تحفظ
ناموس رسالت
اور
گستاخ رسول
کی سزا
ایچ ساجد اعوان
لا اله الا الله محمد رسول الله
انا خاتم النبیین لا نبی بعدی
تحفظ ناموس رسالت صلی اللہ علیہ وسلم
اور
گستاخِ رسول کی سزا
ترتیب وتحقیق
ایچ ساجد اعوان
شائع کردہ
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت، حضوری باغ روڈ ملتان
باہتمام
پاسبان ختم نبوت 74072 ہِلبرن - جرمنی
TEL: 07131 - 86346 FAX: 07131 - 627265
انتساب
اس عظیم ہستی کے نام جو دور حاضر کے راج پال ”سلمان رشدی“ کو جہنم رسید کرے گی!
آئینہ
صفحہ
- شیخ المشائخ حضرت خواجہ خان محمد مدظلہ کا پیغام 6
- حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی مدظلہ کا پیغام 7
- ”یہ بڑے نصیب کی بات ہے“ (محمد طاہر رزاق) 8
- ”ضرب خاتم“ (مولانا محمد ایوب ہاشمی) 14
- ”سنت صدیق اکبرؓ“ (مولانا اللہ وسایا) 15
- ”حدیث دل“ (فیاض اختر ملک) 16-ا
- ”اے غیرت مسلم تو کہاں ہے؟“ (ظفر اقبال) 16-ج
- ”اپنا پیغام محبت ہے“ (ایچ ساجد اعوان) 17
پہلا باب
مقام نبوت و رسالت 21
دوسرا باب
محسن انسانیتؐ کے انسانیت پر حقوق 137
تیسرا باب
آداب النبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم 175
چوتھا باب
رحمۃ اللعالمینؐ کی شان میں گستاخی کیوں؟ 245
پانچواں باب
گستاخ رسولؐ کی سزا، احکام القرآن 297
چھٹا باب
گستاخ رسولؐ کی سزا، احکام الحدیث 349
ساتواں باب گستاخ رسول کی سزا خلفاء راشدین اور دیگر صحابہ کرام کے قول و عمل سے ثبوت 411
آٹھواں باب گستاخ رسول کی سزا، احکام الفقہ 447
نواں باب گستاخ رسول کی سزا پر قیاس 475
دسواں باب گستاخ رسول کی توبہ 497
گیارہواں باب گستاخی رسول پر اسلامی حکمرانوں کے فیصلے 517
بارہواں باب گستاخی رسول پر خدائی فیصلے 535
تیرہواں باب تذکرہ شہداء ناموس رسالتؐ 551
چودہواں باب عیسائیت اور قانون توہین رسالتؐ 709
پندرہواں باب شاتم رسول کی سزا سے متعلق آئینی تحریک 719
سولہواں باب تحفظ ناموس رسالت پر منظوم کلام 749
- فہرست مضامین 775
شیخ المشائخ حضرت خواجہ خان محمد مدظلہ کا پیغام
بسم اللہ الرحمن الرحیم خانقاہ سراجیہ نقشبندیہ مجددیہ محمودیہ فضلیہ فون : ٣١٠٢ ٤٠٥٩٠ کندیاں ضلع میانوالی فقیر ابوالخلیل خان محمد عفی عنہ ضیاء _________
بسم اللہ الرحمن الرحیم بعد الحمد والصلوۃ وارسال التسلیمات و التحیات۔ محترم ساجد اعوان صاحب نے آقائے نامدار خاتم الانبیاء والمرسلین صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے فضائل میں بڑی محنت اور کاوش سے یہ کتاب مرتب کی ہے۔ فقیر دعاگو ہے ۔ کہ اللہ تعالیٰ محترم ساجد اعوان صاحب کی محنت کو قبول فرمائے ۔ اور کتاب کو مقبولیت عامہ عطا فرمائے ۔ اور مسلمانوں کے ایمان کی حفاظت کا ذریعہ بناوے۔ آمین
والسلام فقیر ابوالخلیل خان محمد عفی عنہ خانقاہ سراجیہ ١٨ اپریل ١٩٨٩ء
حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی مدظلہ کا پیغام
بسم اللہ الرحمن الرحیم
برادر مکرم محترم جناب ساجد اعوان صاحب زید لطفہ السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ محبت نامہ سے یہ معلوم کر کے نہایت مسرت ہوئی کہ آنجناب نے ”تحفظ ناموس رسالت اور گستاخ رسول کی سزا“ کے موضوع پر کتاب مرتب فرمائی ہے۔ جزاکم اللہ احسن الجزا کتاب کا ابتدائیہ یا دیباچہ لکھنا یا اس پر تقریظ لکھنا تو کتاب کا مطالعہ کے بغیر ممکن نہیں لیکن آنجناب نے کتاب کے سولہ ابواب کے جو عنوانات درج فرمائے ہیں، ان سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ اپنے موضوع پر جامع ترین دستاویز ہوگی۔ حق تعالیٰ شانہ دارین میں اس کا بہترین بدلہ عطا فرمائیں اور اپنی رحمت و عنایت سے اس کو شرف قبول نصیب فرمائیں۔
عظمت رسالت دین و ایمان کی بنیاد ہے۔ خدانخواستہ یہ بنیاد کمزور پڑ جائے تو دین و ایمان کا سارا کارخانہ درہم برہم ہو جائے گا۔ اس لئے عقلاً و نقلاً توہین رسالت کا مرتکب سزائے موت کا مستحق ہے۔ اعدائے دین یہ چاہتے ہیں کہ مسلمانوں کے دین و ایمان کی بنیاد کو منہدم کر دیا جائے اور ہمارا فرض ہے کہ ہم اس بنیاد کی حفاظت کے لئے اپنی ساری توانائیاں صرف کر دیں تاکہ کل قیامت کے دن بارگاہ الٰہی اور دربار نبویؐ میں سرخ رو ہوں۔ واللہ الموفق۔
والسلام محمد یوسف لدھیانوی دفتر ختم نبوت پرانی نمائش کراچی
یہ بڑے نصیب کی بات ہے !!!
میرے نبی! جناب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم!
جن کے لیے یہ بزم ہستی سجائی گئی۔۔۔۔۔۔ جن کے لیے عروس کائنات کے گیسو آراستہ کیے گئے۔۔۔۔۔۔ جنہیں تخت ختم نبوت پہ جلوہ گر کیا گیا۔۔۔۔۔۔ جن کے سر اقدس پر تاج ختم نبوت سجایا گیا۔۔۔۔۔۔ جن کی نبوت کا پرچم پوری کائنات میں لہرایا گیا۔۔۔۔۔۔ جنہیں سید الاولین و آخرین بنایا گیا۔۔۔۔۔۔ جنہیں شافع محشر کا اعزاز عطا کیا گیا۔۔۔۔۔۔ جنہیں ساقی کوثر کا منصب عظیم مرحمت فرمایا گیا۔۔۔۔۔۔
میرے نبی جناب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم!
اللہ کو ان سے اتنا پیار کہ اللہ کلمہ طیبہ میں اپنے نام کے ساتھ ان کا نام سجائے۔۔۔۔۔۔ اللہ کو ان سے اتنی محبت کہ اذانوں میں اللہ کے اسم گرامی کے ساتھ ان کا اسم گرامی بھی آئے۔۔۔۔۔۔ اللہ کو ان سے اتنا لگاؤ کہ اللہ قرآن میں ان کے شہر کی قسم اٹھائے۔۔۔۔۔۔ وہ اللہ کے اتنے لاڈلے کہ اللہ انہیں یا ایها المزمل، یا ایها المدثر اور یٰس و طہ کے محبت بھرے ناموں سے پکارے۔۔۔۔۔۔ وہ اللہ کو اتنے محترم کہ اللہ ان کی زندگی کی قسم اٹھائے۔۔۔۔۔۔ وہ اللہ کو اتنے مکرم کہ اللہ ان کا سایہ بھی پیدا نہ کرے۔۔۔۔۔۔ جن کے بارے میں اللہ اتنا باغیرت کہ ان کے جسم اطہر پر مکھی بھی نہ بیٹھنے دے۔۔۔۔۔۔ جنہیں اللہ یہ عظمت بخشے کہ وہ سب سے پہلے باب جنت کھولیں۔۔۔۔۔۔ جو اللہ کے نزدیک اتنے محتشم کہ اللہ ان کی اطاعت کو اپنی اطاعت قرار دے۔۔۔۔۔۔ جن کا اللہ کے ہاں یہ مقام کہ اللہ انہیں مقام محمود پر فائز کرے۔۔۔۔۔۔ جن کا اللہ اتنا محب کہ انہیں عرش پر بلا کر اپنا مہمان بنائے اور اپنا دیدار کرائے۔۔۔۔۔۔ جنہیں اللہ یہ وقار بخشے کہ روز محشر سارے نبی ان کے جھنڈے تلے جمع ہوں۔۔۔۔۔۔ جن کے احترام میں اللہ اتنا حساس کہ مسلمانوں کو حکم دے کہ اپنی آواز کو نبی کی آواز سے بلند نہ کرو۔۔۔۔۔۔ جو اللہ کے اتنے لاڈلے کہ ان کے روضہ اطہر پر صبح و شام ستر ستر ہزار فرشتے حاضری دیں۔۔۔۔۔۔ جو اللہ کے ہاں اس قدر قابل قدر کہ جبرئیلؑ ان کے گھر کی نگہبانی کرے۔۔۔۔۔۔ جن کی رفعت کا یہ عالم کہ اللہ کے جلیل القدر انبیاء ابراہیم و عیسیٰ علیہم السلام ان کی آمد مبارک کی دعائیں کریں۔۔۔۔۔۔ جن کی یہ شان کہ
وہ معراج کی رات سارے انبیائے کرام کی امامت کریں۔۔۔۔۔۔ جن کی یہ قدر و منزلت کہ اللہ انہیں دنیا میں بھیج کر احسان عظیم کرے۔۔۔۔۔۔ جن سے اللہ کو اتنا پیار کہ اللہ اور اس کے فرشتے ان پر درود بھیجیں۔۔۔۔۔۔ وہ اللہ کو اتنے چہیتے کہ اللہ ان کی امت کو خیرالامم قرار دے۔۔۔۔۔۔ اللہ کی ان کے دوستوں سے اتنی دوستی کہ سیدنا ابوبکر صدیق کو اللہ کا سلام آئے۔۔۔۔۔۔ ان کے رفیقوں سے اللہ کو اتنی چاہت کہ اللہ انہیں دنیا ہی میں جنت کے سرٹیفکیٹ عطا فرمائے۔۔۔۔۔۔
میرے نبی! جناب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
جمال کائنات۔۔۔۔۔۔ حسن کائنات۔۔۔۔۔۔ زینت کائنات۔۔۔۔۔۔ جن کے چہرے سے سورج کو ضیا ملتی ہے۔۔۔۔۔۔ جن کے رخساروں کی دمک سے چاند‘ چاندنی حاصل کرتا ہے۔۔۔۔۔۔ جن کی آنکھوں کی چمک سے ستارے جگمگانا سیکھتے ہیں۔۔۔۔۔۔ جن کے دانتوں کی تنویر سے جواہرات چمکنے کا ہنر جانتے ہیں۔۔۔۔۔۔ جن کے لبوں کی نزاکت سے غنچے چٹکنا سیکھتے ہیں۔۔۔۔۔۔ جن کے ماتھے کے نور سے انسانیت کو راستے ملتے ہیں۔۔۔۔۔۔ جن کے قد زیبا سے سرو اپنے قد کی رعنائی حاصل کرتا ہے۔۔۔۔۔۔ جن کے سانسوں کی مہک سے مشک و عنبر خوشبو پاتے ہیں۔۔۔۔۔۔ جن کی زلفوں کی لہک سے کائنات بنا سنورنا سیکھتی ہے۔۔۔۔۔۔ جن کی آنکھوں کی حیا سے کلیاں شرمانا سیکھتی ہیں۔۔۔۔۔۔ جن کی مسکراہٹ سے قوس قزح رنگ بکھیرنا جانتی ہے۔۔۔۔۔۔ جن کی چال سے مست خرام ندیاں چلنے سے آشنا ہوتی ہیں۔۔۔۔۔۔ جن کی گفتگو سے بلبل نغمے سیکھتی ہے۔۔۔۔۔۔ جن کی آنکھوں کی سیاہی سے کالی گھٹائوں کو حسن ملتا ہے۔۔۔۔۔۔ جن کی آنکھوں کی سفیدی سے دن کو اجالا ملتا ہے۔۔۔۔۔۔ جن کی پلکوں کی دلاویز حرکت سے نجوم جھلملانا سیکھتے ہیں۔۔۔۔۔۔ جن کے ابرو خمدار کو دیکھ کر ہلال اپنی صورت تراشتا ہے۔۔۔۔۔۔ جن کے جلال سے بجلیاں کڑکنا اور جن کے جمال سے باد نسیم چلنا جانتی ہے۔۔۔۔۔۔ جن کی گفتگو کے لفظوں سے ہدایت کے چراغ جلتے ہیں۔۔۔۔۔۔ اور جن کے قدموں کے نشان سے انسانیت کو منزل کا سراغ ملتا ہے۔۔۔۔۔۔
میرے نبی! جناب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
جنہوں نے سب سے پہلے انسانی حقوق کی صدا بلند کی۔۔۔۔۔۔ جنہوں نے سب سے پہلے انسانیت کو بین الاقوامی منشور عطا کیا۔۔۔۔۔۔ جنہوں نے انسانیت کو ایک انٹرنیشنل پلیٹ فارم مہیا کیا۔۔۔۔۔۔ جنہوں نے رنگ و نسل کے بتوں کو پاش پاش کر دیا۔۔۔۔۔۔ جنہوں نے عربی عجمی‘ گورے اور کالے کو ایک صف میں لا کھڑا کیا۔۔۔۔۔۔ جنہوں نے وڈیروں کے طلسم کو
توڑا------ جنھوں نے ظالموں کے خلاف شمشیر جہاد بلند کی------ جنھوں نے یتیموں کو سینے سے لگایا اور ان کی سرپرستی فرمائی------ جنھوں نے غلاموں کی ہتھکڑیاں اور بیڑیاں کھولیں------ جنھوں نے بے نواؤں کو قوت اظہار بخشی------ جنھوں نے کمزوروں کو طاقتوروں کے مقابل لا کھڑا کیا------ جنھوں نے عورت کو قعر مذلت سے نکال کر اس کے سر پر عزت و عصمت کی چادر رکھی------ جنھوں نے محنت کش کو معاشرے میں وقار عطا کیا اور اسے اللہ کا دوست قرار دیا------ جنھوں نے جہالت کے گھٹا ٹوپ اندھیروں میں علم کی شمعیں جلائیں اور ہر مرد و زن پر علم حاصل کرنا فرض قرار دیا------ جنھوں نے قرآن و حدیث کی تعلیمات سے لوگوں کے دلوں کو جگمگایا------ جن کی درسگاہ نبوت سے ایسے لوگ نکلے جنھوں نے عالم کے چہار سو علوم کا چراغاں کر دیا------ جنھوں نے جہالت کے صحراؤں میں بھٹکتی ہوئی مخلوق کا تعلق خالق سے جوڑ دیا------ جنھوں نے بتوں کی خدائی کا ٹاٹ لپیٹ دیا اور انسانوں کو صرف ایک خدا کے سامنے جھکنا سکھایا------
تاریخ شاہد ہے کہ ہر زمانے کے سعید الفطرت لوگ جناب خاتم النبیین محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم کی شخصیت و پیغام کی جانب یوں لپک لپک کر آئے ہیں جیسے پروانے شمع کی جانب! وہ آپؐ کی شخصیت کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔ آپ کے لائے ہوئے پیغام کو ہدیہ تبریک پیش کرتے ہیں اور آپ کی غلامی کا پٹہ گلے میں ڈالنا دنیا کی سب سے بڑی سعادت سمجھتے ہیں۔ لیکن ازلی مردود شیطان ملعون کو کب یہ گوارا ہو سکتا ہے کہ انسان آپؐ کی شخصیت سے والہانہ محبت کریں اور آپؐ کے لائے ہوئے دین حنیف کی شاہراہ پر گامزن رہیں۔ اس لیے شیطان نے ہر زمانے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شان اقدس میں بکواس کرنے اور ہذیان بکنے کے لیے کچھ لوگوں کو کھڑا کیا ہے‘ جو اپنے پرتعفن منہ اور زہریلی زبان سے اتنا بڑا جرم کرتے ہیں کہ کائنات کانپ کانپ جاتی ہے لیکن اس نازک مسئلہ میں غلامان مصطفیٰؐ بھی بڑے حساس اور غیرت مند رہے ہیں۔ وقت گواہ ہے کہ جب بھی کسی بدبخت نے شان رسول میں گستاخی کی‘ غیور مسلمان شاہین کی طرح اس پر جھپٹے ہیں اور اسے جہنم واصل کیا ہے۔
پچھلے چند برسوں سے یورپ نے ایک سنگین سازش کے تحت پوری دنیا میں توہین رسالتؐ کا طوفان بپا کر رکھا ہے۔ سیدؐ الکائنات کی شخصیت میں عیب نکالے جا رہے ہیں------ محسنؐ انسانیت کی ذات اقدس پر ظالمانہ تنقید ہو رہی ہے------ محبوبؐ خدا کے اوصاف و محاسن پر بکواس ہو رہی ہے------ فخر موجودات کے اہل بیتؓ اور صحابہؓ کے بارے میں ہذیان بکا جا رہا ہے------ آپ کے لائے ہوئے دین قیم پر کیچڑ اچھالا جا رہا ہے------
آپؐ کے منصب نبوت پر ہرزہ سرائی کی جا رہی ہے۔ اس طاغوتی سلسلے میں بہت سے قلم، بہت سی زبانیں اور بہت سا پیسہ متحرک ہے۔ یہود اور نصاریٰ کے علاوہ نطفہ بے تحقیق سلمان رشدی اور عصمت دریدہ پروفیشنل زانیہ تسلیمہ نسرین بھی شامل ہیں۔ یہی یورپ پاکستان میں توہین رسالتؐ کے قانون میں ترمیم کروانے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگا رہا ہے۔ بین الاقوامی پریس اور ٹیلی وژن میڈیا کے ذریعے زبردست پراپیگنڈا کیا جا رہا ہے۔ ضمیر کی عصمت فروشی کی کمائی کھانے والے صحافیوں سے انگریزی جرائد و اخبارات میں مضامین لکھوائے جا رہے ہیں۔ جب بھی کوئی بدبخت توہین رسالتؐ کا مرتکب ہوتا ہے تو یہ یورپی شاتمان رسولؐ اس رذیل کائنات کو مہمان خصوصی بنا کر یورپ لے جاتے ہیں اور اس دریدہ دہن کو خوب انعامات سے نوازتے ہیں۔
یورپ یہ سب کچھ کیوں کر رہا ہے؟ اس کی وجوہات کیا ہیں؟ اس کے محرکات کیا ہیں؟ اس کی صرف ایک وجہ ہے ۔
روح محمدؐ اس کے بدن سے نکال دو
اے یورپی دریدہ دہنو! تم نے اللہ کے محبوبؐ کی عصمت پر بھونکنا شروع کیا------ تم نے اللہ کے رسولؐ کی عزت پر کیچڑ اچھالنا شروع کیا------ تو اللہ نے تم سے عزت و عصمت کا مفہوم چھین لیا اور تم خنزیر کی طرح بے غیرت ہو کر رہ گئے۔
اے یورپی بھیڑیو! ذرا اپنے معاشرے میں ایک نظر دوڑا کر تو دیکھو------ تم میں سے ہر ایک شخص یہ سوچتا رہتا ہے کہ وہ حلالی ہے یا حرامی؟ تمہارے بچے نائٹ کلبوں کی پیداوار ہیں------ تمہاری عورتیں وائف ایکسچینج کلبوں کی زینت ہیں------ تمہارے بچے اپنی ماں کے بوائے فرینڈز کے جھرمٹ میں سے اپنا باپ تلاش کرتے رہتے ہیں------ تمہاری بیٹیاں جنسی بے راہروی کی تاریک آندھیوں میں سیٹیاں بجاتی پھرتی ہیں اور تم خود شتر بے مہار ہو------
اے یورپی ظالمو! تمہارے ہاں کتنے باپ اپنی بیٹیوں سے منہ کالا کرتے ہیں------ تمہارے ہاں کتنی بہنوں کے بطنوں سے بھائیوں کے بچے پیدا ہوتے ہیں------ تمہارے مختلف ملکوں میں حرامیوں کی کتنی تنظیمیں ہیں------ تم خنزیر کھا کھا کر خنزیر کی طرح بے غیرت ہو گئے ہو------ تم ام الخبائث پی پی کر خبیث ہو گئے ہو------ تمہاری اخلاقی موت واقع ہو چکی ہے------ تمہارا ضمیر کب سے پیوند زمین ہو چکا ہے------ تمہاری غیرت کب
سے متعفن لاش بن چکی ہے----- اور اس پر نوحہ خوانی کرنے والا بھی کوئی نہیں۔ دیکھا اللہ کے حبیب کی شان اقدس میں گستاخیاں کرنے کی سزا ۔
منہ پہ ہی گرا جس نے چاند پہ تھوکا
اے صلیب کے پجاریو! تمہاری ملکہ وکٹوریہ نے مرزا غلام احمد قادیانی سے دعویٰ نبوت کرا کے ہندوستان میں جھوٹی نبوت کا ڈرامہ رچایا تھا تاکہ جہاد کو حرام قرار دیا جا سکے اور مسلمانوں کا رخ مکہ مکرمہ و مدینہ منورہ سے موڑ کر قادیان کی جانب کر دیا جائے۔ لیکن قادیان کی جھوٹی نبوت کی موجدہ ملکہ وکٹوریہ کا انجام دیکھو کہ تمہارے انگلستان کے دو سکالرز بھائیوں نے دنیا کے سامنے اپنی ریسرچ پیش کی ہے کہ ملکہ وکٹوریہ حرامی تھی کیونکہ اس کی ماں کے ایک شخص کے ساتھ ناجائز تعلقات تھے----- دیکھا انتقام قدرت!
ڈر اس کی دیر گیری سے کہ ہے سخت انتقام اس کا
شاتمان رسول کی غوغا آرائی اور دجل و فریب کا منہ توڑ جواب دینے کے لیے ایبٹ آباد کے کوہساروں سے، مرشدِ اقبالؒ کا مردِ کوہستانی ساجد اعوان قلم کا تیشہ لے کر میدان میں نکلا اور تقریباً آٹھ سو صفحات کی ضخیم کتاب ”تحفظ ناموسِ رسالتؐ اور گستاخِ رسولؐ کی سزا“ لکھ کر دانائے سبل، ختم الرسل، مولائے کل صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی عزت و ناموس کے تحفظ کا حق ادا کر دیا----- میں جب اس کی کم عمری اور پھر اس قدر ضخیم اور تحقیقی کتاب دیکھتا ہوں تو انگشت بدنداں رہ جاتا ہوں لیکن جب بزرگوں کی کتابوں میں پڑھا ہوا یہ جملہ یاد آتا ہے تو حقیقت نکھر کر سامنے آجاتی ہے کہ اہل عشق صدیوں کا سفر سیکنڈوں میں طے کرتے ہیں۔ یقیناً ساجد بھی اہل عشق میں سے ہے----- اسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے والہانہ محبت ہے اور اس محبت کا ثبوت جگر کاوی سے لکھی گئی یہ کتاب ہے-----
ساجد کے قلم میں بلا کی روانی اور کاٹ ہے۔ اس کے خیال میں گہرائی و گیرائی، جملوں میں حسن و زیبائی اور الفاظ میں عالمانہ شکوہ ہے۔ آدابِ رسولؐ اور محبتِ رسولؐ کا تذکرہ لکھتے ہوئے اس کا قلم نسیم سحر کی طرح چلتا ہے لیکن جب گستاخِ رسولؐ کا تذکرہ ہو تو یہی قلم شعلہ بار ہو جاتا ہے----- میں کہہ سکتا ہوں کہ اس کا قلم جہاں شاتمان رسول کے سیاہ قلوب پر کچوکے لگائے گا وہاں ملت اسلامیہ کے خفتہ لوگوں کو پیغام بیداری بھی دے گا۔
ساجد اعوان تاریخ کے آئینہ میں موجودہ حکمرانوں کو ماضی کے باغیرت حکمرانوں کی
تصویر دکھاتا ہے اور موجودہ بے حس حکمرانوں سے مطالبہ کرتا ہے کہ تم بھی شاتمان رسولؐ سے وہی سلوک کرو جو نبی کے باوفا حکمرانوں نے کیا تھا۔ وہ شہیدان ناموس رسالتؐ کی ایمان پرور اور ولولہ انگیز داستانیں سنا کر ملت اسلامیہ کے شاہینوں کو شاتمان رسولؐ پر جھپٹنے کا جذبہ ابھارتا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ شاتم رسولؐ کی سرکوبی ہر اس شخص کا فرض ہے جس کا دعویٰ ہے کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا امتی ہے۔
ساجد اعوان! تو کتنا خوش قسمت ہے‘ تو کتنا فیروز بخت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تحفظ ناموس رسالتؐ کے لیے تجھ سے اتنا گراں قدر کام لیا ہے۔ تو نے یہ عظیم کتاب لکھ کر ملت اسلامیہ پر احسان کیا ہے اور ایک بہت بڑے فرض کی پکار ان کے گوش گزار کی ہے۔
ساجد اعوان! تیری کتاب دیکھ کر آقائے دوجہاں صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کتنے خوش ہوں گے۔۔۔۔۔۔ یار غار صدیق اکبرؓ کتنے مسرور ہوں گے۔۔۔۔۔۔ مراد رسولؐ عمر فاروقؓ کتنے شاداں ہوں گے۔۔۔۔۔۔ داماد رسول سیدنا عثمانؓ غنی ذوالنورین کتنے فرحاں ہوں گے۔۔۔۔۔۔ شیر خدا حضرت علیؓ المرتضیٰ کتنے پر مسرت ہوں گے۔۔۔۔۔۔ شہیدان ناموس رسالتؐ کو کتنی فرحت ہوگی۔
پیارے ساجد اعوان! آخرت کے بازار میں جنت کی خریداری کے لیے جیب میں عشق رسولؐ کا سکہ ہونا ضروری ہو گا اور تم کتنے خوش قسمت ہو کہ تمہاری جیبیں اور تمہارا دامن ان سکوں سے مالا مال ہے۔ اس لیے
محترم ساجد اعوان! مجھ عاصی و خاطی کی بھی ایک التجا سن لے۔۔۔۔۔ میں دست بستہ درخواست کرتا ہوں کہ تو جب بھی دعا کے لیے ہاتھوں کا کشکول اٹھائے تو اس وقت مجھ سیاہ کار کو بھی یاد کر لیا کر۔۔۔۔۔۔ کیونکہ مشاہدہ میں آتا ہے کہ لکڑی کے ساتھ لوہا بھی تیرنے لگ جاتا ہے۔
طالب شفاعت محمدیؐ بروز محشر محمد طاہر رزاق ۔۔۔ لاہور ۵؍ اگست ۱۹۹۵ء
ضرب خاتم
شاتم رسولؐ کی سزا سے متعلق ہمارے محدثین اور متاخرین نے قرآن و سنت کی منشاء کے مطابق ہمیشہ ایک واضح موقف اختیار رکھا ہے اور اکثر نے تو گستاخ رسولؐ کے عدم قبول توبہ کی تصریح بھی کر دی ہے کہ اس کو اس جرم میں حداً قتل ہی کیا جائے گا۔ ظاہر ہے جس نبی کی شان یہ ہو کہ ان کی آواز سے قصداً اگر آواز بھی بلند ہو جائے تو اللہ کے ہاں سارے اعمال (حسنہ بھی) اکارت جاتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے در دولت پر آنے جانے‘ اٹھنے بیٹھنے کے آداب تک خود رب العالمین نے اپنے کلام ہدایت التیام میں ارشاد فرمائے۔ پھر ان کی ایذا بذریعہ سب و شتم تو ایسا عظیم گناہ ہے جس کی سزا دنیا و آخرت میں ”ملعونیت“ بتلائی گئی ہے۔ جن کی ازواج مطہرات کی شان میں ”لستن کاحد من النساء“ فرمایا یعنی کوئی عورت تمہاری شان کو نہیں پہنچ سکتی۔ جہاں ”اطیعوا اللہ“ کہا گیا وہیں حکم فرمایا ”اطیعواالرسول“ جس کا حاصل یہ ہے کہ اطاعت باری تعالیٰ کے صحت و سقم کا معیار اطاعت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں ہے۔ جس نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ شان ہو کہ ”النبی اولی بالمومنین من انفسہم“ یعنی اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ہماری جانوں پر وہ حق اور تصرف حاصل ہے جو خود ہمیں حاصل نہیں۔ جس نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے احترام کو کہ اللہ کریم نے نام لے کر اپنی کتاب میں خطاب نہیں فرمایا بلکہ کمال تکریم کے پیش نظر القابات ہی سے یاد فرمایا۔ بلاشبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ادب و احترام سنت الہیہ میں خاصہ انسانیت ہے اور پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت و ناموس کا تحفظ تو دور حاضر میں افضل ترین جہاد اور عشق رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا مظہر ہے۔
ہمارے عزیز ساجد صاحب سلمہ کو رب تعالیٰ نے توفیق فرمائی کہ اس موضوع کو مع اپنے حواشی کے ترتیب ابواب اور بہترین عنوانات‘ مناسبات اور پھر کتاب و سنت اور علماء کرام کے ارشادات کے حوالوں سے مزین کر کے اپنی کتاب زندگی کا سنہرا ورق لکھا ہے جو عزیز محترم کے حب اللہ اور حب رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا شاہد ہے اور گستاخان رسولؐ پر مصنف کی ”ضرب خاتم“ ہے۔ فجزاہ اللہ عنی وعن جمیع المسلمین بحرمۃ سید المرسلین
دارالعلوم سراج العلوم‘ دمتوڑ ایبٹ آباد شیخ الحدیث‘ پیر طریقت یکم ربیع الاول ۱۴۲۶ھ مولانا محمد ایوب ہاشمی
بسم اللہ الرحمن الرحیم O
سنت صدیق اکبرؓ
الحمدللہ وحدہ والصلوۃ والسلام علی من لا نبی بعدہ
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت و ناموس کے تحفظ کی پاسبانی امت مسلمہ کا اولین فرض ہے۔ نہ اس میں تاخیر کی شرعاً گنجائش ہے، نہ قضا کی اجازت۔ الحمدللہ ثم الحمدللہ امت مسلمہ کی چودہ سو سال کی روشن تاریخ گواہ ہے کہ امت نے اس فرض کو نبھایا ہے اور خوب نبھایا ہے۔ کبھی بھی اس میں ذرہ برابر تساہل نہیں برتا گیا۔ ادھر کسی مسیلمہ نے سر اٹھایا، ادھر صدیق اکبرؓ کی تلوار چمکی۔ یہ معرکہ جاری ہے اور امت مسلمہ ہمیشہ سے اس معرکہ میں سرفراز و کامیاب چلی آرہی ہے اور قیامت تک ایسے ہی اپنی درخشندہ روایات کو زندہ رکھا جائے گا۔ یعنی جب بھی، جہاں بھی کوئی مسیلمہ پیدا ہوگا، سنت صدیقؓ دہرائی جائے گی۔ اللہ رب العزت خزانہ غیب سے بہتر جزا نصیب فرمائیں، میرے قابل احترام بھائی مکرم و معظم جناب ایچ ساجد اعوان کو کہ انہوں نے اپنی اس تصنیف (تحفظ ناموس رسالتؐ اور گستاخ رسولؐ کی سزا) میں امت مسلمہ کی چودہ سو سالہ تاریخ کو قلم بند کر دیا ہے۔
کتاب کیا ہے، معلومات کا خزانہ ہے۔ اس میں علم بھی ہے، عمل بھی۔ تقویٰ بھی ہے، فتویٰ بھی۔ شریعت بھی ہے، محبت بھی۔ ایمان بھی ہے، غیرت بھی۔ دعوت بھی ہے، عزیمت بھی۔
گویا کتاب اپنے موضوع کے اعتبار سے کامل اور جامع ہے۔ کتاب کے سولہ
باب ہیں۔ گویا یہ اپنے موضوع پر "سولہ آنے" جامع ترین دستاویز ہے۔ عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کی تاریخ میں جناب ساجد اعوان کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ انہوں نے اس عنوان پر قلم اٹھایا اور موضوع کا حق ادا کر دیا۔ دعا ہے کہ حق تعالیٰ شانہ ان کی اس محنت کو شرف قبولیت سے نوازیں۔ مصنف نے یہ کتاب لکھ کر رحمت عالم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی شفاعت مبارکہ کا اپنے لئے استحقاق پیدا کر لیا ہے۔ خدا کرے ایسے ہو۔ آمین بحرمتہ الامین الکریم۔
کتاب معلومات افزا ہونے کے ساتھ محبت نبوی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی زیادتی کا باعث ہے۔ ایسے کیوں نہ ہوتا‘ اس لئے کہ اس کا ایک ایک لفظ عشق رسالت مآب صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم میں ڈوب کر لکھا گیا ہے۔
اگست ۹۴ء میں ختم نبوت کانفرنس کے لئے لندن جانا ہوا۔ ساجد بھائی نے خط لکھ کر کتاب کے مکمل ہونے کی خبر سنائی۔ بحمدہ تعالیٰ فقیر نے مدینہ منورہ کی حاضری کے موقع پر مواجہہ شریف پر کتاب کی تکمیل کی اطلاع عرض کر کے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے دعاؤں اور قبولیت کی درخواست کی۔ میرا ایمان اور وجدان یہ کہتا ہے کہ مصنف نے جس جذبہ اور اخلاص سے یہ کتاب لکھی ہے‘ یقیناً عنداللہ یہ جذبہ مقبول ہوگا اور کتاب بھی۔ میرے مالک و مولیٰ‘ میرے بھائی کی لغزشوں کو معاف فرما اور اس کتاب کو اپنے ہاں قبول فرما کر اپنے حبیب کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خوشنودی و رضا کا باعث بنا۔ (آمین)
فقیر اللہ وسایا دفتر مرکزیہ ملتان
بسم اللہ الرحمن الرحیم
اپنا پیغام محبت ہے!
ان الحمدللہ والسلام علی من اتبع الھدی
اللہ کریم جب حضرت آدم علیہ السلام کو پیدا فرما چکے تو آپ کے رہنے کو جنت عطا فرمائی اور اک حکم فرمایا کہ ”اس شجر کے قریب نہ جائیے“۔
جب حضرت آدم علیہ السلام شجر ممنوعہ کھا چکے تو حق تعالیٰ جل مجدہ نے وہ انداز اپنا کر بات فرمائی کہ جس سے انسان کے بیدار شعور پر مہر لگ گئی۔
فرمایا فازلھما الشیطن ”شیطان نے ان کو پھسلایا“ اور یہ صدائے رحیل کارواں تھی اور میر کارواں خود حق تعالیٰ ہوئے۔ یہ نہیں فرمایا کہ حضرت آدم علیہ السلام نے غلطی کی‘ الزام شیطان ہی کو دیا۔ باوجود فعل آدم ہونے کے منصب نبوت نے فعل کے اثر کو شیطان ہی کی طرف منسوب رکھا اور یہی وہ افق ہے جہاں سے حق تعالیٰ کی جمالی اور جلالی ہر دو کیفیات کا نظارہ ہوتا ہے۔
یہ دو دھاری تلوار جہاں ناموس رسالت کے تحفظ کی ضامن قرار پاتی ہے‘ وہاں گستاخ پیغمبر کے مردود ازلی ہونے کا نشان بھی ہے۔
حق تعالیٰ نے منصب نبوت کے ادب کی کمال تاکید بیان فرما کر نبوت کا مقام و مرتبہ اور نبی کی اتباع و اطاعت کا لزوم جس پیرائے میں بیان فرمایا‘ اس سے وہ راز افشاء ہو گیا‘ جسے حق تعالیٰ نے فرشتوں سے یوں اخفاء رکھا تھا ”انی اعلم ما لا تعلمون“ مگر شیطان کو حضرت انسان کی یہ شان کیونکر گوارا ہوتی۔ وہ تو جنت کے بعد اسے اسفلین کی پستیوں تک لے جانا چاہتا تھا اور لے گیا۔
ہوا یہ کہ جس راہ پر منزل ہے اور جس کی مسافت مشعل ادب سے طے ہوتی ہے‘ شیطان نے اس راہ پر ڈیرہ ڈال لیا اور مشعل ادب کی جگہ کسی کی آنکھوں پر تعصب کی پٹی باندھ دی تو کسی کے ہاتھ جہنم کا پروانہ دے دیا۔ مقام سوچ یہ ہے کہ انسان شیطان کے بہلاوے میں کیونکر آیا؟
ہم اپنے گرد و پیش پر اگر غور کریں تو مشاہدات اس حقیقت کو یوں مترشح کرتے ہیں، جیسے خوشبو کا احساس، پھول کے وجود کا حامل ہوتا ہے یا جیسے روشنی سورج یا اپنے کسی اور منبع کے سوا عبث ہے۔ ایسے ہی کسی بھی حقیقت کا اظہار اس کے مرکز اور اصل کے سوا ناممکن ہے۔ بتقاضہ بشریت انسان پر لازم ہے کہ سید البشر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ادب اور احترام کو ملحوظ رکھے کہ یہی انسان کے اصل ہونے کی دلیل ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ادب و احترام کا مقتضی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سیرت اور اعمال پھوٹ پھوٹ کر انسان کے کردار سے کرنوں کی طرح ہر سو بکھریں اور یہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ادب و احترام کا ثبوت ہوگا اور جو اس نعمت کبریٰ سے محروم رہے گا تو اس کی اصل کی جگہ آہستہ آہستہ نقل وارد ہونے لگتی ہے اور شیطان بشری روپ دھار کر محسن انسانیت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خلاف زبان درازی کا مرتکب ہونے لگتا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ انسانی خمیر، محبت کی مٹی سے لیا گیا ہے۔ اس کی یہ خواہش رہتی ہے کہ ہر اچھی چیز کو اپنائے مگر جنت سے نکلتے ہوئے بنی آدم کے مقدر پر شیطانی اثر کی یہ مہر ثبت ہوچکی تھی: وقلنا اهبطوا بعضكم لبعض عدو
اب جب کہ انسانی چاہت منزل نہ پاسکے تو رفتہ رفتہ اس چاہت پر حسد اور ضد کا عنصر غالب آنے لگتا ہے اور پھر وہ چاہت، عداوت کا روپ اختیار کرلیتی ہے اور بالآخر اس مکار لومڑی کی طرح جو گھنٹوں انگور کے گچھے پر لپکتے لپکتے تھک ہار کر یہ کہنے لگتی ہے کہ ”انگور کھٹے ہیں“۔ بعینہ وہ لوگ جو رحمت عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خلاف زبان درازی کے مرتکب ہوتے ہیں۔ اسی عداوت اور حسد کے جذبے کے تحت کار فرما ہوتے ہیں، جسے احساس کمتری کہا جاتا ہے۔ ان کے لاشعور میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی عظمت بہرحال موجزن ہوتی ہے مگر ان بدبختوں کی طبع اور حالات پر ضد اور حسد کا عنصر غالب ہوتا ہے۔
سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تعلیمات سے دوری اور پھر نظام مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مقابل ہر میدان میں شکست کھانے کے بعد براہ راست ”صاحب شرع صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذات اقدس پر حملہ آور ہو کر اپنی دنیا و آخرت
برباد کر لیتے ہیں۔ اس لئے آج ضرورت اس امر کی ہے کہ پیغام مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرش زمین پر بسنے والے ایک ایک فرد تک پہنچایا جائے کہ اس سے نوع انسانیت کے پیاسے قلوب سیراب ہو کر اپنی اصل کو جان سکیں اور کسی کی چاہت بھٹک کر عداوت کا روپ اختیار نہ کرے۔ اس سلسلے میں الیاسی تحریک کے سپاہی مبارک باد کے مستحق ہیں۔
یہ کتاب جو آپ کے ہاتھوں میں ہے‘ اس میں جہاں رحمت عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چند خصائص کی نشاندہی کر کے مقام نبوت و رسالت کے مافوق العادت ہونے کی علامات درج کی گئی ہیں وہیں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حقوق اور آداب کو ذکر کر کے ایمانی حرارت کا سامان کیا گیا ہے۔
عقل سوال کرتی ہے وہ ذات جو بے لوث ہو کر انسانیت کو عطا ہی کیا کرتی ہے۔ دنیا سے کچھ نہیں چاہتی‘ اس سے بغض و عناد کیونکر روا رکھا جاتا ہے؟ حقائق اس سلسلے میں جرم کے کٹہرے میں تکبر اور غرور کو لا کھڑا کرتے ہیں۔ یہ شیطانی وصف قانون خداوندی کے تحت کیا سزا پاتا ہے۔ اس کتاب کے پانچویں باب میں ”گستاخ رسول کی سزا‘ احکام القرآن“ میں انتہائی شرح و بسط کے ساتھ لکھ دیا گیا ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خود اس خدائی قانون پر کتنی سختی سے عمل درآمد فرمایا ”احکام الحدیث“ کے باب میں اس کی تفصیلات درج ہیں۔ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین‘ آئمہ دین ”فقہائے عظام‘ دیگر اسلامی حکمرانوں اور چودہ سو پندرہ سال سے امت نے اس فرض کو جس مہارت اور عقیدت سے اپنے عملی اقدامات سے نبھایا ہے‘ یہ داستانیں ایمانی لذت کو خوب جلا بخشتی ہیں۔ ہر حقیقت کو مختلف ابواب میں ترتیب دے کر پھولوں کی یہ خوبصورت مالا آپ کے ہاتھوں میں ہے۔ جس کی مہک اپنوں کے لئے جنت کی خوشبو اور غیروں کے سر چکرانے کے لئے کافی ہے۔
مجھے اپنوں کی اس بارات کے دولہا برادر مکرم جناب محمد متین خالد کے حسن ادراک پر رشک ہے کہ جن کے حکم اور مکمل تعاون نے مجھ سے عاصی کو اس لائق کر دیا کہ دربار رسالت کے چوکیداروں میں نام آ گیا۔ (فالحمدللہ)
ابتداءً برادر محترم جناب محمد طاہر رزاق صاحب نے جیسے تھپکی دے کر حوصلے بلند فرمائے
تھے‘ آخر انہی فتح و کامیابی کے سہرے انہی کے سر جاتے ہیں۔ اللہ کریم ان ہر دو سپاہیان تحفظ ناموس رسالتؐ کو جنت کے سرداروں کی معیت نصیب فرمائے۔ (آمین)
استاذی مکرم جناب حضرت مولانا اللہ وسایا صاحب‘ کتاب کے مضامین سے متعلق گاہے بگاہے جس ذمہ داری سے دریافت فرماتے رہے اور قدم بقدم راہنمائی فرماتے رہے۔ اس سے فرض اور ضرورت کا احساس بڑھتا رہا۔ حضرت ہی کی غیر معمولی دلچسپی نے بروقت اس عظیم فرض سے سبکدوش ہونے کی توفیق عطا فرمائی۔
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان کے مرکزی ناظم اعلیٰ حضرت مولانا عزیز الرحمان جالندھری صاحب (دامت برکاتہم عالیہ) نے اپنی ماہرانہ آراء اور جن انمول نقاط سے بہرہ ور فرمایا۔ ترتیب ابواب کی بنیاد انہی نقاط پر رکھی گئی ہے اور بقول محقق دوران حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی (مدظلہ) اس ترتیب عنوانات سے یہ اپنے موضوع پر جامع ترین دستاویز ہو گی۔
حضرت اقدس مولانا خواجہ خان محمد صاحب کا وجود از خود ایک تحریک ہے اور کتاب کی تکمیل میں تکوینی طور پر آپ ہی کی ذات راہنما رہی۔ ۱۸ رجب ۱۴۱۵ھ کو جب احباب کے ہمراہ خانقاہ سراجیہ کندیاں شریف کتاب ہٰذا کا مسودہ لے کر حاضر خدمت ہوا اور تقریظ لکھنے کی درخواست کی تو حضرت نے فرحت و انبساط سے جن دعاؤں سے نوازا‘ وہ فقیر کے لئے توشہ آخرت ہے۔
کتاب کے آغاز ہی سے جو بشارات ہوتی رہیں‘ ان کی یادیں ہی دنیا میں جنت کا مزہ دیتی ہیں۔ اس دوران کئی بار خواب میں مسجد نبویؐ میں حاضری ہوئی۔ ایک بار تو قبر شریف سے خصوصی قربت نصیب ہوئی اور درود شریف کے زمزمے لبوں پر جاری رہے۔ بلاشبہ کتاب کی تکمیل حق تعالیٰ کے خصوصی افضال اور حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی توجہات ہی سے ہے اور فقیر کی حیثیت ”قلم در دست کاتب“ سے زیادہ کچھ نہیں۔
خاکپائے مجاہدین ختم نبوت ایچ ساجد اعوان یکم ربیع الاول ۱۴۱۶ھ
نحمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم O
پہلا باب
مقام نبوت و رسالت ﷺ
اعتراف عظمت کے لیے بھی با عظمت انسان ہونا ضروری ہے۔ مقامات نبوت و رسالت کو پہچاننے کے لیے ایمان کا ہونا ضروری ہے اور سچ پوچھتے تو ایمان نام ہے حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی ذات گرامی کا۔
بغیر یقین کے ایمان کا حاصل ہو جانا‘ ایسے ہی ناممکن ہے جیسے بغیر نظر کے‘ رنگوں میں امتیاز کرنا۔ گویا سیاہ و سفید کا علم تب ہو گا جب نظر ہو گی۔ جب نظر ہو گی تو یقین ہو گا‘ یقین ہو گا تو ایمان ہو گا اور جب قلب ایمان کی روشنی سے منور ہو گا تو پھر مقامات نبوت و رسالت چمکتے سورج کی طرح دکھائی دیں گے۔
بادِ نسیم ”صلوا عليه و آله وسلم“ کے ترانے سنائے گی۔
سویرے ”نور من نور اللہ“ کا ورد کرتے ہوئے طلوع ہوتے دکھائی دیں گے۔
شفاف چشموں کی پرسکون سطحوں پر ”انک لعلیٰ خلق عظیم“ کے موتی تیرتے دکھائی دیں گے۔
آبشاروں کے شور میں ”ورفعنالک ذکرک“ کے زمزمے گونجیں گے۔
سطح سمندر کے کنارے‘ پرندوں کی اڑانیں ”وما ارسلنک الا رحمتہ اللعالمین“ کے علم لیے ہوں گی۔
لرزتے پہاڑ ایک ٹھوکر سے پرسکون ہوتے ملیں گے۔ چاندنی کی ٹھنڈک شان محبوبیت کے سندیسے دے گی! دراصل اس شان محبوبیت کی بنیاد ہی عشق و محبت پر قائم ہے اور یہ صفت محبوبیت 'رب کائنات کی ایسی جامع الصفات ذات گرامی' کے ساتھ ہے جس کی حقیقت و منزلت کا بیان انسانی قوت سے ماورا ہے۔ تاہم ذرہ و آفتاب کے فرق کے باوجود شمع نبوت کے کچھ پروانوں نے اس الاؤ کو بہر طور روشن رکھا ہے۔ شاعر رسالت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم، صحابی رسول حضرت حسان بن ثابتؓ نے آپ کی مدح ان الفاظ میں کی۔
واجمل منک لم تلدِ النساء
خلقت مبراً من کل عیبٍ
کاانک قد خلقت کما تشاء
ترجمہ : اور آپ ﷺ سے اچھا آج تک کسی آنکھ نے دیکھا ہی نہیں۔ اور آپ ﷺ سے خوبصورت آج تک کسی ماں نے جنا ہی نہیں۔ آپ ﷺ کو تمام عیبوں سے پاک پیدا کیا گیا۔ گویا آپ ﷺ کو ایسے پیدا کیا گیا جیسا کہ آپ ﷺ نے خود چاہا۔
مولانا رومیؒ نے آپ ﷺ کی مدح یوں بیان فرمائی:
حسنت جمیع خصالہ صلوا علیہ وآلہ
معروف شاعر جناب احسان دانش نے آپ ﷺ کی توصیف یوں فرمائی:
جہاں جہاں سے وہ شفیعِ عاصیاں گزر گیا
جہاں نظر نہیں پڑی وہاں ہے رات آج تک
وہیں وہیں سحر ہوئی جہاں جہاں گزر گیا
حضرت مولانا احمد رضا خان بریلویؒ نے عشق رسالت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا اظہار یوں کیا:
سب سے بالا و والا ہمارا نبی '
اپنے مولا کا پیارا ہمارا نبی '
دونوں عالم کا دولہا ہمارا نبی '
علامہ ڈاکٹر محمد اقبالؒ عشق رسالت ﷺ میں یوں تڑپ گئے:
وہی قرآں' وہی فرقاں' وہی یٰسین' وہی طٰہٰ
شاعر اسلام مولانا ظفر علی خان نے کہا:
اس کے چہرے پر چھائیاں مدنی کا چہرہ صاف ہے
کسی نے یوں کہا:
ثانی تو بڑی چیز ہے سایہ نہ ملے گا
کسی نے اپنی عقیدت کا اظہار ان الفاظ میں کیا:
تو نقش ہستی ابھر نہ سکتا وجود لوح و قلم نہ ہوتا
یہ محفل کن فکاں نہ ہوتی جو وہ امام امم نہ ہوتا
زمین نہ ہوتی فلک نہ ہوتا عرب نہ ہوتا عجم نہ ہوتا
کسی ہندو شاعر نے حقیقت یوں بیان کی:
دل کو روشن کر دیا آنکھوں کو بینا کر دیا
جو نہ تھے خود راہ پر اوروں کے ہادی بن گئے
کیا نظر تھی جس نے مردوں کو مسیحا کر دیا
کیف و مستی کے اس شاعرانہ انداز کے علاوہ 'سیرت النبی ﷺ' کے عنوان پر لاتعداد کتب، مختلف زبانوں میں لکھی گئیں لیکن پھر بھی حق ادا نہ ہوا۔ ایک ایک حدیث مبارک کی شرح میں پوری پوری کتاب لکھ دی گئی لیکن چراغ، سورج کے سامنے مدھم پڑ گئے۔ آپ کے خصائص پر قلم اٹھائے گئے لیکن قلم لکھتے لکھتے رہ گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے
معجزات پر طبع آزمائی کی گئی تو عمریں کم پڑ گئیں۔
یوں لکھنے والے تھک ہار کر بیٹھ گئے، مفسر عاجز ہو گئے، محدث قلمیں توڑ کے بیٹھ گئے، شعراء ہاتھ جوڑ کر بیٹھ گئے، ادیب گھٹنے ٹیک کے بیٹھ گئے، انسانیت بے بس ہو گئی اور چودہ صدی کی امت بالاخر یہ پکار اٹھی۔
بعد از خدا بزرگ توئی قصہ مختصر
مولانا مودودیؒ نے کیا خوب بات کہی ہے:
”در اصل اس طرح نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو بتایا کہ تم مجھ پر صلوٰۃ کا حق ادا کرنا چاہو بھی تو نہیں کر سکتے۔ اس لیے اللہ ہی سے دعا کرو کہ وہ مجھ پر صلوٰۃ (رحمت) فرمائے۔ ظاہر ہے کہ ہم حضور ﷺ کے مراتب بلند نہیں کر سکتے۔ اللہ ہی بلند کر سکتا ہے ۔۔۔۔۔ لہٰذا حضور ﷺ پر صلوٰۃ کا حق ادا کرنے کی کوئی صورت اس کے سوا نہیں ہے کہ اللہ سے آپ ﷺ پر صلوٰۃ کی دعا کی جائے۔ جو شخص اللهم صل على محمد کہتا ہے وہ گویا اللہ کے حضور اپنے عجز کا اعتراف کرتے ہوئے عرض کرتا ہے کہ خدایا تیرے نبی ﷺ پر صلوٰۃ کا جو حق ہے اسے ادا کرنا میرے بس میں نہیں ہے تو ہی میری طرف سے اس کو ادا کر دے“۔
(تفسیر ”تفہیم القرآن“ از مولانا مودودیؒ سورۃ احزاب:۵۶)
جس بزرگ ہستی کی ثناء و توصیف خود خالق کائنات بیان فرماتے ہیں اس کی تعریف و توصیف میں انسانی زبان گنگ کیوں نہ ہو جائے۔ پورا قرآن اسی محبت و محبوبیت کی تفسیر اور تمام نظام تخلیق اسی محبت و محبوبیت کی تعبیر ہے۔ اس محبت و محبوبیت کا عظیم الشان باب ذات محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی بعثت مبارکہ سے مکمل ہوتا ہے۔ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کا ارشاد گرامی ہے:
”اللہ نے سب سے پہلے میری روح کو پیدا فرمایا اور پھر اس سے تمام مخلوق کو پیدا فرمایا“۔
ایک اور جگہ ارشاد گرامی ہے:
”اگر آپ ﷺ نہ ہوتے تو میں افلاک کو پیدا نہ کرتا“۔
نیز
”اگر آپ ﷺ نہ ہوتے تو میں اپنی ربوبیت کو ظاہر نہ کرتا“۔
ان احادیث مبارکہ سے معلوم ہوا کہ آفرینش عالم، یہ بزم آرائی اور ربوبیت حق تعالیٰ کا
ظہور، عشق رسالت مآب صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی مہک ہی سے معطر ہے۔ روز ازل جب خالق اکبر تمام بنی آدم کی ارواح کو تخلیق فرما چکے تو عالم ارواح میں ایک عمومی اجلاس میں اپنی ربوبیت کا اقرار لیا اور فرمایا ”الست بربکم“ کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں؟ آدم کی ساری نسل نے جواب دیا ”بلیٰ“ ہاں‘ تو ہی ہمارا رب ہے۔ لیکن جب وجہ تخلیق کائنات کی عظمت کا اقرار لینا چاہا تو مولا کریم نے محفل کا رنگ بدل لیا اور صرف ان ہستیوں کو مدعو کیا جن کی نطق مبارک پر امانت اور صداقت کی مہر ثبت ہو چکی تھی۔
فرمان باری تعالیٰ ہے: وَاِذْ اَخَذَ اللّٰهُ مِيْثَاقَ النَّبِيّٖنَ لَمَا اٰتَيْتُكُمْ مِّنْ كِتٰبٍ وَّ حِكْمَه ثُمَّ جَآءَكُمْ رَسُوْلٌ مُّصَدِّقٌ لِّمَا مَعَكُمْ لَتُؤْمِنُنَّ بِهٖ لَتَنْصُرُنَّهٗ (سورة آل عمران: ۸۱)
ترجمہ: ”اور جب اللہ تعالیٰ نے پیغمبروں سے عہد لیا کہ جب میں تمہیں کتاب اور حکمت عطا کروں پھر تمہارے پاس رسولؐ آجائے تمہاری کتاب کی تصدیق کرے تو تمہیں ضرور اس پر ایمان لانا ہو گا اور اس کی مدد کرنا ہو گی“۔
علامہ سبکیؒ فرماتے ہیں کہ ”آیت میں رسول سے مراد محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہی ہیں اور کوئی نبی بھی ایسا نہیں گزرا جس سے اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی نصرت و تائید اور آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر ایمان لانے کا عہد نہ لیا ہو اور کوئی بھی ایسا نہیں گزرا جس نے اپنی امت کو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر ایمان لانے اور تائید و نصرت کی وصیت نہ کی ہو“۔
آپ ﷺ کے ارشاد ”بعثت الی الناس کافہ“ کا مطلب یہ سمجھنا کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی نبوت آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے زمانے سے قیامت تک کے لیے ہے‘ صحیح نہیں ۔ بلکہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی نبوت کا زمانہ اتنا وسیع ہے کہ آدم علیہ السلام کی نبوت سے پہلے شروع ہوتا ہے جیسے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم فرماتے ہیں: کنت نبیاً و آدم بین الروح والجسد یعنی ”میں نبی تھا اور آدم روح اور جسم کے درمیان تھے“۔ (”معارف القرآن“ حدیث شریف از ترمذی شریف)
مولانا محمد قاسم نانوتویؒ اس کی مزید وضاحت یوں فرماتے ہیں: ”یہ بات تو سبھی اہل فہم سمجھ گئے ہوں گے کہ موصوف بوصف نبوت بالذات تو
ہمارے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہی ہیں۔ باقی اور انبیاء میں اگر کمال نبوت آیا ہے تو جناب ختم مآب صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہی کی طرف سے آیا ہے۔۔۔۔۔۔ اور (دیگر) انبیاء‘ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے فیض لے کر امتیوں کو پہنچاتے ہیں۔ غرض بیچ میں واسطہ فیض ہیں مستقل بالذات نہیں“۔ ( ”تحذیر الناس“ از حجۃ الاسلام مولانا محمد قاسم نانوتویؒ مع تکملہ‘ ص ۳۸)
اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے بندوں کی ہدایت کے لیے ایک لاکھ چوبیس ہزار کم و بیش انبیاء و رسل مبعوث فرمائے۔ کسی کو ہم کلامی کا شرف بخشا‘ کسی کو ید بیضا عطا فرمایا‘ کسی کو مردہ زندہ کر دینے اور مبروص کو شفا بخشنے کے معجزات عنایت فرمائے‘ کسی کو صفی اللہ‘ کسی کو کلیم اللہ‘ کسی کو خلیل اللہ اور کسی کو روح اللہ کے خطابات سے نوازا۔ لیکن تاج محبوبیت صرف آقائے دو جہاں‘ سید ولد آدم‘ سرور کائنات‘ خلاصہ موجودات‘ احمد مجتبیٰ‘ محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سر مبارک پر ہی رکھا۔ جتنے معجزات دیگر انبیاء کرام کو فرداً فرداً عطا ہوئے تھے‘ وہ سب مجموعی طور پر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی ذات گرامی میں جمع کر دیے گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو سید المرسلین اور خاتم النبین کے معزز القابات سے نوازا گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی صفت محبوبیت تنہا جامع الصفات ہے‘ بلکہ تمام انبیاء و مرسلین کے اجتماعی اوصاف بھی آنحضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی واحد صفت محبوبیت کے شرف و اعزاز کے حضور ماند ہیں:
آنچہ خوباں ہمہ دارند تو تنہا داری
حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر حضرت عیسیٰ علیہ السلام تک یہ تمام ستارے اسی نور کی روشنی سے چمکتے رہے جس سے قیامت تک راہنمائی حاصل کی جاتی رہے گی۔
واذ اخذ اللہ میثاق النبیین (سورۃ آل عمران‘ پ ۴‘ آیت ۸۱) کی تفسیر میں سیدنا حضرت علی المرتضیٰؓ فرماتے ہیں:
”آدمؑ سے لے کر مسیحؑ تک جتنے پیغمبر گزرے‘ خدا نے ہر ایک سے سید عالم علیہ الصلوۃ والسلام کی نبوت کی تصدیق اور تائید کا پختہ قول و قرار لیا“۔ (تفسیر امام طبری)
اس لیے سب پیغمبروں نے اپنے اپنے زمانے میں اس حق کو ادا کیا اور اپنی امتوں کو آنے والے کی آمد کی بشارتیں دیں۔ توریت و انجیل بھی سرور دو عالم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی
شان میں مدح سرا ہیں۔ اب تک موجودہ توریت و انجیل میں بھی باوجود اس قدر تغیر و تبدل ، ترمیم و تحریف کے ، اکثر بشارتیں صاف صاف موجود ہیں اور قرآن خود اس پر گواہ ہے:
الذين يتبعون الرسول النبى الامى الذى يجدونه مكتوباً عندهم فى التورته والانجيل O
(سورۃ اعراف، آیت نمبر ۱۵۷)
ترجمہ : ”یہ وہ لوگ ہیں جو پیروی کریں گے اس رسول نبی امی کی جس کو وہ اپنے ہاں تورات اور انجیل میں لکھا ہوا پائیں گے“۔
آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی تشریف آوری سے پیشتر اہل کتاب کے علاوہ غیر اہل کتاب میں بھی آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی بعثت مبارکہ کا خوب چرچا تھا اور ارباب نظر اس کا خوب خوب اظہار فرماتے رہے۔
مکہ مکرمہ کے سادات قریش اور مدینہ منورہ (یثرب) کے سادات میں آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی تشریف آوری پر کامل یقین تھا۔ چنانچہ قریش مکہ کے مورث اعلیٰ کعب بن لوی بن مالک ہر جمعہ کو قریش مکہ کو جمع کر کے ان کے سامنے یہ خطبہ پڑھا کرتے تھے۔
تؤوبان بالاحداث فينا تؤوبا وبالنعم الضافى علينا ستورها
صروف ابناء تقلب اهليها لها عقد ما يستحيل مديرها
على غفله ياتى النبى محمد ﷺ فيخبر اخبارا صدوقا خبيرها
ياليتنى شاهدا فحواء دعوته حين العشيرة تبغى الحق خذلانا
ترجمہ : یہ رات اور دن کی گردش ہمارے لیے برابر ہے۔ کبھی کسی حادثہ کا ظہور ہو جاتا ہے اور کبھی کوئی اچھی بات ظاہر ہو جاتی ہے۔ بعض ایسے حوادث بھی ہو جاتے ہیں جن سے نجات مشکل ہو جاتی ہے۔ ایسی بے خبری میں نبی محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تشریف لے آئیں گے جو سچے خبر دینے والے (خداوند تعالیٰ) کی طرف سے سچی خبریں ارشاد فرمائیں گے۔ کاش میں دعوت کے وقت موجود ہوتا (یعنی میں ان پر ایمان لے آتا) جب قوم قریش اس دین حق سے بغاوت کر کے ذلیل ہو جائے گی۔ (”الاحکام السلطانیہ“ مؤلفہ قاضی علی بن محمد بصری، متوفی ۴۵۰ھ، ص ۱۵۷)
یہ بزرگ کعب بن لوی حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے اجداد میں سے ہیں۔ سید دوعالم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا نسب کعب بن لوی تک یوں ہے:
محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بن عبد اللہ بن عبد المطلب بن ہاشم بن عبد مناف بن قصی بن کلاب بن مرہ بن کعب بن لوی۔ (”زاد المعاد“ جلد نمبر ۱‘ ص ۲۹)
یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ کعب بن لوی کے اشعار میں حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا اسم گرامی ”محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم“ مذکور ہوا۔
مدحت شہ دو جہاں صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم میں مدینہ منورہ (اس وقت کے یثرب) کے خاندان اوس کے مورث اعلیٰ اوس اپنی موت کے وقت جو وصیت فرماتے ہیں مقام مصطفیٰ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی مظہر ہے:
الم يات قومى ان لله دعوة يفوزبها اهل السعادة والبر
اذا بعث المبعوث من آل غالب بمكه فيها بين زمزم والحجر
هنالك فابغوا نصرة ببلادكم بنى عامر! ان السعادة فى النصر
ترجمہ: ”بے شک ہمارا ایک رب ہے جو عرش پر ہے۔ وہ ہر خیر اور شر کو بخوبی جانتا ہے۔ کیا میری قوم کو یہ پتہ نہیں کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک آدمی داعی آنے والا ہے جس کی پیروی سے سعادت مند کامیاب ہو جائیں گے۔ جب آل غالب میں سے ایک نبی زمزم اور حجر کے درمیان مبعوث ہو گا۔ اس وقت اس نبی ﷺ کو اپنے وطن آنے کی دعوت دو اور ان کی مدد کرو۔ اے عامر کی اولاد! نیک بختی ان کے دین کی مدد میں ہے“۔ (”وفا الوفا“ جلد نمبر ۱‘ ص ۱۷۷)
حضور فداہ ابی امی و روحی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب ہجرت فرما کر سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کی ہمراہی میں مدینہ منورہ کی حدود میں قدم رنجہ فرماتے ہیں تو ایک یہودی کی نظر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر پڑتی ہے تو اہل مدینہ کو مخاطب کر کے چلا اٹھتا ہے۔
يا بنى قيله هذا جدكم
”اے انصاریو! تمہارا نصیبا آگیا یعنی تمہارے بخت بیدار ہو گئے“۔
اہل مدینہ کا ہجوم امڈ آتا ہے اور آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو لے کر مدینہ منورہ میں داخل ہوتے ہیں اور بچوں اور بچیوں کی زبان پر یہ اشعار تھے:
وجب الشكر علينا ما داع لله داع
ايها المبعوث فينا جئت بالامر المطاع
(حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی ہجرت کے وقت اوس کے اشعار ”ایھا المبعوث فينا“ کا ذکر ہوا ۔)
حضرت انسؓ بن مالک فرماتے ہیں جس دن آپ مدینہ منورہ میں داخل ہوئے سارا مدینہ اور ہر چیز نورانی معلوم ہوتی تھی۔ بچیاں دف بجا بجا کر یہ شعر پڑھ رہی تھیں:
ياحب ذا محمد من جار
بنی نجار حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے دادا عبدالمطلب کے ماموں تھے۔
(ترمذی شریف‘ جلد ۲‘ ص ۲۰۲)
حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی تشریف آوری سے سات سو سال پہلے ”ابو کرب بن اسعد حمیری“ نے جب اپنی مملکت کو وسعت دینے کے خیال سے مدینہ طیبہ پر حملہ کا ارادہ کیا تو اپنے ساتھ فوج کے علاوہ چار سو علماء کرام بھی لایا۔ انہوں نے اور بقول بعض علماء سیرت کے ’مدینہ منورہ کے یہودی علماء نے مشورہ دیا‘ چونکہ یہ بستی نبی آخرالزمان محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی ہجرت گاہ ہے‘ اس لیے اس پر حملہ کرنے سے باز آجائے۔ چنانچہ اس نے مشورہ پر عمل کیا اور ایک تحریر میں اپنے واپس جانے اور اسلام لانے پر مندرجہ ذیل اشعار بھی کہے اور لکھے۔
فلو مد عمرى الى عمرة لكنت وزير له وابن عم
ترجمہ : ”میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ احمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اس اللہ تعالیٰ کے رسول ہیں جو کائنات کا خالق ہے ۔ اگر میری زندگی میں وہ تشریف لے آئے تو میں ان کا بوجھ اٹھانے والا اور چچا زاد بھائی بن جاؤں گا“۔
اور وطن لوٹنے سے پہلے (مدینہ طیبہ میں) ایک مکان تیار کیا جس میں اپنے ساتھ آنے والے علماء کرام کے صدر کو آباد کرتے ہوئے یہ کہا کہ جوں ہی سید دوعالم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تشریف لائیں یہ میرا خط اور یہ مکان ان کے حوالے کر دیں۔ چنانچہ یہ مکان بطور وراثت کے حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور اس میں سید دوعالم صلی اللہ علیہ
و آلہ وسلم نے نزول رحمت فرمایا۔
("وفا الوفا" جلد نمبر ۱، ص ۱۸۸)
ایک اور شعر میں اس نصیحت اور اسم گرامی محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی صراحت بھی کردی۔ فرمایا:
ترجمہ : "مجھے انہوں نے نصیحت کی کہ میں اس بستی پر حملہ کرنے سے باز آجاؤں جس کی حفاظت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی ہجرت گاہ کے لیے کی گئی ہے"۔
("رحمۃ اللعالمین" جلد نمبر ۲، ص ۴۱۰)
ارباب علم و دانش کا یہ حال تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی تشریف آوری سے قبل آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے توسل سے دیگر کفار کے مقابلہ میں فتح و نصرت کی دعا مانگا کرتے تھے۔
قرآن پاک ایک بے داغ آئینہ ہے جس میں اس کا عکس پوری رعنائیوں سے دکھائی دیتا ہے۔
وكانوا من قبل يستفتحون على الذين كفروا O
(سورۃ البقرۃ:۸۹)
ترجمہ : "اور آپ کے آنے سے پہلے فتح مانگتے تھے کافروں پر"۔
حضرت آدم علیہ السلام کا عمل اور معافی:
"حضرت عمرؓ بن الخطاب سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا ' جب آدمؑ سے لغزش صادر ہوئی تو انہوں نے سرور عالم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی معرفت اللہ سے مغفرت کی درخواست پیش کی۔ رب کریم نے فرمایا ' اے آدمؑ آپ نے کیسے محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو پہچان لیا حالانکہ میں نے ابھی انہیں پیدا بھی نہیں فرمایا۔ عرض کی ' جب آپ نے مجھے اپنے دست قدرت سے پیدا فرمایا اور روح پھونکی میں نے سر اٹھایا تو عرش کے پایوں پر لکھا دیکھا
لا اله الا الله محمد رسول الله
مجھے یقین آگیا کہ آپ نے اپنے نام کے ساتھ انہی کا نام لکھا ہو گا جو ساری مخلوق میں آپ کو
پیارے ہوں گے۔ رب کریم نے فرمایا۔ اے آدمؑ واقعی تم سچے ہو۔ جب ان کے واسطے سے تو نے دعا کی تو میں نے قبول کر لی۔ اگر وہ نہ ہوتے تو میں تم کو بھی پیدا نہ کرتا اور وہ تمہاری اولاد میں سے سب سے آخری نبی ہیں“۔ (بیہقی نے دلائل میں اور حاکم نے اس کی تصحیح کی اور طبرانی نے بھی اس کو ذکر کیا)
جب خالق اکبر کی کل مخلوقات میں سے محبوبیت کا یہ اعزاز انسانیت کے مقدر میں آچکا اور اسی کارن نوع انسانی اشرف المخلوقات قرار پاگئی تو اس وقت نور محمدی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو حضرت آدم علیہ السلام کی پشت مبارک میں ٹھہرا دیا گیا اور یہی اشرف المخلوقات کی مہر قرار پاگئی۔
ولله الحمد
علامہ زرقانیؒ اس سلسلے میں رقم طراز ہیں:
ترجمہ : ”پھر نور محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم آدمؑ کی پشت مبارک میں ٹھہرا دیا گیا۔ پھر فرشتے کھڑے ہو گئے ان کے پیچھے صف بستہ اور دیکھنے لگے اس نور کی طرف“۔ (زرقانی، جلد نمبر ۱، ص ۱۱۲-۱۱۱)
امام فخرالدین رازیؒ اس نورِ محمدی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی عظمت کو یوں بیان کرتے ہیں:
”اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرشتوں کو اس لیے سجدہ کا حکم دیا تھا کہ نورِ محمدی حضرت آدم علیہ السلام کی پیشانی میں تھا“۔ (تفسیر کبیر)
”اس نور کے انوار ان کی پیشانی میں یوں نمایاں تھے جیسے آفتاب آسمان میں اور چاند اندھیری رات میں۔ اور ان سے عہد لیا گیا کہ یہ نورِ انور پاک پشتوں سے پاک رحموں میں منتقل ہوا کرے۔ اسی واسطے جب وہ حضرت حواؑ سے مقاربت کا ارادہ کرتے تو انہیں پاک اور پاکیزہ ہونے کی تاکید فرماتے۔ یہاں تک کہ وہ نور حضرت حوا علیہا السلام کے رحم میں منتقل ہو گیا۔ اس وقت وہ انوار جو حضرت آدم علیہ السلام کی پیشانی میں تھے حضرت حوا کی پیشانی میں نمودار ہوئے۔ ایامِ حمل میں حضرت آدم علیہ السلام نے بپاسِ ادب و تعظیم حضرت حوا سے مقاربت ترک کر دی۔ یہاں تک کہ حضرت شیث علیہ السلام پیدا ہوئے تو وہ نور ان کی پشت میں منتقل ہو گیا۔
یہ حضور علیہ السلام کا معجزہ تھا کہ حضرت شیث علیہ السلام اکیلے پیدا ہوئے۔ آپ علیہ السلام کے بعد ایک بطن میں جوڑا (لڑکا، لڑکی) پیدا ہوتا تھا۔ اسی طرح یہ
نور پاک پشتوں سے پاک رحموں میں منتقل ہوتا رہا“۔ (”سیرت رسول عربی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم“ ص ۲۵-۲۴‘ بحوالہ ”وفا الوفا فی فضائل مصطفیٰ“ لابن الجوزیؒ)
فرمان خداوندی ہے:
و تقلبك فى الساجدينO (سورہ الشعراء‘ پارہ ۱۹‘ آیت ۲۱۹)
ترجمہ : ”اے میرے محبوب صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم میں نے تجھے ایسے مردوں کی پشتوں اور ایسی عورتوں کے رحموں میں منتقل کرتا آیا ہوں جو کہ مجھے سجدہ کرنے والے تھے“۔
امام فخر الدین رازیؒ اس آیت کی تفسیر میں آقائے دو جہاں صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی ایک حدیث مبارکہ نقل کرتے ہوئے رقم طراز ہیں:
ترجمہ : ”نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ میں ہمیشہ پاک مردوں کی پشتوں اور پاک عورتوں کے رحموں سے منتقل ہوتا ہوا تشریف لایا ہوں“۔
(”تفسیر کبیر“ جلد ۲‘ ص ۳۹۵)
حضرت قاضی عیاض مالکیؒ اور حضرت یوسف بن اسماعیل النبھانیؒ اس کے ذیل میں فرماتے ہیں۔
”فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کہ اللہ کریم مجھے ہمیشہ پاک پشتوں اور پاک رحموں سے منتقل کرتا ہوا لایا ہے اور میرے آباء و اجداد نے قطعاً کبھی بھی خدا کی نافرمانی نہیں کی“۔ (”الشفا“ ص ۴۸‘ ”المواہب الدنیہ“ ص ۱۵)
یہ نور محمدی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جن جن پشتوں سے ہوتا ہوا آیا اپنی برکات اور تجلیات کے انمٹ نقوش چھوڑتا آیا۔
”اللہ تعالیٰ نے کشتی نوح کو بھی آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہی کے نور کی برکت سے غرق ہونے سے بچایا کیونکہ اس وقت نور محمدی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم حضرت نوح کی پیشانی میں تھا“۔ (”زرقانی علی المواہب“ جلد ۳‘ ص ۵۴)
آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے نور ہی کی برکت سے حضرت ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام پر آگ ٹھنڈی ہوئی۔
”غزوہ تبوک کے بعد رمضان ۹ھ میں جب حضور اقدس صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مدینہ منورہ میں داخل ہوئے تو حضرت عباسؓ نے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی
اجازت سے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی مدح میں چند شعر ارشاد فرمائے۔ ان میں سے ایک شعر یہ ہے:
فی صلبہ انت كيف يحترق
ترجمہ : " آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم حضرت خلیل اللہ کی آگ میں پوشیدہ داخل ہوئے۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ان کی پشت میں تھے‘ وہ کیسے جل سکتے تھے"۔ (طبرانی‘ مواہب الدنیہ‘ زرقانی علی المواہب وغیرہم)
اور پھر اس نورِ محمدی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے تقدس کے سبب حق تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے اجداد کی نگہبانی کا فریضہ بھی خوب سرانجام دیا۔ ملاحظہ فرمائیے:
پاکیزہ شجرہ نسب:
محبوب خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا شجرہ نسب ان کی ذات مقدسہ کی طرح مقدس اور پاکیزہ ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سلسلہ نسب میں زانی یا زانیہ تو درکنار کوئی ناشکر گزار مرد یا عورت بھی نہیں ہو گزری۔ اس کا اندازہ اس اہم واقعہ سے لگایا جاسکتا ہے کہ حضرت اسمعیلؑ کی شادی خانہ آبادی کے کچھ عرصہ بعد ان کے والد حضرت ابراہیم علیہ السلام بیٹے سے ملنے ملک شام سے تشریف لے گئے۔ آپ اونٹنی پر سوار اپنے بیٹے کے گھر کے دروازے پر پہنچے۔ آپ نے آواز دی معلوم ہوا کہ حضرت اسمعیلؑ گھر پر موجود نہیں۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنی بہو سے سوال کیا بیٹی کیسی گزر رہی ہے؟ بہو نے حضرت ابراہیم علیہ السلام سے معاشی تنگی کا شکوہ کیا۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے فرمایا‘ بیٹی میں چلتا ہوں۔ اسمعیلؑ گھر آئیں تو انہیں کہہ دینا کہ شام سے ایک بابا آئے تھے۔ وہ کہہ گئے ہیں کہ تمہارے گھر کے دروازے کی چوکھٹ ٹیڑھی ہے‘ اس کو بدل دینا۔ حضرت اسمعیل علیہ السلام گھر واپس آئے تو بیوی نے یہ عجیب و غریب پیغام دیا۔ حضرت اسمعیلؑ سمجھ گئے کہ بابا کون تھے اور پیغام کیا تھا۔ آپؑ نے فرمایا‘ میں تم کو طلاق دیتا ہوں۔
کچھ مدت بعد آپ کی دوسری شادی ہوئی۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام اپنے بیٹے کو ملنے پھر تشریف لائے۔ اونٹنی پر سوار اپنے بیٹے کے گھر پہنچے‘ دروازے پر کھڑے ہو کر آواز دی۔ اندر سے آپ کی بہو تشریف لائیں۔ انہوں نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو سلام کیا اور
عرض کی کہ آپ اونٹنی سے نیچے اتریں، اندر تشریف لائیں۔ اس کے پر زور اصرار کے باوجود حضرت ابراہیم علیہ السلام اونٹنی پر سوار رہے، پوچھا بیٹی کیسی گزر رہی ہے؟ بہو بڑی صابرہ، شاکرہ، نیک اور سعادت مند تھیں، پریشان حالی اور تنگدستی کے باوجود اس نے بڑے پراعتماد لہجے میں کہا، بابا جی اللہ تعالیٰ کے کروڑوں احسان ہیں۔ ہم تو اس باری تعالیٰ کا شکر بھی ادا نہیں کر سکتے۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنی بہو سے کہا، بیٹی میں چلتا ہوں، اسمعیلؑ آئیں تو کہہ دینا کہ ملک شام سے ایک بابا آئے تھے اور وہ کہہ گئے ہیں کہ آپ کے دروازے کی چوکھٹ صحیح ہے، اس کی حفاظت کرنا۔ حضرت اسمعیل علیہ السلام کچھ دنوں بعد گھر تشریف لائے تو ان کی اہلیہ محترمہ نے بتایا کہ ملک شام سے ایک بابا سفید داڑھی، نورانی چہرہ، سبز عمامہ پہنے ہمارے گھر تشریف لائے تھے۔ میں نے بہت اصرار کیا کہ وہ اندر تشریف لائیں تاکہ میں ان کی خدمت کروں۔ مگر وہ ایک عجیب و غریب پیغام دے کر چلے گئے۔ انہوں نے کہا ہے کہ اسمعیل علیہ السلام سے کہنا کہ تیرے گھر کے دروازے کی چوکھٹ صحیح ہے، اس کی حفاظت کرنا۔ حضرت اسمعیلؑ نے فرمایا، پیغام بڑا مبارک ہے۔ آنے والے میرے والد حضرت ابراہیم علیہ السلام تھے۔ ان کے پیغام میں یہ اشارہ ہے کہ تمہاری بیوی بہت اچھی ہے، اس کی حفاظت کرنا۔ مبارک ہو! تمہارا میرا ساتھ انشاء اللہ موت تک ہوگا۔
بظاہر بڑی عجیب سی بات ہے کہ پہلی بیوی کو ایک معمولی سی بات پر طلاق دلوا دی گئی۔ حالانکہ اس نے جھوٹ نہیں بولا تھا، سچ ہی کہا تھا۔ حقیقت ہی بیان کی تھی کونسا جرم کیا تھا کہ اتنی سی بات پر اتنا بڑا قدم اٹھایا گیا۔ محققین اور اکابرین نے اس بات کی یہ حقیقت بیان کی ہے چونکہ حضرت اسمعیلؑ کے شجرہ نسب سے محبوب کائنات صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے آنا تھا۔ اس لیے پروردگار عالم کی غیرت نے گوارا نہ کیا اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کے دل میں یہ بات ڈال دی کہ ایسی عورت خانوادہ نبوت میں رہنے کے قابل نہیں جو خدا تعالیٰ کی ناشکر گزار ہو۔ یہ اہتمام قدرت اس لیے تھا کہ آقائے نامدار صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا حسب نسب اور شجرہ مبارک اس قدر پاکیزہ اور اعلیٰ ہو کہ کل کلاں کوئی اس پر انگلی نہ اٹھا سکے“۔
(”صدائے محراب“ از صاحبزادہ طارق محمود، ص ۱۴۴-۱۴۶)
حافظ عسقلانی فرماتے ہیں:
ترجمہ: ”حسب و نسب اور خاندانی شرف میں کوئی ان (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) سے بڑھ کر نہیں“۔
قیصر روم نے یوں کہا:
ترجمہ : ”پیغمبر ہمیشہ شریف خاندانوں سے ہوا کرتے ہیں“۔
خدا تعالیٰ نبوت کے منصب پر فائز کرنے کے لیے نبی کا انتخاب خود کرتے ہیں۔ جس طرح نبی پاک صاف اور طاہر ہوتا ہے اسی طرح اس کے آباء و اجداد اور شجرہ نسب بھی پاکیزہ اور صاف ستھرا ہوتا ہے۔
حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر حضور اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے والد ماجد اور والدہ ماجدہ تک جس قدر آباء و اجداد اور امہات‘ وجدات سلسلۂ نسب میں واقع ہیں وہ سب کے سب محصنین اور محصنات ہیں۔ یعنی آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے آباء و اجداد پاک دامن اور عفیف تھے۔ کوئی شخص کبھی کبیرہ گناہ کا مرتکب نہیں ہوا۔ (”صدائے محراب“ از صاحبزادہ طارق محمود‘ ص ۱۴۴)
جب کبھی بھی انبیاء پر بہتان یا الزام لگایا گیا‘ اس کی پاک دامنی کی شہادت کا انتظام رب تعالیٰ نے اپنی خاص قدرت سے فرما کر انبیاء کی عصمت کا اعلان فرمایا۔
سلسلہ نسب:
آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم حضرت ابراہیم علیہ السلام کے بڑے بیٹے حضرت اسماعیل علیہ السلام کی اولاد میں سے ہیں اور حضرت ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام کی ۶۳ ویں پشت میں ہیں۔ عدنان تک آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا سلسلہ نسب مستند ہے اور صحیح بخاری میں خود حضور سرور کونین صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی زبان اقدس سے مذکور ہے۔
حضرت ابراہیم علیہ السلام سے لے کر حضور اقدس صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تک تقریباً پونے تین ہزار سال کا فصل ہے۔ صحیح مسلم کی حدیث میں ہے کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ ”اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم کی اولاد سے اسماعیل کو برگزیدہ کیا۔ اسماعیل کی اولاد سے بنو کنانہ کو برگزیدہ کیا۔ بنو کنانہ میں قریش کو برگزیدہ کیا۔ قریش سے بنو ہاشم کو برگزیدہ کیا اور بنو ہاشم میں سے مجھے (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) ممتاز فرمایا“۔ ولله الحمد۔
سرور کونین ﷺ کے جد امجد معد بن عدنان کی حفاظت:
”جب بابل کے ظالم بادشاہ بخت نصر نے عرب پر حملہ کا ارادہ کیا تو اس وقت سید
دو عالم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے جد اعلیٰ معد بن عدنان مکہ مکرمہ کے سردار تھے۔ اللہ تبارک تعالیٰ نے اس وقت کے دو انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام حضرت حزقیل اور یرمیا کو وحی فرمائی کہ وہ مکہ مکرمہ سے معد کو نکال کر اپنی حفاظت میں لے آئیں کہ ان سے سید دو عالم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پیدا ہونا ہے"۔
("رحمت اللعالمین" از جلد ۲' ص ۴۱۰)
رسالت مابؐ کی چار پشتیں:
حضور سرور دو عالم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سلسلہ نسب اور آباء و اجداد کی طویل تاریخ ہے۔ آقائے نامدار صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے والد کا نام حضرت عبداللہ تھا۔ عبداللہ بن عبدالمطلب بن ہاشم بن عبد مناف بن قصی بن کلاب تھے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی چھٹی پشت یعنی کلاب پر جا کر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی والدہ ماجدہ کا سلسلہ نسب ملتا ہے۔ بزرگوں کا کہنا ہے کہ سرور دو عالم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی کم از کم چار پشتوں تک کے نام یاد رکھنا ضروری ہیں اور اس کا بہت ثواب ہے۔ ہر مسلمان کو چاہیے کہ وہ خود‘ اپنی اولاد اور اپنے عزیز و اقارب کو اپنے پاک پیغمبر علیہ الصلوۃ والسلام کی چار پشتوں یعنی حضرت عبداللہ‘ عبدالمطلب‘ ہاشم‘ عبد مناف کا نام ضرور یاد کرائیں۔
آنحضرتؐ کے پردادا ہاشم:
جناب رسالت ماب صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پردادا ہاشم کا اصل نام عمرو تھا۔ آپ نہایت حسین‘ بہادر‘ سخی‘ مہمان نواز اور صاحب بصیرت تھے۔ مکہ میں جب قحط پڑ گیا تو آپ نے سب سے پہلے یہ طریقہ اختیار کیا کہ شوربہ کے اندر روٹی کے ٹکڑوں کو چور کر کے ڈالا اور وہ اہل مکہ اور متاثرین کو کئی بار کھلائیں۔ ہشم کے معانی چور کرنے کے ہیں۔ اسی بنا پر آپ کا نام ہاشم پڑ گیا۔ آپ جوان رعنا تھے۔ نور نبوت آپ کی پیشانی پر چمکتا تھا۔ بنی اسرائیل حکماء اور علماء آپ کو دیکھتے تو عزت و تکریم کی خاطر انہیں سجدہ کرتے اور ان کے ہاتھ چومتے۔ قبائل عرب کے بڑے بڑے سردار اور علمائے بنی اسرائیل نکاح کے لیے اپنی بیٹیاں پیش کرتے۔ شاہ روم نے اپنی شہزادی کے رشتہ کی پیش کش کی۔ ان تمام لوگوں کی خواہش یہ
تھی کہ کسی نہ کسی طرح نور نبوت ان کی طرف منتقل ہو جائے۔ ہاشم پہلے سردار تھے جنہوں نے سال میں دو مرتبہ تجارت کا دستور جاری کیا۔ موسم گرما میں شام کی طرف اور موسم سرما میں یمن اور حبشہ کی طرف۔ ایام حج میں ہاشم حاجیوں کی بہت خاطر تواضع کرتے، انہیں گوشت، روٹی، ستو اور کھجوریں کھلاتے اور پینے کو آب زمزم دیتے۔ ہاشم تجارت کی غرض سے مدینہ ٹھہرے۔ وہاں آپ کی نظر ایک عورت پر پڑی۔ جس کا نام سلمیٰ تھا۔ وہ شرم و حیا، دیانت و شرافت، فہم و فراست کا پیکر تھی۔ ہاشم نے انہیں شادی کا پیغام بھجوایا۔ اس طرح ہاشم اور سلمیٰ کا نکاح ہوا۔ خدا تعالیٰ نے اپنے محبوب کے لیے مدینہ سے تعلق جوڑنے کے لیے یہ رشتہ جوڑا۔ ہاشم کچھ عرصہ وہاں رہے۔ سلمیٰ امید سے تھیں کہ ہاشم کا انتقال ہو گیا۔
آنحضرتؐ کے دادا عبدالمطلب:
حضرت عبدالمطلب پیدا ہوئے تو ان کے سر میں ایک سفید بال تھا، اس لیے ان کا نام شیبہ رکھا گیا۔ ہاشم کے انتقال کے بعد عبدالمطلب اور ان کی والدہ ایک عرصہ تک مدینہ منورہ میں مقیم رہے۔ جب عبدالمطلب کچھ بڑے ہوئے تو آپ کے چچا آپ کو لینے مکہ سے مدینہ گئے۔ جب انہیں لے کر مکہ میں داخل ہوئے تو عبدالمطلب اونٹنی پر سوار اپنے چچا کے پیچھے بیٹھے تھے۔ سفر کی صعوبت، چہرے پر گرد و غبار اور یتیمی کے تاثرات دونوں نمایاں تھے۔ لوگوں نے ان سے پوچھا، تمہارے پیچھے کون سوار ہے؟ تو انہوں نے حیاء کی وجہ سے کہہ دیا کہ یہ میرا غلام ہے۔ بعد ازاں آپ نے گھر پہنچ کر عبدالمطلب کو نہلایا، نئے کپڑے پہنائے تو معلوم ہوا کہ عبدالمطلب آپ کے بھتیجے ہیں۔ چنانچہ اس بناء پر آپ کا نام عبدالمطلب پڑ گیا۔ یعنی مطلب کا غلام۔ حضرت عبدالمطلب بڑے ہوئے تو قریشی سردار بنے۔ آپ حسن و جمال کا پیکر تھے۔ آپ سخاوت اور مہمان نوازی میں اپنے باپ سے بڑھے ہوئے تھے۔ آپ کا دستر خوان اس قدر وسیع تھا کہ آپ کی مہمان نوازی انسانوں سے گزر کر چرند پرند تک پہنچ گئی۔ ان کے لنگر کا یہ عالم تھا کہ جو آتا بھوکا واپس نہ جاتا۔ (”صدائے محراب“ از صاحبزادہ طارق محمود ص ۱۴۲-۱۴۰) اس لیے انہیں مطعم طیر السماء یعنی اڑتی چڑیوں کو کھلانے والا بھی کہا جاتا تھا۔ (تفسیر ”روح البیان“ جلد ۴، ص ۷۰۲، از الشیخ علامہ محمد اسماعیل حقیؒ)
یوں نور نبوت کی یہ خوشبو مختلف پھولوں کو مہکاتی ہوئی حضرت عبدالمطلب کی پیشانی پر چمکنے لگی اور اس نور کی چمک سے شاہوں کی آنکھیں چندھیا گئیں:
”چنانچہ جب ابرہہ نے سردار عبدالمطلب کے اونٹ پکڑوائے تو عبدالمطلب اپنے
اونٹ چھڑانے کے لیے اس کے سامنے گئے۔ ابرہہ ان کے چہرے اور پیشانی کی چمک دیکھ کر تخت سے نیچے اتر بیٹھا۔ روایات سے ثابت ہے کہ عبدالمطلب کی پیشانی میں جب تک یہ نور امانت تھا‘ ان کے جسم سے خوشبو آتی تھی“۔ (کذا فی المواہب)
کون عبدالمطلب؟ جن کی دعائیں قبول اور التجائیں بارگاہ خداوندی میں منظور ہوا کرتی تھیں اور اس وقت لوگ انہیں آسمان کا محبوب اور زمین کا ہر دلعزیز کہا کرتے تھے۔
ہاں۔ ہاں وہی عبدالمطلب جن کے نزدیک کعبتہ اللہ کا طواف سات مرتبہ کرنا ضروری تھا اور جن کے نزدیک ننگے ہو کر طواف کرنا‘ جیسا کہ اس وقت کا رواج تھا‘ حرام تھا۔ اور شراب خوری اور محرم عورتوں سے نکاح کرنا حرام تھا۔ اور لڑکیوں کو زندہ دفن کرنا جرم عظیم تھا۔
”غرضیکہ ان کے نظریات و عقائد اتنے مقدس و پاکیزہ تھے کہ اسلام اور شریعت مصطفیٰ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انہیں قیامت تک جاری و ساری کر دیا“۔
(”سیرت الحلبیہ“ جلد ۱‘ ص ۵‘ ”السیرۃ النبویہ“ جلد ۱‘ ص ۲۱)
ان تمام صفات مقدسہ کے علاوہ آپ نے نہ کبھی کسی لکڑی کے مجسمہ کو سجدہ کیا اور نہ ہی کسی تراشے ہوئے پتھر کو خدا تسلیم کیا۔
ابرہہ نے جب بیت اللہ شریف کو گرانے کا قصد کیا تو عبدالمطلب کعبتہ اللہ کے غلاف سے لپٹ لپٹ کر دعائیں کیا کرتے تھے اور طاقت ور دشمن کے سدباب کے لیے حق تعالیٰ شانہ کے حضور اپنی کمزوری کا اعتراف کیا کرتے تھے۔ جس روز ابرہہ نے کعبتہ اللہ پر چڑھائی کرنا تھی‘ اس روز حضرت عبدالمطلب‘ قریش کے چند آدمیوں کو لے کر کوہ شبیر پر چڑھ گئے تاکہ دیکھ سکیں کہ آج ابرہہ کے ہاتھیوں کے مقابلہ کے لیے اللہ کریم کیا ذرائع اختیار فرماتے ہیں؟ ابھی وہ یہ سوچ رہے تھے کہ اچانک آپ کی پیشانی سے نور چمکا اور وہ نور بطور ہلال کے نمودار ہو کر خوب درخشاں ہوا۔ یہاں تک کہ اس کی شعاع خانہ کعبہ پر پڑی جس سے در و دیوار روشن ہو گئے۔ آپ نے کہا اس نور کی چمک سے اندازہ ہے کہ ہم غالب رہیں گے:
”ادھر ابرہہ ہاتھیوں کے لشکر سے خانہ کعبہ کو ڈھانے کا منصوبہ بنا رہا تھا اور ادھر اللہ اپنے گھر کو بچانے کے لیے اسباب پیدا کر رہا تھا۔ حالانکہ وہ ان اسباب کے بغیر بھی ہاتھیوں کے عظیم لشکر کو تباہ کر سکتا تھا“۔ (”المواہب الدنیہ“‘ ص ۱۸‘ ”نشر الطیب“ ص ۱۶ از حکیم الامت حضرت مولانا محمد اشرف علی تھانویؒ )
بھاری بھرکم ہاتھیوں کی تباہی کے لیے اللہ تعالیٰ نے چھوٹی چھوٹی ابابیلوں کا لشکر ارسال کیا۔ اس لشکر نے آن کی آن میں ابرہہ کا غرور خاک میں ملا دیا اور اس کے زبردست لشکر کو شکست فاش ہوئی۔
مقام غور ہے:
ابرہہ اہل کتاب عیسائی تھا۔ دوسری طرف مشرکین تھے جو تین سو ساٹھ کے پجاری تھے۔ چاہیے تو یہ تھا کہ مشرکین کے مقابلے میں اہل کتاب کی نصرت و اعانت کی جاتی۔ لیکن حق تعالیٰ نے اس کے برعکس ارادہ فرمایا اور چھوٹے چھوٹے پرندوں سے ابرہہ کے وحشت ناک لشکر کو تباہ و برباد کروا دیا۔
مجاہد ختم نبوت حضرت مولانا تاج محمود صاحبؒ یہاں بڑی پیاری بات فرمایا کرتے تھے: اہل کتاب کے مقابلے میں مشرکین کی نصرت حق تعالیٰ نے اس لیے فرمائی کہ اگر ابرہہ اپنے مذموم مقاصد میں کامیاب ہو جاتا تو کعبہ شریف پر قابض ہو جاتا اور یوں کعبہ والے غلام بن جاتے۔ حق تعالیٰ کو یہ روا نہ تھا کہ جس قوم میں غلاموں کو نجات دلانے والا آ رہا ہے، اس کو غلام بنا دیا جائے۔ اور دوسرے یہ کہ دنیا والے بھی یہ جان سکیں کہ نبی کبھی غلام قوم میں پیدا نہیں ہوا کرتا۔ اہل کتاب کے مقابلے میں مشرکین کی مدد فقط آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے توسط سے تھی ورنہ ان میں تو ایسا کوئی کمال نہ تھا۔
حضرت عبدالمطلب فرماتے ہیں: ”جب ہاتھی نے مجھے دیکھا تو خر ساجدا وہ سجدے میں گر گیا اور بلند آواز سے پکارنے لگا:
السلام علی نور الذی فی ظھرک یا عبدالمطلب
کہ ”اے عبدالمطلب آپ کی پشت مبارک میں جو نور جلوہ افروز ہے، میرا اس نور کو سلام“۔ (المواہب ص ۱۸) (یہاں پشت سے مراد اولاد ہے)
”قحط کے مواقع میں عبدالمطلب کو کوہ ثبیر کے دامن میں لے جاکر آپ کے ذریعے خدائے قدوس سے بارش مانگتے تو بہ برکت نور محمدی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم بارش رحمت برستی“۔
(کذا فی المواہب)
سرور عالمؐ کے والد محترم:
"سرور عالم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے والد ماجد جناب حضرت عبداللہ اپنے کسی سفر میں ایک یہودیہ عالمہ کے پاس سے گزرے۔ اس کی نظر آپ کی پیشانی پر پڑی۔ اس نے آپ کو شادی کی دعوت دی۔ آپ نے انکار کیا اور کہا، ہم قریش اہل حرم ہیں۔ جب آپ کی شادی وہب بن عبد مناف کی بیٹی حضرت آمنہؓ سے ہوئی اور حضور اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا نور صلب محترم حضرت عبداللہ سے بطن حضرت آمنہؓ میں (امانت) منتقل ہو گیا تو ایک دفعہ حضرت عبداللہ پھر اس یہودیہ کے پاس سے گزرے اور اس کو شادی کی دعوت دی۔ اس نے انکار کر دیا اور کہا۔
"وہ نور جس کا میں نے تیری پیشانی میں نظارہ کیا تھا اب تیری پیشانی میں نہیں رہا"۔ ("کذا فی المواہب"۔ "نشر الطیب" از مولانا اشرف علی تھانویؒ )
"جس رات سید الانبیاء صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا نور پاک حضرت آمنہؓ کے بطن پاک میں منتقل ہوا تو اس رات قریش مکہ کے تمام جانور پکار اٹھے کہ رب کعبہ کی قسم محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اپنی ماں کے بطن مبارک میں منتقل ہو چکے ہیں"۔
("نزہۃ المجالس" جلد نمبر ۲، ص ۹۸، خصائص الکبریٰ، جلد نمبر ۱، ص ۴۷)
نیز:۔۔۔۔۔۔
"جب اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب پاک صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے نور پاک کو آپ کی والدہ ماجدہ حضرت آمنہؓ کے بطن مبارک میں منتقل کرنے کا ارادہ فرمایا۔۔۔ تو رضوان جنت کو حکم فرمایا کہ آج کی رات فردوس اعلیٰ کے دروازے کھول دیے جائیں اور منادی کرنے والے نے زمین و آسمان میں منادی کر دی کہ "خبردار آج کی رات نور مصطفیٰ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اپنی والدہ ماجدہ کے بطن مبارک میں قرار پا چکا ہے۔ مشرق کے جانوروں نے مغرب کے جانوروں کو بشارت دی"۔ اور "اسی طرح پانی کے رہنے والوں نے ایک دوسرے کو مبارک دی"۔ ("المواہب" ص ۲۰-۲۱)
حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ قریش کے تمام جانور بول اٹھے کہ "آج کی رات آپ ﷺ ماں کے بطن پاک میں منتقل ہو گئے ہیں۔ اور رب کعبہ کی قسم وہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ساری دنیا کے لیے امن و سلامتی کا پیغام
ہونے کے ساتھ ساتھ دنیا میں بسنے والوں کے لیے روشن چراغ بھی ہوں گے"۔
(تاریخ الخمیس)
مقام نبوت و رسالت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی عظمت‘ رفعت اور بلندی مرتبہ کی گواہی کائنات کا ذرہ ذرہ دے رہا ہے۔ کچھ آنکھوں کے اندھے اور دل کے کالے اس عشق و مستی اور محبت و محبوبیت کے نظارہ سے محروم رہے۔ تاہم کچھ بے زبان‘ زبان حال سے پکار رہے تھے:
الخلق كلهم O
سیدہ آمنہؓ کے بطن مبارک میں جب آقائے دو جہاں صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تشریف لا چکے تو اس پر سلطان ارض و سما کو اس بخت آوری پر مبارک بادوں کے پیغام آنے لگے:
حضرت آمنہؓ فرماتی ہیں کہ "حمل پاک کا پہلا مہینہ تھا تو میں نے ایک طویل قد والا آدمی دیکھا۔ اس نے مجھے کہا کہ اے آمنہؓ تجھے مبارک ہو کہ تو سید المرسلین صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے حاملہ ہے۔ میں نے پوچھا تو کون ہے؟ جواب ملا میں اس کا باپ حضرت آدمؑ ہوں"۔
پھر دوسرے مہینے حضرت شیث علیہ السلام ظاہر ہوئے اور سید الاولین و الاخرین صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو مبارک باد دی۔
تیسرے مہینے حضرت نوح علیہ السلام تشریف لائے اور نبی الکریم کہہ کر مبارک دی۔ (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم)
چوتھے مہینے میں حضرت ادریس علیہ السلام نے آکر نبی العفیف صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے لقب پاک و صاف سے مبارک پیش کی۔
پانچویں مہینے میں حضرت ھود علیہ السلام نے سید البشر صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی۔
چھٹے مہینے حضرت ابراہیم علیہ السلام نے نبی الہاشمی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی۔
ساتویں مہینے حضرت اسمعیل علیہ السلام نے حبیب رب العالمین صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی۔
آٹھویں مہینے حضرت موسیٰ علیہ السلام نے حضور ﷺ کے ذاتی اسم شریف محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی مبارک باد دی"۔
("نزہت المجالس" جلد ۲‘ ص ۹۸)
ادھر صاحب لولاک صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی عظمت کو سلامیاں پیش ہو رہی تھیں۔
ادھر بت کدوں میں زلزلے بپا ہو رہے تھے: ”ساتواں مہینہ ہوا تو شاہ کسریٰ کے محلات میں زلزلہ آیا۔ دیواریں پھٹ گئیں اور اس کے چودہ کنگرے گر گئے اور آٹھویں مہینے میں آتش کدہ فارس کی آگ یکایک بجھ گئی۔ نویں مہینے شاہ کسریٰ کے سر سے تاج گر پڑا“۔ (”نزہت المجالس“۔ ”زرقانی“۔ ”سیرت الحلبیہ“)
ہم اٹھائے ہوئے سورج کا علم آئے ہیں
اور حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی والدہ حضرت آمنہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا جب گھر میں چلتی پھرتیں تو جو بھی پتھر ان کے قدموں میں آتا موم ہو جاتا اور نور کے بادل ان کے سر اقدس پر سایہ فگن رہتے تھے۔
اور جب آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی والدہ پانی لینے کنویں پر جاتیں تو انہیں رسی اور ڈولہ کی ضرورت پیش نہ آتی تھی بلکہ پانی خود بخود کنویں کے کناروں تک آ جایا کرتا تھا“۔ (نزہت المجالس‘ زرقانی‘ سیرت الحلبیہ)
ولادت سے قبل اماں آمنہؓ فرماتی ہیں مجھے عجیب و غریب خواب نظر آتے تھے۔ اکثر مجھے نور دکھائی دیتا تھا۔ ایک روز میں نے اپنی سہیلیوں کو بتایا کہ جب سے یہ بچہ میرے بطن میں آیا ہے میں عجیب و غریب خوابیں دیکھتی ہوں۔ ان عورتوں نے کہا، بہن ان ایام میں سایہ کا اثر ہو جاتا ہے۔
توہم پرستی اس زمانے میں عام تھی۔ انہوں نے بتایا کہ ہم تو ان ایام میں لوہے کا کڑا بنا کر گلے میں پہن لیتی ہیں، تم بھی ایسا ہی کرو یہی تمہارا علاج ہے۔ سیدہ آمنہؓ فرماتی ہیں کہ میں نے ان کے کہنے پر ایک لوہے کا کڑا بنوایا اور گلے میں پہن لیا۔ پہلی ہی رات میں ایک بزرگ ہستی نورانی چہرہ، سبز عمامہ، سفید داڑھی، وجیہ شکل و صورت خواب میں نظر آئے۔ میرے قریب آ کر انہوں نے اپنی شہادت کی انگلی سے اشارہ کیا۔ ان کے اشارہ کرنے کی دیر تھی میرے گلے کا کڑا ٹوٹ کر نیچے گر پڑا۔ میں نے پریشانی کے عالم میں پوچھا، ”آپ کون ہیں؟ اور آپ نے یہ کیا ظلم کیا؟ کہ میرا کڑا توڑ دیا۔ یہ تو میرا علاج تھا“۔ فرمایا ”بیٹی میں ابراہیم خلیل اللہ ہوں اور تمہیں بشارت دینے آیا ہوں کہ تیرے بطن میں کوئی معمولی بچہ نہیں بلکہ نبیوں کا سردار ہے، امت کا دلدار ہے، آقائے نامدار ہے اور ختم نبوت کا تاجدار ہے۔ ہماری غیرت نے گوارا نہیں کیا کہ ہماری بیٹی بھی توہم پرستی کا شکار ہو جائے۔ بیٹی تیرے بطن میں وہ مقدس
ہستی ہے جو شرک کے، بدعت کے، توہم پرستی کے، فسق و فجور کے، جہالت کے، ظلم و ستم کے اور غلامی کے تمام کڑے توڑے گی۔ جب یہ دنیا میں تشریف لائیں گے تو حق کا بول بالا ہوگا"۔ ("صدائے محراب" از صاحبزادہ طارق محمود، ص۱۵۰-۱۴۹)
خوشبو کا معاملہ :
سیدہ آمنہؓ جن دنوں امانت نبوت کی امین تھیں۔ آپ سے خوشبو آیا کرتی تھی۔ مکہ کی عورتوں میں یہ بات چل نکلی کہ سردار مکہ کی بیوہ بہو نہایت قیمتی عطر استعمال کرتی ہیں۔ جب یہ بات حضرت عبدالمطلب تک پہنچی تو آپ نے اپنی اہلیہ اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دادی صاحبہ سے کہا کہ اس سلسلے میں اپنی بہو سے پوچھو اور اسے سمجھاؤ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دادی صاحبہ نے کہا کہ میں نے کئی دفعہ سوچا کہ آمنہؓ کو بلا کر پوچھوں لیکن آج کل اس کی شخصیت میں ایسا جلال ہے کہ مجھے اس سے یہ بات پوچھنے کی ہمت نہیں پڑتی۔
بالآخر ایک روز حضرت عبدالمطلب نے خود اپنی بہو کو بڑے پیار سے اپنے پاس بلایا اور پوچھا کہ بیٹی تمہیں اتنی مسحور کن خوشبو کون لا کر دیتا ہے۔ حضرت آمنہؓ کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔ فرمایا، ابا حضور میں نے تو آج تک بازار نہیں دیکھا میں بھلا بیوہ ہوتے ہوئے عطر اور خوشبو کیسے استعمال کر سکتی ہوں۔ دراصل یہ خوشبو سید کونین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تھی جو ہمیشہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے آیا کرتی تھی۔ سیدہ آمنہؓ نے حضرت عبدالمطلب سے فرمایا:
"آپ خوشبو کی بات کرتے ہیں۔ ان دنوں جو کچھ میں دیکھتی ہوں، اگر آپ کے سامنے بیان کروں تو آپ مجھے پاگل اور دیوانی کہیں گے۔ میں دھوپ پر چلتی ہوں تو بادل مجھ پر سایہ کرتا ہے۔ پہاڑوں کے پاس جاتی ہوں تو وہ مجھ سے ہمکلام ہوتے ہیں۔ دیواروں کے پاس سے گزرتی ہوں تو وہ مجھ سے باتیں کرتی ہیں۔ درختوں کے پاس سے گزرتی ہوں تو شاخیں جھک کر تعظیم کرتی ہیں۔ چاند پر نظر ڈالتی ہوں تو وہ آداب بجالاتا ہے۔ ستاروں کو دیکھتی ہوں تو وہ مجھے سلامی دیتے ہیں۔ بیت اللہ کے پاس جاتی ہوں تو وہ خوش خبری سناتا ہے۔ انتہا یہ کہ جوں جوں میرے سہاگ کی نشانی کی ولادت کے دن قریب آ رہے ہیں، اب تو جہاں میں تھوکتی ہوں وہاں سے بھی خوشبو کی لپٹیں اٹھتی ہیں۔ ("صدائے محراب" از صاحبزادہ طارق
محمود‘ ص ۱۵۱-۱۵۰ (۱۴۹-۱۵۰)
حضرت عبد الرحمان بن جوزیؒ ۔ امام ابو نعیم احمد بن عبداللہ اصفہانیؒ ‘ علامہ علی بن برہان الدینؒ ‘ علامہ یوسف نبہانیؒ ‘ امام محمد بن عبدالباقیؒ ‘ شیخ عبدالحق محدثؒ اور علامہ جلال الدین سیوطیؒ اپنی اپنی تصانیف میں لکھتے ہیں کہ
”حضرت حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں مدینہ شریف میں تھا اور میری عمر سات یا آٹھ سال کی تھی لیکن اتنی عقل ضرور تھی کہ جو بات سنتا تھا اسے سمجھ لیا کرتا تھا۔۔۔۔ ایک دن میرے کانوں میں ایک آواز آئی۔ میں باہر نکلا۔۔۔۔ ایک یہودی پہاڑ پر چڑھ کر بلند آواز سے پکار رہا تھا کہ ”آج رات احمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا ستارہ طلوع ہو چکا ہے اور آج رات وہ پیدا ہو گیا ہے“۔
ابو نعیم کی روایت میں اختلاف کے ساتھ کچھ یوں ہے کہ اس یہودی نے پکارا کہ ”آج رات احمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا ستارہ طلوع ہو گیا ہے اور یہ ستارہ اسی وقت طلوع ہوتا ہے جب کسی نبی کی ولادت ہو اور اب احمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سوا اور کوئی نبی باقی نہیں“۔ (کتاب ”الوفا“ جلد ۱‘ ص ۹۱۔ ”دلائل النبوۃ بیہقی“ جلد ۱‘ ص ۹۱۔ ”سیرت الحلبیہ“ جلد ۱‘ ص ۱۱۲۔ ”انوار المحمدیہ“ ص ۱۷‘ ”زرقانی“ جلد ۱‘ ص ۱۲۰‘ ”ماثبت من السنۃ“ ص ۵۴۔ ”خصائص الکبریٰ“)
ازل سے آنکھیں ترس رہی تھیں وہ کنز مخفی دکھائی دیتا
علماء کرام فرماتے ہیں کہ ”آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی ولادت باسعادت کی رات‘ شب قدر سے افضل ہے“۔ (”المواہب“ ص ۲۸)
خطیب بغدادی روایت کرتے ہیں کہ حضرت آمنہؓ فرماتی ہیں کہ ”جب آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا ظہور پرنور ہو رہا تھا میں نے ایک بادل‘ عظیم الشان نور والا دیکھا جس میں گھوڑوں کے ہنہنانے کی آوازیں اور پروں کے پھڑکنے کی آواز اور انسانوں کے کلام کی آواز آ رہی تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو مجھ سے غائب کر لیا گیا۔ میں ایک منادی کی آواز سن رہی ہوں جو آواز کرتا ہے کہ
”جناب محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو زمین کے مشرق و مغرب‘ بحر و بر پر پھیرو اور ہر روحانی جن ہو انسان فرشتے ہوں یا پرندے اور وحوش پر پیش کرو۔ ان کو آدمؑ
کی صورت دو‘ شیث ؑ والی معرفت‘ نوح ؑ والی شجاعت‘ ابراہیم ؑ والے اخلاق‘ اسماعیل ؑ والی زبان‘ اسحاق ؑ والی رضا‘ صالح ؑ والی فصاحت‘ لوط ؑ والی حکمت‘ یعقوب ؑ والی بشارت‘ موسیٰ ؑ والا جلال‘ ایوب ؑ والا صبر‘ یونس ؑ والی اطاعت‘ یوشع ؑ والا جہاد‘ داؤد ؑ والی خوش الحانی‘ دانیال ؑ والی محبت‘ الیاس ؑ والا وقار‘ یحییٰ ؑ والی عصمت‘ عیسیٰ ؑ والا زہد اور تمام نبیوں کے اخلاق میں انہیں ڈبو دو“۔
حضرت آمنہؓ فرماتی ہیں کہ پھر وہ نورانی بدلی چھٹ گئی۔ میں دیکھتی ہوں کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ہاتھ میں سبز ریشم تہہ شدہ جس سے پانی نچڑ رہا ہے اور اچانک ایک کہنے والا کہتا ہے۔
واہ! واہ! محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے تو ساری دنیا پر قبضہ کر لیا۔ کوئی مخلوق نہیں رہی جو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے قبضہ میں نہ آگئی ہو۔ پھر میں نے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو دیکھا تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم چودھویں کے چاند ہیں اور آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خوشبو خالص کستوری کی طرح مہک رہی ہے اور تین آدمی آگئے۔ ایک کے ہاتھ میں چاندی کا لوٹا‘ دوسرے کے ہاتھ میں زمرد کا طشت اور تیسرے کے ہاتھ میں سفید رنگ کا حریر ہے۔ جس کو کھولا اور اس میں سے ایک انگوٹھی نکالی جس کو دیکھ کر ناظرین کی آنکھیں خیرہ ہو جائیں۔ پھر اس لوٹے سے اس کو سات مرتبہ دھویا پھر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے کندھوں کے درمیان مہر لگا دی اور ریشم سے اس کو لپیٹ دیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو اٹھایا اور مجھے واپس کر دیا“۔ (حوالہ مذکور ”شان رسالت“ مؤلفہ حضرت مولانا محمد ایوب ہاشمی‘ ص۳۹-۳۷)
حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ:
”ایک یہودی مکہ معظمہ میں سکونت رکھتا تھا۔ جس شب رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی ولادت باسعادت ہوئی مکہ کے لوگوں سے پوچھ رہا تھا کہ کیا آج تمہارے اندر کوئی بچہ پیدا ہوا ہے؟ ہم نے کہا‘ ہمیں خبر نہیں۔ اس نے کہا‘ تم پوچھو کیوں؟ کیونکہ آج رات اس امت کا نبی پیدا ہو چکا ہے جن کے دو کندھوں کے درمیان علامت (مہر ختم نبوت) ہے۔ چنانچہ تحقیق سے معلوم ہوا کہ عبداللہ بن عبدالمطلب کے گھر ایک بچہ پیدا ہوا ہے۔ یہودی وہاں گیا اور سرور عالم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو دیکھ کر کہا‘ افسوس! آج نبوت بنی اسرائیل میں سے چلی گئی“۔ (”مجمع الزوائد“ جلد ۸‘ ص ۲۳۴)
بیہقی نے عثمان بن العاص کی ماں فاطمہ بنت عبداللہ سے روایت کی ہے۔ وہ کہتی ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی پیدائش کے وقت میں وہاں موجود تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب پیدا ہوئے تو میں نے دیکھا سارا گھر نور سے بھر گیا اور ستارے اس قدر قریب آ گئے تھے کہ اس امر کا گمان ہوا کہ یہ تارے اب گر پڑیں گے۔ (”معجزات رسول“ از
سحبان الہند مولانا احمد سعید دہلوی‘ ص ۱۵۸)
صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم نے رسول مقبول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے پوچھا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اپنی ذات کے متعلق کچھ ارشاد فرمائیے اور ہمیں بتائیے۔ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ
”میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کی دعا ہوں اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی بشارت ہوں اور اپنی والدہ ماجدہ کا وہ خواب ہوں جو انہوں نے اس وقت دیکھا جب وہ میرے نور پاک سے حاملہ تھیں۔ پھر ان سے ایک نور نکلا کہ انہیں اس کی روشنی میں شام کے محلات بھی نظر آئے“۔ (”زرقانی“ جلد ۱‘ ص ۱۱۶‘ ”خصائص الکبریٰ“ جلد ۱‘ ص ۱۱۴‘ ”دارمی شریف“ جلد ۱‘ ص ۱۷‘ ”ابن سعد“ جلد ۱‘
ص ۹۲‘ ”مستدرک حاکم“ جلد ۲‘ ص ۶۰۰)
یعنی حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی پیدائش کے وقت حضرت آمنہ سے ایک نور ظاہر ہوا کہ ملک شام کے دیار و امصار اس سے روشن ہوگئے۔
دراصل حضرت آمنہ کو دو دفعہ نور نظر آیا۔ ایک بار خواب میں جب آپ حاملہ ہوئیں اور دوسری بار وضع حمل کے وقت۔ چنانچہ سیدہ آمنہ نے فرمایا کہ
”جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی پیدائش کا وقت قریب آیا اور حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم میرے بدن سے جدا ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے ایک نور نکلا جس کے باعث مشرق و مغرب تک روشنی پھیل گئی اور بصریٰ شہر جو ملک شام میں ہے‘ اس کے محل نظر آنے لگے اور اس شہر کے اونٹوں کی گردنیں بھی دکھائی دینے لگیں“۔ (”تاریخ البدایہ“ ابن کثیر‘ باب صفت مولدہ)
واضح رہے کہ یہ نور جو حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی پیدائش کے وقت ظاہر ہوا اس سے جناب سید المرسلین صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی فضیلت‘ بزرگی‘ شان‘ مقام‘ مرتبہ اور اعلیٰ صفات کا پتہ چلتا ہے۔ اور یہ نور عبارت ہے اس سے کہ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم
کے نور نبوت سے مشرق اور مغرب میں اجالا ہو گا اور ظلمت اور ضلالت مٹے گی۔ کعب بن احبار سے منقول ہے کہ سابقہ کتابوں میں امام الانبیاء سرور کونین صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی شان میں جہاں اور بہت سی باتیں کہی گئی ہیں‘ وہاں ایک بات یہ بھی کہی گئی ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی ولادت مکہ میں ہو گی‘ ہجرت مدینہ میں ہو گی اور حکومت اور سلطنت شام میں ہو گی۔ یہ امر واقع ہے کہ شام آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی زندگی میں فتح ہوا اور دین اسلام کا پرچم وہاں لہرایا گیا۔
یہ بات بھی خصوصیت کی حامل ہے کہ علاقہ شام میں سب سے پہلے بصرہ فتح ہوا۔ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی ولادت باسعادت کے وقت نور کا ظاہر ہونا ملک شام اور مشرق و مغرب پر اس حقیقت کی دلیل تھا کہ نور نبوت (دین اسلام کی روشنی میں) سب سے پہلے شام کو منور کرے گا اور پھر مشرق و مغرب کو۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا کہ نور نبوت (اسلام کی روشنی) سے پہلے بصرہ‘ شام اور پھر عرب و عجم جگمگا اٹھے۔
حضرت عبدالمطلب فرماتے ہیں کہ میں امام الانبیاء صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی ولادت کی رات خانہ کعبہ کا طواف کر رہا تھا۔ میں نے دیکھا کعبہ سجدہ میں گر گیا ہے اور کعبہ سے آواز آئی:
ان آمنہ قد ولدت محمداً صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
کہ ”حضرت آمنہؓ کے ہاں محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پیدا ہو گئے“۔
الا وقد ولد النبی اخر الزمان
”خبردار آخری نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پیدا ہو گئے ہیں“۔ (بتوں کے اندر جنات کے مسکن ہوا کرتے تھے۔ لہٰذا بت کے اندر سے آنے والی آواز جن کی ہی ہوگی۔)
ونور نورہ الی المشرق والمغرب
”اور اسی کا نور مشرق و مغرب میں پھیل گیا ہے“۔ (”نزہت المجالس“ جلد ۲‘ ص ۹۸۔ ”معارج النبوت فارسی“۔ ”شواہد النبوت فارسی“ ص ۲۲)
علامہ ابن حجر عسقلانی فرماتے ہیں:
”سید دو عالم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی تشریف آوری کے اشارے ہر طریقے سے ظاہر ہو رہے تھے کاہن اور نجوم کے ماہر انس اور جنات بھی اطلاع دے رہے تھے“۔ (”فتح الباری“ جلد ۱‘ ص ۳۹)
جیسا کہ بخاری شریف میں ہے کہ ہرقل نے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ظہور قدسی کو اپنے علم نجوم اور کہانت کے ذریعے سے معلوم کر لیا تھا کہ سید دو عالم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا ظہور ہو چکا ہے۔
آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی بعثت مبارکہ اور آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا مقام اور مرتبہ اتنی وضاحت اور تفصیل سے کتب سابقہ میں مذکور ہو چکا تھا کہ علم الیقین اور اتمام حجت کا درجہ حاصل کر چکا تھا۔ شاہان تخت نشین اور راہبان گوشہ نشین، آفتاب نصف النہار کی طرح آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی منزلت سے واقفیت حاصل کر چکے تھے۔
علامہ ابن تیمیہؒ اور آپ کے شاگرد رشید علامہ ابن قیمؒ نے باوجود تشدد فی الجرح و التعدیل کے روایت لکھی ہے کہ:
"ہشام بن العاص اور نعیم بن عبداللہ اور ایک تیسرے آدمی، جن کا انہوں نے نام نہیں لیا، تینوں حضرات کو حضرت صدیق اکبرؓ کی خلافت میں شاہ روم کے پاس بھیجا گیا۔ وہ کہتے ہیں کہ ہم جبلتہ الایہم کے پاس گئے۔ اس وقت وہ مقام غوطہ میں تھا۔ ان تینوں کو بادشاہ کے پاس لے گئے۔ بادشاہ کے پاس سنہرا معطر صندوقچہ تھا جس میں چھوٹے چھوٹے خانے بنے ہوئے تھے۔ اس نے ایک خانہ کھولا جس سے سیاہ ریشم کا ٹکڑا نکالا۔ اس میں سفید رنگ کی تصویر تھی۔ جس کے بارے میں اس نے کہا کہ یہ آدمؑ کی تصویر ہے۔ پھر دوسرا خانہ کھولا اس میں سے بھی ریشم کا ٹکڑا نکالا، اس میں نوحؑ کی تصویر تھی۔ اس کے بعد ابراہیمؑ کی تصویر نکالی۔ اس کے بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی تصویر دکھائی اور کہا یہ سب سے آخری ہے۔ میں نے اس کو جلدی اس لیے کھولا ہے تاکہ تم سے پوچھوں۔ اس کے بعد اور خانے کھولے اور باقی انبیاء علیہم السلام کی تصویریں دکھائیں اور کہا یہ ہمارے ہاں حضرت آدمؑ کے زمانے سے چلی آ رہی ہیں"۔
(الجواب الصحیح، جلد ۳، ص ۲۷۴) یہ واقعہ "زرقانی شرح مواہب الدنیہ" جلد ۶، ص ۲۰۳ پر بھی مذکور ہے۔
اور علامہ ابن کثیرؒ نے سورۂ اعراف کی تفسیر میں لکھ کر فرمایا ہے کہ لا باس بہ مفسر ابو السعود "جو ۸۹۶ھ میں پیدا ہوئے اور اپنے عہد کے قاضی القضاۃ تھے۔ اپنی مشہور تفسیر میں تابوت سکینہ کے بارے میں رقم طراز ہیں:
"ارباب الاخبار فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت آدمؑ پر ایک تابوت
(صندوق) نازل فرمایا جس میں انبیاء کرام کی تصویریں تھیں اور وہ عمدہ خوشبودار لکڑی سے بنا ہوا تھا، جو تین گز لمبا اور دو گز چوڑا تھا۔ جو آدمؑ کے پاس ان کی وفات تک رہا اور پھر ان کی اولاد کے پاس یکے بعد دیگرے وراثت میں ملتا ہوا حضرت یعقوبؑ تک پہنچ گیا اور اس کے بعد موسیٰ علیہ السلام کو مل گیا"۔
("الجواب الصحیح" جلد ۱‘ ص ۱۸۳)
نیز۔۔۔۔۔۔
”مغیرہ بن شعبہ سے روایت ہے کہ جب وہ سکندریہ کے بادشاہ مقوقس کی خدمت میں حاضر ہوئے جو نصاریٰ کا بادشاہ تھا تو اس بادشاہ نے ان کے لیے انبیاء کی تصویریں نکالیں اور ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی تصویر بھی نکالی۔ پس اس نے ان (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کی تصویر کو پہچان لیا“۔ ("الجواب الصحیح" جلد ۳‘ ص ۲۷۵)
اسی طرح حضرت امام بخاریؒ نے اپنی تاریخ میں حضرت جبیرؓ سے روایت کی ہے کہ ”میں نے جب آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی بعثت کا مکہ معظمہ میں سنا تو میں ملک شام کی طرف نکل گیا۔ جب مقام بصرہ پر پہنچا تو نصاریٰ کی ایک جماعت میرے پاس آگئی اور پوچھا کہ تو اہل حرم سے ہے؟ میں نے کہا‘ ہاں۔ انہوں نے کہا: اس مدعی نبوت کو پہچانتا ہے؟ میں نے کہا‘ ہاں۔ انہوں نے میرا ہاتھ پکڑ لیا اور ایک گرجے میں لے گئے جس میں کچھ تصویریں تھیں۔ مجھ سے کہا ذرا غور کر‘ ان تصویروں میں کوئی تصویر اس نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جیسی ہے۔ میں نے دیکھا مجھے ان جیسی کوئی تصویر نظر نہ آئی۔ میں نے کہا‘ ان میں ان جیسی کوئی تصویر نہیں۔ اس کے بعد مجھے دوسرے گرجے میں لے گئے جہاں زیادہ تصویریں تھیں۔ مجھ سے کہا: ان میں کوئی تصویر ان جیسی ہے؟ میں نے غور کیا تو ایک تصویر ان جیسی نظر آئی بلکہ ایک تصویر ابوبکرؓ جیسی بھی نظر آئی۔ جس نے پہلی تصویر کے پاؤں پکڑے ہوئے تھے۔ چنانچہ انہوں نے کہا پہلی تصویر والے تمہارے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہیں اور پاؤں پکڑنے والے ان کے بعد ان کے خلیفہ ہیں“۔
("الجواب الصحیح" جلد ۲‘ ص ۲۷۳)
روایت ہے کہ حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے پیدا ہوتے ہی سجدہ کیا اور رب تعالیٰ سے اپنی امت کی بخشش کی دعا یوں کی:
رب ہب لی امتی
”یا رب میری امت کو بخش دے“۔
سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی ولادت کا دن بڑی خوشی اور مسرت والا دن تھا۔ حضرت ثوبیہ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے حقیقی چچا ابولہب کی کنیز اور لونڈی تھیں۔ آپ نے جاکر ابولہب کو آمنہؓ کے لالؐ کی ولادت کی خوشخبری سنائی تو ابولہب نے اسی وقت اپنی اس کنیز ثوبیہ کو اس خوشی میں آزاد کر دیا۔ حضرت آمنہؓ کے بعد حضرت ثوبیہ دوسری عورت تھیں جنہوں نے سرکار دو جہاں صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو دودھ پلانے کا شرف حاصل کیا۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے چچا حضرت امیر حمزہؓ کو بھی ثوبیہ نے دودھ پلانے کا شرف حاصل کیا۔ اسی بناء پر حضرت حمزہؓ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے چچا اور رضاعی بھائی تھے۔ حضرت ثوبیہ کی شان اور مقام کا اندازہ اس سے لگایا جاسکتا ہے کہ ابولہب کے مرنے کے بعد حضرت عباسؓ نے ابولہب کو خواب میں دیکھا۔ پوچھا ”کیا حال ہے؟“ اس نے کہا ”میں بہت تنگی اور تکلیف میں ہوں۔ ثوبیہ کو آزاد کرنے کے صلے میں ہاتھ کی جس انگلی سے اشارہ کرکے اسے آزاد کیا تھا‘ اس کے برابر مقدار میں پانی پلا دیا جاتا ہے“۔ (فتح الباری۔ صحیح بخاری)
ایک دوسری روایت میں ہے کہ ابولہب نے کہا میں نے تمہارے بعد کوئی راحت نہیں دیکھی۔ بس ہر دو شنبہ کو عذاب میں تخفیف ہو جاتی ہے۔ دو شنبہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی ولادت کا دن ہے اور اس دن اس نے نیکی کا یہ کام کیا تھا کہ اپنی لونڈی کو آقائے نامدار صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی پیدائش کی خوشی میں آزاد کر دیا تھا۔
آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی ولادت باسعادت کے فیض سے غلامی میں جکڑی ہوئی ثوبیہ نے آزادی حاصل کی۔
آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی والدہ محترمہ فرماتی ہیں کہ مجھے حمل کے ایام میں کہا گیا کہ جب یہ پیدا ہوں تو یوں کہنا:
اعیذہ بالواحد من شر کل حاسد
ترجمہ: ”میں ان کو اللہ وحدہ کی پناہ میں دیتی ہوں‘ ہر حاسد کے شر سے“۔ اور ان کا نام محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم رکھنا“۔ (سیرت ابن ہشام)
حضرت عبدالمطلب حطیم کعبہ میں تشریف فرما تھے۔ جب حضور سرور کائنات صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی ولادت کی اطلاع انہیں ملی تو فوراً اٹھے‘ گھر تشریف لائے۔ اپنے مرحوم بیٹے
عبداللہ کی نشانی کو پیار کیا اور دو جہانوں کے شہنشاہ نومولود پوتے کو اٹھا کر کعبتہ اللہ لے آئے۔ اس عطائے نعمت پر خدا کا شکر ادا کیا اور دعا فرمائی۔
آج سے ہزاروں برس قبل پیکر رحم و کرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے جد امجد حضرت ابراہیم خلیل اللہ نے کعبتہ اللہ تعمیر کر کے جس ہستی کے لیے دعا فرمائی تھی، آج اس دعا کی عملی صورت میں آقائے دو جہاں صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم آپ کی گود میں تھے۔
حضرت عبدالمطلب نے اپنی بہو سیدہ آمنہؓ سے فخر کائنات صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا نام رکھنے کے بارے میں پوچھا۔ آپؓ نے فرمایا میں اس بچے کے انوار و برکات دیکھ کر محسوس کرتی ہوں کہ میرے دل پر میرا اختیار نہیں۔ مائیں اپنے ہونے والے لاڈلوں کے بے شمار نام سوچتی ہیں۔ لیکن میری عجیب حالت ہے۔ آکاش ذہن پر صرف نام ”محمد“ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہی آتا ہے۔
ملا علی قاریؒ نے کیا خوب فرمایا ہے:
الاسماء تنزل من السماء
”نام آسمان سے اترتے ہیں“۔ (شرح مقدمہ مشکوۃ)
حضور علیہ الصلوۃ والسلام کے اسم گرامی کا معاملہ بعینہ یہی تھا۔
محمد کا اصل مادہ حمد ہے۔ حمد کے معنی تعریف کے ہیں۔ کسی کے اخلاق حمیدہ و اوصاف پسندیدہ، محاسن و کمالات، فضائل و مناقب کو محبت و عقیدت کے ساتھ بیان کرنا حمد کہلاتا ہے۔
لفظ ”محمد“ جو تحمید کا اسم مفعول ہے، اس کے معانی بزرگوں نے یہ بیان کیے ہیں کہ وہ ذات اقدس جس کے حقیقی فضائل و خصائل کو کثرت سے بار بار بیان کیا جائے۔ پس محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم وہ ذات شریف ہیں جن کی سب سے زیادہ تعریف بیان کی گئی ہے۔
امام بخاریؒ فرماتے ہیں کہ روایت ہے کہ حضرت ابو طالب حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی شان میں یہ شعر پڑھا کرتے تھے۔
فذو عرش محمود وهذا محمد
ترجمہ: ”خدا تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی عزت افزائی کے لیے اپنے نام کے ساتھ آپ کا نام مبارک نکالا۔ پس عرش والا محمود اور آپ تعریف کیے گئے ہیں“۔ (تاریخ صغیر)
علمائے لغت اور محققین نے اسم پاک ”محمد“ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے مختلف معانی لکھے
ہیں ۔ مختصر لفظوں میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ لفظ ”محمد“ کے معنی مجموعہ خوبی ہیں۔ محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا ترجمہ بھی کیا گیا ہے کہ جس کی تعریف کبھی ختم نہ ہو ۔ تعریف کے بعد تعریف‘ توصیف کے بعد توصیف ہوتی رہے‘ جس کی تعریف و توصیف بے اختیار کی گئی ہو اور جس کا جز جز قابل تعریف ہو ۔
چوتھی صدی ہجری کے محدث حافظ ابن بکیر بغدادی نے محمد اور احمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے فضائل پر ایک مستقل کتاب لکھی ہے ۔ عربی لغت کی مشہور کتاب ”قاموس“ میں ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم وہ ہیں جن کی تعریف بار بار ہوتی ہے اور کبھی ختم نہیں ہوتی۔
الذي يحمد مرة بعد مرة (قاموس)
لغت کی مشہور کتاب ”منتہی الادب“ میں حمد کے معانی حق ادا کرنے کے بھی لکھے ہیں۔ حمد کا ایک معنی قضاء الحق بھی ہے ۔ جس کا مطلب کمال کی انتہا تک پہنچنا ہے اور محمد کا معنی کمال کی انتہا کو پہنچا ہوا ۔ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم ۔
اس سے معلوم ہوا کہ اسم محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم میں ختم نبوت کا تصور موجود ہے ۔
قاضی عیاضؒ اور حافظ سید الناس عیون الاثر فرماتے ہیں کہ :
”اللہ تعالیٰ نے عرب و عجم کے دلوں پر اور زبانوں پر ایسی مہر لگا دی کہ کسی کو (حضورؐ سے قبل) محمد اور احمد (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) نام رکھنے کا خیال تک نہیں آیا ۔ اسی بناء پر تو قریش نے متعجب ہو کر سردار مکہ حضرت عبد المطلب سے سوال کیا تھا کہ یہ منفرد نام آپ نے کیوں منتخب کیا“ ۔ (”الشفاء“ جلد ۱، ”فتح الباری“)
لیکن جب آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ظہور قدسی کا زمانہ قریب آیا تو علماء بنی اسرائیل کے علاوہ کاہنوں اور نجومیوں نے اس نام کو بہت مشہور کر دیا ۔ بعض لوگوں نے اس امید پر اپنے بیٹوں کے نام محمد اور احمد رکھنے شروع کر دیے لیکن بعض روایتوں میں ان ناموں کی تعداد چھ یا سات سے زیادہ نہیں مگر حکمت خداوندی ملاحظہ ہو کہ پروردگار عالم نے اسم محمد کی کس طرح حفاظت فرمائی کہ ان میں سے کسی نے دعویٰ نبوت نہیں کیا۔
اسم محمد و احمد کا خلاصہ یہ ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم تمام کائنات سے زیادہ تعریف و مدحت کے لائق اور مستحق ہیں اور سب سے زیادہ اور سب سے اچھی ستائش و عقیدت اور تعریف کے حق دار بلامبالغہ فقط آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم ہی کی ذات گرامی ہے۔
محبوبیت اسم محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم:
امام مالک نے فرمایا ہے کہ ”اہل مکہ کے ہاں یہ بات مشہور ہے کہ جس گھر میں محمد نام والا ہوتا ہے، وہ گھرانہ پھلتا پھولتا ہے اور ان کو اور ان کے پڑوسیوں کو رزق زیادہ دیا جاتا ہے۔“۔ (”الشفاء“ ص ۱۰۵)
چنانچہ بعض خاندانوں میں تو مسلسل ”محمد“ ہی نام رکھا جاتا ہے اور رکھا گیا ہے۔ جیسا کہ تیونس کے ایک عالم باعمل ایمن ابوالبرکات محمد بن محمد بن محمد بن محمد بن محمد بن محمد بن محمد بن محمد بن محمد بن محمد بن محمد بن محمد بن محمد (چودہ پشت تک محمد ہی نام رکھا) نے مدینہ میں کافی زمانہ گزارا جب وہاں سے جانے کا ارادہ کیا تو سید دوعالم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے خواب میں فرمایا کہ تو نے کس طرح ہماری جدائی گوارا کرلی۔ چنانچہ واپس لوٹے اور وہیں ۷۲۴ھ میں انتقال فرمایا“۔ (”رحمت“ ص ۲۵۶)
”سمرقند کے شہر ”ماکر دین“ میں ایک قبرستان ہے جس کا نام ”تربۃ المحمدین“ ہے۔ یعنی اس قبرستان میں صرف انہی اموات کو دفن کیا جاتا ہے جن کا نام محمد ہو۔ چنانچہ چھٹی صدی ہجری تک اس قبرستان میں چار سو سے زائد صاحب تصنیف و افتاء اہل علم مدفون تھے۔ جب ۵۹۳ھ میں شیخ الاسلام برہان الدین مرغینانی ”صاحب ہدایہ“ کا انتقال ہوا تو ان کو بھی اس قبرستان میں دفن کرنے کی اجازت نہ دی گئی کہ ان کے نام میں محمد کا مبارک کلمہ نہیں۔ چنانچہ ان کے قریب ہی اس قبرستان کے باہر دفن کر دیا گیا“۔ (”الجواہر“ جلد ۱، ص ۴)
حدیث شریف میں ہے کہ جس کا نام محمد ہے وہ دوزخ میں نہیں جائے گا“۔
(”مقدمہ الہدایہ“ ص ۲)
قاضی عیاضؒ نے فرمایا: ”قیامت کے دن ایک اعلان ہو گا جس کے نام میں ”محمد“ کا کلمہ موجود ہے وہ جنت میں چلا جائے“۔ (”الشفاء“ جلد ۱، ص ۱۰۵)
تحفظ عصمت اسم محمد ﷺ :
علامہ ابن حجر عسقلانیؒ فرماتے ہیں: ”قریش مکہ میں سے کافر لوگ سید دوعالم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا اسم گرامی محمد’
اپنی زبان سے نہ لیتے تھے کہ اس میں تعریف اور مدح کا ظہور ہے۔ بلکہ جب وہ کوئی بات سید دوعالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے متعلق کہنا چاہتے تو یوں کہتے۔ فعل اللہ بمذمم کذا۔ تو سید دوعالم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس اسم مبارک کے تحفظ کی ایک صورت یہ بیان فرمادی کہ میں تو محمدؐ ہوں اور وہ مذمم کی بات (برا بھلا کہتے ہیں) کرتے ہیں“۔ (”فتح الباری“ جلد ۲، ص ۳۰۷)
حضور انور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے اسم گرامی میں وہ محبوبیت اور کشش ہے جو دوسرے کسی نام میں نہیں۔ آج دنیا میں جس نام کو عزت، محبت اور کثرت سے لیا جاتا ہے وہ صرف اور صرف اسم محمد ہے۔ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم۔
حتیٰ کہ قبر میں بھی جب سچے مسلمان سے حضور سید دوعالم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے متعلق پوچھا جائے گا تو وہ تین بار یوں کہے گا: محمدؐ ، محمدؐ ، محمدؐ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم۔ حالانکہ ایک بار کہنا بھی کافی ہو سکتا ہے۔ مگر اس اسم مبارک کے تین بار کہنے کی وجہ شاہ عبدالحق محدث دہلویؒ کے فرزند ارجمند شاہ نور الحقؒ نے یہ بیان فرمائی ہے:
”یہ مسلمان اس مبارک نام کو تین بار کہے گا یا تو تاکید کے لیے اور یا اس لیے کہ اسے اپنے محبوب کا نام لینے میں ایمانی لذت حاصل ہو گی“۔ (”تیسیر القاری“ جلد ۱، ص ۵۲)
علی حبیبک خیر الخلق کلہم
آقا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی جسمانی نشوونما:
عرب کا دستور تھا کہ شرفاء عرب اپنے نومولود بچوں کو دیہات میں بھیج دیتے تھے تاکہ بچے کھلی فضا میں جسمانی نشوونما کے علاوہ عرب کی فطری صلاحیتوں سے مالا مال ہوں۔ بطور خاص زبان میں فصاحت و بلاغت پیدا ہو اور شجاعت کا عنصر غالب ہو۔ چنانچہ سال میں دو مرتبہ قبائل عرب سے عورتیں مکہ آتیں اور کھاتے پیتے بچوں کو ہمراہ لے جاتیں۔ ۵۷۱ء میں بھی قبائل عرب سے اس سلسلہ میں ایک کارواں نے مکہ کا رخ کیا۔ تیز رفتار سواریوں والیاں آگے نکل آئیں۔ ہر ایک کی خواہش یہی ہوا کرتی تھی کہ
نوابوں اور سرمایہ داروں کے بچے حاصل کریں تاکہ زیادہ سے زیادہ اجرت اور معاوضہ حاصل ہو۔ اسی دھن میں تیز رفتار سواریوں پر سوار دائیاں مکہ پہنچیں۔
حضرت حلیمہ سعدیہؓ ایک مفلس اور غریب خاتون تھیں۔ ان کی سواری بھی لاغر اور کمزور تھی، جو آہستہ آہستہ چلی آ رہی تھی۔ دل میں یہ قلق تھا کہ مجھ نادار اور مفلس کو کون اپنا لخت جگر دے گا۔ مائی حلیمہؓ فرماتی ہیں کہ میری چھاتیوں میں اتنا دودھ نہیں تھا کہ کوئی بچہ سیر ہو سکتا۔ اونٹنی بھی ایک قطرہ دودھ نہ دیتی تھی۔ آپؓ فرماتی ہیں کہ میں اور میرا شوہر حارث رات رات بھر بھوک کی وجہ سے سو نہ سکتے تھے۔
ادھر سیدہ آمنہؓ پریشان اپنے گھر میں بیٹھی تھیں۔ جو دائیاں پہلے مکہ پہنچیں تھیں، امراء کے بچے لے کر چلنے کو تھیں۔ کسی نے عبداللہ کے یتیم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سر پر ہاتھ نہ رکھا۔ باپ سر پہ نہیں، یتیم ہے، ماں کے گھر میں چراغ نہیں، غربت و افلاس کا سایہ ہے، اجرت کون دے گا۔
سیدہ آمنہؓ حسرت و یاس کی تصویر بنے سر جھکائے بیٹھی تھیں کہ گلی میں کسی نے صدا دی:
”کسی کے پاس کوئی بچہ ہے تو مجھے دے۔ میں اسے پیار سے دودھ پلاؤں گی، محبت سے گلے لگاؤں گی اور شفقت سے اس کے بوسے بھی لوں گی اور دوسری دائیوں کے مقابلے میں اجرت بھی کم لوں گی!“
یہ صدا حضرت حلیمہ سعدیہؓ کی تھی: دونوں بے سہارا اور دکھی مقدساؤں کے مقدر پر یزداں مسکرا رہا تھا۔
حضرت آمنہؓ نے آواز سنی تو بے قرار دل کو قرار آیا۔ آواز دی: ”بی بی اندر آ جا“۔
حلیمہ سعدیہؓ فرماتی ہیں کہ ”جب میں نے محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو دیکھا اور پھر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سینہ اقدس پر ہاتھ رکھا تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مسکرائے۔ چشم مبارک کھولیں۔ میری طرف دیکھا اور میں نے محبت سے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی پیشانی مبارک چوم لی“۔
(”المواہب“ ص ۲۹)
حلیمہؓ نے سید المرسلین صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو اپنے پھٹے ہوئے دامن میں چھپا لیا۔ سینے سے لگا لیا اور اپنی سست رفتار، لاغر، کمزور اونٹنی پر بٹھا لیا۔ لیکن سرور دو جہاں صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی برکت سے اس کی کمزوری دور ہو گئی اور اس میں برق رفتاری پیدا ہو گئی۔ پہلے چلتی نہیں تھی، اب رکتی نہیں۔ چند ہی لمحوں میں حلیمہ سعدیہؓ کی اونٹنی نے اپنے سے پہلے چلنے والیوں کو پا لیا بلکہ آگے بڑھنے لگی۔ دوسری دائیوں نے پوچھا: ”حلیمہؓ سواری
بدل گئی؟" کہا "نہیں! سوار بدل گیا"۔
دونوں عالم کی برکت و رحمت حلیمہ کے ٹوٹے ہوئے کھجوری چھپر میں آئی تو اس کی غربت جاتی رہی، مفلسی غائب ہو گئی، سوکھی ہوئی بکریاں دودھ دینے لگیں اور فرشتے اس چھپر کا طواف کرنے لگے۔
روشن چراغ:
علامہ محدث جوزیؒ لکھتے ہیں:
”حلیمہ سعدیہ فرماتی ہیں کہ جب میں سید الانبیاء صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو رات کے اندھیرے میں دودھ پلاتی تھی تو مجھے چراغ کی ضرورت نہیں رہتی تھی"۔
(بیان المیلاد النبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم“ ص ۵۴)
شیخ محمد اسمعیل حقیؒ اپنی تفسیر میں لکھتے ہیں۔
”سورج آسمان کا چراغ ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم زمین کا چراغ ہیں۔ سورج دنیا کا چراغ ہے اور محبوب خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم دین کے چراغ ہیں۔ سورج کے طلوع ہونے پر سوئے ہوئے لوگ جاگ اٹھتے ہیں لیکن امام الانبیاء صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے ظہور سے تمام کائنات وجود میں آگئی"۔ (تفسیر
”روح البیان“ جلد ۳‘ ص ۱۴۰)
ادھر اک شمع روشن ہے کہ ہیں دونوں جہاں روشن
بلامبالغہ تمام کائنات کا مرکز ذات محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم ہی ہیں اور یہ امر بھی مسلمہ ہے کہ محور ہمیشہ اپنے مرکز کے گرد ہی گھومتا ہے۔
چاند سے آپ ﷺ کھیلا کرتے تھے:
اس حقیقت کو حضرت مولانا احمد سعید دہلویؒ نے یوں رقم کیا ہے۔
”بیہقی‘ صابونی‘ خطیب اور ابن عساکر نے عباسؓ بن عبدالمطلب سے روایت کی ہے کہ عباسؓ کا بیان ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے کہا میرے اسلام لانے کا سبب آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی نبوت کی ایک علامت
ہوئی ہے کہ جس وقت آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اپنی ابتدائی عمر میں اپنے پنگورے میں آرام فرمایا کرتے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم انگلی سے چاند کی طرف اشارہ کرتے تھے۔ چاند اسی طرف جھک جایا کرتا تھا۔ آنحضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ میں چاند سے باتیں کرتا تھا۔ چاند مجھے رونے سے باز رکھتا تھا اور جب چاند عرش کے نیچے سجدہ کے لیے گرتا تھا تو میں اس کے گرنے کی آواز سنتا تھا۔ صابونی نے بیان کیا ہے کہ یہ روایت معجزات میں حسن ہے"۔
("معجزات رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم" ص ۱۵۹-۱۵۸)
خالق اکبر کی تمام مخلوق کا نکتہ عروج آنحضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہیں اور یہی شان محبوبیت اور مقام نبوت و رسالت کی مرکزیت ہے اور رہے گی۔
آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم لامکان سے عالم وجود میں تشریف لائے تو انسانیت عش عش کر اٹھی۔ ملائکہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت پر مامور کر دیے گئے۔
"آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا گہوارہ فرشتوں کے جنبش دینے سے جھولتا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی دایہ حلیمہ ؓ فرماتی ہیں کہ جب میں نے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا دودھ چھڑایا تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے سب سے اول جو کلام فرمایا وہ یہ تھا: الله اکبر کبیرا والحمد لله کثیرا وسبحان الله بکرة واصیلا "جب آپ شعوری عمر کو پہنچے اور بچوں کو کوچے میں کھیلتا دیکھتے تو ان سے علیحدہ رہتے"۔
(کذا فی المواہب)
حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ
"حضرت حلیمہ ؓ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو کہیں دور نہ جانے دیتیں۔ ایک دن ان کو خبر ملی کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم عین دوپہر کے وقت اپنی رضاعی بہن شیما کے ساتھ مویشی لے کر چلے گئے ہیں۔ حضرت حلیمہ ؓ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی تلاش میں نکلیں اور پوچھا اس گرمی میں؟ بہن نے کہا: میرے بھائی کو گرمی نہیں لگی۔ میں نے تو بادل کا ٹکڑا دیکھا جو ان کے سر پر سایہ کیے ہوئے تھا۔ جب یہ ٹھہرتے تو وہ بھی ٹھہر جاتا، جب یہ چلتے تو وہ بھی چلنے لگتا"۔ (ابن سعد، ابن عساکر اور ابو نعیم نے روایت کیا)
"حضرت حلیمہ سعدیہؓ فرماتی ہیں کہ قحط کے ایام تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے میرے گھر آجانے کے بعد میری بکریاں دودھ سے بھر آتیں اور لوگوں کو اپنے جانوروں میں قحط کی وجہ سے ایک قطرہ نہ ملتا۔ میری قوم کے لوگ اپنے چرواہوں کو کہتے جہاں حلیمہؓ کے جانور چرتے ہیں وہیں تم بھی چراؤ۔ مگر تب بھی میرے جانور بھر آتے ان کے خالی۔ (یہ سب برکات تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی تھیں نہ کہ چراگاہ کی) دو سال تک برابر ہم نے یہ برکات دیکھیں۔ پھر میں نے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا دودھ چھڑوایا۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا نشوونما اور بچوں سے زیادہ تھا۔ ہم آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی والدہ (حضرت آمنہؓ) کے پاس (مکہ) لائے اور ان برکات پر مکہ معظمہ میں وبا کا بہانہ کر کے پھر واپس لے آئے۔ سو چند ہی مہینے بعد آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا رضاعی بھائی (عبداللہ) جو مویشی چرا رہا تھا، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بھی اس کے ساتھ تھے۔ دوڑتا ہوا آیا اور مجھ سے اور اپنے باپ سے کہا کہ میرے قریشی بھائی کو دو سفید کپڑوں والے آدمیوں نے پکڑ کر لٹایا اور شکم چاک کیا۔ میں انہیں اسی حال میں چھوڑ کر آیا ہوں۔ سو ہم دونوں گھبرائے ہوئے گئے۔ دیکھا آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کھڑے ہیں مگر رنگ متغیر ہے۔ میں نے پوچھا، بیٹا کیا تھا؟
آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: دو شخص سفید کپڑوں میں آئے تھے اور میرا شکم چاک کر کے اس میں سے کچھ ڈھونڈ کر نکالا، معلوم نہیں کیا تھا۔ ہم آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو ڈیرے پر لائے۔ شوہر نے کہا حلیمہ اس بچے پر آسیب کا اثر معلوم ہوتا ہے۔ قبل اس کے کہ زیادہ ظہور ہو ان کو ان کے گھر پہنچا دو۔ میں آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو مکہ معظمہ والدہ کے پاس لے گئی۔ کہنے لگیں: تو، تو اس کو رکھنا چاہتی تھی؟ پھر کیوں لے آئی؟ میں نے کہا: اب خدا کے فضل سے ہوشیار ہو گئے ہیں، اس لیے لے آئی ہوں۔
انہوں نے کہا: نہیں یہ بات نہیں۔ سچ بتلا۔ میں نے سارا قصہ بیان کر دیا۔ کہنے لگیں: تجھے اس پر کسی جن کا اثر معلوم ہوتا ہے۔ میں نے کہا: ہاں۔ انہوں نے کہا: جن کا اس پر کوئی اثر نہیں ہو سکتا۔ میرے بیٹے کی ایک خاص شان ہے۔ پھر انہوں نے ایام حمل و ولادت کے بعض حالات بیان کیے اور کہا: اچھا ان کو چھوڑ دو اور
تم خیریت کے ساتھ جاؤ"۔ (سیرت ابن ہشام)
قطب عالم شاہ عبدالعزیز صاحب محدث دہلویؒ تفسیر عزیزی‘ سورۃ الم نشرح کی تفسیر میں فرماتے ہیں: "شق صدر مبارک اور سینہ مبارک کا کھولنا چار مرتبہ ثابت ہے۔ ایک تو یہی جس کا مذکور ہوا تاکہ لھو و لعب کی محبت کو جو عموماً بچپن میں ہوتی ہے سینہ اطہر سے نکال دیں۔ دوسری مرتبہ صحرا میں دس سال کی عمر میں تاکہ جوانی اور بلوغت کے جو غلط تقاضے رونما ہوتے ہیں‘ ان سے سینہ اطہر کو پاک کیا جائے۔ تیسری مرتبہ غار حرا میں بوقت بعثت تاکہ وحی کے بوجھ کے لیے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم متحمل ہوسکیں۔ چوتھی مرتبہ معراج سے قبل مسجد میں تاکہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم عالم ملکوت و لاہوت کے مشاہدات کے متحمل ہوسکیں"۔ (تاریخ حبیب اللہ)
آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم چھ سال کے ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی والدہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو اپنے ماموں بنی نجار جو انصار تھے‘ مدینہ منورہ کے ہاں لے گئیں۔ آپ کے ساتھ ام ایمن (حضرت زیدؓ کی زوجہ اور حضرت اسامہؓ کی والدہ) بھی تھیں۔ راستے میں ایک کاہنہ عورت کے ہاں آپ ﷺ مہمان ہوئے۔ ام ایمن فرماتی ہیں: میں نے یہود مدینہ سے سنا کہ آپس میں کہتے تھے کہ یہ نورانی بچہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اس امت کا نبی ہے اور یہ مدینہ اس کا دارالہجرت ہے۔ مدینہ منورہ سے جب آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی والدہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو مکہ معظمہ لا رہی تھیں تو مقام ابواء میں آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی والدہ فوت ہوگئیں۔ ("شان رسالت" ص ۴۴-۴۳) آپ کو وہیں دفن کیا گیا۔ پھر ام ایمن آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو لے کر مکہ آئیں۔ والدہ کے انتقال کے بعد آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی پرورش اور دیکھ بھال عبدالمطلب کے ذمے آگئی۔
یہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو ہمیشہ اپنے ساتھ رکھتے تھے۔ جب آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی عمر مبارک آٹھ سال ہوئی تو دادا عبدالمطلب نے بھی انتقال فرمایا۔ مرتے وقت انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی پرورش کی ذمے داری اپنے لڑکے ابوطالب کے سپرد کی جنہوں نے اس فرض کو انتہائی خوبی اور جاں فشانی سے ادا کیا۔ ابوطالب اور حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے والد حضرت عبداللہ ایک ہی ماں سے تھے۔ اس اعتبار سے بھی ابوطالب کو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے انتہائی محبت تھی۔ وہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ
وسلم کے ساتھ سوتے، باہر جاتے تو ساتھ لے کر جاتے۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی عمر دس بارہ برس کی ہوئی۔ اس وقت آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اپنے ہم عمروں کے ساتھ بکریاں بھی چرایا کرتے تھے۔ عرب میں یہ کام برا نہیں سمجھا جاتا تھا۔ اچھے اچھے شریف گھرانوں کے بچے بکریاں چرایا کرتے تھے۔
ابو طالب تجارت کیا کرتے تھے۔ قریش کے دستور کے مطابق شام، سال میں ایک بار جایا کرتے تھے۔ آنحضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی عمر بارہ سال ہو گئی کہ ابو طالب نے شام کے سفر کا ارادہ کیا۔ اگرچہ سفر کی تکالیف کے خیال سے وہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو ساتھ نہیں لے جانا چاہتے تھے مگر انہیں آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے اتنی محبت تھی کہ جب سفر پر جاتے وقت آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ان سے لپٹ گئے اور ساتھ چلنے پر اصرار کیا تو ابوطالب آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی دل شکنی کو برداشت نہ کر سکے اور ساتھ لے لیا۔
”جب ابو طالب بصریٰ میں پہنچے تو ایک عیسائی راہب کی خانقاہ میں اترے، جس کا نام بحیرا تھا۔ اس نے آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو دیکھ کر کہا کہ یہ سید المرسلین صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہیں۔ لوگوں نے پوچھا: تم نے کیونکر جانا! اس نے کہا: جب تم لوگ پہاڑ سے اترے تو جس قدر درخت اور پتھر تھے سب سجدے کے لیے جھک گئے“۔ (”طبقات ابن سعد“ جلد اول قسم اول، ص ۷۵)
تاریخ نے عیسائی راہبوں کی شان نبوت ﷺ میں مدحت کو اس انداز سے بھی محفوظ رکھا ہے:
”عبداللہ ابن عباسؓ فرماتے ہیں کہ حضرت صدیق اکبرؓ اٹھارہ سال کے تھے جبکہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی عمر مبارک بیس برس تھی۔ شام کی طرف بغرض تجارت گئے۔ ایسی جگہ پڑاؤ کیا جہاں بیری کا درخت تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو بٹھا کر بحیرا راہب کی طرف گئے۔ بحیرا نے کہا: یہ درخت کے نیچے کون شخص ہے؟ حضرت صدیق اکبرؓ نے کہا: محمد بن عبداللہ بن عبدالمطلب صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم۔ اس نے کہا: واللہ یہ تو نبی ہے۔ اس درخت کے نیچے یا تو اس سے قبل حضرت عیسیٰؑ بیٹھے تھے اور یا آج یہ بیٹھے ہیں۔ صدیق اکبرؓ کے دل میں اس راہب کی خبر سے تصدیق پیدا ہو گئی۔
جب آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی عمر مبارک پچیس برس ہوئی تو حضرت خدیجہؓ نے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے صدق و امانت و دیانت کا سن کر آپ صلی
اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اپنا مال مضاربت کے طور پر تجارت کے لیے پیش کیا اور اپنا غلام میسرہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ کیا۔ آپ شام پہنچ کر ایک درخت کے سائے کے نیچے آرام کے لیے بیٹھے۔ وہاں قریب ہی ایک راہب کا تکیہ تھا۔ اس نے میسرہ سے پوچھا: یہ کون صاحب ہیں؟ میسرہ نے کہا: یہ قریشی ہاشمی اہل حرم میں سے ہیں۔ راہب نے کہا: اس درخت کے نیچے سوائے نبی کے کوئی نہیں بیٹھا۔
اور ساتھ ہی میسرہ نے اثناء سفر دیکھا کہ جب دھوپ تیز ہوتی تھی تو دو فرشتے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر سایہ کرتے تھے۔ اس سفر میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دگنا سے زیادہ منافع ہوا۔ میسرہ نے راہب کی بات اور فرشتوں کے سایہ کرنے کا واقعہ مکہ معظمہ پہنچ کر حضرت خدیجہؓ سے ذکر کر دیا۔ انہوں نے اس واقعہ کو اپنے چچا زاد بھائی ورقہ بن نوفل سے ذکر کیا، جو تورات کے عالم اور عبرانی سے عربی میں ترجمہ کیا کرتے تھے۔ ورقہ نے کہا: مجھے بھی کتب سابقہ سے ایک پیغمبر کی آمد کا انتظار ہے۔
حضرت خدیجہؓ بہت عقیلہ اور دانشور بھی تھیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حسن معاملہ، صداقت اور وجاہت کو بھانپ گئیں اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو شادی کی پیشکش کر دی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے چچا کے مشورہ سے اس پیشکش کو قبول فرماتے ہوئے حضرت خدیجہ سے نکاح کر لیا۔ اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی عمر مبارک پچیس برس اور حضرت خدیجہؓ کی عمر چالیس برس کی تھی۔ اس سفر شام میں جس راہب سے ملاقات ہوئی اس کا نام نسطورا ہے“۔ (”سیرت ابن ہشام“ بحوالہ ”شان رسالت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم“ از مولانا محمد ایوب ہاشمی)
حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جہاں تجارت کا کاروبار کیا کرتے تھے، وہاں بہت سے دوسرے دنیاوی تعلقات بھی رکھتے تھے۔ بیوی تھی، اولاد تھی، تجارت کی غرض سے دوسرے ممالک کے سفر درپیش رہتے تھے لیکن دست قدرت نے یہ شاہکار عظیم جس مقصد کے لیے تخلیق کیا تھا، دنیا و مافیہا کے تمام امور سے بلند و بالا تھا۔
محسن انسانیت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جب اپنے گردوپیش میں انسانیت کو سسکتے دیکھا۔
جھوٹی انانیت کی خاطر برسوں خون بہتے دیکھے۔ اس وحشت پر سہاگنوں کو اجڑتے دیکھا۔ ماؤں کو نوحہ کناں دیکھا۔ معصوم بچیوں کو ظالم باپوں کے ہاتھوں زندہ درگور ہوتے دیکھا۔ عورتوں کو دائرہ انسانیت سے بے دخل دیکھا۔ حج جیسی عبادت کو برہنہ ہو کر ادا کرتے دیکھا۔ اور اشرف المخلوقات کی مقدس جبین کو تین سو ساٹھ بتوں کے سامنے جھکتے دیکھا۔
تو نوع انسانیت کی یہ تذلیل، محسن انسانیت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو روا نہ ہوئی۔ جبکہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے شعور مبارک میں مطلوب حقیقی کا تصور بھی پختہ تھا۔ اس تصور میں حقیقت کا رنگ بھرنے کے لیے اس اندوہناک معاشرہ سے دور، مکہ معظمہ سے تین میل کے فاصلہ پر غار حرا میں جا کر مہینوں انسانیت کی فلاح اور نجات کے لیے سوچا کرتے تھے:
صحیح بخاری میں ہے کہ غار حرا میں آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تحنث یعنی عبادت کیا کرتے تھے۔ یہ عبادت کیا تھی؟
”یہ سوال کیا گیا کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی عبادت کیا تھی؟ جواب یہ ہے کہ غور و فکر اور عبرت پذیری“۔ (عینی شرح بخاری)
یہ وہی عبادت تھی جو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے جد اعلیٰ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے نبوت سے پہلے کی تھی۔ ستاروں میں تجلی کی جھلک دیکھی تو دھوکا ہوا، چاند نکلا تو پہلا گمان جاتا رہا۔ آفتاب پر اس سے زیادہ شبہ ہوا لیکن جب سب نظروں سے اوجھل ہوتا تو بے ساختہ پکار اٹھے:
لا احب الافلین.... انی وجهت وجهی للذی فطر السموت والارض O (سورۃ انعام: ۷۹)
ترجمہ : ”میں فانی چیزوں کو نہیں چاہتا۔ میں اپنا منہ اس کی طرف کرتا ہوں جس نے زمین و آسمان کو پیدا فرمایا“۔
نبوت کا دیباچہ یہ تھا کہ خواب میں آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر اسرار منکشف ہونے لگے۔
”جو کچھ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم خواب میں دیکھتے تھے بعینہ وہی پیش آتا تھا“۔ (”صحیح بخاری“ جلد اول)
ایک دن جبکہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم حسب معمول غار حرا میں مراقبہ میں مصروف تھے، فرشتہ غیب نظر آیا کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے کہہ رہا تھا: (یہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی عمر کے چالیس سال پورے ہونے پر آٹھ ربیع الاول سوموار کے دن کا واقعہ ہے)
اقراء یا محمد یعنی اے محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پڑھ۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ما انا بقاری میں تو کچھ پڑھا ہوا نہیں ہوں۔ تین مرتبہ اسی طرح سوال و جواب ہوا اور جبرئیل امین نے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو اپنے سینہ مبارک سے لگا کر بھینچا اور کہا:
اقراء بسم ربک الذی خلق....ما لم یعلمO
چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس پہلی وحی کو پڑھا اور آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے شانے مبارک کانپ رہے تھے۔ اسی کپکپی کی حالت میں آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم گھر پہنچے۔ حضرت خدیجہؓ سے فرمایا: زملونی، زملونی یعنی مجھے کمبل اوڑھاؤ۔ مجھے کمبل اوڑھاؤ۔ انہوں نے کمبل اوڑھایا اور یہ گھبراہٹ ختم ہوئی۔
حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو اپنے چچا زاد ورقہ بن نوفل کے پاس لے گئیں۔ جو جاہلیت میں نصرانی ہو گئے تھے اور انجیل کو عربی میں لکھا کرتے تھے۔ آخری عمر میں نابینا ہو گئے تھے۔ حضرت خدیجہؓ نے ورقہ سے کہا کہ اے ابن عم! اپنے بھتیجے کا واقعہ سن جو انہوں نے دیکھا ہے۔ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے سارا واقعہ ذکر فرمایا۔ جس پر حضرت ورقہ نے کہا، یہی وہ ناموس ہے جو جناب موسیٰؑ پر نازل ہوا۔ کاش میں اس وقت جوان ہوتا اور زندہ ہوتا، جب آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی قوم آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو شہر سے نکالے گی۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: مجھے نکالیں گے؟ ورقہ نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس جو شخص بھی پیغام لایا ہے قوم نے ان کو برداشت نہیں کیا اور عداوتیں شروع ہو گئیں۔ اگر میں نے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی عداوتوں والا دور پا لیا تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی
مضبوط مدد کروں گا۔ اس کے بعد ورقہ جلد ہی فوت ہو گئے“۔ (”شان رسالت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم“ ص ۴۹-۴۸‘ حوالہ مذکور)
”ابو نعیم روایت کرتے ہیں کہ ابتدائے نبوت اس طرح ہوئی کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جس شجر یا حجر کے پاس سے گزرتے وہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو سلام پیش کرتا۔ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم دائیں بائیں مڑ کر دیکھتے تو سوائے آواز السلام علیک یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کے کچھ بھی نظر نہ آتا“۔ (”شان رسالت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم“ ص ۴۹‘ حوالہ مذکور)
امام ترمذیؒ نے اپنی صحیح میں لکھا ہے کہ: ”نبوت سے پہلے سفر شام میں (بمقام بصریٰ) جس درخت کے نیچے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بیٹھے تھے اس کی تمام شاخیں آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر جھک آئیں جس سے بحیرا نے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے نبی ہونے کا یقین کیا“۔
(ترمذی شریف)
جبکہ امام مسلمؒ نے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے لیے شجر و حجر کی توقیر کرنے کو یوں نقل کیا ہے: ”آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: میں اس پتھر کو پہچانتا ہوں جو نبوت سے قبل مجھ کو سلام کیا کرتا تھا“۔ (صحیح مسلم شریف)
امام بیہقیؒ اور اکثر محدثین نے لکھا ہے کہ اس پتھر سے مراد حجر اسود ہے اور بعض دوسرے لوگوں نے کہا ہے کہ: ”یہ دوسرا پتھر ہے۔ جو اب تک مکہ میں موجود ہے۔ یہ پتھر اس گلی میں ہے جس کو ”زقاق المرفق“ کہا جاتا ہے۔ یہ نام اس گلی کا اس لیے رکھا گیا ہے کہ اس میں آنحضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی مرفق یعنی کہنی کا اثر ہے۔ اس کی زیارت بھی لوگ کیا کرتے ہیں۔ ابن حجر مکیؒ کا بیان ہے کہ مکہ میں یہ روایت قدیم زمانہ سے مشہور ہے“۔ (”معجزات رسول“ مؤلفہ مولانا احمد سعید دہلویؒ ۱۸۴-۱۸۳)
حضرت علی المرتضیٰؓ سے روایت ہے کہ وہ کہتے ہیں کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ مکہ میں موجود تھا۔ ایک دن مکہ کے اردگرد آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تفریح کو نکلے۔ میں بھی آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ تھا۔ میں نے سنا جو پہاڑ یا درخت سامنے پڑتا وہ کہتا:
السلام علیک یا رسول الله (ترمذی شریف)
معجزات رسول ﷺ :
خالق اکبر نے کائنات کو تخلیق فرما کر ایک فطری قانون کے تابع کر کے نظام کائنات کو جاری و ساری کر دیا۔ لیکن بعض اوقات اپنے محبوب بندوں کے ہاتھوں خود ہی اس فطری قانون کے خلاف کام لے کر اپنی قدرت کاملہ کا اظہار کرتا رہا۔ اس عمل کو خرق عادت کہتے ہیں یعنی عادت کے خلاف۔
اس عمل کا مقصد ان الانسان لفی خسر کے بظاہر خاموش سمندر میں بہنے والی انسانیت کے گنگ ذہنوں کو جگانا ہوتا ہے۔
کہ نہیں نہیں، زندگی، تابندگی، درخشندگی یہ نہیں بلکہ اس رنگ و بو اور عقل و فہم سے ماورا کوئی اور چیز ہے اور اسی کا نام ایمان ہے:
اور جیسا کہ شروع میں لکھا جا چکا ہے کہ ایمان کا حصول بغیر یقین کے ناممکن ہے اور یقین نظارے ہوتا ہے۔ یہی اصول انسان کو جس کے ہاتھ پر خرق عادت واقعہ ظاہر ہوتا ہے، اس کی دعوت کے سمجھنے کا اہل بناتا ہے۔
واضح ہو کہ انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام ایسی نشانیوں کو اپنے دعویٰ نبوت کی دلیل کے طور پر پیش کرتے رہے۔ مثلاً جب سیدنا موسیٰ علیہ السلام فرعون کے پاس دعوائے نبوت لے کر گئے تو اپنے معجزات کا یوں ذکر فرمایا۔
قد جئتكم ببينة من ربكمO (سورۃ اعراف: ۱۰۵)
ترجمہ : ”بے شک میں تمہارے پاس تمہارے رب کی واضح نشانیاں لے کر آیا ہوں“۔
اس کے بعد اپنے معجزات کا اظہار یوں کیا:
فالقى عصاه فاذا هی ثعبان مبين ونزع يده فاذا هی بيضاء للنّٰظرینO (سورۃ اعراف: ۱۰۸-۱۰۷)
ترجمہ : ”پس انہوں نے اپنی لاٹھی پھینکی تو وہ اژدہا بن گئی اور اپنا ہاتھ نکالا تو وہ دیکھنے والوں کے لیے چمکدار بن گیا“۔
علامہ ابن کثیرؒ لکھتے ہیں: ”اکثر علماء کا قول ہے کہ ہر ہر زمانے کے نبی کو اس زمانے کی مناسبت سے خاص
خاص معجزات باری تعالیٰ نے عطا فرمائے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے زمانے میں جادو کا چرچا تھا تو خدا نے آپ کو وہ معجزہ دیا کہ تمام جادو گروں کی آنکھیں کھل گئیں اور ان پر حیرت طاری ہو گئی اور انہیں یقین کامل ہو گیا کہ یہ تو خدائے واحد وقہار کی طرف سے عطیہ ہے‘ جادو ہر گز نہیں۔ چنانچہ ان کی گردنیں جھک گئیں۔
حضرت عیسیٰؑ کے زمانے میں طبیبوں اور حکیموں کا دور دورہ تھا۔ پس آپ کو وہ معجزے دیئے گئے جس سے وہ سب عاجز تھے۔ بھلا پیدائشی اندھے کو بینا کر دینا اور کوڑھیوں کو اس مہلک بیماری سے آرام دینا اور قبروں سے مردوں کو زندہ کر دینا یہ کسی کے بس کی بات ہے؟ صرف خدا کے حکم سے بطور معجزہ یہ باتیں آپؑ سے ظاہر ہوئیں“۔ (تفسیر ابن کثیر)
حضرت سلیمان علیہ السلام کو جانوروں کی بولیاں سکھائی گئیں۔ تمام جنات اور انسانوں کو آپؑ کے تابع فرمان بنایا گیا۔ گویا تمام انبیاء کرام کو ان کی نبوت کی دلیل کے طور پر معجزات عطا کیے جاتے رہے لیکن جب خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی نبوت کا آفتاب طلوع ہوا تو کائنات کا ہر ہر ذرہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی ختم نبوت کا گواہ بن گیا۔ اس کی چند مثالیں پیش کی جاتی ہیں۔ علامہ بیہقیؒ لکھتے ہیں:
کنکریاں کلمہ گو ہو گئیں !:
”ابوذرؓ کا بیان ہے کہ میں آنحضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس تنہائی کے وقتوں میں جایا کرتا تھا۔ ایک دن آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو اکیلا پا کر گیا اور آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں بیٹھ گیا۔ آنحضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سامنے سات کنکریاں پڑی ہوئی تھیں۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مٹھی میں وہ کنکریاں لے لیں تو وہ خدا کی تسبیح بیان کرنے لگیں۔ کنکریوں کی تسبیح کی آواز‘ جیسے شہد کی مکھیوں کی بھنبھناہٹ ہوتی ہے‘ سب نے سنی۔ پھر ان کنکریوں کو جب آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے رکھ دیا تو وہ خاموش ہو گئیں“۔
(بیہقی دلائل النبوۃ) ۔
ایک دن کے بچے کی گواہی:
”خطیب نے روایت کی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں بچہ
الوداع کے موقع پر یمامہ کا ایک شخص اپنے ساتھ ایک بچے کو لایا۔ یہ بچہ اسی دن پیدا ہوا تھا۔ آنحضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس ایک دن کے بچے سے پوچھا کہ میں کون ہوں؟ اس نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اللہ کے رسول ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ تو سچ کہتا ہے۔ خدا تجھ کو بابرکت بنائے۔ یہ بچہ اس کے بعد اس وقت تک نہ بولا جب تک اس کی عمر بولنے کے لائق نہ ہو گئی۔ اس بچے کو لوگ مبارک الیمامہ‘ یعنی یمامہ کا بابرکت بچہ کہا کرتے تھے"۔ (معجزات رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم‘ ص ۱۱۴)
ہرنی کی گواہی:
ہرنی نے گواہی دی: آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اللہ کے رسول ہیں۔
”ام سلمہ روایت کرتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ایک جنگل میں تھے۔ اچانک ایک ہرنی نے پکارا۔ یا رسول اللہ ! آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پلٹ کر دیکھا تو ایک ہرنی بندھی ہوئی ہے اور اس کے قریب ہی ایک دیہاتی سویا ہوا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہرنی سے پوچھا: تو کیا کہنا چاہتی ہے؟ اس نے کہا: اس دیہاتی نے مجھے شکار کر لیا ہے اور پہاڑی کے اندر میرے دو چھوٹے چھوٹے بچے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مجھے چھوڑ دیں۔ میں ان کو دودھ پلا کر واپس آ جاؤں گی۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے دریافت فرمایا: کیا تو واقعی واپس آ جائے گی؟ اس نے کہا: ہاں۔ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسے کھول دیا اور وہ بچوں کو دودھ پلا کر پھر واپس آگئی۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسے باندھ دیا۔ اس کے بعد دیہاتی بیدار ہوا تو آنحضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو وہاں دیکھ کر پوچھا کہ کیا آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا کچھ ارشاد ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اس ہرنی کو چھوڑ دے۔ اس نے ہرنی کو چھوڑ دیا۔ ہرنی وہاں سے یہ کہتی ہوئی چلی: اشهد ان لا اله الا الله واشهد ان محمد رسول الله ۵
(طبرانی‘ بیہقی)
یہ روایت کئی سندوں سے مروی ہے۔ اس لیے ابن حجر عسقلانیؒ نے اسے صحیح کہا ہے ۶
اونٹ آپ ﷺ کی خدمت اقدس میں:
”یعلی بن مرہ ثقفی سے روایت ہے کہ وہ فرماتے ہیں کہ میں نے ایک سفر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی تین چیزیں دیکھیں اور آپ ﷺ کے تین معجزے دیکھنے کا اتفاق ہوا۔ واقعہ یہ ہے کہ ہم آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ سفر کر رہے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا گزر ایک پانی کھینچنے والے اونٹ پر ہوا۔ اونٹ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو دیکھ کر کچھ بولا۔ پھر گردن زمین پر رکھ دی۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم وہیں ٹھہر گئے۔ اونٹ کے مالک کو بلایا۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ اس اونٹ کو ہمارے ہاتھ بیچ دو۔ اس نے کہا ہم بلا قیمت آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی نذر کرتے ہیں۔ مگر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ معلوم ہونا چاہیے کہ اونٹ جن لوگوں کا ہے ان کے گھر کی پوری روزی اسی سے حاصل کی جاتی ہے اور اسی کی کمائی پر ان کا دار و مدار ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اگر یہ بات ہے تو میں اس کو نہیں خریدوں گا۔ ہاں یہ بات یاد رکھو کہ اس اونٹ نے مجھ سے شکایت کی ہے کہ اس سے زیادہ کام لیا جاتا ہے اور کھانے کو کم دیا جاتا ہے۔ تم اس کو اچھی طرح رکھو۔
یہ معجزہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا جانور سے متعلق ہوا۔ یعلی کہتے ہیں ہم آگے بڑھے۔ ایک جگہ اتر کر آرام کرنے لگے۔ آنحضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سو گئے تو میں نے دیکھا کہ ایک درخت زمین چیرتا ہوا آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس آیا اور آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو ڈھانک لیا۔ پھر اپنی جگہ واپس چلا گیا۔ آنحضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بیدار ہوئے اور میں نے اس درخت کا حال بیان کیا تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ درخت اللہ سے اجازت لے کر مجھ کو سلام کرنے آیا تھا۔ یہ معجزہ تھا نباتات سے متعلق۔
یعلی کا بیان ہے کہ ہم آگے بڑھے اور ایک دریا کے پاس پہنچے۔ وہاں ایک عورت اپنے پاگل لڑکے کو لائی۔ آنحضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس کی ناک پکڑ کر کہا: نکل جا، میں محمد رسول اللہ ہوں۔ ہم لوگ وہاں سے چلے گئے۔ واپسی پر اس ندی کے پاس پھر عورت ملی۔ اس سے پاگل لڑکے کا حال آنحضور صلی اللہ
علیہ و آلہ وسلم نے دریافت فرمایا تو اس نے کہا: قسم ہے اس خدا کی جس نے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو نبی بنا کر بھیجا‘ اس دن سے میرا لڑکا بالکل اچھا ہے۔ کوئی مرض نہیں رہا۔ یہ تیسرا معجزہ ہوا جو انسانوں کے متعلق تھا“۔
(شرح السنہ)
گویا کائنات کی ہر ہر چیز‘ نباتات و جمادات‘ پتھر و درخت‘ زندہ و مردہ‘ جانور و انسان زبان حال سے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی رفعت شان اور مقام نبوت و رسالت کا اقرار کرتے رہے۔
حضرت انسؓ سے روایت ہے:
”حضور پاک صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سمندر کے کنارے تشریف فرما تھے۔ عکرمہؓ کہنے لگے اگر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نبی صادق ہیں تو سمندر کے پار جو پتھر ہے اسے بلائیے۔ وہ سمندر کو عبور کرے اور آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی تصدیق کرے مگر پانی میں نہ ڈوبے۔ حضور پاک صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پتھر کی جانب اشارہ فرمایا۔ پتھر اپنی جگہ سے اکھڑا اور سمندر عبور کر کے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ سلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس نے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی رسالت کی گواہی دی“۔
(بخاری شریف ۔ مسلم شریف)
شاخ روشن ہو گئی:
ابو سعید خدری سے روایت ہے کہ:
”ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ قتادہ بن نعمان نے عشاء کی نماز پڑھی۔ رات اندھیری تھی اور گھٹا چھائی ہوئی تھی۔ آنحضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے قتادہ کو کھجور کی ایک شاخ دے کر فرمایا کہ یہ شاخ اتنی روشنی دے گی کہ تمہارے آگے پیچھے دس دس آدمی اس کی روشنی میں راستہ دیکھ کر چل سکیں گے اور جب تم گھر پہنچو گے تو ایک کالی چیز تمہیں نظر آئے گی اس کو مار کر باہر نکال دینا۔ قتادہ روانہ ہوئے تو شاخ روشن ہو گئی۔ جب گھر پہنچے تو کالی چیز کو دیکھا تو مار کر نکال دیا۔ وہ کالی چیز شیطان تھا جو حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے حکم سے مار کر نکال دیا گیا“۔
(مسند احمد)
کھجور کی شاخ تلوار بن گئی:
”غزوۂ احد میں عبداللہ بن جحش کی تلوار ٹوٹ گئی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کھجور کی ایک شاخ ان کو دے دی۔ وہ تلوار کا کام کرنے لگی۔ ابن سید الناس نے لکھا ہے کہ تلوار ان کے پاس برابر رہی اور ان کی موت کے بعد ان کے وارثوں نے دو سو اشرفیوں کے عوض فروخت کی۔“ (بیہقی)
اندھوں کو بینائی مل گئی:
عثمانؓ بن حنیف سے روایت ہے:
”نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت اقدس میں ایک اندھا آیا اور اس نے عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم دعا فرمائیں کہ میری آنکھیں روشن ہو جائیں۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اٹھ کر دو رکعت نماز پڑھ اور یوں دعا کر۔
اللہم انی اسلک واتوجہ الیک بنبیک محمد نبی الرحمہ یا محمد انی اتوجہ بک الی ربک ان تکشف عن بصری اللہم شفعہ فی۔
ترجمہ: ”اے اللہ تیرے رحمت والے نبی ﷺ کے واسطے سے دعا کرتا ہوں اور اے محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تیرے وسیلے سے تیرے رب کی طرف یہ درخواست لے کر جاتا ہوں کہ میری آنکھ کا مرض دور ہو جائے اور میری بینائی کھل جائے اور میری آنکھوں پر سے پردہ ہٹ جائے“۔
اس اندھے نے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے حکم پر وضو کیا۔ نماز پڑھی اور پھر الفاظ مذکورہ کے ساتھ دعا کی۔ چنانچہ اس کی نابینا آنکھیں روشن ہو گئیں“۔
(ترمذی۔ نسائی۔ حاکم۔ بیہقی)
آنکھ پہلے سے زیادہ روشن ہو گئی:
”حبیب بن فدیک (جن کو فدیک کہا جاتا ہے) کو ان کے والد آنحضرت صلی اللہ علیہ
و آلہ وسلم کی خدمت اقدس میں لائے۔ ان کی دونوں آنکھیں ایسی تھیں کہ کچھ دیکھ نہ سکتے تھے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: تمہیں کیا صدمہ پہنچا۔ حبیب نے کہا: میرا پاؤں سانپ کے انڈوں پر پڑ گیا تھا۔ اس سے میری بصارت جاتی رہی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پھونک ماری تو ان کی دونوں آنکھیں روشن ہو گئیں۔ میں نے انہیں دیکھا کہ وہ سوئی میں ڈورا ڈال رہے تھے۔ اس وقت ان کی عمر اسی سال تھی اور دونوں آنکھیں سفید تھیں"۔ (راوی‘ ابن ابی شیبہ)
آنکھ پھر سے روشن ہو گئی اور جنت بھی مل گئی:
ابن اسحاق کی روایت ہے: ”جنگ احد میں قتادہ بن نعمان کی آنکھ میں تیر لگا جس سے آنکھ بہہ کر رخسار پر آ گئی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے قتادہ سے فرمایا: اگر تم چاہو کہ یہ آنکھ اچھی ہو جائے تو میں اس کو اس کی جگہ پر رکھ دوں تو اچھی ہو جائے گی اور اگر چاہتے ہو کہ جنت ملے تو صبر کرو۔ قتادہ رضی اللہ عنہ نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جنت تو بڑا اچھا انعام ہے مگر مجھے کانا ہونا برا معلوم ہوتا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم میری آنکھ اچھی کر دیجئے اور جنت کے لیے بھی میرے واسطے دعا فرمائیے۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان کی آنکھ کا ڈھیلا اٹھا کر اس کو حلقے میں رکھ دیا۔ وہ اتنی روشن ہو گئی کہ دوسری آنکھ سے بھی روشنی تیز ہو گئی اور پھر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان کے لیے جنت کی بھی دعا فرمائی“۔ (بیہقی، ترمذی)
پیدائشی گونگے نے آپ ﷺ کی رسالت کی گواہی دی:
یحییٰ بن عطیہ کی روایت ہے: ”نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں ایک جوان لڑکا لایا گیا۔ یہ لڑکا پیدائشی گونگا تھا۔ اس نے کبھی بات نہ کی تھی۔ آنحضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم
نے اس سے پوچھا: میں کون ہوں؟ اس نے جواب دیا: آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اللہ کے رسول ہیں"۔ (بیہقی)
آپ ﷺ کے سینہ پر ہاتھ پھیرنے سے دیوانے کا جنون جاتا رہا:
ابن ابی شیبہ نے ابن عباسؓ سے روایت کی ہے:
”نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں ایک عورت اپنے پاگل لڑکے کو لے کر حاضر ہوئی۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے لڑکے کے سینے پر ہاتھ پھیرا۔ اس نے زور سے قے کی۔ اس کے پیٹ میں سے کتے کے کالے پلے کی طرح ایک چیز نکلی۔ اس کے بعد ہی وہ لڑکا اچھا ہو گیا اور اس کا جنون دور ہو گیا"۔ (مسند احمد۔ بیہقی)
آپ ﷺ کے دست مبارک کی برکت سے ٹوٹی ہوئی ٹانگ
ایسی ہو گئی جیسے کبھی کچھ ہوا ہی نہ تھا:
براء بن عازبؓ کی روایت ہے:
”نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک جماعت کو ابو رافع پر حملہ کرنے کے لیے بھیجا۔ عبداللہ بن عتیکؓ رات کے وقت سوتے میں ابو رافع کے گھر میں داخل ہوئے اور اپنی تلوار ابو رافع کے شکم میں آرپار کر دی۔ عبداللہ کہتے ہیں کہ جب یہ یقین ہو گیا کہ ابو رافع کو مار ڈالا تو میں دروازہ کھول کر نکلا۔ نکلتے وقت میرے پاؤں نے خطا کی اور غلط جگہ پاؤں پڑنے کی وجہ سے میں گر پڑا۔ جس سے میری پنڈلی ٹوٹ گئی۔ میں نے اپنی پگڑی سے اپنی پنڈلی باندھ لی اور وہاں سے اپنے ساتھیوں کے پاس پہنچا۔
آنحضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت اقدس میں حاضر ہو کر سب حال بتایا تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے میرے پیر پر اپنا دست مبارک پھیرا۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ہاتھ کی برکت سے میرا پاؤں ایسا تندرست ہو گیا جیسے اس میں کوئی تکلیف ہی نہ تھی"۔ (بخاری شریف)
آپ ﷺ نے کٹے ہوئے بازو پر دم کر کے اچھا کر دیا:
”جنگ بدر کے دن حبیب بن یساف کے دونوں کندھوں کے بیچ میں دشمن کی تلوار اس زور سے لگی کہ ایک حصہ کٹ کر لٹک گیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسی وقت ان کے لٹکے ہوئے حصے کو ملا کر دم کر دیا، تو وہ اتنا اچھا ہو گیا کہ حبیب نے اسی لڑائی میں اپنے اوپر حملہ کرنے والے دشمن کو مار ڈالا“۔
(بیہقی۔
ابن اسحاق)
کچلی ہوئی پنڈلی آپ ﷺ کے دست اقدس پھیرتے ہی سلامت ہو گئی
معاویہ بن حکم روایت کرتے ہیں: ”ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ تھے۔ میرے بھائی علی بن حکم نے اپنے گھوڑے کو خندق سے چھلانگ لگوائی تو خندق کی دیوار سے ان کی پنڈلی کچلی گئی۔ ہم ان کو اپنے گھوڑے پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں لائے۔
حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان کی پنڈلی پر اپنا دست اقدس پھیرا تو وہ گھوڑے سے اترنے سے پہلے اچھے ہو گئے“۔
(”خصائص الکبریٰ“ جلد دوم)
بخار نے آپ ﷺ کے حکم کی تعمیل کی اور لوگوں کے گناہ بھی ساقط
ہو گئے
حضرت سلمانؓ راوی ہیں: ”حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے بخار نے اجازت چاہی۔ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس سے فرمایا: تو کون ہے؟ اس نے کہا: میں بخار ہوں اور میں گوشت کو گھلا دیتی ہوں اور خون کو چوس لیتی ہوں! فرمایا: اہل قبا کی طرف چلی جا۔ تو وہ لوگ بخار میں مبتلا ہو گئے۔ پھر وہ لوگ آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں اس حال میں آئے کہ ان کے چہرے زرد تھے۔ انہوں نے
بخار کی شکایت کی۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اگر تم چاہو تو میں اللہ تعالیٰ سے دعا کروں اور وہ تم سے بخار کو دور کردے گا اور اگر تم چاہو تو بخار کو رہنے دو تاکہ تمہارے گناہ ساقط ہو جائیں۔ انہوں نے کہا: ہم بخار کو باقی رکھنا چاہتے ہیں“۔
(خصائص الکبریٰ” جلد دوم)
آپ ﷺ کی کلی مبارک اور ہاتھوں سے نچڑنے والے
پانی سے بے عقل‘ عقل مندوں سے فائق ہوگیا:
ام جندبؓ کی روایت ہے: ”قبیلہ خثعم کی ایک عورت نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں ایک لڑکے کو لے کر آئی۔ وہ لڑکا بات کرنے سے معذور تھا۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس کے منہ پر کلی کی اور اپنے دونوں ہاتھ دھو کر وہ پانی یہ کہہ کر عورت کو دیا کہ یہ پانی لڑکے کو پلا دے اور اس کی دونوں آنکھوں میں لگا دیا۔ عورت نے جب اس پر عمل کیا تو وہ لڑکا فوراً باتیں کرنے لگا اور اتنا عقل مند ہو گیا کہ دوسرے لوگوں کی عقل پر اس کی عقل فائق تھی“۔
(ابن ابی شیبہ)
آپ ﷺ کے دہن مبارک کا لقمہ کھانے سے
بے حیا لڑکی سب سے باحیا ہو گئی:
ابو امامہ کی روایت ہے: ”نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کھانا تناول فرما رہے تھے کہ ایک لڑکی آئی۔ اس نے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے کھانا مانگا۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب برتن سے اٹھا کر اسے دینے لگے تو لڑکی نے کہا کہ میں آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے منہ میں سے کھانا مانگتی ہوں یعنی آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے دہن مبارک کا کھانا چاہتی ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنے منہ سے نکال کر اس کو دے دیا اور وہ کھا گئی۔ وہ لڑکی پہلے بہت بے حیا مشہور تھی مگر آپ صلی
اللہ علیہ و آلہ وسلم کے لقمہ کی برکت سے اس میں اتنی حیا آگئی کہ مدینے میں اس سے زیادہ حیا والی عورت کوئی دوسری نہ رہی“۔ (طبرانی)
آپ ﷺ کی پکار پر لڑکی نے قبر سے نکل کر جواب دیا:
امام بیہقیؒ نے ”دلائل النبوت“ میں روایت کی ہے کہ: ”نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک شخص کو دعوت اسلام دی۔ اس نے جواب دیا: میں آپ (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) پر ایمان نہیں لاتا یہاں تک کہ میری بیٹی زندہ کی جائے۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: مجھے اس کی قبر دکھا۔ اس نے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو اپنی بیٹی کی قبر دکھائی۔ تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس لڑکی کا نام لے کر پکارا۔ لڑکی نے قبر سے نکل کر کہا۔ ”لبیک وسعدیک“ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: کیا تو پسند کرتی ہے کہ دنیا میں پھر آجائے؟ اس نے عرض کی: یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) اللہ کی قسم میں نے اللہ کو اپنے والدین سے بہتر پایا اور اپنے لیے آخرت کو دنیا سے اچھا پایا“۔ (مواہب اللدنیہ)
آپ ﷺ کی دعا کی برکت سے پکی ہوئی بکری
پھر زندہ ہو کر کان جھاڑنے لگی:
حافظ ابو نعیم نے کعب بن مالک کی روایت سے نقل کیا ہے کہ: ”جابر بن عبداللہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں آئے اور آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا چہرہ متغیر پایا‘ اس لیے وہ اپنی بیوی کے پاس آئے اور کہنے لگے: میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا چہرہ متغیر دیکھا ہے۔ میرا گمان ہے کہ بھوک کے سبب ایسا ہے‘ کیا تیرے پاس کچھ موجود ہے؟ بیوی نے کہا: اللہ کی قسم۔ ہمارے پاس یہ بکری اور کچھ بچا ہوا توشہ ہے۔ پس میں نے بکری کو ذبح کیا اور اس (بیوی) نے دانے پیس کر روٹی اور گوشت پکایا۔ پھر ہم نے ایک پیالہ میں ثرید (ایک قسم کا کھانا ہے جو روٹی کے ٹکڑوں کو گوشت کے شوربے میں تر کرنے
سے تیار ہوتا ہے) بنایا۔ پھر میں اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے پاس لے گیا۔
آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا: اے جابر اپنی قوم کو بھی جمع کر لو۔ میں ان کو لے کر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی خدمت میں حاضر ہوا۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا: ان کو میرے پاس جدا جدا جماعتیں بنا کر بھیجتے رہو۔ اس طرح وہ کھانے لگے۔ جب ایک جماعت سیر ہو جاتی تو وہ نکل جاتی اور دوسری آ جاتی۔ یہاں تک کہ سب کھا چکے اور پیالے میں جتنا پہلے تھا‘ اتنا ہی بچا رہا (نہ کم ہوا اور نہ زیادہ) (اس دوران) رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم فرماتے تھے: کھاؤ اور ہڈی نہ توڑو! پھر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ہڈیوں کو پیالے کے وسط میں جمع کیا اور ان پر اپنا مبارک ہاتھ رکھا۔
پھر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے کچھ کلام پڑھا‘ جسے میں نے نہیں سنا۔ ناگاہ وہ بکری کان جھاڑتی اٹھی۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے مجھ سے فرمایا: اپنی بکری لے جا۔ پس میں اپنی بیوی کے پاس آیا وہ بولی یہ کیا ہے؟ میں نے کہا: اللہ کی قسم یہ ہماری بکری ہے‘ جسے ہم نے ذبح کیا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ سلم نے اللہ سے دعا مانگی پس اللہ نے بکری کو زندہ کر دیا۔ یہ سن کر میری بیوی نے کہا:
اشهد ان محمد عبده و رسولهO
میں گواہی دیتی ہوں کہ وہ (محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں"۔
("خصائص الکبریٰ" جلد ۲‘ ص ۶۷)
حضور ﷺ کے توسل سے بھی مردہ زندہ ہو گیا:
حضرت انسؓ سے روایت ہے کہ :
"انصار میں سے ایک جوان نے وفات پائی۔ اس کی ماں اندھی بڑھیا تھی۔ ہم نے اس جوان کو کفنا دیا اور اس کی ماں کو پرسہ دیا۔ ماں نے کہا: کیا میرا بیٹا مر گیا ہے؟
ہم نے کہا: ہاں!
یہ سن کر اس نے یوں دعا مانگی۔ یا اللہ اگر تجھے معلوم ہے کہ میں نے تیری طرف اور تیرے نبی کی طرف اس امید پر ہجرت کی ہے کہ تو ہر مشکل میں میری مدد کرے گا تو اس مصیبت کی مجھے تکلیف نہ دے۔ ہم وہیں بیٹھے تھے کہ اس جوان نے اپنے
چہرے سے کپڑا اٹھا دیا اور کھانا کھایا۔ اور ہم نے بھی اس کے ساتھ کھایا“۔
(مواہب اللدنیہ، اس حدیث کو ابن ابی الدنیا، بیہقی اور ابو نعیم نے نقل کیا ہے)
آپ ﷺ کے دعا کے لیے اٹھے ہوئے ہاتھ ابھی ہٹے نہ تھے
کہ بارش شروع ہو گئی:
حضرت انسؓ سے روایت ہے:
”نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے زمانے میں ایک مرتبہ قحط پڑ گیا اور بارش نہیں ہوئی۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جمعہ کا خطبہ فرما رہے تھے۔ اس دوران ایک دیہاتی نے کھڑے ہو کر کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہماری دولت ہلاک ہو گئی اور ہمارے اہل و عیال بھوکے مر رہے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بارش کی دعا فرمائیں۔ آنحضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسی وقت اپنے دونوں ہاتھ اٹھا کر دعا فرمائی۔ اس وقت آسمان پر کہیں ابر کا نام و نشان نہ تھا۔ خدا کی قسم! آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنے ہاتھ دعا سے ہٹائے نہ تھے کہ چاروں طرف پہاڑوں سے گھٹاؤں کے ٹکڑے آنے لگے اور آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم منبر سے اترے بھی نہ تھے کہ بارش کی وجہ سے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی داڑھی مبارک سے قطرے ٹپک رہے تھے۔ اس جمعہ کے بعد سے دوسرے جمعہ تک برابر بارش ہوتی رہی۔ دوسرے جمعہ کو وہی دیہاتی یا کوئی اور کھڑا ہوا اور عرض کی کہ بارش کی شدت کی وجہ سے مکانات گر گئے اور مال مویشی ڈوب گئے۔ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم آپ دعا فرمائیں کہ بارش رک جائے۔ آنحضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہاتھ اٹھا کر دعا فرمائی: اے اللہ! ہمارے اوپر نہیں ہمارے آس پاس بارش برسا، جنگلوں اور پہاڑوں پر برسا۔ دعا میں آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اپنی انگلی سے چاروں طرف اشارہ کرتے جاتے تھے اور جس طرح اشارہ فرماتے تھے، ابر اس طرف کھلتا جاتا تھا۔ یہاں تک کہ جب لوگ مسجد سے نماز پڑھ کر نکلے تو مدینہ میں دھوپ نکلی ہوئی تھی اور چاروں طرف بادل تھے۔ آس پاس بارش ہوتی رہی اور باہر سے جو لوگ
آتے تھے وہ بارش کی زیادتی کا واقعہ بیان فرماتے تھے۔ اس روایت میں تو ایک معجزہ تو پانی سے متعلق ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی دعا سے بارش ہوئی۔ دوسرا معجزہ فضا سے متعلق تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے جس طرف اشارہ فرمایا، فضا صاف ہوتی گئی“۔ (بخاری شریف)
آپ ﷺ کی جان کا دشمن آپ ﷺ کی رسالت کا گواہ ہو گیا:
”جنگ بدر کے بعد صفوان بن امیہ بن خلف اور عمیر بن وہب بن خلف دونوں کعبہ کے پاس مقام حجر میں بیٹھ کر بدر میں اپنے ہلاک ہونے والے لوگوں کا تذکرہ کر رہے تھے۔ صفوان نے کہا: اپنے آدمیوں کے قتل ہونے کے بعد زندگی کا مزہ جاتا رہا۔ عمیر نے کہا: سچ ہے، میں قرض دار ہوں میرے پاس ادا کرنے کو کچھ نہیں۔ میں ڈرتا ہوں میرے بعد میری اولاد تباہ ہو جائے گی اگر یہ اندیشہ اور ڈر نہ ہوتا تو میں جا کر محمد (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کو قتل کر دیتا۔ میرا ایک بیٹا محمد (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کی قید میں ہے۔ اس بہانے میں وہاں تک پہنچ بھی سکتا ہوں۔ صفوان نے یہ بات غنیمت سمجھی اور عمیر کا قرض چکانے اور اس کی اولاد کی خبر گیری کا وعدہ کر لیا۔ عمیر نے کہا: میرے اس ارادے کو کسی سے نہ کہنا اور نہ کسی کو خبر کرنا۔ عمیر نے تلوار زہر میں بجھائی اور مدینہ کو چل دیا۔ مسجد نبویؐ کے پاس اونٹ کو بٹھایا، تلوار گردن میں لٹک رہی تھی۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے دیکھتے ہی کہا کہ یہ دشمن خدا کسی بری نیت سے آیا ہے۔ آنحضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تک اس کے آنے کی خبر پہنچائی۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: عمیر کو میرے پاس لے آؤ۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ گئے اور اس کی تلوار اپنے قبضے میں کر کے اسے ساتھ لائے۔ آنحضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس سے پوچھا: کیوں آئے ہو؟ اس نے کہا: اپنے قیدی بیٹے کے ساتھ نیک سلوک کرنے کی سفارش کرنے آیا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: یہ تلوار گردن میں لٹکانے کی کیا ضرورت تھی۔ اس نے کہا: یہ تلوار کس کام کی ہے (یعنی اس نے بدر میں کون سے جوہر دکھائے تھے) آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: سچ سچ بیان کر، تو کس مقصد کے لیے آیا تھا۔ اس نے پھر وہی قیدی کے ساتھ حسن سلوک کا مقصد بتایا۔ اس پر آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے
حقیقت کو بیان فرمایا: تم اور صفوان مقام حجر میں جمع ہوئے تھے؟ اور یہ باتیں تم میں ہوئیں اور پھر صفوان کی ذمہ داری پر مجھے قتل کرنے آئے ہو۔ جب یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے عمیر نے سنی تو فوراً پکار اٹھا: اشہد انک رسول اللہ میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اللہ کے رسول ہیں میرے اور صفوان کے سوا کسی تیسرے کو میرے اس ارادہ کی خبر نہ تھی۔ خدا کی قسم اللہ ہی نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر دی ہے۔ اللہ کا شکر ہے کہ اس نے اسلام کی طرف راہنمائی فرمائی۔ اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم سے فرمایا کہ اپنے بھائی عمیرؓ کو دین کی باتیں اور قرآن سکھلاؤ اور اس کے قیدی کو رہا کر دو"۔
(بیہقی۔ طبرانی)
اللہ تعالیٰ کو محمد رسول اللہ ﷺ پسند ہیں:
ام المومنین سیدہ عائشہؓ راویہ ہیں:
"رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حضرت علی مرتضیٰ ؓ کو بلایا اور فرمایا: میری اس انگوٹھری پر محمد بن عبداللہ کندہ کرا دو اور وہ انگوٹھری خالص چاندی کی تھی۔ تو وہ نقاش کے پاس لائے اور کہا کہ یہ نقش اس پر کندہ کر دو۔ اس نے کہا: میں اسے کندہ کر دوں گا اور اس پر اجرت طے کی تو اللہ تعالیٰ نے نقاش کے ہاتھ کو اس طرح بدل دیا کہ اس نے محمد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کندہ کر دیا۔
اس پر حضرت علی ؓ نے فرمایا کہ کیا بات ہے میں نے تمہیں محمد بن عبداللہ کندہ کرنے کا حکم دیا تھا۔ نقاش نے کہا: بلاشبہ اللہ نے میرے ہاتھ کو پھیر دیا تھا۔ خدا کی قسم میں یہی کندہ کرنا چاہتا تھا مگر بے شعوری میں یہ کندہ ہو گیا۔ حضرت علیؓ نے ارشاد فرمایا: تم نے سچ کہا ہے۔ پھر حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ اس انگوٹھری کو حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں لائے اور آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے سارا حال بیان کیا۔ تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے تبسم فرمایا اور ارشاد فرمایا: یقیناً میں اللہ کا رسول ہوں"۔
(خصائص الکبریٰ ' جلد دوم)
یہ واقعہ بھی آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی غائبانہ خبر کی صداقت پر روشنی ڈالتا ہے اور
آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے مقام نبوت و رسالت پر کھلی دلیل ہے۔
ملائکہ آپ ﷺ کی مدد کو احد میں اترے:
سعد بن ابی وقاص ؓ فرماتے ہیں:
"میں نے جنگ احد کے دن نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے دائیں بائیں نہایت سفید کپڑے پہنے ہوئے دو شخصوں کو دیکھا جو کفار سے لڑ رہے تھے۔ ان دونوں کو اس سے پہلے کبھی نہ دیکھا تھا۔ یہ جبرئیل علیہ السلام اور میکائیل علیہ السلام دو فرشتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی مدد کے لیے بہت سی لڑائیوں میں فرشتے بھیجے۔ چنانچہ پانچ ہزار فرشتے مدد کو آئے۔ اسی طرح جنگ حنین اور احد میں بھی آئے۔ فرشتوں کا مدد کو آنا آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی رفعت شان کی دلیل ہے"۔ (معجزات رسول صلی اللہ علیہ و آلہ
وسلم، ص ۹۱-۹۲)
آپ ﷺ کی حفاظت کے لیے فرشتوں کا مامور ہونا:
حضرت ابو ہریرہ ؓ فرماتے ہیں کہ:
"ایک بار ابو جہل نے لات و عزیٰ کی قسم کھا کر کہا کہ اگر میں نے محمد (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کو زمین پر ناک رگڑتے یعنی نماز میں سجدہ کرتے دیکھا تو اپنے پیروں سے اس (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کی گردن روند ڈالوں گا۔ اتفاق ایسا ہوا کہ ایک روز نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نماز پڑھ رہے تھے۔ ابو جہل اپنے ارادے کو پورا کرنے کی غرض سے آگے بڑھا۔ پھر اچانک الٹے پاؤں پھرا، جیسے ہاتھوں سے کوئی روک رہا ہو۔ لوگوں نے اس سے ماجرا پوچھا تو اس نے کہا: میں نے اپنے اور محمد (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کے درمیان دہکتی آگ کی ایک خندق اور بڑا خوفناک منظر دیکھا اور کچھ پر بھی نظر آئے۔ آنحضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ ابو جہل میرے قریب آتا تو فرشتے اس کے ٹکڑے کر کے لے جاتے"۔ (مسلم شریف)
فرشتے بارگاہ نبوت ﷺ میں:
حضرت ابن عباسؓ کا بیان ہے کہ ”انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی خدمت میں دو مرتبہ جبرئیل علیہ السلام کو دیکھا“۔ (ترمذی شریف)
نیز ۔۔۔ اسامہ بن زیدؓ کا بیان ہے کہ ”انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے پاس جبرئیل علیہ السلام کو دیکھا“۔ (بخاری شریف، مسلم شریف)
عالم جنات میں آپ ﷺ کی نبوت اور رسالت کے چرچے:
حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے:
”ایک دن میں بتوں کے پاس موجود تھا۔ ایک بت پرست اور بتوں کے پجاری نے ایک بچھڑا بتوں پر چڑھا کر ذبح کیا۔ اس دوران اچانک ایک بت کے پیٹ سے ان الفاظ کے ساتھ یہ آواز نکلی:
”اے قومی انسان کام کی بات یہ ہے کہ ایک فصیح شخص کہتا کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں“۔
حضرت عمرؓ کا بیان ہے کہ لوگ یہ چیخ سن کر ڈر سے بھاگ گئے لیکن میں آواز کی حقیقت معلوم کرنے کی غرض سے رکا رہا۔ دوسری مرتبہ پھر یہی آواز نکلی۔ چنانچہ تھوڑی مدت کے بعد محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے متعلق یہ خبر سنی کہ یہ نبی ہیں اور ”لا الہ الا اللہ“ کی تعلیم دیتے ہیں۔ بت کے پیٹ میں سے جن نے آواز دے کر آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی تعلیم کی تلقین کی تھی“۔ (بخاری
شریف، بحوالہ معجزات رسولؐ)
گویا جنات آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی رسالت کے مبلغ بن گئے۔ ”بیہقی“ اور ”نسائی“ کی روایت ہے کہ
”نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے حکم سے حضرت خالد بن ولید ؓ نے جب عزیٰ کے بت کدے کو ڈھا دیا تو اندر سے ننگے سر بکھرے ہوئے بالوں والی ایک کالی عورت نکلی اور سر پر ہاتھ رکھ کر چیخنے لگی۔ حضرت خالدؓ نے تلوار سے اس عورت کے دو ٹکڑے کر دیے ۔ آنحضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے جب یہ
واقعہ بیان کیا تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ وہی عورت عزیٰ تھی۔ اب اس کی پوجا نہ ہو گی۔ عزیٰ ایک درخت تھا‘ اس پر مشرکین نے ایک تھان بنا کر پوجنا شروع کیا۔ اس درخت میں سے آوازیں آتی تھیں۔ اسی لیے اس کی پوجا ہونے لگی تھی۔ یہ آواز اس درخت کی ایک جنیہ خبیثہ (بھوتنی) کی تھی۔ آنحضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے اثر سے وہ خبیثہ مجسم عورت کی شکل میں ظاہر ہو کر مار ڈالی گئی۔ چنانچہ اس کے قتل ہونے کے بعد آپ ﷺ نے فرمایا کہ اس درخت کی پوجا اسی بھوتنی کی وجہ سے ہوا کرتی تھی۔ اب وہ ماری گئی تو کبھی عزیٰ کی پوجا نہ ہو گی۔ (“معجزات رسول” ص ۱۴۰‘ از مولانا احمد سعید دہلویؒ )
درختوں کی گواہی پر جنات نے آپ ﷺ کی رسالت پر ایمان لایا
بیہقی نے ”دلائل النبوۃ“ میں ابن مسعودؓ سے روایت کی ہے کہ: ”نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک مرتبہ اپنے اصحاب سے مکہ میں فرمایا کہ تم میں سے جو بھی جنوں کو دیکھنا چاہے وہ آج رات کو آجائے۔ ابن مسعودؓ کہتے ہیں کہ سوائے میرے اور کوئی نہ آسکا۔ آنحضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مجھے اپنے ساتھ لے کر مکہ کی اونچی پہاڑی پر پہنچے۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنے پائے مبارک سے میرے لیے ایک دائرہ کھینچ کر فرمایا کہ تم اسی کے اندر بیٹھے رہنا۔ ابن مسعودؓ کو اس دائرے میں بٹھا کر آگے تشریف لے گئے اور ایک جگہ کھڑے ہو کر قرآن پاک کی تلاوت شروع فرمادی۔ اچانک ایک بڑی جماعت نے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو گھیر لیا اور میرے اور آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے درمیان وہ جماعت حائل ہو گئی۔ میں نے جنوں کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ ”تمہارا پیغمبر ہونے کی کون گواہی دیتا ہے۔ قریب ہی ایک درخت تھا۔ آنحضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ اگر یہ درخت گواہی دے تو تم مان لو گے؟ جنوں نے کہا: ہاں مان لیں گے۔ اس پر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس درخت کو بلایا۔ درخت نے آکر گواہی دی اور وہ سارے جن آپ ﷺ کی نبوت پر ایمان لے آئے“۔ (“معجزات رسول” ص ۱۴۱-۱۴۰‘ از مولانا احمد
سعید دہلویؒ) آنحضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں جنوں کے حاضر ہونے کے چھ واقعات احادیث سے ثابت ہیں۔ پہلی مرتبہ مکہ میں یہ واقعہ ہوا کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اچانک ہم سے کہیں گم ہو گئے۔ صحابہؓ نے ہر چہار طرف میدانوں اور پہاڑوں میں آپ ﷺ کو تلاش کیا مگر آپ ﷺ کو کہیں نہ پایا۔ صبح کو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم حرا پہاڑ کی جانب سے تشریف لائے اور فرمایا کہ میرے پاس جنوں کا قاصد دعوت نامہ لے کر آیا تھا۔ میں اس کے ساتھ گیا اور جنوں کو اللہ کا کلام سنایا۔ اس مرتبہ آپ ﷺ بالکل تنہا تھے۔ یہ واقعہ ابن مسعودؓ کی روایت سے ابو داؤد میں موجود ہے۔
دوسری مرتبہ مکہ کی پہاڑی حجون پر آپ ﷺ کی ملاقات جنوں سے ہوئی۔ تیسری مرتبہ مکہ کے پہاڑوں میں جنوں سے ملاقات ہوئی۔ چوتھی مرتبہ بقیع الغرقد میں، ان دونوں موقعوں پر ابن مسعودؓ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ہمراہ تھے۔ پانچویں مرتبہ مدینے سے باہر ملے، اس دفعہ ابن زبیرؓ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ہمراہ تھے۔ چھٹی مرتبہ ایک سفر میں ملے، جبکہ حضرت بلالؓ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ہمراہ تھے۔ (”اکام المرجان فی احکام الجان“ از ابو البقاء شبلی حنفیؒ)
جن شاعر نے آپ ﷺ کی شان اقدس میں نعت کہی:
بیہقی کی روایت میں سواد بن قارب اپنا واقعہ بیان کرتے ہیں کہ : ”جاہلیت کے زمانے میں ایک جن سے میری دوستی تھی۔ وہ آنے والی باتوں کی خبریں مجھے بتاتا تھا اور میں لوگوں کو بتا دیا کرتا۔ لوگ بکثرت میرے معتقد ہو گئے اور مجھے نذرانے دینے لگے۔ چونکہ اس کی بتائی ہوئی خبریں سچی ثابت ہوتی تھیں۔ ایک مرتبہ میں سو رہا تھا کہ اس جن نے آکر جگایا اور کہنے لگا کہ اٹھ ہوش میں آ اور تجھ میں کچھ مادہ ہے تو سمجھ لے کہ لوی بن غالب کی اولاد میں سے ایک نبی پیدا ہوئے ہیں۔ پھر اس جن نے چند اشعار پڑھے جن کا مطلب یہ ہے کہ مجھے ان جنوں پر تعجب آتا ہے کہ جو بے قرار ہو کر اپنے اونٹوں پر سوار ہو کر ہدایت حاصل کرنے کی غرض سے مکہ جاتے ہیں۔ جو جن اسلام لائے، وہ ناپاک کافر جنوں سے افضل ہیں۔ سو تجھے بھی اس سردار عرب کی طرف آنکھیں اٹھانی چاہئیں اور بنو ہاشم کے اس سردار کی طرف سفر کرنا چاہیے۔
سواد بن قارب کہتے ہیں کہ میں وہ اشعار سن کر رات بھر بے قرار و بے چین رہا۔ دوسری رات کو بھی اس جن نے آ کر مجھے جگایا اور اسی طرح کے اشعار پڑھے۔ تیسری رات بھی یہی واقعہ پیش آیا۔ مسلسل تین راتوں کا یہ واقعہ دیکھ کر اسلام کی محبت میرے دل میں بیٹھ گئی اور میں آنحضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی خدمت میں مکہ پہنچا۔ آپ ﷺ نے مجھے دیکھتے ہی فرمایا: مرحبا اے سواد بن قارب! ہمیں معلوم ہے کہ تم کس لیے یہاں آئے ہو۔ میں نے عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول ﷺ ! آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی تعریف میں چند اشعار میں نے عرض کیے ہیں۔ پہلے آپ ﷺ وہ اشعار سن لیں۔ آنحضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا حکم پا کر سواد نے اپنا قصیدہ نعتیہ پڑھ کر سنایا۔ اس قصیدے کے آخری شعر کا مطلب یہ ہے: اے اللہ کے رسول ﷺ ! اس دن کے لیے آپ ﷺ میری شفاعت کرنے والے ہو جائیں جس دن کسی کا کوئی شفیع اور نفع پہنچانے والا نہ ہو گا۔ سواد بن قارب کے قصیدے کا عربی شعر:
سواک بمغن عن سواد بن قارب
ترجمہ: ”اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم جس دن سواد کے لیے کوئی سفارشی نہ ہو گا۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اس دن کے لیے میرے سفارشی ہو جائیے“۔ (معجزات رسول صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم، ص ۱۴۳-۱۴۴، از مولانا احمد سعید دہلویؒ)
آپ ﷺ کے اشارے سے چاند کے دو ٹکڑے ہو گئے:
”صحیحین“ اور دوسری معتبر کتب احادیث میں مشہور اور متواتر روایتوں سے یہ واقعہ ثابت ہے کہ:
”ہجرت سے پہلے مکہ معظمہ میں ابو جہل، ولید بن مغیرہ اور عاص بن وائل وغیرہم کفار نے جمع ہو کر نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی خدمت میں یہ سوال اٹھایا کہ اگر تم سچے ہو تو چاند کو دو ٹکڑے کر کے دکھاؤ۔ آنحضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ارشاد فرمایا: اگر میں ایسا کر دکھاؤں تو کیا تم ایمان لے آؤ گے؟ سب نے کہا: ہاں۔ چنانچہ آنحضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے اللہ تبارک و تعالیٰ
سے دعا کی کہ یہ چاند دو ٹکڑے ہو جائے۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی دعا قبول ہوئی۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے چاند کی طرف اشارہ فرمایا اور چاند دو ٹکڑے ہو گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہر کافر کو نام لے کر پکارا اور کہا: اے فلاں گواہ رہنا اے فلاں گواہ رہنا۔ سب لوگوں نے چاند کے ٹکڑے اچھی طرح سے دیکھ لیے۔ دو ٹکڑے ایک دوسرے سے اتنی دوری پر ہو گئے تھے کہ بیچ میں حرا پہاڑ نظر آ رہا تھا۔ کافروں نے اس پر کہا کہ یہ تو جادو ہے۔ ابو جہل نے کہا کہ ہم اس معاملہ کی مزید تحقیق کریں گے، اگر یہ جادو ہو گا تو صرف ہم لوگوں پر ہی ہو سکتا ہے، جو لوگ یہاں موجود نہیں ہیں اور دوسرے شہروں اور ملکوں میں ہیں ان پر تو جادو نہیں ہو سکتا، اس لیے باہر سے جو لوگ آئیں، ان سے اس معاملہ کی تحقیق کرنی چاہیے۔ چنانچہ دور دراز کے لوگ آیا کرتے تھے اور ان سے جب چاند کے دو ٹکڑے ہونے کا حال پوچھا جاتا تو وہ سب اقرار کرتے کہ ہاں ہم نے بھی چاند کو دو ٹکڑے ہوتے دیکھا ہے۔ یہ معجزہ آنحضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا اتنا بڑا ہے کہ اس کے بارے میں قرآن کی یہ آیت نازل ہوئی-
اقتربت الساعته وانشق القمر وان يرو آيته يعرضوا ويقولوا سحر مستمر
”قیامت قریب آگئی اور چاند پھٹ گیا اور اگر یہ لوگ کوئی معجزہ دیکھتے ہیں تو روگردانی کرتے ہیں۔ یہ تو چلتا ہوا جادو ہے“۔
اب یہ چیز ممکن ہی نہیں بلکہ واقعہ بھی ہو گئی کہ آسمان اور سارے عالم کی حالت بدل سکتی ہے۔ لیکن کفار کا عجیب حال ہے کہ بت پرستی وغیرہ جو عقل کے بالکل خلاف ہے، اس کو تو مانتے ہیں لیکن کوئی سچا معجزہ اور نشانی ظاہر ہو تو اس کو جادو وغیرہ کہہ کر رد کر دیتے ہیں۔
آنحضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا یہ معجزہ صرف عرب ہی میں نہیں بلکہ تمام دنیا میں دیکھا گیا ہے۔ تاریخ فرشتہ میں ہے کہ ملیبار کے ایک راجہ نے مسلمانوں سے جب یہ قصہ سنا تو اپنے مذہب کے عالموں سے اس زمانے کے حالات کی تحقیق کی جس زمانے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مبعوث ہوئے۔ انہوں نے ان کتابوں میں تلاش کیا تو چاند کے دو ٹکڑے ہونے کی تصدیق کر دی۔ یہ معلوم کر کے وہ راجہ مسلمان ہو گیا۔
”سوانح الحرمین“ میں لکھا ہے کہ صوبہ مالوہ میں دریائے چنبل کے پاس ایک شہر دہار ہے‘ وہاں کا راجہ اپنے محل کی چھت پر بیٹھا ہوا تھا۔ اچانک اس نے دیکھا کہ چاند کے دو ٹکڑے ہوگئے اور تھوڑی دیر کے بعد چاند پھر جڑ گیا۔ اس نے اپنے یہاں کے پنڈتوں سے دریافت کیا تو انہوں نے بتایا کہ ہمارے مذہب کی کتابوں میں لکھا ہے کہ عرب میں ایک نبی ﷺ پیدا ہوں گے ان کے ہاتھ سے چاند کے دو ٹکڑے ہونے کا معجزہ ظاہر ہوگا۔ یہ معلوم کر کے اس راجہ نے اپنا قاصد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں بھیجا اور آپ ﷺ پر ایمان لایا۔ اس راجہ کا نام آنحضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے عبداللہ رکھا۔ اس راجہ کی قبر شہر دہار کے باہر اب بھی موجود ہے اور لوگ اس کی زیارت کرتے ہیں۔ اس واقعے کو مولانا رفیع الدین صاحب نے بھی اپنے رسالہ ”شق القمر“ میں تاریخ فضلی سے نقل کر رکھا ہے۔ جس میں مالوہ کے اس راجہ کا نام راجہ بھوج بتایا ہے۔ چاند کے دو ٹکڑے ہونے پر بے دینوں نے بہت سے اعتراضات کیے ہیں۔ ان سب کا جواب مولانا رفیع الدین صاحبؒ نے اپنے رسالہ ”دفع اعتراضات معجزہ شق القمر“ میں خوب تفصیل سے دیا ہے اور بتایا ہے کہ حکمائے یورپ کو بھی یہ مسئلہ ماننا پڑا اور فلاسفہ کا بہت بڑا طبقہ فلکیات میں خرق و التیام کا قائل ہے۔ سوائے مشائین کے جو خرق و التیام کے منکر ہیں۔ اگرچہ ان کے دلائل بہت کمزور ہیں اور علمائے کرام نے ان کا جواب دیا ہے“۔ (”معجزات رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم“ ص ۱۵۷-۱۵۵‘ از مولانا احمد سعید دہلویؒ)
آپ ﷺ کی دعا سے ڈوبا ہوا سورج لوٹ آیا:
امام طحاوی اور طبرانی نے اسماء بنت عمیسؓ سے روایت کی ہے کہ:
”نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم خیبر کے قریب مقام صہبا میں تشریف فرما تھے۔ اسی دوران آپ ﷺ پر وحی نازل ہوئی۔ آپ ﷺ اپنا سر مبارک حضرت علیؓ کے زانو پر رکھ کر سوگئے۔ حضرت علیؓ نے عصر کی نماز ابھی نہیں پڑھی تھی۔ آنحضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی نیند کی وجہ سے حرکت نہ کی۔ جب آفتاب غروب ہونے لگا تب آنحضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بیدار ہوئے اور حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے پوچھا کہ تم نے عصر کی نماز پڑھی؟ انہوں نے کہا نہیں۔
چنانچہ آنحضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اللہ تعالیٰ سے دعا فرمائی کہ اے الٰہی یہ علیؓ تیری اور تیرے رسول ﷺ کی اطاعت میں مشغول تھے، تو سورج کو واپس لوٹا دے۔ اسماء کہتی ہیں کہ میں نے دیکھا کہ آفتاب غروب ہونے کے بعد پھر نکل آیا اور دھوپ پہاڑوں پر اور زمین پر پڑنے لگی"۔ اس حدیث کی صحت میں محدثین نے کلام کیا ہے۔ چنانچہ ابن جوزی نے اس حدیث کو موضوعات میں شمار کیا ہے لیکن بہت سے محققین، محدثین نے صحیح کہا ہے، امام سیوطی نے اس حدیث کی تشریح میں ایک رسالہ بھی لکھا ہے جس کا نام "کشف اللیس فی حدیث ردالشمس" رکھا ہے اور اس حدیث کو بہت سی سندوں سے روایت کر کے صحیح ثابت کیا ہے اور اس حدیث کی صحت کو بہ دلائل قویہ ثابت کیا ہے۔ ("معجزات رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم" ص ۱۵۸، ۱۵۷۔ "الشفاء"، "مواہب"۔ "خصائص الکبریٰ")۔ اس حدیث کو امام طحاویؒ اور قاضی عیاضؒ نے بھی صحیح کہا ہے۔ ابن منذر، ابن شاہین و طبرانی نے اسے ایسے اسناد کے ساتھ ذکر کیا ہے جن میں سے بعض صحیح کی شرط پر ہیں اور ابن مردویہ نے اسناد حسن کے ساتھ اسے روایت کیا ہے)
علماء نے لکھا ہے کہ کل عالم نو ہیں۔ یعنی عالم ملائکہ، عالم جن، عالم انس، عالم بساط، عالم جمادات، عالم نباتات، عالم حیوانات، عالم علوی، اور عالم معانی!
