمی کو بلایا اور اُس میں سے کچھ دیا ۔ پھر ابو سفیان بن حرب اور سعد بن حریث کو بلا کر اس میں سے دیا ۔ پھر قریش کی ایک جماعت کو بلا کر کچھ مال دیا ۔ آپ ایک شخص کو سونے کا ایک ٹکڑا دیتے جس میں پچاس مثقال سے ستر مثقال تک سونا ہوتا ۔ ایک آدمی نے کھڑے ہو کر کہا : ”آپ بخوبی آگاہ ہیں کہ سونے کا ٹکڑا کہاں دینا ہے ۔ پھر دوسرے نے بھی کھڑے ہو کر اسی طرح کی ، مگر رسول کریمؐ نے منہ پھیر لیا ۔ پھر تیسرے نے کھڑے ہو کر کہا : آپ فیصلہ تو کرتے
ہیں مگر اس میں ہمیں انصاف نظر نہیں آتا۔" آپ نے فرمایا "تجھ پر افسوس ہو، پھر میرے بعد انصاف کون کرے گا ؟ پھر آپ نے حضرت ابو بکر کو بلا کر کہا "جاکر اسے قتل کر دو"۔ ابو بکر گئے مگر اسے نہ پایا ۔ رسول کریم نے فرمایا " اگر تم اسے قتل کر دیتے تو مجھے امید تھی کہ وہ ان میں سے پہلا آدمی بھی ہوتا اور آخری بھی ۔
یہ حدیث اس ضمن میں نص کا حکم رکھتی ہے کہ رسول کریم پر طعن کرنے والے کو توبہ کا مطالبہ کیے بغیر قتل کیا جائے۔ یہ جنگ حنین کے مال غنیمت کی تقسیم کا واقعہ نہیں اور نہ ہی یہ سونے کی اینٹ سے متعلق ہے جو حضرت علی نے یمن سے بھیجی تھی۔ بخلاف ازیں یہ واقعہ عزیٰ کے مال کی تقسیم سے متعلق ہے اور ان واقعات سے پہلے کا ہے۔ عزیٰ کو مسمار کرنے کا واقعہ فتح مکہ سے پہلے ۸ھ کو ماہ رمضان کے اواخر میں پیش آیا ۔ حنین کا مالِ غنیمت ماہ ذی القعدہ کو جعرانہ میں تقسیم کیا گیا۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ کا واقعہ ۸ھ کو پیش آیا ۔
یہ حدیث مرسل ہے ، اس کو مجالد نے روایت کیا ہے جو ضعیف راوی ہے۔ مگر اس کے معنی ومفہوم کی موید روایات موجود ہیں۔ پیچھے گزر چکا ہے کہ جناب فاروق اعظم رضی اللہ عنہ نے اس شخص کو قتل کر دیا تھا جو رسول کریم کے فیصلہ پر راضی نہ تھا۔ اس کی تائید میں قرآن نازل ہوا۔ اس شخص کا جرم اس آدمی کے جرم سے ضعیف تر ہے ۔
خوارج کے ذکر پر مشتمل احادیث
صحیح بخاری و مسلم میں حضرت ابو سعید سے رسول کریم سے اس شخص کے بارے میں روایت کرتے ہیں جس نے اس سونے کی تقسیم میں رسول کریم کو موردِ طعن بنایا تھا جو حضرت علی نے یمن سے بھیجا تھا ۔ اس نے کہا تھا "یا رسول اللہ ! خدا سے ڈر!" رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا "اس کی نسل میں سے ایسی قوم نکلے گی جو قرآن کریم کی تلاوت کریں گے مگر وہ ان کے گلے سے نیچے نہیں اترے گا ۔ وہ دین سے اس طرح نکل جائیں گے جیسے تیر اپنے ہدف سے نکل جاتا ہے۔ وہ مسلمانوں کو قتل کریں گے اور بت پرستوں کو چھوڑ دیں گے اگر میں نے ان کو پالیا تو انہیں قومِ عاد کی طرح قتل کروں گا"۔
صحیح بخاری و مسلم میں حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا کہ ”آخری زمانہ میں ایک قوم نکلے گی جو نو عمر اور کم عقل ہو گی۔ وہ سید المخلوقات کے اقوال سنائیں گے، ان کا ایمان اُن کے گلے سے نیچے نہ اترے گا۔ وہ اسلام سے اس طرح نکل جائیں گے جیسے تیر نشانے سے نکل جاتا ہے تم جہاں کہیں بھی انہیں پاؤ تو اُن کو قتل کر دو۔ ان کے قاتل کو روز قیامت اجر ملے گا“
ایک سیاہ فام آدمی رسول کریمؐ کی تقسیم پر معترض ہوتا ہے
نسائی نے ابو بُردہ سے روایت کی ہے کہ رسول کریمؐ کے پاس مال آیا جو آپؐ نے تقسیم کر دیا۔ آپؐ نے دائیں جانب والوں کو بھی دیا اور بائیں جانب والوں کو بھی۔ مگر جو پیچھے تھے اُن کو کچھ نہ دیا۔ پیچھے کھڑے ہونے والوں میں سے ایک نے کہا: اے محمدؐ! آپ نے تقسیم کرتے وقت انصاف کو ملحوظ نہیں رکھا۔ وہ ایک سیاہ فام، گھنڈے ہوئے بالوں والا آدمی تھا اور اس نے دو سفید کپڑے پہن رکھے تھے۔ آپؐ سخت ناراض ہوئے اور فرمایا:
”بخدا تم میرے بعد کوئی ایسا آدمی نہ پاؤ گے جو مجھ سے زیادہ عادل ہو۔ پھر فرمایا: آخری زمانہ میں ایک قوم نمودار ہو گی ــــ گویا یہ بھی ان میں سے ہے ــــ وہ قرآن پڑھیں گے مگر وہ اُن کے گلے کے نیچے نہ اترے گا وہ اسلام سے اس طرح نکل جائیں گے جیسے تیر نشانے سے نکل جاتا ہے۔ ان کی نشانی سر منڈانا ہوگی۔ وہ نکلتے رہیں گے، یہاں تک کہ اُن کا آخری آدمی دجال کے ساتھ ظہور پذیر ہوگا۔ جب تم انہیں ملو تو ان کو قتل کر دو۔ وہ بنی نوع انسان اور حیوانات، سب سے بدتر ہوں گے ۔
ان تمام احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول اللہ نے اس عتاب کرنے والے شخص کی جماعت کو قتل کرنے کا حکم دیا تھا۔ آپؐ نے یہ بھی فرمایا کہ ان کے قاتل کو آخرت میں اجر ملے گا۔ آپؐ نے فرمایا: اگر میں نے ان کو پا لیا تو اُن کو قومِ عاد کی طرح قتل کروں گا ۔
آپ نے فرمایا کہ یہ انسان وحیوان سب سے بدتر ہیں ۔
ترمذی اور دیگر محدثین نے ابو امامہ سے روایت کی ہے کہ اس نے کہا ”سطح آسمان کے
سلم میں حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے رسول اکرم صلی سنا کہ ” آخری زمانہ میں ایک قوم نکلے گی جو نو عمر اور کم عقل ہو گی۔ وہ قوال سنائیں گے ، ان کا ایمان اُن کے گلے سے نیچے نہ اترے گا ۔ وہ نکل جائیں گے جیسے تیر نشانہ سے نکل جاتا ہے تم جہاں کہیں بھی انہیں ۔ ان کے قاتل کو روز قیامت اجر ملے گا “
ذی رسول کریمؐ کی تقسیم پر معترض ہوتا ہے نسائی
نے ابو ہے کہ رسول کریمؐ کے پاس مال آیا جو آپؐ نے تقسیم کر دیا ۔ آپ نے دائیں اور بائیں جانب والوں کو بھی ۔ مگر جو پیچھے تھے اُن کو کچھ نہ دیا ۔ پیچھے میں سے ایک نے کہا : اے محمد ! آپ نے تقسیم کرتے وقت انصاف وہ ایک سیاہ فام، منڈے ہوئے بالوں والا آدمی تھا اور اس نے پہنے تھے ۔ آپ سخت ناراض ہوئے اور فرمایا : جد کوئی ایسا آدمی نہ پاؤ گے جو مجھ سے زیادہ عادل ہو۔ پھر فرمایا ، آخری دار ہو گی گویا یہ بھی ان میں سے ہے ـــــ وہ قرآن پڑھیں کے نیچے نہ اترے گا وہ اسلام سے اس طرح نکل جائیں گے جیسے تیر ۔ ان کی نشانی سر منڈانا ہو گی ۔ وہ نکلتے رہیں گے ، یہاں تک کہ اُن ساتھ ظہور پذیر ہوگا ۔ جب تم انہیں ملو تو ان کو قتل کر دو۔ وہ قات سب سے بدتر ہوں گے ۔
سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول اللہ نے اس عتاب کرنے والے شخص حکم دیا تھا ۔ آپ نے یہ بھی فرمایا کہ ان کے قاتل کو آخرت میں یا، اگر میں نے ان کو پالیا تو اُن کو قوم عاد کی طرح قتل کروں گا ۔ ت وحیوان سب سے بدتر ہیں ۔
بین نے ابو امامہ سے روایت کی ہے کہ اس نے کہا ”سطح آسمان کے
نیچے وہ بدترین مقتول ہیں اور جس کو انہوں نے قتل کیا وہ بہترین مقتول ہے“ ابو امامہ نے بتایا کہ اس نے رسول کریمؐ کو کئی مرتبہ یہ بات فرماتے ہوئے سنا ہے پھر یہ آیت تلاوت فرمائی :
اُن سے کہا جائے گا کہ ، کیا تم ایمان لانے کے بعد کافر ہو گئے تھے ؟
(آل عمران - ۱۰۶)
نیز کہا کہ یہ وہ لوگ ہیں جو ایمان لانے کے بعد کافر ہو گئے ۔ پھر یہ آیت تلاوت کی :
(آل عمران - ۷)
اور کہا کہ وہ ٹیڑھے چلے تو انہیں ٹیڑھا کر دیا گیا “
اور یہ جائز نہیں کہ ان کو قتل کرنے کا حکم اس لیے دیا گیا ہو کہ وہ لوگوں سے لڑتے تھے جس طرح حملہ کرنے والوں ، راہزنی کرنے والوں اور باغیوں سے لڑا جاتا ہے کیوں کہ ان لوگوں سے اس لیے لڑا جاتا ہے کہ ان کا رُعب داب باقی نہ رہے، فساد سے باز آجائیں اور اطاعت قبول کر لیں ۔ ان کے بارے میں یہ حکم نہیں کہ جہاں پاؤ قتل کر دو ، نیز قومِ عاد کی طرح بھی ان کو قتل نہیں کیا جاتا ۔ یہ آسمان کی چھت کے نیچے بدترین مقتول بھی نہیں ہیں اور نہ ہی ان کو قتل کرنے کا حکم دیا گیا ہے ۔ بخلاف ازیں آخر کار ان سے لڑنے کا حکم دیا گیا ہے ۔
مذکورہ صدر بیان سے معلوم ہوا کہ ان کا قتل اس لیے واجب ہے کہ یہ مبالغہ آمیزی کرنے کی وجہ سے دین سے نکل گئے ۔ جیسا کہ آپ نے فرمایا کہ یہ دین سے اس طرح نکل جائیں گے جس طرح تیر اپنے نشانے سے آگے نکل جاتا ہے ، اس لیے جہاں پاؤ ان کو تہِ تیغ کر دو ۔ اس حدیث میں اُن کے قتل کے حکم کو خروج عن الدین پر مرتب کیا گیا ہے ۔ بنا بریں قتل کا موجب صرف اُن کا دین سے باہر نکل جانا ہے ۔ اسی لیے ظہور پذیر ہونے والے گروہ کے بارے میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”اگر اُس گروہ کو پتہ چل جاتا جو اُن کو قتل کرے گا کہ رسول کریمؐ کی زبانی ان کے
بارے میں کسی چیز کا فیصلہ کیا گیا ہے تو وہ عمل کرنے سے انکار کر دیں۔ اس گروہ کی نشانی یہ ہے کہ ان میں ایک آدمی کا بازو تو ہے مگر اُس کی کلائی نہیں ہے ۔ اس کے بازو کے سرے پر اس طرح کا نشان ہے جیسے پستان کے سرے پر گول سا دانہ ہوتا ہے جس پر سفید بال ہونگے ۔
راوی نے مزید کہا کہ : "وہ بہترین فرقے کے خلاف خروج کریں گے ۔ دونوں میں سے جو گروہ اقرب الی الحق ہو گا وہ اسے قتل کرے گا "۔
یہ پورا بیان احادیث صحیحہ میں موجود ہے ۔ پس ثابت ہوا کہ ان کے قتل کا حکم خاص صفات پر مبنی ہے ، صرف اس لیے نہیں کہ وہ محض باغی یا محارب ہیں اور یہ بات ان میں سے کسی ایک میں بھی موجود ہوتی ہے اور متعدد اشخاص میں بھی ۔ حضرت علیؓ نے شروع میں ان کو اس لیے قتل نہیں کیا تھا کہ ابھی یہ بات منظر عام پر نہیں آئی تھی کہ یہی وہ فرقہ ہے جس کی علامات رسول کریمؐ نے بیان فرمائی ہیں ، یہاں تک کہ انہوں نے ابنِ خباب کو شہید کر دیا اور لوگوں کے چوپائے لوٹ کر لے گئے ۔ گویا وہ رسول کریمؐ کے اس ارشاد کا مصداق ثابت ہوئے کہ : "وہ اہل اسلام کو قتل کریں گے اور بت پرستوں کو چھوڑ دیں گے " پس ثابت ہوا کہ وہی لوگ دین اسلام سے نکل جانے والے ہیں ۔ نیز اس لیے کہ اگر محاربہ سے پہلے ان کو قتل کر دیتے تو اُن کے قبائل مسلمانوں سے ناراض ہوتے اور حضرت علیؓ کے لشکر سے الگ ہو جاتے ۔ حالانکہ انہیں اس بات کی ضرورت تھی کہ اپنے لشکر کے ساتھ لطف و مدارات کا سلوک کرتے اور ان کے ساتھ الفت ومحبت کے مراسم استوار کرتے ۔ جس طرح آغاز کار میں رسول کریمؐ کو منافقین کی تالیف قلب مطلوب تھی ۔
مزید برآں خوارج نے رسول کریمؐ سے کچھ تعرض نہ کیا ، بلکہ وہ آپ اور حضرت ابو بکرؓ وعمرؓ کی حد درجہ تعظیم کرتے تھے ۔ مگر دین میں انہوں نے اس غلو سے کام لیا کہ کم عقلی کی وجہ سے سب حدیں پھاند گئے ۔ ان کی حالت وہی تھی جو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے درج ذیل آیت سے سمجھی :- "کہہ دیجیے کیا میں تمہیں بتاؤں کہ سب سے گھٹیا اعمال کس کے ہیں۔
وہ لوگ جن کی کوشش دنیا کی زندگـ کرتے ہیں " : (الکہف
اس کے نتیجے میں انہوں نے مرتب ہوئے جن کی وجہ سے امت کے بارے میں توقف سے کام لـ کو دیکھا جو تقسیم کے بارے میں آپ کی بنا پر آپ کو ناانصافی کا مرتکب عدل کے معنی تمام لوگوں کے در لوگوں میں ایسی خصوصیات پائی تالیف قلب کے مصالح کو ملحوظ یہ معلوم کر کے آپ اس نتیجـ کی موجودگی میں آپ کی سنت کو اور خلفائے راشدین پر سخت طـ
خوارج کے افکار ونـ
سے کبائر کا صدور جائز ہے ۔ یہ کے خلاف ہو تو وہ اسے لائق اعـ کے قائل نہیں وہ چور کا ہاتھ کاٹـ
ط : خوارج کے نزدیک زانی اس لیے کہ قرآن میں اسی کاٹ ڈالتے ہیں ۔ اس حد مقرر نہیں کی ۔
وہ لوگ جن کی کوشش دنیا کی زندگی میں گم ہو کر رہ گئی اور وہ سمجھتے ہیں کہ وہ اچھے کام کرتے ہیں"
(الکہف - ۱۰۳ - ۱۰۴)
اس کے نتیجے میں انہوں نے ایسے عقائد فاسدہ اختراع کیے جن پر ایسے افعال منکرہ مرتب ہوئے جن کی وجہ سے اُمت کے بہت سے لوگ کافر ہوگئے اور دوسروں نے ان کے بارے میں توقف سے کام لیا۔ جب رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آدمی کو دیکھا جو تقسیم کے بارے میں آپؐ کو مورد طعن بنا رہا تھا، اور اپنی جہالت اور جاہلانہ غیرت کی بنا پر آپؐ کو ناانصافی کا مرتکب قرار دے رہا تھا۔ وہ اس زعم باطل میں مبتلا تھا کہ عدل کے معنی تمام لوگوں کے درمیان مساوات کے ہیں اور یہ نہیں سوچتا تھا کہ بعض لوگوں میں ایسی خصوصیات پائی جاتی ہیں جو فرق مدارج کی موجب ہوتی ہیں اور ان میں تالیف قلب کے مصالح کو ملحوظ رکھنا ضروری ہوتا ہے۔
یہ معلوم کر کے آپ اس نتیجے پر پہنچے کہ یہ ان میں پہلا آدمی ہے۔ جب وہ رسول کریمؐ کی موجودگی میں آپؐ کی سنت کو ہدف تنقید بنا رہا ہے تو آپؐ کی وفات کے بعد آپؐ کی سنت اور خلفائے راشدین پر سخت طعنہ زنی کرے گا۔
خوارج کے افکار و عقائد
خوارج کے افکار و معتقدات پر تبصرہ کرنے والوں کا قول ہے کہ ان کے نزدیک انبیاء سے کبائر کا صدور جائز ہے۔ یہی وجہ ہے کہ حدیث متواتر بھی اگر قرآن کے ظاہری مفہوم کے خلاف ہو تو وہ اسے لائق اعتنا نہیں گردانتے۔ اسی لیے وہ زانی کو سنگسار کرنے کے قائل نہیں وہ چور کا ہاتھ کاٹ دیتے ہیں خواہ مسروقہ مال کم ہو یا زیادہ۔ وہ اس زعم
؎ خوارج کے نزدیک زانی کی سزا ایک سو کوڑے ہے، خواہ وہ شادی شدہ یا غیر شادی شدہ۔ اس لیے کہ قرآن میں اسی سزا کا ذکر کیا گیا ہے۔ مسروقہ مال قلیل ہو یا کثیر وہ چور کا ہاتھ کاٹ ڈالتے ہیں۔ اس لیے کہ سنت نے قطع ید کی حد مقرر کی ہے مگر قرآن نے کوئی حد مقرر نہیں کی ۔
(غلام احمد حریری) ۸۹ - ۵ - ۱۰
و باطل ، کا شعار ہیں۔ کہ حجت صرف قرآن ہے۔ اسی اصل فاسد کو اساس قرار دیتے ہوئے وہ سنت رسول کو حجت نہیں سمجھتے ۔
خوارج کے عذر گھڑنے والے کہتے ہیں کہ وہ نقل متواتر پر معترض نہیں ہوتے، وہ نقل کا اثبات اسی اصل پر کرتے ہیں۔ اسی لیے رسول کریمؐ نے اُن کے بارے میں فرمایا کہ " وہ قرآن تو پڑھتے ہیں مگر وہ اُن کے گلے سے نیچے نہیں اترتا " مطلب یہ ہے کہ وہ قرآن کی تفسیر اپنی رائے سے کرتے ہیں ، اس لئے معانی پر سنت سے استدلال نہیں کرتے ، وہ قرآن کو اپنے دل سے نہیں سمجھتے صرف زبان کے ساتھ اس کی تلاوت کرتے ہیں ۔
فرقہ ہائے خوارج
اس ضمن میں تحقیق یہ ہے کہ خوارج کی مختلف اقسام ہیں۔ اوپر جو کچھ بیان کیا گیا وہ خوارج کے ایک فرقہ کی رائے ہے، خوارج کا ایک گروہ راویوں کی تکذیب کرتا ہے اور ایک گروہ اس کے علم سے بالکل بے بہرہ ہے۔ جب کہ اُن کے ایک گروہ کی رائے یہ ہے کہ جو چیز قرآن میں مذکور نہیں وہ مخلوقات پر حجت نہیں ہے۔ یا تو اس لیے کہ وہ منسوخ ہے یا رسول کے ساتھ مخصوص ہے یا علاوہ ازیں ۔ اسی طرح جو ذکر کیا گیا کہ انبیاء سے کبائر کا صدور ممکن ہے ، تو یہ ان کے ایک گروہ کا خیال ہے ۔
بہر کیف خوارج میں سے جس کا اعتقاد یہ ہے کہ نبی مال کی تقسیم میں ظلم کرتا ہے اور وہ اللہ کے حکم سے اس طرح کرتا ہے تو وہ رسول کریمؐ کی تکذیب کرتا ہے اور جو شخص یہ گمان کرتا ہے کہ نبی فیصلہ کرنے یا تقسیم میں ظلم کا ارتکاب کرتا ہے تو اس کا دعویٰ یہ ہے کہ نبی جائر (ظالم اور بے انصاف) ہوتا ہے اور اس کا اتباع واجب نہیں ہے نیز یہ کہ اُس کی رسالت ، خبر ، امانت ، وجوب اطاعت ، اور اس کے قول وفعل میں زوال حرج پر مشتمل ہے وہ اس کے عین برعکس ہے کیوں کہ نبی اللہ کی طرف سے یہ بات پہنچاتا ہے کہ اللہ نے اس کی اطاعت شعاری اور فرماں برداری کو واجب قرار دیا ہے اور یہ کہ نبی کسی پر ظلم وجور نہیں کرتا۔ جو شخص اس میں طعنہ زنی کرتا ہے وہ نبی کی تبلیغ میں طعنہ زنی کا مرتکب ہوتا ہے اور یہ طعن فی الرسالۃ ہے ۔ اسی بیان سے مندرجہ
ذیل حدیث کی صحت ثابت ہوتی ہے ۔ آپؐ نے فرمایا : " اگر میں نے عدل نہ کیا تو اور کون عدل کرے گا ؟ اگر میں نے عدل نہ کیا تو پھر تم نہایت گھاٹے اور خسارے میں رہے "
اس لیے کہ طعنہ زنی کرنے والا کہتا ہے کہ " آپ اللہ کے رسول ہیں ، آپ کی تصدیق اور اطاعت اس پر واجب ہے " اور جب وہ یہ کہے کہ اس نے عدل نہیں کیا تو اس کے معنی یہ ہیں کہ اس نے ایسے شخص کی تصدیق کی جو عادل اور امین نہیں تھا اور جو ایسے شخص کی اتباع کرے تو وہ خائب و خاسر ہے ۔ جس طرح اللہ تعالیٰ نے فرمایا " مِنَ الْأَخْسَرِينَ أَعْمَالًا " نیز یہ کہ جو شخص مال کے بارے میں امین نہیں ہے تو اس سے بڑی چیزوں کے بارے میں اُسے کیوں کر امین تصوّر کیا جاسکتا ہے ؟
رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : " کیا تم مجھے امین نہیں سمجھتے ، حالانکہ میں آسمان والوں کا امین ہوں ، میرے پاس صبح و شام آسمان کی خبریں آتی ہیں "
جب اس شخص نے آپؐ سے کہا کہ " اللہ سے ڈرو " تو رسولِ کریمؐ نے فرمایا : " کیا میں تمام کائناتِ ارضی پر رہنے والوں سے زیادہ اس بات کا حقدار نہیں کہ میں اللہ سے ڈروں ؟
اس لیے کہ رسولؐ نے اللہ کے اس پیغام کو لوگوں تک پہنچا دیا : " وَمَا آتَاكُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوهُ ( اور رسول جو کچھ تمہیں دے دے لو اور وَمَا نَهَاكُمْ عَنْهُ فَانْتَهُوا " جس چیز سے تمہیں منع کرے اس سے (الحشر - ۷) باز رہو۔
اس آیت کے شروع میں فرمایا : "مَا أَفَاءَ اللَّهُ عَلَى رَسُولِهِ مِنْ أَهْلِ ( جو مال خدا نے اپنے پیغمبر کو دیہات والوں الْقُرَى فَلِلَّهِ وَلِلرَّسُولِ " (الحشر - ۷) سے دلوایا ہے وہ خدا کے اور پیغمبر کے لیے ہے )
اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایا کہ جس مالِ غنیمت سے منع فرمایا گیا، اس سے باز رہنا ہم پر لازم ہے۔ اس بناء پر واجب ہے کہ رسولِ کریمؐ سب اہلِ زمین سے اس بات کے زیادہ مستحق ہیں کہ اللہ سے ڈریں۔ اگر یہ بات نہ ہوتی تو آپؐ کی اور دوسروں کی اطاعت یا تو مساوی ہوتی یا صرف دوسروں کی اطاعت کی جاتی اور آپؐ کی نہیں اور یہ اس صورت میں جب کہ آپؐ اس سے کم درجہ ہوتے اور یہ بات آپ کی لائی ہوئی شریعت کے ساتھ کفر کے مترادف ہے اور یہ بالکل واضح ہے۔
رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ قول کہ ”انسانوں اور حیوانوں سے بدتر“ نیز یہ ارشاد کہ ”آسمان کی چھت کے نیچے بدترین مقتول“ اس بارے میں نص ہے کہ وہ منافقین میں سے ہیں۔
اس لیے کہ منافق کفار سے بھی بدتر ہیں، جیسا کہ بیان کیا گیا ہے کہ آیت کریمہ : ”وَمِنْهُمْ مَّنْ يَّلْمِزُكَ فِی (اور اُن میں سے وہ بھی ہیں جو صدقات الصَّدَقَاتِ“ (التوبۃ - ۵۸) کے بارے میں تجھے طعن دیتے ہیں) منافقین کے بارے میں نازل ہوئی۔ ابوامامہ کی روایت میں ہے کہ مندرجہ ذیل آیت منافقین کے بارے میں نازل ہوئی : ”أَكَفَرْتُمْ بَعْدَ إِيْمَانِكُمْ“ (کیا تم نے ایمان لانے کے بعد کفر کیا؟) (آل عمران - ۱۰۶) اور اس میں کوئی اختلاف نہیں ہے، اس کی وجہ یہ تھی کہ ان لوگوں نے رسول کریمؐ کو موردِ طعن بنایا اور آپؐ کی عیب چینی کی ، جس طرح ان طعنہ دینے والوں نے کیا تھا۔ جب ان احادیث صحیحہ کی روشنی میں ثابت ہوا کہ رسولِ کریمؐ نے اُن لوگوں کے قتل کا حکم دیا جو اس طعنہ زنی کرنے والے شخص کی جنس میں سے تھے، خواہ وہ کہیں بھی ہوں۔ آپ نے یہ بھی بتایا کہ وہ تمام مخلوقات سے بدتر اور منافقین میں سے ہیں۔ لہٰذا یہ اس امر کی دلیل ہے کہ شُعبی کی روایت کا مفہوم درست ہے کہ دراصل یہ قتل کے مستحق ہیں۔
اب یہ بات باقی رہی کہ احادیث صحیحہ میں آیا ہے کہ رسولِ کریمؐ نے اس طعنہ زنی کے قتل سے منع کیا تھا۔ ہم اس کے جواب میں کہتے ہیں کہ شُعبی کی روایات کا تعلق اس
زمانہ سے ہے جب پہلے پہل ان کا ظہور ہوا۔ اس لیے قرین عقل وقیاس یہ بات ہے ۔ — واللہ اعلم — کہ پہلے آپ نے ان کو قتل کرنے کا حکم بدیں خیال دیا ہو کہ ان کا انقطاع ہو جائے گا ۔ اگرچہ آپ اکثر منافقین کو معاف کر دیا کرتے تھے، اس لیے کہ آپ کو یہ اندیشہ دامنگیر تھا کہ آپ کے بعد اُمت میں فساد پیدا نہ ہو جائے۔ اسی لیے آپؐ نے فرمایا : ”اگر میں اسے قتل کردوں تو مجھے امید ہے کہ وہ شخص اُن میں سے اول بھی ہوگا اور آخر بھی“ ۔ اور اس کے قتل میں جو عظیم مصلحت پائی جاتی ہے وہ اُس فتنے سے کہیں بڑھ کر ہے جو اس کے قتل سے بعض لوگوں کے اسلام سے نفرت کرنے کی صورت میں پیدا ہو سکتا ہے۔
چونکہ وہ شخص مل نہ سکا اور اس کا قتل دشوار تھا اور رسول کریمؐ کے پاس اللہ کا عطا کردہ علم تھا تو گویا آپ کو معلوم تھا کہ ان کا نکلنا ضروری ہے اور ان کے استیصال سے کچھ فائدہ نہیں۔ اسی طرح آپ جانتے تھے کہ دجال لامحالہ نکلے گا اس لیے آپ نے حضرت عمرؓ کو ابن صیاد کے قتل کرنے سے روک دیا۔ رسول کریمؐ نے فرمایا :
”اگر یہ ابن صیاد ہے تو تم اس پر قابو نہ پاسکو گے، اور اگر یہ وہ نہیں ہے تو اس کو قتل کرنے کا کیا فائدہ ؟ پھر بھی بات اسی امر کی موجب ہوئی کہ آپ نے ذوالخویصرہ کو قتل کرنے سے منع فرمایا، جب اس نے حنین کے غنائم کی تقسیم میں طعن کیا تھا۔
جب حضرت عمرؓ نے کہا ”مجھے اجازت دیجیے کہ اس کی گردن اُڑا دوں“ فرمایا ”اُسے چھوڑ دو، اس کے چند رفقاء ہیں کہ اپنی نماز کو تم ان کی نماز کے مقابلے میں اور اپنے روزوں کو ان کے روزوں کے مقابلے میں حقیر تصور کرو گے۔ یہ دین سے اس طرح نکل جاتے ہیں جس طرح تیر اپنے نشانے سے نکل جاتا ہے، یہاں تک کہ آپ نے فرمایا ”یہ اس وقت نکلیں گے جب لوگ چھوڑ کر چلے جائیں گے“۔ آپؐ نے اس کو چھوڑنے کا حکم اس لیے دیا کہ اس کے چند ساتھی ہیں جو بعد میں خروج کریں گے ۔
اس حدیث سے مستفاد ہوا کہ ان کے ظہور پذیر ہونے کے علم نے آپ کو ان کے قتل سے روکا۔ مبادا لوگ باتیں کریں کہ محمدؐ اپنے اُن اصحاب کو قتل کرتے ہیں جو ان کے ساتھ نماز پڑھتے ہیں۔ اس طرح بہت سے لوگوں کے دل اسلام سے نفرت کرنے
لگیں گے اور اس میں کوئی عصمت نہیں پائی جاتی جس سے اس فساد کا ازالہ ہوتا ہو بایں ہمہ آپ اس بات کے مجاز تھے کہ ایذا دینے والے کو مطلقاً معاف کر دیں۔ فداہ ابی وامی ۔ بعض احادیث میں (عدم قتل کی وجہ ) آپ نے یہ بیان فرمائی کہ وہ نماز پڑھتا ہے اور بعض میں فرمایا ” لوگ یہ باتیں نہ کریں کہ محمد اپنے اصحاب کو قتل کر دیتے ہیں ۔ بعض احادیث میں فرمایا کہ اس کے چند اصحاب ظہور پذیر ہونے والے ہیں۔ ان احادیث کا تذکرہ آگے آئے گا اگرچہ یہاں بھی اُن کا ذکر بے محل نہیں ہوگا۔
ان احادیث سے واضح ہوا کہ جو شخص آپ کے فیصلہ یا مالِ غنیمت کی تقسیم پر معترض ہو تو یہ واجب القتل ہے۔ جب کہ آپ نے اپنی زندگی میں اور بعد از وفات اس کا حکم دیا۔ مگر آپ نے اپنی زندگی میں طعن کرنے والوں کو معاف فرما دیا۔ جس طرح آپ ایذا دینے والے منافقین کو معاف کر دیا کرتے تھے ، جب آپ کو پتہ چلا کہ وہ امت میں نمودار ہونے والے ہیں۔ نیز یہ کہ اس آدمی کے قتل میں زیادہ فائدہ نہیں۔ بلکہ اس کے قتل میں وہی خرابی ہے جو باقی منافقین کے قتل میں پائی جاتی ہے یا اس سے بھی زیادہ ۔
اس حدیث کا مؤیّد مشہور حدیث میں حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کا قول ہے۔ اور وہ یہ کہ جب ابو برزہ نے اُس آدمی کو قتل کرنے کا ارادہ کیا جس نے حضرت ابو بکرؓ کی شان میں گستاخی کی تھی اور ابو بکرؓ اس پر ناراض ہوئے تھے۔ جب ابو برزہ نے کہا کہ کیا میں اسے قتل کر دوں ؟ حضرت ابو بکرؓ نے فرمایا : رسولؐ اللہ کے بعد کسی کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ کسی کو قتل کرے۔ حسبِ سابق یہ اس امر کی دلیل ہے کہ حضرت ابوبکرؓ صدیق جانتے تھے کہ رسولِ کریمؐ جس کو قتل کرنے کا حکم دیں گے اور اس شخص نے آپ کو ستایا ہو، تو آپ کے حکم کی تعمیل کی جائے گی۔ جب شعبی کی روایت میں یہ الفاظ ہیں کہ رسولِ کریمؐ نے حضرت ابو بکرؓ کو اس شخص کے قتل کا حکم دیا تھا جس نے طعن کر کے آپ کو ناراض کیا تھا۔ تو گویا یہ واقعہ حضرت ابو بکرؓ کے قول کی دلیل ہے اور حضرت ابو بکرؓ کا قول اس کے معنی کی صحّت کی دلیل ہے۔
صحابہ کرام خوارج کو قتل کر دیا کرتے تھے
اور جس سے معلوم
ہوتا ہے کہ صحابہ کو جس شخص کے بارے میں علم ہوتا کہ یہ خارجی ہے تو وہ اُسے قتل کر ڈالتے تھے، اگرچہ وہ تنہا ہو، صبیغ بن عسل کی مشہور روایت ہے۔ ابوعثمان النہدی کہتے ہیں کہ قبیلہ بنی یربوع یا بنی تمیم کے ایک آدمی نے حضرت عمرؓ سے پوچھا کہ ”الذاریات، والمرسلات والنازعات کے کیا معنی ہیں؟ یا ان میں سے کسی ایک کے بارے میں پوچھا۔ حضرت عمرؓ نے فرمایا ”اپنے سر سے کپڑا اتارو“ جب دیکھا تو اس کے بال کانوں تک لمبے تھے فرمایا بخدا اگر میں تمہارے بال منڈے ہوئے دیکھتا تو تمہارا سر اڑا دیتا۔“ شعبی کہتے ہیں پھر حضرت عمرؓ نے اہل بصرہ کے نام خط لکھا یا کہا کہ ہمیں خط لکھا جس میں تحریر کیا کہ اس کے پاس نہ بیٹھا کرو“۔ راوی کہتا ہے جب حضرت عمرؓ تشریف لاتے اور ہماری تعداد ایک سو ہوتی تو ہم الگ الگ ہو جاتے۔ اس کو بغوی اور دیگر محدثین نے بسند صحیح روایت کیا ہے۔
دیکھیے حضرت عمر فاروقؓ مہاجرین و انصار کے درمیان قسم کھا کر کہتے ہیں کہ اگر میں وہ علامت دیکھ لوں گا جو رسول کریم نے خوارج کے لیے بیان کی تھی تو اُس کی گردن اڑا دوں گا حالانکہ انہی صحابہ کو آپ نے ذُوالخویصرہ کے قتل سے منع کیا تھا۔ اُسے معلوم ہوا کہ اس نے رسول کریم کے اس قول ”یہاں یا تو انہیں قتل کر دو“ کا مفہوم مطلق قتل سمجھا ہے، نیز یہ کہ لوگوں کو معاف اس وقت کیا جاتا تھا جب اسلام کمزور تھا اور تالیف قلب کی ضرورت تھی
سونے کے ٹکڑے کی تقسیم پر قریش کی ناراضگی
(اگر معترض کہے
کہ جب ان
طاعنین کا قول مبنی بر نفاق اور موجب کفر ہے جس سے خون حلال ہو جاتا ہے، اور اس کو شر الخلق کہا جاتا ہے تو پھر ان کے اور قریش و انصار کے ناراض ہونے میں کیا فرق ہوا؟ چنانچہ ابو سعیدؓ کی صحیح روایت میں آیا ہے کہ جب رسول کریم نے سونے کا ٹکڑا چار آدمیوں میں تقسیم کر دیا تو قریش اور انصار ناراض ہو گئے، اور کہا کہ آپ یہ مال نجد کے سرداروں کو دیتے ہیں اور ہمیں نظر انداز کرتے ہیں؟ رسول کریم نے فرمایا ”میں ان کی تالیف قلب کرتا ہوں“۔ اندریں اثنا ایک شخص آیا جس کی آنکھیں اندر کو دھنسی ہوئی تھیں اور پھر
طعن کرنے والے کا واقعہ کا بیان کیا ۔
حنین کے مالِ غنیمت کی تقسیم پر انصار کی خفگی
صحیح مسلم کی ایک
روایت میں ہے
کہ صحابہ میں سے ایک شخص نے کہا ہم ان لوگوں سے اس کے زیادہ مستحق تھے ۔ رسولِ کریمؐ تک یہ بات پہنچی تو آپؐ نے فرمایا "کیا تم مجھے امین نہیں سمجھتے، حالانکہ میں آسمان والوں کا امین ہوں ۔ میرے پاس صبح و شام آسمان کی خبریں آتی ہیں" ۔ یہ سُن کر ایک آدمی کھڑا ہوا جس کی آنکھیں اندر کو دھنسی ہوئی تھیں، اس نے حنین کے مالِ غنیمت کی تقسیم پر انصار کی خفگی کا ذکر کیا ۔ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ انصار کے کچھ لوگوں نے اس وقت کہا —— جب اللہ نے اپنے رسولؐ کو قبیلہ ہوازن کے اموالِ لڑے بغیر عطا کر دیئے اور رسولِ کریمؐ قریش کے بعض آدمیوں کو ایک سو اونٹ تک دینے لگے —— اللہ اپنے رسولؐ کو معاف فرمائے وہ قریش کو دیتے اور ہمیں محروم رکھتے ہیں، حالانکہ ابھی تک ہماری تلواروں سے قریش کا خون ٹپکتا ہے ۔
ایک روایت میں ہے کہ جب مکہ فتح ہوا تو آپؐ نے مالِ غنیمت قریش میں تقسیم کر دیا ۔ انصار نے کہا "یہ بڑی عجیب بات ہے کہ ہماری تلواروں سے قریش کا خون ٹپکتا ہے ۔ اور ہمارا مالِ غنیمت ان میں بانٹا جاتا ہے" ۔ ایک روایت میں ہے کہ انصار نے کہا "جب تکلیف ہوتی ہے تو ہمیں بلایا جاتا ہے ۔ اور مالِ غنیمت دوسروں کے حوالے کر دیا جاتا ہے" ۔ حضرت انسؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسولِ کریمؐ کو ان کی باتوں سے آگاہ کیا ۔ آپؐ نے انصار کو بلا کر چمڑے کے ایک خیمے میں جمع کیا اور دوسرے کسی کو نہ بلایا جب انصار جمع ہوئے تو رسولِ کریمؐ ان کے پاس آئے اور فرمایا "وہ کیا بات ہے جو تمہاری نسبت مجھے پہنچی ہے؟" انصار میں جو سمجھ دار تھے انہوں نے کہا "یا رسول اللہ ! ہمارے اصحاب عقل و دانش نے تو کچھ نہیں کہا ۔ البتہ نوجوانوں نے کہا ہے کہ اللہ رسولِ کریمؐ کو معاف فرمائے، قریش کو دیتے اور ہمیں محروم رکھتے ہیں اور ابھی تک ہماری تلواروں سے خون ٹپکتا ہے" رسولِ کریمؐ نے فرمایا :
سارا واقعہ کا بیان کیا ۔
مالِ غنیمت کی تقسیم پر انصار کی خفگی
صحیح مسلم کی ایک روایت میں ہے ایک شخص نے کہا ہم ان لوگوں سے اس کے زیادہ مستحق تھے ۔ رسول کریمؐ کو بتایا گیا تو آپؐ نے فرمایا ”کیا تم مجھے امین نہیں سمجھتے ، حالانکہ میں آسمان والوں کا امین ہوں ، میرے پاس صبح و شام آسمان کی خبریں آتی ہیں“ ۔ یہ سُن کر ایک آدمی کھڑا ہو گیا جس کی آنکھیں اندر کو دھنسی ہوئی تھیں ، اس نے حنین کے مالِ غنیمت کی تقسیم پر اعتراض کیا ۔ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ انصار کے کچھ لوگوں نے اس وقت کہا جب اللہ نے اپنے رسول کو قبیلہ ہوازن کے اموال دیے ، رسولِ کریمؐ قریش کے بعض آدمیوں کو ایک سو اونٹ تک دینے لگے ۔ انصار نے کہا اللہ رسولؐ کو معاف فرمائے وہ قریش کو دیتے اور ہمیں محروم رکھتے ہیں، حالانکہ ہماری تلواروں سے قریش کا خون ٹپکتا ہے ۔
ایک روایت میں ہے کہ جب مکہ فتح ہوا تو آپ نے مالِ غنیمت قریش میں تقسیم کر دیا ۔ انصار نے کہا ”یہ بڑی عجیب بات ہے کہ ہماری تلواروں سے قریش کا خون ٹپکتا ہے اور ہماری غنیمت ان میں بانٹا جاتا ہے“ ۔ ایک روایت میں ہے کہ انصار میں یہ بات کثرت سے ہونے لگی کہ ہمیں بلایا جاتا ہے ۔ اور مالِ غنیمت دوسروں کے حوالے کیا جاتا ہے ۔ حضرت انسؓ کہتے ہیں کہ میں نے رسول کریمؐ کو ان کی باتوں سے آگاہ کیا ۔ آپ نے انصار کو بلا کر خیمے کے ایک حصے میں جمع کیا اور دوسرے کسی کو نہ بلایا جب وہ جمع ہو گئے تو رسولِ کریمؐ اُن کے پاس آئے اور فرمایا ”وہ کیا بات ہے جو تمہاری طرف سے پہنچی ہے ؟“ انصار میں جو سمجھ دار تھے انہوں نے کہا ”یا رسول اللہ ! ہمارے معمر لوگوں نے تو کچھ نہیں کہا ۔ البتہ نوجوانوں نے کہا ہے کہ اللہ رسول کریمؐ کو معاف کرے قریش کو دیتے اور ہمیں محروم رکھتے ہیں اور ابھی تک ہماری تلواروں سے خون ٹپکتا ہے“ رسولِ کریمؐ نے فرمایا :
”میں اُن لوگوں کو دیتا ہوں جو نئے نئے اسلام لائے ہیں، میرا مطلب ان کی تالیفِ قلب ہے ۔ کیا تمہیں یہ بات پسند نہیں کہ لوگ تو مال لے کر اپنے گھروں کو جائیں اور تم اپنے آدمیوں کے پاس رسول اللہ کو لے کر جاؤ ۔ جو چیز تم لے کر جاؤ گے وہ اس سے بہتر ہے جو وہ لے کر جائیں گے“ انصار نے کہا ”کیوں نہیں یا رسول اللہ ! ہم راضی ہیں“ ۔ رسولِ کریمؐ نے فرمایا ”میرے بعد تم پر اور لوگوں کو ترجیح دی جائے گی، پس صبر کرتے رہنا یہاں تک کہ تم اللہ اور اس کے رسولؐ کو حوض پر ملو“ انصار نے کہا : ”ہم صبر کریں گے“ !
قریش و انصار کے غصہ اور خوارج کے غصے میں فرق
کہا گیا ہے کہ قریش، انصار اور دوسرے قبائل کا کوئی مومن یہ نہیں سمجھتا تھا کہ رسولِ کریمؐ نے ظلم و جور سے کام لیا ہے اور نہ ہی اس کو آپؐ کے لیے جائز سمجھتے تھے ۔ وہ آپ پر یہ تہمت بھی نہیں باندھتے تھے کہ مال کی تقسیم میں آپ نے خواہشِ نفس کی پیروی کی ہے یا آپ بادشاہت چاہتے ہیں یا یہ کہ آپ نے مال کی تقسیم میں رضائے الٰہی کو ملحوظ نہیں رکھا ۔ اور اس قسم کی باتیں جو منافق کہتے تھے ۔ دونوں قبائل (اوس و خزرج) کے دانشمند لوگوں نے —— اور نہ عوام نے —— سرے سے کوئی بات ہی نہ کی ۔ بلکہ اللہ اور اس کے رسول نے جو کچھ دیا وہ اس پر راضی ہو گئے ۔ انہوں نے کہا ”اللہ ہمارے لیے کافی ہے ، اللہ اور اس کا رسول ہم پر فضل فرمائے گا ۔ جیسا کہ انصار کے عقل مند لوگوں نے کہا تھا کہ ”ہمارے دانش مند لوگوں نے تو اس ضمن میں کچھ نہیں کہا ، اور جنہوں نے گفتگو کی ہے وہ کم عمر ہیں“ یعنی اُن کا خیال یہ تھا کہ رسولِ کریمؐ دینی مصالح کے تحت مال تقسیم کرتے ہیں اور مال کو اسی جگہ خرچ کرتے ہیں جو جگہ دوسری جگہوں کی نسبت اعلیٰ و اولیٰ ہوتی ہے اور یہ وہ بات ہے جس میں ان کے نزدیک شک و شبہ کی کوئی گنجائش نہیں ہے ۔
باقی رہی یہ بات کہ عصمت کو کیسے معلوم کیا جائے، تو کبھی اس کا علم وحی کے ذریعے حاصل ہوتا ہے اور کبھی اجتہاد سے ۔ وہ یہ نہیں سمجھتے تھے کہ رسولِ کریمؐ خود ایسا کرتے
ہیں بلکہ ان کے نزدیک آپ اس میں وحی کی پیروی کرتے تھے اور جو شخص اس کو ناپسند کرتا یا اس پر اعتراض کرتا تھا وہ کافر اور رسول کریمؐ کی تکذیب کرنے والا ہے ۔ وہ اس بات کو جائز سمجھتے تھے کہ آپ کی تقسیم اجتہاد پر مبنی ہو۔ جو دنیوی امور دینی مصالح سے متعلق ہوں اُن کے بارے میں وہ آپ کی طرف مراجعت کرتے تھے یہ ایسا باب ہے کہ پوری امت کے نزدیک اس میں آپ اپنے اجتہاد پر عمل کر سکتے ہیں۔ بعض اوقات صحابہ کسی امر کے بارے میں آپ سے سوال کرتے، مگر یہ سوال بحث و نزاع کے لیے نہیں ہوتا تھا، بلکہ اس لیے کہ اُس کی علت معلوم کریں اور آپ کی سنت کا فہم و ادراک حاصل کریں ۔
صحابہ کن امور میں رسول کریمؐ
کی طرف مراجعت کرتے تھے
صحابہ کی مراجعت دو وجوہ سے تجاوز نہیں کرتی تھی۔ (۱) اگر وہ معاملہ ان سیاسی امور میں سے ہوتا جن میں اجتہاد کی گنجائش ہوتی، تو صحابہ آپ کی طرف اس لیے مراجعت فرماتے تاکہ آپ اس پر پوری طرح غور و فکر کر لیں (۲) مراجعت کی دوسری وجہ یہ تھی کہ ان کے علم و ایمان میں اضافہ ہو اور اُن پر غور و فکر کی راہ کھل جائے ۔
حباب بن المنذر کی مراجعت
جب رسول اکرم صلے اللہ علیہ وسلم غزوۂ بدر میں ایک جگہ اترے تو حباب نے کہا یارسول اللہ ! یہ منزل آپ نے اللہ کے حکم سے پسند کی ہے اور ہم اس میں کسی تبدیلی کے مجاز نہیں یا حرب و ضرب کی چالوں کے پیش نظر آپ نے اسے اختیار کیا ہے؟ فرمایا یہ میری ذاتی رائے ہے اور میں نے اسے جنگی مصلحت کے پیش نظر اختیار کیا ہے ۔ حباب نے کہا جنگی مصلحت کے لحاظ سے یہ جگہ مناسب نہیں ۔ چنانچہ رسول کریمؐ نے ان کی رائے کو قبول کیا اور دوسری جگہ منتقل ہو گئے ۔
سعد بن معاذ کی رسول کریمؐ سے مشاورت
غزوۂ خندق والے سال جب رسول کریمؐ نے
کے نزدیک آپ اس میں وحی کی پیروی کرتے تھے اور جو شخص اس کو ناپسند پر اعتراض کرتا تھا وہ کافر اور رسول کریم کی تکذیب کرنے والا ہے ۔ س بات کو جائز سمجھتے تھے ۔ کہ آپ کی تقسیم اجتہاد پر مبنی ہو۔ جو دنیوی امور سے متعلق ہوں اُن کے بارے میں وہ آپ کی طرف مراجعت کرتے تھے ہے کہ پوری امت کے نزدیک اس میں آپ اپنے اجتہاد پر عمل کر سکتے اوقات صحابہ کسی امر کے بارے میں آپ سے سوال کرتے ، مگر یہ سوال بحث و نہیں ہوتا تھا، بلکہ اس لیے کہ اُس کی حکمت معلوم کریں اور آپ کی سنت حاصل کریں ۔
امور میں رسولِ کریم مراجعت کرتے تھے
صحابہ کی مراجعت دو وجوہ سے تجاوز نہیں کرتی تھی۔ (۱) اگر وہ معاملہ ان سیاسی امور میں سے ہوتا جن میں اجتہاد کی گنجائش آپ کی طرف اس لیے مراجعت فرماتے تاکہ آپ اس پر پوری طرح یا (۲) مراجعت کی دوسری وجہ یہ تھی کہ ان کے علم و ایمان میں اضافہ ہو اور ر کی راہ کھل جائے ۔
ن المنذر کی مراجعت
جب رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم غزوہ بدر میں ایک جگہ اترے تو حباب نے کہا یہ منزل آپ نے اللہ کے حکم سے پسند کی ہے اور ہم اس میں کسی تبدیلی کے حرب و ضرب کی چالوں کے پیش نظر آپ نے اسے اختیار کیا ہے ؟ فرمایا یہ لئے ہے اور میں نے اسے جنگی مصلحت کے پیش نظر اختیار کیا ہے۔ حباب صلحت کے لحاظ سے یہ جگہ مناسب نہیں۔ چنانچہ رسول کریم نے ان کی رائے ر دوسری جگہ منتقل ہوگئے ۔
معاذ کی رسولِ کریم سے مشاورت
غزوہ خندق والے سال جب رسول کریم نے
قبیلہ غطفان سے اس شرط پر مصالحت کا ارادہ کیا کہ انہیں مدینہ کی اراضی کا نصف ثمرہ دیا جائے گا تو حضرت سعد بن معاذ انصار کے چند اشخاص کی معیت میں رسول کریم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہا یا رسول اللہ ! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں کیا آپ نے یہ فیصلہ اللہ کے حکم سے کیا ہے تو آمنا وصدقنا اور اگر آپ نے یہ فیصلہ اپنی رائے سے کیا ہے تو اس میں غور و فکر کی گنجائش ہے ؟ فرمایا ”میں نے یہ فیصلہ اپنی رائے سے کیا ہے ۔ میں نے دیکھا کہ قبیلہ غطفان والوں نے بہت سا مال دیا اور تمہارے لیے یہ قبائل جمع کیے اور تمہارا تو صرف ایک ہی قبیلہ ہے اس لیے میں نے چاہا کہ ان کے ذریعے ہم اپنا دفاع کریں اور انہیں کچھ دیدیں“۔ سعد نے کہا ” بخدا یا رسول اللہ ! جب ہم مشرک تھے تو یہ لوگ ہم سے نصف حصہ لینے کی امید نہیں رکھتے تھے “۔ ایک روایت میں یوں ہے کہ ”یہ لوگ مدینے کا پھل یا تو مہمان ہونے کی صورت میں کھاتے تھے یا ہم سے خریدتے تھے پھر آج یہ لوگ ہمارا پھل کیسے لے سکتے ہیں ، جب کہ اللہ ہمارے ساتھ ہے اور آپ بھی ہم میں موجود ہیں ۔ ہم انہیں کچھ نہیں دیں گے ۔ اور نہ ہی ان کی عزت افزائی کریں گے۔ پھر صلح نامہ لے کر اس پر تھوکا اور اسے پھینک دیا ۔
وہ ظنی امور جو دُنیوی معاملات کے ساتھ تعلق رکھتے ہیں تو اُن کے بارے میں فیصلہ وہی ہے جو آپ نے اس وقت کیا جب آپ سے نر کھجور کا بُور مادہ کھجور پر ڈالنے کے بارے میں سوال کیا گیا ۔ آپ نے فرمایا ”یہ محض میرا ظن تھا اور ظن و گمان کی بنا پر مجھ پر گرفت نہیں ہونی چاہیے ۔ جب اللہ کی طرف سے میں تمہیں کسی چیز کا حکم دوں تو اس کی تعمیل کیجیے ، اس لیے کہ میں اللہ پر جھوٹ نہیں باندھتا“ (صحیح مسلم) دوسری روایت میں یوں فرمایا کہ ”دنیوی امور کو تم مجھ سے بہتر جانتے ہو اور جو تمہارا دینی معاملہ ہو تو میں اس کا ذمہ دار ہوں“۔
حضرت سعد بن ابی وقاص کی آپ کی طرف مراجعت
(حضرت سعد بن) ابی وقاص رضی اللہ عنہ کی روایت بھی اسی باب سے تعلق رکھتی ہے حضرت سعد فرماتے ہیں
کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کی ایک جماعت کو کچھ مال دیا ۔ اس وقت میں بھی بیٹھا ہوا تھا ۔ آپ نے ان میں سے ایک آدمی کو کچھ نہ دیا ، حالانکہ وہ آدمی مجھے بہت عزیز تھا۔ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! آپ نے فلاں فلاں شخص کو دیا ، اور فلاں آدمی کو محروم رکھا ، حالانکہ وہ مومن ہے ۔ آپ نے فرمایا ” یوں کہو کہ وہ مسلم ہے “ حضرت سعدؓ نے یہ بات تین دفعہ دہرائی اور آپؐ نے وہی جواب دیا ۔ پھر فرمایا ” میں ایک آدمی کو کچھ دیتا ہوں — حالانکہ دوسرا آدمی مجھے عزیز تر ہوتا ہے مگر میں اسے کچھ نہیں دیتا — میں اس لیے دیتا ہوں کہ نہ دینے کی وجہ سے کہیں ، وہ شخص اوندھے منہ جہنم میں نہ جا گرے “
(صحیح بخاری و مسلم)
حضرت سعدؓ کا مقصد رسول کریم کو یاد دلانا تھا کہ فلاں شخص کو بھی دینا چاہیے یا یہ کہ اس شخص کو نہ دینے کی وجہ کیا ہے، جب کہ اس سے کم تر درجہ کے لوگوں کو دیا گیا ہے۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو دونوں باتوں کا جواب دیتے ہوئے فرمایا : ”کسی شخص کو مال صرف اس کے مومن ہونے کی وجہ سے نہیں دیا جاتا ۔ بلکہ میں دیتا بھی ہوں اور نہیں بھی دیتا ۔ اور جس کو نہیں دیتا بعض اوقات وہ مجھے عزیز تر ہوتا ہے ۔ اس لیے کہ میں جس کو دیتا ہوں اگر اس کو نہ دوں تو اس کے کافر ہونے کا اندیشہ ہوتا ہے لہٰذا میں اسے اس لیے دیتا ہوں تاکہ اس کا ایمان محفوظ ہو جائے اور وہ ان لوگوں کے زمرہ میں داخل نہ ہو جو اللہ کی عبادت ایک شرط پر کرتا ہے ۔ اور جس کو میں نہیں دیتا وہ یقین واطمینان کے اُس درجہ پر فائز ہوتا ہے جو اُسے دنیا سے بے نیاز کر دیتا ہے ایسا شخص مجھے عزیز تر اور میرے نزدیک افضل ہوتا ہے ۔
وہ اللہ اور اس کے رسول کی رضا کے ساتھ پختہ رہتا اور اپنا دنیوی حصہ دیکر اس کے عوض دینی حصہ لیتا ہے ۔ جس طرح ابو بکرؓ اور انصار وغیرہ کو ان کا حصہ دیا گیا۔ جب کہ نومسلم اور اہلِ نجد تو بکریاں اور اونٹ لے کر مدینہ گئے اور وہ (انصار) رسول کریمؐ کو اپنے ہمراہ لے گئے ۔ مزید برآں اگر اُن کو محض ایمان لانے کی بنا پر دیں تو پھر اس کی کیا دلیل ہے کہ یہ مومن ہے ۔ عین ممکن ہے کہ (وہ صرف ظاہری طور پر) اسلام لایا ہو اور
ایمان اس کے دل میں داخل نہ ہوا ہو زیادہ بہتر جانتے تھے کہ مومن کن خصوصـ اعتبار کا امکان ہو ۔
مؤلفتہ القلوب کو دینے کـ
بعض صحابہؓ کا آپؐ سے
ایک شخص نے کہا یا رسول اللہ ! آپ ۔ ہر ایک کو سو سو اُونٹ دیتے ہیں ۔ جـ کریمؐ نے فرمایا ” مجھے اُس ذات کی قسـ جسے آدمیوں سے ساری دنیا بھی بھر دلانے کے لیے میں نے اُن کو دیا ہے
انصار کے ذکر پر مشتمل حدیث میـ نے کہا ” ہم صرف یہ بات جاننے کے کریں گے ۔ اور اگر رسول اکرمؐ کی یـ اس سے یہ حقیقت اُبھر کر سامنے آ ہے رسول کریمؐ نے اپنے اجتہاد کے
وہ صرف یہ جاننا چاہتا تھا کہ جس کـ ایمان و جہاد میں برتری کے باوجود
سرسری نظر میں اس کو دیـ ہیں اور دوسروں کو بھی ۔ اور یہی صـ آپ سے مطالبہ کریں کہ ہماری دوسروں کو کیوں دیا یا ناراضگی ا رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فـ
ایمان اس کے دل میں داخل نہ ہوا ہو۔ اس لیے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سعدؓ سے زیادہ بہتر جانتے تھے کہ مومن کن خصوصیات کا حامل ہوتا ہے اور یہ وہاں ہے جہاں فرق و امتیاز کا امکان ہو ۔
ابن اسحاق نے محمد بن ابراہیم بن حارث سے جو کچھ روایت کیا ہے وہ بھی اسی قبیل سے ہے
مؤلفۃ القلوب کو دینے کے بارے میں
بعض صحابہ کا آپ کے ساتھ مشورہ
ایک شخص نے کہا یا رسول اللہ ! آپ نے عُیَیْنَہ بن الحصن اور اقرع بن حابس میں سے ہر ایک کو سو سو اونٹ دیئے ہیں ۔ جب کہ جُعَیل بن سراقہ الضمری کو کچھ بھی نہ دیا۔ رسول کریمؐ نے فرمایا ” مجھے اُس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اگر عُیَیْنَہ اور اَقرع جیسے آدمیوں سے ساری دنیا بھی بھر جائے تو جُعَیل ان سے بہتر ہے ۔ مگر اسلام کی ترغیب دلانے کے لیے میں نے اُن کو دیا ہے ۔ اور جُعَیل بن سراقہ کیلئے صرف اسلام کو کافی سمجھا ۔
انصار کے ذکر پر مشتمل حدیث میں بعض علمائے مغازی نے یہ اضافہ کیا ہے کہ انصار نے کہا ” ہم صرف یہ بات جاننے کے خواہاں ہیں کہ اگر یہ تقسیم اللہ کے حکم سے ہے تو ہم صبر کریں گے ۔ اور اگر رسول اکرمؐ کی رائے پر مبنی ہے تو ہم آپ سے استفسار کریں گے ، اس سے یہ حقیقت اُبھر کر سامنے آتی ہے کہ انصار میں سے بعض کا خیال یہ تھا کہ ممکن ہے رسول کریمؐ نے اپنے اجتہاد کے مطابق تقسیم کی ہو اور اس میں کوئی مصلحت پائی جاتی ہو وہ صرف یہ جاننا چاہتا تھا کہ جس کو آپ نے دیا اس میں کیا مصلحت تھی ؟ اور جس کو ایمان و جہاد میں برتری کے باوجود نہیں دیا اس میں کوئی راز مضمر تھا ،
سرسری نظر میں اس کو دینے کا موجب یہی ہے اور رسول کریمؐ اس کو بھی دیتے ہیں اور دوسروں کو بھی ۔ اور یہی معنی ہیں ان کے قول ” اِسْتَعْتَبْنَاهُ “ کے ۔ یعنی ہم آپ سے مطالبہ کریں کہ ہماری ناراضگی دور کریں یا تو اس کی وجہ بیان کر کے کہ دوسروں کو کیوں دیا یا ناراضگی اس طرح دور کریں گے کہ دوسروں کی طرح ہمیں بھی دینگے۔
رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
”کوئی شخص ایسا نہیں کہ جسے معذرت خواہی اللہ سے بڑھ کر محبوب ہو۔ اسی لیے اس نے بشارت دینے والے اور ڈرانے والے (انبیاء) مبعوث کیئے ۔“
اسی لیے رسول کریم نے چاہا کہ جو کچھ اس نے کیا اِس پر اُسے معذور قرار دیں ۔ لہٰذا اُن کے سامنے اسے کھول کر بیان کیا ۔ جب معاملہ کھل کر سامنے آیا تو صحابہ اس قدر روئے کہ ان کی داڑھیاں آنسوؤں سے بھیگ گئیں اور اس طرح راضی ہو گئے جس طرح راضی ہونا چاہیئے ۔
جو بات جمعیت صحابہ سے نقل کی گئی ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اُن کے خیال میں غنیمت کی تقسیم اجتہاد پر مبنی تھی اور وہ دوسروں کی نسبت مال کے زیادہ حقدار تھے اس لیے دوسروں کو دینے پر انہیں تعجب ہوا اور انہوں نے جاننا چاہا کہ کیا یہ تقسیم وحی پر مبنی تھی یا اجتہاد پر جو واجب الاتباع ہو۔ کیوں کہ مصلحت اسی میں مضمر تھی یا اس کی بنا اس اجتہاد پر رکھی گئی تھی جس کی موجودگی میں آپ دوسری بات پر بھی عمل کر سکتے ہیں جب کہ وہ زیادہ قرین مصلحت ہو۔ یا یہ کہ اس تقسیم کا تعلق اس صورت سے ہو جو ابھی ایک جگہ رک ٹھہری نہیں اور آپ اس تقسیم کے ذریعے اُسے ایک جگہ ٹھہراتے ہیں۔ اسی لیے صحابہؓ نے کہا کہ ”اللہ رسول کریم کو معاف فرمائے کہ قریش کو دیتے اور ہمیں محروم رکھتے ہیں۔ جب کہ ہنوز ہماری تلواروں سے قریش کا خون ٹپک رہا ہے اور ہمارا مال غنیمت ان میں بانٹ دیا جاتا ہے اور ایک روایت میں ہے کہ تکلیف کے وقت ہمیں پکارا جاتا ہے اور مال غنیمت دوسروں میں بانٹ دیا جاتا ہے ۔“
کیا یہ عطیہ جات مال غنیمت
سے تھے یا خمس میں سے
عطیہ جات میں لوگوں کا اختلاف ہے کہ آیا یہ نفس غنیمت میں سے تھے یا اس کے ۱/۵ میں سے؟ سعید بن ابراہیم اور
بن عتبہ سے مروی ہے کہ انہوں نے کہا عطیہ جات مال غنیمت سے الگ تھے بنا بریں رسول کریم نے ان کا حصہ مال غنیمت میں سے لے لیا تا کہ وہ خوش ہو جائیں ۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ رسول کریم کا ارادہ یہ تھا کہ مال غنیمت کے عوض انہیں علاقہ بحرین
جائیداد دی جاتے۔ انہوں نے انکار کیا بھائی بھی اسی قسم کی جاگیر لیں۔ یہی و کا وقت تھا۔ رسول کریم نے حضرت میں تجھے اتنا مال دوں گا۔ مگر تم جو کچھ کروں گا وہ اس کو مان لیں گے معلوم ہو کہ اگر میں اس کے مال میں کے مال میں سے دے سکتا ہے اگر چہ تابعین میں معروف تھا۔ مثلاً ابو نے فرمایا : میرا اور بنی ہاشم کا جو حصہ مانگ لیا تو اس میں کچھ مضائقہ
خمس کی تقسیم کیسے کی ج
کہتے ہیں کہ صحیح تر قول یہی ہے ۔
- (۱) ایک طریقہ یہ ہے کہ خمس کو
رحمۃ اللہ علیہ کا قول یہی ہے
- (۲) دوسرا قول یہ ہے کہ خمس کو
اسی کے قائل ہیں۔ جب خم نہ ہوں یا ہوں تو دولت ڈال دیا جائے ۔
یتامیٰ، مساکین اور مسافرا سے غنی ہو چکے تھے ۔ جب خیبر فتح نے انصار کو کھجوروں کے وہ با پر دیے تھے۔ اس طرح انصا
ایسا نہیں کہ جسے معذرت خواہی اللہ سے بڑھ کر محبوب ہو۔ اسی لیے اس انے اور ڈرانے والے (انبیاء) مبعوث کیئے :" ول کریمؐ نے چاہا کہ جو کچھ اس نے کیا اس پر اسے معذور قرار دیں ۔ لہٰذا ے کھول کر بیان کیا ۔ جب معاملہ کھل کر سامنے آیا تو صحابہؓ اس قدر روئے آنسوؤں سے بھیگ گئیں اور اس طرح راضی ہو گئے جس طرح راضی
صحابہؓ سے نقل کی گئی ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اُن کے خیال میں دینہ میں تھی اور وہ دوسروں کی نسبت مال کے زیادہ حقدار تھے اس پر انہیں تعجب ہوا اور انہوں نے جاننا چاہا کہ آیا یہ تقسیم وحی پر مبنی تھی یا اجتہاد ہو، کیوں کہ مصلحت اسی میں مضمر تھی یا اس کی بنا اس اجتہاد پر موجودگی نہیں آپ دوسری بات پر بھی عمل کر سکتے ہیں جب کہ وہ زیادہ یہ کہ اس تقسیم کا تعلق اس صورت سے ہو جو ابھی ایک جگہ رکی کھڑی یم کے ذریعے اُسے ایک جگہ ٹھہراتے ہیں ۔ اسی لیے صحابہؓ نے کہا کہ ومعاف فرمائے کہ قریش کو دیتے اور ہمیں محروم رکھتے ہیں، جب کہ وں سے قریش کا خون ٹپک رہا ہے اور ہمارا مال غنیمت ان میں بٹ روایت میں ہے کہ تکلیف کے وقت ہمیں پکارا جاتا ہے اور وں میں بانٹ دیا جاتا ہے "۔
ات مال غنیمت
یا خمس میں سے
عطیہ جات میں لوگوں کا اختلاف ہے کہ آیا یہ نفس غنیمت میں سے تھے یا اس کے ۱/۵ میں سے؟ سعد بن ابراہیمؒ اور ہے کہ انہوں نے عطیہ جات مال غنیمت سے الگ تھے بنا بریں عطیہ مال غنیمت میں سے لے لیا تاکہ وہ خوش ہو جائیں ۔ ہے کہ رسول کریمؐ کا ارادہ یہ تھا کہ مال غنیمت کے عوض انہیں علاقہ بحرین
جاگیر دی جائے ۔ انہوں نے انکار کیا اور کہا کہ ہم تب جاگیر لیں گے جب کہ ہمارے مہاجر بھائی بھی اسی قسم کی جاگیر لیں۔ یہی وجہ ہے کہ جب بحرین کا مال آیا تو اس وقت محتاج و فقیر باقی نہ تھا۔ رسول کریمؐ نے حضرت جابرؓ سے فرمایا تھا کہ جب بحرین کا مال آئے گا تو میں تجھے اتنا مال دوں گا۔ مگر تقسیم سے قبل آپؐ نے اس لیے اجازت نہ لی کہ میں جو کچھ کروں گا وہ اس کو مان لیں گے۔ اور جب کسی آدمی کو اپنے دوست کے بارے میں معلوم ہو کہ اگر میں اس کے مال میں سے کچھ لے لوں گا تو وہ خوش ہوگا۔ تو وہ دوست کے مال میں سے لے سکتا ہے اگرچہ زبانی اس سے اجازت نہ بھی لے۔ یہ طریقہ صحابہ و تابعین میں معروف تھا۔ مثلاً ایک آدمی نے باغوں کا کچھ حصہ رسول کریمؐ سے مانگا تھا۔ آپؐ نے فرمایا : میرا اور بنی ہاشم کا جو حصہ ہے وہ میں نے تجھے دیا۔ اور اگر انہوں نے اپنا حصہ مانگ لیا تو اس میں کچھ مضائقہ نہیں۔
خمس کی تقسیم کیسے کی جائے؟
موسٰی بن ابراہیم اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ وہ مال خمس میں سے تھا۔ واقدی کہتے ہیں کہ صحیح تر قول یہی ہے ۔
- (۱) ایک طریقہ یہ ہے کہ خمس کو امام اپنے اجتہاد کے مطابق تقسیم کرے۔ امام مالک
رحمۃ اللہ علیہ کا قول یہی ہے ۔
- (۲) دوسرا قول یہ ہے کہ خمس کو پانچ قسموں میں تقسیم کیا جائے ۔ امام شافعیؒ اور احمدؒ
اسی کے قائل ہیں۔ جب خمس کو پانچ قسموں میں بانٹا جائے اور یتیم، مسکین یا مسافر نہ ہوں یا ہوں تو دولتمند ہوں تو اُن کے حصوں کو "رسول" کے حصہ میں ڈال دیا جائے ۔
یتامیٰ، مساکین اور مسافر اس وقت اپنی قلت کے باوجود زکوٰۃ کا حصہ لینے کی وجہ سے غنی ہوچکے تھے۔ جب خیبر فتح ہوا اور اکثر اہل اسلام دولتمند ہوگئے تو رسول کریمؐ نے انصار کو کھجوروں کے وہ باغ واپس کر دیئے جو انصار نے مہاجرین کو عطیہ کے طور پر دیئے تھے ۔ اس طرح انصار کے پاس مہاجرین کو دیئے ہوئے عطیہ جات اور خیبر
اور دوسری جگہوں کا مال غنیمت جمع ہو گیا اور اس طرح وہ دولت مند ہو گئے ۔ یہی وجہ ہے کہ رسول کریم نے اپنے خطبے میں فرمایا تھا :
”کیا میں نے تمہیں تنگ دست نہیں پایا تھا اور میری وجہ سے اللہ نے تمہیں دولت مند بنا دیا“
رسول کریم خمس کا زیادہ حصہ سہم رسول کے مصارف میں خرچ کیا کرتے تھے۔ اس لیے کہ سب سے بڑی مصلحت اس قوم کی تالیف قلب ہے اور جن لوگوں کا یہ خیال ہے کہ خمس (خمس کا پانچواں حصہ ۲۵/۱) مؤلفة القلوب کے لیے کافی ہوگی تو وہ اس معاملہ سے آگاہ ہی نہیں ۔ اور جو لوگ اس واقعہ سے آگاہ و آشنا ہیں وہ جانتے ہیں کہ مال میں اتنی گنجائش نہ تھی ۔
کہا گیا ہے کہ مال غنیمت میں، چوبیس ہزار یا کم و بیش اونٹ تھے، چاندی چار ہزار اوقیہ اور بیس بکریاں ایک اونٹ کے برابر تھیں ۔ اس طرح کل بتیس ہزار اونٹ ہوئے اور مؤلفة القلوب کو اس سے دو گنے اونٹ دیئے گئے اور یہ وہ بات ہے جس میں اہلِ علم کے یہاں کوئی اختلاف نہیں پایا جاتا ۔ باقی رہا بعض قریش اور انصار کا قول سونے کے اس ٹکڑے کے بارے میں جو حضرت علیؓ نے یمن سے بھیجا تھا کہ کیا آپ اہل نجد کے سرداروں کو دیتے ہیں اور ہمیں نہیں دیتے تو وہ بھی اسی قبیل سے ہے ۔ انہوں نے یہ سوال اسی غرض سے کیا تھا ۔ اس کے دو جواب اور بھی ہیں :-
پہلا جواب : اس کا پہلا جواب یہ ہے کہ ایسی بات کہنے والوں میں سے کچھ تو منافق تھے جن کو قتل کرنا جائز ہے جس طرح ابن مسعودؓ نے ایک آدمی کو سنا کہ وہ حنین کے مال غنیمت کے بارے میں کہہ رہا تھا کہ یہ ایسی تقسیم ہے جس میں رضائے الٰہی کو ملحوظ نہیں رکھا گیا"۔
قریش اور انصار میں سے بہت منافق اقامت پذیر تھے۔ پس جو بات اس نے کہی اس کی کوئی وجہ جواز نہ تھی اور وہ ایک منافق سے صادر ہوا تھا ۔ اور جس آدمی کے بارے میں ابو سعیدؓ نے نقل کیا ہے کہ اس نے کہا ”ہم اس مال کے ان سے زیادہ حق دار تھے“ ابو سعید نے اس کو منافق نہیں کہا تھا ۔ واللہ اعلم ۔
دوسرا جواب : دوسرا جواب یہ ہے کہ اعتراض بعض اوقات گناہ و معصیت کا موجب ہوتا ہے اور اس کے مرتکب کے منافق ہونے کا اندیشہ ہوتا ہے۔ اگرچہ وہ منافق نہیں ہوتا ۔ قرآن کریم میں فرمایا :
" يُجَادِلُونَكَ فِي الْحَقِّ بَعْدَ (حق کے ظاہر ہو جانے کے بعد آپ سے مَا تَبَيَّنَ " (الانفال - ۶) جھگڑتے ہیں)
رسول کریم کی طرف مراجعت کی چند امثلہ ملاحظہ ہوں :-
- (۱) حجۃ الوداع کے موقع پر رسول کریم نے حکم دیا تھا کہ جن لوگوں نے حج کا احرام باندھا ہے
وہ اُس کو عمرہ بنالیں ۔ اس طرح ان کے حلال ہونے میں تاخیر ہوئی ۔ اس ضمن میں صحابہؓ نے آپؐ کی طرف رجوع کیا ۔
- (۲) صلح حدیبیہ والے سال حلال ہونا نہیں چاہتے تھے (بلکہ ان کا خیال تھا کہ عمرہ کی
تکمیل کی جائے)
- (۳) صحابہ کفار ساتھ صلح کرنے کے حق میں نہ تھے اور اس ضمن میں بعض صحابہ نے آپؐ کی
طرف رجوع کیا۔ یہ سخت گناہ کا کام تھا جس سے خدا کے حضور معافی طلب کرنا ان کے لیے از بس ناگزیر تھا ۔
- (۴) جن صحابہ نے اپنی آواز کو رسول کریم کی آواز سے زیادہ بلند کیا تھا، انہوں نے ایسے
گناہ کا ارتکاب کیا جس سے توبہ کرنا لازم تھا ۔
" وَاعْلَمُوا أَنَّ فِيكُمْ رَسُولَ اللَّهِ (اور جان لو کہ اللہ کا رسول تم میں موجود ہے لَوْ يُطِيعُكُمْ فِي كَثِيرٍ مِّنَ الْأَمْرِ اگر بہت سی باتوں میں وہ آپ کی اطاعت لَعَنِتُّمْ " (الحجرات - ۷) کرے تو مشقت میں پڑ جاؤ)
سہل بن حنیف نے کہا :
" دین کے بجائے تم اپنی رائے کی مذمّت کرو۔ میں نے ابو جندل والے واقعہ میں اپنے آپ کو دیکھا اور اگر میں رسول کریم کے حکم کو ردّ کرسکتا تو کر دیتا ۔" یہ امور حرص و لالچ اور جلد بازی کی وجہ سے صادر ہوئے اس لیے نہیں کہ دین کے بارے
نہیں انہیں کو شک تھا۔ جس طرح قریش کے لیے تجسس کرنے کے سلسلے میں حاطب سے غلطی صادر ہوئی۔ حالانکہ وہ گناہ اور معصیت پر مبنی تھی اور ایسا کرنے والے پر توبہ واجب ہے اور یہ رسول کریمؐ کی نافرمانی کی جابجا ہے۔
فتح مکہ کے دن انصار کا قول اور رسول کریمؐ کا جواب
فتح مکہ کے
بارے میں
حضرت ابو ہریرہؓ کی روایت اسی قبیل سے ہے۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
”جو شخص ابو سفیان کے گھر داخل ہو جائے تو اسے امن ہے جو ہتھیار ڈال دے یا اپنا دروازہ بند کر لے تو اسے امن ہے“۔
انصار نے کہا :
”یہ شخص (رسول کریم) اپنے رشتہ داروں اور اپنے کنبہ کی محبت میں گرفتار ہو گیا ہے“۔
ابو ہریرہؓ کہتے ہیں کہ وحی نازل ہوئی اور وحی جب آتی تھی تو ہم سے پوشیدہ نہ رہتی ۔ اس حالت میں کوئی شخص آپ کی طرف نظر اٹھا کر نہیں دیکھ سکتا تھا ، یہاں تک کہ وحی ختم ہو جاتی “۔
رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
”اے گروہ انصار ! انہوں نے کہا ہم حاضر ہیں یا رسول اللہ ! فرمایا تم نے یوں کہا کہ یہ شخص اپنے کنبے اور قبیلے کی محبت میں گرفتار ہو گیا ہے“ انصار نے کہا ”یا رسول اللہ ! اب تو ہوا ہے“۔ فرمایا : ”ہرگز نہیں میں اللہ کا بندہ اور اس کا رسول ہوں ، میں نے اللہ اور تمہاری طرف ہجرت کی ۔ میرا جینا تمہارے ساتھ ہے اور میرا مرنا بھی تمہارے ساتھ ہے“ انصار روتے ہوئے آپ کے پاس آئے ۔ وہ کہتے تھے ”بخدا ہم نے یہ بات اللہ اور اس کے رسول کی محبت میں بخل کرتے ہوئے کہی ہے“۔ رسول کریمؐ نے فرمایا ”بے شک اللہ اور اس کا رسول تمہاری تصدیق کرتے اور تمہیں معذور ٹھہراتے ہیں“۔
(صحیح مسلم)
اس کی وجہ یہ ہوئی کہ انصار نے جب دیکھا کہ رسول کریمؐ نے مکہ والوں کو امان دے دی ہے۔ اور ان کے خون و مال کو معصوم قرار دیا ہے۔ حالانکہ آپ مکہ میں جبراً داخل ہوئے
تھے اور ان کو قتل کرنے اور اگر چاہتے تو ان کا مال لینے پر بھی قادر تھے ۔ وہ اس بات سے ڈرے کہ مبادا آپؐ مکہ کو اپنا وطن بنالیں اور قریش کے ساتھ مراسم الفت و مودت قائم کر لیں ۔ اس لیے کہ مکہ آپ کا وطن تھا اور اہالیان مکہ آپؐ کا کنبہ اور قبیلہ تھے ۔ نیز یہ کہ وطن اور اہل کی کشش اس امر کی مقتضی تھی کہ آپؐ واپس لوٹ جائیں ۔ مگر ارباب عقل و دانش نے یہ بات نہیں کہی جو جانتے تھے کہ رسول کریمؐ مکہ کو وطن نہیں بنا سکتے ۔ کہنے والوں نے یہ بات طعن و عیب طور پر نہیں بلکہ اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ عشق اور وابستگی کے عالم میں یہ بات کہی تھی ۔ اللہ اور اس کے رسول نے اس کی تصدیق کی تھی ۔ اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ انتہائی لگاؤ اور وابستگی نے ان کو اس بات پر آمادہ کیا ۔ اللہ اور اس کے رسول نے اس بات پر ان کو معذور ٹھہرایا ، اس لیے کہ وہ دیکھ اور سن چکے تھے ۔ نیز اس لیے کہ رسولؐ کی جدائی اس قسم کے اہل ایمان کے لیے بڑی دشوار ہے جو اُن کا جزو لاینفک ہے ۔ جب کہ دوسرے لوگوں کی حیثیت ایک خارجی چیز ہے اور وہ وہ بات متکلم کو معاف کر دی جاتی ہے جو اس نے محبت اور تعظیم و تکریم کے پیش نظر کہی ہو بلکہ اس پر اس کی مدح و ستائش کی جاتی ہے ۔ اگر ایسی بات تعظیم و تکریم نہیں بلکہ کسی اور وجہ سے کہی جائے تو اس کا کہنے والا سزا کا مستحق ہوتا ہے ۔
حضرت ابوبکرؓ کا رسول کریمؐ کے ساتھ ادب
فعل کی بھی یہی صورت ہے ۔ کیا آپ کو معلوم نہیں کہ ابوبکر صدیق لوگوں کو نماز پڑھا رہے تھے ۔ اتفاق سے رسول کریمؐ مسجد میں تشریف لے آئے ۔ ابوبکرؓ آپؐ کو دیکھ پیچھے ہٹنے لگے ، تو رسول کریمؐ نے فرمایا " اپنی جگہ پر ٹھہرے رہو " ۔ ابوبکرؓ پھر بھی پیچھے ہٹے ۔ تو رسول کریمؐ نے فرمایا " جب میں نے آپ کو اسی جگہ ٹھہرنے کا حکم دیا تھا تو کس چیز نے تجھے وہاں ٹھہرنے سے روکا ؟ " ابوبکرؓ نے کہا " ابن ابی قحافہ کو زیب نہیں دیتا کہ وہ رسول کریمؐ کے آگے کھڑا ہو "
ابوایوب انصاری کا رسول کریمؐ کے ساتھ ادب
حضرت ابوایوب انصاریؓ نے
جب رسول کریم سے اجازت چاہی کہ بالائی منزل سے نچلی منزل پر اتر آئیں اور رسول کریم اوپر والی منزل پر تشریف لے جائیں۔ ابوایوبؓ پر یہ بات سخت ناگوار گزری کہ وہ اوپر والی منزل میں رسول کریم کی بالائی جانب اقامت گزیں ہوں۔ انہوں نے رسول کریمؐ سے ذکر کیا کہ نچلی منزل میں سکونت پذیر ہونا آپ کے لیے سہولت کا موجب ہوگا۔ کیونکہ لوگ آپؐ کے پاس آتے جاتے ہیں۔ اس طرح ابوایوب حضور کی توقیر و تکریم کی بنا پر مکان کی بالائی منزل پر نہ رہ سکے۔ انصار نے رسول کریمؐ کے ساتھ جو بات چیت کی تھی وہ بھی اسی قبیل سے تھی۔
رسول کریم سے عرض مدعا کرنے کی تین قسمیں ہیں
- (۱) ایک وہ جو
کفر کی موجب ہے مثلاً یوں کہنا کہ یہ ایسی تقسیم ہے جس میں رضائے خداوندی کو ملحوظ نہیں رکھا گیا ۔
- (۲) دوسری قسم وہ ہے جو گناہ اور معصیت کی موجب ہے اور ایسا کرنے والوں کے
اعمال کے ضائع ہو جانے کا اندیشہ ہے۔ مثلاً زیادہ اونچی آواز سے بولنا کہ آپ کی آواز دب جائے اور جس طرح صلح حدیبیہ کے موقع پر آپ کے صلح کا رجحان ظاہر کرنے کے بعد بعض لوگوں نے اس کی مخالفت کی تھی یا غزوہ بدر میں حق کے واضح ہو جانے کے بعد بعض لوگوں نے آپ کی مخالفت کی۔ یہ جملہ امور آپ کے حکم کی خلاف ورزی میں شامل ہیں ۔
- (۳) تیسری قسم وہ ہے جو ایسی نہیں ہوتی۔ اس کا ارتکاب کرنے والے کی کبھی تعریف
کی جاتی ہے اور کبھی نہیں۔ جیسے حضرت عمرؓ نے فرمایا تھا کہ یہ کیا بات ہے کہ ہم دوگانہ پڑھتے ہیں، حالانکہ ہم پر امن ہوتے ہیں؟ یا حضرت عائشہؓ کا یہ قول کہ کیا اللہ نے یوں نہیں فرمایا کہ ”جس کا اعمال نامہ اس کے دائیں ہاتھ میں دیا گیا“ (الحاقہ - ۱۹) یا حضرت حفصہؓ کا یہ قول کہ ”تم میں سے کوئی ایسا نہیں جو اُس (جہنم میں) وارد نہ ہو“ یا جس طرح حباب بن المنذرؓ نے مقام بدر کے پڑاؤ کے بارے میں رسول کریمؐ سے گفتگو کی تھی۔ اسی طرح جب رسول کریمؐ
نے قبیلہ غطفان سے مدینہ کی نصف کھجوروں کے عوض مصالحت کی تو حضرت سعدؓ نے اس ضمن میں رسول کریمؐ سے بات چیت کی ۔ جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کو وہ برتن توڑنے کا حکم دیا تھا جن میں گدھوں کا گوشت پک رہا تھا تو صحابہ نے عرض کی کہ یا رسول اللہ! ہم ان کو دھو نہ لیا کریں ؟ آپ نے فرمایا دھو لیا کرو ۔ اسی طرح جب حضرت ابو ہریرہؓ لوگوں کو بشارت دینے کے لیے نکلے تو حضرت عمرؓ نے انہیں واپس کر دیا اور اس ضمن میں رسول کریمؐ کے ساتھ تبادلۂ افکار کیا۔ نیز رسول کریمؐ نے جب بعض غزوات میں سواریوں کو ذبح کرنے کا حکم دیا تو حضرت عمرؓ نے مشورہ دیا کہ سب صحابہ کا زادِ راہ یکجا کر کے رسول کریمؐ اس پر دعا فرمائیں تو رسول کریمؐ نے حضرت عمرؓ کے مشورے پر عمل کیا اور اس قسم کے مسائل و احکام جن میں کسی اشکال کے بارے میں سوال کیا گیا تا کہ صحابہ کے لیے اس کی وضاحت ہو جائے یا اس کی مصلحت سمجھ میں آجائے اور رسول کریمؐ نے اس پر عمل فرمایا ۔
الغرض یہ وہ احادیث جو بالاتفاق محبینِ رسولِ کریمؐ سے آپ کو گالیاں دینے والے کے بارے میں منقول ہیں، خواہ گالی دہندہ معاہد ہو یا غیر معاہد ۔ ان میں سے بعض احادیث مسئلہ زیر بحث کے بارے میں نص کا درجہ رکھتی ہیں ۔ بعض ظاہر الدلالت ہیں اور بعض ایسے استنباط پر مبنی ہیں جو صاحبِ فہم و ادراک کے نزدیک خاصا قوی ہے اور بعض احادیث ایسی ہیں جن کے بارے میں وہ شخص توقف سے کام لیتا ہے جو انہیں سمجھ نہیں پاتا یا جن کے نزدیک اُن کی توجیہ کچھ اور ہے یا ان سے استدلال کرنا اس کے نزدیک ضعیف ہے ۔ بہر کیف جو شخص جادۂ حق کا راہ پیما اور طالب ہوتا اور اس کا قصد بھی کرتا ہے اور اللہ نے اُسے بصیرت و علم سے نوازا بھی ہو تو حق اس پر پوشیدہ نہیں رہتا ۔ واللہ اعلم
استدلال باجماع صحابہ
مسئلہ زیر بحث پر اجماع منعقد ہوچکا ہے ۔ اس لیے کہ ایسے واقعات متعدد صحابہ سے منقول ہیں اور ایسے واقعات پھیل جاتے اور شہرت پذیر ہوجاتے ہیں اور کسی صحابی نے بھی ان سے انکار نہیں کیا ۔ اس لیے کہ ان واقعات نے اجماع کی صورت اختیار کرلی ہے ۔ اور خوب جان لیجیے کہ کسی ذیلی مسئلہ پر اجماع کا دعویٰ اس سے بلیغ طریقہ پر ممکن نہیں ۔
مہاجر ابن ابی امیہؓ کا فعل دو گلوکار لونڈیوں کے ساتھ
سیف بن عمر التمیمی
نے اپنی کتاب ”الردۃ والفتوح“ میں اپنے شیوخ سے روایت کیا ہے کہ مہاجر جب علاقہ یمامہ کے امیر تھے ۔ اُن کی عدالت میں دو گلوکار لونڈیوں کا معاملہ پیش کیا گیا ۔ ان میں سے ایک رسول کریم کی مذمت پر مشتمل اشعار گایا کرتی تھی۔ مہاجر نے اس کا ایک ہاتھ کاٹ دیا اور اس کے اگلے دونوں دانت نکال دیے۔ اور دوسری مسلمانوں کی ہجو کہا کرتی تھی ، مہاجر نے اس کا ہاتھ بھی کاٹ دیا اور اگلے دو دانت نکلوا دئیے ۔
حضرت ابو بکرؓ نے اُسے لکھا :
”تم نے گلوکار رسول کریم کو گالیاں دینے والی عورت کو جو سزا دی مجھے اس کے بارے میں معلوم ہوا ہے ۔ اگر مجھے پہلے پتہ چل جاتا تو میں تجھے اس کے قتل کا حکم دیتا ۔ اس لیے انبیاء کی توہین کی وجہ سے ، جو سزا دی جاتی ہے وہ باقی سزاؤں سے مختلف ہوتی ہے اگر کوئی مسلم ایسا کرے تو وہ مرتد ہے اور اگر معاهد اس کا مرتکب ہو تو وہ عہد شکنی
کرنے والا محارب ہے ۔ جو لونڈی مسلمانوں کی ہجو کہتی تھی اس کے بارے میں حضرت ابو بکرؓ نے تحریر فرمایا : - مجھے پتہ چلا ہے کہ تم نے مسلمانوں کی ہجو گوئی کرنے والی لونڈی کا ہاتھ کاٹ دیا اور اس کے اگلے دو دانت نکلوا دیئے ہیں اگر وہ اسلام کی نام لیوا ہے تو اس کی تادیب کیجیے اور مُثلہ سے احتراز کیجیے اور اگر وہ ذمی عورت ہے تو اس نے جس شرک سے اجتناب کیا ہے وہ بڑی بات ہے اور اگر ایسی خبر مجھے پہلے مل جاتی تو میں تجھے تکلیف نہ پہنچاتا لہٰذا اُسے اسی حالت میں رہنے دو۔ مُثلہ سے بچتے رہو، اس لیے کہ وہ گناہ کا موجب اور لوگوں کو نفرت دلانے والا ہے ۔ البتہ قصاص میں ایسا کرنا جائز ہے ۔
سیف بن عمر کے سوا دیگر علماء نے بھی اس واقعہ کو ذکر کیا ہے اس سے منقول روایت پہلے بھی گزر چکی ہے کہ جو شخص رسول کریم کو گالی دے تو اسے قتل کیا جاسکتا ہے مگر کسی اور کو گالیاں دینے سے قتل نہیں کر سکتے ۔ یہ اس امر کی صریح دلیل ہے کہ رسول کریمؐ کو گالیاں دینے والے کو قتل کیا جاسکتا ہے ، خواہ وہ مسلم ہو یا معاہد یا عورت ۔ نیز یہ کہ اس سے توبہ کا مطالبہ نہیں کیا جائے گا ۔ برخلاف اس کے جو عام لوگوں کو گالیاں دے۔ اُس کو قتل کرنا انبیاء کے لیے حدِ شرعی سزا ہے، جس طرح عام لوگوں کو گالیاں دینے والے کی سزا کوڑے مارنا ہے۔ حضرت ابوبکرؓ نے اس عورت کو قتل کرنے کا حکم نہ دیا ، اس لیے کہ مہاجر ابن ابی امیہؓ نے قبل ازیں اپنے اجتہاد سے اس کو سزا دے دی تھی ۔ اس لیے حضرت ابوبکرؓ نے اس بات کو ناپسند کیا کہ اس عورت پر دو سزائیں جمع ہوجائیں ۔ یہ بھی احتمال تھا کہ وہ اسلام لاتی یا توبہ کرتی تو ابوبکرؓ کے خط سے پہلے مہاجر بن ابی اُمیہؓ اس کی توبہ کو قبول کر لیتے ۔ یہ اس کا اجتہاد تھا جس کے مطابق وہ سزا دے چکا تھا اس لیے حضرت ابوبکرؓ نے اسے تبدیل نہ کیا ۔ اس لیے ایک اجتہاد دوسرے اجتہاد سے نہیں ٹوٹتا۔ حضرت ابوبکرؓ کی گفتگو اس امر پر دلالت کرتی ہے کہ انہوں نے مہاجر کو اس عورت کے قتل سے اسی لیے منع کیا کہ وہ قبل ازیں اس کو سزا دے چکا تھا ۔
حضرت عمرؓ نے ایک شخص کو قتل کر
دیا جو رسول کریم کو گالیاں دیا کرتا تھا
حرب نے اپنے مسائل میں بطریق لیث بن ابی سلیم از مجاہد روایت کیا ہے کہ حضرت عمرؓ کے پاس ایک آدمی کو لایا گیا جس نے رسول کریم کو گالیاں دی تھیں، انہوں نے اسے قتل کر دیا۔ پھر حضرت عمرؓ نے فرمایا "جو شخص اللہ یا کسی نبی کو گالی دے اسے قتل کر دو"۔
لیث بطریق مجاہد از ابن عباسؓ روایت کرتے ہیں کہ جو مسلم اللہ یا کسی نبی کو گالی دے اُس نے رسول کریمؐ کی تکذیب کی ، بخدا یہ ارتداد ہے ، لہٰذا اُس سے توبہ کا مطالبہ کرنا چاہئیے۔ اگر اپنے رویے سے باز آئے تو بہتر ورنہ اُسے قتل کیا جائے۔ اور جو معاہد عناد سے کام لے اور اللہ یا اس کے رسول کو گالی دے یا اس کا اعلان کرے تو اس نے اپنے عہد کو توڑ دیا ، پس اُسے قتل کر دو"۔
ابو سنجہ بن ربعی سے روایت ہے کہ حضرت عمرؓ جب ملک شام تشریف لے گئے تو قسطنطین جو ملک شام کا پادری تھا اٹھ کھڑا ہوا اور اس نے مصالحت اور اس کی شرائط کا ذکر کیا اور کہا کہ یہ شرائط لکھ دو۔ حضرت عمرؓ نے فرمایا "بہت اچھا" جب کہ وہ معاہدہ لکھ رہے تھے تو حضرت عمرؓ کو یاد آیا تو انہوں نے کہا " میں لشکر کی غلطی کو اس سے مستثنیٰ کرتا ہوں"۔ آپ نے دو مرتبہ اس طرح کہا۔ پادری نے کہا " آپ کی دونوں باتیں منظور ہیں اور خدا اس کا بُرا کرے جو مجھ سے عہد کر کے اس کو واپس لے"۔ جب حضرت عمرؓ معاہدہ لکھنے سے فارغ ہوئے تو اس نے کہا "یا امیرالمومنین ! لوگوں میں کھڑے ہو کر اُن کو بتائیے کہ آپ نے کیا شرطیں طے کیں اور کس چیز کو میرے ذمّے فرض قرار دیا، تاکہ وہ مجھ پر ظلم کرنے سے باز رہیں"۔
حضرت عمرؓ نے فرمایا "جی ہاں ! پھر کھڑے ہو کر اللہ کی حمد و ثنا بیان کی اور کہا میں اللہ کی تعریف کرتا اور اُسی سے مدد مانگتا ہوں۔ جس کو اللہ ہدایت دے تو اُسے کوئی گمراہ کرنے والا نہیں اور جس کو وہ گمراہ کر دے تو اس کو کوئی ہدایت سے بہرہ ور نہیں کر سکتا۔ نبطی نے کہا "اللہ کسی کو گمراہ نہیں کرتا ۔ حضرت عمرؓ نے فرمایا " تم کیا کہتے ہو؟
نبطی نے کہا کچھ نہیں اور نبطی نے پھر اپنے مقولہ کو دہرایا۔ حضرت عمرؓ نے کہا مجھے بتاؤ کہ یہ کیا کہتا ہے ، صحابہؓ نے کہا یہ دعویٰ کرتا ہے کہ اللہ کسی کو گمراہ نہیں کرتا ۔ حضرت عمرؓ نے فرمایا ہم نے یہ معاہدہ تجھ سے اس لیے نہیں کیا کہ تم ہمارے دین میں دخل اندازی کرنے لگوئے۔ مجھے اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اگر تو نے یہ مقولہ پھر دہرایا تو میں تمہارا سر اڑا دوں گا۔ حضرت عمرؓ نے خطبہ کے الفاظ دہرائے مگر نبطی نے کچھ نہ کہا۔ جب حضرت عمرؓ فارغ ہوئے تو نبطی نے معاہدے کی دستاویز لے لی۔ اس کو حربیؒ نے روایت کیا ہے۔
دیکھیے یہ حضرت عمرؓ ہیں جو مہاجرین وانصار کے ایک مجمع میں عہد کرنے والوں سے کہہ رہے ہیں کہ ہم نے تم سے عہد اس لیے نہیں کیا کہ تم ہمارے دین دخل اندازی کرو اور قسم کھائی کہ اگر اس نے اپنے مقولہ کو دہرایا تو اس کی گردن اڑا دیں گے۔ صحابہؓ کے اس اجماع سے معلوم ہوا کہ معاہدین ہمارے دین پر معترض نہیں ہو سکتے اور ایسا کرنے سے ان کا خون مباح ہو جاتا ہے۔ اور سب سے بڑا اعتراض تو رسول کریمؐ کو گالی دینا ہے۔ یہ ایک کھلی ہوئی بات ہے جس میں کوئی خفاء واشتباہ نہیں ہے۔ اس لیے کہ اعلانیہ تقدیر کی تکذیب کرنا گویا علانیہ رسول کریمؐ کو گالی دینا ہے۔ حضرت عمرؓ نے اس کو اس لیے قتل نہ کیا کہ یہ بات ان کے نزدیک طے شدہ نہ تھی کہ یہ الفاظ طعن فی الدین کے مترادف ہیں۔ ہو سکتا ہے اُس نے سوچا کہ یہ الفاظ حضرت عمرؓ نے اپنی طرف سے کہے۔ جب حضرت عمرؓ نے اسے بتایا کہ یہ ہمارا دین واعتقاد ہے تو اسے کہا کہ اگر تو نے یہ الفاظ دہرائے تو میں تمہاری گردن اڑا دوں گا۔
ان میں سے ایک روایت وہ ہے جس سے امام احمدؒ نے استدلال کیا ہے اور اس کو بطریق ھشیم از حُصین از مُرّہ از ابنِ عمرؓ روایت کیا ہے کہ اُن کے پاس سے ایک راہب گزرا۔ اُس کے بارے میں کہا گیا کہ یہ رسول کریمؐ کو گالیاں دیتا ہے ۔ ابن عمرؓ نے کہا کہ اگر مَیں سن لیتا تو اسے قتل کر دیتا۔ ہم نے اُن کو اِس لیے ذمّی نہیں بنایا کہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو گالیاں دیں۔ نیز اس کو بطریق ثوریؒ از حُصین از شیخ، ابن عمرؓ سے روایت کیا ہے کہ اس نے ایک راہب پر تلوار کھینچ لی جو رسول کریمؐ
کو گالیاں دیا کرتا تھا۔ اور کہا ہم نے ان کے ساتھ اس لیے مصالحت نہیں کی کہ جو صلّی اللہ علیہ وسلم کو گالیاں دیا کریں پھر ان دو روایات کے مابین جمع و تطبیق کا طریقہ یہ ہے کہ ابن عمرؓ نے راہب پر تلوار اس لیے کھینچی کہ وہ اپنے جرم کا اعتراف کرے گا۔ جب اُس نے اپنے جرم کو تسلیم نہ کیا تو آپ نے اسے قتل نہ کیا اور فرمایا اگر میں اسے گالیاں دیتے سنتا تو اسے قتل کر ڈالتا ۔ بکثرت محدثین نے ابن عمرؓ کی روایت کو نقل کیا ہے ۔ یہ تمام آثار ذمی مرد و عورت کے بارے میں نص کا درجہ رکھتے ہیں اور ان میں سے بعض مسلم و کافر کے بارے میں عام شخص کا حکم رکھتے ہیں ۔
وہ حدیث پہلے گزر چکی ہے جس میں آیا ہے کہ حضرت عمرؓ نے توبہ کا مطالبہ کیے بغیر اس آدمی کو قتل کر دیا تھا ۔ جو رسول اکرم صلّی اللہ علیہ وسلم کے فیصلے پر راضی نہ تھا۔ وہ حدیث بھی پیچھے گزر چکی ہے جس میں مذکور ہے کہ حضرت عمرؓ نے صبیغ بن عسل کے سر کو ننگا کیا اور فرمایا تھا کہ اگر میں نے اُسے منڈا ہوا پایا تو تیرا سر اُڑا دوں گا ۔ اور اس سے توبہ کا مطالبہ بھی نہیں کیا تھا ۔ اس کے گروہ کا گناہ یہ تھا کہ انہوں نے سنّتِ رسول پر اعتراض کیا تھا ۔
حضرت ابن عباسؓ کا یہ قول پہلے گزر چکا ہے کہ آیت کریمہ اِنَّ الَّذِیْنَ یُؤْذُوْنَ (النور ۔ ۵۷) ۔ بطور خاص حضرت عائشہؓ اور اُمہات المومنین کے بارے میں نازل ہوئی ۔ اس میں توبہ کا ذکر نہیں کیا گیا اور جو شخص مومن عورت پر بہتان لگائے تو اللہ نے اسے توبہ کا حق دیا ہے ۔ وہ کہتے ہیں کہ یہ آیت حضرت عائشہؓ کے حق میں نازل ہوئی اور لعنت عام منافقین پر کی گئی ہے ۔ اس کی وجہ ظاہر ہے کہ حضرت عائشہؓ پر بہتان طرازی سے رسول کریم کو تکلیف پہنچتی ہے ۔ اس لیے یہ نفاق ہے اگر منافق کی توبہ مقبول نہ ہو تو اسے قتل کرنا واجب ہوتا ہے ۔
امام احمدؒ نے باسناد خود بطریق سماک بن الفضل از عروہ بن محمد از شخصے از بلقین روایت کیا ہے کہ ایک عورت نے رسول کریم کو گالی دی تو حضرت خالد بن ولید نے اسے قتل کر دیا ۔ یہ عورت مجہول الاسم ہے۔ محمد بن مسلمہ کی یہ روایت پہلے گزر چکی ہے کہ اس نے ابن یامین کے بارے میں کہا جس کا دعویٰ تھا کہ کعب بن اشرف کو دھوکے سے قتل کیا گیا ۔ محمد بن مسلمہ نے قسم کھائی تھی کہ اگر ابن یامین انہیں مل گیا تو وہ اسے قتل کر دیں گے کیوں کہ اس نے
رسول کریم کو غدار کہا تھا۔ جب کہ مسلمانوں نے اس پر اعتراض نہیں کیا تھا۔ اس پر یہ اعتراض وارد نہیں ہوتا کہ حضرت معاویہ یا مروان نے اس آدمی کو قتل نہیں کیا تھا۔ اس لیے کہ ان کا خاموش رہنا کسی مذہب کی دلیل نہیں ہے، جیسے کہ اس نے محمد بن مسلمہ کی مخالفت نہیں کی تھی۔ ان کے خاموش رہنے کی وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے کہ انہیں اس شخص کے بارے میں شرعی حکم معلوم نہ ہو یا معلوم تھا مگر اس کی حکمت ان پر واضح نہ تھی یا اس پر حد لگانے کے لیے ان کے جذبات متحرک نہ ہو سکے یا انہوں نے خیال کیا کہ ابن یامین نے یہ بات یہ عقیدہ رکھتے ہوئے کہی کہ کعب بن اشرف کو رسول کریم کے حکم کے بغیر قتل کیا گیا یا دیگر وجوہات کی بنا پر۔ خلاصہ یہ کہ ان کا ابن یامین کو قتل نہ کرنا اس بات پر دلالت نہیں کرتا کہ وہ محمد بن مسلمہ کے خلاف تھے۔ اس واقعہ کا ظاہری مفہوم یہ ہے کہ محمد بن مسلمہ نے بدیں وجہ اس کو خطا کار قرار دیا کہ اس نے ابن یامین پر حد نہ لگائی۔ اسی لیے اس کے ساتھ بات چیت چھوڑ دی۔ تاہم ابن یامین مسلم تھا۔ اس لیے کہ مدینے میں ان دنوں کوئی غیر مسلم مقیم نہ تھا۔
ابن المبارک نے بطریق حرملہ بن عثمان از کعب بن علقمہ از صحابی رسول غرفہ بن حارث الکندی روایت کی ہے کہ غرفہ نے ایک نصرانی کو سنا جو رسول کریم کو گالیاں دے رہا تھا۔ اُس نے اسے خوب مارا اور اس کی ناک توڑ دی۔ حضرت عمرو بن العاص کی عدالت میں یہ مقدمہ دائر کیا گیا۔ عمرو نے کہا ”ہم نے ان کے ساتھ عہد کیا ہے“ غرفہ نے کہا ”پناہ بخدا کہ ہم ان کے ساتھ یہ عہد باندھیں کہ وہ علانیہ رسول کریم کو گالیاں دیں ہم نے اُن سے صرف یہ عہد کیا ہے کہ انہیں ان کے عبادت خانوں میں جانے کی اجازت دیں کہ وہاں جاکر جو جی چاہے کریں۔ اُن سے وہ کام نہ لیں جسے وہ انجام نہ دے سکیں۔ اور اگر کوئی دشمن ان پر حملہ کرنا چاہے تو اس کا دفاع کریں۔
ان کے مذہبی احکام میں خلل انداز نہ ہوں۔ الا یہ کہ وہ ہمارے دینی احکام پر راضی ہوں تو ہم ان کے مابین اللہ اور اس کے رسول کے احکام کے مطابق فیصلہ صادر
کہیں گے۔ اور اگر وہ ہم سے دور رہیں گے تو ہم اُن سے کچھ تعرض نہیں کریں گے ۔ یہ سن کر، حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ نے کہا تو نے سچ کہا ۔
بایں طور حضرت عمرو اور غرفہ بن حارث اس بات پر متفق تھے کہ ہمارے اور ان کے درمیان جو عہد ہے وہ اس امر کو مقتضی نہیں کہ اُن کو علانیہ رسول کریم کو گالیاں دینے کی اجازت دیں ۔ البتہ وہ کفر و تکذیب پر قائم رہ سکتے ہیں۔ جب بھی وہ رسول کریم کو علانیہ گالیاں دیں گے تو ان کا خون مباح ہو جائے گا اور اُن کو قتل کرنا جائز ہو گا ، یہ اسی طرح ہے جیسے عبداللہ بن عمر نے اس راہب کے بارے میں کہا تھا جو رسول کریم کو گالیاں دیتا تھا کہ ”اگر میں اسے گالیاں دیتے سن لیتا تو اسے قتل کر ڈالتا “ ہم نے اُن سے یہ عہد نہیں کیا کہ ہمارے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو گالیاں دیں ۔
اس آدمی کو قتل نہ کرنے کی وجہ یہ ہے کہ اس کے خلاف شہادت قائم نہیں ہوئی تھی ۔ اس کو صرف غرفہ نے سنا تھا ، ممکن ہے کہ غرفہ نے اُسے قتل کرنا چاہا ہو مگر عدم شہادت کی وجہ سے قتل کی تکمیل نہ کی ۔ نیز اس لیے کہ ایسا کرنے میں حاکم وقت کے خلاف تمرد و باغیگری کا اندیشہ ہے ۔ اس لیے کہ حاکم وقت کے نزدیک یہ جرم ثابت نہیں ہوا ۔
حضرت عمر بن عبدالعزیز کی رائے
عکرمہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے عمر بن عبد العزیز کو گالیاں دیں ۔ اس پر عمر بن عبد العزیز نے تحریر کیا کہ ”گالی دینے کی بنا پر کسی کو قتل نہیں کیا جاسکتا ، الا یہ کہ کوئی شخص رسول کریم کو گالی دے تو اُسے قتل کیا جاسکتا ہے۔ البتہ میں اس کے سر پر کوڑے ماروں گا ۔ اگر مجھے معلوم نہ ہوتا کہ یہ بات اُس کے لیے مفید ہے تو میں ایسا نہ کرتا ۔ اس کو حرب نے روایت کیا ہے ۔ امام احمد نے بھی اس کو نقل کیا ہے ۔ یہ روایت عمر بن عبد العزیز سے مشہور ہے اور وہ خلیفہ راشد، سنت رسول کو جاننے والے اور اس پر عمل کرنے والے تھے ۔
تو یہ ہے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اور تابعین عظام رحمہم اللہ کی رائے مسئلہ زیر قلم میں ! کسی صحابی اور تابعی سے اس کی مخالفت منقول نہیں ۔ سب نے اس
کو تسلیم کیا اور بنظر استحسان دیکھا ہے۔
قیاس سے استدلال | اس موضوع پر قیاس سے استدلال کئی وجوہ سے ممکن ہے۔
پہلی وجہ : ایک یہ ہے کہ ہمارے دین کے عیب چینی ، حرف گیری اور ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو گالی دینا ہمارے خلاف نبرد آزمائی اور حرب و ضرب کے مترادف ہے۔ اس لیے اس سے حرب و پیکار کی طرح بلکہ بالاولیٰ عہد ٹوٹ جاتا ہے۔ اس کی دلیل یہ آیت کریمہ ہے : وَجَاهِدُوا بِأَمْوَالِكُمْ وَأَنْفُسِكُمْ (اللہ کی راہ میں اپنے مالوں اور جانوں فِي سَبِيلِ اللَّهِ (التوبہ : ۴۱) سے جہاد کرو)
جہاد بالنفس زبان کے ساتھ بھی اور ہاتھ کے ساتھ بھی ۔ بلکہ بعض اوقات اس سے قوی تر ہوتا ہے۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا "مشرکین کے ساتھ اپنے ہاتھوں ، اپنی زبانوں اور اپنے مالوں کے ساتھ جہاد کیجیے" (نسائی وغیرہ) رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ سے کہا کرتے تھے "ان سے جنگ کیجیے" حضرت حسان کے لیے مسجد میں منبر رکھا جاتا تھا اور وہ اپنے اشعار کے ساتھ مشرکین کی ہجو کہتے اور رسول کریم کا دفاع کیا کرتے تھے۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "اے اللہ ! روح القدس کے ذریعے حسان کی مدد فرما" آپ فرمایا کرتے تھے : "اے حسان ! جب تک تو رسول کریم کا دفاع کرتا ہے جبریل تمہارے ساتھ ہوتا ہے ۔ اشعار (کفار مکہ) کے لیے تیروں سے بھی زیادہ سخت ہوتے ہیں"۔
کفار مکہ بہت سی ایذا دینے والی چیزوں سے اس اندیشے کی بنا پر اجتناب کیا کرتے تھے کہ حسان ان کی ہجو کہیں گے۔ کعب بن اشرف (یہودی) جب مکہ گیا
تو جس خاندان میں بھی قیام گزین ہوتا تو حضرت حسان ایک قصیدہ لکھ کر اس کی ہجو کہتے اس کے نتیجے میں وہ کعب کو اپنے یہاں سے نکال دیتے، یہاں تک کہ مکہ میں کوئی اس کو جگہ دینے والا نہ تھا ۔ حدیث نبوی میں ہے :
"أفضل الجہاد کلمۃ حق عند (ظالم سلطان کے پاس حق بات کہنا سلطان جائر" افضل الجہاد ہے)
یا یہ کہ "حضرت حمزہ افضل الشہداء ہیں" ۔ رسول کریم نے فرمایا : "وہ شخص جس نے ظالم سلطان کے پاس حق بات کہی، سلطان نے اس کو قتل کرنے کا حکم دیا اور اسے قتل کیا گیا"
جب جہاد باللسان کو مشرکین کی مذمت و ہجو گوئی نیز دعوت دین اور اعلاءِ کلمۃ اللہ میں یہ مرتبہ و مقام حاصل ہے تو معلوم ہوا کہ جو شخص اللہ اور رسول کے دین کو علانیہ برا بھلا کہے اور کتاب اللہ کی کھلم کھلا مذمت کرے تو وہ مسلمانوں کے خلاف نبرد آزما ہوتا ہے اور یہی عہد شکنی ہے ۔
دوسری وجہ : دوسری وجہ یہ ہے کہ ہم نے اُن کے ساتھ اس امر پر معاہدہ کیا ہے کہ وہ اپنے کفر و شرک کے عقائد نیز اپنی باطنی عداوت، ضرر رسانی اور ہمارے لیے آفات طلبی پر برقرار رہیں گے۔ ہم اس حقیقت سے بخوبی آگاہ ہیں کہ وہ ہمارے دین کے خلاف عقیدہ رکھتے ہیں، ہمارا خون بہانا چاہتے ہیں، اپنے مذہب کو سربلند دیکھنے کے آرزو مند ہیں۔ وہ اپنی استطاعت کی حد تک اس کیلئے کوشاں بھی رہتے ہیں یہ وہ امور ہیں جن پر برقرار رہنے کا ہم نے ان کے ساتھ معاہدہ کیا ہے ۔ جب وہ اس ارادہ کے بموجب اس پر عمل بھی کریں گے ۔۔۔ اور وہ یوں کہ ہم سے برسر پیکار ہوں ۔۔۔ تو ان کے ساتھ ہمارا معاہدہ ٹوٹ جائے گا ۔ اسی طرح جب وہ اپنے عقیدہ کے بموجب عمل کریں گے ۔۔۔ یعنی اللہ، اس کی کتاب، اس کے دین، اور اس کے رسول کی مذمت کریں گے ۔۔۔ تو ہمارے ساتھ ان کا معاہدہ ٹوٹ جائے گا ۔ اس لیے کہ ارادے اور اعتقاد کے بموجب عمل کرنے
میں کچھ فرق نہیں۔ تیسری وجہ : ہمارے اور ان کے درمیان جو مطلق معاہدہ ہے اس کا تقاضا ہے کہ ہمارے دین پر طعنہ زنی اور ہمارے رسول کو بُرا بھلا کہنے سے باز رہیں، بالکل اسی طرح جس طرح وہ ہماری خون ریزی اور جنگ آزمائی سے احتراز کرتے ہیں۔ کیوں کہ عہد کے معنی ہی یہ ہیں کہ عہد کرنے والے فریقین میں سے ہر ایک اپنے آپ کو اُن خطرات سے مامون سمجھتا ہے جو عہد سے پہلے متوقع تھے اور ظاہر ہے کہ ہم اس بات سے خائف رہتے ہیں کہ کفارِ عہد یہ کفر کا اظہار کریں، ہمارے رسول کو بُرا بھلا کہیں یا ہمارے خلاف اعلانِ جنگ کریں بلکہ اعلانِ جنگ سے زیادہ ہمیں آپ کی ہتک عزت کا اندیشہ دامنگیر رہتا ہے۔ اس لیے کہ ہم رسولِ کریم کی تعظیم و تکریم ، آپ کے رفعِ ذکر اور علوّ قدر کی خاطر اپنی جان و مال قربان کرنے سے بھی دریغ نہیں کرتے۔ تمام کفار کو معلوم ہے کہ یہ ہمارے دین کا جزو لاینفک ہے۔ بنا بریں ان میں سے جو شخص علانیہ گالی دیتا ہے ، وہ عہد کو توڑ دیتا ہے اور وہ کام انجام دیتا ہے جس کا ہمیں ان سے اندیشہ تھا اور جس پر ہم معاہدہ کرنے سے قبل ان سے لڑتے تھے۔ اور یہ بات بالکل واضح ہے ۔
چوتھی وجہ : چوتھی وجہ یہ ہے کہ اگر مطلق عہد اس کا مقتضی نہ بھی ہو تو وہ عہد جو حضرت عمرؓ نے اُن کے ساتھ کیا تھا اور صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین سب موجود تھے اس میں یہ بات واضح ہے اور تمام اہل ذمہ اسی ایک عہد پر جاری و ساری رہے ہیں۔
اہلِ ذمّہ کے ساتھ مسلمانوں کی شرطیں
حرب نے باسناد صحیح ، عبدالرحمٰن بن غنم سے روایت کیا ہے کہ حضرت عمرؓ نے جب شام کے عیسائیوں سے معاہدہ کیا تو حضرت عمرؓ کے لیے جو عہد نامہ تحریر کیا گیا اس میں مذکور تھا : " یہ دستاویز اللہ کے بندے امیرالمومنین کیلئے اہل مدینہ نے لکھ کر دی ہے کہ تم (مسلمان) جب ہمارے پاس آئے تو ہم نے تم سے اپنے ، اپنی اولاد اور اموال کے لیے
امان طلب کی ، بشرطیکہ ہم اس میں کوئی نئی بات پیدا نہیں کریں گے۔ دیگر شرائط کا ذکر کرنے کے بعد کہا" ہم برملہ شرک کا ارتکاب نہیں کریں گے اور نہ ہی شرک کی طرف کسی کو دعوت دیں گے "۔ دستاویز کے آخر میں کہا :" ہم نے اپنی جان اور اپنے اہل خانہ کے لیے یہ شرط قبول کی، اور اس پر ہم نے امان قبول کی ہے۔ اگر ہم کسی شرط کی خلاف ورزی کریں تو ہمارا عہد باقی نہ رہے گا اور ہمارا وہ سب کچھ حلال ہو جائے گا جو اہل عناد و کفار کا حلال ہوتا ہے"۔ (یعنی جان و مال وغیرہ)
حضرت عمرؓ کا یہ قول پیچھے گزر چکا ہے جو انہوں نے معاہدہ تحریر کی جانے والی مجلس میں کہا تھا کہ" ہم نے یہ معاہدہ تمہارے ساتھ اس لیے نہیں کیا کہ تم ہمارے دین میں غلط مداخلت کرنے لگو۔ مجھے اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ اگر یہ بات تم نے پھر دُہرائی تو تمہاری گردن اُڑا دوں گا ۔ شرطیں مقرر کرنے والے حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ تھے ۔
مذکورہ صدر بیان اس حقیقت کی آئینہ داری کرتا ہے کہ نصاریٰ پر مسلمانوں کی یہ شرط واجب ہے کہ وہ علانیہ کلمہ کفر کہنے سے احتراز کریں۔ اور جب وہ ایسا کرینگے تو وہ محارب بن جائیں گے۔ اس وجہ سے ثابت ہوتا ہے کہ گالی اُن لوگوں کے نزدیک بھی نقضِ عہد کی موجب ہے جو کہتے ہیں کہ گالی اُس صورت میں نقضِ عہد کی موجب ہوتی ہے ۔ جب ان پر یہ شرط عاید کی گئی ہو کہ وہ گالی نہیں نکالیں گے۔ جیسا کہ ہمارے بعض اصحاب (حنابلہ) اور بعض شافعیہ نے اس کی تصریح کی ہے۔
اسی طرح یہ بات ان لوگوں کے نزدیک بھی ناقضِ عہد ہو گی جو کہتے ہیں کہ جب ان پر یہ شرط عائد کی جائے کہ ان کے گالی دینے سے عہد ٹوٹ جائے گا تو اس صورت میں عہد ٹوٹ جائے گا۔ جیسا کہ امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ کے بعض اصحاب نے کہا ہے۔ اس لیے کہ اہل ذمہ حضرت عمرؓ کی مقرر کردہ شروط کے پابند ہیں، کیونکہ حضرت عمرؓ کے بعد کوئی امام یا خلیفہ ایسا نہیں ہوا جس نے حضرت عمرؓ کی شرائط کے خلاف معاہدہ کیا ہو ۔
بخلاف ازیں بعد میں آنے والے تمام حکام و سلاطین حضرت عمرؓ کے عہد نامہ کی پابندی کرتے رہے۔ اور جن لوگوں نے یہ کوشش کی کہ اس کی خلاف ورزی کرنے والے کے حق میں یہ شرط بھی عائد کی جائے کہ وہ خلاف ورزی کرنے والا اس وقت ہوگا جب رسول کریمؐ کو گالی دیکر اپنا عہد توڑ ڈالے، اندریں صورت خلاف ورزی بے معنی ہوکر رہ جاتی ہے اس لیے کہ اس شرط کی صحت پر صحابہ کا اجماع منعقد ہوچکا ہے اور وہ اصول و ضوابط سے ہم آہنگ بھی ہے جب کہ تمام سلاطین نے یہ شرط ان پر عائد کی ہے اور یہ شرط صحیح بھی ہے تو ہر قول کے مطابق اس پر عمل کرنا واجب ہے۔
پانچویں وجہ : ذمیوں کے ساتھ معاہدہ اس بات پر ہوتا ہے دارالاسلام ہمارا ہوگا اور اس میں اسلامی احکام نافذ العمل ہوں گے۔ نیز یہ کہ ذمی لوگ ذلیل اور تابع ہو کر رہیں گے۔ ان کے ساتھ جو مصالحت یا معاہدہ ہوا ہے اس کی بنیاد یہی ہے کہ رسول کریمؐ کو گالی دینا اور دین کی تنقیص کرنا ذلیل اور عاجز آدمی کا کام نہیں ہے۔ لہٰذا ایسے شخص کا عہد باقی نہیں رہے گا۔
چھٹی وجہ
ذمی کو گالی دینے کی قدرت
عطا کرنا اور اسے سزا نہ دینا
اللہ تعالیٰ نے رسول کریمؐ کی تعزیر و توقیر ہم پر فرض ٹھہرائی ہے۔ تعزیر کا مطلب آپؐ کی تائید و نصرت اور حفاظت ہے۔ توقیر سے اجلال و اکرام مراد ہے۔ اس سے مستفاد ہوتا ہے کہ آپؐ کی ناموس و آبرو کی حفاظت جیسے بھی ہو سکے واجب ہے۔ بلکہ یہ تعزیر و توقیر کا پہلا درجہ ہے۔ بنابریں یہ جائز نہیں کہ ہم ذمیوں سے ایسا معاہدہ کریں کہ وہ ہمارے نبیؐ کو علانیہ بُرا بھلا کہیں۔ ذمیوں کو اس بات کا موقع دینے کا مطلب یہ ہے کہ رسول کریمؐ کی تعزیر و توقیر کو ترک کر دیا جائے۔ جب کہ انہیں معلوم ہے کہ ہم اس بات پر ان سے صلح نہیں کر سکتے۔ بخلاف ازیں ہم پر واجب ہے کہ جیسے بھی بن پڑے ان کو اس بات سے روکیں۔ انہیں شرائط پر ہم نے ان سے معاہدہ کیا ہے جب انہوں نے اس کی خلاف ورزی کی تو ان شرائط کو توڑ دیا جو ہمارے اور ان کے درمیان طے پائے تھے۔
ساتویں وجہ : رسول کریم کی نصرت و حمایت ہم پر فرض ہے ۔ اس لیے کہ یہ تعزیر کا ایک جزو ہے جو ہم پر فرض ہے اور یہ اللہ کی راہ میں بہت بڑا جہاد بھی ہے ۔ قرآن کریم میں فرمایا گیا : مَا لَكُمْ إِذَا قِيْلَ لَكُمُ انْفِرُوْا (تمہیں کیا ہو گیا ہے کہ جب تمہیں کہا فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ اثَّاقَلْتُمْ إِلَى جاتا ہے کہ اللہ کی راہ میں کوچ کرو تو تم الْاَرْضِ ۚ (التوبۃ ۳۸-۴۰) زمین سے پیوست ہو جاتے ہو)
نیز فرمایا : ”اے ایمان والو ! تم اللہ کے مددگار بن جاؤ ، جس طرح عیسیٰ بن مریمؑ نے حواریوں سے کہا کون ہے میری مدد کرنے والا اللہ کی خاطر“
(سورۃ الصّف ۔ ۱۴)
بلکہ مسلمانوں کی مدد کرنا واجب ہے ۔ اس کی دلیل مندرجہ ذیل حدیث نبوی ہے : ”اپنے بھائی کی مدد کرو خواہ ظالم ہو یا مظلوم“
نیز فرمایا : ”ایک مسلم دوسرے مسلم کا بھائی ہے ، نہ اُسے تنہا چھوڑے اور نہ ہی اس پر ستم ڈھائے“
پھر یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ ایک مومن رسولِ کریمؐ کی مدد نہ کرے ؟ سب سے بڑی مدد یہ ہے کہ آپؐ کی ناموس و آبرو کو اذیت دینے والوں سے بچایا جائے ۔ رسولِ کریمؐ نے فرمایا : ”جس نے کسی مومن کو منافق سے بچایا جو اسے ایذا دیتا تھا، اس کے جسم کو اللہ روزِ قیامت جہنم کی آگ سے بچائے گا “
اسی لیے گالی کا جواب دینے والے کو ”منتصر“ کہا جاتا ہے، ایک آدمی نے حضرت ابوبکرؓ کو رسولِ کریمؐ کی موجودگی میں گالی دی ۔ حضرت ابوبکرؓ خاموش رہے ۔ جب بدلہ لینے کے لیے تیار ہوئے تو رسولِ کریمؐ کھڑے ہو گئے ۔ ابوبکرؓ نے کہا یا رسول اللہ ! یہ شخص مجھے گالی دے رہا تھا اور آپؐ تشریف فرما تھے ۔ جب میں بدلہ لینے کے لیے تیار ہوا تو آپؐ کھڑے
ہو گئے۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”فرشتہ اُس کی کا جواب دے رہا تھا، جب تم بدلہ لینے کے لیے تیار ہوئے تو فرشتہ چل دیا۔ اور پھر میں بیٹھ نہ سکا۔ یا جیسے رسول کریمؐ نے فرمایا ۔ عربی زبان میں یہ محاورہ کثیر الاستعمال ہے کہ گالی کا بدلہ لینے والے کو ”منتصر“ و انتقام لینے والا کہتے ہیں۔ بالکل اسی طرح جس طرح قاتل اور ضارب کا انتقام لینے والے کو ”منتقم“ کہتے ہیں ۔
یہ پیچھے گزر چکا ہے کہ جس شخص نے رسول کریمؐ کو گالیاں دینے والی بنت مروان کو قتل کیا تھا اس کے حق میں رسول کریمؐ نے فرمایا ”اگر تم ایسے شخص کو دیکھنا چاہو جس نے اللہ اور اُس کے رسول کی غیبی مدد کی ہے تو اس آدمی کو دیکھ لو“ اور جس آدمی نے صفین پر رسول کریمؐ کو گالی دینے والے کو قتل کیا تھا اس کے بارے میں آپؐ نے فرمایا : کیا تم نے اس آدمی پر تعجب کیا جس نے اللہ اور اس کے رسول کو مدد دی تھی ؟
رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ناموس کی حفاظت ایک ایسی نصرت ہے جو دوسروں کی عزت کو بچانے سے زیادہ موقر ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ دوسروں کی آبرو میں رخنہ اندازی بعض اوقات اس کے مقصد کے لیے ضرر رساں نہیں ہوتی ، بلکہ اس کی وجہ سے اُس کے اعمال نامے میں نیکیاں لکھی جاتی ہیں ۔
رسول کریمؐ کی مدح و ستائش اقامتِ دین ہے اور آپؐ
کی آبرو کا ضیاع دین کے لیے ضرر رساں ہے
رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ناموس و آبرو میں رخنہ اندازی کلیۃً دین کے منافی ہے۔ اسلیے کہ شارع کے اکرام و احترام کا سقوط لازم آتا ہے، جو سقوطِ رسالت کو مستلزم ہے ، اور اس سے دین کا بطلان لازم آتا ہے ۔ الغرض رسول کریمؐ کی مدح و ستائش پر قیامِ دین کا انحصار ہے اور اس کے ساقط ہونے سے پورا دین ساقط ہو جاتا ہے اور جب صورت یہ ہے تو ہم پر لازم ہے کہ آپؐ کی ہتک کرنے والے سے انتقام لیں اور انتقام کی صورت یہ ہے کہ اُسے قتل کر دیا جائے اس لیے کہ آپؐ کی ناموس میں رخنہ اندازی کرنے سے اللہ کے دین کا ٹوٹنا پھوٹنا
بنانا لازم آتا ہے ۔
کھلی ہوئی بات ہے کہ جو شخص اللہ کے دین میں فساد پیدا کرتا ہے اسے قتل کر دینا چاہیئے ۔ بخلاف ازیں کسی خاص شخص کی تذلیل سے اللہ کے دین کا بطلان لازم نہیں آتا۔ جن لوگوں سے ہم نے معاہدہ کیا ہے اس کا یہ مطلب نہیں کہ ہم نے اس بات پر عہد کیا ہے کہ ان سے آپؐ کی بے عزتی کا انتقام نہیں لیں گے۔ ہم نے اس بات پر بھی معاہدہ نہیں کیا کہ اُن سے مسلمانوں کے حقوق وصول نہیں کیے جائیں گے۔ اس پر معاہدہ کرنا جائز بھی نہیں۔ جب اس نے رسول کریمؐ کو گالی دی تو ہم پر واجب ہے کہ اس کو قتل کر کے ان سے رسول کریمؐ کا بدلہ لیں ۔ اس کے ترک کرنے پر ہم نے ان سے معاہدہ نہیں کیا۔ لہٰذا وہ واجب القتل ہے۔ غور و فکر کرنے والے کیلئے یہ بات نہایت واضح ہے۔
آٹھویں وجہ : کفار سے معاہدہ کیا گیا ہے کہ اپنے دین کے فواحش و منکرات کا بلادِ اسلامیہ میں اظہار نہیں کریں گے۔ اگر وہ ان کا اظہار و اعلان کریں گے تو سزا کے مستحق ہوں گے ۔ اگرچہ ان کا اظہار ان کے مذہب کے عین مطابق ہو ۔ جب وہ علانیہ رسول کریمؐ کو گالیاں دیں گے تو اس کی سزا کے مستحق ہوں گے اور اس کی سزا قتل ہے ۔
رسول کریمؐ کو گالی دینے کی سزا قتل ہے
نویں حدیث : مسلمانوں کے یہاں اس بات میں کوئی اختلاف نہیں پایا جاتا کہ کفار کے لیے رسول کریمؐ کو گالی دینا ممنوع ہے ۔ اگر ممانعت کے بعد وہ ایسا کریں تو انہیں سزا دی جائے گی۔ معلوم ہوا کہ کفار سبِ رسول پر برقرار نہیں رہ سکتے جس طرح وہ اپنے کفریہ عقائد پر قائم ہیں اور جب وہ ان جرائم پر قائم نہیں رہ سکتے اور پھر بھی اس کے مرتکب ہوں تو بالاتفاق ان کو سزا دی جائے گی اور گالی کی سزا یا تو کوڑے مارنا ہے ، یا قید کرنا یا ہاتھ کاٹنا یا قتل کرنا ۔ پہلی بات باطل ہے ۔ اس لیے کہ کسی ایک مسلم یا سلطان المسلمین کو گالی دینا کوڑے مارنے اور قید کرنے کا مستوجب ہے ۔ اگر رسول کریمؐ کو گالی دینے کی بھی یہی حیثیت ہو تو
رسول کریمؐ اور دوسروں کو گالی دینا مساوی ہوا اور یہ بداہۃً باطل ہے اور قطع ید کا کچھ مطلب نہیں، اس لیے قتل ہی متعین ہے ۔
جب اہل ذمہ مخالفت کریں تو ان کا عہد ٹوٹ جائیگا
وجہ دہم : قیاس جلی اس امر کی مقتضی ہے کہ جب اہل ذمہ اپنے عہد کی مخالفت کریں تو ان کا عہد ٹوٹ جائے گا فقہاء کی ایک جماعت نے یہ موقف اختیار کیا ہے اس لیے کہ عہد کے بغیر خون مباح ہوتا ہے اور عہد معاملات میں سے ایک معاملے کا نام ہے۔ اور جب عہد کرنے والے فریقین میں سے کوئی ایک طے کردہ عہد کی کسی بات کو پورا نہ کرے تو اس سے عہد یا تو ٹوٹ جاتا ہے یا فریق ثانی جو کہ عقد کنندہ ہے عہد کو فسخ کرنے پر قادر رہتا ہے یہ بات بیع، نکاح، ہبہ اور دیگر امور میں ایک ضابطہ کلیہ کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس کی حکمت واضح ہے ۔ اس لیے کہ ایک فریق نے چند شرائط کا التزام اسی لیے کیا ہے کہ فریق ثانی بھی اس کی پابندی کرے۔ اگر دوسرا پابندی نہیں کرے گا تو پہلا بھی اس کو اپنے لیے لازم قرار نہیں دے گا ۔ اس لیے کہ جو حکم کسی شرط کے ساتھ معلق ہو وہ عدم شرط کی صورت میں باتفاق عقلاء ثابت نہیں ہوتا ۔ البتہ اس کے مثل کے ثابت ہونے میں اختلاف پایا جاتا ہے ۔
جب یہ بات واضح ہو گئی تو معلوم ہونا چاہیے کہ جس بات پر معاہدہ کیا گیا ہے اگر وہ عاقد کا حق ہو اور کسی شرط کے بغیر وہ اسے فسخ کر سکتا ہے تو شرط کے فوت ہونے سے عقد فسخ نہیں ہوگا ، البتہ وہ خود اسے فسخ کر سکتا ہے ۔ مثلاً وہ رہن کی شرط لگائے یا کسی ضامن کی یا مبیع کے اندر کسی صفت کا تعین کرے ــــ اگرچہ یہ اسی کا اور ان لوگوں کا حق ہے جو اس کے ولی بن کر تصرف کرتے ہیں ــــ تو اس کے لیے اس عقد کو جاری رکھنا جائز نہ ہو گا بلکہ شرط کے فوت ہونے کی وجہ سے یہ عقد از خود فسخ ہو جائے گا، اور اس کو فسخ کرنا اس پر واجب ہوگا ۔ جیسا کہ اس نے زوجہ کے آزاد ہونے کی شرط لگائی مگر وہ لونڈی نکلی ۔ اور وہ ایسا شخص ہو جس کے ساتھ لونڈی کا
نکاح جائز نہ ہو یا اس نے خاوند کے مسلم ہونے کی شرط عائد کی مگر وہ کافر نکلا۔ یا بیوی کے مسلمان ہونے کی شرط لگائی مگر وہ بت پرست نکلی ۔ کسی کے ساتھ ذمی ہونے کا معاملہ طے کرنا امیر یا خلیفہ کا حق نہیں، بلکہ یہ اللہ تعالیٰ اور عام مسلمانوں کا حق ہے ۔
جب اہل ذمہ کسی مشروط چیز کی مخالفت کریں تو اس میں ایک قول یہ ہے کہ حاکم اس عقد کو فسخ کر دے ۔ فسخ کرنے کا مطلب یہ ہے کہ اس غیر مسلم کو اس کی جائے امن میں پہنچا دے اور دارالاسلام سے نکال دے ۔ یہ خیال کرتے ہوئے کہ صرف کسی بات کی خلاف ورزی کرنے سے عقد نہیں ٹوٹتا بلکہ اس کو فسخ کرنا واجب ہے ۔ مگر یہ قول ضعیف ہے ۔ اس لیے کہ جب مشروط اللہ کا حق ہو ــــــ عاقد کا نہ ہو ــــــ تو شرط کے فوت ہونے سے وہ خود ہی ختم ہو جائے گا ، اس کو فسخ کرنے کی ضرورت نہیں ہے ۔
چند شروط ایسے ہیں کہ وہ حقوق اللہ ہونے کے اعتبار سے اہل ذمہ پر لازم ہیں ۔ مثلاً سلطان یا کسی اور کے لیے جائز نہیں کہ اہل کتاب سے جزیہ لے اور ان کے ساتھ دارالاسلام میں مقیم رہنے کا معاہدہ کرے ۔ الا یہ کہ وہ خود اس کو اپنے اوپر لازم کر لیں ۔ ورنہ نص قرآنی کے مطابق اُن کے ساتھ لڑنا سلطان پر واجب ہو گا ۔ اگر ہم فرض کر لیں کہ اس شرط کے بغیر بھی ان کو دارالاسلام میں ٹھہرانا جائز ہے تو یہ اس صورت میں ہے جب کہ مسلمانوں کو اس سے کچھ نقصان نہ پہنچتا ہو ۔ جس چیز سے مسلمانوں کو کچھ نقصان پہنچتا ہو اس پر ان کو برقرار رکھنا کسی حال میں جائز نہیں ۔ اگر فرض بھی کر لیا جائے کہ جس چیز سے مسلمانوں کو جانی یا مالی نقصان پہنچتا ہو اس پر انہیں برقرار رکھا جاسکتا ہے، تاہم انہیں اللہ کے دین کو بگاڑنے اور اس کے رسول اور کتاب پر طعن و تشنیع کی اجازت نہیں دی جاسکتی ۔
اس لیے بکثرت فقہاء کہتے ہیں کہ اگر وہ ایسی مخالفت کریں جس سے مسلمانوں کو نقصان پہنچتا ہو تو ان کا عہد ٹوٹ جائے گا ورنہ نہیں۔ بعض فقہاء نے یہ تحقیق کی ہے کہ اگر اس سے مسلمانوں کو دینی نقصان پہنچتا ہو تو اُن کا عہد ٹوٹ جائے گا۔ دنیوی نقصان سے نہیں۔ ظاہر ہے کہ رسول کریمؐ کو ہدف طعن بنانا عظیم ترین دینی نقصان ۔ جب یہ حقیقت نمایاں ہو گئی تو ہم کہتے ہیں کہ ان پر یہ شرط عائد کی گئی ہے کہ رسول کریمؐ کو
علانیہ گالی نہ دیں۔ یہ شرط دو وجہ سے ثابت ہے : پہلی وجہ : پہلی وجہ یہ ہے کہ ذمّی بنانے کا موجب و مقتضا ہی یہی ہے۔ جس طرح فروختی چیز (مبیع) کا عیوب سے پاک ہونا ، ادائیگی قیمت کی مدّت کا پورا ہونا ، خاوند بیوی کا جماع کے موانع سے پاک ہونا اور بیوی کے آزاد مسلمہ ہونے کی صورت میں خاوند کا مسلم اور آزاد ہونا ، نکاح کا موجب اور مقتضا ہے۔ اس لیے کہ نکاح کا موجب وہ ہے جو عرفاً نظر آتا ہے ، اگرچہ عقد کرنے والے نے زبان سے اس کی شرط نہ لگائی ہو ۔ مثلاً فروختی چیز کا عیوب سے پاک ہونا (مشروط نہ بھی ہو تب بھی ضروری ہے)۔
ظاہر ہے کہ دین پر طعنہ زنی اور رسول کی بدگوئی سے باز رہنا عقدِ ذمّہ کا اصلی مقصود ہے اور اہلِ اسلام ان سے اس کا مطالبہ اسی طرح کرتے ہیں جس طرح اس بات کا مطالبہ کرتے ہیں کہ اہلِ کتاب مسلمانوں سے لڑیں نہیں بلکہ اس سے بھی بڑھ کر ۔ اس لیے کہ رسولِ کریمؐ کی بدگوئی انتہائی ایذا کی موجب ہے اور ایذائے عام سے باز رہنا عقدِ ذمّہ کا بنیادی مقصد ہے ۔ جب مشتری کی ظاہری حالت یہ ہے کہ اس نے سودا اس مفروضے پر کیا ہے کہ فروختی چیز عیوب سے پاک ہے ۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ اگر مبیع میں عیب نکل آئے تو سودا فسخ ہو جائے گا ، اگر یہ شرط اس نے عائد نہ بھی کی ہو ۔ اسی طرح مسلمانوں کا ظاہر بھی یہی ہے —— جنہوں نے ذمّیوں سے اسی لیے معاہدہ کیا ہے کہ وہ دین میں بگاڑ پیدا کرنے اور ہاتھ یا زبان سے دین کو ہدفِ تنقید بنانے سے احتراز کریں —— اگر مسلمانوں کو معلوم ہو کہ یہ علانیہ دین کو ہدفِ طعن و ملامت بنائیں گے تو اُن سے معاہدہ نہ کرتے اور اہلِ ذمّہ کو یہ بات اسی طرح معلوم ہے جس طرح بائع جانتا ہے کہ مشتری نے اس سے یہ معاملہ اسی اساس پر کیا ہے کہ فروختی چیز سالم از عیب ہے ۔ بلکہ یہ بات ظاہر تر اور مشہور تر ہے اور اس میں خفاء و اشتباہ کی کوئی گنجائش نہیں ہے ۔
دوسری وجہ : اس شرط کے ثبوت کی دوسری وجہ یہ ہے کہ جن لوگوں نے پہلے پہل
اہل کتاب کے ساتھ معاہدہ کیا وہ اصحاب رسولؐ یعنی حضرت عمرؓ اور ان کے رفقاء تھے۔ فریقین کے مابین جو معاہدہ ہوا تھا ہم نے اسے نقل کیا اور ان لوگوں کے اقوال ذکر کیے ہیں جن کے ساتھ انہوں نے معاہدہ کیا تھا۔ اس معاہدے میں یہ بات شامل تھی کہ وہ مسلمانوں کے دین کو ہدف تنقید نہیں بنائیں گے۔ اور یہ کہ اگر وہ اس کے مرتکب ہوں گے تو ان کا خون و مال مباح ہو جائے گا اور ان کے ساتھ ہمارا معاہدہ باقی نہیں رہے گا۔
جب یہ بات ثابت ہوگئی کہ معاہدہ کرتے وقت یہ بات اس میں شامل تھی تو اس کے زائل ہونے سے معاہدہ فسخ ہوجائے گا۔ اس لیے کہ معاہدے کا ٹوٹ جانا بھی اُن کے ساتھ مشروط ہے۔ نیز اس لیے کہ شرط حقوق اللہ میں شامل ہے مثلاً خاوند بیوی کے مسلمان ہونے کی شرط۔ جب یہ شرط باقی نہیں رہے گی تو معاہدہ اسی طرح باطل ہو جائیگا جیسے شوہر کے کافر یا بیوی کے بت پرست نکل آنے سے یا مبیع کے مال مغصوب یا آزاد ثابت ہونے سے معاملہ باطل ہوجاتا ہے۔ اسی طرح زوجین کے درمیان اگر سسرالی تعلق یا رضاعت کا رشتہ ظاہر ہو جائے یا مبیع قبضہ کرنے سے پہلے تلف ہو جائے تو معاملہ فسخ ہوجاتا ہے۔ اس لیے کہ جس طرح ان امور کو جاننے کے باوجود عقد معاملہ درست نہیں، اسی طرح عقد معاملہ کے بعد ان اشیاء کے ظہور سے معاملہ فسخ ہوجائے گا۔ جب حاکم و سلطان کے لیے جائز نہیں کہ کافر سے ان اقوال و افعال کے صدور کے بعد معاہدہ کرے، اسی طرح ان افعال کے ظہور سے اس کا طے کردہ معاہدہ فسخ ہوجائے گا۔
علاوہ ازیں اگر ہم فرض کرلیں کہ عقد صرف حاکم کے توڑنے سے ٹوٹتا ہے۔ تاہم بلاشبہ اس کو توڑنا سلطان پر واجب ہوگا۔ کیوں کہ اس نے یہ معاہدہ مسلمانوں کے لیے منعقد کیا تھا۔ اس لیے کہ اگر یتیم کا سرپرست اس کیلئے کوئی چیز خریدے اور وہ عیب دار نکلے تو یتیم کے ضائع شدہ مال کی تلافی اس پر واجب ہے، اس معاملہ کو قول و فعل دونوں سے فسخ کیا جاسکتا ہے۔ مشتری اگر بائع کو قتل کردے تو اس سے سودا از خود فسخ ہو جائے گا۔
حاکم و سلطان کے لیے محض قول کے ساتھ معاہدہ کو فسخ کرنا جائز نہیں، کیونکہ اس سے مسلمانوں کو نقصان پہنچتا ہے ۔ سلطان کا وہ فعل معتبر نہیں جس سے مسلمانوں کو ضرر لاحق ہوتا ہو ، جب کہ اسے ترک کرنے کی قدرت بھی اس میں موجود ہو ۔ جب ہم کہتے ہیں کہ ”ذمی کا معاہدہ ٹوٹ گیا“ تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ اُس کا وہ عہد اب باقی نہیں رہا جس کی وجہ سے اس کا خون محفوظ تھا اور یہی بات صحیح ہے ۔ اس لیے کہ جب عہد کے منافی کوئی چیز موجود ہو تو عہد کا باقی رہنا محال ہے ۔
وہ امور جو عقدِ معاہدہ کے خلاف ہیں
یہ مسئلہ فقہاء کے یہاں متنازع فیہا ہے کہ کون سے امور عقد عہد کے منافی ہیں :
- (۱) بعض فقہاء کا قول ہے کہ جو امور بھی عقد عہد کے خلاف ہیں وہ اس کے منافی ہیں
اس لیے کہ حاکم وقت اُن شرائط کے بغیر اہل کتاب کے ساتھ معاہدہ نہیں کر سکتا ، جو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے طے کیے تھے ۔
- (۲) بعض فقہاء کے نزدیک اس سے ایسی مخالفانہ اشیاء مراد ہیں جو مسلمانوں کے
لیے ضرر رساں ہوں ، اس لیے کہ اس سے کم تر درجہ کے معاملات میں اہل کتاب کے ساتھ مصالحت جائز ہے ۔ جس طرح اسلام کی کمزوری کے زمانہ میں رسول کریمؐ نے اُن سے مصالحت کی تھی ۔
- (۳) تیسرا قول یہ ہے کہ اس سے وہ امور مراد ہیں جن سے دینی یا دنیوی ضرر لاحق
ہوتا ہے ، مثلاً رسول کریمؐ پر طعنہ زنی یا اس قسم کے دیگر اُمور ۔ الغرض ، تمام ایسے امور جن کی موجودگی میں حاکم ان کے ساتھ معاہدہ نہیں کر سکتا وہ عہد کے منافی ہیں ۔ جس طرح ایسے تمام امور جن کی موجودگی میں بیعت کرنا یا نکاح کرنا جائز نہیں وہ عقد بیعت یا نکاح کے منافی ہیں ۔
- (۴) چوتھی چیز دینِ اسلام پر طعنہ زنی ہے ۔ اگر اہل کتاب اس کے مرتکب ہوں تو حاکم
ان کے ساتھ معاہدہ نہیں کر سکتا ، مطلب یہ ہے کہ اہل کتاب اس کی قدرت رکھتے
ہوں اور جب چاہیں اس کا ارتکاب کر سکیں۔ یہ وہ بات ہے جس پر تمام اہل اسلام کا اجماع منعقد ہوچکا ہے۔ اس لیے بعض علماء ایسا کرنے پر اسے تعزیر کی سزا دیتے ہیں اور بعض اُسے قتل کی سزا دیتے ہیں۔ اس میں کسی مسلمان کے لیے شک کی گنجائش نہیں اور جس نے شک کیا اس نے اسلام کے جُوئے کو اپنی گردن سے اتار دیا۔
جب سلطان کے لیے کوئی معاملہ جائز نہ ہو تو وہ عقد کے منافی ہے۔ جس نے کسی شرط کی ایسی مخالفت کی جو آغاز عقد کے منافی ہو، تو اس کا عقد بلاشبہ فسخ ہو جائے گا۔ مثلاً زوجین میں سے کوئی ایک جب ایسا مذہب اختیار کرلے یا جو آغاز عقد سے مانع ہو—— ——جیسا کہ مسلم مرتد ہو جائے یا کافر کی بیوی اسلام قبول کرلے —— تو اس سے عقد فسخ ہو جائے گا یا تو اسی وقت یا عدت گزرنے کے بعد یا قاضی کی عدالت میں پیش ہونے کے بعد۔ جیسا کہ اپنی جگہ طے شدہ ہے۔
اہل ذمہ کا دین کو ہدف طعن بنانا عقد عہد کے نقطہ آغاز کے منافی ہے اس لیے اس سے ان کے عہد کا ٹوٹ جانا واجب ہے اور غور وفکر کرنے والے کے لیے یہ کھلی ہوئی بات ہے۔ تمام فقہاء کے نزدیک ان باتوں سے عہد کا ٹوٹ جانا واجب ہے۔ اصول قیاس کی روشنی میں یہ بات واضح ہے۔ واضح ہو کہ جن وجوہ کا ذکر ہم نے بلحاظ معنی کیا ہے، وہ ذمی سے متعلق ہیں۔ بخلاف ازیں مسلم اگر گالی دے تو اس میں معنوی جہت کے ذکر کی ضرورت نہیں۔ کیونکہ اُس کے حق میں یہ ظاہر ہے۔ اور یہ محل بھی اتفاق کا ہے، مگر اس مسئلہ کی تحقیق آگے آرہی ہے جس میں دیکھا جائے گا کہ آیا اُس کا گالی دینا خالص ارتداد ہے جو زیادت مغلظہ سے خالی ہوتا ہے یا ارتداد کی ایک قسم ہے جو ہر حال میں اس کے قتل کی متقاضی ہے ایک سوال یہ بھی ہے کہ آیا اُسے مسلمان سمجھتے ہوئے بھی گالی دینے کی بنا پر قتل کیا جائے گا یا نہیں؟ واللہ اَعْلَمُ ۔
اگر سائل کہے کہ قرآن میں آیا ہے ۔
"البتہ مالوں اور جانوں میں تمہاری آزمائش کی جائے گی اور تم ان لوگوں سے جن کو تم سے پہلے کتاب دی گئی اور مشرکین سے بہت ایذا سنو گے اور اگر تم صبر سے
کام لو اور ڈرتے رہو تو یہ بڑی بات ہے۔ (آل عمران - ۱۸۶) اس آیت میں فرمایا کہ ہم ان سے بہت سی ایذا دینے والی باتیں سنیں گے۔ اللہ تعالیٰ نے ہمیں انکی ایذا پر صبر کرنے کا حکم دیا۔ ظاہر ہے کہ جس چیز سے ہمیں زیادہ دکھ ہوتا ہے وہ یہ ہے کہ کتاب اللہ ، اس کے دین اور رسولؐ کو ہدف طعن بنایا جائے اور ارشاد ربانی : لَنْ يَّضُرُّوْكُمْ اِلَّآ اَذًى" : ”وہ تمہیں کچھ ضرر نہیں پہنچائیں گے البتہ (آل عمران - ۱۱۱) معمولی ایذا دیں گے“ اسی قبیل سے ہے ۔
پہلی توجیہ : اس ضمن میں پہلی توجیہ یہ ہے کہ آیت ھٰذا میں یہ مذکور نہیں کہ یہ بات اہل ذمّہ سے سنی گئی ہے ، بلکہ یہ کفار سے سنی گئی ہے ۔
دوسری توجیہ : دوسری توجیہ یہ ہے کہ ان کی ایذا پر صبر اور اللہ سے ڈرنے کا جو حکم دیا گیا ہے ان کے ساتھ قتال سے مانع نہیں ۔ اور اس سے اس بات کی ممانعت ثابت نہیں ہوتی کہ قدرت کے وقت اُن پر حدِّ شرعی لگائی جائے ۔ کیونکہ مسلمانوں میں اس امر میں کوئی اختلاف نہیں پایا جاتا کہ جب ہم کسی مشرک یا کتابی کو سنیں کہ وہ اللہ اور اس کے رسول کو ایذا دے رہا ہے تو ہمارے اور اس کے مابین کوئی عہد قائم نہیں رہتا ، بلکہ بقدر امکان و استطاعت اُن سے جہاد و قتال ہم پر واجب ہے ۔
پہلی مرتبہ عزت بدر کے موقع پر حاصل ہوئی تیسری توجیہ : تیسری توجیہ یہ ہے کہ آیت ھٰذا اور اس کی مماثل آیات بعض وجوہ سے منسوخ ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ”رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب مدینہ تشریف لائے تو وہاں بہت سے یہودی اور مشرکین بھی تھے وہاں کے رہنے والے اس وقت دو قسموں میں بٹے ہوئے تھے : (۱) مشرکین (۲) اہل کتاب ۔ چنانچہ مدینہ کے باسیوں سے آپؐ نے صلح کا معاہدہ کر لیا ۔ اُن میں یہودی بھی تھے اور دوسرے لوگ بھی ۔ اس وقت اللہ تعالیٰ نے آپؐ کو
عفو و درگزر کا حکم دیتے ہوئے فرمایا:
"بہت سے اہل الکتاب یہ چاہتے ہیں کہ تم کو ایمان لانے کے بعد کافر بنا دیں اپنی جانوں کی طرف سے حسد کی بناء پر، اس کے بعد کہ حق ان پر واضح ہو چکا ہے، پس معاف اور درگزر کرتے رہو، یہاں تک کہ اللہ اپنا حکم صادر کرے"
(البقرۃ - ۱۰۹)
اس آیت میں اللہ نے رسول کریم کو اس وقت تک عفو و درگزر سے کام لینے کا حکم دیا، یہاں تک کہ اللہ اپنے دین کو غالب کر دے اور اپنے لشکر کو عزت بخشے۔ اس لیے غزوۂ بدر پہلا موقع تھا جب اللہ نے مسلمانوں کو عزت بخشی۔ اس سے کفار مدینہ کی گردنیں جھک گئیں اور دیگر کفار خوف زدہ اور ہراساں ہو گئے۔
رسول کریم اور عبداللہ بن ابی
صحیحین میں بطریق عروہ از اسامہ بن زید مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک گدھے پر سوار ہوئے جس پر پالان ڈالا گیا تھا۔ اس کے نیچے فدک کی بنی ہوئی ایک چادر تھی۔ حضرت اسامہ بن زید آپ کے پیچھے سوار تھے۔ آپ بنی الحارث بن خزرج کے قبیلہ میں جا کر حضرت سعد بن عبادہ کی عیادت کرنا چاہتے تھے۔ یہ غزوۂ بدر سے پہلے کا واقعہ ہے۔ آپ چلتے چلتے ایک مجلس سے گزرے جس میں عبداللہ بن ابی بھی تھا۔ اس وقت تک عبداللہ اسلام نہیں لایا تھا۔ مجلس میں ملے جلے لوگ تھے جن میں مسلمان، یہودی اور بت پرست مشرکین بھی تھے۔ مجلس میں عبداللہ بن رواحہ بھی تھے۔ جب گدھے کے پاؤں سے گرد اٹھی اور اُس نے مجلس کو ڈھانپ لیا تو عبداللہ نے اپنی چادر کے ساتھ اپنی ناک کو ڈھانپ لیا۔ پھر کہا "گرد نہ اڑاؤ" رسول کریم نے سلام کیا، ذرا ٹھہرے اور سواری سے اتر آئے۔ آپ نے قرآن کی تلاوت کی اور ان کو دعوتِ اسلام دی۔ عبداللہ نے کہا: "اے شخص آپ بڑی اچھی بات کہتے ہیں۔ اگر یہ سچ ہے تو ہماری مجلس میں آکر ہمیں سنایا نہ کرو۔ اپنے گھر لوٹ جاؤ، جو شخص آپ کے یہاں جائے اسے یہ باتیں سنایا کرو۔ عبداللہ بن رواحہ نے کہا "یا رسول اللہ! آپ ہماری مجلس
میں ضرور آیا کریں ، ہم اس بات کو پسند کرتے ہیں ۔ مسلمان ، مشرک اور یہودی باہم گالیاں دینے لگے اور قریب تھا کہ ایک دوسرے پر حملہ کردیتے ۔
رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کو خاموش کراتے رہے یہاں تک کہ وہ خاموش ہوگئے ۔ پھر رسول کریمؐ سوار ہوکر حضرت سعد بن عبادہؓ کے گھر تشریف لے گئے ۔ آپؐ نے فرمایا ”اے سعد جو کچھ عبداللہ نے کہا تم نے سنا نہیں ؟ اس نے یوں یوں باتیں کی ہیں ۔ حضرت سعدؓ نے کہا ”یا رسول اللہ ! اسے معاف کیجیے اور درگزر سے کام لیجیے ۔ مجھے اس ذات کی قسم جس نے آپؐ پر کتاب نازل کی ، اللہ نے آپ پر حق نازل کیا ۔ اس علاقہ کے لوگوں نے اس بات پر اتفاق کیا تھا کہ عبداللہ کے سر پر دستار فضیلت باندھ کر اسے تاج شاہی پہنائیں ۔ جب اللہ نے آپؐ پر حق نازل کرکے اس کو اس (سعادت) سے محروم کردیا تو یہ چڑ گیا ۔ یہ حرکت جو آپؐ نے دیکھی اس نے اسی لیے کی ہے“ ۔ چنانچہ رسول کریمؐ نے اسے معاف کر دیا ۔
رسول کریمؐ اور آپؐ کے صحابہ حکم خداوندی کے مطابق مشرکین اور اہل کتاب کو معاف کر دیا کرتے ، اور ان کی ایذا پر صبر کرتے تھے ۔ ارشاد ربانی ہے : ”البتہ تم ان لوگوں سے جن کو تم سے پہلے کتاب دی گئی اور مشرکین سے بہت سی ایذا دینے والی باتیں سنو گے اور اگر تم صبر کرو اور اللہ سے ڈرتے رہو تو بڑی بات ہے “
(آل عمران ۔ ۱۸۶)
نیز فرمایا : ”بہت سے اہل کتاب چاہتے ہیں کہ ایمان لانے کے بعد تم کو کافر بنادیں یہ حسد ان کی جانوں کی طرف سے ہے ، اس کے بعد کہ حق ان پر واضح ہوچکا پس عفو و درگزر سے کام لو یہاں تک کہ اللہ اپنا حکم لے آئے اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے “
(البقرہ ۔ ۱۰۹)
رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم عفو و درگزر کے بارے میں حکم خداوندی پر عمل کرتے تھے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے جنگ کی اجازت دیدی ۔ اور جب
رسول کریم غزوہ بدر کے لیے تشریف لے گئے اور اللہ تعالیٰ نے رؤسائے قریش کو ہلاک کر دیا تو رسول کریمؐ اور آپؐ کے صحابہؓ کامیاب و کامران، مالِ غنیمت لیکر قریشی قیدیوں کے ہمراہ واپس مدینہ لوٹے ۔ عبداللہ بن اُبیّ اور اس کے بت پرست مشرکین رفقاء نے کہا یہ کام (دینِ اسلام) اب ٹھیک ہو گیا ہے ، اس لیے رسولِ کریمؐ کی بیعت کر کے اسلام کو قبول کر لینا چاہیے ۔ چنانچہ انہوں نے بیعت کر لی ۔ یہ الفاظ بخاری کے ہیں ۔
علی بن ابی طلحہ نے ابن عباس سے روایت کیا ہے کہ مندرجہ ذیل آیات منسوخ الحکم ہیں :
- (۱) " اَعْرِضْ عَنِ الْمُشْرِكِيْنَ " (مشرکوں سے اعراض کیجیے)
(الانعام - ۱۰۶)
- (۲) "لَسْتَ عَلَيْهِمْ بِمُصَيْطِرٍ" (تو اُن پر داروغہ نہیں ہے)
(الغاشیہ - ۲۲)
- (۳) " فَاعْفُ عَنْهُمْ وَاصْفَحْ " (پس ان کو معاف کیجیے اور درگزر
(المائدۃ - ۱۳) سے کام لیجیے)
- (۴) " وَاِنْ تَعْفُوْا وَتَصْفَحُوْا " (اور یہ کہ تم معاف کرو اور درگزر
(التغابن - ۱۴) کرو)
- (۵) "فَاعْفُوْا وَاصْفَحُوْا حَتّٰى (معاف کرو اور درگزر کرو یہاں تک
يَأْتِيَ اللّٰهُ بِأَمْرِهِ" کہ اللہ اپنا حکم لائے)
(البقرۃ - ۱۰۹)
اور اس قسم کی دیگر آیات جن میں اللہ نے اہلِ ایمان کو مشرکوں سے درگزر کرنے کا حکم دیا ہے ۔ ان تمام آیات کو مندرجہ ذیل آیات نے منسوخ کر دیا :
- (۶) " فَاقْتُلُوا الْمُشْرِكِيْنَ حَيْثُ (مشرکوں کو قتل کرو جہاں بھی ان
وَجَدْ تُمُوْهُمْ " کو پاؤ)
(التوبۃ - ۵)
(۷) " قَاتِلُوا الَّذِيْنَ لَا يُؤْمِنُوْنَ (جو لوگ ایمان نہیں لاتے ان سے بِاللّٰهِ (التوبۃ - ۲۹) لڑو)
امام احمدؒ اور دیگر محدثین نے قتادہ سے روایت کیا ہے کہ اللہ نے اپنے نبی کو حکم دیا کہ اُن کو معاف کریں اور درگزر کریں یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اپنا حکم لے آئے پھر اللہ تعالیٰ نے سورۃ التوبۃ نازل کر کے اپنا حکم صادر کیا کہ :
" اُن لوگوں سے لڑو جو اللہ اور آخری دن پر ایمان نہیں لاتے اور جس چیز کو اللہ اور اس کے رسول نے حرام کیا ہے اس کو حرام قرار نہیں دیتے " (التوبۃ - ۲۹)
اس آیت نے سابقہ آیات کو منسوخ کردیا ۔ اس میں اہل کتاب سے لڑنے کا حکم دیا گیا ہے ۔ یہاں تک کہ تابع ہو جائیں اور جزیہ کا اقرار کر کے اپنی ذلت و رسوائی کو قبول کریں ۔
اسی طرح موسٰی بن عقبہ نے زُہری سے روایت کیا ہے کہ رسولِ کریمؐ ان لوگوں سے نہیں لڑتے تھے جو آپؐ کے ساتھ جنگ سے باز رہتے تھے ۔ قرآن مجید میں فرمایا :
" اگر وہ تم سے الگ رہیں اور تمہاری طرف صلح کا پیغام بھیجیں تو اللہ نے تمہارے لیے اُن پر گرفت کی کوئی راہ نہیں نکالی " (النساء - ۹۰)
یہاں تک کہ سورۃ التوبہ نازل ہوئی تو آپ کو حکم دیا گیا کہ تمام کفار سے لڑیں قطع نظر اس سے کہ وہ بت پرست ہوں یا اہل کتاب ، خواہ لڑائی سے باز رہیں یا نہ رہیں ۔ آپؐ کو حکم دیا گیا کہ اُن تمام معاہدات کو نظر انداز کردیں جو آپؐ اور ان کے درمیان تھے ۔ اس ضمن میں آپؐ کو حکم دیا گیا کہ :
" کفار اور منافقین سے جہاد کیجیے اور ان پر سختی کیجیے "
(التوبۃ - ۷۳)
اس سے قبل آپؐ کو فرمایا گیا تھا کہ :
" کافروں اور منافقوں کی اطاعت نہ کیجیے اور ان کی ایذا کو نظر انداز کیجیے "۔
(الاحزاب - ۴۸)
بدر سے عزت افزائی کا آغاز ہوا
اور فتح مکہ پر اس کی تکمیل ہوئی
اسی لیے زید بن اسلم کہتے ہیں کہ اس آیت نے سابقہ تمام آیات کو منسوخ کر دیا۔ البتہ سورۂ توبہ کے نزول اور غزوۂ بدر سے پہلے آپ کو حکم دیا گیا تھا کہ کفار کی ایذا رسانی پر صبر کریں اور ان کو معاف کر دیں۔ غزوۂ بدر کے بعد اور سورۃ التوبۃ کے نزول سے قبل آپ ایذا دینے والوں سے لڑتے تھے اور جن سے صلح کی تھی ان سے اپنے ہاتھوں کو روکے رکھتے تھے۔ چنانچہ ایذا دینے والوں مثلاً کعب بن اشرف سے آپ نے یہی سلوک کیا۔ اس طرح غزوۂ بدر دینی اعزاز کا نقطۂ آغاز تھا اور فتح مکہ پر دینی اعزاز کا اختتام ہوا۔
غزوۂ بدر سے پہلے ظاہری ایذا کو سہتے تھے اور اس پر انہیں صبر کا حکم دیا جاتا تھا بخلاف ازیں بدر کے بعد منافقین کی جانب سے انہیں خفیہ ایذا دی جاتی تھی اور اس پر انہیں صبر کا حکم دیا تھا۔ غزوۂ تبوک کے موقع پر کفار اور منافقین پر سختی کرنے کا حکم صادر کیا گیا۔ اس غزوہ کے بعد کوئی کافر اور منافق انہیں مجلس عام یا خاص میں ایذا نہ دے سکا۔ وہ غصے میں دانت پیس کر رہ جاتے تھے ۔ وہ جانتے تھے کہ بات کرنے کی صورت میں اسے قتل کیا جائے گا ۔ غزوۂ بدر کے بعد یہودی مسلمانوں پر دست درازی کرنے لگے ، یہاں تک کہ کعب بن اشرف کو قتل کیا گیا ۔
محمد بن اسحاق ، محمد بن مسلمہ کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ جب صبح ہوئی تو یہودی سہمے ہوئے تھے ۔ اس لیے کہ دشمن خدا کعب بن اشرف کے ساتھ ہم نے جو کچھ کیا اس وجہ سے یہودی ڈر گئے تھے۔ کوئی یہودی ایسا نہ تھا جسے اپنی جان کا خطرہ نہ ہو ۔
ابن شبینہ یہودی کا قتل
محیصہؓ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”یہودیوں میں سے تم جس پر قابو پاؤ اسے قتل کر دو۔ چنانچہ محیصہؓ بن مسعود نے ایک یہودی تاجر پر حملہ کر کے اسے قتل کر دیا۔ وہ مسلمانوں سے مل جل کر اُن سے خرید و فروخت کیا کرتا تھا۔ حویصہؓ بن مسعود اس وقت تک اسلام نہیں لایا تھا۔ وہ محیصہؓ سے عمر میں بڑا تھا۔ جب اس نے قتل کر دیا تو حویصہؓ
نے اسے مارنا شروع کر دیا اس کے مال سے تمہارے پیٹ کا پلا ہوا ہے۔ محیصہؓ نے شخص نے دیا تھا کہ اگر وہ کی ”اگر محمدؐ مجھے تجھ کو قتل کر کی قسم ! حویصہؓ نے کہا : ”بخدا
یہود کا خوف و ہراس
محسوس ہو گئے اور ڈر گئے ۔ جب اپنا وعدہ پورا کر دیا تو ان کہ مشرکین اور اہل کتاب جزیہ ادا کریں ۔
صبر و تقویٰ کا اثر
کیا جاتا تھا خواہ وہ مدینہ کمزور مومن کے ساتھ ہے نے کسی طرح ممکن نہ ہو انتقام لے لے ۔ یہ آیات زبان یا ہاتھ سے انجام کی عمر کے آخری حصہ اور خلاف تاقیامت اسی پر گام زن رسول اکرم صلی اللہ علیہ ” امت ہذا کا اکثر
نے اسے مارنا شروع کر دیا ۔ وہ کہنے لگا ”اے دشمن خدا ! تو نے اسے قتل کر دیا بخدا ! اس کے مال سے تمہارے پیٹ پر چربی چڑھی ہوئی ہے ۔ بخدا یہ حویصہ کے اسلام لانے کا پہلا موقع تھا ۔ محیصہ نے کہا کہ میں نے اس سے کہا ”تجھے اس کو قتل کرنے کا حکم اس شخص نے دیا تھا کہ اگر وہ مجھے تجھ کو مارنے کا حکم دیتا تو میں تجھے قتل کر دیتا“ اس نے کہا ”اگر محمد تجھے مجھ کو قتل کرنے کا حکم دیتے تو تم مجھے قتل کر دیتے ؟“ محیصہ نے کہا جی ہاں اللہ کی قسم ! حویصہ نے کہا یہ بخدا جو دین تجھ پر اس حد تک اثر انداز ہوا ہے بڑا عجیب ہے“
یہود کا خوف و ہراس
ابن اسحاق کے علاوہ دیگر علمائے سیرت نے ذکر کیا ہے کہ جب سے کعب بن اشرف کو قتل کیا گیا یہودی رسوا ہو گئے اور ڈر گئے ۔ جب دین کے ظہور و شیوع اور دین کے غلبہ سے متعلق اللہ نے اپنا وعدہ پورا کر دیا تو اللہ نے مجاہدین کو جنگ سے باز رہنے کا حکم دیا اور فرمایا کہ مشرکین اور اہل کتاب سے جنگ لڑی جائے ، حتیٰ کہ ذلیل ہو کر اپنے ہاتھ سے جزیہ ادا کریں ۔
صبر و تقویٰ کا انجام
آغاز کار میں جس صبر و تقویٰ کا حکم دیا گیا تھا یہ ہے اس کا انجام ! اس وقت یہود سے جزیہ وصول نہیں کیا جاتا تھا خواہ وہ مدینہ میں رہتے ہوں یا کسی اور جگہ ۔ ان آیات کا تعلق ہر اس کمزور مومن کے ساتھ ہے ۔ جس کے لیے اللہ اور اس کے رسول کی مدد ہاتھ اور زبان سے کسی طرح ممکن نہ ہو اور وہ جیسے بھی بن پڑے دل سے یا کسی اور طرح سے انتقام لے لے ۔ یہ آیات ہر طاقتور مومن کے لیے جو اللہ اور اس کے رسول کی مدد اپنی زبان یا ہاتھ سے انجام دے سکتا ہو ذلت کی علامت بن گئیں ۔ مسلمان رسول کریمؐ کی عمر کے آخری حصہ اور خلفائے راشدین کے عہد میں ان ہی آیات پر عمل کرتے تھے اور تاقیامت اسی پر گام زن رہیں گے ۔
رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ :
” امت ہذا کا ایک گروہ حق پر قائم رہے اور وہ اللہ اور اس کے رسول کی
پوری پوری مدد کرتا رہے گا ۔ جو مومن کسی ایسی جگہ مقیم ہو جہاں اسے ضعیف تصور کیا جاتا ہو یا کسی وقت وہ ضعیف ہو جائے تو وہ اہلِ کتاب اور مشرکین کی ایذا پر صبر کرے اور ان آیات کو مشعلِ راہ بنائے جن میں عفو و درگذر اور صبر کی تلقین کی گئی ہے ۔ باقی رہے طاقتور مسلمان تو وہ ان آیات پر عمل کریں جن میں کفار کے رؤساء سے لڑنے کا حکم دیا گیا ہے جو دین کو ہدف تنقید بناتے ہیں ۔ نیز آیت قتال کی تعمیل کریں جس میں اہل الکتاب سے لڑنے کا حکم دیا گیا ہے تاوقتیکہ وہ ذلیل ہو کر اپنے ہاتھ سے جزیہ ادا کریں ۔
اگر معترض یہ آیت کریمہ پیش کرے کہ : "کیا تم نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جن کو سرگوشیاں کرنے سے منع کیا گیا تھا، پھر جس کام سے منع کیا گیا تھا وہی پھر کرنے لگے اور یہ تو گناہ اور ظلم اور رسول خدا کی نافرمانی کی سرگوشیاں کرتے ہیں اور جب تمہارے پاس آتے ہیں تو جس کلمے سے خدا نے تم کو دعا نہیں دی اس سے تمہیں دعا دیتے ہیں اور اپنے دل میں کہتے ہیں کہ اگر یہ واقعی پیغمبر ہیں تو جو کچھ ہم کہتے ہیں خدا ہمیں اس کی سزا کیوں نہیں دیتا ، اے پیغمبر ! ، ان کو دوزخ ہی کی سزا کافی ہے یہ اسی میں داخل ہوں گے اور وہ بُری جگہ ہے"۔
(المجادلۃ ۔ ۸)
خداوند کریم نے اس آیت میں بتایا کہ وہ رسول کریمؐ کو بُرا تحفہ دیتے ہیں ۔ نیز یہ کہ روز قیامت ان کو اس جُرم کی کافی سزا دی جائے گی ۔ اس سے معلوم ہوا کہ ان کو دنیا میں سزا دینا ضروری نہیں ۔
یہود کا رسول کریمؐ اور صحابہ کو سلام کہنا
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک یہودی کا گزر رسول کریمؐ پر ہوا تو اس نے کہا "اَلسَّامُ عَلَيْكَ" (تجھے موت آئے) رسول کریمؐ نے اس کے جواب میں فرمایا : "وَعَلَيْكَ" (اور تجھے بھی) پھر آپؐ نے فرمایا "کیا تمہیں معلوم ہے کہ یہودی کیا کہتے ہیں ؟ صحابہ نے عرض کی
نہیں ۔ فرمایا یہ کہتے ہیں ”تجھے موت آئے“ صحابہ نے عرض کیا یا رسول اللہ ! ہم انہیں قتل نہ کر دیں ؟ فرمایا ”نہیں“ جب اہل کتاب تمہیں سلام کہیں تو تم کہو وَعَلَیْکُمْ (اور تم پر بھی) ۔ (صحیح بخاری)
رسول کریمؐ کی برد باری اور تحمل
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ یہود کے ایک گروہ نے رسول کریمؐ کی خدمت میں حاضر ہو کر کہا : اَلسَّامُ عَلَیْکَ “ حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ میں نے اسے سمجھ لیا اور کہا ”موت تم پر آئے اور تم پر لعنت ہو“ رسول کریمؐ نے فرمایا ”اے عائشہ ! جانے دیجیے اللہ تمام امور میں نرمی کو پسند کرتا ہے“ میں نے عرض کی یا رسول اللہ ! جو کچھ انہوں نے کہا کیا آپؐ نے سنا نہیں ؟ آپؐ نے فرمایا میں نے کہہ دیا تھا : ”تم پر بھی موت آئے“ (صحیح بخاری و مسلم)
حضرت جابر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ چند یہودیوں نے رسول کریمؐ کو سلام کیا اور کہا ”اے ابوالقاسم ! آپ کو موت آئے“ رسول کریمؐ نے فرمایا : ”تمہیں بھی موت آئے“ حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ مجھے غصہ آ گیا اور میں نے کہا کیا آپؐ نے نہیں سنا کہ یہود نے کیا کہا ؟
رسول کریمؐ نے فرمایا کیوں نہیں ! میں نے سن کر اس کا جواب بھی دے دیا ۔ ہماری طرف سے فرشتے جواب دیتے ہیں ۔ جب کہ ان کی طرف سے کوئی ہمیں جواب نہیں دیتا “ (صحیح مسلم)
اس قسم کی بد دعا رسول کریمؐ کے حق میں اذیت رسانی اور گالی ہے اور اگر ایک مسلم ایسی بات کہے تو اس کی وجہ سے وہ مرتد ہو جاتا ہے ۔ اس لیے کہ آپؐ کی زندگی میں یہ آپ کے لیے موت کی بد دعا ہے ۔ اور یہ کافر کا فعل ہی ہو سکتا ہے ۔ مگر بایں ہمہ آپؐ نے ان کو قتل نہ کیا بلکہ ایسا کہنے والے یہود کو قتل کرنے سے منع کیا ، جب کہ صحابہؓ نے اس کو قتل کرنے کی اجازت طلب کی تھی ۔
رسول کریمؐ کے صبر کی وجوہ
ہم کہتے ہیں کہ اس کے کئی جواب ہیں :
پہلا جواب
پہلا جواب یہ ہے کہ یہ اس وقت کی بات ہے جب اسلام کمزور تھا۔ اس کی دلیل یہ ہے کہ رسول کریم نے حضرت عائشہ کو فرمایا تھا کہ ”اے عائشہ ! جانے دیجئے ، اللہ تعالیٰ تمام امور میں نرمی کو پسند کرتا ہے اور یہ وہ اذیت ہے جس پر آپ کو صبر کرنے کا حکم دیا گیا ہے ۔ جب تک کہ نیا حکم نہ آجائے ۔ مالکیہ ، شافعیہ اور حنبلیہ کے چند گروہوں نے یہ جواب دیا ہے ۔ ان میں سے قاضی ابو یعلیٰ ، ابو اسحاق شیرازی ، ابو الوفا بن عقیل اور دیگر علماء ہیں ۔ جن علماء نے یہ جواب دیا ہے ان کے نزدیک اہل کتاب کو امان دینا اُن کے ایمان لانے کی مانند ہے کہ امان اور ایمان دونوں رسول کریم کو گالی گلوچ دینے سے ٹوٹ جاتے ہیں ۔
مگر یہ جواب محلِ نظر ہے ۔ اس کی دلیل حضرت ابن عمرؓ کی یہ روایت ہے کہ رسول کریم نے فرمایا : یہودی سلام کہتے وقت ”السام علیکم“ کہتے ہیں ۔ تم اس کے جواب میں ”وَعَلَیْکَ“ کہہ دیا کرو ۔ حضرت انسؓ سے مروی ہے کہ رسول کریم نے فرمایا ”جب اہل کتاب تمہیں سلام کہیں تو تم ”وَعَلَیْکُمْ“ کہہ دیا کرو۔
(صحیح بخاری و مسلم)
ان احادیث سے مستفاد ہوا کہ اہل کتاب جب تک اپنے ذمے پر قائم رہیں ان کے ساتھ یہی سلوک کیا جائے گا ۔ نیز یہ کہ رسول کریم نے غلبہ اسلام کے دنوں میں بھی اس جرم کی بنا پر اہل کتاب کو قتل نہیں کیا تھا ۔ جب آپ قبیلہ بنی نضیر کی طرف سوار ہو کر گئے تو آپ نے فرمایا : ”جب یہودی تمہیں سلام کہیں تو تم صرف ”علیکم“ کہہ دیا کرو“ ۔ یہ کعب بن اشرف کو قتل کرنے کے بعد کا واقعہ ہے ۔ لہٰذا معلوم ہوا کہ اسلام اس وقت قوت و شوکت سے بہرہ ور ہو چکا تھا ۔
البتہ ہم تحریر کر چکے ہیں کہ رسول کریم کفار و منافق سے آغازِ اسلام میں ایذا دینے والی باتیں سنتے مگر بحکم خداوندی کی تعمیل میں صبر و تحمل سے کام لیتے ۔ فرمانِ باری تعالیٰ ہے : ”کفار اور منافقوں کی اطاعت نہ کیجیے اور ان کی ایذا کو نظر انداز کیجیے ۔“
(سورۃ الاحزاب - ۴۸)
اگر ان کو شرعی سزا دی جاتی تو اس سے عظیم فتنہ و فساد کا اندیشہ تھا جو ان کی اذیت
والے کلمات پر صبر کرنے سے بھی عظیم تر ہوتا۔ جب مکہ فتح ہوا اور لوگ جوق در جوق اسلام میں داخل ہوئے تو سورۃ التوبۃ کی آیت نازل ہوئی :
"جَاهِدِ الْكُفَّارَ وَالْمُنٰفِقِينَ کفار اور منافقین کے خلاف جہاد وَاغْلُظْ عَلَيْهِمْ - کیجیے اور ان پر سختی کیجیے ،
(التوبۃ - ٧٣)
نیز فرمایا : "اگر منافق اور وہ لوگ جن کے دلوں میں مرض ہے اور جو مدینے شہر میں ، گھڑی خبریں اڑایا کرتے ہیں اپنے کردار سے باز نہ آئیں گے تو ہم تم کو ان کے پیچھے لگادیں گے پھر وہاں تمہارے پڑوس میں نہ رہ سکیں گے مگر تھوڑے دن ۔ وہ بھی پھٹکارے ہوئے جہاں پائے گئے پکڑے گئے اور جان سے مار ڈالے گئے"
(الاحزاب - ۶٠ - ۶۱)
منافقوں نے نفاق کو کب چھپایا ؟
جب باقی ماندہ منافقین نے دیکھا کہ اسلام اب عزت و شوکت سے بہرہ ور ہو چکا ہے اور رسول کریمؐ کفار و منافقین کے خلاف نبرد آزما ہیں، تو انہوں نے اپنے نفاق کو چھپا لیا ۔ چنانچہ غزوہ تبوک کے بعد کسی منافق سے ایک بُرا کلمہ بھی سننے میں نہ آیا اور وہ اپنے غصے کو پیے جہنم رسید ہو گئے ۔ اس کے نتیجے میں رسول کریمؐ کی وفات کے بعد اُن میں سے صرف چند لوگ باقی رہ گئے جن کو حضورؐ کے محرمِ راز حضرت حذیفہؓ ہی جانتے تھے ۔ نہ تو خود حضرت صدیقؓ ان کی نمازِ جنازہ پڑھتے اور نہ وہ شخص جو انہیں پہچانتے تھے۔ مثلاً حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ ۔
مندرجہ صدر بیانات اس حقیقت کی غمازی کرتے ہیں کہ رسول کریمؐ سورۃ التوبۃ کے نزول سے قبل کفار کی جس اذیت کو برداشت کرتے تھے بعد ازاں اس سے دوچار نہیں ہوتے تھے۔ نیز جس طرح قیامِ مکہ کے دوران کفار کی جو اذیت آپؐ گوارا کرتے تھے مدینہ منورہ پہنچ کر اس کو برداشت کرنے کی ضرورت نہ تھی ۔ مگر مسئلہ زیرِ قلم اس باب میں سے
نہیں، جیسا کہ ہم بیان کر چکے ہیں ۔
دل میں پوشیدہ عداوت سے عہد نہیں ٹوٹتا
دوسرا جواب : دوسرا
جواب یہ ہے کہ یہ وہ گالی نہیں جس سے عہد ٹوٹ جاتا ہے۔ اس لیے کہ وہ بظاہر سلام کہتے تھے جو مسلمانوں میں معروف ہے اور علانیہ سب و شتم کا ارتکاب نہیں کرتے تھے۔ البتہ وہ سلام کی خفیہ تحریف کرتے تھے جس کا عام لوگوں کو پتہ بھی نہیں چلتا، یہی وجہ ہے کہ جب ایک یہودی نے آپ کو سلام مسنون کے بجائے "السام" (موت آئے) کہا تو صحابہ کو پتہ بھی نہ چلا یہاں تک کہ آپ کو بتانا پڑا اور فرمایا "یہود جب سلام کہتے ہیں تو وہ السام علیکم کہتے ہیں تو وہ پوشیدہ کفر اور تکذیب سے ان کا عہد نہیں ٹوٹتا تھا۔ یہ ایک ناگزیر سی بات ہے۔ اسی طرح پوشیدہ گالی بھی عہد شکنی کی موجب نہیں۔ البتہ علانیہ برا بھلا کہنے سے عہد ٹوٹ جاتا ہے۔
بکثرت علماء نے بیان کیا ہے کہ یہودی آپ کی خدمت میں حاضر ہو کر "السام" کہتے، اور رسول کریم اس کے جواب میں "وعلیکم" کہتے۔ آپ نہیں جانتے تھے کہ یہ کیا کہہ رہے ہیں۔ جب آپ کے یہاں سے چلے جاتے تو کہتے : "اگر یہ نبی ہوتا تو ہمیں سزا دیتا، ہمارے بارے میں اس کی بددعا مقبول ہوتی اور ہماری بات کو سمجھ پاتا۔" ایک روز یہود نے آکر "السام علیک" کہا۔ حضرت عائشہ نے ان کی بات سمجھ لی اور کہا "بلکہ تمھیں موت آئے، تمھاری مذمت ہو، تم پر بیماری آئے اور تم پر لعنت ہو۔" رسول اکرم صلے اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "اے عائشہ! اسے دفع کیجیے، اللہ سب کاموں میں نرمی کو پسند کرتا ہے۔ وہ فحش و بے حیائی کو پسند نہیں کرتا۔" حضرت عائشہ نے کہا یا رسول اللہ! کیا آپ نے اُن کی بات نہیں سنی؟ رسول اکرم صلے اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "جب اہل کتاب تمھیں سلام کہیں تو تم 'وعلیکم' کہہ دیا کرو۔"
یہ اس امر کی دلیل ہے کہ رسول کریم اسے گالی نہیں سمجھتے تھے۔ اسی لیے آپ نے حضرت عائشہ کو بتصریح (ان کو گالی دینے سے منع کیا اور نرمی کے ساتھ انہی کے الفاظ
لوٹانے کا حکم دیا۔ اگر انو بارے میں مقبول ہوگی اور ان رسول کریم اور صحابہ کے بارے تعزیر اور کلام تک محدود ہو۔ جب اس ضمن میں رسو کرنے والوں کو منع فرمایا آ نے اسے مخفی رکھنے کی کوشش چھپاتے ہیں۔ البتہ ان کے لب میں کوئی سخت سزا نہیں دی
تیسرا جواب : صحابہ کرام
اس امر کا آئینہ دار ہے کہ گالی کہ کعب بن اشرف اور یہود وجہ ہے کہ آپ نے اس کو قت قسم کی گفتگو سے دینا چاہیئے اور دوسرے لوگوں نے دی تم کی ہے جس طرح منافقین ا
جواب چہارم : رسول کر
کو گالی دیتا ، مگر آپ کی اُمت بلا خوف و نزاع مسلمانوں ک وہ کافر اور مباح الدم ہو جات کو بھی گالی دے ۔
بایں ہمہ فرمانِ ربانی ہ "اے ایمان والو! تم اُ
لوٹانے کا حکم دیا۔ اگر انہوں نے بُرے الفاظ کہے ہوں گے تو ہماری بددعا ان کے بارے میں مقبول ہوگی اور ان کی دعا ہمارے متعلق قبول نہیں کی جائے گی۔ اور اگر یہ رسول کریمؐ اور صحابہ کے بارے میں حقیقی گالی ہوتی تو لازماً انہیں سزا دی جاتی۔ اگرچہ یہ سزا تعزیر اور کلام تک محدود ہوتی ۔
جب اس ضمن میں رسولِ کریمؐ نے تعزیر کی اجازت نہیں دی بلکہ ان پر سختی کرنے والوں کو منع فرمایا تو معلوم ہوا کہ یہ بظاہر گالی نہیں۔ اس لیے کہ انہوں نے اسے مخفی رکھنے کی کوشش کی تھی۔ بالکل اسی طرح جیسے منافقین اپنے نفاق کو چھپاتے ہیں۔ البتہ ان کے لب و لہجہ سے اس کو پہچان لیا جاتا ہے۔ بنا بریں اس سلسلہ میں کوئی سخت سزا انہیں نہ دی جاتی۔ اس پر تفصیلی گفتگو آگے آرہی ہے، انشائ اللہ تعالیٰ۔
تیسرا جواب: صحابہ کرام کا یوں کہنا کہ ”السّام علیکم“ کہنے والے کو قتل نہ کر دیا جائے اس امر کا آئینہ دار ہے کہ گالی دینے والے یہودی کو وہ واجب القتل سمجھتے تھے اس لیے کہ کعب بن اشرف اور یہودی عورت کے قتل کا واقعہ وہ قبل ازیں دیکھ چکے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ آپ نے اس کو قتل کرنے سے منع کیا اور بتایا کہ ایسی گفتگو کا جواب اسی قسم کی گفتگو سے دینا چاہیے۔ یہ ویسی گالی نہیں ہے جو یہودی عورت، کعب بن اشرف اور دوسرے لوگوں نے دی تھی۔ بخلاف ازیں انہوں نے اس بدکلامی کو چھپانے کی کوشش کی ہے جس طرح منافقین اپنے نفاق کو چھپاتے ہیں ۔
جواب چہارم: رسولِ کریمؐ اس شخص کو معاف کر سکتے تھے جو آپ کی زندگی میں آپ کو گالی دیتا ، مگر آپ کی اُمت اس امر کی مجاز نہیں ہے ۔ اس کی توضیح یہ ہے کہ بلاخوف و نزاع مسلمانوں میں سے جو شخص حضور کی وفات کے بعد آپ کو گالی دے وہ کافر اور مباح الدم ہو جاتا ہے ۔ وہ شخص بھی اسی طرح ہے جو انبیاء میں سے کسی کو بھی گالی دے ۔
بایں ہمہ فرمانِ ربّانی ہے : ” اے ایمان والو! تم اُن لوگوں جیسے نہ ہونا جنہوں نے موسیٰؑ کو اذیت دی
رنج پہنچایا تو خدا نے اُن کو بے عیب ثابت کیا اور وہ خدا کے نزدیک آبرو والے تھے “
(الاحزاب - ۶۹)
نیز فرمایا : ” اور اس وقت کو یاد کرو جب موسیٰ نے اپنی قوم سے کہا کہ اے میری قوم تم مجھے کیوں ایذا دیتے ہو حالانکہ تم جانتے ہو کہ میں تمہارے پاس خدا کا بھیجا ہُوا آیا ہوں “
(سورۂ صف - ۵)
چنانچہ بنو اسرائیل موسیٰ علیہ السلام کو اُن کی زندگی میں ستاتے تھے اور اگر کوئی مسلمان اِسی طرح کہے تو واجب القتل ہو گا۔ تاہم موسیٰ علیہ السلام نے ان کو قتل نہ کیا۔ ہمارے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس امر میں ان کی پیروی کرتے تھے۔ بعض اوقات آپ سنتے کہ آپ کو گالی دی جا رہی ہے یا کوئی شخص آپ کو اس سے آگاہ کرتا ، مگر آپ موذی کو سزا نہیں دیتے تھے۔ قرآن میں فرمایا : ” اور ان میں سے بعض ایسے ہیں جو پیغمبر کو ایذا دیتے اور کہتے ہیں کہ یہ شخص نرا کان ہے “
(التوبۃ - ۶۱)
” اور ان میں بعض ایسے بھی ہیں کہ تقسیم صدقات میں تم پر طعنہ زنی کرتے ہیں۔ اگر ان کو اس میں سے خاطر خواہ مل جائے تو خوش رہیں اور اگر اس قدر نہ ملے تو جھٹ خفا ہو جائیں “
(التوبۃ - ۵۸)
امام زہری بطریق ابوسلمہ از ابوسعید روایت کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مالِ غنیمت تقسیم کر رہے تھے کہ اندریں اثنا عبداللہ بن ذی الخویصرہ تمیمی حاضر ہوا اور کہا یا رسول اللہ ! انصاف کیجیے ! فرمایا ” تو برباد ہو اگر میں نہ عدل کروں گا تو اور کون کرے گا “ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ” مجھے اجازت دیجیے کہ اس کی گردن اڑا دوں “ فرمایا ” جانے دیجیے ! اس کے کچھ ساتھی ہیں کہ تم میں سے کوئی شخص اپنی نماز کو ان کی نمازوں کے مقابلے میں اور ان کے روزوں کو اپنے روزوں کے
مقابلے میں کچھ وقعت نہ دے گا۔ یہ لوگ دین سے اس طرح نکل جائیں گے جس طرح تیر اپنے نشانے میں سے گزر جاتا ہے" (تا آخر) اس حدیث میں یہ آیت بھی مذکور ہے کہ " ان میں سے وہ لوگ بھی ہیں جو تجھے صدقات کے بارے میں طعن دیتے ہیں "
( التوبۃ - ۵۸ )
ذُوالخُوَیصِرہ کا واقعہ
امام بخاری رحمۃ اللہ نے اس حدیث کو بطریق مَعْمَر از زہری روایت کیا ہے ۔ صحیحین میں اس کو باسانید مختلفہ بطریق زہری از ابوسلمہ و ضحاک ہمدانی از ابوسعید رضی اللہ عنہ روایت کیا ہے کہ ہم آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بیٹھے تھے ۔ جب کہ آپؐ مال غنیمت تقسیم کر رہے تھے ۔ اسی اثنا میں بنو تمیم کے ایک آدمی ذوالخویصرہ نے آپ کی خدمت میں حاضر ہو کر کہا یا رسول اللہ ! انصاف سے کام لیجیے ۔ رسول کریمؐ نے فرمایا : "تو ہلاک ہو اگر میں انصاف نہ کروں گا تو اور کون کرے گا ؟ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا "مجھے اجازت دیجیے کہ اس کی گردن اڑا دوں ! فرمایا جانے دیجیے اور اس کے چند رفقاء ایسے ہیں کہ ان کے مقابلے میں تم اپنے نماز روزے کو کچھ وقعت نہ دو گے"۔
راوی نے خوارج سے متعلق مشہور حدیث روایت کی ، مگر آیت کے نزول کا ذکر نہ کیا ۔ اکثر احادیث میں اس کا نام ذُوالخُوَیْصِرَہ ہی مذکور ہے ۔ زہری کے اصحاب و تلامذہ نے ان سے اسی طرح روایت کیا ہے ۔ صحیح تر بات یہ ہے کہ معمر جس روایت کے نقل کرنے میں متفرد ہے یہ اس کا وہم ہے ، اور اس کا وہ عادی ہے ۔ علامہ نے اس کا نام حُرْقُوص بن زُہیر بھی ذکر کیا ہے ۔
صحیحین میں بطریق عبدالرحمن بن ابی نُعْم از ابوسعیدؓ منقول ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے رسول کریمؐ کی خدمت میں یمن سے تھوڑا سا سونا بھیجا جو ہنوز مٹی سے آلودہ تھا ۔ آپ نے اسے چار آدمیوں میں بانٹ دیا ۔ اس حدیث میں مذکور ہے کہ قریش اور انصار اس سے ناراض ہو گئے اور کہنے لگے آپ اہل نجد کے رؤساء کو دیتے ہیں اور ہمیں نہیں دیتے ۔ فرمایا " میں ان کی تالیف قلب کرتا ہوں " پھر ایک گہری آنکھوں
ابھری ہوئی پیشانی ، گھنی داڑھی، ابھرے ہوئے رخساروں اور منڈے ہوئے بالوں والا شخص نمودار ہوا اور کہا " اے محمد ! اللہ سے ڈر"۔ آپؐ نے فرمایا " اگر میں اسکی نافرمانی کروں تو پھر اس کی اطاعت کون کرے گا ؟ اللہ تو مجھے زمین والوں کا امین بناتا ہے مگر تم مجھے امین نہیں سمجھتے ! قوم میں سے ایک شخص نے اس کے قتل کی اجازت مانگی ۔ میرا خیال ہے کہ وہ حضرت خالد بن ولیدؓ رضی اللہ عنہ تھے ۔ مگر آپؐ نے اسے روک دیا ۔ جب وہ پیٹھ موڑ کر چل دیا تو آپؐ نے فرمایا : " اس کی نسل میں سے ایک قوم ہوگی جو قرآن کی تلاوت کرے گی مگر قرآن ان کے گلے سے نہیں اترے گا "۔
پھر خوارج کے بارے میں حدیث ذکر کی ، اس کے آخر میں مذکور ہے کہ وہ مسلمانوں کو قتل کریں گے ۔ مگر بت پرستوں سے تعرض نہ کریں گے ۔ اگر میں نے ان کو پا لیا تو میں انہیں قوم عاد کی طرح تہ تیغ کر دوں گا "۔
صحیح مسلم کی روایت میں ہے کہ " کیا تم مجھے امین تصور نہیں کرتے ، حالانکہ میں آسمان والوں کا امین ہوں ۔ صبح و شام میرے پاس آسمان کی خبریں آتی ہیں ۔ اس حدیث میں ہے کہ اس شخص نے کہا یا رسول اللہ ! اللہ سے ڈر ! رسول کریمؐ نے فرمایا : تو ہلاک ہو ، کیا میں تمام کائنات والوں سے اللہ سے زیادہ ڈرنے کا اہل نہیں ؟ پھر وہ شخص چل دیا تو حضرت خالدؓ نے کہا یا رسول اللہ ! میں اسکی گردن نہ اڑا دوں ؟ فرمایا " نہیں ، ممکن ہے یہ نماز پڑھتا ہو"۔ خالدؓ نے کہا بہت سے نمازی ایسی بات کہتے ہیں جو ان کے دل میں نہیں ہوتی ۔ رسولؐ نے فرمایا " مجھے اس بات کا حکم نہیں دیا گیا کہ میں لوگوں کے دل اور پیٹ چیر کر دیکھ لیا کروں "۔
ایک صحیح حدیث میں وارد ہے کہ حضرت عمرؓ نے کہا اور دوسری میں ہے کہ حضرت خالدؓ نے کہا یا رسول اللہ ! میں اس کی گردن نہ اڑا دوں ؟ فرمایا "نہیں" اس آدمی کے بارے میں قرآن نے تصریح کی ہے کہ وہ منافقین میں سے تھا ۔
قرآن میں فرمایا :
وَمِنْهُمْ مَّنْ يَّلْمِزُكَ فِي اور ان میں سے ایسے آدمی بھی ہیں جو الصَّدَقَاتِ (التوبۃ - ۵۸) صدقات کے بارے میں آپ کو طعن دیتے ہیں )
جب رسول کریم نے چار آدمیوں کو مال دے دیا تو اس نے رسول کریم سے کہا : ”انصاف کیجئے اور خدا سے ڈریئے “ گویا اس نے آپ کو ظالم اور خدا سے نہ ڈرنے والا قرار دیا۔ اسی لئے رسول کریم نے اُس سے کہا ” کیا میں سب سے زیادہ خدا سے ڈرنے والا نہیں ہوں ؟ جب میں آسمان والوں کا امین ہوں تو تم مجھے امین کیوں نہیں سمجھتے ؟ اگر کوئی شخص آج کوئی ایسی بات کہے تو بلا شبہ واجب القتل ہو گا۔ آپ نے اسے اس لئے قتل نہ کیا کہ وہ اسلام کا اظہار کرتا تھا۔ یعنی نماز پڑھتا تھا جس کی عدم ادائیگی پر جنگ لڑنے کا حکم دیا گیا ہے۔ وہ منافق اس لئے تھا کہ وہ رسول کریم کو ایذا دیا کرتا تھا اور آپ از راہ تالیف قلبی اس کو معاف کر دیا کرتے تھے تاکہ لوگ باتیں نہ بنانے لگیں کہ محمد اپنے اصحاب کو قتل کر دیتے ہیں۔ اس قسم کے دیگر واقعات میں اس کی وضاحت بھی پائی جاتی ہے ۔
صحیح مسلم میں بطریق ابو الزبیر از جابر رضی اللہ عنہ منقول ہے کہ رسول کریم جب حُنین سے لوٹ کر جِعِرّانہ آئے تو بلال کے کپڑے میں کچھ چاندی تھی اور رسول کریم اس میں سے لیکر لوگوں کو دے رہے تھے۔ اس نے کہا اے محمد ! انصاف کیجئے۔ فرمایا : تجھ پر افسوس ہے اگر میں نہیں انصاف کروں گا تو اور کون کرے گا ؟ اگر میں انصاف نہیں کرتا تو تم خائب اور خاسر ہوئے۔ حضرت عمر نے کہا ” یا رسول اللہ ! اجازت دیجئے کہ میں اس منافق کو قتل کر دوں “۔ آپ نے فرمایا ” پناہ بخدا ! کہ میرے بارے میں لوگ یہ کہیں کہ میں اپنے اصحاب کو قتل کر دیتا ہوں ۔ یہ آدمی اور اس کے ہمنوا قرآن پڑھتے ہیں مگر قرآن ان کے گلے سے نیچے نہیں اترتا۔ وہ دین سے اس طرح نکل جاتے ہیں جس طرح تیر نشانہ میں سے آگے نکل جاتا ہے ۔
صحیح بخاری میں بطریق عمرو از جابر منقول ہے کہ رسول کریم جب جِعِرّانہ میں
مال غنیمت تقسیم کر رہے تھے تو ایک شخص نے آپؐ سے کہا ”انصاف کیجیے“ آپؐ نے فرمایا ”اگر میں عدل نہیں کرتا تو تم بڑے بدبخت ہو“
اس نے رسول کریمؐ کی شان میں اس سے بھی شدید تر الفاظ کہے۔ چنانچہ ابو یعلیٰ بطریق ابن اسحاق از ابوعبیدہ بن محمد بن عمار بن یاسر از مقسم ابوالقاسم مولیٰ عبداللہ بن الحارث، روایت کرتے ہیں کہ میں اور ولید ابن کلاب اللیثی حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص سے ملے جو اپنے ہاتھوں میں جوتے لٹکائے کعبہ کا طواف کر رہے تھے۔ ہم نے ان سے کہا آپ اس وقت موجود تھے جب ذوالخویصرہ تمیمی رسول کریمؐ کے ساتھ تھا۔ حضرت عبداللہ نے اثبات میں جواب دیا پھر ہمیں بتایا کہ مذکورہ شخص رسول کریمؐ کی خدمت میں حاضر ہوا جب کہ آپؐ حنین میں مال غنیمت تقسیم کر رہے تھے۔ اس نے کہا اے محمد! آپ نے جو کچھ کیا میں نے دیکھ لیا۔ آپؐ نے فرمایا ”تم نے کیا دیکھا؟ اس نے کہا میں نے دیکھا کہ آپ انصاف سے کام نہیں لے رہے۔ رسول کریمؐ نے ناراض ہو کر فرمایا ”اگر عدل میرے یہاں نہیں ہے تو پھر کہاں ہوگا“ حضرت عمرؓ نے کہا یا رسول اللہ! کیا میں اس کی گردن نہ اڑا دوں؟ رسول کریمؐ نے فرمایا ”اسے جانے دیجیے، اس کی ایک جماعت ہوگی جو دین میں تعمق سے کام لے گی۔ وہ دین سے اس طرح نکل جائیں گے جس طرح تیر شکار سے نکل جاتا ہے“۔ (تا آخر)
ابن اسحاق بطریق ابو جعفر محمد بن علی بن حسین روایت کرتے ہیں کہ ذوالخویصرہ تمیمی رسول کریمؐ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ آپؐ اس وقت حنین میں مال غنیمت تقسیم کر رہے تھے۔ اس کے آگے حسب سابق ذکر کیا۔ اس کو امام احمدؒ نے بطریق یعقوب بن ابراہیم بن سعد از والد خود از ابن اسحاق مثلِ ایں روایت کیا ہے۔ اموی نے بطریق از ابوعبیدہ واز محمد بن علی واز ابن ابی نجیح از والد خود روایت کیا ہے کہ ایک آدمی نے رسول کریمؐ سے گفتگو کی۔ محمد بن علی کی روایت میں اس کا نام ذوالخویصرہ تمیمی تھا۔ دیگر محدثین نے
رسول کریمؐ پر اعتراض کرنیوالے کے بارے میں مزید تحقیق کیا ہے
کہ جس شخص نے حُنین کے مال غنیمت کی تقسیم پر اعتراض کیا تھا وہ ذوالخویصرہ تھا ۔ اسی طرح وہ منافق جس نے بقول ابن مسعودؓ حُنین کے مال غنیمت کی تقسیم پر اعتراض کیا تھا یہی شخص تھا ۔
البتہ ابن ابی شیبہ نے ابو سعیدؓ سے جو روایت کی ہے وہ اس کے بعد کا واقعہ ہے ۔ اس میں مذکور ہے کہ حضرت علیؓ نے یمن سے رسول کریمؐ کی خدمت میں تھوڑا سا سونا بھیجا تھا آپ نے اسے چار نجدی اشخاص میں بانٹ دیا تھا ۔ اہل علم اس بات پر متفق ہیں کہ جنگ حُنین میں حضرت علیؓ رسول کریمؐ کے ہمراہ تھے ۔ مزید برآں یمن ابھی فتح بھی نہیں ہوا تھا ۔ پھر سنہ ٩ھ میں رسول کریمؐ نے حضرت علیؓ کو غزوۂ تبوک کے بعد بھیجا تھا ۔ اور قبل ازیں رسول کریمؐ نے موسم حج میں حضرت علیؓ کو حضرت ابوبکرؓ کے ہمراہ بھیجا تاکہ کفار کے عہدوں کے ٹوٹنے کا اعلان کر دیں ۔ جب حضرت علیؓ یمن سے لوٹے تو رسول کریمؐ سے ان کی ملاقات حجۃ الوداع کے موقع پر ہوئی ۔ حضرت علیؓ جب زکوٰۃ کا مال بھیجے تو رسول کریمؐ اس وقت مدینہ طیبہ میں تھے ۔
اس کی مزید توضیح اس سے ہوتی ہے کہ حُنین کے مال غنیمت میں سے رسول کریمؐ نے قریش اور اہل نجد کے بہت سے لوگوں کو انعامات دیئے ۔ یہ تھوڑا سا سونا آپؐ نے چار نجدی اشخاص میں بانٹ دیا تھا جب صورتِ حال یہ ہے تو معترض اس مرتبہ ذوالخویصرہ کے سوا کوئی اور شخص ہوگا اور ابو سعیدؓ دونوں واقعات میں موجود ہوگا ۔ بنا بریں مُخَیمِر کی روایات کے یہ الفاظ درست نہیں ۔ کہ صدقات کے ذکر پر مشتمل آیت ذوالخویصرہ کے واقعہ میں نازل ہوئی ۔ بلکہ حدیث میں یہ الفاظ زُہری یا معمر نے شامل کیے ہیں ۔ اس لیے کہ ذوالخویصرہ نے آپؐ کے مال غنیمت تقسیم کرنے پر اعتراض کیا تھا اور یہ وہ صدقات بھی نہیں جو آٹھ مصارف میں تقسیم کیے جاتے ہیں مفسرین کا یہ قول قابل التفات نہیں کہ یہ آیت حُنین کے مال غنیمت کی تقسیم کے بارے میں نازل ہوئی تھی ۔ یہ بھی ممکن ہے کہ حضرت علیؓ کے سونے کی تقسیم پر اعتراض کرنے والا ذوالخویصرہ ہی ہو ۔ بنا بریں ابو سعیدؓ کی جملہ روایات اسی واقعہ سے متعلق
ہوں گی ۔ نہ کہ مال غنیمت کی تقسیم کے ساتھ اور آیت بھی اسی ضمن میں اتری ہو گی ۔ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ ابو سعید دونوں واقعات کے وقت موجود ہو، اور آیت ایک واقعہ کے بارے میں اتری ہو ۔
ابو بردہ اشعری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول کریمؐ کے پاس مال لایا گیا جو آپؐ نے تقسیم کر دیا ۔ آپؐ نے دائیں بائیں والوں کو دیا مگر جو لوگ پس پشت تھے اُن کو کچھ نہ دیا ۔ آپؐ کی پچھلی طرف سے ایک آدمی نے اٹھ کر کہا اے محمد ! آپؐ نے تقسیم میں انصاف سے کام نہیں کیا ۔ وہ ایک سیاہ فام آدمی تھا، اس نے بال منڈائے ہوئے تھے اور وہ دو سفید کپڑوں میں ملبوس تھا ۔ یہ سن کر آپؐ سخت ناراض ہوئے فرمایا بخدا تم میرے بعد مجھ سے بڑھ کر عادل آدمی نہ پاؤ گے ۔ پھر فرمایا آخری زمانہ میں ایک قوم نمودار ہو گی گویا یہ بھی ان میں سے ایک ہے ۔ وہ قرآن کی تلاوت کریں گے مگر قرآن ان کے گلے سے نیچے نہیں اترے گا ۔ وہ اسلام سے اس طرح نکل جائیں گے جس طرح تیر نشانے سے نکل جاتا ہے ۔ ان کی علامت یہ ہے سر منڈوایا کریں گے ۔ یہ آخری زمانہ میں ظہور پذیر ہوتے رہیں گے ۔ حتی کہ ان میں سے آخری شخص دجال کے ساتھ نمودار ہو گا ۔ جب تم ان سے ملو تو انہیں قتل کر دو ۔ وہ بنی نوع انسان اور حیوانات سب سے بدتر ہوں گے ۔
(نسائی)
اسی قبیل کی ایک روایت وہ ہے جس کو صحیحین میں بطریق ابووائل، عبداللہ سے روایت کیا ہے کہ حنین کے روز رسول کریمؐ نے بعض لوگوں کو مال غنیمت کی تقسیم میں ترجیح دی ۔ چنانچہ آپؐ نے اقرع بن حابس اور عیینہ بن حصن میں سے ہر ایک کو سو سو اونٹ دیئے ۔ پھر عرب کے رؤساء کو کچھ مال دیا اور ان کو دوسروں پر ترجیح دی ۔ ایک آدمی نے یہ دیکھ کہا : بخدا اس تقسیم میں عدل و انصاف کے تقاضوں کو ملحوظ نہیں رکھا گیا ۔ یا یوں کہا کہ اس میں رضائے الٰہی کو پیش نظر نہیں رکھا گیا ۔ میں نے کہا واللہ میں رسول کریمؐ کو اس بات سے آگاہ کروں گا ۔ چنانچہ میں نے آکر آپؐ کو اس سے آگاہ کر دیا ۔ یہ سن کر رسول کریمؐ کا چہرہ سرخ ہو گیا ۔ پھر فرمایا : اگر اللہ اور اس
کا رسول انصاف نہیں کریں گے تو اور کون کرے گا ؟ پھر فرمایا اللہ تعالیٰ حضرت موسیٰ پر رحم فرمائے اُن کو اس سے زیادہ ستایا گیا تھا ۔ مگر انہوں نے صبر سے کام لیا“ ۔ راوی کا بیان ہے کہ میں نے کہا ”اس کے بعد میں ان سے کوئی بات نہیں کہوں گا ۔“
بخاری کی روایت میں ہے کہ ایک انصاری نے کہا ”اس تقسیم میں رضائے الٰہی کو ملحوظ نہیں رکھا گیا “ ۔ واقدی کہتے ہیں کہ یہ بات معتب بن قشیر نے کہی ، جس کو منافقین میں شمار کیا جاتا تھا ۔ ظاہر ہے کہ ایسی بات کہنے والا بالاتفاق واجب القتل ہے ۔ اس لیے کہ اس نے رسولِ کریمؐ کو ظالم اور ریا کار قرار دیا ۔ رسولِ کریمؐ نے تصریح فرمائی کہ رسولوں کو اسی طرح ستایا گیا تھا ۔ پھر معاف کرنے میں آپؐ نے موسیٰ علیہ السلام کی پیروی کی اور توبہ کا مطالبہ نہ کیا ۔ اس لیے کہ اس قول کا ثبوت موجود نہ تھا ۔ کیونکہ آپؐ نے نہ تو قائل کی طرف دھیان دیا اور نہ ہی اس سے کچھ گفتگو کی ۔
اسی قسم کی وہ روایت ہے جس کو ابن ابی حاتم اور ابوالشیخ نے الدلائل میں باسنادِ صحیح بطریق قتادہ از عقبہ بن وسّاج ، حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کیا ہے کہ رسولِ کریمؐ کی خدمت میں سونے چاندی کا ایک ہار پیش کیا گیا ۔ آپؐ نے اسے صحابہ میں تقسیم کر دیا ۔ ایک دیہاتی آدمی نے اُٹھ کر کہا اے محمد ! اللہ نے آپؐ کو عدل کا حکم دیا ہے مگر آپؐ انصاف کرتے دکھائی نہیں دیتے ۔ آپؐ نے فرمایا ! ”افسوس ہے ، پھر میرے بعد اور کون انصاف کرے گا ؟“ جب وہ پیٹھ پھیر کر چل دیا تو آپؐ نے فرمایا ! ”اسے آہستہ سے میرے پاس لاؤ “
پھر اس سے ملتا جلتا اس انصاری کا قول ہے جس نے سنگستان کے نالے کے بارے میں حضرت زبیرؓ سے جھگڑا کیا تھا ۔ رسولِ کریمؐ نے فرمایا ” اے زبیر ! پہلے تم اپنے کھیت کو سیراب کرو اور پھر پانی اپنے پڑوسی کے کھیت کی طرف چھوڑ دو “ ۔ انصاری بولا : یہ فیصلہ آپؐ نے اس لیے کیا کہ زبیر آپؐ کا پھوپھی زاد بھائی ہے “ ۔ نیز جب آپؐ نے ایک شخص کے خلاف فیصلہ صادر کیا تو اس نے کہا مجھے یہ فیصلہ پسند نہیں ۔ پھر وہ فیصلہ کرنے کے لیے حضرت ابوبکرؓ کے یہاں گیا (تاہم وہ راضی نہ ہوا) اور اس کے بعد حضرت
عمرؓ نے یہاں کہا تو آپؐ نے اُسے قتل کر دیا۔ تلاش کرنے سے احادیث میں اس کے بکثرت نظائر وامثال مل جاتے ہیں ۔ مثلاً وہ حدیث جس کو بہز بن حکیم اپنے باپ سے اور وہ ان کے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ ان کے بھائی نے رسول کریمؐ کی خدمت میں حاضر ہو کر کہا کہ میرے پڑوسیوں کو کس لیے گرفتار کیا گیا ؟ رسول کریمؐ نے اس سے اعراض فرمایا۔ اس نے کہا کہ لوگوں کا خیال ہے آپؐ دوسروں کو مال غنیمت سے روکتے ہیں اور اپنے لیے اسے حلال سمجھتے ہیں۔ آپؐ نے فرمایا ”اگر میں اس طرح کرتا ہوں تو اس کی ذمہ داری مجھ پر ہے ۔ ان پر نہیں۔ پھر فرمایا ” اس کے پڑوسیوں کو رہا کر دو “
(ابوداؤد بسند صحیح)
اس شخص نے اگرچہ دوسروں کی زبانی آپؐ پر بہتان لگایا، تاہم اس کا مقصد آپ کی تحقیر اور اذیت رسانی تھی۔ اس نے اس واقعہ کی تردید کرنے کے لیے نقل نہیں کیا تھا۔ اور یہ بھی ایک طرح کی گالی ہے ۔
اسی قسم کے ایک واقعہ کو ابن اسحاق نے بطریق ہشام از حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نقل کیا ہے کہ رسول کریمؐ نے ایک بدو سے ایک اونٹ پانچ وسق کھجوروں کے عوض خریدا اور اسے اپنے گھر لائے۔ آپؐ نے کھجوریں تلاش کیں تو انہیں موجود نہ پایا۔ چنانچہ آپؐ بدو کی طرف گئے اور اسے کہا اے اللہ کے بندے ! ہم نے تمہارا یہ اونٹ پانچ وسق کھجوروں کے عوض خریدا تھا۔ ہمارا خیال تھا کہ کھجوریں گھر میں موجود ہیں مگر ہم نے انہیں نہ پایا۔ بدو نے کہا ”ہائے فریب، ہائے فریب، لوگوں نے اسے مُکے مارے اور کہا کہ تو رسول کریمؐ کو اس طرح کہتا ہے ۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”اسے چھوڑ دو“ اس کو ابن ابی عاصم اور ابن حبان نے الدلائل میں روایت کیا ہے ۔
یہ تمام امور ایسے ہیں جن کی وجہ سے کوئی آدمی واجب القتل، منافق ، کافر اور مباح الدم ہو جاتا ہے۔ رسول کریم اور دیگر انبیاء ایسی بات کہنے والے سے درگزر
سے کام لیتے اور اُسے معاون کر دیا کرتے تھے۔
قرآن میں فرمایا :
خُذِ الْعَفْوَ وَأْمُرْ بِالْعُرْفِ وَ (معاف کیجیے، بھلائی کا حکم دیجیے اور اَعْرِضْ عَنِ الْجَاهِلِيْنَ " جاہلوں سے اعراض کیجیے) (الاعراف - ١٩٩)
اِدْفَعْ بِالَّتِيْ هِيَ اَحْسَنُ " (ایسے طریقہ سے دفاع کیجیے جو بہت (المومنون - ٩٦) اچھا ہو)
" وَلَا تَسْتَوِي الْحَسَنَةُ وَلَا (نیکی اور بدی برابر نہیں اور السَّيِّئَةُ اِدْفَعْ بِالَّتِيْ هِيَ بدی کا دفاع اس طریق سے کیجیے جو اَحْسَنُ " بہت اچھا ہو) (سورہ فُصِّلَت - ٣٤)
مسئلہ زیر بحث کے بارے میں بہت سی مشہور احادیث پائی جاتی ہیں۔ انبیاء کرام اپنی فضیلت کی وجہ سے اس درجہ کو پانے کے بہت حق دار ہیں ۔ اور سب لوگوں کی نسبت اُن کو اس کی زیادہ ضرورت بھی ہے ۔ اس لیے کہ ان کو دعوتِ دین، لوگوں کے اخلاقی علاج اور ان کی عاداتِ قبیحہ کو تبدیل کرنے کی وجہ سے نہایت کڑی آزمائش سے سابقہ پڑتا ہے ، یہ ایسا کام ہے کہ جو بھی اس سے عہدہ برآ ہو لوگ اس کے دشمن ہو جاتے ہیں ۔ بنا بریں جو کلام ان کے لیے باعث ایذا ہو اس کا مرتکب کافر ہو جاتا ہے ۔ ایسا آدمی اگر معاہد ہو تو محارب بن جاتا ہے اور اگر اس نے اسلام کا اظہار کر رکھا ہے تو وہ مرتد یا منافق بن جاتا ہے مزید برآں انبیاء حقوق العباد وصول کرنے کے حقدار بھی ہیں ۔ اس لیے اللہ نے انہیں یہ حق دیا ہے کہ اس قسم کے اُمور کو معاف کر دیا کریں ۔ یہ وسعت انہیں اس لیے دی گئی ہے کہ یہ حقوق العباد کا معاملہ ہے اور حقوق العباد کو حقوق اللہ کے مقابلہ میں ترجیح دی جاتی ہے۔ جس طرح قصاص اور حدّ قذف کے مستحق کو یہ حق دیا گیا ہے کہ اگر چاہے تو قاتل اور قاذف کو معاف کر دے ۔
انبیاء معاف کرنے کے زیادہ حقدار اس لیے ہیں کہ اُن کے عفو و درگذر میں نبی، اُمت اور دین کے سلسلہ میں عظیم مصالح و حِکَم مضمر ہیں۔ یہی معنی ہیں حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے اس قول کے کہ :
”رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی خادم ، کسی عورت ، کسی چوپائے اور کسی چیز کو کو اپنے ہاتھ سے کبھی نہ مارا تھا ، بجز اس صورت کے جب کہ آپ جہاد کر رہے ہوں“۔
نیز آپ نے اپنی ذات کے لیے کبھی کسی سے انتقام نہ لیا ۔
ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں کہ ایسا کبھی نہ ہوا کہ آپ کو تکلیف دی گئی ہو اور آپ نے اپنے ساتھی سے اس کا انتقام لیا ہو ۔ البتہ جہاں اللہ کی محرمات میں رَخنہ اندازی ہوتی ہو تو آپ انتقام لیے بغیر آرام نہ کرتے ۔“
(صحیح بخاری و مسلم)
حسب موقع و مقام آپ انتقام بھی
لیتے اور معاف بھی کرتے تھے
ظاہر ہے کہ آپ کو ایذا پہنچانا حرمت شکنی سے بھی بڑا جرم ہے جب آپ کا حق درمیان میں حائل ہو جاتا تو آپ کو اختیار ہوتا کہ معاف کر دیں یا بدلہ لیں۔ ایسے حالات میں آپ عموماً معاف فرما دیتے۔ اگر مصلحت قتل میں دیکھتے تو مجرم کو قتل کرنے کا حکم دیتے۔ جن امور میں آپ کا کوئی حق نہ ہوتا مثلاً زنا، چوری یا کسی اور پر ظلم کا معاملہ ہوتا تو اس کی سزا دینا آپ پر واجب ہوتا ۔
صحابہ جب دیکھتے کہ کوئی شخص آپ کو ایذا دے رہا ہے تو اس کو قتل کرنے کا ارادہ کرتے۔ اس لیے کہ وہ جانتے تھے کہ یہ قتل کا مستحق ہے۔ مگر آپ اسے معاف فرما دیتے اور صحابہ کو بتاتے کہ اُسے معاف کر دینا قرین مصلحت ہے۔ ساتھ ہی یہ بھی واضح کرتے کہ اسے قتل کرنا بھی جائز ہے اور اگر آپ کے معاف کرنے سے قبل کوئی شخص اسے قتل کر ڈالتا تو آپ اس سے تعرض نہ فرماتے ۔ یہ جانتے ہوئے کہ اس نے یہ انتقام اللہ اور اس کے رسول کے لیے لیا ہے ۔ لہٰذا اس کی مدح و ستائش فرماتے ۔ جس طرح حضرت عمرؓ نے اس شخص کو قتل کر دیا تھا جو آپ کے فیصلے پر راضی نہ تھا۔ اسی طرح ایک آدمی نے بنت مروان اور دوسرے نے گالی دینے والی ایک یہودی عورت کو قتل کر دیا تھا
جب رسول کریم کی وفات کی وجہ سے مجرم کو معاف کرنے کا امکان باقی نہ رہے تو پھر یہ اللہ، اس کے رسول اور مومنین کا حق ہوگا اور کوئی اسے معاف نہ کرسکے گا، لہٰذا اس کو نافذ کرنا واجب ہوگا ۔
اس کی توضیح اس روایت سے ہوتی ہے جس کو ابراہیم بن الحکم بن ابان نے اپنے والد سے اس نے عکرمہ سے اور اس نے حضرت ابوہریرہ سے روایت کیا ہے کہ ایک بدو رسول کریمؐ کی خدمت میں مدد مانگنے کے لیے آیا ۔ آپؐ نے اسے کچھ دیا اور فرمایا میں نے تجھ پر احسان کیا ۔ بدو نے کہا : آپؐ نے مجھ پر کوئی احسان نہیں کیا ۔ یہ سن کر مسلمان ناراض ہوئے اور اس کو مارنے کے لیے اٹھ کھڑے ہوئے ۔ رسول کریمؐ نے باز رہنے کا اشارہ فرمایا ۔ پھر آپؐ اٹھ کر اپنے گھر تشریف لے گئے اور بدو کو اپنے گھر بلا کر کچھ اور دیا تو وہ راضی ہوگیا ۔ آپؐ نے فرمایا تم نے آکر ہم سے سوال کیا اور ہم نے تجھے دیا ۔ پھر تو نے ہمیں جو کچھ کہنا تھا کہا ، جس سے مسلمان ناراض ہو گئے ۔ اگر تم چاہو تو مسلمانوں کے سامنے بھی وہی بات کہو جو تم نے مجھ سے کہی تھی ۔ تاکہ تم پر انہیں جو غصہ تھا وہ دور ہو جائے ۔ اس نے کہا جی ہاں ! پھر وہ اگلے دن یا پچھلے پہر کو آیا تو رسول کریمؐ نے فرمایا ”تمہارا ساتھی آیا تھا ، اس نے مانگا تو ہم نے دیا ، پھر اس نے جو کچھ کہنا تھا کہا ۔ پھر ہم نے اسے گھر بلا کر بھی کچھ دیا اور وہ راضی ہوگیا ۔ پھر آپؐ نے پوچھا کیا یہ درست ہے ؟ بدو نے اثبات میں جواب دیا اور دعا دی کہ اللہ آپؐ کے اہل وعیال کو بخیر و عافیت رکھے ۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
”میری اور اس بدو کی مثال اُس آدمی جیسی ہے جس کے پاس ایک ہی ناقہ ہو اور جب لوگ اس کا تعاقب کریں تو وہ اور نفرت کرنے لگے۔ پھر ناقہ والے نے انہیں پکارا کہ مجھے اور میری ناقہ کو اپنے حال پر چھوڑ دو ۔ وہ ناقہ کے لیے زمین سے خشک گھاس لے کر اس کے سامنے آیا تو وہ آکر بیٹھ گئی ۔ اس نے کجاوہ کسا اور اس پر بیٹھ گیا جب بدو نے وہ الفاظ کہے تھے اگر میں اس وقت تم کو کھلی چھٹی دے دیتا تو تم اسے قتل کر کے جہنمی بن جاتے۔
اس روایت کو ابو احمد عسکری نے بدیں اسناد اس طرح روایت کیا ہے کہ بدو نے رسول کریمؐ کی خدمت میں حاضر ہو کر کہا اے محمد ! مجھے دیجیے ، آخر آپ مجھے اپنا یا اپنے باپ کا مال تو نہیں دیں گے ۔ اس نے رسول کریمؐ کو بڑے درشت الفاظ میں مخاطب کیا ۔ صحابہ نے اس پر دھاوا بول دیا اور کہا اے دشمن خدا ! تم رسول کریمؐ کو ایسے الفاظ سے یاد کرتے ہو ؟ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس آدمی کو اس کی یاوہ گوئی کی بنا پر مطالبہ کیے بغیر قتل کیا جا سکتا تھا ۔ کیوں کہ وہ یہ الفاظ کہہ کر کافر ہو گیا تھا ۔ اگر یہ بات نہ ہوتی تو محض ان کلمات کی وجہ سے اُسے قتل کر دیا جاتا تو وہ دوزخ میں نہ جاتا ۔ بلکہ شہید و مظلوم ہونے کی وجہ سے جنت میں داخل ہوتا ۔ بلکہ ایک مومن کو دانستہ قتل کرنے کی وجہ سے اس کا قاتل جہنم رسید ہوتا ۔ اندریں صورت رسول کریمؐ فرماتے کہ اس کو قتل کرنا جائز نہیں ۔ اس لیے کہ ناحق کسی کو قتل کرنا سب کبائر سے بڑا گناہ ہے ۔ ظاہر ہے کہ یہ اعرابی مسلم تھا ۔ اسی لیے رسولِ کریمؐ نے اسے "صاحبکم" کہہ کر مخاطب کیا اور اسی لیے وہ مدد مانگنے کے لیے آپؐ کی خدمت میں حاضر ہوا ۔ اگر وہ حربی کافر ہوتا تو ہرگز آپؐ سے مدد طلب نہ کرتا اور اگر رسول کریمؐ اسے اس لیے دیتے کہ وہ اسلام لے آئے تو حدیث میں مذکور ہوتا کہ وہ اسلام لے آیا ۔ اسلام کا عدم ذکر اس حدیث میں اس امر کی دلیل ہے کہ وہ قبل ازیں حلقہ بگوشِ اسلام ہو چکا تھا۔ مگر اُس میں بدوؤں جیسی درشتی پائی جاتی تھی جیسا کہ مندرجہ ذیل آیت میں مذکور ہے :-
...... "اگر ان کو اس میں سے (خاطر خواہ) مل جائے تو خوش رہیں اور اگر (اس قدر) نہ ملے تو جھٹ خفا ہو جائیں"
(التوبۃ ۔ ۵۸)
اس کی مزید توضیح اس سے ہوتی ہے کہ جن منافقین کا نفاق کسی شک و شبہ سے بالا تھا آپ ان کو بھی معاف کر دیا کرتے تھے ۔ حتیٰ کہ آپؐ نے فرمایا اگر مجھے معلوم ہوتا کہ ستر سے زیادہ مرتبہ مغفرت مانگنے سے ایسے لوگوں کو معاف کر دیا جائے گا تو میں ستر سے زیادہ دفعہ ان کے لیے معافی مانگتا ۔ حتیٰ کہ اللہ تعالیٰ نے رسول کریمؐ کو منافقین کا جنازہ پڑھنے اور ان کے لیے مغفرت طلب کرنے سے منع کر دیا ۔ بلکہ ان پر سختی کرنے
کا حکم دیا۔ آپ منافقین کی جن باتوں کو برداشت کرتے اور اُن سے عفو و درگزر کا جو معاملہ کرتے تھے وہ سورۃ التوبۃ کے نزول سے پہلے کا واقعہ ہے۔ اُس وقت آپؐ کو یہ حکم ملا تھا کہ:
”کافروں اور منافقوں کی اطاعت نہ کیجیے اور ان کی ایذا رسانی کو نظر انداز کیجیے “
(الاحزاب ۔ ۴۸)
اس لیے کہ اس وقت آپ کو منافقین کے لطف و کرم کی ضرورت تھی اور یہ خطرہ دامنگیر تھا کہ اگر آپؐ نے کسی منافق کو قتل کر دیا تو عرب آپؐ سے نفرت کرنے لگیں گے جب عبداللہ بن اُبیّ نے کہا تھا:
”جب ہم مدینہ لوٹ کر آئیں گے تو زیادہ عزت والا ذلیل تر کو نکال دے گا “
(المنافقون ۔ ۸)
جب ذوالخویصرہ نے آپ سے کہا تھا کہ ”عدل سے کام لیجیے آپ نے انصاف نہیں کیا “ تو اس قسم کے واقعات میں رسولِ کریمؐ نے منافقین کو اسی لیئے قتل نہ کیا کہ لوگ یہ بات نہ کہیں کہ محمدؐ اپنے اصحاب کو قتل کر دیتے ہیں ۔ اس لیے کہ لوگ ظاہری باتوں کو دیکھتے ہیں ۔ جب انہیں پتہ چلتا ہے کہ کسی صحابی کو قتل کیا گیا ہے تو گمان کرنے والا اس گمان میں مبتلا ہو جاتا ہے کہ آپ دشمنی کی بنا پر اپنے صحابہ کو قتل کر دیتے ہیں اس کا نتیجہ یہ ہو سکتا ہے کہ لوگ اسلام میں داخل ہونے سے نفرت کرنے لگیں ۔ جب دینِ اسلام میں اموالِ کثیرہ دے کر لوگوں کی تالیفِ قلب کی جاتی ہے تاکہ اللہ کا دین قائم رہے اور اُس کا کلمہ بلند ہو، تو لوگوں کو معاف کرکے اُن کی تالیف کرنا اس سے اولیٰ و افضل ہے۔
جب اللہ تعالیٰ نے سورۃ التوبۃ نازل کی، آپؐ کو منافقین کا جنازہ پڑھنے، اُنکی قبروں پر کھڑے ہو کر دعا مانگنے سے منع کیا اور کفار و منافقین کے خلاف نبرد آزما ہونے اور اُن پر سختی کرنے کا حکم دیا تو وہ تمام معاملات منسوخ ٹھہرے جن میں ان کے ساتھ عفو و درگزر کی تلقین کی گئی تھی ۔ جس طرح اس حکم کو منسوخ قرار دیا کہ کفار میں سے جو صلح کرے اس سے تعرض نہ کیا جائے ۔ اب صرف اقامتِ حدود اور ہر انسان کے حق میں اعلاء کلمۃ اللہ کا معاملہ باقی رہا ۔
ایک سوال : اگر کہا جائے کہ قرآن میں آیا ہے :
" بھلا تم نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جن کو کتاب سے حصہ دیا گیا تھا کہ وہ گمراہی خریدتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ تم بھی راستے سے بھٹک جاؤ اور خدا تمہارے دشمنوں سے خوب واقف ہے اور خدا ہی کافی کارساز اور کافی مددگار ہے "
(النساء ۔ ۴۴ ۔ ۴۵)
سورۃ النساء کی آیت نمبر ۴۶ میں "اِسْمَعْ غَيْرَ مُسْمَعٍ" اسی طرح ہے جیسے "اِسْمَعْ لَا سَمِعْتَ " ہے ۔ یا "وَ اسْمَعْ غَيْرَ مَقْبُوْلٍ مِّنْكَ " (تو سُن مگر تمہارا سُننا مقبول نہیں) اس لیے کہ جو سنانے کا ارادہ نہیں رکھتا اُس کی بات کو قبول نہیں کیا جائے گا۔ قتادہ کہتے ہیں کہ یہود رسول کریم سے کہا کرتے تھے "رَاعِنَا سَمْعَكَ" یہ ایک طرح کا مذاق اور یہود کی زبان میں بدترین گالی ہے ۔ امام احمد نے عطیہ سے روایت کیا ہے کہ یہود آتے اور کہتے کہ "رَاعِنَا سَمْعَكَ " ان کو دیکھ کر مسلمان بھی اسی طرح کہنے لگے ۔ تب اللہ نے یہود کے اندازِ تکلم ناپسند فرمایا ۔
عطاء خراسانی کہتے ہیں کہ ایک شخص زبان مروڑ کر کہتا "اُرْعِنَا سَمْعَكَ" اس سے اس کا مقصد دین پر طعنہ کرنا ہوتا تھا۔ بعض اہل تفسیر نے ذکر کیا ہے کہ یہ لفظ یہود زبان میں بدترین قسم کی گالی تصوّر کیا جاتا تھا ۔ اس طرح یہ لوگ اس طرح کہہ کر رسولِ کریم کو گالی دیتے ، اپنی زبان مروڑ کر یہ لفظ ادا کرتے ، آپؐ کا مذاق اُڑاتے اور دین پر طعنہ زنی کے مرتکب ہوتے ۔ اس کے باوجود رسول کریم نے ان سے تعرض نہ کیا ۔
ہم کہتے ہیں اس سوال کے کئی جواب دیئے جاسکتے ہیں :-
پہلا جواب : اس کا پہلا جواب یہ ہے کہ یہ بات اس وقت تھی جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے رسول کریمؐ اور اہل ایمان کے بارے میں بتایا تھا کہ وہ اہلِ کتاب اور مشرکین کی طرف سے بڑا دکھ اٹھائیں گے ۔ پھر انہیں اس حال میں صبر و تقویٰ کا حکم دیا ۔ جب مسلمان قوت و شوکت سے بہرہ ور ہوئے اور انہیں کفار سے نبرد آزمائی کا حکم دیا گیا تو اس حکم کو منسوخ قرار دیا گیا ۔ لڑائی اس وقت تک جاری رکھنے کا حکم
دیا گیا حتی کہ ذلیل ہوکر وہ اپنے ہاتھ سے جزیہ ادا کریں۔ ذلیل آدمی کسی کے رُوبرو اس کو تکلیف نہیں دیتا اور اگر دیتا ہو تو اُسے ذلیل نہیں کیا جاسکتا۔ حکم کے تبدیل ہو جانے کی وجہ سے بعض لوگ اس کو ”نسخ“ سے تعبیر کرتے ہیں۔ اور بعض اس کو نسخ نہیں کہتے۔ اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو تاحکمِ ثانی عفو و درگزر کا حکم دیا ہے، اور اسلام کی عزوشوکت کی صورت میں وہ حکمِ ثانی آچکا تھا۔ اور ان سے جنگ آزمائی کا حکم اس وقت تک ہے جب وہ ذلیل ہو کر اپنے ہاتھ سے جزیہ ادا کریں۔ یہ اسی طرح ہے جس طرح قرآن میں فرمایا :
”اُن عورتوں کو گھروں میں بند رکھو یہاں تک کہ وہ مرجائیں یا اللہ اُن کے لیے کوئی اور سبیل نکالے“
(النساء - ۱۵)
رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا ”اللہ تعالیٰ نے اُن کے لیے راستہ نکال دیا ہے“۔ بعض لوگوں کے نزدیک اس کو نسخ کہتے ہیں اور بعض اسے نسخ نہیں کہتے یہ ایک طرح کا نزاع لفظی ہے۔ بعض لوگ کہتے ہیں کہ عفو و درگزر کا حکم عندالضرورت باقی ہے، یعنی اس وقت جب کوئی مسلم جنگ لڑنے سے قاصر ہو۔ یا یوں کہو کہ وقت یا جگہ ایسی ہو جہاں وہ لڑنے پر قادر نہ ہو۔ اس لیے یہ منسوخ نہیں، کیوں کہ منسوخ وہ ہوتا ہے جو آنے والے تمام ازمنہ میں مرفوع الحکم ہو چکا ہے۔
الغرض، اس میں کوئی اختلاف نہیں پایا جاتا کہ جب رسول کریمؐ نے قوت و شوکت حاصل کرلی تھی تو اہل کتاب اور مشرکین کے ساتھ عفو و درگزر کا معاملہ ختم ہوگیا اور ان کے ساتھ جنگ لڑنا اور اُن پر حدود قائم کرنا آپؐ پر فرض ٹھہرا، خواہ اسے نسخ کہا جائے یا نہ کہا جائے۔
دوسرا جواب : رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ اختیار حاصل تھا کہ گالی دینے والے کو معاف کردیں۔ البتہ امت اُس شخص کو معاف نہیں کرسکتی جو رسول کریمؐ کو گالی دے جس طرح رسول کریمؐ کو یہ اختیار تھا کہ اگر ایک شخص کسی مسلم کو گالی دے اور آپ اُسے معاف کردیں مگر اس میں کوئی اختلاف نہیں کہ اگر کوئی مسلم رسول کریمؐ کو گالی دے تو وہ واجب القتل ہے۔
تیسرا جواب : تیسرا جواب یہ ہے کہ یہ گالی کا اظہار نہیں بلکہ اخفاء ہے۔ مثلاً "السام علیکم" یا طرز گفتگو میں نفاق کا ظہور۔ اس لیے کہ وہ اس امر کا اظہار کرتے تھے کہ وہ آپ سے سوال کرنا چاہتے تھے یا آپ سے باتیں کرنا چاہتے اور طلب براءت کے متمنی ہیں۔ اس لیے آپ ان کا انتظار کرتے حتی کہ وہ اپنی بات ختم کر لیں اور آپ کی بات کو سمجھ لیں۔ اس طرح ان کا آنا اس مقصد کے لیے ہوتا تھا۔ پھر وہ زبان مروڑ کر بات کرتے ، ان کا مقصد آپ کا مذاق اڑانا گالی دینا اور دین کو ہدف طعن بنانا ہوتا تھا۔ زبان مروڑ کر"السام" کا لفظ کہتے اور ان کا مقصد آپ کو موت کی بددعا دینا ہوتا تھا یہود کی جماعت خبث و نفاق میں معروف تھی اور بظاہر جو بات کہتے اُن کے باطن میں نہ ہوتی تھی۔ مگر اس سے ان پر اقامت حد کا وجوب لازم نہیں آتا اور اگر یہ گالی ہوتی تو اہل اسلام نیکی سمجھ کر اس سے آپ کو مخاطب نہ کرتے۔ حتی کہ انہیں ایسی ذومعنی بات کہنے سے روکا گیا جس میں مذاق کا وہم پایا جاتا ہو ، کہ نیت کرنے اور دلالت حال سے اسے گالی قرار دیا جاسکے ۔
اس کی وجہ یہ تھی کہ عرب جب اس لفظ کے ساتھ کسی کو مخاطب کرتے تو اس کا مقصد مخاطب کو گالی دینا نہیں ہوتا تھا۔ دور جاہلیت میں یہ انصار کی بولی تھی ابوالعالیہ کہتے ہیں کہ مشرکین عرب جب باہم بات چیت کرتے تو ایک دوسرے سے کہتے ” أَرْعِنِی سَمْعَکَ “ پھر ان کو اس طرح کہنے سے روک دیا گیا حتی کہ ما قبل بھی یہی ہے ۔ اور وہ یہ کہ عرب ایک دوسرے کو کہتے تھے ” أَرْعَيْتُهُ سَمْعِی إِرْعَاءً “ میں نے اس کی بات توجہ سے سنی ، گویا تو نے اپنے کان کو اس کی گفتگو پر لگا دیا ۔ دوسرا آدمی کہتا ” رَاعَيْتُهُ سَمْعِی “ میں نے اپنے کان اس کی گفتگو پر لگادیئے مگر یہود اسکو گالی تصور کرتے تھے یا تو اسلیے کہ اسمیں اشتراک کا مفہوم پایا جاتا ہے کیونکہ اس کو کان لگانے اور توجہ دینے کے لیے بھی استعمال کیا جاتا تھا اور تفاعلہ کے معنی میں بھی ۔ گویا اس کے معنی یہ ہوئے ' کہ تم میری طرف توجہ دو تاکہ میں بھی آپ کی طرف توجہ دے سکوں ۔ یہ مفہوم اس وقت مراد لیا جاتا ہے جب ہم مرتبہ اشخاص بات چیت کر رہے ہوں اور رئیس کا
مرتبہ اس سے بلند تر ہوتا ہے یا یہودی اس سے حماقت اور کم عقلی کا مفہوم مراد لیتے تھے یا اس کا مطلب یہ ہے کہ اس بات کو یاد رکھا جائے اور اس کی طرف توجہ دی جائے اور اس کی طرف توجہ دی جائے اور یہ اُس وقت ہوتا ہے جب بلند مرتبہ آدمی اپنے سے کم درجہ کے شخص سے ہم کلام ہو۔ اس لیے کہ "رعایت" کے معنی حفاظت و نگہداشت کے ہیں ۔ " اِسترعاء الشاۃ " (بکریاں چرانے کا مطالبہ کرنا) کے معنی بھی یہی ہیں۔ مگر عربوں کے عُرف ولغت میں اس کا غالب استعمال رَدی معنی میں کیا جاتا ہے جیسے کہا جاتا ہے کہ اس سے عرب "اِسْمَعْ" کا مفہوم مراد لیتے ہیں "سَمِعْتُ " (میں نے سنا) کا نہیں۔ الغرض اس قسم کے الفاظ جب نیّت اور زبان کو مروڑ کر گالی کے معنی میں بھی استعمال کیے جاتے ہیں۔ بنا بریں مسلمانوں کو اس قسم کے الفاظ استعمال کرنے سے روک دیا گیا تاکہ یہود کے ساتھ مماثلت جانبین سے باقی نہ رہے اور اس کو مذاق کا ذریعہ بھی نہ بنایا جائے۔ نیز اس لیے کہ اس قسم کے الفاظ کے ساتھ رسولِ کریمؐ کو مخاطب کرنے میں سُوءِ ادبی کا پہلو پایا جاتا ہے۔
جواب : بعض مفسرین نے ذکر کیا ہے کہ یہود کی زبان میں یہ لفظ قبیح ترین گالی کا مترادف سمجھا جاتا تھا۔ مسلمان رسول کریمؐ کو مخاطب کرنے کے لیے کہتے " رَاعِنَا یا رسول اللہ (یا رسول اللہ ہماری طرف توجہ فرمائیے) مگر یہی لفظ یہود کے یہاں گالی کے معنوں میں استعمال کیا جاتا تھا ۔ جب یہود نے اسے سنا تو غنیمت جانا اور باہم کہنے لگے ،" ہم محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کو خفیہ گالی دیا کرتے تھے اب علانیہ دیا کرو"۔ چنانچہ وہ آپؐ کے یہاں آتے اور کہتے " رَاعِنَا یا محمدؐ " اور باہم ہنسنے لگتے ۔ یہ الفاظ سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ نے سنے تو وہ یہود کا مطلب بھانپ گئے ۔ وہ ان کی بولی جانتے تھے۔ انہوں نے یہود سے کہا : تم پر خدا کی لعنت ، مجھے اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اگر اس کے بعد میں نے کسی یہودی کو یوں کہتے سن لیا تو میں اس کی گردن اُڑا دوں گا۔ یہودی کہنے لگے" تم خود بھی تو یہی الفاظ کہتے ہو"۔ تب مندرجہ ذیل آیتِ کریمہ نازل ہوئی :
يَا اَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تَقُوْلُوْا (اے ایمان والو! رَاعِنَا کا لفظ نہ کہا رَاعِنَا" (البقرة - ۱۰۴) کرو)
ممانعت کی وجہ یہ تھی کہ یہود اس کو رسول کریم کو گالی دینے کا ذریعہ نہ بنائیں ۔ پس یہ قول اس امر کی دلیل ہے کہ یہ لفظ عربی اور عبرانی میں مشترک تھا۔ یہود جب یہ لفظ بولتے تو مسلمان اس کا وہی معنی سمجھتے جو ان کی اپنی بولی میں رائج تھا ۔ جب انہیں معلوم ہوا کہ دوسری زبان میں یہ لفظ فلاں معنی کے لیے بولا جاتا ہے تو ان کو یہ لفظ استعمال کرنے سے روکا گیا ۔ مسلمانوں نے یہود کو بتایا کہ یہ لفظ استعمال کرنے سے ان کا عہد ٹوٹ جائے گا اور وہ مباح الدم ہو جائیں گے ۔ یہ اس امر کی روشن دلیل ہے کہ جب یہود اس لفظ کو گالی کے مفہوم میں استعمال کریں گے تو ان کا ذمہ مباح ہو جائے گا ۔ مسلمانوں نے یہود کے خون کو مباح اس لیے قرار نہ دیا کہ اہل اسلام اس گالی کو سمجھتے نہ تھے ۔ اور گالی کے مفہوم پر گفتگو واضح ہے ۔ اور وہ یہ کہ اس سے ایسا لفظ مراد ہے جس سے گالی کا مفہوم سمجھ میں آتا ہو ۔
ایک سوال : اگر معترض کہے کہ ہم نے اہلِ ذمہ کو ان کے مذہب پر قائم رہنے دیا ہے اور ان کے مذہب میں رسول کریم کو گالی دینا حلال ہے ۔ تو جب وہ گالی دیں گے تو وہی کام کریں گے جس پر قائم رہنے کی ہم نے انہیں اجازت دی ہے، جیسا کہ ان کا موقف ہے ۔
جواب : ہم اس کے جواب میں کہیں گے کہ یہود کے مذہب میں تو مسلمانوں سے لڑنا ، ان کا مال لینا اور ہر ممکن طریقہ سے ان کے خلاف نبرد آزما ہونا جائز ہے حالانکہ ذمی ہونے کے بعد وہ اس کے مجاز نہیں ہیں اور اگر ایسا کریں گے تو ان کا عہد ٹوٹ جائے گا ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اگرچہ ہم نے ان کو اپنے مذہب پر قائم رہنے کی اجازت دی ہے ، کہ وہ اپنے عقائد کو بحال رکھیں ۔ اور جو کام پوشیدہ رکھنے کا ہے اسے پوشیدہ رکھیں ۔ تاہم انہیں اس بات کی اجازت نہیں دی کہ علانیہ اس کا اظہار کریں اور مسلمانوں کے سامنے اس کو موضوعِ گفتگو بنائیں ۔ ہم یہ بھی نہیں کہتے کہ گالی دینے والے کا عہد ٹوٹ
جاتا ہے ۔ جب تک ہم خود اس کو یہ بات کہتے ہوئے نہ سنیں یا مسلمان اس کی شہادت نہ دیں ۔ جب یہ بات وقوع پذیر ہوگی تو سمجھا جائے گا کہ اُس نے اس کا اظہار و اعلان کر دیا ۔
جواب کا خلاصہ یہ ہے کہ دونوں مقدمے باطل ہیں پہلا مقدمہ یہ ہے کہ ”ہم نے اُن کو اُن کے مذہب پر قائم رہنے دیا ہے“ ۔ اس کے جواب میں کہا جائے گا کہ ہم ان کو اُن کے تمام عقائد پر قائم رہنے دیں تو اسکے معنی یہ ہیں کہ وہ اپنے ہم مذہبوں کی طرح محارب رہیں گے اور اپنے مذہب کے اظہار اور ہمارے دین کی تنقید پر اُن کو سزا نہیں دی جائے گی ۔ حالانکہ بلا نزاع و خلاف اس جرم کی ان کو سزا دی جاتی ہے اور اگر ہم اُن کو ان کے مذہب پر قائم رہنے کی کھلی چھٹی دے دیں تو وہ مساجد کو منہدم کر دیں گے ، مصاحف کو نذر آتش کر دیں گے اور علماء و صالحین کو تہہ تیغ کر دیں گے ۔ اس لیے کہ ان کے عقائد میں بہت سی ایسی باتیں شامل ہیں جن سے مسلمانوں کو ایذا پہنچتی ہے اور گناہ اگر پوشیدہ رہے تو اس کا ضرر صرف اسی شخص کو پہنچتا ہے جو اس کا مرتکب ہو ۔ اس میں کوئی اختلاف نہیں پایا جاتا کہ ان میں سے کسی چیز پر بھی انہیں قائم رہنے نہیں دیا جاتا ۔
اور جیسا کہ عُرْوَہ بن رویمؒ نے کہا ہے کہ ہم نے ان کو صرف اس بات کی اجازت دی ہے کہ وہ باہم جیسے چاہیں کریں، بشرطیکہ اس سے مسلمانوں کو ضرر و ایذا لاحق نہ ہو ۔ پوشیدہ امور کے بارے میں ہم ان پر معترض نہ ہوں گے ۔ اس لیے کہ گناہ جب تک پوشیدہ رہتا ہے صرف اپنے مرتکب کو ضرر پہنچاتا ہے اور اگر اس کا اعلان کر دیا جائے اور اس کی مذمت نہ کی جائے تو عام لوگوں کو اس سے ضرر پہنچتا ہے ۔ ہم نے ان کے ساتھ یہ شرط طے کی ہے کہ وہ کوئی ایسا کام نہیں کریں گے جس سے ہمیں اذیت پہنچے اور ضرر لاحق ہو ۔ قطع نظر اس سے کہ وہ اسے حلال تصور کرتے ہوں یا نہ کرتے ہوں ۔ جب وہ اللہ اور اس کے رسول کو ایذا دیں گے تو ان کا عہد ٹوٹ جائے گا ۔ ہم نے ان کے ساتھ یہ شرط بھی طے کی ہے کہ اسلامی احکام کا التزام کریں ، اگرچہ
وہ سمجھتے ہوں کہ اُن کے مذہب کے لحاظ سے یہ اُن پر واجب نہیں ہے۔ جزیہ ادا کرنا بھی ان کے لیے ضروری ہے، اگرچہ اُن کا اعتقاد یہ ہو کہ اُن سے جزیہ لینا حرام ہے۔ ہم نے یہ شرط بھی طے کی ہے کہ وہ اپنے مذہبی امور کو پوشیدہ رکھیں گے۔ اپنی کتاب کو بلند آواز کے ساتھ نہیں پڑھیں گے۔ جنازہ بھی جہراً نہیں ادا کریں گے۔ ناقوس نہیں بجائیں گے مسلمانوں سے بلندتر ہونے کی کوشش نہیں کریں گے، اپنی شکل وصورت اور لباس ایسا پہنیں گے جس سے بسہولت انہیں پہچانا جاسکے، اور وہ ذلیل نظر آئیں گے۔ اور اس قسم کی شرائط جن کے بارے میں ان کا اعتقاد یہ ہو کہ ان کے مذہب کی رُو سے اُن پر واجب نہیں۔
مذکورہ صدر بیان سے معلوم ہوا کہ ہم نے ان پر یہ شرط عائد کی ہے کہ وہ بہت سی ایسی باتوں کو ترک کردیں جن کو وہ اپنے مذہب کے لحاظ سے مباح یا واجب ٹھہراتے ہیں اور بہت سے ایسے کام کریں جن کو وہ اپنا دین نہیں سمجھتے۔ پھر یہ کیوں کر کہا جاسکتا ہے کہ ہم نے ان کو علی الاطلاق اپنے مذہب پر قائم رہنے کی اجازت دی ہے ۔
دوسرا مقدمہ یہ ہے کہ فرض کیجئے ہم نے ان کو اپنے مذہب پر قائم رہنے دیا تو ان کے مذہب میں نبی کو گالی دینا حلال ہے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ ان سے دریافت کیا جائے گا کہ آیا معاہدہ کرنے سے پہلے یہ بات ان کے مذہب میں موجود تھی؟ یا گالی کو ترک کرنے کا معاہدہ کرنے کے باوجود ان کے مذہب میں اس کی اجازت پائی جاتی ہے؟ پہلی بات تو تسلیم ہے مگر اس کا کچھ فائدہ نہیں، اس لیے کہ انہوں نے معاہدہ کر لیا ہے ۔ اگر اس حالت میں ان کا مذہب اس کی اجازت نہیں دیتا تو اب وہ ایسا نہیں کرسکتے۔ اس لیے کہ ان کے مذہب میں اس کی اجازت دوسری حالت میں ہے (اب نہیں) ۔ یہ اسی طرح جس طرح ایک مسلم کے نزدیک اہل کتاب کے ساتھ معاہدہ کرنے سے قبل اُن کا خون اور مال حلال ہے اور ان کی ہجو کہہ کر یا گالی دے کر ان کو اذیت پہنچانا روا ہے ۔ مگر اُن کے ساتھ معاہدہ کرنے کے بعد اس کی اجازت نہیں ۔
بنابریں ہمارے لیے جائز نہیں کہ ہم ان کو ایذا دے کر کہیں کہ ہم نے اپنے دین کے مطابق تم سے معاہدہ کیا ہے ، اور ہمارے دین میں تم کو ایذا پہنچانا درست ہے اس لیے کہ متحارب فریقین کے مابین جو معاہدہ ہوا ہے اس سے ان میں سے ہر ایک پر وہ ضرر رسانی اور اذیت حرام ٹھہرتی ہے جس کو وہ معاہدہ سے قبل حلال سمجھتا تھا ۔
مگر دوسرا مقدمہ قابل تسلیم نہیں ہے ، اور وہ یہ کہ آیا یہ بات ان کے مذہب میں معاہدہ سے پہلے موجود تھی ؟ یا اس کو ترک کرنے کا معاہدہ کرنے کے باوجود ان کے مذہب میں جائز اور درست ہے ؟ یہ مقدمہ اس لیے مسلم نہیں ہے کہ ان کے مذہب میں عہد شکنی روا نہیں اور نہ ہی یہ بات جائز ہے کہ جس بات پر معاہدہ ہوا ہے اُس کی خلاف ورزی کی جائے ۔ بلکہ جملہ ادیانِ عالم میں وفائے عہد کی تلقین کی گئی ہے ۔ اگرچہ وہ اس پر اعتقاد نہ بھی رکھتے ہوں ۔ ہم نے ان سے معاہدہ کیا ہے کہ وفائے عہد کے وجوب پر عمل پیرا ہوں ۔ اگر ان کے دین میں وجوب وفا کی تعلیم نہیں ہے تو ہم نے ان سے ایسے دین کے مطابق معاہدہ نہیں کیا جس پر اعتقاد رکھنے والا عہد شکنی کو جائز سمجھتا ہو ۔ اور اگر ہم نے ایسے دین کے مطابق ان سے معاہدہ کیا ہو تو گویا اس بات پر معاہدہ کیا کہ وہ عہد شکنی کے جواز کا عقیدہ رکھیں اور عہد کو توڑ ڈالیں ۔ جب کہ ہم عہد کو پورا کرنے والے ہیں اور ان کا بطلان اظہر من الشمس ہے ۔
جس فعل کے ترک کا اُن سے معاہدہ کیا گیا تھا اگر اس کا ارتکاب اُن کے دین میں شامل نہیں تو گویا ہم نے اُن سے اس بات کا معاہدہ کیا کہ اپنی زبان اور ہاتھوں سے ہمیں اذیت نہ پہنچائیں اور علانیہ اللہ اور اُس کے رسول کو دکھ نہ دیں ۔ نیز اپنے اس دین کو پوشیدہ رکھیں جو اللہ اور اُس کے رسول کے نزدیک باطل ہے اور جب وہ اس کو ترک کرنے اور خفیہ نہ رکھنے کا معاہدہ کرلیں گے تو اس کا ارتکاب ان کے مذہب کے مطابق بھی اُن پر حرام ہوگا ۔ اس لیے کہ یہ غدر ، خیانت اور عہد شکنی ہے اور ان کے دین میں یہ حرام ہے ۔ اگر کوئی کافر قوم بخوشی خاطر کسی مسلم سے معاہدہ کرے کہ مسلم
ان کی صلیب کا تذکرہ نہیں کرے گا تو از رُوئے دینِ اسلام وہ اس عہد کی پابندی کرے گا۔
باقی رہا قائل کا یوں کہنا کہ ”ان کے مذہب میں ہمارے نبی کو گالی دینا حلال ہے“ تو یہ باطل ہے۔ اس لیے کہ معاہدہ کے پیش نظر یہ بات ان کے دین میں بھی حرام ہوگی جس طرح ہمارے خون و مال کو حلال سمجھنا معاہدہ کی رُو سے ان کے دین میں بھی حرام ہے۔ بذات خود وہ یہ احساس رکھتے ہیں کہ معاہدہ کرنے کے بعد اگر وہ اللہ اور اس کے رسول کو ستائیں یا مسلمانوں کو نقصان پہنچائیں تو یہ فعل خود ان کے دین میں بھی حرام ہوگا۔ جس طرح ایک مسلم اس حقیقت سے بخوبی آگاہ ہے کہ اگر معاہدہ کرنے کے بعد وہ اہل کتاب کو دکھ دے گا تو یہ ایسا فعل ہوگا جو اس کے دین میں بھی حرام ہے۔ اور وہ بھی اس حقیقت سے آگاہ ہیں کہ یہ عہد شکنی کے سوا کچھ نہیں۔ اور اگر وہ یہ سمجھتے ہوں کہ ہمارے اور ان کے درمیان کوئی معاہدہ نہیں، بلکہ وہ اہلِ اسلام کے زیر تسلط ہیں تو اس طرح وہ معصوم الدم نہیں ہوں گے بلکہ اس لائق ہیں کہ ان سے انتقام لیا جائے۔ اس لیے کہ ان کو ہم سے بچانے والا صرف عہد ہے اور اگر وہ اس کی پابندی نہیں کرنا چاہتے تو کوئی چیز ان کو ہم سے محفوظ نہیں رکھ سکتی۔ غور و فکر کرنے والے کے لیے یہ بالکل عیاں ہے اور اس سے مسئلہ زیرِ قلم کی حکمت و مصلحت روشن ہو جاتی ہے۔
بعض فقہاء نے اس کا یہ جواب دیا ہے کہ ہم نے ان کو اپنے عقائد پر قائم رہنے کی اجازت دی ہے۔ اور ہم نقض عہد کو اس وقت تسلیم کرتے ہیں جب اپنے عقیدہ کے خلاف بہتان لگا کر رسولِ کریم کو گالی دیں۔ مگر یہ تفصیل پسندیدہ نہیں ہے۔ انشاء اللہ آگے چل کر اس کی تحقیق آئے گی۔
اگر معترض کہے کہ فرض کیجیے اہلِ ذمہ سے اس بنا پر صلح کی گئی کہ وہ اس کا اظہار نہیں کریں گے۔ مگر محض اظہارِ دین سے عہد کیسے ٹوٹ جائے گا؟ یہ تو اسی طرح ہے جیسے وہ اپنی کتاب کو بلند آواز سے پڑھیں یا صلیب اور اپنی عید کی نمائش کریں تو یہ بات ان کو سزا دینے کی موجب تو ہوگی مگر اس سے عہد کا ٹوٹنا لازم نہیں آئے گا۔
تو ہم اس کے جواب میں کہیں گے کہ اس سے بڑا نقض عہد کیا ہے کہ وہ بلند آواز سے کلمۂ کفر کہیں، ذلّت کی حد سے نکل جائیں اور ہمارے دین پر طعنہ زن ہوں اور ہمیں
ایسی ایذا دیں جو قتل نفوس اور اخذ اموال سے بھی بلیغ ہو۔ باقی رہی یہ بات کہ حضرت عمرؓ کے معروف شرائط کے بعد ان اُمور کے اظہار کے بارے میں ہمارے نزدیک دو وجہ ممکن ہیں۔
- (۱) ایک یہ کہ عہد ٹوٹ جائے گا اور ہمارے لیے اُس کی پابندی لازم نہیں رہے گی۔
- (۲) دوسری وجہ یہ کہ عہد نہیں ٹوٹے گا ۔ ان دونوں کے درمیان فرق و امتیاز کی دو وجہیں ہیں :
- (أ) ایک یہ کہ ان امور سے کلمہ کفر کا ظہور اور اعلاء لازم نہیں آتا ۔ البتہ اس سے دینِ
کفار کا غلبہ لازم آتا ہے ۔ اور دونوں میں بڑا فرق ہے ۔ اس لیے کہ مسلم اگر کلمہ کفر بکے تو وہ کافر ہو جائے گا اور اگر محض کفار کی چال ڈھال اختیار کرے تو اسے سزا دی جائے گی مگر وہ کافر نہیں ہوگا اور یہ اسی طرح ہے جیسے مسلم کے کھلم کھلا گناہوں کا ارتکاب کرنے سے اس کو سزا دینا لازم ہے مگر اس کا ایمان باطل نہیں ہوگا ، مگر کلمہ کفر بکنے سے اس کا ایمان باطل ہو جاتا ہے ۔ اسی طرح معاہد اگر کفر کا اظہار کرے تو اس کی امان باطل ہو جائے گی اور اگر کفار کی شکل و شباہت اختیار کریں تو وہ نافرمانی کے مرتکب تو ہوں گے مگر اُن کی امان باطل نہیں ہوگی ۔
ہمارے اصحاب میں سے جو کہتے ہیں کہ اگر اہل کتاب تثلیث کا اظہار کریں، جوکہ ان کا اصل دین ہے تو ان کا عہد ٹوٹ جائے گا ، یہ ان کا جواب ہے ۔
دوسرا جواب : دوسرا جواب یہ ہے کہ ان اشیاء کے ظہور سے مسلمانوں کو زیادہ ضرر نہیں پہنچتا اور نہ ہی ان کے دین و ملت پر طعنہ زنی لازم آتی ہے ۔ البتہ اس سے دو باتوں میں سے ایک بات لازم آتی ہے ۔ ایک تو یہ کہ ان کی شکل و شباہت کا مسلمانوں کے ساتھ اشتباہ لازم آتا ہے یا یہ کہ ان کے مذہبی منکرات و فواحش کا دار الاسلام میں ظہور و شیوع ہوتا ہے ۔ جیسے کوئی مسلم علانیہ مے نوشی یا کوئی اور گناہ کرے ۔ باقی رہا رسول کریمؐ کو گالی دینا اور دین اسلام کو ہدفِ طعن بنانا اور اس قسم کے دیگر امور و اشیاء تو اس سے مسلمانوں کو جو ضرر لاحق ہوتا ہے وہ بعض وجوہ سے قتل نفوس اور اخذ مال سے بھی بڑھ کر ہے ۔ آخر اس سے بڑھ کر کلمۃ اللہ کی تحقیر،
اللہ کے دین کی تذلیل اور کتاب اللہ کی تخفیف اور کیا ہو سکتی ہے کہ معاہد کافر اس ذاتِ کریم کو سبّ وشتم کا نشانہ بنائے جس پر اللہ کی کتاب نازل ہوئی تھی۔ اسی لیے ہمارے اصحاب اور اصحاب شافعی نے اُن امور کو جو اُن کے ساتھ عہد بندی کی وجہ سے حرام ہیں دو قسموں میں تقسیم کیا ہے۔ ایک قسم کے امور وہ ہیں، جو مسلمانوں کی ذات ، اُن کے مال اور دین کو نقصان پہنچاتے ہیں ۔ دوسری قسم کے امور وہ ہیں جو مسلمانوں کے لیے ضرر رساں نہیں ہیں ۔ ان کے نزدیک پہلی قسم کے امور ناقضِ عہد ہیں اور دوسری قسم کے نہیں ۔ اس لیے کہ عہد علی الاطلاق سے لازم آتا ہے کہ وہ مسلمانوں کی ایذا رسانی سے اجتناب کریں ۔ پس مسلمانوں کی ضرر رسانی سے عہد کا مقصد فوت ہو جاتا ہے جس سے عہد کا ٹوٹ جانا لازم آتا ہے ۔ بالکل اسی طرح جس طرح مبیع کے قبل از قبض، تلف ہونے سے بیع کا مقصد فوت ہو جاتا ہے یا اس صورت میں بیع کا مقصد قائم نہیں رہتا جب مبیع (فروخت کردہ چیز) میں کسی اور کا استحقاق ثابت ہو جائے ۔ برخلاف دیگر امور کے جو اس درجہ کے نہیں۔ نیز جب یہ مضرّات بذاتِ خود اس امر کے موجب ہیں کہ مسلم کو قتل کی سزا دی جائے تو معاہد کو قتل کی سزا دیا جانا اولٰی وافضل ہے۔ اس لیے کہ مسلم اپنے ایمان کی وجہ سے اور کافر امان کی بنا پر اس امر کا پابند ہے کہ وہ یہ کام نہ کرے ۔ نیز اس لیے کہ یہ مضرّات حرب و قتال کے قبیل سے ہیں ، جن کے بعد عہد باقی نہیں رہتا ۔ برخلاف دیگر معاصی کے جن سے صرف درجے کی تحقیر اور قطعِ تعلق لازم آتا ہے۔
حدیث قدسی
اگر معترض کہے کہ کفار کو امان دے کر شرک پر قائم رہنے کی اجازت دی گئی ہے جو سبّ رسول سے بھی عظیم تر جرم ہے۔ لہٰذا ان کو سبّ رسول کی بھی اجازت ہونی چاہیے۔ بلکہ اس سے بڑھ کر وہ اللہ کو گالی دینے کے باوجود اپنے عہد پر قائم رہتے ہیں ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ نصارٰی تثلیث کے قائل ہیں اور وہ اللہ کو گالی دینے کے مترادف ہے جیسا کہ صحیح بخاری میں حضرت ابوہریرہؓ سے مروی ہے کہ رسول کریمؐ نے فرمایا، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
'ابن آدم نے مجھے جھٹلایا ، حالانکہ اسے ایسا نہیں کرنا چاہیے تھا ۔ اس نے مجھے گالی دی ، جب کہ یہ بات اسے زیب نہیں دیتی ۔ بندے کی تکذیب تو یہ ہے کہ خدا نے جس طرح مجھے پہلی مرتبہ پیدا کیا تھا دوبارہ نہیں کر سکتا ۔ حالانکہ تخلیق اول میرے لیے دوبارہ پیدا کرنے سے آسان تر نہیں ہے اور بندے کا مجھے گالی دینا یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ صاحب اولاد ہے ۔ جب کہ میں یکتا اور ایسا بے نیاز ہوں جس کے نہ تو اولاد ہے اور نہ والدین اور میرا ہمسر بھی کوئی نہیں ۔
صحیح بخاری میں حضرت ابن عباسؓ سے بھی اس طرح مروی ہے ۔ حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ جب نصاریٰ کو دیکھتے تو فرماتے ان پر رحم نہ کیجیے ، انہوں نے اللہ کو ایسی گالی دی ہے جو کسی انسان نے اس کو نہیں دی ۔
قرآن کریم میں فرمایا :
"اور کہتے ہیں کہ اللہ نے بیٹا بنا لیا ہے ۔ تم بہت عجیب چیز لائے ہو ، قریب ہے کہ آسمان اس سے پھٹ جائیں اور زمین شق ہو جائے اور پہاڑ پھٹ کر اڑ جائیں ۔ صرف اس لیے کہ انہوں نے اللہ کے لیے بیٹا ثابت کیا ہے ۔"
(مریم ــ ۸۸-۹۱)
یہود حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں جو عقیدہ رکھتے اور اس پر قائم تھے ، اور یہ عظیم ترین بہتان ہے ۔
- (۱) ایک یہ کہ یہ سوال فاسد الاعتبار ہے ۔ اس لیے کہ کسی چیز کا فی نفسہ دوسرے کی
نسبت بڑا گناہ ہونا اس سزا کے اثر سے ظاہر ہوتا ہے جو آخرت میں اس گناہ پر مترتب ہوگی ، نہ کہ دنیا میں اس پر قائم رہنے سے ۔ تم دیکھتے نہیں کہ اہل ذمہ شرک پر قائم رہتے ہیں ، مگر زنا ، سرقہ ، رہزنی ، قذف مسلم اور مسلمانوں سے نبردآزمائی پر قائم نہیں رہتے ۔ ظاہر ہے کہ یہ اشیاء شرک سے کم درجہ کی ہیں ۔ بلکہ سنت اللہ اس کی مخلوقات کے بارے میں یہی ہے ۔ دیکھئے اللہ نے قوم لوط کو دنیا ہی میں سزا دے دی ۔ مگر دنیا میں بہت سے شہر شرک سے معمور و بھرپور ہیں ان کو دنیا میں سزا نہ دی ۔ اس کلام سے حجاج
کرنے والا یوں سمجھتا ہے کہ کفار کو اس لیے قتل کیا جاتا ہے کہ وہ مسلمانوں سے لڑتے ہیں ۔ خواہ ان کا کفر اصلی ہو یا ہنگامی ۔ حتیٰ کہ ان کے نزدیک مرتد عورت کو بھی قتل نہیں کیا جاتا ۔ وہ کہتے ہیں کہ کفر کی سزا دنیا میں نہیں بلکہ آخرت میں دی جائے گی ۔ جن لوگوں سے جنگ لڑی جاتی ہے ، محض اس لیے لڑی جاتی ہے کہ اذیت رسانی سے بچا جا سکے ۔
یوں کہنا بھی درست نہیں کہ جب ہم نے ان کو کفر پر قائم نہیں رہنے دیا تو اگر ہم محاربہ پر قائم رہنے دیں جو کفر سے کم درجے کا ہے تو یہ بطریق اولیٰ جائز ہو گا ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ایسے گناہ جن کا ضرر فاعل سے تجاوز کر کے دوسروں تک پہنچتا ہے اس کے مرتکب کو شرعاً و تقدیراً دنیا میں سزا دی جاتی ہے ۔ اسی لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
"کوئی گناہ ظلم اور قطع رحمی سے بڑھ کر ایسا نہیں کہ اس کے مرتکب کو دنیا میں سزا دی جائے"۔
اس لیے کہ ایسے شخص کو بتاخیر سزا دینے میں اہل زمین کے اندر فساد بپا ہونے کا اندیشہ ہے۔ بر خلاف اُن معاصی کے جن کا ضرر فاعل سے آگے نہیں بڑھتا کہ بعض اوقات ان کی سزا کو مؤخر بھی کیا جاتا ہے ۔ اگرچہ وہ کفر کی طرح بڑی ہو ۔ جب ہم ان کو شرک پر قائم رہنے دیں گے تو اس کی سزا اکثر و بیشتر ان کو بتاخیر دی جائے گی ۔ مگر اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ مسلمانوں کو نقصان پہنچانے والے امور کی سزا بھی دیر سے دی جائے ۔ اس لیے کہ ان دونوں میں فرق ہے ۔ جیسا کہ ہم قبل ازیں بیان کر چکے ہیں ۔
وجہ ثانی : دوسری وجہ یہ ہے کہ بلا خلاف و نزاع جب وہ مسلمانوں کو ضرر نہ پہنچاتے ہوں اور انہیں کفر پر قائم رہنے دیا جائے تو انہیں الم و رنج پہنچانا روا نہیں اندریں صورت نہ ان کو مالی سزا دی جا سکتی ہے اور نہ جسمانی ۔ اور اگر علانیہ گالی دینے کا مظاہرہ کریں تو انہیں قتل کیا جائے گا یا اور کوئی جسمانی سزا دی جائے گی ۔
یہ سوال نہیں کیا جا سکتا کہ جب انہیں شرک کی سزا نہیں دی جاتی تو گالی کی سزا بھی نہیں دی جائے گی ۔ اس لیے کہ گالی دینا اس سے کم درجے کا جرم ہے ۔
اور اگر یہ سوال خلاف اجماع ہو تو اس کا جواب ضروری نہیں ۔ خصوصاً جب کہ فریق مخالف خود اس بات کو تسلیم کرتا ہے کہ گالی دینے پر انہیں سزا دی جاتی ہے ۔ اس سے معلوم ہوا کہ انہیں شرک پر قائم رہنے کی اجازت نہیں دی گئی ۔ لہٰذا معترض سے اس سوال کو قبول نہیں کیا جائے گا ۔ اور اس شبہے کا جواب مشترک ہے اس لیے اس کا الگ جواب دینا ہم پر واجب نہیں ۔
وجہ ثالث : تیسری وجہ یہ ہے کہ گالی دینے والا گالی کے ساتھ شرک کو بھی شامل کر لیتا ہے جس پر اس کے ساتھ معاہدہ کیا گیا تھا ۔ برخلاف اس مشرک کے جو گالی نہ دیتا ہو ۔ اور اکیلے گناہ کا اقرار کرنے سے یہ لازم نہیں آتا کہ اسکے ساتھ ایک اور گناہ کا اعتراف بھی کیا جائے ، یہ اس سے کم درجے کا کیوں نہ ہو ۔ اس لیے کہ دو گناہوں کے جمع ہونے سے جرم میں ایسی شدت آجاتی ہے ، جو اکیلے مجرم میں نہیں ہوتی ۔
وجہ رابع : معترض کا یہ قول کہ اُن کا جرم جو کفر ہے رسول کو گالی دینے سے بڑا جرم ہے ، علی الاطلاق درست نہیں ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اہل کتاب کے دو گروہ ہیں :
ایک گروہ یہود کا ہے جن کا اصلی کفر رسول کریم کی تکذیب ہے ۔ مگر آپ کو گالی دینا تکذیب سے بھی بڑا جرم ہے پس اُن کا سب سے بڑا کفر رسول کریم کو گالی دینا ہے ۔ اس لیے کہ وہ جملہ امور جن کی وجہ سے ان کی تکفیر کی جاتی ہے ، مثلاً دین اسلام اور عیسیٰ علیہ السلام (کی نبوت) کا انکار ، امور آخرت کو تسلیم نہ کرنا ، علاوہ ازیں سب رسول کریم سے متعلق ہیں ۔ لہٰذا رسول کریم کو گالی دینے سے ان تمام امور کا انکار لازم آتا ہے ۔ کیونکہ ان تمام امور کا علم ہمیں رسول کریم کے ذریعے حاصل ہوا ۔ عہد حاضر میں تمام روئے زمین والوں کو ورثے میں کوئی ایسا علم نہیں ملا جس کے متعلق شہادت دی جائے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے ۔ ماسوا اس علم کے جو ہمیں ورثے میں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے ملا ہے ۔ علاوہ ازیں دیگر علوم جو دوسرے انبیاء علیہم السلام سے منقول ہیں ، ان میں سے کثیر یا اکثر مشتبہ اور مخلوط ہو چکے ہیں اور جس کی حقیقت معلوم نہ ہو اُس کے بارے میں واجب ہے کہ اس کی تصدیق
یا احتراز کیا جائے ۔
باقی رہے تو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں ان کی گستاخی یہ ہے کہ وہ آپ کی لائی ہوئی توحید، اخبار غیبیہ اور شرائع پر طعن و تنقید کرتے ہیں۔ ان کے یہاں آپ کا سب سے بڑا گناہ یہ ہے کہ آپ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو اللہ کا بندہ اور رسول قرار دیا۔ یہود کے یہاں حضورؐ کا سب سے بڑا جرم یہ ہے کہ آپ نے تورات کی شریعت کو تبدیل کر دیا۔ ورنہ نصاریٰ موروثی شریعت کے محافظ نہ تھے بلکہ زمانے کی ہر گھڑی میں ان کے علماء ایک نئی شریعت ایجاد کیا کرتے تھے جس کا اللہ نے حکم نہیں دیا تھا اور پھر اس کی اس طرح حفاظت نہ کرتے جیسے حفاظت کا حق ہے۔ پس نصاریٰ کا آپ کو گالی دینا توحید کو ہدفِ طعن بنانے، شرک کی ترغیب دلانے اور دین اور انبیاء کی تکذیب کرنے پر مشتمل ہے۔ محض ان کے شرک کا یہ مطلب نہیں کہ وہ جملہ انبیاء کی تکذیب کرتے اور پورے دین کو درخور اعتنا نہیں سمجھتے۔ لہٰذا یوں نہیں کہا جاسکتا کہ جس شرک پر وہ قائم ہیں وہ سَبِّ رسول سے بھی عظیم تر ہے۔ بخلاف ازیں سبِّ رسول جس پر وہ قائم ہیں اس میں شرک بھی موجود ہے اور اس سے بڑھ کر جرائم بھی۔
خلاصہ کلام یہ کہ ایک صاحبِ عقل و خرد کو معلوم ہونا چاہیئے کہ اس کائنات پر اللہ کے دین کا قیام رسل و انبیاء علیہم السلام کا مرہونِ منت ہے اگر رسول نہ آتے تو بلاشریک خدائے واحد کی عبادت نہ کی جاتی اور نہ ہی لوگوں کو معلوم ہوتا کہ اللہ کے اسمائے حُسنیٰ اور صفاتِ علیا کیا ہیں جن کا وہ مستحق ہے اور نہ ہی اس کی شریعت اس کائنات پر قائم ہوتی ۔
یہ بات خاطر میں نہ لائیے کہ اگر عقولِ انسانیہ اور اُن علوم کو تنہا چھوڑ دیا جاتا جن کو وہ نظر و فکر کے بل بوتے پر حاصل کرتی ہیں تو وہ علیٰ وجہ الیقین اللہ کے اسماء و صفات سے آگاہ و آشنا ہو جاتیں۔ اس لیے کہ جن لوگوں نے محض عقل کی مدد سے اس بات کو موضوعِ بحث بنایا ہے انہوں نے رسولوں کی تعلیمات
سے باخبر اور مانوس ہونے کے بعد ایسا کیا ہے ۔ یہ الگ بات ہے کہ اس نے رسولوں کی اطاعت کی ہو یا نہ کی ہو۔ ان کے اکثر اکابر نے اس امر کا اعتراف کیا ہے کہ محض عقل کی مدد سے امور الہیہ کی تفصیلات کو یقینی طور پر معلوم نہیں کیا جاسکتا بخلاف ازیں اس کے ذریعے جو علم حاصل ہوتا ہے وہ ظن و تخمین پر مبنی ہوتا ہے ۔
عقل اپنی نظر و فکر سے جن امور کا احاطہ کر سکتی ہے ، رسولوں نے پہلے ہی لوگوں کو ان سے آگاہ کر دیا ہے ۔ لوگوں کو ان کی نصیحت کی اور اس میں غور و فکر کی دعوت دی ہے اور اس کے نتیجے میں اندھی آنکھوں کو کھول دیا ، بہرے کانوں کو شنوائی دی اور بند دلوں کے دروازے کھول دیئے۔ عقل انسانی جس امر کے فہم و ادراک سے قاصر ہے ، انبیاء نے وہ لوگوں کو سکھائی اور بتائی ۔ اس لیے انبیاء پر طعن و تنقید اللہ کی توحید، اس کے اسماء و صفات ، اس کے دین و کلام ، اس کے شرائع ، اس کے ثواب و عتاب اور ان عام اسباب پر طعن ہے جو اس کے اور اس کی مخلوق کے درمیان پائے جاتے ہیں ۔ بلکہ یوں کہنا زیادہ اقرب الی القیاس ہے کہ دنیا بھر میں جو مملکت بھی قائم ہوئی ہے وہ نبوت یا آثار نبوت کی وجہ سے قائم ہوئی ہے ۔ نیز یہ کہ جو بھلائی بھی دنیا میں پائی جاتی ہے وہ آثار نبوت کے زیر اثر ہوتی ہے ۔
ایک صاحب عقل و خرد کو اس باب میں ان لوگوں کو شک و شبہ کی نگاہ سے نہیں دیکھنا چاہیئے جن میں نبوت کے آثار محو ہو چکے ہیں ۔ مثلاً براہمنہ، صائبہ، مجوس ، ان کے فلاسفہ اور عوام الناس، کہ لوگ اللہ اور اس کی توحید سے اعراض کر کے کواکب و اصنام ، آگ ، بتوں اور شیطانوں کی طرف متوجہ ہو چکے ہیں اور ان کے ہاتھوں میں نہ توحید رہی اور نہ کچھ اور صرف رسولوں کی پیروی کرنے والے توحید سے وابستہ رہے ۔ قرآن کریم میں فرمایا :
"اس نے تمہارے دین کا وہی راستہ مقرر کیا جس کے اختیار کرنے کا نوح کو حکم دیا گیا تھا اور جس کی (اے محمد) ہم نے تمہاری طرف وحی بھیجی ہے اور جس کا ابراہیم اور موسیٰ اور عیسیٰ کو حکم دیا تھا (وہ یہ کہ)
دین کو قائم رکھنا اور اس میں پھوٹ نہ ڈالنا، جس چیز کی طرف تم مشرکوں کو بلاتے ہو وہ ان کو دشوار گزرتی ہے" ۔
(سورة الشوریٰ - ١٣)
اس آیت سے مستفاد ہوتا ہے کہ جس دین کی طرف رسول دعوت دیتے تھے مشرکین پر بڑا ناگوار تھا۔
کچھ لوگ انبیاء کی پیروی کرتے تھے اور کچھ مشرک تھے ۔ یہ حق بات ہے جس میں کسی شک و شبہ کی گنجائش نہیں ۔ اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ رسولوں کو گالی دینے اور ہدف طعن بنانے کے موجب و محرک جملہ انواع کفر و ضلالات کے سر چشمے تھے اور کفر کی تمام اقسام ان کی فرع تھیں ۔ بالکل اسی طرح جس طرح رسولوں کی تصدیق ایمان کی تمام شاخوں کی اصل و اساس اور جملہ اسباب ہدایت کا شیرازہ ہے۔
وجہ خامس : یہ بات سنت سے ثابت ہے جس کی تردید ممکن نہیں کہ جو شخص آپ کو گالی دیتا تھا آپ اس کو قتل کرنے کا حکم دیتے تھے مسلمان بھی دوسروں کو اس پر آمادہ کرتے تھے مگر شرک کے مجرم یا اس سے بڑے جرم کے مرتکب کو قتل کرنے سے احتراز کرتے تھے، قطع نظر اس سے کہ وہ حربی کافر ہو یا معاہد ۔ اگر یہ دلیل مقبول ہوتی تو یوں کہنا درست ہوتا کہ جب مشرک کو قتل نہیں کیا جاتا تو گالی دہندہ کو قتل نہ کرنا اولیٰ ہے۔ جب کافر ہونے کے باوجود ذمی سے معاہدہ کیا جاتا ہے تو گالی دینے پر معاہدہ کرنا افضل ہے ۔ اگر اس کو تسلیم کیا جائے تو یہ سنتِ رسول سے متصادم ہے اور جو قیاس سنت سے معارض ہو وہ مردود ہے ۔
وجہ سادس : جس شرک کی راہ پر وہ گامزن ہیں اگرچہ وہ اللہ کو گالی دینے کے مترادف ہے مگر وہ اسے گالی نہیں سمجھتے، بلکہ حمد و ثنا پر محمول کرتے ہیں اس لیے ان کا ارادہ گالی اور تحقیر کا نہیں ہوتا، برخلاف سبّ رسول کے۔ لہٰذا اس چیز کے اقرار سے جس کو وہ تحقیر اور استخفاف پر محمول نہیں کرتے اس چیز کا قصد لازم نہیں آتا جس سے وہ تحقیر مراد لیتے ہیں۔ یہ اس شخص کا جواب ہے جو سبّ رسول
کی صورت میں ان کو قتل کرنے کا قائل ہے ۔ مگر اس صورت میں ان کو قتل کرنے کا قائل نہیں جب وہ اپنے مذہبی عقائد کا اظہار کریں ۔
وجہ سابع : رسول کریم کو گالی دینا مسلمانوں کے دین پر طعن اور ان کے لیے ضرر رسانی کا موجب ہے ۔ جب کہ اپنے مذہبی عقائد کا اظہار مسلمانوں کی ضرر رسانی کا موجب نہیں، اس لیے رسول کو گالی دینا ایک طرح کی جنگ کرنا ہے جس پر ان کو سزا دی جاتی ہے ۔ اگرچہ یہ بات شرک سے کم درجہ کی ہے۔ یہ بھی اسی قائل کا جواب ہے ۔
وجہ ثامن : آٹھویں وجہ یہ ہے کہ مقیس علیہ میں حکم کو تسلیم نہ کیا جائے اس لیے کہ ہم کہتے ہیں کہ اگر وہ اپنے کفر کا اعلان کریں تو ان کا عہد ٹوٹ جائے گا ۔ برخلاف اس صورت کے جب کہ وہ اپنی مقدس کتاب کو جہراً پڑھیں کہ اس میں کفر والی کوئی بات نہیں ۔ خصوصاً جب کہ ہم اس کو سمجھتے بھی نہیں۔ یہ صرف شعارِ کفر کا اظہار ہے اس کے سوا کچھ نہیں اور اظہار کفر اور شعار کفر کے اظہار میں فرق و امتیاز پایا جاتا ہے ۔
ہم یوں بھی کہہ سکتے ہیں کہ جب انہوں نے کفر کا اظہار کیا جو کہ اللہ کے دین پر طعن ہے تو ان کا عہد ٹوٹ گیا۔ برخلاف اس کفر کے جس میں ہمارے دین پر طعن نہ کیا گیا ہو۔ اس لیے کہ عہد کا تقاضا یہ ہے ۔ کہ آپس میں جو چاہیں کہیں یا کریں، بشرطیکہ وہ مسلمانوں کے لیے ضرر رساں نہ ہو۔ باقی رہا کلمہ کفر کا اظہار یا مسلمانوں کی ایذا رسانی تو اس پر اُن سے عہد نہیں کیا گیا۔ ان باتوں کی تفصیل آگے آرہی ہے۔ کثیر فقہائے حدیث اور ہمارے اصحاب میں سے اہلِ المدینہ اور دیگر اہلِ علم نے کہا ہے کہ ہم نے اہل ذمہ کو ان باتوں کے اظہار کی اجازت نہیں دی ۔ لہٰذا اگر وہ اس کا اظہار کریں گے تو اپنا عہد توڑ ڈالیں گے ۔
حنبل کی روایت کے مطابق ابو عبداللہ کہتے ہیں کہ جو شخص بھی ایسی بات کہے جس سے ذاتِ باری کی تحقیر کا پہلو نکلتا ہو اُسے قتل کیا جائے ، خواہ وہ مسلم ہو یا کافر ۔
اہل المدینہ کا موقف یہی ہے ۔ جعفر بن محمد کہتے ہیں کہ میں نے ابو عبد اللہ سے سنا جن سے ایک یہودی کے بارے میں سوال کیا جا رہا تھا جس کا گزر ایک مؤذن پر ہوا جو اذان کہہ رہا تھا۔ یہودی نے اسے کہا کہ تو نے جھوٹ بولا" ابو عبد اللہ نے کہا اسے قتل کیا جائے ، اس لیے کہ اس نے گالی دی ہے ۔ بعض لوگوں نے ان کے عقائد اور غیر عقائد میں فرق کیا ہے ۔ بعض لوگ کہتے ہیں کہ ذمیوں کے بعض عقائد ایسے ہوتے ہیں جن کا اظہار ہمارے دین کی تنقیص پر مشتمل ہے ۔ جب کہ ان کے بعض عقائد کے اظہار سے ہمارے دین پر کوئی حرف نہیں آتا۔ اس کا تفصیلی بیان آگے آئے گا کیوں کہ اس مسئلے کے فروعات سے اس کے ماخذ کا اظہار ہوتا ہے۔
ہم قبل ازیں ذکر کر چکے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے مہاجرین و انصار کی موجودگی میں ایک نصرانی سے — جس نے کہا تھا کہ اللہ کسی کو گمراہ نہیں کرتا — کہا تھا کہ ہم نے تجھے جو کچھ بھی دیا اس لیے نہیں دیا تھا کہ تم ہمارے دین میں مداخلت کرو گے ۔ مجھے اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ اگر تو نے آئندہ ایسا کیا تو میں تمہارا سر کاٹ دوں گا جس میں تمہاری دونوں آنکھیں ہیں۔ ہماری ذکر کردہ تمام آیات اس کی مؤید ہیں۔ اس لیے کہ جہاد واجب ہے یہاں تک کہ اللہ کا کلمہ بلند ہو جائے اور پورا دین اللہ کے لیے ہو جائے۔ اللہ کے دین کو تمام مذاہب پر غلبہ عطا ہو اور ذمّی ذلیل ہو کر اپنے ہاتھ سے جزیہ ادا کریں۔
منکرات و فواحش سے روکنا بھی حسب استطاعت واجب ہے اس لیے اہل ذمّہ، جب کلمۂ کفر کا اظہار و اعلان کریں گے تو جو عہد انہوں نے ہم سے کیا تھا اس کو توڑ دیں گے ۔ وہ ذمّت پھر اُن پر باقی نہ رہے گی جس کے وہ پابند تھے۔ اندریں صورت ہم پر واجب ہو گا کہ کلمۂ کفر کا اعلان کرنے والوں کے خلاف جہاد بالسّیف کریں ۔ اس لیے کہ وہ کافر ہیں اور اُن کا عہد اب باقی نہیں رہا۔
وَاللّٰهُ سُبْحَانَهُ اَعْلَمُ
ایسا شخص واجب القت
تو وہ اجماعاً واجب القتل ہے دونوں واجب القتل ہوتے ہی مسلمان فرض کر کے قتل کیا جا کی اقامت واجب ہے، قبل واضح دلالت موجود ہے کہ سن والی مسلم عورت کو قتل کیا جا پائی جاتی ہے کہ گالی دہندہ میں اس امر کی تصریح ہے کہ جائے۔ جب ذمی عورت ذمیہ کو بالاولیٰ قتل کر دین
اہل کوفہ میں سے جو لو قیاس اس امر کا مقتضی ہے اس لیے کہ گالی دہندہ اس اس امر کا مستحق تھا کہ گالی د طرح قتل کیا جائے یا مگر اس کے اصول میں ا
جب عوام کا صحیح مو والی کو بالاولیٰ قتل کرنا اگر گالی دینے والا معا
مسئلہ ثانیہ
ایسا شخص واجب القتل ہے
اسے غلام بنانا، اس پر احسان کرنا اور اس کا فدیہ لینا جائز نہیں۔ اگر ایسا شخص مسلم ہو تو وہ اجماعاً واجب القتل ہے، اس لیے کہ وہ ایک قسم کا مرتد یا زندیق ہے اور یہ دونوں واجب القتل ہوتے ہیں — خواہ مرد ہو یا عورت — ایسے شخص کو مسلمان فرض کر کے قتل کیا جائے گا۔ بالاتفاق اسے حدّ لگا کر قتل کیا گیا۔ اس لیے حدّ کی اقامت واجب ہے، قبل ازیں ہم نے جو کچھ ذکر کیا ہے اس میں اس امر کی واضح دلالت موجود ہے کہ سنت اور اقوالِ صحابہؓ کے پیشِ نظر رسولِ کریمؐ کو گالی دینے والی مسلم عورت کو قتل کیا جائے گا۔ کیونکہ بعض آثار میں اس امر کی صراحت پائی جاتی ہے کہ گالی دہندہ مسلم عورت کو قتل کیا جائے۔ جب کہ بعض احادیث میں اس امر کی تصریح ہے کہ رسولِ کریمؐ کو گالی دینے والی ذمی عورت کو تہ تیغ کیا جائے۔ جب ذمی عورت کو گالی دینے کی وجہ سے قتل کیا جاسکتا ہے تو مسلمہ کو بالاولٰی قتل کر دینا چاہئے جیسا کہ ایک فقیہ جانتا ہے ۔
اہل کوفہ میں سے جو لوگ کہتے ہیں کہ مرتدہ کو قتل نہیں کیا جاتا، تو اس کا قیاس اس امر کا مقتضیٰ ہے کہ گالی دینے والی عورت کو بھی قتل نہ کیا جائے ۔ اس لیے کہ گالی دہندہ اس کے نزدیک مرتد ہوتا ہے ۔ حالانکہ اس کا فقہی مذہب اس امر کا متحمل تھا کہ گالی دہندہ عورت کو اقامت حدّ کی بنا پر ساحرہ کی طرح قتل کیا جائے یا بعض کے نزدیک رہزنی کرنے والی عورت کو ۔ مگر اس کے اصول میں اس کی گنجائش نہیں ۔
جب جمہور کا صحیح موقف یہ ہے کہ مرتد عورت کو قتل کیا جائے تو پھر گالی دینے والی کو بالاولٰی قتل کرنا چاہئے اور سابقہ دلائل کی روشنی میں صحیح مذہب یہی ہے اگر گالی دینے والا معاہد ہو تاہم وہ واجب القتل ہے ، خواہ وہ مرد ہو یا
عورت یہ سلف کے عام فقہاء اور ان کے اتباع کا مؤقف ہے۔ قبل ازیں ہم ابن المنذر کا یہ قول ذکر کر چکے ہیں کہ رسول کریمﷺ کو گالی دینے والا کس سزا کا مستوجب ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ اس بات پر عام اہل علم کا اجماع ہے کہ رسول کریمﷺ کو گالی دینے والے کی سزا قتل ہے۔ امام مالک ، لیث ، احمد ، اسحاق اور امام شافعی اسی کے قائل ہیں۔ ابن المنذر کہتے ہیں کہ نعمان (امام ابوحنیفہؒ) سے نقل کیا گیا ہے کہ اگر کوئی ذمی رسول کریمﷺ کو گالی دے تو اسے قتل نہ کیا جائے۔ یہ اس امر کی دلیل ہے کہ عام لوگوں کے نزدیک وہ واجب القتل ہے اور یہی مذہب ہے امام مالک ، اسحاق اور دیگر فقہائے مدینہ کا۔ ان کے اصحاب کی گفتگو اس بات کی مقتضی ہے کہ اس کو قتل کرنے کے دو مأخذ ہیں :۔
- (۱) ایک یہ کہ اس سے عہد ٹوٹ جاتا ہے۔
- (۲) دوسرا یہ کہ یہ ایک طرح کی حد شرعی ہے۔ فقہاء الحدیث کا
مؤقف یہی ہے۔
اسحاق بن راہویہ فرماتے ہیں :
- اگر (اہلِ ذمہ) علانیہ رسول کریمﷺ کو گالی دیں اور مسلمان اس کو سن لیں یا ان پر یہ جرم ثابت ہو جائے تو انہیں قتل کیا جائے جن لوگوں نے کہا کہ ان کا جرم چونکہ شرک ہے سب رسول سے بڑا جرم ہے ، ان کی بات درست نہیں ۔ بقول اسحاق ان کو قتل کیا جائے ، اس لیے کہ یہ نقضِ عہد ہے۔ حضرت عمرؓ بن عبدالعزیز نے بھی اسی طرح کیا تھا۔ اس میں کوئی شبہ نہیں ، اس کی وجہ یہ ہے کہ اس سے ان کا عہد ٹوٹ جاتا ہے۔ چنانچہ انہوں نے رسول کریمﷺ کو گالی دہندہ بن عمر راہب کو قتل کر دیا تھا اور کہا :
"ہم نے (اہلِ ذمہ سے) اس لیے صلح نہیں کی تھی۔"
امام احمد نے بھی ایسے شخص کو قتل کرنے اور اس کے عہد کے ٹوٹ جانے کی تصریح کی ہے۔ ان کی تصریحات کا تذکرہ قبل ازیں کیا جا چکا ہے۔ ان کے عام
اصحاب نے بھی اس کے واجب القتل ہونے کی تصریح کی ہے اور کئی جگہ اس پر روشنی ڈالی ہے۔ نیز اس کا ذکر انہوں نے عہد شکن اہل ذمہ میں کیا ہے۔ بعض متقدمین اور متاخرین کا قول ہے کہ ایسے عہد شکن لوگ واجب القتل ہیں۔ جیسا کہ امام احمدؒ کے کلام سے مستفاد ہوتا ہے۔
ان میں سے بعض گروہوں نے ذکر کیا ہے کہ عہد شکن اہل ذمہ کے بارے میں حاکم وقت کو اختیار ہے جس طرح قیدی کے بارے میں اسے غلام بنانے، قتل کرنے، ممنون کرنے اور فدیہ وصول کرنے کے بارے میں اختیار ہے۔ اسے چاہیے کہ وہ کام کرے جو ان چاروں کاموں میں سے امت کے حق میں مفید ہو، جیسا کہ انہوں نے اسے ناقضین عہد میں شمار کیا ہے۔ پس اس کلام کے اطلاق عموم میں گالی دینے والا بھی شامل ہوگیا۔ ورنہ اس ضمن میں بھی تخییر کے پہلو کو اختیار کیا گیا۔ مگر اس طریقہ کے محققین اور اکابر مثلاً قاضی ابو یعلی نے اپنی پچھلی کتب میں اس تخییر کو اس شخص کے ساتھ مخصوص کر دیا ہے جو رسول کو گالی دینے والا نہ ہو۔ باقی رہا گالی دہندہ تو وہ واجب القتل ہے، اگرچہ قیدی اور دیگر لوگوں کے حق میں یہ تخییر موجود ہے۔
بنابریں گالی دہندہ کے قتل کے تعین کے بارے میں اختلاف کو یا تو نقل نہ کیا جائے۔ اس لیے کہ جن لوگوں نے ایک جگہ تخییر کا اطلاق کیا ہے، دوسری جگہ یہ کہا ہے کہ گالی دینے والے کو قتل ہی کرنا چاہئے، اسے کوئی دوسری سزا نہ دی جائے، اس موقف کو اختیار کرنے والوں کے اکابر نے کہا ہے کہ گالی دہندہ اس تخییر سے مستثنیٰ ہے۔ یا یہ اس مسئلہ میں ایک کمزور پہلو ہے۔ اس لیے کہ جن لوگوں نے یہ موقف اختیار کیا ہے انہوں نے دوسری جگہ بتصریح اس سے انکار کیا ہے۔
اصحاب شافعی اس ضمن میں مختلف الرائے ہیں۔ اُن میں حسب ذیل اختلاف پایا جاتا ہے :
- (۱) شوافع میں سے ایک گروہ کا خیال ہے کہ گالی دہندہ حتماً واجب القتل ہے
اگرچہ دوسروں کے حق میں تخییر موجود ہے ۔
- (۲) بعض شافعیہ کہتے ہیں کہ وہ دیگر ناقضین عہد کی مانند ہے اور اس کے
بارے میں دو قول پائے جاتے ہیں۔
- (ا) ایک ضعیف قول یہ ہے کہ اُسے اس کے وطن میں پہنچا دیا جائے۔
- (ب) دوسرا صحیح قول یہ ہے کہ اسے قتل کرنا جائز ہے، مگر قیدی کی
طرح حاکم وقت کو اختیار ہے کہ اس کے ساتھ وہ سلوک کرے جو امت کے لیے موزوں تر ہو۔ مثلاً اگر چاہے اسے قتل کر دے، قیدی بنائے، اس پر احسان کر کے اسے چھوڑ دے، اس سے فدیہ وصول کرے ۔
امام شافعیؒ نے جو بحث دوسری جگہ کی ہے اس کا تقاضا یہ ہے کہ ناقضِ عہد اور حربی کافر دونوں کا ایک ہی حکم ہے۔ اسی لیے کہا گیا ہے کہ وہ قیدی کی مانند ہے۔ امام شافعیؒ نے دوسری جگہ حتماً بلا تخییر اُسے واجب القتل قرار دیا ہے۔ اس مسئلے کی تلخیص و تحریر ایک تمہید کی محتاج ہے، جس میں یہ واضح کیا جائے کہ عہد کن اُمور سے ٹوٹتا ہے؟ نیز یہ کہ ناقضِ عہد کی سزا بالعموم کیا ہے؟ جب یہ باتیں طے ہو جائیں تو پھر بطور خاص "سبّ" (گالی دینا) کے مسئلے پر روشنی ڈالی جائے ۔
جہاں تک پہلے مسئلے کا تعلق ہے، ناقض عہد کی دو قسمیں ہیں۔ ایک وہ ناقض عہد ہے جو مسلمانوں کے قبضے میں نہیں اور جنگ کیے بغیر اُسے گرفتار نہیں کیا جاسکتا۔ دوسرا ناقض وہ ہے جو مسلمانوں کے قبضے میں ہو، پہلی قسم کا ناقض قوت و شوکت سے بہرہ ور ہوتا ہے، اس لیے حاکم اُس سے جزیہ وصول کر سکتا ہے اور نہ ہی اس سے شریعت کے احکام واجبہ کی تعمیل کروانے پر قادر ہے۔ صرف جزیہ نہ دینے والے ان پر ظلم و زیادتی کر سکتے ہیں وہ دارالحرب کو اپنا وطن بنا لیں گے
ایسے لوگ اجماعاً ناقض عہد ہیں۔ اگر ان میں سے کسی کو قیدی بنا لیا جائے تو امام احمدؒ کے ظاہر مذہب کے مطابق اُس کا حکم وہی ہے جو حربی کافر کا ہے جب کہ اُسے قید کر لیا جائے ۔ حاکم وقت اس کے ساتھ اپنی صوابدید کے مطابق سلوک کریگا۔
ابو الحارث سے معاہدین کی ایک قوم کے بارے میں سوال کیا گیا جو عہد توڑ کر اپنے بچوں کو دارالحرب میں لے جائیں، پھر تعاقب کر کے ان کو پکڑ لیا جائے اور ان سے جنگ لڑی جائے ۔ امام احمدؒ فرماتے ہیں جب وہ عہد توڑ ڈالیں تو ان میں سے جو بالغ ہو اس پر وہی احکام جاری کیے جائیں گے جو قیدی ہونے کی صورت میں حربی کافروں پر جاری کیے جاتے ہیں ۔ ان کا معاملہ حاکم وقت کی صوابدید پر مبنی ہے۔ باقی رہے ان کے بچے تو جو نقض عہد کے بعد پیدا ہوا ہو تو وہ ناقض عہد کی مانند ہے اور جو نقض عہد سے قبل عالم وجود میں آیا اس پر کوئی ذمہ داری نہیں ۔ اس کی دلیل یہ ہے کہ علقمہ بن علاثہ کی بیوی نے کہا تھا : ”اگر علقمہ مرتد ہوا ہے تو میں تو مرتد نہیں ہوئی ۔“ عہد توڑنے والوں کے بارے میں حضرت حسن بصریؒ سے بھی اسی طرح منقول ہے ۔ وہ کہتے ہیں کہ ”عورتوں پر کچھ بھی نہیں ہے ۔“
جناب صالح سے سوال کیا گیا کہ اگر معاہدین ایک قلعہ میں ہوں اور ان کے ہمراہ مسلمان بھی ہوں ۔ پھر وہ عہد توڑ ڈالیں اور مسلمان بھی قلعہ میں ان کے ہمراہ موجود ہوں تو اُن کے ساتھ کیا سلوک کیا جائے ؟ صالح نے جواب دیا جو بچے نقض عہد کے بعد پیدا ہوئے انہیں ناقضین عہد کی طرح قیدی بنا لیا جائے ۔ اور جو نقض عہد سے پہلے پیدا ہوئے ہوں انہیں قیدی نہ بنایا جائے ۔ اس طرح انہوں نے تصریح کی ہے کہ اگر ناقض عہد کو جنگ کر کے قیدی بنایا جائے تو حاکم وقت کو اس کے بارے میں اختیار ہے اور جو بچے نقض عہد کے بعد پیدا ہوئے ان کو عہد توڑنے والوں کی طرح قیدی بنا لیا جائے ۔ اس سے معلوم ہوا کہ ناقض عہد کو قیدی بنایا جا سکتا ہے ۔ ان کا مشہور مذہب یہی ہے ۔
ان سے ایک دوسری روایت بھی منقول ہے کہ قابو پانے کی صورت میں انہیں قیدی کے بجائے ذمی بنالیا جائے۔ ابوطالب سے ایک روایت ایک معاہد شخص کے بارے میں منقول ہے جو بذات خود مع اہل و عیال دشمن کے ساتھ جاملے اور دارالحرب میں اُس کے یہاں اولاد پیدا ہو تو اس اولاد کو قیدی بنالیا جائے۔ پھر ان سے اور ان کی اس اولاد سے جو دارالاسلام میں پیدا ہوئی ہو جزیہ وصول کیا جائے۔ ابوطالب سے دریافت کیا گیا کہ اُن کی جو اولاد دارالاسلام میں پیدا ہوئی ہو کیا ان کو قیدی نہ بنایا جائے؟ کہا نہیں۔ پھر ان سے دریافت کیا گیا اگر ان بچوں کو بچپن میں دارالاسلام لایا جائے، پھر وہ بڑے ہو جائیں تو ان کا کیا حکم ہے؟ ابوطالب نے کہا کہ ”انہیں قیدی نہ بنایا جائے بلکہ امن گاہ میں پہنچا دیا جائے“۔
ناقض عہد کے بارے میں امام احمد کا موقف
ابن ابراہیم نے امام احمد سے اس آدمی کے بارے میں سوال کیا جو مع اہل و عیال دارالحرب میں چلا جائے اور وہاں اس کے یہاں اولاد پیدا ہو اور پھر مسلمان اس کو پکڑ لیں تو اس کے ساتھ کیا سلوک کیا جائے گا؟
امام احمد نے جواب میں فرمایا کہ اس کے اہل و عیال کو کچھ سزا نہیں دی جائے گی البتہ جو بچے اس کی غلامی کی حالت میں پیدا ہوں گے ان سے جزیہ وصول کیا جائیگا
اس کے جواب میں امام احمد نے تصریح کی ہے کہ عہد توڑنے والے اور اس کے موجود بچوں سے جزیہ تو وصول کیا جائے گا۔ مگر انہیں غلام نہیں بنایا جائے گا۔ نیز یہ کہ اس کے جو بچے جنگ کے بعد پیدا ہوئے انہیں غلام بنالیا جائے گا۔ اس لیے کہ اس کے چھوٹے بچے حربی کافر کی اولاد ہونے کی وجہ سے قیدی ہیں وہ صرف قید ہونے ہی کی وجہ سے غلام بن جائیں گے اور آغاز و انجام میں کسی وقت بھی ذمیوں میں شمار نہیں ہوں گے۔ البتہ جو بچے نقض عہد سے پہلے پیدا ہوئے سابقہ عہد کی وجہ سے ذمّی قرار پائیں گے۔
پہلی مشہور روایت کی بنا پر جب کافر قیدی بنایا جائے گا تو حاکم وقت
سری روایت بھی منقول ہے کہ قابو پانے کی صورت میں انہیں لیا جائے۔ ابوطالب سے ایک روایت ایک معاھد شخص کے ات خود مع اہل وعیال دشمن کے ساتھ جاملے اور دارالحرب پیدا ہو تو اس اولاد کو قیدی بنالیا جائے۔ پھر ان سے اور دارالاسلام میں پیدا ہوئی ہو جزیہ وصول کیا جائے۔ ابوطالب کی جو اولاد دارالاسلام میں پیدا ہوئی ہو کیا ان کو قیدی بنالینا ت سے دریافت کیا گیا اگر ان بچوں کو بچپن میں دارالاسلام لائیں تو ان کا کیا حکم ہے ؟ ابوطالب نے کہا کہ انہیں قیدی میں پہنچا دیا جائے “
ے میں امام احمد کا موقف
ابن ابراہیم نے امام احمدؒ سے اس آدمی کے بارے میں دریافت کیا جو دارالحرب میں چلا جائے اور وہاں اس کے یہاں اس کو پکڑ لیں تو اس کے ساتھ کیا سلوک کیا جائے گا؟ مایا کہ اس کے اہل وعیال کو کچھ سزا نہیں دی جائے گی حالت میں پیدا ہوں گے ان سے جزیہ وصول کیا جائیگا احمدؒ نے تصریح کی ہے کہ عہد توڑنے والے اور اس کے محمول کیا جائے گا ۔ مگر انہیں غلام نہیں بنایا جائے گا۔ م کے بعد پیدا ہوتے انہیں غلام بنالیا جائے گا۔ بچے حربی کافر کی اولاد ہونے کی وجہ سے قیدی ہیں سے غلام بن جائیں گے اور آغاز و انجام میں کسی وقت ہوں گے ۔ البتہ جو بچے نقضِ عہد سے پہلے پیدا ہوئے سزا پائیں گے ۔ بنا پر جب کفار قیدی بنا یا جائے گا تو حاکم وقت
ان سے اپنی صوابدید کے مطابق وہ سلوک کرے گا جو مسلمانوں کے لیے موزوں تر ہو ۔ وہ چاہے انہیں قتل کرے یا غلام بنالے یا بلا معاوضہ چھوڑ دے یا فدیہ لے کر رہا کر دے ۔ جب حاکم وقت بلا معاوضہ اُن کو رہا کرنے کا مجاز ہے تو ان سے جزیہ قبول کر کے ، انہیں دوبارہ ذمی بنا کر بھی آزاد کر سکتا ہے ۔ مگر اس پر یہ واجب نہیں ہے، جس طرح رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو قریظہ اور اہل خیبر کے قیدیوں کو قتل کرا دیا تھا اور انہیں جزیہ ادا کرنے کی دعوت نہیں دی تھی اور اگر آپ انہیں اس کی دعوت دیتے تو وہ اسے قبول کر لیتے ۔
دوسری روایت کے مطابق ان کو دوبارہ ذمی بنانے کی دعوت دینا واجب یا مستحب ہے، بالکل اُسی طرح جیسے مرتد کو اسلام کی دعوت دینا واجب یا مستحب ہے۔ اگر وہ دوبارہ ذمی بننے کے لیے تیار ہو جائیں تو اُن کو ذمی بنالینا چاہیے ، جس طرح مرتد کا اسلام لانا اور اصلی حربی سے جزیہ قبول کرنا واجب ہے ، جب کہ وہ قید ہونے سے پیشتر اس کی پیش کش کرے ۔ اگر یہ جزیہ دینے سے انکار کریں تو اس وقت کا تقاضا یہ ہے کہ انہیں قتل کرنا واجب ہے اور اُن کو غلام بنانا روا نہیں ۔ یا بظاہر یہ نقضِ امان کو نقضِ ایمان پر محمول کیا جائے گا ۔ اور اگر وہ بار بار عہد شکنی ارتکاب کریں تو اُن کی سزا وہی ہے جو اس شخص کی ہے جو بار بار مرتد ہو جائے ۔
امام مالکؒ کا مذہب
اشہب نے امام مالکؒ سے ان لوگوں کے بارے میں اسی طرح روایت کیا ہے ۔ وہ کہتے ہیں کہ آزاد آدمی کو دوبارہ ہرگز کبھی بھی غلام نہیں بنایا جا سکتا ۔ بلکہ بہرحال انہیں ذمی بننے کی طرف لوٹایا جائے گا ۔
امام شافعیؒ کا موقف
امام شافعیؒ نے بھی اپنی کتاب ”الام“ میں اسی طرح ذکر کیا ہے ۔ انہوں نے نواقضِ عہد کا تفصیلی ذکر کیا ہے ۔ وہ کہتے ہیں جو شخص ایسی بات کرے یا ایسا کام کرے جس کو میں نے ناقضِ عہد قرار دیا ہے اور اسلام قبول کرے تو قبول ہونے کی صورت میں اسے قتل نہیں کیا
جائے گا۔ الاّ یہ کہ دین اسلام میں یہ بات مذکور ہو کہ جو شخص ایسا کرے اسے حدّاً یا قصاص میں قتل کیا جائے۔ تو اندریں صورت اسے حدّاً یا قصاص میں قتل کیا جائیگا نقض عہد کی وجہ سے نہیں ۔
اگر اس نے ایسا کام کیا جس کے بارے میں ہم بیان کر چکے ہیں کہ اس سے عہد ٹوٹ جاتا ہے ، مگر اسلام قبول نہ کیا ، البتہ کہا کہ میں حسبِ سابق جزیہ دیا کروں گا یا نئے سرے سے صلح کرلوں گا ، تو اسے سزا دی جائے ، اور قتل نہ کیا جائے ۔ بجز اس صورت کے جب کہ وہ ایسا فعل کرے جس سے قصاص یا حدّ لازم آتی ہو ۔ اگر اس نے کوئی ایسا فعل کیا یا ایسی بات کہی جس سے ہمارے قول کے مطابق وہ مباح الدم ہو جاتا ہے اور ہم نے اس پر قابو پالیا اور اس نے دوبارہ اسلام قبول کرنے یا جزیہ دینے سے انکار کیا تو اسے قتل کیا جائے اور اس کے مال کو مال غنیمت بنا لیا جائے ۔
مذکورہ صدر عبارت میں امام شافعیؒ نے تصریح کی ہے کہ اگر ہم اس پر قابو پالیں اور وہ جزیہ دینا چاہے تو جزیہ کو قبول کیا جائے ۔ اگر وہ جزیہ ادا نہ کرے اور اسلام بھی قبول نہ کرے تو اسے قتل کیا جائے اور اس کا مال لے لیا جائے ۔ اس کے بارے میں اصحاب شافعیؒ سے دو قول منقول ہیں ۔ اس ضمن میں امام احمدؒ سے ایک تیسری روایت منقول ہے اور وہ یہ کہ قیدی بنائے جانے کی صورت میں وہ غلام بنائے جائیں گے ۔
ابن ابراہیم نے امام احمدؒ سے نقل کیا ہے اگر ذمّی یہود کو قید کرلیں، پھر مسلمان ان پر غالب آجائیں تو وہ ان کو فروخت نہیں کریں گے ۔ ان کا احترام واجب ہوگا البتہ اگر کوئی ان میں سے جزیہ ادا کرنے سے منحرف ہوجائے تو وہ غلاموں کی مانند ہوگا امام مالکؒ کا مشہور مذہب یہی ہے ۔ مالکیہ میں سے ابن القاسم اور دیگر علماء نے کہا ہے کہ اگر کفار دارالاسلام سے نکل کر اپنا عہد توڑ ڈالیں ، جزیہ دینے سے انکار کریں احسان قبول نہ کریں اور دارالحرب میں چلے جائیں تو ان کا عہد ٹوٹ گیا ۔ جب عہد ٹوٹنے کے بعد ان کو قیدی بنا لیا جائے تو ان کے مال کو مالِ غنیمت تصوّر
کیا جائے گا اور دوبارہ اُن کو ذمی نہیں بنایا جائے گا ۔ اس طرح مالکیہ نے ان کے قیدی بنانے کو واجب قرار دیا اور دوبارہ ذمی بنانے سے روکا ہے ۔ گویا انہوں نے ان کے ذمہ سے نکل جانے کو مرتد کے ارتداد کی مانند قرار دیا ہے کہ اس سے جزیہ قبول نہیں کیا جاتا ۔ مگر ان کو غلام بھی نہیں بنایا جاسکتا ، اس لیے کہ ان کا کفر اصلی ہے۔
امام ابو حنیفہؒ کا زاویہ نگاہ
امام ابو حنیفہؒ کے اصحاب کہتے ہیں کہ عہد توڑنے والا مرتد کی مانند ہو جاتا ہے ۔ مگر اُسے غلام بنا سکتے ہیں جب کہ مرتد کو غلام بنانا جائز نہیں ۔ تاہم اگر ان پر قابو نہ پایا جا سکے یہاں تک کہ وہ جزیہ ادا کرنے اور دوبارہ ذمی بننے پر آمادہ ہوں تو ان کو پھر ذمی بننے پر آمادہ ہوں تو ان کو پھر ذمی ٹھہرایا جا سکتا ہے ۔ اس لیے کہ صحابہ رضوان اللہ علیہم نے شام کے اہل الکتاب کو نقض عہد کے بعد دوسری اور تیسری مرتبہ ذمی بنا لیا تھا ۔ یہ واقعہ فتوح الشام میں مشہور ہے اور اس میں کوئی اختلاف نہیں پایا جاتا
امام مالکؒ اور ان کے اصحاب کہتے ہیں کہ جب اہل ذمہ جزیہ دینے سے منکر ہو کر مسلمانوں کے خلاف نبرد آزما ہوں ۔ اور امام عادل بھی موجود ہو تو ان سے لڑ کر ان کو واپس لایا جائے ۔ حالانکہ حنفیہ کے نزدیک مشہور بات یہ ہے کہ ذمی قیدی کو دوبارہ ذمی نہیں بنایا جاسکتا ، بلکہ اس کے مال کو مال غنیمت تصور کیا جاتا ہے ۔ جب امام مالکؒ اس مسئلہ کی مخالفت نہیں کرتے تو دوسرے بالاًولیٰ اس کے مخالف نہیں ہوں گے ۔ اس لیے کہ انہی کا یہ قول مشہور ہے کہ قیدی کو دوبارہ ذمی نہیں بنایا جاسکتا۔
اگر یہ لوگ دوبارہ ذمی بننا پسند کریں تو کیا اُن کی پیش کش واجب القبول ہے یا نہیں ، جس طرح اصلی حربی سے اِس کو قبول کیا جاتا ہے ؟ اگر ہم یہ کہیں کہ ذمی قیدی کو پھر ذمی بنایا جا سکتا ہے تو ان کو بار دیگر ذمی بنانا اُولیٰ ہے ۔ اور اگر کہیں کہ واجب نہیں تو پھر ان کو ذمی بنانا بھی جائز نہیں ۔ اس لیے کہ بنو قینقاع نے جب رسول کریمﷺ کے ساتھ اپنے عہد کو توڑ دیا تھا اور آپؐ نے انہیں قتل کرنے کا ارادہ کیا
تو عبداللہ بن اُبی نے باصرار ان کی سفارش کی تو آپؐ نے ان کی خطا معاف کر کے جلا وطن کر دیا اور مدینہ میں رہنے کی اجازت نہ دی ۔ حالانکہ وہ تجدید عہد کر کے مدینہ رہنے کے خواہاں تھے ۔
اسی طرح بنو قریظہ جب مسلمانوں کے خلاف جنگ آزما ہوئے تو انہوں نے صلح کر کے دوبارہ ذمّی بننا چاہا ۔ جب رسول کریمؐ نے اُسے قبول نہ کیا تو وہ حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کے فیصلہ پر راضی ہو کر قلعوں سے نیچے اُتر آئے ۔ جب بنو نضیر نے عہد شکنی کا ارتکاب کیا اور آپؐ نے ان کا محاصرہ کیا تو انہیں اس شرط پر قلعوں سے اُتارا کہ انہیں جلاوطن کر دیا جائے گا ۔ حالانکہ وہ دوبارہ ذمّی بن کر مدینہ طیبہ میں رہنے کے خواہاں تھے ۔
یہ سب گروہ ذمّی تھے جنہوں نے رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے عہد کیا تھا کہ مدینہ کے دارالاسلام میں اللہ اور اُس کے رسول کا حکم نافذ ہو گا ۔ عہد کنندہ مسلمانوں اور ذمّی متعاہدین کے مابین اگر کوئی حادثہ رُونما ہو تو اسے رسولِ کریمؐ کے سپرد کر دیا جائے گا ۔ کتاب السیر میں بھی اِسی طرح مذکور ہے ۔ اگر ذمّی عہد توڑ ڈالیں اور بعض مسلمانوں کو قتل کریں اور بعض کو جلاوطن کریں اور ان کی عورتوں کو لونڈی بنا لیں باوصف انہیں بار ثانی ذمّی نہ بنایا گیا ہو تو معلوم ہوا کہ یہ واجب ہے نہ روا ۔ اس لیے کہ سرزمین حجاز میں دو مذہبوں والے نہیں رہ سکتے ۔ کفار کے لیے اقامت وہاں ممکن نہیں ۔ اس لیے کہ یہ ابھی مشروع نہیں ہوا تھا ۔ بلکہ جب آپؐ نے وفات پائی تو آپؐ کی زرہ مدینہ کے ابو شحم یہودی کے ہاں مرہون تھی ۔ مدینہ میں اور یہودی بھی تھے اور خیبر میں بکثرت یہودی بود و باش رکھتے تھے اور خیبر حجاز کا ایک حصہ ہے ۔ مگر رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم نے مرضِ وفات میں یہ عہد کیا تھا کہ یہود و نصاریٰ کو جزیرۃ عرب سے نکال دیں گے اور وہاں دو دین نہیں رہ سکیں گے ۔ خلافتِ فاروقی رضی اللہ تعالیٰ عنہ میں آپؐ کے اس عہد کو نافذ کیا گیا ۔
ناقض عہد اور مرتد
قتال کے مقصد کو پورا کر دیا اگرچہ ہمارا گمان یہ ہو کہ ا کے سینے پھاڑ کر ملاحظہ کر سے باز رہنا، انہیں عہد کی رد کرنا ہمارے لیے جائ منہ پر مارا ہمارے لیے جا ہے ۔ کیونکہ عہد کو انہوں نے تو یہ خوفِ ترک عہد کو جائ جس طرح صلح کرنے وال اس سے ثابت ہوت جائز نہیں ۔ کیونکہ رسول انہیں ذمّی نہیں بنایا تھا میں ان کو دوبارہ ذمّی ن ان کے مرتد ہونے کا جو انہوں نے ت تعالیٰ ہے : " وَمَنْ نَّكَثَ فَاِنَّمَا يَنْكُثُ عَلٰى نَفْسِہٖ " (الفتح اگر عہد توڑنے وال اس کے ساتھ دوبارہ خوف نہ ہوتا ۔ بلکہ مگر ہم اسے ذمہ کی ع
ناقض عہد اور مرتد میں فرق
عہد توڑنے والوں اور مرتدین میں فرق یہ ہے کہ جب کوئی مرتد دین اسلام کی طرف لوٹ آئے تو اس نے مسلمان بن کر قتال کے مقصد کو پورا کر دیا، لہٰذا اس سے کسی اور بات کا مطالبہ نہیں کیا جائے گا ۔
اگرچہ ہمارا گمان یہ ہو کہ اس کا باطن اس کے ظاہر کے خلاف ہے۔ مگر ہمیں لوگوں کے سینے پھاڑ کر ملاحظہ کرنے کا حکم نہیں دیا گیا ۔ باقی رہے یہ لوگ تو اُن کی لڑائی سے باز رہنا اپنے عہد کی وجہ سے ہے اور جس سے خیانت کا خوف ہو اس کے عہد کو ردّ کرنا ہمارے لیے جائز ہے۔ جس سے خوف دامنگیر ہو اگر اس کے عہد کو اس کے منہ پر مارا ہمارے لیے روا نہ ہوتا ، تو جب یہ عہد توڑ ڈالیں تو یہ بے وفائی کی علامت ہے ۔ کیونکہ عہد کو انہوں نے خوف اور بچاؤ کے لیے اختیار کیا تھا اور جب ان کا بس چلے گا فوراً خود ترک عہد کو جائز قرار دینے والا ہوگا اور وہ صرف جزیہ قبول کریں گے ، جس طرح صلح کرنے والوں کے منہ پر عہد کو دے مارنا بطریق اُولیٰ جائز ہے۔
اس سے ثابت ہوتا ہے کہ عہد توڑنے والے قیدی کو دوبارہ ذمی بنانا بالاولیٰ جائز نہیں۔ کیونکہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل کتاب کی چاہت کے باوجود انہیں ذمی نہیں بنایا تھا ۔ جب زنجیروں میں جکڑے ہوئے ہونے کی صورت میں ان کو دوبارہ ذمی نہ بنایا جائے تو یہ اولیٰ ہے ۔ بنو قریظہ کو عہد شکنی کے بعد ان کے لڑاکا جوانوں کو قتل کیا گیا تھا اور انہیں ذمی نہیں بنایا گیا تھا۔ فرمانِ باری تعالیٰ ہے :
” فَمَنْ نَّكَثَ فَاِنَّمَا يَنْكُثُ عَلٰى نَفْسِهٖ “ (الفتح : ۱۰) (اور جو عہد شکنی کرتا ہے تو اس کی ذمہ داری اس کی جان پر ہے)
اگر عہد توڑنے والے کے لیے یہ واجب ہوتا کہ جب بھی وہ عہد شکنی کرے اس کے ساتھ دوبارہ معاہدہ کر لیا جائے تو اسے عہد شکنی کی سزا کا مطلقاً خوف نہ ہوتا ۔ بلکہ جب چاہتا اپنے عہد کو توڑ ڈالتا ۔ مگر ہم اسے ذمہ کی طرف دوبارہ لوٹا سکتے ہیں ۔ اس لیے کہ رسول اکرم صلی اللہ
علیہ وسلم نے ثابت بن قیس بن شماس کو زُبیر بن باطا القُرظی کا اہل وعیال اور سب مال دے دیا تھا۔ بشرطیکہ وہ ارضِ حجاز میں رہے ۔ وہ بنو قریظہ کے عہد شکن قیدیوں میں سے تھا۔ اس سے معلوم ہوا کہ عہد شکنی کے بعد بھی اہلِ ذمہ کو دار الاسلام میں اقامت کی اجازت دی جاسکتی ہے ۔ جبکہ بنو قینقاع پر قابو پانے کے بعد ان کو اذرعات کی طرف جلا وطن کیا گیا تھا۔ معلوم ہوا کہ عہد شکنی کے بعد بھی ذمیوں پر احسان کیا جاسکتا ہے اور جب عہد شکن قیدی پر احسان کرنا اور اُسے دار الاسلام میں ٹھہرانا جائز ہے تو اس سے فدیہ لے کر چھوڑ دینا بالاولیٰ جائز ہے ۔
ان ناقضین عہد کے بارے میں رسول کریمؐ کی سیرت سے مستفاد ہوتا ہے کہ ان کو قتل کرنا بھی روا ہے اور ان کو ممنون احسان بنانا بھی ، بشرطیکہ دار الاسلام میں مقیم رہیں ۔ اگر مصلحت کا تقاضا ہو تو دار الحرب بھی جاسکتے ہیں ۔ یہ بات ان لوگوں کے خلاف حجت ہے جو اُن لوگوں کو دوبارہ ذمی یا بارِ دیگر غلام بنانا چاہتے ہیں ۔
اگر معترض کہے کہ ہمارے نزدیک اُن کو دوبارہ ذمی بنانا اس لیے واجب ہے کہ اُن کا غیر ذمی ہونا اور مسلمانوں کی جماعت سے نکل جانا ، اسلام اور مسلمانوں کی جماعت کو چھوڑ دینے کے مترادف ہے یا یہ عہد شکنی ہے جو نقضِ ایمان کی مانند ہوتی ہے ۔ جب اسلام سے برگشتہ ہونے والے سے وہ چیز قبول نہیں کی جاتی جو اصلی کافر سے قبول کی جاتی ہے ۔ بخلاف ازیں اس سے صرف اسلام قبول کیا جاتا ہے ورنہ قتل کر دیا جاتا ہے ۔ اسی طرح جو شخص عہد شکنی کا مرتکب ہو اس سے بھی وہ چیز قبول نہیں کی جاتی جو اصلی حربی کافر سے قبول کی جاتی ہے بلکہ اس سے یا تو اسلام قبول کیا جاتا ہے یا عہد کی پابندی ، ورنہ اُسے قتل کر دیا جاتا ہے ۔ نیز اس لیے کہ سابقہ عہد کی وجہ سے انہیں جو حُرمت حاصل ہو چکی ہے وہ ان کو دوبارہ غلام بنانے سے مانع ہے ، جس طرح سابقاً اسلام قبول کرنے کی حرمت مرتد کو غلام بنانے سے مانع ہے ۔
ہم اس کے جواب میں کہیں گے کہ ایک مرتبہ دین حق میں داخل ہو کر اس سے نکل جانے کی وجہ سے مرتد کا کفر مزید شدت اختیار کر گیا ہے۔ اب کسی وجہ سے بھی اس کو اس کفر پر قائم رہنے نہیں دیا جائے گا۔ پس یا تو وہ اسلام قبول کرے ورنہ دین کی عصمت بچانے کے لیے اُسے حتمی طور پر قتل کیا جائے گا جس طرح فروج و اموال کو تحفظ دینے کے لیے حدود شرعیہ کا قیام از بس ناگزیر ہوتا ہے۔ اسے قید کرنا اس لیے جائز نہیں کہ اس طرح وہ اپنے ارتداد پر قائم رہے گا اور اس دین کی قدر و منزلت بڑھے گی جس کو اس نے اسلام کے عوض اختیار کیا ہے۔
باقی رہا عہد شکنی کرنے والا تو اس نے اس عہد کو توڑ ڈالا جس کی وجہ سے اسے تحفظ حاصل تھا۔ اب اس کی حرمت زائل ہو گئی اور وہ مسلمانوں کے ہاتھوں میں بلا عقد عہد رہ گیا ۔ اب وہ اس حربی کافر کی مانند ہے جس کو ہم نے قیدی بنایا ہو، بلکہ اس سے بدتر۔ ظاہر ہے کہ ایسے شخص کا نہ تو جزیہ معاف کیا جا سکتا ہے۔ اور نہ ہی اُس پر کوئی اور احسان کیا جا سکتا ہے، اس لیے کہ اللہ نے ہمیں اُن سے لڑنے کا حکم دیا ہے، حتیٰ کہ ذلیل ہو کر اپنے ہاتھ سے جزیہ ادا کریں جس کو ہم جزیہ ادا کرنے سے قبل پکڑ لیں وہ اس آیت میں شامل نہیں اس لیے کہ اس سے لڑا نہیں جاتا۔ بلکہ قیدی بنانے کی صورت میں اللہ نے ہمیں اختیار دیا ہے کہ ہم اُسے بلا معاوضہ چھوڑ دیں یا فدیہ قبول کر کے رہا کر دیں۔ مگر ذمی اور کتابی پر احسان کرنے کو واجب قرار نہیں دیا۔ نیز اس لیے بھی کہ قیدی کے ساتھ مسلمانوں کا حق بھی وابستہ ہو گیا ہے کہ وہ اسے قیدی بنا کر اس کا فدیہ وصول کر سکتے ہیں۔ لہٰذا اپنے حق کو بلا معاوضہ ترک کرنا ان پر واجب نہیں۔ بنا بریں اس کو قتل کرنا جائز ہے، اس لیے کہ وہ ایک غیر معاہد کافر ہے بلکہ ایک ایسے دَور میں اپنے عہد کا رشتہ استوار کرنا چاہتا ہے جب عہد کرنا اُس کے ساتھ واجب نہیں، اور اس کی وجہ سے اس کا خون محفوظ نہیں رہ سکتا ۔
اگر معترض کہے کہ جو لوگ اُس کو دوبارہ ذمی بنانے اور اس کے مال کو مالِ غنیمت بنانے سے روکتے ہیں یا مفت میں قیدی پر احسان ہے اور اس سے مسلمانوں کا حق ضائع ہوتا ہے ، اس لیے اُن کے اموال کو ضائع کرنا جائز نہیں ہے۔ ہم اس کے جواب میں کہتے ہیں یہ اس بات پر مبنی ہے کہ قیدی پر احسان کرنا جائز نہیں ۔ مگر کتاب وسنت سے معلوم ہوتا ہے کہ قیدی پر احسان کرنا ایک مستحسن فعل ہے۔ اور جو شخص اس کے منسوخ کا دعویٰ کرتا ہے وہ اس کے اثبات کے لیے دلیل کا محتاج ہے۔
اگر سائل کہے کہ ذمی کا عہد سے خروج اس پر سختی کا موجب ہے۔ لہٰذا اسے یا تو قتل کیا جائے یا غلام بنالیا جائے۔ جس طرح قتل کی سزا متعین کرنا مرتد کے لیے سختی کا موجب ہے۔ جب اس میں وہ بات جائز ہے جو اصلی حربی کافر کے حق میں جائز ہے تو دونوں کے درمیان کوئی فرق باقی نہ رہا ۔
ہم اس کے جواب میں کہتے ہیں کہ جب اس کو غلام بنانا جائز ہے تو اس پر جزیہ عائد کرنا بھی درست ہے بشرطیکہ اللہ کا کوئی حق مانع نہ ہو۔ اس لیے کہ غلام بنانے کی صورت میں وہ صرف اپنے آپ کا مالک نہیں رہتا ۔ بعض اوقات حاکم وقت کے پیش نظر یہ مصلحت ہوتی ہے کہ اس پر جزیہ لگانے یا احسان کرنے یا فدیہ لینے میں زیادہ مصلحت پائی جاتی ہے۔ برخلاف مرتد کے کہ اس کو زندہ چھوڑنے میں کوئی مصلحت نہیں ہے ، اور برخلاف بت پرست کے جب ہم اس کے غلام بنانے کو جائز تصور کریں۔ کیوں کہ اس پر جزیہ لگانے سے اللہ کا حق یعنی اس کا دین مانع ہے۔ باقی رہا عہد شکنی کرنے والا تو اس کا دین نقض سے پہلے بھی وہی تھا اور بعد ازاں بھی وہی۔ نیز اس کے نقض عہد کا ضرر ان لوگوں کو پہنچتا ہے جو اس سے برسر پیکار ہوتے ہیں ۔ لہٰذا اس کا معاملہ حاکم کی صوابدید پر موقوف ہے۔
کیا ناقض عہد کو قتل کرنا ضروری ہے ؟ اگر معترض کہے کہ پھر تم نے اس
اختلاف کا تذکرہ کیوں نہیں کیا کہ ایسے ناقض عہد کو قتل کرنا لازم ہے جس طرح دیگر ناقضین کا۔ جیسا کہ آگے آرہا ہے۔ حالانکہ ابوالخطاب نے کہا ہے کہ :
- (١) جب ہم ذمی کے نقض عہد پر غلبہ پائیں تو امام احمدؒ اس کے بارے میں
فرماتے ہیں کہ اسے فی الفور قتل کیا جائے ۔
- (٢) ابوالخطاب کہتے ہیں ہمارے شیخ کا قول یہ ہے کہ حاکم وقت کو اس میں چار امور کا
اختیار ہے ۔ ان کا یہ فیصلہ علی الاطلاق ہر ناقض عہد کے بارے میں ہے ایک گروہ نے مطلقاً اس ضمن میں ان کی پیروی کی ہے ۔
- (٣) بعض علماء نے یہ شرط لگائی ہے کہ نقض عہد اس طرح کرے جس سے مسلمانوں
کو نقصان پہنچتا ہو ۔ مثلاً ان سے جنگ آزمائی کرنا ۔
- (٤) اور اگر دارالحرب میں چلے جانے کی وجہ سے عہد شکنی کرے تو وہ قیدی کی مانند ہے
اس کی مؤید وہ حدیث ہے جس کو عبداللہ بن احمد نے روایت کیا ہے کہ میں نے اپنے والد سے نصاریٰ کی اس قوم کے بارے میں پوچھا جو عہد شکنی کر کے مسلمانوں کے ساتھ جنگ آزما ہوں ۔ انہوں نے جواب دیا کہ ان کے بچوں کو نہ قتل کیا جائے اور نہ قیدی بنایا جائے اور ان کے بالغ مردوں کو قتل کیا جائے ۔ میں نے اپنے والد سے دریافت کیا اُن کے یہاں دارالحرب میں جو اولاد پیدا ہو اس کے ساتھ کیا سلوک روا رکھا جائے ؟ امام احمدؒ نے جواب دیا اُن کو قید کرلے قتل نہ کرے ۔ میں نے اپنے والد سے پوچھا اگر ان کی اولاد میں سے کوئی بھاگ کر دارالحرب چلا جائے اور مسلمان اس کو قید کرلیں تو کیا آپ کے نزدیک ان کو غلام بنا لیا جائے ؟ امام صاحبؒ نے فرمایا اولاد کو نہ قید کیا جائے نہ قتل کیا جائے ۔ اس لیے کہ بچوں نے عہد شکنی نہیں کی بلکہ ان کے بڑوں نے کی ہے ۔ پھر ان کا گناہ کیا ہوا ؟ اس طرح امام احمد رحمۃ اللہ علیہ نے ان میں سے لڑنے والوں کو قتل کرنے کا حکم دیا ہے ۔ یہ حکم انہوں نے محض عہد شکنی کی وجہ سے دیا یا عہد شکنی اور جنگ لڑنے کی وجہ سے ۔
ہم قبل ازیں امام احمدؒ کی یہ تصریح قلم بند کر چکے ہیں کہ عہد شکنی کرنے اور
مسلمانوں کے ساتھ لڑنے والوں پر حربی کافروں کے احکام جاری کیے جائیں ۔ جب ان کو قید کیا جائے تو حاکم ان کے بارے میں جو چاہے حکم صادر کرے ۔ ایک روایت کے مطابق امام احمدؒ نے تصریح کی ہے کہ جو ذمی دارالحرب میں چلا جائے اُسے غلام بنا لیا جائے اور دوسری روایت کے مطابق اسے دوبارہ ذمی بنالیا جائے ۔ اندرین صورت امام احمدؒ کے قول کا یہ مطلب نہیں ہو گا کہ ایسے ذمّی کو قتل کرنا واجب ہے جب کہ آپ نے اس کے خلاف تصریح کی ہے ۔ جن لوگوں نے اس بات کو امام احمدؒ کی طرف منسوب کیا ہے انہوں نے اس بات کو امام احمدؒ کے کلام سے اخذ کیا ہے ، حالانکہ یہ صورت اس میں شامل نہیں ہے ۔ نیز ابو الخطاب وغیرہ نے بھی دارالحرب میں چلے جانے والی صورت کو امام کے کلام میں شامل نہیں کیا۔ انہوں نے صرف عہد شکنی کرنے والے کا ذکر کیا ہے کہ وہ اُن اُمور کو ترک کر دے جو عہد کی رُو سے اس پر واجب ہیں یا مسلمانوں کے زیر تسلط ہونے کے باوجود ایسے کام کرے جن سے عہد ٹوٹ جاتا ہے ۔
علماء کے بقول امام احمدؒ کے ظاہری کلام سے اہلِ ذمہ کے حق میں قتل کا تعین ثابت ہوتا ہے اور بات صحیح بھی ہے ۔ جس شخص نے علماء کے کلام سے یہ سمجھا کہ علماء کا یہ قول ہر ناقضِ عہد کے بارے میں ہے، تو یہ ان کے اپنے ذہن کی اختراع ہے علماء کا قول نہیں ۔ جو شخص یہ کہتا ہے کہ دارالحرب کی طرف نقل مکانی مسلمانوں کے خلاف نبرد آزمائی اور جزیہ کی عدم ادائیگی نقضِ عہد کے موجبات ہیں، اسے چاہیے کہ دارالحرب اور دیگر امور کے مابین فرق واقعۃً ثابت کرے ۔ جیسا کہ ہم نے امام احمدؒ اور دیگر ائمہ کی تصریحات سے اس شخص کے بارے میں ثابت کیا ہے جو جزیہ نہ ادا کرنے کی وجہ سے اپنا عہد توڑ ڈالے ۔
دونوں میں فرق یہ ہے کہ جو شخص صرف دارالحرب کی طرف فرار کا مرتکب ہو اس نے مسلمانوں کو ایسا ضرر نہیں پہنچایا جس کی سزا اُسے بطور خاص دی جاسکے البتہ اُس نے اس عہد کو توڑ دیا جو ہمارے مابین تھا۔ تو گویا وہ اس کافر کی طرح
ہے جس نے کوئی عہد نہ کیا ہو ۔ اس کی توضیح آگے آ رہی ہے ۔
جو حربی کافر کی طرح دارالعہد میں آجائے
یہ جان لینا چاہیے کہ جو ذمی دارالحرب میں چلا جائے وہ حربی قرار پائے گا ۔ اس کے بعد اس سے جو جرائم صادر ہوں گے وہ ایک حربی کے جرائم ہوں گے مگر اسلام لانے یا دوبارہ ذمی بن جانے کی صورت میں ان پر گرفت نہیں کی جائے گی ۔ امام الخرقی فرماتے ہیں :
جو ذمی دارالاسلام سے بھاگ کر دارالحرب چلا جائے اور اپنے عہد کو توڑ ڈالے گا اور حربی بن جائے گا ۔ اسی طرح اگر ذمی دارالاسلام میں جزیہ ادا کرنے سے انکار کریں یا کسی (شرعی) حکم کو نہ مانیں اور وہ قوت و شوکت بھی رکھتے ہوں جس کی بنا پر وہ لڑنے کے قابل ہوں تو انہوں نے عہد شکنی کرنے کے بعد جنگ کی اور اُن کا حکم وہی ہے جو حربی کافروں کا ۔ لہٰذا اُن میں سے جو کافر ہوں اُن کو قتل کرنا ضروری نہیں بلکہ حاکم وقت ان کے بارے اپنی صوابدید کے مطابق عمل کرنے کا مجاز ہے ۔ امام احمدؒ نے تصریح کی ہے کہ اسے غلام بنانا جائز ہے اس لیے کہ جس جگہ انہوں نے پناہ لی ہے وہ دارالحرب کا قائم مقام ہے ۔ نیز انہوں نے مسلمانوں پر کوئی ایسی زیادتی نہیں کی جس کا آغاز ان کی طرف سے ہوا ہو ۔ بلکہ انہوں نے بھاگ جانے کے بعد اپنا دفاع کیا جبکہ ان کے بارے میں معلوم ہوچکا تھا کہ وہ محارب ہیں ہمارے اصحاب میں سے جو لوگ کہتے ہیں کہ مسلمانوں کے ساتھ لڑنے والے کو قتل کرنا ضروری ہے ، نیز جو ذمّی دارالحرب کو چلا جائے امام اس کو اپنی صوابدید کے مطابق سزا دے سکتا ہے ، تو یہ اس صورت میں ہے جب ذمی لڑائی کا آغاز خود کرے ، جب کہ انہوں نے عہد شکنی نہ کی ہو اور وہ مسلمانوں کے خلاف محاربین کی مدد کر رہا ہو ۔ لیکن جب لڑائی کا آغاز اس وقت کرے جب وہ اتنی قوت حاصل کرچکا ہو اور جزیہ ادا کرنے سے انکار کرسکتا ہو تو اس میں اور حربی کافر میں کچھ فرق نہیں ، اسی لیے ہمارے نزدیک صحیح مذہب یہ ہے کہ مرتدین بھی اس وقت مسلمانوں کی جان اور مال تلف کریں جب وہ پناہ حاصل کرچکے ہوں تو وہ اس کے ضامن نہیں ہوں گے
اور جو نقصان انہوں نے پناہ حاصل کرنے سے پیدا کیا وہ اس کے ضامن ہوں گے اس کی تفصیل آگے آئے گی ۔ انشاء اللہ تعالیٰ ۔
عہد شکنی کرنے والوں کی اولاد کا معاملہ
باقی رہی وہ روایت جو عبداللہ نے اپنے والد امام احمدؒ سے نقل کی ہے تو اس کا مقصد صرف بالغ مردوں اور بچوں میں فرق و امتیاز کرنا ہے۔ تاکہ یہ واضح ہو سکے کہ بچوں کو قتل کرنا روا نہیں اور مردوں کو اسی طرح قتل کیا جائے جس طرح اہل حرب کو قتل کیا جاتا ہے۔ اسی لیے انہوں نے اولاد کے بارے میں یہ کہا ہے کہ ”جو بچے عہد شکنی کے بعد پیدا ہوں انہیں قیدی بنایا جائے اور قتل کیا جائے“ ان کا مطلب یہ ہے کہ بچے اگر چھوٹے ہوں تو انہیں قید کر لیا جائے اور اگر بالغ ہو چکے ہوں تو انہیں قتل کیا جائے۔ یعنی اُن کو اسی طرح قتل کرنا جائز ہے جس طرح اصلی اہل حرب کو قتل کیا جاتا ہے۔ امام صاحبؒ کا یہ مقصد نہیں کہ ان کو قتل کرنا ضروری ہے، اس لیے کہ یہ بات خلافِ اجماع ہے واللہ اعلم ۔
قسم ثانی
دوسری قسم کے ذمی وہ ہیں جو امام کے حکم سے سرتابی نہ کرتے ہوں، اُن کے بارے میں امام ابو حنیفہؒ کا موقف یہ ہے کہ ان کو عہد شکنی کرنے والا قرار نہیں دیا جائے گا ۔ ان کے نزدیک اہل ذمہ کا عہد اُس وقت ٹوٹتا ہے جب وہ اتنی قوت و شوکت حاصل کر لیں جس کے بل بوتے پر امام کے حکم سے سرتابی کرنے لگیں اور امام ان پر شرعی احکام جاری نہ کر سکے یا دار الحرب میں دشمنوں سے جا ملیں۔ اس لیے کہ اگر وہ قوت و شوکت سے بہرہ ور نہ ہوں تو امام ان پر حدودِ شرعیہ جاری کر سکتا ہے اور حقوق واجبہ ان سے وصول کر سکتا ہے اس طرح وہ اس تحفظ سے خارج نہیں ہوں گے جو اُن کو حاصل ہے۔ ان کا معاملہ بالکل اسی طرح ہے جس طرح باغیوں میں سے کوئی حاکم وقت کی اطاعت سے نکل جائے اور وہ قوت و شوکت سے بھی بہرہ ور نہ ہو ۔
امام مالک رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : ” اُن کا عہد اس وقت ٹوٹے گا جب وہ عہد توڑ کر دارالاسلام سے نکل جائیں اور جزیہ دینے سے انکار کر دیں ۔ نیز جب کہ ظلم کیے بغیر وہ ہم سے الگ ہو جائیں اور دارالحرب کو چلے جائیں تو ان کا عہد ٹوٹ جائے گا ۔ مگر امام مالکؒ کے نزدیک رسول کریمؐ کو گالی دینے والے ، مسلم عورت سے جبراً زنا کرنے والے اور اس قسم کے کام کرنے والے ذمی کو قتل کیا جائے “ ۔
باقی رہے امام شافعیؒ اور امام احمدؒ تو ان کے نزدیک ذمیوں سے متعلق امور و افعال دو قسم کے ہوتے ہیں ۔
- (۱) ایک قسم کے افعال وہ ہیں جن کو انجام دینا ان پر واجب ہے ۔
- (۲) دوسری قسم کے افعال وہ ہیں جن کو ترک کرنا ان پر واجب ہے ۔
پہلی قسم کے افعال کے بارے میں وہ فرماتے ہیں کہ اگر ذمی ان افعال کو انجام دینے سے انکار کرے —— مثلاً جزیہ ادا کرنے سے انکار کریں یا حاکم وقت جب ان کو شرعی امور ادا کرنے کا حکم صادر کرے تو وہ انکار کر دیں —— تو ان کا عہد بلاشبہ ٹوٹ جائے گا ۔
جزیہ نہ ادا کرنے والے کی سزا
امام احمد رحمۃ اللہ علیہ جزیہ نہ ادا کرنے والے کے بارے میں فرماتے ہیں :
” اگر وہ اکیلا ہو تو جبراً اس سے وصول کیا جائے ۔ اگر نہ ادا کرے تو اسے قتل کر دیا جائے ۔ اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے ساتھ لڑنے کا حکم دیا ہے ، یہاں تک کہ وہ ذلت قبول کر کے اپنے ہاتھ سے جزیہ ادا کریں ۔ جزیہ ادا کرنے کا ایک آغاز ہے اور ایک انجام ۔ اس کا آغاز التزام اور اس کو اپنے ذمہ لینے سے ہوتا ہے اور انجام ادا کرنے اور دینے سے ۔ ” الصَّغَارِ “ ذلت کا مطلب یہ ہے کہ اہل کتاب پر مسلمانوں کے احکام نافذ کیے جائیں ۔ اگر وہ جزیہ ادا نہ کریں یا کریں ، مگر بذلت نہ کریں اور نہ یہ عذر ہو کہ نہ کریں تو وہ آخرالامر یہ نہ کہہ سکیں کہ
لڑنے کا حکم دیا گیا تھا۔ اس کا لازمی نتیجہ یہ ہو گا کہ جنگ پھر سے شروع ہو جائے گی۔
نیز اس لیے کہ ان کے خون کو تحفظ جزیہ ادا کرنے اور احکام پر عمل پیرا ہونے کی وجہ سے ملا تھا۔ جب اُس سے انہوں نے انکار کر دیا اور اس کی ضد پر عمل پیرا ہوئے تو وہ اس کی طرح ہو گئے جس کا خون اسلام لانے کی وجہ سے محفوظ ہوا تھا۔ مگر اس نے اس سے انکار کر دیا اور زبان سے کلمہ کفر بکنے لگا ۔
اور جیسا کہ امام احمد رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا ہے یہ ضروری ہے کہ وہ بایں طور اس سے انکار کرے کہ اُس سے اس کا وصول کرنا ممکن نہ ہو۔ مثلاً ایک جسمانی حق سے انکار کرے جس کو انجام دینا یا دوسرے کے ذریعے اس کی تکمیل کرنا دائماً ناممکن ہو۔ یا جزیہ ادا کرنے سے انکار کرے، جیسا کہ ہم نے مسلم کے بارے میں کہا جب وہ صلوٰۃ و زکوٰۃ سے منکر ہو۔ باقی رہی یہ صورت کہ اس پر حاکم وقت سے جنگ آزما ہو تو نقض عہد کی حد یہی ہے۔ مثلاً کوئی شخص ترک صلوٰۃ و زکوٰۃ کے باوجود جنگ کرے ۔
قسم ثانی یعنی وہ امور جن کو
ترک کرنا ان پر واجب ہو
اس کی دو قسمیں ہیں :
- (۱) ایک نوع وہ ہے جس سے مسلمانوں
کو نقصان پہنچتا ہو ۔
- (۲) دوسری نوع وہ ہے جس سے مسلمانوں کو نقصان نہ پہنچتا ہو۔
نوع اوّل کی پھر دو قسمیں ہیں :
- (۱) ایک قسم وہ ہے جس سے مسلمانوں کو جانی اور مالی نقصان پہنچتا ہو۔ مثلاً یہ کہ
کسی مسلم کو قتل کر دے، رہزنی کا مرتکب ہو۔ جنگ میں مسلمانوں کے مخالفین کی مدد کرے، دشمن کے لیے جاسوسی کرے۔ بایں طور کہ خط لکھ کر انہیں اطلاع دے یا بات چیت کر کے مسلمانوں کے راز افشا کرے، دشمنوں کے جاسوس کو اپنے یہاں ٹھہرائے، مسلم عورت کے ساتھ زنا کرے یا نکاح کے نام سے مسلمہ کے ساتھ بدکاری کا مرتکب ہو ۔
- (۲) دوسری قسم وہ ہے جس سے مسلمانوں کو دکھ پہنچتا ہو اور ان کی تحقیر ہوتی ہو مثلاً
یہ کہ اہل کتاب اللہ ، اس کے رسول اور اس کے دین کو برا بھلا کہیں ۔
نوعِ ثانی : وہ ہے جس سے مسلمانوں کو نقصان نہ پہنچتا ہو اور ان کی تحقیر ہوتی ہو۔
- (۱) مثلاً اونچی آواز سے اپنے مذہبی شعائر کا اعلان کرنا ۔
- (۲) ناقوس بجانا اور اپنی مقدس کتاب کو بلند آواز سے پڑھنا ۔
- (۳) مسلمانوں جیسی شکل وصورت بنانا اور اُن جیسا لباس پہننا ۔
قبل ازیں ہم بتا چکے ہیں کہ ان جملہ امور کے بجالانے سے عہد ٹوٹ جاتا ہے، جب ان میں سے کسی بات پر عمل کرکے ذمی اپنا عہد توڑ ڈالے ، جب کہ وہ مسلمانوں کے قبضہ میں بھی ، مثلاً کسی مسلم عورت کے ساتھ زنا کرے یا کفار کے لیے جاسوسی کرے تو امام احمدؒ کی تصریح کے مطابق اسے قتل کیا جائے ۔ امام صاحب فرماتے ہیں کہ جو شخص اپنا عہد توڑ دے یا اسلام میں کسی نئی بات کا آغاز کرے — یعنی رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو گالیاں دے — تو میرے نزدیک اُسے قتل کرنا واجب ہے اسی لیے کہ یہ عہد اور ذمہ اُسے اس لیے نہیں دیا گیا تھا ۔ انہوں نے تصریح کی ہے کہ جو عہد شکنی اور فساد کا موجب ہو اُسے قتل کیا جائے ۔ قبل ازیں امام موصوف کی تصریحات گزر چکی ہیں کہ جو شخص محض واجبات کا انکار کرکے نقض عہد کرے وہ حربی کافر کی مانند ہے ۔
امام احمدؒ نے متعدد مقامات پر فرمایا ہے کہ اگر کوئی ذمی مسلم عورت کے ساتھ بدکاری کا مرتکب ہو تو اُسے قتل کیا جائے ۔ اس لیے کہ ان کے ساتھ مصالحت کرنے کا یہ مقصد نہ تھا ۔ اگر عورت اس بدفعلی پر رضامند ہو تو اس پر حد لگائی جائے اور اگر اس کے ساتھ جبراً یہ فعل کیا گیا تو عورت کسی سزا کی مستحق نہیں ۔ امام موصوف فرماتے ہیں کہ اگر کوئی یہودی مسلم عورت کے ساتھ زنا کرے تو اسے قتل کیا جائے ۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس ایک یہودی کو لایا گیا جس نے ایک مسلم عورت کو پہلے بہکایا اور پھر اس کے ساتھ زنا کیا تو حضرت عمرؓ نے اسے قتل کر دیا تھا ۔ اس سے معلوم ہوا کہ زنا نقض عہد سے بھی
بڑا جرم ہے۔ امام احمدؒ سے دریافت کیا گیا کہ اگر کوئی عیسائی غلام مسلم عورت کے ساتھ زنا کرے تو اس کا کیا حکم ہے؟ فرمایا ”زانی اگر غلام بھی ہو تو بھی اُسے قتل کیا جائے ۔
امام احمدؒ فرماتے ہیں اگر کوئی مجوسی کسی مسلم عورت کے ساتھ زنا کرے تو اسے بھی قتل کیا جائے۔ کیوں کہ اس نے نقضِ عہد کیا ہے۔ زانی اگر اہلِ کتاب میں سے ہو تو بھی اُسے قتل کیا جائے۔ حضرت عمرؓ نے ایک یہودی کو اس جرم میں سولی دی تھی کہ اس نے مسلم عورت کے ساتھ زنا کیا ۔ فرمایا یہ نقضِ عہد ہے۔ امام احمدؒ سے دریافت کیا گیا کہ کیا اس کو سولی دے کر قتل کر سکتے ہیں؟ فرمایا ”حضرت عمرؓ کے عمل سے تو اسی طرح ثابت ہوتا ہے۔ گویا امام احمدؒ نے اس کی بات پر کوئی تنقید نہ کی۔
مہنا کہتے ہیں میں نے امام احمدؒ سے ایک یہودی یا عیسائی کے بارے میں پوچھا جو ایک مسلم عورت کے ساتھ بدکاری کرے تو اس کے ساتھ کیا سلوک کیا جائے؟ انہوں نے فرمایا ”اسے قتل کیا جائے“ میں نے اپنا سوال دہرایا تو انہوں نے پھر وہی جواب دیا۔ میں نے کہا ”لوگ تو کہتے ہیں کہ اس پر حد لگائی جائے گی“ فرمایا ”نہیں بلکہ اسے قتل کیا جائے گا“ میں نے کہا اس کی دلیل کیا ہے؟ فرمایا ”حضرت عمرؓ سے مروی ہے کہ آپ نے ایسے شخص کو قتل کرنے کا حکم دیا تھا “
امام احمدؒ کے اصحاب کی ایک جماعت نے ان سے روایت کیا ہے کہ اگر کوئی ذمی مسلمان عورت کے ساتھ زنا کرے تو اُسے قتل کیا جائے ۔ امام موصوف سے دریافت کیا گیا اگر وہ اسلام لے آئے تو پھر؟ فرمایا ”اُسے قتل کیا جائے یہ اس پر واجب ہو چکا ہے“ ہو چکا ہے ۔
بایں طور امام احمدؒ نے تصریح کی ہے کہ اس کو قتل کرنا بہر حال میں واجب ہے خواہ شادی شدہ ہو یا غیر شادی شدہ ۔ اگر وہ اسلام قبول کرلے تب بھی اسے قتل کرنا واجب ہے ۔ اس پر وہ حد نہیں لگتی جو شادی شدہ اور غیر شادی میں تفریق کرتی ہے اس میں امام احمدؒ نے خالد الحذاء کی روایت کردہ حدیث کی پیروی کی ہے ۔
خالد بطریق ابن اشوع از شعبی از عوف بن مالک روایت کرتے ہیں کہ ایک آدمی نے ایک عورت کو ڈنڈا رسید کیا اور پھر اس سے زنا کیا حضرت عمرؓ نے اس کو مصلوب کرکے قتل کرنے کا حکم دیا ۔
المروزی نے اس کو بطریق مجالد از شعبی از سوید بن غفلہ روایت کیا ہے کہ ملک شام میں ایک مسلمان عورت گدھے پر سوار تھی تو ایک ذمی نے گدھے کو ڈنڈا مارا جس سے عورت نیچے گر گئی ۔ ذمی نے اپنے آپ کو اس پر گرا دیا ۔ عوف بن مالک نے اُسے دیکھا اور سر پر ڈنڈا مار کر اسے زخمی کر دیا ۔ اس نے حضرت عمرؓ کی خدمت میں حاضر ہو کر عوف کی شکایت کی ۔ عوف حضرت عمرؓ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور ماجرا بیان کیا ۔ حضرت عمرؓ نے عورت کو بلوا کر پوچھا تو اس نے عوف کی تصدیق کی ۔ حضرت عمرؓ نے فرمایا "ہماری بہن نے شہادت دی ہے"۔ چنانچہ آپ کے حکم سے اسے مصلوب کیا گیا ۔ یہ اسلام میں پہلا مصلوب تھا ۔ حضرت عمرؓ نے فرمایا "اے لوگو ! محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ذمہ سے ڈرو اور ان پر ظلم نہ کرو ۔ جو شخص ایسا کام کرے اس کا کوئی ذمہ نہیں"
سیف نے الفتوح میں اس واقعہ کو بروایت عوف بن مالک تفصیلاً ذکر کیا ہے ۔ اس نے ذکر کیا ہے کہ گدھے نے عورت کو گرا دیا تھا اور نبطی آدمی نے اس کے ساتھ برائی کا ارادہ کیا تو اُس نے انکار کیا اور فریاد چاہی ۔ عوف کہتے ہیں کہ میں نے اپنی لاٹھی لی اور پیچھے چل دیا ۔ میں نے اس سے مل کر اس کے سر پر ایک گرہ دار لاٹھی ماری اور اپنے گھر لوٹ آیا اس روایت میں ہے کہ عوف نے نبطی سے کہا "مجھے سچ سچ بتا دو" چنانچہ نبطی نے اصل واقعہ بیان کر دیا ۔
امام احمدؒ فرماتے ہیں کہ جاسوس اگر ذمی ہو تو اس کا عہد ٹوٹ گیا ، اس لیے اُسے قتل کیا جائے ۔ امام موصوف راہب کے بارے میں کہتے ہیں کہ اسے نہ قتل کیا جائے نہ ستایا جائے اور نہ ہی اس سے کچھ پوچھا جائے ۔ اِلّا یہ کہ اس کے بارے میں پتہ چلے کہ وہ کفار کو مسلمانوں کی خامیوں سے آگاہ کرتا ہے تو اندریں صورت وہ مباح الدم ہوجاتا ہے ۔ امام احمدؒ نے تصریح کی ہے کہ جو شخص اللہ اور اسکے رسول کو
زنا کر کے اپنا عہد توڑ ڈالے تو اسے قتل کیا جائے ۔ اس کے بعد ہمارے اصحاب میں اختلاف رونما ہوا۔ چنانچہ القاضی اور اُن کے اکثر اصحاب مثلاً ان کے والد ابوالحسین اور الشریف ابی جعفر اور ابوالمواہب عکبری ، ابن عقیل اور ان کے بعد میں آنے والے چند گروہ کہتے ہیں کہ جو شخص ان اُمور اور دیگر وجوہ کی بنا پر اپنا عہد توڑ دے تو اس کا حکم وہی ہے جو قیدی کا ہے اس کی سزا کا انحصار امام کی صوابدید پر ہے جس طرح قیدی کے بارے میں امام کو اختیار ہے کہ اسے قتل کرے ، بلا عوض رہا کر دے ، غلام بنالے یا فدیہ لے کر چھوڑ دے۔ حاکم کو وہ پہلو اختیار کرنا چاہیے جو مسلمانوں کے حق میں مفید تر ہو۔
القاضی المجرد میں رقمطراز ہیں :
”جب ہم کہتے ہیں کہ اس کا عہد ٹوٹ گیا تو ہم اس سے جملہ حقوق وصول کریں گے ۔ مثلاً قتل ، حد ، تعزیر ۔ اس لیے کہ ہمارے مابین معاہدہ اس بات پر ہوا تھا کہ ذمّی مسلمانوں کے احکام پر عمل کرے گا ۔ اور ہمارے احکام یہی ہیں ۔ جب ہم اپنے حقوق اُس سے وصول کرلیں تو امام کو اختیار ہے کہ اُسے قتل کرے یا غلام بنائے اُس کو اس کے وطن کی طرف نہ بھیجا جائے ۔ اس لیے کہ ان امور کی وجہ سے اس کا عہد ٹوٹ گیا اور عہد ٹوٹنے کے بعد وہ پہلے کی طرح ہوگیا ۔ اور اب وہ اس طرح ہے جیسے کوئی عیسائی دارالاسلام میں آ گیا ہو “
القاضی اپنی کتاب الخلاف میں لکھتے ہیں ۔
”عہد شکنی کرنے والے کا حکم وہی ہے جو حربی قیدی کا ہے ۔ حاکم کو اس کے بارے میں چار باتوں کا اختیار ہے :۔
یعنی اسے قتل کرے ، اگر چاہے تو غلام بنائے ، احسان کر کے بلا فدیہ چھوڑ دے یا فدیہ وصول کرے ۔ اس لیے کہ امام احمدؒ نے تصریح کی ہے کہ قیدی کے بارے میں حاکم کو چار باتوں کا اختیار ہے ۔ قیدی کا یہ حکم اس لیے ہے کہ وہ بلا امان ہمارے قبضہ میں ہے ۔ وہ کہتے ہیں کہ امام احمدؒ کے کلام کا مطلب یہ ہے کہ حاکم ان میں سے وہ
کام کرے جو مسلمانوں کے حق میں موزوں تر ہو۔ اپنی آخری کتاب الخلاف میں القاضی نے ”گالی دہندہ“ کو اس سے مستثنیٰ قرار دیا اور کہا کہ اس کی توبہ قبول نہ کی جائے اور اسے لازماً قتل کیا جائے۔ امام کو اس کے قتل کرنے یا نہ کرنے کا اختیار نہیں ہے۔ اس لیے کہ رسول کریمؐ پر بہتان لگانا ایک فوت شدہ شخصیت (رسول اکرم) کا حق ہے، اس لیے وہ توبہ کرنے سے ساقط نہیں ہوگا، جس طرح کسی اور شخص پر بہتان طرازی کی جائے تو وہ معاف نہ ہوگی۔
ان لوگوں کے حق میں مذہب سے یہ دلیل پیش کی گئی ہے کہ امام احمدؒ کے کلام اور ”تعلیل کو عموم پر محمول کیا جائے، امام احمدؒ اہلِ ذمہ کی ایک جماعت کے بارے میں فرماتے ہیں جو عہد توڑ کر اپنی اولاد کو دارالحرب لے گئے۔ پھر ان کو تلاش کر لیا گیا اور وہ مسلمانوں کے خلاف لڑنے پر آمادہ ہوگئے۔ امام احمدؒ فرماتے ہیں کہ جب اہل ذمہ اپنا عہد توڑ ڈالیں تو ان میں سے جو بالغ ہوں گے ان پر وہی احکام جاری ہوں گے جو اہل حرب پر کیے جاتے ہیں، جب کہ ان کو قید کر لیا جائے۔ پھر ان کا معاملہ حاکم وقت کی صوابدید پر منحصر ہے ان کے بارے میں جو چاہے فیصلہ کرے۔ بنا بریں ہم کہتے ہیں کہ امام اگر چاہے تو ان کو دوبارہ ذمی بنا لے بشرطیکہ اس میں کوئی مصلحت پائی جاتی ہو۔ جیسا کہ امام موصوف نے اصل حربی اسیر کے بارے میں فرمایا ہے :
خلاصہ کلام یہ کہ امام شافعیؒ کے ہر دو اقوال میں سے یہی قول صحیح ہے۔ امام شافعیؒ کا دوسرا قول یہ ہے کہ ان میں سے جو نقض عہد کا مرتکب ہو اُسے اس کے وطن میں پہنچا دیا جائے۔ امام شافعیؒ کے اصحاب میں سے بعض سبّ رسولؐ کو بطورِ خاص مستثنیٰ کرتے ہیں اور اُس کو حتمی طور پر قتل کا موجب ٹھہراتے ہیں۔ دیگر جرائم کے بارے میں ان کا نقطۂ نظر یہ نہیں۔ بعض اصحاب کے نزدیک قتل کا حکم عام ہے۔ امام شافعیؒ کے اصحاب نے اسی طرح ذکر کیا ہے۔ یہاں تک اُن کے الفاظ کا تعلق ہے وہ ”کتاب الام“ میں فرماتے ہیں :
"جب امام جزیہ کا صلح نامہ لکھنا چاہے تو وہ یوں تحریر کرے ۔ اس کے آگے وہ اس کی شرائط تحریر کرتے ہیں، پھر فرماتے ہیں، شرط یہ ہے کہ اگر تم (اہلِ ذمہ) میں سے کوئی رسول کریمؐ یا کتاب اللہ یا دین اسلام کا تذکرہ نازیبا الفاظ میں کرے گا تو اس سے اللہ تعالیٰ، امیرالمومنین اور تمام اہلِ اسلام بری الذمہ ہو جائیں گے اس کو دی گئی امان ختم ہو جائے گی اور امیرالمومنین کے لیے اس کا خون و مال اسی طرح مباح ہو جائے گا جس طرح حربی کافروں کا خون مباح ہوتا ہے ۔ نیز اہلِ ذمہ میں سے کوئی اگر کسی مسلم کے ساتھ زنا کا مرتکب ہو یا نکاح کے نام سے زنا کرے یا رہزنی کرے یا کسی مسلم کو دین سے برگشتہ کرے یا مسلمانوں کے خلاف لڑنے والوں کی مدد کرے یا اُن کو مسلمانوں کی خامیوں سے آگاہ کرے یا اُن کے جاسوسوں کو اپنے یہاں ٹھہرائے تو اس نے اپنا عہد توڑ دیا ۔ اب اس کا خون اور مال مباح ہے اور اگر کسی مسلمان کے خلاف اس سے کم درجہ کا جرم کرے تو اس کی سزا اسے دی جائے گی ۔ پھر کہتے ہیں کہ یہ شروط لازمہ ہیں اگر وہ انہیں پسند کرے تو فبھا ورنہ نہ تو اس کے ساتھ معاہدہ طے پائے گا اور نہ جزیہ "
آگے فرماتے ہیں :-
"جس نے بیان کردہ امور میں سے کوئی بات کہی یا کی جن سے عہد ٹوٹ جاتا ہے اور پھر اسلام لایا تو اگر یہ قول یا فعل ہو تو اسے قتل نہ کیا جائے ۔ الاّ یہ کہ دین اسلام میں یہ بات مذکور ہو کہ ایسا کرنے والے کو از روئے حدّ و قصاص قتل کیا جائے تو ایسی صورت اسے حد و قصاص میں قتل کیا جائے، نقضِ عہد کے نتیجہ میں نہیں اور اگر مذکورہ امور میں سے کوئی کام کرے جن کے بارے میں ہم نے کہا ہے کہ اُن سے عہد ٹوٹ جاتا ہے ۔ مگر اس نے اسلام قبول نہ کیا اور کہا کہ میں توبہ کروں گا اور حسبِ سابق جزیہ ادا کیا کروں گا یا از سرِ نو صلح کرلوں گا، تو اُسے سزا دی جائے اور قتل نہ کیا جائے ۔ الاّ یہ کہ اس نے ایسا کام کیا ہو جس سے قصاص یا حدّ لازم آتی ہے ۔ اس سے چھوٹے درجے کے قول و فعل کے عوض اُسے سزا دی جائے اور قتل نہ کیا جائے ۔ وہ مزید فرماتے ہیں
اگر اس نے سابق الذکر اقوال وافعال میں سے کچھ کیا جن سے وہ مباح الدم ہو جاتا ہے ۔ پھر اسے پکڑ لیا گیا مگر اس نے اسلام لانے اور جزیہ ادا کرنے سے انکار کیا تو اسے قتل کیا جائے اور اس کے مال کو بطور غنیمت لے لیا جائے ۔ ان الفاظ سے معلوم ہوتا ہے کہ اگر وہ اسلام لانے اور دوبارہ ذمی بننے سے انکار کرے تو وہ واجب القتل ہے“ ابو الخطاب نے ”الہدایہ“ میں نیز الحلوانی اور ہمارے کثیر متأخرین اصحاب نے امام احمدؒ کے فرمودات پر عمل کرنے میں متقدمین کے موقف کو اختیار کیا ہے اور یہی بات درست بھی ہے ۔ امام احمد نے تصریح کی ہے کہ جو ذمی مسلم عورت کے ساتھ زنا کرکے مسلمان ہو جائے تو اسے حتماً قتل کیا جائے ۔ اُن کے نزدیک یہ جرم دارالحرب جا کر عہد توڑنے سے بھی شدید تر ہے ۔ انہوں نے یہ بھی تصریح کی ہے کہ یہ معاملہ امیر کی طرح حاکم وقت کے سپرد ہے ۔ انہوں نے صراحتاً فرمایا ہے کہ امام کو قتل کرنے کا اختیار ہے ۔ مگر امام احمدؒ کی تصریحات پر غور کرنے والے پر یہ پوشیدہ نہیں کہ مطلقاً تخییر کا قول ان کی تصریحات کے منافی ہے ۔
باقی رہے امام ابو حنیفہ تو یہ مسئلہ ان کے طے کردہ معیار پر پورا نہیں اترتا اس لیے کہ ان کے نزدیک ذمیوں کا عہد تب ٹوٹتا ہے جب کہ وہ قوت و شوکت سے بہرہ ور ہونے کی وجہ سے امام کے احکام ماننے سے انکار کر دیں اور امیر ان پر شرعی احکام نافذ نہ کرسکے ۔ امام مالک کا موقف یہ ہے کہ اہل ذمہ کا عہد اس صورت میں ٹوٹتا ہے کہ جب وہ شرعی احکام کی تعمیل کا انکار کر کے ، ظلم و ستم ڈھائے بغیر ، جزیہ کا انکار کر دیں یا دارالحرب کو چلے جائیں ۔ مگر ان کے نزدیک رسولؐ کے گالی دہندہ کو قتل کرنا ہی متعین ہے اسے دوسری کوئی سزا نہیں دی جاسکتی ، فرماتے ہیں کہ ذمی اگر مسلم عورت کو زنا پر مجبور کرے اور وہ آزاد عورت ہو تو ذمی کو قتل کیا جائے گا ۔ اگر لونڈی ہو تو ذمی کو سخت سزا دی جائے ۔ امام مالک کے نزدیک اہل اسلام کو ضرر پہنچانے والے اہل ذمہ کا قتل لازم ہے ۔ جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ دارالامان میں پہنچا دیا جائے تو اس کی وجہ یہ ہے کہ دارالاسلام میں اسے امان حاصل تھی، لہٰذا
اسے قتل نہیں کیا جاسکتا جبتک اُسے امن کی جگہ نہ پہنچایا جائے یہ اسی طرح ہے جیسے ایک بچے کے امان دینے پر داخل ہوا ہو ۔ مگر یہ نہایت ضعیف دلیل ہے اسلئے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :
" اور اگر عہد باندھنے کے بعد اپنا عہد توڑ ڈالیں اور تمہارے دین پر طعنہ زن ہوں تو کفار کے بڑوں کو قتل کر دو ۔ ان کی قسموں کا کچھ اعتبار نہیں، ہو سکتا ہے کہ وہ باز آجائیں ۔ تم اس قوم سے آخر کیوں نہیں لڑتے جنہوں نے اپنی قسمیں توڑ ڈالیں ۔
(التوبۃ : ۱۲ ، ۱۳)
اگرچہ یہ آیت اُن کافروں کے بارے میں نازل ہوئی تھی جنہوں نے صلح کی ہو مگر اس کے لفظی و معنوی عموم میں ذمی عہد شامل ہے، جیسا کہ پوشیدہ نہیں ہے مزید برآں اللہ کا فرمان ہے کہ انہیں جہاں پاؤ قتل کر دو ۔ اس عموم میں ان کا مامن و غیر مامن سب شامل ہیں ۔ نیز اللہ تعالیٰ نے ان سے لڑنے کا حکم دیا ہے ۔ یہاں تک کہ ذلیل ہو کر اپنے ہاتھ سے جزیہ ادا کریں ۔ لہٰذا اگر جزیہ ادا نہ کریں یا ذلیل نہ ہوں تو بلاشبہ اُن سے لڑنا جائز ہے ۔
نیز اس لیے کہ یہ ثابت ہوچکا ہے کہ جس روز کعب بن اشرف کو قتل کیا گیا تھا رسول کریمؐ نے فرمایا کہ جس یہودی کو دیکھو قتل کردو، حالانکہ وہ معاہد تھے ۔ آپؐ نے یہ نہیں فرمایا تھا کہ ان کو ان کے دارالامن میں پہنچا دیا جائے ۔ انہیں اسی طرح جب بنو قینقاع نے عہد شکنی کا ارتکاب کیا تو آپ نے ان سے جنگ لڑی اور ان کو اُن کے دارالامن میں نہیں پہنچایا تھا ۔ جب بنو قریظہ نے عہد توڑا تو آپ نے ان سے جنگ کر کے انہیں قیدی بنا لیا اور ان کے دارالامن تک نہ پہنچایا ۔
اسی طرح رسول کریمؐ نے چوری چھپے کعب بن اشرف کو قتل کرنے کا حکم دیا اور اُسے جتلایا نہیں کہ آپؐ اسے قتل کرنا چاہتے ہیں ، قطع نظر اس سے کہ اس کو اس کے مامن پر پہنچاتے ۔ علیٰ ہٰذا القیاس آپؐ نے بنو نضیر کو اس شرط
کی جگہ نہ پہنچایا جائے یہ اسی طرح ہے جیسے ایک بچے ت ضعیف دلیل ہے اسلئے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : ر اپنا عہد توڑ ڈالیں اور تمہارے دین کے بڑوں کو قتل کر دو ۔ ان کی قسموں کا ے کہ وہ باز آجائیں ۔ تم اس قوم سے آخر ے اپنی قسمیں توڑ ڈالیں ۔
(التوبہ : ۱۲ ، ۱۳)
ے بارے میں نازل ہوئی تھی جنہوں نے صلح کی ں ذی عہد شامل ہے، جیسا کہ پوشیدہ نہیں ہے میں جہاں پاؤ قتل کر دو ۔ اس عموم میں ان کا اللہ تعالیٰ نے ان سے لڑنے کا حکم دیا ہے ۔ ے جزیہ ادا کریں ۔ لہذا اگر جزیہ ادا نہ کریں لڑنا جائز ہے ۔ ہے کہ جس روز کعب بن اشرف کو قتل کیا ہودی کو دیکھیں قتل کر دیں، حالانکہ وہ معاہد ان کو ان کے دارالامن میں پہنچا دیا بنی قینقاع نے عہد شکنی کا ارتکاب کیا تو آپ کے دارالامن میں نہیں پہنچایا تھا ۔ جب بنو جنگ کر کے انہیں قیدی بنالیا اور ان کے
نیز کعب بن اشرف کو قتل کرنے کا حکم ش کرنا چاہتے ہیں ، قطع نظر اس سے کہ عہد شکنی پر آپؐ نے بنو نضیر کو اس شرط پر صلح کیا کہ اپنے ہمراہ صرف وہ اشیاء لے جائیں جن کو اونٹوں پر لادا جاسکے ، ماسوا اسلحہ کے ، ایک کڑے کے ۔ ظاہر ہے کہ اسے مامن تک پہنچانا نہیں کہتے ۔ اس لیے کہ جو شخص اپنے مامن پر پہنچ جائے ، وہ اپنی جان و مال اور اہل وعیال کی طرف سے بے فکر ہوجاتا ہے ۔ بنا بریں جب سلام بن ابی الحقیق وغیرہ یہودیوں نے خیبر میں عہد شکنی کا ارتکاب کیا تو آپؐ نے انہیں ان کے دارالامن میں پہنچائے بغیر قتل کر دیا ۔
نیز اس لیے کہ رسول کریمؐ کے صحابہ حضرت عمرؓ ، ابو عبیدہؓ ، معاذ بن جبلؓ اور عوفؓ بن مالک رضوان اللہ علیہم نے اس نصرانی کو قتل کر دیا جو ایک مسلمان عورت کے ساتھ بدکاری کرنا چاہتا تھا ، مگر کسی نے اس پر اعتراض نہ کیا ۔ آپ نے اس کو اس کے مامن تک نہ پہنچایا تو گویا اس پر اجماع منعقد ہو گیا ۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے نصاریٰ پر جو شرائط عائد کی تھیں ان میں ایک شرط یہ تھی کہ ”اگر ہم نے کسی چیز کی خلاف ورزی کی جس کی ہم نے ذمہ داری لی ہے تو ہمارا ذمہ باقی نہیں رہے گا ۔ اور ہماری وہ تمام اشیاء تمہارے لیے حلال ہوں گی جو مخالفین و اعداء کے لیے حلال ہوتی ہیں“ ۔
؞ اس کو حرب نے باسنادِ صحیح روایت کیا ہے اور حضرت عمر، ابوبکر ، ابن عمر ، ابن عباس ، خالد بن الولید وغیرہم رضوان اللہ علیہم اجمعین کے بارے میں پیچھے گزر چکا ہے کہ انہوں نے عہد شکنی کرنے والوں کو قتل کیا یا ان کو قتل کرنے کا حکم دیا تھا ۔ اور ان کو ان کے دارالامن تک نہیں پہنچایا تھا ۔ نیز اس لیے کہ اس کا خون مباح تھا ۔ ان کے خون کو تحفظ صرف ذمّی ہونے کی وجہ سے حاصل ہوا تھا ۔ جب ذمّہ باقی نہ رہا تو اصلی اباحت واپس آگئی ۔ نیز اس لیے کہ اگر کافر دارالاسلام میں امن کے بغیر داخل ہو اور ہمارے قبضہ میں آجائے تو دارالاسلام میں اس کو قتل کرنا جائز ہے مگر جو کافر کسی بچے کے امان دینے پر دارالاسلام میں داخل ہو تو اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ اپنے آپ کو مامون سمجھتا ہے ، اس لیے اُسے امان کا شبہ حاصل ہو چکا ہے ۔ اس لیے اُسے قتل
کرنا ممنوع ہے۔
مثلاً کوئی شخص کسی عورت کو اپنے لیے حلال سمجھ کر اس کے ساتھ زنا کرے تو اس پر حد شرعی نہیں۔ اسی طرح اس کے دارالاسلام میں داخل ہونے کو کوتاہی پر محمول کیا جائیگا بخلاف ازیں اس شخص کو نہ امان حاصل ہے نہ امان کا شبہ۔ اس لیے اس کا محض دارالاسلام میں داخل ہونا بالاتفاق شبہ نہیں ہے۔ بلکہ یہ نقض عہد کی جسارت اور اس کو اہمیت نہ دینے کے مترادف ہے۔ اُسے معلوم ہے کہ مسلمانوں نے ان کے ساتھ مصالحت اس لیے نہیں کی تھی۔ اب اس کے لیے کیا عذر باقی ہے کہ اُسے بحفاظت اس کے دارالامن میں پہنچا دیا جائے۔ البتہ اگر اس قسم کے نواقض عہد کا مرتکب ہو جس کے بارے میں اُسے معلوم نہ ہو کہ یہ مسلمانوں کے لیے ضرر رساں ہے — مثلاً اللہ تعالیٰ ، اس کے رسول اور اس کی کتاب کا تذکرہ اس انداز میں کرے یا بدیں گمان کہ مسلمانوں کے نزدیک یہ روا ہے — تو اسے معذور تصور کیا جائے گا اور اس کا عہد نہیں ٹوٹے گا ۔ جب تک کہ دانستہ اس کی جسارت نہ کرے، جس طرح حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے قسطنطین نصرانی کے ساتھ کیا تھا ۔
جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ اگر ذمی ہمارے قبضہ میں آجائے تو وہ حربی قیدی کی طرح ہے وہ اس کی وجہ یہ بتاتے ہیں کہ وہ کافر ہمارے قبضہ میں ہے، اس لیے مباح الدم ہے اور جو شخص بھی ایسا ہو وہ قیدی ہوتا ہے، اس لیے ہم اسے قتل کر سکتے ہیں۔ جس طرح رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عقبہ بن ابی معیط اور النضر بن الحارث کو قتل کروایا تھا ۔
نیز ہم اُسے ممنون بھی کر سکتے ہیں ، جس طرح رسولِ کریمؐ نے ثمامہ بن اُثال الحنفی اور ابو عزہ الجمحی پر احسان کیا تھا۔ اور اگر چاہیں تو فدیہ بھی لے سکتے ہیں جس طرح رسولِ کریمؐ نے عقیل وغیرہ سے لیا تھا۔ ہم اُسے غلام بھی بنا سکتے ہیں جس طرح رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بہت سے قیدیوں کو غلام بنا لیا تھا۔ مثلاً حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا غلام ابو لولو اور عباسیہ کے ممالیک وغیرہ ۔ باقی رہا قیدی کو قتل کرنا اور اُسے غلام بنانا تو میرے
علم کی حد تک اس میں کوئی اختلاف نہیں پایا جاتا ۔
البتہ اس کو بلا معاوضہ رہا کرنے اور فدیہ لینے کے بارے میں علماء کے یہاں اختلاف پایا جاتا ہے کہ وہ باقی ہے یا منسوخ ہو گیا ، جیسا کہ اپنی جگہ مذکور ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ نقض عہد کے بعد وہ ایسے ہو گیا جس طرح پہلے تھا ۔ اور وہ حربی کافر جس نے عہد نہ کیا ہو جب وہ مسلمانوں کے قبضہ میں آجائے اسے قتل کرنا بھی جائز ہے اور غلام بنانا بھی ۔ چونکہ اس نے عہد توڑا ہے اس لیے اسے قتل بھی کر سکتے اور اور غلام بھی بنا سکتے ہیں ۔ یہی سلوک اس کافر کے ساتھ کیا جاتا ہے جو دارالحرب کو چلا جائے یا قیدی ہونے کے بعد کافروں کے طاقت ور گروہ کے ساتھ مل کر مسلمانوں کے خلاف برسر پیکار ہو ۔ بلکہ یہ اولیٰ ہے ، اس لیے کہ عہد کا ٹوٹ جانا اس کے ساتھ متفق علیہ ہے ، لہٰذا یہ شدید تر ہے ۔ جب اس میں قیدی والا حکم لگایا جاتا ہے تو اس میں بالاؤلی یہ حکم صادر کیا جائے گا ۔ البتہ جب نقض عہد ایک ایسے فعل کی وجہ سے ہو جس کی مخصوص سزا ہوتی ہے — مثلاً یہ کہ کسی مسلم کو قتل کرے یا رہزنی کا مرتکب ہو — تو اسے یہی سزا دی جائے گی ۔ خواہ قتل کرنے کی صورت میں ہو یا کوڑوں کی شکل میں ۔
اگر اس جرم کی سزا دینے کے بعد زندہ رہا تو وہ اس حربی کافر کی طرح ہوگا جس پر کوئی شرعی حد نہیں لگائی جاتی ۔ جو لوگ رسول کریم کو گالی دینے اور دیگر عہد شکنی امور میں فرق کرتے ہیں اُن کا موقف یہ ہے کہ گالی رسول کریمؐ کا حق ہے جو آپؐ نے معاف نہیں کیا ، اس لیے گالی دینے والے کو غلام بنا کر یا اس کی توبہ قبول کر کے اس سزا کو ساقط نہیں جا سکتا ۔ البتہ رسول کریمؐ کے علاوہ دوسروں کو گالی دینا ایک جداگانہ نوعیت کا حامل ہے ۔ رسول کریمؐ کو گالی دینے کے مسئلہ کے مصادر کا تذکرہ آگے آ رہا ہے ۔
جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ جب ذمی مسلمانوں کو نقصان پہنچا کر عہد شکنی کرے تو وہ واجب القتل ہے اس کو کوئی دوسری سزا نہیں دی جا سکتی ، لیکن اگر
اس سے صرف دارالحرب کو چلے جانے اور اسلامی احکام سے سرتابی کا جرم سرزد ہو تو اس کو کوئی اور سزا بھی دی جاسکتی ہے۔ اس کی دلیل سورۃ التوبۃ کی آیات ۱۲ ۔ ۱۳ ہیں جن کا ترجمہ قبل ازیں تحریر کیا گیا ہے۔ ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں سے لڑنے کا حکم دیا ہے جو عہد شکنی کے مرتکب ہوں اور دینِ اسلام کو ہدفِ طعن و تنقید بنائیں۔
ظاہر ہے کہ نقضِ عہد اس جنگ کا موجب ہے جو عہد سے قبل بھی واجب تھا اور اب وہ مزید ضروری ہوگیا۔ یہ امر ناگزیر ہے کہ اب اس حکم میں مزید تاکید پیدا ہوگئی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ جو کافر معاہد ہو اس کے ساتھ جنگ سے باز رہنا جائز ہے، بشرطیکہ مصلحتِ وقت اس کی مقتضی ہو۔ اسے غلام بنانا بھی جائز برخلاف اس شخص کے جو عہد توڑتا اور دینِ اسلام کو ہدفِ طعن بھی بناتا ہے۔ لہٰذا توبہ کا مطالبہ کیے بغیر اس سے لڑنا واجب ہے۔ ہر گروہ جس سے لڑنا ایسے فعل کو دہرائے بغیر واجب ہو جس سے افراد کا خون مباح ہو جاتا ہے تو ان میں سے ایک کو قتل کرنا واجب ہے۔ بشرطیکہ وہ ہمارے قبضہ میں ہوتے ہوئے ایسا کام کرے مثلاً ارتداد، قتل فی المحاربہ، زنا اور ایسے اُمور۔ برخلاف بغاوت کے کہ اس سے کسی گروہ کا خون اس وقت مباح ہوتا ہے جب وہ دینی احکام سے منکر ہو۔ اور برخلاف اُس کافر کے جس کے ساتھ عہد نہ کیا گیا ہو تو ایسے لوگوں کو فی الجملہ قتل کیا جاسکتا ہے۔
آیتِ کریمیہ : يُعَذِّبْهُمُ اللّٰهُ بِاَيْدِيْكُمْ (اللہ اُن کو تمہارے ہاتھوں سے وَيُخْزِهِمْ “ سزا دے اور اُن کو رسوا کرے)
اس امر کی دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ ان سے انتقام لینا چاہتا ہے۔ اور یہ ایک آدمی سے اسی صورت میں ممکن ہے جب اُسے قتل کیا جائے اور اگر اُسے معاوضہ لیکر یا بلا معاوضہ رہا کر دیا جائے یا غلام بنا لیا جائے تب بھی یہ مقصد حاصل نہیں ہوتا۔ البتہ آیت اس امر پر دلالت کرتی ہے کہ ممکن ہے کہ اللہ
عہد شکنی کرنے والوں میں سے کسی کو سزا دے کر جس کی توبہ چاہتا ہے اُن میں سے قبول کرے اور مغلوب کر کے اُسے رسوا کرے ۔ اس لیے کہ جس سزا اور ذلت سے اللہ نے ان کو دو چار کیا ہے ان کو عہد شکنی اور طعن سے روکنے کے لیے کافی ہے مگر ہر دو امر کی صورت میں اگر اُسے قتل نہ کیا گیا بلکہ اس پر احسان کیا گیا تو اس فعل قبیح سے روکنے کے لیے یہ بڑی رکاوٹ نہیں ہوگی ۔
مزید برآں رسول کریم نے جب بنو قریظہ کو قید کیا تو لڑنے والے مردوں کو قتل کیا اور بچوں کو قیدی بنایا ماسوا ایک عورت کے جس نے چکی کا ایک پاٹ قلعہ کے اوپر سے ایک مسلمان پر گرا دیا تھا جس سے اس کی موت واقع ہو گئی اس عورت کا واقعہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ معروف ہے ۔ اس طرح رسول کریم نے صرف نقض عہد کرنے والوں اور نقض کے ساتھ ساتھ مسلمانوں کو ستانے والوں کے ساتھ الگ الگ سلوک کیا تھا ۔ آپ کو جب بھی کسی معاہد کے بارے میں پتہ چلتا کہ اس نے مسلمانوں کو ستایا ہے تو آپ اس کو قتل کرنے کا حکم دیتے ۔ جن اہلِ ذمہ نے صرف عہد شکنی کا ارتکاب کیا تھا اُن میں بہت سے لوگوں کو آپ نے جلا وطن کیا اور بہت سے افراد کو بلا معاوضہ رہا کر دیا ۔
علاوہ ازیں صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم نے شام کے کفار سے معاہدہ کیا ۔ انہوں نے عہد توڑ دیا تو صحابہ نے ان سے جنگ کی اور اس کے بعد دو دفعہ یا تین دفعہ پھر معاہدہ کیا ۔ اہل مصر کے ساتھ بھی اسی طرح ہوا ۔ بایں ہمہ جس معاہد نے بھی دین اسلام کو ہدف طعن بنا کر مسلمانوں کو ستایا یا کسی مسلم عورت کے ساتھ زنا کیا یا کوئی اور کام کیا تو مسلمانوں نے اس پر قابو پا کر اسے قتل کر دیا ۔ صحابہ نے اس قسم کے لوگوں کو قتل کرنے کا حکم دیا اور اس ضمن میں کوئی دوسری سزا کا اختیار نہ دیا ۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ انہوں نے دونوں قسم کے اہلِ ذمہ سے جدا گانہ سلوک کیا ۔
نیز رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مقیس بن صبابہ، عبداللہ بن خطل اور اس قسم کے لوگوں کے بارے میں جنہوں نے مرتد ہونے کے ساتھ ساتھ کسی مسلم کو قتل
کیا یا مسلمانوں کو کوئی اور ضرر پہنچایا تھا۔ قتل کرنے کا حکم دیا۔ اس کے باوصف خلافت صدیقی کے عصر و عہد میں بہت سے لوگ مرتد ہوگئے اور قوت حاصل کرنے کے بعد متعدد مسلمانوں کو قتل کر دیا۔ مثلاً طلیحہ اسدی نے عکاشہ بن محصن اور چند مسلمانوں کو قتل کر دیا تھا۔ اس کے بعد اُن سے قصاص نہیں لیا گیا۔ جب مرتد سے ان جرائم کا مواخذہ کیا جاسکتا ہے جو اس نے قوت حاصل کرنے سے قبل انجام دیئے ہوں اور قوت سے بہرہ ور ہونے کے بعد والے جرائم پر گرفت نہیں کی جاتی تو عہد شکنی کرنیوالے کا بھی یہی حال ہے۔ اس لیے کہ یہ دونوں اس دائرہ سے نکل گئے جس کی وجہ سے ان کا خون محفوظ ہوا تھا ان میں سے ایک نے تو اپنا عہد توڑ دیا اور دوسرے نے امان کی خلاف ورزی کی۔ اگرچہ یہ مسئلہ فقہاء کے مابین مختلف فیہا رہا ہے۔ ہم نے تو اصل و اساس پر قیاس کیا ہے جو سنت اور اجماع صحابہ سے ثابت ہے۔
البتہ مرتد جب اسلام کی طرف لوٹ آئے گا تو اس کا خون محفوظ ہوجائے گا۔ الّا یہ کہ اس نے ایسی حد شرعی کا ارتکاب کیا ہو جس کی وجہ سے ایک مسلم کو بھی قتل کیا جاسکتا ہے۔ معاہد اگر ایسے جرائم کا مرتکب ہو جو مسلمانوں کے لیے ضرر رساں ہوں تو اُسے قتل کیا جاسکتا ہے۔ اس لیے کہ عہد توڑنے سے اس کا خون مباح ہوجاتا ہے اور اس کے بعد اس نے کوئی ایسا کام نہیں کیا جس سے وہ معصوم الدم ہوجاتا۔ تو گویا وہ اس حربی کافر کی مانند ہے جو واجب القتل ہو۔ اس کی مزید توضیح اس سے ہوتی ہے کہ عہد رسالت میں اگر حربی کافر مسلمانوں کو دکھ دیتا تو سزا کے طور پر اُسے قتل کر دیا جاتا اور قابو پانے کے بعد اسے بلاعوض رہا نہ کیا جاتا۔ تو اب یہ شخص جس نے مسلمانوں کو نقصان پہنچا کر اپنے عہد کو توڑا اس سزا کا بالاولیٰ مستحق ہے۔
آپ دیکھتے نہیں کہ جب رسول کریمؐ نے ابو عزّہ الجُمحی پر احسان کر کے فدیہ لیے بغیر اُسے رہا کر دیا تو اس سے عہد لیا کہ وہ آپؐ کے خلاف کفار کی مدد نہیں کرے گا۔ مگر اس نے اس عہد کو توڑ دیا۔ اس کے بعد آپؐ نے اس پر قابو پایا اور
اس سے احسان کرنے کی درخواست کی تو آپؐ نے فرمایا ۔ ایسا نہ ہو کہ تم مکہ میں اپنی مونچھیں مروڑ کر یوں کہتے پھرو کہ میں نے دو دفعہ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کا مذاق اڑایا ۔
پھر آپؐ نے فرمایا :- ”مومن ایک بل سے دو دفعہ نہیں ڈسا جاتا“
جب اس نے اپنا عہد توڑ دیا تو یہ چیز اُس پر دوبارہ احسان کرنے سے مانع ہوئی ۔ اس لیے کہ اس نے ضرر پہنچانے کا عہد کر کے پھر آپؐ کو نقصان پہنچایا ۔ اسی لیے اہلِ ذمہ میں سے جو کوئی مسلمانوں کو ایذا نہ دینے کا عہد کرے اور پھر بھی ایذا پہنچائے اور اُسے چھوڑ دیا جائے تو گویا مسلمانوں کو ایک بل سے دو مرتبہ ڈسا گیا ۔ اندریں صورت ایک مشرک مونچھوں کو تاؤ دے کر کہے گا کہ میں نے دو مرتبہ مسلمانوں کا مذاق اڑایا ۔
اسی طرح اگر وہ دار الحرب میں جا کر محفوظ ہو جائے تو مسلمانوں کو ضرر نہیں پہنچائے گا ، البتہ ان کے مابین جو عہد تھا اسے توڑ کر اصلی حربی کافر کی طرح ہو جائیگا اور اگر وہ مسلمانوں کو ضرر پہنچائے مثلاً جنگ کرے ، یا مسلمان عورت کے ساتھ زنا کرے یا رہزنی کرے یا کسی مسلم کو قید کرلے یا اس قسم کا کوئی اور جرم کرے تو اسے وجوباً قتل کیا جائے گا ۔ اگر اسے قتل نہ کیا جائے تو یہ مفاسد بلا سزا رہ جائیں گے اور ان جرائم کی حدود معطل ہو کر رہ جائینگی اور ایسے جرائم کی سزا میں ایک مسلم کو معاف کرنا روا نہیں تو ذمی کو معاف کرنا اولیٰ و احریٰ ہے۔ پس حد شرعی کو حتماً اس پر قائم کرنا جائز نہیں جس طرح اس پر قائم کی جاتی ہے جس کے ذمے حدّ باقی رہی ہو ، کیوں کہ اس کا مرتکب حربی کافر بن گیا ہے اور حربی کو صرف قتل کی سزا دی جاتی ہے ، اس لیے اس کا قتل متعین ہوا اور وہ اس اسیر کی طرح ہو گیا مصلحتِ وقت جس کے قتل کی مقتضی ہو اس لیے کہ ہمیں معلوم ہے کہ جب بھی وہ رہا ہوا تو مسلمانوں کو نقصان پہنچائے گا اور اگر اُسے قتل کر دیا جائے تو اس میں اتنا نقصان نہیں ہے ۔ اُس پر احسان کرنا
اور اُسے فدیہ لے کر رہا کرنا بالاتفاق جائز نہیں ہے ۔ نیز اس لیے کہ اس قسم کے معاملات میں مجرم کو یا تو قتل کیا جاتا ہے یا بلا معاوضہ رہا کیا جاتا ہے یا غلام بنا لیا جاتا ہے اور یا فدیہ وصول کیا جاتا ہے ۔ باقی رہا غلام بنانا تو اس کی بنا پر وہ اپنے ذمہ پر حسب سابق قائم رہے گا ۔ اس لیے کہ پہلے وہ ذمی تھا اور ہم اس سے ایک غلام کی طرح جزیہ وصول کرتے تھے ۔ اسی لیے بعض صحابہ نے حضرت عمرؓ سے اس مسلم کے بارے میں کہا تھا جو کسی ذمی کو قتل کر دے کہ آپ اپنے بھائی سے اپنے غلام (ذمی) کا قصاص لیتے ہیں ؟ بلکہ اکثر دفعہ اس کو غلام بنانا اس کے ذمی بنانے سے زیادہ نفع بخش ہوتا ہے اور ایسے آدمی کو غلام بنانے کے نتائج قبیحہ کا خطرہ ہمیشہ دامنگیر رہتا ہے اور دور نہیں ہوتا ۔ باقی رہا اس کو فدیہ لے کر یا بلا فدیہ احسان کر کے رہا کرنا تو اس کے نقصانات اور بھی زیادہ ہیں ۔ اور اس کو دوبارہ ذمی بنانے کے معنی یہ ہیں کہ اُس کو بالکل ہی معاف کر دیا جائے اور سزا بالکل نہ دی جائے ۔ پس اس کو قتل کرنا ایک طے شدہ بات ہے ۔
اس سے یہ بات کھل کر سامنے آتی ہے کہ دوبارہ ذمی بننے کی صورت میں ہم اسے وہی سزا دیں گے جو مسلم کو یا اس شخص کو دی جاتی ہے جو ہنوز اپنے ذمہ پر قائم ہو ۔ درحقیقت اس کا نتیجہ گھوم پھر کر وہی نکلتا ہے جو ان لوگوں کا زاویہ نگاہ ہے جو کہتے ہیں کہ :
”ان اُمور سے عہد نہیں ٹوٹتا ، لہٰذا ان کو ناقض عہد بنانے ، ان کے اصحاب کو دوبارہ معاہد بنانے اور اعادہ جرم کی صورت میں وہی سزا دینے جو کہ ایک مسلم کو دی جاتی ہے کا کچھ مطلب نہیں“ ۔
اس کی تائید اس امر سے ہوتی ہے کہ یہ جرائم جب عہد کو فسخ کر دیتے ہیں تو عہد کے انعقاد کو بالاولیٰ روک دیتے ہیں ۔ اس لیے کسی چیز کا دوام و بقاء اس کی ابتداء سے قوی تر ہوتا ہے ۔ مثلاً عدّت اور ارتداد کی وجہ سے عقدِ نکاح
بالاتفاق جائز نہیں ہے ۔ کے معاملات میں مجرم کو یا تو قتل کیا جاتا ہے یا بلا معاوضہ رہا کیا جاتا ہے اور یا فدیہ وصول کیا جاتا ہے ۔ باقی رہا غلام بنانا تو یہ ذمّہ پر حسب سابق قائم رہے گا ۔ اس لیے کہ پہلے بھی وہ ایک غلام کی طرح جزیہ وصول کرتے تھے ۔ اسی لیے ہم نے اس مسلم کے بارے میں کہا تھا جو کسی ذمی کو قتل کرے کہ کیا ہم اپنے غلام (ذمی) کا قصاص لیتے ہیں ؟ دوسرے یہ کہ قتل کرنا اس کے ذمّی بنانے سے زیادہ نفع بخش ہوتا ہے ۔ کیونکہ ذمّی بنانے کے نتائج قبیحہ کا خطرہ ہمیشہ دامنگیر رہتا ہے اور اس کے برعکس یا اس کو فدیہ لے کر یا بلا فدیہ احسان کر کے رہا کرنا زیادہ بہتر ہے ۔ اور اس کو دوبارہ ذمی بنانے کے معنی یہ ہیں کہ اس کو معاف کر دیا جائے اور سزا بالکل نہ دی جائے ۔ پس یہ بداہتاً فاسد بات ہے ۔
مزید براں یہ بات سامنے آتی ہے کہ دوبارہ ذمّی بننے کی صورت میں امان اس کو یا اس شخص کو دی جاتی ہے جو ہنوز اپنے ذمہ پر قائم ہے ۔ اس کا نتیجہ گھوم پھر کر وہی نکلتا ہے جو ان لوگوں کا زاویہ نگاہ بنتا ، لہٰذا ان کو ناقض عہد بنانے ، ان کے احسان کو مٹانے اور اعادہ جرم کی صورت میں وہی سزا دیتے جو کہ ان کے حق میں مطلوب نہیں ۔
ایک بات یہ بھی ہے کہ یہ جرائم عہد کو فسخ کر دیتے ہیں ۔ اس لیے کسی چیز کا دوام و بقاء اس کے آغاز سے قوی تر ہوتا ہے ۔ مثلاً عدت اور ارتداد کی وجہ سے عقد نکاح
وجود پذیر ہی نہیں ہوتا اور اگر ہو چکا ہو تو وہ باقی رہتا ہے (پس ثابت ہوا کہ کسی چیز کا دوام و بقاء اس کے آغاز سے قوی تر ہوتا ہے) ۔ بنا بریں اگر ان مضرتات کا وجود دوام عقد سے مانع ہے تو عقد کو آغاز ہی میں نہ ہونے دینا ان کی بنا پر اولیٰ و احریٰ ہے اور جب عقد ذمّہ کا آغاز ہی جائز نہ ہو تو احسان کرنے کا عدم جواز بالاولیٰ ہو گا ۔ نیز اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے تمام مشرکوں کو قتل کرنے کا حکم دیا ہے ۔ البتہ محاربین میں سے جو بیڑیوں میں جکڑا ہوا ہو، اس کے بارے میں اللہ نے ہمیں اختیار دیا ہے کہ ہم معاملہ جس سے چاہیں کریں اور جو شخص عہد سے نکل جاتا ہے وہ اس شخص کی طرح نہیں جو سرے سے اس میں داخل ہی نہ ہوا ہو ۔ جس طرح دین سے نکل جانے والا اس شخص کی مانند نہیں جو اس میں داخل ہی نہ ہوا ہو ۔ اس لیے کہ جو شخص دین میں داخل نہیں ہوا وہ اپنی حالت پر قائم ہے ۔ بخلاف ازیں جو شخص ایمان و امان سے نکل گیا اس نے فساد کو ایجاد کیا ۔ لہٰذا سر دست موجود اور بحال فساد کو برداشت کرنے سے یہ لازم نہیں آتا کہ نوخیز اور جدید وجود پذیر فساد کو بھی برداشت کیا جائے ۔ اس لیے کہ کسی چیز کا بقاء و دوام اس کے آغاز سے قوی تر ہوتا ہے ۔ اس سے یہ بات کھل کر سامنے آئی کہ جو اسیر اپنے کفر کے باوجود مسلمانوں کو ستاتا ہو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس کو قتل کر دیا کرتے تھے ۔ مثلاً النضر بن الحارث اور عقبہ بن ابی محیط کو آپؐ نے قتل کروا دیا تھا ۔ اور ابو عزۃ الجمحی جب دوسری مرتبہ گرفتار ہوا تو اسے بھی فنا کے گھاٹ اتار دیا ۔
مزید براں جب ذمی کافر کسی گروہ کے ساتھ مل جائے یا دارالحرب پہنچ جانے کی وجہ سے قوّت حاصل کر لے تو جو ضرر اس کی طرف سے متوقع ہے وہ حربی کافر کی طرح اس کی قوت و شوکت سے وابستہ ہو گا ۔ جب اُس کے قیدی بن جانے کی وجہ سے یہ قوّت باقی نہ رہے تو اس کی جانب سے جو خطرہ بھی دامن گیر ہو گا صرف اس کے کافر ہونے کی وجہ سے ہو گا ۔ اب اُس کے اور دیگر کفار کے درمیان کچھ فرق باقی نہ رہے گا ۔
جب کوئی کافر مسلمانوں کے درمیان رہ کر ستائے یا سرکشی اختیار کر کے ذمی ہونے کے تقاضوں کو پورا نہ کرے تو اس ضرر کی ذمہ داری اس کی ذات پر عائد ہوگی ، کسی دوسرے گروہ پر نہیں جو اس کی مدد یا حفاظت کر رہا ہو۔ اندریں صورت اس کے غیر معصوم نفس کو معدوم کرنا واجب ہوگا۔ اس لیے کہ یہی مسلمانوں کے لیے شر و فساد کا سرچشمہ اور ان کی ایذا کا موجب و محرک ہے۔ اس لیے کہ قوت و شوکت سے بہرہ ور شخص نے جو کچھ بھی (مسلمانوں کے خلاف) کیا ہے اس سے صرف ان افراد کو شہ ملتی ہے جو طاقت ور ہیں۔ مگر اکیلا آدمی ایسا کام کر کے شر و فساد کا باب وا کر دیتا ہے۔ لہٰذا اگر اسے سزا نہ دی جائے تو دوسرے لوگ بھی وہی کچھ کرنے لگیں گے، جو وہ کرتا ہے اور ظاہر ہے کہ غیر معاہد کفار کو صرف تلوار سے سزا دی جاتی ہے۔
علاوہ ازیں جو ذمی مسلمانوں کی اطاعت سے انحراف کرتا ہے ہمیں اس سے لڑنے کا حکم دیا گیا ہے تا آنکہ ذلیل ہو کر اپنے ہاتھ سے جزیہ ادا کرے۔ ہمیں حکم دیا گیا ہے کہ ایسے لوگوں سے برسر پیکار ہوں اور جب خوب خون بہا چکیں تو ان کو قیدی بنالیں۔ لہٰذا ہر آیت جس میں جنگ کا ذکر کیا گیا ہے اس میں داخل ہے۔ پس اس کے حکم میں دیگر سرتابی کرنے والے کفار بھی شامل ہیں۔ ان سے دوبارہ معاہدہ کرنا اور ان کو غلام بنانا بھی جائز ہے۔ ان میں سے جو جرم کا مرتکب ہوگا اس کا عہد ٹوٹ جائے گا۔ چونکہ وہ ہمارے قبضہ میں ہے اس لیے وہ ان عمومات میں شامل نہیں اس سے لڑا نہیں جائے گا بلکہ اسے قتل کیا جائے گا، اس لیے کہ لڑائی سرتابی کرنے والے کے ساتھ کی جاتی ہے۔ چونکہ جزیہ کی وصولی، احسان اور فدیہ اس شخص کے لیے ہے جس سے لڑائی کی گئی ہو اور اس کے ساتھ جنگ نہیں لڑی گئی۔ لہٰذا وہ اس آیت ”فَاقْتُلُوا الْمُشْرِكِیْنَ“ (مشرکوں سے لڑو) کے عموم میں داخل ہے اور جزیہ اور فدیہ والی آیت میں داخل نہیں ہے۔
مزید براں اسلامی احکام سے سرتابی کرنے والا حربی کافر کی مانند ہے اور حربی کافر کو جملہ امور میں حربی تصور کیا جاتا ہے بایں طور کہ اگر وہ اسلام لے آئے تو
کسی چیز کی ضمانت میں اس پر مواخذہ نہیں کیا جائے گا برخلاف اس کافر کے جو ہمارے قبضہ میں ہو۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ جب تک وہ ہماری تحویل میں ہے تو اس کے لیے مسلمان کو ستانے اور نقصان پہنچانے کی کوئی وجہ جواز موجود نہیں۔ مگر دارالحرب کو بھاگ جانے والے کا معاملہ اس سے مختلف ہے۔ اپنے مذہب پر عامل ہوتے ہوئے اس کے دل میں یہ خیال ہوتا ہے کہ جب بھی وہ بھاگنے پر قادر ہوگا بھاگ جائے گا خصوصاً جب کہ ہمارے بعض فقہاء کے نزدیک یہ اس کے لیے مباح بھی ہے۔ لہٰذا اگر وہ کسی تاویل کی بنا پر ایسا کرے گا تو یہ اسی طرح ہوگا جس طرح باغی لوگ لڑتے ہیں۔ بعض چیزوں کو تلف کر دیتے ہیں تو اس کی ضمانت ان پر واجب نہیں ہوتی اور جس چیز کو زمانہ امن میں تلف کرتے ہیں تو ایک گروہ دوسرے فریق کو اس کا تاوان ادا کرتا ہے۔ پس جو شخص تاویل کی بنا پر نقض عہد کا کوئی کام کرتا ہے اس شخص کی طرح نہیں جو تاویل سے کام نہیں لیتا۔
نیز یہ کہ جو شخص مسلمانوں کو ایسا نقصان پہنچاتا ہے جس سے اس کا عہد ٹوٹ جائے تو اس کو سزا ملنا ضروری ہے۔ اس لیے کہ طبائع انسانیہ جن جرائم کو دعوت دیتی ہیں اُن کا عقوبت زاجرہ سے خالی ہونا جائز نہیں۔ اور سزاؤں کی شریعت اس کی شاہد ہے۔ پھر اس کی سزا یا تو اس سزا جیسی ہوگی جو اس مسلم یا ذمی کو دی جاتی ہے جو کسی عورت کے ساتھ ایسے فعل کا ارتکاب کرتا ہے یا اس سے کم و بیش اور پہلی بات باطل ہے، کیوں کہ اس سے یہ لازم آتا ہے کہ معصوم اور مباح کی سزا یکساں ہو۔ نیز اس لیے کہ عہد شکنی کرنے والا اپنے کفر کی وجہ سے سزا کا مستحق ہے اور اُس ضرر رسانی کی وجہ سے بھی جس کی بنا پر اس نے اپنے عہد کو توڑا۔ البتہ اس کے معاہد ہونے کی وجہ سے کفر کی سزا کو موخر کیا گیا جب عہد باقی نہ رہا تو وہ دونوں سزاؤں کا مستحق ہوگیا۔
اسی سے دونوں کا فرق و امتیاز واضح ہوتا ہے۔ ایک تو وہ شخص جس نے معصوم ہونے کی حالت میں یہ کام انجام دیا اور دوسرا وہ شخص جو مباح الدم
ہے اور اس نے یہ کام نہیں کیا۔ اس لیے کہ ایک مسلم جب ان معاصی کا ارتکاب کرتا ہے تو مسلمانوں کی نصرت و موالات انجام دے کر وہ ان کی تلافی کر دیتا ہے اور اس طرح وہ مسلمانوں کے لیے محض ضرر رساں نہیں رہتا، بلکہ اس میں نفع و ضرر اور خیر و شر کے دونوں پہلو پائے جاتے ہیں۔ برخلاف ذمی کے کہ جب وہ مسلمانوں کو نقصان پہنچاتا ہے تو خالص ضرر رسانی کی وجہ سے اس کا وہ عہد زائل ہو جاتا ہے جس سے نفع کی امید بھی ہوتی ہے اور ضرر رسانی کی بھی ۔ اور اگر اُسے ایک مسلم کی طرح سزا دینا روا نہ ہو تو اس سے کمتر درجہ کے جرائم کی سزا نہ دینا اولیٰ واحریٰ ہے۔ لہٰذا واجب ٹھہرا کہ اُسے ایک مسلم کے مقابلہ میں زیادہ سزا دی جائے ۔ علاوہ ازیں جب ایسے افعال کے ارتکاب پر ایک مسلم کو حتمی طور پر قتل کی سزا دی جاتی ہے تو عہد شکنی کرنے والے کو حتماً اس کی سزا دی جائے گی ۔ البتہ سزا کی نوعیت مختلف ہو سکتی ہے۔ مسلم کے لیے تو قتل کی سزا قطعی ہو گی۔ مگر ذمی کی سزا کبھی قتل ہو گی، گاہے قطع ید، گاہے رجم اور گاہے کوڑوں کی سزا دی جائے گی ۔
شاتم رسولؐ کی سزا کا خلاصہ
جب ناقض عہد علی العموم کی سزا کا خلاصہ بیان کیا جا چکا تو شاتم رسولؐ کی سزا بصورت قتل متعیّن ہوتی ۔ جیسا کہ ائمہ نے اس کی تصریح کی ہے ۔
پہلا قول
جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ عہد شکنی کرنے والا جب ہمارے قبضہ میں ہو تو اس کو قتل کرنا ایک طے شدہ بات ہے۔ یا کہتے ہیں کہ جو شخص اس طرح عہد شکنی کرے جس سے مسلمانوں کی ایذا رسانی ہوتی ہو یا ان کو نقصان پہنچتا ہو اس کو قتل کرنا ایک مسلّمہ حقیقت ہے ۔ جیسا کہ ہم نے امام احمدؒ کے بارے میں تحریر کیا ہے اور جس طرح امام شافعیؒ کے اس کلام سے عیاں ہوتا ہے جس کو ہم نے نقل کیا ہے ۔ یا ہم یوں کہیں کہ جو شخص صرف رسول کریمؐ کو گالی دے کر عہد شکنی کا مرتکب ہو اس کو قتل کرنا ایک متعیّن موقف ہے ۔ جیسا کہ ہمارے اصحاب میں سے قاضی ابو یعلیٰ اور دیگر علماء نیز اصحاب شافعی میں سے ایک گروہ نے کہا ہے ۔ اور جس طرح اس کی تصریح ان عام لوگوں نے کی ہے جنہوں نے اس کو نواقضِ عہد میں شمار کیا ہے اُنہوں نے ذکر کیا ہے کہ حاکمِ وقت کو ناقضِ عہد کے بارے میں اختیار ہے (کہ اپنی صوابدید کے مطابق سزا دے) اُنہوں نے بطریقِ اجمال اس کا تذکرہ متعدّد مقامات پر کر کے یہ بھی کہا ہے کہ (حاکمِ وقت) اُسے قتل کرے، اس کے سوا اُسے دوسرا کوئی اختیار نہیں ۔
دوسرا قول
جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ ہر ناقضِ عہد کے بارے میں حاکمِ وقت کو اختیار ہے کہ جو سزا چاہے اُسے دے، جیسا کہ قیدی کے بارے میں اختیار ہے ۔ ہم قبل ازیں ذکر کر چکے ہیں کہ اُنہوں نے کہا کہ اُس سے پورے حقوق وصول کئے جائیں ۔ مثلاً قتل، حدّ اور تعزیر، اس لئے کہ اُن کو ذمّی بنانے کا مطلب یہ ہے کہ وہ اسلامی احکام کی تعمیل کریں گے اور اسلامی احکام یہی ہیں۔ جب ہم اُن سے احکام کی تعمیل کروائیں تو حاکمِ وقت کو اس کے بارے میں اختیار ہے،
کہ جو سزا چاہے دے۔ جس طرح یہ اختیار حاکم کو اسیر کے بارے میں ہے۔ اس قول کی بنا پر وہ کہہ سکتے ہیں کہ اُسے قتل کیا جائے۔ اس لئے کہ رسولِ کریمؐ کو گالی دینے پر حدِ شرعی واجب ہو جاتی ہے جو کہ قتل ہے۔ مثلاً کوئی شخص زنا کر کے اپنا عہد توڑے یا رہزنی کرے تو حدِ شرعی کے پیش نظر اُسے قتل کیا جائے گا، اگر اُسے قتل کرنا واجب ہو۔ بعض اوقات حدِ شرعی لگا کر بھی ذمی کو قتل کیا جاتا ہے، اگرچہ اس کا عہد نہ ٹوٹا ہو۔ مثلاً وہ کسی اور ذمی کو قتل کرے یا ذمی عورت کے ساتھ زنا کرے تو اس سے قصاص لیا جائے ۔ اندریں صورت زنا کی حدِ شرعی اور اس کا عہد باقی رہے گا۔ مالکی مذہب کے مطابق بھی یہ توجیہ اسی طرح کی جائے گی، بشرطیکہ اُن میں سے کچھ لوگ اس بات کے قائل ہوں کہ اس کا عہد نہیں ٹوٹتا ۔
خلاصۂ کلام یہ ہے کہ یوں کہنا کہ حاکم وقت کو اس میں اختیار ہے۔ اس پر بعض فقہاء کا کلام یا اُس کا اطلاق دلالت کرتا ہے ۔ یہ قول بھی اسی طرح ہے کہ ذمی کو اُس کے مامن میں پہنچا دیا جائے۔ اور فقہاء کے اطلاقات سے اُن کے مذاہب کا اخذ کرنا بغیر اس کے کہ ان کی توضیحات اور اُن کے اصول کے تقاضوں کو ملاحظہ کیا جائے، مذاہب صحیحہ کا موجب بنتا ہے۔ اگر اس میں اختلاف و نزاع کا ظہور ہو تو وہ نہایت ضعیف ہے جیسا کہ ہم نقل کر چکے ہیں اور اس کی توجیہ ہم آگے چل کر ذکر کریں گے۔
تعیّنِ قتل کی دلیل
اِس بات کی دلیل کہ اس کا قتل متعین ہے اور اُسے غلام بنانا ، اس پر احسان کرنا اور فدیہ قبول کرنا جائز نہیں۔ اس کے دو طریقے ہیں :-
- (۱) وہ دلائل جو قبل ازیں گزر چکے ہیں کہ ناقضِ عہد کا قتل واجب ہے، جبکہ
وہ مسلمانوں کو نقصان پہنچا کر عہد شکنی کرے۔
- (۲) وہ دلائل جو اس کی ذات کے ساتھ مخصوص ہیں ۔ اس کے کئی وجوہ ہیں :-
پہلی وجہ وہ آیات جو طاعن فی الدین کے وجوب قتل پر دلالت کرتی ہیں ۔ دوسری وجہ اس شخص کا واقعہ جس نے عہد رسالت میں ایک یہودی عورت کو قتل کیا تھا اور اس عورت کے خون کو رسول کریمؐ نے ہدر (رائیگاں) قرار دیا تھا ۔ یہ حدیث بروایت حضرت علیؓ و ابن عباسؓ پیچھے گزر چکی ہے ۔ اگر رسول کریم کو گالی دینے سے صرف عہد ٹوٹتا اور اس کا قتل واجب نہ ہوتا تو یہ عورت بمنزلہ ایک کافر اور قیدی عورت کے ہوتی ۔ نیز یہ اس کافر عورت کی طرح ہوتی جو دارالاسلام میں داخل ہو اور اُس نے عہد نہ کیا ہو ۔ ظاہر ہے کہ ایسی عورت کا قتل جائز نہیں اور قید کرنے سے وہ مسلمانوں کی لونڈی بن جائے گی ۔ اور یہ مقتولہ عورت پہلے لونڈی تھی ۔
اور مسلمان کی جب کوئی کافرہ حربیہ لونڈی ہو تو محض حربیہ ہونے کی وجہ سے نہ وہ اُسے قتل کر سکتا ہے نہ کوئی اور ۔ بلکہ وہ اپنے آقا کی مملوکہ ہوگی ، جب مسلمان اُسے پکڑلیں گے تو اُسے اس کے مالک کی طرف لوٹایا جائے گا ۔ اس ضمن میں مسلمانوں کے یہاں کوئی اختلاف نہیں پایا جاتا کہ عورت اگر معاہدہ نہ ہو تو اُسے محض کافر ہونے کی وجہ سے قتل نہیں کیا جاسکتا ، جس طرح اس جرم میں مرد کو قتل کیا جاتا ہے ۔
ہمارے علم کی حد تک اس میں کوئی اختلاف نہیں کہ جب عورت کے حق میں صرف نقض عہد ثابت ہوجائے ۔ مثلاً وہ ان لوگوں میں سے ہو جو مصالحت کر کے اپنے عہد کو توڑ دیں ، تو اُن کی عورتوں اور بچوں کو قتل نہیں کیا جاسکتا بلکہ ان کو غلام بنالیا جائے گا ۔ اسی طرح ذمی اگر عہد توڑ کر دارالحرب کو چلا جائے تو نقض عہد کے بعد اس کے یہاں جو اولاد پیدا ہو تو اُن میں سے لڑکے اور لڑکیوں کو قتل کرنا جائز نہیں ۔ بخلاف ازیں وہ مسلمانوں کے غلام ہوں گے ۔ اگر اہل ذمہ دارالحرب میں قوت وشوکت حاصل کرلیں تو اُن سے بھی یہی سلوک کیا جائے گا ۔
فقہاء میں سے بعض کہتے ہیں کہ اُن کے بچوں اور عورتوں میں عہد باقی ہے ، جیسا کہ
امام احمد رحمہ اللہ سے منقول ہے۔ اکثر فقہاء کا قول ہے کہ عورتوں اور بچوں کے بارے میں بھی عہد ٹوٹ جائے گا۔ اس میں کوئی اختلاف نہیں کہ خواتین کو قتل نہیں کیا جائے گا ۔ اس کی اصل و اساس یہ ہے کہ باری تعالیٰ فرماتا ہے :۔
" اور اللہ کی راہ میں اُن لوگوں سے لڑو جو تم سے لڑتے ہیں اور حد سے تجاوز نہ کرو بے شک اللہ حد سے تجاوز کرنے والوں کو دوست نہیں رکھتا ۔"
(البقرہ - ۱۹۰)
اس آیت میں اُن لوگوں سے لڑنے کا حکم دیا گیا ہے جو مسلمانوں سے لڑتے ہیں ۔ اس آیت سے معلوم ہوا کہ جنگ کرنے کی شرط یہ ہے کہ حریف مقابل جنگجو ہو ۔
خواتین کو قتل کرنے کی ممانعت
صحیحین میں ہے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول کریمؐ کے بعض غزوات میں ایک عورت کی لاش ملی تو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عورتوں اور بچوں کے قتل سے منع فرمایا ۔ حضرت رباح بن ربیع سے مروی ہے کہ وہ رسول کریمؐ کے ہمراہ ایک جنگ میں گئے۔ حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ مقدمۃ الجیش کے افسر تھے۔ حضرت رباح اور اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر ایک عورت کی لاش پر ہوا جس کو مقدمۃ الجیش والوں نے قتل کیا تھا۔ وہ کھڑے ہو کر دیکھنے اور اس پر اظہار حیرت کرنے لگے۔ اندریں اثناء رسول کریمؐ بھی تشریف لے آئے جو اپنی ناقہ پر سوار تھے۔ لوگ رستہ چھوڑ کر الگ ہو گئے۔ رسول کریمؐ اُس کے پاس کھڑے ہوئے اور فرمایا " یہ عورت لڑتی تو نہ تھی؟ " پھر ایک صحابی سے کہا " خالد کے پاس جاؤ اور کہو بچوں اور خادموں کو قتل نہ کرو ۔" اس کو امام احمدؒ، ابوداؤدؒ اور ابن ماجہؒ نے روایت کیا ہے ۔
ابن کعب بن مالک اپنے چچا سے روایت کرتے ہیں کہ رسول کریمؐ نے جب اپنا لشکر خیبر میں ابن ابی الحقیق کے پاس بھیجا تو عورتوں اور بچوں کو قتل کرنے سے منع فرمایا ۔ اس کو امام احمدؒ نے روایت کیا ہے ۔ اس مسئلہ میں احادیث
مشہورہ منقول ہیں ۔ اور یہ اُن مسائل میں سے ہے جن کو اُمّت خلفاً عن سلفٍ نقل کرتی چلی آئی ہے ۔ اس لئے کہ جنگ کا مقصد اعلاء کلمۃ اللہ ہے اور یہ کہ پورا دین اللہ کے لیے ہو جائے اور کوئی فتنہ باقی نہ رہے یعنی کوئی شخص دوسرے کو اللہ کے دین سے برگشتہ نہ کرسکے۔ ہم صرف اس شخص سے لڑتے ہیں جو اس میں رکاوٹ ڈالتا ہو اور وہ جنگ جُو آدمی ہو سکتا ہے۔ مگر جو شخص جنگ نہ کرتا ہو تو اس کو قتل کرنے کی کوئی وجہ نہیں۔ مثلاً عورت، نہایت بوڑھا شخص اور راہب (تارک الدنیا) اور اس قسم کے دیگر اشخاص۔ نیز اس لئے کہ عورت لونڈی بن کر مسلمانوں کے مال کی صورت اختیار کر لیتی ہے۔ اگر اس کو قتل کر دیا جائے تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ بلا ضرورت اسے ضائع کیا گیا اور غیر ضروری طور پر مال کو تلف کیا گیا۔ البتہ عورت اگر لڑتی ہو تو بالاتفاق اسے قتل کرنا جائز ہے۔ کیوں کہ اس میں وہ وصف موجود ہے جس کے نہ ہونے کی وجہ سے شارع نے اس کو قتل کرنے سے منع کیا تھا ۔ رسولِ کریم نے فرمایا تھا۔ ”یہ لڑتی تو نہ تھی“۔
مگر سوال یہ ہے کہ آیا عورت کو مرد کی طرح قصداً قتل کیا جاسکتا ہے یا نہیں ؟ یا اسے روکنا اور ہٹانا مقصود ہے جس طرح قصداً حملہ آور کو دور ہٹایا جاتا ہے۔ یہ مسئلہ فقہاء کے یہاں متنازع فیہا ہے۔ جب عورت کے بارے میں ایسا حکم دیا گیا ہے اور دوسری طرف رسول کریمؐ نے ایک ذمّی عورت کے خون کو اس لئے ہدر ٹھہرایا تھا کہ وہ رسول کریم کو گالیاں دیتی تھی۔ حالانکہ اگر اس کو قتل کرنا حرام ہوتا تو آپؐ اس کو بُرا مناتے جس طرح آپؐ نے اس عورت کے قتل پر اعتراض کیا تھا جس کو آپؐ نے بعض غزوات میں مقتول پایا تھا۔ اگرچہ اس کی دیت یا کفّارہ ادا نہیں کیا گیا تھا۔ اس لئے کہ رسول کریمؐ ایک بُرے فعل کو دیکھ کر خاموش نہیں رہ سکتے تھے کیوں کہ آپؐ کا خاموش رہنا اُس فعل کے جواز اور اباحت کی دلیل ہے۔ آپؐ کو معلوم تھا کہ دشنام دہندہ عورت قیدی اور کافر عورت کی
مانند نہیں ہے کیونکہ اُن کو قتل کرنا جائز نہیں۔ یہ بھی معلوم ہے کہ گالی دینا بذاتِ خود اس کو قتل کرنے کا موجب ہوا جس طرح رہزنی کر کے کسی کو قتل کرنے کی صورت میں اس کو قتل کرنا اجماعاً واجب ہے۔ زنا کرنے کی صورت میں بھی اُسے قتل کرنا واجب ہے۔ نیز مرتد ہونے کی صورت میں اس کو قتل کرنا جمہور علماء کے نزدیک واجب ہے۔
ایک سوال
اگر معترض کہے کہ ممکن ہے اس عورت کا نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو گالی دینا اُس کے جنگ کرنے کے مساوی ہو۔ ایک معاہد عورت اگر جنگ کرے تو اس کا عہد اُسی طرح ٹوٹ جاتا ہے جیسے جنگجو مرد کا عہد لڑنے سے قائم نہیں رہتا۔ اندریں صورت وہ اس عورت کی مانند ہو گی جو جنگ میں عملی حصہ لیتی ہو اور اُسے قیدی بنا لیا جائے تو حاکم کو اس کے بارے میں چار باتوں کا اختیار ہوتا ہے جس طرح یہ اختیار حاکم کو اس آدمی کے بارے میں ہوتا ہے جو لڑتا ہے اور اُسے قیدی بنا لیا جائے۔
گالی دہندہ عورت کو قتل کرنا عورتوں کو قتل کرنے کی ممانعت کے منافی نہیں
اس سوال کا جواب کئی طرح سے دیا جاتا ہے :۔
پہلا جواب
اُس عورت سے صرف یہ قصور سرزد ہوا کہ اس نے اپنے مسلم آقا کی موجودگی میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو گالیاں دیں۔ جب کہ مشرکین میں سے کوئی بھی جنگ کرنے کے لئے موجود نہ تھا۔ نہ ہی اس عورت نے کسی طرح مسلمانوں کے خلاف لڑائی میں حصہ لیا۔ ظاہر ہے کہ جو شخص نہ اپنے ہاتھ سے جنگ کرے نہ زبان سے اُس میں حصہ لے اُس کو مقاتل نہیں کہا جاسکتا۔ ہمیں اس سے انکار نہیں کہ جس کو قتل کرنا جائز نہیں مثلاً راہب، اندھا، شیخ فانی، اپاہج اور اس قسم کے لوگ جو لڑائی کے بارے میں رائے دے سکتے ہوں اور زبان سے مسلمانوں کے خلاف مدد دے سکتے ہوں تو اُن کو مقاتل تصور کیا جائے گا۔ مگر مسلمانوں کی ایک جماعت کے
نزدیک ایک عورت کا صرف رسول ہے، بلکہ یہ اللہ اور اس کے رسول اگر یہ قتل کی سزا وار نہیں تو کافر اس نے جنگ نہیں کیا۔ اور یہ بنا قتل کا موجب ضرور ہے۔ جب کہ لڑائی کرنے پر آمادہ کر رہا ہو تو ا شمار نہیں کیا جاتا۔
ہم اس با
دوسرا جواب
گالی دینا کے مترادف ہے جیسا کہ حضر عام حدود کی طرح نہیں ہے۔ اگـ معاھد گالی نکالے تو وہ محار شدید ترین قسم ہے۔ جیسا کہ قسمیں ہیں :۔
پہلی قسم وہ
نوع اوّل
غلام بنانے قیدی کو رہا کرنے سے ہوتا ہے کافر کے ساتھ ہاتھ یا زبان سے جـ کے خلاف جنگ آزما ہوں اگـ مسلمانوں سے اُسی طرح دور ہو کر کے اُن کو بلا معاوضہ چھوڑ دیا جـ بھی نمایاں ہوں، یا اُس اُمید فدیہ لیا جائے تو یہاں لڑائی کا خـ
نزدیک ایک عورت کا صرف رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو گالی دینا اس ذیل میں نہیں آتا۔ بلکہ یہ اللہ اور اس کے رسولؐ کی ایذا رسانی ہے جو بعض وجوہ سے بھی بلیغ تر ہے۔ اگر یہ قتل کی سزاوار نہیں تو کافرہ عورت کو مقاتلہ ہونے کی وجہ سے قتل کیا جانا حالانکہ اس نے جنگ نہیں کی ۔ اور یہ ناروا ہے ۔ اس سے معلوم ہوا کہ گالی دینا اگرچہ قتال نہیں، تاہم قتل کا موجب ضرور ہے ۔ جب کوئی شخص کفار کو مسلمانوں کے خلاف بھڑکا کر اُن سے لڑائی کرنے پر آمادہ کرے تو یہ بھی ایک طرح کا قتال ہے۔ اگرچہ اس کو قتال معروف شمار نہیں کیا جاتا ۔
دوسرا جواب ہم اس بات کو تسلیم کرتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو گالی دینا بعض وجوہ کے پیش نظر مسلمانوں کے خلاف جنگ پیمائی کے مترادف ہے جیسا کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے لکھا تھا کہ انبیاء کی حد شرعی عام حدود کی طرح نہیں ہے۔ اگر کوئی مسلم انبیاء کرام کو گالی دے تو وہ مرتد ہے اور اگر معاہد گالی نکالے تو وہ محارب اور عہد شکنی کرنے والا ہے۔ بلکہ یہ حرب و ضرب کی شدید ترین قسم ہے۔ جیسا کہ قبل ازیں گزر چکا ہے۔ لیکن اس کے جواب کی دو قسمیں ہیں :۔
نوع اول پہلی قسم وہ ہے جس کی خرابی گاہے قتل سے ختم ہوتی ہے اور گاہے غلام بنانے سے ۔ بعض اوقات اس کا انقطاع بلا معاوضہ قیدی کو رہا کرنے سے ہوتا ہے اور کسی فدیہ لے کر چھوڑ دینے سے ۔ اور وہ یہ ہے کہ کافر کے ساتھ ہاتھ یا زبان سے جنگ لڑی جائے ۔ اس لئے کہ حربی مرد و عورت جو مسلمانوں کے خلاف جنگ آزما ہوں اگر اُن کو قید کر لیا جائے اور وہ غلام بن جائیں تو ان کا ضرر مسلمانوں سے اُسی طرح دور ہوجائے گا جیسے ان کو قتل کرنے سے ۔ اگر ان دونوں پر احسان کرکے اُن کو بلا معاوضہ چھوڑ دیا جائے، بایں اُمید کہ مسلمان ہو جائیں گے اور اُن پر اسلامی علامات بھی نمایاں ہوں، یا اس اُمید پر کہ اسلام کو ان کے اخلاف کے شر سے بچایا جاسکے یا ان سے فدیہ لیا جائے تو یہاں لڑائی کا فساد ان امور سے زائل ہوجائے گا ۔
نوع ثانی | دوسری قسم وہ ہے جس کا فساد حد شرعی قائم کئے بغیر زائل نہ ہوتا ہو۔ مثلاً دارالاسلام میں مسلم یا معاھد پر ڈاکہ ڈالا جائے۔ ایسی صورت میں حد شرعی قائم کرنا از بس ناگزیر ہے۔ اس پر فقہاء کا اتفاق ہے جو لونڈی رسول کریم صلے اللہ علیہ وآلہ وسلم کو گالیاں دیا کرتی تھی گویا اس نے دارالاسلام میں جنگ کی۔ اگر کہا جائے کہ اُسے غلام بنا کر سزا دی جائے تو یہ لونڈی ہے جس کا حال تبدیل نہیں ہوتا۔ اور اگر کہا جائے کہ اُسے فدیہ لے کر یا بلا فدیہ رہا کیا جائے تو یہ دو وجہ سے جائز نہیں۔
- (۱) پہلی وجہ یہ ہے کہ یہ لونڈی ایک مسلم کی مملوکہ ہے، اس نے اسے اس کی زندگی
میں مسلم کی ملکیت سے نہیں نکالا جاسکتا۔
- (۲) دوسری وجہ یہ ہے کہ یہ اس لونڈی کے ساتھ احسان اور اس سے غلامی کا
ازالہ ہے۔ لہٰذا یہ اس کی زبان درازی اور جنگ آزمائی کا صلہ نہیں ہے۔ اس لئے اس کو قتل کرنا ایک طے شدہ بات ہے ۔
تیسرا جواب | گالی دینے کے فساد کا ازالہ اسی صورت میں ممکن ہے کہ اُسے قتل کیا جائے۔ اِس لئے کہ اگر اُسے زندہ رہنے دیا گیا تو وہ اور اس جیسی دیگر عورتیں گالی دینے میں دلچسپی لینے لگیں گی جو عظیم ترین فساد فی الارض اور رہزنی کرنے والے کے برابر ہے۔ برخلاف جنگجو عورت کے جسے قید کر لیا جائے۔ کہ اس کی جنگ آزمائی کا فساد اس کو قید کرنے سے زائل ہو گیا۔ غلامی کی حالت میں لڑنا اس کے لئے ممکن نہیں ۔ البتہ وہ سبّ و شتم کا اظہار کر سکتی ہے۔ بدیں وجہ اس کا گالی دینا ایسے جرائم میں سے ہے جو سزا کے موجب ہیں اور اس کی خرابی اسی صورت میں دور ہو سکتی ہے کہ اس کو شرعی سزا دی جائے ۔ اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ جو ذمی عورت رسول کریم صلے اللہ علیہ وآلہ وسلم کو گالیاں دیتی ہے اس حربی عورت کی مانند نہیں جو قید کئے جانے کی صورت میں لڑتی ہو۔ بلکہ یہ اس ذمی عورت کی طرح ہے جو راہزنی اور بدکاری کا ارتکاب کرتی ہو ۔
چوتھا جواب | واجب ہے۔ اور اصل کوئی اور حکم ہے وہ دلیل نہیں، جیسا کہ آگے آر
پانچواں جواب | کو منتخب کرنے کا اخت ضمانت کے طور پر مسلـ کی حیثیت ”فئے“ ا کی حیثیت مال غنیمت مستفاد ہوا کہ اس کو
اب یہ مسئلہ باقـ اس کے کئی جواب ہـ
وجہ اول | او اپنے غلاموں زنا کرے تو وہ اس فقہائے مـ زنا کی حد، حد قذفـ اہلِ اسلام
چوتھا جواب
اس حدیث میں ایک حکم کا ذکر کیا گیا ہے اور وہ قتل ہے جس کا سبب گالی دینا ہے۔ لہٰذا حکم کی نسبت سبب کی طرف واجب ہے۔ اور اصل چیز حکم کو ایجاد کرنا ہے۔ جو شخص یہ گمان کرتا ہے کہ سبب کوئی اور حکم ہے وہ دلیل کا محتاج ہے۔ اور اس کو قیدی عورت پر قیاس کرنا درست نہیں، جیسا کہ آگے آرہا ہے۔ اِنْ شَاءَ اللّٰہُ تَعَالٰی۔
پانچواں جواب
اگر وہ قیدی عورت کی مانند ہوتی تو اس کا اختیار حاکم وقت کو دیا جاتا اور رعیت کے کسی فرد کو امور چہارگانہ میں سے کسی ایک کو منتخب کرنے کا اختیار نہ ہوتا۔ اور جو بھی اس عورت کو قتل کرتا تو اس کی قیمت ضمانت کے طور پر مسلمانوں کو ادا کرتا۔ اور یہ اس صورت میں ہے جب کہ اس عورت کی حیثیت "فئے" (وہ مال جو لڑے بغیر کفار سے حاصل ہو) کی ہو۔ اور اگر اس کی حیثیت مالِ غنیمت کی ہو تو اس کی قیمت مجاہدین کو ادا کی جائے گی۔ اس سے مستفاد ہوا کہ اس کو قتل کرنا ایک طے شدہ بات ہے۔
حاکم وقت کا حد لگانا
اب یہ مسئلہ باقی رہا کہ کیا حدود شرعیہ صرف حاکم یا اس کا نائب قائم کر سکتا ہے؟ اس کے کئی جواب ہیں:۔
وجہ اول
اول جواب یہ ہے کہ آقا اپنے غلام پر حد قائم کر سکتا ہے۔ اس کی دلیل رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا یہ ارشاد گرامی ہے کہ اپنے غلاموں پر حدود شرعیہ قائم کیا کرو" نیز یہ کہ "جب تم میں سے کسی کی لونڈی زنا کرے تو وہ اُن پر حد قائم کرے"۔
فقہائے حدیث کے یہاں اس سلسلہ میں کوئی اختلاف نہیں پایا جاتا۔ مثلاً زنا کی حد، حدِ قذف اور شراب نوشی کی حد۔
اہلِ اسلام کے یہاں اس میں کوئی اختلاف نہیں پایا جاتا کہ آقا اپنے غلام کی تعزیر
تادیب، حد شرعی سے کم درجہ کی سزا، کر سکتا ہے۔ البتہ اس مسئلہ میں اختلاف پایا جاتا ہے کہ
اس میں اختلاف پایا جاتا ہے کہ آیا آقا غلام پر قتل یا قطع ید کی حد قائم کر سکتا ہے یا نہیں؟ ۔ مثلاً ارتداد کی وجہ، یا رسول کریم کو گالی دینے کے باعث اُسے قتل کرنا یا سرقہ کی وجہ سے ہاتھ کاٹنا۔ اس کے بارے میں امام احمد رحمۃ اللہ سے دو روایتیں منقول ہیں۔
- (۱) ایک یہ کہ یہ جائز ہے، امام شافعی سے بھی اسی طرح منقول ہے۔
- (۲) دوسری روایت یہ ہے کہ یہ جائز نہیں۔ امام شافعی کا ایک قول یہی ہے
امام مالک بھی اسی طرح فرماتے ہیں۔
حضرت ابن عمر سے بروایت صحیح منقول ہے کہ اس نے اپنے غلام کا ہاتھ چوری کرنے کی وجہ سے کاٹا تھا۔ اسی طرح حضرت حفصہ سے بسند صحیح منقول ہے کہ انہوں نے اپنی ایک لونڈی کو قتل کیا تھا جس نے سحر کا اعتراف کیا تھا۔ انہوں نے یہ سزا ابن عمر کے مشورہ سے دی تھی، اس طرح یہ حدیث اس شخص کے حق میں حجت ہے جس کے نزدیک آقا مطلقاً اپنے غلام پر حد لگا سکتا ہے۔ بنا بریں آقا اپنے غلام پر حد قائم کر سکتا ہے جیسا کہ بصراحت امام احمد سے منقول ہے۔ اور امام مالک سے بھی ایک روایت یہی ہے۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لونڈی کے آقا سے اس بات کا ثبوت نہیں مانگا تھا کہ اس نے آپ کو گالی دی ہے بلکہ آقا کے اس قول کی تصدیق کی تھی کہ ”یہ آپ کو گالیاں دیا کرتی ہے“ حدیث اس قول کے لئے بھی حجت ہے۔
وجہ دوم | اس میں زیادہ سے زیادہ بات یہ ہے کہ حاکم وقت کی اطاعت کی جاتی ہے۔ حاکم کو یہ اختیار حاصل ہے کہ جو شخص اس کی اجازت کے بغیر کسی پر حد واجب لگائے وہ اس کو معاف کر سکتا ہے۔
وجہ سوم | یہ اگرچہ حد شرعی ہے مگر اس کے ساتھ ساتھ یہ حربی کافر کو قتل
کرنے والی بات بھی ہے۔ تو گویا یہ ایک حربی کافر کو قتل کرنا ہے جس کا قتل ضروری تھا اور ایسے شخص کو قتل کرنا ہر ایک کے لئے جائز ہے۔ حضرت ابن عمرؓ کے قول کو بھی اسی پر محمول کیا جائے گا جو انہوں نے ایک راہب کے بارے میں کہا تھا جس کے بارے میں کہا گیا تھا کہ وہ رسول کریم کو گالیاں دیتا ہے حضرت ابن عمرؓ نے فرمایا ” اگر میں اس کو گالیاں دیتے سن لیتا تو اُسے قتل کر دیتا ۔“
وجہ چہارم
ایسا واقعہ عہد رسالت میں بھی پیش آیا تھا۔ ایک منافق کو حضرت عمرؓ نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اجازت کے بغیر اس لئے قتل کیا تھا کہ وہ رسول کریم کے فیصلے پر راضی نہ تھا۔ پھر قرآن مجید اترا اور اس واقعہ کی تصدیق کی ۔ اسی طرح بنت مروان کو ایک آدمی نے قتل کیا تھا اور رسول کریمؐ نے اس کا نام ”اللہ اور اس کے رسولؐ کی مدد کرنے والا“ رکھا تھا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ جو شخص اس لئے واجب القتل ہو کہ وہ دین کو بگاڑتا اور اس میں فریب دہی کا ارتکاب کرتا ہے اس آدمی کی طرح نہیں جس کو گناہ کا کام مثلاً زنا وغیرہ کی وجہ سے قتل کیا جائے ۔
جواب ششم
فقہاء نے جنگجو عورت کے بارے میں اختلاف کیا ہے جب اُسے قیدی بنایا جائے کہ آیا اُسے قتل کر سکتے ہیں یا نہیں ؟ امام شافعیؒ کا مذہب یہ ہے کہ اُسے قتل نہ کیا جائے۔ اگر اس کو اس لئے قتل کیا گیا کہ اس نے جنگ کی ہے تو پھر قید کرنے کے بعد اُسے قتل نہیں کیا جا سکتا ۔ لہٰذا ان کے اصول کے مطابق یہ سوال وارد نہیں ہوتا ۔
دلیل سوم
اگر کوئی دہندہ شخص حربی کافر کو امان دیدے یا ذمّی بنے یا مصالحت ہو جس کی وجہ سے اُس کا خون محفوظ ہوتا ۔ ظاہر ہے کہ امان کا شبہ خون کے تحفظ کے سلسلہ میں اصلی امان کی طرح ہوتا ہے ۔ اور وہ اشخاص جن کو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کعب بن اشرف کی طرف بھیجا تھا بایں طور اُس کے یہاں آئے کہ اُس سے اظہارِ محبت کریں ، اس سے بات چیت کریں اور اس کے ہمراہ چلیں ۔ وہ اپنے خون و مال کو مامون و محفوظ سمجھتا تھا۔ صحابہؓ کو کعب بن
اشرف کے مابین قبل ازیں معاہدہ تھا جس کو وہ ہنوز قائم تصور کرتا تھا۔ پھر صحابہ نے کعب سے اس بات کی اجازت طلب کی کہ اس کے سر کو لگی ہوئی خوشبو سونگھ لیں۔ کعب نے کئی دفعہ خوشبو سونگھنے کی اجازت دی۔ ان تمام باتوں سے امان کا ثبوت ملتا ہے۔ اگر گالی دینے کے معاملہ میں صرف یہ بات ہوتی کہ وہ حربی کافر ہے تو امان دینے کے بعد اس کو قتل کرنا جائز نہ تھا۔ خصوصاً جب کہ صحابہ نے کہا کہ وہ اُس پر اعتماد کرتے ہیں اور اس سے اس بات کی درخواست کی کہ وہ اس کے ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لے لیں۔ تو اس سے معلوم ہوا کہ اللہ اور اس کے رسول کو ایذا دینا قتل کا موجب ہے اور کوئی امان و عہد قتل سے بچا نہیں سکتا۔ اور یہ انہی حدود میں ہوتا ہے جو بطور خاص قتل کو واجب کرتی ہوں۔ مثلاً زنا کی حد، رہزنی اور مرتد کی حد وغیرہ۔ اس لیے کہ ان جرائم میں عقد امان درست نہیں اور اس کی وجہ سے وہ مامون نہیں ہو سکتے۔ بلکہ ان کو دھوکہ سے اچانک قتل کیا جا سکتا ہے، اس لئے کہ ان کو قتل کرنا ایک طے شدہ بات ہے۔ پس اس سے معلوم ہوا کہ رسول کریم کو دشنام دہندہ بھی انہی لوگوں میں شامل ہے۔
اس کی تائید علمائے مغازی کی اس روایت سے ہوتی ہے کہ رسول کریم نے فرمایا ۔ "اگر وہ اسی طرح بھاگ جاتا جس طرح دوسرے لوگ بھاگ گئے تھے تو اُسے دھوکے سے قتل نہ کیا جاتا۔ مگر اس نے ہمیں اذیت دی اور اشعار میں ہماری ہجو کہی تھی۔ اور تم میں سے جو بھی اس طرح کرے گا اس کو تلوار سے سزا دی جائے گی"۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ قتل کے سوا اس کی کوئی اور سزا نہیں۔
دلیل چہارم
اس کی چوتھی دلیل یہ حدیث ہے بشرطیکہ صحیح ہو۔ وہ حدیث یہ ہے :- " جو کسی نبی کو گالی دے اُسے قتل کیا جائے۔ اور جو آپؐ کے صحابہ کو گالی دے اُسے کوڑے مارے جائیں ۔" اس حدیث میں ہر دشنام دہندہ کے لئے قتل کو متعین کیا گیا ہے اور کسی
دوسری سزا کا اختیار نہیں دیا گیا۔ اس حدیث کی دلالت پر بھروسہ کیا جا سکتا ہے بشرطیکہ یہ حدیث صحیح اور محفوظ ہو ۔
دلیل پنجم
رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لوگوں کو کعب بن اشرف کو قتل کرنے کی اس لئے دعوت دی کہ وہ اللہ اور اس کے رسولؐ کو ستایا کرتا تھا ۔ اسی طرح جو شخص بھی آپؐ کو گالی دیتا یا آپؐ کی ہجو کہتا آپؐ اس کو قتل کرنے کا حکم دیا کرتے تھے ۔ ماسوا اس شخص کے جس پر قابو پانے کے بعد آپؐ اسے معاف کر دیں ۔ اور رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جس بات کا حکم دیں اس کی تعمیل واجب ہوتی ہے۔ پس اس سے معلوم ہوا کہ دشنام دہندہ کو قتل کرنا واجب ہے۔ اگرچہ دیگر محاربین کا قتل واجب نہیں ہے۔ آپؐ کی سیرت و حیات سے بھی اسی طرح معلوم ہوتا ہے۔ ایسا کبھی نہیں ہوا کہ آپؐ نے کسی گالی دینے والے کو قابو پاکر معاف کر دیا ہو۔ ماسوا اس کے جو توبہ کر لے یا منافقین میں سے ہو ۔ امر بالجہاد اور اقامت حدود کی تعمیل کے لئے یہ بات مناسب بھی ہے ، اس لئے یہ واجب ہے۔ اس کی مؤید یہ بات ہے کہ اس کو قتل نہ کرنے سے اللہ اور رسولؐ کی نصرت کا ترک لازم آتا ہے جو کہ جائز نہیں ۔
دلیل ششم
چھٹی دلیل اقاویل صحابہ ہیں کہ تعیین قتل کے سلسلہ میں وہ نص کی حیثیت رکھتے ہیں۔ مثلاً جناب فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کا یہ قول کہ :- " جس نے اللہ کو یا اس کے کسی نبی کو گالی دی اسے قتل کر دو ۔ " چنانچہ حضرت عمرؓ نے بطور خاص اس کو قتل کرنے کا حکم دیا ۔ حضرت ابن عباسؓ فرماتے ہیں :- " جو معاہد عناد رکھتا ہو اور اللہ یا اس کے کسی نبی کو گالیاں دے یا علانیہ ایسا کرے تو اس نے عہد توڑ دیا اُسے قتل کر دو۔ " تو گویا حضرت ابن عباسؓ نے گالی دینے کی صورت میں معاہد کو قتل کرنے کا حکم دیا ۔
حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے المہاجر کو اس عورت کے بارے میں لکھا تھا جس نے رسول کریم کو گالیاں دی تھیں۔ فرماتے ہیں :- "اگر وہ بات نہ ہوتی جو پہلے تم اس عورت کے بارے میں کر چکے ہو تو میں تجھے اس کے قتل کا حکم دیتا۔ اس لئے کہ انبیاء کی وجہ سے جو حد لگائی جاتی ہیں وہ عام حدود کی طرح نہیں ہوتی۔ اگر کوئی مسلم ایسا کرے تو وہ مرتد ہوگا اور اگر معاہد اس کا مرتکب ہو تو وہ محارب اور عہد شکن ہے۔"
حضرت صدیق رضی اللہ عنہ نے فرمایا "اس عورت کو قتل کرنا بطور خاص واجب تھا بشرطیکہ یہ موقع چلا نہ گیا ہوتا۔ اس میں حاکم وقت کو کوئی اختیار نہیں دیا گیا خصوصاً جب کہ دشنام دہندہ عورت ہو۔ یہ واقعہ تنہا اس کی دلیل بن سکتا ہے۔ جیسا کہ قبل ازیں بیان کیا گیا۔ اسی طرح حضرت ابن عمرؓ نے اس راہب کے بارے میں کہا تھا جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو گالیاں دیا کرتا تھا۔ "اگر میں اس کی بات سن لیتا تو اُسے قتل کر دیتا۔" اور اگر وہ راہب اس قیدی کی طرح ہوتا جس کے بارے میں حاکم کو اختیار ہوتا ہے تو ابن عمرؓ کے لئے اس کو قتل کرنا جائز نہ ہوتا اور یہ دلیل واضح ہے۔
دلیل ہفتم
جو شخص رسول کریم کو گالیاں دے کر عہد شکنی کرتا ہے تو اس کا حال اصل حربی کافر سے شدید تر ہے۔ اور جو شخص دین کو ہدف طعن بنا کر اور اللہ اور اس کے رسول کو ایذا دے کر ہمارے عہد سے نکل جائے اسے عبرت خیز سزا دینا واجب ہے۔ اس کی دلیل یہ آیت کریمہ ہے۔
اِنَّ شَرَّ الدَّوَابِّ عِنْدَ اللّٰهِ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا فَهُمْ لَا يُؤْمِنُوْنَ ه
(الانفال - ۵۵)
(اللہ کے نزدیک جو لوگ کافر ہو گئے چوپایوں کی مانند ہیں وہ ایمان نہیں لائیں گے ۔)
اس قسم کی آیات میں اللہ نے اپنے رسول کو حکم دیا ہے کہ اگر تم جنگ میں
ان لوگوں کو یا تو خود اتنی عبرت ناک سزا دیجئے کہ ان کے پچھلے بھی بھاگ جائیں ممکن ہے کہ وہ نصیحت حاصل کریں ۔ یعنی ایسا سلوک کیا جائے کہ دوسرے لوگوں کا شیرازہ ہی اس کو معلوم کر کے بکھر جائے ۔
قرآن میں فرمایا :- اَلَا تُقَاتِلُوْنَ قَوْمًا نَكَثُوْا اَيْمَانَهُمْ وَهَمُّوْا بِاِخْرَاجِ الرَّسُوْلِ وَهُمْ بَدَءُوْكُمْ اَوَّلَ مَرَّةٍ (التوبہ -۱۳)
(تم اس قوم سے کیوں نہیں لڑتے جنہوں نے اپنی قسموں کو توڑ دیا اور رسولؐ کو نکال دینے کا ارادہ کیا اور انہوں نے ہی پہلی مرتبہ اس کا آغاز کیا تھا ۔)
اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں سے لڑنے کا حکم دیا جو اپنی قسموں کو توڑتے اور رسولؐ کریم کو یہاں سے نکال دینے کا ارادہ کرتے ہیں اور انہوں نے ہی نقض عہد کا ارادہ کیا ۔ اور ظاہر ہے کہ جو شخص رسول کریمؐ کو گالیاں دیتا ہے وہ رسولؐ کو نکالنے کا ارادہ کرنے اور پہلی مرتبہ اس کا آغاز کرنے سے بھی عظیم تر جرم ہے ۔ قرآن میں مزید فرمایا :-
" ان سے لڑائی کیجئے اللہ ان کو تمہارے ہاتھ سے سزا دے گا انہیں رسوا کرے گا اور تمہیں ان پر غلبہ عطا کرے گا اور مومن قوم کے سینوں کو شفا دے گا اور تمہارے دلوں کے غصے کو دور کرے گا"۔ (التوبہ ۱۴-۱۵)
اور یہی حال ہے ان کفار کو عبرت ناک سزا دینے کا جو گالی دینے کا ارادہ رکھتے ہیں کہ یہ مقصد اسی صورت میں پوری طرح حاصل ہوتا ہے ۔ جو شخص ایک طاقتور گروہ کے اندر رہ کر عہد شکنی کرے اور ہم اُن میں سے کسی ایک کو گرفتار کر لیں تو وہ اس کے معارض نہیں کیونکہ ان کے خلاف لڑنے اور ان پر غلبہ پانے سے یہ مقصد حاصل ہو جائے گا ۔"
اس کا خلاصہ یہ ہے کہ ناقض عہد کے خلاف قتل و قتال از بس ناگزیر ہے ۔ اس لئے کہ مقصد اسی طرح حاصل ہوتا ہے ۔ اس طریقہ میں اگرچہ ہر ناقض عہد شامل ہے جو ایذاء دے کر اپنا عہد توڑتا ہے ۔ مگر یہاں اس کا ذکر خصوصی دلالت کی وجہ
سے کیا جاتا ہے ، اس لئے کہ یہ دلالت عام بھی ہے اور خاص بھی ۔
جب ذمی نبی کریم کو گالی دے گا تو اس سے دو امر ظاہر ہوں گے
دلیل ہشتم کوئی ذمی جب نبی کریمؐ کو گالی دے گا تو اس سے ایسا فعل صادر ہو گا جو دو امور کو متضمن ہو گا :-
- (۱) ہمارے اور اس کے درمیان جو عہد ہے وہ ٹوٹ جائے گا ۔
- (۲) وہ رسول کریم کی بیحرمتی کی جسارت کر کے اللہ ، اس کے رسولؐ اور
مومنوں کو ایذا دیتا اور دین کو ہدف طعن بناتا ہے ۔ اور یہ بات اس کے کافر ہونے اور محض عہد توڑنے سے بڑھ کر ہے ۔
اس کی نظیر یہ ہے کہ وہ مسلم عورت کے ساتھ زنا کرے ، رہزنی اور قتل کرے ، مسلمانوں کا مال لوٹے اور ان کو قتل کر کے عہد شکنی کا مرتکب ہو ۔ اندریں صورت اس کا فعل عہد شکنی کے علاوہ ایک اور جرم پر بھی متضمن ہے ۔ اس لئے کہ زنا ، رہزنی اور قتل بذات خود ایک جرم ہے ۔ مگر نقض عہد ایک جداگانہ جرم بھی ہے ۔ اسی طرح رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دشنام طرازی بذات خود ، نقض عہد سے ایک الگ جرم ہے اس کی ایک جداگانہ سزا ہے جو دنیا و آخرت دونوں میں دی جاتی ہے ۔ یہ سزا رسول کریمؐ کی نبوت کی تکذیب کی سزا سے ایک الگ سزا ہے ۔ اس کی دلیل مندرجہ ذیل آیات ہیں :-
"بیشک وہ لوگ جو اللہ اور اس کے رسولؐ کو ایذا دیتے ہیں ، اللہ نے ان پر دنیا اور آخرت میں لعنت کی ہے ۔ اور ان کے لئے رسوا کن عذاب تیار کیا ہے ۔"
( الاحزاب - ۵۷ )
اس آیت میں دنیا اور آخرت کی لعنت اور رسوا کن عذاب کو اللہ اور اس کے رسولؐ کی ایذا کے ساتھ وابستہ کیا گیا ہے ۔ لہذا معلوم ہوا کہ ایذارسانی ہی اس کی موجب ہے ۔
قرآن میں مزید فرمایا :۔
" اگر عہد باندھنے کے بعد اس کو توڑ ڈالیں اور دین پر طعنہ زن ہوں تو بڑے بڑے کافروں کو قتل کر دو، ان کی قسموں کا کچھ اعتبار نہیں ہو سکتا ہے کہ وہ باز آئیں۔"
(التوبہ۔ ۱۲)
مندرجہ صدر آیات کی توضیح پیچھے گزر چکی ہے۔
اس سے یہ بات کھل کر سامنے آتی ہے کہ رسول کریم جب مکہ میں داخل ہوئے تو اُن لوگوں کو امان دی جو قبل ازیں آپ سے بر سر پیکار رہا کرتے تھے۔ اور جنہوں نے آپ کے ساتھ کئے ہوئے عہد کو توڑ کر خیانت کا ارتکاب کیا تھا۔ ماسوا چند لوگوں کے جن کو آپ نے امان نہیں دی تھی۔ ان میں سے دو لونڈیاں تھیں جو آپ کی ہجو پر مشتمل گیت گایا کرتی تھیں۔ ایک عورت سارہ تھی جو بنی عبدالمطلب کی آزاد کردہ لونڈی تھی اور مکہ میں آپ کو ایذا دیا کرتی تھی۔ اندریں اثنا آپ نے ہجو گوئی کرنے والی عورتوں کو قتل کرنے کا حکم دیا۔ حالانکہ عورت کو قتل کرنا اس وقت جائز ہے جب وہ مصروف حرب و پیکار رہی ہو۔
رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے سب اہل مکہ کو امان دی۔ حتیٰ کہ ان میں وہ لوگ بھی شامل تھے جنہوں نے جنگ لڑی اور عہد شکنی کا ارتکاب کیا۔ ایسا کرنے والے مرد بھی تھے اور عورتیں بھی۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ہجو گوئی ایک ایسا جرم ہے جو تنہا وجوب قتال سے بھی بڑھ کر ہے۔ اس لئے کہ دو متماثل امور میں تفریق رسول کریم کا شیوہ نہیں ہو سکتا جیسا کہ رسول کریم نے ابن خطل کو قتل کرنے کا حکم اس لئے دیا تھا کہ اس نے ایک مسلم کو قتل کیا تھا۔ علاوہ بریں وہ مرتد تھا اور آپ کی ہجو گوئی کیا کرتا تھا۔ اور قتل، ارتداد اور ہجو گوئی میں سے ہر جرم ایسا ہے کہ یہ کفر اور جنگ لڑنے سے بھی غلیظ تر جرم ہے۔ اس کی مزید توضیح اس سے ہوتی ہے کہ آپ نے ان آدمیوں کے قتل کا حکم دیا تھا جو فتح مکہ کے بعد بھی آپ کو ستایا کرتے تھے۔ مثلاً ابن الزبعریٰ، کعب بن زہیر، حویرث بن نقیذ، ابن خطل و دیگر اشخاص۔ حالانکہ آپ نے سب شہر
والوں کو امان دے دی تھی۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ابوسفیان بن حارث کے خون کو ھدر قرار دیا تھا اور ابوسفیان اور عبداللہ بن اُمیہ کو شرف باریابی حاصل کرنے سے اس لئے منع کیا تھا کہ وہ آپؐ کی توہین کیا کرتے تھے، اسی طرح آپؐ نے قیدیوں میں سے صرف ابن ابی معیط، اور النضر بن الحارث کو قتل کرنے کا حکم دیا تھا۔ دوسرے قیدیوں کے بارے میں یہ حکم نہیں دیا تھا۔ اور جو شخص ایسے اشخاص کو قتل کرنے میں اپنی جان دے دے اُسے آپؐ اللہ اور اس کے رسول کا حامی و ناصر قرار دیتے تھے اپنے ایذا دینے والے کو آپؐ قتل کروا دیا کرتے تھے۔ فرمایا کرتے تھے : کون ہے جو مجھے میرے دشمن سے بچائے ۔ آپؐ کے صحابہؓ بھی ایسے موذی کو قتل کرنے میں تیزی سے کام لیا کرتے تھے۔ وہ اُن کا باپ یا کوئی اور ذی قرابت دار ہی کیوں نہ ہو۔ وہ اس قسم کے لوگوں پر جب قابو پاتے تو ان کو قتل کرنے کی منتیں مانتے ۔ اس ضمن میں جو کچھ پہلے ہدیۂ قلم کیا جا چکا ہے وہ عبرت پذیری کے لیے کافی ہے۔
ظاہر ہے کہ ایسے لوگ اگر عام غیر معاهد کفار کی طرح ہوتے تو آپؐ انہیں قتل نہ کرتے اور نہ ہی اُن کو قتل کرنے کا حکم دیتے، خصوصاً ایسے وقت میں جب کہ آپ نے سب لوگوں کو امان دے دی تھی اور اُن جیسے لوگوں سے اپنا ہاتھ روک لیا تھا۔
اس سے معلوم ہوا کہ گالی دینا کفر سے بڑھ کر جرم ہے۔ قبل ازیں اس پر جو کچھ لکھا گیا ہے اس سے ایک دانا آدمی مطمئن ہو جاتا ہے کہ رسول کریمؐ کو گالی دینا ایک ایسا جرم ہے جو تمام جرائم کی نسبت زیادہ گھناؤنا اور قبیح ہے۔ اور اس کا ارتکاب کرنے والا ایسی سزا کا مستحق ہوتا ہے کہ دیگر جرائم پیشہ لوگ اس کا استحقاق نہیں رکھتے۔ وہ ایسا حربی کافر ہی کیوں نہ ہو جو مسلمانوں کے ساتھ نبرد آزمائی میں مبالغہ کی حد تک منہمک ہو۔ نیز ایسے شخص سے انتقام گیری کی دین میں سخت تاکید کی گئی ہے۔ اس کا خون بہانا افضل الاعمال میں سے ہے اور
اس لائق ہے کہ اس میں مکہ یہ بلیغ ترین جہاد ہے جس دیا ہے۔ جو شخص ایسے لوگوں کو رسول کریمؐ نے فتح مکہ کے حتیٰ کہ ان میں سے بعض کو مـ فرمایا اور دوسروں کے فتـ قتال، ارتداد اور قتل ـ کو گالی دینا اور اپنی زبان سـ واضح تر دلیل اور کیا ہوسـ غلیظ تر جرم ہے۔ اور دیگـ جب اپنے عہد کو توڑ دیں سزا صرف نقض عہد ـ اور جس بات سـ بھی بڑھ کر ہے۔ اگر چـ آپؐ کو ایذا دینے والے آپؐ ان کو قتل کرنے کـ دشنام طرازی محض ا پس معلوم ہوا کہ گالی دیـ کو معاف کر سکتے ہیـ اور جس سے معلوـ اہل اسلام یا معاہدیں سے وہ اس سزا کا مـ
اس لائق ہے کہ اس میں ممکنہ سرعت و عجلت کر کے رضائے خدا وندی حاصل کی جائے۔ یہ بلیغ ترین جہاد ہے جس کو اللہ نے اپنے بندوں پر لکھ رکھا اور اُسے فرض قرار دیا ہے۔
جو شخص ایسے لوگوں کے حالات پر غور و فکر کی زحمت گوارا کرے گا جن کے خون کو رسول کریمؐ نے فتح مکہ کے دن رائیگاں قرار دیا، ان پر آپؐ سخت ناراض ہوئے حتیٰ کہ ان میں سے بعض کو حدود حرم کے اندر قتل کر دیا گیا، ان میں سے بعض سے اعراض فرمایا اور دوسروں کے قتل کے منتظر رہے، تو اس کو ایسے جرائم نظر آئیں گے جو کفر قتال، ارتداد اور قتل سے بھی قبیح تر ہوں گے۔ ان میں اکثر و بیشتر کا جرم رسول کریمؐ کو گالی دینا اور اپنی زبان کے ساتھ آپؐ کو ایذا دینا تھا۔ پس اس مسئلہ کی اس سے واضح تر دلیل اور کیا دلیل ہوگی۔ آپؐ کو گالی دینا اور آپؐ کی ہجو گوئی، کفر و قتال سے بھی غلیظ تر جرم ہے۔ اور دیگر معاصی کی طرح یہ کفر کے ضمن میں داخل نہیں ہوتا۔ نیز یہ کہ معاہدین جب اپنے عہد کو توڑ دیں اور ان میں رسول کریمؐ کے دشنام دہندگان بھی ہوں تو گالی کی سزا صرف نقض عہد سے بڑھ کر ہوگی۔
اور جس بات سے یہ ثابت ہے کہ گالی دینا ایک ایسا جرم ہے جو کفر و قتال سے بھی بڑھ کر ہے۔ اگرچہ گالی کفر و قتال پر بھی متضمن ہے ۔ وہ یہ ہے کہ رسول کریمؐ آپؐ کو ایذا دینے والے منافقین کو معاف کر دیا کرتے تھے جیسا کہ پیچھے گزرا۔ اگرچہ آپؐ ان کو قتل کرنے کے مجاز تھے جیسا کہ حضرت ابوبکرؓ کی روایت میں مذکور ہے اور اگر دشنام طرازی محض ارتداد کی ہم معنی ہوتی تو مرتد کی طرح اس کو قتل کرنا واجب ہوتا۔ پس معلوم ہوا کہ گالی دینے میں رسول کریمؐ کا حق ذاتی ہے اور اس لیے آپؐ ایسے مجرم کو معاف کر سکتے ہیں۔
اور جس سے معلوم ہوتا ہے کہ گالی دینا ایک جداگانہ جرم ہے وہ یہ ہے کہ اگر ذمی اہل اسلام یا معاہدین میں سے کسی کو گالی دے اور عہد کو توڑ ڈالے تو گالی دینے کی وجہ سے وہ اس سزا کا مستحق ہوگا جس کا مستحق وہ محض نقض عہد کی وجہ سے نہیں ہوگا۔
پس رسول کریم کو گالی دینا عام آدمی کو گالی دینے سے مختلف فعل ہوگا۔ اُس کی دلیل یہ ہے کہ دشنام دہندہ کی گالی اور ہجو سے رسول کریم کو اسی طرح الم و رنج ہوتا ہے جس طرح اس صورت میں ہوتا ہے جب کہ آپؐ کے خون اور مال میں تصرف کیا جائے ۔ اللہ تعالیٰ نے غیبت کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا :۔
أَيُحِبُّ أَحَدُكُمْ أَنْ يَأْكُلَ لَحْمَ أَخِيهِ مَيْتًا فَكَرِهْتُمُوهُ ط
کیا تم میں سے کوئی شخص پسند کرتا ہے کہ اپنے بھائی کا گوشت کھائے جب کہ وہ مرچکا ہو ، پس تم اُسے ناپسند کروگے ۔
(الحجرات ۱۲)
اس آیت کریمہ میں غیبت کو جو کہ صحیح معنی میں ایک کلام ہے اس شخص کا گوشت کھانے کے برابر قرار دیا گیا ہے جس کی چغلی کھائی گئی ، جب کہ وہ مرا پڑا ہو ۔
جب غیبت کا یہ حال ہے تو پھر بہتان طرازی کی کیا کیفیت ہوگی ؟ ظاہر ہے کہ رسول کریم کو گالی دینا بہتان طرازی کے سوا اور کیا ہے ؟ صحیح بخاری و مسلم میں رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے مروی ہے کہ آپؐ نے فرمایا :۔
” مومن پر لعنت کرنا اس کو قتل کرنے کی طرح ہے ۔“
گالی دینے سے دوسرے لوگوں کو بھی دکھ پہنچتا ہے اور جس طرح اس سے تمام مومنوں کو الم و رنج پہنچتا ہے اس سے اللہ تعالیٰ کو بھی دکھ پہنچتا ہے ۔ کفر و محاربہ سے کسی انسان کو اتنی اذیت نہیں پہنچتی جتنی اس صورت میں پہنچتی ہے جب کہ اس کے ساتھ جنگ کرنے کے ساتھ ساتھ اس کی بے عزتی بھی کی جائے ۔
اگر معترض کہے کہ جو شخص عہد شکنی کر کے رسول کریم کی بے عزتی کرے وہ اس شخص کی مانند ہے جو عہد شکنی کا مرتکب ہو ۔ تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ رسول کریم کی بے عزتی کرنا اور آپؐ کو ایذا دینا ایک ایسا جرم ہے جس کا رسول کریم کی خصوصیت اور آپؐ کی ایذا رسانی کی خصوصیت کے اعتبار سے کوئی بدلہ موجود ہی نہیں ۔ گویا یہ اسی طرح ہے جس طرح کوئی شخص کسی نبی کو قتل کردے تو اس کے قتل کی سزا اتنی شدید ہے کہ وہ کفر و محاربہ سے بھی شدید تر ہے۔ یہ ایسی کھلی ہوئی بات ہے جس میں کوئی پوشیدگی
نہیں ۔ اس لئے کہ انبیاء کا خون اور ان کی ناموس مومنین کے خون اور ناموس سے اولیٰ وا فضل ہے ۔ جب دوسرے لوگوں کی ناموس اور خون کی سزا محض نقضِ عہد کی سزا کے تحت مشتمل نہیں تو انبیاء کی ناموس اور خون کی سزا نقضِ عہد کی ذیل میں بالاولیٰ شامل نہیں ہوگی ۔
جملہ حقوق رسولِ کریم کی دشنام طرازی کیساتھ وابستہ ہیں۔
اس کی توضیح یہ ہے کہ متعدّد حقوق رسولِ کریم کی دشنام طرازی کے ساتھ وابستہ ہیں :۔
- ۱، ایک تو اللہ کا حق اس سے وابستہ ہے ۔ اس لئے کہ گالی دینے والے نے رسولِ کریمؐ
کی رسالت کا انکار کیا اور اس کے افضل ترین دوست سے اظہارِ عداوت کیا ۔ نیز اس نے رسولِ کریم کے خلاف اعلانِ جنگ کیا ۔
- ۲، اس نے اللہ کی کتاب اور اس کے دین پر طعن کیا ۔ اس لئے کہ دینِ اسلام
اور کتابِ اللہ کی حجّت کا انحصار رسالت کی حجّت پر ہے ۔
- ۳، اس نے اللہ تعالیٰ کی الوہیت کو ہدفِ طعن بنایا ۔ اس لئے کہ رسول کو ہدفِ
طعن بنانا اس کو بھیجنے والے پر طعن ہے اور رسولؐ کی تکذیب اور اس کی رسالت کا انکار اس کو بھیجنے والے کی تکذیب اور انکار ہے ۔ یہ انکار کلامِ الہٰی اس کے اوامر و اخبار اور اس کی صفات سب کے انکار پر مشتمل ہے ۔
- ۴، اس کے ساتھ اِس اُمت اور دیگر اُمَم کے سابقہ تمام مومنین کا حق شامل ہے ۔
اس لئے کہ تمام اہلِ ایمان اس پر ایمان رکھتے ہیں خصوصاً اس کی اُمت کے مومنین ، کیونکہ ان کے دین و دنیا اور آخرت کے جملہ امور اُس سے وابستہ ہیں بلکہ یوں کہئے کہ دنیا اور آخرت میں ان تک جو بھلائی پہنچتی ہے اس کی وساطت اور شفاعت کی وجہ سے پہنچتی ہے ۔ پس اس کو گالی دینا ان کے نزدیک ان کی اپنی ذات کو گالی دینے ان کے آباء و ابناء اور جمیع النّاس کو گالی دینے سے
شدید تر جرم ہے جس طرح وہ نبی، اُن کے نزدیک اُن کے نفوس، اُن کی اولاد، اُن کے آباء اور سب لوگوں کی نسبت محبوب تر ہے۔
- (۵) نیز اس کے ساتھ رسول کریم کا حق آپ کی ذات کے اعتبار سے بھی متعلق
ہے۔ اس لئے کہ کسی شخص کو جتنا دُکھ اپنی بے عزتی سے ہوتا ہے، کسی کے اُس کا مال لینے سے یا مار پیٹ سے اتنا الم و رنج اُسے نہیں ہوتا۔ بلکہ اکثر اوقات کسی کے زخمی کرنے سے بھی اتنا دکھ نہیں ہوتا۔ خصوصاً اُس شخص کے لئے جس پر اپنے نبی کے کمالِ عِزّ و شرف اور عُلُوّ مرتبت کا اظہار وجوب کا درجہ رکھتا ہو۔ اور یہ وجوب اس لئے ہے تاکہ لوگ دنیا و آخرت میں اس سے مستفید ہوں۔ نبی کی بے آبروئی بعض اوقات اس کے نزدیک اُس کو قتل کرنے سے بھی عظیم تر (جرم) ہوتا ہے۔ کیونکہ کسی نبی کو قتل کرنے سے اس کی نبوت و رسالت اور اس کی عُلُوّ مرتبت میں کچھ فرق نہیں آتا، بالکل اسی طرح جس طرح نبی کی وفات سے اس کے درجات میں کمی واقع نہیں ہوتی۔ برخلاف بے آبروئی کے کہ اس سے بعض لوگوں کے نفوس میں اس کے خلاف نفرت اور بدگمانی کے احساسات کروٹ لیتے ہیں جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ان کے ایمان میں فساد رُونما ہو کر ان کے لئے دنیا و آخرت کے خسارے کا موجب ہوتا ہے۔ پھر یہ کیونکر درست ہے کہ ایک دانش مند آدمی یہ سمجھے کہ یہ جرم اُسی نوعیت کا ہے جیسے کوئی ذمّی دارالاسلام میں سکونت گزیں ہو اور پھر وہ دارالحرب کو وطن بنالے۔ حالانکہ دارالحرب میں چلے جانا بطورِ خاص نہ تو اللہ اور اس کے رسول کا حق ہے اور نہ کسی مسلم کا۔ زیادہ سے زیادہ (اُس سے جو جرم سرزد ہوا وہ یہ ہے کہ) وہ شخص ہماری پناہ میں تھا اور اُس نے اس تحفّظ کو کھو دیا۔ ظاہر ہے کہ ایسا کر کے اس نے خود اپنی ذات کو نقصان پہنچایا ہے۔ کسی اور کو نہیں۔ اس سے یہ بات کُھل کر سامنے آئی کہ گالی دینے سے جو اذیّت اللہ، اس کے رسول اور اس کے مومن بندوں کو ہوتی ہے وہ کفر و محاربہ سے نہیں ہوتی۔ اور یہ بات محتاجِ بیان نہیں ہے۔
جب یہ بات ثابت ہو چکی تو ہم کہتے ہیں کہ یہ گالی کا جرم ہے جس کی سزا قتل ہے |
جیسا کہ رسو یہ کعب بن وہی ہے۔ اس کہ اُسے قتل ک قرار دیا تھا ف علاوہ ازیں ہے دین تھا کام لینے وال ہیں کہ آپ شتم کرے اُ جو بات یا کوڑے مار ہم تیسری قس
پہلی وجہ
یہ ایک انسا ہے کہ یہ بات کرنے پر متفق نہیں ہے۔ اِ جاتے، پھر ا تو اُس سے آ کہ سِرقہ کی وج پاس ہوتا ہے
جیسا کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ قول پہلے گزر چکا ہے کہ آپ نے فرمایا :۔ "کعب بن اشرف کا خون ذمہ دار ہے، کہ اس نے اللہ اور اس کے رسولؐ کو ایذا دی ہے ۔" اس سے معلوم ہوا کہ جس نے اللہ اور اُس کے رسولؐ کو ایذا دی اس کا حق یہ ہے کہ اسے قتل کیا جائے۔ نیز جیسا کہ پہلے گزرا کہ آپؐ نے اس عورت کے خون کو ھدر قرار دیا تھا جو گالیاں دیا کرتی تھی، حالانکہ نقض عہد کی وجہ سے کسی کو قتل نہیں کیا جاتا۔ علاوہ ازیں آپ نے گالیاں دینے والے کو قتل کرنے کا حکم دیا اور جو شخص اسی طرح کا بے دین تھا اس سے کچھ تعرض نہ کیا لوگوں کو اس کی دعوت دی اور اس میں عجلت سے کام لینے والوں کی تعریف کی۔ مزید برآں یہ حدیث مرفوع اور اقوال صحابہؓ پہلے گزر چکے ہیں کہ آپؐ نے فرمایا ۔ " جو کسی نبی کو گالی دے اُسے قتل کیا جائے اور جو غیر نبی کو سب و شتم کرے اُسے کوڑے مارے جائیں ۔"
جو بات یہاں ضروری ہے وہ یہ ہے کہ ہم کہیں کہ اس جرم کی سزا بطور خاص قتل ہے یا کوڑے مارنا یا اس کی کچھ سزا نہیں بلکہ اس کی سزا کفر و قتال کے ضمن میں داخل ہے۔ ہم تیسری قسم کا ابطال ثابت کر چکے ہیں اور دوسری قسم بوجوہ باطل ہے :۔
پہلی وجہ
اگر معاملہ یوں ہوتا تو ذمی جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو گالیاں دے کر عہد توڑتا تو چاہئے تھا کہ اسے کوڑے مارے جاتے ، اس لئے کہ یہ ایک انسان کا حق ہے۔ پھر کافر حربی کی طرح اُسے کفر کی وجہ سے قتل کیا جاتا ۔ ظاہر ہے کہ یہ بات سنت اور اجماع صحابہؓ کے خلاف ہے۔ اس لئے کہ وہ سب اس کو قتل کرنے پر متفق ہیں۔ اس سے معلوم ہوا کہ ہر دو جرائم کی سزا قتل ہے ، اور قتل میں تعدد ممکن نہیں ہے، اس طرح چاہئے تھا کہ مرتد کو رسول کریمؐ کے حق کی وجہ سے کوڑے مارے جاتے ، پھر ارتداد کی وجہ سے اُسے قتل کیا جاتا ۔ جس طرح وہ مرتد جو کسی مسلمان کو گالی دے تو اس سے آدمی کا حق وصول کیا جاتا ہے ، پھر اُسے قتل کر دیا جاتا ہے۔ تم دیکھتے نہیں کہ سرقہ کی وجہ سے چور کا ہاتھ کاٹا جاتا ہے جو اللہ کا حق ہے اور چُرایا ہوا مال جو اس کے پاس ہوتا ہے اُسے بالاتفاق واپس کر دیا جاتا ہے اور اگر تلف ہو گیا ہو تو اکثر فقہا
کے نزدیک اس کا تاوان ادا کیا جاتا ہے۔ اور انسانوں کے حقوق ، حقوق اللہ میں باطل نہیں ہوتے بشرطیکہ سبب ایک ہو۔
دوسری وجہ
اگر اس کی سزا قتل نہ ہو بلکہ اُس کو مرتد ہونے کی وجہ سے قتل کیا جاتا ہو تو رسول کریم کے لئے اُسے معاف کرنا جائز نہیں ۔ اس لئے کہ مرتد پر حد لگانا بالاتفاق واجب ہے اسے معاف کرنا جائز نہیں۔ جب ایک جرم میں رسول کریم نے اُسے معاف کر دیا تو معلوم ہوا کہ گالی رسول کریم کا حق ہونے کی وجہ سے قتل کی موجب ہے اور اس میں اللہ کا حق بھی داخل ہے۔ رسول کریم کو گالی دینے والا اور آپ پر بہتان لگانے والا کسی اور کو گالی دینے والے اور بہتان لگانے والے کی مانند ہوگا۔ آپ کو گالی دینے میں دو حق جمع ہوگئے۔ (۱) ایک اللہ کا حق (۲) آدمی کا حق جس کو گالی دی گئی اور جس پر بہتان لگایا گیا اگر اپنا حق معاف بھی کر دے تو گالی دہندہ اور قاذف کو اللہ کے حق کی وجہ سے سزا نہیں دی جائے گی۔ کیونکہ وہ بھی معافی میں داخل ہے۔ اسی طرح رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اگر اپنی گالی کو معاف کر دیں تو اللہ کا حق بھی معاف ہو جائے گا اور کفر کی وجہ سے اُسے قتل نہیں کیا جائے گا۔ جس طرح کسی اور کو گالی دینے والے کو معصیت کی وجہ سے سزا دی جاتی ہے۔ حالانکہ جو معصیت حقوق العباد سے خالی ہو تعزیر کی موجب ہے۔
اس کی توضیح اس بات سے ہوتی ہے کہ آپ گالی دینے والے کو قتل کرنے کے مجاز تھے جیسا کہ حضرت ابوبکر صدیقؓ کی روایت میں ہے اور جیسا کہ اس حدیث میں ہے کہ ایک شخص نے آپ پر جھوٹ باندھا تھا اور آپ نے اس کو قتل کرنے کا حکم دیا۔ نیز جیسا کہ شعبی کی روایت میں خارجی کو قتل کرنے کا ذکر ہے اور جیسا کہ سابق الذکر روایات سے واضح ہوتا ہے کہ آپ ایسے شخص کو معاف کر سکتے ہیں۔ مزید برآں حضرت ابن مسعودؓ ، ابو سعیدؓ ، جابرؓ اور دیگر صحابہؓ کی روایات سے بھی اسی طرح ثابت ہوتا ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ رسول کریم کو گالی دینا قتل کا موجب ہے جس طرح کسی اور کو گالی دینے سے کوڑوں کا مارنا واجب آتا
ہے ۔ اگرچہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو گالی دینا کفر باللہ کا موجب ہے جس طرح دوسروں کو گالی دینا اللہ کی نافرمانی کا موجب ہے ۔ بدیں طور کفر اور قتال کی دو قسمیں ہوں گی ۔
- (۱) ایک تو وہ جو خالص اللہ کا حق ہے ۔
- (۲) دوسرا وہ جس میں حق اللہ اور حق الانسان دونوں شامل ہیں۔
اسی طرح معصیت کی بھی دو قسمیں ہیں ۔
- (۱) ایک قسم کی معصیت وہ ہے جو خالص اللہ کا حق ہے
- (۲) دوسری وہ جو اللہ کا حق بھی ہے اور انسان کا بھی ۔ کفر و قتال کی یہ نوع اس
ضمن میں ان انواع کی مانند ہے کہ اُن کا فاعل قتل کا مستحق ہے مگر وصولی کے اعتبار سے ان سے مختلف ہے اس لئے کہ اُن میں سزا آدمی دیتا ہے ۔ جس طرح تہمت جو غیر نبی کے حق میں ہوتی ہے اس امر میں دیگر معاصی کی مانند ہے کہ اس کے فاعل کو کوڑے مارے جاتے ہیں ۔ اور دیگر معاصی سے اس طرح مختلف ہے کہ اس کو وصول کرنا آدمی کے ذمے ہے۔
اس کی مزید توضیح اس سے ہوتی ہے کہ انسان پر جو حق واجب ہوتا ہے کبھی تو وہ محض اللہ کا حق ہوتا ہے ۔ اور وہ اس صورت میں جب کہ کفر و معصیت کا ارتکاب اس انداز سے کرے کہ مخلوق میں سے کسی کو دکھ نہ پہنچے ۔ تو اس صورت میں جو حد واجب ہوتی ہے اُسے کسی صورت میں معاف نہیں کیا جاسکتا ۔ اور گاہے یہ حق محض کسی انسان کا ہوتا ہے۔ جیسے کسی کا قرض دوسرے انسان کے ذمے واجب الادا ہوتا ہے مثلاً کسی خرید کردہ کتاب کی قیمت یا قرض کا بدل اور اس قسم کا قرض جو مباح طریقے سے کسی پر واجب ہوتا ہے ۔ اس صورت میں کسی قسم کی کوئی سزا نہیں ۔ البتہ اگر قرض ادا کرنے سے منکر ہو تو اس کی سزا دی جائے گی۔ اس لئے قرض ادا کرنے سے انکار معصیت پر مبنی ہے ۔ بعض اوقات یہ بات حقوق اللہ اور حقوق العباد دونوں پر مشتمل ہوتی ہے۔ مثلاً حد قذف و قصاص ، گالی کی سزا وغیرہ ۔ ان امور میں حد و تعزیر دونوں قسم کی سزا
دی جاتی ہے۔ یہ سزا دینے کا اختیار آدمی کو تفویض کیا گیا ہے۔ اگر چاہے تو قصاص لے لے اور حد قذف اس پر عائد کرے اور اگر چاہے معاف کردے۔
پس رسول کریم کو گالی دینا اگر قسم ثانی میں شامل ہے تو اس میں کسی صورت میں بھی کوئی سزا نہیں۔ لہٰذا یہ طے ہوا کہ یہ تیسری قسم میں شامل ہے۔ اور یہ بات ثابت ہوچکی ہے کہ اس کی سزا قتل ہے۔ اس سے مستفاد ہوا کہ رسول کریم کو گالی دینا ایک انسان کا حق ہے جس کی سزا قتل ہے۔ جس طرح کسی اور کو گالی دینا ایک انسان کا حق ہے جس کی سزا کوڑے مارنا ہے۔ اور یہ سزا اُسے بطورِ حد شرعی کے دی جاتی ہے یا بطور تعزیر کے اور یہ بات نہایت صحیح اور واضح ہے۔
اس کا ضابطہ یہ ہے کہ جب دو حق جمع ہو جائیں تو اس میں سزا کا دینا از بس ناگزیر ہے۔ اس لئے کہ اللہ کی نافرمانی دُنیا یا آخرت میں سزا کی موجب ہے۔ جب اس کی وصولی کا حق تعالیٰ نے مستحق انسان کو دیا ہے۔ اس لئے کہ اللہ تمام شرکاء کی نسبت اشتراک سے بے نیاز ہے۔ لہٰذا جس نے کوئی کام کیا اور اس میں کسی اور کو شریک کر لیا تو وہ سب اسی کا ہے جس کو شریک کیا۔ اسی طرح جس نے کوئی ایسا کام کیا جس میں غیر اللہ کو سزا دینے کا حق ہے تو اس کی تمام سزا غیر اللہ کے حصہ میں ہوگی۔ اور معصیت خداوندی پر جو سزا اُسے دی جائے گی اس کا مقصد یہ ہو گا کہ یہ شخص سزا دینے پر قادر ہوسکے۔ اس کے مفہوم کی تکمیل یہ ہے کہ یوں کہا جائے کہ رسول کریم کی وفات کے بعد اس کی سزا صرف قتل ہے۔ اس لئے کہ جس کی وجہ سے یہ سزا دی جاتی تھی (وفات کے بعد) اس سے معافی کی درخواست نہیں کی جاسکتی۔ مثلاً اگر کوئی شخص کسی فوت شدہ مسلم کو گالی دے تو اس پر تعزیر واجب ہے، اس لئے کہ اس نے معصیت کا ارتکاب کیا۔ اور اگر گالی کسی زندہ کو دی جائے تو معافی طلب کئے بغیر اس کے مرتکب کو سزا نہیں دی جائے گی۔
رسول کریم کو گالی دینا عام لوگوں کو گالی دینے کی مانند نہیں !