شاہ کونین صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی عالم گیر نبوت کے حوالے سے آٹھ کا ذکر ہو چکا جب کہ عالم معانی کا معجزہ خود قرآن مجید فرقان حمید ہے۔ جو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر نازل ہوا۔ اس میں متعدد پیشین گوئیاں ہیں۔ جو حرف بہ حرف پوری ہوتی رہیں اور تاقیامت ہوتی رہیں گی۔ یہ بات روز روشن کی طرح واضح ہے کہ قرآن مجید آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا وہ معجزہ ہے کہ جس کے نور سے صبح قیامت تک راہنمائی حاصل کی جاتی رہے گی اور بھٹکی ہوئی انسانیت اپنی راہیں متعین کرتی رہے گی۔
گویا کائنات کے ہر ہر مقام پر نور نبوت و رسالت محمدی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی ضیاء پاشیاں اور جلوہ افروزیاں ازل سے ابد تک، مشرق سے مغرب تک، شمال سے جنوب تک، جن و انس پر، ملائکہ پر، جمادات و نباتات پر، چرند و پرند پر، زمین پر، آسمان پر، چاند اور ستاروں پر، سورج پر، تحت الثریٰ سے ثریا تک، شعور و لاشعور پر اور مکان و لامکان پر تھیں، ہیں اور ہوتی رہیں گی اور یہی مقام رسالت اور ختم نبوت ہے۔
آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشین گوئیاں:
قرآن مجید، فرقان حمید خالق اکبر کی بے مثل کتاب ہے جو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی نبوت و رسالت کا اعجاز ہے۔ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کفار کو چیلنج فرما کر یہ خدائی کلام سناتے ہیں۔
وان كنتم فى ريب مما انزلنا على عبدنا فاتوا بسورة من مثله وادعوا شهداءكم من دون الله ان كنتم صدقين O فان لم تفعلوا و لن تفعلوا فاتقوا النار التى وقودها الناس والحجارة اعدت للكفرين O
(سورۃ البقرۃ: ۲۴)
ترجمہ : ”اور اگر ہو شک میں اس سے جو اتارا ہم نے اپنے بندے پر۔ تو لے آؤ ایک سورۃ اس قسم کی اور بلاؤ جن کو حاضر کرتے ہو اللہ کے سوا اگر تم سچے ہو۔ پھر اگر نہ کرو اور البتہ نہ کر سکو گے تو بچو آگ سے جس کا ایندھن پتھر اور انسان ہیں، کافروں کے لیے تیار کی گئی ہے“۔
ان آیات بینات میں پیشین گوئی ہے کہ قرآن مجید کی ایک سورۃ کی مثل بنانے پر کوئی قادر نہ ہوگا۔ چنانچہ آج تک ایسا ہی وقوع پذیر ہو رہا ہے۔ حضور اقدس صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے زمانہ مبارک سے لے کر اب تک چودہ سو برس گزر گئے، بڑے بڑے اہل لسان، ادیب اور شعراء گزر گئے مگر قرآن کی عظمت اپنی پوری جلالت کے ساتھ قائم ہے اور انشاء اللہ الرحمٰن صبح قیامت تک اس چیلنج کو کوئی قبول نہ کر سکے گا۔
اللہ تبارک و تعالیٰ مرتدوں کے مقابلے میں ایک قوم کو کھڑا کرے گا:
ارشاد باری تعالیٰ ہے:
يا ايها الذين امنو من يرتد منكم عن دينه فسوف ياتى الله بقوم يحبهم و يحبونه اذلةٍ على المومنين اعزة على الكافرين يجاهدون فى سبيل الله و لا يخافون لومة لائم O ذالك فضل الله يوتيه من يشاء والله واسع عليم O
(سورة مائدہ: آیت نمبر ۵۴)
ترجمہ : ”اے ایمان والو! تم میں سے جو اپنے دین سے پھر جائے گا (مرتد ہو جائے گا) پس جلدی اللہ تعالیٰ اس کے مقابلے میں ایک قوم کو کھڑا کرے گا جسے اللہ محبوب رکھے گا اور وہ اللہ کو محبوب رکھیں گے مومنوں کے حضور پست ہو کر رہیں گے (سرنگوں رہیں گے) کافروں کے مقابلے میں عزت والے ہوں گے (دبدبے والے ہوں گے) اور کسی ملامت کرنے والے کی ملامت کی پرواہ نہیں کریں: یہ اللہ کا فضل ہے جسے چاہتا ہے دے دیتا ہے“۔
چنانچہ قرآن مجید کی اس پیشین گوئی کے مطابق واقعہ پیش آیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات کے بعد عرب کے قبائل مرتد ہوگئے اور کچھ نے مدعی نبوت مسیلمہ کذاب کی نبوت کو تسلیم کر لیا۔ یہ پیشین گوئی کا پہلا حصہ تھا کہ تم میں سے کچھ لوگ مرتد ہوں گے۔ دوسرے حصے میں اللہ تبارک و تعالیٰ نے مرتدوں کے مقابلے میں ایک قوم کو کھڑا کرنے کا اعلان فرمایا اور اس کی چھ صفات بھی بیان فرمائیں۔
مذکورہ چھ صفات سے متصف ایک جماعت حضرت سیدنا ابوبکر صدیقؓ کی قیادت میں کھڑی ہوئی اور ان مرتدین کا قلع قمع کیا۔ بلاشبہ مندرجہ بالا چھ صفات پر حضرت ابوبکر صدیقؓ اور ان کی جماعت ہی پورا اتر سکتی تھی کہ یہ بڑے نصیب کی بات ہے:
لاہور موچی دروازہ میں حضرت امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ کا جلسہ تھا اور حضرت مولانا شبیر احمد عثمانیؒ کی تقریر تھی۔ آپ نے یہی آیات تلاوت فرمائیں اور کہا آج کے دور میں ان آیات کا مصداق سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ اور ان کی جماعت ہے“۔ (خطاب حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانویؒ ”ختم نبوت کانفرنس“ ۷ / مئی ۱۹۹۲ء ۔ ایبٹ آباد)
دین کی تکمیل:
اليوم اكملت لكم دينكم واتممت عليكم نعمتى و رضيت لكم الاسلام دينا (سورة مائدہ، ع ۱)
ترجمہ : ”آج کے دن ہم نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر آپ کا دین مکمل کر دیا ہے اور آپ پر اپنی نعمت تمام کر دی ہے اور دین اسلام کو آپ کے لیے پسند کیا ہے“۔
یہ آیت کریمہ ۱۰ھ میں عرفہ کی شام کو جمعہ کے دن نازل ہوئی۔ اصحاب آثار کا قول
ہے کہ اس آیت کریمہ کے نزول کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اکاسی یا بیاسی دن زندہ رہے اور شریعت میں کوئی زیادتی یا نسخ یا تبدیلی وقوع میں نہ آئی۔ اس آیت شریفہ میں آنحضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی وفات شریفہ کی خبر ہے۔ حضرت صدیق اکبرؓ یہی سمجھے تھے اور یہ آیت سن کر آپؓ کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے تھے:
حضرت عیسیٰؑ کی موت سے قبل تمام اہل کتاب ان پر ایمان لائیں گے:
و ان من اهل الکتب الا ليؤمنن بہ قبل موتہٖ و یوم القیمہ یکون علیہم شہیدا O (سورۃ النساء)
ترجمہ : ”اور بے شک کوئی اہل کتاب ایسا نہیں رہے گا جو حضرت عیسیٰؑ کی موت سے قبل ان پر ایمان نہ لے آئے۔ اور حضرت عیسیٰؑ قیامت کے دن ان پر گواہ مقرر ہوں گے“۔
حیات و نزول عیسیٰؑ کا عقیدہ امت مسلمہ میں تواتر کے ساتھ اجتماعی طور پر تسلیم کیا جاتا ہے۔ خالق اکبر نے اس آیت کریمہ میں پیشین گوئی فرمائی ہے کہ جب عیسیٰ علیہ السلام نازل ہوں گے تو تمام اہل کتاب ان پر ایمان لے آئیں گے یعنی اہل کتاب میں سے کوئی کافر نہ رہے گا۔ سب حضرت عیسیٰؑ کی اقتداء میں سنت رسول عربی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر گامزن ہو جائیں گے۔
ایک جگہ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اس عقیدہ کو یوں بیان فرماتے ہیں: ”قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے، عنقریب تم میں عیسیٰ بن مریم حاکم عادل کی حیثیت سے نازل ہوں گے، پس صلیب کو توڑ دیں گے، خنزیر کو قتل کر دیں گے اور لڑائی موقوف کر دیں گے“۔
(”بخاری شریف“ جلد ۱، ص ۴۹۰)
صلیب عیسائیوں کی علامت ہے۔ عیسائی اور یہودی قومیں خنزیر پالتی اور کھاتی ہیں۔ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا یہ ارشاد کہ حضرت عیسیٰؑ ”صلیب کو توڑ ڈالیں گے“ سے مراد یہ ہے کہ صلیب کی پوجا ختم ہو جائے گی اور خنزیر شریعت مطہرہ کے مطابق حرام قرار پا جائے گا اور اہل کتاب کے یہ جھگڑے موقوف ہو جائیں گے۔
معلوم یہ ہوتا ہے کہ حضرت عیسیٰؑ اپنی امت کو (نصاریٰ کو) صراط مستقیم پر لانے کے لیے آسمانوں سے نازل ہوں گے اور کتنے خوش بخت ہوں گے اس وقت کے وہ نصاریٰ و یہود
کہ جو ہدایت پا جائیں گے۔ اے کاش! آج کوئی قرآن کی اس پیشین گوئی سے سبق سیکھنے والا ہوتا!
خلفاء اربعہؓ کے متعلق آپ ﷺ کی پیشین گوئی:
ابن حبانؒ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے آزاد کردہ غلام حضرت سفینہؓ سے روایت کیا ہے کہ:
”جب نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مدینہ منورہ میں مسجد نبوی کی تعمیر فرمائی اور اس کی بنیاد کھودی گئی تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حضرت ابو بکر صدیقؓ کو حکم دیا کہ تم اپنا پتھر میرے پتھر کے ساتھ رکھو۔ چنانچہ حضرت ابو بکر صدیقؓ نے اپنا پتھر حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پتھر کے برابر رکھا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حضرت عمرؓ کو حکم دیا اور حضرت عمرؓ نے اپنا پتھر حضرت ابو بکر صدیقؓ کے برابر رکھا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حضرت عثمانؓ کو حکم دیا کہ تم اپنا پتھر بنیاد میں حضرت عمرؓ کے پتھر کے برابر رکھ دو۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: یہ لوگ خلیفہ ہوں گے۔ چنانچہ اس کے مطابق ہوا“۔ (حاکم نے ”مستدرک“ میں اور بیہقی نے ”دلائل النبوۃ میں ذکر کیا ہے)
نبی ﷺ، صدیق اور شہید:
حضرت انسؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ہمراہ ابو بکرؓ، عمرؓ اور عثمانؓ بھی تھے۔ وہ پہاڑ ہلنے لگا۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پہاڑ کو ٹھوکر مار کر کہا: اے احد ٹھہر جا۔ اے احد! تجھ پر ایک نبی‘ ایک صدیق اور دو شہید ہیں“۔ (بخاری شریف)
یعنی نبی تو خود حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم۔ صدیق‘ ابو بکرؓ اور دو شہید حضرت عمرؓ اور حضرت عثمانؓ۔ چنانچہ جیسے حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا تھا ویسا ہی ہوا۔ حضرت ابو بکرؓ کی وفات کے بعد حضرت عمرؓ مسجد نبوی میں نماز کی حالت میں ایک مجوسی ابو لولو فیروز کے ہاتھوں اور حضرت عثمانؓ قرآن کی تلاوت کرتے ہوئے بلوائیوں کے ہاتھ شہید ہوئے۔
جنت کی بشارت:
ابو موسیٰ اشعری سے مروی ہے وہ فرماتے ہیں کہ:
”میں ایک دن نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ہمراہ ایک باغ میں تھا۔ یہ باغ مدینے کے باغوں میں سے ایک تھا۔ سو ایک شخص دروازے پر آیا اور اس نے دروازہ کھلوایا۔ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: دروازہ کھول دو اور آنے والے شخص کو جنت کی بشارت دے دو۔ ابو موسیٰؓ کہتے ہیں میں نے باغ کا دروازہ کھولا تو دیکھا حضرت ابو بکرؓ ہیں۔ میں نے ان کو جنت کی بشارت دے دی۔ یہ سن کر انہوں نے خدا کی حمد بیان کی۔ تھوڑی دیر بعد ایک اور شخص نے دروازہ کھلوایا تو حضرت عمرؓ تھے۔ میں نے ان کو بھی یہ بشارت دی تو انہوں نے بھی الحمد للہ کہا۔ ان کے بعد تیسرے صاحب نے دروازہ کھلوایا تو حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ابو موسیٰؓ باغ کا دروازہ کھول دو اور جو شخص آئے اس کو جنت کی بشارت دو اور ایک بلوے میں مبتلا ہونے کی جو اسے پہنچے گا۔ چنانچہ میں نے دروازہ کھولا تو حضرت عثمانؓ تھے۔ میں نے ان کو جنت کی بشارت دی اور بلوے کی خبر دی۔ جنت کی بشارت پر انہوں نے خدا کی حمد بیان کی اور بلوہ کی خبر سن کر اللہ سے مدد چاہی“۔ (بخاری شریف۔ مسلم شریف)
اس حدیث میں حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے جو فرمایا تھا یعنی حضرت عثمانؓ کا اسی مصر و عراق کی بغاوت میں شہید ہونا تو اہل مصر و عراق نے مدینے پر بلوہ کیا اور حضرت عثمانؓ ذوالنورین کو شہید کیا“۔ (از ”معجزات رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم“ ص ۲۷)
حضرت علی المرتضیٰؓ کی عظمت:
حضرت علی کرم اللہ وجہہ سے روایت ہے کہ:
”جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ اگلی امتوں میں سب سے زیادہ شقی کون ہے؟ اور اس امت میں سب سے زیادہ شقی کون ہے؟ میں نے عرض کی: مجھے معلوم نہیں: فرمایا: پہلی امتوں میں سب سے زیادہ شقی حضرت صالحؑ کی قوم میں قدار بن سالف تھا، جس نے ناقہ اللہ کی کونچیں کاٹی
تھیں اور اس امت میں زیادہ شقی وہ ہے جو تمہارے سر پر تلوار مارے گا۔ یہاں تک کہ تمہاری داڑھی تمہارے خون سے سرخ ہو جائے گی اور اس تلوار کے زخم سے شہید ہو جاؤ گے“۔ (مسند احمد)
چنانچہ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی یہ اطلاع لفظ بہ لفظ پوری ہوئی اور آپؓ عبدالرحمن بن ملجم خارجی کی تلوار سے صبح کی نماز کے وقت شہید ہوئے۔ اس نے آپؓ کی داڑھی مبارک خون سے سرخ ہو گئی اور اس سے آپؓ شہید ہوئے۔ کہتے ہیں حضرت علی کرم اللہ وجہہ کو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے فرمانے سے اپنی شہادت کی تفصیل معلوم تھی۔ جس شب کی صبح کو ابن ملجم خارجی نے آپؓ کو زخمی کیا‘ آپ نے اس شب میں کئی مرتبہ نکل کر آسمان کو دیکھا اور آپؓ نے فرمایا: واللہ نہ میں نے جھوٹ بات کہی اور نہ مجھ سے جھوٹ بات کہی گئی۔ یہ تو وہی رات ہے جس کا مجھ سے وعدہ تھا۔ سحر کے وقت بطخیں آپ ؓ کے سامنے چلانے لگیں تو لوگوں نے انہیں ہٹانا چاہا تو آپؓ نے فرمایا: ان کو چھوڑ دو‘ یہ اپنے غم کا اظہار کر رہی ہیں۔ پھر موذن نے آکر اذان کے لیے کہا۔ آپؓ نماز کے لیے تشریف لے گئے۔ ابن ملجم خارجی (ملعون) نے آپؓ کے سر پر تلوار ماری۔ ایک شخص نے حضرت علیؓ سے ایسی حالت میں جب کہ آپؓ کوفہ کے منبر پر تھے‘ دریافت کیا: اے علیؓ! اس آیت کا کیا مطلب ہے اور اس سے کون لوگ مراد ہیں!
رِجال صدقوا ما عهدوا الله عليه فمنهم من قضى نحبه و منهم من ينظر وما بدلوا تبديلاO
ترجمہ : ”کچھ مرد ہیں کہ انہوں نے اس بات کو سچا کیا اور پورا کیا جس پر انہوں نے اللہ سے عہد کیا تھا۔ پس ان میں سے کچھ تو اپنے عہد کو پورا کر چکے اور بعضے ان میں سے انتظار کرنے والے ہیں“۔
حضرت علیؓ نے فرمایا: یہ آیت میری شان میں اور میرے متعلق نازل ہوئی ہے اور میرے چچا حضرت حمزہؓ اور میرے چچا کے بیٹے عبیدہ بن حارثؓ کی شان میں نازل ہوئی ہے کہ عبیدہ نے کام پورا کیا اور وہ بدر کے دن شہید ہوئے۔ حضرت حمزہؓ احد کے دن شہید ہوئے اور میں منتظر ہوں اس امت کے شقی ترین کا کہ میری داڑھی کو میرے خون سے رنگین کرے گا۔ مجھ سے میرے حبیب ابو القاسم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایسا ہی فرمایا ہے۔
”ایک دفعہ ابن ملجم خارجی حضرت علی کرم اللہ وجہہ سے سواری مانگنے آیا۔ آپؓ نے اس کو سواری دے دی اور پھر فرمایا: واللہ یہ میرا قاتل ہے۔ لوگوں نے
کہا: پھر آپؐ اسے قتل کیوں نہیں کر دیتے۔ آپؐ نے فرمایا: پھر مجھے کون قتل کرے گا۔ اس واقعہ کو ”صاحب صواعق محرقہ“ نے نقل فرمایا“۔ (”معجزات رسول صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم“ ص ۳۱-۳۲‘ از مولانا احمد سعید دہلوی)
ایک عورت تنہا حیرہ سے کعبہ تک کا سفر کرے گی اور اسے سوائے اللہ
کے کسی کا خوف نہ ہوگا:
”جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے عدی بن حاتم سے فرمایا: ”اگر تیری عمر بڑی ہوگی تو تو دیکھے گا ایک عورت تنہا اونٹنی پر سوار ہو کر حیرہ سے چلے گی اور کعبہ پہنچ کر طواف کرے گی اور سوائے اللہ تعالیٰ کے اسے کسی چور اور لٹیرے کا ڈر نہ ہوگا۔ اگر تیری عمر زیادہ ہوئی تو‘ تو دیکھے گا کہ مسلمانوں کے لیے کسریٰ یعنی بادشاہت کے خزانے کھول دیے جائیں گے۔ اے عدی تیری عمر زیادہ ہوئی تو‘ تو دیکھے گا کہ ایک آدمی اپنا مٹھی بھر سونا اور چاندی خیرات کرنے کو نکلے گا اور قبول کرنے والے کو ڈھونڈتا پھرے گا مگر اس کو کوئی قبول کرنے والا نہیں ملے گا اور کوئی اس سونے چاندی کی خیرات کو قبول نہ کرے گا“۔
(صحیح بخاری)
اس پیشین گوئی میں آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے تین باتیں ارشاد فرمائیں:
- (۱) عرب میں امن ہو جائے گا۔ یہاں تک کہ حیرہ جو کوفے کے پاس ہے‘ وہاں سے ایک
عورت تنہا سفر کر کے مکہ کا حج کرے گی اور اس کی جان و مال کو کوئی خطرہ نہ ہو گا۔
- (۲) ملک فارس کا فتح ہونا اور اس کے خزانوں پر قبضہ ہونا۔
- (۳) غناء کی کثرت کہ کوئی صدقہ لینے والا نہ ملے۔
دو باتیں تو پوری ہو گئیں۔ تیسری کو بعض علماء کہتے ہیں: حضرت خلیفہ عمر بن عبد العزیزؒ کے زمانے میں پوری ہو گئی۔ بعض علماء فرماتے ہیں کہ یہ پیش گوئی حضرت (مہدی) آخر الزمان کے زمانے میں پوری ہو گی۔ واللہ اعلم۔
سراقہؓ کے ہاتھ میں سونے کے کنگن:
نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے سراقہ ابن مالک سے فرمایا: اے سراقہ کیا حال
ہو گا جب تم کو کسریٰ بادشاہ فارس کے دونوں کنگن تمہارے ہاتھوں میں پہنائے جائیں گے۔ پھر جب عمرؓ کے عہد خلافت میں فارس فتح ہوا اور کسریٰ کے دونوں کنگن حاضر کیے گئے تو حضرت عمرؓ نے سراقہ کو طلب کیا اور دونوں کنگن ان کو پہنا دیے اور فرمایا: اس اللہ کا شکر ہے کہ جس نے دونوں کنگن کسریٰ سے چھینے اور سراقہؓ کے ہاتھوں میں پہنا دیے تھے اور انہوں نے اپنے ہاتھ اونچے کر کے تمام مسلمانوں کو دکھا دیے تاکہ پیشین گوئی کا پورا ہونا سب کو معلوم ہو جائے"۔ (بیہقی)
واضح ہو کہ یہ پیشین گوئی آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس وقت فرمائی جب آپ پر سرزمین مکہ تنگ کر دی گئی تھی۔ دشمن آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو اپنے وطن میں رہنے نہیں دے رہے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اپنے حبیب حضرت ابو بکر صدیقؓ کے ساتھ ہجرت میں تھے۔ مسافری کی زندگی۔ سراقہ ابن مالک جو اس وقت مسلمان نہیں تھے، قریش مکہ نے انعام کا لالچ دے رکھا تھا کہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو معاذ اللہ زندہ یا کسی بھی حالت میں گرفتار کرنے والے کو انعام و اکرام دیا جائے گا۔ یہ وہی سراقہ ابن مالک ہیں جو سفر ہجرت میں آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے قریب پہنچ گئے تھے اور جن کا گھوڑا زمین میں دھنس گیا تھا۔ اندازہ فرمائیے کس حالت میں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ارشاد فرما رہے ہیں کہ "کسریٰ کے کنگن تمہیں پہنائے جائیں گے"۔ خود وطن سے بے وطن ہو رہے ہیں لیکن خدا کی قدرت پر اعتماد کا یہ حال ہے کہ سب سے بڑی بادشاہت کے فتح ہونے کی خبر اس حال میں ارشاد فرما رہے ہیں۔ چنانچہ اللہ کے کرم سے یہ پیشین گوئی حضرت عمرؓ کے دور میں پوری ہوئی۔
حضرت حسینؓ شہید ہوں گے:
حضرت ام فضلؓ سے روایت ہے۔ وہ فرماتی ہیں کہ:
"میں نے ایک دن ایسا خواب دیکھا جس سے سخت پریشان ہوئی۔ میں نے حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے عرض کیا کہ میں خواب دیکھتی ہوں گویا آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے جسد اطہر کا ایک ٹکڑا کاٹ کر میری گود میں رکھا گیا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: "ام فضل گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے، فاطمہؓ کے ہاں لڑکا پیدا ہو گا اور وہ تیری گود میں رہے گا"۔
چنانچہ حضرت فاطمہؓ کے ہاں حضرت حسینؓ پیدا ہوئے اور میری گود میں رہے۔ ایک دن میں حسینؓ کو گود میں لے کر حاضر ہوئی اور میں نے حسینؓ کو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی گود مبارک میں دے دیا اور میں کسی اور طرف دیکھنے لگی۔ یکایک میری نظر حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے چہرۂ انور پر پڑی تو دیکھا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے آنسو رواں ہیں۔
میں نے رونے کا سبب دریافت کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جبرئیل نے مجھے خبر دی ہے کہ میرے اس بیٹے کو میری امت شہید کرے گی“۔ میں نے تعجب سے عرض کیا کہ ”اس حسینؓ کو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی امت شہید کرے گی؟“ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ہاں! جبرئیل نے مجھے سرخ رنگ کی مٹی بھی لا کر دی ہے“۔ (بیہقی)
حضرت مولانا شاہ عبد العزیز دہلویؒ نے ”سر الشہادتین“ میں فرمایا ہے کہ یہ حدیث اور حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی یہ پیشین گوئی تمام صحابہ کرامؓ اور اہل بیت میں اس قدر مشہور تھی کہ سب لوگ جانتے تھے۔ ابو نعیم نے یحییٰ حضرمی سے نقل کیا ہے کہ میں صفین کے سفر میں حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے ہمراہ تھا۔ جب قصبہ نینوی کے قریب پہنچے تو آپؓ نے حضرت حسینؓ کو آواز دے کر بلایا اور فرمایا کہ اے ابو عبد اللہ کنارہ فرات پر صبر کرنا اور صبر کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑنا۔ حضرمی کہتے ہیں، میں نے دریافت کیا: ”اے علیؓ یہ آپؓ نے حسینؓ کو کیا کہا؟“ تو علیؓ نے کہا کہ ”مجھ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ جبرئیل نے مجھ سے کہا کہ حسینؓ فرات کے کنارے قتل کیے جائیں گے“۔ بلکہ اصبغ بن نباتہ سے ابو نعیم نے نقل کیا ہے کہ ان کو حضرت علیؓ نے وہ جگہ بتائی، جہاں حسینؓ کا قافلہ اترے گا اور جہاں ان کے اونٹ بیٹھیں گے اور جہاں ان کو شہید کیا جائے گا اور جہاں آل محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا خون بہے گا۔ غرض یہ پیشین گوئی ایسی مشہور تھی کہ کم و بیش تمام حضرات اس کو جانتے تھے اور قبل از وقوع اس واقعہ کا اجمالی علم رکھتے تھے۔
(معجزات رسول ﷺ ”ص ۴۴-۴۵“ از مولانا احمد سعید دہلوی)
جنگ بدر میں کفار کے مرنے کی جگہ سے متعلق پیشین گوئی:
حضرت عمر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے جنگ بدر میں ان مرنے والے کفار کی، جو اس جنگ میں مارے
گئے‘ مرنے کی جگہ ہم کو بتا دی تھی اور یہ فرمایا تھا کہ فلاں کافر یہاں مارا جائے گا انشاء اللہ‘ اور فلاں انشاء اللہ یہاں قتل ہو گا“۔ حضرت عمرؓ فرماتے ہیں: ”قسم ہے اس ذات کی کہ جس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دین حق دے کر بھیجا‘ اس بدر کے دن اسی طرح اور ہر مرنے والے کی مرنے کی جگہ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے جو بتائی تھی وہ اسی جگہ قتل ہوا اور اس جگہ سے سرمو تجاوز نہ کر سکا“۔ (مسلم شریف)
کعبہ شریف کی ”چابی“ عثمان بن طلحہؓ کی اولاد میں تاقیامت رہے گی:
حضرت عثمان بن طلحہؓ فرماتے ہیں کہ ہم ایام جاہلیت میں کعبہ کا دروازہ ہفتہ میں دو دن یعنی پیر اور جمعرات کو کھولا کرتے تھے اور باقی دنوں میں کعبہ کا دروازہ بند رہتا تھا۔ ایک دن نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اپنے چند ہمراہیوں کو لے کر کعبہ میں داخل ہونے کی غرض سے تشریف لائے۔ میں نے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے تلخ کلامی کی اور ترش روئی کا سلوک کیا مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنے ضبط اور حلم کا ثبوت دیا اور فرمایا: ”اے عثمان ایک دن تو اس کعبہ کی کنجی میرے ہاتھ آئے گی اور تو دیکھے گا اور میں جسے چاہوں گا اس کو دے دوں گا“۔ میں نے کہا کہ ”اس دن قریش مر جائیں گے اور ذلیل ہو جائیں گے کہ اس دروازے کی کنجی تمہارے ہاتھ میں چلی جائے گی“۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں اس دن قریش کو اور زیادہ عزت حاصل ہو گی“۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کعبہ میں داخل ہوئے مگر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی بات نے میرے دل میں ایسا اثر کیا اور میں سمجھا کہ ایک دن یہ بات ضرور ہونے والی ہے۔ پھر فتح کے بعد آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس دروازے کی کنجی مجھ سے منگوائی۔ میں نے خدمت میں حاضر کر دی۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے وہ کنجی پھر مجھے واپس کر دی اور فرمایا کہ ”یہ کنجی لو یہ قیامت تک تمہارے ہی خاندان میں رہے گی تم سے سوائے ظالم اور جابر کے اس کو کوئی نہیں چھین سکے گا“۔ جب میں واپس چلنے لگا تو مجھ کو بلا کر فرمایا: ”وہ اس دن کی بات بھی یاد ہے جو میں نے تم سے کہی تھی کہ کعبہ کی کنجی میرے ہاتھ میں ہو گی اور میں جس کو چاہوں گا دوں گا“۔ میں نے عرض کیا: ”یقیناً جو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم
نے فرمایا تھا وہی ہوا۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اللہ تعالیٰ کے سچے رسول ہیں“۔
(طبقات ابن سعد)
اس واقعہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی دو پیشین گوئیاں تھیں جو پوری ہوئیں۔ ایک یہ کہ یہ کنجی میرے ہاتھ میں ہوگی۔ دوسری یہ کہ یہ کنجی اب قیامت تک تیرے ہاتھ میں رہے گی۔ پہلی بات آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہجرت سے پہلے فرمائی تھی اور دوسری فتح مکہ کے دن ارشاد فرمائی۔ جس دن کنجی منگا کر اپنے ہاتھ میں لے کر عثمان بن طلحہؓ کے سپرد فرمائی اور آج تک کعبہ کی کنجی ان کے خاندان میں ہے اور وہی کعبے کے دروازے کو کھولتے اور بند کرتے ہیں“۔
(”معجزات رسول ﷺ“ ص ۵۳‘ از مولانا احمد سعید دہلوی)
آئمہ کرام سے متعلق پیشین گوئیاں:
حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ : ”نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اگر دین ثریا پر معلق ہوگا اور دین ثریا پر اٹکا ہوا ہو گا تو کچھ لوگ فارس کے اس دین کو پالیں گے“۔
(صحیحین)
اس حدیث میں پیشین گوئی ہے کہ اہل فارس میں بڑے ذی علم لوگ ہوں گے اور ان سے علم کی بہت خدمت ہوگی اور ان سے بہت علم پھیلے گا۔ خواہ علم کی بات بہت دور ہو اور ثریا ستارے کی طرح بہت اونچی ہو تو وہ فارس کے اہل علم اس کو اتنی دور سے بھی جا کر حاصل کر لیں گے۔ شارحین حدیث نے فرمایا ہے کہ اس سے امام ابو حنیفہؒ کی جانب اشارہ ہے۔ بعض حضرات نے کہا ہے کہ امام بخاریؒ کی طرف اشارہ ہے۔ بہرحال پیشین گوئی پوری ہو گئی اور فارس والوں نے دین کی بہت خدمت انجام دی اور حدیث و فقہ میں تمام امت ان کی خدمات جلیلہ سے مستفید ہو رہی ہے“۔
(”معجزات رسول ﷺ“ ص ۵۳‘ از مولانا احمد سعید دہلوی)
مدینے کے عالم سے کوئی زیادہ علم والا نہ ملے گا:
نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”عنقریب ایسا ہو گا کہ لوگ علم کی تلاش میں دور دراز سفر کریں گے لیکن مدینے کے عالم سے ان کو زیادہ علم والا نہیں ملے گا۔
سفیان بن عیینہؒ فرماتے ہیں کہ ”یہ مدینے کا عالم حضرت امام مالکؒ تھے“۔ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی پیشین گوئی پوری ہوئی اور حضرت امام مالکؒ مدینے کے بہت بڑے عاشق رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور متقی عالم ہوئے۔
قریش کے سب سے بڑے عالم:
ابن مسعودؓ سے روایت ہے کہ جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ ”قریش میں ایک ایسا بڑا عالم ہوگا کہ زمین کو علم کے خزانوں سے بھر دے گا“
(ابو داؤد شریف)
یہ روایت حضرت علیؓ اور ابن عباسؓ سے بیہقی میں بھی ہے۔ یہ پیشین گوئی بھی اسی طرح صادق ہوئی کہ امام شافعیؒ قریش میں پیدا ہوئے۔ امام احمدؒ نے ان کی بابت فرمایا کہ ”روئے زمین پر امام شافعیؒ سے بڑا عالم قریش میں نہیں پیدا ہوا اور اس حدیث میں انہی کی بابت پیشین گوئی ہے۔ حضرت امام شافعیؒ مطلب بن عبد مناف کی اولاد میں سے ہیں“۔
(”معجزات رسول ﷺ“ ص ۵۶‘ از مولانا احمد سعید دہلوی)
رافضی حضرت علیؓ کی شان میں مبالغہ کریں گے اور حضرات شیخینؓ کی
شان میں ہجو کریں گے:
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”بہت جلد میرے بعد ایک ایسی جماعت آئے گی جس کو لوگ رافضی کہتے ہیں۔ اگر تم ان کو پانا تو قتل کر دینا کیونکہ وہ لوگ مشرک ہوں گے“۔ حضرت علیؓ نے ان لوگوں کی پہچان دریافت کی تو آنحضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اے علیؓ تمہارے اندر وہ اوصاف بڑھا چڑھا کر دکھائیں گے جو تمہارے اندر موجود نہیں ہیں اور اگلے بزرگوں پر زبان درازی اور لعن کریں گے“۔
(دار قطنی)
اس روایت میں رافضی کی جس جماعت کے متعلق نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے جو پیشین گوئی فرمائی وہ پوری ہو کر رہی اور حضرت علیؓ کے زمانے میں ایک یہودی
عبداللہ ابن سباء نے لوگوں کو گمراہ کیا اور فرقہ روافض کی بنیاد ڈالی۔ اس یہودی کے ماننے والے حضرت علیؓ کو خدا کا درجہ دینے لگے۔ اسی وجہ سے ان کو مشرک کہا گیا اور حضرت علیؓ کو اتنا بڑھایا کہ پیغمبروں کے برابر بلکہ بہت سے پیغمبروں سے بھی افضل ٹھہرایا اور یہ بات ہر جماعت کے لوگ جانتے ہیں کہ رافضی فرقے کے لوگ بڑے بڑے صحابہ کرامؓ ابو بکر صدیقؓ و عمر فاروقؓ پر زبان درازی اور لعن کرتے ہیں۔ ایک روایت میں یہ بھی ہے کہ رافضی لوگ اہل بیت اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے گھرانے کی محبت کا دعویٰ کریں گے اور حقیقت میں ایسے نہ ہوں گے۔ ان کی پہچان یہ ہے کہ وہ حضرت ابو بکرؓ اور حضرت عمرؓ کو برا کہیں گے۔ ”دار قطنی“ نے اس حدیث کو کئی سندوں سے بیان کیا ہے اور حضرت ام سلمہؓ حضرت فاطمہ الزہراؓ سے اس حدیث کو روایت کیا ہے۔
(”معجزات رسول ﷺ“ ص ۶۰‘ از مولانا احمد سعید دہلوی)
خدا تعالیٰ مسیلمہ کذاب کو ہلاک کرے گا:
ابن عباس سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ مسیلمہ کذاب کو خدا تعالیٰ ہلاک کرے گا۔ مسیلمہ کذاب بنو حنیفہ کا ایک شخص تھا۔ اس نے مدینہ میں آکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس کہلا بھیجا کہ اگر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اپنے بعد حکومت میرے نام کر دیں تو میں آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا اتباع کروں گا۔
آنحضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ہاتھ مبارک میں درخت کی ایک شاخ تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس طرف اشارہ کر کے فرمایا کہ اگر مسیلمہ یہ شاخ بھی مانگے تو نہیں دوں گا۔ مسیلمہ یہ سن کر مدینے سے چلا گیا اور نبوت کا دعویٰ کیا“۔
چنانچہ اس کے حق میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی یہ پیشین گوئی کہ وہ مارا جائے گا۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی وفات کے بعد ہزاروں آدمی اس کی جھوٹی نبوت کے قائل ہو گئے تھے۔ حضرت ابو بکر صدیقؓ نے حضرت خالد بن ولیدؓ کے ساتھ ایک لشکر مسیلمہ کذاب سے لڑنے کے لیے یمامہ کی طرف بھیجا۔ خالد بن ولید رضی اللہ عنہ فتح یاب ہوئے اور مسیلمہ کذاب اسی جنگ میں حضرت وحشیؓ کے ہاتھوں جہنم رسید ہوا اور یوں آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی یہ پیشین گوئی بھی پوری ہوئی۔
معراج النبی صلی اللہ علیہ وسلم:
انسانی عقل سے وراء الوریٰ یہ مقام جو نبوت کو عطا ہوا نطق نبوت نے اسے معراج کا نام دیا۔ معراج النبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم وہ حقیقت ہے، جس میں نوع انسانی کے شرف اور بزرگی کو چہار دانگ عالم میں یوں آشکارا کیا گیا ہے کہ انسانیت کے خمیر سے اٹھنے والی ہر سعید روح اس پر عش عش کر اٹھی۔
اعلان خداوندی ہے:
سبحان الذی اسرٰی بعبده لیلاً من المسجد الحرام الی المسجد الاقصیٰ (سورہ بنی اسرائیل، رکوع ۱‘ پارہ نمبر ۵)
ترجمہ: ”پاک ہے وہ ذات (اللہ تعالیٰ) جس نے اپنے بندے حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو رات میں مسجد حرام سے مسجد اقصیٰ کی طرف سفر کروایا“۔
اس آیت مبارکہ میں اللہ تعالیٰ نے تین چیزیں ارشاد فرمائیں:
- ۱۔ لفظ سبحان: یہ لفظ اس وقت بولا جاتا ہے جب کہ عجیب و غریب اور خارق عادت
نشانیاں دیکھنے میں آتی ہیں۔ یہ لفظ دلیل ہے اس امر کی کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو جسم عنصری کے ساتھ حالت بیداری میں معراج کرائی گئی۔ ورنہ خواب کوئی ایسی چیز نہیں ہوتی جس پر اللہ تعالیٰ سبحان کا اطلاق کرتے۔
(”ہدایہ و نہایہ“ از حافظ ابن کثیر‘ ص ۱۱۴‘ جلد نمبر ۳)
- ۲۔ لفظ عبد : کا اطلاق کیا گیا ہے اور زندہ انسان کے لیے عبد کا اطلاق جسم اور روح
دونوں کے مجموعہ پر آتا ہے۔ اگر آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو جسم عنصری کے ساتھ معراج نہ کرائی گئی ہوتی تو اسرٰی بعبده نہ بولا جاتا بلکہ اسرٰی بروح عبده بولا جاتا جب کہ معاملہ اس کے بالکل برعکس ہے۔ (”شفا شریف“ از قاضی عیاض‘ ص ۸۶)
- ۳۔ مسجد اقصیٰ: تک مسجد حرام کے سفر کو اللہ تعالیٰ نے لفظ اسرٰی سے تعبیر فرمایا
اور اسرٰی کا اطلاق حقیقۃً رات کی اس سیر پر ہوتا ہے جو جسم اور روح دونوں کے ساتھ ہو۔
قرآن کہتا ہے:
فاسر باہلک بقطع من اللیل (سورہ ھود‘ پارہ ۱۲‘ رکوع ۷) ترجمہ : (”اے لوط علیہ السلام) رات کے کسی حصہ میں اپنے لوگوں کو ساتھ لے کر نکل جا“۔
یہاں بھی روح مع الجسد کا حکم ہے۔ یہ نہیں ہو سکتا کہ ارواح کو لے کر نکل جائیں اور اجساد پیچھے رہ جائیں۔
معراج النبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا ذکر قرآن مجید میں سورۂ بنی اسرائیل کے علاوہ سورۂ النجم اور سورۂ تکویر میں بھی کیا گیا ہے۔ جب کہ معراج النبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا تفصیلی ذکر جو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے اپنی نطق مبارکہ سے کیا‘ مختلف فرامین سے اس کا ماخذ پیش کیا جاتا ہے۔
معراج النبی ﷺ احادیث کی روشنی میں:
آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم ارشاد فرماتے ہیں کہ:
”میں لیٹا ہوا تھا کہ تین فرشتے آئے اور مجھے بیدار کر کے میرا پیٹ چاک کیا اور میرا دل سونے کے تھال میں رکھ کر زم زم کے پانی سے خوب دھو کر ایمان اور حکمت سے پر کر کے سی دیا۔ خچر سے چھوٹا اور گدھے سے بڑا ایک جانور‘ جس کو براق کہتے ہیں‘ میری سواری کے لیے پیش کیا گیا۔ جہاں تک انسان کی نگاہ پہنچتی ہے‘ وہاں تک اس کا ایک قدم ہوتا ہے۔ پھر مجھے بیت المقدس لے جایا گیا۔ براق اس حلقہ کے ساتھ باندھا گیا‘ جہاں دوسرے انبیاء کرام اپنی سواریوں کو باندھا کرتے تھے۔ پھر میں مسجد میں داخل ہوا اور تمام پیغمبروں کو خداوند تعالیٰ نے وہاں میرے لیے جمع کر دیا تھا۔ حضرت جبرئیلؑ کے ارشاد کے مطابق میں نے ان تمام کو امامت کرائی اور دو رکعت نماز پڑھائی۔ پھر وہاں سے پہلے آسمان تک گئے۔ حضرت جبرئیل نے دروازہ کھولنے کو کہا۔ دربان نے پوچھا: ”کون ہے؟“ کہا: ”جبرئیل ہے“۔ دربان نے کہا: ”ساتھ کون ہے؟“ فرمایا: ”حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم ہیں“۔ پوچھا گیا: ”کیا اللہ تعالیٰ کے ارشاد کے مطابق ان کو بلایا گیا ہے“۔ حضرت جبرئیل علیہ السلام نے کہا: ”ہاں“۔ پہلے آسمان پر حضرت آدم علیہ السلام سے علیک سلیک اور ملاقات ہوئی۔ انہوں نے صالح نبی اور نیک بیٹے کے ساتھ تعبیر کرتے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی آؤ بھگت کی۔ وہاں سے دوسرے آسمان کے دروازہ سے سابق طریق سے اجازت طلب کرنے کے بعد پہنچے۔ وہاں حضرت عیسیٰ اور حضرت یحییٰ علیھما السلام سے سلام کیا۔ انہوں نے نبی صالح اور الاخ
الصالح سے خطاب کرتے ہوئے مرحبا کہی۔ پھر تیسرے آسمان کے دروازہ سے بطریق مذکور کے ساتھ استیذان کیا گیا۔ وہاں حضرت یوسف علیہ السلام کو بطریق مذکور سلام کیا اور ان کی حسین ترین صورت دیکھنے میں آئی۔ انہوں نے بھی بھائی صالح اور نبی صالح سے خوش آمدید کہی۔ پھر چوتھے آسمان پر اسی اجازت کے بعد گئے۔ وہاں حضرت ادریس علیہ السلام تھے۔ جبرئیل نے کہا: ”ان کو سلام کریں“۔ میں نے سلام کیا۔ انہوں نے بھی دوسرے بزرگوں کی طرح مجھے مبارک باد دی۔ پھر وہاں سے پہلے کی طرح پانچویں آسمان پر اذن طلب کرنے کے بعد پہنچے۔ وہاں حضرت ہارون علیہ السلام کو سلام کیا گیا۔ انہوں نے بھی مرحبا سے یاد کیا۔ پھر چھٹے آسمان پر گئے۔ وہاں حضرت موسیٰ علیہ السلام سے ملاقات اور آؤ بھگت ہوئی۔ جب ہم ان سے رخصت ہی ہوئے تو ان کے رونے کی آواز آئی۔ پوچھا گیا: ”اے موسیٰ کیوں روتے ہو؟“ فرمایا کہ ”یہ نوجوان نبی میرے بعد دنیا میں آیا اور اس کی امت میری امت سے کہیں زیادہ تعداد میں جنت میں داخل ہو گی“۔ پھر ہم ساتویں آسمان پر گئے۔ وہاں حضرت ابراہیم علیہ السلام سے ملاقات ہوئی۔ میں نے ان سے سلام عرض کیا۔ انہوں نے ابن صالح اور نبی صالح کے الفاظ سے یاد کرتے ہوئے خوش آمدید کہی۔ پھر ان سے رخصت ہو کر سدرۃ المنتہیٰ مجھے لے جایا گیا۔ وہاں بیری کے پتے جو دیکھے تو ہاتھی کے کان کی مانند تھے اور اس کا پھل قبیلہ ہجر کے مٹکوں کی طرح تھا۔ وہ مقام احکام خداوندی کے لیے ہیڈ کوارٹر کی مانند ہے۔ وہاں سے احکام اترتے اور چڑھتے ہیں۔ وہاں سونے کے پروانوں نے اس کو گھیرے میں لے رکھا تھا۔ وہاں سے چار نہریں پھوٹتی ہیں۔ دو باطنی جو جنت میں جاتی ہیں اور دو ظاہری نیل اور فرات۔ وہاں سے مجھے بیت المعمور کے پاس لے جایا گیا۔ جہاں ہر روز ستر ہزار فرشتے عبادت کے لیے آتے ہیں۔ پھر ان کو مدت العمر دوبارہ وہاں آنے کا موقع نہیں ملتا‘ مجھے وہاں تین پیالے پیش کیے گئے۔ ایک دودھ کا دوسرا شراب کا اور تیسرا شہد کا۔ میں نے دودھ کے پیالے کو قبول کر لیا۔ مجھے ارشاد ہوا کہ آپ نے حسن انتخاب میں کمال کر دیا۔ دودھ سے دین فطرت مراد ہے۔ اگر آپ خمر وغیرہ لے لیتے تو آپ کی امت بھٹک جاتی۔ پھر مجھ پر پچاس نمازیں فرض کی گئیں۔ میں امنا و صدقنا کہتے ہوئے خوشی خوشی واپس آیا۔ جب موسیٰ علیہ السلام سے ملاقات ہوئی تو انہوں نے سوال کیا: ”کیا کچھ انعام لائے؟“ میں نے کہا: ”پچاس نمازیں“۔ انہوں نے فرمایا: ”میں بنی اسرائیل پر ان سے کم نمازوں میں تجربہ کر چکا ہوں۔ آپ کی امت ان سے بھی خلقت میں ضعیف اور کمزور ہے۔ آپ اپنے رب سے تخفیف کا مطالبہ کریں“۔ آپ ﷺ فرماتے ہیں: ”میں پھر واپس گیا۔ اللہ تعالیٰ پانچ پانچ
نمازیں میرے بار بار آنے جانے سے معاف کرتا رہا۔ حتیٰ کہ صرف پانچ رہ گئیں۔" حضرت موسیٰ علیہ السلام نے پھر بھی تخفیف کا مطالبہ پیش کرنے کو کہا۔ لیکن میں نے کہا مجھے اب شرم آتی ہے، اس لیے میں ان کو بطیب خاطر قبول کرتا ہوں۔ اتنے میں آواز آئی کہ ہمارے ہاں پہلے سے ہی یہی پانچ نمازیں طے ہو چکی تھیں۔ باقی پچاس باعتبار اجر اور ثواب کے تھیں۔ کیونکہ ہر نیکی کا ادنیٰ بدلہ دس گنا اللہ تعالیٰ کی طرف سے ملتا ہے اور مجھے وہاں ایک تو پانچ نمازیں ملیں۔ دوسرے سورہ بقرہ کی آخری آیات اور تیسرے یہ کہ آپ کی امت میں سے جو کوئی اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ کرے گا، اس کی بخشش ہوگی۔ میں یہ نعمتیں اور خوش خبریاں لے کر صبح سے پہلے مکہ مکرمہ پہنچ گیا۔ جب یہ واقعہ مشرکین نے سنا تو اودھم مچا دیا"۔
علامہ زرقانیؒ نے زرقانی شرح مواہب جلد ۱، ص ۳۵۵ پر لکھا ہے کہ : ”جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی معراج کی حدیثیں پینتالیس صحابہ کرام سے مروی ہیں"۔
معراج النبی ﷺ سے متعلق جمہور علماء اسلام کا عقیدہ :
قرآن کریم اور صحیح احادیث سے معراج جسمانی کا ثبوت پہلے گزر چکا ہے۔ اب معراج جسمانی کے متعلق جمہور اہل اسلام کا عقیدہ سن لیجئے!
”حافظ ابن کثیرؒ لکھتے ہیں کہ ”اکثر علماء کرام اور جمہور سلف و خلف کا اس بات پر اتفاق ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو حالت بیداری میں جسم عنصری کے ساتھ معراج کرائی گئی"۔ (جلد ۵، ص ۱۳۱، ”بدایہ و نہایہ ۳، ص ۱۱۳)
علامہ بغویؒ لکھتے ہیں کہ ”اکثر کا مذہب یہی ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو حالت بیداری میں اپنے جسم اطہر کے ساتھ معراج کرائی گئی۔ اس پر بے شمار صحیح حدیثیں موجود ہیں"۔ (معالم ۵، ص ۱۷۰)
علامہ عینیؒ اور حافظ ابن حجرؒ لکھتے ہیں کہ ”اسراء اور معراج ایک ہی رات میں بیداری کی حالت میں جسم اطہر کے ساتھ واقع ہوئی جب کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو نبوت اور رسالت مل چکی تھی۔ یہی جمہور محدثین، فقہاء اور متکلمین کا مذہب ہے اور اس عقیدہ کی دلیل میں متعدد صحیح اور ظاہر المعنی حدیثیں موجود ہیں"۔
(”عمدۃ القاری“ جلد ۸‘ ص ۷۹ ۔ ”فتح الباری“ جلد ۷‘ ص ۱۷۰)
علامہ سید محمود آلوسیؒ لکھتے ہیں کہ ”اکثر علماء اس کے قائل ہیں کہ اسراء اور معراج دونوں جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو حالت بیداری میں جسم عنصری کے ساتھ کرائی گئی تھیں“۔ (”روح المعانی“ جلد ۱۵‘ ص ۸)
امام نوویؒ لکھتے ہیں کہ ”حق بات تو یہ ہے کہ جس پر جمہور سلف اور متاخرین‘ فقہا‘ محدثین اور متکلمین متفق ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو حالت بیداری میں جسم مبارک کے ساتھ معراج کرائی گئی اور یہ واقعہ نبوت کے بعد کا ہے۔ کیونکہ اس پر اجماع ہے کہ نمازیں معراج کی رات فرض کی گئی ہیں اور نماز کی فرضیت نبوت کے بعد ہوئی ہے“۔
”نوویؒ شرح مسلم“ جلد ۱‘ ص ۹۱)
علامہ زرقانیؒ لکھتے ہیں کہ ”یہی جمہور محدثین‘ متکلمین اور فقہاء کرام کا مذہب اور عقیدہ ہے“۔ (زرقانی شرح مواہب“ جلد ۱‘ ص ۳۵۵)
قاضی عیاضؒ جمہور کا مذہب بتلاتے ہوئے بعض کا نام بھی لکھتے ہیں کہ ”یہی عقیدہ حضرت ابن عباسؓ‘ حضرت جابرؓ‘ حضرت انسؓ‘ حضرت حذیفہؓ‘ حضرت عمر ؓ‘ حضرت ابو ہریرہؓ‘ حضرت مالک بن صعصعہؓ‘ حضرت ابو حبہ بدریؓ‘ حضرت ابن مسعودؓ اور حضرت عائشہؓ کا مختار مذہب ہے اور یہی ضحاکؒ‘ سعید بن جبیرؒ‘ قتادہؒ‘ سعید بن المسیبؒ اور ابن شہابؒ‘ ابن سیدؒ‘ حسن بصریؒ‘ ابراہیم نخعیؒ‘ مسروقؒ مجاہدؒ‘ عکرمہؒ‘ ابن جریجؒ‘ امام طبریؒ‘ امام احمد بن حنبلؒ اور جمہور محدثین‘ متکلمین اور مفسرین کا عقیدہ اور مذہب ہے“۔ (”شفا شریف“ ص ۸۶)
ہم نے معراج جسمانی کے اثبات پر جو دلائل ہدیہ ناظرین کیے ہیں‘ ان کی موجودگی میں کسی اور دلیل کی ضرورت تو محسوس نہیں ہوتی۔ البتہ ہم چاہتے ہیں کہ مسئلہ کا ہر پہلو واضح سے واضح تر ہو جائے۔ اس لیے چند احادیث پیش کرنا قرین قیاس معلوم ہوتا ہے۔ ملاحظہ فرمائیے۔
- (۱) آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم ارشاد فرماتے ہیں کہ ”میں حطیم میں تھا
کہ معراج جسمانی کا واقعہ سن کر مشرکین ہر طرف سے امڈ آئے اور انہوں نے مجھ سے بیت المقدس کی کچھ نشانیاں اور علامتیں پوچھیں۔ مجھے وہ نشانیاں معلوم نہ تھیں۔ مجھے اس وقت اتنی پریشانی لاحق ہوئی کہ زندگی بھر کبھی ایسی پریشانی لاحق نہ
ہوئی تھی۔ اتنے میں حق تعالیٰ نے اپنے خاص فضل و کرم سے بیت المقدس کا نقشہ میرے سامنے پیش کر دیا۔ مخالف مجھ سے جو علامت پوچھتے جاتے تھے‘ میں دیکھ کر بتلاتا جاتا“۔ (صحیح بخاری“ جلد ۱‘ ص ۵۴۸‘ ”صحیح مسلم“ جلد ۱‘ ص ۹۶‘ ”صحیح ابو عوانہ“ جلد ۱‘ ص ۱۳۱)
اس روایت سے معلوم ہوا کہ مشرکین کو یہی بات ذہن نشین کرائی گئی تھی کہ آپ کو حالت بیداری میں معراج کرائی گئی ہے اور اس پر تعجب کرتے ہوئے مشرکین نے سوالات کی بوچھاڑ شروع کردی۔ اگر یہ معاملہ خواب یا کشف کا ہوتا تو مشرکین کو امتحان لینے کی ضرورت ہی محسوس نہ ہوتی بلکہ جو کچھ سنا تھا‘ اس پر صاد کرتے اور اسی کو غنیمت سمجھ لیتے۔
- (۲) حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ ”جس رات آنحضرت صلی اللہ
علیہ و آلہ وسلم بیت المقدس جاکر واپس تشریف لائے‘ اسی کی صبح کو آپ نے وہ واقعہ لوگوں سے بیان فرمایا۔ جس سے بہت سے لوگ جو آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر ایمان لاکر ہر طرح کی تصدیق کرچکے تھے‘ مرتد ہوگئے۔ پھر کفار ابوبکر کے پاس گئے اور کہنے لگے: ”کیا اب بھی اپنے رفیق یعنی جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی تصدیق کروگے۔ لیجئے وہ تو یہ کہہ رہے ہیں کہ آج رات وہ بیت المقدس جاکر واپس بھی آگئے ہیں“۔ حضرت ابوبکرؓ نے کہا: ”کیا واقعی حضرت نے ایسا فرمایا ہے؟“ وہ کہنے لگے: ”ہاں حضرت“۔ ابوبکرؓ نے فرمایا: ”تو میں اس کو مانتا ہوں“۔ لوگوں نے کہا: ”اے ابوبکرؓ کیا تم اس کی تصدیق کرتے ہو کہ وہ ایک ہی رات میں بیت المقدس وغیرہ تک گئے اور صبح سے پہلے پھر واپس آگئے“۔ حضرت ابوبکرؓ نے کہا: ”ہاں میں تو بیت المقدس سے دور کی باتوں کی تصدیق کرتا ہوں۔ یعنی جو صبح و شام آسمان کی خبریں بیان فرماتے ہیں‘ ان کو میں صحیح اور حق جانتا ہوں“۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ ”اسی وجہ سے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کا نام صدیق رکھا گیا“۔“
(”مستدرک“ جلد ۳‘ ص ۶۳‘ قال الحاکم ”والذہبی“ صحیح)
اس روایت سے ایک تو یہ بات معلوم ہوئی کہ مشرکین کے ذہن نشین یہی کرایا گیا تھا کہ حضرت حالت بیداری میں بیت المقدس جاکر واپس تشریف لائے ہیں۔ جن کی قسمت میں ایمان نہ تھا‘ وہ کلمہ پڑھنے کے بعد بھی شکوک اور شبہات میں مبتلا ہو کر مرتد ہوگئے اور حضرت ابوبکرؓ کو صدیق کا لقب عطا ہوا۔ اگر یہ معاملہ خواب کا ہوتا تو لوگوں کے مرتد ہونے کی کوئی
وجہ نہ تھی؟ اور خواب کا معاملہ کون سا بڑا کارنامہ تھا کہ حضرت ابوبکرؓ صدیق کہلائے؟ اور دوسری یہ بات ثابت ہوئی کہ حضرت عائشہؓ بھی معراج جسمانی کی قائل تھیں۔ ورنہ اس کی تصریح فرما دیتیں کہ یہ کفار نے بہتان باندھا ہے‘ وہ تو ایک خواب تھا۔ حضرت عائشہؓ کی ایک روایت ہم پہلے عرض کر چکے ہیں اور دوسری روایت یہ ہے۔ اور یہ دونوں اپنے مفہوم میں بالکل واضح ہیں۔
- (۳) حضرت ام ہانیؓ سے روایت ہے کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ
وسلم نے واقعہ معراج جب اہل مکہ کو سنایا‘ تو مطعم نے کہا کہ ”اب تک آپ کا معاملہ ٹھیک تھا۔ سوائے اس بات کے‘ جو اب کہہ رہے ہیں میں گواہی دیتا ہوں کہ تم جھوٹے ہو۔ (العیاذ باللہ) ہم تو اگر بڑی تیزی سے بھی اونٹوں کو چلائیں تو کہیں دو مہینوں کے بعد بیت المقدس سے واپس آسکتے ہیں اور تم کہتے ہو کہ میں ایک ہی رات میں جاکر واپس آگیا۔ لات اور عزیٰ کی قسم ہے کہ میں تو ہرگز نہ مانوں گا“۔ (”تفسیر ابن کثیر“ جلد ۵‘ ص ۱۳۹‘ ”فتح الباری“ جلد ۷‘ ص ۱۵۱‘ (البدایہ و النھایہ“ جلد ۳‘ ص ۱۱‘ خصائص الکبریٰ“ جلد ۱‘ ص ۱۷۸)
اس روایت سے بھی معلوم ہوا کہ مطعم وغیرہ کو یہی سمجھایا گیا تھا کہ آپ کو حالت بیداری میں معراج کرائی گئی ہے اور یہ چیز اس کی سمجھ میں نہیں آسکتی تھی۔ اس لیے انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو معاذ اللہ جھوٹا بھی کہا اور قسم کھا کر پرزور الفاظ میں مخالفت بھی کی۔
- (۴) حضرت عبداللہ بن عباسؓ فرماتے ہیں کہ جب آنحضرت صلی اللہ علیہ
و آلہ وسلم بیت المقدس وغیرہ سے واپس تشریف لائے تو ام ہانیؓ کو فرمانے لگے: ”مجھے یقین ہوا کہ اس واقعہ میں لوگ میری ضرور تکذیب کریں گے۔ اسی خیال سے غمگین ہو کر بیٹھ گئے۔ ابو جہل نے جب یہ سارا واقعہ سنا تو آپ کے پاس آیا اور کہنے لگا: ”کیا آپ رات بیت المقدس جاکر صبح پھر ہم لوگوں میں واپس آ گئے؟“ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں“۔ ابو جہل نے لوگوں کو بلایا اور آنحضرت ﷺ سے کہنے لگا: ”ذرا ان کو بھی وہ واقعہ سنا دیں جو مجھ کو سنا رہے تھے“۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے وہ واقعہ سنایا۔ لوگوں نے کہا: ”کیا بیت المقدس سے آپ کی مراد ایلیا ہے؟“ فرمایا: ”ہاں“۔ یہ سنتے ہی لوگوں کی یہ کیفیت ہو گئی کہ کوئی تالیاں بجانے لگا اور کسی نے تعجب سے سر پر ہاتھ رکھ لیا۔
(”تفسیر ابن کثیر“ جلد ۵‘ ص ۱۲۸‘ ”مسند احمد“۔ ”خصائص الکبریٰ“ جلد ۱‘ ص
۱۶‘ سند صحیح)
اس روایت کا ایک ایک لفظ پکار پکار کر کہہ رہا ہے کہ یہ واقعہ جسم عنصری اور بیداری کا تھا۔ اگر آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اس واقعہ کے بیان کرنے پر مامور نہ ہوتے تو شاید آپ کفار کی تکذیب کے ڈر سے (العیاذ باللہ) اس کو بیان بھی نہ فرماتے۔ اور اگر یہ واقعہ خواب کا ہوتا تو ابو جہل وغیرہ کو مجمع اکٹھا کرنے اور واقعہ سن کر تعجب کرنے اور تالیاں بجانے کی ضرورت ہی پیش نہ آتی۔ کیونکہ خواب کے بارے میں اتنا ہنگامہ برپا کرنے کا کوئی مطلب ہی نہیں ہو سکتا۔
- (۵) حضرت شداد بن اوسؓ سے روایت ہے کہ مکہ مکرمہ سے ایک قافلہ
بغرض تجارت شام کو گیا تھا اور وہ واپس آ رہا تھا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے براق پر سوار ہو کر جاتے وقت ان کو سلام کیا۔ انہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی آواز پہچان لی اور سن لی اور جب واپس مکہ آئے تو اس بات کی گواہی بھی دی۔ نیز آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مکہ مکرمہ واپس ہو کر اس قافلہ کی ایک ایک علامت بھی لوگوں کو بتائی تھی اور جب قافلہ آیا تو انہوں نے اس کی تائید بھی کی تھی۔ اسی حدیث میں یہ ناقابل فراموش مضمون بھی ہے۔
فاتانی ابوبکر فقال یا رسول اللہ این کنت اللیلہ قد التمستک فی مکانک
(”شفا“ ص ۲۷۸ ”تفسیر ابن کثیر“ ۵‘ ص ۱۲۶ و خصائص الکبریٰ ۱‘ ص ۱۵۸)
”کہ صبح کے وقت حضرت ابوبکرؓ میرے پاس آئے اور کہنے لگے: ”حضرت آپ ﷺ کو رات آپ کے مکان پر تلاش بھی کیا“۔
اس کے بعد آپ نے معراج کا مفصل واقعہ بیان فرمایا۔ امام بیہقی فرماتے ہیں: هذا اسناد صحیح کہ اس کی سند صحیح ہے۔ اس صحیح حدیث سے معلوم ہوا کہ قافلہ والوں کو پہچان کر آپ کا سلام کہنا اور ان کا آپ کی آواز کو پہچاننا اور پھر مکہ مکرمہ واپس ہو کر قافلہ کی علامتیں بتانا اور ان کا اہل مکہ سے اس کی شہادت دینا۔ نیز حضرت ابو بکر صدیقؓ کا رات کے وقت آپ کو مکان پر تلاش کرنا اور آپ کا وہاں موجود نہ رہنا۔ ان میں سے ایک ایک بات اس کو متعین کر رہی ہے
کہ یہ واقعہ خواب اور کشف کا ہرگز نہ تھا بلکہ جسم عنصری کے ساتھ حالت بیداری کا تھا۔
معراج النبی ﷺ میں ختم نبوت کا تصور:
”شب معراج میں‘ جو خود بھی آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی امتیازی شان کا ایک عظیم الشان باب اور ظہور ہے‘ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو تمام انبیاء کرام سے آگے بڑھا کر اور امام صلوٰۃ بنا کر تمام جماعت انبیاء کو مقتدی بنایا گیا تاکہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا افضل الانبیاء اور منتہائے کمالات نبوت ہونا‘ انبیاء اور ان کی امتوں پر کھل جائے کیونکہ نص قرآن عالم کی تخلیق کی غرض و غایت عبادت ہے اور افضل العبادات بلکہ جس سے عبد و معبود کے درمیان علاقہ قائم ہوتا ہے اور انسان کو حقیقی عبودیت نصیب ہوتی ہے‘ اس لیے جو ذات اقدس نماز میں سب انبیاء کی امام اور سب پر ممتاز ہوگی وہی مقصد تخلیق کو سب سے زیادہ پورا کرنے والی بھی ثابت ہوگی جس کے یہ معنی ہوئے کہ کمالات بشریت میں وہی سب سے فائق ہوگی جو نماز میں سب پر فائق اور سب سے ممتاز ہوگی۔
اس لیے شب معراج میں نماز میں آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی فوقیت دکھلانے کے لیے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو امام بنایا گیا‘ جو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے منتہائے کمالات نبوت ہونے کی دلیل ہے اور ختم نبوت کا حاصل ہے۔ نیز اسی لیے معراج میں آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو ساتوں آسمانوں سے گزار کر اور مستویٰ تک پہنچا کر نمایاں کیا گیا کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سارے انبیاء کرام اور ملائکہ مقربین کے مقامات سے گزر کر اس مقام تک جا پہنچے جہاں تک نہ کوئی نبی مرسل پہنچا اور نہ فرشتہ مقرب پہنچ سکا۔ پس حسی طور پر تو یہ آسمانوں سے گزارنا تھا اور معنوی طور پر مقامات انبیاء سے گزار کر اس انتہائی قرب کے مقام پر پہنچانا تھا جہاں تک کسی کی رسائی نہ تھی کیونکہ انبیاء علیہم السلام جب آسمانوں میں اپنے اپنے مقامات پر ملتے گئے اور آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اس سے آگے گزر گئے تو اس سے مقامات نبوت میں آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا تقدم اور فضل اور امتیاز ثابت ہو جاتا ہے۔
(”آفتاب نبوت“ ص ۱۱۳۔۱۱۴‘ از حضرت مولانا قاری محمد طیبؒ)
خرق عادت اور معجزات کی تصدیق غیر مسلم محققین کے قلم سے:
پروفیسر ہکسلے لکھتا ہے: ”تشفی بخش شہادت کے بعد مجھ کو یہ ماننا پڑے گا کہ پچھلے خیالات غلط تھے اور اس معجزہ کو ممکنات فطرت کی ایک نئی اور خلاف توقع مثال سمجھوں گا“۔
(مقالات ہکسلے ۵‘ ص ۲۰۳)
پروفیسر ڈائیسر اپنی تصنیف میں یوں رقم طراز ہے: ”اس امر کی ہمارے پاس خاصی شہادت موجود ہے‘ جس کو آسانی سے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کہ طبعی حوادث اس طرح وقوع پذیر ہوتے ہیں کہ ان کے تمام معمولی علل و اسباب غائب ہوتے ہیں مگر اجسام حرکت کرتے ہیں۔ در آنحالیکہ نہ تو کوئی شخص ان کو چھو رہا ہے اور نہ برقی و مقناطیسی عوامل سے پتہ چلتا ہے۔ اس کی بھی شہادت موجود ہے کہ ایک نفس خیال کا دوسرے نفس میں بلا کسی وساطت کے پہنچ سکتا ہے اور جس قسم کے واقعات کو معجزہ سمجھا جاتا ہے‘ ان کا وقوع اب غیر اغلب نہیں رہا“۔
(”مادہ‘ ایتھر‘ حرکت“ از پروفیسر ڈائیسر)
مشہور حکیم ڈاکٹر کارپنٹر لکھتا ہے: ”قائل مذہب سائنس دان کو یہ ماننے میں کوئی عقلی دشواری پیش نہیں آسکتی کہ خالق فطرت اگر چاہے تو کبھی کبھی قانون فطرت کی خلاف کر سکتا ہے“۔
(ماخوذ از ”سیرت النبی ﷺ“ جلد ۳‘ ص ۱۲۸)
ان قرائن و شواہد کے بعد عقل سلیم اس حقیقت کی معترف ہوا چاہتی ہے کہ
جاروب کش ہے تیری گلی کا مہ تمام
جہاں آپ ﷺ کے قول و عمل اور باطنی کیفیات کو معراج حاصل تھی وہاں دست قدرت نے آپ ﷺ کی ظاہری تجلیات کو بھی درجہ کمال عطا کر کے اتمام حجت بنا دیا۔ ذوق سلیم کی تسکین کے لیے تجلیات محبوب کبریا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے پردہ اٹھتا ہے۔
حضور ﷺ کے چہرہ انور کی تابانی:
حضرت جابر بن سمرہؓ نے فرمایا ہے کہ ”چاند کی چودھویں رات میں کبھی تو میں سید دو عالم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے چہرہ انور کو دیکھتا اور کبھی چاند کو ۔۔۔۔۔۔مگر سید دو عالم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا چہرہ انور میری نظر میں اس چاند سے زیادہ
حسین نظر آرہا تھا۔ (مشکوۃ شریف)
کہاں تم میں یہ آب و تاب اے شمس و قمر نکلی
حضرت ابو ہریرہؓ فرماتے ہیں کہ ”میں نے سید دو عالم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے زیادہ حسین کوئی نہیں دیکھا۔ یوں معلوم ہوتا تھا کہ جیسے سورج آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے چہرہ انور میں چل رہا ہو“۔ (مشکوۃ شریف)
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہؓ فرماتی ہیں کہ ”آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے اوصاف بیان کرنے والوں میں سے کوئی ایسا نہ تھا جو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے چہرہ مبارک کو چودھویں رات کے چاند سے تشبیہ نہ دیتا ہو“۔
(”البینات“ از مولانا اعزاز علیؒ ص ۱۵)
غیر مسلموں نے جب تعصب کی عینک اتار کر کملی والے ﷺ کے
چہرہ انور کو دیکھا تو حقیقت ان کے دل کے پار ہو گئی:
طارق نامی ایک تاجر اپنا اونٹ بیچنے کے لیے مدینہ منورہ کو روانہ ہوا۔ مدینہ منورہ کے باہر ایک مبارک شخص نے اس سے کھجوروں کی ایک مقدار کے بدلے میں اونٹ خرید لیا اور قیمت ادا کرنے سے پہلے ہی اونٹ لے کر مدینہ کو روانہ ہو گیا۔ طارق نے اپنے ساتھیوں سے کہا کہ ”ہم نے ایک ناواقف آدمی کو اونٹ دے دیا۔ نامعلوم وہ اس کی قیمت میں کھجوریں ادا کرے، نہ کرے“۔ تو اسی قافلے کی عورت نے کہا: ”اس اونٹ کی قیمت کی میں ضامن ہوں جو آدمی اونٹ لے گیا ہے، اس کا چہرہ چودھویں کی رات کے چاند کی طرح منور ہے، یہ ہرگز دھوکہ نہ کرے گا“۔ چنانچہ صبح ہوتے ہی مدینہ منورہ سے ایک آدمی نے آکر کہا کہ سید دو عالم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اونٹ کی قیمت میں یہ کھجوریں ارسال فرمائی ہیں۔ چنانچہ انہوں نے وصول کر لیں۔ (”الشفاء شریف“ جلد ۱ ص ۱۵۹)
نجد کے سردار ثمامہ ابن اثال کو جب گرفتار کر کے مدینہ منورہ لایا گیا اور تین دن کے بعد حضور انور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسے بلا کسی شرط کے آزاد فرمایا تو وہ بجائے وطن جانے کے یا کوئی انتقامی کارروائی کرنے کے جلد ہی حاضر خدمت ہو کر مشرف بہ اسلام ہوا۔ اس نعمت کے حاصل کرنے کے بعد اس میں جو دینی اور روحانی انقلاب آیا وہ اس کے الفاظ
میں درج ذیل ہے: "اے محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اللہ کی قسم! روئے زمین پر کوئی بھی چہرہ میری نظر میں آپ کے چہرے سے زیادہ ناپسندیدہ نہ تھا مگر اب آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا چہرہ تمام چہروں سے زیادہ محبوب نظر آنے لگا ہے"۔ (مشکوۃ شریف) آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے چہرہ انور کی تابانی کے متعلق حضرت عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں: "اگر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی رسالت کے لیے اور کوئی نشانی نہ ہوتی تو صرف چہرہ انور ہی اس کے لیے کافی تھا۔
(یا محمدؐ باوقار‘ ص ۳۱‘ از قاضی محمد زاہد الحسینی)
نہ ہماری بزم خیال میں‘ نہ دکان آئینہ ساز میں
آقا ﷺ کے پسینہ مبارک سے نور نکلنے لگا:
حضرت عائشہ صدیقہؓ سوت کات رہی تھیں اور رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اپنے جوتے کو صاف کر رہے تھے۔ اس دوران آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی پیشانی مبارک سے پسینہ جاری ہو گیا۔ اس پسینے سے نور نکلنے لگا۔ حضرت عائشہؓ یہ دیکھ کر حیران رہ گئیں۔ نبی رحمت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے ارشاد فرمایا: ”عائشہ تو کیوں حیران ہوتی ہے؟“ حضرت عائشہؓ نے ارشاد فرمایا کہ ”اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم! آپ کی پیشانی سے پسینہ جاری ہوا اور اس پسینے سے نور نکلنے لگا۔ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اگر آپ کو ابو کبیر ہذلی (اس حالت میں) دیکھ لیتا تو وہ اس کا شعر جو اس نے اپنے محبوب کے حق میں کہا تھا اس کا آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو بہت زیادہ حق دار سمجھتا۔ (وہ شعر آپ ﷺ پر پورا پورا صادق آتا ہے) رحمت عالم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”ابو کبیر ہذلی کا کیا شعر ہے؟“ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے وہ شعر پڑھا:
برقت كبرق العارض المتهلل
”جب تو (اے دیکھنے والے) اس (محبوب) کے چہرے کی لکیروں اور نشانیوں
کی طرف نظر کرے تو وہ اس طرح چمکتی ہے جس طرح چمکنے والے بادل سے شعلہ زن بجلی ریز ہوتی ہے"۔
یہ سن کر حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حضرت عائشہؓ کی طرف کھڑے ہو گئے اور ان کی دونوں آنکھوں کے درمیان بوسہ دیا اور فرمایا: "اے عائشہؓ اللہ میری طرف سے تجھ کو جزائے خیر دے جس طرح تو نے مجھے خوش کیا میں تجھ کو ایسا خوش نہیں کر سکتا"۔
(سنن الکبریٰ بیہقی)
شب اسریٰ جو خوشبو تھی محمد ﷺ کے پسینے میں
آفتاب نکلا ہوا:
ابو عبیدہ بن محمد بن عمار بن یاسر سے روایت ہے:
"کہا اس نے کہ میں نے ربیع بن معوذ بن عفراء صحابیہؓ سے عرض کیا کہ ”بیان کریں ہم سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی کوئی صفت“۔ تو وہ کہنے لگیں ”اے میرے بیٹے! اگر تو دیکھتا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو‘ تو دیکھتا تو آفتاب نکلا ہوا"۔
(مشکوۃ شریف)
والیِ بطحا ﷺ کے دندان مبارک سے نور کا اخراج:
حضرت ابن عباسؓ روایت کرتے ہیں کہ:
"رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے کے دو دانت ذرا کشادہ تھے۔ (یعنی ان دانتوں میں تھوڑا فرق تھا) جب حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کلام فرماتے تھے تو ان کے آگے کے دانتوں میں سے کچھ نور کی مانند نکلتا دیکھا جاتا تھا"۔
(دارمی شریف)
کملی والے ﷺ جس راہ سے گزرتے‘ راہ معطر ہو جاتی:
حضرت جابرؓ روایت کرتے ہیں کہ:
”رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم جس راہ سے جاتے تھے، پیچھے آنے والا شخص پہچان لیتا تھا کہ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اس راہ سے تشریف لے گئے ہیں۔ بسبب (آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے) عرق کی خوشبو کے“۔
(مشکوٰۃ شریف‘ باب اسماء النبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم)
آقا ﷺ کے ہاتھ کی ٹھنڈک اور خوشبو:
جابر بن سمرہؓ روایت کرتے ہیں کہ: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے ساتھ میں نے ظہر کی نماز پڑھی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم مسجد سے نکلے اور اپنے گھر کی طرف روانہ ہوئے اور میں بھی آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے ساتھ نکلا۔ (راستے میں حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی راہ میں چند لڑکے آئے) ازراہ محبت آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ان لڑکوں کے رخساروں کو تھپتھپانا شروع کیا اور رخساروں کو بھی چھوا۔ پس‘ پائی میں نے حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے ہاتھوں میں ٹھنڈک اور خوشبو۔ گویا کہ نکالا حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ہاتھ اپنا عطار کے ڈبہ سے“۔
(مشکوٰۃ شریف بحوالہ صحیح مسلم)
صل علیٰ وہ جسم رسالت مآب ﷺ ہے
سید دو عالم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے پسینہ مبارک کا خوشبودار ہونا تو حد تواتر تک ثابت ہے۔ صحابیات رضی اللہ تعالیٰ عنہما آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے پسینہ مبارک کو ڈبیوں اور شیشیوں میں محفوظ کر لیا کرتی تھیں اور خوشی کے موقع پر استعمال کیا کرتی تھیں۔
حضور ﷺ کے بدنی انوار و برکات:
آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا لعاب مبارک بھی معطر اور خوشبودار ہوا کرتا تھا اور اس کی خوشبو کسی بھی ملاوٹ سے کم نہ ہوتی تھی بلکہ بڑھنے لگتی تھی۔ جیسا کہ مندرجہ ذیل واقعہ سے ظاہر ہے:
”طلق بن علیؓ فرماتے ہیں کہ ہم چند آدمی حضور انور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم
کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ بیعت کے بعد چند نمازیں حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ پڑھیں۔ واپسی پر ہم نے عرض کیا کہ ہمارے وطن میں ہمارا جو گرجا ہے، ہم اس کو توڑ کر مسجد بنانا چاہتے ہیں، اس لیے جناب اپنے وضو کا پانی عطا فرما دیں۔ سید دو عالم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے تازہ وضو فرماتے ہوئے ایک کلی کا پانی ایک برتن میں ڈال کر ہم کو فرمایا کہ اس کو لے جاؤ، گرجا توڑ کر اس زمین پر یہ چھڑک دو اور وہاں مسجد بنالو۔ ہم نے عرض کیا، یا رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہماری بستی دور ہے اور گرمی بھی زیادہ ہے۔ یہ پانی تو راستہ میں ہی خشک ہو جائے گا۔ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جب اسے کم ہوتا دیکھو تو اس میں باہر سے اور پانی ملا دو اس سے اس کی خوشبو اور بڑھے گی“۔
(مشکوٰۃ شریف، باب المساجد)
اس حدیث شریف کی شرح میں محدثین نے فرمایا ہے کہ: ”جس چیز کو سرور کونین صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے اعضائے مبارکہ کے ساتھ لگ جانے کا شرف حاصل ہوا، اس میں خوشبو اور برکات بڑھتے رہے“۔
(مرقاۃ شرح مشکوٰۃ شریف، جلد ۲، ص ۲۰۴)
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے جبہ مبارک کی برکت سے شدید بیمار شفایاب ہو
جاتے:
حضرت اسماء بنت ابی بکرؓ نے حضور انور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا ایک جبہ مبارک دکھاتے ہوئے فرمایا: ”یہ جبہ میری بہن عائشہ صدیقہؓ کے پاس تھا اور ان کی رحلت کے بعد میں نے لے لیا۔ یہ جبہ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم زیب تن فرمایا کرتے تھے۔ جب کسی شدید بیمار کو بھی یہ جبہ مبارک دھو کر وہ پانی پلاتے ہیں تو وہ تندرست ہو جاتا ہے“۔ (مشکوٰۃ شریف)
حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے دست مبارک کی برکت کا اثر ایک صحابیؓ کے دست
مبارک میں بھی جاری ہو گیا:
”۹ھ میں قبیلہ بنو البکاء کا ایک وفد حاضر خدمت ہوا۔ اس وفد میں ایک شخص معاویہ نامی‘ اپنے بیٹے بشر کو بھی ساتھ لایا‘ جس کے لیے حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے برکت اور سعادت کی دعا کے ساتھ اس کے سر اور چہرہ پر اپنا مبارک ہاتھ بھی پھیر دیا‘ جس کا اثر یہ ہوا کہ اس کا چہرہ ہمیشہ چمکتا رہا اور بشر رضی اللہ تعالیٰ عنہ جب کسی بیمار پر اپنا ہاتھ پھیر دیتے تو وہ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے تندرست ہو جاتا“۔ (خصائص الکبریٰ‘ السیوطی‘ جلد ۲‘ ص ۱۸۰)
آپ ﷺ کے دست مبارک کے اثر سے بڑھاپا ظاہر نہ ہو پایا:
حضرت سائب بن یزیدؓ کو ان کی خالہ حضور انور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت اقدس میں لے گئیں اور یہ عرض کیا کہ اس کو تکلیف ہے۔ تو حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس کے سر پر اپنا مبارک ہاتھ پھیرا اور اس کے لیے برکت کی دعا فرمائی اور پھر وضو فرمایا۔ تو جو پانی حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے اعضاء مبارکہ سے گرا‘ وہ اس نے پی لیا۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ ”ان کی عمر ایک سو سال ہوئی مگر سر کا کوئی بال سفید نہ ہوا اور اس پانی کی برکت سے دانت بھی کوئی نہ گرا“۔ (مرقاۃ)
یہ تو انسانوں کی سعادت مندی تھی۔ جس حیوان کو بھی یہ شرف حاصل ہوا اسے بھی دوسرے حیوانات میں ممتاز ترین مقام حاصل ہو گیا۔
”مکہ مکرمہ سے ہجرت کے سفر میں آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ام معبد نامی ایک سخی خاتون کے ہاں آرام فرمایا اور اس کی دبلی لاغر بکری کے تھنوں پر اپنا ہاتھ مبارک پھیرا جس نے بہت زیادہ دودھ دیا۔ یہ بکری حضرت عمر فاروقؓ کے زمانے تک رہی۔ اس قحط کے زمانے میں‘ جو ایک عالمگیر قحط تھا‘ دودھ دیتی رہی“۔ (تذکرہ دیار حبیب صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم)
یعنی جن جن سعادت مندوں کو حبیب کبریا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے منور ہاتھوں کو چھونے کا شرف حاصل ہوا‘ ان پر برکات ساون کے بادلوں کی طرح تاعمر برستی رہیں۔
امام جلال الدین سیوطیؒ نے اپنی مایہ ناز تصنیف ”خصائص الکبریٰ“ میں چند ایسے صحابہ کرامؓ کا ذکر کیا ہے جن کے سر اور داڑھی کے وہ بال آخری عمر تک سیاہ ہی رہے جن کو سید دو عالم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنا دست پر رحمت لگایا تھا۔
علامہ بوصیریؒ نے کیا خوب فرمایا:
و اطلقت اربا من ربقہ اللمم
ترجمہ : ”آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے کف مبارک نے بہت سے مریضوں کو صرف چھو کر اچھا کر دیا اور بہت سے محتاجوں کو قید جنون سے چھڑا دیا“۔
مقام نبوت و رسالت کے درجات کی ان گنت تجلیوں کو دیکھتے دیکھتے نگاہیں اس وقت متحیر ہو گئیں جب قرآن پاک کو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی شان اقدس میں یوں مدح سرا پایا:
ورفعنا لک ذکرک (سورۃ الشرح، آیت نمبر ۴)
ترجمہ: ”(اے محبوب صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) اور ہم نے آپ (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کا ذکر بلند کر دیا“۔
آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی رفعت، عظمت اور تقدس پر مہر تصدیق ثبت کر کے قرآن نے تمام بلندیوں کو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے درجات اور مقامات سے نیچے کر دیا۔ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اس آیت کریمہ کی تشریح میں یوں ارشاد فرماتے ہیں:
ترجمہ: ”میرے پاس جبرئیل امینؑ آئے اور یہ کہا کہ آپ (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کا رب فرماتا ہے کہ کیا آپ (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) جانتے ہیں کہ میں نے آپ (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کا ذکر کس طرح بلند کیا؟“ حضور سرور کائنات صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: یہ تو اللہ ہی بہتر جانتا ہے۔ تو اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ارشاد فرمایا کہ جب میرا ذکر ہو گا میرے ساتھ تیرا بھی ذکر ہو گا“۔
(”فتح الباری“ جلد ۸، ص ۵۴۷)
اسلامی عقائد اور شریعت مطہرہ میں توحید باری تعالیٰ کے ساتھ اب اگر رسالت محمدی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی شہادت نہ دی جائے تو ایمان کی تکمیل ہی نہیں ہوتی۔
یعنی ایمان کے لیے لازم ہو گیا کہ مقام محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی عظمت کو تسلیم کیا جائے اور پھر یہ خطوط بھی خود ہی شریعت مطہرہ نے استوار کر دیے: کلمہ طیبہ ہو، کلمہ شہادت ہو، اذان ہو یا اقامت، نماز ہو یا دوسری عبادات لسانی ہوں، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا ذکر عالی ساتھ ساتھ ہی مذکور ہے۔
حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہی کے اسم مبارک کو یہ مقام و مرتبہ حاصل ہے اور عرش تا فرش اس اسم شریفہ سے اجالا ہے۔ فرش پر نام محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ذکر کے کیا کہنے۔ عرش کا بھی سن لیجئے: قصور بہشت پر، درختان بہشت کے پتوں پر، عرش معلیٰ کے پایوں پر اور فرشتوں کی چشم و ابرو پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا اسم شریف لکھا ہوا ہے۔
جدید کمپیوٹر کی تحقیق کے مطابق ہر انسان کے جسم میں سانس کی نالی میں خالق اکبر کے نام کے ساتھ سردار دو جہاں صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا نام یوں کندہ ہے:
لا اله الا الله محمد رسول الله
(ہفت روزہ ”ختم نبوت“ کراچی، جلد ۱۰، شمارہ ۱۶، تحقیق ڈاکٹر اشراف الدین، جدہ)
گویا اہل ایمان کے لیے یہ عقیدہ رکھنا لازم قرار پا گیا کہ:
چاہو جو مانو اسے زیبا ہے اللہ کی قسم
جو شرف چاہو کرو منسوب اس کی ذات سے
کوئی عظمت کیوں نہ ہو ہے منزلت سے اس کی کم
حد نہیں رکھتی فضیلت کچھ رسول اللہ کی
لب کشائی کیا کریں اہل عرب اہل عجم
(منظوم ترجمہ از قصیدہ بردہ شریف، امام شرف الدین بوصیریؒ بحوالہ ”سیرت رسول عربیؐ“
ص ۶۳۶)
بعینہ یہی شان ہوا کرتی ہے کسی وصف کے خاتم کی کہ وہ وصف اسی سے چلے اور اسی پر لوٹ آئے۔ وہی خاتم ہو، وہی اس وصف کا مبداء ہو، وہی منتہا ہو، وہی اول ہو، وہی آخر ہو۔
اس لیے ہم اب سورج کو محض نورانی نہیں کہیں گے۔ بلکہ نور بخش اور نور آفرین کہیں گے اور محض صاحب انوار نہیں کہیں گے بلکہ خاتم الانوار کہیں گے۔ جب سب ستاروں کو نور اس سے ملتا ہے اور نوری حرکت میں پھر اس کی طرف عود کر آتا ہے۔ پس سورج کی یہ خاتمیت انوار ہی در حقیقت اس کے سارے نورانی کمالات کا ممتاز عنوان ہو گا، جو اس کی امتیازی شان کو نمایاں کر سکے گا۔
ٹھیک اسی طرح آفتاب نبوت (جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) کی شان
صرف نبی ہونا نہیں کہ یہ شان قدر مشترک کے طور پر ہر نبی میں موجود ہے۔ نیز ان تمام نجوم ہدایت یعنی انبیاء علیہم السلام کے کمالات نبوت میں محض اضافی طور پر کچھ زائد یا فائق ہونا بھی نہیں ہے کہ یہ تفاضل اور فرق مراتب اور انبیاء میں بھی قائم ہے۔
فرمان باری تعالیٰ ہے:
ترجمہ : ”یہ رسول ہیں جن کو ہم نے بعضوں کو بعض پر فضیلت عطا کی ہے“۔
بلکہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا امتیازی وصف یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نور نبوت میں سب انبیاء کے مربی اور ان کے حق میں مصدر فیض اور ان کے انوار کمال کی اصل ہیں‘ اس لیے نبی اصل میں آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہیں اور دوسرے انبیاء علیہم السلام اصل سے نہیں بلکہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے فیض سے نبی ہوئے ہیں۔ ان مقدسین سابقین کا کمال در حقیقت ان کے جوہروں کی صفائی اور شفافی اور استعداد ان کے باطنی استعدادوں کا فطری کمال ہے کہ جوں جوں ان کے قلوب صافی اور ارواح طاہرہ کے سامنے آفتاب نبوت کا نورانی چہرہ آیا‘ انہوں نے اس کی ساری شعاعیں قبول کر لیں اور خود منور ہو کر دوسروں کو وہ روشنی پہنچانا شروع کر دی۔ (وہ مثل آئینہ تھے کہ روشنی کو اخذ کر کے دوسری طرف منتقل کرتے تھے)
پس آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ان سب حضرات انبیاء کرام کے حق میں مربی اور اصل نور ثابت ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنے کو نبی الامت ہی نہیں نبی الانبیاء بھی فرمایا ہے۔ جیسا کہ روایات حدیث میں مصرح ہے۔ پس جیسے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم امت کے حق میں نبی الامت ہونے کی وجہ سے مربی ہیں‘ ویسے ہی نبیوں کے حق میں بوجہ نبی الانبیاء ہونے کے مربی ہیں۔ اور جب یہ صورت ہے تو حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی شان محض نبوت ہی نہیں نکلتی بلکہ نبوت بخشی بھی نکلتی ہے کہ جو بھی نبوت کی استعداد پایا ہوا شخص آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سامنے آگیا ہو‘ نبی ہو گیا تھا اور اس طرح نور نبوت آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے چلا تھا اور آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر ہی لوٹ کر ختم ہو گیا کہ انہی سے وصف خاص کی ابتداء بھی ہوتی ہے اور انہی پر انتہا بھی ہو جاتی ہے۔ اس لیے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو صرف نبی ہی نہیں کہیں گے بلکہ خاتم النبیین کہیں گے کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر تمام انوار نبوت کی انتہا ہے۔ جس سے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم منتہائے نبوت ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہی سے نبوت چلتی ہے اور آخر کار آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر ہی عود کر آتی
ہے۔ پس آفتاب کی تمثیل سے آفتاب نبوت، نبوت کا مبداء بھی ثابت ہوتا ہے اور منتہا بھی۔ نبوت میں اول بھی نکلتا ہے اور آخر بھی، فاتح بھی ثابت ہوتا ہے اور خاتم بھی۔
وہی فرقاں، وہی قرآں، وہی یٰسین، وہی طٰہ
(اقبال)
چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی نبوت کی اولیت کا ان الفاظ میں اعلان فرمایا:
ترجمہ : ”میں نبی بن چکا تھا جب کہ آدمؑ ابھی روح اور جسم کے درمیان تھے“۔
یعنی ان کا خمیر ہی کیا جا رہا تھا اور ان کی تخلیق ابھی مکمل نہ ہوئی تھی اور پھر اپنی نبوت کی آخریت اور خاتمیت کا اس عنوان سے اعلان فرمایا:
ترجمہ : ”پس میں ہی وہ (آخری) اینٹ ہوں اور میں ہی خاتم النبیین ہوں“۔
اور پھر نبوت کی اولیت اور آخریت و خاتمیت ان دو متضاد پہلوؤں کو ایک ذات میں جمع کرنے کی صورت یوں بیان فرمائی:
ترجمہ : ”میں خلقت کے لحاظ سے سب سے پہلا ہوں اور بعثت کے لحاظ سے سب سے پچھلا (یعنی آخری)“۔
قرآن کریم نے اس حقیقت کی تصدیق کرتے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا منتہائے کمالات نبوت ہونا واضح کیا ہے، جو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مصدر نبوت ہونے کی کھلی دلیل ہے۔
شان آغاز بشریت و رسالت صلی اللہ علیہ وسلم :
یہ واضح ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم انبیاء کے حق میں بمنزلہ اصل کے ہیں اور انبیاء سابقین آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نسبت سے بمنزلہ فرع کے ہیں کہ ان کا علم اور خلق آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے فیض سے ظہور پذیر ہوا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی یہ فیض رسانی اور سرچشمہ کمالات نبوت ہونے کی امتیازی شان آغاز بشریت سے شروع ہوتی ہے تو انتہائے کائنات تک جا پہنچتی ہے۔
چنانچہ عہد الست جب کہ ساری نوع بشر سے سوال کیا گیا کہ الست بربکم ”کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں؟“ تو سب ایک دوسرے کا منہ تکنے لگے۔ سب سے پہلے جس نے ”بلیٰ“ کہہ کر اقرار ربوبیت کیا‘ وہ آنحضرت خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم ہی کی ذات بابرکات تھی۔ جن کی صدائے حق سن کر سب نے ”بلیٰ“ کی آواز بلند کی۔ یعنی کہ کیوں نہیں۔ بے شک آپ ہی ہمارے رب ہیں۔ اس سے واضح ہو گیا کہ آغاز بشریت کے وقت حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم ہی عالم بشریت کے معلم اول اور اس کی معرفت ربوبیت کے مربی تھے۔ بالفاظ دیگر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم ہی کی عملی رہنمائی سے سارے اولین و آخرین کی ایمانی استعدادیں کھل سکیں اور بروئے کار آئیں‘ جن میں انبیاء علیہم الصلوٰۃ و السلام بھی شامل تھے۔ پس یہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی پہلی تربیت اور بعنوان مختصر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی پہلی شان قیادت و سیادت ہے‘ جو تعلیم و تربیت کے دائرہ میں کھلی اور آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی شان خاتمیت کا پہلا ظہور ہوا۔
ورنہ اگر یہ محض نبوت کا اثر ہوتا تو سارے انبیاء کرام بہ یک زبان ”بلیٰ“ کا کلمہ بول اٹھتے اور آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے کلمہ کا انتظار نہ کرتے۔ لیکن سب کا سکوت اور آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا نطق مبارک آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے معلم اول اور مربی اول ہونے کی کھلی دلیل ہے جو محض نبوت کا اثر نہیں بلکہ ختم نبوت کا اثر ہے“۔
(”آفتاب نبوت“ (ماخوذ) از حکیم الاسلام حضرت مولانا قاری محمد طیب‘ ۱۱۱-۱۰۶)
ختم نبوت صلی اللہ علیہ وسلم پر ایک اور عقلی دلیل:
کسی پھل کا بیج جب زمین میں بویا جاتا ہے تو چند دنوں میں اس کی کونپلیں نکلنے لگتی ہیں۔ پھر ٹہنی بڑھنے لگتی ہے اور نرم و نازک پتے اس سے پھوٹتے ہیں۔ شاخ بڑھتی رہتی ہے حتیٰ کہ دوسری شاخیں اس سے نکلنا شروع ہو جاتی ہیں۔ وہی بیج چند سالوں میں ایک تناور درخت کی صورت اختیار کر جاتا ہے۔ پھر اس درخت کے ساتھ پھول کھلتے ہیں۔ بعض میں خوشبو بھی ہوتی ہے۔ پھر آہستہ آہستہ پھولوں کی پتیاں بھی جھڑنے لگتی ہیں اور وہی پھول پھل بن جاتا ہے۔ یہی پھل اس بیج کا حاصل ہوتا ہے۔
بیج کے ارتقائی منازل کی حد یہی پھل ہے۔ جیسے بیج کا ثمر اس پھل سے بڑھ کر کچھ ہو نہیں سکتا‘ یونہی نبوت کا جاری رہنا تکمیل دین کے بعد عبث ہے۔ اور کسی معاشرے میں نبی کا وجود اس بات کی علامت ہوتا ہے کہ دین الٰہی میں ابھی نقص باقی ہے اور جب تکمیل دین
ہو چکی تو اجزائے نبوت کا جواز مٹ گیا۔ جیسے بیج میں درخت کے پتے‘ درخت کی ٹہنیاں‘ درخت کا تنا‘ درخت کے پھول اور درخت کا پھل سبھی کچھ روز اول سے شامل تھا جب کہ اس کا پھل ایک زمانہ گزرنے کے بعد منظر عام پر آیا اور پھر اس پھل کا حاصل بھی وہی بیج ٹھہرا۔ یعنی وہی اول‘ وہی آخر‘ وہی مبداء وہی منتہاء
سرور دو سرا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی ختم نبوت کا معاملہ یہی ہے۔ یعنی نبوت و رسالت کی اصل آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہی کو عطا کی گئی اور انبیاء علیہم السلام جو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے پہلے گزر چکے‘ ان کی مثال ان کونپلوں‘ ٹہنیوں‘ شاخوں اور پھولوں‘ پتیوں کی سی تھی‘ جو اپنے اپنے وقت پر ظہور پذیر ہوتی رہیں۔
پہلی نبوت‘ کونپل کی طرح بالکل سادہ تھی۔ مگر اس کا سخت زمین کا سینہ چیر کر نکلنا پروردگار عالم کی دست قدرت کا پہلا اشارہ تھا اور شریعت کی خشت اول۔
جب انسانی شعور بتدریج کچھ بڑھا تو اس نے اپنے گرد و پیش کے متعلق کچھ جاننا چاہا‘ تو نبوت کی یہ کونپل اٹھ کر ایک ٹہنی کی صورت اختیار کر گئی۔ ادھر احکامات الہیہ میں بھی پختگی آ گئی۔ (اللہ کسی نفس کو تکلیف نہیں دیتا مگر اس کی وسعت کے مطابق تاریخ انسانی اس سنت الہیہ کی دلیل ہے) اور جب نوع انسانی مختلف گروہوں اور قبیلوں میں منقسم ہو گئی تو یہ درخت مختلف شاخوں میں پھیلتا چلا گیا۔ بڑھتے بڑھتے یہ درخت تناور بن گیا تو انسان شعور سے بہرہ ور ہو گیا۔
اب اس درخت کی شاخوں میں پھول کھلنے لگے۔
یعنی نبوت کو احکامات الہیہ کی صورت میں باقاعدہ صحائف اور کتب ملنے لگیں۔ یہی کتب ان پھولوں کی خوشبو تھیں‘ لیکن یہ پتیاں جھڑنے لگیں۔ یعنی انبیاء کے بعد دین میں نقص اور ترامیم ہونے لگیں۔ یہاں تک کہ پھولوں کی تمام پتیاں نبوت کے درختوں سے گر گر کر ختم ہو گئیں۔
نوع انسانی اس وقت اپنے سن بلوغ کو پہنچ چکی تھی اور پھل نمودار ہونے کو تھا۔ اس موقع پر خالق اکبر کی طرف سے انسانیت کو جو شایان شان تحفہ عطا ہوا‘ وہ تھا‘ تکمیل دین۔
یعنی نبوت کے درخت کا پھل۔
خوش رنگ‘ خوشبو بھرا اور ذائقہ دار۔ ارتقائی منازل میں بیج سے پھولوں تک رنگ بھی تھا‘ خوشبو بھی ہو گی لیکن ذائقہ اب نصیب ہوا۔
یہی ختم نبوت کی امتیازی شان ہے‘ جو آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے مقامات
میں سے ہے اور آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی وصف خاص بھی!
گوہر مقصود اور تکمیل دین:
آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے قبل تمام انبیاء علیہم السلام گزر گئے۔ ان کو شریعتیں بھی عطا ہوتی رہیں لیکن تکمیل دین آکر اب ہوئی اور یہی مقصد تخلیق انسانیت تھا جس کا واسطہ خالق اور مخلوق کے درمیان محسن انسانیت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی ذات گرامی بنی۔ گویا وہ گوہر مقصود جو ازل سے حکمتوں کی دبیز تہوں میں پوشیدہ رہا آج تکمیل دین کے ظہور کے ساتھ رضائے الٰہی کی تمام راہوں کو روشن کر چلا۔
اب انہی راہوں پر چلنے والا منزل پہ پہنچے گا اور جو اس راہ کو چھوڑے گا نولہ ما تولیٰ ”جدھر پھرے گا‘ پھیر دیا جائے گا“۔ و نصلہ جھنم ”اور جہنم میں جھونک دیا جائے گا“۔ و ساءت مصیرا ”اور وہ برا ٹھکانہ ہے“۔
شان محبوبیت ﷺ :
فرش زمین پر کون ہو گا وہ انسان جو اپنے مہربان مالک کے ساتھ محبت کرنے کا دعویٰ دار نہ ہو گا اور پھر مالک ایسا جو پیدا کرنے والا ہو۔
جو بن مانگے عطا کرے۔
جو انسان کی شہ رگ سے قریب ہو۔
جس کی تسبیح ہر ذی نفس بیان کرے۔
جسے ہر مشکل میں پکارا جائے۔
جو خوف سے امن دلائے۔
جو عمر بھر کی خطاؤں کو فقط ایک لفظ سے معاف فرما دے۔
جس کی رحمت اس کے غضب پر غالب ہو۔
اس ہستی کا نام ہے ”اللہ“
انسانی دل پر ایسی ہستی کا تسلط ہو جانا ایک فطری عمل ہے۔ انہی اہل دل سے جو اللہ سے محبت کے دعوے دار ہیں‘ خواہ وہ کسی بھی عقیدے یا مذہب سے متعلق ہوں جو اللہ تک رسائی چاہتے ہوں‘ خود اللہ نے ان کے لیے ایک معیار مقرر فرما دیا ہے۔
ارشاد ہوا:
قل ان کنتم تحبون اللہ فاتبعونی یحببکم اللہ و یغفرلکم ذنوبکم واللہ غفور رحیم O
(سورۂ آل عمران، آیت نمبر ۳۱)
ترجمہ : ”(اے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کہہ دیجئے اگر تم اللہ سے محبت چاہتے ہو تو میری اتباع کرو، اللہ تمہیں محبوب بنالے گا اور تمہارے گناہ بخش دے گا اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔“
اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنی محبوبیت کا پرتو ذات محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم میں منعکس فرما دیا۔ یعنی جو اللہ تبارک و تعالیٰ سے محبت کرنا چاہے اس کے لیے لازم ٹھہرا دیا کہ وہ پہلے محمدی ہونے کا سرٹیفکیٹ حاصل کرے اور جسے یہ پروانہ مل جائے وہ اپنی محبت کے دعوے میں سچا !
اس کی تصدیق خود خالق اکبر نے یوں بیان فرمادی: یحببکم اللہ ”یعنی بندہ اب محبوب خدا ہو گیا“۔
وہ شکل کہ انوار کے سانچے میں ڈھلی ہے
فرمان نبوی ﷺ ہے: ”اگر تم خدا سے محبت کے دعوے میں سچے ہو تو میری سنتوں پر عمل کرو۔ اس وقت تمہاری چاہت سے زیادہ خدا تمہیں خود چاہنے لگے گا“۔ جیسے بعض علماء نے کہا ہے کہ ”تیرا چاہنا کوئی چیز نہیں لطف تو اس وقت ہے جب کہ خدا تجھے چاہنے لگے۔ غرض خدا سے محبت کی نشانی یہی ہے کہ ہر کام میں اتباع سنت مد نظر ہو“۔
(ابن کثیر)
حاصل کلام یہ کہ نوع انسانیت کو حق تعالیٰ کی طرف سے محبوبیت کا یہ تمغہ عطا ہوتا ہے۔ سرور کونین صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے نعلین مبارک کے صدقے اور پھر اہل ایمان اس پر رشک کیوں نہ کریں ؎
میری نظروں میں رہا نقش کف پا تیرا!
مہر محبوبیت علیٰ صاحبہا الصلوٰۃ والسلام :
کاتب تقدیر نے کائنات کے ذرے ذرے پر اپنی محبوبیت کی مہر ثبت کر کے محققین پر واضح کر دیا کہ جو اس راز کو پالے میں اسے اپنی رضا کی ضمانت دیتا ہوں اور اس راز کو پا لینا
اتباع محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم میں پوشیدہ کر دیا‘ جس کا ذکر پہلے ہو چکا‘ لیکن وہ ذی عقل جو اتباع محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے محروم ہیں‘ وجہ تخلیق کائنات معلوم کر لیں تو ہدایت اور سرفرازی کی تمام راہیں ان پر روشن ہو سکتی ہیں۔ اس کی عام فہم مثال یوں سمجھئے کہ جب امریکہ کوئی چیز بناتا ہے تو اس پر فخر سے اپنی مہر یوں ثبت کرتا ہے:
Made in U.S.A.
جاپان جب کوئی شاہکار تخلیق کرتا ہے تو اسے اس ٹائٹل کے ساتھ پیش کرتا ہے:
Made in Japan
جرمنی والے اپنی صلاحیتوں کا اظہار Made in Germany لکھ کر کرتے ہیں۔ چائنہ والے Made in China لکھ کر دنیا میں اپنا لوہا منواتے ہیں۔ پاکستانی جب کوئی چیز بناتے ہیں تو Made in Pakistan. لکھتے ہیں۔ پھر یہ کیسے ممکن ہے کہ خالق اکبر کوئی چیز تخلیق کرے اور اس پر اس کی مہر نہ ہو۔ یہاں اس بات کی وضاحت ضروری ہے جب کوئی سائنس دان‘ صنعت کار یا کمپنی کوئی چیز بناتی ہے تو اس پر اس کا اپنا ذاتی نام نہیں ہوتا بلکہ اس ملک کا نام ہوتا ہے جس سے اس کی پہچان ہوتی ہے۔
بعینہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے تخلیق عالم کی اور اس پر اس کا نام ثبت کیا‘ جس سے اس کی پہچان ہوئی اور وہ مہر محبوبیت ہے۔ لفظ ”محمد“ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم!
محمدؐ تو ہیں روح رواں عالم امکاں محمدؐ ہی کے دم سے نور ہے روئے دو عالم پر
محمدؐ ہی نے انساں کو مجال ارتقاء بخشی
محمدؐ کی نظر عرش حیات جاودانی پر
علم ریاضی میں ایک شعبہ ہے علم ابجد۔ جو اس حقیقت کو یوں آشکارا کرتا ہے: علم ابجد میں عربی کے حروف تہجی کی ایک قیمت متعین ہے جو اکائی کی صورت میں درج ذیل ہے:
۱ ۲ ۳ ۴ ۵ ۶ ۷ ۸ ۹ ا ب ج د ہ و ز ح ط ی ک ل م ن س ع ف ص ق ر ش ت ث خ ذ ض ظ غ
اس اصول کے مطابق لفظ ”محمدؐ“ کے حروف کی قیمت اخذ کی جائے اور اسے پھر اکائی
میں بدل دیا جائے: م + ح + م + د = ۴ + ۸ + ۴ + ۴ = ۲۰ اس دہائی کو اکائی میں بدلا تو ۰ + ۲ = ۲ باقی رہا۔ یوں لفظ محمدؐ کا ماخذ ”۲“ ہوا۔
اس اصول کے مطابق اب ہم مختلف ناموں کی قیمت اخذ کریں گے۔ مثلاً عرش ع + ر + ش = ۷ + ۲ + ۳ = ۱۲ اکائی کرنے کے لیے ۲ + ۱ = ۳ اس اصل قیمت کو ۲ سے ضرب دی جائے - ۳ × ۲ = ۶ اس حاصل میں لفظ ”محمدؐ“ کے حروف کی تعداد یعنی ۴ کو جمع کیا جائے: ۶ + ۴ = ۱۰ اب اس عدد کو ۲ پر تقسیم کر دیا جائے - ۱۰ ÷ ۲ = ۵ اب اس میں سے عرش کی اصل قیمت یعنی ۳ کو نفی کیا جائے: ۵ - ۳ = ۲ یہی حاصل ہے لفظ ”محمدؐ“ کا۔ یعنی ۲
اور یہی مہر محبوبیت ہے جو کائنات کی ہر ہر چیز پر ثبت ہے: ذیل میں ہم اس کی چند موٹی موٹی مثالیں پیش کرتے ہیں۔
- ۱۔ ”انبیاء“: قیمت حروف: ۲۔ اسے ۲ سے ضرب دی ۲ × ۲ = ۴ لفظ محمدؐ کے
حروف جمع کیے ۴ + ۴ = ۸، ۸ کو ۲ پر تقسیم کیا = ۸ ÷ ۲ = ۴ اصل قیمت نفی کی ۴ - ۲ = ۲ محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم
- ۲۔ ”جنت“: قیمت حروف: ۳۔ اسے ۲ سے ضرب دی۔ ۳ × ۲ = ۶، ۶ +
۴ = ۱۰ ۱۰ ÷ ۲ = ۵، ۵ - ۳ = ۲ محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم
- ۳۔ ”فرش“: ۴، ۴ × ۲ = ۸ - ۴ + ۸ = ۱۲
۱۲ ÷ ۲ = ۶، ۶ - ۴ = ۲ محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم
- ۴۔ ”مشرق“: ۱، ۱ × ۲ = ۲، ۲ + ۴ = ۶
۶ ÷ ۲ = ۳، ۳ - ۱ = ۲ محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم
- ۵- ”مغرب“ : ۹‘۹ x ۲ - ۱۸‘۱۸ + ۴ - ۲۲
۲۲ - ۲ - ۱۱‘۱۱ - ۹ - ۲ محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم
- ۶- ”شمال“ : ۲‘۲ x ۲ - ۴‘۴ + ۴ - ۸
۸ - ۲ - ۴‘۴ - ۲ - ۲ محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم
- ۷- ”جنوب“ : ۷‘۷ x ۲ - ۱۴‘۱۴ + ۴ - ۱۸
۱۸ - ۲ - ۹‘۹ - ۷ - ۲ محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم
- ۸- ”خوشبو“ : ۵‘۵ x ۲ - ۱۰‘۱۰ + ۴ - ۱۴
۱۴ - ۲ - ۷‘۷ - ۵ - ۲ محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم
- ۹- ”پھول“ : ۷‘۷ x ۲ - ۱۴‘۱۴ + ۴ - ۱۸
۱۸ - ۲ - ۹‘۹ - ۷ - ۲ محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم
- ۱۰- ”درخت“ : ۷‘۷ x ۲ - ۱۴‘۱۴ + ۴ - ۱۸
۱۸ - ۲ - ۹‘۹ - ۷ - ۲ محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم
- ۱۱- ”بشر“ : ۷‘۷ x ۲ - ۱۴‘۱۴ + ۴ - ۱۸
۱۸ - ۲ - ۹‘۹ - ۷ - ۲ محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم
- ۱۲- ”جنات“ : ۴‘۴ x ۲ - ۸‘۸ + ۴ - ۱۲
۱۲ - ۲ - ۶‘۶ - ۴ - ۲ محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم
- ۱۳- ”فرشتے“ : ۹‘۹ x ۲ - ۱۸‘۱۸ + ۴ - ۲۲
۲۲ - ۲ - ۱۱‘۱۱ - ۹ - ۲ محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم
- ۱۴- ”موسم“ : ۸‘۸ x ۲ - ۱۶‘۱۶ + ۴ - ۲۰
۲۰ - ۲ - ۱۰‘۱۰ - ۸ - ۲ محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم
- ۱۵- ”ہوا“ : ۳‘۳ x ۲ - ۶‘۶ + ۴ - ۱۰
۱۰ - ۲ - ۵‘۵ - ۳ - ۲ محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم
- ۱۶۔ ”فضا“: ۸‘۸ × ۲ = ۱۶‘۱۶ + ۴ = ۲۰
۲۰ - ۲ - ۱۰‘۱۰ - ۸ - ۲ محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم
- ۱۷۔ ”چاند“: ۴‘۴ × ۲ = ۸‘۸ + ۴ = ۱۲
۱۲ - ۲ - ۶‘۶ - ۴ - ۲ محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم
- ۱۸۔ ”سورج“: ۸‘۸ × ۲ = ۱۶‘۱۶ + ۴ = ۲۰
۲۰ - ۲ - ۱۰‘۱۰ - ۸ - ۲ محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم
- ۱۹۔ ”ستارے“: ۵‘۵ × ۲ = ۱۰‘۱۰ + ۴ = ۱۴
۱۴ - ۲ - ۷‘۷ - ۵ - ۲ محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم
- ۲۰۔ سدرۃ المنتہیٰ: ۳‘۳ × ۲ = ۶‘۶ + ۴ = ۱۰
۱۰ - ۲ - ۵‘۵ - ۳ - ۲ محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم
اس طرح چرند‘ پرند‘ پانی‘ آگ‘ مٹی اور ہر وہ شے جسے الفاظ کا جامہ پہنایا جاسکے‘ اس پر اسم محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی تجلی کا عکس دیکھا جاسکتا ہے۔
اور جب سمٹی تو تیرا نام ہو کر رہ گئی
مولاے صل وسلم دائماً ابدا
علی حبیبک خیر الخلق کلھم
محمد سید الکونین و الثقلین‘
والفریقین من عرب و من عجمO
آج سے چودہ سو برس پہلے ہی آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے تمام حقیقت کھول کر بیان فرمادی تھی۔
”اگر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نہ ہوتے تو میں افلاک کو پیدا نہ کرتا“۔
گویا
وہ راز اک کملی والے نے بتلا دیا چند اشاروں میں!
مبارک ہیں وہ جو ان اشاروں پر اپنا سب کچھ لٹا گئے اور حیف ہے ان پر جو آفتاب حقیقت کے لب بام آنے تک خواب غفلت میں سو رہے ہیں۔
دیکھے نہ تیری آنکھ نے فطرت کے اشارات
(اقبال)
مقام محمود:
حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے:
”بارگاہ نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں بھنا ہوا گوشت لایا گیا۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جانور کا اگلا پاؤں اٹھایا اور اس پر سے گوشت لیتے ہوئے فرمایا: ”میں قیامت کے دن سب لوگوں کا سردار ہوں گا۔ جانتے ہو وہ کیسے؟ اللہ تبارک و تعالیٰ سب اولین و آخرین کو ایک ہموار اور کشادہ میدان میں جمع کرے گا۔ ایک آواز سنانے والا ان کو آواز سنائے گا۔ اس کو دیکھنے والا دیکھ سکے گا۔ (نہ کانوں پر پردہ ثقل ہو گا اور نہ آنکھوں پر پردہ خفا و عمیٰ) سورج قریب آ جائے گا۔ لوگوں کو اس قدر درد و غم اور کرب و الم لاحق ہو گا کہ اس کو برداشت کرنے سے عاجز آ جائیں گے اور ان کی ہمت و طاقت جواب دے جائے گی اور وہ ایک دوسرے کو کہیں گے‘ کیا دیکھتے نہیں ہو کہ کس حال میں ہو؟ تمہاری تنگی و پریشانی کس حال کو پہنچ گئی ہے؟ ایسے شخص مکرم و معظم کو تلاش کرنا چاہیے جو بارگاہ قدس میں جا کر تمہارے لیے شفاعت کرے۔
چنانچہ ان میں سے بعض لوگ دوسروں کو مشورہ دیتے ہوئے کہیں گے کہ ایسی ہستی حضرت آدم علیہ السلام کی ہے اور وہ تمہارے باپ ہیں۔ (لہٰذا شفقت پدری کے تقاضوں کو پورا کرتے ہوئے ضرور شفاعت فرمائیں گے) لوگ ان کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کریں گے کہ ”آپ ابوالبشر ہیں۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے آپ کو اپنے دست قدرت سے پیدا فرمایا ہے اور آپ کے اندر اپنے خاص ارواح میں سے روح پھونکا ہے اور ملائکہ کو آپ کے سامنے سر بسجود ہونے کا
حکم فرمایا اور وہ سجود و تحیت و تعظیم بجا لائے۔ بارگاہ رب کریم میں حاضر ہو کر ہمارے لیے شفاعت طلب فرمائیے۔ آپ نہیں دیکھتے ہمارا کیا حال ہے؟ کہ ہم کس قدر محنت و مشقت کو پہنچ چکے ہیں"۔
حضرت آدم علیہ السلام ارشاد فرمائیں گے: ”میرے رب تعالیٰ نے آج ایسے غضب کا مظاہرہ فرمایا ہے کہ اس طرح کا غضب نہ پہلے دیکھنے میں آیا اور نہ ہی اس کے بعد دیکھنے میں آئے گا۔ اور اس نے مجھے درخت کے قریب جانے سے منع فرمایا تھا مگر میں نے اسے کھا لیا۔ آج تو میرا اپنا نفس مستحق شفاعت ہے اور مجھے اس کے لیے شفیع درکار ہے۔ کسی دوسرے کے پاس جاؤ“۔
وہ حضرت نوح علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوں گے اور عرض کریں گے: ”آپ (کفار و مشرکین کی طرف بھیجے جانے والے) پہلے نبی ہیں۔ آپ کو اللہ تعالیٰ نے عبداً شکوراً فرمایا ہے۔ لہٰذا اس کی جناب میں ہمارے لیے شفاعت فرمائیے"۔ وہ فرمائیں گے: ”میرے رب تبارک و تعالیٰ نے آج ایسے غضب کا اظہار فرمایا ہے اور قہر و جلال کا ایسا مظاہرہ فرمایا ہے کہ ایسا غضب و جلال نہ پہلے دیکھنے میں آیا اور نہ ہی بعد میں دیکھنے میں آئے گا۔ میں نے اپنی قوم کے لیے دعائے ہلاکت کی تھی اور ان کو غرق کرا دیا تھا۔ میں خود اپنے نفس کی فکر میں ہوں"۔ (یعنی مجھے اس امر پر مجبور نہ کرو، کسی دوسرے کے پاس جاؤ)
سب اہل محشر جمیع امم و اقوام حضرت ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام کے پاس حاضر ہو کر عرض کریں گے کہ ”آپ اللہ تعالیٰ کے نبی اور خلیل ہیں۔ ہمارے لیے شفاعت فرمائیے۔ دیکھئے تو ہم کس حال میں ہیں۔ دیکھئے تو سہی ہماری محنت و مشقت اور کلفت و کربت انتہا کو پہنچ گئی ہے"۔ حضرت خلیل فرمائیں گے: ”میرا رب آج کے دن قہر و جلال کا ایسا مظاہرہ کیے ہوئے ہے کہ نہ اس سے پہلے کیا اور نہ بعد میں فرمائے گا۔ میرا نفس خود حق دار شفاعت ہے، کسی اور کے پاس جائیے“۔
اہل محشر کا سیل بے پناہ دوڑتا ہوا بارگاہ موسیٰ کلیم اللہ علیہ السلام کے دربار میں حاضری دے گا اور وہ ان سے عرض کریں گے کہ ”آپ رسول خدا علیہ السلام ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی رسالت اور ہم کلامی کے لیے آپ کو منتخب فرمایا تھا۔ ہمارے لیے اپنے رب کی بارگاہ میں حاضر ہو کر شفاعت کیجئے۔ حضرت موسیٰ
کلیم اللہ علیہ السلام فرمائیں گے: ”آج رب تعالیٰ نے اس قدر غضب کا اظہار فرمایا ہے کہ نہ اس سے پہلے فرمایا اور نہ بعد میں فرمائے گا۔ مجھے تو اپنے نفس کی فکر ہے۔ لہٰذا کسی دوسرے کے پاس جاؤ“۔
اہل محشر کا یہ حرمان نصیب قافلہ حضرت عیسیٰ روح اللہ علیہ السلام کے در اقدس پر حاضر ہو گا اور ان سے عرض کرے گا کہ آپ اللہ تعالیٰ کے رسول ہیں اور وہ کلمہ جس کو اس نے حضرت مریم کی طرف القاء فرمایا اور اس کی روح مخصوص‘ آپ کی شان یہ ہے کہ آپ نے عالم طفولیت میں اور شیر خوارگی میں لوگوں سے کلام کیا۔ (حضرت مریم کی برات اور اپنا مقصد تخلیق وغیرہ بیان فرمایا) بارگاہ خداوندی میں حاضری دے کر ہمارے لیے شفاعت طلب فرمائیں۔ کیا آپ کو ہماری حالت زار نظر نہیں آرہی؟ کیا آپ ہماری پریشانیوں کا درجہ غایت کو پہنچ جانا ملاحظہ نہیں فرما رہے؟“ حضرت عیسیٰ علیہ السلام انہیں ارشاد فرمائیں گے ”آج خدائے قہار‘ غضب و قہر پر ہے۔ اس طرح غضب و قہر نہ آج تک اس نے فرمایا اور نہ ہی آئندہ فرمائے گا۔ کہیں اور جاکر دامن سوال دراز کرو اور دست تمنا پھیلاؤ“۔
رحمت مجسم‘ شافع محشر حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں: ”کہ پھر وہ سبھی میری بارگاہ میں حاضر ہوں گے اور عرض کریں گے: ”اے محمد المحمودین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اللہ تعالیٰ کے محبوب ہیں اور خاتم النبیین‘ اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سبب سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اگلوں اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پچھلوں کے گناہوں کے متعلق اعلان مغفرت فرما دیا ہے اور ہر قسم کے مواخذہ سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بے خوف و خطر کر دیا ہے۔ ہماری شفاعت فرما دیں۔ ہماری حالت زار آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے ہے اور مصائب و حوادث کا درجہ تک پہنچنا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ملاحظہ فرما رہے ہیں“۔
حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں: ”میں اٹھوں گا اور چل کر بارگاہ ذوالجلال میں حاضری دوں گا۔ عرش کے سامنے زمین نیاز پر سر بسجود ہو جاؤں گا۔ اللہ تعالیٰ اس وقت اپنے ایسے محامد اور حسن ثناء کا ایسا کشف و الہام فرمائے گا جو مجھ سے پہلے کسی اور پر منکشف نہیں
ہوا۔ تب کہا جائے گا: ”اے محمد و محمود، اپنا سر اٹھاؤ، تم مانگتے جاؤ، ہم عطا کرتے جائیں گے۔ تم شفاعت کرتے جاؤ، ہم بخشتے جائیں گے“۔ میں عرض کروں گا: ”رب کریم میری امت کو بخش دے۔ میری امت کے لیے رحم و کرم اور عفو و درگزر فرما“ تو مجھے کہا جائے گا: ”اے محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اپنی امت کے ان لوگوں کو جن پر حساب نہیں ہے جنت کے دروازوں میں سے ”باب ایمن“ میں سے اندر داخل کرا دیجئے اور وہ دوسرے دروازوں سے داخل ہونے کے بھی اسی طرح حق دار ہیں جس طرح دوسرے اہل جنت“۔
ازاں بعد سرور انبیاء و مرسلین صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے اپنے مالک نفس و جاں کی قسم کہ جنت کے دروازوں میں سے ہر دروازہ کی دو جانبوں اور ہر دو پٹ کے درمیان اتنی مسافت ہے جتنی مکہ اور ہجر کے درمیان اور مکہ اور بصریٰ کے درمیان“۔
(بخاری شریف، مسلم شریف)
کل انسانیت بروز جزا، دیگر رسل کرام کے در اقدس پہ حاضر ہو کر ناکام ہونے کے بعد بالآخر بارگاہ مصطفوی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم میں حاضر ہو گی اور یہی وہ در ہے جہاں سے انسانیت سرخرو، کامیاب و کامران اور فیض یاب ہو گی۔
محشر کے درمیان میں نوع انسانیت کا در بدر بھٹکنا اور بالاخر پروانہ نصرت کا آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی بارگاہ سے پانا اور اس کی اطلاع قبل از وقت مخبر صادق صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی نطق پاک سے بیان فرمانے کی حکمت اور مصلحت یہی ہے کہ اہل دنیا پر واضح ہو جائے کہ مقصود اصل تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہی کی ذات بابرکات، یہاں ہے اور وہاں ہو گی۔ جمیع اقوام و امم کا دیگر انبیاء کرام کی خدمت میں جانا اور ناکام لوٹانا اس لیے ہو گا کہ دنیا کو پتہ چل جائے کہ بارگاہ جلال میں رسائی تو فقط اور فقط رحمت مجسم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہی کی ہے۔
یہی ہمارے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا وہ مقام محمود ہے جس کے سامنے تمام تر رفعتیں اور عظمتیں سرنگوں ہوں گی۔ اس لمحے کل نوع انسانیت پکار اٹھے گی:۔
یہ بے خبری کہ خلق پھری کہاں سے کہاں تمہارے ﷺ لیے
شافع محشر ﷺ :
حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ پھر میں شفاعت کروں گا تو میرے لیے قابل شفاعت لوگوں کی ایک حد معین کر دی جائے گی۔ چنانچہ میں ان کو جہنم سے نکال کر جنت میں داخل کروں گا۔ تین مرتبہ یہی صورت حال وقوع پذیر ہو گی۔ جب چوتھی مرتبہ بارگاہ ذوالجلال میں حاضر ہو کر سجدہ ریز ہوں گا‘ سر اٹھانے کا حکم ملے گا تو میں عرض کروں گا: ”اب صرف وہی لوگ جہنم میں رہ گئے ہیں‘ جن کو قرآن مجید نے روک رکھا ہے“۔ یعنی ان کے کفر و شرک کی وجہ سے ان کا ابدی جہنمی ہونے کا اعلان فرمایا ہے: حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”(میری شفاعت کی بدولت) عذاب جہنم اور نار دوزخ سے ہر وہ شخص نکال لیا جائے گا جس نے
لا الہ الا اللہ
کہا اور اس کے دل میں جو کے برابر خیر تھی۔ پھر جہنم سے ان لوگوں کو نکالا جائے گا جنہوں نے
لا الہ الا اللہ
کہا اور جن کے دلوں میں باجرے کے دانے کے برابر خیر تھی یا ذرہ کے برابر خیر تھی۔ پھر انہیں نکالا جائے گا جنہوں نے
لا الہ الا اللہ
کہا اور ان کے دلوں میں گندم کے دانے کے برابر خیر اور بھلائی تھی“۔
(صحیح بخاری‘ صحیح مسلم)
ایک دوسری روایت میں حضرت انسؓ روایت کرتے ہیں: ”نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ ”ہر نبی کے لیے ایک ایسی دعا تھی جس کو لازماً قبول کرنے کا وعدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا تھا مگر انہوں نے اس حق کو دنیا میں استعمال کر لیا اور وہ دعا قبول کر لی گئی اور میں نے اپنے حق کو بروز قیامت امت کی شفاعت کے لیے بچا رکھا ہے“۔ (بخاری شریف‘ مسلم شریف)
علی حبیبک خیر الخلق کلہم
عادت نہیں ترک محبت حضورؐ کی!
یہ مقام شفاعت بھی آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سوا کسی نبی مرسل اور ملک مقرب کو حاصل نہیں اور یوں یہ مقام اور مرتبہ بھی آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خصوصیت میں شامل ہوا۔ حضرت انسؓ سے مروی ہے کہ:
”نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ ”میں کھڑا ہو کر اپنی امت کو پل صراط سے گزارنے کا انتظار کر رہا ہوں گا کہ عیسیٰ علیہ السلام میرے پاس آئیں گے اور کہیں گے: ”یہ سبھی انبیاء آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہوئے ہیں جو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے سوال کرتے ہیں“۔ یا یوں فرمایا کہ ”آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس جمع ہو کر اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے ہیں کہ ہم کو اس میدان (محشر) سے دوسری جگہ جہاں بھی اسے منظور ہو‘ منتقل فرما دے کیونکہ یہاں وہ بہت بڑی مشقت اور تکلیف میں ہیں۔ لوگوں کا پسینہ منہ تک آیا ہوا ہے اور مومن کے لیے تو وہ زکام کی مانند ہے مگر کافر پر تو گویا موت کا موجب بن رہا ہے“۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم انہیں فرمائیں گے: ”ٹھہریے! حتیٰ کہ میں (بارگاہ رب العزت میں حاضری دے کر) واپس تمہارے پاس آؤں“۔ نبی پاک صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بارگاہ خداوندی میں حاضر ہو کر عرش عظمت کے نیچے کھڑے ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا ایسا اعزاز و اکرام کیا جائے گا کہ اس قسم کے اعزاز و اکرام کے ساتھ کسی کو مشرف نہیں کیا جائے گا‘ نہ ملک مقرب کو اور نہ کسی نبی مرسل کو۔
تب اللہ تعالیٰ جبرئیل ؑ پر وحی نازل فرمائے گا کہ محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس جا کر عرض کرو کہ اپنا سر سجدہ سے اٹھالو۔ جو مانگو عطا کیا جائے گا اور جس کی شفاعت کرو قبول کی جائے گی۔ مجھے اپنی امت کا حق شفاعت دیا جائے گا اور کہا جائے گا کہ ننانوے کے مقابلے میں ایک کو بذریعہ شفاعت نار جہنم سے نکال لو۔ میں بار بار اس کریم کی بارگاہ میں حاضر ہوتا رہوں گا اور ہر بار اذن شفاعت پاتا رہوں گا۔ حتیٰ کہ اللہ تعالیٰ مجھے اپنی عطا سے اس طرح مشرف فرمائے گا کہ اے محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اپنی امت سے اس شخص کو نار جہنم سے نکال لو جس نے ایک دن بھی خلوص قلب سے
لا اله الا الله
کہا ہو اور اسی پر فوت ہوا ہو ؟ (”انیس الطالبین“ ص ۹‘ بحوالہ ”سیرت رسول عربی“)
ان کے ذوق شفاعت پہ لاکھوں سلام
مقام نبوت و رسالت کی پہچان کے سلسلے میں خواجہ سید بہاؤ الدین نقشبند فرماتے ہیں:
”صوفیاء کرام کا اس امر پر اتفاق ہے کہ نبوت کا سب سے نزدیک مقام و مرتبہ صدیقیت ہے اور سلطان العارفین ابو یزید بسطامیؒ کا قول ہے کہ صدیقوں کے مقام کی نہایت نبیوں کے مقام کی ابتداء ہے اور ان کے کلمات قدسیہ میں سے ہے کہ عامتہ المؤمنین کے مقام کی غایت اولیاء کے مقام کی ابتداء ہے اور اولیاء کے مقام کی غایت شہیدوں کے مقام کی ابتداء ہے اور شہیدوں کے مقام کی غایت‘ صدیقوں کے مقام کی ابتداء اور صدیقوں کے مقام کی غایت نبیوں کے مقام کی ابتداء ہے اور نبیوں کے مقام کی غایت رسولوں کے مقام کی ابتداء ہے اور رسول کے مقام کی غایت اولوالعزم کے مقام کی ابتداء ہے اور اولوالعزم کے مقام کی غایت حضرت مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مقام کی ابتداء ہے اور حضرت مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مقام کی کوئی انتہا نہیں۔ اور حق جل وعلا کے سوا اور کوئی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مقام کی انتہا نہیں جانتا“۔
(انیس الطالبین“ ص ۹‘ بحوالہ سیرت رسول عربی‘)
شیخ ابوالحسن خرقانی قدس سرہ متوفی روز عاشورہ ۴۲۵ھ یوں فرماتے ہیں:
”مجھے ان تین چیزوں کی غایت کی حد معلوم نہیں ہوئی۔ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے درجات‘ مکر نفس اور معرفت“۔
(نفحات الانس‘ بحوالہ سیرت رسول عربی‘)
و ان بالغ المثنى عليه واكثرا
ترجمہ : ”میں نے ہر تعریف کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تعریف سے کم ہی دیکھا اگرچہ تعریف کرنے والا کتنا ہی مبالغہ کیوں نہ کرے“۔
عليه فما مقدار ما يمدح الورى
ترجمہ : ”نبی جس تعریف کے اہل ہیں جب وہ تعریف اللہ نے کر دی تو اس کے مقابلے میں غیروں کی تعریف کی کیا مقدار و حیثیت ہے“۔
یفنی الزمان وفیہ مالم یوصف
ترجمہ : ”آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی تعریف گوناگوں‘ ہر قسم کی‘ کی گئی لیکن زمانہ ختم ہو جائے گا لیکن آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی ذات کا کوئی نہ کوئی وصف ایسا رہ جائے گا‘ جس کی تعریف نہ کی گئی ہو“۔
یعنی آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے اوصاف اور درجات اتنے ہیں کہ مخلوق کا بس نہیں کہ ان کا حق ادا کر سکے۔
مولانا رومی نے تو بات ہی ختم کر دی:
من وجہک المنیر لقد نور القمر
لا ممکن الثناء کما کان حقہ
بعد از خدا بزرگ توئی قصہ مختصر
دوسرا باب
محسن انسانیت ﷺ کے انسانیت پر حقوق
ابوالبشر حضرت آدم علیہ السلام جس مبارک ہستی کے واسطے سے بارگاہ ایزدی میں مغفرت کی دعا اور ترحم کی استدعا پیش کر کے سرخرو ہوتے ہوں‘ اس محسن انسانیت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو نوع انسانی اپنی ابدی بقاء کا مظہر قرار دے کر ہی حق انسانیت ادا کر سکتی ہے! یہ ابدی بقاء پیغمبر اعظم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی مکمل اتباع واطاعت کے عملی اظہار ہی سے ممکن ہے۔ اس محسن انسانیت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے نقش قدم میں خالق اکبر نے وہ روشن نشان رکھ دیے ہیں کہ جن کا حاصل رضائے الٰہی ہے‘ جس کے تلووں کے دھوون سے انسانیت کو آب حیات ملے‘ اس احسان عظیم کو پروردگار عالم یوں جتاتے ہیں:
لقد من الله على المومنين اذ بعث فيهم رسولاً من انفسهم
(سورۃ آل عمران: ۱۶۴)
ترجمہ: ”قسمیہ اللہ تعالیٰ نے ایمان لانے والوں پر یہ احسان فرمایا کہ انہی میں سے ایک رسول مبعوث فرمایا!
یوں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات گرامی‘ اپنے ماننے والوں کے لیے احسان عظیم قرار پا گئی۔ صحابی رسول حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی عظمت کے اس باب کو یوں وا کرتے ہیں:
”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ عزوجل کا قول حضرت ابراہیمؑ کی نسبت رب انهن اضللن كثيرا من الناس اور حضرت عیسیٰؑ کا قول ان تعذبهم فانهم عبادک وان تغفرلهم فانک انت العزيز الحکيم تلاوت فرمایا۔ اور پھر اپنے دونوں ہاتھ اٹھا کر یوں دعا کی: اللهم امتی امتی (خدایا میری امت میری امت) اور رو پڑے“۔
اللہ تعالیٰ نے حضرت جبرئیل ؑ کو حکم دیا کہ محمد (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کے پاس جاؤ اور ان سے رونے کا سبب دریافت کرو۔ حضرت جبرئیلؑ نے حاضر ہو کر رونے کا سبب دریافت
فرمایا۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے بتا دیا۔ اللہ تعالیٰ نے حکم دیا: ”اے جبرئیل! محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس جاؤ اور ان سے کہہ دو کہ ہم آپ (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کو آپ (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کی امت کے بارے میں راضی کریں گے اور غمگین نہ کریں گے۔“
(صحیح مسلم، باب دعا النبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم)
علی حبیبک خیر خلق کلہم
جاننا چاہیے کہ کسی سے محبت ہونا اور اس محبت کا متقاضی متابعت ہونا تین سبب سے ہے۔
- اول: محبوب کا کمال: جیسے عالم اور شجاع وغیرہ سے محبت ہوتی ہے۔
- دوم: جمال: جیسے کسی حسین سے محبت ہوتی ہے۔
- سوم: نوال: یعنی عطاء و احسان، جیسے اپنے مربی اور منعم سے محبت ہوتی ہے۔
کمال مصطفیٰ ﷺ : مقام نبوت، عالم اور شجاع کے درجے سے وراء الوریٰ بلند ہے۔ ساری دنیا کے علماء و شجاع مل کر کسی ایک ولی کامل کے درجے کو نہیں پہنچ سکتے۔ تمام اولیاء کرام کا درجہ کسی صحابی کے درجہ کو نہیں پاسکتا۔ کل صحابہ کرام کا درجہ ایک نبی کے درجے سے کم واقع ہوتا ہے اور کل انبیاء کرام علیہم السلام سید المرسلین صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے مقام و مرتبہ کو نہیں پاسکتے۔
یوں محبوب کا پہلا کمال بدرجہ اتم فقط آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہی کی ذات اقدس میں مجتمع ہے اور باقی مخلوق سے محبت فرع ہے اور جزیات پر مشتمل ہے۔
نہ بالائے فلک پایا، نہ زیر آسمان دیکھا
جمال مصطفیٰ ﷺ : جمال مصطفیٰ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے متعلق پہلے باب میں چہرہ انور کی تابانی اور آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے بدنی انوار و کمالات کا اجمالاً ذکر ہوچکا ہے لیکن قارئین کرام کے حسن ذوق کے لیے اپنی عقیدت کا اظہار کرنے پر مجبور ہوں۔ سیدنا یوسف علیہ السلام کا حسن مشہور ہے کہ مصر والیوں نے آپ علیہ السلام کے چہرہ
مبارک کو دیکھا تو اپنی انگلیاں کاٹ لیں لیکن جس نے ہمارے محبوب صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو دیکھا تو وہ بدر و احد میں گردنیں کٹا گئے۔ اس لیے تو آقا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم فرما گئے۔ ”تحقیق دیئے گئے حضرت یوسف علیہ السلام آدھا حسن“۔
(”مشکوۃ شریف“ باب المعراج)
حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے حسن کا یہ عالم تھا کہ جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی صورت کی روشنی کا عکس دیوار پر پڑتا تھا تو دیوار کو مثل آئینہ کر دیتا تھا اور اس کے سامنے کی چیزیں دکھائی دینے لگتی تھیں۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ راوی ہیں۔ آپ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
”نہیں بھیجا اللہ تعالیٰ نے کسی پیغمبر کو مگر یہ کہ خوب رو اور خوش آواز اور ہے پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تمہارا خوب رو اور خوش آواز زیادہ سب سے“۔ (ترمذی شریف)
اور یہ بھی حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی حدیث ہے:
”میں تمام اولاد آدم کا سردار ہوں“۔ (مشکوۃ شریف)
حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہر امر میں سردار تھے۔ تمام صوری اور معنوی صفات میں بھی سردار تھے اور اس میں حسن کی سرداری بھی شامل ہے۔ معلوم ہوا کہ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا حسن ایک خاص فضیلت رکھتا تھا۔
آنچہ خوباں ہمہ دارند تو تنہا داری
حافظ شیرازیؒ فرماتے ہیں:
کس بہ حسن و لطافت بیار ما نرسد
”اگرچہ بہت حسین جلوہ گر ہوئے ہیں لیکن کوئی ان کے حسن و لطافت کو نہیں پہنچتا“۔
یکے بسکہ صاحب عیار ما نرسد
”کائنات کے بازار میں ہزار نقد لائیں، ایک بھی ہمارے خالص سونے کے سکہ کو نہیں پہنچ سکتا“۔
کسی نے کیا خوب کہا ۔
کوئی مصطفیٰ کوئی مجتبیٰ نہیں ان کے بعد کوئی نہیں
جمال مصطفیٰ ﷺ کی خصوصیت کبریٰ:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم فرماتے ہیں: ”جس شخص نے مجھے خواب میں دیکھا پس تحقیق اس نے مجھ ہی کو دیکھا کیونکہ شیطان میری صورت نہیں بن سکتا“۔ (بخاری شریف، مسلم شریف) یہ رفیع الشان فضیلت، خصوصیت کے ساتھ صرف اور صرف سرور دو جہاں صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم ہی کو حاصل ہے اور کسی ولی، نبی، بزرگ یا فرشتہ کو حاصل نہیں۔ شیطان آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے سوا ہر کسی کی شکل اختیار کر سکتا ہے مگر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی صورت ہرگز اختیار نہیں کر سکتا۔ کیونکہ ۔
نہ ہماری بزم خیال میں نہ دکان آئینہ ساز میں
نوال مصطفیٰ ﷺ :
فرمان باری تعالیٰ ہے: وما ارسلنک الا رحمتہ للعلمین O
(سورۃ الانبیاء، رکوع ۷، آیت ۱۰۷)
ترجمہ : ”نہیں بھیجا ہم نے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو مگر تمام جہانوں کے لیے رحمت بنا کر“۔ اس فرمان خداوندی کے مطابق کل عالم مخلوقات آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی رحمت سے بہرہ ور ہے۔ ایک ذرہ بھی اس سے مستثنیٰ نہیں۔
امت پر شفقت و رحمت :
پروردگار عالم، رحمت عالم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی یہ شان یوں بیان فرماتے ہیں:
لقد جاء كم رسول من انفسكم عزيز عليه ما عنتم حريص عليكم بالمومنين رؤف رحيم O (سورة التوبہ: ۱۲۸)
ترجمہ: ”قسمیہ تمہارے پاس تمہی میں سے رسول (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) آئے ہیں‘ جنہیں تمہاری تکلیف گراں گزرتی ہے اور تمہاری بھلائی کے بہت خواہش مند ہیں۔ ایمان والوں پر شفقت فرمانے والے ہیں۔
”یعنی جو چیز تمہارے لیے تکلیف دہ ہے‘ وہ انہیں بھی گراں گزرتی ہے۔ وہ تمہارے متعلق حریص ہیں اور اہل ایمان کے لیے بڑے مہربان اور رحیم ہیں۔
امام مسلمؒ نے اپنی صحیح میں حضرت ابو ہریرہؓ سے ایک حدیث روایت کی ہے‘ یعنی میری اور میری امت کی حالت اس شخص کی طرح ہے جس نے آگ جلائی ہو اور مختلف جانور اور پروانے اس میں گرنے کے لیے دوڑتے چلے آ رہے ہوں اور میں تمہیں تمہاری کمروں سے پکڑ رہا ہوں اور تم اس میں گرنے پر اصرار کر رہے ہو۔۔۔۔۔ جب حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا ہمارے ساتھ ایسا تعلق ہے‘ اور آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی خیر خواہی اور لطف و کرم کا یہ عالم ہے تو پھر حیف ہے ہم پر اگر ہم حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی شریعت کو چھوڑ کر اپنے نفسوں کی خواہشات کی پیروی میں لگ جائیں‘ اپنے دوستوں کو خوش کرنے کے لیے اعلیٰ حکام کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے ہم اپنے نبی پاک صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی اطاعت سے سرتابی کریں۔ نیز اسلامی حکومتوں اور قانون ساز اداروں کو بھی اس امر کا پورا پورا احساس ہونا چاہیے کہ وہ کس رؤف الرحیم کا دامن چھوڑ رہے ہیں اور کس کی اطاعت کو اپنا شعار بنا رہے ہیں“۔ (تفسیر ضیاء القرآن)
اس آیت کریمہ میں خالق اکبر نے اپنے محبوب صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی ذات کرامت و رحمت کے لیے اپنے دو صفاتی ناموں ”رؤف“ اور ”رحیم“ کو یکجا کر دیا ہے لیکن ساتھ ہی کمال حکمت سے ”من انفسکم“ (یعنی وہ تم میں سے ہیں) کے الفاظ استعمال کر کے یہ بات روز روشن کی طرح عیاں فرما دی ہے کہ سراپا رحمت‘ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نسل انسانی سے ہیں تاکہ کسی کے قلب و ذہن میں ان کے خدا‘ خدا کے اوتار یا اس کا کوئی جز ہونے کا شائبہ تک بھی پیدا نہ ہو۔۔۔۔۔ انسانی فطرت ہے کہ ہر محسن اس کے قلب و شعور پر حاوی رہا اور پھر جب اندھیری رات کے بعد صبح کی روشنی پھیلنے لگے تو کائنات کا ہر ہر ذرہ اس
کی لپیٹ میں ہوتا ہے۔۔۔ وجدان نے چودہ سو سال پیچھے الٹی زقند لگا کر واقعات کو تخیل کی نظر سے دیکھا تو انسانیت پستیوں کے دلدل میں دھنسی جا رہی تھی۔ نومولود معصوم بچیوں کو زندہ درگور کیا جا رہا تھا۔ غلاموں کو جانوروں سے بدتر تصور کیا جاتا تھا۔ عورتوں کے لاشے چلتے پھرتے نظر آتے تھے۔ تلواریں نکلتیں تو قبائل کے قبائل صفحہ ہستی سے مٹ جاتے۔ ہر طرف شیطانی قوتوں کا راج تھا۔ نام نہاد الٰہوں نے حیات انسانی کا گلا گھونٹ رکھا تھا۔۔۔۔۔
ایسے میں محسن انسانیت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم انسانیت کے لیے پیغام حیات لائے۔۔۔۔۔۔
رسم دنیا ہے اطاعت کے جواب میں شفقت، عقیدت کے جواب میں محبت۔ یہ تو سبھی کر سکتے ہیں لیکن محسن انسانیت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قلوب کو مسخر کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ستایا گیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دعائیں دیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پہ کوڑا پھینکا گیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے الفاظ کے پھول برسائے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر پتھر برسائے گئے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہدایت کے موتی عطا کیے۔
لامحالہ اس ردعمل سے کایا پلٹ گئی۔ آج فتح مکہ کا دن ہے۔ حرم میں سرداران قریش جمع ہیں۔ ان میں وہ بھی ہے جو راہ مبارک میں کانٹے بچھایا کرتے تھے۔ ان میں وہ شقی انسان بھی ہے جس نے سجدہ کی حالت میں گردن مبارک پر اونٹ کی اوجھ ڈال دی تھی۔ ان میں وہ ننگ انسانیت بھی ہے جس نے حضرت سمیہؓ کو مکہ کے چوک میں شرمناک طریقے سے شہید کر دیا تھا۔ ان میں وہ سفاک عورت بھی ہے جس نے سید الشہداءؓ کا کلیجہ چبایا تھا۔ سب جابر مرد اور ظالم عورتیں آج مظلومیت کی تصویر بنے سامنے کھڑے تھے۔
ہر فاتح فتح و کامرانی کے نشے میں بہت کچھ کرتا ہے۔ بستیوں کو تباہ و برباد کر دیتا ہے، فصلوں کو اجاڑتا ہے، وہاں کے رہنے والوں کو محکوم اور غلام بناتا ہے لیکن محسن انسانیت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے آبائی گاؤں مکہ میں پیکر رحمت بن کر داخل ہوتے ہیں۔
ذرا چشم تصور میں اس منظر کو بسائیں جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بہت مدت پہلے مکہ کو الوداع کہا تھا۔ آنکھوں میں آنسو، دل میں حسرت، زبان پر آہیں۔ مکہ کی وادی تاریکی میں ڈوبی ہوئی تھی۔ اہل مکہ نیند کی آغوش میں تھے۔ سرور دو عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک بلند مقام پر کھڑے ہو کر حسرت بھری نگاہوں سے مکہ کو دیکھ کر فرمایا: ”مکہ میں تیری دھرتی پر پیدا ہوا۔ پل کر جوان ہوا۔ میری یادیں تجھ سے وابستہ ہیں۔ تیری محبت میرے
رگ و ریشے میں رچی بسی ہے۔ تیرے دامن میں خدا کا عظمتوں والا گھر ہے۔ تجھے چھوڑنے کو جی تو نہیں چاہتا لیکن کیا کروں تیرے رہنے والے اب مجھے یہاں رہنے نہیں دیتے“۔ بس آقا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اتنا جملہ کہہ پائے تھے کہ چہرۂ اقدس اشک بار ہو گیا۔ بہتی ہوئی آنکھوں سے مکہ کو الوداع کہا۔
محسن انسانیت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم آج مکہ میں شاہانہ داخل ہوتے ہیں تو بھی آنکھوں میں آنسو تیر رہے ہیں لیکن یہ تشکر کے آنسو تھے۔
جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ناقہ پر سوار صحابہ کرامؓ کے جلو میں بڑھتے چلے جا رہے تھے۔ کوئی اور فاتح ہوتا تو اس کے جلوس میں جلال اور وحشت ٹپکتی لیکن فاتحانہ ٹھاٹھ باٹھ کے برعکس آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم عجز و انکساری سے گردن جھکائے سورۂ فتح کی آیات تلاوت فرما رہے تھے۔
ایک روایت ہے کہ پیغمبر ارض و سما صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی گردن مبارکہ اتنی جھکی ہوئی تھی کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی پیشانی مبارک بار بار اونٹنی کے کجاوے سے جا لگتی تھی۔ حضور سرور کونین صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جن جن راہوں سے گزرتے‘ دشمنوں اور ستانے والوں کی گردنیں جھکتی چلی جاتیں۔ مکہ کی گلیوں میں ہر طرف انوار کی بارش ہو رہی تھی۔ جھولیاں بھری جا رہی تھیں‘ رتبے دیے جا رہے تھے۔ آج کتنا عظیم دن ہے‘ فتح مبین ہے۔ اسلام کی تاریخ میں خوشی اور شادمانی کا اور کون سا ایسا دن ہوا ہو گا؟
اس عظیم خوشی کے موقع پر بھی سرور دو جہاں صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم غلاموں کو نہیں بھولے۔
واہ اسامہؓ تیری عظمت کے صدقے!:
آج حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی سواری پر حضرت زیدؓ کے معصوم بیٹے حضرت اسامہؓ کو حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ بیٹھنے کا اعزاز عطا کیا گیا۔ آج ایک غلام زادے کا جسم نبوت کے جسم کو مس کر رہا ہے۔ کوئی اور ہوتا تو آج اس عظیم دن سواری پر ابوبکرؓ ہوتے‘ عمر فاروقؓ ہوتے‘ عثمان ذوالنورینؓ ہوتے یا حیدر کرارؓ ہوتے۔ لیکن اس تاریخی اور یادگار موقع پر بھی حضور اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم غلاموں کو نہیں بھولے۔ مکہ میں داخل ہوئے تو غلام کے بیٹے کو عزت بخشی۔
سرور کونین صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے نوازنے کے انداز نرالے تھے۔ آپ صلی
اللہ علیہ و آلہ و سلم کا یہ عمل نوع انسانیت کے لیے ابدی حیات کا پیغام تھا اور بلاشبہ اسی میں انسانیت کی سربلندی کا راز مضمر ہے۔
آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا بد ترین دشمن ابو سفیان آج کے دن احسانوں، رحمتوں اور محبتوں کے سیلاب میں بہہ کر ایمان لے آیا۔
ابو سفیان ”حضرت عباسؓ“ کے ہمراہ ایک اونچی جگہ کھڑے ہو کر اسلامی فوجوں کا نظارہ کر رہے تھے۔ عرب کی وادی نعرہ ہائے تکبیر سے گونج رہی تھی۔
یکے بعد دیگرے قبائل عرب کی فوجوں کی کمپنیاں گزر گئیں۔ اب ایک ایسی فوج آئی جس کی مثال پہلے دیکھنے میں نہ آئی تھی۔ حضرت ابو سفیانؓ نے حضرت عباسؓ سے دریافت کیا: ”یہ کون ہیں؟“
حضرت عباسؓ نے جواب دیا: ”یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے قدموں پر اپنا سب کچھ نثار کرنے والے انصار ہیں“۔ ان کی سرداری کا پرچم حضرت سعد بن عبادہؓ کے ہاتھ میں تھا۔ انہوں نے ابو سفیانؓ کو دیکھتے ہی فرمایا:
الیوم یوم الملحمہ لتحل الکعبہ
”آج گھمسان کا دن ہے، آج کعبہ حلال کیا جائے گا“۔
گویا ہر طرف اسلامی لشکر کا دبدبہ تھا۔ ماؤں کو اپنے جواں سال بیٹوں کی فکر دامن گیر تھی۔ سہمی دوشیزائیں تھر تھر کانپ رہی تھیں۔ ماؤں کے سینوں سے چمٹے بچے، نبی رحمت ﷺ کے مبارک چہرے پر معصوم نگاہیں جمائے ہوئے شاہی فرمان کے منتظر تھے۔ مکہ کے بوڑھے اپنی ٹوٹی لاٹھیوں کے سہارے سکتہ کی حالت میں تھے کہ دم بدم باب رحمت وا ہوا۔ دوست و دشمن کی تمیز یکسر مسدود ہو گئی۔
نبی رحمت ﷺ کے چہرے پر دل آویز تبسم ابھرا اور با آواز بلند اعلان فرمایا۔ جسے تاریخ نے اپنی زبان میں یوں بیان کیا:
”جاؤ مکہ کی ماؤں سے کہہ دو، آج تمہاری ممتا نہیں لوٹی جائے گی۔ مکہ کی بہنوں سے کہہ دو، تمہاری عزتوں کی حفاظت کی جائے گی۔ مکہ کی بیٹیوں سے کہہ دو، آج کے بعد کوئی تمہیں زندہ درگور نہیں کرے گا۔ آج جس نے گلے پر تلوار چلائی تھی، اسے گلے سے لگایا جائے گا۔ جس نے سینے پر خنجر چلایا تھا، اسے دل میں بسایا جائے گا۔ جو پیغام موت بن کر حملہ آور ہوا تھا، اسے پیغام حیات دیا جائے گا۔ آج تم پر کوئی معارضہ نہیں، تم سب کے سب آزاد ہو۔
جو ابو سفیان کے گھر چلا گیا اس کو امان۔ جو حرم میں داخل ہو گیا‘ اس کو امان۔ جس نے اپنے گھر کا دروازہ بند کر لیا اس کو امان۔ سعدؓ نے غلط کہا ہے‘ آج بدلے کا نہیں‘ آج رحمت کا دن ہے“۔
عطا و احسان کا یہ فقید المثال انداز نہ اس سے پہلے کبھی تاریخ عالم میں رونما ہوا اور نہ اس کے بعد کبھی چشم فلک نے دیکھا۔
”حاصل کلام یہ کہ کمال محبوب‘ جمال اور نوال محبوب جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی ذات مقدسہ میں تینوں وصف علی سبیل الکمال مجتمع ہیں۔ جب تینوں وصف جو علت محبت ہیں‘ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم میں جمع ہیں تو خود اس کا طبعی مقتضاء ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ امت کو اعلیٰ درجہ کی محبت ہونی چاہیے۔ اگر نص شرعی بھی نہ ہوتی اور جب کہ نصوص شرعیہ بھی اس کے ایجاب میں موجود ہیں تو داعی عقل و طبع کے ساتھ داعی شرع بھی مل کر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے وجوب محبت کو موکد کرتا ہے اور درحقیقت اعظم غایت اس مضمون کی اس امر کی طرف اہل ایمان کو متوجہ کرنا ہے۔
یہ یقینی امر ہے کہ ان اسباب و دواعی کے ہوتے ہوئے محبت سے اتباع کا انفکاک عادتاً محال ہے۔ جس درجہ کی محبت ہوگی‘ اسی درجہ کا اتباع ہو گا اور ظاہر ہے کہ محبت علی سبیل الکمال واجب ہے۔ پس متابعت بھی علی سبیل الکمال واجب ہو گی“۔
(مولانا محمد اشرف علی تھانویؒ ‘ بحوالہ ”نقوش رسولؐ نمبر“ جلد ۳‘ ص ۴۲۷)
حضور ﷺ کا پہلا حق: اقرارِ نبوت :
جب حضور اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی نبوت و رسالت آیات واضحہ اور معجزات ظاہرہ و باہرہ سے ثابت ہو چکی اور مقام نبوت و رسالت سمجھ آگیا تب اقرارِ نبوت و تصدیق رسالت فرض اور لازم قرار پا گیا۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:
فامنوا بالله ورسوله ونور الذى انزلنا
(سورۃ التغابن‘ آیت ۸)
ترجمہ: ”پس تم اللہ پر اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) پر اور اس نور (قرآن مجید) پر ایمان لاؤ جو ہم نے نازل کیا“۔
ایک اور جگہ حکم فرمایا گیا:
فامنوا بالله و رسوله النبى الامى الذى يومن بالله و كلماته واتبعوه لعلكم تهتدونO(سورۃ اعراف، آیت ۱۵۸)
ترجمہ: ”پس ایمان لاؤ اللہ پر اور اس کے رسول نبی امی (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) پر جو اللہ اور اس کے احکام پر ایمان رکھتے ہیں اور ان (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کی تابعداری کرو تاکہ تم (سیدھی) راہ پر آجاؤ“۔
گویا رب تعالیٰ نے راہ ہدایت، اتباع محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم میں رکھ دی اور یہ نص شرعی ہے۔ نیز فرمایا:
انا ارسلنک شاهداً و مبشراً و نذیراً لتومنوا بالله و رسولهO(سورۃ الفتح، آیت ۸-۹)
ترجمہ: ”بے شک ہم نے آپ (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کو گواہی دینے والا، خوشخبری سنانے والا اور ڈرانے والا بنا کر بھیجا ہے تاکہ (تم لوگ) ایمان لے آؤ اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) پر“۔
ایمان نہ لانے پر شدید وعید:
و من لم يومن بالله و رسوله فانا اعتدنا للكافرين سعيراO(سورۃ الفتح، آیت ۱۳)
ترجمہ: ”اور جو نہ ایمان لائے اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) پر۔ پس بے شک ہم نے تیار کر رکھی ہے، انکار کرنے والوں کے لیے دوزخ!“
مذکورہ بالا آیات متبرکات سے معلوم ہوا کہ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر ایمان لانا فرض عین ہے اور ایمان باللہ بھی ایمان بالرسل صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے بغیر معتبر نہیں۔
ایمان بالرسل ﷺ کا تقاضا:
محسن انسانیت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی نبوت و رسالت کی تصدیق کرنا اور اس بات پر کامل ایمان رکھنا کہ پروردگار عالم نے انہیں مخلوق کی طرف نبی اور رسول بنا کر بھیجا ہے اور کل عالم سے درجات ان کے فائق ہیں اور جو شریعت نبی مکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم لے کر
آئے ہیں، اسے پورے کا پورا تسلیم کرنا اور ہر ہر جز پر ایمان لانا اور جو کچھ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا، خواہ وہ مامورات سے متعلق ہو یا منہیات سے، سب کو حق ماننا اور زبانی اقرار کے ساتھ قلبی تصدیق کا بھی شامل کرنا۔ یہ ہے ایمان بالرسل صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا تقاضا!
تصدیق قلبی کی علامت:
ہر وہ کام جس کے کرنے کا حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حکم فرمایا، کرے اور ہر وہ کام جس سے حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے منع فرمایا، نہ کرے۔ اگر یہ معیار قائم ہو جائے تو تصدیق قلبی کا حق ادا ہو گیا ورنہ نہیں۔ اور جو لوگ زبان سے رسالت کی گواہی دیں مگر دل ان کے تصدیق نہ کریں اور اتباع سنت کی حلاوت انہیں نصیب نہ ہو، قرآن ان کی منافقت یوں بیان کرتا ہے:
اذا جاءک المنافقون قالوا نشہد انک لرسول اللہ و اللہ یعلم انک لرسولہ واللہ یشہد ان المنافقین لکاذبونO (سورۃ المنافقون، آیت ۱)
ترجمہ: ”جب آپ (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کے پاس منافق آتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم گواہی دیتے ہیں کہ آپ (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) اللہ کے رسول ہیں اور اللہ تعالیٰ جانتا ہے کہ آپ (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) اس کے رسول ہیں اور اللہ گواہی دیتا ہے کہ یہ منافق جھوٹے ہیں“۔
باوجودیکہ وہ لوگ، قسمیں کھا کھا کر نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے اللہ کا رسول ہونے کی شہادتیں دے رہے تھے اور خود قرآن انہیں نقل کر کے رد کر رہا ہے۔ وجہ یہ تھی کہ ان کے دلوں میں مقام رسالت کا تصور پختہ نہ تھا اور یہی وجہ ہے کہ قرآن ان کی زبانی گواہی کو رد کر رہا ہے اور جھوٹے گردان رہا ہے۔ کتنا محبوب ہے پروردگار عالم کو منصب ختم رسالت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم۔
اللہ تعالیٰ ہم سب کو منصب رسالت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی معرفت عطا فرمائے اور قلب و جان سے محسن انسانیت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے اس حق کو ادا کرنے کی توفیق مرحمت فرمائے۔ آمین۔
دوسرا حق: آنحضرت ﷺ کی اطاعت کا واجب ہونا:
جب حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو اللہ تعالیٰ کا نبی اور رسول تسلیم کر لیا گیا تو پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے فرمان، احکامات اور آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی لائی ہوئی شریعت مطہرہ اور اس کے ہر ہر جز کو برحق اور منجانب اللہ ہونے کی تصدیق ہو گئی، تو بدیہی طور پر حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی مکمل اطاعت لازم ہو گئی۔ قرآن پاک نے اس نکتے کو کھول کر بیان کر دیا:
يايها الذين امنوا اطيعوا الله و رسوله و لا تولوا عنه و انتم تسمعونO (سورۂ انفال، آیت نمبر ۲۰)
ترجمہ : ”اے ایمان والو! اطاعت کرو اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کی اور نہ پھرو اس سے اور تم سنتے ہو“۔
اطيعوا الله و رسوله کے بعد و لا تولوا عنه میں ضمیر مفرد رسوله کی طرف راجع ہے۔ اس سے صاف ظاہر ہے کہ رب کریم کا یہ حکم نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی روگردانی سے روکنا ہے۔ اس سے اس بات کی طرف اشارہ اور تنبیہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی اطاعت ہی اللہ تعالیٰ کی اطاعت ہے جس کا اطيعوا الله میں حکم ہے۔ اس کی دلیل یہ آیت کریمہ بھی ہے:
من يطع الرسول فقد اطاع اللهO (سورۃ النساء، آیت نمبر ۸۰)
ترجمہ : ”جس (شخص) نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کی اطاعت کی، پس اس نے اللہ تعالیٰ ہی کی اطاعت کی“۔
قل اطيعوا الله و الرسول (سورۃ آل عمران، آیت ۳۲)
ترجمہ : ”کہہ دیجئے (نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو حکم ہے) اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کی اطاعت کیا کرو“۔
واطيعوا الله والرسول لعلكم ترحمونO
(سورۃ آل عمران، آیت ۱۳۲)
ترجمہ : ”اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کی اطاعت کرو تاکہ تم پر رحم کیا جائے“۔
و اطيعوا الله و اطيعوا الرسول واحذروا فان توليتم
فاعلموا انما علی رسولنا البلغ المبین ٥
(سورة المائدہ، آیت نمبر ۹۲)
ترجمہ : ”اور اطاعت کرو اللہ کی اور اطاعت کرو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کی اور احتیاط رکھو۔ اور اگر تم پھر جاؤ گے تو جان لو کہ ہمارے رسول (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کے ذمے صرف صاف صاف پہنچا دینا تھا“۔
قل اطیعوا الله و اطیعوا الرسول فان تولوا فانما علیه ما حمل و علیکم ما حملتم و ان تطیعوہ تھتدوا و ما علی الرسول الا البلغ المبین ٥ (سورۃ النور، آیت نمبر ۵۴) ترجمہ : ”آپ (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) فرما دیجئے کہ اللہ کی اطاعت کرو اور رسول (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کی اطاعت کرو۔ پس اگر تم روگردانی کرو گے تو سمجھ رکھو کہ رسول (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کے ذمے وہی ہے جس کا ان پر بار رکھا گیا ہے اور تمہارے ذمے وہی ہے جس کا تم پر بار رکھا گیا ہے اور اگر تم نے ان کی اطاعت کر لی تو ہدایت یافتہ ہو جاؤ اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کے ذمے تو صاف صاف پہنچا دینا ہے“۔
و ما اتاکم الرسول فخذوہ و ما نھاکم عنہ فانتھوا
(سورۃ الحشر، آیت ۷)
ترجمہ : ”اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) تم کو جو دے دیا کریں، لے لیا کرو اور جس سے منع فرمایا کریں، اس سے رک جایا کرو“۔
رسول اکرم ﷺ کی اطاعت پر انعامِ عظیم:
و من یطع الله و الرسول فاولئک مع الذین انعم الله علیھم من النبیین و الصدیقین و الشھداء و الصالحین و حسن اولئک رفیقا ٥ (سورۃ النساء، آیت ۶۹) ترجمہ : ”اور جو شخص اطاعت کرے گا اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی تو ایسے لوگ بھی ان حضرات کے ہمراہ ہوں گے جن پر اللہ تعالیٰ نے انعام فرمایا ہے یعنی انبیاء کرام اور صدیقین، اور شہداء اور صلحاء اور یہ حضرات بہت اچھے رفیق ہیں“۔
انعام یافتہ طبقہ ہے نبیوں کا‘ ان کے بعد صدیقوں کا یعنی جو انبیاء پر ایمان لائے وہی سچے ہوتے ہیں۔ صدیقین کے بعد انعام یافتہ طبقہ ہے شہداء کا کہ انبیاء پر ایمان لائے اور گواہی دی‘ انبیاء کے مامور من اللہ ہونے پر اور اسی پر جان تک دے دی اور آخری طبقہ قرآن نے ذکر فرمایا نیک لوگوں کا۔ ایسے انعام یافتہ لوگوں کی معیت اور رفاقت بھی بہت بڑی نعمت ہے اور اس نعمت کے حصول کی راہ بھی خود قرآن نے دکھلا دی‘ یعنی اللہ کی اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت کی جائے۔
قرآن نے اطاعت رسول صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے لیے ایک اور حکم فرمایا جو سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔ ارشاد فرمایا:
و ما ارسلنا من رسول الا ليطاع باذن الله
(سورة النساء)
ترجمہ : ”اور نہیں بھیجا ہم نے کوئی رسول مگر اس لیے کہ ان کی اطاعت کی جائے اللہ کے حکم سے“۔
جب تمام مرسلین کو اسی واسطے مبعوث فرمایا گیا کہ مقصد صرف ان کی اطاعت تھا تو پھر سید المرسلین صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی بعثت مبارکہ کا ظہور اور آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا واجب الاطاعت ہونا بدرجہ اولیٰ ثابت ہوتا ہے۔
ان واضح احکامات کے باوجود جو اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی اطاعت سے روگردانی کرے گا‘ قرآن نے ان کا نقشہ یوں کھینچ کر اہل ایمان کو تنبیہ کر دی۔
يوم تقلب وجوههم فى النار يقولون ياليتنا اطعنا الله و اطعنا الرسولا
(سورة الاحزاب‘ آیت ٦٦)
ترجمہ : ”جس روز ان کے چہرے دوزخ میں الٹ پلٹ کیے جائیں گے تو وہ یوں کہیں گے‘ اے کاش ہم نے اللہ کی اطاعت کی ہوتی اور ہم نے رسول (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) کی اطاعت کی ہوتی“۔
نیز۔۔۔۔۔
و يوم يعض الظالم على يديه يقول ياليتنى اتخذت مع الرسول سبيلا O
(الفرقان‘ آیت ۲۷)
ترجمہ : ”اور جس روز ظالم اپنے ہاتھ کاٹ کاٹ کھاوے گا‘ کہے گا کیا ہی اچھا ہوتا اگر میں رسول (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کی راہ پر لگ گیا ہوتا“۔
قرآن کریم فرقان حمید میں بے شمار جگہوں پر اطاعت رسول کا حکم دیا گیا۔ طوالت کے
خوف سے چند ہی آیات پر اکتفا کر لیا گیا ہے۔ تاہم (ما ينطق عن الهوى ان هو الا وحی یوحى O (سورۃ النجم) کے مصداق احادیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے استفادہ کیا جاتا ہے:
"ہرگز میں تم میں سے کسی کو نہ پاؤں کہ وہ اپنی مسند پر بیٹھا ہو اور اس کے پاس کوئی حکم آئے، جس کے متعلق میں نے حکم دیا یا منع فرمایا ہے اور وہ یوں کہہ دے کہ میں نہیں جانتا۔ جو کچھ ہم نے کتاب اللہ میں پایا ہے ہم تو بس اس پر عمل کریں گے"۔ (مسند احمد، ابو داؤد، ترمذی شریف، ابن ماجہ شریف، بیہقی، مشکوۃ شریف، ص ۲۹)
اس سے یہ معلوم ہوا کہ منکرین حدیث مندرجہ بالا تمام قرآنی آیات کے انکار کی وجہ سے راہ ہدایت سے پھر جاتے ہیں۔ اس لیے لازم ہے کہ اطاعت رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا حق ادا کرنے کے لیے فرامین رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو بھی برحق ماننا چاہیے اور اس میں حجت بازی ایمان کے خسارے کا سودا ہے۔
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے:
"رسول کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جس نے میری اطاعت کی، اس نے اللہ کی اطاعت کی اور جس نے میری نافرمانی کی، اس نے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کی"۔
(”بخاری شریف“، ص ۱۰۵، ”مشکوۃ شریف“ ص ۳۱۸)
ایک دوسری جگہ ارشاد فرمایا:
"جب میں تم کو کسی چیز سے منع کروں تو اس سے باز رہو اور جب کسی شے کا حکم کروں تو جہاں تک ممکن ہو اس پر عمل کرو"۔ (”بخاری شریف“ ص ۱۰۸۲)
حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی تمام امت جنت میں داخل ہوگی مگر
انکار کرنے والا۔۔۔۔۔؟:
حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
"میری تمام امت جنت میں داخل ہوگی، سوائے اس کے جس نے انکار کیا۔ صحابہ کرام ؓ نے عرض کی، انکار کرنے والا کون ہے یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ
و آلہ وسلم)‘ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا‘ جس نے میری اطاعت کی‘ وہ جنت میں داخل ہو گا اور جس نے میری نافرمانی کی‘ وہ انکار کرنے والا ہے”۔ (بخاری شریف” ص ۱۰۸۱)
ایک دوسری حدیث شریف میں حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اپنی مثال یوں بیان فرماتے ہیں:
”میری مثال اس شخص کی مثل ہے جس نے کوئی گھر بنایا اور اس میں عمدہ قسم کا کھانا تیار کیا اور بلانے والے کو بھیج دیا۔ پس جس نے داعی کی بات مان لی اور گھر میں داخل ہو گیا اور کھانا کھایا اور جس نے بلانے والے کی بات نہیں مانی‘ نہ وہ گھر میں داخل ہو سکا اور نہ کھانا کھایا”۔
اس مثال سے گھر تو جنت ہے اور داعی محمد (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) ہیں۔ پس جس نے محمد (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کی اطاعت کی‘ اس نے اللہ کی اطاعت کی اور جس نے محمد (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کی نافرمانی کی اور محمد (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) لوگوں کے درمیان (ایمان اور کفر کا) فرق کرنے والے ہیں۔ یعنی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو ماننے والے ایماندار نہ ماننے والے کافر۔
(”شرح الشفاء”۔ ”بخاری شریف” ص ۱۰۸۱)
قرآن اور صاحب قرآن ﷺ میں کچھ فرق نہیں:
مولانا مناظر احسن گیلانی‘ شیخ اکبر محی الدین عربی کے کلام کی شرح میں رقم طراز ہیں:
”قرآن میں ارشاد ہوا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو خطاب کر کے فرمایا گیا کہ انک لعلی خلق عظیم اور حضرت عائشہ والی روایت میں ہے: کان خلقہ القرآن (رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا خلق قرآن ہے) دونوں جگہ بجائے اخلاق کے خلق کا مفرد لفظ اس لیے استعمال کیا ہے کہ تمام مکارم اخلاق کی جامع رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی ذات مبارک تھی۔ پھر دیکھو قرآن کی صفت ”عظیم” قرآن ہی میں بیان کی گئی ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی صفت بھی عظیم ہے‘ جس کا مطلب یہی ہوا کہ قرآن رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم قرآن ہیں۔ شیخ کے الفاظ تھے:
فلا فرق بین النظر الیه (قرآن) و بین النظر الی رسول الله صلی الله علیه واله وسلم O
”یعنی قرآن کا دیکھنا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا دیکھنا دونوں باتوں میں کوئی فرق نہیں۔ قرآن کو جسمانی صورت عطا کی گئی تو اس کا نام محمد بن عبداللہ بن عبدالمطلب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہے۔ فرمایا قرآن کلام اللہ اور کلام اللہ‘ اللہ کی صفت ہے۔ نتیجہ یہ نکلا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اللہ تعالیٰ کی صفت ٹھہرے‘ اسی لیے تو قرآن میں فرمایا گیا کہ
من یطع الرسول فقد اطاع الله اور یہ کہ ما ینطق عن الهویٰ ان هو الا وحی یوحیٰ O
(”مجالس الشیعین“ ص ۳۶-۳۵)
ان تمام احادیث مبارکہ اور آیات قرآنیہ سے حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اطاعت کا فرض و لازم ہونا واضح ہوتا ہے۔ اللہ کریم ہمیں اطاعت رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی توفیق نصیب فرمائے۔ (آمین)
تیسرا حق: آنحضور ﷺ کی سنتوں‘ عادتوں اور خصلتوں کا اتباع
حضرت حسن بصریؒ سے مروی ہے کہ ایک جماعت نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے اللہ تعالیٰ کی محبت کا دعویٰ کیا اور کہا:
یا رسول الله انا نحب الله O
ترجمہ: ”یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہم تو بے شک اللہ تعالیٰ سے محبت کرتے ہیں“۔
اس پر اللہ تعالیٰ نے اپنے معیار محبت کے لیے ایک ضابطہ مقرر کر دیا۔ ارشاد فرمایا:
قل ان کنتم تحبون الله فاتبعونی یحببکم الله یغفر لکم ذنوبکم والله غفور رحیم O (سورۃ آل عمران‘ آیت ۳۱)
ترجمہ: ”کہہ دیجئے (اے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کہ اگر تم اللہ سے محبت رکھتے ہو تو میری اتباع کرو‘ اللہ تمہیں محبوب بنالے گا اور تمہارے گناہ معاف کر دے گا اور اللہ تعالیٰ معاف کرنے والا مہربان ہے“۔
یہ بھی روایت ہے کہ کعب بن اشرف اور اس کے ساتھیوں کے بارے میں یہ آیات پاک نازل ہوئی تو انہوں نے کہا تھا:
”ہم تو اللہ کے بیٹے اور اس کے دوست ہیں۔ یعنی جس طرح اولاد والدین کو عزیز ہوتی ہے‘ اسی طرح ہم اللہ کو محبوب ہیں اور ہم اللہ سے بہت محبت کرنے والے ہیں“۔
اس وقت یہ آیت نازل ہوئی جس میں اللہ تعالیٰ نے حضور سرور کائنات صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو حکم فرمایا کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم ان سے یوں بیان فرمادیں کہ اگر تم اللہ سے محبت کا دعویٰ کرتے ہو تو میرا اتباع کرو‘ اسی وقت اللہ تعالیٰ تم سے محبت فرمائیں گے اور تمہارے گناہ معاف فرمادیں گے۔ یعنی جب کسی کو اللہ سے محبت مقصود ہو تو حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا اتباع کرے۔ ادھر اتباع کیا‘ ادھر مقبول ہو گیا اور اس کی دلیل یہ ہے کہ مقصود اللہ سے محبت تھی‘ جواباً اللہ تعالیٰ محبت کرنے لگے اور اتباع کی برکت سے گناہ بھی معاف کرنے کا اعلان فرمادیا۔ سبحان اللہ۔
اتباع رسول ﷺ میں راہ راست:
فامنوا بالله و رسوله النبى الامى الذى يومن بالله و كلماته واتبعوه لعلكم تهتدون O (سورة الاعراف‘ آیت ۱۵۸)
ترجمہ: ”پس ایمان لاؤ اللہ پر اور اس کے رسول نبی امی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم پر جو اللہ اور اس کے احکامات پر ایمان رکھتے ہیں اور اس نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا اتباع کرو تاکہ تم راہ راست پر آجاؤ“۔
الذين يتبعون الرسول النبى الامى الذى يجدونه مكتوبا عندهم فى التورات و الانجيل يامرهم بالمعروف و ينهاهم عن المنكر و يحل لهم الطيبات و يحرم عليهم الخبائث (سورة الاعراف‘ آیت ۱۵۷)
ترجمہ: ”جو لوگ اتباع کرتے ہیں رسول نبی امی (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) کا‘ جن کو وہ اپنے پاس تورات ۔ انجیل میں لکھا ہوا پاتے ہیں‘ وہ ان کو نیک باتوں کا حکم فرماتے ہیں اور بری باتوں سے منع فرماتے ہیں اور پاکیزہ چیزوں کو ان کے لیے حلال بتاتے ہیں اور گندی چیزوں کو ان پر حرام فرماتے ہیں“۔
مندرجہ بالا ہر دو آیات مقدسہ میں جہاں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر ایمان لانے اور اتباع کرنے کا حکم ہے، وہاں یہ بھی واضح کر دیا گیا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جس کا حکم فرماتے ہیں یا خود عمل کرتے ہیں وہ صرف اور صرف اللہ تعالیٰ ہی کی طرف سے ہوتا ہے اور اس کا اتباع لازم و فرض ہے اور یہی نقش قدم راہ راست پر ہیں۔
معلوم ہوا کہ اتباع رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہی وہ راستہ ہے جس پر منزل کا دارومدار ہے اور کیوں نہ ہو؟ قرآن نے اسے کھول کر یوں بیان کر دیا:
لقد كان لكم فی رسول الله اسوة حسنة
(سورہ الاحزاب، آیت ۲۱)
ترجمہ: ”بے شک تمہارے لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی ذات بہترین مثال ہے“۔
حکیم محمد بن علی ترمذیؒ اس آیت کے ذیل میں فرماتے ہیں: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا امور شریعت میں اقتداء کیا جائے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی سنتوں کا اتباع کیا جائے اور قول و فعل میں رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی مخالفت نہ کی جائے۔ اسی طرح رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے تمام حالات طیبہ میں سے کسی کے خلاف راہ اختیار نہ کی جائے“۔
کسی نے کیا خوب کہا:
هذا لعمری فی الفعال بدیع
لو کان حبک صادقا لا طعته
ان المحب لمن یحب مطیع
ترجمہ: ”تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) سے محبت کا بھی مدعی ہے اور ان کی نافرمانی بھی کرتا ہے۔ قسم کھا کر کہتا ہوں کہ تیرا یہ طریقہ قیاس میں عجیب ہے۔ (یعنی خلاف قیاس و عقل ہے) اگر تیری محبت سچی ہوتی تو ان (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کی اطاعت کرتا، بے شک محب محبوب کا مطیع ہوتا ہے“۔
اہل ایمان دن میں پانچ مرتبہ اللہ کریم کی بارگاہ میں انتہائی عجز و انکساری کے ساتھ، خشوع و خضوع کے ساتھ اللہ جل جلالہ کی حمد و ثناء کے بعد یہی دعا کرتے ہیں:
اهدنا الصراط المستقيم صراط الذين انعمت عليهم O
(سورۃ الفاتحہ)
ترجمہ : ”اے اللہ! ہم کو سیدھی راہ دکھلا۔ راہ ان لوگوں کی جن پر تو نے انعام کیا“۔
سہل بن عبداللہ تستریؒ جو اکابر صوفیاء میں سے ہیں۔ یہاں بڑی خوبصورت بات کہہ گئے ہیں۔ آپؒ فرماتے ہیں: صراط الذين انعمت عليهم بمتابعه السنه الخ۔ یعنی راستہ ان لوگوں کا جن پر اتباع سنت کے ساتھ انعام کیا گیا ہو! اللہ اللہ کیا حسن ذوق تھا؟ سلف صالحین کس لطیف انداز سے اپنی عقیدت و محبت کے خطوط استوار رکھتے تھے اور خلاف سنت باتوں سے کس کس طرح اپنے آپ کو بچائے رکھتے تھے۔
ایک بزرگ کے سامنے کسی نے تربوز نوش جان کرنے کو پیش کیا۔ آپؒ نے تربوز یہ کہہ کر واپس کر دیا کہ مجھے تربوز کھانے کا سنت طریقہ معلوم نہیں۔
دراصل اکابر اتباع رسول صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی قدر و قیمت سے آشنا تھے اور قرآن متعدد مقامات پر آج بھی اتباع رسول صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی اہمیت کو اجاگر کر رہا ہے۔
ارشاد باری تعالٰی ہے:
واتبعوه لعلكم تهتدون (سورۃ الاعراف‘ آیت ۱۵۸)
ترجمہ : ”اور ان (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) کا اتباع کرو تاکہ راہ ہدایت پاؤ“۔
وان تطيعوه تهتدوا (سورۃ النور‘ آیت ۵۴)
ترجمہ : ”اور اگر تم نے ان کی اطاعت کر لی تو راہ پر جا لگو گے“۔
وانک لتھدی الی صراط مستقیم (سورۃ الشوریٰ‘ آیت ۵۲)
ترجمہ : ”اور اس میں کوئی شبہ نہیں کہ آپ (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) ایک سیدھے راستے کی طرف ہدایت کر رہے ہیں“۔
قاضی عیاضؒ فرماتے ہیں:
”کہ فرمایا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ”میری امت کو اس بات کا حکم دیا کہ وہ میرے قول کو اختیار کریں اور میرے حکم کی اطاعت کریں اور میری سنت کی اتباع کریں۔ پس جو شخص میرے قول کے ساتھ راضی ہو گیا وہ قرآن کے ساتھ راضی ہو گیا۔ اللہ تعالٰی نے ارشاد فرمایا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ
وسلم تم کو جس چیز کا حکم دیں اس کو لے لو (عمل کرو) اور جس چیز سے تم کو منع فرمائیں، اس سے باز رہو"۔
(شرح الشفاء)
ایک اور حدیث میں آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں: "حضرت مالک بن انسؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”میں تم میں دو چیزیں چھوڑ رہا ہوں جب تک تم ان دونوں کو مضبوطی سے پکڑے رہو گے، ہرگز گمراہ نہ ہو گے یعنی اللہ کی کتاب (قرآن) اور اللہ تعالیٰ کے رسول (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کی سنت“۔
("موطا امام مالک"۔ "مشکوۃ شریف" ص ۳۱)
اس سے یہ بات اظہر من الشمس ہو گئی کہ اللہ تعالیٰ کی کتاب اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی سنتوں پر عمل کرنا ہی گمراہی سے حفاظت کا ذریعہ ہے۔
ایک دوسری جگہ ارشاد فرمایا: "حضرت ابو ہریرہؓ سے مروی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”بے شک بہترین حدیث کتاب اللہ (قرآن پاک) ہے اور بہترین طریقہ محمد (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کا طریقہ ہے اور سب سے بدتر امور بے سند گھڑی ہوئی باتیں ہیں“۔
("بخاری شریف" ص ۱۰۸۱۔ "مشکوۃ شریف" ص ۲۷)
محسن انسانیت ﷺ کی سنت کے اتباع پر اجرِ عظیم:
حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”بے شک اللہ تعالیٰ بندے کو جنت میں داخل فرمائیں گے۔ اس کے سنت کو مضبوط پکڑنے اور اس پر عمل کرنے کی وجہ سے“۔
(الشفاء مصنفہ قاضی عیاضؒ)
محسن انسانیت ﷺ کی سنت کو مضبوط پکڑنے پر سو شہیدوں کا ثواب:
حضرت ابو ہریرہؓ سے مروی ہے: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”میری امت کے فساد کا وقت جو شخص میری سنت کو مضبوط پکڑے گا (یعنی اس پر عمل کرے گا) اس کے لیے سو شہیدوں کا ثواب ہے“۔
("مشکوۃ" ص ۳۰)
جس نے محسن انسانیت ﷺ کی سنت کو زندہ کیا‘ وہ آپ ﷺ
کے ساتھ جنت میں ہو گا:
حدیث شریف میں ہے:
”جس نے میری سنت کو زندہ کیا اس نے مجھ سے محبت کی اور جس نے مجھ سے محبت کی‘ وہ جنت میں میرے ساتھ ہو گا“۔ (مشکوٰۃ شریف‘ ص ۳۰)
قاضی عیاضؒ اس سلسلے میں یوں رقم طراز ہیں:
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جس نے میری سنت کو زندہ کیا‘ اس نے مجھے زندہ کیا اور جس نے مجھے زندہ کیا‘ وہ جنت میں میرے ساتھ ہو گا“۔ (الشفاء)
سلف صالحین کا اتباع سنت:
حضرت عبداللہ بن عمرؓ کا اتباع سنت:
حضرت عبداللہ بن عمرؓ سے ایک شخص نے سوال کیا:
”اے ابو عبدالرحمٰن بے شک صلوٰۃ خوف اور صلاۃ حضر کا ذکر تو ہم قرآن میں پاتے ہیں اور صلاۃ سفر کو نہیں پاتے“۔ حضرت عبداللہ بن عمرؓ نے جواب دیا: ”بھتیجے! بے شک اللہ تعالیٰ نے محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو ہماری طرف نبی بنا کر بھیجا ہے۔ در آنحالیکہ ہم کچھ نہ جانتے تھے اور پس ہم تو اس پر عمل کریں گے جس طرح ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو کرتے دیکھا ہے“۔
(نسائی شریف‘ جلد ۱‘ ص ۲۱۱)
یعنی ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو قصر کرتے دیکھا ہے لہٰذا ہم بھی قصر کریں گے۔ ابن شہاب فرماتے ہیں:
”ہمیں اہل علم (صحابہؓ و تابعینؒ) سے یہ بات پہنچی ہے کہ انہوں نے فرمایا سنت کو مضبوط پکڑ لینا ہی نجات (کا ذریعہ) ہے“۔
(”حقوق مصطفیٰ“ مولانا مفتی محمود حسن گنگوہی‘ ص ۷۴)
سنت رسول ﷺ کے بغیر فہم القرآن ناممکن ہے:
”حضرت عمر بن الخطابؓ نے اپنے عمال کو لکھا تھا کہ سنت (احادیث) کا علم حاصل کرو اور فرائض و لغت کو سیکھو اور یہ بھی فرمایا: بے شک کچھ لوگ تم سے قرآن پاک کے ساتھ جھگڑا کریں گے (یعنی قرآن پاک کے ظاہر کو پیش کر کے کج حجتی کریں گے) تم ان کا سنتوں کے ساتھ مواخذہ کرو اس لیے کہ سنتوں سے واقفیت رکھنے والے ہی کتاب اللہ کو زیادہ جاننے والے ہیں“۔
(”حقوق المصطفیٰ“ ص ۷۴)
پس معلوم ہوا کہ جو سنت نبوی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے آشنا ہو گا‘ وہی قرآن کو سمجھ پائے گا اور سنت نبوی ﷺ کے بغیر فہم القرآن ناممکن ہے۔
حضرت امام شافعیؒ فرماتے ہیں:
”سنت رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تو اتباع ہی کے لیے ہے“۔
(”حقوق المصطفیٰ“ از مولانا مفتی محمود حسن گنگوہی‘ ص ۷۹)
حضرت عمر فاروقؓ حجر اسود کو بوسے دیتے ہوئے ارشاد فرماتے ہیں:
”بے شک خدا کی قسم تو ایک پتھر ہے نہ تو کسی کو نفع پہنچا سکتا ہے اور نہ نقصان اور اگر میں نہ دیکھتا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے تجھے چوما تھا تو ہرگز تجھے نہ چومتا“۔ (متفق علیہ۔ ”مشکوۃ شریف“ ص ۲۲۸)
حضرت عبداللہ بن عمرؓ کو دیکھا گیا کہ ایک جگہ اپنی سواری کو گھما رہے ہیں یعنی چکر کٹوا رہے ہیں کسی نے ان سے اس عمل کا سبب پوچھا تو ارشاد فرمایا:
”اس کے سوا کچھ نہیں جانتا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو اس طرح کرتے ہوئے دیکھا تھا اس لیے میں نے بھی ایسا ہی کیا“۔
(”حقوق المصطفیٰ“ از مولانا مفتی محمود حسن گنگوہی‘ ص ۸۰)
حضرت امام احمد بن حنبلؒ کو اتباع سنت پر بشارت:
”حضرت امام احمد بن حنبلؒ اپنا واقعہ بیان فرماتے ہیں کہ میں ایک روز ایک
جماعت کے ساتھ تھا۔ وہ لوگ اپنے کپڑے اتار کر (غسل کرنے کی غرض سے) پانی میں داخل ہو گئے۔ میں نے حدیث کے اطلاق پر عمل کیا اور کپڑے نہیں اتارے۔
حدیث یہ ہے: ”جو اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو وہ حمام میں بغیر تہہ بند کے داخل نہ ہو“۔ (”جمع الفوائد“ جلد ۱‘ ص ۴۸)
میں نے اسی رات خواب میں دیکھا کہ کوئی کہہ رہا تھا: ”اے احمد خوش خبری ہو‘ بے شک اللہ نے تم کو سنت پر عمل کرنے کی وجہ سے بخش دیا ہے اور تم کو امام بنا دیا ہے“۔ میں نے کہنے سننے والے سے پوچھا: ”تم کون ہو؟“ اس نے جواب دیا: ”میں جبرئیل ہوں“۔ علیہ الصلوٰۃ والسلام۔
(”حقوق المصطفیٰ“ از مولانا مفتی محمود حسن گنگوہی‘ ص ۸۲ - ۸۳)
دعا ہے پروردگارِ عالم سے کہ ہمیں اپنے محبوب کی اک اک ادا پر مر مٹنے کی توفیق عطا فرمائے۔ (آمین)
چوتھا حق: نبی کریم ﷺ کی سنت اور حکم کو ترک نہ کرنا:
عقل کا تقاضا بھی یہی ہے کہ جب آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو نبی اور رسول مان لیا جائے اور آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے لائے ہوئے دین متین کو برحق تسلیم کر لیا جائے تو پھر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے احکام اور سنتوں کو مضبوطی سے پکڑ لینا چاہیے۔ ورنہ تو بے شمار نصوص لکھی جا چکی ہیں اور ایمان‘ اطاعت‘ اور اتباع پر دارین کی فوز و فلاح موقوف کر دی گئی ہے۔
جاننا چاہیے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے کسی حکم و ارشاد کا ترک کرنا اور کسی سنت کی مخالفت کرنا قطعاً ناجائز اور دونوں جہاں کے خسارے اور وبال کا ذریعہ ہے۔ حق تعالیٰ شانہٗ نے ایسے لوگوں کو‘ جو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے کسی حکم و ارشاد اور سنت کو ترک کریں اور اس کی مخالفت کریں‘ عذاب کی دھمکی دی ہے۔ ارشاد ہے:
فليحذر الذين يخالفون عن امرہ ان تصيبهم فتنۃ او يصيبهم عذاب اليم
ترجمہ: ”سو جو لوگ اس کے حکم کی مخالفت کرتے ہیں ان کو اس سے ڈرنا چاہیے کہ ان پر کوئی آفت آن پڑے یا ان پر کوئی دردناک عذاب نازل ہو جائے“۔
ضمير امرة لله عز و جل فان الامر له سبحانه في الحقيقه او للرسول صلى الله عليه وسلم فانه المقصود بالذكر
(”روح المعانی“ جلد ۱۸‘ ص ۲۲۶)
سنت رسول ﷺ کو ترک کرنے پر دوسری وعید:
و من يشاقق الرسول من بعد ما تبين له الهدى و يتبع غير سبيل المومنين نوله ما تولى ونصله جهنم وساء ت مصيرا (سورۃ النساء، آیت ۱۱۵) ترجمہ : ”اور جو شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی مخالفت کرے گا‘ بعد اس کے کہ اس کو امر حق ظاہر ہو چکا تھا اور مسلمانوں کا رستہ چھوڑ کر‘ دوسرے رستے ہو لیا ہو‘ تو ہم اس کو جو کچھ وہ کرتا ہے‘ کرنے دیں گے اور اس کو جہنم میں داخل کریں گے اور وہ بری جگہ ہے جانے کی“۔ (ترجمہ از حضرت حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانویؒ)
سنت رسول اللہ ﷺ کو ترک کر کے نیا دین گھڑنے کا ابدی انجام:
”آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ کچھ لوگوں کو میرے حوض کوثر سے روک دیا جائے گا۔ میں ان کو پکاروں گا: آ جاؤ‘ آ جاؤ‘ آ جاؤ (فرشتے کہیں گے) کہا جائے گا: بے شک ان لوگوں نے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے بعد (دین و سنت) کو بدل ڈالا تھا تو میں کہوں گا (ایسے لوگوں کے لیے) دوری ہو‘ دوری ہو‘ دوری ہو“۔
(بحوالہ حقوق المصطفیٰؐ از مولانا مفتی محمود حسن گنگوہی‘ ص ۸۷)
اعاذنا الله منه
حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی طویل حدیث میں ہے جس کو شیخینؒ نے روایت کیا ہے : فرمایا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ”جس نے میری سنت سے اعراض کیا‘ وہ مجھ سے نہیں یعنی میری جماعت سے نہیں یا میرا اتباع کرنے والوں میں سے نہیں یا میرا اس سے کوئی واسطہ نہیں“۔ (”مشکوۃ شریف“ ص ۲۷) حضرت امام شافعیؒ کا قول گزر چکا ہے کہ
”سنت رسول صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم تو ہے ہی اتباع کے لیے“۔
ثابت ہوا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا ہر عمل اپنانا واجب اور فرض ہے۔ امتِ محمدیہ علیٰ صاحبہا الصلوٰۃ والتسلیم کے لیے ہی یہ لازم نہیں بلکہ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم‘ اس سے انبیاء کو بھی مستثنیٰ قرار نہیں دیتے۔
حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم ارشاد فرماتے ہیں:
”اس ذات کی قسم جس کے قبضہ میں محمد (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) کی جان ہے‘ اگر موسیٰ علیہ السلام بھی تمہارے پاس تشریف لے آئیں اور تم مجھے چھوڑ کر ان کا اتباع کرنے لگو تو راہِ حق سے بھٹک جاؤ گے اور اگر موسیٰ علیہ السلام بھی زندہ ہوتے‘ وہ بھی میرا ہی اتباع کرتے“۔ (مشکوٰۃ شریف‘ ص ۳۲‘ کتاب العلم)
حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ ارشاد فرماتے ہیں:
”رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم جس چیز پر عمل فرماتے تھے‘ اس میں سے کوئی چیز عمل کیے بغیر نہیں چھوڑوں گا۔ اگر حضور اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی ارشاد فرمودہ چیزوں میں سے کچھ بھی چھوڑ دوں گا تو مجھے اپنے گمراہ ہونے کا اندیشہ ہے“۔ (ابو داؤد شریف)
حضرات صحابہ کرامؓ کو حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی کمالِ اتباع نصیب تھی۔ وہ ایک ہی نور کی کرنیں تھیں۔ جب ہی تو حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم حضرات صحابہؓ کی راہ کو بھی راہِ نجات قرار دیتے ہیں۔
”رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ارشاد فرمایا‘ بے شک بنی اسرائیل بہتر (۷۲) فرقوں میں متفرق ہو گئے تھے اور بے شک میری امت تہتر (۷۳) فرقوں میں متفرق ہو جائے گی اور وہ تمام فرقے ایک فرقے کے سوا جہنم میں جائیں گے۔ صحابہ کرامؓ نے عرض کی‘ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم وہ کون سا فرقہ ہو گا؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ارشاد فرمایا‘ وہ فرقہ وہ ہے جو اس طریقہ پر ہو جس پر میں ہوں اور میرے اصحابؓ ہیں۔ یعنی جو لوگ میرے اور میرے اصحابؓ کے طریقے پر ہوں گے‘ وہ نجات پائیں گے‘ باقی جہنم میں جائیں گے“۔ (مشکوٰۃ شریف‘ ص ۳۰)
حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے صحابہ کرامؓ کی عظمت اور ان کی راہ چلنے والوں کے لیے مزید یہ اعلان بھی فرمایا:
”میرے صحابہ ستاروں کی مانند ہیں۔ تم ان میں سے کسی ایک کی بھی راہ اختیار کرو گے تو ہدایت پا جاؤ گے“۔
اهدنا الصراط المستقيم صراط الذين انعمت عليهم غير المغضوب عليهم و الضالينO امین یا ارحم الراحمینO
پانچواں حق: آنحضرت ﷺ کی محبت کا لازم ہونا:
جیسے پہلے ذکر ہو چکا کہ کسی چیز کا محبوب ہو جانا تین وجوہات کی بنیاد پر ہے اور وہ تینوں وجوہات بدرجہ اتم حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذات مقدسہ میں پائی جاتی ہیں۔ یوں ہر انسان کا حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے محبت کرنا تقاضہ عقل ہے‘ لیکن مومنین کے لیے اللہ تبارک و تعالیٰ نے اسی تقاضہ عقل کو حکم کی صورت میں نافذ فرما دیا۔
ارشاد باری تعالیٰ ہے:
قل ان كان اباءكم و ابناءكم و اخوانكم و ازواجكم و عشيرتكم و اموال اقترفتموها و تجارة تخشون كسادها و مساكن ترضونها احب اليكم من الله و رسوله و جهاد فى سبيله فتربصوا حتى ياتى الله بأمره والله لا يهدى القوم الفاسقين (سورۃ التوبہ، آیت ۲۴)
ترجمہ : ”آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فرما دیجئے کہ اگر تمہارے باپ اور تمہارے بیٹے اور تمہارے بھائی اور تمہاری بیویاں اور تمہارا کنبہ اور وہ مال جو تم نے کمائے ہیں اور وہ تجارت جس میں نکاسی نہ ہونے کا تم کو اندیشہ ہو اور وہ گھر جن کو تم پسند کرتے ہو‘ تم کو اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اور ان کی راہ میں جہاد کرنے سے زیادہ پیارے ہوں تو تم منتظر رہو‘ یہاں تک کہ اللہ اپنا حکم (عذاب) بھیج دیں اور اللہ بے حکمی کرنے والوں کو ان کے مقصود تک نہیں پہنچاتا“۔
خالق اکبر کا واضح اعلان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی محبت ہر مسلمان پر لازم ہے۔ جو اولاد‘ والدین‘ خاندان‘ عزیز و اقارب‘ مال و دولت‘ تجارت اور جائیداد وغیرہم سب کی محبت پر غالب ہو اور یہی سلامتی کی راہ ہے۔
ساتھ ہی ساتھ اللہ تعالیٰ نے ایک اور اصول متعین فرما دیا کہ اگر دنیاوی محبت اس
محبت پر غالب ہو گئی تو یہ اسلام کی راہ نہ ہو گی بلکہ عذاب کی ڈگر ہو گی اور یہ عذاب دنیا اور آخرت دونوں میں ہو سکتا ہے۔
حضور سرور کائنات صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے اس کو آسان الفاظ میں یوں ارشاد فرمایا:
”حضرت انسؓ سے مروی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ارشاد فرمایا تم میں سے کوئی شخص مومن نہیں ہو سکتا جب تک کہ میں اس کو اس کی اولاد اور اس کے والدین اور تمام انسانوں سے زیادہ محبوب نہ ہو جاؤں“۔
(مشکوٰۃ شریف‘ ص ۱۲‘ بخاری‘ مسلم)
دل میں ایمان کی مٹھاس محسوس کرنے کے لیے تین چیزوں کا ہونا شرط
قرار پایا۔ ان میں ایک حب رسول صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم ہے:
”حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ارشاد فرمایا ‘جس میں تین چیزیں ہوں گی‘ وہ ایمان کی مٹھاس (اپنے دل میں) محسوس کرے گا۔ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اس کو تمام چیزوں سے محبوب ہوں۔ ۲۔ جس شخص سے محبت کرے‘ صرف اللہ ہی کے لیے محبت کرے (کوئی اور غرض نہ ہو) اور کفر میں لوٹنا اس کو ایسا ہی ناگوار ہو جیسا آگ میں گرایا جانا ناگوار ہے“۔ (بخاری شریف‘ ص ۷)
”حضرت عمرؓ بن الخطاب فرماتے ہیں کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے عرض کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم مجھے ہر چیز سے زیادہ محبوب ہیں۔ میرے نفس کے علاوہ جو میرے پہلو میں ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ارشاد فرمایا: ”تم میں سے کوئی شخص ہر گز مومن نہیں ہو سکتا‘ یہاں تک کہ میں اس کو اس کے نفس سے بھی زیادہ محبوب نہ ہو جاؤں۔ اس پر عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کی البتہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم میرے نفس سے بھی زیادہ (محبوب ہیں) جو نفس میرے پہلو میں ہے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ارشاد فرمایا: ”اب اے عمر‘ یعنی اب ایمان کامل ہو گیا“۔ (کذا فی المواہب)
حضرت حکیم الامت شاہ اشرف علی تھانویؒ اس کے ذیل میں لکھتے ہیں:
”حضرت عمرؓ نے اول محبت بالاسباب کو محبت الاسباب سے اقوٰی سمجھ کر نفس کو مستثنیٰ کیا‘ پھر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے اس ارشاد سے کہ اپنے نفس سے زیادہ محبوب رکھنا ضروری ہے‘ یہ سمجھ گئے کہ اقوٰی ہونے کا مدار کوئی اور امر ہے کہ اس کے اعتبار سے کوئی چیز نفس سے بھی زیادہ محبوب ہو سکتی ہے۔ مثلاً یہ کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خوشی کو نفس کی خوشی پر طبعاً مقدم اور راجح پایا۔ سو اس حقیقت کے انکشاف کے بعد آپ کی احبیت من النفس (نفس سے زیادہ محبوب ہونے کا) مشاہدہ کیا اور خبر دی“۔
(نقوش رسول نمبر‘ ص ۴۲۸)
نفس پر سختی جھیل کر محبت رسول اللہ ﷺ کا اظہار:
”جناب عمرؓ سے روایت ہے کہ ایک شخص کو جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے شراب پینے کے جرم میں سزا دی۔ پھر دوبارہ وہ اس جرم میں حاضر کیا گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پھر سزا کا حکم دیا۔ ایک شخص نے مجمع میں سے کہا کہ اے اللہ! اس شخص پر لعنت کر‘ کس قدر کثرت سے اس کو (مقدمہ میں) لایا جاتا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ اس پر لعنت نہ کرو۔ واللہ یہ میرے علم میں اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) سے محبت کرتا ہے“۔
(بخاری شریف)
اس کے ذیل میں حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانویؒ نے تو بال کی کھال اتار کر رکھ دی۔ آپؒ فرماتے ہیں:
”اس حدیث سے چند امور ثابت ہوئے۔ ایک بشارت مذنبین کو کہ ان سے اللہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی محبت کی نفی نہیں کی گئی۔ دوسری مذنبین کو تنبیہ کہ خالی اور صرف محبت سزا سے بچنے میں کام نہ آئی تو کوئی شخص اس ناز میں نہ رہے کہ خالی محبت ہی بغیر اطاعت و اعمال خیر کے سزا جہنم سے بچا لے گی۔ البتہ بعد میں بعد من الرحمت (خدا کی رحمت سے بہت دور ہو جانا) سے بچا سکتی ہے۔ جیسا کہ نہی عن اللعنت (لعنت کرنے سے منع فرمانا) سے معلوم ہوا۔ پس جو سزاء آخرت اس ملعونیت پر مرتب ہے یعنی ہمیشہ جہنم میں رہنا‘ اس سے یہ محبت قلبی بچا لے گی اور سزا بھگتنے پر مغفرت ہو جائے گی۔ تیسری بات محبت کی فضیلت معلوم ہوئی‘ جیسا کہ ظاہر ہے۔ چوتھی بات محبت کے مراتب کا فرق ظاہر
ہوا کہ باوجود ایک گناہ کے اثبات محبت کا حکم فرمایا۔ اس سے ثابت ہوا کہ متابعت کامل نہ ہونے سے گو کمال محبت کا حکم نہ ہو گا مگر نفس متابعت سے جس کا ادنیٰ درجہ قبول اسلام ہی‘ کوئی نہ کوئی درجہ محبت ثابت کیا جائے گا۔ پانچویں بات یہ معلوم ہوئی کہ مومن خواہ کتنا ہی گناہگار ہو مگر اس پر لعنت نہ کرنی چاہیے۔ اس سے اللہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی عظمت معلوم ہوتی ہے کہ اگرچہ وہ محبت ایک شمہ برابر ہو اور وہ بھی گناہوں میں ملوث ہو لیکن ایسی محبت بھی لعنت کرنے سے مانع ہے تو سوچئے کہ محبت کا کامل اور خالص درجہ کتنا کچھ مفید اور موثر ہے"۔ (نقوش رسول نمبر‘ ص ۴۲۹)
صاف گر باشد ندانم چوں کند
رسول کریم ﷺ سے محبت کا ثواب اور فضیلت:
"حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک شخص نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس حاضر ہو کر عرض کیا‘ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم قیامت کب آئے گی؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا‘ تو نے اس کے لیے کیا تیاری کی ہے؟ اس نے عرض کی‘ میں نے بہت زیادہ نماز‘ روزہ‘ صدقہ کا ذخیرہ تو نہیں کیا (البتہ اتنی بات کی ہے) کہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے محبت رکھتا ہوں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا‘ تو اسی کے ساتھ ہو گا جس سے محبت رکھتا ہے"۔ (دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی)۔
(جمع الفوائد‘ جلد ۲‘ ص ۱۴۸)
مندرجہ بالا حدیث شریف کے راوی حضرت انسؓ ارشاد فرماتے ہیں کہ ہمیں کبھی کسی چیز سے اتنی خوشی نہیں ہوئی جتنی آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے اس قول اَنْتَ مَعَ مَنْ اَحْبَبْتَ (تو اسی کے ساتھ ہو گا جس سے محبت رکھتا ہے) سے ہوئی"۔
(جمع الفوائد‘ جلد ۴‘ ص ۱۴۸)
ہم میں سے کوئی اس موقع پر ہوتا تو یہی کہتا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی معیت و رفاقت تو ہے ہی مر مٹنے کی چیز۔ پروردگار عالم ہر کلمہ گو ایمان دار کو نصیب فرمائے۔
(آمین) لیکن کبھی کبھی دل سے بے اختیار اک ہوک اٹھتی ہے۔ دل کے ان زخموں کا مرہم "شرح الشفاء" میں مل گیا۔ آپ بھی اس سے لطف اندوز ہوں۔ ممکن ہے آپ کی کیفیت بھی اس شخص کی سی ہو۔
"ایک شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں پیش ہوا اور عرض کیا' یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بے شک آپ مجھ کو میرے اہل و مال سے بھی زیادہ محبوب ہیں اور بے شک جب مجھے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی یاد آتی ہے تو مجھ سے صبر نہیں ہوتا' یہاں تک کہ خدمت اقدس میں حاضر ہو کر جمال اقدس کو نہ دیکھ لوں اور بے شک جب مجھے اپنی اور آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی موت یاد آتی ہے تو سمجھتا ہوں کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جنت کے بلند درجات میں پہنچ جائیں گے اور میں جنت میں داخل ہو کر بھی نچلے درجے میں ہونے کی وجہ سے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی زیارت نہیں کر سکوں گا (تو کیسے صبر آئے گا) اللہ تعالیٰ نے (اس کی تسلی کے لیے) یہ آیت نازل فرمائی:
"اور جو لوگ اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی اطاعت کریں گے وہ ان لوگوں کے ساتھ ہوں گے جن پر اللہ نے انعام کیا یعنی انبیاء' صدیقین' شہداء' صالحین اور یہ کیسے ہی اچھے ساتھی ہیں"۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس شخص کو بلایا اور یہ آیت کریمہ پڑھ کر سنائی"۔ (شرح الشفاء) اور آپ کی اور میری مشکل آسان فرمادی۔
حضرت انسؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جو مجھ سے محبت رکھتا ہے وہ جنت میں میرے ساتھ ہوگا"۔
(”حقوق المصطفیٰ" از مولانا مفتی محمد حسن گنگوہی' ص ۱۰۴)
"حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”میری امت میں مجھ سے زیادہ محبت کرنے والے وہ لوگ ہوں گے' جو میرے بعد آئیں گے' ان کی یہ تمنا ہو گی کہ وہ اپنے اہل و مال کے بدلے مجھے دیکھ لیں"۔ ("مشکوٰۃ شریف" ص ۵۸۳)
حضرت سیدنا اویس قرنیؒ عشق رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی مسند کے بے تاج بادشاہ تھے اور آپ کے بعد بھی تابعین' آئمہ مجتہدین' اولیاء کرام' علماء و مشائخ رحمہم اللہ تعالیٰ
سب ہی آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے عشق میں سرشار اور ڈوبے ہوئے تھے۔ ان سب حضرات کے واقعات کا احصا ناممکن ہے۔ تاہم حسن ذوق کی تسکین کے لیے نمونہ کے طور پر ان قدسی صفات کی محبت رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے واقعات کو بیان کرنا ضروری ہے جنہوں نے اپنی آنکھوں کو پیغمبرانہ اداؤں سے منور کیا اور جن کے دل رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے اشاروں سے دھڑکتے تھے۔
”حضرت ابوبکر صدیقؓ سے مروی ہے کہ انہوں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے عرض کیا: ”اس ذات کی قسم جس نے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو حق کے ساتھ مبعوث فرمایا البتہ ابو طالب کا (اسلام) قبول کرنا مجھے زیادہ خوش کرنے والا ہوتا۔ میرے باپ ابو قحافہؓ کے اسلام قبول کرنے سے اور یہ اس وجہ سے کہ ابو طالب کے اسلام قبول کرنے سے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو زیادہ خوشی اور مسرت ہوتی“۔
(”حقوق مصطفیٰ“ از مولانا مفتی محمود حسن گنگوہی‘ ص ۱۰۷-۱۰۸)
اسی طرح حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے حضرت عباس رضی اللہ عنہ سے فرمایا:
”آپؓ کا اسلام قبول کرنا مجھے اپنے باپ خطاب کے اسلام قبول کرنے سے زیادہ محبوب ہے اور یہ اس وجہ سے کہ آپؓ کا اسلام قبول کرنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو زیادہ محبوب ہے“۔
(”بیہقی“۔ ”بزاز“۔ اصابہ ترجمہ ابو طالب بحوالہ ابن اسحاق)
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے پوچھا گیا کہ ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ آپ کی محبت کیسی ہے؟“ حضرت علیؓ نے جواب دیا:
”خدا کی قسم رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہم کو اپنے مال‘ اولاد‘ آباء‘ امہات اور شدت پیاس کے وقت جو پانی کی طلب ہوتی ہے اس سے بھی زیادہ محبوب تھے“۔ (”حقوق مصطفیٰ“ از مولانا مفتی محمود حسن گنگوہی‘ ص ۱۱۰)
امام المغازی محمد بن اسحاقؒ نے روایت کی کہ غزوۂ احد میں بہت سے مسلمان شہید ہوئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی شہادت کی خبر بھی پھیل گئی۔ ایک انصاریہ عورت کے باپ‘ بھائی اور شوہر بھی شہید ہوگئے۔ ان کی شہادت کی اس انصاریہ کو خبر دی گئی تو اس نے رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خیریت معلوم کی۔ لوگوں نے بتایا کہ رسول کریم ﷺ (بحمد اللہ) بصحت و عافیت سے ہیں تو انصاریہ نے کہا:
”ذرا مجھے بتاؤ کہ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کہاں تشریف فرما ہیں تاکہ زیارت کروں اور جمال اقدس کو دیکھوں“۔
اس کو بتایا گیا اور جب اس نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا اور اس کو اطمینان ہو گیا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بعافیت ہیں تو بے اختیار کہنے لگی:
”ہر مصیبت آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے بعد (یعنی آپ ﷺ کی عافیت کے بعد) آسان و سہل اور معمولی ہے“۔
(”حقوق مصطفیٰ“ از مولانا مفتی محمد حسن گنگوہی‘ ص ۱۰۹-۱۱۰)
اصحاب رسول ﷺ کی عشق و مستی کی دنیا کا اک اک ذرہ آفتاب سے کم نہ تھا اور پھر جب محبوب‘ محبوب خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہوں اور چاہنے والے روبرو ہوں تو اس کیف کا عالم کیا ہو گا؟
”حضرت زید بن دثنہؓ جنہیں یوم الرجیع میں گرفتار کیا گیا اور کفار مکہ کے ہاتھوں انہیں فروخت کر دیا گیا جب انہیں قتل کرنے کے لیے حرم سے نکالا گیا تو ابو سفیان بن حرب بن امیہ (جو ابھی ایمان نہ لائے تھے) نے کہا: اے زید! کیا تجھے یہ پسند ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو تیری جگہ لا کر قتل کر دیا جائے اور تجھ کو چھوڑ دیا جائے تاکہ تو اپنے اہل و عیال میں آرام سے رہے“۔ حضرت زیدؓ نے جواب دیا:
”خدا کی قسم مجھے یہ بھی گوارا نہیں کہ محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اس وقت جس جگہ تشریف فرما ہیں‘ اسی جگہ رہتے ہوئے ان کو کوئی کانٹا چبھے اور میں اپنے اہل و عیال میں آرام سے رہوں“۔
حضرت زیدؓ کا یہ جواب سن کر ابو سفیان نے تاریخی جملہ کہا: ”میں نے کسی کو کسی سے اتنی محبت کرتے نہیں دیکھا جتنی محبت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے اصحابؓ محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے کرتے ہیں“۔ بعد ازاں اس کے غلام نطاس نے حضرت زیدؓ کو شہید کر دیا۔ (”سیرت ابن ہشام“‘ بحوالہ ابن اسحاقؒ)
بعض نے یہ واقعہ حضرت خبیب بن عدیؓ کے متعلق بیان فرمایا ہے۔
غرضیکہ کل صحابہ کرامؓ‘ تابعینؒ‘ تبع تابعینؒ‘ آئمہ مجتہدینؒ‘ اولیا کرامؒ اور علما و مشائخؒ آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی محبت سے سرشار تھے اور اس کا عملی نمونہ تھے اور اپنی
مثال آپ تھے۔ دور حاضر میں عشق رسالت مآب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا تصور دھندلا رہا ہے (الا ماشاء اللہ) اور اس کی وجہ محض یہ ہے کہ عشق و محبت کا معیار‘ نوک زبان تک ہی محدود ہے جب کہ عشق رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا اصل مقام تو دل کی گہرائیوں میں ہے۔
کسی نے کیا خوب ہی کہا:
وليلى لا تقر لهم بذاكا
ترجمہ : ”اور ہر شخص لیلیٰ کی ملاقات کا مدعی ہے اور لیلیٰ ان میں سے کسی کے لیے اس کا اقرار نہیں کرتی“۔
یوں تو ہر شخص ہی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی محبت کا مدعی ہے مگر محب صادق وہی سمجھا جائے گا جس میں محبت کی علامات پائی جائیں۔
آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی محبت کی نشانیوں میں سے بعض کو یہاں بیان کیا جاتا ہے تاکہ ہر شخص اندازہ لگا سکے اور اپنے گریبان میں جھانک کر دیکھ سکے کہ اس کے اندر کتنی نشانیاں موجود ہیں اور اسے آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کتنی محبت ہے۔
- (۱) آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شریعت کے ہر ہر جز کی پوری پوری
اتباع کرے۔
- (۲) آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مبارک سنتوں پر عمل کرے اور
آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے احکامات اور ارشادات کا اتباع کرے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جن اوامر کے کرنے کا حکم فرمایا‘ انہیں کرے اور جن سے منع فرمایا‘ رک جائے۔
- (۳) تنگی و آسانی‘ خوشی و ناخوشی ہر حالت میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ
وسلم کے آداب اور مکارم اخلاق کو اختیار کرے۔
- (۴) جس چیز کا آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حکم فرمایا‘ یا ترغیب
دی‘ اس کو اپنے نفس کی خواہش اور طبیعت کے تقاضا پر ترجیح دے۔
- (۵) اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حکم ماننے اور اس پر
عمل کرنے کی صورت میں اگر بندے ناخوش ہوتے ہوں تو ان کی قطعا پرواہ نہ کرے۔ خواہ وہ والدین‘ قریبی رشتہ دار یا ساری خدائی ہی کیوں نہ ہو!