تیسری وجہ | رسول کریم کی شان میں دشنام طرازی ایک عام مومن کو گالی دینے
اختیار آدمی کو تفویض کیا گیا ہے۔ اگر چاہے تو قصاص لے نہ کرے اور اگر چاہے معاف کردے۔ یا اگر قسم ثانی میں شامل ہے تو اُس میں کسی صورت میں بھی کوئی سزا قسم میں شامل ہے۔ اور یہ بات ثابت ہوچکی ہے کہ اس کی وجہ یہ کہ رسول کریم کو گالی دینا ایک انسان کا حق ہے جس ہے اور کسی کو گالی دینا ایک انسان کا حق ہے جس کی سزا کوڑے بطور حد شرعی کے دی جاتی ہے یا بطور تعزیر کے اور ہے۔
جب دو حق جمع ہو جائیں تو اُس میں سزا کا دینا از بس ناگزیر یا دُنیا یا آخرت میں سزا کی موجب ہے جب اس کی ہولی دلیل ہے۔ اس لئے کہ اللہ تمام شرکاء کی نسبت اشتراک سا نے کوئی کام کیا اور اُس میں کسی اور کو شریک کر لیا شریک کیا۔ اسی طرح جس نے کوئی ایسا کام کیا جس میں تو اس کی تمام سزا غیر اللہ کے ہاتھ میں ہوگی۔ اور معصیت ملے گی اُس کا مقصد یہ ہوگا کہ یہ شخص سزا دینے پر دلیل یہ ہے کہ یوں کہا جائے کہ رسول کریم کی وفات کے اُس لئے کہ جس کی وجہ سے یہ سزا دی جانی تھی (وفات ر است نہیں کی جاسکتی۔ مثلاً اگر کوئی شخص کسی پوشیدہ یا جب ہے ، اس لئے کہ اس نے معصیت کا ارتکاب یائے تو معافی طلب کئے بغیر اس کے مرتکب کو سزا
عام لوگوں کو گالی دینے کی مانند نہیں !
شان میں دشنام طرازی ایک عام مومن کو گالی دینے
کی طرح نہیں۔ اس لئے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عام حقوق اور فرائض و محرمات میں عام مومنین کی طرح نہیں ہیں۔ مثلاً یہ کہ آپؐ کی اطاعت و محبت واجب ہے اور آپؐ کی محبت تمام لوگوں کی محبت سے مقدم ہے۔ نیز یہ کہ اکرام و احترام میں کوئی شخص آپؐ کا سہیم و شریک نہیں ہے آپؐ پر صلوٰۃ و سلام بھیجنا واجب ہے اور اس قسم کے ان گنت خصوصیات و مميزات۔ آپؐ کو گالی دینا اللہ، اس کے رسولؐ اور اس کے مومن بندوں کے لئے ایذا کا موجب ہے۔ اس سلسلہ میں جو بات کم از کم کہی جاسکتی ہے۔ وہ یہ ہے کہ آپؐ کو گالی دینا کفر و قتال کا موجب ہے۔ جب کہ دوسروں کو گالی دینا صرف گناہ اور معصیت کا آئینہ دار ہے۔
ظاہر ہے کہ سزا بقدر جرم دی جاتی ہے۔ اگر آپؐ کو گالی دینا اور دوسروں کو گالی دینا دونوں کی نوعیت یکساں ہوتی تو اس کا مطلب یہ ہوتا کہ گالی کی دو متباین النوع کو برابر کر دیا گیا جو کہ ناروا ہے۔ اگر کسی اور گالی دینا معصیت ہونے کے علاوہ کوڑے مارنے کا موجب بھی ہوتا تو اس کا مطلب یہ ہوتا کہ آپؐ کو گالی دینا کفر کے ساتھ ساتھ قتل کا موجب بھی ہے۔ اور من وجہ کفر کے انواع میں سے ایک نوع ہونے کے علاوہ من وجہ گالی کے انواع میں سے بھی ایک نوع ہوتی۔ کفر کی جنس ہونے کے اعتبار سے یہ قتل کی موجب ہوتی اور گالی کی ایک نوع ہونے کے لحاظ سے آدمی کا حق ہوتا ۔
رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اُن میں سے کسی کو بھی قتل کے
وجہ چہارم
سوا دوسری کوئی سزا نہ دی۔ اور اگر گالی تنہا قتل کی موجب نہ ہوتی، بلکہ اس کی سزا قتل سے کم درجہ کی ہوتی اور رسول کریمؐ قتل سے کم درجہ کی سزا معاف کر دیا کرتے تھے اور اس کے مرتکب کو امان دیتے تھے تو اس کے فاعل کو قتل نہ کیا جاتا۔ اس لئے کہ جس دین سے آپؐ وابستہ تھے وہ اس کو قتل کرنے کی اجازت نہیں دیتا ۔
ایک سوال
اگر معترض کہے کہ پھر دشنام دہندہ کو قتل کرنا دو (جرموں) کے مجموعے کا نتیجہ ہے ۔
ہم اس کے جواب میں کہیں گے کہ یہی ہمارا مقصود ہے۔ اس لئے کہ گالی جب کفر کو مستلزم ہے تو اس کے مرتکب کو معاہد نہیں بنا سکتے ہیں۔
رسول کی دشنام طرازی ارتداد سے بڑا جرم ہے
دلیل نہم
رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو گالی دینا ، کفر و قتال کی جنس میں سے ہونے کے باوصف ، تنہا ارتداد سے بھی عظیم تر جرم ہے۔ اس لئے کہ ایک مسلم کا رسول کریم کو گالی دینا ارتداد بھی ہے اور اس سے بڑھ کر جرم بھی۔ جب دین میں داخل ہو کر اُس سے نکل جانے کی وجہ سے مرتد کا کفر دوبالا ہوگیا ہے تو اس کا قتل کرنا عین واجب ہے۔ بنا بریں دشنام دہندہ جس نے اللہ ، اس کے رسول اور اس کے تمام مومن بندوں کو اذیت دی اُس کے کفر کا شدید تر ہونا اولیٰ ہے اور اس لئے متعین طور پر قتل کا مستحق ہے۔ اس لئے کہ کفر کے انواع میں گالی کا فساد ارتداد سے بھی عظیم تر ہے۔
مرتد عورت کے قتل کرنے کے بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے۔ مگر مذہب مختار یہی ہے کہ اسے جہنم رسید کیا جائے ۔
قبل ازیں ہم گالی دہندہ ذمی و غیر ذمی عورت کو قتل کرنے کے بارے میں رسول کریم اور صحابہؓ کے اقوال و ارشادات نقل کر چکے ہیں۔ اور جس مرتد آدمی سے توبہ کا مطالبہ کیا جائے اس کا حکم بھی یہی ہے۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور آپ کے صحابہؓ دشنام دہندہ کو قتل کر دیا کرتے تھے اور اس سے توبہ کا مطالبہ نہ کرتے۔ اس سے معلوم ہوا کہ دشنام دہندہ کا کفر شدید تر ہے، اس لئے اس کو متعین طور پر قتل کرنا اولیٰ ہے۔
کرۂ ارضی کو رسول کریم کو گالی دینے سے پاک کرنا بقدر امکان واجب ہے
دلیل دہم
رُوئے زمین کو سَبِّ رسول کے اظہار سے پاک کرنا بقدر امکان واجب
میں کہیں گے کہ یہی ہمارا مقصود ہے۔ اس لئے کہ گالی جب کفر کے مرتکب کو معاهد نہیں بنا سکتے ہیں۔
دشنام طرازی ارتداد سے بڑا جرم ہے
کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو گالی دینا، کفر و قتال کی جنس میں سے کے باوصف ، تنہا ارتداد سے بھی عظیم تر جرم ہے۔ اس لئے کہ لی دینا ارتداد بھی ہے اور اس سے بڑھ کر جرم بھی ۔ جب دین میں جانے کی وجہ سے مرتد کا کفر دو بالا ہو گیا ہے تو اس کا قتل کرنا میں دشنام دہندہ جس نے اللہ، اس کے رسولؐ اور اس کے ت دی اُس کے کفر کا شدید تر ہونا اولیٰ ہے اور اس لئے متعین اس لئے کہ کفر کے انواع میں گالی کا فساد ارتداد سے بہت کرنے کے بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے ۔ مگر مذہب ر رسید کیا جائے ۔ دہندہ ذمی وغیر ذمی عورت کو قتل کرنے کے بارے میں رسول کریمؐ شادات نقل کر چکے ہیں ۔ اور جس مرتد آدمی سے توبہ کا مطالبہ ہی ہے۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور آپ کے س کر دیا کرتے تھے اور اس سے توبہ کا مطالبہ نہ کرتے۔ اس دہندہ کا کفر شدید تر ہے، اس لئے اس کو متعین طور
کو گالی دینے سے پاک کرنا بقدر امکان واجب ہے
ن کو سبّ رسول کے اظہار سے پاک کرنا بقدر امکان واجب
اس لئے کہ یہ بات غلبۂ دین کی تکمیل، اعلاء کلمۃ اللہ اور دین کے اللہ کیلئے خالص ہونے کا لازمی عنصر ہے ۔ اگر علانیہ رسولِ کریمؐ کو گالی دی جائے اور اس کے مرتکب سے انتقام نہ لیا جائے تو دین کا غلبہ باقی نہیں رہے گا اور اللہ کا کلمہ بلند نہیں ہوگا۔ یہ اسی طرح ضروری ہے جس طرح کرۂ ارضی کو زانیوں ، چوروں اور رہزنوں سے بقدرِ امکان پاک کرنا ضروری ہے ۔ اگرچہ رُوئے زمین کو اصل کفر سے پاک کرنا واجب نہیں ۔ اور دونوں قسم کے اہل کتاب (یہود و نصاریٰ) کو ذمّی کی حیثیت سے اپنے مذہب پر قائم رہتے ہوئے یہاں رہنے کی اجازت دینا جب کہ وہ اللہ اور اس کے رسولؐ کے احکام کی پابندی کرتے ہوں ۔ اظہارِ دین اور اعلاء کلمۃ اللہ کے منافی نہیں ۔ کافر سے مصالحت کرنا اور عاجزی کی صورت میں یا متوقع مصلحت کے پیشِ نظر اس کو امان دینا جائز ہے۔ اور جس جرم سے زمین کو پاک کرنا بقدرِ امکان واجب ہے اس کے فاعل کو شریعت میں مقرر کردہ سزا دینا، جب کہ دوسرا کوئی حاکم اس پر متعین نہ ہو ضروری ہے ۔ پس اس آدمی کو قتل کرنا ہی ایک طے شدہ امر ہے ۔ کیونکہ اس جرم کی باز پرس کرنے والا دوسرا کوئی نہیں ۔ اس لئے کہ اللہ، اس کے رسولؐ اور تمام مومنین کا حق اس سے وابستہ ہے ۔ بایں طور دشنام دہندہ اور کافر کا فرق اس سے واضح ہوتا ہے ۔ کیونکہ یہ ممکن ہے کہ کافر پوشیدہ طور پر اپنے کفر پر قائم رہے ، جب کہ وہ اللہ اور اس کے رسولؐ کے احکام کا پابند بھی ہو ۔ بخلاف اس شخص کے جو علانیہ گالی دینے کا مرتکب ہوتا ہو ۔
رسولِ کریمؐ کے دشنام دہندہ کو قتل کرنا حدودِ شرعیہ میں سے ہے
گیارہویں دلیل | رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے گالی دہندہ کو قتل کرنا اگرچہ ایک کافر کا قتل ہے تاہم وہ حدودِ شرعیہ میں سے ہے۔ اور محض کفر و قتال کی وجہ سے قتل کرنا نہیں ہے ۔ جیسا کہ سابق الذکر احادیث سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ ایک ایسا جرم ہے جو کفر و قتال سے بھی بڑھ کر ہے ۔
نیز یہ کہ رسول کریم اور صحابہؓ نے ایسے شخص کو قتل کرنے کا حکم دیا ہے، جب کہ کفر و قتال کی یہ سزا نہیں ہے ۔ اور حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا یہ قول اس عورت کے بارے میں پہلے گزر چکا ہے جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو گالیاں دیا کرتی تھی ۔
حضرت صدیقؓ نے فرمایا :۔ " انبیاء کی حد دیگر حدود کی طرح نہیں ہے "
ظاہر ہے کہ حربی قیدی اور اس قسم کے کفار اور محاربین کے قتل کرنے کو حد نہیں کہا جاتا۔ نیز اس لئے کہ دارالاسلام میں رسول کریم کو علانیہ گالی دینا عظیم فساد اور بہت سے جرائم سے عظیم تر ہے ۔ لہٰذا اس کے لئے ایک ایسی سزا کا مقرر کرنا جو اس کے ارتکاب سے باز رکھنے والی ہو از بس ناگزیر ہے ۔ اس لیے کہ شارع ایسے مفاسد کی کھلی اجازت نہیں دیتا اور اس کو موانع و عوائق سے خالی نہیں رکھتا۔ اور اجماع وسنت کی روشنی میں ثابت ہو چکا ہے کہ اس کی سزا قتل ہے اور یہ کسی معین زندہ آدمی کے ساتھ زیادتی کرنے کی سزا نہیں ہے ۔ بلکہ یہ اللہ، اس کے رسولؐ اور ہر مومن کا حق ہے جو اس وقت سامنے موجود نہیں اور جو حد ایسی ہو اس کو بالاتفاق قائم کرنا ضروری ہے ۔
رسول کریمؐ کا اکرام و احترام واجب ہے
بارھویں دلیل
رسول کریمؐ کی نصرت واعانت اور اکرام و احترام واجب اور آپؐ کے دشنام دہندہ کو قتل کرنا واجب ہے۔ اگر ایسے آدمی کو قتل نہ کیا جائے تو یہ آپؐ کی تائید و نصرت اور توقیر نہیں بلکہ یہ آپؐ کی تذلیل ترین صورت ہے ۔ اس لئے کہ گالی دینے والا ہمارے قبضہ میں ہے اور ہمیں اس پر قدرت حاصل ہے ۔ اگر ہم اسے قتل نہ کریں — حالانکہ اس کو قتل کرنا جائز ہے — تو یہ حد درجہ کی رسوائی اور تحقیر و تذلیل ہے۔ اور یہ بات بڑی واضح ہے ۔
واضح رہے کہ اس مسئلہ کی توضیح کے کچھ اور طریقے بھی ہیں جو ہمارے بیان کردہ طرق سے مختلف ہیں۔ ہم نے یہاں طوالت سے اس لئے کام نہیں لیا کہ پہلے مسئلہ میں ذکر کردہ دلائل غور کرنے والے کے لئے اس کے وجوب قتل پر دلالت کرتے ہیں ۔ بنا بریں ہم نے وہاں جو دلائل ذکر کئے تھے اس پر اکتفا کیا ۔ اگرچہ پہلے مسئلہ میں ہمارا مقصد اس کے قتل کا مطلق جواز تھا جب کہ یہاں اس کے وجوب قتل علی الاطلاق کا بیان پیش نظر ہے ۔ وہاں ہم نے اُن لوگوں کے بارے میں لکھا تھا جن گالی دینے والے اہل کتاب اور مشرکین کو قتل نہیں کیا تھا۔ ہم نے بیان کیا تھا کہ یہ آغاز اسلام میں تھا جب کہ آپؐ کو عفو و درگزر کا حکم دیا گیا تھا ۔ اس وقت تک آپؐ کو اہل کتاب سے لڑنے کا حکم نہیں دیا گیا تھا بلکہ فرمایا گیا تھا کہ اُن سے جزیہ قبول کریں اور کفّار و منافقین کے خلاف جہاد کریں ۔ اس وقت آپؐ گالی دینے والے کو معاف کرنے کے مجاز تھے ۔ اس لئے کہ یہ جرم زیادہ تر آپؐ کے حق سے متعلق تھا۔ اور آپؐ کی وفات کے بعد اس کو کوئی معاف نہیں کر سکتا ۔ واللہ اعلم :
مسئلہ سَوُم
گالی دہندہ مسلم ہو یا کافر اُسے قتل کیا جائے اور اُس سے توبہ کا مطالبہ کیا جائے ۔
حنبلؒ کی روایت کے مطابق امام احمد رحمۃ اللہ نے فرمایا ۔ ”جو شخص بھی رسول کریم کو گالی دے اور آپؐ کی تحقیر کرے وہ مسلم ہو یا کافر اُسے قتل کیا جائے میرا خیال ہے کہ اُسے قتل کیا جائے اور اس سے توبہ کا مطالبہ نہ کیا جائے ۔ فرماتے ہیں کہ جو شخص عہد توڑے اور اسلام میں نئی بات ایجاد کرے میں سمجھتا ہوں کہ اُسے قتل کیا جائے اُن سے عہد و پیمان اس لئے نہیں کیا گیا تھا کہ ایسے کام کریں “
عبداللہ بن امام احمدؒ کہتے ہیں کہ میں نے اپنے والد سے اس شخص کے بارے میں دریافت کیا ”جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو گالی دے تو آیا اس سے توبہ کا مطالبہ کیا جائے ۔ انہوں نے فرمایا : ”قتل اُس پر واجب ہو چکا ہے لہٰذا توبہ کا مطالبہ نہ کیا جائے “ حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے ایک شخص کو قتل کیا جس نے رسول کریمؐ کو گالی دی تھی اور اس سے توبہ کا مطالبہ نہ کیا ۔ امام احمدؒ نے صراحت کی ہے کہ اگر ایسا شخص مسلم ہو تو وہ مرتد ہو گیا ۔ اور اگر ذمی تھا تو اس نے اپنا عہد توڑ دیا۔ انہوں نے اپنے تمام جوابات میں علی الاطلاق فرمایا کہ اُسے قتل کیا جائے اور توبہ طلب کرنے کا حکم نہیں دیا ۔ دوسری جگہ ان کے الفاظ یہ ہیں کہ محض مرتد سے تین مرتبہ توبہ کا مطالبہ کیا جائے ۔ الاّ یہ کہ اس کی ولادت فطرت پر ہوئی ہو ۔ امام احمدؒ سے مروی ہے کہ اُسے قتل کیا جائے ۔ اور اس سے توبہ کا مطالبہ نہ کیا جائے ۔
امام احمدؒ سے مشہور روایت یہ منقول ہے کہ تمام مرتدین سے توبہ کا مطالبہ کیا جائے
توبہ کا مطالبہ کرنے میں انہوں نے حضرت عمر، عثمان، علی، ابن مسعود، ابو موسیٰ اور دیگر صحابہ رضوان اللہ علیہم کی روایات صحیحہ کی پیروی کی ہے۔ کہ انہوں نے متعدد مقامات میں مرتد سے توبہ کا مطالبہ کیا۔ حضرت عمرؓ کا اثر ہے کہ تین مرتبہ ایسا ہوا۔ امام احمدؒ نے رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ارشادِ گرامی :-
- جو شخص اپنا دین تبدیل کرے اُسے قتل کر دو۔"
مرتد سے توبہ کا مطالبہ کرنے کا حکم !
کی یہ تشریح کی ہے کہ اس سے وہ شخص مراد ہے جو دین کو تبدیل کر کے اس پر قائم ہو جائے۔ اگر توبہ کرے تو وہ دین کو تبدیل کرنے والا نہیں ہوگا۔ یعنی وہ یوں کہے کہ میں مسلمان ہوں۔ رہا یہ سوال کہ آیا مرتد سے توبہ کا مطالبہ کرنا واجب ہے یا مستحب ؟ اس کے بارے میں امام احمد سے دو روایتیں منقول ہیں۔ ان میں الخرقی کا قول بلا قید و شرط یہ ہے کہ جو شخص رسول کریم کی والدہ پر بہتان لگائے اُسے قتل کیا جائے مسلم ہو یا کافر، ابوبکر نے علی الاطلاق کہا کہ رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے گالی دینے والے کو قتل کیا جائے۔ دیگر علماء کا قول بھی یہی ہے۔ حالانکہ مرتد کے بارے میں وہ یہ کہتے ہیں کہ جب تک اُس سے توبہ کا مطالبہ نہ کیا جائے اُسے قتل نہ کیا جائے۔ اگر گالی دینے سے توبہ کر لے یعنی اسلام لے آئے یا کافر ہو اور دوبارہ ذمی بن جائے، یا مسلم ہو اور دوبارہ اسلام کی طرف لوٹ آئے اور دشنام طرازی سے باز رہے۔ تو ہمارے اصحاب میں سے القاضی کہتے ہیں کہ ارتداد کا مطلب شعائرِ دین سے انکار کرنا ہے یا اشارۃً اللہ تعالیٰ اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو گالی دینا۔ البتہ امام احمدؒ فرماتے ہیں کہ رسول کریم کو گالی دینے والے کی توبہ قبول نہ کی جائے، اس لئے کہ اس سے رسول کریمؐ کو عار لاحق ہوتی ہے۔ ابن عقیل کا قول بھی یہی ہے۔ ہمارے اصحاب سبِ رسول کے بارے میں کہتے ہیں کہ ایسے شخص کی توبہ قبول نہ کی جائے کیونکہ گالی دینے سے رسول کریم کی زندگی داغدار ہوتی ہے۔ نیز دشنام طرازی ایک آدمی کا حق ہے جس کے بارے
معلوم نہیں کہ اس نے اُسے معاف کیا ہے یا نہیں۔
دشنام دہندہ کو توبہ طلب کئے بغیر قتل کرنے کے دلائل !
القاضی اور ان کے بیٹے ابوالحسین کہتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو گالی دینے والے کو قتل کیا جائے اور اس کی توبہ قبول نہ کی جائے ، خواہ وہ مسلم ہو یا کافر۔ احمد نے تصریح کی ہے کہ ایسا شخص ناقض عہد ہے۔ پھر سابق الذکر قاضی صاحب نے امام احمد کی تصریحات نقل کی ہیں کہ اُسے قتل کیا جائے اور اس سے توبہ کا مطالبہ نہ کیا جائے۔ اس لئے کہ وہ واجب القتل ہے۔ القاضی فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حق کے ساتھ دو حق وابستہ ہوتے ہیں ۔ ایک اللہ کا حق اور دوسرا انسان کا حق ۔ اور سزا کے ساتھ جب اللہ اور بندوں کا حق وابستہ ہو تو وہ توبہ کرنے سے ساقط نہیں ہوتا۔ مثلاً محاربہ کی حد کہ اگر وہ قابو میں آنے سے پہلے توبہ کرلے تو بندوں کا حق جو کہ قصاص ہے ساقط نہیں ہوگا۔ البتہ اللہ کا حق ساقط ہوجائے گا ، ابو المواہب العکبری فرماتے ہیں :-
" رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر بہتان لگانے سے حد مغلظ واجب ہوتی ہے جو کہ قتل ہے ، خواہ توبہ کرے یا نہ کرے اور خواہ وہ ذمی ہو یا مسلم ۔"
ہمارے اصحاب کی دیگر جماعتوں نے کہا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دشنام دہندہ کو قتل کیا جائے اور اس کی توبہ قبول نہ کی جائے ، خواہ وہ مسلم ہو یا کافر۔ عدم قبول توبہ سے ان کی مراد یہ ہے کہ توبہ کرنے سے قتل ساقط نہ ہوگا ۔
اور توبہ ایک جامع اسم ہے جس کا مطلب اسلام لا کر گالی سے رجوع کرنا ہے یا اسلام لائے بغیر۔ اسی لئے انہوں نے یہ لفظ استعمال کیا اور یہ مراد لی ہے کہ اگر اسلام لاکر گالی سے رجوع کرلے یا گالی سے باز رہے اور پھر ذمی بن جائے — اگرچہ پہلے ذمی ہو — تو قتل اس سے ساقط نہیں ہوگا۔ اس لئے کہ ان میں سے عام لوگوں نے جب یہ مسئلہ ذکر کیا تو کہا ہے کہ امام شافعی اور ابو حنیفہ کا قول اس کے خلاف ہے
وہ فرماتے ہیں کہ اگر وہ مسلم ہو تو اس سے توبہ کا مطالبہ کیا جائے اگر توبہ کرے تو فبہا ورنہ اُسے مرتد کی طرح قتل کیا جائے ۔ اور اگر ذمی ہو تو امام ابوحنیفہ کے نزدیک اس کا عہد نہیں ٹوٹتا ۔ اصحاب الشافعی اس مسئلہ میں مختلف الرائے ہیں ۔ اس سے معلوم ہوا کہ ان کے نزدیک توبہ سے مراد یہ ہے کہ اگر وہ مرتد ہو تو اسلام قبول کرلے ۔ نیز اس لئے کہ انہوں نے اس پر مرتد کا حکم لگایا ہے۔ اور اس بات کی تصریح کی ہے کہ مرتد کی توبہ یہ ہے کہ اسلام کی طرف لوٹ آئے ۔ اور یہ اس کے بارے میں واضح ہے۔ اس لئے کہ جو شخص بھی اسلام سے پھر جائے۔ اس کی توبہ یہ ہے کہ اسلام کی طرف لوٹ آئے اور اپنے قول سے توبہ کرلے ۔ باقی رہا ذمّی تو اس کی توبہ کی دو صورتیں ہیں :-
- (۱) ایک صورت یہ ہے کہ گالی دینے سے باز رہے اور کہے کہ آئندہ میں ایسا نہیں
کروں گا۔ اور میں دوبارہ ذمّی بنتا ہوں اور عہد کے تقاضوں پر عمل پیرا ہوں گا۔
- (۲) دوسری صورت یہ ہے کہ اسلام کو قبول کر لے ۔ اس لئے کہ اس کا اسلام
لانا ہی گالی سے توبہ کرنا ہے ۔
اور یہ دونوں صورتیں ان لوگوں کے کلام میں شامل ہیں جو کہتے ہیں کہ اس کی توبہ قبول کی جائے یا نہ کی جائے خواہ وہ مسلم ہو یا کافر ۔ اگرچہ دوسری صورت پہلی کی نسبت ان کے کلام سے زیادہ مناسب رکھتی ہے ۔ جب اسلام لانے کی صورت میں اس سے قتل ساقط نہیں ہوتا تو دوبارہ ذمّی بننے سے قتل کا ساقط نہ ہونا اَولیٰ ہے ۔ مناسب تر ہونے کی وجہ یہ ہے کہ وہ جانتا ہے کہ مسلم کی توبہ یہ ہے کہ اسلام لائے ، اسی طرح کافر کی توبہ بھی یہی ہے ۔ اس لئے کہ انہوں نے دونوں کی توبہ کا ذکر بہ لفظ واحد کیا ہے ۔ نیز اس لئے کہ ان کا آدمی کے حق کو علت قرار دینا اور پھر اُسے محارب پر قیاس کرنا اس امر کی دلیل ہے کہ وہ اسلام لانے کے ساتھ ساقط نہیں ہوتا ۔ اور اس لئے بھی کہ انہوں نے متعدد مقامات پر اس امر کی تصریح کی ہے جن میں سے بعض کا تذکرہ ابھی آرہا ہے کہ کافر کی توبہ سے یہاں اسلام مراد ہے ۔
ان کے علاوہ ایک اور جماعت نے بھی اس کی تصریح کی ہے ۔ چنانچہ قاضی
شریف ابوعلی بن ابی موسیٰ اپنی کتاب ” الارشاد “ میں لکھتے ہیں اور ان کی تحریر پر اعتماد کیا جاتا ہے کہ ”جو شخص رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو گالی دے تو اسے قتل کیا جائے اور اس سے توبہ کا مطالبہ نہ کیا جائے ۔ اور اگر اہل ذمہ میں سے کوئی آپ کو گالی دے تو اسے قتل کیا جائے ، اگرچہ وہ اسلام قبول کرلے ۔
ابوعلی بن البناء اپنی کتاب ” الخصال والاقسام “ میں رقمطراز ہیں :۔ ” اور جو شخص رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو گالی دے وہ واجب القتل ہے ۔ اس کی توبہ قبول نہ کی جائے ، اگرچہ وہ کفر سے توبہ کر کے مسلمان ہو جائے ۔ اس ضمن میں صحیح موقف یہ ہے کہ اسے قتل کیا جائے اور اس سے توبہ کا مطالبہ نہ کیا جائے ۔ وہ کہتے ہیں کہ امام مالک کا مذہب بھی یہی ہے ۔“
ان میں سے عام لوگوں نے مسلم و کافر کے قتل کے وجوب میں اختلاف کا ذکر نہیں کیا ۔ نیز یہ کہ توبہ کرنے اور اسلام لانے سے اس کا قتل ساقط نہیں ہوگا ۔ اپنی آخری تصانیف مثلاً ” التعلیق الجدید “ میں قاضی مذکور اور ان کے ہم خیال اہل علم کا یہی طرز وانداز ہے ۔ قاضی مذکور اپنی کتاب ” التعلیق القدیم “ اور الجامع الصغیر میں لکھتے ہیں :۔
”مسلم کو قتل کیا جائے اور اس کی توبہ قبول نہ کی جائے ۔ اور اگر کافر مسلمان ہو جائے تو اس کے بارے میں دو روایات ہیں ۔“ قاضی ”الجامع الصغیر“ میں جو کہ ”مسائل التعلیق القدیم “ میں شامل ہیں لکھتے ہیں :۔
”جو شخص رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی والدہ کو گالی دے اسے قتل کیا جائے اور اس کی توبہ قبول نہ کی جائے ۔ اگر کافر ہو اور اسلام لے آئے تو اس کے بارے میں دو روایتیں ہیں ۔ ایک یہ کہ اسے قتل کیا جائے اور دوسری یہ کہ اسے قتل نہ کیا جائے بلکہ اس سے توبہ کا مطالبہ کیا جائے ۔ انہوں نے ساحر پر قیاس کیا ہے کہ اگر وہ کافر ہو تو اسے قتل نہ کیا جائے ۔ اور اگر مسلم ہو تو اسے قتل کیا جائے ۔ جن لوگوں نے ”التعلیق القدیم “ سے نقل کیا ہے مثلاً الشریف ابی جعفر “ انہوں نے
بھی اسی طرح ذکر کیا ہے۔ وہ کہتے ہیں :-
"اگر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ماں کو گالی دے تو اُسے قتل کیا جائے اور اس کی توبہ قبول نہ کی جائے ۔ اور اگر ذمی رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی والدہ کو گالی دے تو اُس کے بارے میں دو روایتیں ہیں۔ ایک یہ کہ اُسے قتل کیا جائے اور دوسری یہ کہ اُسے قتل نہ کیا جائے ۔
امام مالک رحمۃ اللہ علیہ نے بھی یہی تفصیل ذکر کی ہے۔ مگر اکثر اہل علم کہتے ہیں کہ دونوں صورتوں میں اس کی توبہ قبول کی جائے۔ ہماری دلیل یہ ہے کہ کسی کو بہتان لگانے کی طرح یہ حدّ واجب ہے اس لیے توبہ سے ساقط نہ ہوگی جس طرح نبی کریمؐ کی والدہ کے علاوہ کسی پر بہتان لگایا جائے تو وہ معاف نہیں ہوتا ۔
ابو الخطاب روؤس المسائل میں رقمطراز ہیں :
اگر کوئی شخص رسولِ کریمؐ کی والدہ پر بہتان لگائے تو اس کی توبہ قبول نہیں کی جائے گی ۔ اور اگر کافر رسولِ کریمؐ کی والدہ کو گالی دے ، اور پھر مسلمان ہوجائے ، تو اس کے بارے میں دو روایتیں ہیں ۔ امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ اور امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ دونوں صورتوں میں اس کی توبہ قبول کی جائے گی ۔
ہماری دلیل یہ ہے کہ یہ حدّ واجب ہے مثلاً کسی شخص پر بہتان طرازی، لہذا یہ توبہ کرنے سے ساقط نہ ہوگا۔ اس کی دلیل یہ ہے کہ اگر نبی کے سوا کسی اور کی والدہ پر بہتان باندھا جائے تو وہ معاف نہ ہوگا (اسی طرح یہ بھی معاف نہیں ہوگا)
میں نے ان لوگوں کی عبارت اس لیے ذکر کی ہے تاکہ ظاہر ہو کہ یہاں توبہ سے مراد کفر کو چھوڑ کر اسلام قبول کرنا ہے۔ ایسے معلوم دیتا ہے کہ ان کا طرز فکر بالکل وہی ہے جو اس ضمن میں ابن القیم کا ہے کہ کوئی مسلم جب رسولِ کریمؐ کو گالی دے تو اس کی توبہ قبول نہیں کی جائے گی۔ نیز ذمی جب (رسولِ کریمؐ کو) گالی دے، پھر اسلام لائے تو مذہب صحیح کے مطابق اُسے بھی قتل کیا جائے گا۔
اگر معترض کہے کہ القاضی نے اپنی کتاب الخلاف میں کہا ہے کہ اگر کہا جائے کہ آیا تم نے یہ بات نہیں کہی کہ اگر کوئی شخص رسول کریم کو گالی دیئے بغیر اپنا عہد توڑ ڈالے، مثلاً جزیہ دینے سے انکار کرے یا مسلمانوں سے جنگ لڑے یا اُن کو ایذا دے پھر توبہ کرے تو تم اس کی توبہ کو قبول کر لوگے؟ اور حاکم کو اس کے بارے میں چار باتوں کا اختیار ہوگا۔ جس طرح حربی کے بارے میں اختیار ہے جب کہ وہ ہمارے یہاں قیدی ہو۔ پھر تم نے یہ بات اس شخص کے بارے میں کیوں نہ کہی جو رسول کریمؐ کو گالی دے کر اس سے توبہ کرلے ؟
تو اس کے جواب میں کہا جائے گا کہ رسول کریم کو گالی دینا گویا ایک مرحوم شخص پر بہتان لگانا ہے اس لیے توبہ کرنے سے اس کی سزا ساقط نہیں ہوتی جس طرح فوت شدہ شخص پر اگر بہتان لگایا جائے تو وہ توبہ سے ساقط نہیں ہوتا ۔ قاضی کے اس کلام سے معلوم ہوتا ہے کہ توبہ سے اسلام مراد نہیں۔ اس لیے کہ اگر کوئی شخص رسول کریم کو گالی دیئے بغیر عہد توڑے اور پھر اسلام لائے تو حاکم کو اس میں اختیار نہیں ہوگا۔ ہم اس کے جواب میں کہتے ہیں کہ توبہ یعنی گناہ سے باز رہنے سے پہلے چار اُمور میں حاکم کو جو اختیار حاصل ہوتا ہے اور توبہ کے بعد جو اختیار ہے دونوں میں کچھ فرق نہیں اور وہ بھی اس کے نزدیک جو اختیار کو تسلیم کرتا ہے۔ مخالف کا مقصد صرف اس صورت پر قیاس کرنا ہے جو نزاع و خلاف کی صورتوں سے ملتی جلتی ہے اور وہ یہ ہے کہ اس کے بارے میں توبہ کے بعد فیصلہ کیا جائے ، جب کہ وہ اس توبہ سے پہلے ہو جس کے قتل کا جواز ثابت ہو چکا ہے ۔
علاوہ ازیں عہد شکنی کرنے والے ذمی کو توبہ کی دو صورتیں ہیں :
- (۱) ایک یہ ہے کہ وہ مسلمان ہو جائے ۔ کیوں کہ اس کا اسلام لانا کفر اور اس
کے متعلقات سے توبہ کرنے کا نام ہے۔
- (۲) دوسرے یہ کہ پھر ذمی ہو جائے اور جس گناہ کا اس نے ارتکاب کیا اور
اس کی وجہ سے اس کا عہد ٹوٹا اس سے توبہ کر لے ۔
یہ نقض عہد سے توبہ ہے ۔ جب اس قسم کی توبہ ہے اور وہ اس پر قادر بھی ہے تو حاکم کے لیے جائز ہے کہ اس کی توبہ قبول کرے ، کیونکہ وہ ایک قیدی کی حیثیت رکھتا ہے ۔ جس طرح قیدی اگر اس بات کا متمنی ہو کہ اسے ذمّی بنا لیا جائے تو اس کی آرزو کی تکمیل کرنا چاہیئے ۔
مگر مخالف نے قاضی کے طرز فکر کے پیش نظر یہ اعتراض وارد کیا کہ تمہارے نزدیک عہد شکنی کرنے والا جب نقض عہد سے توبہ کر لے تو امام کو اس کے بارے میں اختیار ہوتا ہے ۔ تو پھر تم حاکم کو اُس صورت میں کیوں اختیار نہیں دیتے جب گالی دینے والا اس سے توبہ کر لے اور اس کے بعد اختیار کا امکان بھی ہو؟ اور وہ یوں کہ وہ گالی دینے سے باز رہے اور دوبارہ ذمّی بننا چاہے ۔ اُسی لیے اس صورت کے بارے میں کہا گیا ہے کہ پھر امام توبہ کے بعد کیوں اختیار نہیں دیا جاتا ؟ اگر چہ دوسری صورت میں توبہ کے بعد جو کہ اسلام ہے اختیار کا امکان باقی نہیں رہتا ۔
اس کا ذکر پہلے ہو چکا ہے ۔ ہم نے یہ بھی ذکر کیا تھا کہ صحیح بات یہ ہے کہ عہد شکنی کرنے والا اگر اس طرح عہد توڑے جس سے مسلمانوں کو نقصان پہنچتا ہو تو اس صورت میں امام کو اختیار حاصل نہیں ہوتا ۔ یہ بھی ظاہر ہوا کہ دوسری روایت جو انہوں نے مسلم و کافر کے فرق و امتیاز کے بارے میں نقل کی دراصل اس کا تعلق کافر ساحر اور مسلم ساحر کے مابین فرق و امتیاز کے ساتھ ہے ۔ اور وہ یہ کہ ذمی ساحر کے بارے میں فرمایا کہ اسے قتل نہ کیا جائے ۔ اس لیے کہ جس کفر پر وہ قائم ہے وہ سحر سے عظیم تر ہے ۔ اس کی دلیل یہ دی ہے کہ رسول کریمؐ نے جادو کرنے کی وجہ سے لبید بن اعصم کو قتل نہیں کیا تھا ۔ البتہ ان کے نزدیک مسلم ساحر کو قتل کیا جا سکتا ہے ۔ جیسا کہ رسول کریمؐ ، عمرؓ ، عثمانؓ ، ابن عمرؓ اور حضرت حفصہ رضوان اللہ علیہم اجمعین سے احادیث میں منقول ہے ۔
وجہ ترجیح یہ ہے کہ کافر جس شرک کا ارتکاب کرتا ہے وہ گالی دینے اور جادو کرنے کی نسبت بڑا جرم ہے۔ اس لئے کافر کی جانب گالی اور سحر کی نسبت کرنا یکساں ہے برخلاف مسلم کے۔ جب ساحر مسلم کو قتل کیا جاتا ہے اور ذمی کو نہیں۔ اسی طرح دشنام دہندہ ذمی کو قتل کیا جائے گا مگر مسلم کو قتل نہیں کیا جائے گا مگر گالی دینے سے عہد ٹوٹ جاتا ہے۔ اس لئے اس کو نقض عہد کی وجہ سے قتل کرنا جائز ہے۔ جب اسلام قبول کرے گا تو نقض عہد کی وجہ سے اُسے قتل نہیں کیا جاسکے گا۔ اور اُسے محض گالی دینے کی وجہ سے قتل نہیں کیا جاتا جس طرح محض سحر کی وجہ سے قتل نہیں کیا جاسکتا۔ اس طرح اس کا خون محفوظ رہے گا۔
الخطابی نے بذات خود اس روایت کو امام احمدؒ سے نقل کیا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا : یہود و نصاریٰ میں سے جو رسول کریم کو گالی دے اُسے قتل کیا جائے اِلّا یہ کہ وہ اسلام قبول کرے۔ امام احمد بن حنبلؒ نے اسی طرح کہا ہے۔ ہمارے اصحاب نے امام احمدؒ سے ایک اور روایت نقل کی ہے کہ اگر مسلم گالی دے کر توبہ کر لے تو اس کی توبہ مقبول ہوگی۔ اور وہ یوں کہ اسلام لائے اور گالی سے رجوع کرلے۔ ابوالخطاب نے ”الہدایۃ“ میں اور ہمارے متاخرین اصحاب نے جو اُن کے نقش قدم پر چلتے ہیں انہوں نے اس کے رسول کو گالی دینے والے مسلم کے بارے میں اسی طرح کہا ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ آیا اس کی توبہ قبول کی جائے یا ہر حال میں اُسے قتل کیا جائے اس کے بارے میں دو روایات منقول ہیں
دشنام دہندہ اگر توبہ کرلے تو اس کا کیا حکم ہے؟
مذکورہ صدر بیان کا خلاصہ یہ ہے کہ گالی دہندہ اگر توبہ کرلے تو اس کے بارے میں تین روایات ہیں :-
پہلی روایت :- اُسے ہر حال میں قتل کیا جائے۔ سب اہل علم نے اس روایت کی تأیید کی ہے۔ امام احمد کا کلام بھی اِسی پر دلالت کرتا ہے اور ان (حنابلہ) کے اکثر محققین نے صرف اسی روایت کا ذکر کیا ہے۔
دوسری روایت :- اس کی توبہ مطلقاً قبول کی جائے۔
تیسری روایت :- کافر کی توبہ قبول کی جائے اور مسلم کی توبہ قبول نہ کی جائے اور ذمی کی توبہ اس صورت میں قبول کی جائے گی جب کہ وہ اسلام لائے لیکن اگر گالی دینے سے باز آ جائے اور دوبارہ ذمی بننا چاہے تو اندریں صورت اس کا خون محفوظ نہیں ہوگا۔ اس ضمن میں صرف ایک ہی روایت موجود ہے۔
ابو عبداللہ السامری نے ذکر کیا ہے کہ مسلمانوں میں سے جو شخص رسول کریم کو گالی دے تو آیا اس کی توبہ قبول ہو گی یا نہیں؟ اس کے بارے میں دو روایتیں پائی جاتی ہیں۔ اور اہلِ ذمہ میں سے جو شخص آپ کو گالی دے اُسے قتل کیا جائے، اگرچہ وہ اسلام قبول کرلے۔ ابن ابی موسیٰ نے اس کا ذکر کیا ہے۔ ان کے ظاہری کلام کے مطابق اختلاف صرف مسلم کے بارے میں ہے ذمی کے متعلق نہیں۔ یہ اس روایت کا عکس ہے جس کو ایک جماعت نے اصحاب سے نقل کیا ہے۔ مگر معاملہ یوں نہیں اس لئے کہ
ابن ابی موسیٰ کہتے ہیں :-
"جو شخص رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو گالی دے اُسے قتل کیا جائے اور اُس سے توبہ کا مطالبہ نہ کیا جائے۔ اور اگر کوئی ذمی آپ کو گالی دے تو اُسے قتل کیا جائے، اگرچہ وہ اسلام لے آئے۔"
انہوں نے اس مسئلہ میں کسی اختلاف کا ذکر نہیں کیا۔ جیسا کہ امام احمدؒ سے منقول
روایت میں ہے ۔ ابو عبداللہ سامری کی کتاب ابو الخطاب اور ابن ابی موسیٰ دونوں کی روایات پر مشتمل ہے۔ نیز انہوں نے اس کا متعدد چھوٹی کتابوں میں بھی ذکر کیا ہے ۔
جب انہوں نے مسلم کے بارے میں مذکور ابو الخطاب کی دونوں روایات کا ذکر کیا اور اس کے ساتھ ساتھ اسلام قبول کرنے والے ذمی سے متعلق روایت کا تذکرہ بھی کیا کہ اس میں ایک طرح کا خلل رونما ہوا۔ ورنہ بلاشبہ جب ہم مسلم کی توبہ اس کے اسلام کی وجہ سے قبول کرتے ہیں یا تو ذمی کی توبہ اس کے اسلام لانے کی وجہ سے بالأولیٰ قابلِ قبول ہوگی۔ اس لئے کہ کافر میں گالی کی جو قباحت پائی جاتی ہے مسلم میں وہ اس سے کچھ زیادہ ہی موجود ہے ۔ یہ اس لئے کہ رسولؐ کو ایذا دینے میں وہ دونوں شریک ہیں۔ اور مسلم کے گالی دینے میں ایک وجہ زائد یہ پائی جاتی ہے کہ وہ اس کے زندیق ہونے پر دلالت کرتی ہے ۔ اور اگر کوئی منافق آپؐ کو گالی دے تو اس کا نفاق ظاہر ہوجاۓ گا ۔ برخلاف ذمی کے کہ اس نے اپنے اعتقاد کے مطابق گالی دی اور اسلام لانے سے اس اعتقاد کا ازالہ ہو گیا ۔
البتہ سامری کے قول کی توجیہہ کرتے ہوئے کہا جا سکتا ہے کہ مسلم بعض اوقات غلطی سے گالی دیتا ہے جو اس کے اعتقاد پر مبنی نہیں ہوتی ۔ اور جب وہ اس سے تائب ہوتا ہے تو اس کی توبہ قبول کی جاتی ہے ۔ اس لیے کہ وہ گالی زبان کی لغزش، سُوء ادب یا قلت علم پر مبنی ہوتی ہے ۔ بخلاف ازیں ذمی کی گالی بلاشبہ محض ایذا رسانی پر مبنی ہے ، جب ایک دفعہ اس پر حد واجب ہوگئی تو دیگر حدود کی طرح اس کے اسلام لانے سے ساقط نہ ہوگی ۔ بعض لوگ اس شخص کا قول ہی پیش کرتے ہیں جو کہتا ہے کہ گالی دینا باطنی کفر کا موجب اس وقت ہوتا ہے جب اُسے حلال تصور کیا جائے ۔ مگر یہ قول قابل قبول نہیں ہے جیسے کہ آگے آئے گا اِنْ شَاءَ اللہُ تَعَالٰی۔ ہمارے اصحاب نے ذکر کیا ہے کہ اس کی توبہ مقبول نہیں۔ اس لئے کہ امام احمد فرماتے ہیں :"اس کی توبہ قبول نہیں کی جائے گی"۔ امام احمد کا ضابطہ یہ ہے کہ جس کی توبہ مقبول
ہو، اس سے توبہ کا مطالبہ کیا جائے مثلاً مرتد۔ یہی وجہ ہے کہ جب زندیق ، ساحر، کاہن، عرّاف (کھوج لگانے والا، کھوجی) اور جو شخص مسلم ہو اور پھر مرتد ہو جائے، ان کے بارے میں امام احمد سے مختلف روایات منقول ہیں تو اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آیا ان سے توبہ کا مطالبہ کیا جائے گا یا نہیں؟ اس کے بارے میں ان سے دو روایات منقول ہیں۔ اگر کہیں کہ ان سے توبہ کا مطالبہ نہ کیا جائے تو پھر انہیں ہر حال میں قتل کیا جائے گا، اگرچہ وہ توبہ بھی کر لیں۔
عبداللہ کی روایت میں اس امر کی تصریح پائی جاتی ہے جو شخص رسولِ کریم کو گالیاں دے وہ واجب القتل ہے اور اس سے توبہ کا مطالبہ نہ کیا جائے۔ اس سے معلوم ہوا کہ اسے قتل کرنا واجب ہے اور جو قتل واجب ہو جائے وہ کسی حال میں بھی ساقط نہیں ہوتا۔ اس کی موید یہ بات ہے کہ انہوں نے کہا کہ جو ذمّی کسی مسلم عورت کے ساتھ بدکاری کرے اُسے قتل کیا جائے۔ اُن سے دریافت کیا گیا کہ اگر وہ اسلام لے آئے تو کیا پھر بھی اُسے قتل کیا جائے گا؟ فرمایا ہاں اُسے قتل کیا جائے، کیونکہ قتل اُس پر واجب ہو چکا ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ اسلام لانا پیشتر وہ قتل کو ساقط نہیں کر سکتا۔ دشنام دہندہ کے بارے میں ان کا قول یہ ہے کہ وہ واجب القتل ہے۔
مزید برآں ان کے نزدیک اگر کوئی شخص اسلام لانے کے بعد مسلم عورت کے ساتھ زنا کرے تو اُس کو قتل کرنا واجب ہے۔ یہ مسلمان عورت کے ساتھ بدکاری کرنے کی سزا ہے۔ اُسے بہر کیف قتل کیا جائے، خواہ وہ آزاد ہو یا غلام، شادی شدہ ہو یا غیر شادی شدہ ۔ جیسا کہ متعدد مقامات پر انہوں نے اس کی تصریح کی ہے۔ اور یہ قتل اسلام لانے سے ساقط نہیں ہوا۔ اس پر صرف زنا کی حد واجب ہوگی۔ اس لئے کہ اس نے مسلمانوں کو ایسا ضرر پہنچایا اور ان پر ایسا داغ لگایا ہے جس نے اس کے قتل کو واجب ٹھہرایا اور اس کا عہد بھی ٹوٹ گیا۔ جب وہ اسلام لائے گا تو اُس سے اِس ضرر کی تلافی نہیں ہوگی۔ جس طرح اسلام لانے سے رہزنی کی سزا
اُسے معاف نہیں کی جائے گی۔ یوں کہنا درست نہیں کہ اسلام لانے کے بعد وہ ایک مسلم کی طرح ہے لہٰذا اس سے ایک مسلم جیسا سلوک کیا جائے جس نے اس جرم کا ارتکاب کیا ہو۔ اس لئے کہ اسلام سزا کے آغاز کو روکتا ہے اس کے دوام کو نہیں۔ اس لئے کہ سزا کا دوام وبقا قوی تر ہے۔ جس طرح ایک ذمی دوسرے ذمی کو قتل کرے اور پھر اسلام لائے تو اُسے قتل کیا جائے۔ اور اگر مسلمان ہوتے ہوئے اُسے قتل کرے تو اُسے قتل نہ کیا جائے۔
اسی لئے ذمی کا عہد چند اُمور سے ٹوٹ جاتا ہے مثلاً :۔
- (۱) مسلم عورت کے ساتھ زنا کرنا، اگرچہ ذمی غیر شادی شدہ ہو۔
- (۲) کسی مسلم کو قتل کرنا ۔
- (۳) کفار کے لئے جاسوسی کرنا
- (۴) مسلمانوں کے ساتھ حرب و پیکار ۔
- (۵) دارالحرب کو بھاگ جانا ۔
- (۶) کسی مسلم کو علی الاطلاق ان امور کی وجہ سے قتل نہیں کیا جاتا ۔
جب ان جرائم کی بنا پر ذمی کو قتل کرنا واجب ہو جائے اور پھر وہ اسلام قبول کرے، تو اس طرح ہوگا جیسے کسی ذمی کو قتل کرنے کی وجہ سے اُسے قتل کرنا واجب ہو اور اس کے بعد وہ اسلام لے آئے۔ کیونکہ اس بات میں کچھ فرق نہیں کہ اس پر کوئی حد واجب ہو جو مسلم پر واجب نہ ہو اور پھر وہ اسلام قبول کرلے۔ اس لئے کہ قصاص اسلام کے باعث زائل ہونے میں حدود کی طرح ہے۔ اور وہ شبہ کی بنا پر ساقط ہو جاتا ہے۔ تو جس طرح اسلام قصاص کے آغاز کو روکتا ہے اس کے دوام کو نہیں، تو معاہد پر جو سزائیں واجب ہوتی ہیں ان کا بھی یہی حال ہے ۔
یہ ہمارے اس قول پر مبنی ہے کہ ان امور کا ارتکاب کرنے سے ذمی کو قتل کرنا ایک متعین امر ہے۔ نیز بطور خاص یہ جرائم اس کے قتل پر اثر انداز ہوتے ہیں، قطع نظر اس سے کہ وہ ایک غیر معاہد کافر ہے۔ اس کا تقاضا یہ ہے کہ اس
کو قتل کرنا ان حدود میں سے ہے جو دارالاسلام کے مکینوں پر بھی واجب ہیں خواہ وہ مسلم ہوں یا معاہد۔ یہ دارالحرب کے اس آدمی کی طرح نہیں جسے پکڑ کر قیدی بنالیا جائے ۔ اس لئے کہ اس کے قتل کا مقصد دارالاسلام کو ان جرائم سے پاک کرنا اور معاہدین کے جرائم کا قلع قمع کرنا ہے ۔ اور جب یہ بات ایک ثابت شدہ امر ہے کہ مسلمان عورت کے ساتھ زنا کر کے اس نے مسلمانوں کو جو نقصان پہنچایا ہے اس کی سزا اس سے زائل نہیں ہو سکتی ، تو رسول کریم کو گالی دے کر اس نے جو نقصان پہنچایا ہے اس کی سزا کا زائل ہونا بالاولےٰ ہے ۔ اس لئے کہ رسول کریم کو گالی دینے سے مسلمانوں کو جو دینی ضرر لاحق ہوتا ہے وہ اس ضرر سے کہیں زیادہ ہے جو مسلمان عورت کے ساتھ زنا کرنے سے ہوتا ہے، جب کہ زانی پر حد لگائی جائے ۔
ان کی تصریح اس امر کا منہ بولتا ثبوت ہے کہ ذمی جب رسول کریم پر بہتان لگائے یا گالی دے، پھر اسلام قبول کرے تو اس کی وجہ سے اُسے قتل کیا جائے گا ۔ اس پر حد قذف نہیں لگائی جائے گی جو کہ اسّی کوڑے ہے اور نہ ہی کسی شخص کو گالی دینے کی سزا دی جائے گی جو کہ تعزیر ہے ۔ جس طرح مسلمان عورت کے ساتھ زنا کرکے اسلام لانے والے پر زنا کی حد نہیں لگائی جائے گی بلکہ قتل کی سزا دی جائے گی جو کہ واجب ہے اور دوسری روایت کے مطابق جس کی تخریج قاضی اور متبعین نے اپنی کتب مذہب میں کی ہے ذمی سے گالی نکالنے کی توبہ کا مطالبہ کیا جائے گا ۔ اگر وہ توبہ کرلے تو فبہا ورنہ اُسے قتل کیا جائے گا ۔
ابو الخطاب دیگر علماء کی ذکر کردہ روایت کے مطابق مسلم سے بھی توبہ کا مطالبہ کیا جائے جیسا کہ زندیق اور ساحر سے، مگر امام احمد کے کلام میں مجھے توبہ کرنے کی کوئی دلیل نہیں ملی ۔ جہاں تک مسلم سے توبہ کا مطالبہ کرنے کا تعلق ہے وہ تو ظاہر ہے، یہ تو اسی طرح ہے جیسے اس شخص سے توبہ کا مطالبہ کیا جائے جو کفریہ کلمات کہہ کر مرتد ہو جائے ۔ باقی رہا ذمی تو اس سے توبہ کا مطالبہ یہ ہے کہ اُسے اسلام کی دعوت دی جائے ۔ مگر دوبارہ ذمی بن جانے کی صورت میں توبہ کا مطالبہ (حنبلی فقہ) کے مطابق کافی
نہیں اس لئے کہ اس کا قتل ایک طے شدہ بات ہے۔
مگر اس مشکوک طریقہ کے مطابق جس میں کہا جاتا ہے کہ "حاکم وقت کو اس کے بارے میں اختیار ہے۔ اس سے توبہ کا مطالبہ اس طرح مشروع ہے کہ اُسے دوبارہ ذمی بننے کے لئے کہا جائے۔ کیونکہ اس کے بعد وہ اس کا اقرار کر سکتا ہے۔ لیکن ایک روایت کے مطابق اس سے توبہ کا مطالبہ درست نہیں۔ اگرچہ دونوں میں سے ایک روایت کے مطابق ہم اس سے اسلام لانے کی صورت میں بطریق وجوب توبہ کا مطالبہ کریں۔ البتہ ایک روایت کے مطابق جس کو خطابی نے ذکر کیا ہے ذمی جب اسلام قبول کرے گا تو قتل اس سے ساقط ہوجائے گا، مگر اس سے توبہ کا مطالبہ نہیں کیا جائیگا۔ جس طرح حربی قیدی اور دیگر کفار کو طلب توبہ سے قبل قتل کیا جاتا ہے۔ اور اگر وہ اسلام قبول کریں تو قتل ان سے ساقط ہو جائے گا۔ اور یہ بات ان لوگوں کی نسبت زیادہ موزوں ہے جو توبہ کا مطالبہ کرتے ہیں۔
اس لیے کہ ذمی جب عہد توڑے تو اُسے قتل کرنا جائز ہے، کیوں کہ وہ حربی کافر ہے اور اس سے توبہ کا مطالبہ کرنا بالاتفاق جائز نہیں۔ ماسوا ان لوگوں کے جو کہتے ہیں کہ کافر کے ساتھ جنگ کرنے سے پیشتر اُسے دعوت اسلام دینا واجب ہے۔ جب وہ اسلام قبول کرلے تو اس کے بارے میں یوں کہنا جائز ہے کہ اس نے حربی کافر کی طرح اپنا خون بچا لیا۔ برخلاف مسلم کے کہ جب اس کی توبہ مقبول ہو تو اس سے توبہ کا مطالبہ کیا جائے گا۔ بایں ہمہ جس کی توبہ مقبول ہو تو اس سے توبہ کا مطالبہ کرنا جائز ہے، جس طرح قیدی سے توبہ کا مطالبہ کرنا جائز ہے۔ کیونکہ یہ ایک طرح کی دعوت اسلام ہے جو اس کو قتل کرنے سے پہلے دی جاتی ہے۔ اگرچہ یہ واجب نہیں ہے مگر اس قول کے قائلین سے منصوص بات یہ سنی گئی ہے کہ اُسے یوں نہیں کہا جائے گا کہ "اسلام قبول کر یا اسلام قبول نہ کر"۔ تاہم جب وہ اسلام لائے گا تو قتل اُس سے ساقط ہو جائے گا۔ اس کا خلاصہ یہ ہوا کہ مشہور مذہب کے مطابق ان دونوں سے توبہ کا مطالبہ نہیں کیا جائے گا۔ اگر وہ دونوں توبہ کرلیں تو مشہور مذہب کے مطابق ان کی توبہ قبول نہیں کی جائے گی۔ (امام احمدؒ سے ذمی
کے بارے میں منقول ہے کہ اگر وہ اسلام لائے تو قتل اس سے ساقط ہو جائے گا اگرچہ اس سے توبہ کا مطالبہ نہ کیا گیا ہو۔ اُن سے یہ بھی منقول ہے کہ مسلم سے توبہ کا مطالبہ کیا جائے اور اس کی توبہ قبول کی جائے۔ اور ذمی کے بارے میں اُن سے منقول ہے کہ اُس سے توبہ کا مطالبہ کیا جائے۔ مگر یہ بات بعید (از قیاس) ہے۔
بہتان لگا کر گالی دینے اور دوسری قسم کی گالی میں کچھ فرق نہیں
جان لیجئے کہ بہتان لگا کر گالی دینے اور بطریق دیگر گالی دینے میں کچھ فرق نہیں جیسا کہ امام احمدؒ، آپ کے عام اصحاب اور عام علماء نے تصریح کی ہے۔ الشیخ ابو محمد المقدسی رحمۃ اللہ نے قذف اور سبّ (گالی دینا) میں فرق کیا ہے۔ انہوں نے قذف کے ضمن میں مسلم اور کافر کے بارے میں دونوں روایتوں کا ذکر کیا ہے۔ پھر یہ کہا کہ گالی بلا بہتان بھی اسی کی مانند ہے۔ البتہ بہتان طرازی کے بغیر جو گالی ہو وہ اسلام لانے سے ساقط ہو جاتی ہے۔ اس لئے کہ اللہ کو جو گالی دی جائے وہ اسلام لانے سے ساقط ہو جاتی ہے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دی گئی گالی بالاولٰی ساقط ہو گی۔ اس کا مفصل بیان ان شاء اللہ آگے آئے گا، جب ہم گالیوں کے اقسام پر روشنی ڈالیں گے۔ یہ امام احمدؒ کا موقف ہے۔
امام مالکؒ کا موقف
ابن القاسم اور مطرف کی روایت کے مطابق امام مالکؒ نے فرمایا جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو گالی دے اُسے قتل کیا جائے اور اس سے توبہ کا مطالبہ نہ کیا جائے۔ ابن القاسم کہتے ہیں جو شخص رسول کریم کو گالی نکالے اور بُرا بھلا کہے تو زندیق کی طرح اُسے قتل کیا جائے۔ ابو مصعبؒ اور ابن ابی اویس کہتے ہیں ہم نے سنا کہ امام مالک کہتے تھے ”جو شخص رسول کریم کو گالی دے یا آپؐ کو بُرا بھلا کہے یا آپؐ پر عیب لگائے اور تنقیص شان کرے اُسے قتل کیا جائے۔ وہ مسلم ہو یا کافر اور اس سے توبہ کا مطالبہ نہ کیا جائے۔ محمد بن عبدالحکیم کا قول بھی یہی ہے۔ ہمیں اصحاب امام مالک نے بتایا کہ انہوں نے فرمایا ”جو شخص رسول کریم یا کسی اور نبی کو گالی دے، وہ مسلم ہو یا کافر اُسے قتل کیا جائے اور اس سے توبہ کا مطالبہ نہ کیا جائے“ کہا اور امام مالکؒ نے
روایت کیا ہے کہ بجز اس صورت کے جب کہ کافر اسلام قبول کرلے ۔
امام احمدؒ کا زاویہ نگاہ
اشہبؒ امام مالکؒ سے روایت کرتے ہیں جو شخص رسول کریمؐ کو گالی دے خواہ وہ مسلم ہو یا کافر اُسے قتل کیا جائے اور اس سے توبہ کا مطالبہ نہ کیا جائے ۔ امام مالکؒ کی یہ تصریحات امام احمدؒ کے اقوال و آثار سے ملتی جلتی ہیں ۔ ان کا مشہور مذہب یہ ہے کہ مسلم اگر رسول کریمؐ کو گالی دے تو اس کی توبہ قبول نہ کی جائے ۔ اُن کے نزدیک اس کا حکم زندیق کا سا ہے ۔ مگر ان کے نزدیک اُسے حداً قتل کیا جائے کفرًا نہیں ۔ جب کہ گالی سے علانیہ توبہ کرلے ۔ ولید بن مسلمؒ نے امام مالکؒ سے روایت کیا ہے کہ انہوں نے رسول کریمؐ کے گالی دینے کو ارتداد قرار دیا ہے ۔ ان کے اصحابؒ نے کہا بنابریں اس سے توبہ کا مطالبہ کرنا چاہیئے ۔ اگر توبہ کرے تو اُسے عبرت انگیز سزا دی جائے اور اگر انکار کرے تو اُسے قتل کیا جائے اور اس پر مرتد کا حکم لگایا جائے گا ۔
ذمّی جب رسول کریمؐ کو گالی دے ، پھر اسلام لائے تو کیا اسلام اُس سے قتل کو دُور ہٹائے گا ؟ اس کے بارے میں دو روایتیں ہیں جن کو قاضی عبدالوہاب وغیرہ نے ذکر کیا ہے ۔ پہلی روایت : ایک روایت یہ ہے کہ قتل اس سے ساقط ہو جائے گا ۔ امام مالکؒ سے ایک جماعت نے روایت کیا ہے جن میں ابن القاسمؒ بھی شامل ہیں کہ جو شخص اہل ذمّہ میں سے ہمارے نبی کو گالی دے یا کسی اور نبیؑ کو بُرا بھلا کہے تو اُسے قتل کیا جائے ۔ إلا یہ کہ وہ اسلام قبول کرلے ۔ ایک روایت میں ہے کہ اُسے اسلام لانے یا نہ لانے کے لئے کچھ نہ کہا جائے ۔ البتہ اگر اسلام لے آئے تو یہ اس کی توبہ ہوگی ۔ مطرفؒ نے ان سے روایت کیا ہے کہ اگر کوئی مسلم نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو گالی دے یا کسی نبی کو یا اُن کی تحقیر کرے تو اُسے قتل کیا جائے اور اس سے توبہ کا مطالبہ نہ کیا جائے بجز اس صورت کہ وہ قتل سے پہلے اسلام قبول کرلے ۔ ابن حبیبؒ کہتے ہیں کہ میں نے ابن الماجشون سے سنا فرماتے تھے کہ مجھ سے ابن عبدالحکم نے کہا اور مجھے ابن اصبغؒ
نے ابن القاسم سے سن کر بتایا : اس روایت کے مطابق ابن القاسم نے کہا کہ امام مالکؒ نے فرمایا : "کہ اگر نصرانی شخص رسول کریمؐ کو معروف گالی دے تو اُسے قتل کیا جائے ۔ الاّ یہ کہ وہ اسلام لائے ۔ امام مالکؒ نے یہ بات کئی دفعہ فرمائی ۔ مگر یہ نہیں کہا کہ اُس سے توبہ کا مطالبہ کیا جائے ابن القاسم اور محمد کہتے ہیں کہ ان کے قول کا مفہوم میرے نزدیک یہ ہے کہ اگر بخوشی خاطر اسلام قبول کرے ۔ بنا بریں اگر وہ پکڑے جانے کے بعد اسلام لائے اور گالی نکالنے کا جرم اس پر ثابت ہو جائے اور اُسے معلوم بھی ہو کہ اسلام نہ لانے کی صورت میں اُسے قتل کر دیا جائے گا تو قتل اس سے ساقط نہیں ہو گا اس لئے کہ اندریں حال وہ مجبور ہے ۔
دوسری روایت یہ ہے کہ اسلام لانے سے قتل اس سے ساقط نہیں ہو گا ۔ محمد بن سحنون کہتے ہیں ۔ حد قذف اور اس قسم کے دیگر حقوق العباد اسلام لانے کے باوجود ذمی سے ساقط نہیں ہونگے ۔ البتہ اسلام لانے سے حدود اللہ اس سے ساقط ہو جاتی ہیں ۔ حد قذف کا جہاں تک تعلق ہے وہ بندوں کا حق ہے، خواہ کسی نبی سے صادر ہو یا کسی اور ۔
امام شافعیؒ کا زاویۂ نگاہ
باقی رہا امام شافعی کا مذہب تو نبیؐ کے دشنام دہندہ کے بارے میں دو اقوال ہیں :-
پہلا قول ان کا پہلا قول یہ ہے کہ وہ مرتد کی طرح ہے، اگر وہ توبہ کر لے تو قتل اس سے ساقط ہو جائے گا ۔ یہ شافعیہ کی ایک جماعت کا قول ہے ۔ وہ یہی قول ہے جس کو اصحاب اختلاف امام شافعی سے نقل کرتے ہیں ۔
دوسرا قول یہ ہے کہ رسولؐ کے گالی دینے والے کی سزا قتل ہے ۔ تو جس طرح حدِ قذف توبہ سے ساقط نہیں ہوتی، اسی طرح نبی کریمؐ کو
گالی دینے سے جو قتل واجب ہوا وہ توبہ کے ساتھ ساقط نہ ہوگا۔ کہتے ہیں کہ ابوبکر فارسی نے اس کا ذکر کیا اور اس کے بارے میں اجماع کا دعویٰ کیا ہے شیخ ابوبکر قفال بھی اس ضمن میں ان کے ہم نوا ہیں
تیسرا قول
لانی نے اس کے بارے میں ایک تیسرا قول کہا ہے۔ اور وہ یہ کہ جو شخص کسی پر بہتان لگا کر اُسے گالی دے وہ ارتداد کی وجہ سے موجب قتل ہے گالی دینے کی وجہ سے نہیں۔ اگر توبہ کر لے تو قتل کی سزا ساقط ہو جائے گی جو ارتداد کی وجہ سے عائد ہوئی تھی۔ قذف کی وجہ سے اُسے اَسّی کوڑے لگیں گے۔ اِسی طرح اگر گالی قذف سے الگ ہو تو اُس کے مطابق اُس پر تعزیر لگائی جائے گی۔ ان میں سے بعض نے اس اختلاف کو مسلم کے بارے میں ذکر کیا ہے ، جب گالی دے پھر اسلام قبول کر لے تو قتل اس سے ساقط ہو جائے گا۔ مذہب شافعی کے اصحاب اختلاف نے اسی طرح ذکر کیا ہے۔ ”کتاب الاُمّ“ میں ایک جگہ امام شافعی کے کلام میں یہی ثابت ہوتا ہے۔
امام شافعی نے نواقض عہد کا ذکر کرنے کے بعد جو کچھ لکھا ہے اس میں نبی کریمؐ کو گالی دینے کا ذکر بھی کیا ہے ۔ پھر فرماتے ہیں جو شخص ایسا کام کرے یا ایسی بات کہے جس کو میں نے نقض عہد قرار دیا ہے اور اسلام لائے تو اُسے قتل نہیں کیا جائے گا جب کہ یہ قول ہو اور اگر فعل ہو تب بھی اُسے قتل نہیں کیا جائے گا۔ الا یہ کہ دین اسلام میں یہ بات مذکور ہو کہ جو شخص اسے عمداً یا قصاصاً قتل کرے، تو اُسے بھی حد و قصاص کے طور پر قتل کیا جائے نہ کہ نقض عہد کی بنا پر۔
اور اگر وہ ایسے کام کرے جن کا ہم نے ذکر کیا اور یہ شرط عائد کرے کہ اُس نے عقد ذمہ توڑ دیا، مگر وہ اسلام نہ لائے بلکہ کہے میں توبہ کرتا ہوں اور حسبِ سابق جزیہ ادا کرتا ہوں یا میں صلح کی تجدید کروں گا ، تو اُسے سزا دی جائے اور اُسے قتل نہ کیا جائے ۔ الا یہ کہ کوئی ایسا کام کرے جو قصاص کا موجب ہو۔ مگر اس سے کم درجے کا
قول فعل ہو تو ہر قول کی سزا دی جائے اور اُسے قتل نہ کیا جائے۔ وہ کہتے ہیں اگر اس نے کوئی ایسا فعل کیا یا کوئی بات کہی اور یہ شرط عائد کی کہ اس کا خون حلال ہے اور ہم نے اُس پر قابو پالیا اور وہ یہ بات کہنے سے باز رہا کہ کہے " اسلام لایا یا جزیہ ادا کیا " تو اُسے قتل کیا جائے یا اور اگر اس کے مال کو لوٹے بغیر لے لیا جائے ، تو گویا اُس نے ذکر کیا کہ جو عہد توڑے تو اس کی توبہ قبول کی جائے یا تو یوں کہ اسلام قبول کرے یا پھر ذمی بن جائے۔ الخطابی رقمطراز ہیں :- " امام مالک بن انس نے فرمایا " جو شخص یہود و نصاریٰ میں سے رسول کریمؐ کو گالی دے اُسے قتل کیا جائے ، الا یہ کہ وہ اسلام لائے۔ امام احمد بن حنبل نے بھی اسی طرح کہا ہے۔ امام شافعی فرماتے ہیں :" ذمی اگر رسول کریمؐ کو گالی دے تو اُسے قتل کیا جائے اور اس کا عہد ٹوٹ جائے گا۔ وہ اس ضمن میں کعب بن اشرف کے واقعہ سے استدلال کرتے ہیں۔ اس کا ظاہری مفہوم یہ ہے کہ اُسے قتل کیا جائے۔ استدلال کا تقاضا یہ ہے کہ اگر وہ توبہ کرے تو بھی اُس سے رک نہ جائے کیونکہ اس نے کچھ اس سے نقل نہیں کیا۔ نیز اس لئے کہ کعب ذمی ہونے کا اظہار کرتا اور توبہ کرنے کا اقرار کرتا تھا، بشرطیکہ اس سے قبول کی جائے۔
دشنام دہندہ کی توبہ اور اس کے قبول ہونے میں علماء کے اقوال
یہاں دو موضوع زیر بحث ہیں :-
- (۱) ایک مسلم سے توبہ طلب کرنے کے بارے میں اور گالی دہندہ کی توبہ کی قبولیت
کے بارے میں ہم ذکر کر چکے ہیں کہ امام مالک اور احمد کا مشہور مذہب یہ ہے کہ اس سے توبہ کا مطالبہ نہ کیا جائے۔ اور اُس کی توبہ اس کے قتل کو ساقط نہیں کر سکتی۔ لیث بن سعد کا قول بھی یہی ہے ۔ قاضی عیاض نے ذکر کیا ہے کہ سلف اور جمہور علماء سے یہی قول منقول اور مشہور ہے۔ امام شافعی کا بھی ایک قول یہی ہے امام مالکؒ اور احمدؒ فرماتے ہیں کہ اس کی توبہ مقبول نہیں ۔ امام ابو حنیفہؒ اور ان کے اصحاب کا قول بھی یہی ہے ۔ امام شافعیؒ کا مشہور قول بھی یہی ہے ۔
ان کے نزدیک یہ اس امر پر مبنی ہے کہ مرتد کی توبہ مقبول ہے۔ چنانچہ پہلے اُنہوں نے اس کی توبہ کی مقبولیت پر گفتگو کی ہے۔ صحابہؓ و تابعینؒ میں سے عام اہل علم کا قول یہ ہے کہ مرتد کی توبہ فی الجملہ مقبول ہے۔ حسن بصری رحمہ اللہ سے منقول ہے کہ وہ اسلام لے آئے تب بھی اُسے قتل کیا جائے۔ ان کے نزدیک وہ سارق اور زانی کی طرح ہے۔ اہل الظاہر سے بھی یہی منقول ہے کہ اس کی توبہ اُسے عنداللہ فائدہ دے گی۔ مگر اس کی وجہ سے قتل اس سے دور نہیں ہوگا۔
امام احمدؒ سے منقول ہے کہ جو شخص عصرِ اسلام میں پیدا ہوا ہو اُسے قتل کیا جائے۔ جو مشرک ہو اور اسلام قبول کرے اس سے توبہ کا مطالبہ کیا جائے۔ عطاءؒ اور اسحاق بن راہویہؒ سے بھی اسی طرح نقل کیا گیا ہے ۔ امام احمدؒ اور عطاءؒ کا مشہور قول یہ ہے کہ اس سے مطلقاً توبہ کا مطالبہ کیا جائے۔ اور درست بھی یہی ہے۔ عدم قبول توبہ کی وجہ یہ حدیث نبوی ہے :-
"جو اپنا دین تبدیل کرے اُسے قتل کر دیا کرو۔"
(بخاری)
اس صورت کو اس سے مستثنیٰ نہیں کیا جب وہ توبہ کر لے۔
رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :-
"کسی مسلمان کا خون حلال نہیں جو اس بات کی شہادت دیتا ہو کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور میں اللہ کا رسول ہوں"
مگر تین میں سے کسی ایک کی وجہ سے (۱) شادی شدہ زانی (۲) جان کے بدلہ جان ۔ (۳) اپنے دین کو چھوڑ کر جماعت سے الگ ہو جانے والا ۔"
(صحیح بخاری ومسلم)
جب قاتل اور زانی کے توبہ کرنے سے قتل ساقط نہیں ہوتا تو تارکِ دین اور جماعت المسلمین سے الگ ہونے والے سے بھی قتل معاف نہیں ہوگا۔ حکیم بن معاویہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :-
"اللہ تعالیٰ اس کافر شخص کی دعا قبول نہیں کرتا جو اسلام لانے کے بعد کافر ہو جائے"
(مسند احمد)
نیز اس لئے کہ اُسے محض لڑائی سے باز رہنے اور جنگ آزمائی کی وجہ سے قتل نہیں کیا جاتا۔ اگر ایسا ہوتا تو راہب، بوڑھے، اندھے، اپاہج، عورت اور اس قسم کے لوگوں کو قتل نہ کیا جاتا۔ جب ان لوگوں کو قتل کیا جاتا ہے تو معلوم ہوا کہ ارتداد حدود شرعیہ میں سے ایک حد ہے اور حدود توبہ سے ساقط نہیں ہوتیں۔
اور صحیح مذہب وہ ہے جو جماعت علماء نے اختیار کیا ہے۔ قرآنِ کریم میں ارشاد ہے:۔ "اللہ تعالیٰ اس قوم کو کیسے ہدایت دے گا جو ایمان لانے کے بعد کافر ہوگئے اور اس بات کی شہادت دی کہ رسول حق ہے۔ ان کے پاس (ہدایت کی) نشانیاں آئیں اور اللہ ظالموں کی قوم کو ہدایت نہیں دیتا۔" (۸۶ - آل عمران) نیز فرمایا: "ماسوا ان لوگوں کے جو اس کے بعد توبہ کرلیں اور اپنے اعمال کو درست کر لیں تو اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔" (آل عمران - ۸۹) اس آیت سے معلوم ہوا کہ جو شخص مرتد ہونے کے بعد توبہ کرلے تو اللہ تعالیٰ اُسے بخش دے گا۔ اس کا مقتضےٰ یہ ہے کہ دنیا و آخرت دونوں میں اس کو معاف کردے گا اور جس کا یہ حال ہو اس کو قتل کی سزا نہیں دی جاتی۔
امام احمدؒ نے جو روایت نقل کی ہے وہ اس کی توضیح کرتی ہے۔ چنانچہ امام احمد بطریق علی بن عاصم از داؤد بن ابی ہند از عکرمہ از ابن عباسؓ روایت کرتے ہیں کہ ایک انصاری دینِ اسلام سے مرتد ہوکر مشرکین کے یہاں چلا گیا۔ سورۃ آل عمران کی آیت نمبر ۸۹ نازل ہوئی۔ اس کی قوم نے یہ آیت اُسے لکھ بھیجی تو وہ توبہ کرنے کے لئے لوٹ آیا۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کی توبہ کو قبول کرلیا اور اُسے معاف کردیا۔ نسائی نے اس کو بروایت داؤد اسی طرح نقل کیا ہے۔
امام احمد نے بطریق علی از خالد از عکرمہ بہ ایں معنیٰ اس کو روایت کیا ہے۔ اور کہا بخدا میری قوم نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر جھوٹ نہیں باندھا اور نہ ہی رسول کریمؐ نے خدا پر افترا پردازی سے کام لیا۔ اور اللہ تعالیٰ تینوں سے زیادہ سچا ہے۔ چنانچہ وہ توبہ کرنے کے لئے لوٹ آیا۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس
کی توبہ کر لی اور اُسے آزاد کر دیا۔ نیز امام احمد نے بطریق حجاج از ابن جریج از عکرمہ مولی ابن عباسؓ سے روایت کیا ہے کہ سورۃ آل عمران کی مذکورہ بالا آیت ابوعامر بن نعمان اور وحوح بن الاسلت اور حارث بن سوید بن الصامت کے بارے میں اُتری۔ وہ بارہ اشخاص کے ساتھ اسلام سے منحرف ہوگئے تھے اور قریش میں آملے تھے ۔
نیز وہ بطریق عبدالرزاق از جعفر از حمید از مجاہد روایت کرتے ہیں کہ حارث ابن سوید رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر مشرف بہ اسلام ہوئے۔ پھر حارث مرتد ہو کر اپنی قوم کی طرف چلا گیا تو اس کے بارے میں یہ آیت اتری۔ اس کی قوم کے ایک آدمی نے یہ آیت اُسے پڑھ کر سنائی۔ حارث نے کہا بخدا جہاں تک مجھے معلوم ہے تم سچے ہو۔ اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تم سے زیادہ سچے ہیں اور اللہ تعالیٰ تینوں سے بڑھ کر سچا ہے۔ چنانچہ حارث (رسول کریم کی طرف لوٹ آیا) اس نے دوبارہ اسلام قبول کیا اور بہت اچھا مسلمان ثابت ہوا۔ اسی طرح متعدد اہل اسلام نے ذکر کیا ہے کہ یہ آیت حارث بن سوید اور چند مسلمانوں کے بارے میں نازل ہوئی جو مرتد ہوگئے تھے۔ یہ لوگ آغاز اسلام کی طرح مدینہ سے نکلے اور بحالت کفر مکہ جاکر کفار کے ساتھ مل گئے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے ان کے بارے میں یہ آیت نازل کی ۔
چنانچہ حارث نادم ہوا اور اس نے اپنی قوم کو پیغام بھیجا کہ میرے لئے رسول کریمؐ سے دریافت کیجئے کہ آیا میں توبہ کرسکتا ہوں؟ انہوں نے ایسا ہی کیا تو مذکورہ صدر آیت نازل ہوئی۔ اس کی قوم کا ایک آدمی یہ آیت اس کے پاس لے گیا اور اُسے پڑھ کر سنائی۔ حارث نے کہا جہاں تک مجھے علم ہے بخدا آپ سچے ہیں رسول کریمؐ تم سے بھی زیادہ سچے ہیں اور اللہ تعالیٰ تم تینوں سے زیادہ سچا ہے ۔ تب حارث مدینہ لوٹ آیا مشرف باسلام ہوا اور بہت اچھا مسلمان قرار پایا۔
دیکھئے یہ آدمی اسلام سے برگشتہ ہوگیا اور اسلام میں واپس آنے کے بعد رسول کریمؐ نے اس کو قتل نہیں کیا ۔
اللہ تعالیٰ نے منافقین کے حالات بیان کرتے ہوئے فرمایا :-
"کیا تم اللہ، اس کی آیات اور اس کے رسول کا مذاق اُڑاتے تھے۔ اب معذرت مت کیجئے ، تم نے ایمان لانے کے بعد کفر کا ارتکاب کیا۔ اگر ہم تمہارے ایک گروہ کو معاف بھی کر دیں تو دوسرے گروہ کو ضرور عذاب دیں گے" (التوبۃ ۶۵ - ۶۶) اس آیت سے معلوم ہوا کہ کافر ایمان لے آئے تو اُسے معاف کر دیا جاتا ہے اور بعض اوقات اُسے سزا بھی دی جاتی ہے اور معاف اُس وقت کیا جاتا ہے جب وہ توبہ کر لے ، اس لئے معلوم ہوا کہ اُس کی توبہ مقبول ہے۔
مُفسّرین نے بیان کیا ہے کہ ان لوگوں کی ایک جماعت تھی۔ ان میں سے صرف ایک آدمی نے توبہ کی تھی جس کا نام مخشی بن حمیر تھا۔ بعض اہل علم کہتے ہیں کہ اس نے جو کچھ سنا تھا اس کو ماننے سے انکار کر دیا اور ان سے الگ ہو کر چلنا شروع کر دیا۔ جب یہ آیات اُتریں وہ اپنے نفاق سے بیزار ہو گیا اور کہا اے اللہ ! میں ہمیشہ ایک آیت سنتا رہا ہوں جس سے میری آنکھیں ٹھنڈی ہوتیں، میرا جسم کانپنے لگ جاتا اور میرا دل ڈوبنے لگتا ۔ اے اللہ ! میری وفات کو شہادت فی سبیل اللہ بنادے ۔ اور اُس طرح تفصیلی واقعہ بیان کیا ، مگر اس آیت سے استدلال محلِ نظر ہے۔
ارشادِ باری تعالیٰ ہے :۔ " اے نبیّ کفار اور منافقین سے جہاد کیجئے اور ان پر سختی کیجئے۔ وہ اللہ کی قسمیں کھاتے ہیں کہ انہوں نے کفر کا کلمہ نہیں کہا حالانکہ انہوں نے کفر کا کلمہ کہا ہے اور اسلام لانے کے بعد کافر ہو گئے ۔" (التوبۃ - ۷۴)
یہ اس اَمر کی دلیل ہے کہ کافر جب اسلام لے آئے تو اُس کی توبہ مقبول ہے۔ نیز یہ کہ انہیں دنیا و آخرت میں درد ناک عذاب سے دوچار نہیں کیا جائے گا۔ یہ بات شرط کے مفہوم، بلحاظ تعلیل اور سیاقِ کلام سے ثابت ہوئی ۔ اور قتل عذابِ الیم ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ اُن میں سے جو تائب ہو جائے گا وہ قتل کے عذاب سے دوچار نہیں ہو گا ۔
فرمانِ باری تعالیٰ ہے :۔ " جو خدا پر ایمان لانے کے بعد خدا کے ساتھ کفر کرے " وہ نہیں جو (کفر پر زبردستی)
مجبور کیا جائے اور اس کا دل ایمان کے ساتھ مطمئن ہو۔ بلکہ وہ جو دل سے اور دل کھول کر کفر کرے تو ایسے لوگوں پر اللہ کا غضب ہے اور ان کو بڑا سخت عذاب ہوگا ، اس لیے کہ انہوں نے دنیا کی زندگی کو آخرت کے مقابلے پر عزیز رکھا اور اس لئے کہ خدا کافر لوگوں کو ہدایت نہیں دیتا۔ یہی لوگ ہیں جن کے دلوں پر اور کانوں پر اور آنکھوں پر خدا نے مہر لگا رکھی ہے اور یہی غفلت میں پڑے ہوئے ہیں۔ کچھ شک نہیں کہ یہ آخرت میں خسارہ اُٹھانے والے ہوں گے پھر جن لوگوں نے تکلیفیں اُٹھانے کے بعد ترکِ وطن کیا پھر جہاد کیے اور ثابت قدم رہے تمہارا پروردگار ان کو بے شک ان آزمائشوں کے بعد بخشنے والا اور (ان پر) رحمت کرنے والا ہے۔"
(النحل - ۱۰۶ - ۱۱۰)
ان آیات میں واضح فرمایا کہ جن لوگوں نے دارالاسلام کی طرف ہجرت کی اس کے بعد کہ وہ اسلام لانے کے بعد کفر اختیار کر کے اپنے دین سے برگشتہ ہوگئے تھے ، انہوں نے جہاد کیا اور صبر سے کام لیا تو اللہ تعالیٰ ان کو بخش دے گا اور ان پر رحم فرمائے گا۔ اور جس کے گناہ وہ مطلقاً معاف کردے تو اُسے نہ تو دنیا میں سزا دے گا اور نہ آخرت میں۔
سفیان بن عُیینہ ، عمرو بن دینار سے روایت کرتے ہیں اور وہ عکرمہ سے کہ کچھ لوگ مہاجرین میں سے نکلے اور مشرکوں نے اُنہیں پکڑ کر فتنہ میں مبتلا کر دیا تو ان کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی ۔
" لوگوں میں سے بعض وہ ہیں جو کہتے ہیں کہ ہم اللہ پر ایمان لائے اور جب انہیں (اللہ کی راہ میں) ایذا دی گئی تو انہوں نے لوگوں کے فتنہ کو اللہ کا عذاب سمجھ لیا۔"
(العنکبوت ۔ ۱۰)
پھر ان ہی کے بارے میں یہ آیت اتری " مَنْ كَفَرَ بِاللّٰهِ مِنْ بَعْدِ إِيْمَانِهِ پھر ایک دفعہ اور نکلے اور لوٹ کر مدینہ آگئے تو ان کے بارے میں
فرمایا ۔ " ثُمَّ اِنَّ رَبَّكَ لِلَّذِیْنَ هَاجَرُوْا "
نیز ارشاد خداوندی ہے :۔
" وَمَنْ یَّرْتَدِدْ مِنْكُمْ عَنْ دِیْنِهِ فَیَمُتْ وَهُوَ كَافِرٌ فَاُولٰٓئِكَ حَبِطَتْ اَعْمَالُهُمْ فِی الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَةِ ۚ "
(البقرۃ ۔ ۲۱۷)
" اور تم میں سے جو اپنے دین سے پھر جائے اور پھر اس کی موت کفر پر واقع ہو جائے تو یہ لوگ ہیں جن کے اعمال دنیا اور آخرت میں غارت ہوں گے ۔ "
اس آیت سے معلوم ہوا کہ مرتدین میں سے جس کی موت کفر پر واقع نہ ہو وہ ابدی جہنمی نہیں ہوگا ۔ یہ بات قبول توبہ اور صحتِ اسلام کی دلیل ہے ۔ چونکہ ایسا شخص دین کا تارک نہیں ہوگا لہٰذا اسے قتل نہیں کیا جائے گا ۔ نیز مندرجہ ذیل آیت میں عموم پایا جاتا ہے ۔
فَاِذَا انْسَلَخَ الْاَشْهُرُ الْحُرُمُ فَاقْتُلُوا الْمُشْرِكِیْنَ ۵
(سورۃ التوبۃ)
(جب حرام مہینے گزر جائیں تو مشرکین کو قتل کرو ۔ )
عام مشرکین سے نبرد آزما ہونے کے بارے میں یہ خطاب عام ہے ۔ جب مشرک توبہ کر لے ، نماز قائم کرے اور زکوٰۃ ادا کرے تو انہیں چھوڑ دو خواہ وہ اصلی مشرک ہو یا وہ شخص جو شرک کو اختیار کر کے مرتد ہو گیا ہو ۔
عبداللہ بن سعد بن ابی سرح کا واقعہ
عبداللہ بن سعد بن ابی سرح عہدِ رسالت میں مرتد ہو کر مکہ چلا گیا تھا اور اس نے اللہ اور اس کے رسول پر افترا پردازی کی ۔ اس کے بعد رسول کریمؐ نے اس سے بیعت کر لی اور اس کے خون کو معصوم قرار دیا ۔ اسی طرح حارث بن سُوَیْد اور اہلِ مکہ کی ایک جماعت اسلام لا کر مرتد ہو گئی اور پھر اسلام کی طرف لوٹ آئی تو اُن کا خون محفوظ رہا ۔ ان لوگوں اور دوسروں کے واقعات علمائے حدیث و سیرت کے نزدیک مشہور ہیں ۔ مزید براں اس پر صحابہ رضوان اللہ علیہم کا اجماع بھی منعقد
ہوچکا ہے۔
جب سرور کائنات صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے وفات پائی اور اہل مکہ، مدینہ اور طائف کے سوا اکثر عرب مرتد ہوگئے، بعض لوگوں نے نبوت کا دعویٰ کرنے والوں مُسَیلمہ، اسود عنسی، اور طلیحہ اسدی کی پیروی اختیار کرلی حضرت ابوبکر صدیق اور دیگر صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین اُن کے خلاف نبرد آزما ہوئے یہاں تک کہ اُن میں سے اکثر اسلام کی طرف لوٹ آئے۔ تو اُنہوں نے ان سے کچھ تعرض نہ کیا اور اُن میں سے کسی کو بھی قتل نہ کیا۔ مرتد ہوکر لوٹنے والوں کے بڑوں میں طلیحہ اسدی، اشعث بن قیس اور بیشمار لوگ تھے۔ یہ واقعہ عام طور سے مشہور ہے اور کسی سے پوشیدہ نہیں مگر حسن سے منقول یہ روایت محل نظر ہے، کیونکہ ایسا واقعہ ان پر پوشیدہ نہیں رہ سکتا۔ غالباً ان کے نزدیک ارتداد سے اس کی ایک نوع مراد ہے مثلاً زندقہ وغیرہ یا انہوں نے یہ بات اُس مرتد کے بارے میں کہی ہے جو مسلمان پیدا ہوا ہو یا اس قسم کے دیگر امور جن میں اختلاف پیدا ہوا ہے۔ باقی رہا رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا یہ ارشاد گرامی کہ :۔
" جو اپنا دین تبدیل کرے اُسے قتل کردو۔"
ہمارے نزدیک اس کا مفہوم یہ ہے کہ دین کو تبدیل کرنے والا تب کہلائے گا جب ہمیشہ وہ اس پر قائم رہے۔ ہمارا زاویہ نگاہ یہی ہے۔ اگر وہ دین حق کی طرف لوٹ آئے تو اُسے تبدیل کرنے والا نہیں کہیں گے، اس طرح اگر وہ مسلمانوں کے وطن کی طرف لوٹ آئے تو وہ تارک دین اور جماعت سے الگ ہونے والا نہیں ہے۔ بخلاف ازیں وہ اپنے دین کے ساتھ وابستہ رہنے والا اور جماعت کا دامن تھامے رکھنے والا ہے۔ مگر قتل اور زنا کا معاملہ اس سے مختلف ہے۔ وہ ایک ایسا فعل ہے جو اس سے صادر ہوا مگر وہ ہمیشہ اس پر قائم رہنے والا نہیں ہے، کہ وہ اُسے چھوڑ دے تو کہا جائے کہ وہ زانی اور قاتل نہیں ہے۔ لہٰذا جب بھی یہ فعل اُس سے صادر ہوگا اُس کی حد اس پر مرتب ہوگی۔ اگرچہ وہ عزم باندھے کہ دوبارہ اس کا ارتکاب نہیں کرے گا۔
اس لئے کہ کسی فعل کو ترک کرنے کا عزم گزشتہ فعل کے فساد کا ازالہ نہیں کر سکتا۔ علاوہ بریں "دین کو ترک کر کے جماعت سے الگ ہونے والا" کا اطلاق گاہے محارب اور رہزن پر بھی ہوتا ہے، جیسا کہ ابو داؤد نے سنن میں اس کو با تفصیل حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کیا ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ”کسی مسلم کا خون حلال نہیں جو اس بات کی شہادت دیتا ہو کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد اللہ کے رسول ہیں مگر اس صورت میں جب کہ وہ تین باتوں میں سے کسی ایک بات کا مرتکب ہو۔ ایک تو وہ آدمی جو شادی شدہ ہونے کے باوجود زنا کرے تو اُسے سنگسار کیا جائے، دوسرے وہ شخص جو اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ جنگ کرنے کے لئے نکلے تو اُسے قتل کیا جائے یا سولی پر لٹکایا جائے یا جلا وطن کیا جائے۔ (تیسرے یہ کہ) وہ کسی کو قتل کرے تو اس کے عوض اُسے قتل کیا جائے“ اس حدیث میں اس مستثنیٰ کا ذکر (التارک لدینہ المفارق للجماعۃ) کے الفاظ میں کیا گیا ہے۔ اسی بناء پر اُسے جماعت سے الگ ہونے کے ساتھ تعبیر کیا گیا ہے اور یہ صورت محاربہ میں پیش آتی ہے۔
اس کی مؤید یہ بات ہے کہ ہر دو احادیث اس بات کو سموئے ہوئے ہیں ۔ کلمہ طیبہ کی شہادت دینے والے کا خون حلال نہیں۔ ظاہر ہے کہ اس کے عموم میں مرتد شامل نہیں ہے، لہٰذا اس کو مستثنیٰ کرنے کی ضرورت نہیں ۔ بنا بریں ترک دین کا مطلب یہ ہوگا کہ وہ دین کے واجبات و فرائض کو ترک کر دے۔ واضح رہے کہ دین کو ترک کرنے اور اس کو تبدیل کرنے میں فرق ہے ۔ یا اس سے مراد یہ ہوگا کہ مرتد ہو جائے اور جنگ کرے جس طرح قبیلہ عرینہ والوں ، مقیس بن صبابہ اور اُن لوگوں نے کیا تھا جو مرتد ہوگئے ، قتل کا ارتکاب کیا اور انہوں نے مسلمانوں کا مال لیا تھا۔ ایسے آدمی کو ہر حال میں قتل کیا جائے اگرچہ قبضہ میں آنے کے بعد توبہ کرلے۔ اسی لئے ان تین اشخاص کو مستثنیٰ کیا کہ ان کو ہر حال میں قتل کیا جائے اگرچہ قابو میں آنے کے بعد توبہ کرلیں ۔ واللہ اعلم۔
اور اگر اس سے محض مرتد مراد ہوتا تو ”المفارق للجماعة“ کے الفاظ کی ضرورت نہ تھی۔ اس لئے کہ محض دین سے نکل جانا قتل کا موجب ہے، اگرچہ اس نے جماعت کو نہ بھی چھوڑا ہو۔ یہ حدیث اسی توجیہہ کی متحمل ہے۔ اور اس حدیث کا مقصد یہی ہے۔ واللہ اعلم۔
باقی رہی یہ حدیث کہ ”اللہ اس بندے کی توبہ قبول نہیں کرتا جو اسلام لانے کے بعد شرک کا مرتکب ہو“ ابن ماجہ نے اس کو ان الفاظ میں روایت کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس مشرک کے کسی عمل کو قبول نہیں کرتا جو اسلام لانے کے بعد شرک کا مرتکب ہو، جب تک کہ وہ مشرکین کو چھوڑ کر مسلمانوں کی طرف نہ آجائے“ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ مسلمانوں کی طرف لوٹ آنے سے اس کا اسلام مقبول ہوگا اور جب تک وہ مشرکوں کے درمیان مقیم رہ کر ان کی جماعت میں اضافے کا موجب ہو گا اس کی توبہ قبول نہیں کی جائے گی جس طرح وہ لوگ تھے جن کو بدر میں قتل کیا گیا تھا۔ حدیث کا مفہوم یہ ہوا کہ جو شخص اسلام کا اظہار کرے اور پھر مرتد ہو جائے تو اس کی توبہ اور اعمال اُس وقت تک قبولیت کے قابل نہیں ہوتے جب تک کہ یہ مسلمانوں کی طرف ہجرت نہ کرے۔ انہی لوگوں کے بارے میں مندرجہ ذیل آیت کریمہ نازل ہوئی۔
(النساء ۹۷)
اِنَّ الَّذِيْنَ تَوَفّٰهُمُ الْمَلٰٓئِكَةُ ظَالِمِيْ اَنْفُسِهِمْ، (بیشک وہ لوگ جن کو فرشتے اس حال میں فوت کرتے ہیں کہ وہ اپنی جانوں پر ظلم کرنے والے ہوتے ہیں)
مزید برآں دین کو ترک کرنا، تبدیل کرنا اور جماعت سے الگ ہونا ایک جاری رہنے والی چیز ہے۔ اس لئے کہ وہ عقیدہ کے تابع ہے اور عقیدہ ایک دائمی چیز ہے۔ کوئی شخص جب اسے ترک کرے گا تو حسب سابق ہو جائے گا اور ماضی کا کوئی اعتبار نہ ہو گا اور نہ ہی اس میں کوئی خرابی باقی رہے گی۔ اب اس کے بارے میں یہ کہنا درست نہ ہو گا کہ یہ دین کو تبدیل کرنے والا یا اس کو ترک کرنے والا ہے۔ جس طرح زانی
اور فاعل کو زانی اور قاتل کہا جاتا ہے بخلاف ازیں جو شخص کفر کو ترک کر کے اسلام قبول کرلے اس کو علی الاطلاق کافر کہنا جائز نہیں۔ نیز اس لئے کہ دین کو تبدیل یا ترک کرنا اُسی طرح قتل کا موجب ہے جس طرح اصلی کفر اور جنگ و قتال۔ تو جس طرح کفر کو ترک کر کے اسلام لانے یا معاہدہ کر کے جنگ کو ترک کرنے سے کفر کا حکم باقی نہیں رہتا، اسی طرح دین اسلام کی طرف رجوع کرنے سے تبدیلِ دین و ترکِ دین کا حکم ختم ہوجاتا ہے۔
مرتد سے توبہ کا مطالبہ کرنے کے بارے میں علماء کے مذاہب
امام مالکؒ و احمدؒ کا موقف
جمہور اہل علم کا موقف یہ ہے کہ مرتد سے توبہ کا مطالبہ کیا جائے۔ امام مالک اور امام احمد کا بھی زاویۂ نگاہ یہی ہے کہ مرتد سے توبہ کا مطالبہ کیا جائے اور پھر مطالبہ کرنے کے بعد اسے تین دن کی مہلت دی جائے۔ کیا یہ بات واجب ہے یا مستحب؟ اس بارے میں دونوں سے دو روایتیں منقول ہیں۔ مشہور تر روایت یہ ہے کہ توبہ کا مطالبہ واجب ہے۔ یہ اسحق بن راہویہ کا قول ہے۔ مطالبہ توبہ کے وجوب عدم وجوب کے بارے میں امام شافعیؒ سے دو قول منقول ہیں۔ ایک قول یہ ہے کہ توبہ کا مطالبہ کیا جائے۔ اگر فی الفور توبہ کرے تو فبہا ورنہ اسے قتل کیا جائے۔ ابن المنذر اور المزنی کا قول بھی یہی ہے۔ اور دوسرا قول وہی ہے جو امام مالک اور امام احمد کا ہے کہ اس سے توبہ کا مطالبہ کیا جائے۔ زہری اور ابن القاسم نے ایک روایت کے مطابق کہا کہ اس سے تین مرتبہ توبہ کا مطالبہ کیا جائے
امام ابو حنیفہؒ کا زاویۂ نگاہ
امام ابو حنیفہ کا مذہب بھی یہی ہے کہ اس سے توبہ کا مطالبہ کیا جائے اور اگر وہ توبہ نہ کرے تو اسے قتل کیا جائے۔ حنفیہ کے نزدیک مشہور قول یہ ہے کہ توبہ کا مطالبہ کرنا مستحب ہے۔ حنفیہ میں سے امام طحاوی نے ذکر کیا ہے کہ توبہ طلب کرنے سے پہلے مرتد کو قتل نہ کیا جائے۔ البتہ اگر وہ مہلت مانگے تو اسے تین دن کی مہلت دی جائے۔
سفیان ثوری کا قول
اُس کو اتنی مہلت دی جائے جب تک اس سے توبہ کی امید کی جاتی ہو۔ نخعی کے قول کا مطلب بھی یہی ہے۔
عبید بن عمیر اور طاؤس نے یہ موقف اختیار کیا ہے کہ اُسے قتل کیا جائے اور اس سے توبہ کا مطالبہ نہ کیا جائے۔ اس لئے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دین کو تبدیل کرنے والے اور دین کو چھوڑ کر جماعت سے علیحدہ ہو جانے والے کو قتل کرنے کا حکم دیا ہے اور اس سے توبہ کے مطالبے کا حکم نہیں دیا جیسا کہ اللہ نے توبہ طلب کئے بغیر مشرکین کے ساتھ جنگ کرنے کا حکم دیا ہے۔ حالانکہ اگر وہ توبہ کر لیتے تو ہم ان سے نہ لڑتے ۔ اس کی مؤید یہ بات ہے کہ مرتد کا کفر اصلی کفر سے غلیظ تر ہے ۔ جب حربی قیدی کو توبہ کا مطالبہ کئے بغیر قتل کیا جاسکتا ہے تو مرتد کو بالاولیٰ قتل کیا جائے گا ۔
اس کا راز یہ ہے کہ ہم کافر کے قتل کرنے کو جائز نہیں سمجھتے جب تک کہ اس سے توبہ کا مطالبہ نہ کریں ۔ بایں طور کہ اس تک دعوتِ اسلام پہنچ چکی ہو۔ اس لئے کہ جس تک دعوتِ اسلام نہ پہنچی ہو اس کو قتل کرنا جائز نہیں اور مرتد تک دعوتِ اسلام پہنچ چکی ہے لہٰذا اس کو قتل کرنا اس اصلی کافر کی طرح جائز ہے جسکو دعوت پہنچ چکی ہو ۔ ان لوگوں کی یہی دلیل ہے جو توبہ کا مطالبہ کرنے کو مستحب قرار دیتے ہیں ۔ یہ بات مستحب ہے کہ لڑائی کے وقت ہم کفار کو دعوتِ اسلام دیں ، اگرچہ قبل ازیں انہیں دعوت پہنچ چکی ہو ۔ مرتد کے بارے میں بھی یہی بات ہے مگر دونوں کے قتل میں یہ واجب نہیں ہے ۔ البتہ اگر مرتد کو یہ بات معلوم نہ ہو کہ اسلام کی طرف لوٹ آنا بھی جائز ہے تو اس سے توبہ کا مطالبہ از بس ناگزیر ہے ۔
اس کی دلیل یہ ہے کہ فتح مکہ کے روز رسولِ کریم نے عبداللہ بن سعد بن ابی سرح مقیس بن صبابہ ، اور عبداللہ بن خطل کے خون کو ھدر قرار دیا تھا اس لئے کہ وہ مرتد تھے اور اُن سے توبہ کا مطالبہ نہ کیا بلکہ ان دونوں کو قتل کیا گیا اور ابن ابی سرح کو بیعت کرنے میں توقف کیا کہ شاید کوئی مسلم اُسے قتل کر دے پس معلوم ہوا کہ مرتد اگر اسلام قبول
نہ کرے تو اُسے قتل کیا جائے اور اس سے توبہ کا مطالبہ نہ کیا جائے۔
مزید براں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قبیلہ عرینہ کے ان لوگوں کو سزا دی تھی جو اونٹوں کی حفاظت پر مامور تھے اور اسلام سے برگشتہ ہو گئے تھے۔ اس وجہ سے ان کو قتل کیا گیا اور ان سے توبہ کا مطالبہ نہ کیا۔ چونکہ انہوں نے ایسے افعال کا ارتکاب کیا تھا جس سے آدمی کا خون مباح ہو جاتا ہے اسی لئے ان کو اصلی کافر، زانی اور رہزن وغیرہ کی طرح توبہ کا مطالبہ کرنے سے پیشتر قتل کیا گیا۔ اس لئے کہ یہ تمام لوگ ۔ جن کی توبہ مقبول ہے اور جن کی توبہ مقبول نہیں ۔ ان کو توبہ کا مطالبہ کرنے سے پیشتر قتل کیا جاتا ہے۔ نیز اس لئے کہ مرتد اگر دارالحرب کو چلا جائے یا مرتدین قوت و شوکت سے بہرہ ور ہوں اور اس وجہ سے اسلامی احکام پر عمل پیرا نہ ہوں تو ان کو بلاشبہ توبہ کا مطالبہ کئے بغیر قتل کیا جائے۔ اگر ہمارے قابو میں ہوں تب بھی صورت حال یہی ہے جو لوگ توبہ کے مطالبہ کو واجب یا مستحب کہتے ہیں ان کی دلیل یہ آیت کریمہ ہے ۔ قُلْ لِلَّذِیْنَ كَفَرُوْا اِنْ یَّنْتَهُوْا يُغْفَرْ لَهُمْ مَّا قَدْ سَلَفَ ۔
(الانفال ۳۸)
جن لوگوں نے کفر کیا اُن سے کہہ دیجئے کہ اگر وہ باز آجائیں تو اُن کے سابقہ (گناہ) معاف کر دیئے جائیں گے۔
اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولؐ کو حکم دیا کہ تمام کفار کو بتا دیں کہ اگر وہ بُرے کاموں سے باز آجائیں تو ان کے سابقہ گناہ معاف کر دیئے جائیں گے۔ ظاہر ہے کہ توبہ کا مطالبہ کرنے کا مطلب بھی یہی ہے۔ اور مرتد کفار میں شامل ہے۔ نیز یہ کہ امر وجوب کے لیے ہوتا ہے۔ اس لئے معلوم ہوا کہ مرتد سے توبہ کا مطالبہ کرنا واجب ہے۔ یہ نہیں کہا جاسکتا کہ اسلام کی عمومی دعوت انہیں پہنچ چکی ہے، اس لئے کہ یہ کفر اُس کفر کی نسبت اخصّ ہے اور جو شخص بھی اس کا مرتکب ہو وہ واجب القتل ہوتا ہے اور اُسے زندہ چھوڑنا جائز نہیں۔ حالانکہ اس سے کفر کی توبہ کرنے کا مطالبہ
نہیں کیا گیا۔
مزید برآں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حارث بن سوید اور اس کے رفقاء میں سے مرتد ہونے والوں کو توبہ کا پیغام بھیجا تھا اور قبل ازیں توبہ کے حکم پر مشتمل آیت نازل ہوچکی تھی۔ بنا بریں اس سے صرف توبہ کا مشروع ہونا ثابت ہوتا ہے۔
علاوہ ازیں آپؐ سے یہ کام دعوت اسلام کے حکم کی تعمیل اور تبلیغ دین کے لئے صادر ہوا تھا اس لئے یہ واجب ہوگا۔ حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اُمّ مروان نامی عورت مرتد ہوگئی تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حکم دیا کہ اُسے اسلام کی دعوت دی جائے، اگر اسلام کی طرف لوٹ آئے تو بہتر ورنہ اُسے قتل کیا جائے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ جنگ احد میں ایک عورت اسلام سے برگشتہ ہوگئی — رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ اُس سے توبہ کا مطالبہ کیا جائے اگر توبہ کرے تو فبہا ورنہ اُسے قتل کیا جائے۔ ہر دو احادیث کو دارقطنی نے روایت کیا ہے۔
ان احادیث میں — بشرطیکہ ان کی صحت ثابت ہو — توبہ کا حکم دیا گیا ہے اور امر وجوب کے لئے ہوتا ہے۔ اس کی سب سے بڑی دلیل صحابہؓ کا اجماع ہے محمد بن عبداللہ بن عبدالقاری سے مروی ہے کہ حضرت عمر فاروقؓ کی طرف ایک آدمی ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کی جانب سے آیا۔ حضرت عمرؓ نے لوگوں کی حالت پوچھی تو اس نے اس کے بارے میں بتایا۔ پھر پوچھا کوئی عجیب واقعہ تو پیش نہیں آیا ؟ اس نے کہا کہ پیش آیا ہے اور وہ یہ کہ ایک آدمی اسلام لانے کے بعد کافر ہوگیا۔ حضرت عمرؓ نے دریافت کیا پھر تم نے اس کے ساتھ کیا سلوک کیا ؟ اس نے کہا ہم نے اُس گردن اُڑا دی۔ حضرت عمرؓ نے کہا تم نے اُسے تین روز کے لئے قید و بند میں کیوں نہ رکھا کہ ہر روز اُسے روٹی کھلاتے اور توبہ کا مطالبہ کرتے ممکن ہے وہ توبہ کر لیتا اور اللہ کے دین کی طرف لوٹ آتا پھر فرمایا اے اللہ میں اس وقت حاضر نہ تھا نہ میں نے اس بات کا حکم دیا اور نہ اُسے سُن کر راضی ہوا۔ اس کو امام مالکؒ، شافعیؒ اور احمدؒ نے روایت کیا ہے۔ امام احمدؒ فرماتے ہیں۔ میرا موقف وہی ہے جو اس حدیث میں مذکور ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے
کہ توبہ کا مطالبہ کرنا واجب ہے، ورنہ حضرت عمر یہ نہ فرماتے کہ میں اُسے سُن کر راضی نہیں ہوا۔
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب ہم نے تستّر کے شہر کو فتح کیا تو ابوموسیٰ اشعری نے مجھے حضرت عمرؓ کی طرف بھیجا۔ جب میں آپ کی خدمت میں حاضر ہوا تو انہوں نے دریافت کیا کہ قبیلہ بکر بن وائل نے کیا کیا ؟ اس نے کہا جب میں نے دیکھا کہ آپ اس پر مصر ہیں تو میں نے کہا اے امیرالمومنین ! انہوں نے کیا کیا ؟ انہوں نے بہت سے لوگوں کو قتل کیا اور دین سے برگشتہ ہو کر مشرکوں کے ساتھ جا ملے۔ پھر انہوں نے مشرکین کے ساتھ مل کر مسلمانوں سے جنگ کی، حتیٰ کہ وہ سب مارے گئے۔ پھر فرمایا اگر میں انہیں زندہ پکڑ لیتا تو یہ بات مجھے سطح زمین پر موجود ہر زرد چیز (سونا) اور سفید (چاندی) سے عزیز تر ہوتی۔ میں نے کہا اگر میں انہیں زندہ پکڑ لیتا تو پھر ان سے کیا سلوک روا رکھا جاتا ؟ فرمایا میں ان کے سامنے وہ دروازہ پیش کرتا جس سے وہ نکلے تھے اور اگر وہ انکار کرتے تو میں انہیں زندان میں ڈال دیتا۔
عبداللہ بن عتبہ سے مروی ہے کہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے چند اہلِ عراق کو پکڑا جو اسلام سے مرتد ہو گئے تھے اور ان کے بارے میں حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو لکھا۔ حضرت عثمانؓ نے انہیں لکھا کہ ان پر دین حق اور شہادۃ توحید کو پیش کیجیے۔ اگر قبول کریں تو انہیں چھوڑ دو اور اگر قبول نہ کریں تو انہیں قتل کر دو۔ چنانچہ ان میں سے بعض نے اسے قبول کیا اور عبداللہ بن مسعود نے انہیں رہا کر دیا۔ اور بعض نے انہیں قبول نہ کیا تو انہیں قتل کر دیا۔ ہر دو احادیث کو امام احمدؒ نے بسندِ صحیح روایت کیا ہے ۔
أبو محمد العلاء سے مروی ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے قبیلہ بنو بکر بن وائل کے ایک آدمی کو پکڑا جو عیسائی ہوگیا تھا۔ مہینہ بھر اس سے توبہ کا مطالبہ کرتے رہے مگر وہ نہ مانا ۔ پھر اُسے قتل کرنے کے لئے آگے لائے تو اس نے اپنے قبیلہ کو مدد کے لئے پکارا ۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا ۔ (تیرا قبیلہ) اب آگے چل کر تجھے جہنم میں ملے گا۔ اس کو خلال اور اس کے ساتھ ابوبکر نے روایت کیا ہے۔
حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ان کے پاس ایک آدمی کو لایا گیا جو اسلام سے منحرف ہوگیا تھا۔ پھر ابو موسیٰ اُسے بیس راتوں تک یا اُس کے قریب دعوتِ اسلام دیتے رہے۔ پھر مُعاذ آئے اور اُسے دعوت دی مگر اس نے انکار کیا۔ چنانچہ آپ نے اس کی گردن اُڑا دی
(ابوداؤد)
ایک اور سند سے مروی ہے کہ ابو موسیٰ ایک مہینہ تک اس سے توبہ کا مطالبہ کرتے رہے ۔ اس کو امام احمد نے نقل کیا ہے۔
اسی طرح ایک شخص نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کیا ہے کہ مرتد سے تین شب و روز تک توبہ کا مطالبہ کیا جائے
(مسند احمد)
ابو وائل ، ابو معین السعدی سے روایت کرتا ہے کہ میں صبح کے وقت مسجد بنی حنیفہ کے پاس سے گزرا تو وہ کہہ رہے تھے کہ مسیلمہ اللہ کا رسول ہے۔ چنانچہ میں عبداللہ کے پاس آیا اور انہیں اطلاع دی۔ اس نے سپاہی بھیجے جو اُسے پکڑ کر لے آئے۔ اس نے اُن سے توبہ کا مطالبہ کیا تو انہوں نے توبہ کرلی۔ انہوں نے اُسے رہا کر دیا اور عبداللہ بن النواحہ کی گردن اڑا دی۔ انہوں نے کہا چند لوگوں نے ایک بدعت ایجاد کی ، آپ نے ان میں سے بعض کو قتل کردیا اور بعض کو رہا کردیا۔ اُنہوں نے کہا کہ یہ شخص اور ابن اُثال رسول کریم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ نے فرمایا ۔ کیا تم اس بات کی شہادت دیتے ہو کہ میں اللہ کا رسول ہوں؟ دونوں نے کہا کیا تم اس بات کی شہادت دیتے ہو کہ مسیلمہ اللہ کا رسول ہے؟ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم
- میں اللہ اور دونوں کو قتل کر اس کو عبداللہ یہ مرتد کیا، گویا اس پر
اصلی
وجہ اول
اصلی کافر ہے تو سے مرتد ہے
وجہ دوم
جب وہ جنگ صلح ، ذمی ۔ دیا جا سکتا کی جب توبہ کا کی سزا اس ۔
وجہ سوم
کرتے ہیں کہ اور آمنے ۔ لوٹ آنے کی
" میں اللہ اور اس کے رسولوں پر ایمان لایا اور اگر میں کسی سفیر کو قتل کرنے والا ہوتا تو تم دونوں کو قتل کر دیتا ۔" عبداللہ نے کہا "میں نے اسی لئے اس کو قتل کیا ہے ۔ " اس کو عبداللہ بن احمد نے بہ سند صحیح روایت کیا ہے ۔ یہ متعدد واقعات کے بارے میں صحابہ کے اقوال ہیں جن کا کسی نے انکار نہیں کیا، گویا اس پر اجماع منعقد ہو چکا ہے ۔
اصلی کافر اور مرتد کے مابین فرق و امتیاز
وجہ اوّل مرتد کی توبہ آسان تر ہے اس لئے کہ اس سے مطلوب اسلام کا اعادہ ہے اور کسی چیز کا اعادہ ابتدا سے سہل تر ہے ۔ اور جب اصلی کافر سے توبہ کا مطالبہ اس نے اس کی دشواری کی وجہ سے ساقط کر دیا تو اس سے مرتد سے طلب توبہ کا ساقط ہونا لازم نہیں آتا ۔
دوسری وجہ یہ ہے کہ مرتد واجب القتل ہے ۔ اگرچہ اہل قتال میں سے وجہ دوم نہ ہو ۔ بخلاف ازیں اصلی کافر کو صرف اس صورت میں قتل کیا جاتا ہے جب وہ جنگ میں عملی حصہ لیتا ہو ۔ علاوہ ازیں اصلی کافر کو امان دے کر نیز عارضی صلح، ذمی ہونے، غلام بنا کر، فدیہ لے کر اور بلا فدیہ رہا کر کے زندہ بھی رہنے دیا جا سکتا ہے ۔ جب اس کی عقوبت شرعی شدید تر ہو تو وہ اس پر تب قائم کی جائے گی جب توبہ کا مطالبہ کر کے اس سے معذرت طلب کی جائے ۔ برخلاف اس شخص کے جس کی سزا اس سے کم درجہ کی ہو ۔
تیسری وجہ یہ ہے کہ اصلی کافر تک دعوت پہنچ چکی ہے اور وہ ہر قسم وجہ سوم کے کفر سے عام توبہ کا مخاطب ہے ۔ باقی رہا مرتد تو ہم اس سے مطالبہ کرتے ہیں کہ اسلام کو چھوڑ کر جس مذہب کو اس نے اختیار کیا ہے، اس کو چھوڑ دے اور اعلانیہ توبہ کرے مگر ہم اسے صراحتاً اس سے توبہ کرنے اور اس کی طرف لوٹ آنے کی دعوت نہیں دیتے ۔
جہاں تک ابن ابی سرح، ابن خطل اور مقیس بن صبابہ کا تعلق ہے۔ انہوں نے ایسے جرائم کا ارتکاب کیا تھا جو ارتداد پر مبنی تھے۔ قبیلہ عُرینہ والوں کا بھی یہی حال تھا۔ ان میں سے اکثر نے مرتد ہونے کے ساتھ ساتھ لوگوں کو قتل کیا اور لوگوں کا مال لیا۔ اس طرح یہ لوگ رہزن اور اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جنگ کرنے والے تھے۔ اُن میں وہ لوگ بھی تھے جو اپنی زبان سے ایذاء دے کر محاربین میں شامل ہو گئے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ ان سے توبہ کا مطالبہ نہ کیا گیا۔ علاوہ بریں دار الحرب کو چلے جانے والے سے توبہ کا مطالبہ نہیں کیا جاتا۔ بخلاف ازیں توبہ کا مطالبہ اُس کافر سے کیا جاتا ہے جو مسلمانوں کے قبضہ میں آ جائے۔ یہ بھی ممکن ہے کہ ان میں سے بعض لوگوں سے توبہ کا مطالبہ کیا گیا ہو مگر انہوں نے انکار کر دیا ہو۔
دشنام دہندہ اور مرتد سے متعلقہ مسائل
ہم نے مرتد کے احکام تبعاً و ضمناً ذکر کئے ہیں۔ اسی لئے موضوع زیر بحث دشنام دہندہ اور اس سے شدید تعلق رکھنے والے مسائل ہیں۔ جن لوگوں کا موقف یہ ہے کہ :-
"مسلمانوں میں سے جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو گالی دے اس سے توبہ کا مطالبہ کیا جائے ۔"
وہ کہتے ہیں کہ یہ کفر کی ایک قسم ہے اس لئے کہ جو شخص رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو گالی دے یا آپ کی نبوت کا انکار کرے یا کتاب اللہ کی کسی آیت کو جھٹلائے یا یہودی اور نصرانی ہو جائے تو ان میں سے ہر ایک نے اپنے دین کو تبدیل کر لیا اور ترک کر دیا اور جماعت سے الگ ہو گیا پس اُن سے توبہ کا مطالبہ کیا جائے اور دوسروں کی طرح ان کی توبہ بھی قبول کی جائے ۔
اس کا مؤید وہ خط ہے جو حضرت ابوبکرؓ نے المہاجر کے نام دشنام دہندہ عورت
کے بارے میں لکھا تھا کہ "انبیاء (کی توہین کی وجہ سے لگائی جانے والی) حد عام حدود کے مماثل نہیں ، اگر مسلم سے اس کا صدور ہو تو وہ مرتد ہے ۔ اور اگر معاہد اس کا مرتکب ہو تو وہ محارب اور عہد توڑنے والا ہے ۔"
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :۔ " جو مسلم بھی اللہ یا اس کے رسول کو گالی دے تو گویا اس نے رسول کریم کو جھٹلایا۔ یہ ارتداد اس سے توبہ کا مطالبہ کیا جائے ۔ اگر اسلام کی طرف لوٹ آئے تو فبہا ورنہ اُسے قتل کیا جائے ۔"
ایک اندھا آدمی تھا اس کی ایک اُمّ ولد تھی جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو گالیاں دیا کرتی تھی ۔ وہ اُسے روکتا مگر وہ باز نہ آتی تھی وہ اُسے ڈانٹتا مگر وہ رکتی نہ تھی۔ اندھے نے اُسے قتل کر دیا ۔ اگر وہ مسلم تھی تو توبہ طلب کرنے کے بعد اُسے قتل کیا ہوگا ۔ اور اگر وہ ذمّی تھی اور اس سے توبہ کا مطالبہ کیا تو مسلمان سے توبہ کا مطالبہ کرنا اَولیٰ ہے ۔
مزید براں یا تو دشنام دہندہ کو اس لئے قتل کیا جائے کہ اس نے اسلام لانے کے بعد کفر کا ارتکاب کیا یا محض گالی دینے کی وجہ سے اور یہ دوسری بات اس لئے جائز نہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے :۔
" کسی مسلمان کا خون بہانا جائز نہیں جو شہادت دیتا ہو کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، مگر اس صورت میں جب کہ وہ تین باتوں میں سے کسی ایک کا مرتکب ہو ۔ ایک تو یہ ہے کہ اسلام لانے کے بعد کافر ہو جائے ۔ دوسرے یہ کہ شادی شدہ ہونے کے باوجود زنا کرے ۔ تیسرے یہ کہ کسی کو قتل کرے اور اس کے عوض اس کو قتل کیا جائے ۔"
یہ روایت متعدد طرق سے مروی ہے اور وہ سب صحیح ہیں مگر اس آدمی نے نہ تو زنا کیا اور نہ کسی کو قتل کیا ۔ اگر اس کو محض اس لئے قتل نہیں کیا گیا کہ اسلام کے بعد اس نے کفر کا ارتکاب کیا تو اس کا قتل کرنا جائز نہیں پس ثابت ہوا کہ اس کو اسلام کے بعد کفر کا ارتکاب کرنے کی وجہ سے قتل کیا گیا اور جس کو بھی اسلام لانے کے بعد قتل کیا جائے اس کی توبہ نامقبول ہے ۔ اس کی دلیل مندرجہ ذیل آیت کریمہ ہے۔
كَيْفَ يَهْدِي اللهُ قَوْمًا كَفَرُوْا بَعْدَ اِيْمَانِهِمْ ...... وَاَصْلَحُوْا :
(آل عمران ۸۶ - ۸۹)
اللہ اس قوم کو کیسے ہدایت دے گا جو ایمان لانے کے بعد کافر ہو گئے تا آخر نیز سابق الذکر دلائل کی بنا پر جن سے معلوم ہوتا ہے کہ مرتد کی توبہ مقبول ہے ۔ علاوہ ازیں مندرجہ ذیل آیت کا عموم بھی اس پر دلالت کرتا ہے ۔ " قُلْ لِّلَّذِيْنَ كَفَرُوْا اِنْ يَّنْتَهُوْا يُغْفَرْ لَهُمْ مَّا قَدْ سَلَفَ . "
( الانفال - ۳۸ )
جو لوگ کافر ہیں ان سے کہہ دیجیے کہ اگر وہ باز آجائیں تو پہلے جو کچھ ہوچکا اُن کو معاف کر دیا جائے گا ۔
رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :- "اسلام پہلے گناہوں کو ساقط یا منہدم کر دیتا ہے ۔" (صحیح مسلم) اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام لانے والے کے سابقہ گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں ۔
منافقین کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی ۔ اور ان میں سے بعض ایسے ہیں جو پیغمبر کو ایذا دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ شخص نرا کان ہے ۔ (ان سے) کہہ دو کہ وہ کان ہے جو تمہاری بھلائی کے لئے (تا آخر)
(سورۃ التوبۃ ۶۱ - ۶۲)
پہلے انہی لوگوں کے بارے میں کہا گیا تھا :- اِنْ نَّعْفُ عَنْ طَاۤئِفَةٍ مِّنْكُمْ نُعَذِّبْ طَاۤئِفَةً (التوبۃ ۶۶) اگر ہم تم میں سے ایک جماعت کو معاف کردیں تو دوسری جماعت کو سزا بھی دیں گے حالانکہ ان لوگوں نے اپنی زبانوں اور ہاتھوں سے آپ کو ایذا دی تھی ۔ تاہم ان کو معاف کرنے کی اُمید کی جاتی ہے ۔ ظاہر ہے کہ معافی توبہ کے ساتھ ہوتی ہے ۔ اس سے معلوم ہوا کہ ان کی توبہ مقبول ہے اور جس کو معاف کر دیا جائے
اُسے دنیا اور آخرت میں سزا نہیں دی جاتی ۔ قرآن میں ارشاد فرمایا :- " جَاهِدِ الْكُفَّارَ وَالْمُنَافِقِيْنَ ...... عَذَابًا اَلِيْمًا (التوبۃ ۷۳) کفار اور منافقین سے جہاد کیجئے (تا آخر) ہر دو آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ منافق اگر اسلام لانے کے بعد کافر ہو جائے اور پھر توبہ کرے تو دنیا اور آخرت میں اُسے دردناک عذاب نہیں دیا جائے گا ۔ ظاہر ہے کہ قتل دردناک عذاب ہے لہٰذا اُسے قتل نہیں کیا جائے گا ۔ حضرت ابن عباسؓ سے مروی ہے کہ یہ آیت منافقین کے بارے میں نازل ہوئی ۔ اُن میں سے ایک نے رسول کریمؐ کی طرف دیکھا تو آپؐ نے فرمایا "تم اور تمہارے ساتھی مجھے گالیاں کیوں دیتے ہو ؟ وہ شخص جاکر اپنے ساتھیوں کو لے آیا ۔ اُنہوں حلف اُٹھا کر کہا انہوں نے کچھ نہیں کہا ۔ تب یہ آیت نازل ہوئی ۔
ضحاک سے مروی ہے کہ منافقین رسول کریمؐ کے ہمراہ تبوک گئے جب وہ ایک دوسرے سے ملتے تو رسول کریمؐ اور آپؐ کے صحابہؓ کو گالیاں دیتے ۔ اور دینِ اسلام کو ہدفِ طعن بناتے ۔ حذیفہ رضی اللہ عنہ رسول کریمؐ کو وہ باتیں بتادیا کرتے تھے ۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا "اے منافقین یہ کیا بات ہے جو مجھے تمہاری جانب سے پہنچی ہے ؟ انہوں نے قسم کھا کر کہا کہ ہم نے کچھ نہیں کہا ۔ تب یہ آیت کریمہ ان کی تردید کے سلسلہ میں نازل ہوئی ۔
رسولِ کریمؐ کو گالی دینے اور دوسروں کو گالی دینے میں فرق
اس میں شبہ نہیں کہ وہ توبہ جو ان کے اور اللہ کے درمیان ہے اُس میں بوجوہ حقوق العباد بھی شامل ہیں :-
پہلی وجہ | غیبت کا کفارہ یہ ہے کہ جس کی غیبت کی گئی ہے اُس کے
لئے اللہ سے مغفرت طلب کرے۔ اکثر علماء نے اس موقف کو اختیار کیا ہے۔ لہٰذا کسی سے اگر تنقیص رسول کا فعل سرزد ہوا ہو تو اُسے چاہیئے کہ رسولِ کریمؐ پر ایسا جامع ایمان لائے جو مدح و ثناء کے مختلف انواع پر مشتمل ہو۔
دوسری وجہ | انبیاء کا حق حقوق اللہ کے تابع ہے۔ انبیاء کی شان میں بدگوئی عظیم گناہ اس لئے ہے کہ اُس سے کفر نیز اللہ کے دین، اُس کی کتاب اور اس کی رسالت کی تحقیر و توہین لازم آتی ہے۔ جب انبیاء کا حق وجوب میں حقوق اللہ کے تابع ہے تو سقوط میں بھی اس کے تابع ہوگا۔ تاکہ حقِ رسولؐ حقوق اللہ کی نسبت عظیم تر نہ ہو جائے۔ ظاہر ہے کہ جب کافر حقوق اللہ سے توبہ کرسکتا ہے تو وہ انبیاء کے اُن حقوق سے بھی توبہ کرسکتا ہے جو اُن کی نبوت سے متعلق ہیں۔ بخلاف ان حقوق سے توبہ کرنے کے جو لوگوں کے ایک دوسرے کیلئے واجب ہیں۔
تیسری وجہ | رسول کے بارے میں معلوم ہے کہ وہ لوگوں کو اپنی پیروی کی دعوت دیتا اور انہیں بتاتا ہے کہ جو شخص ایسا کرے گا تو حالتِ کفر میں کئے ہوئے اس کے سب گناہ معاف ہوجاتے ہیں۔ اس سے لازم آتا ہے کہ اگر کسی مسلم نے اس کا ارتکاب کیا ہوگا تو رسولؐ اس کی لغزش کو بھی معاف کردے گا۔ اُس سے ظاہر ہوتا ہے کہ رسول کو گالی دینے اور کسی عام آدمی کو گالی دینے میں کیا فرق ہے؟ اس لئے کہ جب وہ کسی عام آدمی کو گالی دے گا تو گالی دینے کے بعد وہ کوئی ایسی حرکت نہیں کرے گا جو گالی کے موجبات کے خلاف ہو۔ عام آدمی کو گالی دینا ایک آدمی کا حق ہے جو اس نے معاف نہیں کیا اور گالی کا موجب توبہ اور اسلام لانے کے بعد اُسی طرح موجود ہے جیسے پہلے تھا، بشرطیکہ اُس پر حد لگا کر اُسے روکا نہ گیا ہو۔ ظاہر ہے کہ گالی کا موجب یہاں کفر تھا جو ایمان لانے کے ساتھ زائل ہوچکا ہے۔ جب یہ بات ثابت ہوگئی کہ عنداللہ اس کی توبہ اور ایمان مقبول ہے جب وہ اُسے ظاہر کرے گا تو اس کو قبول کرنا بھی اس پر واجب ہوگا۔
اس کی دلیل وہ حدیث ہے جس کو ابو سعیدؓ نے ذوالخویصرہ تمیمی کے واقعہ سے متعلق روایت میں نقل کیا ہے۔ یہ وہی شخص ہے جس نے مال غنیمت کی تقسیم کے سلسلہ میں رسول کریم پر اعتراض کیا تھا۔ (یہ سن کر) خالد بن ولیدؓ نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا میں اس کی گردن نہ اُڑا دوں ؟" فرمایا ، "نہیں" ممکن ہے یہ نمازی ہو ۔"
خالدؓ نے کہا کتنے ہی نمازی ایسے ہیں جو زبان سے وہ بات کہتے ہیں جو ان کے دل میں نہیں ہوتی ؟ رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا " مجھے یہ حکم نہیں دیا گیا کہ میں لوگوں کے دل اور پیٹ چیر کر (اندر جھانک) لیا کروں ۔ (صحیح مسلم)
ایک شخص نے کلمہ طیبہ پڑھا مگر اُسامہؓ نے اُسے قتل کر دیا تھا۔ رسول کریم نے اُن سے پوچھا " تم نے کلمہ طیبہ سن کر کس طرح اُسے قتل کر دیا ؟ اُسامہ نے کہا " اس نے پناہ لینے کے لئے اس طرح کیا تھا ۔ " آپ نے فرمایا "پھر تم نے اس کا دل چیر کر کیوں نہ دیکھ لیا ؟" حضرت مقداد کی روایت میں بھی اسی طرح ہے ۔ پھر اس ضمن میں یہ آیت کریمہ نازل ہوئی :-
وَلَا تَقُوْلُوْا لِمَنْ اَلْقٰى اِلَيْكُمُ السَّلَامَ لَسْتَ مُؤْمِنًا"
(النساء - ۹۴)
(جو شخص تمہیں سلام کہے اُسے یوں نہ کہو کہ تم مومن نہیں ہو)
اس ضمن میں کوئی اختلاف نہیں پایا جاتا کہ حربی کافر اگر تلوار دیکھ کر اسلام لائے اور وہ محبوس یا آزاد ہو تو اُس کا اسلام لانا صحیح ہے اور کفر سے اس کی توبہ مقبول ہو گی ۔ اگرچہ آثار و علائم سے پتہ چلتا ہے کہ اس کا باطن ظاہر سے ہم آہنگ نہیں ہے ۔ علاوہ ازیں رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم منافقین سے ظاہری اسلام قبول کر لیا کرتے تھے اور ان کے باطن کو اللہ کو سونپ دیتے ۔ حالانکہ اللہ نے آپؐ کو بتا دیا تھا کہ انہوں نے اپنے ایمان کو (جان
بچانے کی ڈھال بنا لیا ہے ۔ اور وہ قسمیں کھا کر کہتے ہیں کہ انہوں نے کلمہ کفر نہیں کہا، حالانکہ انہوں نے یہ کلمہ کہا تھا اور اسلام لانے کے بعد وہ کافر ہو گئے ۔
قرآن میں فرمایا :- وَهَمُّوْا بِمَا لَمْ يَنَالُوْا (التوبۃ - ۷۴) اور انہوں نے اس بات کا ارادہ کیا جسے وہ حاصل نہ کرسکے ۔
معلوم ہوا کہ جو شخص اسلام اور توبہ کا اظہار کرے تو اس سے یہ (پیشکش) قبول کر لی جائے گی ۔ یہ ان لوگوں کا قول ہے ۔ آگے اس امر کی تفصیل آ رہی ہے کہ توبہ طلب کئے بغیر اُسے قتل کرنا واجب ہے ۔ نیز اس موقف کے قائلین نے جو دلائل پیش کئے ہیں ان کا جواب بھی دیا جائے گا ۔
۸
ذمی اگر رسول کریم کو گالی دیکر توبہ کرلے تو اُس کا شرعی حکم کیا ہے؟
مسئلہ زیر قلم میں ہم نے تین اقوال ذکر کئے ہیں :۔
قول اول ] اُسے ہر حال میں قتل کیا جائے۔ امام احمدؒ کا مشہور مذہب یہی ہے۔ امام مالکؒ کا مذہب بھی یہی ہے۔ اِلّا یہ کہ پکڑے جانے کے بعد وہ توبہ کرلے۔ امام شافعی کے اصحاب کا بھی ایک قول یہی ہے ۔
قول دوم ] اُسے قتل کیا جائے ، اِلّا یہ کہ اسلام لا کر توبہ کرلے ، امام مالکؒ اور احمدؒ کی بھی ایک روایت یہی ہے
قول سوم ] اُسے قتل کیا جائے ، بجز اس صورت کے جبکہ وہ اسلام لا کر توبہ کرلے یا حسبِ سابق ذمی بن جائے۔ امام شافعیؒ کے کلام کا عموم بھی اسی پر دلالت کرتا ہے ، اِلّا یہ کہ اس کی تاویل کی جائے۔ بنا بریں اگر دوبارہ ذمی بن جائے تو اُسے سزا دی جائے مگر قتل نہ کیا جائے۔
جن لوگوں کا موقف یہ ہے کہ اسلام لانے سے قتل اس سے ساقط ہو جاتا ہے وہ اس قسم کے دلائل پیش کرتا ہے جو ہم نے مسلم کے بارے میں ذکر کئے ہیں ۔ ان دلائل سے معلوم ہوتا ہے کہ کافر اگر اسلام لائے تو گالی کی سزا اس سے ساقط ہو جائے گی ۔ اس کی ایک دلیل یہ بھی ہے کہ صحابہؓ نے ذکر کیا ہے کہ جب بھی وہ ایسا کرے گا تو وہ عہد شکنی کرنے والا محارب ہوگا ۔ اور ظاہر ہے کہ جو شخص جنگ کرے اور عہد توڑے پھر مسلمان ہو جائے تو اس کا خون اور مال محفوظ ہو جاتا ہے ۔ بکثرت مشرکین
ایسے تھے جو مختلف طریقوں سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ہجو کیا کرتے تھے پھر اسلام لا کر اپنا خون اور مال بچالیا کرتے تھے مثلاً ابن الزبعری، کعب بن زہیر ، ابوسفیان بن الحارث وغیرہم۔ اگرچہ یہ لوگ محارب تھے مگر معاہد نہ تھے۔ یہ اس امر کی دلیل ہے کہ حقوق العباد جن کو کافر حلال سمجھ کر انجام دیتا ہے جب وہ اسلام لے آئے تو حقوق اللہ کی طرح اس سے ساقط ہوجاتے ہیں۔
اسی لئے تمام مسلمان کتاب وسنت کے پیش نظر اس امر پر متفق چلے آتے ہیں کہ حربی کافر جب مسلمان ہوجائے تو ماضی میں مسلمانوں کا خون بہانے ان کا مال لینے اور اُن کی عورت کو حبلہ لگانے کی وجہ سے اس پر گرفت نہیں کی جائے گی۔ اور ذمّی جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو گالی دیتا ہے تو وہ اسے حلال سمجھتا ہے اور ذمّی ہونے سے اس پر لازم نہیں کہ وہ اسے حرام تصور کرے۔ چنانچہ جب وہ اسلام لائے گا تو اس کی وجہ سے اُسے پکڑا نہیں جائے گا ۔ بخلاف ازیں مسلمانوں کی جو خونریزی وہ کرتا ہے یا ان کا مال لیتا ہے یا ان کو بے آبرو کرتا ہے ، عقدِ ذمہ ان سب کو اس پر حرام ٹھہراتا ہے ۔ بالکل اسی طرح جس طرح ذمّی کا خون و مال اور آبرو مسلمانوں پر حرام ہو جاتے ہیں۔ اگرچہ وہ ہم پر واجب ٹھہراتا ہے کہ ہم ان کے مذہب کو گالی نہ دیں اور نہ اس پر طعن کریں ۔ ان لوگوں کے واقعات سے استدلال کرنا اقرب الی القیاس ہے ۔ اگرچہ یہ استدلال درست نہیں ۔
مزید براں گالی دینے دشنام دہندہ ذمّی کو کس جرم میں قتل کیا جائے
کی صورت میں ذمّی کہ یا تو اس کے کفر اور جنگ آزمائی کی وجہ سے قتل کیا جاتا ہے جس طرح گالی دینے والے حربی کو قتل کیا جاتا ہے یا اس کو حدّ لگانے کی وجہ سے قتل کیا جاتا ہے۔ مثلاً یہ کہ وہ ذمّی عورت کے ساتھ زنا کرے یا کسی ذمّی پر ڈاکہ ڈالے۔ ظاہر ہے کہ دوسری صورت باطل ہے، پس پہلی صورت متعین ہوئی اور وہ اس لئے کہ گالی اس حیثیت سے محال ہے ، بے آبروئی کے سوا کچھ نہیں۔ اور اتنے سے جرم کی سزا صرف کوڑے مارنا
ہے، بلکہ یوں کہنا اقرب الی القیاس ہے کہ اس کی وجہ سے ذمی پر کوئی سزا بھی عائد نہیں ہوتی۔ اس لئے کہ وہ اسے حلال سمجھتا ہے۔ البتہ یہ بات ضرور ہے کہ ہم نے اس سے صلح کی ہے کہ وہ ان باتوں سے باز رہے گا۔ لہٰذا جب وہ علانیہ گالی دے گا تو اس کا عہد ٹوٹ جائے گا اور وہ حربی بن جائے گا۔ نیز اس لئے کہ گالی کا موجب قتل ہونا ایک شرعی حکم ہے جو دلیل کا محتاج ہے اور اس کی کوئی دلیل موجود نہیں۔ کیونکہ اکثر دلائل سے مستفاد ہوتا ہے کہ اسے قتل کیا جائے اور قتل یا تو کفر و قتال کی وجہ سے کیا جاتا ہے یا بطور خاص گالی دینے کے باعث ظاہر ہے کہ احکام کا اثبات محض استحسان و استصلاح کی بنا پر نہیں ہوتا۔ اس لئے کہ یہ تو اپنی رائے سے شریعت کو گھڑنے والی بات ہے جو کہ حرام ہے اس کی دلیل یہ آیت ہے۔ " اَمْ لَهُمْ شُرَكٰٓؤُا شَرَعُوْا لَهُمْ مِّنَ الدِّيْنِ مَا لَمْ يَاْذَنْ بِهِ اللّٰهُ ط "
(الشوریٰ - ۲۱)
کیا ان کے وہ شریک ہیں جنہوں نے ان کے لئے ایسا دین مقرر کیا ہے جس کا خدا نے حکم نہیں دیا۔ اور قیاس اس مسئلہ میں دو وجہ سے دشوار ہے :-
علماء کی رائے قیاس فی الاسباب کے بارے میں
پہلی وجہ اکثر علماء کے نزدیک قیاس، اسباب، شروط اور موانع میں جاری نہیں ہوتا۔ کیونکہ اس کے لیے حکمت کی نوع اور مقدار کو جاننے کی ضرورت ہے اور یہ بڑا دشوار کام ہے۔ اس لئے کہ اس طرح گالی گالی نہیں رہتی۔
قیاس کی شرط یہ ہے کہ اصل کا حکم باقی رہے۔ نیز اس لئے کہ جو جرائم قتل کے موجب ہیں ان کی کوئی ایسی حد نہیں جس کے ساتھ گالی کو ملحق کیا جاسکے۔ کیوں کہ ان دونوں میں نوع اور مقدار کے لحاظ سے فرق پایا جاتا ہے اور عموم فساد کے
اعتبار سے دونوں کا اشتراک الحاق بالاتفاق کا موجب نہیں بن سکتا ۔ نیز دونوں فسادوں کا ایک جیسا ہونا دلیل کا محتاج ہے۔ ورنہ تسلیم کرنا پڑے گا کہ شریعت رائے کی تابع ہے اور دین کو عقل کی مد سے گھڑا گیا ہے۔ اس سے دین کی گرہ کا کھل جانا شرعی روابط سے دُوری اور اسلام کی رسّی سے آزاد ہو جانا لازم آتا ہے ۔ مزید براں یہ لوگوں کو شاہی آراء اور عقلی ڈھکوسلوں کے مطابق لوگوں کو چلانا بھی ہے جو بلاشبہ حرام ہے۔ اس سے ثابت ہوا کہ اس کے کفر اور جنگ و قتال کی وجہ سے اسے قتل کیا جائے۔ ظاہر ہے کہ اسلام اُس قتل کو بالاتفاق ساقط کر دیتا ہے جو کفر و قتال کی وجہ سے ثابت ہو۔
مزید براں اگر ذمی اپنے دل میں رسول کریم کو گالیاں دیتا ہو اور کہتا ہو کہ یہ کوئی بُری بات نہیں پھر اسلام لائے اور آپ کی نبوت و رسالت کا معتقد ہو جائے تو اس سے اس کی تمام برائیاں مٹ جائیں گی ۔ اور یوں کہنا جائز نہیں کہ رسول کریم اُس کی گالیوں کی وجہ سے دنیا اور آخرت میں اس پر گرفت کریں گے ۔ جو شخص یہ بات کہتا ہے اُسے معلوم ہے کہ وہ غلط بات کہتا ہے اس لئے کہ اُسے معلوم ہے کہ کفار رسول کریم کے بارے میں مغلظات کہتے ہیں ۔ اور ان میں بعض مغلظات کا تذکرہ قرآن میں موجود ہے ۔ مثلاً وہ آپ کو ساحر ، کاہن ، مجنون اور مفتری کہتے ہیں۔ اسی طرح یہودی حضرت مریم پر بہتان عظیم باندھتے ہیں اور اُن کی طرف بے حیائی کی نسبت کرتے ہیں کہ مسیح علیہ السلام نعوذ باللہ ولد الزنا تھے۔ ظاہر ہے کہ یہ صریح بہتان ہے اگر اس کے بعد یہودی اسلام قبول کرلے حضرت مسیح کی نبوت کا اقرار کر لے اور اس بات کو تسلیم کرلے کہ وہ اللہ کے بندے اور رسول تھے اور وہ یہود کی تہمت سے بری تھے ۔ اور حضرت مسیح کی طرف سے اس پر کوئی عتاب نہ ہوگا ۔
ہمارا عقیدہ یہ ہے کہ کفار میں سے بعض وہ ہیں جو یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ ہمارے نبی اُمّی لوگوں کی طرف مبعوث کئے گئے تھے اور بعض مطلقاً آپ کی نبوت کو تسلیم کرتے ہیں۔ مگر اپنے مذہب کے ساتھ مانوس ہونے اور دیگر اغراض کی وجہ سے حلقہ
بگوشِ اسلام نہیں ہوتے۔ بعض کافر اسلام سے اعراض کرتے ہیں۔ نہ اس کی طرف دیکھتے ہیں اور نہ اس کے بارے میں غور و فکر کرتے ہیں۔ یہ لوگ بعض اوقات دینِ اسلام کو گالیاں بھی دیتے ہیں۔ ان میں سے بعض وہ ہیں جو اسلام کے بارے میں گھٹیا عقائد رکھتے ہیں مگر اُسے بُرا بھلا نہیں کہتے۔ یا اپنے عقیدہ کے مطابق اسلام کو ایسی گالی دیتے ہیں جس سے آدمی کافر ہو جاتا ہے مگر اُس کا اظہار نہیں کرتے ۔ بعض کفار مسلمانوں کی موجودگی میں ایسی باتوں کا اظہار کرتے ہیں۔ بعض لوگ ایسی گالی دیتے ہیں جس کی وجہ سے ان کی تکفیر تو نہیں کی جاسکتی اور وہ گالی ایسی ہوتی ہے کہ نبی و غیر نبی سب کے لئے اُسے گالی قرار دے سکتے ہیں۔ مثلاً بہتان وغیرہ اور کافر جب اسلام کو قبول کر لے تو یہ سب باتیں اُسے معاف کر دی جاتی ہیں۔ کتاب وسنت میں یہ بات کہیں مذکور نہیں کہ کافر کے مشرف بہ اسلام ہونے کے بعد بھی یہ لغزش اس پر قائم رہتی ہے بلکہ کتاب وسنت سے مستفاد ہوتا ہے کہ اسلام لانے سے سابقہ گناہ مطلقاً معاف ہو جاتے ہیں اور جب گالی کا گناہ اُسے معاف کر دیا گیا تو اسلام لانے کے بعد اُسے سزا دینا جائز نہیں۔
مزید براں اگر کوئی شخص اللہ تعالیٰ کو گالی دے اور پھر اسلام لائے تو اس سے مواخذہ نہیں کیا جائے گا۔ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے ربّ تعالیٰ سے روایت کرتے ہیں کہ :۔ حدیث قدسی " ابن آدم مجھے گالی دیتا ہے حالانکہ یہ اس کے لائق نہیں ۔ وہ گالی یوں دیتا ہے کہ میری اولاد ہے، حالانکہ میں تنہا اور بے نیاز ہوں ۔" نیز اگر نصرانی یا کوئی دوسرا اللہ کو گالی دینے سے تائب ہو جائے تو اُسے گالی کی وجہ سے دنیا اور آخرت میں بالاتفاق سزا نہیں دی جائے گی۔ قرآنِ کریم میں فرمایا :۔ "بیشک وہ لوگ کافر ہو گئے جو کہتے ہیں کہ اللہ تین میں سے تیسرا ہے، حالانکہ اللہ
کے سوا دوسرا کوئی معبود نہیں۔ جو بات وہ کہتے ہیں اگر اس سے باز نہ آئے تو ان میں سے کفر کرنے والوں کو درد ناک عذاب دیا جائے گا۔ کیا وہ اللہ کی طرف رجوع نہیں کرتے اور اس سے معافی طلب نہیں کرتے جب کہ اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔"
( المائدۃ - ۷۳ - ۷۴ )
ظاہر ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو گالی دینا اللہ کو گالی دینے سے عظیم تر نہیں ہے۔ رسول کریم کو گالی دینا اس لئے بُرا جرم اور موجب قتل ہے کہ رسول کریم کا حق، حقوق اللہ کے تابع ہے۔ جب اسلام لانے کی وجہ سے متبوع (اللہ کو گالی دینا) ساقط ہو جاتا ہے تو تابع کو (رسول کریم کو گالی دینا) بالاولیٰ ساقط ہو جانا چاہئے۔ اس سے انبیاء کو گالی دینے اور مومنین کو گالی دینے کا فرق واضح ہو جاتا ہے۔ اس لئے کہ لوگوں میں سے کسی کو گالی دینا خواہ قبل از اسلام ہو یا بعد از اسلام یکساں ہوتا ہے۔ اِسی طرح جو ایذا اور تحقیر گالی دیئے گئے شخص کو لاحق ہوتی ہے خواہ دشنام دہندہ کے اسلام لانے سے پہلے ہو یا بعد یکساں ہے۔ برخلاف اس گالی کے جو رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو دی گئی ہو کہ اس کی وجہ سے جو سزا واجب تھی اسلام لانے کی وجہ سے زائل ہو کر، رسول کریم کے اعزاز و احترام اور مدح وستائش میں تبدیل ہو گئی۔ جس طرح اللہ تعالیٰ کو دی گئی گالی توحید و تحمید اور تقدیس و عبادت میں بدل گئی ۔
اس کی توضیح یہ ہے کہ رسول کریم میں ایک تو بشریت کی صفت پائی جاتی ہے اور ایک رسالت کی ۔ قرآن کریم میں فرمایا :-
سُبْحَانَ رَبِّیْ ھَلْ کُنْتُ اِلَّا بَشَرًا رَّسُوْلًا ہ (الاسراء ۹۳)
کہ میرا ربّ پاک ہے اور میں تو صرف بشر رسول ہوں )
اِس حیثیت سے کہ آپؐ بشر ہیں آپؐ پر بشریت کے احکام کا اطلاق ہو گا۔ اور اِس لحاظ سے کہ آپؐ اللہ کے رسول ہیں اللہ نے آپؐ کو فضائل و خصوصیات سے نوازا ہے۔ اِس لئے آپؐ کو گالی دینا اسی طرح سزا کا موجب ہے جس طرح دیگر مومنین کو، اِس لئے کہ آپؐ بشر ہیں اور اس لئے بھی گالی سزا کی موجب ہے کہ آپؐ صاحب فضائل و خصوصیات
رسول ہیں۔ مگر دشنام دہندہ واجب القتل صرف اس لئے ہے کہ آپ اللہ کے رسول ہیں کیونکہ گالی جو بشریت سے متعلق ہے قتل کی موجب نہیں ہو سکتی اور رسول کی حیثیت سے آپ کو گالی دینا صرف اللہ کا حق ہے۔ جب دشنام دہندہ اسلام لائے گا تو جو گالی رسالت سے متعلق ہے اس کا حکم اسی طرح ختم ہو جائے گا جس طرح اس گالی کا حکم ختم ہو جاتا ہے جو مُرسِل یعنی اللہ تعالیٰ سے متعلق ہے۔ اس طرح وہ قتل اس سے ساقط ہو جائے گا جو اس گالی کی سزا ہے۔ اب اس گالی میں جو بشریت کا حق ہے وہ باقی رہا اور حق بشریت کی وجہ سے جو سزا واجب ہوتی ہے وہ اسّی کوڑے ہے۔
جو شخص یہ کہتا ہے کہ اُسے کوڑوں کی سزا اس لئے دی جائے کہ اس نے اسلام لانے کے بعد بہتان طرازی کا ارتکاب کیا۔ اور اس پر تعزیر لگائی جائے کیونکہ اس نے بہتان طرازی نہیں کی صرف گالی دی ہے۔ اس نے اس کی دلیل یہ دی ہے کہ اسلام اللہ اور اس کے رسول کے حق کو ساقط کر دیتا ہے اور خالص انسانی حقوق کو باقی رہنے دیتا ہے جس طرح عام انسانوں کے حقوق۔ لہٰذا جو شخص آپ کو گالی دے اس کی اسی طرح تادیب کی جائے جس طرح اسلام لانے کے بعد تمام مومنین کو گالی دینے والے کی۔
جو شخص یہ کہتا ہے کہ اُسے کوئی سزا نہ دی جائے، وہ اس کی دلیل یہ دیتا ہے۔ یہ حق، حقِ نبوت ورسالت میں مدغم ہو گیا ہے۔ اس لئے کہ ایک جرم جب قتل کو واجب کر دے تو اکثر فقہاء کے نزدیک کسی دوسری سزا کو واجب نہیں کرتا۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ کا حق جو قتل وقذف سے متعلق تھا آدمی کے حق میں مدغم ہو گیا۔ جب مجرم کو قصاص اور حدِ قذف معاف کر دی جائے تو جو حرمت شکنی اس نے کی ہے اُسے اس کی سزا نہیں دی جائے گی۔ علیٰ ہٰذا القیاس یہاں بھی حقِ بشریت، حقِ رسالت میں مدغم ہو گیا ہے۔ مگر یہ دو اصل جن پر قیاس کیا گیا ہے فقہاء کے مابین متنازع ہیں۔ اس لئے کہ امام مالکؒ کا موقف یہ ہے کہ اگر مقتول کا وارث قاتل کو معاف کر دے تو حاکم وقت اس کو تعزیر کی سزا دے۔
امام ابو حنیفہ کا زاویۂ نگاہ ؟
امام ابو حنیفہ کا نقطہ نظر یہ ہے کہ حدِّ قذف معاف کرنے سے ساقط نہیں ہوتی ۔ جو شخص کہتا ہے کہ اسلام لانے سے قتل ساقط ہو جاتا ہے وہ اس مسئلہ میں متردد ہے کہ آیا بہتان طرازی اور دشنام دہی کے جرم میں بطور حد یا تعزیر کے طور پر کسی کی تادیب کی جاسکتی ہے یا نہیں ؟ اس قول کے قائلین کہتے ہیں کہ ہمارے خلاف یہ دلیل نہیں دی جاسکتی کہ صحابہ کرام رسول کریمؐ کے دشنام دہندہ کو قتل کر دیا کرتے تھے ۔ یا آپ کے دشنام دہندہ کو قتل کرنے کا حکم دیتے یا توبہ کا مطالبہ کئے بغیر اس کو قتل کرنے کا ارادہ کرتے تھے ۔ اس لئے کہ ذمّی اگر رسول کریمؐ کو گالی دے تو بلا شبہ اس سے توبہ کا مطالبہ نہ کیا جائے ۔ کیونکہ اُسے حربی قیدی کی طرح اس کے اصلی کفر کی وجہ سے قتل کیا جائے گا ۔ اور اسی طرح اجماعاً اس سے توبہ کا مطالبہ نہیں کیا جائے گا جس طرح مرتد سے کیا جاتا ہے ۔ البتہ اگر وہ اسلام قبول کر لے تو اس کا خون محفوظ ہو جائے گا ۔
امام ابو حنیفہؒ یہ بھی فرماتے ہیں کہ اگر کوئی ذمّی رسول کریمؐ کو گالی دے تو اُس سے توبہ کا مطالبہ کئے بغیر قتل کیا جائے گا۔ گویا وہ ایک حربی ہے جس نے مسلمانوں کو ایذا دی ، اور جب ہم نے اُسے قید کر لیا تو ہم اُسے قتل کردیں گے، البتہ اسلام لانے کی صورت میں قتل اُس سے ساقط ہوجائے گا۔ امام مالک ، احمد اور دیگر اہل علم کی تصریحات سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ اُسے توبہ کا مطالبہ کئے بغیر قتل کیا جائے ۔ اگر گالی دینے والا ذمّی ہو تو اس کو بلاشبہ قتل کیا جا سکتا ہے
جو اہل علم، ذمّی سے طلبِ توبہ کے قائل ہیں اُن کا کہنا یہ ہے کہ بعض اوقات اُسے معلوم نہیں ہوتا کہ اسلام لانے کی صورت میں قتل اس سے ساقط ہو جائے گا ۔ بنابریں اس سے مرتد کی طرح توبہ کا مطالبہ کیا جاتا ہے بلکہ یہ مطالبہ مرتد کے مطالبہ سے بھی اولیٰ و افضل ہے ، اس لئے کہ دعوتِ اسلام دینے اور ازالۂ عذر کے بغیر کفار
کو قتل کرنا جائز نہیں ۔
توبہ کا مطالبہ نہ کرنے والوں کے دلائل
جو اہل علم دشنام دہندہ سے توبہ کا مطالبہ نہیں کرتے وہ کہتے ہیں کہ اقرب الی القیاس یہی بات ہے اس لئے کہ کتب میں مذکور ہے کہ ہر اصلی کافر کو جو قیدی ہو قتل کیا جائے ۔ ناقابل تردید دلائل سے ثابت ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور خلفائے راشدینؓ اکثر قیدیوں کو دعوت اسلام دیئے بغیر قتل کر دیا کرتے تھے ۔ اگرچہ وہ عہد شکنی کرنے والے کیوں نہ ہوں ۔ جیسا کہ بنو قریظہ اور اہل خیبر کے واقعہ سے عیاں ہے اور جس میں سیرت جاننے والے دو شخص بھی مختلف الرائے نہیں ہو سکتے ۔ جب انہوں نے عہد شکنی کا ارتکاب کیا تو رسول کریم نے اُن کو قید کر لیا اور دعوت اسلام دیئے بغیر اُن کی گردنیں اڑا دیں ۔
اسی طرح رسول کریم نے دعوت اسلام دیئے بغیر کعب بن اشرف کو قتل کرنے کا حکم دیا جس کی وجہ یہ تھی کہ اس نے عہد شکنی کی تھی اور مسلمانوں کو ایذا بھی دیا کرتا تھا ۔
جن علماء کا موقف یہ ہے کہ جب دوبارہ ذمی بن کر تائب ہو تو اس کی توبہ قبول کی جائے یا اس کے بارے میں حاکم کو اختیار دیا جائے کہ (اپنی صوابدید کے مطابق جو سزا چاہے دے) وہ اس کی دلیل یہ دیتے ہیں کہ اندریں صورت وہ اس حربی کافر کی مانند ہے جس نے ذلت کو قبول کر کے اپنے ہاتھ سے جزیہ کی رقم ادا کی ہو ۔ لہٰذا اس کے قتل سے باز رہنا واجب ہے ۔
اگر حربی کافر قیدی بننے کے بعد اسلام لائے تو اس کا کیا حکم ہے ؟
واضح رہے کہ یہاں ایک بات سے آگاہ کرنا ضروری ہے اور وہ یہ کہ اصلی حربی کافر جو مسلمانوں کی قید میں ہو اگر مسلمان ہو جائے تو اُس سے قید کا حکم زائل نہیں ہو گا ۔ بلکہ یا تو وہ عورتوں اور بچوں کی طرح غلام بن جائے گا ۔ جیسا کہ امام احمدؒ اور شافعیؒ کے
دو اقوال میں سے ایک قول یہی ہے ۔ ہر دو ائمہ کے نزدیک دوسرا قول یہ ہے کہ حاکم وقت کو اس کے بارے میں تین باتوں کا اختیار ہوگا ۔ مگر اُسے قتل نہیں کر سکتا ۔ اس کی دلیل وہ حدیث ہے جس کو مسلم نے اپنی صحیح میں حضرت عمران بن حصین سے روایت کیا ہے کہ قبیلہ ثقیف کے لوگ بنی عقیل کے حلیف تھے۔ ثقیف والوں نے رسول کریم کے دو صحابہ کو قید کر لیا۔ صحابہ کرام نے بنی عقیل کے ایک آدمی کو قید کر لیا اور ساتھ ہی "العضباء" نامی ناقہ کو بھی پکڑ لیا۔ بنو عقیل کا آدمی بیڑیاں پہنے تھا کہ رسول کریم اس کے پاس آئے۔ اس نے یا محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کہہ کر آواز دی ۔ آپ تشریف لائے اور پوچھا کہ کیا بات ہے ؟ اس نے کہا آپ نے مجھے اور تیرا ناقہ عضباء کو کیوں پکڑا ؟ فرمایا "میں نے تجھے تیرے حلفاء بنو ثقیف کے جرم میں پکڑا۔ پھر آپ نے اس کی طرف سے منہ موڑ لیا۔ تو اس نے یا محمد یا محمد کہہ کر پکارنا شروع کر دیا۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بڑے رقیق القلب تھے اس کی طرف لوٹے اور فرمایا کیا بات ہے ؟ اس نے کہا "میں مسلم ہوں" فرمایا ۔ "اگر تو یہ بات اس وقت کہتا جب کہ تو آزاد تھا تو پوری کامیابی حاصل کرتا آپ لوٹے تو پھر وہ پکارنے لگا۔ یا محمد یا محمد ! آپ تشریف لائے اور پوچھا کیا ماجرا ہے؟ اُس نے کہا میں بھوکا ہوں مجھے کھانا کھلائیے میں پیاسا ہوں مجھے پانی پلائیے ۔ فرمایا یہ تمہاری جائز ضرورت ہے (اسے پورا کیا جائے گا) چنانچہ دو آدمیوں کے فدیہ میں اُسے چھڑا لیا گیا۔ جب وہ قیدی بننے کے بعد اسلام لایا تو آپ نے فرمایا اگر قید ہونے سے پہلے مسلمان ہوتا تو پوری کامیابی حاصل کرتا ، اب اس نے پوری فلاح نہیں پائی ۔ اب اسلام لانے کی وجہ سے اُسے رہا نہیں کیا جا سکتا ۔
حضرت عباس بن عبدالمطلب نے بھی قید ہونے کے بعد اسلام کا اظہار کیا ، بلکہ اطلاع دی کہ وہ قبل ازیں اسلام لا چکے ہیں ۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فدیہ ادا کرنے سے قبل ان کو رہا نہ کیا ۔ قیاس کا تقاضا بھی یہی ہے۔ اگر مسلمانوں کا کوئی قیدی جو کافر ہو مسلمان ہو جائے تو تب بھی قیدی ہی رہے گا اس لئے کہ یہ بھی غلامی کی ایک قسم ہے اور قید غلامی کو حق جواز بخشتی ہے۔ جس طرح قیدی کے اسلام لانے سے یہ لازم نہیں آتا۔
کہ اسلام لانے سے پیشتر جو مال اس سے لیا گیا وہ اُسے واپس کیا جائے ۔ جب یہ اس شخص کا حال ہے جو قید ہونے کے بعد اسلام لایا اور حقیقت میں وہ حربی الاصل تھا ، تو جو عہد شکنی کرنے والا ہے بلاشبہ اس کا حال اس سے شدید تر ہے ۔ بنا بریں جب وہ اس صورت میں عہد شکنی کرے کہ وہ ہمارے قابو میں ہو اور مسلمان بھی ہو جائے تو اس کے حق میں یہ کہنا جائز نہیں کہ اُسے رہا کیا جائے ۔
ہم بتا چکے ہیں کہ اسلام لانے سے ، اس نے اپنا خون محفوظ کر لیا ۔ اب یا تو وہ غلام بن جائے اور حاکم وقت کو اس امر کا اختیار ہے کہ اس کو فروخت کر کے اس کی قیمت بیت المال میں جمع کر دے یا اپنی صوابدید کے مطابق جس طرح چاہے کرے ۔
یہ اُس شخص کا قیاس ہے جو عہد شکنی کرنے والے کو غلام بنانے کا قائل ہے اور جس کے نزدیک اُن کو غلام بنانا جائز نہیں اس کے نزدیک وہ مرتد کی طرح ہے ۔ وہ کہتا ہے کہ جب وہ اسلام کی طرف لوٹ آئے تو اُسے نہ غلام بنایا جائے اور نہ ہی قتل کیا جائے ۔
رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ارشادِ گرامی :-
" اگر تو آزادی کی حالت میں اسلام لاتا تو پوری طرح فلاح پاتا "
کا مطلب یہ ہے کہ جو شخص اس حالت میں اسلام لائے جب کہ وہ با اختیار نہ ہو اس کا حال اُس شخص کی طرح نہیں جو ایسے وقت میں مشرف بہ اسلام ہو جب کہ وہ با اختیار اور آزاد ہو ، دونوں کو برابر قرار دینا کسی حال میں بھی جائز نہیں ۔ اس میں یہ دلیل موجود ہے کہ جب اس نے جزیہ ادا کیا تو اُسے رہا کرنا واجب نہیں ۔ اس لئے کہ جب اسلام لانے کی وجہ سے اُسے رہا کرنا واجب نہیں تو جزیہ ادا کرنے کی وجہ سے بالاولیٰ جائز نہیں ۔ مگر مذکورہ صدر حدیث میں ایسی کوئی چیز نہیں جس سے اس کو غلام بنانے کی نفی ہوتی ہو :
رسول کریم کو گالی دینے والے مسلم کو توبہ کا مطالبہ کئے بغیر قتل کیا جائے
پس اس امر کی دلیل کہ مسلم کو توبہ کا مطالبہ کئے بغیر قتل کیا جائے ، اگرچہ وہ پکڑے جانے کے بعد توبہ کا اظہار کرے۔ مندرجہ ذیل آیت کریمہ ہے اور جمہور کا مذہب بھی یہی ہے ۔ إِنَّ الَّذِينَ يُؤْذُونَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ لَعَنَهُمُ اللَّهُ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ وَأَعَدَّ لَهُمْ عَذَابًا مُّهِينًا ہ (الاحزاب - ۵۷) (بیشک جو لوگ اللہ اور اس کے رسول کو ایذا دیتے ہیں۔ اللہ نے ان پر دنیا اور آخرت میں لعنت کی ہے اور ان کے لئے رسوا کن عذاب تیار کر رکھا ہے)۔
قبل ازیں بیان کیا جا چکا ہے کہ یہ اس کے قتل کا مقتضی ہے اور اس کا قتل حتمی اور قطعی ہے۔ اگرچہ پکڑے جانے کے بعد وہ توبہ بھی کر چکا ہو۔ اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کا ذکر کیا جو اللہ اور اس کے رسول کو ایذا دیتے ہیں۔ پھر ان لوگوں کا ذکر کیا جو مومن مردوں اور عورتوں کو ایذا دیتے ہیں۔ جب اللہ اور اس کے رسول کو ایذا دینے والوں کو سزا پکڑے جانے کے بعد توبہ کرنے سے ساقط نہیں ہوتی، تو اہل ایمان کو ایذا دینے والوں کی سزا بالاولیٰ معاف نہیں ہوگی اس لئے کہ فریقین کی سزا ایذا رسانی پر مبنی ہے نہ کہ اس کفر پر جس پر وہ قائم ہے۔
مزید براں فرمانِ ربانی ہے :- لَئِنْ لَّمْ يَنْتَهِ الْمُنَافِقُونَ ..... تَقْتِيلاً ہ (الاحزاب - ۶۰) (اگر منافق باز نہ آئے ..... تا آخر)
اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ جو شخص باز نہ آئے اُسے پکڑ کر قتل کر دیا جائے ۔ لہٰذا معلوم ہوا کہ وہ باز آنا خون کا محافظ ہے جو پکڑے جانے سے پہلے ہو۔ مزید برآں اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ اس کو قتل کرنا لعنت کی تفسیر ہے۔ پس یہ ثابت ہوا کہ ملعون کو جب بھی پکڑا جائے اُسے قتل کیا جائے ۔ بشرطیکہ وہ پکڑے جانے سے قبل باز نہ آیا ہو اور یہی شخص ملعون ہے، اس لئے وہ آیت میں داخل ہے ۔ اس کا مؤید ابن عباسؓ کا سابق الذکر قول ہے جو مندرجہ ذیل آیت کی تفسیر میں اُن سے منقول ہے :-
اِنَّ الَّذِيْنَ يَرْمُوْنَ الْمُحْصَنٰتِ الْغٰفِلٰتِ الْمُؤْمِنٰتِ لُعِنُوْا فِي الدُّنْيَا وَالْاٰخِرَةِ وَلَهُمْ عَذَابٌ عَظِيْمٌ
(النور - ۲۳)
" بیشک جو لوگ پاک دامن غافل مومن عورتوں پر بہتان لگاتے ہیں اُن پر دنیا و آخرت میں لعنت کی گئی اور ان کے لئے بڑا عذاب ہے ۔"
ابن عباسؓ فرماتے ہیں کہ یہ آیت حضرت عائشہؓ اور اُمہات المؤمنین کے بارے میں بطورِ خاص نازل ہوئی ۔ اس میں توبہ کا ذکر نہیں کیا گیا ۔
پھر ابن عباسؓ نے یہ آیت پڑھی :-
وَالَّذِيْنَ يَرْمُوْنَ الْمُحْصَنٰتِ ثُمَّ لَمْ يَأْتُوْا بِاَرْبَعَةِ شُهَدَاءَ ........ تَابُوْا مِنْ بَعْدِ ذٰلِكَ ه
(النور - ۴)
(اور جو لوگ پاکدامن عورتوں پر تہمت لگاتے ہیں اور پھر چار گواہ نہیں لاتے ....... تو جو لوگ اس کے بعد توبہ کر لیں )
ان لوگوں کی توبہ کا ذکر کیا مگر سابق الذکر لوگوں کی توبہ کا ذکر نہیں کیا۔ راوی کا بیان ہے کہ ایک آدمی نے اُٹھ کر ابن عباسؓ کی حُسنِ تفسیر کی وجہ سے ان کا سر چوم لینے کا ارادہ کیا ۔ ابن عباسؓ نے بیان کیا کہ جس شخص پر ایسی لعنت کی جا چکی ہو اُس کے لئے کوئی توبہ نہیں اور دوسری لعنت تو اس سے بھی بلیغ تر ہے۔ اس کی تائید اس بات سے ہوتی ہے کہ اُمہات المؤمنین پر بہتان لگانے والا اس لعنت کا مستحق اِس لئے ہوا کہ بہتان ان کی ازواجِ مطہرات پر لگایا گیا ہے ۔ تو اس سے مستفاد ہوا
کہ آپ کو ایذا دینے والے کے لئے کوئی توبہ نہیں۔ قرآن کریم میں فرمایا :-
إِنَّمَا جَزَاءُ الَّذِينَ يُحَارِبُونَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَ يَسْعَوْنَ فِي الْأَرْضِ فَسَادًا (المائدة - ٣٣)
بدلہ اُن لوگوں کا جو اللہ اور اس کے رسولؐ سے لڑتے ہیں اور زمین پر فساد مچانے کی کوشش کرتے ہیں ۔
اور یہ دشنام دہندہ اللہ اور اُس کے رسولؐ سے جنگ لڑنے والا اور دونوں کی مخالفت کرنے والا ہے ۔ اور بلاشبہ اللہ اور اس کے رسولؐ کی مخالفت کرنے والا، اللہ اور اس کے رسول کو ایذا دینے والا اور ان کے خلاف جنگ برپا کرنے والا ہے۔ نیز اس لئے کہ محارب، صلح جوئی کرنے والے کی ضدّ ہے۔ مسالم وہ شخص ہے جس سے تم سلامت رہو اور دوسرا شخص تم سے سلامت رہے۔ اور جو شخص کسی کو تکلیف دے وہ اس سے سلامت نہیں رہتا، اس لئے وہ مسالم نہیں بلکہ محارب ہے۔ اور قبل ازیں ہم نے متعدّد طرق سے روایت کی ہے کہ رسول کریمؐ نے اس کو اپنا دشمن قرار دیا ہے جو شخص آپؐ سے عداوت رکھتا ہو وہ گویا آپؐ کے خلاف جنگ کرتا ہے۔ ایسا شخص روئے زمین پر سب سے بڑا مفسد ہے۔
اللہ تعالیٰ منافقین کے بارے میں فرماتے ہیں :-
” اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ اللہ کی زمین پر فساد برپا نہ کرو تو وہ کہتے ہیں کہ ہم تو صرف اصلاح کرنے والے ہیں۔ خبردار وہی ہیں فساد برپا کرنے والے مگر وہ سمجھتے نہیں۔ (البقرة - ١١-١٢)
قرآن کریم میں جہاں کہیں بھی فساد کا ذکر آیا ہے مثلاً
- (١) وَلَا تُفْسِدُوا فِي الْأَرْضِ (الاعراف - ٥٦)
- (٢) سَعَىٰ فِي الْأَرْضِ لِيُفْسِدَ فِيهَا (البقرة - ٢٠٥)
اور دیگر آیات ان تمام مقامات میں گالی فساد میں شامل ہے۔ اس لئے کہ گالی روئے زمین پر اصل فساد کی موجب ہے۔ کیونکہ گالی کی وجہ سے نبوّت میں فساد
پیدا ہوتا ہے اور نبوت دنیا اور آخرت میں دین کی صلاح و فلاح کا ستون ہے چونکہ گالی دینے والا، اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ جنگ کرنے والا اور (خدا کی زمین میں) فساد کی کوشش کرنے والا ہے۔ لہٰذا واجب ہے کہ آیت میں مذکور سزاؤں میں سے اسے ایک سزا دی جائے۔ الّا یہ کہ قابو پانے سے پہلے توبہ کرلے۔ قبل ازیں ہم ایسے دلائل پیش کرچکے ہیں کہ اس کی سزا بوجہ ثبوتِ قتل ایک مسلّم بات ہے جس طرح رہزنی کے دوران قتل کرنے والے کی سزا قتل ہے۔ پس واجب ہے کہ یہ سزا اسے دی جائے بجز اس صورت کے جب کہ وہ قابو آنے سے قبل تائب ہوجائے۔ وہ دشنام دہندہ جس کے خلاف شہادت قائم ہوجائے، پھر اس کے بعد توبہ کرلے تو اس نے قابو میں آنے کے بعد توبہ کی اس لئے سزا اس سے ساقط نہیں ہوگی۔
یہی وجہ ہے کہ حربی کافر جب پکڑے جانے کے بعد اسلام لائے تو مطلقاً اس سے توبہ ساقط نہیں ہوگی۔ جس طرح رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عقیلی سے کہا تھا ۔
"اگر تو یہی بات اس وقت کہتا جب تو با اختیار تھا تو پوری طرح فلاح پا جاتا۔"
بخلاف ازیں اسے غلام بننے کی سزا دی جائے گی یا یہ کہ اسے غلام بنانا بھی جائز ہے اور کوئی دوسری سزا بھی دی جاسکتی ہے۔ مگر یہ مرتد محارب ہے لہٰذا اسے اس طرح غلام نہیں بنایا جاسکتا جس طرح عُرنیّہ والوں کو بنایا گیا۔ اس لئے کہ محاربہ باللسان اور محاربہ بالیَد دونوں یکساں ہیں۔ لہٰذا اس کی سزا بصورتِ قتل ایک مسلّمہ امر ہے
مزید براں متعدد طرق سے مروی احادیث اس امر پر دلالت کرتی ہیں کہ دشنام دہندہ کو توبہ کا مطالبہ کئے بغیر قتل کیا جائے۔ جو شخص رسول کریمؐ پر جھوٹ باندھے آپؐ نے حکم دیا ہے کہ اس سے توبہ کا مطالبہ کئے بغیر اسے قتل کیا جائے ۔ ہم ذکر کرچکے ہیں کہ یہ حدیث اس امر کی مقتضیٰ ہے کہ دشنام دہندہ کو قتل کیا جائے خواہ ہم حدیث سے ظاہری مفہوم مراد لیں یا اس کو اس شخص پر محمول کریں جو رسول کریمؐ پر ایسا جھوٹ
باندھے جس سے آپ کی زندگی داغدار ہوتی ہو۔ شعبی کی روایت میں بھی اسی طرح ہے کہ آپ نے اس شخص کو توبہ کا مطالبہ کئے بغیر قتل کرنے کا حکم دیا تھا جس نے الْعُزّٰی نامی بت کا مال تقسیم کرنے کے بارے میں آپ کو موردِ طعن بنایا تھا۔
حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی روایت میں مذکور ہے کہ جب ابوبرزہ نے آپ سے اس شخص کو توبہ کا مطالبہ کئے بغیر قتل کرنے کی اجازت مانگی تھی جس نے رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو گالی دی تھی تو حضرت ابوبکرؓ نے فرمایا کہ ”رسولِ کریم کے بعد کسی کو اس کی اجازت نہیں۔“ اس سے معلوم ہوا کہ آپؓ اپنے دشنام دہندہ کو توبہ کا مطالبہ کئے بغیر قتل کر سکتے تھے۔
اسی طرح حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اس شخص کو توبہ کا مطالبہ کئے بغیر قتل کر دیا تھا جو رسولِ کریم کے فیصلے پر راضی نہ تھا پھر اس کی تائید میں قرآنِ کریم نازل ہوا۔ حالانکہ یہ رسولِ کریم کی ادنیٰ قسم کی تحقیر تھی، پھر اس سے بڑھ کر تحقیر کی کیا سزا ہو گی؟
مزید براں جب عبداللہ بن سعد بن ابی سرح نے اسلام لانے کے بعد طعن کیا اور ایسا بہتان باندھا جس سے آپ کی زندگی داغدار ہوتی ہے، تو آپ نے اس کے خون کو ھدر قرار دیا اور اس کی بیعت کرنے سے انکار کر دیا۔ ہم نے قبل ازیں اس سے استدلال کیا ہے کہ دشنام دہندہ اسلام لائے تو بھی اُسے قتل کیا جائے۔ ہم نے یہ بھی ذکر کیا تھا کہ وہ آپ کے پاس آنے سے پہلے اسلام لا چکا تھا اور توبہ کرنے کے لئے حاضر ہوا تھا۔ جیسا کہ ہم نے متعدد راویوں سے اس کو نقل کیا ہے یا وہ اسلام لانے کے ارادے سے حاضر ہوا تھا۔ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو معلوم تھا کہ وہ اسلام لانے کے ارادے سے حاضر ہوا تھا۔ پھر آپ نے بیعت کرنے سے توقّف کیا۔ آپ کو یہ انتظار تھا کہ کوئی آدمی اُٹھ کر اُسے قتل کر دے گا۔
یہ حدیث اس ضمن میں نصّ کا درجہ رکھتی ہے کہ اس قسم کے طعن کنندہ مرتد کی توبہ قبول کرنا واجب نہیں بلکہ اُسے قتل کرنا جائز ہے اگرچہ توبہ کرنے آیا ہو یا توبہ کر چکا ہو۔ قبل ازیں ہم اس پر روشنی ڈال چکے ہیں۔ اور یہاں دیگر وجوہ سے اس مسئلہ کو ثابت کی کوشش کرتے ہیں کہ جس چیز نے اس کے خون کو محفوظ کیا وہ رسولِ کریم کا معاف کرنا
تھا کہ وہ بمنزلہ اسلام لانا ۔ نیز یہ کہ اسلام لانے اور توبہ کرنے سے گناہ کا ازالہ ہو گیا اور حضور کے معاف کرنے سے اس کا خون محفوظ ہو گیا ۔ جب رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے وفات پائی تو آپ نے جو معافی دی تھی وہ باقی نہ رہی ۔ اور اُمت کو یہ حق حاصل نہیں کہ رسول کریم کے حق کو معاف کرے ۔ اور آپ کا بیعت سے اس لئے توقف کرنا تاکہ کوئی آدمی اُٹھ کر اُسے قتل کر دے، اس کے جوازِ قتل پر نص کا درجہ رکھتا ہے ، اگرچہ وہ توبہ کرنے کے لئے آیا ہو۔
باقی رہا اس کے بعد اس شخص کے خون کا محفوظ ہونا جس نے گالی دے کر توبہ کر لی ہو تو وہ اس بات کی دلیل نہیں کہ ہم اس شخص کے خون کو اُس پر قابو پانے کے بعد بھی محفوظ تصوّر کریں ۔ اس لئے کہ ہم نے متعدّد دلائل سے ثابت کیا ہے کہ رسول کریم بعض اوقات ایسے شخص کو معاف فرما دیا کرتے تھے جو آپ کو گالی دیتا اور جس کے واجب القتل ہونے کے بارے میں اُمت میں کوئی اختلاف نہیں پایا جاتا ۔ بظاہر رسول کریم کا اس کو معاف کرنا دشوار بھی ہوتا ۔ ہم نے یہ بھی ذکر کیا تھا کہ عبد اللہ بن خطل کے واقعہ پر مشتمل حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ دشنام دہندہ کو قتل کیا جا سکتا ہے۔ اس لئے کہ وہ پہلے مسلمان تھا پھر مرتد ہو کر آپ کی ہجو کہا کرتا تھا لہٰذا اُسے توبہ کا مطالبہ کئے بغیر قتل کیا گیا ۔
قبل ازیں حضرت انسؓ کی مرفوع روایت اور حضرت ابوبکرؓ کا قول گزر چکا ہے کہ جو شخص آپ کی ازواج مطہرات اور لونڈیوں پر (بہتان لگا کر) آپ کو ایذا دیتا ہو اُسے قتل کیا جائے اور اس سے توبہ کا مطالبہ نہ کیا جائے اور یہ اس لئے کہ یہ بھی ایک طرح کی ایذا رسانی ہے اور اسی وجہ سے اللہ نے اس کو حرام ٹھہرایا ہے ۔ ظاہر ہے کہ گالی دینا ایذا رسانی کے اعتبار سے اس سے شدید تر ہے ۔ اس کی دلیل یہ ہے کہ جس طرح رسول کریم کو گالی دینا حرام ہے اسی طرح کسی اور کو گالی دینا بھی ممنوع ہے ۔ جب کہ نکاح صرف اُمہات المومنین کے ساتھ ناروا ہے ( اور دیگر عورتوں کے ساتھ حلال ہے) اس کی وجہ یہ ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ایذا رسانی حرام ہے اور آپ کو کسی بھی قسم کی ایذا دینے والا واجب القتل ہے اور اُس سے
توبہ کا مطالبہ کرنے کی کوئی ضرورت نہیں۔
نیز رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اُن عورتوں کو قتل کرنے کا حکم دیا تھا جو ہجو کہہ کر اپنی زبان سے آپ کو ایذا دیا کرتی تھیں۔ حالانکہ شہر (مکہ) کے عام لوگوں کو آپ نے امان دے دی تھی۔ اور عورت کو صرف اسی صورت میں قتل کیا جا سکتا ہے جب کہ وہ ایسا کام کرے جس سے اس کو قتل کرنا واجب ہو جاتا ہو، آپ نے جب اُن عورتوں کو قتل کیا تو کسی سے بھی توبہ کا مطالبہ نہ کیا اور حربی عورت جو کافر ہو جب تک عملی طور پر جنگ میں شریک نہ ہو اُسے قتل نہیں کیا جاتا۔ اسی طرح مرتد عورت سے جب تک توبہ کا مطالبہ نہ کیا جائے اسے قتل نہیں کیا جاتا۔ مگر ان عورتوں کو قتل کیا گیا جب کہ وہ نہ تو جنگ میں شرکت کرتی تھیں اور نہ ہی اُن سے توبہ کا مطالبہ کیا گیا۔ اس سے یہ بات کھل کر سامنے آئی کہ جو شخص ان عورتوں کا سا فعل انجام دے اُسے توبہ کا مطالبہ کئے بغیر قتل کرنا روا ہے۔ کیونکہ ایسے فعل کا صدور ایک مسلم یا معاہد عورت سے عظیم تر جرم ہے بہ نسبت اُسکے کہ ایک حربی عورت ایسے فعل کی مرتکب ہو۔
قبل ازیں ہم اس ضمن میں ایسے دلائل ذکر کر چکے ہیں کہ اب ان کے اعادہ کی حاجت نہیں۔ ہم نے ذکر کیا تھا کہ حدیث نبوی سے مستفاد ہوتا ہے کہ گالی ایک گناہ ہے جو عام کفر سے الگ ہے ، بلکہ یہ محاربہ کی جنس سے ہے۔ اور وہ توبہ جس کی وجہ سے مرتد کا خون محفوظ ہو جاتا ہے وہ کفر سے توبہ ہے اگر کوئی شخص جنگ کر کے مثلاً کسی کو قتل کر کے یا مسلمان کا مال لے کر مرتد ہوا ہو۔ جیسا کہ قبیلہ عرینہ والوں نے نیز مقیس بن صبابہ نے کیا تھا۔ کہ اس نے ایک انصاری کو قتل کیا اور اس کا مال لے کر مرتد ہو کر لوٹ گیا تھا ۔ تو ایسے آدمی کو قتل کرنا ایک مسلّمہ بات ہے جس طرح رسول کریم نے مقیس بن صبابہ کو قتل کیا تھا اور جیسا کہ عرینہ والوں کے بارے میں آپ کو کہا گیا تھا کہ ”ان کا بدلہ یہ ہے کہ ان کو قتل کیا جائے“ (قرآنی آیت) اس لئے جو شخص عداوت اور محاربہ پر مبنی کلام کرے گا وہ اُس کی طرح نہ ہوگا جو
صرف مرتد ہو۔ امام احمد رحمہ اللہ علیہ نے جن صحابہؓ پر اعتماد کیا ہے وہ دشنام دہندہ اور مرتد محض میں فرق کرتے ہیں ۔ چنانچہ وہ دشنام دہندہ کو تو توبہ طلب کئے بغیر قتل کرتے ہیں ۔ اور دوسرے سے توبہ کا مطالبہ کرتے ہیں اور مطالبہ کرنے کا حکم دیتے ہیں ۔ یہ اس لئے کہ دشنام دہندہ کو قتل کرنا ان سے ثابت ہوچکا ہے ، جس کا ذکر پہلے ہوچکا ہے حالانکہ ان کے بارے میں پہلے کہا جا چکا ہے کہ وہ مرتد سے توبہ کا مطالبہ کرتے تھے اور اس سے توبہ طلب کرنے کا حکم دیا کرتے تھے۔ اس سے ثابت ہوا کہ کوئی مسلمان اگر رسولِ کریم کو گالی دے تو وہ اس کی توبہ قبول نہیں کرتے تھے ۔ اس لئے کہ اگر اس کی توبہ قبول کی جائے تو اس سے توبہ کا مطالبہ مشروع ہوگا جیسے مرتد سے کیا جاتا ہے ، کیونکہ اس قول کے مطابق وہ مرتدین کی ایک قسم ہے۔ اور جو اس کے ساتھ مسلم کی تخصیص کرتا ہے ۔ وہ کہتا ہے کہ اس سے یہ نہیں معلوم ہوتا کہ دشنام دہندہ کافر اگر اسلام لے آئے تو اس سے قتل ساقط نہیں ہوگا۔ اس لئے کہ حربی کو توبہ کا مطالبہ کئے بغیر قتل کیا جاتا ہے ، حالانکہ اس کے اسلام لانے سے اس کا قتل اجماعاً ساقط ہوجاتا ہے ہمیں کسی صحابی کے بارے میں یہ خبر نہیں پہنچی کہ اس نے دشنام دہندہ سے توبہ کا مطالبہ کرنے کا حکم دیا ہو ۔ ماسوا حضرت ابن عباسؓ کی روایت کے مگر اُس میں ضعف پایا جاتا ہے ۔ اس کے الفاظ یہ ہیں :۔
"جو مسلمان اللہ یا کسی نبی کو گالی دے اس نے رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تکذیب کی ۔ اسی کا نام ارتداد ہے جس میں توبہ کا مطالبہ کیا جاتا ہے ۔ اگر اسلام کی طرف لوٹ آئے تو فبہا ورنہ اُسے قتل کیا جائے ۔ یہ اس شخص کے بارے میں ہے — واللہ اعلم — جو کسی نبی کی نبوت کی تکذیب کرے اور اُسے اس بناء پر گالی دے کہ وہ نبی نہیں ۔ آپؐ کے ان الفاظ کو دیکھئے کہ اُس نے رسول علیہ الصلوۃ والسلام کی تکذیب کی"۔ اور اس میں شبہ نہیں کہ جو شخص کسی نبی کی نبوت کی تکذیب کرے اور اسی بناء پر اُسے گالی دے اور پھر توبہ کر لے تو اس کی توبہ مقبول ہوگی ۔ جس طرح کوئی شخص بعض قرآنی آیات کی تکذیب کرے ۔ یہ اس کے معاملات کا نمایاں پہلو ہے ، اس لئے وہ مرتد کی مانند ہے ۔"
باقی رہا وہ شخص جو کسی نبی کی نبوت کا اقرار کرتا ہو پھر علانیہ اُسے گالی دینے لگے تو ہمارا مسئلہ یہی ہے ۔
اس کی مویّد یہ روایت ہے کہ آپ فرمایا کرتے تھے "جو شخص ازواج النبی پر بہتان باندھے اس کی توبہ مقبول نہیں۔ البتہ اگر کسی اور عورت پر بہتان لگائے تو اس کی توبہ مقبول ہے۔ ظاہر ہے کہ حقِّ رسول کی رعایت کی وجہ سے ایسا کیا گیا ہے پس معلوم ہوا کہ ان کا مذہب یہ ہے کہ رسول کریم کو گالی دینے والے اور آپ پر بہتان لگانے والے کی توبہ مقبول نہیں۔ نیز یہ کہ دوسری روایت ۔ اگر اس کی صحت ثابت ہو ۔ کی توجیہہ وہ ہے جو ہم نے ذکر کی یا اس کی مثل ۔
علاوہ ازیں ایک نبی کی نبوت کا اقرار کرنے والے کا اسی نبی کو گالی گلوچ دینا اس امر کی دلیل ہے کہ اس کا عقیدہ فاسد ہے اور وہ اس کو نبی نہیں مانتا ۔ بلکہ یہ اس امر کی دلیل ہے کہ وہ اس نبی کی تحقیر و تضحیک کا مرتکب ہوتا ہے ۔ جس شخص کے دل میں کسی نبی پر ایمان گھر کر چکا ہو ۔ اور ایمان اس نبی کے اکرام و احترام کا موجب ہوتا ہے ۔ تو اس کے بارے میں یہ تصوّر بھی نہیں کیا جا سکتا کہ وہ اس کی مذمت کرے گا یا اُسے گالی دے گا اور اس کی تحقیر کرے گا ۔ جو لوگ گالیاں دے کر رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تحقیر کیا کرتے تھے بدترین قسم کے منافق تھے ۔
جیسا کہ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک روز رسول کریم اپنی بیویوں میں سے کسی بیوی کے حجرے کے سایہ میں تشریف فرما تھے ۔ چند مسلمان بھی آپ کے ہمراہ تھے جن سے سایہ سمٹ کر پیچھے ہٹ گیا تھا ۔ فرمایا "تمہارے یہاں ایک شیطان صفت انسان آئے گا اس سے بات نہ کرنا ۔" اندریں اثنا ایک نیلی آنکھوں والا آدمی آیا ۔ رسول کریم نے اُسے پکار کر کہا "تم اور فلاں فلاں اشخاص مجھے گالی کیوں دیتے ہو؟ آپ نے اُن کا نام لے کر بتایا ۔ وہ جا کر انہیں اپنے ساتھ لایا ۔ انہوں نے قسم کھائی اور معذرت کی ۔ تب یہ آیت کریمہ نازل ہوئی :-
يَحْلِفُوْنَ لَكُمْ لِتَرْضَوْا عَنْهُمْ
(التوبۃ - ۹۶)
وتمہارے سامنے قسمیں کھاتے ہیں تاکہ تم ان سے راضی ہو جاؤ ۔)
اس کو ابو سعود بن الفرات نے روایت کیا ہے ۔ حاکم نے بھی اس کو اپنی صحیح میں روایت کیا ہے ۔ پھر یہ آیت کریمہ نازل ہوئی ۔
(المجادلۃ - ۱۸)
يَوْمَ يَبْعَثُهُمُ اللّٰهُ جَمِيْعًا فَيَحْلِفُوْنَ لَهٗ
(جب اللہ اُن سب کو اُٹھائے گا تو قسمیں کھائیں گے،
اور جب یہ ثابت ہوگیا کہ وہ ذلیل کافر ہے تو اس کے بعد اس کا اقرار رسالت کرنا اس بات پر دلالت نہیں کرتا کہ یہ کفر اور استہانت اس سے دور ہوگئی ہے ۔ اس لئے کہ ظاہر ایک صحیح اور قابل اعتماد دلیل ہوتا ہے جب یہ ثابت نہ ہو کہ باطن اس کے خلاف ہے ۔ جب باطن کا اثبات کسی دلیل سے ہوتا ہو تو ظاہر کی طرف توجہ نہیں دی جائے گی جس کے بارے میں معلوم ہے کہ باطن اس کے خلاف ہے ۔
حاکم اپنے علم کے خلاف فیصلہ صادر نہیں کر سکتا
علماء نے اس بات پر اتفاق کیا ہے کہ حاکم کو اپنے علم کے خلاف فیصلہ نہیں کرنا چاہیے۔ اگر چہ ثقہ اور عدول لوگ اس کے نزدیک اس کی شہادت دیتے ہوں۔ حاکم کے لئے جائز ہے کہ ان کی شہادت کے مطابق فیصلہ کرے جب کہ اس کے خلاف اُسے معلوم نہ ہو ۔ اگر وہ کوئی ایسا اقرار کرے جس کے بارے میں اُسے معلوم ہو کہ وہ اس میں جھوٹا ہے ۔ تب بھی یہی صورت ہو گی۔ مثلاً اپنے سے بڑی عمر کے آدمی سے کہے : "یہ میرا بیٹا ہے" تو اس کا نسب اور میراث ثابت نہیں ہوگی ۔ اس پر علماء کا اتفاق ہے۔ شرعی دلائل کی بھی یہی صورت ہے ۔ مثلاً ایک ثقہ آدمی کی خبر واحد، نیز امر و نہی اور عموم و قیاس کہ اُن کی پیروی واجب ہے الاّ یہ کہ قوی تر دلیل سے ثابت ہو کہ ان کا باطن ظاہر کے مخالف ہے۔ اور اس کے نظائر و امثال بکثرت ہیں۔
جب تم یہ جان چکے تو ہم کہتے ہیں کہ اس شخص کے فاسد عقیدے، اس کی تکذیب اور استہانت پر دلیل قائم ہوچکی ہے پس اب اس کا اقرار رسالت اسی جیسا ہے جسکا اظہار وہ پہلے کیا کرتا تھا۔
اور اس کی دلالت باطل ہو چکی ہے، لہذا اس پر بھروسہ کرنا جائز نہیں۔ یہ نکتہ ان لوگوں کی ایجاد ہے جو زندیق کی توبہ قبول نہیں کرتے۔ اہل مدینہ، امام مالک اور ان کے اصحاب اور لیث بن سعد کا یہی مذہب ہے۔ امام ابو حنیفہ سے منقول دو روایتوں میں سے ترجیح اسی روایت کو ہے۔ امام احمد سے بھی ایک روایت یہی منقول ہے جس کی تائید آپ کے بہت سے اصحاب نے کی ہے۔ امام ابو حنیفہ اور احمد سے ایک روایت یہ بھی منقول ہے کہ اس سے توبہ کا مطالبہ کیا جائے۔ امام شافعی سے بھی یہی روایت مشہور ہے۔ امام ابو یوسف کا آخری قول یہی ہے کہ میں توبہ کا مطالبہ کئے بغیر اُسے قتل کرتا ہوں۔ لیکن اگر قتل کرنے سے پہلے یہ توبہ کرلے تو اس کی توبہ مقبول ہوگی۔ امام احمد سے تیسری روایت یہی منقول ہے
ان دلائل کے پیش نظر جب دشنام دہندہ مکرر گالی دے جو اس کے کفر پر دلالت کرتا ہے تو دیگر علامات شامل ہو کر گالی کو مزید تقویت حاصل ہوگی۔ مثلاً اللہ کے محرمات کی تخفیف، فرائض خداوندی کی اہانت اور اس قسم کے امور جو زندیق اور منافق پر دلالت کرتے ہیں۔ اس کے زندقہ اور کفر کے اثبات کے لئے یہ چیز بڑی مؤثر ہے۔ اس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے ان امور کی موجودگی میں اس کے اظہار اسلام کو قبول نہ کیا جائے۔ ایسے آدمی کو بغیر توقف کے قتل کر دینا چاہئے اور نہ ہی اسلام لانے کی وجہ سے اس سے قتل کو ساقط کیا جائے۔ کیونکہ پکڑے جانے کے بعد اس کی حالت میں کوئی نئی تبدیلی پیدا نہیں ہوئی جو قبل ازیں نہ تھی پھر حدود شرعیہ کو بلاوجہ کیسے معطل رکھا جاسکتا ہے؟ البتہ اگر اس کا مقدمہ عدالت میں لے جانے سے پیشتر اس سے ایسے اقوال و اعمال کا ظہور ہو جو اس کے حسن اسلام پر دلالت کرے اور وہ ان باتوں سے رک جائے تو اُسے فی الحال قتل نہیں کیا جائے گا۔ تاہم اس قول کے قائلین میں اختلاف پایا جاتا ہے جس کا ذکر آگے آئے گا۔ اِن شاء اللہ تعالیٰ
جن آیات میں نفاق سے توبہ کا ذکر ہے ان کو اسی قسم کے آدمی پر بلکہ جو اس سے خفیف تر درجے کا ہو اور اس کا نفاق ظاہر نہ ہو، محمول کیا جائے گا اور جن آیات میں
اقامت حدود کا تذکرہ ہے ان کو پہلی حالت پر محمول کیا جائے گا ۔ جو لوگ اسلام قبول کرنے والے ذمّی سے قتل کو ساقط کرتے ہیں وہ کہتے ہیں کہ اسی کے ساتھ ذمّی اور کافر کا فرق واضح ہو جاتا ہے جب کہ وہ اسلام لائے ۔ اس لئے کہ وہ ایسے دین کا اظہار کرتا تھا جو رسول کریمؐ کے گالی دینے کو مباح کرتا تھا یا گالی دینے سے منع نہیں کرتا تھا پھر اس نے دین اسلام کا اظہار کیا جو آپؐ کے اکرام و احترام کو واجب قرار دیتا ہے ۔ پس یہ اس امر کی دلیل ہے کہ اس کا دوسرے مذہب کی طرف انتقال صحیح ہے اور جو اس کے خلاف ہے وہ اس سے متصادم نہیں، پس اس پر عمل واجب ہے ۔
اور یہ طرز وانداز اس بات پر مبنی ہے کہ زندیق کی توبہ مقبول نہیں ۔ جیسا کہ ہم بیان کرچکے ہیں کہ یہاں کفر کی علامت تو ظاہر ہے مگر اسلام کا کوئی نشان ظاہر نہیں ۔ اور یہ بھی قیاس جلی کی ایک قسم ہے ۔
زندیق و منافق کے قتل کے جواز کی دلیل
زندیق و منافق سے توبہ کا مطالبہ کئے بغیر قتل کرنے کے جواز کی دلیل یہ آیات ہیں :-
" اور ان میں سے بعض لوگ یہ کہتے ہیں کہ مجھے اجازت دیجئے اور فتنے میں نہ ڈالئے ۔ " (تا آخر)
(سورۃ التوبہ ۴۹ - ۵۲)
مفسرین کہتے ہیں کہ اس آیت میں " اَوْ بِاَيْدِيْنَا " سے قتل مراد ہے مطلب یہ ہے کہ اگر تم دل کی باتوں کو ظاہر کرو گے تو ہم تمہیں قتل کردیں گے ۔ اور وہ اسی طرح ہے جیسے انہوں نے کہا " اس لئے کہ وہ مزاج نفاق کے چھپانے پر ہمارے ہاتھوں انہیں دی جاتی ہے وہ قتل ہے، جس کی وجہ ان کا کفر ہے ۔ اور اگر نفاق اور زندقہ کے ظہور کے بعد منافق اس بات کو پسند کرتا ہے کہ جس توبہ کو وہ ظاہر کرتا ہے اسے قبول کرے تو اس بات کا انتظار ممکن نہ تھا کہ اللہ اپنی طرف سے یا ہمارے ہاتھوں انہیں عذاب میں مبتلا کرنا ۔ اس لئے کہ ہم جب کبھی چاہتے ہیں کہ ان کے ظاہر کردہ (کفر و نفاق) پر انہیں سزا دیں تو وہ توبہ کا اظہار کردیتے ہیں ۔
قتادہ اور دیگر اہل علم کہتے ہیں کہ آیت کریمہ :۔ ” وَمِمَّنْ حَوْلَكُم مِّنَ الْأَعْرَابِ مُنَافِقُونَ ..... مَّرَّتَيْنِ “
(التوبۃ - ۱۰۱)
اور تمہارے ارد گرد بدو رہتے ہیں جو منافق ہیں .... دو دفعہ (تا آخر) وہ کہتے ہیں کہ دنیا کے عذاب سے قتل مراد ہے اور دوسرے عذاب سے قبر کا عذاب مراد ہے ۔ مندرجہ ذیل آیات بھی اس پر دلالت کرتی ہیں :۔
- ۱۔ يَحْلِفُونَ بِاللَّهِ لَكُمْ لِيُرْضُوكُمْ وَاللَّهُ وَرَسُولُهُ أَحَقُّ
أَن يُرْضُوهُ “
( التوبۃ - ۶۲ )
(تمہارے پاس اللہ کی قسمیں کھاتے ہیں تاکہ تمہیں راضی کر دیں اور اللہ اور اس کا رسول اس بات کا زیادہ حق دار ہے کہ اُسے راضی کریں)
- ۲۔ يَحْلِفُونَ بِاللَّهِ مَا قَالُوا وَلَقَدْ قَالُوا كَلِمَةَ الْكُفْرِ
(التوبۃ - ۷۴)
” اللہ کی قسم کھا کر کہتے ہیں کہ اُنہوں نے نہیں کہا حالانکہ انہوں نے کفر کا کلمہ کہا ہے “
- ۳۔ اور جب منافق آپ کے پاس آتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم اس بات کی شہادت
دیتے ہیں کہ تُو اللہ کا رسول ہے اور اللہ جانتا ہے کہ تو اللہ کا رسول ہے اور اللہ شہادت دیتا ہے کہ منافق جھوٹے ہیں
( المنافقون - ۱ ، ۲)
- ۴۔ کیا آپ نے ان کو نہیں دیکھا جو ایسوں سے دوستی کرتے ہیں جن پر خدا کا
غضب ہو وہ نہ تم میں ہیں نہ ان میں اور جان بوجھ کر جھوٹی باتوں پر قسمیں کھاتے ہیں۔ خدا نے ان کے لئے سخت عذاب تیار کر رکھا ہے یہ جو کچھ کرتے ہیں یقیناً بُرا ہے انہوں نے اپنی قسموں کو ڈھال بنا لیا ہے اور لوگوں کو خدا کے راستے سے روک دیا ہے سو اُن کے لئے ذلت کا عذاب ہے ۔ “
(المجادلہ ۱۴-۱۶)
مذکورہ صدر تمام آیات اسی امر پر دلالت کرتی ہیں کہ منافق جھوٹی قسمیں کھا کر مومنوں کو راضی کرتے ہیں اور اپنے کفر کا انکار کرتے ہیں اور قسم کھا کر کہتے ہیں کہ
انہوں نے کفر کا کلمہ نہیں کہا ۔ یہ اسی امر کی دلیل ہے کہ جب شہادت کی روشنی میں یہ بات ان پر ثابت ہو جائے تو اُن کو قتل کیا جائے ، اس کے متعدد وجوہ ہیں :۔
پہلی وجہ
اگر قبل ازیں وہ توبہ کا اظہار کرچکے ہیں تو قسمیں کھانے اور انکار کی ضرورت نہ تھی ۔ وہ کہہ سکتے تھے کہ ہم نے ایسا کہا تھا مگر توبہ کر لی تھی اس سے معلوم ہوا کہ وہ اُن باتوں کے ظاہر ہونے سے ڈرتے تھے کہ اُس کی وجہ سے انہیں توبہ کا مطالبہ کئے بغیر سزا دی جائے گی ۔
دوسری وجہ
ارشاد باری تعالیٰ :” انہوں نے اپنی قسموں کو ڈھال بنا لیا ہے “ (المنافقون -۲) اور قسم ڈھال اُس وقت بنتی ہے جب اُس کی تردید میں ہم کوئی سچی شہادت پیش نہ کریں ۔ جب سچی شہادت اس کی تردید کر دے تو ڈھال ٹوٹ جاتی ہے اور ان کو قتل کرنا جائز ہو جاتا ہے اور اس صورت میں ڈھال صرف پہلی قسم کی ہی بن سکتی ہے حالانکہ وہ ڈھال اب شکستہ ہو چکی ہے
تیسری وجہ
یہ آیات اس امر پر دلالت کرتی ہیں کہ جھوٹ اور انکار نے اُن کے خون کو محفوظ کیا ۔ ظاہر ہے کہ جھوٹ اسی صورت میں خون کو بچا سکتا ہے جب اس کے خلاف کوئی شہادت موجود نہ ہو ۔ یہی وجہ ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو قتل نہ کیا ۔ اس کی دلیل یہ آیت کریمہ ہے ۔ ” اے نبی ! کفار اور منافقین کے خلاف جہاد کیجئے اور ان پر سختی کیجئے اور ان کا ٹھکانہ جہنم ہے اور وہ بری لوٹنے کی جگہ ہے ۔ اللہ کی قسمیں کھاتے ہیں کہ انہوں نے کفر کا کلمہ نہیں کہا حالانکہ انہوں نے کہا ہے ( التوبہ ۷۳ - ۷۴ ) دوسری جگہ فرمایا :۔ جَاهِدِ الْكُفَّارَ وَالْمُنَافِقِينَ (التحريم - ٩) ” کفار اور منافقین سے جہاد کیجئے “ حسن اور قتادہ کہتے ہیں کہ جہاد کیجئے اور وہ یوں کہ ان پر حدود شرعیہ قائم کیجئے ابن مسعود کہتے ہیں کہ ہاتھ سے جہاد کیجئے ، اگر نہ ہو سکے تو زبان سے ، ورنہ دل سے ۔
۔ ابن عباسؓ اور حسنؓ کہتے ہیں کہ زبان سے جہاد کیجئے اور سخت لہجہ اختیار کیجئے اور نرمی کو چھوڑ دیجئے ۔
اندازِ استدلال یوں ہے کہ اللہ نے اپنے رسول علیہ الصلوۃ والسلام کو منافقین و کفار سے جہاد کرنے کا حکم دیا اور ان کے ساتھ جہاد اُسی صورت میں ممکن ہے جب اُن سے ایسا قول و فعل صادر ہو جو سزا کا موجب ہو ۔ جب اُن سے کسی ایسی چیز کا صدور نہ ہو تو ہمارے لئے اُن پر گرفت کی کوئی راہ نہیں ۔ جب اس سے کلمۂ کفر ظاہر ہو تو اس کے خلاف جہاد اُسے قتل کرنا ہے ، یہ اس امر کا مقتضیٰ ہے کہ بظاہر اسلام کی تجدید سے قتل ساقط نہ ہو ۔ اس لئے کہ اگر اُن کے اظہارِ اسلام سے ہم قتل کو اُن سے ساقط کردیں تو وہ کفار کی طرح ہوتے ۔ اور ان کے خلاف جہاد اُن کے کافر ہونے کی وجہ سے ہو ، نہ کہ منافق ہونے کی وجہ سے ، یہ آیت اس امر کی مقتضیٰ ہے کہ اُن سے جہاد کیا جائے ، اِس لئے کہ یہ کفار سے ایک الگ حقیقت ہے ۔ خصوصاً آیت کریمہ :-
جَاهِدِ الْكُفَّارَ وَالْمُنَافِقِيْنَ o
(التوبۃ - ۷۳)
کفار اور منافقین سے جہاد کیجئے
کا تقاضا یہ ہے کہ ان سے منافق ہونے کی وجہ سے جہاد کیا جائے اس لئے کہ اگر کسی حکم کو ایسے اسم کے ساتھ معلق کیا جائے جو مشتق اور اس کے مناسب ہو تو یہ اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ جس سے اشتقاق کیا گیا وہ اس کی علت ہے ، پس یہ واجب ٹھہرا کہ نفاق کی وجہ سے جہاد کیا جائے جس طرح کافر سے اس کے کفر کی وجہ سے جہاد کیا جاتا ہے
ظاہر ہے کہ کافر جب کفر سے توبہ کا اظہار کرتا ہے تو بظاہر اسے چھوڑ دیا ہے اور کوئی چیز ایسی معلوم نہیں ہوتی جو اس کے خلاف ہو ۔ بخلاف ازیں منافق جب اسلام کا اظہار کرتا ہے تو وہ نفاق کو نہیں چھوڑتا ۔ کیونکہ اس حالت کا ظہور اس سے نفاق کے منافی نہیں ۔ نیز اس لئے کہ جب منافق پر حد لگا کر اس سے جہاد
کیا جائے تو یہ اس آدمی کے خلاف جہاد کرنے کی مانند ہے جس کے دل میں کھوٹ ہو۔ اور وہ زانی ہے جبکہ زنا کرے تو پکڑے جانے کے بعد اظہارِ توبہ کرنے سے اس سے حد ساقط نہ ہو گی ۔ جیسا کہ معروف ہے، اس لئے کہ اگر ہمیشہ اس کی ظاہری حالت کو اُس کے مفسد کے ثبوت کے باوجود تسلیم کر لیا جائے تو نفاق کے خلاف جہاد کرنے کا کوئی رستہ باقی نہ رہے گا ۔ کیونکہ منافق کے بارے میں جب ظاہر ہو جائے کہ اُس نے کفر کا اظہار کیا ہے ، اگر اس وقت اسلام کا اظہار اس کے لئے سود مند ہو تو اس کے خلاف جہاد کرنا ممکن نہ ہو گا ۔ اس پر مندرجہ ذیل آیت دلالت کرتی ہے :۔
" اگر منافق اور وہ لوگ جن کے دلوں میں مرض ہے اور جو (مدینے کے شہر میں) بُری بُری خبریں اُڑایا کرتے تھے (اپنے کردار) سے باز نہ آئیں گے تو ہم تم کو ان کے پیچھے لگا دیں گے پھر وہاں تمہارے پڑوس میں نہ رہ سکیں گے مگر تھوڑے دن ۔ (وہ بھی) پھٹکارے ہوئے جہاں پائے گئے پکڑے گئے اور جان سے مار ڈالے گئے۔ جو لوگ پہلے گزر چکے ہیں ان کے بارے میں بھی خدا کی یہی عادت رہی ہے۔ اور تم خدا کی عادت میں کوئی تغیر و تبدّل نہ پاؤ گے"
( الاحزاب ۔ ۶۰ - ۶۲ )
یہ آیت اس امر پر دلالت کرتی ہے کہ منافقین اگر باز نہ آئیں تو اللہ تعالیٰ اپنے نبیؐ کو اُن کے پیچھے لگا دے گا اور اس کے بعد وہ آپؐ کے پڑوس میں زیادہ عرصہ تک نہ رہ سکیں گے۔ اور وہ بھی اس حال میں کہ اُن پر لعنت پڑی ہو گی جہاں پائے گئے پکڑے گئے، ان کو قیدی بنا لیا گیا اور قتل کر دیئے گئے اور یہ اس وقت ہو گا جب وہ نفاق کا اظہار کریں گے اس لئے کہ جب تک وہ چھپا رہے گا انہیں قتل کرنا ممکن نہ ہو گا ۔
حسنؒ (بصری) نے کہا ہے کہ " منافقین اپنے نفاق کا اظہار کرنا چاہتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں اُن کو ڈرایا تو اُنہوں نے نفاق کو چھپا لیا "
قتادہؒ فرماتے ہیں : ۔
یہاں بتایا گیا ہے کہ منافقین اپنے دل کا نفاق کا اظہار کرنا چاہتے تھے۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے اُن کو ڈرایا تو انہوں نے اپنے نفاق کو چھپایا۔ اگر توبہ کا اظہار نفاق کے اظہار کے بعد مقبول ہوتا تو منافق کو پکڑنا اور اُسے قتل کرنا ممکن نہ ہوتا۔ اس لئے کہ وہ توبہ کے اظہار پر (بروقت) قادر ہے۔ خصوصاً جب کہ اُسے یہ قدرت حاصل ہو جب چاہے نفاق کا اظہار کر کے پھر توبہ کر لے تو وہ مقبول ہوگی ۔
اُس کی مؤید یہ بات ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس کا بدلہ یہ مقرر کیا ہے کہ ان کو قتل کیا جائے نہ یہ کہ ان کے ساتھ جنگ لڑی جائے۔ پھر یہ کہ توبہ کی حالت کو بھی مستثنیٰ نہیں کیا، جس طرح محاربین اور مشرکین کو قتل کرنے کے بارے میں مستثنیٰ کیا ہے۔
قرآن میں فرمایا :-
" جب عزت کے مہینے گزر جائیں تو مشرکوں کو جہاں پاؤ قتل کر دو اور پکڑ لو اور گھیر لو اور ہر گھات کی جگہ پر ان کی تاک میں بیٹھے رہو پھر اگر وہ توبہ کر لیں اور نماز پڑھنے اور زکوٰۃ دینے لگیں تو اُن کی راہ چھوڑ دو بیشک خدا بخشنے والا مہربان ہے۔"
(التوبۃ - ۵)
محاربین کے بارے میں فرمایا :-
" جو لوگ خدا اور اس کے رسول سے لڑائی کریں اور ملک میں فساد کرنے کو دوڑتے پھریں گے اُن کی یہی سزا ہے کہ قتل کر دیئے جائیں یا سولی چڑھا دیئے جائیں یا ان کے ایک طرف کے ہاتھ اور ایک طرف کے پاؤں کاٹ دیئے جائیں یا ملک سے نکال دیئے جائیں یہ تو دنیا میں اُن کی رسوائی ہے اور آخرت میں ان کے لئے بڑا بھاری عذاب تیار ہے۔"
(المائدۃ - ۳۳)
اس سے معلوم ہوا کہ توبہ کا مطالبہ کئے بغیر انہیں قتل کیا جائے اور جس توبہ کا وہ اظہار کرتے ہیں اُن سے قبول نہ کی جائے ۔
اس کی مزید توضیح اس سے ہوتی ہے کہ اُن کا باز رہنا سود مند اس صورت میں ہے جب کہ یہ ان پر مستولی ہونے ، ان کے پکڑے جانے اور قتل کئے جانے سے پہلے ہو ۔ اسی لئے توبہ کو قید ہونے ، پکڑے جانے اور قتل ہونے کے بعد ذکر کیا گیا ہے ۔ اس سے معلوم ہوا کہ ان پر حملہ آور ہونے کے بعد (مشرک وغیرہ) سے باز رہنا اُن کے لئے نفع بخش نہیں ۔ جس طرح محارب اگر قابو آنے کے بعد توبہ کرے تو یہ اس کے لئے سود مند نہیں ہے۔ اگرچہ قابو پانے کے بعد توبہ مشرک کو — خواہ مرتد ہو اُسے فائدہ دیتی ہے ۔
اللہ تعالیٰ نے خبر دی ہے کہ جو شخص نفاق سے توبہ نہ کرے یہاں تک کہ اُسے پکڑ لیا جائے کہ اُسے قتل کر دیا جائے اور سنت میں تبدیلی نہیں ہوتی ۔ اور باز رہنے سے اس آیت میں توبہ بمعنی کفر و نفاق سے باز رہنا مراد ہے ۔ یا یہ معنی کہ اپنے شیاطین اور بعض مومنین کے سامنے اُس کے اظہار سے باز رہنا ۔
اور دوسرا معنی ظاہر تر ہے ۔ اس لئے کہ بعض منافقین نفاق کو چھپانے سے باز نہ رہے حتیٰ کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہو گئی ۔ اور وہ اُس کو چھپانے سے باز رہے ۔ حتیٰ کہ آخری وقت میں کوئی شخص بھی تھوڑے بہت نفاق کے اظہار کی بھی جسارت نہ کر سکتا تھا۔ البتہ باز آنے کی دو قسمیں ہیں ۔ جو شخص صرف اس کے اظہار سے باز رہا اس کو چھپانے اور ظاہر کرنے سے باز رہا تو وہ اس آیت کی وعید سے نکل گیا ۔ اور جس نے ظاہر کیا اس کی وعید اس پر چسپاں ہو گئی ۔ اس سے ملتی جلتی قرآن کریم کی یہ آیت ہے :۔ "قسمیں کھاتے ہیں کہ انہوں نے نہیں کہا ، حالانکہ انہوں نے کفر کا کلمہ کہا ہے ..... (تا آخر)
(التوبہ - ۷۴)
یہ آیت اس امر کی دلیل ہے کہ منافق اگر توبہ نہ کرے تو اللہ اُسے دنیا و آخرت میں عذاب چکھائے گا ۔ اسی طرح یہ آیت کریمہ :۔
وَمِمَّنْ حَوْلَكُمْ مِّنَ الْاَعْرَابِ مُنَافِقُوْنَ ط (التوبۃ ۱۰۱) (اور وہ تمہارے آس پاس جو بدو ہیں وہ منافق ہیں ۔)
ابو رزین نے کہا یہ ایک ہی چیز ہے ۔ وہ سب منافق ہیں ۔ مجاہد کا قول بھی یہی ہے کہ یہ سب منافق تھے ۔ اس لئے یہ از قبیل عطف الخاص علی العام ہے ۔ مثلاً ارشادِ خداوندی :۔ وَجِبْرِيْلَ وَمِيْكَالَ (البقرۃ - ۹۸) (اور جبریل اور میکائل ؑ پر)
مسلم بن کہیل اور عکرمہ کہتے ہیں کہ جن کے دلوں میں بیماری ہے اور وہ بے حیائی والے اور زانی ہیں ۔ ظاہر ہے کہ جو شخص بے حیائی کا اظہار کرے اس پر حد قائم کرنا ضروری ہے ۔ جو شخص نفاق کا اظہار کرے وہ بھی ایسا ہی ہے ۔
زندیق منافق کو قتل کرنے کی دلیل
زندیق منافق کو توبہ کا مطالبہ کئے بغیر قتل کرنے کے جواز کی دلیل جس کو بخاریؒ مسلم میں حضرت علی رضی اللہ عنہ سے حاطب بن ابی بلتعہ کے واقعہ میں روایت کیا ہے ۔ حضرت فاروقِ اعظم رضی اللہ عنہ نے فرمایا :۔
" یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مجھے اجازت دیجئے کہ اس منافق کی گردن اڑا دوں ؟ رسولِ کریمؐ نے فرمایا " یہ بدر میں شرکت کر چکا ہے اور تجھے کیا معلوم کہ اللہ تعالیٰ نے اہلِ بدر کی طرف جھانکا اور فرمایا جو عمل تم چاہو کرو میں نے تمہیں معاف کر دیا ۔"
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ توبہ طلب کئے بغیر منافق کی گردن اڑانا جائز ہے ۔ اس لئے کہ رسولِ کریمؐ منافق کی گردن اڑانے کے بارے میں حضرت عمرؓ پر معترض نہ ہوئے ۔ مگر آپؐ نے جواب دیا کہ یہ منافق نہیں ، بلکہ بدر والوں میں سے ہیں جو بخشے ہوئے ہیں ۔ جب وہ ایسے نفاق کا اظہار کرے گا جس کے نفاق ہونے میں شبہ نہیں تو وہ مباح الدم ہو گا ۔
واقعہ افک
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا واقعہ افک کے بارے میں روایت کرتی ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نیند سے بیدار ہوئے اور عبداللہ بن ابی بن سلول کے بارے میں طلب معذرت کی ۔ آپؐ نے منبر پر کھڑے ہوکر فرمایا ۔
"کون ہے جو اُس آدمی سے چھڑائے گا جس کی نوبت یہاں تک آ پہنچی ہے کہ وہ میرے اہل خانہ کے بارے میں مجھے ایذا دیتا ہے ۔ بخدا میں نے اپنے گھر والوں میں بھلائی کے سوا کچھ نہیں دیکھا ۔ اور وہ ایک آدمی کا ذکر کرتے ہیں جس میں میں نے بھلائی کے سوا کچھ نہیں دیکھا ۔ وہ جب بھی میرے گھر آیا تو میرے ساتھ آیا ۔ اُسی اثناء میں قبیلہ بنی عبدالاشہل کے سعد بن معاذ کھڑے ہو گئے اور کہا یا رسول اللہ ! میں آپؐ کو اس سے رہائی دلاؤں گا ۔ اگر وہ قبیلہ اوس سے ہوا تو میں اُس کی گردن اُڑا دوں گا ۔ اور اگر وہ ہمارے بھائیوں خزرج سے ہوا تو آپؐ جو حکم دیں اس کے ساتھ وہی سلوک کریں گے ۔
چنانچہ رئیس خزرج سعد بن عبادہ اُٹھ کھڑے ہوئے ۔ اور اس کی وجہ یہ تھی کہ حسّان اس کے قبیلہ سے تھا ۔ سعد نیک آدمی تھا مگر اُسے غیرت نے آلیا ۔ اُس نے سعد بن معاذ سے کہا :" تم نے جھوٹ بولا ۔ بخدا تم اُسے قتل نہیں کر سکتے اور نہ تم اس پر قادر ہو ۔ اتنے میں اُسید بن حضیر اُٹھ کھڑا ہوا اور وہ سعد بن معاذ کا چچا زاد تھا ۔ اس نے سعد بن عبادہ سے کہا تو نے جھوٹ کہا بخدا ہم اُسے قتل کر دیں گے تم منافق ہو اور منافقین کے حق میں لڑ رہے ہو ۔
دونوں قبیلے اوس اور خزرج اُٹھ کھڑے ہوئے حتیٰ کہ لڑنے مارنے کا ارادہ کر لیا ۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم منبر پر کھڑے ہوئے ۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کو نرم کرتے رہے یہاں تک کہ وہ بھی خاموش ہو گئے اور آپؐ بھی خاموش ہو گئے "
(بخاری و مسلم)
عبداللہ بن اُبی کا واقعہ
(بخاری و مسلم عمرو اور جابر بن عبداللہ سے روایت کرتے ہیں کہ ہم رسول کریم کے ہمراہ ایک جنگ میں گئے ۔ کچھ مہاجرین بھی آپ کے ساتھ شامل ہو گئے تھے اور پھر ان کی تعداد بڑھ گئی ۔ مہاجرین میں ایک احمق آدمی تھا اس نے ایک انصاری کو تھپڑ دے مارا ۔ انصاری سخت ناراض ہوا ۔ یہاں تک کہ دونوں نے اپنی اپنی قوم کو دہائی دی ۔ رسول اکرم گھر سے نکلے اور کہا ” یہ جاہلیت کی پکار کیا ہے ؟ پھر فرمایا کیا بات ہے ؟ آپ کو بتایا گیا کہ ایک مہاجر نے ایک انصاری کو تھپڑ مارا ہے ۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ” اسے چھوڑ دو یہ خبیث ہے ۔ عبداللہ بن اُبی ابن سلول نے کہا ” کیا ہم پر چڑھ آئے ہیں ؟ اگر ہم مدینہ لوٹ گئے تو جو معزز ہے وہ ذلیل کو وہاں سے نکال دے گا ۔ حضرت عمرؓ نے کہا یا رسول اللہ آپ اس خبیث کو قتل کیوں نہیں کر دیتے یعنی عبداللہ کو ۔ رسول کریم نے فرمایا ” تاکہ لوگ یہ باتیں نہ کریں کہ محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اپنے ساتھیوں کو قتل کر دیتا ہے ۔
مفسرین اور اصحاب السیر نے بیان کیا ہے کہ یہ واقعہ غزوہ بنو المصطلق میں پیش آیا ۔ ایک مہاجر اور انصاری باہم الجھ پڑے (یہ سن کر) عبداللہ بن اُبی کو بہت غصہ تھا ۔ اس کے پاس اس کی قوم کے چند آدمی تھے ۔ جن میں کم سن نوجوان زید بن ارقم بھی تھے ۔ عبداللہ نے کہا ” کیا (مہاجرین) اس طرح کرنے لگے ہیں ۔ ہمارے ہی علاقہ میں رہ کر ہم سے لڑنے بھڑتے ہیں ۔ بخدا ہماری اور ان کی مثال اسی طرح ہے جیسے کسی نے کہا ”اپنے کتے کو موٹا کرو تاکہ تجھے کھا لے ۔ بخدا اگر ہم مدینہ لوٹ گئے تو جو معزز ہے وہ ذلیل کو وہاں سے نکال دے گا “ معزز سے اس کی اپنی ذات مراد تھی اور ذلیل سے رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم (نعوذ باللہ من ذالک) پھر اس کی قوم کے جو لوگ اس کے یہاں حاضر تھے ان کی طرف متوجہ ہوا اور کہا ” یہ سلوک تم نے خود اپنے آپ سے کیا ہے ۔ تم نے ان کو اپنے شہروں میں ٹھہرایا
اپنے مال دیئے۔ بخدا اگر تم ان کو اپنی بچی ہوئی روٹی نہ دو گے تو وہ تمہاری گردنوں پر سوار نہ ہوں گے ۔ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ تمہارے شہروں سے نقل مکانی کر کے اپنے احباب واقارب کے پاس جاکر بس جائیں ۔ ان پر مت خرچ کیجئے تا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ارد گرد سے بکھر جائیں"۔
زید بن ارقم نے کہا "بخدا تم ہی ذلیل اور اپنی قوم کے ناپسندیدہ آدمی ہو ۔ اللہ تعالیٰ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت کرتے ہیں اور مسلمان اُن سے پیار کرتے ہیں ۔ بخدا میں تمہاری اس گفتگو کے بعد تم سے پیار نہیں کروں گا" عبداللہ نے کہا "چپ رہو تم تو ابھی کھیل کودتے تھے" زید بن ارقم رسول کریم کی خدمت میں حاضر ہوئے ۔ اس وقت آپ جنگ سے فارغ ہوچکے تھے، حضرت عمر بھی آپ کے پاس تھے ۔ کہا مجھے اجازت دیجئے کہ میں اس کی گردن اُڑا دوں ۔ آپ نے فرمایا۔ "پھر مدینہ میں بہت سی ناکیں کاٹنے لگیں گی ۔" حضرت عمر نے کہا "یا رسول اللہ اگر آپ اس بات کو ناپسند کرتے ہیں کہ مہاجرین میں سے کوئی اُسے قتل کرے ۔ تو سعد بن معاذ، یا محمد بن مسلمہ یا عباد بن بشر کو حکم دیجئے کہ وہ اُسے قتل کر دیں"۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "تو پھر لوگ باتیں بنانے لگیں گے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ساتھیوں کو قتل کر دیتے ہیں، یوں نہیں، البتہ تم کوچ کا اعلان کرو ۔ یہ وقت وہ تھا جب کہ آپ اس میں عموماً سفر نہیں کرتے تھے ۔
رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عبداللہ کو بلوا کر پوچھا کیا تم نے یہ الفاظ کہے ہیں ؟ عبداللہ نے کہا "مجھے اس ذات کی قسم جس نے تجھ پر حق کے ساتھ کتاب نازل کی میں نے ایسی کوئی بات نہیں کہی ۔ زید بن ارقم جھوٹا ہے ۔ جو انصار موجود تھے انہوں نے کہا، یا رسول اللہ ! یہ ہمارے بزرگ اور رئیس ہیں اس کے مقابلہ میں ایک انصاری لڑکے کی بات نہ مانئے، ممکن ہے اس لڑکے (زید) کو وہم ہوا ہو ۔ انہوں نے زید کو جھٹلایا ۔ عبداللہ بن ابی کے بیٹے عبداللہ کو یہ خبر پہنچی ۔ وہ فاضل صحابہ میں سے تھے ۔ کہ اس کے باپ کے ساتھ یہ ماجرا
پیش آیا ہے۔ اس نے رسول کریم کی خدمت میں حاضر ہوکر کہا ” یا رسول اللہ ! مجھے پتہ چلا ہے کہ آپ میرے باپ کو اس کی باتوں کی وجہ سے قتل کرنا چاہتے ہیں ۔ اگر آپ ایسا کرنا چاہتے ہیں تو مجھے حکم دیجئے میں اس کا سر کاٹ کر آپ کی خدمت میں پیش کردوں گا ۔ خزرج کا قبیلہ جانتا ہے کہ اس میں کوئی شخص مجھ سے بڑھ کر اپنے والدین کا اطاعت گزار نہ تھا۔ مجھے اندیشہ ہے کہ آپ کسی اور کو اس کے قتل کرنے کا حکم دیں ۔ تو میں گوارا نہ کرسکوں گا کہ عبداللہ بن ابی کا قاتل لوگوں میں چلتا پھرتا نظر آئے اور میں اسے قتل کر دوں ۔ اس طرح میں ایک کافر کے بدلے ایک مومن کو قتل کرنے والا ہوں گا اور جہنم میں داخل ہو جاؤں گا ۔“
رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :- ”بلکہ ہم اس سے حسن سلوک سے پیش آئیں گے اور جب تک وہ ہمارے ساتھ رہے گا ہم اس سے خوش اسلوبی سے پیش آئیں گے ۔“
رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ بھی فرمایا :- ”لوگ یہ باتیں نہ بنائیں کہ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے رفقاء کو تہ تیغ کر دیتے ہیں۔ تم اپنے باپ کی اطاعت کرو اور اس سے حسن سلوک سے پیش آؤ ۔“
راویوں نے یہ واقعہ اسی طرح پیش کیا اور اسی واقعہ کے ضمن میں سورۃ المنافقین نازل ہوئی۔ صحیح بخاری و مسلم میں زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم رسول کریم کے ہمراہ ایک سفر پر روانہ ہوئے جس میں لوگوں کو بہت تکلیف پہنچی ۔ عبداللہ بن ابی نے کہا رسول اللہ کے ہمراہ جو لوگ ہیں ان پر خرچ نہ کیجئے تاکہ یہ آپ کے پاس نہ رہیں اور ادھر اُدھر بکھر جائیں ۔ عبداللہ نے یہ بھی کہا کہ اگر ہم مدینہ گئے تو جو صاحب عزت ہے وہ ذلیل آدمی کو وہاں سے نکال دے گا۔ میں نے رسول کریم کی خدمت میں حاضر ہو کر ماجرا کہہ سنایا ۔ رسول کریم نے عبداللہ کو بلوا کر اس سے دریافت کیا۔ اس نے قسم کھا کر کہا کہ میں نے کچھ نہیں کہا۔ لوگوں نے کہا زید نے جھوٹ بولا ہے۔ لوگوں کی باتیں سن کر مجھے غصہ آگیا ۔ یہاں تک کہ
میری تصدیق میں سورۃ المنافقون نازل ہوئی۔ پھر رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دعا کرنے کیلئے اُن کو بلایا تو وہ منہ موڑ کر چل دیئے ۔
منافق کو قتل کرنا جائز ہے ؟
یہ واقعہ اس امر کی دلیل ہے کہ منافق کو توبہ کا مطالبہ کئے بغیر قتل کرنا جائز ہے، اگرچہ وہ اپنی بات کا منکر ہو۔ اس سے اظہار برأت کرتا اور اسلام کا اعتراف کرتا ہو۔ آپ نے عبداللہ کو قتل کرنے سے اس لئے روکا کہ لوگ باتیں بنائیں گے کہ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے ساتھیوں کو قتل کر دیتے ہیں۔ اس لئے کہ کسی شہادت سے نفاق اس پر ثابت نہیں ہوا تھا۔ عبداللہ نے قسم کھائی تھی کہ اس نے یہ بات نہیں کہی، بلکہ آپ کو وحی کے ذریعے اس کا علم ہوا اور زید بن ارقم نے بھی یہ واقعہ آپ کو بتایا ۔ نیز آپ کو یہ اندیشہ بھی دامن گیر تھا کہ اس کے قتل سے فتنے کا ظہور ہوگا اور وہ لوگ غضب آلود ہوں گے جو عبداللہ کے قتل کی وجہ سے فتنہ بپا کرنا چاہتے تھے۔
مفسرین نے ذکر کیا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اُن منافقین کو شمار کیا تھا جو غزوہ تبوک کے موقع پر گھاٹی پر کھڑے تھے تاکہ رسول کریم کو اچانک قتل کر دیں ۔ حذیفہ رضی اللہ عنہ نے کہا " کیا آپ چند آدمیوں کو نہ بھیجیں گے جو اُن کو قتل کر دیں ۔" فرمایا " میں اس بات کو ناپسند کرتا ہوں کہ عرب کہیں گے، جب محمد نے اپنے ساتھیوں پر قابو پایا تو اُنہیں موت کے گھاٹ اُتار دیا ۔ بلکہ ہمارے لئے اللہ کی دی ہوئی رسالت کافی ہے۔
حضرت عمر کا ایک منافق کو قتل کرنا
بعض لوگوں نے ذکر کیا ہے کہ ایک منافق اور ایک یہودی اپنا جھگڑا رسول کریم کے پاس لے گئے۔ رسول کریم نے فیصلہ یہودی کے حق میں صادر کر دیا۔ جب دونوں
وہاں سے باہر نکلے تو منافق اس سے چمٹ گیا اور کہا آؤ عمر بن الخطاب کے پاس چلیں ۔ چنانچہ وہ حضرت عمرؓ کی طرف متوجہ ہوا ۔ یہودی نے کہا میں اور یہ شخص اپنا مقدمہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف لے گئے اور آپؐ نے میرے حق میں اور اس کے خلاف فیصلہ صادر کر دیا ۔ مگر یہ شخص آپؐ کے فیصلے پر راضی نہیں اور اس لئے مقدمہ آپؓ کے پاس لایا ہے اور مجھ سے جھگڑتا ہے اس لئے میں اس کے ساتھ آیا ہوں ۔ حضرت عمرؓ نے منافق سے کہا " کیا یہ بات درست ہے ؟ " اس نے کہا " جی ہاں " حضرت عمرؓ نے اُن سے کہا " ذرا ٹھہرو میں ابھی واپس آتا ہوں " چنانچہ حضرت عمرؓ گھر گئے ۔ تلوار لی اور چادر اوڑھ لی، پھر ان کی طرف آئے اور منافق کو قتل کر دیا ۔ یہاں تک کہ وہ ٹھنڈا ہو گیا ۔ حضرت عمرؓ نے فرمایا " جو شخص اللہ اور اس کے رسولؐ کے فیصلے پر راضی نہیں میں اس کا فیصلہ اس طرح کرتا ہوں ۔"
پھر یہ آیت نازل ہوئی :۔ " اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِيْنَ يَزْعُمُوْنَ ۔ "
(النساء - ۶۰)
کیا آپؐ نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جو گمان کرتے ہیں ( تا آخر )
جبرئیلؑ نے کہا :۔ " عمرؓ نے حق و باطل میں تفریق کی تھی اس لئے فاروق کہلائے ۔ "
یہ واقعہ دو اسناد سے مروی ہے اور پیچھے گزر چکا ہے ۔ یہ احادیث اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ منافق کو قتل کرنا جائز تھا۔ اگر یہ بات نہ ہوتی تو رسول کریمؐ اُس شخص پر اعتراض کرتے جس نے منافق کو قتل کرنے کی اجازت طلب کی تھی ۔ اور جب حضرت عمرؓ نے منافقین کو قتل کیا اس وقت انہیں باز رکھتے ۔ نیز آپؐ بتا دیتے کہ اسلام لانے کی وجہ سے خون محفوظ ہو جاتا ہے اور اس کی وجہ یہ نہ بیان کرتے کہ قتل کرنے سے منافقین کے قبیلہ والے ناراض ہو جائیں گے ۔ اور یہ کہ لوگ باتیں بنائیں گے کہ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے ساتھیوں کو قتل کر دیتے ہیں۔ آپؐ یوں بھی نہ فرماتے کہ لوگ کہیں گے کہ جب اپنے ساتھیوں پر محمد صلی اللہ علیہ وسلم
پس جائز ہے کہ ان کو قتل کرنا شروع کر دے ۔ اور اس لئے کہ خون جب معصوم ہو تو یہ وصف دم معصوم کو بچانے میں مؤثر نہیں ہوتا ۔ اور حکم کو کسی ایسے وصف کے ساتھ معلق کرنا جائز نہیں جس کی کوئی تاثیر نہ ہو، اور اس کی تعلیل ایسے وصف کے ساتھ مقترن ہو جس پر حکم کا دار و مدار ہو۔ یہ حدیث جس طرح جوازِ قتل کی دلیل ہے اسی طرح اس سے جوازِ قتل بلا طلب توبہ بھی ثابت ہوتا ہے ، جیسا کہ پوشیدہ نہیں ہے ۔
ایک سوال
اگر معترض کہے کہ جب رسول کریمؐ کو بعض لوگوں کے نفاق کا علم تھا تو اس کے اظہار سے قبل آپؐ نے ان کو قتل کیوں نہ کیا؟
اُس کا جواب یہ ہے کہ اس کی دو وجوہ ہیں :-
پہلی وجہ
ایک یہ کہ ان میں سے عام لوگ کفریہ کلمات نہیں بولتے تھے جو بنا بر شہادت ان کے خلاف ثابت ہوں ، بخلاف ازیں وہ اسلام کا اظہار کرتے تھے۔ ان کا نفاق کبھی تو کسی کلمے سے ہوتا جس کو ایک شخص ان سے سنتا اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچا دیتا ۔ اور وہ قسم کھا کر یا بلا قسم کہتے کہ ہم نے یہ بات نہیں کہی۔ اور بعض اوقات ان کا نفاق اس طرح ظاہر ہوتا کہ وہ نماز و جہاد سے پیچھے رہتے ، زکوٰۃ ادا کرنا اُن پر دشوار ہوتا اور بکثرت احکامِ خداوندی کو ناپسندیدگی کی نگاہ سے دیکھتے ۔ ان میں سے عام لوگوں کی پہچان ان کے لہجہ اور اندازِ گفتگو سے ہو جاتی ۔ فرمانِ باری تعالیٰ ہے :-
اَمْ حَسِبَ الَّذِيْنَ فِيْ قُلُوْبِهِمْ مَّرَضٌ اَنْ لَّنْ يُّخْرِجَ اللّٰهُ اَضْغَانَهُمْ وَلَوْ نَشَآءُ لَاَرَيْنٰكَهُمْ فَلَعَرَفْتَهُمْ بِسِيْمٰهُمْ وَلَتَعْرِفَنَّهُمْ فِيْ لَحْنِ الْقَوْلِ ؕ
(سورۃ محمدؐ ۲۹ - ۳۰)
جن لوگوں کے دلوں میں کھوٹ ہے کیا اُنہوں نے گمان کر لیا ہے کہ اللہ اُن کے کینوں کو ظاہر نہیں کرے گا ۔ اور اگر ہم چاہتے تو آپؐ کو دکھا دیتے اور آپؐ اُن کو ان کی پیشانیوں سے پہچان لیتے اور آپؐ ان کو ان کے اندازِ کلام سے ضرور پہچان لیتے ۔
ان آیات میں فرمایا کہ اگر اللہ چاہتا تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں یہ قدرت پیدا کر دیتا کہ آپ ان کے چہرے دیکھ کر پہچان لیتے۔ پھر فرمایا کہ آپ ان کو ان کے طرزِ کلام سے پہچان لیں گے۔ آپ کو قسم دی کہ آپ انہیں بالضرور بات کے لہجے سے پہچان لیں گے۔ ان میں سے بعض ایسے تھے کہ وہ کوئی بات کرتے یا کام کرتے اور قرآن نازل ہو کر آپ کو آگاہ کر دیتا یہ کام یا یہ بات فلاں شخص نے کی ہے۔ جیسا کہ سورۃ التوبہ میں ہے۔ ان میں سے بکثرت ایسے تھے جن کو مسلمان قرائن و علامات سے پہچان لیا کرتے تھے۔ اور ان میں سے کچھ ایسے تھے جو پہچانے نہیں جاتے تھے۔ قرآن میں فرمایا :۔
" تمہارے گرد و نواح میں جو بدو ہیں ان میں منافق بھی ہیں۔ اور اہل مدینہ میں سے بعض ایسے ہیں جو نفاق پر اڑے ہوئے ہیں، تم ان کو نہیں جانتے، ہم انہیں جانتے ہیں۔"
(التوبہ ۔ ۱۰۱)
حدّ شرعی یا تو شہادت سے ثابت ہوتی ہے یا اقرار کرنے سے
یہ تمام منافق اسلام کا اظہار کرتے اور قسمیں کھاتے تھے کہ ہم مسلمان ہیں۔ انہوں نے اپنے ایمان کو ڈھال بنا رکھا تھا۔ جب ان کی یہ حالت تھی تو رسول کریمؐ محض اپنے علم ، خبر واحد، محض وحی کے آنے اور صرف دلائل و شواہد کی بناء پر ان پر حدود شرعیہ قائم نہیں کرتے تھے۔ جب تک کہ حدّ کا اثبات شہادت یا اقرار سے نہ ہو جاتا۔ کیا آپ نہیں جانتے کہ آپ نے کس طرح لعان کرنے والی عورت کے بارے میں بتا دیا تھا کہ اگر اس کے یہاں اس رنگ ڈھنگ کے بچے نے جنم لیا تو وہ اسی کا ہو گا جس کے ساتھ وہ عورت متہم ہے۔ بچہ جب پیدا ہوا تو اسی ناپسندیدہ شکل و صورت کا حامل تھا۔ آپؐ نے فرمایا : " اگر لعان کی قسمیں نہ دی گئیں ہوتیں تو میں اس کے ساتھ بُری طرح پیش آتا۔"
" مدینہ طیبہ میں ایک عورت تھی جو علانیہ بُرائی کا ارتکاب کرتی تھی۔ رسول کریمؐ نے اس کے بارے میں فرمایا : " اگر میں کسی کو بلا شہادت سنگسار کرنے والا
ہوتا تو اُسی عورت کو سنگسار کرا دیتا ۔"
جو لوگ اپنا مقدمہ لے کر آپ کے یہاں حاضر ہوتے تھے اُن سے فرمایا :۔ "تم اپنے جھگڑے میرے پاس لاتے ہو، عین ممکن ہے کہ تم میں سے کوئی ایک دوسرے شخص کی نسبت اپنے کیس کو زیادہ واضح کر سکتا ہو اور میں اس کی بات سن کر فیصلہ کر دوں تو یاد رکھے کہ جس کو میں نے فیصلہ کرتے وقت اس کے بھائی کا حق دے دیا تو وہ اُسے نہ لے کیونکہ میں نے اُسے دوزخ کا ایک ٹکڑا کر دیا ہے ۔"
تو ان کو قتل نہ کرنے کی وجہ — حالانکہ وہ کافر تھے — یہ تھی کہ حُجتِ شرعیہ کے مطابق ان کا کفر ظاہر نہیں ہوا تھا ۔
اس کی دلیل یہ ہے کہ آپؐ نے اُن سے بالتعیین توبہ کا مطالبہ نہیں کیا جبکہ ظاہر ہے کہ جس شخص کا نفاق و زندقہ ثابت ہو چکا ہو اس سے بہتر سلوک یہ ہے کہ مرتد کی طرح اُس سے توبہ کا مطالبہ کیا جائے ۔ اگر توبہ کر لے تو فبہا ورنہ اُسے قتل کیا جائے ۔ ہمیں کسی شخص کے بارے میں یہ معلوم نہیں ہوا کہ آپؐ نے اُن میں سے کسی خاص شخص سے توبہ کا مطالبہ کیا ہو ۔ اس سے معلوم ہوا کہ اُن میں سے کسی پر بھی کفر و ارتداد اس طرح ثابت نہیں ہوا جو مرتد کی طرح اُس کے قتل کا موجب ہو ۔ اسی لئے اُن کی ظاہری حالت کو قبول کیا جاتا ہے اور ان کے باطن کو اللہ کو تفویض کرتے ہیں ۔ جب یہ اُس شخص کا حال ہے جس کا نفاق شرعی شہادت کے بغیر ثابت ہو ، پھر اُس شخص کا کیا حال ہو گا جس کا نفاق ظاہر نہ ہو ؟ اِسی لئے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :۔
"مجھے یہ حکم نہیں دیا گیا کہ میں لوگوں کے دلوں میں نقب لگا کر دیکھ لیا کروں اور نہ یہ کہ ان کے پیٹ چیر کر دیکھوں ۔ "
یہ بات آپؐ نے اُس وقت فرمائی جب آپؐ سے ذو الخویصرہ کو قتل کرنے کی اجازت طلب کی گئی ۔ نیز جب آپؐ سے ایک منافق کو قتل کرنے کی اجازت مانگی گئی تو آپؐ نے دریافت فرمایا :۔ "کیا وہ اس بات کی شہادت نہیں دیتا کہ اللہ کے دیتا کہ اللہ کے سوا Wait, "کہ اللہ کے سوا" is the last line. Let me correct the output.
Wait, I can't correct the output now, I should output the full text correctly. I'll just write the final string directly.
ہوتا تو اُسی عورت کو سنگسار کرا دیتا ۔"
جو لوگ اپنا مقدمہ لے کر آپ کے یہاں حاضر ہوتے تھے اُن سے فرمایا :۔ "تم اپنے جھگڑے میرے پاس لاتے ہو، عین ممکن ہے کہ تم میں سے کوئی ایک دوسرے شخص کی نسبت اپنے کیس کو زیادہ واضح کر سکتا ہو اور میں اس کی بات سن کر فیصلہ کر دوں تو یاد رکھے کہ جس کو میں نے فیصلہ کرتے وقت اس کے بھائی کا حق دے دیا تو وہ اُسے نہ لے کیونکہ میں نے اُسے دوزخ کا ایک ٹکڑا کر دیا ہے ۔"
تو ان کو قتل نہ کرنے کی وجہ — حالانکہ وہ کافر تھے — یہ تھی کہ حُجتِ شرعیہ کے مطابق ان کا کفر ظاہر نہیں ہوا تھا ۔
اس کی دلیل یہ ہے کہ آپؐ نے اُن سے بالتعیین توبہ کا مطالبہ نہیں کیا جبکہ ظاہر ہے کہ جس شخص کا نفاق و زندقہ ثابت ہو چکا ہو اس سے بہتر سلوک یہ ہے کہ مرتد کی طرح اُس سے توبہ کا مطالبہ کیا جائے ۔ اگر توبہ کر لے تو فبہا ورنہ اُسے قتل کیا جائے ۔ ہمیں کسی شخص کے بارے میں یہ معلوم نہیں ہوا کہ آپؐ نے اُن میں سے کسی خاص شخص سے توبہ کا مطالبہ کیا ہو ۔ اس سے معلوم ہوا کہ اُن میں سے کسی پر بھی کفر و ارتداد اس طرح ثابت نہیں ہوا جو مرتد کی طرح اُس کے قتل کا موجب ہو ۔ اسی لئے اُن کی ظاہری حالت کو قبول کیا جاتا ہے اور ان کے باطن کو اللہ کو تفویض کرتے ہیں ۔ جب یہ اُس شخص کا حال ہے جس کا نفاق شرعی شہادت کے بغیر ثابت ہو ، پھر اُس شخص کا کیا حال ہو گا جس کا نفاق ظاہر نہ ہو ؟ اِسی لئے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :۔
"مجھے یہ حکم نہیں دیا گیا کہ میں لوگوں کے دلوں میں نقب لگا کر دیکھ لیا کروں اور نہ یہ کہ ان کے پیٹ چیر کر دیکھوں ۔ "
یہ بات آپؐ نے اُس وقت فرمائی جب آپؐ سے ذو الخویصرہ کو قتل کرنے کی اجازت طلب کی گئی ۔ نیز جب آپؐ سے ایک منافق کو قتل کرنے کی اجازت مانگی گئی تو آپؐ نے دریافت فرمایا :۔ "کیا وہ اس بات کی شہادت نہیں دیتا کہ اللہ کے سوا
کوئی معبود نہیں ؟ اس کے جواب میں کہا گیا کہ" وہ شہادت دیتا ہے"۔ آپ نے پوچھا ۔ "کیا وہ نماز ادا کرتا ہے ؟" اس کے جواب میں کہا گیا کہ ادا کرتا ہے " تب آپ نے فرمایا " ایسے لوگوں کو قتل کرنے سے اللہ نے مجھے منع فرمایا ہے" رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے آگاہ فرمایا کہ جو شخص دو شہادتوں کا اقرار کرے اور نماز ادا کرے تو ایسے لوگوں کو قتل کرنے سے مجھے روکا گیا ہے ۔
اگر اُسے منافق کے نام سے پکارا جاتا ہو اور اس پر یہ الزام عائد کیا جاتا ہو ، اس کے آثار بھی اس پر نمایاں ہوں تاہم اُسے قتل نہیں کیا جائے گا۔ اس لئے کہ حجتِ شرعیہ سے ثابت نہیں ہوا کہ اس نے کفر کا اظہار کیا ہے ۔ ایک دوسری حدیث میں آپ نے فرمایا :۔ " مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں لوگوں سے لڑوں یہاں تک کہ وہ اس بات کی شہادت دیں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور یہ کہ میں اللہ کا رسول ہوں ۔ جب اُنہوں نے یہ بات کہہ دی تو اُنہوں نے اپنے اموال اور خون بچا لیئے ۔ بجز اس صورت کے کہ اسلام کے کسی حق کی وجہ سے ان کا خون اور مال لیا جائے ، باقی رہا ان کا حساب تو وہ اللہ کے ذمے ہے ۔"
اس کا مطلب یہ ہے کہ مجھے لوگوں کے ظاہری اسلام کو قبول کرنے اور اُن کے باطن کو اللہ کے سپرد کرنے کا حکم دیا گیا ہے ۔ زندیق اور منافق کو اس وقت قتل کیا جاتا ہے جب وہ کفر کا کلمہ کہتا ہے اور شہادت سے اس کا ثبوت بھی ملتا ہو ۔ یہ فیصلہ ظاہری حالت کے مطابق کیا گیا ہے ، باطنی حالت کو نہیں دیکھا گیا ۔ اسی جواب سے اس مسئلے کی حکمت و علت ظاہر ہوتی ہے ۔
دوسری وجہ
رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس بات سے ڈرتے تھے کہ کہیں ان کو قتل کرنے سے ایسا فساد جنم نہ لے جو ان کو زندہ چھوڑنے سے زیادہ ہو ۔ آپ نے یہ کہہ کر اُسے واضح فرمایا کہ :۔ " لوگ ایسی باتیں نہ کریں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اصحاب کو قتل کرتے ہیں ۔"
آپ نے یہ بھی فرمایا کہ "تب تو یثرب (مدینہ منورہ) میں بہت سی ناکیں کانپنے لگیں گی ۔"
اگر آپ ان کو اس کفر کی وجہ سے قتل کر دیتے جس کا آپ کو علم تھا تو کچھ بعید نہ تھا کہ کسی کو یہ گمان گزرتا کہ آپ نے ان کو ذاتی غرض اور عداوت کی وجہ سے قتل کیا ہے ۔ اور بادشاہ بننے کے لئے آپ اُن سے مدد لینا چاہتے ہیں ۔ جیسا کہ رسول کریم نے فرمایا تھا کہ :۔
" میں اس بات کو نا پسند کرتا ہوں کہ عرب کہیں گے کہ (محمد نے) جب اپنے اصحاب پر قابو پا لیا تو ان کو قتل کرنا شروع کر دیا ۔"
نیز جو لوگ اسلام میں داخل ہونا چاہتے ہیں وہ ڈریں گے کہ اگر اُنہوں نے اسلام کا اظہار کیا تو ان کو اسی طرح قتل کیا جائے گا جس طرح دوسروں کو کیا گیا ۔
ایسا بھی ہوتا کہ بعض لوگوں کو قتل کرنے سے ان کا قبیلہ اور دوسرے لوگ ناراض ہوتے اور اس سے فتنہ و فساد جنم لیتا ۔ چنانچہ عبداللہ بن اُبیّ کے واقعہ میں اسی طرح ہوا ۔ جب سعد بن معاذ نے ان کو قتل کرنا چاہا تو کچھ نیک لوگ جھگڑنے لگ گئے اور ان کو غیرت نے آ لیا ۔ چنانچہ رسول کریم نے ان کو خاموش کیا ۔ جب حضرت عمرؓ نے عبداللہ بن اُبیّ کو قتل کرنے کی اجازت مانگی تو رسول کریم نے یہی بات فرمائی تھی ۔ ہمارے اصحاب کہتے ہیں
جب ہم ایسی بات سے ڈریں تو ہم قتل کرنے سے رُک جاتے ہیں ۔
اُس کا خلاصہ یہ ہے کہ کسی ایک خاص شخص پر قدغن اس لئے قائم نہیں کی گئی کہ اس کا ظہور کسی شرعی حجت سے نہیں ہوا جس کی وجہ سے عوام و خواص اُسے جانتے ہوں ۔ یا اس لئے کہ اگر اس پر حدِ شرعی قائم کی جاتی تو بہت سے لوگ اسلام میں داخل ہونے سے نفرت کرنے لگتے اور کچھ لوگ اسلام سے برگشتہ ہوجاتے ۔ یہ بھی ممکن تھا کہ کچھ لوگ حرب و پیکار اختیار کرتے جس سے اتنا بڑا فتنہ جنم لیتا جس کا فساد ایک منافق کو قتل نہ کرنے کے فتنہ سے بڑھ کر ہوتا ۔
یہ دونوں امور ایسے ہیں کہ ان کا حکم تا ہنوز باقی ہے : بجز ایک صورت کے اور وہ یہ کہ رسول کریم کو یہ اندیشہ و استکراہ تھا کہ کوئی شخص اس بدگمانی میں مبتلا ہو جاتا کہ آپ اپنے
صحابہ کو کسی اور مقصد کے لئے بھی قتل کر ڈالتے ہیں، جس طرح ملوک وسلاطین کا وطیرہ ہے مگر یہ غرض آج کل مفقود ہے۔
جواب ثانی کی مزید توضیح اس سے ہوتی ہے کہ چونکہ مکہ میں آپ اور صحابہ قوت وشوکت سے بہرہ ور نہ تھے، اور اس لئے جہاد سے قاصر تھے۔ اس لئے اللہ تعالیٰ نے رسول کریمؐ کو حکم دیا کہ اپنے ہاتھوں کو روکے رکھیں اور مشرکوں کی ایذا رسانی پر صبر سے کام لیں۔ جب ہجرت مدینہ کے بعد آپ قوت وشوکت سے بہرہ مند ہوئے تو اللہ نے آپ کو اُن سے جہاد کرنے کا حکم دیا۔ البتہ جو شخص صلح کا ہاتھ بڑھائے اس سے اپنے ہاتھ کو روک لیں۔ اگر اللہ تعالیٰ اس وقت آپ کو ہر منافق پر حد لگانے کا حکم دیتا تو اکثر عربی لوگ اسلام سے بدک جاتے، جب دیکھتے کہ جو شخص اسلام میں داخل ہوتا ہے اس کو تہ تیغ کیا جاتا ہے۔ اسی ضمن میں یہ آیت نازل ہوئی ۔
وَلَا تُطِعِ الْكَافِرِيْنَ وَالْمُنَافِقِيْنَ ، وَدَعْ اَذَاهُمْ وَ تَوَكَّلْ عَلَى اللّٰهِ وَكَفٰى بِاللّٰهِ وَكِيْلًا ہ
(الاحزاب - ۴۸)
کافروں اور منافقوں کی اطاعت نہ کیجئے اور ان کی ایذا رسانی کو نظر انداز کیجئے اور اللہ پر بھروسہ کیجئے اور کافی ہے اللہ بطور کارساز کے ۔
یہ سورہ مدینہ میں غزوہ خندق کے بعد نازل ہوئی۔ اللہ تعالیٰ نے اندریں اثنا آپ کو حکم دیا تھا کہ کفار اور منافقین کی ایذا رسانی پر صبر کریں اور ان سے انتقام نہ لیں۔ کیونکہ انتقام گیری سے بہت سے فتنے جنم لیتے ہیں۔ فتح مکہ تک یہی حال رہا اور سب عرب اللہ کے دین میں داخل ہو گئے۔ پھر رسول کریمؐ نے غزوہ روم کا آغاز کیا اور سورۃ التوبۃ نازل ہوئی۔ اب دین کے احکام وشرائع مثلاً جہاد، حج اور امر بالمعروف تکمیل پذیر ہوئے۔ مندرجہ ذیل آیت رسول کریمؐ کی وفات سے تین ماہ سے بھی کم عرصہ پہلے نازل ہوئی اور اس کے ذریعے دین کی تکمیل ہو گئی
اَلْيَوْمَ اَكْمَلْتُ لَكُمْ دِيْنَكُمْ ہ
(المائدۃ - ۳)
آج کے دن میں نے تمہارے دین کو مکمل کر دیا ۔
سورة التوبہ کے نزول کے بعد اللہ نے اپنے نبیؐ کو حکم دیا کہ مشرکین کے عہد و پیمان ان کے منہ پر دے ماریں۔ اسی سورہ میں فرمایا :- " يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ جَاهِدِ الْكُفَّارَ وَالْمُنَافِقِينَ وَاغْلُظْ عَلَيْهِمْ "
(التوبۃ - ۷۳)
(اے نبی کفار اور منافقین سے جہاد کیجئے اور ان پر سختی کیجئے) مذکورہ بالا آیت مندرجہ ذیل آیت کی ناسخ ہے :- " وَلَا تُطِعِ الْكَافِرِينَ وَالْمُنَافِقِينَ وَدَعْ اَذَاهُمْ " ۔
(الاحزاب ۴۸)
کافروں اور منافقوں کی اطاعت نہ کیجئے اور ان کی ایذا رسانی کو نظر انداز کیجئے۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ اب اگر کسی منافق پر حد لگائی جاتی تو اس کی مدد کرنے والا کوئی باقی نہ رہا تھا۔ اور نہ ہی مدینہ کے اردگرد ایسے کفار باقی رہے تھے جو باتیں بناتے کہ محمدؐ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے اصحاب کو قتل کر ڈالتے ہیں۔ اس لئے اللہ تعالیٰ نے اُن سے جہاد کرنے اور اُن پر سختی کرنے کا حکم دیا۔ اہل علم نے ذکر کیا ہے کہ سورۃ الاحزاب کی آیت اس آیت اور اس کی ہم معنی آیات سے منسوخ ہو چکی ہے۔
سورۃ الاحزاب میں فرمایا :- " اگر منافق اور وہ لوگ جن کے دلوں میں کھوٹ ہے اور مدینہ میں افواہیں اُڑانے والے اس سے باز نہ آئے تو ہم تم کو ان کے پیچھے لگا دیں گے پھر یہاں تمہارے پڑوس میں نہ رہ سکیں گے مگر تھوڑے دن ، وہ بھی پھٹکارے ہوئے جہاں پائے گئے پکڑے گئے اور جان سے مار ڈالے گئے
(الاحزاب ۶۰ - ۶۱)
اس آیت سے معلوم ہوا کہ جو حرکتیں وہ کرتے ہیں اگر ان سے باز نہ آئے تو آنے والے زمانہ میں ان کو سزا دی جائے گی ، اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے دین کو عزت بخشی ہے اور اپنے رسولؐ کی مدد کی ہے۔ پس جب کہ منافقت غالب ہو اور منافق پر حد لگانے سے ایسا فتنہ بپا ہونے کا اندیشہ ہو جو اس کو ترک کرنے سے ظہور میں نہ آسکتا ہو تو حکم "دَعْ اَذَاهُمْ" (الاحزاب - ۴۸) اُن کی ایذارسانی
کو نظر انداز کیجئے، پر عمل کریں گے۔ اور جب ہم کفار کے ساتھ جہاد کرنے سے عاجز آجائیں تو ہم ان آیات پر عمل کریں گے جن میں صلح و درگزر کا حکم دیا گیا ہے۔ اور جب ہم قوت و شوکت سے بہرہ ور ہوں گے تو ان آیات پر عمل کریں گے جن میں جہاد کا حکم دیا گیا ہے۔ مثلاً مندرجہ ذیل آیت :- جَاہِدِ الْکُفَّارَ وَالْمُنَافِقِينَ
(التوبۃ - ۷۳)
(کفار اور منافقین سے جہاد کیجئے) اس سے یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ نفاق کا اظہار کرنے والے کے قتل سے باز رہنا عہد رسالت میں کتاب اللہ سے ثابت ہے۔ اس لئے رسول کریم کے بعد تو نسخ کا وجود ہی باقی نہ رہا۔ ہم یہ دعویٰ نہیں کرتے کہ رسول کریم کے بعد حکم میں تبدیلی اس لئے پیدا ہوئی کہ اس کی مصلحت بدل گئی تھی اور اس ضمن میں کوئی وحی نازل نہیں ہوئی تھی۔ اس لئے کہ یہ بات شریعت میں تصرف کرنے اور اس کو اپنی رائے میں تبدیل کرنے کی ہم معنی ہے۔ اور یہ دعویٰ کرنا کہ حکم مطلق ایک مصلحت پر مبنی تھا اور اب وہ باقی نہیں رہی ناروا ہے جس طرح بعض لوگ کہتے ہیں کہ (زکوٰۃ کے مصارف میں) مؤلفۃ القلوب کی مد باقی نہیں رہی۔ اس کے اثبات میں وہ صرف یہ کہتے ہیں کہ اب وہ مصلحت تبدیل ہو گئی ہے، کتاب وسنت سے کوئی دلیل پیش نہیں کرتے ۔
اس مسئلہ پر اس روایت سے روشنی پڑتی ہے جس کو ابوادریس نے نقل کیا ہے اور وہ یہ کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پاس چند زندیقوں کو لایا گیا جو اسلام سے برگشتہ ہو گئے تھے ۔ حضرت علیؓ نے پوچھا تو انہوں نے انکار کیا۔ ان کے خلاف چند ثقہ آدمیوں نے شہادت دی چنانچہ حضرت علیؓ نے ان کو قتل کر دیا اور اُن سے توبہ کا مطالبہ نہ کیا۔ ان کے پاس ایک عیسائی کو لایا گیا جو اسلام کو قبول کر کے اس سے پھر گیا تھا۔ حضرت علیؓ نے اس سے پوچھا تو اس نے اپنے جرم کا اعتراف کیا۔ حضرت علیؓ نے اس سے توبہ کا مطالبہ کیا تو وہ ارتداد سے باز آیا ۔ حضرت علیؓ سے دریافت کیا گیا کہ آپ نے عیسائی سے توبہ کا مطالبہ کیا اور اُن (زنادقہ) سے نہیں کیا ۔ فرمایا اس نے اپنے (جرم) کا اعتراف کیا تھا مگر انہوں نے انکار کیا۔ یہاں تک کہ ان کے خلاف شہادت سے ان کا (جرم) ثابت ہو گیا۔ اس لئے میں نے ان سے توبہ
کا مطالبہ نہ کیا۔ اس کو امام احمدؒ نے روایت کیا ہے ۔
ابو ادریس سے مروی ہے کہ حضرت علیؓ کے پاس ایک آدمی کو لایا گیا جو عیسائی ہو گیا تھا۔ آپؓ نے اس سے توبہ کا مطالبہ کیا تو اس نے توبہ کرنے سے انکار کر دیا۔ حضرت علیؓ نے اُسے قتل کر دیا ۔ اسی طرح حضرت علیؓ کے پاس ایک گروہ کو لایا گیا جو زندیق تھے مگر قبلہ رُخ (نماز ادا کیا) کرتے تھے۔ ثقہ لوگوں نے اُن کے خلاف شہادت دی ۔ مگر انہوں نے انکار کر دیا اور کہا کہ اسلام کے سوا ہمارا کوئی مذہب نہیں ۔ چنانچہ آپؓ نے انہیں قتل کر دیا ۔ اور ان سے توبہ کا مطالبہ نہ کیا ۔ پھر فرمایا کیا تمہیں معلوم ہے کہ میں نے نصرانی سے توبہ کا مطالبہ کیوں کیا ؟ میں نے توبہ کا مطالبہ اس لئے کیا کہ اس نے اپنے مذہب کا اظہار کر دیا مگر زنادقہ کے خلاف شہادت قائم ہو گئی اور خود انہوں نے اس سے انکار کیا ۔ میں نے ان کو اس لئے قتل کیا کہ انہوں نے انکار کیا اور ان کے خلاف شہادت قائم ہوئی ۔
حضرت علیؓ کے طرزِ عمل سے واضح ہوتا ہے کہ جو زندیق اپنا مذہب چھپائے اور اس سے انکار کرے یہاں تک کہ اس کے خلاف شہادت قائم ہو جائے اُسے قتل کیا جائے اور اس سے توبہ کا مطالبہ نہ کیا جائے ۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اُن منافقین کو قتل نہیں کیا تھا جو زندیق ہونے سے انکار کرتے تھے ۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ اس پر شہادت قائم نہیں ہوئی تھی ۔
اُس کی دلیل مندرجہ ذیل آیت ہے :-
- (۱) "اور تمہارے آس پاس کچھ بدّو منافق ہیں اور کچھ منافق اہلِ مدینہ میں سے
ہیں ۔"
(التوبۃ - ۱۰۱)
- (۲) "کچھ اور لوگ ہیں جنہوں نے اپنے جرائم کا اعتراف کیا ہے ۔ انہوں نے ملے جلے
کام کئے ہیں ، کچھ کام تو اچھے ہیں اور کچھ بُرے "
(التوبۃ - ۱۰۲)
اس سے معلوم ہوا کہ جو اپنے جرم کا اعتراف نہ کرے وہ منافقوں میں سے ہے ۔
اس حدیث سے استدلال کرتے ہوئے امام احمدؒ نے اس شخص کے بارے میں فرمایا جس کے بدعتی ہونے پر شہادت قائم ہو اور وہ انکار کرے ۔ فرماتے ہیں کہ اس کی توبہ مقبول
نہیں ۔ توبہ اس کی مقبول ہے جو اپنے جرم کا اعتراف کرے ۔ البتہ جو انکار کرے تو اس کی توبہ مقبول نہیں ۔
قاضی ابو یعلیٰ اور دیگر اہل علم کا قول ہے کہ اگر کوئی شخص زندیق ہونے کا اعتراف کر کے توبہ کرے تو اس کی توبہ قبول کی جائے گی ۔ اس لئے کہ اپنے جرم کا اعتراف کرنے سے وہ زندیق کی تعریف سے نکل جائے گا ۔ کیونکہ زندیق وہ ہوتا ہے جو کفر کو پوشیدہ رکھتا ہو اور اُسے ظاہر نہ کرتا ہو۔ جب اس نے زندقہ کا اعتراف کر کے توبہ کر لی تو زندقہ کی تعریف سے نکل گیا ۔ اسی لئے ہم نے اس کی توبہ قبول کر لی ۔ چونکہ زنادقہ نے اپنے جرم کا اعتراف نہیں کیا تھا اس لئے حضرت علیؓ نے ان کی توبہ قبول نہ کی ۔
اس مسئلہ کے اثبات میں مندرجہ ذیل آیت سے بھی استدلال کیا جاتا ہے ۔ " وَلَيْسَتِ التَّوْبَةُ لِلَّذِيْنَ يَعْمَلُوْنَ السَّيِّاٰتِ "
(النساء ۔ ۱۸)
(اور ان لوگوں کی توبہ مقبول نہیں جو بُرے کام کرتے ہیں)
امام احمد نے باسناد خود ابوالعالیہ سے مندرجہ ذیل قرآنی آیت کی تفسیر میں نقل کیا ہے :۔ اِنَّمَا التَّوْبَةُ عَلَى اللّٰهِ لِلَّذِيْنَ يَعْمَلُوْنَ السُّوْٓءَ بِجَهَالَةٍ ثُمَّ يَتُوْبُوْنَ مِنْ قَرِيْبٍ ه
(النساء ۔ ۱۷)
(توبہ تو اللہ کے ذمے ان لوگوں کے لئے ہے جو نادانی سے بُرے کام کرتے ہیں پھر جلد توبہ کر لیتے ہیں)
یہ بات اہل ایمان کے بارے میں فرمائی اور منافقین کے بارے میں فرمایا :۔ " وَلَيْسَتِ التَّوْبَةُ لِلَّذِيْنَ يَعْمَلُوْنَ السَّيِّاٰتِ حَتّٰى اِذَا حَضَرَ اَحَدَهُمُ الْمَوْتُ قَالَ اِنِّىْ تُبْتُ الْـٰٔنَ "
(النساء ۔ ۱۸)
(اور توبہ اللہ کے ذمے ان لوگوں کے لئے نہیں جو بُرے کام کرتے ہیں اور جب ان میں سے کسی پر موت کا وقت آتا ہے تو کہتا ہے اب میں نے توبہ کی)
مشرکین کے بارے میں فرمایا :۔ وَلَا الَّذِيْنَ يَمُوْتُوْنَ وَهُمْ كُفَّارٌ ط
(النساء ۔ ۱۸)
اور نہ ہی ان لوگوں کے لئے جو حالت کفر میں مرجائیں ۔
حضرات صحابہ رضوان اللہ علیہم نے فرمایا :- " جو شخص بھی گناہ کا ارتکاب کرے تو وہ اللہ کے بارے میں کچھ نہیں جانتا اور جس نے موت سے پہلے توبہ کر لی اس نے جلدی توبہ کر لی ۔ "
جس شخص کا قول ہے کہ منافق کو جب قتل کرنے کے لئے پکڑ لیا جائے اور وہ تلوار دیکھ لے تو گویا اس کی موت حاضر ہوگئی ۔ اس کی دلیل یہ ہے کہ ایسی باتیں مندرجہ ذیل آیت کے عموم میں داخل ہیں :-
" كُتِبَ عَلَيْكُمْ اِذَا حَضَرَ اَحَدَكُمُ الْمَوْتُ "
(البقرة - ١٨٠)
" تم پر لکھا گیا جب کہ تم میں سے کسی پر موت کا وقت آئے ۔ "
نیز یہ آیت کریمہ :-
شَهَادَةُ بَيْنِكُمْ اِذَا حَضَرَ اَحَدَكُمُ الْمَوْتُ
(المائدة - ١٠٦)
تمہاری باہمی شہادت جب تم میں سے کسی کی موت کا وقت آئے ۔
اور وہ مرتے وقت کہے :-
" اِنِّیْ تُبْتُ الْآنَ " ہ (النساء - ١٨) اب میں نے توبہ کی تو حسب ارشاد خداوندی اس کی توبہ مقبول نہیں ، البتہ اگر اپنے اور اللہ کے درمیان صحیح توبہ کر لے تو وہ ان لوگوں میں سے نہیں جو کہتے ہیں کہ " میں نے اب توبہ کی " بلکہ وہ ان لوگوں میں شامل ہے جس نے جلدی توبہ کر لی ۔ اس لئے کہ اللہ نے ان لوگوں سے توبہ کی نفی کی ہے جس پر موت کا وقت آچکا ہو اور وہ صرف اپنی زبان سے توبہ کر لے ۔ اسی لئے پہلی دفعہ کہا :-
" ثُمَّ يَتُوْبُوْنَ (پھر توبہ کرتے ہیں ) اور یہاں " اِنِّیْ تُبْتُ الْآنَ " کہا پس جس نے موت کے آنے سے پہلے کہا :-
" اِنِّیْ تُبْتُ " (میں نے توبہ کی) یا موت کے اسباب ظاہر ہونے کے بعد خالص توبہ کر لی تو اس کی توبہ صحیح ہے ۔
بعض اہل علم مندرجہ ذیل آیات سے استدلال کرتے ہیں :-
- ۱۔ فَلَمَّا رَاَوْا بَاْسَنَا قَالُوْا آمَنَّا بِاللّٰهِ وَحْدَهٗ ۔ (سورۃ غافر- ۸۴)
(جب انہوں نے ہمارے عذاب کو دیکھا تو کہا ہم صرف ایک خدا پر ایمان لائے)
- ۲۔ حَتّٰى اِذَا اَدْرَكَهُ الْغَرَقُ (سورۃ یونس - ۹۰) جب وہ ڈوبنے لگا۔
- ۳۔ فَلَوْلَا كَانَتْ قَرْيَةٌ اٰمَنَتْ فَنَفَعَهَا اِيْمَانُهَا ۔ (یونس - ۹۸)
تو کوئی بستی ایسی کیوں نہ ہوئی کہ ایمان لاتی تو اس کا ایمان اسے نفع دیتا ۔
مذکورہ صدر آیات سے طرز استدلال یوں ہے کہ اقوام گزشتہ کا عذاب منافقین کے لئے بمنزلہ تلوار کے ہے۔ جس طرح یہ لوگ اگر عذاب دیکھ کر ایمان لائیں تو انہیں فائدہ نہیں دے گا، تو یہی حال منافق کا ہے۔ اور جو لوگ کہتے ہیں کہ یہ فرق اس کے اور حربی کے درمیان ہے، اور وہ یوں کہ ہم اسے اس کے کفر کی سزا دینے کے لئے نہیں لڑتے بلکہ اس لئے کہ وہ اسلام کو قبول کرے۔ جب وہ اسلام لایا تو مقصد پورا ہو گیا۔ اور منافق سے جنگ اس لئے لڑی جاتی ہے کہ اسے سزا دی جائے، اسلام لانے کے لئے نہیں۔ کیونکہ وہ تو مسلمان ہی رہا ہے۔ اور سزائیں عذاب کے آنے کے بعد توبہ کرنے سے ساقط نہیں ہوتیں۔ اور یہ اسی طرح ہے جیسے دیگر نافرمانوں کی سزائیں۔ یہ ان لوگوں کا طریقہ ہے جو دشنام دہندہ کو منافق ہونے کی وجہ سے قتل کرتے ہیں۔
اور اس میں ایک اور انداز استدلال بھی ہے، اور وہ یہ کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بذات خود گالی دینا موجب قتل ہے، اور یہ صرف ارتداد ہی نہیں ہے، ہم قبل ازیں بیان کر چکے ہیں کہ یہ موجب قتل ہے نیز یہ کہ یہ کفر کے علاوہ ایک اور جرم ہے اس لئے کہ اگر یہ صرف ارتداد، تبدیل دین اور ترک دین ہوتا تو رسول کریم کیلئے ایذا دہندہ کو معاف کرنا جائز نہ ہوتا جس طرح مرتد کو معاف کرنا جائز نہیں۔ اور آپ ان لوگوں کو قتل نہ کرتے جنہوں نے آپ کو گالیاں دی تھیں، جب کہ آپ نے ان لوگوں کو معاف کر دیا تھا جو آپ کے خلاف بر سر حرب پیکار تھے ۔
ہم اس کے دلائل قبل ازیں ذکر کر چکے ہیں۔ نیز اس لئے کہ تحقیر و تذلیل اور گالی کا صدور کبھی ان لوگوں سے بھی ہوتا ہے جو نبوت و رسالت کو تسلیم کرتے ہیں۔ چونکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا احترام اور اکرام ہر ممکن طریقے سے واجب ہے اس لئے آپ کی بے حرمتی کی شدید سزا قتل کی صورت میں مقرر کی گئی ہے۔ اس لئے ایسے مجرم کو قتل کرنا شرعی حدود میں سے ایک حد ہے۔ کیونکہ آپ کو گالی دینا محاربہ بالید کی طرح ایک قسم کا فساد فی الارض ہے۔ محض اس لئے نہیں کہ اس نے دین کو تبدیل کیا، اسے ترک کیا اور جماعت سے الگ ہو گیا۔ جب صورت حال یہ ہے تو دیگر حدود کی طرح یہ توبہ سے ساقط نہ ہو گی، ماسوا کفر اور تبدیلی دین کی سزا کے ۔
قرآن مجید میں فرمایا :-
" جو لوگ خدا اور اس کے رسول سے لڑائی کریں اور ملک میں فساد کرنے کو دوڑتے پھریں ان کی یہی سزا ہے کہ قتل کرائے جائیں یا سولی چڑھا دیئے جائیں یا ان کے ایک طرف کے ہاتھ اور ایک طرف کے پاؤں کاٹ دیئے جائیں یا ملک سے نکال دیئے جائیں یہ تو دنیا میں ان کی رسوائی ہے اور آخرت میں ان کے لئے بڑا (بھاری) عذاب تیار ہے۔ ہاں جن لوگوں نے اس سے پیشتر کہ تمہارے قابو آجائیں توبہ کر لی تو جان رکھو کہ خدا بخشنے والا مہربان ہے۔"
(المائدۃ - ۳۳ ، ۳۴)
اس آیت سے ثابت ہوا کہ قابو پائے جانے کے بعد توبہ کرلے تو اس کی توبہ ساقط نہیں ہوتی۔ قرآن میں فرمایا :-
" اور جو چوری کرے مرد ہو یا عورت اُن کے ہاتھ کاٹ ڈالو یہ ان کے فعلوں کی سزا ہے اور خدا کی طرف سے عبرت ہے اور خدا زبردست اور صاحب حکمت ہے اور جو شخص گناہ کے بعد توبہ کرلے اور نیکو کار ہو جائے تو خدا اس کو معاف کر دے گا، کچھ شک نہیں کہ خدا بخشنے والا مہربان ہے" (المائدہ - ۳۸ - ۳۹)
اس آیت میں سابقہ گناہوں کے بدلے میں ہاتھ کاٹنے کا حکم دیا گیا ہے اور مستقبل
میں سرقہ سے عبرت حاصل کرنے کے لئے خواہ چوری اُن سے کی جائے یا دوسروں سے، اِس آیت میں یہ بھی بتایا کہ جو توبہ کرتا ہے اللہ اُس کی توبہ قبول کرتا ہے مگر قطع ید کو اس سے دور نہ کیا۔ اس لئے کہ قطع میں دو حکمتیں پائی جاتی ہیں۔ (۱) ایک تو بدلہ (۲) دوسرے عبرت پذیری۔ اور توبہ حد کو ساقط کر دیتی ہے مگر عبرت پذیری کو ساقط نہیں کرتی۔ اس لئے کہ مجرم کو اگر معلوم ہو کہ اگر وہ توبہ کرلے تو اُسے سزا نہیں دی جائے گی تو فسّاق اِس بُرائی سے باز نہیں آئیں گے ، اور بُرے کاموں کے ارتکاب سے رکیں گے نہیں۔ اور تحفظ جان و مال کے لئے انسداد بہت آسان ہے۔
یہی وجہ ہے کہ ہمیں کسی قابل اعتماد ذریعہ سے اِس مسئلہ میں اختلاف کا وجود نظر نہیں آیا کہ چور یا زانی حد کے سلطان کے پاس ثابت ہونے کے بعد اگر توبہ کا اظہار کرے تو حد اس سے ساقط نہیں ہوگی۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ماعز بن مالک اور غامدیہ کو سنگسار کیا اور اُن کی حُسن توبہ اور حُسن عاقبت کی اطلاع دی ۔ اگر کہا جائے کہ رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دی گئی گالی توبہ کرنے اور از سر نو اسلام لانے سے ساقط ہو جاتی ہے تو اس سے توہین رسول کا ارتکاب کرنے والوں کی زبانیں بند نہیں ہوں گی اور نفوس انسانیہ آپؐ کی حرمت کو حلال اور پامال کرنے سے باز نہیں آئیں گی ۔ بلکہ جو بھی چاہے گا اور جس طرح چاہے گا آپؐ کو گالیاں اور ایذا دیتا رہے گا ۔ اور اس کے بعد اپنے اسلام کی تجدید اور ایمان کا اظہار کریگا ۔ بعض اوقات ایک انسان آپؐ کی توہین اور تنقیص شان کرتا ہے یا آپؐ کے بعض اقوال و اعمال کا مذاق اُڑاتا ہے ، مگر وہ اپنا مذہب چھوڑ کر دوسرے مذہب کو اختیار نہیں کرتا ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ جس انسان کا وطیرہ اور طرز و انداز ایسا ہو اس کے لئے کچھ دشوار نہیں کہ آپؐ کی بے حرمتی اور آپؐ کا تقدس پامال کرنے کے بعد اپنے اسلام کی تجدید کرلے ۔
برخلاف دین سے برگشتہ ہونے کے ، کہ اسلام کی طرف لوٹ آنے سے ان کا قتل ساقط ہو جانے سے یہ لازم نہیں آتا کہ لوگ ارتداد کی جسارت کریں یا ایک دین کو چھوڑ کر دوسرا دین اختیار کریں ۔ اس لئے ایک دین کو چھوڑ کر دوسرا دین اس وقت اختیار کیا جاتا ہے جب کہ کسی کے
دل میں اس دین کے بارے میں شکوک و شبہات جنم لیں یا ایسی حرص و ہوا کا غلبہ ہو جو عقل و فکر سے روک دے لہٰذا مرتد کی توبہ نفوسِ انسانیہ کو ارتداد پر برانگیختہ نہیں کرتی اور قتل کا خوف اُسے ارتداد سے روکے رکھتا ہے۔
جب وہ اس کا اظہار کرے گا تو اُس کا مقصد پورا نہیں ہوگا۔ کیونکہ یہ بات اُسے معلوم ہے کہ اُسے دوبارہ اسلام لانے پر مجبور کیا جائے گا۔ اور اس میں وہ رکاکت ، جسارت اور حماقت پائی جاتی ہے جس سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تنقیص اور آپ کا ہدفِ عیب و طعن بننا لازم آتا ہے۔ وہ جب بھی رسول کریمؐ کو گالی دے گا تو اپنے اسلام کی تجدید کرے گا اور توبہ کا اظہار کرے گا۔
اُس سے ظاہر ہوتا ہے کہ رسول کریمؐ کو گالی دینے سے فساد فی الارض رونما ہوتا ہے، پھر اُس سے وہ حدِ شرعی لازم آتی ہے جو زنا ، ڈاکہ زنی ، چوری اور شراب نوشی کی وجہ سے لگائی جاتی ہے۔ کیونکہ ان معاصی کا ارادہ کرنے والوں کو جب علم ہے کہ توبہ کرنے سے ان کی سزا ساقط ہو جائے گی تو جب چاہیں گے اس کا ارتکاب کرلیں گے۔
علیٰ ہذا القیاس جس شخص کو اس کی کم عقلی یا بد مذہبی تحقیرِ رسولؐ پر مجبور کرے گی اور اُسے علم ہوگا کہ میری توبہ جب بھی چاہوں قبول ہو جائے گی تو وہ ایسی جسارت کرنے سے گریز نہیں کرے گا۔ اس کے یہ بات کہنے سے اس کا مقصد حاصل ہو جائے گا، جس طرح اُن کا مقصد ان کے فعل سے حاصل ہو گیا۔ برخلاف اُس شخص کے جو ارتداد کا ارادہ کرتا ہے کہ اس کا مقصد تب حاصل ہوتا ہے جب وہ اس پر قائم رہے۔ اور یہ اس صورت میں ہوتا ہے جب اسلام کی طرف رجوع نہ کرنے کی صورت میں اُسے قتل کیا جائے۔
پس یہ چیز اُسے اس کام سے باز رکھنے والی ہوگی اور یہ وجہ گالی کو ارتداد سے خارج نہیں کرتی ۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ یہ ارتداد کی ایک غلیظ و شدید قسم ہے، کیونکہ رسول کریمؐ کی تنقیصِ شان کی وجہ سے اس میں شدت پیدا ہو جاتی ہے۔ جس طرح بعض اشخاص کا ارتداد اس طرح شدید ہو جاتا ہے کہ وہ ارتداد کے ساتھ قتل کا ارتکاب بھی کرتا ہے تو اس صورت میں اُس کو قتل کرنا حتمی ہو جاتا ہے اور وہ
ارتداد محض نہیں ہوتا۔ یا جس طرح رہزنی کرنے والے کو قتل کرنا جرم کی شدت کی وجہ سے قطعی ہو جاتا ہے۔ اگرچہ دوسرے جرائم پیشہ کو قتل کرنا حتمی و قطعی نہیں ہوتا۔ لہٰذا اسلام کی طرف رجوع کرنے سے اس کے ارتداد محض کا جرم ساقط ہو جاتا ہے اور صرف گالی کا جرم باقی رہتا ہے۔
اندریں صورت اس پر حد شرعی قائم کرنا ناگزیر ہو جاتا ہے جس طرح رہزنی کرنے والا قابو میں آنے سے پہلے اگر توبہ کر لے تو اس کا حتمی قتل ساقط ہو جاتا ہے۔ اور صرف مقتول کے ورثاء کا حق باقی رہتا ہے خواہ وہ قتل ہو یا دیت یا معافی، یہ ایک کھلی ہوئی بات ہے اس کی توضیح کے بارے میں شارع کی نصوص اور تنبیہات پہلے گزر چکی ہے۔
ایک سوال | اگر معترض کہے کہ (بعض اوقات) یہ گناہ طبع کی وجہ سے صادر ہوتے ہیں حالانکہ اعتقاد صحیح ہوتا ہے۔ اگر شارع کی طرف سے کوئی چیز اس کو روکنے والی نہ ہو تو نفوس انسانیہ جلد جلد ان کا ارتکاب کرنے لگیں گے۔ برخلاف رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو گالی دینے کے، اس لئے کہ طبیعت اس کی طرف جبھی مائل ہوتی ہے کہ عقیدہ میں ایسی خرابی ہو جو کفر سے بھی بڑھ کر ہو۔ پس معلوم ہوا کہ گالی کا موجب و محرک زیادہ تر کفر ہوتا ہے، اس لئے کفر کی سزا اس پر لازم ہے۔ اور کافر کو سزا دینا عدم توبہ کے ساتھ مشروط ہے۔ اور جب گالی کا محرک صرف طبعی نہ ہو تو اس سے روکنے والی چیز مشروع نہیں ہے۔ اگرچہ وہ حرام ہی کیوں نہ ہو۔ مثلاً کتاب اللہ اور دین اسلام یا دیگر (شرعی امور) کی تنقیص و تذلیل۔
جواب | ہم اس کے جواب میں کہتے ہیں کہ بعض اوقات عقیدہ کی خرابی کے علاوہ طبعی محرکات بھی اس کے موجب ہوتے ہیں مثلاً پیہم ایذارسانی جو آپ کے بعض احوال و افعال پر تنقید کی موجب بنتی ہے۔ اور غیظ و غضب جو رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی عیب جوئی کا موجب بنتا ہے جب کہ معترض
رسول کے بعض احکام کو ناپسند کرنا ہو۔ نیز حرص و آز جو ناپسندیدہ امور کی مذمت پر مجبور کرتی ہے۔ یہ امور بعض اوقات انسان کو ایک قسم کی گالی، ایذا رسانی اور تنقیص شان پر اکساتے ہیں۔ اگر چہ ان امور کا صدور اسی وقت ہوتا ہے جب ایمان کمزور ہو۔ جس طرح یہ گناہ بھی اسی صورت میں صادر ہوتے ہیں جب ایمان ضعیف ہو ۔ جب صورت حال یہ ہے تو ایسے لوگوں کی توبہ کا قبول کرنا اس بات کا موجب ہے کہ ایسے لوگ اس قسم کے کلمات ادا کرنے کی جرأت کریں گے جس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ آپؐ کی ناموس و آبرو شکستہ و مجروح اور آپؐ کا تقدس پامال رہے گا ۔ برخلاف اس شخص کی توبہ قبول کرنے کی جو یا تو ایک مذہب سے دوسرے کی طرف پھر جانا چاہتا ہو یا اُسے مطلقاً ترک دینا چاہتا ہو۔ کیونکہ اُسے بخوبی معلوم ہے کہ اس سے توبہ کا مطالبہ کیا جائے گا۔ اگر اس نے توبہ کر لی تو فبہا ورنہ اُسے قتل کیا جائے گا۔ تو وہ اپنے مذہب سے منحرف نہیں ہوگا۔ اس صورت کے عین برعکس جب گالی کافر سے سرزد ہو اور پھر وہ ایمان لائے۔ اگر اُسے یہ بات معلوم ہو کہ گالی دینے کی صورت میں اس سے یا تو اسلام قبول کیا جائے گا یا تلوار اُسے اس گالی سے باز رکھ سکے گی۔ الاّ یہ کہ وہ اسلام لانے کا ارادہ رکھتا ہو۔ اور جب وہ اسلام کا ارادہ کرے گا تو اس کے پہلے گناہ ساقط ہو جائیں گے۔ پس کافر کے اسلام لانے سے قتل کے ساقط ہونے سے اس امر کی راہ نہیں کھلتی کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی توہین و تنقیص کی جائے۔ وہ راستہ اس طرح کھلتا ہے کہ اسلام کا اظہار کرنے والا اسلام کی تجدید کر لے۔
مزید براں رسول کریمؐ کو گالی دینا ایک انسان کا حق ہے (حقوق العباد میں سے ہے) اس لئے وہ توبہ سے ساقط نہ ہوگا۔ جس طرح حدِ قذف اور رسول کریمؐ کے علاوہ کسی اور کو گالی دینا قابل معافی جرم نہیں ہے ۔
مسلم اور ذمی میں تفریق
جو اہل علم مسلم اور ذمی میں تفریق کرتے ہیں وہ کہتے ہیں کہ مسلم نے (آپؐ کو) گالی نہ دینے اور
گالی کا عقیدہ نہ رکھنے کا التزام کیا ہے ۔ لہذا جب وہ اس کا مرتکب ہوگا تو اس پر حد لگائی جائے گی ، جس طرح شراب نوشی کی حد لگائی جاتی ہے ۔ نیز جس طرح مردار اور خنزیر کا گوشت کھانے والے پر تعزیر لگائی جاتی ہے ۔ اس کے عین برعکس کافر نے اس کی تحریم کا التزام نہیں کیا اور نہ ہی اس کا عقیدہ رکھا ۔ اس لئے اس پر حد کا قائم کرنا واجب نہیں ، جس طرح اس پر شراب نوشی کی حد لگائی نہیں جاتی ، اور نہ ہی مردار اور خنزیر کا گوشت کھانے پر تعزیر لگائی جاتی ۔
البتہ جب وہ اس کا اظہار کرے گا تو ہمارا باہمی عہد ٹوٹ جائے گا ۔ اب وہ حربی کافر کی طرح ہو جائے گا اور ہم اُسے اس کی بناء پر قتل کر دیں گے ، اس لئے نہیں کہ اس نے حد شرعی کا ارتکاب کیا ہے جس کی حرمت کا وہ معتقد ہے ۔ اس کے اسلام لانے سے کفر کی سزا ساقط ہو جائے گی اور بطور خاص گالی دینے سے بھی اُسے کوئی سزا نہیں دی جائے گی ۔ اس لئے اُس کو قتل کرنا جائز نہیں ۔ اس موقف کی حقیقت یہ ہے کہ چونکہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو گالی دینے میں چونکہ تحقیر کا پہلو پایا جاتا ہے ، اس لئے اُس کی سزا دشنام دہندہ کو قتل کرنا ہے ، تاکہ آپ کی عزت و حرمت اور احکام و احترام کی اہمیت واضح ہو سکے اور ایسا کرنے والا اس سے عبرت آموزی کا سبق سیکھ سکے ۔ اور حد کافر پر اُن اُمور کے ارتکاب پر لگائی جاتی ہے جس کی حرمت کا وہ قائل ہو ۔ لیکن جب وہ اُن چیزوں کی حلت کا برملا اظہار کرے جو ہمارے نزدیک حرام ہیں تو اُسے ڈانٹا جائے گا اور اس کی سزا دی جائے گی ۔ مثلاً وہ خمر وخنزیر کی حلت کا اظہار کرے ۔ ان باتوں کا اظہار بھی بعض لوگوں کے نزدیک گالی دینے کے مترادف ہے ۔ اور نقض عہد بھی مسلمانوں کے ساتھ جنگ لڑنے کا ہم معنی ہے ۔ ان دونوں صورتوں میں اسلام اس سزا کو ساقط کر دیتا ہے ، برخلاف اُس صورت کے جب مسلم ایسے فعل کا مرتکب ہو جس سے حد واجب ہو جاتی ہے ۔
ارتداد کی دو قسمیں
علاوہ ازیں ارتداد دو قسم کا ہوتا ہے ۱، ارتداد مجرد ۲، ارتداد مغلظ جس میں بطور خاص
قتل کی سزا دی جاتی ہے۔ ارتداد کی ہر دو اقسام کے بارے میں دلائل سے ثابت ہے کہ قتل کی سزا دی جائے۔ وہ دلائل جن سے ثابت ہوتا ہے کہ توبہ کرنے سے قتل ساقط ہوجاتا ہے دونوں قسموں پر مشتمل نہیں، بلکہ صرف پہلی قسم پر دلالت کرتے ہیں۔ جیسا کہ اس شخص پر واضح ہے جو کہ مرتد کی توبہ کی قبولیت کے دلائل پر غور و فکر کرتا ہے، اب دوسری قسم باقی رہی اور اس کے مرتکب کے لئے قتل کا وجوب دلائل سے ثابت ہو چکا ہے۔ اور کسی نص اور اجماع سے اس سے قتل کا ساقط ہونا ثابت نہیں ہوتا۔ یہ حقیقت ہے کہ نص کی موجودگی میں قیاس دشوار ہے۔ اس لئے دونوں قسم کا باہمی الحاق خارج از بحث ہے۔
لیکن اس موقف کا اثبات اس سے ہوتا ہے کہ کتاب وسنت اور اجماع سے یہ بات ثابت نہیں ہوتی کہ جو شخص اپنے کسی قول یا فعل کی وجہ سے مرتد ہوکر مسلمانوں کے قبضہ میں آجائے اور پھر توبہ کرلے تو قتل اس سے ساقط ہوجاتا ہے۔ بخلاف ازیں کتاب وسنت اور اجماع نے مرتد ہونے والے کی دونوں قسموں میں تفریق کردی ہے۔ جیسا کہ ہم ذکر کریں گے، مگر بعض لوگ محض اپنی رائے پر بھروسہ کرتے ہوئے ارتداد کی دونوں قسموں میں بیّن تفاوت کے باوجود ایک ہی قسم قرار دیتے ہیں اور پھر ایک قسم کو دوسری پر قیاس کرتے ہیں۔ جب یہاں کوئی ایسا قولی عموم نہیں پایا جاتا جو مرتد کے جملہ انواع پر مشتمل ہو تو صرف قیاس باقی رہا۔ اور وہ قیاس فاسد ہے اس لئے کہ فرع اور اصل دونوں اس وصف کی وجہ سے باہم الگ الگ ہیں جو موثر فی الحکم ہے۔ اور اس وصف کے موثر فی الحکم ہونے پر شارع کی نص تنبیہا اور وہ مناسبت دلالت کرتی ہے جو مصلحت معتبرہ پر مشتمل ہے۔ اس کی توضیح تین وجوہ سے ممکن ہے :۔
مرتد کی توبہ کب قبول کی جاتی ہے ؟
وجہ اوّل | مرتد کی توبہ کے مقبول ہونے کی دلیل اس قسم کی آیات ہیں :۔ (۱) كَيْفَ يَهْدِي اللهُ قَوْمًا كَفَرُوْا بَعْدَ إِيْمَانِهِمْ
(آل عمران : ۸۶)
اللہ اس قوم کو کیسے ہدایت دے گا جو ایمان لانے کے بعد کافر ہو گئی ۔
- ۱، مَنْ كَفَرَ بِاللّٰهِ مِنْ بَعْدِ اِيْمَانِہٖ (النحل - ۱۰۶)
جو ایمان لانے کے بعد کافر ہو جائے ۔
اور اس قسم کی آیات جن میں صرف ایمان لانے کے بعد کفر سے توبہ کا ذکر کیا گیا ہے ان لوگوں کا ذکر نہیں کیا گیا جن کے کفر کیساتھ ایذا و ضرر رسانی بھی شامل ہوگئی ہو ۔ علاوہ ازیں سیرتِ نبوی میں بھی اسکا ذکر کیا گیا ہے ۔ مگر اس میں ان لوگوں کی توبہ کا ذکر کیا گیا ہے جن سے صرف ارتداد کے فعل کا صدور ہوا ہو، علیٰ ہٰذا القیاس خلفائے راشدین کی سنت میں بھی صرف ان لوگوں کی توبہ کا ذکر کیا گیا ہے جن سے ارتداد کے فعل کا صدور ہوا ہو اور اس کے بعد اس نے مسلمانوں سے اس طرح جنگ لڑی ہو جس طرح ایک کافر لڑتا ہے جو اپنے کفر پر قائم ہو ۔ جو لوگ اس زعم فاسد میں مبتلا ہیں کہ اصول و کتاب و سنت میں ایسے دلائل مذکور ہیں جو ہر مرتد کی توبہ پر مشتمل ہیں ۔ خواہ اس کا ارتداد مجرد ہو یا کسی وجہ سے مغلظ ہو گیا ہو ۔ وہ غلطی پر ہیں ۔ اندریں صورت دلائل سے یہ ثابت ہوگئی کہ دشنام دہندہ کا قتل واجب ہے اور وہ مرتد ہے ۔ دلائل سے یہ بات ثابت نہیں کہ ایسے آدمی سے قتل ساقط ہو جاتا ہے ۔ بنابریں اس کا قتل ایسے دلائل سے ثابت ہے جن کی معارض دوسری کوئی دلیل نہیں ۔
وجہ ثانی
قرآن مجید میں فرمایا :۔ ” اللہ ایسے لوگوں کو کیونکر ہدایت دے گا جو ایمان لانے کے بعد کافر ہو گئے اور اس بات کی شہادت دی کہ رسول حق ہے ، اور ان کے پاس دلائل آئے اور اللہ ظالموں کی قوم کو ہدایت نہیں دیتا ۔ (تا آخر) آل عمران (۸۶-۹۰)
ان آیات میں ارشاد فرمایا کہ جو شخص ایمان لانے کے بعد اپنے کفر میں اضافہ کرے اس کی توبہ ہرگز قبول نہیں کی جائے گی ۔ ان آیات میں کفر مجرد اور کفر مغلظ میں فرق کیا گیا ہے کہ پہلی قسم کے کفر سے توبہ قبول ہے مگر دوسرے سے توبہ مقبول نہیں ۔ جو شخص یہ دعویٰ کرتا ہے کہ ایمان کے بعد جو کفر بھی ہو اس سے اگر توبہ کی جائے تو مقبول ہے وہ نص قرآنی کی مخالفت کرتا ہے ۔
اگرچہ اس آیت میں بیان کیا گیا ہے کہ جس کفر پر کوئی شخص قائم ہو تو موت تک اس میں اضافہ ہوتا رہتا ہے اور اس سے توبہ نامقبول ہے، اور غیر مقبول توبہ وہ ہے جو نزع کے وقت یا قیامت کے روز کی جائے۔ مگر آیت میں اس سے زیادہ عموم پایا جاتا ہے۔ ہم دیکھ چکے ہیں کہ حدیث نبوی نے ہر دو انواع میں تفریق کر دی ہے۔ چنانچہ مرتدین کی ایک جماعت کی توبہ قبول کر لی۔ مگر فتح مکہ کے روز توبہ کا مطالبہ کئے بغیر مقیس بن صبابہ کو قتل کرنے کا حکم دیا۔ کیونکہ اُس نے مرتد ہونے کے ساتھ ساتھ ایک مسلم کو قتل کیا اور اس کا مال ہتھیا لیا اور پکڑے جانے سے قبل اس نے توبہ نہ کی۔ قبیلہ عرینہ والوں کو قتل کرنے کا حکم دیا، کیونکہ انہوں نے اپنے کفر پر دیگر جرائم کا اضافہ کیا تھا۔ اسی طرح آپ نے ابن ابی سرح کو قتل کرنے کا حکم دیا۔ کیونکہ اس نے اپنے ارتداد پر رسول کریم کو ہدف طعن و افتراء بھی بنایا تھا
جب کتاب وسنت نے مرتدین کے بارے میں دو جدا گانہ احکام دیئے ہیں اور ہم دیکھ چکے ہیں کہ جو شخص مرتد ہونے کے علاوہ ایذاء و ضرر رسانی کا ارتکاب کرتا ہے وہ واجب القتل ہے۔ اگر مسلمانوں کے قبضہ میں آنے کے بعد توبہ بھی کرے تو قتل اس سے ساقط نہیں ہوتا، اگرچہ وہ علی الاطلاق توبہ کرلے۔ مگر جو شخص صرف اپنا دین تبدیل کرلے اس کا یہ حکم نہیں ہے۔ بنا بریں یہ قول صحیح نہیں کہ ہر قسم کے مرتد کی توبہ مقبول ہے۔ اور دشنام دہندہ مرتدین کی اس قسم سے تعلق رکھتا ہے جس کی توبہ کا مقبول ہونا ضروری نہیں جیسا کہ ابن ابی سرح کے واقعہ پر مشتمل حدیث سے ثابت ہوتا ہے۔ نیز اس لئے کہ گالی دینا مسلمانوں کے لئے بہت بڑی ایذا ہے۔۔ حتیٰ کہ حرب و قتال سے بھی عظیم تر ایذا ہے۔۔ جیسا کہ پیچھے گزرا۔ اس لئے کہ اس کے فاعل کی سزا بھی حتمی و قطعی ہے۔ نیز اس لئے کہ ہم مرتد مجرد کو اس لئے قتل کرتے ہیں کہ وہ اس انحراف پر قانع ہو گیا ہے۔ جب وہ دین حق کی طرف لوٹ آئے گا تو جو چیز اس کے خون کو مباح کرنے والی ہے وہ زائل ہو جائے گی جس
طرح اصلی کافر اگر مسلمان ہو جائے تو اس کے خون کو مباح کرنے والی صفت زائل ہو جاتی ہے۔ اس دشنام دہندہ نے اللہ اور اس کے رسول کو سخت ایذا دی ہے — حالانکہ اس نے ترک ایذا کا معاہدہ کیا تھا۔ اور امن پر قانع ہونے کی وجہ سے اسے قتل نہیں کیا جاسکتا کہ یہ ممنوع ہے۔ لہٰذا اس کو قتل کرنا اس کافر کے قتل کی طرح ہے جو مسلمانوں کے خلاف دستی جنگ لڑ رہا ہو۔ خلاصہ کلام یہ کہ جو شخص اللہ اور اس کے خلاف زبان یا ہاتھ سے جنگ کرنے کے لئے دین اسلام سے منحرف ہوجائے تو حدیث نبوی جو کہ کتاب اللہ کی شارح و ترجمان ہے اس بات پر دلالت کرتی ہے۔ اس کی توبہ قبول نہیں کی جائے گی۔
ارتداد بعض اوقات دشنام سے مجرد ہوتا ہے
بعض اوقات ارتداد سبّ و شتم سے عاری ہوتا ہے لہٰذا ارتداد نہ وجہ ثالث | تو اس پر مشتمل ہوتا ہے اور نہ ہی مستلزم۔ جس طرح وہ بعض اوقات مسلمانوں کو قتل کرنے اور ان کا مال لینے سے خالی ہوتا ہے۔ اس لئے کہ سبّ و شتم بغض و عداوت میں افراط کا نتیجہ ہوتا ہے۔ اس کا موجب و محرک کافر کی حماقت، فساد فی الدین کی حرص اور اہل اسلام کو نقصان پہنچانا ہوتا ہے۔ بعض اوقات اس کا مبداء نبوت و رسالت کا عقیدہ رکھنے والوں سے بھی ہوتا ہے۔ مگر اس اعتقاد کے مطابق وہ رسولِ کریم کی توقیر و اطاعت نہیں کرتا اس طرح وہ ابلیس کی مانند ہوتا ہے کہ وہ اللہ کی ربوبیت کا معتقد تھا (اس نے کہا تھا " رَبّ " ) اُسے یقین تھا کہ اللہ نے سجدے کا حکم دیا ہے مگر اس عقیدہ کے باوجود سر عجز و نیاز جھکانے سے قاصر رہا۔ بلکہ اس نے از راہ فخر و غرور ضِد و عناد کا مظاہرہ کیا اور خداوند تعالیٰ کی حکمت پر طعنہ زن ہوا۔
جو شخص یہ عقیدہ رکھتا ہو کہ اللہ اُس کا ربّ ہے اور اللہ نے اُسے یہ حکم دیا ہے، پھر کہے کہ وہ اس کی اطاعت اس لئے نہیں کرتا کہ اس کا حکم
درست اور بجا نہیں۔ اور وہ شخص جو عقیدہ رکھتا ہو کہ محمدؐ اللہ کے سچے اور اخبار و اوامر میں واجب الاطاعت رسول ہیں، پھر آپ کو گالیاں دے ، آپ کے دیئے ہوئے احکام یا آپ کے احوال میں سے کسی میں عیب نکالے یا آپ کی ایسی تحقیر کرے جو رسول کی شان کے لائق نہیں، تو ایسے دونوں اشخاص برابر ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ایمان عبارت ہے قول وعمل سے، تو جو شخص اللہ کی وحدانیت کا قائل ہو اور محمدؐ کو اس کا بندہ اور رسول سمجھتا ہو، مگر اس عقیدہ کے مطابق آپ کا اکرام و احترام بجا نہ لاتا ہو، جو کہ ایک قلبی کیفیت کا نام ہے جس کا اثر جوارح پر بھی ظاہر ہوتا ہے، بلکہ اس عقیدہ کی موجودگی میں اپنے قول وفعل سے آپ کی توہین و تحقیر کا ارتکاب کرتا ہو، تو یہ عقیدہ نہ ہونے کے برابر ہے، اور اس کا یہ طرز عمل اس عقیدہ کے فساد و بطلان کا موجب ہوگا اور اس میں جو صلاح وفلاح پائی جاتی ہے اسے زائل کردے گا، اس لئے کہ ایمانی عقائد نفوس کا تزکیہ اور اصلاح کرتے ہیں۔ اور جب ان سے مطلوبہ نتائج رونما نہ ہوں تو اس کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ یہ عقائد دل میں جاگزیں نہیں ہوتے اور نہ ہی نفس انسانی کی صفت و صلاح کا موجب بنتے ہیں اور جب تک ایمان کا علم جو کہ فرض ہے انسان کے دل کی صفت لازمہ نہ بنے ، تو وہ انسان کے لئے نفع بخش نہیں ہوتا ۔ بلکہ ان کی حیثیت "حدیث نفس" اور قلبی تصورات کی طرح ہوتی ہے (جو یونہی آتے جاتے رہتے ہیں) اور جہاں تک نجات کا تعلق ہے تو وہ قلبی یقین سے حاصل ہوتی ہے ، وہ ذرہ بھر ہی کیوں نہ ہو۔ بندے اور اللہ کے درمیان جو تعلقات ہیں یہ ان کی حالت ہے باقی رہے دنیوی احکام اور اقوال و افعال تو ظاہری حالت پر مبنی ہوتے ہیں۔
اس تنبیہ کا مقصد یہ ہے کہ دل سے مذاق اڑانا اور تحقیر کرنا اس ایمان کے منافی ہوتا ہے جو دل میں جاگزیں ہوتا ہے اور یہ منافات اس قسم کی ہے جس طرح ضدین میں پائی جاتی ہے۔ اور زبان کے ساتھ مذاق اڑانا اس ایمان کے منافی ہے جس کا اظہار زبان کے ساتھ کیا جاتا ہے۔ الغرض جو گالی دل سے صادر ہوتی ہے وہ ظاہراً و باطناً کفر کی موجب ہے۔ فقہاء اور علمائے اہل السنۃ والجماعۃ کا موقف یہی ہے
مگر جہمیہ اور مرجئہ فرقہ والے کہتے ہیں کہ ایمان عبارت ہے علم و معرفت سے ، اور قول بلا عمل اعمال قلب میں سے ہے، اس لئے کہ یہ بظاہر اس کے منافی ہے مگر باطن میں یہ دونوں جمع ہوجاتے ہیں ہم بار دیگر اس پر اظہار خیال کریں گے انشاء اللہ تعالیٰ۔ مرام تقریر یہ ہے کہ جس طرح ارتداد بعض اوقات گالی سے عاری ہوتا ہے ۔ اسی طرح بعض دفعہ اس سے دین سے انحراف اور تکذیب رسالت کا قصد نہیں کیا جاتا — جیسا کہ ابلیس کا کفر ، تکذیب ربوبیت کے قصد سے خالی تھا۔ اگرچہ اس عدم قصد کا اُسے کوئی فائدہ نہیں جس طرح یوں کہنے والوں کو ان کا قول فائدہ نہیں دیتا ۔ "کہ کفر یہ ہوتا ہے کہ کافر ہونے کا ارادہ نہ کیا جائے" جب صورتِ حال یہ ہے تو شارع جب حکم دے کہ جو شخص اپنے دین حق اور عقیدے کو تبدیل کرتا ہے تو اس کی توبہ کو قبول کیا جائے ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ قتل کا موجب وہ عقیدہ ہے جو نیا نیا اختیار کیا جائے اور سابقہ عقیدے کو معدوم کر دیا جائے ۔ جب یہ ایمانی عقیدہ لوٹ کر آجائے اور عارضی و ہنگامی عقیدہ زائل ہو جائے تو یہ پانی اور بھگوئے ہوئے چمڑے کی مانند ہے۔ اگر چمڑے میں تبدیلی واقع ہو جائے تو پانی نجس ہو جاتا ہے۔ اور اگر یہ تبدیلی زائل ہو جائے تو وہ دوبارہ حلال ہو جاتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ جب کوئی حکم کسی علت کی وجہ سے ثابت ہوا ہو تو علت کے زائل ہونے سے وہ حکم بھی زائل ہو جاتا ہے۔ اور اس آدمی نے صرف عقیدے کی تبدیلی کا اظہار نہیں کیا تاکہ پھر اس کی طرف لوٹ آنے کی وجہ سے وہ معصوم ہو سکے ۔ نیز یہ قول تغییر اعتقاد کے لوازم میں سے نہیں ہے تاکہ دونوں کا حکم یکساں ہو ۔ اس لئے بعض اوقات عقیدہ بڑی حد تک تبدیل ہو جاتا ہے مگر وہ اللہ اور اُس کے رسول کی ایذارسانی کا موجب نہیں ہوتا ۔
مسلمانوں کی ضرر رسانی عقیدہ کے تغیّر سے بھی قبیح تر ہے ۔
مسلمانوں کو ضرر پہنچانا عقیدہ کو تبدیل کرنے سے بھی زیادہ بُرا ہے۔ اس کا
ارتکاب وہ شخص کرتا ہے جو اپنے عقیدے کو درست تصور کرتا ہو مگر اللہ رسول اور مومنین کے نزدیک وہ اس دعوٰی اور ظن میں کاذب ہو۔ ظاہر ہے کہ اس میں جو فساد پایا جاتا ہے وہ اس فساد سے کہیں زیادہ ہے جو محض عقیدہ کے تغیر میں ان دو وجہ سے پایا جاتا ہے، ایک تو اس لئے کہ اس میں زیادہ ضرر رسانی ہے۔ دوسرے یہ کہ بعض اوقات عقیدہ اس کے ساتھ سلامت رہتا ہے اور ایسے شخص سے بھی صادر ہوتا ہے جو ایک دین سے دوسرے دین کی طرف منتقل نہیں ہونا چاہتا۔ اور اس کا فساد انتقال کے فساد سے عظیم تر ہوتا ہے۔ اس لئے کہ انتقال کے متعلق یہ بات معلوم ہے کہ وہ کفر ہے اور اس کا نتیجہ وہی ہے جو کفر کا ہے مگر اس کے بارے میں یہ گمان کیا جاتا ہے کہ یہ کفر صرف اس صورت میں ہے جبکہ اس کو حلال سمجھ کر اختیار کیا جائے۔ البتہ یہ معصیت ضرور ہے جو کفر کی انواع میں سے عظیم تر ہے ۔ جب اس کا داعی اور محرک مجرد ارتداد کے داعی سے جداگانہ نوعیت کا ہو، اور اس میں جو فساد ہے وہ ارتداد کے فساد سے مختلف ہو ۔ حالانکہ یہ اس سے شدید تر ہے ۔ تو یہ جائز نہیں کہ اس سے توبہ کرنے والے کو ارتداد سے توبہ کرنے والے کے ساتھ ملحق کیا جائے۔
اس لئے کہ معنی کے قیاس کی شرط یہ ہے کہ فرع اور اصل دونوں کا حکم مساوی ہو اور دلیل الحکم اگر پوشیدہ ہو تو اس میں بھی دونوں مساوی ہوں۔ جب اصل میں معانی موثرہ پائے جاتے ہوں تو جائز ہے کہ توبہ اس کی وجہ سے قبول کی گئی ہو اور یہ فرع میں معدوم ہوں تو یہ جائز نہیں۔ اس لئے کہ اگر کسی جرم میں کم خرابی پائی جاتی ہو یا نہ پائی جاتی ہو تو اس کی توبہ کے قبول ہونے سے یہ لازم نہیں آتا کہ اس جرم کی توبہ بھی مقبول ہو جس میں زیادہ یا دائمی فساد پایا جاتا ہو۔
اس کا خلاصہ یہ ہے کہ اس (ایذا دہندہ) کے خون کی عصمت بنا بر توبہ مرتد پر قیاس کرتے ہوئے دشوار ہے کیونکہ دونوں (ضرر رساں اور مرتد) کے مابین موثر فرق پایا جاتا ہے پس مرتد جو دوسرے دین کو قبول کرلے اور اپنی زبان سے
مسلمانوں کو ضرر پہنچانے والا جو اللہ اور اس کے رسول کو ایذا دیتا ہو دو جداگانہ قسم کے کافر ہیں ۔ اگرچہ اسلام کے بعد کفر اختیار کرنے کے لحاظ سے دونوں کی جنس ایک ہے ۔ اور پہلی قسم (صرف مرتد) کے حق میں توبہ کے مشروع ہونے سے یہ لازم نہیں آتا کہ دوسری قسم کے کافر (ایذا رساں) کے حق میں بھی توبہ مشروع ہو۔ اس لئے کہ دونوں کے مابین ضرر رسانی کا فارق موجود ہے۔ نیز اس لئے کہ (موذی) کی توبہ کے مقبول ہونے سے اس کا فساد زائل نہیں ہوتا ۔
سنت رسول
سے ثابت ہوتا ہے کہ دشنام دہندہ کو توبہ کے باوُجود قتل کیا جائے
دلائل سے ثابت ہوتا ہے کہ اگر کوئی مسلم رسول کریمؐ کی گالی دیتا ہو تو اُس کو قتل کرنا واجب ہے۔ اگرچہ وہ تائب ہو کر (ازسرنو) اسلام قبول کر لے۔ جو اہل علم مسلم اور اسلام قبول کرنے والے ذمّی میں تفریق کرتے ہیں ان کے نزدیک بھی یہ قتل واجب ہے۔ یہ دلالت اس امر پر بھی مشتمل ہے کہ ذمّی اگر دوبارہ ذمّہ کو اختیار کرلے تو اس سے یہ قتل بطریق اولٰی ساقط نہیں ہوگا۔ اس لئے کہ ایک مسلم کا اسلام کی طرف عود کرنا اس کے خون کو زیادہ محفوظ رکھتا ہے بہ نسبت اس کے کہ ایک ذمّی دوبارہ ذمہ کی طرف لوٹ آئے۔ یہی وجہ ہے کہ عام علماء اس قسم کے لوگوں کے اسلام کی طرف لوٹنے کو اس کے خون کی زیادہ حفاظت کرنے والا قرار دیتے ہیں، ذمّی کے بارے میں اس کے قائل نہیں جب کہ وہ ذمہ کی طرف لوٹ آئے۔
جو شخص سنتِ نبویؐ کا بنظرِ غائر مطالعہ کرتا ہے اُسے معلوم ہوتا ہے کہ رسول کریمؐ نے بنو قریظہ، اور خیبر اور بنو نضیر کے بعض لوگوں کو قتل کر دیا تھا۔ علاوہ ازیں بنی نضیر اور بنی قینقاع کے کچھ لوگوں کو جلا وطن کر دیا تھا۔ یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب ان لوگوں نے عہد کو توڑ دیا اور اس بات کے حریص تھے کہ آپؐ دوبارہ ان کو ذمّی بنالیں مگر آپؐ نے ایسا نہ کیا۔ اس قسم کے موذی لوگوں کے بارے میں رسول کریمؐ کے خلفاء اور صحابہ کا طرزِ عمل بھی اس قسم کا تھا۔ یہ جاننے کے باوجود کہ وہ اس بات کے سخت حریص تھے کہ یہ لوگ دوبارہ ذمّی
بن جائیں۔ مگر یہ بات کسی شک وشبہ کے بغیر انہیں معلوم تھی کہ ان لوگوں کو دوبارہ ذمی بنانے کا قول خلافِ سنت اور خیرالقرون کے اجماع کے خلاف ہے۔ قبل ازیں علی الاطلاق عہد توڑنے والے کے بارے میں ہم اس پر تنبیہ کرچکے ہیں۔ اور اگر یہ بات عیاں درجہ بیان کی مصداق نہ ہوتی تو ہم اس پر کھل کر گفتگو کرتے۔ جو لوگ حضور کی سیرت وسنت سے آگاہ ہیں ہم نے ان کو ان دونوں کا حوالہ اس لئے دیا کہ بلا شک وشبہ وہ اس حقیقت سے بہرہ ور ہیں کہ رسولِ کریمؐ اور یہود کے مابین کوئی ہنگامی عہد نہیں ہوا تھا بلکہ یہ ایک ابدی معاہدہ تھا کہ وہ دارالاسلام میں اقامت گزیں رہیں گے۔ نیز چونکہ ان کے باہم اختلافی مسائل میں اللہ اور اس کے رسولؐ کے احکام جاری رہیں گے۔ تاہم ان پر جزیہ عائد نہ کیا گیا۔ اور انہیں اس ذلت کا پابند نہ کیا گیا جس کے پابند وہ سورۃ التوبۃ کے بعد ہوئے تھے۔ اس لئے کہ یہ ہنوز شروع نہیں ہوا تھا۔
جن لوگوں کا قول یہ ہے کہ ”دشنام دہندہ کو قتل کیا جائے اگرچہ وہ تائب ہوکر اسلام لے آئے، اور خواہ وہ مسلم ہو یا کافر“ تو ان کی دلیل پیچھے گزرچکی ہے کہ مسلم کو توبہ کے بعد بھی قتل کیا جائے، نیز ذمی کو قتل کیا جائے اگرچہ وہ دوبارہ ذمی بننے کا خواہاں ہو۔“
اس امر کے حتمی دلائل کہ دشنام دہندہ ذمی اور مسلم کو حتمی طور پر قتل کیا جائے
باقی رہی یہ بات کہ گالی دینے کی وجہ سے جب ذمی واجب القتل ہوچکا ہو تو اُسے قتل کیا جائے، اگرچہ وہ اس کے بعد اسلام لاچکا ہو، مگر اس میں اُن کے کئی طرق ومذاہب ہیں جو اس بات پر دلالت کرتے ہیں کہ مسلم ہو یا ذمی دونوں کو حتماً قتل کیا جائے۔
طریقِ اوّل | اس کی دلیل مندرجہ ذیل آیت کریمہ ہے :-
”جو لوگ اللہ اور اس کے رسول سے لڑتے ہیں اور خدا کی زمین میں فساد کی کوشش کرتے ہیں ان کا بدلہ یہ ہے کہ ان کو قتل کیا جائے، یا سولی دیا جائے یا اُن کے ہاتھ اور پاؤں الٹی ترتیب سے کاٹے جائیں، یا اُن کو
جلا وطن کیا جائے ۔“ (المائدہ ۳۳ - ۳۴)
وجہ استدلال یہ ہے کہ سابق الذکر دشنام دہندہ اللہ اور اس کے رسول سے جنگ کرنے والوں اور زمین میں فساد کی کوشش کرنے والوں میں سے ہے جو اس آیت میں داخل ہیں۔ خواہ وہ مسلم ہو یا معاہد، اور محاربین میں سے جو بھی اس آیت میں داخل ہو جب توبہ سے قبل اس پر قابو پا لیا جائے تو اس پر حد قائم کی جائے۔ خواہ اس کے بعد توبہ کرے یا نہ کرے۔ پس ذمی ہو یا مسلم جب گالی دے اور پھر اسلام لائے اور ان میں سے ہر ایک پر توبہ سے قبل قابو پا لیا گیا ہو تو اس پر حد کا قائم کرنا واجب ہے۔ اور اس کی حد اُسے قتل کرنا ہے۔ لہٰذا اس کو قتل کرنا واجب ہے خواہ توبہ کرے یا نہ کرے۔
یہ دلیل دو مقدمات پر مبنی ہے :۔
- ۱۔ ایک یہ کہ وہ اس آیت میں داخل ہے۔
- ۲۔ دوسرے یہ کہ اُسے قتل کرنا اس صورت میں واجب ہے جب اُسے توبہ سے
قبل پکڑ لیا جائے۔
دوسرا مقدمہ تو واضح ہے۔ اس لئے کہ ہمارے علم میں کوئی ایسا شخص نہیں جو اس بات کی مخالفت کرتا ہو کہ محاربین کو اگر توبہ سے قبل پکڑ لیا جائے تو اُن پر حد لگانا واجب ہے۔ اگرچہ وہ پکڑے جانے کے بعد توبہ کر لیں ۔ آیت میں اس کا واضح بیان موجود ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ ان کا بدلہ ان چار حدود میں سے ایک ہے۔ ماسوا ان لوگوں کے جو قابو پانے سے قبل پکڑ لیئے جائیں۔ جو شخص قابو آنے سے قبل توبہ کر لے تو ان امور میں سے کوئی بھی اس کا بدلہ نہیں۔ اور دوسرے لوگوں کا بدلہ ان میں سے ایک ہے۔ اصحاب حدود کو سزا دینا اس آیت کے مطابق ضروری ہے۔ اس لئے کہ جرم کی سزا جب وہ کسی بندہ کا حق نہ ہو ۔ بلکہ حدود اللہ میں سے
ایک حد ہو ۔ تو سب مسلمانوں کے نزدیک اس کی تکمیل ضروری ہے ۔ جیسا کہ آیتِ سَرِقَہ میں فرمایا :۔ فَاقْطَعُوْا أَيْدِيَهُمَا جَزَاءً بِمَا كَسَبَا ه (المائدة - ۳۸) (ان دونوں کے ہاتھ کاٹ دو یہ ان کے کئے کا بدلہ ہے) پس آیت میں ہاتھ کاٹنے کا حکم دیا جو ان کے کئے کی سزا ہے۔ اگر یہ شرعی سزا جو ایک حد کی صورت میں عائد کی گئی ہے اگر واجب نہ ہوتی تو یہ وجوب قطع کو اس کے ساتھ معلّل نہ کیا جاتا۔ اس لئے کہ علت مطلوبہ کا حکم سے بلیغ تر اور قویٰ تر ہونا ضروری ہے۔ اور جزاء فعل کا نام بھی ہے اور جس چیز کے ساتھ سزا دی جاتی ہے اس کو بھی جزاء کہا جاتا ہے۔ اسی لئے آیت کریمہ :۔ فَجَزَاءٌ مِّثْلُ مَا قَتَلَ (المائدة - ۹۵) کو تنوین (فَجَزَاءٌ) کے ساتھ بھی پڑھا جاتا ہے اور 'مِثْلُ' کی طرف مضاف کر کے (مِثْلِ مَا) بھی۔ یہی حال " الثواب والعقاب " اور دیگر الفاظ کا ہے۔ پس 'قَتْلُ' اور 'قَطْعُ' کا اطلاق بعض اوقات سزا اور عبرت آمیز پر بھی کیا جاتا ہے۔ اور گاہے سزا اور بدلہ لینے کے فعل کو بھی جزاء کہتے ہیں۔ اسی لئے اکثر علماء کہتے ہیں کہ 'جَزَاءً' مفعول لہ ہونے کی وجہ سے منصوب ہے۔ آیت کا مطلب یہ ہے کہ اللہ نے ہاتھ کاٹنے کا حکم اس لئے دیا ہے تاکہ ان سے بدلہ لے اور اس فعل سے انہیں باز رکھے۔
یہ بھی کہا گیا ہے کہ " جَزَاءً " مفعول مطلق ہونے کی وجہ سے منصوب ہے۔ اس لئے کہ "فَاقْطَعُوْا" کے معنی یہ ہیں کہ ان سے بدلہ لو اور انہیں عبرت سکھاؤ۔ بعض علماء کے نزدیک یہ حال ہونے کی وجہ سے منصوب ہے۔ اس طرح آیت کے معنی یہ ہیں کہ " ان کے ہاتھ کاٹ دو ان سے بدلہ لیتے ہوئے اور ان کو اور دُوسروں کو عبرت سکھلاتے ہوئے " یا یہ معنی کہ ان سے بدلہ لیتے ہوئے اور ان کو عبرت سکھلاتے ہوئے۔ بہر کیف ' جَزَاءً ' کا لفظ یا تو مامور بہ ہے (اگر اس کو مفعول مطلق قرار
دیا جائے) یا مامور لاجلہ ہے (بشرطیکہ جزاء کو مفعول لہ تسلیم کیا جائے، پس ثابت ہوا کہ (جزاء) شرعاً واجب الحصول ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ جنگ لڑنے والوں کی سزا چار حدود شرعیہ میں سے ایک حد ہے ۔ لہٰذا اس کو حاصل کرنا واجب ہے ۔ اس لئے کہ جزاء میں فعل اور مجزی بہ (سزا) کا مفہوم متحد ہو جاتا ہے ۔ کیوں کہ قتل ، قطع اور صلب (سولی دینا) کے الفاظ فعل بھی ہیں اور جس چیز کے ساتھ سزا دی جاتی ہے (مجزی بہ) وہ بھی ۔ اور یہ "مِنَ النَّعَمِ" کی طرح جسمانی اشیاء نہیں ہیں ۔
اس کی مزید توضیح اس سے ہوتی ہے کہ اس آیت میں ان احکام خداوندی سے مطلع کیا گیا ہے جن کو انجام دینے کے لئے حاکم وقت مامور ہے ۔ یہ ان احکام میں سے نہیں جن کو حاکم اپنی صوابدید کے مطابق انجام دے سکتا ہے اور ترک بھی کر سکتا ہے۔ اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے گناہگاروں کے بارے میں ایسے احکام نہیں دیئے جن کو حاکم وقت انجام بھی دے سکتا ہو اور ترک بھی کر سکتا ہو۔ مزید برآں ارشاد خداوندی ہے ، "لَهُمْ خِزْيٌ" (ان کے لئے رسوائی کے موجب ہیں) اور رسوائی سزا دینے سے ہوتی ہے نہ کہ اس کو ترک کرنے سے ۔ مزید برآں اگر یہ سزا حاکم کی صوابدید پر منحصر ہوتی تو معاف کرنا زیادہ بہتر ہوتا ۔ قرآن میں فرمایا :-
- (۱ وَلَئِنْ صَبَرْتُمْ لَهُوَ خَيْرٌ لِلصَّابِرِينَ
(النحل - ۱۲۶)
اور اگر تم صبر کرو تو وہ صبر کرنے والوں کے لئے بہتر ہے ۔
- (۲ فَمَنْ تَصَدَّقَ بِهِ فَهُوَ كَفَّارَةٌ
(المائدہ - ۴۵)
جو اسے معاف کردے تو وہ اس کے لئے کفارہ ہے ۔
- (۳ فَدِيَةٌ مُسَلَّمَةٌ إِلَى أَهْلِهِ إِلَّا أَنْ يَصَّدَّقُوا
(النساء - ۹۲)
اور دیت ہے جو اس کے اہل کو سپرد کی جائے گی
مزید برآں حدیث نبوی اور اجماع اُمت میں ایسے بیشمار دلائل پائے
جاتے ہیں جن سے واضح ہوتا ہے کہ حدود شرعیہ کا قائم کرنا سلطان پر واجب ہے ہمارے علم کی حد تک کوئی شخص بھی ایسا موجود نہیں جو بعض قرآنی آیات کی بناء پر محاربین کی سزا کے وجوب کی مخالفت کرتا ہو ۔ البتہ حدود شرعیہ کے معاملہ میں اس نوع کا اختلاف ضرور پایا جاتا ہے کہ آیا ہر جرم کی سزا شرعاً متعین ہے ۔ جیسا کہ مشہور ہے، یا اس کا مدار و انحصار حاکم کی صوابدید اور مصلحت بینی پر ہے پس وجوب جزاء کے مسئلہ میں طوالت سے کام لینے کی ضرورت نہیں ۔ البتہ ہم یہ کہتے ہیں کہ دشنام دہندہ کی طے شدہ سزا قتل ہے جس طرح ہم نے قبل ازیں بکثرت دلائل کی روشنی میں اسے ثابت کیا ہے ۔ اس ضمن میں سلطان کو یہ اختیار حاصل نہیں کہ اگر چاہے اس کا ہاتھ کاٹ دے اور اگر چاہے جلا وطن کر دے ۔ اور جب ان حدود شرعیہ میں سے اس کی سزا قتل ہے ۔ اور توبہ کرنے سے قبل وہ پکڑا بھی جا چکا ہے ۔ تو محارب ہونے کی صورت میں اُسے لازماً یہ سزا دی جائے گی ۔
اب ہم پہلے مقدمہ کی مزید توضیح کرتے ہیں ۔ وہ مقدمہ یہ ہے کہ یہ شخص اللہ اور اس کے رسول کے خلاف جنگ کرنے والوں اور خدا کی زمین میں فساد برپا کرنے والوں میں سے ہے ۔ اس کے متعدد وجوہ ہیں ۔
دشنام دہندہ اللہ اور اُس کے رسول کے خلاف جنگ لڑنے والا ہے
پہلی وجہ
اس کی پہلی دلیل وہ حدیث ہے جس کو ہم نے بطریق عبداللہ بن صالح کاتب لیث از معاویہ ابن صالح از علی بن ابی طلحہ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے آیت کریمہ ”إِنَّمَا جَزَاءُ الَّذِيْنَ“ کی تفسیر میں روایت کیا ہے کہ اہل کتاب کی ایک قوم اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مابین عہد و پیمان تھا ۔ انہوں نے عہد کو توڑ ڈالا اور زمین میں فساد برپا کیا ۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو اختیار دیا کہ اگر چاہیں انہیں قتل کر دیں اور اگر چاہیں تو انہیں سولی دیں ۔ اور اگر چاہیں تو ان کے ہاتھ اور پاؤں طرف مخالف سے کاٹ ڈالیں
باقی رہا جلا وطن کرنا تو وہ یہ ہے کہ زمین میں دور بھاگ جائے، اگر توبہ کرنے کے لئے آئے اور اسلام میں داخل ہو جائے تو اس کی توبہ قبول کی جائے اور سابقہ جرم کی بناء پر اس کا مؤاخذہ نہ کیا جائے۔
اس آیت کا ذکر کرنے کے بعد دوسری جگہ فرمایا ”جس نے مسلمانوں کے مرکز میں ہتھیار بلند کئے اور ڈاکہ ڈالا، اور پھر اسے پکڑ لیا گیا تو مسلمانوں کے حاکم کو یہ اختیار ہے کہ اگر چاہے اسے قتل کرے، اگر چاہے سولی دے اور اگر چاہے اس کا ہاتھ اور پاؤں کاٹ ڈالے۔ پھر فرمایا ”اَوْ يُنْفَوْا مِنَ الْاَرْضِ“ یعنی دارالاسلام سے دارالحرب کی طرف نکال دیا جائے۔ اگر تمہارے قابو پانے سے قبل وہ توبہ کرلیں تو جان لو کہ اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔
اسی طرح محمد بن یزید واسطی نے بطریق جویبر از ضحاک مذکورہ صدر آیات کی تفسیر میں روایت کیا ہے کہ اہل کتاب کی ایک جماعت اور رسول کریم کے مابین عہد و پیمان تھا۔ انہوں نے عہد توڑ کر زمین میں فساد مچایا۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولؐ کو اختیار دیا کہ اگر چاہیں انہیں قتل کریں یا سولی دیں یا ان کے ہاتھ پاؤں مخالف طرف سے کاٹ دیں۔ ”نفی“ کے معنی یہ ہیں کہ وہ بھاگ جائیں اور اُن پر قابو نہ پایا جاسکے۔ اگر توبہ کرنے کے لئے آئے اور حلقہ بگوش اسلام ہو تو اس کی توبہ قبول کی جائے، اور سابقہ جرائم کی بناء پر انہیں پکڑا نہ جائے۔ ضحاک کہتے ہیں کہ جو مسلم شخص کسی کو قتل کرے یا حد شرعی کا مرتکب ہو یا مسلمانوں کا مال لے اور مشرکوں کے پاس چلا جائے تو اس کی توبہ مقبول نہیں حتیٰ کہ وہ لوٹ کر آئے، اپنا ہاتھ مسلمانوں کے ہاتھ میں دے اور بھاگنے سے قبل جو خون ریزی کی تھی یا کسی کا مال لیا تھا اس کا اعتراف کرے۔ خواہ اس کے پاس موجود ہو یا اس سے لے لیا گیا ہو۔
مذکورہ صدر ہر دو احادیث سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ آیت اہل کتاب معاہدین کے بارے میں نازل ہوئی، جنہوں نے عہد شکنی کر کے زمین میں فساد برپا کیا تھا۔ کلبی کی تفسیر میں بھی بطریق ابی صالح از ابن عباس اسی طرح منقول ہے۔
اگرچہ کلبی اس روایت کرنے میں منفرد ہو تو اُسے تسلیم نہیں کیا جاسکتا ۔ اور وہ یہ کہ یہ آیت ایک قوم کے بارے میں اُتری جس نے مسلمانوں سے صلح کر رکھی تھی۔ اصل قصہ یوں ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ابو بردہ اسلمی یعنی ھلال بن عویمر سے مصالحت کر رکھی تھی کہ نہ وہ آپ کی مدد کرے گا اور نہ آپ کے دشمنوں کو مدد دیگا۔ نیز یہ کہ جو مسلم اس کے یہاں آئے گا وہ امن میں رہے گا اور کوئی اس پر حملہ نہیں کرے گا ۔ اور ان میں سے جو شخص مسلمانوں کے پاس جائے گا اس پر بھی حملہ نہیں کیا جائے گا۔ اور اگر کوئی شخص ھلال بن عویمر کو رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس لے جائے گا تو بھی وہ مامون رہے گا۔
راوی کا بیان ہے کہ قبیلہ بنو کنانہ کے کچھ لوگ اسلام لانے کے ارادے سے نبیؐ سلم کے یہاں آئے جو ھلال بن عویمر کی قوم کے ساتھ تعلق رکھتے تھے اس روز ھلال موجود نہ تھا۔ قبیلہ اسلم کے لوگوں نے حملہ کر کے ان کو قتل کر دیا اور ان کا مال بھی لے لیا۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو پتہ چلا تو جبرئیلؑ نے آ کر واقعہ کی تفصیل بیان کی۔ یہ بھی ذکر کیا گیا ہے کہ یہ آیت ان معاہدین کے بارے میں اتری جو اہلِ کتاب میں سے نہ تھے۔
عکرمہ نے ابن عباسؓ سے نقل کیا ہے ۔ حسن کا قول بھی یہی ہے ۔ کہ یہ آیت مشرکین کے بارے میں نازل ہوئی ۔ غالباً اس سے عہد شکنی کرنے والے لوگ مراد ہیں جیسا کہ انہوں نے کہا۔ اس لئے کہ اصلی کافر پر یہ آیت منطبق نہیں ہوتی ۔
جس روایت سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ عہد شکنی کرنے والا مسلمانوں کو ایذا دینے کی وجہ سے اس آیت میں داخل ہے وہ ہے جس کو ہم قبل ازیں حضرت عمرؓ بن الخطاب رضی اللہ عنہ سے نقل کر چکے ہیں ۔ اور وہ یہ کہ حضرت عمرؓ کے پاس ایک ذمی کو لایا گیا جس نے ایک مسلمان عورت کو دھکا دیا اور وہ گر گئی تو وہ اس پر چڑھ گیا ۔ چنانچہ حضرت عمرؓ کے حکم سے اسے سولی دیکر قتل کیا گیا۔ یہ اسلام میں پہلا مصلوب تھا۔ آپؓ نے فرمایا اے لوگو! ذمیوں کے بارے میں اللہ سے ڈرو اور ان پر ظلم نہ کرو جس نے ایسا کیا اس کیلئے کوئی ذمہ
نہیں ۔ اس روایت کو حضرت عمرؓ سے عون بن مالک اشجعی وغیرہ نے بھی نقل کیا ہے جیسا کہ پیچھے گزرا ۔ عبد الملک بن حبیب نے یہ قصہ خود عیاض بن عبد اللہ اشعری سے روایت کیا ہے کہ ایک عورت خچر پر سوار چلی جا رہی تھی کہ ایک کافر نے اُسے ٹھوکر دیا ۔ عورت خچر سے گر گئی تھی جس کی وجہ سے اس کا ستر کھل گیا ۔ یہ واقعہ حضرت عبیدہ بن الجراحؓ نے حضرت عمرؓ کو لکھ بھیجا ۔ حضرت عمرؓ نے جواب دیا کہ کافر کو اُسی جگہ سُولی دے دو ۔ ہم نے ان سے معاہدہ اس لیے نہیں کیا تھا ۔ ہم نے ان سے معاہدہ اس لئے کیا تھا کہ ذمّت قبول کر کے اپنے ہاتھ سے جزیہ ادا کریں ۔
حضرت امام احمد بن حنبلؒ نے ایک مجوسی کے بارے میں ، جس نے ایک مسلم عورت سے زنا کیا تھا فرمایا کہ اُسے قتل کیا جائے ۔ یہ نقضِ عہد ہے ۔ اگر ایسا آدمی اہل کتاب میں سے ہو تو اُسے بھی قتل کیا جائے ۔ ایک یہودی نے ایک مسلم عورت کے ساتھ زنا کیا تو حضرت عمرؓ نے اُسے سولی دے دیا اور کہا یہ عہد شکنی ہے ۔ امام احمدؒ سے دریافت کیا گیا ۔ کیا آپ کے نزدیک اُسے سولی دے کر قتل کیا جائے ؟ فرمایا ، اگر کوئی شخص حضرت عمرؓ کی روایت پر عمل کرے تو اس کے ساتھ یہی سلوک کیا جائے گا ۔ اس طرح امام احمد نے اسی حدیث پر کوئی تنقید نہ کی ۔
دیکھئے حضرت عمرؓ ، ابو عبیدہؓ ، عون بن مالکؓ اور ان کے معاصر سابقین اَوّلین صحابہ رضوان اللہ علیہم ایسے آدمی کو قتل کرنے اور سولی دینے کو حلال سمجھتے ہیں ۔ حضرت عمرؓ نے فرمایا تھا کہ ہم نے ان سے اس لئے معاہدہ نہیں کیا تھا کہ ایسا فساد بپا کریں ۔ بیشک ان کا عہد ٹوٹ گیا ۔ اس سے معلوم ہوا کہ عہد شکنی کرنے والے کے بارے میں انہوں نے یہی تاویل کی تھی کہ یہ اللہ اور اس کے رسولؐ کے خلاف جنگ اور فساد بپا کرنے کی کوشش ہے ۔ بنا بریں ان کے قتل کرنے اور سولی دینے کو انہوں نے حلال ٹھہرایا ہے ۔ ورنہ ایسے آدمی کو سولی دینا جائز نہیں ، ما سوا ان لوگوں کے جن کا ذکر اللہ نے اپنی کتاب میں کیا ہے ۔ دیگر اکابر نے کہا جن میں ابن عمرؓ ، انس بن مالکؓ ، مجاہد ، سعید بن جبیر ، عبد الرحمٰن بن جبیر ،
مکحول، قتادہ، وغیرہم رضوان اللہ علیہم اجمعین شامل ہیں کہ یہ آیت قبیلہ عرینہ والوں کے بارے میں نازل ہوئی جو اسلام سے برگشتہ ہوگئے تھے۔ انہوں نے رسول کریمؐ کے چرواہے کو قتل کردیا اور آپؐ کے اونٹ ہانک کر لے گئے۔ قبیلہ عرینہ والوں کا واقعہ مشہور ہے۔ دونوں احادیث کے درمیان کوئی منافات نہیں پائی جاتی۔ اس لئے کہ اسباب نزول بعض دفعہ متعدد ہوتے ہیں اور الفاظ کے مفہوم میں عموم پایا جاتا ہے۔ (اُس لئے وہ الفاظ جملہ اسباب نزولی پر مشتمل ہوتے ہیں) عام علما کا موقف بھی یہی ہے کہ یہ آیت مسلم، مرتد اور عہد شکنی کرنے والوں پر مشتمل ہے جیسا کہ امام اوزاعیؒ نے اس آیت کے بارے میں فرمایا :- یہ حکم اللہ نے اس اُمت کے بارے میں اور اُس آدمی کے متعلق نازل فرمایا جو مسلمانوں کے خلاف نبرد آزما ہو یا ذمیوں میں سے ہو، خواہ اسلام پر قائم ہو یا اس سے برگشتہ ہو گیا ہو۔
کچھ احادیث صحیحہ، حضرت علیؓ، ابو موسیٰ، ابو ہریرہ وغیرہم رضی اللہ عنہم سے مروی ہیں جو اس امر کی مقتضیٰ ہیں کہ اس آیت کا حکم ان لوگوں کے بارے میں ہے جو رہزنی یا اس قسم کے کام کر کے مسلمانوں سے جنگ آزما ہو اور دین اسلام پر قائم ہو۔ اسی لئے جمہور فقہائے صحابہ و تابعین اور اُن کے بعد آنے والے علماء اس آیت سے رہزنوں کی حد شرعی پر استدلال کرتے ہیں۔ مقصد یہ ہے کہ عہد شکنی کرنیوالا اور اسلام سے برگشتہ ہونے والا اپنی ضرر رسانی کی وجہ سے اس آیت میں داخل ہے۔ جیسا کہ ہم نے اس کے دلائل صحابہ و تابعین سے نقل کئے ہیں۔ اگر چہ اس میں بعض وہ لوگ بھی شامل ہیں جو اسلام پر قائم ہیں۔ اور یہ پیمان شکن مسلمانوں کو ضرر پہنچانے کی وجہ سے عہد کو توڑنے والا ہے، لہٰذا وہ اس آیت میں شامل ہوگا۔
جو چیز اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ اس سے ناقضین عہد فی الجملہ مراد ہیں یہ ہے کہ بنو قینقاع اور بنو نضیر جب عہد توڑ کر دار الحرب چلے گئے تھے تو رسول کریمؐ نے
اُن کو جلا وطن کردیا تا کو قتل کر دیا تھا۔ جب لوگوں کو قتل کیا اور کے بارے میں وہی خداوندی پر مبنی ہو
عہد شکنی ک
تو گویا
وجہ دوم
نقض عہد کی مسلمانوں سے بنا بریں جو شخص رسولؐ کے سا جنگ کرنے یا اس وقت توڑ ڈالے چکے ہیں کہ وہ رضی اللہ ع کرنے والا جس اسے گما
اُن کو جلاوطن کر دیا تھا۔ اور جب بنو قریظہ اور بعض اہل خیبر نے عہد توڑا تو رسول کریم نے ان کو قتل کر دیا تھا۔ جب بعض لوگوں نے عہد توڑ کر مسلمان کو نقصان پہنچایا تو صحابہؓ نے ایسے لوگوں کو قتل کیا اور سولی دیا تھا۔ پس رسول کریمؐ اور آپ کے خلفاء کا حکم عہد شکنی کرنیوالوں کے بارے میں وہی تھا جو اس آیت میں مذکور ہے۔ یہ حکم اس لائق ہے کہ یہ اطاعت خداوندی پر مبنی ہو۔ اس آیت میں دلیل موجود ہے کہ اس سے وہی لوگ مراد ہیں ۔
عہد شکنی کرنے والے مسلمانوں کے خلاف جنگ کرنا ہے
تو گویا وہ اللہ کے خلاف نبرد آزما ہے !