- (۶) رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی مبارک سنتوں کے احیاء اور
اشاعت کی کوشش کرے۔
- (۷) آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا ذکر ہمہ وقت کرے اور یہی محبت کا
تقاضا ہے۔
- (۸) آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے دوستوں یعنی صحابہ کرامؓ ، اہل
بیت عظامؓ اور چاہنے والوں سے محبت کرے۔
- (۹) آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے دشمنوں سے اسی درجہ کی دشمنی
کرے کہ جس درجہ کی حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے محبت ہے۔
مثالیں:
"حضرت عبداللہ بن جراح رضی اللہ عنہ نے یوم بدر میں اپنے والد کو قتل کیا"۔ (”اصابہ“ بحوالہ طبرانی)
"عبداللہ بن ابی‘ جو راس المنافقین تھا‘ اس کے صاحبزادے حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے عرض کیا‘ اجازت ہو تو میں ابی کو قتل کر دوں مگر حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اجازت نہ دی"۔
(”اصابہ“ ترجمہ عبداللہ بن عبداللہ بن ابی)
"حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے جنگ بدر میں اپنے ماموں عاص بن ہشام بن مغیرہ مخزومی کو قتل کر دیا"۔ (سیرت ابن ہشام)
"بدر کے دن ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے لڑکے عبدالرحمن نے‘ جو اس وقت تک ایمان نہ لائے تھے‘ مبارز طلب کیا تو خود حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ تلوار کھینچ کر کھڑے ہو گئے مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اجازت نہ دی"۔ (”استیعاب“ ترجمہ عبدالرحمن بن ابی بکر)
"جنگ احد میں حضرت مصعب بن عمیر نے اپنے بھائی کو قتل کر دیا"۔
(نسیم الریاض)
"حضرت علی و حمزہ و عبیدہ بن حارث رضی اللہ عنہم نے جنگ بدر میں عتبہ بن ربیع‘ شیبہ بن ربیع اور ولید بن عتبہ کو‘ جو ان کے گھرانے کے تھے‘ قتل کر ڈالا"۔
(صحیح مسلم)
”جنگ بدر کے خاتمہ پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے قیدیوں کے بارے میں اپنے اصحاب سے مشورہ کیا لیکن حضرت فاروق اعظمؓ نے مشورہ دیا کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم ان کو ہمارے حوالے کر دیں تاکہ ہم ان کو قتل کر دیں۔ مثلاً عقیل کو حضرت علیؓ کے حوالے کر دیں اور میرے فلاں رشتے دار کو میرے سپرد کر دیں مگر حضور رحمۃ للعالمین نے حضرت صدیق اکبرؓ کی رائے پر عمل کیا“۔ (صحیح مسلم)
- (۱۰) جو شخص حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی سنت کی مخالفت کرے اور
دین میں بے سندی بات (بدعت) جاری کرے اس سے دوری اختیار کرے۔ (مگر یہ کہ نصیحت کرنا مقصود ہو)
- (۱۱) عربی کا مقولہ ہے کہ حبیب الحبیب حبیب یعنی ”دوست کا
دوست بھی دوست ہوتا ہے“۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا جن سے تعلق ہو‘ اس تعلق کو اپنے تعلقات پر ترجیح دینا۔ حضرت اسامہ بن زیدؓ کے بارے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے حضرت عائشہ صدیقہؓ سے ارشاد فرمایا:
”اس سے محبت کر‘ بے شک میں اس سے محبت کرتا ہوں“۔
(”جمع الفوائد“ جلد ۲‘ ص ۲۱۹)
مثال:
”حضرت عمر بن خطابؓ نے جب صحابہ کرامؓ کے وظیفے مقرر فرمائے تو اپنے بیٹے عبداللہ بن عمرؓ کا وظیفہ تین ہزار اور حضرت اسامہ بن زیدؓ کا وظیفہ ساڑھے تین ہزار مقرر فرمایا۔ حضرت عبداللہ بن عمرؓ نے عرض کیا کہ ”آپؓ نے حضرت اسامہؓ کو مجھ پر کیوں ترجیح دی؟“ (کہ ان کی قربانیاں مجھ سے زیادہ نہیں) تو حضرت عمرؓ نے جواب دیا کہ ”اس کا باپ تیرے باپ سے اور وہ تجھ سے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو زیادہ محبوب تھا۔ پس میں نے اپنے محبوب پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے محبوب کو ترجیح دی“۔
(”حقوق مصطفیٰؐ“ از مولانا مفتی محمود حسن گنگوہی‘ ص ۱۴۹)
- (۱۲) ہر امر جو آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی شریعت کے مخالف ہو‘
اس سے گرانی و ناگواری ہو، جس کے لیے لازم ہے کہ اس کو مٹانے اور ختم کرنے کی کوشش کرے۔ اگر ہاتھ سے اس کو مٹانے کی قدرت ہے تو ہاتھ سے اس کو مٹا دے۔ اگر یہ قدرت نہ ہو تو زبانی اس کو نصیحت کرے۔ اگر یہ بھی قدرت نہ ہو تو کم از کم دل سے ناگواری ہو اور یہ ایمان کا کمزور درجہ ہے۔
- (۱۳) حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے روضہ مبارک پر حاضری دینے کا
اشتیاق ہو اور حالت خواب میں حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے دیدار کا مشتاق ہو۔
- (۱۴) حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر نازل ہونے والی کتاب قرآن مجید
سے محبت ہو۔ اس کی تلاوت کرے، معانی سمجھے اور عمل کرے۔ حضرت سہل بن عبداللہ تستریؒ سے منقول ہے:
”اللہ تعالیٰ سے محبت کی نشانی قرآن پاک کی محبت ہے اور قرآن پاک سے محبت کی نشانی نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے محبت ہے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی محبت کی نشانی سنت کی محبت ہے اور سنت کی محبت کی نشانی آخرت کی محبت ہے اور آخرت کی محبت کی نشانی دنیا کی نفرت ہے اور دنیا کی نفرت کی نشانی یہ ہے کہ اس سے کچھ جمع کر کے نہ رکھے مگر وہ توشہ اور سامان سفر جو اس کو آخرت تک پہنچا دیوے“۔
(”حقوق مصطفیٰ“ از مولانا مفتی محمود حسن گنگوہی، ص ۱۳۹)
- (۱۵) حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی پوری امت سے محبت و شفقت کرنا
کہ یہ امت حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو بھی بہت عزیز ہے۔
- (۱۶) دنیا سے نفرت اور آخرت سے محبت ہو کہ یہی حضور صلی اللہ علیہ و آلہ
وسلم کو پسند ہے۔
مذکورہ بالا نشانیوں میں سے جتنی نشانیاں جس شخص میں پائی جائیں گی اسی درجہ اس شخص میں آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی محبت سمجھی جائے گی اور جس میں جتنی نشانیاں کم ہوں گی اس میں اتنی ہی محبت کم ہو گی۔
نفس محبت سے تو کوئی مومن بھی خالی نہیں ہوتا کہ جس میں کسی درجہ میں بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی محبت نہیں وہ مومن ہی نہیں۔ پس ہر مومن خواہ وہ کتنا ہی گناہگار ہو، اس میں بھی کچھ نہ کچھ محبت ضرور ہی ہوگی۔ جیسا کہ ذکر ہو چکا ہے کہ ایک شخص
پر حد خمر جاری کی گئی۔ کسی نے اس کے بارے میں ناپسندیدہ الفاظ کہے۔ اس پر آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اسے لعنت مت کرو۔ بے شک یہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے محبت کرتا ہے“۔
مگر اس درجہ کی معمولی محبت جو گناہوں سے بھی نہ روک سکے، کافی نہیں بلکہ مطلوب کمال محبت ہے، جس کا ثمرہ کمال اتباع ہے۔ پس ہر شخص اپنی محبت کو مذکورہ بالا نشانیوں سے پرکھے کہ مجھ میں کتنی نشانیاں موجود ہیں اور ابھی کتنی کمی ہے۔ جتنی نشانیاں کم ہوں، اتنی تڑپ زیادہ ہونی چاہیے کہ کمال اتباع نصیب ہو جائے۔
حق تعالیٰ شانہ اپنے محبوب صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی کمال محبت اور کمال اتباع نصیب فرمائے۔ (آمین)
چھٹا حق: آنحضرت ﷺ کی تعظیم و تکریم:
اس کے لیے ایک مستقل باب آداب النبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے عنوان سے مرتب کیا جا رہا ہے، جو اپنی نوعیت کے اعتبار سے منفرد اور دلچسپ بھی ہے اور ایمان افروز بھی۔ اگلے صفحات پر ملاحظہ فرمائیے۔
تیسرا باب
آداب النبی ﷺ
ادب انسانیت کا خاصہ ہے۔ بلاشبہ یہ صفت انسان اور حیوان میں تمیز کرتی ہے۔ کبھی بھی ایسا نہیں ہوا کہ کسی حیوان کو انسان پر فضیلت حاصل ہوئی ہو۔ بجز اس کے کہ انسان ادب سے عاری ہو جائے۔
ادب کا تقاضا یہ ہے کہ اسے حسی طور پر بیدار رکھے، اور انسانیت، عبد و معبود کے تعلق کی آشنائی کا نام ہے اور یہ آشنائی جس لو سے دکھائی دیتی ہے، اسے نورِ نبوت کہا جاتا ہے۔
جیسا کہ پہلے لکھا جا چکا ہے کہ نبوت کا پہلا حق یہ ہے کہ اس کے پیغام کو تسلیم کیا جائے اور جو قومیں اس حق کو ادا نہیں کرتیں، سزا پاتی ہیں۔
قوم ہود، قوم ثمود، قوم صالح اور قوم لوط اس حق کا خراج ادا کر چکی ہیں۔ اور نبوت کا ادب یہ ہے کہ اس کے پیغام کو من و عن مان لیا جائے۔ کوئی بھی قوم کبھی فنا نہیں کی گئی مگر بوجہ گستاخی رسول کے۔
نبوت کے نزول سے پیشتر دنیا میں کفار بھی ہوتے تھے، مشرکین بھی۔ نبوت کے دور میں بھی کفر و شرک رہا۔ نبی کی وفات کے بعد بھی مشرکین و کفار کا دور دورہ رہا۔ اگر عذاب کفر و شرک کی وجہ سے ہوتا، عذاب نازل ہو جاتا لیکن حق تعالیٰ شانہ نے عذاب موقوف رکھا بے ادبوں کے لیے۔ جب کبھی نبوت کی بے ادبی کی گئی، عذاب نازل ہوئے۔
اور جب کبھی انسانیت حلقہ ادب میں رہی، اپنی منزل کی طرف رواں دواں رہی۔ حضرت نوحؑ کے حواریوں نے حق کی بات پر لبیک کہی تو قیامت تک کی آنے والی نسل انسانی کے جد اعلیٰ قرار پا گئے اور بے ادب ہمیشہ کے لیے صفحہ ہستی سے مٹ گئے۔
حضرت موسیٰؑ کے ادب کی رو میں بہنے والے جب دریاؤں میں کودے تو دریا کی تہوں پر ان کے گھوڑوں کی ٹاپوں سے گرد و غبار اڑتا دکھائی دیا۔
دربارِ خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے مودب علم حق لے کر نکلے تو آدھی دنیا
پر اسلام کا جھنڈا لہرائے گا۔
جس مصدر سے یہ فیض، عالم میں پھیلتا ہے اسے آداب النبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کہتے ہیں۔ اس لیے ہر ذی شعور انسان پر لازم و فرض ہے کہ سید المرسلین صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے ادب کی معرفت حاصل کرے۔
حق تعالیٰ شانہ کا ارشاد ہے:
انا ارسلنک شاهداً و مبشراً و نذیراً لتومنوا باللہ و رسولہ وتعزروہ وتوقروہ (سورۃ الفتح، آیت نمبر ۸-۹ ع ۱)
ترجمہ : ”(اے محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) ہم نے آپ کو (اعمال امت پر قیامت کے دن) گواہی دینے والا (عموماً) اور (دنیا میں خصوصاً مسلمانوں کے لیے) بشارت دینے والا اور (کافروں کے لیے) ڈرانے والا کر کے بھیجا ہے تاکہ تم لوگ اللہ پر اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ اور ان کی تعظیم کرو اور ان کی توقیر کرو“۔
مندرجہ بالا آیات کریمہ کے مجھے صرف دو الفاظ پر بات کرنا ہے۔ و تعزروہ و توقروہ ترجمہ میں ان الفاظ کا معنی تعظیم کرو اور توقیر کرو‘ کیا گیا ہے۔ اور بالعموم یہی ترجمہ کیا جاتا ہے۔ بلاشبہ یہ من وجہ درست ہے لیکن در حقیقت یہاں تعزروہ کا معنی اور ہے اور توقروہ کا معنی اور ہے۔
پہلے حکم ہوا و تعزروہ تعزیر کے متعدد معانی بیان کیے گئے ہیں مگر آئمہ تفسیر نے جس معنی کو معنی مختار کہا ہے، وہ ہے تعظیم رسول عربی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم۔
پھر دہرایا و توقروہ صاف ظاہر ہے کہ اس کا معنی بھی ادب کرنا ہی ہے۔ یعنی وہی بات پہلے فرمائی اور اسی بات کا بعد میں بھی حکم فرمایا۔
گویا ترادف ہو گیا اور یوں بغیر کسی حکمت و مصلحت کے مترادف الفاظ کا ایک ہی مقام پر استعمال کلام الہی کی شان کے خلاف ہے۔
حضرت مولانا محمد قاسم نانوتویؒ نے لکھا ہے کہ اللہ کا کلام فصیح اور بلیغ ہے۔ یوں ایک ہی جگہ پر دو مترادف الفاظ کا آجانا اپنے اندر معنی میں دوئی رکھتا ہے۔
بعینہ جیسے اس آیت کریمہ میں حکم ہوا و تعزروہ کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی تعظیم کرو اور اگلے لفظ و توقروہ میں اس کی حکمت اور مصلحت بدل گئی۔ امام مبردؒ و توقروہ کا معنی تبالغو فی تعظیمہ کرتے ہیں۔ (”روح المعانی“ جلد ۲۶، ص ۹۶) یعنی نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی تعظیم حد سے بڑھ کر کرو۔
غرضیکہ دوسرے قول کے مطابق آیت پاک میں آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی انتہائی تعظیم و تکریم کا حکم ہے۔
اب ایک اور نکتہ نظر سے اسے سمجھئے۔ وتعزروہ ایک حکم عمومی ہے۔ اس میں جمیع انبیاء کے منصب و مراتب کے اعتبار سے ادب کا حکم ہے اور اس میں حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی ذات اقدس بھی شامل ہے مگر
تلك الرسل فضلنا بعضهم على بعض
(سورۃ بقرہ، آیت ۲۵۳)
نفس رسالت میں تو وتعزروہ سب کے لئے برابر ہے لیکن فضیلت کے اعتبار سے حکم فرمایا وتوقروہ اور یہی امتیازی شان ہے حضرت خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی۔ یعنی فضیلت کے اعتبار سے حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تمام رسولوں سے بڑھا دیئے گئے اور اے ایمان والو‘ تمہیں ادب کی حدوں سے بڑھ کر ان (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کی تعظیم و تکریم کا حکم ہے۔ اور اب حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی تعظیم و تکریم کا حق تب ہی ادا ہو سکے گا جب تعظیم و تکریم ان کے منصب خاتم الانبیاء کے شایان شان ہوگی۔
امام بوصیریؒ فرماتے ہیں: ”حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو نہ خدا کہو اور نہ خدا کا بیٹا کہو۔ اس کے علاوہ جو کچھ بھی (ان کی مدح میں) کہو وہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی شان سے کم ہے“۔
ادب مصطفیٰ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم میں یہ بات ذہن نشین رہے کہ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو عبد کہتے جاؤ اور اسے معبود کہتے جاؤ۔ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو اللہ کا بندہ مانتے جاؤ اور اسے حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا خالق مانتے جاؤ۔ اس خالق و مخلوق کے فرق کو قائم رکھتے ہوئے‘ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی‘ جتنی بھی تعریف کرو‘ جتنا بھی ادب کرو‘ کم ہے۔
اس طرح ایک دوسری آیت میں آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی تعظیم و تکریم کا یوں حکم دیا گیا:
یاایھا الذین امنوا لا تقدموا بین یدی اللہ ورسولہ واتقوا اللہ ان اللہ سمیع علیم O
(سورۃ الحجرات‘ آیت ۱)
ترجمہ : ”اے ایمان والو! اللہ اور رسول (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) (کی اجازت) سے پہلے تم کسی قول یا فعل میں سبقت نہ کیا کرو اور اللہ سے ڈرتے رہو‘ بے شک
اللہ تعالیٰ سننے والا اور جاننے والا ہے”۔
اس آیت پاک میں آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے کلام میں سبقت کرنے سے منع کیا گیا ہے۔ چونکہ یہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی عظمت کے خلاف ہے۔
حضرت عبداللہ بن عباسؓ امام ثعلب ابو العباس احمد بن یزید شیبانی حضرت سہل بن عبداللہ تستریؒ سے یہی نقل کیا گیا ہے۔
حضرت بصریؒ ‘ مجاہدؒ ‘ ضحاکؒ ‘ سدیؒ ‘ ثوری رحمہم اللہ تعالیٰ کے قول کا حاصل یہ ہے کہ صحابہ کرامؓ کو دینی و دنیاوی کاموں میں سے کسی بھی کام میں آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے حکم فرمانے اور اجازت دینے سے پہلے فیصلہ کرنے اور رائے دینے سے منع کیا گیا ہے۔
(”حقوق مصطفیٰ ﷺ“ از مولانا مفتی محمود حسن گنگوہی‘ ص ۱۴۸)
اور واتقوا اللہ کا اضافہ فرما کر اللہ تعالیٰ نے اس حکم کو اور موکد فرما دیا۔ چنانچہ ماوردیؒ فرماتے ہیں:
”رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے قول و فعل میں پیش قدمی کرنے میں اللہ سے ڈرو“۔
(”حقوق مصطفیٰ ﷺ“ از مولانا مفتی محمود حسن گنگوہی‘ ص ۱۴۹)
ابو عبدالرحمن سلمیؒ یوں رقم طراز ہیں:
”رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے حق کو ترک کرنے اور حرمت کو ضائع کرنے میں اللہ تعالیٰ سے ڈرو“۔
(”حقوق مصطفیٰ ﷺ“ از مولانا مفتی محمود حسن گنگوہی‘ ص ۱۵۰)
اس آیت کریمہ سے بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی تعظیم کا حکم اور اس کی تاکید خوب ثابت اور واضح ہے۔
ایک دوسری جگہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی کمال تعظیم کی تاکید یوں کی گئی۔
یا ایھا الذین امنوا لا ترفعوا اصواتکم فوق صوت النبی ولا تجھرولہٗ بالقول کجھر بعضکم لبعض ان تحبط اعمالکم وانتم لا تشعرونO (سورۃ الحجرات‘ آیت ۲)
ترجمہ: ”اے ایمان والو! تم اپنی آوازیں پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی آواز سے بلند مت کرو اور نہ ان سے ایسے کھل کر بولو جیسے آپس میں کھل کر بولتے ہو (یعنی نہ بلند آواز سے بولو جبکہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سامنے آپس میں
کوئی بات کرتا ہو اور نہ برابری کی آواز سے بولو جبکہ خود آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے خطاب کرنا ہو) کبھی تمہارے اعمال برباد ہو جائیں اور تم کو خبر بھی نہ ہو"۔
(ترجمہ معارف القرآن)
اس آیت کریمہ کا شان نزول یہ ہے کہ ۹ھ میں بنی تمیم کا ایک وفد آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا۔ انہوں نے عرض کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہم پر کسی کو امیر مقرر فرمادیں۔ حضرت ابو بکر صدیقؓ نے عرض کی کہ آپ (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) قعقاع بن معبد کو امیر بنا دیں ۔ حضرت عمر فاروقؓ نے عرض کی کہ اقرع بن حابس کو امیر بنا دیں۔ حضرت صدیق اکبرؓ نے حضرت فاروق اعظمؓ سے کہا، آپ میری مخالفت کرتے ہیں۔ حضرت فاروق اعظمؓ نے کہا کہ نہیں۔ اس طرح دونوں جھگڑ پڑے اور ان کی آوازیں بلند ہو گئیں۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ اس آیت کے نزول کے بعد حضرت فاروق اعظمؓ اس قدر دھیمی آواز سے کلام کیا کرتے تھے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو دوبارہ دریافت کرنے کی حاجت پڑتی"۔
(بخاری شریف، تفسیر سورۃ الحجرات)
اور صدیق اکبرؓ نے بقول حضرت ابن عباسؓ کے قسم کھالی کہ "میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے کلام نہ کیا کروں گا مگر اس طرح جیسا کہ کوئی اپنے ہمراز سے پوشیدہ باتیں کرتا ہے"۔
(اسباب نزول للواحدی)
"حضرت انس بن مالکؓ روایت کرتے ہیں کہ جب یہ آیت نازل ہوئی تو حضرت ثابت بن قیسؓ (جو بلند آواز اور خطیب انصار تھے) گھر میں بیٹھ گئے۔ کہنے لگے کہ میں دوزخیوں میں سے ہوں اور وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر نہ ہوتے۔ ایک روز رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حضرت سعد بن معاذؓ سے پوچھا کہ ثابت کا کیا حال ہے۔ کیا وہ بیمار ہے؟ حضرت سعدؓ نے عرض کیا کہ وہ میرے ہمسائے ہیں مجھے معلوم نہیں کہ وہ بیمار ہیں۔
اس کے بعد سعدؓ نے حضرت ثابتؓ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے قول کا ذکر کیا۔ حضرت ثابتؓ نے کہا کہ یہ آیت نازل ہوئی ہے تمہیں معلوم ہے کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سامنے تم سب سے زیادہ بلند آواز ہوں، اس لیے میں دوزخیوں میں سے ہوں۔ حضرت سعدؓ نے (آکر) رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے ذکر کر دیا تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: "نہیں بلکہ وہ بہشتیوں میں سے ہے"۔
(”صحیح مسلم“ باب مخافات المومن ان یحبط عملہ)
اللہ تبارک و تعالیٰ شانہ کو حضرات شیخین رضی اللہ تعالیٰ عنہم اور دیگر صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم کا یہ طریق ادب اتنا پسند آیا کہ ان کی مدح میں مندرجہ ذیل آیت کریمہ نازل فرمائی اور ان کو متقی ہونے کی سند عطا فرمائی اور قیامت کے دن ان کو مغفرت اور اجر عظیم کی بشارت سنائی اور یہ ادب مصطفیٰ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا انعام و اکرام تھا۔ ارشاد ہوا:
ان الذين يغضون اصواتهم عند رسول الله اولئك الذين امتحن الله قلوبهم للتقویٰ لهم مغفرة واجر عظيمO
(سورۃ الحجرات‘ آیت ۳)
ترجمہ : ”بے شک جو لوگ اپنی آوازوں کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے سامنے پست کرتے ہیں‘ وہ لوگ وہ ہیں جن کے قلوب کو اللہ تعالیٰ نے تقویٰ کے لیے خاص کر دیا ہے اور ان لوگوں کے لیے مغفرت اور اجر عظیم ہے“۔
(ترجمہ حضرت حکیم الامتؒ)
اس آیت شریفہ میں حق تعالیٰ شانہ نے ان حضرات کے لیے تین چیزوں کی خوش خبری سنائی: (۱) تقویٰ (۲) مغفرت (۳) اجر عظیم
اگر غور کیا جائے تو ان تین لفظوں میں حق تعالیٰ شانہ نے دنیاوی و اخروی‘ ظاہری و باطنی بے شمار نعمتوں‘ رحمتوں اور برکتوں کا وعدہ فرمایا ہے۔
قرآن مجید میں متعدد آیات میں صاحب تقویٰ کے لیے دنیوی و اخروی‘ ظاہری اور باطنی بے شمار نعمتوں کے وعدے ہیں۔ اسی طرح مغفرت حق تعالیٰ شانہ کی بہت بڑی نعمت ہے کہ آخرت کی تمام تر نعمتیں بشمول رضائے الٰہی کے اسی پر موقوف ہیں۔
اس طرح اجر عظیم‘ جس اجر کو اللہ تبارک و تعالیٰ ’عظیم‘ ارشاد فرما دیں‘ اس کی عظمت کا کیا اندازہ کیا جا سکتا ہے!
اس سے اوپر والی آیت میں رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے سامنے بلند آواز سے کلام کرنے اور بلند آواز سے پکارنے پر اعمال کو برباد و ضائع کرنے کی دھمکی دی ہے اور اس سے بڑھ کر کوئی خسارہ نہیں کہ اس کے اعمال ہی ضائع ہو جائیں۔
پس معلوم ہوا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے کمال ادب و تعظیم پر دونوں جہانوں کی فلاح و نجات موقوف ہے۔ (رزقنا اللہ منھا) اور حضور سرور کائنات صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی بے ادبی پر دونوں جہانوں کا خسارہ اور ہلاکت ہے۔ (اعاذنا اللہ منہ) اس طرح
حق تعالیٰ شانہ نے ایسے لوگوں کو جو رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا ادب ملحوظ نہ رکھیں‘ بے عقل فرمایا ہے۔ ارشاد پاک ہے:
ان الذين ينادونك من وراء الحجرات اكثرهم لا يعقلون O (سورة الحجرات‘ آیت ۴)
ترجمہ: ”جو لوگ حجروں کے باہر سے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو پکارتے ہیں‘ ان میں اکثروں کو عقل نہیں“۔
اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ ان لوگوں کی مذمت کرتا ہے جو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے مکانوں کے باہر سے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو آوازیں دیتے اور پکارتے۔ جس طرح دیہاتیوں اور جاہلوں میں رواج تھا اور اب بھی ہے کہ ایک دوسرے کو بلند آوازوں سے حجرات کے باہر کھڑے ہو کر پکارتے ہیں۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے دربار نبوت میں اس سوء ادب سے منع فرمایا اور ایسوں کو بے عقل کہا۔
”مسند احمد میں ہے کہ ایک شخص نے حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا نام لے کر پکارا: یا محمد (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) یا محمد (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس کا کوئی جواب نہ دیا“۔ (ابن کثیر)
دوسری جگہ ارشاد فرمایا:
لا تجعلوا دعاء الرسول بينكم كدعاء بعضكم بعضا
(سورة النور‘ آیت ۶۳)
ترجمہ: ”مومنو! پیغمبر کو بلانے کو ایسا خیال نہ کرنا جیسے تم ایک دوسرے کو بلاتے ہو“۔
لوگ جو حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو بلاتے ہیں تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا نام یا کنیت سے معمولی طور پر جیسے آپس میں ایک دوسرے کو پکارتے ہیں تو اللہ تعالیٰ نے اس گستاخی سے منع فرمایا کہ نام نہ لو بلکہ یا نبی اللہ‘ یا رسول اللہ کہہ کر پکارو تاکہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی بزرگی اور عزت و آداب کا پاس رہے“۔ (تفسیر ابن کثیر)
بلند آواز سے یا رسول اللہ ﷺ پکارنا بھی اللہ کو پسند نہیں:
مولانا قاضی زاہد الحسینی رقم طراز ہیں:
”اس آیت کا تعلق بھی ادب و احترام کے ساتھ ہے کہ مسلمانوں کو سید دو عالم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی پکار آپس میں ایک دوسرے کی پکار کی طرح نہ سمجھنی چاہیے۔ اس کا ایک معنی تو یہ ہے کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو پکارو تو یوں نہ پکارو جیسا کہ آپس میں ایک دوسرے کو پکارتے ہو ورنہ فتنہ اور عذاب الیم کا شکار ہو جاؤ گے۔ جیسا کہ قبیلہ بنو تمیم کے کچھ نو مسلموں نے حضور انور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یوں پکارا: یا رسول اللہ اخرج الینا ”اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) آپ ہمارے پاس تشریف لائیں“۔ تو ان کا یہ طرز کلام اللہ تعالیٰ کو پسند نہیں آیا اور پوری سورۃ الحجرات نازل فرمادی“۔ (”بامحمد باوقار“ از مولانا قاضی زاہد الحسینی، ص ۱۴۰)
اللہ تعالیٰ نے جہاں ایمان والوں کو قرآن کریم میں متعدد مقامات پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی تعظیم و تکریم کا حکم فرمایا ہے، وہاں خود بھی اپنے محبوب کی توقیر و ادب میں ایمان والوں کی ہمراہی کی ہے اور اپنے محبوب صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا ادب و احترام کر کے مقدر والوں کے لیے ایک راہ متعین فرما دی اور یوں آداب النبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سنت الہیہ قرار پاگئی۔
ایک طویل بحث تھی! کوئی یوں کہتا تھا کہ رسالت ماب صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے جسم اطہر کا سایہ تھا اور دلیل میں وہ روایت لاتے کہ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اپنے گھر میں داخل ہوئے اور اہلیہ سایہ دیکھ کر ڈر گئیں۔ اہلیہ محترمہ نے نظریں اٹھائیں تو حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تشریف لا رہے تھے۔۔۔ اور ۔۔۔۔ کسی نے کہا سایہ نہیں تھا۔ یہاں بھی روایات پیش کی گئیں! اللہ کروڑوں رحمتیں نازل فرمائے علماء حق پر! عقدہ ہی حل کر دیا!
فرمایا: جھگڑتے کیوں ہو؟
حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب گھر میں داخل ہوتے تھے تو اولاد آدم کی حیثیت سے داخل ہوتے تھے۔ تو سایہ جسم کو لاحق ہوتا تھا اور جب آپ پیغمبرانہ جاہ و جلال کے ساتھ باہر تشریف لاتے تھے تو اللہ تعالیٰ اپنے محبوب صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا سایہ مبارک معجزۃ اٹھا لیا کرتا تھا کہ کسی کا پاؤں اس مقدس مطہر اور پاک سایہ پر نہ پڑے۔ اور دلیل میں ارشاد فرمایا جس مبارک جسم پر رب تعالیٰ نے ساری زندگی مکھی نہیں بیٹھنے دی، 'اس کو کیسے گوارا ہو سکتا تھا کہ کوئی اپنا پاؤں میرے محبوب صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاک سائے پر دھرے!
صحابہ کرام اور تعظیم نبی ﷺ :
حضرت ابو جحیفہؓ سے مروی ہے کہ:
"میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو مکہ شریف کے ابطح مقام میں دیکھا جب کہ وہ چمڑے کے سرخ خیمے میں تشریف فرما تھے اور میں نے حضرت بلال کو دیکھا کہ انہوں نے حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے وضو کا مستعمل پانی (ایک لگن میں) لیا اور لوگوں کو دیکھا کہ اس پانی کی طرف دوڑ رہے ہیں۔ تو جس کو اس پانی میں سے کچھ حاصل ہو گیا‘ اس نے (اپنے چہرے وغیرہ پر) اس پانی کو مل لیا اور جو اس پانی سے محروم رہا‘ تو اس نے اپنے دوسرے ساتھی کے ہاتھ کی تری سے (اس برکت کو) حاصل کیا"۔ ("بخاری"‘ "مسلم"۔ "مشکوۃ" ص ۷۴)
وہ قدسی صفات حضرات جن میں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنے شب و روز گزارے‘ جو آقا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی اک اک ادا پر جان دیتے تھے لیکن فرطِ ادب و تعظیم میں اس قدر ڈوبے ہوئے تھے کہ نگاہ اٹھا کر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے چہرہ انور کو دیکھنے کی تاب نہ رکھتے تھے۔
چنانچہ حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنا واقعہ بیان فرماتے ہیں: "رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے زیادہ نہ کوئی مجھے محبوب تھا اور نہ میری نظر میں کوئی آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے باعظمت تھا اور میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی عظمت کی وجہ سے نظر بھر کر دیکھنے کی طاقت نہ رکھتا تھا اور اگر مجھ سے رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا حلیہ مبارک بیان کرنے کو کہا جائے تو میں بیان کرنے کی طاقت نہیں رکھتا۔ اس لیے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو نظر بھر کر کبھی دیکھا ہی نہیں"۔ (ابن سعد)
کل صحابہ کرامؓ کا یہی حال تھا۔ حضرت انسؓ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی مبارک مجلس کا نقشہ یوں کھینچتے ہیں۔
"رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اپنے اصحابؓ مہاجرین و انصار میں تشریف لاتے اور وہ بیٹھے ہوتے ان کے درمیان ابوبکرؓ و عمرؓ بھی ہوتے ان میں سے سوائے حضرات ابوبکرؓ و عمرؓ کے کوئی حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی طرف نظر نہ اٹھاتا۔ وہ دونوں حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی طرف نظر اٹھا کر دیکھتے اور حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ان کی طرف نظر اٹھا کر دیکھتے۔ وہ دونوں حضور کی طرف دیکھ کر تبسم فرماتے اور حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ان کی طرف دیکھ
کر تبسم فرماتے"۔ (ترمذی ابواب المناقب)
حضرت علی المرتضیٰ حاضرین مجلس کے ساتھ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی سیرت کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
"جس وقت آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کلام شروع فرماتے تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے ہم نشین اس طرح سر جھکا لیتے گویا ان کے سروں پر پرندے ہیں۔ جس وقت آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم خاموش ہو جاتے تو وہ کلام کرتے اور کلام میں آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے سامنے تنازع نہ کرتے اور جو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے سامنے کلام کرتا اسے خاموش ہو کر سنتے، یہاں تک کہ وہ اپنے کلام سے فارغ ہو جاتا"۔ (شمائل ترمذی "باب ماجاء فی خلق رسول اللہ")
ماہ ذی قعدہ ۶ھ میں جب آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم حدیبیہ میں تھے تو بدیل بن ورقاء خزاعی کے بعد عروہ بن مسعود جو اس وقت تک ایمان نہ لائے تھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے گفتگو کرنے کے لیے خدمت اقدس میں حاضر ہوئے اور واپس جا کر قریش سے یوں کہنے لگے:
"اے میری قوم ! اللہ کی قسم میں البتہ بادشاہوں کے درباروں میں بھی حاضر ہوا ہوں اور قیصر و کسریٰ اور نجاشی کے ہاں گیا ہوں۔ اللہ کی قسم میں نے ایسا کوئی بادشاہ نہیں دیکھا کہ جس کے اصحاب اس کی ایسی تعظیم کرتے ہوں جیسا کہ محمد (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) کے اصحاب محمد (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) کی تعظیم کرتے ہیں۔ اللہ کی قسم اس (محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) نے جب کبھی کھنکھار پھینکا ہے تو وہ اصحاب میں سے کسی نہ کسی کے ہاتھ میں گرا ہے، جسے انہوں نے اپنے منہ اور جسم پر مل لیا ہے۔ جب وہ اپنے اصحاب کو حکم دیتے ہیں تو وہ اس کی تعمیل کے لیے دوڑتے ہیں اور جب وضو کرتے ہیں تو ان کے وضو کے پانی کے لیے باہم جھگڑے کی نوبت پہنچنے لگتی ہے اور جب وہ کلام کرتے ہیں تو اصحاب ان کے سامنے اپنی آوازیں دھیمی کرلیتے ہیں اور ازروئے تعظیم ان کی طرف تیز نگاہوں سے نہیں دیکھتے، انہوں نے تم پر ایک نیک امر پیش کیا ہے اسے قبول کرلو"۔
(صحیح بخاری کتاب الشروط)
حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا طریق ادب رسول اللہ صلی
اللہ علیہ وآلہ وسلم :
حضرت فاروق اعظمؓ فرماتے ہیں: ”جس رات حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم غارِ (ثور) تشریف لے گئے اور ابوبکرؓ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تھے تو ابوبکر صدیقؓ کا حال یہ تھا کہ کبھی وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ چلتے اور کبھی پیچھے چلنے لگتے۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کی وجہ پوچھی تو آپؓ نے عرض کیا‘ ”یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مجھے پیچھا کرنے والوں کا خیال آتا ہے تو پیچھے چلنے لگتا ہوں اور جب یہ اندیشہ ہوتا ہے کہ کہیں آگے کوئی خطرہ درپیش نہ ہو تو آگے آ جاتا ہوں“۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا ”تمہارا مطلب ہے کہ کوئی آفت آئے تو میرے بجائے تم پر آئے“۔ انہوں نے عرض کیا ”جی ہاں“۔ پھر جب غار پر پہنچے تو ابوبکرؓ نے عرض کیا ”آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ذرا ٹھہریں میں اندر جا کر غار کو صاف اور محفوظ کر دوں“۔
(”قومی ڈائجسٹ‘ صدیقؓ نمبر“ ص ۴۰)
”مشکوٰۃ“ میں ہے کہ صدیق اکبرؓ نے عرض کی کہ ”آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم داخل نہ ہوں جب تک کہ میں پہلے داخل نہ ہولوں تاکہ اگر اس میں کوئی سانپ بچھو وغیرہ ہو تو وہ مجھ کو کاٹے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو نہ کاٹے۔ اس لیے حضرت صدیق اکبرؓ پہلے داخل ہوئے۔ غار میں جھاڑو دی اس کے ایک طرف کچھ سوراخ تھے۔ اپنا شلوار پھاڑ کر ان کو بند کیا مگر دو سوراخ باقی رہ گئے۔ ان میں اپنے دونوں پاؤں ڈال دیے۔ پھر عرض کیا اب تشریف لائیے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم داخل ہوئے اور سر مبارک حضرت صدیق اکبرؓ کی گود میں رکھ کر سو گئے۔ ایک سوراخ سے کسی چیز نے حضرت صدیق اکبرؓ کو کاٹا۔ مگر وہ (پاسِ ادب) اپنی جگہ سے نہ ہلے کہ مبادا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جاگ اٹھیں۔ (سبحان اللہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے آرام میں خلل نہ ڈالا) (شدتِ درد) سے حضرت صدیق اکبرؓ کے آنسو جو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چہرہ مبارک پر گرے تو (حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آنکھ کھل گئی) فرمایا: ”ابو بکر تجھے کیا ہوا؟“ عرض کی‘ ”میرے ماں باپ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ
و سلم پر قربان، مجھے کسی چیز نے کاٹ کھایا"۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے زخم پر لعاب دہن لگایا۔ فوراً سب درد جاتا رہا"۔
(مشکوۃ شریف ”باب مناقب ابی بکرؓ“)
نیز سہل بن ساعدیؓ سے مروی ہے کہ:
”ایک روز رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم قبیلہ بنی عمرو بن عوف میں صلح کرانے کے واسطے تشریف لے گئے۔ جب نماز کا وقت ہوا تو موذن نے صدیق اکبرؓ سے پوچھ کر اذان کہی اور انہوں نے امامت کی۔ اسی دوران حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بھی تشریف فرما ہو گئے اور صف میں قیام فرمایا۔ جب نمازیوں نے حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو دیکھا تو دستک دینے لگے۔ اس غرض سے کہ حضرت صدیق اکبرؓ خبردار ہو جائیں کیونکہ ان کی عادت تھی کہ نماز میں کسی طرف نہ دیکھتے تھے۔ جب صدیق اکبرؓ نے دستک کی آواز سنی تو گوشہ چشم سے دیکھا کہ حضور علیہ الصلوۃ والسلام تشریف فرما ہیں۔ لہٰذا پیچھے ہٹنے کا قصد کیا۔ اس پر حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اشارہ کیا کہ اپنی ہی جگہ قائم رہو۔ صدیق اکبرؓ نے دونوں ہاتھ اٹھائے اور اس نوازش پر کہ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھے امامت کا حکم فرمایا اللہ تعالیٰ کا شکریہ ادا کیا اور پیچھے ہٹ کر صف میں کھڑے ہو گئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم آگے بڑھے۔ جب نماز سے فارغ ہوئے تو فرمایا: ”اے ابو بکر! جب میں تمہیں خود حکم کر چکا تھا تو تم کو اپنی جگہ کھڑے رہنے سے کون سی چیز مانع ہوئی تھی"۔ عرض کیا، ”یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم! ابی قحافہ کا بیٹا اس لائق نہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے آگے بڑھ کر نماز پڑھائے!" (صحیح بخاری)
ایک اعرابی حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی خدمت میں حاضر ہو کر کہنے لگے کہ :
”آپؓ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے خلیفہ ہیں؟" آپؓ نے فرمایا: ”نہیں"۔ اعرابی نے کہا ”پھر کیا ہو؟" آپؓ نے فرمایا ”میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے بعد خالفہ ہوں"۔ (کنز العمال)
چونکہ خلیفہ جانشین کو کہتے ہیں۔ صدیق اکبرؓ کو ادب نے اجازت نہ دی کہ اپنے آپ
کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا خلیفہ کہیں، اس لیے اس کو ایسے طور سے بدلا کہ جس میں مادہ خلافت باقی رہے اور ادب بھی ہاتھ سے نہ جائے۔ حالانکہ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی خلافت احادیث صحیحہ سے صراحۃً ثابت ہے۔
حضرت ابوبکر صدیقؓ نے منبر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر
بیٹھنا خلاف ادب سمجھا:
"جب حضرت ابوبکر صدیقؓ آغاز خلافت میں منبر پر بیٹھ کر خطبہ دینے لگے تو منبر کے جس درجے پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تشریف فرما کر خطبہ القا فرمایا کرتے تھے، حضرت ابوبکر صدیقؓ اس سے نیچے کے درجہ پر بیٹھتے ۔
پھر جب حضرت عمرؓ نے اپنے ایام خلافت میں اسی منبر پر بیٹھ کر خطبہ دینا چاہا تو اس درجے سے بھی نیچے کے درجے پر بیٹھے۔ کیونکہ ان کے نزدیک مقام رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ادب کے ساتھ خلیفہ رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے مقام کا ادب بھی واجب تھا۔"
(نقوش رسول نمبر ۴ ص ۶۸۶)
بے ادب محروم ماند از فضل رب
حضرت عمر فاروقؓ کا طریق ادب رسول ﷺ :
"مسجد نبوی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے متصل حضرت عباس رضی اللہ عنہ کے مکان کی چھت پر ایک پرنالہ تھا۔ ایک روز حضرت عمر رضی اللہ عنہ نئے کپڑے پہنے ہوئے مسجد جا رہے تھے۔ جب اس پرنالے کے قریب پہنچے، اتفاق سے اس دن حضرت عباسؓ کے گھر دو مرغ ذبح کیے جا رہے تھے۔ یکایک ان کا خون پرنالے سے ٹپکا اور اس کے چند قطرے عمر خطابؓ کے کپڑوں پر پڑ گئے۔ آپؓ نے
اس پرنالے کو اکھاڑ ڈالنے کا حکم صادر فرمایا۔ لوگوں نے فوراً اس پرنالے کو اکھاڑ ڈالا اور آپ گھر واپس آئے، دوسرے کپڑے پہنے اور پھر مسجد تشریف لائے۔ ادائے نماز کے بعد حضرت عباسؓ آپ کے پاس آ کر کہنے لگے ”یا امیر المومنین! خدا کی قسم اس پرنالے کو جسے آپ نے اکھاڑ دیا ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے دست مبارک سے اس جگہ لگایا تھا“۔ حضرت عمرؓ یہ سن کر نہایت مضطرب، بے قرار اور پریشان ہو گئے۔ دوسرے لمحے آپ نے عباسؓ کو فرمایا کہ ”اے عباس! میں تم کو قسم دیتا ہوں کہ اپنے پیر میرے کندھے پر رکھ کر اس پرنالے کو جیسا کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لگایا تھا، اسی جگہ پر لگا دو“۔ چنانچہ حضرت عباسؓ نے حضرت عمر فاروقؓ کی درخواست پر اس کو پہلی جگہ پر لگا دیا“۔ (”نقوش رسول نمبر“ ص ٦٨٦، جلد ٤)
حضرت عثمانؓ کا طریق ادب رسول ﷺ :
”جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت عثمانؓ کو قریش کی طرف جنگ حدیبیہ میں صلح کے واسطے بھیجا تو قریش نے حضرت عثمانؓ کو طواف کرنے کی اجازت دی۔ لیکن آپ نے طواف کرنے سے انکار کر دیا اور اپنے پروردگار کے حکم يا ايها الذين امنوا لا تقدموا بين الله و رسوله اور اپنے آقائے نامدار صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ادب و تعظیم کو مدنظر رکھ کر ارشاد فرمایا ”میں ہرگز طواف نہ کروں گا جب تک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم طواف نہ کر لیں“۔
(زاد المعاد لابن قیم قصہ حدیبیہ، در منثور للسیوطی تفسیر سورۃ الفتح)
حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے افضل ترین عبادت یعنی طواف کعبہ سے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے رعائت ادب کو افضل جانا اور یہی حق مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہے۔
- ۷ - شاید اس لیے شیخ عبدالحق محدث دہلویؒ نے لکھا ہے:
”کوئی عبادت حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے رعائت ادب کے برابر نہیں“۔ (مدارج النبوت)
حضرت عثمان بن عفانؓ کا ایک اور انداز سے طریق ادب رسول اللہ
صلی اللہ علیہ وسلم :
حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے۔ ”انہوں نے کہا میں اسلام میں چوتھا شخص ہوں اور میرے نکاح میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنی دو صاحبزادیاں یکے بعد دیگرے دی ہیں اور میں نے جب سے اپنا داہنا ہاتھ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے دست مبارک سے ملایا ہے‘ اس دن سے میں نے اپنی شرمگاہ کو کبھی نہیں چھوا“۔
(”کنز العمال“ ۔ ”کیمیائے سعادت“)
حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کا طریق ادب رسول صلی اللہ علیہ
و آلہ وسلم :
”براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جب وہ صلح نامہ لکھا جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے اور کفار کے درمیان حدیبیہ کے دن ٹھہرا تھا‘ جس میں یہ عبارت تھی۔ ھذا ما کاتب علیہ محمد رسول اللہ تو مشرکین نے اعتراض کیا کہ لفظ ”رسول اللہ“ نہ لکھا جائے کیونکہ اگر رسالت مسلم ہوتی تو پھر لڑائی کیا ہوتی۔ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ارشاد فرمایا کہ اس لفظ کو مٹا دو۔ انہوں نے عرض کی کہ میں وہ شخص نہیں ہوں جو اس لفظ کو مٹا سکوں۔ لہٰذا خود حضور سرور کائنات صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس کو مٹا دیا“۔ (صحیح مسلم)
نیز
”جنگ خیبر سے واپسی پر منزل صہبا پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے نماز عصر ادا فرمائی اور حضرت علیؓ جماعت میں شامل نہ ہوسکے تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے نماز سے فراغت کے بعد حضرت علیؓ کے زانو پر سر مبارک رکھ کر
آرام فرمایا اور سو گئے۔
سیدنا علیؓ دیکھ رہے تھے کہ عصر کا وقت جا رہا ہے مگر پاس ادب سے کہ اگر میں اپنا زانو ہلاؤں گا تو حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے آرام میں خلل ہو گا۔ اس ادب اور حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے آرام کے خیال کی وجہ سے زانو نہ ہلایا اور نماز عصر کا وقت جاتا رہا۔ مگر جب حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم خود بیدار ہوئے تو حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے نماز کے فوت ہو جانے کا حال عرض کیا۔ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے دعا فرمائی۔ یا الٰہ العالمین! اگر علی تیری اطاعت (من يطع الرسول فقد اطاع الله سورة النساء) میں تھا تو پھر آفتاب کو طلوع کر دے“۔ پس اسی وقت ڈوبا ہوا آفتاب طلوع ہو گیا۔ حضرت علیؓ نے نہایت تسکین کے ساتھ نماز عصر ادا کی۔ پھر آفتاب حسب معمول غروب ہو گیا“۔ (الشفاء‘ از قاضی عیاضؒ)
اس حدیث کو طحاوی نے ”مشکل الاثار“ میں دو طریق سے روایت کیا ہے۔ ایک روایت اسماء بنت عمیس سے دوسری فاطمہ بنت حسین سے‘ قاضی عیاض نے ”شفا شریف“ میں‘ امام سیوطی نے ”الدر المنتثرہ فی الاحادیث المشتہرہ“ میں‘ اور حافظ ابن سید الناس نے ”بشری اللبیب“ میں اور اس حدیث کے دونوں طریقے حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی نے ۱۱۴۴ ہجری میں مدینہ منورہ میں اپنے استاد شیخ ابو طاہر سے مسلسل فاطمہ بنت حسین تک اور اسماء بنت عمیس تک ”ازالۃ الخفاء“ میں لکھے ہیں۔ اور لکھا ہے کہ جمہور کے نزدیک یہ حدیث صحیح ہے۔
حضرت عمر بن عبدالعزیزؒ کا طریق ادب رسول اللہ ﷺ :
”ایوب بن نجار بروایت ابو عبداللہ نقل کرتے ہیں کہ ان کے دادا کے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا لحاف تھا۔ جب عمر بن عبدالعزیزؒ خلیفہ بنائے گئے تو انہوں نے ان کے دادا کو کہلا بھیجا۔ چنانچہ وہ اس لحاف کو چمڑے میں لپیٹ کر لائے۔ حضرت عمر بن عبدالعزیزؒ اس کو اپنے چہرے سے ملنے لگے“۔
(”تاریخ صغیر للبخاری“ ص ۱۱۱)
نیز ”حضرت عمر بن عبدالعزیز رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا آخری وقت قریب آیا تو
انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے کچھ بال اور ناخن منگوائے اور وصیت کی کہ یہ میرے کفن میں رکھ دیے جائیں۔ چنانچہ ایسے ہی کیا گیا“۔
(”طبقات ابن سعد“ جلد ۵‘ ص ۳۰۰)
حضرت امیر معاویہؓ کا طریق ادب رسول ﷺ :
”حضرت امیر معاویہؓ کے پاس جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے موئے مبارک اور تراشہ ناخن محفوظ تھے۔ جب وہ مرنے لگے تو وصیت کی کہ یہ چیزیں میرے منہ اور آنکھوں میں رکھ دینا اور پھر میرا معاملہ ارحم الراحمین کے سپرد کر دینا“۔ (”تاریخ الخلفا“ از علامہ سیوطیؒ)
حضرت عباسؓ کا طریق ادب رسول ﷺ :
”حضرت عباسؓ سے سوال کیا گیا کہ ”آپ بڑے تھے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم عمر میں بڑے تھے“۔
حضرت عباسؓ نے جواب دیا: ”حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بڑے تھے اور ولادت میری پہلے ہوئی“۔ (کنز العمال)
حضرت قباثؓ کا طریق ادب رسول ﷺ :
”ابی حویریثؒ سے روایت ہے کہ عبد الملک بن مروان نے قباث ابن اشیمؓ سے پوچھا کہ ”تم اکبر ہو یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اکبر تھے؟“ انہوں نے جواب دیا کہ ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مجھ سے بڑے تھے اور میں عمر میں ان سے زیادہ ہوں اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی ولادت شریف عام الفیل میں ہے اور مجھے یاد پڑتا ہے کہ میری والدہ صاحبہ اس ہاتھی کی لید کے پاس مجھے لے کر کھڑی تھیں“۔ (”دلائل النبوۃ“۔ ”بیہقی“)
نیز ”حضرت عثمانؓ نے بھی قباثؓ سے اسی قسم کا سوال کیا تھا اور انہوں نے ان کو بھی یہی جواب دیا تھا کہ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اکبر تھے اور میری
ولادت پُرنور ہے“۔ -(بیہقی)
حضرت براء بن عازبؓ کا طریق ادب رسول ﷺ :
”عبید بن فیروزؓ سے مروی ہے کہ براء بن عازبؓ سے میں نے پوچھا کہ ”کن جانوروں کی قربانی درست نہیں“۔ انہوں نے کہا: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہم لوگوں میں کھڑے ہوئے اور فرمایا: چار قسم کے جانور ہیں، جن کی قربانی درست نہیں۔ ایک وہ جس کی آنکھ پھوٹی ہو، دوسرا وہ جو سخت بیمار ہو، تیسرا وہ جس کا لنگ ظاہر ہو، چوتھا وہ جو نہایت دبلا ہو۔ اس کو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنی انگلیوں سے تشریح فرمائی لیکن میری انگلیاں حضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی انگلیوں سے چھوٹی ہیں“۔ مطلب یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے خطبہ میں پہلے دست مبارک کے اشارے سے تعین فرمایا کہ چار جانور ہیں جن کی قربانی جائز نہیں، پھر ان کی تفصیل براء بن عازبؓ نے جب اس واقعہ کو بیان کیا تو ادب نے اجازت نہ دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے دست مبارک کی حکایت اپنے ہاتھ سے کی جائے۔ لہٰذا عذر ظاہر کیا کہ میری انگلیاں چھوٹی ہیں جن کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی مبارک انگلیوں سے کچھ نسبت نہیں“۔ (ابو داؤد شریف)
حضرت ابو ہریرہؓ کا طریق ادب رسول ﷺ :
”ابو رافعؓ سے مروی ہے کہ حضرت ابو ہریرہؓ کہتے ہیں کہ ایک روز میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو کسی راستے میں دیکھا۔ چونکہ میں جنبی بھی تھا، اس لیے میں چھپ گیا۔ پھر غسل کر کے حاضر خدمت اقدس ہو گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”اے ابو ہریرہؓ! تم کہاں تھے؟“ عرض کیا کہ ”مجھے نہانے کی ضرورت تھی اس لیے میں نے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ بیٹھنے کو مکروہ سمجھا“۔ اس پر حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اللہ پاک ہے (اور) مومن نجس نہیں ہوتا“۔ (بخاری شریف)
حضرت اسلع بن شریکؓ کا طریق ادب رسول ﷺ :
”اسلع بن شریکؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی اونٹنی پر میں کجاوہ باندھا کرتا تھا۔ ایک رات مجھے نہانے کی حاجت ہوئی اور حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کوچ کا ارادہ فرمایا۔ اس وقت مجھے تردد ہوا کہ اگر ٹھنڈے پانی سے نہاؤں تو مارے سردی کے مرجانے یا بیمار ہو جانے کا خوف تھا اور یہ بھی گوارا نہیں کہ ایسی ہی حالت میں خاص سواری مبارک کا کجاوہ اونٹنی پر باندھوں۔ مجبوراً کسی شخص انصاری سے کہہ دیا کہ کجاوہ باندھے۔ پھر میں نے چند پتھر رکھ کر پانی گرم کیا اور نہا کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور صحابہ کرامؓ سے جا ملا۔ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”اے اسلع! کیا سبب ہے کہ تمہارے کجاوے کو میں متغیر پاتا ہوں“۔ عرض کی: ”یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم میں نے نہیں باندھا“۔ فرمایا: ”کیوں؟“ عرض کیا: ”اس وقت مجھے نہانے کی حاجت تھی اور ٹھنڈے پانی سے نہانے میں جان کا خوف تھا‘ اس لیے کسی اور کو باندھنے کا کہہ دیا تھا“۔ اسلعؓ فرماتے ہیں کہ اس کے بعد یہ آیت نازل ہوئی۔ یا ایھا الذین امنوا اذ قمتم الی الصلوة ... الایہ (سورة المائدہ‘ رکوع ۲) جس سے سفر میں تیمم کرنے کی اجازت ملی۔ (در منثور‘ طبرانی)
حضرت ابو محذورہؓ کا طریق ادب رسول ﷺ :
”حدیث صحیح میں مروی ہے کہ ابو محذورہؓ کی پیشانی میں بال اس قدر دراز تھے کہ جب وہ بیٹھتے اور ان بالوں کو چھوڑ دیتے تو زمین پر پہنچتے۔ لوگوں نے ان سے پوچھا کہ ”تم نے ان بالوں کو اتنا کیوں بڑھایا ہے؟ انہوں نے کہا کہ ”میں اس وجہ سے ان کو نہیں کٹواتا کہ ایک وقت ان پر حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا دست مبارک لگا تھا‘ اس لیے میں نے تبرکاً ان بالوں کو رکھا ہوا ہے“۔
(شفاء شریف از قاضی عیاضؒ)
حضرت خالد بن ولید کا طریق ادب رسول ﷺ :
”حضرت خالد بن ولیدؓ کی ٹوپی میں حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے چند موئے مبارک تبرکاً تھے۔ ایک جنگ میں وہ ٹوپی گر پڑی۔ آپؓ نے اس کے حصول کے واسطے سخت ترین جنگ کی۔ حتیٰ کہ چند مسلمان بھی اس جنگ میں شہید ہوگئے۔ صحابہ کرامؓ نے ان کو الزام دیا۔ حضرت خالدؓ بن ولید نے کہا کہ ”میں نے یہ فعل ٹوپی کے واسطے نہیں کیا بلکہ ان موئے مبارک کے واسطے کیا جو اس میں ہیں تاکہ وہ ضائع نہ ہوں۔ اور کفار کے غلیظ ہاتھوں میں نہ جانے پائیں اور مجھ سے اس کی برکت نہ جاتی رہے“۔
(شفاء شریف‘ از قاضی عیاضؒ)
حضرت عبداللہ بن عمرؓ کا طریق ادب رسول ﷺ :
”حضرت عبداللہ بن عمرؓ کو دیکھا گیا کہ انہوں نے اپنے ہاتھ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے بیٹھنے کی جگہ پر رکھا۔ پھر اس کو اپنے منہ پر ملا۔
(طبقات ابن سعدؒ ۔ ”شفاء شریف“)
حضرت انسؓ کا طریق ادب رسول ﷺ :
”حضرت انسؓ سے روایت ہے کہ ایک درزی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو کھانے کے لیے بلایا جو اس نے تیار کیا تھا۔ میں بھی حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ گیا۔ جو کی روٹی اور شوربا حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سامنے لایا گیا‘ جس میں کدو اور خشک کیا ہوا نمکین گوشت تھا۔ میں نے حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو دیکھا کہ پیالے کے اطراف سے کدو کی قاشیں تلاش کرتے تھے‘ اس لیے میں اس دن کے بعد کدو ہمیشہ پسند کرتا تھا“۔
(مشکوۃ بحوالہ صحیحین)
نیز۔۔۔۔۔۔
”حضرت انس بن مالکؓ بیان کرتے ہیں کہ صحابہ کرامؓ (بپاس ادب) رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے دروازوں کو ناخنوں سے کھٹکھٹایا کرتے تھے“۔
(الادب المفرد للبخاری)
حضرت عمرو بن عاصؓ کا طریق ادب رسول ﷺ :
”حضرت عمرو بن عاصؓ کی موت کا وقت قریب آیا تو آپؓ نے اپنے صاحبزادے سے اپنی تین حالتیں بیان کرتے ہوئے فرمایا۔ پہلی حالت یہ تھی کہ سب سے زیادہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا دشمن تھا، اگر میں اس حالت میں مر جاتا تو دوزخی ہوتا۔ دوسری حالت اسلام کی تھی کہ کوئی شخص میرے نزدیک رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے زیادہ محبوب اور میری آنکھوں میں آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے زیادہ جلالت اور ہیبت والا نہ تھا اور میں آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی ہیبت کے سبب آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی طرف نظر بھر کر دیکھ نہ سکتا تھا، اگر میں اس حالت میں مرجاؤں تو امید ہے کہ جنت میں ہوں گا۔ تیسری حالت حکمرانی کی تھی کہ جس میں میں اپنا حال نہیں جانتا“۔ (صحیح مسلم)
حضرت حذیفہ بن الیمانؓ کا طریق ادب رسول ﷺ :
”حضرت ابو ہریرہؓ بیان فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم حذیفہ بن الیمان سے ملے۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم حضرت حذیفہ سے مصافحہ کرنے لگے۔ حضرت حذیفہ پیچھے ہٹ گئے اور یہ عذر کیا کہ مجھے غسل کی حاجت ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ ”جب مسلمان اپنے بھائی سے مصافحہ کرتا ہے تو اس کے گناہ یوں دور ہو جاتے ہیں جیسا کہ درخت کے پتے جھڑتے ہیں۔ جب وہ ایک دوسرے سے سوال کرتے ہیں تو اللہ تعالیٰ ان پر سو رحمتیں نازل فرماتا ہے، جن میں ننانوے اس کے لیے ہیں جو ان دونوں میں سے زیادہ بشاش اور کشادہ رو اور نیکوکار اور اپنے بھائی کی حاجت روائی میں احسن ہو“۔ (”کشف الغمہ للشعرانی“ جلد دوم، ص ۱۸۴)
حضرت سعیدؓ بن یربوع قرشی مخزومی کا طریق ادب رسول ﷺ :
”حضرت سعیدؓ بن یربوع قرشی مخزومی کا نام صرم تھا۔ ایک روز حضور صلی
اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان سے پوچھا کہ ”ہم میں سے بڑا کون ہے؟ میں یا تو!“ انہوں نے جواب دیا کہ ”آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مجھ سے بڑے ہیں اور نیک ہیں۔ میں عمر میں آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے زیادہ ہوں“۔ یہ سن کر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان کا نام بدل دیا اور فرمایا کہ ”تم سعید ہو“۔
(اصابہ ترجمہ سعید بن یربوع)
حضرت عبداللہ بن عمر بن العاص کا طریق ادب رسول ﷺ :
”حضرت عبداللہ بن عمر بن العاصؓ فرماتے ہیں کہ میں نے گلابی رنگ کا کرتہ پہنا ہوا تھا۔ جب میں سید دو عالم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت اقدس میں حاضر ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے صرف یہ فرمایا : ما هذا ”یہ کیا ہے؟“ جس سے میں نے سمجھ لیا کہ یہ حضور انور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو ناپسند ہے تو میں نے جاکر اسے جلا دیا۔ جب سید دو عالم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھ سے اس کرتے کے بارے میں پوچھا تو میں نے عرض کیا: ”حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم‘ میں نے اسے جلا دیا ہے“۔ تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ یہ ”اپنے گھر میں کسی عورت کو پہنا دیتے‘ کیونکہ عورتوں کے لیے پہننا جائز ہے“۔
(بحوالہ ”یا محمدؐ باوقار“ ص ۵۶‘ از قاضی زاہد الحسینی)
حضرت قیلہ بنت مخرمہ عنبریہ کا طریق ادب رسول ﷺ :
”حضرت قیلہ بنت مخرمہ عنبریہؓ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو مسجد میں دیکھا‘ آپ اکڑوں بیٹھے ہوئے تھے۔ ان کا بیان ہے کہ جب میں نے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو نہایت خشوع سے اس حالت میں بیٹھے ہوئے دیکھا تو (ہیبت اور جلال کے سبب) میں کانپنے لگی“۔
(”شمائل ترمذی“ باب ماجاء فی جلسہ رسول ﷺ)
حضرت ابو ایوب انصاریؓ کا طریق ادب رسول ﷺ :
"حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہجرت فرما کر مدینہ منورہ میں رونق افروز ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حضرت ابو ایوب انصاریؓ کے مکان پر قیام فرمایا۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مکان کے نیچے کے حصے میں ٹھہرے اور ابو ایوبؓ بمعہ عیال کے اوپر کے حصے میں رہے۔ ایک رات ابو ایوبؓ بیدار ہوئے اور کہنے لگے کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سر مبارک کے اوپر چلتے پھرتے ہیں۔ یہ کہہ کر انہوں نے اس جگہ سے ہٹ کر ایک جانب میں رات بسر کی۔ پھر صبح کو آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے عرض کی۔ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ "نیچے کے حصے میں میرے لیے آسانی ہے"۔ انہوں نے عرض کیا: "میں اس چھت پر نہیں چڑھتا جس کے نیچے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہوں"۔ پس آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اوپر کے حصے میں تشریف لے گئے اور ابو ایوبؓ نیچے کے حصے میں تشریف لے آئے۔
ابو ایوبؓ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے لیے کھانا بھیجا کرتے تو جو اوپر سے بچ کر آتا، خادم سے دریافت کرتے کہ طعام میں حضور اقدس صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی انگلیاں کس جگہ پر تھیں پھر اس جگہ سے کھاتے"۔
(صحیح مسلم)
صحابہ کرامؓ حضور ﷺ کے اسم مبارک کی بھی انتہا درجہ تعظیم فرمایا
کرتے تھے :
"ام المومنین حضرت حفصہؓ سے مروی ہے کہ جب کبھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا ذکر مبارک کرتیں تو بابی انت و امی یا رسول اللہ کہتیں۔ معنی اس کے یہ ہیں کہ میرے ماں باپ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر فدا ہوں"۔
(صحیح بخاری)
صحابہ کرامؓ اکثر بابی انت و امی یا رسول اللہ کہا کرتے تھے۔ چنانچہ کتب احادیث میں موجود ہے۔ مطلب اس کا یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے اشفاق اور مراحم کے روبرو مہر مادری اور شفقت پدری کی کچھ حقیقت نہیں۔ ان دونوں کو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر فدا کرنا چاہیے۔
سبحان اللہ! کیا ادب تھا کہ روبرو تو روبرو غائبانہ بھی وہ ادب مرعی تھا کہ جب تک ماں باپ کو فدا نہیں کرتے، نام مبارک کا ذکر نہیں کرتے تھے!
آپ ﷺ کے اسم شریف کا ادب کرنے سے جہنم، جنت میں بدل گئی
”ایک جماعت قبیلہ کندہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور وہ الفاظ تحیت کے ادا کیے جو اس زمانے میں سلاطین کے لیے کہے جاتے تھے۔ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”میں بادشاہ نہیں ہوں بلکہ محمد بن عبداللہ ہوں“۔ انہوں نے کہا: ”ہم آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا نام لے کر نہیں پکاریں گے“ (کہ یہ بے ادبی ہے) آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے ابوالقاسم کہو“۔ اس پر انہوں نے کہا: ”اے ابوالقاسم! فرمائیے کہ ہم نے اپنے دلوں میں کیا چھپا رکھا ہے“۔ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”یہ کاہنوں کا کام ہے اور کاہن اور ان کا پیشہ دوزخی ہے“۔ انہوں نے کہا: ”پھر کیونکر معلوم ہو کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اللہ تعالیٰ کے رسول ہیں“۔ تب آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک مٹھی میں کنکریاں اٹھائیں اور فرمایا کہ ”دیکھو یہ گواہی دیتی ہیں کہ میں اللہ کا رسول ہوں“۔ چنانچہ اسی وقت کنکریاں دست مبارک میں تسبیح کرنے لگیں۔ یہ سن کر حاضرین نے صدق دل سے کلمہ پڑھا جس کا مطلب یہ ہے کہ ہم گواہی دیتے ہیں کہ بے شک آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اللہ کے رسول ہیں اور وہ سب مشرف بہ اسلام ہو گئے۔
(مواہب اللدنیہ، شرح مواہب اللدنیہ)
”ان حضرات نے حضور علیہ الصلوۃ والسلام کی تعظیم کی اور ادب کو اس وقت بھی ملحوظ خاطر رکھا کہ جب کافر تھے۔ کیا تعجب کہ رب تعالیٰ کو ان کی یہی ادا پسند آگئی ہو اور ان کو ابدالآباد کے لیے ایمان کی دولت سے سرفراز کر دیا اور ان کی جہنم کو جنت میں بدل دیا۔
صحابہ کرامؓ بعد وصال کے بھی آپ ﷺ کا ادب اسی طرح کیا کرتے
تھے :
”حضرت سائب بن یزید کا بیان ہے کہ میں مسجد نبوی میں لیٹا ہوا تھا۔ ایک
شخص نے مجھ پر کنکری ماری۔ میں نے سر اٹھایا تو کیا دیکھتا ہوں کہ حضرت عمرؓ ہیں۔ آپ نے فرمایا ان دو شخصوں کو بلا لاؤ۔ میں بلا لایا۔ آپؓ نے ان سے پوچھا کہ ”تم کون ہو اور کہاں سے آئے ہو؟“ انہوں نے جواب دیا کہ ”ہم طائف کے رہنے والے ہیں“۔ آپؓ نے فرمایا: ”اگر تم اس شہر کے رہنے والے ہوتے تو میں تمہیں درے لگاتا۔ کیا تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مسجد میں اپنی آوازیں بلند کرتے ہو“۔ (”صحیح بخاری“ باب رفع الصوت فی المسجد)
مسجد نبوی ﷺ میں آواز بلند کرنے پر تنبیہ:
”حضرت نافع روایت کرتے ہیں کہ عشاء کے وقت حضرت عمرؓ مسجد نبوی میں تھے۔ ناگاہ ایک شخص کے ہنسنے کی آواز کان میں پڑی۔ آپؓ نے اسے بلا کر پوچھا: ”تم کون ہو؟“ اس نے کہا: ”میں قبیلہ ثقیف سے ہوں“۔ پھر دریافت کیا: ”کیا تم اس شہر کے رہنے والے ہو؟“ اس نے جواب دیا: ”نہیں بلکہ میں طائف کا رہنے والا ہوں“۔ یہ سن کر آپ نے اسے دھمکایا اور فرمایا: ”اگر تم مدینہ کے رہنے والے ہوتے تو میں تمہیں سزا دیتا۔ اس مسجد میں آوازیں بلند نہیں کی جاتیں“۔
(”وفاء الوفا“ جلد ۲، ص ۳۵۴)
مسجد نبوی ﷺ میں اور ارد گرد میخ ٹھونکنا جائز نہیں:
”شیخ الاسلام نور الدین علی بن احمد سمہودی (متوفی ۹۱۱ھ) لکھتے ہیں کہ ہمارے زمانے میں منکرات میں سے ایک امر جس میں متصدیان صیغہ تعمیر تساہل کرتے ہیں‘ یہ ہے کہ مسجد نبوی میں آرہ کش اور بڑھئی اور سنگ تراش کام کرنے کے لیے لائے جاتے ہیں۔ اشیاء کے توڑنے پھوڑنے اور چیرنے وغیرہ سے سخت شور و شغب پیدا ہوتا ہے۔ حالانکہ یہ کام مسجد سے باہر تیار ہو سکتا ہے۔ اس طرح عمارات کا مصالحہ خچروں اور گدھوں پر مسجد میں لایا جاتا ہے۔ حالانکہ اسے آدمی مسجد کے دروازے میں سے اندر لا سکتے ہیں۔ ہم پہلے بیان کر آئے ہیں حضرت عائشہ صدیقہؓ اگر مسجد نبوی کے گرد کسی مکان میں میخ ٹھونکنے کی آواز سنتیں تو کہلا بھیجتیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اذیت نہ دو اور یہ بھی بیان ہو چکا
ہے کہ حضرت علی المرتضیٰؓ نے اپنے گھر کے دونوں کواڑ مناصع (مدینہ منورہ سے باہر ایک جگہ کا نام ہے) میں تیار کرائے کہ مبادا تیاری میں لکڑی کی آواز سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو اذیت پہنچے“۔ (”وفاء الوفا“ جلد ۱‘ ص
۴۷۸)
روضہ اقدس ﷺ کے سامنے اونچا بولنے سے اعمال ضائع ہو جاتے ہیں
”حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ ارشاد فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سامنے اونچا بولنے سے اعمال ضائع ہوتے تھے اور بعد وصال کے بھی اعمال ضائع ہوتے ہیں“۔ (”الشفاء“ القاضی‘ ص ۱۷۴)
امام مالکؒ کا طریق ادب رسول ﷺ :
شیخ عبدالحق محدث دہلویؒ رقم طراز ہیں: ”امام مالکؒ مدینہ طیبہ میں اپنے گھوڑے پر سوار نہ ہوتے تھے۔ کیونکہ وہ فرماتے تھے کہ مجھ کو شرم آتی ہے کہ میں اس زمین کو گھوڑے کے سم سے روندوں جس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے قدم مبارک لگے ہوں“۔ (”جذب القلوب‘ وفاء الوفا‘ جلد ۲‘ ص ۳۵)
امام شافعیؒ کا طریق ادب رسول ﷺ :
امام شافعیؒ نے فرمایا: ”ہم امام مالکؒ سے درس حدیث میں کتاب کا ورق بھی بڑی احتیاط سے پلٹتے تھے تاکہ اس کی آہٹ سے قلب انور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر بوجھ نہ آئے“۔
(”ترجمہ یاد گار“ از مولانا قاضی محمد زاہد الحسینی‘ ص ۴۴)
امام بخاریؒ کا طریق ادب رسول ﷺ :
”امام بخاریؒ کے حال میں مرقوم ہے کہ آپؒ صحیح بخاری کے جمع کرنے کے وقت ہر حدیث کے لکھنے کے واسطے تازہ غسل کیا کرتے اور دوگانہ نماز پڑھتے تھے۔ چونکہ اس طرح انہوں نے حدیث نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تعظیم و توقیر کی ہے‘ اس وجہ سے اللہ تعالیٰ نے ان کو ایسا فضل عظیم عطا کیا کہ تمام مسلمان ان کو اپنا امام جانتے ہیں اور ان کی تعظیم کی جاتی ہے اور ان کی کتاب کی وہ قدر ہوئی کہ دنیا میں سوائے قرآن مجید کے کسی اور کتاب کی ایسی قدر و قیمت اور منزلت نہیں ہوئی۔ یہ مقبولیت محض ادب حدیث کا سبب تھا ورنہ احادیث صحیحہ کی اور بھی بے شمار کتابیں تھیں“۔
(”نقوش رسولؐ نمبر“ ص ۱۰۷‘ جلد نمبر ۴)
امام مالکؒ اور ادب احادیث نبوی ﷺ :
”جب لوگ امام مالکؒ کے پاس طلب علم کے لیے آتے تو خادمہ دولت خانے سے نکل کر ان سے دریافت کیا کرتی کہ حدیث شریف کے لیے آئے ہو یا مسائل فقہیہ کے لیے۔ اگر وہ کہتے کہ مسائل کے لیے آئے ہیں تو امام صاحبؒ فوراً نکل کر آتے۔ اگر وہ کہتے کہ حدیث شریف کے لیے حاضر ہوئے ہیں تو حضرت امام صاحبؒ پہلے غسل فرماتے‘ خوشبو لگاتے پھر کپڑے بدل کر نکلتے۔ آپؒ کے لیے تخت بچھایا جاتا جس پر بیٹھ کر آپؒ روایت حدیث کرتے۔ اثناء روایت میں مجلس میں عود جلایا جاتا۔ یہ تخت صرف روایت حدیث شریف کے لیے رکھا گیا ہوتا تھا۔ جب امام صاحبؒ سے اس کا سبب پوچھا گیا‘ تو فرمایا: ”میں چاہتا ہوں کہ اس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حدیث کی تعظیم کروں“۔
نیز۔۔۔ ہشام بن عمار نے امام مالکؒ سے جو اس وقت کھڑے تھے‘ ایک حدیث پوچھ لی۔ آپؒ نے اس کو بیس کوڑے مارنے کا حکم دیا۔ کوڑے لگائے گئے۔ پھر آپؒ نے ہشام بن عمار کو ترس کھا کر بیس احادیث روایت کیں۔ یہ دیکھ کر ہشام نے کہا: ”کاش وہ اور کوڑے مارتے اور زیادہ حدیثیں روایت کرتے“۔
امام مالکؒ کا قول ہے کہ ایک شخص حضرت ابن مسیب کے پاس آیا۔ آپ اس وقت لیٹے ہوئے تھے۔ اس نے آپ سے ایک حدیث دریافت کی۔ آپ اٹھ بیٹھے اور حدیث بیان کی۔ اس نے کہا کہ میں چاہتا تھا کہ آپ اٹھنے کی تکلیف نہ
فرماتے ۔ آپ نے فرمایا کہ ”میں پسند نہیں کرتا کہ لیٹے لیٹے حدیث شریف بیان کروں“۔
حضرت عبداللہ بن مبارک بیان کرتے ہیں کہ میں امام مالکؒ کی خدمت میں حاضر تھا۔ آپؒ ہم سے احادیث بیان کر رہے تھے۔ اثنائے قرات میں آپؒ کو ایک بچھو نے سولہ مرتبہ ڈنک مارا۔ آپ کا رنگ زرد ہوتا رہا مگر آپؒ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی حدیث کو قطع نہ کیا۔ جب آپؒ روایت حدیث سے فارغ ہوئے اور سامعین چلے گئے‘ تو میں نے عرض کیا کہ ”میں نے آج آپ کی ایک عجیب بات دیکھی ہے“۔ فرمایا: ”ہاں! میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی حدیث کی عظمت اور احترام کے لیے صبر کیا“۔ (ماخوذ از ”شفا شریف“ و ”مواہب الدنیہ“)
بعد وفات رسول کریم ﷺ کی تعظیم:
”ابو جعفر منصور“ نے حضرت امام مالکؒ سے کسی مسئلہ میں مسجد نبوی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم میں گفتگو کی۔ دوران گفتگو آواز بلند ہو گئی۔ امام مالکؒ نے فرمایا: ”اے امیر المومنین‘ اس مسجد میں بلند آواز نہ فرماویں چونکہ اللہ تعالیٰ نے اس پر ایک قوم کو ادب سکھایا اور ارشاد فرمایا:
يا ايها الذين امنوا لا ترفعوا اصواتكم......الایه
ترجمہ: ”اے ایمان والو! تم اپنی آوازیں پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی آواز سے بلند مت کرو اور نہ ان سے ایسے کھل کر بولا کرو جیسے آپس میں کھل کر بولا کرتے ہو۔ یہ نہ ہو کہ تمہارے اعمال ضائع ہو جائیں اور تمہیں خبر بھی نہ ہو“۔
اور ایک قوم کی‘ جو رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سامنے اپنی آوازیں پست رکھتے تھے‘ یوں تعریف فرمائی:
ان الذين يغضون اصواتكم......الایه
ترجمہ: ”بے شک جو لوگ اپنی آوازیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سامنے پست رکھتے ہیں‘ یہ وہ لوگ ہیں جن کے قلوب کو اللہ تعالیٰ نے تقویٰ کے لیے خاص کر لیا ہے اور ان لوگوں کے لیے مغفرت اور اجر عظیم ہے“۔
اور ایک قوم جس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی عظمت کو ملحوظ نہ رکھا اور
بلند آواز سے رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو پکارا، اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کی یوں مذمت فرمائی: ان الذين ينادونك ...... الآيه ترجمہ : ”جو لوگ حجروں کے باہر سے آپ (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کو پکارتے ہیں، ان میں سے اکثروں کو عقل نہیں“۔
حضرت امام مالکؒ فرمانے لگے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی تعظیم جس طرح حیات طیبہ میں ضروری تھی، اسی طرح وفات فرمانے کے بعد بھی ضروری ہے۔
امام مالکؒ کی یہ نصیحت سن کر خلیفہ ابو جعفر منصورؒ نے بہت عاجزی اور تواضع اختیار کی اور فرمایا: ”اے ابو عبداللہ (امام مالکؒ کی کنیت تھی) رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی زیارت کے بعد قبلہ کی طرف چہرہ کر کے دعا کروں یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہی کی طرف چہرہ کیے ہوئے دعا کروں۔ امام مالکؒ نے جواب دیا: ”اپنا چہرہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی طرف سے مت پھیرو چونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تیرا اور تیرے باپ آدم علیہ السلام اور قیامت تک پیدا ہونے والی تمام مخلوق کے وسیلہ ہیں، اس لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی جانب چہرہ کیے ہوئے ہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے شفاعت اور وسیلہ کی درخواست کرو۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ولو انهم اذ ظلموا انفسهم جاءوک ...... الآيه ترجمہ : ”اور اگر جس وقت اپنا نقصان کر بیٹھے تھے، اس وقت آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت اقدس میں حاضر ہو جاتے۔ پھر اللہ تعالیٰ سے معافی چاہتے تو ضرور اللہ تعالیٰ کو توبہ قبول کرنے والا، رحمت والا پاتے“۔ (”حقوق مصطفیٰ“ از مولانا مفتی محمود حسن گنگوہیؒ، ص ۱۶۵-۱۶۸)
حضور ﷺ کے ذکر مبارک ہی سے امام مالکؒ کا رنگ بدل جاتا:
”مصعب بن عبداللہؒ بیان فرماتے ہیں کہ جب امام مالکؒ کے سامنے رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا ذکر ہوتا تو ان کا رنگ تبدیل ہو جاتا، کمر جھک جاتی، یہاں تک کہ ان کے پاس بیٹھنے والوں پر یہ حالت سخت گزرتی۔ ایک روز ان سے اس کے بارے میں کہا گیا کہ اپنے اوپر اتنی مشقت نہ ڈالیں۔ انہوں نے فرمایا: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے مقام عظمت اور جلال اور مرتبہ
جمال کو جتنا میں پہچانتا ہوں اگر تم بھی پہچانتے تو میری حالت جو تم دیکھتے ہو‘ بے محل نہ سمجھتے اور تعجب نہ کرتے“۔ (”حقوق مصطفیٰ“ از مولانا مفتی محمود حسن گنگوہیؒ ص ۱۴۸-۱۴۹)
محمد بن منکدرؒ کا طریق ادب رسول ﷺ :
”میں نے محمد بن منکدرؒ کو دیکھا جو سید القراء تھے۔ ہم جب بھی ان سے کوئی حدیث پوچھتے تو وہ اتنا روتے کہ ہم کو ان پر رحم آنے لگتا“۔ (”حقوق مصطفیٰ“ از مولانا مفتی محمود حسن گنگوہیؒ ‘ ص ۱۶۹)
جعفر بن محمدؒ کا طریق ادب رسول ﷺ :
”اور میں جعفر بن محمدؒ کو دیکھتا تھا باوجودیکہ وہ کثیر المزاح اور کثیر التبسم تھے مگر جب بھی ان کے سامنے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا ذکر خیر ہوتا تو ان کا رنگ زرد ہو جاتا اور ان کی حالت بدل جاتی اور میں نے ان کو کبھی بغیر طہارت کے حدیث بیان کرتے نہیں دیکھا اور میں ایک زمانہ تک (کثرت سے) ان کے پاس آتا جاتا تھا‘ ہمیشہ ان کو تین حالتوں میں سے کسی ایک حالت میں پاتا تھا: (۱) نماز پڑھتے ہوئے۔ (۲) خاموش۔ (۳) قرآن پاک کی تلاوت کرتے ہوئے۔ ان تین حالتوں کے سوا کبھی دوسری اور حالت پر نہیں دیکھا۔ وہ اللہ سے ڈرنے والے علماء اور عبادت گزاروں میں سے تھے“۔ (”حقوق مصطفیٰ“ از مولانا مفتی محمود حسن گنگوہیؒ ‘ ص ۱۶۹)
عبدالرحمن بن قاسم بن محمد بن ابی بکر صدیقؒ رحمتہ اللہ علیہ
کا طریق ادب رسول ﷺ :
”ان کی یہ حالت تھی کہ جب وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا ذکر کرتے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی عظمت کی وجہ سے ان کا چہرہ زرد ہو جاتا کہ ان کے چہرے کو دیکھا جائے تو معلوم ہو کہ سب خون نکل گیا‘ کچھ بھی باقی نہیں رہا اور ان کی زبان منہ میں خشک ہو جاتی کہ کمال اکرام اور کمال احترام کی وجہ سے اپنے کلام کو پورا نہ کر سکتے“۔ (”حقوق مصطفیٰ“ از مولانا محمود مفتی
محمود حسن گنگوہیؒ، ص ۱۷۰)
عامر بن عبداللہ بن زبیرؒ کا طریق ادب رسول ﷺ :
”ان کا یہ حال تھا کہ جب ان کے سامنے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا ذکر ہوتا تو اتنا روتے کہ ان کی آنکھوں میں آنسو باقی نہ رہتے“۔ (”حقوق مصطفیٰؐ ”از مولانا محمود حسن گنگوہیؒ، ص ۱۷۰)
محمد بن شہاب زہریؒ کا طریق ادب رسول ﷺ :
”محمد بن شہاب زہریؒ جو لوگوں میں بہت نرم مزاج اور لوگوں سے بہت تعلق و محبت کرنے والے تھے، جب ان کے سامنے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا ذکر ہوتا تو ان کا یہ حال ہو جاتا گویا وہ نہ تجھے پہچانتے ہیں نہ تو ان کو، یعنی بالکل بے خودی کی حالت ہو جاتی“۔ (”حقوق مصطفیٰؐ“ از مولانا مفتی محمود حسن گنگوہیؒ، ص ۱۷۰)
صفوان بن سلیمؒ کا طریق ادب رسول ﷺ :
”صفوان بن سلیمؒ بڑے عبادت گزار اور مجاہدہ کرنے والوں میں سے تھے۔ کہا جاتا ہے کہ چالیس برس برابر انہوں نے اپنا پہلو زمین پر نہیں رکھا۔ یہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا ذکر فرماتے تو اتنا روتے کہ لوگ ان کو اسی حالت میں چھوڑ کر اٹھ کر چلے جاتے“۔ (”حقوق مصطفیٰؐ“ از مولانا مفتی محمود حسن گنگوہیؒ، ص ۱۷۰-۱۷۱)
امام بن سیرینؒ کا طریق ادب رسول ﷺ :
”ان کا یہ حال تھا کہ بعض دفعہ مسکراتے ہوتے کہ ان کے سامنے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی کوئی حدیث شریف بیان کی جاتی تو دفعتاً حالت بدل جاتی اور خوف زدہ اور متواضع ہو جاتے“۔ (”حقوق مصطفیٰؐ“ از مولانا مفتی محمود حسن گنگوہیؒ، ص ۱۷۲)
عبدالرحمن بن مہدیؒ کا طریق ادب رسول ﷺ :
”عبدالرحمن بن مہدیؒ بڑے محدثین میں سے ہیں۔ جب حدیث شریف پڑھتے تو اولاً لوگوں کو خاموش ہونے کا حکم فرماتے اور یہ آیت پڑھتے: یا ایها الذین امنوا لا ترفعوا اصواتکم فوق صوت النبی......الایه اور اس سے یہ مراد لیتے کہ جس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی حیات مبارکہ میں رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے کلام فرمانے کے وقت خاموش ہو کر اس کا سننا فرض و لازم تھا‘ اسی طرح رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی وفات کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی حدیث بیان کی جائے تو خاموش ہو کر اس کا سننا فرض و لازم ہے“۔ (”حقوق مصطفیٰ“ از مولانا مفتی محمود حسن گنگوہیؒ ‘ ص ۱۷۲)
مالک بن انسؒ کا طریق ادب رسول ﷺ :
”ابراہیم بن عبداللہ بن مریم انصاری قاضی مدینہ بیان کرتے ہیں: ”مالک بن انسؒ ‘ ابو حازمؒ کے پاس حدیث سننے کے لیے گئے اور پھر حدیث سنے بغیر واپس ہو گئے۔ ان سے اس کا سبب پوچھا گیا تو جواب دیا: ”میں نے مجلس میں ایسی جگہ‘ جہاں ادب سے بیٹھ کر حدیث شریف سنتا‘ نہیں پائی (یعنی لوگوں کی کثرت کی وجہ سے گنجائش نہ تھی) اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی حدیث کھڑے ہو کر سننا مجھے گوارا نہ ہوا“۔ (”حقوق مصطفیٰ“ از مولانا مفتی محمود حسن گنگوہیؒ ‘ ص ۱۷۴)
سلطان محمود غزنویؒ کا طریق ادب رسول ﷺ :
”غازی سلطان محمود غزنوی کے غلام‘ ایاز کا ایک بیٹا تھا جو بادشاہ کا ملازم تھا اور اس کا نام ”محمد“ تھا۔ ایک دن بادشاہ نے ایاز کی موجودگی میں اسے یوں خطاب کیا کہ ”اے ایاز کے بیٹے‘ وضو کے لیے پانی لاؤ“۔ ایاز نے ان الفاظ کو سن کر دل ہی دل میں خیال کیا کہ نہ معلوم میرے بیٹے نے کیا خطا کی ہے جس کے باعث بادشاہ سلامت نے اسے نام لے کر نہیں بلایا۔ جب سلطان محمودؒ وضو سے فارغ ہوئے تو ایاز کی طرف دیکھا کہ وہ مغموم و ملول ہے۔ اس سے غم و رنج کا
سبب پوچھا۔ اس نے دست بستہ کھڑے ہو کر عرض کی: ”عالی جاہ! میرے مغموم ہونے کا باعث یہ ہے کہ چونکہ حضور نے میرے لخت جگر کو نام لے کر نہیں بلایا‘ اس لیے معاً میرے دل میں یہ خیال پیدا ہوا کہ شاید اس سے کوئی بے ادبی اور گستاخی سرزد ہوئی ہے کہ جس کے باعث آپ اس سے خفا اور ناراض ہیں“۔ بادشاہ سلامت نے مسکرا کر کہا: ”اے ایاز! خاطر جمع رکھو۔ تمہارے صاحبزادے سے کوئی بات میری طبع کے خلاف سرزد نہیں ہوئی اور نہ ہی میں اس سے ناراض اور خفا ہوں۔ اس وقت نام لینے میں یہ حکمت تھی کہ میں اس وقت بے وضو تھا۔ چونکہ یہ آقائے نامدار صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا ہم نام ہے‘ اس لیے مجھے شرم آئی کہ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا نام مبارک ایسی حالت میں میری زبان سے گزرے جبکہ میں بے وضو اور بے طہارت ہوں“۔ (”نقوش رسول“ نمبر”
ص ۷۰۴ جلد ۴)
کسی نے خوب کہا:
ہنوز نام تو گفتن کمال بے ادبی است
حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے آثار شریف کی تعظیم:
”آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے منبر شریف کے تین درجے تھے۔ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سب سے اوپر کے درجے پر بیٹھتے اور درمیانے درجے پر اپنے پاؤں مبارک رکھتے۔ حضور اقدس صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے بعد حضرت ابو بکر صدیقؓ اپنے عہد خلافت میں پاس ادب درمیانے درجے پر کھڑے ہوتے اور جب بیٹھتے تو پاؤں سب سے نیچے درجے پر رکھتے۔ حضرت عمر فاروقؓ اپنی خلافت میں سب سے نیچے درجے پر کھڑے ہوتے اور جب بیٹھتے تو پاؤں زمین پر رکھتے۔ حضرت عثمان غنیؓ اپنی خلافت کے پہلے چھ سال عمر فاروقؓ کی طرح کرتے رہے“۔
(وفا الوفا” جز اول‘ ص ۲۸۰)
ایک دوسری جگہ یوں روایت کیا گیا ہے: ”جب حضرت عثمانؓ کا عہد آیا تو انہوں نے منبر شریف کے درجات زیادہ کر دیے۔ وہ اوپر کے تینوں درجوں کو چھوڑ کر زیادت کے پہلے درجے پر کھڑے ہوا
کرتے تھے۔ (”کشف الغمہ“ جز اول‘ ص ۱۲۱)
آپ ﷺ کی چارپائی کی تعظیم اور برکت:
”حضرت اسعد بن زرارہؓ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے لیے ایک چارپائی بطور ہدیہ پیش کی تھی‘ جس کے پائے ساگوان کی لکڑی کے تھے۔ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اس پر سویا کرتے تھے۔ جب وفات شریف ہوئی تو حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو اسی پر رکھا گیا۔ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے بعد حضرت صدیق اکبرؓ کو بھی وفات پانے پر اسی پر رکھا گیا۔ بعد ازاں حضرت عمر فاروقؓ کو بھی اسی پر رکھا گیا۔ پھر لوگ بطور تبرک اپنے مردوں کو اسی پر رکھا کرتے تھے۔ (زرقانی علی المواہب)
آنحضرت ﷺ کے پسینہ مبارک کی تعظیم و برکت:
”آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم‘ ام سلیمؓ (والدہ انسؓ) کے ہاں چمڑے کے فرش پر قیلولہ فرمایا کرتے تھے۔ جب آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اٹھتے تو وہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے پسینہ مبارک کو ایک شیشی میں جمع کر لیتیں اور شانہ کرتے وقت جو بال گرتے‘ ان کو اور پسینہ مبارک کو سک (خوشبو) میں ملا دیتیں۔ حضرت ثمامہ کا قول ہے کہ جب حضرت انس بن مالکؓ کی وفات کا وقت آیا تو مجھے وصیت کی کہ اس سک میں سے کچھ میرے حنوط (کافور و صندل وغیرہ جو مردے کے کفن پر اور جسم پر مل دیا جاتا ہے) میں ڈال دیا جائے۔ چنانچہ ایسا ہی کیا گیا“۔ (صحیح بخاری کتاب الاستیذان)
آپ ﷺ کے پسینے کی برکت کے امیدوار:
”آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم ام سلیمؓ کے گھر میں آکر بستر پر قیلولہ فرمایا کرتے تھے اور وہ گھر میں نہ ہوا کرتیں۔ ایک روز حسب معمول حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم ان کے بستر پر سوئے ہوئے تھے۔ جب ان کو خبر ہوئی تو آکر دیکھا کہ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا پسینہ مبارک بستر پر چمڑے کے ایک ٹکڑے پر پڑا ہوا ہے۔ انہوں نے اپنے ڈبے میں سے ایک شیشی نکالی اور پسینہ مبارک کو اس
میں نچوڑنے لگیں۔ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی آنکھ کھلی تو پوچھا کہ ”ام سلمہ! تم کیا کر رہی ہو؟“ ام سلمہ نے عرض کیا کہ ”ہم اپنے بچوں کے لیے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پسینے کی برکت کے امیدوار ہیں“۔ (صحیح مسلم باب طیب عرقہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم والتبرک بہ)
آپ ﷺ کے ایک بال کا ہونا دنیا ومافیہا سے محبوب تر:
”حضرت ابن سیرین تابعی نے حضرت عبیدہ سے کہا: ”ہمارے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے کچھ بال مبارک ہیں جو حضرت انسؓ یا اہل انسؓ سے ملے ہیں۔ یہ سن کر حضرت عبیدہ نے کہا، ان بالوں میں سے میرے پاس ایک بال کا ہونا میرے نزدیک دنیا ومافیہا سے محبوب تر ہے“۔ (صحیح بخاری)
قاضی عیاضؒ فرماتے ہیں:
”وہ تمام چیزیں جن کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے نسبت ہے، ان کی تعظیم و تکریم کرنا، حرمین شریفین میں آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے مشاہد و مساکن کی تعظیم کرنا، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے منازل اور وہ چیزیں جن کو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے دست مبارک یا کسی اور عضو نے چھوا یا آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے نام سے پکاری جاتی ہوں، ان سب کا اکرام کرنا حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہی کی تعظیم و تکریم میں داخل ہے“۔ (”شفا شریف“ از قاضی عیاضؒ)
حرمین شریف کا ادب و احترام:
”بعض مشائخ کرام پیدل حج کو گئے۔ ان سے سبب دریافت کیا گیا تو فرمایا کہ غلام مفرور اپنے مولا کے دروازے پر سوار ہو کر نہیں آتا اگر ہم میں طاقت ہوتی تو سر کے بل آتے“۔ (”شفا شریف“ از قاضی عیاضؒ)
مدینہ شریف کی حدود میں ننگے پاؤں داخل ہونا:
”حضرت مولانا محمد قاسم نانوتویؒ جب کبھی حج کے لیے تشریف لے جاتے اور زیارت روضہ نبوی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے لیے مدینہ شریف جاتے تو مدینہ
کی حدود سے باہر سواری سے اترتے اور جوتے اتار لیتے اور ننگے پاؤں در اقدس پر حاضری کے لیے چل پڑتے۔ جب ان سے اس کا سبب پوچھا جاتا تو ارشاد فرماتے:
”مدینہ کی گلیوں کے ان پتھروں میں سے جانے کس پتھر پر حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا ننگا پاؤں مبارک پڑا ہو اور اسی پتھر پر قاسم کا جوتی والا پاؤں پڑ جائے، یہ بے ادبی مجھے روا نہیں“۔
(ماخوذ از سوانح قاسمی)
خدا رحمت کند ایں عاشقان پاک طینت را
روایت ہے کہ ”بانی دارالعلوم دیوبند حضرت مولانا محمد قاسم نانوتویؒ نے تمام عمر سبز رنگ کا جوتا اس ادب و احترام کی وجہ سے نہیں پہنا کہ روضہ اقدس کے گنبد کا رنگ سبز ہے“۔
(الشہاب)
حضرت مولانا محمد قاسم نانوتویؒ نے مدینہ شریف سے اپنی عقیدت کا اظہار ان الفاظ میں کیا:
کہ ہو سگان مدینہ میں میرا شمار
جیوں تو ساتھ سگان حرم کے تیرے پھروں
مروں تو کھائیں مدینہ کے مجھ کو مرغ و مار
جو یہ نصیب نہ ہو اور کہاں نصیب میرے
کہ میں ہوں اور سگان حرم کی ترے قطار
اڑا کے باد میری مشت خاک کو پس مرگ
کرے حضور کے روضہ کے آس پاس نثار
- حضرت مولانا محمد اشرف علی تھانویؒ نے ایک حکایت لکھی ہے:
کوئی شخص اپنی بیوی کے ہمراہ زیارت حرمین شریفین کے لیے گیا۔ مدینہ منورہ میں رہائش پذیر تھے۔ بیوی نے خاوند سے کہا کہ بازار سے دہی لادے۔
خاوند دہی لے آیا۔ بیوی نے پوچھا: دہی کیسی ہے؟
خاوند نے دہی چکھ کر کہا، مدینہ کی دہی کھٹی ہے۔
اسی رات حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خواب میں زیارت ہوئی اور ارشاد فرمایا:
”اس شہر میں چلے جاؤ، جہاں کی دہی میٹھی ہو“۔
بیدار ہوا تو بہت پریشان تھا: کسی اللہ والے کی خدمت میں حاضر ہوا اور خواب سنائی اور اس کا کفارہ پوچھا
اللہ والے نے کہا: فوراً مدینہ چھوڑ دو۔ ورنہ ایمان نہیں بچے گا۔ اور کفارہ اس کا یہ ہے کہ سید الشہداء حضرت امیر حمزہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی قبر مبارک پر جاکر استغفار کرو (ملفوظات حکیم الامتؒ)
اللہ کریم ہر ایک کو حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اور آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے منسوب ہر ایک چیز کی تعظیم و تکریم کا حق ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ (آمین)
- □ حضرت مولانا رشید احمد گنگوہیؒ کی خدمت میں ایک حاجی صاحب حج سے
واپسی پر حاضر ہوئے اور تحفۃً ایک رومال پیش کیا اور عرض کی:
”حضرت یہ رومال مدینہ سے خریدا ہے“۔
مولانا رشید احمد گنگوہیؒ نے رومال لے لیا۔ کبھی اسے آنکھوں سے لگاتے کبھی سینے پر ملتے، کبھی بوسہ دیتے۔
کسی نے کہا: ”حضرت یہ رومال تو مصر اور شام سے بن کر جاتے ہیں، مدینہ شریف میں تو نہیں بنتے“۔
حضرت نے ارشاد فرمایا: ”میاں یہ تو میں بھی جانتا ہوں کہ مصر سے بن کر گیا ہو گا یا شام سے بن کر گیا ہو گا لیکن ہو کر تو میرے آقا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے مدینے سے آیا ہے“۔
حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی ذات شریفہ سے عشق و ادب اصل الایمان ہے۔ یعنی ایمان کی بنیاد ہے اور یہی وہ نکتہ ہے جس پر تمام امت مجتمع ہے۔
دیوبندی، بریلوی، اہل حدیث اور تمام مکاتب فکر کا مسلمان اس ایک معیار پر برابر پورا اترتا ہے جبکہ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا اتباع اور پیروی کمال ایمان ہے۔ اللہ سب کو نصیب کرے۔ (آمین)
آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی سیرت کا ترک کرنا فسق و فجور اور حرام ہے جبکہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے ادب کا ترک کفر ہے۔
تارک اتباع و سیرت فاسق اور فاجر کہلائے گا جبکہ تارک ادب کافر
کہلائے گا:
"ہر طبقہ اور ہر مکتبہ فکر، عشق و ادب رسالت مآب صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم میں یکتا اور منفرد نظر آتا ہے۔ کل کسی نے یمامہ کے میدان میں باطل سے ٹکر لی۔۔۔ اور کسی نے کرب وبلا کے ریگزاروں کو اپنے مقدس خون سے سینچ کر باطل کے مقابلے میں اس حق کو ادا کیا۔
اور پھر۔۔۔۔ کسی نے 1953ء میں لاہور کی سڑکوں پر وہ سنت حسینیؓ زندہ کر کے اہل حق ہونے کا ثبوت دیا۔
کل قیادت حضرت صدیق اکبرؓ کی تھی، آج قیادت صدیقؒ کے رضا کاروں کی ہے۔ کل بھی اہل باطل کو حضور خاتم النبین صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا ادب سکھایا گیا تھا، آج بھی گستاخوں کو ادب سکھایا جا رہا ہے۔ کل بھی مرکز ایک تھا، آج بھی مرکز وہی ہے جس پر پوری امت جمع ہے اور وہ مکتبہ عقیدت ہے آداب النبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم۔
رسول کریم ﷺ کے اہل بیت کی تعظیم:
"رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی تعظیم میں یہ بھی شامل ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے اہل بیت کی تعظیم و تکریم کی جائے۔ حق تعالیٰ شانہ اہل بیت کی پاکی یوں بیان فرماتے ہیں:
انما يريد الله ليذهب عنكم الرجس اهل بيت ويطهركم تطهيرا
ترجمہ : "اللہ تعالیٰ کو یہ منظور ہے کہ (رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے) گھر والوں سے آلودگی کو دور رکھے اور تم کو (ہر طرح ظاہرا اور باطنا) پاک صاف رکھے۔"
حضرت عبداللہ بن عباسؓ اور حضرت ابو سعید خدریؓ سے مروی ہے کہ تمام ازواج مطہرات، رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے بیت (گھر) ہی میں تھیں۔ پس اہل بیت میں ان کا داخل ہونا ظاہر ہے۔ - (بحوالہ "حقوق مصطفیٰ" از مولانا مفتی محمود حسن گنگوہیؒ، ص
(۱۸۰۔۱۷۹)
اہل بیت رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم میں سے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی ازواج مطہرات کی حکمی تعظیم کی نص قطعی موجود ہے۔ ارشاد ہے: وازواجہ امھاتھم ترجمہ : ”اور (آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی) بیویاں ان کی مائیں ہیں“۔
آیت پاک میں ازواج مطہرات کو ”امھات المومنین“ کہا گیا ہے اور بتایا گیا ہے کہ جس طرح مومنوں پر اپنی حقیقی ماؤں کا احترام اور تعظیم ضروری ہے‘ اسی طرح ازواج النبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا احترام اور تعظیم ضروری ہے۔ بلکہ ایک ماں کی تعظیم کی نسبت باپ کی وجہ سے ہے اور ایک وہ مائیں ہیں جن کی نسبت نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی وجہ سے ہے۔ حق یہ ہے کہ جن کی نسبت آقائے نامدار صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی طرف سے ہے‘ ان کی تعظیم و تکریم بھی آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے شایان شان ہونی چاہیے۔
حضرت زید بن ارقمؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
”میں تم کو اپنے اہل بیت کی تعظیم کرنے اور ان کے ساتھ حسن سلوک کرنے کے لیے اللہ کی قسم دیتا ہوں“۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے یہ جملہ تین بار ارشاد فرمایا۔ راوی کہتے ہیں کہ ہم نے زید بن ارقمؓ سے پوچھا کہ اہل بیت کون ہیں؟ انہوں نے جواب دیا: آل علیؓ آل جعفرؓ آل عقیلؓ (اولاد ابی طالب) آل عباسؓ“۔ (حوالہ ”حقوق مصطفیٰ“ از مولانا مفتی محمود حسن گنگوہیؒ ‘ ص ۱۸۱)
اس صراحت کے ہوتے ہوئے اہل بیت صرف حضرت فاطمہؓ حضرت حسنؓ حضرت حسینؓ اور حضرت علی المرتضیٰؓ ہی کو کہنا اور ماننا بڑی بے باکی ہے‘ اللہ محفوظ رکھے۔ ایک دوسری روایت میں ہے:
”آل محمد (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کا پہچاننا جہنم سے برات کا ذریعہ ہے اور ان سے محبت کرنا پل صراط پر آسانی سے گزرنے کا سبب اور ان کی نصرت و اعانت عذاب سے امان ہے“۔ (حوالہ ”حقوق مصطفیٰ“ از مولانا مفتی محمود حسن گنگوہیؒ ‘ ص ۱۸۱)
اللہ کریم ہم سب کو اہل بیت کی صحیح پہچان نصیب فرمائے اور کسی کی حق تلفی سے محفوظ رکھے۔ (آمین)
حضرت عمر بن عبدالعزیزؒ کا طریق ادب اہل بیت:
”حضرت عبداللہ بن حسنؓ فرماتے ہیں کہ میں کسی ضرورت سے حضرت عمر بن عبدالعزیزؒ کے پاس گیا۔ انہوں نے فرمایا کہ جب آپ کو کوئی ضرورت پیش آیا کرے تو کسی کو میرے پاس بھیج دیا کریں یا پرچہ لکھ کر بھیج دیا کریں (یعنی خود تکلیف نہ فرمائیں) مجھے اللہ تعالیٰ سے حیا آتی ہے کہ اللہ تعالیٰ آپ کو میرے دروازے دیکھیں۔ ایک نسخہ میں ہے میں آپ کو اپنے دروازے پر دیکھوں“۔ (”حقوق مصطفیٰ“ از مولانا مفتی محمود حسن گنگوہیؒ، ص ۱۸۳)
حضرت زید بن ثابتؓ کا طریق ادب اہل بیت:
”حضرت زید بن ثابتؓ نے اپنی والدہ کی نماز جنازہ پڑھی اور جب نماز جنازہ سے فارغ ہوئے تو ان کی سواری ان کے قریب کی گئی۔ حضرت ابن عباسؓ نے ان کی سواری کی لگام پکڑی۔ حضرت زید بن ثابتؓ نے فرمایا: ”اے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کے چچا کے بیٹے! آپ اسے چھوڑ دیں“۔ حضرت ابن عباسؓ نے جواب دیا: ”ہم اسی طرح علماء کا احترام کرتے ہیں“۔ ایک روایت میں ہے کہ ”ہمیں یہی حکم کیا گیا ہے کہ علماء کا احترام کریں“۔ حضرت زید بن ثابتؓ نے حضرت ابن عباسؓ کا ہاتھ چوم لیا اور فرمایا: ”ہمیں اپنے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے اہل بیت کے ساتھ (اسی طرح) تعظیم کا حکم کیا گیا ہے“۔ (حاکمؒ نے شعبیؒ سے نقل کیا)
سیدنا امیر معاویہؓ کا طریق ادب شباہت رسالت مآبﷺ :
”حضرت معاویہؓ کو معلوم ہوا کہ کابس بن ربیعہؓ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے صورت و شکل میں مشابہت رکھتے ہیں تو حضرت معاویہؓ نے انہیں بلایا اور جب وہ دروازے سے داخل ہوئے تو حضرت معاویہؓ تخت سے اٹھ کر کھڑے ہوگئے اور ان کی آنکھوں کے درمیان بوسہ دیا اور ان کو کچھ جائیداد عطا کی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ مشابہت کی وجہ سے“۔ (ابن عساکرؒ)
پس سید المرسلین صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی محبت کا تقاضا ہے کہ آپ ﷺ کے تمام اہل بیت اور اہل تعلق کی بھی تعظیم کی جائے۔
آپ ﷺ کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی تعظیم:
”سید المرسلین حبیب خدا صلی اللہ تعالیٰ علیہ و آلہ وسلم کی تعظیم میں یہ بھی داخل ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے اصحاب رضی اللہ عنہم کی بھی تعظیم کی جائے۔ اگر ان حضرات کی فضیلت قرآن و حدیث میں بیان نہ بھی کی جاتی تب بھی ان کی تعظیم لازم و ضروری ہونے کے لیے یہی کافی ہے کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے اصحابؓ ہیں اور ان کے مجاہدات اور قربانیاں ہیں۔ مزید بر آں کہ ایمان و اسلام جیسا بے بہا خزانہ اور قرآن و حدیث جیسی بے بہا دولت ہم تک پہنچانے میں وہی حضرات واسطہ ہیں اور اس میں ان کے مجاہدات اور قربانیوں کو بڑا دخل ہے۔ پس ان کی تعظیم و تکریم فرض و لازم ہے“۔
حضرت امام مالکؒ کا ارشاد ہے:
”جو شخص صحابہ کرامؓ سے بغض رکھے‘ وہ کافر ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
لِيَغِيظَ بِهِمُ الکُفَّارَ
”حضرت عبداللہ بن مبارکؒ کا مقولہ ہے جس میں دو خصلتیں ہوں گی‘ وہ نجات پا جائے گا۔
- (۱) حق تعالیٰ شانہ اور مخلوق کے ساتھ سچائی۔
- (۲) محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے اصحابؓ کی محبت۔
حضرت ابو ایوب سختیانیؒ کا مقولہ ہے:
”جس نے حضرت ابو بکرؓ سے محبت کی‘ اس نے دین کو قائم کیا۔ جس نے حضرت عمرؓ سے محبت کی‘ اس نے اللہ تعالیٰ کے راستہ کو واضح کیا۔ جس نے حضرت عثمانؓ سے محبت کی‘ وہ اللہ تعالیٰ کے نور کے ساتھ مستغنی ہو گیا۔ جس نے حضرت علیؓ سے محبت کی‘ اس نے مضبوط حلقہ پکڑ لیا۔ جس نے رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے تمام صحابہؓ کی تعریف کی‘ وہ نفاق سے بری ہو گیا اور جس نے ان میں سے ایک سے بھی بغض رکھا وہ مبتدع ہے اور سنت اور سلف صالحینؒ کی مخالفت کرنے والا ہے۔ مجھے اندیشہ ہے کہ اس کا کوئی عمل آسمان کی طرف نہیں چڑھ سکتا جب تک وہ ان تمام سے محبت نہ کرے اور اس کا دل ان سب کے لیے بغض و کینہ سے صاف نہ ہو“۔
کسی شخص نے امام عبداللہ بن مبارکؒ سے دریافت کیا کہ ”حضرت معاویہؓ افضل ہیں یا حضرت عمر بن عبد العزیزؒ “۔ فرمایا: ”آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی معیت میں حضرت معاویہؓ کے گھوڑے کی ناک میں جو غبار داخل ہوا وہ بھی عمر بن عبد العزیزؒ سے کئی گناہ بہتر ہے“۔
(”مکتوبات دفتر اول“ مکتوب ۱۰۷)
الله تعالیٰ ہمیں مقام صحابیت رسول الله صلی الله علیہ وآلہ وسلم کی معرفت عطا کرے اور ان قدسیوں کا ادب کرنے اور کرانے کی توفیق مرحمت فرمائے۔ (آمین)
حضرت سہل بن عبد الله تستریؒ کا مقولہ ہے:
اس شخص کا رسول الله صلی الله علیہ وآلہ وسلم پر ایمان نہیں جو رسول الله صلی الله علیہ وآلہ وسلم کے اصحابؓ کی تعظیم نہ کرے اور رسول الله صلی الله علیہ وآلہ وسلم کے اوامر کا احترام نہ کرے”۔ (“حقوق مصطفیٰؐ” از مولانا مفتی محمود حسن گنگوہیؒ، ص ۴۰۸)
پس معلوم ہوا کہ صحابہ کرامؓ کا ادب و احترام اقرارِ رسالت کا مؤید ہے۔ ممکن نہیں کہ اس واسطہ (صحابہ کرامؓ) کو پس انداز کر کے کوئی مومن کہلائے۔ جبکہ اس سلسلے میں نصوصِ شرعیہ تواتر کے ساتھ مذکور ہیں:
ساتواں حق: آپ ﷺ پر کثرت سے درود پڑھا جائے:
ارشاد باری تعالیٰ ہے:
ان الله و ملئكته يصلون على النبى يا ايها الذين امنوا صلوا عليه وسلموا تسليما O(سورة الاحزاب: ۵۶-۳۳)
ترجمہ : ”بے شک الله تعالیٰ (خود) اور اس کے فرشتے نبی صلی الله علیہ وآلہ وسلم پر درود بھیجتے ہیں۔ اے ایمان والو تم بھی ان (صلی الله علیہ وآلہ وسلم) پر خوب خوب درود بھیجو اور سلام پیش کرو“۔
حافظ عماد الدین ابوالفدا اسمعیل ابن کثیر القرشی الدمشقی اس آیت کریمہ کے نزول کی وجہ بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
”مقصود اس آیت شریفہ سے یہ ہے کہ حضور صلی الله علیہ وآلہ وسلم کی قدر و منزلت، عزت اور مرتبت لوگوں کی نگاہوں میں قائم ہو جائے اور وہ جان لیں کہ خود الله تعالیٰ آپ صلی الله علیہ وآلہ وسلم کا ثناء خواں ہیں اور اس کے فرشتے بھی آپ صلی الله علیہ وآلہ وسلم پر درود بھیجتے رہتے ہیں۔ ملاء اعلیٰ کی یہ خبر دے کر اب زمین والوں کو حکم دیتا ہے کہ تم بھی درود و سلام بھیجا کرو تاکہ عالم علوی اور عالم سفلی والوں کا اس پر اجماع ہو جائے”۔ (”تفسیر ابن کثیر“ اردو ترجمہ از ابو محمد جونا گڑھی، جلد ۴، ص ۲۹۷)
اور یہی وہ واحد نکتہ ہے جس پر خالق بھی مخلوق کے ساتھ شامل ہو کر اس حق کو ادا کرتا
ہے۔ مذکورہ بالا آیت کریمہ کو لفظ ”ان“ کے ساتھ شروع کیا گیا ہے جو حرف تاکید ہے۔ یعنی یقیناً اللہ تعالیٰ درود بھیج رہا ہے اور صیغہ مضارع کا استعمال کیا۔۔۔ ”یصلون“ کہا۔ یعنی یہ نہیں فرمایا کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے فرشتے کبھی تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر درود بھیجتے ہیں اور کبھی نہیں بھیجتے۔ صیغہ مضارع اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ مسلسل و پیہم درود بھیجتے رہتے ہیں۔
علامہ محمود آلوسیؒ لکھتے ہیں:
اللہ تعالیٰ نے (اس سے قبل) کسی امت کو حکم نہیں دیا تھا کہ وہ اپنے پیغمبر پر درود و صلوٰۃ بھیجیں۔ یہ خصوصیت صرف حضور اقدس صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہی کی ہے کہ ان پر درود و سلام بھیجنے کا حکم ہوا“۔ (روح المعانی)
حضرت رصاع نے فرمایا کہ اس آیت میں لفظ ”اللہ“ آیا ہے جو حق تعالیٰ شانہ کا ذاتی اسم شریف ہے اور جامع جمیع اسماء و صفات ہے۔ اگر خدا کہتا ان الرب و ملئکته یصلون علی النبی یا ان الرحمٰن و ملئکته یصلون علی النبی تو واہمہ ہو سکتا تھا کہ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر صرف اسم رب یا اسم رحمٰن ہی کا فیضان ہوتا ہے لیکن لفظ اللہ سے معلوم ہوا ہے کہ ان پر ذات اور تمام اسماء و صفات کا فیضان وارد ہوتا ہے۔ حضرت رصاع نے یہ بھی فرمایا، حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے بھی بہت سے اسماء شریفہ ہیں۔ یہاں نبی کے لفظ سے ذکر فرمایا اور دوسرے اسماء و صفات کا ذکر نہ فرمایا اس لیے کہ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور دوسرے انبیاء کی یہ صفت سب سے نمایاں ہے کہ اللہ تعالیٰ انہیں علوم لدنی عطا کرتا ہے، وہ معارف کی خبر دیتے ہیں۔ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے غایت درجہ تکریم و تعظیم مقصود تھی، اس لیے ”علی النبی“ کہا اور ذاتی نام یعنی لفظ محمد (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کے ساتھ ان کا ذکر نہ فرمایا۔
مفتی بغداد علامہ آلوسیؒ فرماتے ہیں:
”اللہ تعالیٰ کے درود بھیجنے کا مفہوم یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے محبوب کے ذکر کو بلند کر کے اس کے دین کو غلبہ دے کر اور اس کی شریعت پر عمل برقرار رکھ کر اس دنیا میں حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی عزت و شان بڑھاتا ہے اور روزِ محشر، امت کے لیے حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو بہترین اجر و ثواب عطا کر کے اور مقام محمود پر فائز کرنے کے بعد اولین اور آخرین کے لیے حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی بزرگی کو نمایاں کر کے اور تمام مقربین پر حضور صلی اللہ علیہ و آلہ
وسلم کو سبقت بخش کر حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی شان کو آشکارا فرماتا ہے"۔ (حوالہ "ضیاء القرآن" جلد ۴‘ ص ۸۹)
سورۃ الاحزاب کی مذکورہ آیت شریفہ کے ذیل میں پیر محمد کرم شاہ صاحب الازہری رقم طراز ہیں:
"یہ میرا حبیب اور میرا پیارا رسول (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) وہ ہے جس کی وصف و ثناء میں اپنی زبان قدرت سے کرتا ہوں اور میرے سارے ان گنت فرشتے اپنی نورانی اور پاکیزہ زبانوں سے اس کی جناب میں ہدیہ عقیدت پیش کرتے ہیں"۔ ("تفسیر ضیاء القرآن" جلد ۴‘ ص ۸۸)
یہاں مولانا محمد اشرف علی تھانویؒ نے میرے دل کی بات کہہ دی:
"(اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں) تاکہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا حق عظمت‘ جو تمہارے ذمے ہے‘ ادا ہو"۔ ("بیان القرآن" جلد ۹‘ ص ۶۳)
مولانا محمد شفیع صاحبؒ لکھتے ہیں:
"اصل مقصود آیت کا مسلمانوں کو یہ حکم دینا تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر صلوٰۃ و سلام بھیجا کریں مگر اس کی تعبیر و بیان میں اس طرح اضافہ فرمایا کہ پہلے حق تعالیٰ نے خود اپنا اور اپنے فرشتوں کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے لیے عمل صلوٰۃ کا ذکر فرمایا۔ اس کے بعد عام مومنین کو اس کا حکم دیا جس میں آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے شرف اور عظمت کو اتنا بلند فرما دیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی شان میں جس کام کا حکم مسلمانوں کو دیا جاتا ہے وہ کام ایسا ہے کہ خود حق تعالیٰ اور اس کے فرشتے بھی وہ کام کرتے ہیں تو عام مومنین کو جن پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے احسانات بے شمار ہیں‘ ان کو تو اس عمل کا بڑا اہتمام کرنا چاہیے اور ایک فائدہ اس تعبیر میں یہ بھی ہے کہ اس سے درود و سلام بھیجنے والے مسلمانوں کی ایک بہت بڑی فضیلت یہ ثابت ہوئی کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو اس کام میں شریک فرما لیا جو خود حق تعالیٰ بھی کرتے ہیں اور اس کے فرشتے بھی"۔ ("معارف القرآن" جلد ۷‘ ص ۱۲۱)
محمد شریف قاضی اس آیت کا مفہوم اپنے الفاظ میں یوں بیان فرماتے ہیں:
"حضور اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے احسانات نوع انسانی پر بے حد و حساب ہیں۔ ان کا حق ادا کرنے کی صرف ایک ہی صورت ہے کہ ایک طرف،
آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے اسوہ حسنہ کا پورے خلوص سے اتباع کیا جائے اور دوسری طرف آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی ذات اقدس پر کثرت سے درود و سلام بھیجا جائے“۔ (”اسوہ حسنہ“ از محمد شریف قاضی‘ ص ۱۵۰)
”حضرت ابو العالیہ سے مروی ہے کہ خدا تعالیٰ کا اپنے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر درود بھیجنا اپنے فرشتوں کے سامنے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی صفت بیان کرنا ہے“۔ (”بخاری شریف“۔ ”تفسیر ابن کثیر جلد ۴‘ ص ۲۹۷ ”ضیاء القرآن“ جلد ۴‘ ص ۸۸‘ ”معارف القرآن“ جلد ۷‘ ص ۲۲۲‘ ”انوار محمدیہ“ ص ۵۱۸)
شیخ عبدالحق محدث دہلویؒ لکھتے ہیں:
”ابو العالیہؒ نے جو کہ تابعین میں سے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر صلوٰۃ بھیجنے کے یہ معنی لیے ہیں کہ حق تعالیٰ فرشتوں کے سامنے اپنے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی ثنا کرتا اور ان کی بزرگی بیان کرتا ہے“۔ (”مدارج النبوۃ“ اردو ترجمہ از مولانا مفتی غلام معین الدین‘ ص ۵۵۸)
محمد شریف قاضی اس کی مزید وضاحت ان الفاظ میں کرتے ہیں:
صلوٰۃ کا لفظ جب علیٰ کے ساتھ آتا ہے تو اس کے تین معانی ہوتے ہیں۔
- (۱) کسی پر مائل ہونا‘ اس کی طرف محبت کے ساتھ متوجہ ہونا‘ جھکنا۔
- (۲) کسی کی تعریف کرنا۔
- (۳) کسی کے حق میں دعا کرنا۔
یہ لفظ جب اللہ کے لیے بولا جائے تو اس کا تیسرا معنی نہیں ہو سکتا کیونکہ اللہ تعالیٰ کا کسی اور کے لیے دعا کرنا نا قابل تصور ہے‘ اس لیے لامحالہ وہ صرف پہلے دو معنوں میں ہو گا“۔ (اسوہ حسنہ‘ ص ۱۵۰)
مفتی محمد شفیعؒ ابو العالیہ کی روایت نقل کرنے کے بعد لکھتے ہیں:
”اللہ تعالیٰ کی طرف سے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی تفخیم دنیا میں تو یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو بلند مرتبہ عطا فرمایا کہ اکثر مواقع اذان و اقامت وغیرہ میں اللہ تعالیٰ کے ذکر کے ساتھ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا ذکر شامل کر دیا اور یہ کہ اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے دین کو پھیلا دیا اور غالب کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی شریعت پر عمل قیامت تک
جاری رکھا۔ اس کے ساتھ ہی آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی شریعت کو محفوظ رکھنے کا ذمہ حق تعالیٰ نے لے لیا اور آخرت میں آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی تعظیم یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا مقام تمام خلائق سے بلند و بالا کیا اور جس وقت کسی پیغمبر اور فرشتے کو شفاعت کی مجال نہ تھی‘ اس حال میں آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو مقام شفاعت عطا فرمایا‘ جس کو مقام محمود کہا جاتا ہے“۔
(”معارف القرآن“ جلد ۷ ص ۲۲۲)
مولانا شبیر احمد عثمانیؒ تفسیری حاشیہ میں لکھتے ہیں: ”اللہ بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر صلوٰۃ بھیجتا ہے یعنی رحمت و شفقت کے ساتھ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی ثناء اور اعزاز و اکرام کرتا ہے“۔ (قرآن شریف مترجم حضرت شیخ الہند مولانا محمود الحسنؒ مطبوعہ سعودی گورنمنٹ)
مولانا مودودیؒ لکھتے ہیں: ”اللہ کی طرف سے اپنے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر صلوٰۃ کا مطلب یہ ہے کہ وہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر بہت مہربان ہے اور آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی تعریف فرماتا ہے اور آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے کام میں برکت دیتا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا نام بلند کرتا ہے اور آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر اپنی رحمتوں کی بارش نازل فرماتا ہے“۔ (”تفہیم القرآن“ جلد ۴‘ ص ۱۲۳)
حضرت حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانویؒ عشق رسالت میں مزید ایک قدم آگے بڑھتے ہوئے لکھتے ہیں: ”اللہ تعالیٰ کا رحمت بھیجنا تو رحمت فرمانا ہے اور مراد اس سے رحمت مشترکہ نہیں کہ اس سے اختصاص مقصود (شایان شان) ثابت نہیں ہوتا۔ بلکہ رحمت خاصہ ہے جو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی شان عالی کے مناسب ہے“۔ (”بیان القرآن“ جلد ۹ ص ۶۳)
آگے ارشاد فرماتے ہیں: ”جو رحمت خاصہ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر اللہ کریم فرماتا ہے‘ فرشتوں کا درود اللہ کی اسی رحمت خاصہ کے لیے دعا ہے“۔ (”بیان القرآن“
(جلد ۹ ص ۶۳)
پیر محمد کرم شاہ الازہری اس کی تائید میں یوں لکھتے ہیں: "جب اس کی نسبت ملائیکہ کی طرف ہو تو صلوٰۃ کا معنی دعا ہے کہ ملائیکہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں اس کے پیارے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے درجات کی بلندی اور مقامات کی رفعت کے لیے دست بدعا اٹھائے رہتے ہیں"۔
(”ضیاء القرآن“ جلد ۴ ص ۸۹)
مولانا مودودیؒ بھی اس کی شرح میں یوں رقم طراز ہیں: "ملائیکہ کی طرف سے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر صلوٰۃ کا مطلب یہ ہے کہ وہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے غایت درجہ کی محبت رکھتے ہیں اور آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے حق میں اللہ سے دعا کرتے ہیں کہ وہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو زیادہ سے زیادہ بلند مرتبے عطا فرمائے اور آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے دین کو سربلند کرے۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی شریعت کو فروغ بخشے اور آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو مقام محمود پر پہنچائے"۔ (”تفہیم القرآن“ جلد ۴‘ ص ۱۳۳)
علامہ ابن حجر عسقلانیؒ لکھتے ہیں: "صلوٰۃ ملائیکہ کے معنی یہ ہوں گے کہ اللہ سے اس کی رحمت طلب کی جائے اور مقصد طلب الزیادت ہے۔ طلب اصل صلوٰۃ نہیں"۔ (”فتح الباری‘ انوار محمدیہ“ ص ۵۱۸)
شیخ عبدالحق محدث دہلویؒ نے اللہ تعالیٰ کے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر درود بھیجنے کے حوالے سے تحریر فرمایا ہے: "انبیاء علیہم السلام کی صلوٰۃ خدا‘ ان کی ثناء و تعظیم ہے جو ہر ایک کے حال کے لائق ہے۔ خصوصاً سید الانبیاء صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر ان سب میں اخص اور افضل ہوگی"۔ (”مدارج النبوت“ ص ۵۵۸)
امام مبرو کے حوالے سے شیخ لکھتے ہیں: "صلوٰۃ خدا‘ رحمت الٰہی ہے اور صلوٰۃ ملائیکہ ان کی وہ رقت ہے جو طلب رحمت کے باعث ہوتی ہے"۔ (”مدارج النبوت“ ص ۵۵۸)
اب یہاں غور فرمائیے مذکورہ آیت کریمہ میں جب اللہ تعالیٰ اور فرشتوں کے درود بھیجنے کا
ذکر کیا گیا تو فقط یصلون کا لفظ استعمال کیا گیا لیکن جب مسلمانوں کو حکم دیا گیا تو ارشاد فرمایا:
صلوا عليه وسلموا تسليما
یعنی اس طرح درود پڑھو جس طرح درود پڑھنے کا حق ہے۔ خوب خوب درود پڑھو۔
عربی کا ایک قاعدہ ہے، جب ایک فعل کے ساتھ اس کا مصدر نصب کی حالت میں تنوین کی صورت میں آتا ہے تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے جس فعل کا حکم دیا گیا ہے اس فعل کو اتنے بھرپور طریقے سے ادا کیا جائے کہ اس حق کی ادائیگی میں کوئی کمی نہ رہ جائے۔
معلوم ہوا محسن انسانیت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے انسانیت پر اتنے حقوق ہیں کہ اگر ان کی ادائیگی کا اہتمام کیا جائے یعنی آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر درود و سلام پڑھا جائے تو جتنا بھی پڑھا جائے گا کم ہی ہو گا جبکہ حق تعالیٰ کا درود رحمت ہے اور ملائکہ کا درود طلب رحمت اور آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی ثناء و تعظیم احق ذمے ہے صرف نوع انسانیت کے کہ اسے خوب خوب ادا کرے، یہی حکم ہے، یہی نصیب ہے، یہی نجات ہے۔ اللہ سب کو توفیق عطا فرمائے۔ (آمین)
حضور ﷺ پر درود نہ بھیجنے والا شخص بخیل ہے:
حضرت سیدنا علی المرتضیٰؓ سے حضور اقدس صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا یہ ارشاد نقل کیا گیا ہے کہ بخیل ہے وہ شخص جس کے سامنے میرا ذکر کیا جائے اور وہ مجھ پر درود نہ بھیجے۔
(نسائی شریف)
علامہ سخاویؒ نے کیا ہی اچھا شعر نقل کیا ہے:
فهو البخيل و زيد وصف جبان
ترجمہ : ”جو شخص حضور اقدس صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر درود نہ بھیجے جس وقت کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا نام ذکر کیا جا رہا ہو۔ پس وہ پکا بخیل ہے اور اتنا اضافہ کر اس پر کہ وہ بزدل نامرد ہے“۔
ایک دوسری جگہ ارشاد نبوی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہے:
”حضرت قتادہؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”یہ بات ظلم سے ہے کہ کسی آدمی کے سامنے میرا ذکر کیا جائے اور وہ
مجھ پر درود نہ بھیجے"۔ (حوالہ "حقوق مصطفیٰ" ص ۲۲۰) یقیناً اس شخص کے ظلم میں کیا تردد ہے جو محسن انسانیت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے اتنے احسانات کے باوجود بھی بخل کرے اور حق انسانیت ادا نہ کرے۔
رسول اللہ ﷺ پر درود شریف نہ پڑھنے پر وعید:
"حضرت کعب بن عجرہؓ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ "منبر کے قریب ہو جاؤ"۔ ہم لوگ حاضر ہو گئے۔ جب حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے منبر کے پہلے درجے پر قدم مبارک رکھا تو فرمایا آمین! جب دوسرے درجہ پر قدم رکھا تو فرمایا 'آمین! اور جب تیسرے درجے پر قدم مبارک رکھا تو فرمایا آمین! جب آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم خطبہ سے فارغ ہو کر نیچے اترے تو عرض کیا کہ ”ہم نے آج آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے (منبر پر چڑھتے ہوئے) ایسی بات سنی جو پہلے کبھی نہیں سنی۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ "اس وقت حضرت جبرئیل علیہ السلام میرے سامنے آئے تھے۔ جب پہلے درجہ پر قدم رکھا تو انہوں نے کہا ' ہلاک ہو جائے وہ شخص جس نے رمضان المبارک کا مہینہ پایا پھر بھی اس کی مغفرت نہ ہوئی۔ میں نے کہا ' آمین! پھر جب دوسرے درجے پر چڑھا تو انہوں نے کہا ' ہلاک ہو جائے وہ شخص جس کے سامنے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا ذکر مبارک ہو اور وہ درود نہ بھیجے۔ میں نے کہا آمین! جب میں تیسرے درجے پر چڑھا تو انہوں نے کہا ' ہلاک ہو وہ شخص جس کے سامنے اس کے والدین یا دونوں میں سے کوئی ایک بھی بڑھاپا پائے اور وہ (ان کی خدمت میں کسر چھوڑ دے) ان کو جنت میں داخل نہ کروائیں۔ میں نے کہا آمین"۔ ("حقوق مصطفیٰ" از مولانا مفتی محمود حسن گنگوہیؒ ' ص ۲۱۸)
حضرت ابو ہریرہؓ نے حضور اقدس صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا ارشاد پاک نقل کیا ہے:
”جو قوم کسی مجلس میں بیٹھے اور اس مجلس میں اللہ تبارک و تعالیٰ کا ذکر اور اس کے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر درود نہ ہو تو یہ مجلس ان پر قیامت کے دن وبال ہو گی۔ پھر اللہ کو اختیار ہے کہ وہ ان کو معاف کر دے یا عذاب دے"۔
(”حقوق مصطفیٰ“ از مولانا مفتی محمود حسن گنگوہیؒ ، ص ۲۲۰) ۔
ایک دوسری حدیث شریف میں یوں مذکور ہے:
”حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا، جس کے سامنے میرا ذکر کیا گیا اور اس نے مجھ پر درود نہیں پڑھا‘ اس نے جنت کے راستے سے خطا کی“۔
(”حقوق مصطفیٰ“ از مولانا مفتی محمود حسن گنگوہیؒ ، ص ۲۲۱۔۲۲۰)
مندرجہ بالا احادیث طیبہ میں حضور اقدس صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے نام مبارک کے آنے پر درود شریف نہ پڑھنے والے کو بخیل، ظالم اور بدبخت وغیرہ فرمایا گیا ہے اور پھر حضرت جبرئیل کی بدعا ہی کیا کم تھی کہ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے آمین فرما کر مہر تصدیق ثبت کر کے درود شریف نہ پڑھنے والے کی ہلاکت کو یقینی فرما دیا۔
ان وعیدوں کا تقاضا ہے کہ جب بھی رسالت مآب صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا نام نامی ذکر کیا جائے‘ انتہائی عقیدت و احترام سے نذرانہ عقیدت کے گجرے درود شریف کی صورت میں پیش کیے جائیں۔
درود شریف کی اہمیت:
”ایک روز حضرت جبرئیل علیہ السلام نے حضور سرور کائنات صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی خدمت اقدس میں حاضر ہو کر عرض کیا کہ ”اللہ تعالیٰ نے جب مجھے پیدا کیا تو دس ہزار سال تک یہ پتا نہ چل سکا کہ میں کس مقصد کے لیے پیدا کیا گیا ہوں اور میں کیا ہوں؟ دس ہزار برس کے بعد ندا آئی: ”اے جبرئیل“۔ تب مجھے معلوم ہوا کہ میرا نام جبرئیل ہے۔ میں نے فوراً جواب دیا کہ ”لبیک اللہم لبیک“ اللہ تعالیٰ نے حکم فرمایا کہ میری تقدیس بیان کرو۔ میں نے دس ہزار برس یہ کیا۔ پھر حکم ہوا کہ میری بزرگی بیان کرو۔ دس ہزار برس تک بزرگی بیان کرتا رہا۔ اس کے بعد مجھ پر انوارِ عرش ظاہر ہوا۔ عرش پر لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ لکھا ہوا دیکھا۔ میں نے دریافت کیا: ”اے باری تعالیٰ محمد رسول اللہ کون ہیں؟“ ارشاد ہوا: ”اے جبرئیل‘ اگر محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نہ ہوتے تو میں تجھ کو پیدا نہ کرتا بلکہ نہ جنت پیدا کرتا نہ دوزخ‘ نہ چاند نہ سورج۔ اے جبرئیل محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم پر درود پڑھو“۔ چنانچہ دس ہزار سال تک حضور صلی اللہ
علیہ و آلہ وسلم پر درود پڑھتا رہا“۔ (ایک گمنام عاشق رسول انام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم‘ ص ۱۰۹)
درود شریف کا پڑھنا جہاں قرآن مجید کی رو سے سنت خداوندی اور سنت ملائیکہ ہے‘ وہاں انبیاء کرام علیہم السلام کی بھی سنت ہے۔ ابوالبشر حضرت آدم علیہ السلام اور دیگر انبیاء کرام کے بارے میں کتابوں میں یہ حقیقت مرقوم ہے۔ ”شفاء القلوب“۔ ”معارج النبوت“۔ ”زادالسعید“۔ ”تبلیغی نصاب“۔ ”آب کوثر“ اور دوسری کتابوں میں ہے کہ
”اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام اور حضرت حوا علیہا السلام کے نکاح میں درود شریف کو حق مہر قرار دیا“۔ (”شفاء القلوب“ ص ۹۲۔ ۱۹۱‘ ”آب کوثر“ ص ۹۳۔ ۹۴‘ ”فلاح الدارین“ ص ۱۲۵‘ ”معارج النبوت“ ص ۲۷۴)
”پھر حضرت آدم علیہ السلام نے دس بار درود شریف پڑھا تو اللہ تعالیٰ نے نکاح حضرت حوا کے ساتھ کر دیا۔ بعض کتابوں میں درود شریف کی تعداد تین یا بیس مرتبہ ہے“۔ (”زاد السعید‘ ص ۱۸‘ ”تبلیغی نصاب باب فضائل درود شریف“ ص ۵۱‘ ”نمانی“ ”انوار محمدیہ“ ص ۲۷)
ایک دوسری جگہ یوں مذکور ہے:
”حضرت آدم علیہ السلام نے حق مہر میں سو مرتبہ درود شریف پڑھا۔ (ایک گمنام عاشق رسول انام‘ فضائل و برکات درود شریف‘ ص ۴۱۶)
ابوالبشر حضرت آدم علیہ السلام کے علاوہ دیگر انبیاء کرام بھی درود پڑھا کرتے تھے۔ مختلف حوالوں سے مفہوم درج کیا جاتا ہے:
”اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام پر وحی بھیجی کہ اے موسیٰ! اگر دنیا میں میری تعریف کرنے والے نہ رہیں تو ایک قطرہ بارش کا آسمان سے نہ بھیجوں اور ایک دانہ سبزی کا زمین پر نہ اگاؤں۔ اسی طرح بہت سی چیزیں ذکر کیں۔ یہاں تک کہ فرمایا: اے موسیٰ! کیا تم چاہتے ہو کہ میں تمام سے قریب ہو جاؤں جیسا کہ تمہارا کلام تمہاری زبان سے قریب ہے یا جس طرح کہ وسوسہ تمہارے قلب کا تمہارے دل سے اور تمہاری روح تمہارے بدن سے اور تمہاری روشنی چشم تمہاری آنکھ سے۔ موسیٰ علیہ السلام نے عرض کیا کہ اے میرے رب! میں یہی چاہتا ہوں!
اللہ تبارک و تعالیٰ نے ارشاد فرمایا: محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر کثرت سے
درود شریف پڑھا کرو۔ تب تمہیں یہی نسبت حاصل ہو جائے گی"۔ ("جذب القلوب" ص ۲۶۶، "آب کوثر" ص ۹۲، "تبلیغی نصاب باب فضائل درود شریف" ص ۱۰۴، "ایک گمنام عاشق رسول انام" ص ۲۵۶- ۲۵۵، "نبہانی فضائل درود شریف" ص ۳۷- ۳۸، "القول البدیع" ص ۱۴۲، "سعادة الدارین" ص ۸۷، "معارج النبوت" ص ۴۰۸، "مقاصد السالکین" ص ۵۴، "فلاح الدارین" ص ۱۴۴)
جب حضرت موسیٰ علیہ السلام کو خدا نے کہا کہ میرا قرب حاصل کرنے کا طریقہ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم پر درود شریف پڑھنا ہے تو
"حضرت موسیٰ علیہ السلام نے دریافت کیا کہ اے پروردگار عالم محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کون ہیں جن پر درود پاک بھیجنے کے بغیر مجھے تیری قربت نصیب نہیں ہو سکتی اور جن کے وسیلہ کے بغیر تیرے قریب نہیں آیا جا سکتا۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ارشاد فرمایا: "اے موسیٰ اگر محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اور ان کی امت نہ ہوتی تو میں بہشت پیدا کرتا نہ دوزخ! آفتاب روشن ہوتا نہ مہتاب! نہ دن پیدا کرتا نہ رات نہ کوئی ملک مقرب ہوتا نہ نبی مرسل، موسیٰ نہ تم ہوتے!
اگر تم حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی نبوت کا اقرار نہ کرتے اور اس پر درود نہ بھیجتے تو تمہیں بھی آتش دوزخ میں جانا ہوتا اگرچہ ابراہیم خلیل اللہ ہی کیوں نہ ہوتے۔ میرے محبوب صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی نبوت کا اقرار کیے بغیر بخشش کے حق دار نہ ہوتے۔
حضرت موسیٰ علیہ السلام نے عرض کیا: "اے اللہ میں تیرے محبوب صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی نبوت کا اقرار کرتا ہوں اور گواہی دیتا ہوں اور ان پر درود بھیجتا ہوں لیکن مجھے یہ دریافت کرنے کی اجازت ہونی چاہیے کہ میں آپ کا زیادہ دوست ہوں یا محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم؟" اللہ نے فرمایا: "اے موسیٰ! تم میرے کلیم ہو اور محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم میرے حبیب ہیں اور حبیب کلیم سے زیادہ محبوب ہوا کرتا ہے"۔ ("معارج النبوت" ص ۳۰۹)
امام محمد بن غزالیؒ لکھتے ہیں: "اللہ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام پر وحی نازل فرمائی کہ اے موسیٰ اگر تم چاہتے ہو کہ میں تمہاری زبان پر تمہارے کلام سے، تمہارے دل میں تمہارے خیالات
سے، تمہارے بدن میں تمہاری روح سے، تمہاری آنکھوں میں نور بصیرت سے، اور تمہارے کانوں میں قوت سماعت سے زیادہ قریب ہو جاؤں تو پھر محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم پر کثرت سے درود بھیجو"۔ (محمد الغزالی امام، "نفسانی خواہشات اور شیطان کا غلبہ" ص ۳)
شفاء القلوب میں یوں مرقوم ہے: "حضرت موسیٰ علیہ السلام نے امت محمدیہ کی فضیلت کو دیکھا تو حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم پر درود شریف پڑھنے لگے"۔ ("شفاء القلوب" ص ۲۸۶)
حضرت امام جعفر صادق فرماتے ہیں: "جب جمعرات کا دن آتا ہے تو عصر کے وقت اللہ تعالیٰ آسمان سے فرشتے زمین پر اتارتا ہے۔ ان کے پاس چاندی کے ورق اور سونے کے قلم ہوتے ہیں۔ جمعرات کی عصر سے لے کر جمعہ کے دن غروب آفتاب تک زمین پر رہتے ہیں اور وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم پر درود پاک پڑھنے والوں کا درود پاک لکھتے ہیں"۔ ("فلاح الدارین" ص ۱۲۷-۱۲۸)
حضرت امام شافعیؒ کا ارشاد گرامی ہے: "میں اس چیز کو محبوب رکھتا ہوں کہ انسان ہر حال میں درود شریف کا ورد کثرت سے کرے"۔ ("ایک گمنام عاشق رسول انامؒ" ص ۱۲۸)
حضرت صاویؒ درود شریف کی فضیلت بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں: "دیگر وظائف مرشد کے بغیر ممکن نہیں کیونکہ ان میں شیطان دخل اندازی کر لیتا ہے مگر درود شریف میں مرشد خود آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم ہیں، لہٰذا شیطان دخل اندازی نہیں کر سکتا"۔ ("فلاح الدارین" ص ۱۲۹)
فضائل درود شریف:
حدیث شریف میں ارشاد ہے: "حضرت ابو طلحہؓ روایت کرتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم ایک روز بہت ہی ہشاش بشاش تشریف لائے۔ چہرہ انور پر بشاشت کے انوار تھے۔ ہم نے عرض کیا: یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم)، آپ (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) کے چہرہ انور پر آج بہت ہی بشاشت ظاہر ہو رہی ہے۔ حضور اقدس صلی
اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا (صحیح ہے) میرے پاس فرشتہ آیا اور کہا: اے محمد (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) بے شک آپ (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کا رب فرماتا ہے کہ کیا تو اس سے راضی نہیں کہ جو آپ (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) پر ایک بار درود بھیجے گا‘ میں اس پر دس دفعہ درود (رحمت) بھیجوں گا اور جو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر ایک بار سلام بھیجے گا‘ میں اس پر دس دفعہ سلام بھیجوں گا“۔ (”جمع الفوائد“ جلد ۲‘ ص ۳۷۲)
بندے کا درود شریف خود آنحضور ﷺ بھی سنتے ہیں:
حضرت ابو ہریرہؓ سے مروی ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جو شخص میری قبر کے قریب درود و سلام پڑھتا ہے‘ میں اس کو خود سنتا ہوں اور جو دور سے مجھ پر درود و سلام بھیجتا ہے وہ میرے پاس پہنچا دیا جاتا ہے“۔ (بیہقی)
علامہ سخاویؒ‘ سلیمان بن سحیمؒ سے کمال بات نقل کر گئے ہیں۔ فرماتے ہیں:
”میں نے خواب میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی زیارت کی۔ میں نے دریافت کیا‘ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم‘ یہ جو لوگ حاضر ہو رہے ہیں اور آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر سلام پڑھ رہے ہیں‘ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اس کو سمجھتے ہیں“۔
حضور اقدس صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”ہاں‘ میں سمجھتا بھی ہوں اور ان کے سلام کا جواب بھی دیتا ہوں“۔ (قول البدیع)
علامہ سخاویؒ مزید رقم طراز ہیں کہ کسی بندے کی شرافت کے لیے یہ کافی ہے کہ اس کا نام خیر کے ساتھ حضور اقدس صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی مجلس میں آجائے۔
حقیق بان ليسموا وان يتقدما
ترجمہ: ”جس خوش قسمت کا خیال بھی تیرے دل میں گزر جائے‘ وہ اس کا مستحق ہے کہ جتنا بھی چاہے‘ فخر کرے اور پیش قدمی کرے۔ (خوب خوشیاں منائے)
حدیث شریف میں ہے:
”بے شک اللہ تعالیٰ کے کچھ فرشتے زمین میں پھرنے والے ہیں جو میری امت کا سلام مجھ تک پہنچاتے ہیں“۔ (”نسائی شریف“ ”جمع الفوائد“ جلد ۳‘ ص ۲۷۲)
یعنی امتی جہاں بھی اپنے آقا کو یاد کرے گا‘ فرشتوں کے ذمے ہے کہ امتی کا وہ درود و سلام لے کر بارگاہ نبوت میں پیش کریں۔ جو نبی درود و سلام‘ سرور دو سرا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں پیش ہوتا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جواب مرحمت فرماتے ہیں اور جو شخص کثرت سے درود شریف پڑھنے والا ہو‘ مقام شکر ہے کہ کس کثرت سے بارگاہ نبوت میں اس کی حاضریاں لگتی ہوں گی اور پھر حضور رسالت ماب صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا یہ ارشاد کہ درود و سلام کا جواب دیا جاتا ہے۔
صد سلام میرا بس یکے جواب از تو
یعنی میرے ہر سلام پر اپنے لبوں کو زحمت نہ دیجئے۔ مجھے تو اپنے سو سلاموں کے عوض آپ کا ایک جواب بھی کافی ہے۔
لیکن وہ کیا ہے کہ ماں اپنی اولاد پر اتنی مہربان نہیں ہوتی جتنی نبوت اپنے ماننے والوں پر مہربان ہوتی ہے۔
علی حبیبک خیر خلق کلہم
- ٭ بارگاہ رسالت ماب صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم میں خالق اکبر کے چار مقرب فرشتے درود
شریف پڑھنے والے کے لیے چار انمول انعام مقرر کرتے ہیں:
”ایک بار نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت اقدس میں اللہ تعالیٰ کے چاروں مقرب فرشتے حاضر ہوئے۔ حضرت جبرئیل علیہ السلام نے عرض کی: یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) اگر آپ (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) پر کوئی دس بار درود شریف پڑھے گا تو میں اسے پل صراط سے بجلی کی سی تیزی سے گزاروں گا۔ حضرت میکائیل علیہ السلام نے آگے بڑھ کر عرض کی: یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) ایسے شخص کو میں آب کوثر پر پہنچا کر سیراب کروں گا۔ حضرت اسرافیل علیہ السلام کہنے لگے: میں بارگاہ رب العزت میں اس وقت تک پڑا رہوں گا جب تک وہ بخشا نہیں جاتا۔ حضرت عزرائیل علیہ السلام نے عرض کی:
میں اس کی روح اتنی آسانی سے قبض کروں گا جس طرح انبیاء علیہم السلام کی روح قبض کی جاتی ہے“۔ (”شفاء القلوب“ ص ۲۳۹)
حضرت کلیم اللہ علیہ السلام میدان حشر کی پیاس سے بچنے کا وظیفہ ارشاد فرماتے ہیں:
”مسالک الحنفاء“ میں ہے کہ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ کلیم اللہ علیہ الصلوۃ والسلام کی طرف وحی بھیجی: ”اے موسیٰؑ آپ چاہتے ہیں کہ آپ کو قیامت کے دن پیاس نہ لگے“۔ عرض کی: ”ہاں‘ یا اللہ“۔ ارشاد باری ہوا: ”اے پیارے کلیم ! میرے حبیب صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر درود پاک کی کثرت کر“۔ (”آب کوثر“‘ ص ۹۳‘ ”جذب القلوب“ ص ۴۶۶‘ نبہانی‘ فضائل درود شریف“ ص ۴۷‘ ”فلاح دارین“ ص ۱۴۴)
----اور موسیٰؑ اور ان کی قوم کو‘ فرعونیوں کے ظلم و ستم سے نجات
مل گئی:
”حضرت موسیٰ علیہ السلام اپنی قوم کو فرعونیوں کے ظلم و ستم سے بچا کر دریائے نیل کے کنارے پہنچے تو حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اپنے عصا کو مار کر دریائے نیل کو حکم دیا کہ راستہ چھوڑ دے مگر دریا نے جنبش تک نہ کی۔ لیکن وحی نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کے دل میں ڈال دیا کہ حضرت رسول مقبول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی روح پر درود پڑھ کر عصا مارو۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے ایسا ہی کیا تو دریا میں راستے بن گئے اور بنی اسرائیل دریا کو عبور کر گئے“۔
-
(”شفاء القلوب“ ص ۲۸۱‘ ۲۸۲)
درود العارفین کی برکت سے قرآن مجید حفظ ہو گیا:
”حضرت عثمان غنیؓ نے فرمایا کہ مجھے قرآن مجید حفظ نہیں ہوتا تھا۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھے ”درود العارفین“ سکھایا تو اس کی برکت سے مجھے قرآن مجید حفظ ہو گیا“۔ (”ایک گمنام عاشق رسول انام“‘ ص ۲۱۵)
- ☆ جام حوض کوثر‘ نوش جاں کرنے کے لیے درود شریف کا ورد ضروری ہے:
"حضرت حسن بصریؒ عارف باللہ‘ عالم اور محدث گزرے ہیں۔ آپؒ فرماتے ہیں: "جو شخص چاہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ہاتھوں حوض کوثر سے لبریز پیالہ پیئے تو وہ درود شریف پڑھا کرے۔"۔ ("آب کوثر" ص ۱۴۲)
حضور ﷺ کی سفارش پر حساب نہ لیا گیا:
"ابن نبان صنعانی فرماتے ہیں کہ میں خواب میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی زیارت سے مشرف ہوا اور عرض کیا: ”یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم آپ نے امام شافعیؒ کو نفع عطا کیا ہے؟۔ فرمایا: ”ہاں‘ میں نے اللہ تعالیٰ سے عرض کر دیا ہے کہ شافعیؒ کا حساب نہ لیا جائے"۔ میں نے عرض کیا: ”یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم‘ یہ امام شافعیؒ کے کس عمل کی وجہ سے ہے؟" فرمایا: ”وہ مجھ پر ایسا درود پڑھتے ہیں جیسا کسی اور نے نہیں پڑھا"۔ میں نے عرض کی: ”یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم وہ کون سا درود شریف ہے"۔ فرمایا: "امام شافعیؒ یوں پڑھا کرتے ہیں: اللهم صلی علی محمد کلما ذکرة الذاکرون و صل علی محمد کلما غفل ذکرة الغافلونO ("آب کوثر" ص ۲۳۱)
درود شریف کی برکت سے امام شافعیؒ کو جنت عطا کر دی گئی:
”روضتہ الاحباب میں امام اسمعیل بن ابراہیمؒ فرنی‘ جو امام شافعیؒ کے بڑے شاگرد تھے‘ سے نقل ہے کہ امام شافعیؒ انتقال کے بعد انہیں خواب میں نظر آئے اور پوچھنے پر بتایا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو بخش دیا ہے بلکہ حکم دیا ہے کہ انہیں احترام سے جنت میں لے جاؤ اور یہ سب اس درود کی برکت سے ہوا ہے"۔ (درود شریف اوپر مذکور ہے)۔ ("ایک گمنام عاشق رسول انام‘ ص ۲۲۷)
کھجور کی گٹھلیاں درود شریف کی برکت سے دینار بن گئیں اور----:
"حضرت فرید الدین شکر گنجؒ کے پاس کچھ آدمی آئے۔ انہوں نے بتایا کہ خانہ
کعبہ کی زیارت کے لیے جانا ہے مگر زاد راہ نہیں ہے۔ اس پر حضرت شکر گنجؒ نے کھجور کی چند گٹھلیاں لیں اور ان پر درود شریف پڑھ کر پھونک ماری اور وہ ان کو دے دیں۔ وہ گٹھلیاں درود شریف کی برکت سے دینار بن گئیں!“ (”آب کوثر“
ص ۱۳۳-۱۳۴)
عشق رسول ﷺ کا ایک اور انداز !!!
”شیخ مسعود رازیؒ کی رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے محبت کا ایک نیا انداز تھا۔ وہ مزدوروں کو اپنے گھر لے آتے جس سے مزدوروں کو یہ گمان ہوتا کہ شاید کوئی تعمیر کا کام ہے مگر یہ ان کے ساتھ بیٹھ جاتے اور سارا دن درود شریف پڑھتے رہتے۔ چھٹی کے وقت ان کو پوری اجرت دے کر رخصت کر دیتے“۔ (”آب کوثر“ ص ۱۸۷، ”فلاح دارین“ ص ۱۶۵)
درود شریف کی برکت سے مرض جاتا رہا!
”شیخ شبلیؒ کے زمانے میں ایک بادشاہ بیمار ہو گیا۔ چھ ماہ گزرنے کے باوجود کہیں سے آرام نہ آیا۔ جب اسے پتہ چلا کہ شیخؒ یہاں آئے ہوئے ہیں تو بلاوا بھیجا۔ شیخ شبلیؒ آئے اور درود شریف پڑھ کر اس کے جسم پر ہاتھ پھیرا، وہ اسی وقت تندرست ہو گیا“۔ (”آب کوثر“ ص ۱۳۳)
پھولوں کی کڑواہٹ درود شریف کی برکت سے شہد ہو جاتی ہے!
”ایک بار حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ایک جنگلی سفر پر روانہ ہوئے۔ دوران سفر کھانا کھانے لگے۔ تمام صحابہ کرامؓ کو فرمایا کسی کے پاس سالن ہے تو لے آؤ تاکہ تمام مل کر کھانا کھائیں۔ تمام صحابہؓ نے عرض کی: ”یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم آج تو کسی کے پاس کچھ بھی نہیں“۔ اسی اثناء میں شہد کی ایک مکھی کان کے پاس گھوں گھوں کرتی سنائی دی۔ صحابہؓ نے عرض کی: ”یا رسول اللہ صلی
اللہ علیہ و آلہ وسلم یہ مکھی کیا کہتی ہے”۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”یہ مکھی کہتی ہے کہ ہمارے پاس بہت سا شہد ہے لیکن ہم اٹھا کر لانے سے قاصر ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کوئی آدمی بھیجیں تاکہ وہ شہد لیتا آئے“۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حضرت علیؓ کو حکم دیا کہ وہ اس مکھی کے پیچھے جائیں۔ مکھی آپؓ کو ایک غار کے دہانے پر لے گئی‘ جہاں ایک بہت بڑا چھتا شہد سے بھرا تیار تھا۔ حضرت علیؓ نے اپنی مرضی کے مطابق شہد حاصل کیا اور حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں پیش کیا۔ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے سب کو تقسیم کیا۔ وہی مکھی دوسری بار حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سر مبارک پر منڈلانے لگی۔ صحابہؓ نے عرض کی: ”حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اب کیا کہتی ہے؟“ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے اس سے دریافت کیا ہے کہ یہ شہد کس طرح اکٹھا کرتی ہو؟ اس نے بتایا کہ ہم میں ایک سردار مکھی ہوتی ہے۔ تمام مکھیاں اس کے حکم سے پھلوں اور پھولوں سے رس چوس چوس کر چھتے میں لاتی رہتی ہیں اور وہ اس پر درود پڑھتی ہے۔ اس درود پاک کی برکت سے تمام پھلوں اور پھولوں کی تاثیر بدل کر شہد کی مٹھاس میں تبدیل ہو جاتی ہے“۔ (”شفاء القلوب“ ص ۲۴۶)
غور فرمائیے! ایک مکھی ہے جو درود شریف پڑھتی ہے‘ باقی رس چوس چوس کر لاتی ہیں۔ کیا یہ ممکن نہیں کہ وہ ایک مکھی اسی لیے سردار بنا دی گئی ہو کہ درود شریف سکھا دی گئی ہے؟ آسان الفاظ میں بیان کرتا ہوں! درود شریف کا سیکھنا اور پڑھنا دونوں جہانوں کی سرداری ہے اللہ سب کو عطا فرمائے۔ (آمین)
ایک اونٹ آپ ﷺ پر سلام پڑھنے کی وجہ سے کیا کیا مقام پا گیا:
”ایک بار حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مومنین کو صدقہ کی تلقین فرما رہے تھے کہ ایک اعرابی آن پہنچا‘ جس کے پاس بڑا خوبصورت اونٹ تھا۔ بڑا خوش رفتار اور خوش خرام۔ اس نے اسے ایک جگہ کھڑا کر دیا۔ سحری کے وقت جب حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم گھر سے نکلے تو وہ اونٹ فصیح و بلیغ انداز میں پڑھتا جا رہا تھا: ”السلام علیک یا زین القیامہ‘ السلام علیک یا خیر
البشر‘ السلام علیک یا فاتح الجنان‘ السلام علیک یا شافع الامم‘ السلام علیک یا قائد المومنین فی القیامه الجنه‘ السلام علیک یا رسول رب العالمین“
”حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے یہ الفاظ سنتے ہی اونٹ کی طرف توجہ فرمائی اور اس کا حال پوچھا۔ تو کہنے لگا: ”یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں اس اعرابی کے پاس تھا۔ وہ مجھے ایک سنسان جنگل میں باندھ دیا کرتا تھا۔ رات کے وقت جنگل کے جانور میرے اردگرد جمع ہو جاتے اور کہتے 'اسے نہ چھیڑنا یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی سواری ہے۔ میں اس روز سے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ہجر و فراق میں تھا۔ آج اللہ نے احسان فرمایا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تک پہنچا ہوں“۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اونٹ کی یہ باتیں سن کر بڑے خوش ہوئے اور زیادہ التفات فرمانے لگے اور اس کا نام ”غضا“ رکھا۔
اونٹ نے عرض کی 'یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مجھے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے ایک درخواست کرنا ہے:
”آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پوچھا: ”وہ کیا“۔ عرض کی: ”آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اللہ تعالیٰ سے یہ بات منظور کروا لیجئے کہ جنت میں مجھے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی سواری بنایا جائے۔ دوسری بات یہ کہ مجھے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے وصال سے پہلے موت آ جائے ۔ یہ اس لیے کہ کوئی دوسرا میری پشت پر سواری نہ کر سکے“۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسے یقین دلایا کہ تمہاری پشت پر کوئی سواری نہ کر سکے گا سوائے میرے ۔ جب حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے وصال کا وقت قریب آیا تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حضرت فاطمہؓ کو بلا کر وصیت کی کہ غضا پر میرے بعد کوئی بھی سواری نہ کرے کیونکہ میں نے اس سے عہد کیا ہوا ہے۔ بیٹی! تم خود اس کی دیکھ بھال اور نگرانی کرنا۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے بعد اونٹ نے کھانا پینا چھوڑ دیا اور آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے فراق میں گم صم رہنے لگا۔
ایک رات حضرت فاطمہؓ اس اونٹ کے پاس سے گزریں۔ وہ اونٹ آپؓ کو دیکھ کر کہنے لگا: ”اے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی صاحبزادیؓ! جب سے
میرے آقا و مولیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا وصال ہوا ہے، میں نے گھاس کھانا اور پینا چھوڑ دیا ہے۔ خدا کرے کہ مجھے موت آئے، کیونکہ مجھے اس زندگی سے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی غلامی زیادہ عزیز ہے۔ میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں جا رہا ہوں۔ اگر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا کوئی پیغام ہو تو میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت اقدس میں پہنچا دوں!“ حضرت فاطمۃ الزہراؓ اونٹ کی باتوں سے بڑی مغموم ہوئیں اور رونے لگیں اور اونٹ کے سر کو اپنے بازوؤں میں لے کر اپنے ہاتھوں کو اس کے چہرے پر ملنے لگیں (دلاسہ دینے لگیں) کہتے ہیں اسی حالت میں اونٹ نے جان دے دی۔
علی الصباح حضرت فاطمہؓ نے اس کے لیے کفن تیار کروایا اور گہرا سا گڑھا کھدوا کر اسے دفن کر دیا۔
غور طلب بات یہ ہے کہ سیدہ فاطمہؓ اونٹ کے مرنے کے تین دن بعد اس گڑھے پر تشریف لائیں اور قبر کو اکھاڑنے کا حکم دیا۔ اس گڑھے میں اونٹ کا نام نشان نہ تھا۔ گوشت پوست اور ہڈیاں بھی غائب تھیں”۔ (معارج النبوت” جلد
۳ ص ۴۰۱)
درود شریف کی برکت سے آگ نے اثر نہ کیا:
”ایک دن حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی مسجد میں تشریف فرما تھے کہ ایک اعرابی ہاتھ میں طشتری پکڑے حاضر ہوا اور ایک پکی مچھلی رومال میں ڈھانپ کر پیش کی۔ کہنے لگا: ”یا رسول اللہ صلی اللہ علیک وسلم، میں اس مچھلی کو تین دن سے پکا رہا ہوں مگر اس پر آگ کا اثر ہی نہیں ہوا۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہ بات سن کر متردد ہوئے کہ معاملہ کیا ہے؟
اسی اثناء میں حضرت جبرئیل علیہ السلام حاضر ہوئے اور کہا: ”یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم، اس مچھلی کو حکم دیجئے کہ حقیقت واقعہ بیان کرے“۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مچھلی کو اشارہ کیا۔ وہ نہایت فصیح زبان میں گویا ہوئی: ”یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہ شکاری مجھے جال میں رکھ کر اپنے گھر کی طرف آ رہا تھا اور راستے میں اس نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود پڑھنا شروع کر دیا۔ میں بھی اس کے ساتھ درود پڑھتی گئی، اس درود کی برکت
سے میرے بدن پر آگ کا اثر نہیں ہو رہا"۔ ("شفاء القلوب" ص ۲۵۵-۲۵۶)
درود شریف تمام جسمانی بیماریوں کے لیے مجرب دوا:
"درود شریف کے فضائل و فوائد میں بزرگوں نے جہاں اور بے شمار چیزوں کا ذکر کیا ہے، وہاں جسمانی بیماریوں کے لیے بھی درود شریف کے مختلف صیغوں کو ایک خاص تعداد میں پڑھنے سے جسمانی بیماریوں اور وبائوں سے محفوظ رہنے کے لیے بھی مجرب لکھا ہے۔ لوگ اس شافی و کافی علاج سے فیض یاب ہوتے رہے ہیں۔ اکابر نے جس تفصیل سے اس موضوع پر طبع آزمائی کی ہے، یہ انھی کا طرہ امتیاز تھا۔ یہاں صرف ان چند ایک حکایات کو ذکر کیا جا رہا ہے جس کا حاصل محض ایمانی لذت کا حصول ہے"۔
اندھوں کو بینائی مل گئی:
"ایک نوجوان جو بدقسمتی سے نابینا ہو گیا تھا، حضرت فخر الاولیاء حضرت خواجہ محمد سلیمان تونسویؒ کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہا کہ حضرت! میں نابینا ہوں، دعا فرمائیے کہ خداوند کریم مجھے روشنی چشم عطا کرے۔ انہوں نے فرمایا کہ درود شریف پڑھا کرو۔ وہ کہنے لگا، درود تو میں پڑھتا رہتا ہوں۔ انہوں نے فرمایا کہ درود شریف ایسی چیز نہیں کہ پڑھے اور تیری آنکھیں روشن نہ ہوں؟ جب اس نے نو لاکھ پورے کیے تو خداوند کریم نے اسے بینائی عطا کر دی۔ آپ نے یہ بھی فرمایا کہ صاحبزادگان کے اقرباء میں سے ایک شخص نابینا ہو گیا تھا، اس نے بھی درود شریف کثرت سے پڑھنا شروع کر دیا۔ ایک ماہ میں فائز المرام ہو کر بینا ہو گیا"۔
("خاتم سلیمانی" ص ۱۳۹)
درود کمالہ آنکھوں کی روشنی:
"آنکھوں میں سرمہ ڈالتے وقت درود کمالہ کو پڑھنے سے آنکھیں روشن رہتی ہیں اور تمام بیماریوں سے محفوظ رہتی ہیں"۔ ("شفاء القلوب" ص ۱۹۳)
درود شریف کا پورا فائدہ:
"صلوٰۃ الابرار" میں یہ واقعہ درج ہے کہ شیخ ابو عمرانؒ شیخ ابو علیؒ کے گھر مہمان ٹھہرے اور دیکھا کہ شیخ ابو علیؒ زکام کے دائمی مریض ہیں اور کسی قسم کی بو سونگھنے سے قاصر ہیں۔ شیخ ابو عمرانؒ انہیں کہنے لگے: "تم نے ابھی درود شریف کے پورے فائدے حاصل نہیں کیے۔ تم میرا ہاتھ سونگھو، میں درود کا مسلسل پڑھنے والا ہوں"۔ جب انہوں نے ہاتھ سونگھ کر سانس چھوڑا تو کمرہ کستوری کی خوشبو سے بھر گیا۔ نہ صرف گھر بلکہ ہمسائیوں کو بھی کستوری کی خوشبو نے بیدار کر دیا"۔ ("الشفاء القلوب" ص ۲۴۱-۲۴۲)
اگر نیند کم آتی ہو تو.....:
"مولانا محمد زکریاؒ فرماتے ہیں کہ اگر نیند کم آتی ہو تو درود شریف کثرت سے پڑھنا چاہیے"۔ ("فضائل درود شریف" ص ۲۷، از مولانا محمد زکریاؒ )
تمام سمندروں کا پانی اس درود کا اجر نہیں لکھ سکتا:
"شفاء القلوب" میں یوں مذکور ہے کہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا، اگر کسی کے کان میں گرانی ہو یا درد ہو تو درود شریف پڑھے۔ اس کے ثواب و اجر کے علاوہ بیماری سے نجات مل جائے گی۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا، اگر تمام سمندروں کا پانی سیاہی بنا دیا جائے تو پھر بھی اس درود کا اجر نہیں لکھ سکتے"۔ اللهم صل على سيدنا محمد و على آل سيدنا محمد فى الاولين و الاخرين و فى الملاء الاعلى الى يوم الدين
("شفاء القلوب" ص ۲۹۱-۲۹۲)
حضرت شیخ عبدالحق محدث دہلویؒ درود شریف کے فوائد میں ارشاد فرماتے ہیں: "درود شریف بیماریوں سے شفا کا ذریعہ ہے"۔ ("مدارج النبوت" جلد
اول، ص ۵۷۲)
قصہ مختصر یہ کہ۔
جو پڑھا کرتا ہے ہر دم ”الصلوٰۃ والسلام“
یہ صلوٰۃ و سلام پیش کرنے والے:
ماہنامہ ”نعت“ لاہور، ”درود و سلام نمبر ۵“ جلد ۳، میں حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی ایک حدیث شریف یوں نقل کی گئی ہے: ”حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ سال بھر تک شیر خوار بچے کو ہرگز نہ مارا کرو کیونکہ وہ شیر خوار بچہ پہلے چار مہینوں میں لا الہ الا اللہ اور دوسرے چار مہینوں میں سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر درود پڑھتا ہے اور تیسرے چار مہینوں میں اپنے ماں باپ کے لیے دعا کرتا ہے“۔ (ماہنامہ ”نعت“ لاہور، ”درود و سلام نمبر ۵“ جلد ۳، شمارہ ۴، مضمون از سید محمد اشرف جیلانی، ص ۷۳)
کثرت درود شریف سے فرشتہ رحمت پیدا ہوا اور ......:
”حضرت شبلیؒ فرماتے ہیں کہ میرا ایک پڑوسی مر گیا۔ چند روز بعد، میں نے اس کو خواب میں دیکھا۔ پوچھا، کہو کیسی گزری؟ تو اس نے جواب دیا کہ جس وقت قبر میں منکر و نکیر سوال و جواب کے لیے آئے تو خوف و دہشت کی وجہ سے میری زبان بند ہو گئی اور میں کچھ نہ کہہ سکا۔ میں اپنے دل میں کہنے لگا شاید میری موت اسلام پر نہیں ہوئی۔ اتنے میں ایک شخص نہایت وجیہ شکل میرے پاس آیا اور مجھے ہدایت کی کہ منکر نکیر کے سوالات کے جواب دو۔ میں نے دریافت کیا، اے مرد خدا تم کون ہو؟ تو اس نے جواب دیا کہ میں ایک فرشتہ ہوں، تیری کثرت درود خوانی سے خدا نے مجھے پیدا فرمایا ہے“۔ (ایضاً)
حدیث شریف سنی اور جنت سدھار گئے:
"بعض صالحین سے منقول ہے کہ ان کا ایک ہمسایہ نہایت ہی فاسق و فاجر اور بدکار تھا۔ وہ اپنے اس ہمسایہ کو ہر چند نصیحت کرتے لیکن کوئی نصیحت کارگر نہ ہوتی۔ قضائے الٰہی سے وہ شخص فوت ہو گیا۔ ایک روز ایک صالح اور متقی بزرگ نے اپنے ہمسایہ کو جنت میں دیکھا۔ بڑی حیرت ہوئی۔ پوچھا، تمہیں یہ درجہ اور یہ اعزاز کیونکر ملا؟ اس نے جواب دیا کہ میں ایک روز ایک مقام سے گزر رہا تھا۔ وہاں ایک محدث ایک حدیث شریف سنا رہے تھے: "اور جس شخص نے مجھ پر درود پڑھا تو جنت اس کے لیے واجب ہو گئی"۔ یہ سن کر میں نے بلند آواز سے درود شریف پڑھا۔ حق تعالیٰ شانہ نے میری مغفرت فرمادی"۔ (ایضاً، ص ۷۲)
جنت کا ایک عظیم الشان قبہ، حضور ﷺ پر درود شریف پڑھنے
والوں کے لیے مخصوص ہے:
"ایک روز جبرائیل علیہ السلام نے سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی خدمت اقدس میں حاضر ہو کر ارشاد فرمایا: "یا رسول اللہ صلی اللہ علیک وسلم! حق تعالیٰ نے آپ (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) کو جنت میں ایک بڑا عظیم الشان قبہ مرحمت فرمایا ہے۔ اس قبہ کا عرض تین سو سال کی مسافت ہے۔ اس قبہ میں آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا وہی امتی داخل ہو گا جو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم پر کثرت سے درود شریف پڑھتا رہا ہو"۔ (منازل الانوار)
مقام تشکر، مقام عظمت:
"مقاتل" فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے عرش کے نیچے ایک ایسا فرشتہ پیدا کیا ہے جس کے اتنے بڑے بڑے پر ہیں، جنہوں نے پورے عرش کا احاطہ کر رکھا ہے اور اس کے ہر بال پر
لا اله الا الله محمد رسول الله
لکھا ہوا ہے۔ پس جب کوئی شخص درود شریف تلاوت کرتا ہے، اس فرشتے کا ہر بال اس شخص کے لیے دعائے مغفرت کرتا ہے"۔ (ماہنامہ "نعت" لاہور، جلد ۳،
(شمارہ ۴، ص ۷۲)
انہونی ہو گئی:
”ایک دفعہ سفر میں عبداللہ بن سلیمان جزولیؒ کو وضو کی ضرورت پیش آئی۔ ایک کنوئیں پر پہنچے مگر اس میں رسی اور ڈول نہیں تھی۔ اس لیے مایوس ہو گئے۔ اتفاقاً ایک نوجوان لڑکی آئی۔ اس نے پریشانی کی وجہ پوچھی۔ انہوں نے واقعہ ارشاد فرمایا۔ اس لڑکی نے فوراً کنوئیں میں تھوک دیا۔ پانی کنارے تک ابل آیا۔ انہوں نے حیرت سے اس کرامت کا سبب دریافت کیا۔ وہ لڑکی کہنے لگی: ”یہ برکت بارگاہ رسالت ماب صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم میں درود و سلام پیش کرنے کا کرشمہ ہے“۔ (دلائل الخیرات)
ادھر یا ادھر:
”حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا‘ اللہ تعالیٰ نے دو فرشتے مقرر فرمائے ہیں۔ کوئی مومن جہاں کہیں بھی مجھ پر درود شریف پڑھتا ہے تو وہ دونوں فرشتے اس کے لیے غفر اللہ لک کہتے ہیں (یعنی اللہ اسے تیری طفیل بخشے) پھر اللہ تعالیٰ ان دونوں فرشتوں کے جواب میں اپنے تمام ملائکہ سمیت آمین کہتے ہیں۔ (پھر فرمایا) اگر کوئی شخص میرا نام سن کر درود شریف نہیں پڑھتا تو وہ دونوں فرشتے اس کے لیے لا غفر اللہ لک (اللہ اسے نہ بخشے) کہتے ہیں۔ اس وقت بھی اللہ تعالیٰ اور اس کے ملائکہ آمین کہتے ہیں“۔ (”معارج النبوۃ فی مدارج النبوۃ“ ص ۳۱۲)
زہے نصیب:
”درود شریف احسانات الہیہ پر ہدیہ تشکر ہے۔ اس نے ہمیں امت سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم میں پیدا فرمایا۔ درود شریف ارشاد خداوندی کی تعمیل ہے۔ درود شریف خدا تعالیٰ اور اس کے ملائکہ کا وظیفہ ہے اور جب مسلمان اس
عبادت میں مشغول ہوتا ہے تو گویا خدا و ملائیکہ کی ہم زبانی کا شرف حاصل کر لیتا ہے۔ درود شریف کے بارے میں (جیسا کہ ذکر کیا گیا ہے) روایات ملتی ہیں کہ حضرت آدم علیہ السلام‘ حضرت موسیٰ علیہ السلام اور دوسرے انبیاء عظام بھی پڑھتے رہے۔ درود شریف خود آنحضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے بھی پڑھا‘ اس لیے سنت خیرالانام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بھی ہے۔ درود شریف صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اور اولیاء الرحمٰن رحمہم اللہ تعالیٰ کا بھی شعار رہا ہے‘ اس لیے اس کام میں وقت گزارنا تقلید صحابہؓ و اولیاء کرامؒ بھی ہے۔ (ہفت روزہ ”ملتان روڈ نیوز“ لاہور)
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا آٹھواں حق:
روضہ اقدس علیہ الصلوٰۃ والسلام پر حاضری:
”آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے حقوق میں یہ بھی شامل ہے کہ روضہ اقدس علیہ الصلوٰۃ والسلام کی زیارت کرے اور اگر اتنی وسعت نہ ہو تو اس کی تمنا ضرور رکھے اور حق تعالیٰ شانہ سے دعا کرتا رہے اور جب موت میسر آجائے تو بارگاہِ اقدس علیہ الصلوٰۃ والسلام میں حاضر ہو کر صلوٰۃ و السلام عرض کرے اور اپنے لیے استغفار اور استغفار کی درخواست پیش کرے۔ حق تعالیٰ شانہ کا ارشاد ہے: ولو انهم اذ ظلموا انفسهم جاءوک فاستغفروا الله واستغفر لهم الرسول لوجدوا الله توابا رحيماO (سورۃ النساء ع ٩)
ترجمہ: ”اور اگر وہ لوگ جس وقت اپنا نقصان کر بیٹھے تھے‘ اس وقت آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت اقدس میں حاضر ہو جاتے اور پھر اللہ سے معافی چاہتے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بھی ان کے لیے اللہ تعالیٰ سے معافی چاہتے تو ضرور اللہ تعالیٰ کو توبہ قبول کرنے والا پاتے“۔
آیت شریف میں جاءوک (آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو
جاتے) مطلق ہے جو حیات و بعد وفات دونوں حالت کو شامل ہے جس سے روضہ اقدس علیہ الصلوۃ والسلام کی زیارت و حاضری کی تاکید معلوم ہوئی اور اس پر بشارت ہے کہ وہاں حاضر ہو کر توبہ کرنے سے توبہ قبول ہوتی ہے۔
حضور علیہ الصلوۃ والسلام نے اس پر مہر تصدیق ثبت کردی:
”حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جس نے میری قبر کی زیارت کی اس کے لیے میری شفاعت ثابت ہو گئی“۔ (دار قطنی، بیہقی)
نیز
”جس نے میری قبر کی زیارت کی، اس کے واسطے میری شفاعت ثابت ہو گئی“۔ (بزار)
نیز
”حضرت انس بن مالک“ سے مروی ہے کہ ”فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کہ جس نے مدینہ منورہ میں بہ نیت ثواب حاضر ہو کر میری زیارت کی (یعنی تجارت وغیرہ مقصد نہ ہو) تو وہ میرے ذمے ہو گیا اور قیامت میں، میں اس کا شفیع بنوں گا“۔ (دار قطنی، طبرانی)
نیز
”جس نے حج کیا اور میری وفات کے بعد میری قبر کی زیارت کی، وہ مثل اس کے ہے جس نے میری زندگی میں میری زیارت کی“۔ (دار قطنی، طبرانی)
نیز
”جس نے مدینہ آ کر میری زیارت کی، میں اس کے لیے گواہ اور شفیع ہوں گا“۔ (سنن دار قطنی)
نیز
”جس نے میری قبر کی زیارت کی (یا فرمایا) جس نے میری زیارت کی، میں اس کے لیے شفیع یا گواہ ہوں گا اور جو شخص حرمین میں سے ایک میں مرگیا، اللہ عز و جل اس کو قیامت کے دن امن والوں میں اٹھائے گا“۔ (ابو داؤد شریف، طیالسی)
نیز ”جس نے بالقصد میری زیارت کی‘ وہ قیامت کے دن میری پناہ میں ہو گا۔“
(ابو جعفر عقیلی)
نیز ”جس نے وفات کے بعد میری زیارت کی‘ اس نے گویا میری زندگی میں میری زیارت کی اور جو حرمین شریفین میں سے ایک میں مرگیا‘ وہ قیامت کے دن امن والوں کے زمرے میں اٹھایا جائے گا۔“ (دار قطنی)
نیز ... ”جس نے مکہ میں حج کیا پھر میری مسجد میں میری زیارت کی‘ اس کے لیے دو مقبول حج لکھے گئے۔“ (مسند فردوس)
فقہاء کرام نے روضہ اقدس صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی زیارت کو واجب کہا ہے۔ چنانچہ عالمگیری میں ہے کہ : ”ہمارے مشائخ رحمہم اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ (زیارت روضہ اقدس علیہ الصلوٰۃ والسلام) افضل المندوبات ہے اور مناسک الفارس اور ”شرح المختار“ میں ہے کہ یہ اس شخص کے لیے جسے گنجائش ہو‘ واجب کے قریب ہے۔“۔ (”عالم گیری“ جلد ۱‘ ص ۲۶۵)
در مختار میں ہے : ”حضور اقدس صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی قبر مبارک کی زیارت مندوب ہے بلکہ کہا گیا ہے کہ گنجائش والے کے لیے واجب ہے۔“۔ (”شامی“ جلد ۲‘ ص ۲۵۷)
حضرت علامہ عبدالحئی صاحب لکھنوی قدس سرہ نے جمہور حنفیہؒ کا مسلک وجوب ذکر کیا ہے اور جمہور حنفیہؒ کی طرف زیارت روضہ اقدس علیہ الصلوٰۃ والسلام کے استحباب کو منسوب کرنے والوں پر سختی سے رد کیا ہے۔ چنانچہ فرماتے ہیں : ”پھر میں نے کیا گناہ کیا اور کون سی برائی کا ارتکاب کیا۔ اگر میں نے رد کیا اس پر جس نے جمہور حنفیہؒ پر افتراء کیا اور ان کی طرف زیارت روضہ اقدس علیہ الصلوٰۃ والسلام کے محض استحباب کی نسبت کی۔ باوجودیکہ ان میں سے اکثر نے اس کے واجب کے قریب ہونے کی تصریح کی ہے اور جو واجب کے قریب ہو‘ وہ واجب ہی کے حکم میں ہوتا ہے۔“۔ (”تذکرۃ الراشد برد تبصرۃ الناقد“ ص ۳۷)
چوتھا باب
رحمۃ اللعالمین ﷺ کی شان میں گستاخی کیوں؟
انسانی ظرف یہ ہے کہ محبت کے جواب میں محبت ‘ احسان کے جواب میں احسان۔ عطا کا بدلہ عطا ہے اور رحم کا صلہ تشکر سے ادا کرتا ہے! نگاہوں میں شوخی ہو تب بھی آنکھوں کی چمک اس انسانی ظرف کا اظہار کر ہی دیتی ہے۔ انسانی قلب و شعور پر ہر جذبے کا ردعمل وارد ہوتا ہے۔ جذبہ نیک ہو تو انسان کا ممنون ہونا حقائق میں سے ہے۔ کبھی بھی ایسا نہیں ہوا کہ محبت کا جواب نفرت سے ‘ احسان کا جواب برائی سے۔ عطا کے بدلے الزام اور رحم کے صلے میں ظلم روا رکھا گیا ہو مگر تین وجوہات سے!
- اول : نیک سلوک کو اپنے حق میں نہ سمجھے احساس کمتری۔
- دوئم : نیک سلوک ذاتی خود غرضی کی بنیاد پر کیا گیا ہو۔ بنیا پن۔
- سوئم : بد فطرتی ‘ عناد ‘ کمینگی ‘ رذالت۔
ہر دور میں کچھ سر پھرے ایسے ہو گزرے ہیں جنہوں نے اپنی نجات کا دائرہ اپنی ہی عقل کے گرد تان رکھا ہوتا ہے وہ ہمیشہ اپنی ذات سمیت انجانے و لاہوتی خطرات سے چومکھی لڑتے رہتے ہیں۔ چونکہ ان کا حصار مادیت کے گارے سے چنا ہوتا ہے ‘ اس لیے کسی بھی آفاقی پیغام کے تصور کے جذبہ کی اہمیت سے قطعاً عاری ہوتے ہیں۔
اور جب کبھی نبوت نے انہیں ابدی بقاء کا درس دیا تو یہ منہ پھٹ اپنے احساس کمتری کا اظہار یوں کرنے لگے :
فقالوا ابشر یھدوننا فکفروا وتولوا o
ترجمہ : ”پس وہ کہنے لگے ‘ کیا انسان ہمارے ہادی بنیں گے؟ تو انہوں نے نہ مانا اور منہ پھیر لیا۔ یہ عقل کے گھوڑے دوڑانے والے لاکھ چاہیں تب بھی اپنے گھوڑے کے سر سے آگے نہیں جاسکتے!“
کنویں کے مینڈک کے زمین و آسمان وہی پستیاں ہوتی ہیں جن میں محض ٹرانا ہی ان کا مقدر ہوتا ہے۔ ایسوں سے خیر کی توقع عبث ہے ‘ سچ ہے کہ آئینہ اندھیرے میں اپنی اہمیت کھو دیتا ہے۔
دوسری بات یہ ہے کہ اپنی ذاتی اغراض کی خاطر نیک سلوک کرنا نبوت کے منافی ہے‘ نبی کو جو حکم دیا جاتا ہے‘ زمانے بھر سے مخالفت مول لے کر سچائی کا اعلان کرنا اس کے خمیر میں ہوتا ہے۔ جبکہ دنیا میں ان لوگوں کا شیوہ ہوتا ہے جو اپنی خواہشات کے حصول میں رہتے ہیں اور اپنی خواہش کی خاطر نیک سلوک‘ احسان و عطا کے زمرے سے باہر ہیں اور اس کا اثر ریت کی دیوار سے زیادہ اور کیا ہو سکتا ہے؟
معلوم ہوا کہ نبوت کا ہر عمل نوع انسانیت کے لیے خیر و بھلائی ہی کا موجب ہوتا ہے اور اس کا انکار شرف انسانی کے خلاف ہے ۔ کہ اس میں ذاتی اغراض نہیں ہوتیں ۔ اور وہی قدسی صفات عطا و احسان اور ترحم کا منبع ہوتے ہیں۔
آخری بات علی الاعلان یہ ہے کہ نبی کو مامور من اللہ مان لینے کے بعد اس کے پیغام کی حقانیت کو تسلیم کر لینے کے بعد اس کی مخالفت بد فطرتی‘ عناد‘ کمینگی اور رذالت کی بدترین مثال‘ ہے۔
جمیع انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام کا جذبہ ایثار و ترحم ایک طرف‘ حضرت خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی رحمت ایک طرف۔ کیونکہ خود خالق مطلق کا اعلان ہے:
وما ارسلنک الا رحمۃ اللعالمینO
(سورۃ الانبیاء آیت ۱۰۷)
ترجمہ : ”اور ہم نے نہیں بھیجا مگر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو تمام جہانوں کے لیے رحمت بنا کر“۔
اور لفظ رحمت ایسا لفظ ہے جس کا استعمال نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہی کے لیے ہوا۔ حضور کے سوا کسی دوسرے کے لیے نہیں ہوا۔ ہم دیکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے ۔
و رحمتی وسعت کل شیء
(سورۃ الاعراف)
ترجمہ : ”میری رحمت ہر ایک سے زیادہ وسیع ہے“۔
پس جب نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو جملہ عالمین کے لیے رحمت بنایا گیا ہے تو ثابت ہو گیا کہ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی نبوت بھی جملہ عالمین کے لیے ہے۔
یہ یاد رکھنا چاہیے کہ رحمۃ للعالمین وہی وجود مزکی ٹھہرے گا۔ جس نے اہل عالم بلکہ عالم در عالم کی بہبود و سود‘ رفاہ و فلاح‘ خیر و صلاح‘ عروج و ارتقا‘ صفا و بہا کے لیے بلاشائبہ غرض اور بلا آمیزش طمع اپنی مقدس زندگی کو صرف کیا ہو۔
جس نے بندوں کو خدا سے ملایا ہو۔
جس نے الہی جلوہ انسانوں کو دکھایا ہو۔ جس نے دل کو پاک‘ روح کو روشن‘ دماغ کو درست‘ طبع کو ہموار بنایا ہو۔ جس کی تعلیم نے امن عامہ کو محکم اور مصلحت عامہ کو استوار کیا ہو۔ جو غریبی و امیری‘ جوانی و پیری‘ امن اور جنگ‘ امید اور ترنگ‘ گدائی و بادشاہی‘ مستی و پارسائی‘ رنج و راحت اور حزن و مسرت کے ہر درجہ‘ ہر پایہ اور ہر مقام پر انسان کی رہبری کرتا ہو۔ جس نے فلک کی بلندی‘ زمین کی پستی‘ رات کی تاریکی‘ دن کی روشنی‘ سورج کی چمک‘ جگنو کی دمک‘ ذرہ کی پرواز‘ قطرہ کی طراوت میں عرفان ربانی کی سیر کرائی ہو۔ جس کی تعلیم نے درندوں کو چوپانی‘ بھیڑوں کو گلہ بانی‘ رہزنوں کو جہاں بانی‘ غلاموں کو سلطانی‘ شاہوں کو اخوانی سکھائی ہو۔ جس نے خشک میدانوں میں علم و معرفت کے دریا بہائے ہوں۔ جس نے سنگلاخ زمینوں سے کتاب و حکمت کے چشمے چلائے ہوں۔ جس نے خود غرضوں کو محبت قومی کا دردمند بنایا ہو۔ جس نے دشمنوں کو اپنا جگر بند ٹھہرایا ہو۔
شاہوں کا تاج آقاؤں کا آقا
غلاموں کا محسن یتیموں کا سہارا
بے آسروں کا آسرا بے خانمانوں کا ماوی
دردمندوں کی دوا چارہ گروں کا دردمند
مساوات کا حامی اخوت کا بانی
محبت کا جوہری اخلاص مشتری
صدق کا منبع صبر کا معدن
خاکساری کا نمونہ رحمت ربانی کا پتلا
اولین انسان آخرین رسول ﷺ
اگر رحمتہ للعالمین کے لقب سے ملقب نہ ہوگا تو پھر ان جملہ صفات کے جامع کا اور کیا نام ہوگا۔
ہاں رحمتہ للعالمین وہی ہے جس نے ملکوں کی دوری‘ اقوام کی بیگانگی‘ رنگتوں کا اختلاف‘
زبانوں کا تباین دور کر کے سب کے دلوں میں ایک ہی ولولہ‘ سب کے دماغوں میں ایک ہی تصور‘ سب کی زبانوں پر ایک ہی کلمہ جاری کر دیا ہو۔
ہاں رحمتہ للعالمین وہی ہے جو یہودیوں کی طرح نذر و منت کی قبولیت کے واسطے بنی لاوی کا واسطہ ضروری نہیں ٹھہراتا۔
جو کاتھلوں کی طرح آسمان کی کنجیاں شخص واحد کے ہاتھ میں سپرد نہیں کر دیتا۔
جو روح کو سرگ یا نرگ میں دھکیل دینے کی طاقت صرف برہمنوں ہی کو عطا نہیں کرتا۔
جو خاص رقبہ کے باشندوں کو آسمانی پادشاہت کے فرزند نہیں ٹھہراتا۔
جو نسل واحد کے افراد ہی کو خدا کی برگزیدہ قوم نہیں قرار دیتا۔
جو یہودیوں‘ عیسائیوں‘ زردشتیوں‘ برہمنوں‘ جینیوں اور لاماؤں کی طرح اپنے سوا باقی سب پر رحمت و فضل کے بھرپور خزانے بند نہیں کرتا۔
ہاں رحمتہ للعالمین وہی ہے جو بندہ کو خدا کی حضوری تک لے جاتا اور اسے اُدعونی استجب لکم کی قدسی آواز سے آشنا بناتا ہے اور خدا و بندہ کے درمیان کسی تیسرے کے لیے کوئی رخنہ باقی نہیں چھوڑتا۔
ہاں رحمتہ للعالمین وہی ہے جس کے دربار میں: عداس نینوائی‘ بلال حبشی‘ سلمان فارسی‘ صہیب رومی‘ ضماد ازدی‘ طفیل دوسی‘ ذوالکلاع حمیری‘ عدی طائی‘ ثمامہ نجدی‘ ابو سفیان اموی‘ ابوذر غفاری‘ ابو عامر اشعری‘ کرزفہری‘ ابو حارث مصطلقی‘ سراقہ مدلجی پہلو بہ پہلو بیٹھے نظر آتے ہیں اتنی قوموں اور اتنے مختلف الدعاوی سرداروں کا مجمع کسی اور جگہ بھی نظر آتا ہے؟
یہاں ہر شخص اپنے اپنے ملک اور اپنی قوم کا حق وکالت ادا کر رہا ہے اور ہر شخص اپنے اپنے دامان دل کی وسعت کے موافق پھولوں سے جھولیاں بھر رہا ہے اور اپنے اپنے ملک کے مشام جان کو ان سے معطر کر رہا ہے۔
ہاں رحمتہ للعالمین وہی ہے جس کے دربار میں عثمان طلحہ بھی موجود ہے جو کعبہ کا کلید بردار ہونے سے حجازی قوموں میں اسی اعزاز کا مالک سمجھا جاتا تھا جو عزت کلیسائے روما کے مسند نشین کو آسمان کے کلید بردار ہونے کی حیثیت سے حاصل ہے۔
اس کے دربار میں عبداللہ بن سلام بھی موجود ہے۔ نسب عالی کے سلسلہ کو دیکھو تو یوسف بن یعقوب بن اسحاق بن ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام تک منتہی ہوتا ہے۔ قومی وجاہت پر نظر کرو تو یہودان بنو قریظہ و بنو قینقاع و بنو نضیر و خیبر و فدک کا بچہ بچہ انہیں خیرنا و ابن
خیرنا کہہ کر یاد کرتا ہے۔
فضیلت علمی اور امامت قوم کی بزرگی کا اندازہ کرنا ہو تو سن لو کہ ربیون اور احبار تک سیدنا وابن سیدنا کہہ کر ان کو مخاطب کرتے ہیں۔ یہی بزرگوار دربار محمدی کے صف نعال میں جاگزین ہے اور دل ہی دل میں یہ کہہ کر خوش ہو رہا ہے:
اسی دربار میں صرمہ ابن انس بھی حاضر ہے۔ صحف انبیا کا عالم ہے۔ سوریا اور یروشلم کے متواتر سفر کر چکا ہے۔ توراۃ وانجیل کو قدیم زبانوں میں پڑھا ہے۔ دربار ہرقل میں اس کی بڑی تعظیم کی جاتی ہے اور دربار حبش میں اس کی کرامتوں کا خوب چرچا ہے عیسائیان حجاز کا گویا سب سے بڑا بشپ یہی ہے اب وہی ما المسيح ابن مريم الا رسول کو بار بار پڑھ رہا ہے اور توحید خالص کی لذت میں مستغرق ہے۔
اسی دربار میں سلمان بھی موجود ہے۔ فارس کے بڑے زمیندار کا اکلوتا بیٹا ہے جو زردشتی مذہب چھوڑ کر کاتھولیکی عیسائی بنا‘ پھر اطمینان قلب نہ پا کر دین حقہ کی طلب میں ایران سے شام‘ شام سے عراق‘ عراق سے حجاز پہنچا تھا۔ اب تو دل و جان کو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قدموں کا فرش بنا چکا ہے۔ کوئی شخص اگر ان سے باپ دادا کا نام پوچھتا ہے تو فرما دیتے ہیں‘ سلمان بن اسلام بن اسلام بن اسلام‘ سبعین مرۃ اسی طرح ستر بار کہتے چلے جاؤ۔
اسی دربار میں خالد بن ولید بھی حاضر ہے۔ بت پرستی کی تائید اور بتوں کی حمایت میں شجاعت و مردانگی کے جوہر دکھا چکا ہے۔ احد میں اسلامی لشکر کو فاش شکست دے چکا ہے۔ نتیجہ یہ ہونا چاہیے کہ فتح کا غرور اور غلبہ کا سرور اس کے ازدیاد غفلت اور ترقی رعونت کا سبب بن جائے۔ لیکن رحمت عالم کی خاکساری نے اس فاتح کے دل کو بھی فتح کر لیا ہے۔ وہ خود ہی کھنچا کھنچا آتا ہے اور لات و عزیٰ کے توڑنے کی خدمت حاصل کرنے کی التجا کر رہا ہے۔
اسی دربار میں شاہ حبش کا عریضہ پیش ہو رہا ہے‘ جو سلطنت چھوڑنے اور حاضر خدمت ہو جانے کی اجازت کا خواست گار ہے۔
اسی دربار میں ذوالبجادین موجود ہے جو گھر بار‘ اہل و عیال چھوڑ کر آیا ہے۔ کمبل کا تہہ بند‘ کمبل کرتہ‘ جس پر ببول کے کانٹوں سے بخیہ گری کی ہے‘ زیب تن ہے۔ فرط شوق اور جوش انبساط سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ آج شاہ کج کلاہ سے اپنے آپ کو برتر سمجھ رہا ہے۔
(نقوش‘ رسول نمبر‘ جلد ۲‘ ص ۵۸۱‘ از قاضی محمد سلیمان منصور پوری)
قاضی محمد سلیمان منصور پوریؒ نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی صفت ”رحمتہ
للعالمین" پر سیر حاصل بحث کی ہے اور سورۃ انبیاء کی آیت و ما ارسلنک الا رحمۃ للعالمین" کی خوب تشریح کی ہے۔
اسی آیت شریفہ کی تفسیر میں مولانا مودودیؒ فرماتے ہیں:
"مطلب یہ کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی بعثت دراصل نوع انسانی کے لیے خدا کی رحمت اور مہربانی ہے کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے آکر غفلت میں پڑی ہوئی دنیا کو چونکا دیا ہے اور اسے وہ علم دیا ہے جو حق و باطل کا فرق واضح کرتا ہے اور بتا دیا ہے کہ تباہی کی راہ کون سی ہے۔ کفار مکہ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی بعثت کو اپنے لیے زحمت اور مصیبت سمجھتے تھے اور کہتے تھے کہ اس شخص نے ہماری قوم میں پھوٹ ڈال دی ہے۔ اس پر فرمایا کہ نادانو! تم جسے زحمت سمجھتے رہے ہو یہ درحقیقت تمہارے لیے خدا کی رحمت ہے"۔
(تفہیم القرآن)
مولانا مفتی محمد شفیع فرماتے ہیں:
"عالمین' عالم کی جمع ہے جس میں ساری مخلوقات داخل ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا ان سب چیزوں کے لیے رحمت ہونا اس طرح کہ تمام کائنات کی حقیقی روح اللہ کا ذکر اور اس کی عبادت ہے۔ جب زمین پر کوئی اللہ اللہ کہنے والا نہ ہو گا تو سب چیزوں کو موت یعنی قیامت آجائے گی اور جب ذکر اللہ اور عبادت کا ان سب چیزوں کی روح ہونا معلوم ہو گیا تو حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا ان سب چیزوں کے لیے رحمت ہونا خود بخود ظاہر ہو گیا کیونکہ قیامت تک ذکر اللہ اور عبادت آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے دم قدم اور تعلیمات سے قائم ہے"۔
(معارف القرآن)
"مسند احمد میں ہے کہ ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنے خطبے میں فرمایا کہ جسے میں نے غصے میں برا بھلا کہہ دیا ہو یا اس پر لعنت کر دی ہو تو سمجھ لو کہ میں بھی تم جیسا ایک انسان ہی ہوں تمہاری طرح مجھے بھی غصہ آجاتا ہے ہاں البتہ چونکہ میں رحمت للعالمین ہوں تو میری دعا ہے کہ خدا میرے ان الفاظ کو بھی ان لوگوں کے لیے موجب رحمت بنا دے۔ رہی یہ بات کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کفار کے لیے رحمت کیسے تھے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ ابن جریر میں حضرت ابن عباسؓ سے اسی آیت کی تفسیر میں مروی ہے کہ مومنوں کے لیے تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم دنیا و آخرت میں رحمت ہیں اور غیر مومنوں
کے لیے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم دنیا میں رحمت تھے کہ وہ زمین میں دھنسائے جانے سے‘ آسمان سے پتھر برسائے جانے سے بچ گئے جیسا کہ اگلی امتوں کے منکروں پر یہ عذاب ہوئے"۔ (ابن کثیر)
ارشاد خداوندی ہے: وما كان الله ليعذبهم وانت فيهم (پ ۹‘ آیت ۱۸) ترجمہ : ”اور نہیں ہے کہ اللہ ان کافروں اور مشرکوں کو عذاب دے در آنحالیکہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ان میں موجود ہوں"۔
”معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو عالمین کے لیے رحمت بنا کر بھیجا ہے یعنی سب کے لیے حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم رحمت ہیں پھر جن لوگوں نے اس رحمت کو قبول کیا یعنی آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر ایمان لائے تو دنیا و آخرت میں آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا رحمت ہونا ان کے کام آیا اور جن لوگوں نے اسے قبول نہ کیا وہ بدبخت اگرچہ دنیا میں خارق عادت عذابوں سے بچ جائیں گے لیکن آخرت میں معذب ہوں گے" (جمال مصطفیٰ ۹۳۔ ۹۴)
میں رحمت بنا کر بھیجا گیا ہوں:
”حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے کہا گیا کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مشرکوں پر بددعا کیوں نہیں فرماتے؟ ارشاد فرمایا: میں لعنت کرنے والا نہیں بھیجا گیا۔ میں تو فقط رحمت ہی بنا کر بھیجا گیا ہوں"۔ (مسلم)
عیسائی راہب کی شہادت:
”حضرت ابو طالب تجارت کی غرض سے قریش کے ساتھ شام کی طرف گئے تو وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو بھی‘ جب ان کی عمر بارہ سال کی تھی‘ ہمراہ لے گئے‘ راستے میں ایک عیسائی راہب سے ملاقات ہوئی جو اپنے مذہب کا بہت بڑا عالم تھا‘ اس راہب نے حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا ہاتھ پکڑ کر کہا: ”یہ تمام جہانوں کے سردار ہیں‘ یہ تمام جہانوں کے پروردگار کے رسول ہیں‘ اللہ
تعالیٰ نے ان کو سب جہانوں کے لیے رحمت بنا کر بھیجا ہے"۔ (ترمذی شریف ۔
ابن حبان)
اہل نظر سے یہ امر ہرگز پوشیدہ نہیں کہ کائنات کی یہ تزئین و آرائش محبت و محبوبیت کی تصویر ہے اور اس عظیم الشان شاہکار کے رنگ‘ فکر کی نظر سے دکھائی دیتے ہیں۔ چاہے وہ نظر بیگانوں کی ہی کیوں نہ ہو؟
دنیا کی یہ بہاریں‘ چاند اور ستاروں کی چمک‘ سورج کی دمک پھولوں کی خوشبو‘ صبح کی روشنی‘ رات کے اندھیرے کا سکون‘ انسانوں کی محبتیں‘ پرندوں کی چہچہاہٹ اور نظاروں کی شوخیاں سب کچھ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی رسالت رحمت عامہ کا صدقہ ہیں:
چند شوخ نگاہوں نے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی رحمت عامہ کو محیط کائنات پر پھیلا ہوا دیکھا تو بے ساختہ اقرار کرنے لگے۔
چنانچہ ڈاکٹر ڈی رائٹ فرماتے ہیں:
"محمد (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) اپنی ذات اور قوم کے لیے نہیں بلکہ دنیائے ارضی کے لیے ابر رحمت تھے۔ تاریخ میں کسی ایسے شخص کی مثال موجود نہیں جس نے احکام خداوندی کو اس مستحسن طریقہ سے انجام دیا ہو"۔ ("اسلامک ریویو اینڈ مسلم انڈیا" فروری ۱۹۴۰)
ڈاکٹر جی ویل فرماتے ہیں:
"آپ (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کی فیاضی‘ خوش اخلاقی اور رحم دلی محدود نہ تھی" ("نقوش رسول ﷺ نمبر" جلد ۴‘ "قرآن‘ اسلام اور رسول ﷺ
غیر مسلموں کی نظر میں" ص ۴۴۷)
مسٹر ایڈورڈ موئے فرماتے ہیں:
"آپ (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) نے سوسائٹی کے تزکیہ اور اعمال کی تطہیر کے لیے جو اسوہ پیش کیا ہے‘ وہ آپ (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کو انسانیت کا محسن اول قرار دیتا ہے"۔ (ایضاً‘ ص ۴۴۷-۴۴۸)
ایس مارگولیو تھ فرماتے ہیں:
"آنحضرت (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کی دردمندی کا دائرہ انسان تک ہی محدود نہ تھا بلکہ جانوروں پر بھی ظلم و ستم توڑنے کو برا کہا ہے"۔
(نقوش رسول ﷺ نمبر" جلد ۴‘ ص ۴۴۸)
کرنل سائکس فرماتے ہیں:
"کوئی شخص آپ (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کے خلوص نیت‘ سادگی اور رحم و کرم کا اقرار کیے بغیر نہیں رہ سکتا"۔ (ایضاً ص ۴۲۸)
لالہ مرچند لدھیانوی فرماتے ہیں:
"بانی اسلام (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کی ذات والا صفات سراپا رحم و شفقت تھی۔ اگر بانی اسلام (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کے بس میں ہوتا تو سر زمین عرب پر خون کا ایک قطرہ بھی نہ گرنے پاتا"۔ ("مدینہ" جولائی ۱۹۲۳ء)
ٹی ایل وسوانی ارشاد فرماتے ہیں:
"محمد (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کی زندگی ترحم و عنایات اور اچھائی سے پر ہے"۔
(نقوش رسول نمبر‘ جلد ۴‘ ص ۴۶۰)
بی ایس رندھاوا ہوشیار پوری فرماتے ہیں:
"حضرت محمد (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) صاحب کو جتنا ستایا گیا‘ اتنا کسی ہادی اور پیغمبر کو نہیں ستایا گیا۔ ایسی حالت میں کیوں نہ محمد صاحب (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کی رحم دلی اور شفقت اور مروت علی المخلوقات کی داد دوں جنہوں نے خود تو ظلم و ستم کے پہاڑ اپنے سر پر اٹھا لیے مگر اپنے ستانے والوں اور دکھ دینے والوں کو اف تک نہ کہا بلکہ ان کے حق میں دعائیں مانگیں اور طاقت اور اقتدار حاصل ہو جانے پر بھی ان سے کوئی انتقام نہیں لیا۔ بانیان مذاہب میں سب سے زیادہ ناانصافی اور ظلم کسی پر کیا گیا ہے تو بانی اسلام پر‘ اور کوشش کی گئی ہے کہ پیغمبر اسلام کو ایک خونخوار اور بے رحم انسان دکھایا جائے اور خواہ مخواہ دوسروں کو ان سے نفرت دلائی جائے۔ اس کا بڑا سبب یہ ہوا کہ محمد صاحب (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کی لائف پر تنقید کرنے والوں نے اسلامی تاریخ اور بانی اسلام (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کی سیرت کا صحیح طور پر مطالعہ کرنے کی تکلیف گوارا نہیں کی بلکہ سنی سنائی اور بے بنیاد باتوں کو سرمایہ بنا کر اعتراضات کی بوچھاڑ شروع کر دی۔ اگر وہ اسلامی روایات کو سمجھ لیتے اور سچائی کے اظہار کے لیے اپنے اندر جرات و ہمت پاتے تو وہ یقیناً اپنی رائے تبدیل کرنے پر مجبور ہو جاتے"۔
(رسالہ مولوی‘ ربیع الاول ‘ ۱۳۵۱ھ‘ بحوالہ نقوش رسول نمبر‘ جلد ۴‘ ص ۴۵۱)
انسانی قلب و شعور پر ایک انمٹ تاثر ازل سے جاگزیں ہے اور وہ یہ کہ میرا رشتہ‘ یزداں سے ایک ایسی ڈور سے بندھا ہے کہ جس کا سرا سجھائی دیتے ہی اس کی رحمت عود کر آتی ہے۔
کسی کو اس ڈور کا سرا پتھر کے بتوں کے چرنوں میں نظر آتا ہے۔
اور کوئی چاند اور سورج کو دیکھ کر دل بہلاتے ہیں۔
کسی نے جلتی آگ میں اس کی تلاش کی۔
اور کوئی اپنی عقل کی پرخار وادی میں مارا مارا پھرتا ہے۔
ہر کوئی اپنی اپنی دھن میں مگن ہے جب کہ معرفت الہی کی راہ بالکل سیدھی ہے۔ نبوت کی دعوت کا اقرار اور پیغام الہی کی معرفت پہچان۔
دیکھئے! اللہ تعالیٰ کے ذمے انسانیت کا کچھ حق نہ تھا مگر اس نے بے شمار احسانات فرمائے۔
کبھی کسی کو نہیں جتایا مگر حضرت خاتم النبیین صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی نسبت ارشاد فرمایا:
"لقد من الله علی المومنین اذ بعث فیہم رسولا من انفسہم یتلو علیہم ایتہ و یزکیہم و یعلمہم الکتب و الحکمتہ وان کانوا من قبل لفی ضلل مبینO (سورۃ آل عمران‘ آیت ۱۶۴)
ترجمہ : "اللہ تعالیٰ نے مومنوں پر بڑا احسان کیا کہ ان میں انہی میں سے ایک پیغمبر کو بھیجا جو ان کو اللہ کی آیات پڑھ کر سناتا ہے اور ان کو پاک کرتا ہے اور کتاب و حکمت کی تعلیم دیتا ہے اور پہلے تو یہ لوگ کھلی گمراہی میں تھے"۔
اللہ کریم نے انسان کے لیے زمین سے رزق پیدا کیا اس کو احسان نہیں فرمایا۔
اس نے انسان کے زندہ رہنے کے لیے پانی اور آکسیجن کو پیدا کیا‘ اس کو احسان نہیں فرمایا۔
زندگی گزارنے کے لیے جوڑے بنائے‘ اس کا احسان بھی نہیں جتایا۔
محفل کائنات کو حسین رنگوں سے سجایا‘ اس کا احسان بھی نہیں جتایا۔
کانوں کو قوت سماعت اور آنکھوں کو بینائی عطا کی‘ اس کا احسان بھی نہیں جتایا۔
عنایات و افضال کی اس بارش کے بعد ایک عظیم المرتبت ہستی کو مبعوث فرما کر ارشاد فرمایا:
لقد من الله علی المومنین اذ بعث فیہم رسولا
اللہ کریم نے حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو مبعوث فرما کر انسانیت پر احسان جتا دیا جب کہ اس سے قبل کوئی احسان کبھی نہ جتایا گیا تھا۔
مقام غور ہے یہ احسان جتانے کی وجہ کیا ہے؟ کیا اس میں یہ راز پوشیدہ نہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو احسان خداوندی تسلیم کر لیا جائے اور جس نے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو احسان تسلیم کر لیا، احسان خداوندی کا حق ادا کر گیا اور آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا دین کامل اس احسان کا پھل ہے اور جس نے اس پھل کا ذائقہ چکھ لیا، دنیا میں جنت کا مزا پا گیا۔ اللہ سب کو نصیب فرمائے۔ (آمین)
اب کیسے تسلیم کر لیا جائے کہ وہ ذات عالی (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) جس نے کبھی کسی کو دکھ نہ دیا جس کی
- طینت پاکیزہ
- طبیعت نفیسہ
- معاملہ کھرا
- احساس درد بھرا
- طریقہ شریفانہ
- گفتگو حکیمانہ
- سراپا سچائی
- مجسم رحمت
- انداز بھلائی
- جذبہ ترحم
- شیوہ عنایات
- وطیرہ افضال
- حرص عطا
- تعلیم صداقت
- تدبیر رفاقت
- ذہن عمیق
- قلب رقیق
- سیرت پاکیزہ
- جاں کا شفیق
- خیالات ارفع
- دعویٰ میں حقانیت
- قول و عمل میں یکسانیت
- منصب ہادی و راہنما
معصوم عن الخطا اور مزکی و مطاع ہو‘ اس کی شان کے خلاف ہرزہ سرائی کی جائے جس کی ذات کی صداقت کے دشمن بھی معترف ہوں۔ اس صادق اور امین کی شان اقدس میں گستاخی عقل و خرد اور عرف و فطرت کی حدوں سے وراء الوراء بعید ہے۔
لیکن بہرحال المیہ اپنی جگہ موجود ہے کہ رحمت للعالمین صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی شان اقدس میں بھی گستاخی کے مرتکب ہو کر کچھ ازلی شقی القلب جہنم کا ایندھن بننے پر مصر رہتے ہیں اور ان بدبختوں کا یہ فعل شنیعہ بدفطرتی‘ عناد‘ کمینگی اور رذالت پر منحصر ہوتا ہے۔ ؎
حضرت رحمۃ للعالمین صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی یہ شان کیا کم ہے کہ اللہ رب العزت ان کی ذات اقدس کو نوع انسانیت کے لیے احسان اور رحمت للعالمین کہہ کر جتا رہا ہے۔
بادشاہت تلاش کرنے والے کسی شخص کے لیے قدم قدم پر دشمنوں سے سابقہ پڑنا ایک سمجھ میں آنے والی چیز ہے۔ ہر دل میں یہ خیال پیدا ہو سکتا ہے کہ وہ بادشاہ کیوں بنے‘ میں کیوں نہیں؟
حسد ایک فطری عنصر ہے۔ جو بوجہ حیوان ناطق ہونے کے انسان میں بھی بدقسمتی سے پایا جاتا ہے۔
لیکن کسی نبی اور کسی مصلح سے دشمنی‘ بغض اور عناد کا سبب ناسمجھ میں آنے والی بات ہے۔ کیونکہ وہ نہ تو کوئی مالی معاوضہ چاہتا ہے اور نہ کبھی اپنی بڑائی اور سرداری جتاتا ہے۔ وہ تو بے غرضانہ‘ دوسروں کی بھلائی کے لیے ہمیشہ اپنے آپ کو وقف رکھتا ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے دشمنوں میں ابولہب ہو یا ابو جہل‘ کعب بن اشرف ہو یا عبداللہ بن ابی‘ مسیلمہ کذاب ہو یا اسود عنسی‘ مہاشے راجپال ہو یا مرزا غلام قادیانی‘ مرزا طاہر ہو یا عاصمہ جہانگیر یا شیطان رشدی! سب کی نفسیاتی تحلیل میں ایک شیطانی قدر مشترک ہے اور وہ یہ کہ خالق و مخلوق کے درمیانی واسطہ (نبوت) کو کاٹ کر مخلوق کو گمراہ کیا جائے۔ اللہ تعالیٰ نے شیطان کی اس دلی کیفیت کو قرآن میں نقل کر کے اہل ایمان کو متنبہ
فرما دیا۔ ارشاد فرمایا:
ولاضلنهم ولا منينهم ولا امرنهم فليبتكن اذان الانعام و لامرنهم فليغيرن خلق الله و من يتخذ الشيطن وليا من دون الله فقد خسر خسرانا مبيناO
(سورۃ نساء آیت نمبر ۱۱۹)
ترجمہ : البتہ گمراہ کروں گا میں ان کو اور آرزوئیں دلاؤں گا ان کو اور البتہ حکم کروں گا ان کو پس البتہ کان کاٹیں گے جانوروں کے اور البتہ حکم کروں گا ان کو‘ پس پھیر ڈالیں گے اللہ کی مخلوق کو اور جو پکڑے شیطان کو دوست‘ سوائے اللہ کے‘ پس تحقیق وہ تو کھلے کھلے خسارے میں ہوگا۔
ایک راہ ہے رحمٰن کی جسے اس کے بھیجے ہوئے رسول دکھاتے رہے ہیں اور اسی راہ پر منزل ہے۔ جب کہ شیطان کھلم کھلا کہہ رہا ہے کہ میں اللہ کی مخلوق کو اس راہ ہدایت سے پھیروں گا اور اس شیطانی عمل کا پہلا ہدف رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اور دیگر انبیاء کرام سے مخلوق کا اعتماد اٹھانا ہے اور ان کے دلوں میں طرح طرح کے وسوسے ڈالنا ہے۔ ایک آیت قرآنی کا مفہوم ہے کہ شیطان اپنے دوستوں کی طرف وحی کرتا ہے اور ظاہر ہے اسی وحی کے نتیجے میں دشمنان رسول جنم لیتے ہیں۔
ابو لہب و ابو جہل کی حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے مخالفت کی وجہ بعینہ وہی تھی‘ جو شیطان مردود کی حضرت آدم علیہ السلام سے تھی۔ ابو لہب و ابو جہل کہتے تھے کہ ہم قریش مکہ کے سردار ہیں‘ نبوت کا حق ہمارا تھا۔ ایک یتیم کو ہم نبی مان کر اس کی اطاعت کیسے کریں؟
یہی بات شیطان نے کہی تھی: ”میں آگ سے بنا ہوں یہ گارے سے میں اس سے بہتر ہوں‘ میں اس کے سامنے سجدہ نہیں کرتا“۔ معلوم ہوا غرور و تکبر شیطان کی صفت ہے جو ابو لہب و ابو جہل میں موجود تھی۔
عبداللہ بن ابی بن سلول کی رسول اللہ ﷺ سے دشمنی کی وجہ :
روایت ہے: ”آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے ہجرت فرما کر مدینہ آنے سے عین قبل (اہل مدینہ نے) یہ طے کیا تھا کہ عبداللہ بن ابی کو اوس قبیلہ اور خزرج کا مشترکہ بادشاہ بنایا جائے اور تخت نشینی کے لیے تاج بنانے کا کام سناروں اور جوہریوں کے
سپرد کر دیا گیا تھا۔ پھر جب مدینے والے مسلمان ہو گئے تو پرانی تجویز منسوخ ہوگئی“۔
(”صحیح بخاری“ کتاب ۹، باب ۲۰، ”تفسیر طبری“ سورہ ۶۳، آیت ۸، ”تاریخ طبری“ سلسلہ
اول، ص ۱۵۱۱، ”سیرت ابن ہشام“ ص ۴۱۳-۷۲۷، ”روض الانف سہیلی“ جلد ۲، ص ۵۱)
یہاں بھی وہی پرانی شیطانی صفت کا دخل ہوا کہ ہونے والا بادشاہ ایک درویش صفت پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی اطاعت اور اتباع کیونکر کرے؟ بس یہی کیڑا عبداللہ بن ابی کے دماغ میں ایسا پھرا کہ اسے راس المنافقین کی پستیوں تک لے گیا۔
کعب بن اشرف کی رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے دشمنی کی وجہ:
”کعب بن اشرف مدینہ کے یہودی قبیلہ بنی النضیر کا سردار تھا“۔
(”ابن ہشام سیرت رسول اللہ“ ص ۵۵۲)
”مدینہ میں بنی النضیر، اونچی ذات کے اور بنی قینقاع، نیچ ذات کے یہودی سمجھے جاتے تھے اور اگر کوئی نضیری، کسی قینقاع کو قتل کر دیتا تو اس کے لیے آدھا خون بہا ادا کیا کرتا۔ جب آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہجرت کر کے مدینہ تشریف لائے اور ایک قتل کا مقدمہ پیش ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حکم صادر فرمایا کہ نضیری قاتل قینقاعی مقتول کا سالم خون بہا ادا کرے۔ اس پر نضیر کا سردار کعب بن اشرف چیخنے لگا، ہم تیرا فیصلہ نہیں مانتے اور نہ تیرا حکم تسلیم کرتے ہیں۔ ہم تو اپنے پرانے رسم و رواج ہی پر عمل کریں گے“۔
(”مقاتل“ فوت ۱۵۰، مخطوطہ کتب خانہ حمیدیہ استنبول، ورق ۹۶ الف، سورۃ ۵، آیت ۴۴)
یہاں بھی اسی احساس برتری، غرور، تکبر اور شیطانی احساس نے کعب بن اشرف کا بیڑہ غرق کیا۔ شیطان کا ایک حربہ تو یہ رہا کہ نبوت کا انکار کراتا رہا اور اس شیطانی عمل کا دوسرا رخ عجیب تر ہے۔ آسمان کا تھوکا منہ پر آنا تو ایک فطری عمل ہے۔ جب شیطان کا یہ حربہ کارگر نہ ہوا تو مسند نبوت کو اتنا جھکانا چاہا کہ ہر نتھو خیرا اس پر مسند نشین ہو سکے۔ ہر دو صورتوں میں شیطان کا منشاء یہی تھا کہ مقام نبوت کا انکار اور بین السطور میں پیغام الٰہی کا انکار! دوسرے حربے میں ابلیس کی جو ذریت کائنات میں متعفن لاش کی بدبو کی طرح پھیلی، اس بیماری کے جرثومے طلحہ اسدی، اسود عنسی، مسیلمہ کذاب اور سجاح بنت حارث کی صورت میں نمودار ہوئے۔ لیکن عاشقان مصطفیٰ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انہیں وہ تریاق پلایا کہ مرض مریض سمیت صفحہ ہستی سے جاتا رہا! آج ان کی نبوت کے نام لیوا فرش زمین پر ڈھونڈنے سے نہیں
طے لیکن شیطان نے خالق اکبر سے کہا تھا:
قال اراء یتک هذ الذی کرمت علی لئن اخرتن الی یوم القیمه لاحتنکن ذریته الا قلیلا O
(سورة بنی اسرائیل ٦١)
ترجمہ: کہا کیا دیکھا تو نے اس شخص کو؟ کہ بڑائی دی اوپر میرے اگر ڈھیل دے گا تو مجھ کو قیامت کے دن تک البتہ ہلاک کروں گا میں اس کی اولاد کو مگر تھوڑے"۔
اولاد آدم کو قیامت تک گمراہ اور ہلاک کرنے کا بیڑہ ابلیس نے ایسا اٹھایا کہ کبھی ابولہب و ابو جہل جیسے کھلے دشمنوں کو پیدا کیا تو کبھی عبداللہ بن ابی جیسے آستین کے سانپ پیدا کیے۔ کبھی کعب بن اشرف جیسے بچھو نما زبانوں والے پیدا کیے تو کبھی طلحہ اسدی‘ اسود عنسی‘ سجاح بنت حارثہ اور مسیلمہ کذاب جیسے مکار لومڑ پیدا کیے۔
گزشتہ چودہ صدیوں پر اگر نگاہ عمیق ہو تو یہ فیصلہ کرنے میں لمحہ بھر بھی نہ لگے گا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی شان اقدس میں جتنی ہرزہ سرائی گزشتہ سو برس میں کی گئی‘ اس کی مثال پہلی تیرہ صدیوں میں نہیں ملتی۔
اس سلسلے میں مندرجہ ذیل چند نکات قابل توجہ ہیں:
نکات:
- ۱- اسلامی حکومت کا خاتمہ اور انگریزی حکومت کا راج۔
- ۲- انگریزی حکومت کے خلاف اسلامی تحریکیں۔
- ۳- انگریزی حکومت کی پالیسی "لڑاؤ اور حکومت کرو"۔
- ۴- مرزا قادیانی کی جعلی نبوت اور اسلام کا لبادہ۔
- ۵- مرزا قادیانی کی پیدا کردہ مذہبی منافرت اور تحاریک شاتم رسول صلی
اللہ علیہ و آلہ وسلم)
۱- اسلامی حکومت کا خاتمہ اور انگریزی حکومت کا راج:
انگریز سامراج نے جس مکاری اور عیاری سے ہندوستان میں اپنی حکومت کی داغ بیل ڈالی‘ وہ کس سے پوشیدہ ہے؟ انگریز شاطر کو اپنی حکومت کی بقاء کے لیے برصغیر کی دو بڑی قوموں کو رام کرنا تھا۔ ایک ہندو اور دوسرے مسلمان۔ اس کے لیے انگریز نے انہیں بڑی
بڑی جاگیریں اور القابات سے نوازنا شروع کر دیا۔ ہندو اس کا خصوصاً شکار رہے اور بدقسمتی سے مسلمانوں میں بھی اب تک میر جعفر اور میر صادق موجود تھے۔ تاہم مسلمانوں کی اکثریت انگریزی حکومت کے خلاف تھی۔
انگریز یہ جانتا تھا کہ مسلمانوں کا فکری سرمایہ اسلامی اقدار اور عشق رسالت مآب صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہے اور جب تک یہ جذبہ مسلمانوں میں موجود ہے برصغیر میں انگریزی حکومت کو دوام نہیں ہو سکتا۔
مسلمان قوم میں جذبہ جہاد پارہ کی سی صفت رکھتا ہے۔ مسلسل متحرک‘ اس جذبہ سے خائف انگریز اپنے گرو ابلیس کے اشارے پر اسلام میں نقب زنی کرنے لگا۔
انگریز ہی کی سرپرستی میں میر جعفر اور میر صادق کی اولاد نے نئی نئی بدعات پیدا کیں۔ پیر پرستی شروع ہوئی۔ قبر پرستی کا رواج ہوا جو جھنڈیاں پہلے بالاکوٹ اور شاملی کے میدانوں میں بلند ہوتی تھیں‘ آج مسلمانوں کے ہاتھوں مزاروں پر سجائی جانے لگیں۔ انگریز نے مجاہدوں کو ختم کر کے مجاوروں کو پیدا کرنا شروع کیا۔ اس درد کو اقبالؒ نے کس پیرائے میں بیان فرمایا: ۔
روح محمد ﷺ اس کے بدن سے نکال دو
انگریز اس میں کسی حد تک کامیاب رہا لیکن کاروان اسلام کو یوں لٹتا دیکھ کر اہلیان حق سربکف میدان عمل میں اترنے لگے اور انتہائی بے سروسامانی کی حالت میں انگریزی حکومت سے ٹکرا گئے۔
۲۔ انگریزی حکومت کے خلاف اسلامی تحریکیں:
سرزمین دیوبند یوپی (موجودہ بھارت) میں سرفروشان اسلام کا ایک کارواں جمع تھا۔ ان کے سینے کے درد کی ہوک نے سارے برصغیر کو بیدار کر دیا۔
اس سرزمین سے تحریک ریشمی رومال چلی۔ تحریک خلافت کا منبع بھی یہی سرزمین تھی۔ تحریک آزادی ہو یا تحریک ترک موالات ہو یا کوئی بھی انگریز کے خلاف چلنے والی تحریک۔ علماء دیوبند نے اس میں مجاہدانہ کردار ادا کیا۔ تحریکی ریلے بڑھتے بڑھتے ۱۸۵۷ء کے طوفان سے ٹکرائے۔ فرنگی سامراج اقتدار کے نشے کے باوجود چکرا کر رہ گئے۔ اتنے بڑے پیمانے پر بغاوت؟ انگریزی حکومت جس میں سورج غروب نہ ہوتا تھا‘ اس میں واحد یہ خطہ تھا‘ جس
میں ہر طرف آگ اور دھوئیں کے بادل، بارود کی بو اور شہداء کے خون کی مہک تھی۔ انگریز اس انجانے تصور سے تھرا رہا تھا کہ جب ان ہزاروں شہداء کا خون آزادی کے رنگ میں ابھرے گا۔ شاید شہداء جنگ آزادی کے خون کی پکار انگریز سن رہا تھا۔
اس وقت سے لے کر آج تلک جلاد پر ہیبت طاری ہے
زخموں سے جسم گلزار سہی پر ان کے شکستہ تیر گنو
خود ترکش والے کہہ دیں گے یہ بازی کس نے ہاری ہے
اس طوفان کے بعد انگریز مدافعانہ کھیل کھیلنے پر مجبور ہو گئے اور برطانوی پالیسی لڑاؤ اور حکومت کرو کی بنیادی حکمت عملی پر عمل پیرا ہو گئے۔
(۳) لڑاؤ اور حکومت کرو:
انگریز نے ہندو مسلم منافرت پیدا کی اور ہندوؤں میں یہ تاثر پھیلایا کہ ہندوستان صرف اور صرف ہندوؤں کا ہے۔ اس میں مسلمانوں کے لیے کوئی جگہ نہیں۔
شدھی اور سنگٹھن جیسی تحریک شروع کروائی گئیں جن کا حاصل یہ تھا کہ مسلمانوں کو زبردستی ہندو بنایا جائے یا پھر ہندوستان سے نکال دیا جائے۔
دوسری طرف مسلمانوں میں دیوبندی، بریلوی اور اہل حدیث کی تفریق پیدا کی۔ اپنے خود ساختہ فرقوں کی سرپرستی کی اور اپنے خلاف عدم جہاد کے فتاویٰ جات حاصل کیے لیکن مسلمان راہنماؤں کی سیاسی بصیرت تھی کہ ایک طرف اگر ہندؤں کے ساتھ مل کر ایک پرچم تلے تحریک آزادی جاری رکھی تو دوسری طرف مسلمانوں کے مختلف فرقوں سے متحد ہو کر اتحاد و یگانگت کا علم بلند رکھا اور یوں انگریز کی یہ چال اتنی کارگر ثابت نہ ہوئی۔
فرنگی نگاہیں اس شکست کو بھانپ گئیں۔ اب پھر انہوں نے پینترا بدلا اور ۱۸۶۹ء میں برطانوی حکومت نے برطانوی مدبروں، اعلیٰ سیاست دانوں، ممبران پارلیمنٹ اور مسیحی راہنماؤں پر مشتمل ایک وفد ہندوستان بھیجا تاکہ وہ اس بات کا جائزہ لے سکے کہ ۱۸۵۷ء کی جنگ آزادی کے اسباب کیا تھے؟ اور انگریزی حکومت کے دوام کی کیا صورت باقی ہے؟
وفد کو ہندوستان کی فضاؤں سے اب تک یہ نعرہائے تکبیر، اللہ اکبر کی صدائے بازگشت سنائی دے رہی تھی۔ جذبہ عشق رسالت صلی اللہ علیہ وسلم مسلمانوں کے دلوں میں اسی طرح موجزن تھا۔ وفد نے عیسائی مشنریوں اور سول سروس کے افسروں خصوصاً یہودیوں سے
ملاقاتیں کیں۔ مسلم معاشرہ میں گھس کر ان کی مذہبی کیفیات کو بنظر غائر دیکھا۔ ہندوستان کی سیاسی صورت حال کا جائزہ لیا۔ مسلم عوام پر ان کے مذہبی رہنماؤں کے اثر و رسوخ کا مشاہدہ کیا۔ خفیہ اداروں کے ذریعے رپورٹیں حاصل کیں۔ ایک سال تک یہ سلسلہ جاری رہا اور ۱۸۷۰ء میں اس شیطانی وفد نے لندن میں ایک کانفرنس کا اہتمام کیا جس میں عیسائی مشنریوں اور خفیہ اداروں نے دو الگ الگ رپورٹیں تیار کیں، جنہیں اب یکجا کر کے The Arrival of the British Empire in India کے نام سے شائع کر دیا گیا ہے! رپورٹ ملاحظہ فرمائیں:
Report of Missionary Fathers.