وجہ دوم
اس میں شبہ نہیں کہ ناقض عہد، مرتد اور موذی اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خلاف جنگ کرنے والے ہیں، نقض عہد کی حقیقت یہ ہے کہ یہ مسلمانوں کے خلاف اعلان جنگ ہے اور مسلمانوں سے جنگ اللہ اور اس کے رسولؐ کے خلاف اعلان حرب و پیکار ہے۔ بنابریں جو شخص مسلمانوں سے ان کے دین کی وجہ سے لڑتا ہے وہ اللہ اور اس کے رسولؐ کے ساتھ بالاولیٰ جنگ کرنے والا ہے۔ پھر یا تو اس وقت تک ان کے خلاف جنگ کرنے والا نہ ہوگا جب تک اُن سے لڑے نہیں اور ان کی مدد سے باز نہ رہے یا اس وقت محارب کہلائے گا جب وہ مسلمانوں کو نقصان پہنچائے اور اپنا عہد توڑ ڈالے۔ اگرچہ اُن سے جنگ آزما بھی ہو۔ پہلی بات تو صحیح نہیں، جیسا کہ ہم بتا چکے ہیں کہ وہ عہد توڑ کر محاربین میں شامل ہو گیا۔ نیز اس لئے کہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے فرمایا تھا کہ ”جو معاھد انبیاء کو گالیاں دے وہ محارب اور عہدشکنی کرنے والا ہے“۔
جس ذمی نے ایک مسلمہ سے بدکاری کا ارتکاب کیا تھا جب کہ اس کی سواری نے اُسے گرا دیا تھا، حضرت عمرؓ اور تمام صحابہؓ نے اُسے بدیں وجہ محارب قرار دیا تھا اور
اُسے قتل کرنے اور سولی دینے کا حکم دیا تھا۔ اس سے معلوم ہوا کہ محارب ہونے کے لئے مقاتلہ شرط نہیں، بلکہ ہر وہ شخص جو ضرر رساں افعال و اعمال کی وجہ سے عہد شکنی کرے وہ محارب ہے اور ان کے نزدیک اس آیت میں داخل ہے۔ اگر سوال کیا جائے کہ پھر تو اس سے لازم آتا ہے کہ جو شخص بھی مسلمانوں کو نقصان پہنچا کر عہد شکنی کا ارتکاب کرے اور قابو پانے پر وہ اسلام لے آئے تو اُسے قتل کیا جائے ۔
اس کا جواب یہ ہے کہ ہمارا قول یہی ہے اور آیت کا جو سبب نزول ہم نے ذکر کیا ہے وہ بھی اسی پر دلالت کرتا ہے اس لئے کہ جب یہ آیت ان لوگوں کے بارے میں نازل ہوئی جنہوں نے فساد برپا کر کے عہد شکنی کی تھی اور ان ہی لوگوں کے بارے میں کہا گیا ہے کہ مگر وہ لوگ جو تمہارے قابو میں آنے سے پہلے توبہ کرلیں (المائدۃ ۳۴) (اس آیت سے معلوم ہوا کہ قدرت کے بعد توبہ کرنے والے کو آیت کے حکم پر باقی چھوڑا گیا ہے)
عہد شکنی کرنے والا
کبھی اس پر محدود رہتا ہے اور گاہے اس سے بڑھ جاتا ہے
وجہ سوم
ہر عہد شکنی کرنے والا اللہ اور اس کے رسول کے خلاف جنگ کرتا ہے۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو اس کو قتل کرنا جائز نہ ہوتا پھر اس کا معاملہ دو حال سے خالی نہیں ، یا تو وہ محض عہد شکنی پر اکتفاء کرے گا۔ بایں طور کہ دارالحرب کو چلا جائے گا، یا اس پر مزید فساد کا اضافہ کرے گا۔ اگر پہلی صورت ہے تو اُس نے صرف اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خلاف صرف جنگ کی تو یہ آیت میں داخل نہیں اور اگر دوسری صورت ہو تو اس نے جنگ کیا اور خدا کی زمین میں فساد کی کوشش کی ۔ مثلاً یہ کہ وہ کسی مسلم کو قتل کرے، یا رہزنی کرے یا کسی مسلمان عورت کو چھین لے یا اللہ کی کتاب، اس کے رسولؐ اور اُس کے دین کو ہدف طعن و تنقید بنائے یا کسی مسلم کو دین سے برگشتہ کرے ، ظاہر ہے کہ ایسے شخص نے اپنا عہد توڑ کر اللہ
اور اس کے رسول کے خلاف جنگ کی ، اور مسلمانوں میں فساد پیدا کر کے خدا کی زمین میں فساد برپا کیا اور ان کے دین یا دنیا کو بگاڑا ۔ یہ آیت میں داخل ہے لہٰذا اس کو قتل کرنا واجب ہے ۔ یا اُسے قتل کرنے کے ساتھ ساتھ سُولی بھی دی جائے ، یا اُسے جلاوطن کیا جائے ، یا دار الحرب کو چلا جائے ، جب کہ اُسے پکڑا نہ جاسکے ، اور اگر اُس نے رہزنی کی اور کسی کا مال لیا ہو تو اس کا ہاتھ اور پاؤں کاٹا جائے ۔ یہ سزا اس سے ساقط نہ ہوگی ، الاّ یہ کہ پکڑے جانے سے قبل توبہ کر لے اور مطلوب بھی یہی چیز ہے ۔
دشنام دہندہ اللہ اور اُس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا دشمن ہے
دشنام دہندہ اللہ اور اس کے رسولؐ سے جنگ کرنے والا ، وجہ چہارم | اور خدا کی زمین میں فساد بپا کرنے والا ہے ، اُس لئے وہ اس آیت میں داخل ہے ۔ کیونکہ وہ اللہ اور اس کے رسول کا دشمن ہے اور جو شخص اللہ اور اس کے رسول سے عداوت رکھتا ہے وہ ان کے خلاف نبرد آزما ہے ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ جس شخص نے رسول کریمؐ کو گالی دی تھی اس کے بارے میں آپؐ نے فرمایا تھا ” کون ہے جو مجھے میرے دشمن سے بچائے ؟ “ کئی طریقوں سے ہم اس کا ذکر کرچکے ہیں ۔ اور جب یہ شخص اللہ اور اس کے رسولؐ کا دشمن ہے تو یہ ان کے خلاف برسر پیکار ہے ۔
حدیث قدسی | امام بخاریؒ نے اپنی صحیح میں حضرت ابوہریرہؓ سے روایت کیا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :-
" جس نے میرے کسی دوست سے دشمنی رکھی تو اس نے مجھے جنگ کی دعوت دی ۔ "
حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول کریم کو فرماتے سنا کہ :-
"تھوڑی سی ریا کاری بھی شرک ہے، اور جس نے اللہ کے دوستوں سے دشمنی رکھی اس نے اللہ کو جنگ کی دعوت دی"
جب اللہ کے کسی ایک دوست سے عداوت رکھنا، اللہ کے خلاف اعلانِ جنگ کے مترادف ہے، تو پھر اس شخص کی کیا حالت ہوگی جو اس کے چیدہ و برگزیدہ احباب سے عداوت رکھتا ہو۔ وہ تو بلاشبہ سخت اعلانِ جنگ کرنے والا ہوگا ۔ اور جب وہ اللہ کے خلاف اس لئے جنگ کرتا ہے کہ وہ اس کے رسولؐ سے عداوت رکھتا ہے تو وہ رسولؐ کے خلاف بالاولٰی اعلانِ جنگ کرنے والا ہے۔ پس ثابت ہوا کہ رسول کریمؐ کو گالی دینے والا اللہ اور اس کے رسولؐ کے خلاف اعلانِ جنگ کرنے والا ہے۔
غیر نبی سے جنگ کرنے والا محارب نہیں ہے
اگر سائل کہے کہ جو شخص غیر نبی کو گالی دے تو اس نے اللہ کو جنگ کی دعوت دی۔ اس لئے کہ جب اس نے گالی دی تو گویا اس نے اس کے ساتھ عداوت رکھی، جیسا کہ تم نے ذکر کیا۔ اور جب اس سے دشمنی رکھی تو اس نے اللہ کو جنگ کی دعوت دی، جیسا کہ حدیث صحیح میں آیا ہے۔ مگر بایں ہمہ وہ محاربہ مذکورہ میں داخل نہیں، اس طرح دلیل ٹوٹ گئی۔ اس سے لازم آتا ہے کہ یہ محاربہ، محاربہ بالید میں تبدیل ہوگیا۔
اس کے جواب میں کہا جائے گا کہ یہ کئی وجوہ سے باطل ہے :۔
وجہ اوّل
اس کی پہلی وجہ یہ ہے کہ یہ ضروری نہیں کہ جو شخص بھی غیر انبیاء کو گالی دے وہ اُن سے دشمنی رکھتا ہو۔ کیونکہ یہ بات کسی دلیل سے ثابت نہیں ہوتی۔ فرمانِ باری تعالیٰ ہے :۔
"وہ لوگ جو مومن مردوں اور عورتوں کو دُکھ دیتے ہیں بغیر اس کے کہ انہوں نے کوئی (جرم) کیا ہو انہوں نے بہتان لگایا اور بڑے
گناہ کا ارتکاب کیا ۔ "
(الاحزاب - ۵۸)
اس سے قبل یہ فرمایا کہ جو شخص بھی اللہ اور اس کے رسولؐ کو ایذا دیتا ہے اس پر اللہ نے دنیا اور آخرت میں لعنت کی ہے ۔ اس سے معلوم ہوا کہ مومن کو بعض اوقات اس کے کسی جرم کی وجہ سے بھی ایذا دی جاتی ہے اور وہ ایذا حق بہ جانب ہوتی ہے ۔ مثلاً اس پر حد لگانا یا گالی کا بدلہ لینا ومثل ایں ۔ حالانکہ وہ اللہ کا دوست ہے ، اور جب کہ یہ بات بعض اوقات واجب اور بعض دفعہ جائز ہوتی ہے تو اس کو ایذا دینے والا اندریں حالت اس کا دشمن نہیں ہوگا ۔ کیونکہ مومن پر واجب ہے کہ مومن سے دوستی رکھے اور عداوت نہ رکھے ، اگرچہ وہ اس کو اس بات کی شرعی سزا دے ۔ جس طرح قرآن میں فرمایا :-
" اِنَّمَا وَلِيُّكُمُ اللّٰهُ وَ رَسُوْلُهٗ وَ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا "
(المائدہ ۵۵)
" بیشک تمہارا دوست اللہ ، اس کا رسولؐ اور وہ لوگ ہیں جو ایمان لائے "
نیز فرمایا :
" وَ مَنْ يَّتَوَلَّ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ وَ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا
(المائدہ ۵۶)
" اور جو شخص اللہ ، اس کے رسولؐ اور اہل ایمان سے دوستی لگائے
وجہ دوم
جو شخص رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے علاوہ کسی اور کو گالی دے تو گالی دینے کے باوجود کسی اور طریقہ سے اس کے ساتھ دوستی بھی ہوسکتی ہے ۔ اس لئے کہ اگر مسلم کو ناحق گالی دی گئی ہو تو یہ فسق ہے اور فاسق اہل ایمان سے دشمنی نہیں بلکہ دوستی رکھتا ہے ۔ مومن کو گالی دینے کے ساتھ ساتھ اس کا عقیدہ یہ ہوتا ہے کہ کسی اور طرح سے اس کے ساتھ دوستی لگانا بھی ضروری ہے ۔ باقی رہا رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو گالی دینا تو یہ آپؐ کی نبوت کے عقیدہ کے منافی ہے ۔ اس سے لازم آتا ہے کہ گالی دینے والا آپؐ سے بیزار ہے ۔ اور آپؐ سے دشمنی رکھتا ہے ، اس لئے کہ آپؐ کی عدم نبوت
کا عقیدہ ـــــ حالانکہ وہ آپؐ کو نبی کہتا ہے جس کا تقاضا یہ ہے کہ آپؐ سے نبیوں جیسا سلوک کیا جائے ـــــ اس امر کا موجب ہے کہ آپؐ سے حدِّ درجہ کی عداوت رکھی جائے
وجہ سوم
اگر فرض کیا جائے کہ غیر نبی کو گالی دینا اس کے ساتھ عداوت رکھنا ہے۔ مگر کوئی معیّن شخص اس کے حق میں اس امر کی شہادت نہیں دیتا کہ وہ اللہ کا ولی ہے۔ ایسی شہادت جس سے یہ واجب ہو کہ اس پر ایسے احکام مرتّب ہوں جو خون کو مباح کرنے والے ہوں، برخلاف اس کے کہ نبی کے لئے ولایت کی شہادت دی جائے (کہ وہ شہادت ہر حال میں صحیح اور درست ہے) چونکہ بعض صحابہؓ کے بارے میں یہ شہادت دی جاتی تھی کہ وہ ولایت کے مرتبہ پر فائز ہیں، اس لئے ان کو گالی دینے والے کے بارے میں اختلاف رُونما ہوا، جس پر ہم آگے چل کر روشنی ڈالیں گے۔ اِنْ شَاءَ اللّٰہُ تَعَالٰی :
وجہ چہارم
اگر فرض کیا جائے کہ اس نے خدا کے ولی سے عداوت رکھی جس کا ولی ہونا معلوم ہے، تو یہ اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ اس نے اللہ تعالیٰ کے خلاف اعلانِ جنگ کیا۔ مگر اس میں اللہ اور اس کے رسول کے محاربہ کا ذکر نہیں ہے۔ آیت میں جس جزاء کا ذکر کیا گیا ہے وہ اس کے لئے ہے جو اللہ اور اس کے رسول کے خلاف اعلانِ جنگ کرے۔ اور جس نے رسول کو گالی دی اس نے رسول کے ساتھ عداوت رکھی۔ اور جس نے رسول سے عداوت رکھی اس نے رسول کے خلاف اعلانِ جنگ کیا۔ مگر اُس نے اللہ کے خلاف بھی اعلانِ جنگ کیا جیسا کہ حدیث میں مذکور ہے۔ بنا بریں وہ اللہ اور اس کے رسول سے جنگ کرنے والا ہوگا۔ اور اللہ اور اس کے رسول کے خلاف اعلانِ جنگ صرف اللہ کے خلاف اعلانِ جنگ کرنے سے خاص تر ہے۔ اور جو حکم اخصّ کے ساتھ معلّق ہو وہ
اس بات پر دلالت نہیں کرتا کہ وہ اعم کے ساتھ بھی معلق ہے ۔ اس لئے کہ رسولؐ کے ساتھ محاربہ اس امر کا مقتضی ہے کہ وہ شخص رسولؐ کی لائی ہوئی رسالت کا بھی مخالف ہے ۔ مگر کسی خاص ولی کی مخالفت کرنے سے رسالت کی مخالفت لازم نہیں آتی ، برخلاف رسولؐ پر طعن کرنے کے (کہ اس سے رسالت پر طعن لازم آتا ہے ) ۔
وجہ پنجم
آیت میں جس جزاء کا ذکر کیا گیا ہے وہ اس شخص کے لئے ہے جو اللہ اور اس کے رسول کے خلاف جنگ کرے اور خدا کی زمین میں فساد کی کوشش کرے ۔ اور جو شخص رسولؐ پر طعن کرتا ہے ، وہ اللہ اور اس کے رسولؐ کے خلاف جنگ کرتا ہے جیسا کہ پیچھے گزرا ۔ اس نے خدا کی زمین میں فساد کی کوشش بھی کی ہے جیسا کہ آگے آئے گا ۔ مگر ولی کو گالی دینے والا اگرچہ اللہ سے جنگ کرتا ہے مگر اس نے فساد کی کوشش نہیں کی ۔ اس لئے کہ زمین میں فساد کی کوشش یہ ہے کہ لوگوں کے دین و دنیا کو بگاڑا جائے ۔ اس کا تحقق رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر طعن کی صورت میں ہوتا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ ولی کی ولایت پر ایمان لانا لوگوں پر واجب نہیں ، البتہ نبی کی نبوت پر ایمان لانا ان پر واجب ہے ۔
وجہ ششم
ولی کو گالی دینے والے کے بارے میں اگر فرض کیا جائے کہ وہ اللہ اور اس کے رسولؐ کے خلاف جنگ کرتا ہے تو اس کا ایک عام لفظ سے ایک دلیل کی وجہ سے نکلنا جو اسے واجب کرتی ہے ، اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ رسولؐ کو گالی دینے والا اس سے نکل جائے ۔ اس لئے کہ دونوں عداوتوں کا فرق ظاہر ہے ۔ اور جب قولِ عام سے ایک صورت کو خاص کر دیا جائے تو اس سے ایسی دوسری صورت مخصوص نہیں کی جاسکتی جو کسی اور دلیل کے بغیر اس کے مساوی نہ ہو ۔
وجہ ہفتم
اس کو محاربہ بالید پر محمول کرنا دشوار ہے بجز حقِ ولی کے ۔ اس لئے
کہ جو شخص اپنے ہاتھ کے ساتھ عداوت کا اظہار کرتا ہے اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ وہ علی الاطلاق آیت کے حکم میں داخل ہو، مثلاً یہ کہ اُسے پیٹے، ومثل ایں، اس لئے کہ اس کے حق میں عداوت بالید اور عداوت باللسان دونو یکساں ہیں۔ برخلاف نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے، کہ آپ کے ساتھ عداوت بالید یا عداوت باللسان رکھنا برابر ہے، کیونکہ اس کا آیت میں داخل ہونا ممکن ہے، اور یہ دلیل سے ثابت ہے
جب یہ بات ثابت ہو گئی کہ یہ دشنام دہندہ اللہ اور اس کے رسول سے جنگ کرنے والا ہے، تو وہ فساد کی سعی کرنے والا بھی ہے کیونکہ فساد کی دو قسمیں ہیں (۱) دنیوی فساد جو خون، مال اور شرمگاہوں سے تعلق رکھتا ہے (۲) دینی فساد جو شخص رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو گالیاں دیتا ہے اور آپ کی توہین کرتا ہے وہ لوگوں کے دین کو بگاڑنے کی کوشش کرتا ہے، اور اس کے واسطے سے ان کی دنیا کو برباد کرتا ہے۔ خواہ ہم فرض کریں کہ اس نے کسی کے دین کو بگاڑا بھی ہے یا نہیں، فرمانِ باری تعالیٰ ہے:-
" وَيَسْعَوْنَ فِي الْأَرْضِ فَسَادًا "
(المآئدة - ۳۳)
اور زمین میں فساد کی کوشش کرتے ہیں
یہی کہا گیا ہے کہ "فساداً" مفعول لہ ہونے کی وجہ سے منصوب ہے آیت کے معنی یہ ہیں کہ " زمین میں فساد کے لئے کوشاں ہیں "۔ قرآن میں فرمایا :-
" اور جب پھر جاتا ہے تو زمین میں فساد کی کوشش کرتا ہے اور کھیتی اور نسل کو برباد کرتا ہے اور اللہ فساد کو پسند نہیں کرتا۔"
(البقرۃ - ۲۰۵)
سعی کے معنی عمل اور فعل کے ہیں۔ جس نے دین کو بگاڑنے کی کوشش کی تو اس نے خدا کی زمین میں فساد کی کوشش کی، اگرچہ اس کی سعی ناکام ہو۔
بعض اہل علم کے نزدیک "فساداً" مفعول مطلق یا حال ہونے کی وجہ سے
منصوب ہے۔ گویا عبارت یوں ہے " سَعٰی فِی الْاَرْضِ مُفْسِدًا "
جس طرح قرآن میں فرمایا :- " وَلَا تَعْثَوْا فِی الْاَرْضِ مُفْسِدِيْنَ "
(البقرہ - ۶۰)
(زمین میں فساد کرتے نہ پھرو) ۔
یہ بھی کہا جاتا ہے کہ یہ "جَلَسَ قُعُوْدًا" کی طرح ہے (یعنی دوسرے فعل سے مفعول مطلق ہے) یہ بات ہر اُس شخص سے کہی جاتی ہے جو ایسا کام کرے جو فساد کا موجب ہو۔ اگرچہ اس کی سعی کارگر نہ ہو، اس لئے کہ لوگ اُسے قبول نہیں کرتے۔ جس طرح ڈاکو جبکہ کسی کو قتل نہ کرے اور نہ کسی کا مال لے۔ حالانکہ اگر اُس پر حد نہ لگائی جائے تو یہ عمل فساد فی النفوس سے خالی نہیں ہوتا ۔
اس میں شبہ نہیں کہ دین کو ہدفِ طعن بنانا اور لوگوں کی نگاہ میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وقعت کو کم کرنا بہت بڑا فساد ہے، بالکل اسی طرح جیسے لوگوں کو آپؐ کے اکرام و احترام کی دعوت دینا عظیم ترین صلاح و فلاح ہے۔ ظاہر ہے کہ فساد صلاح کی ضد ہے، اور ہر قول یا عمل جس کو اللہ پسند کرتا ہو وہ صلاح ہے اور وہ قول یا عمل جس کو اللہ ناپسند کرتا ہو وہ فساد ہے۔ قرآن میں فرمایا :- " خدا کی زمین میں اصلاح کے بعد فساد بپا نہ کرو۔ "
(الاعراف - ۵۶)
یعنی ایمان و طاعت کے بعد کفر و معصیت اختیار نہ کرو، فساد دو قسم کا ہوتا ہے :-
- (۱) فساد لازم جس کا فعل فَسَدَ یَفْسُدُ فَسَادًا آتا ہے۔
- (۲) فساد متعدی ۔ اس کا مصدر باب افعال سے اِفْسَادًا آتا ہے ۔
قرآن کریم میں فرمایا :- " سَعٰی فِی الْاَرْضِ لِيُفْسِدَ فِیْھَا "
(البقرہ - ۲۰۵)
زمین میں فساد بپا کرنے کی کوشش کرتا ہے
یہاں فساد سے یہی (متعدی فساد) مراد ہے ۔ اس لئے کہ یہاں فرمایا :- " وَيَسْعَوْنَ فِی الْاَرْضِ فَسَادًا
(المائدۃ - ۳۳)
زمین میں فساد کی کوشش کرتے ہیں ۔ یہ الفاظ اس شخص کے حق میں کہے جاتے ہیں جو دوسرے کو بگاڑے ۔ اس لئے کہ اگر فساد بذاتِ خود رونما ہوتا تو یہ الفاظ استعمال نہ کئے جاتے ، یہ الفاظ زمین کے بارے میں استعمال کئے جاتے ہیں ، جب انسان سے الگ ہو ۔ قرآن میں فرمایا :- ”کوئی مصیبت ملک پر اور خود تم پر نہیں پڑتی مگر ایک کتاب میں لکھی ہوئی ہے“
(الحدید - ۲۲)
قرآن میں فرمایا :- ”سَنُرِيْهِمْ آيَاتِنَا فِي الْآفَاقِ وَفِي أَنْفُسِهِمْ“ ۔ سورة فصلت ۵۳ (ہم ان کو اپنی نشانیاں آفاق میں اور خود ان کی جانوں میں دکھائیں گے)
نیز فرمایا :- وَفِي الْأَرْضِ آيَاتٌ لِّلْمُوقِنِينَ ہ وَفِي أَنْفُسِكُمْ (الذاریات ۲۰-۲۱) اور زمین میں یقین کرنے والوں کے لئے نشانیاں ہیں اور خود تمہاری ذات میں
مزید برآں دشنام دہندہ اور اس قسم کے لوگ رسولؐ کے تقدس کو پامال کرنے آپؐ کی تنقیص کرنے ، اللہ اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور اس کے مومن بندوں کو ایذا دیتے ہیں ۔ دینِ اسلام کو مٹانے کے سلسلہ میں دشنام دہندہ سب کفار و منافقین سے زیادہ جری ہوتا ہے ۔ یہ اہل ایمان کو ذلیل کرنے ، دین کی عزت کو زائل کرنے اور کلمۃ اللہ کو پست کرنے کے خواہاں اور متمنی ہوتا ہے ۔ اور فساد بپا کرنے کی یہ زبردست ترین کوشش ہے، اس کی مؤید یہ بات ہے کہ قرآن میں زیادہ تر جس فساد فی الارض کی سعی اور یا فساد فی الارض کا ذکر کیا گیا ہے ۔ اس سے دین میں بگاڑ پیدا کرنا مراد ہے ۔ پس اس سے ثابت ہوا کہ دشنام دہندہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے جنگ لڑنے والا اور خدا کی زمین میں فساد برپا کرنے والا ہے ، لہٰذا وہ اس آیت میں داخل ہوگا ۔
محاربہ کی دو قسمیں
وجہ ہشتم محاربہ کی دو قسمیں ہیں :۔ ۱۔ محاربہ بالید ۲۔ محاربہ باللسان اور محاربہ باللسان دین کے معاملہ میں بعض اوقات محاربہ بالید سے زیادہ قہر آگیں ہوتا ہے۔ جس کی وضاحت پہلے مسئلہ میں ہو چکی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم محاربہ باللسان کرنے والوں کو بعض اوقات قتل کر دیا کرتے تھے اور محاربہ بالید کرنے والے کو زندہ رہنے دیتے۔ خصوصاً وہ محاربہ جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد بپا کیا جائے کہ وہ صرف زبان ہی سے ممکن ہے۔ اسی طرح افساد بعض دفعہ کبھی ہاتھ کے ساتھ ہوتا ہے اور کبھی زبان کے ساتھ۔ زبان کی وجہ سے ادیان و مذاہب میں جو خرابی پیدا ہوتی ہے وہ ہاتھ کے پیدا کردہ فساد سے کئی گنا زائد ہے۔ اور زبان ادیان و مذاہب کی جو اصلاح کرتی ہے وہ ہاتھ کی اصلاح سے کہیں زیادہ ہے۔ اس سے ثابت ہوا کہ اللہ اور اس کے رسولؐ کے خلاف محاربہ باللسان شدید تر ہوتا ہے۔ اور دین کی خرابی کے لئے جو کوشش زبان کے ساتھ کی جاتی ہے۔ وہ پختہ تر ہوتی ہے۔ بنا بریں اللہ اور اس کے رسولؐ کے دشنام دہندہ کو محارب اور مفسد کے نام سے پکارنا رہزن کو محارب کہنے سے اولیٰ تر ہے۔
محاربہ، مسالمہ کی ضد ہے
وجہ نہم محاربہ مسالمہ کی ضد ہے۔ مسالمہ یہ ہے کہ فریقین ایک دوسرے کی ایذا سے سلم رہیں۔ جس کے ہاتھ اور زبان سے تم سلامت نہ رہو وہ تمہارے لئے مسالم نہیں ہے بلکہ محارب ہے۔ ظاہر ہے کہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے محاربہ کرنے کے معنی یہ ہیں کہ اللہ اور اس کے رسول نے جو حکم دیا ہو اس کی مخالفت کی جائے۔ اس لئے کہ اللہ اور اسکے
رسول کی ذات سے مقابلہ محال ہے۔ پس جس نے اللہ اور اس کے رسول کو گالی دی اُس نے اللہ اور اس کے رسول سے صلح نہیں کی۔ کیونکہ رسول کریم اس سے سلامت نہیں رہے۔ بلکہ اس کا رسول کریم کو ہدف طعن بنانا اس حکم کی خلاف ورزی ہے جو اللہ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے دیا تھا۔ اس طرح اس نے زمین میں فساد برپا کیا۔ جیسا کہ یہ پیچھے گزر چکا ہے ۔
ہم پہلے مسئلہ میں بیان کر چکے ہیں کہ گالی دہندہ اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کرنے والا اور اُن کو دکھ دینے والا ہے ۔ اور جو بھی اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کرنے والا ہے گویا وہ ان کے خلاف جنگ کرنے والا ہے۔ اس لئے کہ جنگ اور مخالفت برابر ہے ۔ محاربہ کا لفظ حرب سے نکلا ہے جس کے معنی چیرنے پھاڑنے کے ہیں۔ محراب کو یہ نام اس لئے دیا گیا ہے کہ محراب دیوار چیر کر بنائی جاتی ہے۔ باقی رہا اس کا مفسد فی الارض ہونا تو وہ ظاہر ہے ۔
واضح رہے کہ ہر وہ چیز جو اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ گالی دینے سے عہد ٹوٹ جاتا ہے وہ اس بات پر بھی دلالت کرتی ہے کہ وہ اللہ اور اس کے رسول کے خلاف جنگ ہے۔ اس لئے کہ نقض عہد کی حقیقت یہ ہے کہ ذمی محارب بن جائے ۔ تو اگر وہ گالی دینے سے محارب نہ بنتا ہو تو وہ ناقض عہد نہیں بن سکتا ۔
قبل ازیں ہم اس پر گفتگو کر چکے ہیں جس کا اعادہ موجب طوالت ہونے کی وجہ سے یہاں موزوں نہیں ہے۔ اس لئے اس مقام کو دوبارہ دیکھ لیا جائے ۔ اب صرف یہ بات باقی رہی کہ اس نے زمین میں فساد کی کوشش کی ہے تو یہ عیاں را چہ بیان کی مصداق ہے۔
اس لئے کہ انبیاء و مرسلین کے بارے میں کلمہ کفر و طعن کہنا اور اللہ کی کتاب، اس کے رسول اور دین پر جرح و قدح کرنا اس قدر بڑا جرم ہے کہ کوئی گالی اس سے بڑھ کر فساد کی موجب نہیں ہو سکتی ۔ قرآن کریم کی اکثر آیات افساد فی الارض سے روکتی ہیں ۔ اور اس سے انبیاء کو ہدف طعن
بتانا مقصود ہے ۔ جس طرح منافقین کے بارے میں فرمایا :-
وَ اِذَا قِيْلَ لَهُمْ لَا تُفْسِدُوْا فِي الْاَرْضِ "
(البقرۃ - ۱۱)
(اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ زمین میں فساد برپا نہ کرو ۔)
نیز فرمایا :-
اَلَاۤ اِنَّهُمْ هُمُ الْمُفْسِدُوْنَ ۔
(البقرۃ - ۱۲)
خبردار وہی ہیں فساد برپا کرنے والے ۔
یہاں اِفْسَاد سے نفاق وکفر مراد ہے ۔ دوسری جگہ فرمایا :-
لَا تُفْسِدُوْا فِي الْاَرْضِ بَعْدَ اِصْلَاحِهَا ۔
(الاعراف - ۵۶)
زمین کی اصلاح کے بعد اس میں فساد نہ مچاؤ ۔
چونکہ یہ شخص اللہ اور اس کے رسول سے جنگ کرنے والا اور زمین میں فساد کی کوشش کرنے والا ہے اس لئے وہ اس آیت میں شامل ہے ۔
آیت کے الفاظ اس امر پر دلالت کرتے ہیں کہ اس میں دو طرح کے لوگوں کا ذکر کیا گیا ہے :-
- (۱) بعض لوگ اس آیت کو کفار یعنی مرتدین اور عہد شکنی کرنے والوں کے
ساتھ مخصوص کرتے ہیں ۔
- (۲) بعض لوگ کہتے ہیں کہ یہ آیت کا مفہوم عام ہے اور اس میں وہ مسلم
شامل ہے جو اپنے اسلام پر قائم ہو یا کسی اور دین پر ۔
ہمارے علم کی حد تک کسی نے بھی اس آیت کو اُس مسلم کے ساتھ مخصوص نہیں کیا جو اپنے اسلام پر قائم ہو ۔ پس اس کو اسلام کے ساتھ مختص کرنا خلافِ اجماع ہے ۔ جو لوگ اس آیت کو عام قرار دیتے ہیں اور قتادہ وغیرہ بھی ان ہی میں سے ہیں کہتے ہیں کہ اِلَّا الَّذِيْنَ تَابُوْا مِنْ قَبْلِ اَنْ تَقْدِرُوْا عَلَيْهِمْ
(المائدہ - ۳۴)
بطور خاص مشرکین کے بارے میں ہے ۔ مشرکین میں سے جو کوئی مسلمانوں کی کوئی چیز لے، اور فریقین اُن دنوں برسر پیکار ہوں ۔ مشرک مسلمانوں کا مال لے یا خون بہائے اور
پھر پکڑے جانے سے قبل فوت ہو جائے تو جو کام اس نے کیا وہ ہدر ہوگا۔ مگر وہ مسلم جو اپنے اسلام پر قائم ہے اس کے ساتھ محاربہ بالید کیا جائے گا۔ کیونکہ اس کی زبان مسلمانوں کے موافق ہے محارب نہیں۔ باقی رہا مرتد اور عہد شکنی کرنے والا تو اس کے ساتھ محاربہ کبھی بالید ہوگا اور کبھی زبان سے۔ جو لوگ کہتے ہیں کہ زبان سے محاربہ نہیں کیا جاتا تو وہ دلائل جو پہلے مسئلہ میں گزرے اس بات پر دلالت کرتے ہیں کہ یہ محاربہ ہے حالانکہ گفتگو یہاں یہ بات طے کرنے کے بعد ہوگی کہ گالی دینا محاربہ اور نقض عہد ہے۔
واضح رہے کہ اس آیت جامعہ میں مفسدین کی کئی انواع کا ذکر کیا گیا ہے۔ غور کرنے والے کے لئے اس آیت کی دلالت اپنے مفہوم پر واضح ہے اور کوئی چیز اس کے خلاف نہیں۔
اگر معترض کہے کہ محاربہ سے یہاں محاربہ بالید مراد ہے۔ اس کی دلیل آیت کریمہ ' اِلَّا الَّذِيْنَ تَابُوْا مِنْ قَبْلِ ' ہے (المائدہ ۳۴) کیونکہ یہ اس شخص کے بارے میں ہے جہاں مستثنیٰ ممتنع ہو اور دشنام دہندہ ممتنع ممتنع نہیں ہے۔ یہ کہ کہا جائے گا کہ اس کا جواب کئی وجوہ سے ممکن ہے۔
پہلی وجہ
یہ ہے کہ مستثنیٰ جب ممتنع ہو تو اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ باقی رہنے والے ممتنع ہو کیونکہ یہ جائز ہے کہ آیت ہر محارب کو شامل ہو، خواہ وہ محارب بالید ہو یا باللسان ۔ پھر اس سے ممتنع کو مستثنیٰ کیا گیا جب کہ وہ قابو پائے جانے سے قبل توبہ کر لے پس جس پر مطلقاً قابو پایا گیا ہو اور ممتنع جب کہ قابو پائے جانے سے قبل توبہ کرلے، دونوں باقی رہیں گے۔
دوسری وجہ
جو شخص بھی پکڑے جانے سے قبل توبہ کر لے اس نے قدرت پانے سے قبل توبہ کرلی۔ عطاء سے اس شخص کے بارے میں سوال کیا گیا جو چوری کا مال لے کر آئے اور توبہ کر لے (تو کیا اس کا ہاتھ
کاٹا جائے گا ؟) عطاء نے کہا کہ اس کا ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا۔ پھر اس نے یہ آیت پڑھی :۔
" اِلَّا الَّذِيْنَ تَابُوْا مِنْ قَبْلِ اَنْ تَقْدِرُوْا عَلَيْهِمْ
(المائدۃ - ۳۴)
مگر وہ لوگ جو توبہ کر لیں قبل اس کے کہ تم اُن پر قابو پاؤ۔
اور جو بھی پکڑا نہ جائے وہ ممتنع ہے خصوصاً جب کہ پایا نہ جائے اور اس پر حجت قائم نہ ہو۔ اس لئے کہ وہ شخص اگر چہ مقیم ہے مگر اس امر کا امکان ہے کہ وہ چھپ جائے یا بھاگ جائے ، جس طرح صحراء میں لوٹنے والے کے لئے ممکن ہے۔ پس یہ ضروری نہیں کہ ہر مجرم کو پکڑا جا سکے۔ بعض اوقات صحراء میں لوٹنے والے کو تلاش کرنا مقیم کو تلاش کرنے سے آسان تر ہوتا ہے۔ خصوصاً جب کہ اس کو چھپانے والا کوئی جھنڈا اور جنگل صحراء میں موجود نہ ہو۔ برخلاف اس کے جو شہر میں رہتا ہو۔ اور بعض اوقات اُسے ٹھہرانے والا اُس پر حد لگنے سے مانع ہوتا ہے۔ اور جو شخص بھی پکڑے جانے اور مقدمہ سلطان کی عدالت میں جانے سے قبل توبہ کرلے تو اس نے قابو پائے جانے سے قبل توبہ کرلی۔
مزید براں جب پتہ چل جانے سے قبل توبہ کرلے اور حد اس پر ثابت ہو جائے تو اگر وہ بذات خود آجائے تو اس نے قدرت پانے سے قبل توبہ کرلی۔ اس لئے کہ شہادت کا اس پر قائم ہونا اس پر قدرت پانا ہے۔ اگر اس نے ان دونوں باتوں سے پہلے توبہ کر لی تو اس نے قطعاً قدرت پانے سے قبل توبہ کرلی۔
تیسری وجہ
زبان کے ساتھ جنگ کرنے والا ہاتھ کے ساتھ جنگ کرنیوالے کی طرح کبھی تو طاقتور ہوتا ہے۔ اور بعض اوقات ہاتھ کے ساتھ جنگ کرنے والا بہت سے لوگوں میں کمزور ہوتا ہے جس طرح وہ شخص جو بہت سے لوگوں سے جنگ کرنے کے لئے اپنے آپ کو جنگ میں جھونک دے قلیل ہوتا
ہے۔ اسی طرح وہ شخص جو بہت سے لوگوں کے درمیان رہ کر کھلم کھلا گالیاں دے اور دوسروں کو نقصان پہنچائے قلیل ہے۔ اکثر و بیشتر یوں ہوتا ہے کہ جو شخص کسی کو کمزور سمجھتا ہے وہ شمشیر براں لے کر اس پر حملہ آور ہوتا ہے۔ اسی طرح علانیہ دوسروں کو گالی دینے والا چھپ کر ایسے شخص سے یہ معاملہ کرتا ہے جس کو وہ پکڑ نہیں سکتا اور نہ ہی اس کا مقدمہ سلطان کی عدالت میں پیش کر کے اس کے خلاف شہادت قائم کر سکتا ہے۔
مذکورہ صدر آیت سے استدلال کرنے کے دو اور طریقے بھی ہیں :۔
پہلا استدلال ]
یہ آیت ایسے لوگوں کے بارے میں نازل ہوئی جو اسلام لانے کے بعد کافر ہو کر مسلمانوں کے خلاف برسر پیکار ہوئے
ہمارے علم کی حد تک اس پر سب لوگوں کا اتفاق ہے۔ اگرچہ یہ آیت ان لوگوں کے بارے میں بھی نازل ہوئی جو اسلام پر مقیم رہ کر مسلمانوں سے لڑتے تھے۔ اس لئے کہ فریق جب آمادہ پیکار ہو، یا تو اس طرح کہ وہ مسلمانوں پر ڈاکہ ڈالے یا مسلم عورت کے ساتھ جبراً زیادتی کرے یا کوئی ایسا کام کرے تو وہ محارب ہو جائے گا۔ بنا بریں اگر قابو پانے کے بعد توبہ کرلے تو جو قتل اس پر واجب ہے وہ ساقط نہیں ہوگا۔ اگرچہ یہ مسئلہ متنازع فیہ ہے مگر اعتماد دلیل پر کیا جاتا ہے۔ پس رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو گالی دینے والا بالاولیٰ اس کا مستحق ہے۔ اور یہ جائز نہیں کہ اس کا مال لینے کے لئے لڑنے والے کے ساتھ مخصوص کیا جائے ، اس لئے کہ صحابہؓ نے اس کے بغیر بھی اس کو محارب قرار دیا ہے۔ اسی طرح اس آیت کا جو سبب نزول ہم نے بیان کیا ہے اس میں یہ بات مذکور نہیں کہ انہوں نے کسی کو مال لینے کے لئے قتل کیا تھا اور اگر کسی کو قتل کیا بھی ہو تو اس کے قاتل سے قصاص ساقط نہیں ہوگا، جب کہ پکڑے جانے سے قبل وہ توبہ کرلے۔ اس نے اس حال میں اس کو قتل کیا جب کہ اس نے عہد کر رکھا تھا۔ یہ اسی طرح ہے جیسے اس نے مسلم ہوتے ہوئے قتل کیا ہو۔
علاوہ ازیں رہزنی یا تو نقض عہد کے لئے ہوتی ہے، یا اُسے وہی سزا دی جائے جو مسلم کو بقاء عہد کے باوجود دی جاتی ہے۔ اگر پہلی صورت ہو تو رہزنی اور دیگر امور میں کچھ فرق نہیں جو مسلمانوں کی ضرر رسانی کے لئے اختیار کئے جاتے ہیں۔ ازیں صورت جو اس طرح عہد شکنی کرے گا تو اس کی سزا جو کہ قتل ہے ساقط نہیں ہوگی۔ بشرطیکہ پکڑے جانے کے بعد توبہ کرلے۔ اگر دوسری صورت ہو تو ذمّی کا عہد رہزنی سے نہیں ٹوٹے گا۔ اس کے فاسد ہونے کی دلیل پیچھے گزر چکی ہے۔ علاوہ ازیں یہاں اس پر جو گفتگو کی گئی ہے وہ اسی پر متفرع ہے۔ لہٰذا اس کو تسلیم کرنے کے بعد اس سے انکار کرنا درست نہیں ہے۔
دوسرا استدلال
خداوند کریم نے توبہ قبل از قدرت و بعد از قدرت میں فرق کیا ہے۔ اس لئے کہ شرعی حدود کا معاملہ جب سلطان کی عدالت میں پہنچ جائے تو ان کا (نفاذ) واجب ہو جاتا ہے اور اس کو معاف کرنے اور سفارش کا امکان باقی نہیں رہتا۔ برخلاف اس صورت کے جبکہ یہ معاملہ اس کی عدالت میں پہنچا نہ ہو۔ نیز اس لئے کہ قدرت سے پہلے جو توبہ کی جاتی ہے اختیاری ہوتی ہے اور جو توبہ قدرت کے بعد کی جائے وہ جبر و اکراہ کے زیر اثر ہوتی ہے۔ مثلاً فرعون کی توبہ جب وہ ڈوبنے لگا اور اقوام مکذبہ کی توبہ جب ان کے یہاں عذاب آیا اور اس شخص کی توبہ جس پر نزع کا عالم طاری ہو۔ اور کہے کہ میں نے اب توبہ کی اور اسے توبہ کا صحیح ہونا معلوم نہ ہو تاکہ حد واجب ساقط ہو سکے۔ اس کی وجہ یہ بھی ہے کہ قدرت پانے کے بعد کی توبہ اگر حد کو ساقط کر سکتی ہو تو حدود شرعیہ معطل ہو کر رہ جائیں اور فساد کے راستے واشگاف ہوجائیں ۔ اس لئے کہ ہر مفسد جب پکڑا جاتا ہے تو توبہ کی طرف مائل ہوتا ہے۔ برخلاف اس توبہ کے جو قدرت سے قبل انجام دی جاتی ہے۔ کیونکہ وہ فساد کے بغیر شر کی بیخ و بن کو کاٹ دیتی ہے۔ یہ معانی مناسبہ ہیں جن کے معتبر ہونے کی شہادت شارع نے اس
اصل کے علاوہ دیگر اصول میں وہی ہے اس لئے وہ موافق و ملائم اور موثر اوصاف ہیں جن کے ساتھ احکام کو معلل کیا جا سکتا ہے۔ اور یہ اوصاف بذات خود دشنام دہندہ میں موجود ہیں۔ لہذا اگر پکڑے جانے کے بعد وہ توبہ کرے گا تو قتل اس سے ساقط ہو جائے گا۔ کیونکہ اس کا اسلام لانا ہی اس گناہ سے توبہ کا مترادف ہے۔ چنانچہ ہر کافر کی توبہ کا یہی حال ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا :- فَإِنْ تَابُوْا وَ اَقَامُوا الصَّلٰوةَ (التوبۃ آیت ۵ ، ۱۱) اگر وہ توبہ کریں اور نماز قائم کریں۔ اسی طرح دو جگہ فرمایا اور مقدمہ عدالت میں لے جانے سے حد واجب ہو گئی۔ یہ جبر و اکراہ کی توبہ ہے اور اس کو قبول کرنے سے حدود شرعیہ کا معطل ہونا لازم آتا ہے۔ یہ اصول اصلی حربی کافر کی توبہ سے ہمارے نزدیک نہیں ٹوٹتا ۔ کیونکہ وہ آیت میں داخل ہی نہیں۔
نیز اس لئے کہ جب وہ قید ہونے کے بعد توبہ کرے گا تو اُسے رہا نہیں کیا جائے گا بلکہ غلام بنا لیا جائے گا ۔ اور یہ اُن دو سزاؤں میں سے ایک ہے جو اُسے اسلام لانے سے قبل دی جاتی تھی ۔ بخلاف ازیں دشنام دہندہ پر ایک ہی سزا تھی جو ساقط نہیں ہوتی جیسے راہزن اور مجرد مرتد کی سزا جس نے فساد برپا کرنے کی کوشش نہیں کی۔ اور اس لئے وہ اس آیت میں شامل نہیں ہے۔
اور معنی و مفہوم کے لحاظ سے بھی اس پر نقض وارد نہیں ہوتا۔ کیوں کہ ہم اُسے تلوار کے سامنے اس لئے پیش کرتے ہیں تاکہ وہ اسلام کی طرف لوٹ آئے۔ بلکہ اس لئے قتل کرتے ہیں کہ وہ دین سے منحرف ہو کر اُس پر رک گیا ہے۔ جب اس کی طرف لوٹنے کا ارادہ کرے گا تو وہ مقصد حاصل ہو جائے گا ۔ جو ہم اس سے حاصل کرنا چاہتے تھے۔ اس سے وہ اعتراض بھی زائل ہو جائے گا۔ جس کا ازالہ ہمارے لئے ممکن تھا۔ اس حد شرعی کا معطل کرنا یہ ہے کہ اس کو ارتداد پر رہنے دیا جائے اور سلطان کی عدالت میں اس کا مقدمہ نہ پہنچایا جائے
اور اس کے مجبور ہونے سے ہمارے مقصد میں کوئی رکاوٹ پیدا نہیں ہوتی ۔ اس لئے کہ ہم نے اس سے یہ مطالبہ کیا ہے کہ طوعاً یا کرھاً اسلام کی طرف لوٹ آئے مثلاً صلوٰۃ یا زکوٰۃ کی ادائیگی کے لئے ہم اس سے لڑیں اور وہ ان کو بخوشی یا ناخوشی ادا کرنے لگے تو ہمارا مقصد پورا ہو جائے گا ۔ مگر دشنام دہندہ اور اس قسم کے ایذا دہندگان کو ہم اس لئے قتل کرتے ہیں کہ انہوں نے تکلیف دی ہے محض کفر کی وجہ سے نہیں ، کیونکہ ان کے کفر کے باوجود ہم نے ان سے عہد لیا ہے جب پکڑے جانے کے بعد اسلام لائے گا تو وہ کفر زائل ہو جائے گا جس کے تنہا ہونے کی وجہ سے ہم نے اُسے سزا نہیں دی ۔
باقی رہی ضرر رسانی اور ایذا رسانی تو وہ افساد فی الارض ہے جس کا صدور اس سے ہوا ہے ۔ مثلاً رہزنی کر کے فساد بپا کرنا کہ اس کا ازالہ اس جبری توبہ سے ہو گا جو اس سے طلب نہیں کی گئی ۔ اور اُسے اس لئے قتل نہیں کیا گیا کہ وہ یہ کام کرے بلکہ اس سے اس لئے لڑا گیا کہ وہ یا تو اسلام لائے یا بخوشی یا ناخوشی جزیہ ادا کرے ۔ مگر اس نے ناخوش دلی سے جزیہ اس لئے ادا کیا کہ وہ مسلمانوں کو نقصان نہیں پہنچائے گا ۔ اس کے باوجود اس نے مسلمانوں کو نقصان پہنچایا اور اس وجہ سے قتل کا مستحق ٹھہرا ۔ جب قابو پانے کے بعد اس نے توبہ کر لی اور اسلام لایا تو وہ ایک محارب اور مفسد کی توبہ ہے جو اس نے پکڑے جانے کے بعد کی ہے۔
ناقض عہد اور طعن کنندہ کفر کا امام ہے
قرآن میں فرمایا :-
طریق دوم
"اور اگر عہد کرنے کے بعد اپنی قسموں کو توڑ ڈالیں اور تمہارے دین پر طعنے کرنے لگیں تو ان کفر کے پیشواؤں سے جنگ کرو (یہ بے ایمان لوگ ہیں) اور ان کی قسموں کا کچھ اعتبار نہیں ہے ، عجب نہیں کہ (اپنی حرکات سے) باز آجائیں"
(التوبۃ آیت ۱۲)
ابن عامر، حسن، عطاء، ضحاک، اصمعی اور دیگر علماء نے ابو عمرو سے " لَا اِيْمَانَ " بکسر ہمزہ روایت کیا ہے جو کہ مشہور روایت ہے۔ یہ آیت اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ طعن کنندہ کے خون کو ایمان اور قسم کی کوئی چیز بھی نہیں بچا سکتی۔
اکثر قراء کی قراءت " لَا اَيْمَانَ لَهُمْ " ہے یعنی وہ اپنی قسموں کو پورا نہیں کرتے۔
ظاہر ہے کہ اس کا مفہوم یہ ہے کہ مستقبل میں وہ اپنی قسموں کو پورا نہیں کریں گے۔ اس لئے کہ ماضی میں قسم کا پورا نہ کرنا ثابت ہوچکا ہے۔ فرمایا " وَاِنْ نَّكَثُوْا اَيْمَانَهُمْ " (اگر اپنی قسموں کو توڑ ڈالیں) اس آیت سے مستفاد ہوا کہ قسم کو توڑنے والا اور طاعن امام فی الکفر ہے، اس کے ساتھ آئندہ معاہدہ نہیں کیا جائے گا۔
ابن عامر کی روایت کے مطابق معلوم ہوا کہ امام فی الکفر میں کوئی ایمان نہیں ہوتا۔ یہ ان کے ساتھ جنگ کرنے کی علت نہیں ہے۔ اس لئے کہ ... آیت کریمہ :۔ " فَقَاتِلُوْا اَئِمَّةَ الْكُفْرِ " (کفر کے اماموں کو قتل کرو) ان سے ایمان کی نفی کرتے ہیں۔ " لَا اَيْمَانَ لَهُمْ " سے بلیغ تر ہے اور علتِ حکم پر زیادہ دلالت کرنے والا ہے۔ تاہم عین ممکن ہے ۔ واللہ اعلم ۔ کہ آیت کا مطلب یہ ہو کہ ناقضِ عہد اور طاعن امام فی الکفر ہے، اور جس ایمان کا وہ اظہار کرتا ہے وہ قابلِ اعتماد نہیں۔ جس طرح اس کی وہ قسمیں بھروسہ کے لائق نہیں جو اس نے ماضی میں کھائی تھیں۔ اس لئے کہ " لَا اِيْمَانَ " لائے نفی جنس کے ساتھ نکرہ مفیدہ ہے۔ یہ اس امر کا مقتضیٰ ہے کہ ان سے مطلق ایمان کی نفی کی جائے۔ اس سے واضح ہوا کہ عہد توڑنے والا اور دین پر طعن کنندہ امام فی الکفر ہے اور اظہارِ ایمان کے باوجود وہ واجب القتل ہے۔ اس کی
مزید یہ بات ہے کہ جب حالت کفر میں کوئی کافر بھی ایمان کا حامل نہیں ہوتا۔ تو پھر کفر کے اماموں کی کیا حالت ہوگی ؟ لہٰذا ان لوگوں کی سلب ایمان کے ساتھ تخصیص کے لئے بھی کوئی موجب ہونا چاہیے اور دوسرا موجب تو کوئی ہے نہیں بجز اس کے کہ اُن سے مطلقاً ایمان کی نفی کی جائے۔
آیت کا مفہوم یہ ہے کہ ان لوگوں سے ایمان کی توقع نہیں کی جاتی ، لہٰذا ان کو زندہ نہیں چھوڑنا چاہئے۔ علاوہ ازیں اگر وہ ایمان کا اظہار بھی کریں تو صحیح نہ ہوگا۔ یہ اسی طرح ہے جیسے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :-
" بوڑھے مشرکین کو قتل کر دو اور ان کے نوجوانوں کو باقی رہنے دو ۔ اِس لئے کہ بوڑھے کفر میں بہت پختہ کار ہوچکے ہیں۔"
حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے اجناد کے اُمراء یعنی شرحبیل بن حسنہ یزید بن ابی سفیان ، اور عمرو بن العاص رضی اللہ عنہم کو مخاطب کر کے فرمایا تھا۔ " تم ایسے لوگوں سے ملو گے جن کے دماغ (عقل) سے خالی ہیں ، اُن کی گردنیں کاٹ دو۔ ان میں سے ایک آدمی کو قتل کرنا میرے نزدیک دوسرے ستر آدمیوں کو قتل کرنے سے بہتر ہے ، اس لئے کہ فرمانِ باری تعالیٰ ہے :-
" کفر کے اماموں کو قتل کر دو ان کی قسموں کا کچھ اعتبار نہیں، تاکہ وہ باز آجائیں، اور اللہ تعالیٰ سب بولنے والوں سے زیادہ سچا ہے۔"
اس لئے کہ عہد شکنی کرنے والوں اور دین پر طعن کرنے والے ائمہ کفر میں سے ایک بھی ایسا نہیں جو سچے دل سے ایمان لایا ہو۔ برخلاف اس کے جس نے عہد نہ توڑا ہو یا عہد توڑا ہو مگر دین کو ہدف طعن نہ بنایا ہو یا طعن کیا ہو مگر عہد نہ توڑا ہو۔ کہ بعض اوقات یہ لوگ ایمان کے حامل ہو سکتے ہیں۔ اس کی مزید توضیح " لَعَلَّهُمْ يَنْتَهُوْنَ " سے ہو سکتی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ ہو سکتا ہے۔ یہ لوگ عہد شکنی اور طعنہ زنی سے باز آجائیں۔ جیسا کہ ہم آگے چل کر بیان کریں گے۔ اس لئے کہ " نقض عہد " کا پتہ تب چل سکتا ہے جب
ایسے گروہ سے جنگ کر کے اُسے مغلوب کیا جائے یا ایسے آدمی کو پکڑا جائے جو باز آنے والا نہ ہو اور اُسے قتل کیا جائے۔ اس لئے کہ اگر قابو پانے کے بعد اُسے زندہ چھوڑ دیا جائے تو اس قسم کے لوگ زندہ رہنے کی اُمید رکھیں گے اور باز نہیں آئیں گے۔
اس کی مزید توضیح اس سے ہوتی ہے کہ اس آیت کے بارے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ ان یہودیوں کے بارے میں نازل ہوئی جنہوں نے رسول کریمؐ سے دھوکہ کر کے آپؐ کے ساتھ باندھے ہوئے عہد کو توڑ ڈالا تھا۔ انہوں نے قسمیں کھائی تھیں کہ آپؐ کے دشمنوں کو مدد نہیں دیں گے۔ مگر اس کے عین برعکس کفار اور منافقین کی مدد سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو مدینہ سے نکال دینا چاہا تھا۔ اس آیت میں بتایا گیا کہ انہوں نے فریب دہی اور عہد شکنی کا آغاز کیا تھا۔ اس لئے ان سے لڑنے کا حکم دیا گیا۔ قاضی ابویعلیٰؒ کہتے ہیں کہ اس طرح آیت کا سبب نزول زیر تعلیم مسئلہ سے ہم آہنگ ہوگا۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ آیت مشرکینِ مکہ کے بارے میں نازل ہوئی علماء کی ایک جماعت نے اس پر روشنی ڈالی ہے علماء کی ایک جماعت کے نزدیک سورۃ التوبۃ فتح مکہ اور تبوک کے بعد نازل ہوئی۔ اس وقت مکہ میں کوئی لڑنے والا کافر موجود نہ تھا۔ لہٰذا اس سے وہ نو مسلم مراد ہوں گے جنہوں نے اظہارِ اسلام کیا تھا۔ جب انہوں نے نفاق کا اظہار کیا تو اس وقت کفر کی قلت نہ رہی۔ اس کی تائید مجاہد اور ضحاک کی قراءت سے ہوتی ہے۔ کیونکہ وہ ”نَكَثُوْا اَيْمَانَهُمْ“ بکسر الہمزہ پڑھتے ہیں۔ بایں طور آیت اس مفہوم پر دلالت کرتی ہے کہ جس نے اپنا عہد توڑ ڈالا جو اس نے باندھا تھا اور دین پر طعنہ زن ہوا تو اس سے لڑا جائے۔
نیز فرمایا :۔ فَاِنْ تَابُوْا وَ اَقَامُوا الصَّلوٰةَ وَ اٰتَوُا الزَّكٰوةَ فَاِخْوَانُكُمْ
فِي الدِّينِ ط
(التوبۃ - ۱۱)
اگر وہ توبہ کریں، نماز قائم کریں اور زکوٰۃ ادا کریں تو وہ تمہارے دینی بھائی ہیں ۔
پھر فرمایا ” وَ اِنْ نَّكَثُوْا اَيْمَانَهُمْ “ اور اگر عہد کرنے کے بعد اپنی قسموں کو توڑ ڈالیں ۔
اس سے معلوم ہوا کہ یہ عہد کا توڑنا توبہ کے بعد ہے۔ اس لئے کہ پہلی مرتبہ نقضِ عہد کی خبر پہلے دی جا چکی ہے ۔ اور وہ مندرجہ ذیل آیت میں ہے ۔ ” لَا يَرْقُبُوْنَ فِيْ مُؤْمِنٍ اِلًّا وَّ لَا ذِمَّةً ط “
(التوبۃ - ۱۰)
یہ لوگ کسی مومن کے حق میں نہ تو رشتہ داری کا پاس کرتے اور نہ عہد کا۔
پیچھے گزر چکا ہے کہ ایمان سے عہود (عہد کی جمع) مراد ہیں ۔ بنا بریں اس آیت میں عہد شکنی کرنے والے اور ایمان سے پھر جانے والے سب مراد ہیں ۔ نیز یہ کہ جب کوئی شخص دین پر طعنہ زن ہو تو اس سے لڑا جائے ، کیونکہ اس میں ایمان باقی نہیں ہے ۔ بایں طور آیت اس امر پر دلالت کرتی ہے کہ جو شخص رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ، اہل ایمان اور اہل ذمہ کو گالی دے کر دین پر طعن کرتا ہے نہ تو اس میں ایمان ہے اور نہ اس کے عہد کا کوئی اعتبار ہے ۔ لہٰذا اس کا خون اس کے بعد کسی طرح بھی محفوظ نہیں رہ سکتا ۔
اگر سائل کہے کہ ” لَا اَيْمَانَ لَهُمْ “ کے ایک معنی یہ بھی ہیں کہ ” اُن کے لئے امن نہیں ہے “ ۔ یہ اٰمَنَ يُؤْمِنُ اِيْمَانًا سے مصدر ہے ۔ جو ” اَخَفْتُهُ “ (میں نے اُسے ڈرایا) کی ضد ہے ۔ قرآن میں فرمایا : ” وَ اٰمَنَهُمْ مِّنْ خَوْفٍ “ (اور ان کو خوف سے امن دلایا)
(القریش - ۴)
اس کے جواب میں کہا جائے گا کہ اگر یہ قول صحیح ہو تو یہ بھی حجت ہے ۔ اس سے یہاں یہ معنی مقصود نہیں کہ اُن کے لئے فی الحال امن نہیں ہے ۔ کیونکہ یہ بات معلوم ہے کہ انہوں نے عہد کو توڑ دیا ہے ، بلکہ مقصود یہ ہے کہ ان کے لئے کسی
حال میں بھی امن نہیں ہے۔ خواہ وہ حال کا زمانہ ہو یا مستقبل کا۔ لہٰذا اس کو کسی وقت بھی امان نہیں دی جاسکتی بلکہ ہر حال میں قتل کیا جائے۔
اگر کہا جائے کہ آیت میں قتال کا حکم دیا گیا ہے نہ کہ قتل کا۔ اس کے بعد فرمایا :-
” وَ يَتُوْبُ اللّٰهُ عَلٰى مَنْ يَّشَآءُ
(التوبۃ - ۱۵)
(اور اللہ جس کی توبہ چاہے قبول کرے)
اس سے معلوم ہوا کہ اس کی توبہ پہلے ہی مقبول ہے۔ کیونکہ اس سے پہلے ایک طاقتور گروہ کا ذکر کیا گیا ہے جس سے لڑنے کا حکم دیا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اطلاع دی کہ اللہ اہلِ ایمان کے ہاتھوں سے انہیں سزا دے گا اور مومنوں کو ان پر غلبہ عطا کرے گا۔ اس کے بعد اللہ جس کی توبہ چاہے گا قبول کرے گا ۔ اس لئے کہ عہد شکنی کرنے والے جب طاقتور ہوں تو جو شخص اُن میں سے پکڑے جانے سے پہلے توبہ کر لے تو حدود اس سے ساقط ہو جائیں گی ۔ اسی لئے فرمایا عَلٰى مَنْ يَّشَآءُ “ اور یہ ان لوگوں کے بارے میں ہوتا ہے جن کی توبہ کے ساتھ اس کی مشیئت وابستہ ہو اس کی توضیح ان الفاظ سے ہوتی ہے ” وَ يَتُوْبُ اللّٰهُ “ باء کے ضمہ کے ساتھ، یہ جملہ مستانفہ ہے اور جوابِ امر کے دائرہ میں داخل نہیں ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کے ساتھ جنگ کرنے سے توبہ مقصود نہیں اور نہ ہی یہ ان کے ساتھ جنگ کا حاصل ہے۔ ان کے خلاف نبرد آزما ہونے کا مقصد یہ ہے کہ وہ نقضِ عہد اور طعن سے باز آ جائیں۔ نیز یہ کہ اُن کو سزا دی جائے ، ان کو رسوا کیا جائے اور ان پر غلبہ حاصل کیا جائے۔ اس سے یہ بات بھی ثابت ہوتی ہے کہ عہد شکنی کرنے والے سے حد شرعی توبہ کا اظہار کرنے سے ساقط نہیں ہوتی۔ کیونکہ اس نے توبہ کی وجہ سے قتل و قتال نہیں کیا ۔ اس کی موید یہ بات ہے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا :-
" كَيْفَ يَكُونُ لِلْمُشْرِكِيْنَ عَهْدٌ عِنْدَ اللهِ
(التوبۃ - ۷)
(اللہ کے نزدیک مشرکین کے کیسے عہد ہوگا ۔)
اُس کے بعد فرمایا :۔
" اور اگر عہد کرنے کے بعد اپنا عہد توڑ ڈالیں اور تمہارے دین پر طعنہ زن ہوں تو کفر کے اماموں کو قتل کر دو ۔
(التوبۃ - ۱۲)
اس آیت میں نقضِ عہد اور طعن فی الدین سے قبل اس توبہ کا ذکر کیا جو اُخوت کی موجب ہے ۔
مُعَاھِد کے تین احوال
- (۱) ہمارے ساتھ صحیح تعلقات استوار کرے
تو ہم بھی اس کے ساتھ صحیح تعلقات استوار کریں گے ۔ اس طرح وہ آزاد رہے گا مگر وہ ہمارا دینی بھائی نہیں ہوگا ۔
- (۲) دوسری حالت یہ ہے کہ کفر سے توبہ کرے ، نماز پڑھے اور زکوٰۃ ادا کرے
اس طرح وہ ہمارا دینی بھائی بن جائے گا ۔ اسی طرح قرآن میں یوں نہیں فرمایا "کہ اُن کا راستہ چھوڑ دو" جس طرح اس سے پہلی آیت میں فرمایا ۔ اس لئے کہ وہاں گفتگو محارب کی توبہ کے بارے میں ہو رہی ہے ۔ اور اُس کی توبہ اس کی رہائی کی موجب ہے ، اور یہاں موضوعِ گفتگو معاھِد کی توبہ ہے اور اس کا راستہ پہلے آزاد تھا ۔ اس کی توبہ دینی اُخوت کی موجب ہے ۔
قرآن میں فرمایا :۔
" وَنُفَصِّلُ الْآيَاتِ لِقَوْمٍ يَعْلَمُوْنَ ۔
(التوبۃ - ۱۱)
ہم اس قوم کے لئے آیات کی تفصیل بیان کرتے ہیں جو جانتی ہے ۔
اور وہ یہ کہ محارب جب توبہ کرتا ہے تو اس کو آزاد کرنا واجب ہے ، کیونکہ اس کی ضرورت صرف یہی ہے ۔ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ وہ تلوار سے ڈر گیا ہو ۔ اس لئے وہ مسلم ہوگا نہ کہ مومن ۔ لہٰذا اس کی ایمانی اُخوت ایمانی دلائل کے ظہور پر موقوف ہے ۔
جس طرح قرآن میں فرمایا :۔ " بدو کہتے ہیں کہ ہم ایمان لائے کہہ دیجئے کہ تم ایمان نہیں لائے بلکہ یوں کہو کہ ہم اسلام لائے ۔ (الحجرات۔ ۱۴) اور معاند جب توبہ کر لے تو ظاہری توبہ کے سوا کوئی چیز اُسے پناہ نہیں دے سکتی ۔
پھر ہم نے اُسے توبہ پر مجبور نہیں کیا اور مجبور کرنا جائز بھی نہیں ۔ پس اس کی توبہ اس امر کی دلیل ہے کہ اس نے خوشی سے توبہ کی ، اس لئے وہ مسلم اور مومن ہے ۔ اور چونکہ سب مومن بھائی ہوتے ہیں لہٰذا وہ ہمارا بھائی ہے۔
۳۔ تیسری حالت یہ ہے کہ عہد کر کے اپنا عہد توڑ ڈالے اور ہمارے دین پر طعنہ زن ہو۔ لہٰذا اس کے ساتھ نبرد آزما ہونے کا حکم دیا گیا ۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اس کے ایمان اور عہد کا کچھ اعتبار نہیں ۔ اس سے جنگ کرنے کا مقصد یہ ہے کہ عہد شکنی اور طعن سے باز آجائے نہ کہ صرف کفر سے ۔ کیونکہ اس نے کفر کے باوجود ہمارے ساتھ معاہدہ کیا تھا اور اس سے لڑنا جائز نہ تھا۔ پس اس سے معلوم ہوا کہ ایسے آدمی کا صرف کفر سے باز آنا اس کے ساتھ جنگ کرنے کا مقصد نہیں ہے ۔ بخلاف ازیں اس کے ساتھ حرب و پیکار کا مقصد یہ ہے کہ نقض عہد اور طعن فی الدین کے ذریعے جو نقصان وہ مسلمانوں کو پہنچا سکتے ہیں اس سے رک جائے ۔ اور یہ اسی صورت میں ممکن ہے کہ ان میں سے ایک کو جو قابو آجائے قتل کر دیا ۔ اور ان کے نافرمان گروہ سے لڑ کر اُن کو سزا دی جائے ، ذلیل کیا جائے اور اہل ایمان کو ان پر غالب کر دیا جائے ۔ اس لئے کہ توبہ کو ایک حال کے ساتھ مخصوص کرنے کے معنی یہ ہے کہ وہ دوسری حالت میں جائز نہیں ۔
ان کی سزا رسوائی اور اُن سے سینہ کو شفاء بخشنے کا حکم دینے کے بعد اللہ تعالیٰ کا توبہ کو ایک مستقل جملہ میں ذکر کرنا اس بات کی دلیل ہے کہ ان
لوگوں کی توبہ کے باوجود ان کے قبیح افعال کا انتقام لینا از بس ناگزیر ہے۔ برخلاف ان لوگوں کی توبہ کے جو اپنے عہد پر قائم ہیں۔ جو شخص پکڑا جائے اگر اس کی توبہ اس کے قتل کو ساقط کر دیتی تو وہ توبہ انتقام سے عاری ہوتی ۔ اس سے یہ لازم آتا کہ اس قسم کے لوگوں کو نہ تو سزا دی جاتی ہے ، نہ رسوا کیا جاتا ہے اور نہ ہی سینے کو شفاء ملتی ہے ۔ اور آیت میں جس بات کا حکم دیا گیا ہے یہ اس کے منافی ہے ۔ اور عہد توڑنے والے اور دین کو ہدف طعن بنانے والے ان لوگوں کی طرح ہو گئے جو دین سے برگشتہ ہو گئے تھے اور اُنہوں نے خوں ریزی کی تھی ۔ اگر وہ ایک شخص ہو تو اس کو قتل کرنا از بس ناگزیر ہے ، اگرچہ وہ اسلام کی طرف لوٹ آئے ۔ اور اگر وہ قوت وشوکت سے بہرہ ور ہوں تو اُن سے لڑا جائے ۔ اس کے بعد جو اُن میں سے توبہ کر لے اُسے قتل نہ کیا جائے ۔ واللہ اعلم ۔
قرآن کریم میں فرمایا :-
طریقہ ثالثہ | "اور توبہ ان لوگوں کے لئے نہیں جو بُرے کام کرتے ہیں اور جب کسی کی موت کا وقت آتا ہے تو کہتا ہے کہ اب میں نے توبہ کی" ۔
(النساء ۱۸)
نیز فرمایا :-
" جب وہ ڈوبنے لگا تو کہا میں ایمان لایا کہ کوئی معبود نہیں مگر اللہ جس پر کہ بنی اسرائیل ایمان لائے اور میں مسلمان ہوں۔ کیا اب حالانکہ پہلے تو نے نافرمانی کی تھی اور تو فساد بپا کرنے والوں میں سے تھا ۔"
(یونس ۔ ۹۰ - ۹۱)
ان آیات سے استدلال کی تقریر ، قتلِ منافق کے تذکرہ میں گزر چکی ہے یہاں ہم نے حربی کافر ، مرتد مجرد ، منافق اور معاہدین میں سے معاند کی توبہ کا فرق بیان کیا ہے۔ نیز ہم نے اس توبہ کا بھی ذکر کیا ہے جو عذاب کو دور کرتی ہے اور وہ توبہ جو اتمام کار سود مند ہوتی ہے۔
مندرجہ ذیل آیت ہے :-
طریقہ رابعہ | " بیشک وہ لوگ جو اللہ اور اس کے رسول ﷺ
کو ایذا دیتے ہیں اور ان پر اللہ نے دنیا اور آخرت میں لعنت کی ہے ۔ (الاحزاب: ۵۷) قبل ازیں ہم نے ذکر کیا تھا کہ یہ آیت اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ مسلمانوں میں سے جو بھی ایذا دینے والا ہو اس کو علی الاطلاق قتل کیا جائے ۔ نیز یہ کہ اہلِ ذمہ میں سے جو بھی ایذا دے اُسے موت کے گھاٹ اُتارا جائے ۔ اس لئے کہ مذکورہ لعنت قتل کی موجب ہے ۔ جیسا کہ کلام کے آخر میں فرمایا گیا ہے ۔ اس کی وضاحت پیچھے گزر چکی ہے
ہم ذکر کر چکے ہیں کہ آیت کریمہ :- ”یہ وہ لوگ ہیں جن پر اللہ نے لعنت کی ہے اور جس پر اللہ لعنت کرے تو کسی کو اس کا مددگار نہیں پائے گا۔“ (النساء ۔ ۵۲) کعب بن اشرف (یہودی) کے بارے میں اس وقت نازل ہوئی تھی جب اس نے دین کو تنقید کی آماجگاہ بنایا۔ اس نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ عہد کیا مگر اُسے توڑ دیا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں اطلاع دی کہ کوئی اس کا مددگار نہیں۔ یہ بیان کرنے کے لئے کہ وہ ذمی نہیں، کیونکہ ذمی کے مدد کرنے والے ہوتے ہیں۔ نفاق کی دو قسمیں ہیں۔ (۱) وہ مسلم جو کفر کو چھپائے رکھتا ہو (۲) منافق ذمی جو محاربہ کو چھپاتا ہو۔ اور مسلمان کا کفر کی بات کرنا اسی طرح ہے جس طرح ذمی کا محاربہ کی بات کرنا ۔ جو ہم سے عہد کرے کہ وہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ایذا نہیں دے گا۔ پھر اللہ اور اس کے رسول کو ایذاء دے کر منافق ہو گیا تو وہ معاہدین کے اہلِ نفاق میں سے ہے۔ پس جو ان منافقین میں سے باز نہ آیا تو اللہ اپنے نبی کو ان کے پیچھے لگا دیتا ہے ۔ اور وہ اس سے تجاوز نہیں کر سکتے مگر تھوڑا۔ وہ جہاں کہیں بھی ہوں گے ان پر لعنت برسے گی اور انہیں قتل کیا جائے گا۔ یہ آیت دونوں پر دلالت کرتی ہے۔
پہلی دلالت | ایک یہ کہ ایسا شخص ملعون ہے۔ ملعون وہ ہوتا ہے کہ جہاں
کہیں بھی ہو اُسے پکڑ کر قتل کر دیا جائے۔ اس سے معلوم ہوا کہ اُسے حتمی طور پر قتل کیا جائے۔ اس لئے کہ انہیں کسی حالت کو مستثنیٰ نہیں کیا گیا ، جس طرح باقی صورتوں میں مستثنیٰ کیا گیا ہے۔ نیز اس لئے کہ آیت میں فرمایا " قُتِّلُوْا " آیت کے اس ٹکڑے سے اللہ نے اپنے نبی کی امداد کا وعدہ کیا ہے اور اللہ اپنے وعدہ کی خلاف ورزی نہیں کرتا ۔ اس سے معلوم ہوا کہ پکڑے جانے کی صورت میں اُن کو قتل کرنا ضروری ہے ۔ اور اگر اسلام لانے کی صورت میں قتل اُن سے ساقط ہو جاتا تو اس وعدے کا تحقق کبھی نہ ہوتا۔
دوسری دلالت
دوسری دلالت یہ ہے کہ ان کا باز آنا اس حال میں مفید ہے جب کہ وہ پکڑے جاتے اور قتل کئے جانے سے پہلے ہو۔ جس طرح محاربین کی صرف وہ توبہ مفید ہے جو ان پر قابو پانے سے پہلے کی ہو۔ اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ اگر وہ ایذا رسانی کے نفاق ، نفاق فی العہد اور نفاق فی الدین سے باز آجائیں تو خیر ورنہ اللہ اپنے نبی کو ان کے خلاف آمادہ کرے گا ۔ پھر وہ (اس شہر میں) آپ کے ساتھ نہ رہ سکیں گے ، ان پر لعنت برسے گی اور انہیں پکڑ کر قتل کیا جائے گا ۔ اور یہ طعنہ زن اور دشنام دہندہ باز نہ آیا ، یہاں تک کہ اُسے پکڑ لیا گیا ، لہٰذا یہ واجب القتل ہے ۔
تیسری دلالت
آیت میں تیسری دلالت یہ ہے کہ جو شخص کسی مسلم یا معاہد کو ایذا دیتا ہو جب وہ پکڑا جائے تو اُس پر اس ایذا کی حد لگائی جائے اور اب اس نے جو توبہ کی ہے اس کی وجہ سے وہ حد ساقط نہیں ہوگی ۔ پس جو شخص اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو ایذا دیتا ہے اس سے بطریقِ اُولیٰ یہ حد ساقط نہیں ہوگی ۔ یہ آیت اس بات پر دلالت کرتی ہے اس کی حالت دنیا و آخرت میں بدتر ہوگی :
دشنام دہندہ رسول کو حد شرعی لگا کر قتل کیا جائے
طریقہ خامسہ
جو شخص رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو گالیاں دیتا ہو اسے حد لگا کر قتل کیا جائے نہ کہ محض کفر کی وجہ سے اور جو قتل حد کی وجہ سے واجب ہوا ہو نہ کہ محض کفر کی وجہ سے وہ اسلام لانے سے ساقط نہیں ہوتی۔
یہ دلیل دو مقدموں پر مبنی ہے :۔
- (۱) ایک یہ کہ محض رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو گالی دینے کی وجہ سے جو کہ
ارتداد اور نقض عہد کو مستلزم ہے اُسے قتل کیا جائے ، اگرچہ گالی دینا بھی اس کے قتل کو متضمن ہے کیونکہ بعض جگہ یہ صرف ارتداد اور صرف نقض عہد پر مشتمل ہوتا ہے ۔ اس کی دلیل یہ ہے کہ پیچھے گزر چکا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس ذمی عورت کے خون کو ہدر قرار دیا تھا جو رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو اس اندھے کے یہاں گالیاں دیا کرتی تھی جو اس کے پاس قیام گزیں تھا۔
یہ نہیں ہو سکتا کہ اس عورت کو صرف نقض عہد کی وجہ سے قتل کیا گیا ہو، کیونکہ ذمی عورت کا عہد جب ٹوٹ جائے تو اُسے لونڈی بنایا جاتا ہے اور اُسے قتل کرنا جائز نہیں۔ نیز عورت کو کفر اصلی کی وجہ سے بھی قتل کرنا جائز نہیں، الاّ یہ کہ وہ مسلمانوں سے لڑتی ہو۔ مگر یہ عورت مقاتلہ نہ تھی اور نہ ہی لڑنے والوں کی مدد کرتی تھی۔ جیسا کہ پیچھے گزرا ۔ نیز یہ کہ اگر وہ لڑتی ہوتی اور بغیر قتل کے قید کر لیا جاتا تو لونڈی بن جاتی ۔ اور بہت سے فقہاء کے نزدیک اُسے قتل نہ کیا جاتا ۔ امام شافعی بھی ان ہی میں سے ہیں۔
خصوصاً جب کہ وہ لونڈی ہو تو اُسے قتل کرنا عورت ہونے کی وجہ ممنوع ہے۔ نیز اس لئے کہ وہ ایک مسلم کی لونڈی ہے۔ اس سے ثابت ہوا کہ اس عورت کو قتل کرنا محض رسول کریم کو گالی دینے کی وجہ سے ہے۔ یہ بھی ثابت ہوا
کہ یہ اُن جرائم میں سے ایک جرم ہے جو قتل کا موجب ہے جس طرح کہ ایک ذمی عورت زنا کرے یا مسلمانوں پر رہزنی کرے یا کسی مسلم کو قتل کرے بلکہ یہ شدید تر ہے ۔ کیونکہ مرتد عورت کو قتل کرنے کے بارے میں ہماری مشہور کتب حدیث میں ایسی کوئی حدیث نہیں جیسی کہ گالی دینے والی ذمیہ عورت کے بارے میں موجود ہے ۔
اس کی مزید وضاحت اس سے ہوتی ہے کہ بنو قریظہ والوں نے اپنا عہد توڑ دیا تھا اور حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کے فیصلے کے مطابق وہ اپنے قلعہ سے اتر آئے تھے ۔ حضرت سعد نے فیصلہ کیا تھا کہ ان کے لڑنے والوں کو قتل کیا جائے اور بچوں اور عورتوں کو قیدی بنا لیا جائے ۔ یہ سن کر رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا :-
" آپ نے حکم خداوندی کے مطابق فیصلہ کیا جو اس نے سات آسمانوں سے نازل کیا ۔ "
پھر رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان کے مردوں کو قتل کیا اور بچوں اور عورتوں کو غلام بنا لیا ۔ عورتوں میں سے صرف ایک کو قتل کیا تھا جس نے قلعہ کے اوپر سے ایک مسلمان پر چکی کا ایک پاٹ گرا دیا تھا ۔
اس طرح رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان بچوں میں جن سے صرف نقض عہد کا جرم سرزد ہوا تھا اور ان میں جنہوں نے عہد توڑنے کے ساتھ مسلمانوں کو نقصان بھی پہنچایا تھا تفریق کی ۔ اس ذمی عورت کا عہد صرف اس لئے نہیں ٹوٹا تھا کہ دارالحرب کو چلے جانے کی وجہ سے مسلمانوں سے محفوظ ہو گئی ۔ بلکہ اس نے مسلمانوں کو نقصان پہنچا کر اور اللہ اور اس کے رسول کو ایذا دے کر نقض عہد کیا تھا ۔ علاوہ ازیں اس نے خدا کی راہ سے لوگوں کو روک کر اور دین کو طعن کی آماجگاہ بنا کر خدا کی زمین میں فساد برپا کرنے کی سعی کی تھی ۔ جس طرح چکی کا پاٹ گرانے والی عورت نے کیا تھا ۔ اس لئے معلوم ہوا کہ اس کو
محض نقضِ عہد کی وجہ سے قتل نہیں کیا گیا تھا۔ اور یہ مسلمان بھی نہ تھی تاکہ یہ کہا جاتا کہ ارتداد کی وجہ سے اس کو قتل کیا گیا ۔ اور نہ ہی یہ اس عورت کی مانند تھی جس نے جنگ لڑی ہو ۔ اور پھر اُسے قیدی بنالیا گیا ۔ تاکہ یہ کہا جا سکتا کہ صرف قیدی بننے سے یہ لونڈی بن گئی لہٰذا اسے قتل نہیں کیا جائے گا ۔ یا کہا جائے کہ اُسے آدمیوں کی طرح قتل کیا جاسکتا ہے۔ جب اسلام لائے گی تو اسلام اس کے خون کو بچالے گا اور دو وجہ سے لونڈی بن کر رہے گی۔
- (۱) ایک یہ کہ جو گالیاں یہ دیا کرتی تھی وہ مشرکوں یا عام مسلمانوں کو نہیں
دیا کرتی تھی ۔ تاکہ یہ کہا جاسکے کہ ایک لحاظ سے جنگ میں یہ بھی کفار کی اعانت ہے۔
- (۲) دوسرے یہ کہ گالیاں دیتے وقت یہ محفوظ نہ تھی ۔ بلکہ اس وقت اس پر
قابو پایا جاسکتا تھا اور اس کا حال اس سے پہلے اور اس کے بعد یکساں تھا ۔
پس گالی دینا اگرچہ جنگ کے مترادف ہے مگر یہ حرکت ایک محفوظ عورت سے صادر نہیں ہوئی جسے بعد میں قیدی بنالیا گیا ۔ بلکہ یہ حرکت ایسی عورت سے صادر ہوئی جو حکم کی پابند تھی اور ہمارے اور اس کے درمیان ذمّے کا عہد تھا۔ ظاہر ہے کہ گالی دینا ان امور میں سے ہے جو مسلمانوں کے لئے ضرر رساں ہیں اور یہ عظیم تر فساد فی الارض ہے ۔ کیونکہ اس میں ایمان کی ذلت اور کفر کی عزت پائی جاتی ہے ۔ اور جب یہ بات ثابت ہوگئی کہ اس عورت کو کفر اور نقضِ عہد کی وجہ سے قتل نہیں کیا گیا ۔ اور نہ اس لئے کہ قابو پانے سے پہلے اس نے مسلمانوں سے جنگ لڑی تھی ۔ لہٰذا ثابت ہوا کہ اُسے حدودِ شرعیہ میں سے ایک حد کی وجہ سے قتل کیا گیا ۔ اور جو قتل حد کی وجہ سے واجب ہو محض کفر کی وجہ سے نہیں وہ اسلام لانے سے ساقط نہیں ہوتا۔ مثلاً زانی یا رہزن اور قاتل وغیرہ اہلِ فساد کی حد ۔
اور جس سے اس امر کی تائید ہوتی ہے وہ یہ کہ گالی دینا یا تو جنگ کے مترادف
ہے ۔ یا ایک مفسدانہ جرم ہے اور جنگ نہیں اگر یہ جنگ یا فساد فی الارض کی سعی ہے تو اس کا صدور ایک ذمّی سے ہوا ہے یا مسلم سے ۔ اور ذمّی جب جنگ کرتا ہے اور خدا کی زمین میں فساد کی کوشش کرتا ہے تو واجب القتل ہو جاتا ہے اگر چہ وہ قابو پائے جانے کے بعد مسلمان کیوں نہ ہو جائے۔ اس کی یہ جنگ اس کے قتل کی موجب ہے۔ اور جیسا کہ حدیث میں آیا ہے اس عورت کی جنگ اس کے قتل کی موجب ہے۔ اور اگر یہ مفسدانہ جرم ہے اور قتال نہیں ہے ۔ اور یہ بھی قتل کا موجب ہے۔ تو بھی پکڑے جانے کے بعد بالاولیٰ اُسے قتل کیا جائے گا جس طرح دیگر جرائم میں جو قتل کے موجب ہیں مجرم کو قتل کیا جاتا ہے۔ یہ مسئلہ حقیقت ہے اور اس کا مدار و انحصار ایک حرف پر ہے اور وہ یہ کہ گالی دینا اگرچہ زبان کا فعل ہے مگر حدیث سے ثابت ہے کہ یہ ایک طرح کا فساد اور قتال بالاعضاء و الجوارح بلکہ اس سے بھی شدید تر ہے اور اسی بناء پر اس عورت کو قتل کیا گیا۔
اس کی تعلیل یوں ہے کہ جو لوگ کہتے ہیں کہ "گالی دینے والے کو نقضِ عہد کی وجہ سے قتل کیا جاتا ہے۔"
اُن کا قول اس امر کا مقتضیٰ ہے کہ اس عورت کا قتل جائز نہ ہو۔ بلکہ اگر اس نے ہاتھ یا زبان سے جنگ لڑی بھی ہو اور پھر اُسے پکڑ لیا گیا ہو تو اس عورت کو ان لوگوں کے نزدیک قتل نہیں کیا جائے گا۔
جب حدیث نبویؐ نے اس قول کے فساد و بطلان پر دلالت کی تو دوسرے قول کی صحت معلوم ہوگئی۔ کیونکہ دونوں کے مابین تیسرا قول کوئی نہیں۔ اس میں کسی کے نزدیک کوئی شبہ نہیں جس شخص کو کسی جرم کی وجہ سے پکڑ کر قتل کیا جائے تو اس کا عہد ٹوٹنا اس سے واجب ہوجاتا ہے مگر اُسے محض نقضِ عہد کی وجہ سے قتل نہیں کیا گیا۔ کیونکہ اس کا قتل اسلام لانے سے ساقط نہ ہوگا۔ اسی لئے کہ اس جرم کا فساد اسلام لانے سے زائل نہ ہوگا۔
آپ دیکھتے نہیں کہ وہ جرائم جو عہد کو توڑنے والے ہیں مثلاً رہزنی ، قتلِ مسلم
کفار کے لئے جاسوسی ، مسلم عورت کے ساتھ بدکاری ، مسلم عورت کو گناہ کی زندگی گزارنے پر مجبور کرنا شامل ہیں۔ جب ذمّی سے صادر ہوں، تو جو اہل علم اس کو نقض عہد کی وجہ سے قتل کرنے کے قائل ہیں وہ کہتے ہیں ”کہ جب وہ اسلام لائے گا تو میں اس کو اسی جرم میں پکڑوں گا جس سے اس کو قتل کرنا اس صورت میں واجب ہوجاتا ہے جب کہ ایک مسلم اسلام پر قائم رہتے ہوئے اس کا مرتکب ہو۔ مثلاً یہ کہ رہزنی کرتے ہوئے اس نے کسی کو قتل کیا ہو تو میں اُسے قتل کروں گا۔ اگر زنا کیا ہے تو اس پر حد لگاؤں گا ، یا کسی مسلم کو قتل کیا ہے تو میں اس سے قصاص لوں گا۔ اس لئے کہ اسلام لانے کی وجہ سے وہ مسلمانوں جیسا ہو گیا لہٰذا اُسے کفر کی بناء پر قتل نہیں کیا جاسکتا۔“
اور جو کہتا ہے کہ ”میں اُسے اس لئے قتل کروں گا کہ اس نے اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے جنگ کی اور خدا کی زمین میں فساد برپا کرنے کی کوشش کی ہے “ وہ کہتا ہے کہ اگر وہ پکڑے جانے کے بعد اسلام لائے اور توبہ کر لے تاہم میں اُسے قتل کروں گا ۔ جس طرح ایک مسلم کو اس صورت میں قتل کرتا ہوں جبکہ وہ جنگ کرے اور پھر پکڑا جانے کے بعد توبہ کرلے۔ کیونکہ اپنا اسلام کسی حال میں بھی ان حدود کو ساقط نہیں کرتا جو اس سے قبل واجب ہوچکی ہوں ۔ اگرچہ وہ اُن حدود کے آغاز وجوب کو روکتا ہے ۔
مثلاً ایک ذمّی دوسرے ذمّی کو قتل کردے یا اُس پر بہتان لگا کر مسلمان ہو جائے تو اس کی حد ساقط نہیں ہوگی۔ اور اگر وہ اُسے ابتداءً قتل کرے یا بہتان لگائے تو اس پر نہ حد واجب ہوگی نہ قصاص۔ اگر پکڑے جانے کے بعد توبہ کرلے تو حقوق اللہ اس سے ساقط نہیں ہوں گے ۔ مثلاً رہزنی کرتے ہوئے قتل کرے تو اسلام لانے کے بعد یہ جرم میرے علم کی حد تک اس سے ساقط نہیں ہوگا۔ اسی طرح اگر زنا کرنے کے بعد اسلام لائے تو اس کی حد قتل ہے جو اسلام سے پہلے اس پر واجب تھی ۔ یہ امام احمد کا مذہب ہے ۔ امام شافعی کے نزدیک
اس کی حد وہی ہے جو ایک مسلم کی ہوتی ہے۔ پس گالی کی حد اگرچہ کسی انسان کا حق ہے اسلام لانے سے ساقط نہیں ہوگی۔ اور اگر یہ اللہ کا حق ہے تو یہ نئے کفر اور اصلی محاربہ کی حد نہیں ، جیسا کہ حدیث سے ثابت ہوتا ہے ۔ اور نہ ہی بالاتفاق کفر اصلی کی حد ہے ، لہٰذا یہ محاربہ موجبہ پر اللہ کی حد ہے مثلاً عورت کو قتل کرنا ، ہر قتل جو لڑنے والی ذمی عورت پر از روئے حدّ شرعی واجب ہو۔ اور قابو پائے جانے کے بعد وہ اسلام لے آئے تو بالاتفاق وہ ساقط نہیں ہوگی ۔ اس لئے کہ ذمی عورت کو جب جنگ میں قتل نہیں کیا گیا تو وہ شخص بھی اُسے قتل نہیں کرے گا ۔ جو کہتا ہے کہ لڑنے والے ذمی کو صرف نقض عہد کی وجہ سے قتل کیا جاتا ہے ۔ اور جو شخص حدیث نبوی کے مطابق اُسے قتل کرتا ہے تو اس کے نزدیک اس میں کچھ فرق نہیں کہ پکڑے جانے کے بعد اسلام لائے یا نہ لائے ۔
واضح رہے کہ جو شخص کہتا ہے کہ ”اس ذمی عورت کو قتل کیا جائے ، اگر اسلام لے آئے تو قتل اس سے ساقط ہو جائے گا ۔“ تو وہ اصول دین میں اس کی نظیر نہیں پائے گا کہ ایک ذمی صرف ہمارے قبضہ میں ہے اور اُسے قتل کیا جا رہا ہے اور پھر پکڑے جانے کے بعد اگر اسلام لائے تو قتل اس سے ساقط ہو جائے گا ۔ دین کا کوئی اصول اس مسئلہ پر دلالت نہیں کرتا ۔ اور کوئی حکم جب کسی اصل یا کسی نظیر سے ثابت نہ ہو تو اُسے سینہ زوری پر محمول کیا جائے گا ۔ اور جو شخص کہتا ہے کہ اُسے بہر حال قتل کیا جائے ، اس کی نظیر موجود ہے جس پر ہم اُسے قیاس کرتے ہیں ۔ اور وہ ہاتھ سے لڑنے والی عورت نیز زانیہ اور اس جیسی عورت ہے ۔
طریقہ سادسہ
چھٹا طریقہ بنت مروان کے قتل سے استدلال ہے۔ اور وہ اسی طرح ہے جیسے اس واقعہ سے استدلال ہے ۔ کیونکہ ہم قبل ازیں ذکر کر چکے ہیں کہ وہ صلح کرنے والوں سے تھی اور اُسے صرف گالی دینے کی وجہ سے قتل کیا گیا ۔ اس مسئلہ کی تقریر حسب سابق ہے ۔
دشنام دہندہ رسول کو امان نہیں دی جاسکتی
رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :۔ طریقہ سابعہ | کعب بن اشرف کی خبر کون لے گا؟ اس نے اللہ اور اس کے رسول کو ایذا دی ہے۔ قبل ازیں وہ معاہد تھا، پھر رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ہجو کیا کرتا تھا۔ صحابہ نے رسول کریمؐ کے حکم سے اس کو اچانک قتل کیا تھا۔ حالاں کہ رسول کریمؐ نے یہود کے خون اور مال کو یہ سمجھتے ہوئے امان دی تھی کہ ان کے ساتھ کیا گیا عہد ابھی باقی ہے۔ نیز صحابہ کعب کے پاس اس طرح گئے تھے جس طرح کہ اُسے امان دی گئی ہو۔ اور اگر کعب صرف محارب کافر کی طرح ہوتا تو اس کو قتل کرنا جائز نہ تھا۔ اس لئے کہ اسے امان دی گئی تھی۔ اس لئے کہ اگر قوم حربی سے ایسی بات کہو یا ایسا کام کرو جس کو وہ امان سمجھے تو وہ اس کے لئے امان ہوتی ہے۔ اسی طرح ہر وہ شخص جس کو امان دینا جائز ہے۔ پس اس سے معلوم ہوا کہ رسولؐ کریم کی ہجو کہنے اور اللہ اور اس کے رسولؐ کو ایذا دینے کی صورت میں کسی امان اور عہد کا انعقاد نہیں ہوتا۔ یہ اس امر کی دلیل ہے کہ اس کا قتل حدود شرعیہ میں سے ایک حد تھی، جس طرح رہزن کو قتل کیا جاتا ہے۔ کیونکہ ایسے آدمی کو امان دینے کے باوجود قتل کیا جاتا ہے۔ جس طرح زانی اور مرتد کو امان دینے کے باوجود قتل کیا جاتا ہے۔ الغرض ذمّی پر جو حد بھی واجب ہو وہ اسلام لانے کے ساتھ بالاتفاق ساقط نہیں ہوتی۔
رسول کو ایذا دینا وجوبِ قتل کی علّت ہے
الطریقۃ الثامنۃ | یہ حدیث اس امر پر دلالت کرتی ہے کہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ایذا دینا وجوبِ قتل کی علّت ہے۔ بایں طور کفر و ارتداد محض کے علاوہ
یہ قتل کی ایک اور علت ہے ۔ اس لئے کہ حکم کے بعد وصف کا بحرفِ الفاظ ذکر کرنا اس کے علت ہونے کی دلیل ہے اور اللہ اور اس کے رسولؐ کی ایذا رسانی قتل ، نقضِ عہد اور ارتداد کی موجب ہے ۔
اس کی مزید توضیح یوں ہے کہ اگر اللہ اور اس کے رسولؐ کی ایذا رسانی اس کے قتل کی موجب اس لئے ہے کہ وہ غیر معاہد کافر ہے تو حکم کو وصف اعم کے ساتھ معلل کرنا واجب ہے ۔ کیونکہ اعم جب مستقل بالحکم ہو تو اخص غیر مؤثر ہوتا ہے ۔ جب اس کے قتل کو وصف اخص کے ساتھ معلل کیا تو معلوم ہوا کہ یہ اس کو قتل کا حکم دینے میں مؤثر ہے ۔ خصوصاً رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی گفتگو میں جن کو جوامع الکلم سے نوازا گیا تھا۔ اور جب اللہ اور اس کے رسولؐ کی ایذا رسانی اس کے قتل میں مؤثر ہے تو توبہ کرنے کے باوجود اس کو قتل کرنا واجب ہے جیسا کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو گالی دینے والے مسلم کے بارے میں ذکر کر چکے ہیں۔
بلاشبہ اللہ اور اس کے رسولؐ کی ایذا رسانی اس کے قتل کی موجب ہے مسلمانوں کے نزدیک یہ مسلمہ بات ہے کہ اس طرح نہیں کرنا چاہیئے ۔ تو اگر اس موذی کی سزا توبہ سے ساقط ہو جاتی تو ان دونوں سے بھی ساقط ہوجاتی ۔
فرمانِ باری تعالیٰ ہے :- "بیشک جو لوگ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو ایذا دیتے ہیں اللہ نے اُن پر دنیا اور آخرت میں لعنت کی ہے ۔ جن کے لئے رُسوا کُن عذاب تیار کر رکھا ہے ۔"
( الاحزاب - ۵۷)
بطورِ خاص اس موذی کے بارے میں فرمایا :- "یہ وہ لوگ ہیں جن پر اللہ نے لعنت کی ہے اور جس پر اللہ کی لعنت ہو تو اس کے لئے کوئی مددگار نہ پائے گا ۔"
(النساء - ۵۲)
قبل ازیں ہم بیان کر چکے ہیں کہ ایسا ملعون اگر پکڑا جائے تو یہ لعنت اس کے قتل کی موجب ہوگی ۔ نیز اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے ایذا دینے والوں کا ذکر کر کے
فرمایا :- " اور وہ لوگ جو مومن مردوں اور عورتوں کو ایذا دیتے ہیں اس کام کی جو انہوں نے نہیں کیا تو انہوں نے اُٹھایا بہتان اور گناہ ظاہر "
(الاحزاب - ۵۸)
ہمارے علم کی حد تک اس میں کوئی اختلاف نہیں پایا جاتا کہ لوگ مومن مردوں اور عورتوں کو ایذا دیتے ہیں اُن کی سزا توبہ کرنے سے ساقط نہیں ہوتی ۔ تو پھر اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو ایذا دینے والوں کی سزا بالاولیٰ ساقط نہیں ہو گی ۔ اس لئے کہ قرآن نے اس پر روشنی ڈالی ہے کہ یہ لوگ دنیا و آخرت میں بدترین حال والے ہیں ۔ تو اگر ہم توبہ کی وجہ سے ان کی سزا کو ساقط کر دیں تو پھر تو اچھے حال والے ہو جائیں گے ۔
ہمارا مخالف صرف ایک بات کہہ سکتا ہے اور وہ یہ کہ اس کی سزا قتل کی وجہ سے مغلظ ہو چکی ہے ۔ اس لئے کہ یہ لوگ مرتدین کی ایک نوع میں شامل ہیں ۔ اور ناقض عہد اور کافر کی توبہ کفر سے قبول کی جاتی ہے اور سزا اس سے ساقط ہو جاتی ہے ، بخلاف اس شخص کے جو اپنے فسق کی وجہ سے ایذا دیتا ہو ۔
اس کے جواب میں اُسے کہا جائے گا کہ یہ اس صورت میں ہے جبکہ اس کے قتل کا موجب صرف کفر ہو مگر یہ حدیث نبویہ اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ یہ ایذاء اللہ اور اس کے رسول کو ایذا دینا ہے ۔ اور یہ کفر کے عموم سے اخص ہے ۔ جس طرح زنا ، سرقہ ، شراب نوشی اور رہزنی عمومِ معصیت سے اخص ہے اور شارع نے قتل کے حکم کو اس وصفِ اخص پر مرتب کیا ہے ، جس کی نسبت کفر کی باقی انواع کی طرف وہی ہے جو ایذائے مومنین کی معاصی کی دیگر انواع کی طرف ہے ۔ پس اس نوع کا الحاق باقی انواع کے ساتھ اس چیز کو جمع کرنا ہے جس کو اللہ اور اس کے رسول نے الگ الگ کیا ہے ۔ اور یہ قیاس فاسد ہے ۔ جس طرح ان لوگوں نے قیاس کیا تھا کہ بیع بھی تو ربا کی مانند ہے ۔ ضروری بات یہ ہے کہ ہر نوع کو حکم میں اس کا جو حصہ ہے وہ دیا جائے ، جس طرح کہ شارع
نے اس کی ان اسماء و صفات مؤثرہ کے ساتھ معلق کیا ہے جن کو معتبر سمجھنے پر اس کا حکیمانہ کلام دلالت کرتا ہے۔ اس کی سزا کے آغاز میں شدید ہونے سے یہ لازم نہیں آتا کہ آخر میں بھی وہ سختی باقی رہے، بلکہ اس سے یہ لازم آتا ہے کہ سزا مطلقاً سخت ہو، جب کہ جرم عظیم ہو۔ اور تمام کفار کی سزا ابتداءً سخت نہیں ہے اور انتہاء کا بھی یہی حال ہے۔ اس لئے کہ وہ جزیہ اور غلامی کا اقرار بھی کر سکتے ہیں۔ اور سزا کی قدرت رکھنے کے باوجود کسی مصلحت کی بنا پر ان کو معاف بھی کیا جاسکتا ہے مگر یہ اس کے خلاف ہے۔ مزید براں جب کہ اس کے قتل کی موجب اللہ اور اس کے رسولؐ کی اذیت رسانی ہے۔ لہٰذا وہ اللہ اور اس کے رسول کے خلاف لڑنے والا اور خدا کی زمین پر فساد کی کوشش کرنے والا ہوگا۔ اور کعب بن اشرف والی روایت میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کی طرف اشارہ کیا ہے۔ اور اس وصف پر وہ سزا مرتب کی گئی ہے۔ اور اس کا ارتکاب کرنے والے کی سزا حتمی ہے اِلّا یہ کہ پکڑے جانے سے قبل توبہ کرلے۔
ہجو گوئی کرنیوالی عورتوں کے خون کو رسول کریمؐ نے ھدر
قرار دیا تھا
طریقہ تاسعہ ہم رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی یہ حدیث نقل کرچکے ہیں کہ فتح مکہ والے سال آپؐ نے چند خواتین کے خون کو اس لئے ھدر قرار دیا تھا کہ وہ آپؐ کو اپنی زبان سے ایذا دیتی تھیں۔ اُن میں دو تو ابن خطل کی دو لونڈیاں تھیں جو آپؐ کی ہجو پر مشتمل اشعار گایا کرتی تھیں ۔ ایک بنی عبدالمطلب کی آزاد کردہ لونڈی تھی جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو
ستایا کرتی تھی۔ ہم نے کھل کر بیان کیا ہے کہ ان کو حرب و قتال کے جرم میں قتل نہیں کیا گیا تھا۔ بلکہ محض گالی دینے کے جرم میں ان کو قتل کیا گیا تھا۔ ہم نے یہ بھی ذکر کیا تھا کہ ان کی دشنام طرازی ان کے قتال کے قائم مقام نہ تھی بلکہ اس سے غلیظ تر جرم تھا۔ اس لئے کہ فتح مکہ والے سال آپؐ نے تمام لڑنے والے کفار کو امان دے دی تھی، ماسوا ان لوگوں کے جن سے ایسا جرم سرزد ہوا ہو جو اُن کے قتل کا موجب ہو نیز اس لئے کہ دشنام طرازی کا فعل ان سے فتح مکہ سے پہلے سرزد ہوا تھا اور کسی غزوہ میں عورت کو اس لئے قتل کرنا جائز نہیں کہ اس نے کچھ عرصہ پہلے لڑائی کی تھی، اب وہ اس سے رُک گئی ہے اور اس جنگ میں پکڑی گئی ہے۔ ہم نے کھل کر بیان کیا تھا کہ ان عورتوں کو قتل کرنا اس امر کی بہت بڑی دلیل ہے کہ گالی دینے والی عورت کو قتل کیا جا سکتا ہے خواہ وہ مسلمہ ہو یا معاہدہ۔ یہ اس امر کی قوی دلیل ہے کہ دشنام دہندہ عورت کو قتل کرنا جائز ہے اگرچہ وہ توبہ کر چکی ہو۔
اس حدیث کی دلالت چند وجوہ پر مبنی ہے :۔
پہلی وجہ
اس کافرہ کو اس لئے قتل نہیں کیا گیا کہ یہ مرتدہ تھی اور نہ مقاتلہ ہونے کی بناء پر۔ اس کے قتل کا موجب صرف یہ ہے کہ یہ خدا کی زمین میں فساد برپا کرنے والی اور اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف جنگ کرنے والی تھی۔ اور ایسی عورت کو توبہ کرنے کے بعد بھی قتل کرنا جائز ہے۔ اس لئے کہ اس کو قتل کرنا کتاب و سنت اور اجماع کی رُو سے توبہ سے پہلے بھی جائز تھا۔
دوسری وجہ
دوسری وجہ یہ ہے کہ ان عورتوں کو یا تو حرب و قتال کی وجہ سے قتل کیا گیا یا کسی اور جرم کی وجہ سے جو قتل کا موجب تھا مگر وہ قتال کے سوا کوئی اور جرم تھا۔ اس لئے کہ محض کفر کے جرم میں قتل کرنا جائز نہیں جیسا کہ پہلے گزرا۔ اگر اس کا جرم قتال ہے تو ذمی جب اللہ اور اس کے رسولؐ سے لڑے اور خدا کی زمین میں فساد کی کوشش کرے تو
اس کو قتل کرنا ہر حال میں واجب ہے۔ جیسا کہ قرآن کریم سے معلوم ہوتا ہے۔ اور اگر کوئی اور جرم ہے جو خون کو مباح کرنے والا ہو تو وہ اولیٰ و افضل ہے۔ قبل ازیں ہم بیان کر چکے ہیں کہ ان عورتوں کو اس لئے قتل نہیں کیا گیا کہ انہوں نے فتح مکہ کے موقعہ پر جنگ میں حصہ لیا تھا ۔ بلکہ اس لئے قتل کیا گیا کہ انہوں نے زمانہ گزشتہ میں قتال کا ارتکاب کیا تھا۔ اس لئے یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ ان کو بھی آخر مرتد مسلمانوں یا معاہدوں کی طرح قتل کیا گیا ۔
تیسری وجہ
ان میں سے دو لونڈیوں کو قتل کیا گیا اور تیسری چھپ گئی تھی ۔ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس کے لئے امان طلب کی گئی جو آپ نے اُسے دے دی۔ اس لئے کہ آپ اپنے دشنام دہندہ کو معاف کر سکتے تھے اور اُسے قتل بھی کر سکتے تھے ۔ اور جن کے خون کو آپ نے فتح مکہ والے سال ہدر قرار دیا تھا ان میں سے کسی کے خون کو معصوم نہیں ٹھہرایا گیا ماسوا ان کے جن کو آپ نے امان دی ۔ اس سے معلوم ہوا کہ صرف اسلام نے اس عورت کے خون کو نہیں بچایا ۔ بخلاف ازیں آپ کے معاف کرنے سے یہ معصوم الدم قرار پائی
الغرض ، رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ان عورتوں کو قتل کرنا اس امر کی قوی ترین دلیل ہے کہ گالی دہندہ کو ہر حال میں قتل کرنا جائز ہے ۔ اس لئے کہ حربی عورت کے قتل کو مباح کرنے والا صرف قتال ہے ۔ جب کوئی عورت جنگ میں شریک ہو اور دوسرے غزوہ میں قتال کو ترک کر دے اور اطاعت شعار ہو جائے تو دوسری جنگ میں اُسے قتل کرنا جائز نہیں مگر بایں ہمہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان عورتوں کو قتل کرنے کا حکم دیا ۔
یہ حدیث دو وجوہ پر مبنی ہے :۔
وجہ اوّل
رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اہل مکہ سے معاہدہ کیا تھا۔ ظاہر ہے کہ یہ معاہدہ زبانی ایذا دینے سے باز رہنے پر مشتمل تھا۔
بکثرت احادیث سے یہ بات معلوم ہوتی ہے۔ ان میں صورت یہ وہ عورتیں تھیں ، جنہوں نے ہجو گوئی کر کے نقض عہد کیا تھا یہ نقض عہد ان کی ہجو گوئی کے ساتھ مخصوص تھا۔ اس لئے رسول کریم کو یہ حق حاصل تھا کہ ہجو گوئی کے باعث انہیں قتل کر دیں، اگرچہ وہ توبہ کرلیں اور یہ اس مسئلہ کا سرعنوان ہے۔
رسول کریم کو یہ حق حاصل تھا کہ جو شخص آپ کی ہجو کہے اُسے قتل وجہ دوم کر دیں جبکہ وہ توبہ نہ کرے اور اُسے پکڑ لیا جائے ۔ اگر چہ وہ حربی کافر ہو۔ ہو سکتا ہے کہ گالی دینے والے کے بارے میں مطلقاً آپ کو اختیار دیا گیا ہو اس لئے کہ آپ مصلحت سے بخوبی آگاہ تھے۔ جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وفات پائی تو اس شخص کو قتل کرنا بھی حتمی ٹھہرا جس نے آپ کو گالی نہ دینے کو اپنے اوپر واجب ٹھہرایا تھا ۔ اور دشنام دہندہ حربی کافر بھی توبہ کرنے کے بعد دیگر حربی کافروں کی مانند تھا۔ مگر یہ انداز استدلال ضعیف ہے کیونکہ اس میں حکم شرعی کو قیاس و احتمال سے ثابت کیا گیا ہے۔ مگر پہلا قول قیاس سے ہم آہنگ ہے اور جو شخص ان لوگوں کے واقعہ پر غور کرتا ہے جن کے خونوں کو فتح مکہ کے موقع پر ہدر قرار دیا گیا تھا اُسے معلوم ہے کہ وہ سب اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خلاف لڑنے والے اور خدا کی زمین میں فساد کی کوشش کرنے والے تھے ۔
رسول کریم کا حکم دینا کہ دشنام دہندگان کو قتل کیا جائے اور
دوسروں کو معاف کر دیا جائے
رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بہ یک وقت الطریقۃ العاشرہ گالی دینے اور ہجو لکھنے والوں کی ایک جماعت کو قتل کرنے کا حکم دیا اور ان لوگوں کو معاف کر دیا جو اُن سے کفر ، قتال بالنفس
معلوم ہوتی ہے۔ اور یہی صورت یہ دو صورتیں تھیں ، عہد کیا تھا یہ نقض عہد ان کی ہجو گوئی کے ساتھ ل کریم کو یہ حق حاصل تھا کہ ہجو گوئی کے باعث انہیں یں اور یہ اس مسئلہ کا سرعنوان ہے۔ حق حاصل تھا کہ جو شخص آپ کی ہجو کہے اُسے قتل توبہ نہ کرے اور اُسے پکڑ لیا جائے ۔ اگرچہ وہ گالی دینے والے کے بارے میں مطلقاً آپ کو کہ آپ مصلحت سے بخوبی آگاہ و آشنا تھے۔ جب نے وفات پائی تو اس شخص کو قتل کرنا بھی حق ٹھہرا کہ اپنے اوپر واجب ٹھہرایا تھا ۔ اور دشنام دہندہ بعد دیگر حربی کافروں کی مانند تھا ۔ مگر یہ انداز س میں حکم شرعی ) کو قیاس و احتمال سے ثابت کیا سے ہم آہنگ ہے اور جو شخص ان لوگوں کے ذمہ فتح مکہ کے موقع پر ہدر قرار دیا گیا تھا اُسے معلوم کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خلاف لڑنے د کی کوشش کرنے والے تھے ۔
کہ دشنام دہندگان کو قتل کیا جائے اور
کو معاف کر دیا جائے
رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بہ یک وقت گالی دینے اور ہجو لکھنے والوں کی ایک جماعت کو لوگوں کو معاف کر دیا جو اُن سے کفر، قتال بالنفس
والمال میں شدید تر ہے۔ چنانچہ آپ نے عقبہ بن ابی معیط اور النضر بن الحارث کو قتل کرنے کا حکم دیا ۔ اس لئے کہ وہ دونوں آپ کو ایذا دیتے، افترا پردازی کرتے اور طعن دیتے تھے۔ ان کے علاوہ عام قیدیوں کو زندہ رہنے دیا تھا، پیچھے گزر چکا ہے کہ اس نے کہا تھا " اے گروہ قریش ! یہ کیا بات ہے کہ تم میں سے مجھے باندھ کر قتل کیا جا رہا ہے ؟ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ۔ " تمہاری افترا پردازی اور کفر کی وجہ سے تم سے یہ سلوک کیا جا رہا ہے۔ ظاہر ہے کہ محض کفر سے قتل مباح ہو جاتا ہے پس معلوم ہوا کہ رسول کریم پر دروغ بانی ایک اور قسم کی گالی ہے جو عموم کفر سے اخص اور قتل کی موجب ہے۔ افترا پردازی جہاں بھی ہوگی اس کے ساتھ وجوب قتل بھی پایا جائے گا ۔" فتح مکہ والے سال رسول کریم نے حُوَیرِث بن نُقَیذ ، ابوسفیان بن الحارث اور ابن زبعریٰ کے خون کو ہدر قرار دیا تھا۔ پھر اس کے بعد کعب بن زہیر وغیرہ کے خون کو ہدر قرار دیا۔ اس لئے کہ وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ستایا کرتے تھے۔ اسی طرح آپ نے اس شخص کے خون کو بھی ہدر ٹھہرایا ۔ جو مرتد ہوا اور جنگ کی اور اس کا خون جس نے دین سے منحرف ہو کر افترا پردازی کی اس کا خون جس نے مرتد ہو کر جنگ کی اور اس طرح اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو ستایا۔ مگر اس کے باوجود آپ نے ان تمام لوگوں کو امان دی جنہوں نے جنگ کر کے اپنا عہد توڑ دیا تھا۔ اس سے معلوم ہوا کہ آپ کو ایذا دینا بذات خود کفر، قتال بالنفس، رہزنی اور قتل نفس کے علاوہ اباحت قتل کا مستقل سبب ہے۔
آپ کو جب ایسی بات کا پتہ چلتا تو جو حکم آپ دیتے اور جس موقف پر آپ قائم رہتے تھے اور جس طرح مسلمانوں کو دیگر کفار کو چھوڑ کر صرف گالی دہندگان کے قتل پر اُبھارتے تھے اس کا تذکرہ ہم پہلے کر چکے ہیں۔ حتیٰ کہ گالی دہندہ کے خون کو آپ کی معافی کے سوا دوسری کوئی چیز نہیں بچا سکتی تھی۔ یہ طرز عمل اس حقیقت کی غمازی کرتا ہے کہ آپ گالی دہندہ کو ان لوگوں میں شامل
کرتے تھے۔ جو قتل کے موجب افعال انجام دے چکے ہوں مثلاً رہزنی اور اس قسم کے دیگر امور و افعال ۔ جو شخص سابق الذکر اور دیگر احادیث میں غور کرتا ہے یہ بات اس پر واضح ہو جاتی ہے۔ ایسا فعل اس کے فاعل کے قتل کو واجب کر دیتا ہے، خواہ وہ مسلم ہو یا معاہد، اگرچہ اس نے پکڑے جانے کے بعد توبہ کر لی ہو۔ اور جب اس وجہ کو سابقہ وجہ کے ساتھ ملایا جائے اور سمجھ لیا جائے ۔ کہ ایذا رسانی تنہا بھی قتل کا موجب ہو سکتی ہے، اس لئے نہیں کہ یہ قتال کی جنس سے ہے ۔ اس لئے کہ رسول کریم نے ان اشخاص کو بھی امان دے دی تھی جو جان و مال کے ساتھ آپ کے خلاف صف آرا ہوئے تھے ۔
پس اس عورت کو امان دینا جس نے ایک جنگ نما حرکت کی تھی اولیٰ ہے بشرطیکہ اس کا جرم قتال کی جنس سے ہو۔ نیز اس لئے کہ عورت کسی جنگ میں لڑ چکی ہو۔ پھر مسلمان کسی جنگ میں حصہ لیں اور انہیں معلوم ہو کہ اُس عورت نے موجودہ جنگ میں اپنے ہاتھ یا زبان سے حصہ نہیں لیا تو مسلمانوں میں سے کسی کے نزدیک اُسے قتل کرنا جائز نہیں ۔
جہاں تک ان عورتوں کا تعلق ہے انہوں نے فتح مکہ سے پہلے آپ کو ایذا دی تھی ۔ فتح مکہ کے موقع پر اُن پر لڑائی کا کوئی داغ ۔ خواہ ہاتھ سے ہو یا زبان سے ۔ نہیں لگا ۔ بخلاف ازیں وہ فرماں بردار اور اطاعت شعار رہیں ۔ اگر اُنہیں معلوم ہوتا کہ اسلام کے اظہار و اعلان سے ان کی جان بچ جائے گی تو وہ اس کے اظہار میں امکانی عجلت سے کام لیتیں ۔
تو کیا کوئی شخص یہ عقیدہ رکھتا ہے کہ اس عورت کو محاربہ ہونے کی وجہ سے قتل کیا جائے ۔ خصوصاً امام شافعیؒ کے نزدیک کہ انہوں نے تصریح کی ہے کہ عورت اور بچے کو قتل کرنا جب کہ وہ جنگ میں حصہ لیں مسلمان حملہ آور کے قتل کی طرح ہے ۔ اس کا عقیدہ یہ ہوتا ہے کہ ان (عورت اور بچے) کو دور ہٹایا جائے گا، اگرچہ اس کی نوبت ان کے قتل تک پہنچے ۔ اگر ان کا دفاع قتل
کے بغیر ممکن ہو۔ مثلاً قید کرنے سے یا ترک قتال سے و شکل ایں ، تو ان کو قتل کرنا جائز نہیں ، جس طرح حملہ آور کو قتل کرنا جائز نہیں ۔ جبکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان عورتوں کو قتل کرنے کا حکم دیتے ہیں جو آپ کو ایذا دیتیں اور آپ کی ہجو گوئی کرتی تھیں ، حالانکہ اب انہوں نے یہ طرز عمل چھوڑ دیا تھا اور اطاعت شعار بن گئی تھیں ۔ بلکہ ان کی یہ دلی آرزو تھی کہ اگر اسلام ان کی جان بچا سکے تو وہ اس کا اظہار کر دیں ۔ علاوہ ازیں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تمام مقاتلین کو امان دے دی تھی۔ تو اس سے معلوم ہوا کہ دشنام دہندگی حتماً ایک ایسا جرم ہے جو ہر ایک کے خون کو مباح کر دیتا ہے۔ اور اس کے مرتکب کو چھوڑنا ذلت اور عاجزی کا آئینہ دار ہے ۔ اس کی موید یہ بات ہے کہ رسول کریم نے لڑنے والوں کے سوا سب اہل مکہ کو امان دے دی تھی۔ البتہ آپ نے اس گروہ کو قتل کرنے کا حکم دیا تھا ، خواہ انہوں نے لڑائی کی ہو یا نہ کی ہو۔ پس معلوم ہوا کہ ان عورتوں کو گالی دینے کی وجہ سے قتل کیا گیا ، لڑنے کی وجہ سے نہیں ۔
ابن ابی سرح کا واقعہ
گیارہواں طریقہ
عبداللہ بن سعد بن ابی سرح مرتد ہو گیا تھا۔ اور اس نے جھوٹ باندھا تھا کہ رسول کریم اس کو وحی کی تعلیم دیتے ہیں اور وہ جو چاہتا ہے لکھ کر آپ کو دے دیتا ہے۔ اس کے نتیجے میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے خون کو ھدر قرار دیا تھا۔ مسلمانوں میں سے ایک شخص نے اس کو قتل کرنے کی نذر مانی ۔ پھر حضرت عثمان نے اُسے چند روز محبوس رکھا یہاں تک کہ اہل مکہ مطمئن ہو گئے پھر توبہ کرنے کے لئے رسول کریم کی خدمت میں حاضر ہوا تاکہ آپ کی بیعت کرے اور آپ سے امان طلب کرے۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دیر تک خاموش رہے
بدیں اُمید کہ نذر ماننے والا یا کوئی اور شخص اُسے قتل کر کے اپنی نذر پوری کرے۔ یہ واقعہ اس امر پر روشنی ڈالتا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اپنے آپ پر افتراء کرنے والے اور طعن کرنے والے کو قتل کر سکتے ہیں کیونکہ وہ مباح الدم ہو جاتا ہے۔ اگرچہ وہ آپ کے پاس اپنے کفر اور افتراء پردازی سے توبہ کرنے کے لئے حاضر ہوا ہو۔ اگر اس کو قتل کرنا ناروا ہوتا تو آپ نے جو کچھ فرمایا تھا وہ نہ فرماتے۔ اور نہ ہی اس آدمی (نذر ماننے والے صحابی) سے کہتے کہ تو نے اُسے قتل کر کے اپنی نذر پوری کیوں نہ کی ؟"
ہمارے علم کی حد تک اس ضمن میں کچھ اختلاف نہیں پایا جاتا کہ کافر اگر توبہ کا ارادہ کر کے اسلام لانے کے لئے آیا ہو تو اُسے قتل کرنا جائز نہیں ، اس مسئلہ میں اصلی کافر اور مرتد کے مابین کچھ فرق نہیں۔ ماسوا اس شاذ اختلاف کے جو مرتد کے بارے میں ہم نے ذکر کیا ہے حالانکہ حدیث اس اختلاف کا ابطال کرتی ہے ۔ بلکہ اگر کافر اس لئے آئے کہ اس پر اسلام پیش کیا جائے اور اُسے قرآن پڑھ کر سنایا جائے تو اس کو امان دینا واجب ہے ۔
قرآن میں فرمایا :- ”اگر مشرکین میں سے کوئی پناہ مانگے تو اُسے پناہ دیجئے تاکہ وہ اللہ کا کلام سنے پھر اُسے اس کے جائے امن تک پہنچا دیں ۔
(التوبۃ - ۶)
نیز فرمایا :- ”اگر وہ توبہ کریں اور نماز قائم کریں اور زکوۃ دیں تو ان کا راستہ چھوڑ دیجئے۔"
(التوبۃ - ۵)
عبداللہ بن سعد توبہ کرنے کے لئے آیا تھا اور وہ نماز روزے کا پابند تھا۔ بلکہ اسلام لانے کے بعد آپ کی خدمت میں حاضر ہوا تھا۔ پھر رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے یہ فرمایا کہ آپ اس کو قتل کرنا چاہتے تھے۔ آپ نے لوگوں کو مخاطب کر کے فرمایا :-
"تم میں سے کوئی اسے قتل کرنے کے لئے کھڑا کیوں نہ ہو گیا ۔" اور تو نے اسے قتل کر کے اپنی نذر کیوں نہ پوری کی ؟
اس سے معلوم ہوا کہ موذی اور مفتری کو قتل کرنا آپ کے لئے جائز تھا ۔ اگرچہ بظاہر وہ اسلام اور توبہ کا اظہار کرنے آیا ہو ۔ اس میں ظاہر دلالت پائی جاتی ہے کہ آپ پر افتراء باندھنے والے اور ایذا دینے والے کو قتل کرنا آپ کے لئے جائز تھا ۔ اگرچہ وہ اسلام اور توبہ کا اظہار کرتا ہو ۔
اس سے ملتا جلتا یہ واقعہ ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے سفیان بن حارث اور ابن ابی امیہ سے بھی درگزر فرمایا ۔ جبکہ وہ اسلام لانے کے لئے ہجرت کر کے آئے تھے یا اسلام لا چکے تھے ۔ اس کی علت یہ بیان کی گئی ہے کہ یہ دونوں رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو ایذا دیتے اور آپ کی توہین کیا کرتے تھے ۔ حالانکہ اس میں کوئی اختلاف نہیں پایا جاتا کہ حربی کافر اگر اسلام لانے کے ارادے سے آئے تو اس کو قبول کرنے میں امکانی عجلت سے کام لینا چاہیے اس میں تاخیر کرنا حرام ہے ۔ بلکہ بعض لوگوں نے اس ضمن میں تاخیر کو کفر قرار دیا ہے ۔
رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی سیرت طیبہ یہ تھی کہ جو بھی اسلام کا اظہار کرتا اس کو قبول کرنے میں عجلت سے کام لیتے اور لوگوں کو مال وغیرہ دے کر اسلام کی ترغیب دلاتے ۔ یہ بات عیاں را چہ بیان کی مصداق ہے ۔ جب (ان کا اسلام قبول کرنے میں) آپ نے دیر لگائی اور ان کی طرف توجہ نہ دینے کا ارادہ کیا ۔ اس سے معلوم ہوا کہ آپ کو یہ حق حاصل تھا کہ ایذا اور گالی دینے والے کو سزا دیں ، اگرچہ وہ اسلام لایا ہو ۔ اور ہجرت کر چکا ہو ۔ آپ کو یہ حق بھی حاصل تھا کہ ایذا دہندہ سے اسلام اور توبہ بھی قبول نہ کریں ۔ جو ایسے کافر سے قبول کی جاتی ہے جو ایذا نہ دیتا ہو ۔ اس سے یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ گالی تنہا بھی سزا کی موجب ہے ۔
اس کی مزید وضاحت اس واقعہ سے ہوتی ہے جس کو اہل مغازی نے ذکر کیا ہے کہ حضرت علی ابن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے ابو سفیان بن حارث سے کہا کہ رسول کریم کے پاس مُنہ کی طرف سے آئیے اور وہ بات کہیں جو یوسف علیہ السلام کے بھائیوں نے ان سے کہی تھی کہ :۔ ۔ تَاللهِ لَقَدْ آثَرَكَ اللهُ عَلَيْنَا وَإِنْ كُنَّا لَخَاطِئِينَ "
( یوسف - ۹۱ )
اللہ کی قسم اللہ نے آپ کو ہم پر ترجیح دی ہے۔ اگرچہ ہم خطا کار تھے۔ کیونکہ آپ اس بات کو پسند نہیں کرتے کہ کوئی شخص آپ سے اچھی بات کرنے والا ہو۔ ابوسفیان نے اسی طرح کیا رسول کریم نے فرمایا :۔ ۔ " لَا تَثْرِيْبَ عَلَيْكُمُ الْيَوْمَ ، يَغْفِرُ اللَّهُ لَكُمْ وَهُوَ أَرْحَمُ الرَّاحِمِينَ ہ
( یوسف - ۹۲ )
آج کے دن تم پر کوئی عتاب نہیں ، اللہ تمہیں معاف کرے اور وہ سب رحم کرنے والوں سے زیادہ رحم کرنے والا ہے۔
یہ واقعہ اس امر پر دلالت کرتا ہے کہ جو شخص آپ کی توہین کا مرتکب ہو آپ اسے سزا بھی دے سکتے ہیں اور معاف بھی کر سکتے ہیں۔ جس طرح یوسف علیہ السلام کو یہ حق حاصل تھا کہ اپنے بھائیوں کو اُن اعمال کی سزا دیں جو انہوں نے حضرت یوسف علیہ السلام کے ساتھ کئے تھے مثلاً کنوئیں میں پھینکنا اور قافلہ والوں کے پاس فروخت کر دینا، مگر اپنی خوش اخلاقی کی وجہ سے ان کو معاف کر دیا۔ اور اگر اسلام لانے سے آپ کے تمام حقوق ساقط ہو جاتے جس طرح اللہ کے حقوق ساقط ہوتے ہیں تو ایسی کوئی چیز بھی پیش نہ آتی۔ اور اس وجہ کی تقریر آغاز کتاب میں گزر چکی ہے۔ وہاں ہم نے بیان کیا تھا کہ یہ اس بارے میں نص ہے کہ جو شخص اسلام لانے کے بعد مرتد ہو جائے اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو گالیاں دے اس کو قتل کرنا جائز ہے۔ اسی وجہ سے گالی دینے والے معاہد کو قتل
کیا گیا کیوں کہ جرم کی نوعیت ایک ہی ہے۔
اس مسئلہ کی مزید وضاحت اس سے ہوتی ہے کہ مسلمانوں کے نزدیک یہ طے شدہ بات تھی کہ حربی کافر جب اسلام کا اظہار کرے تو اس کو قتل کرنا ان پر حرام ہے خصوصاً سابقین اولین صحابہ مثلاً حضرت عثمان بن عفان یہی عقیدہ رکھتے تھے انہیں یہ آیت معلوم تھی : وَلَا تَقُوْلُوْا لِمَنْ اَلْقٰی اِلَیْکُمُ السَّلَامَ لَسْتَ مُؤْمِنًا (النساء ۹۴) اور جو شخص تمہیں سلام کہے اُسے یوں نہ کہو کہ تو مومن نہیں ہے۔
حضرت اسامہ بن زیدؓ اور مقداد کا واقعہ بھی اس پر دلالت کرتا ہے ۔ پھر جن لوگوں کے خون کو رسول کریمؐ نے ھدر قرار دیا تھا ان میں سے بعض کو قتل کیا گیا، بعض چھپ گئے یہاں تک کہ اہل مکہ مطمئن ہو گئے۔ اس نے رسول کریمؐ سے اس خواہش کا اظہار کیا کہ آپؐ اُسے بیعت کر لیں۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت عثمانؓ اور دیگر اہل اسلام نے جان لیا کہ عبداللہ بن سعد بن ابی سرح وغیرہ کا اسلام کا اظہار کرنے سے ان کی جان بچ نہیں سکتی ۔ جب تک رسول کریمؐ ان کو امان نہ دیں ورنہ ان کے لئے ممکن تھا کہ ان کو اسلام کے اظہار کا حکم دیتے اور پہلے دن ہی لوگوں کے سامنے آجاتے ۔
اور ظاہر بات یہ ہے کہ — واللہ اعلم — کہ وہ اسلام لے آئے تھے، مگر بیعت میں تاخیر اس لئے ہوئی کہ رسول کریمؐ ان کو امان دیں تو پھر بیعت کریں گے ۔ یہ اس امر کی دلیل ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کی گالیوں کی وجہ سے اظہار توبہ کے باوجود ان کو قتل کر سکتے تھے۔
حضرت عکرمہؓ سے مروی ہے کہ ابن ابی سرح فتح مکہ سے پہلے مسلمان ہو گیا تھا۔ دیگر اہل علم نے بھی اسی طرح ذکر کیا ہے۔ ابن ابی سرح اس وقت مشرف باسلام ہوا تھا۔ جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مَرَّ الظہران کے مقام پر تھے۔ یہ جو کچھ انہوں نے ذکر کیا ہے وہ اس مسئلہ میں نص کی حیثیت رکھتا ہے اور
یہی اقرب الی الحق ہے ۔ اس لئے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب مَرُّ الظَّہْران میں نزول فرمائے اجلال ہوئے تو قریش کو پتہ چل گیا ، ابن ابی سرح کو اپنے گناہ کا علم تھا ۔ اس لئے ہو سکتا ہے کہ وہ اس وقت اسلام لایا ہو جب اُسے پتہ چلا کہ رسول کریم نے اس کے خون کو ہدر قرار دیا ہے ۔ تو وہ چھپ گیا حتیٰ کہ اس کے لئے امان طلب کی گئی ۔ اس حدیث میں غور و فکر کرنے والے کو اندازہ ہو جاتا ہے کہ رسول کریم اس کو قتل بھی کر سکتے تھے اور اُسے امان بھی دے سکتے تھے اور صرف اسلام لانے سے اس کا خون محفوظ نہیں ہو سکتا ۔ یہاں تک کہ رسول کریم نے اس کو معاف کر دیا ۔
اس واقعہ میں بھی مذکور ہے کہ حضرت عثمانؓ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس اس کی سفارش کے لئے حاضر ہوئے تھے ۔ رسول کریم کافی دیر تک خاموش رہے اور کُچھ دفعہ اس سے اعراض بھی فرمایا ۔ حضرت عثمانؓ ہر جہت سے آتے مگر اُن سے اعراض کرتے بدیں اُمید کہ کوئی صحابی آکر اُس کو قتل کردے گا ۔ حضرت عثمانؓ اندریں اثنا رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر جھکے ہوئے آپ کا سر چوم رہے تھے اور آپؐ سے یہ درخواست کرتے تھے کہ عبداللہ بن ابی سرح کو بیعت کرلیں اور یاد دلاتے تھے کہ آپؐ کی اُمت کے بھی آپؐ پر حقوق ہیں یہاں تک کہ آپؐ کو حضرت عثمانؓ سے شرم آنے لگی ۔ اس لئے آپؐ نے بیعت کا وعدہ کر کے ان کی مقصد برآری فرمائی ۔ حالانکہ آپؐ یہ بات کرنا نہیں چاہتے تھے ۔ اس سے معلوم ہوا کہ اس کو قتل کرنا آپؐ کا حق تھا مگر آپؐ اُسے معاف بھی کر سکتے تھے اور کسی سفارشی کی سفارش کو بھی قبول کر سکتے تھے اور اگر چاہیں تو ایسا نہیں بھی کر سکتے تھے ۔ اور اگر اسلام لانے سے عبداللہ کی جان بچ سکتی تو اُسے سفارش کی ضرورت بھی نہ تھی ۔ اور سفارش کو ردّ کرنا بھی جائز نہیں ۔
اس واقعہ میں یہ بات بھی ہے کہ حضرت عثمانؓ نے جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ عبداللہ آپؐ سے بھاگ جائے گا تو آپؐ نے فرمایا : کیا میں نے اُسے
بیعت کر کے اُسے امان نہیں دی " حضرت عثمانؓ نے کہا جی ہاں ! مگر اُسے اپنا عظیم جرم یاد ہے ۔ آپؐ نے فرمایا : " دینِ اسلام پہلے گناہوں کو ساقط کر دیتا ہے ۔ "
اس میں اس واقعہ کا واضح بیان ہے کہ عبد اللہ کا یہ خوف کہ رسول کریمؐ اُسے قتل کرا دیں رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی امان دینے سے زائل ہو جائے گا ۔ صرف اسلام لانے کی وجہ سے نہیں ۔ اس لئے کہ رسول کریمؐ نے اِن کے قتل کا خوف امان دے کر زائل کر دیا تھا ۔ اور گناہ کا خوف اسلام لانے سے دُور ہو گیا ۔
قارون کا موسیٰ علیہ السلام کو ایذا دینا اور اُس کا انجام
جو حدیث اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ انبیاء علیہم السلام اپنے ایذا دینے والے کو موت کی سزا بھی دے سکتے ہیں ۔ اگر چہ موذی توبہ اور ندامت کا اظہار بھی کرتا ہو وہ ہے جس کو حماد بن سلمہ نے بروایت علی بن زید بن جدعان از عبداللہ بن حارث بن نوفل روایت کیا ہے کہ قارون موسیٰ علیہ السلام کو ستایا کرتا تھا اور حضرت موسیٰؑ کا چچا زاد بھائی تھا ۔ اس کی ایذا رسانی اس حد تک پہنچی کہ اس نے ایک زانیہ عورت سے کہا کہ تو جب لوگ میرے پاس جمع ہوں تو تم نے آ کر کہنا ہے کہ موسیٰؑ مجھے یہ کہتے ہیں ۔ جب اگلا روز آیا اور لوگ جمع ہو گئے تو وہ آئی اور اس نے راز کے طور پر قارون سے ایک بات کہی ۔ پھر لوگوں سے کہا کہ قارون مجھے اس طرح کہتا ہے مگر موسیٰ علیہ السلام نے مجھ سے کچھ نہیں کہا ۔ موسیٰ علیہ السلام کو جب اس بات کا پتہ چلا تو وہ محراب میں نماز ادا کر رہے تھے ، وہ سجدے میں گر پڑے اور کہا اے میرے رب ! قارون نے مجھے بہت ستایا ہے اور میرے ساتھ ایسا ایسا سلوک کیا ہے اور اُس
کی ایذارسانی کی حد یہاں تک پہنچ گئی ہے کہ اس نے کہا جو کہا۔ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام کو وحی کی اے موسیٰ میں نے زمین کو حکم دیا ہے کہ تیری اطاعت کرے اور قارون کا ایک بالاخانہ تھا جس پر اس نے سونے کی سلیں نصب کر رکھی تھیں۔ موسیٰ علیہ السلام قارون کے پاس آئے اور اس کے خدم و حشم بھی موجود تھے۔ اس نے قارون سے کہا کہ تمہاری ایذا رسانی کی حد یہاں تک پہنچ چکی ہے کہ تو نے مجھے اس طرح سے کہا ہے (پھر موسیٰ علیہ السلام نے بارگاہِ خداوندی میں دعا کی کہ اے زمین ان کو پکڑ ۔ چنانچہ زمین نے اُن کو ٹخنوں تک پکڑ لیا۔ انہوں نے آواز دی اے موسیٰ اپنے رب سے دعا کر کہ ہمیں اس عذاب سے نجات دے ہم تجھ پر ایمان لائیں گے اور تمہاری اطاعت کریں گے۔ حضرت موسیٰ نے پھر کہا اے زمین! انہیں پکڑ لو ۔ چنانچہ زمین نے اُن کو پنڈلیوں کے نصف تک پکڑ لیا۔ وہ پھر بولے اور کہا ”اے موسیٰ اپنے رب سے دعا کرو کہ ہمیں اس عذاب سے نجات دے ہم تجھ پر ایمان لائیں گے اور تمہاری پیروی اور اطاعت کریں گے۔ (پھر تیسری دفعہ) موسیٰ نے کہا اے زمین ان کو پکڑ لو چنانچہ زمین نے ان کو زانوؤں تک پکڑ لیا۔ موسیٰ بدستور کہتے رہے اے زمین ان کو پکڑ لے یہاں تک کہ وہ اوپر سے مل گئی۔ اور وہ پکارتے رہے۔ پھر اللہ نے وحی فرمائی اے موسیٰ تو کس قدر سنگدل ہو، اگر وہ مجھے پکارتے تو میں انہیں خلاصی دے دیتا۔
عبدالرزاق نے اس کو بطریق جعفر بن سلیمان از علی بن زید بن جدعان روایت ہے۔ اس روایت میں زیادہ تفصیل ہے اس میں مذکور ہے کہ عورت نے کہا کہ قارون نے بلا بھیجا اور پھر مذکورہ بالا بیان سے زیادہ تفصیل ذکر کی۔ قارون نے کہا، کیا تو چاہتی ہے کہ میں تجھے مال دار بنا دوں، بہت کچھ دوں اور اپنے حرم سرا میں داخل کر لوں۔ بدیں شرط کہ تو میرے پاس ایسے وقت میں آئے جب کہ سرداران بنی اسرائیل میرے یہاں موجود ہوں۔
تو نے مجھ سے کہنا ہو گا کہ اے قارون ! کیا تو موسیٰ کو مجھے ستانے سے روک نہیں سکتا؟ آج کے دن میں نے اس سے بڑی توہین پائی کہ اللہ کے دشمن (قارون) کو سچا جانیں اور اللہ کے رسول کو جھوٹا ٹھہرائیں ۔ راوی نے کہا کہ قارون نے پھر اپنا سر جھکا لیا اور اُسے پتہ چل گیا کہ وہ ہلاک ہونے والا ہے ۔ یہ بات لوگوں میں پھیل گئی حتیٰ کہ موسیٰ (علیہ السلام) کو بھی پہنچی ۔ موسیٰ علیہ السلام فراخ طبیعت آدمی تھے ۔ جب یہ بات ان کو پہنچی تو وضو کیا اور سر بہ سجود ہو کر رونے لگے اور کہا " اے میرے ربّ تیرا دشمن قارون مجھے ایذا دیا کرتا ہے ۔ پھر انہوں نے چند باتوں کا ذکر کیا ۔ وہ مجھ سے باز نہ آیا اور مجھے رسوا کرنا چاہا اے میرے ربّ ! مجھے اس پر مسلط کر دے ۔ اللہ نے انہیں وحی کی کہ زمین کو جو حکم چاہو دو وہ تمہاری اطاعت کرے گی ۔ موسیٰ علیہ السلام چل کر قارون کے پاس گئے جب قارون نے آپ کو دیکھا تو اُن کے چہرے پر غصہ کے آثار نمایاں تھے ۔ قارون نے کہا اے موسیٰ " مجھ پر رحم فرمائیے ! موسیٰ علیہ السلام نے کہا اے زمین اس کو پکڑلے اس کا گھر بار اور قارون کو اس کے رفقاء سمیت زمین میں دھنسا دیا گیا اور اس کا گھر بھی اسی قدر زمین میں دھنس گیا ۔ قارون کہے جا رہا تھا اے موسیٰ مجھ پر رحم کھا ۔ اے موسیٰ مجھ پر رحم کر، اور موسیٰ علیہ السلام فرماتے اے زمین ! ان کو پکڑلے اور یہ قصہ تا آخر ذکر کیا ۔ یہ ہے اصل واقعہ ! رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت عبداللہ بن مسعودؓ سے کہا جب اُن کو کسی شخص کا یہ قول پہنچا کہ اس تقسیم میں رضائے الٰہی کو ملحوظ نہیں رکھا گیا " تو رسول کریم نے فرمایا "معاف کیجیے حضرت موسیٰ کو اس سے بڑھ کر ستایا گیا مگر انہوں نے صبر سے کام لیا۔" پس یہ واقعہ ہم نے رسول کریمؐ کے جو حالات ذکر کیے ہیں اس امر پر دلالت کرتے ہیں کہ انبیاء علیہم السلام ایذا دینے والے کو جیسی سزا چاہیں دے سکتے ہیں ، اگرچہ وہ توبہ بھی کرلے اور وہ معاف بھی کر سکتے ہیں جس طرح دوسرے انسانوں کو بھی یہ حق حاصل ہے مگر انبیاء ایذا دہندہ کو قتل اور ہلاکت کی سزا بھی دے سکتے ہیں ، مگر دوسرا کوئی شخص اپنے دشمن کو یہ سزا نہیں دے سکتا ۔
یہ اس امر کی دلیل ہے کہ انبیاء کے موذی کی سزا شرعی حدود میں سے ایک حد ہے نہ کہ محض کفر کی وجہ سے ، اس لئے کہ کافر کی سزا بلاشبہ توبہ سے ساقط ہوجاتی ہے۔ قارون نے ایسے وقت میں توبہ کی تھی جب کہ توبہ اس کے لئے نفع بخش نہ تھی۔ اس لئے حدیث میں آیا ہے کہ اللہ نے فرمایا اگر وہ مجھے پکارتے تو میں انہیں خلاصی دے دیتا ۔ اور ایک جگہ یہ الفاظ ہیں کہ " میں ان پر رحم فرماتا ۔ " اور اللہ اس لئے رحم فرماتا ۔ واللہ اعلم ۔ کہ حضرت موسیٰ کا دل ان کی ایذا سے راضی ہوجاتا ۔ جس طرح اللہ کسی بندے پر رحم کرنا چاہتا ہے تو جن بندوں پر حقوق ہیں اُن سے بندے کے حقوق معاف کروائے گا اور پھر صاحب حقوق کے حق اپنی طرف سے ادا کردے گا ۔
بارہواں طریقہ
قبل ازیں انس بن زُنیم الدیلی کی روایت پہلے گزر چکی ہے ۔ اس کے بارے میں ذکر کیا گیا تھا کہ اس نے رسول کریم کی ہجو کہی ۔ پھر آپؐ کی خدمت میں حاضر ہوا اور اپنے اسلام لانے پر براءت بری الذمہ ہونے پر ایک قصیدہ پڑھا جس میں اس نے ذکر کیا تھا کہ وہ ان جرائم سے پاک ہے جو اس کی طرف منسوب کیئے گئے ہیں ۔ اس نے مسلمانوں سے عہد بھی کیا ہوا تھا ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے بارے میں قدرے توقف فرمایا ۔ وہ آپؐ سے معافی کا خواست گار ہوا یہاں تک کہ آپؐ نے اُسے معافی دے دی ۔ اگر اسلام لانے کے بعد بھی معاہد کو گالی کی سزا دینا جائز نہ ہوتا تو آپؐ اس کی جاں بخشی میں توقف نہ فرماتے اور نہ اس سے معافی منگوانے کی ضرورت محسوس کرتے ۔
اور اگر یہ بات نہ ہوتی کہ اسلام لانے کے بعد بھی مجرم سے آپؐ اپنا حق وصول کر سکتے ہیں تو آپؐ اُسے معاف نہ فرماتے ۔ جس طرح آپؐ اس شخص کو معاف نہیں فرمایا کرتے تھے جو اسلام لاتا اور اس کے ذمّے کوئی جرم نہ ہو ۔
اس کی روایت غور کرنے والے کے لئے اس امر کی واضح دلیل ہے کہ اگر کوئی معاہد رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ہجو کہے اور پھر اسلام لائے تو اس کو قتل کرنا جائز ہے ۔ بالکل اسی طرح جیسے ابن ابی سرح کی روایت اس امر کی دلیل ہے کہ جو شخص مرتد ہوکر رسول کریم کو گالی نکالے اور پھر اسلام لائے تو اُسے قتل کرنا جائز ہے ۔ رسول کریم کو جب پتہ چلا کہ اس نے آپ کی ہجو کہی ہے اور اس نے اس وقت آپ کے ساتھ صلح کی ہوئی تھی اور فریقین کے مابین جو معاہدہ تھا اس میں یہ بات شامل تھی کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ایذا نہ دی جائے ۔ اس کے بارے میں کہا گیا تھا :-
کہ جب قبیلہ بنو بکر والوں نے نقض عہد سے پہلے بنو خزاعہ کے آدمیوں کو قتل کیا تھا تو اس نے رسول کریم کی ہجو گوئی پر مشتمل ایک قصیدہ کہا تھا ۔ اس کے نتیجے میں آپ نے اس کے خون کو ساقط کر دیا تھا ۔ اس کے بعد اس نے ایک اور قصیدہ کہا جس میں اس نے اپنے آپ کو مسلم کہا تھا ۔ اس قصیدہ میں اس نے "تَعَلَّمْ رَسُولَ اللّٰہ" اور "ھَبْنِیْ رَسُوْلَ اللّٰہ" کے الفاظ کہے ۔ اس قصیدہ میں اس نے ہجو گوئی پر مشتمل قصیدہ لکھنے سے انکار کیا تھا ۔ اس نے اس قصیدہ میں بددعا کی کہ اگر میں نے آپ کی ہجو کہی ہو تو میرے ہاتھ برباد ہو جائیں جن لوگوں نے اس امر کی شہادت دی تھی وہ ان کو کاذب کہتا ہے ۔ رسول کریم کی خدمت میں حاضر ہونے سے پہلے آپ کو اس قصیدے کا پتہ چل گیا اور یہ بھی کہ اس نے ہجو گوئی والے قصیدے سے معذرت کی ہے ۔ قبیلہ کے سردار نوفل بن معاویہ نے اس کی سفارش کی ۔
نوفل وہی شخص تھا جس نے عہد شکنی کا ارتکاب کیا تھا اور کہا یا رسول اللہ آپ سب لوگوں سے زیادہ معاف کرنے والے ہیں اور ہم میں سے کون ہے جس نے آپ کے ساتھ عداوت نہ رکھی ہو اور آپ کو ستایا نہ ہو ۔ دورِ جاہلیت میں ہمیں کچھ خبر نہ تھی کہ ہم کیا کریں اور کیا نہ کریں حتیٰ کہ آپ کے ذریعے اللہ نے ہمیں
ہدایت دی اور ہمیں ہلاکت سے بچایا۔ قافلہ والوں نے آپ پر جھوٹ باندھا اور بہت زیادہ تعداد میں آپ کے پاس آئے۔ اُس نے کہا :۔ " قافلے کا ذکر چھوڑیئے ۔ ہم نے تہامہ میں کسی قریب یا دُور کے رشتہ دار کو نہیں دیکھا جو خزاعہ سے زیادہ اطاعت شعار ہو" اُس نے نوفل بن معاویہ کو خاموش کرا دیا۔ جب وہ خاموش ہوگیا تو رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا " میں نے اسے معاف کیا " نوفل نے کہا "میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں ۔"
اگر سابقہ اسلام اس کی جان کو بچا سکتا تو اُسے معافی کی ضرورت نہ تھی نہ حد کی جس طرح ان لوگوں کو اس کی ضرورت نہ تھی جو اسلام لائے تھے ۔ البتہ آپؐ نے فرمایا تھا " اسلام پہلے گناہوں کو ساقط کر دیتا ہے " صاحب شریعت نے بتایا کہ جس چیز کو عقل نے ساقط کیا وہ آپؐ کا معاف کرنا ہے اور وہ اس لئے کہ رسول کریم کا ارشاد عفوت عنہ (میں نے اسے معاف کیا) یا تو اس کے معنی یہ ہے کہ میں نے اس کے خون کو جو ھدر کیا تھا اس سے اُسے بچا لیا یا اس کے یہ معنی نہیں ہیں ۔ اور اگر اس کے یہ معنی نہیں ہیں تو پھر عفوت عنہ کا کچھ مطلب نہیں ۔ اور اگر اس کا مفہوم یہ ہے کہ میں نے خون کو جو ھدر کیا تھا اس کو ساقط کر دیا تو اس سے قبل اگر کوئی مسلم اُسے اسلام لانے کے بعد اور رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے معاف کرنے سے پہلے قتل کر دیتا تو جائز ہوتا ۔ اس لئے کہ قاتل نے رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے حکم کی پیروی میں معاف کرنے سے قبل اُسے قتل کر دیا ۔ گویا کہ ابن ابی سرح کو قتل کرنے کا حکم آپؐ کے معاف کرنے تک باقی تھا ۔
رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس بات پر ان کو ڈانٹا تھا کہ معاف کرنے سے قبل اُس کو قتل کیوں نہ کیا ؟ اور یہ بات ان احادیث سے بخوبی واضح ہوتی ہے ۔ اگر مسلمانوں کے نزدیک یہ بات طے شدہ ہوتی کہ جو معاہد آپؐ
کی ہجو کہے پھر اسلام لائے تو اس کا خون محفوظ ہو جائے گا تو نوفل اور دوسرے اہلِ اسلام اس بات سے آگاہ ہوتے۔ اور آپ سے اسی طرح بچتے جس طرح کعب بن زہیر اور اس قسم کے لوگوں سے کہا تھا جنہوں نے حربی ہونے کی حالت میں آپ کی ہجو کہی تھی کہ جو شخص مسلمان ہو کر آپ کے پاس آئے اُسے قتل نہیں کیا جائے گا ۔ آپ دیکھتے نہیں کہ اس بات کا اظہار انہوں نے رسول کریم سے نہیں کیا۔ یہاں تک کہ آپ نے اُسے معاف کر دیا۔ جیسا کہ معافی سے پہلے ابن ابی سرح کے معاملہ کو ظاہر نہیں کیا۔ برخلاف کعب بن زہیر اور ابن الزبعریٰ کے کہ وہ بذات خود آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے تھے کیونکہ انہیں اعتماد تھا کہ حربی کافر کو قتل کرنا ممکن نہیں جب کہ وہ مسلمان ہو کر آئے۔ نیز اس امکان کی بنا پر کہ گالی دینے والے ذمی اور مرتد کو قتل کرنا ممکن ہے، اگرچہ وہ مسلمان ہو کر آئیں اسلام لا چکے ہوں ۔
اس نے اپنے قصیدے میں کہا تھا :۔
هَرَقْتُ ، فَفَكِّرْ عَالِمَ الْحَقِّ وَاقْصِدِ
" میں نے نہ تو کسی کی عزت کو بٹہ لگایا ہے اور نہ کسی کا خون بہایا ہے اے حق پرست عالم اس میں غور کیجئے اور میانہ روی اختیار کیجئے ۔ "
اس شعر میں شاعر نے ہتک عزت اور خوں ریزی کو جمع کر دیا ہے معلوم ہوا کہ اس جرم میں اسلام لانے کے بعد بھی اُسے پکڑا جا سکتا ہے۔ اگر یہ بات نہ ہوتی کہ اسلام لانے کے بعد بھی اس کو قتل کرنا ممکن تھا تو اس سے انکار اور اعتذار کی حاجت نہ تھی۔
اس کی مؤید یہ بات ہے کہ نقضِ عہد کرنے والے بنو بکر میں سے رسول کریم نے اس کے سوا کسی کا خون نہیں گرایا تھا۔ حالانکہ انہوں نے (لاتعداد) افعالِ شنیعہ انجام دیئے تھے۔ اس سے معلوم ہوا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی
اہانت، مقاتلہ اور دست بدست جنگ کر کے عہد توڑنے سے بھی عظیم تر جرم ہے۔ یہ حدیث پہلے گزر چکی ہے۔ یہاں ہم نے یاد دہانی کے طور پر اس کا اعادہ کیا ہے۔
گالی کی ایک حد قصاص کے مماثل ہے
تیرھواں طریقہ | پیچھے گزر چکا ہے کہ جو شخص رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بُرا سلوک کرتا یا آپ کو ایذا دیتا آپ اُسے قتل بھی کر سکتے تھے اور معاف بھی کر سکتے تھے۔ اگر ایذا دہندہ کو صرف ارتداد کی وجہ سے قتل کیا جاتا تو توبہ کرنے سے پہلے اس کو معاف کرنا جائز نہ ہوتا۔ اور جب یہ آپ کا حق ہے تو پھر مسلم اور ذمی میں کچھ فرق نہیں۔ آخر آپ نے ایذا دینے والے اہلِ ذمہ کے خون کو بھی ھدر قرار دیا ہی تھا۔ پیچھے گزر چکا ہے کہ اس کی وجہ صرف یہ نہ تھی کہ انہوں نے نقضِ عہد کا ارتکاب کیا تھا۔ پس معلوم ہوا کہ یہ آپ کو ایذا دینے کی وجہ سے تھا۔ اور جب آپ ایذا دینے والے اور دشنام دہندہ کو قتل بھی کر سکتے ہیں اور اُسے معاف بھی کر سکتے ہیں تو وہ مسلم ہو یا معاہد تو اس سے معلوم ہوا کہ یہ اسی طرح ہے جس طرح غیر انبیاء کو قصاص یا حدِ قذف یا گالی کی تعزیر کی بنا پر سزا دی جاتی ہے۔ اور جب صورتِ حال یہ ہے تو یہ مسلم یا معاہد کے توبہ کرنے سے ساقط نہ ہو گی جس طرح یہ حدود توبہ کرنے سے ساقط نہیں ہوتیں۔ یہ بڑا قوی استدلال ہے۔
اس کی وجہ یہ ہے کہ جب اللہ نے یہ سزا معاف کرنے کو آپ کے لئے مباح کیا ہے تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ اس میں غالب پہلو آپ کے حق کا ہے بالکل اسی طرح جس طرح دوسرے آدمیوں کو گالی دی جاتی ہے تو اس میں اُن کا حق فائق ہوتا ہے (البتہ فرق یہ ہے کہ آپ کو گالی دینے کی سزا قتل ہے جب دوسروں کو گالی دینے کی سزا کوڑے مارنا ہے) جب آپ کے حق کا پہلو غالب ہے اور آپ کی زندگی میں یہ اختیار آپ کو دیا گیا ہے تاکہ معاف کر کے
آپ بلند درجات حاصل کر سکیں اور گاہے شرعی حد لگا کر بلند مقام حاصل کریں۔ اس لئے کہ آپ جس طرح رحمۃ للعالمین ہیں اسی طرح ”نبی الملحمہ“ جنگ کرنے والے نبی بھی ہیں۔ آپ ہنسنے والے بھی ہیں جنگجو بھی۔ ذمی نے آپ سے عہد کیا تھا کہ آپ کی بے حرمتی نہیں کرے گا۔ اگر وہ کسی مسلم یا معاہد کا خون یا مال یا ناموس ضائع کرے اور پھر مسلمان ہو جائے تو (اس کا جرم) اس سے ساقط نہیں ہوگا۔ تو یہ بالاولیٰ اس سے ساقط نہیں ہوگا۔
قبل ازیں ہم تحریر کر چکے ہیں کہ اُس کو محض نقض عہد کی وجہ سے قتل نہیں کیا گیا بلکہ گالی دینے کی وجہ سے۔ جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس گالی دینے والے کو اسلام لانے کے باوجود قتل کر سکتے ہیں اور اُسے معاف بھی کر سکتے ہیں۔ مگر آپ کی وفات کے بعد معاف کرنا تو باقی نہ رہا اور صرف سزا باقی رہی جو خالص اللہ کا حق ہے لہٰذا اس کو وصول کرنا ضروری ہے جیسا کہ پوشیدہ نہیں ہے۔ یوں کہنا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد بھی آپ کی طرف سے کسی کو معاف کرنے کا حق ہے اس بات پر منتج ہوتا ہے کہ حاکم وقت کو اس کے قتل کرنے اور زندہ چھوڑنے کا اختیار ہو۔ اور یہ ایسی بات ہے جس کا کوئی شخص بھی قائل نہیں ہے۔ علاوہ ازیں یہ بات شریعت کے اصول و قواعد کے خلاف ہے۔ قبل ازیں آپ کی حیات طیبہ اور آپ کی وفات کا فرق واضح ہو چکا ہے۔
چودھواں طریقہ
یہ حدیث مرفوع پہلے گزر چکی ہے۔ بشرطیکہ سنداً اس کی صحت ثابت ہو کہ ”جو شخص کسی نبی کو گالی دے اُسے قتل کیا جائے اور جو صحابہ کو گالی دے اُسے کوڑے مارے جائیں“۔ اس حدیث میں قتل اور کوڑے مارنے کا حکم علی الاطلاق (بلاقید و شرط) دیا گیا ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو گالی دینا بذات خود قتل کا موجب ہے جس طرح دوسروں کو گالی دینا کوڑے مارنے کا موجب ہے یہ گالی دینے کی شرعی سزا ہے اور جس طرح کوڑے مارنے کا حکم بعد از قدرت توبہ کرنے سے ساقط نہیں ہوتا۔
اسی طرح یہ فعل بھی ساقط نہیں ہوتا ۔
صحابہ کے اقوال وافعال
پندرہواں طریقہ
ان میں سے ایک قول یہ ہے کہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے مہاجر بن ابی امیہ کو اس عورت کے بارے میں لکھا تھا جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجو پر مشتمل گیت گایا کرتی تھی۔ آپ نے لکھا کہ اگر میں پہلے فیصلہ نہ کر چکا ہوتا تو تجھے اس عورت کو قتل کرنے کا حکم دیتا ۔ اس لئے کہ انبیاء کی حد دیگر حدود کے مشابہ نہیں ہوتی جس مسلم یا معاہد نے اس کا ارتکاب کیا تو وہ مرتد ، محارب اور عہد شکنی کرنے والا ہے ۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اُسے بتایا کہ اگر وہ عورت ہمارے ہاتھ سے جا نہ چکی ہوتی تو میں اس کو قتل کرنے کا حکم دیتا پھر نہ تو اُس سے توبہ کا مطالبہ کرتا اور نہ توبہ طلب کرنے کی وجہ سے تاخیر کرتا۔ حالانکہ قبل ازیں جن لوگوں کو قتل کے لئے پیش کیا جاتا تھا تو وہ جلدی سے توبہ کر لیتے یا اسلام قبول کرنے میں عجلت سے کام لیتے ، جب کہ اُسے معلوم ہوتا کہ اس طرح قتل اس سے ٹل جائے گا۔ دشنام دہندہ عورت کے بارے میں حضرت ابوبکر صدیق نے یہ نہیں پوچھا تھا کہ آیا وہ مسلمہ ہے یا ذمیہ ؟ آپ نے صرف یہ ذکر کیا کہ کسی نبی کو گالی دینے کی سزا قتل ہے اور ان کی وجہ سے جو حد لگائی جاتی ہے وہ عام لوگوں کی حد کی طرح نہیں ہوتی ۔ حالانکہ ہجو گوئی کرنے والی عورت کے بارے میں آپ نے تفصیل طلب کی تھی کہ آیا وہ مسلمہ ہے یا ذمیہ ؟
اس سے یہ حقیقت کھل کر سامنے آئی کہ نبی کو گالی دینے کی سزا واجب ہے ۔ نبی کو یہ حق حاصل ہے کہ اُسے بعض حالات میں معاف کر دے اور بعض حالات میں سزا دے جس طرح غیر انبیاء کو گالی دینے کی سزا ایک حد شرعی ہے جو دشنام دہندہ پر واجب ہے ۔
حضرت ابوبکرؓ کا یہ فرمان کہ "جو مسلم اس کا مرتکب ہو وہ مرتد ہے" اس کے
یعنی نہیں کہ اس کی توبہ قبول کی جائے۔ اس لئے کہ ارتداد ایک جنس ہے جس کے تحت بہت سی انواع ہیں۔ اُن میں سے بعض میں توبہ قبول کی جاتی ہے اور بعض میں نہیں جیسا کہ قبل ازیں ہم اس پر تنبہ کر چکے ہیں ممکن ہے کہ پھر اس کا اعادہ کریں۔ دراصل حضرت ابوبکرؓ کا مقصد یہ بتانا تھا کہ اس کے خون کو مباح کرنے والی چیز کیا ہے۔ حضرت ابوبکرؓ کا یہ قول کہ "وہ محارب اور عہد شکن ہے" تو محارب اور ناقضِ عہد ایک جنس ہے جس میں اس کا خون مباح ہو جاتا ہے۔ نیز یہ کہ اُن میں سے بعض ایسے ہیں کہ اسلام لانے کے باوجود ان کو قتل کیا جاتا ہے مثلاً محارب ہونے کے ساتھ ساتھ رہزنی کرے یا کسی مسلمہ کو زنا پہ مجبور کرے ومثل ایں۔
قرآن کریم میں فرمایا :۔ " بدلہ اُن لوگوں کا جو اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے لڑتے ہیں اور خدا کی زمین میں فساد کی کوشش کرتے ہیں کہ انہیں قتل کیا جائے یا سولی دیا جائے "
( المائدۃ - ۳۳ )
پھر اس نے سزا کو اس صورت میں نہیں اُٹھایا مگر جب کہ قابو میں آنے سے پہلے توبہ کرلیں۔ قبل ازیں ہم بیان کر چکے ہیں کہ یہ محارب اور معاند ہے ، لہٰذا اس آیت میں داخل ہوگا ۔
۲۔ مجاہد کا قول
مجاہد کہتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس ایک آدمی کو لایا گیا ہے جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو گالیاں دیتا تھا۔ آپؓ نے اُسے قتل کر دیا پھر فرمایا: "جو اللہ اور اس کے کسی رسول کو گالی دے اُسے قتل کر دیا کرو ۔"
حالانکہ حضرت عمرؓ کا رویہ مرتد کے بارے میں یہ تھا کہ اس سے تین دفعہ توبہ طلب کی جائے اور ہر روز اُسے ایک روٹی کھلائی جائے ممکن ہے کہ وہ توبہ کرلے۔ جب اس کی توبہ طلب کئے بغیر آپؓ نے قتل کرنے کا حکم دیا تو اس سے معلوم ہوا کہ حضرت عمرؓ
کے نزدیک اس کا جرم محض مرتد کے جرم سے شدید تر ہے۔ بنا بریں اگر کوئی معاہد رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو گالی دے تو اس کا جرم اس شخص کے جرم سے شدید تر ہے جو محض نقض عہد کا مجرم ہو۔ خصوصاً جب کہ حضرت عمرؓ نے اس کے قتل کا حکم علی الاطلاق بلا استثناء دیا۔
اسی طرح وہ عورت جو رسول کریمؐ کو گالیاں دیا کرتی تھی اور حضرت خالد بن ولیدؓ نے اس کو قتل کر دیا تھا اور اس سے توبہ کا مطالبہ نہیں کیا تھا۔ اس سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ وہ محض مرتد کی طرح نہ تھی۔
محمد بن مسلمہ کا واقعہ بھی اس سے ملتا جلتا ہے۔ اس نے قسم کھائی تھی کہ وہ ابن یامین کو قتل کرے گا۔ اس لیے کہ اس نے کہا تھا کہ کعب بن اشرف کو دھوکے سے قتل کیا گیا تھا۔ پھر طویل مدت کے بعد اس کو قتل کرنے کے لئے طلب کیا تھا اور مسلمانوں نے اس پر کچھ اعتراض نہیں کیا تھا حالانکہ اگر اس کو محض ارتداد کی وجہ سے قتل کیا جاتا تو وہ اسلام کی طرف لوٹ آیا ہوتا۔ کیونکہ اس کے بعد وہ شہادتین کا اقرار کرتا رہا تھا اور نمازیں ادا کیا کرتا تھا اور اُسے توبہ طلب کیے بغیر قتل کیا گیا تھا۔
۳۔ حضرت ابن عباسؓ کا قول
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما اس شخص کے بارے میں فرماتے ہیں جو امہات المومنین پر بہتان لگایا کرتا تھا کہ " اس کی توبہ مقبول نہیں " صحابہؓ کے یہ اقوال اس مسئلہ میں نص کا درجہ رکھتے ہیں۔
صحابہؓ کے یہ فیصلہ جات اس قدر مشہور ہیں کہ کسی کو مجالِ انکار نہیں جس طرح حضرت عمرؓ نے اس مرتد کے قتل پر اعتراض کیا تھا جس سے توبہ کا مطالبہ نہیں کیا گیا تھا اور جیسا کہ حضرت ابن عباسؓ نے زنادقہ کو جلانے پر اعتراض کیا اور کہا تھا کہ ان کی سزا قتل ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ صحابہ کے مابین یہ بات مشہور تھی
کہ گالی دہندہ کی سزا یہ ہے کہ اسے قتل کیا جائے ماسوا حضرت ابن عباسؓ کے جن سے یہ قول منقول ہے کہ :۔ ”جس نے کسی نبی کو گالی دی اس نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تکذیب کی۔ یہ ایک قسم کا ارتداد ہے جس سے توبہ کی جاسکتی ہے۔ اگر توبہ کرے تو فبہا ورنہ اسے قتل کیا جائے۔“
حضرت ابن عباسؓ کا یہ قول اُس گالی کے بارے میں ہے جس سے کسی نبی کی نبوت کا انکار لازم آتا ہو۔ کیوں کہ یہ بات رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تکذیب کو مستلزم ہے۔ اس میں شبہ نہیں کہ جو شخص کسی نبی کے بارے میں کہے کہ وہ نبی نہیں اور نبی نہ ماننے کی وجہ سے اس کو گالی دے تو یہ خالص ارتداد ہے اور ابن عباسؓ کے قول کو صرف اسی پر محمول کرنا چاہئیے۔ اس جیسی کسی اور بات پر بشرطیکہ وہ بات ابن عباسؓ سے منقول ہو۔ اس لئے وہ کہتے ہیں کہ جو شخص امّہات المومنین پر بہتان لگاتا ہے اس کی توبہ مقبول نہیں۔ یہ کیسے ممکن ہے کہ امّہات المومنین کی عزت و حرمت رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو گالی دینے کی وجہ سے کسی معروف نبی کی حرمت جس کا ذکر قرآن میں بھی کیا گیا ہو عظیم تر ہو۔
تصدیقِ نبوّت کے علاوہ بھی رسولؐ کے حقوق ہیں !
خداوند کریم نے ہمارے نبیؐ کے لئے ہمارے قلب، لسان اور سولہواں طریقہ ] اعضاء پر نبوت کی تصدیق کے علاوہ بھی کچھ حقوق عائد کئے ہیں۔ جس طرح اللہ تعالیٰ نے اپنی مخلوق پر قلبی، لسانی اور جسمانی عبادات کو واجب ٹھہرایا ہے اسی طرح اس نے اپنی تصدیق کے علاوہ بھی کچھ امور کو واجب قرار دیا ہے۔ نیز اپنے رسولؐ کی عزت و حرمت کی وجہ سے بعض ایسے امور کو حرام ٹھہرایا ہے جن کو دوسروں کے لئے جائز قرار دیا گیا ہے۔ یہ حرام کردہ امور محض آپؐ کی نبوت کی تکذیب کے علاوہ ہیں۔
پہلا حق
ان میں سے ایک بات یہ ہے کہ پہلے اس امر کی اطلاع دی کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے فرشتے رسول کریم پر صلوٰۃ و سلام بھیجتے ہیں صلوٰۃ کے معنی یہ ہیں کہ اللہ تعالیٰ آپ کی مدح و توصیف کرتا، آپ کے لئے بھلائی اور قربت چاہتا اور آپ پر اپنی رحمتیں نازل کرتا ہے سلام کا لفظ جملہ آفات سے سلامتی کا متضمن ہے۔ اس طرح صلوٰۃ و سلام کے الفاظ تمام بھلائیوں کو شامل ہیں۔ جو شخص رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر ایک دفعہ درود بھیجتا ہے اللہ تعالیٰ اس پر اپنی دس رحمتیں نازل کرتا ہے ، یہ فرما کر رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ، لوگوں کو آپ پر درود بھیجنے کی ترغیب دلائی ہے تاکہ وہ اس سعادت سے بہرہ اندوز ہوں اور اس کے رحم و کرم کا مورد و محور قرار پائیں ۔
دوسرا حق
دوسری بات یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ اللہ کا رسول مومنین کی اپنی جانوں سے بھی قریب تر ہے ۔ رسول کریم کا حق یہ ہے کہ آپ کی ذات گرامی اُسے اس سے زیادہ عزیز ہو جتنا کہ پانی پیاسے کو اور کھانا بھوکے شخص کو عزیز اور محبوب ہوتا ہے۔
قرآن میں فرمایا :-
" اہل مدینہ کو اور جو دیہاتی ان کے آس پاس رہتے ہیں ان کے لئے موزوں نہ تھا کہ پیغمبر خدا سے پیچھے رہ جائیں اور نہ یہ کہ اپنی جانوں کو اُن کی جان سے زیادہ عزیز رکھیں "
(التوبۃ۔۱۲۰)
اس آیت سے معلوم ہوا کہ انسان کی یہ خواہش کہ رسول کریم کی رفاقت میں جو تکلیفیں اُسے پہنچی ہیں نہ پہنچتیں، حرام ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو مخاطب کرتے ہوئے جہاد کی مشقتوں کے بارے میں فرمایا جن سے وہ دوچار ہوتے تھے کہ :-
" لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِيْ رَسُوْلِ اللّٰهِ اُسْوَةٌ حَسَنَةٌ لِّمَنْ كَانَ
يَرْجُوا اللهَ وَالْيَوْمَ الْآخِرَ وَذَكَرَ اللهَ كَثِيرًا
(الاحزاب - ۲۱)
(تم کو پیغمبر خدا کی پیروی کرنی بہتر ہے۔ یعنی) اس شخص کو جسے خدا سے ملنے، اور روزِ قیامت (کے آنے) کی اُمید ہو اور وہ خدا کا کثرت سے ذکر کرتا ہو۔)
تیسرا حق
رسولِ کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا (تیسرا) حق یہ ہے کہ رسولِ کریم کی ذات ایک مومن کے نزدیک اس کی جان، اس کی اولاد، اور تمام مخلوقات سے محبوب تر ہو۔
قرآن میں فرمایا :-
"کہہ دو کہ اگر تمہارے باپ اور بیٹے اور بھائی اور عورتیں اور خاندان کے آدمی اور مال جو تم کماتے ہو اور تجارت جس کے بند ہونے سے ڈرتے ہو اور مکانات جن کو پسند کرتے ہو، خدا اور اس کے رسولؐ سے اور خدا کی راہ میں جہاد کرنے سے تمہیں زیادہ عزیز ہوں ۔"
(التوبہ - ۲۴)
اور جیسا کہ احادیث صحیحہ مشہورہ میں آیا ہے ۔ نیز حضرت عمرؓ کا صحیح قول ہے :-
"یا رسول اللہ آپؐ مجھے ہر چیز سے عزیز تر ہیں ماسوا میری جان کے ۔ آپؐ نے فرمایا نہیں اے عمرؓ ! جب تک میں تجھے تیری جان سے بھی محبوب تر نہ ہوں ۔" حضرت عمرؓ نے کہا بخدا یا رسول اللہ آپؐ مجھے اپنی جان سے بھی عزیز تر ہیں ۔ رسول کریمؐ نے فرمایا "اے عمرؓ کیا اب تم یہ بات کہہ رہے ہو؟" رسولِ کریمؐ نے یہ بھی فرمایا کہ :-
"تم میں سے کوئی شخص مومن نہیں ہوتا یہاں تک کہ میری ذات اُسے اس کی اولاد، اس کے والدین اور سب لوگوں سے محبوب تر نہ ہو۔" (بخاری ومسلم)
چوتھا حق
یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپؐ کے اکرام و احترام کا حکم دیا ہے۔
قرآن میں فرمایا :-
" وَتُعَزِّرُوهُ وَتُوَقِّرُوهُ "
(الفتح - ۹)
" اس کی مدد کرو اور اس کی عزت کرو۔" اس آیت میں تعزیر ایک جامع لفظ ہے جو ہر قسم کی تائید و نصرت اور ہر موذی سے بچانے کے لئے استعمال کیا جاتا ہے۔
اسی طرح توقیر بھی ایک جامع لفظ ہے جو ہر ایسی چیز کے لئے استعمال کیا جاتا جس میں سکون و اطمینان اور اجلال و اکرام پایا جاتا ہو۔ اس میں یہ چیز بھی شامل ہے کہ اس کے ساتھ تکریم و تعظیم کا معاملہ کیا جائے اور اُسے ہر چیز سے بچایا جائے جو اُسے عزّ و وقار سے محروم کرتی ہو۔
پانچواں حق
آپ کا پانچواں حق یہ ہے کہ آپ کو شایان شان انداز سے مخاطب کیا جائے۔ قرآن مجید میں فرمایا :-
- مومنو ! پیغمبر کے بلانے کو ایسا خیال نہ کرنا جیسا تم آپس میں ایک
دوسرے کو بلاتے ہو۔
( النور - ۶۳ )
اس آیت کی رُو سے یوں کہنے سے منع فرمایا کہ یا محمد یا احمد یا ابا القاسم بلکہ یوں کہو کہ یا رسول اللہ ! یا نبی اللہ ! اور یوں نام لے کر آپ کو مخاطب نہ کیا جائے ، جبکہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس اکرام و تکریم سے مخاطب کیا ہے کہ کسی نبی کو اس طرح مخاطب نہیں فرمایا۔ چنانچہ قرآن میں آپ کو نام لے کر مخاطب نہیں کیا گیا بلکہ اکثر و بیشتر آیات میں آپ " يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ " کے الفاظ کے ساتھ مخاطب کیا گیا۔ دیکھئے مندرجہ ذیل آیات :-
(۱) (سورۃ الاحزاب - ۲۸) (۲) الاحزاب - ۵۹ - (۳) (الاحزاب - ۵۰) (۴) الاحزاب - ۱ - (۵) الاحزاب - ۴۵ - (۶) الطلاق - ۱ - (۷) التحریم - ۱ (۸) ایک جگہ " يَا أَيُّهَا الرَّسُولُ " فرمایا ۔
(المائدہ : ۶۷)
(۹) ایک جگہ : " يَا أَيُّهَا الْمُزَّمِّلُ " فرمایا (المزمل - ۱) (۱۰) ایک جگہ " يَا أَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ " (المدثر - ۱) فرمایا ، (۱۱) " يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ " (الممتحنہ - ۱۲) فرمایا ۔
جب کہ دیگر انبیاء کو اس طرح مخاطب کیا :-
(۳) يَا اٰدَمُ اسْكُنْ (البقرة - ۳۵) ، (۴) يَا اٰدَمُ اَنْبِئْهُمْ (البقرة - ۳۳) (۵) يَا نُوْحُ (ہود - ۴۶) ، (۶) يَا اِبْرَاهِيْمُ (ہود - ۷۶) ، (۷) يَا مُوْسٰی (والاعراف - ۱۴۴) ، (۱۷) يَا دَاوُودُ (ص - ۲۶) ، (۱۸) يَا عِيْسَى ابْنَ مَرْيَمَ (المائدة - ۱۱۰)
چھٹا حق
آپ کا حق یہ بھی ہے کہ جب تک آپ اجازت نہ دیں آپ کے سامنے گفتگو کرنا ممنوع ہے۔ آپ کی آواز پر آواز بلند کرنے کی اجازت نہیں اور یہ بھی جائز نہیں کہ دوسروں کی طرح آپ کو بلند آواز سے پکارا جائے۔ قرآن میں فرمایا کہ اس سے اعمال کے ضائع ہو جانے کا اندیشہ ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ امر کفر کا مقتضیٰ ہے، اس لئے کہ اعمال کفر سے ضائع ہوتے ہیں۔ نیز فرمایا کہ جو لوگ رسول کریم کی خدمت میں حاضر ہو کر اپنی آوازوں کو پست رکھتے ہیں ان کے دلوں کو اللہ نے تقویٰ کے لئے آزما لیا ہے، لہٰذا اللہ ان کو بخشے گا اور ان پر رحم فرمائے گا۔ یہ بھی فرمایا کہ جو لوگ آپ کو پکارتے ہیں، جب کہ آپ اپنے گھر میں ہوتے ہیں، اُن میں سے اکثر بیوقوف ہیں۔ اس لئے کہ انہوں نے بلند آواز سے آپ کو پکارا۔ اور آپ کے باہر نکلنے کا انتظار نہ کیا۔ اس طرح انہوں نے آپ کو گھر سے نکلنے پر مجبور کیا۔
ساتواں حق
آپ کا ایک حق یہ ہے کہ بعض معاملات امت کے لوگ ایک دوسرے کے ساتھ کر سکتے ہیں۔ مگر آپ کے ساتھ یہ معاملہ کرنا آپ کے لئے باعث ایذا ہے اور اس لئے حرام ہے۔ مثلاً آپ کے بعد آپ کی بیویوں کے ساتھ نکاح کرنا۔ قرآن میں فرمایا :-
- ٭ یہ بات تمہارے لائق نہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ایذا
دو اور نہ یہ کہ کبھی بھی آپ کے بعد آپ کی بیویوں سے نکاح کرو، اس لئے کہ اللہ کے نزدیک یہ بہت بڑی بات ہے۔
(الاحزاب - ۵۳)
آپؐ کی وجہ سے اُمت پر آپؐ کی بیویوں کا احترام واجب ٹھہرایا اور اُن کو تحریم احترام میں ماؤں کی طرح قرار دیا۔ قرآن میں فرمایا :۔ اَلنَّبِیُّ اَوْلٰی بِالْمُؤْمِنِیْنَ مِنْ اَنْفُسِهِمْ وَاَزْوَاجُهٗ اُمَّهَاتُهُمْ ط
(الاحزاب ۔ ۶)
(نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ، اہلِ ایمان کی جانوں سے بھی قریب تر ہے اور اس کی بیویاں ان کی مائیں ہیں)
اللہ تعالیٰ نے رسول کریمؐ کے احکام کی اطاعت اور افعال کی پیروی کا جو حکم دیا ہے وہ ایک وسیع باب ہے۔ مگر بعض اوقات یوں کہا جاتا ہے کہ فلاں بات رسالت کے لوازم میں سے ہے۔ اس کا مقصد اس امر سے آگاہ کرنا ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپؐ کے لئے کچھ حقوق واجبہ مقرر کئے ہیں اور بعض امور کو حرام ٹھہرایا ہے اور یہ بات رسالت کے لوازم سے زائد ہے بایں طور کہ جائز ہے کہ اللہ تعالیٰ کسی کو رسول مبعوث کرے اور اس کے لئے ان حقوق کو واجب نہ ٹھہرائے ۔
آپؐ کی یہ خصوصیت قول سے متعلق ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپؐ کی ایذا اور اہلِ ایمان کی ایذا میں تفریق کی ہے۔ قرآن میں فرمایا :۔ جو لوگ اللہ اور اس کے رسولؐ کو ایذا دیتے ہیں اللہ نے اُن پر دنیا اور آخرت میں لعنت کی ہے اور ان کے لئے رسوا کن عذاب تیار کیا ہے اور جو لوگ مومن مردوں اور مومن عورتوں کو ستاتے ہیں، جبکہ انہوں نے وہ کام نہیں کیا ہوتا وہ بہتان اور ظاہر گناہ اُٹھاتے ہیں
(الاحزاب ۵۷ ۔ ۵۸)
جیسا کہ پیچھے گزرا اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو گالی دینے والے کی سزا قتل ہے، جب کہ دوسروں کو گالی دینے کی سزا کوڑے مارنا ہے ۔
آٹھواں حق
اُن امور میں سے ایک یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپؐ کا ذکر بلند کیا۔ چنانچہ جب بھی اللہ کا ذکر کیا جاتا ہے تو ساتھ ہی
رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ذکر بھی کیا جاتا ہے۔ کوئی خطبہ اور تشہد اُس وقت تک صحیح نہیں ہوتا جب تک اُس میں یہ شہادت شامل نہ ہو کہ آپ اللہ کے بندے اور رسول ہیں۔ آپ کے ذکر کو ہر خطبہ میں واجب ٹھہرایا اور ان شہادتین میں بھی جو کہ اسلام کی اصل و اساس ہیں۔ اسی طرح اذان میں جو کہ اسلام کا شعار ہے اور نماز میں جو کہ دین کا ستون ہے۔ اسی طرح دیگر مواقع اور مقامات میں اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دیگر خصوصیات جن کا ذکر موجب طوالت ہے۔
اندریں صورت یہ ظاہر ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو گالی دینے والا اور آپ کی توہین کرنے والا آپ پر ایمان لانے اور آپ کی توقیر و تعظیم بجا لانے کی مخالفت کرتا ہے۔ وہ آپ کے رفع ذکر کی خلاف ورزی کرتا آپ پر صلوٰۃ و سلام بھیجنے اور دُعا و خطاب میں آپ کی عزت افزائی کو پسند نہیں کرتا۔ بلکہ اس سے بڑھ کر یوں کہہ سکتے ہیں کہ وہ افضل المخلوقات کا مقابلہ اس سے کرتا ہے جو ساری مخلوقات میں بدترین ہے۔
اس کی مزید توضیح یہ ہے کہ اس کے محض آپ پر ایمان لانے سے اعراض کرنے کی وجہ سے جبکہ وہ معاہد نہ ہو اس کا خون مباح ہو جاتا ہے اور ان حقوق واجبہ سے رُوگردانی کرنے کی بناء پر اس کو سزا دینا روا ہو جاتا ہے۔ یہ صورتحال اُسے محض اس لئے پیش آتی ہے کہ اس نے آپ کے اعزاز و احترام سے صرف سکوت اختیار کیا۔ لیکن جب اس کے عین برعکس وہ آپ کی مذمت کرتا ، گالی دیتا اور آپ کی توہین کا ارتکاب کرتا ہے تو اس کی وجہ سے اس کی سزا خون کی اباحت سے بھی بڑھ جاتی ہے۔ اس لئے کہ سزا کی تعیین جرم کی نوعیت کے اعتبار سے کی جاتی ہے۔
مثلاً اگر ایک شخص کسی کو قصداً قتل کرے تو اس کی سزا قصاص ہے اور وہ یہ ہے کہ قاتل کو مقتول کے وارث کی تحویل میں دے دیا جائے۔ اور اگر اس نے مال لینے کے لئے علانیہ اُسے قتل کیا ہو تو اس صورت میں قاتل کو حتماً قتل کیا جاتا
ہے ۔ اور اگر قاتل نے مال لیا بھی ہو تو اُسے مصلوب کیا جاتا ہے ۔ اور بعض علماء کے نزدیک حتمی طور پر اس کے ہاتھ پاؤں کاٹے جاتے ہیں ۔ حالانکہ چوری کی سزا صرف ہاتھ کاٹنا ہے۔ علیٰ ہذا القیاس ، اگر اس نے کسی غلام یا ذمی یا فاسق فاجر پر بہتان باندھا تو اس پر صرف تعزیر واجب ہے۔ لیکن اگر اس نے کسی آزاد مسلم اور متقی پر بہتان باندھا تو اس پر کامل حد واجب ہوگی ۔
اگر یہ کہا جائے کہ اس پر وہی سزا واجب ہو گی جو اُس شخص پر واجب ہوتی ہے جو آپ پر ایمان نہ لائے یا ہمارے اور اس کے درمیان جو عہد ہے اُسے نظر انداز کر دے تو اس کے معنی یہ ہوں گے کہ اس نے اس شخص کو جو آپ کی توہین کا ارتکاب نہیں کرتا ۔ اس شخص کے ساتھ مساوی قرار دیا جو مبالغہ کی حد تک آپ کی اہانت کرتا ہے ۔ ظاہر ہے کہ یہ بات اسی طرح ناروا ہے جس طرح یہ بات جائز نہیں کہ صلوٰۃ و سلام پڑھنے والے اور نہ پڑھنے والے کو باہم ہم پلہ قرار دے دیا جائے ۔ اس سے یہ لازم آتا ہے کہ آپ کو گالی دینے ، آپ کی مذمت کرنے اور ستانے کی کوئی سزا ہی نہیں ۔ حالانکہ یہ سب جرائم سے عظیم تر جرم ہے اور یہ بات قطعاً باطل ہے ۔
یہ بات عیاں را چہ بیان کی مصداق ہے کہ قتل سے بڑھ کر کوئی سزا نہیں ۔ اس پر اضافہ کی صورت یہ ہے کہ قتل کا تعین کیا جائے اور اُسے حتمی ٹھہرایا جائے ۔ قطع نظر اس سے کہ توبہ کرے یا نہ کرے جس طرح کہ رہزن کی حد ہوتی ہے ۔ اس لئے کہ کسی کو معلوم نہیں کہ کوڑے مارنے اس پر گالی دینے کی وجہ سے واجب ہوئے اور پھر اُسے کفر کی بناء پر قتل کیا جائے گا ۔ جب یہ سزا بطور خاص گالی دینے کی وجہ سے دی گئی تو یہ حدودِ شرعیہ میں سے ایک حد ہو گی ۔ اور یہ ایک صحیح موقف ہے ۔ جس کی صحت پر نصوص سابقہ کی دلالت روشنی ڈالتی ہے ۔ اور وہ یہ کہ اس کے قتل کا موجب و محرک صرف گالی ہے ۔
اور کوئی علت جب (صرف) نص یا اشارۃ النص سے ثابت ہو تو کسی اصل کی ضرورت نہیں ہوتی جس پر فرع کو قیاس کیا جاسکے ۔ اس سے یہ حقیقت کھل کر
سامنے آجاتی ہے کہ ہم نے گالی کو بطور خاص قتل کا موجب اس لئے بنایا ہے کہ کتاب وسنت اور آثار و اقوال اس پر دلالت کرتے ہیں محض استحسان اور استصلاح کی بنا پر نہیں جس طرح وہ شخص گمان کرتا ہے جو شرعی احکام کے مصادر و مآخذ سے آگاہ نہیں۔ علاوہ ازیں وہ اصل جس پر اس فرع کو قیاس کیا جاتا ہے ثابت ہے۔
سترھواں طریقہ
سترھواں طریقہ یہ ہے کہ ہم نے ان اصول کی جن پر کتاب وسنت یا اجماع اُمت دلالت کرتا ہے کچھ اس طرح پایا ہے کہ ان کی وجہ سے مرتد اور ناقض عہد کے بارے میں دو حکم ثابت ہوتے ہیں۔ جس شخص سے صرف ارتداد یا صرف نقضِ عہد کا جرم سرزد ہو اور پھر اسلام کی طرف لوٹ آئے تو اس کا خون محفوظ ہو جاتا ہے جس طرح کہ کتاب وسنت سے ثابت ہوتا ہے۔ اس کا ذکر قبل ازیں مرتد کے بیان میں کیا گیا ہے اور وہ ناقضِ عہد میں بھی موجود ہے۔ جیسا کہ قرآن کریم میں فرمایا :۔
(پھر اس کے بعد جس کی توبہ چاہے قبول کرے) (التوبہ ۔ ۲۷)
نیز اس لئے کہ رسول کریم نے بنو بکر کے ان لوگوں کا اسلام قبول کیا تھا جو اسلام لائے تھے، حالانکہ انہوں نے عہد توڑا تھا اور بنو خزاعہ پر حملہ کر کے ان کو قتل کر دیا تھا۔ آپؐ نے قبیلہ قریش والوں کا اسلام بھی قبول کیا تھا جنہوں نے مسلمانوں کے خلاف نبرد آزما ہونے میں بنو بکر کا ساتھ دیا تھا جہاں تک کہ اس وجہ سے ان کا عہد ٹوٹ گیا۔ حالانکہ آپؐ کا دائمی طرزِ عمل اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ صرف اسلام لانے سے ان کی جان بچ سکتی تھی۔ نیز رسول کریمؐ نے بنو قریظہ اور بنو نضیر کا جو محاصرہ کیا تھا اس میں مذکور ہے کہ اگر وہ اسلام لے آتے تو ان کی جان بچ جاتی۔ علاوہ ازیں اُن میں سے کچھ لوگ مسلمان ہو کر حاضر ہوئے تھے تو ان کے خون اور مال محفوظ رہے تھے۔ اُن میں سے ثعلبہ بن سُعیہ ، اسد بن
سعید ، اسد بن عبید بھی تھے۔ یہ لوگ اس رات مشرف باسلام ہوئے تھے جس میں بنو قریظہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے فیصلے کے مطابق (اپنے قلعہ سے) اتر آئے تھے۔ یہ (تاریخ اسلام کا) مشہور واقعہ ہے۔ جس شخص کے ارتداد میں شدت پیدا ہو جائے یا مسلمانوں کو نقصان پہنچا کر وہ اپنا عہد توڑے اور پھر اسلام قبول کر لے تو توبہ اس سے مطلقاً ساقط نہیں ہو گی ۔ بخلاف ازیں اُسے قتل کیا جائے گا، جبکہ وہ ایسا کام کرے جو قتل کا موجب ہو ۔ اور اگر ایسا فعل نہ کرے تو اُسے قتل سے کم درجہ کی سزا دی جائے گی ۔ جیسا کہ قرآن میں فرمایا :۔
" بدلہ ان لوگوں کا جو اللہ اور اس کے رسول سے لڑتے ہیں اور خدا کی زمین میں فساد کی کوشش کرتے ہیں" (المائدۃ - ۳۳)
اور جیسا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا طرز عمل جو آپ نے ابن ابی سرح ، ابن زنیم ، ابن خطل ، مقیس بن صبابہ اور قبیلہ عرینہ والوں کے واقعہ میں اختیار کیا تھا، نیز دین کے اصول مقررہ اس پر روشنی ڈالتے ہیں، اس لیے کہ کوئی شخص مرتد ہونے کے ساتھ ساتھ رہزنی یا قتل مسلم یا زنا وغیرہ کا بھی مرتکب ہو اور پھر اسلام کی طرف لوٹ آئے تو اس کو شرعی سزائیں دی جاتی ہیں۔ اور اگر نقض عہد کے ساتھ ساتھ رہزنی، قتل مسلم یا مسلمہ کے ساتھ زنا کر کے مسلمانوں کو نقصان پہنچائے تو اسلام لانے کے بعد اس پر شرعی حدود عائد کی جائیں گی ۔
البتہ ایک مسلم کے ایسا کرنے سے جو حد واجب ہوتی ہے یا وہ حد جو اسلام لانے سے قبل واجب ہو ، ہر حال میں اس پر لگائی جاتی ہے۔ جہاں تک اس دشنام دہندہ کا تعلق ہے اس نے نقض عہد سے ایک زائد جرم انجام دیا ہے۔ جس طرح ہم نے اس مسلم کو ایذا دینے کے بارے میں تحریر کیا ہے جس کا جرم اس وجہ سے ناقض عہد سے بڑھ جاتا ہے ۔ یا ایسا کام کرے جو اکثر
ضرر رساں امور سے بڑھ کر ہو۔ تو وہ ایسے شخص کی مانند ہے جو نقض عہد کے علاوہ خون بہا کر یا مال لے کر یا کسی کو بے آبرو کر کے مسلمانوں کو ایذا دے۔ اور جب صورت حال یہ ہے تو اس کے اسلام لانے سے اس ضرر رسانی کی سزا کا ازالہ نہیں ہو گا جیسا کہ اصول شرعیہ اس جیسے مسئلے کے بارے میں دلالت کرتے ہیں۔ اور اس ضرر رسانی کی سزا جو نص سے ثابت ہوتی ہے وہ قتل ہے۔ ظاہر ہے کہ اس جرم کے بعد اسلام لانے سے جو سزا شروع ہوچکی ہے وہ نہیں رکے گی کیوں کہ جو مسلم شروع ہی میں ایسی حرکت کرے اس کا قتل توبہ سے ساقط نہیں ہو گا جیسا کہ پیچھے گزر چکا ہے۔
اور جب اسلام سزا کے آغاز کو نہیں روک سکتا تو اس کے دوام اور بقاء کو بالاولیٰ روک نہیں سکے گا۔ اس لئے کہ امور حسیّہ، عقلیہ اور حکمیہ میں کسی چیز کا دوام و بقاء اس کے آغاز سے قوی تر ہوتا ہے۔ تم دیکھتے نہیں کہ عدّت یا احرام اور انعقاد آغاز نکاح کو روک دیتے ہیں مگر اس کے دوام و بقاء کو نہیں روکتے ۔ اسی طرح اسلام غلامی کے آغاز کو روکتا ہے مگر اس کے دوام کو نہیں روک سکتا۔ نیز اسلام وجوب قصاص کے آغاز اور مسلم پر حد قذف کے آغاز کو روکتا ہے ، اس صورت میں جب کہ وہ قتل کرتا ہے یا کسی ذمی پر بہتان لگاتا ہے، مگر جب قتل کرنے اور بہتان لگانے کے بعد اسلام لاتا ہے تو اس کے دوام کو نہیں روک سکتا
اگر فرض کیا جائے کہ اسلام اس کے قتل کے آغاز کو روکتا ہے لہٰذا اس کے اسلام لانے سے قتل کا ساقط ہونا واجب نہیں اس لئے کہ کسی چیز کا دوام اس کے آغاز سے قوی تر ہوتا ہے۔ اور یہ بھی جائز ہے کہ قصاص اور حد قذف کی طرح ہو۔ اس لئے کہ اسلام اس کے آغاز کو روکتا ہے دوام کو نہیں۔ خصوصاً جب کہ گالی میں فوت شدہ آدمی کا بھی حق ہوتا ہے اور اس جرم کا تعلق عام مسلمانوں کے ساتھ بھی ہوتا ہے۔ گویا یہ اسی طرح ہے جیسے جنگ میں کسی کو قتل کیا جائے تو وہ کسی خاص آدمی کا حق نہیں ہوتا۔ اور جب صورت حال یہ ہے تو اس کو محمول کرنا اسی طرح واجب ہے جس طرح دیگر محاربین مفسدین سے ۔
اس کی مزید توضیح اس سے ہوتی ہے کہ ذمّی اگر رہزنی کرے اور کسی مسلم کو قتل کرے تو وہ اپنے مذہب کی رُو سے ان باتوں کو جائز سمجھتا ہے۔ البتہ اُس نے ہمارے ساتھ جو عہد کیا ہے اس نے ان افعال کو اس پر حرام ٹھہرایا ہے، اسی طرح وہ اپنے مذہبی عقائد کے مطابق گالی دینے کو جائز تصور کرتا ہے۔ البتہ ہمارے ساتھ عہد کرنے سے گالی دینے کو اس پر حرام ٹھہرایا ہے۔ باقی رہا رہزنی کا فعل تو بعض اوقات اُسے حلال سمجھ کر انجام دیا جاتا ہے اور بعض دفعہ کسی کی ناموس کو اہمیت نہ دیتے ہوئے اس طرح کیا جاتا ہے۔ جس طرح رسول کریمؐ کو گالی دینے کا فعل بعض اوقات کسی خاص مقصد کی بنا پر آپؐ کی توہین کے نقطۂ خیال سے انجام دیا جاتا ہے۔ تو یہ فعل ہر لحاظ سے اس کی مانند ہے۔ البتہ رہزنی کا نقصان دنیا میں پہنچتا ہے اور گالی دینے کا دین میں اور دین کا فساد و نقصان دنیا کے فساد سے ان لوگوں کے نزدیک عظیم تر ہوتا ہے جو اللہ پر ایمان لاتے ہیں اور اس کو اور اس کے اوامر کو جانتے ہیں۔
جب کوئی رہزن اسلام لاتا ہے تو یہ بات ازخود اس عقیدے کا اظہار ہو جاتا ہے کہ مسلم کا خون اور مال اس پر حرام ہے مگر اس بات کا جواز باقی رہتا ہے کہ وہ اس عقیدے پر عمل نہ کر سکے۔ اسی طرح جب گالی دینے والا اسلام لاتا ہے تو ناموس رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی حرمت کے عقیدے کا اظہار کا تجدّد ہو جاتا ہے مگر اس بات کا امکان باقی رہتا ہے کہ وہ اس عقیدے پر عمل نہ کر سکے۔ جب وہاں اسلام لانے کے بعد اس کا قتل واجب ہو جاتا ہے اسی طرح یہاں بھی اسلام لانے کے بعد اس کا قتل واجب ہو جاتا ہے یوں کہنا واجب ہے کہ جب قدرت کے بعد توبہ کرنے سے اس کی حدّ ساقط نہیں ہوتی تو اسی طرح قابو میں آنے کے بعد توبہ کرنے سے اس کی حد ساقط نہیں ہوگی۔
جو شخص اس پر غور کرتا ہے اُسے اس کا محارب و مفسد ہونے میں کچھ شک باقی نہیں رہتا جس طرح کہ رہزن محارب و مفسد ہوتا ہے۔
اللہ کو گالی دینے سے اس پر اعتراض وارد نہیں ہوتا۔ اس لئے کہ رہزنی
نوع انسان میں سے جو شخص بھی اللہ کو گالی دیتا ہے تو اس کے عقیدے کے مطابق وہ اللہ کی تعظیم وتکریم ہوتی ہے۔ جس طرح ثنائیت کے قائلین یہ گمان رکھتے ہیں کہ اللہ کی بیوی اور بچے ہیں۔ اُن کے عقیدے کے مطابق یہ اللہ کی تعظیم ہے اور اس سے اس کا تقرب حاصل ہوتا ہے اور جو شخص اس کو کسی اور وجہ سے گالی دیتا ہے تو اس کے بارے میں وہی قول ہے جو اس شخص کے بارے میں جو رسول کو دو اقوال میں سے ایک قول کے مطابق گالی دیتا ہے اور یہی بات مستحسن ہے جیسا کہ ہم بیان کریں گے۔
ہم لوگ دونوں میں تفریق کرتے ہیں وہ کہتے ہیں کہ اللہ کی شان میں اس سے کچھ کمی واقع نہیں ہوتی ۔ اور جو شخص بھی اس کا ارتکاب کرتا ہے وہ غصے کی حالت میں کرتا ہے ۔ برخلاف رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو گالی دینے کے ،کہ اس سے آپؐ کی تنقیص شان لازم آتی ہے۔ نیز یہ کہ وہ شخص اپنے عقیدے کے مطابق آپؐ کی توہین کرنے کے لئے گالی دیتا ہے۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا تعلق جنسِ بشر کے ساتھ ہے اور اس جنس کو تحقیر لاحق ہوتی ہے اور اس کے فاعل کا ارادہ بھی یہی ہوتا ہے ۔ بعض اوقات غصے کی پیاس بجھانے کے لئے بھی گالی دی جاتی ہے اور بعض دفعہ اس کی وجہ سے نفوسِ انسانی میں فسادات پیدا ہوتے ہیں اور اس وجہ سے لوگ اس سے نفرت کرنے لگتے ہیں اور یہ نفرت توبہ کے اظہار سے بھی دور نہیں ہوتی۔ بالکل اسی طرح کہ اگر قاذف توبہ کا اظہار بھی کرے تو مقذوف کی عار زائل نہیں ہوتی یا یہ کہ توبہ کا اظہار کرنے سے زنا اور رہزنی کی خرابی دور نہیں ہوتی ۔ الغرض اللہ کو گالی دینے کی سزا فاعل کے کفر کے اندر مضمر ہو جاتی ہے، برخلاف رسول کو گالی دینے کے ۔
اگر معترض کہے کہ بعض اوقات سزا کی زیادتی کی وجہ سے محض عہد توڑنے والا کافر بھی واجب القتل ہو جاتا ہے برخلاف دیگر کفار کے ، اس لئے کہ عقد امان ، مصالحت ، ذمی ہونا ، غلامی ، بلا فدیہ رہا کرنا ، اور فدیہ لے کر چھوڑنا فی الجملہ
یہ امور بھی جائز ہیں جب نقض عہد یا کسی اور وجہ سے مباح الدم ہونے کیساتھ ساتھ وہ گالی بھی دے تو وہ واجب القتل ہو جاتا ہے جیسا کہ تم بھی اسے تسلیم کرتے ہو ۔ ان مواقع کا جواب بھی یہی ہے جہاں گالی دینے والے کو رسول کریم ؐ نے قتل کیا یا قتل کا حکم دیا تھا یا آپؐ کے اصحاب نے اس کا حکم دیا ۔ یہ اس بات "پر دلالت کرتے ہیں کہ دشنام دہندہ کو قتل کیا جائے، اگرچہ اس جیسے دیگر کفار کو قتل نہیں کیا جاتا ۔
اسی طرح رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کعب بن اشرف کے واقعہ میں یہود سے کہا تھا :- "اگر کعب بن اشرف اپنے جیسے لوگوں کے موقف پر قائم رہتا تو اسے اچانک قتل نہ کیا جاتا مگر اس نے ہمیں نقصان پہنچایا اور شعر کہہ کر ہماری ہجو کہی ۔ اور تم میں سے جو بھی ایسا کرے گا اسے تلوار کے حوالے کیا جائے گا ۔"
جب صورت حال یہ ہے تو قتل دو امور کی وجہ سے واجب ہوا :
- (۱) ایک تو کفر کی وجہ سے ۔
- (۲) دوسرے گالی دینے کی وجہ سے اس کے کفر میں شدت پیدا ہو گئی ۔
جس طرح مرتد کا کفر ایک تو کفر کی وجہ سے واجب ہوا ۔ اور دوسرے دین حق کو چھوڑنے اور اس سے نکل جانے کی وجہ سے اس میں شدت پیدا ہو گئی ۔ جونہی کفر زائل ہو جائے گا، مذمت کا موجب زوال پذیر ہو گا اور اس طرح گالی کا اثر جو اباحت دم کی صورت میں نمودار ہوا تھا باقی نہیں رہے گا اور جس طرح حصول میں کفر کے تابع تھا اب زوال میں اس کے زیر اثر ہو گا ۔ پس اصل کے ضائع ہونے سے اس کے جملہ انواع و فروع زائل ہو جائیں گے ۔
اس سوال کی تقریر اس شخص کے گالی دینے میں بھی ممکن ہے جو اسلام کا دعویٰ کرتا ہے ۔ اس لئے کہ گالی ارتداد کی فرع اور اس کی ایک نوع ہے او ر گاہے اس کا امکان باقی نہیں رہتا ۔ کیونکہ گالی دینے کے بعد اس سے وہ بات
ظہور میں آتی ہے جو گالی دینے کے وقت موجود نہ تھی برخلاف کافر کے ۔
ہم اس کے جواب میں کہیں گے کہ یہ بات اس امر کی دلیل ہے کہ دشنام دہندہ کو قتل کرنا حدود شرعیہ میں سے ایک حد ہے ۔ پہلے گزر چکا ہے کہ معاہد ہونے کی صورت میں وہ واجب القتل ہے اور گالی دینے کے بعد اسے امان دے کر یا غلام بنا کر زندہ رکھنا جائز نہیں ۔ اگر حربی کافر ہونے کی وجہ سے اُسے قتل کیا جا رہا ہوتا تو اسے امان دینا ، غلام بنانا اور اس کو فدیہ دے کر رہا کروانا جائز ہوتا ۔ جب اس کا بدلہ قتل ہے تو اس سے معلوم ہوا کہ اس کا قتل حدود میں سے ایک حد ہے اور یہ باقی کفار کے قتل کی مانند نہیں ہے ۔
جو شخص دلائل شرعیہ ان کے نصوص اور قیاسات ۔ جو ہم نے ذکر کئے ہیں اور جو نہیں کئے ۔ پر غور و فکر کرتا ہے ۔ پھر اس کے بعد اس کا گمان ہے کہ دشنام دہندہ کو اس کے محض غیر معاہد کافر ہونے کی وجہ سے قتل کیا جاتا ہے مثلاً قیدی کو قتل کرنا تو وہ راہ بصیرت کا سالک نہیں ہے اور نہ اُسے اپنی رائے پر اعتماد ہے ۔
یہ ان مسالک میں سے نہیں ہے جس کا فقط امکان و احتمال ہو بلکہ قطعی وحتمی ہے ۔ اس لئے کہ جو شخص کتاب وسنت کے دلائل ، اسلاف امت کے موقف اور اصول شرعیہ کے موجبات پر غور کرتا ہے ۔ قطعی طور پر معلوم ہو جاتا ہے کہ خون بہانے کیلئے گالی کے اندر جو تاثیر پائی جاتی ہے وہ غیر معاہد کے کفر محض سے بڑھ کر ہے ۔
ہاں ! یوں کہا جا سکتا ہے کہ اُسے دو کاموں کے مجموعے کی وجہ سے قتل کیا جا رہا ہے ۔
اس لئے کہ دشنام دہندہ کا کفر ایک سخت قسم کا کفر ہے جس کے مرتکب کو زندہ چھوڑنے کی کوئی گنجائش نہیں ، جس طرح مرتد کا کفر ہوتا ہے لہٰذا اُسے کفر اور گالی دونوں وجہ سے قتل کیا جائے گا ۔ اس صورت میں قتل حد ہوگا
جس کے معنی یہ ہیں کہ اس کی اقامت واجب ہے پھر اس کا موجب توبہ کے ساتھ زائل ہو جاتا ہے جیسے مرتد کا قتل ۔ یہ جائز نہیں ہے ، مگر قبل ازیں ہم نے جو کچھ لکھا ہے اس سے اس وجہ کی تضعیف ہوتی ہے۔ مگر بایں ہمہ اس سے اُس معاملہ میں کوئی قدح وارد نہیں ہوتی کہ دشنام دہندہ کو ایک حدِ شرعی لگا کر قتل کیا جاتا ہے۔ یہ حد اس لئے واجب ہوئی کہ رسولِ کریم کو کھلم کھلا گالی دینے میں حد درجہ فساد پایا جاتا ہے۔
ایک سوال اور اس کا جواب
اب صرف یہ سوال باقی رہا کہ آیا یہ حد اسلام لانے سے ساقط ہوتی ہے یا نہیں ؟ ہم اس کے جواب میں لکھتے ہیں کہ ہمارے ذکر کردہ تمام دلائل اگرچہ اس بات پر دلالت کرتے ہیں کہ اظہارِ توبہ کے بعد بھی اس کا قتل واجب ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس کا قتل شرعی حدود میں سے ایک حد ہے اور محض کفر نہیں ہے اور یہ دلائل اس پر قطعی و حتمی طور پر دلالت کرتے ہیں۔ اس کی وجہ ہم قبل ازیں ذکر کر چکے ہیں کہ کتاب وسنت اور اجماع نے اس شخص کے درمیان جس میں صرف کفر اصلی یا عبوری یا نقضِ عہد پایا جاتا ہو اور اُس کے درمیان جو ان میں سے رسولِ کریمؐ کو گالی دیتا تھا تفریق کی ہے اور جب قتل محض کفر کی وجہ سے نہ ہو تو صرف یہ امر باقی ہے کہ وہ حدِ شرعی ہوگا۔ اور جب یہ بات طے پائی کہ اُسے بطورِ خاص گالی کی وجہ سے قتل کیا جاتا ہے ، اس لئے کہ وہ حدود شرعیہ میں سے ایک حد ہے نہ کہ صرف غیر معاہد کافر یا عمومی طور پر مرتد ہونے کی وجہ سے پس واجب ہے کہ قتل توبہ اور اسلام کی وجہ سے ساقط نہ ہو ، کیونکہ اسلام سبباً یا توبہ ان حدود کو ساقط نہیں کرتے جو قبل ازیں واجب ہو چکی ہوں ۔ جب کہ توبہ ساقط ہو چکی ہو اور بالاتفاق اس معاملہ کو حاکم کی عدالت میں پہنچا دیا گیا ہو۔
قرآن اس بات پر دلالت کرتا کہ رہزن، زانی، سارق اور قاذف کی حد اس پر قدرت پانے کے بعد محض توبہ سے ساقط نہیں ہوتی۔ اور زانی وغیرہ کے بارے میں سنت نے بھی اس پر دلالت کی ہے۔ ہمارے علم کی حد تک مسلمانوں کے یہاں اس بات میں کوئی اختلاف نہیں پایا جاتا کہ مسلم جب زنا یا چوری کرے یا ڈاکہ ڈالے یا شراب پیئے اور شہادت کی بناء پر اس پر جرم ثابت ہو جائے اور معاملہ حاکم کی عدالت میں پہنچ جائے اس کے بعد توبہ کر لے تو اس پر حد قائم کرنا واجب ہے الا یہ کہ کوئی اس کے بارے میں اختلاف کا گمان کرے جس کو کوئی اہمیت نہ دی جاتی ہو۔ یہ حدود اللہ ہیں۔
علیٰ ہٰذا القیاس اگر کسی پر قصاص یا حد قذف یا مسلم و معاہد کو گالی دینے کی سزا واجب ہو پھر اس سے توبہ کرلے تو توبہ اس سے ساقط نہیں ہو گی۔ اسی طرح ہمارے علم کی حد تک اس میں کوئی اختلاف نہیں کہ اگر ذمی پر رہزنی یا سرقہ یا قصاص یا قذف و تعزیر کی حد واجب ہو اور پھر اسلام لا کر توبہ کرلے تو اس کی سزا اس سے ساقط نہ ہو گی، بلکہ اس پر زنا کی حد قائم کی جائے گی، یہ اس شخص کے نزدیک ہے جو کہتا ہے کہ یہ حد قبل از اسلام اس پر واجب تھی۔
یہ اس کے باوصف ہے کہ اسلام اور توبہ پہلے گناہوں کو ساقط کر دیتے ہیں۔ پس توبہ کرنے والے کا گناہ حد قائم کرنے سے معاف ہو جاتا ہے، اس طرح اس کی تطہیر ہو جاتی ہے اور ایسے جرائم سے لوگوں کو عبرت دلانے کے لئے یہ سزا عبرت پذیری کی موجب بنتی ہے۔ بدیں طور اقامت حد سے مصلحت عامہ حاصل ہوتی ہے۔ اور وجہ یہ ہے کہ جو لوگ بحیثیت مسلمان ہونے کے اسلام کی پابندی کرتے ہیں (یا ذمی ہونے کے لحاظ سے) ذلت کو قبول کئے ہوں ایسے فساد سے باز رہیں۔ اگر اظہار توبہ کے وقت حد نہ قائم کی جائے تو اقامت حد کا موقع کبھی نہیں آئے گا۔ اس لئے کہ زمین میں فساد بپا کرنے والے کو جب پکڑا جائے گا۔۔ اور وہ توبہ کا اظہار کرنا چاہتا ہوگا تو وہ اس کا اظہار کرے گا اور کچھ بعید نہیں
کہ جو شخص بہت بڑے قول یا فعل کا ارتکاب کرنا چاہے گا اور پھر اس کو گھیر لیا جائے گا تو وہ کہے گا کہ میں توبہ کر رہا ہوں۔ ظاہر ہے کہ اگر ایسا شخص مرتکب ہو موجب کو ساقط کر دے تو حدود معطل ہو رہ جائیں اور مجرمین فساد برپا کرتے پھریں اور عقوبات و حدود کو نافذ کرنے میں کوئی مصلحت باقی نہ رہے۔ یہ ایک کھلی ہوئی حقیقت ہے جس میں کوئی پوشیدگی نہیں۔
خالص توبہ کا اثر
مجرم اگر خالص توبہ کرے تو یہ اس کے اور اللہ کے درمیان نفع بخش ہے اور اس کے سابقہ گناہ معاف ہو جائیں گے، یہ حد اس کے گناہوں کیلئے تطہیر و تکفیر کی موجب اور یہی توبہ کی تکمیل ہے۔ جس طرح ماعز بن مالک نے رسول اکرم سے عرض کیا تھا کہ "مجھے پاک کیجئے" حالانکہ وہ توبہ کرنے آیا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے
قتل خطا کے کفارے کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا :-
"پس جو شخص نہ پائے تو دو ماہ کے مسلسل روزے رکھے، اللہ سے توبہ کرنے کے لئے اور اللہ جاننے والا حکمت والا ہے۔
(النساء - ۹۲)
کفارہ ظہار کے بارے میں فرمایا :-
"اس کے ساتھ تمہیں نصیحت کی جاتی ہے"
(المجادلۃ - ۳)
پس حد شرعی بحیثیت توبہ کے دو عظیم مصلحتوں پر مبنی ہیں :-
- (۱) پہلی مصلحت یہ ہے کہ نفوس انسانیہ ایسے جرم سے باز رہیں۔ دونوں مصلحتوں
میں سے یہ بڑی مصلحت ہے۔ اس لئے کہ دنیا حقیقت میں مکمل دارالجزاء نہیں ہے۔
دراصل کامل دارالجزاء آخرت ہے۔ شرعی سزاؤں کا مقصد زیادہ تر زجر و عقاب اور عبرت پذیری ہے اگرچہ ان میں دوسرے مقاصد بھی پائے جاتے ہیں جس طرح
عدت کا مقصد زیادہ تر رحم کا پاک ہونا ہے اگرچہ اس میں اور مقاصد بھی پائے جاتے
ہیں یہی وجہ ہے کہ یہ مصلحت ہر بشری سزا میں مقصود ہے ۔
- (۲) دوسرا مقصد مجرم کو پاک کرنا اور اس کے گناہ کو دُور کرنا ہے بشرطیکہ عنداللہ
مجرم میں نیکی کا جذبہ پایا جاتا ہو ۔ ورنہ سزا اور انتقام ، بعض اوقات اس کا مقصد ثواب میں اضافہ اور رفع درجات ہے ۔ اس کی نظیر وہ مصائب ہیں جو نفس ، اہل اور مال کے لئے مقدّر ہوتے ہیں ۔ گاہے وہ کفارہ اور گناہوں سے پاک کرنے کے سبب بنتے ہیں ۔ اور گاہے ثواب میں اضافے اور رفع درجات کا موجب بنتے ہیں ۔ اور گاہے سزا اور انتقام کے لئے ہوتے ہیں ۔
جب انسان سراً توبہ کرتا ہے تو اللہ بھی اس کی توبہ سراً قبول کرتا ہے ۔ اللہ اسے بخش دیتا ہے اور اس کے گناہوں کو ظاہر نہیں کرتا تاکہ اس پر حد قائم کی جائے جب کوئی شخص علانیہ فساد کرتا ہے کہ لوگ اُسے دیکھتے اور اس کا نام لیتے ہیں حتیٰ کہ حاکم وقت کے یہاں حاضر ہوکر اس کے بارے میں شہادت دیتے ہیں یا وہ خود شاہ کے یہاں حاضر ہو کر اپنے جرم کا اعتراف کرتا ہے تو اندریں صورت پکڑے جانے کی حالت میں اس کی توبہ اُسے پاک نہیں کر سکتی جب تک اس پر حد قائم کی جائے ۔ حد حکمِ خداوندی کی تعمیل کے لئے لگائی جائے اور اس نے اپنے جرم کا خود اعتراف بھی کیا ہو توبہ کے بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے ، جس کا تذکرہ ہم آگے چل کر کریں گے ۔ یہی وجہ ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :-
” شرعی حدود باہم معاف کر دیا کرو جو حد میرے پاس پہنچ جائے تو وہ واجب ہو گئی ۔ “
جب رسول کریم کے پاس ایک چور کی سفارش کی گئی تو آپ نے فرمایا
” تو اُسے پاک کردے تو اس کے لئے بہتر ہے ۔ “
نیز آپ نے فرمایا :-
” جس کی سفارش اللہ کی حدود میں سے کسی حد میں خلل انداز ہوئی اُس نے اللہ کے حکم کی مخالفت کی ۔ “
رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مزید فرمایا :۔
"جو ان بیہودہ کاموں میں سے کسی کام میں مشغول ہوا تو وہ اس پر اللہ کا عطا کردہ پردہ ڈال دے جس کی گردن کا کنارہ ہمارے سامنے ننگا ہوگا ہم اس پر کتاب اللہ کے مطابق (شرعی) حد لگائیں گے ۔"
جب یہ بات تم پر واضح ہوگئی تو ہم کہتے ہیں کہ جس شخص نے علانیہ رسول کریم کو گالی دی خواہ وہ مسلم ہو یا معاہد ، تو اس سے ایسی خرابی کا ظہور ہوا جو کفر کے علاوہ نقض عہد ، اللہ اور اس کے رسولؐ کی ایذا رسانی ، آپؐ کی ہتک عزت جو تمام مخلوقات سے بڑھ کر ہے اور ایسی عزت میں رخنہ اندازی کا مرتکب بنا جس کے مساوی دنیا والوں میں سے کسی کی ناموس نہیں ہو سکتی ۔ یہ سب باتیں اس میں شامل ہیں۔
جس شخص نے اللہ تعالیٰ کی صفات وافعال ، اللہ کے دین ، اس کی کتاب ، ملائکہ ، اور اس کے مومن بندوں کو ہدف طعن و تنقید بنایا ۔ اس لئے کہ کسی ایک نبی کو طعن کی آماج گاہ بنانا اسی طرح جیسے اس نے سب کو مطعون بنایا ۔
قرآن میں فرمایا :۔
اُولٰئِكَ هُمُ الْكٰفِرُوْنَ حَقًّا (النساء ۔ ۱۵۱)
وہ صحیح معنی میں کافر ہیں۔
علاوہ بریں اس نے ان تمام لوگوں کو طعن کی آماجگاہ بنایا جو انبیاء اور مومنین متقدمین میں سے ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر ایمان لائے تھے ۔
پھر یہ کہ یہ جرم اس آدمی سے صادر ہوا جو آپؐ پر ایمان لا کر آپؐ کی امان کے دائرہ میں داخل ہو گیا تھا۔ اور اس نے ایسا جرم نہ کرنے کا عہد کیا تھا۔ جب اس جرم کی وجہ سے بطور خاص اس کو سزا دینا واجب ٹھہرا تو وہ اس کی ظاہر کردہ توبہ سے ساقط نہ ہوگی جیسے کہ پیچھے گزر چکا ہے ۔
علماء کے اس مسئلہ میں دو موقف ہیں :۔
پہلا مسلک | یہ ہمارے اصحاب اور دیگر اہل علم کا مسلک ہے کہ اُسے
حد لگا کر اسی طرح قتل کیا جائے ، جس طرح رہزن ، مرتد اور کافر کو ۔ اس لئے کہ رسول کریم کو جو گالی دی گئی اس کے ساتھ اللہ کا حق اور ہر مومن کا حق وابستہ ہے آپ کو جو ایذا دی گئی وہ آپ کی ذات تک محدود نہیں ، جس طرح کوئی شخص کسی ایسے آدمی کو گالی دے رہا ہو جو لوگوں کی ایک جانب بیٹھا ہو ۔ بخلاف ازیں یہ ایذا ہر اس مومن کے لئے ہے جو کبھی تھا یا کبھی معرضِ وجود میں آئے گا ۔ بلکہ ان کے نزدیک یہ ایذا کی بدترین قسم ہے ۔ اور ان میں سے ہر مومن کی یہ آرزو ہے کہ اپنی جان ، اہل ، اپنا مال اور آبرو آپ پر قربان کردے اور آپ کو اس آنچ سے بچالے ۔ جیسا کہ صحابہ کے بارے میں پیچھے گزرا کہ وہ اپنا خون بہا کر آپ کی عزت بچایا کرتے تھے ۔ اور رسول کریم ایسا کرنے والے کی مدح و ستائش فرماتے ، خواہ ایسا کرنے میں وہ مارا جاتا یا غالب آجاتا ۔ آپ اس کا نام ” اللہ اور اس کے رسول کا مددگار “ رکھتے ۔ اگر گالی دینے کا فعل بعض مسلمانوں کو قتل کرنے سے قبیح تر نہ ہوتا تو اس کے دفاع میں خون بہانا جائز نہ ہوتا ۔ جس طرح کسی عام آدمی کی ناموس بچانے کے لئے خون بہانا جائز نہیں ۔ حضرت حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ نے ابو سفیان ابن الحارث کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا تھا :-
تو نے محمدؐ کی ہجو کہی اور میں نے جواب دیا ، اس کی جزا ، اللہ کے پاس ہے ۔
بیشک میرا باپ اور میری والدہ اور میری آبرو ، تم سے محمدؐ کی آبرو کو بچانیوالے ہیں ۔
اس کی وجہ یہ ہے کہ انہوں نے اہل حرمت کے تقدس کو پامال کیا جس کی وجہ سے اُن کو دنیا و آخرت کی سعادت ملی تھی ۔ اور دوسرے لوگ بھی اسی کی وجہ سے اس سعادت کو پاتے ہیں ۔ اسی کے ساتھ اللہ کا دین قائم ہوتا ہے ۔ اسی کیساتھ اللہ اپنے بندوں سے راضی ہوتا ہے ، اپنی محبوب چیز کو پالیتا ہے اور اپنی ناپسندیدہ چیز کو دور کرتا ہے جس طرح رہزن اگرچہ ایک آدمی کو قتل کرتا ہے ، مگر یہ ہر آدمی کا
فساد سب لوگوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیتا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ اس میں معاملہ مقتول کے ولی کو تفویض نہیں کیا جاتا ۔
البتہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حیات طیبہ میں گالی دینے والے کا معاملہ آپ کو تفویض کیا جاتا تھا ۔ اگر چاہیں اُسے معاف کر دیں اور اگر چاہیں اُسے سزا دیں ۔ اگرچہ آپ کو گالی دینے میں اللہ اور تمام مومنین کا بھی حق تھا ۔ اس لئے کہ اللہ تعالیٰ سزا کے بارے میں اپنے حق کو بندے کے حق کے تابع کر دیتا ہے ۔ جیسا کہ ہم نے قصاص کے تذکرہ میں بیان کیا ہے ۔ ظاہر ہے کہ انسان کے حقوق رسول کے حق کے تابع ہیں ۔ کیونکہ آپ ان کی جانوں سے بھی قریب تر ہیں ۔ نیز اس لئے کہ اس طرح آپ کو یہ حق دیا جاتا ہے کہ آپ معاف کر دیں ، بھلائی کا حکم دیں اور ان جاہلوں سے درگزر کریں جن کے بارے میں اللہ نے اپنی کتاب میں اُن سے اعراض کرنے کا حکم دیا ہے ۔ اللہ نے آپ کو عفو و درگزر کی قدرت ارزانی فرمائی ، جس کی وجہ سے آپ کو اللہ سے اجر حاصل کرنے کا استحقاق حاصل ہوتا ہے ۔ اور آپ بُرائی کو بطریق احسن بھلائی کے ساتھ ٹال سکتے ہیں ۔
اللہ نے آپ کو لوگوں پر شفقت وعنایت کی قدرت عطا کی ۔ ایمانداروں کے ساتھ تالیف قلب کرنے کا جذبہ ارزانی فرمایا ۔ اس طرح مخلوق خدا آپ کے زیر سایہ جمع ہوگئی ۔ اور آپ کو یہ قدرت ودیعت ہوئی کہ ایمان کے بارے میں لوگوں کی نفرت کا ازالہ کر سکیں ۔ اس طرح سے جو مصلحت حاصل ہوتی ہے وہ ان فوائد سے بڑھ کر ہوتی ہے جو دشنام دہندہ کو گالی سے روکنے کے فساد سے وجود پذیر ہوتے ہیں جیسا کہ قرآن مجید کی اس آیت سے مستفاد ہوتا ہے ۔
قرآن میں فرمایا :۔ وَلَوْ كُنْتَ فَظًّا غَلِيْظَ الْقَلْبِ لَا نْفَضُّوْا مِنْ حَوْلِكَ فَاعْفُ عَنْهُمْ وَ اسْتَغْفِرْ لَهُمْ وَ شَاوِرْهُمْ فِي الْاَمْرِ
(آل عمران - ۱۵۹)
- ٭ اور اگر تم بدخو اور سخت دل ہوتے تو یہ تمہارے پاس سے بھاگ کھڑے
ہوتے تو ان کو معاف کرو اور ان کے لئے (خدا سے) مغفرت مانگو اور اپنے کاموں میں ان سے مشورہ لیا کرو۔"
رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ کہہ کر اس حکمت پر روشنی ڈالی ۔
- ٭ میں اس بات کو پسند نہیں کرتا کہ لوگ باتیں بنائیں کہ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
اپنے ساتھیوں کو قتل کر دیتا ہے۔"
آپؐ نے رئیس المنافقین عبداللہ ابن اُبی کے ساتھ جو شریفانہ سلوک کیا اس کے بارے میں فرمایا :-
"مجھے امید ہے کہ اس کی وجہ سے اس کی قوم کے ایک ہزار آدمی اسلام لائیں گے ؟
اللہ تعالیٰ نے آپؐ کی آرزو کو بارآور فرمایا اور دیگر ہر ایذا دہندہ کو قتل کی سزا دیتے تو لوگوں کے دل پر آپؐ کی عداوت چھا جاتی یا آپؐ کے بارے میں طرح طرح کے وسواس دلوں میں پیدا ہوتے ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ شرافت کی محبّت لوگوں کے رگ و ریشے میں سمائی ہوتی ہے۔ نیز یہ کہ یہ طرز عمل بادشاہوں کے غیظ و غضب اور اس کی وجہ سے لوگوں کو قتل کرنے کیساتھ مماثلت رکھتا ہے اور اگر (ظالم) کو سزا دینا آپؐ کے لئے مباح نہ ہوتا تو ناموس و آبرو قائم نہ رہتی ، حرمت کا تقدس پامال ہو جاتا ، دین کا شیرازہ بکھر جاتا اور نبوت کی عظمت و تقدس کا عقیدہ کمزور پڑ جاتا۔ اس لئے اللہ تعالیٰ نے آپؐ کو دونوں باتوں کا اختیار دیا تھا۔
جب آپؐ عازم فردوس بریں ہوئے اور لوگوں میں کوئی شخص باقی نہ رہا جو اس سزا کا آپؐ کی طرف سے انتقام لیتا یا معاف کر دیتا ۔ اور یہ حق اللہ ، اس کے رسولؐ اور اس کے مومن بندوں کے لئے ثابت ہے۔ اور ہر صاحبِ عقل و خرد اس حقیقت سے بہرہ ور ہے کہ اہلِ اسلام اگر کسی کو قتل کرتے ہیں تو محض دین کی حفاظت کے لئے رسولؐ کے حرم اور ناموس و آبرو کو بچانے کے لئے کرتے ہیں۔ بالکل اسی طرح
جس طرح وہ رہزن کو اس لئے قتل کرتے ہیں تاکہ راستے فسادیوں سے محفوظ رہیں چور کا ہاتھ اس لئے کاٹتے ہیں تاکہ مال محفوظ رہے ، مرتد کو اس لئے موت کے گھاٹ اتارتے ہیں تاکہ دین میں آنے والے اس سے نکلنے کی جسارت نہ کریں ۔
اب یہاں کسی جزوی مقصود کا توہم باقی نہ رہا جس طرح عہد رسالت میں وہم کیا جاتا تھا کہ ایسے دشنام دہندہ کو تہ تیغ کرنا اور اگر گالی دہندہ مسلم ہو تو اسے زندہ چھوڑنا (آخر کس بناء پر ہے ؟) تو حقیقت یہ ہے کہ رسول کریم اسے معاف کرنے کا حق رکھتے تھے ، مگر اُمت کے لئے اس کا خون بہانے کے سوا کوئی چارہ کار نہیں اُس کا خلاصہ یہ ہے کہ آپ کی زندگی میں اس جرم کے سلسلہ میں رسول کریم کا حق فائق تھا تاکہ اگر چاہیں اپنا حق لے لیں اور اگر چاہیں معاف کردیں ۔ مگر آپ کی وفات کے بعد اس جرم کا تعلق دین کے ساتھ ہے ، کوئی شخص آپ کی طرف سے اسے معاف کرنے کا اختیار نہیں رکھتا لہٰذا اس حق کا وصول کرنا واجب ہے ۔ اور غور و فکر کرنے والے کیلئے بھی مسلک و موقف اقرب الی الصحّت ہے ۔
جو چیز بھی خون کو مباح کردے وہ فساد فی الارض ہے
مسئلہ زیر بحث میں فکر و نظر کے دو طریقے ہیں :-
پہلا طریقہ
یہ ہے کہ دشنام دہندہ محارب و مفسد کی جنس میں سے ہے ۔ اور قبل ازیں اس پر گفتگو ہو چکی ہے ۔ اس کے مؤید مندرجہ ذیل آیت کریمہ ہے :-
" جس نے کسی ایک جان کو بلا وجہ اور کسی فساد کے بغیر قتل کیا تو گویا اس نے سب لوگوں کو قتل کر دیا ۔ "
(المائدہ ۔ ۳۲)
پس اس سے معلوم ہوا کہ جو چیز بھی قتل کو اللہ کے حق کے طور پر واجب کر دے وہ فساد فی الارض ہے ، ورنہ وہ خون ریزی کو مباح نہ کرتی ۔ چونکہ گالی خون ریزی کو مباح کرتی ہے اس لئے وہ فساد فی الارض ہے ۔ علاوہ ازیں وہ اللہ اور اس
قتل کرتے ہیں تاکہ راستے فسادیوں سے محفوظ رہیں کہ مال محفوظ رہے، مرتد کو اس لئے موت کے گھاٹ والے اس سے نکلنے کی جسارت نہ کریں۔ عہد کا حکم باقی نہ رہا، جس طرح عہدِ رسالت میں تھا ہم ہ کو تہ تیغ کرنا اور اگر گالی دہندہ مسلم ہو تو اُسے ہے؟، تو حقیقت یہ ہے کہ رسول کریم اسے معاف کے لئے اس کا خون بہانے کے سوا کوئی چارہ کار نہیں زندگی میں اس جرم کے سلسلہ میں رسول کریم کا حق لے لیں اور اگر چاہیں معاف کر دیں۔ مگر آپؐ کی وفات ساقط ہے، کوئی شخص آپؐ کی طرف سے اسے معاف س حق کا وصول کرنا واجب ہے ۔ اور غور و فکر کرنے ت اقرب الی الصحّت ہے ۔
کیسے وہ فساد فی الارض ہے
یا فکر و نظر کے دو طریقے ہیں :- یہ ہے کہ دشنام دہندہ محارب و مفسد کی جنس میں ہے ۔ اور قبل ازیں اس پر گفتگو ہو چکی ہے۔ اس کے :- د بلا وجہ اور کسی فساد کے بغیر قتل کیا تو گویا اس نے
(المائدہ - ۳۲)
بھی قتل کو اللہ کے حق کے طور پر واجب کر دے وہ خون ریزی کو مباح نہ کرتی ۔ چونکہ گالی خون ریزی فساد فی الارض ہے۔ علاوہ ازیں وہ اللہ اور اُس
کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خلاف محاربہ بھی ہے، جیسا کہ کسی پر پوشیدہ نہیں ۔ اس لئے کہ محاربہ سے مراد ۔ واللہ اعلم ۔ محاربہ بعد از مسالمہ ہے اس لئے کہ محاربہ اصلیہ کا حکم اس آیت میں مذکور نہیں۔ اس آیت کا سبب نزول یہ ہے کہ ایک مرتد اور ایک ناقض عہد کے فعل کی وجہ سے یہ آیت اتری۔ لہٰذا معلوم ہوا کہ مرتد اور ناقض عہد دونوں اس آیت میں شامل ہیں۔ ان میں سے ایک نے صلح کرنے کے بعد جنگ کر کے فساد برپا کیا۔ اس لئے اُس پر قدغن لگانا ایک طے شدہ بات ہے ۔
دوسرا طریقہ
دوسرا اندازِ استدلال یہ ہے کہ گالی اُن جرائم میں سے ایک جرم ہے جو قتل کے موجب ہوتے ہیں۔ مثلاً زنا، اگرچہ یہ اس طرح جنگ نہیں جس طرح ایک رہزن کرتا ہے ، اس لئے کہ بعض فسادات قتل کے موجب ہوتے ہیں اگرچہ ان میں حرب و ضرب کی نوبت نہیں آتی۔ اور یہ فساد قتل کا موجب ہے لہٰذا توبہ سے ساقط نہ ہوگا جس طرح دیگر قسم کے فسادات ساقط ہوجاتے ہیں۔ اس لئے کہ اس میں سے صرف کفر اصلی یا غیر اصلی ہی کو مستثنیٰ کیا جاسکتا ہے۔ اور ہم بیان کر چکے ہیں کہ یہ قتل دیگر کفار کو قتل کرنے کی مانند نہیں ہے ۔
کیا اسلام کفر کی ہر فرع کو ساقط کر دیتا ہے؟
اگر معترض کہے کہ جب گالی دینا حدود اللہ میں سے ہے تو اسلام لانے سے اس کو ساقط ہوجانا چاہیے جس طرح مرتد کی حد اسلام لانے سے اور کافر کا قتل اسلام قبول کرنے سے ساقط ہوجاتا ہے۔ اس لئے کہ اس کا نام حد رکھنے سے یہ لازم نہیں آتا کہ توبہ کرنے یا اسلام لانے سے یہ ٹوٹ نہ سکے کیونکہ مرتد کو قتل کرنا حد ہے ۔ جیسا کہ فقہاء کہتے ہیں " بابُ حَدِّ المرتدّ " تاہم اسلام لانے سے وہ حد ساقط ہوجاتی ہے۔ مگر یہ ایک لفظی نزاع ہے اور احکام کو اس کیساتھ
وابستہ نہیں کیا جاسکتا۔ اس لئے کہ احکام معانی کے ساتھ مربوط و متعلق ہوتے ہیں۔
ہر سزا جو مجرم کو دی جاتی ہے وہ اس اعتبار سے حد ہے کہ اس کو اس جرم سے باز رکھتی ہے۔ اگرچہ اس کا نام حد نہ رکھا گیا ہو مگر اس میں شبہ نہیں کہ قتل صرف کفر اور گالی کی وجہ سے کیا جاتا ہے۔ اور گالی کو کفر اور محاربہ سے جدا نہیں کیا جا سکتا۔ حتیٰ کہ دشنام دہندہ بھی فرض کیا جاسکتا ہے جو واجب القتل ہے حالانکہ وہ مومن ہے یا معاہد ہے اور اپنے عہد پر قائم ہے جیسا کہ اس قسم کی فرضیت زانی، سارق اور قاذف کے بارے میں بھی ممکن ہے۔ اس لئے کہ ان لوگوں کی سزائیں ان جرائم کی وجہ سے واجب ہوتی ہیں۔ اور یہ اسلام سے قبل ہوں یا بعد، برابر ہیں۔ یہ سزا ایسے جرم کی وجہ سے واجب ہوتی ہے جو کفر کے فروع و انواع میں سے ہے۔ جب اصل باقی نہیں رہتی تو اس کے پیچھے فروع بھی زائل ہو جاتی ہیں۔ اس طرح قتل کی موجب یہ بات بنتی ہے کہ وہ شخص کافر محارب اور اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ایذا دینے والا ہے جس طرح رسول کریم نے عقبہ بن ابی معیط سے اس وقت یہ بات کہی جب عقبہ بولا تھا کہ :- "کیا وجہ ہے کہ مجھے باندھ کر قتل کیا جا رہا ہے ۔" رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا " تمہارے کفر اور تمہاری افترا پردازی کی وجہ سے ۔"
اور علت جب دو وصفوں کی حامل ہو تو ایک وصف کے زائل ہونے سے حکم نہ زائل ہو جاتا ہے۔
اور ہم اس بات کو تسلیم بھی کر سکتے ہیں کہ ذمی ہونے کی صورت میں اس کا قتل حتمی بھی ہو جاتا ہے۔ جس طرح مرتد کا قتل اس وقت قطعی ہو جاتا ہے جب وہ اللہ اور اس کے رسول کو ایذا دے کر یا دین کو ترک کر کے اپنے کفر کو مغلظ بنا لیتا ہے۔ مگر اسلام ہر اس حد کو ساقط کر دیتا ہے جس کا تعلق کفر کے ساتھ ہو۔ جس طرح کہ مرتد کی حد کو ساقط کر دیتا ہے۔ پھر کیا وجہ ہے کہ تم نے اس
مذکورہ رہزن ، زانی اور چور کے ساتھ تو ملحق کر دیا مگر مرتد کے ساتھ وابستہ نہیں کیا یہاں یہ نکتہ قابل فہم ہے۔
ہم اس کے جواب میں کہتے ہیں کہ کوئی حد بھی اسلام لانے سے ساقط نہیں ہوتی ۔ اس لئے مرتد ہو یا کوئی اور ان میں کچھ فرق نہیں، بلکہ ہر سزا جو کسی سابقہ یا حالیہ سبب کی وجہ سے واجب ہوئی ہو، وہ اپنے سبب کے وجود کی وجہ سے واجب ہوتی ہے اور سبب کے منعدم ہونے سے معدوم ہو جاتی ہے اور اصلی کافر اور مرتد کو صرف اس کے سابقہ کفر کی وجہ سے قتل نہیں کیا جاتا بلکہ اس کفر کی وجہ سے قتل کیا جاتا ہے جو سر دست موجود ہے۔ کیونکہ اصل بات اس کا بقا ہے اس چیز پر جس پر کہ وہ پہلے قائم تھا۔ جب وہ توبہ کرے گا تو کفر زائل ہو جائے گا اور اس کے ساتھ ہی جو چیز خون کو مباح کرنے والی تھی وہ بھی زائل ہو جائے گی۔ اس لئے کہ خون کفر کی وجہ سے مباح نہیں ہوتا مگر اس وقت جبکہ کفر موجود ہو۔ کیونکہ اس کے قتل کرنے کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ اللہ کا کلمہ بلند ہو اور دین پورے کا پورا اللہ کے لئے ہو جائے۔ جب وہ کلمۃ اللہ کے سامنے سرنگوں ہو گیا اور اللہ کے دین کو اپنا لیا تو قتال و جہاد کا مقصد پورا ہو گیا۔ مرتد کو بھی اسی لئے قتل کیا جاتا ہے کہ وہ دین کا تارک اور اس کو بدل لینے والا ہے۔ جب وہ اسلام کی طرف لوٹ آیا تو اب وہ تارک رہا نہ متبدّل۔ اس طرح دین کی حفاظت بھی ہو گئی۔ اس لئے کہ اسلام اپنے بدلنے والے کو زندہ نہیں چھوڑتا۔
مرتد کے قتل اور دشنام دہندہ کے قتل میں فرق
جہاں تک زانی، سارق اور رہزن کا تعلق ہے، خواہ وہ مسلم ہو یا معاہد اُسے قتل نہیں کیا جائے گا۔ اس لئے کہ وہ برابر ان جرائم کا ارتکاب کر رہا ہے۔ یہ غیر ممکن ہے ۔ اُسے محض اس وجہ سے بھی قتل نہیں کیا جا سکتا کہ وہ ان اُمور کو حلال تصوّر کرتا ہے۔ اس لئے کہ ذمّی اگر یہ اعتقاد رکھتا ہو تو وہ اس عقیدۂ
کی وجہ سے مباح الدم نہیں ہوگا۔ اور نہ ہی مسلم یا ذمّی کا خون اِن چیزوں کا ارادہ کرنے سے مباح ہوتا ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ اس کی یہ سزا ماضی کی وجہ سے واجب ہوئی۔ نیز اس لئے تاکہ مستقبل میں وہ خود اس سے اجتناب کرے اور دوسروں کو بھی اس سے روکے۔
اگر اہل ذمّہ یا مسلمانوں میں سے کوئی شخص علانیہ آپ کو گالی دے، پھر اس سے باز آجائے تو اسے ہمیشہ گالی دینے والا نہیں کہا جائے گا جس طرح کافر مرتد اپنے کفر پر قائم رہتا ہے۔ بلکہ زمین میں فساد برپا کرتا ہے جس طرح زانی اور رہزن فساد برپا کرتے ہیں۔ یہ اندیشہ ہمیں دامنگیر ہے کہ یہ فساد اُس سے اور دوسروں سے سرزد ہوتا ہے۔ اور اسی قسم کا اندیشہ ہمیں زانی اور رہزن کے بارے میں بھی ہے اس لئے کہ جو شخص خود افعال شنیعہ انجام دیتا ہے۔ وہ دوسروں کو بھی اس کی طرف دعوت دے سکتا ہے۔ لہٰذا اُسے کیئے کی سزا دینا واجب ہے تاکہ دوسروں کے لئے عبرت پذیری کا سامان ہو۔ اور یہی نمایاں فرق و امتیاز ہے جو مرتد اور کافر اصلی کے قتل اور دشنام دہندہ، رہزن اور زانی کے قتل میں پایا جاتا ہے۔
اس کی توضیح یوں ہے کہ گالی دینا ماضی کے جرائم کی جنس میں سے ہے، دائمی جرائم کی جنس میں سے نہیں۔ مگر اس کی بنا اس بات پر رکھی گئی ہے کہ بذات خود حد کی موجب ہو کفر ہونے کی وجہ سے نہیں۔ اس کی تشریح پیچھے گزر چکی ہے۔ اس کی مزید توضیح اس سے ہوتی ہے کہ مرتد اور اصلی کافر کو قتل کرنے سے ـــ الّا یہ کہ وہ توبہ کرلے ـــ کفر کا فساد زائل ہو جاتا ہے۔ اس لئے کہ ارتداد کا ارادہ کرنے والے کو جب معلوم ہوتا ہے کہ اُسے قتل کئے بغیر یا توبہ کئے بغیر نہیں چھوڑا جائے گا تو وہ مرتد ہونے سے احتراز کرے گا۔ کیونکہ اس سے اسے کوئی سروکار نہیں کہ مرتد ہو کر پھر مسلمان ہو جائے۔ اس کا اعلیٰ مقصد تو یہ ہے کہ ہمیشہ کفر پر قائم رہے۔
باقی رہا وہ شخص جو مسلمین یا معاہدین میں سے گالی دیتا ہو تو اُس کا مقصد گالی
دینے سے بھی پورا ہوجاتا ہے ۔ دراصل وہ مسلمانوں کو ستا کر مغلوب کرنا چاہتا ہے ۔ جس طرح رہزن کا مقصد قتل کرنے اور زانی کا مقصد زنا کرنے سے پورا ہوجاتا ہے ۔ اس سے رسولؐ اور دین کا تقدس اسی طرح مجروح ہوتا ہے جس طرح رہزنی اور سرقہ سے نفوس و اموال کی حرمت پامال ہوتی ہے وہ عام مسلمانوں کو ایسی ایذا دیتا ہے جس کو ضرر رسانی کا اندیشہ ہوتا ہے ۔ بالکل اسی طرح جیسے رہزن چور اور اس قسم کے لوگ اُن کو ستاتے ہیں اور جب اسے پکڑ لیا جاتا ہے تو بعض اوقات وہ سلام اور اکرام و احترام کا اظہار کرتا ہے حالانکہ اس کے دل میں یہ بات چھپی ہوتی ہے کہ جب بھی اس کا بس چلے گا ، پھر کفر کی طرف لوٹ جائے گا جس طرح رہزن، چور اور زانی بار دیگر ایسے جرائم کی جانب لوٹنے کے آرزو مند ہوتے ہیں بشرطیکہ انہیں اس کا موقع فراہم ہو بلکہ بعض اوقات اظہارِ اسلام کے بعد جب وہ اپنے شیطان دوستوں کے پاس ہوتا ہے تو اُسے اس بات کا ایسا موقع ملتا ہے جو پہلے نہ ملا تھا ۔ وہ اپنے کئے پر پشیمان ہوتا ہے اور اپنے ہی فعل میں کیڑے نکالنا شروع کر دیتا ہے ، کہ وہ اس قدر مجبور و مقہور ہوا کہ اسلام کا اظہار کئے بغیر نہ رہ سکا ۔ برخلاف اس شخص کے جس نے ایسی کسی بات کا اظہار نہ کیا ہو اور اسلام لے آیا ہو کہ اس کی کوئی خرابی ہمارے سامنے نہیں آتی ۔ اور برعکس اصلی محارب کے جب کہ وہ قتل کرتا اور انواع و اقسام کے افعال شنیعہ انجام دیتا ہے ۔ درحقیقت اس نے یہ پابندی سرے سے قبول ہی نہ کی تھی کہ وہ اس قسم کا کوئی کام نہیں کرے گا ۔
مگر اس شخص نے ذمی بن کر اس بات کا عہد باندھا تھا کہ وہ ہمیں ایسی ایذا نہیں دے گا۔ مگر اس نے اپنے عہد کو پورا نہ کیا ، لہٰذا اس پر یہ بھروسہ نہیں کیا جاسکتا کہ ایذا نہ دینے کی پابندی نبھائے گا ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اپنے مذہب کے لحاظ سے وہ اس امر کا پابند ہے کہ وہ اپنا عہد پورا کرے اور
ہمارے دین کو ہدف تنقید نہ بنائے یہ کیونکہ اُسے بخوبی معلوم ہے کہ اس کی پابندی اس کے لئے اس عہد میں شامل ہے جو اس نے ہمارے ساتھ باندھا ہے کہ وہ ہمیں ایذا نہیں دے گا جبکہ خلاف ورزی کی صورت میں اسلام کی شمشیر آبدار سے ہراساں بھی ہے۔ جس طرح دین اسلام کی رُو سے اُس پر واجب ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ سُوءِ ادبی سے پیش نہ آئے، جبکہ وہ اسلام کی سیفِ قاطع سے خائف ہے کہ اگر اس نے خلاف ورزی کی تو کوئی چیز اُسے بچانے اور حفاظت کرنے والی نہ ہوگی۔ برخلاف حربی کافر کے ان جملہ امور میں۔
اگرچہ اس کے ضمن میں یہ مصلحت بھی موجود ہے کہ دوسرے لوگ ارتداد سے باز رہیں گے۔ آپ دیکھتے نہیں کہ مرتد کے فعل کو چھپانا جائز نہیں۔ اور جو لوگ اس کے ارتداد کی شہادت دیتے ہیں ان کو اشارہ کر کے شہادت دینے سے روکنا بھی پسندیدہ فعل نہیں بلکہ حاکم کے پاس اس کے ارتداد کی شہادت دینا واجب ہے۔ حاکم کی عدالت میں اس کا مقدمہ دائر کرنے سے پہلے اُسے معاف کرنا بھی اچھا فعل نہیں ۔ اگرچہ وہ خفیہ طور پر مرتد ہوا ہو۔ اس لئے کہ حاکم کی عدالت میں جب اُس کا مقدمہ دائر ہو گا تو حاکم اس سے توبہ کرنے کا مطالبہ کرے گا اور اس طرح وہ نارِ جہنم سے بچ جائے گا۔ اور اگر اس نے پہلے توبہ نہیں کی تو حاکم اس پر کفر کی مدت کو محدود کر دے گا۔ اس طرح حاکم کی عدالت میں اس کا کیس دائر کرنا اس کے لئے سراسر سودمند ہے۔ برخلاف اس شخص کے جو پوشیدہ طور پر کوئی بُرا فعل انجام دے تو اس سے تعرض نہیں کرنا چاہیئے۔ اس لئے کہ اگر اس کا مقدمہ عدالت میں دائر کیا گیا تو لامحالہ اُسے قتل کیا جائے گا۔ مگر مقدمہ نہ دائر کرنے کی صورت میں وہ توبہ بھی کر سکتا ہے۔ لہٰذا اس کے معاملہ کو عدالت میں لے جانا سراسر نفع رساں نہیں ہے ۔ البتہ اس میں لوگوں کو فائدہ ہے کہ جب بُرائی کو ظاہر نہیں کیا جائے گا تو اُنہیں کچھ نقصان نہیں پہنچے گا۔
جو شخص رسول کریم کو گالی دے گا تو رسول اسے اس لئے قتل کرے گا کہ اُس نے اللہ اور اس کے رسولؐ اور اہل ایمان کو ایذا پہنچائی اور ان کے دین کو طعن کی آماجگاہ بنایا۔ تو یہ اسی طرح ہے جیسے کسی نے علانیہ ڈاکہ مارا اور زنا کیا۔ یعنی ایسے امور انجام دیے جن کی سزا دینے میں لوگوں کو زجر و عتاب کا پہلو غالب ہے۔ اگرچہ اس میں مجرم کی مصلحت بھی مضمر ہے۔ اس کو اس لئے قتل کیا جائے گا کہ اُس نے علانیہ فساد فی الارض کا ارتکاب کیا۔ اور اگر ذمی سراً گالی دے تو اس سے تعرض نہیں کیا جائے گا ۔ اور نہ ہی اس پر پردہ ڈالا جائے گا ۔ اس لئے کہ جو شخص علانیہ فساد بپا کرتا ہے کسی حال میں بھی اس پر پردہ نہیں ڈالا جاتا ۔
کیا گالی دینا کفر کو مستلزم ہے؟
(ہمارے مخالف) کا یوں کہنا کہ گالی کفر و قتال کو مستلزم ہے جب کہ دیگر جرائم ایسے نہیں ہیں"۔ ہم اس کے جواب میں کہیں گے کہ کوئی گالی کفر سے خالی نہیں تاکہ اس کو الگ سزا دی جائے، بلکہ سزا دونوں امور کے مجموعے پر دی جاتی ہے۔ علاوہ ازیں گالی اور کفر میں لزوم ثابت کرنے سے گالی کی اہمیت کم نہیں ہوتی۔ اس لئے کہ گالی اور کفر کو لازم وملزوم قرار دینے سے اس کی سزا میں مزید شدت پیدا ہو جاتی ہے ۔ اگرچہ ازان کفر گالی سے الگ ہو جائے تو اس سے یہ لازم نہیں آتا ۔ کہ گالی کی سزا نہ دی جائے ۔ اس لئے کہ گالی بذات خود اس فساد کو متضمن ہے جس پر سزا اور زجر و عتاب واجب ہو جاتا ہے ۔ جیسا کہ کتاب وسنت اور اثر و قیاس سے ثابت ہوتا ہے
پھر ہم (اس کے جواب میں) کہتے ہیں کہ اس کے بارے میں زیادہ سے زیادہ جو بات کہی جاسکتی ہے وہ یہ ہے کہ یہ کفر مغلظ کی حد ہے جس میں مسلمانوں کو نقصان پہنچایا ہو ۔ خواہ وہ مسلم سے صادر ہوئی ہو یا معاہد سے ۔ پھر انہیں یہ کیسے معلوم ہوا کہ قدرت پانے کے بعد ایسے آدمی کی توبہ قبول کی جاتی ہے ؟ ہم قبل ازیں بیان
کرچکے ہیں کہ توبہ اس شخص کے حق میں مشروع ہوتی ہے جو صرف مرتد ہوا ہو یا اس نے صرف عہد توڑا ہو۔ مگر جس کا ارتداد یا نقض عہد مسلمانوں کو نقصان دے کر مغلظ ہوچکا ہو اس کو توبہ کے بعد سزا دینا از بس ناگزیر ہے۔
کیا گالی کفر کی ایک فرع ہے ؟
ان کا یہ کہنا کہ دشنام طرازی کفر کے فروع اور انواع میں سے ہے ۔" اگر ان کی مراد اس سے یہ ہے کہ کفر اس کا موجب ہے تو یہ بات صحیح نہیں۔ اور اگر ان کا عندیہ یہ ہے کہ کفر اس کو مباح کرتا ہے تو ہم کہتے ہیں کہ اس کے علی الرغم عقدِ ذمہ نے اس کے دین میں اس کے اظہار کو حرام قرار دیا ہے ۔ جس طرح اس نے مسلمانوں کے قتل، ان کے سرقہ، رہزنی اور ان کی خواتین کے ساتھ گناہ کو حرام قرار دیا ہے۔ اسی طرح عہد نے مسلمانوں کے ساتھ لڑنے کو بھی حرام قرار دیا۔ اگرچہ اُن کا مذہب ان سب باتوں کا ان کے لئے مباح ٹھہراتا ہے۔ جب وہ اپنے کفر مجرد از عہد کی بناء پر مسلمانوں کو ایذا دے گا تو لامحالہ اُسے اس کی سزا دی جائے گی۔ اگرچہ وہ کفر زائل ہو چکا ہے جو اس کا موجب تھا۔ لہٰذا اُسے قتل کیا جائے گا ، اس کے ہاتھ پاؤں کاٹے جائیں گے اور اُسے سزا دی جائے گی۔ مگر یہاں اُسے اس لئے سزا دی جائے گی کہ اُس نے اللہ اور اس کے رسولؐ اور اہل ایمان کو ایذا دی جو اس کے عہد کے خلاف ہے۔ اگرچہ اس کا دین اُسے مباح قرار دیتا ہے۔
اُن کا یہ قول کہ "زانی یا چور اور رہزن اسلام کے قبل اور بعد یکساں ہیں"؟ ہم اس کے جواب میں کہیں گے کہ یہ دشنام دہندہ کی طرح ہیں۔ اس لئے کہ قبل از اسلام وہ مسلمانوں کے خون ، ناموس اور مال کو حلال تصور کرتا تھا، بشرطیکہ ہمارے اور ان کے درمیان وہ عہد نہ ہوتا۔ مگر اسلام لانے کے بعد دین کی وجہ سے وہ ان کی حرمت کا قائل ہے۔ اسی طرح وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی عظمت و تقدس کے پامال
کرنے کو وہ حلال سمجھتا ہے، بشرطیکہ ہمارے اور اُن کے درمیان عہد نہ ہوتا۔ اور دین کو قبول کرنے کے بعد دین اس کو اس کام سے باز رکھتا ہے۔ اور اس سے کچھ فرق نہیں پڑتا کہ مسلمانوں کو ضرر ان کے دین میں لاحق ہوتا ہو یا دنیا میں ۔
باقی رہا ان کا یہ قول کہ اس کا قتل دو وجہ سے واجب ہے لہٰذا ایک وجہ کے زائل ہونے سے قتل ساقط ہو جائیگا۔ مگر ہم کہتے ہیں کہ اس میں دو سبب جمع ہو گئے ہیں اور ان میں سے ہر ایک قتل کی ایک نوع کو واجب کرتا اور دوسری نوع کا مخالف ہے ، اگرچہ قتل کی ایک وجہ دوسری کو مستلزم ہے ۔ چنانچہ کفر اصلی اور کفر ارتدادی دونوں قتل کو واجب کرتے ہیں۔ اور اس کے معروف احکام ہیں ۔ مگر گالی بطور خاص قتل کو واجب کرتی ہے یہاں تک کہ کفر کی بناء پر قتل کرنا اور ارتداد کی وجہ سے قتل کرنا دونوں اس میں شامل ہیں ۔ اور اس قسم کے حقوق میں اسی قسم کے قتل کا رواج غالب ہے۔ حتیٰ کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو قتل اور عفو دونوں کا اختیار تھا۔ اور آپؐ کو قتل کا حق اس صورت میں بھی حاصل تھا جب کفر و ارتداد کی بناء پر قتل کرنا ممکن نہ ہو۔ اور آپؐ اس وقت بھی قتل کر سکتے ہیں جب قتل کفر اور ارتداد کی وجہ سے ساقط ہو چکا ہو۔ جیسا کہ ہم قبل ازیں اس پر عقلی و نقلی دلائل پیش کر چکے ہیں۔ ہم نے یہاں بیان کیا تھا کہ گالی میں بطور خاص وہ چیز موجود ہے جو قتل کی مقتضی ہے ۔ اگر فرض کر لیا جائے کہ گالی کفر اور ارتداد سے خالی ہے ۔ اگر کسی صورت میں وہ کفر و ارتداد سے خالی ہو اور ان کے مقتضیات ساقط بھی ہو جائیں تو گالی کی سزا ساقط نہیں ہوگی۔ ہم نے دوسرے مسئلہ میں اس کے دلائل بیان کئے ہیں۔
پھر ہم کہتے ہیں کہ اگر قتل دو امور کی وجہ سے واجب ہوا۔ تو وہ قتل جو کفر مغلظ بالایذاء کی وجہ سے واجب ہوا اس کے ساقط ہونے کی صورت میں اس کے فاعل کی سزا بھی ساقط نہ ہوگی۔ اور سزا جس کا وہ مستحق ہے وہ قتل ہے۔ مزید براں ہنگامی اور بعد میں آنے والا اسلام واجب شدہ سزا کو روک نہیں سکتا
اگرچہ اسلام ابتداءً اس کے وجوب کو روک دیتا ہے۔ مثلاً قصاص میں قتل کرنا اور حد قذف کہ یہ دونوں فاعل کے ذمی ہونے کی صورت میں واجب ہوتے ہیں اس کے بعد اگر وہ اسلام لے آئے تو سزا ساقط نہ ہوگی ۔ جب کہ مقتول اور مقذوف دونوں ذمی ہیں۔ علاوہ بریں اسلام دشنام دہندہ کے قتل کو ابتداءً نہیں روکتا۔ تو اس کے قتل کو دائماً نہ روکنا بالاولیٰ تھا ۔ پس اس کا قول " دو سبب جمع ہوئے اور دونوں میں سے ایک باطل ہو گیا " قابل تسلیم نہیں، بلکہ اس کے قتل کا موجب موجود ہے۔
دشنام دہندہ کا قتل
ناموس رسالت کی حفاظت کیلئے ایک حد شرعی ہے
مسلک ثانی یہ ہے کہ دشنام دہندہ کو حد لگا کر قتل کیا جائے۔ جس طرح قصاص میں قتل کیا جاتا ہے اور جس طرح بہتان لگانے والے اور دشنام دہندہ مومنین کو کوڑے مارے جاتے ہیں۔ پیچھے گزر چکا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو گالی دینے والے کی سزا قتل ہے اور غیر انبیاء کو جو گالی دے اُسے کوڑے مارے جائیں۔ ہمارے بکثرت اصحاب اور دیگر علماء کا یہی مسلک ہے ۔
یہ بات کالشمس فی نصف النہار روشن ہے کہ اگر کوئی شخص کسی مومن کو گالی دے یا اکابر اُمت میں سے کسی کو بُرا بھلا کہے اور وہ مردہ ہو یا غائب ہو تو جو اہل اسلام موجود ہیں ان پر واجب ہے کہ اس سے انتقام لیں۔ اور جب مقدمہ سلطان کی عدالت میں پہنچ جائے تو وہ اس گستاخ کو سزا دے کہ جس کی وجہ سے وہ مسلمانوں کو ستانے سے رک جائے۔ جس کو گالی دی گئی اگر وہ زندہ ہو اور اُسے معلوم بھی ہو تو وہ گالی دینے والے کو معاف کر سکتا ہے۔ اور اگر موت یا عدم موجودگی کی
وجہ سے اس کا جاننا دشوار ہو تو مسلمانوں کو اسے سزا دینے سے رک نہیں جانا چاہیے، جب اس کا مقدمہ عدالت میں پہنچے تو حاکم اسے سزا دے، اگرچہ وہ توبہ کا اظہار کرے۔ اس لئے کہ اس قسم کے معاصی و ذنوب جو کسی آدمی کے حق سے متعلق ہوں انہیں صرف حد شرعی کے مطالبہ پر ترک نہیں جانا چاہیے۔ اور جو جرائم بھی اس نوع کے ہوں ان کی سزا دینے کے لئے کسی کو طلب کرنے کی ضرورت نہیں۔ اور حاکم وقت کی عدالت میں پیش ہو کر بھی وہ توبہ کرنے سے ساقط نہیں ہوتے۔
اسی لئے ہمارا موقف یہ ہے کہ صحابہ کو گالی دینے والے کی لازماً تعزیر و تادیب کرنا چاہیے یا اسے قتل کیا جائے۔ اگرچہ کوئی معین آدمی ان کا حق نہ بھی طلب کرتا ہو۔ اس لئے کہ مسلمین کی تائید و نصرت جب ہاتھ یا زبان کے ساتھ ہر مسلم پر واجب ہے تو حکام و سلاطین پر بالاولیٰ واجب ہے۔ بنا بریں ہم کہتے ہیں کہ رسول کریمؐ کو گالی دینا آپ کی زندگی میں گالی دہندہ کے قتل کا موجب تھا۔ جیسا کہ پیچھے گزرا۔ جب اسے اس بات کا پتہ چل جاتا تو وہ اس حق کا متولی ہوتا۔ اگر چاہتا تو اپنا حق وصول کرتا اور اگر چاہتا معاف کر دیتا۔ جب اس کی موت یا مجبوریت کی وجہ سے اس کا پتہ نہ چلتا تو مسلمانوں پر واجب ہو جاتا کہ اس کا حق طلب کریں۔ اور مخلوقات میں سے کوئی بھی اسے معاف نہ کر سکتا۔ جس طرح اس آدمی کو معاف کرنا روا نہیں جو فوت شدگان اور غائب شدہ لوگوں کو گالیاں دیتا ہو۔ قبل ازیں ہم اس بات پر دلائل پیش کر چکے ہیں کہ بطور خاص رسول کریمؐ کو گالی دینے والے کو قتل کیا جائے۔ نیز یہ کہ اس میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا حق فائق ہے حتیٰ کہ آپ دشنام دہندہ کو قتل بھی کر سکتے تھے اور اسے معاف بھی کر سکتے تھے۔ جس طرح ایک شخص کو یہ حق حاصل ہوتا ہے کہ اپنے دشنام دہندہ کو سزا دے یا اسے معاف کر دے۔
کیا فوت شدہ پر بہتان لگانیوالے پر حد شرعی ہے؟
مسئلہ زیر نظر دو مقدموں پر مبنی ہے :-
یہ پہلا مقدمہ
ایک یہ کہ میت پر بہتان طرازی حد کی موجب ہے۔ مگر ابوبکر بن حزم صاحب الخلال اس طرف گئے ہیں کہ اس پر حد نہیں۔ اس لئے کہ زندہ جو اس کا وارث ہے بہتان اس پر نہیں لگایا گیا بلکہ میت پر لگایا گیا ہے۔ اور حد قذف کی وصولی اس وقت کی جاتی ہے جب اس کا مطالبہ کیا جائے، اور اندریں صورت یہ دشوار ہے، اور حد شرعی کسی وارث کی طرف منتقل نہیں ہوتی مگر جب اس کا مطالبہ کیا جائے اور یہ ممکن نہیں۔ اکثر علماء کہتے ہیں کہ میت پر بہتان لگانے سے حد لازم آتی ہے۔ مگر بعض فقہاء کہتے ہیں کہ قذف کا اثبات اس وقت ہوتا ہے جب کہ زندہ آدمی کے نسب پر جرح و قدح کی جائے۔ حنفیہ اور ہمارے بعض اصحاب کا قول یہی ہے۔ حنفیہ سے یہ بھی منقول ہے کہ یہ حد صرف میت کا والد یا بیٹا لگا سکتا ہے۔ بعض فقہاء کہتے ہیں کہ اس کا اثبات مطلقاً ہوتا ہے اس میں سوال یہ ہے کہ آیا تمام وارث اس سے اپنا حصہ وصول کریں گے یا خاوند بیوی کے علاوہ دوسرے لوگ، اس لئے کہ وراثت کا سبب موجود ہے، یا اس کے وارث صرف عصبہ ہوں گے، کیونکہ یہ لوگ میت کے عمود نسب میں اس کے شریک ہیں۔ امام شافعی اور احمد کے نزدیک اس مسئلہ میں تین اقوال ہیں :-
دوسرا مقدمہ
فوت شدہ پر حد قذف لگانے کا مطالبہ تب کیا جاتا ہے، اگر وارث اس کے طالب ہوں۔ اس میں کوئی اختلاف نہیں پایا جاتا کہ اس کا مطالبہ اس صورت میں کیا جاتا ہے جب تمام وارث یا وارثوں میں سے کوئی اس کا طالب ہو۔ اگر معاف کر دیں تو اکثر علماء کے نزدیک یہ حد ساقط ہو جاتی ہے۔ بنا بریں اگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر بہتان لگایا جائے تو اس کی حد ساقط ہو جانی چاہیے اس لئے کہ آپ کا کوئی وارث نہیں۔ یہ اس طرح ہوگا جیسے اس شخص پر بہتان لگایا جائے جس کا کوئی وارث نہ ہو۔ اکثر فقہاء کے نزدیک اس میں حد قذف نہیں ہے۔ یا یوں کہا جائے گا کہ اس حد کا مطالبہ تب کیا جائے گا جب کہ کوئی ہاشمی یا قریشی اس کا مطالبہ کرے۔
رسول کو گالی دینے اور دوسروں پر بہتان لگانے میں
فرق و امتیاز
اس کا جواب تین طرح سے دیا جاتا ہے۔
پہلی وجہ
اس کا پہلا جواب یہ ہے کہ ہم رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو گالی دینے اور آپؐ پر بہتان لگانے کو اس حدِ قذف میں شامل نہیں کرتے جس کا مطالبہ اسوقت تک نہیں کیا جاتا جب تک کوئی حق دار اس کا مطالبہ نہ کرے۔ یہ اس وقت ہوتا ہے جب اس کی اطلاع ملے۔ بخلاف ازیں یہ سب وشتم کی وہ قسم ہے کہ جس کا حرام اور باطل ہونا ظاہر ہے۔ اور جس کو گالی دی گئی اس کا علم دشوار ہے۔ مثلاً کوئی شخص اعیان امت میں سے کسی پر کفر یا کذب یا جھوٹی شہادت کا بہتان باندھے یا اُسے صریح طور پر گالی نکالے۔ ہم کسی مخالف کو نہیں جانتے جو اس بات کی مخالفت کرتا ہو۔ اس کی وجہ سے اُس آدمی کو اُسی طرح سزا دی جائے جس طرح محرّمات کی خلاف ورزی کرنے پر دی جاتی ہے۔ یہ اُمت کی معزز ترین ہستی کا انتقام ہے۔ اور اس کی وجہ سے اللہ کی نافرمانی سے روکا جاتا ہے، جس طرح کوئی شخص صحابہ یا علماء یا صالحین کو بُرا بھلا کہتا ہو۔
دوسری وجہ
رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو گالی دینا گویا تمام اُمت کو گالی دینا اور ان کے دین کو ہدفِ طعن بنانا ہے۔ اس گالی کی وجہ سے ان کو ننگ وعار لاحق ہوتی ہے۔ برخلاف اس کے کہ پوری جماعت کو زنا سے متہم کیا جائے ، کہ اس صورت میں اس کے فاعل کا کذب پہچانا جاتا ہے۔ اس سے بعض نفوس میں شکوک وشبہات جنم لیتے ہیں۔ جبکہ اس نے تمام اہلِ ایمان کو ایسی ایذا دی ہے جو اُن کے قتل کی موجب ہے۔ اور یہ ایسا
حق ہے جس کا مطالبہ اُن پر واجب ہے، اس لئے کہ اقامتِ دین ان پر واجب ہے۔ تو یہ اُسی طرح ہوگا جس طرح ایسے فوت شدہ پر بہتان لگانا کہ زندہ ہوتے کی حالت میں اس کا نسب مشکوک ہو اور اُس کا مطالبہ بھی کیا جائے۔ ظاہر ہے کہ ایسی حد کی اقامت ایک طے شدہ بات ہے۔
اس طرح رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور دیگر فوت شدگان کے مابین فرق بقول ابی بکر نمایاں ہو جاتا ہے۔ اس طرح کے دیگر فوت شدگان کے قذف کا ضرر اُن کی ذات سے آگے نہیں بڑھتا۔ اگر اس سے مطالبہ کرنا مشکل ہو تو یوں کہنا ممکن ہے کہ اُس پر قذف کی حد نہیں لگائی جاسکتی۔ مگر رسولِ کریم کے معاملہ میں دراصل گالی کا ضرر اُمت کی طرف لوٹے گا ۔ اور وہ یوں کہ اُس کے دین میں فساد بپا ہوگا ، اس کی عصمت محفوظ نہیں رہے گی اور اس کا مرکز و محور رسوائی سے ہمکنار ہوگا ۔ ورنہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بذاتِ خود اس کے نقصان سے متاثر نہیں ہوتے ۔
ایک اور طریقے سے بھی رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور دیگر فوت شدگان کا باہمی فرق واضح ہوگا۔ اور وہ یوں کہ دوسروں پر جو حدِ قذف لگائی جاتی ہے وہ تمام وارثوں یا ان میں سے بعض کے لئے ثابت ہوتی ہے ۔ اس لئے کہ ننگ و عار وہاں میت کو لاحق ہوتی ہے یا اس کے وارثوں کو۔ مگر رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے معاملہ میں یہ عار پوری اُمت کو لاحق ہوتی ہے۔ اس میں بنی ہاشم اور دوسروں میں کچھ فرق نہیں ۔ بلکہ جو اُمت اپنے نبی اور اللہ کے ساتھ شدید تر محبت رکھتی ہو، اس کی پیروی اور اکرام و توقیر میں بہت سخت ہو وہ اسی قدر زیادہ اس ایذا اور ضرر سے متاثر ہوتی ہے۔ یہ کھلی ہوئی بات ہے جس میں کوئی پوشیدگی نہیں۔ چونکہ یہ ضرر پوری اُمت کو لاحق ہوتا ہے اس لئے اُمت کو اس پر قائم رہنا واجب ہے اور ان کے لئے کسی طرح بھی اس کو معاف کرنا جائز نہیں ، اس لئے کہ یہ بات اُن پر دینی حق کی وجہ سے واجب ہوئی ہے دُنیوی حق کے باعث نہیں۔ برخلاف اس حدِ قذف کے جو ان کے کسی قریبی رشتہ دار
پر لگائی جاتی ہے کہ وہ اُن کے ذاتی اور دنیوی حق کی وجہ سے عائد کی جاتی ہے۔ لہٰذا وہ اُسے نظر انداز کر سکتے ہیں۔ مگر اس کا تعلق ان کے دین کے ساتھ ہے ، لہٰذا اس کو معاف کرنا ، حدود اللہ کو معاف کرنا اور اس کی حرمتوں کے تقدس کو پامال کرنا ہے۔ پس مذکورہ صدر ہر دو مقدمات کا جواب ہوگیا ۔
رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا کوئی وارث نہیں ، لہٰذا تیسری وجہ | یوں کہنا صحیح نہیں کہ آپ کا حق عزت آپ کے اہلبیت کیساتھ مخصوص ہے ، دوسروں کے ساتھ نہیں۔ جس طرح آپ کا مال آپ کے اہلبیت کے ساتھ مخصوص نہیں ہے بلکہ دوسروں کے لئے مخصوص ہونا اُولیٰ ہے۔ اس لئے کہ آپ کی اُمّت کا حق آپ کے مال کی بجائے آپ کی ناموس و آبرو کے ساتھ زیادہ وابستہ ہے۔ لہٰذا آپ کا حق وصول کرنے کا مطالبہ ہر مسلم پر فرض ہے۔ اس لئے کہ یہی آپ کی تائید و تقویت ہے جو کہ ہر مسلم پر فرض ہے۔
اس کی نظیر یہ ہے کہ اگر کوئی مسلم یا معاهد کسی نبی کو قتل کر دے تو اُس آدمی کو قتل کرنا اُمت پر فرض ہے۔ آپ کے حق خون کو آپ کے کسی وارث کی تحویل میں دینا روا نہیں — بشرطیکہ آپ کا کوئی وارث ہو — کہ وہ وارث اگر چاہے اُسے قتل کردے اور اگر چاہے دیت لے کر یا بلا معاوضہ معاف کردے۔ نبی کے قاتل کو قتل نہ کرنا اور بیکار بیٹھے رہنا جائز نہیں۔ اس لئے کہ یہ فساد کے جملہ انواع سے عظیم تر ہے۔ یہ بھی جائز نہیں کہ قاتل کے توبہ کرنے یا اسلام لانے سے نبی کا حق ساقط ہوجائے۔ اس لئے کہ مسلم یا معاهد اگر مرتد ہو جائے یا عہد شکنی کر کے کسی مسلمان کو قتل کردے تو قصاص اس پر واجب ہے ، قتل کے ساتھ ارتداد اور نقضِ عہد کو ملانے سے اس کی سزا میں کمی نہیں ہوگی۔ اور مجھے یہ گمان نہیں کہ کوئی شخص اس کا مخالف ہو۔
حالانکہ باتفاقِ علماء محض نبی کو قتل کرنا اور نقضِ عہد بھی ارتداد ہے ۔ آپ کی ناموس و آبرو آپ کے خون کی مانند ہے کہ اس کی سزا بھی قتل ہے۔ جس طرح
آپ کے خون اور آبرو کی سزا مرتد کے اسلام لانے اور معاہد کے عہد کرنے سے رک جاتی ہے۔ جب وہ دونوں آپؐ کی حرمت کو پامال کریں تو اُس کی سزا بدیں وجہ ان پر واجب ہے۔
رسولؐ کو گالی دینے کیساتھ اللہ اور اُس کے رسول کا حق متعلق ہے
اٹھارواں طریقہ
یہ قاضی ابویعلیٰ کا طرز عمل ہے۔ اور وہ یہ کہ رسول کریمؐ کو گالی دینے کے ساتھ دو حق متعلق ہیں ۱۔ اللہ کا حق ، ۲۔ آدمی کا حق ۔ اللہ کا حق تو ظاہر ہے ۔ اور وہ یہ کہ رسول کریم کو گالی دینے سے اس کی رسالت یا اس کی کتاب اور اس کے دین میں قدح وارد ہوتی ہے ۔ باقی رہا آدمی کا حق تو وہ بھی ظاہر ہے ۔ اس نے گالی دے کر رسول کریمؐ پر عیب لگایا اور آپؐ کی عظمت شان کو بٹہ لگایا۔ اور کسی سزا کے ساتھ جب اللہ اور آدمی کا حق دونوں متعلق ہوں تو وہ توبہ کرنے سے ساقط نہیں ہوتا۔ مثلاً جنگ میں حد لگانا کہ اس کا قتل ناگزیر ہے۔ اگر اس پر قدرت پانے سے قبل توبہ کر لے تو اللہ کا حق قتل وصلب کے قطعی ہونے کی وجہ سے ساقط ہو جائے گا۔ اور آدمی کا حق جو کہ قصاص ہے ساقط نہ ہوگا اور یہاں بھی وہی صورت ہے۔
- ہم اس کے جواب میں کہتے ہیں کہ قاضی ابویعلیٰ کے نزدیک یہ بات محل نظر ہے۔ علاوہ بریں آپؐ کے معاف کرنے سے یہ حق اس لئے ساقط نہیں ہوتا کہ اس سے اللہ کا حق متعلق ہے۔ گویا یہ حد قذف کی طرح ہے کہ اگر خاوند اپنا حق تہمت سے ساقط بھی کر دے تو وہ ساقط نہیں ہوگا۔ اس لئے کہ اللہ کا حق اس سے وابستہ ہے۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ آدمی کا اس میں کچھ حق ہی نہیں، یہاں بھی اسی طرح ہے۔ قاضی ابویعلیٰ کو شبہ ہوا ہے کہ رسول کریمؐ
کو اس کے معاف کرنے کا حق بھی ہے یا نہیں؟ دوسری جگہ قاضی مذکور نے صراحۃً کہا ہے کہ رسول کریم آپ کو دی گئی گالی کا حق ساقط کر سکتے ہیں، اس لئے کہ وہ آپ کا حق ہے۔ انصاری کا یہ قول پہلے ذکر کیا جا چکا ہے کہ اس نے کہا تھا کہ "یہ فیصلہ آپ نے اس لئے کیا کہ میرا مد مقابل آپ کا پھوپھی زاد تھا۔" اس نے ایسی بات کہی تھی جس کی وجہ سے وہ سزا کا مستحق ہو سکتا تھا۔ مگر اس کو اس لئے سزا نہ دی کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت زبیرؓ کو جو بات کہی تھی اس نے اس سے یہ مطلب سمجھا کہ آپ نے انصاری کے خلاف فیصلہ اس لئے دیا کہ زبیرؓ رسول کریم کے رشتہ دار تھے۔
نیز اس آدمی کے بارے میں جس نے حضرت ابوبکرؓ کو سخت سست کہا مگر حضرت ابوبکرؓ نے اس کو سزا نہ دی۔ قاضی ابویعلیٰ کہتے ہیں کہ تعزیر یہاں اس لئے واجب ہوئی کہ یہ آدمی کا حق تھا۔ اور وہ یہ کہ اس نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور ابوبکرؓ پر جھوٹ باندھا۔ اور ان کو اس کے معاف کرنے کا بھی حق تھا۔ ابن عقیل کہتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنا حق لے بھی سکتے تھے اور اُسے معاف بھی کر سکتے تھے۔
ابن عقیل کہتے ہیں اس آدمی نے رسول کریم کے سامنے ایسا کام کیا جو سزا کا مقتضی تھا اور اس نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ گستاخی کا ارتکاب بھی کیا۔ پس شرعی حق کی وجہ سے اس کی تعزیر واجب تھی بجز اس کے کہ اس تعزیر کو اپنی ذات کے ساتھ مخصوص فرماتے۔ ابن عقیل یہ بھی کہتے ہیں کہ پانی کو اس کے کھیت سے روک کر آپ نے اس پر تعزیر بھی لگائی۔ اس کے حق میں یہ ایک طرح کا ضرر ، آبرو کا نقصان اور اس کے حق کی وصولی میں تاخیر کا موجب تھا۔ (یعنی اس کے کھیت کو دیر سے پانی ملے گا) ہمارا موقف یہ ہے کہ مالی سزائیں اب بھی باقی ہیں اور منسوخ نہیں ہیں۔ اور یہ ضروری نہیں کہ ہر شخص کو جسمانی سزا ہی دی جائے۔
ابن عقیل کا یہ قول تین امور کو متضمن ہے :۔
- ١، ایک یہ کہ یہ قول تعزیر کا موجب ہے نہ کہ قتل کا۔
- ٢، دوسرے یہ تعزیر شرعی حق کی وجہ سے واجب ہے اور آپ کو معاف
کرنے کا اختیار نہ تھا۔
- ٣، تیسرے یہ کہ آپ نے پانی روک کر اس کو سزادی ۔
مگر یہ تینوں وجوہ نہایت ضعیف ہیں اور قطعی درست بات یہ ہے کہ آپ کو معاف کرنے کا حق حاصل تھا۔ جیسا کہ احادیث ذکر کر کے ہم ان میں مضمر حکمت و مصلحت بیان کر چکے ہیں۔ اس طرح یہ امر بھی اس طریقے کا مؤید ہو گا۔ علاوہ ازیں جو بات ہم نے ذکر کی ہے وہ اس امر پر دلالت کرتی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم گالی دینے والے کو سزا دیتے اور اس موقع پر ایذا دیتے تھے جہاں حقوق اللہ ساقط ہو جائیں۔ البتہ نبی کریم کو گالی دینا فوت شدہ کو گالی دینے کے ہم معنی ہے۔ اور یہ جرم توبہ سے بالکل ساقط نہیں ہوتا۔
بنابریں اللہ کو گالی دینے اور رسول کو گالی دینے کا فرق ظاہر ہے۔ اس لئے کہ اللہ کو گالی دینا بطور خاص اللہ کا حق ہے۔ مثلاً زنا ، سرقہ اور شراب نوشی وغیرہ ، مگر نبی کو گالی دینا دونوں کا حق ہے۔ اس لیئے آدمی کا حق توبہ سے ساقط نہیں ہوتا ، مثلاً جنگ میں قتل کرنا ۔
اسلام صرف اسی کے خون کو محفوظ کرتا ہے جس سے قبول
کرنا واجب ہو !
انیسواں طریقہ قبل ازیں ہم ذکر کر چکے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ابن ابی سرح کو قتل کرنے کا ارادہ کیا تھا۔ حالانکہ وہ اسلام قبول کر کے توبہ کر کے آیا تھا۔ انس بن زنیم کے خون کو ساقط کر دیا تھا اور سفارش کے بعد اُسے معاف کر دیا۔ ابو سفیان بن الحارث اور
عبداللہ بن ابی امیہ اسلام لا کر ہجرت کر کے آئے تھے جن خواتین نے بغیر جنگ کے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو گالیاں دی تھیں آپ نے ان کو قتل کر دیا تھا ، حالانکہ وہ اطاعت شعار تھیں ، مزید براں یہ لوگ حربی تھے اور گالی نہ دینے کے پابند نہ تھے اور نہ ہمارے ساتھ انہوں نے عہد باندھا تھا۔ جو شخص ہمارے ساتھ عہد باندھے اور امان طلب کر کے گالی نہ دینے کا عہد کرے اور پھر اسلام لانے کے ارادے سے توبہ کرنے کیلئے آئے اور اسلام سے رغبت بھی رکھتا ہو ۔ یا تو اس سے وجوباً اسلام کو قبول کر لیا جائے اور اس سے کچھ تعرض نہ کیا جائے اور یا اس سے اسلام کو قبول کرنا واجب نہ ہو ۔ اگر اس کو واجب قرار دیا جائے تو یہ خلاف سنت ہے اور اگر کہا جائے کہ واجب نہیں ہے تو یہ اس امر کی دلیل ہے کہ جب توبہ کرنے اور اسلام لانے کے لئے آئے تو اس کو قتل کرنا جائز ہے، اگرچہ وہ توبہ اور اسلام کا اظہار کرتا ہو۔ فقہاء میں سے کوئی بھی اس کے جواز قتل کا منکر نہیں ہے ۔
اس لئے کہ اسلام لانے کے ارادے کا اظہار گویا اس میں داخل ہونے کے مترادف ہے جس طرح شہادتین کا زبانی اظہار ان کی پابندی کرنا اور ان کو تسلیم کرنا ہے اور اسلام صرف اسی کے خون کو بچا سکتا ہے جس سے قبول کرنا واجب ہو۔ جب وہ ظاہر کرے کہ وہ اسلام لانے کا خواہاں ہے تو اس نے وہ چیز ظاہر کر دی جس کو قبول کرنا واجب ہے لہٰذا اس کو قبول کرنا واجب ہے گویا اس نے اُسے ایذا دی ۔
یہاں ایک بہت اچھا نکتہ ہے ۔ اور وہ یہ کہ ابن ابی امیہ اور ابوسفیان دونوں کافر رہے تھے ۔ اس واقعہ میں یہ بات مذکور نہیں کہ ان دونوں کے آنے کے بعد آپ نے ان کو قتل کرنے کا ارادہ کیا تھا ۔ اس میں جو بات مذکور ہے وہ یہ ہے کہ آپ نے ان دونوں سے اعراض کیا تھا ، گویا یہ رسول کریمؐ کی طرف سے سزا تھی ۔ باقی رہی ابن ابی سرح کی روایت تو وہ اس بارے میں نصّ کا
درجہ رکھتی ہے کہ جب وہ بیعت کرنے کے لئے آیا تھا تو اس کا خون مباح تھا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ابن ابی سرح مسلم تھا، وہ مرتد ہو گیا اور اس نے رسول کریمؐ پر افترا پردازی کی۔ اور وہ یہ کہ وہ رسول کریمؐ کے لئے قرآن کریم کی کتابت کیا کرتا تھا اور جو وحی وہ لکھا کرتا تھا رسول کریمؐ اُسے تلقین کرتے تھے، اور جو الفاظ گھڑ لیا کرتا تھا، کیا کرتا تھا۔ وہ ان لوگوں میں شمار ہوتا تھا جو رسول کریمؐ کو گالیاں دے کر مرتد ہو گیا تھا۔ اور جو شخص آپؐ کو گالیاں دے کر مرتد ہوا ہو رسول کریمؐ توبہ کا مطالبہ کئے بغیر اس کو قتل کر سکتے تھے۔ اور آپؐ اُسے معاف بھی کر سکتے تھے۔ البتہ آپؐ کی وفات کے بعد اس کو قتل کرنا ایک طے شدہ بات ہے۔
جہاں تک ابن زُنَیم کے واقعہ کا تعلق ہے وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہونے سے قبل مسلمان ہو گیا تھا۔ تاہم اس کا خون مباح تھا یہاں تک کہ رسول کریمؐ نے اس سے تحقیق کرنے کے بعد اس کو معاف کر دیا۔
اسی طرح وہ عورتیں رسول کریمؐ نے جن کو قتل کرنے کا حکم دیا تھا اس کی وجہ - واللہ اعلم - یہ تھی کہ انہوں نے معاہدہ کرنے کے بعد آپؐ کو گالیاں دی تھیں، جس سے اُن کا عہد ٹوٹ گیا۔ چنانچہ ان میں سے دو کو قتل کیا گیا اور تیسری کا خون بھی محفوظ نہ تھا یہاں تک کہ چند دنوں کے بعد اس کے لئے امان طلب کی گئی۔ اور اگر اسلام لانے کی وجہ سے اس کا خون محفوظ ہوتا تو امان کی ضرورت نہ تھی۔ اس طریقے کی بناء اس بات پر رکھی گئی ہے کہ جو شخص اس امر کا اظہار کرے کہ وہ اسلام لانے کے لئے آیا ہے تو اسلام لانے کے بعد بھی اُسے قتل کرنا جائز ہے۔ اس لئے کہ جس کے خون کو صرف معافی اور امان ہی بچا سکتی ہو اسلام اس کے خون کو تحفظ نہیں دے سکتا۔ اگرچہ اس کا تذکرہ پہلے ہو چکا ہے مگر ہم نے اس مآخذ کی خصوصیت کی وجہ سے اس کا اعادہ کیا۔
نصوص سے ایک حالت اور دوسری حالت کا فرق ظاہر نہیں ہوتا
بیسواں طریقہ
احادیث نبویہ اور اقوال صحابہ سے معلوم ہوتا ہے کہ جو شخص رسولِ کریمؐ کو گالی دے اُسے قتل کیا جائے ۔
ان میں اس سے توبہ کا مطالبہ کرنے کا حکم نہیں دیا گیا ، اور اسلام لانے والے کو مستثنیٰ بھی نہیں کیا گیا۔ زانی کو قتل کرنے کے بارے میں شادی شدہ کی قید بھی نہیں لگائی گئی۔ اگر کوئی حالت مستثنیٰ ہوتی تو اس کی وضاحت ضرور کی جاتی ۔ کیونکہ اس سے رسولِ کریم کو گالی دینے کا صدور ہوا ہے اور اس کا قتل بھی اسی سے متعلق ہے ۔ ہمیں کوئی حدیث اور اثر ایسا نہیں ملا جو اس کے معارض ہو۔ یہ رسولِ کریمؐ کی مندرجہ ذیل حدیث کے خلاف ہے کہ :۔ " جو شخص اپنا دین تبدیل کرلے اُسے قتل کردو ۔ " اس لئے کہ جو شخص اپنا دین تبدیل کرتا ہے وہ تبدیلی پر قائم رہتا ہے ۔ ماسوا اُس شخص کے جو اُسے چھوڑ کر پھر پہلے دین کی طرف لوٹ آئے۔ اسی طرح رسولِ کریمؐ نے فرمایا :۔ "اپنے دین کو ترک کرنے والا اور جماعت سے الگ ہونے والا ۔" کیونکہ جو شخص پہلے دین کی طرف لوٹ آئے اس کے بارے میں یہ نہیں کہا جاسکتا کہ "وہ اپنے دین کو چھوڑنے والا اور جماعت سے الگ ہونے والا ہے" اور یہ مسلم یا معاہد جب رسولِ کریمؐ کو گالی دے کر توبہ کرلے اس کے بارے میں یوں کہنا ممکن نہیں کہ وہ رسولِ کریمؐ کو گالی دینے والا نہیں یا اس نے رسولِ کریمؐ کو گالی نہیں دی۔ اس لئے کہ وہ اس وصف کے ساتھ موصوف ہے ، خواہ توبہ کرے یا نہ کرے جس طرح زانی، سارق اور بہتان لگانے والے کو اسی وصف کے ساتھ موصوف کیا جاتا ہے ۔
کیا مسلم اور ذمّی میں فرق ہے ؟
اکیسواں طریقہ
ہم ثابت کر چکے ہیں کہ کوئی مسلم اگر رسول کریم کو گالی دے تو اُسے قتل کیا جائے ، اگرچہ وہ توبہ کرلے ۔
اس کی نص اور نظیر ہم ذکر کر چکے ہیں ۔ اور ذمی کا بھی یہی حال ہے ۔ اس لئے کہ جو فرق بیان کیا جاتا ہے وہ یہ ہے کہ مسلم کے بارے میں یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ وہ منافق ہے یا مرتد ۔ اور اس پر حدود شرعیہ میں سے ایک حد واجب ہو چکی ہے جو اس پر لگائی جا سکتی ہے ۔ اور یہی بات ذمی میں پائی جاتی ہے ۔ کیونکہ اس کا اظہار اسلام ، ذمّہ کے اظہار کی مانند ہے ۔ جب وہ اپنے عہد اور امان میں سچا نہ ہو تو اس کے بارے میں معلوم نہیں ہو سکتا کہ وہ اپنے اسلام و ایمان میں سچا ہے ۔ جب کہ وہ معاہد ہے اور اس پر حدود شرعیہ میں سے ایک حد واجب ہو چکی ہے جو دیگر حدود کی طرح اس پر لگائی جائے گی ۔
اور جو شخص یہ کہتا ہے کہ ” مسلم کو قتل کرنا اولیٰ ہے “ اس کے مخالف اس شخص کا قول ہے جو کہتا ہے کہ ذمی کا قتل اولیٰ ہے ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ذمی کے خون میں تقدس کی کمی ہوتی ہے ۔ اور جب ذمی ہونے کی حالت میں کسی وجہ سے اس پر قتل واجب ہو تو اس کے اسلام لانے سے وہ ساقط نہیں ہو گا ۔ اس کی مزید توضیح یوں ہے کہ اس کا خون علانیہ گالی دینے سے مباح ٹھہرتا ہے ، برخلاف مسلم کے کہ اس کا خون محفوظ ہے ، اس امر کا بھی امکان ہے کہ اس نے غلطی سے گالی دی ہو ۔ جب وہ گالی سے توبہ کر لے اور اسلام کا اظہار کرے تو اس صورت میں خون کی حفاظت کرنے والا موجود ہو گا اور اس کو مباح کرنے والا کمزور پڑ جائے گا ۔ اور ذمی میں خون کو مباح کرنے والا موجود ہے اور خون کو بچانے والا شبہ اس کو زائل نہیں کر سکتا ۔ اس وجہ سے وہ قوی تر ہو گا ۔
آپ دیکھتے نہیں کہ مسلم اگر منافق ہوتا تو محض گالی پر اکتفا نہ کرتا ، بلکہ اس سے کفریہ کلمات کا ظہور و صدور از بس ناگزیر ہے ۔ برخلاف ذمی کے کہ اس سے کفر کی دلیل طلب نہیں کی جاتی ہے ۔ اور ظاہر ہے کہ گالی دینا اس کی سب سے نمایاں تر دلیل ہے ۔
گالی کی سزا اسلام لانے سے زائل نہیں ہوتی !
بائیسواں طریقہ
یہ گالی ایسی مخلوق کو دی گئی ہے جس کے معاف کرنے کا کچھ علم نہیں ، اس لئے اس کا جرم ، اسلام لانے سے ساقط نہیں ہو گا ۔ جس طرح دیگر مومنین کو گالی دی جائے تو وہ معاف نہیں ہوتی بلکہ یہ گالی اُن سے قبیح تر ہے ، اس لئے کہ ذمی اگر مسلم یا معاہد کو گالی دے اور پھر اسلام قبول کر لے تو اُسے سزا دی جائے گی جس طرح اسلام لانے سے قبل اُسے سزا دینا ضروری تھا ۔ یہی بات اس صورت میں ہوگی جب کہ وہ رسول کریم ﷺ کو گالی دے بلکہ رسول کو گالی دینے کا جرم اس سے زیادہ ہے ۔ اسی طرح مسلم کے بارے میں کہا جائے گا جبکہ وہ رسول کریم کو گالی دے ۔
اس کی مزید توضیح یوں ہے کہ بہتان طراز اور دشنام دہندہ جب کسی آدمی پر بہتان لگائے اور حاکم وقت کی عدالت میں اس کے خلاف نالش کی جائے پھر وہ توبہ کرلے تو اس پر حد لگائی جائے گی ۔ یہ حد اس پر اس لئے واجب ہوتی ہے کہ ہتک وقار کی وجہ سے اس کی عزت میں کمی واقع ہوتی ہے ۔ کیونکہ زنا ایک ایسا معاملہ ہے جسے پوشیدہ رکھا جاتا ہے ۔
کسی آدمی کے بہتان لگانے سے یہ لازم آتا ہے کہ بہت سے لوگ اس کی تصدیق کریں گے ۔ یہ گناہ ایسے کبائر میں سے ہے کہ ہتک وقار کے لحاظ سے کوئی بھی اس کے مساوی نہیں ہے ، بشرطیکہ یہ صحیح اور درست ہو ۔ اور اگر غلط بھی ہو تو طوق عار میں کوئی چیز اس کے مماثل نہیں ۔ اس لئے کہ اگر کسی کو قتل سے متہم کرے تو یہ مقتول کے اولیاء کا حق ہے ۔
(یہ دو حال سے خالی نہیں) یا تو بہتان لگانے والا جھوٹا ہو گا یا جس پر بہتان لگایا گیا وہ اس حق سے بری ہو گا ۔ اُس کو یا تو حق والوں نے بری ٹھہرایا یا صلح کی بنا پر بری ہوا یا کسی اور وجہ سے ، بایں طور کہ اس پر غاصبی باقی نہ رہے ۔ کفر کا بہتان لگانا بھی اسی
طرح ہے کیونکہ جس اسلام کا اظہار وہ کرتا ہے وہ بہتان لگانے والے کو جھٹلاتا ہے ۔ لہٰذا اس کا ضرر بہتان لگانے والے کو پہنچتا ہے ۔ رسول کریم پر بہتان عظیم لگانے سے آپ کو ننگ وعار اور رسوائی لاحق ہوتی ہے ۔ گالی خواہ کسی قسم کی بھی دی جائے اس سے آپ کی نبوت میں طعن لازم آتا ہے جو کہ ایک پوشیدہ وصف ہے اس کا کلام بعض نفوس پر اثر انداز ہوتا ہے ۔ اگر وہ پکڑا جانے کے بعد توبہ کرے تو اس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ کلام خوف اور تقیہ کی وجہ سے صادر ہوا ہے لہٰذا اس کو جو عار و ننگ لاحق ہوتی ہے اس کا ازالہ نہیں ہوگا۔ جس طرح وہ عار زائل نہیں ہوتی جو بہتان زدہ شخص قاذف کے توبہ کا اعلان کرنے سے لاحق ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس کی توبہ بالاتفاق اس سے زوال فسق کی موجب نہیں ہوتی ۔ اور اکثر فقہاء کے نزدیک اس کی شہادت قبول کرنا واجب ہے اور مقذوف کی وجہ سے جو حد لگنا ضروری تھا وہ ساقط نہیں ہوگا ۔ یہی حال شاتم رسول کا ہے
اگر معترض کہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کو جو ظاہر معجزات اور براہین آپ کی نبوت کی صداقت کو ظاہر کرنے کے لئے عطا کئے تھے وہ گالی کی عار کا ازالہ کرتے ہیں ۔ اور آپ کی براءت ومعصومیت کو ظاہر کرتے ہیں ۔ برخلاف اس شخص کے جس پر زنا کا بہتان لگایا گیا ہو ۔
اس کے جواب میں کہا جائے گا کہ اس بناء پر لازم آتا ہے کہ اگر کوئی شخص رسول کریم کی زندگی میں آپ کو زنا سے متہم کرے تو بہتان لگانے والے پر حد قذف واجب نہیں ہو گی ۔ مگر یہ بات ساقط الاعتبار ہے ۔ اس سے یہ بھی لازم آتا ہے کہ اگر کوئی شخص آپ کو گالی دے یا آپ کی ہجو گوئی کرے تو اس کی پرواہ نہ کی جائے بلکہ اس جرم یا کسی اور جرم کی بناء پر دین اسلام یا عہد سے نکلنے والا دونوں یکساں ہوں گے۔ ظاہر ہے کہ یہ بات کتاب وسنت اور علمائے سلف کے نظریات کے خلاف ہے۔ اندریں صورت لازم آئے گا کہ اگر کوئی پرلے درجے کا احمق اور جھوٹا آدمی جو اس وصف میں عوام وخواص کے نزدیک مشہور ہو، ایک ایسے آدمی پر بہتان لگائے جو
عفت و تقویٰ کے لحاظ سے عوام میں مشہور ہو، اُس پر قذف لگائی جائے مگر یہ سب باتیں فاسد ہیں۔
اس کی وجہ یہ ہے کہ ایسی گالی اور بہتان کے بارے میں یہ نہیں دیکھا جاتا کہ عقلاء کے دلوں پر اس کا کیا اثر ہوتا ہے، بلکہ اندیشہ یہ ہوتا ہے کہ کمزور عقل اور مریض دلوں والے لوگوں پر اس کے کیا اثرات مترتب ہوں گے۔ پھر اس شخص نے یہ بات سُنی جسے اس کا کاذب ہونا معلوم ہے اور جس نے اس بات پر اعتراض نہیں کیا کہ اس شخص کی عزت و حرمت اُس کے نزدیک کم ہے۔ اور بسا اوقات اس کے دل میں مختلف قسم کے شکوک و شبہات جنم لیتے ہیں۔ اس لئے کہ دل بہت جلد بدل جانے والے ہوتے ہیں۔
جس طرح حد قذف اس لئے مشروع ہوئی ہے کہ ناموس و آبرو کو آلودگیوں اور خیانتوں سے بچایا جائے اور فواحش کی ستر پوشی کی جائے۔ اسی طرح رسولِ کریمؐ کی ناموس کو ایسی آلودگی سے بچانا جس سے آپؐ کا بَری ہونا ثابت ہو چکا ہے اَولیٰ ہے۔ نیز اُن کلمات کی پردہ پوشی جن کے ذریعے آپؐ کو ایذا دی گئی بھی افضل ہے۔ کیونکہ ان کا ذکر کرنے سے آپؐ کی گستاخی کی جسارت آسان ہو جاتی ہے۔ البتہ اس گالی اور بہتان کی سزا قتل ہے، اس لئے کہ یہ عظیم جسارت ہے اور اس کا اثر حد درجہ قبیح ہے۔ اگرچہ اس کی تاثیر اس کے سوا کچھ اور نہ ہو کہ اس سے آپؐ کی حرمت پامال ہوتی ہے یا کسی کے دل میں فساد واقع ہوتا ہے، یا کسی کے دل میں ایسا شبہ پیدا ہوتا ہے جس کا کچھ حصہ بھی قتل کو واجب کرتا ہے کسی اور کی آبرو کے عین برخلاف، کہ اُس سے ایسا نتیجہ برآمد ہونے کا خدشہ نہیں۔ اس وہم کا جواب آگے آرہا ہے کہ نبی کو گالی دینے اور غیر نبی کو گالی دینے میں یہ فرق ہے کہ غیر نبی کو گالی دینے سے جو حد لازم آتی ہے وہ توبہ سے ساقط ہو جاتی ہے اور نبی کو گالی دی گئی گالی کی حد توبہ سے بھی ساقط نہیں ہوتی ۔
ترک
کفر سے بڑھ کر جو سزا ذمی پر واجب ہو اسلام لانے سے
ساقط نہیں ہوتی
تیئسواں طریقہ
ذمی اگر گالی دے تو اُسے قتل کرنا یا تو جائز غیر واجب ہے یا واجب ہے۔ پہلی بات باطل ہے اُس کی وجہ ہمارے پیش کردہ دلائل ہیں جو مسئلہ نمبر ۱ کے سلسلہ میں ہم نے دیئے ہیں۔ ہم بیان کر چکے ہیں کہ یہ قتل واجب ہے اور جب واجب ہے تو ہر قتل یا سزا جو ذمی پر واجب ہو اور جرم کی مقدار کفر سے زیادہ ہو تو وہ ہرگز ساقط نہ ہو گی۔ یہ بات اجماع اور قیاسِ جلی سے ثابت ہو چکی ہے، اس کو زنا، ڈاکہ زنی کرتے ہوئے کسی کو قتل کرنے اور مسلم یا ذمی کو قتل کرنے کی وجہ سے قتل کرنا واجب ہے۔ اور اسلام قتل واجب کو ساقط نہیں کر سکتا۔ اسی سے ذمی کو قتل کرنے نیز حربی کافر اور محض ناقضِ عہد کو قتل کرنے کا فرق ظاہر ہوتا ہے۔ اس لئے کہ قتل وہاں فرضِ عین نہیں ہے۔ نیز اس سے اس کے اسلام لانے سے جزیہ کے سقوط کے مابین فرق واضح ہوتا ہے۔ امام شافعیؒ کے سوا اکثر فقہاء سقوط کے قائل ہیں۔ اس لئے کہ جزیہ بعض علماء کے نزدیک اقامتِ علی الکفر کی سزا ہے جب کہ بعض علماء کے نزدیک جزیہ خون کی حفاظت کا بدل ہے۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ جزیہ دارالاسلام میں رہنے کا کرایہ ہے۔ اور یہ اس شخص کے حق میں ہے جس کا دارالاسلام میں اپنا گھر نہ ہو۔ پس ثابت ہوا کہ کوئی سزا بھی ایسی نہیں جو مقدارِ زائد علی الکفر کی بناء پر واجب ہوئی ہو
سابقہ سبب کی وجہ سے جو سزا واجب ہوتی ہے وہ توبہ کے بعد بھی باقی
رہتی ہے
چوبیسواں طریقہ
چوبیسواں طریقہ یہ ہے کہ یہ قتل سابق سبب کی وجہ سے
وقوع پذیر ہوا ہے لہذا توبہ اور اسلام کی بناء پر ساقط نہیں ہوگا ۔ مثلاً زنا یا رہزنی کی وجہ سے قتل کرنا ، اس کا عکس یہ ہے کہ سبب حاضر کی وجہ سے قتل کیا جائے اور وہ ایسا قتل ہے جو قدم کفر کی وجہ سے جو ہنوز باقی ہو یا نو پیدا جدید اور موجود کفر کی وجہ سے عمل میں آئے یعنی اصلی کفر یا ہنگامی اور نیا ظہور پذیر ہونے والا کفر ، اس لئے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :-
" کعب بن اشرف کو کون ٹھکانے لگائے گا ؟ اس نے اللہ اور اس کے رسول کو ایذا دی ہے ۔"
چنانچہ رسول کریمؐ نے اس کو سابقہ ایذا رسانی کی وجہ سے قتل کیا ۔ آپؐ نے یہ نہیں فرمایا " کہ وہ اللہ اور اس کے رسولؐ کو ایذا دیتا ہے " اسی طرح سابق الذکر دلائل اس بات پر دلالت کرتے ہیں کہ گالی قتل کی موجب ہوئی ۔ اور گالی کلام کی ایک قسم ہے جس کو دوام و بقاء نہیں ہے ۔ بلکہ وہ ان افعال میں سے ہے جو ختم ہو جاتے ہیں مثلاً قتل اور زنا وغیرہ ۔ اور جو فعل ایسا ہو اس کے بارے میں شرعی فیصلہ یہ ہے کہ اس کے فاعل کو مطلقاً سزا دی جائے ۔ برخلاف قتل کے جو ارتداد یا کفر اصلی کی وجہ سے عمل میں لایا جائے ۔ کافر کو اس لئے قتل کیا جاتا ہے کہ اس کو قتل کرتے وقت کفر موجود ہوتا ہے ۔ اس لئے کہ کفر ایک عقیدے کا نام ہے اور عقیدہ دل میں موجود ہوتا ہے ۔ اس کا عقیدہ ہونا اس وقت ظاہر ہوتا ہے جب وہ کچھ بولتا ہے ۔ جب اس کا ظہور ہوتا ہے تو اصل بات یہ ہے کہ وہ باقی ہے ۔ بایں طور یہ عقیدہ قتل کرتے وقت دل میں موجود ہوتا ہے ۔ اور یہ مسلّمہ حقیقت ہے ۔ اس کی اساس اس بات پر رکھی گئی ہے کہ گالی دینے والے کو محض اس لئے قتل نہیں کیا جاتا کہ وہ مرتد ہو گیا ہے یا اس نے عہد توڑ دیا ہے جس طرح دوسرے لوگ صرف مرتد ہونے یا صرف عہد شکنی کا ارتکاب کرتے ہیں بلکہ اس کو اس سے زائد جرم کی وجہ سے قتل کیا جاتا ہے ۔ اور وہ ایذا اور ضرر رسانی ہے جس کا وہ مرتکب ہوا اور یہ ایک ایسا ضابطہ ہے جس کی تمہید اس طرح رکھی گئی ہے کہ کسی دانا آدمی کے لئے اس میں شک کی گنجائش باقی نہیں رہتی ۔
رسول کریم کو گالی دینا ایک ایذا ہے جو قتل کی موجب ہے، اس لئے
توبہ سے ساقط نہیں ہوتی
پچیسواں طریقہ
یہ وہ قتل ہے جس کا تعلق رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذات کے ساتھ ہے، اس لئے دشنام دہندہ کے اسلام لانے سے ساقط نہیں ہوتی جیسے اس نے کسی نبی کو قتل کیا ہو۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اگر مسلم یا معاہد اگر کسی نبی کو قتل کردے، پھر اس کے بعد اسلام لائے تو قتل اس سے ساقط نہیں ہوگا۔ اگر وہ اُمت کے کسی فرد کو قتل کردے تو اسلام لانے کے ساتھ قتل کا جرم اس سے ساقط نہیں ہوگا۔ پھر نبی کا قتل کیونکر ساقط ہو سکتا ہے؟ یہ بھی جائز نہیں کہ قاتل کے مسلمان ہونے کی صورت میں حاکم وقت کو اختیار ہو کہ اُسے قتل کرے یا دیت کو بھی معاف کردے یا اس سے بُرا کام کرے۔ جس طرح حاکم کو اختیار ہوتا ہے کہ اگر کوئی شخص کسی ایسے آدمی کو قتل کرے جس کا کوئی وارث نہ ہو تو جو سزا چاہے اس کو دے۔ اس لئے کہ کسی نبی کا قتل محاربہ کے جملہ انواع میں سے عظیم تر ہے اور خدا کی زمین میں فساد پھیلانے کی ایک کوشش ہے کیونکہ اس شخص نے اللہ اور اس کے رسولؐ کے خلاف جنگ کی اور بلا شبہ زمین میں فساد برپا کرنے کی سعی کی۔ اور جب رسول کریم کے حکم کے خلاف لڑنے والا آپؐ کے خلاف محارب اور (خدا کی) زمین میں فساد برپا کرنے والا ہے تو جو شخص اسے گالی دے یا اُسے قتل کردے تو وہ اس سے بھی زیادہ جنگ جُو اور زمین میں فساد برپا کرنے والا ہے۔ اور یہ کفر اور نقض عہد کی ایک عظیم تر نوع ہے۔ اگرچہ اس کا خیال یہ ہو کہ اس نے اُسے حلال سمجھ کر قتل نہیں کیا۔ جیسا کہ اسحاق بن راہویہؒ نے ذکر کیا ہے کہ مسلمانوں کا اس پر اجماع منعقد ہوا ہے، اور یہ ظاہر بات ہے۔ جب ذاتی طور پر اس کا قتل واجب ہے اگرچہ وہ مسلمان ہو چکا ہو تو اس کو گالی دینے والے کو قتل کرنا بھی واجب ہے، اگرچہ وہ مسلمان بھی ہو چکا ہو اس لئے کہ یہ دونوں ایذا رسانی )
کی قسمیں ہیں اور قتل کی موجب ہیں ۔ صرف اس لئے نہیں کہ یہ ارتداد یا نقض عہد ہے ۔۔ اور نہ اس لئے کہ یہ دوسرے کو قتل کرنے اور گالی دینے کے مماثل ہے۔ اس لئے کہ غیر (نبی) کو گالی دینا قتل کا موجب نہیں ۔ بلکہ غیر نبی کو قتل کرنے کی سزا قصاص ہے جس میں مقتول کے وارث یا حاکم کو اختیار ہوتا ہے کہ قاتل کو قتل کرے یا دیت وصول کرے۔ مقتول کے وارث کو یہ حق بھی حاصل ہے کہ قاتل کو بالکل معاف کردے ۔
بلکہ اس لئے کہ یہ اللہ اور اس کے رسول کے خلاف جنگ ہے اور خدا کی زمین میں فساد پھیلانے کی کوشش ہے۔ اور ہمیں کوئی ایسی چیز معلوم نہیں جو اس سے بڑھ کر ہو کیونکہ سب سے عظیم ترین گناہ کفر ہے اور اس کے بعد کسی کی جان لینا۔ اور یہ بدترین کفر ہے ۔ اس لئے کہ اس میں اس شخص کی شان گھٹانی ہے جس کی قدر و منزلت سب سے بڑھ کر ہے ۔ جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ اُن کو (رسول کریم) کو گالی دینے کی سزا اسلام لانے سے ساقط ہو جاتی ہے ، اس پر لازم ہے کہ وہ یہ بھی کہے کہ اس کا قاتل جب اسلام قبول کرلے تو اس شخص کے قاتل کی طرح ہوجاتا ہے جو ایسے آدمی کو قتل کرے جس کا کوئی وارث نہ ہو ۔ اس لئے کہ ارتداد اور نقض عہد کی وجہ سے قتل تو ساقط ہوا ۔ اب صرف قصاص باقی رہا ۔ جیسا کہ بعض (فقہاء) نے کہا ہے کہ بہتان لگانے والا اگر اسلام لائے تو اُسے اسّی کوڑے مارے جائیں ۔ یا یوں کہیے کہ قصاص اس سے بالکل ہی ساقط ہو جاتا ہے ۔ جس طرح اس کی حدّ قذف اور گالی کی سزا مطلقاً ساقط ہو جاتی ہے۔ اس کا کہنا یہ ہے کہ گالی کی سزا کفر کی سزا میں مدغم ہوگئی۔ بطور خاص اس کی رائے کے مطابق اگر گالی دینے والا ایسا کافر ذمّی ہے جس کو قتل کرنا اور اس کے ساتھ عداوت رکھنا حلال ہے پھر وہ اسلام لے آئے ۔
یہ قول حد درجہ قبیح اور قابل نفرت ہے جس کو سن کر رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں۔ اس کا خلاصہ یہ ہے کہ ایسی جگہ میں انبیاء کے خون تو رائیگاں جائیں اور دوسروں کے خونوں کا قصاص لیا جائے ۔ بنو اسرائیل جن عام حوادث و آلام سے دوچار
ہوئے۔ مثلاً ذلت، افلاس وغربت، خون ریزی، اموال کا چھینا جانا، بادشاہت کا زوال، بچوں کا قیدی بنایا جانا، روز قیامت تک اغیار کی غلامی ، اس کی وجہ صرف یہ تھی کہ وہ آیاتِ خداوندی کا انکار کرتے اور ناحق انبیاء کو قتل کرتے تھے۔ جس کسی نے بھی کسی نبی کو قتل کیا اس کا یہی حال ہوا۔ قرآن کریم میں فرمایا :-
وَ اِنْ نَّكَثُوْا اَیْمَانَهُمْ مِّنْ بَعْدِ عَهْدِهِمْ وَطَعَنُوْا فِیْ دِیْنِكُمْ
(التوبۃ - ۱۲)
اور اگر وہ اپنی قسمیں توڑ ڈالیں عہد باندھنے کے بعد اور تمہارے دین پر طعنہ زن ہوں ۔
اس میں خاص کا عطف عام پر ہے ۔ اگر یہ باطل ہے تو اس کی نظیر بھی اسی کی طرح باطل ہے ۔
اس لئے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ایذا دینا یا تو عموم کفر و نقض میں داخل ہے یا رسول کریم کو ایذا دینا دوسروں کو ایذا دینے کے مساوی ہے۔ یا بطور خاص آپ کو گالی دینا قتل کا موجب ہے ۔ جب پہلی دونوں قسمیں باطل ہوئیں تو صرف تیسری قسم باقی رہی۔ اور جب صرف آپ کو گالی دینے سے بطور خاص اس کا قتل واجب ہوتا ہے تو بلاشبہ مطلقاً بھی قتل کو واجب کرتا ہے ۔
واضح رہے کہ مسئلہ زیر قلم میں شبہ کا منبع و مصدر قیاسِ فاسد ہے۔ اور وہ یہ کہ دو متبائن چیزیں جو کسی طرح بھی جمع نہ ہوسکتی ہوں ان کو جنس کے لحاظ سے مساوی قرار دیا جائے۔ یعنی نبی کی آبرو اور خون کو غیر نبی کی آبرو اور خون کے ساتھ ہم آہنگ کر دیا جائے اور ایک کی پامالی کو دوسرے کی پامالی کے ساتھ یکساں بنا دیا جائے ۔ حالانکہ یہ بات بداہتہً باطل ہے اور اس کو زبان پر لانے سے رونگٹے کھڑے ہوتے ہیں۔ اس لئے کہ جو شخص اُسے محض ارتداد یا نقض عہد کی وجہ سے قتل کرتا ہے اور نبی کی ایذا رسانی کو بالخصوص کوئی اہمیت نہیں دیتا۔ اس کے نزدیک مؤثر صرف وصف کفر کا عموم ہے ۔ یا تو وہ خصوصی اذیت کو رائیگاں قرار دیتا ہے یا نبی او
غیر نبی کی ایذا رسانی کو یہ خیال کرتے ہوئے مساوی قرار دیتا ہے کہ اس کو کفر یا نقض عہد قرار دینا انتہائی تعظیم کی وجہ سے ہے۔ یہ اس شخص کا اندازِ استدلال ہے جو سمجھتا ہے کہ رسولؐ کا اس کے سوا کوئی حق نہیں کہ اس کی رسالت کی تصدیق کی جائے۔ اس کے سوا دیگر حقوق میں ایک نبی اور دیگر تمام مومنین مساوی ہیں۔
یہ خبیث کلام ہے اور اس کا مصدر و منبع کم عقلی اور نادانی ہے۔ پھر یہ عقیدہ نفاق کی جانب کھینچے لے جاتا ہے اور یہ خدشہ دامن گیر ہوتا ہے کہ یہ نفاقِ اکبر تک نہ پہنچ جائے۔ اور دراصل یہ اس کے لائق بھی ہے۔ فقہاء میں سے جس نے یہ بات کہی ہے کہ وہ اس بات کو پسند نہیں کرتا کہ اس سے ایسا اعتراض لازم آئے کہ وہ اُسے زبان پر نہ لاسکے۔ کیونکہ رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذات اس سے کہیں بلند ہے کہ ان کے بارے میں ایسی بات کہی جائے۔ مگر ان کے نقطۂ نظر سے اس بات کا لازم آنا از بس ناگزیر ہے۔ اور کسی قول کے فساد و بطلان کے لئے یہ بات کافی ہے کہ تنقیح کے بعد اس کی یہ حقیقت ہو۔
ورنہ جو شخص تصور کرتا ہے کہ نبی کے حقوق کثیر بھی ہوتے ہیں اور عظیم بھی، اور وہ آپؐ کے ساتھ ایمان لانے کی طرف منسوب ہیں۔ اور وہ حقوق آپؐ پر ایمان لانے کے علاوہ اُن پر مستزاد ہیں۔ اس کے لئے کیونکر جائز ہے کہ وہ آپؐ کی ایذا رسانی کو رائیگاں قرار دے۔ جب اس کے بارے میں فرض کیا گیا ہے کہ وہ کافر نہیں ہے یا آپؐ کی ایذا کو دوسروں کی ایذا کے ہم پلہ قرار دیتا ہو۔ بتائیے اگر کوئی شخص اپنے باپ کو گالی اور ایذا دے تو کیا اس کے لئے وہی سزا مشروع ہوگی جو اس کے باپ کے علاوہ کسی اور کو گالی دینے کی صورت میں ہوگی یا اس سے شدید تر ہوگی، جبکہ حقوق کا تقابل عقوق (نافرمانی) کے ساتھ کیا جائے گا ؟
قرآن کریم میں فرمایا :- فَلَا تَقُلْ لَّهُمَا اُفٍّ وَّلَا تَنْهَرْهُمَا وَقُلْ لَّهُمَا قَوْلًا كَرِيمًا
(الاسراء - ۲۳)
(ترجمہ) ان دونوں کو اُف تک نہ کہو اور کہو ان سے اچھی بات ۔" مَراسِيل ابی داؤد میں ابن المسیب سے مروی ہے کہ رسول کریمؐ نے فرمایا :- " جو اپنے باپ کو مارے اُسے قتل کر دو ۔" الغرض دانشمند آدمی سے یہ بات پوشیدہ نہیں کہ والدین کے حقوق چونکہ عظیم تر ہیں اس لئے ان کی زبانی ایذا رسانی کی سزا بھی شدید تر ہے اگرچہ وہ کفر نہیں ہے۔ جب کسی انسان پر نبی کے حقوق محض تصدیق تک محدود نہیں بلکہ اس سے بڑھ کر ہیں۔ نیز نبی پہ ایذا کے تمام اقسام وانواع کو حرام ٹھہرایا جو تکذیب کو مستلزم نہیں ۔ لہٰذا لازم ٹھہرا کہ ان خصوصیات کے ترک اور مخل پر سزائیں بھی دی جائیں اور اس بات پر ایک طرح سے محققین کا اجماع ہوچکا ہے کہ آپؐ کو جو ایذا دی جائے اُس کی سزا دوسروں کو دی جانے والی سزا کے مساوی نہیں ہونی چاہیے ۔ اور یہ ظاہر بات ہے اب صرف یہ بات باقی رہی جب کہ قتل نافرمانی کے عقوق کی وجہ سزا ہے اس کے ساتھ پوری طرح ہم آہنگ ہو۔ اگرچہ اس کے حق میں یہ دلیل ہے اور آخرت کا عذاب اُس کے مقابلہ میں بہت سخت ہے۔ اللہ تعالیٰ نے رسول کریمؐ کو ایذا دینے والے پر دنیا اور آخرت میں لعنت بھیجی اور اس کے لئے رُسوا کُن عذاب تیار کر رکھا ہے ۔
رسول کریمؐ کو گالی دینا آپؐ کی ازواج کیساتھ نکاح کرنے سے
بھی زیادہ گھناؤنا جرم ہے
چھبیسواں طریقہ
ہم قبل ازیں سنت اور اقوال صحابہؓ کی روشنی میں ثابت کرچکے ہیں کہ جو شخص حضورؐ کی ازواج مطہراتؓ سے نکاح کر کے آپؐ کو ایذا پہنچائے اُس کو قتل کیا جائے۔ اس باب سے تعرّض اس لئے کیا گیا ہے کہ آپؐ کی حیات وممات دونوں صورتوں میں آپؐ کا اکرام و احترام ملحوظ رہے۔ ایسے آدمی کو زنا کی حد لگا کر قتل نہیں کیا جاتا اور نہ اس لئے کہ اُس نے
تک نہ کہو اور کہو اُن سے اچھی بات ۔ " ی ابن المسیب سے مروی ہے کہ رسول کریمؐ نے فرمایا :- مارے اُسے قتل کر دو ۔ " کسی سے یہ بات پوشیدہ نہیں کہ والدین کے حقوق چونکہ عظیم تر ہیں رسانی کی سزا بھی شدید تر ہے اگرچہ وہ کفر نہیں ہے۔ جب وق محض تصدیق تک محدود نہیں بلکہ اس سے بڑھ کر ہیں ۔ نیز م وانواع کو حرام ٹھہرایا جو تکذیب کو مستلزم نہیں ۔ لہٰذا لازم ترک اور عمل پر سزائیں بھی دی جائیں اور اس بات پر ایک ع ہو چکا ہے کہ آپؐ کو جو ایذا دی جائے اُس کی سزا دوسروں کے مساوی نہیں ہونی چاہیے ۔ اور یہ ظاہر بات ہے اب صرف نافرمانی کے حقوق کی جو سزا ہے اس کے ساتھ پوری طرح کے حق میں یہ قلیل ہے اور آخرت کا عذاب اُس کے مقابلہ لہٰہ تعالیٰ نے رسول کریمؐ کو ایذا دینے والے پر دنیا اور آخرت کے لئے رُسوا کُن عذاب تیار کر رکھا ہے ۔
ینا آپؐ کی ازواج کیساتھ نکاح کرنے سے
زیادہ گھناؤنا جُرم ہے
ہم قبل ازیں سنت اور اقوال صحابہؓ کی روشنی میں ثابت کر چکے ہیں کہ جو شخص حضورؐ کی ازواج مطہراتؓ ایذا پہنچائے اُس کو قتل کیا جائے ۔ اس باب سے تعرض اُس کی حیات وممات دونوں صورتوں میں آپؐ کا اکرام و احترام کو زنا کی حد لگا کر قتل نہیں کیا جاتا اور نہ اُس لئے کہ اُس نے
ذواتِ محارم اور دیگر حرام عورتوں سے جماع کیا ۔ بلکہ قتل کی وجہ رسول کریمؐ کی ایذارسانی ہے ۔ خواہ اس فعل کو کفر قرار دیا جائے یا نہ دیا جائے ۔ اگر یہ کفر نہیں تاہم آپؐ کو ایذا دینے والے کا قتل ثابت ہو چکا ہے ، اگرچہ وہ کافر نہ بھی ہو اور مقصود بھی یہی ہے ۔ اس لئے کہ گالی دیکر آپؐ کو ایذا پہنچانا شدید تر جرم ہے۔ اور اگر اس کو کفر قرار دیدیا جائے یا یہ فرض کر لیا جائے کہ وہ توبہ کر چکا ہے تو یوں کہنا صحیح نہیں کہ قتل اس سے ساقط ہو جائے گا ۔ کیونکہ یہ اس بات کو مستلزم ہے کہ بعض افعال قتل کے موجب ہوں ۔ اگر اس پر قابو پا لیا جائے ۔ امام کے نزدیک اس کا جرم ثابت بھی ہو جائے اور وہ توبہ کرلے تو اس کا قتل ساقط ہو جائے گا ۔ مگر شریعت میں یہ بات موجود نہیں اور کسی مسئلہ کی کوئی نظیر نہ ہو اس کو صرف نص کے ذریعے ہی ثابت کیا جا سکتا ہے ۔ بخدا یہ بات بڑی آسان ہے ۔ اس لئے کہ ایسے فعل سے زبان کے ساتھ زبان کا اظہار جس کو نفوس پسند کرتے ہوں ۔ اصحابِ غرض پر آسان ہے ، جبکہ اُس پر قابو پا لیا جائے ۔ تو اُس قسم کی توبہ ایں طور ساقط ہو جاتی ہے ۔ اور اس ایذا رسانی نے جب اس قتل کو ساقط نہ کیا جو اُس کے فاعل پر واجب ہوا تھا ۔ تو وہ قتل جس کو لسانی ایذا نے واجب کیا تھا بالاولیٰ ساقط نہیں ہو گا ۔ اس لئے کہ قرآن نے لسانی ایذا کو اس ایذا کے مقابلہ میں غلیظ تر کہا ہے ۔ اور حقیقت یہ ہے کہ یہ دونوں ہی کفر ہیں ۔ جب ادنیٰ کام کرنے والے سے قتل ساقط نہیں ہوتا تو بُرا جرم کرنے والے کا قتل کیسے ساقط ہوگا ۔
رسولؐ کو دشنام دہندہ اس کا دشمن ہے اس لئے وہ خیر و برکت
سے محروم رہے گا !
ستائیسواں طریقہ | قرآن میں فرمایا :- ” اِنَّ شَانِئَكَ هُوَ الْاَبْتَرُه
(الکوثر - ۳)
( بیشک تیرا دشمن ہی بے اولاد رہے گا ۔ )
اس آیت میں فرمایا کہ تیرا دشمن ہی ابتر ہے۔ اس کا مادہ ”بتر“ ہے جس کے معنی کاٹنے کے ہیں۔ عربی میں یہ باب ”بَتَرَ يَبْتُرُ بَتْراً“ (کاٹنا) آتا ہے۔ ”سَيْفٌ بَتَّارٌ“ کے معنی تیز تلوار کے ہیں۔ اس سے اشتقاق اکبر تَبَّرَ تَبْتِيراً (ہلاک کرنا) آتا ہے۔ اَلتَّبَارُ کے معنی ہلاکت اور خسارے کے آتے ہیں۔ اس آیت میں حصر اور تاکید کے الفاظ استعمال کئے گئے ہیں۔ عرب کے مشرک کہتے تھے کہ محمدؐ کا ذکر ختم ہو جائے گا، اس لئے کہ آپؐ لاولد ہیں۔ اس کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ جو شخص آپؐ سے دشمنی رکھتا ہے وہی بے نشان ہے نہ کہ آپؐ۔ عداوت دو قسم کی ہوتی ہے ایک تو وہ جو ظاہر نہیں ہوتی اور دوسری وہ جو زبان کے ذریعے ظاہر ہوتی ہے۔ یہ عداوت کی شدید ترین قسم ہے۔
ہر جرم جس کا مرتکب اللہ کی طرف سے سزا کا مستحق ہو، جب وہ یہ جرم علانیہ ہمارے سامنے کرے تو ہم پر واجب ہے کہ ہم اُسے سزا دیں اور اس پر اللہ کی حد قائم کریں۔ جو شخص بھی آپؐ کے خلاف خفیہ یا علانیہ عداوت کرے تو ہم اُسے تہس نہس کر دیں۔ بایں طور اس کا قتل واجب ہے، اگرچہ قابو میں آنے کے بعد توبہ کا اظہار کرے۔ ورنہ اکثر اوقات ہمارے ہاتھوں آپؐ کا کوئی دشمن بھی ہلاک نہیں ہوگا۔ اس لئے کہ اظہارِ عداوت کے بعد وہ جب تلوار دیکھے گا تو تائب ہو جائے گا۔ تلوار سے ڈرنے والے کیلئے یہ بات بڑی آسان ہے۔
اس کی توضیح و تحقیق یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے دشمنِ رسولؐ کی ہلاکت کو آپؐ کی عداوت پر مرتب کیا ہے۔ اور جب کسی حکم کو مشتق مناسب کے ساتھ وابستہ کیا جائے تو یہ اس امر کی دلیل ہوتی ہے کہ مشتق منہ اس حکم کے لئے علت ہے۔ اس لئے رسولِ کریمؐ کی عداوت ہی اس کی بربادی کو مستلزم ہے۔ عداوت جس کفرِ محض یا نقضِ عہد پر مشتمل ہے۔ یہ اس سے اخص ہے اور اس کو قطع کرنے کے معنی یہ ہیں کہ اُسے جہنم رسید کیا جائے۔ بلکہ اس سے بڑھ کر اس کے معنی یہ ہیں کہ اس کا نام و نشان مٹا دیا جائے۔ اگر اظہارِ عداوت کے بعد بھی اُسے زندہ رہنے دیا جائے تو اس
طرح اس کا نام و نشان باقی رہے گا۔ اور جب بھی عداوت کرنا چاہے گا تو اس کے نام و نشان کو محو کر دیا جائے گا۔ گویا یہ بھی ایک ان اسباب میں سے ہے جو کسی شخص کے قتل کے موجب ہوتے ہیں۔ اور کوئی چیز ایسی نہیں جو ذمی کے قتل کی موجب ہو مگر وہ اسلام لانے کے بعد اپنے قتل کا خود موجب بنتا ہے۔ اس لئے کہ کفر محض قتل کا جواز پیدا کرتا ہے۔ علی الاطلاق اس کو واجب نہیں ٹھہراتا۔
اس کی وجہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ذکر کو بلند کیا ہے۔ لہٰذا جب بھی اللہ کا ذکر کیا جاتا ہے تو ساتھ ہی آپؐ کا ذکر خیر بھی کیا جاتا ہے اور آپؐ کے متبعین کا ذکر تاقیامت بلند کیا جاتا ہے۔ حتیٰ کہ اس شخص کا ذکر بھی کیا جاتا ہے جس نے آپؐ کی ایک حدیث بھی دوسروں تک پہنچائی ہو، اگرچہ وہ فقیہہ نہ بھی ہو۔ ایسے شخص نے رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دشمن منافقین اور اُن کے برادرانِ اہلِ کتاب اور دوسروں کا قلع قمع کر دیا۔ لہٰذا اس کا ذکر حمید باقی نہیں رہے گا، اگرچہ ایک خاص وقت تک ان کے اجسام باقی رہیں گے۔ بشرطیکہ وہ بغض و عداوت کا اظہار نہ کریں۔ جونہی وہ کینہ توزی کا اظہار کریں گے اُن کے اجسام و اعیان کا وجود نہ عرفاً باقی رہے گا نہ تشریعاً۔ اگر کسی طرح سے اظہار عداوت کرنے والے کو زندہ رہنے دیا جائے تو وہ ”مَبْتُور“ (ہلاک و برباد) نہیں رہے گا۔ اس لئے کہ مَبْتُور کے معنی یہ ہیں کہ جمیع اطراف و جہات سے اس کو محو کر دیا جائے۔ اگر کسی وجہ سے بھی وہ باقی رہتا تو اُسے ”مَبْتُور“ نہ کہا جاتا۔
یہ بات اس امر کی آئینہ داری کرتی ہے کہ جن سزاؤں کو اللہ نے عبرت پذیری کے لئے مشروع کیا ہے مثلاً چور کا ہاتھ کاٹنا ومثل ایں وہ توبہ کے اظہار سے ساقط نہیں ہوتیں۔ کیونکہ اس طرح عبرت آموزی باقی نہیں رہتی پس جو سزا اس لئے مشروع ہوئی ہے کہ اس کا مرتکب ملیا میٹ اور نیست و نابود ہو جائے، پکڑے جانے کے بعد وہ کیسے ساقط ہو سکتی ہے۔ کیونکہ یہ الفاظ اُس طرف اشارہ کرتے ہیں کہ مقصود اُن کے مرتکب کا استیصال، قلع قمع اور ان کی عداوت کو مٹا دینا ہے۔ ظاہر ہے
کہ جو چیز ایسی ہو اس کی سزا کا ساقط ہونا ہر چیز سے بعید تر ہے ۔ اور غور و فکر کرنیوالے کے لئے یہ چیز اظہر من الشمس ہے ۔ "والله اعلم "
مخالفین کے دلائل کا جواب
پہلی دلیل
مخالفین کی پہلی دلیل یہ ہے کہ دشنام دہندہ چونکہ مرتد ہے ، اس لئے دیگر مرتدین کی طرح اس سے توبہ کا مطالبہ کیا جائے
جواب
اس کا جواب یہ ہے کہ مرتد کے معنی یہ ہیں کہ اس نے ایسا کلمہ کہا جس کی وجہ سے وہ مباح الدم کافر ہو گیا ۔ مگر اس کے ساتھ یہ بھی جائز ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تصدیق کرنے والا اور آپ کی نبوت کا اعتراف کرنے والا ہو۔ مگر آپ کی تصدیق کا تقاضا یہ بھی ہے کہ گفتگو کرتے وقت رسول کریم کے احترام واکرام کو ملحوظ رکھا جائے ۔ جب اپنی گفتگو میں وہ آپ کی تنقیص کرے گا تو تصدیق باقی نہیں رہے گی ۔ اور یہ اسی طرح ہو گا جس طرح ابلیس نے اللہ کی ربوبیت کا اعتراف کیا تھا۔ اس اعتراف کا تقاضا یہ تھا کہ وہ اللہ کے سامنے جھکتا اور اس کے حکم کی تعمیل کرتا جب تکبر کی بناء پر اس نے اللہ کے حکم کو نہ مانا تو اس اعتراف کا حکم جاتا رہا ۔
ہر مرتد سے توبہ کا مطالبہ نہیں کیا جا سکتا
اللہ اور اُس کے رسول پر ایمان لانے میں قول و عمل دونوں شامل ہیں ۔ یعنی قول سے جو حکم مستفاد ہوتا ہے اس پر عمل کیا جائے اور دل سے اس کی عظمت و جلالت کو تسلیم کیا جائے ۔ جب اس کے برعکس تکبر کا اظہار کرے گا اور اللہ تعالیٰ کی توہین وتخفیف کا مرتکب ہو گا تو وہ کافر ٹھہرے گا ۔ اسی طرح نبی کا قتل کفر ہے اور اُس پر سب علماء کا اتفاق ہے ۔ بنا بریں مرتد ہر اُس شخص کو کہتے ہیں جو اسلام لانے کے بعد ایسے قول و عمل کا اظہار کرے جو اسلام سے متصادم ہو اور اس سے قبل نہ
کھاتا ہو۔
جب صورتحال یہ ہے تو ہر وہ شخص جس کو مرتد کہا جاتا ہے اسلام لانے سے اُس کا خون محفوظ نہیں رہ سکتا۔ کیونکہ یہ بعموم الفاظ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور صحابہؓ سے ثابت نہیں ہوتا۔ رسول کریمؐ اور صحابہؓ سے چند مخصوص اشخاص کے بارے میں جو کچھ منقول ہے وہ یہ ہے کہ صحابہؓ نے اُن سے توبہ کا مطالبہ کیا یا انہیں توبہ کے مطالبہ کا حکم دیا گیا۔ پھر انہیں مامور کیا گیا کہ گالی دینے والے کو قتل کردیں۔ چنانچہ انہوں نے توبہ کا مطالبہ کئے بغیر انہیں تہ تیغ کردیا۔
رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے منقول ہے کہ آپؐ نے قبیلہ عُرَیْنَہ والوں کو توبہ کا مطالبہ کئے بغیر قتل کردیا۔ علاوہ ازیں آپؐ نے ابن خطل، مُقَیْس بن صُبابہ اور ابن ابی سرح سے توبہ کا مطالبہ کئے بغیر ان کے خون کو رائیگاں قرار دیا۔ چنانچہ ان میں سے دو کو تو قتل کیا گیا اور تیسرے کے متعلق صحابہ کرامؓ سے آپؐ کی خواہش یہ تھی کہ وہ اُسے قتل کردیں۔ حالانکہ وہ توبہ کرنے کے لئے آیا تھا۔
رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم، خلفائے راشدین اور دیگر صحابہ رضوان اللہ علیہم کا طرز عمل یہی تھا۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ بعض مرتد ایسے ہوتے ہیں کہ انہیں قتل کیا جاتا ہے اور اُن سے نہ تو توبہ کا مطالبہ کیا جاتا ہے اور نہ ہی اُن کی توبہ مقبول ہوتی ہے
بعض مرتد ایسے ہوتے ہیں کہ ان سے توبہ کا مطالبہ کیا جاتا ہے اور ان کی توبہ مقبول بھی ہوتی ہے۔ چنانچہ جس شخص کے بارے میں معلوم ہو کہ اس نے اپنے مذہب کو ترک کردیا ہے اور علانیہ وہ اس کا اظہار بھی کرتا ہے، تو ایسا شخص اگر توبہ کر لے تو اُس کی توبہ قبول کی جائے گی۔ مثلاً حارث بن سُوَیْد اور اس کے رفقاء جو خلافتِ صدیقیؓ میں مرتد ہو گئے تھے اور انہوں نے ارتداد کے ساتھ ساتھ اہل اسلام کو قتل کرتے، رہزنی اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو گالیاں دینے اور آپؐ پر جھوٹ باندھنے کا ارتکاب بھی کیا تھا۔ اگر ایسا شخص دار الاسلام میں سکونت گزیں ہو اور قوت و شوکت سے بھی بہرہ ور نہ ہو، پھر وہ اسلام لائے تو اُسے پکڑ کر قتل کر دیا جائے
اس لئے کہ اسلام قبول کرنے کے باوجود وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو گالیاں دیتا اور رہزنی کا ارتکاب کرتا رہا ہے ۔
یہ ان لوگوں کا انداز استدلال ہے جو اُسے اس لئے قتل کرتے ہیں کہ وہ گالیاں دیتا ہے اور اس نے حدود شرعیہ میں سے ایک حد کو توڑا اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حق کی خلاف ورزی کی ہے ۔
دوسری دلیل
ان لوگوں کا قول ہے کہ ارتداد کی دو قسمیں ہیں ۱۔ ارتداد مجرد یعنی صرف ارتداد۔ ۲۔ ارتداد مغلظ اور توبہ صرف پہلی قسم میں مشروع ہے دوسری میں نہیں۔ ظاہر ہے کہ یہ ارتداد مغلظ ہے اور قبل ازیں اس پر روشنی ڈالی جاچکی ہے
جواب
اس کا مختصر جواب یہ ہے کہ ہم اس بات کو تسلیم نہیں کرتے کہ ارتداد کی صرف ایک ہی قسم ہے اور اس کا ارتکاب کرنے والوں کی توبہ مقبول ہے۔ لہٰذا اس کے لئے کسی دلیل کی ضرورت نہیں اور ایسی کوئی نص موجود نہیں اور قیاس اس لئے دشوار ہے کہ دونوں قسموں میں فرق پایا جاتا ہے ۔
تیسری دلیل
بعض لوگ گالی دینے والے کو اس لئے قتل کرتے ہیں کہ وہ زندیق ہے۔ انکے مخالفین کہتے ہیں کہ اس کا زندیق ہونا ثابت نہیں، کیونکہ کسی دلیل سے ثابت نہیں ہوتا کہ اس کی توبہ صحیح ہے جیسا کہ پیچھے گزرا ۔ اُنہوں نے حضرت ابوبکر صدیقؓ کے قول سے جو احتجاج کیا تھا
جواب
اس کا جواب یہی ہے ۔ اور حضرت ابن عباسؓ کے قول کا جواب پہلے دیا جاچکا ہے۔ باقی رہی یہ بات کہ نابینا (صحابیؓ) نے اپنی اُمّ ولد لونڈی سے توبہ کا مطالبہ کیا تھا۔ تو اس کا جواب یہ ہے کہ وہ نہ تو حاکم وقت تھا اور نہ ہی اقامت حدود اس پر واجب تھی۔ قابل غور بات یہ ہے کہ وہ حد قائم کر سکتا تھا یا نہیں؟ اور ایسے شخص کے بارے میں یہ درست ہے کہ وہ گالی دینے والے کو منع کرے یا اُس سے توبہ کا مطالبہ کرے۔ اس لئے کہ وہ ازخود نہ تو حد لگا سکتا ہے اور نہ تنہا سلطان کے
سامنے شہادت دے سکتا ہے کیونکہ اس کا کچھ فائدہ نہیں ہے۔
اس کی نظیر یہ ہے کہ بعض مسلمان منافقوں سے ایسے جملے سنتے جو کفر کے موجب ہوتے ۔ بعض اوقات وہ ایسے جملوں کو رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تک پہنچا دیتے اور بعض اوقات وہ ایسا کرنے والے کو روکتے، ڈراتے اور توبہ کا مطالبہ کرتے۔ یہ اسی طرح ہے جیسے کوئی شخص زنا، چوری یا ڈاکے کا مرتکب ہوتا تو مسلمان اُسے منع کرتے تاکہ حاکم کی عدالت میں مقدمہ دائر کرنے سے پہلے وہ توبہ کر لے اور اگر توبہ کرنے سے قبل اس کا مقدمہ عدالت میں دائر کر دیا جاتا تو اس کے بعد توبہ کرنے سے اس کی حد ساقط نہ ہوتی۔ دوسری دلیل کا جواب کئی طرح سے دیا جا سکتا ہے:۔
وجہ اوّل
پہلی وجہ یہ ہے کہ اسلام لانے کے بعد کفر اختیار کرنے کی بنا پر اُسے قتل کیا جائے گا۔ اور ان کا یہ قول کہ ”جو شخص بھی اسلام لانے کے بعد کفر اختیار کرے تو اس کی توبہ قبول کی جائے گی۔“ ہمارے لئے قابلِ تسلیم نہیں ہے ۔ باقی رہی آیت تو وہ اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ جو شخص ایمان لانے کے بعد کافر ہو جائے اور وہ اپنے کفر میں اضافہ نہ کرے تو اس کی توبہ قبول کی جائے گی۔ مگر جو شخص کافر ہو جانے کے بعد اپنے کفر میں اضافہ کرلے تو آیت اس کی توبہ کے مقبول ہونے پر دلالت نہیں کرتی ۔
بلکہ آیت کریمہ :۔ ” ” بیشک جو لوگ ایمان لانے کے بعد کافر ہو گئے اور پھر اپنے کفر میں بڑھ گئے۔
(آل عمران ۔ ۹۰)
سے بعض لوگ اس کے خلاف استدلال کرتے ہیں۔ البتہ وہ توبہ کرنے والے اور اپنی اصلاح کرنے والے کو اس سے مستثنیٰ قرار دیتے ہیں مگر یہ اس شخص کے بارے میں ممکن نہیں جو پکڑے جانے کے بعد توبہ کرے۔ مگر سنّتِ نبویؐ سے ہم نے استفادہ کیا ہے کہ محض توبہ کرنے سے ہی قتل اس سے ساقط ہو جاتا ہے ۔ سنّت صرف اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ یہ اس شخص کے بارے میں جو محض ارتداد کا ارتکاب کرے یا
ہے جیسے حارث ابن سوید ۔ اس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ جو شخص ارتداد کو مغلظ بنائے جیسے ابن ابی سرح، تو اُسے توبہ کرنے اور اسلام لانے کے بعد قتل بھی کیا جا سکتا ہے ۔
وجہ ثانی
دوسری وجہ یہ ہے کہ اسلام لانے کے بعد کفر اختیار کرنے کی بنا پر اُسے قتل کیا جائے گا ۔ نیز اس لئے کہ وہ گالی دینے کا مرتکب ہوا ہے ، جیسا کہ پیچھے گزرا ۔ اس طرح یہ حدیث کے عموم میں داخل ہو گیا۔ مزید براں گالی دینے سے اس کا جرم مغلظ اور اُس کے قتل کا مؤکد ہو گیا ۔
وجہ ثالث
تیسری وجہ یہ ہے کہ یہ دلیل عام ہے اور نماز اور دیگر فرائض کے ترک کرنے والے کو ان لوگوں کے نزدیک اس سے مستثنیٰ کیا گیا جو اُسے قتل تو کرتے ہیں مگر اس کی تکفیر نہیں کرتے ۔ نیز سنت اور اجماع کی بناء پر اس سے باغی اور حملہ کنندہ کے قتل کو مخصوص کر دیا گیا ۔ اگر معترض کہے کہ ”سابق الذکر دلائل کی بنا پر گالی قتل کی موجب ہے، حالانکہ وہ اِس حدیث سے اخص ہے“ تو یہ صحیح بات ہوگی ۔
باقی رہے وہ اہل علم جو اِس حدیث سے استدلال کرتے ہیں کہ ذمی اگر گالیاں دے کر پھر اسلام لے آئے (تو اس کے ساتھ کیا سلوک کیا جائے گا) اس کے جواب میں کہا جائے گا کہ ذمی کا قتل اسلام لانے سے پہلے واجب تھا۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا مطلب اِس حدیث سے یہ ہے کہ کسی کا خون اسلام لانے سے محفوظ ہو جاتا ہے ۔ (اور اگر پھر غلطی کرے) تو وہ مباح الدم ہو جاتا ہے ۔ مگر اِس حدیث میں یہ بات مذکور نہیں کہ جو شخص پہلے واجب القتل ہو اور پھر اسلام قبول کرے تو اُس کا حکم کیا ہے ؟ مذکورہ حدیث کو اس پر محمول نہیں کیا جا سکتا ۔ اگر اس حدیث کا یہ مطلب لیا جائے کہ جو اسباب اسلام لانے سے قبل بھی موجود تھے ان کی وجہ سے وہ مباح الدم ہے، تو اس سے لازم آئے گا کہ حربی کافر جب قتل یا زنا کرے پھر شہادتین کا اقرار کرے تو اس کے باوجود اُسے قتل اور زنا کے جرم میں قتل کیا جائے کیونکہ اندریں صورت حدیث کا مفہوم اس پر بھی مشتمل ہے، حالانکہ یہ بات قطعاً باطل ہے۔ حدیث مذکور کا یہ مطلب بھی نہیں کہ جو شخص
بھی اسلام کو قبول کرے اس کو صرف تین صورتوں میں سے کسی ایک صورت میں قتل کیا جاسکتا ہے ۔ جب کہ یہ صورت اسلام لانے کے بعد صادر ہو ۔ کیونکہ اس سے یہ لازم آتا ہے کہ کسی ذمی کو اس قتل یا زنا کی بناء پر قتل نہ کیا جائے جو اسلام لانے سے قبل اس سے صادر ہوا ہو ۔
اس سے مستفاد ہوا کہ حدیث کا مطلب یہ ہے کہ جو شخص شہادتین کا اقرار کر کے اپنے خون کو بچالے اس کے بعد اس کا خون تین صورتوں میں سے کسی ایک صورت کے پیش آنے سے مباح ہو سکتا ہے۔ پھر اگر اس بات کو ایک ضابطہ کلیہ قرار دیا جائے تو اس کی تخصیص ہماری پیش کردہ دلیل سے ہوگی اور وہ یہ کہ اس کا قتل حدود شرعیہ میں سے ایک حدّ ہے اور وہ یہ کہ جو شخص بھی مسلمان ہو جائے اسلام اس کے خون کو محفوظ کر دیتا ہے اور اس کے بعد تب مباح ہوتا ہے اگر وہ سابق الذکر تین کاموں میں سے کسی کا مرتکب ہو۔ بعض اوقات کسی مانع کے پیش آجانے سے اس کلیہ پر عمل نہیں کیا جاتا ۔ مثلاً قصاص یا زنا کی حد ثابت ہو جائے یا ایسا نقض عہد ہو (جو مسلمانوں کے لئے) ضرر رساں ہو ۔ وغیر ذلک ، عمومات میں اس کی بہت مثالیں موجود ہیں۔
باقی رہی آیت کریمہ جس کے بارے میں دو وجہ کا ذکر کیا گیا ہے ، ہم اس کے بارے میں کہتے ہیں کہ وہ صرف اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ جو شخص ایمان لانے کے بعد کفر کا مرتکب ہو اور پھر توبہ کر کے اپنی اصلاح کر لے تو اللہ تعالیٰ اس کی مغفرت فرمائے گا۔ کیونکہ وہ رحم کرنے والا ہے۔ ہم بھی آیت کے اس مفہوم کو تسلیم کرتے ہیں۔ تاہم جو شخص کفر کے ساتھ توہین رسولؐ اور آپؐ پر افترا پردازی کو بھی منضم کرے یا رسولؐ کو قتل کرے یا کسی مسلم کو قتل کرے یا اس کی آبروریزی کرے تو آیت میں یہ بات مذکور نہیں کہ اس کی سزا ساقط ہو جائے گی ۔ اس کی دلیل مندرجہ ذیل آیت کریمہ ہے :۔ اِلَّا الَّذِيْنَ تَابُوْا مِنْ بَعْدِ ذٰلِكَ وَاَصْلَحُوْا "
(آل عمران ۔ ۸۹)
مگر وہ لوگ جو اس کے بعد توبہ کر لیں اور اپنی اصلاح کر لیں اس آیت میں توبہ سے مراد مذکورہ گناہ سے توبہ ہے ۔ اور وہ گناہ کفر بعد الایمان
ہے۔ ظاہر ہے کہ یہ گناہ کفر سے بڑھ کر ہے اور اس کی سزا بھی مخصوص ہے جیسا کہ پیچھے گزرا ۔ آیت میں توبہ سے مراد کفر سے توبہ ہے ۔ آیت میں کسی اور توبہ کا ذکر نہیں کیا گیا ۔ جو لوگ اس سے ”زندیق“ مراد لیتے ہیں وہ کہتے ہیں کہ ہمیں اس کے بارے میں معلوم نہیں کہ وہ توبہ کر چکا ہے ۔ مزید براں آیت میں صرف توبہ اور اصلاح کرنے والوں کو مستثنیٰ کیا گیا ہے اور جس کا معاملہ میری عدالت میں لایا گیا ہے اس نے ہنوز اپنی اصلاح نہیں کی ۔
اس لئے اس پر جو سزا واجب ہوتی ہے میں اسے مؤخر نہیں کرتا جب تک اس کی صلاح و فلاح ظاہر نہ ہو ۔ مگر آیت اس آدمی کے تذکرہ پر مشتمل ہے جو بُرا کام کرنے کے بعد توبہ اور اصلاح کر لے قبل اس کے کہ اس کا معاملہ حاکم کی عدالت میں پہنچے ۔ مگر بہت سے فقہاء اس ضمن میں سقوطِ توبہ کے بھی قائل ہیں۔
بایں ہمہ اس سے اگلی آیت سے پتہ چلتا ہے کہ مرتد دو قسم کا ہوتا ہے
- (۱) ایک قسم کا مرتد وہ ہے جس کی توبہ مقبول ہوتی ہے۔ اور وہ ایسا مرتد ہے جو محض
کفر کا ارتکاب کرتا ہے۔
- (۲) دوسری قسم کا مرتد وہ ہوتا ہے جس کی توبہ قبول نہیں کی جاتی ۔ اور وہ ایسا کافر
ہے جو اپنے کفر میں اضافہ کرتا ہے
قرآن میں فرمایا :-
إِنَّ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا بَعْدَ إِيْمَانِهِمْ ثُمَّ ازْدَادُوْا كُفْرًا لَّنْ تُقْبَلَ تَوْبَتُهُمْ
(آل عمران - ۹۰)
”بیشک جو لوگ ایمان لانے کے بعد کافر ہو گئے اور پھر اپنے کفر میں بڑھ گئے تو ان کی توبہ ہرگز قبول نہیں کی جائے گی“۔
اگرچہ بعض لوگوں نے اس آیت کی تاویل یوں کی ہے کہ ”جس نے اپنے کفر کو طول دیا یہاں تک کہ اس کی موت کا وقت آ گیا ۔“ مگر الفاظ کے عموم کی وجہ سے اس آیت سے مسئلہ زیرِ قلم پر بھی استدلال کیا جا سکتا ہے ۔ اور وہ اس طرح کہ جس شخص نے ایمان لانے
کے بعد کفر کو اختیار کر لیا اور پھر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو گالیاں دے کر یا کوئی اور کام کر کے اپنے کفر میں اضافہ کر لیا تو اس کی توبہ مقبول نہیں ہو گی۔ خصوصاً وہ شخص جس کا کفر یہاں تک طول کھینچے کہ اس پر حد شرعی ثابت ہو جائے اور حاکم وقت اسے قتل کرنا چاہے۔ ایسے شخص کے بارے میں یوں بھی کہا جا سکتا ہے کہ اس نے اپنے کفر کو طول دیا یہاں تک کہ اس نے موت کے آثار و اسباب دیکھ لئے۔ اس کے بارے میں یہ بھی وارد ہوا ہے :۔
فَلَمَّا رَاَوْا بَأْسَنَا قَالُوْا اٰمَنَّا بِاللّٰهِ وَحْدَهُ
(سورۃ غافر - ۸۴)
(جب انہوں نے ہمارے عذاب کو دیکھا تو کہا کہ ہم صرف اللہ پر ایمان لائے جو تنہا ہے)
باقی رہی یہ آیت کہ :۔
" ان لوگوں سے کہہ دیجئے جنہوں نے کفر کیا کہ اگر وہ باز آجائیں تو ان کے سابقہ گناہوں کو معاف کر دیا جائے گا ۔"
(الانفال - ۳۸)
آیت کا مطلب یہ ہے کہ ان کے سابقہ گناہ معاف کر دیئے جائیں گے۔ باقی رہے حدود شرعیہ جو کسی مسلم مرتد یا معاہد پر واجب ہوں تو بلاشبہ ان پر عمل کرنا واجب ہے۔ علاوہ بریں سیاق کلام سے ثابت ہوتا ہے کہ اس آیت کا تعلق حربی کافر کے ساتھ ہے ۔
ہم مزید کہتے ہیں کہ یَنْتَهُوْا کے معنی یہ ہیں کہ اس فعل کو پکڑا جانے سے قبل ترک کر دیا جائے ۔
جیسا کہ قرآن میں فرمایا :۔
لَئِنْ لَّمْ یَنْتَهِ الْمُنَافِقُوْنَ وَالَّذِیْنَ فِیْ قُلُوْبِهِمْ مَّرَضٌ
(الاحزاب - ۶۰)
بنا بریں جس شخص نے توبہ نہ کی یہاں تک کہ پکڑا گیا تو گویا وہ باز نہیں آیا۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ آیت اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ ان کو بخش دیا جائے گا۔
اور یہ ایک مسلّمہ حقیقت ہے ۔ مگر یہ ضروری نہیں کہ جس کو بخش دیا جائے اس سے دنیوی سزا ساقط ہو جائے گی ۔ اس لئے کہ اگر چور یا زانی خلوصِ دل سے توبہ بھی کر لے تو اللہ اُسے بخش دے گا ، البتہ اُس پر حد ضرور لگائی جائے گی ۔
رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :-
- (۱) ”اسلام سابقہ گناہوں کو ساقط کر دیتا ہے ۔“
- (۲) ”توبہ سابقہ گناہوں کو ساقط کر دیتی ہے ۔“
ظاہر ہے کہ جب مجرم کو پکڑ لیا جائے تو اُس کی حد ساقط نہیں ہوتی ۔ جیسا کہ قرآن کریم سے ثابت ہے ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ جب حضرت عمرو بن العاصؓ نے رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کہا کہ میں اس شرط پر آپؐ کی بیعت کرتا ہوں کہ میرے سابقہ گناہ معاف ہو جائیں تو اُس کے جواب میں رسولِ کریمؐ نے فرمایا ۔ ” اے عمرو ! کیا تجھے معلوم نہیں کہ اسلام سابقہ گناہوں کو ساقط کر دیتا ہے ۔ نیز توبہ ، ہجرت اور حج بھی سابقہ گناہوں کو ساقط کر دیتے ہیں ۔ اس سے معلوم ہوا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا مقصد یہ تھا کہ یہ عبادات و ارکان اُن گناہوں اور لغزشوں کو ساقط کر دیتے ہیں جن کی مغفرت کے بارے میں حضرت عمرو بن العاصؓ نے سوال کیا تھا ۔ اس حدیث میں حدودِ شرعیہ کا ذکر نہیں کیا گیا اور نہ ہی ان امور سے ساقط ہوتی ہیں ۔ ابن ابی شریح کی روایت میں رسولِ کریمؐ نے فرمایا کہ اس کے گناہ اسلام لانے سے ساقط ہو گئے اور اس کا قتل رسولِ کریمؐ کے معاف کرنے سے ساقط ہوا ۔ اور اگر فرض کیا جائے کہ یہ عام اصول ہے تو اس میں کوئی اختلاف نہیں پایا جاتا کہ ذمّی کے اسلام لانے سے اُس پر جو حدود واجب ہوں وہ ساقط نہیں ہوتیں ۔ اور یہ بھی انہی میں سے ایک ہے جیسا کہ قبل ازیں گزر چکا ہے ۔
باقی رہی مندرجہ ذیل آیتِ کریمہ :- ” اِنْ نَّعْفُ عَنْ طَآئِفَةٍ مِّنْكُمْ نُعَذِّبْ طَآئِفَةً “
(التوبۃ۔۶۶)
(اگر ہم تم میں سے ایک گروہ کو معاف بھی کر دیں تو دوسرے گروہ کو سزا دیں گے) تو اُس کا جواب کئی طرح سے دیا جا سکتا ہے :-
وجہ اول
ایک بات یہ ہے کہ اس آیت میں ایسی کوئی دلیل موجود نہیں کہ یہ آیت رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو گالی دینے والوں کے بارے میں نازل ہوئی۔ اس آیت سے جو بات ثابت ہوتی ہے کہ یہ منافقین کے بارے میں نازل ہوئی ۔ اور ظاہر ہے کہ ہر منافق رسولِ کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو گالیاں نہیں دیتا ۔ بخلاف ازیں آپ کو گالیاں وہ شخص دیتا ہے جو رئیس المنافقین ہو اور جس کا نفاق قبیح تر درجے کا ہو۔ بعض منافق ایسے بھی ہوتے ہیں جو آپ کی نبوت کو تسلیم نہیں کرتے۔ تاہم بہت سے کفار کی طرح وہ آپ کو گالیاں نہیں دیتے۔ اور اگر ہر منافق گالی دینے والے کی طرح ہو تو اس سے ہر مرتد کا شاتم (دشنام دہندہ) ہونا لازم آتا ہے جو کہ بڑی دشوار بات ہے ، حالانکہ معاملہ یوں نہیں ہے۔ اس لئے کہ گالی دینا نفاق و کفر سے ایک جداگانہ بات ہے جیسا کہ پوشیدہ نہیں ہے ۔
جب کہ کفار میں سے بعض لوگ ایسے تھے جو رسولِ کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے اُلفت و محبت رکھتے تھے اور آپ کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آتے تھے۔ بہت سے کفار ایسے تھے جو آپ سے ایذا رسانی کو روکتے تھے۔ بہت سے لوگ ایسے تھے جو آپ کے ساتھ لڑتے تو تھے مگر آپ کو گالیاں نہیں دیتے تھے ۔ بلکہ یہ آیت اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ یہ آیت اُن منافقین کے بارے میں نازل ہوئی جو آپ کو ایذائیں دیتے تھے ۔ قرآن مجید میں فرمایا : - وَمِنْهُمُ الَّذِيْنَ يُؤْذُونَ النَّبِيَّ ...... كَانُوا مُجْرِمِيْنَ
(التوبۃ ۔ ۶۱ ۔ ۶۶)
(اور اُن میں سے وہ لوگ بھی ہیں جو نبی کو ایذا دیتے ہیں) ان آیات میں گالی کا ذکر نہیں کیا گیا بلکہ استہزاء بالدین کا تذکرہ ہے جو گالی گلوچ کو متضمن نہیں ہے ۔ مگر یہ وجہ محلِ نظر ہے جیسا کہ اس آیت کے سببِ نزول
- میں گزرا البتہ یہ کہا جاسکتا ہے کہ یہ کلمات ایسی گالی پر مشتمل نہ تھے جس میں اختلاف پایا
جاتا ہو۔ مگر یہ بات صحیح نہیں۔
وجہ ثانی
علماء نے ذکر کیا ہے کہ معافی اس شخص کو دی گئی ہے جس نے اُن کی ایذا رسانی میں حصہ نہیں لیا۔ اس کا نام مخشی بن حمیر ہے۔ یہ وہی شخص ہے جس کی توبہ قبول کی گئی۔ باقی رہے وہ لوگ جنہوں نے گالیاں دے کر آپؐ کو ایذا پہنچائی تھی تو اُن میں سے کسی کو بھی معاف نہیں کیا گیا۔ اس کی مزید توضیح یہ ہے کہ "عفوِ مطلق" (عام معافی) یہ ہے کہ گناہ کرنے پر مواخذہ نہ کیا جائے۔ اگرچہ گناہ کا ارتکاب کرنے والا توبہ نہ بھی کرے۔ قرآن میں فرمایا :-
بیشک وہ لوگ جو تم میں سے پیٹھ پھیر کر چل دیئے جبکہ دونوں گروہ ملے تھے ان کو شیطان نے اُن کے گناہوں کی وجہ سے پھسلا دیا تھا ، اللہ نے ان کو معاف کر دیا۔ *
(آل عمران - ۱۵۵)
اور کفر ایسی چیز ہے جس کو معاف نہیں کیا جاتا۔ اس سے معلوم ہوا کہ جس گروہ کو معاف کیا گیا وہ گنہگار تو تھا مگر کافر نہ تھا۔ یا تو اس لئے کہ وہ کفر کی باتیں سنتے تھے مگر ان کی تردید نہیں کرتے تھے ، علاوہ ازیں وہ آیاتِ خداوندی کا مذاق اُڑانے والوں کی ہم نشینی اختیار کرتے تھے۔ یا یہ معنی کہ وہ گناہ کی باتیں کرتے تھے جو کفر نہ تھیں۔ بنا بریں یہ آیت اس امر پر دلالت کرتی ہے کہ ان مذاق اُڑانے والوں کو سزا دینا ضروری ہے۔ اس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ ان کی توبہ مقبول نہیں ۔ اس لئے کہ جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا ہے کہ اُسے سزا دی جائے گی اور وہ ایک معیّن شخص ہے لہٰذا یہ نہیں ہو سکتا کہ وہ ایسی توبہ کرے جو عذاب کو روک دے تاکہ یہ اس قابل ہو کہ اس کو مسئلہ زیرِ قلم کے لئے دلیل بنایا جا سکے۔
وجہ ثالث
قرآن کریم میں فرمایا گیا ہے کہ ان میں سے ایک گروہ کو سزا دینا ضروری ہے ، بدیں شرط کہ دوسرے گروہ کو معاف کر دیا گیا ہو۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ سزا ان کو لامحالہ مل کر رہے گی۔ اس میں کوئی بات
ایسی نہیں جو معافی کے وقوع پر دلالت کرتی ہو۔ اس لئے کہ معافی صرف شرط کے ساتھ مشروط ہے، اس لئے عفو کا صرف احتمال ہے۔ باقی رہی سزا تو اس کا امکان عفو کی صورت میں بھی ہے مگر عدم عفو کی صورت میں سزا کا وقوع از بس ناگزیر ہے۔ پس معلوم ہوا کہ سزا دیئے بغیر چارہ نہیں۔ اب سزا یا تو عام ہوگی یا ان کے ساتھ مخصوص ہو گی۔ اور اگر ان سب کی توبہ کا متوقع ہونا صحیح ہوتا تو ایسا نہ ہوتا۔ اس لئے کہ توبہ کرنے کی صورت میں عذاب نہیں دیا جاتا ۔
اور جب یہ بات ثابت ہوگئی کہ اللہ تعالیٰ کا ان کو سزا دینا از بس ناگزیر ہے تو یہ کہنا درست نہیں کہ ان کی توبہ مقبول ہے اور اظہار توبہ کی صورت میں ان کو سزا دینا حرام ہے۔ خواہ سزا سے خود اللہ تعالیٰ کا سزا دینا مراد ہو یا مسلمانوں کے ہاتھوں سزا دلوانا۔ اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے آگے چل کر کفار و منافقین کے ساتھ جہاد کرنے کا حکم دیا تھا۔ جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ جن لوگوں نے علانیہ کفر کا اظہار کیا اُن کو اہل ایمان کے ہاتھوں سزا دی گئی ۔ اور جس نے اپنے کفر کو چھپایا ، اللہ تعالیٰ نے اپنی طرف سے اُسے سزا دی ۔ الغرض، اس آیت میں ایسی کوئی دلیل موجود نہیں کہ عفو وقوع پذیر ہونے والا ہے اور یہاں یہی بات کافی ہے ۔
وجہ رابع
وجہ چہارم یہ ہے کہ اگر اس آیت میں اُن کی توبہ کے مقبول ہونے کی کوئی دلیل موجود ہے تو وہ حق ہے ۔ اور یہ توبہ اس وقت کی جائے گی جب حاکم کے پاس نفاق ثابت ہونے سے پہلے توبہ کر لیں۔ جیسا کہ قرآن کریم میں فرمایا :- " اگر منافق اور وہ لوگ جن کے دلوں میں کھوٹ ہے باز نہ آئے " (تا آخر)
(الاحزاب - ۶۰ - ۶۱)
یہ آیت اس امر پر دلالت کرتی ہے کہ جو شخص باز نہ آئے یہاں تک کہ اُسے پکڑ لیا جائے تو اُسے قتل کر دیا جائے۔ بنابریں غالباً اللہ تعالیٰ کا مطلب یہ ہے — واللہ اعلم — کہ اگر ہم تم میں سے ایک گروہ کو معاف کر دیں۔ اور یہ وہ لوگ
ہیں جنہوں نے نفاق کو چھپائے رکھا یہاں تک کہ اس سے تائب ہوئے۔ پھر "نُعَذِّبْ طَائِفَةً" ”ہم ایک گروہ کو سزا دیں گے۔ اس سے وہ لوگ مراد ہیں جنہوں نے کفر کا اظہار کیا یہاں تک کہ پکڑے گئے۔ بایں طور یہ آیت اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ کفر کا اظہار کرنے والوں کو سزا دینا واجب ہے
وجہ خامس | اس آیت سے مستفاد ہوتا ہے کہ نفاق کا اظہار کرنے والے منافق کو معاف کرنا ۔ خواہ توبہ کرے یا نہ کرے ۔ منسوخ ہے
اس کی ناسخ یہ آیت ہے :-
جَاهِدِ الْكُفَّارَ وَالْمُنَافِقِينَ (التوبۃ - ۷۳) ”کفار اور منافقین سے جہاد کیجئے“
اس کی مؤید یہ بات ہے کہ اللہ نے فرمایا "اگر ہم معاف کردیں اور اس کو قطعی نہیں بنایا۔ سبب نزول سے بھی اس امر کی تائید ہوتی ہے کہ نفاق ان پر ثابت ہو چکا تھا مگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو سزا نہ دی۔ یہ واقعہ غزوۂ تبوک میں پیش آیا ، ابھی سورۃ التوبۃ نازل نہیں ہوئی تھی۔ اس کے بعد سورۃ التوبۃ نازل ہوئی۔ اس میں حکم دیا کہ مشرکین کے عہد ان کے منہ میں مار دو ۔ اور کفار ومنافقین سے جہاد کیجئے ۔
مخالفین کے شبہات کا جواب
پہلا جواب | مذکورہ بالا آیت سے جو احتجاج کیا گیا ہے اس کا جواب کئی طرح دیا جاسکتا ہے : اللہ تعالیٰ نے صرف یہ فرمایا ہے کہ انہوں نے کفر کا کلمہ کہا اور اس چیز کا قصد کیا جسے وہ حاصل نہ کر پائے۔ اس میں گالی کا ذکر نہیں کیا گیا ۔ اور کفر گالی دینے کی نسبت اعم ہے اور اعم کے ثابت ہونے سے اخص کا ثبوت لازم نہیں آتا ۔ مگر اس آیت کا جو سبب نزول بیان کیا گیا ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ آیت گالی دینے والوں کے بارے میں نازل ہوئی ۔ لہٰذا یہ بات درست نہیں ۔
دوسرا جواب | دوسری وجہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے توبہ کو اُن لوگوں پر پیش کیا
جو اللہ کی قسمیں کھاتے تھے کہ انہوں نے یہ بات نہیں کہی ۔ یہ ان لوگوں کی حالت ہے جنہوں نے کفر کا کلمہ کہنے سے انکار کیا اور اس پر قسم بھی کھائی ۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کو بتا دیا کہ انہوں نے جھوٹی قسم کھائی ہے ۔ یہ ان بہت سے لوگوں کی حالت تھی جن کے بارے میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو نفاق کی کوئی بات پہنچتی مگر اس کی شہادت دینے والا کوئی نہ ہوتا ۔ ظاہر ہے کہ ایسی بات پر حد شرعی نہیں لگائی جاسکتی ۔ اس لئے کہ بظاہر اس کے خلاف کوئی چیز ثابت نہیں ہوتی ۔ اور رسول کریمؐ حدود شرعیہ کے بارے میں ظاہر پر عمل کرتے ہیں ۔
اس آیت کے شان نزول کے بارے میں انہوں نے جو تمام واقعات ذکر کئے ہیں ان میں یہ بات مذکور ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جو کچھ انہوں نے کہا تھا اس کو ایک حدیث میں بیان کر دیا ۔ اس کو یا تو حذیفہؓ نے روایت کیا ہے یا عامر بن قیس نے یا زید بن ارقم یا چند اور لوگوں نے یا ان کے بارے میں وحی کے ذریعے اطلاع دی گئی ۔ بعض تفاسیر میں مذکور ہے کہ یہ الفاظ جُلاس بن سُوید سے نقل کئے گئے ہیں ۔
جلاس نے اعتراف کیا کہ اس نے یہ بات کہی ہے اور پھر توبہ کر لی ۔ مگر اس کے خلاف کوئی شہادت قائم نہیں ہوئی ۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کی بات کو قبول کیا ۔ یہ اس امر کی واضح دلیل ہے کہ ایسے آدمی کی توبہ مقبول ہے ۔ یہ اُس شخص کی توبہ ہے جس کا منافق ہونا ثابت ہو چکا ہے ۔ اس میں کوئی اختلاف نہیں پایا جاتا کہ اگر وہ راز دارانہ طور پر خدا کے حضور میں تائب ہو جس طرح اس کا نفاق پوشیدہ تھا تو اس کی توبہ قبول کی جائے گی ۔ اور اگر کوئی منافق آ کر اپنے سابقہ نفاق اور اس سے توبہ کا اظہار کرے ، مگر اس کے منافق ہونے پر کوئی شہادت قائم نہ ہو تو مذہب مختار کے مطابق اس کی توبہ قبول کی جائے گی ۔ جس طرح اس شخص کی توبہ مقبول ہے جو آ کر زنا یا سرقہ سے توبہ کرے اور صحیح مذہب کے مطابق اس کے خلاف وہ ثابت نہ ہو ۔ باقی رہا وہ شخص جس کا منافق ہونا شہادت سے ثابت ہو تو آیت اور اس کے شان نزول میں اس کی توبہ کے مقبول
ہونے کا کوئی ذکر نہیں پایا جاتا ، بلکہ نفس آیات میں اس کی توبہ کے ظاہر ہونے کا ذکر نہیں کیا گیا۔ بلکہ اس کی توبہ کو بندے اور اللہ کے مابین ایک معاملہ پر محمول کیا جائے ، اس لئے کہ یہ بات اتفاقاً اس کے حق میں سود مند ہے ۔ اگرچہ اس پر حد لگائی جاچکی ہو۔ قرآن کریم میں فرمایا :-
- (۱) وَالَّذِينَ إِذَا فَعَلُوا فَاحِشَةً أَوْ ظَلَمُوا أَنْفُسَهُمْ
ذَكَرُوا اللَّهَ فَاسْتَغْفَرُوا لِذُنُوبِهِمْ ط
(آل عمران - ۱۳۵)
(اور وہ کہ جب کوئی کھلا گناہ یا اپنے حق میں کوئی برائی کر بیٹھتے ہیں تو خدا کو یاد کرتے اور اپنے گناہوں کی بخشش مانگتے ہیں)
- (۲) وَمَنْ يَعْمَلْ سُوءًا أَوْ يَظْلِمْ نَفْسَهُ ثُمَّ يَسْتَغْفِرِ اللَّهَ
يَجِدِ اللَّهَ غَفُورًا رَحِيمًا ه
(النساء - ۱۱۰)
(اور جو شخص کوئی بُرا کام کر بیٹھے یا اپنے حق میں ظلم کرے خدا سے بخشش مانگے تو خدا کو بخشنے والا مہربان پائے گا)
- (۳) اے میرے بندو ! جنہوں نے اپنے آپ پر زیادتی کی ہے اللہ کی رحمت سے مایوس نہ
ہو بیشک تمام گناہوں کو بخش دیتا ہے
(الزمر - ۵۳)
- (۴) غَافِرِ الذَّنْبِ وَقَابِلِ التَّوْبِ ه
(غافر - ۳)
(گناہوں کو بخشنے والا اور توبہ کو قبول کرنے والا)
و دیگر آیات ، مگر بایں ہمہ اس سے لازم نہیں آتا کہ جو حد شہادت کی بنا پر اس شخص پر واجب ہوچکی ہو جس نے ایسی بے حیائی کا ارتکاب کیا ہو جس سے حد لازم آتی ہے یا شراب نوشی کرکے اپنے اوپر ستم ڈھایا ہو یا چوری کی ہو۔
اگر وہ شخص کہے جس کے نزدیک توبہ سے حد ساقط نہیں ہوتی، خواہ اس کا نفاق شہادت سے ثابت ہوا ہو یا اقرار سے کہ ” اس آیت میں ایسی کوئی بات مذکور نہیں جو اس سے حد کے ساقط ہونے پر دلالت کرے گا “ تو اس کی بات درست ہوگی ۔
تیسرا جواب
فرمانِ باری تعالیٰ ہے :-
جَاهِدِ الْكُفَّارَ وَ الْمُنَافِقِينَ وَاغْلُظْ عَلَيْهِمْ
(التوبۃ ۷۳)
کفار اور منافقین سے جہاد کیجئے اور ان پر سختی کیجئے۔
اس آیت میں منافقین کے ساتھ جہاد کا ذکر کیا گیا ، اس کی حکمت و مصلحت پر روشنی ڈالی گئی اور ان کی حالت کا اظہار کیا گیا ہے جو اُن کے ساتھ جہاد کا تقاضا کرتا ہے۔ اس لئے کہ حکم کا ذکر کرنے کے بعد اگر وصف مناسب کا ذکر کیا جائے تو وہ وصف اس حکم کی علت ہوتا ہے اور یہ الفاظ کہ "يَحْلِفُوْنَ بِاللَّهِ مَا قَالُوْا" ان کا وصف ہے جو اُن کے ساتھ جہاد کرنے کے مناسب ہے۔ اس لئے کہ ان کا جھوٹی قسمیں کھانا ، ایمان کا اظہار اور کفر کو چھپانا ، اس امر کا موجب ہے کہ ان پر سختی کی جاتی ۔ اور وہ یوں کہ نہ تو ان کی توبہ قبول کی جائے اور جس ایمان کا وہ اظہار کرتے ہیں نہ اس کی تصدیق کی جائے ۔ بخلاف ازیں انہیں سرزنش کی جائے اور یہ بات ان کے منہ پر ماری جائے ۔
مذکورہ صدر بیان اس امر کی دلیل ہے کہ پکڑے جانے کے بعد وہ جس توبہ کا اظہار کرتا ہے اسے قبول نہ کیا جائے ، اس لئے کہ وہ اپنے ماضی کے بارے میں بھی جھوٹا بیان دیتا رہا ہے کہ اس نے کفر نہیں کیا ۔ اور اپنے حال کے بارے میں کہتا ہے کہ وہ کافر نہیں ۔
جب اللہ تعالیٰ نے ان کی حالت پر روشنی ڈالی جس سے لازم آتا ہے کہ ان کی تصدیق نہ کی جائے تو اس ضمن میں ان کی تصدیق نہیں کرنا چاہیے کہ وہ کافر نہیں ، جبکہ ان کا کفر ثابت ہو چکا ہے ۔ بخلاف ازیں وہ مندرجہ ذیل آیت کے مصداق ہیں :-
وَاللَّهُ يَشْهَدُ إِنَّ الْمُنَافِقِينَ لَكَاذِبُونَ
(المنافقون - ۱)
اور اللہ اس امر کی شہادت دیتا ہے کہ منافق جھوٹے ہیں ۔
مگر بدیں شرط کہ اس کا جھوٹا ہونا اس بارے میں ظاہر ہو جائے ۔ اگر اس کا کاذب ہونا ظاہر نہ ہو تو ہمیں اس بات کا حکم نہیں دیا گیا کہ ہم لوگوں کے دل اور پیٹ پھاڑ کر اس کی تحقیق کر لیں ۔ بنابریں آیت کریمہ :-
فَإِنْ يَّتُوبُوا يَكُ خَيْرًا لَّهُمْ
(التوبہ - ۷۴)
اگر توبہ کر لیں تو اُن کے لئے بہتر ہوگا ۔
کے معنی یہ ہوں گے کہ ظہور نفاق اور حاکم کے سامنے قیام شہادت سے قبل اگر توبہ کر لیں تو ان کے لئے بہتر ہو گا۔ بایں طور جہاد کا موقع و محل توبہ سے مختلف ہے ۔ ورنہ ہر وقت ظاہری توبہ قبول کرنے کے معنی یہ ہوں گے کہ اُن سے جہاد کا موقع کسی وقت بھی فراہم نہ ہو ۔
خداوند کریم نے اس سے آگے فرمایا :۔
جواب چہارم !
وَ اِنْ يَّتَوَلَّوْا يُعَذِّبْهُمُ اللهُ عَذَابًا اَلِيْمًا
(التوبۃ ۷۴)
اور اگر وہ پھر جائیں تو اللہ انہیں دردناک عذاب دے گا ۔
اور مندرجہ ذیل آیت میں اس کی مزید توضیح فرمائی : ۔ ۔ وَنَحْنُ نَتَرَبَّصُ بِكُمْ اَنْ يُّصِيْبَكُمُ اللهُ بِعَذَابٍ مِّنْ عِنْدِهِ
(التوبۃ ۵۲)
اور ہم تمہارے حق میں اس بات کے منتظر ہیں کہ خدا (یا تو) اپنے پاس سے تم پر کوئی عذاب نازل کرے ۔
یہ آیت اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ یہ توبہ اس سے قبل ہوگی کہ ہم اُن پر قابو پا کر اُن کو سزا دیں۔ اس لئے کہ جو شخص توبہ سے رُو گردانی کرے نفاق کا اظہار کرے اُس پر شہادت بھی قائم ہو جائے اور اس کو پکڑ لیا جائے تو گویا اس نے اس توبہ سے رُو گردانی کی جس کا موقع اللہ تعالیٰ نے اُسے فراہم کیا تھا۔ لہٰذا واجب ہے کہ اللہ اُسے دُنیا میں سخت عذاب سے دوچار کرے۔ ظاہر ہے کہ قتل بھی دردناک عذاب میں شامل ہے ۔ اس لئے ہو سکتا ہے کہ انہیں قتل کا عذاب دیا جائے ۔ اس لئے رُو گردانی کرنے والا زیادہ سے زیادہ یہ کر سکتا ہے کہ توبہ کو اُس وقت تک چھوڑے رکھے جب تک لوگ اُسے نہ چھوڑتے ہوں ۔ اِس لئے اگر موت تک چھوڑنا مراد ہو تو پھر اُسے دنیا میں عذاب سے دو چار نہیں کیا جائے گا ، کیونکہ دنیا کے عذاب کا وقت گزر چکا ہے ۔ بنا بریں توبہ سے رُو گردانی یہ ہے کہ وہ توبہ کو چھوڑ دے جبکہ اس کے اور موت کے درمیان کچھ وقفہ موجود ہو۔ جس میں اللہ اُسے عذاب دے سکتا ہو۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے ذکر کیا ہے ۔
اور جو شخص پکڑے جانے کے بعد توبہ کرے تو وہ ان لوگوں میں شامل ہے جنہوں نے قبل ازیں توبہ نہیں کی۔ بخلاف ازیں اس نے انحراف کر لیا تھا۔ لہٰذا وہ اس بات کا مستحق ہے کہ اللہ اسے دنیا اور آخرت میں دردناک عذاب سے دوچار کرے۔ جو شخص آیت ہٰذا اور اس سے سابقہ آیت پر غور کرے گا۔ تو وہ ان کو اس بات پر دلالت کرنے والا پائے گا کہ پکڑے جانے کے بعد توبہ کرنے سے اللہ کا عذاب اس سے ساقط نہیں ہوگا۔
باقی رہی یہ بات کہ یہ توبہ اس کے اور اللہ کے درمیان مقبول ہے ، اگرچہ اس کی پیشکش رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کی ہے تو ہم اس ضمن میں پہلی بات یہ کہتے ہیں۔ اگرچہ اس جواب کا حق یہ تھا کہ اسے مقدمہ ثانیہ تک مؤخر کیا جاتا۔ کہ صرف اتنی بات سے اقامتِ حد کو اس پر روکا نہیں جاسکتا۔ جب کہ اس کا مقدمہ ہماری عدالت تک پہنچ چکا ہے اور اس نے اس کے بعد توبہ کا اظہار کیا ہے۔ جیسا کہ زانی، شرابی اور رہزن جب خلوص دل سے اللہ کے حضور میں تائب ہو۔ قبل اس کے کہ اس کا معاملہ ہماری عدالت تک پہنچے تو اللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول کر لیتا ہے۔ اور جب ہمیں اس کا پتہ چل جائے، پھر توبہ کرے تو اس پر حد کا قائم کرنا از بس ناگزیر ہے اور یہ اس کی توبہ کی تکمیل ہے۔ تمام جرائم کا یہی حال ہے۔
یہ بھی کہا گیا ہے کہ لوگوں کو بے آبرو کرنے والا جب ان کے لئے مغفرت مانگے اور دعا کرے، قبل اس کے کہ ان کو یہ بات معلوم ہو تو اُمید کی جاتی ہے کہ اللہ اُسے بخش دے گا۔ اگرچہ اس میں جو اختلاف پایا جاتا ہے وہ مشہور ہے۔ اور اگر یہ بات حاکم وقت کے یہاں ثابت ہو جائے پھر وہ توبہ کا اظہار کرے تو اس کی سزا ساقط نہیں ہوگی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ گنہگار کے لئے توبہ کی کوئی راہ نکالتا ہے۔ جب لوگوں کی کچھ ذمہ داریاں اس پر عائد ہوں تو اس پر لازم ہے کہ اُن سے امکانی حد تک عہدہ برآ ہونے کی کوشش کرے اور حتی الامکان لوگوں کو اس کا معاوضہ ادا کرے۔ اللہ کی رحمت اس پر مزید ہے۔ تاہم جب ہم اس سے آگاہ ہوں تو یہ بات
اس پر حد قائم کرنے سے مانع نہیں ہے۔ یہاں موضوع زیر بحث وہ توبہ ہے جو حد اور سزا کو ساقط کرنے والی ہوتی ہے، نہ کہ وہ توبہ جو کہ گناہوں کو مٹاتی ہے
ہم بار دیگر یہ کہتے ہیں کہ اگر اس نے گالی اپنے عقیدہ کے مطابق دی ہے جو اس کا قلبی مذہب ہے تو یہ اسی طرح ہے جیسے تمام مرتدین اور عہد شکن ذمی، مسلمانوں کا خون بہاتے ہیں اور ان کو بے آبرو کرتے ہیں۔ یہ سب کچھ وہ مسلمانوں کے بارے میں اپنے عقیدہ کے مطابق انجام دیتے ہیں جو اسے مباح قرار دیتا ہے۔ اگر اس کے بعد وہ صمیم قلب سے اس عقیدہ سے توبہ کر لیں تو ان کی وہ لغزشیں جو حقوق اللہ اور حقوق العباد سے وابستہ ہیں بخش دی جاتی ہیں۔ جس طرح حربی کافر جو گناہ اپنے عقیدہ کے مطابق انجام دیتا ہے وہ اسے معاف کر دیئے جاتے ہیں۔ حالانکہ مرتد اور ناقض عہد اگر ان میں سے کسی فعل کا مرتکب ہوتا ہے تو اس پر حد شرعی قائم کی جاتی ہے ، اگرچہ وہ اسلام کی طرف لوٹ آئے۔ خواہ یہ اللہ کا حق ہو یا بندوں کا۔ چنانچہ اس کے مطابق زانی، شرابی اور رہزن پر شرعی حد لگائی جاتی ہے۔ اگرچہ نقض عہد اور ارتداد کے زمانہ میں وہ یہ سمجھتا ہو کہ یہ شرمگاہ میرے لئے اس لئے حلال ہے کہ یہ میری مملوکہ ہے جبکہ صورت حال یہ ہے کہ اس نے مسلمان عورت کے ساتھ جبراً یہ فعل انجام دیا۔ اسی طرح وہ مسلمانوں کے خون و مال کے مباح ہونے کا عقیدہ رکھتا ہو (اور اس لئے وہ ان افعال کا ارتکاب کرے) جس طرح اس سے قصاص لیا جاتا ہے اور اس پر حد قذف لگائی جاتی ہے۔ اگرچہ وہ ان دونوں کے حلال ہونے کا عقیدہ رکھتا ہو۔ علیٰ ہذا القیاس جو اموال اس نے تلف کئے وہ ان کا ضامن ہوگا۔ اگرچہ وہ اپنے عقیدے کے مطابق ان کو حلال تصور کرتا ہو۔
حربی کافر جب مسلمان ہو جائے تو اس سے ان میں سے کسی چیز کا مواخذہ نہیں کیا جائے گا۔ دونوں میں فرق یہ ہے کہ (مسلمان) اپنے ایمان و عقیدہ کی رُو سے اس بات کا پابند تھا کہ ان میں سے کوئی کام نہیں کرے گا۔ جب وہ ایسا کرے گا تو اسے اس فعل کے ارتکاب میں معذور تصور نہیں کیا جائے گا۔ برخلاف حربی کافر
کے ۔ نیز اس لئے کہ اس پر یہ حدّ قائم کر کے اُسے روکا جائے کہ مستقبل میں وہ ان مہلک افعال کا ارتکاب نہ کرے۔ جس طرح اس مسلم کو روکا جاتا ہے جو اپنے مذہب پر قائم ہے ۔ برخلاف حربی کافر کے کہ یہ چیزیں اُسے اس گناہ سے روک نہیں سکتیں۔ بلکہ یہ سزا اُسے اسلام سے نفرت دلانے کی موجب ہوگی ۔ نیز اس لئے کہ حربی الاصل (دارالاسلام میں) نایاب ہے جب کہ یہ دونوں ممکن الوجود ہیں ۔
امام احمد رحمہ اللہ نے اس بات کی تصریح کی ہے کہ حربی کافر اگر قیدی بننے کے بعد زنا کرے تو اس پر حد قائم کی جائے ۔ اس لئے کہ اب وہ ہمارے قبضہ میں ہے امام احمد اور اکثر اہلِ علم سے بروایتِ صحیح منقول ہے کہ مرتد جب قوت حاصل کرلے تو اس پر حدود قائم نہیں کی جائیں گی، اس لئے کہ اس کی حیثیت اب ایک حربی کافر کی ہے ۔ اس لئے کہ دارالحرب میں رہنے والا یہ کام اپنے عقیدے کے مطابق کرتا ہے اور کوئی چیز اُسے باز رکھنے والی نہیں ہوتی ۔ تو اگر توبہ کے بعد بھی اُن پر حدود قائم کی جائیں تو انہیں اسلام سے نفرت ہو جائے گی اور توبہ کا دروازہ اُن پر بند ہو جائے گا۔ اور یہ اسی طرح ہے جیسے تمام اہلِ حرب کو ضامن قرار دیا جائے ۔ مگر اس مسئلہ کو تفصیل سے بیان کرنے کا یہ موقع نہیں ہے ۔ اسی لئے ہم نے اس پر (واجبی سی) تنبیہ کر دی ہے ۔
جب یہاں یہ صورت حال ہے تو مرتد اور ناقضِ عہد جب اللہ اور اس کے رسولؐ کو ایذا دیں اور پھر ہمارے قبضہ میں آنے کے بعد صمیمِ قلب سے توبہ کر لیں تو وہ اسی طرح ہوں گے جیسے رہزنی کرتے ہوئے دست بدست لڑیں یا زنا کریں اور پکڑے جانے اور حدِ شرعی کے ثابت ہونے کے بعد توبہ کر لیں ۔ دونوں کے مابین کچھ فرق نہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ عہد شکنی کرنے والے کا عہد ان اُمور کو اس کے اپنے دین میں بھی حرام قرار دیتا ہے ۔ اور اگر اس کے مذہب کو عہد سے الگ کر لیا جائے تو یہ تمام اُمور اس کے لئے مباح ہیں ۔
اسی طرح مرتد یہ عقیدہ رکھتا تھا کہ یہ امور حرام ہیں ۔ پس ان کو اس صورت میں
مباح تصور کرنا جب کہ وہ قوت وشوکت سے بہرہ ور نہ ہو ان امور کو انجام دینے کے لئے عذر نہیں ہے۔ اس لئے کہ وہ دین حق کا پابند تھا، علاوہ ازیں وہ کمزور بھی ہے، نیز اس لئے کہ اگر اس سے حد کو ساقط کیا جائے تو اس میں فساد پایا جاتا ہے۔ اگرچہ اس نے جو گالی دی ہے وہ عقیدہ کی بنا پر نہیں دی ۔ بلکہ اس نے آپ کی نبوت کا عقیدہ رکھتے ہوئے گالی دی یا اس کا عقیدہ جس بات کو اس پر واجب کرتا تھا یا واجب نہیں کرتا تھا، اس کے مطابق گالی دی۔ ایسا شخص ابلیس کی طرح بہت بڑا کافر ہے۔ اور یہ ضد وعناد اور حماقت کی ایک قسم ہے ، وہ اس شخص کی مانند ہے جو کسی مسلم کو گالی دے یا اُسے قتل کرے، جب کہ وہ یہ عقیدہ رکھتا ہو کہ ان کے خون اور آبرو ریزی اُن پر حرام ہے۔
اس مسئلہ میں علماء کے یہاں اختلاف پایا جاتا ہے کہ اگر گالی دینے والا ، جس کو گالی دی گئی اس کو علم ہونے سے قبل توبہ کرلے تو اس کی حد ساقط ہوتی ہے یا نہیں؟ خواہ جس کو گالی دی گئی نبی ہو یا غیر نبی ۔ جس کا عقیدہ یہ ہو کہ توبہ کسی آدمی کے حق کو ساقط نہیں کرتی وہ اس بات کو تسلیم نہیں کرتا کہ گالی دینے والے کی توبہ اندرونی طور پر علی الاطلاق صحیح ہے۔ وہ یہ بھی کہہ سکتا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ حق حاصل ہے کہ اُس سے گالی کا مطالبہ کرے جبکہ وہ جانتا ہے کہ گالی دینا حرام ہے اسی طرح دیگر اہل ایمان بھی گالی دینے والے سے اس کا مطالبہ کرسکتے، بلکہ ان کا مطالبہ اولیٰ ہے۔ اور یہ قول قیاس کے اعتبار سے قوی ہے اور بہت سے ظاہری دلائل اس کی تائید کرتے ہیں۔
اور جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ ”اس کا تعلق گالی گلوچ اور غیبت کے باب یعنی اُن مسائل کے ساتھ ہے جو لوگوں کی ناموس و آبرو سے تعلق رکھتے ہیں اس لئے اس کو حلال سمجھنے کا یہاں کوئی سوال نہیں ، گالی دینے والے کو چاہیئے کہ ”مشتوم“ (جس کو گالی دی گئی ہو) کے لئے اس قدر دُعا و استغفار کرے جو اس کی ناموس و آبرو کے حق کے مساوی ہو ۔ تاکہ مظلوم اس کی نیکیوں میں سے جو کچھ لے وہ دُعا اور استغفار
برابر ہو اور گالی دینے والے کے باقی اعمال بچ رہے ہیں اور وہ ان کا مقابلہ ان کی ضد کے ساتھ کرے ۔" جو شخص کہتا ہے کہ " اس سے تو توبہ کا ظاہراً و باطناً مقبول ہونا ظاہر ہوتا ہے ۔ اس نے گویا اس معاملہ کو مندرجہ ذیل آیت میں شامل کر دیا کہ " اِنَّ الْحَسَنٰتِ یُذْهِبْنَ السَّیِّاٰتِ " (ہود - ۱۱۴) (بیشک نیکیاں برائیوں کو لے جاتی ہیں ) ۔ جیسا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ " بُرائی کرنے کے بعد نیکی کا کام کرو وہ اُس بُرائی کو مٹا دے گا ۔ "
جن لوگوں کا مطمح نظر یہ ہے کہ " قصاص لینا از بس ناگزیر ہے ۔" وہ کہتا ہے کہ اُس نے اتنی نیکیاں کی ہیں جو قصاص کے قائم مقام ہیں ۔ اور دونوں اقوال میں سے کسی ایک کی توضیح سے ہماری کوئی غرض نہیں ۔ ہماری غرض صرف یہ ہے کہ حد توبہ سے ساقط نہیں ہوتی ۔ اس لئے کہ اگر وہ شخص اپنے عقیدہ کے مطابق توبہ کرتا ہے تو اس کی توبہ صحیح ہے اور رسول کے حق کو آخرت میں ساقط کرنے والی ہے ۔ مگر توبہ دنیا میں اُس کی حد کو ساقط نہیں کرتی ۔ جیسا کہ پیچھے گزرا ۔ اور اگر توبہ اس کے عقیدے پر مبنی نہیں تو رسول کے حق کے توبہ کے ساتھ ساقط ہونے میں اختلاف پایا جاتا ہے ۔ اگر کہا جائے کہ رسول کا حق ساقط نہیں ہوتا تو اُس میں کوئی کلام نہیں ۔ اور اگر کہا جائے کہ حق ساقط ہو جاتا ہے مگر حد ساقط نہیں ہوتی ، جیسے پہلے شخص کی توبہ بلکہ اس سے بڑھ کر تو اس کا حاصل یہ ہے کہ یہاں دو موضوع زیر بحث ہیں : ۔
- (۱) پہلا یہ کہ اگر توبہ صحیح اور خالصاً لوجہ اللہ ہو تو کیا اس کے ساتھ مخلوق کا حق
ساقط ہوتا ہے یا نہیں ؟ اِس مسئلہ میں تفصیل اور اختلاف پایا جاتا ہے ۔ اگر کہا جائے کہ ساقط نہیں ہوتا تو اس میں کوئی نزاع نہیں ۔ اور اگر کہا جائے کہ ساقط ہوتا ہے تو اُس کے حق کا توبہ کے ساتھ ساقط ہونا اسی طرح ہے جیسے اللہ کا حق توبہ کے ساتھ ساقط ہو جائے ۔ تو یہ اُسی طرح ہے جیسے فساد کے مختلف انواع سے توبہ کی جائے اور یہ توبہ جب قدرت کے بعد ہو تو وہ کسی حد کو ساقط نہیں کرتی ۔ اگرچہ باطن میں گناہ کو ساقط و زائل کر دیتی ہے ۔
اس کلام کی حقیقت یہ ہے کہ دشنام دہندہ کو محض ارتداد اور نقض عہد کی وجہ سے قتل نہیں کیا جاتا، تاکہ دوسروں کی طرح اسکی توبہ بھی مقبول ہو۔ بخلاف ازیں اس کو اس لئے قتل کیا جاتا ہے کہ اس کا ارتداد اور نقض عہد ضرر رسانی کی وجہ سے مغلظ ہوچکا ہے، اور اس کی سزا توبہ کرنے سے ساقط نہیں ہوتی۔ اس لئے کہ یہ اللہ اور اس کے رسول کے خلاف جنگ اور فساد فی الارض کی جہد و سعی ہے۔ اس طرح یہ فعل زنا سرقہ یا قتل و قذف کا ہم جنس ہے۔ یہ حقیقی جواب ہے، اسی سے معلوم ہوجاتا ہے کہ سابق الذکر دلیل میں کیا نقص پایا جاتا ہے :۔
اب ہم اس کو قدرے تفصیل کے ساتھ بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ مخالفین کا یہ قول کہ ”رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذات پر اس کا جو ایمان ہے اس سے وہ بے آبروئی محو ہو جاتی ہے جس کا ارتکاب اس نے کیا ہے“ ہم کہتے ہیں کہ اگر اس نے گالی محض اپنے عقیدے کے زیر اثر دی ہے تو کسی عقیدے سے تائب ہونا اس کے تمام موجبات سے توبہ کرنے کے مترادف ہے۔ اور اگر کوئی شخص اپنے عقیدے کے موجبات پر اضافہ کرتا ہے یا اس کی ضد پر عمل کرتا ہے ۔ اور اکثر دشنام دہندگان اسی طرح کے ہوتے ہیں۔ تو پھر اس بات کو تسلیم نہیں کیا جاتا کہ جو توبہ وہ کرتا ہے اس کے گناہوں کو مٹا دیتی ہے۔ الا یہ کہ اُسے معاف کردیا جائے۔ بلکہ یہ کہا جاتا ہے کہ اُسے مطالبہ کا حق حاصل ہے۔ اور اگر اس کو تسلیم بھی کر لیا جائے تو یہ پہلی قسم کی مانند ہے اور اس سے حدود کو ساقط نہیں کیا جاسکتا۔ جیسا کہ کئی مرتبہ پیچھے گزر چکا ہے۔
مخالفین کا یہ قول کہ ”انبیاء کے حقوق بلحاظ نبوت وجوب میں حقوق اللہ کے تابع ہیں، اس لئے سقوط میں بھی اُن کے تابع ہوں گے“ ہم کہتے ہیں کہ اس کو تسلیم کیا جاسکتا ہے، بشرطیکہ گالی عقیدے کے زیر اثر دی جائے، ورنہ اس میں اختلاف پایا جاتا ہے۔ باقی رہے حقوق اللہ تو باب توبہ کے سلسلہ میں جو امور عقیدہ کے زیر اثر ہوں یا اس کے زیر اثر نہ ہوں دونوں میں کچھ فرق و امتیاز نہیں پایا جاتا۔ اس لئے کہ
کفر کے عقیدے اور اس کے موجبات سے توبہ کرنے والا اور زنا سے توبہ کرنے والا دونوں مساوی ہیں ۔ جو شخص ان دونوں کو مساوی قرار نہیں دیتا ۔ وہ کہتا ہے کہ یہ حقوق اللہ سے عظیم تر نہیں ، جبکہ باطن میں حقوق اللہ کے سقوط کے ساتھ ساقط نہ ہوں ۔ مگر یہ معاملہ صاحب الحق کو تفویض کیا گیا ہے ۔ اگر چاہے بدلہ لے اور اگر چاہے معاف کر دے ۔ ابھی تک یہ معلوم نہیں کہ اللہ تعالیٰ کو کون سی بات پسند ہے اس نے ہمیں بتایا ہے کہ وہ ہر توبہ کنندہ کو بخش دیتا ہے ۔
مزید برآں بندوں کے حقوق ایسی جنس کے ساتھ تعلق رکھتے ہیں جن کو ان حقوق کی وجہ سے عار و ننگ حاصل ہوتی ہے اور انہیں اس کی وجہ سے الم و رنج بھی لاحق ہوتا ہے ۔ جہاں تک اللہ کے حق کا تعلق ہے وہ بطور خاص انسانوں کی مصلحت پر مبنی ہے ۔ اس لئے کہ اطاعت کرنے سے نہ تو اللہ تعالیٰ کو فائدہ حاصل ہوتا ہے اور نہ ہی نافرمانی کرنے سے اُسے نقصان پہنچتا ہے ۔ جب انسان نیکی کی طرف لوٹ آیا تو منشائے ایزدی پورا ہو گیا ۔ چونکہ انبیا علیہم السلام میں انسانوں کی صفات بھی پائی جاتی ہیں اور انبیاء کی بھی ۔ اس لئے انبیاء کے حقوق میں حقوق اللہ کی صفت بھی پائی جاتی ہے اور حقوق العباد کی بھی ۔ انبیاء کا حق ، اللہ کے حقوق میں مندرج ہوتا ہے ، جبکہ وہ عقیدہ کے زیر اثر صادر ہو ۔ چونکہ انبیاء کی نبوت پر ایمان واجب ہے تو گویا یہ اسی طرح ہوا جیسے اللہ کی وحدانیت پر ایمان لانا ۔ اگر کوئی شخص انبیاء کی نبوت کا معتقد نہ ہو گا تو وہ اسی طرح کافر ہو گا جس طرح اللہ کی وحدانیت کا اقرار نہ کرنے والا ۔
اسی طرح کسی نبی کی نبوت کو نہ ماننا اللہ کے احکام اور اس کے دین کا انکار ہے ۔ جبکہ گالی محض اس عقیدہ کے زیر اثر دی گئی ہو ۔ مثلاً رسالت و نبوت کی نفی ومثل اس پر مبنی ہو اور خلوص قلب کے ساتھ اس سے توبہ کرے تو اس کی توبہ مقبول ہو گی ۔ مثلاً تثلیث کا عقیدہ رکھنے والے کی توبہ ۔ اور جب معاملہ اس سے بڑھ جائے مثلاً کسی کے نسب میں کیڑے نکالے یا کسی کو اخلاق قبیحہ کے ساتھ متصف
کرے یا بے حیائی کی طرف منسوب کرے جبکہ اسے معلوم بھی ہو کہ یہ جھوٹ ہے یا وہ خود اس کی صحت کا عقیدہ نہ رکھتا ہو یا اس کے عقیدہ کے خلاف ہو یا یہ کہ وہ حسد کرے یا تکبر کرے یا کسی غرض کے پورا نہ ہونے یا کسی تکلیف کے پہنچ جانے کی وجہ سے ناراض ہو جبکہ وہ اس شخص کی نبوت کا عقیدہ بھی رکھتا ہو ، تاہم وہ اُسے گالی دے ۔ ان تمام صورتوں میں اگر وہ توبہ کرے جبکہ اس کے کسی نئے عقیدے نے گالی کے موجبات کو زائل نہ کیا ہو۔ بخلاف ازیں اس نے اپنی نیت اور قصد کو تبدیل کر لیا ۔ حالانکہ وہ قبل ازیں اس شخص کو ایذا دے چکا ہے ۔
تو یہ گالی، جبکہ اس سے کسی کو رنج نہ پہنچے اور نبوت کا عقیدہ نہ رکھنے کی وجہ سے وہ معذور بھی نہ ہو ، تو وہ اللہ کا حق ہے۔ اس لئے کہ اُس نے نبوت کے خلاف جرم کیا ہے جو کہ اللہ اور اس کی مخلوقات کے درمیان واسطہ ہے ، لہٰذا اس کا قتل واجب ہے ۔ اور یہ بندوں کے حقوق کی طرح بھی ہے کیونکہ اس نے ایسے آدمی کو ایذا دی جس کے بارے میں وہ یہ عقیدہ رکھتا ہے کہ اُسے ایذا دینا حلال نہیں ۔ لہٰذا اُسے یہ حق حاصل ہے کہ اس سے اپنی ایذا کا حق مانگے اور جتنی تکلیف اس نے دی ہے اس کے بقدر اس کی نیکیاں لے ۔ اس کی کوئی نیکی ایسی نہیں ہے جو اس کے مساوی ہو، ماسوا صلوٰۃ و سلام پڑھنے جو کہ گالی کی ضد ہے ۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ایسی گالی سے توبہ کرنا جو کہ عقیدہ کے بغیر ہو اُن حقوق میں سے ہے جو انسان کے لیئے واجب ہیں ۔
مزید برآں یہ ایسا حق ہے جو لامحالہ نبوت کے ساتھ وابستہ ہے۔ یہ ہمارے مخالف کا قول ہے۔ اگرچہ ہم نے دونوں اقوال میں سے کسی قول کو بھی ترجیح نہیں دی ۔
جب ان کے حقوق حق خداوندی کے تابع ہیں تو کون ہے جو کہتا ہے کہ اللہ کے حقوق مرتد اور ناقض عہد کے توبہ کرنے سے ساقط ہوجاتے ہیں۔ ہم ذکر کر چکے ہیں کہ ان لوگوں پر توبہ کے بعد بھی حد لگائی جائے گی ۔ البتہ ارتداد مجرد اور نقض مجرد کی سزا توبہ کرنے سے ساقط ہوجاتی ہے۔ اور یہ اس طرح
نہیں ہے۔
ہمارے مخالفین کا یہ قول کہ ”رسول لوگوں کو ایمان بالرسالۃ کی دعوت دیتا اور انہیں بتاتا ہے کہ ایمان کفر کو مٹا دیتا ہے۔ اس طرح اس نے کافر کو اس کا حق معاف کر دیا ہوگا“ ہم کہتے ہیں یہ اچھی بات ہے بشرطیکہ گالی محض عقیدہ کے زیر اثر دی گئی ہو۔ اس لئے کہ عقیدہ ہی اس کا مقتضی ہے۔ اور اُسی نے اس کو رسالت پر ایمان لانے کی دعوت دی ہے۔ کیونکہ اسی نے رسالت کا انکار کرنے کے اعتقاد کو زائل کیا اور اس پر ایمان لانے کے عقیدے سے اس کا موجب دُور ہو گیا۔
اور جس شخص نے اس پر اضافہ کیا اور نبیؐ پر ایمان لانے یا معاہدہ کرنے کے بعد اس کو گالی دی تو نبیؐ اس کو معاف کرنے کا پابند نہیں ہے۔ قبل ازیں نبیؐ کو یہ اختیار تھا کہ اُسے معاف کرے یا نہ کرے۔ اور جو صورت سوال میں مذکور ہے وہ اس گالی پر دلالت کرتی ہے جو اس کے عقیدہ کی رُو سے واجب ہو، پھر ایمان لانے کے بعد اس کا وجوب باقی نہ رہا۔ اس لئے کہ کفر ہی اس گالی کا داعی تھا جو کہ ایمان لانے سے باقی نہ رہا۔ جہاں تک اس کے ماسوا کا تعلق ہے تو اس کے اور باقی تمام لوگوں کو گالی دینے کے مابین اس لحاظ سے کچھ فرق نہیں۔ اس لئے کہ دشنام دہندہ اگر حربی کافر ہو تو اس کے لئے رسولؐ کو گالی دینے یا کسی عام آدمی کو گالی دینے میں اس جہت سے کچھ فرق نہیں۔ اگر مسلم یا ذمی ہو اور وہ رسولؐ کو گالی دے جو اس کے عقیدہ کے زیر اثر نہ ہو تو وہ اُسی طرح ہے جیسے اس نے کسی عام آدمی کو گالی دی ہو۔
اس لئے کہ اس کا از سر نو اسلام لانا نئے سرے سے توبہ کرنے کی مانند ہے۔ اور وہ اس کو اُس فعل سے روکتا ہے، اگرچہ اس کا موجب زائل نہیں ہوا کیونکہ اس گالی کا موجب نبیؐ کے ساتھ کفر کرنا نہ تھا۔ اس لئے کہ مسئلہ زیر نظر اُس گالی کے بارے میں ہے جس کا موجب نبی کے ساتھ کفر کرنا نہ ہو۔ مثلاً نبیؐ پر
افترا پردازی ، جس کے بارے میں اُسے خود بھی معلوم ہو کہ یہ جھوٹ ہے ومثل ایں ۔ تاہم جب دشنام دہندہ اسلام لے آئے تو اس کے دل میں نبی کی عظمت پیدا ہو جاتی ہے جو نبی پر افترا پردازی کرنے سے مانع ہوتی ہے ۔ جس طرح اگر وہ مسلم کو گالی دینے سے توبہ کر لے تو اس کے دل میں گناہ کی اس قدر اہمیت پیدا ہو جاتی ہے جو مسلم کو بُرا بھلا کہنے سے مانع ہوتی ہے۔ اور یہ بھی جائز ہے کہ یہ اسلام اس کے لئے مانع ثابت نہ ہو۔ اس لئے کہ گالی کا موجب کفر کے سوا کوئی اور چیز تھی ۔ بعض اوقات یہ اسلام اس کو روک نہیں سکتا ، جس طرح یہ توبہ اُسے ایذا کے موجب سے روک نہیں سکتی اور کفر دور پڑ جاتی ہے ۔
اور یہ دونوں چیزیں باہم مختلف ہیں کہ ایک چیز کی نفی اس لئے ہو جائے کہ اس کا سبب موجود نہیں یا اس لئے کہ اس کی ضد موجود ہے۔ اس لئے کہ جو چیز کسی عقیدہ کے زیر اثر واجب ہوئی ہو، وہ عقیدہ کے زائل ہونے سے ــــــ چونکہ اس کا سبب ہے ــــــ زائل ہو جاتی ہے اور اس کے واپس آنے کا اندیشہ اُسی صورت دامنگیر ہوتا ہے جب اس کا سبب لوٹ آئے ۔ اور نبی یا غیر نبی پر جو جھوٹ کسی عقیدہ کے زیر اثر نہ باندھا جائے تو اسلام اور توبہ اس کو اسی طرح رفع کر دیتے ہیں، جس طرح ایک ضد اپنی ضد کو دور کرتی ہے کیونکہ اس امر کی قباحت، اس کے انجام کا بُرا ہونا، اس کی ضد پر عمل کرنے کا پختہ ارادہ اور اُسے ترک کرنے کا عزم صمیم اس کے وقوع کے منافی ہے۔ تاہم اگر یہ محرک سبب مقتضی کا مقابلہ کرنے سے کمزور پڑ جائے تو اُسی جیسا کام کرتا ہے۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ درحقیقت دونوں میں کچھ فرق نہیں کہ اُس گالی سے توبہ کرے جس کا موجب نبی کی نبوت کا انکار ہو جو کہ گالی نہ دینے کا موجب ہے، اور کسی مسلم کو گالی دینے سے ایسی توبہ کرنے میں جو گالی نہ دینے کی موجب ہے۔
اس کو اس شخص پر قیاس کیجئے جو کسی چیز کا خواہاں ہو۔ اُسے اس سے روکا جائے اور کہا جائے کہ چونکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو
حرام ٹھہرایا ہے لہٰذا اس پر عمل کرنا ممکن نہیں ۔ پھر حرص کی فراوانی اور مطلوب کے حاصل نہ ہونے کی شدید ناراضگی اس کو اس بات پر آمادہ کرے کہ اپنے اور اللہ کے مابین (ہر چیز پر) لعنت بھیجے اور اس کی مذمت کرے ۔ حالانکہ اُسے (رسول کریمؐ کی نبوت میں) کوئی شک نہ ہو۔ پھر وہ اپنے اسلام کی تجدید کرلے اور توبہ کر کے رسولِ کریمؐ پر درود بھیجے اور اپنے اُن الفاظ کی وجہ سے روتا رہے۔
دوسرا وہ آدمی ہے جو کسی مسلم کا مال ناحق لینا چاہتا ہے ۔ دوسرے شخص نے اُسے روکا اس پر لعنت کی اور پوشیدہ طور پر اُس کی مذمت کی ۔ بعد ازاں اس شخص نے اس سے توبہ کرلی اور اُس شخص کے لئے مغفرت طلب کرنے لگا اور اپنے کہے ہوئے الفاظ سے ڈرتا رہا ۔ آیا دونوں مذکورہ اشخاص کی توبہ یکساں ہے یا نہیں ؟ اگرچہ اس شخص کی توبہ اس لئے عظیم تر ہے کہ اُس نے جو کلمات کہے ہیں بڑی عظمت کے حامل ہیں۔ اگر چہ دونوں کی نسبت ایک دوسرے کی طرف یکساں ہے۔ برخلاف اس شخص کے جو اس آدمی پر لعنت کرتا اور اس کی مذمت کرتا ہے جس کو جھوٹا سمجھتا ہے ۔ بعد ازاں اُسے معلوم ہوا کہ اس کا یہ خیال غلط تھا اور اُسے قہرِ ہلاکت میں گرانے والا تھا ۔ پھر اس نے اس عقیدے سے دوسروں کی طرح توبہ کرلی ۔ ظاہر ہے کہ اس میں اس کے تمام واجبات شامل ہوں گے ۔
اس کی مؤید یہ بات ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو جب پتہ چلتا کہ کوئی مرتد یا معاہد آپؐ کو گالیاں دے رہا ہے ۔ پھر آپؐ سے عرض کیا جاتا کہ اگر وہ اسلام لے آئے تو اُسے معاف کر دیا جائے ۔ آپؐ کی سیرت سے معلوم ہوتا ہے کہ آپؐ توبہ کرنے اور اسلام لانے کے بعد بھی اس کے قتل کو جائز تصور کرتے تھے ۔ اور اگر محض توبہ کرنے سے اُن کے گناہ زائل ہوجاتے اور ان کی حد ساقط ہو جاتی تو (قتل کرنا) جائز نہ ہوتا ۔ اس سے معلوم ہوا کہ رسول کریمؐ گالیاں دینے والے کو توبہ کرنے کے بعد بھی سزا دے سکتے تھے۔ جس طرح دیگر اہل ایمان کو اس کی اجازت ہے ۔
یہ گفتگو اس بارے میں تھی کہ رسول کریمؐ کو گالی دینے والا اگر بارگاہِ ایزدی میں
توبہ کرلے تو اس سے رسول کا حق ساقط ہوتا ہے یا نہیں؟ بہرکیف ۔ رسولِ کریمؐ کا حق ساقط ہو یا نہ ہو ۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ علانیہ توبہ کرنے سے حد ساقط ہو جاتی ہے ۔ الاّ یہ کہ کہا جائے کہ اُسے محض ارتداد یا محض نقضِ عہد کی وجہ سے قتل کیا جائے گا ۔ اس لئے کہ مرتد کی توبہ مقبول ہے اور محض نقضِ عہد کرنے والے کا اسلام مقبول اور قتل کا ساقط کرنے والا ہے ۔
قبل ازیں ہم نے دلائلِ قاطعہ کی روشنی میں ثابت کیا ہے کہ ارتدادِ مغلّظ اور نقضِ مغلّظ کا ارتکاب کرنے والے کو قتل کیا جائے گا اور ایسا شخص اس آدمی جیسا ہے جو لڑائی کرے ۔ اور خدا کی زمین میں فساد پھیلانے کی کوشش کرے ۔ (ہمارے مخالفین) جو یہ کہتے ہیں کہ آدمی کے حق کے لئے بھی کسی کو قتل کیا جا سکتا ہے ؟ ان کا قول ہے کہ سزا کے ساتھ جب اللہ اور بندے کا حق وابستہ ہو ۔ اور پھر توبہ کرلے تو اللہ کا حق ساقط ہو جاتا ہے اور آدمی کا حق باقی رہتا ہے جو کہ قصاص ہے ۔ اور یہ تائب جب توبہ کرلے تو اللہ کا حق ساقط ہو جاتا ہے اور بندے کا حق باقی رہتا ہے اور جو شخص یہ کہتا ہے کہ اُسے اللہ کی حد لگا کر قتل کیا جائے ؟ اس کا قول یہ ہے کہ ایسا شخص محارب کی طرح ہے ۔ بعض لوگ اللہ کو گالی دینے والے اور رسولؐ کے دشنام دہندہ کو مساوی قرار دیتے ہیں ۔ اس کی تفصیل آگے آئے گی اِنْ شَاءَ اللّٰہُ تَعَالٰی
متقدمین میں مخالفین کا یہ قول ہے کہ جب توبہ کا اظہار کرے تو واجب ہے کہ ہم اس کی توبہ کو قبول کریں ؟ ہم اس کے جواب میں کہتے ہیں کہ یہ اس امر پر مبنی ہے کہ یہ توبہ مطلقاً مقبول ہے ۔ قبل ازیں اس پر بحث ہو چکی ہے ۔ اُس کا جواب دو طرح سے دیا جا سکتا ہے : ۔
پہلی وجہ پہلا جواب یہ ہے کہ اس کے مطابق ہم اس کی توبہ کو قبول کرتے اور اس کے اسلام لانے کو صحیح قرار دیتے ہیں۔ جس طرح کہ قاذف کی توبہ کو قبول کرتے اس کے ثقہ ہونے کا فیصلہ کرتے اور سارق وغیرہ کی توبہ کو قبول کرتے ہیں ۔ مگر یہاں جو مسئلہ زیر بحث ہے وہ یہ ہے کہ آیا قتل اُس
سے ساقط ہوگا یا نہیں؟ اور جو شخص مسلمانوں کے قبضہ میں آنے کے بعد توبہ کرے حدود وما یوجبہ بقتلہ، بمانند ارتداد یا نقض عہد میں سے کوئی چیز بھی اس ساقط نہیں ہوگی۔ اور جو شخص پکڑے جانے سے قبل توبہ کر لے اس سے حقوق العباد ساقط نہیں ہوں گے۔ جب کہ ہم اس کی توبہ کو قبول کرلیں تاکہ اس پر حد لگا کر باقی لوگوں کی طرح اسے پاک کیا جائے۔
اس کی وجہ یہ ہے کہ ہمارا تنازع اس کی توبہ کی صحت اور اس کے لئے اللہ کی مغفرت مطلقہ کے بارے میں نہیں۔ کیونکہ یہ اللہ تعالیٰ کا کام ہے۔ متنازعہ مسئلہ یہ ہے کہ آیا یہ توبہ اس سے حد کو ساقط کرتی ہے یا نہیں؟ اور حدیث میں کوئی چیز ایسی نہیں جو اس پر دلالت کرتی ہو۔ ہم بعض اوقات اس کے اسلام اور توبہ کو قبول کرتے ہیں اور اسے پاک کرنے کیلئے اس پر حد قائم کرتے ہیں۔ یہ اس شخص کا جواب ہے جو محض حد لگانے کی وجہ سے اُسے قتل کرتا ہے، اگرچہ اس کے اسلام کو درست قرار دیتا ہے۔
دوسری وجہ
یہ حدیث بظاہر اس وقت مقبول ہے جب اس کا خلاف بطریق شرعی ثابت نہ ہو۔ مگر یہاں اس کا خلاف ثابت ہو چکا ہے۔ یہ اس شخص کا جواب ہے جو اُسے زندیق ہونے کی وجہ سے قتل کرتا ہے۔ جو لوگ ذمی کو قتل کرنے کے قائل ہیں بعض اوقات وہ بھی یہی جواب دیتے ہیں۔ اس لئے کہ معاہدہ کے توڑنے میں وہ بھی زندیق ہے، لہٰذا اس کے اسلام لانے پر اعتماد نہیں کیا جا سکتا۔
باقی رہا حربی کافر اور مرتد وغیرہ کا قتل کی حالت کو دیکھ کر اسلام لانا تو یہ اس لئے جائز ہے کہ ہم ان سے اس لئے لڑتے ہیں کہ وہ اسلام لائیں۔ اور اسلام لانے کا طریقہ صرف یہ ہے کہ زبانی اس کا اقرار کریں، لہٰذا اس کا قبول کرنا ان سے واجب ہے۔ اگرچہ باطن میں جھوٹے ہوں — ورنہ ہر کافر کو قتل کرنا واجب ہوگا وہ اسلام لائے یا نہ لائے۔ اور ان سے جنگ کی نوبت بھی نہیں آئے گی تاکہ وہ مسلمان ہو جائیں۔ بلکہ ہمیشہ ان کے خلاف نبرد آزما ہوں گے اور یہ باطل ہے۔ بعض اوقات
ایسا ہوتا ہے کہ ایک شخص جبراً اسلام لاتا ہے پھر اللہ اس کے دل میں ایمان کی محبت ڈال دیتا ہے اور اس کے دل میں اُسے مزین کر دیتا ہے۔ اسی طرح اکثر لوگ مالی رغبت کی وجہ سے یا تلوار سے ڈر کر اسلام لاتے ہیں اور کسی دلیل سے ثابت نہیں ہوتا کہ ایسا اسلام فاسد ہے۔ صرف ایک بات ایسی ہے اور وہ اس کا جبر کی حالت میں اسلام لانا ہے۔ اور یہ بات قابل التفات نہیں ہے۔
جہاں تک اس مسئلہ کا تعلق ہے تو ہم اُسے اس لئے قتل کرتے ہیں کہ اس نے ماضی میں گالی دینے کا جرم انجام دیا ہے۔ جس طرح ہم ذمی کو اس لئے قتل کرتے ہیں کہ اس نے کسی کی جان لی یا اس لئے کہ اس نے ایک مسلم عورت کے ساتھ زنا کیا۔ یا ہم مرتد کو اسلئے قتل کرتے ہیں کہ اُس نے ایک مسلم کو قتل کیا اور اس لئے کہ اُس نے ڈاکہ ڈالا۔ جیسا کہ پیچھے گزرا۔ اس کو قتل کرنے سے ہمارا یہ مقصد نہیں کہ وہ اسلام لائے اور نہ ہی اس کے ساتھ لڑائی اس لیے واجب ہے کہ وہ مسلمان ہو جائے۔ بخلاف ازیں ہم اس لئے قتل کرتے ہیں کہ اس نے ہمیں ایذا پہنچائی۔ نیز اس لئے کہ ایسے لوگوں کے لئے عبرت پذیری کا سامان ہو اور ایسے جرائم سے باز آ جائیں۔
جب وہ اسلام لے آئے اور ہم اُس کے اسلام لانے کو صحیح قرار دیں تو اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ اس کو قتل کرنا واجب نہ رہے جیسے کہ جنگجو مرتد اور عہد شکنی کرنے والے کا۔ اگر ایسا شخص مسلمانوں کے قبضہ میں آنے کے بعد اسلام لائے اور اس نے کسی کو قتل بھی کیا ہو تو ہمارے علم کی حد تک بالاتفاق اسے قتل کیا جائے۔ اگرچہ یہ فیصلہ کر لیا جائے کہ وہ صحیح طور سے مسلمان ہوا ہے۔ اور اگر اس کے اسلام کو صحیح قرار نہ دیا جائے تو اُس کے اور حربی و مرتد کے مابین فرق و امتیاز دو وجہ سے ہے۔
پہلا فرق
پہلا فرق یہ ہے کہ حربی اور مرتد سے کوئی حرکت ایسی صادر نہیں ہوئی جس سے معلوم ہو کہ اس کا باطن اس کے ظاہر کے خلاف ہے بلکہ ہر وقت اس کا اظہار اسلام اس امر کی دلیل ہے کہ جس اسلام کا وہ اظہار کرتا ہے وہ صحیح ہے۔ یہ ہمیشہ اسلام کا اظہار کرتا رہا۔ اب اس نے ایسی بات
کا اظہار کیا ہے جو اس کے عہد کے فساد پر دلالت کرتی ہے لہٰذا اس کے بعد وہ جس اسلام کا اظہار کرتا ہے اُس پر اعتماد نہیں کیا جائے گا۔ اسی طرح عہد شکنی کرنے والے نے اس امر کا عہد باندھا تھا کہ وہ گالی نہیں دے گا۔ مگر اس نے گالی دی پس اس کا جرم اور عہد شکنی ثابت ہوگئی۔ جب قتل کے لئے پکڑے جانے کے بعد اسلام کا اظہار کرے گا تو اقرب الی القیاس یہ بات ہے کہ وہ خائن اور غادر ہوگا۔ اُسے صرف گالی دینے سے روکا گیا تھا مگر اس نے یہ عہد پورا نہیں کیا۔ تو اس صورت میں کیا ہو گا جب اُسے اس کے اظہار اور اخفاء (پوشیدہ رکھنا) دونوں سے منع کیا گیا ہو۔ نیز یہ کہ جو گالی اس نے دی ہے اس کے انجام دینے میں اس کے لئے کوئی عذر نہ تھا۔ بخلاف ازیں یہ بات خود اس کے مذہب میں بھی حرام تھی۔ جب اس نے اُسے پورا نہیں کیا تو اس نے اپنے عہد میں نفاق کا ثبوت دیا ۔
دوسرا فرق
ہم حربی اور مرتد سے اس بات کا مطالبہ کرتے ہیں کہ اسلام لائے۔ جب اس نے حسب قدرت ہماری خواہش کو پورا کر دیا تو اُسے قبول کرنا اور صحیح قرار دینا ہمارے ذمے ضروری ٹھہرا۔ مگر دشنام دہندہ سے ہم صرف اس کی جان لینے کا مطالبہ کرتے ہیں۔ جب اس نے اسلام قبول کیا تو پتہ چلا کہ اس نے قتل سے بچنے کے لئے ایسا کیا ہے جس طرح محارب پکڑے جانے کے بعد توبہ کرے یا باقی زندگی میں پکڑے جانے کے بعد اسلام لائے یا توبہ کرے۔ پس ایسا اسلام بظاہر صحیح نہ ہوگا اور جو حد قبل ازیں اُس پر واجب ہو چکی ہے وہ ساقط نہیں ہوگی۔
حقیقت نفس الامری یہ ہے کہ حربی یا مرتد کو موجودہ کفر کی وجہ سے قتل کیا جائے گا اور اس سے اسلام لانے کے لئے لڑا جائے گا۔ لہٰذا یہ ممکن نہیں کہ وہ اُس وقت اسلام کا اظہار کرے جبکہ اُسے پکڑا گیا ہے یا اس سے لڑا جا رہا ہے۔ مگر بحالت مجبوری لہٰذا اُس نے اس کا قبول کرنا واجب ٹھہرا اس لئے کہ اس کے سوا کوئی دوسری صورت ممکن نہیں۔ مگر دشنام دہندہ اور ناقض عہد کو اس لئے قتل
نہیں کیا جاتا کہ وہ کفر پر قائم ہے یا اس لئے کہ وہ دیگر غیر معاہد کفار کی طرح ہے۔ اس کی وجہ ہمارے سابقہ ذکر کردہ دلائل ہیں۔ علاوہ ازیں اس نے پکڑے جانے کی صورت میں بلا مطالبہ اس لئے توبہ کی تاکہ سزا سے بچ سکے، لہذا اس کی توبہ مقبول نہیں ہوگی ۔
اس دشنام دہندہ کے اسلام کی صحت اندریں صورت دو امور پر مبنی ہیں مزید براں وہ واجب القتل بھی ہے ۔
- (۱) ایک یہ کہ اس کے اسلام لانے کو صحیح قرار نہیں دیا جا سکتا، ائمہ میں سے
ابن القاسم کے قول کا تقاضا یہی ہے۔
- (۲) دوسرے یہ کہ اس کے اسلام کو صحیح قرار دیا جائے گا۔ چنانچہ امام احمدؒ
اور ان کے اصحاب کا قول ذمی کے بارے میں یہی ہے اور اس پر حد شرعی کا قائم کرنا بھی واجب ہے ۔ لیکن مسلم اگر (نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو گالی دے، پھر اسلام لانے کے بعد اسے قتل کیا جائے تو اس کے بارے میں بعض اہل علم کہتے ہیں کہ گالی کی سزا کے طور پر اسے قتل کیا جائے اس لئے کہ یہ بندوں کا حق ہے یا یہ خالص اللہ کی مقرر کردہ حد شرعی ہے۔ ان اہل علم کے نزدیک اس کا اسلام قابل قبول اور صحیح ہے۔ ہمارے اصحاب اور دیگر اہل علم کا قول یہی ہے۔ مگر اصحاب شافعی کا قول یہ ہے کہ اسے قتل کیا جائے
جن اہل علم کا قول ہے کہ جو اللہ کو گالی دے اسے قتل کیا جائے۔
علماء کی ایک اور جماعت کہتی ہے کہ زندیق کو قتل کیا جائے۔ اگر اظہار اسلام کے بعد اسے قتل کیا جائے تو اس پر زندقہ کے احکام جاری کئے جائیں۔ بہت سے مالکیہ کا قول یہی ہے۔ ہمارے بعض اصحاب کا قول بھی اسی پر دلالت کرتا ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اس طرز عمل سے کہ آپ منافقین کا ظاہری اسلام قبول کر لیتے تھے جو احتجاج کیا گیا ہے اس کا جواب بھی اسی پر مبنی ہے۔ استدلال یا تو اس طرح کیا گیا ہے کہ رسول کریم منافقین کے ظاہری اسلام کو قبول فرماتے
تھے ۔ مگر یہ استدلال چار وجوہ سے حجت نہیں ۔ اُن کا ذکر پہلے کیا جا چکا ہے ۔
پہلی وجہ یہ ہے کہ ان کے اسلام لانے کو وہاں قبول کیا گیا جہاں اُن سے وجہ اول اُن کے خلاف ثابت نہیں ہوا۔ وہ اس بات سے انکار کرتے تھے کہ اُنہوں نے اسلام کے خلاف گفتگو کی ہے ۔ باقی رہی یہ بات کہ رسول کریم ﷺ کے یہاں کسی خاص شخص کے کفر پر شہادت قائم ہو جائے اور آپؐ اس کے قتل سے رُک جائیں، تو ایسا کبھی نہیں ہوا۔ الاّ یہ کہ آغازِ اسلام میں ایسا ہوا ہو ۔
وجہ ثانی دوسری وجہ یہ ہے کہ آغازِ اسلام میں رسول کریم ﷺ کو حکم دیا گیا تھا کہ کفار کی ایذا کو نظر انداز کر دیں اور تالیفِ قلب اور نفرت کے ڈر سے کفار کے مظالم پر صبر کریں۔ یہاں تک کہ مندرجہ ذیل آیت سے اس کو منسوخ کر دیا گیا :۔
جَاهِدِ الْكُفَّارَ وَالْمُنَافِقِينَ وَاغْلُظْ عَلَيْهِمْ (التوبۃ: ۷۳)
کفار اور منافقین سے جہاد کیجئے اور ان پر سختی کیجئے۔
وجہ ثالث تیسری وجہ یہ ہے کہ ہم اس کی تعمیل کرتے ہیں اس کے اسلام کو قبول کرتے ہیں اور اس پر گالی کی حد اسی طرح لگاتے ہیں جیسے اُس نے کسی اور حد کا ارتکاب کیا ہو۔ یہ اس شخص کا جواب ہے جو اس کے اسلام کو صحیح قرار دیتا اور گالی کے فساد کی وجہ سے شرعی حد لگا کر اس کو قتل کرتا ہے ۔
وجہ رابع چوتھی وجہ یہ ہے کہ رسول کریم ﷺ نے ان میں سے کسی سے کبھی توبہ کا مطالبہ نہ کیا بلکہ تلوار کے سامنے پیش کیا تاکہ وہ اس کلمہ سے توبہ کرے جو اس سے صادر ہو چکا ہے ۔ اس کے جواب پر علماء کا اتفاق ہے ۔ اس لئے کہ ان میں سے کسی پر جب کفر و زندقہ کی شہادت قائم ہو جائے، پھر یا تو اُسے قتل کیا جائے گا یا توبہ کا مطالبہ کیا جائے گا۔ اگر وہ توبہ نہ کرے تو اُسے قتل کیا جائیگا ۔
باقی رہی یہ بات کہ ان کے انکار کو کافی سمجھا جائے تو میرے علم کی حد تک کوئی بھی اس کا قائل نہیں ہے ۔ اس ضمن میں کم از کم جو بات کہی گئی ہے وہ یہ ہے
کہ ان سے شہادتین کے زبانی اقرار اور کلمہ کفر سے اظہار براءت کو کافی سمجھا جائے۔ چونکہ منافقین کے ساتھ یہ سلوک نہیں کیا گیا۔ لہٰذا معلوم ہوا کہ اس حکم کو یا تو شرط کے فقدان کی وجہ سے ترک کیا گیا — اور شرط یا تو ثبوت نفاق ہے یا حد قائم نہ کر سکنا یا کمزوری کی حالت میں تالیف قلب کی مصلحت — یہاں تک کہ جب اسلام کو قوت و شوکت حاصل ہوئی تو اُسے منسوخ کر دیا گیا۔
اور اگر گالی دینے والوں کے ظاہری اسلام کو قبول کرنے سے احتجاج کیا گیا ہے تو اس کا جواب وجہ خامس شمار ہو گا۔ اور وہ یہ ہے کہ رسول کریمؐ اپنی زندگی میں گالی دینے والے کو معاف کر سکتے تھے۔ مگر آپؐ کے بعد کسی کو معاف کرنے کا اختیار نہیں ہے۔ صحابہ کرامؓ گالی دینے والے کو مرتد اور محارب کہتے تھے تو اِس لئے وہ مباح الدم ہے۔ جو شخص عہد شکنی کرے اور مسلمانوں سے لڑے تو اس کے اسلام لانے سے ضروری نہیں کہ اس کا قتل ساقط ہو جائے۔ اس کی دلیل یہ ہے کہ اگر وہ کسی مسلم کو قتل کرے یا اس پر ڈاکہ ڈالے، مسلمان عورت کے ساتھ زنا کرے (تو اسے قتل کیا جائے گا) گالی دینے والے کو محارب کے نام سے موسوم کرنا — حالانکہ گالی دینا فساد ہے — اس بات کو واجب کرتا ہے کہ وہ اس آیت کے حکم میں داخل ہے۔ جیسا کہ پیچھے گزر چکا ہے۔
باقی رہے وہ لوگ جنہوں نے رسول کریمؐ کی ہجو کہی اور آپؐ کو گالیاں دیں، پھر آپؐ نے انہیں معاف کر دیا تو اس کا جواب پہلے مسئلہ میں گزر چکا ہے۔ جہاں ہم نے ان کے واقعات ذکر کئے اور بیان کیا ہے کہ گالی میں رسول کریمؐ کا حق غالب ہے۔ جب آپؐ کو اس بات کا پتہ چلے تو آپؐ اسے معاف بھی کر سکتے ہیں اور انتقام بھی لے سکتے ہیں۔ اور ان میں ایسی کوئی بات نہیں جس سے معلوم ہو کہ آپؐ کے معاف کرنے اور درگزر کرنے سے ان کی سزا ساقط ہو گئی۔ یہ بات اُس شخص پر روشن ہو گی جو منافقین کے حالات جو رسول کریمؐ کے ساتھ تھے۔ ان پر غور کرے گا اور ان کے درمیان اور ان لوگوں میں تفریق کرے گا جنہوں نے آپؐ کی ہجو نہیں کہی
اور نہ آپ کو گالیاں دیں ۔
مزید برآں یہ لوگ محارب تھے۔ اور حربی کافر اگر کسی مسلم کا خون بہائے یا ان کا مال لے یا ان کی بے آبروئی کرے تو اس پر گرفت نہیں کی جاتی ۔ البتہ مسلم اور معاہد پر مؤاخذہ کیا جاتا ہے۔ مخالفین کا یہ قول درست نہیں کہ ذمی گالی دینے کو حربی کافر کی طرح حلال سمجھتا ہے ۔ مگر وہ (ذمی) خون ریزی اور مال لینے کو حلال تصور نہیں کرتا ۔ اس لئے کہ ذمی ہونے کی وجہ سے ان کے لئے ہمارے دین کو ہدفِ طعن بنانا ممنوع ہے۔ ان پر واجب ہے کہ ہمارے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو گالیاں نہ دیں۔
ہمارا خون اور مال ان کے لئے حرام ہے۔ اگرچہ ذمی اپنے مذہب کی رُو سے ان چیزوں کو حرام نہیں سمجھتا۔ مگر معاہد ہونے کے اعتبار سے یہ چیزیں اس پر حرام ہیں۔ جس طرح ہم اُن کے خون و مال اور ناموس کو اپنے لئے حرام سمجھتے ہیں۔ حالانکہ ہم نے ان سے اس بات کا معاہدہ نہیں کیا کہ ہم ان کے جھوٹے دین کی مذمت نہیں کریں گے۔ اور اس کے نقائص و معائب شمار نہیں کریں گے۔ بلکہ ہم نے ان سے معاہدہ کیا ہے کہ ہمارے ملک میں اقامت گزیں رہ کر جس چیز کا اظہار چاہیں کریں نیز یہ کہ ہمارے دینی احکام کی پابندی کریں۔ اگر اس کا التزام نہیں کریں گے تو پھر ان کی ذلت و رسوائی کیا ہوئی ؟
ہمارے مخالفین کا یہ قول کہ ذمی جب گالی دے تو یا تو اُسے اس کے کفر و قتال کی وجہ سے قتل کیا جائے ۔ جس طرح گالی دینے والے حربی کافر کو قتل کیا جاتا ہے۔ یا اس پر حد لگا کر اُسے تہِ تیغ کیا جائے ۔
ہم اس کے جواب میں کہتے ہیں کہ یہ تقسیم درست نہیں۔ بلکہ ذمی بننے کے بعد اُسے اس کے کفر اور قتال کی وجہ سے قتل کیا جائے ۔ اور جو شخص ذمی بننے کے بعد جنگ کرتا ہے وہ حربی کافر کی طرح نہیں ہے۔ اس لئے کہ ذمی جب کسی مسلم کو قتل کرے (تو اس پر دو جرم جمع ہو جاتے ہیں) ایک یہ کہ اس نے عہد توڑا ، دوسرے یہ کہ اس پر قصاص واجب ہوا ۔
اگر مقتول کا وارث اُسے معاف بھی کردے تو نقض عہد کے فساد کی وجہ سے اُسے قتل کیا جائے گا۔ اِسی طرح اگر ذمی مسلمانوں کو ضرر پہنچانے والے افعال انجام دے تو اُسے قتل کیا جاسکتا ہے۔ ذمی کا حکم اس میں حربی الاصل کافر جیسا نہیں ہے۔ یہ ایک اجماعی مسئلہ ہے۔ جب اُسے عہد باندھنے کے بعد اس کے حرب و پیکار کی وجہ سے قتل کیا جائے تو اسے ایک شرعی حد تصور کیا جائے گا۔ ہر دو اوصاف میں کوئی منافاۃ نہیں پائی جاتی تاکہ ایک کو دوسرے کا حریف مقابل قرار دیا جائے ۔
ہم نے دلائل قاطعہ کی روشنی میں بیان کیا ہے کہ اس کو محض کافر معاہد ہونے کی وجہ سے قتل نہیں کیا جاتا۔ بلکہ یہ سزا اُسے اس لئے دی جاتی ہے کہ اس نے ہمارے نبی کریمؐ کو گالی دی ، جبکہ ذمی ہونے کے اعتبار سے اُسے یہ کام نہیں کرنا چاہیے تھا۔ مزید برآں گالی دینے سے اُس کا عہد ٹوٹ جاتا ہے جو اس کے خون کا محافظ ہے اور وہ گالی دینے سے محارب اور غادر بن جاتا ہے۔ یہ زنا کی حد کی طرح نہیں ہے جس سے ہمیں کچھ نقصان نہ پہنچتا ہو۔ حدودِ شرعیہ میں سے اس کی سب سے زیادہ مشابہت محاربہ کی حد کے ساتھ ہے
ہمارے مخالفین کا یہ قول کہ "گالی دینے سے صرف آبرو ریزی ہوتی ہے اور اس سے صرف کوڑے مارنا واجب ہوتا ہے "
ہماری طرف سے اس کے تین جواب دیئے جاتے ہیں :۔
پہلا جواب :۔
پہلا جواب یہ ہے کہ یہ اصل مسئلہ پر گفتگو کرنے کے مترادف ہے۔ اس لئے کہ جب گالی دینے سے صرف کوڑوں کی سزا واجب ہوتی ہے اور جن کاموں سے کوڑے مارنا واجب ہوتا ہو ان سے عہد نہیں ٹوٹتا۔ حالانکہ ہم اس مسئلہ پر ایسے دلائل پیش کر چکے ہیں جن کی مخالفت روا نہیں کہ ذمی جب ایسا کام کرے تو اس کو قتل کرنا واجب ہے۔ نیز یہ کہ ایسا کرنے سے اس کا عہد باقی نہیں رہتا جو اس کے خون کا محافظ ہے ۔
ہم نے بیان کیا تھا کہ عام مسلمانوں کی آبرو ریزی سے کوڑے مارنا واجب ہوتا ہے
البتہ رسول کریم کی آبرو ریزی سے قتل لازم آتا ہے۔ مزید براں ذمی کے ساتھ جو مصالحت کی گئی تھی۔ اس میں رسول کریم اور اہل اسلام دونوں کی عزت کی حفاظت کو لازم قرار دیا گیا تھا۔ لہٰذا جس شخص نے رسول کریم کی آبرو ریزی کی اس نے ایسا کام کیا جو اس کے قتل کو واجب کرتا ہے، جبکہ اس نے ایسا کام نہ کرنے کا عہد کیا تھا۔ لہٰذا اس کو قتل کرنا واجب ٹھہرا۔ جس طرح کہ رہزنی اور زنا کی صورت میں وہ واجب القتل ہو جاتا ہے۔ اور سزا کی مقدار کے اعتبار سے رسول کریم اور کسی دوسرے شخص کی آبرو ریزی کو یکساں قرار دینا بدترین قیاس فاسد ہے۔
اور دونوں کے باہمی فرق و امتیاز پر کلام کرنا ایک تکلف سے زیادہ نہیں۔ اللہ تعالیٰ نے تمام مخلوقات پر واجب قرار دیا ہے کہ رسول کریم پر درود و سلام بھیجیں۔ آپ کی مدح و ستائش، اعزاز و احترام، تعزیز و توقیر میں کوئی کسر باقی نہ چھوڑیں۔ آپ کے ساتھ گفتگو کرتے وقت عجز و انکسار کو ملحوظ رکھیں۔ آپ کے اوامر کی اطاعت کریں اور آپ کے اصحاب و اہلِ بیت کی حرمت و تقدس کو مجروح نہ ہونے دیں۔ یہ ایسی بات ہے جو اہلِ ایمان کے کسی عالم سے پوشیدہ نہیں۔ رسول کریم کی ناموس و آبرو ہی سے اللہ کے دین، اس کی کتاب اور اس کے مومن بندوں کا قیام ہے۔ اسی کی وجہ سے ایک قوم کے لئے جنت واجب ہوئی اور دوسری کے لئے نارِ جہنم۔ اسی کی وجہ سے یہ اُمت خیر اُمَّۃٍ کے لقب سے ملقب ہوئی۔ یہ وہ آبرو ہے کہ اس کے ذکر کو اللہ نے اپنے ذکر کیساتھ مقرون و متصل فرمایا اور ایک ہی کتاب میں دونوں کو یکجا کیا۔ اللہ نے رسول کریم کی بیعت کو اپنی بیعت، آپ کی اطاعت کو اپنی اطاعت اور آپ کی ایذا رسانی کو اپنی ایذا ٹھہرایا۔ و دیگر اَن گنت خصوصیات و ممیزات جن کو شمار نہیں کیا جا سکتا۔ اگر آپ کے گالی دینے کو کفر قرار نہ دیا جائے، تو یہ بات کہاں تک مناسب ہے کہ آپ کی بے آبروئی کرنے والے کو وہی سزا دی جائے جو کہ کسی اور کا تقدس پامال کرنے والے کو دی جاتی ہے۔
اگر ہم فرض کریں کہ یہ خدا کا ایک نبی ہے جس کو اس نے ایک اُمت کی طرف مبعوث
کیا اور کسی دوسری امت پر واجب نہیں کیا کہ عموماً و خصوصاً اس پر ایمان لائیں۔ ایک شخص نے یہ جانتے ہوئے اس نبی کو گالی دی اور اس پر لعنت کی کہ اس نبی کو اس قوم کی طرف مبعوث کیا گیا ہے۔ تو آیا یوں کہنا روا ہے کہ اس کی سزا اور ایک مومن کو گالی دینے والے کی سزا یکساں ہے ؟ یہ قیاس ان لوگوں کے قیاس سے بھی بدتر ہے جنہوں نے کہا تھا کہ خرید و فروخت بھی تو سود کی طرح ہوتی ہے۔
ہمارے مخالفین کا قول ہے کہ ”ذمّی اس کے حلال ہونے کا عقیدہ رکھتا ہے“۔ ہم اس کے جواب میں کہتے ہیں کہ ہم اس کو تسلیم نہیں کرتے ۔ اس لئے کہ ہمارے اور اس کے درمیان جو معاہدہ ہوا ہے اس کی بناء پر گالی دینا اس کے مذہب میں بھی حرام ہے۔ جس طرح ہمارا خون، ہمارے اموال اور ہماری ناموس اس پر حرام ہے۔ جب وہ گالی دیتا ہے تو اسے معلوم ہوتا ہے کہ اس نے بہت بڑا جرم انجام دیا ہے جس پر ہم نے اس کے ساتھ مصالحت نہیں کی تھی۔ اگر وہ جانتا ہے کہ اس کی سزا قتل تو فبہا، ورنہ اس کا قتل واجب نہیں۔ اس لئے کہ جو شخص حدود شرعیہ کا ارتکاب کرتا ہے اس کے لئے اس چیز کی حرمت کا علم ہی کافی ہے۔ مثلاً کوئی شخص زنا کرے، یا چوری کرے یا شراب نوشی کرے، یا کسی پر بہتان لگائے یا رہزنی کرے۔ ایسا شخص جب اس فعل کی حرمت کا علم رکھتا ہوگا تو اُسے شرعی سزا دی جائے گی۔ اگرچہ اس کا خیال یہ ہو کہ اُس فعل کی کوئی سزا نہیں اور یہ کہ اس کی سزا شریعت کی مقرر کردہ سزا سے کم ہے ۔
مزید براں ان کا مذہب اگرچہ باطل ہے تاہم اُس میں نبی کو گالی دینا اور اس پر لعنت کرنا مباح نہیں ہے۔ زیادہ سے زیادہ ان کا عقیدہ یہ ہے کہ وہ نبی نہیں ہے یا یہ کہ اس کی پیروی ان پر واجب نہیں ۔ اگر وہ یہ عقیدہ رکھتے ہوں کہ اس پر لعنت کرنا اور اُسے گالی دینا جائز ہے، تاہم ان میں سے اکثر و بیشتر یہ عقیدہ نہیں رکھتے ۔
علاوہ ازیں گالی دو قسم کی ہوتی ہے۔ ایک یہ کہ انہوں نے اپنے عقیدے کی بناء پر اس (نبی) کی نبوت کا انکار کیا۔ دوسرے یہ جس کا انکار انہوں نے نہیں کیا اس میں شبہ نہیں کہ وہ دوسری قسم کی گالی کو حلال نہیں سمجھتے۔
باقی رہا ہمارے مخالفین کا یہ قول کہ " ان سے اس شرط پر صلح کی گئی ہے کہ وہ اس (گالی دینے) کو ترک کردیں گے۔ پس جب وہ ایسا کرے گا تو عہد ٹوٹ جائے گا" اور اسے بعینہ اس جرم کی سزا دی جائے گی ۔ ورنہ اس شخص کا حال جو عہد شکنی کر کے ہمیں ستائے بغیر دارالحرب کو چلا جائے اور اس شخص کا حال جو کسی کو قتل کرے چوری کرے ، رہزنی کرے اور نقض عہد کے ساتھ ساتھ رسول کو گالی بھی دے یکساں ہوگا اور یہ جائز نہیں ۔
فقہاء کا یہ مقولہ کہ " قتل کا حد ہونا ایک شرعی حکم ہے جو شرعی دلیل کا محتاج ہے ، صحیح ہے ! قبل ازیں کتاب و سنت اور نظر و فکر کے دلائل گزر چکے ہیں جو اس امر پر دلالت کرتے ہیں کہ گالی بذات خود -- اپنی خصوصیت کے لحاظ سے -- قتل کی موجب ہے ۔ اور یہ بات محض قیاس و استحسان ہی سے ثابت نہیں ہے بلکہ ہم نے اس کو نصوص اور آثار صحابہؓ کی روشنی میں ثابت کیا ہے ۔
علاوہ ازیں شارع کے اشارات و تنبیہات اور کتاب و سنت اور اجماعِ اُمت کے دلائل بھی گالی کی اس خصوصیت اور اس کبیرہ کی حرمت پر دلالت کرتے ہیں۔ یہ ناموس و آبرو اس امر کی موجب ہے کہ محض قتل ہی اس کی حفاظت کر سکتا ہے خصوصاً جبکہ اس آبرو کے تقدس اور اس کی حرمت کو کم کرنے کا داعی طاقتور ہو ۔ اور قلوب و اذہان میں اُس ہستی کی عزت و عظمت کم ہو جائے جو تمام جہان والوں میں عظیم القدر ہے ۔ اور یہ اُس وقت ہوتا ہے جب اس کی ناموس و آبرو کے ساتھ زید اور عمرو کی عزت کو ایک ہی پلڑے میں رکھ دیا جائے اور دین کے اعداء و خصوم ، خواہ وہ کافر ہوں یا منافق جگہ جگہ لوگوں میں اس کی مذمت کرتے پھریں ۔
جس شخص نے دین و شریعت کا بنظر غائر مطالعہ کیا ہو کیا وہ اس بات میں شبہ کرسکتا ہے کہ شریعت کے محاسن اس ہستی (رسول و نبی) کی حرمت کے تقدس کو واجب ٹھہراتے ہیں ؟ یہ وہ حرمت ہے جس کی عظمت تمام مخلوقات کی حرمت سے بڑھ کر ہے ۔
اور یہ براہ راست رب العالمین کی عزت و حرمت کیساتھ وابستہ ہے۔ اور اس کی حفاظت لوگوں میں سے ایک کا خون بہا کر کی جائے گی۔ قطع نظر کفر و ارتداد سے کہ یہ دونوں موجب فساد ہیں اور ان کا اتحاد عددی اعتبار سے ہے۔ سردست ہم مصالح مرسلہ کے بارے میں بحث نہیں کر رہے ، کیونکہ ہمیں اس مسئلہ میں مصالح مرسلہ کی اس لئے ضرورت نہیں کہ اس مسئلہ سے متعلق ہمارے پاس مخصوص شرعی دلائل موجود ہیں ۔ مگر ہم شرعی حکمت کو بیان کرنے کیلئے اس میں پائی جانے والی عظیم مصلحت سے آگاہ کرنا چاہتے ہیں۔
اس لئے کہ جس چیز کی حکمت ومصلحت سمجھ لی جائے دل اس کی اطاعت کے لئے تیار ہو جاتا ہے اور قلوب و نفوس جس چیز کی مصلحت کو بھانپ لیتے ہیں، جگر میں اس کی طلب اور پیاس جڑ پکڑتی ہے۔
علاوہ بریں اگر اس مسئلہ کے بارے میں کوئی نص اور اثر نہ بھی ہوتا تو اجتہاد رائے اس بات کا فیصلہ کرنے کیلئے کافی تھا کہ بطریقہ خاص اس جرم کی سزا قتل ہے۔ اس لئے نہیں کہ عموماً یہ کفر و ارتداد کا آئینہ دار ہوتا ہے۔ یہاں تک کہ اگر فرض بھی کر لیا جائے کہ اس میں کفر و ارتداد کی کوئی گنجائش نہیں تاہم یہ (جرم) قتل کا موجب ہوتا۔
اور اس بات کو ہم نے شرعی سزا قذف کے ضوابط و کلیات سے اخذ کیا ہے۔ اس لئے کہ سزا کی شدت جرم کی نوعیت کے لحاظ سے کم یا زیادہ ہوتی ہے، اگر جرم اوسط درجے کا ہو تو اس کی سزا بھی اوسط ہوتی ہے۔ اور اگر جرم اپنی نوعیت کے لحاظ سے ادنیٰ ہو تو اس کی سزا بھی ادنیٰ درجے کی ہوگی ۔ جرم اگر تنہا ہو تو اسے سزا کے مقابلے میں نہیں رکھا جاسکتا۔ مثلاً یہ کہ اسے کوڑے مارنے اور قید کرنے کے مقابلے میں رکھا جائے تاکہ سزا اور اس زیادتی میں یکسانی پیدا کی جاسکے جو زید اور عمرو کی آبرو پر ہوتی ہے۔ جو لوگ شرعی اسباب کی معمولی واقفیت رکھتے ہیں اُن سے پوشیدہ نہیں کہ یہ اجتہاد کی بدترین قسم ہے۔ اسی طرح یہ بات بھی فاسد ہے کہ اس جرم کی کوئی مخصوص سزا نہ ہو۔ باقی رہی یہ بات کہ مجرم کو اوسط درجہ کی سزا دی جائے
جیسا کہ مہاجر بن امیہ نے خیال کیا تھا وہ باطل ہے۔ مہاجر نے (رسول کریم) کو گالیاں دینے والی لونڈی کا ہاتھ کاٹ دیا اور اس کا اگلا دانت اکھڑوا دیا تھا۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے بھی مہاجر پر اعتراض کیا تھا۔ اس لئے کہ یہ جرم رسول کریم کے خلاف کیا گیا تھا جن کی عزت و حرمت سب سے بڑھ کر ہے، نیز اس لئے کہ اس جرم اور اوسط درجے کی سزا دینے کیلئے کسی عضو کے کاٹنے میں کوئی مناسبت نہیں پائی جاتی۔ اس لئے بلا شبہ طے شدہ بات ہے کہ اُسے اعلیٰ درجہ کی سزا دی جاتی اور وہ قتل ہے۔
اگر ہم گالی کی مصیبت میں گرفتار ہوں اور ہمارے پاس کوئی دلیل ایسی نہ ہو جس کی پیروی کی جائے پھر کسی کو شک گزرے کہ اُسے بہت بڑے جرائم کے ساتھ ملحق کیا جائے تو اُسے دانشمند فقیہ قرار نہیں دیا جائے گا۔ اور اس قسم کی مصلحت مصالح مرسلہ میں سے نہیں ہے کہ شریعت اس کے معتبر ہونے کی شہادت نہ دیتی ہو۔ جب فرض کر لیا گیا کہ اس مسئلہ کی کوئی خاص اصل نہیں جس کے ساتھ اس کو ملحق کیا جائے اور اس کا فیصلہ کرنا بھی ضروری ہے پس واجب ہوا کہ اس کے بارے میں وہ فیصلہ کیا جائے جو اصولِ کلیہ سے زیادہ مشابہت رکھتا ہو۔ اور جب مصلحت پر عمل نہ کیا جائے تو مفسدہ پر عمل کرنا لازم ہے۔ وَاللّٰهُ لَا يُحِبُّ الْفَسَادَ ۔
اس میں شبہ نہیں کہ علماء فی الجملہ ـــــ ہمارے اصحاب میں سے ہوں یا کوئی اور ـــــ اس نوع کے مصالح میں جب ان کے بارے میں کوئی اثر اور قیاس خاص موجود نہ ہو تو مختلف الخیال ہوتے ہیں۔ امام احمد رحمہ اللہ ایسے بعض مسائل میں توقف سے کام لیتے ہیں۔ مثلاً مسلم جاسوس اور اس جیسے آدمی کو قتل کرنا، بشرطیکہ اس مسئلہ کو اس کے افراد میں شامل کیا جائے۔ امام موصوف بعض اوقات اس پر عمل کرتے اور بعض دفعہ چھوڑ دیتے، جب کہ اس کے بارے میں کوئی اثر یا خاص قیاس موجود نہ ہو۔ جو شخص فقہاء کے تصرفات سے آگاہ ہیں انہیں معلوم ہے کہ وہ اُن کو ملحوظ رکھنے پر اس وقت مجبور ہوتے ہیں جب وہ کسی اصلِ شرعی کے خلاف نہ ہو۔ مناظرہ اور علم الکلام کے علماء خواہ
ہمارے اصحاب میں سے ہوں یا کوئی اور اس کو معتبر سمجھتے ہیں کوئی اختلاف نہیں رکھتے۔ اور اگر وہ فقہاء کی طرح بحر علم کی غواصی کرتے تو انہیں معلوم ہوتا کہ ایسے مصالح کا اعتبار ضروری ہے۔
فقہی مسائل میں غوطہ زن ہونے والے کا ذوق اور بڑے بڑے مسائل کو جانے بغیر ان کے اطراف و متعلقات پر گفتگو کرنا دونوں الگ الگ امور ہیں۔ ظاہر ہے کہ متکلمین اور اہل جدل صرف دوسری قسم کو موضوع بحث بناتے ہیں۔ وہ دوسروں کو اس بات کا الزام دیتے ہیں جس کا خود التزام نہیں کرتے۔ وہ فقہی مسائل پر اس شخص کی طرح گفتگو کرتے ہیں جو صرف امور کلیہ اور عمومات کو جانتا ہو۔ اس کی تفصیلات معلوم کرنے کیلئے خصوصی نظر و فکر اور ایسے دلائل کی ضرورت ہے جن کا ادراک وہی شخص کرسکتا ہے جو بڑے بڑے مسائل سے آگاہ و آشنا ہو۔
ہم نے اس کو قیاس خاص سے بھی ثابت کیا ہے۔ یعنی ہر اس مرتد اور ناقض عہد پر قیاس کیا ہے جو مسلمانوں کو ایسا ضرر پہنچاتا ہو جس میں قتل کی سزا بھی موجود ہے۔ ہم نے بیان کیا ہے کہ یہ خالص ارتداد اور محض نقض عہد سے اخص ہے اور اصول نے ان دونوں کے مابین تفریق کردی ہے۔ نیز ہم نے اس کو اس چیز سے بھی ثابت کیا ہے جو خون کی حفاظت کی نفی کرتی ہے۔
ہم نے بیان کیا ہے کہ اس شخص کا خون اس کے افعال کی وجہ سے مباح ہوا۔ جو مرتد اور ناقض عہد اسلام لائے۔ رہا یہ کہ پہلے والے دلائل لفظاً و معنیٰ اس پر مشتمل نہیں ہیں۔ (مخالفین کا) یہ قول کہ اسباب کے ضمن میں قیاس درست نہیں فقہاء کے مسلک کے خلاف ہے۔ اور یہ قول قطعاً باطل ہے۔ مگر یہاں تفصیلی بحث کا موقع نہیں ہے۔
ہمارے مخالفین کا یہ قول کہ حکمت و مصلحت کی نوع اور مقدار کا معلوم کرنا دشوار ہے۔ ہم اس کو علی الاطلاق تسلیم نہیں کرتے۔ بخلاف ازیں کبھی یہ ممکن ہوتا ہے اور گاہے دشوار۔ بلکہ بعض اوقات اس کا قطعی علم بھی حاصل ہو جاتا ہے۔
اس لئے کہ فرع اس حکمت پر مشتمل ہوتی ہے جو اصل میں موجود ہوتی ہے مع قدر زائد۔ مخالفین کا یہ قول کہ "وہ سبب کو سبب ہونے سے خارج کر دیتا ہے" مگر یہ درست نہیں۔ اس لئے کہ سبب کا سبب اس کو سبب بننے سے نہیں روکتا۔ اور سبب کی طرف جو نسبت ہوتی ہے وہ سبب کے سبب کی طرف اضافت کو نہیں روکتی اور اس کا علم ضروری ہوتا ہے۔
باقی رہا مخالفین کا یہ قول کہ "جو جرائم قتل کو بطور حد واجب کرنے والے ہیں ان میں کوئی چیز ایسی نہیں جو گالی کو اُن کے ساتھ ملحق کرنے کو جائز قرار دیتی ہو" ہم اس کے جواب میں کہتے ہیں کہ گالی کو ارتداد مغلظ اور نقض مغلظ کے ساتھ ملحق کیا جائے گا۔ جو فساد گالی کی وجہ سے حاصل ہوتا ہے اس فساد سے کہیں بڑھ کر ہے جو ان امور مغلظ کی وجہ سے حاصل ہوتا ہے۔ ہم قبل ازیں اصول شرعیہ کے شواہد سمیت اس پر روشنی ڈال چکے ہیں۔ علاوہ ازیں یہ حکم اسی اصل سے بے نیاز ہے جس پر اسے قیاس کیا جائے۔ بلکہ یہ بذات خود ایک ضابطہ کلیہ ہے جیسا کہ پیچھے گزرا۔
علاوہ بریں اس کلام کے مقابلہ میں ایک ایسا کلام بھی ہے جو اس سے زیادہ روشن دلیل پر مشتمل ہے اور دلیل کے طور پر اس کو برتری حاصل ہے۔ اور وہ یہ کہ گالی دینے والے کو سزا نہ دینے کا قول ۔ اس کے مباح الدم ہونے پر اتفاق کے بعد ۔ ۔ ایک بلا دلیل قول ہے جس کا ثبوت بعض مرتدین اور ناقضین عہد پر قیاس کر کے پیش کیا جاتا ہے، حالانکہ دونوں کے مابین واضح فرق پایا جاتا ہے۔ اور جو شخص ایک چیز کو ایسی چیز پر قیاس کرتا ہے جو اس کے مخالف یا اس سے مفارق ہو اس کا قیاس فاسد ہے۔ کیونکہ اس کو حفاظت کرنے والا سبب بنانا ایک سبب کو دوسرے سبب پر قیاس کرنا ہے۔ حالانکہ حکمت کی نوع اور اس کی مقدار میں تباین پایا جاتا ہے۔
علاوہ ازیں اس سے لازم آتا ہے کہ گالی کو جو کہ ناموس و آبرو کے خلاف عظیم جرم ہے سزا سے خالی رکھا جائے۔ اور شریعت میں ایسی کوئی چیز موجود نہیں۔ اس طرح یہ ایک ایسے حکم کو ثابت کرتا ہے جو خارج از قیاس ہے۔
اس سے یہ بھی لازم آتا ہے کہ جو جرم قتل کا موجب تھا اس کو اس قدر تخفیف
بنادیا جائے کہ وہ ساقط ہونے میں لوگوں کی عزت سے بھی آسان تر ہو، نیز اس سے یہ بھی لازم آتا ہے کہ علت کے ساتھ اس کے مقتضا کی ضد کو معلق کر دیا جائے، نیز یہ خروج عن موجب الاصول کا آئینہ دار بھی ہے۔ کیونکہ سزاؤں کی شدت فی الوجوب ان کے سقوط میں ہرگز تخفیف کا باعث نہیں بن سکتی ۔ اگر سزاؤں کی جنس ایسی ہو جو ساقط ہو سکتی ہو تو وہ ساقط ہو جائیں گی ــــــ خواہ سزا خفیف ہو یا غلیظ ، جیسے کہ حقوق العباد ــــــ
پھر یہ کہ دشنام دہندہ سے توبہ طلب کرنے کا قول کتاب اللہ ، سنت رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور خلفاء و اصحاب کے طرز عمل کے خلاف ہے۔ اور یہ قول کہ دشنام دہندہ پر رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا کوئی حق نہیں ، جبکہ ذمی اسلام قبول کرلے یا مسلم ہو اور رسولؐ اسے کوئی سزا نہیں دے سکتا۔ یہ ایسا قول ہے جو رسول کریمؐ کی معروف سیرت اور شرعی اصولوں کے خلاف ہے۔ یہ قول ایسے حکم کو ثابت کرتا ہے جس کی کوئی اصل اور نظیر موجود نہیں ۔ الا یہ کہ اس کو ایسے مسائل کے ساتھ ملحق کر دیا جائے جس کی کوئی مثال نہ ہو۔
دوسرا جواب