"Majority of the population of the country blindly follow their "Peers" their Spiritual leaders. If at this stage, we succeed in finding out some who would be ready to declare himself a zilli nabi (Apostolic Prophet) then the large number of people shall Rally Round him.
But for this purpose, It is very difficult to persuade some one from the Muslim Masses. If this problem is solved, the Prophet hood the such a person can flourish under the patronage of the Government. We have already overpowered the native Government mainly persuing a policy of seeking help from the traitors. Thet was a different stage for the that time the traitors were from the military point of view.
But now when we have sway over nook of the country and there is peace and order every
where we ought to undertake measures which might create internal unrest among the Country".
(Extract from the printed report India Office Library London)
ترجمہ : ”ملک ہندوستان کی آبادی کی اکثریت اندھا دھند اپنے پیروں یعنی روحانی راہنماؤں کی پیروی کرتی ہے۔ اگر اس مرحلہ پر ہم ایک ایسا آدمی تلاش کرنے میں کامیاب ہو جائیں جو اس بات کے لیے تیار ہو کہ اپنے لیے ظلی نبی (نبی کا سایہ‘ حواری نبی) ہونے کا اعلان کرے تو لوگوں کی بڑی تعداد اس کے گرد جمع ہو جائے گی۔ لیکن اس مقصد کے لیے مسلمان عوام سے کسی کو ترغیب دینا بہت مشکل ہے۔ اگر یہ مہیا ہو جائے تو ایسے شخص کی نبوت کو سرکاری سرپرستی میں پروان چڑھایا جاسکتا ہے۔ ہم نے پہلے بھی غداروں کی مدد حاصل کر کے ہندوستانی حکومتوں کو محکوم بنایا لیکن وہ مختلف مرحلہ تھا۔ اس وقت فوجی نقطۂ نظر سے غداروں کی ضرورت تھی لیکن اب جب کہ ہم نے ملک کے کونے کونے میں اقتدار بھی حاصل کر لیا ہے اور ہر طرف امن اور آرڈر ہے ہمیں ایسے اقدامات کرنے چاہئیں۔ جن سے ملک میں داخلی بے چینی پیدا ہو سکے“۔
رپورٹ کے ایک ایک لفظ کا جائزہ لیجئے۔ کیا ١٨٥٧ء کی جنگ آزادی کے شہداء کا مقدس خون یہ بولتا ہوا نہیں دکھائی دے رہا ؎
اور مقتل کو سجاؤ کہ میں زندہ ہوں ابھی
لاکھ گھرا ہوں موجوں میں مگر ڈوبا تو نہیں
مجھے ساحل سے پکارو کہ میں زندہ ہوں ابھی
جس کے متعلق فرنگی دانشور کہتے تھے کہ (حواری نبی) ملنا مشکل ہے‘ وہ کمینہ صفت اور ملعون انہیں اپنے ہی دروازے کی چوکھٹ پر بوٹ چاٹتے ہوئے مل گیا۔
۴- مرزا قادیانی کی جعلی نبوت اور اسلام کا لبادہ:
مرزا غلام قادیانی نے انگریز سرکار کو درخواستیں دے دے کر اور التجائیں کر کے منصب نبوت حاصل کیا۔ انگریز حکومت نے اس کی سرپرستی کی اور اس خود کاشتہ پودے کی آبیاری برطانوی حکومت ہنوز کر رہی ہے۔
اس سارے سلسلے سے اہل اسلام کو قطعی دلچسپی نہ ہوتی اگر مرزا قادیانی اپنے آپ کو مسلمانوں کے مصلح اور نبی کے طور پر پیش نہ کرتا اور یہی انگریز سرکار کا منشاء اور حکم تھا‘ جسے مرزا قادیانی پورا کرتا رہا۔
ابلیس پورے طمطراق کے ساتھ اس کھیل میں اپنی ذریت کی پشت پناہی کرتا رہا اور خوشی کے شادیانے بجا بجا کر شیطنت کو مزید ابھارتا رہا۔
شروع شروع میں مرزا قادیانی نے ایک مصلح کا روپ دھارا اور اسلام کا لبادہ اوڑھے ہوئے دوسری اقوام سے مذہبی چھیڑ چھاڑ شروع کی۔
وہ قومیں جو صدیوں سے باہم مل جل کر رہ رہی تھیں‘ مرزا قادیانی نے اس کپاس کے ڈھیر میں چنگاری سلگانا شروع کر دی تھی۔
مورخ جب کبھی بھی برصغیر کی تاریخ لکھے گا‘ اس وقت تک آگے نہ بڑھ سکے گا‘ جب تک وہ برصغیر میں آنے والے مسلمان فاتحین کی عظمت اور رواداری کو جھک کر سلام نہ کر لے۔
مسلمانوں کے اس شاندار ماضی کو کون فراموش کر سکے گا کہ مسلمانوں نے براعظم افریقہ‘ یورپ اور ایشیاء کے وسیع علاقوں کو فتح کرنے کے باوجود مفتوحہ اقوام کے مذہبی عقائد و معاملات میں مداخلت روا نہیں رکھی بلکہ ہمیشہ دوسروں کے مذہبی جذبات و احساسات کا احترام کیا اور اس معاملے میں خصوصیت سے رواداری اور فراخ دلی کی حکمت عملی اختیار کی۔
لیکن مرزا غلام قادیانی ان اسلامی اقدار کو خاک میں ملانے لگا‘ مسلمانوں کے سلوک ہی کا اثر تھا کہ ہندو شعراء آنحضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی شان میں مدح سرائی کیا کرتے تھے!
مدحت شہ کونین صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم میں ہری چند اختر فرماتے ہیں:
آدمیت کا غرض ساماں مہیا کر دیا
اک عرب نے آدمی کا بول بالا کر دیا
چودھری دتورام کوثری آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شان یوں بیان فرماتے ہیں:
بڑی ہے قیمتی جان محمد
فرشتے بھی یہ کہتے ہیں کہ ہم ہیں
غلامان غلامان محمد
جناب سرکش پرشاد شاد فرماتے ہیں:
جاتے ہی ہو جاؤں گا قربان مدینہ
وہ گھر ہے خدا کا تو یہ محبوب خدا ہیں
کعبے سے بھی اعلیٰ نہ ہو کیوں شان مدینہ
کھولے در جنت کو یہی کہتا ہے رضوان
بے خوف چلے جائیں غلامان مدینہ
سینکڑوں ہندو شعراء یونہی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شان میں مدح سرائی کر گئے ہیں۔ اللہ سب کو جزائے خیر دے۔ (آمین) کنور مہندر سنگھ بیدی ایک سکھ شاعر ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اپنی عقیدت کا اظہار یوں فرماتے ہیں۔
فقط مسلم کا محمد پر اجارہ تو نہیں
بے شمار ہندو دانش ور اور ادیب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شان میں لکھتے رہے۔ چند ایک کا تذکرہ کیا جاتا ہے:
ڈاکٹر یدھ ویر سنگھ دہلوی:
”محمد صاحب (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ایک ایسی ہستی تھے، اس میں ذرہ بھر بھی شک نہیں کہ مسلمانوں کو چھوڑ کر جن کے عقیدے کے لحاظ سے وہ ایک پیغمبر تھے، دوسرے لوگوں کے لیے محمد صاحب (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی سوانح عمری ایک نہایت ہی دل بڑھا دینے والی اور سبق آموز ثابت ہوتی ہے“۔ (رسالہ
(”مولوی“ ربیع الاول ۱۳۵۱ھ)
کملا دیوی بی۔اے بمبئی:
”اے عرب کے مہا پرش! آپ وہ ہیں جن کی شکشا سے مورتی پوجا مٹ گئی اور ایشور کی بھکتی کا دھیان پیدا ہوا‘ بے شک آپ نے دھرم سیوکوں میں وہ بات پیدا کر دی کہ ایک ہی سمے کے اندر وہ جرنیل کمانڈر اور چیف جسٹس بھی تھے اور آتما کے سدھار کا کام بھی کرتے تھے‘ آپ نے عورت کی مٹی ہوئی عزت کو بچا لیا اور اس کے حقوق مقرر کیے‘ آپ نے ان کی دکھ بھری دنیا میں شانتی اور امن کا پرچار کیا اور امیر و غریب سب کو ایک سبھا میں جمع کیا“۔ (”الامان“ دہلی‘ ۱۷ جولائی ۱۹۳۲ء)
گاندھی جی:
”جب مغرب قصر جہالت میں پڑا تھا تو مشرق کے آسمان سے ایک درخشاں ستارہ طلوع ہوا اور تمام مضطرب دنیا کو راحت اور روشنی بخشی“۔ (”الامان“ دہلی‘ ۱۷ جولائی ۱۹۳۲ء)
موتی لال ماتھر ایم۔اے:
”پیغمبر اسلام نے توحید کی ایسی تعلیم دی جس سے ہر قسم کے باطل عقائد کی بنیادیں ہل گئیں“۔ (رسالہ ”مولوی“ دہلی‘ ربیع الاول ۱۳۵۰ھ)
وشوانرائن:
”دولت و عزت‘ جاہ و حشمت کی خواہش سے آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسلام کی بنیاد نہیں ڈالی۔ شاہی تاج ان کے نزدیک ایک ذلیل و حقیر شے تھی۔ تخت شاہی کو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ٹھکراتے تھے‘ دنیاوی وجاہت کے بھوکے نہ تھے‘ ان کی زندگی کا مقصد تو موت اور حیات کے متعلق اہم زاویوں کا پرچار تھا“۔ (”مدینہ“ جولائی ۱۹۳۲ء)
سوامی برج نرائن سنیاسی:
”پیغمبر اسلام نے ایک جنگ بھی جارحانہ نہیں کی‘ بلکہ ہر ایک موقع پر مدافعانہ لڑائی لڑنے پر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو مجبور کیا گیا۔“ (”مدینہ“ جولائی ۱۹۳۲ء)
لالہ لاجپت رائے:
”میں پیغمبر اسلام (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کو بڑے بڑے مہاپرشوں میں سے سمجھتا ہوں۔“۔ (رسالہ ”مولوی“ رمضان ۱۳۵۲ھ)
راجا رادھا پرشاد سنہا بی۔اے‘ ایل ایل بی:
”آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا ہر قول و فعل استقامت اور راستی کے سانچے میں ڈھلا ہوا تھا اور آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا کوئی بھی قدم اخلاق کے جادہ مستقیم سے منحرف نہ تھا۔“۔ (رسالہ ”ایمان“ پٹی‘ ضلع لاہور‘ مئی ۱۹۳۵ء)
بابو مکٹ ادھاری پرشاد بی۔اے‘ ایل ایل بی:
”حضرت محمد صاحب (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کی تعلیمات کی طرح حضرت محمد صاحب (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کے اخلاق بھی بہت بلند تھے۔“۔ (رسالہ ”ایمان“ پٹی ضلع لاہور‘ مئی ۱۹۳۵ء)
لالہ نانک چند ناز جرنلسٹ لاہور:
”دنیا کی عظیم ترین انسانی ہستیوں میں ان (رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کا درجہ کسی سے کم نہیں۔“۔ (”پیشوا“ ربیع الاول ۱۳۵۲ھ)
نرسنہا راؤ:
”دنیا کے کل پیغمبروں میں حضرت محمد صاحب (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کو اپنے مشن میں لاجواب کامیابی ہوئی جو کسی دوسرے پیغمبر کو نہیں ہوئی اور یہ پیغمبر
محمد (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) اللہ تعالیٰ کے اخلاق کا مظہر اور اوصاف حمیدہ کا نمونہ تھا"۔
(”نقوش رسول نمبر“ جلد ۴‘ ص ۴۵۸)
ڈاکٹر جے کارام برہما:
”حضرت محمد (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) نے اخلاق عالیہ کی تلقین ہی نہیں کی بلکہ ان اصولوں پر عمل بھی فرمایا‘ ان کی زندگی ایثار و قربانی کی زندگی تھی"۔
(”پیشوا“ ربیع الاول ۱۳۵۲ھ)
شردھے پرکاش دیوجی پرچارک براہمہ دھرم:
”ہم محمد صاحب (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کی ان بے بہا خدمات کو‘ جو وہ نسل انسانی کی بہبود کے لیے بجا لائے‘ بھلا کر احسان فراموش نہیں ہو سکتے"۔ (سوانح عمری محمد صاحب (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم)
پنڈت سیتا دھاری:
”پیشوائے دین اسلام حضرت محمد (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کی زندگی دنیا کو بے شمار قیمتی سبق پڑھاتی ہے اور تقریباً آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی زندگی ہر حیثیت سے دنیا کے لیے سبق آموز ہے بشرطیکہ دیکھنے والی آنکھ‘ سمجھنے والا دماغ اور محسوس کرنے والا دل ہو"۔
(معجزات اسلام‘ ص ۷۴)
لالہ رام لال ورما ایڈیٹر اخبار ”تیج“:
”جمہوریت‘ اخوت‘ مساوات یہ عطیات ہیں جو حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے بنی نوع انسان کو عطا کیے"۔
(نقوش رسول نمبر‘ جلد ۴)
سردار جوند سنگھ:
”دنیا میں آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پاکیزہ زندگی کی بے نظیر مثال ہیں"۔
(”مدینہ“ جولائی ۱۹۳۲ء)
پیشوائے اعظم بدھ مذہب مانگ تونگ صاحب:
"حضرت محمد (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کا ظہور بنی نوع انسان پر خدا کی ایک رحمت تھا، لوگ کتنا ہی انکار کریں مگر آپ (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کی اصلاحات عظیمہ سے چشم پوشی ممکن نہیں، ہم بدھی لوگ حضرت محمد (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) سے محبت کرتے ہیں اور ان کا احترام کرتے ہیں"۔ (معجزات اسلام، ص
٦٦)
ماسٹر تارا سنگھ پریذیڈنٹ سکھ لیگ:
"جب کوئی مجھ سے کہتا ہے کہ محمد (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) نے تلوار کے زور پر اپنا مذہب پھیلایا تھا تو مجھے اس شخص کی کم فہمی پر ہنسی آتی ہے"۔ (اخبار
"الامان" دہلی، ۷ جولائی ۱۹۳۲ء)
گاندھی جی کا ایک اور قول:
"وہ (رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) روحانی پیشوا تھے بلکہ ان کی تعلیمات کو سب سے بہتر سمجھتا ہوں، کسی روحانی پیشوا نے خدا کی بادشاہت کا پیغام ایسا جامع اور مانع نہیں سنایا جیسا کہ پیغمبر اسلام نے (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم)"۔
(رسالہ "ایمان" پٹی ضلع لاہور، اگست ۱۹۳۲ء)
برصغیر پاک و ہند کی چیدہ چیدہ مذہبی، سیاسی اور علمی شخصیات کے اقوال پر ہی اکتفا کیا جا رہا ہے ورنہ غیر مسلم دانش وروں نے جس طرح آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی مدح سرائی کی ہے اس کے لیے تو ایک دفتر درکار ہے!
انگریز شاطر نے ہندوستان میں داخلی بے چینی پیدا کرنے کے لیے اپنے چیلے مرزا قادیانی کو اقوام ہندوستان میں انتشار پیدا کرنے کا اشارہ کیا، مرزا قادیانی اپنے گرو کے اشارے پر اس ابلیسیت میں سرتاپا ایسا جتا کہ انگریزی سرکار کے سابقہ تمام چیلوں سے نمبر لے گیا۔
ہندوستان بھر میں ہر طرف سے نفرتوں کے سیاہ بادل امڈنے لگے، جہاں کل بھائی بندی تھی، آج دلوں میں کدورتیں ہیں۔ جو غیر مسلم، کل اسلام اور پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے دیوانے اور عاشق تھے، تنگ نظری اور تعصب کے اندھیرے میں دھکیل دیے گئے۔
جو کل مسلمانوں کے دلوں میں رہے تھے، آج تعصب کے دلدل میں اترے جارہے ہیں اور یہ سارا کرتب اس بہروپیا کا تھا جو اسلام کا لبادہ اوڑھے ابلیس کی بین پر رقص کناں تھا (لعنت بر پدر فرنگ)
۵- مرزا قادیانی کی پیدا کردہ مذہبی منافرت اور تحریک شماتت رسول
اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم:
مرزا غلام قادیانی کی پہلی کتاب "پرانی تحریریں" کے نام سے ۱۸۷۹ء میں شائع ہوئی۔ اس کتاب میں مرزا غلام قادیانی نے آریہ مذہب کی خوب خوب تردید کی اور دل کھول کر مخالفت کی اور ہر وہ حربہ آزمایا گیا جو کسی کی دل شکنی کا موجب ہو سکتا تھا۔
اس کے بعد ۱۸۸۱ء میں "براہین احمدیہ" کی پہلی جلد شائع ہوئی اور یوں ۱۸۸۴ء تک اس کتاب کی چار جلدیں پے در پے چھاپ ڈالیں۔
ان کتب کے الفاظ کیا تھے، نشتر تھے جو ہندوؤں کے سینے میں اترتے جاتے تھے۔ قرآن کہتا ہے:
ادع الی سبیل ربک بالحکمتہ والموعظتہ الحسنتہ و جادلہم بالتی ھی احسن (سورۃ النحل، آیت ۱۲۵)
ترجمہ: "اللہ کے راستے کی طرف حکمت اور نیک نصیحت کے ساتھ بلاؤ اور اس چیز کے ساتھ ان سے جدال کرو جو بہت اچھی ہے"۔
تبلیغ اسلام کے اس طریقہ کار کی قطعی مخالفت کرتے ہوئے مرزا قادیانی نے جاہلانہ طرز اپنایا اور ہر ممکن طریقے سے ہندوؤں کو مخالفت پر اکسانے کی سرتوڑ کوشش کی۔
مرزا قادیانی کی یہ کوششیں غیر مسلم اقوام کو مسلمانوں کے خلاف برسر پیکار کرنے کے لیے نہیں تھیں بلکہ اسلام اور بانی اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی مخالفت کے اسباب بھی تیار کیے جارہے تھے:
مرزا قادیانی کی دیگر اشتعال انگیزیاں رقم کرنے سے پہلے مرزا قادیانی کا ایک اصول بیان کیا جاتا ہے تاکہ اتمام حجت ہو جائے۔
مرزا قادیانی مقدمہ براہین احمدیہ میں لکھتے ہیں: "جس میں کسی بزرگ یا پیشوا کسی فرقے کی کسر شان لازم آوے اور خود ہم
ایسے الفاظ کو صراحتاً یا کنایۃً اختیار کرنا خبث عظیم سمجھتے ہیں اور مرتکب ایسے امر کو پرلے درجے کا شریر النفس خیال کرتے ہیں“۔ (مقدمہ براہین احمدیہ‘ بحوالہ سیتارتھ پرکاش اور مرزا قادیانی‘ ص ۷۰)
ایک دوسری جگہ لکھتے ہیں: ”غلط بیانی اور بہتان طرازی راست بازوں کا کام نہیں بلکہ نہایت شریر اور بدذات آدمیوں کا کام ہے“۔ (آریہ دھرم ص ۱۳)
اور سنئے: ”گالیاں دینا سفلیوں اور کمینوں کا کام ہے“۔ (ست بچن‘ ص ۲۱)
ایک اور جگہ لکھتے ہیں: ”گالیاں دینا اور بد زبانی کرنا طریق شرافت نہیں“۔ (ضمیمہ براہین احمدیہ‘ نمبر ۴‘ ص ۵)
قادیان کے ایک جلسے میں مرزا صاحب نے یہ خوب کہی: ”ایک بزرگ کو کتے نے کاٹا (اس کی) چھوٹی لڑکی بولی‘ آپ نے کیوں نہ کاٹ کھایا؟ اس نے جواب دیا بیٹی انسان سے ”سگ پن“ نہیں ہوتا‘ اس طرح جب کوئی شریر گالی دے تو مومن کو لازم ہے کہ اعراض کرے‘ نہیں تو وہی ”سگ پن“ کی مثال لازم آئے گی“۔ (تقریر مرزا در جلسہ قادیان ۱۸۹۷ء رپورٹ ص ۹۹)
مرزا صاحب کے مندرجہ بالا اصولوں کو ذہن میں رکھئے اور مرزا قادیانی کی کوثر و تسنیم سے دھلی زبان کے الفاظ بھی پڑھئے‘ یہاں تو وہی مثل صادق آتی ہے کہ ”مرزا کی جوتی مرزا کے سر“۔
آریوں کو مرزا قادیانی کی گالیاں!
”کیا قادیان کے احمق اور جاہل اور کمینہ طبع بعض آریہ“ (نزول المسیح ص ۹)
”ان لوگوں (آریوں) کے نزدیک جھوٹ بولنا شیر مادر ہے‘ شیاطین ہیں نہ انسان“ (نزول المسیح ص ۱۱)
”پس اے آریو..... اے بے خوف اور سخت دل قوم..... وہ اول درجہ کا خبیث فطرت اور ناپاک طبع ہوتا ہے“۔ (تتمہ حقیقۃ الوحی‘ ص ۱۵۶)
”سفلہ طبع لیکھ رام۔ افسوس کہ یہ بے باکی اور بدگوئی کا تخم بدقسمت دیانند اس ملک میں لایا...... لیکھ رام پشاوری جو محض نادان اور ابلہ تھا“۔
(چشمہ
معرفت جلدا‘ ص ۳)
”اس قسم کی شوخ چشمی اور بد زبانی اور بے باکی خاص آدمیوں کا حصہ ہے“۔
(چشمہ معرفت جلدا‘ ص ۶)
”چوروں اور خیانت پیشہ لوگوں“۔
(آریہ دھرم ص ۱۲)
”یہ کمینہ طبع لوگ‘ نکتہ چینی کے لیے تو حریص تھے ہی‘ اس پر چند شریر اور ناداں عیسائیوں کی کتابیں ان کو مل گئیں اور شیطانی جوش نے یہ تلقین دی کہ یہ سب سچ ہے‘ لہٰذا اس روسیاہی اور ندامت کا انہوں نے بھی حصہ لیا جو اب نادان پادریوں کے منہ پر نمایاں ہے“۔
(آریہ دھرم ص ۴۳)
”اے نادان آریو! کسی کنوئیں میں پڑ کر ڈوب مرو“۔
(آریہ دھرم‘ ص ۶۲)
”لیکھ رام کی طبیعت میں افتراء اور جھوٹ کا مادہ تھا“۔
(استفتاء ص ۷)
”در حقیقت یہ شخص (دیانند) سخت دل سیاہ اور نیک لوگوں کا دشمن تھا..... اس ناحق شناس اور ظالم پنڈت نے“۔
(ست بچن‘ ص ۸)
”اس نادان پنڈت کی اشتعال دہی کی وجہ سے یہ حق رکھتا ہے..... یہ خشک دماغ پنڈت بکلی‘ بے نصیب اور بے بہرہ تھا.... وہ نہایت ہی موٹی سمجھ کا آدمی تھا اور با ایں ہمہ اول درجہ کا متکبر بھی تھا“۔
(ست بچن ص ۹)
”وہ خود ایسے موٹے خیالات اور غلطیوں میں گرفتار تھا کہ دیہات کے گنوار بھی اس سے بمشکل سبقت لے جا سکتے تھے“۔۔
(ست بچن ص ۱۳)
”اے نالائق آریو!“۔
(ست بچن ۳۶)
”مہاراج شریر النفس بولے۔ شریر پنڈت“۔
(آریہ دھرم ص ۳۱-۳۲)
”یہ نالائق ہندو وہی شخص ہے جس نے اپنے پنڈت ہونے کی شیخی مار کر“۔
(ست بچن‘ ص ۶)
”لیکن دیانند ایسے زمانے میں بھی نابینا رہا جب کہ انگلستان اور جرمن وغیرہ میں ویدوں کے ترجمے ہو چکے ہیں“۔
(ست بچن ۱۹)
اور یوں مرزا قادیانی نے ایک تو اپنا سودا بکوانے اور دوسرے مخالفوں کو اکسانے کی سبیل تلاش کر لی‘ براہین احمدیہ صفحہ ۱۲‘ اشاعت سوم میں ان کا دس ہزار انعامی اشتہار اب
شائع کر دیا گیا ہے‘ تبلیغ رسالت میں بھی درج ہے۔
عیسائیوں اور آریوں نے اس کا جواب دیا۔ مرزا قادیانی کا مطلوبہ ہدف قریب تھا اور جواباً اپنے ترکش کا پہلا تیر آزمایا! ملاحظہ فرمائیے:
”کسی ایک پادری صاحبوں اور ہندو صاحبوں نے جوش میں آکر اخبار ”سفیر ہند“ اور ”نور افشاں“ اور رسالہ ”پریا پرکاشک“ میں ہمارے نام طرح طرح کے اعلان چھپوائے ہیں‘ جن میں وہ دعویٰ کرتے ہیں کہ ضرور ہم اس کتاب کا جواب لکھیں گے اور بعض صاحب ڈوموں کی طرح ایسے صریح ہجو آمیز الفاظ استعمال میں لائے ہیں کہ جن سے ان کی طینت کی پاکی خوب ظاہر ہوتی ہے گویا وہ اپنی اوباشانہ تقریروں سے ہمیں ڈراتے اور دھمکاتے ہیں۔ مگر انہیں معلوم نہیں ہم تو ان کی تہ سے واقف ہیں اور ان کے جھوٹے اور ذلیل اور پست خیال ہم پر پوشیدہ نہیں ”سو ان سے ہم کیا ڈریں اور وہ کیا ہمیں ڈرائیں گے“۔ (بحوالہ سیتارتھ پرکاش اور مرزا قادیانی از مولانا مظہر علی اظہر‘ ص ۲۳)
مقدمہ براہین احمدیہ میں مرزا قادیانی نے کیا کیا گل کھلائے ملاحظہ فرمائیے:
”سو اگرچہ یہ دعویٰ تو اس کتاب میں ایسا رد کیا گیا کہ وید موجودہ کا حصہ ہی پاک ہو گیا ہے“۔ (مقدمہ براہین احمدیہ‘ بحوالہ سیتارتھ پرکاش اور مرزا قادیانی‘ از مولانا مظہر علی اظہر‘ ص ۷۳)
نیز
”پھر اپنے پرمیشر پر بھی یہ بدظنی جو اس کو غافل یا مدہوش یا مخبوط الحواس تصور کیا ہے کہ جو اس قدر بے خبر ہے گو بعد وید کے ہزارہا طور کی نئی نئی بدعتیں نکلیں اور لاکھوں طرح کے طوفان آئے اور اندھیریاں چلنے لگیں اور رنگا رنگ کے فساد برپا ہوئے اور اس کے راج میں ایک بری طرح کی گڑبڑ پڑ گئی اور دنیا کو اصلاح جدید کی سخت سخت حاجتیں پیش آئیں‘ پر وہ کچھ ایسا سویا کہ پھر نہ جاگا اور کچھ ایسا کھسکا کہ پھر نہ آیا‘ گویا اس کے پاس اتنا ہی الہام تھا جو وید میں خرچ کر بیٹھا اور وہی سرمایہ تھا جو پہلے ہی بانٹ چکا اور پھر ہمیشہ کے لیے خالی ہاتھ رہ گیا اور منہ پر مہر لگ گئی“۔ (مقدمہ براہین احمدیہ مصنفہ مرزا قادیانی بحوالہ سیتارتھ پرکاش اور مرزا قادیانی‘ از مولانا مظہر علی اظہر‘ ص ۷۳)
مرزا قادیانی کا پنڈتوں کو گرمانا:
”سارا باعث ان واہیات باتوں کا اور بے ہودہ چالاکیوں کا یہ ہے کہ پنڈت صاحب نہ عربی جانتے ہیں نہ فارسی اور نہ بجز سنسکرت کے کوئی اور بولی بلکہ اردو خوانی سے بھی بالکل بے بہرہ اور بے نصیب ہیں اور ایک اور بھی باعث ہے جو ان کی نو تصنیف کتابوں کے مطالعہ سے ظاہر ہوتا ہے اور وہ یہ ہے کہ علاوہ کم فہمی اور بے عملی کو تعصب کے ان کی فطرتی سمجھ بھی سودائیوں اور وہمیوں کی طرح وضع استقامت پر قائم ہونے اور صراطِ مستقیم پر ٹھہرنے سے نہایت لاچار ہے اور نیک کو بد خیال کرنا اور بد کو نیک سمجھنا اور کھرے کو کھوٹا اور کھوٹے کو کھرا قرار دینا اور الٹے کو سیدھا اور سیدھے کو الٹا جاننا ان کی ایک عام عادت ہو گئی ہے جو ہر جگہ بر ملا بے اختیار ان کے ظہور میں آتی ہے“۔ (سیتارتھ پرکاش اور مرزا قادیانی، از مولانا مظہر علی اظہر، ص ۷۷-۷۸)
مرزا قادیانی پے در پے متعدد وار کرنے کے بعد زخمی سانپ کے زہر اور اس کی پھنکار کی پیش بندی خود ان الفاظ میں کرتے ہیں اور یہی ان کا مطمح نظر تھا:
”منہ سے فضول باتیں بکنا کوئی بڑی بات نہیں جو جی چاہے، بک لیا، کون روکتا ہے لیکن معقول طور پر مدلل بات کا مدلل جواب دینا شرط انصاف ہے یوں تو ہمارے سارے مخالفین گالیاں دینے اور توہین کرنے کو بڑے چالاک ہیں اور ہجو اور اہانت کرنا کسی استاد سے خوب سیکھے ہیں“۔ (سیتارتھ پرکاش اور مرزا قادیانی، از مولانا مظہر علی اظہر، ص ۸۶-۸۷)
مرزا قادیانی کی کتاب براہین احمدیہ کے تین حصے تو ۱۸۸۰ء میں سفیر ہند پریس امرتسر میں چھپے مگر جلد چہارم مطبع ریاض ہند امرتسر میں ۱۸۸۴ء میں طبع ہوئی۔ اب تک مرزا قادیانی مسلسل اشتعال انگیزیوں میں مصروف تھے۔ حوالے نوٹ فرمائیے:
”ہندوؤں کا پرمیشر آپ ہی لوگوں کو بدفعلی اور پلیدی میں ڈالنا چاہتا ہے“۔ (براہین احمدیہ، حصہ چہارم، سیتارتھ پرکاش اور مرزا قادیانی، از مولانا مظہر علی اظہر، ص ۱۱۶)
نیز
”مگر افسوس کہ پنڈت صاحب نے اس ذلیل اعتقاد سے دست کشی اختیار نہ کی
اور اپنے بزرگوں اور اوتاروں وغیرہ کی اہانت اور ذلت جائز رکھی مگر اس ناپاک اعتقاد کو نہ چھوڑا"۔ (براہین احمدیہ‘ حصہ چہارم‘ بحوالہ سیتارتھ پرکاش اور مرزا قادیانی‘ از مولانا مظہر علی اظہر‘ ص ۱۱۹)
آریہ مذہب سے بدتر کوئی مذہب نہیں:
مرزا قادیانی لکھتے ہیں:
”ان کے مذہب اور اعتقاد کا سراسر باطل ہونا براہین قطعیہ سے ان پر ظاہر کیا اور نہایت عمدہ اور کامل دلائل سے باادب تمام ان پر ثابت کر دیا کہ دہریوں کے بعد دنیا میں آریوں سے بدتر اور کوئی مذہب نہیں"۔ (براہین احمدیہ‘ جلد چہارم‘ سیتارتھ پرکاش اور مرزا قادیانی‘ ص ۱۱۸)
”پنڈت صاحب جو مرزا قادیانی کی تحریروں میں زیر عتاب ہیں ۳۰/ اکتوبر ۱۸۸۳ء کو اس عالم فانی سے رخصت ہوگئے"۔ سیتارتھ پرکاش اور مرزا قادیانی‘ از مولانا مظہر علی اظہر‘ ص ۱۲۵)
مرزا قادیانی اس اعتراف میں براہین احمدیہ حصہ چہارم مطبوعہ ۱۸۸۴ء میں لکھتے ہیں:
”مگر ان کی طرف سے (یعنی پنڈت صاحب کی طرف سے) کبھی صدا نہ اٹھی یہاں تک کہ خاک میں یا راکھ میں جاملے"۔ (سیتارتھ اور مرزا قادیانی‘ از مولانا مظہر علی اظہر‘ ص ۱۲۵)
کچھ پنڈت صاحب کے بارے میں:
”آریہ سماج کے بانی تھے سوامی دیانند سرسوتی کے نام سے مشہور تھے جب کہ ان کا اصل نام مول شنکر تھا۔ وہ ۱۸۲۴ء کو گجرات (کاٹھیاواڑ) میں پیدا ہوئے۔ ۱۸۴۵ء میں گھر بار چھوڑ کر نکلے۔ قریہ قریہ دربدر پھرے۔ جدید علوم سے سوجھ بوجھ حاصل کی۔ ازاں بعد ان کے گرو نے جدید علوم اور فنون کی کتب پھینکوا کر ویدک کی تعلیمات پر غور و فکر کا حکم دیا"۔ (ماہنامہ ”نعت“ لاہور‘ جلد ۴‘ شمارہ ۲‘ ص ۳۲)
۱۸۷۵ء میں بدنام زمانہ کتاب ”سیتارتھ پرکاش“ شائع کروائی جس کے کل باب ۱۲ تھے۔
مرزا قادیانی کی ان اشتعال انگیز تحریروں اور پنڈت جی کی وفات کے بعد ۱۸۸۳ء میں سیتارتھ پرکاش کا دوسرا ایڈیشن شائع کیا گیا جس میں تیرھواں اور چودھواں باب آ شامل ہوا اور ان دو ابواب میں خصوصاً چودھویں باب میں رحمت للعالمین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شان میں گستاخیاں لکھی گئیں۔
میاں قمر الدین مہتمم شعبہ تبلیغ مجلس احرار اسلام ہند، رئیس اچھرہ ضلع لاہور نے مولانا مظہر علی اظہر کی کتاب ”سیتارتھ پرکاش اور مرزا قادیانی“ پر تقریظ رقم کی ہے، اس میں آپ لکھتے ہیں:
”مصنف کتاب ”سیتارتھ پرکاش اور مرزا غلام احمد“ نے اپنی کتاب میں اس شخص یعنی مرزا غلام احمد قادیانی کی تبلیغی اور دینی سرگرمیوں کا جائزہ لیا ہے اور اس کی مختلف کتابوں کے حوالوں سے یہ ثابت کیا ہے کہ کس طرح مرزا غلام احمد نے دانستہ دوسرے مذاہب اور ان کے پیروؤں پر کیچڑ اچھالا اور ان کو اسلام اور بانی اسلام علیہ السلام کے خلاف گندہ اور زہر آلودہ مواد شائع کرنے پر اکسایا“۔
(سیتارتھ پرکاش اور مرزا غلام احمد، از مولانا مظہر علی اظہر، ص ۵۰۴)
سیتارتھ پرکاش کا پہلا ایڈیشن اور دوسرا ایڈیشن:
”۲۱/ مئی کے ”ملاپ“ میں لالہ خوشحال چند خورسند نے اعلان کیا ہے کہ پرمانند ایڈیشن کے نام سے سیتارتھ پرکاش کی ایک لاکھ کاپی مفت یا برائے نام قیمت پر تقسیم کی جائے گی۔ سوال یہ ہے کہ سیتارتھ پرکاش اصلی ہو گا یا نقلی؟ اصلی سیتارتھ پرکاش تو وہی ہے جو سوامی دیانند نے ۱۸۷۵ء میں راجہ جے کشن داس بہادر سی۔ ایس۔ آئی کے اہتمام سے بنارس میں چھپوایا تھا، اس میں ۱۳ اور ۱۴ ابواب نہیں تھے“۔
”راجہ صاحب کے ہاتھ سوامی دیانند نے اس کا کاپی رائٹ فروخت کر دیا تھا اور راجہ صاحب نے حسب قانون ۱۸۴۰ء اس کی رجسٹری کا ایک لاکھ ایڈیشن نکالنا چاہا تو اس کی دس ہزار کاپی کاسٹ پرائس پر لینے کے لیے تیار ہوں۔ وہ میرا نام اس کے خریداروں کی فہرست میں درج کر لیں لیکن اگر وہ اصل سیتارتھ
پرکاش کے بجائے جعلی ستیارتھ پرکاش کا ایک لاکھ ایڈیشن نکالنا چاہتے ہوں تو وہ اس نقل کے مطابق اصل ثابت کرنے کے لیے جہاں اور جس وقت چاہیں، میرے ساتھ تحریری یا تقریری مباحثہ کرلیں لیکن اگر وہ اس کے لیے بھی تیار نہ ہوئے تو ان کو بین الاقوامی منافرت پھیلانے کے فعل کے ارتکاب سے اجتناب کرنا چاہیے"۔ (ستیارتھ پرکاش اور مرزا غلام احمد، ۱۵-۱۶ بحوالہ روزنامہ "احسان" ۹ جون ۱۹۴۴ء)
"کتاب البریہ" میں مرزا صاحب نے یہ ثابت کرنا چاہا ہے کہ اسلام اور بانی اسلام (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کے خلاف دوسرے لوگوں نے بھی بہت کچھ لکھا ہے۔ اس سلسلے میں اس کتاب کی اشاعت دوئم میں جو دسمبر ۱۹۳۲ء میں ہوئی، صفحہ ۱۱ پر عنوان یوں ہے:
"ستیارتھ پرکاش مصنفہ پنڈت دیانند ۱۸۷۵ء ماخوذ از ترجمہ ستیارتھ پرکاش مطبع کشن چند کمپنی لاہور"۔
اس عنوان سے بظاہر معلوم ہوتا ہے کہ گویا ۱۸۷۵ء کے ایڈیشن میں پنڈت صاحب نے چودھواں باب تحریر کیا۔ مگر مرزا صاحب نے ۱۸۷۵ء (ستیارتھ پرکاش اور مرزا غلام احمد ص ۱۳۸) پر نشان لگا کر بیرون حاشیہ درج کیا ہے کہ "یہاں ۱۸۸۴ء پڑھنا چاہیے"۔
گویا ۱۸۷۵ء غلطی سے لکھا گیا ہے۔ دراصل اسے ۱۸۸۴ء پڑھنا چاہیے"۔
(ستیارتھ پرکاش اور مرزا غلام احمد، ص ۱۲۸)
گویا مرزا صاحب خود معترف ہیں کہ ستیارتھ پرکاش کے پہلے ایڈیشن میں چودھواں باب نہیں تھا اور یہ مرزا صاحب کی نوازشات سے ۱۸۸۴ء میں ضبط تحریر میں آیا ہے:
لو آپ اپنے جال میں صیاد آ گیا
مرزا قادیانی کی شاعرانہ حسن کلامی ملاحظہ فرمائیے۔ موصوف اس میدان میں بھی کسی سے کم نہ تھے:
نام اولاد کے حصول کا ہے ساری شہوت کی بے قراری ہے
بیٹا بیٹا پکارتی ہے غلط یار کی اس کو آہ و زاری ہے
زن بیگانہ پر یہ شیدا ہیں جس کو دیکھو وہی شکاری ہے
ہے قوی مرد کی تلاش انہیں خوب جورو کی حق گزاری ہے
تاکہ کروائیں پھر اسے گندی پاک ہونے کی انتظاری ہے
(آریہ دھرم مصنف مرزا قادیانی، ص ۷۶-۷۷)
آریوں کا پرمیشر:
مرزا غلام قادیانی آریوں کے سینے میں ایک اور زہر آلود نشتر یوں گھونپتے ہیں:
”آریوں کا پرمیشر ناف سے دو ہاتھ نیچے ہے“۔
ارشاد باری تعالیٰ ہے:
ولا تسبو اللذين يدعون من دون الله فسبوا الله عدوا بغير علم (سورة انعام:۱۰۹)
ترجمہ : ”اور نہ برا کہو ان لوگوں کو کہ پکارتے ہیں سوائے اللہ کے پس برا کہنے لگیں گے خدا کو زیادتی سے بے سمجھے“۔
قرآن تعلیم دیتا ہے کہ کسی کے غلط خدا کو بھی برا نہ کہو تاکہ اس کے پیرو تمہارے سچے خدا کو بے علمی سے برا نہ کہیں۔ قرآن کا منشاء خدائے بزرگ و برتر کی عظمت اور شان میں گستاخی سے منع کرتا ہے جب کہ مرزا قادیانی اپنی کوتاہ فکری اور قرآن دشمنی کا اعلان ان الفاظ میں کرتے ہیں:
”اور سخت الفاظ کے استعمال کرنے میں ایک یہ بھی حکمت ہے کہ خُفتہ دل اس سے بیدار ہوتے ہیں اور ایسے لوگوں کے لیے جو مداہنہ کو پسند کرتے ہیں‘ ایک تحریک ہو جاتی ہے۔ مثلاً ہندوؤں کی قوم ایک ایسی قوم ہے کہ اکثر ان میں سے ایسی عادت رکھتے ہیں کہ اگر ان کو اپنی طرف سے نہ چھیڑا جائے تو وہ مداہنہ کے طور پر تمام عمر دوست بن کر دینی امور میں ہاں سے ہاں ملاتے رہتے ہیں۔ بلکہ بعض اوقات تو ہمارے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی تعریف و توصیف اور اس کے دین کے اولیاء کی مدح و ثناء کرنے لگتے ہیں (جی ہاں! مرزا قادیانی جیسے اسلام دشمن کو یہ کیسے گوارا ہو سکتا تھا۔ ناقل) لیکن دل ان کے نہایت درجہ کے سیاہ اور سچائی سے دور ہوتے ہیں۔ ان کے روبرو سچائی کو اس کی پوری حرارت اور تلخی کے
ساتھ ظاہر کرنا اس شجرہ خبیثہ کا بیج ہوتا ہے کہ اسی وقت ان کا مداہنہ دور ہو جاتا ہے اور بالجہر یعنی واشگاف اور اعلانیہ اپنے کفر کو بیان کرنا شروع کر دیتے ہیں گویا ان کی دق کی بیماری محرقہ کی طرف انتقال کر جاتی ہے۔ سو یہ تحریک جو طبیعتوں میں سخت جوش پیدا کر دیتی ہے اگرچہ ایک نادان کی نظر میں سخت اعتراض کے لائق ہے مگر ایک فہیم آدمی بخوبی سمجھ سکتا ہے کہ یہی تحریک روبراہ کرنے کے لیے پہلا زینہ ہے“۔ (ازالہ اوہام مصنفہ مرزا قادیانی‘ اشاعت پنجم‘ ص ۱۵)
شیطنت کے یہ زینے مرزا قادیانی اس رفتار سے چڑھے کہ:
بازی لے گیا مجھ سے مقدر تو دیکھئے
مرزا قادیانی کے رد عمل میں جب اسلام اور بانی اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے خلاف خرافات کا سلسلہ شروع ہوا تو وہ مسلمانوں کے دلوں پر بجلی بن کر گرا اور ہر مسلمان انگشت بدنداں تھا کہ کل جو اسلام اور بانی اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی شان میں قصیدے پڑھتے تھے‘ آج ان زبانوں اور ان کے قلموں سے زہر آلود الفاظ نکل رہے تھے۔ ہر دل مضطرب ہو رہا تھا‘ جگر پارہ پارہ تھا۔ سانسیں خاردار چھڑی کی طرح چل رہی تھیں‘ لیکن مرزا قادیانی اس سارے عمل کو اپنی پیدا کردہ تحریک کے عین حق میں گردان رہے تھے!!
”حال ہی میں جو آریوں نے ہم لوگوں کی تحریک سے مناظرات کی طرف قدم اٹھایا ہے تو اس قدم اٹھانے میں گو کیسی ہی سختی کے ساتھ ان کا برتاؤ ہے مگر وہ اپنے جوش سے در حقیقت اسلام کے لیے اپنی قوم کی طرف راہ کھول رہے ہیں اور ہماری تحریکات کا واقعی طور پر کوئی بد نتیجہ نہیں“۔ (ازالہ اوہام‘ مصنفہ مرزا قادیانی‘ اشاعت پنجم‘ ص ۱۶)
مرزا صاحب فرماتے ہیں یہ ہماری تحریکات کا کوئی بد نتیجہ نہیں جب کہ اپنی تصنیف ”کتاب البریہ“ میں ”سیتارتھ پرکاش مصنف پنڈت دیانند (۱۸۷۵ء) (ازالہ اوہام‘ مصنفہ مرزا قادیانی اشاعت پنجم) ماخوذ از ترجمہ سیتارتھ پرکاش مطبع کشن چند کمپنی لاہور“ کا عنوان قائم کر کے اس مذکورہ کتاب کے کچھ اقتباسات نقل کرتے ہیں جو ”نقل کفر‘ کفر نہ باشد“ کے مصداق یہاں بھی نقل کیے جا رہے ہیں تاکہ قارئین پر واضح ہو جائے کہ جس رد عمل کو مرزا صاحب خود ”بد نتیجہ“ قرار نہیں دے رہے‘ وہ کتنا بد سے بدتر اور روح فرسا ہے:
”آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی نسبت“۔
- ۷۰۳۔ مطلب براری کے لیے قرآن بنانے والا‘ (معاذ اللہ)
- ۷۰۸۔ اپنی مطلب براری اور دوسروں کے کام بگاڑنے میں کامل استاد
(معاذ اللہ)
- ۷۱۶۔ کیا رسول اور خدا کے نام دنیا کو لوٹنا لٹیروں کا کام نہیں‘ کیا خدا بھی
ڈاکو ہے اور لٹیروں (صحابہ و آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کا معاون پیغمبر جہاں میں فساد ڈالنے والا۔ امن عامہ کا رخنہ انداز (معاذ اللہ)
- ۷۱۹۔ یہ خدا کے نام پر مزدوروں کو مطلب کے لیے لالچ دیتا‘ اگر ایسا نہ کیا
جاتا تو کوئی محمد صاحب (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کے لیے جال میں نہ پھنستا...... حضرت محمد صاحب (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) آپ بھی تو گوکلنی کی ہمسری کی جو اپنے مریدوں کا مال اڑا کر ان کو پاک کر دیتے ہیں۔ (معاذ اللہ)
- ۷۴۲۔ ان دونوں (اللہ تعالیٰ و آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میں سے
ایک خدا اور دوسرا شیطان ہو جائے گا اور ایک کا شریک دوسرا ہو جائے گا۔ وہ قرونی خدا اور پیغمبر اپنی اپنی مطلب براری کے لیے کیا کیا نہیں کیا۔ جنگلی آدمی بھی اپنے بہوؤں سے پرہیز کرتا ہے اور کیسا غضب ہے کہ نبی کی شہوت رانی میں کسی طرح کی رکاوٹ نہیں ہوتی...... جب بیٹے کی بہو پر بھی ہاتھ صاف کرنے سے پیغمبر نہ رک سکے تو اوروں سے کیونکر نہ بچیں گے۔ (معاذ اللہ)
- ۷۴۱۔ تعجب ہے کہ جو لوٹ مچادیں‘ ڈاکے ماریں‘ وہ خدا کے پیغمبر اور
ایماندار کہلاویں۔ (معاذ اللہ)
- ۷۴۳۔ جیسے غدر مچانے والے خدا اور نبی بے رحم ہیں‘ ویسا دنیا میں اور کم
ہی ہوگا۔ (معاذ اللہ)
- ۷۵۷۔ کیا جس کی بہت بیویاں ہوں‘ وہ خدا پرست اور پیغمبر ہو سکتا ہے جو
ایک کی قدر کرے‘ دوسری کی بے قدری کرے وہ ادھرمی ہے یا نہیں.... جو بہت سی بیویوں کے باوجود لونڈی سے ناجائز تعلق پیدا کرے اس کے نزدیک حیا عزت کا پاس اور دھرم کیونکر پھٹک سکتا ہے۔ کسی نے سچ کہا ہے زانی آدمیوں کو نہ حیا ہوتی ہے اور نہ خوف‘ اس سے نتیجہ نکلا ہے کہ قرآن‘ اللہ تو کجا کسی عالم نیکو کار کی بھی تصنیف نہیں۔ (معاذ اللہ) (سیتارتھ پرکاش اور مرزا غلام احمد‘ از مولانا مظہر علی
اتھم‘ ص ۱۳۰-۱۳۱) بچھو نما زبان اور دراز کرتے ہوئے لکھتا ہے:
”لوٹ مار کرنے میں سرآمد عرب حقیقی لٹیروں اور ص ۳۷ (معاذ اللہ) جس کا دل نفسانی خواہشوں سے بھرا ہوا‘ ہوا و ہوس کا مغلوب‘ قسم توڑنے والا‘ نفسانی خواہشوں کو عمل میں لانے کے لیے اپنے عیب پر پردہ ڈالنے کے لیے خدا کے احکام بنانے والا‘ بیگانی عورتوں پر عاشق ہو جانے والا‘ جھوٹے الہام کا دعویدار۔ (ص ۴۱-۴۲) (معاذ اللہ)
بداخلاق‘ ضد اور فریب سے تعلیمات کو خراب کرنے والا‘ قتل انگیز اپنی حرارت والا‘ رنج آور‘ عصب کا کمزور‘ وسواسی۔ (ص ۴۵) (معاذ اللہ) مکر کرنے والا‘ عیار‘ جوش تعصب‘ ملک گیری اور شہوت نفسانی کے بڑھانے کے لیے جس نے دعویٰ کیا۔ عورتوں کا بڑا عاشق‘ شہوت پرست‘ ڈکیت یعنی فاسد‘ بدکار‘ ہیوپو کریسی والا‘ دغاباز دمبازی کی پھسلاہٹ کے ہنر میں فائق‘ فراڈ کرنے والا‘ دھوکہ دہ‘ (معاذ اللہ) ص ۴۶-۴۷)
بنی نوع انسان کا بدترین دشمن۔ (معاذ اللہ) ص ۴۸
رحمت للعالمین نہیں بلکہ زحمت للعالمین ہے‘ مسیلمہ کذاب اس سے بہتر ہے‘ ص ۶۲-۶۳ (معاذ اللہ‘ لعنت اللہ علی الکاذبین)
فریب باز‘ لوٹ کا مال لینے کے لیے زکوٰۃ کا جھوٹا بہانہ بنانے والا‘ مکر و فریب کرنے والا‘ معلم دغاباز‘ ص ۶۵-۶۶-۶۷ (معاذ اللہ) (ستیارتھ پرکاش اور مرزا غلام احمد‘ ص ۱۴۴-۱۴۵)
آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی نسبت دشنام طرازی میں سب حدیں توڑتے ہوئے مزید لکھتا ہے:
”حاشیہ صفحہ ۷۵‘ اہل مکہ سے صلح کے بعد کسی سبب سے جو طبیعت آزار ہو گئی تو جھٹ وہ آیت منسوخ کر دی کہ وہ خدا کا کلام نہیں‘ شیطان کا کلام ہے‘ شیطان نے میرے منہ میں ڈال دیا تھا“۔ (ص ۱۳۵ (معاذ اللہ)
قتل کرنے والا۔ اپنا الزام خدا کے ذمے لگانے والا۔ ص ۱۴۱ (معاذ اللہ) علی نامی پہلوان کو رازدار بنانے کے لیے اپنی بیٹی نکاح کر دی اور دو لڑکیاں
عثمان کے حوالے کر کے دوسرا راز دار بنایا، کسی کو کسی طرح، کسی کو کسی داؤ سے ملایا۔ غرضیکہ پانچ پنجے مل کیجئے کاج۔ ہاریے جیتے آستانہ لاج-۱۶۵ (معاذ اللہ)
قتل عام اور ظلم و جور کرنے والا ۔ ۴۴۴ (معاذ اللہ)
شعبدہ باز ۔ ۲۵۶ (معاذ اللہ)
قاصر البیان بے واقف انجان۔ ۲۶ (معاذ اللہ)
خدا کی حدود کو توڑنے والا۔ (بحوالہ سیتارتھ پرکاش اور مرزا غلام احمد ، ص ۱۳۸-۱۳۷)
آنحضرت فداہ ابی و امی و روحی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی شان اور عظمت کے بارے میں ہندوؤں کی یہ ہرزہ سرائی مطلقاً مرزا قادیانی کی شرارت کا نتیجہ تھا۔ ”تحریک شماتت رسول صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم“ کے پس منظر میں جناب رائے کمال صاحب تحریر فرماتے ہیں:
”بعض غیر جانبدار محققین کا خیال ہے کہ رسالہ مذکور کا چودھواں باب سوامی دیانند سرسوتی کا لکھا ہوا نہیں..... اور اس شیطانی مواد کا اضافہ بہت بعد میں ہوا جب قادیانی مولویوں (پادریوں) نے انگریز آقا کی شہہ پر آریہ سماجیوں سے اور آریہ سماج کے قائدین نے مرزائی پروہتوں سے چپقلش شروع کی۔ مناظرے کے نام پر گالی گلوچ اور اشاعت اسلام کے پردے میں توہین رسالت (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) کا سامان کیا گیا۔ چودھویں باب کے بارے میں یہ رائے بعض معتبر حوالوں سے سچ ثابت ہوتی ہے باوجودیکہ آریہ سماجی تنظیم بھی برٹش گورنمنٹ کی تائید سے وجود میں آئی تھی۔ انہوں نے اپنے سیاسی مفادات کی خاطر سوامی مذکور کی شخصیت کو پردہ گمنامی سے اٹھا کر منظر عام پر لا کھڑا کیا۔ تاریخی نکتہ نظر سے یہ موقف قطعاً غلط نہیں ٹھہرتا کہ تحریک شماتت رسول بھی مرزا قادیانی جہنم مکانی کے سبب سے پیدا ہوئی ہے۔ گو یہ دونوں طبقے انگریز شاطر کے مہرے تھے اور اسی کے اشارے پر فرقہ وارانہ فسادات کو ہوا دے رہے تھے مگر ظاہری سبب کچھ یوں پیدا ہوا کہ مرزا غلام احمد قادیانی نے آریہ سماجیوں کو اپنے رجحان طبعی کے موافق مسلسل غلیظ گالیاں سنائیں اور ہندو دھرم پر قابل اعتراض انداز میں جملے کسے“۔
(ماہنامہ ”نعت“ لاہور جلد ۴، شمارہ ۲، ص ۳۳)
”اور بقول آغا شورش کاشمیری نتیجتاً آریہ سماج نے رسول اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) اور قرآن و اسلام کے خلاف دریدہ دہنی کا آغاز کیا“۔ (تحریک
ختم نبوت از آغا شورش کاشمیری‘ ص ۲۴
ہندوؤں کے ہر دلعزیز لیڈر گاندھی جی کا ایک معتبر حوالہ یہاں سند کی حیثیت رکھتا ہے۔
گاندھی جی فرماتے ہیں:
”اس فتنے کا آغاز مرزائی مولویوں (پادریوں) نے کیا ہے جنہوں نے اپنے لٹریچر میں ہندو مذہب کو ہمیشہ نشانہ طنز بنایا۔ سوامی دیانند سرسوتی کو غلیظ سے غلیظ گالیاں دی گئیں اور ہندوانہ رسوم پر سفیہانہ تمسخر کیا۔ اس پر بعض نادان آریہ سماجیوں نے انتقاماً حضرت محمد (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کی توہین شروع کر دی“
(ینگ انڈیا ۹/ جون ۱۹۲۴ء ‘ ۲۴ ستمبر ۱۹۲۷ء)
اس بحث سے مندرجہ ذیل نکات سامنے آتے ہیں:
- ۱۔ مرزا قادیانی کی مذہبی چھیڑ چھاڑ سے پہلے ہندوستان کے اکثر ہندو دانشور‘
لیڈر‘ مذہبی اسکالر اور شعراء آنحضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی مدح سرائی میں کسی سے کم نہ تھے۔
- ۲۔ مرزا قادیانی نے ہندوؤں کے خلاف ۱۸۹۷ء میں لکھنا اور بولنا شروع کیا
اور غلیظ تر الفاظ استعمال کر کے اسلام اور بانی اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے خلاف دریدہ دہنی کا سامان کیا۔
- ۳۔ ”ستیارتھ پرکاش“ کا پہلا ایڈیشن ۱۸۷۵ء میں شائع ہوا‘ اس میں
چودھواں باب موجود نہیں تھا۔ مرزا قادیانی کی تبرا بازی کے نتیجے میں ۱۸۸۴ء میں ”ستیارتھ پرکاش“ کا دوسرا ایڈیشن شائع ہوا جس میں چودھواں باب مغلظات سے پر تھا۔
- ۴۔ مرزا قادیانی کا اقرار کہ جب تک ہندوؤں کو اپنی طرف سے نہ چھیڑا
جائے بالجبر‘ واشگاف اور اعلانیہ اپنے کفر کا اظہار نہیں کرتے۔
- ۵۔ ہندوؤں کی طرف سے جب حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی شان
اقدس میں گستاخیوں کا سلسلہ شروع ہوا تو مرزا قادیانی کا اس عمل کو عین اپنی تحریک کے حق میں گرداننا۔
- ۶۔ غیر جانبدار محققین کا تجزیہ کہ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی شان
مقدسہ میں ہندوؤں کو گستاخی کرنے پر مرزا قادیانی کی اشتعال انگیز تحریروں اور
تقریروں نے اکسایا۔
مرزا قادیانی نے سرور کونین صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی شان میں ہرزہ سرائی کرنے کی ایسی قبیح بنیاد رکھی کہ اس خبیث عمارت پر کبھی تو ستیارتھ پرکاش اور کبھی مہاشے راجپال کے بد نما دھبے دکھائی دیتے ہیں۔
مرزا قادیانی ہی کے کانٹے بونے کا یہ نتیجہ تھا کہ امت مسلمہ کو رام گوپال، نتھو رام، شردھانند، پالا مل سنار اور چمپل سنگھ جیسے خاردار اور زہر آلود درخت کاٹنے پڑے۔
اگر یہ کہا جائے تو بے جا نہ ہو گا کہ مذکورہ بالا گستاخان نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی گستاخیوں کا مصدر قادیانی مذہب تھا۔ یونہی اسی حقیقت سے بھی انکار ناممکن ہے کہ گستاخان رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا مہا گرو خود مرزا غلام قادیانی تھا۔
اسی باب میں آگے چل کر مرزا قادیانی اور اس کی نسل کی آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی شان اقدس میں گستاخیاں بھی نقل کی جائیں گی۔ جس سے یہ بات سو فیصد ثابت ہو جائے گی کہ قادیانیت رحمۃ للعالمین صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے بغاوت اور شان رسالت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے دشمنی کا نام ہے۔
یہاں بھارت کے ایک ہندو محقق کی تحقیق پیش کی جا رہی ہے، جس میں انہوں نے ہندوؤں کی مقدس کتابوں سے حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی عظمت اور رسالت کو ان الفاظ میں بیان کیا ہے:
"پچھلے دنوں بھارت میں ہندی زبان میں ایک تحقیقی کتاب شائع ہوئی ہے جس نے پورے بھارت میں ایک ہلچل سی مچا دی ہے، اگر اس کتاب کا مصنف کوئی مسلمان ہوتا تو اسے اب تک نہ صرف گرفتار کیا جا چکا ہوتا بلکہ کتاب کی نشر و اشاعت پر بھی پابندی عائد کی جا چکی ہوتی۔ اس کتاب ”کلکی اوتار“ (پیغمبر عالم رہبر کل کائنات) کے مصنف اور محقق ہیں پنڈت وید پرکاش اپادھیائے، موصوف بنگالی نژاد ہندو برہمن ہیں۔ الہ آباد یونیورسٹی میں سنسکرت کے ریسرچ اسکالر، نامور محقق اور ممتاز..... پنڈت ہیں۔ کئی سال کی تحقیق و ریسرچ کے بعد پنڈت وید پرکاش نے جو کتاب مرتب کر کے پیش کی، اسے آٹھ دوسرے ممتاز پنڈتوں نے نظر ثانی کے بعد درست قرار دیا ہے۔
ہندو مت (ہندو مذہب) میں اور ہندوؤں کی بڑی بڑی کتابوں میں جس رہبر و رہنما (پیغمبر عالم) کا تذکرہ "کلکی اوتار" کے نام سے ملتا ہے‘ وہ صرف عرب کے (حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) پر ہی صادق آتا ہے۔ اس لیے دنیا بھر کے ہندوؤں کو چاہیے کہ وہ مزید انتظار کی زحمت ترک کر کے اسی ہستی (محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کو "کلکی اوتار" (پیغمبر عالم) کے طور پر مان لیں (بالفاظ دیگر ان پر ایمان لے آئیں) کتاب کے مصنف اور دیگر آٹھ دوسرے ممتاز پنڈتوں نے واضح الفاظ میں لکھا ہے کہ ہندو مت کے پیروکار اب تک "کلکی اوتار" کے منتظر ہیں۔ وہ ایک ایسے انتظار کی زحمت میں مبتلا ہیں جو قیامت تک ختم نہ ہو گا‘ اس لیے کہ جس متبرک اور برگزیدہ ہستی کے وہ منتظر ہیں‘ وہ تو اس دنیا میں آچکی ہے اور آج سے چودہ سو سال قبل اپنا مشن (کام) پورا کر کے دنیا سے پردہ فرما لیا ہے"۔
پنڈت وید پرکاش اپادھیائے اپنے دعوے کے ثبوت میں ہندوؤں کی متبرک کتابوں ویدوں سے دلائل دیتے ہوئے لکھتے ہیں:
- (الف) "پرون" (ہندوؤں کی متبرک کتاب) میں لکھا ہے کہ "کلکی اوتار"
اس دنیا میں بھگوان کے آخری پیامبر ہوں گے۔ یہ پوری دنیا اور عالم انسانیت کی رہنمائی کے لیے مبعوث ہوں گے"۔ اس حوالہ کے بعد پنڈت جی لکھتے ہیں "یہ بات صرف اور صرف حضرت محمد صاحب (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) پر ہی صادق آتی ہے"
- (ب) ہندو مت کی ایک پیش گوئی کے مطابق "کلکی اوتار" (پیغمبر عالم) ایک
دیپ (جزیرہ نما) میں پیدا ہوں گے اور یہ دیپ ہندو مت کی کتب کے مطابق علاقہ "عرب" ہے جو جزیرہ نما عرب کے نام سے بھی مشہور ہے۔
- (ج) ہندو مت کی مقدس کتاب میں "کلکی اوتار" (پیغمبر عالم) کے باپ کا
نام "وشنو بھگت" اور والدہ کا نام "سومتی" بتایا گیا ہے۔ سنسکرت میں "وشنو" کے لفظی معنی "اللہ" اور "بھگت" کے معنی "بندہ" کے ہیں اس لیے "وشنو بھگت" کا عربی ترجمہ "عبداللہ" ہوا جس کے معنی اللہ کا بندہ ہے اور سومتی کے معنی "امن و شانتی" ہیں اسے عربی میں آمنہ کہا جاتا ہے‘ حضرت محمد (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کے والد کا نام "عبداللہ" اور والدہ کا نام "آمنہ" ہی تھا۔
- (د) ہندوؤں کی مذہبی کتابوں میں کہا گیا ہے کہ "کلکی اوتار" کی گزر بسر
کھجوروں اور زیتون پر ہوگی اور علاقہ کے سب سے ایمان دار اور سچ بولنے والے ہوں گے۔ ظاہر ہے کہ یہ بات سوائے حضرت محمد (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کے کسی اور پر صادق نہیں آتی۔
- (ہ) ویدوں میں کہا گیا ہے کہ ”کلکی اوتار“ اپنے علاقے کے سب سے معزز
گھرانے میں پیدا ہوں گے‘ یہ بات بھی حضرت محمد (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) پر ہی صادق آتی ہے۔
- (و) ”کلکی اوتار“ کو بھگوان (اللہ) اپنے قاصد (فرشتہ) کے ذریعہ غار میں
تعلیم دے گا۔ حضرت محمد (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کو حضرت جبرئیل (علیہ السلام) نے غار میں ہی وحی کے ذریعے تعلیم دی۔
- (ز) بھگوان کی جانب سے ”کلکی اوتار“ کو ایک نہایت ہی تیز رفتار گھوڑا
فراہم کیا جائے گا جس پر بیٹھ کر وہ پوری دنیا اور ساتوں آسمانوں کی سیر کریں گے۔ حضرت محمد (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کا براق پر بیٹھ کر معراج کا واقعہ اسی جانب اشارہ کرتا ہے۔
- (ح) ”کلکی اوتار“ کو بھگوان آسمانی مدد پہنچائیں گے۔ غزوۂ احد میں حضرت
محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی مدد فرشتوں کے ذریعے کی گئی۔
- (ط) سب سے اہم ثبوت کلکی اوتار مہینے کی بارہ ۱۲/ تاریخ کو پیدا ہوں گے۔
حضرت محمد (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) ۱۲/ ربیع الاول کو پیدا ہوئے۔
- (ی) ”کلکی اوتار“ بہترین شاہ سوار اور شمشیر زن ہوں گے‘ اس دلیل کے
جواب میں ہندو پنڈت (مصنف جو لکھتے ہیں وہ نہایت اہم اور قابل غور ہے)۔
”تلوار اور گھوڑوں کا زمانہ گزر چکا ہے۔ بندوق اور میزائل کا زمانہ ہے۔ چنانچہ اب کسی شمشیر زن اور شاہ سوار کا انتظار کرنا نہایت احمقانہ فعل ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ آسمانی کتاب ”قرآن مجید“ کے محمد صاحب (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) ہی وہ کلکی اوتار ہیں جن کا ذکر ہماری کتابوں میں موجود ہے“۔
ان چند دلائل کے علاوہ بھی پنڈت اوپادھیائے نے اور بھی بے شمار دلائل و شواہد سے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ ہندو مت کی کتب میں جس کلکی اوتار کا ذکر ہے‘ وہ اصل میں حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہیں۔ ان کے علاوہ اور کوئی نہیں اس لیے جو لوگ اب تک مقدس کتاب پر ان کی پیش گوئی کے مطابق کلکی اوتار کا انتظار کر رہے ہیں
انہیں اپنا نکتہ نظر تبدیل کر لینا چاہیے۔ (روزنامہ ”جنگ“ لندن ۲۱ جولائی ۱۹۸۹ء و ہفت روزہ ”ختم نبوت“ کراچی، جلد ۱۱‘ شمارہ ۲۳‘ ص ۶)
ایک اور گواہی:
لاہور کے ایک روزنامہ اخبار ”پربھات“ نے اپنی ۸ نومبر ۱۹۳۴ء کی اشاعت میں ”وچار مالا“ کے عنوان سے مندرجہ ذیل عبارت سپرد قلم کی ہے:
”لاہور میں مسلمانوں کا ایک جلسہ ہوا جس میں حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بانی اسلام کی تعریف میں تقریریں کی گئیں‘ ایک مقامی لیگی اخبار میں چھپا ہے
کہ:
”تلاوت قرآن مجید کے بعد مسٹر امرناتھ چوپڑا ایڈووکیٹ نے آنحضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی زندگی کے بعض واقعات کو موثر انداز میں پیش کیا اور کہا کہ میں شاستروں سے ثابت کر سکتا ہوں کہ حضرت محمد (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) ایک سچے نبی تھے۔ اس مرحلے پر آوازیں آئیں کہ پھر اسلام کیوں قبول نہیں کر لیتے‘ ساتھ ہی اسلام زندہ باد کے نعرے بھی بلند ہوئے“۔ (سیتارتھ پرکاش اور مرزا غلام احمد‘ ص ۹-۱۰)
حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا معجزہ شق القمر دیکھ کر ایک ہندو
مہاراجہ مسلمان ہو گیا تھا:
دین محمدی پریس سے طبع ہونے والی ایک ...... کتاب سیرت میں مندرج ہے:
”راجہ بھوج ایک مشہور حکمران ہوئے ہیں‘ جو ملیبار کے باشندے تھے‘ جس کو عام طور پر بھوج پور بھی کہتے ہیں‘ وہاں ایک عمارت رصد خانہ کے نام سے مشہور ہے مگر جنتر منتر اس کا عرف عام ہے‘ وہ بہت پرانی ہے اور فلکیات کے زائچے اور نجوم کے حسابات اس پر نقش ہیں۔ لوگ کہتے ہیں کہ اسی جگہ راجہ بھوج کے شاہی محلات تھے‘ راجہ بھوج شق القمر کے معجزے سے متاثر ہو کر مسلمان ہو گئے تھے‘ ان کا اسلامی نام شیخ عبداللہ تھا۔ ان کے ایمان لانے سے ان کے گھر والے اور
سب دوسرے لوگ ان کے مخالف ہو گئے اور وہ ترک وطن کر کے دھار وار (گجرات) چلے گئے اور باقی زندگی انہوں نے سلطنت کو خیر باد کہہ کر یاد الٰہی میں گزار دی۔ (ماہنامہ ”نعت“ لاہور، جلد ۴، شمارہ ۲۰ مضمون از رائے کمال
بحوالہ جمال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم، ص ۴۷۶)
”انہی کے تصدیق کنندوں میں سے ایک بزرگ بابا رتن تھے جو خود حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی خدمت میں حاضر ہو کر ایمان لائے اور حضور پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے دست مبارک سے چھ کھجوریں ان کو کھلائیں اور ان کے لیے طویل العمر ہونے کی دعا فرمائی اور اپنا پیرہن بھی عطا فرمایا، چنانچہ اس دعا کا نتیجہ یہ ہوا کہ حضرت حاجی بابا رتنؒ کی عمر چھ سو بتیس برس کی ہوئی، آپ کا مزار بٹھنڈہ سٹیشن کے قریب ریاست پٹیالہ میں ہے“۔ (جمال رسولؐ ص ۴۷۶)
☆ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بعثت مبارک کا سن کر ہندوستان سے ہندو تحقیق کے لیے مدینہ شریف گئے:
”ایک قدیم عربی کتاب عجائب الہند میں لنکا کی نسبت لکھا ہے کہ ”جب یہاں کے رہنے والوں کو رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بعثت کا حال معلوم ہوا تو انہوں نے ایک سمجھ دار آدمی تحقیق حالات کے لیے بھیجا۔ جب وہ مدینہ پہنچا تو رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بلکہ حضرت ابوبکر صدیقؓ بھی وصال پا گئے تھے اور حضرت عمرؓ کا زمانہ تھا۔ انہوں نے بتجسس حالات سے تمام باتیں تفصیل سے سنیں اور وہ اپنی تشفی کے بعد ہندوستان کی طرف واپس پھرا۔ راستے میں وہ تو مرگیا لیکن اس کا ایک ہندو نوکر صحیح سلامت واپس پہنچ گیا، اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم، حضرت ابوبکر صدیقؓ اور حضرت عمر فاروقؓ کا سارا حال بیان کیا اور ان کے فقیرانہ اور درویشانہ طور طریقوں کا ذکر کیا اور بتایا کہ وہ کیسے متواضع اور خاکسار ہیں اور پیوند لگے ہوئے کپڑے پہنتے ہیں، اور مسجد میں سوتے ہیں..... یہ باتیں لنکا والوں کو پسند آئیں اور مسلمانوں کے ساتھ ان کی محبت بڑھ گئی۔ چنانچہ ”عجائب الہند“ کا راوی لکھتا ہے کہ اب یہ لوگ مسلمانوں کے ساتھ جو اس قدر محبت اور میلان رکھتے ہیں وہ اسی سبب سے ہے“۔ (عرب و ہند کے
تعلقات، مصنفہ مولانا سید سلیمان ندوی)
ایسے بے شمار آثار و قرائن کی موجودگی میں ہندوؤں کا اسلام اور بانی اسلام صلی اللہ
علیہ و آلہ وسلم سے حسن ظن بدرجہ اتم پایہ ثبوت کو پہنچتا ہے اور عقل ہرگز تسلیم نہیں کرتی کہ بلاوجہ ایسی محبت اور عقیدت رکھنے والی قوم گستاخی اور اہانت پر اتر آئے۔
اور عقل جب تجزیہ کرتی ہے تو اسے یہ وجہ ’قادیانیت کی مکروہ شکل میں دکھائی دیتی ہے۔ قادیانیت کی اس مکروہ شکل سے چند سطور بعد پردہ اٹھا چاہتا ہے اور تب قادیانیت اپنے برہنہ جسم کے ساتھ ابلیس کے ساتھ رقص کرتی دکھائی دے گی۔
جیسا کہ پہلے ذکر کیا جاچکا ہے کہ ہندوستان کے ہندو اپنی مقدس کتابوں میں آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی آمد کی بشارت پاتے ہیں اور ماضی میں ہندوؤں نے شق القمر کے معجزہ سے متاثر ہو کر اسلام قبول کیا اور تحقیق کے لیے مدینہ منورہ آدمی بھی بھیجے گئے۔ کسی ہندو کے مقدر میں یہ دولت ایمان اس طرح آئی، کسی کے نصیب یوں جاگے۔
حضور رحمت للعالمین صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی رحمت کل عالم پر بلا تفریق برستی ہے اور یہی آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی رحمت للعالمینی کا امتیازی وصف ہے۔
ماضی قریب میں جب الٹی زقند لگا کر ایک ہندو گھرانے میں ننھے منے ہاتھ بارگاہ الوہیت سے اٹھے ایمان کی التجا کرتے، تخیل کی نظر سے دیکھتا ہوں تو گنبد خضراء سے ایمان کے نور کی شعاعیں اس آنگن کو یوں منور کرتی ہیں کہ اپنے بیگانے کی تمیز نگاہوں میں دھندلا کر رہ جاتی ہے۔ ”کرشنا لعل“ اپنی سوانح عمری میں لکھتے ہیں:
”ایک روز اسکول سے فراغت کے بعد ہم گھر لوٹ رہے تھے، راستے میں مسلمان طلبہ نے بتایا کہ آج رات ہم بیدار رہ کر دعائیں مانگیں گے رات کو نور خداوندی، زمین پر پہنچ کر ہر چیز کو منور کردیتا ہے، اس وقت جو دعا مانگی جائے وہ شرف قبولیت حاصل کرلیتی ہے۔ گھر آتے ہوئے، میں نے مصمم ارادہ کرلیا کہ آج رات میں بھی سونے کا نام نہ لوں گا اور بیدار رہ کر اپنے مالک سے ایمان کی التجا کروں گا اور آئندہ سال کی شب قدر میں دولت کی استدعا کروں گا۔
شام کے وقت میں نے والدہ مکرمہ کی خدمت میں گزارش کی، امی جان! آج میں برآمدے میں سونا چاہتا ہوں میرا بستر وہیں لگا دیں۔ والدہ صاحبہ نے وجہ دریافت کی۔ میں نے عرض کی، آج شب قدر ہے، میں تمام رات بیدار رہوں گا۔ جب میں اس کی روشنی کا مشاہدہ کروں گا جس میں درخت بھی سرنگوں ہو جاتے ہیں تو میں اپنے پرماتما سے دعا کروں گا۔ ہمارے دیہات میں شب قدر کے دوران روشنی کا ظہور اور درختوں کا سرنگوں ہونا مشہور ہے۔ کتاب و سنت میں
اس کا تذکرہ نہیں، البتہ رحمت خداوندی کے نزول کا ذکر ہے۔
والدہ صاحبہ نے فرمایا یہ تو مسلمانوں کی شب قدر ہے، تم جاگ کر کیا کرو گے۔ میں نے کہا امی جان کیا حرج ہے جبکہ ہمارا اور مسلمانوں کا خدا ایک ہی ہے۔ میرے اصرار کرنے پر امی جان نے میرا بستر باہر برآمدے میں لگا دیا۔ جب والد صاحب اور میرے بھائی سو گئے تو میں رضائی اوڑھ کر مغرب کی طرف منہ کر کے چارپائی پر بیٹھ گیا اور نور کے ظہور کا انتظار کرنے لگا، ننھے سے دل میں ایک ہی جذبہ موجزن تھا کہ میں نور کا مشاہدہ کروں گا اور صحن میں لگے درختوں کو سرنگوں دیکھوں گا، تو فوراً اپنے مالک کی بارگاہ میں ایمان کی بھیک طلب کروں گا تاکہ مسلمان ساتھی یہ نہ کہیں کہ میں ایمانی دولت سے محروم ہوں، مجھے کامل یقین تھا کہ آج رات کی دعا ہرگز ضائع نہ ہو گی۔ دل میں یہ خیال بھی آیا کہ آئندہ سال کی شب قدر میں دولت کے حصول کی دعا کروں گا تاکہ مسلمان اور ہندوؤں دونوں سے آگے نکل جاؤں۔
میں بمشکل نصف شب تک بیدار رہ سکا، نصف شب کے بعد غیر ارادی طور پر بیٹھے بیٹھے ہی سو گیا۔ صبح کے وقت والدہ مکرمہ نے مسکراتے ہوئے جگایا اور کہا کہ اگر سونا ہی تھا تو کمرے میں آرام سے سو جاتے۔ احساس ندامت سے میری گردن جھک گئی۔ میں اپنے سو جانے پر افسوس کرنے لگا کہ دعا مانگنے کا سنہری موقع میں نے ضائع کر دیا"۔
(من الظلمات الی النور، ص ۱۳- ۱۴)
ہدایت و راہنمائی اللہ تعالیٰ کا عطیہ ہے وہ جس کو ہدایت دینا چاہتا ہے اس کے لیے معمولی بہانہ کافی ہوتا ہے۔
ہزاروں ایسے افراد جو زندگی بھر بت پرستی اور شرک میں مشغول رہے، اللہ کریم کو ان کی کوئی ادا پسند آگئی اور اللہ تعالیٰ نے انہیں ایمان کی دولت سے سرفراز فرمایا۔
حضرت خواجہ معین الدینؒ ایک مرتبہ بیمار ہو گئے۔ بیماری کافی طویل ہو گئی۔ بار ہا غشی کے دورے پڑتے۔ اس زمانے میں ایک ہندو جوگی اپنی ریاضت سے توجہ کر کے بیماری دور کرنے میں بڑا مشہور تھا۔ مریدین نے عرض کی: حضرت! اجازت ہو تو اس کو بلا لائیں۔ آپؒ نے غیر مسلم سے علاج کروانا تقویٰ کے خلاف محسوس کر کے اجازت مرحمت نہیں فرمائی۔ آپؒ پر غشی کا دورہ پڑا اور تکلیف زیادہ ہو گئی تو مریدین ضبط نہ کر سکے اور اس ہندو جوگی کو لے آئے۔ اس نے آپؒ پر
توجہ کی اور آپؒ کو کچھ افاقہ ہو گیا۔ افاقے کی وجہ آپؒ نے مریدین سے دریافت کی تو پتا چلا کہ اس ہندو جوگی کو بلایا گیا تھا۔
آپؒ نے فرمایا ’اسے بلاؤ اس نے ہم پر احسان کیا‘ اس کا بدلہ چکائیں۔ ہندو جوگی آیا تو آپؒ نے اس سے سوال کیا: تم کو یہ کمال کس طرح حاصل ہوا؟ ہندو جوگی نے کہا کہ میرے گرو نے مجھے یہ تعلیم دی تھی کہ میں ہمیشہ نفس اور خواہشات کے خلاف کام کروں۔ اس ریاضت سے مجھے یہ مرتبہ نصیب ہوا۔
حضرت اجمیریؒ نے فرمایا: تمہارا من اسلام قبول کرنا چاہتا ہے۔ ہندو جوگی نے کہا: نہیں، میں ہندو جوگی اور اس مذہب کا بڑا گرو ہوں۔ اسلام قبول کرنے کو میرا جی کیسے چاہے گا۔ حضرت اجمیریؒ نے فرمایا: پھر اس مسئلہ میں اپنے من کے خلاف کیوں نہیں کرتے۔ ہندو جوگی کے من میں بات فوراً بیٹھ گئی اور حضرت اجمیریؒ کے دست حق پرست پر بیعت کر کے اسلام قبول کر لیا۔
اللہ کریم نے اپنے ایک ولی کی خدمت کرنے کا اس ہندو جوگی کو کتنا بڑا اجر دیا کہ ابدالاباد کے لیے جنت کو اس کے نام لکھ دیا۔
آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی رحمت للعالمینی کا فیضان آج بھی گنبد خضراء سے اس طرح جاری و ساری ہے کہ بھٹکے ہوؤں کو صراط المستقیم اور پیاسوں کو سیراب کیے جا رہی ہے۔ کرشن لعل اس کی تائید میں لکھتے ہیں:
”اللہ جل جلالہ کی رحمت کا کیا ٹھکانہ۔ مولائے کریم نے میرے معصوم جذبات اور میری ایمانی تمناؤں کو شرف قبولیت سے نوازا۔ الحمدللہ سال آئندہ کی شب قدر سے پہلے ہی میرا دل ایمان کی ضیاء پاشیوں سے منور ہو چکا تھا۔ جو شخص خلوص دل سے اللہ رب العزت سے استدعا کرتا ہے وہ ہرگز خائب و خاسر نہیں رہتا۔ حدیث نبوی میں ہے مولائے کریم فرماتے ہیں: جو شخص قلبی خلوص کے ساتھ میری بارگاہ میں التجا کرتا ہے اس کی التجا کو رد کرتے ہوئے مجھے حیا آتی ہے۔ اگرچہ ایمان کے لیے دعائیہ الفاظ میرے لبوں تک نہ پہنچ سکے لیکن ”علیم بذات الصدور“ نے میرے معصوم جذبات کی لاج رکھ لی۔ میں سب سے زیادہ اپنے آقا و مولیٰ اللہ تعالیٰ کا ممنون ہوں۔“ (”من الظلمات الی النور“ ص ۱۳- ۱۴، مصنفہ غازی احمد سابق کرشن لعل)
کل کے کرشن لعل اور آج کے غازی احمد ایم۔ اے علوم اسلامیہ (گولڈ میڈلسٹ، ایم۔
ایم۔ اے عربی گولڈ میڈلسٹ، ایم۔ او۔ ایل، بی۔ ایڈ (فاضل عربی گولڈ میڈلسٹ) فاضل فارسی، فاضل درس نظامی، نور ایمان سے منور ہونے کا اپنا ایمان افروز واقعہ یوں لکھتے ہیں:
"خواب میں یوں محسوس ہوا کہ کچھ مسافت طے کرنے کے بعد ہم مکہ مکرمہ پہنچ گئے ہیں۔ جب حرم مقدس میں داخل ہوئے تو خانہ کعبہ نظروں کے سامنے تھا اور ہر طرف ریتلا میدان تھا۔ ہم نے دیکھا کہ بے شمار صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم صاف و شفاف سفید لباس میں ملبوس بیت اللہ کی طرف رخ کیے بیٹھے ہیں اور سرور کونین صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم خانہ کعبہ کی دیوار سے پشت مبارک لگائے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی طرف رخ زیبا کیے تشریف فرما ہیں۔ آنحضرت ﷺ رکن یمانی اور حطیم کے کونے والی دیوار کے ساتھ جلوہ افروز تھے۔ ہم نے دور ہی سے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو پہچان لیا۔ میں محمد صادق کے پیچھے چلنے لگا یہ مسلمان ہے۔ لہذا آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے پہلے یہ ملے اس کے بعد ملاقات کی سعادت حاصل کروں گا۔ ہم صحابہ کرام کے درمیان سے گزرتے ہوئے آگے بڑھ رہے تھے۔ محمد صادق نے حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے مصافحہ کے لیے ہاتھ آگے بڑھائے۔ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے جلوس کی حالت ہی میں مصافحہ فرمایا۔
محمد صادق کے بعد بارگاہ عالی میں مصافحہ کے لیے حاضر ہوا تو نبی احمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اٹھ کھڑے ہوئے اور مجھ جیسے غیر مسلم، حقیر و ناقص انسان کو گلے لگانے کا شرف بخشا۔ میرے بدن کے روئیں روئیں میں مسرت کی لہریں دوڑ گئیں۔ مارے خوشی کے رونے کو جی چاہتا تھا۔ رحمت للعالمین اپنی جگہ پر بیٹھ گئے اور مجھ جیسے ناکارہ کو بھی اپنے پاس بٹھا لیا۔ فرمایا، کیسے آئے ہو؟ میں نے عرض کیا، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں مسلمان ہونے کے لیے حاضر ہوا ہوں۔ میرے دائیں ہاتھ کو اپنے مقدس ہاتھوں میں لیا اور کچھ دیر پڑھنے کے بعد فرمایا کہ اب تم مسلمان ہو!
آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا ارشاد سن کر میں بہت خوش ہوا کہ مجھے خود نبی آخر الزمان صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسلام کی دولت سے بہرہ ور فرمایا۔ میں کتنا خوش قسمت ہوں۔ عالم خواب ہی میں ہم نے کچھ وقت مکہ مکرمہ میں گزارا اور پھر اپنے گھروں کو لوٹ آئے۔" ("من الظلمات الی النور" ص ۱۸-۱۹)
(از غازی احمد)
آپ ﷺ نے ایک گرے ہوئے ہندو مہامنت کو اٹھا کر سینے سے لگا لیا!
ڈاکٹر اسلام الحق ہندوؤں کے مہامنت تھے۔ ان کا ہندوانہ نام شیو شکتی سروپ جی مہاراج اداسین دھرما چاریہ اوما شکتی پیٹھ تھا۔ لاکھوں کی تعداد میں ان کے ہندو پیروکار تھے۔ جن میں بڑے بڑے لوگ اندرا گاندھی، اٹل بہاری اور واجپائی جیسے شامل تھے۔ آپ کے اسلام لانے کے بعد ہزاروں ہندو بھی مسلمان ہوئے۔ آپ اسلام کی تبلیغ کا جذبہ لے کر ملکوں ملکوں دورے کر رہے ہیں۔ وہ جب پاکستان تشریف لائے تو ملک کے مشہور اخبار روزنامہ "جنگ" کے تین صحافیوں نظام صدیقی، مرزا سلیم بیگ اور مولانا محمد جمیل خان نے ان کا تفصیلی انٹرویو لیا۔ آپ اسلام قبول کرنے کا واقعہ یوں بیان فرماتے ہیں:
"اپنی خوش قسمتی اور سعادت کی بناء پر میں یہ کہوں گا کہ عام طور پر لوگ اسلام قبول کرتے ہیں لیکن میرے ساتھ معاملہ مختلف ہوا۔ میرے اسلام قبول کرنے سے پہلے اسلام نے مجھے قبول کیا۔ اس میں میری کسی کاوش یا جستجو کا دخل نہیں، صرف اللہ تعالیٰ کا احسان تھا کہ اس نے میری رہنمائی اور ہدایت فرمائی۔ ۱۹۸۴ء کی ایک رات کی بات ہے، میں اپنے مذہب کی تبلیغ و اشاعت کے بعد اپنے آشرم گاہ میں آرام کرنے گیا۔ رات خواب میں دیکھا کہ ایک بھیڑ میرے ساتھ چلی آ رہی ہے۔ جس طرف رخ کرتا ہوں، بھیڑ بھی اسی طرف رخ کرتی ہے۔ ایک جگہ میں ٹھوکر کھا کر گرا۔ اتنے میں، میں نے محسوس کیا کہ دو نادیدہ ہاتھ مجھے اٹھا رہے ہیں۔ جیسے جیسے میں اٹھ رہا ہوں، ان نادیدہ ہاتھوں کی شخصیت کی روحانیت اور جاذبیت کا مجھ پر غلبہ ہوتا جا رہا ہے۔ میرے لاشعور میں یہ سوال پیدا ہوا کہ ایک ایسی نورانی اور جاذبیت والی یہ شخصیت کس کی ہے؟ مجھے ایک آواز سی محسوس ہوئی کہ جیسے کوئی کہہ رہا ہو کہ یہ مسلمانوں کی محبوب ترین ہستی اور پیغمبر اسلام محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم ہیں۔ آواز سنتے ہی دل میں سوال پیدا ہوا کہ کس کی آواز ہے؟ لاشعور میں فوراً جواب ابھرا، یہ حضرت ابو بکر صدیقؓ ہیں۔
اسلام کے مطالعے میں ان دونوں ہستیوں کے نہ صرف ناموں سے میں متعارف تھا بلکہ ان کی عظمت اور دبدبہ میرے تحت الشعور میں تھا۔
ان ناموں کی واقفیت سے میرے جذبات میں عجیب سا ہیجان پیدا ہو گیا اور ایسی کیفیت پیدا ہوئی جس کو الفاظ میں بیان کرنا ممکن نہیں۔ اسی دوران آواز آئی کہ کلمہ پڑھو۔ مجھے کلمہ نہیں آتا تھا کیسے پڑھتا؟ خاموش رہا پھر مجھے لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ پڑھایا۔ اس دوران میں نے محسوس کیا کہ میرا ہاتھ کسی نے اپنے ہاتھ میں لے لیا ہے اور کلمہ پڑھنے کے بعد مجھے سینے سے لگا لیا۔ میں جب کلمہ پڑھ چکا تو مجھے کہا گیا کہ اب اس ملک کو کلمہ پڑھاؤ۔ تیسری آواز مجھے یہ آئی کہ اس صدی کے خاتمے تک اس سرزمین سے سب کچھ ختم ہو جائے گا اور دوبارہ خلافت کا اس ملک میں آغاز ہو گا۔ اس کے بعد میری آنکھ کھل گئی۔" - (ہفت روزہ ”ختم نبوت“ کراچی، جلد ۱۰، شمارہ ۴۹، ص ۱۰)
ان چند ایمان افروز حقائق کا نذرانہ ان ہندوؤں کے ذہنوں پر دستک ہے جو سچائی کے متلاشی ہیں۔ جن کے من پوتر اور نگاہیں عمیق ہیں، جو کل بھی پریمی تھے اور آج بھی پریمی ہیں اور پریم کا سمبند تو ہوتا ہی من سے ہے اور اگر من پوتر ہو تو اٹھنے والا ہر قدم صراط المستقیم پر ہوتا ہے۔
کتنی خاموش محبت کی زبان ہوتی ہے!!!
تقسیم کے بعد کل ہند شعراء کانفرنس میں پہلی بار استاد دامن پاکستان سے بھارت گئے تھے تو آپ نے وہاں ایک پنجابی شعر پڑھا تھا۔ ملاحظہ فرمائیے:
روئے تسیں وی او‘ روئے اسی وی آں
مرزا قادیانی نے کل جو نفرت کے بیج بوئے تھے، انہیں چننا ہر دو فریقین (مسلمان اور ہندو) کی اخلاقی ذمے داری ہے۔ مرزا قادیانی جیسے ہندو کا دشمن تھا، اس سے ہزار گنا زیادہ اسلام اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا دشمن تھا۔
خالق اور مخلوق کے تعلق کی پہچان کے لیے محبوب خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے عقیدت و محبت کا وہی رشتہ پھر استوار کرنا ہو گا کہ اس وسیلے کے بغیر ہدایت و کامیابی ناممکن ہے۔
ایمرسن نے کیا خوب کہا تھا:
”جو کچھ تمہارے باطن میں ہے وہی ظاہر پر ہو گا۔ اگر تمہیں کوئی دیوتا نہیں ملتا تو اس کی وجہ یہ ہے کہ خود تمہارے من میں کوئی دیوتا نہیں۔ اگر تمہارے اندر عظمت کی نشانیاں موجود ہیں تو دنیا انہیں ڈھونڈ نکالے گی“۔
کوئی کرشن لعل بن کر تو دکھائے۔ حق کی تلاش کی تڑپ ہو اور گنبد خضریٰ کے فیضان سے کوئی فیض یاب نہ ہو‘ یہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رحمت اللعالمینی کی شان کے خلاف ہے۔ کسی مفکر نے کتنی خوبصورت بات کہی ہے:
”ہر جذبہ‘ ہر احساس‘ ہر قوت‘ باہمی کشش سے پیدا ہوتی ہے۔ جب ہم کسی کے متعلق سوچتے ہیں یا کسی کو یاد کرتے ہیں تو مد مقابل کہیں بھی ہو ہمارے صادق جذبوں کی لہریں اس کا طواف کرنے لگتی ہیں“۔
اور جس بارگاہ عالی میں خالق اکبر نے اپنے خاص فضل و کرم سے اپنے ستر ہزار فرشتے مامور کر رکھے ہوں کہ رحمت و عالم کے ملاپ میں تامل نہ ہو‘ اس بارگاہ رحمت اللعالمین سے جواب کتنی جلدی آئے گا۔ کوئی غیر مسلم سوال تو کر کے دیکھے‘ اپنی سچی تڑپ کا نذرانہ بھیج کر تو دیکھے۔ رحمتوں کے خزینے باد صباء کی طرح مدینہ سے کیسے جھوم جھوم کے سندیسے لاتے ہیں۔ جیسے بنجر زمین کو بارش کے پہلے قطرے کا انتظار ہوتا ہے یونہی کوئی اپنے خون جگر کا ایک قطرہ نچوڑ کر ایمان کی بہار کا نظارہ کر سکتا ہے۔ (وما توفیقی الا باللہ)
پانچواں باب
گستاخ رسول ﷺ کی سزا
احکام القرآن
- وہ ذات اقدس صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم
- جس کے ترحم کے سامنے ممتا شرما جائے۔
- جس کی دین کے حضور پدری شفقت ڈوب ڈوب جائے۔
- جس کے احسانوں کی بارش جانوروں پر بھی ہو۔
- جس کی عنایات پر مخالف بھی مارے شرم کے پسینے پسینے ہو جائیں۔
- جس کی نور نبوت کے حضور آفتاب اپنی تمام تر ضیاء پاشیوں کے باوجود مدھم پڑ
جائے۔
- اور جو ہر زاویہ نظر سے بے عیب اور بے مثال دکھائی دے۔
اس ذات والا صفات کی شان اقدس میں گستاخی در حقیقت آئینہ انسانیت کے مقدس چہرے پر رنگ عصمت انسانیت نہیں بلکہ ابلیسی ظلمتوں کے بدنما دھبے تصور کیے جاتے ہیں۔ آنکھ میں ٹکرا‘ دل میں کالک‘ روح میں سرطان‘ زبان پر ناسور اور قلم میں زہر بھر کر جب کوئی بد بخت اور شقی القلب‘ اجالوں کو اندھیارا‘ خوشبوؤں کو گھن اور مسرتوں کو آہوں سے تعبیر کرنے میں جٹ جائے تو ایسے شخص کی عقل اور مقدر پر سوائے ماتم کے اور کیا کیا جا سکتا ہے۔ جیسے
کلیوں کو کھلنے سے نہیں روکا جا سکتا
پھولوں کو مہکنے سے نہیں روکا جا سکتا
جھرنوں کو بہنے سے نہیں روکا جا سکتا
اس سے کہیں بڑھ کر ناموس مصطفیٰ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو مٹانے سے ہرگز نہیں مٹایا جاسکتا۔
مسلمان چاہے کتنا ہی پستیوں میں کیوں نہ گرا پڑا ہو‘ جب تحفظ ناموس رسالت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی بات ہوتی ہے تو ان میں فیروز دیلمیؒ ‘ وحشی ابن حربؓ ‘ ابو مسلم خولانیؒ ‘ غازی علم الدین شہیدؒ ‘ غازی میاں محمد صدیق شہیدؒ ‘ غازی میاں محمد شہیدؒ ‘ غازی مرید حسین شہیدؒ ‘ غازی محمد عبداللہ شہیدؒ اور غازی عبدالقیوم ہزارویؒ کی غیرت عود کر آتی ہے اور گستاخ رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو جہنم رسید کر کے چین لیتی ہے۔
یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ حضرت فیروز دیلمیؒ اپنے وقت کے صدیق اکبرؓ نہیں تھے۔ حضرت وحشی ابن حربؓ اپنے وقت کے سیف اللہؓ نہیں تھے۔ حضرت ابو مسلم خولانیؒ اپنے وقت کے اویس قرنیؒ بھی نہ تھے۔ غازی علم الدین شہیدؒ اپنے وقت کے سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ نہ تھے۔ غازی میاں محمد صدیقؒ سید انور شاہ کشمیریؒ نہ تھے۔ غازی میاں محمد شہیدؒ بھی وقت کے امام نہ تھے۔ غازی مرید حسین شہیدؒ اپنے وقت کے خواجہ محمد عبدالعزیز چاچڑویؒ بھی نہ تھے۔ غازی محمد عبداللہ شہیدؒ اپنے وقت کے مسلمانوں کے رہبر نہ سمجھے جاتے تھے۔ اور غازی عبدالقیوم ہزارویؒ کراچی کی کسی بڑی اوقاف کی جامع مسجد کے خطیب نہ تھے بلکہ کراچی میں ایک معمولی تانگہ بان تھے لیکن تحفظ ناموس رسالت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا فریضہ اس مہارت اور خوبی سے ادا کر گئے کہ بڑے بڑے مسلمان ان کی رفعتوں اور عظمتوں پر رشک کرتے رہ گئے۔
غور فرمائیے !
جب عوام کے جذبات یہ ہیں تو خواص کی تڑپ کیا ہو گی؟ جب مجاہدین کا یہ حال ہے تو قائدین کے احساسات کیا ہوں گے؟
اس حقیقت سے کون انکار کرے گا کہ جس کی حفاظت کا ذمہ اللہ لے لے‘ اس کے لیے نہ اسے کسی دوسری طاقت کی ضرورت ہے اور نہ کسی اور کمال کی ۔ جب وہ ابرہہ کے لشکر سے کعبہ کو بچانے پر آئے تو پرندوں سے اس کی حفاظت کا فریضہ سرانجام دلوا دیتا ہے۔
یہ درست ہے کہ آج مسلمان اپنی نظریاتی حدود پر چومکھی لڑنے سے قاصر ہے۔ یہ
کمزوری ایمان کی علامت سہی، مگر بہر حال یہ حقیقت بھی اپنی جگہ مسلم ہے کہ کسی بھی ناعاقبت اندیش گستاخ رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو جب تک تہ تیغ نہ کیا گیا، امت اجتماعی آنکھ سے خون کے آنسو روتی رہی اور جب تک مسلمانوں کی آنکھوں کی لالی گستاخ رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے خون کی سرخی میں نہ بدلی، امت مضطرب رہی اور یہ مضبوطی ایمان کی علامت ہے۔
خالق ارض و سماء نے اپنی لاریب کتاب قرآن مجید، فرقان حمید میں اس انتہائی اہم اور حساس مسئلہ پر بڑے واضح اور بین قوانین وضع فرما دیئے ہیں، جن پر عمل درآمد ہی امن و امان کی ضمانت ہے
پہلی آیت:
ارشاد باری تعالیٰ ہے :
یا ایہا الذین امنوا لا ترفعوا اصواتکم فوق صوت النبی و لا تجھروا لہ بالقول کجھر بعضکم لبعض ان تحبط اعمالکم وانتم لا تشعرونo (سورۃ الحجرات، آیت نمبر ۲)
ترجمہ : ”اے لوگو جو ایمان لائے ہو مت بلند کرو اپنی آواز کو اوپر آواز نبی (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کے اور انہیں اس طرح نہ پکارو جیسے تم آپس میں ایک دوسرے کو پکارتے ہو ایسا نہ ہو کہ تمہارے اعمال اکارت جائیں اور تمہیں خبر بھی نہ ہو“۔
اس آیت شریفہ کے ضمن میں حاشیہ جلالین پر یوں رقم ہے:
”نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو اس طرح بلانا جس میں تعظیم نہ ہو، نہ ان کی زندگی میں جائز تھا اور نہ ان کی وفات کے بعد جائز ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ جس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو کم مرتبہ والا جانا، پس وہ کافر ہے اور دنیا و آخرت میں ملعون ہے“۔ (جلالین، ص ۳۰۲)
واضح ہو کہ ملعون، لعن کیا ہوا ہوتا ہے اور ملعون اللہ تعالیٰ کی رحمت سے محروم ہوتا ہے۔ اسلامی ریاست میں کسی کے جان و مال کی حفاظت اللہ کی رحمت ہوتی ہے اور جو ملعون قرار پا جائے وہ اللہ کی رحمت سے کٹ جاتا ہے۔ اب اس کے جان و مال کا تحفظ یقینی نہیں رہتا۔ پہلے وہ اللہ کی رحمت کی وجہ سے معصوم الدم تھا لیکن جب سے ملعون ہوا مباح الدم ہو گیا اور اس
کا قتل روا ہو گیا۔
دوسری آیت:
اسی طرح ایک دوسری جگہ ارشاد باری ہے: ان الذين يوذون الله و رسوله لعنهم الله في الدنيا و الاخرة و اعد لهم عذابا مهيناO(سورۃ احزاب‘ آیت نمبر۵۷) ترجمہ: ”بے شک وہ لوگ جو اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو ایذا دیتے ہیں ان پر اللہ کی لعنت ہے اور دنیا و آخرت میں ان کے لیے رسوا کرنے والا عذاب ہے“۔
اس آیت کے تحت علامہ ابن تیمیہؒ لکھتے ہیں:
”یہ آیت اس امر پر دلالت کرتی ہے کہ اللہ اور اس کے رسول کو اذیت دینے والا واجب القتل ہے“۔ (الصارم المسلول‘ اردو ترجمہ‘ ص ۶۲)
علامہ ابن تیمیہؒ اس آیت کے ضمن میں مزید آگے لکھتے ہیں:
”ایک حدیث قدسی میں آیا ہے کہ ابن آدم مجھے ایذا دیتا ہے‘ وہ زمانے کو گالی نکالتا ہے۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا کعب بن اشرف کا ذمہ کون لے گا‘ اس نے اللہ اور اللہ کے رسول کو ایذا دی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا: ”ایذا دینے والی چیز کو سن کر اللہ سے زیادہ صبر کرنے والا اور کوئی نہیں۔ لوگ اللہ کے لیے اولاد اور شریک ثابت کرتے ہیں اور وہ انہیں معاف کرتا ہے اور رزق دیتا ہے (آگے لکھتے ہیں) واضح ہو کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو کم درجہ کی ایذا پہنچانے سے بھی ایسا کرنے والا کافر اور مباح الدم ہو جاتا ہے“۔ (”الصارم المسلول‘ اردو ترجمہ‘ ص ۱۰۵-۱۰۴‘ از غلام احمد حریری)
یعنی تمام اعمال صالحہ‘ نماز پنجگانہ‘ لمبے لمبے وظیفے‘ تسبیحات‘ روزے‘ صدقات‘ زکوۃ اور عمرے و حج فقط اتنی بات سے سب ضائع ہو گئے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی آواز سے اپنی آواز بلند کر دی۔ اتنے ادنیٰ درجے کی بے ادبی بھی شان رسالت میں‘ رب محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو روا نہیں ہے اور قرآن ایسے لوگوں کا ایمان چھین لینے کا اعلان کرتا ہے۔
اور جس کا ایمان چھن جائے، شرعی اصطلاح میں اسے مرتد کہا جاتا ہے۔
تیسری آیت:
مثال کے طور پر ارشاد ہوا:
و من يرتد منكم عن دينه فيمت وهو كافر فاولئك حبطت اعمالهم فى الدنيا و الاخرة و اولئك اصحب النار هم فيها خلدون O
(سورۃ البقرہ‘ آیت ۲۱۷)
ترجمہ : ”اور جو کوئی پھر جائے، اپنے دین سے پس مرجائے اور وہ کافر ہو ضائع ہوگئے اعمال اس کے دنیا اور آخرت میں اور وہ آگ میں رہنے والے ہیں، جن میں وہ ہمیشہ رہیں گے“۔
یہ دلیل ہے اس بات کی کہ اعمال کا ضائع ہو جانا کفر اور ارتداد کی علامات میں سے ہے اور مرتد کا انجام بھڑکتی جہنم ہے۔
چوتھی آیت:
و من يكفر بالايمان فقد حبط عمله و هو فى الاخرة من الخسرين O
(سورۃ المائدہ‘ آیت ۵)
ترجمہ : ”اور پس جو کافر ہو گیا، ایمان سے پس اس کا (نیک) عمل ختم ہو گیا اور وہ آخرت میں خسارہ پانے والوں میں ہو گا“۔
پانچویں آیت:
ولو اشركوا لحبط عنهم ما كانوا يعملون O
(سورۃ انعام‘ آیت نمبر ۸۹)
ترجمہ : ”اور اگر وہ شرک کرتے تو البتہ ضائع کر دیے جاتے جو کچھ وہ عمل کرتے تھے“۔
ملا علی قاریؒ لکھتے ہیں: "اعمال کو سوائے کفر کے اور کوئی چیز حبط (ضائع) نہیں کرتی"۔ ("شرح الشفاء" جلد ۲' ص ۴۰۳) ضائع وہ اعمال ہوتے ہیں جو نیک ہوں، جن پر آخرت میں اجر و ثواب ملنا ہو اور نیک اعمال وہ ہوتے ہیں جن کا دارومدار ایمان پر ہو۔ اب یہ اعمال، کفر سے ضائع ہوتے ہیں اور جس کے یہ اعمال ضائع ہوئے، بدیں الفاظ اسے مرتد کہا جائے گا۔ معلوم ہوا گستاخی رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے، انسان دائرہ اسلام سے خارج ہو جاتا ہے۔ یعنی صرف نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی آواز سے اپنی آواز بلند کرنے سے کفر لازم آتا ہے۔ اس سلسلے میں تفسیر قرطبی "الجامع الاحکام القرآن" جلد نمبر ۸' جز نمبر ۱۶' صفحہ ۳۰۷' تفسیر "بیضاوی" جلد نمبر ۲' صفحہ ۴۰۷' تفسیر "المراغی" جلد نمبر ۱' صفحہ ۱۲۱ میں شیخ احمد المصطفی المراغی نے، علامہ آلوسیؒ تفسیر "روح المعانی" جز ۲۶' جلد نمبر ۱۳' صفحہ ۱۳۷ - ۱۳۶ اور امام ابن المنیر نے "حاشیہ الکشاف" جلد ۴' ص ۳۶۴ پر بڑی سیر حاصل بحث کی ہے۔
چھٹی آیت:
گستاخ رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی سزا سے متعلق قرآن سورۃ توبہ میں بدیں الفاظ جواز مہیا کرتا ہے: و منهم الذين يوذون النبى و يقولون هو اذن قل اذن خير لكم يومن بالله و يومن للمومنين و رحمة للذين امنوا منكم والذين يوذون رسول الله لهم عذاب اليمO يحلفون بالله لكم ليرضوكم والله و رسوله احق ان يرضوه ان كانوا مومنينO الم يعلموا انه من يحادد الله ورسوله فان له نار جهنم خالدا فيها ذلك الخزى العظيمO يحذر المنفقون ان تنزل عليهم سورة تنبهم بما فى قلوبهم قل استهزوا ان الله مخرج ما تحذرونO ولئن سالتهم ليقولن انما كنا نخوض ونلعب قل ابالله و آيته و رسوله كنتم تستهزونO لا تعتذروا قد كفرتم بعد ايمانكم (سورہ التوبہ، آیت ۶۱ تا ۶۶)
ترجمہ : ”اور ان میں وہ لوگ بھی ہیں جو نبی (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) کو اذیت دیتے ہیں اور کہتے ہیں وہ تو نرے کان ہیں (معاذ اللہ) (یعنی ہر بات سن کر لگ جاتے ہیں) آپ (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) کہہ دیجئے کہ کان بھلا ہے واسطے تمہارے‘ ایمان لاتا ہے اللہ پر اور باور کرتا ہے واسطے مسلمانوں کے اور رحمت ہے واسطے ان لوگوں کے جو تم میں سے ایمان لائے ہیں اور وہ لوگ جو اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) کو ایذا دیتے ہیں ان کے واسطے درد دینے والا عذاب ہے‘ قسمیں کھاتے ہیں تمہارے آگے تاکہ تمہیں راضی کریں اور اللہ اور اس کا رسول (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) زیادہ حقدار ہیں کہ ان کو راضی کریں اگر ہیں وہ ایمان والے‘ کیا نہیں جانا انہوں نے کہ جو کوئی خلاف کرے اللہ کے اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) کے تو بے شک واسطے اس کے دوزخ کی آگ ہے ہمیشہ اس میں رہے گا۔ یہ بڑی رسوائی ہے۔ منافق ڈرتے ہیں کہ اتاری جائے اوپر ان کے سورت کہ خبر دے ان کو اس چیز کی جو ان کے دلوں میں ہے کہہ دیجئے کہ ٹھٹھا کرو بے شک اللہ تعالیٰ اس چیز کو نکالنے والا ہے جس سے تم ڈرتے ہو اور البتہ اگر پوچھو تم ان سے تو یہی کہیں گے کہ ہم تو بات کرتے تھے اور کھیلتے تھے۔ کہہ دیجئے کیا اللہ اور اس کی آیتوں اور اس کے رسول کے ساتھ ہی تم ٹھٹھا کرتے تھے۔ مت بہانے بناؤ تحقیق کافر ہوئے تم بعد ایمان لانے اپنے کے“۔
ان آیات شریفہ میں اللہ رب العزت نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو ایذا دینے والوں کی گرفت کرتے ہوئے ارشاد فرماتے ہیں کہ وہ لوگ جو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو اذیت دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم تو کانوں کے کچے ہیں یعنی آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے جو بات بھی جا کر کہہ دی جائے وہ اسے درست مان لیں گے یعنی آج کچھ کہا جائے اور کل کچھ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم تسلیم کر لیں گے منافقین کا یہ قول آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو قلبی و ذہنی اذیت پہنچانے کے لیے تھا نہ کہ معاذ اللہ کوئی جسمانی اذیت‘ اس پر بھی اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے دردناک عذاب کی وعید سنائی۔ معلوم ہوا لفظ ”ھو اذن“ شان رسالت میں صریح گمراہی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو اذیت دینا ہے اور جو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم پر یوں زبان طعن دراز کرے اور اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی مخالفت کرے فرمایا ان کے لیے
جہنم کی آگ ہے جس میں وہ ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے اور یہ بڑی رسوائی کی بات ہے اور یہاں یہ بات قابل ذکر ہے جہنم میں ہمیشہ ہمیشہ صرف اور صرف کفار ہی رہیں گے۔ ایک غزوہ میں کچھ منافقین حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شان اقدس میں زبان درازی کے مرتکب ہو رہے تھے۔ مختلف تفاسیر میں اس کے شان نزول کے مختلف روایات ہیں۔
منافق یہ کہہ رہے تھے کہ یہ جو حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فرما رہے ہیں کہ فلاں اونٹنی فلاں جگہ ہے‘ اس کا تمسخر اڑا رہے تھے کہ انہیں تو یہ تک معلوم نہیں کہ ہم جو ہر وقت ان کے ساتھ رہتے ہیں مگر انہیں معلوم نہیں کہ ہم سچے دل سے ان پر ایمان نہیں لائے لیکن اونٹنی کے متعلق بتا رہے ہیں (دوسری تفاسیر میں شام کے فتح ہونے کی پیشین گوئی فرمائی گئی تھی)
اس کی اطلاع نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ہو گئی‘ جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس پر حضور رسالت مآب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو مطلع فرما دیا تو ان منافقین سے پوچھا گیا کہ تم نے یہ بات کہی ہے؟ تو وہ شرمساری سے کہنے لگے کہ ہم نے تو ازراہ مذاق کہی تھی۔ یہاں قرآن مجید ان کی اس گستاخی کی گرفت کرتے ہوئے کہتا ہے:
”اگر تم ان سے پوچھو کہ اے محبوب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم‘ تو وہ کہیں گے ہم نے تو ہنسی مذاق میں بات کہی تھی پھر فرما دیجئے کہ یہ ہنسی مذاق تم نے اللہ سے کرنا ہے‘ اس کی آیتوں سے کرنا ہے اور اللہ کے رسول سے کرنا ہے“۔
اب یہاں جو بات قابل توجہ ہے کہ ہنسی مذاق کی بات نہ یہاں اللہ سے تھی اور نہ اللہ کے قرآن سے یہاں محض حضور سرور کونین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذات اقدس و مطہر کے خلاف زبان درازی کی گئی تھی اور حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر ایک الزام لگایا گیا تھا جس پر اللہ تعالیٰ نے منافقین کے چھپے کفر کو ظاہر کر دیا۔
شیخ محمد بن عمر الرازی سورۃ التوبہ آیت نمبر ۶۱ کے ذیل میں فرماتے ہیں:
”جو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ایذا دیتے ہیں ان کے لیے عذاب ہے درد دینے والا‘ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی رسالت کا عنوان بیان ہوا ہے نام نہیں‘ اللہ کے نام کی اضافت کے ساتھ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا نام اس لیے استعمال کیا جا رہا ہے تاکہ نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی انتہا درجے کی تعظیم و تکریم واضح ہو جائے تاکہ پتہ چل جائے کہ اس نبی (صلی
اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اذیت اس کی اپنی ذات کی اذیت نہیں ہے بلکہ یہ جناب الہی کی طرف راجع ہے۔ لہٰذا جو جرم اللہ کی اذیت کے لیے ہو گا وہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اذیت کے لیے ہو گا“۔ (تفسیر امام ابو السعود محمد بن عمر
العمادی‘ جلد ۴‘ ص ۷۷)
شیخ محمد اسمعیل حقیؒ فرماتے ہیں:
”حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اذیت دینا دراصل اللہ ہی کو اذیت دینا ہے“۔ (تفسیر ”روح البیان“ جلد نمبر ۷‘ ص ۲۳۷‘ مطبوعہ کوئٹہ)
قرآن میں ہر جگہ لفظ یوذون النبی یا یوذون الرسول آیا ہے اور جب رسول اللہ کا لفظ استعمال ہوتا ہے تو اس میں ذات پیغمبر ناطق ہو جایا کرتی ہے۔ منصب رسالت کو جھٹلانا در حقیقت پیغام الوہیت کا انکار ہے۔
حضور رحمت للعالمین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذات گرامی پر حملہ کرنے والوں سے خود آقا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم درگزر فرما لیا کرتے تھے لیکن جب کسی نے منصب رسالت پر حملہ کیا تو اسے سزائے موت دی گئی کیونکہ منصب رسالت ذاتی جوہر نہ تھا بلکہ وہبی تھا اور پھر پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حدود اللہ کو اپنے معاشرے میں اس کمال اسلوب سے نافذ کیا کہ حجۃ الوداع کے موقع پر میدان عرفات میں قدسی صفات صحابہ کرامؓ کے اک سیلاب نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پیغمبرانہ عظمت کی گواہی دی۔
اپنی حیات طیبہ میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حدود اللہ کے جو نقوش متعین فرمائے تھے دور خلافت راشدہ میں وہ اپنی پوری تمکنت کے ساتھ خطہ ارض کے نصف کا گھیراؤ کر گئے‘ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا وہی نقش پا آج بھی مومنین کے دلوں کی دھڑکن ہیں اور اسی میں نوع انسانیت کی فلاح بھی۔
ناممکن ہے کہ کسی دل میں بغض رسالت ہو اور وہ مومن کہلائے۔ عقل اس بات کو تسلیم ہی نہیں کرتی کہ قدرت انسانیت کی فلاح کے لیے شفاف نظام عطا کرے اور جس واسطے سے وہ نظام انسانیت تک پہنچے وہ ہر زاویہ نظر سے بے عیب اور بے داغ نہ ہو۔ قدرت اور انسانیت کے مابین اس واسطے اور رشتے کا نام نبوت اور رسالت ہے اور جو ہستی اس وصف سے موصوف ہوتی ہے‘ اسے نبی اور رسول کہا جاتا ہے۔ اب جو شخص نبی اور رسول سے نفاق ظاہر کرے‘ وہ اپنی فطرت پر نہیں ہوتا اور سوائے اسلام کے کوئی دین فطری نہیں ہے۔
معلوم ہوا نبی اور رسول سے بغض اور نفاق رکھنا صریح کفر ہے اور قانون فطرت کے
خلاف ہے۔
چنانچہ مفتی بغداد علامہ محمود آلوسیؒ تحریر فرماتے ہیں:
”تم نے کفر ظاہر کیا‘ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو ایذا پہنچانے سے اور حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی شان میں طعنہ زنی کرنے سے“۔ (تفسیر ”روح المعانی“ جلد ۱۰‘ ص ۱۳۱)
یہاں لفظ ”کفر ظاہر کیا“ نشاندہی کرتا ہے‘ منافقین کے اس کفر کی جو ان کے دلوں میں پوشیدہ تھا۔
آیت شریفہ قد کفر تم بعد ایمانکم کے الفاظ اور اظہر تم الکفر دونوں پر اگر یکساں تدبر کیا جائے تو ایک باریک اور لطیف مسئلہ سامنے آتا ہے کہ ایمان لانے کے بعد عظمت رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا دلوں میں جاگزیں نہ ہونا بھی کفر ہے۔
کیونکہ قد کفر تم بعد ایمانکم دلیل ہے اس بات کی‘ کہ یہ منافق پہلے ایمان لائے تھے اور پھر علامہ آلوسیؒ کا قول کہ کفر ظاہر کیا‘ اس امر کو مقتضی ہے کہ کفر ظاہر کرنے یعنی آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی شان اقدس میں الزام تراشی کرنے سے قبل کفر ان کے دلوں میں قرار پا چکا تھا‘ جسے بوقت الزام تراش کر فقط ظاہر کیا گیا۔
ابو حیان اندلسیؒ اپنی تفسیر میں اس کی وضاحت یوں فرماتے ہیں:
”(تم نے ظاہر کیا کفر کو بعد ظاہر کرنے ایمان کے) اس لیے کہ وہ چھپائے تھے اپنے کفر کو پس ظاہر کیا اس کو اپنی استہزاء کے ذریعے“ (”البحر المحیط“ جلد ۵‘ ص ۶۷)
مولانا شبیر احمد عثمانیؒ لکھتے ہیں:
”خدا اور رسول کا استہزاء اور احکام الٰہیہ کا استخفاف تو وہ چیز ہے کہ اگر مخفی زبان سے دل لگی کے طور پر کیا جائے وہ بھی کفر عظیم ہے‘ چہ جائیکہ منافقین کی طرح از راہ شرارت اور بدباطنی سے ایسی حرکت سرزد ہو“۔ (تفسیر عثمانی)
قاضی ثناء اللہ پانی پتیؒ اس آیت کی شرح یوں کرتے ہیں:
”تمہارا کفر ظاہر ہو گیا حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو ایذا پہنچا کر اور آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی شان عالی میں زبان طعن دراز کر کے“۔ (”تفسیر مظہری“ جلد ۴‘ ص ۴۶۱)
شیخ محمد اسماعیل حقیؒ اپنی تفسیر میں یوں رقم طراز ہیں:
”حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو اذیت دینا اور زبان طعن دراز کرنا کفر ہے“۔ (تفسیر ”روح البیان“ جلد ۳‘ ص ۴۵۹)
حافظ ابن تیمیہ لکھتے ہیں: ”اس بات میں نص ہے قرآن مجید کی کہ بے شک اللہ سے اس کی آیتوں سے اور رسول (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) سے استہزاء یہ کفر ہے۔ جب استہزاء یہ کفر ہے تو جو سب (گالی) ہے تو وہ بطریق اولیٰ مقصود ہو گئی۔ پس اب سب سے مراد کھلی گستاخی اور اہانت آگئی۔ چنانچہ یہ آیت کریمہ اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ اگر کوئی شخص بھی حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی تنقیص شان کرے‘ خواہ حقیقتاً‘ خواہ مذاقاً‘ وہ شخص کافر ہو جائے گا“۔ (”الصارم المسلول“ ص ۳۱-۳۲)
حضرت ملا علی قاریؒ ان کے کفر کی تشریح کرتے ہوئے رقم طراز ہیں: ”اہل تفسیر بیان کرتے ہیں کہ ان کا کفر یہ تھا کہ انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے بارے میں ایسے کلمات کہے جو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے شایان شان نہیں تھے“۔ (”شرح الشفاء“ جلد ۳‘ ص ۴۰۴)
امام فخر الدین رازیؒ اس کی مزید تصریح فرماتے ہیں: ”(آیت قد کفرتم بعد ایمانکم) دلالت کرتی ہے چند احکام پر..... تیسرا حکم ...... قد کفرتم بعد ایمانکم دلالت کرتا ہے اس پر کہ ان کا قول جو ان سے صادر ہوا ہے‘ حقیقت میں کفر ہے‘ اگرچہ وہ اس سے قبل بھی منافق تھے اور بے شک ممکن ہے کہ کفر تازہ ہو تا رہے کافر سے وقتاً فوقتاً“۔ (تفسیر ”کبیر“ جلد نمبر ۱۶‘ ص ۱۴۳-۱۴۴)
امام رازیؒ نے بڑی خوبصورت وضاحت کی یعنی منافقین پہلے بھی کافر ہی تھے مگر اپنے کلمہ کفر کی وجہ سے انہوں نے اپنے کفر کی تجدید کی‘ گویا منافقین کا کفر پہلے رات کے اندھیرے کی طرح تھا لیکن جب نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو ایذا پہنچائی تو ان کا کفر نکھر کر سامنے آگیا اور اللہ تبارک تعالیٰ نے ان کے کفر پر مہر تصدیق ثبت کر دی۔
مفسرین نے لکھا ہے کہ جب ان کا کفر بے نقاب ہوا تو انہوں نے اپنی خباثت کو چھپانے کے لیے یہ بہانہ گھڑ لیا کہ ہم نے تو بطور مذاق کہا تھا‘ اس پر اللہ رب العزت نے کہا لا تعتذروا بہانے مت بناؤ (تم تھے ہی دل کے کالے) قد کفرتم بعد ایمانکم تم نے کفر کیا ایمان لانے کے بعد۔
سورۃ توبہ کی آیات ۶۶-۶۵ کے تحت امام النسفیؒ نے اپنی تفسیر ”مدارک“ جلد نمبر ۲‘ ص
۴۲۳ پر‘ شیخ محمد علی الصابونی‘ شاہ عبدالعزیز یونیورسٹی مکہ کے پروفیسر ہیں۔ انہوں نے اپنی تفسیر ”صفوات التفاسیر“ جلد نمبر ۱‘ صفحہ ۵۴۶‘ تفسیر ”الکشاف“ جلد نمبر ۲‘ صفحہ ۲۸۶‘ قاضی ثناء اللہ پانی پتیؒ کی تفسیر ”المظہری“ جلد نمبر ۴‘ صفحہ ۲۶۰ اور شیخ محمد اسماعیل حقیؒ کی مایہ ناز تفسیر ”روح البیان“ کی جلد ۳‘ صفحہ ۴۵۹ میں تصریحات درج ہیں کہ ”تم ایمان لانے کے بعد حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی اہانت کے سبب کافر ہو چکے“۔
امام ابن ہمامؒ لکھتے ہیں: ”جو بھی شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے بغض رکھے‘ وہ مرتد ہو جاتا ہے“۔ (”فتح القدیر“ جلد ۴‘ ص ۴۰۷)
ایک اور بات بھی یاد رکھنے کہ دیگر مرتدین سے اس کا حکم بھی جدا ہے۔ کیونکہ دیگر مرتدین پر اسلام پیش کیا جاتا ہے۔ اگر وہ تین یوم کے اندر اسلام میں لوٹ آئیں تو انہیں معاف کر دیا جاتا ہے مگر بوجہ گستاخی رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے مرتد ہونے والے شخص کے سامنے اسلام پیش نہیں کیا جاتا اور نہ ہی اسے توبہ کا موقع دیا جاتا ہے۔
امام ابن نجیم حنفیؒ لکھتے ہیں: ”ہر ارتداد پذیر ہوتا ہے۔ اگر اسلام کی طرف راغب ہو جائے تو اسے چھوڑ دیا جائے گا مگر اس سے کچھ مسائل مستثنیٰ ہیں۔ ان میں پہلا یہ ہے کہ جو گستاخ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہو‘ اسے نہیں چھوڑا جائے گا اور ایسے مرتد شخص کی توبہ قبول نہیں کی جائے گی“۔ (”بحر الرائق“ جلد ۵‘ ص ۱۳۵)
امام شافعیؒ ایسے شخص کے جرم ارتداد کو دیگر مرتدین کے جرم سے زیادہ سنگین قرار دیتے ہوئے لکھتے ہیں: ”شاتم رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا ارتداد دوسرے ارتداد کی طرح نہیں۔ کیونکہ دیگر ارتداد انفرادی عمل ہوتے ہیں اور ان میں کسی دوسرے کا حق متعلق نہیں ہوتا اس لیے اس کی توبہ قابل قبول ہوتی ہے۔ مگر شاتم رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ایسا کافر و مرتد ہوتا ہے کہ اس کا قتل لازم ہے۔ اگر وہ توبہ نہ کرے تب بھی اس کا قتل ہو گا اور اگر توبہ کرے تو بھی صحیح مذہب کے مطابق بطور حد قتل کیا جائے گا“۔ (”تنقیح حامدیہ“ ص ۱۵۴)
علامہ ابن تیمیہؒ لکھتے ہیں: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو سب و شتم اسلام سے اعراض
ارتداد) سے بدرجہا بدتر ہے"۔ ("الصارم المسلول) (عربی) ص ۲۹۸)
محمد کاظم حبیب اس سلسلے میں یوں رقم طراز ہیں:
”درج ذیل چار صورتوں میں مرتد کی توبہ قبول نہیں کی جاتی:
اول ۔۔۔ اگر مرتد نے اللہ تعالیٰ، محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم، قرآن کریم یا کسی پیغمبر، یا کتب سماوی، اللہ کا پیغام لانے والے فرشتے، جن کا ذکر قرآن میں آتا ہے کو سب و شتم کا نشانہ بنایا ہو یا ان کا مذاق اڑایا ہو یا ان کی قدر و منزلت گھٹائی ہو اور ان کے تقدس کو پامال کیا ہو اور اس سلسلے میں جہالت، مدہوشی، غیظ و غضب، مزاح یا زبان پھسل جانے کا عذر بھی قبول نہیں کیا جائے گا۔ حتیٰ کہ جس مرتد کے ارتداد کا سب و شتم کے علاوہ کوئی اور سبب بھی ہو لیکن زمانہ ارتداد میں اس نے گالیاں دی ہوں، پھر تائب ہو گیا اور ایمان لے آیا پھر بھی (سابقہ) سب و شتم کی وجہ سے قتل کیا جائے گا“۔ (”ارتداد، ماضی اور حال کے آئینے میں“ ص ۷۴)
انبیاء علیہم السلام سے متعلق ان عقائد و اعمال باطلہ کا بیان، جن سے ایمان ضائع ہو جاتا ہے‘ کے عنوان کے تحت محمد کاظم حبیب لکھتے ہیں:
- ۱- نبوت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا یا آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے
- آخری نبی ہونے کا انکار۔
- ۲- آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی طرف، جھوٹ منسوب کرنا یا کسی ایسے
- وصف سے موصوف کرنا جو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے شایان شان نہیں۔
- ۳- آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم یا دیگر انبیاء کو جن کا ذکر قرآن کریم میں
- آیا ہے، گالیاں دینا۔
- ۴- آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے بعد نبوت کا دعویٰ کرنا یا ایسے جھوٹے
- نبی کے دعوے کی تصدیق کرنا۔
- ۵- آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے بغض رکھنا یا آپ صلی اللہ علیہ و آلہ
- وسلم کا اسم گرامی، رسالت، سیرت و سنت سے نفرت کرنا۔
- ۶- یہ دعویٰ کرنا کہ فی زمانہ دوسرے لوگوں کی ہدایت بھی آپ صلی اللہ علیہ
- و آلہ وسلم کی ہدایت کی طرح ہے یا اس سے بھی افضل ہے۔
- ۷- یہود کی طرح آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے یا دیگر انبیاء سے کوئی
- بری بات یا عمل منسوب کرنا۔
- ۸۔ یہ دعویٰ کرنا کہ ریاضت و مشقت کے ذریعے نبوت حاصل کی جاسکتی
ہے۔
- ۹۔ اپنے ساتھی سے کہنا ”میں تم سے اتنی محبت کرتا ہوں جتنی مجھے حضور صلی
اللہ علیہ و آلہ وسلم سے ہے یا اس سے بھی زیادہ۔
- ۱۰۔ اپنے دوست سے یہ کہنا ”تم محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے بھی سچے ہو
یا مجھے ان سے زیادہ عزیز ہو“۔
(”ارتداد، ماضی اور حال کے آئینے میں“ ص ۴۰
۳۹)
وہ عقائد کہ جن سے ایمان ضائع ہوتا ہے اور قد کفرتم بعد ایمانکم کا اطلاق ہوتا ہے۔ محمد کاظم حبیب نے مندرجہ بالا الفاظ میں ترتیب دے کر کوزے میں دریا بند کر دیا ہے۔
اپنے معاشرے اور سوسائٹی پہ نظر دوڑائیں تو ایک فرقہ قادیانیہ کے عقائد میں مذکورہ بالا تمام کفریات بدرجہ اتم دکھائی دیں گے۔ آئیے ایک ایک عقیدے کا جائزہ لیتے ہیں:
قرآن کریم میں تقریباً ایک سو آیات اور حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی کم و بیش دو سو دس احادیث مبارکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے آخری نبی ہونے پر دلالت کرتی ہیں اور پھر چودہ صدی کی امت کا اجماع آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ختم نبوت کا وہ سنگ میل ہے کہ جو کفر و ایمان میں امتیاز کرتا ہے اور کفار اور مومنین کی راہیں جدا کرتا ہے۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا خاتم النبیین ہونا، اس سے ثابت ہوتا ہے تو محض نبی اور رسول ہونا تو بدرجہا اولیٰ ثابت ہوا۔
محمد کاظم حبیب لکھتے ہیں:
- ۱۔ نبوت محمد ﷺ کا آپ ﷺ کے آخری نبی ہونے کا انکار کرنا دائرہ اسلام
سے خارج کردیتا ہے اور ایمان کو ضائع کردیتا ہے۔
- ۱۔ جب کہ مرزا غلام احمد قادیانی کے بیٹے مرزا بشیر احمد ایم۔ اے اپنی کتاب ”حقیقت
النبوت“ میں لکھتے ہیں:
”یہ بات روز روشن کی طرح ثابت ہے کہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کے بعد نبوت کا دروازہ کھلا ہے“۔
(”حقیقت النبوت“ ص ۲۲۸)
خود مرزا قادیانی لکھتے ہیں: محمد رسول الله والذین معہ اشداء علی الکفار رحما بینھم ترجمہ: ”اس وحی میں میرا نام محمد رکھا گیا اور رسول بھی“ (”ایک غلطی کا ازالہ“ ص ۴‘ مطبوعہ ربوہ‘ تیسرا ایڈیشن)
اپنی تصنیف کشتی نوح میں مرزا قادیانی لکھتے ہیں: ”مبارک ہیں وہ جس نے مجھے پہچانا‘ میں خدا کی سب راہوں میں سے آخری راہ ہوں اور میں اس کے سب نوروں میں سے آخری نور ہوں۔ بد قسمت ہے وہ جو مجھے چھوڑتا ہے کیونکہ میرے بغیر سب تاریکی ہے۔ (”کشتی نوح“ مصنفہ مرزا غلام احمد‘ ص ۵۶)
مذکورہ بالا قادیانی عقائد میں حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے آخری رسول ہونے کی واشگاف الفاظ میں تردید کی گئی ہے اور پھر اس پر ظلم یہ کہ مسئلہ ختم نبوت پر حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی جگہ مرزا قادیانی جیسے دجال اور جھوٹے کو بٹھا کر اپنے کفریہ عقیدے میں مزید شدت پیدا کر دی گئی ہے۔
مرزا قادیانی بانگ دہل اس کا اعتراف بدیں الفاظ کرتے ہیں: ”میں بارہا بتلا چکا ہوں کہ میں بموجب آیت واخرین منھم لم یلحقوا بھم ترجمہ: ”بروزی طور پر وہی نبی خاتم الانبیاء ہوں“۔ (”ایک غلطی کا ازالہ“ مصنفہ مرزا قادیانی)
- ۲۔ آپ ﷺ کی طرف جھوٹ منسوب کرنا یا کسی ایسے وصف سے موصوف
کرنا جو آپ ﷺ کے شایان شان نہ ہو مرزا غلام احمد قادیانی کا اس سے بڑا اور ظلم کیا ہو گا‘ ملاحظہ فرمائیں: ”آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اور آپ کے اصحاب...... عیسائیوں کے ہاتھ کا پنیر کھا لیتے تھے حالانکہ مشہور تھا کہ سور کی چربی اس میں پڑتی ہے“۔ (مرزا غلام احمد قادیانی کا مکتوب مندرجہ ”الفضل قادیان“ ۲۲ فروری‘ ۱۹۲۴) نیز۔۔۔
- ۵۔ ایسے موقع پر مسلمان معراج پیش کر دیتے ہیں؟
”حضرت اقدس (مرزا ملعون) نے فرمایا کہ معراج جس وجود سے ہوا تھا‘ وہ یہ ہگنے موتنے والا وجود تو نہ تھا“۔ (”ملفوظات احمدیہ“ جلد نہم‘ ص۴۵۹)
- ۳۔ آپ ﷺ یا دیگر انبیاء کو جن کا ذکر قرآن کریم میں آیا ہے گالیاں دینا:
مرزا غلام احمد قادیانی اپنی تصنیف ”نزول المسیح“ میں لکھتے ہیں:
”یہودیوں‘ عیسائیوں اور مسلمانوں پر باعث ان کے‘ کسی پوشیدہ گناہ کے یہ ابتلا آیا کہ جن راہوں سے وہ اپنے موعود نبیوں کا انتظار کرتے رہے‘ ان راہوں سے وہ نبی نہیں آئے بلکہ چور کی طرح اور راہ سے آگئے“۔ (حاشیہ ”نزول المسیح“ ص۴۵)
نیز۔۔۔۔ مرزا قادیانی لکھتے ہیں:
”میں خود اس بات کا قائل ہوں کہ دنیا میں کوئی ایسا نبی نہیں آیا‘ جس نے کبھی اجتہادی غلطی نہیں کی“۔ (”تتمہ حقیقۃ الوحی“ مصنفہ مرزا غلام احمد‘ ص ۱۳۵)
حضرت سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں مرزا غلام احمد اپنی خبث باطن کا اظہار یوں کرتا ہے:
”آپ (حضرت عیسیٰ علیہ السلام) کا خاندان بھی نہایت پاک اور مطہر ہے۔ تین دادیاں اور نانیاں آپ کی زنا کار اور کسبی عورتیں تھیں جن کے خون سے آپ کا وجود ظہور پذیر ہوا“۔ (”ضمیمہ انجام آتھم“ حاشیہ ص ۷)
مزید ہرزہ سرائی پر غور فرمائیں:
”مسیح (علیہ السلام) کا چال چلن کیا تھا؟ ایک کھاؤ‘ پیو۔ نہ زاہد نہ عابد‘ نہ حق کا پرستار‘ متکبر خود بین‘ خدائی کا دعویٰ کرنے والا“۔ (”مکتوبات احمدیہ“ از مرزا غلام احمد قادیانی‘ ص ۲۲۔۲۱‘ جلد ۳)
نیز۔۔۔۔
وجہ سے ہو کہ جدی مناسبت درمیان ہے ورنہ کوئی پرہیزگار انسان ایک جوان کنجری کو یہ موقع نہیں دے سکتا کہ وہ اس کے سر پر اپنے ناپاک ہاتھ لگا دے اور زناکاری کی کمائی کا پلید عطر اس کے سر پر ملے اور اپنے بالوں کو اس کے پیروں پر
ملے۔ سمجھنے والے سمجھ لیں کہ ایسا انسان کس چلن کا آدمی ہو سکتا ہے"۔ ("ضمیمہ انجام آتھم" ص ۷ ' حاشیہ)
نیز۔۔۔۔ مرزا قادیانی لکھتے ہیں:
”میرے نزدیک ایک مسیح (علیہ السلام) شراب سے پرہیز رکھنے والا نہیں تھا"۔
("ریویو" جلد ۱ ' ص ۱۴۲ ' ۱۹۰۲ء)
نیز۔۔۔۔۔
”یہ بھی یاد رہے کہ آپ (عیسیٰ علیہ السلام) کو کسی قدر جھوٹ بولنے کی بھی عادت تھی"۔
("ضمیمہ انجام آتھم" ص ۵)
- ۴۔ آپ ﷺ کے بعد نبوت کا دعویٰ کرنا یا ایسے جھوٹے نبی کے دعوے کی
تصدیق کرنا
یہ صفت ہی مرزائیوں کا جزو ایمان ہے۔ مرزا غلام احمد قادیانی اپنی تصنیف ”دافع البلا“ میں لکھتے ہیں:
”سچا خدا وہی ہے جس نے قادیان میں اپنا رسول بھیجا“۔ (”دافع البلاء“ ص ۱۱)
مرزا غلام احمد قادیانی اپنی نام نہاد رسالت کی تشریح ان الفاظ میں کرتے ہیں:
”چونکہ میری وحی میں امر بھی ہے‘ نہی بھی اور شریعت کے ضروری احکام کی تجدید بھی ہے اس لیے خدا تعالیٰ نے میری تعلیم کو اور اس وحی کو جو میرے پر ہوتی ہے فلک یعنی کشتی کے نام سے موسوم کیا ہے"۔ (”اربعین" نمبر ۴ ' مصنفہ مرزا قادیانی)
مرزا کی وحی مدار نجات (نعوذ باللہ):
مرزا آگے لکھتے ہیں:
”جو لوگ تجھ (مرزا) سے بیعت کرتے ہیں‘ وہ خدا سے بیعت کرتے ہیں۔ یہ خدا کا ہاتھ ہے۔ یہ خدا کا ہاتھ ہے جو ان کے ہاتھوں پر ہے۔ اب دیکھو خدا نے میری وحی اور میری تعلیم اور میری بیعت کو نوح کی کشتی قرار دیا ہے اور تمام انسانوں کے لیے اس کو مدار نجات ٹھہرایا۔ جس کی
آنکھیں ہوں دیکھے اور جس کے کان ہوں سنے"۔ ("اربعین" نمبر ۴' مصنفہ مرزا غلام احمد قادیانی)
نیز۔۔۔۔۔ مرزا قادیانی لکھتے ہیں:
"خدا تعالیٰ نے اس بات کو ثابت کرنے کے لیے کہ میں اس کی طرف سے ہوں، اس قدر نشان دکھائے ہیں اگر وہ ہزار نبی پر بھی تقسیم کیے جائیں تو ان کی بھی ان سے نبوت ثابت ہو سکتی ہے لیکن چونکہ یہ آخری زمانہ تھا اور شیطان کا مع اپنی ذریت کے آخری حملہ تھا اس لیے خدا نے شیطان کو شکست دینے کے لیے ہزارہا نشان ایک جگہ جمع کر دیے مگر پھر بھی وہ لوگ جو انسانوں میں سے شیطان ہیں، وہ نہیں مانتے اور محض افتراء کے طور پر ناحق کے اعتراض کر دیتے ہیں"۔
("چشمہ معرفت" ص ۳۱۷' از مرزا غلام احمد قادیانی)
ستم بالائے ستم' مرزا لکھتے ہیں:
"مجھے خدا کا الہام ہے جو شخص تیری پیروی نہ کرے گا اور تیری بیعت میں داخل نہ ہو گا اور تیرا مخالف رہے گا، وہ خدا اور رسول کی نافرمانی کرنے والا جہنمی ہے"۔ ("اشتہار معیار الاخبار" ص ۸)
قادیانی عقیدہ:
محمد پئے چارہ سازی امت ہے اب احمد مجتبیٰ بن کے آیا
حقیقت کھلی بعثت ثانی کی ہم پر کہ جب مصطفیٰ مرزا بن کے آیا
("مندرجہ اخبار الفضل" ۲۸ مئی ۱۹۲۸)
نیز۔۔۔
"قادیانیوں کا عقیدہ ہے کہ چودھویں صدی کے تمام انسانوں کے لیے نبی اور رسول مرزا غلام احمد قادیانی ہے"۔ نعوذ باللہ ("تحفۂ ختم نبوت" ص ۴۷' بحوالہ تذکرہ مصنفہ مرزا قادیانی)
مرزا بشیر احمد ایم۔ اے اپنی تصنیف میں ایک قادیانی عقیدے کی صراحت بدیں الفاظ کرتے ہیں:
"ہر وہ شخص جو حضرت موسیٰ ؑ کو نبی مانتا ہے لیکن حضرت عیسیٰ ؑ کو نبی نہیں
مانتا اور جو حضرت عیسیٰ ؑ کو نبی مانتا ہے مگر آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو نبی نہیں مانتا اور جو شخص آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو نبی مانتا ہے مگر حضرت مسیح موعود (مرزا قادیانی) کو نبی نہیں مانتا وہ نہ صرف کافر بلکہ پکا کافر اور دائرہ اسلام سے خارج ہے"۔ ("کلمتہ الفصل" ص ۱۱۰)
نیز ۔۔۔۔۔
"قادیانی عقیدہ ہے کہ اس زمانے میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پیروی باعث نجات نہیں بلکہ صرف مرزا قادیانی کی پیروی سے نجات ہوگی"۔ نعوذ باللہ ("اربعین" نمبر ۴، ص ۷، حاشیہ بحوالہ تحفظ ختم نبوت، ص ۴۹، از محمد طاہر ، رزاق)
آپ نے ملاحظہ فرمایا مذکورہ بالا قادیانی عقائد میں کس قدر شدت ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد نبوت کا دعویٰ کرنا اور ایسے جھوٹے شخص کے دعوے کی تصدیق کرنے کے علاوہ مرزا قادیانی کے نہ ماننے والوں کو کافر اور دائرہ اسلام سے خارج قرار دیا جارہا ہے۔
- ۵۔ آپ ﷺ سے بغض رکھنا یا آپ ﷺ کے اسم گرامی، رسالت،
سیرت و سنت سے نفرت کرنا:
بغض رسالت مآب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا قادیانی انداز ملاحظہ ہو:
"ہجرت گاہ مصطفیٰ نہایت متعفن اور حشرات الارض کی جگہ ہے"۔ (معاذ اللہ) (حاشیہ "تحفہ گولڑویہ" ص ۱۱۲، مصنفہ مرزا غلام قادیانی)
جب کہ امت کا اجماعی عقیدہ ہے کہ جو زمین اور مٹی وجود مقدس صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو چھو رہی ہے اور مس کر رہی ہے، اس کا درجہ عرش الٰہی سے بلند ہے۔
حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مبارک و مقدس اسم گرامی کی توہین کرتے ہوئے مرزا قادیانی خود کو بعینہ محمد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) قرار دیتے ہیں:
"اور خدا نے مجھ پر اس رسول کریم کا فیض نازل فرمایا اور اس کو کامل بنایا اور اس نبی کریم کے لطف وجود کو میری طرف کھینچا۔ یہاں تک کہ میرا وجود اس کا وجود ہوگیا"۔ (معاذ اللہ) ("خطبہ الہامیہ" ص ۱۷۱)
قادیانی عقیدہ:
”اور چونکہ مشابہت تامہ کی وجہ سے مسیح موعود (مرزا) اور نبی کریم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) میں کوئی دوئی باقی نہیں رہی حتیٰ کہ ان دونوں کے وجود بھی ایک وجود کا ہی حکم رکھتے ہیں...... تو اس صورت میں کیا اس بات میں کوئی شک رہ جاتا ہے کہ قادیان میں اللہ تعالیٰ نے پھر محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو اتارا“۔ (معاذ اللہ) (”کلمتہ الفصل“ ص ۱۰۵-۱۰۴‘ مصنفہ مرزا بشیر احمد ایم۔اے۔)
حدیث مصطفیٰ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی توہین:
مرزا لکھتے ہیں:
”میری وحی کے مقابلے میں حدیث مصطفیٰ (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کوئی شے نہیں“۔ (معاذ اللہ) (”اعجاز احمدی“ ص ۵۶‘ مصنفہ مرزا غلام قادیانی)
- ۶۔ یہ دعویٰ کرنا کہ فی زمانہ دوسرے لوگوں کی ہدایت بھی آپ ﷺ کی
ہدایت کی طرح ہے یا اس سے بھی افضل ہے:
مرزا غلام احمد قادیانی لکھتے ہیں:
”نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے دین کی مکمل اشاعت نہ ہو سکی‘ میں نے پوری کی“۔ (معاذ اللہ) (”حاشیہ تحفہ گولڑویہ“ ص ۱۶۵‘ از مرزا غلام قادیانی)
مزید لکھتے ہیں:
”مگر تم خوب توجہ کر کے سن لو کہ اب اسم محمد (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کی تجلی ظاہر کرنے کا وقت نہیں یعنی اب جلالی رنگ کی کوئی خدمت باقی نہیں کیونکہ مناسب حد تک وہ جلال ظاہر ہو چکا۔ سورج کی کرنوں کی اب برداشت نہیں۔ اب چاند کی ٹھنڈی روشنی کی ضرورت ہے اور وہ احمد کے رنگ میں ہو کر میں ہوں“۔ (”اربعین“ نمبر ۴‘ ص ۱۷)
نیز۔۔۔۔۔ مرزا لکھتے ہیں:
”نبی پاک صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو کئی الہام سمجھ نہ آئے۔ نبی (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) سے کئی غلطیاں ہوئیں‘ کئی الہام سمجھ میں نہ آئے“ (معاذ اللہ) (”ازالہ اوہام“ مطبع لاہوری‘ مصنفہ مرزا غلام قادیانی)
نیز۔۔۔ مرزا لکھتے ہیں:
”آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے تین ہزار معجزات تھے“۔ (”تحفہ گولڑویہ“ ص ۶۷‘ طبع ربوہ)
مزید لکھتے ہیں:
”میرے نشانات کی تعداد دس لاکھ ہے“۔ (”براہین احمدیہ“ ص ۵۶)
”قادیانی عقیدہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا زمانہ روحانی ترقیات کی طرف پہلا قدم تھا اور مرزا قادیانی کے زمانے میں روحانیت کی پوری تجلی ہوئی“۔ (معاذ اللہ) (خطبہ ”الہامیہ“ ص ۱۷۷‘ مصنفہ مرزا قادیانی‘ بحوالہ ”تحفظ ختم نبوت“ از محمد طاہر رزاق‘ ص ۴۸)
نیز۔۔۔۔ مرزا قادیانی کا اسلام افضل ہے۔۔۔۔۔
”قادیانی عقیدہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے زمانے کا اسلام پہلی رات کے چاند کی طرح ناقص اور بے نور تھا اور مرزا قادیانی کے زمانے کا اسلام چودھویں رات کے چاند کی طرح تاباں اور درخشاں ہے“۔ (نعوذ باللہ) (خطبہ ”الہامیہ“ ص ۹۳‘ طبع اول‘ بحوالہ ”تحفظ ختم نبوت“ از محمد طاہر رزاق‘ ص ۴۸)
نیز۔۔۔۔
”قادیانی عقیدہ ہے کہ مرزا قادیانی کا ذہنی ارتقاء آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے زیادہ ہے“۔ (معاذ اللہ) (ریویو مئی ۱۹۲۹ء بحوالہ قادیانی مذہب از الیاس برنی‘ ص ۲۴۱)
نیز۔۔۔۔
”قادیانی عقیدہ ہے کہ مرزا قادیانی کی روحانیت آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے اقویٰ‘ اکمل اور اشد ہے“۔ (معاذ اللہ) (خطبہ ”الہامیہ“ ص ۱۸۱‘ بحوالہ تحفظ ختم نبوت‘ از محمد طاہر رزاق‘ ص ۴۹)
نیز۔۔۔۔
”حضرت مسیح موعود (مرزا) کا ذہنی ارتقاء آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے زیادہ تھا۔۔۔۔۔ اور یہ جزوی فضیلت ہے جو حضرت مسیح موعود (مرزا) کو آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم پر حاصل ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی ذہنی استعدادوں کا پورا ظہور بوجہ تمدن کے نقص کے نہ ہوا اور نہ قابلیت
تھی۔ اب تمدن کی ترقی سے حضرت مسیح موعود کے ذریعے ان کا پورا ظہور ہوا"۔
(نعوذ باللہ) (ریویو مئی ۱۹۲۹ء بحوالہ قادیانی مذہب، ص ۴۶۶)
- ۷۔ یہود کی طرح آپ ﷺ سے یا دیگر انبیاء سے کوئی بری بات منسوب کرنا
مرزا قادیانی کا یہ قول پہلے بھی نقل کیا جاچکا ہے۔ ایک بار پھر مرزا قادیانی کی خباثت کا اندازہ کیجئے کہ کس قدر وہ ملعون، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر بہتان تراشیاں کیا کرتا تھا اور قادیانی مردود آج بھی اس کی باتوں کو من و عن بے چوں و چراں تسلیم کرتے ہیں:
مرزا قادیانی لکھتے ہیں:
"آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم عیسائیوں کے ہاتھ کا پنیر کھا لیتے تھے حالانکہ مشہور تھا کہ اس میں سور کی چربی پڑتی ہے"۔ (معاذ اللہ) (ایک پرانا مکتوب مرزا قادیانی مندرجہ "اخبار الفضل" ۲۲ فروری ۱۹۲۴ء)
حضرت سیدنا مسیح علیہ السلام کی شان اقدس میں مرزا تحریر کرتا ہے:
"وہ (مسیح ابن مریم) ہر طرح عاجز ہی عاجز تھا۔ مخرج معلوم کی راہ سے جو پلیدی اور ناپاکی کا مبرز ہے تولد پا کر مدت تک بھوک اور پیاس اور درد اور بیماری کا دکھ اٹھاتا رہا"۔ (نعوذ باللہ) ("براہین احمدیہ" ص ۳۲۹، از مرزا غلام قادیانی، طبع لاہور)
- ۸۔ یہ دعویٰ کرنا کہ ریاضت و مشقت کے ذریعے نبوت حاصل کی جاسکتی ہے:
"قادیانی عقیدہ ہے کہ یہ بالکل صحیح بات ہے کہ ہر شخص ترقی کر سکتا ہے اور بڑے سے بڑا درجہ پاسکتا ہے۔ حتیٰ کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے بھی بڑھ سکتا ہے"۔ (نعوذ باللہ) (ڈائری مرزا محمود ابن مرزا قادیانی، "اخبار الفضل" ۱۷ جولائی ۱۹۲۲)
نیز۔۔۔۔
"قادیانی عقیدہ ہے کہ ہر ایک نبی کو اپنی استعداد اور کام کے مطابق کمالات حاصل ہوتے تھے، کسی کو زیادہ، کسی کو کم مگر مسیح موعود کو اس وقت نبوت ملی جب اس نے نبوت محمدیہ (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کے تمام کمالات کو حاصل کر لیا"۔ (نعوذ باللہ) ("کلمتہ الفضل" ص ۱۱۳، از مرزا بشیر احمد ابن مرزا قادیانی بحوالہ تحفظ ختم نبوت، ص ۵۰)
- ۹۔ اپنے ساتھی سے کہنا کہ میں تم سے اتنی محبت کرتا ہوں جتنی مجھے حضور
ﷺ سے ہے یا اس سے بھی زیادہ:
کسی قادیانی شاعر نے مرزا غلام قادیانی جہنم مکانی کی شان میں چند اشعار لکھے جسے قادیانی اخبار ”الفضل“ نے شائع کر کے تمام قادیانیوں کی دل کی آواز بنا دیا:
پہلی بعثت میں محمد ہے تو اب احمد ہے تجھ پہ پھر اترا ہے قرآن رسول قدنی
(”اخبار الفضل“ قادیان ۱۶ اکتوبر ۱۹۱۶ء)
قادیانی عقیدہ ہے:
”خدا تعالیٰ کے نزدیک حضرت مسیح موعود (مرزا) کا وجود آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا ہی وجود ہے۔ یعنی خدا کے دفتر میں حضرت مسیح موعود اور آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم آپس میں کوئی دوئی و مغائرت نہیں رکھتے بلکہ ایک ہی شان، ایک ہی مرتبہ اور ایک ہی منصب اور ایک ہی نام رکھتے ہیں۔ گویا لفظوں میں باوجود دو ہونے کے ایک ہی ہیں“۔ (اخبار ”الفضل قادیان“ جلد ۳ شمارہ ۳۷، مورخہ ۱۶ ستمبر ۱۹۱۵ء بحوالہ قادیانی مذہب از الیاس برنی، ص ۲۰۷، ایڈیشن نہم)
نیز۔۔۔۔۔
”گزشتہ مضمون مندرجہ الفضل مورخہ ۱۶ ستمبر میں، میں نے بفضل الٰہی اس بات کو پایہ ثبوت تک پہنچایا ہے کہ حضرت مسیح موعود (مرزا) باعتبار نام، کام، آمد، مقام، مرتبہ کے آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا ہی وجود ہیں یا یوں کہو کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جیسا کہ (دنیا کے) پانچویں ہزار میں مبعوث ہوئے تھے، ایسا ہی اس وقت جمیع کمالات کے ساتھ مسیح موعود کی بروزی صورت میں مبعوث ہوئے ہیں“۔ (”الفضل“ مورخہ ۲۸ اکتوبر ۱۹۱۵ء بحوالہ قادیانی مذہب، ص ۲۰۹)
- ۱۰۔ اپنے دوست سے یہ کہنا کہ تم محمد رسول اللہ ﷺ سے بھی سچے ہو یا مجھے
ان سے زیادہ عزیز ہو:
قادیانی شاعر اور مرزا غلام احمد قادیانی کے نام نہاد صحابی ظہور الدین اکمل نے مرزا غلام
قادیانی کی شان میں مدح سرائی کی۔ ۲۲ اگست ۱۹۴۴ء کے ”الفضل قادیان“ کی رپورٹ کے مطابق یہ نظم حضرت مسیح موعود (مرزا) کے حضور پڑھی گئی اور خوش خط لکھے ہوئے قطعہ کی صورت میں پیش کی گئی اور حضور (مرزا) اسے اپنے ساتھ اندر لے گئے۔ اشعار ملاحظہ ہوں:
محمد دیکھنے ہوں جس نے اکمل غلام احمد کو دیکھے قادیان میں
(نعوذ باللہ)
(اخبار ”بدر قادیان) جلد ۲‘ شمارہ ۴۵‘ ۲۵ اکتوبر ۱۹۰۶ء)
روزنامہ ”الفضل“ قادیان مسلمانوں کو للکارتے ہوئے کہتا ہے: ”اے مسلمان کہلانے والو! اگر تم واقعی اسلام کا بول بالا چاہتے ہو اور باقی دنیا کو اپنی طرف بلاتے ہو تو پہلے خود سچے اسلام کی طرف آجاؤ جو مسیح موعود میں ہو کر ملتا ہے۔ اس کے طفیل آج بر و تقویٰ کی راہیں کھلتی ہیں۔ اس کی پیروی سے انسان فلاح و نجات کی منزل مقصود پر پہنچ سکتا ہے۔ وہ وہی فخر اولین و آخرین ہے جو آج سے تیرہ سو برس پہلے رحمۃ للعالمین بن کر آیا تھا“۔ (نعوذ باللہ) (”الفضل قادیان“ ۲۶ ستمبر ۱۹۱۷ء بحوالہ قادیانی مذہب‘ ۲۱۲۔۲۱۱)
مذکورہ بالا قادیانی عبارات و اشعار کا ایک ایک لفظ بچھو کی طرح نیش زن ہے‘ اور دس کے دس یہ کفر کے آتشی نیزے غیرت مسلم کے کلیجے میں پیوست ہیں اور لا اله الا الله محمد رسول الله کے نام پر معرض وجود میں آنے والے اسلامی نظریاتی ملک‘ پاکستان میں ڈنکے کی چوٹ پر ان کفریات کا پرچار بھی کیا جارہا ہے۔ کیا ارباب اختیار اقتدار کے نشے میں اس قدر دھت ہیں کہ قادیانی کفر کا یہ زہر ان کے قلب و وجود پر بے اثر ہے۔
منافقین اور گستاخان نبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی گرفت کرتے ہوئے جن آیات شریفہ کا مضمون چل رہا ہے‘ ان میں سے ایک آیت بر محل معلوم ہوتی ہے۔ اس لیے یہاں صرف حکمرانوں کی آنکھیں کھولنے کے لیے دوبارہ نقل کرتا ہوں:
الم يعلموا انه من يحادد الله ورسوله فان له نار جهنم خالدا فيها ذالك الخزى العظيمO (سورۃ التوبہ‘ آیت ۶۳)
ترجمہ: ”کیا نہیں جانا انہوں نے جو کوئی خلاف کرے اللہ کے اور اس کے رسول کے پس ان کے واسطے دوزخ کی آگ ہے جس میں وہ ہمیشہ رہیں گے اور یہ بڑی رسوائی کی بات ہے“۔
مرتبوں، عہدوں اور عزتوں والو! الفاظ ”رسوائی کی بات“ پر غور کرو۔ کون نہیں جانتا رسوائی ہمیشہ اس کی ہوتی ہے جو عزت، مرتبے اور عہدے پر فائز ہو۔ حکمرانو! غور کرو اللہ کا قرآن یہاں کہیں آپ سے تو مخاطب نہیں؟
قادیانی ازروئے قرآن واجب القتل ہیں:
ساتویں آیت:
اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں: "قل للمخلفین من الاعراب ستدعون الی قوم اولی باس شدید تقاتلونہم او یسلمونO سورۃ الفتح، آیت نمبر ۱۶)
ترجمہ: ”کہہ دیجئے (آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) پیچھے رہ جانے والے دیہاتیوں سے عنقریب تم سخت جنگ کرنے والوں کی طرف بلائے جاؤ گے تم ان سے قتال کرتے رہو گے یا وہ مسلمان ہو جائیں گے“۔
یہ آیت شریف جھوٹے مدعی نبوت مسیلمہ کذاب اور اس کے پیروکاروں کے خلاف جنگ یمامہ کے حق میں بطور اخبار بالغیب نازل ہوئی۔ اگرچہ بعض علماء نے اس مقام پر فارس و روم وغیرہ کا بھی ذکر کیا ہے لیکن حضرت رافع بن خدیجؓ نے اس آیت کو منکرین ختم نبوت کے خلاف جنگ یمامہ کے لیے متعین کر دیا:
”حضرت رافع بن خدیجؓ فرماتے ہیں کہ گزشتہ زمانے میں ہم اس آیت کو پڑھا کرتے تھے اور ہمیں معلوم نہ تھا کہ وہ کون لوگ ہیں۔ یہاں تک کہ حضرت ابو بکر صدیقؓ نے بنی حنیفہ (مسیلمہ کذاب کے پیروکار، اہل یمامہ) کے قتال کی طرف مسلمانوں کو بلوایا۔ اس وقت ہم سمجھے کہ اس آیت کریمہ میں یہ مرتدین ہی مراد ہیں“۔ (تفسیر ”روح المعانی“ ص ۱۰۲، پارہ ۲۶، ”البحر المحیط“ جلد ۸، ص ۹۴)
ثابت ہوا کہ منکرین ختم نبوت قادیانی مرتدوں کے لیے از روئے قرآن دو ہی راہیں ہیں۔ ایک یہ کہ انہیں بوجہ ارتداد قتل کر دیا جائے۔ دوئم یہ کہ مرزا غلام قادیانی کی جھوٹی نبوت پر لعنت بھیج کر صدق دل سے کملی والے محبوب صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا دامن پکڑ لیں۔ پہلا کام حکومت کا ہے اور دوسرا کام خود قادیانیوں کا۔
ہم نے تو دل جلا کے سر عام رکھ دیا
آٹھویں آیت:
سورۂ توبہ میں قرآن آگے چل کر منافقین اور رسالت مآب صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی شان میں الزام تراشیاں کرنے والوں کے خلاف مزید شدت اختیار کرتے ہوئے کہتا ہے: وعد الله المنفقين و المنفقت و الكفار نار جهنم خلدين فيها هي حسبهم و لعنهم الله و لهم عذاب مقيمO (سورۃ توبہ‘ آیت نمبر ۶۸)
ترجمہ : ”اللہ پاک نے منافق مردوں اور منافق عورتوں اور کافروں کے لیے یہ وعدہ کر لیا ہے کہ انہیں جہنم کی آگ ملے گی‘ ہمیشہ ہمیشہ اسی میں رہیں گے اور یہی ان کے لیے کافی ہے اور اللہ نے ان پر لعنت کر دی اور اللہ نے ان کے لیے دائمی عذاب مقرر کر دیا ہے“۔
اس آیہ مبارکہ میں اللہ پاک نے منافق مردوں‘ منافق عورتوں اور دیگر کفار کو ایک ہی درجہ میں رکھ کر ان سب کے لیے سزا بھی ایک ہی تجویز فرمادی اور اس سزا میں بالترتیب چھ بار تاکید کی گئی ہے:
- ۱۔ اللہ نے وعدہ کر رکھا ہے کہ یہ منافق اور کفار ضرور جہنم میں ڈالے جائیں گے۔
- ۲۔ دوسری تاکید خالدين فيها ہمیشہ اسی (دوزخ) میں رہیں گے۔
- ۳۔ تیسری تاکید هي حسبهم یہی ان کے لیے کافی ہے۔
- ۴۔ چوتھی تاکید و لعنهم الله اور اللہ نے ان پر لعنت کر دی یعنی اپنی رحمت سے
کلیتاً محروم کر دیا۔
- ۵۔ پانچویں تاکید و لهم عذاب ان کے لیے عذاب ہے۔
- ۶۔ چھٹی تاکید مقيم عذاب ہمیشہ رہنے والا جو نہ کبھی ٹل سکتا ہے اور نہ ہٹ سکتا ہے۔
قرآن کا یہ شدید انداز اور بار بار ایسی تاکیدیں کرنا نبی پاک صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو ایذا دینے والے گستاخ کی سزا میں شدت کا تصور پیدا کرتا ہے۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ گستاخ رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سب سے بڑا کافر اور سب سے زیادہ سزا کا مستحق ہے۔
نویں آیت:
اگلی آیت میں اللہ تبارک تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں: اولئک حبطت اعمالھم فی الدنیا والاخرۃ واولئک ھم الخسرون O (سورۃ توبہ آیت ٦٩) ترجمہ : ”یہ وہ لوگ ہیں‘ جن کے دنیا و آخرت میں اعمال ضائع ہوئے اور یہی لوگ خسارہ پانے والے ہیں“۔
یعنی جس نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے توسط سے اعمال صالح نصیب ہوتے ہیں‘ اس ذات عالی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی تکریم و تعظیم نہ کرنے سے اور ان کی شان اقدس میں گستاخی کے مرتکب ہونے سے تمام اعمال صالحہ غارت ہو جاتے ہیں۔
امام مالکؒ نے کیا خوب بات لکھی ہے: ”اگر کوئی شخص اپنے نبی کی شان میں گستاخی سن کر خاموش رہے‘ وہ شخص بھی اس نبی کی امت سے خارج ہو جاتا ہے“۔
گستاخی کا ارتکاب کرنا تو درکنار کسی دوسرے ملعون کے منہ سے گستاخی سن کر خاموش رہنا بھی ارتداد ہے اور مرتد ہونے کے برابر ہے۔
دسویں آیت:
ایک دوسری جگہ اللہ کریم اپنے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو ان کفار سے حرب کرنے کا حکم دیتے ہیں: یا ایھا النبی جاھد الکفار و المنفقین و اغلظ علیھم و ماوھم جھنم وبئس المصیر O (سورۃ توبہ آیت نمبر ٧٣) ترجمہ : ”اے نبی (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کافروں اور منافقوں سے جہاد کرو (مفسرین نے یہاں لکھا ہے کہ ان سے حرب کرو (تلوار چلاؤ) اور ان پر سختی کرو اور ان کا ٹھکانہ دوزخ ہے اور وہ بری جگہ ہے‘ لوٹ جانے کی“۔
اللہ کریم اپنے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو تعلیم دیتے ہوئے ارشاد فرماتے ہیں کہ یہاں آپ ان پر سختی کریں۔ آخرت میں‘ میں ان پر سختی کروں گا اور ان کو جہنم میں ڈالوں گا۔ یعنی
یہ سنت الٰہیہ ٹھہری کہ گستاخ رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر سختی کی جائے اور اسے سخت سے سخت سزا دی جائے۔ اگر ایک طرف تادم مرگ قید کا مشورہ ہو اور دوسری طرف سزائے موت کا، تو قرآن کا منشاء یہ ہے کہ اس پر سختی کی جائے اور سزائے موت ہی دی جائے۔ آگے اس سلسلے میں مزید صراحتیں آ رہی ہیں۔
گیارہویں آیت:
ان منافقین اور کفار پر حق تعالیٰ جل مجدہ اتنی سختی کا حکم کیوں لگا رہے ہیں؟ اسی آیت سے متصل اگلی آیت میں اللہ تعالیٰ وضاحت کرتے ہیں: و لقد قالوا كلمة الكفر و كفروا بعد اسلامهم O (سورۃ التوبہ، آیت ۷۴)
ترجمہ : ”اور البتہ تحقیق (کلام عرب کے لحاظ سے جب لفظ قد پر لام داخل ہوتا ہے تو وہ بات قسمیہ ہو جاتی ہے، یعنی اللہ تعالیٰ قسم اٹھا کر کہتے ہیں) انہوں نے کفر کا کلمہ کہا اور کافر ہوئے بعد اسلام لانے کے“۔
قاضی ثناء اللہ پانی پتی اپنی تفسیر میں لکھتے ہیں: ”حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی شان میں سب و شتم کرنا ہی کفر کا کلمہ ہے“۔ (”تفسیر المظہری“ جلد نمبر ۴، ص ۲۶۸)
نیز۔۔۔۔۔۔ ”نبی کی گستاخی یہی وہ کلمہ تھا جو کفر قرار دیا اور اسلام کے بعد کافر ہوئے“۔
(تفسیر خازن، جلد نمبر ۲، ص ۲۲۷)
ان منافقین نے کیا کفر کا کلمہ کہا تھا؟ کہا ہو اذن یہ سارا مضمون وہیں سے چل کے آ رہا ہے اور رب تعالیٰ کا جلال اسی ایک کلمہ کفر کی وجہ سے کم و بیش بیس آیات میں واضح دکھائی دے رہا ہے لیکن جن کی شان اقدس میں یہ گستاخی کا کلمہ کہا گیا وہ تو رحمت للعالمین ہیں، انہیں ستایا گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے دعائیں دیں۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو معاذ اللہ مجنون کہا گیا، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر پتھروں کی بارش کی گئی۔ سجدہ کی حالت میں آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی گردن مبارک میں اونٹ کی اوجھ ڈال دی گئی۔ کسی شقی القلب نے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی گردن مبارک میں چادر ڈال کر گھسیٹا مگر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان سب کے حق میں ہدایت کی دعائیں مانگیں۔ حق تعالیٰ نے ارشاد
فرمایا میرے محبوب صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بہت ہو چکا اور سورۃ توبہ میں آگے چل کر اپنی محبوبیت کا اظہار ان الفاظ میں کر دیا:
بارہویں آیت:
استغفر لهم او لا تستغفر لهم ان تستغفر لهم سبعين مرة فلن يغفر الله لهم ذلك بانهم كفرو بالله و رسوله والله لا يهدى القوم الفسقين O (سورۃ التوبہ‘ آیت نمبر ۸۰)
ترجمہ : ”آپ (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) بخشش مانگیں اور نہ مانگیں واسطے ان کے اور (چاہے) بخشش مانگیں واسطے ان کے ستر بار بھی‘ پس ہرگز نہ بخشے گا اللہ انہیں۔ یہ اس لیے کہ انہوں نے کفر کیا اللہ سے اور اس کے رسول سے اور اللہ فاسقوں کو ہدایت نہیں دیتا“۔
یہاں ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تو مستجاب الدعوات ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کسی کے حق میں ہدایت کی دعا مانگیں اور دعا قبول نہ ہو‘ یہ ممکن نہیں۔ وجہ کیا ہے کہ حق تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں کہ میں ان بدبختوں کی بخشش نہ کروں گا چاہے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ان کے حق میں ستر بار بھی بخشش چاہیں۔ اس کی وضاحت خود اللہ تعالیٰ نے ایک دوسرے مقام پر فرمادی:
تیرہویں آیت:
واذا قيل لهم تعالو يستغفر لكم رسول الله لووا رء وسهم و رايتهم يصدون وهم مستكبرون O سواء عليهم استغفرت لهم ام لم تستغفر لهم لن يغفر الله لهم ان الله لا يهدى القوم الفسقين O (سورۃ المنافقون‘ آیت ۶-۵)
ترجمہ : ”اور جب کہا جاتا ہے انہیں کہ آؤ کہ اللہ کا رسول تمہارے لیے بخشش مانگے تو منہ پھیر لیتے ہیں اور آپ انہیں دیکھتے ہیں کہ وہ تکبر کرتے ہیں اور باز رہتے ہیں۔ (یعنی نہیں آتے) آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا ان کے لیے بخشش چاہنا یا بخشش نہ چاہنا ایک جیسا ہے۔ اللہ تعالیٰ انہیں ہرگز نہ بخشے گا۔ تحقیق اللہ
تعالیٰ فاسقوں کو ہدایت نہیں دیتا"۔ یعنی منافقین اور دل میں کینہ رکھنے والے جب آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت اقدس میں آنے کو اپنے لیے باعث شرم سمجھتے ہیں اور آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی سفارش کو اپنی نجات کے لیے ضروری تصور ہی نہیں کرتے اور جب انہیں بلایا بھی جاتا ہے تو غرور سے سر جھٹک دیتے ہیں‘ فرمایا ایسا سر جھٹکنے والوں اور آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی تنقیص شان کرنے والوں کے لیے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بخشش مانگیں‘ چاہے نہ مانگیں‘ ان کے لیے برابر ہے کہ اللہ تعالیٰ انہیں ہرگز معاف نہیں کرے گا۔ کیونکہ اللہ ایسے فاسقوں اور حد سے بڑھ جانے والوں کو معاف نہیں کیا کرتا۔
یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ حضور رحمت للعالمین صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جن لوگوں کے لیے اپنے سینہ اقدس میں نرم گوشہ رکھتے تھے اور حق تعالیٰ جس کا اظہار استغفر لھم ام لم تستغفر لھم کے الفاظ سے کرتے ہیں وہ بظاہر کلمہ پڑھنے والے تھے۔ وہ یہود و نصاریٰ سلسلہ انبیاء‘ توحید‘ وصف الوہیت اور منصب رسالت کے قائل تو تھے مگر انہیں ذات محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے بغض اور حسد اس لیے تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بنی اسرائیل میں سے نہ تھے۔ ماضی میں بظاہر کلمہ پڑھنے والوں کی حب اور جاہ و منزلت کا مرکز حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی ذات گرامی کے بجائے انبیاء بنی اسرائیل تھے۔ آج کے منافقین بظاہر کلمہ پڑھنے والوں کا قبلہ و کعبہ مرزا غلام قادیانی ہے۔
کل کے منافقین آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی ذات اقدس پر انبیاء بنی اسرائیل کو ترجیح دیتے تھے۔ آج کے مرتدین آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی ذات مطہر پر مرزا قادیانی کو فوقیت دینے سے دھتکارے گئے ہیں۔
جب کہ حق تعالیٰ کا منشاء یہ ہے کہ جب تک ذات محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی اطاعت‘ عظمت‘ تقدس‘ عفت اور شریعت کو بدل و جاں تسلیم نہیں کرو گے‘ تمہارا ایمان ہمیں قبول نہیں۔
چودہویں آیت:
ارشاد فرمایا:
واذا قيل لهم تعالوا الى ما انزل الله والى الرسول رايت المنفقين يصدون عنك صدودا O سورۃ النساء‘ آیت ۶۱)
ترجمہ : "اور جب انہیں کہا جاتا ہے کہ آؤ اس طرف جو نازل کیا اللہ نے (قرآن) اور طرف رسول کے تو دیکھتے ہیں آپ منافقوں کو ہٹ رہتے ہیں آپ سے ہٹ رہنے کو"۔
یعنی منافقین آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی منزلت سے احتراز برتتے ہیں۔ منافقین کا آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں نہ آنا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بطور نبی کے تسلیم کرنے سے گریزاں ہونے کے مترادف ہے اور جو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت عالیہ میں حاضر ہو گیا تو واضح ہو گیا کہ اس نے حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی رسالت اور ختم نبوت کو بدل و جاں تسلیم کر لیا۔ مگر جب وہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہونے سے اور بلانے پر بھی سر جھٹک دیں اور تکبر کریں تو اللہ تعالیٰ انہیں ہرگز معاف نہیں کرے گا بلکہ عذاب الیم دے گا دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی۔
واضح ہو کہ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں منافقین کا حاضر ہو جانا ہی ان کی توبہ ہے‘ جو قابل قبول تھی۔
ارشاد ہوا:
وما ارسلنا من رسول الا ليطاع باذن الله ولوا انهم اذ ظلموا انفسهم جاءوک فاستغفروا الله واستغفرلهم الرسول لوجدوا الله توابا رحيماO
(سورة النساء‘ آیت ۶۴)
ترجمہ : "اور ہم نے کوئی رسول نہیں بھیجا مگر محض اس لیے کہ اللہ کے حکم سے اس کی اطاعت کی جائے اور اگر یہ لوگ جس وقت اپنی جانوں پر ظلم کرتے ہیں‘ آپ کے پاس آئیں پس بخشش مانگیں اللہ سے اور بخشش مانگے واسطے ان کے رسول‘ البتہ پائیں گے اللہ کو توبہ قبول کرنے والا مہربان"۔
اللہ تعالیٰ نے ان آیات میں ارشاد فرمایا کہ اگر وہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں آجائیں اور آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ان کے لیے دعا فرمائیں تو ان کا آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں آجانا‘ ان کی توبہ ہے اور آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا راضی ہو جانا (دعا فرما دینا) اللہ کا راضی ہو جانا ہے۔ کیونکہ ایذاء تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی ذات اقدس کو دی گئی تھی‘ اس لیے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا معاف کر دینا (ان کے حق میں اللہ سے بخشش کی دعا کرنا) اللہ کا معاف کر دینا ہے۔
یہاں یہ بات وضاحت طلب ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنے کسی گستاخ کو
اس وقت تک معاف نہیں فرمایا جب تک کہ وہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت اقدس میں آکر معافی نہ چاہے اور پھر جسے معاف کیا‘ بادل نخواستہ معاف کیا۔ (عبداللہ بن سعد بن ابی سرح کا ایذا دینا اور حضرت عثمان غنیؓ کی سفارش کا واقعہ آگے آرہا ہے) منصب رسالت کی توہین برداشت نہیں کی کیونکہ اللہ نے قانون وضع کر رکھا ہے کہ اگر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم چاہیں بھی تو انہیں معافی نہیں ملے گی‘ اس وقت تک کہ وہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں نہ آجائیں۔ اب چونکہ کسی کا حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر معافی چاہنے کا تصور قائم نہیں رہا‘ اس لیے صاف ظاہر ہے اب معافی کی گنجائش بھی نہیں رہی۔ اب اگر کوئی اہانت رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا مرتکب ہونے کے بعد اللہ سے معافی چاہتا بھی ہو تو اسلامی ریاست اس پر حد جاری کرنے کی پابند ہوگی۔ معافی قبول کرنے کا حق صرف حق تعالیٰ کو ہی حاصل ہو گا اور وہ معافی آخرت ہی میں ہو سکتی ہے‘ دنیا میں نہیں اور پھر آیت کریمہ کے نزول کے بعد کہ اگر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم منافقین کے لیے ستر بار بھی معافی چاہیں تو انہیں حق تعالیٰ معاف نہیں کرے گا۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے بھی کبھی کسی منافق اور گستاخ کے لیے بخشش اور مغفرت نہیں چاہی بلکہ حکم واغلظ علیھم کی عملی تفسیر پیش کی۔ اس کا بیان اگلے باب ”احکام الحدیث“ میں صراحت کے ساتھ آرہا ہے۔
شیخ مصطفیٰ احمد الزرقا نے ”الفقہ الاسلامی فی ثوبہ الجدید“ میں لکھا ہے کہ:
”اسلامی ریاست کو مقتول کے ورثاء کے معاف کر دینے کے بعد بھی سزا دینے کا حق ہے کیونکہ مقتول کے ورثاء نے قصاص معاف کیا۔ چونکہ ہر جرم کے دو پہلو ہوتے ہیں: ایک حقوق اللہ دوسرے حقوق العباد۔ ورثاء حقوق العباد معاف کر سکتے ہیں لیکن حقوق اللہ نہیں۔ اس لیے حقوق اللہ کی حد جاری کرنے کا حق اور اختیار بہر حال اسلامی ریاست کو حاصل رہتا ہے“۔
آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے بھی کبھی حقوق اللہ کو بطور سزا معاف نہیں فرمایا اور گستاخی رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا جرم مطلقاً حقوق اللہ سے متعلق ہے۔
جرائم کی تین اقسام ہیں:
۱- جرائم الحدود۔ ۲- جرائم القصاص ودیت۔ ۳- جرائم التعزیر۔
- ۱- جرائم الحدود: یہ تمام کے تمام حقوق اللہ ہوتے ہیں۔ ایسے مجرم کو نہ ریاست
معاف کر سکتی ہے نہ فرد۔
- ۲۔ جرائم القصاص ودیت: ایسے مجرم کو مضروب بھی معاف کر سکتا ہے اور
مقتول کے ورثاء بھی دیت لے کر معاف کر سکتے ہیں۔
- ۳۔ جرائم التعزیر: ایسے مجرم کو ریاست بھی معاف کر سکتی ہے اور مرتد کی سزا
جرائم الحدود سے متعلق ہے اور پھر ارتداد کی حد جاری کرنا تو قرآن کی نص قطعی سے ثابت ہے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام اپنے بھائی حضرت ہارون علیہ السلام کو اپنا نائب مقرر کر کے کوہ طور پر تشریف لے گئے۔ بنی اسرائیل نے سامری کے بہلاوے میں آکر بچھڑے کی پوجا شروع کر دی یعنی دین حق کو چھوڑ کر مرتد ہو گئے۔ حضرت ہارون علیہ السلام نے انہیں ان الفاظ میں اس شرک سے باز رہنے کی تلقین کی:
یا قوم انما فتنتم به و ان ربکم رحمٰن فاتبعونی واطیعوا امری O
ترجمہ: "اے قوم! بے شک تم فتنہ میں ڈال دیے گئے ہو۔ اس بچھڑے کے سبب (یعنی شرک کرنے سے) حالانکہ تمہارا پروردگار رحمٰن ہے پس میری پیروی کرو اور میری بات مانو"۔
لیکن قوم اس فتنہ میں پڑی رہی۔ قرآن کا ارشاد ہے:
والفتنته اشد من القتل O
(سورۃ البقرہ، آیت ۲۰)
ترجمہ: "فتنہ قتل سے بھی زیادہ شدید ہے"۔
دوسری جگہ ارشاد ہے:
والفتنته اکبر من القتل O
(سورۃ البقرہ، آیت ۲۱۷)
ترجمہ: "فتنہ قتل سے بھی زیادہ بڑا (گناہ) ہے"۔
جب بنی اسرائیل کو اللہ کریم نے شرک و کفر کے فتنہ میں پایا تو ارشاد فرمایا:
ان الذین اتخذوا العجل سینالهم غضب ربهم و ذلته فی الحیوة الدنیا و کذالک نجزی المفترین O
ترجمہ: "جنہوں نے بچھڑے کو معبود بنایا ضرور دنیا میں ان کی ذلت اور خدا کا غضب پہنچ کر رہے گا اور مفترین کو ہم ایسی ہی سزا دیتے ہیں"۔
پندرہویں آیت:
سورۃ البقر میں ان کی سزا قتل تجویز کی گئی۔ ارشاد ہوا: انکم ظلمتم باتخاذکم العجل فتوبوا الى بارئکم فاقتلوا انفسکم ۵
(سورۃ البقرہ‘ آیت ۵۴)
ترجمہ : ”اے قوم بنی اسرائیل تم نے بچھڑے کو معبود بنا کر اپنی جانوں پر ظلم کیا‘ اب خدا کی طرف رجوع کرو پھر اپنے آدمیوں کو قتل کرو“۔ اس حکم کا نتیجہ جیسا کہ روایات میں ہے‘ یہ ہوا کہ کئی ہزار آدمی جرم ارتداد میں اللہ کے حکم سے موسیٰ علیہ السلام کے سامنے قتل کیے گئے اور ان کی توبہ آخرت کے اعتبار سے اللہ تعالیٰ نے قبول فرمائی لیکن دنیا میں انہیں ارتداد کی سزا حد قتل ضرور ملی۔
علامہ شبیر احمد عثمانیؒ نے اپنی تصنیف ”الشہاب“ میں بھی یونہی لکھا ہے۔ صحیح مسلم میں سعد بن وقاصؓ سے مروی ہے کہ اس فتنہ ارتداد میں مسلمانوں کے ایمان کی حفاظت کے واسطے مرتد کی سزا قتل رکھی گئی۔
امام عبدالوہاب شعرانی لکھتے ہیں: ”اور تمام آئمہ کا اس پر اتفاق ہو چکا ہے کہ جو شخص اسلام سے پھر جائے اس کا قتل کرنا واجب ہے“۔
(میزان کبریٰ)
حافظ ابن قیمؒ اس سلسلے میں یوں رقم طراز ہیں: ”اللہ نے جو سزائیں مقرر کی ہیں‘ ان میں سے قتل سب سے بڑے جرم کی سزا ہو سکتی ہے۔ مثلاً کسی بے گناہ کو ہلاک کر دینا (زنا کرنا) یا دینِ حق پر طعنہ کرنا (شانِ رسالت میں گستاخی اور سب و شتم کرنا‘ دین میں سب سے بڑا طعن ہے) اور اس سے پھر جانا اور جب قتل عمد کی سزا قتل ہے تو دین برباد کرنے کی سزا بطریقِ اولیٰ قتل ہونی چاہیے۔ کیونکہ ایک نفس کو ہلاک کرنا دین کی تباہی سے زیادہ قبیح نہیں ہے۔ اس شخص کا وجود‘ جو دین حق پر طعن کرے یا اس سے پھر جائے‘ مسلمانوں کی جماعت کے اندر بڑی خرابی کا باعث ہے‘ جس کے باقی رکھنے میں کسی نیکی اور بہتری کی امید نہیں کی جا سکتی“۔
(”اعلام الموقعین“ جلد نمبر ۲‘ ص ۲۱۸)
شیخ حافظ احمد المعروف ملا جیون حنفیؒ فرماتے ہیں: ”اس میں کوئی شک نہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو گالی دینا دین میں سب سے بڑا طعن ہے۔ اس لیے کہ اس میں شریعت کی اہانت اور حرمتِ الاسلام کی خرابی پائی جاتی ہے“۔
(”التفسیرات الاحمدیہ“ ص ۴۵۳)
سولویں آیت:
ایک اور جگہ ارشاد باری تعالیٰ ہے: وان نكثوا ايمانهم من بعد عهدهم و طعنوا فى دينكم فقاتلوا ائمة الكفر (سورة توبہ‘ آیت ۱۲) ترجمہ: ”اور اگر وہ عہد کرنے کے بعد اپنی قسموں کو توڑ ڈالیں اور تمہارے دین میں طعن کریں تو ان کفر کے اماموں کے ساتھ جنگ کرو“۔
علامہ ابو البرکات عبداللہ بن احمد بن محمود نسفیؒ اور علامہ زمخشری اس کے ذیل میں یوں لکھتے ہیں: ”جب ذمی نے دین اسلام پر واضح طعن کیا تو اس کا قتل جائز ہے۔ کیونکہ اس کے ساتھ اس بات پر عہد کیا گیا تھا کہ وہ دین میں طعن نہ کرے گا پس جب اس نے طعن کیا تو وہ ذمے سے نکل گیا“۔ (”تفسیر مدارک“ جلد اول‘ ص ۲۱۰‘ ”تفسیر کشاف“ جلد دوئم‘ پارہ ۱۰)
امام ابوبکر احمد بن علی رازی جصاص حنفیؒ لکھتے ہیں: ”اس آیت کا ظاہر اس پر دلالت کرتا ہے کہ ذمیوں میں سے جس نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو گالی دی تو اس کا عہد ٹوٹ گیا“۔ (”احکام القرآن“ جلد نمبر ۳‘ ص ۸۵)
حافظ ابن کثیرؒ اس آیت کے ضمن میں واضح حکم لگاتے ہیں: ”جو آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی شان میں بدگوئی کرے‘ کوئی طعن یا عیب لگائے وہ قتل کیا جائے گا“۔ (”تفسیر ابن کثیر“ جلد ۲‘ ص ۳۷)
اسی طرح عبداللہ بن احمد انصاری نے ”تفسیر قرطبی“ میں‘ احمد مصطفیٰ مراغی نے ”تفسیر مراغی“ میں اور محمد جلال الدین قاسمی نے ”تفسیر قاسمی“ میں بھی اس آیت کی شرح میں یہی لکھا ہے کہ اس سے عہد ٹوٹ جاتا ہے اور قتل واجب ہو جاتا ہے۔ اسی طرح ”مواہب الرحمٰن“ میں بھی ہے۔
سترہویں آیت:
آگے ارشاد باری تعالیٰ ہے: قاتلوهم يعذبهم الله بايديكم و يخزهم و ينصركم
علیهم و یشف صدور قوم مومنین O (سورۃ توبہ‘ آیت ۱۴)
ترجمہ : ”لڑو ان سے کہ اللہ ان کو تمہارے ہاتھوں سے عذاب کرے اور رسوا کرے ان کو اور مدد دیوے تمہیں اوپر ان کے اور ایمان والوں کے سینوں کو شفا (تسکین) دیوے“۔
گستاخ رسول (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) پر مومنین کے سینوں کا داغدار ہو جانا عین ممکن ہے۔ اللہ تعالیٰ حکم فرماتے ہیں:
”تم ان سے قتال کرو‘ میں تمہاری مدد کروں گا اور تمہارے ہاتھوں انہیں ذلیل و رسوا کروں گا اور انہیں عذاب دنیا میں تمہارے ہاتھوں دوں گا“۔
صاف ظاہر ہے جب تک مومن گستاخ رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو جہنم رسید نہ کر لے‘ اس کے دل کو تشفی نہیں ہو سکتی۔ اللہ فرماتا ہے میں تمہارے دل کو تشفی بھی دوں گا۔ یہ آیت بھی گستاخ رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی سزائے قتل پر استدلال کرتی ہے۔
اٹھارویں آیت:
قرآن ایک اور زاویہ نظر سے اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی مخالفت کرنے والوں کی گرفت کرتے ہوئے کہتا ہے: ان الذین یحادون اللہ و رسولہ اولئک فی الاذلین O
(سورۃ مجادلہ‘ آیت ۲۰)
ترجمہ : ”بے شک وہ لوگ جو اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی مخالفت کرتے ہیں‘ وہ بیچ بہت گہری ذلت کے ہیں“۔
یہاں آگے چلنے سے پہلے اس بات کی وضاحت ضروری ہے کہ مذکورہ آیت میں اللہ اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا مقابلہ اور مخالفت کرنے کا ذکر ہے جب کہ اللہ تو خالق ہے مخلوق کا۔ خالق سے مقابلہ کرنا تو بعید از قیاس ہے۔ معلوم ہوا اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی مخالفت اور مقابلہ کرنا ہی ذلتوں کا منبع ہے اور مذکورہ آیت میں بھی انہیں لوگوں کا ذکر ہے جو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی مخالفت کرتے ہیں۔
قرآن میں کئی جگہ‘ جہاں اللہ اور رسول اللہ کا ذکر ایک جگہ آیا ہے‘ وہاں صرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہی کی ذات گرامی مقصود ہوتی ہے: ولوا انہم رضوا ما اتہم اللہ و رسولہ و قالوا حسبنا
الله سيئوتينا الله من فضله و رسوله انا الى الله راغبون O (سورۃ توبہ، آیت ۵۹) ترجمہ: ”اور اگر وہ اس پر راضی ہو جائے جو انہیں اللہ نے اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) نے دی اور کہتے کفایت ہے ہم کو اللہ دے گا، ہم کو اللہ اپنے فضل سے اور اس کا رسول (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) تحقیق ہم طرف اللہ کے رغبت کرنے والے ہیں“۔
اس آیت مبارکہ میں من فضلہ کی ضمیر، واحد استعمال کی گئی ہے۔ اس میں شک نہیں کہ یہاں حقیقتاً نسبت اللہ ہی کی طرف ہے اور مجازا شان مظہریت کے اعتبار سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی طرف ہے۔ ان دو جہتوں کو اللہ نے دو جدا جہتیں تصور نہیں فرمایا بلکہ ایک ہی جہت قرار دیا ہے۔
خلاصہ اس کا یہ ہے کہ سورہ مجادلہ میں جو فرمایا کہ اللہ اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے جو لوگ مقابلہ اور مخالفت کرتے ہیں، وہ ذلیل ترین ہیں۔
اس سے مراد حقیقتاً مقابلہ اور مخالفت ذات محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی ہے جب کہ اس جگہ میں اللہ تعالیٰ نے خود کو شامل کر کے عظمت رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے تصور کو وسعت عطا کی ہے۔ دراصل جو مرتبہ اور مقام رسولوں کو عطا کیا گیا تھا، وہ دراصل اللہ ہی کا عطا کردہ تھا، اس لیے اللہ تعالیٰ نے بارہا قرآن میں فرمایا ”جو نبی کو تکلیف دیتا ہے وہ اللہ ہی کو تکلیف دیتا ہے“۔ اس لیے اس کی سزا بھی اسی سطح پر دی جائے گی۔
علامہ ابن تیمیہؒ مذکورہ آیت کے ذیل میں لکھتے ہیں:
”نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو اذیت دینا یہی اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی مخالفت ہے...... نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو گالی دینے والے، قرآن کی رو سے یہی لوگ محادون ہیں۔ جب یہ بات اللہ اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے لیے محادت ہو گئی پس اب جانو کہ اللہ نے فرمایا کہ (وہی آیت) جو لوگ اللہ اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی مخالفت کرتے ہیں، وہ اذلین ہیں“۔
آگے لکھتے ہیں:
”اذلین اذل کی جمع ہے۔ (اذل کا معنی کیا ہے) یہ ذلیل سے ابلغ ہے۔ آدمی اس وقت ذلیل ہوتا ہے جب اس کے خون اور مال کی حفاظت نہ رہے۔ اگر اس
کا جان و مال محفوظ ہے تو وہ اذل نہیں ہو سکتا"۔ ("الصارم المسلول" ص ۲۱-۲۲)
علامہ ابن تیمیہؒ آگے لکھتے ہیں:
"کیوں کہ اذل وہ شخص ہوتا ہے کہ اگر کوئی شخص اس سے برا سلوک کرنا چاہے تو اس سے بچنے کے لیے اس کے پاس قوت نہ ہو۔ جب مسلمانوں نے اس سے معاہدہ کیا ہو گا تو اس کی وجہ سے اس کی تائید و نصرت اور اس کا دفاع ان پر واجب ہے، اس لیے وہ اذل نہیں ہے۔ پس ثابت ہوا جو شخص اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی مخالفت کرتا ہے، اس کے لیے کوئی عہد نہیں ہے جو اسے بچا سکے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو ایذا دینے والا ان کا مخالف ہے، پس موذی کے لیے کوئی عہد نہیں جو اس کے خون کی حفاظت کر سکے"۔ ("الصارم المسلول" اردو ترجمہ از غلام احمد حریری، ص ۵۶)
انیسویں آیت:
اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں:
ان الذین یحادون اللہ و رسولہ کبتوا کما کبت الذین من قبلہم (سورہ المجادلہ، آیت ۵)
ترجمہ: "بے شک وہ لوگ جو اللہ اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی مخالفت کرتے ہیں ان کو ذلیل کیا جائے گا جس طرح ان لوگوں کو ذلیل کیا گیا جو ان سے پہلے تھے"۔
علامہ ابن تیمیہؒ فرماتے ہیں:
"اس آیت میں الکبت کا لفظ استعمال کیا گیا ہے جس کے معنی ذلیل کرنے، رسوا کرنے اور گرانے کے ہیں۔ خلیل کہتے ہیں کہ کبت کے معنی منہ کے بل گرانے کے ہیں۔۔۔۔۔ النضر بن شمیل اور ابن قتیبہ کے نزدیک اس کے معنی غم و غصے کے ہیں"۔ ("الصارم المسلول" اردو ترجمہ، ص ۵۶-۵۷)
علامہ ابن تیمیہؒ آگے لکھتے ہیں:
"مفسرین کہتے ہیں کہ کبتوا .... کے معنی ہیں کہ انہیں ہلاک کیا گیا، رسوا کیا گیا اور غم زدہ کیا گیا۔ پس ثابت ہوا کہ مخالفت کرنے والا ذلیل و خوار ہو گا اور غم اور غصہ سے ہلاک ہو جائے گا اور یہ اس صورت میں ہوتا ہے جب مخالفت کرنے
والا اس بات سے ڈرتا ہو کہ اسے قتل کیا جائے گا۔ ("الصارم المسلول" اردو ترجمہ، ص ۵۷)
علامہ ابن تیمیہؒ آیت کریمہ کی مزید تشریح یوں کرتے ہیں:
”آیت کریمہ کے الفاظ كبتوا كما كبت الذين من قبلهم یعنی جن لوگوں نے قبل ازیں رسولوں کی مخالفت کی تھی اللہ تعالیٰ نے انہیں یا تو خود عذاب میں مبتلا کر کے ہلاک کر دیا یا اہل ایمان کے ہاتھوں تباہ و برباد کر دیا“۔
("الصارم المسلول" اردو ترجمہ، ص ۵۷)
قرآن کریم گستاخ رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی سزا سے متعلق مزید صراحت پیش کرتا ہے۔
بیسویں آیت:
ولو لا ان كتب الله عليهم الجلاء لعذبهم فى الدنيا ولهم فى الاخرة عذاب النار ذلک بانهم شاقوا الله و رسولهO (سورۃ الحشر، آیت ۳-۴)
ترجمہ: ”اور اگر خدا نے ان کے بارے میں جلاوطن کرنا نہ لکھ رکھا ہوتا تو ان کو دنیا میں بھی عذاب دیتا اور آخرت میں بھی ان کے لیے آگ کا عذاب تیار ہے۔ یہ اس لیے (ہو گا) کہ انہوں نے خدا اور خدا کے رسول کی مخالفت کی“۔
علامہ ابن تیمیہؒ یہاں فرماتے ہیں:
”اور تعذیب سے مراد اس آیت میں قتل ہے، اس لیے کہ اس سے کم درجہ کا عذاب مثلاً جلاوطنی، اموال کا لینا وغیرہ قبل ازیں نہیں دیا جا چکا تھا۔ لہٰذا اللہ اور رسول کی مخالفت کرنے والے کو سزا دینا واجب ہے اور جو کھل کر مقابلہ کرتا ہے وہ اللہ اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی مخالفت کرتا ہے۔ اور جو چھپ کر مقابلہ کرتا ہے وہ نہ تو ”محاد“ ہے اور نہ ”مشاق“۔
یہ انداز استدلال دلالت میں قوی تر ہے۔ کہا جاتا ہے کہ فلاں شخص محاد ہے مگر مشاق نہیں، اس لیے محاد کی سزا مطلقاً پہلے لوگوں کی طرح مكبوتا.... (ذلیل و رسوا کرنا) اور اذلین (ذلیل تر لوگوں میں) شامل ہونا ہے۔ بخلاف ازیں مشاق (علانیہ مخالفت کرنے والا) کی سزا قتل ہے اور دنیا کی
سزا ہے اور مکبوت اور اذلین میں تبھی شامل ہو گا جب اسے کھل کر مخالفت کرنے کا موقع نہ ملا ہو“۔ (”الصارم المسلول“ اردو ترجمہ‘ ص ۵۹-۶۰)
اکیسویں آیت:
ایک دوسری جگہ ارشاد باری تعالیٰ ہے: ذلك بانهم شاقوا الله ورسوله (سورۃ انفال‘ آیت ۱۳) ترجمہ : ”یہ اس لیے کہ انہوں نے اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی مخالفت کی“۔
علامہ ابن تیمیہؒ اس کے ذیل میں لکھتے ہیں: ”اس آیت میں مخالفت کی وجہ سے ان کو قتل کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ بنابریں جو شخص بھی مخالفت کرے اور دوسروں سے علیحدہ ہو‘ اس کے ساتھ (بھی) یہی سلوک روا رکھنا چاہیے۔ اس لیے کہ دونوں میں ایک ہی علت پائی جاتی ہے“۔
(”الصارم المسلول“ اردو ترجمہ‘ ص ۵۹)
حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی ذات گرامی سے انکار (تعلیم یا مرتبہ سے) بوجہ اختلاف کفر ہے۔ اس کی سزا آخرت میں خلود فی النار ہے جب کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی ذات اقدس سے انکار بوجہ مخالفت یہ ارتداد ہے اور اس کی سزا دنیا میں بھی حد قتل ہے اور آخرت میں بھی ٹھکانہ دوزخ ہے۔
بائیسویں آیت:
ارشاد باری تعالیٰ ہے: ملعونين اينما ثقفوا اخذوا وقتلوا تقتيلاO سنته الله فى الذين خلوا من قبل ولن تجد لسنته الله تبديلاO (سورۃ احزاب‘ آیت ۶۱-۶۲) ترجمہ : ”لعنت کیے ہوئے جہاں کہیں ملیں پکڑ لیے جائیں اور قتل کیے جائیں اچھی طرح قتل کرنا‘ یہ اللہ کا طریقہ ہے ان لوگوں کے لیے جو ان سے پہلے گزر گئے اور اللہ کا طریقہ ہرگز نہیں تبدیل ہوا کرتا“۔
ملعونین۔۔ رحمت سے دور کیے ہوئے:
اسلامی ریاست میں کسی کے جان و مال کا تحفظ یہ اللہ کی رحمت ہے اور ریاست میں بسنے والے ہر مسلم اور غیر مسلم شہری کا بنیادی حق ہوتا ہے۔ لیکن جب کوئی پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی ذات اقدس پر یا اسلام پر زبان طعن دراز کرنے کا مرتکب ہوتا ہے وہ رحمت الہیہ سے دور کر دیا جاتا ہے۔ اسلامی ریاست میں کسی کا معصوم الدم ہونا یہ رحمت الہیہ کی نشانی ہے اور جو اللہ کی رحمت سے دور ہو گیا، فرمایا ملعونین لعنت کیے ہوئے اور کسی کا ملعون ہو جانا مباح الدم ہونے کے زمرے میں آتا ہے۔
کسی کی جان، مال اور عزت کا تحفظ اللہ کی رحمت اور جان، مال اور عزت کے تحفظ کا اٹھ جانا اللہ کی لعنت ہے۔
اس لیے حق تعالیٰ نے ارشاد فرمایا: "جہاں ملیں پکڑ لو اور خوب اچھی طرح انہیں قتل کرو"۔
عربی کا قاعدہ ہے کہ جب کسی فعل کے ساتھ اس کا مصدر نصب کی حالت میں تنوین کے ساتھ آتا ہے تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ جس فعل کا حکم کیا جا رہا ہے، اسے اتنے بھرپور طریقے سے سرانجام دیا جائے کہ اس کے ادا کرنے میں کوئی کمی نہ رہ جائے۔ مثلاً:
سلموا تسلیما
"سلام بھیجو جیسے سلام بھیجنے کا حق ہے"۔
کلم اللہ موسیٰ تکلیما
"موسیٰ سے اللہ نے کلام کیا جیسا کہ کلام کرنے کا حق ہے"۔
یسلموا تسلیما
"تسلیم کرو جیسا کہ تسلیم کرنے کا حق ہے"۔
ایسے ہی ارشاد ہوا:
قتلوا تقتیلا
"ایسے قتل کرو جیسے قتل کرنے کا حق ہے"۔
قتلوا تقتیلا کا ترجمہ کسی نے یوں کیا: کہ "انہیں چن چن کر قتل کیا جائے"۔
کسی نے یوں کہا: "ان کا پور پور الگ کیا جائے"۔
کسی نے یوں کہا: "انہیں قتل کیا جائے جیسا کہ حق ہے قتل کرنا"۔
کسی نے یوں لکھا: ”انہیں تلاش کر کے قتل کیا جائے“۔ مسلم پارلیمنٹ لندن کے لیڈر جناب کلیم صدیقی نے سلمان رشدی ملعون کے لیے کہا: ”ہم اسے قتل نہیں کریں گے‘ اس کے جسم کی تمام ہڈیاں توڑ کر زندہ رہنے کے قابل نہیں چھوڑیں گے“۔ (روزنامہ ”نوائے وقت“ پنڈی‘ ۱۶/ فروری ۱۹۹۳ء)
ہمارے حضرت اقدس مولانا خواجہ خان محمد صاحب امیر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان نے یوں کہا: ”ان کی تکہ بوٹی کر دی جائے گی“۔ (روزنامہ ” “ اکتوبر ۱۹۹۳ء)
فخر المفسرین امام رازیؒ اس آیت کے ذیل میں لکھتے ہیں: ”اور اس تھوڑی سی مدت میں‘ جس میں یہ آپ کے پاس رہیں گے‘ ہوں گے لعنتی اور پھٹکارے ہوئے اللہ کے ڈر سے اور آپ کے ڈر سے اور جب نکل جائیں گے تو ذلت سے نہ بچ سکیں گے اور نہیں پائیں گے کوئی ٹھکانہ۔ جہاں بھی ہوں، طلب کیے جائیں گے اور قتل کیے جائیں گے“۔ (”تفسیر کبیر“ جلد ۲۵‘ ص
(۲۳۱)
مفتی بغداد علامہ محمود آلوسیؒ لکھتے ہیں: ”البحر المحیط میں ہے کہ منافقین یعنی وہ تمام لوگ، جن کا ذکر اس آیت شریفہ میں آیا ہے‘ وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی اور اہل ایمان کی ایذاء رسانی سے باز آگئے اور یہ سب لوگ چھپ چھپا گئے۔ یہ لوگ اس اندیشہ کی بنا پر باز آ گئے کہ ان پر وہ چیز واقع نہ ہو جائے جس کو اللہ تعالیٰ نے حلفاً ذکر کیا ہے یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو ان پر مسلط کر دینا اور ان کو جلاوطن اور قتل کیا جانا“۔ (”تفسیر روح المعانی“ جلد ۲۲‘ ص ۹۲)
جیسا کہ پہلے کسی باب میں ذکر کیا جا چکا ہے کہ حق تعالیٰ جل شانہ نے کبھی کسی قوم کو عذاب نہیں دیا مگر بوجہ گستاخی رسول کے۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے قبل انبیاء کی قوموں پر خدائی عذاب کے ہونے کا ذکر قرآن میں جابجا ملتا ہے۔
حضرت نوح علیہ السلام کی قوم پر طوفان کا عذاب‘ حضرت صالح علیہ السلام کی قوم پر عذاب‘ حضرت لوط علیہ السلام کی قوم کا عذاب‘ حضرت ثمود اور حضرت ہود علیہما السلام کی قوموں پر جو عذاب خداوندی آئے‘ قرآن نے انہیں کھول کھول کر بیان کیا ہے۔
چنانچہ ارشاد باری تعالیٰ ہے: کم ارسلنا من نبی فی الاولین وما یاتیہم من نبی الا کانوا بہ یستہزون O (سورة الزخرف، آیت ۶-۷) ترجمہ: ”ہم نے کتنے نبی اگلوں (اگلی امتوں) میں بھیجے اور ان کے پاس جو نبی آیا، ان کی ہنسی ہی بنایا کیے“۔
دوسری جگہ یوں ارشاد ہے: ولقد ارسلنا من قبلک فی شیع الاولین O وما یاتیہم من رسول الا کانوا بہ یستہزون O (سورة الحجر، آیت ۱۰-۱۱) ترجمہ: ”اور بے شک ہم نے تم سے پہلے اگلوں میں رسول بھیجے اور ان کے پاس کوئی رسول نہیں آتا مگر اس سے ہنسی کرتے“۔
قرآن نے کفار کے ٹھٹھہ کرنے کا انداز بھی نقل کیا: فرمایا: قالوا انومن لک واتبعک الارذلون O (سورۃ الشعراء، آیت ۱۱۱) ترجمہ: ”بولے کیا ہم تم پر ایمان لے آئیں اور تمہارے ساتھ کمینے ہو جائیں“۔
اس کے علاوہ سورۂ ہود آیت نمبر ۲۷، سورہ اعراف آیت نمبر ۶۶، سورہ الزخرف آیت نمبر ۴۷، سورہ انبیاء آیت ۳۶ اور سورہ بقرہ آیت نمبر ۱۳ تا ۱۵ میں کفار کی انبیاء علیہم السلام سے سرکشی اور استہزاء کو ذکر کیا گیا ہے۔
سورۃ الانبیاء میں حق تعالیٰ نے انبیاء سے استہزاء کرنے والوں کے لیے ارشاد فرمایا: ولقد استہزی برسل من قبلک فحاق بالذین سخروا منہم ما کانوا بہ یستہزون O (سورۃ الانبیاء، آیت ۴۱) ترجمہ: ”اور بے شک تم سے اگلے رسولوں کے ساتھ ٹھٹھہ کیا گیا تو مسخری کرنے والوں کا ٹھٹھہ انہیں کو لے بیٹھا“۔
یعنی انہیں عذابوں میں مبتلا کر دیا اور فرش زمین کو ان کے وجود سے پاک کر دیا گیا۔
ذرا غور کیجئے کیا عذاب، کفر اور شرک کی بنا پر ہے؟
اگر ایسا ہوتا تو نبی کے آنے سے پہلے بھی معاشرہ متعدد برائیوں میں مبتلا ہوتا ہے۔ یعنی نبی
آتے ہی اصلاح کے لیے ہے اور خصوصاً کفر اور شرک کو مٹانا ہی نبی کا کام اور مشن ہوتا ہے۔ نبی کے دور میں بھی ہمیشہ یہ ظلم ہوتا رہا حتی کہ ہمارے فخر الانبیاء اور خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پہلے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دور میں اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پردہ فرما جانے کے بعد بھی کفر و شرک رہا لیکن حق تعالیٰ نے کبھی کسی قوم کو اس بنا پر سزا نہیں دی۔ یاد رہے! قومیں مٹا کرتی ہیں اپنے نبی کی تنقیص شان کی وجہ سے۔
دوسری بات اس ضمن میں یہ ہے کہ جب تک حق تعالیٰ کسی قوم پر اتمام حجت نہ کر دیں، اس قوم کو سزا نہیں دیتے اور کسی قوم میں نبی کا وجود حق تعالیٰ شانہ کی طرف سے اس قوم پر اتمام حجت ہوتا ہے۔ اگر مان بھی لیا جائے کہ عذاب اور سزا شرک و کفر کی وجہ سے لازم ہیں تو بھی اتمام حجت نبی ہی کی ذات قرار پاتی ہے۔ اور نبی کے پیغام کو ٹھکرا دینا گستاخی نبوت ہے اور عذاب خداوندی کو دعوت دینا ہوتا ہے۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا:
سنة الله فى الذين خلوا من قبل ولن تجد لسنة الله تبديلا O (سورۃ احزاب، آیت ۶۲)
ترجمہ: ”یہ اللہ کی عادت ہے ان لوگوں کے حق میں جو ان سے پہلے گزر چکے اور اللہ کی عادت ہرگز نہیں بدلتی“۔
اس سلسلے میں امام قرطبیؒ لکھتے ہیں:
”اللہ تعالیٰ نے یہ طریقہ جاری کیا ہے ان لوگوں میں جو جھوٹا پروپیگنڈہ کرتے ہیں انبیاء کے بارے میں اور ظاہر کرتے ہیں اپنے نفاق کو، یہ کہ (انہیں) پکڑا جائے اور قتل کیا جائے“۔
(”تفسیر قرطبی“ جلد ۱۴، ص ۲۴۷)
قاضی ثناء اللہ پانی پتیؒ اپنی تفسیر میں یوں رقم طراز ہیں:
”اللہ تعالیٰ نے یہ طریقہ جاری فرمایا تھا پچھلی امتوں میں یہ کہ قتل کیا جائے ان لوگوں کو جو انبیاء کے ساتھ منافقت کریں اور کوشش کریں، ان کے مشن کو کمزور کرنے کی جھوٹے پروپیگنڈے کے ذریعے“۔
(”تفسیر المظہری“ جلد ۷، ص ۴۲۰)
علامہ احمد بن علی الجصاص یوں لکھتے ہیں:
”پس اللہ تعالیٰ نے نازل فرمائی یہ آیت ان کے بارے میں اور خبر دی اللہ تعالیٰ نے ان کی جلاوطنی اور قتل کے مستحق ہونے کی جب باز نہ آئیں ایسی حرکت سے پس خبر دی اللہ تعالیٰ نے کہ یہ اللہ کی سنت ہے اور یہ وہ راستہ ہے جس کے لزوم اور اتباع کا حکم دیا گیا ہے“۔
(”احکام القرآن للجصاص“ جلد ۳، ص ۴۷۲)
محمد بن جریر الطبری جامع البیان میں ارشاد فرماتے ہیں: ”دھتکارے ہوئے جلاوطن کیے ہوئے جہاں ملیں زمین میں‘ پکڑ لیے جائیں اور اچھی طرح قتل کیے جائیں“۔
(”جامع البیان“ ص ۴۸‘ جلد ۱۲)
کمال تاکید کے ساتھ حق تعالیٰ اہل ایمان کے لیے بے ادبی رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے تمام دروازے کلیتاً مسدود کرتے ہوئے ایک دوسری جگہ یوں ارشاد فرماتے ہیں:
تیسویں آیت:
یا ایها الذین امنوا لا تقولوا راعنا وقولوا انظرنا واسمعوا وللکفرین عذاب الیم ◯
(سورۃ البقرہ‘ آیت ۱۰۴)
ترجمہ: ”اے لوگو ایمان والو ”راعنا“ نہ کہا کرو بلکہ ”انظرنا“ کہا کرو اور ہمہ تن گوش ہو کر بیٹھا کرو (محفل رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم میں) اور کافروں کے لیے دردناک عذاب ہے“۔
پروفیسر طاہر القادری اس آیت کی تفسیر میں ’شان رسالت مآب صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم میں ”معمولی سی لفظی گستاخی بھی کفر ہے“ کا عنوان قائم کر کے لکھتے ہیں:
”اس آیت کریمہ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ادب و احترام اور تعظیم و تکریم کا ایک اصولی ضابطہ امت مسلمہ کو عطا کیا گیا ہے اور بتایا گیا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی بارگاہ اقدس میں گفتگو کے الفاظ کیا ہونے چاہئیں۔ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب اپنے صحابہ سے کلام فرماتے تو اگر انہیں کسی بات کی سمجھ نہ آتی تو وہ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے دوبارہ سننے کے لیے عرض کرتے ”راعنا یا رسول اللہ“ (یا رسول اللہ ہمارے حال کی رعایت فرمائیے) یعنی ہمیں سمجھانے کے لیے یہ بات دوبارہ ارشاد فرمائیے۔ یہ کلمہ فی نفسہ گستاخی کا نہ تھا مگر یہودیوں نے اپنے خبث باطن کے باعث اسے غلط معنی میں استعمال کرنا شروع کر دیا تھا جس میں دربار رسالت میں بے ادبی اور گستاخی کا پہلو نکلتا تھا‘ چنانچہ مسلمانوں پر بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے لیے اس لفظ کے استعمال کی پابندی لگا دی گئی حالانکہ صحابہ کرام اس لفظ کو بے ادبی اور گستاخی کے معنی میں بولنے کا تصور بھی نہیں کر سکتے تھے‘ چونکہ اس میں گستاخی اور بے ادبی کا مفہوم پیدا ہونے یا پیدا کر لیے جانے کا احتمال تھا‘ اس لیے اللہ تعالیٰ کو یہ بھی
گوارا نہ ہوا کہ ایسا لفظ ہی میرے محبوب صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی طرف منسوب کیا جائے"۔
("تفسیر منہاج القرآن" پارہ ۱، ص ۶۲)
لفظ راعنا عبرانی زبان کا لفظ ہے اور یہودی اسے بطور گالی استعمال کرتے تھے جبکہ مسلمان راعنا کا مطلب رعایت کرنا یا دیکھنا کرتے تھے۔ اب چونکہ یہودی پس پردہ تو بغض رکھنے والے تھے، انہوں نے جب صحابہ کرامؓ سے یہ لفظ سنا تو وہ بھی حضور رسالت ماب صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت اقدس میں یہ لفظ استعمال کرنے لگے اور ان دل کے کالوں کا مفہوم اپنا ہی ہوتا تھا۔
حضرت سعد بن معاذؓ اور بعض روایات کے مطابق حضرت سعد بن عبادہؓ نے یہود کو لفظ راعنا استعمال کرتے سنا تو کہا:
”اے اللہ کے دشمنو! تم پر اللہ کی لعنت ہو، اس ذات کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے، اگر میں نے تم میں سے کسی کو یہ لفظ ”راعنا“ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے حق میں بولتے ہوئے سن لیا تو میں اس کی گردن اڑا دوں گا۔ اس پر انہوں نے کہا تم بھی تو یہ لفظ بولتے ہو، چنانچہ اس لفظ کے استعمال کے منع پر یہ آیت نازل ہوئی"۔ (تفسیر کبیر، قرطبی، روح المعانی، منہاج القرآن)
مذکورہ آیت کریمہ کے چار شان نزول بیان کیے جاتے ہیں۔ مندرجہ ذیل میں سے پہلے دو تفسیر الکشاف میں درج ہیں جبکہ امام فخر الدین رازیؒ نے مزید دو درج کیے ہیں:
- ۱- "اللہ تبارک و تعالیٰ نے مومنین کو اس (راعنا کہنے) سے روک دیا اور اس
کی جگہ انظرنا کہنے کا حکم دیا۔
- ۱۱- سعد بن معاذؓ نے جب یہودیوں کو یہ لفظ استعمال کرتے ہوئے سنا تو سمجھ
گئے کہ ان کی نیت اور ان کے ارادے میں یہ گستاخی اور اہانت ہے تو انہوں نے ان سے کہا اے اللہ کے دشمنو، تم پر اللہ کی لعنت ہو اور مجھے اس اللہ کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے، اگر آج کے بعد میں نے تم میں سے کسی شخص کے منہ سے یہ لفظ سنا تو میں اس کی گردن اڑا دوں گا۔ اس پر یہودیوں نے کہا کیا تم یہ لفظ استعمال نہیں کرتے؟ پس اس کے بعد قرآن پاک کی یہ آیت نازل ہوئی۔ اس کے بعد مسلمان بھی منع کر دیئے گئے کہ وہ اس لفظ کو استعمال نہ کریں"۔
("تفسیر الکشاف" جلد اول، ص ۱۷۴، "تفسیر کبیر" جلد ۳، ص ۲۳۳)
- ۱۱۱- "یہ لفظ راعنا کا صحیح المعنی تھا، اس کے معنی میں خرابی مسلمانوں کے
نزدیک نہ تھی لیکن اہل حجاز کے ہاں یہ لفظ مذاق اور استہزاء کے معنوں میں بھی استعمال ہوتا تھا۔
- IV- یہ لفظ باہمی گفتگو کرنے والوں کے درمیان باہمی مساوات کے طور پر
استعمال کیا جاتا تھا، اس سے وہم مساوات پیدا ہوتا تھا۔“۔ (”تفسیر کبیر“ جلد ۳‘ ص ۲۲۳)
قاضی عیاضؒ اس کی وضاحت یوں کرتے ہیں:
”اللہ تعالیٰ نے مومنین کو منع فرما دیا‘ ان کے ساتھ تشبیہ میں ایسا لفظ استعمال کریں اور اللہ تعالیٰ نے مومنین کو منع فرما کر اس دروازے کو بھی بند فرما دیا کہ اس سے منافق اور کافر‘ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی گستاخی تک راہ نہ پا سکیں“۔ (”الشفاء“ جلد ۲‘ ص ۱۸۶-۱۸۷)
نیز
”اہانت رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا دروازہ اس آیت کریمہ سے بند کیا گیا اور محتملہ الفاظ اہانت رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے منع فرمایا گیا“۔ (”تفسیر ابو السعود“ جز اول‘ ص ۱۴۱‘ ”تفسیر قرطبی الجامع لاحکام القرآن“ جز دوم‘ ص ۵۷-۵۸)
علامہ آلوسیؒ اپنی تفسیر میں اسے یوں بیان کرتے ہیں:
”اللہ نے مومنین کے لیے یہ جو آیت وارد کی‘ یہ دروازے کو بند کرنے کے لیے ہے کہ مومنین کی طرف سے اہانت رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا دروازہ ہمیشہ کے لیے بند ہو جائے اور زبانوں کو قطع کرنے کے لیے اور گستاخوں سے مشابہت کو بھی ختم کرنے کے لیے“۔ (”تفسیر روح المعانی“ جلد اول‘ ص ۳۳۸)
علامہ رشید رضا یوں رقم طراز ہیں:
”اہانت رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے الفاظ غیر ارادی طور پر ہی کیوں نہ صادر ہوں چونکہ اس کے ذریعے دروازہ کھل جائے‘ اہانت رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا‘ اس لیے اللہ نے اس کو منع کر دیا اور کما کہ اس کو کلیتاً بند کر دیا جائے“۔ (”المنار“ جلد اول‘ ص ۴۱۰-۴۱۱)
مالکی فقہ کے امام ابن العربی اس آیت کے ذیل میں یوں لکھتے ہیں:
”اور ہمارے علماء نے فرمایا کہ ایسا شخص جو الفاظ بمعنی احتمال توہین کے
استعمال کرتا ہے، اس پر بھی حد جاری ہوگی"۔ ("احکام القرآن" از ابن العربی، جلد اول، ص ۳۲)
"امام ابو نعیم دلائل میں حضرت ابن عباسؓ سے روایت کرتے ہیں کہ جو شخص اس آیت کے نزول کے بعد یہ لفظ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے حق میں بولے، مسلمانوں کو اس کی گردن اڑا دینے کا اذن عام دے دیا گیا"۔ ("فتح القدیر" از علامہ شوکانی، جلد اول، ص ۱۲۵، "منہاج القرآن" پارہ اول، ص ۶۳)
مولانا محمد علی صدیقی کاندھلوی اس آیت کے ذیل میں "شان رسالت میں گستاخی" کا عنوان قائم کر کے بڑی پیاری بات لکھ گئے ہیں:
"اس آیت سے پہلے براہ راست خطاب چلا آ رہا تھا یہود کو لیکن جب یہ مقام آیا تو قرآن نے اپنا انداز تخاطب بدل لیا اور شان رسالت میں اہانت کرنے کی بات کر کے کہا کہ واسطے کافروں کے عذاب الیم ہے یعنی قرآن نے غائبانہ انداز میں بات کی۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ گستاخ رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اللہ کے ہاں کتنا ذلیل ہے کہ اللہ نے اسے مخاطب کرنا بھی مناسب نہ سمجھا بلکہ اس سے قطع نظر (بے رخی) کر کے مومنوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ مومنو! تم راعنا نہ کہا کرو بلکہ انظرنا کہا کرو اور واسطے کافروں کے عذاب الیم ہے۔ منافقوں کی گستاخی کیا تھی کہ اللہ نے انہیں قابل خطاب بھی نہ سمجھا کہ ان کے اس لفظ راعنا میں احتمال اہانت رسول (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) تھا اور مسلمانوں کو اس لیے مخاطب کیا کہ گستاخی رسول (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کے احتمال کا دروازہ بھی نہ کھل سکے اور اس لفظ راعنا پر اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے قدغن عائد کر دی"۔
("معالم القرآن" جلد اول، ص ۴۶۳-۴۶۴)
پروفیسر طاہر القادری کہتے ہیں:
"لہٰذا جان لینا چاہیے کہ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی شان اقدس میں گستاخی اتنا بڑا جرم ہے جو کسی قیمت پر معاف نہیں کیا جاتا۔ علامہ ابن تیمیہؒ نے اسے کفر ابلیس سے زیادہ سنگین جرم قرار دیا ہے کیونکہ کفر ابلیس شرک پر مبنی نہ تھا۔ وہ تو خود کو دنیا کا سب سے بڑا بلکہ ملائکہ سے بھی بڑا موحد سمجھتا تھا۔ اس کا کفر حضرت آدم علیہ السلام کی گستاخی تھا یعنی حکم الٰہی کا انکار جو دربار نبوت میں تکبر
اور اہانت پر مبنی تھا۔ اس پر وہ قیامت (تک) کے لیے راندہ درگاہ الہی ہو گیا اور جو شخص بارگاہ رسالت محمدی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم میں کسی گستاخی کا مرتکب ہو گا‘ اس کا حشر کیا ہو گا؟“ (”تفسیر منہاج القرآن“ پارہ اول‘ ص ۱۲۴) سید المرسلین و خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا گستاخ بارگاہ الوہیت میں کس حد تک گرا ہوا ہے‘ قرآن اس کی وضاحت ان آیات میں کرتا ہے:
ولا تطع کل حلاف مهینO هماز مشاء بنمیمO مناع للخیر معتد اثیمO عتل بعد ذلک زنیمO (سورۃ القلم‘ آیت (۱۳-۱۰)
ترجمہ: ”اور مت کہا مان ہر ایک قسم کھانے والے ذلیل کا۔ عیب کرنے والا‘ لوگوں میں چلنے والا ساتھ چغلی کے منع کرنے والا بھلائی سے حد سے نکل جانے والا‘ گناہ گار گردن کش (جھگڑالو) نطفہ حرام“۔
ولید بن مغیرہ گستاخ رسول (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) تھا۔ نبی پاک صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو ایذا دیا کرتا تھا۔ مذکورہ آیات اس کے متعلق نازل ہوئیں اور قرآن نے اس گستاخ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) کی نو نشانیاں بیان کیں۔
۱۔ جھوٹا (جھوٹی قسم کھانے والا)۔ ۲۔ کمینہ اور ذلیل۔ ۳۔ طعنہ زن۔ ۴۔ چغل خور۔ ۵۔ بھلائی سے روکنے والا۔ ۶۔ حد سے بڑھ جانے والا۔ ۷۔ ناپاک اور پلید۔ ۸۔ سخت جھگڑالو۔ ۹۔ نطفہ حرام۔
امام قرطبیؒ ان آیات کے ذیل میں حضرت مجاہدؒ‘ حضرت سعید بن مسیبؒ اور حضرت عکرمہ ؓ کے حوالے سے لکھتے ہیں:
”جب ولید بن مغیرہ نے یہ آیات سنیں تو وہ اپنی والدہ کے پاس گیا اور تلوار ننگی کر کے ماں سے کہنے لگا کہ مسلمانوں کا نبی (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) غلط بیانی نہیں کرتا اور مسلمانوں کے نبی (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) نے میرے بارے میں نو علامات بیان کی ہیں۔ آٹھ کا فیصلہ میں خود کر سکتا ہوں‘ نویں کا فیصلہ نہیں کر سکتا۔ میں نے دیکھا ہے کہ وہ آٹھ کی آٹھ علامتیں میرے اندر موجود ہیں۔ اب نویں کی تصدیق تو کر کہ میں ولد الزنا ہوں یا نہیں؟ اس کی ماں نے اسے جواب دیا: تیرا باپ اس قابل نہ تھا کہ اس کے نطفہ سے اولاد ہو سکے‘ چنانچہ اس نے ایک چرواہے کی مدد لی اور تیرا تولد ہوا۔ اللہ کے نبی (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) نے سچ
فرمایا ہے کہ تو ولد الزنا ہے"۔ (”الجامع الاحکام القرآن“ جز ۱۸‘ ص ۲۳۴)
شاہ عبدالعزیز یونیورسٹی مکہ کے پروفیسر نے (تمام اجل آئمہ کرام کی تفاسیر کا مرقع مرتب کر کے) "صفوۃ التفاسیر" کے نام سے ایک جامع دستاویز تیار کی ہے۔ اس کی جلد ۳ اور صفحہ ۴۲۶ پر ان کے علاوہ علامہ شیخ محمد اسماعیل حقیؒ نے اپنی مایہ ناز تفسیر ”روح البیان“ جلد ۱۰‘ ص ۱۱۲ پر معمولی ترمیم کے ساتھ امام قرطبی کے حوالے کو کوٹ کر کے اسے جلا بخشی ہے۔
قرآن مجید کے انداز کلام اور مفسرین کی تصریحات کے بعد اس مسئلہ پر جو خلاصہ اخذ کیا گیا ہے‘ اسے چند ذیل نقاط میں ترتیب دیا جا رہا ہے:۔
- ۱۔ ایسے الفاظ و کلمات کا ادا کرنا جس سے کسی بھی شخص کا حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم
سے برابری اور مساوات کا ابہام ہوتا ہو‘ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی شان اقدس میں گستاخی قرار دی گئی اور اس سے اہل ایمان کو منع کیا گیا اور ایسا کرنے والے کے اعمال کے ضائع کر دیے جانے کی خبر دی گئی ہے۔
- ۲۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی بے ادبی کو کفر سے مستلزم قرار دیا گیا ہے۔
- ۳۔ حرمت الٰہی اور حرمت رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جہت واحدہ عطا کی گئی
ہے۔
- ۴۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو ایذا دینے والے کو مستحق لعنت قرار دیا گیا ہے
اور دنیا و آخرت میں ذلیل کرنے والے عذاب کی خبر دی گئی ہے۔
- ۵۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی شان اقدس میں معمولی گستاخی بھی‘ خواہ وہ حقیقتاً
ہو یا مجازاً‘ شریعت اسلامیہ میں کفر قرار دے دی گئی اور ایسے شخص کی سزا حد القتل قرار دے دی گئی۔
- ۶۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے بغض و عناد کے سبب فرقہ قادیانیہ اپنے
مخصوص عقائد و نظریات کی وجہ سے گستاخ رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ٹھہرایا گیا اور واجب القتل قرار دیا گیا۔
- ۷۔ گستاخان رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو چن چن کر قتل کیا جائے اور یہ سنت الٰہیہ
قرار دی گئی۔
- ۸۔ ایسا کلمہ‘ جو فی نفسہ مبنی بر گستاخی رسالت مآب صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بھی نہ ہو مگر
اس سے وہم گستاخی یا گستاخی کی راہ کھل سکتی ہو‘ بولنا اور لکھنا حرام قرار دیا گیا ہے اور پھر اس پر مطلع ہو جانے کے بعد یا ارادتاً یا تکراراً بولنا یا لکھنا کفر قرار دیا گیا ہے۔
- ۹۔ شریعت اسلامیہ میں گستاخ رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے لیے در توبہ (بعد از
اخذ) کلیتاً مسدود رکھا گیا ہے۔
- ۱۰۔ گستاخ رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو چہرہ انسانیت پر ابلیسی دھبہ، فطرت کے
خلاف اطوار والا اور حیوانی صفات سے متصف زنا کی پیداوار قرار دیا گیا ہے۔
آج تک یہی جذبے ہیں مسلمانوں میں
دوستو آؤ محمد ﷺ پر نچھاور کر دیں
تار جتنے بھی بچایا ہیں گریبانوں میں
پادشہ مجھ سے قصیدوں کی توقع نہ کریں
میں ہوں دربار رسالت ﷺ کے ثنا خوانوں میں
(آغا شورش کاشمیری)
چھٹا باب
گستاخ رسول ﷺ کی سزا
”احکام الحدیث“
ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے حوالے سے نقل کیا جاتا ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا اخلاق قرآن کریم کی عملی تفسیر ہے۔
آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا اسوہ اور سیرت ہی گویا چلتا پھرتا قرآن تھا۔ اس نسبت سے بھی آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا اک اک اشارہ‘ واجب التعظیم‘ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی اک اک ادا‘ واجب الاطاعت‘ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا فرمان۔۔دین کامل۔
باب مدینۃ العلم حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ جب حضرت عبداللہ ابن عباس رضی اللہ عنہ کو مناظر مقرر فرما کر خارجیوں کی طرف بھیجتے ہیں تو انہیں ایک نصیحت فرماتے ہیں کہ
”قرآن میں اجمال ہے اور اجمالی بات میں غلط فہمی ڈالی جا سکتی ہے۔ جب خارجی ایسا کریں تو تم انہیں میرے پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی حدیث سے پکڑنا کیونکہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی حدیث میں بات بالکل واضح ہوتی ہے۔ (جامع بیان العلم)
اس باب میں قرآنی تعلیمات کے عین مطابق احادیث نبویہ پیش کی جا رہی ہیں کہ دور نبوت میں گستاخان رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو کیا کیا سزائیں دی گئیں؟
پہلی حدیث۔۔گستاخ رسول ﷺ کعب بن اشرف کا قتل:
”عمر بن دینار نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے نقل کیا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: کعب بن اشرف کو کون ٹھکانے لگائے گا؟ اس نے اللہ اور اس کے رسول کو ایذاء پہنچائی ہے۔ محمد بن مسلمہ نے
کہا "یا رسول اللہ‘ میں اس کے لیے تیار ہوں۔ کیا آپ (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) چاہتے ہیں کہ میں اس کو قتل کر دوں؟" رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اثبات میں جواب دیا۔ محمد بن مسلمہ نے کہا کہ "پھر مجھے کچھ کہنے کی اجازت دیجئے"۔ فرمایا "کہو"۔
چنانچہ محمد بن مسلمہ اس (کعب بن اشرف) کے پاس گئے اور کہا "یہ آدمی (محمد) ہم سے صدقہ مانگتا ہے اور ہمیں بڑی تکلیف میں مبتلا کر رکھا ہے۔ یہ سن کر کعب نے کہا "بخدا! تم اس سے بیزار ہو جاؤ گے"۔
محمد بن مسلمہ نے کہا اب جبکہ ہم اس کے پیروکار بن ہی چکے ہیں تو مناسب نہیں معلوم ہوتا کہ اس کا ساتھ چھوڑ دیں۔ یہاں تک کہ اس کا انجام کیا ہوتا ہے۔ اچھا ہم چاہتے ہیں کہ آپ ہمیں ایک وسق یا دو وسق غلہ دے دیں۔ کعب نے کہا میرے پاس کچھ رہن رکھو۔ محمد بن مسلمہ نے کہا آپ کو کون سی چیز پسند آئے گی۔ کعب نے کہا اپنی عورتوں کو میرے پاس رہن رکھ دو۔ محمد بن مسلمہ نے کہا بھلا ہم اپنی عورتوں کو تمہارے پاس کیسے رہن رکھ دیں، جب آپ عرب کے سب سے خوبصورت انسان ہیں۔ اس نے کہا تو پھر اپنے بیٹوں کو ہی رہن رکھ دو۔ محمد بن مسلمہ نے کہا ہم اپنے بیٹوں کو کیسے رہن رکھیں گے؟ اگر ایسا ہو گیا تو انہیں گالی دی جائے گی کہ یہ ایک وسق یا دو وسق کے بدلے رہن رکھا گیا تھا۔ یہ ہمارے لیے عار کی بات ہے، البتہ ہم آپ کے پاس ہتھیار رہن رکھ سکتے ہیں۔ اس کے بعد دونوں میں طے ہو گیا کہ محمد بن مسلمہ ہتھیار لے کر اس کے پاس آئیں گے۔ (کون ہو گا جو یہاں محمد بن مسلمہ کی جنگی بصیرت کو سلام نہ کرے۔۔ ناقل)
پھر محمد بن مسلمہ، عبس بن جبر اور عباد بن بشر کے پاس آیا۔ یہ سب لوگ رات کے وقت کعب کے یہاں آئے اور اسے آواز دی۔ کعب اتر کر ان کی طرف آیا۔ (سفیان نے کہا، عمرو کے سوا دوسرے راویوں کا بیان ہے کہ اس کی بیوی نے کہا) میں ایسی آواز سنتی ہوں جس سے خون ٹپک رہا ہے۔ کعب نے کہا یہ تو میرا بھائی محمد بن مسلمہ اور میرا دودھ کا ساتھی ابو نائلہ ہے۔ (مزید کہا) شریف آدمی کو اگر نیزے کی مار کی طرف بلایا جائے تو وہ اس پکار پر بھی جاتا ہے۔ اس کے بعد وہ (کعب بن اشرف) باہر آگیا۔ ابو نائلہ نے اپنے ساتھیوں سے کہہ رکھا تھا کہ
جب وہ آ جائے گا تو میں اس کے بال پکڑ کر سونگھوں گا‘ جب تم دیکھو کہ میں نے اس کا سر پکڑ کر قابو میں کر لیا ہے تو اس پر پل پڑنا اور اسے مار ڈالنا۔ جب کعب اترا تو اس نے چادر اوڑھ رکھی تھی۔ انہوں نے کہا ہمیں آپ کی طرف سے بہت عمدہ خوشبو آ رہی ہے۔ اس نے کہا میرے پاس عرب کی سب سے زیادہ خوشبو والی عورت ہے۔ ابو نائلہ نے کہا اجازت ہو تو آپ کا سر سونگھ لوں؟ وہ بولا ہاں ہاں! ابو نائلہ نے اس کے سر پر اپنا ہاتھ ڈالا۔ ابو نائلہ نے کہا بھائی ایک بار اور! کعب نے کہا ہاں ہاں (اب) ابو نائلہ نے اس کے سر میں ہاتھ ڈال کر اچھی طرح پکڑ لیا۔ پھر بولے اس کو پکڑ لو۔ چنانچہ انہوں نے اسے قتل کر دیا“۔
(”صحیح بخاری“ جلد ۴، ”کتاب المغازی“ باب نمبر ۱۲‘ ص ۱۳۸۲‘ حدیث نمبر ۳۸۱۱‘ ”صحیح مسلم“ جلد ۳، ”کتاب الجہاد“ باب نمبر ۴۲‘ ص ۱۲۵ حدیث نمبر ۱۸۰۱‘ مطبوعہ بیروت (”مدارج النبوت“ جلد ۲‘ ص ۱۸۵-۱۸۷) (”الصارم المسلول علیٰ شاتم الرسول“ از علامہ ابن تیمیہؒ ترجمہ غلام احمد حریری‘ ص ۱۶۰-۱۶۱‘ مطبوعہ لاہور)
کعب بن اشرف کے قتل کی وجوہات-- پہلی وجہ:
”ابن ابی اویس نے بطریق ابن جعفر بن محمد بن مسلمہ از والد خود حضرت جابر بن عبداللہ سے روایت کیا ہے کہ کعب بن اشرف نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے معاہدہ کیا تھا کہ آپ کے دشمن کی مدد نہیں کرے گا اور نہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے جنگ کرے گا۔ پھر وہ مکر گیا اور مدینہ واپس آکر رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی عداوت کا اعلان کر دیا۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ہجو میں اشعار کہے۔ تب رسول کریم ﷺ نے صحابہ کو اس کے قتل کرنے کے لیے کہا۔ یہ ابن ابی اویس سے منقول ہے۔ اس کو الخطابی اور دیگر محدثین نے بھی روایت کیا ہے“۔ (”الصارم المسلول علیٰ شاتم الرسول“ اردو ترجمہ‘ ص ۱۶۱)
دوسری وجہ:
علماء مغازی اور تفسیر مثلاً محمد بن اسحاق نے ذکر کیا ہے کہ کعب بن اشرف نے دیگر یہود کی
طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے مصالحت کرلی تھی۔ یہ بنوطی کے قبیلہ سے تعلق رکھتا تھا۔ اس کی ماں بنو نضیر سے تھی۔ جب غزوہ بدر میں بہت سے اہل مکہ مارے گئے تو اس پر بڑا ناگوار گزرا۔ چنانچہ وہ مکہ گیا اور مرنے والوں کا مرثیہ کہا۔ اس نے جاہلیت کے دین کو دین اسلام پر ترجیح دی۔ حتیٰ کہ اس کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی:
ترجمہ: ”کیا تم نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جن کو کتاب سے حصہ دیا گیا ہے کہ بتوں اور شیطان کو مانتے ہیں اور کفار کے بارے میں کہتے ہیں کہ یہ لوگ مومنین کی نسبت سیدھے راستے پر ہیں“۔ (النساء۔۵۱)
تیسری وجہ:
”کعب بن اشرف جب مدینہ واپس آیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی شان میں ہجویہ اشعار کہنے لگا۔ اشعار میں مسلم خواتین کا ذکر کرتا اور ایذاء دیتا تھا، حتیٰ کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ”کعب بن اشرف سے کون نمٹے گا۔ اس نے اللہ اور اس کے رسول کو ایذاء دی ہے“۔ (”الصارم
المسلول“ ص ۱۲۱-۱۲۲‘ اردو ترجمہ)
کعب بن اشرف کے جرائم:
- ۱۔ اس نے قریش کے مقتولوں کا مرثیہ کہا۔ (ظاہر ہے اس میں رسالت ماب صلی اللہ
علیہ و آلہ وسلم کی مخالفت ہوگی)
- ۲۔ قریش کو حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے خلاف آمادۂ جنگ کیا اور پشت
پناہی کی۔
- ۳۔ اس نے قریش سے کہا کہ تمہارا دین محمد ﷺ کے دین سے بہتر ہے۔
- ۴۔ اس نے رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور مسلمانوں کی تنقیص شان کی۔
- ۵۔ اس نے رسالت محمدیہ کی مخالفت کی۔
کعب بن اشرف کو کب قتل کیا گیا:
”واقدی نے ذکر کیا ہے کہ کعب بن اشرف کے قتل کا واقعہ ماہ ربیع الآخر ۳ھ
کو پیش آیا۔ ("الصارم المسلول" ص ۱۴۴-۱۴۵‘ اردو ترجمہ)
اعلان نبوت۔۔ جو بھی اس طرح کرے گا، قتل کیا جائے گا:
”واقدی نے بطریق عبدالحمید بن جعفر از یزید بن رومان و معمر از زہری از ابن کعب بن مالک و ابراہیم بن جعفر از والد خود حضرت جابر سے روایت کیا اور کعب کے قتل کا واقعہ بیان کیا۔ راوی کا بیان ہے کہ (اس واقعہ کی خبر سے) یہودی اور اس کے ہمنوا مشرکین گھبرا اٹھے۔ جب صبح ہوئی تو رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہا ”گزشتہ رات ہمارے ایک ساتھی کو قتل کیا گیا‘ وہ ہمارے سرداروں میں سے ایک سردار تھا اور اسے بلا جرم و گناہ‘ جس کا ہمیں علم ہو، قتل کیا گیا“۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ارشاد فرمایا اگر وہ بھی اس طرح امن و سکون سے رہتا جس طرح اس کے دوسرے ہم خیال رہتے تھے تو اسے اچانک قتل نہ کیا جاتا مگر اس نے ہمیں اذیت دی اور ہماری ہجو میں اشعار کہے‘ تو جو بھی اس طرح کرے گا‘ قتل کیا جائے گا“۔ ("الصارم المسلول" ص ۱۴۲‘ اردو ترجمہ)
دوسری حدیث۔۔ ابی رافع‘ عبداللہ بن ابی الحقیق گستاخ رسول ﷺ
کا قتل:
”حضرت البراء بن عازب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ابو رافع یہودی کی طرف چند انصار صحابہؓ کو بھیجا۔ عبداللہ بن ابی عتیک کو ان کا امیر مقرر کیا۔ ابو رافع رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو ایذاء دیتا تھا اور آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے مخالفین کی مدد کیا کرتا تھا۔ وہ ارض حجاز کے ایک قلعہ میں اقامت گزیں تھا۔ جب انصار وہاں پہنچے تو سورج غروب ہو چکا تھا اور لوگ اپنے چوپایوں کو گھروں کو واپس لا رہے تھے۔ عبداللہ نے اپنے رفقاء سے کہا‘ تم یہاں بیٹھو‘ میں دربان کے پاس جا کر نرم زبان میں بات کروں گا۔ ہو سکتا ہے کہ وہ مجھے اندر جانے دے۔ چنانچہ عبداللہ دروازے کے پاس آئے اور کپڑا اوڑھ لیا‘ جیسے کوئی پاخانہ کے لیے بیٹھتا ہے۔ لوگ اندر داخل ہو گئے۔ دربان نے اسے پکارا۔ اللہ کے بندے اگر تم اندر
داخل ہونا چاہو تو ہو جاؤ کیونکہ میں دروازہ بند کرنا چاہتا ہوں۔ عبداللہ کہتے ہیں میں اندر داخل ہو کر چھپ گیا۔ جب لوگ داخل ہو چکے تو اس نے دروازہ بند کر لیا اور چابیاں ایک میخ کے ساتھ لٹکا دیں۔ میں نے اٹھ کر چابیاں پکڑ لیں اور دروازہ کھولا۔ افسانہ گو‘ ابو رافع کو افسانہ سنا رہا تھا جبکہ وہ اپنے بالاخانہ میں تھا۔ جب افسانہ گو چلے گئے تو بالاخانہ پر چڑھا۔ جب میں کوئی دروازہ کھولتا تو اسے اندر سے بند کر لیتا۔ میں نے کہا کہ اگر لوگوں کو میری آمد کا پتہ چل بھی گیا تو میں ان کے پہنچنے تک اسے قتل کر چکا ہوں گا۔ جب میں اس کی طرف پہنچا تو وہ ایک تاریک کمرے میں اپنے کنبہ کے درمیان پڑا تھا اور کچھ پتہ نہ چلتا تھا کہ وہ کہاں ہے۔ میں نے کہا یہاں ابو رافع ہے؟ اس نے پوچھا کون ہے؟ جہاں سے آواز آئی تھی‘ میں ادھر جھکا اور اسے تلوار ماری۔ مگر میں خوف زدہ تھا کہ اس کا کچھ نہ بگاڑ سکا۔ وہ چیخا تو میں دروازے سے نکل گیا اور قریب ہی ٹھہرا رہا۔
....... میں پھر اس کی طرف لوٹا اور کہا ابو رافع‘ یہ آواز کیسی ہے؟ اس نے کہا‘ تیری ماں مرے‘ ایک آدمی نے مجھے گھر میں تلوار ماری ہے (اسی دوران) میں نے تلوار مار کر اسے لہولہان کر دیا‘ مگر وہ مرا نہیں۔ پھر میں نے تلوار کی نوک اس کے بطن میں رکھی۔ یہاں تک کہ اس کی پشت تک پہنچ گئی۔ میں نے سمجھا کہ میں نے اسے قتل کر دیا۔ (اب) میں ایک ایک کر کے دروازے کھولتا گیا۔ یہاں تک کہ میں ایک سیڑھی کے پاس پہنچا اور اس پر اپنا پاؤں رکھ دیا۔ میرا خیال تھا کہ میں زمین پر پہنچ گیا ہوں۔ میں چاندنی رات میں گر پڑا اور میری پنڈلی ٹوٹ گئی۔ میں نے اسے اپنی پگڑی سے باندھا اور جا کر دروازے پر بیٹھ گیا۔ میں نے کہا کہ میں رات بھر یہاں سے نہ جاؤں گا جب تک کہ مجھے پتہ نہ چلے کہ میں نے اسے قتل کر دیا ہے (یا نہیں)۔
جب مرغ نے آواز دی تو موت کی خبر دینے والا فصیل پر چڑھ کر پکارا ”میں ابو رافع تاجر اہل حجاز کی موت کی اطلاع دیتا ہوں“۔ میں اپنے ساتھیوں کے پاس گیا اور کہا اب نجات کی راہ ڈھونڈو‘ اللہ نے ابو رافع کو ہلاک کر دیا۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں ماجرا سنایا۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ”اپنا پاؤں پھیلاؤ“۔ میں نے (زخمی) پاؤں پھیلا دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسے چھوا تو وہ ایسا ہو گیا کہ گویا
کبھی تکلیف نہ تھی۔ (”صحیح بخاری“ جلد نمبر ۴، باب نمبر ۱۳، ص ۱۴۸۲، حدیث نمبر ۳۸۱۳۔ ”مدارج النبوت“ جلد ۲، ص ۱۸۹-۱۹۰۔ ”الصارم المسلول علیٰ شاتم رسول“ از علامہ ابن تیمیہ، اردو ترجمہ از غلام احمد حریری، ص ۲۰۸-۲۱۰)
عبد اللہ بن ابی الحقیق کا جرم:
”حضرت البراء اور ابن کعب کی روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی اجازت سے رات کو اسے قتل کرنے گئے تھے، اس لیے کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو اذیت دیتا تھا اور عداوت رکھتا تھا“۔
(”الصارم المسلول“ ص ۲۱۰، اردو ترجمہ)۔
گستاخ رسول ﷺ کو قتل کرنے کا انعام:
مذکورہ حدیث سے معلوم ہوا کہ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے بذات خود چند انصار صحابہ کرام کی ایک مہم روانہ فرمائی جن کے امیر حضرت عبداللہ بن ابی عتیکؓ مقرر فرمائے اور ابو رافع کو حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے حکم پر قتل کیا گیا اور پھر حضرت عبداللہ بن ابی عتیکؓ کی پنڈلی اس معرکہ میں ٹوٹی جب آپؓ دربار رسالت میں حاضر ہوئے تو پیغمبرانہ شفقت کو آپؓ کی یہ تکلیف گوارا نہ تھی۔ بس دست مبارک پھیرا تو رب محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ناموس مصطفےٰ کے تحفظ کے صدقے بطور انعام دنیا میں بھی شفا عطا کر کے آخرت کے بڑے انعام کی امید دلا دی۔
تیسری حدیث:
”شعبی نے حضرت علیؓ سے روایت کیا ہے کہ ایک یہودی عورت رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو گالیاں دیا کرتی تھی۔ ایک شخص نے اس کا گلا گھونٹ کر اسے ہلاک کر دیا تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس عورت کے خون کو رائیگاں قرار دیا۔
اس حدیث کو ابو داؤد اور ابن بطہ نے اپنے اپنے سنن میں روایت کیا ہے۔ امام احمدؒ کے بیٹے عبداللہ کی روایت کے مطابق، انہوں نے بھی اس سے استدلال کیا ہے۔ چنانچہ امام احمدؒ بطریق جریر از مغیرہ از شعبی روایت کرتے ہیں کہ ایک
نابینا مسلمان ایک یہودی عورت کے یہاں قیام پذیر تھا۔ وہ عورت اسے کھلاتی پلاتی اور نیک سلوک کیا کرتی تھی مگر اس کے ساتھ ساتھ وہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو گالیاں دیتی اور ایذاء رسانی کرتی تھی۔ ایک اندھے نے اس کا گلا گھونٹ کر اسے ہلاک کر دیا۔ جب صبح ہوئی تو رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے اس کا ذکر کیا گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے لوگوں کو اس ضمن میں حلف دی۔ اندریں اثنا ایک اندھے شخص نے کھڑے ہو کر ماجرا بیان کیا۔ چنانچہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس عورت کے خون کو ہدر (رائیگاں) قرار دیا“۔
- ("الصارم المسلول" اردو ترجمہ‘ ص ۱۰۸-۱۰۹)
علامہ ابن تیمیہؒ اس حدیث کے متعلق لکھتے ہیں:
”یہ حدیث صحیح ہے۔ اس لیے کہ شعبی نے حضرت علیؓ کو دیکھا ہے اور شراحہ ہمدانی کی حدیث ان سے روایت کی ہے۔ حضرت علیؓ کے عہد خلافت میں شعبی کی عمر تقریباً بیس سال تھی۔ یہ کوفہ میں رہتے تھے چونکہ شعبی کی ملاقات حضرت علیؓ سے ثابت ہے‘ اس لیے یہ حدیث متصل ہے“۔
- ("الصارم المسلول" اردو
ترجمہ‘ ص ۱۰۹)
چوتھی حدیث۔۔اس حدیث کے موید ایک اور حدیث:
”اسماعیل بن جعفر نے بطریق اسرائیل از عثمان شحام از عکرمہ ابن عباسؓ سے روایت کیا ہے کہ ایک اندھے شخص کی ایک ام ولد لونڈی تھی جو رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو گالیاں دیا کرتی تھی۔ وہ اسے روکتا مگر وہ باز نہ آتی۔ وہ اسے ڈانٹتا مگر وہ نہ رکتی تھی۔ ایک رات اس (عورت) نے رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو گالیاں دینا شروع کیا۔ اس نے بھالا لے کر اس (عورت) کے شکم میں پیوست کر دیا اور اسے زور سے دبایا جس سے وہ ہلاک ہو گئی۔ صبح کو اس کا تذکرہ رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے کیا گیا تو لوگوں کو جمع کر کے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا:
میں اس آدمی کو قسم دیتا ہوں‘ جس نے کیا جو کچھ کیا اور میرا اس پر حق ہے کہ وہ کھڑا ہو جائے۔ یہ سن کر ایک اندھا آدمی کھڑا ہوا اور لوگوں کی گردنیں پھلانگتا ہوا آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس آیا اور بیٹھ گیا۔ وہ کانپ رہا تھا۔۔۔اس
نے کہا' یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اسے میں نے قتل کیا ہے۔ وہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو گالیاں دیا کرتی تھی۔ میں اسے روکتا تھا مگر وہ باز نہ آتی تھی۔ میں اسے ڈانٹ ڈپٹ کرتا مگر وہ پرواہ نہ کرتی۔ میں نے بھالا لے کر اس کے پیٹ میں گاڑ دیا اور اسے زور سے دبایا۔ اس کے بطن سے میرے دو ہیروں جیسے بیٹے ہیں' وہ میری رفیقہ حیات تھی۔ گزشتہ شب جب وہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو گالیاں بکنے لگی تو میں نے بھالا لے کر اس کے پیٹ میں گاڑ دیا اور اسے زور سے دبایا' حتیٰ کہ وہ مر گئی۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ”تم گواہ رہو کہ اس کا خون ہدر ہے“۔ (”سنن ابو داؤد“ جلد نمبر ۴' ص ۱۲۹' حدیث نمبر ۴۳۶۲' ”سنن نسائی“ جلد ۷' ص ۱۱۰' ”الصارم المسلول“ ص ۱۱۶- ۱۱۷' اردو ترجمہ)
عورت کے رشتہ دار اور دیگر لوگ جب آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت اقدس میں اس عورت کے خون بدل کے لیے حاضر ہوئے تو حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا یہ ارشاد فرمانا کہ تم گواہ ہو جاؤ کہ اس کا خون رائیگاں ہے' اس بات کی دلیل ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی شان اقدس میں گستاخی کرنے والا یا والی حداً واجب القتل ہوتا ہے یا ہوتی ہے۔ اس پر نہ قصاص ہوتی ہے نہ ہی دیت۔
امام شوکانی فرماتے ہیں:
”حضرت علیؓ سے مروی ہے کہ ایک یہودیہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی گستاخی کیا کرتی تھی۔ چنانچہ اسے قتل کر دیا گیا اور جب حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس اس کا مقدمہ آیا تو حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس کا خون باطل قرار دے دیا“۔ (”نیل الاوطار“ جلد ۷' ص ۳۷۹)
قاضی عیاض ”شاتم رسول اور ایک نابینا“ کا عنوان قائم کر کے لکھتے ہیں:
”حضرت ابن عباسؓ نے بیان کیا کہ ایک نابینا کی ام ولد باندی حضور علیہ السلام کی شان میں گستاخی کیا کرتی تھی اور وہ نابینا اس کو اس فعل پر باز پرس کرتا اور وہ نابینا اس کو اس فعل پر گھڑکتا جھڑکتا تھا۔ چنانچہ ایک رات جب وہ باندی حضور علیہ السلام کی شان میں گستاخی کر رہی تھی تو اس نابینا کو سننے کی تاب نہ رہی اور اس نابینا نے اس باندی کو قتل کر دیا۔ جب حضور علیہ السلام کو اس کے قتل کی خبر ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس کا خون معاف فرما دیا“۔ (”الشفاء“
جلد نمبر ۲‘ ص ۳۸۶ اردو ترجمہ از مولانا محمد اطہر نعیمی)
حضرت ملا علی قاریؒ لکھتے ہیں:
”عبداللہ ابن عباسؓ اس کے راوی ہیں: آپ فرماتے ہیں کہ ایک عورت نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی گستاخی کی۔ اس گستاخی پر اسے قتل کیا گیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے اس کا خون طلب کیا گیا لیکن حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس (مقتولہ) کے خون کو باطل قرار دے دیا“۔ (”شرح الشفا“ جلد ۲‘ ص ۴۰۸)
قاضی شمس الحق عظیم آبادی اس حدیث کے ضمن میں رقم طراز ہیں:
”اس میں دلیل ہے اس بات کی کہ شاتم رسول (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کو قتل کیا جائے گا اور تحقیق ابن المنذر نے نقل کیا ہے اس پر علماء کے اتفاق کو‘ کہ جو گالی دے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو صراحتاً وہ واجب القتل ہے اور خطابی کہتے ہیں کہ اس کے قتل کے وجوب میں کوئی اختلاف نہیں جانتا جبکہ وہ مسلمان ہو“۔ (”عون المعبود“ جلد نمبر ۴‘ ص ۲۲۶)
امام شوکانیؒ کا قول حاشیہ ابو داؤد پر یوں مندرج ہے:
”شوکانی فرماتے ہیں کہ حدیث ابن عباس اور حدیث شعبی دلیل ہے اس بات پر کہ شاتم رسول کو قتل کیا جائے گا“۔ (”حاشیہ ابو داؤد شریف“ ص ۵۹۹‘ طبع میر محمد کتب خانہ کراچی)
مولانا عبدالتواب محدث ملتانیؒ ابن عباسؓ کی حدیث نقل کرنے کے بعد لکھتے ہیں:
”حدیث ہٰذا دلیل ہے اس پر کہ جو آنحضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو برا کہے‘ اس کو مار ڈالا جاوے کیونکہ اگر مسلمان ہے تو آنحضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو برا کہنا نشان ہے اس کے مرتد ہو جانے کا اور اس سے توبہ طلب نہیں کی جاتی“۔ (”حاشیہ بلوغ المرام“ ص ۳۸۶ از حافظ ابن حجر عسقلانیؒ مترجم مولانا عبدالتواب محدث ملتانیؒ)
پانچویں حدیث۔۔ بنی خطمہ کی ایک عورت کو قتل کی سزا:
”بنی خطمہ کی ایک عورت حضور علیہ السلام کی بارگاہ میں گستاخی کیا کرتی تھی۔ حضور علیہ السلام نے صحابہؓ سے دریافت کیا کون ہے جو اس دریدہ دہن سے بدلہ
- ۷۔ حضور علیہ السلام کے فرمان کے مطابق اس قبیلہ کے ایک شخص نے اس
خدمت کو اپنے ذمے لیا اور اس عورت کو قتل کر کے بارگاہ رسالت میں آکر مطلع کیا تو حضور نے اس شخص کو قبیلہ بنی خطمہ کے متعلق بشارت دی کہ اس قبیلہ میں آئندہ دو بکریاں بھی آپس میں سینگ نہ ٹکرائیں گی اور سب لوگ اتحاد و اتفاق سے رہیں گے“۔ (”مدارج النبوت“ جلد ۲، ص ۱۷۶) (”الصارم المسلول“ اردو ترجمہ، ص ۱۴۸) (”الشفاء“ جلد نمبر ۲، ص ۳۸۶، اردو ترجمہ)
اس واقعہ کی تفصیل:
”اصحاب مغازی اور دیگر اہل علم نے اس واقعہ کو پوری تفصیل کے ساتھ (یوں) بیان کیا ہے۔ واقدی نے بطریق عبداللہ بن حارث بن فضیل از والد خود روایت کیا ہے کہ عصماء بنت مروان بنی امیہ بن زید کے خاندان سے تھی اور یزید بن زید بن حصین الخطمی کی بیوی تھی۔ یہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ایذا دیا کرتی تھی، اسلام میں عیب نکالتی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خلاف لوگوں کو بھڑکایا کرتی تھی۔ عمیر بن عدی الخطمی کو جب اس کی باتوں اور اشتعال بازی کا علم ہوا تو اس نے کہا اے اللہ! میں تیرے حضور نذر مانتا ہوں کہ اگر تو نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو (بخیر و عافیت) مدینے لوٹا دیا تو میں اس عورت کو قتل کر دوں گا۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس وقت بدر میں تھے۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بدر سے واپس ہوئے تو عمیر بن عدی آدھی رات کے وقت اس عورت کے گھر میں داخل ہوئے۔ اس کے ارد گرد اس کے بچے سوئے ہوئے تھے۔ ایک بچہ اس کے سینے کے ساتھ چمٹا ہوا تھا۔ وہ اسے دودھ پلا رہی تھی۔ عمیر نے بچے کو الگ کیا، پھر اپنی تلوار کو اس کے سینے پر رکھا اور اس کی پشت کے پار کر دیا۔
پھر صبح کی نماز رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ادا کی۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز سے فارغ ہوئے تو عمیر کی طرف دیکھ کر فرمایا ”کیا تو نے بنت مروان کو قتل کر دیا؟“ عرض کیا ”جی ہاں! میرا باپ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر قربان، عمیر اس بات سے ڈرے کہ انہوں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مرضی کے خلاف کام کیا ہو“۔ انہوں نے کہا ”یا رسول اللہ !