دوسرا جواب یہ ہے کہ ہم نے یہ دعویٰ نہیں کیا کہ صرف گالی قتل کی موجب ہے ۔ ہم نے جو کچھ بیان کیا ہے وہ یہ ہے کہ ہر گالی ضرر رسانی کی وجہ سے محاربہ اور نقض عہد کی ہم معنی ہے۔ لہٰذا ایسے شخص کو ہر دو وجوہ یعنی گالی اور نقض عہد کی وجہ سے قتل کیا جائے ۔ یوں کہنا جائز نہیں کہ گالی بطور خاص غیر مؤثر ہے ۔ کیونکہ اس کا فساد ان دلائل قاطعہ سے واضح ہوتا ہے جو ہم نے اس کے مؤثر ہونے کے بارے میں ذکر کیے ہیں۔ جب صورت حال یہ ہے تو ہم اس کو اسباب مقررہ میں سے ایک خارجی سبب قرار نہیں دیتے ۔ بخلاف ازیں اس کا سبب معروف مغلظ ہے اور وہ کفر ہے۔ جس طرح انسان کو قتل کرنا قاتل کے مباح الدم ہونے کا موجب ہے۔ اگر اس نے اسے محاربہ میں قتل کیا ہے تو اسے حتماً قتل کیا جائے گا ۔ ورنہ یہ معاملہ مقتول کے وارثوں کو تفویض کیا جائے گا۔ ظاہر ہے کہ مقتول ذمیوں میں سے ہے لہٰذا اس
بارے میں یہ نہیں کہا جائے گا کہ اُسے قصاص میں قتل کیا جائے تاکہ اس پر ان لوگوں کے احکام مرتب کئے جائیں جن پر قصاص واجب ہوتا ہے۔ قتل کو اُس کے خاص جرم کی طرف منسوب کیا جاتا ہے اور جنگ میں قتل کرنا ہے۔ اسی طرح یہاں اصلی موجب بطور خاص محاربہ ہے۔
مخالفین کا یہ قول کہ "دلائل دونوں طرف پائے جاتے ہیں۔ ایک یہ کہ اُسے محض محاربہ کی وجہ سے قتل کیا جاتا ہے۔ دوسرے یہ کہ اُسے گالی دینے کی وجہ سے قتل کیا جاتا ہے ؟ ہم کہتے ہیں کہ نصوص سے معلوم ہوتا ہے کہ گالی میں اس کفر کی نسبت زیادہ تاثیر پائی جاتی ہے جس میں معاہدہ نہ کیا گیا ہو۔ لہٰذا شریعت کے اس کو معتبر سمجھنے کے بعد اس کی خصوصیت کو نظر انداز کرنا روا نہیں۔ اور یوں کہنا بھی درست نہیں کہ اس میں موثر وہ چیز ہے جو اس کے ضمن میں پائی جاتی ہے اور وہ عہد کا زائل ہونا ہے۔ اسی لئے ناقض عہد کو بلا تخییر قتل کرنا واجب ہے جیسا کہ ہم اس کے دلائل ذکر کر چکے ہیں۔ جب معاملہ یوں ہے تو مخالف کے پاس ایسی کوئی دلیل نہیں جس سے معلوم ہو کہ قتل مباح اسلام لانے سے ساقط ہو جاتا ہے۔ اگرچہ یہ کفر کے فروع میں سے ہے۔ جس طرح ذمّی جب مسلمانوں کے خون و مال اور آبرو کو حلال سمجھے اور اُسے اس لئے پامال کرے کہ یہ لوگ کافر ہیں اور ان کے ساتھ یہ سلوک روا رکھنا ان کے لئے حلال ہے۔ پھر اسلام لائے تو اُسے اس کی سزا دی جائے گی، یا تو اُسے قتل کیا جائے گا۔ اگر ان (جرائم) میں کوئی چیز قتل کی موجب ہو، یا کوئی اور سزا دی جائے گی ۔
اگر ایک ذمّی دوسرے ذمّی کے خون کو حلال سمجھے، مثلاً یہ کہ ایک عیسائی کسی یہودی کو قتل کردے یا اس کا مال اس لئے لے کہ وہ اپنے عقیدے کے مطابق اُسے حلال تصور کرتا ہے یا اس پر بہتان لگائے یا اُسے گالیاں دے تو اُسے ایسی سزا دی جائے گی جو اس جیسے دوسرے آدمی کو دی جاتی ہے۔ اگرچہ وہ اسلام لائے ۔ اگر کسی قافلہ پر ڈاکہ ڈالے جس میں مسلمان بھی ہوں اور معاہد بھی اور وہ بعض مسلمانوں یا معاہدوں کو قتل کردے تو اُسے حتمی طور پر قتل کیا جائے گا اور اُس کا عہد ٹوٹ
جائیگا اگرچہ وہ اسکے بعد اسلام قبول کرے ۔ یہ کفر کے فروع میں سے ہے ۔ یہ ایسا آدمی ہے جس کا عہد ایسے معاملہ کی وجہ سے ٹوٹ گیا جس کو وہ معاہدہ کرنے سے قبل حلال سمجھتا تھا۔
اور اگر ایک مسلم ایسا کرے تو بہت سے فقہاء کے نزدیک اُسے قتل نہیں کیا جائیگا۔ بشرطیکہ مقتول ذمّی ہو ۔ اور کفر و قتل میں سے ہر ایک اس کے قتل میں مؤثر ہے ، اگرچہ اس کا معاہدہ اس قتل کی وجہ سے زائل ہوچکا ہے ۔ یہ گالی دینے کی نظیر ہے پھر اس کے بعد اگر وہ اسلام لے بھی آئے تو قتل اس سے ساقط نہیں ہوگا ، بلکہ اُسے حد یا قصاص میں قتل کیا جائے گا ۔ خواہ یہ قتل ایسا ہو جس کی بناء پر ایک مسلم کو قتل کیا جاسکتا ہے بایں طور کہ مقتول مسلم ہو، یا ایسا نہ ہو اور وہ اس طرح کہ مقتول ذمّی ہو ۔ دونوں صورتوں میں اس آدمی کو اسلام لانے کے بعد بھی قتل کیا جائے گا۔ نیز اس لئے کہ اس نے ڈاکہ ڈالا۔ اور معاہد کو قتل کیا جو دوسرے مذہب کے ساتھ تعلق رکھتا ہے۔ اور اگر اس نے یہ کام اس لئے کیا کہ وہ اس کے کافر ہونے کی وجہ سے اس فعل کو حلال تصور کرتا ہے حالانکہ اس نے کفر سے توبہ کر لی ہے، تو یہ توبہ اس کے فروع میں سے ہوگی ۔ اس کی وجہ یہ ہے یہ فروع کفر کے لوازم میں سے نہیں، بلکہ اس کے ذمی ہونے کی وجہ سے یہ سلوک اس کے ساتھ ناروا ہے۔ جس طرح یہ خون اور اموال ذمی ہونے کی وجہ سے اس پر حرام ہیں۔
اس مسئلہ میں غلطی کا منشاء محض یہ عقیدہ ہے کہ ذمّی اس گالی کو مباح سمجھتا ہے ۔ مگر یہ درست نہیں ۔ اس لئے کہ ذمّی کے نزدیک مسلمانوں کے دین کو ہدفِ طعن بنانا اور ان کا خون بہانا اور مال لینا سب یکساں درجہ کے جرائم ہیں ۔ کیونکہ یہ سب کام ان کے لئے عہد کرنے کی وجہ سے حرام ہیں نہ کہ صرف مذہب کی بنا پر، پھر یہ کیونکر ممکن ہے کہ اُمت کے کسی فرد کی بے آبروئی کرنا یا کسی دوسرے مذہب کے آدمی کی بے عزتی کرنا جو اہلِ ذمہ میں سے ہو، کفر سے توبہ کرنے کے ضمن میں شامل نہ ہو۔ حالانکہ یہ اسی کی فرع ہے ۔ مگر ہمارے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت کو پامال کرنا اس کی کفر سے توبہ کرنے میں مندرج ہو ۔
تیسرا جواب
فرض کیجئے کہ اُسے کفر و قتال کی وجہ سے قتل کیا جاتا ہے۔ پس ہمارے مخالفین کا یہ قول کہ "اسلام بالاتفاق اس قتل کو ساقط کر دیتا ہے جو کفر و محاربہ کی وجہ سے ثابت ہوتا ہے" غلط ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ ہم نے اس بات پر اتفاق کیا ہے کہ جو قتل کفر و محاربہ اصلی کی وجہ سے ثابت ہو وہ ساقط ہو جاتا ہے۔ کیون کہ جو شخص جب اسلام لائے گا تو جاہلیت میں اس نے جو خون ریزی کی یا کسی کا مال لیا یا کسی کی بے آبروئی کی اس بنا پر اس کا مواخذہ نہیں کیا جائے گا۔ جہاں تک ہنگامی قتال کا تعلق ہے تو کون شخص اس کی تائید کرتا کہ جو قتل اپنی تمام انواع کے ساتھ ثابت ہو وہ اسلام لانے سے ساقط ہو جاتا ہے؟
البتہ ہم اس صورت میں اس کی تائید کرتے ہیں کہ جب کوئی شخص اس طرح عہد توڑے جس سے مسلمانوں کو کوئی ضرر لاحق نہ ہوتا ہو اور پھر وہ اسلام قبول کرے۔ اگر اسلام قبول کر کے لڑائی کرنے لگے اور رہزنی کر کے فساد برپا کرے یا مسلمان عورت کے ساتھ زنا کرے یا کسی مسلم کو قتل کرے یا دین پر تنقید کرے تو ایسے شخص کو ہر حالت میں قتل کیا جائے۔ جیسا کہ کتاب وسنت سے ثابت ہوتا ہے۔
چند مواقع پر اُسے اجماعاً قتل کیا جائے۔ مثلاً یہ کہ لڑائی کے دوران کسی کو قتل کرے۔ بعض مواقع پر اُسے قتل تو کیا جاتا ہے مگر اس پر اجماع منعقد نہیں ہوا۔ اس لئے وہ محل نزاع ہیں۔ اور قرآن اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ اُسے قتل کیا جائے۔ اس لئے کہ قرآن نے صرف اس شخص کو قتل سے مستثنیٰ ٹھہرایا ہے جو پکڑا جانے سے قبل توبہ کر لے اس کو قتل کرنا ممنوع ہے اور لڑائی کی مختلف قسموں میں جو فرق و امتیاز پایا جاتا ہے اس سے یہ التباس دور ہو جاتا ہے۔
علماء کا یہ بیان کہ مسلم و کافر جب چپکے سے گالی دے جس کو خدا کے سوا کوئی نہ جانتا ہو اور انبیاء پر بہتان لگائے اور پھر توبہ کر لے تو اللہ اس کی توبہ قبول کرتا ہے۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایسے شخص سے دنیا و آخرت
میں کہیں بھی قذف کی سزا کا مطالبہ نہیں کیا۔ یہود نے حضرت مریمؑ اور ان کے بیٹے پر جو بہتان لگایا اور انبیاء ورسل کے بارے میں وہ جو کچھ کہتے ہیں اسلام لانے سے وہ ساقط ہو جاتا ہے۔ علماء کا یہ بیان صحیح ہے اور ایسی باتوں میں کسی شک وشبہ کی گنجائش نہیں ہے۔ ہمارے بعض اصحاب ودیگر علماء بھی اسی طرح کہتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ اختلاف اس سے قتل کے ساقط ہونے کے بارے میں ہے ۔
باقی رہی اس کی توبہ اور اس کا اسلام لانا جو اس کے اور اللہ کے مابین ہے تو وہ مقبول ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی تمام گناہوں سے توبہ کو قبول کرتا ہے۔ مسلم ہو یا ذمی دونوں کی توبہ مقبول ہے۔ مسلم کی توبہ کے بارے میں ہمارا بیان گزر چکا ہے۔ جہاں تک ذمی کی توبہ کا تعلق ہے، تو اگر یہ گالی عہد کے توڑنے والی نہ ہو، مثلاً یہ کہ پوشیدہ طور پر گالی دے تو اس کی توبہ اسی طرح ہے جس طرح حربی کافر تمام اقوال وافعال سے توبہ کرے یا ذمی اپنے کفریہ عقائد سے توبہ کرے۔ اس لئے کہ یہ عقدِ ذمہ کی وجہ سے ممنوع نہ تھا اور ہم اس کے بارے میں گفتگو نہیں کر رہے ۔ اس سے علماء کے ذکر کردہ سوال کا جواب بھی ہو گیا ۔
اس لئے کہ وہ گالی جس کے بارے میں دلائل سے ثابت ہوتا ہے کہ وہ اسلام لانے سے معاف ہو جاتی ہے ۔ وہ ایسی گالی نہیں جس کے انجام دینے سے ذمی کا عہد ٹوٹ جاتا ہے البتہ ذمی کے علانیہ اور سراً گالی دینے میں فرق ہے، برخلاف مسلم کے، کیوں کہ وہ گالی جو کہ وہ سراً دیتا ہے، ایمان وامان میں سے کوئی بھی اُسے روک نہیں سکتا ۔ آپ دیکھتے نہیں کہ اگر کسی مسلم پر پوشیدہ طور پر اس کو جائز سمجھتے ہوئے بہتان لگائے اور پھر اسلام لائے تو اسی طرح ہو گا جیسے اس نے حربی ہوتے ہوئے بہتان لگایا، اور پھر مسلمان ہو گیا ۔ ظاہر ہے کہ وہ کافر جس نے کوئی عہد نہ کیا ہو جو اُسے کسی چیز سے روکے، جب اسلام لائے گا تو کفر کے تابع ہوتے ہوئے اس کے سب گناہ معاف ہو جائیں گے۔ اگر وہ ایسی گالی دے جس کو اپنے مذہب میں حرام تصور کرتا ہو، اور پھر اسلام لائے تو جس کو گالی دی گئی اس کے حق کے ساقط ہونے میں اختلاف کی گنجائش ہے ۔
اس کی نظیر یہ ہے کہ وہ انبیاء کو اس طرح گالی دے جس کو اپنے مذہب میں حرام
سمجھتا ہو۔ اور اگر گالی اس قسم کی ہو جس سے عہد ٹوٹ جاتا ہے تو اس کا اظہار اس کو حلال یا حرام سمجھتے ہوئے اسی طرح ہے جیسے وہ مسلم کو حلال یا حرام سمجھ کر قتل کردے۔
پس توبہ یہاں باطن میں اللہ کے حق کو ساقط کر دیتی ہے۔ باقی رہا توبہ کا بندوں کے حقوق کو ساقط کرنا تو اس میں اختلاف ہے۔ قیاس جس امر کا مقتضی ہے وہ یہ ہے کہ یہ مسلم کی توبہ کی طرح ہے جس کو گالی دی گئی مگر اس کو یہ خبر پہنچ گئی ہو تو اس کو حلال تصور کرنا اس کے لئے ضروری ہے اور اگر اس کو یہ خبر نہ ملی ہو تو اس میں مشہور اختلاف ہے۔ اس لئے کہ یہ بندوں کا حق ہے جس کو وہ حرام سمجھتا ہے، اس کے باوجود اس نے اُسے پامال کیا ہے۔ تو یہ اسی طرح ہے جیسے معاہد مسلم کو پوشیدہ طور پر قتل کر کے اسلام لائے اور توبہ کر لے۔ یا پوشیدہ طور پر اس کا مال لے کر توبہ کر لے اور مسلمان ہو جائے۔ اندریں صورت ظاہر ہے کہ اس کے اسلام لانے سے بندوں کا حق ساقط نہیں ہو گا جس کو وہ عہد کی وجہ سے حرام تصور کرتا تھا۔ یہ حق نہ ظاہراً ساقط ہو گا نہ باطناً۔ اور یہی معنی ہیں اس قول کے جو ہمارے اصحاب نے کہا ہے کہ اس کی توبہ اس کے اور اللہ کے مابین مقبول ہے۔ اس لئے کہ اللہ تمام گناہوں نیز اپنے حقوق سے توبہ کو مطلقاً قبول کرتا ہے۔
باقی رہے حقوق العباد تو توبہ ان کے حقوق کو باطل نہیں ٹھہراتی۔ بخلاف ازیں بندہ یا تو ظالم سے اپنے حقوق کو وصول کرے گا یا اللہ اپنے فضل عظیم سے اُسے اپنی طرف سے معاوضہ دے گا۔
خلاصہ یہ کہ ان تمام گناہوں سے توبہ جن کو وہ اپنے کفر کے زمانہ میں حلال تصور کرتا تھا۔ حقوق اللہ اور حقوق العباد کو ظاہراً و باطناً ساقط کر دیتی ہے۔ لیکن جس گالی کے بارے میں ہم گفتگو کر رہے ہیں وہ گالی ہے جو ذمی دیتا ہے۔ اور یہ ان اُمور میں سے نہیں جن کو وہ حلال سمجھا کرتا تھا۔ جس طرح وہ قبل ازیں ہمارے خون اور مال کو حلال تصور نہیں کرتا تھا۔ اگرچہ معاہدہ نہ ہونے کی صورت میں وہ ان کو حلال سمجھتا تھا۔
قبل ازیں اس کا ذکر کیا جا چکا ہے۔ ہم نے بیان کیا تھا کہ معاہدہ کرنے کی
وجہ سے ذمی کے اپنے مذہب میں بہت سی چیزیں حرام ٹھہرتی ہیں جن کو عہد نہ ہونے کی صورت میں وہ حلال خیال کرتا تھا۔ اس کی نظیر مرتد کی گالی نکالنے سے توبہ ہے جس کو وہ جائز خیال کرتا ہے۔ مگر جن چیزوں کو وہ حلال تصور نہیں کرتا تھا اور وہ گالی کا اظہار ہے تو وہ دو قسم کے حقوق پر مشتمل ہے۔ (۱) حقوق اللہ ۔ (۲) حقوق العباد ۔
تو جو توبہ وہ اپنے اور اللہ کے درمیان کرتا ہے وہ حقوق اللہ کو ساقط کر دیتی ہے مگر اس میں سے یہ لازم نہیں آتا کہ باطن میں حقوق العباد بھی ساقط ہو جائیں ۔ تو یہ گفتگو اس توبہ کی مقبولیت کے بارے میں کی گئی ہے جو خاموشی سے وہ اپنے اور اللہ کے درمیان کرتا ہے۔
اندریں صورت اس کے کئی جواب ہیں :۔
پہلا جواب
وہ موقع جہاں اس کی حقوق اللہ اور حقوق العباد کے بارے میں کی گئی توبہ مقبول ہوتی ہے ، وہ موقع نہیں جہاں اس کا عہد ٹوٹ جاتا ہے اور توبہ کرنے کے باوجود اسے قتل کیا جاتا ہے۔ اگر وہ دعویٰ کرے کہ حقوق العباد تمام صورتوں میں ساقط ہو جاتے ہیں تو یہ بات ناقابل تسلیم ہے ، کیونکہ یہ متنازع فیہا مسئلہ ہے ۔ لہٰذا اس کے اثبات میں دلائل پیش کرنا ضروری ہے۔ اور مذکورہ دلائل اس ظاہری گالی پر مشتمل نہیں جس سے عہد ٹوٹ جاتا ہے۔
دوسرا جواب
جو توبہ وہ اپنے اور اللہ کے مابین کرتا ہے، حقوق العباد کے سلسلے میں دنیا میں مشروع سزاؤں کو ساقط نہیں کر سکتی۔ اس لئے کہ جو شخص قتل، یا بہتان طرازی یا رہزنی وغیرہ سے مخلصانہ توبہ کرتا ہے تو اس سے بندوں کے حقوق مثلاً قصاص، حد قذف یا مالی ضمانت وغیرہ ساقط نہیں ہوتے ظاہر ہے کہ اس گالی میں بندے کا بھی حق ہے اگر توبہ سے اسکے ایسے گناہ معاف ہو سکتے ہیں جو حقوق اللہ وحقوق العباد سے متعلق رکھتے ہیں تو اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ اس سے بندوں کے حقوق از قسم سزا وغیرہ ساقط ہو جائیں۔
تیسرا جواب
جن لوگوں کا یہ موقف ہے کہ یہ توبہ باطناً ہر حال میں مقبول ہے
وہ کہتے ہیں کہ بندے کی مخلصانہ توبہ تمام گناہوں سے ممکن ہے۔ یہاں تک کہ اگر کوئی شخص سِراً چند فوت شدگان کو گالیاں دے پھر توبہ کرے اور ان کے لئے مغفرت طلب کرے تو اُمید کی جاتی ہے کہ اللہ اُسے معاف کر دے گا۔ کیونکہ اللہ کسی کو اس کی طاقت سے زیادہ تکلیف نہیں دیتا۔ اس طرح جو شخص رُسلؐ و انبیاء کو گالیاں دیتا ہے اگر اس کی توبہ قبول نہ ہو مگر اس کی لغزش معافی سے ہمکنار نہ ہو تو توبہ اور مغفرت رحمت کا دروازہ مسدود ہو جائے گا۔
غیبت سے منع کرتے ہوئے قرآن میں فرمایا :۔
" کیا تم میں سے کوئی اس بات کو پسند کرتا ہے کہ اپنے بھائی کا گوشت کھائے جب کہ وہ مرا پڑا ہو؟ تم اسے (ضرور) ناپسند کرو گے۔ بیشک اللہ توبہ قبول کرنے والا مہربان ہے۔
(الحجرات - ۱۲)
اس سے معلوم ہوا کہ غیبت کنندہ کے لئے توبہ کا راستہ کھلا ہے۔ اگرچہ جس کی چغلی کھائی گئی وہ مرچکا ہے یا غائب ہے۔ بلکہ دونوں میں سے صحیح تر روایت یہ ہے کہ جس کی چغلی کھائی گئی اس سے دنیا میں معافی مانگنا ضروری نہیں ، جبکہ اُسے معلوم نہ ہو کہ میری غیبت کی گئی ہے۔ کیونکہ اس میں صلاح کم اور فساد زیادہ ہے۔ اور حدیث میں ہے :۔
" غیبت کا کفارہ یہ ہے کہ جس کی تُو نے چغلی کھائی ہے اس کے لئے مغفرت طلب کرے ۔ "
قرآن کریم میں فرمایا :۔
اِنَّ الْحَسَنٰتِ يُذْهِبْنَ السَّيِّئٰتِ
(ہود - ۱۱۴)
بیشک نیکیاں بُرائیوں کو دُور کر دیتی ہیں۔
لیکن اگر رسولؐ زندہ ہو اور گالی سے آگاہ ہو چکا ہو تو اس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ جب تک اللہ کا رسولؐ معافی نہ دے اس کی توبہ درست نہیں۔ جیسا کہ انس بن زنیم ، ابوسفیان بن الحارث ، عبداللہ بن ابی اُمیہ ، عبداللہ بن سعد بن ابی سرح ،
ابن الزبعریٰ، ایک مغنیہ لونڈی، کعب بن زہیر وغیرہم نے کیا تھا۔ جیسا کہ سیرت کا بغور مطالعہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے۔ کعب بن زہیر نے کہا تھا ؎
وَالْعَفْوُ عِنْدَ رَسُوْلِ اللّٰهِ مَامُوْلُ
مجھے پتہ چلا ہے کہ رسول کریم نے مجھے دھمکی دی ہے اور رسول اللہ سے معافی کی اُمید کی جاتی ہے۔
معافی اُس چیز کے بارے میں مانگی جاتی ہے جس میں عفو و انتقام (دونوں) جائز ہوں۔ "اَوْعَدَنِیْ" اُس وقت کہا جاتا ہے۔ جب دھمکی کا حکم اسلام لانے کے بعد بھی باقی ہو۔ اگر دھمکی اس کے کفر پر قائم رہنے کے ساتھ مشروط ہو تو دھمکی باقی نہیں رہے گی۔ جب یہ بات طے ہو چکی تو توبہ کی صحت جو اس نے اپنے اور اللہ کے مابین کی اور رسولؐ کے حق کا سقوط جس کے عوض اُن پر ایمان لانا واجب ٹھہرا۔ ایسا ایمان جو رسولؐ کے حقوق کا موجب ہے اس پر حد قائم کرنے سے نہیں روکتا۔ جب کہ وہ حاکم وقت کے یہاں ثابت ہو چکی ہو۔ اگرچہ وہ اس کے بعد توبہ کا اظہار کرے جس طرح تمام ایسے کبائر سے توبہ کی جاتی ہے جو شرعی سزاؤں کے موجب ہوں۔ قطع نظر اس سے کہ وہ اللہ کا حق ہو یا بندے کا۔ کیونکہ بندے کی توبہ جو وہ اپنے اللہ کے مابین کرتا ہے بقدر اِمکان صحیح ہے۔ تاہم جب حاکم اس سے باخبر ہو تو اس پر حد لگائے۔ قبل ازیں ہم بیان کر چکے ہیں کہ رسولؐ کے حق میں اللہ کا حق بھی پایا جاتا ہے۔ اور بندے کا بھی۔ نیز یہ کہ دونوں وجوہ سے اس کا وصول کرنا ضروری ہے۔ بشرطیکہ یہ معاملہ حاکم کی عدالت میں پہنچ چکا ہو، اگرچہ مجرم شہادت قائم ہو جانے کے بعد توبہ بھی کرلے۔
علماء نے جو ذکر کیا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو گالی دینا اللہ کو گالی دینے سے بڑا جرم نہیں ہے۔ نیز یہ کہ رسول کریم کو جو عزّ و شرف حاصل ہے وہ اللہ کا عطا کردہ اور اس کی وجہ سے ہے تو اس کا جواب دو طرح سے دیا جاتا ہے
پہلا جواب
اس کا پہلا جواب یہ ہے کہ ہر دو ابواب میں کچھ فرق نہیں۔ جو شخص اللہ کو گالی دے اسے قتل کیا جائے اور اس کے توبہ کرنے سے قتل اس سے ساقط نہیں ہوگا۔ یا تو اس لئے کہ یہ بات اس امر کی دلیل ہے کہ اس کے ایمان و امان میں زندقہ کے عناصر پائے جاتے ہیں۔ یا اس لئے کہ یہ صرف ارتداد اور نقض عہد نہیں ہے بلکہ یہ بات اس امر کی آئینہ دار ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی توہین اور استخفاف کا ارتکاب کرتا ہے۔ ایسے شخص کے خلاف جب شہادت قائم ہوجائے تو توبہ کرنے سے بھی قتل اس سے ساقط نہ ہوگا۔ جس طرح قتل اس لئے اس صورت میں بھی ساقط نہ ہوگا جب وہ اللہ کے محرمات کو پامال کرے۔ اس لئے کہ اللہ کی عزت و حرمت کے تقدس کو مجروح کرنا، اس کے محرمات کو پامال کرنے سے بھی بڑا جرم ہے۔ اس کا تفصیلی بیان آگے آرہا ہے۔ نیز یہ کہ ہمارے اصحاب اور دیگر علماء میں سے کسی نے یہ بات کہی ہے ۔ اِنْ شَاءَ اللّٰہُ تَعَالٰی ۔
جن علماء نے یہ جواب دیا ہے ان پر یہ اعتراض وارد نہیں ہوگا کہ غیر نصرانی وغیرہ کا اسلام اور ان کی توبہ کیسے صحیح ہوگی ؟ کیوں کہ اس میں کوئی اختلاف نہیں پایا جاتا کہ اللہ اور بندے کے مابین جو توبہ ہو وہ اور عام توبہ مطلقاً مقبول ہے بشرطیکہ انہوں نے علانیہ گالی نہ دی ہو۔ اختلاف اس صورت میں ہے جب کہ نصرانی علانیہ طور پر گالی دے اور طعن کرے۔ ان کو توبہ کی دعوت دینے سے یہ لازم نہیں آتا کہ حد شرعی لگانا ان پر ممنوع ہو جب کہ وہ معاہد ہوں۔ قرآن میں فرمایا :- "جن لوگوں نے مومن مردوں اور عورتوں کو فتنوں میں مبتلا کیا اور پھر توبہ نہ کی "
(البروج - ١٠)
ان کا فتنہ یہ تھا کہ انہوں نے مسلمانوں کو آگ میں ڈال دیا حتیٰ کہ وہ کافر ہوگئے اور اگر ایک معاہد مسلم کیساتھ نقض عہد کرتا تو اسے بالاتفاق قتل کیا جاتا ہے۔ اگرچہ اس کی توبہ اس کے اور اللہ کے مابین مقبول ہے۔ مزید برآں کفار کے وہ نظریات جن کے
وہ معتقد ہیں۔ مذکورہ گالی میں سے نہیں ہیں۔ ان عقائد کو وہ اللہ اور اس کے دین کی تعظیم قرار دیتے ہیں۔ گفتگو اس گالی کے بارے میں ہے جس کو گالی دینے والے اور دوسرے لوگ بھی گالی سمجھتے ہوں۔ ان دونوں باتوں میں فرق ہے کہ ایک آدمی اپنے حق میں کلام کرتا ہے اور اُسے تعظیم سمجھتا ہے اور دوسرا شخص ایسی گفتگو کرتا ہے جس کو وہ مذاق پر محمول کرتا ہے۔ اسی لئے قتل، زنا، سرقہ، شراب نوشی، قذف و دیگر امور میں فرق کیا گیا ہے۔ کہ بعض لوگ ان کو حلال سمجھ کر ان کو انجام دینے میں اپنے آپ کو معذور تصور کرتے ہیں، اور دوسرے لوگ ان کو حرام سمجھتے ہیں ۔
حدیث قدسی
اسی طرح رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :- " زمانے کو گالی نہ دو، اس لئے اللہ ہی زمانہ ہے"
ایک قدسی حدیث میں ہے کہ :-
- " ابن آدم مجھے دُکھ دیتا ہے ، وہ زمانے کو گالی دیتا ہے ، حالانکہ زمانہ میں ہوں
سب معاملات میرے ہاتھ میں ہیں، میں شب و روز کو اُلٹتا پلٹتا رہتا ہوں ۔"
مخلوقات میں سے جو شخص زمانے کو گالی دیتا ہے اس کا مقصد اللہ کو گالی دینا نہیں ہوتا ۔ اس کا اصلی مقصود یہ ہوتا ہے کہ جس نے اس کے ساتھ یہ بُرا سلوک روا رکھا ہے ۔ وہ اس کو گالی دینا چاہتا ہے مگر اُسے زمانے کی طرف منسوب کرتا ہے۔ اُس طرح گالی درحقیقت اللہ کو لگتی ہے، کیونکہ فاعلِ حقیقی وہی ہے۔ خواہ ہم کہیں کہ "اَلدَّھْرُ" اللہ کے اسماء میں سے ایک اسم ہے ، جیسے نعیم بن حماد نے کہا یا یوں کہیں کہ وہ اسم نہیں ۔ "اَنَا الدَّھْرُ" کے معنی یہ ہیں کہ جن امور کو زمانے کی جانب منسوب کیا جاتا ہے میں ان کو انجام دیتا ہوں ، مگر لوگ زمانے کو گالیاں دیتے ہیں ۔ جیسا کہ ابو عبیدہ اور اکثر علماء نے کہا ہے ۔
یہی وجہ ہے کہ زمانے کو گالی دینے والے کی تکفیر نہیں کی جاتی اور نہ ہی اُسے قتل کیا جاتا ہے ۔ بلکہ بدگوئی کی وجہ سے اس کی تعزیر و تادیب کی جاتی ہے۔ گالی کا ذکر قرآن کریم میں بھی آیا ہے :-
" وَلَا تَسُبُّوا الَّذِيْنَ يَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللَّهِ فَيَسُبُّوا اللَّهَ
(الانعام- ۱۰۸)
عَدْوًا بِغَيْرِ عِلْمٍ "
"اور ان لوگوں کو گالی نہ دو جو اللہ کے سوا دوسرے لوگوں کو پکارتے ہیں پس وہ بے علم اللہ کو گالی دینے لگیں گے ۔"
کہا گیا ہے کہ اہل اسلام جب کفار کے معبودوں کو گالیاں دیتے تھے تو کفار اس کو گالیاں نکالتے جو انہیں اس بات کا حکم دیتا تھا۔ اس طرح ان کی گالی اللہ کو لگتی ۔ اس لئے کہ وہ ہمارا اللہ اور معبود ہے ۔ اسی لئے اللہ نے فرمایا :-
(الانعام- ۱۰۸)
"عَدْوًا بِغَيْرِ عِلْمٍ (دشمنی سے بغیر علم کے)
اور یہ بھی ایک طرح سے زمانے کو گالی دینا ہے۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ کفار راہ عداوت و غلو فی الکفر براہ راست اللہ کو گالیاں دیتے تھے ۔ قتادہ کہتے ہیں مسلمان کفار کے بتوں کو گالیاں دیا کرتے تھے اور وہ یہ گالیاں مسلمانوں کو دیتے۔ تب مذکورہ صدر آیت نازل ہوئی۔ وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ مسلمان کفار کے بتوں کو گالیاں دیا کرتے تھے اور وہ اُن کو لوٹا دیتے ۔ اللہ نے ان کو منع کیا کہ لوگ جہالت کی وجہ سے اللہ کو گالیاں دیتے ہیں جس کا انہیں کچھ علم نہیں ۔ ضد و عناد کی وجہ سے ایسا ہوتا ہے کہ جاہل اُس شخص کو گالی دے جس کی وہ تعظیم کرتا ہے ۔ اپنے دشمن کو چڑانے کے لئے جب کہ وہ اس کی تعظیم کرتا ہو۔ جیسا کہ کسی احمق کا قول ہے ؎
كُفْرًا بِكُفْرٍ ، وَ اِيْمَانًا بِاِيْمَانٍ
علیؓ کو گالیاں دو جس طرح وہ تمہارے صدیقِ اکبرؓ کو گالیاں دیتے ہیں کفر کے بدلے کفر اور ایمان کے بدلے ایمان :
جس طرح بعض جاہل کہتے ہیں کہ فاسد کا مقابلہ فاسد کے ساتھ کیا جائے اور جس طرح بعض جاہل مسلمانوں کو غیرت نے اس بات پر آمادہ کیا کہ عیسیٰ علیہ السلام کو گالیاں دیں، جب کہ جنگ لڑنے والے علانیہ رسولِ کریم کو گالیاں دیا کرتے تھے۔
اور یہ بات قتل کے موجبات میں سے ہے ۔
طریقہ ثانیہ
دوسرا طریقہ اُن لوگوں کا ہے جو اللہ کو گالی دینے اور رسولؐ کو گالی دینے میں فرق کرتے ہیں ۔ اس کی توضیح کئی وجوہ سے کی جاتی ہے:۔
وجہ اوّل
اگر اللہ کو گالی دی جائے تو یہ محض اس کا حق ہے اور یہ توبہ کے ساتھ ساقط ہو جاتا ہے ۔ جیسے زنا ، سرقہ ، اور شراب نوشی ساقط ہوجاتے ہیں۔ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی گالی میں دو حقوق ہیں ۔ (۱) اللہ کا حق ۔ (۲) بندوں کا حق اور بندوں کا حق توبہ سے ساقط نہیں ہوتا مثلاً جبکہ کسی کو قتل کر دے۔ یہ تفریق قاضی ابویعلیٰ سے منقول ہے ۔
وجہ ثانی
گالی دینے سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ننگ و عار لاحق ہوتی ہے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
اس لئے کہ آپؐ انسانی جنس میں سے ہیں جن کو گالی گلوچ دینے سے ننگ و عار لاحق ہوتی ہے۔ گالی دیئے جانے سے انبیاء کو ثواب بھی ملتا ہے، اللہ تعالیٰ ان کو .... دشنام دہندگان سے نیکیاں دلواتا ہے یا اپنی طرف سے اجر و ثواب دیتا ہے۔ یہ اس مصیبت کا اجر ہے جو گالیوں کی وجہ سے انہیں لاحق ہوئی۔ جس نے آپؐ کو گالی دی تو اس کی وجہ سے آپؐ کی حرمت میں کمی واقع ہوئی۔ اللہ تعالیٰ کا معاملہ یہ ہے کہ گالی دینے سے اُسے ننگ و عار لاحق نہیں ہوتی ۔ اس لئے کہ وہ نفع و ضرر کے حصول سے منزّہ ہے ۔
حدیث قدسی
جیسا کہ حدیث قدسی میں وارد ہوا ہے :۔ ، اے میرے بندو ! تم اس مرتبہ پر نہیں پہنچ سکتے کہ مجھے ضرر دو ۔ اور نہ میرے نفع کے مقام تک پہنچ سکتے ہو کہ مجھے نفع دو ۔ “ اور جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو گالی دینے سے آپؐ کی ناموس و آبرو
میں کمی آتی ہے اور آپ لوگوں میں ننگ و عار سے دوچار ہوتے ہیں۔ بعض اوقات یہ بات رسول سے لوگوں کو نفرت، آپ کے رعب کے کم ہونے اور آپ کی حرمت دعوت کو پامال کرنے کی موجب ہوتی ہے۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو گالی دینے سے خصوصی فساد جنم لیتا ہے۔ اس لئے اس کی شرعی سزا مقرر کی گئی ہے، اس لئے وہ توبہ سے ساقط نہیں ہوتی جیسے تمام جرائم کی سزا ساقط نہیں ہوتی۔
باقی رہا وہ شخص جو اللہ تعالیٰ کو گالیاں دیتا ہے وہ کافر اور مرتد کی طرح اپنے آپ کو نقصان پہنچاتا ہے۔ جب وہ توبہ کرے گا تو اس کے اپنے نفس کا ضرر زوال پذیر ہوگا لہٰذا اُسے قتل نہیں کیا جائے گا۔
اس فرق کو مالکیہ شافعیہ اور حنبلیہ کے مختلف گروہوں نے ذکر کیا ہے اُن میں سے قاضی عبدالوہاب بن نصر، قاضی ابویعلیٰ (در کتاب خود المجرد) ابوعلی بن البناء، ابن عقیل و دیگر علماء ہیں یہ ہمارے اس قول کے ساتھ میل کھاتا ہے کہ رسول کریم کو گالی دینا حدود اللہ میں سے ہے جیسے زنا اور چوری وغیرہ ۔
اس کی مؤید یہ بات ہے کہ کسی پر کفر کا بہتان لگانا زنا کے بہتان سے عظیم تر ہے۔ مگر اس کے لئے کوئی حد مقرر نہیں ہے جس طرح زنا کی تہمت لگانے کی حد مشروع ہے۔ اس لئے کہ جس پر کفر کا بہتان لگایا گیا اُسے وہ عار لاحق نہیں ہوتی جو کہ زنا کا بہتان لگانے سے ہوتی ہے۔ کیونکہ ایمان کا اظہار کرنے سے بہتان لگانے والے کا کذب ظاہر ہو جاتا ہے۔ نیز یہ کہ جب وہ توبہ کا اظہار کرتا ہے تو اس وقت بھی وہ داغ دُھل جاتا ہے۔ برخلاف زنا کے اُسے خفیہ رکھا جاتا ہے اور اس کے لئے اس سے اظہار براءت ممکن نہیں۔ نیز توبہ کا اظہار کرنے سے لوگوں کے اندر سے یہ داغ نہیں دُھلتا۔ اسی طرح جو شخص رسولؐ کو گالیاں دیتا ہے وہ دین اور اہلِ دین پر ایسا داغ دھبہ لگاتا ہے وہ اللہ کو گالی دینے کے سلسلہ میں اُن پر نہیں لگتا ۔
اس لئے کہ خداوندی گالی کی مدافعت کرنے والے ہر جگہ ظاہر و باہر ہیں اور اس کے دفاع میں سب لوگ باہم سہیم و شریک ہیں۔
وجہ ثالث رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو گالی آپ کی توہین کرنے کے لئے دی جاتی ہے ۔ کافر اور منافق لوگ اس میں خصوصی دلچسپی اس لئے رکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے جو کچھ آپ کو اپنے فضل و کرم سے دیا ہے اس پر حسد کریں۔ نیز اس لئے کہ وہ آپ کے دین کی مخالفت کرنا چاہتے ہیں ، وہ آپ کے دین و شریعت کی پیروی کو اپنے لئے عار سمجھتے ہیں، اُن کا مقصد آپ کی اُمت کو نیچا دکھانا اور اُنہیں رسوا کرنا ہے۔ اور جو فساد بھی اس کی طرف دعوت دیتا ہو، اس پر سزا دینے کے لئے حدّ شرعی کا ہونا ضروری ہے۔ اور جس جرم کی سزا بھی مشروع ہو وہ توبہ سے ساقط نہیں ہوتا۔ جیسے دیگر جرائم۔ باقی رہا اللہ کو گالی دینا تو غالباً اس کا مقصد اللہ کی اہانت اور استخفاف نہیں ہے۔ بخلاف ازیں لوگ اللہ کو گالی اُس کو ایک دین اور عقیدہ سمجھ کر دیتے ہیں ۔
نفوسِ انسانیہ میں گالی دینے کا داعیہ زیادہ تر عقیدے سے جنم لیتا ہے اور لوگ اس کو تعظیم و تمجید پر محمول کرتے ہیں۔ اور جب صورتِ حال یوں ہے تو بطورِ خاص گالی کے لئے کوئی سزا مقرر کرنے کی ضرورت نہیں جو اس سے روکتی ہو۔ بلکہ یہ کفر کی ایک نوع ہے اور اس کی وجہ سے کسی انسان کو قتل بھی کیا جاسکتا ہے۔ مثلاً ارتداد اور کفر، الاّ یہ کہ اس کا ارتکاب کرنیوالا تائب ہوجائے۔ یہ وجہ بھی سابقہ وجہ کے قبیل سے ہے۔ دونوں میں فرق یہ ہے کہ یہاں اس کے بیان کرنے کا مقصد یہ ہے کہ گالی کا فساد اظہارِ توبہ سے زائل نہیں ہوتا۔ برخلاف اس فساد کے جو اللہ کو گالی دینے سے جنم لیتا ہے۔ اور دوسری کی وضاحت یوں ہے کہ رسولِ کریمؐ کو گالی دینے کی طرف انسانوں میں طبعی رجحان پایا جاتا ہے لہٰذا بطورِ خاص اس کے لئے روکنے والی سزا مقرر کرنا چاہئے۔ جس طرح شراب نوشی کی سزا مقرر کی گئی ہے مگر اللہ کو گالی دینے کی طرف انسان کا طبعی رجحان نہیں ہوتا لہٰذا کسی شرعی زاجر کی ضرورت نہیں۔ مثلاً بُول کا پینا یا مُردار اور دمِ مسفوح کو کھانے یا پانی کی جگہ استعمال کرنا۔
وجہ چہارم رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو گالی دینا شرعی حد کا موجب ہے
جو ایک فوت شدہ شخص کو گالی دینے کی وجہ سے واجب ہوئی۔ جس کے بارے میں معلوم نہیں کہ اس نے اُسے معاف کر دیا ہے اور یہ توبہ کرنے سے ساقط نہیں ہوتا۔ بخلاف اللہ کو گالی دینے کے۔ کیونکہ اس کے بارے میں معلوم ہے کہ اس نے اپنے گالی دینے والے کو معاف کر دیا ہے جب کہ وہ توبہ کرے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ رسول کو گالی دینے کے دو پہلو ہیں۔ ایک پہلو ہے اللہ کو گالی دینا اور دوسرا بندوں کو گالی دینا۔ اس کے بارے میں سوال یہ ہے کہ آیا اس کی حد توبہ کرنے سے ساقط ہوتی ہے یا نہیں لہٰذا واجب ہے کہ دو اصلوں میں جو اس کے مشابہ تر ہو اس کے ساتھ اُسے ملحق کیا جائے اور ظاہر ہے کہ جو گالی بندوں کو دی جائے اس کی سزا توبہ کے ساتھ ساقط نہیں ہوتی۔ کیونکہ بندوں کے حقوق توبہ کے ساتھ ساقط نہیں ہوتے۔ اس لئے کہ وہ وصول کر کے فائدہ اٹھاتے ہیں اور غیر موجود شخص کی توبہ کرنے سے انہیں کچھ فائدہ نہیں ہوتا۔ جب وہ شخص تائب ہوتا ہے، آدمی کا جس پر حق قصاص یا حق قذف واجب ہوتا ہے، اُسے یہ حق حاصل ہے کہ اس کو اس سے لے کر فائدہ اُٹھائے۔ اس طرح اُسے اطمینان خاطر بھی حاصل ہوگا۔ وہ اپنا قصاص بھی لے گا اور اس کی آبرو بھی محفوظ رہے گی۔
جہاں تک اللہ کے حق کا تعلق ہے اُس کے بارے میں معلوم ہے کہ وہ توبہ سے ساقط ہو جاتا ہے کیونکہ اللہ نے حقوق کو اس لئے واجب کیا ہے تاکہ بندے اس سے فائدہ اٹھائیں۔ جب وہ اس چیز کی طرف لوٹیں گے جو ان کے لئے فائدہ مند ہے تو وجوب کا مقصد حاصل ہو جائے گا۔ اندریں صورت اس میں کوئی شبہ نہیں کہ حرمت رسولؐ کو اللہ کی حرمت کے ساتھ بلحاظ تغلیظ وابستہ کر دیا گیا ہے۔ کیوں کہ اس پر جرح و نقد اللہ کے دین اور اس کی کتاب پر طعن ہے۔ وہ ان بندوں میں سے ہے جن کے حقوق توبہ کے ساتھ ساقط نہیں ہوتے۔ اس لئے کہ جن کے ذمے وہ حقوق واجب ہیں وہ اُن سے وصول کر کے اس سے مستفید ہوتے ہیں۔ قبل ازیں ہم ذکر کر چکے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ حق حاصل تھا کہ جو شخص ایذاء
کہ آپؐ کے پاس آئے آپؐ کو اسے سزا دینے کا حق تھا اگرچہ وہ تائب ہو کر آیا ہو۔ رسول کریم نے جس طرح اللہ کا پیغام پہنچایا تاکہ بندے اس سے مستفید ہوں، جب وہ توبہ کر کے آپؐ کے احکام کی طرف لوٹ آئیں تو آپؐ کا مقصد حاصل ہو گیا۔ آپؐ کو ان کی ایذا رسانی سے الم و رنج پہنچتا ہے، اس لئے آپؐ ایذا دینے والے کو سزا دے سکتے ہیں تاکہ آپؐ کی ذاتی منفعت حاصل ہو جائے۔ یہ اسی طرح ہے جس طرح آپؐ کھاتے پیتے بھی ہیں۔ آدمی کو یہ موقع دینا کہ زیادتی کرنے والے سے اپنا حق وصول کرے انسانی مصالح میں سے ہے۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو لوگ غم کے مارے مرجاتے۔ مزید براں رسول کریم کو معاف کرنے اور انتقام لینے دونوں کا حق ہے۔ بعض اوقات آپؐ کے نزدیک انتقام لینے کی مصلحت غالب ہوتی ہے۔ اس وقت وہ ایک جائز اور مباح کام کرنے والا ہوتا ہے، جس طرح اُسے عقد نکاح کا حق حاصل ہے۔ اور بعض اوقات عفو کا پہلو غالب ہوتا ہے۔ انبیاء علیہم السلام میں سے بعض ایسے تھے جن کے نزدیک بعض اوقات انتقام کا پہلو راجح ہوتا تھا۔ اللہ ان کے دلوں میں سختی پیدا کر دیتا حتیٰ کہ وہ پتھر سے بھی شدید تر ہوجاتے۔ مثلاً حضرت نوح و موسیٰ علیہما السلام بعض انبیاء کے یہاں عفو کا پہلو غالب ہوتا اور اللہ ان کے دلوں کو نرم کر دیتا۔ یہاں تک کہ وہ بہت ہی نرم ہوجاتے۔ مثلاً حضرت ابراہیم و عیسیٰ علیہما السلام۔ جب اپنے حق کو معاف کرنا دشوار ہوتا تو اس کو وصول کرنا متعین تھا۔ ورنہ اپنے حق کو کلیۃً رائیگاں کرنا لازم آتا۔
ان کا یہ قول کہ ”اسلام لانے کی وجہ سے جب متبوع ساقط ہو جائے تو تابع کا ساقط ہونا اولیٰ ہے۔“
ہم اس کے جواب میں کہتے ہیں کہ در تازیانہ اس لئے ہے کہ اس کی سزا سخت ہے۔ اس لئے نہیں کہ اس کو وصول کرنے میں اس کا حق ہے جو توبہ کرنے سے پورا نہیں ہوتا۔
ہمارے مخالفین کا یہ قول کہ ”لوگوں میں سے کسی کو گالی دینے والے کا حال اسلام لانے سے قبل اور بعد مختلف نہیں ہوتا۔ برخلاف اس شخص کے جو رسول کو گالی دیتا ہے۔ اس کے دو جواب ہیں :۔
پہلا جواب
پہلا جواب یہ ہے کہ ہم اُسے تسلیم نہیں کرتے ۔ اس لئے کہ ذمّی کا مسلم کو گالی دینا اس کے نزدیک جائز ہے ۔ کیونکہ ذمّی اُسے کافر اور گمراہ سمجھتا ہے ۔ ذمّی کے نزدیک اُس کو حرام کرنے والی چیز معاہدہ ہے جو ہمارے اور اُس کے درمیان ہوا ہے ۔ لہٰذا دونوں میں کچھ فرق نہیں ہے ۔ اور اگر فرض کیا جائے کہ گفتگو اس گالی کے بارے میں جو دین سے خارج ہے ۔ مثلاً زنا کا بہتان اس پر افترا پردازی ومثل ایں ۔ تو اس میں رسول کو گالی دینے اور کسی ذمّی کو گالی دینے میں کچھ فرق نہیں ۔ اس میں شبہ نہیں کہ کافر جب حلقہ بگوشِ اسلام ہوتا ہے تو مسلمانوں کا بھائی بن جاتا ہے ۔ جو چیز مسلمانوں کو دکھ دیتی ہے وہ اُسے بھی الم و رنج پہنچاتی ہے ۔ وہ مسلمانوں کی ناموس و آبرو کا بھی معتقد ہو جاتا ہے ۔ اور جو چیز ان کی عزت کے پامال کرنے کو مباح کرتی تھی وہ زائل ہو چکی ہے ۔ مگر بایں ہمہ جس کو گالی دی گئی ، گالی دہندہ کے اسلام لانے سے اس کا حق ساقط نہیں ہوتا ۔ قبل ازیں اس کا ذکر کئی مرتبہ کیا جا چکا ہے ۔
دوسرا جواب
جو لوگوں میں سے کسی کو گالی دے پھر توبہ کرلے اور جس کو گالی دی گئی اُس کی براءت ظاہر کرے ۔ اس کی تعریف کرے اور اس کیلئے دعا کرے ۔ جب کہ یہ معاملہ سلطان کی عدالت میں پہنچ چکا ہو ، تو اُسے یہ حق حاصل ہے کہ اپنی حد کا حق اس سے وصول کرے ۔ پس اس کے اور رسول کے دشنام دہندہ میں کچھ فرق نہیں جب کہ وہ رسول کی رسالت کو مانتا ہو اور آپ کی بلندیٔ مرتبت کا قائل ہو ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس قسم کی توبہ سے مشتوم (جس کو گالی دی گئی) کی عزت و آبرو کو جو نقصان پہنچا ہے اس کا ازالہ نہیں ہو سکتا ۔ بلکہ اس کا یہ مطلب بھی لیا جا سکتا ہے کہ سزا کے خوف سے وہ ایسا کر رہا ہے ۔ اس طرح پہلی گالی کے آثار نمایاں رہیں گے ۔ اگر مشتوم نے کسی طرح بھی اپنا حق نہ لیا تو اس کا زخم مندمل نہیں ہو گا ۔
ان کا یہ قول کہ 'قتل رسالت کا حق ہے اور بشریت کے لئے بشری حقوق
ہیں ۔ اور توبہ حق رسالت کو قطع کر دیتی ہے ۔ ہم کہتے ہیں کہ ہم اسے تسلیم نہیں کرتے ۔ بلکہ بشر ہونے کے لحاظ سے آپ کو انسانوں پر فضیلت حاصل ہے ۔ یہ ایسی فضیلت جو اس امر کی مقتضی ہے کہ جو شخص آپ کو گالیاں دے اُسے قتل کیا جائے ۔ اور اگر قتل اس لئے واجب ہوا ہے کہ اُس نے نبوت پر تنقید کی ہے تو یہ دیگر انواع کفر کی طرح ہوا ۔ اور گالی بطور خاص قتل کی موجب نہیں ۔ ہم قبل ازیں ایسے دلائل پیش کر چکے ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ گالی بطور خاص قتل کی موجب ہے ۔ مگر یہ کفر کی دیگر انواع کی طرح نہیں ہے ۔ جو شخص رسولؐ کو گالی دینے والے اور منکر رسول کو گالی دہندہ کی سزا کو یکساں قرار دیتا ہے وہ کتاب وسنّت ، اجماع اُمت کے علاوہ عقل کی بھی مخالفت کرتا ہے ، اس نے دو متباین چیزوں کو یکساں ٹھہرایا ۔
اور قاذف پر جب قتل کے علاوہ اسّی کوڑے واجب نہیں ہوتے تو یہ اس امر کی واضح ترین دلیل ہے کہ قتل بطور خاص گالی کی سزا ہے ورنہ اس پر دو حق جمع ہو جاتے ۔ (۱) ایک اللہ کا حق اور وہ اس کے رسولؐ کی تکذیب ہے جو اس کے قتل کی موجب ہے ۔ (۲) دوسرا رسولؐ کا حق اور وہ اُسے گالی دینا ہے جو اس نظریہ کے مطابق کوڑے لگانے کا موجب ہے ۔ بنا بریں واجب تھا کہ توبہ سے پہلے اس پر دو حدیں جمع ہو جاتیں ۔ جس طرح اس صورت میں جب کہ کوئی شخص مرتد ہو جائے اور مسلمان پر بہتان بھی لگائے ۔ اور توبہ کے بعد اس پر حد قذف لگائی جائے گی ۔ اس طرح رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا حق تھا کہ جو شخص آپ کو گالی دے اور توبہ کرنے آئے تو اُسے صرف کوڑے مارے جائیں ۔ جیسا کہ سلطان وقت کا یہ حق نہیں ہے کہ رہزن جب توبہ کرنے کے لئے آئے تو اُسے صرف قصاص کی سزا اور اس قسم کی سزا دے جو محض بندوں کا حق ہے ۔
اگر اس بات کو ہم تسلیم بھی کر لیں کہ قتل رسالت کا حق ہے تو یہ ارتداد مغلّظ کی سزا ہے ، کیونکہ اس میں ضرر رسانی پائی جاتی ہے ۔ یا نقض مغلّظ کیونکہ اس میں بھی ضرر رسانی پائی جاتی ہے ۔ جس طرح نقض عہد کے ساتھ حرب و ضرب اور راہزنی کی
راستہ سے فساد بالفعل اور مسلم عورت کے ساتھ زنا شامل ہو جائے وغیرہ ذالک۔ اس لئے کہ قتل یہاں اللہ کا حق ہے اور اُس کے باوجود توبہ اور اسلام کے ساتھ ساقط نہیں ہوتا۔ اور یہ ایک ثابت شدہ حقیقت ہے خواہ ہم کہیں کہ اللہ کو گالی دینے والے کو توبہ کے بعد بھی قتل کیا جائے یا قتل نہ کیا جائے ۔ جیسا کہ یہ مسئلہ پیچھے گزر چکا ہے
مخالفین کا یہ قول کہ جب اسلام لائے گا تو وہ قتل جو رسالت سے متعلق ہے ساقط ہو جائے گا ۔ "
ہم کہتے ہیں کہ یہ قابل تسلیم نہیں ہے۔ اگر ہم اس کو اور اللہ کو گالی دینے کو یکساں قرار دیں پھر تو ظاہر ہے۔ اور اگر دونوں میں تفریق کریں تو یہ ایسی مشابہت ہے جو اللہ اور اس کے رسول سے جنگ کرنے والوں اور خدا کی زمین میں فساد کرنے والوں کے درمیان پائی جاتی ہے۔ اور ضرورت اس امر کی مقتضی ہے کہ ایسی چیزوں کو روکا جائے۔ جیسا کہ پیچھے گزرا۔ اگرچہ ہم اس بات کو تسلیم کریں کہ جو حق کفر یا ارتداد سے متعلق ہوتا ہے اس سے ساقط ہو جاتا ہے۔ مگر جو حق رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو گالی گلوچ نکالنے سے متعلق ہے وہ ساقط نہیں ہوتا کیونکہ یہ ایسا جرم ہے جو اس کو ترک کرنے کے التزام کے باوجود نفس رسول سے زائد ہے۔
اس لئے کہ ذمّی اس بات کا عہد کرتا ہے کہ وہ گالی نہیں دے گا ۔ مگر وہ اس بات کا پابند نہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کفر نہیں کرے گا۔ پھر جس چیز کو ترک کرنے کا اس نے عہد کیا ہے اس کو اس چیز کے ساتھ کیسے ملا دیا جائے جس کا ہم نے اس سے اقرار لیا ہے۔ خلاصہ یہ کہ رسالت کے خلاف یہ ایسی عہد شکنی ہے جو حرب ضرب اور فساد پر مشتمل ہے یا ارتداد ہے جو حرب و فساد کو متضمن ہے۔ ایسے آدمی سے قتل کا سقوط ممنوع ہے جیسا کہ پیچھے گزرا ۔
ان کا یہ قول کہ "حق بشریت، حق رسالت میں اور بندوں کا حق اللہ کے حقوق میں شامل ہو جاتا ہے ۔"
ہم اس کے جواب میں کہتے ہیں کہ یہ محض دعویٰ ہے۔ اگر یوں ہوتا تو رسول کریم
کے لئے گالی دینے والے کو معاف کرنا جائز نہ ہوتا اور نہ ہی توبہ کرنے والے کو سزا دینا جائز ہوتا اور نہ ہی اس بات کی ضرورت ہوتی کہ گالی کا بطور خاص سزا کے ضمن میں جداگانہ طور پر ذکر کیا جاتا۔ کیونکہ ہر شخص جانتا ہے کہ رسول کو گالی دینا آپ کے ساتھ کفر کرنے سے بھی قبیح تر جرم ہے۔ جب احادیث و آثار سے ثابت ہے کہ رسول کریم کو گالی دینے والے کو قتل کیا جائے۔ اس سے معلوم ہوا کہ گالی میں کوئی خاص بات پائی جاتی ہے اگرچہ کفر کے عموم میں یہ بھی شامل ہے۔
مزید براں بندے کا حق ہرگز اللہ کے حق میں منضم نہیں ہو سکتا۔ البتہ اس کا عکس موجود ہے۔ جیسا کہ قاتل اور قاذف کی سزا اللہ کی نافرمانی کرنے کی وجہ سے قصاص اور حد قذف میں مدغم ہو جاتی ہے۔ مگر یہ نہیں ہو سکتا کہ بندے کا حق اللہ کے حق میں شامل ہو جائے۔ یہ باطل ہے۔ کیونکہ جو شخص ایک جرم کا ارتکاب کرتا ہے جس کے ساتھ اللہ اور بندے کے دو حقوق وابستہ ہوتے ہیں۔ بعد ازاں اگر اللہ کا حق ساقط بھی ہو جائے تو بندے کا حق ساقط نہیں ہوگا۔ خواہ جرم کا تعلق ایک جنس کے ساتھ ہو یا دو جنسوں کے ساتھ۔ مثلاً کسی نے متفرق جرائم کا ارتکاب کیا جیسا کہ رہزنی کرتے ہوئے کسی کو قتل بھی کیا تو اس سے قتل کا حتمی ہونا اگرچہ ساقط ہو گیا تاہم اس سے قتل ساقط نہیں ہوا۔ اگر کسی نے چوری کی پھر قطع ید اس سے ساقط ہو گیا تو تاوان اس سے اجماعاً ساقط نہیں ہوگا۔ یہاں تک کہ ان کے نزدیک بھی تاوان ساقط نہ ہوگا جو کہتے ہیں کہ قطع اور تاوان دونوں جمع نہیں ہوتے۔
البتہ اگر ایک جرم کرے جس کے ساتھ دو حق وابستہ ہوں یعنی اللہ کا حق اور بندے کا حق ، اور دونوں حقوق کی سزا یکساں ہوں تو وہ ایک دوسرے میں مدغم ہو جائیں گے ۔ اور اگر سزاؤں کا تعلق دو جنسوں کے ساتھ ہو تو ایک کے دوسرے میں داخل ہونے میں اختلاف پایا جاتا ہے۔ پہلے کی مثال محارب کا قتل ہے۔ اس سے قتل لازم آتا ہے جو اللہ کا حق بھی ہے اور بندے کا بھی۔
اور ظاہر ہے کہ قتل میں تعدد نہیں ہو سکتا۔ جب اُسے قتل کر دیا گیا تو آدمی
کا کوئی حق اس کے ترکہ میں سے دی جانے والی دیت سے وابستہ نہ ہوگا ۔ اگرچہ وہ اس صورت میں دیت لے سکتا ہے جب قاتل کئی آدمیوں کو قتل کرے ۔ امام احمد ، شافعی و دیگر علماء کے نزدیک کسی ایک مقتول کی وجہ سے اُسے قتل کیا جائے گا ۔
اگر ہم کہیں کہ قتل عمد کی سزا متعین طور پر قصاص ہے تو یہ بات ظاہر ہے اور اگر کہیں کہ اس کی سزا دو چیزوں میں سے ایک ہے ، تو یہ وہاں ہے جہاں عفو کا امکان ہو ۔ مگر یہاں عفو کا امکان نہیں ہے اور اس کی سزا صرف قصاص ہے اور اس کو وصول کرنے والا حاکم وقت ہے ۔ اس لئے کہ اس کی ولایت عام تر ہے ۔
دوسرے کی مثال کسی کا مال چوری کرنا اور مال کو ضائع کرنا ہے ایسے شخص پر قطع ید کی حد لگائی جائے گی یہ اللہ کا حق ہے اور اس سے تاوان لیا جائے گا جو بندے کا حق ہے ۔ اسی لئے کوفہ والوں نے کہا ہے کہ آدمی کا حق قطع ید میں داخل ہو جاتا ہے اس لئے تاوان نہیں ہوتا ۔ اور اکثر علماء کہتے ہیں کہ آدمی کے مال کا تاوان ادا کیا جائے ۔ اگرچہ اس کا ہاتھ کاٹ دیا گیا ہو ۔ جب کوئی شخص کئی جرائم کا ارتکاب کرے اور ہر جرم ایک حدِ شرعی کا موجب ہو ۔ اور وہ سب حدود اللہ کے لئے ہوں تو بالاتفاق ایک دوسری حد میں داخل ہو جاتی ہیں ۔ اور اگر وہ کئی اجناس پر مشتمل ہوں اور ان میں سے ایک قتل بھی ہو تو جمہور کے نزدیک وہ ایک دوسری حد میں داخل ہو جائیں گی ۔ امام شافعی کے نزدیک بھی باہم داخل ہو جائیں گی ۔ اور اگر وہ کسی آدمی کا حق ہوں تو جمہور کے نزدیک ان میں تداخل نہیں ہوگا ۔ امام مالک کے نزدیک قتل میں تداخل ہوگا ماسوا حدِ قذف کے ۔
دشنام دہندہ کے بارے میں بلاشبہ ایک حق اللہ کا متعلق ہے اور دوسرا بندے کا ہم کہتے ہیں کہ ان دونوں کی سزا قتل ہے جو شخص ہم سے اختلاف رکھتا ہے وہ یا تو یوں کہے گا کہ بندے کا حق اللہ کے حق میں مدغم ہو گیا یا یہ کہ اس کی سزا کوڑے مارنا ہے ۔ جب اُسے قتل کیا گیا تو اس میں کوئی نزاع نہیں ماسوا اس شخص کے جو کہتا ہے کہ اس کی سزا کوڑے مارنا ہے ۔ یہ شخص مزعومہ اس کی مخالفت کرے گا ۔ مگر جب اللہ کا حق توبہ کے ساتھ ساقط ہو گیا تو پھر بندے کا حق کیسے ساقط ہو گا ۔ ہمیں اس کی کوئی نظیر
یا نہیں۔ بلکہ بظاہر اس کے خلاف ہے جیسا کہ ہم نے اس کا ذکر کیا ہے۔ حدیث نبویؐ بھی اس کے خلاف دلالت کرتی ہے اور حکم شرعی کو کسی اصل اور نظیر کے بغیر ثابت کرنا ناروا ہے۔ بلکہ اس کا خلاف اصول ہونا اس کے بطلان کی دلیل ہے۔
مزید برآں فرض کیجئے کہ یہ حد خاص اللہ کے لئے ہے پھر یہ کیوں کہا جاتا ہے کہ یہ توبہ کرنے سے ساقط ہو جاتی ہے۔ ہم قبل ازیں تحریر کر چکے ہیں کہ ارتداد اور نقض عہد کی دو قسمیں ہیں۔ (۱) مجرد، (۲) مغلظ۔ جو ارتداد اس طرح مغلظ ہو کہ اس میں مسلمانوں کی ضرر رسانی پائی جاتی ہو۔ اس کے مرتکب کو قتل کرنا ہر حال میں واجب ہے اگرچہ وہ توبہ کر لے۔ ہم نے بیان کیا تھا کہ گالی کا تعلق اسی قسم کے ساتھ ہے ۔ علاوہ بریں زیادہ سے زیادہ یہ کہا جا سکتا ہے کہ اس گالی کو اللہ کو گالی دینے کے ساتھ ملحق کر دیا جائے اس میں اختلاف پایا جاتا ہے جس کا ذکر آگے آئے گا اِنْ شَاءَ اللهُ تَعَالٰی
مسلم اور کافر کو گالی دینے کے بارے میں جو فرق کیا گیا ہے اگرچہ اس کی توجیہہ ممکن ہے جس طرح دونوں کے سقوط میں بھی مساوات پائی جاتی ہے، تاہم اس کی توجیہہ بھی کی جا سکتی ہے۔ مگر یہ بات اس کے معارض ہے جو کہا جاتا ہے کہ کافر ہر حال میں مسلم سے قتل کرنے کے زیادہ لائق ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ کافر اپنے کفر کی وجہ سے مباح الدم ہے۔ البتہ عہد کرنے کی وجہ سے اس کی جان بچ گئی۔ لہٰذا اس کا گالی دینا بلاشبہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے خلاف فساد فی الارض اور مسلمانوں کی شکست ہے۔ اس طرح کافر کی طرف سے فساد کا تحقق ہو چکا ہے۔ اور پکڑے جانے کے بعد اس کے توبہ کرنے پر اعتماد نہیں کیا جا سکتا۔ جس طرح دیگر محاربین اور خدا کی زمین میں فساد کرنے والوں کی توبہ پر اعتماد نہیں کیا جا سکتا۔
برخلاف اس شخص کے جس کا مسلم ہونا معلوم ہو، مگر اس سے بلا عقیدہ وارادہ گالی کا صدور ہوا جو کہ حماقت اور غلطی پر مبنی ہے۔ جب وہ اسلام کی طرف لوٹ آیا۔ حالانکہ وہ اس دین سے ہٹا نہیں بلکہ اس پر قائم ہے ۔ تو یہ نہیں کہا جائے گا
کہ وہ اسلام کے خلاف ہے۔ اس کی توبہ بالاولٰی قابل قبول ہے۔ اس لئے کہ اس کا گناہ چھوٹا ہے اور اس کی توبہ صحت سے قریب تر ہے۔
اس کا جواب یہ دیا جاتا ہے کہ مسلم کا اپنے اسلام کو ظاہر کرنا اسلام کی تجدید ہے۔ اور یہ اسی طرح ہے جیسے ذمی اسلام کا اظہار کرے۔ کیونکہ ذمی کو علانیہ گالی دینے سے اس کو دی گئی امان مانع تھی۔ جس طرح مسلم کو اُس کا عقد ایمان مانع ہے۔ جب مسلم ایسے عقد ایمان کا اظہار کرتا ہے جس کا فساد نمایاں ہو چکا ہے۔ اسی طرح ذمی ایسی عہد بندی کا اظہار کرتا ہے جس کا فساد کھل کر سامنے آچکا ہے۔ اس لئے کہ جس کی امان مشتبہ ہے اس کا معاہدہ بھی مشکوک ہے۔ ایسا شخص اپنے عہد کے لحاظ سے منافق ہے۔ جس طرح اس کی امان منافقانہ ہے۔
بسا اوقات ایسا آدمی جو تلوار دیکھ کر توبہ کرتا ہے اس کا حال مسلمانوں پر اس کی توبہ سے پہلے والی حالت سے بھی زیادہ مبہم ہوتا ہے۔ اس لئے کہ قبل ازیں وہ کفر کی ذلّت میں مبتلا تھا۔ اب وہ بظاہر مسلمانوں کی عزت میں شریک ہے۔ جبکہ اس کا نفاق اور خبث ظاہر ہے اور کسی طرح معلوم نہیں ہوتا کہ وہ دُور ہو چکا ہے علاوہ بریں اس نے گالی کو جو زندقہ سے معلّل ٹھہرایا ہے اس میں غوروفکر کرنے کی ضرورت ہے۔ اس لئے کہ گالی دینا ایک ایسا امر ہے جس کا ارتکاب اس نے علانیہ کیا اور اس سے کوئی بات ایسی ظاہر نہیں ہوئی جس سے معلوم ہوتا ہو کہ ، وہ قبل ازیں اُسے چھپانا چاہتا تھا اور یہ جائز امر ہے کہ وہ ایسی بات سے دوچار ہوا ہو جو ارتداد کی موجب ہوئی۔
البتہ اگر یہ حرکت اُس سے کئی بار صادر ہوئی ہو یا اس کے بدعقیدہ ہونے کے دلائل موجود ہوں تو اس کا زندیق ہونا ظاہر ہے۔ تاہم یہ کہا جا سکتا ہے کہ ہم اُسے دو وجہ سے قتل کرتے ہیں۔ ایک تو اس لئے کہ وہ زندیق ہے ، دوسرے اس لئے کہ وہ دشنام دہندہ ہے۔ جس طرح ہم ذمی کو اس لئے قتل کرتے ہیں کہ وہ نقض معاہدہ کا مرتکب ہے ، دوسرے اس لئے کہ وہ دشنام دہندہ ہے کیوں کہ مسلم اور ذمی
مابین جو فرق زندقہ کے لحاظ سے پایا جاتا ہے وہ دوسری علت میں ان کے جمع ہونے کو نہیں روکتا جو گالی کو قتل کا موجب قرار دینے کی مقتضی ہو۔ اگرچہ دشنام دہندہ اس کے بعد اپنے عقیدے کو صحیح بھی کرلے۔
بعض دفعہ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ گالی جب قتل کی موجب ہو تو گالی دہندہ کو قتل کیا جائے گا، اگرچہ گالی دیتے وقت اندر سے وہ صحیح العقیدہ ہو۔ مثلاً اللہ تعالیٰ کو گالی دینا اور حد قذف کوڑوں کے وجوب کے سلسلہ میں اور تمام انسانوں کو گالی دینے کی طرح۔
باقی رہا فرق ثانی جو اس امر پر مبنی ہے کہ گالی دینا اس امر کا موجب ہے کہ مسلم کو حد لگا کر قتل کیا جائے۔ کیونکہ اس کا فساد تجدید اسلام کے ساتھ ساقط ہونے سے زائل نہیں ہوتا۔ برخلاف کافر کے گالی دینے کے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہم اہل ذمہ کو علانیہ گالی دینے میں رعایت دیتے ہیں جب کہ وہ اس کے بعد مسلمان ہو جائیں۔ اس اثناء میں ہم انہیں گالی دینے کی اجازت دیتے ہیں جب کہ اس کے بعد اسلام قبول کریں۔ یہ تو اسی طرح ہے جیسے کہا جائے کہ ذمی کو بخوبی معلوم ہے کہ اگر وہ مسلم عورت کے ساتھ زنا کرے گا یا ڈاکہ ڈالے گا تو اُسے پکڑ کر قتل کیا جائے گا۔ اِلَّا یہ کہ وہ اسلام لائے جو اس کو اِن مفاسد سے روک دے۔ یا یہ کہ وہ اسلام لانے کا ارادہ رکھتا ہو اور جب اسلام لائے گا تو اُس کے سابقہ گناہ ساقط ہو جائیں گے۔
بظاہر اس کے معنی یہ ہیں کہ ذمّی محاربہ اور فساد کی انواع میں سے جو کچھ کہے یا کرے اُسے برداشت کیا جائے گا۔ اور وہ اس صورت میں جب کہ اس کا ارادہ یہ ہو کہ بعد ازاں وہ مسلمان ہو جائے گا اور مسلمان ہو بھی جائے۔ یہ بھی معلوم ہے کہ یہ روا نہیں۔ اس لئے کہ رسول کریمؐ کے خلاف گالی کا ایک لفظ بھی برداشت نہیں کیا جاسکتا، اگرچہ اس کی وجہ سے ہزاروں لوگ اسلام قبول کرلیں۔ دین کا ایسا اُبہہ جو دین کے خلاف کسی کو زبان طعن دراز
کہنے سے روک لے۔ اللہ اور اس کے رسول کو اس سے عزیز تر ہے کہ بہت سے لوگ اسلام میں داخل ہو جائیں مگر اسلام پامال اور ذلیل ہو۔
بہت سے ذمّی لوگ جو انبیاء کو گالیاں دیتے ہوں زندیق ہوتے ہیں جنہیں اس بات کی مطلقاً پرواہ نہیں ہوتی کہ کسی مذہب کو اپنا لیں۔ اُن کو اس بات کی پرواہ نہیں ہوتی کہ گالی دے کر اپنی مطلب براری کریں۔ پھر منافقوں کی طرح اسلام کا اعلان کردیں۔ اس سے اُن کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ نبی کی آبرو ریزی کریں۔ اس لئے کہ جب تک دشمن کو اس بات کی اُمید ہو کہ وہ کسی نہ کسی طرح زندہ رہے گا تو وہ اپنے مقصد کے اظہار سے کسی بھی وقت رُک نہیں سکے گا۔ اگر اس کے خلاف یہ بات ثابت ہوگئی، مقدمہ حاکم کی عدالت میں دائر کر دیا گیا اور اس کے قتل کا حکم ہو گیا تو وہ اسلام لانے کا اظہار کرے گا، ورنہ اُس کا مطلب پورا ہو گیا۔ جس فساد کو بھی پوری طرح زائل کرنے کا ارادہ کیا جائے اس کے فاعل کو پکڑنے کے بعد زندہ نہیں چھوڑا جائے گا۔ مثلاً زنا، رہزنی اور سرقہ وغیرہ۔ اگر شارع کا مقصد یہ ہو کہ وہ دارالاسلام کو کلمۂ کفر اور طعن فی الدین سے پاک کرے تو اس کی انتہائی کوشش یہ ہوگی کہ دارالاسلام کو ان بیہودہ اعمال سے پاک کرے۔ نیز وہ ان کے فاعل کو شدید ترین سزا دے گا۔
اس جواب کا خلاصہ یہ ہے کہ تمہیں معلوم ہو جائے کہ طعن فی الدین کا ظہور رسول کو گالی دینا و مثل ایں محض کفر سے قطع نظر عظیم تر فساد ہے۔ اس لئے محض کسی کے اسلام لانے سے یہ فساد نہیں مٹے گا۔
تیسرا فرق اُن کا یہ قول ہے کہ کافر گالی کے حرام ہونے کا پابند نہیں ہے؟ باطل ہے۔
اس لئے کہ رسول کریمؐ اور کسی مسلم کو گالی دینے، اُن کا خون بہانے اور مال ہتھیانے میں کچھ فرق نہیں ہے، اگر معاہدہ نہ ہوتا تو اس کے نزدیک ہمارے اور دوسرا مذہب رکھنے والے محاربین کے مابین کچھ فرق نہ ہوگا۔ ظاہر ہے کہ اُن کے نزدیک یہ سب
کام حلال ہیں۔ پھر معاہدہ کرنے کی وجہ سے یہ کام اس کے مذہب میں بھی اس پر حرام ہو گئے ۔ جب وہ ایسا کوئی کام کرے گا تو اس پر حد لگائی جائے گی، اگرچہ وہ اسلام قبول کرے ، خواہ اس کے فعل سے اس کا عہد ٹوٹے یا نہ ٹوٹے ۔ بعض اوقات بقاء عہد کے باوجود اس پر حد واجب ہوتی ہے ۔ مثلاً وہ چوری کرے یا مسلم پر بہتان لگائے ۔ گاہے اس کا عہد ٹوٹ جاتا ہے مگر اس پر حد واجب نہیں ہوتی تو وہ محاربین کی طرح ہو جاتا ہے ۔ بعض اوقات اس پر حد واجب ہوتی ہے اور اس کا عہد بھی ٹوٹ جاتا ہے مثلاً وہ رسول کریمؐ کو گالیاں دے یا مسلم عورت کے ساتھ زنا کرے ۔ یا مسلمانوں پر ڈاکہ ڈالے تو ایسے شخص کو قتل کیا جائے اگرچہ وہ اسلام لائے ۔
ایسے جرائم کی سزا حتمی طور پر قتل ہے جیسے اس آدمی کی سزا جو جنگ میں مسلمانوں کو قتل کرتا ہو ۔ یہ اس فساد کی سزا ہے جو اس نے انجام دیا ، حالانکہ معاہدہ کرکے اس نے ایسا فعل نہ کرنے کا عہد کیا تھا ۔ جب کہ ایسا فساد اس کے قتل کو واجب کرنے والا اور دوسرے لوگوں کے لئے عبرت پذیری کا سامان تھا تاکہ انہیں پتہ چل جائے کہ جو شخص ایسا کام کرے گا اُسے قتل کئے بغیر نہیں چھوڑا جائے گا ۔
مخالفین نے اپنے موقف کے اثبات میں جو دلائل دیئے تھے ، یہ ہے اُن کا جواب ۔! حالانکہ جو کچھ ہم قبل ازیں بیان کر چکے ہیں اس کی موجودگی میں ان جوابات کی حاجت نہ تھی ، بشرطیکہ کوئی شخص مآخذ سے آگاہ و آشنا ہو ۔
وَاللهُ سُبْحَانَهُ وَتَعَالَى أَعْلَمُ ܀
توبہ کے مواقع
ڈاکہ مارنے والے کی توبہ
اس باب میں تمام جرائم سے توبہ کا ذکر کیا گیا ہے ۔ چنانچہ ہم کہتے ہیں :-
ہمارے علم کی حد تک اس بات میں کوئی اختلاف نہیں کہ ڈاکو اگر پکڑا جانے سے قبل توبہ کر لے تو اللہ کی حد اس سے ساقط ہو جائے گی ۔ مثلاً قتل ، سولی دینا ، جلا وطن کرنا ، پاؤں کا کاٹنا ، اور عام علماء کے نزدیک ہاتھ کاٹنا ، ماسوا ایک وجہ کے اصحابِ شافعی کے نزدیک ، اللہ تعالیٰ نے قرآن میں اس کی تصریح کرتے ہوئے فرمایا :-
اِلَّا الَّذِيْنَ تَابُوْا مِنْ قَبْلِ اَنْ تَقْدِرُوْا عَلَيْهِمْ ، فَاعْلَمُوْا اَنَّ اللهَ غَفُورٌ رَّحِيْمٌ ”
(المائدۃ - ۳۴)
ماسوا اُن لوگوں کے جو تمہارے قدرت پانے سے پہلے توبہ کر لیں تو جان لو کہ اللہ بخشنے والا مہربان ہے ۔
ان پر قدرت پانے کا مطلب یہ ہے کہ ان پر حد لگانے کی قدرت حاصل ہو جائے یا تو اس طرح کہ شہادت قائم ہو یا اس کے اقرار سے ثابت ہو یا وہ مسلمانوں کے قبضہ میں ہو ۔ اگر پکڑے جانے سے قبل توبہ کر لیں تو حد اُن سے ساقط ہو جائے گی ۔
مرتد ، قاتل اور قاذف کی توبہ
جو ارتداد مجرد کا مرتکب ہوا ہو اور اس نے اس کا اعلان کیا تو اس کی توبہ عام علماء کے نزدیک مقبول ہے ۔ ماسوا حسن بصری ، اور ان لوگوں کے جو اُن کے ہم نوا ہیں ۔
باقی رہے قاتل اور قاذف تو اس میں کوئی اختلاف نہیں کہ ان کی توبہ سے حقوق العباد ساقط نہیں ہوتے ۔ مطلب یہ ہے کہ جب اس سے قصاص اور حدّ قذف کا مطالبہ
کیا جائے تو اُس کی تعمیل کرے ، اگرچہ قبل ازیں توبہ کر چکے ہوں ۔
زانی اور دیگر جرائم پیشہ لوگوں کی توبہ
ہمارے اصحاب علی الاطلاق زانی ، سارق اور شرابی کے بارے میں کہتے ہیں کہ اگر یہ لوگ حد لگانے سے قبل توبہ کر لیں ، تو آیا حد اُن سے ساقط ہو گی یا نہیں ؟ اس کے بارے میں دو روایات ہیں ۔ صحیح تر روایت یہ ہے کہ محض توبہ کرنے سے حد ساقط ہو جائے گی اور اس عمل کی اصلاح کا اعتبار نہیں کیا جائے گا ۔ دوسری روایت یہ ہے کہ حد ساقط نہیں ہوگی بلکہ اس کی تطہیر حد لگانے سے ہوگی اور یہی اس کی توبہ ہے ۔ بعض علماء نے یہ شرط عائد کی ہے کہ اگر حد کے امام کے نزدیک ثابت ہونے سے پہلے توبہ کرے (تو اس کی توبہ مقبول ہے) دونوں باتوں میں معنوی لحاظ سے چنداں فرق نہیں ۔
کیونکہ اس میں کوئی اختلاف نہیں پایا جاتا کہ حد اس جگہ ساقط نہیں ہوتی جہاں محارب کی حد اس کی توبہ سے ساقط نہیں ہوتی ۔ اگرچہ علمائے کرام کے الفاظ میں اس جگہ اختلاف پایا جاتا ہے ۔ اب سوال یہ ہے کہ آیا یہ اس لئے ہے کہ توبہ کی صحت کو تسلیم نہیں کیا گیا ۔ یا اس لئے کہ حد کو ساقط کرنے سے فساد لازم آتا ہے ؟ چنانچہ قاضی ابو یعلیٰ اور دیگر علماء کہتے ہیں ۔ اور وہ ان علماء میں سے ہیں جو دونوں روایتوں کو علی الاطلاق تسلیم کرتے ہیں ۔ کہ ”جب حاکم مجرم پر قابو پالے تو اس کی توبہ صحیح نہیں ۔ کیونکہ ہو سکتا ہے کہ حاکم کی سزا کے خوف سے وہ توبہ کر رہا ہو ۔ اسی لئے ہم زانی ، چور اور شرابی کی توبہ کے بارے میں کہتے ہیں کہ وہ صحیح نہیں ، جب کہ حاکم کو اُس کی حد کا پتہ چل گیا ہو اور وہ ثابت بھی ہو چکی ہو ۔ البتہ معاملہ حاکم کے پاس جانے سے پہلے توبہ کرنا صحیح ہے ۔ قاضی مذکور مزید کہتے ہیں کہ ابوبکر نے اس کا ذکر اپنی کتاب ”الشافی“ میں کیا ہے ۔
وہ فرماتے ہیں کہ زانی جب پکڑے جانے کے بعد توبہ کرلے تو اس کی توبہ یہ ہے کہ اُسے سنگسار کر کے یا کوڑے مار کر پاک کیا جائے ۔ اور اگر پکڑے جانے سے
قبل توبہ کر لے تو اس کی توبہ مقبول ہے۔ قاضی مذکور کا استدلال یہ ہے کہ نفس توبہ جس کو صحیح قرار دیا جائے ہر جگہ پر حد کو ساقط کرنے والی ہے۔ چنانچہ قاضی صاحب اور اُن کے ہم نوا کہتے ہیں کہ یہاں کسی قید و شرط کی ضرورت نہیں۔ ان کے اصحاب میں سے الشریف ابی جعفر اور ابی الخطاب کا موقف یہی ہے۔ ابوبکر اور دیگر علماء کا موقف یہ ہے کہ وہ ہر جگہ قدرت پانے سے قبل اور قدرت کے بعد میں فرق ملحوظ رکھتے ہیں اور قدرت کے بعد توبہ کو صحیح قرار دیتے ہیں۔ ان کے نزدیک حد لگانے سے توبہ کی تکمیل ہو جاتی ہے اسی لئے انہوں نے یہ شرط عائد کی ہے۔ لہٰذا حکم کے اعتبار سے ہر دو اقوال میں کچھ فرق نہیں۔
امام احمدؒ کے کلام میں بھی یہ قید موجود ہے۔ ابوالحارث نے ایک چور کے بارے میں جو توبہ کرنے آیا تھا اور اس کے پاس مسروقہ مال بھی موجود تھا اُن سے اسی طرح نقل کیا ہے۔ آپ نے یہ مال اُسے دے دیا اور ہنوز اس کا معاملہ حاکم کی عدالت میں نہیں پہنچا تھا۔ امام احمدؒ نے فرمایا کہ اس کا ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا۔ شعبی کہتے ہیں کہ توبہ کرنے والے کا ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا۔
حنبل اور مہنا نے بھی اس چور کے بارے میں جو توبہ کرنے کے لئے حاکم کے پاس آئے اسی طرح نقل کیا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ اس سے قطع ید کا حکم ساقط ہو جائے گا۔
المیمونی نے امام احمد سے اس شخص کے بارے میں نقل کیا ہے جو چار مرتبہ زنا کا اعتراف کرے۔ پھر حد لگانے سے قبل توبہ کرلے تو اُس کی توبہ مقبول ہوگی اور اس پر حد نہیں لگائی جائے گی۔ اُنہوں نے یہاں ماعز کا واقعہ نقل کیا ہے کہ جب اس پر پتھر برسنے لگے تو بھاگا۔ یہ سن کر رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ”تم نے اُسے چھوڑ کیوں نہ دیا۔“ المیمونی کہتے ہیں کہ میں نے ایک روز مجلس میں اس کے ساتھ مناظرہ کیا۔ اُنہوں نے کہا جب اپنے اقرار سے رجوع کرلے تو اُسے سنگسار نہیں کیا جائے گا۔ میں نے عرض کیا کہ اگر توبہ کرلے تو پھر؟ کہنے لگے اس کی توبہ یہ ہے کہ سنگسار کر کے اُسے پاک کیا جائے۔ وہ کہتے ہیں کہ ہم دونوں کے مابین کئی مرتبہ
گفتگو چلی تو انہوں نے یہی فرمایا کہ اگر مجرم رجوع کرلے تو اُسے حد نہ لگائی جائے ۔ اور اگر توبہ کرلے تو اس کی توبہ یہ ہے کہ کوڑے مار کر اُسے پاک کیا جائے ۔ قاضی (ابویعلیٰ) کہتے ہیں کہ مذہب صحیح یہ ہے کہ توبہ کرنے سے حد ساقط ہو جاتی ہے۔ جیسا کہ ابو الحارث اور حنبل اور مہنا نے ان سے نقل کیا ہے۔ خلاصہ بحث یہ ہے کہ حاکم وقت کے پاس شہادت کے ساتھ حد ثابت ہونے کے بعد اگر توبہ کا اعلان کیا تو حد اس سے ساقط نہیں ہوگی ۔ اور اگر پکڑے جانے سے قبل اور اس اقرار کے بعد توبہ کی جس سے وہ رجوع بھی کرسکتا ہے تو اس میں دو روایتیں ہیں۔ بہت سے ائمہ مذہب نے اس کی تصریح کی ہے۔ ان میں سے الشیخ ابو عبداللہ بن حامد بھی ہیں۔ انہوں نے کہا جہاں تک زنا کا تعلق ہے اس میں کوئی اختلاف نہیں کہ یہ ایسا معاملہ ہے جو اس کے اور اللہ کے درمیان ہے اور اس کی توبہ اس سے صحیح ہے۔
جب زانی اس حالت میں توبہ کرے کہ اس کا معاملہ حاکم کی عدالت میں پہنچ چکا ہو تو اس کے بارے میں صرف ایک ہی قول ہے کہ اس کی حد ساقط نہیں ہوتی ۔ اگر حاکم کی موجودگی میں توبہ کی تو اس کے بارے میں غور کیا جائے گا۔ اگر اس نے خود اقرار کیا ہے تو اس میں دو روایتیں ہیں۔ اور اگر شہادت سے ثابت ہو تو اس کے بارے میں ایک ہی قول ہے کہ حد ساقط نہیں ہوتی۔ اس لئے کہ جب اس کے خلاف زنا کی شہادت قائم ہوچکی ہے ۔ گواہ کی بنا پر اس کا فیصلہ واجب ہے اور اقرار شہادت سے مختلف ہے۔ اس لئے کہ جب وہ اقرار سے رجوع کرے گا تو اس سے قبول کیا جائیگا۔
سرقہ کے بارے میں فرماتے ہیں :۔ ”اس میں کوئی اختلاف نہیں کہ اللہ کا حق توبہ کرنے سے ساقط ہوجاتا ہے، خواہ قطع ید سے قبل توبہ کی ہو یا اس کے بعد۔ اختلاف اس شخص کے بارے میں حد قائم کرنے سے پہلے توبہ کرلے۔ اگر یہ واقعہ حاکم کی عدالت میں مقدمہ لے جانے سے پہلے پیش آئے تو حد ساقط ہو جاتی ہے، خواہ معاملہ حاکم کی عدالت میں پہنچا ہو یا نہیں۔ اور اگر حاکم کے
پاس جانے کے بعد توبہ کرے تو حد اس سے ساقط نہیں ہوتی۔ اس لئے کہ وہ ایسا حق ہے جو حاکم کے ساتھ وابستہ ہے۔ اس لئے اُسے ترک کرنا جائز نہیں۔ اسی طرح محارب جب اللہ کے حق میں توبہ کرے۔ ہم قبل ازیں بیان کر چکے ہیں کہ جب ہم نے کہا کہ رہزنوں کے سوا دوسروں سے حد توبہ کرنے سے ساقط ہو جاتی ہے تو محض توبہ ہی کافی ہے۔ (مالکی) مذہب میں یہی بات مشہور ہے جس طرح یہ رہزنوں کے بارے میں کافی ہے۔ اس کے بارے میں ایک دوسری وجہ بھی ہے، اور وہ یہ کہ توبہ کرنے کے ساتھ ساتھ اصلاح عمل بھی ضروری ہے۔ بنا بریں کہا گیا ہے کہ اس میں اتنی مدت کے گزر جانے کا اعتبار کیا جائے گا جس میں اس کی توبہ کی سچائی اور اصلاح نیت کا حال معلوم کیا جا سکتا ہے۔ اس کے لئے کوئی مدت متعین نہیں کی گئی ہے۔ کیونکہ تعیین مدت کے لئے دلیل کی ضرورت ہے۔ بدعت کے داعی کی توبہ کے لئے ایک سال کی مدت مقرر کرنا کافی ہے۔
جیسا کہ امام احمدؒ نے ضبیغ بن عسل کے واقعہ میں حضرت عمرؓ کے حکم کی تعمیل کرتے ہوئے اس بات کی تصریح کی ہے۔ ضبیغ نے حضرت عمرؓ کے یہاں توبہ کی، پھر آپ نے اس کو بصرہ کی طرف نکال دیا اور مسلمانوں کو حکم دیا کہ اس سے بات چیت نہ کریں۔ جب ایک سال گزر گیا اور اس سے نیکی کے سوا کسی بات کا صدور نہ ہوا تو آپ نے مسلمانوں کو اس سے بات چیت کرنے کا حکم دیا۔ یہ واقعہ صحابہؓ میں مشہور ہے اور ہمارے اکثر اصحاب کا طریقہ یہی ہے۔
ایک طریقہ یہ ہے کہ وہ اس توبہ میں جو اقرار سے پہلے کی جائے اور اس توبہ میں جو اقرار کے بعد کی جائے، فرق کرتے ہیں۔ اقرار کی صورت یہ ہے کہ اپنے جرم کا اقرار کرے اور توبہ کرلے۔ اس لئے کہ امام احمد رحمہ اللہ توبہ کرنے والے سے حد کو ساقط کرتے ہیں۔ اگر اقرار کرنے کے بعد توبہ کرے تو امام احمد اس کی حد کے ساقط ہونے کو تسلیم نہیں کرتے۔ انہوں نے اپنے قول سے رجوع کر لیا تھا۔
اندریں مسئلہ کہ توبہ کرنے سے تمام حدود ساقط ہو جاتی ہیں۔ ماسوا محارب کے امام شافعی رحمہ اللہ کے دو اقوال ہیں۔ صحیح تر قول یہ ہے کہ حد ساقط ہو جاتی ہے۔ مگر محارب کی حد اس صورت میں ساقط ہوتی ہے جب وہ پکڑا جانے سے قبل توبہ کا اظہار
کرے۔ دوسرے لوگوں کی حد توبہ سے ساقط نہیں ہوتی جب تک کہ اس کام کی اصلاح اتنی مدت میں نہ کی جائے جس پر اعتماد کیا جاسکتا ہو۔ بعض لوگ کہتے ہیں کہ اس کی مدت ایک سال ہے۔
امام شافعی کے عراقی اصحاب نے اسی طرح کیا ہے۔ بعض خراسانی علماء نے کہا ہے کہ فسق پانے کے بعد محارب اور دوسرے لوگوں کی توبہ کے بارے میں دو قول ہیں۔ اور وہ بھی اس صورت میں جب کہ اس کام کی اصلاح کر لی ہو۔ اشکال اس صورت میں پیدا ہوتا ہے جب کہ حد لگانے کے لئے اسے پکڑا جائے تو توبہ کا اظہار کرے تو اقامتِ حد کو موخر نہیں کیا جائے گا جب تک وہ اپنے عمل کی اصلاح نہ کر لے۔ امام ابو حنیفہ اور مالک کا مذہب یہ ہے کہ حد توبہ کرنے سے ساقط نہ ہوگی۔ بعض علماء نے ذکر کیا ہے کہ اس پر اجماع منعقد ہوچکا ہے۔ دراصل اجماع اس توبہ کے بارے میں ہوا ہے جو ثبوتِ حد کے بعد کی جائے۔
جب گالی شہادت سے ثابت ہو تو دشنام دہندہ کی توبہ کا کیا حکم ہے؟
اب ہم اس کا خلاصہ بیان کرتے ہیں۔ جو شخص رسول کریم کو گالی دے اور حاکم کو اس کی شکایت کر دی جائے اور یہ بات شہادت سے ثابت ہو جائے پھر توبہ کرے تو حد اس سے ساقط نہیں ہوگی۔ یہ ان علماء کے نزدیک ہے جو کہتے ہیں کہ ”حد“ لگا کر اسے قتل کیا جائے، خواہ اس نے توبہ شہادت دینے سے قبل کی ہو یا شہادت کے بعد۔ اس لئے کہ یہ توبہ اس نے پکڑے جانے کے بعد کی ہے۔ تو یہ اسی طرح ہے جیسے کوئی رہزن، زانی اور چور اس حال میں توبہ کرلے۔ اگر حاکم کی عدالت میں مقدمہ لے جانے کا ارادہ کرنے کے بعد توبہ کرے اور اسے شہادت کے ذریعے ثابت کرنا ممکن ہو تب بھی یہی صورت ہے اس میں کوئی شبہ نہیں ہے۔ اس میں ذمی اور مسلم دونوں یکساں ہیں۔ جیسا کہ کہا گیا ہے کہ ان کو حد لگا کر قتل کیا جائے۔ جیسا کہ ہم بیان کرچکے ہیں۔
مگر
گالی کا اقرار کرنے کے بعد توبہ کرنا
اگر گالی کا اقرار کرے پھر توبہ کرے یا اس سے توبہ کرنے کیلئے آئے تو مالکیہ کا مذہب یہ ہے کہ اُسے بھی قتل کیا جائے۔ اس لئے کہ یہ بھی شرعی حدود میں سے ایک حد ہے جو اُن کے نزدیک پکڑے جانے سے قبل یا بعد توبہ کرنے سے ساقط نہیں ہوتی۔ زندیق اگر توبہ کرنے کیلئے آئے تو اس کے بارے میں ان کے دو قول ہیں۔ مگر قاضی عیاض کہتے ہیں کہ ان کا موقف قوی ہے اور اس میں اختلاف کی گنجائش نہیں۔ اس لئے کہ یہ ایک ایسا حق ہے جس کا تعلق (براہِ راست) نبی کے ساتھ ہے اور آپ کی وساطت سے آپ کی اُمت کے ساتھ وابستہ ہے۔ یہ توبہ سے اُسی طرح ساقط نہیں ہوتا جس طرح دوسرے حقوق العباد ، جو لوگ اُسے حد لگا کر قتل کرنے کے قائل ہیں وہ بھی جمہور کی طرح یونہی کہتے ہیں۔ ان کا قول ہے کہ توبہ کسی حال میں بھی حد کو ساقط نہیں کرتی ۔ امام شافعی کا ایک قول یہی ہے اور امام احمد سے بھی ایک روایت اسی طرح منقول ہے۔
مگر دونوں مذہبوں میں مشہور بات یہ ہے کہ پکڑنے سے قبل توبہ حد کو ساقط کرتی ہے۔ ہم پہلے ذکر کر چکے ہیں کہ یہ قول حدود اللہ کے بارے میں ہے۔ باقی رہے حقوق العباد مثلاً قصاص اور حد قذف تو وہ توبہ کرنے سے ساقط نہیں ہوتے ۔ بنا بریں قتل اُس سے ساقط نہ ہوگا۔ اگرچہ پکڑے جانے سے پہلے توبہ کر لے جس طرح قصاص میں قتل کرنا رہزن کے پکڑے جانے سے پہلے توبہ کرنے سے ساقط نہیں ہوتا ۔ اس لئے کہ یہ ایک مرحوم آدمی کا حق ہے۔ اس لئے وہ قصاص اور حد قذف کے مشابہ ہے۔ یہ قاضی ابو یعلیٰ اور دیگر علماء کا قول ہے۔
یہ اس بات پر مبنی ہے کہ اُس کو قتل کرنا آدمی کا حق ہے اور آدمی نے اُسے معاف نہیں کیا ۔ اور یہ صرف معاف کرنے سے ساقط ہوتا ہے ۔ یہ ان لوگوں کا قول ہے جو اللہ کو گالی دینے اور رسول کو گالی دینے میں فرق کرتے ہیں ۔ جو لوگ دونوں کو یکساں قرار دیتے ہیں ۔ وہ کہتے ہیں کہ حدود شرعیہ قبل از قدرت توبہ کرنے سے ساقط ہو جاتی ہیں، ان کے نزدیک قتل یہاں ساقط ہو جائے گا ۔ اس لئے کہ یہ ان حدود میں
سے ہے جو اللہ کے لئے واجب ہیں اور اس کا ارتکاب کرنیوالے نے پکڑے جانے سے قبل توبہ کر لی ہے ۔ اور یہی مقصد ہے اس شخص کا جو کہتا ہے کہ " اس کی توبہ اُسے اس کے درمیان اور اللہ کے مابین فائدہ دیتی ہے اور رسولؐ کا حق اس سے آخرت میں ساقط ہو جائے گا ۔" ہمارے اصحاب اور دیگر علماء نے بھی اس کی تصریح کی ہے ۔ اس لئے کہ وہ توبہ جو اس سے اللہ اور بندے کے حق کو ساقط کرتی ہے اس وقت
دشنام دہند
عالم وجود میں آگئی تھی جب کہ اقامتِ حد کے لئے ابھی اُسے پکڑا نہیں گیا تھا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس حد کو کوئی اس سے معاف نہیں کر سکتا ۔ اگر توبہ اس کو ساقط نہ
اہل
کر سکتی ہو تو اس سے لازم آتا ہے کہ بعض حدود ایسی بھی ہیں جن کو نہ تو پکڑے
تھا کہ اس تہ
جانے سے قبل توبہ ساقط کر سکتی ہے اور نہ معافی دینے سے ساقط ہوتی ہیں اور اس
تاکہ مسئلہ ن
کی کوئی نظیر نہیں ۔ البتہ اگر رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بقیدِ حیات ہوتے تو پھر یوں
گالی دی
کہنا بجا تھا کہ حد کو کوئی چیز کسی حال میں بھی ساقط نہیں کر سکتی ماسوا معاف کرنے کے ۔
دشنام د
اگر گالی دینے والا پکڑا گیا اور اس نے گالی دینے کا اقرار کر لیا تو پھر توبہ کی ، یا
ہو ۔ یہ فت
گالی کا اقرار کیا مگر توبہ کا اعلان نہ کیا اس کے بعد توبہ کی تو یہ اس بات پر مبنی ہے کہ وہ
عمل سے
اس اقرار سے رجوع کر سکتا ہے ۔ اگر اس کے رجوع کو قبول نہ کیا جائے تو بلا توقف اس پر حد قائم کی جاسکتی ہے ۔ اگر اس کے رجوع کو قبول کیا جائے اور توبہ کیلئے آنے والے سے حد ساقط کر دی جائے تو اس کی حد کے سقوط میں سابق الذکر دو وجوہ
عظیم امام
ہیں ۔ اور اگر توبہ کے لئے آنے والے پر حد قائم کی جائے تو اس بناء پر یہ اُولیٰ ہے اگر کوئی ذمّی مسلمان ہو کر آئے اور اپنے جرم کا اعتراف کرتا ہو یا اپنے اقرار کے بعد
دے یا
اسلام لائے تو اس کے بارے میں بھی یہی قول ہے ۔
وجہ سے
جو کچھ ہم نے تحریر کیا ہے یہ گالی سے توبہ کرنے سے متعلق ہے ۔ اس ضمن میں جو کچھ ہمیں معلوم تھا اور جس کو اللہ تعالیٰ نے ہمارے لئے آسان بنایا وہ ہم نے ذکر کر دیا ۔
سے تھے
اب وقت آگیا ہے کہ ہم چوتھا مسئلہ ذکر کریں ۔
چنانچہ ہم کہتے ہیں :۔
والا ا
کی وعی
شخص
مسئلہ چہارم
دشنام مذکور کے بارے میں اور اس کے اور کفر مجرد کے مابین فرق و امتیاز
اصل مسئلہ پر روشنی ڈالنے سے پہلے ایک تمہید کی ضرورت ہے۔ مناسب یہ تھا کہ اس تمہید کو پہلے مسئلہ کے آغاز میں ذکر کیا جاتا ۔ تاہم یہاں بھی اس کا ذکر مناسب ہے تاکہ مسئلہ ہذا کی حکمت و مصلحت روشن ہو جائے۔
گالی دینا ظاہراً و باطناً کفر ہے:
ہم کہتے ہیں کہ اللہ یا اس کے رسولؐ کو گالی دینا ظاہراً و باطناً کفر ہے۔ خواہ دشنام دہندہ اس کو حلال سمجھتا ہو یا حرام یا اس کے بارے میں کوئی عقیدہ بھی نہ رکھتا ہو۔ یہ فقہا اور اہل سنت کا مذہب ہے جو اس بات کے قائل ہیں کہ ایمان قول و عمل سے عبارت ہے
امام ابو یعقوب اسحاق بن ابراہیم حنظلی المعروف بابن راہویہؒ جو کہ ایک عظیم امام اور امام احمد و شافعی کے ہم پلہ عالم تھے، فرماتے ہیں :- اس بات پر تمام مسلمانوں کا اجماع ہے کہ جو شخص اللہ یا اس کے رسولؐ کو گالی دے یا خدا کی نازل کردہ کسی چیز کو رد کر دے یا اللہ کے کسی نبی کو قتل کر دے تو وہ اس وجہ سے کافر ہو جاتا ہے ۔ اگرچہ وہ اللہ کے نازل کردہ (احکام) کو جانتا ہو۔
محمد بن سحنونؒ جو کہ اصحابِ مالک میں سے ایک امام اور اس طبقہ کے علماء میں سے تھے فرماتے ہیں :- ”اس بات پر علماء کا اجماع ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو گالی دینے والا اور آپؐ کی توہین کرنے والا کافر ہے۔ اس کے بارے میں عذابِ خداوندی کی وعید قائم ہے۔ اور اس کے بارے میں شرعی حکم یہ ہے کہ اُسے قتل کیا جائے جو شخص اس کے کفر اور عذاب میں شک کرے وہ کافر ہو جاتا ہے۔
متعدد ائمہ نے اس قسم کی تصریحات کی ہیں۔ امام احمد (کے بیٹے) عبد اللہ
اُس شخص کے بارے میں اُن سے روایت کرتے ہیں کہ جو دوسرے آدمی سے کہے " اے فلاں فلاں کے بیٹے یعنی تو اور تیرا پیدا کرنے والا ، تو ایسا شخص مرتد ہے اور ہم اُسے قتل کریں گے ۔ عبداللہ اور ابوطالب کی روایت میں ہے کہ جو شخص رسول کریمؐ کو گالیاں دے اُسے قتل کیا جائے ۔ اس لئے کہ جب اس نے گالی دی تو وہ اسلام سے برگشتہ ہو گیا ۔ کوئی مسلم رسول کریمؐ کو گالی نہیں دے سکتا ۔ پس معلوم ہوا کہ یہ شخص مرتد ہے ۔ اور ایک مسلم اس بات کا تصور بھی نہیں کر سکتا کہ وہ مسلم ہوتے ہوئے رسول کریمؐ کو گالی دے ۔
امام شافعیؒ سے نقل کیا گیا کہ اُن سے اس شخص کے بارے میں پوچھا گیا جو آیاتِ خداوندی کا مذاق اُڑائے تو اس کا کیا حکم ہے ؟ فرمایا وہ کافر ہے ۔
قرآن میں فرمایا :- " کہہ دیجئے کہ کیا تم اللہ اور اس کے رسولؐ اور اس کی آیات کا مذاق اُڑاتے تھے ۔ اب معذرت مت کیجئے ۔ تم ایمان لانے کے بعد کافر ہو چکے ہو ۔ "
(التوبۃ ۶۵ - ۶۶)
ہمارے اصحاب اور دیگر علماء نے کہا کہ :- " جو شخص اللہ کو گالی دے وہ کافر ہو گیا ، خواہ مذاق کرتا ہو یا سنجیدہ ، اس کی دلیل مذکورہ صدر آیت ہے ۔ یہی بات درست اور قطعی ہے ۔"
قاضی ابویعلیٰ اپنی کتاب " المعتمد " میں لکھتے ہیں ۔ " جو شخص اللہ یا اس کے رسولؐ کو گالی دے تو وہ کافر ہو جاتا ہے خواہ اس کو حلال سمجھتا ہو یا نہ سمجھتا ہو ۔ اگر کہے کہ میں اس کو حلال نہیں سمجھتا تو ظاہری اعتبار سے اس کی بات کو تسلیم نہیں کیا جائے گا اور وہ مرتد ہو جائے گا ۔ ان میں سے ایک ہی روایت منقول ہے ۔ اس لئے کہ ظاہرا اس کے خلاف ہے جو اس نے کہا ۔ کیونکہ اللہ اور اس کے رسول کو گالی دینے کا اس کے سوا اور کوئی مقصد نہیں کہ وہ اللہ کی عبادت کا عقیدہ نہیں رکھتا اور رسول کریمؐ جو شریعت لائے وہ اس کی تصدیق نہیں کرتا جب
شرابی، قاتل اور چور کہے کہ میں ان کاموں کو حلال نہیں سمجھتا تو اس کی تصدیق کی جائے گی۔ دونوں میں یہی فرق ہے۔ اس لئے کہ ان امور کو حرام سمجھنے کے باوجود ان کا ارتکاب کرنے میں اس کی ایک غرض ہے اور وہ فوری لذت کا حصول ہے۔
وہ مزید فرماتے ہیں ۔ " کہ جب ہم اسے کافر قرار دیں گے تو ہم اس کے بارے میں یہ ظاہری فیصلہ کریں گے۔ جہاں تک باطن کا تعلق ہے تو جو بات اس نے کہی اگر وہ اس میں سچا ہے تو وہ مسلم ہے اور ہم زندیق کے بارے میں کہتے ہیں کہ ظاہری اعتبار سے ہم اس کی توبہ قبول نہیں کریں گے ۔
قاضی (ابو یعلیٰ) نے فقہاء سے نقل کیا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو گالیاں دینے والا اگر اسے حلال سمجھتا ہو تو کافر ہو جاتا ہے۔ اور اگر حلال نہ سمجھتا ہو تو فاسق ہو جاتا ہے اور اُسے صحابہؓ کو گالیاں دینے والے کی طرح کافر قرار نہیں دیا جائے گا۔ یہ اسی کی نظیر ہے جو نقل کیا جاتا ہے کہ عراق میں بعض فقہاء نے خلیفہ ہارون کو اس شخص کے بارے میں فتوےٰ دیا جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو گالیاں دے کہ اُسے کوڑے مارے جائیں ۔ امام مالک نے اس سے انکار کیا ہے اور اس فتویٰ کو رد کر دیا۔ جس طرح ابو محمد ابن حزم نے نقل کیا ہے کہ بعض لوگ رسول کریم کی توہین کرنے والے کو کافر نہیں ٹھہراتے۔
قاضی عیاض نے فقہائے عراق کے اس واقعہ اور امام ابن حزم کے اختلاف کو ذکر کرنے کے بعد اس مسئلہ پر علماء کے اجماع کا ذکر کیا ہے ۔ اُنہوں نے لکھا ہے کہ ان لوگوں کے فتوےٰ پر اعتماد نہیں کیا جا سکتا، اس لئے کہ یہ لوگ حرص و ہوا کا شکار اور جادۂ مستقیم سے برگشتہ تھے۔ یا یہ کہ فتویٰ ان کلمات کے بارے میں تھا جس کے گالی ہونے میں اختلاف ہے۔ یا یہ فتویٰ اس آدمی کے بارے میں تھا جو توبہ کر چکا تھا۔ وہ ذکر کرتے ہیں کہ دشنام دہندہ اگر گالی کا اقرار کرے اور اس سے توبہ نہ کرے تو کافر ہونے کی وجہ سے اُسے قتل کیا جائے کیونکہ اس کا قول یا تو صریح کفر ہے جیسے تکذیب یا یہ کلمات استہزاء و مذمت پر مشتمل ہے۔ پس اس کا اعتراف
کرنا اور ان کلمات سے توبہ نہ کرنا اس امر کی دلیل ہے کہ وہ ان کو حلال سمجھتا ہے اور یہ بھی کفر کو مستلزم ہے ۔ وہ کہتے ہیں کہ شخص بلا اختلاف کافر ہے ۔ قاضی عیاض دوسری جگہ فرماتے ہیں :۔
"جو اہلِ علم اس کو توبہ کا مطالبہ کئے بغیر قتل کرتے ہیں وہ اُسے ارتداد نہیں سمجھتے تاہم حد لگا کر وہ اُسے قتل کرنے کے قائل ہیں ۔ ہم یہ بات کہتے ہیں حالانکہ اس کے خلاف جو شہادت دی گئی ہے وہ اس سے انکار کرتا ہے یا اس سے باز رہنے اور توبہ کرنے کا اظہار کرتا ہے ۔ ہم اُسے حد لگا کر اسی طرح قتل کرتے ہیں جس طرح زندیق کو توبہ کرنے کے بعد بھی قتل کرتے ہیں ۔ ہم اگرچہ اس کو کافر قرار دے کر قتل کرتے ہیں ۔ تاہم اس کے بارے میں ہمارا یہ قطعی فیصلہ نہیں ہے ۔ اس لئے کہ وہ توحید کا اقرار کرتا ہے اور جو شہادت اس کے خلاف دی گئی وہ اس کو تسلیم نہیں کرتا یا اس لئے کہ بزعم خویش اُس نے یہ کام غفلت سے گناہ سمجھ کر کیا ہے ، اور وہ اس سے باز آنے کا ارادہ رکھتا ہے اور اس پر نادم ہے ۔"
قاضی مذکور مزید فرماتے ہیں کہ :۔
"جو شخص جانتا ہو کہ اُس نے حلال سمجھتے ہوئے گالی دی ہے تو اُس کے کافر ہونے میں کوئی شبہ نہیں ۔ جو گالی اس نے دی ہے اگر وہ فی نفسہ کفر ہے مثلاً تکذیب یا کفر پر مشتمل ہے تب بھی یہی فیصلہ ہے ۔ اور یہ وہ بات ہے جس میں کوئی اشکال نہیں ۔ اسی طرح وہ شخص جو توبہ کا اظہار نہ کرے اور جو شہادت اس کے خلاف دی گئی اس کا اعتراف کرتا ہو اور اس پر جما ہوا ہو تو ایسا شخص اپنے قول کی وجہ سے اور اس لئے کافر ہے کہ وہ اللہ اور اس کے رسولؐ کی عزت و حرمت کے تقدس کو پامال کرتا ہے ۔ اس سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ جو شخص حلال سمجھ کر گالی دے وہ اس کی وجہ سے کافر ہو جاتا ہے ، اگرچہ فی نفسہ یہ صریح تکذیب نہیں ہے ۔
قاضی ابویعلیٰ کی بدترین لغزش
یہاں ایک بات کو تحریر کرنا از بس ناگزیر ہے ۔ یہ جاننا ضروری ہے کہ یوں کہنا کہ گالی دینے والے کا کفر درحقیقت اس وجہ سے ہے کہ وہ گالی کو حلال سمجھتا ہے، ایک بدترین لغزش اور قبیح ترین بکواس ہے ۔ اللہ تعالیٰ قاضی ابو یعلیٰ پر رحم فرمائے ۔
انہوں نے متعدد جگہ وہ بات کہی ہے جو اس بات کے خلاف ہے جو انہوں نے یہاں کہی ہے۔ جو لوگ اس گڑھے میں گرے اس کی وجہ وہ دلائل تھے جو انہوں نے متاخرین متکلمین سے اخذ کئے۔ اور وہ متاخرین جہمیہ تھے جو متقدمین جہمیہ کے نقش قدم پر چلتے ہوئے یہ کہتے ہیں کہ ایمان محض تصدیق قلبی کا نام ہے، اگرچہ اقرار باللسان اس کے ساتھ شامل نہ بھی ہو اور نہ قلبی اور اعضاء و جوارح کے اعمال کا اس کے ساتھ کچھ عمل دخل ہو ۔
ہشیم جو کچھ قاضی ابو یعلیٰ سے نقل کیا ہے اس کے آگے رقمطراز ہیں :۔ "بنابریں اگر کافر کہے کہ میں دل سے اللہ کی توحید و معرفت کا معتقد ہوں، مگر میں شہادتین کا اُسی طرح اقرار نہیں کرتا جس طرح میں دیگر عبادات پر تغافل شعاری کی وجہ سے عمل پیرا نہیں ہوں۔ بظاہر ایسے شخص کو مسلم قرار نہیں دیا جائے گا ۔ البتہ باطناً وہ مسلم ہے۔ امام احمد کا یہ قول کہ جو شخص کہتا ہے کہ معرفت دل کو فائدہ دیتی ہے اگرچہ زبان سے اس کا اقرار نہ کیا جائے، وہ جہمی ہے ۔" اس کو دو وجوہ میں سے کسی ایک وجہ پر محمول کیا جائے گا :۔
- ١۔ ایک یہ کہ ظاہری طور سے وہ جہمی ہے۔
- ٢۔ دوسرے یہ کہ وہ عناد کی وجہ سے شہادتین کا اقرار نہیں کرے گا۔"
امام احمد اس کے اثبات میں یہ دلیل دیتے ہیں کہ ابلیس اپنے دل سے اپنے رب کو پہچانتا تھا مگر مومن نہ تھا۔ ظاہر ہے کہ ابلیس کا اعتقاد یہ تھا کہ امر خداوندی کی تعمیل میں سجدہ اس پر واجب نہیں۔ قاضی ابو یعلیٰ نے کئی جگہ ذکر کیا ہے
کہ کوئی شخص اس وقت تک مومن نہیں ہوسکتا۔ جب تک قلبی تصدیق کے ساتھ اپنی زبان سے اقرار نہ کرے۔ نیز یہ کہ ایمان قول و عمل کے مجموعے کا نام ہے، جیسا کہ تمام ائمہ کا مذہب ہے۔ چنانچہ امام مالک، سفیان، اوزاعی، لیث، شافعی، احمد اسحاق، اور ان سے قبل و بعد سب علماء کا یہی موقف ہے۔ ہمارا مقصد یہاں اس مسئلہ پر تفصیلی بحث کرنا نہیں ہے۔ بلکہ ہماری غرض یہ ہے کہ اس مسئلہ کے مخصوص مسائل کا تذکرہ کیا جائے۔ اس کے چند وجوہ ہیں :-
اُن علماء کی تردید جو کہتے ہیں کہ صرف گالی کو حلال سمجھنے والا کافر ہوتا ہے
وجہ اوّل | فقہاء سے جو نقل کیا گیا ہے کہ صرف گالی کو حلال سمجھنے والا کافر ہوگا ورنہ نہیں۔ مگر اس کی کوئی اصل نہیں۔ قاضی ابو یعلیٰ نے اس کو بعض متکلمین سے اور اُنہوں نے اس کو فقہاء سے نقل کیا ہے۔ متکلمین نے اس کو فقہاء سے بدیں زعم نقل کیا ہے کہ یہ ان کے اصول کے مطابق ہے۔ یا انہوں نے ایسے لوگوں سے سنا جن کو فقہ کی طرف منسوب کیا ہے مگر ان کا قول معتبر نہیں ہے۔ ہم نے ائمہ فقہاء کی تصریحات اور ان کے اجماع کو ایسے لوگوں سے نقل کیا ہے جو اِن کے مذاہب کو سب لوگوں سے بہتر طور پر جانتے ہیں۔ لہٰذا کوئی شخص یہ گمان نہ کرے کہ اس مسئلہ میں اختلاف پایا جاتا ہے، جس کی وجہ سے یہ اختلافی اور اجتہادی مسائل میں شمار ہوتا ہے۔ مگر یہ بات غلط ہے کوئی شخص بھی اصحابِ فتویٰ فقہاء سے تفصیل نقل نہیں کر سکتا۔
وجہ دوم | جب کفر کسی حرام چیز کو حلال سمجھنے سے وقوع پذیر ہوتا ہے تو اس کے معنی یہ ہوئے کہ گالی کو حلال سمجھنے کا عقیدہ کفر ہے۔ کیونکہ جب اس نے خدا کی حرام کردہ چیز کو حلال سمجھا تو وہ کافر ہو گیا۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ کسی حرام چیز کو حلال سمجھنا جس کی حرمت معلوم ہو کفر کا موجب ہے۔ مگر نبیؐ کو گالی دینے اہلِ ایمان پر بہتان لگانے، ان پر جھوٹ باندھنے اور ان کی چغلی کھانے میں کچھ
- ۱۱ -
فرق نہیں ہے۔ اور دیگر اقوال جن کے بارے میں معلوم ہے کہ اللہ نے ان کو حرام ٹھہرایا ہے۔ جو شخص بھی ان میں سے کوئی کام حلال سمجھ کر کرے گا تو وہ کافر ہو جائے گا۔ حالانکہ یوں کہنا جائز نہیں کہ جو شخص کسی مسلم پر بہتان لگائے یا اس کی چغلی کھائے تو وہ کافر ہو جاتا ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ جب اُسے حلال سمجھتا ہو ۔
وجہ سوم
تیسری وجہ یہ ہے کہ گالی کو حلال سمجھنا کفر ہے۔ خواہ عملاً گالی نکالتا ہو یا نہ نکالتا ہو۔ بنا بریں تکفیر میں وجوداً و عدماً گالی کا کچھ اثر نہیں، موثر صرف اعتقاد ہے، اور یہ بات علماء کے اجماع کے خلاف ہے۔
چوتھی وجہ یہ ہے کہ جب کفر کا موجب حلت کا اعتقاد ہے، لہٰذا
وجہ چہارم
گالی میں ایسی کوئی چیز موجود نہیں جو اس بات پر دلالت کرتی ہو کہ دشنام دہندہ اس کو حلال سمجھتا ہے ، اس لئے واجب ہے کہ اس کی تکفیر نہ کی جائے خصوصاً جب کہ وہ کہے کہ میں اسے حرام سمجھتا ہوں، میں تو غصے اور حماقت یا مذاق کے طور پر اسے حلال کہتا تھا جس طرح کہ منافق کہا کرتے تھے : ۔ اِنَّمَا نَخُوْضُ وَنَلْعَبُ (التوبۃ - ۶۵) (ہم تو شغل اور کھیل و تفریح کرتے تھے) یا یوں کہے کہ میں نے اس پر بہتان لگایا، اس پر جھوٹ باندھا اور اس کے ساتھ کھیل اور مذاق کیا ۔ اگر کہا جائے کہ وہ کفار میں ہوں گے تو یہ بات نصِ قرآن کے خلاف ہے۔ اور اگر کہا جائے کہ وہ کافر ہو جائیں گے تو یہ تکفیر بلا وجہ ہے کیونکہ محض گالی کو تکفیر کا سبب قرار نہیں دیا گیا۔ اور قائل کا یہ قول بھی درست نہیں کہ میں اس ضمن میں اس کی تصدیق نہیں کرتا ۔ اس لئے کہ مشکوک کام کی وجہ سے تکفیر نہیں ہو سکتی ۔
جب اس نے کہا کہ ”میرا عقیدہ یہ ہے کہ یہ گناہ اور معصیت کاری ہے اور میں ایسا کرتا بھی ہوں ۔“ اگر یہ کفر نہیں ہے تو پھر اس کی تکفیر کیسے کی جا سکتی ہے ؟ قرآن میں فرمایا :۔ لَا تَعْتَذِرُوْا قَدْ كَفَرْتُمْ بَعْدَ اِيْمَانِكُمْ (التوبۃ - ۶۶) معذرت مت کیجئے تم ایمان لانے کے بعد کافر ہو چکے ہو ۔
اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا کہ تم نے " اِنَّمَا كُنَّا نَخُوضُ " کہہ کر جھوٹ بولا ہے اللہ تعالیٰ نے ان کے اس عذر کو جھوٹا نہیں کہا، جس طرح ان کے دیگر عذرات کو جھوٹا قرار دیا ۔ وہ عذر ایسے تھے کہ اگر وہ درست ہوتے تو وہ کافر نہ ٹھہرتے ۔ بخلاف ازیں صرف یہ فرمایا کہ اس مشغولیت اور تفریح کی وجہ سے وہ ایمان لانے کے بعد کافر ہو گئے۔
دشنام دہندہ کے کفر کی دلیل
جب یہ حقیقت واضح ہو چکی کہ ہمارے سلف صالحین اور ان کی پیروی کرنے والے خلف کا موقف یہ ہے کہ گالی دینا بذات خود کفر ہے، خواہ اس کا قائل اسے حلال سمجھے یا نہ سمجھے ۔ اس کی دلیل وہ تمام مسائل ہیں جو ہم نے پہلے مسئلہ یعنی دشنام دہندہ کے کفر کے ثبوت میں پیش کئے ہیں ۔ مثلاً یہ آیات :-
- (۱) " وَمِنْهُمُ الَّذِيْنَ يُؤْذُوْنَ النَّبِيَّ "
(التوبہ - ۶۱)
اور ان میں سے وہ لوگ بھی ہیں جو نبی کو ستاتے ہیں۔
- (۲) " اِنَّ الَّذِيْنَ يُؤْذُوْنَ اللّٰهَ وَرَسُوْلَهُ - "
(الاحزاب ۵۷)
بیشک وہ لوگ جو اللہ اور اس کے رسول کو ایذا دیتے ہیں۔
- (۳) " لَا تَعْتَذِرُوْا قَدْ كَفَرْتُمْ بَعْدَ إِيْمَانِكُمْ "
(التوبہ - ۶۶)
عذر مت پیش کیجئے تم ایمان لانے کے بعد کافر ہو چکے ہو۔
اور دیگر آثار و احادیث جو اس امر کے واضح دلائل ہیں کہ اللہ اور اس کے رسول کو ایذا دینا بذات خود کفر ہے ۔ حرمت وجوداً وعدماً کے عقیدہ سے قطع نظر، لہٰذا ہمیں اس کا اعادہ کرنے کی حاجت نہیں۔ دراصل وہ تمام دلائل جو اس بات پر دلالت کرتے ہیں کہ دشنام دہندہ کافر اور مباح الدم ہے۔ وہ اس مسئلہ پر بھی روشنی ڈالتے ہیں۔ اس لئے کہ اگر مباح کرنے والا کفریہ عقیدہ نہ ہو تو گالی حرام ہے تو اس کی تکفیر اور قتل جائز نہ ہوتا۔ یہاں تک کہ یہ عقیدہ اس طرح ظاہر ہو جاتا کہ اس کے ساتھ خون کو مباح کرنے والے اعتقادات ثابت ہو جاتے۔
فرقہ مرجیہ اور جہمیہ کے دو شبہات
اس نظریے کا مصدر و منشاء جس نے متکلمین اور ان کے ہم نما فقہاء کے اس وہم کو جنم دیا، یہ ہے کہ ان کے نزدیک ایمان کا مطلب ان تمام عقائد و احکام کی تصدیق ہے، جن کی رسول کریم نے ہمیں اطلاع دی۔ وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ رسول کریم کی صداقت کا عقیدہ ان کو گالی دینے کے منافی نہیں ہے۔ جس طرح آپ کی اطاعت کے وجوب کا عقیدہ آپ کی نافرمانی کے منافی نہیں ہے۔ اس لئے کہ انسان بعض اوقات اس شخص کی توہین کا ارتکاب کرتا ہے جس کا اکرام اس کے نزدیک واجب ہوتا ہے ۔ جس طرح گاہے وہ اس کام کو بھی ترک کر دیتا ہے جس کو انجام دینا اس کے نزدیک واجب ہوتا ہے اور وہ کام کرتا ہے جس کے ترک کرنے کا عقیدہ رکھتا ہے۔
اُن کا خیال ہے کہ اُمتِ مسلمہ دشنام دہندہ کی تکفیر کرتی ہے۔ وہ کہتے ہیں اس کے کفر کی وجہ یہ ہے کہ وہ گالی دینے کو حرام نہیں سمجھتا، اور گالی کی حلت کا عقیدہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تکذیب کی دلیل ہے۔ لہٰذا وہ اس تکذیب کی وجہ سے کافر ہے آپ کی توہین کے باعث نہیں اور اہانت تکذیب کی دلیل ہے۔ جب فرض کر لیا جائے کہ وہ درحقیقت مکذب نہیں ہے تو وہ نفس الامر میں مومن ہوگا۔ اگرچہ حکم اس کی ظاہری حالت کے مطابق لگایا جائے گا۔ تو یہ ہے مرجیہ اور ان کے ہم نوا لوگوں کا ماخذ و مصدر ۔
ان کا قول یہ ہے کہ ایمان عبارت ہے اعتقاد اور قول سے ۔ اُن میں سے غالی فرقہ کے لوگ جو ”کرامیہ“ کہلاتے ہیں ان کا قول یہ ہے کہ ایمان صرف زبانی اقرار کو کہتے ہیں، اگرچہ وہ اعتقاد سے خالی ہو ۔ ”فرقہ جہمیہ“ کا زاویۂ نگاہ یہ ہے کہ ایمان محض معرفت اور قلبی تصدیق کو کہتے ہیں، اگرچہ اقرار باللسان اس میں شامل نہ ہو۔ اُن کی ایک اور دلیل بھی ہے اور وہ یہ کہ انسان بعض اوقات زبان سے ایسی بات کہتا ہے جو اس کے دل میں نہیں ہوتی۔ اگر اس کے دل میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تعظیم
توقیر موجود ہو تو زبان سے اس کے خلاف بات کہنے سے آپؐ کی شان میں کوئی قدح وارد نہیں ہوتی۔ جس طرح منافق اگر ایسی بات کہے جبکہ اس کے دل میں اس کے خلاف ہو تو اس سے اُسے کچھ فائدہ حاصل نہیں ہوتا ۔ شبہہ اول کے کئی جواب ہیں :-
اعتراض اوّل کا جواب
پہلا جواب
یہ ہے کہ ایمان کے اصلی معنی قلبی تصدیق کے ہیں۔ یہ ضروری بات ہے کہ قلبی تصدیق دل میں ایک خاص کیفیت اور عمل پیدا کرے ۔ اور وہ کیفیت رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تعظیم، اجلال اور محبت ہے، یہ لازمی امر ہے۔ یہ اسی طرح ہے جیسے کسی کو کوئی تکلیف پہنچے تو اُسے الم و رنج کا احساس ہوتا ہے اور فرحت و مسرت حاصل ہونے سے خوشی کا ادراک ہوتا ہے۔
اسی طرح ملائم و منافی چیز کا شعور حاصل ہونے سے نفرت و چاہت کے جذبات اُجاگر ہوتے ہیں۔ اگر دل میں یہ کیفیت اور احساس پیدا نہ ہو تو اس تصدیق کا کچھ فائدہ نہیں۔ اس کا حصول اُس وقت ناممکن ہو جاتا ہے۔ جب دل میں رسولؐ کے خلاف حسد و تکبر کا جذبہ پایا جاتا ہو یا دل میں آپؐ کو کچھ اہمیت نہ دیتا ہو اور آپؐ سے اعراض و انحراف کے احساسات سے لبریز ہو۔
بالکل اسی طرح جیسے ملائم اور ہم آہنگ چیز سے لذت کا جذبہ جنم لیتا ہے اور ناموافق چیز سے الم و رنج پہنچتا ہے ۔ الاّ یہ کہ کوئی مخالف جذبہ اس کا معارض ہو۔ جب معارض عالمِ وجود میں آتا ہے تو تصدیق معدوم ہو جاتی ہے۔ گویا اس کا عدم، وجود یکساں نوعیت کا ہوتا ہے۔ بلکہ یہ معارض معلول کے معدوم ہونے کا موجب ہوتا ہے جو کہ دل کی کیفیت کا نام ہے ۔ اور اس کے معدوم ہونے کی وساطت سے تصدیق جو کہ علت ہوتی ہے زائل ہو جاتی ہے اور اس طرح ایمان کلیۃً دل سے مٹ جاتا ہے۔ جن لوگوں نے انبیاء کے خلاف حسد یا تکبر سے کام لیا یا اپنی جہالت و
خصال کو ترک کرنا گوارا نہ کیا ان کے کافر ہونے کی وجہ یہی ہے۔ حالانکہ انہیں بخوبی معلوم ہے کہ انبیاء سچے تھے۔ ایسے لوگوں کا کفر جہالت کے کفر سے غلیظ تر ہے۔
دوسرا جواب
دوسرا جواب یہ ہے کہ ایمان اگرچہ تصدیق کو متضمن ہے مگر ایمان صرف تصدیق کا نام نہیں ہے۔ بخلاف ازیں ایمان عبارت ہے اقرار وطمانیت سے ، اس کی وجہ یہ ہے کہ تصدیق کسی خبر کی کی جاتی ہے۔ امر اس لحاظ سے کہ امر ہے تصدیق کا محتاج نہیں ہے۔
ظاہر ہے کہ کلام خداوندی اخبار و امر دونوں پر مشتمل ہے۔ خبر چاہتی ہے کہ خبر دینے والے کی تصدیق کی جائے، جب کہ امر اس بات کا مقتضی ہے کہ اس کی اطاعت بجالائی جائے۔ اور یہ ایک قلبی امر ہے جس کا خلاصہ یہ ہے کہ اس کے سامنے سر تسلیم خم کیا جائے، اگرچہ مامور بہ کو انجام نہ دیا جائے۔ جبکہ خبر کے مقابلہ میں تصدیق ہوتی ہے اور امر کا مقابل انقیاد ہے تو اس کے معنی یہ ہوئے کہ ایمان کا اصلی تعلق قلب کے ساتھ ہے اور وہ طمانیت اور اقرار ہے
ایمان مشتق ہے امن سے جس کے معنی قرار اور اطمینان کے ہیں امر یہ اس وقت ہوتا ہے جب دل میں تصدیق و انقیاد جاگزیں ہوتے ہیں۔ جب صورتحال یوں ہے تو گالی دینا توہین و استخفاف کا موجب ہے اور امر کی اطاعت اکرام و اعزاز کا سبب ہے، اور یہ بات محال ہے کہ آدمی جس کے سامنے جھکے اور آداب بجالاتا ہے اس کی توہین کرے اور اس کو کچھ اہمیت نہ دے۔
جب دل میں کسی کی توہین جاگزین ہوتی ہے تو اس میں اطاعت وانقیاد کی گنجائش باقی نہیں رہتی۔ لہٰذا اس میں سے ایمان معدوم ہوجاتا ہے۔ ابلیس کا کفر بعینہٖ یہی تھا کہ اس نے اللہ کا حکم سنا اور پیغام لانے والے کی تکذیب نہیں کی، البتہ وہ حکم بجا نہ لایا اور نہ اس کے سامنے جھکا۔ اس نے اطاعت سے کبر کا اظہار کیا اور اس لئے وہ کافر ہوگیا۔ یہ ایسا مقام ہے جہاں بہت سے متاخرین نے ٹھوکر کھائی۔ اُن کے جی میں آیا کہ ایمان دراصل تصدیق کا نام ہے پھر وہ ابلیس
فرعون وغیرہ کو دیکھتے ہیں جن سے تکذیب کا صدور نہیں ہوا یا ان سے تکذیب باللسان کا صدور تو ہوا مگر انہوں نے دل سے تکذیب نہ کی۔ تاہم اس کا کفر بدترین قسم کا کفر ہے۔ یہ دیکھ کر وہ حیران رہ جاتے ہیں۔
اگر وہ سلف صالحین کی طرح ہدایت یافتہ ہوتے تو انہیں معلوم ہوتا کہ ایمان عبارت ہے قول وعمل کے مجموعے سے۔ یعنی دل کی تصدیق اور قلبی اعمال کا نام ایمان ہے۔ یہ ایمان کی وہ توضیح ہے جو کتاب اللہ اور سنت رسول سے ہم آہنگ ہے اور کتاب و سنت اللہ اور اس کے رسول کے اخبار و اوامر پر مشتمل ہے۔ بایں طور کہ دل اس کی بتائی ہوئی خبروں کی ایسی تصدیق کرتا ہے جو دل کی حالت کو مصدق بہ کے رنگ میں رنگ دیتا ہے۔ تصدیق علم وقول کی ایک نوع کا نام ہے جس کے سامنے اطاعت کا سرخم کیا جاتا ہے۔ اور یہ تعمیل واطاعت ، ارادہ اور عمل کی ایک قسم ہے۔ ان دونوں کے مجموعے سے کوئی شخص مومن بنتا ہے۔
جب کوئی شخص تعمیل واطاعت کو خیرباد کہتا ہے تو مستکبر کہلاتا ہے اور کافروں میں سے ہوجاتا ہے۔ اگرچہ کفر محض تکذیب سے اعم ہوتا ہے۔ اس لئے کہ تکذیب گاہے جہالت پر مبنی ہوتی ہے اور کبھی استکبار و ظلم کی آئینہ دار ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ابلیس کو صرف کفر و استکبار کے ساتھ موصوف کیا گیا، تکذیب سے نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جو لوگ علم سے بہرہ ور تھے مثلاً یہود اور ان کے ہم نوا ان کا کفر ابلیس کے کفر سے مماثلت رکھتا تھا۔ اور جاہل نصاریٰ اور ان کے ہم نوا لوگوں کا کفر ضلالت پر مبنی تھا جو کہ جہالت کا دوسرا نام ہے۔
جس طرح احادیث میں وارد ہوا ہے کہ یہود کا ایک گروہ رسول کریم کی خدمت میں حاضر ہوا اور کئی چیزوں کے بارے میں پوچھا۔ آپ نے ان کے سوالات کا جواب دیا تو وہ کہنے لگے ہم شہادت دیتے ہیں کہ آپ نبی ہیں۔ مگر انہوں نے آپ کی اطاعت نہ کی۔ یہی حال ہرقل وغیرہ کا تھا۔ الغرض یہ علم و تصدیق ان کے کسی کام نہ آئی۔ جو شخص رسول کریم کی تصدیق کرے کہ جو کچھ آپ لائے وہ اللہ کا پیغام ہے جو اخبار و اوامر دونوں پر
مشتمل ہے، تو اسے ایک اور بات کی بھی ضرورت ہے اور وہ یہ ہے کہ اللہ کی دی ہوئی خبر کی تصدیق کرے اور اللہ کے احکام کی اطاعت کرے۔ جب وہ کہتا ہے " اَشْهَدُ اَنْ لَّا اِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُ " تو یہ شہادت اس کی دی ہوئی خبر کی تصدیق اور اس کے احکام کی اطاعت کو متضمن ہے اور جب کہتا ہے : " وَاَشْهَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اللّٰهِ " تو یہ اس بات پر مشتمل ہے کہ رسول اللہ کی طرف سے جو کچھ بھی لایا اس کی تصدیق کی جائے کہ وہ سب کچھ اللہ کی طرف سے ہے۔ ان دو شہادتوں کے مجموعے سے اقرار کی تکمیل ہوتی ہے۔
جب دونوں شہادتوں میں تصدیق کے بغیر چارہ نہیں ۔ اور رسالت کو ماننے والا اسی کو تسلیم کرتا ہے ۔ تو بعض لوگوں نے گمان کیا کہ یہی چیز تمام ایمانیات کی اصل و اساس ہے۔ ایسا شخص اس امر سے غافل رہا کہ ایک اور ضابطہ کلیہ بھی ضروری ہے اور وہ اطاعت و انقیاد ہے۔ ورنہ بعض اوقات ظاہراً و باطناً رسول کی تصدیق کی جاتی ہے مگر ان کی اطاعت سے پہلو تہی کی جاتی ہے کیونکہ رسول کی تصدیق کرنے سے اس کا مقصد صرف یہی ہوتا ہے کہ رسول نے اللہ کا پیغام سنا، جیسے ابلیس نے سنا تھا۔ اس سے تجھ پر حقیقت اَلَمْ نَشْرَح ہوتی ہے کہ اللہ اور اس کے رسول کا مذاق اُڑانا اس کی تعمیل و اطاعت کے منافی ہے۔
اس لئے کہ رسول نے اللہ کی طرف سے یہ پیغام پہنچایا کہ اس نے رسول کی اطاعت کا حکم دیا ہے۔ اس طرح رسول کی اطاعت کرنے سے اللہ کی دی ہوئی خبر کی تصدیق ہوتی ہے۔ جو شخص رسول کے احکام کی اطاعت نہیں کرتا وہ یا تو اس کی تکذیب کرتا ہے یا اللہ کی اطاعت سے انحراف کرنے والا ہے اور یہ دونوں صریح کفر ہیں۔ جو شخص رسول کریمؐ کی توہین کرتا اور دل سے اس کا مذاق اُڑاتا ہے وہ اس کے احکام کی اطاعت نہیں کر سکتا۔ اس لئے کہ رسول کریمؐ کی اطاعت کرنا اس کا اجلال و اکرام ہے اور اسے کم اہمیت دینا اس کی اہانت اور تذلیل ہے۔ اور یہ دونوں ایک دوسرے کی ضد ہیں۔
جب دل میں دونوں میں سے ایک چیز پیدا ہو جاتی ہے تو دوسری غائب ہو جاتی ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ رسولؐ کی توہین وتذلیل ایمان کے اسی طرح منافی ہے جس طرح ایک ضد دوسری ضد کے منافی ہوتی ہے۔
تیسرا جواب
بندہ جب اس عقیدے کے ساتھ گناہ کا ارتکاب کرتا ہے کہ اللہ نے اُسے مجھ پر حرام ٹھہرایا ہے اور اللہ کے منہیات ومحرمات اور اس کے واجبات کی تعمیل مجھ پر فرض ہے تو ایسا شخص کافر نہیں ہوتا۔ مگر اس کا عقیدہ یہ ہو کہ یہ اس پر حرام نہیں، یا یہ کہ اس نے حرام تو کیا تھا لیکن میں اس تحریم کی تعمیل نہیں کر سکتا اور وہ اللہ کی اطاعت وانقیاد سے انکار کرے تو ایسا شخص یا تو منکر ہے یا معاند، اسی لئے علماء کہتے ہیں کہ جو شخص تکبر کی بناء پر ابلیس کی طرح اللہ کی نافرمانی کرے وہ بالاتفاق کافر ہو جاتا ہے اور جس نے حرص وشہوت کی بناء پر اللہ کی نافرمانی کی تو اہل السنۃ والجماعۃ کے نزدیک وہ کافر نہیں ہے۔ البتہ خوارج اس کی تکفیر کرتے ہیں۔ اس لئے کہ تکبر کی بناء پر نافرمانی کرنے والا اگرچہ اس بات کی تصدیق کرتا ہے کہ اللہ اس کا رب ہے مگر اس کی ضد وعناد اس تصدیق کے منافی ہے۔
اس کی توضیح یہ ہے کہ جو شخص حلال سمجھ کر محرمات کا ارتکاب کرتا ہے۔ وہ بالاتفاق کافر ہے۔ کیوں کہ جس نے قرآن کے محرمات کو حلال ٹھہرایا اس کا قرآن پر ایمان نہیں ہے۔ اور وہ شخص بھی اسی طرح ہے جو محرمات کو حلال سمجھتا ہے مگر ان کا ارتکاب نہیں کرتا۔ استحلال کے معنی اس عقیدے کے ہیں کہ اللہ نے اُن کو حرام نہیں ٹھہرایا یہ کہ میں ان کی تحریم کا عقیدہ نہیں رکھتا۔ یہ صورت تبھی پیش آتی ہے جب وہ شخص ایمان بالرسالت یا ایمان بالربوبیت کا عقیدہ نہ رکھتا ہو۔ یہ اس شخص کا انکار محض ہے اور کسی تمہید ومقدمہ پر مبنی نہیں۔ بعض اوقات اُسے علم ہوتا ہے کہ اللہ نے ان اشیاء کو حرام ٹھہرایا ہے۔ وہ یہ بھی جانتا ہے کہ رسول اسی چیز کو حرام ٹھہراتا ہے جس کو اللہ نے حرام قرار دیا ہو۔ مگر اس تحریم کی تعمیل سے باز رہتا اور محرمات
کی خلاف ورزی کرتا ہے۔ ایسا شخص پہلے شخص کی نسبت بڑا کافر ہے۔ بعض اوقات وہ جانتا ہوتا ہے کہ جو شخص اس تحریم کی پابندی نہ کرے اللہ تعالیٰ اسے سزا دے گا، پھر محرمات سے باز نہ رہنا یا تو اس لئے ہوتا ہے کہ وہ آمر کی حکمت و قدرت پر یقین نہیں رکھتا۔ اس کا نتیجہ یہ برآمد ہوتا ہے کہ وہ شخص صفاتِ الٰہی میں سے کسی صفت کا انکار کرنے لگتا ہے۔
بعض اوقات ایسا شخص تمام عقائد و ایمانیات کو جانتا ہوتا ہے مگر سرکشی اور نفسانی خواہش کی پیروی کی وجہ سے ان کی تصدیق نہیں کرتا جس کی حقیقت کفر ہے۔ ایسا شخص ہر اُس چیز کو مانتا ہے جس کی اللہ اور اس کے رسول نے خبر دی اور ہر اُس چیز کی تصدیق کرتا ہے جس کی اہلِ ایمان تصدیق کرتے ہیں۔ مگر وہ اُسے اس لئے ناپسند کرتا ہے کہ وہ چیز اس کی مرضی اور مراد سے ہم آہنگ نہیں ہوتی۔ وہ (صاف) کہتا ہے کہ میں اس کا اقرار و التزام نہیں کرتا اور اس حق سے نفرت کرتا ہوں تو یہ پہلی قسم سے ایک جدا گانہ قسم ہے اور اس کا کفر دینِ اسلام سے معلوم ہے۔ قرآن کریم اسی قسم کے لوگوں کی تکفیر سے لبریز ہے۔ بلکہ اس کی سزا کفر سے بھی شدید تر ہے۔ اسی قسم کے بارے میں کہا گیا ہے کہ ’روزِ قیامت سب لوگوں سے شدید تر عذاب اُس شخص کو دیا جائے گا جس کو اللہ نے اس کے علم سے فائدہ نہیں دیا‘۔ اور وہ ابلیس اور اس کے ہم نوا ہیں۔
اسی کے ساتھ عاصی (اور کافر) کا باہمی فرق واضح ہو جاتا ہے۔ عاصی یہ عقیدہ رکھتا ہے کہ یہ فعل مجھ پر واجب ہے اور وہ اُسے انجام بھی دینا چاہتا ہے۔ مگر حرص و ہوا اور نفرت اس کی موافقت سے مانع ہوتی ہے۔ ایسا شخص تصدیق پر ایمان رکھتا ہے اور اس کے اندر عجز و انقیاد بھی پایا جاتا ہے۔ مگر یہ محض قول ہی قول ہوتا ہے اور اس میں عمل کا حصہ شامل نہیں ہوتا۔ باقی رہی یہ بات کہ آدمی اُس شخص کی توہین کرے جس کا اعزاز و اکرام اس پر واجب ہے مثلاً والدین اور اُن جیسے دوسرے لوگ، تو اس کی وجہ یہ ہے کہ اس نے اس شخص کی توہین نہیں کی جس کی اطاعت
تعمیل اس کے ایمان میں مشروط تھی۔ بخلاف ازیں اس نے ایسے شخص سے بدتمیزی کی جس کا اکرام اس کے برّ تقوے کے لئے ضروری تھا۔ اللہ اور اس کے رسول سے علیحدگی اختیار کرنے والا اس لئے کافر ہوا کہ کوئی شخص اس وقت تک مومن نہیں ہو سکتا جب تک ایسی تصدیق نہ کرے جو عجز و انقیاد کا مقتضی ہو۔ تصدیق جب تک تعمیل و اطاعت کی مقتضی نہ ہو اس کو ایمان سے تعبیر نہیں کیا جا سکتا۔ بخلاف ازیں اس کا وجود عدم سے بھی قبیح تر ہے۔ جس شخص میں حیات و شعور تو موجود ہو مگر وہ ہمیشہ عذاب میں مبتلا رہتا ہو، ایسے شخص کے نزدیک حیات و شعور کا فقدان ایسی زندگی سے محبوب تر ہو گا جس میں الم و رنج کے سوا دوسری کوئی چیز نہ ہو چونکہ تصدیق کا ثمرہ خوشحالی و فارغ البالی اور دنیا و آخرت میں لذت کا حصول ہے۔ مگر ایسی تصدیق سے بدحالی اور دنیا و آخرت کے الم و رنج کے سوا کچھ حاصل نہ ہوا لہٰذا اس کا نہ ہونا اس کے موجود ہونے سے عزیز تر ہے۔
ان امور کی تفصیل بیان کرتے ہوئے ہم نے طوالت سے کام لیا ہے۔ جو شخص اپنے قول و فعل میں اپنے نفس پر کتاب وسنت کو حکم بنائے اور اللہ نے اس کے دل کو منور کر دیا ہو، تو اس پر بہت سے لوگوں کی کج روی ظاہر ہو گی جو موت کے بعد لوگوں کی سعادت و شقاوت کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کرتے ہیں۔ ان لوگوں کی راہ پر چلتے ہوئے جنہوں نے کتاب اللہ اور ان احکام کی تکذیب کی جو انبیاء ورسل اللہ کی طرف سے لائے تھے۔ انہوں نے کتاب اللہ کو پس پشت ڈال دیا اور اس چیز کی پیروی کی جو شیاطین پڑھا کرتے تھے۔ باقی رہا دوسرا شبہ تو اس کا جواب تین طرح سے دیا جا سکتا ہے۔
پہلا جواب } جو شخص تکذیب، انکار اور کفر کے دیگر انواع پر بغیر کسی مجبوری کے گفتگو کرتا ہو، ہو سکتا ہے کہ در حقیقت وہ مومن ہو اور جس نے ایسا کیا اس نے اسلام کے جوئے کو اپنی گردن سے اتار دیا۔
دوسرا جواب } اہل السنۃ والجماعۃ کا موقف یہ ہے کہ جو عقلاً عقداً ایمان کا
زبانی اقرار نہ کرے تو قلبی تصدیق کا اُسے کچھ فائدہ نہیں۔ جو شخص زبانی اقرار پر قادر ہو ، اقرار باللسان اس کے شرائط ایمان میں سے ہے۔ یہاں تک کہ علماء نے اس شخص کی تکفیر میں اختلاف کیا ہے جو کہے کہ " قلبی تصدیق اعضاء کے عمل کے بغیر بھی سُود مند ہے "۔ مگر اس کی تقریر کا یہ موقع نہیں ہے ۔ قاضی ابویعلیٰ نے امام احمد کے قول کی جو تاویل کی ہے ، خود انہوں نے دیگر اہل علم نے متعدد مقامات پر اس کی مخالفت کی ہے۔ قاضی عیاض کا کلام بھی اسی پر دلالت کرتا ہے۔ اس میں شبہہ نہیں کہ امام مالک، دیگر فقہائے تابعین اور ان کے بعد آنے والے علماء — ماسوا بدعتی لوگوں کے — کہتے ہیں کہ ایمان نام ہے قول و عمل کا ۔ اس کی تفصیل دوسری جگہ آئے گی ۔
تیسرا جواب
جن لوگوں کا موقف یہ ہے کہ ' ایمان صرف قلبی تصدیق کا نام ہے اور اقرار باللسان کی کچھ حاجت نہیں " وہ اس کی دلیل یہ دیتے ہیں کہ ایمان فی نفس الامر اقرار باللسان کا محتاج نہیں، وہ یہ نہیں کہتے کہ جو قول ایمان کے منافی ہو اُسے باطل نہیں ٹھہرا سکتا۔ اس لئے کہ قول کی دو قسمیں ہیں ۔
- (۱) ایک قول وہ ہے جو معرفتِ قلبی سے ہم آہنگ ہو ۔
- (۲) اور دوسرا قول وہ ہے جو اس کے خلاف ہو ۔
فرض کیجئے کہ قول موافق مشروط نہیں اور مخالف قول اس کے منافی ہوتا ہے۔ جو شخص اپنی زبان سے بلا ضرورت دانستہ کفر کا کلمہ کہے اور وہ جانتا بھی ہو کہ یہ کفر کا کلمہ ہے تو ایسا شخص ظاہراً و باطناً کافر ہو جاتا ہے ۔ اور یوں کہئے کہ ہم جائز قرار نہیں دیتے کہ ہو سکتا ہے وہ اندر سے مومن ہو جو شخص اس طرح کہے وہ اسلام سے خارج ہو گیا ۔ قرآن میں فرمایا : ۔
" جو شخص ایمان لانے کے بعد خدا کے ساتھ کفر کرے وہ نہیں جو (کفر پر زبردستی) مجبور کیا جائے اور اس کا دل ایمان کے ساتھ مطمئن ہو، بلکہ وہ جو (دل سے) کفر کے
کھول کر کفر کرے تو ایسوں پر اللہ کا غضب ہے اور ان کو بڑا سخت عذاب ہو گا ۔
(النحل - ۱۰۶)
ظاہر ہے کہ کفر سے یہاں صرف قلبی اعتقاد مراد نہیں ، کیونکہ آدمی کو اس پر مجبور نہیں کیا جا سکتا ۔ اور اس کو اِکْراہ سے مستثنیٰ کیا گیا ۔ اور اس کا یہ مطلب بھی نہیں کہ میں یہ عقیدہ رکھتا ہوں ۔ اس لئے کہ مُکْرَہ کو مستثنیٰ کیا گیا اور اُسے قول قرار پر مجبور نہیں کیا جا سکتا ۔ بلکہ اُسے صرف زبانی اقرار پر مجبور کیا جاتا ہے ۔ اُس لئے معلوم ہوا کہ منشائے خدا وندی یہ ہے کہ جو شخص اپنی زبان سے کلمہ کفر ادا کرے تو اس پر اللہ کا غضب اور بہت بڑا عذاب ہے اور اس وجہ سے وہ کافر ہو جاتا ہے ۔ ماسوا اس شخص کے جس کو مجبور کیا جائے مگر اس کا دل ایمان کے ساتھ مطمئن ہو ۔ لیکن وہ شخص ایسا نہیں جو مجبور کردگان میں سے کفر کے لئے اپنے سینے کو کھول دے بلکہ وہ کافر ہے ۔ اس طرح کلمہ کفر بکنے والا کافر ہے ، ماسوا اس شخص کے جسے مجبور کیا جائے اور وہ اپنی زبان سے کلمہ کفر ادا کرے ۔ مگر اس کا دل ایمان کے ساتھ مطمئن ہو ۔ اللہ تعالیٰ نے مذاق اڑانے والوں کے بارے میں فرمایا : ۔
لَا تَعْتَذِرُوْا قَدْ كَفَرْتُمْ بَعْدَ إِيْمَانِكُمْ
(التوبۃ - ۶۶)
عذر مت کیجئے تم ایمان لانے کے بعد کافر ہو چکے ہو ۔
مذکورہ صدر آیت میں بیان کیا کہ وہ قولی اعتبار سے کافر ہیں ، حالانکہ وہ اس کی صحت کا عقیدہ نہیں رکھتے ۔ اور یہ ایک وسیع باب ہے ۔ اس کی حکمت ومصلحت پہلے گزر چکی ہے ۔ اور وہ یہ کہ قلبی تصدیق اسی گفتگو کرنے اور ایسا کام کرنے سے روکتی ہے جو کسی کی اہانت اور بے عزتی پر مبنی ہو ۔ مزید براں تصدیق محبت و تعظیم کو جنم دیتی ہے ۔ اور اس کا تعظیم کے وجود اور اہانت کے عدم وجود کا مقتضی ہونا ایسا امر ہے جس کے مطابق سُنَّۃ اللہ اس کی مخلوقات میں جاری ہے ۔
جس طرح موافق چیز کے ادراک سے لذت اور مخالف چیز کے ادراک سے الم و رنج کا احساس ہوتا ہے ۔ جب معلول معدوم ہو تو وہ علّت کے عدم کو مستلزم ہوتا ہے ۔ جب ایک ضد پائی جاتی ہو تو وہ دوسری ضد کے معدوم ہونے کو مستلزم ہوتی ہے ۔ لہٰذا وہ کلام اور فعل جو اہانت پر مشتمل ہو وہ سودمند تصدیق اور اطاعت و انقیاد کے معدوم ہونے کو مستلزم ہوتی ہے اور اسی لئے کفر کی موجب ہے ۔
واضح رہے کہ اگرچہ ایمان کے بارے میں کہا گیا ہے کہ وہ تصدیق کا دوسرا نام ہے پس دل حق کی تصدیق کرتا ہے اور قول دل کی تصدیق کرتا ہے اور عمل قول کی تائید کرتا ہے ۔ اور زبان کے ساتھ کسی چیز کی تکذیب دل کی تکذیب کو مستلزم ہے ۔ اور اس تصدیق کو دور کرتی ہے جو دل میں ہوتی ہے ۔ اس لئے کہ اعضاء کے اعمال دل میں تاثیر پیدا کرتے ہیں جس طرح دل کے اعمال اعضاء پر اثر انداز ہوتے ہیں ۔ اگر ایک میں کفر پیدا ہو جائے تو اس کا حکم دوسرے کی طرف متعدی ہوتا ہے ۔ اس ضمن میں بڑی طویل گفتگو کی جاسکتی ہے ۔ ہم نے صرف تمہیدی امور سے آگاہ کیا ہے ۔
فصل
علماء کی تصریحات
اس بارے میں کہ گالی کفر ہے
اب ہم اصل مسئلہ کی طرف عود کرتے اور کہتے ہیں کہ جو گالی خون کو مباح کرتی ہو۔ وہ کفر کی موجب ہے۔ اگر چہ ہر کفر گالی سے جنم نہیں لیتا۔ اب ہم اس مسئلہ کے بارے میں علماء کی تصریحات نقل کرتے ہیں۔
امام احمد کا موقف
امام احمد فرماتے ہیں :- جو شخص بھی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو گالی دے یا آپ کی توہین کرے ۔ خواہ وہ مسلم ہو یا کافر ۔ تو وہ واجب القتل ہے۔ میری رائے یہ ہے کہ اُسے قتل کیا جائے اور اُس سے توبہ کا مطالبہ نہ کیا جائے :
دوسری جگہ فرماتے ہیں :- ”ہر آدمی جو ایسی بات کرے جس سے اللہ تعالیٰ کی تنقیص شان کا پہلو نکلتا ہو وہ واجب القتل ہے ، خواہ مسلم ہو یا کافر، یہ اہل مدینہ کا مذہب ہے۔ ہمارے اصحاب کہتے ہیں کہ اللہ اور اس کے رسول کی طرف گالی کا اشارہ کرنا ارتداد ہے؟ جو قتل کا موجب ہے۔ یہ اسی طرح ہے جیسے صراحۃً گالی دی جائے۔ ہمارے اصحاب کے مابین اس مسئلہ میں کوئی اختلاف نہیں پایا جاتا کہ رسول کریم کی والدہ کو گالی دینا گالی کے اقسام میں سے ہے جو موجب قتل ہے بلکہ اس سے بھی شدید تر ہے، کیونکہ اس سے رسول کریم کے حسب و نسب پر جرح و قدح لازم آتی ہے۔ بعض علماء علی الاطلاق کہتے ہیں کہ رسول کریم کی والدہ کو گالی دینے والے کو قتل کیا
جائے، خواہ مسلم ہو یا کافر ہو، ممکن ہے کہ گالی سے ان کی مراد بہتان ہو ۔ جیسا کہ جمہور علماء نے تصریح کی ہے کیونکہ یہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو گالی دینے پر مشتمل ہے ۔
قاضی عیاضؓ
قاضی عیاض فرماتے ہیں :- ”جو شخص بھی رسول کریمؐ کو گالی دے، یا آپؐ کی ذات یا نسب یا دین یا آپؐ کی عادت میں نقص و عیب نکالے، یا اسے ایسا شبہہ لاحق ہو جس سے آپؐ کو گالی دینے، آپؐ کی تنقیص شان، آپؐ سے بغض و عداوت اور نقص و عیب کا پہلو نکلتا ہو، وہ دشنام دہندہ ہے، اور اس کا حکم وہی ہے جو گالی دینے والے کا ہے، اور وہ یہ کہ اسے قتل کیا جائے۔ اس مسئلہ کی کسی شاخ کو نہ مستثنیٰ کیا جائے، نہ اس میں شک و شبہہ روا رکھا جائے۔ خواہ گالی صراحۃً دی جائے یا اشارۃً ۔ وہ شخص بھی اسی طرح ہے جو آپؐ پر لعنت کرے یا آپؐ کو نقصان پہنچانا چاہے یا آپؐ پر بد دعا کرے یا آپؐ کی طرف بھی ایسی چیز کو بطریق مذمت منسوب کرے جو آپؐ کی شان کے لائق نہ ہو یا آپؐ کی کسی عزیز چیز کے بارے میں رکیک ، بیہودہ اور جھوٹی بات کرے یا جن مصائب سے آپؐ دوچار ہوئے اُن کی وجہ سے آپؐ پر عیب لگائے۔ یا بعض بشری عوارض کی وجہ سے جن سے آپؐ دوچار ہوئے آپؐ کی تنقیص شان کرے۔ اس بات پر تمام علماء اور ائمۃ الفتویٰ کا عہد صحابہؓ سے لے کر اگلے تاریخی ادوار تک اجماع چلا آتا ہے“۔
ابن القاسم
ابن القاسم امام مالک سے روایت کرتے ہیں کہ جو شخص رسول کریمؐ کو گالی دے اُسے قتل کیا جائے اور توبہ کا مطالبہ نہ کیا جائے ابن القاسم کہتے ہیں کہ اگر کوئی شخص رسول کریم کو گالی دے یا آپؐ میں عیب نکالے اور تنقید کرے تو اسے زندیق کی طرح قتل کیا جائے۔ ائمہ نے رسول کریمؐ کی توقیر کو فرض ٹھہرایا ہے۔ اہل مدینہ نے امام مالک سے روایت کیا ہے کہ جو شخص رسول کریم کو گالی دے یا برا بھلا کہے اور عیب نکالے اسے قتل کیا جائے خواہ
وہ مسلم ہو یا کافر۔ اس سے توبہ کا مطالبہ نہ کیا جائے۔ ابن وہب نے امام مالک سے نقل کیا ہے کہ جو شخص کہے کہ رسول کریم کی چادر میلی ہے اور اس کا مقصد آپ میں عیب نکالنا ہو تو اُسے قتل کیا جائے۔ بعض مالکیہ نے اس پر علماء کا اجماع نقل کیا ہے کہ جس شخص نے کسی نبی کیلئے ہلاکت اور کسی بُری چیز کی دُعا مانگی اُسے توبہ کا مطالبہ کئے بغیر قتل کیا جائے۔
قاضی عیاض نے مشہور مالکی فقہاء کا فتویٰ مختلف امور کے بارے میں نقل کیا ہے۔ ہر مقدمے کا فیصلہ بعض علماء نے صادر کیا کہ اُسے توبہ کا مطالبہ کئے بغیر قتل کیا جائے۔
ان میں سے ایک فتویٰ یہ ہے کہ ایک آدمی نے سنا کہ چند لوگ رسول کریم کی صفت بیان کر رہے ہیں۔ اچانک ایک بدصورت آدمی بڑی داڑھی والا وہاں سے گزرا۔ اس نے کہا کیا تم آپ کا حلیہ معلوم کرنا چاہتے ہو؟ آپ کی شکل و صورت اس گزرنے والے آدمی کی طرح تھی۔ ان میں سے ایک فتویٰ اس بارے میں تھا کہ ایک آدمی نے آپ کو سیاہ فام کہا تھا۔
ایک واقعہ اس طرح کا تھا کہ اُسے کہا گیا : رسول کریم کے حق کی قسم ایسا نہیں ہے۔ اس نے کہا : اللہ ترے رسول اللہ کے ساتھ ایسا ایسا برتاؤ کرے پھر اُسے کہا گیا : اے دشمن خدا تو کیا کہتا ہے؟ اس نے پہلے سے سخت بات کہی پھر اس نے کہا میں چاہتا تھا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو بچھو ڈس لے۔ اُنہوں نے کہا کہ ایک واضح لفظ کے بارے میں تاویل کی حاجت نہیں، اس لئے کہ یہ رسوائی کا باعث ہے۔ ایسا شخص رسول کریم کی توقیر و تعزیر بجا نہیں لا رہا تھا، لہٰذا اس کے خون کا مباح ہونا واجب ہے۔
اُن واقعات میں سے ایک واقعہ یہ ہے کہ ایک آدمی شفقہ نامی تھا۔ جو رسول کریم کی توہین کیا کرتا تھا۔ مناظرہ کے دوران وہ آپ کو ”یتیم خَتِینُ خُوَیْلِد“ کے نام سے موسوم کیا کرتا تھا۔ وہ کہا کرتا تھا کہ رسول کریم کا زہد اختیاری نہیں ہے۔
اگر ان کو اچھے کھانے ملتے تو کھا لیتے، اس قسم کی گفتگو کیا کرتا تھا ۔ وہ کہتے ہیں کہ علماء نے اس قسم کی گفتگو کو گالی اور تنقیص شان پر محمول کیا ہے۔ لہٰذا ایسا آدمی واجب القتل ہے۔ اس میں متقدمین و متاخرین کے مابین کوئی اختلاف نہیں پایا جاتا۔ اگر وہ اس ضمن میں مختلف الرائے ہیں کہ اس پر قتل کا حکم لگانے کا سبب کیا ہے ؟
امام ابو حنیفہ اور ان کے اصحاب بھی توہین کرنے والے، آپ سے بیزار ہونے والے اور آپ کی تکذیب کرنے والے کو مرتد قرار دیتے ہیں ۔ امام شافعی کے اصحاب آپ کی توہین کرنے والے کے بارے میں کہتے ہیں کہ یہ صریح گالی کے مانند ہے۔ اس لئے کہ نبی کی توہین کرنا کفر ہے۔ آیا اس کا قتل ضروری ہے یا یہ جرم توبہ کرنے سے ساقط ہو جاتا ہے۔ اس میں دو قول ہیں ۔ امام شافعی نے اس ضمن میں تصریح کی ہے ۔
تمام مذاہب کے علماء کی تصریحات اس بارے میں متفق ہیں کہ آپ کی تنقیص شان کفر ہے جس سے خون مباح ہو جاتا ہے۔ توبہ کا مطالبہ کرنے کے بارے میں ان کے یہاں اختلاف پایا جاتا ہے۔ اس سے کچھ فرق نہیں پڑتا کہ اس نے آپ کی عیب چینی کا قصد کیا ہو یا نہ کیا ہو۔ مگر اس کا مقصد اور ہے، گالی اس کے زیر اثر دی ہو یا نہ دی ہو۔ بلکہ وہ مذاق کر رہا ہو یا کچھ اور کرتا ہو۔
یہ سب باتیں اس حکم میں شریک ہیں جب اس کا قول بذاتِ خود گالی ہو۔ بعض اوقات ایک شخص اللہ کی ناراضگی پر مبنی ایک بات کہتا ہے، اس کا خیال یہ نہیں ہوتا کہ وہ اس درجہ تک پہنچے گی جہاں وہ پہنچ گئی ۔ اس کی وجہ سے وہ جہنم میں گرے گا، جس کی دونوں جہتوں میں مشرق و مغرب جتنا فاصلہ ہے اور جس نے ایسی بات کہی جو گالی اور تنقیص شان پر مشتمل ہے۔ اس نے اللہ اور اس کے رسول کو گالی دی۔ وہ ایسے اقوال میں سے ہے جو لوگوں کو ایذا دیتے ہیں اور وہ بجائے خود ایذا ہیں، اگرچہ ان کے ساتھ ایذا کا قصد نہ بھی کیا گیا ہو۔ کیا
تم نے ان لوگوں کو نہیں سنا جو کہتے ہیں کہ "ہم تو صرف کھیل تفریح میں مشغول ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا :- "کیا تم اللہ، اس کی آیات اور اس کے رسول کا مذاق اُڑاتے تھے۔ اب عذر پیش نہ کیجئے۔ تم ایمان لانے کے بعد کافر ہو چکے ہو"۔
(التوبۃ ۶۵ - ۶۶)
یہ اسی طرح ہے جیسے کوئی شخص ناراض ہو اور اُسے رسول کریم کی کوئی حدیث یا کوئی حکم سنایا جائے یا آپ کی سنّت کی طرف دعوت دی جائے تو وہ (آپ پر) لعنت کرے یا آپ کی شان میں بُرے بھلے الفاظ کہے و مثل ایں۔ قرآن میں فرمایا :- "پس نہیں اور تیرے رب کی قسم وہ ایمان نہیں لائیں گے یہاں تک کہ آپ کو ان امور میں حکم بنائیں جو اُن کے یہاں متنازع ہوں پھر اپنے نفوس میں اس فیصلے سے تنگی نہ پائیں جو آپ کریں اور اپنا سر تسلیم خم کر دیں ۔ "
(النساء - ۶۵)
اللہ تعالیٰ نے اپنی ذات کی قسم کھائی کہ یہ لوگ اس وقت تک مومن نہیں ہوں گے۔ جب آپ کو اپنے اُمور میں حکم نہ بنائیں اور جو فیصلہ آپ کریں ۔ اس کے بارے میں اپنے نفوس میں کچھ تنگی نہ پائیں ۔ جو شخص آپ کے فیصلے کے بارے میں جھگڑا کرے اور رسولِ کریم کے ذکر سے تنگی محسوس کرے۔ حتی کہ بیہودہ گوئی سے کام لے تو قرآن عزیز کے فیصلے کے مطابق وہ کافر ہے۔ اُسے اس بناء پر معذور تصور نہ کیا جائے کہ اس کا مقصد مخالفت کی تردید کرنا ہے۔ اس لئے کہ کوئی شخص اس وقت تک مومن نہیں ہو سکتا، یہاں تک کہ اللہ اور اس کا رسول باقی سب لوگوں سے محبوب تر نہ ہو۔ اور یہاں تک کہ رسول اُسے اپنے والدین ، اولاد اور سب لوگوں سے عزیز تر ہو ۔
ایک قائل کا قول اسی قبیل سے ہے کہ یہ ایسی شتم ہے جس میں رضائے الٰہی
کو ملحوظ نہیں رکھا گیا ۔" اور ایک دوسرے شخص نے کہا تھا " انصاف سے کام لیجئے آپ نے انصاف نہیں کیا ۔" ایک انصاری کا یہ کہنا کہ یہ فیصلہ آپ نے اس لئے کیا کہ زُبیر آپ کا پھوپھی زاد بھائی تھا ۔" یہ خالص کفر ہے کیونکہ اس نے دعویٰ کیا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے زبیر کے حق میں اس لئے فیصلہ صادر کیا کہ وہ آپ کا پھوپھی زاد ہے ۔ اس لئے اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی ۔
اللہ تعالیٰ نے قسم کھا کر بیان کیا کہ یہ لوگ اس وقت تک مومن نہیں ہوں گے جب تک آپ کا فیصلہ سن کر اپنے دل میں کوئی تنگی محسوس نہ کریں ۔ البتہ آپ نے اس کو معاف کر دیا جس طرح اس کو معاف کیا جس نے کہا تھا کہ یہ ایسی تقسیم ہے جس میں رضائے خداوندی کو پیش خاطر نہیں رکھا گیا نیز اس شخص کو معاف کیا جس نے کہا تھا انصاف سے کام لیجئے ، آپ نے انصاف نہیں کیا ۔ ہم نے حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ سے اس شخص کے بارے میں نقل کیا ہے جو رسول کریم کے فیصلے پر راضی نہ تھا اور انہوں نے اُسے قتل کر دیا تھا ۔ تو اس ضمن میں قرآن نازل ہوا اور اس میں حضرت عمرؓ کی تائید کی گئی تھی ۔ پھر اس شخص کا کیا حال ہو گا جو رسول کریم کے فیصلہ پر طعنہ زن ہو ؟
فقہاء کے ایک گروہ نے ذکر کیا ہے جس میں ابن عقیل اور امام شافعی کے بعض اصحاب بھی ہیں کہ اس کی سزا تعزیر تھی (جس کا انحصار و مدار حاکم کی صوابدید پر ہوتا ہے ) اہل علم میں سے بعض وہ ہیں جو کہتے ہیں کہ آپ نے تعزیر اس لئے نہ لگائی کہ تعزیر واجب نہیں ۔ اور بعض کہتے ہیں کہ اُسے معاف کر دیا اس لئے کہ وہ حق پر تھا ۔ اور بعض نے یوں کہا کہ اُسے یہ سزا دی کہ حضرت زبیر سے کہا کہ اپنے کھیت کو سیراب کرے ۔ پھر پانی کو روکے رکھے یہاں تک کہ کناروں تک پہنچ جائے ۔ یہ ردی اقوال ہیں اور اس میں غور کرنے والا اس حقیقت سے آگاہ ہے کہ نصِ قرآنی کے مطابق وہ شخص قتل کا مستحق تھا ۔ اس لئے کہ قرآن نے کہا ہے کہ جو شخص اس قسم کا ہو وہ مومن نہیں ہوتا ۔
اگر معترض کہے کہ ایک صحیح روایت میں آیا ہے کہ وہ بدری صحابہ میں سے تھا ۔
صحیحین میں حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اور مجھے کیا معلوم کہ اللہ تعالیٰ نے اہلِ بدر کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا تم جیسے اعمال چاہو بجا لاؤ میں نے تمہیں معاف کر دیا ۔ اگر یہ قول کفر تھا تو اس سے لازم آتا ہے کہ کفر کو معاف کیا جائے حالانکہ کفر کو معاف نہیں کیا جاتا ۔ اور کسی بدعتی شخص کے بارے میں یہ نہیں کہا جاسکتا کہ وہ کافر تو اس کے جواب میں کہا جائے گا کہ اس ” زیادت “ کو ابو الیمان نے شعیب سے نقل کیا ہے۔ جب کہ اکثر راویوں نے اسے ذکر نہیں کیا ۔ لہٰذا ہو سکتا ہے کہ یہ وہم پر مبنی ہو۔ جیسا کہ کعب اور بلال بن امیہ کی روایت میں آیا ہے کہ وہ دونوں بدر میں حاضر نہیں ہوئے تھے۔ اور ابن اسحٰق نے بھی زہری سے اس کو روایت نہیں کیا ۔ مگر بظاہر یہ صحیح ہے۔
ہم کہتے ہیں کہ حدیث میں یہ بات مذکور نہیں کہ یہ واقعہ بدر کے بعد پیش آیا ، ممکن ہے کہ یہ غزوہ بدر سے پہلے وقوع پذیر ہوا ہو ۔ اس شخص کو بدری اس لئے کہا گیا کہ جب حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما نے یہ واقعہ بیان کیا تو اس وقت وہ شخص بدری بن چکا تھا۔ چنانچہ عبداللہ بن زبیر اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ ایک انصاری نے زبیر کے ساتھ رسولِ کریم کی موجودگی میں سنگستان کے ایک نالے کے بارے میں جھگڑا کیا جس سے وہ کھجور کے درختوں کی آبپاشی کرتے تھے۔ انصاری نے کہا ” پانی کو چلنے دو “ مگر زبیر نے انکار کیا۔ چنانچہ دونوں جھگڑتے ہوئے رسول کریم کی خدمت میں پہنچے۔ رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے زبیر سے کہا ” اے زبیر پہلے تم پانی لگا لو پھر اپنے پڑوسی کی طرف چھوڑ دو “ انصاری ناراض ہوا اور کہا یا رسول اللہ آپ نے یہ فیصلہ اس لئے کہ زبیر آپ کے پھوپھی زاد بھائی ہیں۔
یہ سن کر رسولِ کریم کا رنگ فق ہو گیا اور زبیر سے کہا ” اے زبیر پہلے تم اپنے درختوں کو پلاؤ ، پھر پانی کو رو کے رکھو یہاں تک کہ کناروں کے ساتھ جا لگے۔
(النساء : ۶۵)
زبیر نے کہا بخدا میرا خیال ہے کہ آیتِ کریمہ ” فَلَا وَ رَبِّكَ “ اس ضمن میں نازل ہوئی۔ صحیح بخاری میں بہ روایت عروہ منقول ہے کہ رسولِ کریم نے
حضرت زبیر کا حق محفوظ رکھا۔ قبل ازیں رسول کریم نے حضرت زبیر کو جو مشورہ دیا تھا۔ اس میں حضرت زبیر اور انصاری دونوں کی سہولت کو ملحوظ رکھا تھا۔ جب انصاری نے رسول کریم کو ناراض کر دیا تو آپ نے واضح حکم دے کر زبیر کا حق محفوظ رکھا۔ یہ روایت اس امر کو تقویت دیتی ہے کہ یہ واقعہ غزوہ بدر سے پہلے کا ہے کیونکہ رسول کریم نے وادی مہزور کے بارے میں حکم دیا تھا کہ بالائی جانب والا اپنے کھیت کو پہلے سیراب کرے پھر پانی کو روکے رکھے یہاں تک کہ ٹخنوں تک پہنچ جائے ۔ اگر حضرت زبیر کا واقعہ اس فیصلہ کے بعد کا ہوتا تو اسے معلوم ہوتا کہ یہ فیصلہ کیوں کر صادر کیا گیا ۔ اس فیصلے سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ پہلے کا ہے جبکہ آپ مدینہ منورہ تشریف لائے تھے، اس لئے کہ فیصلہ کی ضرورت اس وقت تھی جب آپ نے مدینہ میں نزول اجلال فرمایا۔ ممکن ہے کہ حضرت زبیر کا واقعہ ہی اس فیصلے کا موجب ہوا ہو۔
علاوہ ازیں بکثرت اہل علم نے ذکر کیا ہے کہ ان آیات کا ابتدائی حصہ اس وقت نازل ہوا جب بعض منافقین نے چاہا کہ اپنے فریق مقدمہ یہودی کا جھگڑا کعب بن اشرف کے پاس لے جائے ۔ اور یہ غزوہ بدر سے پہلے کا واقعہ ہے اس لیے کہ کعب بن اشرف غزوہ بدر کے بعد مکہ گیا تھا۔ جب وہاں سے لوٹ کر آیا تو اسے قتل کر دیا گیا۔ غزوہ بدر کے بعد اس کا قیام مدینہ میں اتنا نہ تھا کہ مقدمہ اس کے پاس لے جایا جاتا ، اور اگر یہ واقعہ بدر کے بعد پیش آیا تو ہو سکتا ہے کہ ان کلمات کا قائل اس وقت تک توبہ کر کے اپنے گناہ کی معافی طلب کر چکا ہو۔ اور رسول کریم نے اسے معاف کر دیا ہو۔ اور اہل بدر کے لئے جس بات کی ضمانت دی گئی ہے وہ تو معافی ہے۔ یا تو یہ کہ وہ معافی مانگیں ، اگر وہ گناہ ایسا ہو کہ معافی مانگے بغیر اسے معاف نہ کیا جا سکتا ہو۔ یا ایسا نہ ہو ، اور یا معافی مانگے بغیر اسے معاف کیا جا سکتا ہو، کیا آپ کو معلوم نہیں کہ قدامہ بن مظعون نے جو کہ بدری صحابی تھے اس آیت :- لَيْسَ عَلَى الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ جُنَاحٌ فِيْمَا طَعِمُوْا ۔
(المائدہ - ۹۳)
( جو لوگ ایمان لائے اور نیک اعمال کئے انہوں نے جو کچھ کھا لیا ان پر کچھ حرج نہیں۔) سے شراب کے حلال ہونے پر استدلال کیا۔ یہاں تک کہ حضرت عمرؓ اور اہل شوریٰ نے پختہ ارادہ کیا کہ قدامہ اور ان کے اصحاب سے توبہ کا مطالبہ کیا جائے۔ اگر شراب کی حرمت کا اقرار کریں تو انہیں کوڑے مارے جائیں۔ اور اگر اقرار نہ کریں تو وہ کافر ہو جائیں گے۔
پھر قدامہ نے توبہ کر لی، مگر اپنے جی میں اپنے گناہ کی بڑائی کی وجہ سے مایوس ہو گئے۔ حتیٰ کہ حضرت عمرؓ نے سورۃ غافر کی ابتدائی آیات قدامہ کی طرف بھیجیں۔ معلوم ہوا کہ بدری صحابہؓ کو جس بات کی ضمانت دی گئی وہ حسن خاتمہ کی ہے اور یہ کہ انہیں بخش دیا جائے گا۔ اگرچہ ممکن ہے کہ قبل ازیں ان سے کوئی گناہ صادر ہو جائے۔ اس لئے کہ توبہ پہلے گناہوں کو ساقط کر دیتی ہے۔ جب ثابت ہو گیا کہ ہر گالی— صراحۃً ہو یا اشارۃً — قتل کی موجب ہے جس امر کا اہتمام ضروری ہے وہ فرق ہے اس گالی کے درمیان جس سے توبہ قبول نہیں کی جاتی اور اس کفر کے مابین جس سے توبہ قبول کی جاتی ہے۔ چنانچہ ہم کہتے ہیں:۔
گالی اور کفر کے درمیان فرق و امتیاز
اس حکم کو کتاب وسنت میں اللہ اور اس کے رسولؐ کی ایذاء کے ساتھ وابستہ کیا گیا ہے اور بعض احادیث میں اس کو ” ذکر الشتم والسبّ “ کے عنوان کے تحت ذکر کیا گیا ہے۔ صحابہ اور فقہاء نے بھی اس کو سبّ و شتم کے نام سے ذکر کیا ہے۔ اور کسی اسم کی لغت میں جب کوئی حد مقرر نہ کی گئی ہو مثلاً الارض، السماء، البحر، الشمس والقمر اور شرع میں بھی اس کی تعریف مذکور نہ ہو جیسے صلوٰۃ، زکوٰۃ، حج، ایمان اور کفر تو اس کی تعریف کے بارے میں عرف عام پر اعتماد کیا جاتا ہے۔ مثلاً ” القبض (قبضہ کرنا) الحرز (حفاظت کرنا) البیع (خرید و فروخت) الرهن
گروی رکھنا، الکراء (کرایہ پر دینا) و مانند ہیں۔ بنابریں واجب ہے کہ اَذٰی (ایذا دینا) السَّبُّ والشَّتم (گالی دینا) کے بارے میں عرف عام کی طرف رجوع کیا جائے۔ جس کو عرف عام میں گالی دینا توہین، عیب چینی، اور طعن و تشنیع سمجھا جاتا ہو وہ سَبّ ہے۔ اور جو اس طرح نہ ہو اس کو کفر کہا جاتا ہے۔ اس طرح اس کو کفر تو کہا جائے گا مگر سَبّ نہیں اس کا حکم وہی ہے جو مرتد کا ہے، بشرطیکہ وہ اس کا اظہار کرتا ہو۔ اگر اس کا اظہار نہ کرتا ہو تو اس کو زندقہ سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ اس میں اس بات کو پیش نظر رکھا جاتا ہے کہ وہ لفظ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لئے گالی اور ایذا کا موجب ہو، اگرچہ دوسروں کے لئے ایذا کا باعث نہ بھی ہو۔
بنابریں جو لفظ غیر نبی کے لئے بولا جائے اور اس سے کسی طرح بھی تعزیر یا حَد واجب ہوتی ہو تو وہ نبی کے لئے گالی کے ہم معنی ہے جیسے قذف (بہتان طرازی) لعنت وغیرہ الفاظ جن کے بارے میں قبل ازیں تنبیہ کی گئی ہے۔ باقی رہے وہ الفاظ جن کے ذریعے نبوت و رسالت پر جرح و قدح کی جاتی ہے، تو اگر وہ صرف نبوت کی عدم تصدیق پر مشتمل ہوں تو وہ کفر محض ہیں۔ اور اگر ان سے عدم تصدیق کے علاوہ اہانت اور بے آبروئی کا پہلو بھی نکلتا ہو تو وہ ”سَبّ“ و گالی کہلاتے ہیں۔ اس باب میں کچھ اجتہادی مسائل بھی ہیں جن کے بارے میں فقہاء کرام مذبذب ہیں کہ آیا وہ سَبّ میں شامل ہیں یا ارتدادِ محض ہیں۔ پھر جن الفاظ کے بارے میں ثابت ہو جائے کہ وہ گالی نہیں ہیں اگر ان کا ارتکاب کرنے والا انہیں چھپاتا ہو تو وہ ”زندیق“ ہے۔ اس کا حکم وہی ہے جو زندیق کا ہوتا ہے، ورنہ وہ مرتد محض ہے باقی رہا اس کے تمام انواع و اقسام کا بیان اور ان کے درمیان فرق و امتیاز قائم کرنا تو یہ اس کے لئے مناسب موقع نہیں ہے۔
—٭—
فصل
ذمّی اگر رسول کریم کو گالی دے تو اس کا عہد ٹوٹ جاتا ہے اور اس
کا قتل واجب ہو جاتا ہے !