کیا اس ضمن میں مجھ پر کوئی چیز واجب ہے؟" فرمایا ”نہیں۔ دو بکریاں اس میں سینگوں سے نہیں ٹکراتیں“۔ یہ فقرہ پہلی بار رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے سنا گیا تھا۔ عمیر کہتے ہیں رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارد گرد دیکھا اور فرمایا ”اگر تم ایسا شخص دیکھنا چاہو جس نے اللہ اور اس کے رسول کی غیبی مدد کی ہے تو عمیر بن عدی کو دیکھ لو“۔
حضرت عمرؓ نے فرمایا: اس اندھے کو دیکھو جس نے رات اللہ کی اطاعت میں گزاری ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا ”اسے اندھا نہ کہو، وہ بینا ہے“۔
جب عمیر، رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے یہاں سے لوٹ کر آیا تو دیکھا کہ اس عورت کے بیٹے، لوگوں کی ایک جماعت کے ساتھ اسے دفن کر رہے ہیں۔ جب سامنے آتے دیکھا تو وہ لوگ عمیر کی طرف آئے اور کہا اے عمیر! اسے تو نے قتل کیا ہے۔ عمیر نے کہا ہاں، تم نے جو کرنا ہے کر لو اور مجھے ڈھیل نہ دو۔ مجھے اس ذات کی قسم، جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، اگر تم سب وہ بات کہو جو وہ کہا کرتی تھی تو میں اپنی تلوار سے تم سب پر وار کروں گا، یہاں تک کہ میں مارا جاؤں یا تمہیں قتل کر دوں۔ اس دن سے اسلام بنی خطمہ میں پھیل گیا، قبل ازیں ان میں سے کچھ لوگ ڈر کے مارے اپنے اسلام لانے کو پوشیدہ رکھتے تھے“۔
(”الصارم المسلول“ ص ۱۴۸-۱۴۹، اردو ترجمہ)
واقدی کی مزید تصریح:
”عبداللہ بن حارث اپنے باپ سے نقل کرتے ہیں۔ اس عورت کے قتل کا واقعہ اس رات پیش آیا جب رمضان کی پانچ راتیں ابھی باقی تھیں اور رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم غزوۂ بدر سے لوٹ کر آئے تھے“۔ (”الصارم المسلول“ ص ۱۴۹، اردو ترجمہ)
ابو عبید ”کتاب الاموال“ میں فرماتے ہیں: ”ایک یہودی عورت عصماء کا واقعہ بھی اسی قسم کا ہے۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو گالیاں دینے کی وجہ سے اسے قتل کیا گیا۔ یہ وہ عورت نہیں ہے جس کو اس کے نابینا آقا نے قتل کیا تھا اور نہ ہی (یہ) یہودی عورت ہے جسے قتل
کیا گیا تھا۔ اس لیے کہ یہ عورت قبیلہ بنو امیہ بن زید سے تعلق رکھتی تھی جو انصار کی ایک شاخ ہے۔ اس کا شوہر قبیلہ بنی خطمہ سے تھا۔ اس لیے حضرت ابن عباس کی روایت میں اس عورت کو بنی خطمہ کی طرف منسوب کیا گیا ہے۔ اس کا قاتل اس کا شوہر نہیں بلکہ ایک اور شخص تھا۔ اس کے چھوٹی بڑی عمر کے بیٹے بھی تھے، البتہ قاتل اس کے شوہر کے خاندان سے تعلق رکھتا تھا“۔ (”الصارم المسلول“ ص ۱۴۹-۱۵۰، اردو ترجمہ)
مذکورہ بالا روایات سے معلوم ہوا کہ اگر عورت بھی گستاخی رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی مرتکب ہو تو اس کی سزا میں بھی کمی واقع نہ ہوگی بلکہ شرعی حد کے طور پر اسے قتل کیا جائے گا۔ ان روایات نے رعایت کے تمام قواعد اڑا دیے۔
چھٹی حدیث ۔۔ سیدنا حضرت علی المرتضیٰؓ کی گستاخ رسول ﷺ کی سزا
سے متعلق روایت:
”حضرت علیؓ سے روایت ہے کہ فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کہ جو گالی دے انبیاء کو، قتل کیا جائے اور جو گالی دے میرے صحابہؓ کو اسے کوڑے لگائے جائیں“۔ (”الشفا“ جلد ۲، ص ۱۹۴) (”کنز العمال“ جلد ۱۱، ص ۵۳۱) (”مجمع الزوائد“ جلد ۶، ص ۲۶۰، ”الصارم المسلول“ اردو ترجمہ، ص ۱۴۵)
علامہ ابن تیمیہؒ اس حدیث کے ضمن میں یوں رقم طراز ہیں:
”یہ حدیث اس امر کی دلیل ہے کہ نبی کو گالی دینے والے کا قتل واجب ہے۔ بظاہر معلوم ہوتا ہے کہ اسے توبہ کا مطالبہ کیے بغیر قتل کیا جائے گا نیز یہ کہ قتل اس کے لیے حد شرعی ہے“۔ (”الصارم المسلول“ ص ۱۴۶، اردو ترجمہ)
ساتویں حدیث ۔۔ گستاخ رسول ﷺ ابو عفک یہودی کا قتل:
”واقدی نے بطریق شعبہ بن محمد از عمارہ بن غزیہ و از ابو مصعب اسماعیل بن مصعب بن اسماعیل بن زید بن ثابت، اپنے شیوخ سے روایت کیا ہے، دونوں کہتے ہیں کہ بنو عمرو بن عوف میں ایک شیخ تھا جس کو ابو عفک کہتے تھے۔ نہایت بوڑھا تھا۔ اس کی عمر ایک سو بیس سال تھی۔ یہ شخص مدینہ آ کر لوگوں کو رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی عداوت پر بھڑکایا کرتا تھا۔ اس نے اسلام قبول نہیں کیا
تھا۔ جب رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بدر تشریف لے گئے اور اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو فتح و کامرانی سے نوازا تو وہ حسد کرنے لگا اور بغاوت پر اتر آیا۔ اس نے رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور صحابہؓ کی مذمت میں ایک ہجویہ قصیدہ کہا۔
سالم بن عمیر نے نذر مانی کہ میں ابو عَفک کو قتل کروں گا یا اسے قتل کرتے ہوئے مارا جاؤں گا۔ سالم غفلت کی تلاش میں تھا۔ موسم گرما کی ایک رات تھی۔ ابو عَفک موسم گرما میں قبیلہ بنی عمرو بن عوف کے صحن میں سو رہا تھا۔ اندریں اثناء سالم بن عمیر آیا اور تلوار اس کے جگر پر رکھ دی۔ دشمن خدا بستر پر چیخنے لگا۔ اس کے ہم خیال بھاگتے ہوئے اس کے پاس آئے۔ پہلے اس کے گھر میں لے گئے، پھر قبر میں دفن کر دیا۔ کہنے لگے اسے کس نے قتل کیا ہے؟ بخدا اگر ہمیں قاتل کا پتہ چل جائے تو ہم اسے قتل کر دیں گے“۔ (”مدارج النبوت“ جلد ۲، ص ۱۷۸ بحوالہ ”مواہب الدنیہ“) (”الصارم المسلول“ ص ۱۵۹-۱۶۰، اردو ترجمہ، مطبوعہ ناشران قرآن لمیٹڈ لاہور)
ابو عفک کو کب قتل کیا گیا:
”محمد بن سعد نے ذکر کیا ہے کہ وہ یہودی تھا۔...... واقدی‘ ابن اقش سے روایت کرتے ہیں کہ ابو عفک کو ماہ شوال میں ہجرت نبوی کے بیس ماہ بعد قتل کیا گیا۔ یہ واقعہ کعب بن اشرف کے قتل سے پہلے کا ہے۔ اس واقعہ میں اس امر کی واضح دلیل موجود ہے کہ معاہد (دیگر کفار) اگر علانیہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو گالیاں دے تو اس کا عہد ٹوٹ جاتا ہے۔ اسے دھوکے سے قتل کیا جا سکتا ہے، مگر یہ اہل مغازی کی روایت ہے اور بلاشبہ دوسری روایات کی موید و موکد ہو سکتی ہے“۔ (”الصارم المسلول“ ص ۱۶۰، اردو ترجمہ)
آٹھویں حدیث-- فقط دل میں گمان بٹھا لینا کہ حضور ﷺ سے بھی
بہتر ہوں، ایسا شخص بھی واجب القتل ہے:
”محدث کبیر امام ابو یعلیٰ حضرت انسؓ سے روایت کرتے ہیں کہ مدینہ میں ایک بڑا ہی عابد و زاہد نوجوان تھا۔ ہم نے ایک دن حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم
سے اس کا تذکرہ کیا۔ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اسے نہ جان سکے‘ پھر اس کے حالات و اوصاف بیان کیے۔ جب بھی حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نہ پہچان سکے۔ یہاں تک کہ وہ ایک دن اچانک سامنے آ گیا۔ جیسے ہی اس پر نظر پڑی‘ ہم نے حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو خبر دی کہ یہ وہی جوان ہے۔ اسے دیکھ کر فرمایا ‘ میں اس کے چہرے پر شیطان کے دھبے دیکھتا ہوں۔ اتنے میں وہ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے قریب آیا اور سلام کیا۔ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسے مخاطب ہو کر فرمایا ! کیا یہ بات صحیح نہیں ہے کہ تو ابھی اپنے دل میں یہ سوچ رہا تھا کہ مجھ سے یہاں افضل کوئی نہیں ہے؟ اس نے جواب دیا ہاں۔ اس کے بعد جیسے ہی وہ مسجد میں داخل ہوا‘ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے آواز دی کہ کون اسے قتل کرتا ہے۔ حضرت ابو بکرؓ نے جواب دیا کہ میں۔ جب اس ارادہ سے وہ مسجد کے اندر گئے تو اسے نماز پڑھتا دیکھ کر واپس لوٹ آئے اور اپنے دل میں خیال کیا کہ ایک نمازی کو کیسے قتل کروں‘ جبکہ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے نمازی کے قتل سے منع کیا ہے۔ پھر حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے آواز دی‘ کون اسے قتل کرتا ہے؟ حضرت عمرؓ نے جواب دیا کہ میں۔ وہ مسجد کے اندر گئے تو اس وقت وہ نوجوان سجدہ کی حالت میں تھا۔ وہ بھی اسے نماز پڑھتا دیکھ کر ابو بکرؓ کی طرح واپس لوٹ آئے۔ پھر حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے آواز دی کہ کون اسے قتل کرتا ہے۔ حضرت علیؓ نے جواب دیا کہ میں۔ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ تم اسے ضرور قتل کرو گے بشرطیکہ وہ تمہیں مل جائے لیکن حضرت علیؓ جب مسجد کے اندر داخل ہوئے تو وہ شخص جا چکا تھا۔ حضور علیہ السلام نے فرمایا ‘ اگر تم اسے قتل کر دیتے تو میری امت کے جملہ فتنہ پردازوں میں سے یہ شخص پہلا اور آخری ثابت ہوتا ‘ یہاں تک کہ میری امت کے دو فرد بھی آپس میں نہ لڑتے“۔ (کتاب ”تبلیغی جماعت“ مصنفہ ارشد القادری) (”فتح الباری“ جلد ۱۳‘ ص ۲۶۴‘ ابریز شریف‘ ص ۲۷۷‘ ”حجتہ اللہ علی العالمین“ ص ۵۵۵ و ”جدید خصائص الکبریٰ“ جلد ۲‘ ص ۱۴۷)
قارئین کرام! غور فرمائیے وہ شخص نمازی تھا مگر اس کے چہرے پر شیطانی دھبے اس کے دل میں چھپی نبوت دشمنی کے عکاس تھے۔ خود کو تمام عالم بشمول رحمت عالم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے بہتر جاننا بلاشبہ شیطانی وصف ہے۔ اس گستاخی پر آقا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم
ایک بار نہیں‘ بار بار جلیل القدر صحابہ کرام کو اس ملعون کے قتل کا حکم دے رہے ہیں۔ تدبر کیجئے! دل میں چھپی شیطنت پر‘ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اس کے قتل کا حکم صادر فرما رہے ہیں۔ کیا بانگ دہل ایسی خباثت کا اعلان کرنے والوں پر آج محمد عربی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا کوئی غلام ایسا حکم لاگو نہیں کر سکتا۔ ارباب اختیار کے انصاف کی دہلیز پر ایسے قادیانی ظلم کے خلاف ایک بار پھر سراپا مظلومیت ہوں! اور دہائی ہے کہ حکمران قادیانی کفر کے خلاف نوٹس لیں جو نہ جانے کس نشے میں مست ابلیسی دھن پر رقص کرتے ہوئے دوزخیوں کا کلام یوں سناتے ہیں:
”یہ بالکل صحیح بات ہے کہ ہر شخص ترقی کر سکتا ہے اور بڑے سے بڑا درجہ پا سکتا ہے‘ حتیٰ کہ محمد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) سے بھی بڑھ سکتا ہے“۔
(قادیانی اخبار ”الفضل“ ۱۷/ جولائی ۱۹۲۲ء)
مرزا قادیانی خود اپنے بارے میں لکھتے ہیں کہ مجھے الہام ہوا ہے:
”آسمان سے کئی تخت اترے مگر میرا تخت سب سے اونچا بچھایا گیا“۔
(”تذکرہ“ طبع دوم‘ ص ۴۳۶ مصنفہ مرزا غلام قادیانی)
کل آقا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے روبرو پیش ہو کر جام کوثر پینے کے طلبگارو! کیا وہ ملعون شخص جس کا ذکر حدیث میں آیا ہے‘ جسے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم قتل کرنے کا حکم صادر فرما رہے ہیں‘ اس شخص کے کفر اور گستاخی رسول صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم میں اور مرزائیوں کی گستاخیوں میں کوئی فرق ہے؟
اگر نہیں ہے اور یقیناً قادیانی کفر اور گستاخیاں اپنے اندر زیادہ شدت لیے ہوئے ہیں تو پھر دیر کیوں؟ ۔
جذبے جو جاں گداز تھے‘ برفاب ہو چلے!
نویں حدیث۔۔ نضر بن حارث اور عقبہ بن ابی معیط کا قتل:
”آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم بدر سے مدینے لوٹے تو النضر بن حارث اور عقبہ بن ابی معیط کو قتل کر دیا۔ بدر کے قیدیوں میں سے کسی اور کو قتل نہیں کیا“۔
(”الصارم المسلول“ اردو ترجمہ‘ ص ۲۰۱)
وجہ قتل:
”البراز نے ابن عباس سے روایت کیا ہے کہ عقبہ پکارا: اے گروہ قریش! یہ کیا بات ہے کہ مجھے باندھ کر قتل کیا جا رہا ہے۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تمہارے کفر اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) پر افتراء پردازی کی وجہ سے“۔ (”الصارم المسلول“ اردو ترجمہ، ص ۲۰۱-۲۰۲)
عقبہ کے قتل پر آپ ﷺ کا اظہار اطمینان:
”تو بہت برا آدمی تھا۔۔۔ بخدا۔۔۔ میں نے اللہ، اس کی کتاب اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کا انکار کرتے کسی شخص کو نہیں دیکھا جو اس کے نبی کو ایذا دیتا ہو۔ میں اللہ کی تعریف کرتا ہوں جس نے تجھے قتل کر کے میری آنکھیں ٹھنڈی کیں“۔ (”الصارم المسلول“ ص ۲۰۳، اردو ترجمہ)
بدر کے تمام قیدیوں میں سے النضر بن حارث اور عقبہ بن ابی معیط کے امتیازی سلوک کے بارے میں علامہ ابن تیمیہؒ رقم طراز ہیں:
”تمام قیدیوں میں سے ان دو آدمیوں کو قتل کرنے کی وجہ یہ تھی کہ یہ اپنے قول و فعل سے اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو ایذا دیتے تھے۔ جو آیات النضر کے بارے میں نازل ہوئیں، وہ معروف ہیں۔ اسی طرح عقبہ اپنی زبان اور ہاتھوں سے جو ایذا دیا کرتا تھا، وہ بھی معروف ہے۔ اس شخص نے رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم (میرے ماں باپ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر قربان ہوں) کا گلا اپنی چادر سے پورے زور سے دبایا۔ یہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو قتل کرنا چاہتا تھا۔ اسی طرح رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سجدہ کی حالت میں تھے تو اس نے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی پشت مبارک پر اونٹ کا اوجھ لا کر رکھ دیا تھا“۔ (”الصارم المسلول“ اردو ترجمہ از غلام احمد حریری، ص ۲۰۳)
دسویں حدیث ۔۔ حویرث ابن نقید کا قتل:
”رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فتح مکہ کے روز حویرث ابن نقید کے قتل کا حکم بھی دیا تھا، جیسا کہ علمائے سیرت کے یہاں معروف ہے۔ موسیٰ بن
عقبہ نے اپنے مغازی میں زہری سے روایت کی ہے۔۔۔اور یہ صحیح ترین مغازی ہے۔ امام مالکؒ فرمایا کرتے تھے: جو مغازی لکھنا چاہے تو وہ مرد صالح موسیٰ بن عقبہ کا وابستہ دامن ہو جائے۔
(فتح مکہ کے موقع پر) رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صحابہؓ کو ہاتھ روکنے کا حکم دیا‘ ماسوا اس کے جو خود جنگ کی طرح ڈالے (لیکن) آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے (بطور خاص) چار آدمیوں کے قتل کا حکم دیا۔ ان میں ایک حویرث ابن نقید تھا"۔ ("الصارم المسلول" اردو ترجمہ‘ ص ۱۹۹)
وجہ قتل:
”واقدی نے اپنے شیوخ سے روایت کیا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جنگ سے منع کیا‘ مگر چھ آدمیوں اور چار عورتوں کو قتل کرنے کا حکم دیا...... وہ کہتے ہیں کہ حویرث بن نقید رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ایذا دیا کرتا تھا‘ اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے خون کو ہدر (ضائع) قرار دیا۔ فتح مکہ والے دن اس نے اپنے گھر کا دروازہ بند کر رکھا تھا۔ (چونکہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کے قتل کا حکم صادر فرما چکے تھے) حضرت علیؓ اس کے بارے میں پوچھتے ہوئے آئے تو کہا گیا کہ وہ جنگل کو گیا ہے۔ حویرث کو پتہ چل گیا کہ اسے تلاش کیا جا رہا ہے۔ حضرت علیؓ (جب) اس کے دروازے سے الگ ہوئے تو حویرث (اپنے) گھر سے نکل کر ایک گھر سے دوسرے گھر میں جانے لگا۔ حضرت علیؓ نے پکڑ کر اس کی گردن اڑا دی“۔ (”تاریخ طبری“ جلد اول‘ ص ۳۹۹) (”الصارم المسلول“ اردو ترجمہ‘ ص ۲۰۰۔۱۹۹) (”مدارج النبوت“ ص ۳۹۹)
علامہ ابن تیمیہؒ اس روایت کی صحت پر اظہار خیال فرماتے ہیں:
”یہ واقعہ زہری‘ ابن عقبہ‘ ابن اسحاق‘ واقدی اور اموی وغیرہم کے نزدیک مشہور ہے۔ زیادہ سے زیادہ اس میں یہ بات ہے کہ یہ مرسل روایت ہے۔ اور مرسل جب متعدد طرق سے مروی ہو اور اس کے راوی فن روایت میں مہارت رکھتے ہوں اور اس کے موید روایات بھی موجود ہوں تو وہ مسند و مرفوع روایت کی طرح کی ہوتی ہے۔ بلکہ بعض روایات جو اہل سیرت کے یہاں مشہور ہیں‘ سند
واحد کے ساتھ مروی روایات سے اقویٰ ہوتی ہیں اور اس وجہ سے یہ روایت ضعیف نہیں کہلاتی کہ اس کا ذکر سعد اور عمرو بن شعیب عن ابیہ عن جدہ منقول ہے۔ اس سے مثبت روایت نافی سے مقدم ہوتی ہے"۔ ("الصارم المسلول" ص ۲۰۰، اردو ترجمہ)
گیارہویں حدیث۔۔ حارث بن طلاطلا کا قتل:
"یہ بھی حضور علیہ السلام کو ایذا دینے والوں میں سے تھا۔ فتح مکہ کے دن سیدنا علی المرتضیٰ کرم اللہ وجہہ نے اس پر قابو پا کر قتل کیا"۔ ("توہین رسالت کی سزا قتل" از حاجی نواب الدین گولڑوی، ص ۸، بحوالہ "مدارج النبوت" جلد ۲، ص ۵۰۱)
بارہویں حدیث۔۔ واقعہ ابن ابی سرح:
علامہ ابن تیمیہؒ لکھتے ہیں:
"اس واقعہ کی صحت پر اہل علم کا اتفاق ہے۔ یہ واقعہ ان کے یہاں اس قدر مشہور ہے کہ آثار کے روایت کرنے سے بے نیاز ہے۔ یہ واقعہ ایک ثقہ عادل راوی کی روایت ہے۔ اثبت و اقویٰ ہے۔ ہم اس واقعہ کو پورے شرح و بسط کے ساتھ ذکر کرتے ہیں تاکہ اس سے وجہ دلالت واضح ہو جائے۔
مصعب بن سعد، حضرت سعد بن ابی وقاصؓ سے روایت کرتے ہیں کہ فتح مکہ کے دن عبداللہ بن سعد بن ابی سرح حضرت عثمانؓ بن عفان کے پاس چھپ گیا۔ حضرت عثمانؓ نے اسے لا کر رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس کھڑا کر دیا اور کہا: یا رسول اللہ ! عبداللہ کو بیعت کیجئے۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے نظر اٹھا کر اسے تین مرتبہ دیکھا۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہر بار بیعت کرنے سے انکار کرتے رہے۔ پھر تیسری مرتبہ کے بعد اس کو بیعت کر لیا۔ پھر صحابہ کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: کیا تم میں کوئی دانا آدمی نہ تھا، جو اس کی طرف اٹھ کر اسے قتل کر دیتا۔ جب تم نے دیکھا تھا کہ میں نے اس کو بیعت کرنے سے اپنا ہاتھ روک دیا تھا۔ صحابہؓ نے عرض کی، یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم، ہمیں کیا معلوم تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے جی میں کیا بات ہے؟
آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنی آنکھ سے اشارہ کیوں نہ کر دیا۔ فرمایا: نبی کو زیب نہیں دیتا کہ اس کی خیانت کرنے والی آنکھ ہو۔ اس کو ابو داؤد نے ،سند صحیح روایت کیا ہے۔
نسائی نے اس کو زیادہ تفصیل کے ساتھ حضرت سعدؓ سے روایت کیا ہے۔ کہا کہ فتح مکہ کے دن چار آدمیوں کے سوا باقی سب کو امن دے دیا گیا۔ فرمایا ان چار آدمیوں کو قتل کر دو۔ اگرچہ کعبہ کے پردے کے ساتھ لٹکے ہوئے ہوں۔ وہ آدمی یہ تھے:
- (۱) عکرمہ بن ابی جہل
- (۲) عبداللہ بن خطل
- (۳) مقیس بن صبابہ
- (۴) عبداللہ بن سعد بن ابی سرح
ان میں سے عبداللہ بن خطل کعبہ کے پردوں کے ساتھ لٹکا ہوا تھا کہ اسے پکڑ لیا گیا۔ سعید بن حارث اور عمار بن یاسر اس کی طرف بھاگے۔ سعید زیادہ جوان تھے۔ انہوں نے عمار سے آگے بڑھ کر اسے قتل کر دیا۔ مقیس کو لوگوں نے بازار میں پکڑ کر قتل کر دیا۔ باقی رہا عکرمہ تو وہ بحری جہاز میں سوار ہوا اور جہاز آندھی کی زد میں آگیا۔ جہاز والوں نے کہا: توحید کے قائل ہو جاؤ‘ اس لیے کہ تمہارے بت تمہارے کسی کام نہیں آئے۔ عکرمہ نے کہا: بخدا! اگر سمندر میں ایک خدا نجات دیتا ہے تو خشکی میں بھی اس کے سوا کوئی نجات نہیں دے سکتا۔ اے اللہ ! میں تیرے حضور عہد کرتا ہوں اگر تو نے مجھے اس مصیبت سے نجات دی تو میں محمد (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کے پاس جاکر اپنا ہاتھ ان کے ہاتھ میں دے دوں گا اور میں انہیں معاف کرنے والا اور سخی پاؤں گا۔ چنانچہ عکرمہ آیا اور اسلام قبول کیا۔ باقی رہا عبداللہ بن سعد بن سرح‘ تو وہ حضرت عثمانؓ کے یہاں چھپ گیا۔ جب رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے لوگوں کو دعوت بیعت دی تو حضرت عثمانؓ نے اسے لا کر رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس کھڑا کر دیا۔ پھر ابو داؤد کی طرح حدیث کا باقی حصہ ذکر کیا“۔ (”الصارم المسلول“ ص ۱۶۳-۱۶۵‘ اردو ترجمہ)
”واقدی نے اپنے شیوخ سے ذکر کیا ہے کہ عبداللہ بن سعد بن ابی سرح
رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے لیے وحی لکھا کرتے تھے۔ بعض اوقات رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اسے لکھواتے سمیع علیم اور وہ علیم حکیم لکھتا۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اسے پڑھتے تو فرماتے‘ اللہ نے اسی طرح فرمایا ہے؟ اس سے وہ شخص فتنے میں مبتلا ہو گیا اور کہنے لگا ”محمد (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) جو کچھ کہتے ہیں وہ سمجھتے نہیں‘ میں جو چاہتا ہوں‘ انہیں لکھ دیتا ہوں۔ میں جو کچھ لکھتا ہوں‘ وہ میری طرف وحی کے ذریعے آتا ہے جیسے محمد (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) پر وحی آتی ہے۔ چنانچہ وہ مرتد ہو کر مکہ بھاگ گیا۔ فتح مکہ کے روز رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس کے خون کو ہدر قرار دے دیا۔ اس روز ابن ابی سرح حضرت عثمانؓ کے پاس آیا۔ وہ ان کا رضاعی بھائی تھا۔ کہنے لگا اے بھائی! میں آپ کی پناہ میں آتا ہوں۔ مجھے یہاں روک لیجئے اور آپ محمد (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کے پاس جائیے اور میرے بارے میں بات کیجئے۔ اگر محمد (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) نے مجھے دیکھ لیا تو وہ میرا سر کاٹ دے گا جس میں میری دو آنکھیں ہیں۔ میں نے بہت بڑے جرم کا ارتکاب کیا ہے اور میں تائب ہو کر آیا ہوں۔
حضرت عثمانؓ نے کہا تم میرے ساتھ چلو۔ عبداللہ نے کہا بخدا‘ اگر اس نے مجھے دیکھ لیا تو وہ میری گردن اڑا دے گا اور مجھے مہلت نہ دے گا کیونکہ اس نے میرے خون کو ہدر قرار دیا ہے اور اس کے صحابہ مجھے ہر جگہ تلاش کر رہے ہیں۔ حضرت عثمانؓ نے کہا تم میرے ساتھ چلو‘ انشاء اللہ تجھے قتل نہیں کریں گے۔
رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم یہ دیکھ کر گھبرا گئے کہ عثمان‘ عبداللہ کا ہاتھ پکڑے آ رہے ہیں اور آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سامنے آکر ٹھہر گئے ہیں۔ حضرت عثمانؓ نے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی طرف متوجہ ہو کر کہا‘ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم! اس کی ماں مجھے اٹھا لیا کرتی تھی اور اسے چلنے پر مجبور کرتی۔ مجھے دودھ پلاتی اور اس کا دودھ چھڑا دیتی لہٰذا اسے مجھے بخش دیجئے۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے منہ موڑ لیا۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جدھر کو منہ موڑتے‘ حضرت عثمانؓ اسی طرف آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سامنے آ جاتے اور اس کلام کو دہراتے۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے منہ موڑنے کی وجہ یہ تھی کہ کوئی آدمی اٹھ کر اس کی گردن اڑا دے کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسے امان نہیں دی تھی۔ جب آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے دیکھا
کہ کوئی کھڑا نہیں ہو رہا‘ حضرت عثمانؓ سرنگوں ہو کر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا سر مبارک چوم رہے تھے اور کہہ رہے تھے کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اس کو بیعت کر لیجئے کہ میرے ماں باپ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر فدا ہوں۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا ”بہت اچھا“۔ پھر صحابہ کی طرف متوجہ ہو کر کہا‘ تمہارے لیے کیا چیز مانع تھی کہ تم میں سے ایک‘ اس کتے یا یہ فرمایا اس فاسق کی طرف کھڑا ہوتا اور اسے قتل کر ڈالتا۔
عباد بن بشر نے کہا‘ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھے اشارہ کیوں نہ کیا؟ مجھے اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے‘ میں ہر طرف سے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی نگاہ کو دیکھ رہا تھا۔ بدیں امید کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مجھے اشارہ کریں گے اور میں اس کی گردن اڑا دوں گا اور کہا جاتا ہے کہ یہ بات ابو الیسر نے کہی تھی اور بعض کہتے ہیں کہ حضرت عمرؓ نے کہی تھی۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا‘ میں کسی کے قتل کے لیے اشارہ نہیں کرتا۔ بعض لوگ کہتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا‘ نبی کی خیانت کرنے والی آنکھ نہیں ہوتی“۔ ("الصارم
المسلول" ص ۱۶۸-۱۶۹)
آپ ﷺ کی خدمت اقدس میں حاضر ہونے سے اس کے سابقہ گناہ
ساقط ہو گئے:
چنانچہ علامہ ابن تیمیہؒ لکھتے ہیں:
”رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسے بیعت کر لیا۔ اس کے بعد جب بھی آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو دیکھتا تو بھاگنے لگتا۔ حضرت عثمانؓ نے رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے کہا‘ میرے ماں باپ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر قربان ہوں‘ عبداللہ جب بھی آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو دیکھتا ہے‘ بھاگ جاتا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم یہ سن کر مسکرا دیئے اور فرمایا‘ کیا میں نے اس کو بیعت نہیں کیا اور اسے امان نہیں دی؟ حضرت عثمانؓ نے کہا‘ کیوں نہیں یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم‘ مگر اسے اپنا جرم یاد آتا ہے جو اسلام لا کر اس نے کیا تھا۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا‘ اسلام سابقہ گناہوں کو ساقط کر دیتا ہے۔ حضرت عثمانؓ ‘ ابن ابی سرح کی
طرف لوٹے اور اسے بتایا۔ چنانچہ وہ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس آتا اور لوگوں کے ہمراہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو سلام کہتا"۔
("الصارم المسلول" ص ۱۷۰)
ابن ابی سرح کے واقعہ سے انداز استدلال :
”اس واقعہ میں وجہ دلالت یہ ہے کہ عبداللہ نے رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر جھوٹ باندھا تھا کہ وہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی وحی کی تکمیل کرتا ہے اور جو چاہتا ہے‘ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو لکھ کر دیتا ہے اور آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اس پر صاد فرما دیتے ہیں۔ بزعم اس کے وہ جدھر چاہتا‘ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو پھیر دیتا۔ جس وحی کا آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو علم دیا جاتا‘ اسے تبدیل کر دیتا اور آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اس کی تائید فرماتے اور وہ اسی طرح رہتی جیسے اسے اللہ نے نازل کیا ہو۔ وہ اس زعم باطل میں مبتلا تھا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی طرح اس پر بھی وحی کی جاتی ہے۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور کتاب اللہ پر اس طعن و افترا پردازی کا نتیجہ یہ ہو سکتا ہے کہ نبوت و رسالت مشکوک ہو کر رہ جائے اور یہ کفر و ارتداد سے بڑا گناہ اور گالی کی ایک قسم ہے"۔ ("الصارم المسلول" ص ۱۷۰)
حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو جانا ہی ابن ابی سرح کی توبہ قرار پا گئی‘ اس لیے کہ حق تعالیٰ شانہ کا ارشاد ہے کہ
وما ارسلنا من رسول الا ليطاع باذن الله ولو انهم اذ ظلموا انفسهم جاءوک فاستغفروا الله واستغفر لهم الرسول لوجدوا الله توابا رحيماO (سورۃ النساء‘ آیت ۶۴)
ترجمہ : ”اور ہم نے کوئی رسول نہیں بھیجا مگر محض اس لیے کہ اللہ کے حکم سے اس کی اطاعت کی جائے اور یہ لوگ جس وقت اپنی جانوں پر ظلم کرتے ہیں‘ آپ (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کے پاس آئیں‘ پس بخشش مانگیں اللہ سے اور بخشش مانگیں واسطے ان کے رسول (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) البتہ پائیں گے اللہ کو توبہ قبول کرنے والا مہربان"۔
جیسا کہ گزشتہ باب میں ذکر ہو چکا ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنے کسی
گستاخ کو اس وقت تک معاف نہیں فرمایا جب تک کہ وہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی خدمت اقدس میں حاضر ہو کر معافی نہ چاہے۔ اب چونکہ کسی کا حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر معافی چاہنے کا تصور قائم نہیں رہا‘ اس لیے صاف ظاہر ہے کہ اب معافی کی گنجائش بھی نہیں رہی اور پھر عبداللہ بن ابی سرح کا حاضر ہو جانا اور حضرت عثمان بن عفانؓ جیسے جلیل القدر صحابی کی سفارش کے باوجود حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا منشاء یہی تھا کہ گستاخ رسول صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم قتل کیا جاتا۔ لہٰذا امت پر اب فرض ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے منشاء کا احترام کرے کہ اسی میں احیاء اسلام کی صورت ہے۔ بصورت دیگر نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی مخالفت لازم آتی ہے جو بذات خود کفر ہے۔
تیرہویں حدیث۔۔ حضور ﷺ کی شان اقدس میں ہجویہ اشعار گانے
والی کا قتل:
فتح مکہ کے موقع پر آنحضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے جن مردوں اور عورتوں کے قتل کو مباح الدم قرار دیا تھا‘ ان میں یہ دونوں گلوکارائیں بھی شامل تھیں۔ ان میں سے ایک کو قتل کر دیا گیا تھا جبکہ دوسری امان حاصل کر کے حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے دین پر آگئی تھی۔ چنانچہ شیخ عبدالحق محدث دہلویؒ لکھتے ہیں:
”قریبہ اور ارنب‘ یہ دونوں باندیاں ابن خطل کی گانے والیاں تھیں جو حضور علیہ السلام کی ہجو گایا کرتی تھیں‘ قتل کر دی گئیں۔ اس کی ایک باندی قرتنا (یا فرتنی) بھاگ گئی۔ لوگوں نے اس کے لیے حضور علیہ السلام سے امان مانگی۔ سید عالم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے اسے امان دی۔ پھر وہ آئی اور مسلمان ہو گئی“۔
(”مدارج النبوت“ جلد ۲‘ ص ۵۰۶)
اس روایت کی صحت پر علامہ ابن تیمیہؒ اظہار خیال کرتے ہیں:
”دو گلوکار لونڈیوں کے بارے میں علماء سیرت کے یہاں اتفاق پایا جاتا ہے۔ اس واقعہ کو اس قدر شہرت نصیب ہوئی کہ اخبار آحاد کی ضرورت باقی نہ رہی۔ بنی ہاشم کی لونڈی کا تذکرہ عام اہل مغازی اور بڑے باخبر اہل علم نے کیا ہے“۔
(”الصارم المسلول“ اردو ترجمہ‘ ص ۱۸۵)
گلو کاراؤں کا جرم:
”ابن خطل ہجویہ اشعار کہتا اور ان کو گانے کا حکم دیتا۔ اس کے اور اس کی لونڈیوں کے پاس لوگ آتے‘ شراب پیتے اور یہ انہیں ہجویہ اشعار گا کر سناتیں“۔ (”الصارم المسلول“ اردو ترجمہ‘ ص ۱۸۴)
علامہ ابن تیمیہؒ آگے لکھتے ہیں:
”واضح رہے کہ قبل ازیں جن عورتوں کا ذکر کیا گیا ہے‘ رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو گالی دینے کی وجہ سے ان کو قتل کیا گیا“۔ (”الصارم المسلول“ ص ۱۹۱‘ اردو ترجمہ)
صحیحین میں حضرت عبداللہ بن عمرؓ سے مروی ہے کہ کسی لڑائی میں ایک عورت کی لاش ملی تو رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے عورتوں اور بچوں کو قتل کرنے سے منع فرمایا۔ ابوداؤد شریف میں ہے کہ کسی جنگ میں عورت کی لاش ملی۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس کے قتل کو ناپسند فرمایا اور کہا کہ یہ جنگ تو نہیں کرتی تھی۔ پھر ایک شخص سے کہا ”خالد کو مل کر کہو کہ مزدور اور بچے کو قتل نہ کرے“۔
علامہ ابن تیمیہؒ لکھتے ہیں:
”محض کفر اصلی کی وجہ سے عورت کو دانستہ قتل کرنا اجماعاً جائز نہیں۔ یہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی مشہور سنت ہے“۔ (”الصارم المسلول“ ص ۱۸۵‘ اردو ترجمہ)
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ فتح مکہ کے موقع پر یا اس سے پہلے یا بعد میں جن عورتوں کے قتل کا حکم دیا گیا‘ بسبب حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو ایذا دینے کے‘ کیا ان کا کفر عام کفر سے بڑھ کر تھا؟
بدر کے قیدیوں میں سے عقبہ بن ابی معیط اور النضر بن حارث سے امتیازی سلوک (قتل) کیونکر تھا؟
جواب اس کا یہ ہے کہ جیسے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی ذات اقدس کا ادب اصل الایمان ہے‘ اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی گستاخی اور ایذا رسانی کفر کی جڑ ہے۔ عام کفار اگر محاربہ نہ کریں تو انہیں ایک عہد کے تحت امان دی جاسکتی ہے مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم پر طعن کرنا محاربہ سے شدید تر ہے۔ محاربہ میں متاع ایمان پر حملہ ہوتا ہے‘ جبکہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم پر طعن اصل الایمان پر حملہ ہے۔ محارب کا ایک
جرم درخت کے پھل کا توڑنا اور دوسرا جرم درخت کی جڑ پہ کلہاڑی چلانا ہے۔ ہر دو جرائم اپنی نوعیت میں جدا ہیں۔ ایسے ہی ان کی سزا کی نوعیت میں بھی جدت اور شدت ہو گی۔ اگر عقبہ بن ابی معیط اور النضر بن الحارث دیگر بدری قیدیوں کی طرح محض کافر ہوتے اور ارنب اور قریبہ دوسری کافرہ عورتوں کی مانند ہی ہوتیں تو یقیناً ان سے بھی وہی سلوک کیا جاتا جو باقی ماندہ کفار سے روا رکھا گیا تھا۔ مگر ان بدبختوں نے اپنے کفر کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی رداء حرمت سے الجھا کر اپنی بدبختی کا سامان پیدا کیا۔
چودھویں حدیث ۔۔ جناب خالد اور شاتم رسول ﷺ :
”ایک اور شخص بھی حضور علیہ السلام کی شان میں گستاخی کا ارتکاب کرتا تھا۔ حضور علیہ السلام نے صحابہؓ سے ارشاد فرمایا ’کون ہے جو اس دریدہ دہن گستاخ کو کیفر کردار کو پہنچائے۔ چنانچہ اس کام کے لیے جناب خالد نے اپنی خدمات پیش کیں اور اس دریدہ دہن کا کام تمام کر دیا“۔ (”کتاب الشفا“ جلد ۲، ص ۳۸۴ از قاضی عیاضؒ اردو ترجمہ مولانا محمد اطہر نعیمی کراچی)
پندرہویں حدیث ۔۔ جناب زبیر اور ایک شاتم رسول ﷺ :
”جناب عبدالرزاق نے ذکر کیا ہے کہ ایک شخص نے سرور عالم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی بارگاہ میں گستاخی کی۔ حضور علیہ السلام نے اس کی حرکت پر فرمایا ’ کون غیور ہے جو اس دریدہ دہن گستاخ کو اس حرکت کا مزہ چکھائے۔ جناب زبیر نے عرض کیا ’میری خدمات اس کام کے لیے حاضر ہیں اور اس مرد مجاہد نے اس گستاخ کو گستاخی کی سزا دی“۔ (”کتاب الشفا“ جلد ۲، ص ۳۸۵، اردو ترجمہ)
سولہویں حدیث ۔۔ سیف اللہ اور ایک دشمن رسول ﷺ :
”انہیں واقعات میں سے ایک عورت کا واقعہ مشہور ہے کہ وہ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو گالیاں دیا کرتی تھی۔ حضور علیہ السلام نے فرمایا ’کون ہے جو مجھے اس اذیت سے بچائے۔ جناب خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کی غیرت جوش میں آئی اور اس خبیثہ کو قتل کر دیا“۔ (”الصارم المسلول“ ص ۱۹۱) (”کتاب الشفا“ جلد ۲، ص ۳۸۵، اردو ترجمہ)
سترہویں حدیث۔۔ ایک اور بد تمیز کا قتل :
قاضی عیاضؒ لکھتے ہیں: ”ایک اور بد تمیز کے قتل کے لیے سرور عالم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے جناب علی و زبیر رضی اللہ عنہم کو مقرر فرمایا۔ ان حضرات نے جا کر اس کو قتل کیا“۔ (”کتاب الشفا“ جلد ۲‘ ص ۳۸۵‘ اردو ترجمہ)
مصنف عبدالرزاقؒ نے اسے یوں نقل کیا ہے: ”سعید بن جبیرؓ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے جھوٹ منسوب کیا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کی طرف۔ پس آپ (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) نے حضرت علیؓ اور حضرت زبیرؓ کو بھیجا اور فرمایا کہ تم دونوں جاؤ۔ پس اگر تم پاؤ تو اس کو قتل کر دو“۔ (مصنف عبدالرزاق‘ جلد ۵‘ ص ۳۰۸)
اس واقعہ کی مزید تفصیل:
”عبداللہ ابن الحارثؓ سے مروی ہے کہ جدجد جندمی یمن آئے۔ پس اسے عشق ہو گیا ان کی ایک عورت سے۔ پس اس نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تمہیں حکم دیتے ہیں کہ تم اپنی نوجوان عورت کو میرے حوالے کر دو‘ پس انہوں نے کہا کہ ہم نے عہد کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ اور وہ حرام کرتے ہیں زنا کو۔ پھر انہوں نے بھیجا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی طرف ایک شخص کو۔ پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے بھیجا حضرت علیؓ کو اور فرمایا کہ تم جاؤ پس اگر پاؤ اسے زندہ تو قتل کر دو اور اگر تم اسے مردہ پاؤ تو اسے آگ کے ذریعے جلا ڈالو“۔ (”خصائص الکبریٰ“ جلد ۲‘ ص ۷۸)
علامہ ابن تیمیہؒ اس واقعہ کو نقل کرنے کے بعد آگے لکھتے ہیں: ”جب وہ شخص (حضرت علیؓ) وہاں پہنچا تو اس نے دیکھا کہ وہ سانپ کے ڈسنے سے مر چکا تھا۔ چنانچہ اس نے اسے آگ میں جلا دیا۔ تب رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جس نے مجھ پر دانستہ جھوٹ بولا‘ وہ اپنا گھر دوزخ میں تلاش کرے“۔ (”الصارم المسلول“ ص ۲۳۱‘ اردو ترجمہ)
مزید لکھتے ہیں: ”وہ شخص مردہ پایا گیا۔ اس کا پیٹ چاک کیا گیا تھا اور اسے زمین نے قبول نہیں کیا تھا“۔ (”الصارم المسلول“ ص ۲۳۳‘ اردو ترجمہ)
علامہ ابن تیمیہؒ اس حدیث کی صحت کے بارے میں لکھتے ہیں: ”اس حدیث کی سند صحیح اور شروط الصحیح کے مطابق ہے۔ ہمارے نزدیک اس میں کوئی علت نہیں“۔ (”الصارم المسلول“ ص ۲۳۲‘ اردو ترجمہ)
اٹھارویں حدیث۔۔ ایک شخص نے اپنے گستاخ باپ کو قتل کیا:
”ایک شخص نے بارگاہ نبوی (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) میں حاضر ہو کر عرض کیا کہ میرا باپ آپ (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کی ذات اقدس کی بابت بری بری باتیں کہتا تھا۔ میری غیرت و حمیت نے اس کو گوارا نہ کیا اور میں نے اس کو قتل کر دیا۔ اس کی یہ بات سن کر حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ناگواری کا اظہار نہ فرمایا“۔ (”کتاب الشفاء“ جلد ۲‘ ص ۳۸۵‘ اردو ترجمہ)
انیسویں حدیث۔۔ ابن خطل کا قتل:
”حضرت انس بن مالک سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم فتح مکہ کے دن مکہ میں داخل ہوئے‘ اس حال میں کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سر اقدس پر خود (لوہے کی ٹوپی‘ جو جنگ میں پہنتے ہیں) تھا۔ پس آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے خود اتارا تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت اقدس میں ایک آدمی آیا اور خبر دی کہ ابن خطل کعبہ کے پردوں سے چمٹا ہوا ہے‘ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حکم دیا کہ اسے قتل کر دو“۔ (”صحیح بخاری“ جلد ۲‘ ص ۶۱۴‘ صحیح مسلم)
ابن خطل کے جرائم:
”اور عبداللہ ابن خطل کے قتل کا حکم اس لیے دیا تھا کہ وہ مسلمان تھا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اسے صدقہ کی وصولی کے لیے روانہ کیا تھا اور ایک انصاری مسلمان کو خادم کے طور پر اس کے ساتھ کر دیا تھا۔ جب ایک
مقام پر انہوں نے پڑاؤ ڈالا تو ابن خطل نے اپنے خادم کو حکم دیا کہ وہ ایک بکرا ذبح کرے اور کھانا بنائے۔ جب ابن خطل جاگا تو خادم نے کچھ بھی نہ کیا تھا۔ تو وہ اس پر چڑھ دوڑا اور اسے قتل کر دیا۔ پھر مشرک ہو کر مرتد ہو گیا۔ اس کی ایک باندی تھی جس کی ایک سہیلی (بھی) تھی۔ دونوں رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ہجو پر مشتمل گانے گاتی تھیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ابن خطل کے ساتھ ان دونوں کے قتل کا حکم بھی فرمایا“۔ (”السنن کبریٰ“ جلد ۸‘ ص ۲۰۵)
علامہ ابن تیمیہؒ واقدی کے حوالہ سے رقم طراز ہیں: ”واقدی نے ذکر کیا کہ ابن خطل مکہ کی بالائی جانب سے آیا۔ وہ لوہے میں ڈوبا ہوا تھا۔ پھر نکل کر ”خندمہ“ کے پہاڑ کے قریب آیا تو اس نے مسلمانوں کا لشکر دیکھا اور سمجھا کہ لڑائی ہونے والی ہے۔ وہ اس قدر مرعوب ہوا کہ اس پر کپکپی طاری تھی۔ یہاں تک کہ کعبہ پہنچا۔ اپنے گھوڑے سے اترا اور ہتھیار پھینک دیئے اور بیت اللہ میں آ کر اس کے پردوں میں داخل ہو گیا“۔ (”الصارم المسلول“ ص ۱۹۲‘ اردو ترجمہ)
علامہ ابن تیمیہؒ لکھتے ہیں: ”اس طرح اس کے (ابن خطل) تین جرائم تھے، جس سے کسی کا خون مباح ہو جاتا ہے۔ (۱) قتل نفس (۲) ارتداد (۳) ہجو گوئی“۔ (”الصارم المسلول“ ص ۱۹۲‘ اردو ترجمہ)
ابن خطل نے ان تین بڑے جرائم میں سے کس کی سزا پائی؟
ابن تیمیہؒ اس کی وضاحت فرماتے ہیں: ”اس کو قتل نفس کی وجہ سے نہیں مارا گیا تھا، اس لیے کہ جو شخص کسی کو قتل کر کے مرتد ہو جائے، اس کی زیادہ سے زیادہ سزا یہ ہے کہ اسے قصاص میں قتل کیا جائے۔ خزاعہ قبیلے میں سے جس شخص کو قتل کیا گیا، اس کے اولیاء بھی تھے۔ اگر اسے قصاص میں قتل کرنا ہوتا تو اسے مقتول کے اولیاء کی تحویل میں دے دینا چاہیے یا تو وہ اسے قتل کر دیں گے یا معاف کر دیں گے یا دیت قبول کر لیں گے۔
اسے محض ارتداد کی وجہ سے بھی قتل نہیں کیا گیا، اس لیے کہ مرتد سے توبہ کرنے کا مطالبہ کیا جاتا ہے۔ اگر وہ مہلت طلب کرے تو اسے مہلت دی جاتی ہے
اور ابن خطل تو بیت اللہ میں امان لینے آیا تھا۔ اس نے جنگ کو ترک کر دیا تھا اور اسلحہ پھینک دیا تھا۔ یہاں تک کہ اس کے معاملہ میں (صحابہ نے) غور کیا۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو پتہ چلا تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس کے قتل کا حکم دیا۔ جس کو محض ارتداد کی وجہ سے قتل کیا جائے، اس کے ساتھ یہ برتاؤ نہیں کیا جاتا۔ پس ثابت ہوا کہ اس کے قتل میں یہ سختی گالی گلوچ اور ہجو گوئی کی وجہ سے تھی"۔ ("الصارم المسلول" ص ۱۹۲-۱۹۳، اردو ترجمہ)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی ہجو کے جرم کی شدت کا اندازہ مذکورہ بالا الفاظ سے ہو جانا ناگزیر ہے اور پھر اس پر طرہ یہ بھی کہ وہ مقام جہاں قتل و غارت گری منع تھی، وہ بیت اللہ جو امن کا گہوارہ ہے، وہاں اس موذی کے قتل کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے امن کے اصول بھی معطل فرما دیے۔
”حضرت سائب بن یزید فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو دیکھا کہ قتل کیا (یعنی آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے حکم پر) عبداللہ بن خطل کو فتح مکہ کے روز اور اس کو نکالا گیا کعبہ کے پردوں کے نیچے سے۔ پس ماری گئی اس کی گردن زمزم اور مقام (مقام ابراہیم) کے درمیان۔ پھر فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس کے بعد کسی قریشی کو کھڑا کر کے قتل نہیں کیا جائے گا"۔ ("فتح الباری" جلد ۸، ص ۱۳ "عمدۃ القاری" جلد ۸، ص ۴۴۷ "ارشاد الساری" جلد ۶، ص ۳۹۲) ("کنز العمال" جلد ۱۰، ص ۵۰۲-۵۰۳)
ابن خطل کو قتل کرنے کی سعادت کسے نصیب ہوئی؟:
”سعید بن حریث یا بروایت ابو عثمان نہدی ابن ابی شیبہ سے نقل ہے کہ اسے ابو برزہ رضی اللہ عنہ نے قتل کیا"۔ ("مدارج النبوت" ص ۴۹۴ "تاریخ طبری" ص ۴۹۹، مطبع نفیس اکادمی کراچی)
ابن خطل کے قتل کے بعد کعبہ کی حرمت لوٹ آئی:
”اور میں کہتا ہوں کہ بے شک ابن خطل کا قتل اس گھڑی میں ہوا جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حرم مکہ میں قتال حلال کیا تھا اور تحقیق
تصریح کی گئی ہے کہ اس کی حرمت لوٹ آئی تھی جیسے کہ پہلے تھی...... اور تحقیق وہ گھڑی فتح مکہ کے دن صبح سے عصر تک تھی“۔ (”عمدۃ القاری“ جلد ۹‘ ص ۲۸۲)
علامہ ابن تیمیہ ابن خطل کے قتل پر اپنی رائے دیتے ہیں: ”ابن خطل کے واقعہ سے فقہاء کی ایک جماعت نے اس بات پر استدلال کیا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو گالیاں دینے والا مسلمان بھی ہو تو اسے حداً قتل کیا جائے گا۔ اس پر اعتراض یہ کیا گیا ہے کہ ابن خطل حربی تھا‘ اس لیے قتل کیا گیا۔
مگر صحیح بات یہ ہے کہ وہ بلاشبہ علمائے سیرت کے نزدیک مرتد تھا‘ اس لیے توبہ کا مطالبہ کیے بغیر اس کو قتل کرنا ضروری تھا۔ حالانکہ وہ اطاعت شعار تھا۔ قیدی کی طرح اس نے صلح کو قبول کر لیا تھا۔ پس معلوم ہوا کہ جو شخص مرتد ہو اور گالی دے تو توبہ کا مطالبہ کیے بغیر اسے قتل کیا جائے گا مگر مرتد محض کا معاملہ اس کے برعکس ہے۔
اس کے موید یہ بات ہے کہ فتح مکہ والے سال رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے تمام محاربین کو امان دے دی تھی۔ ماسوا چند آدمیوں کے جو خصوصی مجرم تھے اور رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے صرف انہی کے خون کو ہدر قرار دیا تھا‘ کسی اور کے خون کو نہیں۔ پس معلوم ہوا اسے صرف کفر اور جنگ کی وجہ سے قتل نہیں کیا گیا تھا۔ (بلکہ ہجو گوئی کی وجہ سے قتل کیا گیا)۔۔ (”الصارم المسلول“ ص ۱۹۳‘ اردو ترجمہ از غلام احمد حریری)
بیسویں حدیث ۔۔ مسلمان مباح الدم نہیں مگر تین وجوہات کے سبب:
”حضرت عبداللہ ابن مسعودؓ سے مروی ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ کلمہ پڑھنے والا کوئی شخص قتل نہیں کیا جاسکتا اور اس کا خون حلال نہیں سوائے تین معاملات کے۔ پہلا جان کے بدلے جان‘ دوسرے شادی شدہ مرد یا عورت زنا کریں تو رجم کی صورت میں اور تیسرا وہ شخص جو اپنے دین کو چھوڑتا ہے (یعنی مرتد)“۔ (”صحیح بخاری کتاب الدیات“ جلد ۶‘ ص ۲۵۲۱‘ حدیث نمبر ۶۸۷۸‘ ”سنن ابی داؤد کتاب الحدود“ جلد ۴‘ ص ۱۲۶‘ حدیث نمبر
اکیسویں حدیث ۔۔ اس حدیث کے موید ایک اور حدیث:
”سیدہ عائشہؓ سے روایت ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا، کسی مسلمان کا خون حلال نہیں سوائے اس کے کہ کوئی شادی کرنے کے بعد بدکاری کا ارتکاب کرے اور مسلمان ہونے کے بعد کفر کرے“۔ (”سنن نسائی“
جلد ۷، ص ۹۱)
واضح ہو کہ قرآن نے اسے کفر بعد اسلامہم سے تعبیر کیا ہے۔ یعنی جو شخص حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی بے ادبی اور گستاخی کا ارتکاب کرتا ہے، وہ اسلام سے خارج قرار دیا گیا ہے اور مذکورہ احادیث میں ایسے شخص کو واجب القتل قرار دیا گیا ہے۔
بائیسویں حدیث ۔۔ شیعہ روایات میں بھی گستاخ رسول ﷺ کی سزا
قتل ہے:
”محمد بن مسلم، امام محمد باقر علیہ السلام سے روایت کرتے ہیں کہ ھذیل میں کا ایک شخص جناب رسالت ماب صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو گالیاں دیا کرتا تھا۔ (معاذ اللہ) جب اس کی خبر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تک پہنچی تو فرمایا، کون ہے اس کے لیے؟ تو انصار میں سے دو صحابیؓ کھڑے ہوگئے اور عرض کی، یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم یہ فرض ہم انجام دیں گے! چنانچہ وہ دونوں چل پڑے۔ یہاں تک کہ وہ ایک عرب کے پاس پہنچے اور اس ھذیل کے متعلق پوچھ گچھ کی، جبکہ وہ اپنی بھیڑوں کو چرانے میں مصروف تھا۔ اس نے دونوں (صحابہؓ) کو دیکھ کر پوچھا کہ تم کون ہو؟ اور تمہارا کیا نام ہے؟ ان دونوں صحابہؓ نے اس سے پوچھا کہ تو فلاں بن فلاں ہے؟ اس نے کہا ہاں۔ یہ سن کر دونوں صحابیؓ گھوڑے سے اتر پڑے اور اس کی گردن مار دی“۔ (”وسائل شیعہ“ جلد ۱۸،
ص ۴۶۰)
تیسویں حدیث:
شیعہ حضرات امام جعفر صادقؑ کا قول یوں نقل کرتے ہیں:
”امام جعفر صادق علیہ السلام نے فرمایا کہ میرے والد نے مجھے بتایا کہ حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ میرے متعلق سب لوگوں کی ذمے داری یکساں ہے۔ پس جو شخص بھی کسی سے میرا ذکر گالی سے کرتے سنے تو اس پر واجب ہے کہ اس گستاخ کو قتل کر دے، حاکم تک یہ مقدمہ لے جانے کی ضرورت نہیں ہے، تاہم اگر حاکم کے سامنے اس قسم کا مقدمہ پیش ہو تو اس پر فرض ہے کہ جس نے میرے باب میں زبان درازی کی ہو، اسے قتل کر دے“۔ (”وسائل شیعہ“ جلد ۱۸، ص ۴۵۹ ”تحریر الوسیلہ“ جلد ۲، ص ۶۰۶-۶۰۷)
چوبیسویں حدیث:۔۔ شیعہ عقیدہ ہے کہ جو نبی ﷺ کو گالی دے، اسے
قتل کیا جائے اور جو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو گالی دے، اسے درے لگائے
جائیں:
”امام رضا علیہ السلام نے روایت فرمائی ہے کہ انہوں نے اپنے آباء سے سنا کہ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ جو کسی نبی کو گالی دے، قتل کیا جائے گا اور جو نبی کے صحابہ کو گالی دے اسے کوڑے لگائے جائیں گے“۔ (بحوالہ ”خیر العمل“ لاہور، اپریل ۱۹۹۳ء، ص ۲۴) (”جامع الاخبار“ فصل ۱۲۵ ”وسائل شیعہ“ جلد ۱۸، ص ۴۶۰ ”کتاب الحدود آقائے شیرازی“)
پچیسویں حدیث:۔۔ گستاخ رسول ﷺ ”جن“ کو قتل کر دیا گیا:
”فاکہی نے اخبار مکہ میں عامر بن ربیعہؓ سے، ابو نعیم نے ابن عباسؓ سے اور دوسرے محدثین نے عبدالرحمن بن عوفؓ اور دیگر صحابہؓ سے روایت کی ہے کہ ایک مرتبہ مکہ کے پہاڑ ابو قبیس سے بلند آواز کے ساتھ چند اشعار اسلام کی برائی میں سنے گئے۔ یہ جن کی آواز تھی۔ اس میں یہ مضمون بھی تھا کہ مسلمانوں کو مار ڈالو۔ شہر سے بت پرستی مت چھوڑو۔ کفار بہت خوش ہوئے اور اترا کر کہنے لگے کہ غیب سے بھی تمہارے قتل کرنے اور شہر بدر کرنے کا حکم ہوتا ہے۔ مسلمانوں کو اس سے بڑا صدمہ ہوا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں یہ واقعہ بیان کیا تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ تم اطمینان رکھو۔ یہ
آواز "مسعر" نامی جن کی تھی، بہت جلد اللہ اس کو سزا دے گا۔ تیسرے دن آنحضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مسلمانوں کو خوشخبری دی کہ آج بہت بڑا جن "سمح" نامی میرے پاس آکر مسلمان ہوا اور میں نے اس کا نام عبداللہ رکھا۔ اس نے مجھ سے مسعر کو قتل کرنے کی اجازت چاہی اور میں نے اجازت دے دی۔ آج مسعر مارا جائے گا۔ مسلمان خوش ہو کر انتظار میں تھے۔ شام کے وقت اسی پہاڑ سے چند اشعار بلند آواز کے ساتھ سننے میں آئے، جن کا مضمون یہ تھا:
ہم نے مسعر کو اس وجہ سے قتل کر دیا ہے کہ اس نے سرکشی کی، حق کی توہین کی اور برائیوں کا راستہ بنایا اور رسول پاک صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی شان میں بے ادبی کی۔ میں نے ایک چمکتی ہوئی تیز تلوار سے اس کا کام تمام کر دیا ہے"۔
("معجزات رسول ﷺ" ص ۱۴۸-۱۴۹، "سبحان الہند" از مولانا احمد سعید
دہلوی)
علامہ ابن تیمیہؒ یہ حدیث اس اضافت کے ساتھ نقل کرتے ہیں: "حضرت علیؓ نے فرمایا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم، اللہ اسے (سمح جن کو) جزائے خیر دے"۔ ("الصارم المسلول" ص ۲۰۸، اردو ترجمہ)
چھبیسویں حدیث۔۔ مسیلمہ کذاب کو رسول ماننے والوں کے لیے حضور
ﷺ کا منشاء سزائے موت:
"ابو داؤد اور طیالسی میں بروایت ابو وائل عبداللہ سے مروی ہے کہ مسیلمہ کذاب کا خط ابن نواحہ اور ابن اثال لے کر آئے تھے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان دونوں آدمیوں سے فرمایا کہ تم لوگ اس بات کی گواہی دیتے ہو کہ میں اللہ کا رسول ہوں۔ انہوں نے اس کے جواب میں کہا کہ ہم مسیلمہ (کذاب) کے رسول ہونے کی گواہی دیتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے یہ سن کر ارشاد فرمایا کہ میں اس ذات کی قسم اٹھا کر کہتا ہوں کہ جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے، اگر میں قاصد کا قتل کرنا پسند کرتا تو میں ضرور تمہارے قتل کا حکم دیتا"۔ (ابو داؤد شریف، طیالسی)
"یہ واقعہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے حجۃ الوداع سے واپسی کے
بعد کا ہے۔ -(”تاریخ ابن خلدون“ جلد اول) اس واقعہ سے معلوم ہوا کہ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے بعد کسی اور کی نبوت کو تسلیم کرنے سے حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی تنقیص شان لازم آتی ہے اور اس کی سزا حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم قتل قرار دیتے ہیں۔ منکرین ختم نبوت کے وجوب قتل پر سیرت نبوی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی ایک جھلک ملاحظہ ہو۔
ستائیسویں حدیث۔۔ مدعی نبوت اسود عنسی کا قتل:
یمن میں عبہلہ نامی ایک شخص تھا جو اسود عنسی کے نام سے مشہور تھا۔ اس بدبخت نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی زندگی ہی میں نبوت کا دعویٰ کر رکھا تھا۔ محمد حسین ہیکل اپنی مایہ ناز تصنیف ”حضرت ابو بکر صدیق اکبر“ میں لکھتے ہیں:
”اغلب گمان ہے کہ اسود عنسی کا فتنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی زندگی کے آخری حصے میں برپا ہوا تھا۔“ (”حضرت ابو بکر صدیقؓ اکبر“ ص ۱۱۸ از
محمد حسین ہیکل)
محمد حسین ہیکل لکھتے ہیں:
”بالاخر دو شخصیتوں: قیس بن مکشوح المرادی اور فیروز دیلمیؓ نے اس کے گھر میں داخل ہو کر اسے قتل کر دیا۔ اس وقت وہ نشے کے عالم میں تھا۔“ (”حضرت
ابو بکر صدیقؓ اکبر“ از محمد حسین ہیکل‘ ص ۱۱۷)
اسود عنسی کے قتل کی اطلاع آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو حق تعالیٰ شانہ نے بذریعہ وحی کی۔
”طبری اور ابن اثیر کا بیان ہے کہ وہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی وفات سے پہلے ہی جہنم واصل ہو گیا تھا۔ جس رات اس کے قتل کا واقعہ ہوا‘ اسی رات اللہ نے بذریعہ وحی آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو اس واقعے کی اطلاع دے دی۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے صحابہؓ سے فرمایا: عنسی کو قتل کر دیا گیا۔ اسے ایک بابرکت آدمی نے قتل کیا جو خود بھی ایک بابرکت خاندان سے تعلق رکھتا ہے۔ لوگوں نے دریافت کیا: حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم‘ اس کا قاتل کون ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: فیروزؓ“۔ (”حضرت ابو بکر
صدیق ”اکبر“ ص ۱۲۵ از محمد حسین ہیکل)
ایک روایت خود فیروزؓ کی زبانی مروی ہے، جس میں وہ کہتے ہیں: ”جب ہم نے اسود کو قتل کیا تو وہاں کا نظام اسی طرح برقرار رکھا جس طرح اسود کے تسلط سے پہلے تھا۔ ہم نے پہلے معاذ بن جبل کو بلا بھیجا کہ وہ ہمیں نماز پڑھائیں اور دین کی تعلیم دیں۔ ہماری خوشی کی انتہا نہ تھی کیونکہ ہم نے اپنے بہت بڑے دشمن سے نجات حاصل کی تھی۔ یکایک رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خبر وفات پہنچی اور یمن میں دوبارہ اضطراب پیدا ہو گیا۔“ (”حضرت ابوبکر صدیق اکبر“ ص ۱۲۶ از محمد حسین ہیکل)
مذکورہ بالا روایت اس امر پر دلالت کرتی ہے کہ منکرین ختم نبوت کا قتل سنت نبوی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا تقاضا ہے اور معیار سنت نبوی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اس امر کو مقتضی ہے کہ یہ جہاد شان ختم نبوت کے شایان شان ہو کہ ادھر اسود عنسی یمن میں جہنم واصل ہوا، ادھر مدینہ طیبہ میں آن کی آن میں حق تعالیٰ شانہ نے بذریعہ وحی آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی تشفی فرمادی۔ یعنی آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی ظاہری حیات مبارکہ میں اتنی فرصت نہ تھی کہ حضرت فیروز دیلمیؓ مدینہ واپس آکر اطلاع دیتے۔ ابھی حضرت فیروز دیلمیؓ یمن ہی میں تھے کہ اللہ نے خصوصی انتظام فرما کر اسود عنسی کے قتل کی خوشخبری سنا دی۔
مسلمانو! مرزائیت کی زہرناکیوں پر گنبد خضراء میں دل مصطفےٰ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ایک صدی سے تڑپ رہا ہے۔ اے کاش کہ آج ہمارے سینوں میں فیروز دیلمیؓ کے دل کی دھڑکن ہوتی۔ آج امت مسلمہ کے وجود میں صدیقیؓ غیرت کا جوہر نہیں۔ سیف اللہؓ کی تلوار کی طرح مسلم حکومتوں کے ایٹمی پروگراموں میں کفر کی کاٹ نہیں۔ افسوس کہ آج ایک ارب تیس کروڑ مسلمانوں کے سروں پر حکومت کرنے والے حکمران اسلامی تاریخ سے گمراہ ہو کر فرنگی ڈگر پر چل نکلے ہیں اور یہ عصر حاضر کا المیہ ہے!
امت مسلمہ میں وہ جوہر، وہ عمل، وہ طاقت نہ سہی، بہرحال وہ تڑپ باقی ہے۔
ایک ارب تیس کروڑ مسلمانوں کے سینوں میں اسلام اور پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی محبت قرون اولیٰ کے مسلمانوں کی طرح آج بھی الحمدللہ جاگزیں ہے اور یہ صدائے بازگشت ہر سو اعلان کیے جارہی ہے ؎
اور مقتل کو سجاؤ کہ میں زندہ ہوں ابھی
مجھے ساحل سے پکارو کہ میں زندہ ہوں ابھی
ذات محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی گستاخی نہ رب محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو روا ہے اور نہ ہی امت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم برداشت کر سکتی ہے۔ اس سلسلے میں مستقل دو ابواب رب محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے حوالے سے ”خدائی فیصلے“ اور امت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے حوالے سے ”شہداء ناموس رسالت“ کے عنوان سے آگے آرہے ہیں جو اپنی نوعیت میں جلال و جمال اور جدال و نوال کا حسین امتزاج رکھتے ہیں۔
اٹھائیسویں حدیث۔۔
حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے آنے والے گستاخوں کی نشانیاں اور ان کے قتل کا حکم فرمایا۔
”حضرت ابو سعید خدریؓ سے مروی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس سونا آیا جو حضرت علیؓ نے یمن سے بھیجا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ایک موقع پر وہ تقسیم فرما رہے تھے۔ اس دوران ایک شخص اٹھا اور کہا: اے محمد (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم)۔ اللہ سے ڈریے (دوسری روایت ہے کہ یا رسول اللہ انصاف کیجئے)۔۔ (گویا طعن کی ایک خفیف سی صورت تھی) حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اے کم بخت‘ اگر میں انصاف نہ کروں گا تو اور کون انصاف کرسکتا ہے۔ اس پر حضرت عمرؓ (دوسری روایت کے مطابق حضرت خالد بن ولیدؓ) اٹھے اور اجازت طلب کی‘ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اگر اجازت ہو تو اس کی گردن اڑا دوں۔ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ اسے رہنے دو۔ (نفرت سے)۔۔ (دوسری روایت کے مطابق فرمایا) اسے دفع کرو۔ اور فرمایا اس کے کچھ ساتھی ایسے ہوں گے (دوسری روایت میں ہے کہ) اس کی پشت میں ایسے لوگ ہوں گے کہ تم ان کی نمازوں اور روزوں سے اپنی نمازوں اور روزوں کو حقیر جانو گے لیکن وہ لوگ دین سے اس طرح خارج ہوں گے جس طرح تیر نشانہ سے خارج ہوکر پار نکل جاتا ہے اور اگر میں انہیں پاؤں تو انہیں قوم عاد کی طرح قتل کروں گا“۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم)۔۔ (دونوں
روایات کو ملا کر باہم مفہوم لکھا گیا ہے)
نیز
”صحیح بخاری و مسلم شریف میں حضرت علیؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو فرماتے سنا کہ آخری زمانے میں ایک قوم نکلے گی جو نو عمر اور کم عقل ہو گی۔ وہ سید المخلوقات کے اقوال سنائیں گے۔ ان کا ایمان ان کے گلے سے نیچے نہ اترے گا۔ وہ اسلام سے اس طرح نکل جائیں گے جیسے تیر نشانے سے نکل جاتا ہے۔ تم جہاں کہیں بھی انہیں پاؤ تو ان کو قتل کر دو۔ ان کے قاتل کو روز قیامت اجر ملے گا“۔ (”الصارم المسلول“ ص ۲۳۶‘ اردو ترجمہ)
امام ابن تیمیہؒ نے امام نسائیؒ سے روایت کیا ہے کہ ”وہ ایک سیاہ فام اور منڈھے ہوئے بالوں والا آدمی تھا اور اس نے دو سفید کپڑے پہن رکھے تھے۔۔۔۔“۔۔ (”الصارم المسلول“ ص ۲۳۶‘ اردو ترجمہ)
علامہ ابن تیمیہؒ امام نسائیؒ کے حوالہ سے آگے لکھتے ہیں: ”ابو برزہؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا: وہ قرآن پڑھیں گے مگر ان کے گلے سے نیچے نہ اترے گا۔ وہ اسلام سے اس طرح نکل جائیں گے جیسے تیر نشانے سے نکل جاتا ہے۔ ان کی نشانی سر منڈانا ہو گی۔ وہ نکلتے رہیں گے یہاں تک کہ ان کا آخری آدمی دجال کے ساتھ ظہور پذیر ہو گا۔ جب تم انہیں ملو تو ان کو قتل کر دو۔ وہ بنی نوع انسان اور حیوانات سب سے بد تر ہوں گے“۔ (”الصارم المسلول“ ص ۲۳۶‘ اردو ترجمہ)
مزید نشانیاں:
”حضرت ابو ہریرہؓ سے مروی ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ارشاد فرمایا کہ یہ لوگ آخری زمانے میں نکلیں گے جو دغابازی سے دین کے کاموں کو اپنی دنیا طلب کرنے کا ذریعہ بنائیں گے اور لوگوں سے نرمی کے ساتھ پیش آئیں گے۔ بھیڑ کی کھالیں پہنیں گے اور ان کی زبانیں شکر سے زیادہ شیریں ہوں گی اور ان کے دل بھیڑیوں کی طرح ہوں گے“۔ (”ترمذی شریف“ فصل ۴۲)
ایک دوسری روایت میں ہے کہ وہ اہل ایمان کو کافر اور مشرک کا خطاب دیں گے۔
"امام ترمذی اور دیگر محدثین نے ابو امامہؓ سے روایت کیا ہے کہ اس نے کہا "سطح آسمان کے نیچے وہ بدترین مقتول ہیں اور جن کو انہوں نے قتل کیا‘ وہ بہترین مقتول ہے"۔ (یعنی گستاخ جب مقتول ہوئے تو بدترین ٹھہرے اور جو ان کے ہاتھوں شہید ہوا‘ بہترین قرار پایا)........ ابو امامہؓ نے بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا‘ وہ لوگ جو ایمان لانے کے بعد کافر ہو گئے‘ پھر یہ آیت تلاوت فرمائی
"مگر جن لوگوں کے دلوں میں کجی ہے‘ وہ متشابہات کی پیروی کرتے ہیں"۔ (آل عمران۔۷) اور کہا کہ "وہ ٹیڑھے چلے تو انہیں ٹیڑھا کر دیا گیا"۔ ("الصارم المسلول" ص۲۴۶-۲۴۷‘ اردو ترجمہ)
مندرجہ بالا روایات کو پڑھنے سے ان بدبختوں کی جو نشانیاں ملتی ہیں‘ وہ درج ذیل ہیں:
- (۱) ان کی نمازوں اور روزوں سے اپنی نمازوں اور روزوں کو حقیر جاننا۔
- (۲) اس کے باوجود دین سے خارج ہوں گے۔
- (۳) ان کا قتل روا ہے۔
- (۴) آخری زمانے میں نکلیں گے‘ نو عمر اور کم عقل ہوں گے۔
- (۵) سید المخلوقات کے اقوال سنائیں گے۔ قرآن ان کے حلق سے نیچے نہ اترے گا۔
- (۶) ان کو قتل کرنے والے کو روزِ قیامت اجر ملے گا۔
- (۷) سر منڈانا ان کی نشانی ہوگی۔
- (۸) وہ نکلتے رہیں گے یہاں تک کہ ان کا آخری آدمی دجال کے ساتھ ظہور پذیر ہوگا۔
- (۹) وہ بنی نوع انسان اور حیوانات سب سے بدتر ہوں گے۔
- (۱۰) وہ دغابازی سے دین کے کاموں کو اپنی دنیا طلب کرنے کا ذریعہ بنائیں گے۔
- (۱۱) وہ لوگوں کے ساتھ نرمی سے پیش آئیں گے اور ان کے دل بھیڑیوں کی طرح ہوں
گے۔
- (۱۲) جب وہ قتل ہوں گے تو بدترین ہوں گے اور جب وہ کسی کو قتل کریں گے تو وہ
مقتول بہترین ہوگا۔
- (۱۳) ان کے دلوں میں کجی ہوگی اور متشابہات کی پیروی کریں گے۔
- (۱۴) وہ ٹیڑھی چال چلیں گے اور انہیں ٹیڑھا کر دیا جائے گا۔
علماء متقدمین نے مذکورہ احادیث اور نشانیوں کو خارجیوں سے منسوب کیا ہے۔ مگر کیا کریں
قادیانی بدبختی کا کہ "ظلی اور بروزی" طور پر خارجیوں کی یہ علامات مرزائی ٹولہ میں بھی پائی جاتی ہیں۔
پہلی نشانی :
- (۱) ان کی نمازوں اور روزوں سے اپنی نمازوں اور روزوں کو حقیر جاننا۔
قادیانی اپنی نماز کے متعلق کیا گمان کرتے ہیں:
مرزا غلام احمد قادیانی لکھتے ہیں:
"صبر کرو اور اپنی جماعت کے غیر کے پیچھے نماز مت پڑھو۔ بہتری اور نیکی اسی میں ہے اور اسی میں تمہاری نصرت اور فتح عظیم ہے اور یہی اس جماعت کی ترقی کا موجب ہے"۔ (ارشاد مرزا غلام احمد قادیانی، مندرجہ اخبار "الحکم" قادیان، ۱۰/ اگست ۱۹۰۱ء، منقول کتاب "منظور الٰہی" ص ۲۶۵ مولفہ منظور الٰہی قادیانی، لاہور)
مرزا غلام احمد قادیانی کے بیٹے مرزا بشیر الدین محمود اپنی نماز کی بڑائی اور عام مسلمانوں کی نماز کا ذکر بدیں الفاظ کرتے ہیں:
"بہت سے غیر احمدی لوگ ہمارے پیچھے نماز پڑھ لیتے ہیں۔ احمدی (مرزائی) ہرگز غیر احمدی کے پیچھے نماز نہیں پڑھتے"۔ (میاں محمود احمد خلیفہ قادیان کا بیان بااجلاس سب جج عدالت گورداسپور، مندرجہ اخبار "الفضل" قادیان، مورخہ ۲۶-۲۹/ جون ۱۹۲۲ء، جلد ۹، ص ۱۰۱-۱۰۲)
مرزا بشیر الدین مزید ہرزہ سرائی فرماتے ہیں:
"ہمارا یہ فرض ہے کہ غیر احمدیوں کو مسلمان نہ سمجھیں اور ان کے پیچھے نماز نہ پڑھیں کیونکہ ہمارے نزدیک وہ خدا کے ایک نبی کے منکر ہیں۔ یہ دین کا معاملہ ہے، اس میں کسی کا اپنا اختیار نہیں کہ کچھ کر سکے"۔ ("انوار خلافت" ص ۹۰، مصنفہ میاں بشیر الدین محمود احمد)
قادیانی اپنے کفر میں اتنے پکے ہیں کہ کسی دوسرے مسلمان کے پیچھے نماز پڑھنا انہیں روا نہیں ہے اور کچھ "مسلمان" ایسے ہیں کہ جو غالباً قادیانیت کی خباثت سے آگاہ نہیں، منہ اٹھا کر یہ بڑ ہانک دیتے ہیں: "جی! قادیانی کلمہ پڑھتے ہیں، نماز بھی پڑھتے ہیں، دوسری عبادات بھی کرتے ہیں، پھر کافر کیوں؟ وہ تو ہم سے اچھے مسلمان ہیں"۔ ایسے ہی ایک سوال کے جواب میں مولانا محمد یوسف لدھیانوی فرماتے ہیں:
”جس شخص نے یہ کہا، قادیانی مسلمانوں سے اچھے ہیں، وہ خود قادیانیوں سے بدتر کافر ہو گیا۔ اپنے اس قول سے توبہ کرے اور نکاح اور ایمان کی تجدید کرے“۔ (”تحفہ قادیانیت“ از مولانا محمد یوسف لدھیانوی، ص ۳۰۴-۳۰۵، ”تحفظ ختم نبوت“ ص ۱۹۸)
اسی درد کو مظفر وارثی نے جس اسلوب سے بیان کیا ہے، وہ بذات خود اک درد ہے:
سچے نبی کے جھوٹے پیروکار ہیں ہم
اس سے یہ باور ہو گیا کہ ایسے بھی ہیں جو واقعی قادیانیوں کے نماز روزہ سے دھوکہ کھا جاتے ہیں اور انہیں خود سے بہتر جانتے ہیں۔
دوسری نشانی:
- (۲) وہ دین سے خارج ہوں گے۔
امت مسلمہ نے سو سال جنگ لڑی، ہزاروں جانیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی ختم نبوت پر نثار کیں، جیلیں بھریں، جس کا نتیجہ آج کل عالم کے سامنے ہے۔ منبر و محراب سے لے کر قومی اسمبلی تک، چوک و چوراہے سے لے کر ایوان بالا تک، مناظرہ سے لے کر سپریم کورٹ تک اور مشرق سے لے کر مغرب تک ہر جگہ قادیانیت کے کفر پر مہر تصدیق ثبت ہو چکی ہے۔ نہ اس میں کسی کو کل شک تھا نہ آج ہے اور نہ ہو سکتا ہے۔
تیسری نشانی:
- (۳) ان کا قتل روا ہے۔
یقیناً یہی منشاء ایزدی ہے، شریعت اسلامیہ کا تقاضا بھی اور امت مسلمہ کا مطالبہ بھی۔
(جس کی تفصیل گزر چکی ہے)
چوتھی نشانی:
- (۴) آخری زمانے میں نکلیں گے۔ نوعمر اور کم عقل ہوں گے۔
مخبر صادق صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے آخر الزمان کی کچھ نشانیاں ارشاد فرمائی تھیں جو آج اپنی حدود کو چھو رہی ہیں۔ ایسے میں یہ نو عمر فتنہ، جسے قادیانیت کہتے ہیں، بھی شامل ہے۔
اس سے وابستہ چند کم عقلیاں ملاحظہ ہوں۔ مرزا غلام احمد قادیانی خود اپنی عقل کو آنجناب کی عدالت میں پیش کر کے حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے اس فرمان کی تصدیق چاہتا ہے جس میں مرزا غلام احمد قادیانی جیسے ملعونوں کا ذکر کیا گیا ہے۔
جوتی کی دوات:
"ایک دفعہ (مرزا) فرمانے لگا، میرے لیے کسی نے بوٹ بھیجے ہیں۔ (تحفہ کسی نے دماغی کیفیت کو ملحوظ رکھ کر ہی بھیجا تھا۔۔ ناقل) میری سمجھ میں اس کا دایاں بایاں نہیں آتا، آخر اس کو سیاہی ڈالنے کے لیے بنالیا"۔ ("قادیانیت شکن" از محمد طاہر رزاق، ص ۲۶۸ بحوالہ اخبار "الحکم" ۱۴/ دسمبر ۱۹۳۴ء) جس کی دوات جوتی ہو، اس کی تحریر کی پاکیزگی کا اندازہ لگانا کیا مشکل ہے؟
جیب کی اینٹ:
"آپ (مرزا) کے ایک بچے نے آپ کی واسکٹ کی جیب میں ایک بڑی اینٹ (روڑا) ڈال دی۔ آپ جب لیٹتے تو وہ چبھتی۔ کئی دنوں ایسا ہوتا رہا۔ ایک دن آپ ایک خادم کو کہنے لگے کہ میری طبیعت خراب ہے اور پسلی میں درد ہے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ کوئی چیز چبھتی ہے۔ وہ حیران ہوا اور آپ کے جسم پر ہاتھ پھیرنے لگا۔ اس کا ہاتھ اینٹ پر جا لگا اور جیب سے اینٹ نکال لی۔ دیکھ کر مسکرائے اور فرمایا کہ چند روز ہوئے، محمود نے میری جیب میں ڈال دی تھی اور کہا تھا کہ اسے نکالنا نہیں، میں اس سے کھیلوں گا"۔ ("قادیانیت شکن" ص ۲۶۹-۲۷۰ بحوالہ "حضرت مسیح کے مختصر حالات ملحقہ براہین احمدیہ" ص ۱۴)
ایک ڈھونڈو ہزار ملتے ہیں
مرزا صاحب کی ہنرمندی ملاحظہ ہو: "ایک دفعہ گھر میں مرغی کا چوزہ ذبح کرنے کی ضرورت پیش آئی اور اس وقت گھر میں کوئی اور اس کام کو کرنے والا نہیں تھا، اس لیے حضرت صاحب اس چوزہ کو ہاتھ میں لے کر خود ذبح کرنے لگے۔ مگر بجائے چوزہ کی گردن پر چھری
پھیرنے کے، غلطی سے اپنی انگلی کاٹ ڈالی جس سے بہت خون بہہ گیا"۔
("قادیانیت شکن" ص ۲۷۱ بحوالہ "سیرت المہدی" حصہ دوم، ص ۴۱ از مرزا
بشیر احمد قادیانی)
قادیانی نبوت کی طہارت پسندی:
"آپ (مرزا) کو شیرینی سے بہت پیار ہے اور مرض بول بھی آپ کو عرصہ سے لگی ہوئی ہے۔ اس زمانے میں آپ مٹی کے ڈھیلے بعض اوقات جیب میں ہی رکھتے تھے اور اسی جیب میں گڑ کے ڈھیلے بھی رکھ لیا کرتے تھے"۔ ("قادیانیت
شکن" ص ۲۷۲-۲۷۳ بحوالہ "مرزا قادیانی کے حالات" مرتبہ معراج الدین عمر
قادیانی تتمہ براہین احمدیہ، جلد اول، ص ۶۷)
جو شخص جوتی کے دائیں بائیں میں تمیز نہ کرسکے، اوپر کا بٹن نیچے، نیچے کا اوپر لگا لے بلکہ صدری کے بٹن کوٹ سے ٹانک دے، اگر وہ گڑ سے استنجا اور مٹی کے ڈھیلے نوش جان بھی کر لے تو ہمیں کیا اعتراض! ۔
مجنوں نظر آتی ہے، لیلیٰ نظر آتا ہے
عقل کا ماتم:
"ایک دفعہ مرزا قادیانی اور سید محمد علی شاہ تلاش روزگار کے خیال سے قادیان سے چلے۔ کلانور کے قریب ایک نالے سے گزرتے ہوئے مرزا کی جوتی کا ایک پاؤں نکل گیا۔ مگر اس وقت تک انہیں معلوم نہ ہوا جب تک وہاں سے بہت دور جاکر یاد نہیں کرایا گیا"۔ ("قادیانیت شکن" ص ۲۷۳ بحوالہ "حیات النبی"
جلد اول، ص ۵۸ مولفہ یعقوب علی قادیانی)
پانچویں نشانی:
- (۵) سید المخلوقات کے اقوال سنائیں گے اور قرآن ان کے حلق سے نیچے نہ اترے گا۔
حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی مدظلہ نے یکم اکتوبر ۱۹۸۵ء کو دبئی کی جامع مسجد شیوخ میں ایک لاجواب خطاب کیا جسے عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان نے "قادیانیوں اور
دوسرے کافروں کے درمیان فرق" کے عنوان سے لاکھوں کی تعداد میں شائع کیا۔ اس میں مولانا محمد یوسف لدھیانوی فرماتے ہیں:
"کفر بہر حال میں کفر ہے۔ اسلام کی ضد ہے لیکن دنیا کے دوسرے کافر اپنے کفر پر اسلام کا لیبل نہیں چپکاتے اور لوگوں کے سامنے اپنے کفر کو اسلام کے نام سے پیش نہیں کرتے مگر قادیانی اپنے کفر پر اسلام کا لیبل چپکاتے ہیں اور مسلمانوں کو دھوکہ دیتے ہیں کہ یہ اسلام ہے"۔ (بحوالہ "تحفہ قادیانیت" از مولانا محمد یوسف لدھیانوی، ص ٦٦٣)
اسی رسالہ میں حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی، قادیانیوں کی "قرآن فہمی" کا ذکر بدیں الفاظ کرتے ہیں:
"لیکن قادیانی مرزائی کہتے ہیں کہ خاتم النبیین کا مطلب یہ نہیں کہ آپ (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) آخری نبی ہیں، نہ یہ کہ آپ (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کے بعد نبوت کا دروازہ بند ہے بلکہ یہ مطلب ہے کہ آئندہ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی مہر سے نبی بنا کریں گے۔ ٹھپا لگتا ہے اور نبی بنتا ہے۔ (حماقت تو دیکھئے کہ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ٹھپے سے چودہ سو سال کی امت میں نبی بنا بھی صرف ایک، اور وہ بھی بھینگا اور ٹنڈا... حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی مہر نے صرف ایک نبی بنایا اور وہ بھی صرف قادیانی اعور دجال نعوذ باللہ)"۔ ("تحفہ قادیانیت" مولفہ حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی، ص ٦٧٠)
قادیانی حضرات سید المرسلین والانبیاء صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے اقوال مبارکہ پیش کر کے غلط استدلال کے ذریعے لوگوں کو گمراہ کرتے ہیں۔ کبھی کہتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا نبوت کا چھیالیسواں حصہ باقی ہے (مراد اس سے خواب ہے، جس کی صراحت موجود ہے) لہٰذا نبوت جاری ہے۔ کبھی سیدہ عائشہ صدیقہؓ کی روایت سے کہتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ یہ کہو کہ میں آخری نبی ہوں لیکن یہ نہ کہو کہ میرے بعد نبی کوئی نہیں۔ اس سے بھی قادیانی مردود اجرائے نبوت کی دلیل اخذ کرتے ہیں جبکہ اس سے مراد یہ ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام قرب قیامت میں نازل ہوں گے اور حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا آخری نبی ہونا خود یہاں قادیانی تسلیم کرتے ہیں۔ کبھی کیا تاویلات کرتے ہیں، کبھی کس انداز سے گمراہی پھیلاتے ہیں۔
تاہم اکابر علماء اسلام نے قادیانیوں کے اس ارتدادی دھندے کے منہ توڑ جواب لکھ کر
قادیانیت پر اتمام حجت کر دی ہے۔ اس سلسلے میں مولانا عبدالغنی پٹیالوی کی ”اسلام اور قادیانیت۔۔ ایک تقابلی مطالعہ“ مولانا محمد یوسف لدھیانوی کی ”تحفہ قادیانیت“ مولانا عبداللہ معمارؒ کی ”محمدیہ پاکٹ بک“ اور مولانا لال حسین اختر کی ”احتساب قادیانیت“ اور ابو قاسم مولانا رفیق دلاوری کی ”رئیس قادیان“ میں قادیانی دجل و فریب کے کافی و شافی جواب تحریر ہیں۔
چھٹی نشانی:
- (۶) ان کو قتل کرنے والے کو روز قیامت اجر ملے گا۔
سکھر کے قریب ایک قصبے ”رکری“ میں ایک مردود قادیانی عبدالحق نے حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی شان اقدس میں زبان درازی کی۔ اسی علاقے کے ایک چون سالہ مجاہد ختم نبوت الحاج غازی محمد مالکؒ نے ۲۱/ ۱۹۶۶ء کو اس شاتم رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو جہنم واصل کیا۔
”غازی محمد مالکؒ صاحب اکثر فرمایا کرتے تھے: اوائل عمری میں سے ہی میری سب سے بڑی خواہش یہ تھی کہ نبی پاک صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی زیارت نصیب ہو۔ میں مدتوں درود و وظائف میں لگا رہا۔ سات حج کیے۔ باقاعدگی کے ساتھ نمازیں پڑھیں مگر ہمیشہ اس عظیم شرف سے محروم رہا۔ آخر میری قسمت اس وقت جاگی جب میں نے اپنی نوک قلم سے نشان باطل (عبدالحق قادیانی) کو کھرچ ڈالا۔ اب کوئی رات ایسی نہیں گزرتی جس میں شہنشاہ مدینہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے دستگیری نہ فرمائی ہو۔ ہر وقت ہر روز قربت کے مزے لوٹتا ہوں“۔
(”حیات مالکؒ “ از رائے کمال‘ ص ۴۶)
حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
”جس نے میری وفات کے بعد میری زیارت کی‘ اس نے گویا میری زندگی میں میری زیارت کی“۔
(”سیرت رسول عربی ﷺ“ ص ۸۰۰‘ از علامہ نور بخش
توکلی‘ بحوالہ مسند فردوس)
دوسری جگہ ارشاد ہے:
”جس نے میری قبر کی زیارت کی یا فرمایا جس نے میری زیارت کی (وفات کے بعد) میں اس کے لیے شفیع یا گواہ ہوں گا“۔
(”سیرت رسول عربی ﷺ“ ص
۷۹۹ ”از علامہ نور بخش توکلی“ بحوالہ ابو داؤد شریف، طیالسی) ایک اور جگہ ارشاد نبوی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہے: ”جس نے میری قبر کی زیارت کی اس کے لیے میری شفاعت ثابت ہو گئی“۔ (دار قطنی، بیہقی، بزاز)۔۔ (”سیرت رسول عربی ﷺ “ از علامہ نور بخش توکلی، ص ۷۹۸۔۷۹۹)
جسے سند شفاعت آقا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم وفات سے پہلے عطا کر دیں، اس کی آخرت کے کیا کہنے۔ اور ایسے میں تختہ دار پر بھی چڑھنے میں جو لذت ہوتی ہوگی، وہ کوئی غازی علم الدین شہید سے پوچھے ۔
اللہ اللہ موت کو کس نے مسیحا کر دیا
اہل دل جنت کو حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی ذات مقدسہ پر فوقیت دینے کا تصور تک نہیں کرتے۔ جنت آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے ایمان والوں کو عزیز نہیں ہے، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پائے مبارک کے دھون کے صدقے مقدر والوں کو بطور انعام عطا کی جائے گی۔
ساتویں نشانی:
- (۷) سرمنڈانا ان کی نشانی ہوگی۔
مرزا قادیانی اپنی تصنیف ”تذکرہ“ میں لکھتا ہے: ”خواب میں دکھائے گئے تین استرے“۔ (”تذکرہ“ مصنفہ مرزا قادیانی، ص ۷۷۷)
قربان کیوں نہ جائیں قدرت خداوندی کے کہ محبوب صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے نطق مبارک سے نکلے ہوئے ایک ایک لفظ کو کس شان سے پورا کیا جا رہا ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ ان گستاخوں اور بدبختوں کی نشانی سرمنڈانا ہوگی۔ اللہ کریم نے مرزائی گروہ کی گستاخیوں کے سبب ان میں یہ نشانی بھی اپنی قدرت کاملہ سے خود پوری کر دی۔ چنانچہ مرزا خود معترف ہے:
”مفتی صاحب سر کے بالوں کے اگانے اور بڑھانے کے واسطے کوئی دوائی منگوائیں“۔ (”ذکر حبیب“ ص ۷۳ از مفتی محمد صادق)
آگے لکھتے ہیں:
”دوا پہنچ گئی ہے۔ ایک اشتہار بالوں کی کثرت کا شاید لندن میں کسی نے دیا ہے اور مفت دوا بھیجتا ہے۔ آپ وہ دوا بھی منگوا لیں تاکہ آزمائی جائے۔ لکھتا ہے کہ اس سے گنجے بھی شفا پاتے ہیں“۔ (مرزا قادیانی کا خط مفتی محمد صادق قادیانی کے نام‘ ”ذکر حبیب“ ص ۳۶۰)
قادیانی لاکھ تاویلات کریں لیکن حق تعالیٰ شانہ نے جو ان کے قلب و شعور اور ظاہر و باطن پر مہریں لگا دی ہیں‘ وہ اب کسی سے پوشیدہ نہیں رہیں۔ -
نہ کھلتے راز سربستہ نہ یوں رسوائیاں ہوتیں
آٹھویں نشانی:
- (۸) وہ نکلتے رہیں گے‘ یہاں تک کہ ان کا آخری آدمی دجال کے ساتھ ظہور پذیر ہوگا۔
حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا ارشاد ہے:
”بے شک عنقریب میری امت میں تیس جھوٹے دجال پیدا ہوں گے۔ ان میں ہر ایک کا دعویٰ یہ ہو گا کہ میں اللہ کا نبی ہوں (بلکہ) اور میں آخری نبی ہوں۔ میرے بعد کوئی نبی نہیں“۔
(ابوداؤد شریف‘ ترمذی شریف)
حضور رسالت مآب صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے الفاظ میں صراحت موجود ہے کہ نبوت کا دعویٰ کرنے والے تیس دجال ہوں گے۔ مرزا غلام قادیانی دعوائے نبوت کر کے حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے فرمان کے مطابق دجال ٹھہرے اور جھوٹے بھی۔ دجال اکبر کی طرح ان کی آنکھوں میں بھی نقص تھا۔ آخری دجال بھی مرزا قادیانی کی طرح نبوت کا دعویٰ بھی کرے گا‘ خدائی دعویٰ بھی اور یوں مرزا قادیانی اس آخری دجال سے پہلے ایک دجال ٹھہرا اور حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے فرمان کے مطابق ازلی ملعون قرار پایا۔
نویں نشانی:
- (۹) وہ بنی نوع انسان اور حیوانات میں سب سے بدتر ہوں گے۔
اس سلسلے میں مرزا غلام قادیانی کے‘ اپنی حیثیت ذاتی سے متعلق‘ فقط ایک ہی شعر پر اکتفا کافی سمجھتا ہوں۔ مرزا اپنے بارے میں لکھتا ہے:
ہوں بشر کی جائے نفرت اور انسانوں کی عار“
(”در ثمین“ مصنفہ مرزا قادیانی‘ ص ۶۸)
کہتا ہے: میں غلاظت کا کیڑا ہوں اور ”بندے دا پتر نہیں“ شعر کے دوسرے مصرعے کا مطلب اور تشریح کسی قادیانی سے پوچھ لی جائے۔
قارئین کرام! اس سے بڑی تذلیل اور بدتری کی مثال کہیں ممکن ہے؟ کیا یہ انسانیت کے دامن پر بد نما داغ نہیں؟ ۔
قاتل یہ پھول ہیں کہ جنازے بہار کے
مرزا غلام احمد قادیانی خود معترف ہیں:
”اگر میں درندوں میں رہوں تو ان بنی آدم میں رہنے سے اچھا ہوں در حقیقت وہ ایسے ہیں جن کو شیطانی راہیں چھوڑنا منظور ہی نہیں“۔
(”قادیانیت ہماری نظر میں“ ص ۶۶۲‘ از محمد متین خالد بحوالہ اشتہار التوائے جلسہ منسلکہ
کتاب ”شہادۃ القرآن“ ص ۲‘ تبلیغ رسالت جلد ۳‘ ص ۶۶)
نیز۔۔۔۔۔
”میں نے دیکھا کہ میں ایک جنگل میں ہوں اور میرے اردگرد بہت سے بندر اور سور وغیرہ ہیں اور اس سے میں نے استدلال یہ کیا کہ یہ احمدی جماعت کے لوگ ہیں“۔
(”قادیانیت ہماری نظر میں“ ص ۶۶۳‘ از محمد متین خالد‘ بحوالہ نزول المسیح ماخوذ از پیغام صلح‘
۱۷ جولائی ۱۹۳۴ء نقل از قادیانی مذہب)
دسویں نشانی:
- (۱۰) وہ دغا بازی سے دین کے کاموں کو اپنی دنیا طلب کرنے کا ذریعہ بنائیں گے۔
۱۸۸۱ء میں مرزا غلام قادیانی ایک عالم دین کا لبادہ اوڑھ کر عوام الناس کے سامنے آیا اور اعلان کیا کہ میں ایک ایسی کتاب لکھوں گا جو پچاس جلدوں پر مشتمل ہوگی اور اس کا نام ”براہین احمدیہ“ ہوگا‘ اس لیے اس کی اشاعت کے لیے چندہ اکٹھا کیا جائے۔ لوگوں نے پیسے جمع کرا دیے پچاس جلدوں کے لیے۔
مرزا نے ۱۸۸۱ء سے ۱۸۸۴ء تک ”براہین احمدیہ“ کی چار جلدیں لکھیں اور پھر چپ سادھ لی۔ چوبیس سال گزر گئے۔ اس دوران لوگوں نے مرزا صاحب کو بے شمار خطوط لکھے اور بقیہ کتابوں کا مطالبہ کیا۔ دوسری صورت میں پیسے واپس کرنے کو لکھا۔ کسی نے کہا مرزا تو بڑا بے ایمان ہے‘ ہمارے پیسے کھا گیا۔ کسی نے لکھا تو نے جھوٹ بولا ہے کہ پچاس جلدیں لکھوں گا‘ لکھیں صرف چار۔ کسی نے لکھا تو نے دھوکہ کیا ہے‘ پچاس کے پیسے لے کر چار ہی لکھیں۔ بالاخر تنگ آکر مرزا نے ۱۹۰۸ء میں (اپنے مرنے کے سال میں) ”براہین احمدیہ“ کی پانچویں جلد لکھی‘ جس میں مرزا قادیانی لکھتے ہیں:
”پہلے پچاس حصے لکھنے کا ارادہ تھا مگر پچاس میں سے پانچ پر اکتفا کیا گیا ہے اور چونکہ پچاس اور پانچ کے عدد میں صرف ایک نقطے کا فرق ہے‘ اس لیے پانچ حصوں سے پچاس والا وعدہ پورا ہو گیا“۔ (دیباچہ ”براہین احمدیہ“ حصہ پنجم‘ ص ۷‘ مصنفہ مرزا قادیانی)
اور یوں مرزا پینتالیس کتابوں کے پیسے ہضم کر گیا۔
جب مرزا کی نبوت چل پڑی تو دیکھئے کیسے کیسے مطالبے ہونے لگے:
”قوم کو چاہیے کہ ہر طرح سے اس سلسلہ کی خدمت بجالائے۔ مالی طور پر بھی خدمت کی بجا آوری میں کوتاہی نہیں ہونی چاہیے۔ دیکھو دنیا میں کوئی سلسلہ چندہ کے بغیر نہیں چلتا...... پس ہماری جماعت کے لوگوں کو بھی اس امر کا خیال ضروری ہے۔ اگر یہ لوگ التزام سے ایک ایک پیسہ بھی سال بھر میں دیں تو بھی بہت کچھ ہو سکتا ہے۔ ہاں اگر کوئی ایک پیسہ بھی نہیں دیتا تو اسے جماعت میں رہنے کی کیا ضرورت ہے“۔ (ارشاد مرزا غلام احمد قادیانی‘ مندرجہ ”بدر“ مورخہ ۱۹ جولائی ۱۹۰۳ء و اخبار ”الفضل“ قادیان‘ جلد ۱۷‘ نمبر ۶۷‘ مورخہ ۲۵ / فروری ۱۹۳۰ء)
مرزا کے قول سے تو ایسا ہی معلوم ہوتا ہے کہ یہ سلسلہ محض چندے کی خاطر قائم کیا گیا ہو کیونکہ مرزا کہتے ہیں کہ ”جو ایک پیسہ بھی نہیں دیتا اسے جماعت میں رہنے کی کوئی ضرورت نہیں“ کیا شان نبوت ہے؟ کہ دنیا کی غلاظت کے حصول کے لیے امتیوں کو دھکیل کر جہنم رسید کیا جا رہا ہے۔ غریب قادیانیو! سوچو‘ کہاں پھنس گئے ہو؟ اپنا اور اپنے بچوں کا پیٹ کاٹ کر ”قادیانی خلفاء“ کی عیش کوشیوں کے سامان کرتے جاؤ۔ یہاں اپنے اور اپنے معصوم بچوں کی زندگیوں کو جہنم بناؤ اور آخرت میں بھی جہنم کی آگ کے لیے تیار رہو۔ لات مارو ایسی نبوت
پر جس میں دنیا و آخرت خراب ہے۔ کملی والے صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے دامن نبوت میں آ بسو کہ یہاں بھی سکھ چین ہے اور وہاں بھی پروانہ شفاعت آقا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ہاتھ ہی ہو گا۔
مرزا کی دغا بازیوں کو قادیانی اخبار خود شائع کر کے حقیقت حال یوں بیان کر رہا ہے:
”سب سے بڑا اعتراض جو اس نے (ڈاکٹر عبدالحکیم صاحب نے) مسیح موعود (مرزا صاحب) پر کیا‘ وہ مال کے متعلق تھا کہ لوگوں سے روپیہ لیتے ہیں اور جس طرح چاہتے ہیں خرچ کرتے ہیں چنانچہ اس نے اپنی کتب میں بہت جگہ یہی واویلا کیا ہے۔ جیسا کہ ”الذکر الحکیم“ نمبر ۶ کے صفحہ ۳‘ ۸‘ ۱۰‘ ۱۱‘ ۲۵‘ ۴۰‘ ۴۳‘ ۸۳‘ ۸۴ وغیرہ میں ذکر ہے کہ اپنی کتابوں کے شائع کرنے کے لیے چندہ جمع کر لیتے ہیں اور جس طرح ہو سکتا ہے مکر و فریب کر کے لوگوں سے مال جمع کر لیتے ہیں اور اسے جس طرح چاہتے ہیں جابجا صرف کرتے ہیں‘ کوئی حساب نہیں“۔ (اخبار
”الفضل“ قادیان‘ جلد ۸‘ نمبر ۵۴‘ مورخہ ۲/ جنوری ۱۹۲۱ء)
اس کی تصدیق خود بدیں الفاظ کرتے ہیں:
”میں نے کہا اگرچہ تمہارا یہ مطالبہ فضول ہے مگر میں تمہارا یہ پیغام حضرت (مرزا صاحب) کی خدمت میں عرض کر دوں گا۔ میں قادیان پہنچا۔ مولوی صاحب کا پیغام بھی سنا دیا۔ حضرت مسیح موعود نے فرمایا کہ ہم نے مولوی صاحب کو جواب دے دیا ہے کہ ہمارے پاس خدا کے لیے روپیہ آتا ہے اور خدا کے لیے ہی ہم خرچ کر دیتے ہیں۔ ہم نے کوئی حساب نہیں رکھا۔ نہ ہماری مولوی صاحب یا کسی اور سے شراکت ہے۔ ان کا کہنا اور لکھنا فضول ہے“۔ (قادیانی روایات مندرجہ
اخبار ”الفضل“ قادیان‘ نمبر ۲۰۱‘ جلد ۴۴‘ مورخہ ۲۸/ اگست ۱۹۳۶ء)
قادیانیوں کے اندر پھوٹ پڑی تو سارا کچا چٹھا ابل پڑا۔ ملاحظہ ہو:
”باقی آپ سے (حکیم نور الدین) میں (بشیر الدین) یہ بھی عرض کرنا چاہتا ہوں کہ یہ ابتلا اگر حضرت صاحب (مرزا صاحب) زندہ رہتے تو ان کے عہد میں بھی آتا کیونکہ یہ لوگ (خواجہ کمال الدین اور مولوی محمد علی لاہوری جماعت کے سربراہ) اندر ہی اندر تیاری کر رہے تھے۔ چنانچہ نواب صاحب نے بتایا کہ ان سے انہوں نے کہا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ حضرت (مرزا) سے حساب لیا جائے۔ چنانچہ حضرت صاحب نے اپنی وفات سے پہلے جس دن وفات ہوئی‘ اسی دن بیماری سے
کچھ ہی پہلے کہا کہ خواجہ (کمال الدین) صاحب اور مولوی محمد علی صاحب وغیرہ مجھ پر بدظنی کرتے ہیں کہ میں قوم کا روپیہ کھا جاتا ہوں۔ ان کو ایسا نہ کرنا چاہیے ورنہ انجام اچھا نہ ہوگا۔ (کمال دھونس ہے۔۔ ناقل) چنانچہ آپ نے فرمایا آج خواجہ صاحب‘ مولوی محمد علی کا ایک خط لے کر آئے اور کہا کہ مولوی صاحب نے لکھا ہے کہ لنگر کا خرچ تو تھوڑا سا ہوتا ہے‘ باقی ہزاروں روپیہ جو آتا ہے وہ کہاں جاتا ہے اور گھر میں آکر آپ نے بہت غصہ ظاہر کیا کہ کیا یہ لوگ ہم کو حرام خور سمجھتے ہیں۔ ان کو اس روپیہ سے کیا تعلق‘ اگر آج میں الگ ہو جاؤں تو سب آمدن بند ہو جائے گی“۔ (میاں محمود احمد کا خط بنام مولوی نور الدین خلیفہ اول‘
مندرجہ ”حقیقت اختلاف“ ص ۵۰ مصنفہ مولوی محمد علی صاحب قادیانی امیر‘
لاہوری جماعت)
باپ کے بعد بیٹا بھی اسی ڈگر پر:
”دوسرا مطالبہ جو دراصل پہلے ہی مطالبہ پر مبنی ہے‘ میں یہ کرتا ہوں کہ جماعت کے مخلص افراد کی ایک جماعت ایسی نکلے جو اپنی آمدن کا ۱/۵ سے ۱/۳ حصہ تک سلسلہ کے مفاد کے لیے تین سال تک بیت المال میں جمع کرائے“۔
(خطبہ میاں محمود احمد خلیفہ قادیان‘ مندرجہ اخبار ”الفضل“ قادیان‘ مورخہ ۲/
نومبر ۱۹۳۴ء)
منجھلے بیٹے بھی باپ کی وراثت پر حق جتاتے ہیں:
”قادیان میں اراضی خریدنے کے خواہش مند احباب مطلع رہیں کہ ہمارے انتظام میں ہر وقت ہر قسم اور ہر موقع کی زمین موجود رہتی ہے۔ تفصیلات بذریعہ خط و کتابت معلوم کی جائیں“۔ (خاکسار صاحبزادہ مرزا بشیر احمد قادیان۔۔ (اخبار
”الفضل“ قادیان‘ جلد ۹‘ نمبر ۱۰۰‘ مورخہ ۲۲/ جون ۱۹۲۲ء)
مریدوں کا چندہ‘ بیوی کے کپڑے اور زیورات:
”لدھیانہ کا ایک شخص تھا جس نے ایک دفعہ مسجد میں مولوی محمد علی صاحب‘ خواجہ کمال الدین صاحب اور شیخ رحمت اللہ کے سامنے کہا کہ جماعت مقروض ہو
کر اپنے بیوی بچوں کا پیٹ کاٹ کر چندہ میں روپیہ بھیجتی ہے۔ مگر یہاں بیوی صاحبہ کے کپڑے اور زیورات بن جاتے ہیں"۔ (”قادیانیت شکن“ ص ۱۳۶ از محمد طاہر رزاق‘ بحوالہ خطبہ محمود احمد خلیفہ قادیان‘ مندرجہ اخبار ”الفضل“ جلد ۲۶‘ ۲۱ / اگست ۱۹۳۸ء)
بہشتی مقبرہ کے نام سے لوٹنے کا ڈھنگ:
مرزا قادیانی لکھتے ہیں: ”صبح کی نماز کے لیے اٹھنے سے کوئی ۲۰-۲۵ منٹ پہلے‘ میں نے خواب میں دیکھا گویا ایک زمین اس مطلب کے لیے خریدی گئی ہے کہ اپنی جماعت کی میتیں وہاں دفن کی جائیں۔ تو کہا گیا کہ اس کا نام بہشتی مقبرہ ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ جو اس میں دفن ہو گا بہشتی ہو گا“۔ (”ملفوظات احمدیہ“ حصہ ہفتم‘ ص ۴۹۶-۴۹۷‘ مرتبہ بابو منظور الہی قادیانی)
بہشتی مقبرہ میں دفن ہونے کی فیس:
”حضرت مسیح موعود ”علیہ الصلوۃ والسلام“ نے فرمایا جو وصیت نہیں کرتا‘ وہ منافق ہے اور وصیت کا کم از کم چندہ ۱/۱۰ حصہ مال کا رکھا ہے“۔ (”منہاج الطالبین“ مجموعہ تقاریر میاں محمود احمد‘ ص ۱۶)
جو اس معیار پر پورا نہ اترے:
”ایک ایسے قادیانی احمدی کو‘ جس پر بہشتی مقبرہ کی شرائط صادق نہ آتی تھیں‘ غلطی سے اس میں دفن کر دیا گیا اور بعد میں غلطی معلوم ہونے پر نعش اکھاڑ کر پھر دوسرے قبرستان میں دفن کی گئی“۔ (اخبار ”پیغام صلح“ (لاہوری جماعت کا ترجمان) جلد ۲۴‘ نمبر ۴۹‘ مورخہ ۱۳ اگست ۱۹۳۶ء)
گیارہویں نشانی:
- (۱۱) وہ لوگوں کے ساتھ نرمی سے پیش آئیں گے اور ان کے دل بھیڑیوں کی طرح ہوں
گے۔
یہ بات تو ضرب المثل کی طرح مشہور ہے کہ قادیانیوں کے نبی کو بھی کافر، دجال، جھوٹا، دغاباز، فراڈیا اور جو جی میں آئے کہتے جاؤ، اس کے باوجود قادیانی نہ جانے کس مٹی کے بنے ہوئے ہیں، مسکراتے رہتے ہیں۔ اس سے زیادہ نرمی کے ساتھ پیش آنے کا تصور محال ہے لیکن اس کے برعکس حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ارشاد فرما گئے ہیں کہ ان کے دل بھیڑیوں کی طرح ہوں گے۔ جیسا کہ اوپر ذکر کیا گیا ہے کہ ایک غریب قادیانی کی لاش کو قبر کھود کر نکالا گیا اور دوسرے قبرستان میں گاڑا گیا۔ کیا اس سے بڑی درندگی کا تصور کیا جاسکتا ہے؟
مزید ثبوت ملاحظہ ہوں!
”والدہ صاحب نے فرمایا وہاں (ریجہ ضلع ہوشیار پور) حضرت صاحب (مرزا قادیانی) بچپن میں چڑیاں پکڑا کرتے تھے اور چاقو نہیں ملتا تھا تو سرکنڈے سے ذبح کر لیتے تھے۔“ (”سیرت المہدی“ حصہ اول، ص ۴۵، مصنفہ مرزا بشیر احمد ابن مرزا قادیانی)
بے زبان اور بے ضرر چیز کو یوں اذیت دے کر ذبح کرنا‘ کیا یہ بربریت اور وحشت نہیں؟ ایسے ظالم اور سفاک شخص نے نبوت کا دعویٰ کیا اور انجانے اور بھٹکے ہوؤں نے اس کی تصدیق کر کے انسانیت کے شعور پر ماتم کا سلسلہ شروع کر دیا۔ ؎
مسافر یہ سمجھا کہ منزل یہی ہے
مرزا قادیانی یہاں بھی خود معترف ہیں:
”مجھے معلوم ہوا ہے کہ بعض حضرات جماعت میں داخل ہو کر‘ اس عاجز سے بیعت کر کے‘ پھر بھی ویسے ہی کج دل ہیں کہ اپنی جماعت کے غریبوں کو بھیڑیوں کی طرح دیکھتے ہیں۔“
(قادیانیت ہماری نظر میں“ ص ۱۶۲ از محمد متین خالد بحوالہ اشتہار التوائے جلسہ منسلکہ
کتاب ”شہادۃ القرآن“ ص ۲، تبلیغ رسالت جلد ۳، ص ۶۶)
ہٹلر اور میسولینی کے طرز پر عبرت ناک سزا دینے کی قادیانی خواہش:
مرزا بشیر الدین لکھتے ہیں:
”حکومت ہمارے پاس نہیں کہ ہم جبر کے ساتھ ان کی اصلاح کریں اور ہٹلر
اور میسولینی کی طرح جو شخص ہماری حکومت کی تعمیل نہ کرے‘ اسے ملک سے نکال دیں اور جو ہماری بات نہ سنے اور اس پر عمل کرنے کو تیار نہ ہو‘ اسے عبرت ناک سزا دیں۔ اگر حکومت ہمارے پاس ہو تو یہ نتائج ایک دن میں حاصل ہو سکتے ہیں“۔ (خطبہ مندرجہ ”الفضل“ ۳ جون ۱۹۳۲ء)
اس سے قادیانی فطرت اس مثل کے مصداق نظر آتی ہے کہ ”بغل میں چھری منہ میں رام رام“
مزید وحشت کی نمائش یوں ہوتی ہے: ”وقت آنے والا ہے جب یہ لوگ مجرموں کی حیثیت سے میرے سامنے پیش ہوں گے۔ ہم فتح یاب ہوں گے۔ ضرور تم مجرموں کی طرح ہمارے سامنے پیش ہوگے۔ اس وقت تمہارا حشر وہی ہو گا جو فتح مکہ کے دن ابو جہل اور اس کی پارٹی کا ہوا تھا“۔ (جبکہ ابو جہل فتح مکہ سے پہلے مارا گیا تھا۔۔ ناقل)۔۔۔ (اخبار ”الفضل“ ۳؍ جنوری ۱۹۵۳ء)
دل کی بات آخر زبان پر آ ہی گئی:
مرزا بشیر الدین محمود نے کہا: ”سید عطاء اللہ شاہ بخاری‘ ملا احتشام الحق تھانوی‘ ملا مودودی‘ ملا عبدالحامد بدایونی اور ملا محمد شفیع دیوبندی سے خون کا بدلہ لیا جائے گا“۔ (رحمتہ اللہ علیہم اجمعین)۔۔ (”الفضل“ ۱۵؍ جنوری ۱۹۵۳ء)
”قادیان“ اور ”ربوہ“ میں قادیانی خلفاء کے مظالم اس کے علاوہ ہیں۔ قادیانی تاریخ خون کے آنسو رو رہی ہے۔ وہاں قادیانی بچیوں‘ بیٹیوں کی عزتیں محفوظ تھیں‘ نہ ہیں اور نہ احتجاج کرنے والے کے جان و مال کا تحفظ ہے۔ تحریک خلافت سے لے کر تحریک کشمیر تک‘ قیام پاکستان سے لے کر مشرقی پاکستان کی علیحدگی تک‘ پہلے وزیر اعظم شہید ملت لیاقت علی خان کی شہادت سے لے کر سانحہ سی-۱۳۰ تک‘ سندھ کے فسادات سے لے کر کشمیر کے مجاہدین سے غداری تک‘ مرزا قادیانی کے باپ سے لے کر مرزا قادیانی کے پوتے تک‘ کوئی واقعہ‘ کوئی مقام ایسا نہیں جہاں قادیانیوں نے اپنی مخصوص اسلام دشمنی میں چوک کی ہو۔ ؎
پانی بھی مانگتا نہیں تیرا ڈسا ہوا
بارہویں نشانی:
- (۱۲) جب وہ قتل ہوں گے تو بدترین ہوں گے اور جب وہ کسی کو قتل کریں گے تو وہ
مقتول بہترین ہو گا۔
سیدھی سی بات ہے۔ جس لمحے کوئی بدبخت گستاخ قتل ہو گا، اسی لمحے سے اس کے لیے ابدی عذاب شروع ہو جائے گا۔ سانس کی ڈوری بندھے رہنے تک تو کسی نہ کسی طرح بچت کے آثار ہوتے ہیں لیکن جب سانس کی ڈوری ٹوٹی، عذاب شروع۔ عذاب قبر، عذاب حشر اور پھر جہنم میں ہمیشہ ہمیشہ کا عذاب۔ اس سے بدتر اور کون ہو سکتا ہے کہ مرنے کے بعد ایک لمحہ کو بھی چین نہیں ہو گا اور پھر مرنے سے پہلے یہ خوف کہ نہ جانے کس لمحے موت آ دبوچے!
(الامان)
حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی نے دسویں سالانہ ختم نبوت کانفرنس صدیق آباد (ربوہ) میں جمعہ کا خطبہ ارشاد فرماتے ہوئے جلالی انداز میں کہا تھا کہ ”جاؤ کسی قادیانی کی قبر کھود کر دیکھ لو، وہاں انسان نہیں خنزیر مرا ہوا پڑا ہو گا“۔ اس سے زیادہ اور ذلت اور بدتری کی مثال اور کیا ہو سکتی ہے!
حضرت مولانا محمد ایوب الہاشمی (ایبٹ آباد) بیان کرتے ہیں کہ تحریک ختم نبوت ۱۹۵۳ء میں جب دن کو مجاہدین ختم نبوت سینوں پر گولیاں کھا کھا کر گرتے اور شہید ہوتے تو رات کو لاہور کی فضاؤں میں روشنیوں کے صندوق آسمان کی طرف اٹھتے دیکھے جاتے تھے۔ یہ ان شہیدوں کا اعزاز و اکرام تھا، جو ان کے رب کی طرف سے عطا کیا گیا تھا۔
یہ بات آن دی ریکارڈ ہے کہ تحریک ختم نبوت ۱۹۵۳ء میں قادیانی مردود فوجی گاڑیوں اور فوجی وردیوں میں آتے تھے اور مسلمانوں کے جلوسوں پر فائرنگ کیا کرتے تھے، جس سے دس ہزار مسلمانوں نے جام شہادت نوش کیا تھا اور یوں یہ نشانی بھی پوری ہوئی کہ قادیانیوں کے ہاتھوں جام شہادت نوش کرنے والے جس عزت و وقار کے ساتھ اٹھائے گئے، بلاشبہ وہ ہمارے لیے باعث افتخار بھی ہے کیونکہ ان کا بہترین مقتول ہونا قرائن و شواہد سے ثابت ہے۔
تیرہویں نشانی:
- (۱۳) ان کے دلوں میں کجی ہو گی اور متشابہات کی پیروی کریں گے۔
قادیانی عقیدہ ہے:
”آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے دو بعثت ہیں یا بہ تبدیل الفاظ یوں کہہ
سکتے ہیں کہ ایک بروزی رنگ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا دوبارہ آنا دنیا میں وعدہ دیا گیا تھا جو مسیح موعود (مرزا صاحب) کے ظہور سے پورا ہوا"۔
(”تحفہ گولڑویہ“ ص ۹۴‘ طبع اول قادیان‘ ۱۹۰۲ء)
دلوں کی کجی کا اندازہ لگائیے‘ اپنی عقیدت و احترام کا رخ مدینہ منورہ سے پھیر کر قادیان کی طرف کیا جا رہا ہے۔ قادیانی اخبار اس کا اعلان یوں کرتا ہے:
”یہ وہی فخر اولین و آخرین ہے جو آج سے تیرہ سو برس پہلے رحمۃ للعالمین بن کر آیا تھا"۔ (”الفضل“ قادیان‘ ۲۶/ ستمبر ۱۹۱۷ء)
اور یہی قادیانی حضرات کا اصل کو چھوڑ کر نقل کی پیروی کرنا ہے۔
مرزا غلام قادیانی اور اس کی امت خبیثہ نے کس کس طرح اسلام کے بالمقابل کفر کے ستون کھڑے کر کے اپنے دجل کی سیاہی سے اسلام کا سائن بورڈ آویزاں کر رکھا ہے۔ ملاحظہ ہو:
مرزا غلام قادیانی جیسا جھوٹا دجال۔۔۔ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے مقابل۔۔۔ نبی اور رسول۔۔۔ (معاذ اللہ) مرزا قادیانی کی وحی۔۔۔ قرآن۔۔۔ (معاذ اللہ) مرزا قادیانی کی باتیں۔۔۔ احادیث۔۔۔ (معاذ اللہ) مرزا قادیانی کا خاندان۔۔۔ اہل بیت۔۔۔ (معاذ اللہ) مرزا قادیانی کا بیٹا بشیر احمد ایم اے۔۔۔ قمر الانبیاء و فخر المرسلین۔۔۔ (معاذ اللہ) مرزا قادیانی کی بیٹی۔۔۔ سیدۃ النساء۔۔۔ (معاذ اللہ) مرزا قادیانی کی بیویاں۔۔۔ امہات المومنین۔۔۔ (معاذ اللہ) مرزا قادیانی کے ساتھی۔۔۔ صحابہ کرام۔۔۔ (معاذ اللہ) مرزا قادیانی کی امت۔۔۔ مسلمان۔۔۔ (معاذ اللہ) مرزا قادیانی کے جانشین۔۔۔ خلفائے راشدین کی طرز پر خلفاء۔۔۔ (معاذ اللہ) مرزا قادیانی کی عبادت گاہ۔۔۔ مسجد اقصیٰ۔۔۔ (معاذ اللہ) مرزا قادیانی کا قبرستان۔۔۔ جنت البقیع کے مقابلے میں بہشتی مقبرہ۔۔۔ (معاذ اللہ) مرزا قادیانی کے ۳۱۳ گماشتے۔۔۔ اصحاب بدر۔۔۔ (معاذ اللہ)
قادیانی حضرات نے اصل کے مقابل متشابہات کی لائن لگا کر خود کو حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی پیشین گوئی کے مطابق خارج از اسلام اور واجب القتل ثابت کر دیا ہے۔
لو آپ اپنے جال میں صیاد آ گیا
چودھویں نشانی:
- (۱۴) وہ ٹیڑھی چال چلیں گے اور انہیں ٹیڑھا کر دیا جائے گا۔
حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے بعد سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ سے لے کر انور شاہ کشمیریؒ اور سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ تک اور پیر صاحب گولڑہ شریف سے لے کر عبد الستار خان نیازی اور شاہ احمد نورانی تک، مولانا ثناء اللہ امرتسری سے لے کر احسان الٰہی ظہیر تک، امام جعفر صادقؒ سے لے کر مظفر شمسی تک اور خواجہ خان محمد سے لے کر صبح قیامت تک ہر مسلمان کا اجتماعی اور متواتر عقیدہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے بعد نبوت کا دروازہ کلیتاً بند ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے بعد کوئی نبی نہیں بنے گا لیکن قادیانی دجل نے ظلی اور بروزی نبوت کا افسانہ گھڑ کر الٹی گنگا بہالی۔ اس پر قرآن نے ارشاد فرمایا:
و من يشاقق الرسول من بعد ما تبين له الهدى ويتبع غير سبيل المومنين نوله ما تولى ونصله جهنمO
ترجمہ : اور جس نے مخالفت کی رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی بعد اس کے کہ کھل گئی اس پر صحیح بات اور وہ چلا مومنین کا راستہ چھوڑ کر تو ہم اس کو پھیر دیں گے جدھر پھرتا ہے اور جھونک دیں گے جہنم میں"۔
یعنی جو متواتر کا انکار کرتا ہے، وہ ٹیڑھی چال چلتا ہے۔ قرآن کہتا ہے "ہم اسے ادھر ہی پھیر دیں گے، جدھر وہ پھرتا ہے" اور پھر اس کا انجام کیا ہو گا؟ فرمایا "جھونک دیں گے جہنم میں اور وہ برا ٹھکانہ ہے"۔
اور یوں ان چودہ نشانیوں کے علاوہ ایک دوسری روایت میں آتا ہے کہ وہ اہل اسلام کو کافر اور مشرک کا خطاب دیں گے اور قادیانی حضرات تو مسلمانوں کو محض کافر ہی نہیں بلکہ پکا کافر اور دائرۂ اسلام سے خارج قرار دیتے ہیں۔ ملاحظہ ہو:
"ایسا شخص جو موسیٰ کو مانتا ہے مگر عیسیٰ کو نہیں مانتا یا عیسیٰ کو مانتا ہے مگر محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو نہیں مانتا یا محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو مانتا ہے مگر مسیح موعود کو نہیں مانتا، وہ نہ صرف کافر بلکہ پکا کافر اور دائرۂ اسلام سے خارج
ہے"۔ ("کلمۃ الفصل" ص ۱۱۰‘ مصنفہ بشیر احمد ایم۔ اے)
نیز ۔۔ "کل مسلمان جو حضرت مسیح موعود کی بیعت میں شامل نہیں ہوئے‘ خواہ انہوں نے حضرت مسیح موعود کا نام بھی نہیں سنا‘ وہ کافر ہیں اور دائرہ اسلام سے خارج ہیں"۔ ("آئینہ صداقت" ص ۳۵‘ مصنفہ مرزا محمود احمد)
جسٹس منیر نے اپنی انکوائری رپورٹ میں لکھا:
"قادیانی مسلمانوں کو کافر‘ خارج از اسلام سمجھتے ہیں"۔ ("منیر رپورٹ" ص ۱۹۹)
"ہائی کورٹ میں چودھری ظفر اللہ خان (قادیانی) نے تائید کی کہ ہمارے نزدیک غیر احمدی کافر ہیں"۔ ("خاتم النبیین" مؤلفہ مصباح الدین‘ ص ۱۳۹)
مرزا قادیانی اپنے مخالفین کو ایک سانس میں کیسے کیسے خطابات سے نوازتا ہے‘ ملاحظہ ہوں:
"جو شخص میرا مخالف ہے‘ وہ عیسائی‘ یہودی‘ مشرک اور جہنمی ہے"۔
("نزول المسیح" ص ۱۴‘ مصنفہ مرزا قادیانی)
حقائق سے آنکھیں بند کر کے ایک لمحے کو فرض کر لیجئے کہ قادیانی پے در پے ان ذلت و رسوائی کی گھاٹیوں میں نہ بھی گرتے اور مذکورہ بالا نشانات قادیانی ذریت میں ظاہر نہ بھی ہوتے تو بھی آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے بعد مرزا غلام قادیانی جیسے شخص کی نبوت کی تصدیق کر لینے سے بھی بارگاہ رسالت ماب صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم میں گستاخی لازم آتی تھی اور پھر ایسے تمام نشانات کے ظاہر ہو جانے کے بعد تو قادیانیت ہاتھوں پیروں بندھ گئی ہے۔
انتیسویں حدیث:
حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ارشاد فرمایا:
"جو شخص تین باتوں کا خیال رکھتا ہے اللہ تعالیٰ اس کے دین کی حفاظت فرمائے گا۔ اور جو ان کی حفاظت نہیں کرتا اللہ تعالیٰ اس کے دین کی حفاظت نہیں کرے گا۔ وہ تین باتیں یہ ہیں: (۱) حرمت الاسلام (۲) حرمت نبی آخر الزمان (۳) حرمت اہل بیت (قرابت دار)
جو شخص میری عزت اور انصار و عرب کا احترام نہیں کرتا‘ وہ ان (تین) باتوں میں سے ایک کے ساتھ ضرور متعلق ہے: (۱) منافق ہے (۲) ولد الزنا ہے (۳) حیض
و نفاس یا ناپاکی کے دوران اس کا نطفہ ٹھہرا ہے"۔ (روح البیان، صواعق محرقہ ابن حجر)۔۔ ("گستاخوں کا برا انجام" ص ۱۴۷-۱۴۸)
گزشتہ باب میں بھی ولید بن مغیرہ کے حوالے سے ذکر کیا جا چکا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے گستاخ رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی نو نشانیاں بیان کیں، جن میں ایک نطفہ حرام ہونا بھی شامل ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس کی صراحت فرما دی۔ حضرت مولانا محمد علی جالندھریؒ فرمایا کرتے تھے:
"سرور کائنات صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنے بعد ہر "مدعی نبوت" کو دجال کذاب کے نام سے یاد فرمایا ہے۔ زمانہ طالب علمی میں جب میں نے یہ حدیث پڑھی تو حیرت ہوئی کہ جس نبی کی صفت "انک لعلى خلق عظیم" ہے، اس نے ایسے سخت الفاظ کیوں استعمال کیے۔ لیکن جب میں نے مرزا غلام احمد قادیانی اور اس کے متبعین وغیرہ کی کتب پڑھیں اور ان کی کذب بیانی، دھوکہ دہی اور دجل و تلبیس کا مظاہرہ دیکھا تو معاً خیال آیا کہ حضور علیہ السلام نے گویا مرزا غلام احمد قادیانی کو دیکھ کر اظہار حقیقت کے لیے "دجال" کا لفظ استعمال کیا ہے"۔ (مرزائیوں سے ہائی کورٹ کے سات سوالات، مرزائیوں کے مغالطہ آمیز جوابات اور مجاہد ملت مولانا محمد علی جالندھریؒ کا تاریخی جواب الجواب" ص ۱۰-۹)
بعینہ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے آنے والے گستاخوں کی جو نشانیاں بیان فرمائیں، انہیں پڑھ کر اور تجزیہ کرنے کے بعد یہ خیال آتا ہے کہ گویا حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے قادیانی ذریت خبیثہ کو دیکھ کر ایک ایک نشانی بیان فرمائی ہے۔
مسلمانو! کیسی بدبختی ہے کہ قادیانی خلفاء کا ولد الزنا ہونا انہی کے لٹریچر سے ثابت ہے۔ مرزا قادیانی خود اپنے بارے میں تحریر کرتا ہے:
"جب میں نے شادی کی تھی تو اس وقت تک مجھے یقین رہا کہ میں نامرد ہوں"۔ (خاکسار غلام احمد قادیانی، ۲۲/ فروری ۱۸۸۷ء "مکتوب احمدیہ" جلد پنجم)۔۔ (خط نمبر ۱۴، منقول از "نوشتہ غیب" مولف خالد وزیر آبادی)
خاوند نامرد ہو اور عمر بڑھاپے کے دلدل میں دھنسی جا رہی ہو تو میر ناصر کی جواں سالہ بیٹی نصرت جہاں آراء کو بیاہ لانے کے بعد قابو رکھنا قادیانی نبوت کے بس کی بات نہ تھی، چنانچہ بشارت احمد قادیانی اس حقیقت کو یوں طشت از بام کرتے ہیں:
"بیوی صاحبہ مرزا جی کے مریدوں کو ساتھ لے کر لاہور سے کپڑے بھی خود ہی خرید لایا کرتی تھیں"۔ ("کشف الظنون" مرتبہ ڈاکٹر بشارت احمد لاہور‘ ص
(۸۸
قادیانی فقہ:
"مرزا گل محمد صاحب (رئیس قادیان) کی دوسری بیوہ چھوٹی بیگم کا حلفیہ بیان ہے کہ میں نے اپنی آنکھوں سے ان کی صاحبزادی اور بعض دوسری عورتوں کے ساتھ دوچار ہوتے دیکھا ہے۔ میں نے ایک مرتبہ حضرت خلیفہ صاحب سے عرض کی‘ حضور یہ کیا معاملہ ہے؟ آپ نے فرمایا ”قرآن و حدیث میں اس کی عام اجازت ہے‘ البتہ اس کو عوام میں پھیلانے کی ممانعت ہے"۔ (بیان سیدہ ام الصالحہ بنت سید ابرار حسین‘ سمن آباد لاہور بحوالہ ”فتنہ انکار ختم نبوت" ص
(۱۶۷
نیز۔۔۔ مرزا بشیر الدین محمود خلیفہ دوم قادیان لکھتے ہیں: ”آدم کی اولاد کی افزائش ہی اس طرح ہوئی ہے کہ کوئی مقدس سے مقدس رشتہ بھی مجامعت میں حائل نہیں ہو سکتا"۔ (”شہر سدوم" از شفیق مرزا‘ ص
(۱۰۳
قادیانی خلافت:
خلیفہ بشیر الدین محمود ابن مرزا قادیانی کے رفیق کار‘ جن کو ۱۹۲۴ء میں انگلستان ہمراہ لے گئے تھے‘ یعنی شیخ عبدالرحمن مصری صاحب مولوی فاضل بی۔ اے کا حلفیہ عدالتی بیان درج ذیل ہے:
”موجودہ خلیفہ سخت بد چلن ہے۔ یہ تقدس کے پردہ میں عورتوں کا شکار کھیلتا ہے۔ اس کام کے لیے اس نے بعض مردوں اور بعض عورتوں کو بطور ایجنٹ رکھا ہوا ہے۔ ان کے ذریعے یہ معصوم لڑکیوں اور لڑکوں کو قابو کرتا ہے۔ اس نے ایک سوسائٹی بنائی ہوئی ہے اور اس سوسائٹی میں زنا ہوتا ہے"۔ (”شہر سدوم" ص ۷۹ از شفیق مرزا‘ ”دور حاضر کا مذہبی آمر" از راحت ملک)
خلیفہ کی بیوی کا قدم بقدم ساتھ:
”مریم جو کہ خلیفہ صاحب کی بیوی ہے‘ وہ سیکرٹری بنی ہوئی ہے اور خلیفہ صاحب کی طرح ایک دوسرے کو ملا دیتی ہے اور خود بھی لڑکوں کے ساتھ بدمعاشی کرتی ہے۔ ایک نذیر لڑکا ہے جو کہ مرزا محمود کی موٹر چلاتا ہے‘ وہ بھی شامل ہے“۔ (محترمہ مقبول اختر کا خط بنام مولانا مظہر علی اظہر مندرجہ ”شہر سدوم“ ص ۴۰ از شفیق مرزا)
جو بویا وہی کاٹا:
”خلیفہ جی کے ایک صاحبزادے کی رنگت اور شکل و شباہت سے کچھ ایسا اظہر ہوتا ہے کہ ان کی صورت ایک ڈرائیور سے ملتی ہے۔ لوگوں میں چہ میگوئیاں شروع ہوئیں تو ”کار خاص“ کے نمائندوں نے خلیفہ جی کو اطلاع دی اور انہوں نے انگریز عورتوں کے گھروں میں سیاہ فام بچے پیدا ہونے پر ایک خطبہ دے مارا‘ حالانکہ یہ کوئی ایسی بات نہ تھی کہ اس پر ایک طویل مثالوں سے مزین لیکچر دیا جاتا‘ مگر کہتے ہیں ”چور کی داڑھی میں تنکا“۔ (”شہر سدوم“ ص ۱۳ از شفیق مرزا) عجب اتفاق ہے کہ انہی خلیفہ بشیر الدین محمود کے بیٹے آگے پیچھے مسند خلافت پر متمکن رہے۔ پہلے مرزا ناصر احمد تھا‘ جسے شاہین ختم نبوت حضرت مولانا اللہ وسایا صاحب نے یکم جون ۱۹۸۲ء کو اسلام آباد میں یہ حقائق ایک ختم نبوت کانفرنس کے موقع پر بیان فرما کر جوابات کے لیے للکارا‘ لیکن ان مرد قلندر‘ مرد درویش کے الفاظ سنتے سنتے ہی مرزا ناصر احمد پر دل کا دورہ پڑا اور ٹھیک دو گھنٹے بعد جہنم رسید ہو گیا۔ بشیر الدین محمود کا دوسرا بیٹا مرزا طاہر احمد آج کل قادیانیوں کا ”گرو“ بنا ہوا ہے۔ اب اللہ جانے ”نذیر ڈرائیور“ کا خون کس کی رگوں میں ہوا ۔ اور نہ جانے ”خلیفہ صاحب کی سوسائٹی“ ابتک کتنے گل کھلا چکی اور جب تک قادیانیت ہے‘ یہ زہر بھرے خار نہ جانے کہاں کہاں تک پھیلیں! روحانی ”ایڈز“ کے یہ مریض اپنے عقائد و نظریات کی وجہ سے گستاخ رسول صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم قرار تو پاتے ہی ہیں مگر جسمانی طور پر بھی ان کے ”خون“ میں گستاخی رسول ﷺ کی مرض سرایت کر چکی ہیں۔
دیکھ لے اک بار جو وہ خوف سے مر جائے
ساتواں باب
گستاخ رسولؐ کی سزا
خلفائے راشدینؓ اور دیگر صحابہ کرامؓ کے
قول و عمل سے ثبوت
وہ قدسی صفات گروہ جس نے براہ راست بارگاہ رسالت مآب صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے علم و ادب کے گر سیکھے ہوں‘ وہ جماعت جسے بارگاہ الوہیت سے اولئک ہم المومنون حقاO اولئک ہم الراشدونO اور لقد رضی اللہ عنہم ورضوا عنہ کے سرٹیفکیٹ عطا کیے گئے ہوں اور نطق نبوت جن کے قول و عمل کو ہدایت و کامیابی کا معیار قرار دیتے ہوئے ارشاد فرمائے "اصحابی کالنجوم با ایہم اقتدیتم اہدیتم" ترجمہ : میرے صحابہ ستاروں کی مانند ہیں۔ ان میں سے جس کی پیروی کرو گے‘ ہدایت پاؤ گے۔
ایسے میں ہر صاحب قلب و نظر پر لازم آتا ہے کہ ان بے مثل اور بے عیب انسانوں کی سیرت و کردار کو اپنے لیے مشعل راہ بنائے کہ یہی وہ نور ہے جس میں پیغمبر اعظم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی عظمت کا پرتو دکھائی دیتا ہے۔
اور سچ پوچھئے تو اسلام کی سربلندی کا سہرا بھی انہی قدسی صفات کے سر بندھتا ہے‘ جنہوں نے رداء نبوت پر اپنی ہر خوشی وار دی۔
اپنی ذات کو مٹا کے عظمت رسول صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے جھنڈے کو لہرانا جن کا جوہر حقیقی تھا‘ جو فناء فی الرسول تھے۔ کائنات کی اس مقدس جماعت کے امام خلیفہ بلافصل سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ عظمت رسول صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے باب میں ایک شاندار
روایت کا اضافہ فرماتے ہوئے کل عالم سے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی حیثیت یوں ممتاز فرماتے ہیں:
پہلی روایت:
”حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پاس تھا کہ اتنے میں ایک آدمی پر آپ غصے ہوئے۔ پس وہ آدمی بھی آپ پر سختی سے پیش آیا۔ پس میں نے کہا مجھے اجازت دیجئے اے رسول اللہ کے خلیفہ ! کہ میں اس کی گردن اڑا دوں۔ راوی فرماتے ہیں کہ میرے ان الفاظ نے حضرت ابو بکر صدیق کے غصے کو ختم کر دیا۔ پس آپ کھڑے ہوئے اور اندر چلے گئے۔ پھر مجھے بلا بھیجا اور فرمایا کہ تم نے کیا کہا تھا؟ میں نے کہا کہ اجازت دیجئے کہ میں اس کی گردن اڑا دوں۔ حضرت ابو بکر صدیق نے فرمایا کہ کیا تم ایسا ہی کرتے اگر میں تمہیں حکم دیتا۔ میں نے کہا ہاں! تو فرمایا: نہیں، خدا کی قسم، نہیں ہے یہ حکم کسی بھی بشر کے لیے محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے بعد “۔ (ابو داؤد شریف صفحہ ۴۳۶، نسائی شریف)
علامہ ابن تیمیہ رحمتہ اللہ علیہ اس کے ذیل میں لکھتے ہیں:
”علماء کی ایک جماعت نے اس روایت سے استدلال کیا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو گالی دینے والے کو قتل کرنا جائز ہے۔ ان میں سے ابو داؤد، اسماعیل بن اسحاق القاضی، ابو بکر عبدالعزیز، قاضی عبدالاعلی اور دیگر علماء۔ اس لیے ابو ہریرہ نے جب دیکھا کہ ایک شخص نے حضرت ابو بکر کو گالیاں دی ہیں تو اس نے حضرت ابو بکر سے اس کے قتل کرنے کی اجازت مانگی۔ اس نے بتایا کہ اگر حضرت ابو بکر اسے حکم کرتے تو وہ اسے قتل کر دیتا۔ حضرت ابو بکر نے کہا رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے بعد کسی کو یہ حق حاصل نہیں“۔
(”الصارم المسلول“ ص ۱۴۷ اردو ترجمہ)
علامہ ابن تیمیہ رحمتہ اللہ علیہ اسی حدیث کے ذیل میں آگے لکھتے ہیں:
”اس حدیث سے مستفاد ہوتا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خصوصیات ہیں:
- (۱) آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جس کے قتل کرنے کا حکم دیں، اس میں
آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی اطاعت کی جائے۔
- (۲) جو شخص آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو گالیاں دے اور سخت سست کہے،
آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اس کو قتل کر سکتے ہیں۔
آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ دوسرا اختیار جو دیا گیا تھا وہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی وفات کے بعد بھی باقی ہے۔ لہٰذا جو شخص آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو گالی دے یا آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی شان میں سخت الفاظ کہے، اسے قتل کرنا جائز ہے بلکہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی وفات کے بعد یہ حکم موکد تر ہو جاتا ہے، اس لیے کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی وفات کے بعد آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی ناموس و حرمت، وفات کے بعد اور زیادہ کامل ہو جاتی ہے اور آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی وفات کے بعد آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی ناموس و آبرو میں سہل انگاری اور تغافل شعاری ممکن نہیں۔ اس حدیث سے مستفاد ہوتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو مطلقاً (کثرت و قلت کو ملحوظ کیے بغیر) گالی دینے سے ایسے شخص کا قتل مباح ہو جاتا ہے۔ علاوہ بریں اس حدیث کے عموم سے اس امر پر استدلال کیا جاتا ہے کہ ایسے شخص کو قتل کیا جائے، قطع نظر اس کے کہ وہ مسلم ہو یا کافر"۔ ("الصارم المسلول" ص ۱۴۷ اردو ترجمہ از غلام احمد حریری)
خلیل احمد سہارن پوری اس مسئلے کو بیان فرماتے ہوئے لکھتے ہیں:
"یعنی اگر محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم حکم فرمائیں، اس شخص کے قتل کا، جو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے غصے کے جواب میں آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو گالی دے تو اس کا قتل جائز ہے اور رہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے علاوہ ان کے خلفاء اور امراء۔ جب کوئی گالی دے ان کو اس حال میں کہ وہ غصے ہو رہے ہوں اس پر وہ حکم دیں، اس کے قتل کا تو اس کا قتل جائز نہیں۔ اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا غصہ نہیں مگر حق ہے۔ اور ہمارا غصہ بھی ہو سکتا ہے اور باطل بھی"۔ ("بذل المجہود" جلد ۵، ص ۱۶ از خلیل احمد سہارنپوری)
علامہ ابن نجیم حنفی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں:
"جو شخص حضرات شیخین (حضرت ابوبکر صدیق اور حضرت عمر فاروق رضی
اللہ تعالیٰ عنہم) کو بطور خاص نام لے کر گستاخی کرے گا، اس کا بھی یہی حکم ہے۔ وہ بھی کافر ہے اور اس کی توبہ بھی قبول نہیں کی جائے گی۔ ("البحر الرائق" جلد ۵، ص ۱۳۵-۱۳۶)
تاہم اتنا امتیاز ضرور ہے کہ گستاخ رسول صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو حدّاً سزائے موت دی جائے گی اور مذکورہ صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین کی شان میں گستاخی کرنے والے کو تعزیراً سزا دی جائے گی۔ اس حال میں کہ صحابہ کرامؓ نے گستاخی کرنے والے پر غصہ نہ کیا ہو اور جس کا تصور اب محال ہے بعد وفات پا جانے صحابہ کرامؓ کے!
دوسری روایت: گستاخی رسول ﷺ کا ایک اور فیصلہ:
”سیف بن عمر التمیمی نے اپنی کتاب ”الردۃ والفتوح“ میں اپنے شیوخ سے روایت کیا ہے کہ ”مہاجر“ جب علاقہ یمامہ کے امیر تھے، ان کی عدالت میں دو گلو کار لونڈیوں کا معاملہ پیش کیا گیا۔ ان میں سے ایک رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی مذمت میں اشعار گایا کرتی تھی۔ مہاجر نے اس کا ایک ہاتھ کاٹ دیا اور اس کے اگلے دونوں دانت نکال دیے اور دوسری (گلو کارہ) مسلمانوں کی ہجو کیا کرتی تھی۔ مہاجر نے اس کا بھی ہاتھ کاٹ دیا اور اگلے دو دانت نکال دیے“۔
حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے اسے لکھا:
”تم نے رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو گالیاں دینے والی گلوکارہ عورت کو جو سزا دی، مجھے اس کے بارے میں معلوم ہوا ہے۔ اگر مجھے پہلے پتہ چل جاتا تو میں تجھے اس کے قتل کا حکم دیتا۔ اس لیے کہ انبیاء کی توہین کی وجہ سے جو سزا دی جاتی ہے، وہ باقی سزاؤں سے مختلف ہوتی ہے“۔ ("الصارم المسلول" ص ۲۷۰)
علامہ ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ اس قول کے ذیل میں لکھتے ہیں:
”اس سے منقول روایت پہلے بھی گزر چکی ہے کہ جو شخص رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو گالی دے تو اسے قتل کیا جاسکتا ہے مگر کسی اور کو گالی دینے سے قتل نہیں کر سکتے۔ یہ اس امر کی صریح دلیل ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو گالیاں دینے والے کو قتل کیا جاسکتا ہے۔ خواہ وہ مسلم ہو، معاہد ہو (غیر مسلم) یا عورت۔ نیز یہ کہ اس سے توبہ کا مطالبہ نہیں کیا جائے گا“۔
قاضی عیاض اس حدیث کے ذیل میں یوں رقم طراز ہیں:
"قاضی ابو محمد بن نصر فرماتے ہیں کہ تمام علماء نے اس مسئلہ میں ان کی تائید کی ہے اور کسی نے اس سلسلہ میں اختلاف نہیں کیا۔ آئمہ حدیث نے اس حدیث سے بھی استدلال کیا ہے کہ جو شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے غصہ کا سبب ہے‘ خواہ وہ کسی وجہ سے ہو یا حضور (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کو زبانی یا عملی طور پر تکلیف پہنچائے وہ واجب القتل ہے"۔ ("الشفاء" جلد ۲‘ ص ۱۹۶ اردو ترجمہ ص ۴۸۷)
اور خلافت حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ میں عرب کے مختلف قبائل میں ارتداد کی اک آگ پھیل گئی تھی۔ قبیلہ بنی حنیفہ میں مسیلمہ بن حبیب کا دعویٰ نبوت اس آگ میں تیل کا اثر رکھتا تھا۔ اس فتنہ کے تدارک کے لیے حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے خصوصی حکمت عملی وضع فرمائی۔
منکرین زکوٰۃ سے جنگ کے لیے اس قدر شدت نہیں اپنائی گئی تھی اور نہ اس قدر قلق تھا کہ وہاں شریعت اسلامیہ کے ایک عمل کا معاملہ تھا اور یہاں صاحب شرع صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ناموس اور ختم نبوت کی بات تھی۔
چنانچہ اس واقعہ کو مصر کے نامور محقق محمد حسین ہیکل تفصیل سے یوں رقم کرتے ہیں:
تیسری روایت: جنگ یمامہ:
"بطاح سے خالد بن ولیدؓ اپنے لشکر اور ابو بکرؓ کی بھیجی ہوئی کمک لے کر بنی حنیفہ کے متنبّی مسیلمہ بن حبیب (کذاب) سے جنگ کرنے کے لیے یمامہ روانہ ہوئے۔ جو کمک ابو بکرؓ نے بھیجی تھی‘ وہ تعداد اور قوت میں خالدؓ کے اصل لشکر سے کم نہ تھی۔ اس میں ان مہاجرین اور انصار کے علاوہ‘ جنہوں نے رسول اللہ ( ﷺ) کے زمانے میں کفار سے لڑائیاں کی تھیں‘ ان قبائل کے لوگ بھی شامل تھے جن کا شمار عرب کے طاقتور اور جنگجو قبیلوں میں ہوتا تھا۔ انصار ثابت بن قیس اور براء بن مالک کے زیر سرکردگی تھے اور مہاجرین ابو حذیفہ بن عتبہ اور زید بن خطاب کے ماتحت۔ دوسرے قبائل میں سے ہر قبیلے کا سردار علیحدہ علیحدہ تھا‘ جسے ابو بکرؓ نے اس کی حسن کارکردگی کے باعث اس عہدے پر مقرر فرمایا تھا۔ وہ جانتے تھے کہ جنگ کے وقت چالیس ہزار بنو حنیفہ مسیلمہ کے پہلو بہ پہلو کھڑے ہوں
گے اور مسلمانوں کو نیست و نابود کرنے کی ہر ممکن کوشش کریں گے۔ اس لیے اس وقت مدینہ کی جانب سے بھی بہترین آدمیوں کو، جو قیادت اور جنگ کا کامل تجربہ رکھتے ہوں، محاذ جنگ پر نہ بھیجا گیا تو ان مرتدین کا مقابلہ بے حد دشوار ہو جائے گا۔
ان لوگوں میں، جنہیں ابوبکرؓ نے خالدؓ کی امداد کے لیے روانہ کیا تھا، قرآن مجید کے حافظوں اور قاریوں کی بھی بھاری تعداد شامل تھی۔ اسی طرح ایک خاص دستہ ان صحابہ کا تھا جنہوں نے جنگ بدر میں حصہ لیا تھا۔ ایسا کرنا ابوبکرؓ کی اس پالیسی کے خلاف تھا جو انہوں نے اہل بدر کے متعلق وضع کی تھی۔ وہ فرمایا کرتے تھے کہ میں جنگوں میں اہل بدر کو استعمال نہ کروں گا، یہاں تک کہ وہ اپنے نیک اعمال کے ساتھ اللہ کے دربار میں حاضر ہو جائیں۔ لیکن اس موقع پر نازک صورت حال کے پیش نظر انہوں نے اپنی پالیسی تبدیل کرتے ہوئے اہل بدر اور دوسرے صحابہ کو، جنہوں نے رسول اللہ کے زمانے کی جنگوں میں حصہ لیا تھا، خالدؓ کی مدد کے لیے روانہ فرمایا کیونکہ یمامہ میں مسیلمہ کو خوب فروغ ہو چلا تھا اور وہ آسانی سے زیر ہونے والا نہ تھا۔ ("حضرت ابوبکر صدیقؓ" ص ۲۲۰-۲۲۱)
بعض روایات میں مسیلمہ کذاب کے لشکر کی تعداد چالیس ہزار درج ہے جبکہ دوسری بعض روایات میں ستر ہزار درج ہے۔ مسیلمہ کذاب کی اس لشکری قوت کے پیش نظر حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے بہترین حکمت عملی وضع فرمائی۔ محمد حسین ہیکل لکھتے ہیں:
"ابوبکرؓ کی نظر میں یہ تمام باتیں پہلے ہی سے موجود تھیں، اس لیے انہوں نے پوری کوشش کی کہ یمامہ کی جانب جو لشکر بھیجے جائیں، وہ طاقت ور ہوں۔ مرتدین سے لڑنے کے لیے انہوں نے گیارہ لشکر تیار کیے تھے اور ہر لشکر کو علیحدہ علیحدہ قبیلے کی طرف بھیجا تھا۔ لیکن مسیلمہ کے بارے میں ایسا نہ ہوا بلکہ اس کی جانب انہوں نے عکرمہؓ بن ابو جہل کو بھیجا اور ان کے پیچھے پیچھے شرجیلؓ بن حسنہ کو ایک لشکر دے کر ان کی مدد کے لیے روانہ فرمایا۔ عکرمہ یمامہ کی جانب بڑھتے چلے گئے اور شرجیل کے پہنچنے کا انتظار نہ کیا۔ وہ چاہتے تھے کہ مسیلمہ پر فتح یاب ہونے کا فخر تنہا انہیں کے حصے میں آئے۔ عکرمہ ایک تجربہ کار ماہر جنگ اور دشمن کو خاطر میں نہ لانے والے شہسوار تھے۔ ان کی فوج میں بڑے بڑے بہادر شامل تھے جو پچھلی جنگوں میں لوگوں پر اپنے کارناموں کی دھاک بٹھا چکے تھے۔ لیکن اس
کے باوجود وہ مسیلمہ کے مقابلے میں نہ ٹھہر سکے اور بنو حنیفہ نے انہیں شکست دے کر پیچھے ہٹا دیا۔ عکرمہ نے اپنی ہزیمت کا سارا حال ابو بکرؓ کو لکھ بھیجا جسے پڑھ کر ان کے غصے کی انتہا نہ رہی۔ انہوں نے عکرمہ کو لکھا:
اے ابن ام عکرمہ! (عکرمہ کی ماں کے بیٹے) میں تمہاری صورت دیکھنے کا مطلق روادار نہیں۔ تم واپس آ کر لوگوں میں بد دلی پھیلانے کا باعث نہ بنو بلکہ حذیفہ اور عرفجہ کے پاس جا کر اہل عمان اور مہرہ سے لڑو۔ اس کے بعد یمن اور حضرموت جا کر مہاجر بن ابی امیہ سے مل جاؤ اور ان کے دوش بدوش مرتدین سے جنگ میں حصہ لو"۔
اس خط میں جو غیظ و غضب پنہاں ہے‘ اسے بیان کرنے کی ضرورت نہیں۔ ابن ام عکرمہ کا خطاب ہی اس غیظ و غضب کی صحیح کیفیت ظاہر کر رہا ہے۔
مسیلمہ کی قوت کا سبب:
سوال پیدا ہوتا ہے کہ آخر مسیلمہ نے اتنی قوت کس طرح حاصل کر لی؟
مسیلمہ‘ رسول اللہ (ﷺ) کے آخری ایام میں بنی حنیفہ کے ایک وفد کے ہمراہ مدینہ آیا۔ وفد کے باقی ارکان تو رسول اللہ کے پاس چلے گئے اور قبول اسلام کا اعلان کر دیا لیکن مسیلمہ نہ جا سکا کیونکہ وہ لوگ اسے سامان کی حفاظت کے لیے ڈیرے ہی پر چھوڑ گئے تھے۔ رسول اللہ (ﷺ) نے حسب عادت انہیں کچھ مال و منال عطا فرمایا جس پر انہوں نے مسیلمہ کا حصہ مانگا۔ آپ نے اس کے حصے کا مال بھی ان لوگوں کو دیا اور فرمایا: ”وہ مرتبے میں تم سے کمتر نہیں“۔
مطلب یہ تھا کہ اس کی حیثیت اتنی کمتر نہیں کہ تم اسے مال کی حفاظت کے لیے ڈیرے پر چھوڑ آئے ہو۔
مسیلمہ محض یہ بات پیش کر کے نبوت کا دعویٰ نہ کر سکتا تھا‘ اس لیے شروع میں بہت ہی تھوڑے لوگوں نے اس کی باتوں پر کان دھرا ورنہ دو سال میں ہزاروں آدمیوں کو اپنے گرد جمع کر لینا کوئی معجزہ قرار پا سکتا ہے۔ یہ تو محض ایک شعبدہ بازی تھی۔
حقیقی امر‘ جس نے مسیلمہ کی طاقت بڑھائی‘ وہ تھا ”نہار الرجال“ کا اس سے مل جانا۔ یہ شخص‘ جس کا نام ”نہار الرجال“ یا ”نہار الرحال بن عنفوہ“ تھا‘ اسی
علاقے کا رہنے والا تھا اور ہجرت کر کے رسول اللہ کے پاس مدینہ آگیا تھا۔ یہاں اس نے قرآن کریم پڑھا اور دینی تعلیم حاصل کی۔ چونکہ وہ بہت ذہین شخص تھا، اس لیے رسول اللہ (ﷺ) نے اسے اہل یمامہ کو دین اسلام کی تعلیمات سے آگاہ کرنے اور لوگوں کو مسیلمہ کی متابعت سے روکنے کے لیے بھیجا۔ لیکن نہار، مسیلمہ سے بھی زیادہ فتنہ پرور ثابت ہوا۔ جب اس نے دیکھا کہ لوگ مسیلمہ کی اطاعت قبول کرتے جارہے ہیں تو وہ ان لوگوں کی نظروں میں اپنے آپ کو سرخرو کرنے کے لیے ان سے مل گیا اور مسیلمہ کی نبوت کا اقرار کرنے کے ساتھ رسول اللہ (ﷺ) کی جانب یہ جھوٹا قول بھی منسوب کیا کہ مسیلمہ ان کے ساتھ نبوت میں شریک کیا گیا ہے۔ اہل یمامہ کو اس سے زیادہ اور کیا چاہیے تھا کہ محمد (ﷺ ) کے ساتھیوں میں سے ایک شخص مسیلمہ کی نبوت کی گواہی دے رہا ہے اور وہ شخص معمولی آدمی نہیں بلکہ عالم، فاضل اور فقیہ بھی ہے۔ ان کے سامنے قرآن پڑھتا اور اس کی تعلیمات سے انہیں آگاہ کرتا ہے۔ انہیں دین کا علم سکھاتا ہے۔ اب کہ وہ خود نبوت مسیلمہ کی گواہی دے رہا تھا تو مسیلمہ کی نبوت سے انکار کی گنجائش ہی کہاں رہی تھی۔ چنانچہ بے وقوف لوگ جوق در جوق مسیلمہ کے پاس آئے اور بنی حنیفہ کے رسول کی حیثیت سے اس کی بیعت کرنے لگے۔ اس طرح چند ہی دنوں میں اس کی طاقت کہیں سے کہیں جا پہنچی۔
مسیلمہ نے اس کے صلے میں نہار الرجال کو اپنا خاص معتمد علیہ بنالیا اور اس کے مشورے سے نبوت کا کاروبار انجام دینے لگا۔ اس کے بدلے نہار الرجال کو دنیا بھر کی نعمتیں میسر آگئیں اور وہ ان سے جی بھر کر لطف اندوز ہونے لگا۔ جب علماء اور فقہاء ہی دنیا کی نعمتوں کے حصول پر تل جائیں اور اپنی غرض کے لیے ذلیل خوشامد اور جھوٹی گواہی سے بھی دریغ نہ کریں تو عوام جو بھی کریں، تھوڑا ہے۔
جہاں تک مسیلمہ کے معجزات کا تعلق ہے، تاریخ سے ان کا کوئی ثبوت نہیں ملتا۔ نہ لوگوں نے اس کا کوئی معجزہ دیکھ کر اسے قبول کیا اور نہ اس کی خود ساختہ وحی سے متاثر ہو کر اس پر ایمان لائے۔ مسیلمہ کا کاروبار چمکنے کے صرف وہی سبب تھے، جن کا ذکر پہلے کر دیا گیا ہے۔
مسیلمہ کی اطاعت کیوں قبول کی گئی؟:
”جہاں تک اس امر کا تعلق ہے کہ عوام تو خیر جاہل ہوتے ہیں، انہیں حق و باطل کی تمیز نہیں ہوتی لیکن دانشوران قوم کی عقلوں پر کیا پتھر پڑ گئے تھے کہ انہوں نے آنکھیں بند کر کے مسیلمہ کی اطاعت قبول کر لی‘ تو بات یہ ہے کہ اس کی تہہ میں عربوں کی قومی عصبیت اور قبائلی خود مختاری کا جذبہ کارفرما تھا۔ اس کے ثبوت میں مندرجہ ذیل واقعہ پیش کیا جاتا ہے:
مورخین ذکر کرتے ہیں کہ طلیحہ نمری یمامہ آیا اور لوگوں سے پوچھا: ”مسیلمہ کہاں ہے؟“
لوگوں نے کہا: ”تم اس کا نام اس قدر بے ادبی سے لیتے ہو حالانکہ وہ اللہ کا رسول ہے“۔
اس نے کہا: ”میں تو اس وقت تک اسے رسول ماننے کے لیے تیار نہیں جب تک اس سے مل نہ لوں۔ تم مجھے اس کے پاس لے چلو“۔
مسیلمہ کے پاس پہنچ کر طلیحہ نے اس سے پوچھا: ”تمہارے پاس کون آتا ہے؟“
”رحمان“ مسیلمہ نے جواب دیا۔
”روشنی میں یا اندھیرے میں؟“
”اندھیرے میں“۔
اس پر طلیحہ بولا:
”میں گواہی دیتا ہوں کہ تم کذاب ہو اور محمد (ﷺ) سچے ہیں لیکن اپنا کذاب ہمیں دوسروں کے سچے سے زیادہ محبوب ہے“۔
چنانچہ اس نے مسیلمہ کی اطاعت قبول کر لی اور اسی کے ہمراہ لڑتا ہوا مارا گیا۔
مسیلمہ کی قوت و طاقت کے بڑھ جانے اور اس کے مقابلے میں عکرمہؓ کے شکست کھانے کے باعث ابوبکرؓ کے لیے ضروری ہو گیا کہ وہ خالد بن ولیدؓ کو اس کی سرکوبی کے لیے روانہ کریں۔ چنانچہ انہوں نے شرجیل بن حسنہ کو لکھا کہ وہ جہاں ہیں‘ وہیں رہیں‘ جب تک خالدؓ ان کے پاس نہ پہنچ جائیں۔ مسیلمہ سے فراغت حاصل کرنے کے بعد وہ (شرجیل) عمرو بن عاص کے پاس چلے جائیں اور شمالی حصے میں قضاعہ کے خلاف جنگ میں ان کی مدد کریں۔
شرحبیل کی شکست :
”ابھی خالدؓ یمامہ کے رستے ہی پر تھے کہ مسیلمہ کی فوجوں نے شرحبیل کی فوج سے ٹکر لی اور اسے پیچھے ہٹا دیا۔ بعض مورخین لکھتے ہیں کہ شرحبیل نے بھی وہی کیا جو اس سے پہلے عکرمہؓ کر چکے تھے یعنی وہ مسیلمہ پر فتح یابی کا فخر خود حاصل کرنے کے شوق میں آگے بڑھے لیکن انہیں بھی شکست کھا کر پیچھے ہٹنا پڑا۔ پھر بھی میرے خیال میں واقعہ اس طرح نہیں بلکہ خود یمامہ کے لشکر نے اس خیال سے کہ کہیں شرحبیل خالدؓ سے مل کر انہیں نقصان نہ پہنچائیں‘ آگے بڑھ کر لشکر پر حملہ کر دیا اور شکست دے کر اسے پیچھے ہٹا دیا۔ دونوں میں سے کوئی بات ہوئی ہو مگر واقعہ یہی ہوا کہ شرحبیل اپنا لشکر لے کر پیچھے ہٹ گئے۔ جب خالدؓ ان کے پاس پہنچے اور انہیں تمام واقعات کا علم ہوا تو انہوں نے شرحبیل کو بہت برا بھلا کہا۔ آپ کا خیال تھا کہ اگر دشمن سے ٹکر لینے کی طاقت نہ ہو تو بے شک اس وقت تک اس سے مقابلے سے گریز کی جائے جب تک مطلوبہ طاقت حاصل نہ ہو جائے‘ بہ نسبت اس امر کے کہ طاقت نہ ہونے کے باوجود دشمن سے لڑائی چھیڑ دی جائے‘ جس کے نتیجے میں شکست کھانی پڑے“۔ (”ابوبکر صدیقؓ“ از محمد حسین ہیکل‘ ص ۲۲۲-۲۲۶)
چوتھی روایت: حضور ﷺ کو آخری نبی تسلیم نہ کرنے پر حضرت
خالد بن ولیدؓ نے انہیں قتل کروا دیا :
محمد حسین ہیکل لکھتے ہیں :
”اب خالدؓ نے اپنے لشکروں کے ہمراہ یمامہ کی جانب بڑھنا شروع کیا۔ مسیلمہ کو بھی ان کی نقل و حرکت کی تمام خبریں پہنچ رہی تھیں۔ اسی دوران میں یہ واقعہ ہوا کہ بنی حنیفہ کا ایک شخص مجاعہ بن مرارہ‘ بنی عامر اور بنی تمیم کے چند اشخاص سے اپنے کسی رشتہ دار کے قتل کا انتقام لینے کے لیے چند لوگوں کے ہمراہ نکلا۔ اسے خدشہ تھا کہ اگر مسلمانوں سے جنگ شروع ہو گئی تو انتقام لینے کا موقع نہ مل سکے گا۔ چنانچہ اس نے ان قبائل میں پہنچ کر اپنا قصاص لیا اور اپنے ساتھیوں کے ساتھ واپس چل پڑا۔ جب یہ لوگ ”ثنیتہ الیمامہ“ پہنچے تو تھکاوٹ کی وجہ سے بے خبر پڑ کر سو گئے۔ دریں اثناء خالدؓ کا لشکر وہاں پہنچ گیا۔ اس وقت یہ ہڑبڑا کر
اُٹھے۔ خالدؓ کو معلوم ہو گیا کہ یہ لوگ بنو حنیفہ سے تعلق رکھتے ہیں۔ انہوں نے‘ اس خیال سے کہ ان سے لڑنے کے لیے نکلے ہیں‘ انہیں قتل کرنے کا حکم دے دیا۔ انہوں نے کہا ”ہم آپ سے لڑنے کے لیے نہیں بلکہ بنو تمیم سے انتقام لینے کے لیے نکلے تھے“۔ اس پر خالد نے پوچھا ”اسلام کے بارے میں تمہاری کیا رائے ہے؟“ انہوں نے کہا ”ایک نبی ہم میں اور ایک نبی تم میں“۔ اس پر خالدؓ نے انہیں قتل کرا دیا“۔ (”ابو بکر صدیقؓ“ ص ۲۶۶-۲۴۷ از محمد حسین ہیکل)
خالدؓ اور مسیلمہ میں جنگ :
”مسیلمہ نے اپنا لشکر یمامہ کی ایک جانب عقرباء میں جمع کیا تھا اور سارا مال اسباب لشکر کے پیچھے رکھا تھا۔ اس کا لشکر بعض روایات کے مطابق چالیس ہزار اور بعض دوسری روایتوں کے رو سے ستر ہزار تھا۔ ایسے عظیم الشان لشکر کا ذکر عربوں نے اس سے پہلے بہت ہی کم سنا تھا۔
خالدؓ اسی روز‘ جب انہوں نے مجاعہ کو قید کیا تھا‘ مسیلمہ کی فوج کے مقابلے میں آ گئے۔ دونوں لشکر میدانِ جنگ میں کھڑے آخری اعلان کے منتظر تھے۔ ہر ایک کو یقین تھا کہ فتح مندی و کامرانی اسی کے حصے میں آئے گی اور وہ دوسرے لشکر کو تباہ و برباد کرنے میں کامیاب ہو جائے گا۔
اس میں کوئی شبہ نہیں کہ جنگ یمامہ کا دن اپنی نوعیت کے لحاظ سے تاریخ اسلام میں ایک منفرد دن ہے کیونکہ اس روز اسلام اور نبوت کاذبہ (نبوت مسیلمہ کذاب) کا آخری مقابلہ ہونے والا تھا۔
مسیلمہ کی طرف یمن‘ عمان‘ مہرہ‘ بحرین‘ حضرموت اور عرب کی جنوبی جانب‘ مکہ اور طائف سے خلیج عدن تک‘ کے تمام علاقوں کے لوگوں کی نظریں جمی ہوئی تھیں۔ ایرانی بھی بڑی بے صبری سے اس جنگ کے نتیجے کے منتظر تھے۔ مسیلمہ کا لشکر اس پر کامل ایمان رکھتا تھا اور اس کی راہ میں کٹ مرنے کے لیے تیار تھا۔ علاوہ بریں حجاز اور عرب کے جنوبی علاقوں کی دیرینہ دشمنی بھی مسلمانوں کے خلاف بنی حنیفہ کے اس جوش و خروش میں مزید اضافے کا موجب ہوئی تھی۔ مسلمانوں کا لشکر بھی اپنی ہیئت کے لحاظ سے کچھ کم طاقتور نہ تھا۔ اس کے سپہ سالار خالدؓ بن ولید تھے جو بلاشبہ اپنے زمانے کے سالار اعظم تھے۔ لشکر میں کلام اللہ کے
حافظوں اور قاریوں کی بھی کمی نہ تھی۔ یہ تمام لوگ اس جذبے سے میدان جنگ میں آئے تھے کہ اللہ کے راستے میں جہاد اور اس کے دین کی مدافعت مومن کا فرض اولین ہے اور علم و بصیرت رکھنے والے کے لیے تو یہ فرض عین ہے۔ اس جذبے نے ان کے ولولوں اور امنگوں کو بہت بڑھا دیا تھا اور وہ تعداد میں مرتدین سے بہت کم ہونے کے باوجود عزم و ہمت میں ان سے کہیں بڑھ چڑھ کر تھے۔
(”ابوبکر صدیقؓ“ ص ۲۲۷-۲۲۸ از محمد حسین ہیکل)
ایک طرف نبی آخر الزمان صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی حرمت و تقدس کے پروانے سربکف کھڑے تھے‘ دوسری طرف دنیاوی لالچ و انا کے بت پاش پاش ہونے کو صف آرا تھے۔
باوجود اس کے کہ مسیلمہ کذاب کی نبوت کی بنیاد جھوٹ پر کھڑی تھی لیکن مسیلمہ کذاب کا بیٹا اپنے باپ کی جھوٹی نبوت کی خاطر اس کے ماننے والوں کو مر مٹنے کو تیار کر رہا تھا۔ ملاحظہ ہو
ابن مسیلمہ کی آتش بیانی:
لڑائی شروع ہونے سے پہلے مسیلمہ کا لڑکا بنی حنیفہ کی صفوں میں پھر کر اپنے آتشیں الفاظ سے ان کی غیرت و حمیت کی آگ بھڑکاتے ہوئے یہ کہتا پھر رہا تھا: ”اے بنو حنیفہ! آج تمہاری غیرت کا امتحان ہے۔ اگر تم شکست کھا گئے تو تمہارے پیچھے تمہاری عورتیں لونڈیاں بنالی جائیں گی اور ان کے نکاح زبردستی دوسرے لوگوں سے کر دیئے جائیں گے۔ اس لیے اپنے حسب و نسب کی خاطر مسلمانوں سے جنگ کرو اور اپنی عورتوں کی عزت بچاؤ“۔ (”ابوبکر صدیقؓ“ ص ۲۲۸ از محمد حسین ہیکل)
جنگ شروع ہوئی۔ مسیلمہ کذاب کے لشکر نے بھرپور حملہ کیا۔ مسلمان پہلی مرتبہ اس کے مقابلے میں ثابت قدم نہ رہے اور پیچھے ہٹنے لگے لیکن پیچھے ہٹتے ہٹتے ایک بہت بڑے گستاخ رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو جہنم رسید کر دیا۔
پانچویں روایت: محمد حسین ہیکل اسے یوں لکھتے ہیں:
نہار الرجال کا قتل:
مسلمانوں نے پیچھے ہٹنے کے باوجود پہلے ہی ہلے میں بنی حنیفہ کے سیکڑوں آدمیوں کو قتل کر ڈالا تھا۔ ان قتل ہونے والوں میں سب سے پہلا شخص نہار الرجال تھا جو بنی حنیفہ کے ”مقدمہ“ پر مقرر تھا۔ اسے حضرت عمرؓ کے بھائی زید بن خطاب نے قتل کیا تھا۔ اس کے قتل سے فتنہ مسیلمہ کے سب سے بڑے سرغنے کا خاتمہ ہو گیا۔ (”ابوبکر صدیقؓ“ ص ۲۲۹ از محمد حسین ہیکل)
خالدؓ کی حکمت عملی:
لشکر اسلام کے پیچھے ہٹنے کے باوجود خالدؓ کے عزم و ثبات میں مطلق کمی نہ آئی اور انہیں ایک لمحے کے لیے بھی اپنی شکست کا خیال پیدا نہ ہوا۔ انہوں نے یہ بات بھانپ لی تھی کہ لشکر کے پیچھے ہٹنے کا سبب فخر و مباہات کا وہ جذبہ تھا جو مسلمانوں کے مختلف گروہوں میں پیدا ہو گیا تھا اور جس کے باعث ان میں کمزوری راہ پا گئی تھی۔ یہ خیال آتے ہی انہوں نے پکار کر اپنے لشکر سے کہا: ”اے لوگو! علیحدہ علیحدہ ہو جاؤ اور اسی حالت میں دشمن سے لڑو تاکہ ہم دیکھ سکیں‘ کس قبیلے نے لڑائی میں بہادری کا سب سے اچھا مظاہرہ کیا ہے“۔
مجاہدین اسلام کا عزم و ثبات:
خالدؓ کے اس حکم کا خاطر خواہ اثر ہوا اور ہر قبیلے نے اپنے آپ کو دوسروں سے برتر ثابت کرنے کے لیے پہلے سے بھی زیادہ جوش و خروش سے دشمن کا مقابلہ کرنا شروع کر دیا۔ آخر مسلمانوں کو بھی یہ احساس ہو گیا کہ انہوں نے لڑائی شروع ہونے سے پہلے فخر و مباہات اور تعلی کا جو مظاہرہ کیا تھا‘ وہ نامناسب تھا۔
چنانچہ انصار کے ایک سردار ثابت بن قیسؓ نے مسلمانوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا: ”اے مسلمانو! تم نے بہت بری مثال قائم کی ہے“۔
پھر اہل یمامہ کی طرف اشارہ کر کے کہا: ”اے اللہ! جس کی یہ عبادت کرتے ہیں‘ میں اس سے برات کا اظہار کرتا ہوں“۔
اور مسلمانوں کی طرف اشارہ کر کے کہا: ”اور جو کچھ انہوں نے کیا ہے‘ میں اس سے بھی بیزاری کا اظہار کرتا ہوں“۔
اس کے بعد وہ تلوار سونت کر دشمن کی صفوں میں گھس گئے اور بڑی بہادری
سے لڑنے لگے۔ وہ لڑتے جاتے تھے اور کہتے جاتے تھے: ”میری تلوار کا مزہ چکھو‘ میں تمہیں صبر و استقلال کا حقیقی نمونہ دکھاؤں گا“۔ وہ اسی طرح بے جگری سے لڑتے رہے۔ ان کے جسم کا کوئی حصہ ایسا نہ تھا جہاں زخم نہ لگے ہوں۔ آخر اسی طرح لڑتے لڑتے شہید ہوگئے۔
براء بن مالک ان صنادید عرب میں سے تھے جو پیٹھ دکھانا جانتے ہی نہ تھے۔ جب انہوں نے مسلمانوں کو بھاگتے دیکھا تو وہ تیزی سے کود کر ان کے سامنے آگئے اور کہا: ”اے مسلمانو! میں براء بن مالک ہوں۔ میری پیروی کرو“۔ مسلمان ان کی بہادری اور شجاعت سے خوب واقف تھے۔ ان کی ایک جماعت براء کے ساتھ ہو لی۔ وہ اسے لے کر دشمن کے مقابلے میں آگئے اور اس بہادری سے لڑے کہ دشمن کو پیچھے ہٹتے ہی بن پڑی۔
عین لڑائی کے دوران یہ اتفاق ہوا کہ سخت آندھی آگئی اور ریت اڑ اڑ کر مسلمانوں کے چہروں پر پڑنے لگی۔ چند لوگوں نے اس پریشانی کا ذکر زید بن خطاب سے کیا اور پوچھا کہ اب کیا کریں۔ انہوں نے جواب میں کہا: ”واللہ! میں آج کے دن اس وقت تک کسی سے بات نہ کروں گا جب تک دشمن کو شکست نہ دے لوں یا اللہ مجھے شہادت عطا نہ فرمائے۔ اے لوگو! آندھی سے بچاؤ کی خاطر اپنی نظریں نیچی کر لو اور ثابت قدم رہ کر لڑو“۔
یہ کہہ کر تلوار سونت لی اور دشمن کی صفوں میں گھس کر بے جگری سے لڑنے لگے۔ ان کا دستہ بھی ان کے پیچھے ثابت قدمی سے لڑ رہا تھا۔ آخر ان کے منہ سے نکلے ہوئے الفاظ پورے ہوگئے اور انہوں نے اسی طرح لڑتے لڑتے جام شہادت نوش کیا۔
ابو حذیفہؓ پکار پکار کر کہہ رہے تھے: اے اہل قرآن! اپنے افعال کے ذریعے سے قرآن کو عزت بخشو“۔
پھر خود بھی دشمن کی صفوں میں گھس گئے اور لڑتے لڑتے شہید ہوگئے۔ ان کی شہادت کے بعد جھنڈا ان کے غلام سالم نے اٹھایا اور کہا: ”اگر آج ثابت قدم نہ رہوں تو میں بدترین حاملِ قرآن ہوں گا“۔ چنانچہ وہ بھی لڑتے لڑتے شہید ہوگئے۔
ان آوازوں نے، جو ایمان و یقین سے بھرپور قلوب سے نکل رہی تھیں، مسلمانوں کے لشکر میں بہادری کی ایک نئی روح پھونک دی۔ زندگی ان کی نظروں میں حقیر بن کر رہ گئی اور شہادت کی تمنا ہر دل میں چٹکیاں لینے لگی۔ چنانچہ وہ بے جگری سے لڑے اور تھوڑی دیر میں مسیلمہ کے لشکر کو اس کی پہلی جگہ پر لا کھڑا کیا۔
جہاں مسلمان دین حق کی حفاظت اور حصول جنت کی خاطر لڑ رہے تھے، وہاں مسیلمہ کا لشکر اپنے وطن، حسب و نسب اور ایسے کمزور عقیدے کی خاطر لڑ رہا تھا جو ان کے نزدیک وطن اور حسب و نسب سے بھی بہت کم درجے کا تھا۔ اسی لیے مسلمانوں نے بنو حنیفہ سے زیادہ ثابت قدمی کا مظاہرہ کیا اور انتہائی بے جگری سے لڑے"۔ ("ابو بکر صدیق" ص ۲۳۰-۲۳۲ از محمد حسین ہیکل)
ابن سعدؒ کی روایت ہے کہ جنگ میں مسلمانوں کے پاؤں پیچھے پڑنے لگے تو حضرت سالمؓ نے کہا "افسوس! رسول اللہ (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کے ساتھ ہمارا یہ حال نہ تھا"۔ وہ اپنے لیے ایک گڑھا کھود کر اس میں کھڑے ہو گئے اور علم سنبھالے ہوئے آخری لمحہ حیات تک جانبازانہ شجاعت کے جوہر دکھاتے رہے۔
اختتام جنگ پر دیکھا گیا تو ان شہید ملت کا سر اپنے منہ بولے باپ حضرت ابو حذیفہؓ کے پاؤں میں تھا۔
اسی طرح حضرت عمار بن یاسرؓ، جن کی عمر اس وقت ۶۷ سال کے قریب تھی، اس جوش سے لڑ رہے تھے کہ ان کا ایک کان شہید ہو گیا جو سامنے زمین پر پھڑک رہا تھا لیکن وہ بے پرواہی سے حملے پر حملہ کر رہے تھے اور جس طرف رخ کرتے تھے، صفوں کی صفیں تہہ و بالا کر دیتے تھے۔ مسلمانوں کے پاؤں پیچھے پڑتے دیکھ کر انہوں نے ایک بلند چٹان پر کھڑے ہو کر للکارا: "اے گروہ مسلمانان! کیا جنت سے بھاگ رہے ہو۔ میں عمار بن یاسرؓ ہوں، میرے پاس آؤ"۔
اس صدا نے سحر کا کام کیا اور جنت کے شیدائی سنبھل کر ٹوٹ پڑے۔ بہادروں کے اس جوش ایمانی کا یہ اثر ہوا کہ مسلمانوں میں جانبازی کی لہر دوڑ گئی اور وہ اس سرفروشی سے لڑنے لگے کہ مسیلمہ کے لشکر کو اس کی پہلی جگہ پر دھکیل دیا۔ ("قومی ڈائجسٹ" جلد ۹، شمارہ ۹، ص
۱۵۳ از الطاف علی قریشی)
خون کی وادی:
”لڑائی اس شدت سے جاری تھی کہ اس کی مثال نہیں ملتی۔ مسلمان بڑھ بڑھ کر حملے کر رہے تھے اور بنو حنیفہ بھی ڈٹ کر مقابلہ کرتے تھے اور مسلمانوں کی عظیم بہادری‘ ذاتی شجاعت اور تیر و تفنگ کے بہترین استعمال کے جواب اپنی کثرت تعداد سے دے رہے تھے۔ دو گھاٹیوں کے درمیان ایک گلی میں اس قدر خون ریز لڑائی ہوئی اور دشمن کا اس قدر خون بہا کہ اس کا نام ”شعیب الدم“ پڑ گیا۔ لیکن لڑائی کے اختتام کے ابھی کوئی آثار نہ تھے“۔ (ایضاً)
خالدؓ، قتل مسیلمہ کے درپے:
”خالدؓ نے بھی جب مسلمانوں کی جوش دلانے والی آوازیں سنیں تو انہیں بھی یقین ہو گیا کہ بنی حنیفہ کی سخت مدافعت کے باوجود انجام کار فتح انہیں کے حصے میں آئے گی۔ لیکن وہ چاہتے تھے کہ فتح کا حصول حتی الامکان جلد ہو جائے‘ اس لیے بہت غور سے ایک بار میدان کا جائزہ لیا۔ انہوں نے دیکھا کہ بنو حنیفہ مسیلمہ کے گرد کٹ کٹ کر گر رہے ہیں اور مسیلمہ کی حفاظت میں موت کی بھی پروا نہیں کرتے۔ یہ دیکھ کر انہیں یقین ہو گیا کہ فتح کے جلد از جلد حصول کا طریق یہ ہے کہ کسی طرح مسیلمہ کو قتل کر دیا جائے۔ چنانچہ وہ اپنے آدمی لے کر آگے بڑھے اور مسیلمہ کے آدمیوں کے گرد گھیرا ڈال لیا۔ اس کے بعد کوشش کی کہ کسی طرح مسیلمہ ان کے سامنے آ جائے تاکہ اس کا کام تمام کیا جا سکے۔ لیکن قبل اس کے کہ مسیلمہ ان کے سامنے آتا‘ اس کے آدمیوں نے بڑھ چڑھ کر خالدؓ پر حملے کرنے شروع کیے۔ خالدؓ تو ان کے بس میں کیا آتے‘ البتہ جو شخص ان کے مقابلے میں آتا‘ زندہ واپس نہ جاتا۔ اس طرح بے شمار آدمی قتل ہو گئے“۔ (”ابوبکر صدیقؓ“ ص ۲۳۲-۲۳۳ از محمد حسین ہیکل)
”تاریخ طبری‘ جلد دوم میں مذکور ہے کہ مسیلمہ کے متعلق رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حضرت خالدؓ سے فرمایا کہ ایک شیطان مسیلمہ کے تابع ہے اور جب مسیلمہ اس کے پاس ہوتا ہے تو اس کے منہ سے اس قدر جھاگ جاری ہوتا ہے کہ معلوم ہوتا ہے کہ اس کے دونوں جبڑوں میں ناسور ہے اور جب مسیلمہ کسی بھلی بات کا ارادہ کرتا ہے تو وہ شیطان اسے روک دیتا ہے۔ لہٰذا اگر تم کو اُس کے خلاف موقع مل جائے تو ہرگز اس کو ہاتھ سے نہ جانے دینا۔
حضرت خالدؓ نے مسیلمہ کو بات چیت کے لیے بلایا جس پر وہ راضی ہو گیا۔ جب وہ حضرت خالدؓ کے مقابل چند گز کے فاصلے پر آیا تو حضرت خالدؓ نے اس سے پوچھا ”اگر ہم مشروط صلح کر لیں تو تمہاری شرطیں کیا ہوں گی؟“ مسیلمہ نے اپنا سر ایک طرف پھیرا جیسے وہ کسی غائبانہ ہستی کی بات سن رہا ہو۔ کیونکہ اس کے الہام کا طریقہ ایسا ہی ہوا کرتا تھا۔ یہ دیکھ کر حضرت خالدؓ کو رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا فرمان یاد آگیا کہ مسیلمہ کبھی اکیلا نہیں ہوتا بلکہ اس کے شیطان ہمیشہ اس کے ہمراہ ہوتے ہیں، جن کی وہ کبھی نافرمانی نہیں کرتا اور اس کے شیطانوں نے کسی بھی صلح کی شرط کو ماننے سے انکار کر دیا اور اس نے اس کو اپنے سر کی جنبش سے ظاہر کر دیا۔ حضرت خالدؓ ایسے موقع کی تلاش میں تھے کہ وہ ذرا غافل ہو تو اس پر حملہ کر کے اس کا کام تمام کر دیں۔ چنانچہ انہوں نے اس سے دوسرا سوال کیا لیکن جب مسیلمہ نے سر پھیر کر غیبی مشیر کی بات سننے کا اعادہ کیا تو حضرت خالدؓ نے پھرتی سے اس پر حملہ کر دیا لیکن مسیلمہ حضرت خالدؓ سے بھی پھرتیلا نکلا اور بھاگ کر اپنے فدائیوں کے حلقہ میں جا چھپا۔ مسیلمہ کے اس فرار نے اسے مزید چند گھنٹوں کی زندگی تو ضرور بخش دی لیکن اس کی قوم کے حوصلے یہ دیکھ کر پست ہو گئے کہ ان کا اپنا نبی موت کے ڈر سے بڑی بزدلی کے ساتھ حضرت خالد ؓ سے بھاگ گیا ہے“۔ (”قومی ڈائجسٹ“ جلد ۹، شمارہ ۹، ص ۱۵۴ از الطاف علی قریشی)
مسیلمہ کا تردد و اضطراب:
محمد حسین ہیکل لکھتے ہیں:
”جب مسیلمہ نے دیکھا کہ اس کے حامیوں کی تعداد بسرعت کم ہوتی جا رہی ہے تو اس نے خود خالدؓ کے مقابلے پر آنے کا ارادہ کیا، لیکن اس خیال سے رک گیا کہ اگر وہ بھی خالدؓ کے مقابلے کے لیے نکلا تو لامحالہ مارا جائے گا۔ اب اس کے تردد اور اضطراب کی انتہا نہ رہی۔ اس کے جانثار کٹ کٹ کر گر رہے تھے اور اسے خود بھی اپنی موت سامنے نظر آ رہی تھی۔ وہ اس اضطراب کی حالت میں کھڑا یہ سوچ رہا تھا کہ اب کیا کرے۔ یکایک خالدؓ نے اپنے ساتھیوں کی مدد سے اس کے محافظین پر ایک بھرپور حملہ کر کے تلوار کے جوہر دکھانے شروع کیے۔ یہ دیکھ کر
مسیلمہ کے ساتھیوں نے اس سے پکار کر پوچھا: ”آپ کے وہ وعدے‘ جو اپنی فتح کے متعلق آپ نے ہم سے کیے تھے‘ کہاں گئے؟“
مسیلمہ کا فرار:
اس وقت مسیلمہ کے حوصلے ختم ہو چکے تھے اور اس نے میدان جنگ سے بھاگنے کا مصمم ارادہ کر لیا تھا۔ چنانچہ اس نے پیٹھ پھیرتے ہوئے جواب دیا: ”اپنے حسب و نسب کی خاطر لڑتے رہو“۔
لیکن اب وہ کیا لڑتے۔ جب ان کا سردار انہیں مسلمانوں کی تلواروں کے سپرد کر کے انتہائی بزدلی کا مظاہرہ کرتے ہوئے راہ فرار اختیار کر چکا تھا۔
بنی حنیفہ کے ایک سردار محکم بن طفیل نے جب لوگوں کو بھاگتے اور مسلمانوں کو ان کا پیچھا کرتے دیکھا تو پکار پکار کر کہنے لگا: ”اے بنو حنیفہ! باغ میں داخل ہو جاؤ“۔
یہ باغ‘ جسے ”حدیقۃ الرحمن“ کہا جاتا تھا‘ میدان جنگ سے قریب ہی تھا اور مسیلمہ کی ملکیت میں تھا۔ یہ بہت طویل و عریض تھا اور قلعے کی طرح اس کے چاروں طرف بلند دیواریں کھڑی تھیں۔ محکم بن طفیل کی آواز سن کر لوگوں نے اس باغ کی طرف بھاگنا شروع کیا (جس میں مسیلمہ پہلے ہی داخل ہو چکا تھا) لیکن محکم اپنے چند ساتھیوں کے ہمراہ مسلمانوں کو بنی حنیفہ کے تعاقب سے روکنے کے لیے میدان جنگ ہی میں رہ گیا تھا۔ اس نے بہت بہادری سے مسلمانوں کا مقابلہ کیا اور آخر عبدالرحمن بن ابی بکر کے ایک تیر سے‘ جو اس کے سینے میں لگا‘ اس کا کام تمام ہو گیا۔ (تقریباً سات ہزار آدمی مسیلمہ سمیت باغ میں داخل ہوئے)
باغ کا محاصرہ:
مسیلمہ اور اس کی قوم باغ میں پناہ گزین ہو چکی تھی۔ مسلمانوں کے لیے باغ کا محاصرہ کر لینے اور کامل فتح کے حصول تک وہاں سے نہ ٹلنے کے سوا کوئی چارۂ کار نہ تھا۔ چنانچہ انہوں نے ایسا ہی کیا۔ باغ کے چاروں طرف مسلمانوں نے پڑاؤ ڈال دیا اور کسی ایسی کمزور جگہ کی تلاش کرنے لگے جہاں سے باغ میں گھس کر اس کا دروازہ کھولنے میں کامیاب ہو سکیں لیکن انتہائی تلاش کے باوجود انہیں ایسی
کوئی جگہ نہ ملی۔ آخر براء بن مالکؓ نے کہا: ”مسلمانو! اب صرف یہ راستہ ہے کہ تم مجھے اٹھا کر باغ میں پھینک دو۔ میں اندر جاکر دروازہ کھول دوں گا“۔ لیکن مسلمان یہ کس طرح گوارا کر سکتے تھے کہ ان کا ایک بلند مرتبت ساتھی ہزاروں دشمنوں میں گھر کر اپنی جان گنوا دے۔ انہوں نے ایسا کرنے سے انکار کر دیا، لیکن براء نے اصرار کرنا شروع کیا اور کہا: ”میں تمہیں اللہ کی قسم دیتا ہوں کہ تم مجھے باغ کے اندر پھینک دو“۔ آخر مجبور ہو کر مسلمانوں نے انہیں باغ کی دیوار پر چڑھا دیا۔ دیوار پر چڑھ کر جب براء نے دشمن کی زبردست جمعیت کی جانب نظر دوڑائی تو ایک لمحے کے لیے ٹھٹکے لیکن پھر اللہ کا نام لے کر باغ کے دروازے کے سامنے کود پڑے اور دشمنوں سے دو دو ہاتھ کرتے، دائیں بائیں لوگوں کو قتل کرتے دروازے کی طرف بڑھنے لگے۔ آخر بیسیوں آدمیوں کے قتل کے بعد وہ دروازے تک پہنچنے میں کامیاب ہوگئے اور آگے بڑھ کر بڑی پھرتی سے اسے کھول دیا۔
بنی حنیفہ کا قتل:
مسلمان، باہر دروازہ کھلنے کے منتظر تھے ہی۔ جوں ہی دروازہ کھلا، وہ باغ میں داخل ہوگئے اور تلواریں سونت کر دشمنوں کو بے دریغ قتل کرنے لگے۔ بنو حنیفہ مسلمانوں کے سامنے سے بھاگنے لگے لیکن باغ سے باہر وہ کس طرح نکل سکتے تھے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ ہزاروں آدمی مسلمانوں کے ہاتھوں قتل ہوگئے۔ اس وقت باغ اس مذبح کی صورت پیش کر رہا تھا جہاں بھیڑ اور بکریاں قصاب کو چھری ہاتھ میں لیے انہیں ذبح کرنے کے لیے اپنی طرف آتا دیکھتی ہوں لیکن بے بسی کی حالت میں کچھ نہ کر سکتی ہوں۔
ایک روایت یہ بھی ہے کہ صرف براء نے نہیں بلکہ اور بھی کئی مسلمانوں نے دیواریں پھاند کر دروازے کا رخ کیا تھا۔ چونکہ براء نے دروازے کے بالکل قریب دیوار پھاندی تھی، اس لیے دروازے پر سب سے پہلے وہی پہنچے اور لڑتے بھڑتے دروازہ کھول دیا۔ بنو حنیفہ نے ان مٹھی بھر مسلمانوں کو روکنے کی کوشش کی لیکن دیوار پر جو مسلمان متعین تھے، انہوں نے تیر مار مار کر انہیں مسلمانوں
سے دور رکھا۔
مسیلمہ کا قتل :
مسلمانوں نے اگرچہ باغ میں گھس کر بنو حنیفہ کو بے دریغ قتل کرنا شروع کر دیا تھا مگر بنو حنیفہ نے بھی بڑی بہادری سے ان کا مقابلہ کیا لیکن مسلمانوں کے سامنے ان کی پیش نہ گئی تھی۔ طرفین کے کثیر آدمی اس معرکے میں قتل ہوئے لیکن بنی حنیفہ کے مقتولوں کی تعداد مسلمانوں سے بیسیوں گنا تھی۔ حبشی غلام وحشی، جس نے جنگ احد میں حمزہؓ بن عبدالمطلب کو شہید کیا تھا اور جو فتح مکہ کے وقت مسلمان ہو گیا تھا، اس موقع پر موجود تھا۔ اس نے مسیلمہ کو باغ میں دیکھا اور اپنا چھوٹا سا نیزہ تاک کر مسیلمہ کے مارا جو سیدھا اسے جا کر لگا۔ اسی وقت ایک انصاری نے بھی مسیلمہ پر تلوار کا وار کیا۔ وحشی کہا کرتا تھا ”اللہ ہی جانتا ہے کہ ہم میں سے کس نے اسے قتل کیا، لیکن مسیلمہ اگر مرنے کے بعد زندہ ہوتا تو ہمیشہ ہی یہ کہتا کہ اسے اس سیاہ فام غلام نے قتل کیا ہے“۔
جب بنو حنیفہ نے مسیلمہ کی موت کی خبر سنی تو ان کے حوصلے پست ہو گئے۔ مسلمانوں نے انہیں بے تحاشا قتل کرنا شروع کیا۔ عرب میں اس وقت تک جتنی جنگیں ہوئی تھیں، یمامہ سے بڑھ کر کسی بھی جنگ میں اتنی خونریزی نہ ہوئی تھی، اس لیے ”حدیقۃ الرحمٰن“ کا نام ”حدیقۃ الموت“ پڑ گیا اور آج تک تاریخ کی کتابوں میں یہی نام چلا آتا ہے۔
جب باغ کا معرکہ ختم ہو چکا تو خالدؓ اپنے خیمے سے مجاعہ کو لے کر آئے اور اس سے کہا کہ وہ مقتولین کو دیکھ کر بتائے، ان میں مسیلمہ کون سا ہے۔ مسلمان خود بھی مقتولین کی شناخت کے لیے باغ میں پھرنے لگے۔ جب وہ محکم الیمامہ کے پاس سے گزرے تو خالدؓ نے پوچھا: ”کیا یہ ہے تمہارا صاحب؟“
مجاعہ نے جواب دیا ”نہیں، یہ تو محکم الیمامہ ہے جو مسیلمہ سے بہت بہتر اور نیک انسان تھا“۔ آخر پھرتے پھرتے وہ ایک زرد رو ٹھگنے قد کے لاشے پر پہنچے۔ مجاعہ نے کہا ”یہ مسیلمہ ہے جسے تم نے قتل کر دیا ہے“۔
خالد نے کہا: ”یہ وہی شخص ہے جس نے تمہیں گمراہ کر کے ایک عظیم فتنہ برپا کر دیا تھا“۔
مفرورین کا تعاقب اور محاصرہ:
اگرچہ مسیلمہ کا فتنہ ختم ہو چکا تھا اور وہ خود میدانِ جنگ میں اپنے ہزاروں آدمیوں کے ہمراہ مارا جا چکا تھا لیکن خالدؓ ابھی مطمئن نہ تھے۔ جنگوں میں آپ کا طریق یہ تھا کہ اس وقت تک دشمن کا پیچھا نہ چھوڑتے تھے جب تک اس کی مخالفانہ سرگرمیاں دوبارہ شروع ہونے کا معمولی سا خدشہ بھی باقی رہتا تھا۔ چنانچہ انہوں نے طلیحہ کے مفرور ہو جانے کے باوجود اس وقت تک بنو اسد سے جنگ بند نہ کی جب تک ام زمل اور اس کے لشکر کا خاتمہ نہ کر دیا۔ پھر بنی تمیم کا پیچھا اس وقت تک نہ چھوڑا جب تک فتنہ و فساد کی آگ بھڑکانے والے ایک ایک شخص کا تیا پانچہ نہ کر دیا۔ یہی کام آپ نے اس موقع پر بھی کیا۔
جب خالدؓ ”حدیقۃ الموت“ کے معرکے سے فارغ ہو چکے تو عبداللہ بن عمر اور عبد الرحمٰن بن ابی بکر نے ان سے کہا کہ اب لشکر کو کوچ کا حکم دیجئے اور چل کر بنی حنیفہ کے قلعوں کا محاصرہ کر لیجئے کیونکہ بقیہ لوگ فرار ہو کر ان قلعوں میں پناہ گزین ہو گئے ہیں۔ خالدؓ نے جواب دیا ”فی الحال تو میں دستوں کو ان لوگوں کی تلاش میں روانہ کر رہا ہوں جو قلعوں میں نہیں گئے بلکہ اردگرد کے علاقوں میں پھر رہے ہیں‘ اس کے بعد جو ہو گا سو دیکھا جائے گا“۔ چنانچہ انہوں نے چاروں طرف دستے روانہ کیے جو اردگرد سے مالِ غنیمت اور عورتوں، بچوں کو لے آئے۔ خالدؓ نے انہیں قید کرنے کا حکم دیا اور فوج کو ہدایت کی کہ اب وہ چل کر بنی حنیفہ کے قلعوں کا محاصرہ کر لے تاکہ ان لوگوں میں جو دم خم باقی ہے‘ وہ بھی ختم ہو جائے“۔ (”حضرت ابو بکر صدیقؓ“ ص ۲۳۳-۲۳۸ از محمد حسین ہیکل)
گویا یہ حضرت خالدؓ بن ولید کی قیادت میں جملہ صحابہ کرامؓ کا قرآنی حکم اینما ثقفوا اخذوا و قتلوا تقتيلا O کا عملی مظاہرہ تھا۔
امیر المومنین سیدنا ابو بکر صدیقؓ کا فتویٰ:
”اس اثناء میں امیر المومنین ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے سلمہ بن وقش کے ہاتھ حضرت خالدؓ کے نام ایک فرمان بھیجا جس میں لکھا تھا کہ اگر خدائے عزیز و برتر مرتدین پر فتح یاب کرے تو بنی حنیفہ میں سے جس قدر افراد بالغ ہو چکے ہوں‘
وہ سب بجرم ارتداد قتل کیے جائیں اور عورتیں اور کمسن لڑکے حراست میں لے لیے جائیں"۔ ("تاریخ ابن خلدون" جلد ۳، "آئمہ تلبیس" جلد اول، ص (۸۵)
ابو قاسم رفیق دلاوری مذکورہ بالا حوالہ نقل کرنے کے بعد لکھتے ہیں: "چند سال پیشتر مرزائیوں نے افغانستان میں نعمت اللہ مرتد کے سنگسار پر یہ کہتے ہوئے بڑا اودھم مچایا تھا کہ اسلام میں مرتد کی سزا قتل نہیں۔ لیکن اگر مرزائی لوگ حضرت صدیق اکبرؓ کو خلیفہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم مانتے ہیں تو انہیں چاہیے کہ آپؓ کے حکم کو دلیل راہ بنائیں۔ اگر امیر المومنین کا یہ حکم منشائے شریعت کے مطابق تھا اور علیکم بسنتی و سنة الخلفاء الراشدين المهديين اور اقتدوا بالذين من بعدى ابا بكر و عمر کے بموجب یقیناً منہاج شریعت کے عین مطابق اور واجب الاتباع ہے، تو کوئی وجہ نہیں کہ جن لوگوں نے اسلام کے طریق قدیم کو چھوڑ کر کسی متنبّی کا مسلک اختیار کیا، وہ وقت کے مسلمان حاکم کے حکم سے واجب القتل نہ قرار پائیں"۔ ("آئمہ تلبیس" جلد اول، ص ۸۵-۸۶ از ابو القاسم دلاوری)
بنی حنیفہ کے مقتولین کی تعداد:
روایات سے پتہ چلتا ہے کہ "حدیقۃ الموت" کی لڑائی میں سات ہزار بنی حنیفہ قتل ہوئے تھے۔ میدان جنگ میں بھی ان کے مقتولین کی تعداد سات ہزار تھی۔ اس کے بعد جب خالدؓ نے اپنے دستوں کو مفرورین کے تعاقب میں روانہ کیا تو بھی سات ہزار آدمی قتل ہوئے۔ جو صلح یمامہ کے ذریعے سے پایہ تکمیل کو پہنچی، اس کی رو سے سارا مال غنیمت، جو سونے چاندی اور ہتھیاروں پر مشتمل تھا، مسلمانوں کی ملکیت ٹھہرا۔ اس کے علاوہ چوتھائی قیدی بھی ان کے حصے میں آئے۔ بنی حنیفہ کی بستیوں اور علاقے میں جو باغات اور مزروعہ زمینیں تھیں، ان پر بھی خالدؓ کا قبضہ تسلیم کیا گیا۔
مسلمان شہداء کی تعداد:
اس جنگ میں جہاں بنی حنیفہ کے مقتولین کی تعداد پچھلی تمام جنگوں سے زیادہ
تھی‘ وہاں مسلمان شہداء کی تعداد بھی پچھلی تمام جنگوں کو مات کر گئی تھی۔ اس جنگ میں مسلمان شہداء کی تعداد بارہ سو تھی۔ تین سو ستر مہاجرین‘ تین سو انصار اور باقی دیگر قبائل کے لوگ۔ ان شہداء میں تین سو ستر صحابہ کبار اور قرآن کے حافظ بھی تھے جن کا مقام اور درجہ مسلمانوں میں بے حد بلند تھا۔ اگرچہ ان حافظوں کی شہادت سے مسلمانوں کو سخت نقصان پہنچا لیکن بعض اوقات ایک نقصان دہ چیز بھی آخر فائدے کا موجب بن جاتی ہے‘ چنانچہ اس کا ایک بڑا فائدہ یہ ہوا کہ ابو بکرؓ نے اس ڈر سے کہ کہیں آئندہ جنگوں میں بقیہ حافظوں سے بھی مسلمانوں کو ہاتھ نہ دھونے پڑیں‘ قرآن جمع کرنے کا حکم دے دیا اور اس طرح پہلی مرتبہ قرآن کریم ایک جلد میں مدون ہو گیا۔ (”حضرت ابو بکر صدیقؓ“ ص
۲۴۱-۲۴۲ از محمد حسین ہیکل)
جنگ یمامہ کا واقعہ سن ۱۱ ہجری شوال کے مہینے میں مطابق دسمبر ۶۳۲ عیسوی کا ہے۔ ”مسیلمہ کذاب کی عمر اس وقت ڈیڑھ سو سال کی تھی“۔ (تاریخ الخلفاء)
مسیلمہ کذاب اور اس کے حواریوں کے خلاف اس خونریز شدت کی وجہ فقط ”تحفظ ناموس رسالت“ کا مسئلہ تھا ورنہ کفار تو ہر طرف پھیلے ہوئے تھے۔ منکرین زکوٰۃ بھی اسلام سے پھر کر مرتد ہوئے تھے‘ ان کے خلاف بھی اتنی شدت اور خونریزی نہ کی گئی تھی اور پھر تاریخ اسلام گواہ ہے کہ حضور رسالت مآب صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے دور مبارک میں جتنے غزوات یا سرایا ہوئے‘ ان میں شہادت پانے والوں کی کل تعداد سے جنگ یمامہ میں شہید ہونے والوں کی تعداد چار گنا سے بھی متجاوز ہے۔ اس سے بھی مسئلہ تحفظ ختم نبوت کی افادیت و اہمیت کا اندازہ ہوتا ہے۔
حضرت فاروق اعظمؓ کا عتاب فرزند گرامی پر:
اس معرکہ میں جس طرح خلیفہ اول حضرت ابو بکر صدیقؓ کے فرزند گرامی حضرت عبدالرحمنؓ شریک ہوئے‘ اسی طرح خلیفہ ثانی امیرالمومنین عمر فاروقؓ کے صاحبزادے جناب عبداللہ بن عمرؓ بھی شریک غزا تھے۔ جب لشکر اسلام مظفر و منصور مدینہ منورہ واپس آیا اور حضرت عبداللہؓ نے اپنے والد محترم سے ملاقات کی تو حضرت فاروق اعظمؓ نے ان سے فرمایا: ”یہ کیا بات ہے کہ تمہارے چچا (حضرت زید بن خطابؓ) تو شہید ہوں اور تم
زندہ رہو؟ تم زیدؓ سے پہلے کیوں نہ مارے گئے؟ کیا تمہیں شہادت کا شوق نہ تھا؟" جناب عبداللہؓ نے عرض کیا "اے والد محترم! چچا صاحب اور میں، ہم دونوں نے حق تعالیٰ سے شہادت کی درخواست کی تھی۔ ان کی دعا مستجاب ہوئی لیکن میں اس سعادت سے محروم رہا۔ حالانکہ چچا صاحب کی طرح میں نے بھی تمنائے شہادت کی تکمیل میں اپنی طرف سے کوئی دقیقہ فروگذاشت نہ کیا تھا"۔
("آئمہ تلبیس" جلد اول، ص ۸۶-۸۷ از ابوالقاسم مولانا رفیق دلاوری)
چھٹی روایت: حضور ﷺ کے فیصلے کو نہ ماننے والے کو حضرت عمر
فاروقؓ نے قتل کر دیا:
"دو آدمی اپنا جھگڑا عدالت نبوی میں لائے۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے جھوٹے کے خلاف سچے آدمی کے حق میں فیصلہ دے دیا۔ جس کے خلاف فیصلہ ہوا تھا اس نے کہا میں اس پر راضی نہیں ہوں۔ اس کے ساتھی نے کہا تم کیا چاہتے ہو؟ کہا میں ابوبکرؓ سے فیصلہ کروانا چاہتا ہوں۔ چنانچہ وہ دونوں حضرت ابوبکرؓ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ جس کے حق میں فیصلہ ہوچکا تھا اس نے کہا ہم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئے تھے اور آپ (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) نے میرے حق میں فیصلہ فرمایا۔ حضرت ابوبکرؓ نے کہا: تمہارا فیصلہ وہی ہے جو اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) نے کیا ہے۔ اس کے (منافق) ساتھی نے اسے بھی تسلیم نہ کیا اور کہا ہم حضرت عمرؓ کے پاس چلتے ہیں۔ چنانچہ دونوں حضرت عمرؓ کے ہاں حاضر ہوئے۔ جس کے حق میں فیصلہ ہوا تھا اس نے کہا: ہم پہلے رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تھے اور پھر ابوبکرؓ کے یہاں۔ دونوں نے میرے حق میں فیصلہ صادر فرمایا ہے مگر میرا ساتھی نہیں مانتا۔ حضرت عمرؓ نے دوسرے ساتھی سے پوچھا تو اس نے بھی واقعہ اس طرح دہرایا۔ حضرت عمرؓ گھر کے اندر داخل ہوئے اور تلوار لے کر باہر آئے۔ اور آپؓ نے تلوار اس شخص کے سر پر دے ماری جس نے انکار کیا تھا اور اسے قتل کر دیا۔ تب یہ آیت کریمہ "فلا و ربک" نازل ہوئی"۔ ("تفسیر روح المعانی" جلد ۵، ص ۶۷، مطبوعہ بیروت) ("الصارم المسلول" ص ۷۹-۸۰، "تفسیر مظہری" جلد ۲، ص ۱۵۴)
ایک دوسری روایت میں قدرے ترمیم کے ساتھ یوں آتا ہے:
”دوسرا آدمی رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے یہاں لوٹ آیا۔ اس نے عرض کیا کہ عمرؓ نے میرے ساتھی کو قتل کر دیا۔ اگر میں انہیں اس کا موقع دیتا تو وہ مجھے بھی مار ڈالتے۔ یہ سن کر رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”مجھے یہ گمان نہ تھا کہ عمرؓ ایک مومن کو قتل کرنے کی جسارت بھی کر سکتا ہے؟“ تب یہ آیت کریمہ نازل ہوئی ”فلا و ربک“ اور اللہ نے حضرت عمرؓ کو اس قتل سے بری کر دیا"۔ (”الصارم المسلول“ ص ۸۰)
سیدہ عائشہؓ فرمایا کرتی تھیں ”بے شک قرآن ہمارے آنگن میں اترتا ہے لیکن اترتا عمرؓ کی مرضی سے ہے"۔ مذکورہ آیت کریمہ کے نزول سے حضرت فاروق اعظمؓ کے اس فعل کی تائید ہو گئی کہ جسے آپؓ نے قتل کیا‘ وہ مومن نہ رہا تھا اور مرتد ہو جانے کی وجہ سے حلال الدم ہو گیا تھا۔
اس روایت پر قاضی ثناء اللہ پانی پتیؒ لکھتے ہیں:
”جب ایسا ہو گیا تو اس وقت حضرت جبریل نازل ہوئے اور سیدنا عمرؓ نے حق و باطل میں فرق کر دیا تھا اس دن سے آپؓ کا نام ”فاروق“ رکھ دیا گیا کہ حق و باطل اور کفر و ایمان میں فرق کرنے والے ہیں"۔ (”تفسیر مظہری“ جلد ۲‘ ص ۱۵۴)
اس کے بعد حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بھی حضرت عمرؓ کے فعل کی تصدیق کر دی۔ قاضی ثناء اللہ پانی پتیؒ لکھتے ہیں:
”مقتول کے ورثا حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت اقدس میں حاضر ہوئے اور آ کر خون کا بدلہ چاہا اور کہا کہ ہم تو عمرؓ کے پاس اس نیت سے گئے تھے کہ احسان ہو جاتا ورنہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا فیصلہ سن لینے کے بعد انحراف کا ارادہ نہ تھا تو نبی مکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس شخص کے خون کو باطل قرار دے دیا"۔ (”تفسیر مظہری“ جلد ۲‘ ص ۱۵۶)
پس معلوم ہوا کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے فیصلے سے اختلاف کفر ہے۔ دنیا کے دیگر کفار آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نبوت و رسالت پر ایمان نہیں لاتے۔ ان کا کفر اپنی جگہ برقرار ہے لیکن جب حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ رسالت میں حاضر ہو کر فیصلہ طلب کیا جاوے اور پھر اپنی منشاء کے خلاف پا کر رد کر دیا جائے تو یہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ
وسلم کی شان اقدس میں گستاخی ہے اور گستاخ رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی سزا حدّاً قتل ثابت ہے‘ جس پر حضرت فاروق اعظمؓ نے عمل درآمد کر کے امت کے لیے ایک روشن مثال قائم کر دی ہے۔
ساتویں روایت: حضرت فاروق اعظمؓ کا ایک اور فیصلہ:
”حضرت عمر فاروقؓ تک یہ خبر پہنچی کہ ایک منافق شخص ہے۔ وہ جب اپنی قوم کو نماز پڑھاتا ہے تو ہر نماز میں وہ (باجماعت) صرف یہی سورت پڑھتا ہے ”عبس و تولی“ آپؓ نے اس منافق شخص کو بلا بھیجا اور مزید کسی تحقیق اور تفتیش کے اس کا سر قلم کر دیا“۔ (”تفسیر روح البیان“ جلد ۱۰‘ ص ۳۳۱ از علامہ اسماعیل حقیؒ)
اس آیت کریمہ کا شان نزول کچھ یوں ہے کہ حضور رسالت مآب صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مجلس شریف میں بیٹھے محو گفتگو تھے کہ دریں اثناء حضرت عبداللہ ابن مکتومؓ تشریف لائے اور آداب محفل کو ملحوظ نہ رکھ سکے۔ چونکہ آپؓ نابینا تھے‘ محفل کا رنگ بھی نہ دیکھ سکے اور آتے ہی آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی بات کاٹ کر کچھ پوچھ لیا‘ جس پر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو کچھ ملال ہوا اور چہرہ مبارک پر شکن واضح ہو گئے۔ اس پر یہ آیت کریمہ نازل ہوئی کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے عمل سے کسی ایماندار کی دل شکنی نہ ہونی چاہیے۔
لیکن مندرجہ بالا روایت میں وہ منافق شخص یہ آیت کریمہ ہر روز ہر نماز میں اس نیت سے پڑھتا تھا کہ اللہ کریم نے حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو ڈانٹا اور جھڑکا۔ (معاذ اللہ) چونکہ وہ شخص نسباً یہودی تھا اور منافق تھا‘ اس لیے سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے بغض و عناد کے باعث یہ آیات پڑھ کر حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے بغض کا ثبوت مہیا کرتا تھا‘ لیکن خلیفہ وقت سیدنا فاروق اعظمؓ کے عمل نے حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے بغض اور عناد رکھنے پر اس ملعون کا سر قلم کر دیا۔
آٹھویں روایت: دل میں بغض رسول ﷺ ہو‘ اس کی سزا بھی قتل
ہے:
”ابو عثمان النھدی کہتے ہیں کہ قبیلہ بنی یربوع یا بنی تمیم کے ایک آدمی نے حضرت عمرؓ سے پوچھا الذاریات‘ والمرسلات‘ والنازعات کے کیا
معنی ہیں؟ (عبس و تولی والی کیفیت تھی) یا ان میں سے کسی ایک کے بارے میں پوچھا۔ حضرت عمرؓ نے فرمایا اپنے سر سے کپڑا اتارو اور جب دیکھا تو اس کے بال کانوں تک لمبے تھے۔ (سیدنا فاروق اعظمؓ کے ذہن میں یہ محفوظ تھا کہ رحمت عالم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایسے گستاخ افراد کی علامات بتاتے ہوئے ایک علامت سر پر بالوں کا نہ ہونا بھی بیان فرمائی تھی) فرمایا: بخدا اگر میں تمہارے بال منڈھے ہوئے دیکھتا تو تمہارا سر اڑا دیتا جس میں تیری یہ آنکھیں دھنسی ہوئی ہیں"۔ ("الصارم المسلول" ص ۲۵۵، "اکفار الملحدین" از سید انور شاہ کشمیریؒ ص ۹۹، "معالم السنن" جلد ۴، ص ۳۳۲-۳۳۵)
سیدنا عمر فاروقؓ کا یہ عمل اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ اگر تحقیق ہو جائے کہ کوئی شخص اہانت رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا پہلو اپنے دل میں رکھتا ہے تو اس کی سزا بھی سزائے موت ہے۔
علامہ ابن تیمیہؒ اس کے تحت آگے لکھتے ہیں: "حضرت عمرؓ نے جب اس شخص کے بارے میں حکم صادر فرما دیا تو اس کے بعد اہل بصرہ کے نام خط لکھوایا (یعنی باقاعدہ ہدایات جاری فرمائیں) اور بعد میں آپؓ نے مہاجرین و انصار سے یہ حلف لیا کہ اگر تم کسی شخص میں ایسی علامات کو پا لو تو تم اس کا سر قلم کر دو گے"۔ ("الصارم المسلول" ص ۱۸۹ عربی، "اکفار الملحدین" ص ۹۹ از سید انور شاہ کشمیریؒ)
علامہ ابن تیمیہؒ مزید رقم طراز ہیں: "رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے اس قول ”جہاں پاؤ انہیں قتل کر دو“ کا مفہوم مطلق قتل ہے"۔ ("الصارم المسلول" ص ۲۵۵ اردو ترجمہ)
علامہ ابن تیمیہؒ کے بقول گستاخان نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو تلاش کر کے اور چن چن کے قتل کرنا منشائے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہے۔
علامہ ابن تیمیہؒ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا خود اس اعتراض کرنے والے کو قتل نہ کرنے اور ”دفع کرو“ کے الفاظ ادا کرنے پر ہی اکتفا کرنے اور پھر اس کی پشت سے نکلنے والوں کے بارے میں حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا یہ ارشاد گرامی کہ میں اگر انہیں پالیتا تو قوم عاد کی طرح قتل کرتا، کی وضاحت بدیں الفاظ کرتے ہیں:
"لوگوں کو اس وقت معاف کیا جاتا تھا جب اسلام کمزور تھا اور تالیف قلب کی
ضرورت تھی" (لیکن بعد میں خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے معافی کو موقوف فرما دیا تھا۔ اب یہ حق کسی امتی کو نہیں کہ گستاخ رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو معاف کر سکے)۔۔ ("الصارم المسلول" ص ۲۵۵ از علامہ ابن تیمیہؒ)
نویں روایت: حضرت عمرؓ نے ایک شخص کو قتل کر دیا جو رسول کریم
ﷺ کو گالیاں دیا کرتا تھا:
"حرب نے اپنے مسائل میں بطریق لیث بن ابی سلیم از مجاہد روایت کیا ہے کہ حضرت عمرؓ کے پاس ایک آدمی کو لایا گیا جس نے رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو گالیاں دی تھیں۔ انہوں نے اسے قتل کر دیا۔ پھر حضرت عمرؓ نے فرمایا: جو شخص اللہ یا کسی نبی کو گالی دے‘ اسے قتل کر دو"۔ ("الصارم المسلول" ص ۲۷۲ از علامہ ابن تیمیہؒ) حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی شان میں زبان طعن دراز کرنا یا دل میں بغض رکھنا ارتداد ہے۔ اس کی صراحت قد كفرتم بعد ايمانكم اور كفر بعد اسلامهم کے ذیل میں ہو چکی ہے۔
دسویں روایت:
مرتد کی سزا کے بارے میں حضرت عثمان غنیؓ ارشاد فرماتے ہیں:
"حضرت عثمان غنیؓ سے مروی ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا‘ جس نے اسلام کے بعد کفر کیا‘ قتل کیا جائے گا اور وہ مباح الدم ہو گا"۔ ("سنن نسائی" جلد ۷‘ ص ۱۰۴) ارتداد کے موضوع پر بے مثل کتاب "ارتداد‘ ماضی اور حال کے آئینے میں" کے مصنف محمد کاظم حبیب ارتداد جلی کی تعریف ان الفاظ میں کرتے ہیں: "ارتداد جلی وہ ہے ............ جیسے کوئی مسلمان اسلام چھوڑ کر عیسائی یا یہودی بن جائے یا کمیونزم‘ فری میسنری‘ بہائیت یا قادیانیت اختیار کر لے یا روافض یا باطنیہ کا مذہب اپنا لے"۔ ("ارتداد‘ ماضی اور حال کے آئینے میں" ص ۵۷)
مصنف قادیانیت کو بھی ارتداد جلی قرار دے رہے ہیں اور یہ امر ارباب نظر سے پوشیدہ نہیں کہ قادیانیت کے ظہور کے بعد جس قدر سب و شتم پیغمبر اعظم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذات مطہر پر کی گئی ہے‘ اس کی مثال گزشتہ چودہ سو برس میں نہیں ملتی اور یوں قادیانی‘ مرتدوں کے امام قرار پاتے ہیں۔
محمد کاظم حبیب مرتد کی وجہ ارتداد اور سزا سے متعلق لکھتے ہیں:
”اگر مرتد نے اللہ تعالیٰ‘ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم‘ قرآن کریم یا کسی پیغمبر یا کتب سماوی‘ اللہ کا پیغام لانے والے فرشتے جن کا ذکر قرآن میں آتا ہے‘ کو سب و شتم کا نشانہ بنایا ہو یا ان کا مذاق اڑایا ہو‘ یا ان کی قدر و منزلت گھٹائی ہو اور تقدس کو پامال کیا ہو اور اس سلسلے میں جہالت‘ مدہوشی‘ غیظ و غضب‘ مزاح یا زبان کے پھسل جانے کا عذر بھی قبول نہیں کیا جائے گا‘ حتیٰ کہ جس مرتد کے ارتداد کا سب و شتم کے علاوہ کوئی اور بھی سبب ہو لیکن زمانہ ارتداد میں اس نے گالیاں دی ہوں پھر تائب ہو گیا اور ایمان لے آیا‘ پھر بھی سب و شتم کی وجہ سے قتل کیا جائے گا“۔
(”ارتداد‘ ماضی اور حال کے آئینے میں“ ص ۷۴)
زمانہ ارتداد میں زبان طعن دراز کرنے کے بعد تائب ہونے کے باوجود‘ مصنف فرماتے ہیں‘ قتل کیا جائے گا۔ شاید یہاں فاضل مصنف کے پیش نظر عبداللہ بن سعد بن ابی سرح کا واقعہ ہے کہ تائب ہو کر بارگاہ رسالت میں آتے ہیں لیکن منشائے نبوی یہی تھا کہ گستاخ قتل کیا جاتا جنہیں حضرت عثمانؓ کی سفارش پر معافی دی گئی تھی لیکن وہ معاملہ اور تھا۔ وہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا اپنا حق تھا جسے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بادل ناخواستہ استعمال کیا۔ اب وہ تصور قائم نہیں رہا جب ہی تو حضرت عثمانؓ فرماتے ہیں:
”جو اسلام لانے کے بعد مرتد ہو گیا‘ پس اس کا قتل لازم ہے“۔ (”سنن نسائی“ جلد ۷‘ ص ۱۰۳)
”مدارج النبوت“ اور ”تاریخ طبری“ کے حوالے سے گزشتہ باب ”احکام الحدیث“ میں ذکر کیا جا چکا ہے کہ فتح مکہ کے دن حضرت علی المرتضیٰؓ نے ایک شاعر‘ جو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ہجو میں اشعار پڑھا کرتا تھا‘ جس کا نام حویرث بن نقیذ تھا‘ کو تلاش کر کے قتل کیا تھا۔ اس کے علاوہ اسی روز حضرت حیدر کرارؓ کے ہاتھوں دو اور گستاخان رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مقیس بن صبابہ اور حارث بن طلاطل بھی قتل ہوئے۔ یہاں ایک مرتدہ عورت کا ذکر کیا جاتا ہے جو حضرت علیؓ کے ہاتھوں قتل ہوئی۔
”سارہ بنی المطلب کی باندی۔ بعض کے نزدیک یہ عمرو بن ہشام (ابوجہل) کی باندی تھی۔ یہ وہ عورت ہے جس کے ہاتھ حاطب بن ابی بلتعہ نے قریش کے نام خط لکھ کر بھیجا تھا۔ یہ مرتد ہو کر مکہ آگئی تھی اور روز فتح مکہ حضرت علیؓ کے ہاتھ سے ماری گئی تھی“۔ (مدارج النبوت” جلد ۲‘ ص ۵۰۷ حوالہ ”روضہ الاحباب“)
گیارہویں روایت: ایک اور گستاخ رسول ﷺ کو قتل کرنے پر
سیدنا علیؓ کا اظہار مسرت:
”نبط ابن شریط سے مروی ہے کہ جب اہل نہروان کے قتل سے فارغ ہوئے تو حکم ہوا کشتوں میں اس شخص کو تلاش کرو۔ جب ہم نے خوب ڈھونڈا تو سب کے آخر میں ایک شخص سیاہ فام نکلا جس کے شانہ پر ایک گوشت پارہ مثل سرپستان کے تھا۔ یہ دیکھتے ہی علیؓ نے کہا اللہ اکبر‘ قسم ہے خدا کی‘ نہ مجھے جھوٹی خبر دی گئی نہ میں اس کا مرتکب ہوا۔ ایک بار ہم حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ تھے اور حضرت (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) غنیمت کا مال تقسیم فرما رہے تھے اور ایک شخص آیا اور کہا اے محمد (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) عدل کیجئے کہ آج آپ (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) نے عدل نہیں کیا۔ حضرت (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) نے فرمایا! تیری ماں تجھ پر روئے جب میں عدل نہ کروں گا تو پھر کون عدل کرے گا۔ عمرؓ نے عرض کی یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اس کو قتل نہ کروں؟ (اجازت چاہی) فرمایا نہیں اس کو چھوڑ دو۔ اس کو قتل کرنے والے کوئی اور شخص ہیں۔ علیؓ نے یہ کہا صدق اللہ!“ (کنزالعمال) یہ وہی مردود شخص تھا جس کے بارے میں حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا تھا کہ اس کی پشت سے کچھ لوگ ایسے نکلیں گے (پہلے نشانیاں ذکر ہو چکی ہیں) البتہ بخاری شریف میں ان الفاظ کا اضافہ ہے:
”یہ لوگ اس وقت نکلیں گے جب لوگوں میں تفرقہ ہوگا“۔
”ابو سعیدؓ کہتے ہیں کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ اس حدیث کو میں نے خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے سنا اور یہ بھی گواہی دیتا ہوں علی کرم اللہ وجہہ نے ان لوگوں کو قتل کیا اور میں بھی علیؓ کے ساتھ تھا۔ انہوں نے فتح کے بعد حکم
کیا کہ اس شخص کی تلاش کی جائے جس کی خبر حضرت (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) نے دی تھی۔ چنانچہ جب اس کی لاش لائی گئی۔ دیکھا میں نے کہ جتنی نشانیاں اس کی حضرت (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) نے کہی تھیں سب اس میں موجود تھیں"۔
(بخاری شریف بحوالہ "گستاخوں کا برا انجام" ص ۲۰۲ از محمد فیض احمد اویسی)
یہ گستاخ نبوت ولد الزنا تھا:
ثبوت ملاحظہ ہو:
"حضرت ابو سعیدؓ فرماتے ہیں کہ اس مقتول کی لاش حضرت علی کرم اللہ وجہہ کی خدمت میں لائی گئی۔ آپؓ نے مجمع سے پوچھا: "تم میں سے کون اسے پہچانتا ہے؟"
ایک شخص نے عرض کی "اس کا نام حرقوس ہے۔ اس کی ماں زندہ ہے اور یہاں موجود ہے۔ اس کے باپ کا کسی کو علم نہیں"۔
حضرت علیؓ نے اس عورت کو بلا کر پوچھا: "حرقوس کا باپ کون ہے؟"
اس نے عرض کی: "مجھے اس کے متعلق اور کچھ معلوم نہیں۔ زمانہ جاہلیت میں، میں ربذہ پہ بکریاں چرا رہی تھی۔ کسی کالی سیاہ شکل نے میرے ساتھ جماع کر لیا۔ یہ حرقوس اسی کا حمل ہے"۔ (”خصائص الکبریٰ“ جلد ۲، ص ۱۴۷، ”حجۃ اللہ علی العالمین“ ص ۵۵۵، ”فتح الباری شرح بخاری“ جلد ۱۲)
بارہویں روایت:
گستاخ رسول ﷺ سے متعلق حضرت خالدؓ بن ولید کا فیصلہ:
"مالک بن نویرہ کو حضرت خالدؓ بن ولید نے اس بنا پر قتل کیا کہ اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے لیے لفظ ”تمہارے صاحب“ استعمال کیا"۔ (”شفا شریف“ جلد ۲، ص ۲۰۸، ”نسیم الریاض“ جلد ۴، ص ۳۳۵)
لفظ ”تمہارے صاحب“ میں بظاہر توہین کا پہلو دکھائی نہیں دیتا لیکن چونکہ کہنے والے کی نیت بغرض تحقیر کے تھی جو سراسر شان رسالت میں قدح اور تنقیص ہے، جسے حضرت خالدؓ نے بھانپ لیا اور گستاخ رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو قتل کر دیا۔
تیرھویں روایت: حضرت عبداللہ بن مسعودؓ کا فیصلہ:
”حضرت عبداللہ بن مسعودؓ کو اطلاع ملی کہ بنی حنیفہ کی ایک مسجد میں مسیلمہ کذاب کی رسالت کے قائل ہیں۔ یہ سن کر حضرت عبداللہ بن مسعودؓ نے پولیس بھیجی اور انہیں گرفتار کر لیا۔ جب وہ لوگ آپؓ کے سامنے پیش کیے گئے تو سب تائب ہو چکے تھے۔ اس پر حضرت عبداللہ بن مسعودؓ نے انہیں چھوڑ دیا مگر ان میں سے ایک شخص عبداللہ ابن النواحہ کو سزائے موت سنا دی۔ لوگوں کو تعجب ہوا اور کہا ”یہ کیا معاملہ ہے کہ آپ نے ایک مقدمہ میں دو مختلف فیصلے کیے“۔
حضرت عبداللہ بن مسعودؓ نے فرمایا ”یہ ابن نواحہ وہ شخص ہے جو مسیلمہ کذاب کی طرف سے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس سفیر بن کر آیا تھا۔ میں اُس وقت حاضر تھا۔ ایک دوسرا شخص حجر بن وثال بھی اس کے ساتھ تھا۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان دونوں سے پوچھا کیا تم شہادت دیتے ہو کہ میں اللہ کا رسول ہوں؟“ ان دونوں نے جواب دیا ”کیا آپ (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) گواہی دیتے ہیں کہ مسیلمہ اللہ کا رسول ہے؟“ اس پر حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا ”اگر سفارتی وفد کو قتل کرنا جائز ہوتا تو میں تم دونوں کو قتل کر دیتا“۔ یہ واقعہ بیان کر کے حضرت عبداللہ نے کہا ”میں نے اسی وجہ سے ابن نواحہ کو سزائے موت دی ہے (کہ آج وہ قاصد نہیں ہے)“۔ (طحاوی)
چودہویں روایت: حضرت عبداللہ ابن عمرؓ کا فیصلہ:
”حضرت حصین کی روایت ہے کہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا ”جو شخص رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو گالی دے اسے قتل کیا جائے“۔
(”الصارم المسلول“ ص ۲۷ از علامہ ابن تیمیہؒ)
پندرہویں روایت:
حضرت عرفہ بن الحارثؓ کا نظریہ اور حضرت عمرو بن العاصؓ:
”حضرت عرفہ ابن الحارثؓ نے حضرت عکرمہؓ ابن ابی جہل کے ساتھ یمن میں مرتدین کے خلاف جہاد میں حصہ لیا۔ ان کے پاس سے ایک عیسائی گزرا جس کا نام بندقون تھا۔ آپؓ نے اسے اسلام کی دعوت دی۔ اس نے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی شان میں غلط جملہ کہہ دیا۔ آپؓ اسے پکڑ کر والی مصر حضرت عمر بن العاصؓ کے پاس لے گئے۔
والی مصر نے نصاریٰ کو بلایا۔ انہوں نے کہا ”آپ ہمیں عہد دے چکے ہیں“ (یعنی ہماری جان و مال کے تحفظ کا ذمہ لے چکے ہیں)۔ (اس پر) حضرت عرفہؓ نے فرمایا : ”معاذ اللہ! کیا ہم نے اس کا ذمہ لیا ہے کہ ہمیں اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے متعلق ایذا دی جائے۔ ہم نے صرف یہ ذمہ لیا ہے کہ ہم ان کے درمیان اور ان کی عبادت گاہوں کے درمیان مداخلت نہیں کریں گے۔ ہم نے اس بات کا ذمہ لیا ہے کہ ہم ان پر ان کی استطاعت سے زیادہ کوئی بوجھ نہیں ڈالیں گے اور ان کی جان و مال اور عبادت گاہوں کی حفاظت کریں گے ‘ نیز ان کے درمیان اور ان کے احکام کے درمیان کوئی مداخلت نہیں کریں گے اور یہ کہ جو مقدمہ ہمارے پاس لایا جائے گا تو ہم اس کا ان کے درمیان اللہ کے احکام کے مطابق فیصلہ کریں گے“۔ (حضرت عرفہؓ کا بیان سن کر) حضرت عمر بن العاصؓ نے فرمایا: ”صدقت“ (آپ نے سچ کہا)۔ (رواہ الطبرانی فی الاوسط)
اس روایت سے استدلال کیا جاسکتا ہے کہ حضرت عرفہؓ کا نظریہ سن کر حضرت عمر بن العاصؓ کا اس کی تصدیق کر دینا اس امر کی دلیل ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی شان میں زبان درازی مسلمانوں کے لیے باعث اضطراب ہے اور ریاست اسلامیہ میں اس کی سزا قتل ہے۔ علامہ ابن تیمیہؒ اس کی صراحت بدیں الفاظ فرماتے ہیں۔
گالی دہندہ کے نقض عہد کے دلائل:
”جب ذمی اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو گالی دے تو اس کا عہد ٹوٹ جاتا ہے اور وہ واجب القتل ہو جاتا ہے۔ اگر کوئی مسلم اس کا مرتکب ہو تو اسے بھی قتل کیا جائے گا۔ اس کے دلائل ‘ کتاب و سنت ‘ اجماع صحابہ و تابعین اور قیاس میں پائے جاتے ہیں“۔ (”الصارم المسلول“ ص ۳۷ از علامہ ابن تیمیہؒ)
نیز نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو گالی دینے سے ذمی کا عہد ٹوٹ جاتا ہے۔ قرآن میں فرمایا:
ترجمہ : بھلا تم ایسے لوگوں سے کیوں نہ لڑو جنہوں نے اپنی قسموں کو توڑ ڈالا اور پیغمبر خدا کے جلاوطن کرنے کا عزم مصمم کر لیا اور انہوں نے تم سے (عہد شکنی کی) ابتداء کی۔ (التوبہ: ۱۳)
اس آیت میں کفار کے رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو جلاوطن کرنے کے ارادے کو ان کے ساتھ جنگ کا محرک اور موجب قرار دیا ہے‘ اس لیے کہ اس سے رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو تکلیف پہنچتی ہے۔ مگر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو گالی دینا جلاوطن کرنے کے ارادے سے بھی زیادہ شدید ہے۔ اس کی دلیل یہ ہے کہ جن لوگوں نے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو جلاوطن کرنے کا ارادہ کیا تھا‘ فتح مکہ کے روز ان کو رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے معاف فرما دیا تھا مگر گالی دینے والوں کو معاف نہیں کیا تھا۔ (”الصارم المسلول“ ص ۴۹ اردو ترجمہ از غلام احمد حریری)
عہد کے بغیر خون مباح ہوتا ہے:
علامہ ابن تیمیہؒ لکھتے ہیں:
”قیاس جلی اس امر کو مقتضی ہے کہ جب اہل ذمہ اپنے عہد کی مخالفت کریں تو ان کا عہد ٹوٹ جائے گا۔ فقہاء کی ایک جماعت نے یہ موقف اختیار کیا ہے‘ اس لیے کہ عہد کے بغیر خون مباح ہوتا ہے (یعنی خون کرنا جائز ہوتا ہے)“۔
(”الصارم المسلول“ ص ۲۸۵ اردو ترجمہ)
علامہ ابن تیمیہؒ اس سلسلے میں آگے لکھتے ہیں:
”جب ہم کہتے ہیں کہ ”ذمی کا معاہدہ ٹوٹ گیا“ تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ اس کا وہ عہد اب باقی نہیں جس کی وجہ سے اس کا خون محفوظ تھا اور یہی بات صحیح ہے۔ اس لیے کہ جب عہد کے منافی کوئی چیز موجود ہو تو عہد کا باقی رہنا محال ہے“۔
(”الصارم المسلول“ ص ۲۸۹ اردو ترجمہ)
علامہ ابن تیمیہؒ مزید صراحت فرماتے ہیں:
”جب ہم کسی مشرک یا کتابی کو سنیں کہ وہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو ایذا دے رہا ہے تو ہمارے اور اس کے مابین کوئی عہد قائم نہیں
رہتا، بلکہ بقدر امکان و استطاعت ان سے جہاد و قتال ہم پر واجب ہے"۔
("الصارم المسلول" ص ۲۹۱ اردو ترجمہ)
............ جماعت صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین وہ عظیم رہبران دین تھے کہ جن کا اک اک اشارہ اہل جنت کی اداؤں سے مقام و مرتبہ میں بہت بلند تھا اور اسی ایک ایک قدم کے اتباع میں جنت سے بڑی نعمت رضائے الہی کی سند رکھ دی گئی ہے۔
آٹھواں باب
گستاخ رسولؐ کی سزا
احکام الفقہ
فقہ اسلامی میں سب و شتم سے کیا مراد ہے؟:
عربی لغت میں سب کا معنی یہ ہے کہ ”کسی چیز کے بارے میں ایسے کلمات کہے جائیں جن سے اس چیز میں عیب و نقص پیدا ہو سکے“۔
(مرقاۃ)
حافظ ابن تیمیہؒ فرماتے ہیں: ”جو کلام عرف میں نقص، عیب، طعن کے لیے بولی جاتی ہو، وہ سب و شتم ہے“۔
(”الصارم المسلول“۔ ص ۵۳۲)
معاملہ جب رحمت عالم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی شان اور ذات مقدسہ کا ہو تو احتیاط و ادب کا لازم ہونا کئی گنا بڑھ جاتا ہے اور آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے پیغام اور نبوت سے اختلاف بھی اباحت دم کے زمرے میں آتا ہے، چہ جائیکہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی مخالفت اور مذمت کی جائے۔ علامہ ابن تیمیہؒ اس سلسلے میں یوں رقم طراز ہیں:
”اس کی مزید توضیح یہ ہے کہ اس کے محض ایمان، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر لانے سے اعراض کرنے کی وجہ سے (جبکہ وہ معاہد نہ ہو) اس کا خون مباح ہو جاتا ہے اور ان حقوق واجبہ سے روگردانی کرنے کی بنا پر اس کو سزا دینا روا ہو جاتا ہے۔ یہ صورت حال محض اسے اس لیے پیش آتی ہے کہ اس نے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے اعزاز و احترام سے صرف سکوت اختیار کیا لیکن جب اس کے عین برعکس وہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی مذمت کرتا، گالی دیتا اور آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی توہین کا ارتکاب کرتا ہے تو اس کی وجہ سے اس کی سزا اباحت سے بھی بڑھ جاتی ہے۔ اس لیے کہ سزا کی تعیین، جرم کی نوعیت کے اعتبار سے کی جاتی ہے“۔
(”الصارم المسلول“۔ ص ۵۹۳ اردو ترجمہ)
انبیاء کو گالی دینا کفر، ارتداد یا محاربہ ہے:
علامہ ابن تیمیہؒ فرماتے ہیں: ”اگر مسلم، نبی کو گالی دے تو وہ کافر اور مرتد ہو جاتا ہے اور اگر ذمی گالی دے تو وہ حربی کافر بن جاتا ہے۔۔۔۔۔۔ اس میں شبہ نہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو گالی دینے والے کا جرم دوسرے انبیاء کو گالی دینے سے بڑھ کر ہے۔ جس طرح آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی حرمت و تقدس سب سے زیادہ ہے؛ تاہم اس امر میں، آپ کے ساتھ دیگر انبیاء و رسل سہیم و شریک ہیں کہ ان کو گالی دینے والا کافر اور مباح الدم ہے۔“۔
(”الصارم المسلول“ ص ۷۰۷، ۷۰۸ اردو ترجمہ)
ائمہ اربعہ کے فتاویٰ اور تصریحات:
گالی کا معنی و مفہوم معلوم ہو جانے کے بعد گستاخ رسول صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی سزا سے متعلق احکام الفقہ اور آئمہ امت کی تصریحات کے جواہر ترتیب دیے جاتے ہیں:
سید الفقہاء، امام اعظم، امام ابو حنیفہؒ کا مذہب:
علامہ خیر الدین رملی حنفیؒ فتاویٰ بزازیہ میں لکھتے ہیں: ”شاتم رسول صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو بہرطور حداً قتل کرنا ضروری ہے۔ اس کی توبہ بالکل قبول نہیں کی جائے گی، خواہ یہ توبہ گرفت کے بعد ہو یا اپنے طور پر تائب ہو جائے کیونکہ ایسا شخص زندیق کی طرح ہوتا ہے جس کی توبہ قابل توجہ ہی نہیں اور اس میں کسی مسلمان کے اختلاف کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا۔ اس جرم کا تعلق حقوق العباد سے ہے۔ یہ صرف توبہ سے ساقط نہیں ہوسکتا جس طرح دیگر حقوق (چوری، زنا) توبہ سے ساقط نہیں ہوتے اور جس طرح حد تہمت توبہ سے ساقط نہیں ہوتی۔ یہی سیدنا ابوبکرؓ، امام اعظمؒ ، اہل کوفہ اور امام مالکؒ کا مذہب ہے۔“۔
(”تنبیہ الولاة والحکام“ ص ۳۲۸)
امام شامیؒ حنفی، امت کی رائے بیان کرتے ہوئے رقم طراز ہیں: ”تمام اہل علم کا اتفاق ہے کہ گستاخ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا قتل واجب ہے اور امام مالکؒ، امام ابولیثؒ، امام احمد بن حنبلؒ، امام اسحاقؒ اور امام شافعیؒ حتیٰ کہ سیدنا ابوبکر صدیقؓ، ان تمام کا مسلک یہی ہے کہ اس کی توبہ قبول نہ کی
جائے"۔ ("فتاویٰ شامی" جلد ۳، ص ۳۱۸)
فقہ حنفی کے ایک معتبر امام، امام ابن ہمام لکھتے ہیں:
"جو بھی شخص حضور اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے بغض رکھے، وہ مرتد ہو جاتا ہے۔ گالی دینے والا تو بطریق اولیٰ مرتد ہو گا، ہمارے نزدیک ایسے شخص کو بطور حد قتل کرنا ضروری ہے اور اس کی توبہ کو قبول کرتے ہوئے قتل معاف نہیں کیا جائے گا۔ اہل کوفہ امام مالکؒ ، بلکہ سیدنا صدیق اکبرؓ سے یہی منقول ہے"۔
("فتح القدیر" جلد ۴، ص ۴۰۷)
امام شامیؒ "تنقیح حامدیہ" میں یوں لکھتے ہیں:
"امام مالکؒ ، امام شافعیؒ ، امام احمد بن حنبلؒ ، لیثؒ بن سعد اور دیگر تمام اکابر علماء کا موقف یہی ہے کہ ایسے آدمی کی توبہ اور اسلام قبول نہیں کیا جائے گا بلکہ اسے بطور حد قتل کیا جائے گا"۔ ("تنقیح حامدیہ" جلد اول، ص ۱۰۵)
امام برہان الدینؒ صاحب المحیط فرماتے ہیں:
"اس کی توبہ نہ اللہ کے ہاں مقبول ہے اور نہ لوگوں کے ہاں اور اس کا حکم سوائے قتل کے کچھ نہیں۔ اس پر تمام متاخرین علماء کا اجماع ہے اور یہی رائے اکثر متقدمین کی بھی ہے"۔ ("خلاصۃ الفتاویٰ" جلد ۴، ص ۳۸۶)
مذکورہ بالا دلائل سے ثابت ہوتا ہے کہ چونکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی شان اقدس میں ہجو اور سب و شتم کرنے میں اللہ کریم کے حق کے ہمراہ حق العبد بھی شامل ہے، اس لیے یہ جرم توبہ سے معاف نہیں ہو سکتا اور ساتھ ہی ساتھ یہ بھی واضح کر دیا گیا ہے کہ آیات قرآنی، احادیث رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم، اجماع صحابہ اور اجماع فقہاء کے ساتھ استثبات کا ایک قول امام ابو حنیفہؒ سے مل جائے تو اسے ترجیح دی جائے گی کیونکہ اصول فقہ کا ایک قاعدہ ہے کہ اجماع صحابہ کرام اور اجماع ائمہ بمع ایک قول ابو حنیفہؒ مل جائے تو امام صاحب کے اس قول کو ترک کر دیا جائے گا جو مذکورہ اجماعات کے خلاف ہو اور اس قول کو تسلیم کیا جائے گا جو اجماعات کا مؤید ہو اور اسی طرح کسی ایک مسئلہ پر فقہاء امت کا اجماع منعقد ہوتا ہے۔
امام مالکؒ کا مذہب:
"ابن قاسم نے فرمایا کہ ہم نے امام مالکؒ سے ایک نصرانی کے متعلق فتویٰ
طلب کیا۔ ایک بدبخت گستاخ کے بارے میں یہ بات شہادت سے ثابت ہو گئی کہ اس نے (خاکم بدہن معاذ اللہ ) یہ بکواس کی کہ ”وہ مسکین محمد تمہیں اطلاع دیتا ہے کہ وہ جنت میں ہے اور اس حالت میں ہے کہ وہ اپنی ذات کو بھی فائدہ نہ پہنچا سکا‘ اس لیے کہ کتے اس کی پنڈلیوں کو کھاتے تھے اور اگر وہ اس کو قتل کر ڈالتے تو لوگ اس سے راحت پاتے“۔ معاذ اللہ۔
ان خرافات کو سن کر حضرت امام مالکؒ نے فرمایا اس کی گردن اڑا دی جائے۔ ان کلمات کے بعد امام مالکؒ نے یہ بھی فرمایا کہ اس سلسلے میں کچھ کہنا نہیں چاہتا تھا لیکن (میری غیرت و حمیت نے یہ کلمات سننا گوارا نہ کیے) اور مجھے خیال ہوا کہ اس معاملہ میں خاموش رہنا غلط ہے“۔ (”الشفاء“ از قاضی عیاضؒ مالکی جلد ۲‘ ص ۴۵۲ ترجمہ اردو)
ابن قاسمؒ کے فتویٰ کی تصدیق:
”ابن قاسم فرماتے ہیں کہ امام مالکؒ سے مصر سے ایک فتویٰ طلب کیا گیا جس میں میرے فتویٰ کے بارے میں‘ جس میں کہ میں نے شاتم رسول علیہ السلام کے قتل کا حکم دیا تھا‘ تصدیق پائی گئی تھی۔ اس فتویٰ کے جواب میں امام مالکؒ نے مجھ ہی کو اس فتویٰ کا جواب لکھنے کا حکم دیا۔ چنانچہ میں نے یہ جواب لکھا کہ ایسے شخص کو عبرت ناک سزا دی جائے اور اس کی گردن اڑا دی جائے۔ یہ کلمات کہہ کر میں نے امام مالکؒ سے عرض کی کہ اے ابو عبداللہ ! (کنیت امام مالکؒ) اگر اجازت ہو تو یہ بھی لکھ دیا جائے کہ قتل کے بعد اس کی لاش کو جلا دیا جائے۔ یہ سن کر امام مالکؒ نے فرمایا‘ یقیناً وہ گستاخ اسی بات کا مستحق ہے اور یہ سزا اس کے لیے مناسب ہے۔ چنانچہ یہ کلمات میں نے امام موصوف کے سامنے ان کی ایماء پر لکھ دیے اور اس سلسلہ میں امام صاحب نے کسی مخالفت کا اظہار نہ کیا اور نہ ان کلمات کے سلسلہ میں کچھ کہا۔ چنانچہ یہ کلمات لکھ کر میں نے فتویٰ روانہ کر دیا اور اس فتویٰ کی روشنی میں اس گستاخ کو قتل کر کے اس کی لاش کو جلا دیا گیا“۔ (”الشفاء“ جلد ۲‘ ص ۴۵۳ اردو ترجمہ)
ابن کنانہ کا حکام کو مشورہ:
”مبسوط میں ابن کنانہ نے لکھا ہے کہ اگر کوئی یہودی یا نصرانی بارگاہ رسالت میں گستاخی کا مرتکب ہو تو میں حاکم وقت کو مشورہ دیتا ہوں اور ہدایت کرتا ہوں کہ ایسے گستاخ کو قتل کر کے اس کی لاش کو پھونک دیا جائے یا براہ راست آگ میں جھونک دیا جائے“۔ (”الشفاء“ جلد ۲، ص ۴۵۳ از قاضی عیاضؒ مالکی)
شاتم رسول اور علماء اندلس:
”قاضی عیاضؒ فرماتے ہیں کہ اندلس کے اسلاف علماء میں سے عبیداللہ بن یحییٰ اور ابن لبابہ نے اس نصرانیہ کے بارے میں، جس نے اللہ تعالیٰ کی ربوبیت اور جناب عیسیٰ علیہ السلام کی نبوت سے انکار کیا تھا اور سرور عالم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی بھی تکذیب کی تھی، یہ فتویٰ دیا کہ اگر مسلمان ہو جائے تو فبہا ورنہ اس کو قتل کر دیا جائے۔ متاخرین علماء میں بکثرت اہل علم حضرات مثلاً قابسی اور ابن کاتب نے بھی اسی خیال کی تصدیق کی ہے“۔ (”الشفاء“ جلد ۲، ص ۴۵۳ از قاضی عیاضؒ مالکی)
ابو مصعب سے استفتاء:
”جناب ابو مصعب کی خدمت میں ایک مستفتی آیا اور اس نے معلوم کیا کہ اس نصرانی کے بارے میں کیا حکم ہے جو یہ کہتا ہے کہ معاذ اللہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے سید عالم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی تخلیق فرمائی ہے۔ یہ سوال سن کر جناب ابو مصعب نے فرمایا کہ اس کی گردن مار دی جائے“۔ (”الصارم المسلول“ ص ۵۷۷-۵۷۸)۔۔۔ (”الشفاء“ جلد ۲، ص ۴۵۲ از قاضی عیاضؒ مالکی)
حکم قتل پر علمائے مالکیہ کی دلیل:
”قاضی عیاضؒ فرماتے ہیں کہ ہمارے علمائے مالکیہ نے ایسے گستاخ ذمی کے قتل کے حکم پر قرآن کریم کی اس آیت سے استدلال کیا ہے: وان نكثوا ايمانكم من بعد عهدهم و طعنوا فى دينكم (پ ۱۰ ع ۸) ترجمہ: ”اور اگر وہ اپنی قسموں کو توڑیں اور عہد شکنی کر کے آپ کے دین کے
بارے میں بدگوئیاں کریں"۔
اس آیت قرآنی کے علاوہ علماء مالکیہ نے سید عالم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے عمل سے بھی استدلال کیا ہے کیونکہ حضور علیہ السلام نے کعب بن اشرف کو اس کی گستاخیوں کی وجہ سے قتل کروایا تھا۔ اس گستاخ کے علاوہ اور دوسرے گستاخ بھی تعمیل حکم نبوی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم میں قتل کیے گئے تھے"۔ ("الشفاء" جلد ۲، ص ۴۴۶-۴۴۷)
قاضی عیاضؒ گستاخ رسول ﷺ کی سزا تجویز فرماتے ہیں:
علامہ ابن تیمیہؒ "قاضی عیاضؒ" کے حوالے سے لکھتے ہیں:
"قاضی عیاضؒ فرماتے ہیں: جو شخص بھی رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو گالی دے یا آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی ذات یا دین یا آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی عادت میں نقص و عیب نکالے یا اسے ایسا شبہ لاحق ہو جس سے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو گالی دینے، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی تنقیص شان، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے بغض و عداوت اور نقص و عیب کا پہلو نکلتا ہو، وہ دشنام دہندہ ہے اور اس کا حکم وہی ہے جو گالی دینے والے کا ہے اور وہ یہ کہ اسے قتل کیا جائے۔ اس مسئلہ کی کسی شاخ کو مستثنیٰ کیا جائے، اور نہ اس میں شک و شبہ روا رکھا جائے خواہ گالی صراحتاً دی جائے یا اشارۃً - وہ شخص بھی اسی طرح ہے جو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر لعنت کرے یا آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو نقصان پہنچانا چاہے یا آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر بددعا کرے یا آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی شان کے لائق نہ ہو یا آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی کسی چیز کے بارے میں رکیک، بیہودہ اور جھوٹی بات کرے یا جن مصائب سے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم دوچار ہوئے، ان کی وجہ سے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر عیب لگائے یا بعض بشری عوارض کی وجہ سے، جن سے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم دوچار ہوئے، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی تنقیص شان کرے، اس بات پر تمام علماء اور آئمہ الفتویٰ کا عہد صحابہؓ سے لے کر اگلے تاریخی ادوار تک اجماع چلا آتا ہے"۔ ("الصارم المسلول" ص ۴۷۵ اردو ترجمہ از غلام احمد حریری)
گستاخ رسول ﷺ قتل کیا جائے ۔۔ مالکیہ کا اجماع:
”ابن قاسم امام مالکؒ سے روایت کرتے ہیں کہ جو شخص رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو گالی دے اسے قتل کیا جائے اور توبہ کا مطالبہ نہ کیا جائے۔ ابن قاسم کہتے ہیں کہ اگر کوئی شخص رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو گالی دے یا آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم میں عیب نکالے اور تنقید کرے تو اسے زندیق کی طرح قتل کیا جائے۔ اللہ نے رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی توقیر کا فرض ٹھہرایا ہے۔ اہل مدینہ نے امام مالکؒ سے روایت کی ہے کہ جو شخص رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو گالی دے یا برا بھلا کہے اور عیب نکالے‘ اسے قتل کیا جائے خواہ وہ مسلم ہو یا کافر۔ اس سے توبہ کا مطالبہ نہ کیا جائے۔ ابن وہب نے امام مالکؒ سے نقل کیا ہے: جو شخص کہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی چادر میلی ہے اور اس کا مقصد آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا عیب نکالنا ہو تو اسے قتل کیا جائے۔ بعض مالکیہ نے اس پر علماء کا اجماع نقل کیا ہے کہ جس شخص نے کسی نبی کی ہلاکت اور بری چیز کی دعا مانگی‘ اس سے توبہ کا مطالبہ کیے بغیر قتل کیا جائے۔
قاضی عیاضؒ نے مشہور مالکی فقہاء کا فتویٰ مختلف امور کے بارے میں نقل کیا ہے۔ ہر مقدمے کا فیصلہ بعض علماء نے صادر کیا کہ اسے توبہ کا مطالبہ کیے بغیر قتل کیا جائے“۔ (”الشفاء“ جلد ۲‘ ص ۱۹۱) ۔۔ (”الصارم المسلول“ ص ۴۷۵-۴۷۶ اردو ترجمہ از غلام احمد حریری)
حضرت امام شافعیؒ کا مذہب:
امام شافعیؒ سے صراحتاً منقول ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو گالی دینے سے عہد ٹوٹ جاتا ہے اور ایسے شخص کو قتل کر دینا چاہیے ۔ ابن المنذر‘ الخطابی اور دیگر علماء نے ان سے اسی طرح نقل کیا ہے۔
حضرت امام شافعیؒ اپنی کتاب ”الام“ میں فرماتے ہیں:
”جب حاکم وقت جزیہ کا عہد نامہ لکھنا چاہے تو اُس میں شروط کا ذکر کرے۔ عہد نامہ میں تحریر کیا جائے کہ اگر تم میں سے کوئی شخص محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم یا کتاب اللہ یا دین اسلام کا تذکرہ نازیبا الفاظ میں کرے گا تو اس سے اللہ
تعالیٰ اور تمام مسلمانوں کی ذمے داری اٹھ جائے گی، جو امان اس کو دی گئی تھی، ختم ہو جائے گی اور اس کا خون و مال امیر المومنین کے لیے اسی طرح مباح ہو جائے گا جس طرح حربی کافروں کے اموال اور خون مباح ہیں“۔ (”الصارم
المسلول“ ص ۳۲-۳۳ اردو ترجمہ)
اصحاب شافعیؒ کے اقوال و آثار:
”جب ذمی اللہ، اس کی کتاب اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا ذکر بھونڈے انداز میں کرے تو امام شافعیؒ کے اصحاب نے اس میں دو وجوہ ذکر کیے ہیں:
- (۱) ایک یہ کہ اس کا عہد ٹوٹ جائے گا خواہ اس کا ترک ان کے لیے مشروط ہو
یا نہ ہو۔ بالکل اسی طرح جس طرح ان کا عہد اس صورت میں ٹوٹ جاتا ہے جبکہ وہ مسلمانوں کے خلاف نبرد آزما ہوں اور شرعی احکام کی پابندی نہ کریں۔ ہمارے اصحاب میں سے ابو الحسین اور ابو اسحاق مروزی نے اس طریقہ کو اختیار کیا ہے۔ بعض کا قول ہے کہ صرف نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو گالی دینے سے وہ واجب القتل ہو جاتا ہے۔
- (۲) دوسرے یہ کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو گالی دینا ان افعال کی
مانند ہے جن میں ضرر رسانی کا پہلو نکلتا ہے......... نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو گالی دینے سے عہد ٹوٹ جاتا ہے اور ایسے شخص کو قتل کرنا واجب ہو جاتا ہے جیسا کہ ہم نے خود امام شافعیؒ سے نقل کیا ہے“۔ (”الصارم المسلول“ ص
۳۶-۳۴ اردو ترجمہ)
رسول کریم ﷺ کی توہین کا ارتکاب کرنے والا واجب القتل ہے۔۔
اجماعی عقیدہ:
”اکثر علماء کا موقف یہی ہے۔ المنذر کہتے ہیں کہ عام علماء کا اس پر اجماع ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی توہین کرنے والے کی حد قتل ہے۔ امام مالکؒ ، لیثؒ ، احمدؒ اور اسحاقؒ اور امام شافعیؒ کا قول یہی ہے“۔ (”الصارم
المسلول“ ص ۲۴ اردو ترجمہ)
مذکورہ حوالہ نقل کرنے کے بعد قاضی عیاضؒ لکھتے ہیں:
"حضرت ابو بکر صدیقؓ کے قول کا یہی مقتضی ہے اور ان آئمہ کے نزدیک اس کی توبہ قبول نہیں کی جائے گی۔
امام ابو حنیفہؒ ، ان کے شاگردوں، امام ثوری، کوفہ کے دوسرے علماء اور امام اوزاعی کا قول بھی اسی طرح ہے۔ ان کے نزدیک یہ ردت ہے"۔ ("الشفاء" جلد ۲، ص ۲۱۵)
امام ابو بکر الفارسیؒ کا نظریہ :
"اصحاب شافعی میں سے ابو بکر فارسیؒ نے اس امر پر مسلمانوں کا اجماع نقل کیا ہے کہ جو شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو گالی دے، اس کی حد شرعی قتل ہے۔ جس طرح کسی اور کو گالی دینے کی سزا کوڑے مارنا ہے۔ جو اجماع انہوں نے نقل کیا ہے، اس سے صدرِ اول یعنی صحابہؓ و تابعین کا اجماع مراد ہے یا اس کا مطلب یہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو گالی دینے والا اگر مسلم ہو تو وہ واجب القتل ہے"۔ ("الصارم المسلول" ص اردو ترجمہ)
اس مسئلہ میں امام علامہ اسحاق بن راہویہ بھی اجماع نقل کرتے ہیں:
"اس بات پر مسلمانوں کا اجماع منعقد ہوا ہے کہ جو شخص اللہ یا اس کے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو گالی دے یا خدا کے نازل کردہ کسی حکم کو رد کرے یا کسی نبی کو قتل کرے تو وہ اس کی بنا پر کافر ہو جاتا ہے۔ اگرچہ وہ خدا کے نازل کردہ تمام احکام کو مانتا ہو"۔ ("الصارم المسلول" ص ۲۵ اردو ترجمہ)
الخطابیؒ فرماتے ہیں:
"میرے علم کی حد تک کسی مسلمان نے بھی اس کے واجب القتل ہونے میں اختلاف نہیں کیا"۔ (فتح القدیر شرح الہدایہ" جلد ۴، ص ۴۰۷، "الشفاء" جلد ۲، ص ۲۱۶) ۔۔ ("الصارم المسلول" ص ۲۵ اردو ترجمہ) ۔۔ ("فتح الباری" جلد ۱۲، ص ۲۸۱)
امام محمد بن سحنون بھی اجماع نقل کرتے ہیں:
"اس بات پر علماء کا اجماع منعقد ہوا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو گالی دینے والا اور آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی توہین کرنے والا کافر ہے اور
اس کے بارے میں عذاب خداوندی کی وعید آئی ہے۔ امت کے نزدیک اس کا حکم یہ ہے کہ اسے قتل کیا جائے اور جو شخص اس کے کفر اور اس کی سزا میں شک کرے وہ بھی کافر ہے“۔ (”الرد المختار“ جلد ۳‘ ص ۳۱۷)۔۔(”نسیم الریاض‘ شرح الشفاء“ جلد ۴‘ ص ۴۳۸)۔۔(الشفاء)۔۔(”الصارم المسلول“ ص ۲۵-۲۶ اردو ترجمہ)
امام احمد بن حنبلؒ کا مذہب:
”جو شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو گالی دے یا آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی توہین کرے‘ خواہ وہ مسلم ہو یا کافر‘ تو وہ واجب القتل ہے۔ میری رائے یہ ہے کہ اسے قتل کیا جائے اور اس سے توبہ کا مطالبہ نہ کیا جائے“۔
دوسری جگہ فرماتے ہیں:
”ہر آدمی جو ایسی بات کرے جس سے اللہ تعالیٰ کی تنقیص شان کا پہلو نکلتا ہو‘ وہ واجب القتل ہے‘ خواہ مسلم ہو یا کافر‘ یہ اہل مدینہ کا مذہب ہے۔ ہمارے اصحاب کہتے ہیں کہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی طرف گالی کا اشارہ کرنا ارتداد ہے‘ جو موجب قتل ہے۔ یہ اسی طرح جیسے صراحتاً گالی دی جائے۔ ہمارے اصحاب کے مابین اس مسئلہ میں کوئی اختلاف نہیں پایا جاتا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی والدہ کو گالی دینا گالی کی اقسام میں سے ہے جو موجب قتل ہے بلکہ اس سے بھی شدید تر ہے کیونکہ اس سے رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے حسب و نسب پر جرح و قدح لازم آتی ہے۔ بعض علماء علی الاطلاق کہتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی والدہ کو گالی دینے والے کو قتل کیا جائے‘ خواہ مسلم ہو یا کافر۔ ممکن ہے گالی سے ان کی مراد بہتان ہو جیسا کہ جمہور علماء نے تصریح کی ہے کیونکہ یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو گالی دینے پر مشتمل ہے“۔ (”الصارم المسلول“ ص ۴۷۴-۴۷۵ اردو ترجمہ)
علامہ ابن تیمیہؒ اپنے امام کا عقیدہ ارقام فرماتے ہیں:
”ابو طالب سے مروی ہے کہ امام احمد سے اس شخص کے بارے میں سوال کیا گیا جو رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو گالیاں دیتا ہو۔ فرمایا: اسے قتل کیا جائے کیونکہ اس نے رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو گالیاں دے کر اپنا عہد
توڑ دیا"۔
"حرب کہتے ہیں کہ میں نے امام احمدؒ سے ایک ذمی کے بارے میں سوال کیا جس نے رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو گالی دی تھی۔ آپ نے جواب دیا: اسے قتل کیا جائے"۔
ہر دو آثار کو خلال نے روایت کیا ہے۔ ان جوابات کے علاوہ بھی امام احمدؒ نے ایسے شخص کے واجب القتل ہونے کے بارے میں تصریح کی ہے:
"امام احمدؒ نے جملہ اقوال میں ایسے شخص کے واجب القتل ہونے کی تصریح ہے، اس لیے کہ اس نے عہد شکنی کا ارتکاب کیا۔ اس مسئلہ میں ان سے کوئی اختلاف منقول نہیں"۔
("الصارم المسلول" ص ۲۸۰-۲۸۱ اردو ترجمہ)
گستاخ رسول ﷺ کی سزا کے بارے میں علامہ ابن تیمیہؒ الحنبلی کا
فتویٰ:
"الغرض گالی دہندہ اگر مسلمان ہو تو وہ کافر ہو جائے گا اور بلا خوف و نزاع اسے قتل کر دیا جائے گا۔ آئمہ اربعہ اور دیگر علماء کا مذہب یہی ہے۔ قبل ازیں ہم بیان کر چکے ہیں کہ اس ضمن میں اسحاق بن راہویہ اور دیگر اہل علم نے اجماع کا دعویٰ کیا ہے اور اگر ذمی ہو تو امام مالکؒ اور اہل مدینہ کے قول کے مطابق بھی اسے قتل کیا جائے گا......امام احمدؒ اور فقہاء حدیث کا موقف بھی یہی ہے۔
امام احمدؒ نے متعدد مقامات پر اس کی تصریح کی ہے۔ حنبلیؒ کہتے ہیں کہ میں نے ابو عبداللہ کو فرماتے سنا "جو شخص بھی رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو گالی دے یا توہین کرے، خواہ وہ مسلم ہو یا کافر، تو اسے قتل کیا جائے۔ میرا خیال ہے کہ اسے قتل کیا جائے اور اس سے توبہ کا مطالبہ نہ کیا جائے۔ وہ کہتے ہیں کہ میں نے ابو عبداللہ کو یہ کہتے سنا کہ
"جو شخص عہد شکنی کرے یا دین اسلام میں نئی بات (بدعت) کو رائج کرے تو میرے نزدیک اسے قتل کرنا واجب ہے۔ کیا انہوں نے یہ عہد نہیں کیا اور اس کی ذمہ داری قبول نہیں کی تھی؟"
ابو الصغراء کہتے ہیں:
"میں نے ابو عبداللہ سے ایک ذمی شخص کے بارے میں دریافت کیا جو رسول
اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو گالیاں دیا کرتا تھا‘ اس کے بارے میں شرعی حکم کیا ہے؟ انہوں نے جواب دیا ”جب ایسے شخص کے خلاف شہادت مل جائے تو اسے قتل کیا جائے‘ خواہ وہ مسلم ہو یا کافر“۔
ہر دو اقوال کو خلال نے روایت کی ہے۔ عبداللہ اور ابو طالب نے امام احمدؒ سے روایت کیا ہے کہ ان سے رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو گالیاں دینے والے کے بارے میں دریافت کیا گیا تو انہوں نے فرمایا‘ اسے قتل کیا جائے گا۔ پھر ان سے پوچھا گیا کہ آیا اس ضمن میں کچھ احادیث منقول ہیں؟ فرمایا اس کے بارے میں چند احادیث منقول ہیں‘ جن میں سے چند یہ ہیں:
- (۱) اس اندھے شخص سے منقول حدیث جس نے عورت کو قتل کر دیا تھا۔ اس نے کہا میں
نے سنا تھا کہ یہ رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو گالیاں دیتی تھی۔
- (۲) حضرت حسین کی روایت ہے کہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا ”جو
شخص رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو گالی دے‘ اسے قتل کیا جائے“۔
- (۳) خلیفہ عمر بن عبدالعزیزؒ فرمایا کرتے تھے ”اسے قتل کیا جائے‘ اس لیے کہ رسول اللہ
صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو گالیاں دینے والا مرتد ہے۔ مسلمان حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو گالی نہیں دے سکتا“۔
- (۴) عبداللہ (بن احمد) نے یہ اضافہ کیا کہ میں نے اپنے والد سے اس شخص کے بارے میں
پوچھا جو رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو گالیاں دیتا ہو کہ آیا اس سے توبہ کا مطالبہ کیا جا سکتا ہے؟ فرمایا: ”وہ واجب القتل ہے۔ اس سے توبہ کا مطالبہ نہیں کیا جائے گا‘ اس لیے کہ حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے ایسے شخص کو قتل کر دیا تھا اور اس سے توبہ کا مطالبہ نہیں کیا تھا“۔ (”الصارم المسلول“ ص ۲۷-۲۶ اردو ترجمہ)
آئمہ اربعہ کی تصریحات کے بعد چاروں مذاہب کے جید اور محقق علماء کرام نے اس خاص مسئلہ پر چار انمول کتب تصنیف فرما کر اتمام حجت کر دیا ہے اور ان میں گستاخ رسول کی سزا اپنے اپنے زاویہ نظر سے ”حد قتل“ قرار دی گئی ہے۔ ان کتب کے نام درج ذیل ہیں:
- (۱) کتاب الشفاء بتعریف حقوق المصطفیٰ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مرتبہ قاضی عیاضؒ
اندلسی مالکی متوفی ۵۵۴ ہجری۔
- (۲) الصارم المسلول علی شاتم الرسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مولفہ امام حافظ ابن تیمیہؒ
حنبلی متوفی ۷۲۸ ہجری۔
- (۳) السیف المسلول علی شاتم الرسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مولفہ امام تقی الدین سبکیؒ
شافعی متوفی ۷۵۶ ہجری۔
- (۴) تنبیہ الولاۃ والحکام علی احکام شاتم خیر الانام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم از علامہ شامی
حنفی۔
غیر مقلدین کے فتاویٰ:
مذاہب اربعہ کی ان بے پایاں تصانیف اور خدمت کے بعد غیر مقلدین کے مشہور و معروف اور معتبر عالم علامہ وحید الزمانؒ بھی اس موقف کی تائید کرتے ہیں: "کسی نبی کی تحقیر یا توہین کفر ہے۔۔۔۔۔۔ مسلمان نہ جناب خاتم رسالت (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کے ساتھ بے ادبی کرنے کو گوارا کریں گے اور نہ جناب عیسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھ‘ نہ کسی اور نبی یا ولی کے ساتھ اور جو کوئی جناب عیسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھ بے ادبی کرے گا اس مردود کو بھی ہم اسی طرح ماریں گے اور قتل کریں گے جیسے جناب محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ بے ادبی کرنے پر اس کو ماریں گے اور قتل کریں گے"۔ (حاشیہ "سنن ابن ماجہ" مترجم علامہ وحید الزمان‘ حاشیہ بر باب ذکر البعث ص ۳۹۶‘ مطبوعہ: اہل حدیث اکادمی کشمیری بازار لاہور)
علامہ احسان الٰہی ظہیر کا موقف:
"نبی کے ملک کے اندر نبی کے خلاف اگر کوئی شخص گستاخی کا ارتکاب کرتا ہے‘ اس کو توبہ کا حق بھی نہیں دیا جائے گا اس کی گردن اڑا دی جائے گی"۔ (خطبات علامہ احسان الٰہی ظہیر‘ مرتبہ عمر فاروق قدوسی‘ ص ۳۰۵ بحوالہ الصارم المسلول از علامہ ابن تیمیہؒ)
پروفیسر ساجد میر کا موقف:
"نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی عظمت و توقیر مسلمان کے ایمان کا بنیادی جز ہے اور علماء اسلام اور صحابہؓ سے لے کر آج تک اس بات پر متفق رہے کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی شان اقدس میں گستاخی کرنے والا آخرت میں
عذاب الیم کا سامنا کرنے کے علاوہ اس دنیا میں بھی گردن زدنی ہے“۔ (روزنامہ ”جنگ“ لاہور بحوالہ ”شاتم رسول کی سزا اور معافی“ ص ۱۱‘ ادارہ علوم اسلامی جھنگ صدر)
پروفیسر ساجد میر مزید لکھتے ہیں: ”ان دلائل کے پیش نظر درست یہی ہے کہ شاتم رسول (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کی سزا قتل ہے اور اس کی سچی یا جھوٹی توبہ اسے اس سزا سے نہیں بچا سکتی“۔ (ایضاً ص ۱۲)
شیعہ فقہ کے فتاویٰ:
شیعہ فقہ کے مطابق بھی گستاخ رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم قتل کیا جائے گا۔ ”جناب رسالت مآب صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو گندہ دہنی کا نشانہ بنانے والوں کو قتل کر دینے کا حق ہر کلمہ گو کو حاصل ہے۔ اس کے لیے حاکم وقت سے اجازت لینے کی ضرورت نہیں۔ اگر حالات کا تقاضا اور حاکم وقت کا دروازہ کھٹکھٹانا پڑے تو حاکم کا فرض ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی شان میں گستاخی کرنے والے کا سر اڑا دے“۔ (”وسائل الشیعہ“ جلد ۱۸‘ ص ۳۵۹)
شیعہ فقہ کا ایک اور فتویٰ:
”حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو گالی دینے والے کا قتل سننے والے پر واجب ہے بشرطیکہ اس کی جان‘ عزت اور مال کو خطرہ لاحق نہ ہو....... یہی فتویٰ دیگر علماء اعلام شیعہ کا ہے“۔ (”مبانی تکملتہ المنہاج“ جلد اول‘ ص (۲۶۵-۲۶۴
علماء امت کے فتاویٰ جات:
قاضی عیاضؒ فرماتے ہیں: ”بے شک ہر وہ شخص جس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو گالی دی یا حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی طرف کسی عیب کو منسوب کیا یا حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی ذات مقدسہ‘ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے نسب یا دین یا
آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی کسی خصلت سے، کسی نقص کی نسبت کی یا آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر طعنہ زنی کی یا جس نے بطریق سب اہانت یا تحقیر شان مبارک یا ذات مبارک کی طرف کسی عیب کو منسوب کرنے کے لیے حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو کسی چیز سے تشبیہ دی‘ وہ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو گالی دینے والا ہے‘ اسے قتل کر دیا جائے۔ ہم اس حکم میں قطعا کوئی استثناء نہیں کرتے اور نہ ہم اس میں کوئی شک کرتے ہیں۔ خواہ صراحتاً توہین ہو یا اشارۃً کنایتاً اور یہ سب علمائے امت اور اہل فتویٰ کا اجماع ہے۔ عہد صحابہؓ سے لے کر آج تک“۔ (”الشفاء“ جلد ۲‘ ص ۲۱۴‘ ”الصارم المسلول“ ص ۵۲۵‘ طبع بیروت)
ائمہ اربعہ کا مذہب:
”خلاصہ یہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو گالی دینے والے کے کفر اور اس کے مستحق قتل ہونے میں کوئی شک و شبہ نہیں۔ چاروں ائمہ (ابو حنیفہؒ، مالکؒ، شافعیؒ، احمد بن حنبلؒ) سے یہی منقول ہے“۔ (”فتاویٰ شامی حنفی“ جلد ۳‘ ص ۳۲۱)
امام ابو یوسفؒ فرماتے ہیں:
”جو مسلمان رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو سب کرے یا تکذیب کرے یا عیب لگائے یا آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی تنقیص شان کا مرتکب ہو تو اس نے اللہ تعالیٰ سے کفر کیا اور اس کی زوجہ اس کے نکاح سے نکل گئی“۔ (”کتاب الخراج“ ص ۱۸۲‘ ”فتاویٰ شامی“ جلد ۳‘ ص ۳۱۹)
آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے بال مبارک کی تنقیص بھی کفر ہے۔
”کسی شے میں حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر عیب لگانے والا کافر ہے اور اسی طرح بعض علماء نے فرمایا‘ اگر کوئی حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے بال مبارک کو ”شعر“ کے بجائے (بصیغہ تصغیر) ”شعیر“ کہہ دے تو وہ بھی کافر ہو جائے گا اور امام ابو حفص الکبیر (حنفی) سے منقول ہے کہ اگر کسی نے حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے کسی ایک بال مبارک کی طرف بھی عیب منسوب کیا تو وہ کافر ہو جائے گا اور امام محمدؒ نے ”مبسوط“ میں فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو گالی
دینا کفر ہے۔“ (”شرح الشفا“ جلد ۲، ص ۳۸۴، ”خلاصۃ الفتاویٰ“ جلد ۴، ص ۳۶۳)۔۔ (”فتاویٰ قاضی خان“ جلد ۴، ص ۸۸۲، طبع نولکشور)
گستاخ کی سزائے موت میں اختلاف نہیں:
”کسی مسلمان کو اس میں اختلاف نہیں کہ جس شخص نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی اہانت اور ایذاء رسانی کا قصد کیا اور وہ مسلمان کہلاتا ہے، وہ مرتد مستحق قتل ہے۔“ (”احکام القرآن للجصاص“ جلد ۳، ص ۱۰۶)
امام شہاب الدین خفاجی حنفیؒ لکھتے ہیں: ”توہین رسالت پر حکم کفر کا مدار ظاہر الفاظ پر ہے۔ توہین کرنے والے کے قصد و نیت اور اس کے قرائن حال کو نہیں دیکھا جائے گا۔“ (”نسیم الریاض شرح الشفا“ جلد ۴، ص ۴۲۶)
یونہی خود بھی قاضی عیاضؒ فرماتے ہیں: ”حبیب بن ربیع نے فرمایا کہ لفظ صریح میں تاویل کا دعویٰ قبول نہیں کیا جائے گا“۔ (”الشفا“ جلد ۲، ص ۲۱۱)
امام صدر الشہیدؒ حنفی فرماتے ہیں: ”ہم اس کی توبہ اور اسلام کا اعتبار نہیں کر سکتے بلکہ اسے ضرور قتل کریں گے“۔ (”البحر الرائق“ جلد ۵، ص ۱۳۶)
امام ابن نجیم حنفیؒ فرماتے ہیں: ”ہر ارتداد برابر ہوتا ہے۔ اگر اسلام کی طرف راغب ہو جائے تو اسے چھوڑ دیا جائے گا مگر اس سے کچھ مسائل مستثنیٰ ہیں۔ ان میں پہلا یہ ہے جو گستاخ رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہو، اسے نہیں چھوڑا جائے گا اور ایسے مرتد شخص کی توبہ قبول نہیں کی جائے گی۔ (”البحر الرائق“ ج ۵، ص ۱۳۵)
امام شامیؒ ایسے شخص کے جرم ارتداد کو دیگر مرتدین کے جرم سے زیادہ سنگین قرار دیتے ہوئے لکھتے ہیں: ”شاتم رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا ارتداد دوسرے ارتداد کی طرح نہیں کیونکہ دیگر ارتداد انفرادی عمل ہوتے ہیں اور ان میں کسی دوسرے کا حق متعلق نہیں ہوتا۔ اس لیے اس کی توبہ قابل قبول ہوتی ہے مگر شاتم رسول صلی
اللہ علیہ و آلہ وسلم ایسا کافر و مرتد ہوتا ہے کہ اس کا قتل لازم ہے۔ اگر وہ توبہ نہ کرے تو بھی صحیح مذہب کے مطابق بطور حد قتل کیا جائے گا“۔ (”تنقیح حامدیہ“
ص ۱۵۴)
علامہ محمد بن علی بن محمد الشوکانیؒ لکھتے ہیں: ”شعبی کی حدیث دلیل ہے اس بات پر کہ جو گالی دے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو اسے قتل کیا جائے گا اور ابن المنذر نے اس پر اتفاق نقل کیا ہے کہ جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو گالی دے‘ صراحتاً وہ واجب القتل ہے“۔ (”نیل الاوطار“ ج ۷‘ ص ۳۸۰)
شیخ وہبۃ الزحیلیؒ لکھتے ہیں: ”اور تحقیق جو شخص گالی دے اللہ تعالیٰ کو‘ یا‘ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو‘ یا ملائکہ میں سے کسی ایک کو‘ یا دیگر انبیاء کو‘ پس اگر وہ مسلمان ہو تو اسے بالاتفاق قتل کیا جائے گا“۔ (”الفقہ الاسلامی و ادلتہ“ ج ۶‘ ص ۱۸۴)
امام خیر الدین رملیؒ لکھتے ہیں: ”گستاخ رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو حداً قتل کیا جائے گا اور اصلاً اس کی توبہ قبول نہیں کی جائے گی اور یہی مذہب ابو بکر صدیقؓ اور امام اعظمؒ کا ہے......... اس پر اجماع ہو گیا‘ پوری امت کا کہ گستاخ رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کافر ہے۔ اسے قتل کیا جائے گا اور اس کی کوئی توبہ نہیں اور جو اس کے عذاب اور کفر میں شک کرے‘ وہ بھی کافر ہے“۔ (”فتاویٰ خیریہ“ ج اول‘ ص
۱۷۱-۱۷۰)
علامہ احمد شہاب الدین خفاجیؒ لکھتے ہیں: ”اگر کسی شخص نے کہا کہ فلاں آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے زیادہ علم رکھتا ہے تو اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی نسبت عیب اور نقص منسوب کیا‘ اس سے وہ کافر ہو جائے گا“۔ (”نسیم الریاض“ ج ۴‘ ص
۳۳۵)
عالم بن علاؤ الدین الانصاریؒ فرماتے ہیں: ”اور جو بعض انبیاء پر ایمان نہ لائے یا جو کسی ایک نبی پر عیب لگائے یا ان کی سنتوں میں سے کسی ایک پر راضی نہ ہو تو وہ یقیناً کافر ہے“۔ (”فتاویٰ التاتار
خانیہ" ج۵‘ ص ۴۷۷)
نیز------ "جو شخص بعض انبیاء کا اقرار نہ کرے یا ان کی عیب جوئی کرے یا ان کی سنتوں میں سے کسی پر راضی نہ ہو تو وہ کافر ہو جاتا ہے۔" ("جامع الفصولین" ص ۳۰۲)
علامہ ابن نجیم حنفیؒ لکھتے ہیں: "اور کافر قرار دیا جائے گا جب کوئی شک کرے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سچے ہونے میں یا ان کو گالی دے یا ان کی تنقیص کرے یا ان کو کمتر جانے"۔ ("الاشباہ والنظائر" ص ۱۰۲)
ایک دوسری جگہ امام ابن نجیمؒ فقہ حنفی کی مشہور زمانہ کتاب "البحر الرائق" میں لکھتے ہیں: "اگر کسی شخص نے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو اللہ تعالیٰ کی نعمت تسلیم نہ کیا اس سے بھی وہ شخص کافر ہو جائے گا"۔ ("البحرالرائق" ج۵‘ ص ۱۲۱)
"فتاویٰ عالمگیری" کے حاشیہ پر رقم ہے: "اگر کسی شخص نے یہ کہہ دیا اگر آدم علیہ السلام یہ دانہ نہ کھاتے تو ہم شقی اور بدبخت اور محروم نہ ہوتے ایسی بات کہنے سے بھی وہ شخص کافر ہو جائے گا"۔ ("فتاویٰ بزازیہ" ج۶‘ ص ۳۲۸)
نیز-------- "اگر کسی کے سامنے کہا گیا کہ آدم علیہ السلام سوتی کپڑا بنتے تھے اور سننے والے نے کہا پھر تو ہم "جولاہے" کی اولاد ہیں (معاذ اللہ) اس سے بھی وہ شخص کافر ہو جائے گا"۔ (ایضاً)
آپ ﷺ کی سنت کی مخالفت بھی کفر ہے:
"اگر کسی شخص نے بیان کیا کہ ناخنوں کو کاٹنا نبی علیہ السلام کی سنت ہے اور سننے والے نے کہا ٹھیک ہے سنت تو ہے مگر میں پھر بھی نہیں کاٹتا اس سے بھی کافر ہو جائے گا"۔ ("خلاصۃ الفتاویٰ" ج۴‘ ص ۳۸۶)
آپ ﷺ کا ذکر بغرض تحقیر کفر ہے:
”بے شک قرآن میں آتا ہے کہ ”ہم نے تجھے تنگ دست پایا اور غنی کر دیا“ باوجود اس کے کسی شخص نے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو ”فقیر“ یا ”مسکین“ کہہ دیا تو ایسا کہنے سے وہ شخص کافر ہو گیا“۔ (”نسیم الریاض“ ج ۴‘ ص ۳۳۶)
نیز۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ”اگر کسی شخص نے حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو لمبے ناخنوں والا (بڑھے ہوئے ناخن) کہہ دیا تو ایسا کہنے سے بھی وہ شخص کافر ہو گیا“۔ (”نسیم الریاض“ ص ۳۴۱‘ جلد ۴)
حاشیہ عالم گیری پر لکھا ہے: ”اگر کسی شخص نے یہ بیان کیا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب کھانا تناول فرماتے تھے تو اس کے بعد اپنی انگلیوں کو صاف (چاٹ لیا کرتے تھے) فرما لیا کرتے تھے تو سننے والے نے یہ کہہ دیا کہ یہ بے ادبی ہے وہ شخص بھی کافر ہو گیا“۔ (”فتاویٰ بزازیہ“ ج ۶‘ ص ۳۲۸‘ مطبوعہ کوئٹہ)
کفر کی ایک علامت:
”اگر حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے بال مبارک کو حقارت کے ساتھ ذکر کرنا اور حضور علیہ السلام کے لیے ”درویش“، ”فقیر“ اور ”مسکین“ کے لفظ استعمال کرنا، حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی کملی مبارک کو پرانا یا میلا کچیلا کہنا یا حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے بڑھے ہوئے ناخنوں والا کہنے سے، کہنے والا کافر ہو جائے گا کہ یہ استخفاف ہے“۔ (”خلاصۃ الفتاویٰ“ ج ۱‘ ص ۳۸۶‘ ”فتاویٰ بزازیہ“ جلد ۶‘ ص ۳۲۸)
سید المفسرین حضرت عبداللہ ابن عباسؓ سورۃ التوبہ کی آیت ۷۴ کے تحت فرماتے ہیں: ”حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک کرنجی آنکھوں والے سے فرمایا کہ تم اور تمہارے ساتھی کس بات میں میری شان میں گستاخی کرتے ہو۔ وہ گیا اور اپنے ساتھیوں کو بھی بلا لایا۔ سب نے آکر قسمیں کھائیں کہ ہم نے کوئی کلمہ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی شان میں بے ادبی کا نہیں کہا۔ اس پر اللہ عزوجل نے
مذکورہ بالا آیت نازل فرمائی کہ
”خدا کی قسم کھاتے ہیں کہ انہوں نے گستاخی نہ کی اور بے شک ضرور وہ یہ کفر کا کلمہ بولے اور میرے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی شان میں بے ادبی کر کے اسلام کے بعد کافر ہو گئے“۔
(ابن جریر‘ طبرانی)
مندرجہ بالا روایات سے معلوم ہوا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی شان اقدس میں معمولی سی گستاخی بھی کفر ہے اور اس سے مسلمان دائرہ اسلام سے خارج ہو جاتا ہے۔ جو مسلمان اسلام لانے کے بعد کفر کا مرتکب ہوتا ہے‘ اسے مرتد کہا جاتا ہے۔
شریعت اسلامیہ میں مرتد کی سزا:
فرمان نبوی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہے:
پہلی حدیث:
”جو شخص (یعنی مسلمان) اپنا دین بدل دے‘ اسے قتل کر دو“۔
(بخاری‘ مسلم)
یہ حدیث ابو موسیٰ اشعریؓ‘ حضرت عبداللہ بن عباسؓ‘ حضرت خالد بن ولیدؓ اور متعدد دوسرے صحابہ کرامؓ سے مروی ہے اور تمام معتبر کتب احادیث میں موجود ہے۔
دوسری حدیث:
”حضرت عبداللہ بن مسعودؓ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جو شخص مسلمان ہو اور شہادت دیتا ہو اس بات کی کہ اللہ کے سوا کوئی الہ نہیں اور اس بات کی کہ میں ﷺ اللہ کا رسول ہوں‘ اس کا خون تین جرائم کے سوا کسی صورت میں حلال نہیں۔ ایک یہ کہ اس نے کسی کی جان لی ہو اور قصاص کا مستحق ہو گیا ہو‘ دوسرے یہ کہ وہ شادی شدہ ہو اور زنا کرے‘ تیسرے یہ کہ اپنے دین کو چھوڑ دے اور جماعت سے الگ ہو جائے“۔ (صحیح بخاری‘ کتاب الدیات‘ مسلم شریف‘ کتاب القصاص‘ المحاربین و القصاص و الدیات‘ ابو داؤد کتاب الدیات)
تیسری حدیث:
”حضرت عائشہؓ روایت کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ کسی مسلمان کا خون (حلال) نہیں مگر یہ کہ شادی شدہ ہونے کے بعد زنا کرے یا مسلمان ہونے کے بعد کفر اختیار کرے یا کسی کی جان لی ہو“۔ (”نسائی شریف“۔ باب ذکر ما تحل بہ دم المسلم)
چوتھی حدیث:
”حضرت عثمانؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ کسی مسلمان کا خون حلال نہیں بجز تین صورتوں کے۔ ایک یہ کہ کوئی اسلام لانے کے بعد کافر ہو گیا ہو، دوسرے یہ کہ شادی شدہ ہونے کے بعد زنا کرے، تیسرے یہ کہ قتل کے بدلے قتل ہو“۔ (”النسائی شریف“ باب ایضاً)
پانچویں حدیث:
”حضرت موسیٰ اشعریؓ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھے یمن کا حاکم مقرر کر کے بھیجا اور پھر اس کے بعد معاذ بن جبلؓ کو ان کے معاون کی حیثیت سے روانہ کیا۔ جب معاذؓ وہاں پہنچے تو انہوں نے اعلان کیا کہ لوگو! میں تمہاری طرف اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا فرستادہ ہوں۔ ابو موسیٰؓ نے ان کے لیے تکیہ رکھا تاکہ اس سے ٹیک لگا کر بیٹھ سکیں۔ اتنے میں ایک شخص پیش ہوا جو پہلے یہودی تھا پھر مسلمان ہوا پھر یہودی ہو گیا۔ معاذؓ نے کہا میں ہرگز نہ بیٹھوں گا جب تک یہ شخص قتل نہ کر دیا جائے۔ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا یہی فیصلہ ہے۔ معاذؓ نے یہ بات تین مرتبہ کہی آخر کار جب وہ (یہودی مرتد) قتل کرا دیا گیا تو حضرت معاذؓ بیٹھ گئے“۔ (نسائی باب الحکم مرتد، بخاری باب الحکم مرتد، ابو داؤد کتاب الحدود)
فقہ اسلامی میں مرتد اور گستاخ رسول ﷺ واجب القتل ہے:
فقہ حنفی میں قتل مرتد کا جواز:
”نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی گستاخی کرنے والا شخص کافر ہے اور اس کا حکم شریعت میں قتل ہے اور جو شخص اس شخص کے کفر اور عذاب میں شک کرے وہ بھی کافر ہے“۔ (”فتاویٰ شامی“ ج۳، ص ۳۱۷)
”تنبیہ الولاۃ و الحکام“ میں ابن عابدین لکھتے ہیں:
”پس (امام) ابو حنیفہؒ اور ان کے ذکر شدہ علماء نے فرمایا کہ گستاخ رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا حکم اور مرتد کا حکم ایک ہے، بلا کمی بیشی کے اور یہی معنی ان کے قول مکنہم قالوا ہی ردۃ کا ہے“۔ (”رسائل ابن عابدین“ ج۱، ص ۳۲۲)
اس صفحہ پر مزید رقم طراز ہیں:
”اس میں کوئی شبہ نہیں کہ گستاخ رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مرتد ہے، پس داخل ہو گا عام مرتدین کی صف میں“۔ (ایضاً)
زین الدین ابن نجیمؒ حنفی لکھتے ہیں:
”فتح القدیر میں ہے کہ جو شخص بغض رکھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ اپنے دل میں، تو وہ مرتد ہو گا۔ پھر اسے بطور حد کے قتل کیا جائے گا“۔ (”البحر الرائق“ جلد۵، ص ۱۳۵)
علامہ ابن عابدین لکھتے ہیں:
”اور قیاس یوں ہے کہ مرتد واجب القتل ہے۔ اس پر اجماع بھی ہے اور نصوص ظاہرہ کی دلالت بھی۔ ان میں ایک رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا فرمان ہے کہ جو اپنے دین کو بدل دے اس کو قتل کر دو اور گالی دینے والا (رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو) مرتد اور اپنے دین کو بدلنے والا ہے“۔
(”رسائل ابن عابدین“ ج۱، ص ۳۱۸)
مرتد کے قتل پر اجماع:
”اور جب کوئی آدمی مرتد ہو جائے تو اس کا قتل واجب ہو جاتا ہے۔ خواہ وہ آزاد ہو یا غلام......... اور تحقیق مرتد کے قتل پر اجماع منعقد ہو چکا ہے“۔
(”المجموع شرح المہذب“ جلد۹، ص ۲۲۸)
فقہ مالکی میں قتل مرتد کا جواز:
محقق کبیر شیخ محمد علیش لکھتے ہیں: ”قاضی عیاضؒ فرماتے ہیں کہ لوگوں نے اجماع کیا ہے‘ اس شخص کے کفر پر جو ہمارے پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یا کسی بھی نبی کی تحقیر کرے یا ان پر عیب لگائے یا انہیں تکلیف پہنچائے یا قتل کرے کسی نبی کو یا لڑے‘ ان سے پس وہ کافر ہے بالاجماع“۔ (”فتح الجلیل“ ج ۹‘ ص ۴۱۰)
قاضی عیاضؒ بھی مرتد کی سزا تجویز فرماتے ہیں: ”اور امت نے اجماع کیا ہے اس شخص کے قتل پر جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تنقیص کرے یا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو گالی دے مسلمان ہوتے ہوئے“۔ (”الشفاء“ ج ۲‘ ص ۱۸۶)
حضرت امام شافعیؒ بھی قتل مرتد پر متفق ہیں: ”اور جو مرتد ہو جائے حالانکہ وہ پیدائشی طور پر مسلمان ہو یا بعد میں اسلام لائے پھر مرتد ہو جائے تو قتل کیا جائے گا جس بھی کفر کی طرف ارتداد کرے“۔ (کتاب ”الام“ ج ۸‘ ص ۳۶۷)
شیخ عبد القادر عودہ رقم طراز ہیں: ”ارتداد کی اصل سزا بطور حد کے قتل ہے بوجہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے اس فرمان کے: جو اپنا دین بدل دے‘ اسے قتل کر دو“۔ (”التشریع الجنائی‘ جلد ۲‘ ص ۷۲۰)
قتل مرتد پر مذہب حنبلی بھی متفق ہے:
علامہ موفق الدین ابن قدامہ لکھتے ہیں: ”اہل علم نے مرتد کے قتل کے وجوب پر اجماع کیا ہے اور اسے روایت کیا گیا ہے ابوبکر‘ عمر‘ عثمان‘ علی‘ معاویہ‘ ابی موسیٰ اور ابن عباس رضوان اللہ علیہم اجمعین سے اور اس سے کسی نے انکار نہیں کیا‘ پس یہ اجماع ہو گیا“۔ (المغنی“ جلد ۱۰‘ ص ۷۴)
ڈاکٹر وہبہ الزحیلی اپنی معرکہ الآراء کتاب ”الفقہ الاسلامی وادلتہ“ (جسے دور جدید کی
لائبریریوں میں ایک اہم مقام حاصل ہے) میں لکھتے ہیں: ”علماء کرام کا اتفاق ہے کہ مرتد واجب القتل ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے اس فرمان سے استدلال کرتے ہوئے کہ ”جو اپنے دین کو بدل دے اسے قتل کر دو“ اور آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے اس قول سے استدلال کرتے ہوئے کہ کسی مسلمان کا خون بہانا حلال نہیں مگر تین وجوہات کی بنا پر۔ شادی شدہ کا زنا کرنا، جان کے بدلے جان اور اپنا دین چھوڑنا اور اہل علم نے اجماع کیا ہے، مرتد کے قتل کے وجوب پر“۔ (”الفقہ الاسلامی وادلتہ“ جلد ۶، ص
۱۸۶)
بریلوی مسلک کے فتاویٰ:
مولانا احمد رضا خاںؒ صاحب بریلوی الاشباہ والنظائر کے حوالے سے لکھتے ہیں: ”نشہ کی حالت میں کسی مسلمان کے منہ سے کلمہ کفر نکل گیا تو اسے کافر نہ کہیں گے اور نہ سزائے کفر دیں گے مگر نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی شان میں گستاخی وہ کفر ہے کہ نشہ کی بے ہوشی سے بھی صادر ہو تو اسے معافی نہ دیں گے“۔ (”فتاویٰ رضویہ“ جلد ۶، ص ۴۰)
مولانا امجد علی خاںؒ لکھتے ہیں: ”مرتد اگر ارتداد سے توبہ کرے تو اس کی توبہ مقبول ہے مگر بعض مرتدین مثلاً کسی نبی کی شان میں گستاخی کرنے والا ایسا ہے کہ اس کی توبہ ہرگز قبول نہیں“۔
(”بہار شریعت“ جلد ۹، ص ۱۶۶)
دیوبندی مسلک کے فتاویٰ:
حکیم الامت حضرت مولانا شاہ اشرف علی تھانویؒ لکھتے ہیں: ”انبیاء علیہم السلام کی شان میں گستاخی و اہانت کرنا کفر ہے“۔ (”امداد الفتاویٰ“ جلد ۵، ص ۳۹۳)
فتاویٰ دارالعلوم دیوبند میں ہے: ”انبیاء علیہم السلام کی طرف فواحش کی نسبت کرنے کے بارے میں سوال کیا گیا تو فرمایا: یہ کفر ہے کیونکہ یہ چیز انہیں گالی دینے اور ان کی توہین و تحقیر کے برابر
ہے“۔ (”فتاویٰ دارالعلوم دیوبند“ ص ۴۶۲، ”فتاویٰ عالمگیری مصری“ جلد ۲‘ ص ۳۶۳)
مولانا سید انور شاہ کشمیریؒ فرماتے ہیں: ”مسلمانوں کا اس بات پر اجماع ہے کہ جس نے اللہ یا اس کے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو گالی دی تو وہ کافر ہے“۔ (”اکفار الملحدین“ ص ۱۱۹‘ ”فتاویٰ شامی“ جلد ۳‘ ص ۳۱۷)
شیخ العرب والعجم سید حسین احمد مدنیؒ لکھتے ہیں: ”نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے بارے میں... الفاظ قبیحہ بولنے والا اگرچہ معنی حقیقتاً مراد نہیں لیتا بلکہ معنی مجازاً مراد لیتا ہے تاہم ایہام گستاخی و اہانت و اذیت ذات پاک حق تعالیٰ شانہ اور جناب رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے خالی نہیں کہ اس میں گستاخی، اہانت اور اذیت کا وہم پایا جاتا ہے اور یہی سبب ہے کہ حق تعالیٰ شانہ نے لفظ ”راعنا“ بولنے سے منع فرمایا اور ”انظرنا“ کا لفظ عرض کرنا ارشاد فرمایا۔ پس ان کلمات کفر کے بکنے والے کو منع شدید کرنا چاہیے اگر مقدور ہو اور اگر باز نہ آئے تو قتل کر دیا جائے کہ موذی حق تعالیٰ شانہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا ہے“۔ (”الشہاب الثاقب“ ص ۵۰‘ ”لطائف رشیدیہ“ ص ۲۲)
منع کرنے سے مراد توجہ دلانا ہے کہ تم گستاخی کے مرتکب ہو رہے ہو اور یہ تحقیق کا ایک ذریعہ ہے۔
مفتی اعظم ہند، مفتی کفایت اللہ دہلوی لکھتے ہیں: ”جناب رسالت پناہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی یا حضرت عائشہ صدیقہؓ کی شان میں گستاخی کرنے والا یا کسی گستاخی کرنے والے سے ناراض نہ ہونے والا کافر ہے۔ فقہاء رحمہم اللہ تعالیٰ اجمعین متفق ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی شان میں گستاخی کرنے والا کافر ہے“۔ (”کفایت المفتی“ جلد اول‘ ص ۳۱)
دور حاضر کے امام مفتی محمد شفیعؒ لکھتے ہیں: ”شریعت اسلامیہ کا کھلا فیصلہ ہے کہ مسلمان ہونے کے بعد مرتد ہونے کی سزا قتل ہے۔ آیات قرآنیہ کے بعد احادیث نبویہ کا ایک بڑا دفتر اس حکم کا صاف طور پر اعلان کر رہا ہے جن میں سے تیس (۳۰) حدیثیں ہمارے زیر نظر ہیں“۔
(”جواہرالفقہ“ جلد ۲‘ ص ۱۶۵-۱۶۶)
محقق دوراں حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی مدظلہ یوں رقم طراز ہیں:
”آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے بال مبارک کی توہین بھی کفر ہے۔ فقہ کی کتابوں میں مسئلہ لکھا ہے کہ اگر کسی نے آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے موئے مبارک کے لیے تصغیر کا صیغہ استعمال کیا‘ وہ بھی کافر ہو جائے گا“۔ (”آپ کے مسائل اور ان کا حل“ جلد اول‘ ص ۵۲)
مولانا زوار حسین شاہ‘ قتل مرتد پر رقم طراز ہیں:
- ”(۱) اس کی بیوی اس پر حرام ہو جاتی ہے۔
- (۲) اس کا ذبیحہ حرام ہے۔ (۳) اس کو قتل کرنا مباح ہے۔
- (۴) اس کے تمام نیک اعمال ضائع ہو جاتے ہیں“۔ (عمدۃ الفقہ“ جلد اول‘
ص ۶۰)
محقق دوراں حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی مدظلہ لکھتے ہیں:
”فقہ حنفی میں فتویٰ اس پر ہے کہ جو شخص اعلانیہ گستاخی کرے وہ واجب القتل ہے۔ ”درمختار“ اور ”شامی“ میں اس کا واجب القتل ہونا نہایت تفصیل سے ذکر کیا گیا ہے...... الغرض ایسے گستاخ کا واجب القتل ہونا تمام آئمہ کے نزدیک متفق علیہ ہے اور یہ جو بحث کی جاتی ہے کہ اس سے عہد ذمہ ٹوٹ جاتا ہے کہ نہیں‘ یہ محض ایک نظریاتی بحث ہے۔ حنفیہ کہتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی شان میں گستاخی کفر ہے اور کافر وہ پہلے ہی سے ہے‘ لہٰذا اس سے ذمہ تو نہیں ٹوٹے گا مگر اس کی یہ حرکت موجب قتل ہے۔ دوسرے حضرات فرماتے ہیں کہ یہ محض ذمی نہیں رہا‘ حربی بن گیا ہے لہٰذا واجب القتل ہے۔ پس نتیجہ بحث دونوں صورتوں میں ایک ہی نکلا۔ نظریاتی بحث صرف توجیہ و تعلیل میں اختلاف کی رہی۔ حدیث میں بھی اس کے واجب القتل ہونے ہی کو ذکر فرمایا گیا‘ اس کے ذمہ ٹوٹنے کو نہیں‘ اس لیے یہ حدیث حنفیہ کے خلاف نہیں“۔ (”آپ کے مسائل اور ان کا حل“ جلد اول‘ ص ۵۲)
امام کعبہ‘ محمد بن عبداللہ السبیل اور علماء سعودی عرب کا فتویٰ
”گستاخ رسول کا قتل کرنا واجب ہے اور یہ بالکل صحیح ہے کیونکہ گستاخ رسول
اگر مسلمان ہے تو وہ اس سے مرتد ہو جاتا ہے اور مرتد کی سزا بالاجماع قتل ہے اور گستاخ رسول اگر غیر مسلم یعنی ذمی ہے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی گستاخی سے اس کا عہد ٹوٹ جاتا ہے اور اس کا قتل واجب ہو جاتا ہے۔
اور گستاخ رسول کا حکم، سعودی عرب کے علماء کے نزدیک وہی ہے، جو (دیگر) علماء نے بیان کیا ہے۔ امام ابن تیمیہؒ کی طرح جنہوں نے اپنی کتاب الموسوم الصارم المسلول فی حکم شاتم الرسول وغیرہ میں بیان کیا ہے۔ ابن منذر فرماتے ہیں: ”اہل علم کا اجماع ہے کہ جس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو گالی دی، اس کی حد قتل ہے اور وہ جو امام مالکؒ، امام لیثؒ اور امام احمدؒ و اسحاقؒ نے فرمایا ہے، وہی مذہب ہے امام شافعیؒ کا“۔
قاضی عیاضؒ فرماتے ہیں ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذات میں عیب لگانے والے اور ان کو گالی دینے والے کے قتل پر امت کا اجماع ہے“۔
اور محمد بن سحنونؒ فرماتے ہیں ”امت کا اجماع ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو گالی دینے والا اور ان میں عیب لگانے والا کافر ہے اور اس کے لیے اللہ کے عذاب کی وعید آئی ہے اور امت کے نزدیک اس کے لیے قتل کا حکم ہے اور جس نے اس کے کفر میں اور عذاب میں شک کیا اس نے کفر کیا“۔
میرے نزدیک تو مسئلہ یہی ہے اور اللہ سے دعا ہے کہ وہ ان معاصی اور فتنوں کے ظاہر و باطن سے ہمیں محفوظ رکھے اور ہماری موت اس حال میں ہو کہ وہ ہم سے راضی ہو۔ وہی اس پر قادر ہے۔ وصل اللہ تعالٰی علٰی محمّد وّعلٰی الہٖ وصحبہٖ وسلم۔
(استفتاء بنام محمد شعیب بن عبدالکریم قریشی، بتاریخ ۱۴۱۵/۱/۲ھ)
الحمدللہ! اس باب میں احناف، مالکیہ، شوافع، حنابلہ اور غیر مقلدین کے علاوہ شیعہ مذہب تک کی تصریحات نقل کر دی گئی ہیں اور یوں جامعیت کے اعتبار سے یہ باب پوری امت کے نظریات پر محیط ہے۔
نواں باب
گستاخ رسول ﷺ کی سزا پر قیاس
ائمہ اربعہ کے مذاہب میں ”ادلہ شرعیہ“ چار ہیں:
- (۱) قرآن مجید کے احکام۔
- (۲) سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم۔
- (۳) اجماع امت۔
- (۴) قیاس۔
فقہائے امت جب کسی مسئلہ کو فقہ اسلامی سے مستنبط فرماتے ہیں تو مذکورہ بالا چار چیزوں میں سے بالترتیب کسی ایک سے دلیل پکڑتے ہیں۔ اور وہ مسائل جو آئمہ اربعہ کے مذاہب میں اجماعی حیثیت کے حامل ہوں، حضرت شاہ ولی اللہؒ فرماتے ہیں کہ ایسے مسائل کا منکر کافر اور دائرۂ اسلام سے خارج ہے۔
اور پھر وہ مسائل جن پر ”ادلہ شرعیہ“ کا جواز بھی مہیا ہو چکا ہو تو اس کا منکر بدرجہا اولیٰ باغی اور کافر تصور کیا جائے گا۔
زیر قلم مسئلہ ”گستاخ رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی سزا“ ایسے مسائل میں سے ہے کہ جس پر نوع انسانیت پر شریعت اسلامیہ کے حوالے سے اتمام حجت قائم ہو چکا ہے۔ اس باب میں عقلی دلائل اور اقوام عالم کے نظریات سے قیاس کیا جائے گا۔ قرآن مجید کے احکام، سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور اجماع امت کے دلائل عرض کرنے کے بعد اب ان ”روشن خیال“ حضرات اور محترمات کے لیے قیاس کا سہارا لیا جا رہا ہے کہ جن کی ذہنی سطح اس قدر گر چکی ہے کہ ”پیغام ربانی“ بھی ان کے شعور کو سیراب نہ کر سکا۔ جن کے منہ کا ذائقہ اس قدر بدل چکا ہے کہ سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی مٹھاس اور حلاوت بھی انہیں کڑوی محسوس ہوتی ہے۔ جن کے ذہن اس قدر زنگ ہو چکے ہیں کہ اجماع امت کی سنہری کرنیں بھی انہیں بیدار نہ کر سکیں۔
جو دنیا کی منڈی میں کھڑے مختلف الانواع کی بولیاں سن سن کر گنگ سے ہوئے جا رہے ہیں،
جو ایک "سپر پاور" (روس) کو انسانیت کے دیئے ہوئے نظام حیات کے عوض صفحہ ہستی سے مٹتا دیکھ چکے ہیں۔ جو دوسرے سپر پاور (امریکہ) میں انسانیت ہی کی متعین کردہ راہوں پر دن بدن لاقانونیت، جبر اور استحصال انسانیت کا بڑھتا ہوا تماشا دیکھ رہے ہیں اور خطہ ارض پہ نوع انسانیت کو "حیوان ناطق" میں ڈھلتا دیکھ کر انگشت بدنداں ہیں۔ ایسے میں انسانیت کو تباہی کے دہانے تک پہنچانے والوں کے ہاتھوں میں جب "تحفظ حقوق انسانی" کے علم دیکھے جاتے ہیں تو بھلے مانس بھی ایک لمحے کو چونک جاتا ہے۔
تاریخ انسانی گواہ ہے کہ فرعون کی خدائی مٹی، قارون کی شہنشاہیت مٹی، شداد کی جنت مٹی، اکبر کا دین الٰہی مٹا، ہٹلر کی طاقت اور قوت مٹی، میسولینی کا جبر و استحصال مٹا، برطانیہ کی بدمعاشی مٹی، لینن کا اشتراکی نظام مٹا۔
اس لیے کہ یہ تمام انسانی نظام تھے، مٹ گئے۔
حقیقت یہ ہے کہ انسان کی تخلیق "مٹی" سے کی گئی ہے اور ظاہر ہے جب انسان کوئی چیز بنائے گا تو اس کا مقدر بھی مٹنا اور جھکنا ہی ہو گا جبکہ دین الٰہی میں انسانیت کا مقام بہت ارفع رکھا گیا ہے... اور دلیل اس پر یہ ہے کہ خالق اپنے سے بہتر شے تخلیق کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتا۔
اور انسانی عظمت کا راز اس امر میں پنہاں ہے کہ جب تک آسمانی پیغام اس میں ودیعت نہ کیا جائے وہ اصلاً حیوان ناطق رہتا ہے۔
انسان کا اصل اس کا جسم نہیں، اس کی روح ہے اور ارواح کا نزول آسمان سے ہوتا ہے تب حیوان ناطق مرتبہ انسانیت پر فائز ہوتا ہے۔ مٹی کا مقدر ختم ہونا ہے اور روح کی صفت باقی رہنا ہے اور روح ہی وہ عنصر قرار پاتی ہے جو آسمانی پیغام کو اخذ کرکے اسے جسم پر لاگو کرتی ہے۔
اور یوں بادشاہت انسانی میں شہنشائیت کا درجہ روح کو اور رعایا کا درجہ جسم کو حاصل ہوتا ہے۔ روح پیغام اخذ کر کے جسم پر لاگو کرتی ہے تو عظمت انسانی کی تکمیل ہوتی ہے۔
دین اسلام نے چودہ سو سال قبل اک عالمگیر پیغام پیش کر کے خطہ ارض میں بسنے والے تمام انسانوں کو بلا امتیاز رنگ و نسل وہ نظریہ حیات دے دیا کہ جس کا حاصل ہی ابدی کامیابی ہے۔
انسانوں کے بنائے ہوئے نظام ہمیشہ ناکام ہوتے ہیں اور ہوتے رہیں گے۔
اسلامی نظریہ حیات کی کامیابی اس سوچ کی مرہون منت ہے جو فلسفہ انسانی اور تخلیق
انسانی کی اک اک رمز اور اک اک جز سے کماحقہ واقف ہے اور یہ وہی سوچ اور وہی عطا کردہ نظام حیات ہے جو ہمارے پیغمبر آخر الزمان صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر نازل ہوا اور بنی نوع انسان میں فروغ پا گیا۔ عقلی دلیل اس کی یہ ہے کہ جب کوئی انجینئر کوئی چیز تخلیق کرے گا تو اس کو چلانے کا بہترین طریقہ کار بھی وہی بتائے گا، کوئی دوسرا جب اسے کسی دوسرے طریقہ کار سے چلانے کی کوشش کرے گا تو یقیناً اس میں خرابی پیدا ہوگی اور جب اس انجینئر کے بتائے ہوئے طریقہ کار کے مطابق مشینری استعمال کی جائے گی تو نہ مشینری میں نقص پیدا ہو گا اور نہ نقصانات کا احتمال رہے گا اور فوائد ہی حاصل ہوتے رہیں گے۔
بعینہ خالق اکبر نے جب انسانیت کی تخلیق فرمائی تو اسے نظام حیات عطا کیا۔ معاشرہ جب اس نظام حیات پر عمل پیرا ہو گا تو کہیں چوری نہیں ہو گی، انسانی خون نہیں بہے گا۔ ایک عورت حضر موت سے تنہا چلے گی اور مکہ شریف تک پہنچے گی اور اسے اللہ کے سوا کسی کا خوف نہیں ہو گا۔ عشر اور زکوٰۃ کا مال لے کر خلقت نکلے گی اور اسے قبول کرنے والا کوئی نہیں ملے گا۔ یہ گوناگوں کامیابیاں اس اسلامی نظریہ حیات کی مرہون منت ہیں جس میں
- ☆ انسانی حقوق کے تحفظ سے لے کر جانوروں پر ترحم تک‘
- ☆ زمین کی حاکمیت سے لے کر ستاروں کی رسائی تک‘
- ☆ مشرق اور مغرب والوں کے نظام حیات میں یکسانیت تک‘
- ☆ عربوں اور عجمیوں میں فضیلت میں یکسانیت تک‘
- ☆ خادم اور آقا کے حقوق میں برابری تک‘
- ☆ علم کے حصول کا حکم ماں کی گود سے لے کر باغ قبر تک‘
- ☆ انسانی پیدائش کے مراحل سے لے کر جنت کے دروازے تک
کے زریں اصول متعین کر کے انسانیت پر اتمام حجت کر دی ہے۔ اس نظام میں پیغام دہندہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی ذات مقدسہ کی عزت و عظمت کے تحفظ کو یقینی بنا کر اسلامی نظریہ حیات کو امر کر دیا گیا ہے۔ جو نظریہ حیات انسان کی ہر ہر منزل پر راہنمائی کرتا ہو، جو انسانی کامیابی کا متمنی ہو، جو دیگر تمام عالم سے انسان کو اشرف المخلوقات کا درجہ عطا کرے‘ کیسے باور کر لیا جائے کہ وہ انسان ہی کے حقوق کی خلاف ورزی کا مرتکب ہو رہا ہو؟
زیر قلم مسئلہ ”گستاخ رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی سزا۔۔۔سزائے موت“ کے خلاف ”نام نہاد“ تحفظ حقوق انسانی کی تنظیموں نے دنیا بھر میں واویلا مچا رکھا ہے کہ گستاخ رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی سزا۔۔۔ سزائے موت انسانی حقوق کے خلاف ہے۔ اس کا کیا مطلب
ہے؟ معاذ اللہ‘ کیا مغربی دانشور اور سرپھرے حضرات‘ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی توہین کو بھی انسانی حق تصور کیے بیٹھے ہیں؟
وہ مبارک ہستی کہ جسے محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کہتے ہیں‘ جس نے نوع انسانی کو عزت عطا کی‘ جس نے احترام آدمیت سکھایا‘ کیا عقل کا تقاضا یہ ہے کہ اس محسن صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی شان میں توہین کا ارتکاب کر کے اس قرض کو چکایا جائے؟ کیا یہ انسانیت ہوگی؟ تحفظ حقوق انسانی کمیشن کے پردہ میں کیا یہ شیطانی نظریات کا پرچار نہیں؟ کیا انسانیت اس کا نام ہے کہ کسی انسان کی تذلیل کی راہ کھولی جائے؟ اور کیا انسانیت یہ ہے کہ ایک ارب تیس کروڑ انسانوں کے پیشوا اور نبی (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) کی شان میں گستاخی کے مرتکب کو سزائے موت دینے کے خلاف شور مچایا جائے اور اسے انسانی حقوق کی خلاف ورزی قرار دیا جائے۔
یقیناً خطہ ارض پر کہیں بھی یہ معیار مسلمہ نہیں ہے کیونکہ ہر ملک اور ہر سٹیٹ کے باغی کو سزائے موت دی جاتی ہے تو پھر کیا وجہ ہے کہ گستاخ رسول صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی سزا‘ سزائے موت پر طوفان بدتمیزی کھڑا کیا جائے؟
محمد اسماعیل قریشی سینئر ایڈووکیٹ سپریم کورٹ لاہور اپنے ایک مقالے ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے گستاخ کی سزا پر بے جا اعتراض“ میں یوں رقم طراز ہیں:
”اصل حقیقت یہ ہے کہ قانون توہین رسالت غیر مسلموں کی زندگیوں کے تحفظ کی ضمانت ہے ورنہ سلطنت مغلیہ کے سقوط کے بعد ۱۸۶۰ء میں جب برٹش گورنمنٹ نے توہین رسالت کے قانون کو منسوخ کیا تو مسلمان سرفروشوں نے اس قانون کو اپنے ہاتھوں میں لے لیا اور گستاخان رسول کو قتل کر کے انہیں کیفر کردار تک پہنچاتے تھے۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ جس وقت ہندوستان میں یہ اسلامی قانون منسوخ کیا گیا‘ اس وقت انگلستان میں قانون توہین مسیح‘ ملک کا قانون عام اور وضعی قانون تھا اور آج بھی وہاں کے کامن لاء کا حصہ اور مجموعہ قوانین میں شامل ہے“۔ (ہفت روزہ ”ختم نبوت“ کراچی‘ ص ۸‘ جلد ۱۲‘ شمارہ ۲۹)
محمد اسماعیل قریشی اسی مقالہ میں آگے لکھتے ہیں:
”کیا انہیں نہیں معلوم کہ برطانیہ‘ امریکہ اور بعض سیکولر ریاستوں میں بھی قانون توہین مسیح‘ موجود ہے۔ تورات کے قانون موسوی کی رو سے تو پیغمبران قبل مسیح‘ کی توہین کی سزا سنگسار مقرر ہے۔ انجیل اور کلیسائی قانون کے مطابق بھی
یسوع مسیح کی اہانت کی سزا سزائے موت ہی مقرر ہے۔ شہنشاہ جسٹینین کے دور حکومت میں اہانت مسیح کے جرم کی سزا‘ سزائے موت ہی دی جاتی رہی ہے۔ اسکاٹ لینڈ اور روس میں اٹھارویں صدی عیسوی تک توہین مسیح کے جرم پر یہی سزا دی گئی۔ روس میں کمیونزم آنے کے بعد گو توہین مسیح کا قانون ختم کر دیا گیا لیکن مسیح کے بجائے سربراہ حکومت سے مخالفت کرنے والوں کو ہی نہیں بلکہ اس سے اختلاف رکھنے والوں‘ خواہ وہ امریکہ ہی میں کیوں نہ ہوں‘ موت کے گھاٹ اتارا گیا۔ اسٹالن نے اپنے مخالفین کو جس بیدردی سے قتل کروایا‘ اس کی مثال زار روس کی مذہبی حکومت میں بھی نہیں ملتی۔ انگلستان میں اہانت مسیح ملک کا کامن لاء اور وضعی قانون کی صورت میں آج بھی موجود ہے اور بلاس فیمی ایکٹ کے تحت حکومت اپنی رعایا سے ان کے سارے شہری حقوق سلب کر لینے کی مجاز ہے۔
(ہفت روزہ ”ختم نبوت“ کراچی‘ ص ۹‘ جلد ۱۲‘ شمارہ ۲۹)
حکومت رعایا کے شہری حقوق سلب کرنے کا قانون بنائے تو برطانیہ میں ”حقوق انسانی کمیشن“ گونگا شیطان بنے ‘ انسانیت کا مذاق اڑائے۔ اور اگر ایک گستاخ اور باغی کو سزا دینے کا قانون اسلام تجویز کرے تو وہی شیطان آسمان سر پر اٹھا لے؟
ایمنسٹی انٹرنیشنل اور دوسری حقوق انسانی کی تنظیمیں‘ جنہیں اسلام اور پیغمبر اسلام سے خدا واسطے کا بیر ہے‘ جس زاویہ نظر سے توہین رسالت کے قانون کو دیکھتی ہیں‘ اسی زاویہ نظر سے برطانیہ کے دوسرے قوانین کا بھی جائزہ لیں۔ ممکن ہے اس تکلف ہی سے نگاہ کی عصبیت نکل جائے۔
برطانیہ میں غدر کبیر کی سزا‘ سزائے موت ہے:
”برطانوی حدود سے باہر مقیم ہونے کی صورت میں رعایائے برطانیہ کا کوئی فرد(خواہ وہ پیدائشی رعیت ہو یا رعیت بن گیا ہو) یہ حق نہیں رکھتا کہ حالت جنگ میں برطانوی قومیت ترک کر کے کسی ایسی قوم کی قومیت اور کسی ایسی سٹیٹ کی وفاداری اختیار کرے جو شاہ برطانیہ سے بر سرجنگ ہو‘ یہ فعل برطانوی قانون کی رو سے غدر کبیر(High Treason) ہے جس کی سزا موت ہے“۔
نیز
”برطانوی رعایا میں سے جو شخص برطانوی حدود کے اندر یا باہر رہتے ہوئے بادشاہ کے دشمنوں سے تعلق رکھے اور ان کی مدد کو آسائش بہم پہنچائے یا کوئی ایسا فعل کرے جو بادشاہ کے دشمنوں کو تقویت پہنچانے والا ہو یا بادشاہ یا ملک کی قوت حملہ اور مدافعت کو کمزور کرنے والا ہو‘ وہ بھی غدر کبیر کا مرتکب ہے اور اس کی سزا بھی موت ہے“۔
نیز
”بادشاہ‘ ملکہ یا ولی عہد کی موت کے درپے ہونا (فعل قتل کا واقع نہ ہونا فقط در پے ہونا‘ ناقل) یا اس کا تصور کرنا‘ بادشاہ کی رفیقہ یا اس کی بڑی بیٹی یا ولی عہد کی بیوی کو بے حرمت کرنا بادشاہ کی طرف ہتھیار سے اشارہ کرنا یا نشانہ تاننا یا ہتھیار اس کے سامنے لانا‘ جس سے مقصود اس کو نقصان پہنچانا یا خوف زدہ کرنا ہو‘ اسٹیٹ کے مذہب کو تبدیل کرنے یا اسٹیٹ کے قوانین کو منسوخ کرنے کے لیے قوت استعمال کرنا‘ یہ سب افعال بھی غدر کبیر ہیں اور ان کا مرتکب بھی سزائے موت کا مستحق ہے“۔ (بحوالہ ”مرتد کی سزا“ از مولانا مودودی‘ ص ۵۵-۵۶)
مغرب نے ایک ڈرامہ رچا رکھا ہے کہ مذہب الگ ہے‘ سیاست الگ ہے۔ وجہ اس کی کیا ہے؟ عیسائیت بدلتے بدلتے کچھ سے کچھ رنگ اختیار کر گئی ہے۔ اگر آج بھی عیسائیت اسی ڈگر پر ہوتی جو سیدنا حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے دور میں تھی تو آج عیسائیوں کا یہ ڈائیلاگ بے معنی ہوتا۔ مذہب ہی سیاست ہوتا اور جو سزا آج ریاست کی غداری پر دی جاتی ہے‘ مذہب سے غداری پر دی جاتی۔ واضح ہو کہ آج عیسائیت یہ ہے کہ اگر تمہارے ایک رخسار پر کوئی چانٹا مارے تو دوسرا بھی اس کے سامنے کر دو‘ بدلہ نہ لو‘ شریر کا مقابلہ نہ کرو۔ اگر سیاست مذہب سے جدا نہ کی جاتی تو ریاست کا اگر ایک صوبہ دشمن چھین لیتا تو عیسائی مجبورا دوسرا بھی اس کے حوالے کرنے پر بظاہر مجبور ہوتے۔ اس بنیاد پر انہوں نے مذہب کو سیاست سے جدا کر رکھا ہے ورنہ آج اگر ریاست کی غداری پر سزائے موت دی جاسکتی ہے تو کوئی وجہ نہیں کہ مذہب سے غداری پر سزا نہ دی جاتی۔ اب چونکہ سیاست اور ریاست ہی اہل مغرب کی سوچ کا محور بن چکا ہے اور مذہب ان کے لیے بے معنی شے کی حیثیت اختیار کر گیا ہے‘ تاہم سزائے موت کے اطلاق کا زاویہ بدلا ہے‘ سزائے موت کا وجوب بہر حال قائم ہے۔
آج جیسے انگریزی ریاست سے غداری کی سزا موت ہے‘ کبھی مذہب عیسائیت سے پھر جانے کی سزا بھی موت ہوا کرتی تھی۔ ثبوت ملاحظہ ہو:
”ایک زمانہ دراز تک انگریزی قانون میں ارتداد‘ یعنی عیسائیت سے بالکل پھر جانے کی سزا موت تھی“۔
(”مرتد کی سزا“ ص ۶۹ بحوالہ Principles of the Criminal Law by Seymoure F. Harris London, 1912 (61)
تورات میں ارتداد کی سزا:
”اگر تیرا بھائی جو تیری ماں کا بیٹا ہے‘ یا تیرا ہی بیٹا ہے یا تیری بیٹی یا تیری بیوی‘ یا تیرا دوست جو تجھے جان کے برابر عزیز ہے‘ اگر تجھے پوشیدہ میں پھسلا دے اور کہے کہ آؤ دیگر معبودوں کی بندگی کر.... تو تو اس سے ہرگز موافق نہ ہونا اور نہ اس کی بات سننا اور اس پر رحم کی نگاہ نہ رکھنا نہ اس کی رعایت کرنا بلکہ اسے خود قتل کرنا۔ اس کے قتل پر پہلے تیرے ہاتھ بڑھیں اور بعد میں قوم کے ہاتھ اور تو اسے سنگسار کرنا تاکہ وہ مر جائے“۔
(استثناء ۱۳: ۶-۱۰)
اسی طرح عیسائیت میں بھی ارتداد کی سزا قتل ہے‘ ثبوت ملاحظہ ہو:
”دانستہ ارتداد ناقابل تلافی گناہ ہے‘ قتل اور زناکاری کے درجہ کا“۔
(”انسائیکلوپیڈیا ریلیجن اینڈ ایتھکس“ جلد ۶)
عملی ثبوت:
”انگلستان میں ایک چھوٹے پادری نے جب تیرہویں صدی عیسوی میں ایک یہودی عورت سے شادی کرنے کے لیے دین عیسائیت کو چھوڑ دیا تھا تو اسے آکسفورڈ میں سترہ اپریل ۱۲۲۲ء میں جلا دیا گیا“۔
(ایضاً ص ۴۴۴)
محمد اسماعیل قریشی ایڈووکیٹ سپریم کورٹ لکھتے ہیں:
”امریکہ کی متعدد ریاستوں میں‘ جن میں سیکولر ریاستیں بھی شامل ہیں‘ قانون توہین مسیح علیہ السلام رائج ہے۔ اس سلسلے میں وہاں کی اعلیٰ عدلیہ اور سپریم کورٹ نے بڑے معرکہ الاراء فیصلے کیے ہیں اور اسے امریکی دستور کی آزادی مذہب اور آزاد پریس کے آرٹیکل کے منافی نہیں بلکہ اسے ریاست کے امن و سلامتی کے لیے ناگزیر اور ضروری قرار دیا ہے۔ یہاں ہم امریکہ سپریم کورٹ کے ایک اہم
مقدمہ اسٹیٹ بنام موکس کا حوالہ پیش کریں گے جس میں آزادی مذہب اور آزادی پریس کے بارے میں بحث کرتے ہوئے فاضل عدالت عظمیٰ نے قرار دیا کہ اگرچہ ریاست ہائے متحدہ امریکہ میں چرچ اور اسٹیٹ کے درمیان کوئی ربط و تعلق نہیں لیکن بدھ مت، اسلام اور دیگر مذاہب کے مقابلہ میں پیروان مسیح علیہ السلام کی تعداد ان کے اثر و رسوخ اور حکومت کی زمام کار ان کے ہاتھوں میں ہونے کی وجہ سے عیسائی، ریاست اور ملک کی غالب اکثریت کا موثر مذہب ہے۔ فاضل عدالت نے اپنے فیصلہ میں مذہب کے بارے میں لکھا ”اور یہ بھی ایک ناقابل تردید حقیقت ہے کہ دنیا میں تہذیب و تمدن کے آغاز ہی سے کسی ملک کے دین و مذہب نے وہاں کی طرز حکومت کی تشکیل میں نہایت اہم کردار ادا کیا ہے اور اس ملک کے استحکام اور بقاء کا انحصار بھی بڑی حد تک اس مذہب کے احترام اور تکریم کے ساتھ وابستہ ہے جو وہاں کی غالب اکثریت کے دینی شعائر کا حصہ ہے“۔ فاضل عدالت نے صدر امریکہ کی تقریب حلف برداری، کانگریس اور مقننہ کی افتتاحی تقریب، عدالتوں کی کارروائی، شہادت کے حوالے سے مملکت کے تکون، عدلیہ، انتظامیہ اور مقننہ کا مذہب سے تعلق کا نتیجہ اخذ کرتے ہوئے ریفرنس کے جواب میں حتمی طور پر یہ قرار دیا ہے کہ آزادی مذہب اور آزادی پریس کے آئینی تحفظات توہین مذہب، جس میں توہین مسیح علیہ السلام شامل ہے، کے جرم اور سزا کی قانون سازی میں مزاحم نہیں“۔ (ہفت روزہ ”ختم نبوت“ کراچی، ص ۹، جلد ۱۲، شمارہ ۲۹)
انسانی حقوق کے علمبرداروں سے ایک سوال :
”انسانی حقوق کے علمبردار اور قادیانی نوازوں سے پوچھا جائے کہ تم راگ الاپتے ہو کہ پاکستان میں قادیانیوں پر ظلم ہو رہا ہے۔ (گستاخ رسول ﷺ کی سزا، انسانی حقوق کے منافی ہے) تو مسلمان ان سے پوچھیں کہ جب جعلی عیسیٰ علیہ السلام بننے کی پاداش میں ”ڈیوڈ کوریش“ نامی ایک شخص کو امریکی حکومت نے ۷۶ پیروکاروں سمیت زندہ جلا دیا تھا تو تم نے یا تمہاری حکومت نے کلنٹن انتظامیہ سے اس سنگین واقعہ پر صدائے احتجاج بلند کی تھی؟ ہرگز نہیں۔ جب امریکی انسانی حقوق کے علمبردار ایک جعلی عیسیٰ علیہ السلام کو برداشت نہیں کر سکتے تو مسلمان
ایک جھوٹے نبی کی قادیانی امت کو کیسے برداشت کر لیں۔ مسلمان پاکستان کی ترقی اور ملکی سلامتی چاہتے ہیں۔ مسلمان لاکھ گناہ گار ہوں لیکن وہ توہین رسالت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم جیسا عظیم جرم اور قادیانی کفر کا پھیلاؤ برداشت نہیں کر سکتے"۔ (اداریہ ہفت روزہ ”ختم نبوت“ کراچی، ص ۶‘ جلد ۱۲‘ شمارہ ۲۹)
یعنی گزشتہ سال ”ڈیوڈ کوریٹش“ اور اس کے ۹۶ پیروکاروں کو اس جرم میں ایک قلعہ میں بند کر کے زندہ جلایا گیا کہ وہ جعلی عیسیٰ بننے کا مدعی تھا۔ ہم اس امر کی تائید کرتے ہیں اور ساتھ ہی یہ بھی گوش گزار ہے کہ جیسے جعلی عیسیٰ بننے اور اس پر ایمان لانے والوں کو سزا دی گئی ہے‘ اسی طرح جعلی محمد (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) بننے اور جعلی نبوت کے پیروؤں پر بھی اس سزا کا اطلاق ہونا چاہیے اور اس پر کسی کی ناک بھویں نہیں چڑھنی چاہئیں!
اگر حقوق انسانی کی تنظیموں کو سو کے قریب انسانی جانوں کا زندہ جلا دینا انسانی حقوق کی خلاف ورزی نظر نہیں آیا (جیسا کہ ان کے طرز عمل سے ظاہر ہوا) تو پھر کسی کا ایسے ہی کسی جرم میں پھانسی چڑھادینا کیونکر انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہو سکتا ہے؟
اگر گستاخ رسول صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی سزا‘ سزائے موت انسانی حقوق کے منافی ہے تو سو انسانوں کو زندہ جلا دینا بدرجہا اولیٰ انسانیت کا قتل قرار پاتا ہے اور جب اپنے پرائے مذہب کے نام پر جعل سازی کرنے والوں کی سزا پر متفق ہیں تو گستاخ رسول صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی سزا پر بھی کسی کو اختلاف نہیں ہونا چاہیے۔
مگر حقیقت یہ ہے کہ اہل مغرب کو اپنی آنکھ کا تنکا بھی نظر آتا ہے اور دوسروں کی آنکھ کا شہتیر بھی نظر نہیں آتا اور اسلامی قوانین ہی کو انسانی حقوق کے منافی قرار دیا جا رہا ہے۔
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ریاست یا حکمران کے خلاف غداری یا توہین مسیح کا ارتکاب کرنے پر سزائے موت دینے والے گستاخ رسول صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی سزا‘ سزائے موت پر کیوں چیں بہ جبیں ہیں؟ اس کی تین وجوہات ہیں:
- (۱) تحفظ حقوق انسانیت کی تنظیمیں (بدقسمتی سے) غیر مسلموں کے زیر تسلط ہیں۔ انہیں
کیسے گوارا ہو سکتا ہے کہ مسلمانوں کے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی عزت و ناموس قائم رہے۔
- (۲) مولانا مودودی لکھتے ہیں:
”چونکہ اہل مغرب کی پشت پر پاپایان روم کی ایک المناک تاریخ ہے‘ جس کے زخم خوردہ ہونے کی وجہ سے وہ مذہبی ریاست کا نام سنتے ہی خوف سے لرز
اٹھتے ہیں، اس لیے جب کبھی کسی ایسی چیز کے متعلق انہیں گفتگو کا اتفاق ہوتا ہے، جس پر ”مذہبی ریاست“ ہونے کا گمان کیا جاسکتا ہو (اگرچہ اس کی نوعیت پاپائی سے بالکل مختلف ہی کیوں نہ ہو) تو جذبات کا ہیجان ان کو اس قابل نہیں رہنے دیتا کہ وہ بیچارے اس پر ٹھنڈے دل سے معقول گفتگو کر سکیں۔ رہے ان کے مشرقی شاگرد تو اجتماعی اور عمرانی مسائل پر اس کا سرمایہ علم جو کچھ بھی ہے، مغرب سے مانگے پر لیا ہوا ہے اور یہ اپنے استادوں سے صرف ان کی معلومات ہی ورثے میں حاصل نہیں کرتے بلکہ میراث علمی کے ساتھ ساتھ ان کے جذبات، رجحانات اور تعصبات بھی لے لیتے ہیں۔ اس لیے قتل مرتد اور اس نوعیت کے دوسرے مسائل پر جب بحث کی جاتی ہے تو خواہ اہل مغرب ہوں یا ان کے مشرقی شاگرد، بالعموم دونوں ہی اپنا توازن کھو دیتے ہیں“۔ (”قتل مرتد“ ص ۵۳-۵۴ از مولانا مودودی)
- (۳) قادیانی جماعت کی تحریک :
پاکستان میں انسانی حقوق کمیشن خیر سے قادیانیوں ہی کے زیر اثر ہے۔ ریٹائرڈ جسٹس دراب پٹیل اس کے سربراہ ہیں جو مذہبا پارسی ہیں اور جنرل سیکرٹری بدنام زمانہ متعصب قادیانی خاتون عاصمہ جہانگیر ایڈووکیٹ ہیں۔ اس کمیشن کی ترجیحات ملاحظہ ہوں:
مسٹر دراب پٹیل کہتے ہیں:
”کمیشن کو بہت سے ایسے قوانین منسوخ کرانے کی کوشش بھی کرنا ہوگی جو یکطرفہ ہیں اور جن سے انسانی حقوق کی خلاف ورزی کا دروازہ کھلتا ہے۔ اس سلسلہ میں حدود آرڈیننس، قانون شہادت، غیر مسلموں کو مسلمانوں کی شہادت پر سزا دینے کا مسئلہ، قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دینے والا قانون، جداگانہ انتخابات کا قانون اور سیاسی جماعتوں کا قانون نمایاں ہیں۔ یہ سارے قوانین ختم کرنا ہوں گے۔ یہ قوانین انسانی حقوق کے منافی ہیں“۔ (روزنامہ ”نوائے وقت“ لاہور، ۲۵/ اپریل ۱۹۸۷ء بحوالہ ”قادیانیت ہماری نظر میں“ ص ۱۵۹ مرتبہ محمد متین خالد)
بیگم عاصمہ جہانگیر ایڈووکیٹ کے مطالبے بھی ملاحظہ ہوں:
”روزنامہ ”نوائے وقت“ نے ۲۷/ اپریل ۱۹۸۷ء کی اشاعت میں بیگم عاصمہ جہانگیر کے حوالے سے کمیشن کے جنرل اجلاس میں کیے جانے والے مطالبات بھی
شائع کیے ہیں، جن کے مطابق تعزیرات پاکستان اور حدود آرڈیننس کی بعض سزاؤں کو ظالمانہ اور غیر انسانی قرار دیا گیا ہے اور مطالبہ کیا گیا ہے تاکہ سنگسار کرنے، پھانسی پر لٹکانے اور موت کی سزا کو فی الفور ختم کیا جائے، نیز کوڑے لگانے، ہاتھ کاٹنے اور قید تنہائی کی سزائیں بھی ختم کر دی جائیں۔ جنرل اسمبلی میں منظور کردہ ڈیکلریشن میں تمام مذہبی اقلیتوں کی تائید کی گئی ہے اور اس ضرورت پر زور دیا گیا کہ حکومت کسی بھی شخص کے خلاف بالواسطہ یا بلاواسطہ مذہب یا فرقے کی بنیاد پر کارروائی نہ کرے۔"۔ ("قادیانیت ہماری نظر میں" ص ۱۵۹-۱۶۰ مرتبہ محمد متین خالد)
یعنی جس کا جو جی چاہے مذہب کے نام پر اور خصوصاً اسلام کے نام پر ارتداد پھیلاتا پھرے اور اسے کوئی پوچھنے اور روکنے والا نہ ہو۔ حقوق انسانی کمیشن پاکستان کے مطالبات کے ایک ایک لفظ سے اسلام دشمنی زہر کی طرح ٹپک رہی ہے۔ "لا اله الا الله محمد رسول الله" کے نام پر قائم ہونے والے "اسلامی جمہوریہ پاکستان" میں سراسر خلاف اسلام سرگرمیاں بیماری کی طرح پھیلتی رہیں اور جب اس بیماری کا علاج کیا جائے تو اسے انسانی حقوق کی خلاف ورزی قرار دے کر دامن چھڑا لیا جائے۔ ڈاکٹر کو مرض سے دشمنی ہوتی ہے، مریض سے خیر خواہی ہوتی ہے۔ ڈاکٹر جب علاج کرتا ہے تو کڑوی دوا بھی پینے کو دیتا ہے اور جب کبھی مرض بڑھ جائے تو سرجن کو آپریشن کی بھی ضرورت پڑ جاتی ہے۔ اگر اس پر ہسپتال کے تمام مریض ہنگامہ آرائی شروع کر دیں کہ یہ مریض پر ظلم ہے، اس کی چیر پھاڑ کی اجازت نہیں دی جائے گی تو اس سے یقیناً وہ مریض کبھی صحت یاب نہیں ہو گا بلکہ دوسرے مریضوں کو بھی ایسی ہی صورت حال کا سامنا کرنا پڑے گا۔ بالکل اسی طرح اسلام بھی انسانی معاشرہ کو صحت مند اور پھلتا پھولتا دیکھنا چاہتا ہے اور جب ابلیسی بیماری کا حملہ ہوتا ہے تو اسلام اس کا علاج بھی مہیا کرتا ہے۔ وہ علاج کبھی کڑوی دوا کی تعزیر سے اور کبھی حد کے آپریشن سے کرتا ہے۔ اور یہ علاج اس قدر کارگر ثابت ہوا ہے کہ دنوں میں انسانی معاشرہ ابلیسی جراثیم سے پاک صاف ہوتا رہا ہے۔ انسانی اخوت اور بھائی چارے کی جو روشن مثالیں اسلامی معاشرے نے پیش کی ہیں، دنیا کا کوئی معاشرہ اس کا عشر عشیر پیش کرنے سے بھی عاجز ہے۔ مسلم تو مسلم، غیر مسلموں کو بھی جو حقوق اسلامی نظام حیات عطا کرتا ہے، اس سے بھی چشم پوشی نہیں کی جا سکتی تو پھر کیونکر مان لیا جائے اسلامی حدود اور تعزیرات بنیادی انسانی حقوق کے منافی ہیں۔
اور رسالت ماب صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت اقدس میں ایک کلمہ پڑھنے والا (منافق) اور ایک کافر اپنا ایک مقدمہ لے کر بارگاہِ رسالت میں حاضر ہوتے ہیں۔ میرٹ کی بنیاد پر فیصلہ دربارِ رسالت سے کافر کے حق میں ہوتا ہے۔ وہی مقدمہ جب صدیق اکبرؓ کی خدمت اقدس میں پیش کیا جاتا ہے تو آپؓ بھی وہی فیصلہ صادر فرماتے ہیں۔ جب یہ دونوں اپنا مقدمہ آخر میں امام عدل و انصاف حضرت فاروق اعظمؓ کے پاس لے کر جاتے ہیں تو فیصلہ کافر ہی کے حق میں دیا جاتا ہے بلکہ کلمہ پڑھنے والے (منافق) کو سزا دی جاتی ہے اور سر تن سے جدا کر دیا جاتا ہے۔ اب یہ کیسے باور کر لیا جائے کہ اسلام مسلمانوں کی طاقت اور تلوار کا نام ہے؟ اگر خدانخواستہ ایسا ہوتا تو کفار کا حق چھین لیا جاتا‘ نہ کہ ایک کافر کی وجہ سے کلمہ پڑھنے والے کو موت کی سزا دی جاتی۔
در اصل اسلام ہی بنیادی انسانی حقوق کا علمبردار ہے۔ اگر یہ ایک مسلمہ حقیقت نہ ہوتی تو ابوبکرؓ و عثمانؓ کی دولت غلاموں کی آزادی پر نہ لٹتی۔
خطاب کا بیٹا عمرؓ مسند عدالت کو نہ پہنچتا۔
نبوت کے ہاتھوں جلنے والا چراغ علیؓ خاندان نبوت کے باہر کے تین آئمہ کے ہاتھ پہ بیعت کر کے اسلام کی عظمت میں اضافہ نہ کرتا۔
اسلام انسانی حقوق کا علمبردار نہ ہوتا تو
- ☆ جگر گوشہ رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سیدنا حسین ابن علیؓ کرب و بلا کی وادی میں
اک آمر کے خلاف صدائے احتجاج بلند نہ کرتے۔
- ☆ اگر اسلام انسانی حقوق کا علمبردار نہ ہوتا تو محمود و ایاز کا افسانہ نہ ہوتا۔
- ☆ اگر اسلام انسانی حقوق کا علمبردار نہ ہوتا تو محمد بن قاسم اور سندھ کی تاریخ کی داستان
نہ ہوتی۔
- ☆ اگر اسلام انسانی حقوق کا علمبردار نہ ہوتا تو ۱۸۵۷ء کی جنگ آزادی نہ ہوتی۔
- ☆ اگر اسلام انسانی حقوق کا علمبردار نہ ہوتا تو قیام پاکستان کا واقعہ نہ ہوتا۔
کون نہیں جانتا تحریک پاکستان کے دوران گلی گلی‘ کوچہ کوچہ ایک ہی نعرہ تھا:
اور‘ بے شک انسانی حقوق کا علم انہی ہاتھوں میں سجتا ہے جن کی تاریخ سنہری ہو۔
اور جو قوم ہلاکو خان اور چنگیز خان کی اولاد ہو‘ جس قوم نے ہٹلر اور میسولینی پیدا کیے ہوں اور جس قوم نے دو عظیم جنگیں لڑی ہوں‘ ان کے لبوں پر انسانی حقوق کا نعرہ معنویت
کے اعتبار سے ایسے ہی ہے جیسے طوائف کی آنکھ سے حیا اڑی ہوتی ہے اور تماش بینوں کے لیے ان بے حیا آنکھوں کے اشارے ہی کافی ہوتے ہیں۔
مسافر یہ سمجھا کہ منزل یہی ہے
جیسا کہ پہلے ذکر کیا جا چکا ہے کہ حقوق انسانی کمیشن قادیانیوں کے زیر اثر ہے اور اسلامی قوانین کو غیر انسانی قرار دینا بھی اسی کمیشن کا کارنامہ ہے۔ یہاں اس حقیقت کا انکشاف بھی ضروری ہے کہ ماضی میں مہاشے راجپال نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی شان اقدس میں ہرزہ سرائی کی تھی تو جواباً ایک عاشق رسول صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم غازی علم الدین شہید رحمتہ اللہ علیہ نے اس مردود کو جہنم رسید کر دیا تھا۔ اس پر قادیانی جماعت کے دوسرے خلیفہ مرزا بشیر الدین محمود نے جو ریمارکس دیے تھے‘ ملاحظہ ہوں:
”وہ نبی (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) بھی کیا جس کی عزت کو بچانے کے لیے خون سے ہاتھ رنگنا پڑیں“۔
(”الفضل“ ۱۹/اپریل ۱۹۲۹ء)
اگر قادیانیوں کی منطق یہ ہوتی کہ مذہب کی خاطر خون خرابہ جائز نہیں تو سمجھ آنے والی بات تھی لیکن جب نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے بالمقابل مرزا غلام احمد قادیانی کی بات آتی ہے تو سارا خون خرابہ جائز ہو جاتا ہے۔ ثبوت ملاحظہ ہو:
”یہ جلسہ گورنمنٹ کو متنبہ کرتا ہے کہ وہ اپنے امام کی خفیف سے خفیف ہتک بھی برداشت نہیں کر سکتے...... ورنہ احمدی نوجوان خود اپنے امام کی عزت و ناموس کے تحفظ کے لیے عملی تدابیر اختیار کرنے پر مجبور ہوں گے“۔ (اقتباس تقاریر میاں محمود احمد‘ مندرجہ ”الفضل“ ۱۸/اپریل ۱۹۳۰ء)
اور سنئے:
مرزا بشیر الدین محمود کہتے ہیں:
”سب سے پہلی اور مقدم چیز جس کے لیے ہر احمدی کو اپنے خون کا آخری قطرہ تک بہا دینے سے دریغ نہیں کرنا چاہیے‘ وہ حضرت مسیح موعود (مرزا) اور سلسلہ کی ہتک ہے“۔
(بحوالہ ”خاتم النبیین“ ص ۲۷۵ از مصباح الدین)
اسلام نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی گستاخی کے بعد کسی اور شخص کی گستاخی پر سزائے موت سے منع فرمایا ہے اور یہ حق کسی اور کو نہیں دیا۔ آج جو گستاخ رسول صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی سزا‘ سزائے موت‘ کی مخالفت کر رہے ہیں‘ وہ اپنے نبی تو کیا‘ خلیفہ کے
خلاف آواز اٹھانے والے کو بھی زندہ رہنے کا حق نہیں دیتے تھے۔
”مسٹر جی۔ ڈی کھوسلہ سیشن جج گورداسپور نے سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ کی اپیل پر جو فیصلہ لکھا‘ اس میں بھی قادیانیوں کے تمرد کی نشاندہی ہے۔ جو شخص خلیفہ کی حرکات کے خلاف آواز اٹھاتا ہے‘ مصائب کا شکار ہو جاتا۔ مخلص قادیانیوں کے قتل ہوئے‘ ان کے مکان جلائے گئے“۔ (بحوالہ ”خاتم النبیین“ ص ۲۷۵ از مصباح الدین)
جی ہاں! قادیانیت کے خلاف صدائے احتجاج بلند کرنے کی سزا یقینی طور پر قتل تھی اور شاید ہے۔ اس سلسلے میں فخر الدین قادیانی کے قتل کا ذکر بھی یہاں مناسب معلوم ہوتا ہے۔ کون فخر الدین؟ اس کے متعلق مرزا غلام احمد قادیانی کے چھوٹے بیٹے بشیر احمد رقم طراز ہیں:
”فخر الدین نے مسیح موعود پھر خلیفہ (حکیم نور الدین) اور مصلح موعود (مرزا بشیر الدین) کے زمانے میں ۳۱ سال گزارے ہیں۔ میرے ساتھ بھی ان کا قریباً شروع سے تعلق تھا اور میرے ساتھ محبت رکھتے تھے۔ سوائے اپنی عمر کے آخری تین سالوں کے میں نے ان میں ہمیشہ اخلاص کا جذبہ پایا۔ کچھ عرصہ قبل خلیفہ صاحب کے متعلق (انہیں) شبہات پیدا ہونا شروع ہو گئے جو آپ کی ذات اور طریق کار دونوں کے متعلق تھے۔ بالآخر خلیفہ وقت کی طرف سے خطرناک طور پر مسموم (زہریلا) ہو کر اس حالت کو پہنچ گئے جبکہ ایک شاخ خشک ہو کر اپنے درخت سے کاٹ دیے جانے کے قابل ہو جاتی ہے“۔ (بیان مندرجہ اخبار ”الفضل“ ۲۵؍ اگست ۱۹۳۷ء)
ان واضح آثار کے بعد پھر قادیانی خلیفہ نے فخر الدین قادیانی کو عزیز احمد نامی سے قتل کروایا۔ ملزم عزیز احمد گرفتار ہوا۔ مقدمہ چلا۔ اسے بھی سزائے موت دی گئی۔ عزیز احمد کی اپیل پر پنجاب ہائی کورٹ کے بنچ مشتمل بہ چیف جسٹس سر ڈگلس ینگ اور مسٹر جسٹس عبدالرشید نے جو فیصلہ لکھا‘ اس کے اقتباسات قابل توجہ ہیں:
”فخر الدین احمدیوں کے خلیفہ کا پیرو تھا۔ مقتول اور عبدالرحمان مصری کو خلیفہ سے اختلاف کرنے پر جماعت سے خارج کر دیا گیا یا وہ خود علیحدہ ہو گئے۔ ان کا قیام قادیان میں تھا اور چونکہ قادیان میں زیادہ آبادی متشدد (Orthodox) احمدیوں کی ہے‘ جیسا کہ گواہوں کے بیانات سے معلوم ہوتا ہے کہ مخالف ارکان کا بائیکاٹ کیا گیا‘ ان کے گھروں پر پکٹنگ لگائی گئی (یعنی ناکہ بندی) خلیفہ کے مخالف
بہت ناخوشگوار حالات میں تھے۔ مقتول نے متعدد اطلاعات مقامی پولیس چوکی میں بھی دیں‘ جو احمدیوں کی ان حرکات سے متعلق تھیں جو اس کے خلاف کر رہے تھے......... ۶/ اگست کی صبح کو اور شام کے وقت متشدد احمدیوں کے دو اجلاس منعقد ہوئے‘ جس میں سب انسپکٹر لالہ کرم چند کی شہادت کے مطابق مقتول کے خلاف کئی تقریریں ہوئیں۔ اس دن فخر الدین نے ذیل کی رپورٹ درج کرائی کہ آج خلیفہ نے جمعہ کی نماز میں نہایت اشتعال انگیز تقریر کے ذریعے جماعت احمدیہ کو (فخرالدین کی پارٹی) اور اس کے ارکان مجلس کے خلاف مشتعل کیا ہے‘ جس کے نتیجے میں حد درجہ کا اشتعال پھیلا ہوا ہے۔ اس لیے درخواست کی جاتی ہے کہ ان کی حفاظت کا فوری طور پر انتظام کیا جائے“۔
جج صاحبان اپنے فیصلے کے آخر میں لکھتے ہیں: ”۷/ اگست کو اپیل کنندہ فخرالدین کو قتل کیا گیا‘ جبکہ وہ حکیم عبدالعزیز اور بشیر احمد کی معیت میں پولیس چوکی جا رہا تھا تاکہ اپنی اور اپنے رفقاء کی حفاظت کے لیے درخواست کرے۔ سیشن کا فیصلہ سزائے موت بحال رکھتے ہوئے عزیز احمد قاتل کی اپیل مسترد کرتے ہیں“۔ (بحوالہ ”خاتم النبیین“ ص ۲۷۰ از مصباح الدین)
مصباح الدین اپنی تصنیف میں مزید لکھتے ہیں: یہ فیصلہ کسی حاشئے کا محتاج نہیں‘ قادیانیوں کی غنڈہ گردی اور مجرمانہ حرکات کا آئینہ دار ہے۔ فخر الدین ملتانی کا قتل پہلا یا آخری قتل نہیں تھا‘ یہ لوگ خفیہ اور بر ملا قتل کے ارتکاب کرتے رہتے تھے۔ بعض مقتولوں کا ذکر جو خلیفہ صاحب کے ستم کا ہدف بنے تھے‘ سیکرٹری انجمن انوار احمدیہ کے اس بیان میں بھی موجود ہے۔ ”جناب خلیفہ صاحب! محمد امین کی روح قادیان کے گرد چکر لگا رہی ہے۔ ذرا سوچیں کہ خلیفہ نور الدین کا فرزند عبدالحئی اور ان کی بیٹی (آپ کی زوجہ) امۃ الحئی کی روحیں کیا نصیحت کر رہی ہیں۔ (کہا جاتا ہے کہ انہیں زہر دے کر مروا دیا تھا۔۔ ناقل) عبدالعزیز کی روح کیا پکار رہی ہے۔ لاپتہ فتح محمد کیا آواز دے رہا ہے۔ محمد علی بٹالوی کیا کہہ رہا ہے اور بھی بے شمار ارواح آپ کو کیا آوازیں دے رہی ہیں۔ سوچیں! خوب سوچیں!!“ (”خاتم النبیین“ ص ۲۷۰-۲۷۱ از مصباح الدین)
کیا قادیانیت کی یہ فتنہ پردازیاں انسانی حقوق کے عین مطابق ہیں؟ کیا اقوام عالم ایسے وحشت ناک تاریخ کے حامل گروہ کو یہ حق دیتی ہیں کہ مگرمچھ کے آنسو روئے؟
انسانی فطرت یہ ہے کہ اپنے باپ‘ اپنی ماں‘ اپنے خاندان‘ اپنے حسب نسب‘ اپنے ملک و ملت کے خلاف گالی سن کر سیخ پا ہو جاتا ہے اور مرنے مارنے کو تیار ہو جاتا ہے۔ اسی بنیاد پر مختلف ممالک اور مختلف اقوام میں قانون وضع کیے گئے ہیں کہ حالات اس کا تقاضا کرتے ہیں۔
- o کہیں مذہب اور گروہ کے ایک دوسرے کے خلاف بات کرنے پر قدغن عائد ہے۔
- o کہیں شاہ اور حکومت کے خلاف ایسے اقدام پر قدغن عائد ہے۔
- o تو کہیں پیشوا اور مربی کی ہتک عزت کے قوانین وضع ہیں۔
اور ان کی خلاف ورزی پر مختلف سزائیں دی جاتی ہیں۔
ہر معاشرہ اپنی بقا اور سلامتی کی خاطر ایسا کرنے پر مجبور ہے اور یقیناً یہ ایک یونیورسل ٹرتھ ہے۔ اس کے بغیر چارہ نہیں۔
- ☆ اگر ایک انسان کا قتل ایک ریاست یا ملک سے غداری کے عوض جائز ہے؟
- ☆ اگر ایک انسان کا قتل ملک کے شاہ اور حکمران سے بغاوت کے عوض جائز ہے؟
- ☆ اگر ایک انسان کا قتل ملک دشمنوں کو مدد پہنچانے کے الزام میں جائز ہے؟
تو پھر ایک ارب تیس کروڑ انسانوں کے پیشوا اور رسول صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی شان میں گستاخی کر کے ایک ارب تیس کروڑ انسانوں کو دلی کوفت میں مبتلا کرنے والے بدبخت کا قتل بھی بدرجہا اولیٰ جائز ہے۔
شاتم رسول صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے قتل پر استدلال کرتے ہوئے علامہ ابن تیمیہؒ نے بھی کئی وجوہات لکھی ہیں۔
پہلی وجہ:
”ایک یہ کہ ہمارے دین کی عیب چینی‘ حرف گیری اور ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو گالی دینا ہمارے خلاف نبرد آزمائی اور حرب و ضرب کے مترادف ہے“۔ ("الصارم المسلول" ص ۲۷۷ اردو)
یعنی دشمن جب جنگ پر آمادہ ہو جائے اور ضرب کا اہتمام کر لے تو اس وقت پر اس کے خلاف تلوار اٹھانا اور اسے قتل کرنا مباح ہو جاتا ہے۔ علامہ ابن تیمیہؒ اس پر ایک دلیل لاتے
ہیں:
و جاهدوا باموالكم وانفسكم فى سبيل الله۔ (سورۃ
التوبہ -۴۱)
ترجمہ : ”اللہ کی راہ میں اپنی جانوں اور مالوں سے جہاد کرو“۔
علامہ ابن تیمیہؒ آگے لکھتے ہیں:
”جہاد بالنفس زبان کے ساتھ بھی اور ہاتھ کے ساتھ بھی بلکہ بعض اوقات اس سے قوی تر ہوتا ہے۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ”مشرکین کے ساتھ اپنے ہاتھوں‘ اپنی زبانوں اور اپنے مالوں کے ساتھ جہاد کیجئے“۔ (نسائی وغیرہ)
رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حضرت حسان بن ثابت رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے فرمایا کرتے تھے ”ان سے جنگ کیجئے“۔
حضرت حسانؓ کے لیے مسجد میں منبر رکھا جاتا تھا اور وہ اپنے اشعار کے ساتھ مشرکین کی ہجو کہتے اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا دفاع کیا کرتے تھے۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”اے اللہ! روح القدس کے ذریعے حسان (رض) کی مدد فرما“۔
آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرمایا کرتے تھے: ”اے حسان! جب تک تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا دفاع کرتا ہے‘ جبریل تمہارے ساتھ ہوتا ہے۔ اشعار (کفار مکہ کے لیے) تیروں سے بھی زیادہ سخت ہوتے ہیں“۔
کفار مکہ بہت سے ایذا دینے والی چیزوں سے اس اندیشے کی بنا پر اجتناب کرتے تھے کہ حسانؓ ان کی ہجو کریں گے۔ کعب بن اشرف (یہودی) جب مکہ گیا تو جس خاندان میں بھی قیام گزیں ہوتا تو حضرت حسانؓ ایک قصیدہ لکھ کر اس کی ہجو کہتے۔ اس کے نتیجے میں وہ کعب کو اپنے یہاں سے نکال دیتے۔ یہاں تک کہ مکہ میں کوئی اس کو جگہ دینے والا نہ تھا“۔ - ”الصارم المسلول“ ص ۲۷۷-۲۷۸)
علامہ ابن تیمیہؒ کی یہ دلیل اس امر کی وضاحت کرتی ہے کہ جیسے حضرت حسانؓ کے اشعار مشرکین مکہ کے لیے ایذا رساں تھے‘ اسی طرح جب کفار براہ راست جنگ نہ بھی کریں لیکن حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شان میں توہین کا ارتکاب کر کے وہ ہمارے لیے ایذا رسانی کا موجب بنتے ہیں جو محاربہ سے کم نہیں۔ علامہ ابن تیمیہؒ خود اس کی صراحت یوں
الفاظ فرماتے ہیں: ”جب جہاد باللسان کی مشرکین کی مذمت و ہجو گوئی نیز دعوت دین اور اعلاء کلمۃ اللہ میں یہ مرتبہ و مقام حاصل ہے تو معلوم ہوا کہ جو شخص اللہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے دین کو علانیہ برا بھلا کہے اور کتاب اللہ کی کھلم کھلا مذمت کرے تو وہ مسلمانوں کے خلاف نبرد آزما ہوتا ہے اور یہی عہد شکنی ہے“۔
(”الصارم المسلول“ ص ۲۷۸)
دوسری وجہ :
”ہمارے اور ان کے درمیان جو مطلق معاہدہ ہے‘ اس کا تقاضا ہے کہ ہمارے دین پر طعنہ زنی اور ہمارے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو برا بھلا کہنے سے باز رہیں۔ بالکل اسی طرح جس طرح وہ ہماری خون ریزی سے اور جنگ آزمائی سے احتراز کرتے ہیں کیونکہ عہد کے معنی ہی یہی ہیں کہ عہد کرنے والے فریقین میں سے ہر ایک اپنے آپ کو ان خطرات سے مامون سمجھتا ہے جو عہد سے پہلے متوقع ہے اور ظاہر ہے کہ ہم اس بات سے خائف رہتے ہیں کہ کفار علانیہ کفر کا اظہار کریں۔ ہمارے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو برا بھلا کہیں یا ہمارے خلاف اعلان جنگ کریں بلکہ اعلان جنگ سے زیادہ ہمیں آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی ہتک عزت کا اندیشہ دامن گیر رہتا ہے‘ اس لیے کہ ہم رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی تعظیم و تکریم‘ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے رفع ذکر اور علو قدر کی خاطر اپنی جان و مال قربان کر دینے سے بھی دریغ نہیں کرتے۔ تمام کفار کو معلوم ہے کہ یہ ہمارے دین کا جزو لاینفک ہے۔ بنابریں ان میں سے جو شخص اعلانیہ گالی دیتا ہے‘ وہ عہد کو توڑ دیتا ہے اور وہ کام انجام دیتا ہے جس کا ہمیں ان سے اندیشہ تھا اور جس پر ہم معاہدہ کرنے سے قبل ان سے لڑتے تھے اور یہ بات بالکل واضح ہے“۔ (”الصارم المسلول“ ص ۲۷۹‘ اردو)
تیسری وجہ :
”ذمیوں کے ساتھ معاہدہ اس بات پر ہوا ہے کہ دار الاسلام ہمارا ہو گا اور اس میں اسلامی احکام نافذ العمل ہوں گے۔ نیز یہ کہ ذمی لوگ ذلیل اور تابع ہو کر
رہیں گے۔ ان کے ساتھ جو مصالحت یا معاہدہ ہوا ہے، اس کی بنیاد یہی ہے تو پھر رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو گالی دینا اور دین کی تنقیص کرنا ذلیل اور عاجز آدمی کا کام نہیں ہے۔ (یہ جارح اور بدمست کا کام ہے) لہٰذا ایسے شخص کا عہد باقی نہ رہے گا"۔
("الصارم المسلول" ص ۲۸۱، اردو)
چوتھی وجہ:
"اللہ تعالیٰ نے رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی تعزیر و توقیر ہم پر فرض ٹھہرائی ہے۔ تعزیر کا مطلب آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی تائید و نصرت اور حفاظت ہے۔ توقیر سے اجلال و اکرام مراد ہے۔ اس سے مستفاد ہوتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی ناموس و آبرو کی حفاظت جیسے بھی ہو سکے، واجب ہے بلکہ یہ تعزیر و توقیر کا پہلا درجہ ہے۔ بنابریں یہ جائز نہیں کہ ہم ذمیوں سے ایسا معاہدہ کریں کہ وہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو برا بھلا کہیں۔ ذمیوں کو اس بات کا موقع دینے کا مطلب یہ ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی تعزیر و توقیر کو ترک کر دیا جائے جبکہ انہیں معلوم ہے کہ ہم اس بات پر ان سے صلح نہیں کر سکتے۔ بخلاف ازیں ہم پر واجب ہے کہ جیسے بھی بن پڑے، ان کو اس بات سے روکیں۔ انہیں شرائط پر ہم نے ان سے معاہدہ کیا ہے جب انہوں نے اس کی خلاف ورزی کی تو ان شرائط کو توڑ دیا جو ہمارے اور ان کے درمیان طے پائی تھیں"۔
("الصارم المسلول" ص ۲۸۱، اردو)
پانچویں وجہ:
"کفار سے معاہدہ کیا گیا ہے کہ اپنے دین کے فواحش و منکرات کا بلاد اسلامیہ میں اظہار نہیں کریں گے۔ اگر وہ ان کا اظہار و اعلان کریں گے تو سزا کے مستحق ہوں گے۔ اگرچہ ان کا اظہار ان کے مذہب کے عین مطابق ہو۔ جب وہ علانیہ رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو گالیاں دیں گے تو اس کی سزا کے مستحق ہوں گے اور اس کی سزا قتل ہے"۔
("الصارم المسلول" ص ۲۸۴، اردو)
چھٹی وجہ :
"مسلمانوں کے یہاں اس بات میں کوئی اختلاف نہیں پایا جاتا کہ کفار کے لیے رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو گالی دینا ممنوع ہے۔ اگر ممانعت کے بعد وہ ایسا کریں گے تو انہیں سزا دی جائے گی۔ معلوم ہوا کہ کفار سب رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر برقرار نہیں رہ سکتے‘ جس طرح وہ اپنے کفریہ عقائد پر قائم ہیں اور جب وہ اپنے جرائم پر قائم نہیں رہ سکتے اور پھر بھی اس کے مرتکب ہوں تو بالاتفاق ان کو سزا دی جائے گی اور گالی (مطلق) کی سزا یا تو کوڑے مارنا ہے یا قید کرنا یا ہاتھ کاٹنا یا قتل کرنا ہے۔ پہلی بات باطل ہے‘ اس لیے کہ کسی ایک مسلم یا سلطان المسلمین کو گالی دینا‘ کوڑے مارنے اور قید کرنے کو مستوجب ہے۔ اگر رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی بھی یہی حیثیت ہو تو رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور دوسروں کو گالی دینا مساوی ہوا اور یہ بداہتہ ”باطل ہے اور قطع ید کا کچھ مطلب نہیں‘ اس لیے قتل ہی متعین ہے"۔ (الصارم المسلول“ ص
(۲۸۵-۲۸۴)
ساتویں وجہ :
"قیاس جلی اس امر کو مقتضی ہے کہ جب اہل ذمہ اپنے عہد کی مخالفت کریں تو ان کا عہد ٹوٹ جائے گا۔ فقہاء کی ایک جماعت نے یہ موقف اختیار کیا ہے‘ اس لیے کہ عہد کے بغیر خون مباح ہوتا ہے اور عہد معاملات میں سے ایک معاملے کا نام ہے اور جب عہد کرنے والے فریقین میں سے کوئی ایک طے کردہ عہد کی کسی بات کو پورا نہ کرے تو اس سے عہد ٹوٹ جاتا ہے یا فریق ثانی‘ جو کہ عقد کنندہ ہے‘ عہد کو فسخ کرنے پر قادر ہو جاتا ہے۔ یہ بات بیع‘ نکاح‘ ہبہ اور دیگر امور میں ایک ضابطہ کلیہ کی حیثیت رکھتی ہے۔ اس کی حکمت واضح ہے‘ اس لیے کہ ایک فریق نے چند شرائط کا التزام اسی لیے کیا ہے کہ فریق ثانی بھی اس کی پابندی کرے۔ اگر دوسرا پابندی نہیں کرے گا تو پہلا بھی اس کو اپنے لیے لازم قرار نہیں دے گا۔ اس لیے کہ جو حکم کسی شرط کے ساتھ معلق ہو‘ وہ عدم شرط کی
صورت میں بالاتفاق عقلاً ثابت نہیں ہوتا“۔ (”الصارم المسلول“ ص ۲۸۵‘ اردو)
علامہ ابن تیمیہؒ کی اس بحث سے معلوم ہوا کہ رحمت عالم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی شان میں گستاخی فقط آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم ہی کو ایذا رساں نہیں ہے بلکہ مسلمانان عالم سے بھی نبرد آزمائی ہے۔ ہر دو صورتوں میں اقرب الی القیاس یہی امر ہے کہ شاتم رسول صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو قتل کیا جائے گا۔
دسواں باب
گستاخ رسول ﷺ کی توبہ
اقوام عالم کے وضع کردہ قوانین میں سزاؤں کا تصور فقط مجرم کو جرم سے باز رکھنے کے لیے ہوتا ہے۔ قوانین ہمیشہ تحفظ کے لیے بنا کرتے ہیں۔ قتل کی سزا قتل اس لیے ہے کہ اس خوف سے کوئی قتل نہ کرے، محض اس لیے نہیں کہ ایک قتل ہو تو ایک اور کو بھی قتل کر دیا جائے۔ یہ کسی طرح بھی انسانیت کی خدمت نہیں کہلائے گی۔ بدلے میں قاتل کا قتل معاشرے میں بسنے والے دوسرے افراد کے سبق کے لیے ہوتا ہے کہ وہ اس جرم سے باز رہیں ورنہ ایک دوسرے کے قتل سے ریاست یا انسانیت کو کوئی فائدہ نہیں ہوتا۔
زیر قلم مسئلہ میں بھی آقائے نامدار صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی شان مقدسہ میں گستاخی کا ارتکاب کرنے کی سزا، سزائے موت شریعت نے اسی لیے رکھی ہے کہ کوئی بدبخت اور شقی القلب انسان رحمت دو عالم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی شان میں گستاخی کا ارتکاب کر کے انسانیت میں شیطانی طریق کی بدعت نہ جاری کرے۔ اسلام میں شیطانی اقدار کا فروغ ہی وہ زہر ہے کہ جس سے انسانیت کا دم گھٹتا ہے۔
چونکہ اسلام ایک عالم گیر دین ہے اور ضابطہ حیات ہے، اس لیے وہ ایک مکمل اور بدعات سے پاک معاشرہ مرتب کرتا ہے۔ کسی بھی سمت سے نقب کی تمام راہیں مسدود کرنا، اسلام کی ترجیحات میں شامل ہے۔
مذکورہ عنوان سے متعلق خود اللہ کریم نے احکام صادر فرما کر گستاخی رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی تمام راہوں کو کلیتا مسدود فرما کر یہ معیار قائم کر دیا ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے: "یا ایہا الذین امنوا لا تقولوا راعنا وقولوا انظرنا"
اس کی تفصیلات احکام القرآن میں دیکھی جاسکتی ہیں، یہاں استدلال یہ کیا جا سکتا ہے کہ حق تعالیٰ کا منشاء یہی ہے کہ میرے محبوب صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی شان میں گستاخی کسی طور ہی نہ جائے۔ حق تعالیٰ شانہ کا قائم کردہ یہ معیار ہی عدم قبول توبہ کا مظہر ہے۔
گستاخ رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی سزا، سزائے موت سے انکار ممکن نہیں رہا مگر یہ
بحث پیش کی جاتی ہے کہ اس کی توبہ قبول کرنا اسلام کے منافی نہیں ہے اور اس پر جو دلائل پیش کیے جاتے ہیں‘ ان پر جرح آگے آ رہی ہے۔ یہاں یہ باور کرانا ہے کہ اگر ایک قاتل کی حد‘ توبہ سے ساقط نہیں ہوتی‘ اگر زنا کی حد توبہ سے ساقط نہیں ہوتی اور اگر حد قذف کا معیار بھی یہی ہے تو کیا گستاخ رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی سزا کا معیار ان سے کمتر تسلیم کر لیا جائے۔ اگر ایسا نہیں ہے اور یقیناً ناموس رسالت کے تحفظ کا مقام بہت ارفع و اعلیٰ ہے تو پھر مان لیا جائے کہ گستاخ رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی توبہ سے یہ حد ساقط نہیں ہوتی اور گستاخ رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یقینی طور پر سزائے موت دی جائے گی۔
اس باب میں‘ پہلے قبول توبہ کے دلائل بیان کیے جائیں گے اور ان دلائل میں جھول کی نشاندہی کی جائے گی کہ جس سے گستاخ رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی قبول توبہ میں تردد کیا جاسکتا ہے۔
پہلی دلیل:
اس سلسلے میں سب سے پہلا قول حضرت ابن عباسؓ کا نقل کیا جاتا ہے۔
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے منقول ہے کہ: ”جس نے کسی نبی کو گالی دی‘ اس نے رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی تکذیب کی۔ یہ ایک قسم کا ارتداد ہے جس سے توبہ کی جاسکتی ہے۔ اگر توبہ کر لے تو فبہا ورنہ اس کو قتل کیا جائے“۔ (”مختصر زاد المعاد“ ”الصارم المسلول“ ص ۵۸۷‘ اردو‘ عربی ص ۴۲۶)
مذکورہ بالا روایت میں سب سے پہلی بات جو ہے وہ یہ کہ اس میں خاص نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی گستاخی اور اہانت کا ذکر نہیں ہے بلکہ دیگر انبیاء کے سب و شتم کی سزا کا ذکر ہے۔ جیسا کہ قرآن مجید میں ہے کہ تلک الرسل فضلنا بعضھم علی بعض کے تحت فضیلتوں کے مدارج ہیں۔ یونہی ان فضیلتوں کے اہتمام پر بھی سزا میں اتار چڑھاؤ ممکن ہے۔
دوسری بات یہ ہے کہ انبیاء سابقین کو نبی ہم تب ہی تسلیم کرتے ہیں کہ جب رحمت عالم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہمیں ان کا نبی ہونا بتایا ہے۔ جیسے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اللہ کا ایک ہونا بتایا ہے۔ نماز‘ روزہ‘ حج‘ زکوۃ کا بتایا ہے۔ ان اوامر کا انکار سو فیصد نبی
اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی تکذیب کے مترادف ہے اور ارتداد کے زمرے میں ہے اور اس کا مرتکب حربی نہ کہلائے گا‘ اس لیے اس پر اسلام پیش کیا جائے گا کہ یہ عام کفر اور ارتداد ہے۔ اور تیسری بات یہ ہے کہ توبہ وہاں پیش کی جاتی ہے جہاں حد شرعی واجب نہ ہو چکی ہو ۔ عام مرتد محض حقوق اللہ کا غاصب کہلاتا ہے جبکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی شان میں گستاخی کا مرتکب حقوق اللہ کے ساتھ حقوق العباد کا بھی قزاق ہے۔ توبہ سے حقوق اللہ تو معاف ہو سکتے ہیں‘ حقوق العباد نہیں‘ اس لیے مذکورہ روایت میں توبہ کا پیش کرنا اس بات کا مظہر ہے کہ مرتد نے فقط حقوق اللہ کو توڑا ہے‘ جن کی سزا کا اسقاط توبہ سے ممکن ہے۔
اگر معترض یہاں یہ کہے کہ دیگر انبیاء کو گالی دینے میں بھی حقوق العباد شامل ہیں‘ جیسا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی شان میں گستاخی کرنے سے حقوق العباد شامل ہو جاتے ہیں اور عدم قبول توبہ کا جواز مہیا کیا جاتا ہے۔
جواب اس کا یہ ہے کہ کسی کا قتل جائز نہیں ہوتا اس وقت تک کہ وہ اللہ کے رسول کی شان میں گستاخی کا مرتکب ہو۔ چونکہ سابقہ انبیاء علیہم السلام کی نبوتیں آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی بعثت کے بعد کار آمد نہ رہیں اور کل نوع انسانی کے لیے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا رسول اور نبی ہونا ہی قرار پا گیا تو فقط آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہی کی ذات مقدسہ وہ اکائی قرار پا گئی کہ جس کی گستاخی پر سزائے موت کا اطلاق ہو سکے ورنہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے قبل اپنے اپنے دور نبوت میں گستاخان رسول کو قتل کی سزائیں دی جاتی رہیں‘ جس کی شاہد یہ آیت کریمہ ہے۔
الله فی الذین خلو من قبل
ترجمہ : ”لعنت کیے ہوئے‘ جہاں بھی ملیں پکڑ لیے جائیں اور خوب اچھی طرح قتل کیے جائیں۔ یہ اللہ تعالیٰ کا طریقہ ہے ان لوگوں کے لیے جو ان سے پہلے گزر چکے“۔
لیکن اس سے مراد ہرگز یہ نہیں لی جا سکتی ہے کہ انبیاء سابقین کی شان میں معاذ اللہ آج گستاخی کی جائے اور اس پر شریعت مطہرہ گرفت نہ کرے۔ حضرت ابن عباسؓ فرماتے ہیں کہ گستاخی کا مرتکب توبہ کرے تو اچھا ہے ورنہ اسے قتل کر دیا جائے (اور اگر توبہ کر بھی لے تو اس سے بھی سزائے موت ساقط ہو گی نہ کہ کلیتاً سزا۔ باوجود توبہ کرنے کے اسے تعزیراً سزا دی جا سکتی ہے اور اگر توبہ نہ کرے تو یقیناً قتل ہی کیا جائے گا)
علامہ ابن تیمیہؒ مذکورہ روایت کے بارے میں لکھتے ہیں: "حضرت ابن عباسؓ کا یہ قول اس گالی کے بارے میں ہے جس سے کسی نبی کی نبوت کا انکار لازم آتا ہو کیونکہ یہ بات رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی تکذیب کو مستلزم ہے۔ اس میں شبہ نہیں کہ جو شخص کسی نبی کے بارے میں کہے کہ وہ نبی نہیں اور نبی نہ ماننے کی وجہ سے اس کو گالی دے تو یہ خالص ارتداد ہے اور ابن عباسؓ کے قول کو صرف اسی پر محمول کرنا چاہیے۔ اس جیسی کسی اور بات پر بشرطیکہ وہ بات ابن عباسؓ سے منقول ہو‘ اس لیے وہ (حضرت ابن عباسؓ) کہتے ہیں کہ جو شخص امہات المومنینؓ پر بہتان لگاتا ہے‘ اس کی توبہ مقبول نہیں۔ یہ کیسے ممکن ہے کہ امہات المومنینؓ کی عزت و حرمت رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو گالی دینے کی وجہ سے کسی معروف نبی کی حرمت‘ جس کا ذکر قرآن میں بھی کیا گیا ہو‘ عظیم تر ہو"۔ ("الصارم المسلول" ص ۵۸۷ اردو ترجمہ از غلام احمد حریری)
گویا علامہ ابن تیمیہؒ فرماتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن عباسؓ تو امہات المومنینؓ پر بہتان طرازی کرنے والے کی توبہ بھی قبول نہیں فرماتے چہ جائیکہ ان انبیاء کی شان میں گستاخی کرنے والے کی توبہ قبول کر لیں کہ جن کا ذکر قرآن مجید میں آتا ہے۔ اور پھر سردار الانبیاء صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی ذات شریفہ کے گستاخ کا تو تصور ہی اس روایت میں نہیں ملتا۔
دوسری دلیل:
علامہ ابن عابدین حنفیؒ فرماتے ہیں: "جب عبداللہ بن ابی سرح‘ اسلام لانے کے بعد مرتد ہو گیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر افتراء و طعن کیا‘ پھر عثمانؓ اس کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس لے کر آئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے بعد تاخیر کے‘ اس کو بیعت کی اور اس کا اسلام قبول کیا اور قتل نہ کیا۔ اگر اس کا قتل کرنا حدود اللہ میں سے ایک حد ہوتا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اس کو معاف نہ کرتے کیونکہ حدود کو ترک کرنا ان میں معاف کرنا اور شفاعت کرنا جائز نہیں تو معلوم ہوا گستاخ رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا قتل حدود اللہ میں سے نہیں"۔ ("رسائل ابن عابدین‘ تنبیہ الولاۃ والحکام")
سورۂ نساء آیت نمبر ۶۴ میں ارشاد باری تعالیٰ ہے:
ترجمہ: ”اور اگر یہ لوگ جس وقت اپنی جانوں پر ظلم کرتے ہیں، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آئیں پس بخشش مانگیں اللہ سے اور بخشش مانگے واسطے ان کے رسول (ﷺ) البتہ پائیں گے اللہ کو توبہ قبول کرنے والا مہربان“۔
مذکورہ آیت کریمہ میں حق تعالیٰ شانہ ارشاد فرماتے ہیں کہ جب ظالم ظلم کر بیٹھیں تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوں اور اللہ سے معافی طلب کریں اور پھر شرط یہ عائد فرما دی کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی ان کے لیے معافی چاہیں تب اللہ انہیں معاف کرے گا۔
عبداللہ بن ابی سرح ظلم کرنے کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر بھی ہوا اور پھر نہ چاہتے ہوئے (”نہ چاہتے ہوئے“) آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے معاف (یا اللہ سے معافی طلب کر لی) فرما دیا۔ اب چونکہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت اقدس میں حاضر ہو کر معافی چاہنا اور معافی مل جانے کی سند حاصل کر لینے کا تصور معدوم ہو چکا ہے، لہٰذا ریاست اسلامیہ سزائے موت جاری کرنے کی پابند ہوگی۔
رہا سوال یہ کہ گستاخ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا قتل کرنا ”حدود اللہ“ میں شامل ہے یا نہیں؟ جواب اس کا یہ ہے کہ اس وقت نہیں تھا، اب ہے۔ دلیل اس پر یہ ہے اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا:
”اور اگر یہ لوگ جس وقت اپنی جانوں پر ظلم کرتے ہیں، آپ ﷺ کے پاس آئیں، پس بخشش مانگیں اللہ سے اور بخشش مانگے واسطے ان کے رسول ﷺ البتہ پائیں گے اللہ کو توبہ قبول کرنے والا مہربان“۔ (”سورۃ النساء“ آیت ۶۴)
مگر جب عبداللہ بن ابی سرح معافی کی درخواست لے کر پیش ہوا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا بیعت نہ لینا اور پھر فرمانا ”تم میں سے کوئی اسے قتل کرنے کے لیے کھڑا کیوں نہ ہو گیا“ اور ”تو نے اسے قتل کر کے اپنی نذر کیوں نہ پوری کی“ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اس منشاء کا مظہر تھا کہ اسے بہر طور قتل کر دیا جاتا۔
آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی منشاء کا احترام بارگاہ الوہیت میں یوں کیا گیا:
ترجمہ: ”(آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بخشش مانگیں اور نہ مانگیں واسطے ان
کے اور (چاہے) بخشش مانگیں واسطے ان کے ستر مرتبہ بھی پس ہرگز نہ بخشے گا اللہ . . انہیں یہ اس لیے کہ انہوں نے کفر کیا اللہ سے اور اس کے رسول سے اور اللہ فاسقوں کو ہدایت نہیں دیتا"۔ - ("سورۃ التوبہ" آیت ٨٠)
دوسری جگہ ارشاد فرمایا: "آپ (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کا ان کے لیے بخشش چاہنا یا بخشش نہ چاہنا ایک جیسا ہے، اللہ تعالیٰ انہیں ہرگز نہ بخشے گا"۔ - ("سورۃ المنافقون" آیت ٦)
اب منشاء نبوی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے عین مطابق یہ قانون قرار پا گیا کہ موذی رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو معاف نہ کیا جائے گا۔ ظاہر بات ہے جب یہ طے ہو چکا کہ معاف نہ کیا جائے گا تو پھر توبہ کا تصور ہی بے معنی اور فضول قرار پاتا ہے۔
تیسری دلیل:
علامہ ابن عابدین حنفی ایسی ہی ایک اور روایت لاتے ہیں: "امام سبکیؒ نے "السیف المسلول علی من سب الرسول ﷺ" میں نقل کیا ہے کہ ہبار بن الاسود بن عبدالمطلب کے قتل کا حکم دیا تھا۔ ہبار آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سامنے آیا اور شہادتین کو پڑھا اور کہنے لگا: "میں آپ کو گالی دینے اور ایذاء دینے کو بہت پسند کرتا تھا اور میں ذلیل تھا، مجھے معاف کر دیجئے"۔ زبیرؓ فرماتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے چہرہ مبارک کی طرف دیکھنے لگا۔ ہبار نے جو عذر پیش کیا اس کی وجہ سے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے سر نیچے کر لیا اور پھر فرمانے لگے: "میں نے تجھے معاف کیا اور اسلام اپنے ماقبل کو مٹا دیتا ہے"۔ - ("رسائل ابن عابدین" جلد ١، ص
(٣٤٦
یہاں بھی وہی بات ہے کہ یہ حق خاص نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا تھا کہ اپنے گستاخ کو معاف فرما دیتے تھے، اس کا کوئی اور مجاز نہیں کہ آقا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی گستاخی پر اسے معاف کر دے۔ جہاں تاریخ کے جھروکوں سے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ترحم اور عنایات کے ایسے سندیسے ملتے ہیں، وہاں یہ بھی ایک حقیقت سچائی کا مینار بن کر تاریخ کے سینے پر کھڑی ملتی ہے کہ جب حق تعالیٰ شانہ نے ایذاء دینے والوں اور گستاخوں کو معاف نہ کرنے کی آیات نازل فرمائیں تو اس کے بعد ایک واقعہ بھی ایسا نہیں پیش کیا جا سکتا
کہ جب آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کسی گستاخ اور ایذاء دینے والے کو کبھی معاف فرمایا ہو۔
دوسری بات اس سلسلے میں یہ عرض کرنی ہے‘ روایت کے الفاظ کہ ”اسلام اپنے ماقبل کو مٹا دیتا ہے“ سے مترشح ہوتا ہے کہ حالت کفر میں گستاخی کرنے کے بعد اس کی توبہ اسلام قبول کرنے ہی سے مقبول ہو سکتی ہے یعنی کوئی کافر گستاخی کا مرتکب ہونے کے بعد زندہ کافر نہیں رہے گا یا تو اسلام قبول کرے گا یا پھر قتل کر دیا جائے گا۔ تاہم مذہب مختار کے مطابق اول الذکر توجیہ بھی قابل التفات نہیں۔ یعنی اب اسلام قبول کر لینے سے بھی اس کی توبہ قابل قبول نہ ہو گی کہ اپنی گستاخی پر معاف کر دینے کا حق فقط ذات محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو ہی حاصل تھا اور کسی کو قطعاً حاصل نہیں ہے۔
چوتھی دلیل:
امام ابو یوسفؒ فرماتے ہیں:
”جس مسلمان نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو گالی دی یا جھٹلایا یا عیب لگایا‘ پس اس نے اللہ سے کفر کیا اور اس کی بیوی طلاق ہو گئی‘ پس اگر وہ توبہ کرے تو ٹھیک ورنہ قتل کر دیا جائے“۔ (”کتاب الخراج“ دار المعرفت بیروت از امام ابو یوسفؒ)
پانچویں دلیل:
امام ابو بکر احمد بن علی الرازی الجصاص حنفیؒ فرماتے ہیں:
”ولید بن مسلم نے امام اوزاعیؒ اور امام مالکؒ سے روایت کیا ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو گالی دینے والے کے بارے میں فرمایا کہ کہا ان دونوں نے کہ ”یہ ارتداد ہے‘ توبہ کا کہا جائے گا‘ اگر توبہ کر لے تو اس کو سزا (کوڑوں وغیرہ کی) دی جائے گی اور اگر توبہ نہ کرے تو قتل کیا جائے گا“۔ (”احکام القرآن للجصاص“ جلد ۳‘ ص ۸۵)
چھٹی دلیل:
شیخ الاسلام سعدی چلپیؒ فرماتے ہیں:
”جس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو گالی دی‘ وہ مرتد ہے اور اس کا حکم مرتد کی مانند ہے۔ اس سے وہی کچھ کیا جائے گا جو مرتد سے کیا جاتا ہے“۔
(”النتف الحسان کذا فی رسائل ابن عابدین“ جلد ۱‘ ص ۳۲۴)
ساتویں دلیل:
”شرح الطحاوی“ میں یوں مذکور ہے:
”جس نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو گالی دی یا آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے دشمنی یا نفرت کی تو یہ اس سے ردہ کا ارتکاب ہوا ہے اور اس کا حکم مرتدین کی طرح ہو گا“۔ (”شرح الطحاوی کذا فی رسائل ابن عابدین“ جلد ۱‘ ص ۳۲۵)
آٹھویں دلیل:
امام ابو حنیفہؒ اور ان کے اصحاب کا مذہب:
”امام ابو حنیفہؒ اور ان کے اصحاب نے کہا‘ جو بھی محمد صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے بیزار ہو یا جھٹلایا‘ وہ مرتد ہے اور حلال الدم ہے‘ مگر یہ کہ وہ لوٹ آئے“۔
(”الشفاء کذا فی رسائل ابن عابدین)
مذکورہ بالا تمام روایات کو پڑھ لینے کے بعد جو نکات سامنے آتے ہیں‘ وہ یہ ہیں:
- (۱) گستاخ رسول صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو قتل کیا جائے گا۔
- (۲) گستاخی رسول صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم ارتداد ہے اور اس کا حکم مرتد کا ہے۔
- (۳) اس کی توبہ قبول کی جاسکتی ہے۔
- (۴) قبول توبہ کے باوجود تعزیراً سزا (کوڑوں وغیرہ کی) دی جائے گی۔
ان چار باتوں کے علاوہ کوئی پانچویں صراحت مذکورہ روایات میں نہیں پائی جاتی۔ پہلے نکتہ پر اجماع امت ہے‘ جبکہ دوسرے نکتے پر صراحت مطلوب ہے اور اس سلسلے میں جو سوال ذہن میں اٹھتے ہیں‘ وہ کچھ یوں ہیں:
- (۱) کیا گستاخی رسول صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم ارتداد مجرد ہے یا ارتداد مغلظ؟
- (۲) کیا ارتداد مجرد اور ارتداد مغلظ کی سزا یکساں ہے؟
- (۳) ارتداد مغلظ پر یعنی نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے دشنام دہندہ پر آپ صلی اللہ
علیہ و آلہ وسلم نے اسلام پیش کیا تھا یا مطلقاً حکم قتل صادر فرمایا تھا؟
- (۴) کیا صحابہ کرام‘ شاتم رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر اس کے ارتداد مغلظ کے
بدلے اسلام کی دعوت دیتے تھے یا شاتم کا سر قلم کیا کرتے تھے؟
ان اعتراضات کا جواب اگر کچھ ہے تو اس کے سوا اور کیا ممکن ہے کہ گستاخی رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم‘ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے محاربہ ہے اور ارتداد اور کفر میں توبہ اس وقت قبول ہوتی ہے جب اس میں سختی اور غلاظت نہ پائی جائے۔ یہ ”ردہ“ کہلاتا ہے۔ ایسے مرتد پر اسلام پیش کیا جاتا ہے اور توبہ قبول کی جاتی ہے‘ مگر وہی شخص جب آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی نبوت و رسالت کا منکر ہونے کے بعد آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی مخالفت‘ توہین اور تنقیص پر کمر بستہ ہو جائے تو اس کے کفر میں سختی‘ شدت اور غلاظت عود کر آتی ہے۔ ایک ہے نبوت و رسالت کا انکار اور دوسرا نبوت و رسالت کی تنقیص‘ تیسرا اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے محاربہ۔ کیسے تسلیم کر لیا جائے کہ کفر کے درجات مختلف ہوں اور سزا یکساں دی جائے؟ قرین انصاف یہی ہے کہ جوں جوں کفر میں سختی اور غلاظت بڑھتی جائے گی‘ سزا میں بھی اضافہ ہوتا چلا جائے گا اور قرآن و سنت میں ایسے مرتد کی سزا مطلقاً سزائے موت ہے‘ عدم قبول توبہ کے ساتھ۔
تیسری بات جو مذکورہ روایات سے اخذ ہوئی کہ اس کی توبہ قبول کی جاسکتی ہے۔
مذکورہ روایات میں اس کی صراحت بھی موجود نہیں ہے کہ توبہ قبل الاخذ (گرفتاری سے پہلے اگر کرے) قبول ہوگی یا بعد الاخذ (گرفتار ہونے کے بعد) یا توبہ عنداللہ مقبول ہوگی یا عندالناس۔ صاف ظاہر ہے کہ مجرم جب گرفتار کر لیا جاتا ہے تو موت کے خوف سے اگر توبہ کرے گا تو توبہ مقبول نہیں ہو سکتی۔ ایسے تو سزا کا تصور ہی ختم ہو جاتا ہے جبکہ سزائے موت پر ذرہ برابر بھی اختلاف نہیں معلوم ہوا۔ یہ توبہ قبل الاخذ کی بات کی گئی ہے کہ مجرم کو از خود احساس ہوا اور فوراً تائب ہو گیا اور جب مقدمہ دائر ہو گیا تو اسے یہ حق بھی نہ رہا اور جب بعد الاخذ توبہ کرے گا تو عدالت کے پاس اس کا کیا معیار ہو گا کہ توبہ صدق دل سے کی گئی ہے یا محض سزا سے بچنے کے لیے اور عدالت کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے لیے! اس لیے بعد الاخذ توبہ کا اعتبار نہیں اور وہ معتبر نہیں ہو گی۔ دوسری بات یہ کہ چونکہ یہ حق خالص آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا ہے اور حق عبد کا معاف کرنا قاضی یا عدالت کے اختیار میں نہیں ہوتا‘ اس لیے باور کیا جاسکتا ہے کہ شاتم کی توبہ عنداللہ مقبول ہو گی کہ اس میں حقوق اللہ بھی
شامل ہوتے ہیں۔
شاتم کی توبہ عنداللہ مقبول ہونے سے عدالت اس پر سزائے موت بہرحال جاری کرے گی اور توبہ عنداللہ مقبول ہونے سے اس کی موت کے بعد اس کے احوال مسلمانوں کی طرح ہوں گے یعنی نماز جنازہ ادا کی جائے گی اور مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کیا جائے گا وغیرہ۔ اور اگر بغیر توبہ کے مرے گا تو اس کا انجام مرتد کی طرح ہو گا کہ حالت کفر ہی میں مارا گیا۔ نہ اس کی نماز جنازہ ہو گا اور نہ مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کیا جائے گا۔
معلوم ہوا کہ جب شاتم توبہ کر لیتا ہے تو اسلام میں داخل ہو جاتا ہے مگر بوجہ گستاخی رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سزائے موت سے نہیں بچ سکتا اور یہی عنداللہ توبہ کی مقبولیت کا مظہر ہے۔ چوتھی بات جو روایات میں ذکر کی گئی ہے کہ
قبول توبہ کے باوجود (تعزیرا) سزا دی جائے گی۔
چونکہ اسلام میں گستاخی رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی سزا صرف سزائے موت ہے اور دوسری کوئی سزا اس میں اسلام کے منافی ہے تو پھر کیونکر توبہ قبول کر کے غیر اسلامی سزا کا اطلاق کیا جائے۔
شاتم کی سزائے موت کے وجوب پر انکار کسی کو نہیں اور پھر اس کے سوا کسی دوسری سزا کا ذکر بھی آج تک کسی نے نہیں کیا۔ یہ بدعت فقط قبول توبہ سے جاری کی گئی ہے، اس لیے اس بدعت (قبول توبہ) کو مٹا کر خالص سنت نبوی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے خطوط پر اسلام کی عمارت کھڑی کی جائے گی اور شاتم رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی توبہ قبول نہ کرتے ہوئے جرم ثابت ہو جانے کے بعد سزائے موت ہی دی جائے گی۔
اسلام کے دور اول میں حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم معاف فرما دیا کرتے تھے۔ ان واقعات کو بھی دلیل کے طور پر پیش کیا جا سکتا ہے مگر ان کا جواب قاضی عیاضؒ بدیں الفاظ دیتے ہیں:
”یہ اسلام کے اوائل کا دور تھا اور اس وقت لوگوں کے تالیف قلب کی زیادہ ضرورت تھی اور اگر ایسے معاملات پر اوائل دور میں آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم قتل کے احکام صادر فرما دیتے تو اس سے لوگوں میں یہ بات پھیلتی کہ دیکھو کہ یہ اپنے ساتھیوں اور نماز پڑھنے والوں کو قتل کرتے ہیں“۔ (”الشفاء“ جلد دوم، ص ۱۹۸ از قاضی عیاضؒ)
قاضی عیاضؒ آگے لکھتے ہیں:
”پھر جب اسلام کو تقویت مل گئی اور اسلام کو اقتدار مل گیا اور وہ صورت باقی نہ رہی جو پہلے تھی‘ اس وقت قرآن پاک کی یہ آیات نازل ہوئیں۔ ملعونین اینما ثقفوا اخذوا وقتلوا تقتیلا... الخ۔ اور جب منافقین کا نفاق ظاہر ہو گیا تو یہ آیات نازل ہوئیں... يا ايها النبى جاهد الكفار والمنافقين واغلظ عليهم... الخ۔ اس آیت کریمہ کے نزول کے بعد قاضی عیاضؒ فرماتے ہیں کہ معاف کرنے کے تمام عوامل اور احکامات منسوخ ہوگئے“۔ (”الشفاء“ جلد دوم‘ ص ۲۰۰) احکام شرعیہ میں ارتقاء ہے‘ تاہم نصوص ساتھ ساتھ چلتی ہیں۔ حضرت ملا علی قاریؒ نے نسیم الریاض اور شرح الشفاء میں مذکورہ بالا حوالہ جات نقل کیے ہیں۔
عدم قبول توبہ کے دلائل:
مولانا ظفر احمد عثمانی دیوبندیؒ رقم طراز ہیں: ”نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا‘ جو شخص اپنے دین کو بدل ڈالے‘ اس کو قتل کر دو۔ بے شک اللہ تعالیٰ ایسے شخص کی توبہ قبول نہیں فرماتا جو اسلام لے آنے کے بعد کفر کرے“۔ (”اعلاء السنن“ جلد ۱۲‘ ص ۴۳۳) اس روایت سے ارتداد مجرد اور مرتد مجرد کی عدم قبول توبہ پر بھی گواہی مل گئی چہ جائیکہ مرتد مغلظ اور ارتداد مغلظ کی توبہ قبول کی جائے۔ امام زیلعیؒ فرماتے ہیں: ”اگر کسی شخص نے بعد الاخذ توبہ بھی کر لی بغیر اس کی توبہ کے اعتبار کے‘ ایسے شخص کو (جو گستاخی رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا مرتکب ہو) قتل کر دیا جائے اور جمہور کا مذہب یہی ہے“۔ (”نصب الرایہ“ جلد ۳‘ ص ۴۵۶)
فقہ حنفی میں شاتم رسول ﷺ کی توبہ قبول نہیں:
”ہر وہ مسلمان جو مرتد ہو جائے (کسی بھی وجہ سے) تو پھر ارتداد کے بعد اس کی توبہ قبول ہو سکتی ہے سوائے اس مرتد کے جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی گستاخی کے باعث مرتد اور کافر ہوا ہو اور مطلقاً اس کی توبہ قبول نہیں کی جائے گی“۔ (”تنویر الابصار الرد المختار“ جلد ۳‘ ص ۳۱۷)
امام مالکؒ بھی توبہ قبول نہیں فرماتے:
”خلیفہ ہارون الرشید نے امام مالکؒ سے یہ فتویٰ دریافت کیا کہ اگر کوئی شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی گستاخی کرے اس کا حکم کیا ہے اور ساتھ یہ کہا کہ عراق کے بعض فقہاء نے اس کو کوڑوں کی سزا دینے کا فتویٰ دیا ہے۔ اس پر امام مالکؒ غضب ناک ہو گئے اور جلال میں آ کر فرمانے لگے: امیر المومنین اس امت کے باقی رہنے کا کیا جواز ہے جس میں اس کے نبی کی گستاخی رواج پا جائے اور فرمایا جو انبیاء میں سے کسی نبی کی گستاخی کرتا ہے‘ اس کو قتل کیا جائے گا اور جو نبی کے اصحاب کی گستاخی کرے‘ اس کو کوڑوں کی سزا دی جائے“۔
(”الشفاء“ جلد ۲‘ ص ۱۹۶ عربی از قاضی عیاضؒ مالکی)
علامہ اسماعیل حقیؒ لکھتے ہیں:
”حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے گستاخ کو قتل کیا جائے گا حداً اور واجباً‘ اور اس کی توبہ قبول نہیں کی جائے گی“۔
(”تفسیر روح البیان“ جلد ۳‘ ص ۴۹۴)
امام ابو بکر فارسیؒ الشافعی فرماتے ہیں:
”کہ بعد توبہ کے مسلمان تصور کیا جائے گا لیکن (اس کے باوجود) حداً قتل کیا جائے گا“۔
(”کتاب السراج المنیر“ جلد ۳‘ ص ۳۶۳)
علامہ ابن تیمیہؒ فرماتے ہیں:
”بغیر توبہ سنے اسے قتل کیا جائے گا“۔ مذہب جمہور قرار دیتے ہیں۔
(”الصارم المسلول“ ص ۵۱۷‘ مطبوعہ بیروت)
عدم قبول توبہ پر اجماع امت:
”جس نے گستاخی کی وہ قتل کیا جائے گا۔ امام مالکؒ کا فتویٰ یہی ہے۔ امام احمد بن حنبلؒ کا فتویٰ یہی ہے۔ امام اسحاقؒ کا قول ہے اور یہ مذہب شافعیؒ ہے اور یہ حضرت ابو بکر صدیقؓ کے قول کا مقتضاء بھی ہے اور ان تمام کے نزدیک اس شخص کی توبہ قبول نہیں کی جائے گی اور امام ابو حنیفہؒ کا قول بھی اسی طرح ہے“۔
(”فتاویٰ شامی“ جلد ۳‘ ص ۳۱۸)
نیز
”اس کی توبہ قبول نہیں کی جائے گی اور وہ قتل کیا جائے گا۔ اس پر اجماع ہے“۔
(”رد المحتار“ جلد ۳‘ ص ۳۱۸‘ فتاویٰ شامی)
امام ابن ھمامؒ لکھتے ہیں: ”جس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو ایذاء پہنچائی‘ وہ شخص مرتد ہوگیا۔ ہمارے مذہب (فقہ حنفی) کے نزدیک وہ حد کے طور پر قتل کیا جائے گا اور اس کی توبہ قبول نہیں کی جائے گی۔ اسقاطِ قتل میں اور میں حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی امت میں کسی ایسے شخص کو نہیں جانتا جو گستاخ رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی سزائے موت کے واجب ہونے میں اختلاف کرے“۔ (”فتح القدیر“ جلد ۵‘ ص ۳۴۲‘ ”تفسیر المظہری“ جلد ۷‘ ص ۳۸۱-۳۸۲‘ ”البحر
الرائق“ جلد ۵‘ ص ۱۳۵-۱۳۶)
امام برہان الدین محمودؒ فرماتے ہیں: ”اگر کوئی گستاخی اور عیب‘ خواہ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی نبوت اور حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی ذات کے امورِ دینیہ میں کیا جائے تو ایسا شخص کافر ہے اور واجب القتل ہے اور ایسے شخص کی توبہ کبھی بھی قبول نہیں کی جائے گی‘ نہ اللہ کے نزدیک اور نہ لوگوں کے نزدیک“۔ (”خلاصۃ الفتاویٰ“ جلد ۴‘
ص ۳۸۶)
صدر الشہید حنفیؒ لکھتے ہیں: ”نہ اس شخص کی توبہ قبول کی جائے گی نہ اسلام قبول کیا جائے گا۔ ہم اس کو قتل کریں گے“۔
(”البحر الرائق“ جلد ۵‘ ص ۱۳۶)
امام ابو حفص سمرقندی حنفیؒ لکھتے ہیں: ”ہر کافر اگر توبہ کر لے اس کی توبہ دنیا و آخرت میں قبول کی جائے گی‘ سوائے اس کافر کے جو حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی گستاخی کے سبب کافر ہو گیا...... پس ایسے شریر افراد کا قتل کرنا واجب ہے خواہ وہ توبہ کریں اور خواہ وہ توبہ نہ کریں‘ خواہ وہ اسلام لائیں یا نہ لائیں‘ انہیں قتل کیا جائے گا۔ مذہب مشہور پر وہ حد کے ذریعے قتل کیے جائیں گے“۔ (”الاشباہ والنظائر“ بحوالہ ”تنقیح حامدیہ“
جلد اول‘ ص ۴۰۳ حاشیہ)
امام خیر الدین حنفیؒ لکھتے ہیں: ”گستاخ رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو حداً قتل کیا جائے گا اور اصلاً اس کی توبہ قبول نہیں کی جائے گی اور یہی مذہب حضرت ابو بکر صدیقؓ اور امام اعظمؒ کا
ہے ...... اس پر اجماع ہو گیا پوری امت کا کہ گستاخ رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کافر ہے اور اسے قتل کیا جائے گا اور اس کی کوئی توبہ نہیں اور جو اس کے کفر اور عذاب میں شک کرے وہ بھی کافر ہے"۔ ("فتاویٰ خیریہ" جلد اول، ص
(۱۷۱-۱۷۰
فقہ حنفی کی ایک معتبر کتاب "فتاویٰ شامی" میں ہے: "گستاخ رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم حداً قتل کیا جائے گا۔ اس کی توبہ قبول نہیں کی جائے گی کیونکہ توبہ سے حد ساقط نہیں ہوتی... اس پر حد لازماً قائم کی جائے گی البتہ اس کی توبہ اللہ کے ہاں مقبول ہے"۔ ("فتاویٰ شامی" جلد ۳، ص
(۳۱۷
گستاخ رسول ﷺ کے احکام عام مرتدین سے جدا ہیں:
"جو شخص حضور اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم یا انبیاء کرام میں سے کسی کی گستاخی کے سبب کافر ہوا ہو، وہ قتل کیا جائے گا۔ وہ عام مرتدین کے احکام سے مستثنیٰ ہے۔ اس کی توبہ قبول نہیں ہے"۔ ("فتاویٰ شامی، رد المحتار" جلد ۳، ص
(۳۱۷
علامہ ابن نجیم حنفیؒ فرماتے ہیں: "اور جو شخص اللہ تعالیٰ کی شان میں گستاخی کا مرتکب ہو گا، وہ بھی کافر ہے۔ تاہم اس کی توبہ قبول کر لی جائے گی کیونکہ وہ توبہ خالصتاً اللہ ہی نے قبول کرنی ہے، اس لیے قبول کر لی جائے گی اور جو شخص حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی گستاخی کرنے کے بعد توبہ کرے تو اس کی توبہ، اللہ کا حق تو معاف ہو سکتا ہے مگر حق بشریت معاف کرنا شریعت کو گوارا نہیں"۔ ("بحر الرائق" جلد ۵، ص ۱۳۵)
مذہب مشہور کے مطابق توبہ قبول نہیں کی جائے گی:
"جس شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم یا کسی اور نبی کی گستاخی کی، اس کو قتل کیا جائے گا اور اصلاً اس کی توبہ قبول نہیں کی جائے گی اور یہ مذہب ہے حضرت ابو بکر صدیقؓ کا اور یہی مذہب امام اعظمؒ امام ابو حنیفہؒ کا ہے اور یہی امام مالکؒ اور ان کے اصحاب کا مذہب ہے اور یہی اہل کوفہ اور یہی مذہب مشہور
ہے“۔ (فتاویٰ بزازیہ)
فقہ حنفی کی ایک اور معتبر کتاب میں یوں مذکور ہے:
”اور توبہ قبول نہ کی جائے گی جس کی ردت بار بار ہو چکی ہو اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور شیخین (حضرت ابوبکر و حضرت عمر) رضی اللہ تعالیٰ عنہما کو گالیاں دینے والے کی توبہ بھی قبول نہ ہوگی بلکہ قتل کیے جائیں گے“۔ (ردالمحتار)
دوسری جگہ یوں لکھتے ہیں:
”یعنی شاتم رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی سزا قتل بطور حد ہے، اسی لیے ساتھ لائے کہ اس کی توبہ قبول نہیں کی جائے گی کیونکہ حد، توبہ کرنے سے ساقط نہیں ہوتی۔ تو قتل کرنے کی تفسیر یہ ہے کہ اس کی توبہ قبول نہیں ہوگی اور توبہ کا قبول نہ ہونا، اس نے یہ دنیاوی حکم بتا دیا مگر اللہ تعالیٰ کے نزدیک توبہ قبول ہوگی“
(جب توبہ پیش کرے گا)۔ (ردالمحتار)
یعنی جب توبہ پیش کرے گا تو بھی حداً اسے قتل کیا جائے۔ توبہ عندالناس مقبول نہیں ہوگی البتہ بعد قتل کیے جانے کے اس کے معاملات مسلمان مردوں کی طرح سرانجام دیے جائیں اور مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کیا جائے گا۔ یہ ہے اللہ کے نزدیک توبہ کی مقبولیت۔
ارتداد مجرد اور ارتداد مغلظ کی سزا میں فرق:
”ہر وہ مسلمان جس نے ردت کو اختیار کیا تو اس کی توبہ قبول مگر وہ جماعت جس کا ارتداد مکرر ہو چکا جیسا کہ گزرا اور وہ کافر جو کسی نبی کو گالی دینے سے (دائرۂ اسلام سے نکلا ہو) تو بلاشک اسے بطور حد قتل کیا جائے گا اور اس کی توبہ ہرگز قبول نہ ہوگی“۔ (درمختار)
احناف کے عدم قبول توبہ کے چیدہ چیدہ دلائل عرض کرنے کے بعد دوسرے مذاہب کے دلائل عرض کیے جاتے ہیں تاکہ عدم قبول توبہ پر بھی اجماع کا ثبوت مہیا ہو سکے۔
امام مالکؒ کا موقف:
”ابن قاسم اور مطرف کی روایت کے مطابق امام مالکؒ نے فرمایا، جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو گالی دے اسے قتل کیا جائے اور اس سے توبہ کا مطالبہ نہ کیا جائے۔ ابن قاسم کہتے ہیں جو شخص رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ
وسلم کو گالی نکالے اور برا بھلا کہے تو اسے قتل کیا جائے۔ ابو مصعب اور ابن ابی اویس کہتے ہیں کہ ہم نے سنا کہ امام مالکؒ کہتے تھے ’جو شخص رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو گالی دے یا آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو برا بھلا کہے یا آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر عیب لگائے اور تنقیص شان کرے اسے قتل کیا جائے‘ وہ مسلم ہو یا کافر اور اس سے توبہ کا مطالبہ نہ کیا جائے۔ محمد بن عبدالحکیم کا قول بھی یہی ہے۔ ہمارے اصحاب امام مالکؒ نے بتایا کہ انہوں نے فرمایا: جو شخص رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم یا کسی اور نبی کو گالی دے وہ مسلم ہو یا کافر اسے قتل کیا جائے اور اس سے توبہ کا مطالبہ نہ کیا جائے“۔ (”الصارم المسلول“ ص ۴۲۴، اردو، ترجمہ از غلام احمد حریری)
ابو علی بن البناء اپنی کتاب ”الخصال والاقسام“ میں رقم طراز ہیں: ”اور جو شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو گالی دے، وہ واجب القتل ہے۔ اس کی توبہ قبول نہ کی جائے گی، اگرچہ وہ کفر سے توبہ کر کے مسلمان ہو جائے۔ اس ضمن میں صحیح موقف یہ ہے کہ اسے قتل کیا جائے اور اس سے توبہ کا مطالبہ نہ کیا جائے۔ وہ کہتے ہیں کہ امام مالکؒ کا مذہب بھی یہی ہے“۔ (”الصارم المسلول“ ص ۴۱۴، اردو)
امام شافعیؒ کا زاویہ نگاہ:
”رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو گالی دینے کی سزا قتل ہے تو جس طرح حد قذف توبہ سے ساقط نہیں ہوتی، اسی طرح نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو گالی دینے سے جو قتل واجب ہوا وہ (بھی) توبہ سے ساقط نہ ہوگا۔ کہتے ہیں کہ ابوبکر فارسی نے اس کا ذکر کیا اور اس (قول) کے بارے میں اجماع کا دعویٰ کیا۔ شیخ ابوبکر قفال بھی اس ضمن میں ان کے ہم نوا ہیں“۔ (”الصارم المسلول“ ص ۴۲۶-۴۲۷، اردو)
امام احمد بن حنبلؒ کا نظریہ:
”حنبلؒ کی روایت کے مطابق امام احمدؒ نے فرمایا: جو شخص بھی رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو گالی دے اور آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی تحقیر
کرے، وہ مسلم ہو یا کافر، اسے قتل کیا جائے گا (علامہ ابن تیمیہ ”حنبلی“ آگے لکھتے ہیں) میرا خیال ہے کہ اسے قتل کیا جائے اور اس سے توبہ کا مطالبہ نہ کیا جائے“۔
(”الصارم المسلول“ ص ۴۰۸‘ اردو)
حضرت خالد بن ولیدؓ کی پیروی میں شاتم سے توبہ طلب نہ کی جائے گی:
”عبداللہ (بن امام احمدؒ) کہتے ہیں کہ میں نے اپنے والد سے اس شخص کے بارے میں دریافت کیا جو رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو گالی دے، تو آیا اس سے توبہ کا مطالبہ کیا جائے گا؟ انہوں نے فرمایا: قتل اس پر واجب ہو چکا ہے لہٰذا توبہ کا مطالبہ نہ کیا جائے گا۔ حضرت خالدؓ بن ولید نے ایک شخص کو قتل کیا جس نے رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو گالی دی تھی اور اس سے توبہ کا مطالبہ نہ کیا۔ امام احمدؒ نے صراحت کی ہے کہ اگر ایسا شخص مسلم ہو تو مرتد ہو گیا اور اگر ذمی تھا تو اس نے اپنا عہد توڑ دیا۔ انہوں نے اپنے تمام جوابات میں علی الاطلاق فرمایا کہ اسے قتل کیا جائے اور توبہ طلب کرنے کا حکم نہیں دیا“۔
(”الصارم المسلول“ ص ۴۰۸‘ اردو)
علامہ ابن تیمیہؒ اپنے امام کے موقف کی صراحت انہی کے الفاظ میں مزید یوں فرماتے ہیں ”امام احمدؒ فرماتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو گالی دینے والے کی توبہ قبول نہ کی جائے گی، اس لیے کہ اس سے رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو عار محسوس ہوتی ہے۔ ابن عقیل کا قول بھی یہی ہے۔ ہمارے اصحاب (حنبلی) سب رسول کے بارے میں کہتے ہیں کہ ایسے شخص کی توبہ قبول نہ کی جائے گی کیونکہ گالی دینے سے رسول کریم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کی زندگی داغدار ہوتی ہے، نیز دشنام طرازی ایک آدمی کا حق ہے جس کے بارے میں معلوم نہیں کہ اس نے معاف کیا ہے یا نہیں؟“ (”الصارم المسلول“ ص
۴۱۰-۴۰۹‘ اردو)
حق عبد معاف نہیں کیا جاسکتا:
”القاضی اور ان کے بیٹے ابوالحسین کہتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو گالی دینے والے کو قتل کیا جائے اور اس کی توبہ قبول نہ کی جائے،
خواہ وہ مسلم ہو یا کافر۔ امام احمد نے تصریح کی ہے کہ ایسا شخص ناقض عہد ہے پھر سابق الذکر قاضی صاحب نے امام احمدؒ کی تصریحات نقل کی ہیں کہ اسے قتل کیا جائے گا اور اس سے توبہ کا مطالبہ نہ کیا جائے گا۔ اس لیے کہ وہ واجب القتل ہے۔ القاضی فرماتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے حق کے ساتھ دو حق وابستہ ہیں: ایک اللہ کا حق اور دوسرا انسان کا حق۔ اور سزا کے لیے جب اللہ اور بندوں کا حق وابستہ ہو تو وہ توبہ کرنے سے ساقط نہیں ہوتا“۔ (”الصارم
المسلول“ ص ۴۱۰‘ اردو)
حد مغلظ پر توبہ نہیں:
ابو المواہب العکبری فرماتے ہیں: ”رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر بہتان لگانے سے حد مغلظ واجب ہوتی ہے جو کہ قتل ہے‘ خواہ توبہ کرے یا نہ کرے اور خواہ وہ ذمی ہو یا مسلم“۔
(”الصارم المسلول“ ص ۴۱۰‘ اردو)
علامہ ابن تیمیہؒ مزید فرماتے ہیں: ”ہمارے اصحاب (حنبلی) کی دیگر جماعتوں نے کہا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے دشنام دہندہ کو قتل کیا جائے گا اور اس کی توبہ قبول نہ کی جائے گی‘ خواہ وہ مسلم ہو یا کافر۔ عدم قبول توبہ سے ان کی مراد یہ ہے کہ توبہ کرنے سے قتل ساقط نہ ہوگا“۔
(”الصارم المسلول“ ص ۴۱۰‘ اردو)
علامہ ابن تیمیہؒ مسئلہ توبہ پر اپنے مسلک کا خلاصہ یوں تحریر فرماتے ہیں: ”عبداللہ کی روایت میں اس امر کی تصریح پائی جاتی ہے کہ جو شخص رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو گالیاں دے وہ واجب القتل ہے اور اس سے توبہ کا مطالبہ نہ کیا جائے۔ اس سے معلوم ہوا کہ اس کا قتل کرنا واجب ہے اور جو قتل واجب ہو جائے وہ کسی حال میں ساقط نہیں ہوتا۔ اس کے موید یہ بات ہے کہ انہوں نے کہا کہ جو ذمی کسی مسلم عورت کے ساتھ بدکاری کرے‘ اسے قتل کیا جائے۔ ان سے دریافت کیا گیا ”اگر وہ اسلام لے آئے تو کیا پھر بھی اسے قتل کیا جائے گا؟“ فرمایا ہاں۔ اسے قتل کیا جائے گا کیونکہ قتل اس پر واجب ہو چکا ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ اسلام واجب شدہ قتل کو ساقط نہیں کر سکتا۔ دشنام دہندہ
کے بارے میں ان کا قول یہ ہے کہ وہ واجب القتل ہے"۔ ("الصارم المسلول"
ص ۴۱۹‘ اردو)
گستاخ اور شاتم کے توبہ کے مسئلہ میں اک معمولی سا اختلاف بہرطور ہے کہ اگر ذمی گستاخی کا مرتکب ہو اور توبہ پیش کر کے اسلام میں داخل ہو جائے تو اس کی توبہ قبول کی جائے گی۔ تاہم فقہاء نے اس پر بھی چند پابندیاں رکھی ہیں:
- (۱) توبہ قبل الاخذ ہو یعنی مقدمہ دائر ہونے سے قبل توبہ کرے گا تو مقبول ہوگی‘ بعد الاخذ
کا قصہ ہی نہیں۔
- (۲) ذمی (کافر) بعد گستاخی کے اپنے سابقہ کفر کو چھوڑے اور اسلام میں داخل ہونے کا
اعلان کرے۔
- (۳) توبہ عندالناس مقبول نہ ہوگی بلکہ عنداللہ مقبول ہوگی۔
فقہاء کی ان نرمیوں کے باوجود عشق کی بنیاد پر جو بات کہی جاسکتی ہے‘ وہ یہ ہے:
”جس بات کو تقویت پہنچتی ہے شریعت اسلامیہ میں‘ کتاب وسنت کے دلائل میں اور صاحب شرع صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے احکام سے‘ وہ یہ ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم‘ ان کی جو گستاخی کرے اس شخص کی عدم قبول توبہ......... حق یہی ہے کہ جب شانِ رسالت مآب صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا معاملہ آجائے تو قانون اور لوگوں کی نرمی کو نہ دیکھا کرو‘ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی شان کی عظمت کو دیکھا کرو اور یہی ایمان کا تقاضا ہے"۔ (”من الخالق
حاشیہ بحرالرائق“ جلد ۵‘ ص ۱۳۵)
اور اک زندہ دل بھی اسی پر تسکین پاتا ہے کہ اس قانون کو اپنایا جائے جس سے رحمت عالم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی شان اور ناموس زیادہ بہتر طور پر مستحکم ہوسکے اور جس سے اہانت رسول عربی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے تمام چھوٹے بڑے دروازے کلیتاً مسدود ہوسکیں اور جس سے توہین کی ساری صورتیں بالواسطہ یا بلاواسطہ بند ہوسکیں تاکہ امت زندہ رہے اور امت کے زندہ رہنے کا جواز رہ سکے۔
گیارہواں باب
گستاخی رسول ﷺ پر اسلامی حکمرانوں کے فیصلے
اسلامی تاریخ کے سب سے پہلے حکمران کی صورت میں صاحب شرع حضرت محمد کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم فتح مکہ کے روز تاریخ کے افق پر جلوہ افروز ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے اپنے اور اپنے اصحابؓ اور اہل بیتؓ کے دشمنوں کو عام معافی دینے کا اعلان کیا مگر منصب رسالت کی تنقیص کرنے والوں کے لیے خصوصی حکم صادر فرمایا۔ ارشاد فرمایا:
"ابن خطل کو قتل کیا جائے اگرچہ وہ خانہ کعبہ کے پردوں سے چمٹا ہوا ہو"۔
ارشاد نبوی کی روشنی میں گستاخ رسول صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی سزا اور دیگر مجرمین کی سزا میں امتیاز اور استثناء اسلامی حکمرانوں کے لیے گستاخ رسول صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی معافی اور رعایت کے تمام دروازے کلیتاً مسدود کرتا ہے۔
یہی وجہ تھی کہ خلفائے راشدینؓ نے اپنے اپنے ادوار میں کبھی بھی کسی گستاخ اور شاتم رسول صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے لیے نرم گوشہ نہیں رکھا اور گستاخان نبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم قتل کیے جاتے رہے، جن کا ذکر صحابہ کرامؓ کے باب میں تفصیل سے گزر چکا ہے۔
اس باب میں خلفائے راشدینؓ کے بعد آنے والے اسلامی حکمرانوں کے فیصلے بیان کیے جائیں گے۔
حضرت عمر بن عبدالعزیزؒ کا موقف:
قاضی عیاضؒ لکھتے ہیں:
"خلیفہ عادل جناب عمر بن عبدالعزیزؒ نے عامل کوفہ کے استفسار پر تحریر فرمایا تھا کہ سوائے اس شخص کے جو سرور عالم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی شان میں گستاخی کا مرتکب ہو، ان کے علاوہ کسی دوسرے کو گالی دینے کی وجہ سے قتل نہیں کیا جائے گا"۔ ("الشفاء" جلد ۲، ص ۳۸۷، اردو ترجمہ از مولانا محمد اطہر نعیمی)
مائل خیر آبادی اس واقعہ کو یوں ذکر کرتے ہیں:
”ایک بار ان (حضرت عمر بن عبدالعزیزؒ) کے ایک گورنر عبدالحمید بن عبدالرحمان نے لکھا کہ میرے سامنے ایک ایسا مجرم پیش کیا گیا جو آپؒ کو گالیاں دیتا ہے۔ میں نے چاہا کہ اس کو قتل کر دوں لیکن پھر سوچا کہ آپؒ کی رائے لے لوں۔ چنانچہ آپؒ کا حکم آنے تک اسے قید کر دیا ہے“۔ خلیفہ نے جواب لکھ بھیجا: ”اگر تم اسے قتل کر دیتے تو میں تم سے قصاص لیتا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سوا کسی اور کو گالی دینے پر قتل کرنا جائز نہیں، اس لیے اگر تمہارا جی چاہے تو اس کو گالی دے لو ورنہ چھوڑ دو!“ (”عمر ثانیؒ“ عمر بن عبدالعزیزؒ ”از مائل خیر آبادی، ص ۵۰)
خلیفہ ہارون الرشید کے جواب میں امام مالکؒ کا فتویٰ:
”عباسی خلیفہ ہارون الرشید نے امام مالکؒ سے اس شخص کے بارے میں دریافت کیا جو سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی شان میں گستاخی کرتا ہو۔ ہارون الرشید نے لکھا تھا کہ عراق کے علماء نے شاتم رسول (علیہ السلام) کے لیے کوڑوں کی سزا تجویز کی ہے، آپ کا اس سلسلے میں کیا فتویٰ ہے۔ امام مالکؒ نے ہارون کے استفسار پر غصہ کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا ’جو شخص حضور علیہ السلام کو گالی دے وہ ملت اسلامیہ کا فرد نہیں رہتا، ایسا شخص واجب القتل ہے اور جو کوئی شخص اصحابِ رسول کو برا کہے اور گالیاں دے، اس کے کوڑے مارے جائیں“۔ (”الشفاء“ جلد ۲، ص ۳۸۷-۳۸۸، اردو)
موسیٰ بن مہدی عباسی اور گستاخ رسول ﷺ:
”عباسی خلیفہ موسیٰ بن مہدی الملقب بہ ہادی کے عہد میں ایک شخص نے قبیلہ قریش کو برا بھلا کہا۔ اس سلسلے میں حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ذات پاک کے متعلق بھی گستاخی کی۔ وہ ہادی کے سامنے لایا گیا۔ اس نے علماء و فقہاء کو جمع کر کے اس کے متعلق فتویٰ لیا۔ انہوں نے اس کے قتل کا فتویٰ صادر کیا۔ اس پر خلیفہ نے کہا ’اس کی سزا کے لیے قریش ہی کی اہانت کافی تھی۔ (کیونکہ یہ سرکار مدینہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا خاندان ہے) اس دشمن خدا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو بھی شامل کر لیا، چنانچہ اس کا سر قلم کر دیا گیا“۔
(”تاریخ خطیب“ جلد ۱۲‘ ص ۲۳‘ ”تاریخ اسلام“ از شاہ معین الدین ندوی‘ جلد ۳‘ ص ۸۲)
سلطان نور الدین زنگیؒ اور گستاخان رسول ﷺ :
”۵۵۷ ہجری میں سلطان نور الدین زنگیؒ کے زمانہ میں روضہ پاک میں نقب زنی کی ناپاک جسارت کی گئی مگر اللہ تعالیٰ جل مجدہ نے شرپسندوں کا منصوبہ خاک میں ملا دیا۔ سلطان کو خواب میں حضور سرور کونین صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی زیارت نصیب ہوئی اور آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ”دو نیلی آنکھوں والے“ اشارہ کر کے فرمایا کہ ان سے میری حفاظت کرو۔ سلطان کو سخت تشویش ہوئی۔ اٹھ کر وضو کیا‘ نفل ادا کیے مگر جونہی لیٹے پھر وہی خواب دیکھا۔ غرضیکہ تین دفعہ ایسا ہوا تو آپ اٹھ کھڑے ہوئے۔ اپنے وزیر جمال الدین کے مشورے پر فوراً مدینہ کی تیاری شروع کر دی۔ سولہویں دن مدینہ طیبہ پہنچے۔ ریاض الجنہ میں تحیۃ المسجد ادا کرنے کے بعد سوچنے لگے کہ حصول مقصد کے لیے کیا تدبیر اختیار کرنی چاہیے۔ آخر وزیر نے اعلان کیا کہ بادشاہ مدینہ منورہ میں تشریف لائے ہیں‘ وہ اہل مدینہ کو انعامات سے نوازیں گے۔ ہر شخص حاضر ہو کر اپنا حصہ لے لے۔ ایک ایک آدمی آتا گیا‘ بادشاہ انعامات تقسیم کرتا رہا۔ وہ ہر شخص کو بغور دیکھتا اور خواب میں نظر آنے والی شکلوں کو تلاش کرتا رہا‘ حتیٰ کہ مدینہ کے تمام لوگ گزر گئے مگر مجرمین کا کھوج نہ لگایا جا سکا۔ بادشاہ نے استفسار کیا کہ کوئی رہ گیا ہو تو حاضر کیا جائے۔ بڑی سوچ بچار کے بعد شاہ کو بتایا گیا کہ صرف دو مغربی باشندے ہیں جو نہایت متقی ہیں اور انہوں نے گوشہ نشینی اختیار کر رکھی ہے۔ ہر وقت عبادت و ریاضت میں مصروف رہتے ہیں۔ بادشاہ نے انہیں بھی طلب کر لیا اور انہیں ایک نظر دیکھتے ہی پہچان لیا۔ پوچھا: کون ہو؟ اور یہاں کیوں پڑے ہو؟ انہوں نے بتایا کہ ہم مغرب کے رہنے والے ہیں‘ حج کے لیے آئے تھے‘ روضہ انور کی زیارت کے لیے مدینہ آئے تو حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پڑوس میں رہنے کے شوق میں یہیں کے ہو کر رہ گئے۔ بادشاہ ان دونوں کو وہیں چھوڑ کر ان کی رہائش گاہ پر پہنچا جو ایک قریبی سرائے میں تھی مگر وہاں کوئی مشکوک چیز نظر نہ آئی جس کی وجہ سے بادشاہ اور پریشان ہو گیا۔
مدینہ پاک کے لوگوں نے ان کی صفائی میں بہت کچھ کہا کہ یہ تو نہایت پرہیز گار ہیں، ریاض الجنہ میں نماز پڑھتے ہیں، روزانہ جنت البقیع کی زیارت کرتے ہیں اور ہر شنبہ کو قبا میں نفل ادا کرتے ہیں۔ یہ قائم اللیل اور صائم النہار ہیں۔ اس سے بادشاہ کی تشویش میں اور اضافہ ہو گیا۔ دفعتاً بادشاہ کے دل میں کچھ خیال آیا اور اس نے ان آدمیوں کے مصلیٰ کو الٹ دیا۔ بوریا کا مصلیٰ ایک پتھر کے اوپر تھا۔ پتھر اٹھایا گیا تو نیچے سرنگ نمودار ہوئی جو دور تک روضہ انور کے قریب پہنچ چکی تھی۔
بادشاہ نے اس کمینہ حرکت کا سبب دریافت کیا تو انہوں نے بتایا کہ وہ نصرانی ہیں اور عیسائی بادشاہوں نے انہیں بیش بہا دولت دے کر اس کام پر مامور کیا ہے کہ کسی طرح وہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے حجرۂ مقدسہ میں داخل ہو کر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا جسم اطہر یہاں سے نکال کر لے جائیں۔ ان کا طریقہ واردات یہ تھا کہ رات بھر سرنگ کی کھدائی کرتے اور مشکوں میں مٹی بھر کر بقیع کے مضافات میں ڈال آتے۔ سلطان نور الدین زنگیؒ یہ بات سن کر آتشِ غضب سے بھڑک اٹھا، ساتھ ہی رقت بھی طاری ہو گئی کہ اسے اس کام پر مامور کیا گیا ہے، چنانچہ دونوں عیسائیوں کو صبح کے وقت قتل کرا دیا اور شام کے وقت ان کی ناپاک نعشوں کو نذرِ آتش کر کے خاکستر کر دیا گیا۔
اس کے بعد اس بیدار بخت بادشاہ نے حجرۂ پاک کے چاروں طرف اتنی گہری بنیادوں کو سطح زمین تک بھر دیا تاکہ آئندہ کسی ملعون کو نبی پاک صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی لحد مبارک کے قصد کا موقع نہ مل سکے"۔ ("آئینہ حج، عمرہ و زیارات" از الحاج لعل دین، ص ۱۷۲-۱۷۴)
شاتم رسول (ﷺ) ریجنالڈ اور سلطان صلاح الدین ایوبیؒ :
"شیطان صفت پرنس ارناط والیٔ کرک ریجنالڈ نے جزیرہ نمائے عرب پر لشکر کشی کا قصد کیا تاکہ مدینہ منورہ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے مزار مبارک کو منہدم اور مکہ معظمہ میں خانہ کعبہ کو مسمار کر دے۔ جب وہ سمندری راستے سے حملہ آور ہوا تو مسلمان مقابلے کے لیے مدینہ منورہ سے روانہ ہوئے۔ اس کی فوج، اسلامی لشکر کو دیکھ کر گھبرا گئی۔ وہ اپنے جہازوں کو چھوڑ کر پہاڑوں کی جانب بھاگے۔ مسلم سپاہ کے جیالوں نے انہیں پہاڑوں اور باغوں سے پکڑ کر ان
کے ٹکڑے کر دیئے۔ ریجی نالڈ جیسا شاتم رسول (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) خود بھاگ کر جان بچانے میں کامیاب ہو گیا۔ ("تاریخ اسلام" حصہ دوم، ص ۶۰۵ ناشران قرآن لمیٹڈ لاہور) لیکن ابلیس کا فرزند اپنی حرکتوں سے باز نہ آیا اور مسلمانوں کو دکھ پہنچانے اور حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی توہین کا ارتکاب کرنا اس کی فطرت کی جزو لاینفک بن چکا تھا لیکن پول کا بیان ہے کہ ریجی نالڈ نے ۱۱۷۹ء میں مسلمانوں کے ایک کارواں کو لوٹ لیا اور اس کے تمام آدمی گرفتار کر لیے۔ بادشاہ یروشلم نے اس پر اعتراض کیا اور کارواں کے لوگوں کی رہائی اور لوٹے ہوئے مال کی واپسی کے لیے سفیر بھیجے۔ ریجی نالڈ نے ان کا مذاق اڑایا۔ ۱۱۸۳ء میں پھر یہی حرکت کی۔ ۱۱۸۶ء میں مسلمان تاجروں کے ایک قافلہ کو لوٹ کر اہل قافلہ کو گرفتار کر لیا۔ جب ان لوگوں نے اس سے رہائی کے لیے کہا تو اس نے یہ طعن آمیز جواب دیا کہ تم محمد (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) پر ایمان رکھتے ہو، اس سے کیوں نہیں کہتے کہ وہ آکر تم کو چھڑائے۔ جس وقت سلطان صلاح الدین ایوبیؒ کو ریجی نالڈ کی اس گستاخانہ گفتگو کی خبر ملی تو اس نے قسم کھا کر کہا، اس صلح شکن کافر کو خدا نے چاہا تو میں اپنے ہاتھوں سے قتل کروں گا۔
صلیبی لڑائیوں کے سلسلے میں ایک موقع پر فرنگیوں کو شکست ہو گئی۔ فرنگی بادشاہ اور شہزادے قید کر کے سلطان صلاح الدین ایوبیؒ کے سامنے لائے گئے۔ ان میں ریجی نالڈ بھی تھا۔ سلطان کو دیکھ کر اسے اپنی بداعمالیاں یاد آگئیں اور سلطان کو اپنی قسم بھی یاد آگئی، جس نے ریجی نالڈ کا خون خشک کر دیا۔ سلطان صلاح الدین ایوبیؒ نے اس کو تمام بداعمالیاں گنوائیں اور یہ بھی کہا کہ اس وقت میں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے مدد چاہتا ہوں اور یہ کہہ کر اپنے ہاتھوں سے اس موذی کا سرقلم کر دیا۔
اس کے بعد فرمایا کہ ہم مسلمانوں کا یہ دستور نہیں کہ لوگوں کو خواہ مخواہ قتل کرتے رہیں۔ ریجی نالڈ تو صرف حد سے بڑھی ہوئی بداعمالیوں اور حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ گستاخی کی پاداش میں قتل کیا گیا ہے" (ایضاً، ص ۶۱۰، ابن اثیر، جلد ۱۱، ص ۸۲، "کتاب الروضتین" جلد ۲، ص ۸)
سلطان صلاح الدین ایوبیؒ کا ایک اور فیصلہ:
ایک شاعر کو سلطان صلاح الدین ایوبیؒ نے بفتوائے علماء دین اس ایک شعر کے کہنے پر قتل کرا دیا تھا:
سعى فاصبح يدعى سيد الامم
ترجمہ : ”اس دین کا آغاز ایک ایسا شخص ہے جس نے کوشش کی اور امتوں کا سردار بن گیا۔“
اس شعر سے مرتد قرار دیا گیا کہ یہ نبوت کو اکتسابی کہتا ہے جو ریاضتوں سے حاصل ہو سکتی ہے‘ اس لیے اسے قتل کر دیا گیا“۔ (”کتاب صبح الاعشاء“ جلد ۱۳‘ ص ۳۰۵ بحوالہ بیانات‘ ص ۱۰۷)
”حضرت ابن حبانؒ کا قول ہے کہ جو شخص یہ عقیدہ رکھے کہ نبوت اکتسابی ہے‘ وہ شخص زندیق ہے‘ قتل کر دینا چاہیے“۔ (”ترجمان اہل سنت“ ص ۲۶۶ اپریل‘ مئی ۱۹۷۶ء‘ جلد ۵‘ شمارہ ۱۰-۱۱)
مرزائیوں کا یہ عقیدہ اسی زمرے میں آتا ہے:
”ہر شخص ترقی کر سکتا ہے اور بڑے سے بڑا درجہ پا سکتا ہے‘ حتیٰ کہ محمد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) سے بھی بڑھ سکتا ہے“۔ (ڈائری مرزا محمود ابن مرزا قادیانی ”اخبار الفضل“ ۱۷ جولائی ۱۹۲۲ء‘ بحوالہ تحفظ ختم نبوت از محمد طاہر رزاق‘ ص ۵۰)
فقہائے اندلس اور گستاخ رسول ﷺ :
”ابراہیم فزاری ماہر علوم اور اپنے زمانے کا مشہور شاعر تھا۔ وہ قاضی ابو العباس بن طالب کی علمی مجلس میں شریک ہوا کرتا تھا۔ جب اس کے متعلق یہ معلوم ہوا کہ وہ خداوند تعالیٰ‘ انبیاء علیہم السلام اور خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی بارگاہ میں گستاخیاں کرتا ہے اور استخفاف اور استہزاء کے کلمات ادا کرتا ہے تو قاضی ابو عمرو اور دیگر فقہاء نے اس کو عدالت میں طلب کیا اور اس کی گستاخیوں کے ثبوت کے بعد اس کے قتل اور پھانسی کا حکم دیا‘ چنانچہ پہلے اس کے پیٹ میں چھری ماری گئی اور اس کے بعد اس کو اٹھا کر سولی پر لٹکایا گیا۔ بعد میں اس کی نعش سولی سے اتار کر جلا دی گئی“۔ (”الشفاء“ جلد دوم‘ ص ۳۷۸ از
قاضی عیاض مالکیؒ)
پادری یولوجینس کا قتل:
اے ہسٹری آف سپین کے مصنف لیور مور لکھتے ہیں:
”قرطبہ کے اس پادری (یولوجینس) نے ۸۵۰ء میں سرعام پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی گستاخی اور بے ادبی کی تحریک کا آغاز کیا۔“ (”اے ہسٹری آف سپین“ ص ۷۷)
یہ امیر عبدالرحمان کا دور حکومت تھا۔ لین پول ”اسٹوری آف دی نیشنز: مورز“ کے مصنف لکھتے ہیں:
”یہ (پادری یولوجینس) اپنی مجنونانہ حرکتوں سے باز نہ آیا اور امیر عبدالرحمان کے فرزند ارجمند (امیر محمد) کے ہاتھوں کیفر کردار کو پہنچا۔“ (لین پول ”اسٹوری آف دی نیشنز: مورز“ جلد ۲ ص ۹۳-۹۴)
لیور مور لکھتے ہیں:
”یولوجینس کا سر ۸۵۹ء میں قلم کیا گیا۔“ (”اے ہسٹری آف سپین“ ص ۷۷)
پادری یولوجینس کی محبوبہ فلورا کا قتل:
”فلورا قرطبہ کی ایک نوجوان اور حسین دوشیزہ تھی۔ اس نے تحریک شتم رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا...... یہیں اس کی ملاقات یولوجینس پادری سے ہو گئی جو اس کے عشق میں پھنس گیا۔ کافی عرصہ کے بعد ایک دن کلیسا گئی اور وہاں ”میری“ نامی عیسائی لڑکی سے ملی۔ وہ بھی اس کی طرح آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی شان میں نازیبا الفاظ کہتی تھی۔ چنانچہ دونوں قاضی کے پاس آئیں اور آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی شان میں گستاخانہ کلمات پے در پے کہے۔ قاضی نے ان کو باز رہنے کی تلقین کی‘ پھر گرفتار کر کے قید خانے میں بھیج دیا جہاں یولوجینس پہلے ہی قید تھا۔ یہ دونوں لڑکیاں گستاخی کا ارتکاب کرتی رہیں۔ چنانچہ ۲۴/ نومبر ۸۵۱ء کو انہیں قتل کر دیا گیا۔“ (”عبرت نامہ اندلس“ جلد ۱‘ ص ۴۹۰-۴۹۱ ”تاریخ اندلس“ از سید ریاست علی)
یولوجینس نے اپنی محبوبہ کے قتل پر اسی روز ایک درد بھرا گیت لکھا تاہم لین پول فلورا
کے قتل پر اپنی رائے کا اظہار یوں کرتے ہیں: ”فلورا اگر کسی جائز مقصد پر اپنی جان قربان کرتی تو اس سے زیادہ ناموری کی مستحق تھی“۔ (لین پول ”مسلمان اندلس میں“ مترجم منشی حامد علی، ص ۱۴۵)
پرفیکٹس کا قتل:
”پرفیکٹس، سینٹ ایکس کلولس کے گرجا کا ایک پادری تھا۔ عربی زبان پر مہارت رکھتا تھا۔ ایک دن بازار میں کچھ خریدنے نکلا، وہاں چند مسلمانوں سے گفتگو کرنے لگا۔ معمولی بات چیت کے بعد مذہب کا ذکر چھڑا۔ مسلمانوں نے پادری سے کہا ”تم ہمارے رسول مقبول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور مسیح علیہ السلام کے بارے میں کیا رائے رکھتے ہو؟“ پادری نے کہا ”مسیح میرا خدا ہے۔ تم اپنے پیغمبر ﷺ کی نسبت نہ پوچھو کہ ہم عیسائی ان کے بارے میں کیا خیال رکھتے ہیں“۔ جب مسلمانوں نے قاضی کو اس کی گفتگو نہ بتانے کا یقین دلایا تو اس نے آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے متعلق نازیبا کلمات کہے اور ان ﷺ پر سب و شتم کیا۔ ایک دن جب وہ سڑک پر جا رہا تھا تو ان لوگوں نے، جن کے سامنے اس نے بیہودہ الفاظ کہے تھے، مسلمانوں کو اس کی نازیبا حرکت کی اطلاع دے دی۔ لوگ اسے پکڑ کر قاضی کے پاس لے گئے اور قاضی سے فریاد کی کہ اس پادری نے ہمارے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی شان میں نہایت بے ادبی کے الفاظ کہے ہیں۔ قاضی نے پادری سے پوچھا تو اس نے کانپتے ہوئے قطعا انکار کر دیا۔ لیکن قاضی نے شرع کے مطابق اس کے قتل کا حکم سنایا اور اسے بیڑیاں پہنا کر جیل بھیج دیا، جہاں اس شاتم رسول (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) نے پھر اپنی سابقہ روش کا اعادہ کیا۔ چنانچہ مقررہ دن اس کا سر قلم کر دیا گیا“۔ (”عبرت نامہ اندلس“ جلد اول، ص ۴۷۱-۴۷۲ لین پول کی ”مسلمان اندلس میں“ ص ۱۳۱)
راہب اسحاق کا قتل:
”اسحاق قرطبہ کے عیسائی ماں باپ کا بیٹا تھا۔ عربی زبان خوب جانتا تھا۔ ابھی نوعمر ہی تھا کہ امیر عبدالرحمان کے دربار میں اس کو کاتب کی جگہ مل گئی لیکن ۲۴ برس کی عمر میں دنیا سے کنارہ کش ہو کر مبانوس کی مسیحی خانقاہ میں گوشہ نشین ہو گیا
جہاں متعصب پادریوں کی تصانیف کا مطالعہ کرنے کی وجہ سے اس کے دل میں جوش پیدا ہوا کہ وہ اپنی جان دے کر بزرگی حاصل کرے۔ ایک دن وہ خانقاہ سے نکل کر قرطبہ پہنچا اور قاضی کے سامنے آکر کہا ”میں آپ کا دین قبول کرنا چاہتا ہوں، مہربانی کرکے آپ مجھے اس کی ہدایات کریں“۔ قاضی اس سے خوش ہو کر اسے دین اسلام کے متعلق بتانے لگا۔ اس نے برملا حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر سب و شتم کیا۔ جب قاضی نے سمجھایا تو اس کو بھی برا بھلا کہا۔ قاضی نے اسے جیل بھیج دیا۔ امیر عبدالرحمان نے اس گستاخ رسول (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کی بابت حکم جاری کیا کہ اسے پھانسی دی جائے اور اس کی لاش کو کئی دن تک پھانسی پر اس طرح لٹکا رہنے دیا جائے کہ سر نیچے اور پاؤں اوپر ہوں۔ اس کے بعد لاش جلا کر اس کی راکھ دریا میں بہادی جائے۔ چنانچہ جون ۸۵۱ء میں ان احکام کی تعمیل ہوئی“۔ (”عبرت نامہ اندلس“ ص ۴۷۹-۴۸۱)
ایک اور گستاخ کا قتل:
”اسحاق کے قتل کے دو دن بعد ایک افرنجی عیسائی نے، جس کا نام ”سانچو“ تھا اور امیر عبدالرحمان کی فوج محافظ کا ایک سپاہی اور پادری یولوجیس کا شاگرد تھا، پیغمبر اسلام (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کو گالیاں دیں اور قتل ہو کر جہنم واصل ہوا“۔ (”عبرت نامہ اندلس“ جلد اول، ص ۴۸۱)
”لین پول نے اس مردود کا نام ”سانچو“ لکھا ہے“۔ (بحوالہ ”مسلمان اندلس میں“ ص ۱۳۳ از لین پول)
عیسائی جنون کا ایک اور مظاہرہ اور سزائے موت:
”سانچو کے قتل کے بعد اتوار کے دن (۷ / جون ۸۵۱ء) چھ راہب، جن میں ایک اسحاق کا چچا جرمیاس اور دوسرا ایک راہب جان بتوس تھا، جو اپنے حجرے میں تنہا پڑا رہتا تھا...... قاضی کے سامنے آئے اور کہا ”ہم بھی اپنے دینی بھائیوں سانچو اور اسحاق کے الفاظ کا اعادہ کرتے ہیں“ اور پھر پیغمبر اسلام علیہ الصلوۃ والسلام پر سب و شتم کرنے لگے۔ یہ چھ کے چھ قتل کر دیے گئے“۔ (”عبرت نامہ اندلس“ جلد اول، ص ۴۸۱)
لین پول نے بھی اپنی تصنیف میں اس واقعہ کا ذکر کیا ہے۔
سیسی نند کا قتل:
"سنٹ ایکس کلوس کے گرجا کا ایک پادری جس کا نام سیسی نند تھا‘ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی گستاخی کا مرتکب ہو کر واصل جہنم ہوا"۔ (ایضاً)
پولوس کا قتل:
"پولوس‘ سنٹ ایکس کلوس کے گرجا میں شماس تھا۔ سیسی نند نے قتل ہوتے وقت اسے اس ذلت کی موت مرنے کی وصیت کی تھی‘ چنانچہ یہ لعین بھی سیسی نند کے قتل کے چار دن بعد ۲۰ / جولائی کو حضور سید عالم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے خلاف نازیبا کلمات کہنے کے باعث قتل کر دیا گیا"۔ (ایضاً‘ ص ۴۸۲)
تھیوڈو میر کا قتل:
"تھیوڈو میر شہر قرمونہ کا ایک جوان راہب تھا۔ توہین رسول (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کا مرتکب ہو کر مسلم حکومت کے حکم سے قتل ہوا"۔ (ایضاً)
آئزک کا قتل:
"پرفیکٹس کی طرح آئزک بھی قاضی کی عدالت میں حاضر ہوا اور اسلام قبول کرنے کا ارادہ ظاہر کیا۔ جیسے ہی اس کو مسلمان کرنے کے لیے دینی عقائد اس کے سامنے بیان کیے گئے‘ اس نے سب و شتم شروع کر دیا۔ قاضی کے لیے برداشت کرنا دشوار ہو گیا۔ اس نے اس ذلیل کو طمانچہ رسید کر کے کہا‘ جانتا ہے کہ اسلام میں اس کی سزا قتل ہے۔ اس نے کہا کہ وہ جان بوجھ کر یہاں آیا ہے۔ اس لیے کہ خدا فرماتا ہے کہ مبارک ہیں وہ لوگ جو دینداری کے لیے ستائے گئے۔ آسمان کی بادشاہت انہی کے لیے ہے۔ اس شاتم رسول (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کو بھی قتل کر دیا گیا"۔ ("تاریخ اندلس" از سید ریاست علی ندوی‘ نیشنل بک فاؤنڈیشن‘ اسلام آباد)
جس بے باکی اور بد معاشی کا مظاہرہ مذکورہ گستاخان رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے
اس دور میں کیا، اگر اس سارے فرش زمین کا سیاہ ترین دور تصور کر لیا جائے تو بے جا نہ ہو گا مگر جہاں اس سیاہ دور کی بدبختی کا قلق دامن گیر ہے، وہاں اسلامی حکمرانوں کے جرات مندانہ فیصلے سیاہ رات میں ستاروں کی مانند چمکتے نظر آتے ہیں اور ان ستاروں کی چمک ہی میں منزلوں کے آثار پنہاں ہیں۔
محمد عنایت اللہ اس دور کے اعداد و شمار بیان فرماتے ہیں:
”شتمت رسول (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کی یہ تحریک امیر عبدالرحمان الاوسط کے دور میں شروع ہوئی اور اس کے فرزند ارجمند امیر محمد بن عبدالرحمان کے عہد میں اپنے انجام کو پہنچی۔ دونوں باپ بیٹوں نے توہین رسول (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کا ارتکاب کرنے والوں کو موت کے گھاٹ اتارنے کا حکم دیا۔ یہ تحریک ۸۵۰ عیسوی میں شروع ہوئی اور ۸۶۰ عیسوی میں ختم ہو گئی۔“ (”اندلس کا تاریخی جغرافیہ“ از محمد عنایت اللہ، ص ۳۱‘ ٹریڈ سنٹر لاہور)
ہیرلڈ لیور مور ”اے ہسٹری آف سپین“ میں بہت سے عیسائی گستاخوں کے قتل کا ذکر کرتے ہیں۔
(شتمت سرکار کی کوششیں اور مسلمان حکمران“ ماہنامہ ”نعت“ لاہور، جلد ۴، شمارہ ۵)۔۔
(”اے ہسٹری آف سپین“ ص ۷۷ انگریزی جان دلون اینڈ دنوں، لندن)
”این میری شمل، بھی عیسائی گستاخوں کی دانستہ طور پر پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی بے ادبی کرنے کی سزا میں قتل ہونے کی طرف اشارہ کرتی ہیں۔“۔
(ایضاً بحوالہ ”این میری شمل محمد اینڈ از ہز میسنجر“ ص ۶۵، انگریزی)
”انسائیکلوپیڈیا برٹانیکا میں ۵۳ افراد کے شاتمِ رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی پاداش میں قتل کیے جانے کا تذکرہ ملتا ہے۔“۔ (ایضاً بحوالہ ”دی انسائیکلوپیڈیا برٹانیکا“ ۲۸:۳۱، انگریزی)
اسٹینلے لین پول لکھتے ہیں:
”۸۵۱ء کے موسم گرما کے دو مہینے سے کم عرصہ کے اندر گیارہ گستاخوں کو موت کی نیند سلا دیا گیا۔“۔ (ماہنامہ ”نعت“ لاہور۔۔ ”شتمت سرکار ﷺ کی کوششیں اور مسلمان حکمران“ از محمد سلطان شاہ ایم۔ اے۔۔ ”مسلمان اندلس میں“ ص ۱۳۳ مترجم منشی حامد علی صدیقی، ایچ ایم سعید کمپنی، کراچی)
مغلیہ دور حکومت میں گستاخ رسول ﷺ کو سزائے موت:
ملا عبد القادر بدایونی لکھتے ہیں:
”عبد الرحیم قاضی متھرا نے شیخ (شیخ عبد الغنی چیف جسٹس) کے پاس ایک استغاثہ بھیجا جس میں بیان کیا گیا کہ وہاں مسلمان ایک مسجد کی تعمیر کا ارادہ کیے ہوئے ہیں لیکن ایک سرکش برہمن نے سارا عمارتی سامان اٹھوا لیا اور اسی سامان سے بت خانے کی تعمیر شروع کروا دی۔ میں نے جب اس کے خلاف تادیبی کارروائی کا اعادہ کیا تو اس نے گواہوں کی موجودگی میں حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو برا بھلا کہنا شروع کر دیا اور مسلمانوں کی اس نے سخت توہین کی۔ شیخ عبد الغنی نے اس کو طلب کیا لیکن اس نے پیش ہونے سے انکار کر دیا۔ جس پر بادشاہ (اکبر) نے بیربل اور شیخ ابو الفضل کو بھجوایا اور وہ اسے لے آئے۔ شیخ ابو الفضل نے جو کچھ گواہوں سے سنا تھا‘ بیان کیا اور کہا کہ اس بات کی تحقیق ہو گئی ہے کہ اس نے گالیاں بکی تھیں۔ اس کی سزا کے معاملہ میں علماء کے دو گروہ ہو گئے۔ ایک گروہ نے اسے واجب القتل قرار دے کر سزائے موت کا مطالبہ کیا اور دوسرا اس کے خلاف‘ تعزیر اور جرمانے پر زور دے رہا تھا۔ اس معاملہ میں بحث طول پکڑ گئی۔ شیخ نے بادشاہ سے اس کے قتل پر اصرار کیا۔ بادشاہ نے صراحتا اس کے قتل کی اجازت نہ دی اور گول مول کہہ دیا کہ یہ شرعی مسئلہ ہے‘ سزاؤں کا تعلق تم سے ہے۔ ہم سے کیا پوچھتے ہو؟ وہ برہمن مدتوں اس جھگڑے میں قید میں پڑا رہا۔ شاہی محل کی بیگمات اس کی رہائی کے لیے سفارشیں کرتی رہیں لیکن بادشاہ شیخ کا بہت لحاظ کرتا تھا‘ اس لیے اس نے رہائی کا حکم بھی نہ دیا۔ شیخ نے جب اس کے قتل کے لیے اصرار کیا تو بادشاہ نے وہی جواب دیا کہ ہم تو تم سے پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ تم جو مناسب جانو کرو! اس کے بعد فورا ہی شیخ عبد الغنی نے اس برہمن (گستاخ رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کے قتل کا حکم دے دیا۔ چنانچہ اس کی تعمیل میں اس کی گردن مار دی گئی“۔ (”منتخب التواریخ“ از ملا عبد القادر بدایونی)
۱۷۴۳ء میں ایک اور گستاخ کو قتل کیا گیا:
ایک ہندو مورخ اس واقعہ کو اپنے الفاظ میں یوں بیان کرتے ہیں:
”حقیقت رائے باگھ مل پوری سیالکوٹ کے کھتری کا پندرہ سالہ لڑکا تھا، جس کی شادی بٹالہ کے کشن سنگھ بھٹہ نامی سکھ کی لڑکی کے ساتھ ہوئی تھی۔ حقیقت رائے مسلمانوں کے سکول میں داخل کیا گیا، جہاں ایک مسلمان استاد نے ہندو دیوتاؤں کے بارے میں کچھ توہین آمیز باتیں کیں۔ حقیقت رائے نے اس کے خلاف احتجاج کیا اور اس نے بھی انتقاماً پیغمبر اسلام (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) اور بی بی فاطمہؓ کی شان میں نازیبا الفاظ استعمال کیے۔ اس جرم میں حقیقت رائے کو گرفتار کر کے لاہور عدالتی کارروائی کے لیے بھیجا گیا۔ اس واقعہ سے پنجاب کی ساری غیر مسلم آبادی کو شدید دھچکا لگا۔ کچھ ہندو افسر زکریا خان کے پاس پہنچے (جو اس وقت گورنر لاہور تھا) کہ حقیقت رائے کو معاف کر دیا جائے۔ لیکن زکریا خان نے کوئی سفارش نہ سنی اور سزائے موت کے حکم پر نظر ثانی سے انکار کر دیا۔ جس کے اجراء میں پہلے مجرم کو ایک ستون سے باندھ کر اسے کوڑوں کی سزا دی گئی، اس کے بعد اس کی گردن اڑا دی گئی“۔ (”پنجاب ۔۔ آخری مغل دور حکومت میں“ ص ۱۱۲)
معلوم ہوتا ہے کہ ستون سے باندھ کر کوڑوں کی سزا، اسے حضرت فاطمہؓ کی گستاخی کی وجہ سے دی گئی تھی اور قتل کی سزا اسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی گستاخی کرنے کی وجہ سے دی گئی۔
وہی ہندو مورخ آگے لکھتے ہیں:
”پنجاب میں بسنت کا میلہ اسی حقیقت رائے کی یاد میں منایا جاتا ہے“۔
(”پنجاب ۔۔ آخری مغل دور حکومت میں“ ص ۲۷۹)
اے کاش! زندہ دلان لاہور ”بسنت“ کی حقیقت سے آشنا ہو جائیں اور اس مکروہ رسم پر لاکھوں اور کروڑوں روپے خرچ کر کے لاشعوری طور پر بھی قہر خداوندی کو آواز دینے سے بچ جائیں!