جہاں تک ذمّی کا تعلق ہے تو اس کے کفر محض اور گالی دینے میں فرق و امتیاز روا رکھنا واجب ہے ۔ اگر وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نبوت کو نہ مانے تو اس کا عہد نہیں ٹوٹتا اور نہ ہی بالاتفاق اس کا خون مباح ہوتا ہے۔ اس لئے کہ ہم نے اسی شرط پر ان کے ساتھ مصالحت کی ہے۔ البتہ اگر وہ رسول کریم کو گالی دے تو اس کا عہد ٹوٹ جاتا ہے اور وہ واجب القتل ہو جاتا ہے ۔ جیسا کہ پیچھے گزرا ۔ قاضی ابو یعلیٰ فرماتے ہیں :
- عقد ایمان کے لئے ضروری ہے کہ وہ رسول کریم کو جھٹلاتے ہوں۔ یہ ضروری نہیں کہ وہ آپ کو گالیاں بھی دیتے ہوں ۔"
جو مسلم رسول کریم کو گالی دے وہ واجب القتل ہے
ہم قبل ازیں بیان کر چکے ہیں کہ اس فرق کو مسلم کے بارے میں بھی ملحوظ رکھا جاتا ہے کیونکہ ہم محض گالی دینے کی وجہ سے اُسے قتل کر دیتے ہیں ۔ رسول کریم کو گالی دینا حدود شرعیہ میں سے ایک حد ہے جو توبہ کرنے سے بھی ساقط نہیں ہوتی ، اگرچہ توبہ درست بھی ہو ۔ جب ہم اُسے زندیق یا محض مرتد ہونے کی وجہ سے قتل کرتے ہیں تو اندریں صورت اس کے
کفر محض اور جن انواع پر وہ مشتمل ہے کچھ فرق نہیں ۔
صحابہؓ و تابعینؒ کے آثار و اقوال
امام مالکؒ، احمد بن حنبلؒ اور دیگر فقہائے کرام کہتے ہیں کہ جو شخص رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو گالی دے، خواہ مسلم ہو یا معاہد اُسے قتل کیا جائے۔ انہوں نے گالی کے مختلف اقسام میں کچھ فرق روا نہیں رکھا۔ نہ اس سے کچھ فرق پڑتا ہے کہ گالی ایک دفعہ دی جائے یا کئی مرتبہ، نیز یہ کہ علانیہ دی گئی ہو یا پوشیدہ طور سے عدم اظہار کا مطلب یہ ہے کہ مسلمانوں کے سامنے نہ دی گئی ہو۔ ورنہ حد اس وقت تک نہیں لگائی جاسکتی جب تک دو مسلم اس امر کی شہادت نہ دیں کہ انہوں نے اُسے گالی دیتے سنا ہے یا وہ خود گالی دینے کا اقرار کرے۔ اظہار کا مطلب یہ ہے کہ مسلمانوں کے سامنے گالی دے جب کہ وہ اکٹھے رہ رہے ہوں ۔ الاّ یہ کہ فرض کر لیا جائے کہ اس نے اپنے گھر میں جب کہ وہ تنہا تھا آپؐ کو گالی دی اور قرب و جوار میں رہنے والے مسلمانوں نے اُسے سنا یا یہ کہ مسلمانوں نے چوری چھپے اُسے گالی دیتے سنا۔ امام مالک اور امام احمد بن حنبلؒ رحمہما اللہ فرماتے ہیں کہ ”جو شخص رسول کریمؐ کو گالی دے یا آپؐ کی تنقیصِ شان کرے ۔۔۔ وہ مسلم ہو یا کافر ۔۔۔ اُسے قتل کیا جائے۔ اور اس سے توبہ کا مطالبہ نہ کیا جائے۔ اس طرح انہوں نے تصریح کی کہ کافر کے رسول کریمؐ کو گالی دینے اور آپؐ کی توہین کرنے سے اس کو قتل کرنا واجب ہو جاتا ہے۔ اس جرم کے ارتکاب سے مسلم کو بھی قتل کیا جاسکتا ہے۔ ہمارے تمام اصحاب علی الاطلاق کہتے ہیں کہ ذمی رسول کریمؐ کو گالی دے کر واجب القتل ہو جاتا ہے ۔
قاضی ابو یعلیٰ، ابن عقیل اور دیگر علماء کہتے ہیں کہ جو چیز ایمان کو باطل کر دے وہ امان کو بھی باطل کر دیتی ہے، بشرطیکہ ایمان کو باطل کرنے والی چیز کا اظہار کیا جائے۔ اس لئے اسلام کا عہد ذمہ کی نسبت زیادہ پختہ ہے۔ جب کہ کلام کی بعض قسمیں ایسی ہیں جو اسلام کے عطا کردہ تحفظِ خون کو ناکارہ بنا
دیتی ہیں تو ان کا ذمہ کے دیئے ہوئے تحفظ کو رائیگاں کرنا بالاولیٰ ہے۔ جب کہ ان دونوں کے مابین ایک اور فرق بھی پایا جاتا ہے۔ اور وہ یہ کہ مسلم جب رسولِ کریمؐ کو گالی دے گا تو اس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ رسولِ کریمؐ کے بارے میں سُوءِ عقیدہ کا شکار ہے اسی لئے وہ کافر ہو جاتا ہے۔ اور ذمی کا عقیدہ ہمیں پہلے سے معلوم ہے اور ہم نے اُسے اس کے عقیدہ پر قائم رہنے دیا۔ اس پر جو گرفت کی جاتی ہے وہ اس وجہ سے کی جاتی ہے کہ اس نے اپنی بدعقیدگی کو چھپایا اور اس کا اظہار نہیں کیا۔ اب دونوں (مسلم و ذمی) کے مابین جو فرق باقی رہا۔ وہ اظہار اور اضمار (پوشیدہ رکھنے) کا ہے۔
گالی کے اظہار و اضمار کا فرق و امتیاز
ابن عقیل رحمہ اللہ ازیں ۔ جس طرح مسلم پر یہ گرفت کی گئی ہے کہ وہ رسول کریم کی رسالت کا عقیدہ نہیں رکھتا۔ بعینہ ذمّی پر یہ تنقید کی گئی ہے کہ اُس نے اپنے (سُوءِ عقیدہ) کا اظہار نہیں کیا۔ پس اس کا اظہار اس کے اضمار کی مانند ہے۔ اور اس کے چھپانے سے اسلام کو نہ تو کوئی نقصان پہنچتا ہے اور نہ اس میں کوئی نقص و عیب ہے۔ البتہ اس کے اظہار سے اسلام کو نقصان پہنچتا۔ اور بٹہ لگتا ہے یہی وجہ ہے کہ جن جرائم کو وہ مسلم کے حق میں چھپائے رکھتا ہے۔ ان کی جستجو نہیں کی جاتی۔ اگر وہ ان کا اظہار کرتا تو ہم اس پر حد لگا دیتے۔
قاضی اور ابن عقیل نے ہر اس کلام کے بارے میں اس قیاس کو رَدّ کر دیا ہے جس سے ایمان کو نقصان پہنچتا ہے مثلاً اللہ کے دو یا تین ہونے کا عقیدہ جس طرح نصاریٰ کہتے ہیں کہ اللہ تین خداؤں میں سے تیسرا ہے ومثل ایں ۔ جو ذمّی اپنے مذہب میں موجود شرک کا اظہار کرے گا اس کا عہد ٹوٹ جائے گا۔ جیسے کہ اگر وہ ہمارے رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بارے میں اپنے عقیدہ کا اظہار کرے تو اُس کا عہد ٹوٹ جائے گا۔ قاضی ابو یعلیٰ کہتے ہیں کہ امام احمد رحمہ اللہ نے اس کی تصریح کی ہے۔ جیسا کہ حنبلؒ نے اُن سے روایت کیا ہے کہ جو شخص بھی
کے تحفظ کو رائیگاں کرنا بالاؤلیٰ ہے ۔ جب کہ بھی پایا جاتا ہے۔ اور وہ یہ کہ مسلم جب رسول کریم ہے کہ وہ رسول کریم کے بارے میں سُوءِ کافر ہو جاتا ہے۔ اور ذمی کا عقیدہ ہمیں پہلے کے عقیدہ پر قائم رہنے دیا۔ اس پر جو گرفت کی ہے کہ اس نے اپنی بد عقیدگی کو چھپایا اور اس ذمی کے مابین جو فرق باقی نہ رہا۔ وہ اظہار
ابن عقیل رقمطراز ہیں :۔
فرق و امتیاز
جس طرح مسلم پر یہ گرفت کا عقیدہ نہیں رکھتا۔ بعینہ ذمی پر یہ تنقید کی گئی اظہار نہیں کیا۔ پس اس کا اظہار اس کے ماننے سے اسلام کو نہ تو کوئی نقصان پہنچتا ہے نہ اس کے اظہار سے اسلام کو نقصان پہنچتا۔ م کو وہ مسلم کے حق میں چھپائے رکھتا ہے۔ ظہار کرتا تو ہم اس پر حد لگا دیتے۔ سلام کے بارے میں اس قیاس کو رد کردیا ہے ، اللہ کے دو یا تین ہونے کا عقیدہ جس طرح ں سے تیسرا ہے ومثل ایں۔ جو ذمی اپنے اس کا عہد ٹوٹ جائے گا۔ جیسے کہ اگر وہ م کے بارے میں اپنے عقیدہ کا اظہار کرے
یلی کہتے ہیں کہ امام احمد رحمہ اللہ نے اس ن سے روایت کیا ہے کہ جو شخص بھی
ایسی چیز کا ذکر کرے جس سے اللہ کی توہین کا پہلو نکلتا ہو تو وہ واجب القتل ہے ۔ وہ مسلم ہو یا کافر۔ اہل مدینہ کا مذہب یہی ہے ۔ امام جعفر بن محمد فرماتے ہیں :۔
میں نے ابو عبداللہ سے سنا، جب کہ ان سے ایک یہودی کے بارے میں دریافت کیا گیا جس کا گزر ایک مؤذن کے پاس سے ہوا اور وہ اذان کہہ رہا تھا ۔ یہودی نے مؤذن کو کہا کہ تو نے جھوٹ بولا ۔ ابو عبداللہ نے کہا کہ اگر یہودی کو قتل کیا جائے کیونکہ اس نے گالی دی ۔ چنانچہ ابو عبداللہ نے مؤذن کو کلماتِ اذان کے بارے میں جھٹلانے والے کو قتل کا فتویٰ دیا ۔ اور اذان کے کلمات " اَللّٰهُ اَکْبَرُ یا اَشْهَدُ اَنْ لَّا اِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُ " یا " اَشْهَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اللّٰهِ " ہیں ۔ ابن القاسم اور قاضی نے ان کلمات کا یا تذکرۂ اللہ کو گالی دینے کے بارے میں کیا ہے ۔ اس لئے کہ اس نے مؤذن کو ان کلمات کے بارے میں جھٹلایا جو اللہ تعالیٰ سے متعلق تھے ۔ صحیح تر بات یہ ہے کہ اس کی یہ تکذیب عام ہے ۔ خواہ اللہ سے متعلق ہو یا اس کے رسول کے ساتھ ۔ بلکہ اس کو عموم پر محمول کرنا اولیٰ ہے ۔ کیونکہ یہودی " لَا اِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُ " اور اَللّٰهُ اَکْبَرُ " کہنے والے کو نہیں جھٹلاتا ، بخلاف ازیں وہ " اَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اللّٰهِ " کہنے والے کی تکذیب کرتا ہے ۔ تمام مالکیہ کا یہی قول ہے ۔
مالکیہ کہتے ہیں کہ ہر گالی دینے والے کو قتل کیا جائے ، قطع نظر اس سے کہ وہ اسے حلال سمجھتا ہو یا نہ سمجھتا ہو ۔ اس لئے کہ اگرچہ وہ اسے حلال سمجھتے ہیں مگر ہم نے ان کے ساتھ جو معاہدہ کیا اس کا مطلب ہرگز یہ نہ تھا کہ وہ اس کا اظہار و اعلان کریں گے ۔ جس طرح اسلام گالی دینے والے کو تحفظ نہیں دے سکتا ، اسی طرح ذمہ بھی اس کی حفاظت نہیں کرسکتا ۔ یہ ابو مصعب اور اہل مدینہ کی ایک جماعت کا قول ہے ۔
ابو مصعب نے ایک عیسائی کے بارے میں کہا ، جس نے کہا تھا کہ " مجھے اس ذات کی قسم جس نے عیسیٰ کو محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر فضیلت دی " کہ علماء کا اس
میں اختلاف ہے کہ میں نے اُسے مار مار کر قتل کر دیا ۔ یا وہ ایک رات اور دن زندہ رہا ۔ میں نے ایک آدمی کو حکم دیا جس نے ٹانگ پکڑ کر اُسے کھینچا اور کوڑے کرکٹ کے ڈھیر پر پھینک دیا اور کتے اُسے کھا گئے ۔ ایک عیسائی نے کہا تھا کہ ” عیسےٰ نے محمدؐ کو پیدا کیا “ ابومصعب نے کہا کہ اسے قتل کیا جائے ۔ اندلس کے علمائے سلف نے ایک عورت کے قتل کا فتویٰ دیا جس نے یہ بکواس کی تھی کہ اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو خدا کا بیٹا قرار دیا ۔
ابن القاسم دشنام دہندہ کے بارے میں جو کہے کہ آپؐ نبی نہیں ہیں یا یہ کہ آپؐ رسولؐ نہیں ہیں اور آپؐ پر قرآن نازل نہیں کیا گیا بلکہ آپؐ یونہی بکتے ہیں ۔ کہتے ہیں کہ اُسے قتل کیا جائے ۔ اور اگر کہے کہ ”محمدؐ کو ہماری طرف مبعوث نہیں کیا گیا ہمارے نبی تو موسیٰ یا عیسیٰ ہیں ، مثل ایں “ ۔ تو اُسے کوئی سزا نہ دی جائے ۔ اس لئے کہ اللہ نے ان عقائد سمیت ان کو ہمارے یہاں ٹھہرنے کی اجازت دی ہے ۔
ابن القاسم کہتے ہیں اگر نصرانی کہے کہ ” ہمارا دین تمہارے دین سے بہتر ہے تمہارا دین تو گدھوں کا دین ہے “ ۔ اور اس قسم کے بیہودہ جملے کہے ، یا مؤذن کی زبان سے ” اَشْہَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اللّٰہ “ سُن کر کہے کہ اللہ تمہیں اسی طرح فضیحت کرتا ہے تو اُسے دردناک سزا دی جائے اور طویل عرصہ کے لئے قید کیا جائے ۔ یہ محمد بن سحنون کا قول ہے ، اس کو انہوں نے اپنے والد سے نقل کیا ہے ۔ اُن کا ایک دوسرا قول بھی ہے اس بارے میں جب کہ وہ آپؐ کو اس طریقہ سے گالی دے جس کی بنا پر علماء اس کو کافر کہتے ہیں کہ اُسے قتل نہ کیا جائے ۔
علاوہ ازیں سحنون نے ابن القاسم سے اس شخص کے بارے میں نقل کیا ہے جو یہود و نصاریٰ میں سے ہو اور انبیاء کو اس طریقہ سے گالی دے جس کی بناء پر علماء اُسے کافر قرار دیتے ہیں کہ اُسے قتل کیا جائے ، الاّ یہ کہ وہ اسلام قبول کرلے ۔
سحنون اس یہودی کے بارے میں کہتے ہیں جو مؤذن سے کہے جب کہ وہ
کلمہ شہادت ادا کر رہا ہو کہ ”تو نے جھوٹ کہا“ تو اُسے درد ناک سزا دی جائے اور طویل عرصہ کے لئے اُسے قید کیا جائے۔ اس قسم کے مسئلہ کے بارے میں امام محمدؒ کی تصریح گزر چکی ہے کہ اُسے قتل کیا جائے، اس لئے کہ یہ گالی ہے۔
امام شافعی رحمہ اللہ کے اصحاب نے اس گالی کے بارے میں اختلاف کیا ہے جس سے ذمی کا عہد ٹوٹ جاتا ہے اور اس کی وجہ سے اُسے قتل کیا جاتا ہے۔ اگر ہم اس کو تسلیم کر لیں تو اُس میں دو وجوہ ہیں :۔
- (۱) ایک یہ کہ ہمارے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو گالی علانیہ دینے اور ہمارے دین کو
ہدفِ تنقید بنانے سے عہد ٹوٹ جاتا ہے۔ اگرچہ وہ اپنے مذہب کے مطابق اس کو درست خیال کرتے ہوں۔ ان میں سے اکثر کا قول یہی ہے۔
- (۲) اگر وہ اپنے مذہبی عقیدے کے مطابق یہ کہیں کہ آپؐ رسول نہیں اور قرآن اللہ
کا کلام نہیں ، تو وہ اسی طرح ہے جیسے حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور تثلیث کے بارے میں اپنے عقائد کا اظہار کریں۔ وہ کہتے ہیں کہ بلاشبہ اس سے عہد نہیں ٹوٹتا۔ البتہ اس عقیدہ کے اظہار پر اُن پر تعزیر لگائی جائے گی۔ اگر وہ ایسی بات کریں جو اُن کے دینی عقائد میں مذکور نہ ہو، مثلاً آپؐ کے حسب و نسب پر طعن کرنا تو اس کے بارے میں کہا گیا ہے کہ اس سے عہد ٹوٹ جاتا ہے۔ صیدلانی اور ابو المعالی وغیرہما نے اسی کو اختیار کیا ہے۔
ان لوگوں کی دلیل جو ان کے مذہبی عقائد میں اور جو اُن کے مذہبی عقائد نہ ہوں ان میں تفریق کرتے ہیں — جیسا کہ مالکیہ اور بعض شافعیہ کا موقف ہے — یہ ہے کہ ان کو دارالاسلام میں اسی شرط کے ساتھ ٹھہرایا گیا تھا کہ وہ اپنے مذہبی عقائد پر قائم رہیں گے۔ مگر اپنے مذہبی عقائد کے اظہار سے انہیں منع کیا گیا تھا جب کہ وہ اس کا اظہار کریں۔ مثلاً ان تمام منکرات کا اظہار کریں جو ان کے مذاہب میں حلال ہیں، جیسے شراب، خنزیر، صلیب اور اپنی مذہبی کتاب کو بآوازِ بلند پڑھنا تو اس پر انہیں عبرتناک سزا دی جائے گی جو قتل سے کم درجہ کی ہوگی۔
اُس کی مؤیّد یہ بات ہے کہ اُن کا رسول کے بارے میں اپنے عقائد کا اظہار کرنا اللہ کے بارے میں اپنے عقائد کے اظہار کرنے سے بڑی بات نہیں ہے۔ اور یہ لوگ جانتے ہیں کہ ان کے عقائد کے اظہار سے اُن کو قتل کرنا واجب نہیں ہوتا۔ اور یہ بات نہایت بعید ہے کہ ان کے اپنے عقائد کے اظہار سے ان کا عہد ٹوٹ جائے جب کہ یہ بات شرائط میں مذکور نہ ہو
یہ اس صورت کے بر خلاف ہے جبکہ وہ رسولِ کریم کو گالیاں دیں اور یہ بات اُن کے دینی عقائد سے ہم آہنگ نہ ہو۔ اس لئے کہ ہم نے ان کو اپنے ملک میں رہنے کی ظاہراً و باطناً اس شرط پر اجازت نہیں دی۔ اور یہ ان کے دین کا لازمی عنصر نہیں ہے۔ گویا یہ اسی طرح ہے جیسے زنا، سرقہ اور رہزنی۔ یہ قول کوفیوں کے قول سے ملتا جلتا ہے۔
جو لوگ اس راہ پر گامزن ہیں ان کا گمان یہ ہے کہ یہ بات کہہ کر وہ ان کے سوال سے چھوٹ گئے۔ مگر یہ بات اس طرح نہیں جیسے ان کا عقیدہ ہے اس لئے کہ ہم نے جو دلائل کتاب وسنت، اجماع اور قیاس سے ذکر کئے ہیں ان سے معلوم ہوتا ہے۔ قطع نظر اس کے کہ وہ ان کے دینی عقائد کے ساتھ ہم آہنگ ہو یا نہ ہو۔ نیز یہ کہ گالی علی الاطلاق قتل کی موجب ہے۔ جو شخص ایک ایک کر کے ہر دلیل پر غور کرے گا اس پر یہ بات پوشیدہ نہیں رہے گی کہ یہ تمام الفاظ و کلمات اس امر پر دلالت کرتے ہیں کہ یہ گالی ہیں۔ خواہ یہ ان کے مذہبی عقائد کے مطابق ہو یا نہ ہو۔
ان کلمات میں سے بعض وہ ہیں جو صراحۃً اس گالی میں شامل ہیں جو ان کے دینی عقائد کے مطابق تھی۔ بلکہ اکثر الفاظ اسی قسم کے ہیں، اس لئے کہ اکثر کفار جو آپؐ کی ہجو گوئی کرتے تھے اور آپؐ نے ان کے خون کو ہدر قرار دیا تھا۔ وہ آپؐ کی ہجو اس انداز سے کرتے تھے جو اُن کے دینی عقائد سے میل کھاتی تھی۔ مثلاً آپؐ کو کذب و سحر کی طرف منسوب کرنا، آپؐ اور آپؐ کے اتباع کے دین کی مذمت کرنا اور لوگوں کو آپؐ سے نفرت دلانا، وغیر ذالک۔ جہاں تک آپؐ کے حسب و نسب، آپؐ کے جسم و اخلاق
یا امان و وفا یا دعویٰ رسالت کے علاوہ دیگر امور میں صداقت شعاری کا تعلق ہے ان کے ساتھ کوئی شخص بھی تعرض نہیں کرتا تھا۔ ان میں اس کی استطاعت بھی نہیں تھی اور مسلم ہو یا کافر اس کو کوئی شخص بھی ماننے کے لئے تیار نہ تھا۔ اس لئے کہ یہ کھلم کھلا جھوٹ ہے ۔ قبل ازیں ہم اس پر روشنی ڈال چکے ہیں لہٰذا اس کے اعادہ کی حاجت نہیں ۔
عقیدہ کے مطابق و غیر مطابق میں فرق و امتیاز کی تردید
ہم کہتے ہیں کہ یہ فرق و امتیاز بوجوہ باطل ہے :۔
پہلی وجہ یہ ہے کہ اگر ذمی رسول کریم پر لعنت کرے، آپ کی مذمت کرے ، آپ پر اللہ کی ناراضگی ، جہنم ، عذاب اور ایسی چیزوں کی بددعا مانگے ، اس کے بارے میں اگر کہا جائے کہ یہ وہ گالی نہیں جس سے عہد ٹوٹ جاتا ہے تو یہ قول مردود اور بیہودہ ہو گا۔ اس لئے کہ جو شخص کسی پر لعنت کرے اس کی مذمت کرے تو اس کی گالی کی کوئی انتہاء باقی نہیں رہتی۔ صحیح بخاری و مسلم میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہے کہ آپ نے فرمایا : ”مومن پر لعنت کرنا اس کو قتل کرنے کی مانند ہے “ ظاہر ہے کہ یہ چیز آپ کے اخلاق و امانت اور وفاداری پر طعن کرنے سے بھی شدید تر ہے ۔ اگر کہا جائے کہ ” یہ گالی ہے “ تو ظاہر ہے کہ بعض کفار اس کو دین تصور کرتے ہیں۔ اُن کا خیال ہے کہ یہ تقرب خداوندی کا ذریعہ ہے۔ جس طرح مسیلمہ کذاب اور اسود عنسی پر لعنت کرکے ایک مسلم خدا کا قرب حاصل کرتا ہے۔
دوسری وجہ اگر سابق الذکر فرق کو تسلیم کیا جائے اور وہ رسول کریم کو ایسی گالی دے جس کو وہ دین نہ سمجھتا ہو، مثلاً آپ کے نسب، جسم و اخلاق اور اس قسم کی کسی چیز پر طعن کرے تو اس کا عہد کیسے ٹوٹے گا اور وہ مباح الدم کیسے ہوگا ؟ ظاہر ہے کہ اُسے اس شرط پر ٹھہرایا
گیا ہے جو اس سے بھی عظیم تر ہے۔ مثلاً آپ کے دین پر طعن کرنا جو آپ کے نسب پر طعن کرنے سے بھی بڑی بات ہے۔ اپنے ربّ کے ساتھ کفر کرنا جو سب گناہوں سے بڑا گناہ ہے۔ اور یہ کہہ کر اللہ کو گالی دینا کہ اس کی بیوی اور بچے ہیں۔ نیز یہ کہ وہ تین میں سے تیسرا ہے۔ اس میں شبہہ نہیں کہ دینی لحاظ سے اس طرح اُمت کو کچھ نقصان نہیں پہنچتا کہ اس گالی کا اظہار کرے جس کی صحت کا وہ اعتقاد نہ رکھتا ہو۔ ورنہ کفر کا اظہار کرکے انہیں اس سے زیادہ نقصان پہنچے گا ۔
جب اُسے دونوں میں سے اس گالی پر ٹھہرنے کی اجازت دی گئی جو زیادہ ضرر رساں ہے تو دونوں میں سے کم ضرر والی گالی پر ٹھہرانا اُولیٰ ہے البتہ دونوں میں یہ فرق ہے کہ جب وہ آپ کے نسب اور اخلاق پر طعن کرے گا تو وہ ہمارے سامنے اس بات کا اقرار کرے گا کہ وہ جھوٹا ہے۔ یا یہ کہ اس کے ہم مذہب اس کو گنہگار اور جھوٹا سمجھتے ہیں۔
برخلاف اس گالی کے جس کو وہ دین سمجھتا ہے کہ اس کے بارے میں وہ خود اور اس کے ہم مذہب یک زبان ہیں کہ وہ اس میں جھوٹا اور گنہگار نہیں ہے ۔ جس کا نتیجہ یہ نکلے گا کہ اس نے ایسی بات کہی جس کے ذریعے وہ ان کے نزدیک اور ہمارے نزدیک گنہگار ہوا۔ مگر یہ بات اس کے حق میں کہی جائے گی جس کا اُن کے کوئی احترام نہیں۔ بلکہ اس کی مثال اس کے نزدیک یوں ہے جیسے کوئی شخص مُسیلمہ یا اسود عنسی پر بہتان لگائے اور اُسے اس بات کی طرف منسوب کرے کہ وہ سیاہ فام اور بدشکل عورت تھا۔ یا یوں کہے کہ وہ چوری کرتا تھا اور اس کی قوم کے لوگ اس کو کچھ اہمیت نہ دیتے تھے۔ اور اسی طرح، جیسے بلاوجہ اس کی بے آبروئی کرنا وغیرہ ۔
ظاہر ہے کہ اس سے قتل واجب نہیں ہوتا اور نہ ہی کوڑے لگائے جاتے ہیں۔ اس لئے کہ ناموس و آبرو خون کے تابع ہے۔ جس کا خون محفوظ نہ ہو اس کی عزت بھی محفوظ نہیں ہوتی ۔ اگر گالی دینے سے ذمی کا قتل واجب ہو
اس لئے کہ اس نے ہمارے دین کو تنقید کی آماجگاہ بنایا تو کسی گالی سے اس کا قتل واجب نہیں ہوگا، اس لئے کہ اس کی چنداں اہمیت نہیں۔ اس کی مزید توضیح اس سے ہوتی ہے کہ مسلم کو اس وقت قتل کیا جاتا ہے جب آپؐ پر بہتان وغیرہ لگاتا ہے۔ اس لئے کہ آپؐ کے نسب پر تنقید آپؐ کی نبوت پر جرح کرنے کے مترادف ہے۔ جب ہم نبوت پر جرح کرنے کی بنا پر ذمی کو قتل نہیں کرتے اور نبوت کے علاوہ دوسرے امور پر جرح کرنے سے ہم اُسے کیسے قتل کر سکتے ہیں ؟ اس لئے کہ وسائل مقاصد سے منبعث تر ہوتے ہیں ۔
اس بحث پر جب ایک محققانہ نگاہ ڈالی جائے گی تو مخالفت کرنے والا دونوں باتوں میں سے ایک کو ماننے پر مجبور ہوگا۔ یا تو وہ ان ارباب بصیرت کی بات مانے گا کہ عہد گالی دینے سے نہیں ٹوٹتا۔ یا اندھی تقلید کرتے ہوئے کہے گا کہ عہد ہر قسم کی گالی سے ٹوٹ جاتا ہے۔ باقی رہی یہ بات کہ نقض عہد اور خون کی اباحت کے سلسلہ میں ایک گالی اور دوسری گالی میں فرق کرنا تو یہ بات نہیں۔ اگر مختلف قسم کی گالیوں میں تفریق کی جائے تو اس سے نقض عہد اور وجوب قتل بالکل لازم نہیں آئے گا۔ اور جو شخص صرف اسی کی وجہ سے وجوب قتل کا مدعی ہو تو وہ اس پر کوئی دلیل پیش نہیں کرسکے گا۔
تیسری وجہ
جس چیز کو وہ اپنا دین سمجھتے ہیں جب اس کے اظہار پر ہم انہیں قتل نہیں کرسکے ، تو ہمارے لئے یہ ممکن نہ ہوگا کہ کسی مسلم کی گالی دینے کی وجہ سے ہم اُسے قتل کرسکیں۔ کیونکہ ان میں سے جو کوئی بھی اس قسم کی بات کا اظہار کرے گا اس کے لئے یہ کہنا ممکن ہوگا کہ میں اس کا معتقد ہوں ۔ اور یہ میرا ایمان ہے؛ مگر یہ کہ نسب پر طعن ہو، جس طرح وہ اپنے عقیدے کے مطابق حضرت عیسیٰؑ اور ان کی والدہ پر جرح و قدح کرتے ہیں۔ قرآن میں فرمایا کہ وہ حضرت مریمؑ پر بہتانِ عظیم لگاتے ہیں۔ نیز یہ کہ ان کے مابین بعض گالیوں کے بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے کہ آیا وہ ان کے نزدیک صحیح ہیں یا غلط ؟
وہ ایک گمراہ قوم ہیں۔ اس لئے وہ ایسا بہتان اور ضلالت نہیں لانا چاہتے جس کو دلیلوں سے کوئی رد نہ کر سکتا ہو۔ وہ کسی چیز کے بارے میں کہتے ہیں کہ یہ ہمارا عقیدہ ہے اور اُسے کر ڈالتے ہیں۔ اندریں صورت انہیں قتل نہیں کیا جاتا۔ جب تک یہ ثابت نہ ہو جائے کہ وہ اُسے اپنا دینی عقیدہ نہیں سمجھتے۔ بس اتنی سی بات اُن میں محل نزاع ہے۔ اس کا پتہ اُنہی کی طرف سے معلوم ہوتا ہے اور اُن میں سے بعض کا قول دوسروں کے بارے میں قابل قبول نہیں ہے ہم اگرچہ ان کے اکثر عقائد سے آگاہ ہیں مگر ان کے سینوں میں جو کچھ ہے وہ بہت بڑا ہے۔ ایسے لوگوں سے کفر اور بدعت کا ظہور و صدور کچھ عجب بات نہیں ہے۔ اس فرق کا نتیجہ یہ ہے کہ رسول کو گالی دینے کی وجہ سے دشنام دہندہ کو حتمی طور پر قتل کیا جائے۔ بخدا اہل الرائے کا قول یہی ہے اور ان کی دلیل یہی ہے جو انہوں نے نقل کی۔ قبل ازیں ہم اس کا جواب دے چکے ہیں۔ ہم نے ان سے عہد لیا تھا کہ وہ اپنے مذہب کو چھپا کر رکھیں گے۔ نہ یہ کہ اپنے باطل اقوال کا اظہار کریں گے اور علانیہ ہمارے دین کو ہدف طعن و ملامت بنائیں گے، اگرچہ وہ اسے حلال تصور کرتے ہیں۔
انہوں نے ہمارے ساتھ اس کو ترک کرنے پر جو معاہدہ کیا تھا اس کی بناء پر وہ ان کے دین میں بھی اُن پر حرام ٹھہرا۔ جس طرح اُنہوں نے ہمارے ساتھ یہ معاہدہ کیا تھا کہ وہ ہمارے خون اور مال سے تعرض نہیں کریں گے۔ ہم ذکر کر چکے ہیں کہ دارالاسلام میں علانیہ کلمۂ کفر کا اظہار اسی طرح ہے جس طرح کھلم کھلا کسی پر تلوار چلائی جائے بلکہ اس سے بھی شدید تر ۔ علاوہ بریں کفر میں گالی کی نسبت زیادہ عموم پایا جاتا ہے بعض اوقات ایک آدمی کافر ہوتا ہے مگر وہ گالی نہیں دیتا۔ اس مسئلہ میں یہی حکمت ومصلحت پائی جاتی ہے۔ اس لئے ہم اس پر تفصیلی روشنی ڈالیں گے ۔ چنانچہ ہم کہتے ہیں :۔
" گالی کی اقسام اور ہر ایک کا حکم "
رسول کریم کو گالی دینے کی مثال اور اس کا طریقہ
اگرچہ اس کا ذکر و بیان قلب و لسان پر گراں گزرتا ہے اور اس کو زیر بحث لانا ہمارے لئے بہت دشوار ہے چونکہ اس کا شرعی حکم بیان کرنے کے لئے ہم اس پر گفتگو کرنے کے محتاج ہیں۔ اس لئے ہم علی الاطلاق بلا تعیین گالی کے دو اقسام بیان کریں گے ۔ فقیہ حسب ضرورت اس میں سے اپنے کام کی چیزیں لے لیگا ۔ چنانچہ ہم کہتے ہیں کہ گالی کی دو قسمیں ہیں ۔ (۱) دعاء ، (۲) خبر، دعاء کی مثال یہ ہے کہ ایک شخص دوسرے کے حق میں کہے ، اس پر اللہ لعنت کرے ، خدا اس کا بُرا کرے، اللہ اُسے رسوا کرے، اللہ اس پر رحم نہ کرے، خدا اس سے راضی نہ ہو، اللہ اس کی جڑ اکھیڑ دے۔ یہ کلمات اور ان کے نظائر و امثال انبیاء اور دوسرے لوگوں کے لئے گالی کی حیثیت رکھتے ہیں ۔ اگر کسی نبی کے بارے میں کہے کہ ” اللہ اس پر درود و سلام نہ بھیجے، اللہ اس کا ذکر بلند نہ کرے ، اللہ اس کا نام مٹا دے اور اس طرح کے الفاظ بددعا کے طور پر استعمال کرے جو اس کے لئے دین و دنیا اور آخرت میں ضرر رسانی کا موجب ہوں تو یہ بھی گالی ہے ۔
مذکورہ صدر تمام کلمات جب مسلم یا معاہد سے صادر ہوں تو یہ گالی کی حیثیت رکھتے ہیں۔ اگر دشنام دہندہ مسلم ہو تو اس کے عوض اُسے بہر کیف قتل کیا جائے ۔ اور اگر ذمی ہو اور علانیہ طور پر وہ گالی دے تو اُسے قتل کیا جائے ۔ اگر نبی کریم کے حق میں ظاہراً دعاء دے اور بباطن بد دعا دے اور اس کے لب و لہجے سے بعض لوگ سمجھ لیں (کہ یہ بد دعا ہے ) اور بعض نہ سمجھیں۔ مثلاً السّام علیکم (تمہیں موت آئے) سلام کی بجائے کہے اور یہ ظاہر کرے کہ وہ سلام کہتا ہے تو اس کے بارے میں دو قول ہیں :۔
ایک قول
ایک قول یہ ہے کہ یہ گالی ہے اور اس کے عوض اُسے قتل کیا جائے۔ جب یہودیوں نے آپ کو اس قسم کا سلام کہا تھا اور آپ نے انہیں معاف کر دیا، تو اس کی وجہ یہ تھی کہ اسلام اُس وقت کمزور تھا۔ آپ کو اس وقت انہیں معاف کرنے اور ان کی ایذاء پر صبر کرنے کا حکم دیا گیا تھا۔ یہ مالکیہ، شافعیہ اور حنبلیہ کے ایک گروہ کا موقف ہے۔ مثلاً قاضی عبدالوہاب، قاضی ابو یعلیٰ، ابو اسحاق شیرازی، ابو الوفاء بن عقیل وغیرہم۔ جن لوگوں کا یہ مذہب ہے کہ یہ گالی ہے وہ کہتے ہیں کہ ان کے بارے میں یہ معلوم نہ تھا کہ یہ معاہد ہیں، مگر یہ قول اس لئے ساقط الاعتبار ہے کہ ہم قبل ازیں بیان کر چکے ہیں کہ مدینہ کے یہودی معاہد تھے۔ دوسرے لوگوں کا کہنا ہے کہ یہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا حق تھا اور آپ انہیں معاف کر سکتے تھے۔ مگر آپ کے بعد کسی کو معاف کرنیکا اختیار نہیں۔
دوسرا قول
دوسرا قول یہ ہے کہ یہ وہ گالی نہیں جس سے عہد ٹوٹ جاتا ہے۔ اس لئے کہ یہ گالی انہوں نے علانیہ اور جہراً نہیں دی۔ بلکہ ظاہری لفظوں میں اور اپنی حالت سے سلام کا اظہار کیا (السلام) کے لفظ سے پوشیدہ طور پر لام کو حذف کر دیا، جس کو بعض سامعین بھانپ جاتے ہیں، مگر اکثر لوگوں کو پتہ نہیں چلتا، اسی لئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
” یہودی جب سلام کہتے ہیں تو وہ ” السام علیکم “ کہتے ہیں۔ تم اس کے جواب میں صرف ” وعلیکم “ کہہ دیا کرو۔ “
رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو شریعت کا جزو بنا دیا جو آپ کی زندگی میں بھی قائم رہا اور آپ کی وفات کے بعد بھی یہاں تک کہ یہ سنت قرار پائی کہ ذمی اگر سلام کہے تو اُسے ” وعلیکم “ کہا جائے۔ ایک یہودی نے جب سلام کہا تو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ۔ ” کیا تمہیں معلوم ہے کہ اس نے کیا کہا ؟ اُس نے کہا ہے ” السام علیکم “ (تمہیں موت آئے) اگر یہ گالی ہوتی تو یہودی سے یہ بات سنتے ہی اُسے سزا دی جاتی اگرچہ کوڑے ہی
مارے جاتے ۔ جب ایسا نہیں ہوا تو معلوم ہوتا ہے کہ اس جرم پر ان کا مؤاخذہ جائز نہیں ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے بارے میں فرمایا ہے :۔
- اور جب تمہارے پاس آتے ہیں تو جس (کلمے) سے خدا نے تم کو دعا نہیں
دی اس سے تمہیں دعا دیتے ہیں اور اپنے دل میں کہتے ہیں کہ (اگر یہ واقعی پیغمبر ہیں تو) جو کچھ ہم کہتے ہیں خدا ہمیں اس کی سزا کیوں نہیں دیتا ؟ اے پیغمبر! ان کو دوزخ (ہی کی سزا) کافی ہے یہ اسی میں داخل ہوں گے اور وہ بُری جگہ ہے ۔
(المجادلة - ۸)
اخروی عذاب کو کافی قرار دینا اس پر دلالت کرتا ہے کہ ان کے لئے دنیا میں کوئی عذاب مقرر نہیں ہے۔ مگر اس ضمن میں اُن سے تصدیق چاہی جاتی تو وہ کہتے کہ ہم نے تو ” السَّلَامُ “ کہا تھا ، مگر تم سے سننے میں غلطی ہوئی، تم ہم پر جھوٹ باندھتے ہو ۔ وہ اس میں منافقوں کی طرح تھے جو اسلام کا اظہار کرتے تھے مگر اُن کے لب و لہجہ اور چہروں سے (اصل حقیقت) کا پتہ چل جاتا ۔ ظاہر ہے کہ لب و لہجہ اور چہرے کی ساخت کی بناء پر کسی کو سزا نہیں دی جاسکتی۔ اس لئے کہ سزا کے موجبات کا اس طرح ظاہر ہونا ضروری ہے کہ سب لوگ اسی میں شریک ہوں ۔
اتنا سا جرم اگر مسلم سے صادر ہو تو وہ بلاشبہ کفر ہے ۔ اگر ذمی علانیہ اسی طرح کہے تو اس کا عہد ٹوٹ جائے گا۔ اس کو بایں طور پیش کرنا حد درجہ کا اخفاء ہے۔ ہم ان کے پوشیدہ طور پر گالی دینے پر ان کو سزا نہیں دیتے۔ یہ علمائے متقدمین کے کئی گروہوں نیز ہمارے اصحاب اور مالکیہ وغیرہ کا زاویہ نگاہ ہے۔ وہ لوگ بھی اس قول کو جائز خیال کرتے ہیں جن کا خیال ہے کہ یہ موت کی دعا ہے کیونکہ السام کے بارے میں صحیح تر قول یہ ہے کہ موت کو کہتے ہیں ۔ اس کے دوسرے معنی بیزاری اور قلق و اضطراب کے ہیں۔ جو لوگ کہتے ہیں کہ مخلوقات کی موت کا ایک وقت مقرر ہے وہ کہتے ہیں کہ یہ ایذا کی طرف اشارہ ہے اور یہ گالی نہیں مگر یہ قول ضعیف ہے۔ اس لئے کہ اہل ایمان اور رسول کے لئے موت اور ترک دین کی بددعا بدترین گالی
ہے، جس طرح زندگی، صحت و عافیت اور دین پر ثابت قدمی کی دعا بہت بڑی نعمت افزائی ہے۔
تمہید و تبصرہ
ہر وہ کلمہ جس کو لوگ گالی گلوچ یا تنقیص شان پر محمول کرتے ہوں اس کے ارتکاب سے قتل واجب ہو جاتا ہے۔ اس لئے کہ کفر گالی کو مستلزم نہیں ہے، گاہے آدمی کافر تو ہوتا ہے مگر دشنام دہندہ نہیں ہوتا۔ لوگ عام طور سے اس حقیقت سے آگاہ ہیں کہ بعض اوقات ایک آدمی دوسرے سے عداوت رکھتا ہے، اس کے بارے میں بہت برا عقیدہ رکھتا ہے، تاہم اُسے گالی نہیں دیتا۔ بعض اوقات اس میں گالی کو بھی شامل کیا جاتا ہے، اگرچہ گالی معتقد کے عقیدے کے مطابق ہوتی ہے۔ چنانچہ یہ بات ضروری نہیں کہ جو چیز عقیدہ نہیں بن سکتی ہو وہ قول کی صورت بھی اختیار کر سکتی ہو اور نہ ہی یہ ممکن ہے کہ جو بات سراً کہی جا سکے وہ جہراً بھی کہی جاسکتی ہو۔ ایک ہی کلمہ ایک حالت میں گالی ہوتا ہے اور دوسری حالت میں گالی نہیں ہوتا، معلوم ہوا کہ اس میں اقوال و احوال کے اختلاف سے تبدیلی پیدا ہو سکتی ہے، چونکہ گالی کے لئے لغت و شرع میں کوئی حد مقرر نہیں ہے، لہٰذا اس کے بارے میں لوگوں کے رسم و رواج پر بھروسہ کیا جاتا ہے۔ عرف عام میں جو لفظ نبی کو گالی دینے کے لئے استعمال کیا جاتا ہو تو صحابہ و علماء کے قول کو بھی اسی پر محمول کرنا چاہئے ورنہ نہیں۔ چنانچہ ہم اس کی قسمیں بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ:۔
یہ اس میں شبہ نہیں کہ کسی کی تنقیص شان اور توہین مسلمانوں کے نزدیک گالی تصور کی جاتی ہے۔ مثلاً کسی کو گدھا یا کتا کہہ کر پکارنا یا اس کو فقر و فاقہ، ذلت اور رسوائی سے موسوم کرنا، یا یہ خبر دینا کہ وہ عذاب میں ہے۔ نیز یہ کہ اس پر تمام لوگوں کے گناہ ہیں، مثل ایں اسی طرح طعن کے طور پر اظہار تکذیب یا اُسے ساحر و دھوکہ باز اور حیلہ گر کہہ کر پکارنا، یا یوں کہنا کہ جو شخص اس کی پیروی کرے وہ اس کو نقصان پہنچاتا ہے یا یہ کہ جو کچھ وہ لایا ہے سب کذب و دروغ ہے۔ اگر اس ضمن میں اشعار بکے تو یہ بدترین قسم کی گالی ہے۔ اس لئے کہ اشعار کو بہر صورت
یاد کیا جاتا اور آگے تک پہنچایا جاتا ہے اور یہ ہجو ہے۔ اکثر اوقات اشعار بہت سے لوگوں پر یہ جانتے ہوئے اثر انداز ہوتے ہیں کہ یہ باطل ہے۔ اس کا اثر براہین و دلائل پر سے بھی زیادہ ہوتا ہے۔ اگر لوگوں کی ایک جماعت میں ان اشعار کو گا کر سنایا تو اُن کی اہمیت اور بھی بڑھ گئی
اگر کوئی شخص کسی پر طعن کئے بغیر اپنے عقائد کا اظہار کرے۔ مثلاً کہے کہ میں اس کی پیروی یا تصدیق نہیں کروں گا۔ یا یہ کہ میں اُسے نہ چاہتا ہوں نہ اُس کے دین کو پسند کرتا ہوں و مثل ایں ۔ ان الفاظ میں اس نے اپنے عقیدے اور ارادے کا اظہار کیا ہے جو اس کی تنقیص پر مشتمل نہیں ہیں۔ اس لئے کہ عدم تصدیق و محبت جس قدر جہالت ، عناد ، حسد ، کبر ، تقلید اور کسی دین کے ساتھ مانوس ہونے پر مبنی ہوتا ہے ، اس قدر نبیؐ کی صفات کو جاننے کی وجہ سے نہیں ہوتا۔
برخلاف اس صورت کے جب کہ کہے کہ وہ کون تھا ؟ یا کون ہے ؟ اُس نے ایسا ایسا دیکھا ہے و مثل ایں ۔ جب کہے کہ وہ رسولؐ تھا نہ نبیؐ اور اس پر کچھ بھی نازل نہیں ہوا وغیرہ ، تو یہ صریح تکذیب ہے ۔ اور ہر تکذیب کو کذب کی طرف منسوب کر سکتے اور اس کے قائل کو کذاب قرار دے سکتے ہیں ۔ مگر یوں کہنے میں کہ وہ نبیؐ نہیں ، اور یوں کہنا کہ وہ کذّاب ہے ، بڑا فرق ہے ، اس لئے کہ تکذیب پر اس لئے مشتمل ہے کہ ہم جانتے ہیں کہ وہ کہا کرتا تھا کہ میں ”اللہ کا رسول ہوں ۔“ اور جو شخص کسی کے بعض صفات کی نفی کرے تو اس سے تمام صفات کی نفی لازم نہیں آتی ۔ مثلاً کوئی شخص کسی سے بعض صفات کی نفی کرے اور اس کے دعویٰ کو جھوٹ قرار دے ۔ مزید براں ایک ہی معنی کو مختلف الفاظ میں ادا کیا جاتا ہے، اُن میں سے بعض اسلوب گالی ہوتے ہیں اور بعض گالی نہیں ہوتے ۔
ہم ذکر کر چکے ہیں کہ امام احمدؒ نے تصریح کی ہے کہ جو شخص موذن سے کہے ” تو نے جھوٹ بولا ہے“ تو وہ دشنام دہندہ ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ اس کا یوں آغاز کرنا اور بآواز بلند موذن کا یوں کہنا ، جب کہ مسلمان سن رہے ہوں ،
اور وہ ان کے دین کو ہدف طعن بنا رہا ہو اور وہ ملت اسلامیہ کو جھٹلا رہا ہو جب کہ مسلمان توحید و رسالت کا اقرار کرتے ہیں، یہ سب فقرات بلاشبہ گالی کی حیثیت رکھتے ہیں ۔
حدیث قدسی
اگر معترض کہے کہ حدیث قدسی میں ہے کہ :۔ " ابن آدم نے مجھے گالی دی حالانکہ اُسے ایسا نہیں کرنا چاہیے تھا۔ آدم کے بیٹے نے مجھے جھٹلایا، جب کہ اُسے ایسا نہیں کرنا چاہیے تھا۔ اُس نے یہ کہہ کر مجھے گالی دی کہ " میرا بیٹا ہے " اور یہ کہہ کر مجھے جھٹلایا کہ "مجھے جس طرح شروع میں اُسے پیدا کیا تھا دوبارہ اُسے زندہ نہیں کر سکے گا ۔"
اس طرح تکذیب اور گالی دینے میں فرق ہے۔
اس کے جواب میں کہا جائے گا کہ وہ مجھے دوبارہ زندہ نہیں کر سکے گا جس طرح اس نے پہلے پیدا کیا تھا۔ یہودی کے قول سے مختلف ہے۔ جب کہ اس نے مؤذن سے کہا " تو نے جھوٹ کہا ۔" اس کے دو وجہ ہیں :۔
وجہ اوّل
پہلی وجہ یہ ہے کہ اس نے صراحتاً جھوٹ کی طرف اس کی نسبت نہیں کی ۔ ہم نے یہ بات نہیں کہی کہ ہر تکذیب گالی ہوتی ہے ۔ ۔ ۔ اگر اس طرح کہا جائے تو اس سے ہر کافر کا دشنام دہندہ ہونا لازم آتا ہے۔ یہ بات جو کہی گئی ہے کہ داعی حق کے مقابلہ میں علانیہ کہنا کہ تو نے جھوٹ کہا ، پوری اُمت کے لئے گالی، نبوت کے استخفاف، خلل اندازی، اور نبوت کو گالی دینا ہے، جیسا کہ وہ لوگ جنہوں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پیروی کرنے والوں کی اس لئے ہجو کہی کہ انہوں نے رسول کریم کی اطاعت کی۔ رسول کریمؐ کو گالی دینے والے تھے۔ مثلاً بنت مروان ، کعب بن اشرف وغیرہ کے اشعار۔ باقی رہا کافر کا یہ کہنا کہ جس طرح اُس نے مجھے شروع میں پیدا کیا تھا اس کا اعادہ نہیں کر سکتا تو یہ اللہ کی دی ہوئی خبر کی نفی ہے ، جیسے کہ باقی انواع واقسام ۔
وجہ ثانی
کافر جو جی کر اُٹھنے کی تکذیب کرتا ہے یہ نہیں کہتا کہ اللہ نے خبر دی
ہے کہ وہ مجھے دوبارہ زندگی عطا کرے گا۔ وہ یہ بھی نہیں کہتا کہ یہ کلام اللہ کو جھٹلانے پر مبنی ہے، اگرچہ وہ تکذیب ہو۔ برخلاف اس شخص کے جو رسولؐ سے یا رسولؐ کی تصدیق کرنے والے سے کہتا ہے کہ ”تو نے جھوٹ کہا“ ایسا شخص اقرار کرتا ہے کہ یہ اس شخص کے لئے جس کی تکذیب کی گئی عیب و نقص کا موجب ہے یہ ایک کھلی ہوئی حقیقت ہے۔ جن کلمات کا تذکرہ پہلے مسئلہ میں کیا گیا مثلاً نظم وغیرہ اور جن کلمات کو رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے گالی میں شمار کیا اور اُس کے قائل کو دشنام دہندوں میں شمار کیا وہ سب گالی کی حیثیت رکھتے ہیں۔ اسی طرح وہ کلمات جو اس ضمن میں استعمال ہوتے ہیں۔ ان کا ذکر پہلے ہوچکا ہے۔ اور ایک ایک کلمے کا ذکر و بیان غیر محدود اور شمار و قطار سے باہر ہے۔
مذکورہ صدر بیانات کا خلاصہ یہ ہے کہ جس لفظ کو لوگ گالی سمجھتے ہوں وہ گالی شمار ہوتا ہے۔ بعض اوقات اس میں احوال، اصطلاحات، عادات اور کیفیت کلام کے بدل جانے سے اختلاف بھی رونما ہوتا ہے۔ اور جس لفظ (کے گالی ہونے یا نہ ہونے میں) شبہہ ہو اس کو اس نظائر و امثال کے ساتھ ملحق کر دیا جائیگا
وَاللّٰهُ سُبْحَانَهُ اَعْلَمُ ۔
——— ٭ ———
فصل
ذمی کی گالی سے توبہ کرنے کا شرعی حکم
ذمی کی ہر گالی جس سے اس کا عہد ٹوٹ جاتا ہے اور اس کا قتل واجب ہو جاتا ہے اس کی توبہ قبول نہیں کی جائے گی۔ جیسا کہ پیچھے گزرا۔ ہمارے اصحاب میں سے اکثر اہل علم اور دوسرے علماء کا یہی موقف ہے۔ قبل ازیں ہم شیخ ابو محمد المقدسی کا زاویہ نگاہ ذکر کر چکے ہیں کہ انہوں نے فرمایا :-
" ذمی اگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو گالی دینے کے بعد مسلمان ہو جائے تو قتل اس سے ساقط ہو جاتا ہے۔ اور اگر ذمی پہلے رسول کریم پر بہتان لگائے اور پھر اسلام لائے تو اس سے قتل کے سقوط میں دو روایتیں ہیں ۔"
شیخ کے سابق الذکر قول کو اس بات پر محمول کرنا چاہیے کہ اگر ذمی آپ کو ایسی گالی نکالے جو اس کے مذہبی عقیدہ کے مطابق ہو تو اس کے اسلام لانے سے قتل اس سے ساقط ہو جائے گا۔ مثلاً لعنت کرنا ، مذمت کرنا وغیرہ ۔ اور اگر گالی اس کے مذہبی عقیدہ سے ہم رنگ نہ ہو جیسے بہتان لگانا تو قتل اس سے ساقط نہیں ہو گا ۔ اس لئے کہ جو عقیدہ وہ آپ کے بارے میں کہتا ہے وہ خالص کفر ہے ، اسلام لانے کے ساتھ اس کی حد باطناً ساقط ہو چکی ہے ، پس اس کا ظاہراً ساقط ہونا واجب ہے ۔ کیونکہ اصل کے ساقط ہونے سے جو کہ اُس کا
اصلی عقیدہ ہے اس کی فروع بھی ساقط ہو جاتی ہیں۔ مگر جو اس کے عقیدہ کے مطابق نہیں وہ بہتان ہے اور اُسے خود بھی معلوم ہے کہ یہ بہتان ہے ، لہٰذا یہ دیگر حقوق العباد کے مطابق ہے ۔
اور اگر کلام کو اس کے ظاہر پر محمول کیا جائے تو اس ضمن میں صرف بہتان طرازی کو گالی کے تمام اقسام میں سے مستثنیٰ کیا جائے گا ۔ اس کی توجیہہ یوں ممکن ہے کہ چونکہ دوسرے پر بہتان لگانا شدید جرم ہے ۔ اس لئے اس کا ارتکاب کرنے والے کو اَسّی کوڑے مارے جاتے ہیں۔ برخلاف دوسری قسم کی گالیوں کے کہ اس کی سزا تعزیر ہے جو حاکم کی صوابدید کے مطابق لگائی جاتی ہے۔ اس طرح اس کے اور قذف کے درمیان فرق کیا جاتا ہے۔ چنانچہ قاذف پر مطلق حد لگائی جاتی ہے اور وہ قتل ہے، اگرچہ وہ مسلمان بھی ہو جائے ۔ مگر گالی دہندہ توبہ کرلے تو حد اس سے ساقط ہو جاتی ہے۔ مگر یہ فرق و امتیاز چنداں پسندیدہ نہیں ہے۔ اس لئے کہ آپؐ پر بہتان لگانے سے اس کا قتل واجب ہو جاتا ہے اور عہد بھی ٹوٹ جاتا ہے۔ کیونکہ ایسا شخص آپؐ کے نسب پر جرح قدح کرتا ہے اور اس سے نبوت پر قدح وارد ہوتی ہے۔
یہ ایسا مفہوم ہے جس کی رُو سے بہتان لگا کر گالی دینا اور کذب کی دیگر انواع سب یکساں ہیں۔ بلکہ بعض اوقات اُسے منکر افعال و اقوال کے ساتھ متصف کیا جاتا ہے جس سے موصوف کی مذمت ہوتی ہے اور اس کی عزت میں کمی واقع ہوتی ہے ۔ انبیاء کے علاوہ دوسرے لوگوں کے بارے میں بہتان اور گالی کے دیگر اقسام میں فرق کیا گیا، اس لئے کہ آپؐ پر بہتان لگانے والے کی تکذیب ممکن نہیں ، جبکہ دوسروں کی تکذیب ممکن ہے۔ لہٰذا آپؐ کے لئے ننگ و عار دوسروں کی نسبت شدید تر ہے۔
گالی پر مشتمل کچھ کلمات ایسے ہیں جن کی وجہ سے نبوت میں قدح وارد ہوتی ہے ۔ ان کے بطلان کا علم ظاہراً و باطناً یکساں طور پر سب کو حاصل ہے۔
اس لئے کہ قذف کے جھوٹے ہونے کا علم اُسی طرح حاصل ہے جس طرح مذموم اور قبیح چیز کی طرف نسبت کرنے والے دونوں کے مابین کچھ فرق نہیں۔
الغرض، امام احمد، ان کے عام اصحاب اور دیگر اہل علم نے بتصریح کہا ہے کہ قذف کے ساتھ گالی دینے اور دیگر گالیوں میں کچھ فرق نہیں، بلکہ جو لوگ کہتے ہیں کہ گالی دینے والے کا عہد ٹوٹ جاتا ہے اور اُس کا قتل واجب ہوجاتا ہے۔ وہ بھی بہتان لگانے اور گالی کے دیگر اقسام میں کچھ تفریق نہیں کرتے۔ جن لوگوں کا موقف یہ ہے کہ اسلام لانے سے اس کا قتل ساقط ہوجاتا ہے، وہ بھی بہتان لگانے اور دیگر گالیوں میں فرق نہیں کرتے۔ اور فقہاء میں سے جو گالی کے مطابق عقیدہ یا غیر مطابق ہونے میں فرق کرتے ہیں ان کا بیان کردہ فرق صرف نقض عہد تک محدود ہے، اس میں نہیں کہ اسلام لانے سے قتل اس سے ساقط ہوجاتا ہے۔
مگر ہو سکتا ہے کہ یہ بات شیخ ابو محمد کے قول سے متصادم ہو، اس لئے کہ انہوں نے گالی کے ہر دو اقسام میں فی الجملہ فرق کیا ہے۔ باقی رہے امام احمد اور دیگر علمائے متقدمین تو ان کا اختلاف علی الاطلاق گالی کے بارے میں ہے۔ امام احمد کے کلام میں قذف سے بطور خاص تعرض نہیں کیا گیا۔ امام احمد کے اصحاب نے اس کو باب القذف میں اس لئے ذکر کیا ہے کہ انہوں نے قذف کے احکام کے بارے میں مطلقاً گفتگو کی ہے اور قذف کی اس نوع کا ذکر بطور خاص کیا کہ وہ قتل کا موجب ہے۔ نیز اس لئے کہ توبہ کرنے سے قتل ساقط نہیں ہوتا۔ کیونکہ امام احمدؒ نے تصریح کی ہے کہ گالی جو کہ قذف سے اعم ہوتی ہے قتل کی موجب ہے اور اس کے مرتکب سے توبہ کا مطالبہ نہیں کیا جاتا۔
فقہاء میں سے بعض نے اس مسئلے کا ذکر لفظ ”سب“ (گالی) کے ساتھ کیا ہے، جیسا کہ امام احمد کے الفاظ میں ہے اور بعض نے اس کا تذکرہ قذف کے الفاظ کے ساتھ کیا ہے۔ کیونکہ اس کا تعلق باب القذف کے ساتھ ہے۔ بایں طور
اس کا ذکر ایک خاص نام کے ساتھ قذف اور گالی کے دیگر اقسام کے فرق کو ظاہر کرنے میں موثر تر ہے۔ علاوہ ازیں سب کے علل و ادلہ گالی کے تمام اقسام پر مشتمل ہیں۔ بلکہ اس کا استعمال غیر قذف میں قذف کی نسبت صریح تر اور واضح تر ہے۔ اس کی دلالت قذف پر بطریق عموم ہے یا بطریق قیاس۔ نیز جمہور نے جس مساوات کا تذکرہ کیا ہے دلیل اُس سے ہم آہنگ ہے۔ جیسا کہ اس کا ذکر قبل ازیں نفیاً و اثباتاً ہو چکا ہے۔ لہٰذا اس ضمن میں مزید طوالت کی حاجت نہیں۔
اُس لئے کہ جو لوگ اس بات کو تسلیم کرتے ہیں کہ گالی کے تمام اقسام سے وہ قذف ہوں یا کچھ اور اس کا عہد ٹوٹ جاتا ہے اور اس کا قتل واجب ہو جاتا ہے۔ پھر اس کی بعض اقسام کے بارے میں تفریق کرے کہ وہ اسلام لانے سے ساقط ہو جاتی ہیں، تو یہ بات حد درجہ بعید از قیاس ہے۔ اس لئے کہ گالی اگر اس کے نزدیک کفر کی طرح ہوتی تو اس سے عہد نہ ٹوٹتا اور ذمی کا قتل واجب ہو جاتا۔ اور جب کفر کی طرح نہیں تو اس کے اسلام لانے سے یا تو صرف کفر ساقط ہو جائے گا یا کفر اور دیگر جرائم جو رسول کریم کی ناموس کے خلاف کئے گئے ہیں وہ بھی ساقط ہو جائیں گے۔ البتہ بعض جرائم کی وجہ سے کفر کے سقوط اور بعض کی بناء پر عدم سقوط - حالانکہ دونوں کی سزا یکساں ہے - کی کوئی واضح وجہ نمایاں نہیں ہوتی۔
اور اس امر سے استدلال کہ جب اسلام اللہ کو گالی دینے والے کی سزا کو ساقط کر سکتا ہے تو رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو گالی دینے والے کی سزا کو بالاولیٰ ساقط کر سکتا ہے۔ اگر اس کو درست تسلیم کیا جائے تو یہ اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ اسلام دشنام دہندہ کی سزا کو مطلقاً ساقط کر سکتا ہے۔ خواہ گالی قذف پر مشتمل ہو یا غیر قذف پر۔ ہمارے نزدیک یہاں موضوع زیر بحث گالی کے تمام اقسام کی یکسانی اور مساوات ہے، نہ کہ اس دلیل کی صحت اور اس کا فساد۔ کیونکہ ہم قبل ازیں اس دلیل کے ضعیف ہونے پر گفتگو کر چکے ہیں۔
اس کی وجہ یہ ہے کہ اگر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دی گئی گالی کو اللہ کو دی گئی گالی کے ساتھ مطلقاً یکساں قرار دیا جائے ۔ اور یہ بھی کہا جائے کہ اصل (یعنی اللہ کو گالی دینے کی سزا) جب ساقط ہو جاتی ہے تو فرع میں بھی ساقط ہو جاتی ہے۔
اور اگر نبیؐ کو دی گئی گالی کو عام لوگوں کو دی جانے والی گالی کے برابر قرار دیا جائے ، یا اس قسم کے دیگر مآخذ جن کا ذکر پہلے ہو چکا ہے۔ اسلام کی وجہ سے ساقط ہونے میں قذف اور دیگر جرائم میں کچھ فرق نہیں۔ اس لئے کہ ذمی اگر مسلم یا ذمی پر بہتان لگائے یا قذف کے بغیر اسے گالی دے اور پھر اسلام قبول کرے تو وہ تعزیر اس سے ساقط نہ ہوگی، گالی کی وجہ سے وہ جس کا مستحق ہو چکا ہے جس طرح وہ حد ساقط نہ ہوگی جو قذف کی وجہ سے اس پر واجب ہو چکی ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ دونوں ثبوت اور سقوط کے اعتبار سے یکساں ہیں ۔ اُن میں جو اختلاف بھی ہے وہ سزا کی مقدار میں غیر نبی کی نسبت سے ہے ۔
اور اگر اس کو نبیؐ کی طرف منسوب کیا جائے تو دونوں کی سزا یکساں ہے ۔ پس دونوں کی نسبت اگر نبیؐ کی طرف کی جائے تو دونوں میں ہرگز کوئی فرق و امتیاز نہیں ہے۔
ہم رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دشنام دہندہ کی سزا کا ذکر کر چکے ہیں۔ اب اسی قسم کا ایک مسئلہ ذکر کرتے ہیں۔ مسئلہ ہذا مع براہین و دلائل اصل حکم سمیت ذکر کیا جا چکا ہے۔ یہ اس مسئلہ کے بارے میں انتقامی کلام ہے، جیسا کہ پوشیدہ نہیں۔ اس کی تفصیل ہم چند فصلوں میں بیان کریں گے۔
- - -
(فصل)
اللہ تعالیٰ کو گالی دینے والے کے بارے میں
اللہ کو گالی دینے والے کا حکم
اللہ تعالیٰ کو گالی دینے والا اگر مسلم ہو تو اس کا قتل اجماعاً واجب ہے۔ کیوں کہ اس وجہ سے وہ کافر اور مرتد ہو جاتا ہے بلکہ کافر سے بھی بدتر۔ کیوں کہ کافر بھی ربّ کی تعظیم کرتا ہے۔ اس کا عقیدہ یہ ہوتا ہے کہ جس باطل مذہب پر وہ قائم ہے اس میں اللہ کا مذاق نہیں اڑایا جاتا اور نہ اُسے گالی دی جاتی ہے۔
کیا اس کی توبہ مقبول ہے؟
اس کی توبہ کے مقبول ہونے کے بارے میں ہمارے اصحاب اور دیگر علماء میں اختلاف پایا جاتا ہے اور وہ یہ کہ آیا مرتد کی طرح اس سے توبہ کا مطالبہ کیا جائے اور توبہ کرنے سے اس سے قتل ساقط ہو گا یا نہیں ؟ جب کہ وہ توبہ بھی اس وقت کرے جب اس کا معاملہ حاکم کی عدالت میں پہنچ چکا ہو اور حد اس پر ثابت ہو چکی ہو۔ اس کے بارے میں مندرجہ ذیل دو قول ہیں :
پہلا قول :
پہلا قول یہ ہے کہ وہ رسول کے دشنام دہندہ کی طرح ہے اور اسی کی طرح اس کے بارے میں بھی دو روایتیں ہیں ۔ یہ ابو الخطاب اور اس کے ہمنوا متأخرین کا طرز و انداز ہے۔ امام احمدؒ کے کلام سے بھی یہی ثابت ہوتا ہے۔ امام موصوف فرماتے ہیں ۔
” جو شخص ایسی بات کرے جس سے اللہ کی توہین کا اشارہ ملتا ہو اسے قتل کیا جائے ، یہ مسلم ہو یا کافر، یہ اہل مدینہ کا مذہب ہے۔ وہ مطلقاً اُس کو واجب القتل گردانتے ہیں اور انہوں نے توبہ کا ذکر نہیں کیا ۔
انہوں نے ذکر کیا کہ اہل مدینہ کا قول بھی یہی ہے ۔ اور جس پر قتل واجب ہو وہ توبہ کے ساتھ گر جاتا ہے ، مگر اہل مدینہ کا مشہور قول یہ ہے کہ اس کی توبہ سے قتل ساقط نہیں ہوتا ۔ اور اگر یہ قول وارد نہ ہوتا تو اہل مدینہ کے ساتھ اس کی تخصیص نہ کرتے کیوں کہ لوگوں کا اس پر اجماع ہے کہ جو مسلم اللہ تعالیٰ کو گالی دے اسے قتل کیا جائے ۔ البتہ اس کی توبہ میں اختلاف ہے۔ جب مسلم کے بارے میں انہوں نے اہل مدینہ کے قول کو اختیار کیا ، جس طرح ذمی کے بارے میں ان کے قول کو اختیار کیا تو اس سے معلوم ہوا کہ مقام اختلاف سے اُن کی مراد اس پر قابو پانے کے بعد اظہار توبہ ہے جیسا کہ ہم نے دشنام دہندہ رسول کے بارے میں ذکر کیا ہے ۔
باقی رہی دوسری روایت تو عبداللہ فرماتے ہیں کہ میرے والد (امام احمدؒ) سے ایک آدمی کے بارے میں دریافت کیا گیا جس نے کہا تھا کہ "اے فلاں کے بیٹے تو اور جس نے تجھے پیدا کیا ایسے ایسے ہو" میرے والد نے کہا کہ یہ شخص اسلام سے پھر گیا ہے ، میں نے اپنے والد سے کہا کیا ہم اسے قتل کر دیں؟ انہوں نے کہا ہاں ! ہم اسے قتل کر دیں گے ۔ (امام احمدؒ نے) اسے مرتد قرار دیا
پہلی روایت لیث بن سعد اور امام مالک کا قول ہے ، ابن القاسم نے امام مالک سے روایت کیا ہے کہ انہوں نے فرمایا "مسلمانوں میں سے جو اللہ کو گالی دے اسے قتل کیا جائے اور اس سے توبہ کا مطالبہ نہ کیا جائے" الاّ یہ کہ اس نے اللہ پر جھوٹ باندھا ہو اور دین اسلام سے برگشتہ ہو کر کوئی اور دین اختیار کر لیا ہو اور وہ اس کا برملا اظہار بھی کرتا ہو تو اس سے توبہ کا مطالبہ کیا جائے ۔ اور اگر اظہار نہ کرے تو اس سے توبہ کا مطالبہ نہ کیا جائے یہ ابن القاسم ، مطرّف ، عبدالملک اور تمام مالکیہ کا قول ہے ۔
دوسرا قول : دوسرا قول یہ ہے کہ اسے توبہ کرنے کے لیے کہا جائے اور اس کی توبہ قبول کی جائے ، جیسے مرتد شخص کی توبہ مقبول ہے۔ یہ قاضی ابویعلیٰ ،
شریف ابی جعفر ، الختلی بن البناء ، ابن عقیل کا قول ہے ۔ وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ جو شخص رسول کو گالی دے اس سے توبہ کا مطالبہ نہ کیا جائے ۔ یہ اہل مدینہ کی ایک جماعت کا قول ہے ، اُن میں سے محمد بن مسلمہ ، المخزومی اور ابن ابی حازم کہ گالی دینے کی وجہ سے مسلم کو قتل کیا جائے اور یہ کہ اس سے توبہ کا مطالبہ نہ کیا جائے ۔ یہی حال یہودی اور نصرانی کا ہے ۔ اگر توبہ کریں تو اُن کی توبہ قبول کی جائے اور اگر توبہ نہ کریں تو انہیں قتل کیا جائے ۔ اُن سے توبہ کا مطالبہ ضروری ہے ۔ کیوں کہ یہ ارتداد کی مانند ہے عراق کے مالکیہ نے اسی طرح ذکر کیا ہے ۔ امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ کے اصحاب نے بھی اسی طرح ذکر کیا ہے ۔ وہ کہتے ہیں کہ اللہ کو گالی دینے سے آدمی مرتد ہو جاتا ہے ، اگر توبہ کرے تو اسکی توبہ قبول کی جائے ۔ انہوں نے اللہ اور اس کے رسول کو گالی دینے کے بارے میں دو وجوہ میں سے ایک کو اختیار کر کے دونوں کا فرق واضح کیا ہے ۔ امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کا مذہب بھی یہی ہے ۔
جن لوگوں نے یہ موقف اختیار کیا ہے کہ جو شخص اللہ اور اس کے رسول کو گالی دے اس سے توبہ کا مطالبہ کیا جائے ان کی دلیل یہ ہے کہ یہ بھی ارتداد کی ایک قسم ہے اور جو اہل علم اللہ اور اس کے رسول کو گالی دینے میں فرق کرتے ہیں وہ کہتے ہیں کہ اللہ کو گالی دینا کفر محض ہے اور یہ اللہ کا حق ہے ۔ اس شخص کی توبہ جس سے صرف کفر اصلی یا عارضی صادر ہو مقبول ہے اور اجماعاً اس سے قتل ساقط ہو جاتا ہے ۔ اس پر یہ بات دلالت کرتی ہے کہ نصاریٰ یوں کہہ کر اللہ کو گالی دیتے ہیں کہ وہ تین میں سے تیسرا ہے اور یہ بھی کہتے ہیں کہ اس کے اولاد ہے جیسا کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ کے بارے میں فرمایا کہ وہ کہتا ہے :
حدیث قدسی : ” ابن آدم نے مجھے گالی دی اور یہ بات اسے زیب نہیں دیتی ابن آدم نے مجھے جھٹلایا اور اسے ایسا نہیں کرنا چاہئے ۔ اُس کا مجھے گالی دینا تو یہ ہے کہ میری اولاد ہے، حالانکہ میں ایک اور بے نیاز ہوں “
قرآن میں فرمایا : "بے شک وہ لوگ کافر ہوگئے جنہوں نے کہا کہ اللہ تین میں سے تیسرا ہے (تا آخر)" (المائدۃ : ۷۳، ۷۴)
اللہ تعالیٰ کے بارے میں معلوم ہے کہ وہ توبہ کرنے والے سے اپنا حق ساقط کر دیتا ہے۔ اگر کوئی شخص اس قدر کفر و معاصی کا ارتکاب کرے جس سے زمین پُر ہو جائے اور پھر توبہ کرے تو اللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول کرتا ہے۔ گالی دینے سے اللہ تعالیٰ کو ننگ و عار لاحق نہیں ہوتی، بلکہ گالی کا نقصان گالی دینے والے کو پہنچتا ہے۔ بندوں کے دلوں میں اس کی حرمت و عزت اس سے عزیز تر ہے کہ دشنام دہندہ کی گالی اس کے تقدس کو پامال کرسکے۔ اسی کے ساتھ اللہ اور اس کے رسول کو گالی دینے کا فرق واضح ہوتا ہے۔
اس لیے کہ جب رسول کو گالی دی جاتی ہے تو اس کے ساتھ ایک آدمی (رسول کریمؐ) کا حق وابستہ ہوتا ہے۔ اور جو سزا کسی آدمی کی وجہ سے واجب ہوتی ہے وہ توبہ سے ساقط نہیں ہوتی۔ علاوہ ازیں رسول کریمؐ کو گالی دینے سے آپ پر عیب لگتا اور آپ کی عزت میں کمی واقع ہوتی ہے۔ آپ کی عزت و حرمت اور آپ کی قدر و منزلت دلوں میں اس وقت تک جاگزین نہیں ہوتی جب تک آپ کے دشنام دہندہ کو کیفر کردار تک نہ پہنچایا جائے۔ کیوں کہ اکثر لوگوں کے نزدیک آپ کی ہجو گوئی اور سب و شتم سے آپ کی عزت مجروح ہوتی ہے اور لوگوں کے دلوں میں آپ کا جو مقام ہے اس کو نقصان پہنچتا ہے۔ اگر مرتکب کو سزا دے کر اس چراگاہ کو محفوظ نہ کیا جائے تو نوبت فساد تک پہنچے گی۔
یہ فرق اس امر پر مبنی ہے کہ رسول کو دی گئی گالی کی سزا بندے کا حق ہے جیسا کہ اکثر اصحاب ذکر کرتے ہیں۔ علاوہ ازیں یہ اللہ کا حق ہے۔ اس لیے کہ اس نے اللہ کی جس حرمت کو پامال کیا ہے اس کی تلافی صرف حد لگانے سے
ہی ہو سکتی ہے۔ تو ایسا شخص زانی، چور اور شرابی کی طرح ہوا جب پکڑے جانے کے بعد وہ توبہ کریں۔ مزید برآں اللہ کو گالی دینے کا کوئی عقلی داعی اور موجب نہیں ہے اور زیادہ تر جو دراصل گالی ہوتی ہے وہ عقیدہ اور مذہب کی بنا پر صادر ہوتی ہے اس کا مقصد تعظیم ہوتا ہے نہ کہ گالی۔ دشنام دہندہ کا ارادہ اللہ کی توہین و تذلیل کا نہیں ہوتا، کیوں کہ وہ جانتا ہے کہ یہ بے اثر ہے۔ برخلاف رسول کو گالی دینے کے کہ زیادہ تر اس کا مقصد آپ کی اہانت اور رسوائی ہوتا ہے۔ اور ایک کافر اور منافق کے لیے رسول کو گالی دینے کے بہت سے موجبات و محرکات ہوتے ہیں۔ بایں طور یہ ان جرائم میں سے ہے جس کی طرف انسانی فطرت دعوت دیتی ہے یہی وجہ ہے کہ اس کی حدود توبہ کرنے سے ساقط نہیں ہوتیں، برخلاف ان جرائم کے جن کا کوئی داعی اور موجب نہ ہو۔
اس فرق میں حکمت و مصلحت پائی جاتی ہے کہ اکثر و بیشتر اللہ کو گالی دینے کا کوئی موجب و محرک نہیں ہوتا۔ بایں طور وہ عموم کفر میں شامل ہے، برخلاف رسول کو گالی دینے کے، اس لیے کہ بطور خاص رسول کو گالی دینے کے بکثرت موجبات ہوتے ہیں۔ اس لیے مناسب ہوا کہ بطور خاص اس کے لیے ایک حد مقرر کی جائے اور اس کے لیے خصوصی طور پر جو حد مقرر کی جاتی ہے وہ دیگر حدود کی طرح توبہ کرنے سے ساقط نہیں ہوتی جب رسول کو دی گئی گالی مندرجہ ذیل خصوصیات پر مشتمل ہوتی ہے :
- (۱) رسول کو گالی دینے کے محرکات بکثرت ہوتے ہیں۔
- (۲) اللہ کے دشمن رسول کو گالی دینے کے حریص ہوتے ہیں۔
- (۳) رسول کو گالی دینے سے رسول کی حرمت اور دیگر حرمتوں کا تقدس مجروح
ہوتا ہے۔
- (۴) سبّ رسول، مخلوق کے حق پر مشتمل ہے جس کی سزا حتمی و قطعی ہے۔
- (۵) اس لیے نہیں کہ رسول کو گالی دینا اللہ کو گالی دینے کی نسبت عظیم تر گناہ ہے،
بلکہ اس لیے کہ اس سے پیدا شدہ فساد حتمی قتل سے ہی نیست و نابود ہوتا ہے۔ کیا آپ کو معلوم نہیں کہ کفر و ارتداد ، زنا ، چوری ، رہزنی اور مے خواری سے بھی بڑا گناہ ہے۔ تاہم کافر و مرتد اگر پکڑے جانے کے بعد توبہ کرلیں تو ان کی سزا ساقط ہو جاتی ہے اور اگر یہ فاسق پکڑے جانے کے بعد توبہ کرلیں تو ان کی سزا ساقط نہیں ہوگی ۔ حالانکہ کفر فسق سے بڑا گناہ ہے ۔ مگر یہ بات اس پر دلالت نہیں کرتی کہ فاسق کافر سے بڑھ کر گنہگار ہے ۔ جس نے سزا کے حتمی ہونے اور ساقط ہونے کو ملحوظ رکھا مگر گناہ کے چھوٹے یا بڑے ہونے پر غور نہیں کیا وہ تفقہ و حکمت کے راستہ سے بہت دور نکل گیا ۔
اس کی توضیح یہ ہے کہ بہت بڑے گناہوں کے باوجود ہم کفار کو ذمی بنا لیتے ہیں ۔ مگر ہم ان میں سے کسی کو بھی زنا ، چوری اور ان معاصی کی بنا پر جو حدود کو واجب کرتے ہیں ان کو دارالاسلام میں رہنے کی اجازت نہیں دیتے ۔ اللہ تعالیٰ نے قوم لوط کو بے حیائی کی وجہ سے ایسی سزا دی ۔ زمانہ کے کسی آدمی کو نہ دی گئی ۔ خدا کی زمین مشرکین سے پُر ہے مگر وہ امن و عافیت سے بستے ہیں۔ عہد رسالت میں ایک شخص نے دوسرے کو قتل کیا ۔ جب اُسے دفن کیا جانے لگا تو زمین اسے باہر اُگل دیتی تھی ۔ کئی مرتبہ ایسا ہوا ۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "زمین اس سے بدتر آدمی کو بھی قبول کرلیتی ہے عبرت پذیری کے لیے اللہ نے یہ ماجرا تمہیں دکھایا"
یہی وجہ ہے کہ فاسق کو ترک موالات ، علیحدگی اور کوڑوں وغیرہ کی سزا دی جاتی ہے ، حالانکہ ذمی کافر کو ایسی سزا نہیں دی جاتی ۔ جب کہ فاسق ہمارے اور اللہ کے نزدیک کافر سے اچھا ہے ۔ آپ دیکھ چکے ہیں کہ شریعت کی مقررہ سزائیں حتمی اور قطعی ہوتی ہیں ، جب کہ اس سے شدید تر سزاؤں کو ملتوی بھی کیا جا سکتا ہے ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ دنیا دراصل دارالجزاء نہیں ہے ۔ جزاء روزِ قیامت دی جائے گی ۔ اللہ اپنے بندوں کو ان کے اعمال کے مطابق جزا یا سزا دے گا ۔ نیک اعمال
کی اچھی جزا ۔ اور بُرے اعمال کی بُری سزا ۔ اللہ تعالیٰ وہی عذاب نازل کرتا اور وہی حدود مقرر کرتا ہے جو نفوسِ انسانی کو فسادِ عام سے روکیں جو اس کے فاعل تک ہی محدود نہیں رہتا یا جو جرم کے مرتکب کو اُس کے گناہ سے پاک کرے یا جرم کی شدت کی وجہ سے یا جو مصلحت اللہ تعالیٰ کے پیشِ نظر ہو ۔ کسی گناہ کے بارے میں جب یہ خدشہ دامنگیر ہو کہ اس کا ضرر اس کے فاعل سے تجاوز کر جائے گا تو اس کی جزا ایسی ٹھہراتی ہے کہ اس کے فاعل کو سزا دی جائے ۔ چونکہ کفر و ارتداد ایسا گناہ ہے کہ اگر مجرم پر قابو پا کر اُس کی توبہ قبول کر لی جائے تو اس سے کوئی ایسا فساد جنم نہیں لیتا جو تائب سے آگے تجاوز کر جائے اس لیے اس کی توبہ قبول کرنا واجب ہے ۔
اس لیے کہ کوئی آدمی اس لیے کافر یا مرتد نہیں ہوتا کہ جب وہ پکڑا جائیگا تو توبہ کرلے گا ۔ کیوں کہ وہ اس حقیقت سے آگاہ ہے کہ اس سے اس کا مقصد پورا نہیں ہوگا۔ برخلاف فاسق لوگوں کے کہ جب توبہ کرنے کی وجہ سے ان کی سزا ساقط کر دی جائے تو ان کے سامنے فسق کا دروازہ کھل جاتا ہے ۔ ایسا آدمی جو چاہتا ہے کرنے لگتا ہے ، جب پکڑا جاتا ہے تو کہتا ہے کہ میں نے توبہ کرلی ہے ۔ اس طرح اس کی حرص و ہوا کے تقاضے پورے ہو جاتے ہیں ۔ علیٰ ھٰذا القیاس اللہ کو گالی دینا رسولِ کریم کو گالی دینے سے بڑا جرم ہے ۔ مگر یہاں یہ اندیشہ دامنگیر نہیں کہ جب اُس کے فاعل سے توبہ کا مطالبہ کیا جائے گا اور اُسے تلوار کے سامنے پیش کیا جائے گا کہ لوگ اس کی طرف تیزی سے بڑھیں گے ۔ کیوں کہ اللہ کو گالی بس اکثر و بیشتر تب دی جاتی ہے جب مذہبی عقیدہ اس کا محرک ہو۔ اور لوگوں میں کوئی ایسا عقیدہ نہیں پایا جاتا جو اللہ کو گالی دینے پر آمادہ کرتا ہو ۔
اللہ کو گالی زیادہ تر قلق و اضطراب ، بیزاری اور حماقت کی وجہ سے دی جاتی ہے ، اور تلوار کا خوف اور توبہ کا مطالبہ اس سے باز رکھتا ہے ۔ برخلاف رسولؐ کو گالی دینے کے کہ یہاں ایسے متعدد محرکات ہیں جو اس پر آمادہ کرتے ہیں ۔ رسولؐ
کے دشنام دہندہ کو جب وہ توبہ کرے گا تو اسے کچھ نہیں کہا جائے گا تو یہ بات اسے اُس کے مقصد سے باز نہ رکھ سکے گی۔
سنت کے لحاظ سے جو بات فرق پر دلالت کرتی ہے وہ یہ ہے کہ مشرکین اللہ کو طرح طرح کی گالیاں دیتے تھے ، مگر اس کے باوصف رسول کریم کو ان میں سے کسی کے اسلام کو قبول کرنے میں تامل نہیں ہوتا تھا اور نہ ہی آپؐ نے ان میں سے کسی کو قتل کیا۔ البتہ جو لوگ رسولِ کریمؐ کو گالیاں دیتے تھے ان میں سے ابوسفیان اور ابن ابی اُمیّہ کی توبہ قبول کرنے میں آپؐ نے توقف سے کام لیا۔ علاوہ ازیں جو مرد و عورت آپؐ کو گالیاں دیتے تھے مثلاً حویرث بن نقیذ ، دو گلوکار لونڈیاں اور بنی عبدالمطلب کی ایک لونڈی ، تو ان کو آپؐ نے قتل کروا دیا تھا۔
نیز چند اشخاص و خواتین جن کو ہجرت کے بعد آپؐ نے تہ تیغ کر دیا تھا ، فرق کی کچھ تفصیل ہم قبل ازیں مسئلہ ثالثہ میں بیان کر چکے ہیں جو یہاں ذکر کردہ تحقیق سے مبسوط تر ہے اور وہ بھی ان لوگوں کے مطابق جو اس فرق و امتیاز کو تسلیم کرتے ہیں۔
جن لوگوں کا موقف یہ ہے کہ اللہ کو گالی دینے والے کی توبہ اسی طرح مقبول نہیں جس طرح رسولؐ کو گالی دینے والے کی۔ تو اس کی وجہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا سابق الذکر قول ہے کہ اللہ اور اس کے رسول کو گالی دینا وجوب قتل کے لحاظ سے یکساں ہے ۔ یہ توبہ کا مطالبہ کرنے کا حکم بھی نہیں دیتے۔ حالانکہ ان کا مشہور مذہب یہ ہے کہ مرتد سے توبہ کا مطالبہ کیا جائے مگر ہم نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کا یہ فعل نقل کیا ہے کہ اس سے توبہ کا مطالبہ نہ کیا جائے، کیوں کہ اس نے رسول کریمؐ کی تکذیب کی ہے۔ لہٰذا اس کو اُس گالی پر محمول کیا جائے گا، جس کا وہ عقیدہ رکھتا ہو۔
علاوہ بریں گالی دینا اس کفر سے ایک جداگانہ گناہ ہے جو عقیدہ کے مطابق ہو۔ اس لیے کہ کافر اپنے کفر کو دین سمجھتا اور اس کو حق قرار دیتا ہے۔ وہ کفر کی
طرف دعوت بھی دیتا ہے اور اس بات پر لوگ اس کے ہمنوا بھی ہیں ۔ وہ شخص کفار میں سے نہیں جو اپنے عقیدہ کو دین سمجھ کر خدا کی توہین کرتا، اُس کا مذاق اُڑاتا اور اسے گالیاں دیتا ہے ۔ اگرچہ درحقیقت یہ گالی ہے جس طرح کفار یہ نہیں کہتے کہ وہ گمراہ، جاہل ، معذب اور اللہ کے دشمن ہیں ، اگرچہ وہ ایسے ہی ہیں ۔ باقی رہا دشنام دہندہ تو وہ اللہ کے ناقص ہونے ، اس کی خفّت و رکاکت اور اہانت کا اظہار کرنے والا ہے ۔ وہ اللہ کی حرمت و تقدس کو پامال کرنے والا ہے وہ خود بھی جانتا ہے کہ وہ اللہ کی حرمت کو پامال کرنے والا ، اس کو کم اہمیت دینے والا اور اس کا مذاق اُڑانے والا ہے ۔ وہ جانتا ہے کہ اس نے بہت بڑی بات کہی ۔ کچھ بعید نہیں کہ آسمان و زمین اس کے قول کی وجہ سے پھٹ جائیں ۔ اور پہاڑ ریزہ ریزہ ہو جائیں ۔ یہ بات ہر قسم کے کفر سے عظیم تر ہے ، اُسے معلوم بھی ہے کہ یہ اسی طرح ہے ۔
اگر کافر اپنی زبان سے کہے کہ "میں صانع کے وجود اور اس کی عظمت کا عقیدہ نہیں رکھتا تھا اور اب میں نے اس سے رجوع کر لیا ہے ۔ تو ہم جان لیں گے کہ یہ جھوٹا ہے ۔ اس لیے کہ تمام مخلوقات کو وجود صانع اور اس کی تعظیم کے اعتراف پر پیدا کیا گیا ہے ۔ لہٰذا اس کے لیے اس گالی کا کوئی موجب و محرک نہیں ہے اور نہ ہی اُس کی اس خواہش کا کوئی جواز ہے ۔
بخلاف ازیں یہ محض ذاتِ باری کے ساتھ مذاق، اُس کی اہانت اور اُس کے ساتھ باغیانہ طرزِ عمل ہے ۔ یہ جذبہ ایسے نفس سے جنم لیتا ہے جو شیطان ہو اور غضب سے لبریز ہو یا اس کا صدور کسی کم عقل سے ہوتا ہے جس کے یہاں ذاتِ باری کا کوئی احترام نہ ہو ۔ جس طرح رہزنی اور زنا جیسے کام غضب و شہوت کی بنا پر صادر ہوتے ہیں اور جب صورتِ حال یہ ہے تو واجب ہے کہ گالی کی سزا اس کے ساتھ مخصوص ہو اور اس کی سزا ایک شرعی حد کی سی ہو ۔ لہٰذا یہ سزا دیگر حدودِ شرعیہ کی طرح توبہ کے اظہار سے ساقط نہیں ہوتی ۔
مندرجہ ذیل آیت کریمہ اس بات پر روشنی ڈالتی ہے کہ گالی دینے کا فعل کفر سے بھی بڑھ کر ہے۔ قرآن میں فرمایا :
مِنْ دُوْنِ اللهِ فَيَسُبُّوا اللهَ سوا دوسروں کو پکارتے ہیں پس وہ
عَدْوًا بِغَيْرِ عِلْمٍ" (الانعام - ۱۰۸) بغیر علم کے اللہ کو گالیاں دیں گے)
یہ کھلی ہوئی بات ہے کہ وہ مشرک، اللہ کی تکذیب کرنے والے اور اس کے رسول کے دشمن تھے۔ پھر مسلمانوں کو منع کیا گیا کہ ان کے ذریعے اللہ کو گالیاں دلوانے کا باعث نہ بنیں ۔ اس سے معلوم ہوا کہ اللہ کو گالی دینا اس کے نزدیک اس کے ساتھ شرک کرنے ، رسول کی تکذیب کرنے اور اس کے ساتھ عداوت رکھنے سے بھی بڑا جرم ہے چونکہ اس نے اللہ کی حُرمت کو پامال کیا ہے لہٰذا اس کو حرمتوں کے پامال کرنے والے سے بھی بڑھ کر ایک ایسی سزا دینا ناگزیر ہے جو اس کے ساتھ مخصوص ہو بلکہ اس سے بھی بڑھ کر ۔ اس لیے یہ روا نہیں کہ قتل کے سوا اسے کوئی اور سزا دی جائے ۔ کیوں کہ یہ سب جرائم کی نسبت عظیم تر جرم ہے لہٰذا اس کے مقابلہ میں سزا بھی بلیغ تر ہے ۔
اس کی دلیل مندرجہ ذیل آیت کریمہ ہے :
وَرَسُولَهُ" (الاحزاب ۵۷) کے رسول کو ایذا دیتے ہیں )
یہ آیت کریمہ اس امر پر روشنی ڈالتی ہے کہ اللہ اور اس کے رسول کو ایذا دینے والے کو قتل کیا جائے اور ایذاء عموماً زبان کے ساتھ دی جاتی ہے ۔ اس کی تقریر پہلے گزر چکی ہے۔ علاوہ بریں توبہ کرنے کے ساتھ اس سے قتل کو ساقط کرنے سے خدا کو گالی دینے کا فساد زائل نہیں ہوتا ۔ ایسا ممکن ہے کہ ایک آدمی جب تک چاہے اللہ کو گالیاں دیتا رہے اور جب پکڑا جائے تو توبہ کا اظہار کر دے ، جیسا کہ دیگر جرائم فعلیہ میں ہوتا ہے ۔ مزید برآں اس نے کسی ایسے دین کو اختیار نہیں کیا جس پر وہ قائم
رہتا ہو۔ تاکہ اس سے منتقل ہونے سے اس کو ترک کرنا لازم آئے۔ بخلاف ازیں اس نے ایسے جرم کا ارتکاب کیا ہے جو ہمیشہ نہیں رہتا ۔ بلکہ یہ اُن افعال کی طرح ہے جو سزاؤں کو واجب کرتے ہیں۔ پس یہ سزا اسی سابقہ جرم کی ہوگی اور ایسے جرم کی توبہ کا مطالبہ اُس شخص کے پاس نہیں کیا جاتا جو کفر و ارتداد جیسے دائمی جرم کی سزا دیتا ہو۔
نیز اس سے توبہ کا مطالبہ کرنے سے یہ لازم آتا ہے کہ جو شخص اللہ کو گالی دے اس پر کبھی بھی حدّ قائم نہ کی جائے۔ ہمیں بخوبی علم ہے کہ کوئی آدمی بھی اللہ کو گالی دینے پر اصرار نہیں کرتا ، جب کہ اُسے علم ہو کہ یہ گالی ہے ۔ اس لیے کہ عقل اور فطرت میں سے کوئی بھی اس کا داعی نہیں۔ اور جس چیز کا بھی یہ نتیجہ برآمد ہو کہ حدودِ شرعیہ کو کلیتہً معطل کرنا پڑے وہ باطل ہے۔ چونکہ عملاً فسّاق سے توبہ کا مطالبہ کرنا اس بات کو مستلزم ہے کہ حدودِ شرعیہ کو معطل کیا جائے اسی لیے وہ جائز نہیں اسی طرح رسول کو گالی دینے والے سے اگر توبہ کا مطالبہ کیا جائے بعض اوقات وہ اس لیے توبہ نہیں کرتا کہ وہ گالی دینے کو حلال سمجھتا ہے ۔ اسی طرح خدا کو گالی دینے والے سے توبہ کا مطالبہ کرنا، جس کی طرف ہر شخص عجلت سے کام لیتا ہے، کا مشروع نہ ہونا اولیٰ ہے، جب کہ اس سے حدّ کا معطل کرنا لازم آتا ہے کہ اللہ کی حرمت و تقدیس کو پامال کرنے اور اس کا مذاق اڑانے کو متروک کر کے نفوس کو پاک کر لیا جائے۔
یہ عقل و دانش پر مبنی کلام ہے ۔ مگر یہ بات اس کے معارض ہے کہ جو جرم ایسا ہو اس کے بارے میں حدّ لگانے کی تحقیق غیر ضروری ہے ۔ اُس کے لیے یہی کافی ہے کہ اس کے قائل کو قتل کے لیے پیش کیا جائے یہاں تک کہ توبہ کرے۔ مگر جو شخص پہلی بات کی تائید کرتا ہے وہ کہہ سکتا ہے کہ اللہ کو گالی دینے والے پر حدّ صرف اس لیے نہیں لگائی جاتی کہ لوگوں کو طبعی خواہشات کی پیروی سے باز رکھا جائے بلکہ اللہ کی تعظیم و تکریم ، اس کے اجلال و اکرام ، اعلاء کلمۃ اللہ اور لوگوں کو اس امر سے
باز رکھنے کے لیے کہ وہ اللہ کی توہین کے لیے عاجلانہ اقدام کریں اور زبانوں کو اس کی تنقیص شان سے روک لیں ۔
مزید برآں جب مخلوقات کو گالی دینے اور بہتان لگانے کی حدّ توبہ کے اظہار سے ساقط نہیں ہوتی تو اللہ کو گالی دینے کی حدّ کا ساقط نہ ہونا اولیٰ ہے ۔ نیز جس طرح سزا کو واجب کرنے والے افعال کی حدّ توبہ کے اظہار سے ساقط نہیں ہوتی اسی طرح اقوال کی حدّ بھی ساقط نہیں ہوتی ۔ بلکہ اقوال کی شان اور تاثیر افعال سے بڑھ کر ہوتی ہے ۔
الغرض ، جب یہ سزا جو کہ کسی فعل یا قول ماضی کے عوض بطور جزاء عبرت پذیری کے واجب ہوتی ہو تو حاکم کی عدالت میں جانے کے بعد توبہ کرنے سے وہ ساقط نہیں ہوتی ، تو اللہ کو دی گئی گالی اس سے اولیٰ ہے، کافر اور مرتد کی توبہ سے یہ ضابطہ نہیں ٹوٹے گا ۔ اس لیے کہ سزا یہاں موجودہ عقیدہ کی بنا پر دی جاتی ہے جو زمانہ ماضی سے چلا آ رہا ہے ۔ اس لیے دو وجہ سے یہ قاعدہ نہیں ٹوٹے گا۔
پہلی وجہ : پہلی وجہ یہ ہے کہ اللہ کو گالی دینے کی سزا اس گناہ کی طرح نہیں جو انسان ہمیشہ کرتا ہو ۔ اس لیے کہ گالی جب ختم ہو جاتی ہے تو وہ قائم اور دائم نہیں رہتی۔ بخلاف ازیں کافر اور مرتد کی سزا کفر کی وجہ سے ہے جس پر وہ ڈٹا ہوا ہے اور اس عقیدہ پر قائم ہے ۔
دوسری وجہ : کافر کو سزا اس عقیدہ کی وجہ سے دی جاتی ہے جو اب بھی اس کے دل میں موجود ہے ۔ اس کا قول وعمل اس عقیدہ کی دلیل ہے یہانتک کہ اگر فرض کر لیا جائے کہ کلمہ کفر جو اس نے کہا تھا اس کے منہ سے بلا اعتقاد نکلا تھا تو ہم اس کی تکفیر نہیں کریں گے ۔ بایں طور کہ اسے اس کا مفہوم و معنی معلوم نہ تھا یا سبقت لسانی کے باعث غلطی سے یہ الفاظ اس کے منہ سے نکل گئے، جب کہ اس کا عقیدہ اس کے خلاف تھا، ومثل ایں جب کہ گالی دینے والے کو اس لیے قتل کیا جاتا ہے کہ اس نے اللہ کی حرمت
کو پامال کیا اور اس کی بے آبروئی کی ۔ اگرچہ ہمیں معلوم بھی ہو تو وہ گالی دینے کو پسند نہیں کرتا اور اس کو اپنا عقیدہ اور دین نہیں سمجھتا۔ کیونکہ انسانوں میں سے کوئی بھی اس کا عقیدہ نہیں رکھتا ۔
یہ اصول تارک صلوٰۃ وزکوٰۃ اور اس قسم کے دوسرے لوگوں سے نہیں ٹوٹے گا کیوں کہ ان لوگوں کو اس لیے سزا دی جاتی ہے کہ وہ ان فرائض کے ہمیشہ کے لیے تارک ہوتے ہیں۔ جب ان کو انجام دینے لگیں گے تو ترک فرائض کا ازالہ ہو جائے گا۔ اور اگر تم چاہو تو یوں بھی کہہ سکتے ہو کہ کافر، مرتد اور تارکین فرائض کو عدم ایمان اور ترک فرائض کی وجہ سے سزا دی جاتی ہے ۔ یعنی اس لیے کہ یہ فرائض ان کے یہاں دائماً معدوم رہتے ہیں ۔ جب ایمان اور فرائض موجود ہوں گے تو سزا انہیں دی جائے گی اس لیے کہ اب عدم کا انقطاع ہو گیا ۔ مگر ان لوگوں کو اقوال و افعال کثیرہ کے وجود کی وجہ سے سزا دی جاتی ہے عدم وجود کی وجہ سے نہیں۔ جب یہ ایک دفعہ پائے گئے تو ان کا وجود بعد ازاں ان کو ترک کرنے سے معدوم نہیں ہوگا۔
خلاصہ یہ کہ یہ قول صحیح توجیہ پر مبنی ہے اور کافی پر زور اور قوی ہے۔ پیچھے گزر چکا ہے کہ ارتداد کی دو قسمیں ہیں :
(۱) ارتداد مجرد (ب) ارتداد مغلظ
ہم نے تیسرے مسئلہ میں اس قول پر کھل کر گفتگو کی ہے ۔ اس شخص کے درمیان اور اللہ کے مابین توبہ کے مقبول ہونے اور خالص توبہ سے گناہ کے ساقط ہونے میں کوئی اختلاف نہیں پایا جاتا ۔ لوگوں میں سے بعض اللہ کو گالی دینے کے مسئلہ میں ایک اور راہ پر چلے ہیں اور وہ یہ کہ انہوں نے اس کو زندیق کے مسئلہ کے ساتھ ملحق کر دیا ہے ۔ یعنی ان دو مسالک میں سے ایک کی مانند جن کا تذکرہ ہم نے دشنام دہندہ رسول کے بارے میں کیا ہے ۔ اس لیے کہ اظہارِ اسلام کے باوجود اس سے گالی کا صدور اس کے خبث باطنی کی دلیل ہے ۔ مگر یہ قول ضعیف ہے۔ اس لیے کہ محل بحث یہاں وہ گالی ہے جس کا وہ عقیدہ نہ رکھتا ہو ۔ باقی رہی وہ گالی جو اس کے
عقیدہ سے ہم آہنگ ہو مثلاً تثلیث، بیوی اور بیٹا ہونے کا دعویٰ تو اس کا حکم وہی ہے جو تمام انواع کفر کا ہے ۔ اسی طرح وہ نظریات جن کی وجہ سے ان کی تکفیر کی جاتی ہے مثلاً فرقہ جہمیہ ، قدریہ وغیرہ مبتدعین کے افکار و نظریات ۔ جب ہم اللہ کو گالی دینے والے کی توبہ قبول کریں تو سختی سے اس کی تادیب کرنی چاہیے تاکہ آئندہ ایسی حرکت سے باز رہے ۔ ہمارے اصحاب نے اسی طرح ذکر کیا ہے ۔ نیز ہر مرتد کے بارے میں امام مالکؒ کے اصحاب کا یہی موقف ہے۔
فصل
ذمّی کی سزا جب کہ وہ اللہ کو گالی دے
اگر اللہ کو گالی دینے والا ذمّی ہو تو اسی طرح ہے جیسے اس نے رسولؐ کو گالی دی ۔ امام احمد رحمۃ اللہ علیہ کی تصریح پیچھے گزر چکی ہے کہ جس نے ایسی بات کہی جس سے اللہ کی توہین کا پہلو نکلتا ہو تو اسے قتل کیا جائے ، خواہ وہ مسلم ہو یا کافر۔ ہمارے اصحاب نے کہا کہ جس نے اللہ تعالیٰ ، اس کی کتاب ، اس کے دین یا اس کے رسول کا تذکرہ بُرائی کے ساتھ کیا تو ان سب کا حکم یکساں ہے ، وہ کہتے ہیں کہ اللہ کے ذکر اور رسولِ کریمؐ کے ذکر میں استخفاف برابر ہے امام مالکؒ اور اُن کے اصحاب کا مذہب بھی یہی ہے۔ امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ کے اصحاب نے فرمایا کہ ذمیوں میں سے جس نے اللہ ، اس کے رسول یا اس کی کتاب کو گالی دی تو ان سب کا ایک ہی حکم ہے۔
یہاں دو مسئلے قابلِ ذکر ہیں ۔
پہلا مسئلہ : یہ کہ اللہ کو گالی دینے کی دو قسمیں ہیں (۱) ایک یہ کہ ایسی گالی ہے جو اُس کے عقیدے کے مطابق نہ ہو اور وہ متکلم کے نزدیک اہانت پر مبنی ہو ۔ مثلاً لعنت اور اس کی قباحت وغیرہ بیان کرنا ۔ بلاشک وشبہ یہ گالی ہے ۔
(۲) دوسرے یہ کہ وہ اس کے عقیدے کے مطابق ہو۔ مگر وہ اسے تعظیم قرار دیتا ہو اور گالی اور تنقیصِ شان پر محمول نہ کرتا ہو ۔ مثلاً نصرانی کا یوں کہنا کہ اللہ کے بیوی اور بچے ہیں ومثل ایں ۔ اگر ذمّی ایسی بات علانیہ کہے تو اس میں اختلاف ہے۔ ہمارے اصحاب میں سے قاضی اور ابن عقیل کہتے ہیں کہ ذمی کا عہد اس سے
ٹوٹ جاتا ہے۔ اسی طرح اُس صورت میں ٹوٹتا ہے جب اپنے عقیدے کا اظہار نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں کریں۔ شریف ابو جعفر ، ابو الخطاب اور دیگر اہل علم نے بھی اسی طرح ذکر کیا ہے۔ انہوں نے ذکر کیا ہے کہ جن الفاظ سے قسم ٹوٹ جاتی ہے اُن سے بھی ٹوٹ جاتا ہے۔ مالکیہ کے ایک گروہ سے بھی اسی طرح منقول ہے ۔
اس کی وجہ یہ ہے کہ ہم نے اُن سے یہ عہد لیا تھا کہ وہ کفر کا اظہار نہیں کریں گے ، اگرچہ وہ بات اُن کے عقیدے سے ہم آہنگ ہو۔ جب انہوں نے علانیہ ایسی بات کہی تو یہ کہہ کر انہوں نے اللہ ، اس کے رسول اور مومنین کو ایذا دی اور عہد کی خلاف ورزی کی۔ اس سے ان کا عہد ٹوٹ جائے گا جس طرح نبی کریمؐ کو گالی دینے سے ٹوٹ جاتا ہے۔ پیچھے گزر چکا ہے کہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے اُس نصرانی سے کہا جس نے تقدیر کو جھٹلایا تھا کہ اگر تم نے اس کا اعادہ کیا تو میں تمہاری گردن اڑا دوں گا۔ قبل ازیں ایسے دلائل گزر چکے ہیں جن سے اس کی تائید ہوتی ہے۔
امام مالکؒ رحمۃ اللہ علیہ سے منقول ہے کہ یہود و نصاریٰ میں سے جس نے اللہ کو اس طریق سے گالی دی جو اُن کے اُس عقیدے سے ہم آہنگ نہ ہو جس کی وجہ سے وہ کافر ہوئے تو اُسے قتل کیا جائے اور اس سے توبہ کا مطالبہ نہ کیا جائے۔ ابن القاسم کہتے ہیں۔ الا یہ کہ وہ اپنی مرضی سے اسلام لائے ۔ بنا بریں جو چیز اُن کے عقیدہ کے مطابق ہو اُس کو وہ گالی قرار نہیں دیتے۔ یہ عام مالکیہ کا قول ہے کہ امام شافعیؒ کا مذہب بھی یہی ہے۔ امام شافعیؒ کے اصحاب نے اس کا تذکرہ کیا ہے اور یہ ان سے صراحۃً بھی منقول ہے۔ امام شافعیؒ کتاب الام میں اہل ذمہ کے شرائط کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں :-
- (۱) ”میرے نزدیک یہ ضروری ہے کہ اہل ذمہ رسول کریمؐ کا تذکرہ انہی اوصاف
کے ساتھ کریں جس کے آپ اہل ہیں۔
- (۲) دین اسلام کو وہ
کیڑے نکالیں ۔
- (۳) اگر ایسا کریں تـ
- (۴) ان سے عہد لیا
عیسیٰ علیہ السـ
- (۵) اگر پتہ چلے کہ
میں ایسے عقائـ نہ پہنچی ہو ۔ گئی ہے اور اُ امام احمد رحـ ایک یہودی کے سے ہوا تو اس ـ کہ گالی ہے۔ اسـ گالی نہیں ہے یو پر نکتہ چینی ہوتـ مذہب بھی یہـ قائل کے نزد سے نہیں جس لیے کہ کافر یہـ پر محمول کرتا عقیدہ نہیں جاتے ہیں
- (۲) دین اسلام کو ہدف طعن نہ بنائیں اور نہ ہی آپ کے احکام میں
کیڑے نکالیں ۔
- (۳) اگر ایسا کریں تو اُن کا ذمہ باقی نہیں رہے گا ۔
- (۴) ان سے عہد لیا جائے کہ اپنے شرکیہ عقائد مسلمانوں کو نہ بتائیں مثلاً عزیر اور
عیسیٰ علیہما السلام کے بارے میں اپنے عقائد کا اظہار نہ کریں ۔
- (۵) اگر پتہ چلے کہ دارالاسلام میں آنے کے بعد حضرت عزیرؑ اور عیسیٰؑ کے بارے
میں ایسے عقائد کا اظہار کیا ہے تو اُن کو اتنی سزا دی جائے جو حدّ شرعی تک نہ پہنچتی ہو ۔ اس لیے کہ ان کو اپنے مذہبی عقائد پر قائم رہنے کی اجازت دی گئی ہے اور اُن کے عقائد ہمیں معلوم ہیں “
امام احمد رحمۃ اللہ علیہ کے الفاظ کا بھی ظاہری مفہوم یہی ہے ۔ امام احمد سے ایک یہودی کے بارے میں دریافت کیا گیا جس کا گزر ایک مؤذن کے پاس سے ہوا تو اس نے کہا کہ ”تو نے جھوٹ بولا“ فرمایا اسے قتل کیا جائے ، اس لیے کہ گالی ہے ۔ اس سے معلوم ہوا کہ اپنے جس دین کا وہ اظہار کر رہا ہے اور وہ گالی نہیں ہے یوں نہیں ۔ فرماتے ہیں جو ایسی چیز ذکر کرے جس سے اللہ کی ذات پر نکتہ چینی ہوتی ہو اسے قتل کیا جائے ، خواہ وہ مسلم ہو یا کافر ۔ اہل مدینہ کا مذہب بھی یہی ہے ۔ حالانکہ اہل مدینہ کا مذہب اس چیز کے بارے میں ہے جو قائل کے نزدیک گالی ہے ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ قسم سبّ و شتم کے باب میں سے نہیں جس کو اللہ اور اس کے رسولؐ کو گالی دینے کے ساتھ ملحق کیا جائے اس لیے کہ کافر یہ بات طعن و عیب کے طور پر نہیں کہتا بلکہ وہ اسے اعزاز و اکرام پر محمول کرتا ہے ۔ وہ خود اور مخلوقات میں سے کوئی شخص بھی اللہ کو گالی دینے کا عقیدہ نہیں رکھتا ۔ بخلاف ازیں نبی کریمؐ کی شان میں جو بُرے الفاظ استعمال کیے جاتے ہیں وہ طعن و تشنیع کے طور پر بولے جاتے ہیں ۔
اس کی وجہ یہ ہے کہ کافر اللہ کی تعظیم پر مبنی بہت سی باتوں کا عقیدہ رکھتا
ہے ۔ مگر تعظیم رسول پر مبنی کسی بات کو تسلیم نہیں کرتا ۔ کیا تم دیکھتے نہیں کہ جب وہ کہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم ، ساحر ہیں یا شاعر، تو وہ کہتا ہے یہ نقص و عیب ہے ۔ اور جب کہتا ہے کہ "حضرت مسیح یا عزیر اللہ کے بیٹے ہیں" تو پھر یوں نہیں کہتا کہ یہ نقص و عیب ہے ۔ اگرچہ درحقیقت یہ نقص و عیب کا موجب ہے ۔ اگر ایک شخص ایک بات کہہ کر اس سے نقص و عیب مراد لیتا ہو اور دوسرے قول سے نقص و عیب نہ مراد لیتا ہو تو اس کے دونوں اقوال میں فرق ہے اور یہ جائز نہیں کہ اُن کا قول جو اللہ کے بارے میں ہے اس کو ان کے اس قول کے برابر قرار دیا جائے جو رسولؐ کے بارے میں ہے اور دونوں کو نقض عہد کا موجب قرار دیا جائے ۔ اس لیے کہ ان کے تمام اقوال کے بارے میں دیکھا جاتا ہے کہ آیا وہ اُن کے عقیدہ سے ہم آہنگ ہیں یا نہیں ۔
اس لیے کہ رسولِ کریمؐ کے بارے میں اُن کے تمام اقوال طعن فی الدین ، توہینِ اسلام اور مسلمانوں کی عداوت کے اظہار پر مشتمل ہیں ۔ اس سے ان کا مقصد رسولِ کریمؐ کی عیب جوئی اور نقائص کی طلب و تلاش ہے ۔ اللہ کے بارے میں اُن کے محض قول کا مقصد ہمیشہ اس کے عیوب و نقائص تلاش کرنا ہی نہیں ہوتا ۔ کیا آپ دیکھتے نہیں ۔ قریش رسول کریمؐ کے ساتھ عقیدہ توحید اور خدائے واحد کی عبادت پر اتفاق کر لیا کرتے تھے ۔ مگر اس بات پر اتفاق نہیں کرتے تھے کہ ان کے معبودانِ باطلہ کی مذمت کی جائے ، ان کے دین پر طعن کیا جائے اور اُن کے آباؤ اجداد کو بھلا بُرا کہا جائے ۔ اللہ نے مسلمانوں کو بتوں کو گالیاں دینے سے منع فرمایا ہے ۔ تاکہ مشرکین اللہ کو گالیاں نہ دیں ۔ حالانکہ وہ ہمیشہ شرک پر قائم رہے ۔ پس معلوم ہوا کہ اللہ کو گالی دینے سے احتراز کرنا کفر باللّٰہ سے احتراز کرنے سے شدید تر ہے ، اس لیے دونوں کے حکم کو یکساں قرار نہیں دیا جا سکتا ۔
— دوسرا مسئلہ —
ذمی سے توبہ کا مطالبہ اور اسکی توبہ کا مقبول ہونا
ذمی کی توبہ کے بارے میں علماء کے اقوال
قاضی ابو یعلیٰ، اور ان کے جمہور اصحاب مثلاً الشریف، ابن البناء ، ابن عقیل اور ان کے ہمنوا اس کی توبہ قبول کرتے اور توبہ کی وجہ سے قتل کو اس سے ساقط کرتے ہیں ۔ اُن کے اصول کے مطابق یہ مسئلہ بالکل واضح ہے کہ مسلم اگر اللہ کو گالی دے کر توبہ کرے تو وہ اس کی توبہ کو قبول کرتے ہیں ۔ بنابریں ذمی کی توبہ قبول کیے جانے کی زیادہ مستحق ہے۔ امام شافعیؒ کا معروف مذہب بھی یہی ہے ۔ اُن کا کلام بھی اسی پر دلالت کرتا ہے ۔ چنانچہ اہل ذمہ کے شروط بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں :
"اگر اہل ذمہ میں سے کوئی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم یا کتاب اللہ اور اس کے دین کا تذکرہ نازیبا الفاظ میں کرے تو اس سے اللہ کا ذمہ بری ہو جائیگا ان میں سے کوئی اگر ایسا کام کرے یا ایسی بات کہے جس کو میں نے نقض عہد قرار دیا ہے ، پھر اسلام لائے تو قتل کی صورت میں اسے قتل نہیں کیا جائے گا۔ جب کہ صراحتاً اس نے اللہ کو گالی نہ دی ہو ۔ اگر اپنے عقیدہ کے مطابق اس کا اظہار کریں تو ہو سکتا ہے کہ اس کی مراد بھی یہی ہو ، ابن القاسم اور دیگر مالکیہ نے بھی یہی کہا ہے کہ اُسے قتل کیا جائے ۔ الّا یہ کہ وہ اسلام لائے ۔ ابن مسلمہ ، ابن ابی حاتم اور المخزومی نے کہا ہے کہ توبہ کا مطالبہ کیے بغیر اسے قتل نہ کیا جائے ۔ اگر توبہ کرے تو فبہا ورنہ اُسے قتل کیا جائے اور جو بات امام مالکؒ سے صراحتاً منقول ہے وہ یہ ہے کہ اُسے قتل کیا جائے اور اس سے توبہ کا مطالبہ نہ کیا جائے جیسا کہ پیچھے گزر
امام احمد رحمۃ اللہ علیہ سے بھی ایک روایت اسی طرح کی منقول ہے ۔
حنبل کی روایت کے مطابق امام احمد رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا : "جو شخص کسی چیز کا ذکر کرے اور اشارہ کنایہ میں اللہ کی توہین کرے تو اسے قتل کیا جائے ، خواہ وہ مسلم ہو یا کافر۔ یہ اہل مدینہ کا مذہب ہے ۔ اس عبارت کا ظاہری مفہوم یہ ہے کہ توبہ کرنے سے اس کا قتل ساقط نہیں ہوتا ، جس طرح مسلم کے توبہ کرنے سے اس کا قتل ساقط نہیں ہوتا ، انہوں نے اسی قسم کی عبارت رسول کریمؐ کو گالی دینے کے بارے میں بروایت حنبل بھی تحریر کی ہے ۔ وہ کہتے ہیں کہ جو مسلم یا کافر رسول کریمؐ کو گالی دے اسے قتل کیا جائے حنبل کے سامنے اہل مدینہ کے مسائل پیش کیے جاتے تھے اور اُن کے بارے میں اُن سے دریافت کیا جاتا تھا ۔
رسول کریمؐ کے دشنام دہندہ کے بارے میں ہمارے اصحاب نے ان کے قول کی یہ تشریح کی ہے کہ توبہ کرنے سے قتل اس سے مطلقاً ساقط نہیں ہوتا ۔ اس کی توجیہ پہلے گزر چکی ہے ۔ اور یہ بھی اسی طرح ہے ۔ جب ہم کہتے ہیں کہ جو مسلم اللہ کو گالیاں دیتا ہے ، اس کے توبہ کرنے سے قتل اس سے ساقط نہیں ہوتا یہ نہایت واضح بات ہے ۔ اس کی دلیل ہمارے نزدیک زندقہ سے ماخوذ نہیں ۔ اگر گالی کے سوا وہ کسی اور کفر کا اظہار کرے تو ہم اس سے توبہ کا مطالبہ کریں گے ، ہمارے نزدیک اس کی دلیل یہ ہے کہ حدّ لگا کر ہزل کے طور پر کافر ہونے کے باوجود اسے قتل کیا جائے ، جس طرح دیگر افعال کی وجہ سے اُسے قتل کیا جاتا ہے ۔
اللہ کو گالی دینے کے مراتب ہیں
پہلا درجہ : جو شخص اپنے عقیدے کے مطابق خدا پر عیب لگائے مگر دین اسلام کو گالی نہ دے ۔ البتہ وہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک گالی ہو ۔ مثلاً نصاریٰ کا قول عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ سے روایت فرماتے ہیں کہ : حدیث قدسی : "ابنِ آدم نے مجھے گالی دی حالانکہ اسے ایسا نہیں کرنا چاہیے تھا" پھر فرمایا "اس کا مجھے گالی دینا تو یہ ہے کہ میری اولاد ہے ، جب کہ میں تنہا
ایک روایت اسی طرح کی منقول ہے ۔ حق امام احمد رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا : کے اور اشارہ کنایہ میں اللہ کی توہین کرے تو اسے قتل فر، یہ اہل مدینہ کا مذہب ہے۔ اس عبارت کا سے اس کا قتل ساقط نہیں ہوتا ، جس طرح مسلم نہیں ہوتا ، انہوں نے اسی قسم کی عبارت رسول کریمؐ ایت حنبل بھی تحریر کی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ جو مسلم سے قتل کیا جائے ۔ حنبل کے سامنے اہل مدینہ کے کے بارے میں اُن سے دریافت کیا جاتا تھا ۔ کے بارے میں ہمارے اصحاب نے ان کے قول سے قتل اس سے مطلقاً ساقط نہیں ہوتا۔ اس کی توجیہ رح ہے ۔ جب ہم کہتے ہیں کہ جو مسلم اللہ کو گالیاں ل اس سے ساقط نہیں ہوتا یہ نہایت واضح بات مرتد سے ماخوذ نہیں۔ اگر گالی کے سوا وہ کسی اور کفر مطالبہ کریں گے ، ہمارے نزدیک اس کی دلیل ر ہونے کے باوجود اسے قتل کیا جائے ، جس طرح ہے ۔
پہلا درجہ : جو شخص اپنے عقیدے کے مطابق خدا پر عیب لگائے مگر دین اسلام کو گالی نہ گالی ہو۔ مثلاً نصاریٰ کا قول عیسیٰ علیہ السلام کے ہم اللہ تعالیٰ سے روایت فرماتے ہیں کہ : مجھے گالی دی حالانکہ اسے ایسا نہیں کرنا چاہیے تھا“ یا قول یہ ہے کہ میری اولاد ہے ، جب کہ میں تنہا
اور بے نیاز ہوں نہ میری اولاد ہے نہ والدین “ تو اس کا حکم وہی ہے جو دیگر انواع کفر کا ہے ۔ خواہ اسے گالی کہا جاتا ہو یا کچھ اور ۔ ہم قبل ازیں اس کے ضمن میں اختلاف کا تذکرہ کرچکے ہیں کہ اس سے عہد ٹوٹتا ہے یا نہیں اور اگر اس بات کو تسلیم کیا جائے کہ اس سے عہد ٹوٹ جاتا ہے تو اسلام لانے سے قتل کا ساقط ہونا لازمی بات ہے اور جمہور کا قول بھی یہی ہے ۔
دوسرا درجہ : اگر کوئی شخص اپنے عقیدے کا اظہار کرے اور وہ مسلمانوں کے دین کے مطابق گالی اور اُس پر طعن ہو تو یہ اس کا دوسرا مرتبہ ہے ۔ مثلاً یہودی جو نبیؐ سے کہے کہ ”تونے جھوٹ بولا “ یا نصرانی کا حضرت عمرؓ کے قول کی تردید کرنا یا کسی شخص کا احکامِ خداوندی اور اس کی کتاب میں کیڑے نکالنا ومثلہ ایں ۔ تو عہد کے ٹوٹنے میں اس کا حکم وہی ہے جو رسول کریمؐ کو گالی دینے کا۔ یہی وہ قسم ہے جس کو فقہاء نے نواقض عہد میں شمار کیا ہے ۔ چنانچہ فقہاء کہتے ہیں کہ اگر کوئی شخص اللہ تعالیٰ، اس کی کتاب اور اس کے رسولؐ کا ذکر برائی کے ساتھ کرے تو اس کا عہد ٹوٹ جاتا ہے باقی رہا اسلام لانے کے ساتھ قتل کا ساقط ہونا تو وہ رسول کو گالی دینے کی طرح ہے البتہ اس میں بندے کا حق پایا جاتا ہے ۔ جو شخص رسولؐ کو گالی دینے کے سلسلہ میں اس راہ پر گامزن ہے تو وہ دونوں میں فرق کرتا ہے ۔ قاضی ابو یعلیٰ ، اور ان کے اکثر اصحاب کا موقف یہی ہے ۔ جو شخص رسول کو قتل کرے تو اسے بہرحال میں قتل کیا جائے ۔ اس لیے کہ یہ اسلام کے خلاف جرم ہے اور ایسا شخص اللہ اور اس کے رسول کے خلاف جنگ لڑنے والا ہے ، ہم قبل ازیں جو دلائل ذکر کرچکے ہیں ان کا تقاضا بھی یہی ہے ۔
تیسرا درجہ : گالی کا تیسرا مرحلہ یہ ہے کہ اس طرح سے گالی دے جو اس کے عقیدے سے ہم آہنگ نہ ہو ، بلکہ اس کے دین میں بھی اسی طرح حرام ہو جس طرح اللہ کے دین میں ۔ مثلاً کسی پر لعنت اور اس کی مذمت کرنا ومثل ایں ۔ تو اس میں اور مسلم کے گالی دینے میں کچھ فرق نہیں ۔ بلکہ بعض اوقات اس میں زیادہ شدّت
پائی جاتی ہے اسلئے کہ وہ اپنے دین میں اس کام کو اسی طرح حرام سمجھتا ہے جس طرح مسلمان اُس کو حرام سمجھتے ہیں۔ ہم اس سے یہ عہد لے چکے ہیں کہ جس چیز کو وہ حرام سمجھتا ہے ہم اس کے بارے میں اُس پر حد لگائیں گے ۔ پس اس کے اسلام لانے نے اس کی حرمت کے اعتقاد کی تجدید نہیں کی۔ بخلاف ازیں وہ اُس ذمی کی طرح ہے جبکہ وہ زنا کرے یا قتل کرے یا چوری کرے اور پھر مسلمان ہو جائے۔
علاوہ ازیں وہ مسلمانوں کو ایذا بھی دیتا ہے جیسے رسول کریمؐ کو گالی دے کر بلکہ اس سے شدید تر۔ جب ہم کہتے ہیں کہ مسلم اگر اللہ کو گالی دے تو اس کی توبہ قبول نہیں کی جائے گی ۔ تو پھر یوں کہنا اولیٰ ہے کہ ذمی کی توبہ قبول نہیں کی جائے گی۔ یہ بخلاف رسول کے کہ جو اس کی تکذیب کرتا ہے رسول اس کی مذمت کرتا ہے ۔ نیز رسولؐ جس کو اپنا خالق سمجھتا ہے اس کی مذمت کرنے کا عقیدہ نہیں رکھتا ۔ اس اعتبار سے اولیٰ یہ ہے کہ رسول کو گالی دینے والے سے قتل ساقط نہ ہو ۔ یہی وجہ ہے کہ امام مالکؒ اور احمدؒ سے اللہ کو گالی دینے والے کا استثناء منقول نہیں ، جس طرح رسولؐ کو گالی دینے والے کا استثناء منقول ہے۔ اگرچہ دونوں اصحاب میں سے بہت سے اس کے برعکس عقیدہ رکھتے ہیں ۔
امام مالکؒ اور احمدؒ کی مقصود و مراد گالی کی یہ نوع ہے۔ اسی لیے انہوں نے مسلم و کافر اس میں ایک دوسرے کے ساتھ ملحق کر دیا ہے، اس لیے یہ ان دونوں کی طرف سے گالی تصوّر کی جائے گی۔ اس قسم کے افعال کے ساتھ جو چیز زیادہ مماثلت رکھتی ہے ۔ وہ اس کا مسلم عورت کے ساتھ زنا کرنا ہے، جو اس کے دین میں حرام اور مسلمانوں کے لیے ضرر رساں ہے۔ اگر وہ اسلام بھی لے آئے تو یہ جرم اس سے ساقط نہیں ہوگا۔ بخلاف ازیں اسے یا تو قتل کیا جائے گا یا اس پر زنا کی حد جاری کی جائے گی۔ اللہ کو گالی دینے کا بھی یہی حکم ہے ۔
یہاں تک کہ اگر فرض بھی کر لیا جائے کہ اس کلام سے عہد نہیں ٹوٹے گا تو اُس پر حد کا قائم کرنا واجب ہوگا۔ اس لیے کہ وہ جس کام کو بھی حرام سمجھتا ہے ہم اس کے ضمن میں اُس پر اللہ کی مقرر کردہ حد لگائیں گے جو دین اسلام میں شرع
ہے ۔ اگرچہ ذمّی کی کتاب میں اس کا پتہ نہ چل سکے۔ جب کہ دل پر یہ تاثر غالب ہے کہ تمام اہل ادیان ایسے کلام کی وجہ سے قتل کر سکتے ہیں اور اس کی حد اللہ کے دین میں بھی قتل ہے ۔ جس طرح نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب ان کے زانی کو زنا کی سزا دی تو آپؐ نے فرمایا "اے اللہ ! میں پہلا شخص ہوں جس نے تیرے حکم کو زندہ کیا جب کہ انہوں نے اُسے مار دیا تھا" ظاہر ہے کہ ایسا زانی ان میں سے اسلام لے آتا تو بھی اس سے حد ساقط نہ ہوتی ۔ پس جو شخص اللہ کو ایسی گالی دے جو اہل ذمّہ اور ہمارے مذہب دونوں میں گالی شمار کی جاتی ہو اللہ کے نزدیک اور خود ان کے نزدیک عظیم جرم ہے۔ اس کے بارے میں ادنیٰ یہ ہے کہ اللہ کے حکم کو زندہ کیا جائے اور اس پر اس جرم کی حد لگائی جائے
اس قسم کے بارے میں فقہاء کے تین اختلافی اقوال ہیں :
پہلا قول :- ذمی سے اسی طرح توبہ کا مطالبہ کیا جائے جیسے مسلم سے ۔ یہ اہل مدینہ کے ایک گروہ کا نظریہ ہے ، جیسا کہ پیچھے گزرا ۔ گویا ان کے نزدیک اس سے عہد نہیں ٹوٹتا ، اس لیے کہ ناقض عہد کو محارب کی طرح قتل کیا جاتا ہے۔ اصل حربی کافر سے توبہ کا مطالبہ کرنے کے کوئی معنی نہیں ، ان کے نزدیک اس کی حد مسلم کی طرح قتل ہے ۔ وہ مسلم سے توبہ کا مطالبہ کرتے ہیں، اسی طرح ذمی سے بھی توبہ کا مطالبہ کیا جائے۔ ان لوگوں کے قول کے مطابق زیادہ قرین قیاس یہ بات ہے کہ گالی سے توبہ کرنے کے لیے وہ اسلام لانے کا محتاج نہیں ہے بلکہ اس کی توبہ قبول کی جائے اگرچہ وہ اپنے دین پر قائم ہو ۔
دوسرا قول :- دوسرا قول یہ ہے کہ اس سے توبہ کا مطالبہ نہ کیا جائے ، اگر وہ اسلام قبول کرے تو اُسے قتل نہ کیا جائے ۔ یہ ابن القاسم وغیرہ اور امام شافعیؒ کا قول ہے ۔ امام احمدؒ سے بھی ایک روایت یہی ہے ۔ قاضی ابو یعلیٰ کے طریقے کے مطابق اس میں اختلاف کا ذکر نہیں کیا گیا ۔ اس لیے کہ اس کا عہد نہیں ٹوٹا، لہٰذا اُسے قتل کرنے کے لیے توبہ کے مطالبہ کی ضرورت نہیں ، تاہم اگر
وہ اسلام لائے تو حربی کی طرح قتل اُس سے ساقط ہو جائے گا۔
تیسرا قول : تیسرا قول یہ ہے کہ اُسے بہر حال قتل کیا جائے ۔ امام مالکؒ و امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ کے قول کا بھی ظاہری مفہوم یہی ہے ۔ کیونکہ اس کا قتل ایسے جرم کی بنا پر واجب ہُوا ہے جو اللہ کے حق اور اس کے حق میں حرام ہے ۔ اس لیے اسلام لانے سے اُس کی سزا ساقط نہیں ہوگی ، جیسے زنا ، سرقہ اور شراب نوشی کی سزا ساقط نہیں ہوتی ، سابق الذکر دلائل میں سے اکثر اسی پر دلالت کرتے ہیں ۔
فصل
گالی کی حقیقت
مسلم کے بارے میں ہم نے جس گالی کا ذکر کیا ہے وہ ایسا کلام ہے جس سے کسی کی توہین اور استخفاف مقصود ہو ۔ اختلاف عقائد کے باوجود لوگوں کی عقل میں گالی کا مفہوم یہی ہے ۔ مثلاً لعنت ، کسی کی مذمت کرنا و مثل ایں ۔ مندرجہ ذیل آیت بھی اسی مفہوم پر دلالت کرتی ہے :
" وَلَا تَسُبُّوْا الَّذِيْنَ يَدْعُوْنَ (ان لوگوں کو گالی نہ دو جو اللہ کے سوا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ فَيَسُبُّوْا اللّٰهَ دوسروں کو پکارتے ہیں ورنہ وہ دشمنی عَدْوًا بِغَيْرِ عِلْمٍ ۔ کی وجہ سے بغیر علم کے اللہ کو گالیاں دیں گے) ۔
(الانعام - ١٠٨)
یہ بہت بڑی بات ہے جو لوگوں کی زبانوں سے صادر ہوتی ہے ۔ اگرچہ بات حقیقت اور حکم دونوں کے لحاظ سے گالی ہے ۔ مگر بعض لوگ اسے ایک دینی عقیدہ سمجھ کر صواب اور حق تصور کرتے ہیں اور ان کا خیال یہ ہوتا ہے کہ اس میں کچھ نقص و عیب نہیں ہے ، تو یہ کفر کی نوع ہے ۔ اس کے مرتکب کا حکم یا تو اس مرتد کا ہے جو اپنے ارتداد کا اعلان کرتا ہو ، یا اُس منافق کا جو اپنے نفاق کو چھپاتا ہو ۔ اور یہاں مسئلہ زیر بحث اُس کلام کا ہے جس کے قائل کو کافر قرار دیا جاتا ہے یا کافر نہیں سمجھا جاتا ۔ باقی رہی عقائد کی تفصیل اور یہ کہ کون سے عقائد کفر کے موجب ہیں اور کون سے محض بدعت کے یا جن میں اختلاف پایا جاتا ہے تو یہ اس کا محل نہیں ہے ۔ ہمارا مقصد صرف یہ ہے کہ گالی کی ان اقسام میں شامل نہ ہو جس کے قائل سے توبہ کا مطالبہ کرنے کے بارے میں نفیاً واثباتاً ہم نے بحث کی ہے ۔ واللہ اعلم ۔
اس شخص کا حکم جو اس شخص کو گالی
دے جو ایسے نام سے موسوم ہو جس کا
اطلاق اللہ یا اسکے بعض رسولوں پر کیا جاتا ہو
اگر کسی شخص کو گالی دے اور وہ کسی وصف سے ہو یا کسی نام سے موسوم ہو اور اس کا اطلاق اللہ تعالیٰ اور اس کے بعض رسولوں پر خصوصاً یا عموماً ہوتا ہو۔ مگر ظاہر یہ ہو کہ اس کا ارادہ یہ نہ تھا۔ کیوں کہ اکثر و بیشتر اس کا مقصد یہ نہیں ہوتا بلکہ کچھ اور ہوتا ہے تو یہ قول اور اس کے نظائر و اشباہ فی الجملہ حرام ہیں۔ اگر اس کا فاعل اس حرمت سے آگاہ نہ ہو تو اُس سے توبہ کا مطالبہ کیا جائے۔ اگر حرمت سے آگاہ ہو تو اُس پر تعزیر بلیغ لگائی جائے۔ مگر اس بنا پر نہ اس کی تکفیر کی جاسکتی ہے نہ اسے قتل کیا جاسکتا ہے۔ اگرچہ اس کے کافر ہونے کا خدشہ دامنگیر ہے ۔
مثال اول : پہلی مثال یہ ہے کہ زمانے کو گالی دے جس نے اس کے دوستوں کو اس سے جدا کر دیا ۔ یا زمانے کو بُرا بھلا کہے جس نے اُسے لوگوں کا محتاج بنایا یا زمانے پر تنقید کرے جس نے اُسے اس معاشرے سے وابستہ کر دیا جو اسے پریشان کرتا ہے اور اس قسم کے الفاظ و کلمات جو نظماً و نثراً لوگوں کی زبان پر آتے ہیں ایسے شخص کا مطلب اس شخص کو گالی دینا ہوتا ہے جو اس کے ساتھ یہ سلوک کرتا ہے ۔ پھر اس کا عقیدہ یہ ہوتا ہے یا وہ اس طرح کہتا ہے کہ یہ سب کچھ زمانہ کرتا ہے اور وہ اُسے گالیاں دینے لگتا ہے ۔
حالانکہ دراصل ان سب چیزوں کا فاعل اللہ تعالیٰ ہے۔ بایں طور گالی اللہ پر پڑتی ہے ۔ جب کہ آدمی کو اس کا خیال بھی نہیں ہوتا ۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا :
حدیث قدسی : زمانے کو گالی نہ دو کہ زمانے سے مراد اللہ ہے اور اسی کے ہاتھ میں سب اختیارات ہیں ۔“
ایک حدیث قدسی میں فرمایا :
”اے آدم کے بیٹے تو زمانے کو گالی دیتا ہے۔ حالانکہ زمانہ تو میں ہوں، تمام اختیارات میرے پاس ہیں۔ میں ہی شب و روز کو الٹ پلٹ کرتا رہتا ہوں“۔
ایسے قول سے رسول کریمؐ نے منع فرمایا اور اسے حرام قرار دیا۔ نہ اسے کفر قرار دیا اور نہ قتل۔ اور حرام قول تعزیر و سزا کا تقاضا کرتا ہے۔
دوسری مثال : دوسری مثال یہ ہے کہ کسی آدمی کو گالی دے جو کسی اسم عام سے موسوم ہو جس میں انبیاء اور دیگر لوگ بھی شامل ہوں ۔ مگر ایسے ظاہر ہوتا ہو کہ اُس نے اس عام میں انبیاء کو شامل کرنے کا ارادہ نہیں کیا۔ جیسا کہ مرثدی نے ذکر کیا کہ میں نے امام احمدؒ سے دریافت کیا اور کہا کہ اے فلاں فلاں کے بیٹے یہاں تک کہ وہ شمار کرتے کرتے آدمؑ و حواؑ تک پہنچ گیا۔ اس نے اس کو بڑی اہمیت دی اور کہا : ”ہم اللہ سے عافیت چاہتے ہیں۔ اس نے عظیم جرم کا ارتکاب کیا ہے “ پھر اس کی حد کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ مجھے اس بارے میں کچھ معلوم نہیں۔ پھر فرمایا کہ اس پر ایک ہی حد لگے گی۔ اس کا ذکر ابو بکر عبد العزیز نے بھی کیا ہے۔
چنانچہ امام احمدؒ اس قول کی وجہ سے کسی کو کافر نہیں قرار دیتے۔ حالانکہ اس لفظ میں حضرت نوحؑ ، ادریسؑ اور شیث علیہم السلام انبیاء بھی شامل ہو جاتے ہیں۔ اس لیے کہ اس شخص نے حضرت آدم و حواؑ اس کے عموم میں شامل نہیں کیا ۔ بلکہ ان دونوں کو بہتان لگانے کی حد مقرر کی ہے۔ اس لیے کہ اگر وہ دونوں مقذوف (بہتان زدہ) ہوتے تو اس کا قتل بلاشبہ متعین ہوتا ۔
اور اس حالت میں ایسا عموم پیدا کرنے والا اس میں انبیاء کو داخل کرنے کا قصد نہیں کرتا۔ اسی لیے امام احمدؒ نے اُس کو عظیم جرم تصور کیا ہے ۔ اس کی سب سے اچھی حالت یہ ہے کہ اس نے بہت سے مومنین پر بہتان لگایا ہو، مگر ایک حد کو واجب ٹھہرایا ہو ۔ اس لیے کہ حد کا لفظ یہاں امام احمدؒ کی
اصطلاح کے مطابق قبیلہ کے لیے استعمال ہوا ہے اور وہ ایک ہی ہے اور ایسے الفاظ کے بارے میں اکثر مالکیہ کا یہی قول ہے ۔ سحنون، اصبغ اور دیگر علماء اُس شخص کے بارے میں کہتے ہیں جس سے اس کا قرض خواہ کہے ”صلی اللہ علی النبی محمّدٍ“ یہ سن کر طالب نے اس سے کہا اللہ اُس پر درود و سلام نہ بھیجے جو آپ پر درود و سلام بھیجے“ سحنون نے کہا کہ وہ اُس آدمی کی طرح نہیں جو رسولِ کریمؐ یا فرشتوں کو گالیاں دے جو رسولِ کریمؐ پر درود و سلام بھیجتے ہیں اور وہ غصے کی حالت میں ہو ۔ اس لیے کہ اس نے لوگوں کو گالیاں دیں ۔ اصبغ وغیرہ کہتے ہیں کہ اُسے قتل نہ کیا جائے، اس نے صرف لوگوں کو گالیاں دی ہیں ۔ ابن ابی زید نے اس شخص کے بارے میں اسی طرح کہا، جو کہے کہ اللہ عربوں پر لعنت کرے، اللہ بنی اسرائیل پر لعنت کرے اور اللہ بنی آدم پر لعنت کرے، اس نے ذکر کیا کہ میرا مقصد انبیاء کو شامل کرنا نہیں بلکہ ان میں سے جو ظالم ہیں ان پر لعنت کی گئی ہے ۔ ایسے شخص کو حاکم کی صوابدید کے مطابق سزا دی جائے ۔
علماء کا ایک گروہ جس میں الحارث بن مسکین شامل ہیں اس طرف گئے ہیں کہ درود و سلام کے مسئلہ میں یہ بات کہنے والے کو قتل کیا جائے ۔ ابو موسیٰ بن عباس اُس شخص کے بارے میں کہتے ہیں جو کہے کہ ”اللہ اُس پر آدم تک لعنت کرے“ کہ اسے قتل کیا جائے ۔ علامہ کرمانی نے بالکل اسی طرح کہا ہے جو شخص کہے کہ میں نے اللہ کے تمام احکام کی نافرمانی کی تو ہمارے اصحاب کے دو اقوال میں سے ایک قول یہی ہے کہ اسے قتل کیا جائے، ہمارے اکثر اصحاب کہتے ہیں کہ یہ شتم نہیں ہے، کیوں کہ اُس نے معصیت کا التزام کیا ہے ۔ یہ اسی طرح ہے جیسے کوئی کہے کہ ”میں نے قرآن کو مٹا دیا یا میں نے شراب پی، اگر میں نے اس طرح کیا ۔ مگر اس جملہ کی وجہ سے اس نے ارادہ کفر کا اظہار نہیں کیا ۔ کیوں کہ اگر اس کا ارادہ کفر کا ہوتا تو اس کو کسی خاص نام سے ذکر کرتا اور
اس نام کے ساتھ اکتفا نہ کرنا جس میں تمام معاصی شامل ہوتے ۔
بعض علماء اس کو شتم قرار دیتے ہیں ۔ اس لیے کہ جن امور کا اللہ نے حکم دیا ہے ان میں سے قسم بھی ہے اور اس کی نافرمانی اس میں کفر ہے اور اگر قسم میں کفر کا التزام کیا مثلاً یوں کہا کہ وہ یہودی یا عیسائی ہے یا وہ اللہ اور اسلام سے بری ہے یا یہ کہ وہ خمر و خنزیر کو حلال سمجھتا ہے یا یوں کہے کہ اگر وہ ایسا کرے تو اللہ اس کو فلاں جگہ نہ دیکھے ۔ تو مشہور مذہب کے مطابق یہ قسم ہے۔ اس قول کی وجہ یہ ہے کہ اس کے الفاظ عام ہیں ، اس لیے اس سے نصوص کا دعویٰ قبول نہیں کیا جائے گا۔ جن لوگوں نے اس موقف کو اختیار کیا ہے وہ امام احمدؒ کے کلام کو اس بات پر محمول کرتے ہیں کہ قائل اس بات سے آگاہ نہ تھا کہ اس نسب میں انبیاء بھی شامل ہیں ۔
پہلے قول کی وجہ یہ ہے کہ حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے مہاجر بن ابی امیہ کو ایک عورت کے بارے میں لکھا جو مسلمانوں کی ہجو گوئی کیا کرتی (مہاجر نے اس عورت کا ہاتھ کاٹ دیا تھا) حضرت ابو بکر نے اس کا ہاتھ کاٹنے پر مہاجر کو ملامت کی ۔ حضرت ابو بکر نے لکھا کہ واجب یہ تھا کہ اس عورت کو جسمانی سزا دی جاتی ۔ حالانکہ ان الفاظ کے عموم میں انبیاء بھی داخل ہوتے ہیں ۔ نیز اس لیے کہ الفاظ عامہ کی تعداد بہت زیادہ ہے اور زیادہ تر ان سے خاص مفہوم مراد لیا جاتا ہے ۔ جب ایک لفظ گالی اور بہتان کے مفہوم میں استعمال کیا جاتا ہے ۔ انبیاء علیہم السلام اور ان جیسے لوگوں کی خصوصیات ہوتی ہیں جو اس امر کی موجب ہیں کہ ان کا ذکر بطور خاص اچھے الفاظ میں کیا جائے ۔ غصہ انسان کو مجبور کرتا ہے کہ وہ گفتگو کرتے وقت اختصار اور توسّع سے کام لے ۔ یہ قرائن ، عُرفیہ ، لفظیہ اور حالیہ ہیں اس امر کے کہ انبیاء کا اس عموم میں داخل ہونا مقصود نہیں خصوصاً جب کہ اس فرد کا دخول عموم میں اس انداز کا ہو کہ اسے محسوس نہ کیا جاتا ہو۔
اس کی مویّد یہ بات ہے کہ ایک یہودی نے عہد رسالت میں کہا ”مجھے اس ذات کی قسم جس نے حضرت موسیٰ کو تمام جہانوں پر فضیلت بخشی“ مسلم نے اس کو تھپڑ مارا حتی کہ یہودی نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر شکایت کی ۔ رسول کریمؐ نے منع فرمایا کہ مجھے موسیٰ پر فضیلت مت دیا کرو کیونکہ اس سے موسی علیہ السلام کی بے آبروئی کا پہلو نکلتا ہے ۔ اور اگر یہودی علانیہ کہتا کہ حضرت موسیٰؑ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے افضل ہے تو اجماعاً اس پر قتل کی یا دوسری قسم کی تعزیر لگائی جاتی جیسا کہ قبل ازیں اس پر تنقید گزر چکی ہے ۔
فصل
انبیاء کو گالی دینا کفر و ارتداد یا محاربہ ہے
دیگر تمام انبیاء کو گالی دینے کی سزا بھی وہی ہے جو ہمارے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو گالی دینے کی ہے جو شخص کسی نبی کو گالی دے جو معروف انبیاء میں سے ہو اور اُس کا نام قرآن میں مذکور یا بنبوت کے ساتھ موصوف ہو۔ مثلاً کسی گفتگو کے دوران یوں کہے کہ فلاں نبی نے ایسا کیا یا یوں کہا، پھر ایسی بات کہنے والے یا کرنے والے کو گالی دے، جب کہ وہ جانتا بھی ہو کہ یہ نبی ہیں اور اگر اُسے معلوم نہ ہو کہ وہ کون ہے یا گروہ انبیاء کو علی الاطلاق گالی دے، تو اس کا حکم وہی ہے جو پیچھے گزرا۔ اس لیے کہ ان پر ایمان لانا عموماً واجب ہے۔ اور اس نبی پر خصوصاً ایمان لانا واجب ہے جس کا واقعہ اللہ نے اپنی کتاب میں بیان کیا ہے اگر مسلم نبی کو گالی دے تو وہ کافر اور مرتد ہو جاتا ہے اور اگر ذمّی گالی دے تو وہ حربی کافر بن جاتا ہے۔
اور سابق الذکر دلائل سے یہ بات بالعموم لفظاً یا معناً مستفاد ہوتی ہے جیسے کسی شخص کے بارے میں معلوم نہیں کہ اس نے دونوں میں تفریق کی ہو۔ اگرچہ ہمارے فقہاء نے زیادہ تر ہمارے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو گالی دینے والے کا ذکر کیا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ زیادہ تر اسی کی ضرورت پڑتی ہے۔ نیز اس لیے کہ رسول کریمؐ کی تصدیق و ہم پر اجماعاً و تفصیلاً ہر طرح واجب ہے۔ اس میں بھی شبہ نہیں کہ آپؐ کو گالی دینے والے کا جرم دوسرے انبیاء کو گالی دینے والے سے بڑھ کر ہے۔ جس طرح آپ کی حرمت و تقدس سب سے زیادہ ہے۔ تاہم اس امر میں آپ کے سب برادر انبیاء و رسل سہیم و شریک
ہیں کہ ان کو گالی دینے والا کافر اور مباح الدم ہے۔ اگر کوئی شخص کسی نبی کو گالی دے مگر وہ ان کی نبوت کا اعتقاد نہ رکھتا ہو تو اس سے توبہ مطالبہ کیا جائے۔ جب کہ اس کی نبوت و رسالت کتاب و سنت سے ثابت ہو۔ کیوں کہ یہ اس کی نبوت سے انکار ہے، بشرطیکہ اسے ان کا نبی ہونا معلوم نہ ہو۔ اس لیے کہ خالص گالی ہے لہٰذا اس کی یہ بات قبول نہیں کی جائے گی کہ مجھے ان کے نبی ہونے کا علم نہ تھا۔
ازواج مطہرات کو گالی دینے والے کا حکم
جو شخص ازواج مطہرات رضوان اللہ علیہن کو گالی دے تو قاضی ابو یعلیٰ اس کے بارے میں فرماتے ہیں کہ جو شخص حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا پر وہی بہتان لگائے جس سے اللہ نے ان کو بری کیا ہے بلاخوف و نزاع وہ کافر ہو جاتا ہے۔ متعدد اہل علم نے اس پر اجماع نقل کیا ہے اور بہت سے ائمہ نے اس حکم کی تصریح کی ہے۔
حضرت عائشہؓ کو گالی دینے والے کا حکم
امام مالک رحمۃ اللہ علیہ سے مروی ہے کہ جو شخص حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو گالی دے اسے کوڑے مارے جائیں، اور جو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو گالی دے اسے قتل کیا جائے۔ ان سے اس کی وجہ پوچھی گئی تو کہا جس نے حضرت عائشہؓ پر بہتان باندھا اس نے قرآن کی مخالفت کی۔ قرآن کریم میں فرمایا:
يَعِظُكُمُ اللّٰهُ اَنْ تَعُوْدُوْا (اللہ تمہیں نصیحت کرتا ہے کہ کبھی لِمِثْلِهٖ اَبَدًا اِنْ كُنْتُمْ بھی آئندہ اس طرح کرو اگر تم مُؤْمِنِيْنَ“ (النور ۔ ۱۷) مومن ہو)
ابوبکر بن زیاد نیشاپوری کہتے ہیں کہ میں نے قاسم بن محمد سے سنا وہ اسماعیل بن اسحاق کو کہہ رہے تھے کہ رقہ کے شہر میں خلیفہ مامون کے پاس دو آدمیوں کو لایا گیا۔ ان میں سے ایک نے حضرت فاطمہ (رضی اللہ عنہا) کو
گالی دی تھی اور دوسرے نے حضرت عائشہؓ کو۔ اس نے حضرت فاطمہؓ کو گالی دینے والے کے قتل کا حکم دیا اور دوسرے کو چھوڑ دیا ۔ اسماعیل نے کہا دونوں کا حکم یہ ہے کہ ان کو قتل کیا جائے ۔ کیونکہ جس نے حضرت عائشہؓ کو گالی دی اس نے قرآن کی مخالفت کی ۔ اہل الفقہ والعلم کا طرزِ عمل اہل البیت وغیرہم کے ساتھ یہی رہا ہے ۔
ابوالقاسم القاضی نے کہا کہ ایک دن میں قبرستان میں حسن بن زید الداعی کے پاس تھا ۔ وہ اُن کا لباس پہنتے اور امر بالمعروف ونہی عن المنکر پر عمل پیرا تھے ۔ وہ ہر سال بیس ہزار دینار مدینہ منورہ بھیجتے تھے تاکہ صحابہ کے بچوں میں تقسیم کیے جائیں ۔ اُن کے پاس ایک شخص تھا جس نے حضرت عائشہؓ کا تذکرہ قبیح الفاظ میں کیا ۔ انہوں نے غلام کو حکم دیا کہ اس کی گردن اُڑا دے ۔ یہ دیکھ کر علویوں نے کہا کہ یہ ہمارے گروہ کا آدمی ہے ۔ اس نے کہا پناہ بخدا ! اس شخص نے رسول کریمؐ پر طعن کیا ۔ قرآن میں فرمایا :
" ناپاک عورتیں ناپاک مردوں کے لیے اور ناپاک مرد ناپاک عورتوں کے لیے اور پاک عورتیں پاک مردوں کے لیے اور پاک مرد پاک عورتوں کے لیے یہ (پاک لوگ) ان (بدگویوں) کی باتوں سے بَری ہیں اور ان کے لیے بخشش اور نیک روزی ہے ۔"
(النور ۔ ۲۶)
اگر حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا ناپاک تھیں تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بھی ناپاک ہوں گے ۔ لہٰذا یہ شخص کافر ہے ، اس کی گردن اُڑا دو ۔ چنانچہ میری موجودگی میں اُسے قتل کر دیا گیا ۔ اس کو الالکائی نے روایت کیا ہے۔
حسن بن زید کے بھائی محمد بن زید سے مروی ہے کہ اُن کے پاس عراق کا ایک شخص آیا اور اس نے بُرے الفاظ میں حضرت عائشہؓ کا ذکر کیا ۔ وہ ایک کھمبا لے کر اس کی طرف بڑھے اور اس کے سر پر مار کر اُسے قتل کر دیا ۔ اُن سے کہا گیا کہ یہ شخص (مقتول) تو ہمارے گروہ سے ہمارا چچا زاد تھا ۔ انہوں نے
کہا اس نے میرے جد (دادا یا نانا) کو قزمان کہا اور جو اسے قزمان کہے گا وہ قتل کا مستحق ہوگا ۔ لہٰذا میں نے اسے قتل کر دیا ۔
حضرت عائشہؓ کے سوا دیگر اُمہات المومنینؓ کو گالی دینا
جو شخص حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے علاوہ دیگر اُمہات المومنین کو گالی دے تو اس کے بارے میں دو قول ہیں :
- (۱) پہلا قول یہ ہے کہ وہ اسی طرح ہے جیسے دیگر صحابہ کو گالی دی ہو ۔
- (۲) دوسرا صحیح تر قول یہ ہے کہ وہ اُمہات المومنین میں سے کسی پر بہتان لگانے
کی مانند ہے ۔ یہی قول قبل ازیں حضرت ابن عباسؓ سے بھی نقل کیا گیا ہے ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ بات رسول کریمؐ کے لیے باعث عار و ننگ ہے ۔ یہ رسولِ مکرمؐ کے لیے اتنی بڑی اذیت رسانی ہے کہ آپؐ کے بعد آپؐ کی بیویوں سے نکاح کرنا بھی اتنا اذیت رساں نہیں ہے ۔ ہم قبل ازیں مندرجہ ذیل آیت کی تفسیر کرتے ہوئے بھی اس پر روشنی ڈال چکے ہیں ۔ قرآن میں فرمایا :
اِنَّ الَّذِیْنَ یُؤْذُوْنَ اللّٰهَ (بے شک وہ لوگ جو اللہ اور اس وَرَسُوْلَهٗ (الاحزاب - ۵۷) کے رسول کو ایذا دیتے ہیں)
اور یہ معاملہ نہایت واضح ہے ۔
کسی صحابی کو گالی دینے والے کی سزا
جو شخص کسی صحابی کو گالی دے ، خواہ صحابی اہل بیت میں سے ہو یا کوئی اور ، تو امام احمد اس کے بارے میں فرماتے ہیں کہ اسے عبرت ناک سزا دی جائے ۔ انہوں نے اسے کافر قرار دینے اور قتل کرنے سے احتراز کیا ۔ ابو طالب کہتے ہیں کہ میں نے امام احمد رحمہ اللہ سے اس شخص کے بارے میں پوچھا جو صحابہ کرامؓ کو گالی دے انہوں نے فرمایا میرا خیال ہے کہ اس کو قتل کرنے سے احتراز کیا جائے ۔ البتہ اسے عبرت ناک سزا دی جائے ۔ عبداللہ کہتے ہیں میں نے
کہا اور جو اسے قرآن کہے گا وہ - جو شخص
مومنین کو گالی دینا
حضرت بن کو گالی دے تو اس کے بارے نہ صحابہ کو گالی دی ہو۔ ان میں سے کسی پر بہتان لگانے اس سے بھی نقل کیا گیا ہے ۔ سخت عار و ننگ ہے۔ یہ جس کی حکم آپ کی بیویوں سے نکاح کرنا بھی یل آیت کی تفسیر کرتے ہوئے ک وہ لوگ جو اللہ اور اس ل کو ایذا دیتے ہیں،، شخص کسی صحابی کو گالی دے۔ وہ صحابی اہل بیت میں سے ہو ب کہ اسے عبرت ناک سزا نے سے احتراز کیا، ابو طالب کے بارے میں پوچھا جو صحابہ اس کو قتل کرنے سے احتراز عبداللہ کہتے ہیں میں نے
اپنے والد امام احمد سے پوچھا کہ صحابہ کو گالی دینے والے کو کیا سزا دی جائے ؟ انہوں نے کہا اسے مارا جائے۔ میں نے کہا آیا اس پر حد لگائی جائے ؟ انہوں نے اسے تسلیم نہ کیا اور صرف یہ کہا کہ اسے پیٹا جائے۔ نیز یہ فرمایا ”کہ میرے خیال میں وہ مسلمان نہیں ہے ۔“
عبداللہ بن احمد کہتے ہیں کہ میں نے اپنے والد سے روافض کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا کیا وہی روافض جو حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کو گالیاں دیتے ہیں ۔
شیعہ کے بارے میں امام احمد کا زاویہ نگاہ
امام احمد نے اس رسالہ میں فرمایا جس کو ابو العباس احمد بن یعقوب اصطخری وغیرہ نے روایت کیا ہے کہ: ”رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد امت میں سب سے بہتر حضرت ابوبکرؓ ہیں ان کے بعد حضرت عمرؓ ہیں ان کے بعد حضرت عثمانؓ اور ان کے بعد حضرت علی رضوان اللہ علیہم اجمعین ۔ اس کے آگے بعض لوگوں نے توقف سے کام لیا یہ (چاروں) ہدایت یافتہ خلفاء راشدین تھے ۔ اُن کے بعد اصحاب رسولؐ سب لوگوں سے افضل ہیں۔ کسی کے لیے جائز نہیں کہ اُن کی برائیاں ذکر کرے ، اور نہ ہی کسی کا عیب و نقص بیان کرے اور طعن کا نشانہ بنائے ۔ جو ایسا کرے اس کی تادیب اور سزا واجب ہے۔ اُسے معاف کرنے کا کسی کو حق نہیں بلکہ اسے سزا دے اور اس سے توبہ کا مطالبہ کرے۔ اگر توبہ کرے تو اس کی توبہ قبول کی جائے اور اگر توبہ نہ کرنے پر مصر رہے تو اسے بار دیگر سزا دی جائے اور ہمیشہ قید میں رکھا جائے یہاں تک کہ مر جائے یا رجوع کرے ۔
امام احمد رحمۃ اللہ علیہ نے یہ بات اپنے ہم عصر اہل علم سے نقل کی ہے نیز اللکائی نے اس کو امام احمدؒ، اسحاق ، الحمیدی ، سعید بن منصور وغیرہ سے نقل کیا ہے ۔
المیمونی کہتے ہیں کہ میں نے امام احمد سے سنا فرماتے تھے ”حضرت معاویہؓ کے ساتھ
انہیں کیا سروکار ؟ ہم خدا سے عافیت طلب کرتے ہیں۔ امام احمدؒ نے مجھے کہا اے ابوالحسن ! جب تم کسی کو صحابہؓ کی برائی کرتے دیکھو تو سمجھ لو کہ اس کا اسلام مشکوک ہے ۔ امام احمدؒ نے صراحتہً فرمایا ہے کہ کوڑے مار کر اس کی تعزیر کی جائے اور توبہ کا مطالبہ کیا جائے یہاں تک کہ وہ (حق کی طرف) لوٹ آئے ۔ اور اگر باز نہ آئے تو اُسے تا وفات قید رکھا جائے یہاں تک کہ رجوع کرلے ۔ فرماتے ہیں کہ میں اُسے مسلمان نہیں سمجھتا ۔ اُس کا اسلام مشکوک ہے، تاہم میں اسے قتل نہیں کرتا ۔
اسحاق بن راہویہؒ کہتے ہیں کہ جو رسولِ کریمؐ کے صحابہؓ کو گالی دے اسے سزا دی جائے اور قید میں رکھا جائے ۔
ہمارے بہت سے اصحاب کا یہی قول ہے ، اُن میں سے ابنِ ابی موسیٰ بھی ہیں وہ کہتے ہیں کہ روافض میں سے جو علمائے سلف کو گالی دے وہ (رشتہ میں کفو (ہمسر) نہیں ہے (اسے رشتہ نہ دیا جائے) جو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو اُس گناہ سے متہم کرے جس سے اللہ نے ان کو بَری کیا وہ اسلام سے نکل گیا ، لہٰذا وہ کسی مسلم عورت کے ساتھ نکاح نہیں کر سکتا ۔ اِلاَّ یہ کہ وہ علانیہ توبہ کا اظہار کرے ۔ فی الجملہ حضرت عمر بن عبدالعزیزؒ ، عاصم الاحولؒ اور دیگر تابعین کرام رحمہم اللہ کا موقف بھی یہی ہے ۔
حارث بن عقبہ کہتے ہیں کہ حضرت عمر بن عبدالعزیزؒ کے پاس ایک آدمی کو لایا گیا جس نے حضرت عثمانؓ کو گالی دی تھی ۔ انہوں نے دریافت کیا کہ تجھے کس بات نے ان کو گالی دینے پر آمادہ کیا ؟ اس نے کہا " میں ان سے عداوت رکھتا ہوں "۔ فرمایا ؟ تو جس سے تمھاری عداوت ہو گی اسے گالیاں دیا کرو گے ؟ چنانچہ آپ نے اسے تیس کوڑے مارنے کا حکم دیا ۔ ابراہیم بن میسرہ کہتے ہیں کہ میں نے عمر بن عبدالعزیزؒ کو کسی کو مارتے نہیں دیکھا ماسوا ایک شخص کے جس نے (امیرالمومنین) حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کو گالی دی تھی ۔ انہوں نے اُسے کوڑے مارے ۔ ہر دو روایات کو اللالکائی نے نقل کیا ہے ۔ اور اسی مصنف سے قبل ازیں نقل کیا گیا ہے کہ اس نے ایک دُشنام دہندہ کے بارے میں لکھا کہ صرف اس شخص کو قتل کیا جائے جو
ت طلب کرتے ہیں۔ امام احمدؒ نے مجھے کہا اے ابی کرتے دیکھو تو سمجھ لو کہ اس کا اسلام مشکوک کوڑے مار کر اس کی تعزیر کی جائے اور توبہ (حق کی طرف ) لوٹ آئے۔ اور اگر باز نہ یہاں تک کہ رجوع کرلے۔ فرماتے ہیں کہ میں مشکوک ہے ، تاہم میں اسے قتل نہیں کرتا ۔ جو رسول کریمؐ کے صحابہؓ کو گالی دے اسے سزا
ہی قول ہے ، اُن میں سے ابن ابی موسیٰ بھی ہیں نے سلف کو گالی دے وہ زندقہ میں کھڑا ہے، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو اس گناہ سے متہم وہ اسلام سے نکل گیا ، لہٰذا وہ کسی مسلم عورت کہ وہ علانیہ توبہ کا اظہار کرے۔ فی الجملہ حضرت دیگر تابعین کرام رحمہم اللہ کا موقف بھی یہی ہے ۔
عمر بن عبد العزیز کے پاس ایک آدمی کو لایا ی تھی۔ انہوں نے دریافت کیا کہ تجھے کس بات نے کہا ” میں ان سے عداوت رکھتا ہوں “ ہو گی اسے گالیاں دیا کرو گے ؟ چنانچہ آپ نے ہیم بن میسرہ کہتے ہیں کہ میں نے عمر بن عبد العزیز شخص کے جس نے (امیر المومنین ) حضرت معاویہ نے اُسے کوڑے مارے ۔ ہر دو روایات کو صنف سے قبل ازیں نقل کیا گیا ہے کہ اس نے لکھا کہ صرف اس شخص کو قتل کیا جائے جو
رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو گالی دے ۔ کسی اور کو گالیاں دینے والے کے سر پر کوڑے مارے جائیں ۔ اگر مجھے امید نہ ہوتی کہ اس کے حق میں یہی بہتر ہے تو میں ایسا نہ کرتا ۔
امام احمدؒ نے بطریق ابو معاویہ از عاصم الاحول روایت کیا ہے کہ میرے پاس ایک آدمی کو لایا گیا جس نے حضرت عثمانؓ کو گالیاں دی تھیں۔ کہتے ہیں کہ میں نے اسے دس کوڑے مارے۔ اس نے پھر گالیاں دیں، پھر میں نے اُسے دس کوڑے اور مارے ۔ وہ حضرت عثمانؓ کو گالیاں دیتا رہا یہاں تک کہ میں نے اسے ستر کوڑے مارے ۔ امام مالکؒ کا مشہور مذہب یہی ہے ۔ امام مالکؒ فرماتے ہیں کہ جو شخص رسول کریمؐ کو گالیاں دے اُسے قتل کیا جائے ، اور جو شخص آپؐ کے صحابہؓ کو گالیاں دے اس کی تادیب کی جائے ۔
عبدالملک بن حبیب کہتے ہیں کہ غالی شیعہ میں سے جو شخص حضرت عثمانؓ سے بغض رکھے اور بیزاری کا اظہار کرے اس کی شدید تادیب کی جائے ۔ اور جو اس سے آگے بڑھ کر حضرت ابوبکرؓ و عمرؓ کے ساتھ بغض رکھے اسے سخت سزا دی جائے اُسے مکرر پیٹا جائے اور اُسے طویل عرصہ تک قید کیا جائے یہاں تک کہ مر جائے ۔ صرف نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو گالی دینے پر اسے قتل کیا جائے ۔ ابن المنذر کہتے ہیں کہ مجھے کسی کے بارے میں معلوم نہیں کہ رسول کریمؐ کے سوا کسی کو گالی دینے پر دشنام دہندہ کے قتل کا قائل ہو ۔ قاضی ابو یعلیٰ کہتے ہیں کہ صحابہ کو گالی دینے کے بارے میں فقہاء کا مذہب یہ ہے کہ اگر اس کو حلال سمجھتا ہو تو وہ کافر ہو گیا اور اگر حلال نہ سمجھتا ہو تو کافر نہیں بلکہ فاسق ہو گیا۔ خواہ وہ صحابہ کی تکفیر کرے یا ان کو مسلمان تو سمجھتا ہو مگر ان کے دین پر طعن کرتا ہو ۔
اہل کوفہ اور دیگر فقہاء کی ایک جماعت نے صحابہؓ کو گالی دینے والے کے بارے میں قتل کا فتویٰ دیا ہے ۔ وہ روافض کی تکفیر کرتے ہیں ۔ محمد بن یوسف الفریابی سے حضرت ابوبکرؓ کو گالی دینے والے کے بارے میں دریافت کیا گیا تو انہوں نے
کہا کہ وہ کافر ہے۔ پھر دریافت کیا گیا کہ آیا اُس کی نماز جنازہ پڑھی جائے ؟ کہا نہیں ۔ سائل نے کہا جب وہ کلمہ پڑھتا ہے تو اُس کے ساتھ کیا سلوک کیا جائے؟ کہا اسے ہاتھ مت لگاؤ اور لکڑی کے ساتھ دھکیل کر اسے قبر کے گڑھے میں پھینک دو ۔
احمد بن یونس کہتے ہیں اگر ایک یہودی بکری ذبح کرے اور رافضی بھی ایک بکری ذبح کرے تو میں یہودی کا ذبیحہ کھا لوں گا ، مگر رافضی کا ذبیحہ نہیں کھاؤں گا اس لیے کہ وہ اسلام سے برگشتہ ہو گیا ہے۔ ابوبکر بن ھانی فرماتے ہیں کہ :- " روافض اور قدریہ کا ذبیحہ نہ کھایا جائے، جس طرح مرتد کا ذبیحہ نہیں کھایا جاتا ۔ اگرچہ اہل کتاب کا ذبیحہ کھایا جاتا ہے ۔ اس لیے کہ روافض وغیرہ مرتد کے قائم مقام ہیں۔ اہل ذمہ اپنے مذہب پر قائم رہیں گے ، مگر اُن سے جزیہ وصول کیا جائے گا ۔ کوفی ائمہ میں سے عبداللہ بن ادریس کہتے ہیں کہ رافضی صرف مسلم کے لیے شفعہ کر سکتا ہے ۔
فضیل بن مرزوق کہتے ہیں کہ میں نے حسن بن حسن سے سنا کہ وہ ایک رافضی سے کہہ رہے تھے : " بخدا تجھے قتل کرنے سے خدا کا قرب حاصل ہوتا ہے اور میں اس سے اس لیے باز رہتا ہوں کہ قتل نہ کرنے کا جواز بھی موجود ہے "
ایک روایت میں ہے کہ رافضی نے کہا " خدا تجھ پر رحم کرے تو نے بہتان لگایا ، تم مذاق کے طور پر یہ بات کہہ رہے ہو ۔ اس نے کہا : بخدا نہیں یہ مذاق نہیں بلکہ میں سنجیدگی سے کہہ رہا تھا کہ " اگر ہم نے تم پر قابو پایا تو ہم تمہارے ہاتھ اور پاؤں کاٹ ڈالیں گے "
ابوبکر بن عبدالعزیز " المقنع " میں کہتے ہیں : " رافضی اگر گالی دیتا ہو تو اس نے کفر کیا لہٰذا اسے ذمہ نہ دیا جائے "
بعض علماء کے الفاظ یہی ہیں اور قاضی ابویعلیٰ نے اس کی تائید کی ہے کہ "اگر وہ ایسی گالی دے جس سے مسلمانوں کے دین وعدالت میں قدح وارد ہوتی ہو تو وہ اس کی وجہ سے کافر ہو جاتا ہے۔ اور اگر ایسی گالی دے جس سے قدح نہ وارد ہوتی ہو مثلاً کسی کے باپ کو گالی دے یا کسی کو اس لیے گالی دے تاکہ اسے غصہ آئے ومثل ایں ، تو وہ کافر نہیں ہوگا۔
ابوطالب نے امام احمدؒ سے اس شخص کے بارے میں روایت کیا جو حضرت عثمانؓ کو گالیاں دیا کرتا تھا تو انہوں نے کہا یہ زندقہ ہے۔ المروذی کی روایت میں ہے کہ جو شخص حضرت ابوبکر، عمر اور عائشہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کو گالیاں دے تو وہ مسلم نہیں" قاضی ابویعلیٰ نے اس کے بارے میں علی الاطلاق کہا کہ صحابہ کو گالی دینے سے آدمی کافر ہو جاتا ہے ۔ عبداللہ اور ابوطالب کی روایت میں احمدؒ نے اُسے قتل کرنے اور پوری حد لگانے سے توقف کیا ہے ۔ اُن کے نزدیک اس پر تعزیر واجب ہے۔ یہ بات اس امر کی مقتضی ہے کہ وہ اسے کافر قرار نہیں دیتے ۔
وہ کہتے ہیں اس امر کا احتمال ہے کہ ان کے قول "میں اُسے مسلم خیال نہیں کرتا" کو اس صورت پر محمول کیا جائے جب کہ وہ صحابہ کو گالی دینے کو حلال سمجھتا ۔ اس لیے کہ بلا اختلاف اس کی تکفیر نہیں کی جاتی ۔ یہ بھی ممکن ہے کہ جو اسے حلال نہ سمجھتا ہو اس سے قتل کو ساقط کیا جائے ۔ بلکہ اس کی حرمت کا اعتقاد رکھتے ہوئے اُسے انجام دیا ، اُس شخص کی طرح جو معاصی کا ارتکاب کرتا ہو، ان کے قول کا یہ مطلب بھی مراد لیا جاسکتا ہے کہ جب وہ صحابہ کو ایسی گالی دے جس سے ان کی ثقاہت وعدالت مجروح ہوتی ہو۔ مثلاً کہے کہ انہوں نے ظلم کیا یا وہ رسول کریمؐ کے بعد فاسق ہو گئے تھے اور انہوں نے ناحق خلافت پر قبضہ کرلیا ۔
اس بات کا بھی احتمال ہے کہ اسقاطِ قتل کے بارے میں ان کے قول کو
اس گالی پر محمول کیا جائے جس سے اُن کے دین پر طعن وارد نہ ہوتا ہو۔ مثلاً یوں کہے کہ صحابہ کم علم تھے یا یہ کہ وہ سیاست و شجاعت سے کما حقہ آگاہ نہ تھے ۔ ان میں حرص و لالچ اور دنیا کی محبت پائی جاتی تھی ۔ و مثل ایں ۔ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ ان کے کلام کو ظاہر پر محمول کیا جائے ۔ اس طرح ان کو گالی دینے والے کے بارے میں دو روایتیں ہوں گے (۱) ایک یہ کہ وہ کافر ہے (۲) دوسرے یہ کہ وہ فاسق ہے۔ قاضی ابویعلیٰ وغیرہ نے بھی اسی قول پر بھروسہ کیا ہے ، علماء سے اُن کی تکفیر میں دو روایتیں منقول ہیں ۔ " قاضی ابویعلیٰ کہتے ہیں کہ جو شخص حضرت عائشہؓ پر ایسا بہتان لگائے جس سے اللہ نے ان کو بری کیا تھا بلا اختلاف وہ کافر ہے ۔ ہم اس موضوع کو دو فصلوں میں تقسیم کرتے ہیں (۱) ایک اُن کو مطلق گالی دینے کے بارے میں (۲) دوسری فصل گالی کے احکام کی تفصیل کے بارے میں ۔
صحابہؓ کو گالی دینے کا شرعی حکم
صحابہؓ کو گالی دینا کتاب وسنت سے حرام ہے۔ اس کی دلیل یہ آیت ہے :
" وَلَا يَغْتَبْ بَّعْضُكُمْ بَعْضًا "
(الحجرات - ۱۲)
ایک دوسرے کی چغلی مت کھاؤ
صحابہؓ کو گالی دینے والا کا حکم یہ ہے کہ وہ چغل خور ہے ۔ قرآن میں فرمایا :
- (۱) " وَيْلٌ لِّكُلِّ هُمَزَةٍ لُّمَزَةٍ "
(الہمزہ - ۱)
یہ طعن آمیز اشارے کرنے والے چغل خور کی خرابی ہے )
- (۲) " وَالَّذِينَ يُؤْذُونَ الْمُؤْمِنِينَ
وَالْمُؤْمِنَاتِ بِغَيْرِ مَا اكْتَسَبُوا فَقَدِ احْتَمَلُوا بُهْتَانًا وَّ وہ لوگ جو مومن مردوں اور مومن عورتوں کو کچھ کیے بغیر دکھ دیتے ہیں بے شک انہوں نے بہتان کا بوجھ
اِثْمًا مُّبِيْنًا " (الاحزاب ۔ ۵۸) اٹھایا اور ظاہر گناہ کیا ،
اس سے اہل ایمان کے رؤساء مراد ہیں کیونکہ آیت کریمہ " يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا " (البقرہ ۔ ۱۰۴) میں انہی کو مخاطب کیا گیا ہے کیونکہ اُن کا ذکر کیا گیا ہے ۔ حالانکہ انہوں نے کوئی ایسا کام نہیں کیا جس کی بناء پر وہ سزا کے موجب ہوں ۔ اس لیے کہ اللہ تعالیٰ اُن سے علی الاطلاق راضی ہو چکا ہے ۔
قرآن میں فرمایا :
" جن لوگوں نے سبقت کی (یعنی سب سے پہلے ایمان لائے) مہاجرین میں سے بھی اور انصار میں سے بھی اور جنہوں نے نیکو کاری کے ساتھ ان کی پیروی کی اللہ ان سے خوش ہے اور وہ اللہ سے خوش ہیں (التوبہ ۔ ۱۰۰)
قرآن میں فرمایا :
لَقَدْ رَضِيَ اللَّهُ عَنِ الْمُؤْمِنِيْنَ اللہ اہل ایمان سے راضی ہو گیا إِذْ يُبَايِعُوْنَكَ تَحْتَ الشَّجَرَةِ جب وہ درخت کے نیچے آپ سے بیعت (الفتح ۔ ۱۸) کر رہے تھے ،
رضامندی اللہ کی صفاتِ قدیمی میں سے ہے ۔ وہ اُسی بندے سے راضی ہوتا ہے جس کے بارے میں وہ رضا کے موجبات کو پورا کرتا ہے اور اللہ جس سے راضی ہو جائے اُس پر کبھی ناراض نہیں ہوتا اور یہ الفاظ ” اِذْ يُبَايِعُوْنَكَ “ خواہ ظرف ہوں یا ایسا ظرف جس میں علت کا مفہوم ہوتا ہے، یہ اس لیے کہ رضا کا تعلق اُن کے ساتھ ہے ۔ کیونکہ اس کا نام بھی رضا ہے ، جس طرح خدا کی دیگر صفات مثلاً علم، مشیت، قدرت وغیرہ ذالک ۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ ظرف جنس رضا سے متعلق ہے اور وہ مومن سے تب راضی ہوتا ہے جب کہ وہ اس کی اطاعت کرے اور کافر کی نافرمانی سے ناراض ہوتا ہے۔ اللہ کی اطاعت کے بعد جو رسول کی اطاعت کرتا ہے وہ اس سے خوش ہوتا ہے ۔ اس کے امثال و نظائر بھی اسی طرح ہیں ۔
یہ جمہور سلف اہل الحدیث اور بہت سے متکلمین کا مذہب ہے۔ ظاہر تر بات یہی ہے ۔ بنا بریں دیگر مقامات میں بیان کیا گیا ہے کہ یہی لوگ ہیں جو آخرت میں ثواب کے مستحق ہوں گے۔ اُن کی وفات اُسی ایمان پر ہوگی جس کی وجہ سے وہ اس کے مستحق ہوئے ، جیسا کہ مذکورہ صدر سورۃ التوبۃ کی آیت نمبر ۱۰۰ میں فرمایا ۔ روایات صحیحہ میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہے کہ آپؐ نے فرمایا : جس نے درخت کے نیچے بیعت کی وہ کبھی دوزخ میں نہیں جائے گا۔
جس کے بارے میں اللہ نے فرمایا کہ وہ اس سے راضی ہے وہ اہل جنت میں سے ہے۔ اگر چہ اُس کی رضامندی ایمان اور عمل صالح کے بعد حاصل ہوتی ہے جہاں مدح و توصیف کا مقام ہوتا ہے وہاں ان کا تذکرہ کرتا ہے ۔ اگر اسے معلوم ہو کہ اس کے بعد وہ اللہ کو ناراض کرنے والے کام کرے گا تو وہ اہل جنت میں سے نہیں ہے ۔ جس طرح قرآن میں فرمایا :
(۱) " يَا أَيَّتُهَا النَّفْسُ الْمُطْمَئِنَّةُ اے اطمینان پانے والی روح ، اپنے ارْجِعِي إِلَى رَبِّكِ رَاضِيَةً پروردگار کی طرف لوٹ چل۔ تو اُس مَّرْضِيَّةً ه فَادْخُلِي فِي سے راضی وہ تجھ سے راضی ۔ تو میرے ممتاز عِبَادِي وَادْخُلِي جَنَّتِي بندوں میں داخل ہو جا اور میری جنت (الفجر - ۲۷ - ۳۰) میں داخل ہو جا ۔
قرآن میں فرمایا :- (۲) "بے شک خدا نے پیغمبر پر مہربانی کی اور مہاجرین اور انصار پر جو باوجود اس کے کہ اُن میں سے بعضوں کے دل جلد پھر جانے کو تھے مشکل کی گھڑی میں پیغمبر کے ساتھ رہے۔ پھر خدا نے اُن پر مہربانی فرمائی بے شک وہ اُن پر نہایت شفقت کرنے والا اور مہربان ہے ۔"
نیز فرمایا : (۳) " اور جو لوگ صبح و شام اپنے پروردگار کو پکارتے اور اُس کی خوشنودی کے
طالب ہیں اُن کے ساتھ صبر کرتے رہو“
(الکھف - ۲۸)
- (۴) ”محمدؐ تو اللہ کے رسول ہیں اور جو لوگ آپ کے ساتھ ہیں کفار پر بڑے سخت
اور آپس میں رحم کرنے والے ہیں“
(الفتح - ۲۹)
نیز فرمایا :
- (۵) ”كُنْتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ (تم بہترین جماعت ہو جو لوگوں
لِلنَّاسِ - (آل عمران - ۱۱۰) کے لیے برپا کی گئی)
- (۶) ”وَكَذَالِكَ جَعَلْنَاكُمْ (اور اسی طرح بنایا ہم نے تم کو
أُمَّةً وَسَطاً“ (البقرہ ۱۴۳) امت درمیان)
یہ اولین لوگ ہیں جن کو ان الفاظ کے ساتھ مخاطب کیا گیا اور بلاشبہ ان سے وہی لوگ مراد ہیں ۔
قرآن میں فرمایا :
- (۷) ”اور ان کے لیے بھی جو اُن (مہاجرین) کے بعد آئے اور دُعا کرتے ہیں
کہ اے پروردگار ہمارے اور ہمارے بھائیوں کے جو ہم سے پہلے ایمان لائے ہیں گناہ معاف فرما اور مومنوں کی طرف سے ہمارے دل میں کینہ وحسد پیدا نہ ہونے دے اے ہمارے پروردگار تو بڑا شفقت کرنے والا مہربان ہے “
(الحشر - ۱۰)
اللہ تعالیٰ نے لڑے بغیر مال غنیمت اپنے رسول کو دیہات میں رہنے والوں سے مہاجرین وانصار اور اُن لوگوں کے لیے دلوایا جو ان کے بعد آئے ۔ جو کہ اپنے سے پہلے والے لوگوں کی مغفرت طلب کرتے اور اللہ سے دعا مانگتے تھے کہ ان کے دلوں میں اُن کے لیے بغض وعداوت پیدا نہ ہو۔ اس سے معلوم ہوا کہ ان کے لیے مغفرت طلب کرنا اور دل کو اُن کی عداوت سے پاک کرنا ایک ایسی بات ہے جس کو اللہ پسند کرتا ہے اور اُس کے فاعل کی تعریف کرتا ہے ۔ جیسا کہ مندرجہ ذیل آیت میں اپنے رسولؐ کو حکم دیتے ہوئے فرمایا :
"فَاعْلَمْ اَنَّهُ لَا اِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُ" (پس تو جان لے کہ بے شک کوئی وَاسْتَغْفِرْ لِذَنْبِكَ وَلِلْمُؤْمِنِیْنَ معبود نہیں مگر اللہ اور اپنے گناہ وَ الْمُؤْمِنَاتِ" (سورۃ محمد ۔ ۱۹) کی معافی مانگ اور مومن مردوں اور عورتوں کیلئے بھی مغفرت طلب کر)
نیز فرمایا : " فَاعْفُ عَنْهُمْ وَاسْتَغْفِرْ لَهُمْ " (اُن کو معاف کر دو اور ان کے لیے (آل عمران ۔ ۱۵۹) معافی مانگو)
کسی چیز کے ساتھ محبت رکھنے کے معنے یہ ہیں کہ اس کی ضد کو بُرا سمجھا جائے اس طرح اللہ ان کے لیے گالی کو ناپسند کرتا ہے ۔ جو کہ استغفار کی ضد ہے ، اور بغض کو بنظر کراہت دیکھتا ہے جو کہ طہارت کی ضد ہے اور یہی معنی ہیں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے اس قول کے کہ "ان کو حکم دیا گیا تھا کہ حضرت محمدؐ کے اصحاب کے لیے مغفرت طلب کریں مگر وہ گالیاں دینے لگے" (صحیح مسلم)
مجاہد حضرت ابن عباسؓ سے روایت کرتے ہیں کہ "حضرت محمدؐ کے صحابہؓ کو گالی مت دو ۔ کیونکہ اللہ نے ان کے لیے مغفرت طلب کرنے کا حکم دیا ہے اور اُسے معلوم ہے کہ وہ لڑیں گے" (مسند احمد)
حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ لوگوں کے تین مراتب ہیں ۔ دو مرتبے گزر گئے اور ایک باقی رہا ۔ تم جس بہترین مرتبہ پر فائز ہونے والے ہو وہ یہ ہے کہ تم اس مرتبہ تک پہنچ جاؤ جو باقی ہے ۔ پھر انہوں نے یہ آیت تلاوت کی :
"لِلْفُقَرَاءِ الْمُهَاجِرِيْنَ .... رِضْوَانًا (الحشر ۔ ۸) یہ تھے مہاجرین اور یہ ہے مرتبہ جو گزر چکا ہے ۔ قرآن میں فرمایا :
"اور اُن لوگوں کے لیے بھی جو مہاجرین سے پہلے (ہجرت کے) گھر (یعنی مدینے) میں مقیم اور ایمان میں (مستقل) رہے اور جو لوگ ہجرت کرکے ان کے پاس آتے
ہیں اُن سے محبت کرتے ہیں اور جو کچھ ان کو ملا اس سے اپنے دل میں کچھ خواہش اور خلش نہیں پاتے اور اُن کو اپنی جانوں سے مقدم رکھتے ہیں خواہ ان کو خود احتیاج ہی ہو“
(الحشر - ۹)
وہ کہتے ہیں کہ اس سے انصار مراد ہیں اور یہ مرتبہ گزر چکا ہے۔ پھر یہ آیت تلاوت کی :
”اور اُن کے لیے بھی جو ان (مہاجرین) کے بعد آئے اور دعا کرتے ہیں کہ اے پروردگار ہمارے اور ہمارے بھائیوں کے جو ہم سے پہلے ایمان لائے ہیں گناہ معاف فرما اور مومنوں کی طرف سے ہمارے دل میں کینہ و حسد نہ پیدا ہونے دے اے ہمارے پروردگار تو بڑا شفقت کرنے والا مہربان ہے“
(الحشر - ۱۰)
یہ دونوں مرتبے گزر گئے اور صرف یہ مرتبہ باقی رہا۔ بہتر یہ ہے کہ تم اس مرتبہ پر فائز ہو جاؤ جو باقی ہے۔ اللہ حکم دیتا ہے کہ اُن کے لیے مغفرت طلب کیجیے ۔ نیز اس لیے کہ جس کو گالی دینا بلاواسطہ یا بالواسطہ جائز ہو اس کے لیے مغفرت طلب کرنا جائز نہیں، جس طرح مشرکین کے لیے مغفرت طلب کرنا جائز نہیں۔
قرآن میں فرمایا :
”مَا كَانَ لِلنَّبِيِّ وَالَّذِيْنَ آمَنُوْا پیغمبر اور مسلمانوں کے لائق نہیں کہ أَنْ يَّسْتَغْفِرُوْا لِلْمُشْرِكِيْنَ جب ان پر ظاہر ہو گیا کہ مشرک جہنمی وَلَوْ كَانُوْا اُولِيْ قُرْبٰى مِنْ بَعْدِ ہیں تو ان کے لیے بخشش مانگیں گو وہ مَا تَبَيَّنَ لَهُمْ أَنَّهُمْ أَصْحٰبُ ان کے قرابت دار ہی ہوں ۔ الْجَحِيْمِ“
(التوبۃ - ۱۱۳)
جس طرح گنہگاروں کے لیے مغفرت طلب کرنا جائز نہیں جو معصیت کے ساتھ موسوم ہوں ۔ اس لیے کہ اس کا کوئی ذریعہ ممکن نہیں، نیز اس لیے کہ ہمارے لیے یہ بات مشروع ہے کہ ہم اللہ سے سوال کریں کہ ہمارے دلوں میں
ایمانداروں کے لیے رشک و رقابت پیدا نہ کرے اور زبان کے ساتھ گالی دینا اُس بغض سے عظیم تر ہے جس کے ساتھ گالی نہیں دی جاتی اور اگر اُن کے ساتھ بغض رکھنا اور انہیں گالی دینا جائز ہوتا تو بھی ہمارے لیے مشروع نہ تھا کہ ہم اس سے اس چیز کے چھوڑنے کا سوال کریں جس کے انجام دینے سے کچھ ضرر لاحق نہیں ہوتا نیز اس لیے کہ یہ لوگوں کا وصف ہے جو اس کی وجہ سے مال فئے (جو مال لڑے بغیر حاصل ہو) کے مستحق ہیں ۔ جس طرح اُن لوگوں کی تعریف کی جنہوں نے ہجرت و نصرت میں پہل کی تھی، اس سے معلوم ہوا کہ یہ اس چیز کی صفت ہے جو اُن میں تاثیر کرنے والی ہے ۔ اور اگر گالی دینا جائز ہوتا تو فئے کے مستحق ہونے میں ایک جائز امر کا چھوڑنا مشروط نہ ہوتا ۔ جس طرح باقی مباحات کا چھوڑنا مشروط نہیں ۔ بلکہ اگر ان کے لیے استغفار واجب نہ ہوتا تو استحقاق فئے میں مشروط بھی نہ ہوتا ۔ کیونکہ جو چیز واجب نہ ہو وہ مشروط نہیں ہوتی بخلاف ازیں یہ اس امر کی دلیل ہے کہ ان کے لیے مغفرت طلب کرنا دین کی اصل و اساس میں داخل ہے ۔
سبّ صحابہؓ کے عدم جواز پر سنت کے دلائل
صحیح بخاری و مسلم میں بروایت اعمش از ابوصالح از ابوسعید رضی اللہ عنہ مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "میرے صحابہؓ کو گالی نہ دو، مجھے اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ۔ اگر تم میں سے کوئی شخص اُحد پہاڑ جتنا سونا بھی خرچ کرے تو اُن کے عُشرِ عشیر کو بھی نہ پہنچ سکے"۔
صحیح مسلم میں ہے اور بخاری نے بھی اس سے استشہاد کیا ہے کہ حضرت خالدؓ بن ولید اور حضرت عبدالرحمنؓ بن عوف کے مابین کچھ رنجش تھی ۔ چنانچہ خالدؓ نے اُن کو گالی دی ۔ یہ سن کر رسول کریم ﷺ نے فرمایا "میرے صحابہؓ کو گالی نہ دو۔
اگر تم میں سے کوئی شخص اُحد پہاڑ جتنا سونا بھی خرچ کرے تو ان کے عُشرِ عشیر کو بھی نہ پہنچ سکے “ ۔ صحیح برقانی کی ایک روایت میں ہے کہ ”میرے صحابہؓ کو گالی نہ دو، میرے لیے صحابہؓ کو چھوڑ دو ۔ اگر تم میں سے کوئی اُحد پہاڑ جتنا سونا خرچ کرے تو ان کے عُشرِ عشیر کو بھی نہ پہنچ سکے “ ۔
اصحاب کا واحد صاحب ہے اور صاحب صحب یصحب سے اسمِ فاعل ہے، جس کا اطلاق قلیل و کثیر دونوں پر کیا جاتا ہے ۔ عربی محاورہ میں کہا جاتا ہے کہ ”صَحِبْتُهُ سَاعَةً “ (میں ایک گھنٹہ اس کی صحبت میں رہا) اور ”صَحِبْتُهُ شَهْرًا “ (میں ایک مہینہ اس کی صحبت میں رہا) و ”صَحِبْتُهُ سَنَةً “ (میں سال بھر اس کی صحبت میں رہا)
قرآن میں فرمایا ”وَالصَّاحِبِ بِالْجُنُبِ “ (پہلو کا ساتھی)
(النساء - ۳۶)
رفیقِ سفر کو کہتے ہیں ۔ بعض علماء کے نزدیک اس کے معنی بیوی کے ہیں ۔ ظاہر ہے کہ رفیق اور بیوی کی صحبت بعض اوقات ایک گھنٹہ یا کم و بیش وقت تک کے لیے ہوتی ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے ایسے ساتھی کے ساتھ حسن سلوک کا حکم دیا ہے، جب تک اس کی صحبت باقی رہے ۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
”سب اصحاب سے افضل اللہ کے نزدیک وہ ہے جو اپنے ساتھی کے ساتھ بہتر ہو ۔ اور بہترین پڑوسی وہ ہے جو اپنے پڑوسی کے ساتھ بہتر ہو “ ۔
اس حدیث کے مفہوم میں صحبت و جوار قلیل ہو یا کثیر دونوں آگئے ۔ امام احمدؒ رحمۃ اللہ علیہ بھی اسی طرح فرماتے ہیں کہ ”جو شخص بھی رسولِ کریمؐ کی صحبت میں ایک سال یا ایک ماہ یا ایک دن رہا ہو یا اس نے حالتِ ایمان میں آپؐ کو دیکھا ہو وہ آپؐ کے اصحاب میں سے ہے اور اُسی کے بقدر اُس کو شرفِ صحابیت حاصل ہے ۔ اگر معترض کہے کہ پھر آپؐ نے حضرت خالدؓ کو صحابہؓ کو گالی دینے سے منع کیوں فرمایا جب کہ وہ خود بھی صحابی تھے ۔ اور فرمایا کہ اگر تم میں سے
کوئی اُحد پہاڑ جتنا سونا بھی خرچ کرے تو اُن کے عُشرِ عشیر کو بھی نہ پہنچ سکے۔" تو ہم اس کے جواب میں کہیں گے کہ حضرت عبدالرحمٰن بن عوف اور ان جیسے دیگر صحابہ سابقین اوّلین میں سے تھے۔ وہ اس وقت رسولِ کریم کی صحبت میں رہے تھے جب کہ خالد بن ولید جیسے لوگ ہنوز آپؐ کے دشمن تھے۔ انہوں نے فتح مکہ سے قبل اپنا مال خرچ کیا اور آپؐ کے ساتھ ہو کر آپؐ کے دشمنوں سے جنگ کی۔ ان کا درجہ اُن لوگوں سے بہت بڑا ہے جنہوں نے فتح مکہ کے بعد مال خرچ کیا اور آپؐ کی رفاقت میں جہاد کیا۔ تاہم فریقین کو اللہ نے نیکی اور بھلائی سے نوازا۔ وہ اُس صحبت سے مستفید ہوئے جس میں خالد اور ان کے نظائر و امثال شریک نہ تھے یعنی جو لوگ فتح مکہ کے بعد صلح حدیبیہ کے موقع پر اسلام لائے اور جہاد کیا۔ لہٰذا اس بات سے منع کیا گیا کہ پہلے شرفِ صحبت حاصل کرنے والوں کو گالی دی جائے جو لوگ شرفِ صحبت سے محروم رہے اُن کی نسبت شرفِ صحبت سے بہرہ ور ہونے والوں کے مقابلہ میں اسی طرح ہے جیسے خالدؓ کی نسبت سابقین اولین کی طرف کرتے ہوئے بلکہ اس سے بھی بعید تر۔
اور رسولِ کریمؐ کا یہ فرمان کہ "میرے صحابہؓ کو گالی نہ دو۔" یہ ہرے سے خطاب کہ شرفِ صحبت حاصل کرنے والوں کو گالی نہ دو۔ یہ اسی طرح جیسے دوسری حدیث میں فرمایا کہ :
"اے لوگو! میں تمہارے یہاں آیا اور تمہیں بتایا کہ میں تمہاری طرف اللہ کا رسول ہو کر آیا ہوں۔ مگر تم نے مجھے جھٹلایا۔ مگر ابوبکرؓ نے کہا کہ "آپؐ نے سچ کہا" تو کیا تم میری وجہ سے میرے ساتھی کو معاف کرو گے یا نہیں؟ آپؐ نے یہ الفاظ دہرائے" آپؐ کے الفاظ بعینہ یہی تھے یا اس سے ملتے جلتے، میرے ماں باپ آپؐ پر قربان ہوں۔ یہ بات آپؐ نے اس وقت فرمائی جب بعض صحابہؓ نے حضرت ابوبکرؓ پر عیب لگایا۔ یہ شخص فضلائے صحابہ میں سے تھا۔ مگر حضرت ابوبکرؓ شرفِ صحبت کی وجہ سے اس سے ممتاز اور منفرد حیثیت رکھتے تھے۔
محمد بن طلحہ المدینی بطریق عبدالرحمٰن بن سالم بن عتبہ بن عویم بن ساعدہ از والد خود از جد او روایت کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
”اللہ نے مجھے منتخب فرمایا اور میرے کچھ اصحاب کو چنا ۔ پھر ان میں سے بعض کو میرے وزیر ، انصار اور بعض کے ساتھ میرا سسرالی رشتہ قائم کیا ، پس جس نے ان کو گالی دی ان پر اللہ ، فرشتوں اور سب لوگوں کی لعنت ہو ۔ اللہ تعالیٰ روزِ قیامت ان کے فرائض اور نوافل کو قبول نہیں کرے گا ۔“ یہ روایت یہیں تک محفوظ ہے
ابن ماجہ نے بھی اس اسناد کے ساتھ ایک حدیث روایت کی ہے ۔ ابو حاتم اس کے بارے میں کہتے ہیں کہ یہ سچی روایت ہے ۔ اس راوی کی روایت تحریر کی جاتی ہیں ۔ اگر روایت کرنے میں منفرد ہو تو اس کی روایت سے احتجاج نہیں کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ اس کی روایت درست نہیں اور اس کے ساتھ استدلال روا نہیں ہے ۔ اگر اسی مرتبہ کا دوسرا راوی اس کا مؤید ہو تو اس کے ساتھ احتجاج جائز ہے ، مگر تنہا اس کی روایت کے ساتھ استدلال جائز نہیں ۔
حضرت عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
”میرے صحابہ کے بارے میں اللہ سے ڈرو ۔ میرے بعد ان کو نشانہ مت بناؤ ۔ جس نے ان سے محبت کی اس نے مجھ سے محبت کی ۔ اور جس نے ان کے ساتھ عداوت رکھی اس نے مجھ سے عداوت رکھی ۔ جس نے ان کو ایذا دی اس نے مجھے ایذا دی ۔ اور جس نے مجھے دکھ دیا اس نے اللہ کو دکھ پہنچایا ۔ اور جس نے اللہ کو ایذا دی بہت ممکن ہے کہ اُسے پکڑلے ۔“ ترمذی نے اس کو بطریق عبیدہ ابن ابی رائطہ از عبدالرحمٰن بن زیاد رسول کریم سے روایت کیا ۔ ترمذی کہتے ہیں کہ یہ حدیث غریب ہے ۔ ہم اس کو صرف اسی سند سے جانتے ہیں ۔ یہ حدیث بطریق انس بھی مروی ہے ۔ اس کے الفاظ یہ ہیں :
”جس نے میرے صحابہ کو گالی دی اس نے مجھے گالی دی اور جس
نے مجھے گالی دی اس نے اللہ کو گالی دی “ اس کو ابن النبّاء نے روایت کیا ہے ۔
عطاء بن ابی رباح رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا : "جو شخص میرے صحابہؓ کو گالی دے اس پر اللہ لعنت کرتا ہے"۔ اس کو ابو احمد الزبیری نے بطریق محمد بن خالد از عطاء روایت کیا ہے ۔ نیز بطریق عطاء از ابن عمر بسند دیگر مرفوعاً بھی منقول ہے ۔ ہر دو روایات کو اللالکائی نے روایت کیا ہے ۔
نیز علی بن عاصم از ابو قحذم از ابو قلابہ از ابن مسعود رضی اللہ عنہ رسول کریمؐ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا :- "جب تقدیر کا ذکر کیا جائے تو خاموش رہو ، اور جب میرے صحابہؓ کا ذکر کیا جائے تو خاموش رہو"۔ اس کو اللالکائی نے روایت کیا ہے ۔
نیز اس کے بارے میں وعید بھی وارد ہوتی ہے ۔ ابراہیم نخعی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : "حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کو گالی دینا کبائر میں سے ہے"۔
ابو اسحاق السَّبِیْعِی کا قول ہے : "حضرت ابوبکر و عمر کو گالی دینا ان کبائر میں شامل ہے جس کے بارے میں قرآن میں آیا ہے کہ :- " اِنْ تَجْتَنِبُوْا كَبَائِرَ مَا تُنْهَوْنَ (اگر تم ان بڑے گناہوں سے بچو عَنْهُ " (النساء - ۳۱) جن سے تمہیں روکا جاتا ہے) ۔ (اس کے آگے آیت میں مذکور ہے کہ ہم تمہارے چھوٹے گناہ معاف کر دیں گے) جب صحابہ کو گالی دینے کا یہ حال ہے تو اس میں کم از کم جو سزا دی جاسکتی
ہے وہ تعزیر ہے ۔ تعزیر ہر اس گناہ میں مشروع ہے جس میں حد اور کفارہ نہ ہو، رسول کریم نے فرمایا :- " اپنے بھائی کی مدد کر خواہ وہ ظالم ہو یا مظلوم “ اس امر میں اصحاب علم و فقہ تابعین عظام و دیگر اہل سنت والجماعت کے مابین کوئی خلاف و نزاع نہیں پایا جاتا اور وہ اس ضمن میں یک رنگ اور ہم آہنگ ہیں کہ صحابہ کی مدح و توصیف، اُن کے لیے دعائے مغفرت و رحمت، ان سے اظہار رضا مندی، ان کے ساتھ الفت و محبت اور موالات واجب اور ان کے مخالف کو سزا دینا ضروری ہے ۔
ان لوگوں کے دلائل جن کے نزدیک
دشنام دہندہ اصحاب کو قتل کرنا روا نہیں
جن لوگوں کا موقف یہ ہے کہ غیر نبی کے دشنام دہندہ کو قتل نہ کیا جائے وہ حضرت ابوبکرؓ سابق الذکر واقعہ سے احتجاج کرتے ہیں ۔ وہ واقعہ یہ ہے کہ ایک شخص نے حضرت ابوبکرؓ کو سخت سست کہا اور ایک روایت میں ہے کہ اس نے آپ کو گالی دی ۔ ابو برزہؓ نے حضرت ابوبکرؓ سے کہا کہ اس کو قتل کر دیجیے ، حضرت ابوبکرؓ نے انہیں ڈانٹا اور کہا کہ نبی کریمؐ کے بعد کسی کو قتل کی سزا نہیں دی جا سکتی۔ نیز اس لیے کہ حضرت ابوبکرؓ نے مہاجر بن ابی امیہ کو لکھا تھا کہ ”انبیاء کی حد دیگر حدود شرعیہ کی طرح نہیں“ نیز اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے اللہ ، اس کے رسول اور اہل ایمان کو ایذا دینے والوں میں فرق و امتیاز روا رکھا ہے ۔ چنانچہ اللہ کو ایذا دینے والوں کو دنیا و آخرت میں ملعون ٹھہرایا ۔ اور رسولؐ کو ایذا دینے والے کے بارے میں فرمایا کہ: ” فَقَدِ احْتَمَلَ بُهْتَانًا وَّ اِثْمًا (اس نے بہتان اور بہت بڑے گناہ مُّبِیْنًا “ (النساء - ١١٢) کا ارتکاب کیا)
ظاہر ہے کہ مطلق بہتان اور گناہ کی وجہ سے قتل کی سزا نہیں دی جا سکتی ۔ بلکہ اس سے سزا فی الجملہ واجب ہوتی ہے ۔ لہٰذا اُسے مطلق سزا دی جائے گی ،
جس سے قتل کا جواز لازم نہیں آتا۔ نیز اس لیے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ”کسی مسلمان مرد کا خون بہانا جائز نہیں جو کلمہ طیبہ کی شہادت دیتا ہو، جب تک وہ تین باتوں میں سے کسی ایک کا مرتکب نہ ہو اور وہ یہ ہیں :۔
- (۱) ایمان لانے کے بعد کفر کو اختیار کرنا ۔
- (۲) شادی شدہ ہونے کے باوجود زنا کرنا ۔
- (۳) وہ کسی کو قتل کرے تو مقتول کے عوض اُسے قتل کیا جائے گا ۔
اور غیر انبیاء کو مطلق گالی دینے سے اُسے کافر لازم نہیں آتا۔ اس لیے کہ عہدِ رسالت میں لوگ ایک دوسرے کو گالیاں دیتے تھے، مگر اس کی بنا پر کسی کو کافر قرار نہیں دیا گیا تھا۔ نیز اس لیے کہ کسی خاص صحابی پر علی التعیین ایمان لانا واجب نہیں ۔ لہٰذا اُن میں سے کسی ایک کو گالی دینے سے یہ لازم نہیں آتا کہ وہ شخص اللہ، اس کے رسول، اس کے ملائکہ، اس کی کتابوں اور آخری دن پر ایمان نہیں رکھتا ۔
دشنام دہندۂ صحابہ کو قتل کرنے کے دلائل
اس کی ایک دلیل تو مندرجہ ذیل آیت کریمہ ہے :
مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰهِ وَ الَّذِيْنَ مَعَهٗ مُحَمَّدُ اللہ کے رسول ہیں اور وہ لوگ جو اَشِدَّآءُ عَلَى الْكُفَّارِ رُحَمَآءُ آپ کے ساتھ ہیں کفار پر بڑے سخت اور بَيْنَهُمْ ۔ (الفتح ۔ ۲۹) آپس میں بہت رحم کرنے والے ہیں۔
اس آیت کے الفاظ ”لِيَغِيْظَ بِهِمُ الْكُفَّارَ“ ”تاکہ اُن کی وجہ سے کفار کو غُصّہ دلایا جائے ۔ اور جب کفار صحابہؓ کی وجہ سے غصّہ میں آتے ہیں، تو جس نے صحابہؓ کو ناراض کیا گویا وہ بھی کفار کے ساتھ اس معاملہ میں شریک ہوگیا، جس کی وجہ سے اللہ نے اُن کو ذلیل و رسوا کیا اور اُن کے کفر کی بنا پر اُن کو سرنگوں کیا اور کفار کے ساتھ اُن کے غصّہ میں جس کی وجہ سے اُن کو رسوا کیا گیا وہی شخص سہیم و شریک ہوگا جو کافر ہو۔ اس لیے کہ مومن کو کفر کی وجہ سے ذلیل و رسوا نہیں کیا جاتا ۔
اس کی توضیح یہ ہے کہ لِيَغِيْظَ بِهِمُ الْكُفَّارَ“ میں حکم کو ایسے وصف کے ساتھ معلّق کیا گیا ہے جو مشتق ہے اور مناسب بھی ۔ اس لیے کہ کفر اس لائق ہے اُس کے حامل کو غصہ دلایا جائے ۔ جب کفر ہی اس بات کا موجب ہو کہ اللہ اُس کے حامل کو محمدؐ کے صحابہؓ کی وجہ سے غصہ دلائے تو جس کو اللہ اصحابِ محمدؐ کی وجہ سے غصہ دلائے اُس کے حق میں اس کا موجب پایا گیا اور وہ کفر ہے ۔
امام عبداللہ بن ادریس الاودی کہتے ہیں : مجھے ڈر ہے کہ شیعہ کہیں کفار کے مماثل نہ ہوں ۔ اس لیے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ لِيَغِيْظَ بِهِمُ الْكُفَّارَ“ (تاکہ اُن کی وجہ سے کفار کو غصہ دلائے) اور یہی معنی ہیں امام احمدؒ کے اس قول کے کہ ”میں ایسے آدمی کو مسلمان نہیں سمجھتا“
رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان بھی اسی قبیل سے ہے کہ ”جس نے اُن کے ساتھ عداوت رکھی اور جس نے اُن کو الم و رنج پہنچایا اس نے مجھے ستایا، اور جس نے مجھے ستایا اس نے اللہ کو ایذا دی“ ۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی فرمایا کہ :
”جس نے ان کو گالی دی اس پر اللہ تعالیٰ ، اُس کے فرشتوں اور تمام لوگوں کی لعنت ہو ۔ اللہ تعالیٰ اُس کے فرائض اور نوافل کو قبول نہیں کرے گا“
ظاہر ہے کہ اللہ اور اس کے رسول کی ایذا کفر ہے اور قتل کا موجب بھی ۔ جیسا کہ پیچھے گزرا ۔ اور اسی سے اس بات کا فرق واضح ہو جاتا ہے کہ حصولِ صحبت سے پہلے اور حصولِ صحبت کے بعد صحابہ کو گالی دینے اور عام مسلمانوں کو گالی دینے میں کیا فرق ہے ۔ ایک زمانہ ایسا بھی تھا کہ ایک آدمی اسلام کا اظہار کرتا تھا اور اس کے بارے میں یہ امکان تھا کہ کہیں منافق یا مرتد نہ ہو ۔ لیکن اگر کوئی شخص آپ کی صحبت پر قائم ہوتے ہوئے فوت ہو جائے اور وہ نفاق سے متہم نہ ہو تو اس کو ایذا دینا اُس ہستی کو ایذا دینا ہے جس کی صحبت کا شرف اُسے
حاصل رہا۔ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ، "لوگوں کو اُن کے احباب پر قیاس کیا کرو"
کسی شاعر کا قول ہے :
فَكُلُّ قَرِيْنٍ بِالْمُقَارِنِ يَقْتَدِيْ
آدمی کے بارے میں مت پوچھو بلکہ اس کے ساتھی کے بارے میں پوچھو ۔ اس لیے کہ ، ہر ساتھی اپنے رفیق کی پیروی کرتا ہے ۔
امام مالکؒ کی رائے شیعہ کے بارے میں
امام مالک رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں :
"یہ (شیعہ) تو ایسے لوگ ہیں کہ دراصل یہ رسول کریمﷺ پر تنقید کرنا چاہتے تھے مگر ایسا ہو نہ سکا تو انہوں نے آپؐ کے صحابہ کو نقد و جرح کی آماجگاہ بنالیا، تاکہ آپؐ کے بارے میں کہا جاسکے کہ نعوذ باللہ من ذالک، آپؐ بُرے آدمی تھے اور آپؐ اگر صالح شخص ہوتے تو آپؐ کے صحابہ بھی صالحین میں سے ہوتے" یا جیسے امام مالکؒ نے فرمایا :
اس لیے کہ صحابہ میں سے کوئی شخص ایسا نہ تھا جو اللہ اور اس کے رسول کا ناصر اور مؤید نہ ہو، اپنی جان و مال کے ساتھ رسول کریمﷺ کا دفاع نہ کرتا ہو، اور اعلاء کلمۃ اللہ اور اظہار دین اور بوقت ضرورت تبلیغ رسالت میں آپ کا ممد و معاون نہ ہو۔ حالانکہ آپؐ کو ہنوز ثبات و قرار حاصل نہ ہوا تھا اور نہ ہی آپؐ کی دعوت لوگوں میں پھیلی تھی۔ اکثر لوگوں کے قلوب و نفوس آپ کے دین سے مطمئن نہیں ہوئے تھے۔ ظاہر ہے کہ اگر لوگ کسی شخص کی اس اطاعت کرتے ہوں اور ہر کوئی اسے ستائے تو اس کا ساتھی ضرور اس سے ناراض ہوگا اور اسے اس کی ایذا رسانی پر محمول کرے گا۔
نُسَيْر بن دُعْلُوق کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عبداللہ بن عُمر کو فرماتے سُنا کہ :
" محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کو گالی مت دو اس لئے کہ ان میں سے کسی ایک کا کھڑے ہونا تمہارے تمام اعمال سے افضل ہے " اس کو ابوالاکافی نے روایت کیا ہے ۔ گویا حضرت ابن عمرؓ نے یہ مفہوم مندرجہ ذیل حدیث نبوی سے اخذ کیا :۔
" اگر تم میں سے کوئی کوہِ اُحد جتنا سونا بھی خرچ کرے تو ان سے کسی کے عشر عشیر کو بھی نہیں پہنچ سکتا ۔"
اور یہ بہت نمایاں فرق ہے ۔ ان میں سے ایک روایت وہ ہے جو حضرت علی رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ مجھے اُس ذات کی قسم جس نے دانے کو پھاڑ کر (پودا) اگایا ، اور رُوح کو پیدا کیا ۔ بلاشبہ نبی اُمّیؐ نے میرے ساتھ عہد کیا کہ مجھ سے محبت وہی کرے گا جو مومن ہوگا ۔ اور مجھ سے دشمنی وہی رکھے گا جو منافق ہوگا
(صحیح مسلم)
ایک روایت وہ ہے جس کو بخاری و مسلم نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت کیا کہ نبی کریمؐ نے فرمایا :۔
" ایمان کی علامت انصار کے ساتھ محبت کرنا ہے اور نفاق کی علامت انصار سے بغض رکھنا ۔"
ایک روایت کے الفاظ یہ ہیں کہ
" انصار کے ساتھ محبت وہی شخص کرتا ہے جو مومن ہو ، اور اُن کے ساتھ عداوت وہی شخص رکھتا ہے جو منافق ہو ۔"
بخاری و مسلم نے حضرت البراء بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے کہ آپؐ نے انصار کے بارے میں فرمایا :
" اُن کے ساتھ محبت وہی کرتا ہے جو مومن ہو اور دشمنی وہی رکھتا ہے جو منافق ہو ۔ جو اُن سے محبت کرے گا اللہ اس سے محبت کرے گا اور جو ان سے عداوت رکھے گا اللہ اس سے عداوت رکھے گا ۔"
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرمؐ سے روایت کرتے ہیں کہ جو شخص اللہ اور آخری دن پر ایمان رکھتا ہو وہ انصار کے ساتھ بغض نہیں رکھتا ۔"
(صحیح مسلم)
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ جو شخص اللہ اور آخری دن پر ایمان رکھتا ہو وہ انصار کے ساتھ عداوت نہیں رکھتا ۔ (یہ صحیح مسلم) جس نے انصار کو گالی دی اس نے انصار کے بغض میں اور اضافہ کیا ۔ ایسا شخص لازماً اللہ اور آخری دن پر ایمان نہ لانے والا منافق ہے ۔ انصار کی تخصیص اس لیے فرمائی — واللہ اعلم — کہ انہوں نے مہاجرین سے پہلے مدینہ میں اقامت اختیار کی اور نورِ ایمان سے منور ہوئے ۔ انہوں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے یہاں ٹھہرایا، آپ کی مدد کی اور آپ کا دفاع کیا۔ اقامتِ دین کی راہ میں اپنی جان و مال قربان کیا ۔ آپ کی وجہ سے اسود و احمر کے ساتھ عداوت گوارا کی ۔ مہاجرین کو اپنے یہاں ٹھہرایا اور ان کے ساتھ مالی ہمدردی کی۔ مہاجرین اس وقت تعداد میں کم، غریب الوطن، مفلس و قلاش اور کمزور تھے، جو شخص سیرت کے علم سے اور رسولِ کریم کے حالات سے بہرہ ور ہو، نیز آپ کی خدماتِ جلیلہ سے آگاہ ہو۔ اس کے ساتھ ساتھ اللہ اور اس کے رسول سے محبت بھی رکھتا ہو، ان سے محبت استوار کیے بغیر نہیں رہ سکتا ۔
غالباً آپ کا مطلب یہ تھا کہ لوگ انصار کی قدر و منزلت سے آگاہ ہوں ۔ اس لیے کہ آپ جانتے تھے کہ لوگ تعداد میں بڑھتے جائیں اور انصار کم ہوتے جائیں گے ۔ اقتدار پر مہاجرین فائز ہوں گے ۔ جو شخص اور اس کے رسول کی تائید و نصرت میں انصار کا شریک ہو تو وہ دراصل ان کا شریک و سہیم ہے ۔ قرآن میں فرمایا : " يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُونُوا (اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو، اللہ أَنْصَارَ اللَّهِ" (سورۃ الصف - ۱۴) کے دین کے مددگار بن جاؤ ) پس اللہ اور اس کے رسول کی تائید و حمایت کرنے والوں کے ساتھ بغض رکھنا نفاق ہے ۔ اسی قبیل کی وہ روایت ہے جس کو طلحہ بن مصرف نے نقل کیا ہے کہ کہا جاتا تھا کہ بنو ہاشم اور حضرت ابو بکر و عمر سے دشمنی رکھنا نفاق ہے اور
جو شخص حضرت ابوبکرؓ کے ایمان و تدین میں شک کرے وہ اسی طرح ہے جیسے سُنتِ نبوی میں شک کرنے والا ۔ ان میں سے ایک روایت وہ ہے جس کو کثیر النواء نے بطریق ابراہیم بن حسن بن علی بن ابی طالب از والد خود از جدّ او نقل کیا ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے کہا کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ۔ ” آخری زمانہ میں میری امت میں ایک قوم نمودار ہو گی جس کا نام ” رافضہ “ ہو گا ، وہ اسلام کو پرے پھینک دیں گے “ اس کو عبد الرحمٰن بن احمد نے اپنے والد کے مسند میں نقل کیا ہے ۔ حدیث میں باسانید کثیرہ از یحییٰ بن عقیل از کثیر نیز بطریق ابی شہاب عبد ربہ بن نافع الخیاط از کثیر النواء از ابراہیم بن الحسن از والد خود از جدّ او مرفوعاً روایت کیا ہے کہ ” قیام قیامت سے قبل ایک قوم نمودار ہو گی جس کو رافضہ کہا جائے گا وہ اسلام سے بیزار ہوں گے “ علماء کے نزدیک کثیر النواء ضعیف راوی ہے ۔
نیز ابو یحییٰ الحمانی نے بطریق ابوجناب کلبی از ابو سلیمان ہمدانی ، النخعی از عمّ خود حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے کہ رسول کریمؐ نے فرمایا : ” اے علی ! تم اور تمہارا گروہ جنت میں جائے گا ۔ ایک قوم جو ایک لقب سے ملقب ہو گی ، اُسے رافضہ کہا جائے گا ۔ اگر تم اُن کو پالو تو قتل کر دو ، اس لیے کہ مشرک ہیں ۔ حضرت علیؓ نے فرمایا وہ لوگ حُبّ اہل بیت کے مدعی ہوں گے حالانکہ وہ محبّ نہیں ہیں ۔ اس کی علامت یہ ہے کہ وہ حضرت ابوبکرؓ و عمر رضی اللہ عنہما کو گالیاں دیتے ہیں ۔
عبداللہ بن احمد نے بطریق محمد بن اسماعیل احمسی از ابو یحییٰ روایت کیا ہے ، اور ابوبکر الاثرم نے اس کو اپنے سنن میں بطریق معاویہ بن عمرو از فضیل بن مرزوق از ابی جناب از ابو سلیمان ہمدانی از مروی از عم او روایت کیا ہے کہ حضرت علیؓ نے رسول کریمؐ سے نقل کیا ہے کہ آپؐ نے فرمایا : ” کیا میں تجھے ایک ایسا عمل نہ بتاؤں کہ اُسے انجام دے کر تم اہلِ جنت میں سے
ہو جاؤ ؟ اور بلاشبہ آپ اہلِ جنت میں سے ہیں ۔ بے شک ہمارے بعد ایک قوم نمودار ہو گی جس کا ایک لقب ہوگا ، اُن کو روافضہ کہا جائے گا ۔ اگر تم انہیں پاؤ تو اُن کو قتل کر دو ، اس لیے کہ وہ مشرک ہیں ۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا ہمارے بعد ایک قوم آئے گی جو جھوٹ موٹ ہماری محبت کا دعویٰ کرے گی ۔ وہ دین سے نکل جانے والے ہوں گے ۔ ان کی نشانی یہ ہے کہ وہ حضرت ابوبکرؓ و حضرت عمر رضی اللہ عنہما کو گالیاں دیں گے ۔
ابوالقاسم بغوی نے بطریق سُوَید بن سعید از محمد بن خازم از ابی جناب الکلبی از ابوسلیمان ہمدانی حضرت علیؓ سے روایت کیا ہے کہ آخری زمانہ میں ایک قوم نمودار ہو گی جس کا ایک لقب ہوگا ، ان کو رافضہ کہا جائے گا ۔ وہ اسی سے پہچانے جائیں گے ۔ وہ اپنے آپ کو ہماری طرف منسوب کریں گے ، حالانکہ وہ ہماری شیعت میں سے نہیں ۔ اُن کی نشانی یہ ہے کہ وہ حضرت ابوبکر و حضرت عمر رضی اللہ عنہما کو گالیاں دینے والے ہوں گے ۔ تم جہاں کہیں انہیں پاؤ انہیں قتل کر دو ، اس لیے کہ وہ مشرک ہوں گے ۔
سُوَید نے بطریق مروان بن معاویہ از حماد بن کیسان از والد خود روایت کیا ہے —— اس کی بہن حضرت علیؓ کی لونڈی تھی —— کہ میں نے حضرت علیؓ کو فرماتے سنا کہ آخری زمانہ میں ایک قوم ہوگی جن کا ایک لقب ہوگا ان کو رافضہ کہا جائے گا ۔ وہ اسلام کو دُور پھینک دیں گے انہیں قتل کر دو ۔ اس لیے کہ وہ مشرک ہیں ۔ حضرت علیؓ کی یہ موقوف روایت اُس مرفوع روایت کی بلحاظ معنی و مفہوم مویّد ہے ۔ حضرت اُمّ سلمہ رضی اللہ عنہا سے بھی مرفوعاً اسی طرح منقول ہے ۔ اس کی سند میں سَوّار بن مُصعَب نامی راوی متروک الحدیث ہے ۔
ابن بطہ باسنادِ خود حضرت انسؓ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”اللہ تعالیٰ نے مجھے چُنا اور میرے لیے میرے صحابہ کو چنا اور ان کو میرا
مددگار اور میرے سسرال بنا دیا۔ قرب قیامت ایک قوم نمودار ہوگی جو ان سے عداوت رکھے گی۔ خبردار ! اُن کے ساتھ مل کر مت کھاؤ ، پیو اور نہ ہی نکاح کا رشتہ قائم کرو ۔ نہ ان کے ساتھ مل کر نماز پڑھو اور نہ ہی ان کی نماز جنازہ پڑھو ۔ ان پر لعنت نازل ہوچکی ہے " یہ حدیث محل نظر ہے ۔ اس سے غریب تر اور ضعیف تر حدیثیں بھی روایت کی گئی ہیں ۔ رسول کریمؐ نے فرمایا :
میرے صحابہ کو گالی مت دو ۔ ان کا کفارہ یہ ہے کہ گالی دینے والے کو قتل کیا جائے "
رسول کریمؐ کے صحابہ سے بھی اسی طرح مروی ہے ۔ چنانچہ ابوالاحوص نے بطریق مغیرہ از شباک از ابراہیمؒ نے روایت کیا ہے کہ حضرت علیؓ کو پتہ چلا کہ عبداللہ بن السوداء حضرت ابوبکرؓ و عمرؓ سے عداوت رکھتا ہے ، حضرت علیؓ نے اس کو قتل کرنے کا ارادہ کیا ۔ انہیں کہا گیا کہ آپ ایسے آدمی کو قتل کر رہے ہیں جو اہل بیت کی محبت کی دعوت دیتا ہے ۔ فرمایا وہ میرے ساتھ ہرگز ایک مکان میں نہیں رہ سکتا ۔
شباک کی ایک روایت میں ہے کہ حضرت علیؓ کو پتہ چلا کہ ابن السوداء ، حضرت ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما سے عداوت رکھتا ہے ۔ چنانچہ آپ نے اُسے بلایا اور ساتھ ہی تلوار بھی منگوائی ۔ یا بعض راوی نے یوں کہا کہ حضرت علیؓ نے اُسے قتل کرنے کا ارادہ کیا ۔ اس کے بارے میں آپ پر اعتراض کیا گیا تو حضرت علیؓ نے فرمایا " وہ میرے ساتھ ہرگز ایک شہر میں قیام نہیں کرسکے گا " چنانچہ آپ نے اُسے المدائن کے شہر کی طرف جلاوطن کر دیا ۔ ابوالاحوص سے اسی طرح محفوظ ہے ۔ اسی کو النجاد ، ابن بطہ اور اللالکائی وغیرہم نے بھی روایت کیا ہے ۔ اور ابراہیم سے منقول مُرسل روایات بھی قابل قبول ہوتی ہے ۔
ظاہر ہے کہ حضرت علیؓ اسی آدمی کے قتل کا ارادہ کر سکتے ہیں جس کو قتل کرنا ان کے نزدیک حلال ہو ۔ اس امر کا احتمال ہے کہ اس کو قتل کرنے سے فتنے کا اندیشہ
ہو اس لیے آپ نے اسے قتل نہ کیا ۔ جس طرح آپ بعض منافقین کو قتل کرنے سے گریز کرتے تھے ۔ اس لیے کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بعد لوگوں کے دلوں میں انتشار پیدا ہو گیا تھا ۔ اُن کے لشکر میں بہت سے فتنہ باز لوگ تھے جن کے مددگار اُن کے قبیلے تھے ۔ اگر آپ ان سے انتقام لینا چاہتے تو ان کے قبائل میں غم وغصہ کی آگ بھڑک اُٹھتی ۔ اسی قسم کے واقعات کی وجہ سے جنگ جمل بپا ہوئی تھی۔ سلمہ بن کہیل، سعید بن عبدالرحمن بن ابزیٰ سے روایت کرتے ہیں کہ میں نے اپنے والد سے کہا : ابا جان! اگر آپ کسی آدمی کے بارے میں سنتے کہ وہ حضرت عمرؓ بن الخطاب کو کافر کہہ کر گالیاں دے رہا ہے تو کیا آپ اس کی گردن اڑا دیتے؟ کہا جی ہاں! اس کو امام احمدؒ اور دوسرے لوگوں نے روایت کیا ہے ۔ نیز اس کو ابن عُیینہؒ نے بطریق خَلَف بن حوشب از سعید بن عبدالرحمن بن ابزیٰ روایت کیا ہے کہ میں نے اپنے والد سے کہا کہ اگر آپ ایسے آدمی سے ملتے جو حضرت ابوبکرؓ کو گالیاں دے رہا ہوتا تو آپ اس سے کیا سلوک کرتے؟ کہا، میں اس کی گردن اڑا دیتا ۔ میں نے کہا اگر وہ شخص عمرؓ کو گالیاں دیتا تو پھر کیا کرتے ؟ کہا ، تب میں اسے قتل کر دیتا ۔
عبدالرحمن بن ابزیٰ رسول کریمؐ کے صحابہ میں سے تھے ۔ انہوں نے رسول کریمؐ کا زمانہ پایا اور آپؐ کی اقتداء میں نمازیں پڑھی تھیں ۔ حضرت عمرؓ نے ان کو مکے کا گورنر مقرر کیا تھا اور فرمایا "قرآن نے اس شخص کا مرتبہ بلند کر دیا ہے" یہ بات حضرت عمرؓ نے اُس وقت کہی جب آپ کو بتایا گیا کہ عبدالرحمن علم الفرائض کا عالم اور کتاب کا قاری ہے ۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے عبدالرحمن کو خراسان کا عامل مقرر کیا تھا ۔ قیس بن الربیع نے بطریق وائل از البختری روایت کیا ہے کہ عُبید اللہ بن عمرؓ اور حضرت مقدادؓ کی آپس میں تکرار ہو گئی ۔ عُبید اللہ بن عمرؓ نے مقدادؓ کو گالی دی ۔ حضرت عمرؓ نے فرمایا میرے پاس لوہار کو لاؤ تاکہ میں اس کی زبان کاٹ دوں اور اس کے بعد کوئی شخص رسول کریمؐ کے صحابہؓ کو گالی دینے کی جرأت نہ
کرے ۔ ایک روایت میں ہے کہ حضرت عمرؓ نے عبیداللہ کی زبان کاٹنے کا ارادہ کیا ۔ چند صحابہ نے اس ضمن میں ان سے گفتگو کی تو حضرت عمرؓ نے کہا ” مجھے اپنے بیٹے عبیداللہ کی زبان کاٹنے دو تاکہ اس کے بعد کوئی شخص صحابہؓ کو گالی دینے کی جرأت نہ کر سکے اس کو حنبل ، ابن بطہ ، اللالکائی اور دیگر علماء نے روایت کیا ہے ۔ حضرت عمرؓ زبان کاٹنے سے اس لیے رُک گئے کہ چند اصحاب الحق یعنی رسول کریمؐ کے صحابہ نے اس بارے میں سفارش کی ۔ ممکن ہے کہ حضرت مقداد بھی سفارش کرنے والوں میں شامل ہوں ۔
فضائل ابی بکرؓ
حضرت عمرؓ کے پاس ایک بدو کو لایا گیا جو انصار مدینہ کی ہجو کرتا تھا ۔ حضرت عمرؓ نے فرمایا اگر یہ شخص شرفِ صحبت سے مشرف نہ ہوتا تو میں تمہیں اس کو دیکھنے کی زحمت سے بچا لیتا (اس کو قتل کر دیتا) اس کو ابو ذر الہروی نے روایت کیا ہے ، اس کی تائید میں وہ روایت ہے جس کو الحكم بن حجل نے نقل کیا ہے کہ میں نے حضرت علیؓ سے سنا ، کہتے تھے کہ جو شخص مجھے ابو بکرؓ و عمرؓ پر ترجیح دے گا میں اُس پر حدِ قذف لگاؤں گا ۔ علقمہ بن قیس سے مروی ہے کہ حضرت علیؓ نے ہمیں خطبہ دیتے ہوئے فرمایا ” مجھے پتہ چلا ہے کہ کچھ لوگ مجھے ابو بکرؓ و عمرؓ پر فضیلت دیتے ہیں ۔ اگر مجھے قبل ازیں اس کا پتہ چل جاتا تو میں ان کو سزا دیتا ۔ مگر میں نصیحت آموزی سے قبل سزا دینے کو ناپسند کرتا ہوں اور جس نے اس کے بعد کوئی ایسی بات کہی تو وہ مفتری ہے اور اُسے مفتری کی سزا دی جائے گی رسول کریمؐ کے بعد سب سے افضل ابوبکرؓ تھے ، پھر عمرؓ “ ۔ ہر دو روایات کو عبداللہ بن احمد نے نقل کیا ہے ۔ ابن بطہ اور اللالکائی نے اس کو بہ روایت سوید بن غفلہ از علی ایک طویل خطبے کے سلسلہ میں نقل کیا ہے ۔
امام احمدؒ نے باسنادِ صحیح ابن ابی لیلیٰ سے روایت کیا ہے کہ حضرت ابو بکرؓ و عمرؓ کی فضیلت کے بارے میں اختلاف پیدا ہوا تو قبیلہ غفار کے ایک شخص نے کہا ” عمرؓ ، ابوبکرؓ سے افضل ہیں “ جب کہ جارود نے کہا کہ ابوبکرؓ افضل ہیں ۔
چنانچہ حضرت عمرؓ کو پتہ چلا تو حضرت عمرؓ نے اُسے چابک سے مارنا شروع کر دیا ، یہاں تک کہ اس کا پیشاب نکل گیا۔ پھر جارود کی طرف متوجہ ہوئے اور کہا قد ھذیت پھر حضرت عمرؓ نے کہا ابو بکرؓ رسول کریمؐ کے بعد فلاں فلاں امور میں سب سے افضل تھے۔ حضرت عمرؓ نے پھر کہا جو اس کے برعکس کہے گا میں اس پر حدِ قذف لگاؤں گا ۔
جب دونوں راشد خلیفے یعنی حضرت عمرؓ و علی رضی اللہ عنہما حضرت علی رضی اللہ عنہ کو ابوبکرؓ و عمرؓ پر فضیلت دینے والے پر حدِ قذف لگاتے تھے یا اُس شخص پر حدِ قذف لگاتے تھے جو حضرت عمرؓ کو ابوبکرؓ کے مقابلہ میں افضل قرار دے ۔ حالانکہ محض فضیلت دینے میں گالی گلوچ اور نقص و عیب کا پہلو موجود نہیں ہوتا تو اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اُن کے نزدیک گالی کی سزا اس سے کہیں زیادہ ہے ۔
—— فصل ——
صحابہؓ کے بارے میں قول فیصل
جو شخص گالی دینے کے ساتھ ساتھ یہ بھی کہے کہ حضرت علیؓ الہٰ تھے یا یوں کہے کہ دراصل وہی نبی تھے اور جبریلؑ سے پیغام رسانی میں غلطی ہوئی ، تو اس کا کفر کسی شک و شبہ سے بالا ہے۔ بلکہ جو شخص اس کی تکفیر میں توقف کرے اس کے کفر میں کسی شک و شبہ کی گنجائش نہیں۔ اسی طرح جو لوگ اس زعمِ باطل میں مبتلا ہیں کہ قرآن میں کچھ آیات کم ہیں اور اُن کو چھپا لیا گیا ہے یا اس کا یہ گمان ہو کہ قرآن کی کچھ باطنی تاویلات ہیں جن سے شرعی احکام کا سقوط لازم آتا ہے یا اس کی مانند۔ تو یہی لوگ ہیں جن کو قرامطہ، باطنیہ اور تناسخیہ کہا جاتا
ہے اور ان کے کفر میں کسی شک و شبہ کی گنجائش نہیں ۔
جو شخص صحابہ کو ایسی گالی دے جس سے اُن کی عدالت اور دین داری مجروح نہ ہوتی ہو۔ مثلاً بعض صحابہ کو بخیل یا بزدل یا کم علم یا غیر زاہد کہے تو تعزیر لگا کر اس کی تادیب کی جائے محض اس بنا پر ہم اس کی تکفیر نہیں کرتے چنانچہ جن اہل علم نے اُن کی تکفیر نہیں کی اُن کے کلام کو اسی پر محمول کرنا چاہیے ۔ مگر جو شخص صحابہ پر لعنت کرے یا ان کی علی الاطلاق مذمت کرے تو یہ محل نزاع ہے۔ اس لیے کہ یہ معاملہ لعنت کے دو پہلوؤں کے مابین متردد ہے کہ آیا کہنے کی لعنت مراد ہے یا اعتقادی لعنت ۔
جو شخص اس سے تجاوز کرے اور یہ دعویٰ کرے کہ چند ایک کے سوا یہ لوگ رسول کریمؐ کے بعد مرتد ہو گئے تھے۔ جو لوگ ارتداد سے بچ سکے ان کی تعداد دس سے کچھ اوپر تک پہنچتی ہے یا یہ کہ اُن میں سے اکثر فاسق ہو گئے تھے ۔ تو ایسے شخص کے کفر میں شک و شبہ کی کوئی گنجائش نہیں ۔ اس لیے کہ قرآن نے جس بات کی چند مقامات پر تصریح کی ہے وہ اسے جھٹلاتا ہے ۔ مثلاً یہ کہ اللہ تعالیٰ اُن سے راضی ہے یا یہ کہ قرآن میں ان کی مدح و توصیف کی گئی ہے ۔ ایسے آدمی کے کفر کے بارے میں کون شک کر سکتا ہے؟ اس کا کفر تو ایک مسلمہ حقیقت ہے ۔
ان لوگوں کا مدعا یہ ہے کہ کتاب وسنت کے ناقلین کافر یا فاسق تھے حالانکہ قرآن میں فرمایا ہے کہ :
" كُنْتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ (تم بہترین اُمت ہو جو لوگوں لِلنَّاسِ " ( آل عمران - ۱۱۰) کے لیے برپا کی گئی)
مگر بقول ان کے یہ قرنِ اوّل کے لوگ تھے اور اُن میں سے اکثر کافر یا فاسق تھے ۔ ان کے نزدیک آیت کا مفہوم یہ ہوا کہ یہ بدترین اُمت ہے اور اس اُمت کے جو پیشرو تھے وہ شریر تھے۔ بھلا ایسے شخص کے کفر میں کیا شک ہو سکتا ہے ؟ یہی وجہ ہے کہ جن لوگوں کی زبان سے ایسے اقوال صادر ہوتے ہیں وہ زندیق ہیں۔ زیادہ تر زنادقہ اپنے مذہب کو چھپا کر رکھتے ہیں ۔ ایسے لوگوں کی مثالیں ظاہر ہو چکی ہیں اور
متواتر نقول سے ثابت ہے کہ ان کے چہرے دنیا اور آخرت میں خنزیر کی صورت میں مسخ ہو جائیں گے ۔ علماء نے ایسے تمام دلائل جو اس ضمن میں انہیں معلوم ہو سکے یکجا کر دیے ہیں ۔ حافظ صالح ابو عبداللہ محمد بن عبد الواحد المقدسی بھی اُن مصنفین کے زمرہ میں شامل ہیں جنہوں نے اس موضوع پر کتابیں تصنیف کی ہیں۔ ان کی کتاب کا موضوع " فی النہی عن سبّ الاصحاب و ما جاء فیہ من الاثم والعقاب" ہے ۔
خلاصۂ کلام یہ کہ دشنام دہندگان کی ایک قسم ایسی ہے جن کے کفر میں کوئی شبہ نہیں ۔ اور بعض ایسے ہیں کہ جن کے کفر کا فیصلہ نہیں کیا جا سکتا ۔ اور بعض وہ ہیں جن کے بارے میں تردد و تذبذب کی گنجائش ہے ۔ مگر اس کی تفصیل کا یہ موقع نہیں ۔ ہم نے یہ مسائل اس لیے ذکر کر دیے ہیں کہ جس مسئلے کا ذکر و بیان یہاں مقصود تھا اس کی تکمیل ان مسائل سے ہوتی ہے ۔
یہ ہیں وہ تفصیلات جن کا تذکرہ اس باب میں ہمارے لیے آسان ہوا ۔ اللہ نے جس چیز کو ہمارے لیے آسان کیا اور جو مقتضائے وقت بھی تھا اس کو ہم نے صفحۂ قرطاس پر ثبت کر دیا ۔ بارگاہِ ربانی میں دعا کناں ہوں کہ وہ اس کو خالصاً لوجہ اللہ بنائے اور اس کے ذریعے قارئین کرام کو نفع پہنچائے ۔ نیز ہمیں ان اقوال و اعمال کی توفیق ارزانی فرمائے جو اس کی رضامندی کے موجب اور باعث ہوں ۔
وَالْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعَالَمِيْنَ ، وَصَلَّی اللّٰهُ عَلٰی سَيِّدِنَا وَمَوْلَانَا مُحَمَّدٍ وَّ آلِہٖ وَصَحْبِہٖ وَسَلَّمَ تَسْلِيْمًا