سلطنت مغلیہ کا سورج جب غروب ہو چلا اور انگریز شاطر ہندوستان کے طول و عرض پر براجمان ہو گیا تو وہ قانون جو مسلمانوں کے زخموں کا مرہم تھا، اسے یکسر ختم کر دیا۔ چنانچہ محمد اسماعیل قریشی سینئر ایڈووکیٹ سپریم کورٹ لاہور اپنے ایک مضمون ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے گستاخ کی سزا پر بے جا اعتراض“ میں لکھتے ہیں:
”سلطنت مغلیہ کے سقوط کے بعد ۱۸۶۰ء میں جب برٹش گورنمنٹ نے توہین
رسالت کے قانون کو منسوخ کیا تو مسلمان سرفروشوں نے اس قانون کو اپنے ہاتھ میں لے لیا اور گستاخان رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو قتل کر کے انہیں کیفر کردار تک پہنچاتے رہے۔“۔ (”ناموس رسالت اور قانون توہین رسالت“ از محمد اسماعیل قریشی‘ ص ۴۶۸-۴۶۷)
اس حوالے سے یہ وضاحت ہو گئی کہ ۱۸۶۰ء سے قبل ہندوستان میں توہین رسالت کی سزا‘ سزائے موت کا قانون موجود تھا۔
حکومت سعودی عرب کا فتویٰ:
شیخ عبدالعزیز بن باز‘ رئیس الدعوۃ والارشاد والافتاء حکومت سعودی عربیہ اپنی تصنیف ”حکم الاسلام“ میں لکھتے ہیں:
”جو شخص قرآن پر طعن کرے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا مذاق کرے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی شان میں گستاخی کرے‘ وہ مرتد اور واجب القتل ہے“۔ (حکم الاسلام)
حکومت ایران کے پیشوا ”امام خمینی“ کا فتویٰ نقل کرنے کے ساتھ ایک حکایت لکھنے پر مجبور ہوں۔
”کہتے ہیں کہ امام اعظم‘ امام ابو حنیفہؒ کے دور میں ایک ملعون رافضی تھا۔ اس نے دو خچر پال رکھے تھے۔ ایک کا نام اس نے ابو بکر (معاذ اللہ) اور دوسرے کا نام عمر (معاذ اللہ) رکھا ہوا تھا۔ امام صاحبؒ کے علم میں بھی یہ بات تھی۔
ایک روز ایک آدمی باہر سے دوڑتا ہوا امام صاحبؒ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کی کہ اس رافضی کو ان دو خچروں میں سے ایک نے لات ماری اور وہ ملعون مرگیا۔
امام صاحبؒ نے کہا جاؤ تحقیق کرو اسے لات اس خچر نے ماری ہو گی کہ جس کا نام اس نے عمر رکھا ہوا تھا۔
تحقیق کی گئی تو ایسا ہی تھا۔ لوگوں نے امام صاحبؒ سے دریافت کیا کہ حضرت آپ کو یہ کیسے علم ہو گیا تھا کہ وہ رافضی اس خچر کے لات مارنے سے مرا ہے‘ جس کا نام اس نے عمر رکھا ہوا تھا؟
امام صاحبؒ نے تاریخی جملہ ارشاد فرمایا کہ ”نام کا اثر ہوتا ہے“۔
”رشدی“ ملعون کی موت کا فتویٰ بنام ”اسلامی جمہوریہ ایران“ ہی کا اثر معلوم ہوتا ہے ورنہ
اسلامی جمہوریہ پاکستان کی وفاقی شرعی عدالت کا تاریخ ساز فیصلہ:
جناب جسٹس گل محمد خان چیف جسٹس رقم طراز ہیں:
”کوئی شخص بذریعہ الفاظ زبانی‘ تحریری یا اعلامیہ‘ اشارتاً‘ کنایتاً‘ بہتان تراشی کرے اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاک نام کی بے حرمتی کرے‘ اسے سزائے موت یا سزائے عمر قید دی جائے گی اور وہ جرمانہ کا بھی مستوجب ہوگا“۔
آگے لکھتے ہیں:
”اس دفعہ کے خلاف صریح اعتراض یہ ہے کہ اس میں متبادل سزا‘ سزائے عمر قید‘ ان احکامات اسلامی کے خلاف ہے جو قرآن حکیم اور سنت رسول اللہ میں دیے گئے ہیں۔ جو نکتہ اعتراض اٹھایا گیا ہے‘ وہ یہ ہے کہ رسالت مآب صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی شان میں کسی قسم کی کوئی بے ادبی یا اہانت آمیز بات شرعی حد کے دائرے میں آتی ہے اور اس کی سزا قرآن اور سنت میں بطور حد مقرر ہے‘ جس میں کوئی تبدیلی یا ترمیم نہیں کی جاسکتی“۔ (”گستاخ رسول ﷺ کی سزا قتل“ مترجم محمود عالم قریشی‘ ص ۱۱-۱۲‘ ناشر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان) عزت مآب جسٹس گل محمد خان اپنے اس فیصلے میں قرآن و سنت اور فقہ کے دلائل نقل کرنے کے بعد آخر میں یوں رقم طراز ہیں‘ جس کا ایک ایک لفظ آب زر سے لکھنے کے قابل ہے:
”مندرجہ بالا بحث کے پیش نظر ہماری رائے ہے کہ عمر قید کی متبادل سزا‘ جیسا کہ دفعہ ۲۹۵ سی پاکستان ضابطہ تعزیرات میں مقرر ہے‘ احکامات اسلام سے متصادم ہے جو قرآن پاک اور سنت میں دیے گئے ہیں‘ لہٰذا یہ الفاظ حذف کر دیے جائیں۔
ایک شق کا مزید اضافہ اس دفعہ میں کیا جائے‘ تاکہ وہی اعمال اور چیزیں جب دوسرے پیغمبروں کے متعلق کہی جائیں‘ وہ بھی اسی طرح مستوجب جرم بن جائے
جو اوپر تجویز کی گئی ہے۔ اس حکم کی ایک نقل صدر پاکستان کو دستور کی آرٹیکل ۲۰۳ (۳) کے تحت ارسال کی جائے، تاکہ قانون میں ترمیم کے اقدامات کیے جائیں اور اسے احکامات اسلامی کے مطابق بنایا جائے۔ اگر ۳۰ / اپریل ۱۹۹۱ء تک ایسا نہیں کیا جائے تو ”عمر قید“ کے الفاظ دفعہ ۲۹۵ سی تعزیرات پاکستان میں اس تاریخ سے غیر موثر ہو جائیں گے“۔ (10 Vol XLIII Page مترجم محمود عالم قریشی ایڈووکیٹ بحوالہ ”گستاخ ...P.L.D - FSC - 1991, رسول ﷺ کی سزا۔۔ قتل“ ص ۳۹‘ ناشر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان) اس کی مزید تفصیلات ”گستاخ رسول کی سزا‘ پاکستان میں آئینی تحریک“ کے باب میں آ رہی ہیں۔
آزاد کشمیر میں توہین رسالت کے قانون کا نفاذ:
ہفت روزہ ”لولاک“ فیصل آباد کے اداریہ میں آزاد کشمیر اسمبلی کے اس مستحسن قدم کو یوں سراہا گیا ہے:
”آزاد کشمیر اسمبلی نے متفقہ طور پر توہین رسالت سمیت بعض اہم قوانین کی منظوری دے کر مستحسن قدم اٹھایا ہے۔ آزاد کشمیر اسمبلی نے جن قوانین کی منظوری دی ہے‘ وہ حسب ذیل ہیں:
- ☆ توہین رسالت ماب صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم
- ☆ اغوا برائے تاوان
- ☆ قرآن مجید کی توہین کی سزا
- ☆ سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے کی سزا
آزاد کشمیر اسمبلی مبارکباد کی مستحق ہے کہ اس نے توہین رسالت ماب صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور توہین قرآن کے ضمن میں قانون کی منظوری دے کر تاریخ ساز فیصلہ دیا ہے۔ آزاد کشمیر میں مندرجہ بالا قوانین کے نفاذ کے بعد توہین رسالت ماب صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا ارتکاب کرنے والے افراد کو سزائے موت جبکہ قرآن مجید اور سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے والے افراد کو عمر قید اور جرمانے کی سزائیں دینے کا اعلان کیا گیا ہے۔ اس مقصد کے لیے آزاد کشمیر اسمبلی نے آزاد کشمیر میں نافذ العمل تعزیرات پاکستان ۱۹۸۶ء کی دفعات میں ترمیم کی منظوری
دی ہے۔ توہین رسالت ماب صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ضمن میں پاکستان کی قومی اسمبلی میں بھی قانون سازی ہو چکی ہے“۔ (اداریہ ہفت روزہ ”لولاک“ فیصل آباد، جلد ۳۰، شمارہ ۳۴)
بارہواں باب
گستاخی رسول ﷺ پر خدائی فیصلے
جس کا تماشہ چشم فلک کرے۔
جس کی ہونی پہ اختیار کسی بشر کو نہ ہو۔
جو انہونی لگے۔ وہ امر‘ خدائی فیصلہ کہلاتا ہے۔
خدا کی تلاش میں نکلنا اور خدا کو پالینا۔
مقدر کی بات ہے۔
لیکن کبھی کبھی خدا خود اپنی حقیقت کے اظہار کے لیے بنی آدم کے قلوب پر دستک دیتا ہے۔ ایسے میں جو دل جاگتا ہو اور اس دستک پر لبیک پکارے‘ معرفت خداوندی اس پر آشکارا ہونے لگتی ہے۔
وہ راز کہ جو رضائے رب کی خلوتوں میں پنہاں ہوتا ہے‘ مصطفوی ناموس کے تحفظ کی جلوتوں میں زمین پر اتارا جاتا ہے۔
گستاخی رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر خدائی فیصلوں کا اطلاق‘ سنت خداوندی کی وہ روشن شاہراہ ہے کہ جس پر چلنے سے انسانیت کو اپنی ابدی بقاء کی ضمانت ملتی ہے۔
گستاخی رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر خدائی فیصلوں کے ضمن میں پہلا حوالہ حضرت پیر محمد کرم شاہ الازہری کی تفسیر ”ضیاء القرآن“ سے نقل کیا جاتا ہے۔
پیر محمد کرم شاہ الازہری لکھتے ہیں:
”مفسرین کرام لکھتے ہیں کہ عقبہ بن ابی معیط جب کبھی سفر سے واپس آتا تو دعوت عام کرتا جس میں اہل مکہ شریک ہوتے۔ یہ اکثر حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوتا۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی باتیں سنتا اور انہیں پسند کرتا۔ ایک دفعہ وہ سفر سے واپس آیا تو اس نے حسب دستور دعوت
طعام کا اہتمام کیا اور حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو بھی دعوت دی۔ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا، جب تک تو مشرف بہ اسلام نہ ہو، میں تیری دعوت قبول نہیں کروں گا۔ چنانچہ اس نے کلمہ شہادت پڑھا اور اپنے اسلام کا اعلان کر دیا۔ ابی بن خلف سے عقبہ کا بڑا یارانہ تھا۔ اس نے سنا تو آ کر کہا: اے عقبہ ! سنا ہے کہ تو مرتد ہو گیا ہے۔
اس نے کہا: ہرگز نہیں! میں نے محض ایک غرض کے لیے اسلام کا اظہار کیا ہے۔ ابی کہنے لگا: میں اس وقت تک تم سے راضی نہیں ہوں گا، جب تک تو اس کے پاس جا کر ایسی ایسی گستاخیاں نہ کرے۔ عقبہ اپنے یار کو خوش کرنے کے لیے حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس گیا اور وہ ساری گستاخیاں کیں، جن کی فرمائش اس کے یار نے کی تھی۔ یہاں تک کہ اس نے رخ انور پر تھوک دیا، لیکن اللہ تعالیٰ نے اسی تھوک کو آگ کا انگارا بنا کر لوٹایا اور اس کے منہ پر دے مارا، جس سے اس کا منہ جل گیا اور مرتے دم تک گالوں پر داغ رہا۔ حضور علیہ السلام نے فرمایا: جب سرزمین مکہ سے باہر تیری ملاقات ہو گی تو تیرا سر تلوار سے اڑاؤں گا۔
یہ بات اس کے دل میں تیر کی طرح پیوست ہو گئی۔ کئی سال بعد جب اہل مکہ بدر کی طرف جانے لگے تو اس نے پہلو تہی کرنا چاہی اور کہا: تم کو معلوم ہے اس شخص نے مجھے جو دھمکی دی تھی اور جو بات اس کے منہ سے نکلتی ہے، پوری ہو کر رہتی ہے۔ مجھے یہیں رہنے دو۔ انہوں نے کہا: تم عجیب آدمی ہو۔ پہلے تو اس کے غالب آنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا اور اگر بالفرض محال کوئی ایسی صورت پیش آ بھی گئی تو تمہارے پاس تیزا تیز رفتار سرخ اونٹ ہے۔ اس پر سوار ہو کر آجانا۔ چنانچہ اسے اپنی بدبختی لے گئی۔ کفر کو شکست ہوئی۔ یہ اپنے اونٹ کو لے کر بھاگا۔ لیکن وادیوں کے پیچ و خم میں الجھ کر رہ گیا اور گرفتار کر لیا گیا۔ چنانچہ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے حکم سے سیدنا علی کرم اللہ وجہہ نے اس کا سر قلم کر دیا۔ قیامت کے روز جب یہ قبر سے اٹھے گا تو اس کی حسرت و ندامت کی یہ حالت ہو گی جو اس آیت کریمہ سے واضح ہے:
- یویلتی لیتنی لم اتخذ فلانا خلیلا O (الفرقان)
"ہائے افسوس! کاش نہ بنایا ہوتا فلاں کو دوست اپنا"۔
(تفسیر ضیاء القرآن، سورۃ الفرقان، آیت ۲۸ از پیر محمد کرم شاہ الازہری) عقبہ بن ابی معیط ملعون کا رخ انور پر تھوکنا اور رب تعالیٰ کا اس کے تھوک کو انگاروں میں بدل کر اس کے منہ پر واپس مارنا اور تادم مرگ ان انگاروں کے جلنے کے داغ منہ پر لیے رہنا اور پھر اس موقع پر رحمت عالم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا ارشاد فرمانا کہ جب سر زمین مکہ سے باہر تیری ملاقات ہوگی تو تیرا سر تلوار سے اڑاؤں گا۔ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی اس پیشین گوئی کو اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت کاملہ اور خدائی فیصلے کے ظہور کے ساتھ ہی پورا فرمایا۔
اللہ کے کتوں میں سے ایک کتے نے دشمن رسول ﷺ کا کام تمام کر
دیا:
”بیہقی، حاکم اور ابن اسحاق نے روایت کی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ابولہب کے بیٹے عتبہ پر بددعا فرمائی کہ اے اللہ! ان پر اپنے کتوں میں سے کوئی کتا مسلط فرمادے۔ چنانچہ عتبہ کو شیر نے ہلاک کر دیا۔ بیہقی نے ”دلائل النبوت“ میں واقعہ کی تفصیل یہ لکھی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی صاحبزادی ام کلثوم رضی اللہ عنہا، عتبہ کے نکاح میں تھیں۔ جب قرآن کی سورۃ ”تبت یدا ابی لھب“ نازل ہوئی تو ابولہب نے اور اس کی بیوی حمالتہ الحطب نے اپنے دونوں بیٹوں سے کہا کہ تم محمد (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کی بیٹیوں کو طلاق دے دو ورنہ ہمارا تم سے کوئی تعلق نہ رہے گا۔
چنانچہ عتبہ نے ام کلثوم کو طلاق دے دی اور آنحضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سامنے جا کر اس نے طلاق کی خبر دی اور بہت بے ادبی کی باتیں کہیں۔ تب آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے بددعا فرمائی کہ ”اللهم سلط عليه کلبا من کلابک“ چنانچہ بددعا کا اثر جو ہوا، اس کا قصہ حاکم نے ابونوفل کی روایت سے بیان کیا ہے کہ ابولہب اور اس کا بیٹا عتبہ ملک شام کے سفر پر گئے تھے۔ راستے میں مقام زرقا پر ایک راہب کے مکان کے پاس دونوں ٹھہرے۔ راہب نے کہا، یہاں درندے بہت رہتے ہیں، تم اپنے بچاؤ کا سامان کر لینا۔ ابولہب نے اپنے ساتھیوں سے کہا: محمد (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) نے عتبہ کو بددعا کی ہے، اس لیے اس کو حفاظت سے رکھنے کی ضرورت ہے۔ چنانچہ سارا سامان
اکٹھا کر کے خوب اونچائی پر عتبہ کو سلایا اور سب آس پاس نگرانی کے لیے سوئے۔ رات میں ایک شیر آیا۔ اس نے ہر ایک کا منہ سونگھ کر چھوڑ دیا اور کود کر عتبہ کا سر چبا ڈالا۔ یہ شیر آنحضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی بددعا پر خدا کی طرف سے آیا تھا‘ اس لیے آس پاس والوں کو چھوڑ کر عتبہ کو ہلاک کر گیا اور چونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ دشمنی کی وجہ سے عتبہ کا گوشت خباثت سے بھرا ہوا تھا‘ اس لیے اس کے گوشت کو شیر نے نہ کھایا۔ ابولہب کے دوسرے دو بیٹے عتیبہ اور معتب فتح مکہ کے موقع پر اسلام میں داخل ہو گئے تھے۔ شیر کے گوشت نہ کھانے سے معلوم ہوا کہ شیر کا تقرر صرف دشمن رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے انتقام تھا اور بس"۔ (تفسیر ابن کثیر‘ سورۃ نجم)۔۔("معجزات رسول ﷺ " ص ۱۴۵-۱۴۶ از مولانا احمد سعید دہلویؒ)
ابولہب کا انجام:
”ایک مرتبہ رحمت عالم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کوہ صفا پر چڑھ کر سب کو پکارا۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی آواز پر تمام لوگ جمع ہوگئے۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے دعوت توحید پیش کی۔ ابولہب جھٹ بولا: ”کیا تو نے ہمیں اس لیے جمع کیا تھا؟“
بعض روایات میں ہے کہ ہاتھ جھٹک کر کہنے لگا: ”تو برباد ہو جائے‘ کیا ہم کو اس لیے جمع کیا تھا؟“
اور ”روح المعانی“ میں بعض نے نقل کیا ہے کہ اس نے ہاتھوں پر پتھر اٹھایا کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی طرف پھینکے۔ غرض اس کی شقاوت اور حق سے عداوت انتہا کو پہنچ چکی تھی۔ اسے جب اللہ کے عذاب سے ڈرایا جاتا تو کہتا کہ ”اگر سچ مچ یہ بات ہونے والی ہے تو میرے پاس مال اور اولاد بہت ہے‘ ان سب کو فدیہ دے کر عذاب سے چھوٹ جاؤں گا“۔ ابولہب پیغمبر اسلام کا حقیقی چچا تھا مگر یہ قرابت بھی اس کو تباہی سے نہ بچا سکی کہ یہ گستاخ تھا۔
ابولہب ہاتھ جھٹک کر باتیں بناتا اور قوت بازو پر مغرور ہو کر خدا کے مقدس و معصوم رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی استہزاء کرتا۔ اس پر اللہ کریم نے ”سورۃ لہب“ نازل
فرمائی۔ ارشاد فرمایا:
ترجمہ: ”ٹوٹ گئے ہاتھ ابی لہب کے اور ٹوٹ گیا وہ آپ۔ کام نہ آیا اس کو مال اس کا اور نہ جو اس نے کمایا۔ اب پڑے گا ایک بھڑکتی آگ میں اور اس کی جورو جو سر پر لیے پھرتی ہے ایندھن اس کی گردن میں رسی ہے مونجھ کی“۔ (”سورۂ لہب“ پارہ ۳۰)
”یہ سورۃ مکہ میں نازل ہوئی۔ کہتے ہیں کہ ”غزوۂ بدر“ کے سات روز بعد اس کے زہریلی قسم کا دانہ نکلا اور مرض کے خوف سے سب گھر والوں نے اسے الگ ڈال دیا۔ وہیں مر گیا اور تین روز تک لاش یونہی پڑی رہی۔ کسی نے نہ اٹھائی۔ جب سڑنے لگی‘ اس وقت حبشی مزدوروں سے اٹھوایا اور ایک گڑھا کھود کر لاش کو ایک لکڑی سے اس کے اندر ڈھلکا دیا‘ اوپر سے پتھر بھر دیے۔ یہ تو دنیا کی رسوائی اور بربادی تھی‘ مال اور اولاد‘ عزت و وجاہت کوئی چیز اسے نہ بچا سکی اور مرنے کے بعد سخت شعلہ زن آگ میں پہنچنے والا ہے“۔ (بحوالہ ہفت روزہ ”ختم نبوت“ کراچی‘ جلد ۸‘ شمارہ ۴۷‘ ص ۴)
حضرت پیر محمد کرم شاہ الازہری اس واقعہ کو یوں لکھتے ہیں:
”ابی لہب۔۔ یہ حضور علیہ السلام کا سگا چچا تھا اور آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا سخت دشمن تھا۔ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کوہ صفا پر اہل مکہ کو دعوت توحید دی تو اس پر اس نے حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے کہا کہ تم تباہ ہو جاؤ‘ تم نے ہمیں اس لیے جمع کیا تھا؟ جس کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: تبت یدا ابی لھب و تبo ”تباہ ہو جائیں ابولہب کے دونوں ہاتھ اور وہ تباہ ہو ہی گیا“۔ چنانچہ دنیا میں تو اس کا یہ حشر ہوا کہ اس کے زہریلی قسم کا ایک زہریلا چھالا (العدسہ) نکلا جو سارے جسم میں پھیل گیا۔ ہر جگہ سے بدبودار پیپ بہنے لگی۔ گوشت گل گل کر گرنے لگا تو اس کے بیٹوں نے گھر سے باہر پھینک دیا اور اس نے تڑپتے تڑپتے جان دے دی۔ اس کی نعش تین دن یونہی پڑی رہی اور لوگ اس کے تعفن اور بدبو سے تنگ آگئے اور اس کے بیٹوں کو لعنت ملامت کی تو انہوں نے چند حبشی غلاموں سے ایک گڑھا کھدوایا اور لکڑیوں سے اس کی لاش کو دھکیل کر گڑھے میں پھینک دیا اور اوپر سے مٹی ڈال دی۔ اس کا یہ حشر اللہ تعالیٰ کے غضب ہی کا نتیجہ تھا کہ مکہ کے چار رئیسوں میں سے ایک رئیس کا یہ
حشر ہو اور قیامت کے روز سیصلی نارا ذات لهبO "عنقریب وہ جھونکا جائے گا شعلوں والی آگ میں"۔
(تفسیر ضیاء القرآن، از پیر محمد کرم شاہ الازہری)
گستاخ رسول ﷺ کا سر پیشانی کے بالوں سے پکڑ کر بارگاہِ نبوی میں
لایا گیا:
علامہ شبلی نعمانیؒ لکھتے ہیں:
"ابو جہل کی شرارت اور دشمنی کا عام چرچا تھا۔ اس بنا پر انصار میں سے دو بھائیوں معاذؓ اور معوذؓ نے عہد کیا تھا کہ یہ شقی جہاں نظر آئے گا، اس کو مٹا دیں گے۔ حضرت عبد الرحمان بن عوفؓ کا بیان ہے کہ غزوۂ بدر میں، میں صف میں تھا کہ دفعتاً مجھ کو دائیں بائیں دو نوجوان نظر آئے اور مجھ سے کان میں پوچھا: چچا جان ابو جہل کون ہے؟ میں نے کہا: برادر زادے، ابو جہل کو پوچھ کر کیا کرے گا؟ بولا: میں نے خدا سے عہد کر رکھا ہے کہ ابو جہل کو جہاں دیکھوں گا، اسے قتل کر کے چھوڑوں گا۔ میں ابھی جواب نہیں دے پایا تھا کہ دوسرے نوجوان نے مجھ سے کانوں میں یہی بات کہی۔ میں نے دونوں کو اشارے سے بتایا کہ ابو جہل وہ ہے۔ بتانا تھا کہ دونوں باز کی طرح جھپٹے اور ابو جہل خاک پر تھا۔ یہ جوان عفرا کے بیٹے تھے۔۔۔غزوہ ختم ہونے پر حضور علیہ السلام نے حکم دیا کہ کوئی جا کر خبر لائے کہ ابو جہل کا کیا انجام ہوا؟ حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ نے جا کر لاشوں میں دیکھا تو زخمی پڑا ہوا دم توڑ رہا تھا۔ بولے تو ابو جہل ہے۔ اس نے کہا: ایک شخص کو اس کی قوم نے قتل کر دیا تو یہ فخر کی کیا بات ہے۔ یہ کہہ ہی رہا تھا کہ ابن مسعودؓ نے ابو جہل کی گردن پر پاؤں رکھا اور چھلانگ لگا کر اس کی چھاتی پر چڑھ بیٹھے۔
ابو جہل نے کہا: او بکری چرانے والے! دیکھ تو کہاں پاؤں رکھتا ہے۔
فرمایا: کہ تو وہ وقت بھول گیا جب میں بفرمانِ نبوی تیرے لیے وعید کی آیت لے کر تیرے پاس گیا تھا تو، تو نے مجھے تھپڑ مارا تھا اور لاتوں سے خوب پیٹا تھا۔ اب تیری ذلت کا سامان میرے ہاتھوں ہی ہو گا"۔ (”سیرت النبی“ مصنفہ شبلی نعمانی، جلد اول، ص ۳۲۵-۳۲۷)
امام طبری اس سے آگے کی تفصیل لکھتے ہیں: " ابو جہل نے پوچھا: فتح کس کی ہوئی؟ میں (ابن مسعودؓ) نے کہا: اللہ اور اس کے رسول کی۔ ابو جہل کہنے لگا: اپنے نبی سے کہنا کہ میں اپنے مذہب پر اب بھی قائم ہوں اور تجھ پر ایمان نہیں لایا اور کہا کہ میرا سر ذرا گردن کے نچلے حصے سے کاٹنا تاکہ قریش کے بقیہ سرداروں میں میرا سر اونچا دکھائی دے اور کہا کاش میرا سر کوئی ہاشمی جوان کاٹتا۔
حضرت ابن مسعودؓ نے ابو جہل کا سر کاٹ کر اس کی ناک میں رسی ڈال کر اور پیشانی کے بال گھسیٹتے ہوئے حضور علیہ السلام کے قدموں میں ڈال دیا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں اس کی اس کیفیت کو پہلے ہی بیان فرما دیا تھا۔
” ہاں ہاں‘ اگر باز نہ آیا تو ضرور ہم پیشانی کے بال پکڑ کر کھینچیں گے۔ کیسی پیشانی‘ جھوٹی‘ خطا کار “۔ (طبری‘ جلد اول‘ ص ۸۷)
پانچ گستاخ۔۔ خدائی شکنجے میں:
"اعلان نبوت کے بعد کفار مکہ نے ایک میٹنگ کر کے متفقہ طور پر منصوبہ تیار کیا کہ مکہ شہر کے باہر چند آدمیوں کو مقرر کیا جائے اور علیحدہ علیحدہ راستے پر بٹھا دیا جائے‘ خصوصاً ایام حج کے دوران جو آدمی بھی (باہر سے) کسی راستے سے شہر میں داخل ہوں تو ان کو محمد کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے متعلق بہکایا جائے اور منحرف کیا جائے۔ اس پر فریب منصوبہ کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لیے ایک ایک بات مقرر کر لیتے۔ کوئی کہتا جادوگر ہے‘ کوئی کہتا کذاب ہے اور کوئی کاہن کہتا۔ (نعوذ باللہ من ذالک)
یہ باتیں سن کر جب لوگ خانہ کعبہ کے دروازے پر آتے تو وہاں کفار مکہ کا بڑا افسر ولید بن مغیرہ مخزومی بیٹھا ہوتا تھا۔ سب سے خیریت کا حال پوچھتا اور حال دریافت کرتا۔ باہر سے آنے والے حضرات بھی ولید بن مغیرہ سے آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا حال پوچھتے اور کہتے کہ ہم نے ان کی نسبت ایسا سنا ہے کہ وہ جادوگر‘ کاہن‘ مجنون اور شاعر قسم کا آدمی ہے۔ ولید بن مغیرہ ان لوگوں کی باتیں سن کر خوش ہوتا اور فوراً کہہ دیتا کہ آپ لوگوں نے ٹھیک سنا ہے‘ وہ ایسا ہی تو ہے۔
خصوصاً کفار کے پانچ سردار عاص بن وائل‘ اسود بن مطلب‘ اسود بن عبدالغوث‘ حارث بن قیس اور ولید بن مغیرہ‘ یہ لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو بہت ایذا دیتے اور آپ کے ساتھ تمسخر اور استہزاء کرتے رہتے تھے۔
ایک روز سید عالم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مسجد حرام میں تشریف فرما تھے کہ یہ پانچوں آدمی حسب معمول آنحضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو دیکھ کر طعن و تمسخر کے کلمات کہنے لگے اور طواف میں مشغول ہوگئے۔ اسی اثناء میں حضرت جبریل امین علیہ السلام‘ آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت اقدس میں حاضر ہوئے۔ ولید بن مغیرہ کی پنڈلی کی طرف‘ عاص بن وائل کے پیر کی طرف‘ اسود بن مطلب کی آنکھوں کی طرف‘ اسود بن عبدالغوث کے پیٹ اور منہ کی طرف اور حارث بن قیس کے سر کی طرف اشارہ کیا اور کہا‘ عنقریب اللہ تعالیٰ ان کا شر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے رفع کرے گا۔ چنانچہ تھوڑے ہی عرصے میں طرح طرح کے عذاب میں مبتلا ہو کر ہلاک ہوگئے۔
ولید بن مغیرہ تیر فروش کی دکان کے پاس سے گزرا۔ ایک تیر اس کے تہبند میں چبھا مگر اس نے تکبر اور مغروری کی وجہ سے نکالنا گوارا نہ کیا اور اپنے سر کو نیچا نہ کیا۔ اس تیر کی وجہ سے پنڈلی میں زخم ہوگیا اور اسی زخم کے درد کی وجہ سے تڑپ تڑپ کر جہنم واصل ہوگیا۔
عاص بن وائل کے پاؤں میں ایک کانٹا لگا۔ کوشش بسیار کے باوجود نظر کسی کو نہ آتا تھا۔ اس کانٹے کی وجہ سے پاؤں ورم کر گیا اور وہ بھی ہلاک ہوگیا۔ اسود بن مطلب کی آنکھوں میں شدید درد ہوا‘ جس کی وجہ سے وہ دیوار میں سر مارتا مارتا مر گیا اور ساتھ ہی کہتا جاتا تھا کہ مجھ کو محمد (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) نے قتل کیا ہے۔
اسود بن عبدالغوث کے منہ کو ایسی گرم لو لگی جس کی وجہ سے اس کا منہ اس قدر کالا ہوگیا کہ گھر والے بھی پہچان نہیں کر سکتے تھے اور اس کو غیر آدمی سمجھ کر گھر سے نکال دیا۔ وہ اس حال میں یہ کہتا ہوا مرا کہ مجھ کو محمد (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کے رب نے قتل کیا ہے۔
اور حارث بن قیس کی ناک سے خون اور پیپ ایسا جاری ہوا جو رکتا نہیں تھا‘
جس کی وجہ سے وہ بھی تڑپ تڑپ کر تباہ و ہلاک ہو گیا"۔ (بحوالہ "خاتم الانبیاء ﷺ کے دشمنوں کا عبرت ناک انجام" ہفت روزہ "ختم نبوت" کراچی‘ جلد ۷‘ شمارہ ۲۳‘ ص ۱۶)
گستاخان رسول ﷺ مارے گئے:
”صحیحین میں عبداللہ بن مسعودؓ سے روایت ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کعبہ شریف کے پاس نماز پڑھ رہے تھے۔ ابو جہل اور اس کے چند ساتھی وہاں بیٹھے تھے۔ انہوں نے آپس میں گفتگو کی۔ کوئی تم میں سے ایسا ہے جو فلاں جگہ سے اونٹ کی اوجھ لا کر سجدہ کی حالت میں محمد (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کی پیٹھ پر ڈال دے۔
یہ سن کر بدبخت عقبہ بن ابی معیط اٹھا اور اونٹ کی اوجھ لا کر آنحضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی پیٹھ پر سجدہ کی حالت میں رکھ دی اور آپس میں ہنسنے لگے۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی صاحبزادی حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا نے دیکھا تو گندگی آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے کندھوں سے اتار پھینکی۔ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے سر مبارک سجدہ سے اٹھایا۔ تمام قریش پر بالعموم اور خاص طور پر ابو جہل‘ عتبہ بن ربیعہ‘ ولید بن عتبہ‘ امیہ بن خلف‘ عقبہ بن ابی معیط اور عمارہ بن ولید کی تباہی کے لیے بددعا فرمائی۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی یہ دعا کارگر ثابت ہوئی اور یہ سب ہلاک ہو کر رہے اور اکثر ان میں سے بدر میں مارے گئے اور قتل ہوئے“۔ (”رسول اللہ ﷺ کے تین سو معجزات“ ص ۱۰۹)
ابی بن خلف کا قتل:
”حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس (ابی بن خلف) سے فرمایا کہ تیرا قاتل میں ہوں گا۔ یہ خوف اس کے دل میں یقین کے ساتھ بیٹھ گیا تھا۔ لہٰذا قریش کے مکہ سے خروج کے وقت احد کی جانب وہ نہ آنا چاہتا تھا کہ کہیں وہ مارا نہ جائے۔ ابو سفیان اسے اصرار کے ساتھ لایا تھا۔ اس کا قصہ یوں بیان کرتے ہیں کہ وہ اسیران بدر میں شامل تھا۔ اس کا فدیہ قبول کیا گیا اور اس نے مکہ جانے کی اجازت پائی تاکہ وہ فدیہ ادا کرے۔ اس بے حیا نے لوٹتے وقت حضور صلی اللہ علیہ و آلہ
وسلم کے روبرو بکواس کی کہ اے محمد (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) میرا ایک گھوڑا ہے ۔ میں اسے خوب دانہ پانی دوں گا تاکہ فربہ ہو جائے ۔ پھر اس گھوڑے پر سوار ہو کر آپ (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) سے جنگ کروں گا اور آپ (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کو (خاکم بدہن) قتل کروں گا ۔ حضور علیہ السلام نے ارشاد فرمایا: بلکہ اس گھوڑے پر سوار ہونے کی حالت میں، میں ہی تجھے قتل کروں گا، انشاء اللہ تعالیٰ ۔ علماء کہتے ہیں کہ بدترین خلق اور بدبخت ترین مخلوق وہ ہے جسے حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم قتل کریں ۔
روز احد حضور اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا، ابی بن خلف سے ہوشیار رہو کیونکہ یہ ناخلف بے خبری میں پیچھے سے نہ آجائے ۔ اگر تمہیں وہ نظر آ جائے تو مجھے بتا دینا ۔ اچانک جنگ کے آخر میں اپنے گھوڑے پر سوار نمودار ہوا ۔ جب اس کی نظر حضور علیہ السلام پر پڑی تو اس نے نالائقی کی باتیں بکنا شروع کر دیں ۔ اس نے کہا: اے محمد (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) آپ ابی کے ہاتھ سے نہ بچ سکیں گے ۔ یہ کتنا بے حیا اور بے شرم تھا کہ باوجود اس اعتقاد کے کہ حضور علیہ السلام کے ہاتھ سے مارا جائے گا، پھر بھی لاف زنی کرتا تھا ۔ صحابہؓ نے عرض کی، یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) ہمیں اشارہ فرمائیے ۔ ہم اس پر حملہ کریں اور اسے دوزخ میں پہنچائیں ۔ جب یہ ملعون قریب پہنچا، حضرت زبیر بن العوام رضی اللہ عنہ، حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے قریب ہی کھڑے تھے ۔ حضور علیہ السلام نے ان سے نیزہ لیا ۔ ایک روایت میں ہے کہ حارث بن الصمہ سے نیزہ لیا اور ابی کی طرف پھینکا ۔ یہ اس شقی کی گردن پر پڑا ۔ اسی وقت اس نے اپنے گھوڑے کی لگام پھیری اور اپنی قوم سے مل گیا اور خود کو گھوڑے سے گرا دیا اور گائے بیلوں کی طرح ڈکرانے لگا ۔ اس کی قوم نے اس سے کہا ”تیرا زخم تو ایک معمولی سی خراش سے زیادہ نہیں، اتنی چیخ و پکار اور واویلا کیوں کرتا ہے“ ۔ اس نے کہا ”تمہیں معلوم ہے کہ یہ زخم کس کی مار کا ہے ۔ میں واقف ہوں کہ اس زخم سے میری جان نہ بچ سکے گی ۔ اگر یہ زخم جو مجھ اکیلے کو لگا ہے، تمام حجاز والوں کو لگ جائے تو وہ یکبارگی سب کے سب مرجائیں ۔ اس لیے محمد (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) نے مجھے خبر دی کہ تو میرے ہاتھ سے مارا جائے گا اور کہنے لگا اگر محمد (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) میرے منہ پر کھجور کی گٹھلی بھی مار دیتے تو بھی میں مارا
جاتا۔ وہ یونہی چیختا چلاتا رہا۔ پھر وہ ملعون مشرکوں کے مکہ مکرمہ پہنچنے سے پہلے مرالظہران میں، جو مکہ سے ایک منزل پر ہے، واصل جہنم ہو گیا“۔ (”مدارج النبوت“ حصہ دوم، ص ۲۲۴-۲۲۵، مدینہ پبلشنگ کمپنی، کراچی)
سنت رسول ﷺ کی توہین کرنے والا خدائی گرفت میں:
”۶۶۵ ہجری بصرہ کے ایک گاؤں میں اللہ کا ایک بندہ مجمع عام میں مسواک کی فضیلت پر بیان فرما رہا تھا۔ مسواک وضو میں مسنون ہے، ”سید المرسلین، خاتم النبیین صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مسواک کرنے کی بار بار تاکید فرمائی۔ صحابہ کرامؓ کی یہ حالت تھی کہ مسواک کو کان مبارک پر قلم کی طرح رکھتے تھے۔ جس وضو میں مسواک استعمال ہو، اس وضو والی نماز کا ثواب ستر گنا زیادہ ہو جاتا ہے۔ مسواک پل صراط پر بخوبی گزرنے میں معاون ہے۔ پروردگار کی خوشنودی کا باعث ہے۔ شیطان کو ناراض کرتی ہے۔ سب سے بڑی خوبی موت کے وقت شہادتین کا یاد دلانا ہے، جو ہر مسلمان مومن دلی آرزو رکھتا ہے۔ ایسی ادا محبوبی جو اپنے اندر بیش از بیش فوائد رکھتی ہے۔ لوگو! اس سے غافل نہ ہونا جبکہ ہمیں فخر عالم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی محبت کی پر تاثیر عقیدت کا حکم ہے کہ آقائے دو جہاں کے ہر حکم پر سر تسلیم خم کرو، عقل میں آئے یا نہ آئے“۔ تمام سامعین خاموشی سے تقریر سن رہے تھے۔
مجمع سے ایک بد بخت ابو سلام نامی نے اٹھ کر سنت محبوبی کا مذاق اڑایا اور علی الاعلان اپنی گندی زبان سے بکواس کرتا رہا۔ بڑی ڈھٹائی سے کہتا تھا کہ میں مسواک کو اپنے مقعد (پاخانہ کی جگہ) میں استعمال کروں گا۔ (معاذ اللہ) اس بے حیا نے بھری محفل میں مسواک کو اپنی پاخانے والی جگہ میں رکھ کر تھوڑی دیر بعد باہر نکال لیا۔ اس بے جا حرکت کرنے پر نو مہینے گزرے۔ اس دوران اس کے پیٹ اور پاخانہ کی جگہ برابر تکلیف رہتی تھی۔ نویں مہینے اس کے پیچھے سے ایک جانور نکلا جو چوہے سے مشابہ تھا۔ اس کی شکل و صورت یہ تھی: چار پاؤں تھے، منہ مچھلی کی مانند، چار دانت باہر کو نکلے ہوئے، ایک بالشت لمبی دم، پچھلا حصہ خرگوش کی مانند۔ نکلنے کے بعد جانور زور سے چیخا۔ اس ہوش ربا چیز کو ابو سلام کی لڑکی نے بھی دیکھا۔ اس لڑکی نے ایک پتھر سے اس جانور کا منہ کچل ڈالا۔ ابو سلام اس
جانور کو جڑنے کے بعد دو دن زندہ رہا۔ تیسرے دن وہ یہ کہتے ہوئے مرا کہ مجھے اس جانور نے قتل کر دیا ہے۔ اس حیرت انگیز جانور کو اس اطراف کے بہت سے لوگوں نے دیکھا۔ کتنوں نے اس جانور کو زندہ دیکھا اور بہت سوں نے مردہ دیکھا“۔ (بحوالہ ہفت روزہ ”ختم نبوت“ کراچی‘ جلد ۶‘ شمارہ ۳۷)
گستاخ کو سزا ملنے پر بہت سے نصرانی مسلمان ہو گئے:
”۹۱ ہجری میں اموی خلیفہ ولید بن عبدالملک کے حکم سے مدینہ منورہ کے گورنر حضرت عمر بن عبدالعزیز نے مسجد نبوی کی تعمیر کے لیے قبر انور کے حجرہ کی دیواروں کو منہدم کرنے کا حکم دیا۔ دیوار گرتے ہی قبر انور نظر آنے لگی۔ ایک رومی معمار نصرانی تھا۔ اس نے یہ دیکھ کر کہ اس وقت مسجد میں کوئی مسلمان موجود نہیں ہے‘ اپنے نصرانی ساتھیوں سے کہا کہ پیغمبر اسلام (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کی قبر پر پیشاب کروں گا۔ (معاذ اللہ) اس کے ساتھیوں نے اس کو اس ناپاک ارادہ سے ہرچند منع کیا مگر وہ ملعون نہیں مانا‘ لیکن وہ ابھی اس ارادہ سے چلا ہی تھا کہ اوپر سے ایک پتھر اس کے سر پر گرا اور اس کا بھیجا پاش پاش ہو کر بکھر گیا۔ یہ معجزہ دیکھ کر بہت سے نصرانی معمار اسی وقت مشرف بہ اسلام ہو گئے“۔ (”وفاء الوفا“ جلد ۳‘ ص ۵۱۹)
جیسا کہ پہلے ذکر کیا جا چکا ہے کہ اس صدی کا سب سے بڑا گستاخ (رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) مرزا غلام قادیانی تھا اور اس کی تحریرات اور کتب سے شان رسالت مآب صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم میں چند گستاخیاں بھی نقل کی جا چکی ہیں۔
یہاں گستاخ زمانہ مرزا ملعون کی خدائی شکنجے میں گرفت کی روئیداد نقل کی جاتی ہے۔
مرزا قادیانی نے حضرت مولانا ثناء اللہ امرتسریؒ کے جواب میں لکھا:
”اگر میں ایسا ہی کذاب اور مفتری ہوں جیسا کہ آپ اپنے ہر پرچہ میں مجھے یاد کرتے ہیں تو میں آپ کی زندگی ہی میں ہلاک ہو جاؤں گا کیونکہ میں جانتا ہوں کہ مفسد اور کذاب کی بہت عمر نہیں ہوتی اور آخر وہ ذلت اور حسرت کے ساتھ اپنے اشد دشمنوں کی زندگی میں ہی ناکام ہلاک ہو جاتا ہے اور اس کا ہلاک ہونا ہی بہتر ہوتا ہے تاکہ وہ خدا کے بندوں کو تباہ نہ کرے ......
پس اگر وہ سزا جو انسان کے ہاتھوں سے نہیں‘ بلکہ محض خدا کے ہاتھوں سے
ہے، جیسے طاعون، ہیضہ وغیرہ“۔ - (”مجموعہ اشتہارات“ جلد ۳، ص ۵۷۹)
خدائی عذاب:
حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی مدظلہ لکھتے ہیں: ”مرزا قادیانی نے نہایت آہ و زاری کے ساتھ گڑگڑا کر اللہ تعالیٰ سے جو فیصلہ طلب کیا تھا، اس کا نتیجہ سب کے سامنے آگیا کہ مرزا ۲۵ مئی ۱۹۰۸ء کو رات دس بجے تک چنگا بھلا تھا۔ شام کا کھانا کھایا اور رات دس بجے کے بعد اچانک خدائی عذاب یعنی وبائی ہیضہ میں مبتلا ہوا اور دونوں راستوں سے غلیظ مواد خارج ہونا شروع ہوا۔ چند ہی گھنٹوں میں زبان بند ہو گئی اور بارہ گھنٹوں کے اندر ۲۶/ مئی ۱۹۰۸ء کو (پونے پانچ بجے) ہلاک ہو گیا“۔ (”تحفہ قادیانیت“ ص ۲۱۷ از مولانا محمد یوسف لدھیانوی)
ایک قادیانی گستاخ رسول کی عبرت ناک موت:
”صوبہ سندھ میں ”وارہ“ نامی ایک شہر ہے۔ اس کے قریب ایک گاؤں ”انور آباد“ کے نام سے واقع ہے۔ اس گاؤں میں فتنہ قادیانیت کے جراثیم بدقسمتی سے ایک شخص ملا عبدالرؤف ابڑو نے پھیلائے۔ سب سے پہلے یہ شخص مرتد ہوا اور اس نے دولت کے لالچ میں قادیانیوں کے ہاتھ اپنا ایمان بیچ دیا اور ساتھ ہی قصبہ مذکورہ میں ارتداد اور زندقیت کا بیج بھی بو دیا۔ شاعر نے ایک بڑا خوبصورت شعر کہا ہے۔ ؎
ڈر اس کی دیر گیری سے کہ ہے سخت انتقام اس کا
اللہ تعالیٰ کے ہاں دیر ضرور ہو سکتی ہے لیکن اس کی پکڑ بڑی سخت ہے۔ ایسے واقعات گمراہوں کی عبرت کے لیے اللہ تعالیٰ ظاہر فرماتے ہیں تاکہ وہ عبرت حاصل کر کے سچائی کو قبول کر لیں اور گمراہی و ارتداد کے گہرے گڑھے سے نکل جائیں۔ قصبہ ”انور آباد“ کے پہلے مرتد ملا عبدالرؤف ابڑو کے ساتھ بھی ایسا عبرت ناک واقعہ پیش آیا جو وہاں کے ہی نہیں بلکہ تمام قادیانیوں کے لیے سامان عبرت ہے۔ کہتے ہیں کہ مذکورہ قادیانی ایک بیل گاڑی پر جا رہا تھا کہ بیل گاڑی کا
رسہ پہیے میں پھنس گیا۔ وہی رسہ اچھل کر عبدالرؤف قادیانی کی گردن میں پھانسی کے پھندے کی طرح پھنس گیا۔ بیل چل رہا تھا، پہیہ گھوم رہا تھا۔ جوں جوں پہیہ گھومتا رہا، پھندہ سخت ہوتا گیا، یہاں تک کہ اس کی حالت غیر ہو گئی۔ اس نے بیل کو روکنے کی بہت کوشش کی لیکن ناکام رہا۔ آخر وقت میں تو وہ اس قابل نہ رہا کہ بیل کو روک سکے۔ بالآخر وہ پھندہ اس کے لیے پھانسی کا پھندہ بن گیا۔ وہ نیچے گرا اور گاڑی کے پہیے کے نیچے آگیا اور یوں ”انور آباد“ میں قادیانیت کے گندے جراثیم پھیلانے والا یہ قادیانی گستاخ رسول ایک بیل کے ذریعے جہنم رسید ہوا“۔ (ہفت روزہ ”ختم نبوت“ کراچی، جلد ۹، شمارہ ۲۶، ص ۲۳)
گستاخ رسول ﷺ پر برزخ کا عذاب:
”محمد رمضان صاحب گجرات کے رہنے والے ہیں اور آج کل سیالکوٹ میں قیام پذیر ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ سیالکوٹ میں ایک بڑا گستاخ قادیانی رہتا تھا۔ قدرت نے دولت بھی اسے خوب دے رکھی تھی، جس نے اسے انتہائی متکبر بنا رکھا تھا۔ میں اکثر قبروں کی کھدائی کا کام کرتا تھا۔ ایک دن کچھ قادیانی میرے پاس آئے اور مجھے قبر کھودنے کو کہا اور بتایا کہ فلاں قادیانی مرگیا ہے۔ میں نے اس قادیانی کی قبر کھودی مگر جب اس گستاخ رسول کو دفنانے لگے تو مجھ سمیت جنازے میں شامل تمام مرزائیوں نے یہ منظر دیکھا کہ اس کی قبر آہستہ آہستہ سانپوں سے بھرنے لگی اور تھوڑی دیر میں سانپ ہی سانپ ہو گئے۔ قادیانیوں نے مجھے دوسری جگہ قبر کھودنے کو کہا۔ میں نے جب دوسری جگہ قبر کھودی تو قبر سے ڈراؤنی آوازیں آنے لگیں اور آگ کی چنگاریاں نکلنے لگیں۔ سب لوگ ڈر کر پیچھے ہٹ گئے۔ آخر اس مردود کو اس قبر میں دفن کر دیا گیا“۔
دنیا میں پھٹکارا آخرت میں عذاب
قادیانی کی قبر پر آگ کے گولے:
”روڑہ ضلع خوشاب میں ایک انتہائی گستاخ قادیانی حاجی ولد موندا رہتا تھا۔ وہ انتہائی فحش گالیاں بکتا۔ گلی کوچوں میں اسلام اور مسلمانوں کا مذاق اڑاتا۔ اس
کی ناپاک زندگی کی صبحیں اور شامیں اسی غلاظت سے اٹی پڑی تھیں۔ یہ اس وقت کی بات ہے جب قادیانیوں کو ابھی آئینی طور پر کافر قرار نہیں دیا گیا تھا اور قادیانی حج پر جا سکتے تھے۔ یہ رذیل بھی مسلمانوں کے ساتھ مکہ مکرمہ چلا گیا۔ وہ وہاں بھی اسلام اور مسلمانوں کا تمسخر اڑاتا۔ جگہ جگہ پر کھسیانی ہنسی ہنستا، قہقہے لگاتا اور بکواس کرتا کہ میں تو یہاں صرف سیر کرنے آیا ہوں کیونکہ اب حج تو صرف ربوہ میں ہوتا ہے۔ یہ گستاخ رسول جب مرا تو اسے قادیانیوں کے الگ قبرستان میں دفن کیا گیا۔ سورج غروب کے بعد جلد ہی رات کا اندھیرا پہلے کی نسبت قدرے گہرا ہونا شروع ہو گیا۔ رات کو ارد گرد کی آبادیوں نے یہ خوفناک منظر اپنی آنکھوں سے دیکھا اور وہ چشم دید گواہ آج بھی اس واقعہ کے شاہد ہیں کہ آگ کا ایک بہت بڑا سرخ گولہ عین اس قبر کے اوپر آکر گرا اور غائب ہو گیا۔ پھر پے در پے گولے برسنے لگے، تو رات گئے تک یہ سلسلہ جاری رہا۔ اپنی آنکھوں سے اس قادیانی مردار کی قبر پر آگ برستے دیکھ کر بھی قادیانیوں کو کوئی عبرت نہ ہوئی۔ شاید ان کے دلوں پر تالے پڑے ہیں"۔ ("قادیانیوں کا عبرت ناک انجام" از محمد طاہر رزاق مندرجہ ہفت روزہ "ختم نبوت" ص ۱۲-۱۳، جلد ۱۲، شمارہ ۲۲)
اس سے ملتا جلتا ایک واقعہ راقم الحروف سے بھی بیان کیا گیا ہے۔
ایبٹ آباد شہر سے تقریباً دو کلومیٹر کے فاصلہ پر ایک گاؤں ہے شیخ البانڈی۔ وہاں ۱۹۹۰ء میں تحفظ ختم نبوت یوتھ فورس کی تنظیم سازی کے لیے جماعتی رفقاء کے ہمراہ جانا ہوا۔ جامع مسجد میں ختم نبوت کے سلسلہ میں ایک جلسہ ہوا۔ مولانا محمد ایوب الہاشمی نے خطاب فرمایا۔ اجلاس سے فراغت کے بعد دوستوں کی طرف سے چائے کی دعوت تھی۔ ایک دوست کی بیٹھک میں بیٹھے چائے چل رہی تھی، وہاں ایک جماعتی ساتھی (جن کا نام اب ذہن میں محفوظ نہیں) نے ایک واقعہ سنایا:
انہوں نے کہا: ایبٹ آباد سے آتے ہوئے دائیں جانب ایک بڑا قبرستان ہے۔ سردیوں کے دن تھے۔ بارش ہو رہی تھی۔ رات خوب سرد تھی۔ میں رات گئے ایبٹ آباد سے آیا تو گاؤں کی حدود میں داخل ہو کر ایک چبوترے تلے بارش سے بچنے کے لیے رک گیا۔ اب میرا منہ قبرستان کی جانب تھا۔ قبرستان میں ایک جگہ مجھے جلتی ہوئی آگ دکھائی دی۔ میں نے سوچا کہ کوئی سردی سے بچاؤ
کے لیے آگ جلا رہا ہے لیکن دوسرے ہی لمحے میں چونک اٹھا۔ اس بارش میں کھلے آسمان تلے؟ جب میں نے غور سے دیکھا اور دیر تک دیکھتا رہا مگر مجھے وہاں کوئی نظر نہ آیا۔ میں ڈر گیا۔ بھاگم بھاگ گھر کی راہ لی۔ گھر آ کر ذکر کیا۔ صبح اپنے ایک عمر رسیدہ بزرگ کو لا کر جگہ دکھائی جہاں رات آگ لگی ہوئی تھی مگر اب وہاں ظاہراً آگ اور راکھ وغیرہ کا کوئی ہلکا سا نشان بھی موجود نہ تھا۔ میرا تجسس اور بڑھ گیا کہ الہی ماجرا کیا ہے؟
مجھے بتایا گیا کہ یہ جگہ اور یہ قبر‘ جس کی تم نشاندہی کر رہے ہو‘ یہ ایک گستاخ قادیانی کی قبر ہے۔ ؎
ہو دیکھنا تو دیدۂ دل وا کرے کوئی
قادیانی کی قبر پھٹ گئی:
”ڈیرہ غازی خان کے قصبہ الہ آباد میں ایک منہ پھٹ اور انتہائی بد زبان قادیانی ماسٹر رہتا تھا۔ اس شاطر کو جہاں موقع ملتا‘ وہ قادیانیت کی تبلیغ کرتا اور ختم نبوت کے بارے میں بک بک کرتا مر گیا۔ قادیانیوں نے اسے مسلمانوں کے مقامی قبرستان میں دفن کرنے کا پروگرام بنایا لیکن کسی ذریعے سے یہ خبر مسلمانوں تک پہنچ گئی اور مسلمانوں نے اپنے قبرستان میں اس ملعون کی تدفین نہ ہونے کا بندوبست کر لیا اور علاقہ پولیس کو بھی اطلاع کر دی۔ قادیانی خوف زدہ ہو گئے اور انہوں نے مجبوراً اس کو اپنی زمین میں دفن کر دیا۔ تدفین کے بعد قبر میں زبردست آگ لگ گئی اور یہ کیفیت تین دن تک مقامی لوگ دیکھتے رہے۔ آخر قبر پھٹ گئی اور وہاں ایک بہت بڑا گڑھا بن گیا۔ لوگ دور دور سے اس عبرت گاہ کو دیکھنے آتے رہے۔ قادیانیوں نے اپنی بے عزتی ہوتے دیکھ کر پتھروں سے اس گڑھے کو بھر دیا اور اس کے اوپر قبر کا پختہ چبوترہ قائم کر دیا‘ لیکن بدبختوں نے اس ہولناک واقعہ سے کوئی عبرت حاصل نہ کی“۔ (”قادیانیوں کا عبرت ناک انجام“ از محمد طاہر رزاق‘ مندرجہ ہفت روزہ ”ختم نبوت“ جلد ۱۲‘ شمارہ ۲۱‘ ص ۲۳)
لقمہ خاک ہوئے زہر اگلنے والے!!!
تیرہواں باب
تذکرہ شہداء ناموس رسالت ﷺ
رحمت عالم ﷺ کا ارشاد گرامی ہے: ”اللہ نے دو قطروں پر جہنم کی آگ حرام کر دی ہے۔ ایک خوف خدا میں آنکھ سے بہنے والا آنسو اور دوسرا راہ خدا میں بہنے والا خون کا قطرہ“۔ اور جب شہداء ناموس رسالت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی نفسیاتی تحلیل کا تجزیہ کیا جاتا ہے تو مذکورہ بالا ہر دو خصوصیات شہداء ناموس رسالت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا خاصہ معلوم ہوتی ہیں۔
جب دل میں تڑپ موجزن ہو تو آنکھ سے آنسو گرتا ہے اور خوف خدا عشق مصطفیٰ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے بغیر ناممکن ہے۔ گویا عشق مصطفیٰ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہوگا تو خوف خدا نصیب ہوگا اور جب خوف خدا ہوگا تو آنکھ نم ہوگی.. آنکھ نم ہوگی تو مذکورہ بالا انعام نصیب ہوگا۔
دوسری بات جو ارشاد فرمائی گئی کہ ”راہ خدا میں بہنے والا خون کا قطرہ“۔ ناموس رسالت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے تحفظ میں جام شہادت پی جانا اس مقام سے ورائے الوریٰ بلند ہے اور شہادت کی معراج ہے۔
خلاصہ کلام یہ ہے کہ شہید ناموس رسالت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا وجود مقدسہ مذکورہ بالا ہر دو صفات کا سنگم ہوتا ہے اور رحمت عالم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ارشاد کے مطابق اس (وجود) پر جہنم کی آگ حرام ہوتی ہے۔
جہنم سے نجات کا یہ اک منطقی انداز استدلال درست سہی مگر دل کی بات کو الفاظ کا جامہ کسی نے کیا ہی خوب پہنایا ہے:
ارفع بہشت سے بھی تمہارا مقام ہے
تاریخ پر اگر ایک طائرانہ نگاہ دوڑائی جائے تو سب سے پہلے ناموس رسالت صلی اللہ علیہ
و آلہ وسلم کے تحفظ کے لیے جان، جان آفرین کے سپرد کرنے والے وہ قدسی صفات صحابہ کرامؓ تھے کہ جنہوں نے یمامہ کے میدان میں افضل البشر بعد الانبیاء سیدنا صدیق اکبرؓ کے حکم اور سیف اللہ حضرت خالدؓ بن ولید کی قیادت میں جام شہادت نوش کیا۔ تاریخ کی کتابوں میں ان خوش بختوں کی تعداد بارہ سو درج ہے۔
ان میں سے چند نام اور ان کا مختصر تعارف مولانا منظور احمد الحسینی نے اپنے ایک تحقیق مقالے میں لکھا ہے، جسے ہفت روزہ ”ختم نبوت انٹرنیشنل“ کراچی نے شائع کیا، جسے قبیلہ عشاق کی دلچسپی کے لیے یہاں نقل کیا جاتا ہے:
- ۱۔ حضرت زید بن خطابؓ : حضرت عمر فاروقؓ کے بڑے علاتی بھائی ہیں۔
حضرت زیدؓ کی والدہ اسماء بنت وہب ہیں اور حضرت عمرؓ کی والدہ حنتمہ بنت ہاشم ہیں۔ زیدؓ قد کے بہت لمبے تھے۔ ان کا اسلام حضرت عمرؓ کے اسلام سے پہلے کا ہے۔ بدر کے علاوہ جملہ مشاہدات میں ہمرکاب نبوی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم رہے۔
یہ اس لشکر کے علم بردار تھے، جو مسیلمہ کذاب کے مقابلے میں حضرت صدیق اکبرؓ نے روانہ کیا تھا۔ دشمن کے ایک حملے میں ان کا لشکر متفرق ہوگیا تو انہوں نے کہا کہ اب مرد، مرد نہیں رہے۔ پھر بلند ترین آواز سے کہا: ”الہی میں اپنے ساتھیوں کے فرار کا تیرے حضور میں عذر پیش کرتا ہوں۔ مسیلمہ کذاب اور محکم بن طفیل کی سازشوں سے برأت کا اظہار کرتا ہوں“۔
یہ کہہ کر آگے بڑھے اور شدت سے حملہ کیا اور مرتدین کو قتل کرتے ہوئے شہید ہوگئے۔
- ۲۔ حضرت سالم بن معقلؓ : یہ اصلی باشندے اصطخر کے تھے۔ بعض نے ان
کا وطن موضع کرمد (علاقہ فارس) بھی لکھا ہے۔ ثبیتہ بنت یعار انصاریہ کے غلام تھے۔ یہ خاتون ابو حذیفہ بن عتبہ بن ربیعہ بن عبد شمس بن عبد مناف کی زوجہ ہیں۔ انہوں نے ان کو آزاد کر دیا اور ابو حذیفہؓ نے ان کو اپنی تربیت میں لے لیا۔ حتی کہ متبنی بنالیا۔ جب تنسیخ تبنیت کا حکم اترا تو اپنی بھتیجی فاطمہ بنت ولید بن عتبہ قرشیہ کا نکاح ان سے کر دیا۔
حضرت سالم کو انصاری اس لیے کہتے ہیں کہ وہ انصاریہ کے آزاد کردہ تھے اور مہاجر اس لیے شمار کرتے ہیں کہ انہوں نے مکہ میں ابو حذیفہؓ کے ہاں پرورش پائی اور مکہ سے ہجرت کر کے اس قافلہ میں مدینہ منورہ پہنچے، جس میں حضرت عمر فاروقؓ بھی شامل تھے۔
ان کا شمار فضلا المولیٰ ‘ خیار الصحابہ اور کبار البدری میں کیا جاتا ہے۔ ان کو عجمی اصل وطن کے لحاظ سے کہا جاتا ہے۔ قرآن مجید کے جید قاری تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے معلمین قرآن میں ان کے نام کا تعین فرمایا تھا۔ بدر میں حاضر تھے۔ ۱۲ھ میں جنگ یمامہ میں یہ اور ان کے مولیٰ ابو حذیفہؓ دونوں شہید ہوئے۔ دفن ہونے میں سالمؓ کا سر ابو حذیفہؓ کے پاؤں کی جانب تھا۔
- ۳۔ حضرت سائب بن عثمان بن مظعون القرشی الجمحیؓ : یہ سائب بن مظعون
کے برادر زادے ہیں۔ ان کے والد عثمان بن مظعون اور ان کے چچاؤں قدامہ عبداللہ اور سائب نے ہجرت حبشہ کی تھی۔ یہ بھی حبشہ کی ہجرت دوم میں شامل تھے۔ جنگ یمامہ میں شہید ہوئے۔ اس وقت ان کی عمر تیس سال سے اوپر تھی۔
- ۴۔ حضرت شجاع بن ابی وھب الاسدیؓ : ان کا نسب نبی کریم صلی اللہ علیہ
و آلہ و سلم کے ساتھ خزیمہ میں شامل ہو جاتا ہے۔ یہ بھی حبشہ کو ہجرت ثانیہ میں گئے تھے اور پھر یہ سن کر کہ اہل مکہ مسلمان ہو گئے ہیں‘ حبشہ سے واپس آگئے تھے۔ یہ اور ان کے بھائی عقبہ بن ابی وھب بدر اور دیگر جملہ مشاہد میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ رہے۔ مواخات میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو ابن خولی کا بھائی بنایا تھا۔ یہی وہ بزرگ ہیں‘ جو حارث بن ابی شمر غسانی اور جبلہ بن ایہم غسانی کے پاس سفیر نبوی ہو کر گئے تھے۔ یہ لمبے قد اور چھریرے بدن کے مالک تھے۔ جنگ یمامہ میں شہید ہوئے۔ اس وقت ان کی عمر چالیس سال سے کچھ اوپر تھی۔
- ۵۔ حضرت عبداللہ بن سہیل بن عمرو القرشی العامریؓ : یہ ابو جندل صحابی‘
مشہور صحابی کے بڑے بھائی ہیں۔ قدیم الاسلام حبشہ کی ہجرت ثانیہ میں شامل تھے‘ پھر مکہ میں لوٹ آئے تھے۔ باپ نے ان کو پکڑ کر قید کر لیا تھا۔ پھر جنگ بدر میں لشکر کفار کے ساتھ مل کر میدان جنگ میں آئے اور پھر موقع پا کر کفار سے نکل کر صحابہ کرامؓ کے لشکر میں شامل ہو گئے تھے اور کفار سے نبرد آزما ہوئے اور دیگر جملہ مشاہد میں ملتزم رکاب محمدی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم رہے۔ ان کا شمار فضلاء صحابہ میں ہے۔ عہد نامہ حدیبیہ پر ان کے بھی دستخط بطور گواہ ہوئے تھے۔ فتح مکہ کے دن انہوں نے ہی اپنے باپ سہیل کے لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے امان حاصل کی تھی۔ سہیل بن عمرو وہی مشہور شخصیت ہیں جو حدیبیہ میں منجانب کفار بطور کمشنر معاہدہ کام کرتے تھے۔ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا کہ سہیل
کو اللہ کی امان ہے‘ اسے ظاہر ہو جانا چاہیے۔ پھر فرمایا سہیل میں ایسی عقل و شرف موجود ہے کہ حقیقت اسلام سے بے خبر نہیں رہ سکتا۔ عبداللہ نے باپ کو سارا واقعہ سنا دیا۔ وہ بولا واللہ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم لڑکپن ہی سے احسان دوست رہے ہیں۔ عبداللہ یمامہ کے دن بعمر اڑتیس سال شہید ہوئے۔
- ٦۔ حضرت عبداللہ بن مخرمہؓ : نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ ان کا
نسب فر نمبر ۱۱ میں شامل ہو جاتا ہے۔ ان کی والدہ ام تک بنت صفوان ہیں۔ یہ مہاجرین اولین میں سے ہیں اور بقول ذوالہجرتین بھی ہیں۔ جنگ یمامہ میں بعمر اکتالیس سال شہید ہوئے۔
انہوں نے دعا کی تھی کہ الٰہی مجھے اس وقت تک موت نہ آئے جب تک میں اپنے بند بند کو تیری راہ میں زخم رسید نہ دیکھ لوں۔ جنگ یمامہ میں ان کے زخموں کا یہی حال تھا کہ جملہ مفاصل پر ضربات موجود تھیں۔
حضرت ابن عمرؓ فرماتے ہیں کہ جب میں ان کے پاس آخری وقت پہنچا تو انہوں نے مجھ سے پوچھا کہ ”روزہ داروں نے روزے کھول لیے ہیں؟“ کہا ”ہاں!“ کہا ”میرے منہ میں پانی ڈال دو“ ابن عمر حوض پر گئے اور ڈول میں پانی لے کر آئے۔ آکر دیکھا تو وہ سانس پورے کر چکے تھے۔
- ۷۔ حضرت مالک بن امیہ بن عمر سلمیؓ : یہ بنو عبد شمس کے حلیف ہیں۔ بدر
میں حاضر تھے۔ جنگ یمامہ میں شہید ہوئے۔
- ۸۔ حضرت ابو حذیفہ بن عتبہؓ : ابو حذیفہ بن عتبہ بن ربیعہ بن عبد شمس بن عبد
مناف قرشی ان کا نام مہشم یا ہشیم یا ہاشم بیان کیا گیا ہے۔ فضلاء صحابہ میں سے ہیں۔ ابھی نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم دار ارقم میں داخل نہ ہوئے تھے کہ یہ اسلام لا چکے تھے۔ اول ہجرت حبشہ کی۔ پھر مکہ آئے‘ پھر مدینہ ہجرت کی۔ ان کی اہلیہ سہلہ بنت سہیل نے ہجرت حبشہ میں ساتھ دیا تھا۔
بدر‘ احد‘ خندق‘ حدیبیہ اور جملہ مشاہدات میں ہمرکاب نبوی رہے۔ جنگ یمامہ میں بعمر (۵۳) سال شہید ہوئے۔
- ۹۔ حضرت عبداللہ بن عبداللہ بن ابی بن سلول الانصاری الخزرجیؓ :
یہ بنو عوف بن خزرج میں سے ہیں۔ ان کا قبیلہ مدینہ بھر میں مشہور تھا۔ انہی کو ابن الحبلی بھی کہتے ہیں۔ کیونکہ ان کا سالم بن غنم اپنی بڑی توند کی وجہ سے حبلی مشہور تھا۔
سلول عبداللہ منافق کی دادی کا نام ہے۔ ابی اپنی ماں کی نسبت سے مشہور ہے۔ حضرت عبداللہ کے باپ عبداللہ کو اہل یثرب اپنا بادشاہ بنانے لگے تھے۔ اس کے لیے تاج بنانے کی تجویزیں ہو رہی تھیں کہ سرور عالم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم رونق افروز مدینہ ہو گئے۔ خزرجی مسلمان ہو گئے۔ ابن ابی کا اقتدار خاک میں مل گیا۔ رشک و حسد نے اسے راس المنافقین بنا دیا۔
جب لیخرجن الاعز منها الاذل کا جملہ رئیس المنافقین کے منہ سے نکلا تو اس کے بیٹے حضرت عبداللہ جو نہایت مخلص مسلمان تھے، حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں گئے اور عرض کیا کہ اگر ارشاد ہو تو اپنے نالائق باپ کا سر کاٹ کر حاضر کر دوں۔ فرمایا نہیں تم اپنے باپ سے حسن سلوک رکھو۔
الغرض ابن ابی رئیس المنافقین کے گھر میں حضرت عبداللہ صدق و اخلاص کا کامل نمونہ تھے۔ ایمان اور محبت رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے مدارج میں ترقی یافتہ تھے۔ ان کا شمار خیار صحابہ اور فضلاء صحابہ میں ہوتا تھا۔ بدر، احد اور دیگر تمام مشاہدات میں ملتزم رکاب نبوی رہے۔
١٢ھ کو جنگ یمامہ میں شربت شہادت سے شیریں کام ہوئے۔
- ١٠- حضرت عائذ بن ماعص الانصاریؓ : یہ اور ان کے بھائی معاذ بن ماعص بدر
میں حاضر تھے۔ مواخات میں ان کو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے سویبط بن حرملہ کا بھائی بنایا تھا۔
بئر معونہ یا بقول بعض یوم یمامہ میں شہید ہوئے۔
- ١١- حضرت سماک بن خرشہ الانصاریؓ : ان کی کنیت ابو دجانہ ہے اور اپنی
کنیت سے مشہور ہیں۔ ان کا شمار چیدہ اور برگزیدہ بہادروں میں ہوتا ہے۔ تمام مغازی میں حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ رہا کرتے تھے۔ بدر میں حاضر تھے۔ جنگ یمامہ میں شہید ہوئے۔
- ١٢- حضرت نعمان بن عصر بن الربیع البلوی الانصاریؓ : یہ انصار بنو
معاویہ بن مالک کے حلیف تھے۔ بدر، احد، خندق اور جملہ مشاہد میں شریک ہوئے۔ جنگ
یمامہ میں شہید ہوئے۔
- ۱۳- حضرت معن بن عدی بن جد بن عجلان بن ضبیعہ بن البلوی الانصاری
ؓ : انصار ابن عمر کے حلیف تھے۔ عاصم بن عدی کے برادر حقیقی ہیں۔ مواخات میں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے زید بن خطابؓ کو ان کا بھائی بنایا تھا۔ بدر سمیت جملہ مشاہد میں حاضر باش تھے۔ جنگ یمامہ میں شہید ہوئے۔
- ۱۴- حضرت عقبہ بن عامر الانصاری الخزرجیؓ : بیعت عقبہ اولیٰ سے مشرف
تھے۔ بدر اور احد میں حاضر تھے۔ احد کے دن خود آہنی (جنگ کی آہنی ٹوپی) پر سبز عمامہ سجا کے رکھا اور دور سے نمایاں ہوتے تھے۔ خندق اور دیگر مشاہد میں بالالتزام حاضر رہے۔ جنگ یمامہ میں شہید ہوئے۔
- ۱۵- حضرت عبد الرحمن بن عبد اللہ البلوی الانصاریؓ : یہ فراء بن بلی کی
نسل سے اور بنو قضاعہ میں سے ہیں۔ بنو جحج کے حلیف تھے۔ ان کا نام عبد العزیٰ تھا۔ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ان کا نام عبد الرحمن عدو الاوثان تجویز فرمایا۔ بدر میں حاضر تھے۔ جنگ یمامہ میں شہید ہوئے۔
- ۱۶- حضرت عباد بن بشر بن وقش الانصاری الاشہلیؓ : حضرت عباد بن بشر بن
وقش بن زغبہ بن زعورا بن الاشہل الانصاری الاشہلی یہ قدیم الاسلام ہیں۔ مدینہ میں مصعب بن عمیرؓ کے ہاتھ پر مسلمان ہوئے تھے۔ بدر و احد اور دیگر جملہ مشاہد میں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے ساتھ ساتھ تھے۔ فضلاء صحابہ میں سے ہیں۔ انس بن مالکؓ نے روایت کی ہے کہ اندھیری رات میں ان کا عصاء روشن ہو جایا کرتا تھا۔ یہ ان چھ بزرگوں میں سے ہیں جو کعب بن اشرف یہودی کے قتل میں شامل تھے۔
جنگ یمامہ میں مردانہ وار لڑتے ہوئے مرتدین کو مارتے ہوئے بعمر پینتالیس سال شہید ہوئے۔
- ۱۷- حضرت ثابت بن ہزال بن عمرو الانصاریؓ : بدر اور جملہ مشاہد میں
حاضر رہے۔ جنگ یمامہ میں شہید ہوئے۔
- ۱۸- حضرت ثابت بن خالد بن نعمان بن خنسا الانصاریؓ : بنو مالک بن
النجار میں سے ہیں۔ بدر، احد میں حاضر ہوئے اور جنگ یمامہ میں شہید ہوئے۔
- ۱۹۔ حضرت ایاس بن ورقہ الانصاری الخزرجیؓ: بنو سالم بن عوف بن خزرج
سے ہیں۔ بدر میں حاضر ہوئے اور جنگ یمامہ میں شہادت پائی۔
(مقالہ از منظور احمد الحسینی مندرجہ ہفت روزہ ”ختم نبوت“ کراچی، جلد ۸، شمارہ ۳۴، ص ۲۷
(۶-۷
مندرجہ بالا شہداء ناموس رسالت کے علاوہ مولانا ابوالقاسم دلاوری نے ابن اثیر کے حوالے سے درج ذیل شہداء ناموس رسالت صحابہؓ کے اسماء مبارکہ لکھے ہیں:
- ۲۰۔ حضرت عباد بن حارث الانصاریؓ جو جنگ احد میں شریک تھے۔
- ۲۱۔ حضرت عمیر بن اوسؓ شریک احد
- ۲۲۔ حضرت عامر ابن ثابتؓ بن سلمہ انصاری
- ۲۳۔ حضرت عمارہ ابن حزم انصاریؓ جو غزوہ بدر میں شریک تھے۔
- ۲۴۔ حضرت علی بن عبیداللہ ابن حارثؓ
- ۲۵۔ حضرت فروہ بن نعمانؓ جو جنگ احد میں شریک تھے۔
- ۲۶۔ حضرت قیس بن حارث بن عدی انصاریؓ شریک جنگ احد۔
- ۲۷۔ حضرت سعد بن جماز انصاریؓ شریک غزوہ احد۔
- ۲۸۔ حضرت سلمہ ابن مسعود بن سنان انصاریؓ۔
- ۲۹۔ حضرت سائب ابن عوامؓ جو زبیرؓ کے حقیقی بھائی اور سید المرسلین صلی اللہ علیہ و آلہ
وسلم کے پھوپھی زاد بھائی تھے۔
- ۳۰۔ حضرت طفیل ابن عمر الدوسیؓ شریک غزوہ خیبر۔
- ۳۱۔ حضرت زرارہ ابن قیس انصاریؓ۔
- ۳۲۔ حضرت مالک ابن امیہ سلمی بدریؓ۔
- ۳۳۔ حضرت مسعود ابن سنانؓ اسود شریک غزوہ احد۔
- ۳۴۔ حضرت صفوانؓ
- ۳۵۔ حضرت ضرار ابن ازور اسدیؓ جنہوں نے حضرت خالدؓ کے حکم سے مالک بن نویرہ
کو قتل کیا۔
- ۳۶۔ حضرت عبداللہ بن حارث سہمیؓ۔
- ۳۷۔ حضرت عبداللہ ابن عتیکؓ انصاری بدری، جنہوں نے گستاخ رسول ﷺ
یہودی ابو رافع بن ابی الحقیق کو حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے حکم پر قتل کرنے کا فریضہ سر انجام دیا تھا۔ (ناقل)
- ۳۸۔ حضرت ہریم ابن عبداللہ مطلبی قرشیؓ ۔
- ۳۹۔ اور ان کے بھائی حضرت جنادہؓ ۔
- ۴۰۔ ولیدؓ بن عبد شمس بن مغیرہ جو حضرت خالدؓ کے عم زاد بھائی تھے۔
- ۴۱۔ حضرت ابو حبہ ابن غزیہؓ انصاری جو احد میں موجود تھے۔
- ۴۲۔ حضرت ابو قیس ابن حارث سہمیؓ جو مہاجرین حبش میں داخل اور جنگ احد میں
شریک تھے۔
- ۴۳۔ حضرت یزید بن ثابتؓ جو حضرت زید بن ثابتؓ انصاری کے بھائی تھے۔
- ۴۴۔ حضرت مالک ابن اوس ابن عتیک انصاریؓ جو احد میں شریک تھے۔
- ۴۵۔ نعمان بن عصر بدریؓ ۔
- ۴۶۔ حضرت یزید بن اوسؓ جو فتح مکہ کے دن مسلمان ہوئے تھے۔
- ۴۷۔ حضرت ابو عقیل بلوی بدریؓ
اس طرح بعض مورخین نے چند اور نام بھی بتائے ہیں۔
(”آئمہ تلبیس“ جلد اول‘ ص ۸۸-۸۷)
ناموس رسالت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے تحفظ کے لیے جو سنت صحابہ کرامؓ نے قائم کی‘ امت نے بھی اسی عشق و تڑپ سے کمال مہارت سے اسے زندہ رکھا۔ بیسویں صدی عیسوی‘ برصغیر اور یہ فرض پورے جوبن پر ادا ہوتا نظر آتا ہے۔
روایت ہے کہ سرکار مدینہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اپنے جانثار صحابہؓ کے جھرمٹ میں ہوتے تو اکثر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا رخ انور ہندوستان کی جانب رہتا اور فرماتے ”اس سمت سے آنے والی ہوا عقیدت و احترام اور عشق و مستی کا پیغام لاتی ہے“۔
علامہ اقبال مرحوم و مغفور اس حدیث مبارکہ کا مضمون اپنے رنگ میں یوں باندھتے ہیں:
میرا وطن وہی ہے‘ میرا وطن وہی ہے
(ماہنامہ ”نعت“ لاہور‘ ص ۵‘ جلد ۴‘ شمارہ ۴)
حضرت مولانا سید انور شاہ کشمیریؒ فرمایا کرتے تھے: ”قرآن بلاشبہ سرزمین عرب پر اترا۔ پڑھا مصر میں گیا‘ لکھا استنبول میں گیا اور سمجھا
ہمارے ہاں (برصغیر) آیا"۔
قرآن کریم میں جابجا رحمت عالم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی عظمت‘ رفعت اور تقدس کے تذکرے موجود ہیں۔ اس کے عرب میں اترنے میں کلام نہیں۔ پڑھنے والوں نے مصر میں اس کا حق ادا کر دیا۔ خوشنویسوں نے استنبول میں اپنی فنی صلاحیتوں کا نچوڑ پیش کر کے اسے لکھا اور سمجھنے والوں نے اس کے سمجھنے میں اپنا خون دل بھی شامل کیا اور امر ہو گئے:
دیکھ! اپنے پتنگوں کا ذرا ذوق نظر بھی
۱۹۲۹ء‘ سرزمین ہندوستان پر سچائی کے مقدس وجود سے خون رس رس کر انسانیت کے چہرہ کو داغدار کیے جا رہا تھا۔ شاتم رسول (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) مہاشے راجپال کا نشتر نما قلم‘ جس میں اس نے زہر بھر کر مسلمانوں کے رگ و ریشے میں اتار دیا تھا‘ جس سے مسلمانان عالم تڑپ گئے اور اس تڑپ کے صدقے حق تعالیٰ نے امت کو اس تڑپ کا مداوا "غازی علم الدین شہیدؒ" کی صورت میں عطا کیا۔
غازی علم الدین شہیدؒ : "غازی علم الدین ۸ ذیقعد ۱۳۲۶ھ بمطابق ۴ دسمبر ۱۹۰۸ء بروز جمعرات سریانوالہ بازار‘ چیتے آلہ کٹڑہ میں زینت آرائے گیتی ہوئے"۔
("غازی علم الدین شہید" از رائے کمال‘ ص ۶۴)
آپؒ کی تعلیم واجبی مگر جذبہ عشق رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کامل تھا۔ تاہم آپؒ اتنا ذوق رکھتے تھے کہ تعلیم یافتہ اور مہذب لوگوں کی سوسائٹی میں بیٹھنا اور سیاسی اور دینی مسائل پر گفتگو کرنا اور سننا پسند کرتے تھے۔
"انہوں نے نجاری کا پیشہ اپنے والد (میاں طالع محمد) بزرگوار ہی سے سیکھا اور فرنیچر بنانے کا کام اپنے بڑے بھائی سے سیکھا۔ مختلف پرائیویٹ ورکشاپس میں کام کرتے رہے مگر اکثر دینی معاملات میں مذہب اسلام کی تائید و حمایت میں الجھ پڑتے اور مختلف جگہوں سے ملازمت چھوڑنے کی وجہ بھی یہی ہوتی تھی۔ اپنے والد اور بھائی کے ساتھ کام کر کے مہارت حاصل کر لی تھی۔ لہٰذا اپنے والد کے ساتھ یکم جنوری ۱۹۲۸ء کو کوہاٹ چلے گئے‘ جہاں بنوں بازار میں فرنیچر کا کام کرتے رہے۔ تقریباً ایک برس وہاں کام کرنے کے بعد اپنے والد صاحب ہی کے ساتھ مارچ ۱۹۲۹ء میں لاہور آئے۔ ان دنوں میں جب کہ وہ یہاں قیام کر رہے تھے‘ ان کی سگائی رشتے کے ایک ماموں کی بیٹی سے کر دی گئی..... انہی ایام میں "رنگیلا
رسول“ کتاب کے سلسلے میں جلسوں جلوسوں اور اخبارات میں لے دے ہو رہی تھی۔ غازی صاحب کے بڑے بھائی میاں شیخ محمد دین صاحب مجلس احرار کے منعقدہ جلسوں میں ضرور جاتے تھے اور خلافت موومنٹ کی کارکردگی کو بھی خوب سراہا کرتے تھے۔ غالباً یہ ۳۱ مارچ یا یکم اپریل ۱۹۲۹ء کی شام کا ذکر ہے کہ غازی صاحب اپنے بھائی کے ہمراہ دہلی دروازہ کے باغ میں جلسہ سننے گئے۔ سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ مقرر تھے۔ تمام رات تقریر ہوتی رہی۔ صبح کی اذان کے وقت جلسہ ختم ہوا اور موضوع کتاب ”رنگیلا رسول“ ہی تھا۔ غازی صاحب نے اپنے بڑے بھائی سے اس کتاب کے مندرجات کے متعلق اور پہلے دو افراد، جنہوں نے راج پال ناشر کتاب ”رنگیلا رسول“ کو قتل کرنے کی سعی کی تھی، استفسار کیا۔ تفصیل سننے کے بعد کچھ خاموش رہنے لگے۔“
(”عاشق رسول غازی علم الدین شہید“ از شیخ رشید احمد، مندرجہ روزنامہ ”نوائے وقت“
لاہور، نومبر ۸۹)
رائے کمال لکھتے ہیں:
”دو ایک دن بعد علم الدین نے اپنے بڑے بھائی سے پوچھا ”جو راج پال کو واصل فی النار کر دے، اسے کیا انعام ملے گا“۔ محمد دین نے بتایا ”اس خوش قسمت کو سولی چڑھا دیا جائے گا“۔ آپؒ یہ سن کر مسکرائے اور فرمایا ”یہ تو بہت اچھا انعام ہے“۔
(”غازی علم الدین شہید“ ص ۶۷)
گویا ناموس رسالت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر قربان ہونے کی ترنگ دل میں اٹھکیلیاں لے رہی تھی اور مقدر آپؒ پر نازاں تھا۔ آپؒ سے قبل بھی غازی خدا بخشؒ اور غازی عبدالعزیزؒ مہاشے راج پال ملعون پر حملہ کر چکے تھے مگر یزداں اس مقدس مشن کی تکمیل کے لیے کسی اور کا انتخاب کر چکا ہے۔
حزیں کاشمیری لکھتے ہیں:
”والد مرحوم بیان کرتے تھے کہ اس فریضے کو پایہ تکمیل تک پہنچانے میں غازی علم الدین شہیدؒ اور ان کے ساتھیوں کے مابین کافی تکرار ہوئی۔ ہر کوئی چاہتا تھا کہ یہ سعادت اسے میسر آئے۔ آخر باہمی رضامندی سے فیصلہ ہوا کہ لاٹری کے ذریعے جس کا نام نکل آئے، اس کے سر سہرا باندھ دیا جائے۔ چنانچہ
خوش قسمتی سے غازی علم الدین شہیدؒ کے نام کی پرچی نکل آئی"۔ (”غازی علم الدینؒ میرا محلے دار“ تحریر حزین کاشمیری، لاہور مندرجہ ماہنامہ ”نعت“ لاہور،
فروری ۱۹۹۱ء، ص ۷۷)
جب قرعہ فال غازی صاحبؒ کے نام نکل چکا تو آپؒ کس قدر مسرور ہوئے، اس کا اندازہ رائے کمال کی تحریر سے یوں ہوتا ہے: ”۶ اپریل کو ہفتے کا دن تھا۔ فصل بہار کی رعنائیاں حس لطیف رکھنے والوں کو دعوت نظارہ دے رہی تھیں۔ علم الدین کی آنکھوں میں ایک خاص قسم کی چمک عود کر آئی تھی اور صبح سے اس کے ہونٹوں پر تبسم کی مدہم لکیریں نمودار تھیں۔ آج کے دن کا آغاز آپ نے حضرت علی ہجویری المعروف داتا گنج بخشؒ کی آرام گاہ پر عقیدت کے پھول چڑھا کر کیا۔ فجر کی نماز بھی انہوں نے اس جامع مسجد میں ادا کی اور بلند منصب پر تقرری کا پروانہ حاصل کیا۔ اہل نظر کی کیمیا گری، دلوں کی دنیا بدل دیتی ہے۔ دراصل آدمی کتابوں سے نہیں، نظروں سے بنائے جاتے ہیں اور روحانی اعمال کے احکامات ہمیشہ روحانی مراکز سے جاری ہوتے ہیں۔
قبل از دوپہر انہوں نے اپنی بھاوجہ اقبال بی بی سے چاول کھانے کی خواہش کا اظہار کیا۔ جب وہ دیگچی میں گھی ڈالنے لگیں تو آپؒ نے از راہ مذاق ان کے ہاتھ کو جنبش دے کر گھی کا برتن چاولوں میں انڈیل دیا۔ اس پر موصوفہ نے قدرے خفگی کا اظہار کیا تو آپؒ نے شگفتہ مزاجی سے فرمایا ”بھابھی میں خوش ہوں، بہت خوش۔ آج میری قسمت سنور جائے گی۔ مدینے والے آقا و مولا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھے اپنی حرمت اور تقدس کی حفاظت کے لیے چن لیا ہے۔ مجھے ایک عظیم سعادت نصیب ہونے والی ہے۔ میں آج راج پال کے ٹکڑے ٹکڑے کر دوں گا"۔
(”غازی علم الدین شہیدؒ“ از رائے کمال، ص ۶۹)
اس سے آگے کا واقعہ شیخ رشید احمد یوں لکھتے ہیں: ”۲۹-۴-۶ کو غازی علم الدین شہیدؒ قریباً ایک بجے دوپہر راج پال کی دکان پر پہنچ گیا۔ راج پال کے متعلق پوچھا کہ وہ کہاں ہے؟ چونکہ راج پال خود ہی گدی پر بیٹھا ہوا تھا، اس نے جواباً کہا کہ وہ خود ہی راج پال ہے مگر پھر فوراً ہی سہم گیا اور پوچھنے لگا کہ کیا کام ہے۔ اس پر غازی علم الدین شہیدؒ نے اس وقت راج پال پر
چھری کا ایک بھرپور وار کیا اور یہ کہتے ہوئے کہ ”بس یہی کام تھا“ راج پال کو ہمیشہ کے لیے ختم کر دیا۔ شور مچ گیا کہ راج پال قتل ہو گیا ہے“۔
(”عاشق رسول ﷺ غازی علم الدین شہید“ از شیخ رشید احمد‘ مندرجہ روزنامہ ”نوائے
وقت“ لاہور‘ نومبر ۱۹۸۹ء)
حزین کاشمیری کڑی سے کڑی یوں جوڑتے ہیں:
”اور بہ اطمینان خاطر قریب ہی چھوٹی نہر پر آکر خون آلود چھری اور کپڑے دھونے لگے۔ (یہ چھوٹی نہر جو بیرون لاہور اس کے اردگرد واقع تھی‘ اب موجود نہیں) خون آلود چھری صاف کرتے وقت ان کو ذہن میں خیال ابھرا کہ ہو سکتا ہے کہ راج پال ابھی مرا نہ ہو۔ اس خیال کے آتے ہی وہ دوبارہ اس کی دکان پر پلٹ آئے مگر اس وقت وہاں پولیس پہنچ چکی تھی۔ لہٰذا یہ موقع پر ہی گرفتار کر لیے گئے“۔
(”غازی علم الدین شہیدؒ میرا محلے دار“ از حزین کاشمیری‘ مندرجہ ماہنامہ ”نعت“ لاہور‘
فروری ۱۹۹۱ء ص ۷۸۔۷۷)
اس سے آگے کی تفصیل کو رائے کمال نے یوں رقم کیا:
”قتل کے اس واقعہ کی رپورٹ کیدارناتھ نے انار کلی تھانہ میں درج کرائی۔ علم الدین کو پولیس پہلے ہی حراست میں لے چکی تھی۔ متعلقہ حکام نے جائے واردات کا معائنہ کیا اور نعش کو اپنی تحویل میں لے کر متعلقہ کوائف کی خانہ پری کی۔ جامہ تلاشی کے دوران مردہ راج پال کی جیب سے ۱/۲ : ۳۲ روپے‘ کچھ کاغذات اور ایک گھڑی برآمد ہوئی۔ متعدد ضلعی حکام موقع پر موجود تھے۔ پولیس نے نعش کی تصویر اتاری اور اسے پوسٹ مارٹم کے لیے ہسپتال بھجوا دیا“۔
(”غازی علم الدین شہیدؒ “ از رائے کمال‘ ص ۷۲)
رائے کمال مزید لکھتے ہیں:
”گرفتاری کے وقت غازی مرد نے صاف ستھرا لباس زیب تن کیا ہوا تھا۔ ان کے سر پر گلابی رنگ کا رومال تھا۔ انہوں نے دھاری والی قمیص اور سفید شلوار پہن رکھی تھی۔ ان کے کپڑوں پر مہاشے راج پال کے ناپاک خون کے قطرے بدستور موجود تھے۔ وہ پرسکون اور مطمئن نظر آتے تھے اور ان کے چہرے سے گھبراہٹ یا کسی پریشانی کا شائبہ تک نہ تھا...... راج پال کے قتل کی خبر ایک لمحے
وقت میں پورے شہر کے گلی کوچوں میں گشت کرنے لگی۔ لوگ جوق در جوق موقعہ واردات کی طرف امڈے چلے آ رہے تھے۔ اس واقعہ کے بعد ہندو خاصے سہم گئے اور سارے شہر میں خوف و ہراس پھیل گیا اور اس کے ساتھ ہی ہندو مسلم کشیدگی پر قابو پانے کی خاطر ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ نے دفعہ ۱۴۴ نافذ کر دی“۔
(”ایضاً“)
”پولیس نے غازی علم الدین کو دو دن پولیس لائن کی حوالات میں بند رکھا اور ضروری پوچھ گچھ کے لیے آٹھ دن کا ریمانڈ حاصل کر لیا“۔
(ایضاً‘ ص ۷۴)
مقدمے کی کارروائی:
”مہاشہ راج پال کے قتل کا مقدمہ ۱۰ اپریل کو سنٹرل جیل میں ایڈیشنل ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ مسٹر وی۔ ایس لوئیس کے سامنے پیش ہوا۔ علم الدین غازی کو ہتھکڑیاں پہنا کر ایک بینچ پر بٹھا دیا گیا۔ اس روز آپ صاف ستھرے کپڑوں میں ملبوس تھے۔ چہرے سے کسی قسم کی اداسی نہ ٹپکتی تھی۔ شروع کاروائی میں اس مرد مجاہد کی طرف سے کوئی وکیل پیش نہ تھا۔ سرکار کی طرف سے رائے صاحب ایشرداس پیروی مقدمہ کر رہے تھے۔ عدالت میں چند پریس رپورٹر موجود تھے جو لمحہ بہ لمحہ کارروائی قلم بند کرنے میں مصروف تھے۔ کمرۂ سماعت کے باہر کافی تعداد میں سریانوالہ بازار کے مسلمان موجود تھے۔ استغاثے کی جانب سے پہلا گواہ راج پال کا ملازم کیدار ناتھ پیش ہوا‘ جس نے بیان میں کہا کہ جب مہاشہ جی پر حملہ ہوا‘ میں دکان میں موجود تھا۔ ملزم نے جلدی سے چھرا گھونپ دیا اور پھر بڑی سرعت رفتاری کے ساتھ باہر نکل گیا۔ اس وقت میں کتابوں کو ترتیب دے رہا تھا۔ اسے روکنے کے لیے میرے ہاتھ میں کچھ نہ تھا۔ میں نے دکان کی کتابیں اٹھا کر ملزم پر ماریں‘ جو باہر بازار میں جا گریں۔ پھر میں نے چیخ و پکار شروع کر دی‘ جس پر اردگرد کے لوگ اس واقعہ پر متوجہ ہوئے۔
دوسرا چشم دید گواہ بھگت رام تھا۔ اس نے عدالت میں اپنا جو بیان لکھوایا‘ اس کا مافی الضمیر‘ واقعات کی ترتیب اور الفاظ کا اتار چڑھاؤ بھی قریب قریب وہی تھا‘ جو اس سے پہلے کیدار ناتھ نے بتایا۔
رویا رتن گواہ نے بیان کیا کہ ”پکڑو پکڑو“ کی آواز سن کر میں ہوشیار ہوا۔ ملزم میرے کوارٹر کی طرف آیا۔ اس کے پیچھے لالہ پرمانند اور لالہ نانک چند کپور اور کئی دوسرے اشخاص دوڑتے چلے آ رہے تھے۔ جب میں نے ملزم کو اپنی گرفت میں لیا‘ تو اس نے کہا ”میں نے اپنے رسول ﷺ کا بدلہ لیا ہے“۔ میں نے دیکھا کہ مہاشہ راج پال کے کپڑے خون میں تر بتر تھے۔ چھرے کا منہ دیوار کی طرف اور وہ خون میں لت پت تھا۔ چھرے کی نوک ٹوٹی ہوئی تھی اور دستہ کالے رنگ کا تھا۔ نیز وہ بھی خون میں لت پت تھا۔
استغاثے کے چوتھے گواہ لالہ نانک چند کپور نے اپنا تفصیلی بیان قلم بند کراتے ہوئے کہا کہ ملزم دوڑتا ہوا لالہ سیتا رام لکڑی والے کے ٹال میں داخل ہوا۔ وہاں لالہ رویا رتن نے اس کو پکڑ لیا اور ہم بھی اس کے ساتھ ہو گئے۔ ملزم نے وہاں بلند آواز سے کہا ”یہ میرا دشمن نہ تھا بلکہ میرے رسول ﷺ کا دشمن تھا۔ میں نے اپنا فرض پورا کیا ہے“۔ اس کے بعد ہم نے چھری دیکھی‘ جو خون میں لت پت تھی۔ اتنے میں راج پال ٹھنڈا ہو گیا اور ہسپتال پہنچوایا گیا۔ اس پر عدالت نے غازی علم الدین سے پوچھا ”تم گواہ سے کچھ کہنا چاہتے ہو؟“ آپؒ نے مسکراتے ہوئے نفی میں جواب دیا۔
رویا رتن کے بعد لالہ پرمانند سوداگر کاغذ نے مذکورہ بالا بیان کی تائید کی۔ اس کے سارے بیان کا ملخص بھی یہی تھا جو اوپر رقم کیا جا چکا ہے۔
اس کاروائی کے بعد پولیس کے ملازموں کی شہادتیں ہوئیں۔ رحمت خان کانسٹیبل تھانہ کچہری نے کہا کہ ”گشت کرتے ہوئے مجھے ایک لڑکے نے بتایا تھا کہ راج پال مارا گیا ہے“۔ برکت علی کانسٹیبل کے ہمراہ میں موقع پر گیا اور میں ہی ملزم کے لیے تھانے سے ہتھکڑی لے کر آیا تھا۔ پھر برکت علی‘ شیر محمد اور خوشحال نامی سپاہیوں نے اپنے رسمی بیان سے عدالت کو آگاہ کیا۔ تارا چند ہیڈ کانسٹیبل نے بیان کیا کہ میں شیتلا مندر سے آ رہا تھا۔ شور و غوغا سن کر موقع واردات پر پہنچ گیا۔ ہنسراج حوالدار کے بعد چودھری جلال الدین وڑائچ سب انسپکٹر جو چک وادن (وزیر آباد) کے رہنے والے تھے‘ نے بیان کیا کہ ”میں گھر پر تھا۔ مجھے ٹیلی فون پر بلایا گیا“۔ چودھری رحمت علی سب انسپکٹر نے کہا کہ ”میں نے تفتیش کی تھی۔ ملزم نے دوران تفتیش بتایا تھا کہ میں نے چھری ایک کباڑی کی دکان سے خریدی ہے
(چھریاں دکھانے پر کہا) یہ دو چھریاں آتما رام کباڑی کی دکان سے ہیں۔ آتما رام کباڑی ولد گوپی مل دکاندار کمپنی باغ (ذات کمبوہ‘ عمر ۷۸ سال) نے کہا ”یہ چھری مجھ سے خریدی گئی ہے۔ قتل کے روز ایک شخص ساڑھے نو بجے کے قریب میری دکان پر آیا۔ یہ ایک دن پہلے بھی آیا اور پوچھا ”کیا آپ کے پاس چھریاں ہیں“ میں نے کہا ”ہاں ہیں“ اس کے کہنے پر میں نے پانچ چھ ایسی چھریاں‘ جیسی عدالت میں پیش ہیں‘ ملزم کو دکھائیں۔ میں نے سوا روپیہ مانگا۔ آخر کار ایک روپیہ میں سودا طے پاگیا۔ وہ چھری رکھ گیا اور کہا کہ میں روپیہ لے کر آتا ہوں۔ ایک گھنٹے کے بعد وہ واپس آیا اور روپیہ دے کر چھری لے گیا۔ یہ دونوں چھریاں بطور نمونہ ہیں۔ بعد ازاں قتل‘ پولیس نے مجھ سے پوچھ گچھ کی۔ میں نے تھانے میں اس شخص کو پریڈ کے دوران دس بارہ اشخاص میں سے شناخت بھی کیا تھا“۔
لالہ جواہر لال انسپکٹر سی۔ آئی ڈی لاہور نے بیان کیا کہ ”میں نے اس مقدمہ کی تفتیش کی ہے۔ ملزم کے ہاتھ پر دو زخم بھی دیکھے تھے اور اس کا خون آلود کرتہ بھی اتروایا“۔ سماعت کے دوران ایک نوجوان بیرسٹر مسٹر فرخ حسین کمرۂ عدالت میں داخل ہوئے‘ جن کا دفتر موچی دروازہ کے باہر تھا۔ آپ نے مجسٹریٹ سے مخاطب ہو کر کہا ”ملزم کی طرف سے میں پیروی کروں گا“۔ عدالت سے اجازت لے کر انہوں نے چند منٹ علم الدین سے بات چیت کی اور کہا کہ ”یہ ایک نہایت اہم مقدمہ ہے۔ یہ ایسا مقدمہ ہے‘ جس میں ملزم کی زندگی اور موت کا سوال ہے۔ ملزم کی خواہش ہے کہ مقدمہ ملتوی کر دیا جائے تاکہ اسے صفائی پیش کرنے کا پورا حق حاصل ہو ۔ عدالت نے کہا سماعت مقدمہ ملتوی نہیں کی جاسکتی۔ مسٹر فرخ حسین بیرسٹر نے کہا مقدمہ ملتوی کر دیا جائے۔ عدالت کے اس سوال پر کہ آپ کس بنا پر التواء مقدمہ چاہتے ہیں‘ آپ نے کہا ہمیں فائل دیکھنے کا موقع نہیں ملا۔ کافی جرح کے بعد آخر زیر دفعہ ۵۲۶ ضابطہ فوجداری ایک ہفتہ کی مہلت مل گئی۔
۱۶ اپریل کو مسٹر فرخ حسین کی درخواست انتقال مقدمہ مسترد ہونے کے بعد بقیہ سماعت ۱۹ اپریل کو ہوئی۔ اس دن غازی علم الدین دو سپاہیوں کی حراست میں ہتھکڑی پہنے ہوئے تھے اور نہایت خاموشی سے جھوم رہے تھے۔ آپ کے والد بزرگوار بھی قریب ہی بیٹھے ہوئے تھے۔ استغاثے کی طرف سے مہتہ ایشر داس اور
غازی مرد کی طرف سے خواجہ فیروز الدین پیرو کار تھے۔ خواجہ صاحب نے عدالت سے کہا ”مقدمہ کا چارج میں نے لے لیا ہے“۔ پہلے روز جو صاحب پیش ہوئے تھے‘ وہ التواء مقدمہ کے خواہش مند تھے۔ میرا موکل اس کی ضرورت نہیں سمجھتا“۔
اس باہم گفتگو کے بعد دیگر رسمی گواہوں کی شہادتیں ہوئیں۔ نقشہ نویس سید محمد عثمان‘ ساکن مزنگ نے بیان کیا کہ موقع کا نقشہ میرا بنایا ہوا ہے‘ جو کہ موقع کے مطابق درست ہے۔ اس نقشے میں ذیل کے مقامات کی نشاندہی کی:
- ۱۔ وہ جگہ جہاں مقتول سویا ہوا تھا۔
- ۲۔ وہ راستہ جہاں سے قاتل بھاگ کر رویا رتن کے ٹال پر پہنچا۔
- ۳۔ رویا رتن کا ٹال اور وہ نلکا جہاں قاتل ہاتھ دھو رہا تھا۔ ڈاکٹر ڈورس
متعین میو ہسپتال نے بیان کیا کہ ”مہاشہ راج پال کی نعش کا پوسٹ مارٹم میں نے کیا تھا۔ نعش کی شناخت ڈاکٹر گردہاری لال نے کی تھی‘ جو مقتول کو جانتا تھا۔ اس کی انگلیوں‘ سر‘ چھاتی اور پٹھوں پر زخم تھے اور کلیجہ بھی مجروح تھا۔ کلیجہ کے قریب پسلی ٹوٹی ہوئی تھی۔ چھاتی کے بائیں جانب کا زخم ۱/۲ ۱ لمبا اور ۱/۴ ۱ انچ چوڑا تھا۔ اس کی گہرائی ۱/۲ ۲ انچ تھی۔ چوتھی پسلی کٹ گئی تھی اور بائیں طرف پٹھے پر سخت زخم تھا۔ مقتول کو کل ایک درجن ضربات آئیں۔ میرے خیال میں موت اس ضرب کی وجہ سے ہوئی جو کلیجہ پر لگی۔ یہ کسی تیز نوکدار ہتھیار سے لگ سکتی ہے۔ اس زخم کی گہرائی ۱/۲ ۴ انچ اور چوڑائی ۳/۴ ۳ (پونے چار انچ) تھی۔ قتل کے دوسرے روز ایک چھرا میرے پاس لایا گیا۔ اس سے بھی ایسی ضربات لگ سکتی ہیں۔ اس کارروائی کے آخر پر غازی علم الدین نے کمرہ عدالت میں دھلے ہوئے کپڑے زیب تن کیے۔
۲۴ اپریل کو اس مقدمہ کی دوبارہ سماعت ہوئی۔ کمرۂ عدالت کھچا کھچ بھرا ہوا تھا۔ غازی علم الدین کی طرف سے خواجہ فیروز دین اور خواجہ نیاز احمد پلیڈر صاحبان پیرو کار تھے۔ اس روز تاراچند اور کدار ناتھ سے چھری شناخت کرائی گئی اور کورٹ ڈی ایس پی نے رپورٹیں پیش کیں‘ جس کے بعد عدالت نے غازی علم الدین پر زیر دفعہ ۳۰۲ تعزیرات ہند لگا دی اور مقدمہ سیشن کے سپرد کرتے ہوئے ہدایت کی کہ کل صفائی کے گواہوں کی فہرست عدالت میں داخل کرا دی جائے۔
۲۵ اپریل کو اس سلسلے میں میاں علم الدین کو مسٹر لوئس ایڈیشنل مجسٹریٹ کی عدالت میں پیش کیا گیا اور صفائی کے گواہوں کی فہرست داخل کرائی گئی، جن کے اسماء درج ذیل ہیں:
معراج دین ولد میاں امام دین ٹھیکیدار، لاہور سید ظفر علی شاہ ولد اصغر علی شاہ، لاہور معراج دین ولد چراغ دین ٹھیکیدار، لاہور میاں طالع مند ولد عبد الرحیم سریانوالہ بازار، لاہور مستری رحیم بخش خرادی، سبزی منڈی، لاہور چراغ دین ٹھیکیدار، بیرون موچی دروازہ، لاہور چودھری گھسیٹا سابق میونسپل کمشنر، لاہور محمد دین ولد پیر بخش، چنگڑ محلہ لاہور نبی بخش، سکنہ برج اٹاری، ضلع لاہور پیر اندتہ، قوم جٹ، لاہور مسٹر ہیری پروپرائیٹر، نائیڈو ہوٹل، لاہور احمد دین ٹیلر ماسٹر، ہسپتال روڈ، لاہور تاج دین ولد مولوی احمد دین، ہسپتال روڈ، لاہور کریم بخش درزی، ہسپتال روڈ، لاہور میاں عبدالرشید مالک لائن پریس، لاہور شیخ ولایت علی، آری ہسپتال روڈ، لاہور شیخ اظہر علی، آرمی پریس حافظ برکت علی، آرمی پریس محمد دین ٹیلر ماسٹر، ہسپتال روڈ، لاہور الہ بخش ولد مہتاب پہلوان، بیرون لوہاری دروازہ، لاہور شیخ غلام غوث، سوداگر چوب، بیرون لوہاری دروازہ، لاہور ملک محمد شریف، سوداگر چوب، بیرون لوہاری دروازہ، لاہور میاں میراں بخش سوداگر چوب فروش، بیرون لوہاری دروازہ، لاہور
۱۵ مئی ۱۹۲۹ء کو غازی علم الدین شہید کا مرافعہ مسٹر ٹیپ سیشن جج کی عدالت
میں پیش ہوا۔ اس روز کی کارروائی میں چار اسیروں کا چناؤ کیا گیا، جن میں دو مسلمان، ایک ہندو اور چوتھا ایک سکھ تھا۔ ۱۴ مئی کو دوبارہ سماعت ہوئی۔ استغاثے کی طرف سے لالہ راج کشن اور غازی علم الدین کی طرف سے خواجہ فیروز الدین، مسٹر سلیم اور خواجہ نیاز احمد پیروکار تھے۔ عدالت کے باہر لا تعداد مسلمان موجود تھے اور کمرۂ عدالت معززین شہر سے کھچا کھچ بھرا ہوا تھا۔ صفائی کے جملہ گواہ پیش کرنے کی درخواست پہلے ہی مسترد ہو چکی تھی۔ مسٹر فیروز الدین ایڈووکیٹ نے ایک تحریری درخواست ایڈیشنل ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کی عدالت میں گزاری تھی کہ گواہوں کی فہرست کے ساتھ ڈاکٹر کا نام بھی سیشن کورٹ میں بھیجا جائے۔ اس لیے تمام مطلوبہ گواہ عدالت میں حاضر تھے۔ مسٹر ٹیپ سیشن جج نے کارروائی کا آغاز کرتے ہوئے گواہان استغاثہ کے بیانات لیے۔ اس روز غازی موصوف نے دوپہر کا کھانا اپنے رشتہ داروں کے ساتھ کھایا۔ شیخ حسن دین شروع سے آخر تک غازی علم الدین کے پاس کرسی پر بیٹھے رہے۔ تھوڑے تھوڑے وقفے کے بعد ان کے مابین جذبہ عشق و محبت کی باتیں بھی ہوتی رہیں۔
فضاؤں میں دل کی مدینے ملیں گے
بطل حریت کو ایک مدت سے قائل کیا جا رہا تھا کہ وہ اقبال قتل نہ کریں مگر غازی موصوف انکار کرنے سے ہمیشہ انکار کرتے رہے۔ سیشن کورٹ میں غازی علم الدین کے عشق کا امتحان تھا۔ انکار سے بچ جانے کا امکان، لیکن اقرار سے موت یقینی تھی۔ ایک پلڑے میں عشق رسول ﷺ اور دوسری طرف پوری دنیا کھڑی تھی۔ اس مرحلے پر آپ عجیب کش مکش کا شکار ہوگئے۔ انہیں ہر لحاظ سے مجبور کیا گیا کہ اپنے تئیں ایک بار ہی بے قصور ظاہر کرو کتنا صبر آزما تھا اس دوراہے پر کوئی فیصلہ۔ اکلوتے بھائی کی پریشان نظروں سے سامنا تھا۔ بہن کی معصوم آرزوئیں دم توڑتی ہوئی نظر آئیں، ممتا دامن پھیلائے بیٹھی تھی۔ شفقت پدری بھی بصورت مجسمہ سوال کھڑی دیکھی۔ احباب نے رشتہ دوستی کا واسطہ دیا۔ اہل علم نے قرآنی آیات کی تاویلیں پیش کیں۔ وکلاء نے قانونی نکات گوش گزار کیے۔ ان کا ایک سوال تھا۔ سب کا یہی تقاضا تھا کہ اپنے لیے نہ سہی، ہماری خاطر ہی اقبال قتل سے باز آجاؤ۔ پھر وہ لمحہ بھی آگیا جب سب کی پرامید نگاہیں آپ کی طرف اٹھ گئیں۔ جب کہ جج مذکور نے پوچھا ”کیا تم نے قتل کا جرم کیا ہے؟“ آپ نے سوچا، سمجھا، سر اوپر کو اٹھا، زیر لب الفاظ پر غور کیا اور
فرمایا ”میں نے کسی انسان کو قتل کرنے کا کوئی جرم نہیں کیا؟“ یہ وہ الفاظ ہیں‘ جن کے ذریعے آپ ہر دو جانب سے سرخرو ہو گئے۔ یہ الفاظ نہایت غور طلب ہیں۔ اس سے یہ مطلب ہرگز اخذ نہیں ہوتا کہ غازی صاحب نے خود کو بے قصور ظاہر کیا۔ دراصل ان کی نگاہ میں راج پال انسان نہ تھا‘ وہ اسے سگ آوارہ سے بھی بدتر سمجھتے تھے۔ ان کی نظر میں یہ فعل جرم نہیں‘ کار خیر تھا۔ ایک فرض تھا‘ جو انہوں نے پورا کیا!
اسے جناب رسالت مآب دیکھیں گے
۲۲ مئی کو سیشن کورٹ میں سماعت کا آخری دن تھا۔ اسیسروں نے اپنا اپنا فیصلہ عدالت کے گوش گزار کیا۔ ہندو اور ایک سکھ اسیسر کی رائے کے مطابق علم الدین مجرم تھا۔ جب کہ مسلم اسیسروں کی رائے اس کے برعکس تھی۔ اس روز مسٹر نیپ کے روبرو وکلائے فریقین کے مابین قانونی بحث بھی ہوئی۔ مسٹر سلیم ایڈووکیٹ نے غازی کے حق میں مدلل اور معقول دلائل پیش کیے۔
”استغاثے کے مطابق قاتل جب دکان میں آیا‘ دو آدمی موجود تھے۔ (جو واقعہ کے عینی شاہد ہیں) ان کے سامنے اس نے حملہ کیا۔ مقتول نے حملہ روکا‘ جس کی وجہ سے اس کے ہاتھوں میں زخم بھی آئے۔ آخر کئی ضربوں کے بعد وہ اسے مار گرانے میں کامیاب ہو گیا اور کام کر کے بھاگ گیا مگر تعاقب کر کے اسے گرفتار کر لیا گیا۔ سوال یہ ہے کہ یہ لوگ اثنائے قتل کیوں نہ بولے اور کیوں نہ انہوں نے شور و غوغا بلند کیا تاکہ قاتل موقع پر پکڑا جاتا۔ پھر جو چھری پکڑی گئی ہے‘ اس کی نوک ٹوٹی ہوئی ہے۔ اس سے آدمی قتل نہیں ہو سکتا۔ اصل بات یہ معلوم ہوتی ہے کہ جب قاتل آیا‘ راج پال دکان میں بیٹھا تھا۔ وہ بڑے اطمینان سے اس کا کام تمام کر کے ہوا ہو گیا۔ ملازموں نے آکر دیکھا تو راج پال کو مردہ پایا تو چلاتے ہوئے دوڑے اور ایک مسلمان کو پکڑ کر قاتل بنا دیا۔ حالانکہ اگر یہ قاتل ہوتا تو یہ بھاگ کر انار کلی کے پر رونق بازار میں شامل انبوہ کثیر ہو کر بچ نکلتا نہ کہ غیر آباد طرف جا کر پکڑا جاتا۔ جس دکاندار سے چھری خریدنا بیان کیا جاتا ہے‘ وہ کمزور نظر آدمی ہے۔ اسے کس طرح یاد رہ سکتا ہے کہ فلاں شکل و صورت کا آدمی آیا تھا‘ جو چھری خرید کر لے گیا۔ مقدمہ بالکل ثابت نہیں‘ لہٰذا جج صاحب کو چاہیے کہ ملزم کو بری کر دیں“۔
کہتے ہیں جب مسٹر سلیم ایڈووکیٹ صاحب اپنے دلائل سے فارغ ہوئے تو اس کے تھوڑی دیر بعد مگر فیصلہ سنائے جانے سے کچھ وقت قبل غازی موصوف نے چلا چلا کر کہنا شروع کر دیا ”شاتم رسول ﷺ کا قاتل میں ہوں۔ میں نے ہی نابکار راج پال کو جہنم رسید کیا ہے“۔ درمیانی وقفے کے بعد عدالت نے غازی علم الدین کو سزائے موت کا حکم سنا دیا اور مجموعہ ضابطہ فوجداری کی دفعہ ۳۷۴ کی رو سے اپنے فیصلے کی توثیق کرانے کے لیے مسل ہائی کورٹ میں بھیج دی۔ جب یہ فیصلہ سنایا گیا تو آپ نہایت پر سکون تھے اور زیر لب ایک نعت گنگنا رہے تھے۔ چہرے سے رونق و متانت برستی تھی۔ البتہ باہر عدالت میں جمع شدہ مسلمانوں میں کافی جوش و خروش تھا۔ انہوں نے جب عدالت کا فیصلہ سنا تو وہ دیر تک اللہ اکبر اور غازی علم الدین زندہ باد کے نعرے لگاتے رہے۔
اب نوجوان عاشق رسول ﷺ کا مقدمہ سب مسلمانوں کا مقدمہ بن گیا تھا۔ اس حکم سے برصغیر کے مسلمانوں میں کہرام مچ گیا۔ اس موقع پر حاجی نظام دین ، فتح محمد کمبوہ شیر فروش اور ملک لال دین قیصر نے محلہ دار ”علم الدین ڈیفنس کمیٹی“ تشکیل دی جو چند ہی روز میں اہالیان شہر کی توجہ کا مرکز بن گئی۔ چنانچہ متعدد جلسے ہوئے اور جلوس نکالے گئے۔ ”علم الدین ڈیفنس کمیٹی“ کی اپیل پر عوام نے دل کھول کر چندے جمع کرائے۔ اپیل کی غرض سے فیصلے کی نقول حاصل کر کے نامی وکلا نے اس مسل کا بغور مطالعہ کیا۔ اس پینل میں میاں تصدق حسین خالد ، مسٹر فرخ حسین بار ایٹ لاء ، مسٹر محمد سلیم ایڈووکیٹ ، میاں فیروز الدین اور خواجہ نیاز احمد کے نام شامل ہیں۔ ان ماہر قانون وکلاء نے شبانہ روز مطالعہ کے بعد آخر کار ہائی کورٹ میں اپیل دائر کر دی۔ عدالت عالیہ میں غازی علم الدین کا مرافعہ ۳۰ مئی کو منظور ہوا، یہ عجیب اتفاق ہے کہ اسی روز مسٹر راج کشن بیرسٹر سپیشل پبلک پراسیکیوٹر کو لدھیانہ سے ۲۵ مئی کا لکھا ہوا ایک سرخ مکتوب موصول ہوا۔ خط کا مزاج دلچسپی سے خالی نہیں ہے۔ اس کی تحریر یوں تھی:
”جناب والا! چونکہ آپ نے راج پال ایسے ذلیل کی پیروی کر کے ایک بے گناہ شخص کو پھنسایا ہے ، لہٰذا آپ کو بذریعہ عریضہ ہٰذا مطلع کیا جاتا ہے کہ اگر آپ نے آئندہ پیشی ہائی کورٹ میں اپنا رویہ نہ بدلا تو آپ کو اور مردود جہنم رسید کے ملازم کو بے رحمی سے قتل کر کے سورگ باش کر دیا جائے گا۔ اس ضمن میں سپاہی نمبر سات (۷) کو جس نے راج پال کو کیفر کردار تک پہنچا کر اپنی بہادری کا جیتا جاگتا ثبوت دیا ہے ، اطلاع دی جاتی ہے کہ وہ مقررہ وقت کے اندر تادیبی کارروائی کر
کے دوبارہ اپنی بے باکی کا ثبوت دے"۔
خط کے نفس مضمون سے جو کچھ مترشح ہوتا ہے، وہ حقیقت پر مبنی نہیں ہے۔ یہ نامہ مجاہد ملت، بطل حریت، پروانہ شمع رسالت کے کسی پروانے نے تسکین دل کے لیے لکھ پھینکا ہو گا، جس کا مقصد راقم کے خیال میں یہ بھی ہو سکتا ہے کہ عدالت عالیہ میں شاید اس دھمکی آمیز خط کی بنا پر استغاثے کی طرف سے کوئی وکیل پیش نہ ہو۔ مزید یہ آریہ سماجیوں پر واضح ہو جائے کہ گستاخان رسالت کا خاتمہ کرنے کے لیے ایک فرد نہیں، پوری تنظیم کام کر رہی ہے۔ اس سے قطع نظر ہائی کورٹ میں مرافعہ منظور ہونے کے بعد غازی علم الدین کے رشتہ داروں کی بڑی خواہش تھی کہ اس مقدمے میں کسی ماہر قانون دان کی خدمات حاصل کی جائیں۔ اس زمانے میں سر تیج بہادر سپرو ایک شہرت یافتہ وکیل تھے۔ بعض اہل الرائے نے اس کا نام بھی تجویز کیا۔ ڈاکٹر اقبال کا مکان ان دنوں علمی و ادبی اور دینی و سیاسی سرگرمیوں کا مرکز تھا، جس میں قوم کی قسمت کے فیصلے ہوا کرتے تھے۔ علامہ اقبال خود علم الدین غازی کے بڑے قدردان تھے اور اس مقدمے سے ان کو ایک خاص لگاؤ تھا۔ وہاں رات کو اکثر سر محمد شفیع، میاں محمد الدین، سر مراتب علی، ملک لال دین قیصر، میاں عبدالعزیز مارواڑہ وغیرہم اکٹھا ہوا کرتے تھے اور دیر تک اس موضوع پر تبادلہ خیال ہوتا رہتا۔ علامہ اقبال کی خدمت میں جب یہ معاملہ پیش ہوا تو آپ نے کہا ”بلاشبہ تیج بہادر سپرو ایک شہرہ آفاق وکیل ہیں اور عربی کے بہت بڑے سکالر بھی لیکن میرا خیال ہے کہ اس کے لیے مسٹر جناح بہتر ثابت ہوں گے۔ کیونکہ اس مقدمے میں حق و باطل کی آویزش ہے اور سر تیج بہادر سپرو اس معاملے میں انصاف نہ کر سکیں گے"۔ گویا مسٹر جناح کی لاہور میں آمد کے محرک و موید سر محمد اقبال ہیں۔
محمد علی جناح ان دنوں بمبئی میں پریکٹس کرتے تھے۔ نیلگوں سائبان کے نیچے ان کی قانون دانی کا بڑا شہرہ تھا۔ مسٹر جناح اس زمانے میں آل انڈیا کانگریس کے ممبر تھے۔ نہ افق سیاست پر آفتاب شہرت بن کر طلوع ہوئے تھے اور نہ ہی وہ قائد اعظم بنے تھے۔ اس وقت تک مسلم لیگ بھی ان کی اعلیٰ اور بے لوث قیادت سے محروم تھی۔
چنانچہ ڈاکٹر اقبال کے مشورے سے ”علم الدین ڈیفنس کمیٹی" کے چودھری فتح محمد کمبوہ اور دیگر مسلم معززین نے بمبئی میں ایم۔ اے جناح سے رابطہ قائم کیا۔ اس سلسلے میں چند روز خط و کتابت ہوتی رہی اور پھر کمبوہ صاحب حاجی نظام الدین کے ہمراہ ان سے بمبئی جاکر دفتر میں بھی ملے۔ بعد ازاں جناح صاحب کے استفسار پر مسٹر فرخ حسین بار ایٹ لاء نے آپ کو مقدمے کی صورت حال سے آگاہ کیا۔ ایم۔ اے جناح نے ہر طرح سے مطمئن ہونے کے
بعد ۷ جون کو بنام عدالت عالیہ ایک برقی پیغام بھیجا کہ اپیل کنندہ کی پیروی کے لیے مجھے اجازت دی جائے۔ اس وقت کے قانون کے مطابق ایک ہائی کورٹ کا وکیل دوسرے ہائی کورٹ میں پریکٹس نہیں کر سکتا تھا، اس لیے محمد علی جناح (قائد اعظمؒ) نے جب پنجاب ہائی کورٹ سے مقدمے میں پیش ہونے کی اجازت مانگی تو عدالت مذکور کے ایک جسٹس مسٹر براڈوے نے اختلاف کیا لیکن چیف جسٹس سر شادی لال نے بعض مصلحتوں کی بنا پر ان کو پیش ہونے کی اجازت دے دی۔
ایم۔ اے جناح ۱۴ جولائی کو غالباً دوسری بار لاہور تشریف لائے اور فلیٹیز (Flaties) ہوٹل میں قیام کیا۔ اگلے روز غازی علم الدین کا مقدمہ مسٹر جسٹس براڈوے اور جسٹس جانسٹون کے ڈویژنل بینچ میں پیش ہوا۔ لوگوں کا اجتماع صبح نو بجے سے شروع ہو گیا تھا۔ پریس رپورٹر بھی سات سات مقامات پر رک کر بہ ہزار دقت گیلری تک پہنچنے میں کامیاب ہوئے۔ مقدمے کی کارروائی سننے کے لیے درج ذیل اہم شخصیتیں بھی کمرۂ عدالت میں موجود تھیں۔
سید حبیب شاہ، مالک اخبار ”سیاست“، مولوی غلام محی الدین، مسٹر محمد طفیل بیرسٹر، خلیفہ شجاع الدین، مدن مکند لال پوری، چودھری گھسیٹا، چودھری محمد حسین ایڈووکیٹ لدھیانہ، ملک محمد امین، مسٹر محمد شریف ایڈووکیٹ، مسٹر بدر الدین بیرسٹر، مدیر اخبار ”ہنٹر“ دیوان چمن لال، سردار امر سنگھ، لالہ گوکل چند نارنگ، خواجہ فیروز الدین بیرسٹر، مہتہ امین چند ایڈووکیٹ وغیرہم۔
مقدمے میں مسٹر فرخ حسین نے قائد اعظمؒ کی معاونت کی۔ استغاثے کی طرف سے دیوان رام لال اور مسٹر جیون لال کھنہ پیش ہوئے۔ گیارہ بجنے میں بیس منٹ باقی تھے، جب میاں طالع مند ایک اور شخص کی معیت میں مسٹر جناح کی قانونی کتب کی ایک بھاری گٹھڑی اٹھا کر لائے۔ دیگر مقدمات کی سماعت کے بعد پونے گیارہ بجے جج صاحبان اٹھ گئے۔ بارہ بجنے میں بارہ منٹ باقی تھے کہ مسٹر ایم۔ اے جناح بہمراہی مسٹر فرخ حسین عدالت کے کمرے میں داخل ہوئے اور بارہ بج کر پانچ منٹ پر جناح صاحب نے اپنے دلائل کا آغاز کیا۔
آپ نے فرمایا:
- ١- "میں سب سے پہلے اس پولیس افسر کی شہادت کی طرف عدالت عالیہ کی توجہ مبذول
کراتا ہوں، جس نے بیان کیا کہ ہم ملزم سے یہ اطلاع پاتے ہی کہ میں نے آتما رام کباڑی سے چھری خریدی ہے، فوراً اس دکان پر پہنچے۔ پولیس نے بذات خود کوئی تفتیش نہیں کی اور صرف ملزم کے بیان پر اکتفا کیا لیکن قانون شہادت دفعہ ۲۷ کی رو سے ملزم کا بیان بطور شہادت
نہیں پیش ہو سکتا۔ میں چاہتا ہوں کہ جج صاحبان اس کا فیصلہ صادر کریں“۔
(مسٹر جسٹس براڈوے نے کہا کہ ”شہادت کے قابل قبول یا ناقابل قبول ہونے کے سوال کا فیصلہ کرنا عدالت ماتحت کا کام ہے“۔ مسٹر جناح نے کہا کہ ”آپ اس نکتہ کا اب نہیں تو آخر میں فیصلہ کر سکتے ہیں“۔
- ۲۔ موقع کی شہادتوں میں صریح اختلاف: سلسلہ تقریر کو جاری رکھتے ہوئے
مسٹر جناح نے کہا:
”اب غور طلب امر یہ ہے کہ ملزم کو اس مقدمے میں ماخوذ کرنے کی کافی وجوہ ہیں یا نہیں۔ ۴ اپریل کو راج پال ہلاک ہو گیا۔ لیکن سوال یہ ہے کہ جس نے راج پال کو قتل کیا‘ وہ کون تھا؟ استغاثے کی شہادت میں دو عینی گواہوں کی شہادت کے قابل اعتماد ہونے کو پرکھنے کے لیے میں فاضل ججوں کی توجہ اس امر کی طرف مبذول کراتا ہوں کہ یہ دونوں گواہ راج پال کے ملازم تھے۔ ان شہادتوں کو پرکھنے کا صرف یہی طریقہ ہے کہ ان کے بیانات کے اختلافات دیکھے جائیں۔ آپ نے کیدار ناتھ کا بیان پڑھ کر سنایا اور کہا کہ سخت تعجب کی بات ہے کہ اس بیان میں بھگت رام کا کہیں نام تک نہیں آیا۔ حالانکہ وہ اس وقت دکان پر موجود تھا۔ برخلاف اس کے گواہ بھگت رام کا بیان ہے کہ اس نے ملزم کا تعاقب کیا اور کیدار ناتھ نے بھگت رام کا نام نہیں لیا۔ حالانکہ ایک عینی شاہد کی حیثیت سے کیدار ناتھ کو بھگت رام کا نام سب سے پہلے لینا چاہیے تھا۔ یہ ایک نہایت ہی اہم نکتہ ہے اور عینی شاہد کا جزو اعظم ہے۔
- ۳۔ طبی شہادت سے تردید: کیدار ناتھ گواہ نے ارتکاب جرم کا جس قدر وقت
بتایا ہے‘ طبی شہادت سے اس کی تردید ہوتی ہے۔ طبی شہادت سے ظاہر ہے کہ گواہ کے بیان کردہ وقت سے دو چند وقت صرف ہوا ہے۔
- ۴۔ اقبال جرم ناممکن ہے: مسٹر جناح نے فرمایا کہ ”گواہ کا بیان ہے کہ جب ملزم کو
پکڑا گیا تو اس نے کہا ”میں نے کوئی چوری نہیں کی‘ ڈاکہ نہیں مارا۔ میں نے صرف اپنے پیغمبر کا بدلہ لیا ہے“۔ ایک لمحہ کے لیے ہم فرض کر لیتے ہیں کہ ملزم بھاگتا جاتا تھا۔ اس کا تعاقب بھی کیا گیا۔ لیکن کیا یہ ممکن ہے کہ بھاگنے کی کوشش کرنے والا کوئی شخص گرفتار ہوتے ہی فوراً اس طرح اقبال جرم کر لے۔ یہ شہادت بھی پیش کی گئی کہ وہ متواتر اقبال جرم کرتا رہا۔
پولیس کا ایسے موقع پر فرض تھا کہ وہ مجسٹریٹ کے روبرو ملزم کے بیانات قلم بند کراتی لیکن ایسا نہیں کیا گیا۔ ہر ایک تجربہ کار پولیس افسر کے لیے ایسا کرنا ضروری ہوتا ہے۔ لوگوں کا بیان ہے کہ ملزم نے راج پال کی دکان پر آکر بھی اقبال جرم کیا۔ ایسا غیر ممکن ہے۔ وہاں پولیس موجود تھی، جس کے سامنے ایک نو عمر لڑکا ایسی جرات کا مظاہرہ نہیں کر سکتا۔ یہ سب کہانی ایسی غیر قدرتی ہے کہ اس پر یقین نہیں کیا جاسکتا“۔
- ۵ ۔ مسٹر جناح نے کہا کہ ”یہ سب کہانی غلط ہے۔ گواہ نے نہ صرف بھگت رام کا نام
ترک کر دیا ہے بلکہ وزیر چند کا نام بھی چھوڑ دیا ہے۔ حالانکہ وزیر چند نے ملزم کا تعاقب کیا تھا۔ جرح پر گواہ نے کہا ہے کہ میں وزیر چند کے نام کے کسی شخص کو نہیں جانتا۔ میں اس شہادت پر صرف یہی کہوں گا کہ اگر گواہ سچ بولتا تو وہ بھگت رام کا نام ضرور لیتا۔ اس کے علاوہ پولیس افسر کے سامنے وہ الفاظ بتاتا، جو اس نے بعد میں ملزم کی طرف منسوب کیے۔ لیکن ایسا نہیں کیا گیا۔ اس لیے یہ کہانی فرضی ہے“۔
دیگر گواہوں کے بیانات میں اختلاف : دیوان وزیر چند کی شہادت پڑھ کر سناتے ہوئے مسٹر جناح نے کہا کہ ”آپ فاضل جج صاحبان اس بات پر یقین کر سکتے ہیں کہ کدار ناتھ ، وزیر چند کو نہیں جانتا تھا۔ اگر اسے نام نہیں آتا تھا تو وہ کہہ سکتا تھا کہ کوئی آدمی وہاں موجود تھا۔ اس کے بعد گواہ بھگت سنگھ بھی تقریباً ایسی ہی کہانی سناتا ہے۔ اس کا بیان ہے کہ ملزم کی پیٹھ اس کی طرف تھی۔ ظاہر ہے کہ وہ اس کا چہرہ نہیں دیکھ سکا۔ ہر ایک گواہ ان الفاظ کے متعلق، جو ملزم نے کہے، مختلف بیانات دیتا ہے۔ چنانچہ بھگت کے بقول ملزم نے کہا تھا ”ہتھکڑیاں سونے کے کڑے ہیں“۔ نانک چند گواہ کا بیان ہے کہ ملزم کہتا تھا ”راج پال میرا دشمن نہیں تھا، بلکہ میرے رسول کا دشمن ہے“۔ گواہ سچا نند نے کم و بیش وہی الفاظ کہے، جو نانک چند نے بیان کیے ہیں لیکن گواہ روپا رتن، جس کی نسبت کہا جاتا ہے کہ اس نے ملزم کو گرفتار کیا، بالکل مختلف الفاظ بیان کرتا ہے۔ (مسٹر جسٹس براڈوے : گواہ نے پہلے کہہ دیا ہے کہ میں ملزم کے صحیح الفاظ بیان نہیں کر سکتا، مگر اس کا ملخص بتا سکتا ہوں)“
آتما رام کباڑی بناوٹی گواہ ہے : میں صاف کہہ دیتا ہوں کہ ”آتما رام کباڑی ایک سکھایا ہوا گواہ ہے۔ اسے اسی روز معلوم ہو گیا تھا کہ راج پال مارا گیا ہے۔ پھر شناخت کی پریڈ ہوئی۔ جس میں تین مرتبہ گھومنے کے بعد اس نے ملزم کو شناخت کیا۔ گو اس نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ملزم کی ناک کے قریب ایک نشان ہے، کیا کوئی چھریاں بیچنے والا اس قدر
باریک بین ہو سکتا ہے کہ وہ اس بات کا بھی خیال رکھے کہ خریدار کی ناک کے پاس نشان بھی ہے۔ گواہ کا اپنا بیان ہے کہ ملزم کے کان میں دھاگا پڑا ہوا تھا۔ حالانکہ وہ ۷۸ سالہ بوڑھا ہے۔ اس کی بینائی بھی اچھی نہیں۔ اسی گواہ کا بیان ہے کہ میں فروخت کی ہوئی چھریوں کو پہچان سکتا ہوں۔ لیکن بعد ازاں اس نے غلط چھری کو شناخت کیا۔ (چھریاں عدالت میں موجود تھیں) فاضل وکیل مسٹر جناح نے ٹوٹی ہوئی نوک والی چھری کی طرف جج صاحبان کو متوجہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ خود ان چھریوں کو دیکھ کر بتائیں کہ ان میں کیا تمیز ہو سکتی ہے کہ آتما رام یہ بتانے کے قابل ہو گیا کہ فلاں چھری ہے۔ ملزم کا اپنا بیان ہے کہ میں نے آتما رام کباڑی سے چھری نہیں خریدی۔ شناخت کے وقت جو طریقہ اختیار کیا گیا‘ اس پر زیادہ اعتماد نہیں کیا جا سکتا۔ باوجود اس کے‘ آتما رام کباڑی نے تین چکر لگانے کے بعد ملزم کو شناخت کیا۔ شناخت کے طریقے میں یہ ایک قابل غور نقص ہے"۔
خون کے نشانات کا مغالطہ : ایم۔ اے جناح نے فرمایا ”سب انسپکٹر کی شہادت ہے کہ ملزم کی شلوار اور قمیص پر خون کے نشانات تھے"۔ ملزم کا بیان ہے کہ میرے ساتھ تشدد کیا گیا۔ استغاثہ نے کہیں بھی یقینی طور پر بیان نہیں کیا کہ ملزم کے کپڑوں پر خون کے جو نشانات تھے‘ وہ اسی قتل کی وجہ سے تھے۔ طبی شہادت ہے کہ یہ نشانات شاید مقتول کے قریب آنے سے لگ گئے ہوں۔ یہ امر واضح ہے۔ ملزم مقتول کے نزدیک نہیں آیا۔ اس میں شک نہیں کہ خون کے نشانات کسی انسان کے خون کے ہیں لیکن یہ ثابت نہیں ہو سکتا کہ یہ مقتول کے خون کے نشانات ہیں۔ اگر میری انگلی زخمی ہو جائے تو اس کے اندر سے بھی کافی خون نکل آئے گا۔ جس سے میرے کپڑوں پر بڑے بڑے نشان لگ سکتے ہیں"۔
سیشن جج کا قابل اعتراض استدلال : اس کے بعد مسٹر جناح نے کہا کہ ”میں کہہ سکتا ہوں کہ فاضل جج نے فیصلے میں غلطی کی ہے۔ اس نے لکھا ہے کہ دو ہندو اسیر ملزم کو مجرم بتاتے ہیں لیکن دو مسلمان اسیر اسے بے قصور ٹھہراتے ہیں۔ اگر اس وقت ہندو مسلم فرقوں میں کشیدگی تھی تو فاضل جج کا فرض تھا کہ وہ اپنی رائے سے فیصلہ کرتا۔ اس کا کیا ثبوت ہے کہ ہندو اسیروں کی رائے فرقہ پرستانہ نہ تھی۔ اس کے علاوہ فاضل جج نے شہادتوں سے بھی غلط نتیجہ مرتب کیا ہے۔
رحم کی استدعا : آخر میں مسٹر جناح نے کہا کہ ملزم نوجوان ہے۔ راج پال نے بدنام کتاب شائع کر کے مسلمانوں کے دلوں کو مجروح کیا تھا۔ اس لیے سزائے موت سخت سزا ہے۔
اشتعال کے تحت جرم اور کم عمر کے لیے قانون میں سزا کی واضح رعایت ہے۔ اس لیے ملزم پر رحم کیا جائے“۔
اس مدلل اور معقول تقریر کے جواب میں استغاثہ کے وکیل مسٹر جے لال کپور نے کہا:
- ۱۔ ملزم واردات کے فوراً بعد خون آلود چہرے اور خون آلود کپڑوں کے ساتھ گرفتار ہوا
ہے۔ اس لیے یوں سمجھنا چاہیے کہ وہ موقعہ پر ہی گرفتار ہوا ہے۔ قتل کے بعد ملزم کا فرار ہونا لازمی تھا۔ ودیا رتن کا تال مباحثہ راج پال کی دکان سے صرف ایک فرلانگ ہے۔
- ۲۔ مقتول راج پال کے دو ملازم کیدار ناتھ اور بھگت رام موقعہ پر موجود تھے۔ انہوں
نے راج پال کو قتل ہوتے دیکھا مگر انہوں نے ملزم کو پکڑنے کی اس لیے کوشش نہ کی کہ اس کی آنکھوں میں خون سوار تھا اور اس کے ہاتھ میں چھرا تھا۔ اگر وہ مزاحمت کرتے تو ایک کی بجائے تین قتل ہو جاتے۔ ملازم ہونے کی وجہ سے ان کے بیانات پر شک کرنا معقولیت نہیں ہے۔
- ۳۔ یہ درست ہے کہ ابتدائی رپورٹ میں کیدار ناتھ نے بھگت رام کا نام نہیں لکھوایا
مگر اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ رپورٹ درج کرانے کا مقصد پولیس کو واقعہ قتل کی اطلاع دینا تھی۔ تفصیلات اور جزئیات بعد میں پولیس اور عدالت کو بتائی جاتی ہیں۔
- ۴۔ یہ درست ہے کہ کتاب ”رنگیلا رسول“ میں بعض باتیں اسلامی عقائد کے خلاف
ہیں مگر مقتول اس کا صرف ناشر تھا، مصنف نہیں۔ اس غرض کے لیے ناشر کے خلاف زیر دفعہ ۱۵۳ الف مقدمہ چلایا گیا تھا۔ مگر ہائی کورٹ نے اس فعل کو کوئی جرم نہیں سمجھا ہے اور ملزم بری ہو گیا۔
- ۵۔ مزید برآں اشتعال کے تحت سزا میں رعایت حاصل کرنے کے لیے ضروری ہے کہ
ملزم کا اقدام فوری ہو نہ کہ سالوں کے بعد یعنی جونہی کتاب چھپ کر آئی، ملزم اس پر حملہ کر دیتا تو وہ اشتعال کی رعایت حاصل کر سکتا تھا۔ (اس پر مسٹر جناح نے جواب دیا کہ ”ہو سکتا ہے کہ ملزم کو اس کتاب کے مندرجات کا علم اسی روز ہوا ہو، جس روز اس نے حملہ کیا“)۔
- ۶۔ چھری نئی یا پرانی کا کوئی سوال نہیں۔ یہ ایک آلہ قتل ہے۔ ہر نئی چیز استعمال کے
فوراً بعد پرانی ہو سکتی ہے۔ چھری کو جس دن قتل کے لیے استعمال کیا گیا، اس دن یقیناً وہ نئی اور تیز تھی۔ اس کے بعد چھ ماہ کا عرصہ زیر استعمال نہ رہنے کی وجہ سے زنگ آلود ہو گئی ہے اور مال خانے میں الٹنے پلٹنے کی وجہ سے اس کی نوک بھی شکستہ ہو سکتی ہے۔
- ۷۔ فوج داری طریق کار کے مطابق ملزم کی باقاعدہ شناخت پریڈ کرائی گئی تھی۔ اسے نہ
صرف آتارام نے، بلکہ کردار ناتھ، نانک چند اور پرمانند نے بھی شناخت کیا تھا۔
- ۸- پیغمبر پر رکیک حملے کرنا واقعی افسوس ناک ہے مگر تعزیرات ہند میں اس جرم کی کوئی
سزا نہیں۔ عدالت کا کام ملزم کو مروجہ قانون کے مطابق سزا دینا ہے نہ کہ تعزیرات ہند میں ترمیم کرنا یا خود ایک نیا قانون بنانا۔
عدالت نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد حاضرین کو باہر نکال دیا۔ دیوان رام لال ایڈووکیٹ جنرل کے دلائل سنے بغیر غازی علم الدین کی اپیل خارج کر دی گئی اور عدالت ماتحت کا فیصلہ بحال رہا۔ ہائی کورٹ کا یہ فیصلہ جب غازی علم الدین کو اس شام جیل میں سنایا گیا تو ان کے جسم میں مسرت کی لہر دوڑ گئی۔ چہرہ تمتما اٹھا اور وہ یہ شعر گنگنانے میں محو ہو گئے:
اک دم کی زندگی بھی محبت میں ہے حرام
اگرچہ مسلمان انگریز حکومت کے معاندانہ رویے سے دلبرداشتہ تھے مگر پریوی کونسل کے دروازے پر دستک دینے میں ایک خاص مصلحت کار فرما تھی۔ سید عطاء اللہ شاہ بخاری ابتدا سے مقدمہ بازی کے خلاف تھے۔ ان کی خواہش تھی کہ علم الدین اور عدالت کو ان کے حال پر چھوڑ دیا جائے۔ کیونکہ اس معاملے میں رحم کی اپیل گناہ ہے۔ اقبال فعل سے انحراف ایک عظیم جرم ہے اور علم الدین کو ایسی حسین موت کی آغوش سے چھین لینا، ان کی ذات پر بہت بڑا ظلم ہے لیکن سید حبیب شاہ اور علامہ اقبال کی رائے اس کے برعکس تھی۔ ان کا کہنا تھا یہ بجا ہے کہ اپنے تئیں بے قصور ظاہر کرنا ناقابل عفو گناہ ہے اور غازی علم الدین کو ایسی مثالی موت، جو حقیقت میں موت نہیں ہے، سے بچانا ایک عظیم ترین جرم ہے لیکن اگر ہم خاموش بیٹھ کر حالات کے جائزے میں گم ہو جائیں تو غیر مسلم اس کا مطلب یہ اخذ کریں گے کہ علم الدین کا کوئی والی وارث نہیں ہے اور مسلمان اس سے کوئی خاص انس نہیں رکھتے۔ اس لیے حجت پوری کرنے کے لیے ہمیں ہر طرح کی قانونی چارہ جوئی کرنا چاہیے کیونکہ علم الدین کسی ایک فرد کا نام نہیں، پوری قوم کے تعارف کا معیار تھا۔ وہ دنیا بھر کے مسلمانوں کے لیے ایک قابل فخر سرمایہ بن گیا تھا۔ چنانچہ پریوی کونسل لندن میں دائر کردہ اپیل کا مسودہ ایم۔اے۔ جناح کی نگرانی میں تیار ہوا، جس میں غلط قانونی ضابطوں کی نشاندہی کی گئی۔ واقعات اور قانونی سقم کا بوضاحت تذکرہ کیا گیا۔ علاوہ ازیں زور دیا گیا کہ فیصلہ کرتے وقت دفعہ ۱۵۳ الف کی وضاحت اور دفعہ ۳۰۲ جرم اشتعال انگیز قتل کو زیر غور رکھا جائے۔ قائد اعظم اس سے فارغ ہوئے تو پھر دیوان چمن لال ایم۔اے۔، ایل ایل بی نے آپ کو ایک پروقار ضیافت میں مدعو کیا۔
جس کے بعد جناح صاحب ۱۷ جولائی ۱۹۲۹ء کی رات بمبئی جانے کے لیے فرنٹیئر میل پر سوار ہو گئے۔ اواخر جولائی میں نامور وکلاء کی مساعی جمیلہ اور مسٹر فرخ حسین کی وساطت سے غازی علم الدین کا مرافعہ پریوی کونسل لندن میں دائر کر دیا گیا۔
وہ سرفراز ہی کب تھا جو دار پر نہ تھا
وہاں میاں طالع مند برطانیہ کے سابق وزیر اعظم لارڈ آکسفورڈ کے فرزند آسٹر آرل اسکوئتھ کی خدمات حاصل کرنا چاہتے تھے۔ انہوں نے ایف۔ ایل ولسن اینڈ کمپنی سولیسٹرز کو ان کے تقرر کے لیے لکھا اور پوچھا کہ وہ پیش ہونے کے لیے کتنی فیس لیں گے لیکن پریوی کونسل نے کسی وکیل کو پیروی کرنے کی اجازت نہ دی اور صرف مسودے کے مطالعہ پر اکتفا کیا۔ فرنگی دور میں عدالتی آئین سازی کا سب سے بڑا اور قانون کا شارح ادارہ یہی تھا۔ اس عدالت نے اپیل کنندگان کے موقف کو قابل اعتنا نہ سمجھا۔ غازی علم الدین کی اپیل نامنظور کر دی اور دفعہ ۱۵۳ الف کی وضاحت اور دفعہ ۳۰۲ کے جزو اشتعال انگیز قتل کے معاملے کو بھی گول کر گئی۔ اصل میں وہ مسلمانوں کے مقابلے میں ہندوؤں کو زیادہ خوش رکھنا چاہتی تھی۔
غازی علم الدین کے مقدمے میں پریوی کونسل تک جو اخراجات آئے، ان کا کل تخمینہ اٹھارہ ہزار روپے ہے۔ وہ نہایت مہنگائی کا دور تھا۔ ابتداء میں آپ کے والد میاں طالع مند نے تمام مصارف خود برداشت کیے۔ ساڑھے تین ہزار روپے اپنی گرہ سے اور کچھ رقم قرض لے کر خرچ کی مگر جب اس مقدمے نے شہرت پکڑی تو اسیرِ عشق سے وابستگی قومی وقار کا سوال ثابت ہوا اور غازی علم الدین عوام الناس کی توجہ کا مرکز بن گئے۔ وہ نو عمر لڑکا جو کل تک گمنام تھا، چند دنوں میں اخباروں کے اولین صفحات کی سرخیوں کی زینت بن گیا۔ اب قید خانہ اور مقدمے کی پیشیوں میں ایک بے پناہ ہجوم ہوتا تھا، جس میں ہر طبقہ اور ہر عمر کے لوگ شامل ہوا کرتے۔ عورتیں، مرد، بوڑھے اور بچے ان کی صرف ایک جھلک دیکھنے کے لیے کچہری پر ٹوٹ پڑتے تھے۔ قصہ مختصر اب یہ مقدمہ ایک فرد کا نہیں، پوری قوم کا تھا۔ چنانچہ علم الدین ڈیفنس کمیٹی عمل میں آئی۔ جس کی تحریک پر قوم نے ہر طرح کی قربانیاں دیں۔ عوام الناس کے علاوہ خاص طور پر جن لوگوں نے مقدمے کے مصارف میں ہاتھ بٹایا، ان میں قصور پورہ لاہور کے ارائیں (میاں فیملی) اور ضلع ساہیوال دیمہ کریا کے کھگے سید زمان علی شاہ وغیرہم کے نام قابل ذکر ہیں۔ آمد و خرچ کا حساب مولوی محمد عبداللہ کے سپرد تھا، جنہوں نے یہ فرض نہایت دیانت اور ذمہ داری سے سرانجام دیا۔ بقول شیخ رشید احمد
صاحب کے‘ مقدمے میں متعلقہ وکلاء نے خاص دلچسپی کا ثبوت دیا۔ انہوں نے غازی علم الدین کے لواحقین سے فیس وغیرہ کا کبھی کوئی مطالبہ نہ کیا۔ حتیٰ کہ وہ تھوڑے بہت متعلقہ اخراجات بھی خود اپنی جیب سے برداشت کرتے رہے۔ اس سلسلے میں مسٹر فرخ حسین‘ میاں تصدق حسین خالد‘ میاں فیروز الدین صاحب اور خواجہ نیاز احمد ایڈووکیٹ کے نام ہمیشہ زندہ رہیں گے۔ مسٹر ایم۔اے جناح نے بھی بڑے بھاری دلائل عدالت کے گوش گزار کیے‘ جن کی قدر و قیمت کوئی ماہر قانون دان ہی جان سکتا ہے۔ پیر دستگیر نامی نے رقم کیا ہے۔ وکیل دوستوں کا کام اخلاص پر مبنی نہ تھا۔ سیشن کورٹ میں پیروی کے لیے مسٹر سلیم ایڈووکیٹ نے چھ سو روپیہ فیس وصول کی۔ اس روایت کی تردید کرنا آسان نہیں۔ یہ سوچنا پڑتا ہے اٹھارہ ہزار روپیہ آخر گیا کہاں! اکثر دیکھنے میں یہی آیا ہے کہ قانون دان طبقے میں ایثار عام نہیں اور اخلاص کمیاب ہے۔ (الا ماشاء اللہ ۔ ناقل)
روزنامہ ”الجمعیہ“ نے ۲۰ جولائی ۱۹۲۹ء کے پرچے میں صفحہ ۴ پر لکھا ”لاہور ہائی کورٹ سے بھی علم الدین کی اپیل کا فیصلہ صادر ہو گیا اور پھانسی کا جو حکم سیشن عدالت سے ہوا تھا‘ وہی بحال رہا۔ قائد اعظمؒ کی مدلل اور موثر تقریر کو پڑھنے کے بعد اس کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ ان کے دلائل کس قدر وزنی تھے اور انہوں نے ماتحت عدالت کی شہادتوں میں جن نقائص کا ذکر کیا‘ ان سے مقدمہ کس درجہ کمزور ہو گیا تھا مگر ہائی کورٹ کے ججوں نے خدا معلوم کن وجوہ کی بنا پر ان دلائل کو قابل اعتناء نہیں سمجھا۔ ہم یہ نہیں سمجھتے کہ مسٹر جناح کی تقریر کے بعد پھانسی کی سزا کس طرح بحال رہ سکتی تھی۔
حیران کن پہلو یہ ہے کہ ہندو جرائد اور رسائل نے غازی علم الدین کے متعلق کئی افسانہ طرازیاں شروع کر دیں۔ مثلاً علم الدین کئی دنوں سے پریشان خاطر ہے اور بعض نے اپنے خاص صفحات ان لطیفوں کے حوالے کر دیئے کہ اب وہ اپنے فعل پر پچھتا رہا ہے اور ہر وقت کف افسوس ملتا رہتا ہے۔ جناب وقار اللہ عثمانی پانی پتی ایک راسخ العقیدہ مسلمان تھے۔ وہ غازی علم الدین سے والہانہ عقیدت رکھتے تھے۔ ان کے دل میں آپ کی بڑی قدر تھی۔ انہی دنوں وقار اللہ عثمانی صاحب نے آپ سے کنج اسارت میں ملاقات کی اور اگلے روز ۳ ستمبر کو اپنا ایک مضمون انقلاب کے حوالے کیا جس میں لکھا ”کل تین بجے شام لاہور سنٹرل جیل میں غازی علم الدین صاحب سے ان کے والد کی معیت میں ملا۔ ماشاء اللہ خوش و خرم ہیں اور نہایت اچھی صحت ہے۔ ہم نے بیس پچیس منٹ تک ملاقات کی۔ انہوں نے اتنی دیر جو بات کی‘ ہنس کر کی۔ آزاد آدمیوں میں اتنا اطمینان قلب نہیں دیکھا‘ جتنا ان میں پایا گیا۔ ان کے والد نے کہا
کہ اخبار ”پرتاپ“ میں تمہارے متعلق لکھا ہے کہ بہت ہی کمزور ہو گئے ہیں اور ہر وقت مغموم و متفکر رہتے ہیں۔ یہ سن کر خوب ہنسے اور فرمایا کہ ”یہ ان لوگوں کے خبث باطن کی علامت ہے۔ وہ اپنی آگ میں خود جل رہے ہیں وگرنہ جس کو یہ یقین ہو کہ موت کا مقررہ وقت اٹل ہے، وہ اب آجائے یا بیس برس بعد، تو اس کو کیا غم، کیسی فکر؟ ایڈیٹر اخبار خود آ کر مجھے دیکھ جائے اور اپنے خشک شدہ زخموں کو تازہ کر جائے“۔ یہ بھی فرمایا کہ ”مجھے معلوم ہوا ہے کہ کل چودھری افضل حق صاحب اور مولانا ظفر علی خان صاحب جیل میں آئے تھے۔ افسوس مجھ سے ملے بغیر چلے گئے۔ ہم نے کہہ دیا کہ اخباروں سے ہمیں تو مولانا کا جیل آنا معلوم نہیں ہوا اور اگر تشریف لائے ہوں تو علم نہیں۔
میاں صاحب کو کھانے پینے، نہانے دھونے اور وضو نماز کی کوئی تکلیف نہیں۔ معلوم ہوا کہ جمعہ کے جمعہ روزہ رکھتے ہیں اور دیگر نوافل کا معمول ہے اور ہر وقت درود شریف کا ورد رکھتے ہیں“۔
(”غازی علم الدین شہید“ از رائے محمد کمال، ص ۹۸-۸۰)
جہاں اللہ کریم نے اپنے انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والتسلیم کی صداقت کے اظہار کے لیے معجزات اور کھلے کھلے نشانات نوع انسانیت کو دکھائے، وہاں اللہ نے اپنے نیک بندوں اور اپنے اولیاء کی عظمت اور رفعت کو خلق کے دلوں میں بٹھانے کے لیے کیا کیا اسباب نہ کیے۔ چنانچہ ذیل میں رائے کمال اپنی مایہ ناز تصنیف ”غازی علم الدین شہید“ میں مافوق الفطرت مصدقہ واقعات کا عنوان قائم کر کے لکھتے ہیں:
”حاجی میاں نیاز احمد ایم۔ اے کا کہنا ہے کہ عرصہ اسیری میں غازی ممدوح کا حسن مزید نکھر گیا تھا اور وہ داغ چھالے جو پیشے کے کام سے ہتھیلیوں پر ابھرے، یکسر مٹ گئے اور ہاتھ سنگ مرمر کی طرح ملائم و شفاف ہو گئے۔ اس مقام پر انسانی عقل دنگ رہ جاتی ہے کہ غازی علم الدین لکھنا پڑھنا جانتے نہ تھے۔ اس وقت جیلوں میں بھی ان مشاغل پر ایک طرح کی پابندی ہوا کرتی، لیکن وہ ملاقاتیوں کو قرآنی آیات پڑھ کر سنایا کرتے اور بڑے بڑے مشکل نکات فلسفیانہ انداز میں بڑی آسانی سے سلجھا دیتے۔ انہیں پورا قرآن حفظ ہو گیا تھا۔ خدا جانے انہیں یہ علم کون سکھا گیا“۔
”غازی علم الدین نے لاہور کی جیل میں لواحقین کو بتایا کہ مجھے ایک سفید
پوش نورانی بزرگ کی زیارت ہوئی ہے۔ انہوں نے میرے سر پر دست شفقت پھیرا اور فرمایا: بیٹا مطمئن رہو۔ تجھے جلد ہی بلا لیا جائے گا۔ اس دن سے مجھے کمال درجہ سکون قلب میسر ہے”۔
”سید احمد شاہ ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ اور شیخ خورشید ان دنوں میانوالی جیل میں بطور اسسٹنٹ سپرنٹنڈنٹ متعین تھے۔ ان کا بیان ہے ایک رات ہم سپرنٹنڈنٹ کے ہمراہ جیل میں گشت کر رہے تھے کہ غازی علم الدین شہید کی کوٹھڑی سے ایک خاص قسم کی روشنی نظر آئی‘ جس سے ہم بہت متاثر ہوئے اور خدا کے حضور میں سر بسجود ہوگئے۔ سید افتخار احمد شاہ (غازی) کا اپنے والد سید احمد شاہ کے حوالے سے کہنا ہے اس قسم کے خوارق العادت سینکڑوں واقعات کا ظہور ہوا۔ انہوں نے ہزاروں قیدی دیکھے۔ مگر اس قسم کا با عظمت‘ پر وقار اور عجیب و غریب شخص زندگی بھر نہیں دیکھا”۔
سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ کی وصیت: شہادت سے قریباً ایک ہفتہ پہلے کا ذکر ہے‘ میاں طالع مند کی میانوالی اسٹیشن پر سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ سے ملاقات ہوئی۔ شاہ صاحبؒ نے فرمایا ”میاں صاحب! شہادت کے روز جانے کتنے غوث‘ قطب‘ ابدال اور شیوخ عظام تشریف لائیں گے۔ اس لیے رونے پیٹنے سے گریز کرنا”۔
حضرت موسیٰ علیہ السلام کی بشارت: ۳۰ اکتوبر کو جب غازی موصوف سے عزیز و احباب ملنے گئے تو انہیں جیل والوں سے معلوم ہوا کہ آج جناب علم الدین غازی صاحب بہت ہی خوش ہیں۔ عزیزوں نے جا کر سبب پوچھا تو آپ نے فرمایا ”مجھے حضرت موسیٰ علیہ السلام کا دیدار نصیب ہوا ہے جو کہ خواب میں ملے اور خوش خبری سنائی۔ اے علم الدین! تجھے مبارک ہو‘ رب غفور نے تیری قربانی قبول فرمالی ہے اور نبی آخر الزمان کے دربار میں تیرا تذکرہ کثرت سے ہوا کرتا ہے۔ میں اس پر خوش ہوں کہ عنقریب دربار رسالت ماب ﷺ میں پہنچ جاؤں گا”۔
ایک اور شہادت: غازی علم الدین شہید کی اپیل جب پریوی کونسل سے خارج ہوئی تو جیل کا ایک ملازم اس کی خبر پہنچانے کے لیے آپ کے پاس آیا۔ وہ کچھ کہنا ہی چاہتا تھا کہ غازی موصوف بول پڑے اور فرمایا ”تم مجھے یہ خبر دینے آئے ہو کہ اپیل خارج ہو گئی ہے۔ پرسوں جب یہ فیصلہ ہوا مجھ کو اسی وقت علم ہو چکا ہے”۔ وہ ملازم دوڑا ہوا اپنے دفتر گیا اور
حیرت و استعجاب سے کہنے لگا "علم الدین غازی کوئی عام قیدی نہیں ہے"۔ یہ سن کر جیل کے اعلیٰ ارکان اس کا منہ تکنے لگے اور پھر کسی گہری سوچ میں کھو گئے۔
شیر خدا ؓ اور غلام رسول :
"دوسرے روز ایک بہت بڑا تعزیتی جلسہ عام چوک رنگ محل میں منعقد ہوا۔ پہرہ دار امام الدین نے اشک بار آنکھوں اور گھبرائی ہوئی آواز میں جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے بتایا کہ جب غازی علم الدین شہید کو سزائے موت کے حکم کے بعد میانوالی جیل کی کوٹھڑی میں رکھا گیا تو میں پہرے دار کے طور پر وہاں متعین تھا۔ وہاں آخری رات جس کی صبح علم الدین کو پھانسی پر لٹکایا جانے والا تھا، رات گئے کئی آوازیں آتی تھیں جیسے بہت سے لوگ باتیں کرتے ہیں۔ میں بوکھلا سا گیا اور غازی علم الدین سے دریافت کیا کہ تم کس سے باتیں کر رہے تھے۔ جواب ملا کوئی نہیں تھا۔ میں غصے میں (میرے منہ میں خاک) نہ جانے کیا کیا کہتا رہا۔ صبح چھ بجے غازی علم الدین کو پھانسی دی جانی تھی۔ دو اور تین بجے کے درمیان کیا دیکھتا ہوں کہ ایک روشنی کی لہر آئی، جس نے میری آنکھوں کو چندھیا دیا بلکہ میری آنکھیں روشنی کے سامنے نہ ٹھہر سکیں اور بند ہوگئیں۔ پھر وہ روشنی اچانک غائب ہوئی اور میری حیرت کی انتہا نہ رہی جب کوٹھڑی سے غازی علم الدین بھی غائب اور روشنی بھی غائب۔ میں غم سے نڈھال ہو گیا اور رونے لگا کہ اب تو غازی کے بجائے انگریز مجھے پھانسی پر لٹکا دیں گے۔ صبح چار بجے پھر وہی روشنی نمودار ہوئی اور جب میں نے کوٹھڑی کی طرف دیکھا تو غازی علم الدین موجود تھے۔ میں روتے روتے ان کے پاؤں پر پڑا اور میری ہچکی بندھ گئی۔ مجھے خدا کے لیے معاف کر دو، میں نہ جانے تمہیں کیا کیا کہتا رہا۔ غازی علم الدین نے کہا: بزرگو، میں نے آپ کی باتوں کا بالکل برا نہیں مانا۔ اللہ تمہیں سلامت رکھے اور خوش رکھے۔ امام الدین نے کہا بیٹا، آپ نے وہ کام کیا جو کوئی نہیں کر سکتا۔ تم پر اللہ رسول کا سایہ ہے بیٹا۔ میں تمہارے پاؤں پڑتا ہوں، مجھے بتاؤ تم کہاں گئے تھے۔ غازی علم الدین نے کہا، میں تو یہیں پر تھا۔ میں نے پھر کہا، تمہیں نبی آخر الزماں محمد مصطفےٰ صلی اللہ علیہ وسلم کا واسطہ دے کر کہتا ہوں مجھے بتلا دو۔ غازی علم الدین آخر کار بتا دینے پر مجبور ہو گئے اور کہنے لگے، بزرگو سنو! حضرت علی المرتضیٰ کرم اللہ وجہہ آئے اور
مجھے اپنے ہمراہ لے گئے ایسے مقام پر جہاں میں کبھی خواب و خیال میں بھی نہیں پہنچا تھا اور میرے پاس وہ الفاظ نہیں جو میں بیان کر سکوں۔ وہاں پر مجھے رسول عربی کی خدمت اقدس میں پیش کیا گیا۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اپنے سینے سے لگایا اور فرمایا: اب تم آزادی چاہتے ہو تو اپنے آپ کو آزاد سمجھو۔ اگر تاقیامت عزت بھی چاہتے ہو تو پھر وہاں پہنچا دیا جائے لہٰذا میری مرضی پر علی مرتضیٰ یہاں چھوڑ گئے ہیں“۔ روزنامہ ”امروز“ سے ماخوذ (پہریدار کا نام امام دین نہیں نواب دین ہے
شہید سے ہر ہفتے ملاقات:
”غازی علم الدین نے آخری ملاقات کے دوران اپنی والدہ محترمہ سے گزارش کی ”ماں میرے بعد مت رونا دھونا۔ اگر آپ ”یا مزمل“ کا ورد کیا کریں گی تو ہماری ہر ہفتے ملاقات ہوا کرے گی“۔ پھر جب تک موصوفہ بقیہ حیات رہیں‘ بذریعہ خواب باقاعدہ سلسلہ ملاقات جاری رہا“۔
”یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ غازی علم الدین شہید کو پھانسی دینے والے جلاد کا چہرہ موت کے بعد مسخ ہوگیا۔ پچھلے دنوں مشرق میگزین رپورٹ ریاض بٹالوی میں پیشہ ور جلاد تارا مسیح کے تاثرات شائع ہوئے۔ بقول اس کے ناموس رسالت کے پروانے اور عاشق رسول غازی علم الدین شہید کو میانوالی جیل میں پھانسی دینے والا اس کا چچا حسن دین تھا۔ حسن دین پھانسی دینے کے چند روز بعد بڑے کرب اور اذیت کی موت مرا اور مرنے کے بعد اس کی شکل بری طرح مسخ ہو گئی“۔
شہادت کی منزل میانوالی:
”پریوی کونسل لندن کا فیصلہ ایک بجلی تھا‘ جس کی آمد سے امیدوں کے خرمن سے دھواں اٹھنے لگا۔ فصل امید کو یوں جلتا دیکھ کر مسلمان سخت جوش میں آگئے۔ چونکہ پریوی کونسل آخری عدالت تھی‘ اس کے فیصلے کا مطلب یہ ہوا غیر مسلم جو چاہیں کرتے رہیں‘ اس سلسلے میں ان کے خلاف کوئی قانونی کارروائی نہیں ہو سکتی اور مسلمان اپنے نبی آخرالزماں ﷺ کی عزت و ناموس کا تمسخر خاموش تماشائی
کی حیثیت سے دیکھتے رہیں، اس لیے لاہور میں کہرام مچا ہوا تھا۔ فرزندان اسلام سخت اشتعال میں تھے اور ہر مسلمان کے دل میں یہی آرزو مچل رہی تھی کہ کسی طرح وہ بھی علم الدین بن جائے۔ اس فضا سے حکومت کو اندیشہ لاحق ہو گیا کہ کسی وقت بھی غضب و طیش کی یہ چنگاری شعلے میں بدل کر سارے ملک کو اپنی لپیٹ میں لے سکتی ہے۔ غازی علم الدین کو لاہور میں پھانسی دینے کی راہ میں مسلمانوں کے غیظ و غضب کی کیفیت ایک بہت بڑی رکاوٹ تھی۔ انگریز کو ڈر تھا کہ مسلمان لاہور میں ہرگز پھانسی نہ دینے دیں گے اور یہ قوم اپنے اس جانباز کے خون کے ایک ایک قطرے پر اپنی لاشوں سے حرمت و جواں مردی کے پر شکوہ محل بنائے گی، چنانچہ حکومت نے اس خدشہ کے پیش نظر علم الدین کو مرکز سے دور میانوالی جیل میں منتقل کرنے کا فیصلہ کیا۔ انگریز کے بعض زر خرید غلام بھی اس معاملے میں ملوث ہیں۔ میانوالی علاقہ کے اکثر رئیسوں نے حکومت کو یقین دلایا تھا کہ یہاں کوئی گڑبڑ نہیں ہو سکتی۔ ۳ اکتوبر ۱۹۲۹ء کو ساڑھے نو بجے شب سنٹرل جیل لاہور سے آپ کو ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ پولیس، دو سارجنٹ اور چار سپاہیوں کی حراست میں بذریعہ موٹر کار پہلے گوجرانوالہ بھیجا گیا اور وہاں سے ساڑھے بارہ بجے رات کی گاڑی میں میانوالی روانہ کیا گیا۔ آپ ۴ اکتوبر کو صبح سویرے فرسٹ کلاس کے ڈبے سے اترے اور پولیس کی حراست میں میانوالی جیل میں داخل ہوئے“۔
ایک مجذوب کا نعرہ مستانہ :
”میانوالی شہر میں مدت سے ایک مجذوب رہتا تھا جو کسی سے کبھی کوئی بات نہ کرتا مگر جب غازی علم الدین میانوالی جیل میں منتقل ہوئے، اس رات مجذوب گلی کوچوں میں دوڑتا پھر رہا تھا اور بلند آواز سے نعرے لگاتا ہوا اعلان کرتا ”میانوالی کے لوگو! تمہیں مبارک ہو۔ تمہارے پاس ایک عاشق رسول ﷺ آ رہا ہے“۔ پھر وہ تالیاں پیٹتا، قہقہے لگاتا اور دوسرے بازار میں چلا جاتا۔ وہ رات اس نے یوں ہی گزار دی اور سپیدہ سحر طلوع ہونے سے پہلے ایسا روپوش ہوا کہ آج تک اس کا کوئی سراغ نہیں مل سکا“۔
مقدر کا سکندر :
”غازی علم الدین کے مقدر کا ستارا افق پر پوری آب و تاب کے ساتھ چمک رہا تھا۔ بڑے بڑے صاحب کمال اور عارف آپ کا نظارہ کرنے کے لیے کھنچے چلے آ رہے تھے۔ سیال شریف کے سجادہ نشین صاحبزادہ حضرت محمد ضیاء الدین بھی وفور شوق سے مغلوب زیارت کرنے کے لیے میانوالی پہنچے۔ پیر صاحب غازی علم الدین کے جلال و جمال سے اتنے مرعوب ہوئے کہ آپ سے کوئی بات کرنے کا یارا نہ پا سکے۔ البتہ سورۃ یوسف کی تلاوت کرنے لگے۔ آپ حالانکہ اچھے قاری اور حافظ قرآن تھے مگر اس دن جانے کیوں زبان میں لکنت آ رہی تھی اور وفور جذبات کی وجہ سے بار بار رک جاتے تھے۔ اس پر غازی علم الدین نے کہا ”آپ بسم اللہ پڑھ کر ایک دفعہ پھر سے شروع کریں“۔ چنانچہ آپ دوبارہ پڑھنے لگ گئے مگر روانی اب کے بھی نہیں تھی۔ اکثر گلو گیر ہو کر رک جاتے۔ آنکھیں اشکبار ہو جاتی تھیں اور وہ ہر لمحہ کسی اور ہی دنیا میں پہنچ جاتے تھے۔ غازی صاحب جو قاری یا حافظ قرآن نہ تھے اور قرآن ناظرہ بھی آسانی سے نہیں پڑھ سکتے تھے، انہیں سورۃ یوسف بھی پہلے ہرگز یاد نہ تھی۔ پیر صاحب کو صحیح لقمے دیتے رہے۔ پیر سیال جب ملاقات کر کے باہر آئے تو فرط حیرت و استعجاب کی وجہ سے بول نہیں سکتے تھے۔ صرف اتنا ہی فرمایا: میں علم الدین کے لبادے میں کوئی اور ہستی پاتا ہوں۔ وہ لوگ نور بصیرت سے محروم ہیں جو آپ کو ان پڑھ اور جاہل کہتے ہیں۔ انہیں علم لدنی حاصل ہے اور وہ کائنات کے تمام رموز و اسرار سے واقف ہیں“۔
استقامت :
”استاد عشق لہر ملاقات کا احوال یوں بیان فرماتے ہیں۔ جب میں ملاقات کے لیے گیا تو عاشق رسول نے کہا ”استاد! میرا دل تمہیں ملنے کو چاہتا تھا الحمدللہ کہ تم آ گئے“۔ استاد نے جواب دیا کہ تمہاری دلی کشش ہی کا اثر ہے کہ بیٹھے بیٹھے دل میں خیال آیا کہ چلو علم الدین کا دیدار کر آئیں، چنانچہ فوراً ٹکٹ لے کر ریل
گاڑی پر سوار ہوا اور تمہارے پاس پہنچ گیا۔ علم الدین نے کہا کہ ”میرے حسب حال کوئی شعر کہے ہوں تو سناؤ“۔ استاد نے جواب دیا ”علم الدین اگلے روز آپ سے تمہاری والدہ ملنے آئی۔ ممتا کی ماری کے بے اختیار آنسو نکل آئے۔ تم نے کہا کہ خبردار جس کو مجھ سے رو کر ملنا ہو وہ نہ ملے۔ علم الدین! تم جانتے ہو شاعر کس قدر رقیق القلب ہوتے ہیں۔ اگر شعر سناتے ہوئے میرا دل بے قابو ہو گیا تو کیا مجھ سے بھی ناراض ہو جاؤ گے“۔ وہ شیر دل نوجوان بولا ”استاد‘ دل کو خوب قابو میں رکھ کر سناؤ۔ اگر تم بھی رونے لگے تو میں تم سے بھی منہ پھیر لوں گا۔ میں نے جب اس معاملے میں اپنی ماں کا لحاظ نہیں کیا تو تمہارا بھی نہیں کر سکتا۔ استاد‘ میرا دل بالکل مطمئن ہے۔ جو کچھ میں دیکھ رہا ہوں اگر آپ بھی دیکھ لیں تو بخدا کبھی غمگین نہ ہوں“۔
شہید کی وصیتیں:
”۲۷ اکتوبر کو غازی علم الدین سے جب رشتہ دار ملے تو انہوں نے فرمایا کہ تم میں سے کوئی بھی رو کر مجھے نہ ملے ورنہ اس سے منہ موڑ لیا جائے گا۔ میرا بھائی اب اکیلا رہ جائے گا‘ تم سب اس کو اپنا سمجھنا۔ مجھ کو وفات کے بعد یہاں غسل دینا اور جنازہ بھی یہاں پڑھنا تاکہ میں میانوالی کے مسلمانوں کی دعا سے بھی فائدہ اٹھاؤں۔ پھر مجھے لاہور لے جانا۔ راستے میں جو اسٹیشن آئے اور اس پر گاڑی ٹھہرے‘ با آواز بلند کلمہ شریف کا ذکر کرنا۔ اس سے میری روح خوش ہو گی۔ لاہور لے جا کر مجھے دوبارہ غسل دینا اور اگر ہو سکے تو وہ چارپائی جس پر مولوی تاج الدینؒ کی نعش لے جائی گئی تھی‘ ضرور مہیا کر لینا‘ پھر میرا جنازہ چوبرجی والی گراؤنڈ میں لاہور کے مسلمانوں کی دعائے خیر کے لیے پڑھیں۔ قبر کے متعلق آپ نے فرمایا: میری قبر پختہ نہیں بلکہ کچی تیار کرانا‘ ہاں اس کی حفاظت کے لیے ایک تھڑا بنا دینا اور قبر کے گرد میرے والد کٹہرا خود اپنے ہاتھ سے تیار کریں اور گلاب کے چار گملے میری قبر کے چاروں کونوں پر ضرور رکھنا۔ قبر کے قریب درخت لگانے کی ضرورت نہیں ہے۔ میری قبر ننگی ہو تاکہ باران رحمت کی بوندیں اس پر آنے سے نہ رکیں۔ صندوق میں رکھ کر پختہ قبر نہ بنانا۔ میں سنت کے طریق پر
دفن ہونا چاہتا ہوں۔ میں حضور آقائے دو جہاں ﷺ کا کمترین غلام ہوں، سوائے اس کے مجھ میں اور کوئی وصف نہیں۔ جب تم میں سے کسی کو مجھ سے ملنے کی خواہش ہو تو درود شریف اور آیت کریمہ پڑھنا اور خدائے کریم سے میرے ملنے کی دعا کر کے سو جانا۔ میں انشاء اللہ ضرور ملوں گا۔ پھر والدہ محترمہ سے مخاطب ہو کر کہا: اماں تو اپنا دودھ بخش دے اور تو خوش ہو کہ مجھے ایسی موت نصیب ہوئی ہے، جس کی بڑے بڑے غازی آرزو رکھتے تھے۔ یہ مقولہ ہے کہ آگ لینے جائے اور پیغمبری لے کر آئے۔ میرے جیسا حقیر گناہگار اور یہ احسان ربی، میں خوش ہوں اور آپ کے لیے بھی یہ بڑی خوشی کا مقام ہے"۔
آخری ملاقاتیں:
”۲۸ اکتوبر کو عزیز و اقارب جب ملاقات کے لیے اندر جانے لگے تو غازی علم الدین نے کہلا بھیجا کہ جو میرے سامنے آکر روئے گا، میں اس سے نہیں بولوں گا۔ جب پہلا دستہ کال کوٹھری کے قریب پہنچا تو غازی موصوف کھڑے ہو گئے۔ دوسرے اور تیسرے دستے میں صرف عورتیں تھیں۔ غازی علم الدین نے اپنی والدہ محترمہ سے کہا ”اماں! خدا کا شکر کرو میں ایسی موت مر رہا ہوں جو در حقیقت موت نہیں ہے۔ لوگ تو سانپ ڈسنے سے بھی مر جاتے ہیں مگر میری موت تو مثالی ہے۔ رونے دھونے اور نوحہ و شیون کی ضرورت نہیں۔ ہماری انشاء اللہ ہر آٹھویں دن ملاقات ہوا کرے گی“۔ آپ نے فرمایا: ”میرے جنازے کو لاہور لے جائیں۔ میں نے سپرنٹنڈنٹ جیل سے کہہ دیا ہے کہ وقت مقررہ پر میرے ہاتھ نہ باندھے جائیں۔ میں خود بہادروں کی طرح جان دینا چاہتا ہوں اور رسے کو بوسہ دے کر پھانسی کے تختے پر چڑھوں گا“۔ آپ نے اپنے بھائی سے کہا: ”میرے بعد آپ اکیلے نہیں بلکہ سب مسلمان تمہارے حقیقی بھائی ہیں“۔ آپ نے فرمایا: ”مجھے ہندوؤں کے ساتھ کوئی عداوت نہیں۔ جب میں لاہور جیل میں سردار بھگت سنگھ کو ملا تو میں نے انہیں کہہ دیا تھا کہ راجپال مفسدہ پرداز تھا، جس نے ہندوؤں اور مسلمانوں میں فساد برپا کر رکھا تھا، لہٰذا میں نے اس کا کام تمام کر دیا تاکہ میرا ملک امن سے زندگی بسر کرے کیونکہ جس ملک میں میرے آقا و مولا
ﷺ کے خلاف زہر اگلا جائے‘ اس میں امن قائم نہیں رہ سکتا"۔ آپ نے کہا: ”میں کچھ شعر لکھ رہا ہوں جو آخری ملاقات میں دوں گا"۔ آپ نے وصیت فرمائی کہ میری قبر کچی ہو اور مجھے خاندانی قبرستان میں دفن کیا جائے۔ آخر میں ارشاد فرمایا: میرے دوستوں‘ منشی طاہر الدین اور ان کے ملنے والوں کو السلام علیکم کہہ دینا"۔
”۲۹ اکتوبر کو غازی علم الدین شہید کے ایک دوست میانوالی جیل میں شرف ملاقات کے لیے تشریف لائے۔ آپ نے ان سے فرمایا ”بھائی! اس تنگ و تاریک کوٹھڑی میں بیٹھ کر جو کچھ تمہارے سامنے بیان کروں‘ اسے اہل عالم کے گوش گزار کر دینا تاکہ میرے متعلق اگر کسی کو کوئی غلط فہمی ہو تو دور ہو جائے۔ راجپال کا قاتل میں ہوں اور یقیناً میں نے ہی حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت کے والہانہ جذبے سے بے اختیار ہو کر اس فعل کا ارتکاب کیا ہے۔ لوگ کہیں گے کہ میں نے موت کے ڈر سے عدالت میں ارتکاب فعل سے انکار کیا ہے‘ یہ غلط ہے۔ ہر مسلمان کا عقیدہ ہے کہ حیات دنیا مستعار ہے اور سب کو ایک دن اس دار فنا سے گزرنا ہے۔ پھر میں کیونکر موت سے ڈر سکتا تھا۔ سیشن عدالت میں‘ میں نے ایک مرتبہ بزرگوں کے مجبور کرنے پر بادل نخواستہ بیان دیا۔ وہ ایک فقرہ‘ جو میں نے جج کے گوش گزار کیا‘ اس سے بھی انکار ثابت نہیں ہوتا اور دراصل اس فقرے میں رشتہ فرزندی کا لحاظ کرتے ہوئے اپنے والدین کی منتوں کی بنا پر میں نے منطقیانہ انداز اپنایا تھا۔ میرے نزدیک عشق رسول ﷺ میں کٹ مرنا وہ بلند ترین مرتبہ ہے جو کسی کسی کو ہی مل سکتا ہے‘ اس لیے موت پر غمگین ہونا تو درکنار‘ میرے لیے تو یہ خبر کہ پریوی کونسل سے میری اپیل نامنظور ہو گئی ہے‘ انتہائی مسرت کا موجب ہے اور میں خوش ہوں کہ مشیت ایزدی نے اس زمانے میں چالیس کروڑ مسلمانوں میں سے مجھے اس سعادت کے لیے منتخب کیا۔ تمام مسلمانوں کو میرا یہ پیغام پہنچا دینا کہ وہ میرے جنازے پر آنسو نہ بہائیں۔ اس موقع پر میں اپنی قوم کی آنکھوں میں اشک نہیں‘ ہونٹوں پر مسکراہٹ دیکھنا چاہتا ہوں"۔
”۳۰ اکتوبر کو آخری ملاقات کے لیے غازی علم الدین کے ورثا کو جیل میں
بلایا گیا اور انہیں پانچ دستوں میں تشکیل دیا گیا۔ ہر دستہ چودہ افراد پر مشتمل تھا۔ پہلا دستہ غازی موصوف کے والد میاں طالع مند کے ہمراہ دس بجے ملاقات کے لیے حاضر ہوا۔ غازی علم الدین ملاقاتیوں کو مسکرا کر ملے۔ باری باری ان کی خیریت دریافت فرمائی۔ آپ نے والد محترم سے عرض کیا: ”میری قبر اپنے ہاتھوں سے تیار کرنا اور میرے حق میں دعائے خیر فرماتے رہنا“۔ غازی صاحب نے خود روزہ رکھا ہوا تھا مگر مہمانوں کو گھڑے سے اپنے پیالے میں دو دو گھونٹ پانی پلا رہے تھے۔ یہ گھڑا ان کے پاس برآمدے میں پڑا رہتا تھا“۔
”دوسرے دستے کی قیادت غازی کی والدہ محترمہ کر رہی تھیں۔ اس دستے میں صرف عورتیں تھیں۔ آپ نے والدہ محترمہ سے درخواست کی کہ وہ افسوس کی بجائے اس بات پر فخر کرے کہ اس نے ایک ایسا مایہ ناز فرزند جنا ہے جس کو شہادت کا اعلیٰ درجہ نصیب ہو رہا ہے۔ یہ صرف اچھی تربیت اور آپ کی نیک دعاؤں کا ثمرہ ہے وگرنہ مجھ ایسے گناہ گار اور غافل انسان کو یہ بلند مقام کیونکر حاصل ہو سکتا تھا“۔
”تیسرا دستہ شہید موصوف کے برادر اکبر میاں محمد الدین کے ساتھ آپ کے سامنے پہنچا تو آپ پہلے کی طرح کھڑے ہو گئے۔ سب عزیزوں سے ان کی خیریت پوچھی اور بڑے بھائی سے میٹھی میٹھی باتیں ہوئیں۔ شمع رسالت کے پروانے نے بھائی کو اپنی منگیتر فاطمہ بی بی کے متعلق وصیت فرمائی کہ اسے ہر ممکن خوش رکھنے کی ہمیشہ کوشش کرتے رہنا اور اس کی شادی میں بھائی کی حیثیت سے شامل ہو کر تمام حقوق ادا کرنا“۔
”چوتھے دستے میں غازی موصوف کی ہمشیرہ معراج بیگم کے ساتھ صرف عورتیں تھیں۔ آپ انہیں پر تپاک طریقے سے ملے۔ سب کے ساتھ فرداً فرداً مخاطب ہوئے۔ بہن کے ساتھ محبت بھری باتیں کیں اور فرمایا ”میری بہن! تو بہت خوش نصیب ہے، آج کے بعد تو ہمشیرہ شہید رسالت ﷺ کے نام سے پہچانی جائے گی“۔ کسی بہن کے ارمانوں کی دنیا قید حروف میں نہیں آسکتی، لہٰذا یہاں خاموشی ہی مناسب ہے۔ وہ حسرت انگیز منظر لکھنے سے نہیں، دیکھنے سے تعلق رکھتا ہے اور دیکھنے کے لیے بھی چشم تصور کی ضرورت ہے۔ چشم تصور بھی وہ جو پاکباز ہو کیونکہ شہید کے حضور میں باریابی کے لیے یہ ضروری ہے۔ بالآخر پانچواں دستہ
شرف ملاقات کے لیے جیل میں حاضر خدمت ہوا۔ اس میں حضرت علم الدین غازی کے قریبی دوست اور بعض دور نزدیک کے رشتہ دار شامل تھے۔ آپ نے بڑی گرمجوشی سے ان کا استقبال کیا۔ دوستی کے لہجے میں ان سے گفتگو ہوئی۔ ماضی کی یادیں تازہ کی گئیں اور یوں دو بجے آخری دستے کا وقت ملاقات بھی ختم ہو گیا۔ غازی علم الدین سے ہزاروں لوگ ملاقات کرنے کے خواہش مند تھے۔ آخری دو تین دنوں میں تو عقیدت مند بہ تعداد کثیر حاضر ہوئے۔ ان دنوں میں قریبی دوستوں اور سینکڑوں مداحوں نے ملاقاتیں کیں۔ آخری ملاقات میں دیگر اشخاص کے علاوہ درج ذیل قریبی لواحقین بھی درشن سے فیض یاب ہوئے۔ (۱) میاں طالع مند۔ (۲) میاں محمد دین۔ (۳) والدہ غازی چراغ بی بی۔ (۴) اقبال بی بی اہلیہ محمد دین۔ (۵) غازی موصوف کے چچیرے بھائی حاجی نور دین۔ (۶) معراج بیگم ہمشیرہ غازی۔ (۷) غازی کے تایا میاں نور دین۔ (۸) زینب بی بی۔ (۹) فاطمہ بی بی۔ (۱۰) محترمہ انور سعید صاحبہ ، عمر ۶ سال۔
آخری ملاقات کا حال نہایت پر سوز ہے۔ تمام افراد رو رہے تھے مگر آپ انہیں صبر کی تلقین فرماتے۔ بار بار مسکراہٹ آپ کے ہونٹوں پر رقص کرنے لگتی۔ غازی موصوف نے روزہ رکھا ہوا تھا لیکن وہ افراد کنبہ کو اپنے گھڑے سے پیالے میں پانی پلاتے رہے۔ غازی کے والد اور دیگر لوگوں کا بیان ہے 'ایسا فرحت افزا اور جان نواز پانی انہوں نے زندگی بھر نہ پیا۔ پانی کیا تھا ' آب زم زم تھا ' جس سے دل کو اتنی طراوت اور آنکھوں کو وہ ٹھنڈک ملی کہ بیان نہیں ہو سکتی۔ اس پانی کی تاثیر کی سب مہمانوں نے بے حد تعریف کی۔ اس پر آپ نے کہا ”جس طرح آپ کو یہ پانی پینے سے لذت اور خوشی حاصل ہوئی ہے ' اسی طرح مجھے بھی تختہ دار پر کھڑے ہو کر واصل باللہ ہونے میں خوشی ہوگی۔ پس میرے جانے کے بعد آہ و بکا اور رونا دھونا کفران نعمت کے مترادف ہوگا۔ چاہیے یہ کہ آپ خدا کا کلام پڑھیں اور اس کا ثواب میری روح کو بخشیں“۔ مجموعی طور پر آپ نے نماز اور صبر کی تلقین فرمائی اور تمام ملاقاتیوں سے مرتبے کے مطابق خطاب کیا“۔
شوق وصال:
”غازی علم الدین راہ حق میں جام شہادت نوش کرنے کے بڑے متمنی تھے۔
۲۳ اکتوبر کے بعد آپ کی بیتاب نگاہیں دروازے پر لگی رہتیں۔ کسی مبارک آہٹ کے انتظار میں وہ ہمہ تن گوش رہتے اور ان کی نرگسی آنکھیں بار بار سوئے بام اٹھ جاتیں۔ اس واقعہ سے بھی آپ کی آرزو کا بخوبی اندازہ ہوتا ہے کہ ایک بار التوائے شہادت کے باعث انہوں نے جیلر کا گریبان پکڑ کر کہا ”مجھے پھانسی کیوں نہیں دیتے۔ میرے لواحقین پریشان ہو رہے ہیں اور میں جدائی کی بے درد آگ میں سلگ رہا ہوں۔ میری خواہش ہے جلد از جلد اس مرحلے سے گزر کر دربار رسالت میں باریابی حاصل کروں“۔ ادھر وصال محبوب کے لیے شوق کا یہ عالم تھا مگر رشتے داروں کے گھر سے الفراق الفراق کی چیخیں سنائی دے رہی تھیں۔ یہاں شہید موصوف کے ماموں سراج دین کا یہ واقعہ قلمبند کرنا نہایت موزوں رہے گا کہ پریوی کونسل سے اپیل خارج ہونے کے بعد انہوں نے مزنگ میں پھانسی دینے والے جلاد کے گھر کے بالکل قریب ایک مکان کرائے پر لیا اور اس میں رہنے لگے تاکہ جب یہ پھانسی دینے کے لیے باہر نکلے تو مجھے خبر ہو جائے“۔
”۳۰ اکتوبر کی شام جب حضرت علم الدین غازی کو بتایا گیا کہ کل علی الصبح پھانسی دی جائے گی تو ان پر نشہ سا طاری ہو گیا۔ خوشی سے رگوں میں خون کی لہریں گردش کرنے لگیں اور وہ اس فیصلے سے بے حد خوش ہوئے۔ آپ کے چہرے پر بالکل کسی قسم کے تاسف یا پریشانی کے آثار نہ تھے۔ خوشیاں ان کا طواف کر کے وجد میں محو رقصاں تھیں اور ان کا رنگ کندن کی طرح چمک رہا تھا“۔
رہتی ہے جان آنکھوں کے اندر تمام رات
”۳۰، ۳۱ اکتوبر کا درمیانی وقفہ ان کے لیے لیلۃ القدر سے کم نہ تھا۔ وہ رات شب برات تھی جو اپنے دامن میں بے پناہ مسرتیں سمیٹ کر لائی۔ وہ سوز و گداز کے ماحول میں ڈوبی ہوئی غازی علم الدین کی ظاہری زندگی کی آخری رات تھی۔ نواب دین وارڈن جیل (ساکن پکھواڑہ) کا بیان ہے کہ ”غازی علم الدین کو ۳۱ اکتوبر ۱۹۲۹ء کو تختہ دار پر چڑھایا جانا تھا اور میں ان کے کمرے کا نگران تھا۔ جیل کے اندر اور باہر سخت پہرہ تھا۔ شب دیجور میں مضافات کی کوئی شے نظر نہ آتی تھی۔ لیکن اس فداکار کا پرنور چہرہ صاف دکھائی دے رہا تھا۔ غازی علم الدین
رات بھر خدائے تعالیٰ کے حضور میں سربسجود رہے۔ اس اثناء میں کئی بار درود و سلام کا ورد کیا اور رات کے پچھلے پہر وہ مترنم آواز میں جھوم جھوم کر دل گداز نعتیہ کلام کے گلدستے دربار رسالت مآب ﷺ میں پیش کرنے لگے۔ آپ کی مناجات نشیلی اور معطر ہواؤں کے دامن میں طیبہ کا سفر طے کرتی رہیں۔ اس دوران لمحہ بہ لمحہ ان کی بے قرار آنکھیں آسمان کی جانب اٹھتیں۔ شاید وہ افق پر کسی ہستی کی متلاشی تھیں۔ اس عرصہ میں ایک لمحے کے لیے مجھ پر غنودگی کا غلبہ ہوا مگر میں نے فوراً آنکھیں کھول دیں لیکن اب کے غازی علم الدین غائب تھے۔ میں گھبرا گیا اور وسوسے ذہن پر مسلط ہونے لگے۔ میری حیران و پریشان نظریں چار سو کا جائزہ لینے لگیں اور پھر میں نے اسی بدحواسی کے عالم میں کال کوٹھڑی کا مشاہدہ کیا۔ آہنی سلاخیں جوں کی توں موجود تھیں، دروازہ بدستور مقفل تھا اور کسی دیوار میں بھی کوئی شگاف نہ تھا۔ میں پریشانی کے عالم میں دیگر ملازموں کو آوازیں دینے لگا کہ دفعتاً کنج اسارت بقعہ نور بن گیا۔ اب تاریکی کی جگہ نور و نکہت کا ایک سیل رواں تھا۔ میں نے دیکھا غازی علم الدین خضوع و خشوع سے ایک مصلے پر بیٹھے، نظریں اوپر اٹھائے، خاموشی کی زبان میں کسی سے محو گفتگو ہیں۔ اس وقت ایک نورانی بزرگ کا دست شفقت آپ کے سر پر تھا۔ جب میں زیارت کے لیے سلاخوں کے قریب گیا تو وہ مہمان بزرگ غائب ہو گئے اور ناموس رسالت ﷺ کا محافظ جوں کا توں تسبیح و تہلیل میں مستغرق تھا”۔
کہ سینے میں میرا دل ہے، وہ میرے دل میں رہتے ہیں
یہ تجسس کا ایک گرانقدر سرمایہ ہے کہ میانوالی میں آنے والے سفید پوش بزرگ کون تھے۔ اس معاملے میں تشفی کا نسخہ خاموشی کے سوا نہیں۔ اس کا علم آنے والے کو ہے یا جس کے پاس آئے۔ اس نورانی صورت باریش مہمان بزرگ کا کوئی نام رکھنا، سوء ادب ہے۔ وہ منزل تھی جو اپنے مسافر کے قریب آئی یا کنواں تھا پیاسے کے پاس آگیا۔ باد صبح گاہی نے محب کا پیغام سنایا اور محبوب آیا۔ راز و نیاز کی باتیں ہوئیں، سر پر دست شفقت پھیرا۔ ملنے والا آیا، ملا اور مل کر چلا گیا۔ عقل کی کیا مجال جو سوچ سکے کہ تشریف لانے والے کون تھے۔ بس عشق ہے جو یک جست میں ان منزلوں کو طے کر جاتا ہے”۔
”۳۰ اکتوبر کو یہ خبر کہ کل غازی علم الدین کو شہید کر دیا جائے گا‘ آناً فاناً سارے شہر اور مضافات میں پھیل گئی۔ چنانچہ بدھ کی رات کو نو بجے کے قریب موسیٰ خیل‘ عیسیٰ خیل‘ داؤد خیل سے اور مقامی مسلمان جوق در جوق آنا شروع ہو گئے۔ جیل سے شہر تک دو میل کے فاصلے میں انسانوں کا ایک سمندر لہریں مارتا نظر آتا تھا۔ وہ لوگ اپنے ساتھ ڈھول لائے تھے اور اللہ اکبر کے فلک شگاف نعروں میں اس زور سے ڈھول بجاتے کہ کان پڑی آواز نہ سنائی دیتی۔ وہ لوگ ریتیلے میدان میں رات بھر درود شریف کا ورد کرتے رہے۔ ان کی یہ بڑی تمنا تھی کہ وہ صبح اول ہی اول شہید کا چہرہ مبارک دیکھیں گے۔ آدھی رات کے وقت لاہور سے تاج دین بٹ‘ میاں نیاز احمد‘ نیاز محمد کمبوہ‘ ملک منظور الٰہی اور دیگر اہم افراد بھی میانوالی پہنچ گئے‘ جنہوں نے غازی علم الدین کے نعروں کا جواب دینے کا پورا پورا انتظام کر دیا“۔
آخری خواہش ۔۔۔ صرف دو رکعت نماز شکرانہ :
”۳۱ اکتوبر ۱۹۲۹ء مطابق ۲۶ جمادی الاول ۱۳۴۸ھ جمعرات کی صبح صادق بطل حریت محافظ دین و ملت‘ پروانہ شمع رسالت کے لیے وصال کی خوشیوں کا پیغام لے کر آئی۔ ڈپٹی کمشنر پھانسی گھر میں پہنچ چکا تھا۔ داروغہ جیل‘ سول سرجن اور دوسرے متعلقہ حکام بھی موقع پر موجود تھے۔ غازی علم الدین نماز پڑھنے کے بعد قبلہ رو ہو کر درود و وظائف میں مصروف تھے کہ ساڑھے چھ بجے ڈاکٹر اور داروغہ جیل نے آ کر یہ خوشخبری سنائی: اے غازی! جس کا آپ کو انتظار تھا‘ وہ مبارک ساعت آن پہنچی ہے۔ آپ نے کہا: ”بسم اللہ میں حاضر ہوں۔ چلئے!“ جیل کے قواعد کے مطابق آپ کو سیاہ لباس پہنا دیا گیا۔ اس وقت ان کے چہرے پر بشاشت‘ طمانیت اور تسکین خاطر کا نور چمک رہا تھا۔ مجسٹریٹ نے پوچھا: ”آپ کی کوئی آخری خواہش“۔ اس پر غازی علم الدین مسکرائے اور فرمایا: ”صرف دو رکعت نماز شکرانہ ادا کرنے کی اجازت“۔ چنانچہ آپ نے دو رکعت نفل پڑھے اور منزل شوق کی طرف جادہ پیما ہوئے۔
جب سر نے ساتھ چھوڑا‘ سجدے کیے نظر سے
غور طلب پہلو یہ ہے ایک شخص سوئے دار چلا جا رہا ہے‘ ہونٹوں پر تبسم کی کرنیں رقصاں ہیں۔ خوش چال ہرن اس کی گامزنی کی ادائیں چراتا ہے۔ قلبی طمانیت پر باد صبا قربان ہوا چاہتی ہے۔ استقامت دامن پھیلائے بیٹھی ہے۔ چہرے پر ایسی شگفتگی کہ پھول رشک کے نشہ میں چور چور‘ مستقل مزاجی کے سامنے پہاڑوں کے دل پگھل رہے ہیں۔ شادی مرگ کے ولولے محو طواف ہیں اور کائنات کی رعنائیاں ان کے پاؤں تلے بچھی بچھی جاتی ہیں۔
ایمان پرور نظارہ دید کے قابل تھا۔ اسلام کا فرزند موت کا جشن مناتا ہے۔ اللہ اکبر کے نعروں سے فضا گونج اٹھتی ہے۔ فرش خاک کا ذرہ ذرہ مرحبا غازی! مرحبا یا غازی! پکار رہا ہے۔ موت کا نام سن کر تو بڑے بڑے بہادر کانپ جاتے ہیں۔ ان کے چہرے پژمردہ‘ حواس مختل‘ آنکھیں مبہوت اور زبانیں گنگ ہو جایا کرتی ہیں مگر اس فدائی میں جانے وہ کون سی بات تھی اللہ اکبر کا نعرہ لگاتا‘ تو جیل سے باہر عظیم مجمع کے ایک ایک فرد کو سنائی دیتا۔ بصد شوق و نیاز موت کے منہ میں پہنچتا ہے تو قتل گاہ جھک کر خوش آمدید کہتی ہے۔ آخر وہ وقت بھی آگیا جب واصل بحق ہونے میں صرف ایک گھڑی باقی تھی۔ تختہ دار پر کھڑے ہو کر آپ نے فرمایا ”حاضرین! بلاشبہ شاتم رسول ﷺ کا قاتل میں ہوں۔ میں نے اسے جذبہ عشق سے سرشار ہو کر قتل کیا‘ اب سب میرے کلمے کے گواہ رہو۔ چنانچہ آپ نے با آواز بلند کلمہ شہادت پڑھا‘ دار و رسن کو چوما اور درود و سلام کا ورد کرتے ہوئے پھندے کو گلے میں ڈال لیا۔ اس پر مجسٹریٹ نے کہا ”اے غازی! یہ تو خودکشی کے مترادف ہے‘ جو جرم ہے اور گناہ بھی“۔ آپ نے یہ فرماتے ہوئے کہ ”تمہارا علم کا مذہب اور میرا عشق“ پھندا گردن سے نکال دیا۔ آپ نے رسی کو بوسہ اس لیے دیا کہ وہ ہر اس شے کو متبرک و مقدس سمجھ کر اس کی عزت و تعظیم کیا کرتے جو ان کو بارگاہ رسالت میں پہنچانے کا ذریعہ ہو۔
اک اک ذرہ کو آنکھوں سے اٹھا لیتا ہوں
جام شہادت نوش کرتے وقت آپ کے چہرے سے مسرت ٹپکتی تھی۔ وہ بڑے جوش سے اللہ اکبر کے نعرے لگاتے۔ تمام دوسرے قیدی آپ کے جواب میں اس قدر زور سے اللہ اکبر کا نعرہ لگاتے کہ باہر تک آوازیں سنائی دیتیں۔ باہر سے بھی غازی علم الدین کے ارشاد کے مطابق متواتر اللہ اکبر کے نعرے لگائے جا رہے تھے۔ تھوڑی دیر کے بعد جیل کے قواعد کے مطابق آپ کے ہاتھ اور پاؤں رسی سے باندھ دیے گئے۔ سیاہ ٹوپی پہننے سے پہلے آپ جیل کے مسلمان ارکان کی طرف دیکھ کر مسکرائے اور یہ شعر پڑھا
خدا رحمت کند ایں عاشقان پاک طینت را
آپ کی آنکھوں پر پٹی باندھ دی گئی اور سات بجے جلاد نے تختہ کھینچ دیا۔ اتنے میں ساقی کوثر اپنے مے خوار کے لیے مقتل میں تشریف لے آئے۔ آپ کے ساتھ سینکڑوں فرشتے بھی روح کے استقبال کے لیے موجود تھے اور غازی علم الدین کی بے قرار روح آشیانہ خاکی سے اڑ کر اپنے آقا و مولا ﷺ کے قدم میمنت لزوم سے لپٹ گئی۔
غازی علم الدین شہید کو آٹھ بجے تختہ دار سے اتارا گیا۔ جیل کے باہر پرامن ہجوم شہید کو دیکھنے کے لیے بیتاب تھا۔ ان کی نگاہیں جیل کے دروازے پر لگی ہوئی تھیں۔ دس بجے شہید ناز کی لاش کو ایک چارپائی پر ڈال کر باہر لایا گیا۔ گروہ کے گروہ اس میدان کی طرف بڑھے جہاں سرور کونین ﷺ کے جانباز کی لاش پڑی ہوئی تھی۔ ڈی۔ایس۔پی، جس کا نام غالباً پی۔ٹی تھا‘ نے حکم دیا کہ چارپائی کو اٹھا کر لے چلو۔ لوگ بھی کلمہ شہادت پڑھتے ہوئے جنازے کے پیچھے ہو لیے۔ جب شہید کے جنازے کو لاوارثوں کے قبرستان میں لے جا کر رکھ دیا گیا تو اس وقت تمام ہجوم قبرستان سے متصل سڑک پر اپنے عاشق رسول ﷺ کے چہرہ انور کو دیکھنے کے لیے کھڑا ہو گیا۔ حکام نے جب دیکھا کہ لوگ گھروں کو نہیں جاتے تو سینئر سپرنٹنڈنٹ پولیس نے سپاہیوں کو پرامن ہجوم پر سنگ باری کا حکم دیا، جس پر لوگ پتھر کھاتے رہے۔ ادھر ڈپٹی کمشنر نے فرزند توحید کو بغیر کفن کے گڑھے میں
ڈال دیا اور نماز جنازہ کی اجازت تک نہ دی۔ اس دوران بعض جوشیلے مسلمانوں نے بھی پولیس پر پتھر پھینکے، جس سے ڈی۔ایس۔پی شدید زخمی ہو گیا۔ جب آپ کو دفن کیا جا رہا تھا تو ایک مسلمان نمبردار قیدی نے اپنا کمبل درود و سلام پڑھ کر آپ کے پاک جسم پر ڈال دیا اور شہید کو ایسی قبر میں ڈال دیا گیا، جو ان کے لیے کافی نہ تھی۔ اس شخص کو، جس کے وارث کروڑوں مسلمان تھے، جابر اور ظالم برطانوی حکومت نے لاوارثوں کے قبرستان میں سپرد خاک کر دیا"۔
حصول میت کی جدوجہد:
"شہید علم الدین غازی کے ورثاء نے یہ مطالبہ کیا تھا کہ پھانسی میانوالی کی بجائے لاہور میں دی جائے لیکن حکومت نے اس درخواست کو قابل اعتنا نہ سمجھا۔ ۳۰ اکتوبر کو میاں طالع مند نے انار کلی کے منشی طاہر الدین کے نام ایک تار بھیجا، جس کا مضمون یہ تھا: "جیل کے حکام سے کوئی اطلاع نہ ملنے پر ہم ڈی۔سی کے پاس گئے، جس نے بتایا کہ علم الدین کو کل صبح پھانسی دی جائے گی لیکن میت لاہور لے جانے کی اجازت نہیں ہے"۔ درج بالا خبر، کہ کل صبح غازی علم الدین کو جام شہادت پلا دیا جائے گا اور ورثا کو ان کی میت لاہور لانے کی اجازت نہیں، پورے لاہور میں برق رفتاری سے پھیل گئی اور مضطرب لوگ جوق در جوق شہر میں گشت کرنے لگے اور گروہ کے گروہ صورت حال معلوم کرنے کے لیے اخباروں کے دفتر میں پہنچے۔ ہر طرف اللہ اکبر اور غازی علم الدین زندہ باد کے نعرے سنائی دینے لگے۔ مسلمان اس خبر سے خاصے مشتعل تھے کہ میت کو لاہور لانے سے روکنے کے بہانے تراشے جانا، مسلمان قوم کی سخت توہین ہے۔
یہ خبر جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی اور مسلمانوں میں جابر حکومت کے خلاف ایک زبردست ہیجان و اضطراب پیدا ہو گیا۔ دوسرے دن مسلمانوں نے عام ہڑتال کی، روزے رکھے اور جگہ جگہ ننگے سر جلوس نکالے۔ ۳۱ اکتوبر کو صبح دس بجے ایک بہت بڑا جلسہ دہلی دروازہ کے باغ میں چودھری گھسیٹا کی زیر صدارت منعقد ہوا۔ تلاوت و نعت کے بعد ابو الفخر مولانا سید امام علی شاہ نازش رضوی مدیر و معاون "سیاست" نے ایک نظم پڑھی۔ پھر مولانا سید حبیب شاہ صاحب کھڑے ہوئے۔ آپ نے فرمایا: "کل عصر کے وقت لاہور میں میانوالی سے کئی تار موصول
ہوئے‘ جن سے معلوم ہوا کہ آج صبح صادق کے وقت غازی علم الدین کو شہید کر دیا جائے گا“۔ یہ خبر بجلی کے ذریعے سے آئی اور بجلی ہی کی تیزی سے تمام شہر میں پھیل گئی۔ صدہا مسلمان رات کے دس بجے تک دفتر ”سیاست“ میں آئے۔ اس لیے کہ اس خبر کے ساتھ یہ اطلاع بھی درج تھی کہ حکومت نے شہید کی لاش کو لاہور لانے کی اجازت نہیں دی۔ میاں علم الدین نے جو کام کیا ہے‘ وہ بے نظیر ہے۔ آپ نے صفحہ دہر پر انمٹ الفاظ میں اپنے خون سے یہ حقیقت منقش کر دی ہے۔
وہ ہیں تیار ہر حالت میں اپنا سر کٹانے کو
میاں صاحب شہید ہیں اور ہم ان کا لاشہ حکومت سے طلب کرتے ہیں‘ اس لیے کہ ہر بت پرست‘ ہر خدا پرست‘ ہر عیسائی اور موسائی‘ غرض ہر مذہب کے لوگ مرنے والے کی وصیت کو پورا کرنا فرض سمجھتے ہیں اور شہید مرحوم نے وصیت کی ہے کہ ان کو لاہور میں دفن کیا جائے۔ اس فرض کو پورا کرنا ہر مسلمان پر لازم ہے۔ شہید مرحوم اب اپنے والد یا رشتہ داروں کا مال نہیں رہے۔ وہ خدا اور اس کے رسول پاک ﷺ کا مال ہیں۔ وہ ہم مسلمانوں کا ورثہ ہیں۔ ان کی عزت ہماری عزت ہے اور خدا اور رسول ﷺ کی عزت ہے۔ نیز مسلمانوں کا عقیدہ یہ ہے کہ ان کے مرنے والے بھی ان کے لیے دعائیں کرتے ہیں۔ ان کا فیض مرنے سے ختم نہیں ہوتا اور شہید تو زندہ و جاوید ہیں۔ ہر شہید گناہ سے پاک ہوتا ہے۔ ہمارا عقیدہ یہ ہے کہ نماز جنازہ مرحوم اور زندوں دونوں کے لیے مفید ہوتی ہے۔ مرحوم نیک ہو تو نماز ادا کرنے والے بخشے جاتے ہیں اور اگر نمازیوں میں ایک بھی مرد مقدس موجود ہو تو مرنے والے اور نمازیوں کے سب گناہ بخش دیے جاتے ہیں“۔ اس تقریر کے بعد سید حبیب شاہ صاحب اور ملک فتح شیر خان گورنر کو تار دینے چلے گئے۔ ان کے چلے جانے پر مولوی مظہر علی اظہر‘ علامہ تاج الدین احمد تاج‘ جناب ظہور اور شوخ صاحب نے نظم و نثر میں اظہار خیال کیا اور جلسہ منتشر ہو گیا۔ اس روز ننگے سر درجنوں چھوٹے چھوٹے جلوس نکالے گئے‘ جو مختلف اہم راستوں سے گزر کر بھاٹی دروازہ پہنچے اور وہاں سے موچی دروازہ میں آئے۔ اسلامی جمعیت کا ایک بے پایاں سمندر تھا‘ جو لاہور کے بازاروں میں امڈا
چلا آرہا تھا۔ پرجوش ہجوم نہایت مشتعل تھا اور گورنمنٹ ہاؤس تک جانا چاہتا تھا مگر سنجیدہ اصحاب نے اس پر قابو پائے رکھا۔ بعدہ‘ منتشر گروہ ایک عظیم جلوس کی صورت اختیار کر کے رات نو بجے بیرون موچی دروازہ باغ میں آکر جلسے کی صورت میں جمع ہو گئے۔ مجمع پچیس تیس ہزار کے لگ بھگ تھا۔ میاں محمد بخش مسلم صاحب صدر جلسہ قرار پائے۔ ڈاکٹر سلطان احمد سیکرٹری مجلس خلافت پنجاب اور دیگر اشخاص نے اس امر کی قراردادیں منظور کیں کہ حکومت کو چاہیے علم الدین کی نعش بلا شرط مسلمانوں کے حوالے کر دے تاکہ وصیت کے مطابق تجہیز و تکفین لاہور میں کی جا سکے۔ شیخ غلام مصطفےٰ حیرت معتمد انجمن احرار الاسلام نے مذکورہ قرارداد کی پرزور الفاظ میں تائید کی اور کہا ”کتنے افسوس کی بات ہے حکومت نے راجپال کی لاش تو ہندوؤں کے حوالے کر دی مگر مسلمانوں کے لیے یہ بہانہ بنایا جا رہا ہے کہ لاش کے لاہور پہنچنے پر ہندو مسلم فساد کا خدشہ ہے“۔ مولانا محمد بخش مسلم نے اس قرارداد کی حمایت کرتے ہوئے اپنی تقریر میں حکومت پر واضح کیا ”اگر مسلمان مطالبہ نہ کرتے تو اور بات تھی‘ اب جبکہ انہوں نے مطالبہ شروع کر دیا ہے‘ یہ کبھی بھی اپنے مطالبے سے دستبردار نہیں ہوں گے۔ اس لیے مناسب یہی ہے کہ حکومت میت کو جلد از جلد بلا حیل و حجت مسلمانوں کے حوالے کر دے تاکہ تصادم کی نوبت پیش نہ آئے“۔ انہوں نے مسلمانوں پر بھی زور دیا کہ وہ اتحاد اور تدبر سے کام لیں اور حتی المقدور محاذ آرائی سے گریز کریں۔ اس موقع پر مولانا محمد بخش مسلم صاحب نے حکومت کو یقین دلایا کہ مسلمان ایک مہذب قوم ہے۔ یہ جو وعدہ کرتی ہے‘ اسے ایفاء کرنے کی کوشش کرتی ہے۔ اگر لاش مسلمانوں کے سپرد کر دی جائے تو یقیناً ہم ایسے موقع پر فساد نہیں کریں گے۔ اس کے بعد یہ قرارداد بذریعہ تار حکومت تک پہنچانے کا فیصلہ کیا گیا‘ جس کے لیے سٹیج کے قریب بیٹھے ہوئے حاضرین نے ایک پیسہ فی کس کے حساب سے چندہ دیا‘ جس کا تخمینہ بائیس روپے چودہ آنے ہوا۔ جلسے کے اختتام پر غازی علم الدین زندہ باد اور غازی عبدالرشید زندہ باد کے نعرے لگائے گئے۔ اس قرارداد کے علاوہ لاہور کی مختلف مقتدر اسلامی انجمنوں اور ذی اثر معززین شہر نے گورنر پنجاب‘ چیف سیکرٹری‘ حکومت پنجاب‘ ڈپٹی کمشنر اور دیگر اعلیٰ حکام کو بہ صیغہ حصول نعش برقی پیغامات ارسال کیے۔
لاہور میں ہر طرف کہرام مچا ہوا تھا۔ ادھر خان محمد اکبر خان رئیس اعظم میانوالی کی مساعی جمیلہ بھی قابل ذکر ہے۔ ۳۰ اکتوبر کی شام کو ایک وفد آپ کی زیر سرکردگی ڈپٹی کمشنر میانوالی راجہ زمان مہدی خاں سے ملا اور اس سے کہا ”ہمیں حکام جیل سے معلوم ہوا ہے کہ میاں علم الدین کی لاش کو لاہور لے جانے کی اجازت نہیں ہوگی“۔ ڈپٹی کمشنر نے جواب دیا ”شہید کا جنازہ جیل کے سامنے رکھ دیا جائے گا۔ آپ ورثاء کو لے کر پہلے ہی وہاں پہنچ جائیں۔ صفوں کو درست رکھیں، وہاں نماز جنازہ ادا کریں اور پھر ان کو جیل کے قریب لاوارثوں کے قبرستان میں سپرد خاک کر دیا جائے گا“۔ اس پر خان محمد اکبر خان صاحب نے ہر ممکن یقین دلایا کہ میں ہر بات کا ذمہ لیتا ہوں۔ غازی کی نعش کو ان کے ورثاء کے حوالے کر دیا جائے تاکہ وہ لاش کو وصیت کے مطابق لاہور لے جائیں لیکن ان کی ہر ایک آرزو ٹھکرا دی گئی۔ آخر خان صاحب نے کہا کہ ”اچھا شہید کو شہر کے قبرستان میں دفن کرنے کی اجازت دی جائے“ لیکن اس کی بھی پروا نہ کی گئی اور وفد ناکام و نامراد لوٹ آیا۔ اس سلسلے میں میانوالی، موسیٰ خیل، عیسیٰ خیل اور قرب و جوار کے باشندوں کی جرات بھی قابل داد ہے۔ جب انتظامیہ نے میت کو ورثاء کے حوالے کرنے سے انکار کر دیا اور شہید کی لاش کو لاوارثوں کے قبرستان میں لے جایا جا رہا تھا، مقامی باشندے اس وقت سخت اشتعال میں تھے۔ انہوں نے میاں طالع مند اور لاہور کے دیگر معززین سے کہا ”اگر اجازت دی جائے تو ہم صرف پندرہ منٹ کے اندر لاش انتظامیہ سے چھین لیتے ہیں“۔ یکم نومبر کو صبح میاں طالع مند کا ایک تار انقلاب میں پہنچا جس کا مضمون یہ تھا ”شہید مرحوم کی میت کو بطور امانت چھوڑ کر آ رہا ہوں۔ انہیں بری طرح دفن کیا گیا ہے۔ نماز جنازہ کی بھی اجازت نہیں دی گئی۔ حکام کو لاش چھن جانے کا اندیشہ تھا، اس لیے جلدی سے آپ کو دفن کر کے گڑھا پر کر دیا گیا۔ مرحوم اور مٹی کے درمیان صرف ایک کمبل کا پردہ ہے“۔ اسی روز بعد از دوپہر غازی علم الدین شہید کے والد میانوالی سے لاہور تشریف لائے۔ مسلمانوں کے جم غفیر نے اسٹیشن پر آپ کا استقبال کیا اور بڑے جوش و خروش سے غازی علم الدین شہید زندہ باد کے نعرے لگائے گئے۔ ۲ نومبر کو بھی لاہور میں کئی چھوٹے چھوٹے جلوس نکالے گئے۔ حکام کو اس سلسلے میں کئی تار ارسال کیے گئے، مسجدوں میں دعائیں مانگی گئیں
اور سینکڑوں جگہ غائبانہ نماز جنازہ ادا کی گئی۔
۳ نومبر کو مسلمانان لاہور کا ایک جلوس شہید کے مکان پر پہنچا۔ آپ کے بھائی‘ والدہ‘ باپ اور چچا کے گلے میں پھولوں کے ہار پہنائے گئے اور ہدیہ مبارک باد پیش کیا گیا۔ اس موقع پر علم الدین شہید کی والدہ نے فرمایا ”اگر میرے سات لڑکے ہوتے اور وہ اسی طرح تحفظ ناموس رسالت ﷺ کے لیے قربان ہو جاتے تو میں زیادہ خوش ہوتی“ جلوس شہید کے لواحقین کو خراج تحسین پیش کرنے کے بعد بیرون باغ دھلی دروازہ میں پہنچا۔ جوشیلے حاضرین نے شہید کی تصویریں اٹھا رکھی تھیں۔ وہ اللہ اکبر اور غازی علم الدین شہید زندہ باد کے نعرے لگا رہے تھے۔ باغ میں وہ عظیم الشان جلسے کی صورت میں مرتب ہو گیا۔ منشی غلام مصطفیٰ حیرت‘ مدیر ”فردوس“ بالاتفاق رائے صدر جلسہ قرار پائے۔ انہوں نے افتتاحی تقریر میں کہا ”میں نے اپنے خدا سے عہد کیا ہے کہ یا تو اپنے بھائی غازی علم الدین کی لاش کو لاہور لاؤں گا یا اپنی قبر بھی وہیں بنواؤں گا‘ جہاں اس شہید کی نعش دفن کی گئی ہے“۔ پھر بشیر احمد رفیقی کے ساتھ تمام وہ رضا کار کھڑے ہو گئے‘ جنہوں نے حلف اٹھا رکھے تھے کہ ہم لاش لائیں گے۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ کھڑے ہونے والوں میں حکیم احمد حسن‘ ملک لال دین قیصر اور مولانا ظفر علی خان بھی شامل تھے۔ رضا کاروں نے یک زبان ہو کر با آواز بلند بار بار اس شعر کو پڑھا {
ناموس مصطفیٰ ﷺ پر جانیں لُٹا رہے ہیں
اس روز بعد از دوپہر سر میاں محمد شفیع کی کوٹھی پر مسلم لیگ کا ایک اہم جلسہ منعقد ہوا۔ غازی علم الدین شہیدؒ کے لاشہ کی واپسی پر غور و خوض کیا گیا۔ مولانا غلام محی الدین خان صاحب قصوری نے پر زور الفاظ میں اس امر کا اعلان کیا کہ میاں علم الدین علیہ الرحمتہ کے لاشہ کی عدم حوالگی پر مسلمانوں کے مابین بڑا ہیجان پایا جاتا ہے۔ ہمیں ان کی پوری نمائندگی کرنا چاہیے۔ میں اس کی یقین دہانی کرانے کو تیار ہوں کہ کسی قسم کے فساد کا خطرہ نہیں۔ اس پر لیگی رہنماؤں نے اس مضمون کا ایک ریزولیوشن منظور کیا ”حکومت پنجاب غازی علم الدین کی نعش کو اس کے ورثاء کے حوالے کر دے تاکہ اسے لاہور میں اس کی وصیت کے مطابق دفن کیا جائے اور اگر حکومت کو کسی قسم کے فساد کا خطرہ ہو تو وہ حفظ امن کے طور پر جو عملی تدابیر اختیار کرے‘ ہمیں اس پر کوئی اعتراض نہیں“۔ مجلس خلافت نے بھی اپنے خاص
اجلاس میں اسی قسم کی قرار داد منظور کی۔ اس کے بعد حصول نعش کی خاطر مزید صلاح و مشورے کے لیے مسلم معززین کا میاں عبدالعزیز بیرسٹر کے مکان پر اجتماع ہوا، جس میں مولانا سید حبیب شاہ، ڈاکٹر سلطان احمد، شیخ حسن دین وکیل، ملک لال دین قیصر وغیرہم شامل تھے۔ وہاں پر قرار داد پیش ہوئی کہ گورنر کے پاس ایک وفد بھیجا جائے، جو گفت و شنید کے ذریعے اپنے مطالبات تسلیم کروائے۔ بنا بریں شیخ حسن دین ایڈووکیٹ اور میاں عبدالعزیز صاحب کی تحریک سے اکابرین لاہور کا ایک جلسہ برکت علی محمڈن ہال (برکت علی اسلامیہ ہال) میں بلایا گیا، جس میں مسلم اخباروں کے ایڈیٹر، اسلامی انجمنوں کی مجلس عاملہ کے ارکان، بعض میونسپل کمشنر اور دیگر بااثر معززین بھی موجود تھے۔ علامہ اقبال صدر جلسہ قرار پائے۔ گورنر سر جیفری ڈی مونٹ مورنسی متوقع خطرات کے پیش نظر کہیں غائب ہوگیا تھا۔ ہزار کوشش کے باوجود اس کے بارے میں کچھ علم نہ ہوسکا کہ وہ کہاں ہے۔ اس لیے جلسے کی قرار داد کے مطابق علامہ اقبال نے مسٹر سٹو وزیر مالیات سے ٹیلیفون پر وقت مقرر کر کے ان سے ملاقات کی۔ اس موقع پر چیف سیکرٹری مسٹر ایمرسن بھی موجود تھا۔ یہ ملاقات تقریباً ایک گھنٹہ جاری رہی، جس میں ڈاکٹر علامہ اقبال نے مسلمانان پنجاب کے جذبات و احساسات کا نقشہ کھینچا اور قیام امن کی ذمہ داری خود اٹھائی لیکن حکومت پنجاب بضد تھی کہ شہید کی میت کو میانوالی جیل میں دفن کیا جا چکا ہے اور اب اس میں کسی ردو بدل کی گنجائش نہیں۔
حصول نعش کی خاطر مسلمانوں کی طرف سے جلسے جلوسوں کا ایک سلسلہ قائم ہو چکا تھا۔ ۵ نومبر کو ایک زبردست جلوس امیر بخش پہلوان کی قیادت میں نکلا۔ طلبائے کالج اور رضا کاروں نے اپنے اپنے بستر کندھوں پر اٹھا رکھے تھے۔ جب جلوس بھاٹی دروازہ پہنچا تو ایک عظیم الشان جلسہ شروع ہوا۔ یہاں مولانا ظفر علی خان نے ایک زور دار تقریر کی۔ آپ نے خطبہ مسنونہ کے بعد فرمایا ”اسلام کے سپاہیو! اور لاہور کے مسلمانو! ہم نے دیکھ لیا ہے کہ رسول اکرم ﷺ کی غیرت پر مر مٹنے کا کیا نتیجہ ہے۔ نتیجہ یہ ہے کہ مردہ قومیں زندہ ہو جائیں۔ آج ہماری قوم از سرتاپا غیرت و حمیت کا نمونہ ہے۔ یہ وہ طاقت ہے، جس کے مقابلے میں کوئی طاقت نہیں ٹھہر سکتی۔ رضا کاروں کو دیکھو کہ ہر ایک نوجوان صبر کی بولتی چالتی تصویر ہے۔ ان کے جسموں پر لاٹھیاں پڑیں، انہیں ریزہ ریزہ کر دیا جائے مگر یہ اپنی جگہ سے ایک انچ بھی نہ ہٹیں گے“۔
غلام مصطفیٰ حیرت کے بھائی الطاف حسین نے کہا ”اگر عورتوں کا کوئی دستہ سول نافرمانی کے لیے تیار ہو تو میری والدہ سب سے پہلے اپنی خدمات پیش کرنے کو تیار ہیں“۔ اسی روز
ایک لڑکا محمد حسین نامی پیش کیا گیا‘ جس کی عمر بمشکل پندرہ سولہ سال تھی۔ وہ چند معزز اشخاص کی سفارشی چٹھیاں بھی لایا تھا کہ اسے سول نافرمانی کرنے والے پہلے جتھے میں شامل کیا جائے۔ وہ گھر سے میانوالی کا کرایہ دو روپے اور اپنا بستر بھی ساتھ لایا۔ باپ نے اسے بہت روکا اور زدو کوب بھی کیا مگر اس کا جذبہ جہاد سرد نہ پڑا اور وہ بھاگ کر یہاں پہنچ گیا۔ احتجاجی سلسلے میں سریانوالہ بازار کے ڈاکٹر نثار علی حیرت نے بھی ”علم الدین کمیٹی“ سے درخواست گزاری کہ مجھے رضا کار بھرتی کیا جائے مگر ضعیف العمری کے سبب انہیں مایوسی کا سامنا کرنا پڑا۔ اسی دوراہے پر میاں عبدالعزیز مارواڑہ نے گورنر وقت اور دیگر کارکنان بست و کشاد کو انتباہ کیا کہ اگر لاش مسلمانوں کے حوالے نہ کی گئی تو تمام نتائج کی ذمہ داری خود حکومت پر عائد ہوگی۔
اب احتجاج کا ایک طویل سلسلہ شروع ہو چکا تھا۔ مسلمانوں کے مطالبے میں روز بروز شدت آرہی تھی۔ بڑی بڑی شاہراہوں اور ہر کوچے کے درودیوار پر جلی حروف میں لکھا ہوا نظر آتا ”غازی علم الدین شہید کی میت ملت اسلامیہ کے حوالے کرو! اور ہم شہید کی نعش لے کر رہیں گے“۔ کمیٹی کی طرف سے جو جلوس نکالے جاتے تھے‘ ان میں یہ نعرے لگائے گئے ”اگر نعش واپس نہ ملی تو پنجاب کا جو حشر ہوگا‘ وہ تاریخ کا ایک انوکھا باب ہوگا“۔
اس حادثے سے پورے پنجاب بلکہ برصغیر کی فضائے بسیط پر غم و غصے کی فضا چھائی ہوئی تھی۔ پروانہ چراغ مصطفوی‘ محب محبوب رب العالمین کی شہادت اور کسمپرسی کی حالت میں تجہیز و تکفین کی جانگداز خبر جہاں بھی پہنچی یہ روح فرسا اطلاع پاکر فرزندان توحید پر از حد رنج و الم طاری ہوا۔ غائبانہ جنازے پڑھے گئے۔ ایمان افروز تقریریں ہوئیں اور لوگ کاندھوں پر کفن باندھ کر میانوالی جانے لگے۔ ۵ نومبر کو ایک عظیم الشان احتجاجی جلسہ منعقد ہوا‘ جس کا تذکرہ اوپر بیان کیا جا چکا ہے۔ اس کے اختتام پر مسلمان معززین کا ایک وفد ساڑھے چار بجے گورنمنٹ ہاؤس میں گورنر پنجاب سر جیافری ڈی مونٹ مورنسی سے ملا۔ ارکان وفد میں سترہ میونسپل کمشنر‘ ڈاکٹر اقبال‘ سر میاں محمد شفیع‘ چودھری دین محمد‘ مولوی محمد علی‘ سید مراتب علی شاہ اور میاں عبدالعزیز بیرسٹر کے علاوہ دیگر حضرات بھی شامل تھے۔ گورنر کی ہدایت پر ایک اور وفد ۶ نومبر کو اڑھائی بجے کے قریب دوبارہ گورنر پنجاب سے ملا۔ اس روز مذکورہ ارکان کے علاوہ مولانا ظفر علی خان‘ سر فضل حسین‘ خلیفہ شجاع الدین‘ میاں امیر الدین‘ مولوی غلام محی الدین قصوری اور مولانا سید حبیب شاہ وفد میں سرفہرست تھے۔ گورنر کو طرفین یعنی ہندو اور مسلمان قوم کے جذبات و احساسات کا سی آئی ڈی اور دیگر مخصوص ذرائع کی وساطت سے بخوبی علم تھا‘ اس لیے اس نے سب سے پہلا سوال یہ کیا ”اگر
نعش کے آنے پر لاہور میں فساد ہو گیا تو اس کا ذمہ دار کون ہو گا"۔ اس پر ڈاکٹر اقبال جھٹ بول اٹھے ”یور ایکسیلنسی! اگر کوئی ایسی بات ہو گئی تو میری گردن اڑا دینا"۔ اس کے بعد آپ کے چہرے سے جلال برسنے لگا۔ تھوڑی دیر بعد آپ کی آنکھیں پر نم ہو گئیں اور فرمایا ”ہم عاشق رسول ﷺ کی محبت میں اپنے مطالبے سے کسی صورت بھی دستبردار نہیں ہو سکتے" جوش جذبات کی یہ کیفیت دیکھ کر گورنر کو کہنا پڑا ”اچھا آپ کو نعش تو مل سکے گی مگر اس کے لیے یہ شرائط ہیں:
- (الف) جنازہ شہر کے اندر سے نہ گزرے۔
- (ب) مسلمان اپنے جذبات و احساسات کو قید ضبط میں رکھیں اور اشتعال انگیز نعرے نہ
لگائے جائیں۔
- (ج) قیام امن و امان کے لیے اخبارات ہیجان انگیز اداریے اور اشتعال انگیز خبروں کی
اشاعت بند کر دیں۔
- (د) مسلمان جلوس نکالنے اور احتجاجی جلسے منعقد کرنا چھوڑ دیں۔
دریا میں ہم جو اترے تو دریا اتر گیا
۷ نومبر کی شام گورنر نے میت کی واپسی کی باقاعدہ اجازت دے دی اور ۸ نومبر کو مسٹر ایچ ڈبلیو ایمرسن چیف سیکرٹری حکومت نے درج ذیل سرکاری اعلان شائع کرایا ”میاں علم الدین کو لاہور میں دفن کرنے کے لیے مسلمانوں کا جو وفد حکومت پنجاب کی خدمت میں پیش ہوا‘ اس کے متعلق حکومت نے جو فیصلہ کیا ہے‘ وہ عوام کی اطلاع کے لیے شائع کیا جاتا ہے۔ ابتداء سے ہی حکومت پنجاب کی یہ خواہش رہی ہے کہ فرقہ وارانہ امن کی بحالی کے لیے جملہ ذرائع و اختیارات کو بروئے کار لا کر مذہبی منافرت کو ہوا نہ دینے کے انتظامات کیے جائیں اور اسی مقصد کے حصول کے لیے ۳۱ اکتوبر کو میانوالی میں دفن کرنے کے انتظامات کیے گئے۔ گزشتہ چند روز کے دوران میں مسلمان رہنماؤں کے مشورے سے اس سلسلے میں غور کیا گیا تاکہ معلوم کیا جائے کہ آیا ایسے انتظامات کرنا ممکن ہیں‘ جن سے مسلمانوں کی آرزوئیں پوری ہو جائیں اور ساتھ ہی امن عامہ میں کسی قسم کا خطرہ پیدا نہ ہو"۔
جس قوم کی آنکھ میں بجلیاں پوشیدہ ہوں‘ اس کے اشارۂ ابرو سے تاریخ مرتب ہوتی ہے اور وقت کا دھارا ہمہ وقت اس کے حضور میں دست بستہ حاضر رہا کرتا ہے۔ جن کے دامن میں چنگاریاں پنہاں ہوتی ہیں‘ شاہی تخت کی تعمیر و تخریب ان کے ایماء پر ہوتی ہے۔ فاتح و حاکم
یوں ہی مطالبے نہیں مان جاتے بلکہ ان سے بزور طاقت منوائے جاتے ہیں۔ غازی علم الدین شہید کی نعش کے حصول میں بڑی دشواریاں پیش آئیں۔ ہندو ہمارا دشمن اور انگریز ہندو کا دوست تھا۔ ان نازک حالات میں ملت اسلامیہ نے جس حسن کارکردگی کا مظاہرہ کیا‘ وہ تاریخ حریت کا ایک سنہری باب ہے۔ حصول نعش کے لیے مختلف جگہوں پر گرفتاریاں ہوتی رہیں۔ اس سلسلے میں سب سے پہلے شہادت کے روز چند غیور مسلمان میانوالی سے گرفتار ہوئے۔ واقعہ یوں ہے کہ جب شہید مرحوم کی میت جیل سے باہر لائی گئی تو مسلمانوں نے چہرہ مبارک دیکھنے کے لیے چارپائی کے گرد گھیرا ڈال دیا مگر پولیس نے پرامن ہجوم کو منتشر کر دیا اور جنازے کو لاوارثوں کے قبرستان کی طرف لے کر چل پڑے۔ اس وقت مسلمان زور شور کے ساتھ حکام سے مطالبہ کرنے لگے کہ میت ہمارے حوالے کرو! اس پر پولیس نے پتھر برسانا شروع کر دیے اور ان کو لاٹھیاں بھی ماریں۔ اس موقع پر چند سرفروش مسلمانوں نے جوابی کارروائی کی‘ جس سے ایک انگریز افسر کے دانت ٹوٹ گئے اور وہ شدید زخمی ہوگیا۔ روزنامہ ”انقلاب“ کے مطابق اس سلسلے میں پندرہ افراد گرفتار ہوئے جب کہ اس کی تصدیق نہیں ہو سکی اور صرف درج ذیل غازیوں کے نام معلوم ہو سکے ہیں:
۱- غازی فتح شیر نیازیہ ۲- غازی نور محمد نائی ۳- غازی ابراہیم غریب (پنجابی کے مشہور شاعر) ۴- غازی مستری غلام رسول ۵- غازی اللہ جوایا درزی ۶- غازی دوست محمد خان (شیرمان خیل) ۷- غازی ملک دوست محمد موندے والا ۸- غلام حسن خان صاحب۔ (انہیں چند گھنٹوں کے بعد رہائی مل گئی تھی)
میانوالی کے کلیم اللہ ملک صاحب اور خان محمد اصغر خان سے روایت ہے کہ گرفتار ہونے والوں میں سے دو ایک بری ہو گئے۔ بقیہ کو چھ ماہ‘ ایک سال اور بعض کو ڈیڑھ سال قید کی سزائیں سنائی گئیں۔ اس واقعہ کا ایک قابل ذکر پہلو یہ ہے کہ عدالت میں غازی ابراہیم غریب نے اپنا بیان پنجابی اشعار میں قلم بند کرایا‘ جس کا ایک ایک شعر دلوں میں ایمان کی حرارت پیدا کر دیتا ہے۔ لاہور میں حصول میت کی تحریک کے دوران وزیر مالیات نے مسلمانوں کے ایک وفد سے جب سردمہری کا مظاہرہ کیا تو ۶ نومبر کو مسجد وزیر خاں میں ایک عظیم الشان جلسہ منعقد ہوا۔ امیر بخش پہلوان اور مولانا ظفر علی خان کی شعلہ بیانیوں سے ایوان حکومت میں زلزلے بپا ہو گئے۔ اس روز سترہ آدمیوں پر مشتمل پہلا دستہ میانوالی روانہ ہوا۔ ان رضاکاروں نے حلف اٹھا رکھا تھا کہ ہم لاش لے کر رہیں گے۔ بصورت دیگر اپنی قبر بھی وہیں بنوائیں گے‘ جہاں شہید رسالت آرام فرما رہے ہیں۔ پہلے دستے میں شامل
بعض سرفروشان اسلام کے اسمائے گرامی یہ ہیں:
١- محمد رشید ٢- نیک محمد ٣- محمد صدیق ۴- چنن دین ۵- خورشید انور فرزند دلبند خواجہ فیروز الدین بار ایٹ لا۔
حصول نعش کے لیے گورنر کی کوٹھی پر دھاوے اور مقابلے کا پروگرام بھی بن چکا تھا۔ ٦ نومبر کو پہلے جتھے میں شامل مجاہدین کا اعلان کر دیا گیا تھا کہ فلاں فلاں گورنر کی کوٹھی پر مورچہ بندی کریں گے۔ اس سلسلے میں کشمیری بازار کے تاجروں نے سول نافرمانی کرتے ہوئے وفود کے تمام اخراجات اپنے ذمے لگا رکھے تھے مگر خوش قسمتی سے حکومت نے دور اندیشی کا ثبوت دیا، جس سے گورنمنٹ کے ساتھ تصفیہ ہو گیا اور بعد ازاں یہ پروگرام معرض التوا میں پڑ گیا۔
پہلے جتھے میں شامل سرفروشوں کی فہرست یہ ہے:
١- امیر بخش پہلوان بھاٹی دروازہ لاہور ٢- محمد رمضان ولد عمر بخش حویلی میاں خان ٣- محمد اسحاق ولد خان صاحب ۴- میراں بخش گلے زئی ۵- محمد امین ولد میاں عبد اللطیف باغبان پورہ ٦- ایم محمد اشرف ولد میاں مہر دین محلہ پٹڑنگاں کوچہ بھوریاں بھاٹی دروازہ لاہور ٧- غلام مصطفیٰ ولد محمد حسین محلہ گلے زئیاں ٨- محمد جمیل ولد فضل دین خرادی محلہ ٩- عبد اللہ ولد بڈھا محلہ پٹڑنگاں گلی بھوریاں ١٠- خیر دین ولد عبد اللہ کوٹلی پیر ١١- عبد الرحمان ڈاک خانہ باغبان پورہ ١٢- ایم کرامت بیگ ولد فوج دار بیگ حویلی کابلی مل ١٣- محمد اشرف خان ولد فیروز خان کوچہ گلے زئیاں ١۴- مرزا احمد خان ولد مرزا علی احمد خان پشاور سٹی ٹھیکیدار ١٥- کرم بخش ولد ماہی قوم گوجر اکبری دروازہ ١٦- مولوی تاج الدین ولد کریم بخش محلہ سادھواں ١٧- ایم اللہ دتہ ولد مستری نور دین ملازم مسلم کمیٹی، چنگڑ محلہ لاہور
غازی علم الدین شہید کا مقدمہ کسی فرد واحد سے منسلک نہ تھا بلکہ پوری قوم شمع رسالت کے پروانے کو بچانے کے لیے سرتوڑ کوششیں کرتی رہی۔ جب اس جانباز عاشق نے جام شہادت نوش فرمایا تو حصول نعش کی خاطر سینکڑوں کفن بدوش میدان عمل میں آگئے۔ ان میں کالجوں کے مسلمان طالب علم بھی سرفہرست تھے۔ مولانا ظفر علی خان نے ابتداء میں حصول میت کے مطالبے کی مخالفت کی مگر فوراً ہی وہ رضاکاروں کی ٹولی میں آگئے اور دیکھتے ہی دیکھتے سب سے آگے نکل گئے۔ ان مقاصد کے لیے بنائی جانے والی کمیٹی میں میوزک ڈائریکٹر خورشید انور اور رشید عطرے بھی پیش پیش تھے۔ جب راقم الحروف اس سلسلے میں اپنی قوم کی سرگرمیوں کا جائزہ لیتا ہے تو حیرت کی انتہا نہیں رہ جاتی۔ حصول نعش کے لیے چلائی جانے والی تحریک کے صرف پندرہ دنوں میں گورنر پنجاب کو شہید مرحوم کے والد میاں طالع مند کے
نام سے جو ٹیلیگرام موصول ہوئے‘ صرف ان کی تعداد چار ہزار پانچ سو سے زیادہ تھی۔ علاوہ ازیں یہ بھی قابل تحریر ہے کہ شہادت کے روز سے واپسی کے دن تک میانوالی میں غازی علم الدین شہید کی قبر پر گیس کی روشنی ہوا کرتی اور پولیس کا بھاری پہرہ رہتا۔ دراصل حکومت مسلمان قوم کی طرف سے خاصی خوف زدہ تھی۔ با ایں ہمہ پیر غلام دستگیر نامی کے الفاظ میں ”یہ ممکن ہی کب تھا کہ عاشق رسول ﷺ علم الدین کی خواہش کہ اس کا مزار لاہور ہی میں بنے پوری نہ ہو۔ اگر وہ لاہور ہی میں شہید کر دیا جاتا تو خدا نے جس قدر اس کا نام کرنا تھا‘ نہ ہوتا۔ جوں جوں اس کی وصیت کی تکمیل میں تاخیر واقع ہوئی‘ مسلمانوں کی محبت اور عقیدت میں اضافہ ہوتا گیا۔ ملک میں شورش پیدا ہو گئی اور لوگ جتھے بنا بنا کر میانوالی جانے پر آمادہ ہو گئے۔ حکام کو خطرہ ہوا کہ مسلمان اگر نعش نکال کر لے گئے تو بڑی کرکری ہو گی۔ پس قبر پر گیسوں کی روشنی کی گئی اور اس کی پاسبانی کے لیے سپاہی متعین کر دیے گئے۔ شہید کے مزار پر جو رونق اور چراغاں مسلمانوں کو کرنا تھا‘ اس کا آغاز خدا نے حکام کے ہاتھوں میانوالی ہی میں کرا دیا۔ رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے کشتہ محبت کا مزار ہو اور کسمپرسی کی حالت میں رہے‘ غیر ممکن ہے۔ یہ دشمنان رسول ﷺ کی قبور کے لیے مقدر ہے کہ گدھے لیٹیں اور الو بولیں۔ علم الدین کی قبر بے رونقی کا منظر کیوں بنتی“۔
(”غازی علم الدین شہید“ از رائے کمال‘ ص ۱۳۹ تا ۱۴۹)
دیدار ثانی: نعش کو میانوالی سے لاہور لانے کی خاطر ایک وفد تشکیل دیا گیا۔ مسلمانوں کی طرف سے سید مراتب علی حسنی اور مرزا مہدی حسین مجسٹریٹ مقرر ہوئے جب کہ حکومت کی طرف سے پولیس انسپکٹر مرزا غلام حسین نگران تھے۔ تینوں حضرات کی موجودگی میں ڈپٹی کمشنر راجہ مہدی زماں خان کے سامنے ۱۳ نومبر کو نعش قبر سے نکالی گئی۔ اس سلسلے میں تمام آداب ملحوظ خاطر رکھے گئے۔ کسی اور کھرپے کا مطلقاً استعمال نہ ہوا بلکہ علامہ محمد اقبال کی ہدایت کے مطابق میانوالی کے مستری نور دین اور اس کے دو تین ساتھیوں نے گڑھے کی معطر خاک ہاتھوں سے ہٹائی۔ وہ منظر ایمان افروز تھا اور عجیب بھی۔ میت بالکل صحیح سلامت تھی۔ تیرہ دن گزر جانے کے باوجود اس میں تعفن یا بو پیدا نہ ہوئی۔ (ایضاً‘ ص ۱۴۰) اس سے متاثر ہو کر بہت سے غیر مسلم حلقہ بگوش اسلام ہوئے‘ جن میں میانوالی ہسپتال کا ایک سکھ سول سرجن بھی شامل تھا جو بعد ازاں لندن میں مقیم ہو گیا۔ (ایضاً‘ ص ۱۰۵-۱۰۶) ارکان وفد کا بیان ہے کہ شہید کا چہرہ جلال و جمال کا امتزاج اور نور و نکہت کی آماجگاہ تھا۔
ان کے ہونٹوں پر تبسم کی ایک واضح لکیر نظر آتی تھی۔ اس گڑھے سے ایسی مسحور کن خوشبو آتی کہ احساس ہوتا بہشت نعیم کے دریچے وا ہیں یا کوئی کافور و گلاب چھڑکتا رہا ہے۔ نعش کے لیے جست کا بنا ہوا ایک صندوق موجود تھا جو اسلامیہ کالج کے سابق پرنسپل ڈاکٹر محمد الدین تاثیر کی نگرانی میں نیشنل کالج آف آرٹس سے تیار ہوا۔ اس میں روئی بچھا کر تکیے لگا دیے گئے اور کافور چھڑک دیا گیا۔ نعش خود سید مراتب علی حسنی نے اپنے ہاتھوں سے اٹھا کر ہزار احترام کے ساتھ تابوت میں رکھی۔ وہ شوخی نظارہ بھلا الفاظ کے آئینے میں کیسے اتر سکتی ہے۔ جہان رنگ و بو کا ذرہ ذرہ سر تا پا چشم بن گیا۔ آفتاب کی پیاسی شعائیں بوسے ثبت کرتی تھیں۔ چشم فلک کو یک لمحہ محرومی بھی ناگوار خاطر تھی۔ حوریں شراب دید کی خاطر جنت کے باغوں سے نکل آئیں۔ فرشتوں نے شہید ناز کے نورانی چہرے سے نقاب اٹھا دیا۔ عشاق حقیقی خراج تحسین پیش کرنے لگے۔ کائنات کی رعنائیاں خود فراموشی کے عالم میں جھوم اٹھیں۔ ہوا کے مست جھونکے جسد منور کے طواف میں ہمہ تن مصروف ہو گئے اور گڑھا بھی اس فدا کار کی جدائی کے غم میں ماتم کناں تھا۔ نور و نکہت کا ایک سیل رواں لمحہ بہ لمحہ چار سو پھیلتا جا رہا تھا۔ میانوالی اور مضافات کی فضا پر وجدان کی کیفیت طاری تھی۔ بوڑھے سر تا پا شوق تھے۔ معصوم مچل اٹھے، مستورات میں سرگوشیاں ہوئیں اور جوان تصویر حیرت بن گئے۔ ہر فرد اس انوکھے عطر فروش کی تلاش میں نگاہوں کے تیر چلانے لگے۔ جب اضطرابی کیفیات حد سے بڑھیں تو عورتیں چادروں میں لپٹی ہوئی اپنے گھروں سے باہر نکل آئیں۔ ضعیف العمر لوگوں کے قدم خود بخود اٹھنے لگے اور جوانوں کو کوئی غیر مرئی قوت کھینچ لائی۔ دیکھتے ہی دیکھتے سارا شہر اکٹھا ہو گیا۔
نور و نکہت کا معمہ حل ہوا۔ آج ان کا مہمان الوداع ہو رہا تھا۔ وہ مہمان‘ جس کی آمد پر انہوں نے دل و نگاہ کا فرش بچھایا تھا‘ آنکھوں میں جذب اور دل میں برداشت کی سکت نہ رہی۔ دیدہ گریاں رخصتی کا نظارہ نہ کر سکیں۔ دل کے آئینے اس جانگداز منظر سے دھندلا گئے۔ شوق و غم کی جانے وہ کیا کیفیت تھی۔ ان کا جی چاہتا تھا کہ اپنے مہمان کو جانے نہ دیں لیکن اس کے باوجود وہ روک نہ سکے۔ راہ حق کا شیدائی ایک صندوق میں محو خواب تھا‘ جو موٹر میں رکھ کر میانوالی ریلوے اسٹیشن پر پہنچایا گیا‘ جہاں پہلے ہی ایک خاص گاڑی اسے لاہور لانے کے لیے تیار کھڑی تھی۔ میانوالی میں جب صندوق موٹر میں رکھا جانے لگا تو سب سے پہلے غلام محمد عرف گاما نائی نے کندھا دیا۔ اسپیشل ٹرین میں ایک ڈبہ فرسٹ کلاس کا‘ ایک سیکنڈ کلاس اور دو بوگیاں لگائی گئی تھیں۔ یہ شام ساڑھے چار بجے میانوالی اسٹیشن سے روانہ
ہوئی۔ کتاب ضبط کا ایک ایک ورق بکھر گیا۔ دل کے بحر ناپید کنار میں مد و جزر کی کیفیت پیدا ہوئی۔ گوہر ہائے اشک آئینہ بینائی کے ساحل پر آگئے۔ ایک شور ماتم بپا ہوا۔ آہ و فریاد کا طوفان تھا‘ فضا چیخوں سے معمور تھی۔ صبر و قرار کا نازک آبگینہ چور چور ہو گیا اور فضائے بسیط کا سینہ زخمی نظر آیا۔ بہر صورت گاڑی رات کو ایک بج کر چالیس منٹ پر لالہ موسیٰ اسٹیشن سے گزری۔ ۱۴ نومبر کو پانچ بج کر پینتیس منٹ پر یہ گاڑی راستے میں کسی اسٹیشن پر نہ ٹھہرتے ہوئے لاہور پہنچی اور چھاؤنی کے اسٹیشن سے دور نہر کے پل پر کھڑی ہو گئی۔ یہاں جیل کی دو لاریاں پہلے ہی موجود تھیں۔ اس مقام پر نعش کو سنٹرل جیل کے حکام نے سنبھال لیا‘ جنہوں نے پونے سات بجے پونچھ ہاؤس کے سامنے وہ صندوق مسلمان معززین کے حوالے کر دیا۔ سر محمد شفیع‘ علامہ محمد اقبال اور چند میونسپل کمشنروں نے وصولی کی رسید پر اپنے دستخط ثبت کر دیے اور وہاں سے میت سات بجے چوبرجی کے میدان (جنازہ گاہ) میں لائی گئی۔ اس سے پہلے ۱۳ نومبر کو منادی کے ذریعے پورے شہر میں اعلان کرایا جا چکا تھا کہ شہید علم الدین کی نعش ۱۴ نومبر کو ساڑھے آٹھ بجے صبح چاند ماری گراؤنڈ میں مسلمانوں کے حوالے کی جائے گی۔ اس لیے خلیفہ شجاع الدین‘ چودھری فتح شیر‘ میاں مبارک دین‘ شیخ جان محمد‘ مہر خدا بخش‘ چودھری اللہ دتہ اور مسٹر رچرڈز واٹر ورکس انجینئر نے وہاں جا کر پانی کا انتظام کیا اور نماز جنازہ کے لیے صفیں کھڑی کرنے کی جگہ پر لکیریں لگاویں۔
میانوالی سے لاہور کا سفر بڑی شان و شوکت سے طے ہوا۔ ہر اسٹیشن پر ہزاروں مسلمان صرف گاڑی کی زیارت کے لیے دور دور سے آئے ہوئے تھے۔ عوام نے اپنے شہید پر جگہ جگہ عقیدت کے پھول نچھاور کیے اور دعائیں مانگیں۔ شہید ناز کا استقبال کرنے اور نماز جنازہ پڑھنے کی خاطر لاکھوں مسلمان بلا امتیاز عقیدہ و فرقہ موجود تھے۔ جنازے میں پورے برصغیر سے ہر طبقہ اور پیشے کے لوگ شریک تھے۔ بیرون جات سے لاہور کے مضافات کے دیہاتی باشندوں کے علاوہ امرتسر‘ گورداسپور‘ پشاور‘ عیسیٰ خیل‘ موسیٰ خیل‘ انبالہ‘ لدھیانہ‘ میانوالی‘ جالندھر‘ گوجرانوالہ‘ گجرات‘ راولپنڈی اور دیگر علاقوں کے مسلمان کثیر تعداد میں شامل ہوئے۔ اس روز مسلمانوں کا ضبط و نظام بھی حیرت انگیز تھا۔ جنازہ گاہ میں جوں جوں ہجوم بڑھتا جا رہا تھا‘ لوگ خود بخود قطاروں میں بیٹھتے جاتے۔ شہید کے جنازے میں خصوصاً لاہور اور عموماً برصغیر پاک و ہند کے مسلم معززین اور اخبارات کے ایڈیٹر بھی موجود تھے۔ مقامی دفاتر کے مسلمان ملازمین اور کارخانوں کے مزدور بغیر چھٹی لیے چلے آئے تھے۔ اس زمانے میں پرانی انار کلی اور چوبرجی کے درمیان آبادی نہ تھی بلکہ اس جگہ میدان اور کھیت
تھے۔ کسانوں نے پانی کی قلت کے پیش نظر رہٹ چلارکھے تھے۔ ٹیوب ویل سے میونسپلٹی کے انجن بھی پانی نکال رہے تھے اور ماشکی بڑی تندہی سے وضو کرانے میں مصروف تھے۔ علاوہ ازیں اس موقع پر پولیس اور فوج کا زبردست انتظام تھا۔ برطانوی فوج کے دستے اہم راستوں اور چوراہوں پر چوکس و تیار کھڑے تھے۔ بعض جگہوں پر نصب شدہ توپیں بھی دکھائی دیتی تھیں۔ پولیس ملازمین کے علاوہ مختلف جگہوں پر ہندو و مسلم معززین کی ڈیوٹیاں لگی ہوئی تھیں۔ حفظ امن کی خاطر لوہاری دروازے سے سید مٹھا بازار تک چوک رنگ محل‘ سوتر منڈی‘ چوک متی‘ کشمیری بازار‘ پاپڑ منڈی‘ پرانی کوتوالی اور ٹبی کوتوالی تک ذمہ دار افسر متعین تھے۔
وہ نہایت ایمان پرور نظارہ تھا۔ جن خوش نصیبوں نے خواجہ کائنات ﷺ کے شیدائی کی بارگاہ میں آخری عقیدت و نیاز مندی کے پھول پیش کیے ہیں اور جن ارادت کیش نگاہوں نے فداکار رسالت کی رعنائیوں کے بوسے لیے ہیں‘ وہ جانتے ہیں کہ الفاظ کا کوئی ذخیرہ‘ ادب کا ہر خزانہ‘ قوت بیاں کی کوئی وسعت اور استعداد اظہار حقائق کی تمام پہنائیاں اس کا نقشہ نہیں اتار سکتیں۔ وہاں لاکھوں مسلمان موجود تھے۔ ہر ایک کا قلب و ذہن‘ ہر شخص کی زبان اور آنکھیں سرور لولاک ﷺ کے شہید کی عقیدت سے لبریز تھیں۔ آخری وقت تک آمد کا تانتا بندھا رہا۔ ہزاروں خواتین جنازے میں شامل ہوئیں اور سینکڑوں زیارت کے لیے ابھی چلی آرہی تھیں۔ نگاہ جس طرف کا نظارہ کرتی‘ مسلمان ہی مسلمان نظر آتے۔ میت کے لیے چارپائی ڈاکٹر محمد الدین تاثیر نے ازراہ عقیدت پیش کی اور تابوت نیشنل کالج آف آرٹس میں سرکاری طور پر تیار ہوا۔ جنازے کی کیفیت دیدنی تھی۔ چارپائی کے ساتھ لمبے لمبے بانس بندھے ہوئے تھے اور چارپائی پر پھولوں کا بستر تھا اور اس مسہری پر ایک چوبی صندوق تھا‘ جو طرح طرح کی خوشبوئیات سے معطر تھا۔ اس صندوق میں ہر اندیشہ اختلال سے محفوظ تنہائی میں ایک بظاہر کاملا خاموش مگر حقیقتاً ہمہ تن گویا وجود علی الاعلان گواہی دے رہا تھا اور زمین کی وسعت میں بسنے والے ہر زندہ وجود اور سطح ارض سے لے کر عرش اعلیٰ تک ہر سامع ہستی کو سنا رہا تھا کہ ناموس رسالت ﷺ پر قربان ہونے والے ابھی باقی ہیں۔ اس تابوت پر ایک سیاہ چادر تھی جس کے بالائی حصوں پر سادہ نمونے کندہ تھے اور حاشیوں پر یہ شعر کڑھا ہوا تھا {
بداں را بہ نیکاں بہ بخشد کریم
”سنا ہے کہ قیامت کے دن جب نفسانفسی کا عالم ہو گا تو خدائے کریم برے لوگوں کو بھی محض نیک خصلت افراد کی وجہ سے بخش دے گا“۔
سیاست اخبار کے مدیر و مالک مولانا سید حبیب شاہ ایک جید عالم، مقبول رہنما اور حضور رسالت مآب ﷺ کے عاشق صادق تھے۔ حضرت علامہ محمد اقبال نے آپ سے پوچھا کہ ”وہ خوش نصیب کون ہے، جسے شہید کی نماز جنازہ پڑھانے کا شرف حاصل ہو گا؟“ مولانا سید حبیب شاہ صاحب نے فرمایا ”یہ تو شہید کے والد بزرگوار میاں طالع مند کا حق ہے ۔ جانے ان کی نگاہ کس مہ جبین کی طرف اٹھتی ہے؟“ میاں طالع مند پاس ہی کھڑے تھے۔ انہوں نے کہا ”اگر یہ حق مجھے حاصل ہے تو میں اسے ڈاکٹر محمد اقبال کو تفویض کرتا ہوں“۔ اس پر ڈاکٹر صاحب اور سید حبیب شاہ نے باہمی مشورے سے سن رسیدہ عالم دین مولانا سید محمد دیدار علی الوری کا انتخاب کیا مگر مولانا موصوف ملت اسلامیہ کے جم غفیر میں اس قدر گھر چکے تھے کہ بروقت مقررہ جگہ پر نہ پہنچ سکے، اس لیے مسجد وزیر خان کے خطیب قاری شمس الدین بخاری کا نام تجویز ہوا، جس پر سب حاضرین نے بصد شوق و مسرت رضامندی کا اظہار کیا۔ اتنے میں مولانا محمد دیدار علی شاہ الوری بھی سید احمد شاہ کی معیت میں تشریف لائے۔ ان کو اس قرعہ کا ماجرا سنایا گیا۔ آپ نے فرمایا ”جو ہوا خوب ہوا ہے“ اس ایثار سے فرشتے تصویر حیرت بن گئے۔ اہل دل نے ہاتھوں کو اپنے اپنے دل پر رکھ لیا اور مہ وشوں کی سرمہ آلود پلکوں پر آب پارے جھلملانے لگے۔ انہی کیفیات میں پہلا جنازہ پڑھانے کا شرف قاری محمد شمس الدین کو حاصل ہوا۔ اس کے بعد دوسری نماز جنازہ سید محمد دیدار علی شاہ الوری صاحب نے پڑھائی۔ جب جنازے کی نمازیں ختم ہوئیں تو حاضرین کی بیقرار نگاہیں تابوت کا طواف کرنے لگیں۔ مولوی غلام محی الدین قصوری، غلام رسول مہر، عبدالمجید سالک، سر مراتب علی حسنی، مولانا ظفر علی خان، سر عبدالقادر، سید عنایت اللہ شاہ اور مولانا حبیب شاہ ارادت کیش آنکھوں سے سرور لولاک ﷺ کے فدائی کا نظارہ کرنے لگے۔ سر میاں محمد شفیع وفور جذبات سے بے قابو تھے۔ وہ مجسمہ ادب مسہری کے سامنے کھڑے ہو گئے۔ اس وقت ان کے حلقہ چشم سے موتی اچھل رہے تھے۔ آپ نے آقائے نامدار ﷺ کے حضور میں درود و سلام کے گلدستے پیش کیے، پھر شہید رسالت ﷺ کی پرجلال بارگاہ میں خراج تحسین پیش کیا اور زائرین کو نظم و ضبط کی تلقین فرمائی۔
اتنا بڑا عظیم الشان پر شوکت اور متین و ضابط اجتماع پنجاب کی آنکھوں نے آج تک نہیں دیکھا۔ ایسا روح پرور منظر کہ چشم فلک کو جنبش مژگاں بھی بار تھا۔ ساڑھے دس بجے جنازہ
اٹھایا گیا۔ ہزاروں لوگ کندھا دینے کے اشتیاق میں جوق در جوق آگے بڑھے۔ علامہ اقبال اور سید حبیب ایسے رہنما ایک لمحہ تابوت اٹھانے کی جستجو میں آگے پیچھے دوڑ رہے تھے۔ تمام اکابرین ملت کے دل میں یہی آرزو مچل رہی تھی۔ بڑے بڑے زعمائے کرام کندھا دینے والوں کے قدموں میں گر گر کر اٹھ اور اٹھ اٹھ کر گر رہے تھے۔ اسی شوق جستجو میں مولانا ظفر علی خان اور سر میاں محمد شفیع بھی زائرین کی زد میں آگئے، جنہیں بمشکل وہاں سے نکالا گیا۔ ہزاروں لوگ، جو اس شرف سے محروم رہے، انہوں نے اپنی پگڑیاں بانسوں میں ڈال دیں۔ ہر طرف زائرین کا ٹھاٹھیں مارتا ہوا سمندر نظر آتا تھا۔ ہزاروں کی تعداد میں برقعہ پوش خواتین بھی جمع تھیں، جو ایک نظارہ کرنے کی خاطر اونچے ٹیلوں اور چھتوں پر بیٹھی درود و سلام پڑھ رہی تھیں۔ بقیہ پیر بودیاں والا کے دربار میں جمع تھیں۔ راستے میں جگہ جگہ پر میت پر پھولوں کی بارشیں ہوتی رہیں۔ ہزاروں عقیدت مند جھولیوں، ٹوکروں اور ٹوپیوں میں ترو تازہ پھول بھر بھر کر لا رہے تھے اور بعض گلاب، چنبیلی، موتیا اور رابیل کے عطر و عرق کی بوتلیں انڈیل رہے تھے۔ ہر شخص وفور جذبات کی تصویر بنا ہوا تھا۔ ہر لمحہ کلمہ شہادت کی پکار سے فضا گونج رہی تھی۔ چار سو اللہ اکبر اور شہید علم الدین زندہ باد کے نعرے سنائی دیتے تھے۔ بعض لوگ ”بداں را بہ نیکاں بہ بخشے کریم“ کا ورد کرتے ہوئے جنازے کے پیچھے پیچھے جا رہے تھے۔ کئی من پھول اور عطر و عرق کی سینکڑوں بوتلیں آپ کے جسد منور پر چھڑکی گئیں۔ اخبارات ضمیمے چھاپ کر عوام کو تازہ ترین حالات سے آگاہ کر رہے تھے اور تجہیز و تکفین تک ایک ایک گھڑی کی کارروائی کو سپرد قلم کرتے رہے۔ زائرین کا محتاط اندازہ چھ لاکھ کیا جاتا ہے۔ بحوالہ انقلاب جنازے کا جلوس ساڑھے پانچ میل سے زیادہ رقبے میں پھیلا ہوا تھا۔ ساڑھے دس بجے تک لوگوں کی تعداد ساڑھے چار لاکھ سے زائد تھی اور ابھی آمد کا تانتا بندھا ہوا تھا۔ پہلی نماز کے اختتام پر کثیر التعداد لوگ جنازہ گاہ سے آ رہے تھے لیکن جس تعداد میں لوگ واپس جا رہے تھے، اس سے زیادہ تعداد میں زیارت کے لیے آ رہے تھے۔ ستر ستر، اسی اسی سال کے بوڑھے، جن کی کمریں کہولت سن کی وجہ سے جھک گئی تھیں اور انہیں قدم اٹھانا بھی دشوار تھا، بے تابانہ وہاں پہنچے اور شہید ناز کے نظارے سے اپنی آنکھیں ٹھنڈی کیں۔ پہلی نماز جنازہ میں تین سو تیرہ صفیں مرتب ہوئیں۔ ہر صف میں دو ہزار کے قریب زائرین کھڑے تھے۔ قصہ مختصر جلوس نے چوبرجی سے قبرستان تک آدھے میل کا فاصلہ ڈیڑھ گھنٹے میں طے کیا۔ قبر مولانا ظفر علی خان نے خاص اپنی نگرانی میں بنوائی۔ جب لحد میں اتر کر آپ جسامت کا جائزہ لینے لگے تو ایک چیخ بلند ہوئی۔ مولانا کی چیخ اس فریاد و ارمان کا امتزاج
تھی۔ ”کاش یہ مقام آج مجھے نصیب ہوتا“۔ اس کے بعد مولانا موصوف ناکام ارمانوں اور اپنی حسرتوں کا لاشہ اٹھائے لحد سے باہر آگئے۔ ہر آنکھ پر نم تھی‘ چشم فلک کو بھی ذوق گریاں نے ستایا اور رم جھم ہونے لگی۔ اسی سماں میں مولانا سید دیدار علی شاہ اور سر علامہ محمد اقبال نے پاک میت کو اپنے دست ہائے مبارک سے قبر میں اتارا‘ جس کے بعد قلندر لاہوری نے سرتاپا نیاز عرض کیا ”غازی علم الدین شہید! تو خوش رہ ہم نے تیری وصیت کو پورا کر دکھایا۔ نماز جنازہ میں ہر شخص نے کلمہ شہادت پڑھا اور دعائے مغفرت مانگی پھر دربار رسالت میں پہنچ کر آقا و مولا کی بارگاہ میں میرا سلام پیش کرنا اور اسلامی ممالک‘ خصوصاً برصغیر کی سیاسی آزادی کے لیے دعا کرنا۔ اچھا خدا حافظ“۔ لوگوں نے فرط عقیدت سے قبر کے اندر اتنے پھول پھینکے کہ تربت بھر گئی۔ اس کے بعد کچی اینٹوں سے تعویذ بند کیا گیا۔ جب کلمہ شہادت اور درود و سلام پڑھ کر مٹی ڈالنے کی رسم ادا ہونے لگی تو فضا چیخوں اور فریادوں سے معمور تھی۔ علمائے کرام پر نم آنکھوں سے ایسی موت اور مرنے والے پر رشک کر رہے تھے۔ اقبال بھی کسی گہری سوچ میں ڈوبا ہوا تھا۔ شوق و غم کی ایک عجیب کیفیت تھی‘ جس میں حسب وصیت مولانا سید دیدار علی شاہ کی اقتداء میں نماز شکرانہ کے دو نفل ادا کیے گئے۔ اسی روز جنازہ لانے سے قبل میاں طالع مند قبرستان میں آئے تو لوگ ان کے گرد پروانہ وار گر رہے تھے۔ آپ کے گلے میں پھولوں کے ہار پہنائے گئے۔ بارہ بجے کے بعد جب نعش قبر میں اتاری گئی‘ اس وقت ہوائے یثرب خاک لحد کو سرکار مدینہ کا یہ حکم سنا رہی تھی ”خبردار! میرے شہید کا کفن بھی میلا نہ ہونے پائے“۔
وہ گوشہ لحد میں بھی تنہا نہیں ہوا
میت کی واپسی اور اس کے بخیر و خوبی دفن ہو جانے پر علم الدین کمیٹی کے سربراہوں نے ایسوسی ایٹڈ پریس کو حسب ذیل بیان دیا ”ہم مسلمانان لاہور حکومت پنجاب‘ بالخصوص سر جیافری ڈی مونٹ مورنسی گورنر کے ممنون ہیں کہ انہوں نے غور و تدبر سے کام لیتے ہوئے غازی علم الدین شہید کی میت ہمارے حوالے کی اور ہم اپنی قوم کے غیور شہزادے کو حسب وصیت دفن کرنے میں کامیاب ہوئے۔ ہم ان تمام حضرات کا بھی شکریہ ادا کرتے ہیں‘ جنہوں نے اس مرحلے کو بخوش اسلوبی طے کرنے میں ہماری مدد فرمائی اور امن و امان برقرار رکھا“۔ اس بیان پر ذیل کے اکابرین وطن و ملت کے دستخط ثبت تھے۔ سر میاں محمد شفیع‘ حضرت علامہ محمد اقبال‘ خلیفہ شجاع الدین‘ سید محسن شاہ‘ میاں عبد العزیز‘ میاں امیر الدین‘
ملک محمد حسین اور مولوی غلام محی الدین قصوری۔ اس روز مولانا ظفر علی خان ٹریفک کے نگران اعلیٰ تھے۔ ان کی قیادت میں رضا کار عام طور پر اور ملک لال دین قیصر‘ حکیم احمد حسن اور غلام مصطفیٰ حیرت خاص طور پر اپنے فرائض سرانجام دے رہے تھے۔ بعض لوگوں کی کچھ اشیاء ادھر ادھر گر گئی تھیں۔ رضا کاروں نے اعلان کیا کہ تمام گری پڑی اور لاوارث چیزیں ان کے کیمپ میں پہنچا دی جائیں۔ اس کیمپ کا انچارج استاد امیر بخش پہلوان تھا۔ غازی علم الدین شہید کے قریبی دوست میاں سراج دین بھی انہی کی قیادت میں اپنے فرائض سرانجام دے رہے تھے۔ استاد امیر بخش پہلوان نے فرض شناسی کا شاندار مظاہرہ کیا اور اپنی ذمہ داری کو بہ احسن سرانجام دیا۔ انہوں نے گمشدہ تمام اشیاء اصل مالکوں تک پہنچا دیں۔ دس پندرہ دن بعد بھی لوگ اپنی گم شدہ جوتیاں اور دیگر چیزیں موصول کرتے رہے۔ پہلوان صاحب کی مساعی جمیلہ سے کسی فرد کی کوئی شے بھی ایسی نہ تھی‘ جو واپس مالک تک نہ پہنچ گئی ہو۔
غازی علم الدین شہید کے جنازے کا اجتماع تاریخی اعتبار سے بھی بڑا اہم ہے۔ غلامان مصطفیٰ کے جو جنازے بڑی دھوم دھام سے نکلے اور تاریخ نے جنہیں اپنے صفحات میں محفوظ کیا ہے۔ ان میں سب سے پہلا بڑا جنازہ ابو حنیفہ امام اعظمؒ کا ہوا۔ آپ نے ۱۰ رجب المرجب ۱۵۰ ہجری کو وفات پائی۔ اسی روز آپ کا جنازہ چھ مرتبہ پڑھا گیا۔ ایک روایت کے مطابق ہر دفعہ کم و بیش نوے ہزار انسان جنازے میں شریک تھے۔ غائبانہ نماز جنازہ کئی دنوں تک ہزاروں جگہوں پر پڑھی جاتی رہی۔ معتبر تواریخ میں مذکور ہے کہ امام احمد بن حنبلؒ اور امام مالکؒ کے جنازوں میں بھی لاکھوں افراد شامل تھے۔ ایک اور عظیم جنازہ مولانا محمد جلال الدین رومیؒ کا تھا۔ آپ کا انتقال ۵ جمادی الاول ۶۷۲ ہجری کو شام کے وقت ہوا۔ رات بھر تجہیز و تکفین کی تیاری ہوتی رہی۔ صبح کو جنازہ اٹھا اور شام تک آپ کا جنازہ پڑھا جاتا رہا آپ کی وفات پر کوئی آنکھ نہ تھی جو روتی نہ ہو۔ ہر طبقہ و فرقہ کے خورد و کلاں شریک جنازہ تھے اور چودھویں صدی میں ایک بہت بڑا جنازہ لاہور کے غازی علم الدین شہیدؒ کا ہے‘ جس میں ایک محتاط اندازے کے مطابق چھ لاکھ انسان شامل تھے۔ اس تعداد میں ہزاروں جگہ ادا کی جانے والی غائبانہ نماز جنازہ کا مطلقاً شمار نہیں ہے۔
(ماخوذ از ”غازی علم الدین شہید“ از رائے کمال‘ ص ۱۳۹-۱۰۱)
غازی علم الدین شہید رحمۃ اللہ علیہ کی شہادت پر مولانا ظفر علی خان نے فرمایا: ”شہید علم الدین کے خون کی حدت سے غیرت و حمیت کے وہ چراغ روشن ہوئے ہیں‘ جنہیں مخالف ہوا کے تند و تیز جھونکے بھی بجھا نہیں سکتے۔ آپ کی
شہادت سے قوم کو ایک نئی زندگی مل گئی ہے۔ وہ زندگی‘ جسے اب موت بھی مار نہیں سکے گی۔“
اللہ اللہ موت کو کس نے مسیحا کر دیا
امیر شریعت سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ نے کیا خوب فرمایا:
”غازی علم الدین شہیدؒ کی فضیلت قید حروف میں اسیر نہیں ہو سکتی۔ میں نے ہر موضوع پر خطابت کے جوہر لٹائے ہیں مگر ان کے حال مطابق کچھ کہنے سے عاجز ہوں۔ میں توسن فکر و عقل دوڑانے کے بجائے اس آیت کی تلاوت کیا کرتا ہوں
ولا تقولو لمن يقتل فی سبيل الله اموات بل احياء ولكن لا تشعرون
(ان کو مردہ نہ کہو جو اللہ کی راہ میں مرے بلکہ وہ زندہ ہیں مگر تم شعور نہیں رکھتے)
دراصل فرنگی سامراج ہندوستان میں اپنی حکومت کی بقاء کی خاطر ہندوستان کی اقوام کے شعور اور ضمیر کو مردہ کر دینا چاہتا تھا۔
جو سوچ انگریزی حکومت کے لیے کبھی بھی خطرہ بن سکتی تھی۔
جو نظریہ انگریز کے غاصبانہ قبضے کے خلاف الاؤ کی طرح ابل رہا تھا۔
جو آتش فشاں کسی بھی لمحے پھٹ سکتا تھا۔ اس خطرے کو انگریز بھانپ گیا۔
نفرت کا جو الاؤ انگریز کے خلاف ابل رہا تھا‘ اسے ہندو مسلم اختلافات کی صورت دے دی گئی۔ جو آتش فشاں انگریزی گورنمنٹ کو راکھ کرنے کے لیے ایک مدت سے دہک رہا تھا‘ وہ ہندوستانیوں ہی کے دلوں میں چھالے کر گیا۔ اور بدقسمتی سے ہندو‘ انگریز شاطر کے دام فریب میں پھنس گئے اور ان کے اشاروں پر ناچ ناچ کر اہل ایمان کے کلیجوں کو چھلنی کرتے گئے۔
انگریز نے جہاں مرزا قادیانی جیسے نر شیطان کو جنم دیا تھا‘ وہاں چھوٹے چھوٹے بے شمار شیاطین پیدا کیے اور مقصد محض مسلمانوں کی دولت ایمان کو لوٹنا تھا۔ انگریز کے پیدا کردہ شیاطین میں ایک نام منشی رام ملعون کا بھی ہے۔
منشی رام سوامی شردھانند کیسے بنا؟:
اس کی تفصیل میں ابوالفضل صدیقی یوں رقم طراز ہیں: ”شردھانند ہندو مسلم فساد کا داعی اور رسوائے زمانہ شدھی تحریک کا بانی تھا۔ اس کا اصل نام منشی رام تھا مگر سیاست میں قدم رکھنے کے بعد سوامی شردھانند کہلانے لگا تھا۔ اس کا شمار ہندوستان کے ان مخصوص افراد میں ہوتا تھا، جنہیں انگریز نے ہندوؤں کو مسلمانوں کے مقابلے میں کھڑا کرنے اور ہندو قوم کو مضبوطی سے جمانے کے لیے اپنا آلہ کار بنایا۔ وہ بنارس کا رہنے والا تھا۔ عملی زندگی کا آغاز پولیس میں چھوٹے سے عہدے (غالباً سب انسپکٹر) سے کیا۔ وہاں قدم نہ جمے تو محکمہ قانون میں ”مختار عدالت“ بن گیا۔ یہاں بھی طبیعت اچاٹ ہوئی تو سنیاس لے لی اور چار ابرو کا صفایا کرا کے ہردوار میں جا دھونی رمائی۔ پھر سیاست میں حصہ لینے کا شوق چرایا تو کانگریس میں شامل ہو گیا۔ پولیس اور قانون کے محکموں میں ملازمت، مذہبی دائرے میں کام کرنے اور آخر میں سیاست میں حصہ لینے سے اسے گوں ناگوں معلومات حاصل ہوگئیں۔ قدرت نے تیز ذہن اور غیر معمولی قوت حافظہ دی تھی۔ زندگی کے مختلف شعبوں میں کام کرنے سے ذہن اور بھی منجھ گیا تھا۔ زمانہ شناسی اور حاضر جوابی میں اپنی مثال آپ تھا۔ اپنی ذہانت اور خطابت کے باعث آنے والے طوفان کے تیور بہت پہلے بھانپ لیتا تھا۔ ہندو مذہب اور فلسفے پر گہری نظر تھی۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ ساحرانہ خطابت میں اس کا کوئی ثانی نہ تھا۔ کانگریس میں آئے تھوڑے ہی دن گزرے تھے کہ ۱۹۲۰ء میں تحریک ترک موالات میں دھر لیا گیا۔ جیل کی سختیوں کے سامنے بہت جلد ہمت ہار بیٹھا اور جیل کے انگریز افسروں سے ہندو مسلم اتحاد کے خلاف تحریک چلانے کی ساز باز شروع کر دی۔ انگریز ڈپلومیسی ایسے ”جوہر قابل“ کی تلاش میں رہتی تھی۔ فوراً سودا طے ہو گیا۔ چند روز کے بعد دنیا نے دیکھا کہ کانگریس کے سرگرم کارکن اور ہندو مسلم اتحاد کا خواہاں منشی رام گیروا کپڑوں میں ملبوس جیل سے نکلا تو سوامی شردھانند بن چکا تھا“۔
(ماہنامہ ”نعت“ لاہور، اپریل ۱۹۹۱ء، ص ۳۶-۳۵)
شردھانند اور اس کے چیلوں کی سرگرمیاں:
”علی برادران اور دوسرے مسلمان رہنماؤں نے کانگریس کی طرف دست تعاون بڑھا کر خلافت کانفرنس کے زمانے میں ہندو مسلم اتحاد کی جو فضا برسوں میں تیار کی تھی‘ شدھی تحریک اور شردھانند کے چیلوں نے چند مہینوں میں اسے نفرت اور انتشار میں بدل دیا۔ ان لوگوں نے اسلام‘ قرآن اور مسلم قوم کے خلاف اتنی ہرزہ سرائی کی کہ مسلمانوں میں اشتعال پیدا ہونے لگا۔ یہ لوگ شہروں سے نکل کر گاؤں گاؤں اور قریہ قریہ میں پھیل گئے اور اسلام پر کیچڑ اچھالنے لگے۔ نوبت یہاں تک پہنچ گئی کہ ہندو استریاں بھی ان کے دوش بدوش میدان میں نکل آئیں اور کھلی گاڑیوں میں ”شدھ ہو جاؤ اور پسند کر لو“ کے پوسٹر آویزاں کر کے جلوس نکالنے لگیں“۔ (ایضاً‘ ص ۳۶)
براہ راست ناموس رسالت پر حملے:
جب ایسی بد معاشیوں کے بعد بھی ان کے دل کی سیاہی نہ اتری تو ان کا کفر مزید بڑھ گیا۔ چنانچہ ابو الفضل صدیقی لکھتے ہیں:
”یہی نہیں‘ ان دریدہ دہن بدبختوں نے اسلام اور قرآن پاک کے خلاف افسانہ تراشیوں کے بعد براہ راست ناموس رسالت پر حملے شروع کر دیئے“۔
(ایضاً‘ ص ۳۶)
جناب سردار علی صابری لکھتے ہیں:
شردھانند کے ایک چیلے نے ”جڑپٹ“ کے نام سے ایک کتاب لکھی‘ جس میں حضور سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اور دیگر انبیاء کرام‘ خاص کر حضرت ابراہیم خلیل اللہ‘ حضرت لوط‘ حضرت ایوب‘ حضرت اسحاق علیہم السلام کی شان میں اس قدر سخت گستاخیاں بالکل عریاں الفاظ میں کی گئیں تھیں کہ اس خباثت کا تصور بھی مشکل ہے۔ ”جڑپٹ“ میرے دفتر ”سیاست“ میں ریویو کے لیے آئی تھی اور دل پر پتھر رکھ کر اسے ایک نظر دیکھنے کا اتفاق ہوا تھا“۔
(ماہنامہ ”درویش“ لاہور، ص ۳۶‘ بابت ماہ مئی ۱۹۹۴ء)
گستاخی رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کفر کی آخری حد ہے۔ سوامی شردھانند کی لگائی ہوئی آگ کے شعلے مسلمانوں کے سینوں سے اٹھنے والی آہوں کے ساتھ عرش الٰہی کو چھونے لگے تو رب ذوالجلال نے مومنین کے زخموں پر مرہم رکھتے ہوئے گستاخ رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی سزا کا سامان کر دیا:
دسمبر ۱۹۲۴ء کا واقعہ ہے:
”سوامی شردھانند دہلی میں اپنے نیا بازار والے مکان پر موجود تھا کہ ایک غیرت مند نوجوان نے اسے للکارا اور پے در پے پستول سے فائر کر کے ”دشمن رسول“ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو کیفر کردار تک پہنچا دیا۔ حملہ آور نے تاریخ میں ”غازی عبدالرشید شہید“ کے نام سے شہرت پائی“۔
(از رائے کمال مندرجہ ماہنامہ ”نعت“ لاہور، اپریل ۱۹۹۱ء، ص ۴۰)
غازی عبدالرشید قاضی:
قاضی عبدالرشید یو۔پی کے ایک چھوٹے سے ضلع (بلند شہر اور میرٹھ کے بارہ دیہات و قصبات پر مشتمل ایک علاقہ بارہ بستی افغاناں کے نام سے مشہور ہے اور اس کا مرکزی مقام بگراس ضلع بلند شہر میں ہے۔ قاضی عبدالرشید صاحب بگراس کے ایک علمی معزز گھرانے میں پیدا ہوئے) کے کسی غیر معروف گاؤں کے باسی تھے۔ (آپ نے عربی، فارسی کی ابتدائی تعلیم اپنے تایا زاد بھائی مولانا قاضی سید بشیر سے حاصل کی اور درس نظامی کے لیے گلاوٹھی کے ایک عربی مدرسہ میں داخلہ لے لیا) ابتدائی تعلیم کے بعد کتابت سیکھی اور اسی کو ذریعہ معاش بنا لیا۔ حصول معاش کے سلسلے میں اپنے وطن سے ترک سکونت کر کے دلی آئے اور پھر مستقلاً یہیں قیام کر لیا۔ وہ بوڑھی ماں، ایک بیوہ بہن، جواں سال بیوی اور دو بچوں پر مشتمل خاندان کے کفیل تھے۔ گھر میں نماز روزے کی سختی سے پابندی کی جاتی تھی۔ قاضی صاحب مختلف اخبارات اور رسائل میں کتابت کر کے صرف اس قدر کما لاتے تھے، جس سے دو وقت کی روٹی میسر آسکے۔ تھے تو غریب مگر بڑے خوددار، قناعت پسند اور معاملے کے کھرے۔ نہ کسی کے سامنے دست طلب دراز کرتے، نہ کسی آجر کی طرف ایک پائی چھوڑتے۔ وہ اکثر ”نظام المشائخ“، ”عصمت“، ”منادی“ اور ”دین و دنیا“ میں کتابت کرتے تھے۔ فطری طور
بڑے حساس، کم آمیز اور کم سخن تھے۔ مذہب سے وابستگی ان کی گھٹی میں پڑی تھی۔ دہلی کے صوفیاء اور علماء کرام کی صحبتوں نے سینے کو اسلام، قرآن اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے عشق اور عقیدت سے بھر دیا تھا۔ مولانا رازق الخیری کا بیان ہے:
”جبلتاً مخصوص نوعیت کے جذباتی نوجوان تھے۔ ذات رسالت مآب صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے انہیں عشق کی حد تک وابستگی تھی۔ رسول پاک صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی شان میں شدھی والے جو گستاخیاں کرتے تھے، انہیں پڑھ اور سن کر وہ تڑپ اٹھتے تھے۔ کبھی کبھی جوشیلے انداز میں اس اذیت کا اظہار کرتے تو سننے والوں کو بھی تڑپا دیتے“۔
عشق کا عملی اظہار:
”آریہ سماجیوں اور شدھی والوں کے نت نئے فتنے اٹھتے تو عبد الرشید دل ہی دل میں سوچا کرتے کہ فتنہ و شر کے اس سلسلے کو کیسے ختم کیا جائے۔ بالآخر ان کے ذہن میں ایک تجویز آگئی۔ انہوں نے رسالت مآب صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر کیچڑ اچھالنے والے گروہ کے سرغنے کا قصہ پاک کرنے کی ٹھان لی۔ چند ہی دن کے بعد شمع رسالت کا یہ پروانہ دہلی سے افغانستان روانہ ہو گیا۔ وہاں سے ایک پستول اور چند گولیاں خریدیں اور لوٹ آیا....... افغانستان سے واپسی کے بعد وہ موقع کی تلاش میں رہنے لگے۔ قدرت نے جلد ہی موقع فراہم کر دیا۔ ۱۷ دسمبر ۱۹۲۶ء کو شردھانند صاحب فراش تھا اور اپنے مرکزی دفتر میں قیام پذیر تھا۔ قاضی عبد الرشید نے اپنے منصوبے کو عملی جامہ پہنانے کا فیصلہ کر لیا۔ ریوالور لے کر دن دہاڑے شردھانند کے آشرم میں جا گھسے۔ حسن اتفاق یہ کہ اس وقت اس دریدہ دہن کے پاس کوئی خادم نہ تھا۔ غازی نے ایک ثانیے کے لیے رک کر کمرے کا جائزہ لیا اور پھر لبلبی دبا کر پے در پے چھ گولیاں دشمن رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سینے میں پیوست کر دیں“۔
(ماہنامہ ”نعت“ اپریل ۱۹۹۱ء ص ۴۱، از ابو الفضل صدیقی)
دیوان سنگھ مفتون نے اپنی مشہور کتاب ”ناقابل فراموش“ میں سوامی شردھانند کے قتل کے بارے میں لکھا ہے:
”میں فوراً سوامی جی کے نیا بازار والے مکان پر پہنچا۔ اس وقت واقعہ کو ہوئے
ایک گھنٹہ سے کم عرصہ ہوا تھا۔ سوامی جی مقتول حالت میں خون میں لت پت لکڑی کے تخت پوش پر پڑے تھے۔ قاتل عبدالرشید حراست میں تھا۔ ہزاروں لوگ جمع تھے اور شیخ نذیر الحق انسپکٹر پولیس ابتدائی تحقیقات میں مصروف تھے۔ میں نے جب عبدالرشید کو دیکھا تو میں نے پہچان لیا۔ کیونکہ ایک دو سال پہلے یہ دفتر ”سیاست“ میں کتابت کا کام کر چکا تھا۔۔۔۔“۔ اس کے بعد مصنف نے غازی عبدالرشید کے بارے میں اپنی یادداشتیں قلم بند کی ہیں۔ لکھتے ہیں:
”افغانستان میں کنگ امان اللہ کے حکم سے چند احمدی (مرزائی) سنگسار کر دیے گئے جو وہاں اپنے خیالات کی تبلیغ کرتے تھے۔ چنانچہ میں نے اس واقعہ کو بیان کرتے ہوئے افغان گورنمنٹ کے خلاف ایک سخت ایڈیٹوریل نوٹ لکھا اور یہ نوٹ اس کاتب عبدالرشید (سوامی شردھانند کے قاتل) کو کتابت کے لیے دیا۔ عبدالرشید نے ابھی چند سطریں کتابت کی تھیں کہ وہ میرے پاس آیا۔ اس کی آنکھیں سرخ تھیں۔ چہرے پر غصے کے جذبات تھے اور اس نے کہا ”آپ کو شرعی معاملات میں دخل دینے کا کیا حق ہے؟ اسلام کی تعلیم کے مطابق سنگساری جائز ہے اور احمدیوں (مرزائیوں) کو ضرور سنگسار کیا جانا چاہیے تھا۔ کیونکہ یہ اپنے مرزا قادیان کے نبی ہونے کے دعویدار ہیں۔ میں یہ کافرانہ نوٹ نہیں لکھ سکتا“۔
(از رائے کمال‘ ماہنامہ ”نعت“ اپریل 1991‘ ص 31-30)
الکفر ملته واحدة:
”شردھانند کے قتل سے ہندو حلقوں میں صف ماتم بچھ گئی۔ ادھر مسلمانوں نے بے انتہا خوشی کا اظہار کیا۔ انگریز حکومت نے اپنے ایجنٹ کا یہ انجام دیکھا تو آپے سے باہر ہوگئی۔ مسلمانوں کے خلاف سخت اقدامات کیے۔ ہندوؤں کی پیٹھ ٹھونکی اور کہا کہ مقدمے کو جاندار بنا کر پیش کریں“۔
(از ابوالفضل صدیقی ماہنامہ ”نعت“ لاہور‘ اپریل 1991‘ ص 41)
آئین جوانمرداں.......:
”غازی عبدالرشید نے ابتدائی کارروائی کے دوران ہی میں اعتراف جرم کر
لیا تھا۔ اس لیے ان کے خلاف مقدمہ چلا۔ دہلی یو۔ پی اور پنجاب کے مسلمانوں نے مقدمے میں گہری دلچسپی کا اظہار کیا۔ ہر پیشی پر عدالت میں عقیدت مندوں کا ہجوم امڈ آتا تھا۔ مقدمے کی اہمیت کا اندازہ اس سے ہو سکتا ہے کہ شروع سے آخر تک ساری روئیداد کی رپورٹنگ مسلمانوں کی طرف سے مولانا محمد علی جوہر نے خود کی۔ فریق ثانی کی طرف سے بھی بلند پایہ صحافی آتے تھے۔ رسمی کارروائی کے بعد بالآخر غازی عبدالرشید کو پھانسی کی سزا دے دی گئی۔ قوم نے انہیں ”شہید“ اور ”عاشق رسول ﷺ“ کے خطاب سے نوازا“۔
(تحریر ابو الفضل صدیقی از ماہنامہ ”نعت“ لاہور، جلد ۴، شمارہ ۴، ص ۴۳)
اصل عبادت:
”جیل میں آخری ملاقات کے لیے ان کے گھر کی سات آٹھ عورتوں اور بیس مردوں کو اجازت مل سکی۔ آپؒ نے دوران ملاقات متبسم لہجے میں فرمایا ”آپ لوگ کسی طرح کا غم نہ کریں۔ یہ تو مقام مسرت ہے کہ مجھ جیسا گنہگار محبوب خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی حرمت اور تقدیس کے لیے اپنی جان نچھاور کر رہا ہے۔ مذہب کے سلسلے میں کسی کی پرواہ نہ کرنی چاہیے اور مذہب پر ہر وقت ثابت قدم رہنا ہی اصل عبادت ہے“۔
(تحریر رائے کمال، ماہنامہ ”نعت“ لاہور، جلد ۴، شمارہ ۴، ص ۳۲)
اللہ اکبر:
”غازی عبدالرشید کو ۱۴ نومبر ۱۹۲۷ء کو صبح آٹھ بجے پھانسی دی گئی۔ کہا جاتا ہے کہ جس وقت پھانسی گھر میں پہنچائے گئے تو ان کے ہونٹوں پر مسکراہٹ نمایاں تھی۔ آپؒ نے خصوصی اجازت سے تختہ دار پر دو رکعت نوافل شکرانہ ادا کیے۔ جب آپؒ کے چہرے پر کنٹوپ چڑھایا گیا تو با آواز بلند کلمہ طیبہ کا ورد کیا اور فرمایا ”آپ لوگ شاہد رہیں کہ میں ایمان کے ساتھ اس دنیا سے سفر کر رہا ہوں“۔ پھر کلمہ شریف پڑھا ”اللہ اکبر“ کی آواز بلند کی اور ساتھ ہی پھانسی پر لٹک گئے۔
غازی عبدالرشید کے جسم پر پھانسی کی کوئی علامت موجود نہ تھی۔ گردن میں کھنچاؤ تھا اور نہ ہی بدن میں کوئی سختی۔ ڈیوٹی پر موجود ڈاکٹر صاحب نے موت کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ”میرے خیال میں جب آپ نے تختہ دار پر کھڑے ہو کر نعرہ تکبیر بلند کیا تو ان کے جسد عنصری سے اسی لمحے روح پرواز کر گئی تھی“۔
(ماہنامہ ”نعت“ لاہور، جلد ۴، شمارہ ۴، ص ۴۳)
نبی ﷺ کی توہین پر خاموش بیٹھنے پر امام حسینؓ کی تنبیہ:
”غازی عبدالرشید نے ایک دفعہ ملاقات کے دوران اپنے قریبی احباب کو یہ بات بتائی کہ میں نے مقتول مردود کو موت سے ہمکنار اس لیے کیا کہ خواب میں سید الشہداء حضرت امام حسینؓ نے مجھ سے فرمایا تھا ”تمہارے شہر میں میرے نانا نبی کریم رؤف الرحیم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی توہین کی جا رہی ہے اور تم خاموش بیٹھے ہو“۔
(ماہنامہ ”نعت“ لاہور، جلد ۴، شمارہ ۴، ص ۴۲)
آج کوئی صاحب نظر کوٹلہ فیروز میں جدید قبرستان میں واقع تربت شہید کو دل کی نظر سے دیکھے تو کبھی خاموش نہ ہو گا بلکہ محبوب کی ٹوٹی مالا کے موتی چنتے ہوں گے اور چنتے ہی رہیں گے کہ صبح قیامت طلوع ہو جائے گی۔
غلامان مصطفیٰ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا ذوق بھی خوب ہوتا ہے۔ معاملہ جب ناموس رسالت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا ہو تو نہ جان دیتے ٹلتے ہیں اور نہ جان لیتے ٹلتے ہیں۔ جان دینے پر آتے ہیں تو غازی علم الدین شہیدؒ اور غازی عبدالرشیدؒ کی طرح عدالت کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر ”اقرار جرم“ کرتے ہیں اور زندگی اور موت کے لفظی کھیل کو بے معنی کر جاتے ہیں اور جب کسی گستاخ اور بد زبان کی جان لینے پر آتے ہیں تو کراچی کی عدالت منہ تکتے رہ جاتی ہے۔ غازی عبدالقیوم شہیدؒ کے نام سے کون آشنا نہیں۔
غازی عبدالقیوم شہیدؒ:
”غازی عبدالقیوم شہید ۱۹۱۲ء میں علاقہ ہزارہ کے ایک پٹھان گھرانے میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد کا نام عبداللہ خان تھا۔ والدین نہایت غریب تھے۔ چنانچہ
تعلیم حاصل نہ کر سکے۔ ہوش سنبھالا تو محنت مزدوری شروع کر دی۔ پھر والد کے سایہ سے بھی محروم ہو گئے۔ ۱۹۳۳ء میں معاش کی تلاش میں کراچی پہنچے۔ غازی کے چچا رحمت اللہ خان کراچی میں تانگہ بانی کرتے تھے۔ انہوں نے بھی یہی پیشہ اختیار کیا۔ اپنی بوڑھی والدہ، بیوہ بہن اور نئی نویلی دلہن کو بھی ساتھ لے گئے“۔
(ماہنامہ ”نعت“ لاہور، جلد ۴‘ شمارہ ۴‘ ص ۱۹‘ تحریر سید آل احمد رضوی)
رائے کمال اس سلسلے میں حقائق کا پردہ یوں چاک کرتے ہیں:
”غازی صاحب پٹھان برادری سے تعلق رکھتے تھے۔ آپ کے والد کا نام عبداللہ خان اور والدہ کا اسم گرامی جنت بی بی تھا۔ موصوف نے فقط چار جماعتوں تک تعلیم حاصل کی۔ شباب کی دہلیز پر قدم رکھا تو ”دریائی خانم“ ایک پاک باز اور خوبصورت دوشیزہ سے رشتہ مناکحت میں منسلک ہوگئے مگر غم معاش نے چین نہ لینے دیا۔ ابھی شادی خانہ آبادی کو دو ماہ ہی گزرے تھے کہ تلاش روزگار میں کراچی جانا پڑا۔ غازی صاحب کے قریبی دوست اور چچا زاد بھائی محمد عرفان خان نے راقم الحروف کو انٹرویو کے دوران بتایا ”شہید رسالت جب کراچی پہنچے تو گھوڑا گاڑی چلانا شروع کی۔ وہاں ہمارے گاؤں کی نصف تعداد ملازمت اور مزدوری وغیرہ کے سلسلے میں رہائش پذیر تھی۔ آپ کے ایک دوست غنی خان نے کہیں سے اخبار میں پڑھا کہ آریہ سماج ہندو نتھو رام نے بے ادبیوں اور گستاخیوں پر مشتمل ایک کتاب ”تاریخ اسلام“ لکھی ہے۔ جس کی وجہ سے اس پر حیدر آباد میں کیس چلتا رہا“۔
(ایضاً ص ۶)
سید آل احمد رضوی لکھتے ہیں:
”یہ اوائل ۱۹۳۳ء کا ذکر ہے آریہ سماج حیدر آباد سندھ کے سیکرٹری نتھو رام نے ”تاریخ اسلام“ کے نام سے ایک کتاب شائع کی، جس میں سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی شان اقدس میں سخت دریدہ دہنی کا مظاہرہ کیا۔ مسلمانوں میں سخت اضطراب پیدا ہوا۔ انہوں نے شدید احتجاج کیا، جلسے کیے، جلوس نکالے۔ مولانا عبدالحمید سندھی اور دوسرے مسلمان لیڈروں نے نتھو رام کے خلاف حیدر آباد میں استغاثہ دائر کیا۔ نتھو رام پر مقدمہ چلا۔ حکومت نے کتاب کو ضبط کر لیا اور ملزم کو معمولی جرمانے کے ساتھ ایک سال قید کی سزا سنائی
گئی۔ اس نے جوڈیشل کمشنر کی عدالت میں سزا کے خلاف اپیل دائر کی۔ عدالت سے اس کی ضمانت بھی منظور ہو گئی۔ مسلمانوں کو بہت صدمہ ہوا۔ اس وقت مسلمانوں کے جو جذبات مشتعل تھے‘ وہ کسی سے پوشیدہ نہیں۔ غازی عبدالقیوم نے نتھو رام کی خرافات کا ذکر سنا تو اس کی غیرت ایمان بھڑک اٹھی“۔
(ایضاً ص ۲۰۔۱۹)
رائے کمال اس کی صراحت یوں کرتے ہیں:
”یہ بات سننے پر غازی عبدالقیوم شہیدؒ نے پوچھا کہ ”سندھ میں اس قدر مسلمان ہیں مگر اس بد زبان کو کسی نے نہیں پوچھا کہ سرور کائنات (علیہ الصلوۃ السلام) کی شان میں گستاخی کرنے کی تجھے کس طرح جرات ہوئی؟ کیا ہم اس قدر بے غیرت ہو چکے ہیں؟“ اس کے بعد آپ نے کہا ”میرے پاس چھوٹا چاقو ہے۔ میں اسے توڑتا ہوں اور اس مردار کے لیے ایک بڑا چاقو خریدوں گا“۔
(ایضاً ص ۷۔۶)
اعلان برحق:
”چاقو خریدنے پر شہباز محبت نے اپنے رفیق محترم سے کہا ”میں نے یہ تیز دھار آلہ خاص نتھو رام کے لیے حاصل کیا ہے۔ دعا کرو کہ اللہ مجھے اس سے عدالت ہی میں ملوائے اور میں مردود مذکور اور اس کے کارندوں کو بتا دوں کہ میرے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی عظمت اور تقدیس میں یاوہ گوئی کا فیصلہ انگریز کی عدالت سے نہیں‘ کسی غیرت مند مسلمان کے خنجر کی نوک ہی سے ممکن ہے“۔
(ایضاً ص ۷)
غازی عبدالقیوم شہیدؒ عدالت میں:
”بتایا جاتا ہے کہ عبدالقیوم نے جو بعض دوسرے مسلمانوں کے ساتھ نتھو رام کے قریب بیٹھا ہوا تھا‘ چاقو نکالا اور نتھو رام کے پیٹ میں گھونپ دیا۔ نتھو رام چلایا اور بیان ہے کہ ایک اجنبی شخص آگے بڑھا اور حملہ آور کو پکڑ لیا مگر عصمت نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا محافظ شدید غصے میں تھا۔ اس نے خود کو چھڑا کر اپنا
چاقو مردود مذکور کے شکم میں اتار دیا۔ نتھو رام بری طرح زخمی ہو کر زمین پر گر پڑا۔ اس کے جسم سے خون بہہ رہا تھا۔ مضروب کی حالت نازک تھی۔ اس کو سول ہسپتال پہنچایا گیا لیکن علاج معالجے سے قبل ہی وہ فی النار ہو چکا تھا۔ غازی عبد القیوم شہیدؒ نے اس بد زبان گستاخ رسول کو عین دوپہر کے وقت کمرۂ عدالت میں کیفر کردار تک پہنچایا اور پولیس کے سامنے برملا فرمایا کہ ”نتھو رام کو میں نے نہایت سوچ سمجھ کر قتل کیا ہے اور پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی توہین کرنے والوں کا یہی انجام ہونا چاہیے“۔
(ایضاً ص ۷)
سید آل احمد رضوی اس واقعہ کو ایک دوسرے زاویہ نظر سے یوں لکھتے ہیں: ”بقول بیرسٹر سید محمد اسلم: ”مارچ ۱۹۳۴ء میں نتھو رام کی اپیل کی سماعت شروع ہوئی۔ ہندو اور مسلمان بھاری تعداد میں کارروائی سننے آئے، جن میں، میں بھی شامل تھا۔ نتھو رام اپنے ساتھیوں کے ہمراہ خوش گپیاں کرتا ہوا آیا اور عدالت میں ڈائس کے قریب پڑے ہوئے بینچ پر بیٹھ گیا۔ تھوڑی ہی دیر گزری تھی کہ ایک مسلم نوجوان عدالت کے کمرے میں داخل ہوا۔ معذرت کرتے ہوئے نتھو رام کو تھوڑا سا کھسکایا اور پھر اس کے قریب بیٹھ گیا۔ پونے بارہ بجے کا عمل تھا۔ پندرہ منٹ بعد نتھو رام کی اپیل کی سماعت شروع ہونے والی تھی۔ میں پہنچا تو بارہ بجنے میں چھ سات منٹ باقی تھے۔ عدالت کے برآمدے میں، میں ایک دوست سے باتیں کرنے لگا۔ اچانک عدالت کے کمرے سے تیز تیز آوازیں آنے لگیں، جیسے کوئی نعرہ لگا رہا ہو۔ ساتھ ہی بہت سے آدمی باہر کو بھاگے۔ میں لپک کر کمرے میں داخل ہوا تو دیکھا نتھو رام کی آنتیں نکلی پڑی ہیں اور وہ زمین پر پڑا موت و حیات کی کشمکش میں مبتلا ہے۔ اس کی گدی سے خون کا فوارہ ابل رہا ہے۔ قریب ہی ایک مسلمان نوجوان ہاتھ میں ایک بڑا سا خون آلود خنجر لیے کھڑا نظر آ رہا ہے۔ وہ انگریز ججوں میں سے ایک جس کا نام ”اوسالون“ (O-Solvin) تھا، ڈائس سے اترا، مسلم نوجوان پر قہر آلود نگاہ ڈالی اور تحکمانہ انداز میں بولا ”تو نے اس کو مار ڈالا“۔ ”ہاں اور کیا کرتا“۔ نوجوان نے بڑی بے باکی سے جواب دیا اور پھر کمرے میں آویزاں جارج پنجم کی تصویر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ”اگر یہ تمہارے اس
بادشاہ کو گالیاں دیتا تو تم کیا کرتے؟ تم میں غیرت ہوتی تو کیا تم قتل نہ کر ڈالتے؟" پھر انتہائی حقارت سے نتھو رام کی لاش کی طرف انگلی اٹھائی اور کہا ”اس خنزیر کے بچے نے میرے آقا اور شہنشاہوں کے شہنشاہ کی شان میں گستاخی کی ہے اور اس کی یہی سزا ہے"۔ پھر بڑے اطمینان کے ساتھ اپنی نشست پر بیٹھ گیا۔ اتنے میں پولیس آئی اور غازی کو گرفتار کر لیا۔ اس منظر کو دیکھ کر دل باغ باغ ہو گیا"۔
(ایضاً ص ۲۱)
بیرسٹر سید محمد اسلم شاہ صاحب نے اس مرد مجاہد کو اپنی طرف سے اس مقدمے کی مفت پیروی کی پیش کش کر کے خراج تحسین پیش کیا تو غازی صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے دو ٹوک اپنا موقف پیش کر کے اپنی عظمت میں ہزار گنا اضافہ کر لیا۔
غازی عبدالقیوم شہیدؒ نے بیرسٹر سید محمد اسلم شاہ سے مردانہ وار کہا:
”آپ جو چاہیں کریں مگر مجھ سے انکار قتل نہ کرائیں۔ اس سے میرے جذبہ جہاد کو ٹھیس پہنچے گی"۔
(ماہنامہ ”نعت“ لاہور، جلد ۴، شمارہ ۴، ص ۲۱)
رائے کمال غازی عبدالقیوم شہیدؒ کے جذبہ ایمانی کو یوں قلم بند کرتے ہیں:
”مناسب معلوم ہوتا ہے کہ عدالت میں غازی عبدالقیوم شہیدؒ کے ایمان افروز بیانات اور ان کی جرات ایمانی سے متعلق کچھ مزید معلومات بھی سامنے آ جائیں تاکہ آپؒ کے خلوص نیت اور جوش و غضب کی صحیح حالت کا پتہ چل سکے۔
آپ نے پولیس اور بعد ازاں مجسٹریٹ کے روبرو جرات مندانہ بیانات قلم بند کرواتے ہوئے فرمایا تھا ”اس شخص (نتھو رام) نے میرے پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو گالیاں دی تھیں۔ میرے ہوش و حواس بالکل بجا ہیں۔ میں وثوق سے کہتا ہوں کہ مجھے اقبال قتل کے لیے مجبور نہیں کیا گیا اور نہ ہی مجھ پر کوئی دباؤ ہے اور میں یہ بھی جانتا ہوں کہ میں جو کچھ بیان کر رہا ہوں، اسے میرے خلاف بطور شہادت استعمال کیا جائے گا۔ میری زندگی کا سب سے بڑا خوشگوار دن وہی تھا۔ ہر وہ شخص جو میرے آقا و مولا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی شان اقدس میں گستاخی کرتا ہے، میرا عقیدہ ہے کہ وہ خدا تعالیٰ کی توہین کرتا ہے اور میں بھی اسی جذبے سے سرشار ہو کر اپنی زندگی شہنشاہ مدینہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے قدموں پر نچھاور کر رہا ہوں۔ میں نے ایمانی جذبہ کے تحت نتھو رام کو موت کے گھاٹ اتارا
ہے اور میں پوری دنیا پر واضح کر دینا چاہتا ہوں کہ جب تک ایک بھی سچا مسلمان باقی ہے‘ آقائے کونین صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی ناموس پر حملہ کرنے والا کبھی زندہ نہیں رہ سکتا“۔
(ایضاً ص ۱۰)
اس سے آگے کا حال سید آل احمد رضوی یوں لکھتے ہیں: ”غازی عبدالقیومؒ کے رشتہ داروں اور دوستوں نے اقبال جرم سے روکا مگر اس نے انکار کر دیا۔ آخر عدالت نے غازی کو سزائے موت کا حکم سنایا۔ یہ حکم سنا تو غازی کے منہ سے بے ساختہ نکلا "الحمد للہ" اور بڑے جوش سے جج کو مخاطب کرتے ہوئے بولا ”میں آپ کا شکریہ ادا کرتا ہوں کہ مجھے موت کی سزا ملی۔ یہ ایک جان کیا چیز ہے‘ میرے پاس لاکھوں جانیں ہوتیں تو بھی ناموس رسالت پر نچھاور کر دیتا“۔
غازی عبدالقیوم فیصلہ سن کر جیل چلے گئے۔ مسلمانوں نے ان کی جان بچانے کی کوششیں کیں۔ اس سلسلے میں مسلمانوں کا ایک وفد علامہ اقبالؒ کی خدمت میں لاہور پہنچا اور ان سے درخواست کی کہ غازی کی سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کرانے میں وائسرائے سے ملاقات کریں اور اپنے رسوخ کو کام میں لائیں۔ وفد کی بات سن کر علامہ نے چند ثانیے سوچا‘ پھر بولے ”کیا عبدالقیوم کمزور پڑ گیا ہے؟“ ارکان وفد نے کہا ”اس نے ہر موقع پر اپنے کیے پر خوشی کا اظہار کیا ہے اور کھلے بندوں کہتا ہے کہ میں نے شہادت خریدی ہے۔ مجھے پھانسی سے بچانے کی کوشش مت کرو“۔
”علامہ اقبال نے وفد کی یہ بات سنی تو کہا ”جب وہ کہہ رہا ہے کہ اس نے شہادت خریدی ہے تو میں اس کے اجر و ثواب کی راہ میں کس طرح حائل ہو سکتا ہوں۔ کیا تم چاہتے ہو کہ میں ایسے شخص کے لیے وائسرائے کی خوش آمد کروں جو زندہ رہا تو غازی اور مرگیا تو شہید ہے“ کہتے ہیں کہ علامہ اقبال نے غازی علم الدین شہیدؒ اور غازی عبدالقیوم کے واقعات سے متاثر ہو کر یہ شعر کہے:
موت کیا شے ہے فقط عالم معنی کا سفر
ان شہیدوں کی دیت اہل کلیسا سے نہ مانگ
آہا اے مرد مسلماں تجھے کیا یاد نہیں
حرف لا تدع مع اللہ الہا اخر
(ایضاً، ص ۲۳۔۲۴)
اشعر عطا عدالت کے روبرو غازی کے بیان کو یوں نقل کرتے ہیں: ”جب تک ایک بھی کلمہ گو مسلمان موجود ہے اور اس کے سینے میں ایمان افروز دل موجود ہے، وہ یہ برداشت نہیں کر سکتا کہ کوئی بد دہن اس کے آقا و مولا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی شان میں گستاخی کرے اور اس کی نظروں کے سامنے زندہ رہے۔ میں اعلان کرتا ہوں کہ میں نے نتھو رام کو قتل کیا ہے اور وہ جہنم کا ایندھن بن چکا ہے۔ اگر مجھے رہا کر دیا جائے تو میں رہا ہونے کے بعد ہر اس شخص کے خلاف جو میرے آقا و مولا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی شان میں گستاخی کرے گا، یہی کارروائی عمل میں لاؤں گا، جس کا مظاہرہ میں نے نتھو رام کو جہنم واصل کرنے کے سلسلے میں کیا ہے“۔
(ایضاً ص ۱۷)
سید وحید الدین اس مقدمہ سے متعلق یوں رقم طراز ہیں: ”سید محمد اسلم نے مقدمے کی تیاری جاری رکھی اور شہادتوں کے سلسلے میں علامہ اقبالؒ اور دوسرے ممتاز علماء کو بطور گواہ طلب کرانے کی درخواست کی تاکہ وہ اسلامی نکتہ نظر سے واضح کر سکیں لیکن عدالت نے یہ درخواست مسترد کر دی۔ مقدمہ صفائی کی ساری بنیاد اس نکتہ پر رکھی گئی کہ ”یہ ایک مسلمان کا ایمان و عقیدہ ہے کہ اگر کوئی شخص ناموس رسول ﷺ پر حملہ کرے تو وہ اسے موت کے گھاٹ اتار دے“۔
اپیل کی سماعت جسٹس دادیبا مہتہ (Dadiba Mehta) اور نو ارکان جیوری کے سامنے شروع ہوئی۔ جیوری چھ انگریزوں، دو پارسیوں اور ایک گوانی عیسائی ممبر پر مشتمل تھی۔ عدالت کے باہر کم و بیش ۲۵ ہزار مسلمانوں کا ایک بڑا ہجوم فیصلے کا منتظر تھا۔ ایڈووکیٹ جنرل کے دلائل کے بعد غازی عبدالقیوم کے پیروکار سید محمد اسلم نے صفائی کا موقف پیش کیا۔ انہوں نے مقدمے کے بنیادی نکات اور اقدام قتل کے محرکات پر تین گھنٹے تک مدلل بحث کی۔ ان کی تقریر کے
بعض حصے اس قدر اہم تھے کہ انہیں قانون اور انصاف کی تاریخ میں ہمیشہ زریں حروف میں لکھا جائے گا۔
انہوں نے ”اشتعال“ کے قانونی مفہوم کو بیان کرتے ہوئے یہ نکتہ پیش کیا: ”سوال یہ نہیں کہ عبدالقیوم کا اقدام ملک کے قانون کے خلاف ہے۔ سوال یہ ہے کہ عبدالقیوم نے یہ اقدام انتہائی اشتعال کے عالم میں کیا ہے تو کیوں نہ اسے وہ کم سے کم سزا دی جائے‘ جس کی اجازت دفعہ ۳۰۲ کے تحت قانون نے دے رکھی ہے۔ اگر موجودہ قانون زمین کے چھوٹے سے ٹکڑے یا کسی عورت کے معاملے میں قاتل کو ”اشتعال“ کی رعایت دیتا ہے تو رعایت کا یہ اصول عبدالقیوم کے مقدمے میں کیوں قابل قبول نہیں ہے جب کہ ایک مسلمان کے لیے ناموس رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر حملے سے زیادہ اور کوئی اشتعال انگیزی نہیں ہو سکتی“۔
وکیل صفائی کی تقریر کے دوران جج نے مداخلت کرتے ہوئے کہا کہ ”کیا آپ کے اس اظہار خیال سے فرقہ وارانہ کشیدگی میں اضافہ نہیں ہو تا“۔
سید محمد اسلم نے اس موقع پر جواب دیا: ”جناب والا! مسلمان‘ حکومت اور ہندو اکثریت کو سمجھاتے سمجھاتے تھک گئے ہیں کہ ان کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی محبت کیا حیثیت رکھتی ہے اور اس بارے میں مسلمانوں کے جذبات کیا ہیں مگر ان دونوں نے ذرا توجہ نہیں دی۔ اب مجھے عدالت میں یہ واضح کرنے کا موقع مل رہا ہے کہ جب تک ایک مسلمان بھی زندہ ہے‘ وہ ناموس رسالت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے خلاف اٹھنے والی ہر آواز اور قوت کو ختم کر کے رہے گا۔ اس معاملے میں مسلمان کو نہ تعزیرات ہند کی پرواہ ہے‘ نہ پھانسی کے پھندے کی“۔
غازی عبدالقیوم کے پیروکار سید محمد اسلم نے اقدام قتل کے لیے اشتعال کے مفہوم کی اہمیت پر جو قانونی نکتہ پیش کیا تھا‘ اگر وہ تسلیم کر لیا جاتا‘ تو ناموس رسالت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر حملہ کرنے کی مذموم تحریک ہمیشہ کے لیے ختم ہو جاتی اور آئندہ کوئی اس جسارت کا تصور بھی نہ کر سکتا لیکن عدالت عالیہ نے یہ اپیل خارج کر دی اور غازی عبدالقیوم کے لیے سزائے موت بحال رہی۔
(ماہنامہ ”درویش“ لاہور‘ مئی ۱۹۹۴ء‘ ص ۵۱۔۵۰)
رائے کمال لکھتے ہیں:
”۱۴ اکتوبر کو حسب توقع غازی عبدالقیوم کو کراچی کی عدالت سے سزائے موت کا مستحق قرار دیا گیا۔ آپ نے موت کی سزا نہایت صبر و تحمل اور خندہ پیشانی کے ساتھ جج اور جیوری کے ”منصفانہ“ فیصلے پر شکر ادا کیا اور بڑے سکون کے ساتھ کٹہرے سے ”اللہ اکبر اللہ اکبر“ کے نعرے لگاتے باہر نکل آئے۔ ۱۴ اکتوبر ۱۹۳۴ء کو صبح دس بجے غازی علیہ الرحمۃ سے ان کے رشتہ داروں کی ایک ملاقات ہوئی۔ غازی موصوف بوقت ملاقات تلاوت قرآن حکیم میں محو تھے اور بے حد ہشاش بشاش نظر آئے۔ والدہ محترمہ نے فرمایا ”بیٹا میں خوش ہوں کہ تم نے ناموس سرور کونین صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر اپنے آپ کو قربان کر دیا ہے۔ اگر کچھ خیال ہے تو صرف اتنا کہ اگر تمہارے دل میں یہ جوش قربانی تھا تو تمہاری شادی، جس کو قلیل عرصہ ہوا، نہ کرتی“۔ غازی صاحب فقط ایک لحظہ رہ کر فرمانے لگے ”ماں! جو لوگ رات کو شادی کرتے ہیں اور صبح مر جاتے ہیں، وہ بھی تو ہیں ناں!“ والدہ صاحبہ نے خوشی کا اظہار کرتے ہوئے دعا کے لیے کہا۔ حضرت قبلہ غازی صاحبؒ نے نہایت خضوع و خشوع سے بہ تعمیل حکم سب کے لیے دعا فرمائی“۔
(ماہنامہ ”نعت“ لاہور، جلد ۴، شمارہ ۴، ص ۸))
شہید کی آخری وصیت:
”آپ نے جملہ لواحقین کو تلقین صبر کی اور فرمایا کہ یہ جان ناتواں شمع رسالت ﷺ پر جب نثار ہو جائے اور میں شہید کر دیا جاؤں تو آپ نہایت صبر اور حوصلے سے کام لیں۔ اگر تم میں سے کسی نے ایک آنسو بھی بہایا تو سرور عالم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی بارگاہ میں اس سے دامن گیر ہوں گا۔ ازاں بعد طمانیت قلبی سے ”السلام علیکم“ کہہ کر آپ اپنے محبوب ترین شغل دوامی تلاوت کلام اللہ العزیز میں مشغول ہو گئے“۔
(ایضاً ص ۹۔۸)
ایک ایمان افروز واقعہ:
”اس رات جیل میں ایک عجیب و غریب واقعہ ہوا۔ اس کی تفصیلات کئی روز تک اخبارات کا موضوع بنی رہیں۔ وضاحت کچھ یوں ہے کہ ۱۵ اکتوبر کی شب سنٹرل جیل کراچی کے وارڈن نے‘ جو پہرہ دے رہا تھا دیکھا کہ غازی عبدالقیوم خانؒ کی کوٹھڑی کا دروازہ کھلا ہوا ہے اور کوٹھڑی بقعہ نور بن گئی ہے۔ دو سفید پوش نورانی چہروں والے بزرگ غازی صاحب کے پاس بیٹھے ہوئے‘ ان سے ہم کلام ہیں۔ وارڈن یہ دیکھ کر گھبرا اٹھا اور دوڑ کر چند اور وارڈنوں کو بلا لایا۔ انہوں نے بھی اس خرق عادت واقعہ کو اپنی آنکھوں سے دیکھا۔ اس پر خطرے کی گھنٹی بجائی گئی اور بہت سے ملازم جمع ہو گئے لیکن انہوں نے دروازہ بند پایا۔ کوٹھڑی میں تاریکی ہو چکی تھی اور غازی صاحبؒ بھی تنہا پائے گئے“۔
(ایضاً‘ ص ۹)
رائے کمال اس سے آگے لکھتے ہیں:
”۴ مارچ کو اگرچہ اس بات کا اعلان ہو چکا تھا کہ بمبئی سے آمدہ احکام کے مطابق غازی عبدالقیوم خانؒ جن کی پھانسی کے لیے دو شنبہ کا دن مقرر کیا گیا تھا‘ آئندہ حکم تک کے لیے ملتوی کر دیا گیا ہے۔ باایں ہمہ سارے شہر کے مسلمانوں نے اپنے کام کاج چھوڑ کر صبح جیل کے نزدیک اجتماع کیا اور نہایت زور دار طریقے سے اپنے غازی سے ملاقات کا مطالبہ کیا۔ جیل کے چاروں طرف پولیس کا حلقہ تھا۔ ضلع کے تمام افسران اعلیٰ صورت حال کا باقاعدہ معائنہ کر رہے تھے۔ انتظامیہ کی بداندیشی سے اس جم غفیر نے اعلیٰ افسران اور پولیس پر سنگباری کی‘ جس سے متعدد کانسٹیبل اور دو افسر زخمی ہوئے۔ پورے کراچی کی فضا کشیدہ تھی۔ نوجوانان ملت دیوانہ وار جیل کی طرف کھنچے آتے اور مسلمان جابجا ٹولیوں میں غازی صاحب کی تصویر اٹھائے اپنی عقیدت کا اظہار کر رہے تھے۔ ایسے میں ممکن نہ تھا کہ انگریز حکومت اس جانکاہ مرحلے سے باآسانی نکل سکے۔ ۱۹ مارچ ۱۹۳۵ء کو غازی موصوف نے جام شہادت نوش فرمانا تھا مگر اس فیصلے کی کسی کو خبر نہ دی گئی“۔
(ایضاً ص ۱۱-۱۰)
سید آل احمد رضوی‘ بیرسٹر سید محمد اسلم شاہ کے حوالے سے لکھتے ہیں: ”ایک طرف یہ وفد علامہ (اقبالؒ) کے پاس گیا تو دوسری طرف گورنر بمبئی کے نام رحم کی عرض داشت بھیج دی گئی۔ گورنر کی جانب سے جواب ملا ”درخواست زیر غور ہے۔ دو ہفتے تک آپ کو اس نتیجے سے مطلع کر دیا جائے گا“۔ گورنر کا جواب ملے تیسرا روز تھا۔ صبح کے وقت میں نے اپنے دفتر میں سنا کہ عبدالقیوم کو پھانسی دے دی گئی ہے۔ میں مولانا عبد العزیز کو لے کر جیل پہنچا تو وہاں معلوم ہوا کہ صبح اذان کے وقت غازی کے لواحقین کو ان کی جائے قیام پر جگا کر بتایا گیا کہ عبدالقیوم کو پھانسی دے دی گئی ہے۔ لاش کو پولیس سرکاری گاڑی میں رکھ کر میوہ شاہ قبرستان میں لے گئی ہے۔ ہم لوگ جیل سے قبرستان پہنچے تو معلوم ہوا کہ میت قبر میں اتاری جاچکی ہے۔ اتنے میں مسلمانوں کا ایک جم غفیر وہاں پہنچ گیا اور اس نے مٹی ڈالنے نہ دی تھی۔ ایک جوشیلا کارکن قلندر خان قبر میں کود گیا۔ میت کو لحد سے نکالا‘ چارپائی‘ کفن وغیرہ کا بندوبست پہلے سے ہوچکا تھا۔ فوراً لاش کو کفنایا اور جنازہ لے کر روانہ ہوگئے۔ یہ خبر آگ کی طرح پورے شہر میں پھیل گئی۔ کراچی مسلم اکثریت کا شہر تھا اور صبح کا وقت تھا۔ دیکھتے ہی دیکھتے دفعہ ۱۴۴ کے نفاذ کے باوجود دس ہزار مسلمان جمع ہوگئے۔ ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ نے فوراً فوج طلب کر لی۔ ہم اس عرصے میں راستہ کاٹ کر چاکیواڑہ کے قریب ایک تنگ گلی سے گزر کر جنازہ کے قریب پہنچ گئے۔ بے پناہ ہجوم تھا۔ کندھا دینے والوں میں قلندر خان خاصا نمایاں نظر آ رہا تھا۔ اچانک ہجوم کا ریلا آیا اور برابر والی پتلی گلی سے ”تڑ تڑ“ کی آواز گونجی۔ نظر اٹھا کر آگے کا جائزہ لیا تو قلندر خان کے بدن سے خون کا فوارہ اچھلتے دیکھا۔ اس کے باوجود وہ لڑکھڑاتے قدموں کے ساتھ جنازے کو کندھا دیئے جا رہا تھا۔ چند منٹ بعد وہ زخموں سے نڈھال ہو کر گر پڑا۔ اتنے میں پھر گولیوں کی بوچھاڑ آئی۔ ہم بھاگ کر موڑ تک آئے اور موٹر میں بیٹھ کر راہ فرار اختیار کی۔ نہتے اور پرامن جلوس پر گوروں نے بے تحاشا فائرنگ کی۔ سینکڑوں مسلمان شہید ہوئے اور ہزاروں مجروح۔
غازی عبدالقیوم کے جنازہ میں ہزاروں افراد نے شرکت کی۔ انہیں بڑی عزت و تکریم کے ساتھ ”میوہ شاہ“ کے قبرستان میں دفن کیا گیا۔ شمع رسالت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے پروانے کی ایمان پرور داستان تاریخ عالم میں ہمیشہ کے لیے
ثابت ہو گئی۔ کراچی کے ایک شاعر نے غازی کی شہادت پر اپنے جذبات کا اظہار ان اشعار میں کیا ہے ۔
شان سے جاتے ہو تم بزم یار میں
ہم غریبوں کا بھی پہنچانا سلام
سرور کونین ﷺ کی سرکار میں
(ایضاً ص ۲۴- ۲۳)
سانحہ کراچی پر قائد اعظم کا رد عمل :
"قائد اعظم محمد علی جناح نے اسمبلی کے مذکورہ اجلاس میں کہا کہ "اگر آپ یہ چاہتے ہیں کہ ہم حکومت کا احترام کریں اور آپ پر اعتماد کریں تو حادثہ کراچی کی تحقیقات کے لیے ایک آزاد تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دیں۔ انہوں نے حادثے کو انتظامیہ کی مجرمانہ غفلت قرار دیا"۔
(روزنامہ "سول اینڈ ملٹری گزٹ" ۲۲ مارچ ۱۹۳۵ء بحوالہ ایضاً ص ۲۷)
ایک طرف انگریزی گورنمنٹ ہندو گستاخوں کو شہ دلاتی رہی تو دوسری طرف غازی علم الدین شہیدؒ کے مزار کی تجلیات عاشقان خیر الانام صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو بنا سنوار کر سوئے مقتل روانہ کرتی رہیں۔ شیطانی پراپیگنڈے کے ہیڈ کوارٹر برطانوی ایوان تھے تو مرکز مہر و وفا گنبد خضریٰ تھا۔ نتھو رام کے جہنم رسید ہونے کے بعد کفر نے انسانی روپ میں پالامل سنار کے نام سے ایک اور سپر شیطان متعارف کروایا تو گنبد خضریٰ سے اس مردود کو جہنم واصل کرنے کا حکم نامہ غازی محمد صدیق شہیدؒ کے نام جاری ہوا۔
غازی محمد صدیق شہیدؒ :
"غازی محمد صدیق شہیدؒ کا تعلق شیخ برادری سے تھا۔ شمع نبوت کے اس شیدائی کی ولادت باسعادت ۱۹۱۴ء کے درمیانی مہینوں میں ہوئی۔ پانچ سال کا ہو جانے پر انہیں مسجد میں بٹھایا گیا۔ ۱۹۲۵ء تک دینی تعلیم کے علاوہ آپ پانچویں جماعت بھی پاس کر چکے تھے۔ چونکہ آپ کے والد ماجد شیخ کرم الٰہی فیروز پور
چھاؤنی میں، جو قصور سے قریباً پندرہ میل کے فاصلے پر ہے، کچے چمڑے کا آبائی پیشہ اختیار کیے ہوئے تھے۔ وہ اپنے اہل و عیال کو بھی ساتھ لے گئے۔ غازی صاحب کو چھاؤنی کے قریب ہی ایک تعلیمی ادارے میں داخل کرایا گیا، جہاں آپ تین سال تک زیر تعلیم رہے اور آٹھویں کا امتحان پاس کیا۔ اسی دوران آپ کے والد گرامی چند روز کی ناسازیِ طبیعت کے بعد جہانِ فانی سے کوچ فرما گئے۔ غازی محمد صدیق شہیدؒ کی والدہ محترمہ کا نام عائشہ بی بی تھا۔ آپ بڑی نیک سیرت اور حوصلہ مند خاتون تھیں۔ ان کی تربیت کا اثر موصوف کے تاریخی عمل سے ۱۹۳۵ء میں سامنے آیا جب شمع رسالت کے یہ پروانے تختہ دار کو رونق بخش گئے۔
آقا حضور حبیبِ کبریا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے نام نامی سے ان کی محبت اور وارفتگی کی صحیح کیفیت کا بیان تو کسی صورت بھی الفاظ میں ممکن نہیں۔ ذاتِ اقدس سے ان کی محبت و الفت والہانہ تھی۔ لباس ہمیشہ سنت کے مطابق رکھتے...... نماز تو کبھی قضا نہ ہونے دی۔ روزے کے بھی سختی سے پابند تھے۔ غازی ممدوح کے برادرِ اصغر شیخ محمد شفیع طاہر صاحب نے اپنی یادداشتوں میں لکھا ہے۔ چھوٹی عمری میں آپ نے حضرت شیخ محمد صاحب نقشبندی محلہ پیرانوالہ، نزد دہلی دروازہ (فیروز پور) کے دستِ حق پرست پر بیعت کر لی تھی اور حفظِ قرآن کے لیے بھی کوشاں رہنے لگے"۔
(ماہنامہ ”نعت“ لاہور، جلد ۴، شمارہ ۴، ص ۶۲، تحریر رائے کمال)
ایک طرف رنگِ مرد وفا شوخ ہوتا رہا تو دوسری طرف ”قصور“ کی فضائیں پالامل سنار کے غلیظ وجود سے متعفن ہو رہی تھیں۔
گستاخ رسول پالامل سنار:
مسمی پالامل سنار ایک صاحبِ ثروت ہندو سنار تھا۔ اس کی دکان درگاہ حضرت بلھے شاہ رحمتہ اللہ علیہ سے ذرا دور تھی۔ اس کی پشت پر ہندو ساہوکاروں کا ہاتھ تھا۔ بنیوں کے ٹولے کی حمایت میں ابتدا وہ مسلمانوں کی معاشی ناساز گاریوں پر بکواس کرتا تھا۔ اس نے کئی بار برملا کہا ”قرضہ تو یہ واپس دیتے نہیں اور بنے پھرتے ہیں ”مسلمان“ ایک مرتبہ اس نے کہا ”مسلمانوں کا خدا اپنے بندوں سے زکوٰۃ کی بھیک مانگتا ہے جبکہ ان بے چاروں کو دو وقت کی روٹی بھی کھانے کو نہیں
ملتی"۔ مسلمانوں کو چپ سادھے دیکھ کر اس کا حوصلہ روز بروز بڑھتا گیا اور اولیائے عظام (رحمہم اللہ) کے متعلق گالیاں بکنا اس کا معمول بن گیا۔ ہندوؤں کو اکٹھا کر کے نماز کی نقلیں اتارنا اور اپنی عجیب و غریب حرکات سے انہیں ہنساتے رہنا گویا اس کا ہر روز کا مشغلہ تھا۔ بات فحش کلامی سے بہت آگے جاچکی تھی۔ روزنامہ ”انقلاب“ لاہور کی ۷ ستمبر ۱۹۳۴ء کی اشاعت کے مطابق مسمی پالا مل نے بے ادبیوں کا یہ کھلم کھلا سلسلہ شروع کر رکھا ہے۔ ۱۶ مارچ کو جب لوگ نماز پڑھ رہے تھے تو مردود مذکور نے نہ صرف نماز کا مضحکہ اڑایا بلکہ سرکار مدینہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی ذات اقدس کے متعلق نازیبا کلمات بکے۔ شان رسالت ماب صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم میں صریحاً گستاخی کی اس قبیح حرکت پر پورے شہر میں غم و غصے کی لہر دوڑ گئی۔ مسلم معززین کے مشورے پر محمد کلیم پیر صاحب نے عدالت میں استغاثہ دائر کر دیا۔ مسٹر نیل مجسٹریٹ درجہ اول لاہور نے بڑی تندہی سے اس مقدمے کی موشگافیوں کو پیش نظر رکھا بالآخر فریقین کے دلائل سننے کے بعد مجسٹریٹ مذکور نے اپنے فیصلے میں لکھا ”میں اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ ملزم نے واقعی توہین رسالت ماب صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی ہے‘ جس سے مسلمانوں کے جذبات مشتعل ہوئے اور سخت فساد کا خطرہ پیدا ہو گیا۔ اس لیے پالا مل کو چھ ماہ قید اور دو سو روپے جرمانہ کی سزا دی جا رہی ہے"۔
(ایضاً ص ۶۴ - ۶۳‘ بحوالہ مقدمہ مذکور)
پالا مل سنار کو ضمانت پر رہا کر دیا گیا:
۱۰ ستمبر ۱۹۳۴ء کے روزنامہ ”سیاست“ لاہور میں اس کی تفصیل یوں درج ہے ”پالا مل سنار کے خلاف توہین پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے الزام میں مقدمہ چلتا رہا۔ ملزم نے مجسٹریٹ کے فیصلے کے خلاف مسٹر بھنڈاری سیشن جج لاہور کی عدالت میں اپیل دائر کر دی۔ یہاں سے اسے تافیصلہ ضمانت پر رہا کر دیا گیا"۔
(ایضاً ص ۶۴)
غازی علم الدین شہیدؒ اپنے مقبرے میں تڑپ اٹھے:
ان دنوں فیروز پور روڈ سے گزرنے والوں نے سنا کہ لاہور چوبرجی کے نزدیک واقع مشہور گورستان میانی صاحب سے غم ناک چیخیں بلند ہو رہی ہیں۔ درد کی شدت اور آواز کا کرب مسلسل بڑھتا ہی چلا گیا۔ دل ہلا دینے والی یہ آہیں ”غازی علم الدین شہیدؒ“ کے مقبرے سے اٹھ رہی تھیں۔ معلوم ہوتا تھا جیسے آپ کہہ رہے ہوں کہ میں قبر میں تڑپ رہا ہوں۔ کون ہے جو میرے لیے سامان تسکین ڈھونڈ لائے۔ راج پال کا ہم ذوق قصور کی شاہراہوں پر دندناتا پھر رہا ہے۔ کیا میرے چاہنے والے مر گئے ہیں؟ اگر میرا کوئی جواں سال وارث زندہ ہے تو وہ خدا کے لیے تختہ دار پر بزم رقص سجا کر مجھ سے ہم آغوش ہو جائے۔ وہ دیکھو سامنے آقا و مولیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کوہ رخم کی چوٹیوں پر استقبال کے لیے تشریف فرما ہیں۔ ہے کوئی شہید رسالت، جو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بازوؤں میں سمٹ جائے“۔
(ایضاً ص ۶۴)
غازی محمد صدیق کا مقدر جاگ اٹھا:
”انہی دنوں کا ذکر ہے ایک رات حافظ غازی محمد صدیق صاحب نیند میں تھے کہ مقدر جاگ اٹھا۔ نصف شب بیت چلی تھی، جب آپ کو سرور بنی آدم، روح رواں عالم، دلیل کعبہ مقصود، کاشف سر مکنون، خازن علم مخزون جناب احمد مجتبیٰ، حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زیارت نصیب ہوئی۔ سرکار صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ”قصور میں ایک بد نصیب ہندو پے در پے ہماری شان میں گستاخیاں کرتا چلا جا رہا ہے۔ جاؤ اور اس ناپاک زبان کو لگام دو“۔ قبلہ صدق و وفا، کعبہ ارباب حلم و حیاء وارث علوم اولین، مورث کمالات آخرین، مدلول حروف مقطعات، شہنشاہ فضائل و کمالات، رحمۃ للعالمین خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حرمت و عزت کا یہ جانباز محافظ کئی روز تک شدت غم و غصہ میں پیچ و تاب کھاتا رہا۔ ان کے سینے میں جوش غضب کی چنگاریاں چٹخ رہی تھیں۔ ان کے
دل میں ایک ہی جذبہ موجزن تھا کہ وہ جلد از جلد قصور پہنچ کر اپنے آقا و مولا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے دشمن کو جہنم رسید کریں"۔
(ایضاً ص ۶۵ - ۶۴)
والدہ محترمہ سے اجازت:
۱۰ ستمبر ۱۹۳۴ء کی بات ہے انہوں نے اپنی والدہ ماجدہ سے عرض کی کہ "مجھے خواب میں ایک دریدہ دہن کافر دکھلا کر بتایا گیا ہے کہ یہ ناہنجار توہین نبوی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا مرتکب ہو رہا ہے۔ اسے گستاخی کا مزہ چکھاؤ تاکہ آئندہ کوئی شاتم اس امر کی جرات نہ کر سکے۔ میں قصور اپنے ماموں کے پاس جا رہا ہوں۔ گستاخ موذی وہیں کا رہنے والا ہے۔ مجھے بتایا گیا ہے کہ اس ذلیل کتے کی ذلت ناک موت میرے ہی ہاتھوں واقع ہو گی۔ نیز مجھے تختہ دار پر جام شہادت پلایا جائے گا۔ آپ دعا فرمائیں بارگاہ سرکار صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم میں میری قربانی منظور ہو اور میں اپنے اس عظیم فرض کو بطریق احسن نبھا سکوں"۔ ماں نے بخوشی اجازت دے دی۔ ایک مومنہ کے لیے اس سے بڑھ کر کیا مسرت ہو سکتی ہے کہ اس کا بیٹا دین اسلام کے کام آئے"۔
(ایضاً ص ۶۵)
گستاخ رسول جہنم واصل ہوتا ہے:
"۱۷ ستمبر ۱۹۳۴ء کی شام کا واقعہ ہے حضرت قبلہ غازی صاحب دربار بابا بلھے شاہؒ کے نزدیک نیم کے درخت سے ٹیک لگائے کھڑے تھے۔ عقابی نگاہیں آجانے والوں کا بغور جائزہ لے رہی تھیں۔ اتنے میں ایک ایسا شخص دکھائی دیا، جس نے چہرے پر کسی حد تک نقاب اوڑھ رکھا تھا۔ آپ نے جھٹ اس کی راہ روکی اور پوچھا "تو کون ہے اور کہاں سے آیا ہے؟ یہاں کیا کرتا ہے"۔ اسے اپنا نام بتانے میں تامل تھا۔ نوبت ہاتھا پائی تک پہنچی۔ آپ کو تنہا دیکھ کر اسے بھی حوصلہ ہوا۔ وہ کہنے لگا "مسلمانوں نے پہلے میرا کیا بگاڑ لیا ہے اور اب کون سی قیامت آجائے گی"۔ الغرض غازی موصوف نے اسے پہچان لیا کہ یہی وہ گستاخ رسول ﷺ
ہے‘ جسے ٹھکانے لگانے پر اسے مامور کیا گیا ہے۔ غازی نے فرمایا کہ ”میں تاجدار مدینہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا غلام ہوں۔ کئی دنوں سے تیری تلاش میں تھا۔ اے دہن دراز ملیچھ ! آج تو کسی طرح بھی ذلت ناک موت سے نہیں بچ سکتا“۔ یہ کہہ کر آپ نے تہہ بند سے رمبی (چمڑا کاٹنے کا اوزار) نکالی اور للکارتے ہوئے اس پر حملہ آور ہو گئے۔ حافظ محمد صدیق متواتر وار کیے جا رہے تھے اور زور زور سے نعرۂ تکبیر لگا کر بے غیرت پر برس پڑے۔ واقعات کے مطابق پورے ساڑھے سات بجے بارگاہ رسالت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم میں گستاخی کرنے والا یہ خرناس شخص‘ جسے لوگ لالہ پالامل شاہ کے نام سے جانتے تھے‘ اپنے منطقی انجام کو پہنچ گیا“۔
(ایضاً ص ۶۶ - ۶۵)
فرض کی ادائیگی کے بعد نماز شکرانہ :
”مقتول مردود کے واویلا اور آپ کے نعرہ ہائے تکبیر سے کثیر تعداد میں لوگ اس جانب متوجہ ہو چکے تھے۔ عینی شاہدوں کا کہنا ہے کہ ”غازی اس وقت تک ملعون ساہوکار کی چھاتی سے نہیں اترے‘ جب تک موت کا پختہ یقین نہیں ہو گیا۔ غازی کا لباس ناپاک خون کے چھینٹوں سے آلودہ ہو چکا تھا۔ ارد گرد بھی گندے لہو کے داغ ہی داغ تھے۔ مقتول کا چہرہ نہ صرف بری طرح مسخ ہوا‘ بلکہ ہیبت ناک شکل اختیار کر گیا تھا۔ یہاں تک کہ ڈر کے مارے کوئی قریب نہ پھٹکتا تھا“۔ میڈیکل رپورٹ کے مطابق اس کے جسم پر چالیس زخموں کے واضح نشان تھے۔ موقع پر موجود افراد کا بیان ہے کہ اگر غازی صاحب فرار ہونا چاہتے تو باآسانی ایسا کر سکتے تھے مگر انہوں نے اپنے فرض سے فارغ ہو چکنے کے بعد دوگانہ نماز شکرانہ ادا کی اور قریبی مسجد کی سیڑھیوں پر اطمینان کے ساتھ بیٹھ گئے اور وقفے وقفے سے زیر لب مسکراتے اور گنگناتے رہے۔ اس وقت تمام ہندوؤں کے چہرے اترے اترے تھے مگر غازی صاحب نہایت مطمئن اور سرشار نظر آتے۔ دیکھنے والوں نے دیکھا کہ آپ کی یہ ادا مسلمانوں کی سربلندی اور غیرت مند فطرت کا منہ بولتا ثبوت تھی“۔
(ایضاً ص ۶۶)
۲۰ ستمبر ۱۹۳۴ء کو روزنامہ ”سیاست“ کے پرچہ میں یہ خبر ان الفاظ میں شائع ہوئی: ”قصور ضلع لاہور ۱۷ ستمبر گزشتہ شب گیارہ بجے کے قریب قصور سے یہ اطلاع موصول ہوئی ہے کہ لالہ پالا مل شاہ ساہوکار کو شام ساڑھے سات بجے قتل کر دیا گیا ہے۔ اس قتل کے سلسلے میں ایک مسلمان محمد صدیق کو گرفتار کیا گیا ہے۔ پالا شاہ کے خلاف توہین اسلام کے الزام میں مقدمہ چلتا رہا۔ مسٹر ٹیل مجسٹریٹ لاہور نے پالا مل کو چھ ماہ قید اور ۲۰۰ روپے جرمانے کی سزا دی۔ اس فیصلے کے خلاف اس نے مسٹر بھنڈاری سیشن جج لاہور میں اپیل دائر کی تھی۔ اس کو ضمانت پر رہا کر دیا گیا تھا۔ معلوم ہوا کہ قتل بلھے شاہ کی خانقاہ میں ہوا اور قتل کے الزام میں محمد صدیق کو گرفتار کیا گیا ہے۔ پولیس بڑی تندہی سے تفتیش کر رہی ہے“۔
(”غازی محمد صدیق رحمۃ اللہ علیہ“ از رائے کمال۔ ضیاء القرآن پبلی کیشنز لاہور، ص ۵۵۔
۵۴)
سرکار مدینہ ﷺ کی شان میں گستاخی ہرگز برداشت نہیں:
”جب حضرت قبلہ غازی صاحب سے پوچھا گیا کہ آپ کچھ کہنا چاہتے ہیں تو انہوں نے فرمایا ”بلاشبہ پالا مل کو میں نے قتل کیا ہے کیونکہ اس ملعون نے رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی توہین کی تھی۔ وہ دیدہ دانستہ اس جرم کا مرتکب ہوا۔ اسے راج پال اور غازی علم الدین شہیدؒ کے واقعہ کا بھی بخوبی علم تھا۔ اس نے سب کو جانتے بوجھتے ہوئے خود کو سزا کے لیے پیش کیا۔ اگر اس واقعہ (شان رسالت میں گستاخی) پر بیس سال بھی گزر جاتے تب بھی میں اسے ضرور بالضرور واصل جہنم کرتا۔ ہمارے مذہب کے مطابق وہ ہرگز مسلمان نہیں بلکہ کوئی منافق ہے، جو نبی پاک صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی توہین سن کر خاموش رہے اور عصمت رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر جان قربان نہ کرے۔ کسی اور شخص کی ذات کا مسئلہ ہو تو برداشت ہو سکتا ہے۔ دنیوی امور میں کسی بھی فرد کی شان میں بکواس پر چپ رہا جا سکتا ہے لیکن سرکار مدینہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے مقام و مرتبہ پر ہرزہ سرائی کرنے والوں کے خلاف غیظ و غضب، جوش و ولولہ اور غصہ کسی حالت میں بھی کم نہیں ہو سکتا۔ میں نے جو کچھ کیا، خوب غور و فکر کے بعد غیرت دینی کے سبب اپنے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی شان کو برقرار رکھنے کے لیے
کیا ہے۔ اس پر مجھے قطعاً تاسف یا ندامت نہیں بلکہ میں اپنے اس اقدام پر بہت خوش اور نازاں ہوں۔ عدالت زیادہ سے زیادہ جو سزا دے سکتی ہے‘ جب چاہے دے دے۔ مجھے قطعاً حزن و ملال نہ ہوگا۔ مگر جب تک ہمیں شہنشاہ مدینہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی حرمت اور تقدس کے تحفظ کی ضمانت فراہم نہیں کی جاتی‘ کوئی نہ کوئی سرفروش نوجوان بزم دار و رسن میں چراغ محبت جلاتا رہے گا۔ یہ تو ایک جان ہے‘ اس کی بات ہی کیا؟ میں تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خاک قدم پر پوری کائنات بھی نچھاور کر ڈالوں تو میرا عقیدہ اور ایمان اور عشق و وجدان یہی کہتا ہے کہ گویا ابھی حق غلامی ادا نہیں ہو سکا“۔
(”غازی محمد صدیق شہید“ از رائے کمال ۶۳ - ۶۴‘ ضیاء القرآن پبلی کیشنز)
”سیشن کورٹ میں حافظ غازی محمد صدیق کے مقدمہ کی سماعت چھ دسمبر ۱۹۳۴ء کو سنٹرل جیل لاہور میں مسٹر ٹیل کے روبرو شروع ہوئی۔ استغاثہ کی طرف سے خان قلندر علی خان پبلک پراسکیوٹر اور صفائی کے لیے میاں عبد العزیز صاحب بیرسٹر اور شیخ خالد لطیف گابا ایڈووکیٹ پیروکار تھے“۔
(ایضاً ص ۶۰ - ۵۹)
انگریز عدالت کے روبرو صحیح تر موقف:
وکیل صفائی میاں عبد العزیز صاحب بیرسٹر نے اپنی طرف سے بڑے مدلل اور جامع قانونی نکات فاضل جج کے سامنے بیان کیے۔ انہوں نے اپنی طویل بحث کے دوران کہا:
”میرا مسئلہ یہ ہے کہ ملزم کو مقتول سے کوئی ذاتی عداوت نہ تھی۔ اگر اس نے یہ فعل کیا ہے تو مذہبی عقیدہ کے تحت کیا۔ لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ نوجوان ملزم کا بیان کہ میں بیس سال بعد بھی توہین رسالت کا انتقام لینے سے نہ ٹلتا۔ یہ کس جذبے کا ترجمان ہے؟ اس لیے کسی طور پر بھی انکار نہیں ہو سکتا کہ اسلامی روایات کے مطابق رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی تعظیم و تکریم خدا کے بعد دوسرے درجے پر ہے۔ سچے اور پکے مسلمان وہ ہیں‘ جو اپنے آقا و مولیٰ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی شان میں کسی طرح کی ادنیٰ گستاخی کو بھی برداشت نہیں کر سکتے اور وہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی شان برقرار رکھنے کے لیے اپنی جانیں دیوانہ وار فدا کرتے ہیں۔ محمد صدیق کے دل میں بھی اٹھارہ ماہ سے یہی جذبہ
موجزن تھا اور اس نے جذبۂ ایمان سے سرشار شہنشاہ مدینہ کی تعظیم و تکریم پر اپنا سب کچھ قربان کر دیا...... لہٰذا بہت سے گزشتہ ایسے مقدمات کی مثالیں موجود ہیں‘ جن کے حوالے سے میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ ملزم کو زیادہ سے زیادہ حبس دوام کی سزا دی جائے“۔ (ایضاً ص ۶۵)
رائے کمال اس تسلسل کو قائم رکھتے ہوئے لکھتے ہیں: ”سیشن کورٹ میں فیصلے کے دن حضرت قبلہ حافظ صاحب علیہ الرحمہ کی والدہ نے اپنے جواں سال بیٹے کی پیشانی چومتے ہوئے نہایت حوصلے کے ساتھ فرمایا ”میں خوش ہوں۔ جس رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی شان کے تحفظ کے لیے تم قربان گاہ پر جا رہے ہو‘ اس محبوب کردگار صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی شان قائم رکھنے کے لیے مجھے تم جیسے بیس بیٹوں کی قربانی دینا پڑے تو رب کعبہ کی قسم! کبھی دریغ نہ کروں“۔ روزنامہ ”انقلاب“ لاہور اور دیگر معاصر مسلم اخبارات میں غازی صاحب کی والدہ کے اس جرات مندانہ بیان کے علاوہ غازی موصوف کے بارے میں یہ بھی درج ہے کہ آپ نے ان ایمان پرور الفاظ کو سنتے ہی زور سے نعرہ تکبیر بلند کیا اور والدہ موصوفہ سے اپنے گناہوں اور غلطیوں کی معافی مانگتے ہوئے کہا کہ میں نے پالامل کو قتل کر کے اپنے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی شان قائم رکھنے کے لیے جو قربانی پیش کی ہے‘ اس کی خاطر اگر مجھے ہزار مرتبہ بھی جینا یا مرنا پڑے تو تب بھی ہر دفعہ ناموس رسالت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پر پروانہ وار فدا ہوتا رہوں گا اور اسے صدق دل سے اپنا فرض عین سمجھتا ہوں“۔
(ماہنامہ ”نعت“ لاہور‘ جلد ۴‘ شمارہ ۴‘ ص ۶۸)
سزائے موت کا فیصلہ‘ اور برقرار رہا:
”سیشن کورٹ میں غازی محمد صدیق” کے لیے سزائے موت کا حکم سنایا گیا۔ زندہ دلان قصور نے اس فیصلہ کے خلاف ہائی کورٹ لاہور میں اپیل گزار دی۔ عدالت عالیہ میں ۳۱ جنوری ۱۹۳۵ء کو سماعت ہوئی۔ فیصلہ صادر کرنے کے لیے ایک ڈویژنل بینچ تشکیل دیا گیا۔ اس میں چیف جسٹس اور جسٹس عبدالرشید شامل تھے۔ فیصلہ کے طور پر سیشن کورٹ کا حکم بحال ہوا“۔
(ایضاً ص ۶۹)
وصیت:
”مجھے صرف قرآن اور صاحب قرآن (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) سے انس ہے۔ آپ بھی ہمیشہ انہی سے لو لگائے رکھیں۔ میری قبر پر کبھی کوئی خلاف شرع عمل نہ کیا جائے اور نہ اس کی اجازت دینا۔ نیز قوالی بھی نہ ہو کہ سلسلہ نقشبندیہ میں اس کی ممانعت ہے۔ میری خوشی اسی میں ہے کہ خدانخواستہ اگر پھر بھی کہیں کوئی گستاخ رسول جنم لے تو میرے متعلقین میں سے ایک نہ ایک فرد باطل علامت کو ٹھکانے لگا دے“۔
(”غازی محمد صدیق شہید“ از رائے کمال‘ ص ۷۱‘ ضیاء القرآن پبلی کیشنز)
تختہ دار پر آخری الفاظ:
”جیل حکام سے روایت ہے کہ اس وقت آپ کی زبان پر یہ الفاظ جاری تھے ”میرے اللہ تیرا ہزار شکر کہ تو نے اپنے حبیب پاک صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی عظمت کے تحفظ کے لیے مجھ ناچیز کو کروڑوں مسلمانوں میں سے منتخب فرمایا“۔
(ماہنامہ ”نعت“ لاہور‘ جلد ۴‘ شمارہ ۴‘ ص ۷۰)
خوبرو مجاہد:
”قربان گاہ میں خونِ دل کی حدت سے مشعلِ وفا کو فروزاں رکھنے والے اس خوبرو مجاہد کی عمر اس وقت اکیس سال تھی“۔ (ایضاً ص ۷۰)
خوشی کا مقام:
”شہیدِ رسالت کا عظیم منصب عطا ہونے پر غازی محمد صدیق کی والدہ ماجدہ
نے دیگر خواتین کو بھی اس موقع پر چیخ و پکار سے سختی کے ساتھ منع کر رکھا تھا۔ جب کوئی عورت تعزیت کی غرض سے ان کے پاس آتی تو آپ فرماتیں ”اس واقعہ پر غم و اندوہ کا کیا جواز ہے؟ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم پر قربان ہونا تو خوشی کا مقام ہے“۔
(ایضاً ص ۷۱)
آخری دیدار:
”جنازہ عید گاہ کے قریب اسلامیہ ہائی سکول قصور (موجودہ بوائز ڈگری کالج) کے ہال میں رکھا گیا‘ جہاں ان گنت مسلمان پرنم آنکھوں سے شہید کی زیارت سے فیض یاب ہو رہے تھے۔ لوگ ایک دروازے سے داخل ہوتے اور دوسرے دروازے سے نکل جاتے تھے۔ کافی دیر تک پردہ نشین مستورات شہید کا چہرہ مبارک دیکھنے کو آتی رہیں“۔
(ایضاً ص ۷۱)
ملی دولہا کی پر شکوہ بارات:
”ٹھیک ایک بجے جنازہ اٹھایا گیا اور جلوس کی صورت میں نصف میل کا فاصلہ پورے تین گھنٹے میں طے ہوا۔ نماز جنازہ پریڈ گراؤنڈ میں ادا کی گئی‘ جس میں محتاط اندازے کے مطابق ایک لاکھ سے زائد افراد نے شرکت کی۔ جنازے کو کندھے دینے کے لیے چارپائی کے ساتھ لمبے لمبے بانس باندھ دیے گئے تھے۔ آپ کے جسد مبارک کو قبرستان میں پہنچایا گیا اور فدائی حبیب کبریا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم غازی محمد صدیق شہید کو پورے چھ بجے سپرد خدا و رسول جل شانہ و صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کر دیا گیا“۔
(ایضاً ص ۷۱)
ہے یہ شام زندگی‘ صبح دوام زندگی
(اقبالؒ)
خطہ پاک و ہند پر آزادی سے پہلے کچھ آزاد خُو‘ زمانے کی تلخیوں سے بے نیاز‘ جانباز مجاہد‘ قبیلہ عشاق کے مقتداء اپنی جانیں ہتھیلی پر رکھ کر عشق کے میدان میں ایسے معرکے سر کر گئے کہ تاریخ کی پیشانی ان کے اسماء گرامی کے جھومر سے چمک رہی ہے‘ جن کا ذوق نظریہ تھا{
جیتوں تو تجھے پاؤں ہاروں تو صنم تیرا
تاریخ نے جنہیں غازی اور شہید کے نام سے خراج تحسین پیش کیا‘ جن کی جرات اور مردانگی نے قحط الرجال کے تصور کو مٹا دیا‘ ہاں یہ انہی پاک باز مجاہدوں کی کہانی ہے کہ جن کے تلووں کے دھون سے انسانیت کو بقاء حاصل ہے۔
معراج انسانیت کے اس افق پر ایک مقدس نام غازی مرید حسین شہیدؒ کا بھی ہے۔
غازی مرید حسین شہیدؒ :
”آپ کا اسم گرامی مرید حسین‘ ایم ۔ ایچ اور امیر تخلص کرتے تھے۔ ۱۹۱۵ء میں بھلہ شریف تحصیل چکوال کے معزز کھوٹ قریش گھرانے میں پیدا ہوئے۔ والد کا نام نامی عبداللہ خان اور والدہ صاحبہ کا اسم مبارک غلام عائشہ تھا۔ چودھری عبداللہ بھلہ کے نمبردار اور باوقار بزرگ تھے۔ بڑھاپے میں اللہ تعالیٰ نے اکلوتے فرزند سے نوازا تھا‘ اس لیے اپنی آنکھوں کے نور اور دل کے سرور کی بڑی محبت اور شفقت سے پرورش کی۔ مرید حسین ابھی پانچ برس کے تھے کہ والد بزرگوار کے سایہ سے محروم ہو گئے۔ والدہ بڑی جہاندیدہ اور نیک سیرت خاتون تھیں‘ اس لیے اپنے مرحوم سرتاج کی یادگار اکلوتے اور لاڈلے بیٹے کی تعلیم و تربیت پر پوری توجہ دی۔“
(تحریر منیر نوابی‘ ماہنامہ ”درویش“ لاہور‘ مئی ۱۹۹۴ء جلد ۱۱)
رائے کمال اس کہانی کو یوں بڑھاتے ہیں:
”جب یہ معصوم زندگی کی پانچ بہاریں دیکھ چکا تو آپ کی والدہ صاحبہ نے اپنے لاڈلے اور اکلوتے بیٹے کو قرآن حکیم اور دوسری اسلامی کتب کی تدریس کے لیے سید محمد شاہ صاحبؒ کے ہاں بھیج دیا۔ یہ بزرگ جامع مسجد بھلہ کے خطیب اور امام
مستعد تھے۔ دوسری طرف عام تعلیم کے حصول کی خاطر اپنے گاؤں کے پرائمری سکول میں داخل کروا دیے گئے۔ دس سال کی عمر میں ابتدائی تعلیم مکمل کرچکنے پر انہیں قریبی قصبہ کریالہ کے اینگلو سنسکرت مڈل سکول میں بٹھا دیا گیا۔ آپ شروع ہی سے بلا کے ذہین اور محنتی تھے۔ مڈل کا امتحان اچھے نمبروں سے پاس کیا۔ اس کے بعد گورنمنٹ ہائی سکول چکوال میں‘ جو اب ڈگری کالج بن چکا ہے‘ زیر تعلیم رہے۔ آپ کی عمر پندرہ برس سے چند ماہ اوپر ہوچکی تھی۔ دو سال کی مدت پوری کرنے کے بعد میٹرک کے امتحان منعقدہ ۱۹۳۰ء میں شامل ہوئے۔ ۱۹۳۱ء کے آغاز میں نتیجہ سامنے آیا۔ آپ نے نہ صرف فرسٹ ڈویژن حاصل کی‘ بلکہ پوری جماعت میں اول رہے اور ضلع میں نمایاں پوزیشن حاصل کی۔ گو اعلیٰ تعلیم کا شوق اور وسائل رکھتے تھے لیکن بعض ناگزیر گھریلو ذمے داریوں اور گاؤں کی نمبرداری کے بوجھ سے مجبوراً سلسلہ تعلیم منقطع کرنا پڑا“۔
(ماہنامہ ”نعت“ لاہور‘ جلد ۴‘ شمارہ ۳‘ ص ۱۹)
”جب کہ غلام نصیر الدین چشتی نے آپ کی تعلیم ایف۔ اے تک لکھی ہے“۔ (بحوالہ ماہنامہ ”نعت“ لاہور‘ جلد ۴‘ شمارہ ۳‘ ص ۴۵)
بصیرت:
منیر نوابی لکھتے ہیں: ”غازی صاحب کے ہاں مولانا ظفر علی خان کا اخبار ”زمیندار“ کا مطالعہ معمول تھا۔ آپ آریہ سماج اور دوسری ہندو تحریکوں‘ پارٹیوں اور انجمنوں کی اسلام دشمنی کی خبریں پڑھتے اور دل ہی دل میں کڑھتے رہتے۔ ادھر بھلہ اور کریالہ کے متمول ہندوؤں کی چیرہ دستیوں کو اپنی آنکھوں سے دیکھتے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ آپ کی غیرت مند طبیعت‘ متعصب اور دریدہ دہن ہندو بنیوں سے سخت متنفر ہوگئی۔ یہ نفرت یہاں تک بڑھی کہ آپ نے راج پال لاہوری اور نتھو رام سندھی کی شان رسالت ﷺ میں گستاخیوں کے بعد ہندوؤں سے ہر قسم کا تعلق منقطع کر لیا۔ حتیٰ کہ ان کی بسوں میں سفر کرنا بھی چھوڑ دیا اور جہاں بھی جانا ہوتا‘ پیدل جاتے۔ اسی طرح اپنے اثر و رسوخ سے کام لے کر مسلمانوں کو اپنی دکانیں
دیں اور مقامی مسلمانوں کی ایک انجمن بنا کر ہندوؤں کا معاشرتی بائیکاٹ کر دیا۔ اس پر ہندوؤں نے جس میں بھائی پرمانند (کریالہ) جیسے بڑے بڑے سیاسی لیڈر بھی شامل تھے، سرکاری دباؤ ڈلوا کر غازی صاحب کو رام کرنے کی کوششیں کیں لیکن غازی صاحب نے نہ ڈرنا تھا، نہ ڈرے۔ تحریک کو جاری رکھا اور اس طرح قیام پاکستان سے بہت پہلے خطہ کریالہ میں پاکستان بنا دیا“۔
(ماہنامہ ”درویش“ لاہور، ص ۶۳ ۔ ۶۲، مئی ۱۹۹۴ء)
محمد کعب شریف اسے اپنے الفاظ میں یوں لکھتے ہیں:
”ہندوؤں نے آپ سے بدلہ لینے کے لیے سرکار برطانیہ کے کان بھرے، جس کے نتیجے میں آپ کے خلاف مقدمہ قائم ہو گیا اور آخر کار کسی فیصلے کے بغیر ختم ہو گیا۔ کیونکہ ہندو کوئی ثبوت نہ پیش کر سکے۔ اس وقت کسی کو کیا خبر تھی کہ آج مرید حسین جو کچھ کر رہا ہے، اس پر ایک نظریہ کی بنیاد ہوگی اور پھر یہی دو قومی نظریہ تخلیق پاکستان کا نظریہ بن جائے گا“۔
(ماہنامہ ”نعت“ لاہور، جلد ۴، شمارہ ۳، ص ۳۳)
دینی غیرت:
”اس وقت آپ کی باطنی صفائی قابل دید تھی۔ ایک دفعہ پیٹ میں سخت تکلیف کے باوجود آپ نے ہندو حکیم کی دوا لینے سے انکار کر دیا اور والدہ کو کہا کہ مجھے اس سے بدبو آتی ہے۔ میں کسی مشرک کی دوا ہرگز استعمال نہ کروں گا۔ اس سلسلہ میں رسالپور چھاؤنی میں اپنے ایک رشتہ دار کے ہاں قیام کے دوران آپ نے کپڑے بدلنے سے انکار کر دیا کہ ان سے بدبو آ رہی ہے۔ یہ کسی ہندو نے دھوئے ہیں۔ میزبان دھوبی کے مذہب سے ناواقف تھا۔ جب اس نے تحقیق کی تو آپ کی بات درست نکلی“۔
(ایضاً ص ۳۳)
آپ کی منگنی بچپن ہی میں اپنے چچا کی بیٹی سے طے پاچکی تھی۔
شادی:
”۱۹۳۵ء میں بیس سالہ مرید حسین کی شادی محترمہ امیر بانو (متوفی ۱۹۴۳) ہمشیرہ چودھری خیر مہدی نمبردار بھلہ سے انجام پائی۔ شادی کے چند روز بعد سرور کونین صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی زیارت نصیب ہوئی‘ جس کا ذکر آپ نے بعد میں اپنے پنجابی کلام میں بھی کیا“۔
(تحریر منیر نوابی‘ بحوالہ ماہنامہ ”درویش“ لاہور‘ ص ۶۳‘ مئی ۱۹۹۴)
چودھری محمد ایوب خان آف بھلہ کریالہ لکھتے ہیں:
”خواب میں زیارت نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے دوسرے ہی روز چچا زاد بھائیوں چودھری خیر مہدی اور شاہ ولی کو بلا کر کہا کہ نمبرداری ایک لعنت ہے‘ جو انگریز نے ۱۸۶۰ء میں اپنی حکومت مضبوط کرنے کے لیے مسلط کی۔ میں اس سے مستعفی ہونا چاہتا ہوں۔ میرے سپرد اس سے اعلیٰ و ارفع کام ہوچکا ہے۔ اس کے بعد جتنا وقت گھر پر گزرا‘ عجیب کیفیت طاری رہی۔ کچھ انوکھے کلمات زبان پر جاری رہے۔ آخر جب دربار رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے اذن ملا تو گھر چھوڑ کر مقصد حصول کے لیے نکلے“۔
(ماہنامہ ”نعت“ لاہور‘ جلد ۴‘ شمارہ ۳‘ ص ۵۰)
اب عشق مصطفیٰ میں بھی جاں دے کے دیکھ لے !
مقدر کے شہنشاہ غازی مرید حسین شہید کے سپرد روحانی طور پر جو کام ہوا‘ اس کے آثار ظاہراً کچھ یوں ہویدا ہوئے:
محمد کعب شریف لکھتے ہیں:
”۱۹۳۶ء میں زمیندار اخبار میں ایک خبر ”پلول کا گدھا“ کے عنوان سے چھپی۔ اس خبر کے مطابق شفاخانہ حیوانات پلول ضلع گڑگاؤں کے انچارج ڈاکٹر رام گوپال (ملعون) نے (نعوذ باللہ) ایک گدھے کا نام حضور پاک صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے نام نامی پر رکھا ہوا تھا۔ اس خبر کے چھپتے ہی مسلمانوں کی طرف سے احتجاج کا وسیع سلسلہ شروع ہو گیا۔ انگریز حکومت نے مسلمانوں کے اس دباؤ پر اس بااثر ہندو ڈاکٹر کو اپنے کیے کی سزا دینے کے بجائے ہندوؤں کے اکثریتی علاقہ نارنوند ضلع حصار میں تبادلہ کر دیا“۔
رام گوپال کی گستاخی کوئی معمولی واقعہ نہ تھا کہ اس کو برداشت کر لیا جاتا۔
جہاں ہر مسلمان کا خون کھول اٹھا‘ وہاں مرید حسین کا یہ خبر پڑھ کر عجیب حال تھا۔ ان کا جوش و غصہ ناقابل برداشت تھا۔ ان کی غیرت زیادہ ہی بھڑک اٹھی تھی۔ غیبی اشارہ پہلے ہی خواب کے ذریعے مل چکا تھا۔ آپ کا مصمم ارادہ تھا کہ متاع عزیز کی قربانی دے کر اس شرمناک جسارت کرنے والے کو ایسا سبق سکھائیں تاکہ آئندہ کوئی ایسی حرکت کرنے سے پہلے اپنے انجام بد کو سامنے رکھے۔
(ماہنامہ ”نعت“ لاہور‘ جلد ۴‘ شمارہ ۳‘ ص ۴۴)
رائے کمال لکھتے ہیں:
”غازی مرید حسین شہیدؒ جون ۱۹۳۶ء کے آخری ہفتے گھر سے اس عظیم الشان مشن کے لیے روانہ ہوئے۔ چاچڑ شریف حاجی ترنگ زئی کے آزاد (علاقہ) کوئٹہ‘ مقبرہ داتا علی ہجویری تا میانی قبرستان لاہور (یہاں آپ نے اسلامیہ کالج لاہور کے ہوسٹل میں اپنے ایک قریبی دوست کے کمرے میں قیام فرمایا) اور پھر دہلی تک۔۔۔ ظاہرا یوں لگتا ہے کہ شمع رسالت کا غیور پروانہ شاید مختلف علاقوں کے فاصلے بلا مقصد ہی ناپتا رہا جب کہ ایسا ہرگز نہیں۔ درحقیقت یہ کامیاب منصوبہ بندی کا ایک حصہ تھا‘ جس کی تفصیل اس جگہ بیان میں نہیں آ سکتی“۔
(ماہنامہ ”نعت“ لاہور‘ جلد ۴‘ شمارہ ۳‘ ص ۲۱۔۲۰)
اس حقیقت کا راز محمد کعب شریف اپنے الفاظ میں یوں افشاء کرتے ہیں:
”اس ملعون کو قتل کرنے کے لیے آپؒ نے معلومات اکٹھا کرنا شروع کر دیں اور در پردہ تیاری کا آغاز کر دیا۔ آلہ قتل کے حصول کے لیے آپ بھیرہ ضلع سرگودھا‘ راولپنڈی اور کوئٹہ گئے۔ حتیٰ کہ قبائلی علاقہ مہمند اور باجوڑ میں انگریزوں کے خلاف برسرپیکار مجاہد آزادی حاجی ترنگ زئی سے بھی ملاقات کی تاکہ وہ آپؒ کو اسلحہ مہیا کریں۔ آخرکار آپؒ اپنے مرشد کامل کی اجازت سے لاہور کے راستے دہلی پہنچ گئے تاکہ حالات کا جائزہ لیں اور قتل کی بہترین منصوبہ بندی کر سکیں“۔
(ماہنامہ ”نعت“ لاہور‘ جلد ۴‘ شمارہ ۳‘ ص ۳۶۔۳۵)
پیر چاچڑ شریف اور مرید بھلہ کے راز و نیاز:
”منیر نوابی اس کا اشارہ یوں کرتے ہیں:
”وہاں کیا کیا راز و نیاز کی باتیں ہوئیں‘ پیر چاچڑ‘ مرید بھلہ اور منشی تقدیر کے سوا کسی کو علم نہیں۔ البتہ صاحبزادہ محمد یعقوب صاحب (موجودہ گدی نشین چاچڑ شریف) نے راقم الحروف کو بتایا ہے کہ مرید حسین حضرت خواجہ صاحب کو مل کر باہر نکلے تو آنسو پونچھ رہے تھے۔ ہم نے ان سے بہت پوچھا لیکن انہوں نے کچھ نہ بتایا اور چاچڑ شریف سے تشریف لے گئے۔“
(ماہنامہ ”درویش“ لاہور‘ مئی ۱۹۹۳ء ص ۶۳)
سوئے منزل:
رائے کمال رقم طراز ہیں:
”ملت اسلامیہ کے شاہین نے شکار پر جھپٹنے کے لیے پر تولے اور ۷ اگست ۱۹۳۷ء (۱۹۳۶ از ناقل) کو دہلی سے محو پرواز ہوا۔ ”حصار“ دہلی سے ۱۰۳ میل کی مسافت پر ہے اور نارنوند اس سے آگے قریباً تیس کوس ہو گا۔ غازی صاحب دہلی سے ٹرین پر سوار ہوئے اور ہانسی اسٹیشن پر اترے۔ انہیں صرف تین چار میل آگے جانا تھا۔ آپ نہری پٹڑی پر پیدل چل پڑے۔ سورج ڈوب رہا تھا۔ بہرحال آپ نے رات باہر درختوں کے ایک جھنڈ میں گزاری۔ ۷ اگست ۱۹۳۷ء (۱۹۳۶ از ناقل) کو آپ اس محتاط طریقے سے ہسپتال کے قریب پہنچے کہ کوئی بھی شک نہ کر سکا۔ اپنی چھوٹی سی نوٹ بک نکال کر ایک محفوظ جگہ کھڑے ہو گئے اور آنے جانے والوں کو بغور دیکھتے رہے۔ بالآخر ایک ہٹے کٹے آدمی پر نظر ٹک گئی۔ یہ وہی بدنام زمانہ گستاخ ڈاکٹر تھا‘ جس نے نبی پاک صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے اسم مبارک کی توہین کی تھی۔ شہباز عشق اپنے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے دشمن کو پہلی ہی نظر میں پہچان گیا“۔
(ماہنامہ ”نعت“ لاہور‘ جلد ۴‘ شمارہ ۳‘ ص ۲۱)
منیر نوابی لکھتے ہیں:
”ڈاکٹر رام گوپال ہٹا کٹا اور قد آور تھا۔ آپ دبلے پتلے اور نحیف و نزار لیکن عشق رسالت اور جذبہ ایمانی سے انتہائی جرات کا مظاہرہ کرتے ہوئے رام گوپال کو للکارا۔ اس نے سنبھلنے کی کوشش کی۔ ہسپتال کا عملہ اور اس کے بیوی بچے بھی اسے بچانے کے لیے لپکے لیکن آپ نے جان ہتھیلی پر رکھ کر نعرہ تکبیر بلند کیا اور کہا
"او موذی اٹھ ! آج محمد دا پروانہ آگیا ای"۔ یہ کہتے ہوئے چھوٹے سے خنجر کے ایک ہی وار سے محبوب خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے دشمن ناپاک کو واصل جہنم کر دیا۔ یہ ۱۸ اگست ۱۹۳۶ء کا واقعہ ہے۔ اس دن سے آپ مسلمانوں کی نظر میں مرید حسین سے غازی مرید حسین بن گئے۔"
(ماہنامہ "درویش" لاہور، مئی ۱۹۹۴ء ص ۶۴)
خس کم جہاں پاک:
رائے کمال لکھتے ہیں: "کتا مر چکا تھا۔۔۔ تھانے میں ابتدائی رپورٹ کے بعد کیس کا باقاعدہ اندراج رام گوپال کی بیوی کی طرف سے ہوا۔
انتظامیہ کے اعلیٰ افسروں نے جائے واردات کا معائنہ کیا۔ مقتول کی نعش پولیس نے خاص اپنی نگرانی میں ہسپتال میں پہنچائی۔ سول سرجن نے مردے کا پوسٹ مارٹم کیا اور رپورٹ میں لکھا۔ "حملہ اتنا شدید اور زخم اس قدر گہرا تھا کہ تمام آنتیں ٹکڑے ٹکڑے ہو گئیں۔ اس گھاؤ سے مضروب کا بچ رہنا ناممکن تھا۔ جسم کی اندرونی ساخت اور ظاہری حالت سے معلوم ہوتا ہے کہ مقتول پر حملہ آور کی دہشت کی وجہ سے سکتہ طاری ہو گیا۔ چونکہ اس سے خون خشک ہو چکا تھا، اس لیے تن مردہ پر خون کا کوئی دھبا یا داغ نہ ہے۔ یہ زخم کسی تیز دھار آلہ کا لگا ہوا ہے۔ اگر چاقو کا پورا پھل سینے میں پیوست ہو جائے تو بھی ایسا زخم لگ سکتا ہے۔ لباس پر خون کے نشانات موجود نہیں تاہم بنیان پر ایک کٹ واضح ہے۔ آلہ قتل اسی کو پھاڑ کر سینے میں داخل ہوا"۔
(ماہنامہ "نعت" لاہور، جلد ۴، شمارہ ۳۰، ص ۲۲)
منیر نوابی لکھتے ہیں: "رام گوپال کو جہنم رسید کرنے کے بعد آپ نے اپنے آپ کو خود ہی گرفتاری کے لیے پیش کر دیا۔ البتہ اس کے لیے ایک شرط رکھی اور وہ یہ تھی کہ کوئی کافر ان کے قریب نہ آئے۔ چنانچہ نارنوند میں متعین ایس ایچ او چودھری احمد شاہ کموٹ (والد بزرگوار چودھری محمد افضل کموٹ) سابق پروفیسر گورنمنٹ کالج چکوال، حال سی ایس پی آفیسر چیف کمشنر رائے شماری پاکستان نے آپ کو ہتھکڑی
پٹائی اور ڈسٹرکٹ جیل حصار بھیج دیے گئے“۔
(ماہنامہ ”درویش“ لاہور، مئی ۱۹۹۴ء ص ۶۵)
اطاعت:
رائے کمال لکھتے ہیں:
”حضرت قبلہ غازی صاحب کو گرفتار کر کے جامہ تلاشی کی گئی۔ آپ کی جیب سے ایک نوٹ بک برآمد ہوئی، جس پر ڈاکٹر مقتول کا پورا حلیہ درج تھا۔ اس بارے میں خاصی پوچھ گچھ کی گئی۔ آپ نے بتایا ”جس عظیم ذات نے مجھے اس امر کی اطلاع فرمائی ہے اور مردود ڈاکٹر کی شناخت کروائی، ان کے حضور تم تو کیا، تمہارے خیال کا گزر بھی نہیں ہو سکتا۔ مقتول میرے آقا و مولا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی غائبانہ شان میں ہتک کا مرتکب ہوا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا کرم ہوا۔ میری قسمت جاگ اٹھی۔ ایک رات نورِ مجسم (نورِ ہدایت) رحمتِ دو عالم، نبی کریم، رؤف رحیم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی زیارت نصیب ہوئی۔ خواب میں مجھے اس کی مکروہ صورت دکھائی گئی۔ میں نے اسے اچھی طرح پہچان لیا۔ اسی وقت اٹھا اور حملے کو جامہ عمل پہنایا۔ ڈھونڈتے ڈھونڈتے بمشکل اس کے گریبان تک پہنچا اور ”اللہ اکبر“ کہہ کر گستاخ کا کام تمام کر چکا ہوں۔ یہ میرا دینی فریضہ تھا۔ آگے آپ کا کام ہے، جس طرح جی چاہے، قانونی تقاضے پورے کریں“۔
(ماہنامہ ”نعت“ لاہور، جلد ۴، شمارہ ۳، ص ۲۲)
مقام شکر:
رائے محمد کمال لکھتے ہیں:
”تھانے میں دوران تفتیش آپ سے پوچھا گیا کہ آپ نے رام گوپال کو کیوں قتل کیا؟ انہوں نے بے ساختہ قہقہہ لگایا۔ استفسار کیا گیا ”ہنس کیوں رہے ہو؟“ آپ نے قدرے جذباتی ہو کر فرمایا ”کیا روؤں؟ میں تو ایک مدت سے اس کے پیچھے تھا۔ اب میرے ہنسنے اور ہندوؤں کے رونے کا موسم ہے۔ مقام شکر ہے کہ
میری مراد پوری ہوئی“۔
(ماہنامہ ”نعت“ لاہور‘ جلد ۴‘ شمارہ ۳‘ ص ۲۳)
در حقیقت اندھی عدالت:
محمد کعب شریف رقم طراز ہیں: ”ڈاکٹر رام گوپال بااثر ہندو طبقے سے تعلق رکھتا تھا۔ چنانچہ اس طبقے کے اثر و رسوخ سے اپنی پسند کے جج مقرر کر کے حصار میں آپ کے خلاف مقدمہ کی کارروائی شروع ہوئی۔ ہندو جج کے متعصب ہونے کی وجہ سے آپ نے بائیکاٹ کر دیا۔ اس جج نے یک طرفہ کارروائی کر کے آپ کو سزائے موت سنائی۔ اعلیٰ عدالت میں آپ کے مقدمہ کی درخواست برائے دوبارہ سماعت منظور ہوئی۔ اس بار دوسرے سکھ جج نے ذرا کم تعصب کا ثبوت دیا۔ متعدد مسلمان وکلاء نے آپ کی طرف سے وکالت کی۔ اگر آپ چاہتے تو قانون کی موشگافیوں کا سہارا لے کر جان بچا سکتے تھے لیکن آپ جھوٹ بول کر ایسا کرنا نہیں چاہتے تھے۔ ہر دفعہ وجہ بیان کر کے قتل کا واشگاف الفاظ میں اعتراف کیا۔ چنانچہ آپ کو سزائے موت ہوئی۔ لاہور ہائی کورٹ میں اپیل کی گئی مگر سیشن کورٹ کا فیصلہ بحال رہا“۔
(ماہنامہ ”نعت“ لاہور‘ جلد ۴‘ شمارہ ۳‘ ص ۳۷-۳۶)
کچھ اپنوں کا جنون:
محمد کعب شریف لکھتے ہیں: ”آپ کو اپنے بیان سے منحرف کرنے کی کئی کوششیں کی گئیں مگر کامیاب نہ ہو سکیں۔ آخری بار آپ کی جان بچانے کے لیے آپ کو پاگل قرار دینے کی کوششیں کی گئیں۔ اس سلسلے میں آپ مینٹل ہسپتال لاہور میں بھی رہے مگر آپ نے پاگل بننے سے انکار کر دیا“۔
(ماہنامہ ”نعت“ لاہور‘ جلد ۴‘ شمارہ ۳‘ ص ۳۷)
انعام:
محمد کعب شریف لکھتے ہیں: ”اسارت کے دوران حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے دیدار سے بھی فیض یاب ہوئے۔ قید کے دوران باقاعدہ نماز پڑھتے، تلاوت کرتے اور اسلامی کتب کا مطالعہ میں بھی اپنا وقت صرف کرتے۔ شہادت کا دن مقرر ہونے کے لیے آپ از حد بے قرار تھے“۔ (ماہنامہ ”نعت“ لاہور، جلد ۴، شمارہ ۳، ص ۳۷)
منیر نوابی لکھتے ہیں: ”شہادت کا دن مقرر ہونے پر آپ کو اپنے آبائی ضلع جہلم کی جیل میں لایا گیا“۔ (ماہنامہ ”درویش“ لاہور، مئی ۱۹۹۴ء ص ۶۵)
محمد کعب شریف لکھتے ہیں: ”جہلم جیل میں ڈنگہ کے باشندہ (منڈی بہاؤالدین) ایک غیر مسلم (سکھ) پھانسی کا منتظر قیدی آپ سے متاثر ہو کر حلقہ بگوش اسلام ہوا۔ آپ نے اس کا نام ”غلام رسول“ رکھا“۔
(ماہنامہ ”نعت“ لاہور، جلد ۴، شمارہ ۳، ص ۳۷)
اس واقعہ کی تفصیل غلام نصیر الدین چشتی ان الفاظ میں بیان کرتے ہیں: ”اس ضمن میں ایک واقعہ یاد آیا کہ غازی موصوف کی اسیری کے دوران کئی ایک کرامات نمودار ہوئیں۔ دوران اسیری آپ کی کوٹھڑی کے ساتھ والی کوٹھڑی میں ایک سکھ قاتل قید تھا۔ جو اکثر رات کو یہ معلوم کرتا تھا کہ غازی صاحب کی کوٹھڑی میں لاتعداد بلب جگمگا رہے ہیں اور بہت سے آدمی درود و صلوٰۃ پڑھتے ہیں۔ اس سکھ نے آپ سے پوچھا کہ رات کو آپ کے پاس کون آدمی آتے ہیں تو آپ نے فرمایا یہ میرے آقا و مولا حضرت نبی محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم معہ صحابہ کرام کے تشریف لاتے ہیں اور حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی کچہری میں درود و سلام کا ورد ہوتا ہے۔ آپ کا یہ فرمانا تھا کہ سکھ بے اختیار پکار اٹھا لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم۔ اس نے وصیت کی کہ میں غازی مرید حسین کے ہاتھ پر مسلمان ہو گیا ہوں۔ میری لاش سکھوں کے بجائے مسلمانوں کے حوالے کی جائے“۔
(ماہنامہ ”نعت“ لاہور‘ جلد ۴‘ شمارہ ۳‘ ص ۴۷)
منیر نوابی لکھتے ہیں:
"اس نے وصیت کی کہ اس کی میت جہلم کے مشہور احراری جناب عبداللطیف کے سپرد کی جائے اور وہ اسلامی طریقہ سے اس کا جنازہ پڑھ کر جہلم کے قبرستان میں دفنادیں۔ چنانچہ ایسا ہی کیا گیا۔"
(ماہنامہ ”درویش“ لاہور‘ مئی ۱۹۹۴ء ص ۶۵)
اونچے لوگ:
چوہدری محمد ایوب خاں رقم طراز ہیں:
"پیر آف چاچڑ شریف نے دوران مقدمہ ملاقات کی تو یوں مخاطب ہوئے ”غازی!“ میں کچھ نہیں تھا لیکن تم نے مجھے پیر بنالیا۔ قسم ہے اس خالق کائنات کی آج تم اس مقام پر پہنچ گئے کہ میں تمہارے جوتے اٹھانے میں فخر محسوس کرتا ہوں۔ تمہارا انجام معلوم ہے مگر یہ ضرور کہوں گا:
یہ رتبہ بلند ملا جس کو مل گیا
تم ہوگے اور تختہ دار ہوگا۔ پھر غازی سے پوچھا ”کچھ دیکھا بھی ہے؟“ تو غازی نے جیل کے دوران خواب کا ذکر کیا کہ جب اس موذی کا کام تمام کر چکا تو حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم خواب میں تشریف لائے اور فرمایا ”غازی واپس جا رہے ہو یا میرے پاس رہنا ہے؟“ تو میں نے عرض کیا ”حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے قدموں ہی میں رہ کر سعادت دارین حاصل کرنا چاہتا ہوں“۔
(ماہنامہ ”نعت“ لاہور‘ جلد ۴‘ شمارہ ۳‘ ص ۵۱ ۔ ۵۰)
شب شہادت:
رائے محمد کمال اس کا نقشہ یوں کھینچتے ہیں:
"شہید عشق رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم۔۔۔۔ غازی مرید حسین کی آرزوؤں کا چمن پورے جوبن پر تھا۔ آپ کو واصل بحق کرنے کے لیے ۸ رجب
۱۸ رجب ۱۳۵۶ھ مطابق ۲۴ ستمبر ۱۹۳۷ء بروز جمعہ مقرر ہوئی۔
تختہ دار پر لٹکانے کے تمام مراحل مکمل ہو چکے تھے۔ رات بھر جیل میں قرآن کریم کی تلاوت‘ درود شریف کا ورد اور کلمہ طیبہ کا ذکر ہوتا رہا۔ مسلمان قیدیوں نے فرط عقیدت سے تمام رات جاگ کر گزاری۔ غازی صاحب نے شب کا ایک حصہ شکرانے کے نوافل میں گزار دیا۔ کچھ وقت ام الکتاب کی تلاوت فرمائی اور درود و سلام کے ورد میں مشغول ہو گئے"۔
(ماہنامہ "نعت" لاہور‘ جلد ۴‘ شمارہ ۳‘ ص ۲۵)
سوئے دار:
رائے محمد کمال لکھتے ہیں:
"سپرنٹنڈنٹ جیل‘ چند وارڈن آپ کی کوٹھڑی کے قریب آکے رکے اور کہا "پھانسی کا وقت قریب ہوا چاہتا ہے۔ داستان محبت کی تکمیل کے لیے ہمارے ساتھ سوئے دار چلئے"۔ آپ کے ہونٹوں پر تبسم کی ایک واضح جھلک تھی۔ فرمایا "شکر الحمد للہ...... چلئے! میں حاضر ہوں" جانثار خیر الانام صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے باہر نکلتے ہی نعرہ تکبیر بلند کیا۔ تمام قیدیوں نے با آواز بلند جواب دیا اور "اللہ اکبر" کے الفاظ سے فضا گونج اٹھی۔ حضرت قبلہ غازی صاحب عالم شوق میں مچلتے‘ نعرہ تکبیر لگاتے‘ تیز تیز ڈگ بھرتے‘ اکڑتے‘ سنورتے‘ سنبھلتے‘ سینہ تانے اور نعت پڑھتے پھانسی گھر کی طرف چلے جا رہے تھے"۔
(ماہنامہ "نعت" لاہور‘ جلد ۴‘ شمار ۳‘ ص ۲۶-۲۵)
یہ انہی کا کام ہے جن کے حوصلے ہیں زیاد
(اقبال)
شہادت گاہ:
محمد کعب شریف لکھتے ہیں:
"آپ کو ۱۸ رجب بمطابق ۲۴ ستمبر ۱۹۳۷ء بروز جمعہ شہادت گاہ میں لایا گیا۔
شہادت کے وقت آپ درود پاک پڑھ رہے تھے۔ آپ کو کہا گیا کہ زبان کو حرکت نہ دیں۔ جس پر آپ نے جواب دیا کہ میں اپنا کام کر رہا ہوں، تم لوگ اپنا کام جاری رکھو اور پھر چند لمحوں بعد آپ ناموس رسالت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی خاطر دار پر چڑھ گئے۔ اس وقت کے جذبات کا اظہار آپ نے اپنی شاعری میں پہلے ہی یوں کر دیا تھا:
لینا کر منظور دربار اندر کریاں عرض میں آخر وار سائیں
اور
خواہش دیدار احمد ﷺ کے مگر کچھ بھی نہیں
(ماہنامہ ”نعت“ لاہور، جلد ۳، شمارہ ۳، ص ۳۷)
منیر نوابی رقم طراز ہیں:
”شہادت کے بعد تختہ دار پر چڑھانے والوں نے آپ کے لواحقین کو بتایا کہ غازی صاحب شہادت کے وقت بڑے مطمئن اور مسرور نظر آتے تھے۔ کلمہ شہادت اور درود شریف کا ورد کر رہے تھے کہ آپ کو چپ ہونے کے لیے کہا گیا لیکن آپ نے فرمایا ”میں اپنا کام کر رہا ہوں، آپ اپنا کام کریں“۔
چنانچہ غازی صاحب درود و سلام پڑھتے ہوئے دیکھتے ہی دیکھتے جام شہادت نوش کر کے اپنے خالق حقیقی سے جاملے۔
الحاج چودھری حاجی خان صاحب نمبردار ساکن کھوتھیاں (سلطان آباد) تحصیل چکوال، جو اس زمانے میں جہلم کچہری کے عرائض نویس تھے کا بیان ہے کہ جہلم شہر میں مسلمانوں کا ٹھاٹھیں مارتا ہوا سمندر تھا۔ شہر کے علاوہ دور دراز کے دیہات و قصبات سے بھی مسلمان جوق در جوق آئے اور آپ کے جنازے میں شرکت کی۔ جہلم سے بھلہ کریالہ تقریباً ۷۵ میل ہے۔ اس طویل راستے پر سڑک کے کنارے متعدد مقامات پر فرزندان توحید اور جانثاران رسالت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے عاشق خیر الوریٰ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم پر عقیدت کے پھول نچھاور کیے۔ جہلم کے علاوہ دینہ، سوہاوہ، کھوتھیاں اور بھلہ شریف میں نماز جنازہ پڑھی گئی۔ بھلہ میں نماز جنازہ پڑھنے والوں کی تعداد شمار سے باہر تھی۔ آخر کار بعد نماز
جمعہ قریباً چار بجے آپ کو محلہ شریف کے نزدیک ”غازی محل“ میں سپرد خاک کر دیا گیا۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے شیدائی نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر قربان ہو کر عشق کا حق ادا کر دیا اور زندہ جاوید ہو گئے۔
خدا رحمت کند ایں عاشقان پاک طینت را
غازی محل محلہ شریف میں ہر سال ۱۸ رجب المرجب کو آپ کا یوم شہادت بڑی عقیدت و احترام سے منایا جاتا ہے۔
(ماہنامہ ”نعت“ لاہور‘ مئی ۱۹۹۴ء ص ۴۴)
O O O O
توہین رسالت ہو اور عذاب خداوندی نہ آئے‘ یہ ممکن نہیں!
البتہ گستاخ رسول کے ناپاک خون سے زمین کی پیاس بجھا دی جائے تو آسمان سے عذاب خداوندی کی خون آشام سرخی چھٹ جاتی ہے۔
جب ہم شہداء ناموس رسالت کی زندگیوں کا مطالعہ کرتے ہیں تو جہاں انہیں محبوب کبریا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا عاشق صادق پاتے ہیں تو وہیں امت خیر الانام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا عظیم محسن اور ہمدرد بھی پاتے ہیں۔
اور کیوں ہم انہیں انسانیت کا محسن قرار نہ دیں کہ اپنے آپ کو سولی چڑھا کر سب کی طرف سے کفارہ ادا کرتے ہیں اور کون ہو گا‘ جو اس دوہرے معیار پر پورا اترے‘ جو شہداء ناموس رسالت قائم کرتے ہیں۔
اقبال نے کیا خوب بات کہی ہے :
کس قدر ہمدرد پورے جسم کی ہوتی ہے آنکھ
یوں تو دنیا میں کروڑوں ہی انسان پیدا ہوتے ہیں اور مر جاتے ہیں مگر جو تحفظ ناموس رسالت کے لیے اپنی جانوں کے نذرانے دے گئے‘ انہی کے نقش قدم میں راز حیات پنہاں ہے‘ جن کے مزاروں سے آج بھی یہ صدائیں اٹھتی ہیں :
جسے مرنا نہیں آتا اسے جینا نہیں آتا
ایسے ہی مزارات میں سے ایک مزار کی لوح پر ”غازی میاں محمد شہید“ کا نام نامی رقم ہے۔
غازی میاں محمد شہیدؒ :
”میاں محمد ۱۹۱۵ء میں قصبہ تلہ گنگ میں پیدا ہوئے۔ والد ماجد کا نام نامی صوبیدار غلام محمد تھا‘ جو اعوان برادری سے تعلق رکھتے تھے۔ پہلی جنگ عظیم چھڑی تو صوبیدار غلام محمد کو ملک سے باہر جانا پڑا۔ اسی دوران میاں محمد پیدا ہوئے۔ اس وقت ان کے والد عراق میں تھے۔ بیٹے کی ولادت کی خبر سنی تو جی چاہا کہ فوراً اڑ کر تلہ گنگ پہنچیں اور نومولود کو دیکھ کر اپنی آنکھیں ٹھنڈی کریں۔ کیونکہ یہ بچہ شادی کے سات سال بعد بڑی دعاؤں کے بعد پیدا ہوا تھا لیکن اللہ کا کرنا ۱۹۱۹ء تک جنگ کے اختتام تک واپس نہ آسکے۔ اس عرصہ میں وہ اپنی پلٹن کے ساتھ عراق‘ شام‘ فلسطین اور استنبول وغیرہ میں فوجی خدمات سرانجام دیتے رہے۔
میاں محمد پانچ سال کے تھے کہ ان کے والد ماجد گھر لوٹے اور پہلی بار اپنے جگر گوشہ کو دیکھا۔ بار بار گود میں اٹھاتے اور پیار کرتے۔ پھر چند روز بعد انہیں پرائمری سکول میں داخل کرا دیا گیا۔ پرائمری کے بعد وہ ہائی سکول میں داخل ہوگئے لیکن ساتویں جماعت تک پڑھنے کے بعد ان کا جی تعلیم سے اچاٹ ہوگیا۔ ۱۵ سال کے ہوئے تو ڈرائیوری سیکھنے کا شوق پیدا ہوا۔ ایک ٹرانسپورٹ کمپنی میں ملازم ہوگئے اور تلہ گنگ سے میانوالی جانے والی ایک بس چلانے لگے لیکن بہت جلد اس سے بھی جی بھر گیا۔ ۱۹۳۱ء میں کوئٹہ چلے گئے اور ایک ٹھیکیدار کے ساتھ بطور منشی کام کرنے لگے۔ یہ کام بھی پسند نہ آیا تو ۱۹۳۲ میں گاؤں واپس آگئے۔ ۱۹۳۳ء میں انڈین نیوی میں بھرتی ہوگئے۔ اسی ملازمت کے دوران پھوپھی زاد بہن ”نیک اختر“ کے ساتھ ان کی شادی ہوگئی۔ انڈین نیوی میں نوکری کرتے ابھی بمشکل ڈیڑھ برس ہی گزرا تھا کہ کھیل کے دوران ایک ساتھی کی بدکلامی کی وجہ سے بگڑ گئے اور ہاکی سے اسے پیٹ ڈالا۔ آرمی ایکٹ کے تحت مقدمہ چلا اور وہ ملازمت سے برطرف کردیے گئے“۔
(تحریر ڈاکٹر خواجہ عابد نظامی‘ ماہنامہ ”درویش“ لاہور‘ مئی ۱۹۹۴ء ص ۵۳ - ۵۴)
رائے کمال اس کہانی کو منزل کی طرف یوں موڑتے ہیں:
”ازاں بعد اپنے والد محترم کے مشورے سے دوبارہ ۲ جنوری ۱۹۳۵ء کو
بلوچ رجمنٹ میں سپاہی بھرتی ہو گئے۔ ابتدائی ٹریننگ کراچی میں مکمل کرنے کے بعد اسی سال اکتوبر میں مدراس بھیج دیے گئے اور وہاں کی چھاؤنی جو سینٹ تھامس ماؤنٹ کے نام سے مشہور تھی‘ کے مقام پر بلوچ رجمنٹ نمبر ۱۰ / ۳‘ جس کا پرانا نمبر ۲۷ ہے‘ میں جا شامل ہوئے۔
بظاہر یوں دکھائی دیتا ہے کہ غازی صاحب فکر معاش کی الجھنوں میں مختلف مقامات کے بلا مقصد فاصلے ناپتے رہے لیکن گہرائی میں جانے سے قدرت کے کسی اور فیصلے کی غمازی ہوتی ہے۔ طبیعت میں لا ابالی پن اور کسی مشغلے میں جی کا نہ لگنا اس بات کی دلیل ہے کہ ان کی ذات صرف گردش روزگار سے نپٹنے کو پیدا نہیں ہوئی تھی۔ ان کے افکار بلند تھے ‘ جن کی تکمیل ایسے مشاغل سے ممکن نہیں۔ قیام کراچی کے دوران بھی انہیں ایک روح پرور مشاہدہ کرنا مقصود تھا‘ جو تاریخ اسلام کا ایک اچھوتا حصہ ہے لیکن اس خواب کی تعبیر خطہ گنگ میں نہیں‘ مدراس میں پورا ہونا تھی۔ سو اس جگہ تدبیر نے تقدیر کو مسکرا کر خوش آمدید کہا۔
پورے وثوق سے کہا جا سکتا ہے کہ غازی موصوف نے ٹریننگ مکمل کر چکنے کے بعد وطن کی سرزمین پر قدم نہیں رکھا لیکن اس کے ساتھ ساتھ یہ بات بھی یقینی ہے کہ وہ کراچی سے ایک دو بار ضرور گھر تشریف لائے ہوں گے ۔ ۱۶ مارچ ۱۹۳۵ء کو جب کراچی کی زمین لالہ زار بنی اور پورے شہر کی فضا شہیدوں کے لہو سے مہک اٹھی تو غازی صاحب بھی وہیں تھے۔ یہاں کی سڑکوں پر شمع رسالت ﷺ کے متوالوں کے خون کے جابجا بکھرے ہوئے چھینٹوں کا جانکاہ منظر وہ اپنی آنکھوں سے دیکھ چکے تھے۔ یہی نہیں‘ بلکہ حرمت رسول ﷺ پر قربان ہونے والوں کی عزت افزائی کا نظارہ بھی کیا۔ غازی عبد القیوم شہید نے ۲۰ ستمبر ۱۹۳۴ء کو اپنی وفاؤں کا پہلا باب رقم کیا“۔
(غازی میاں محمد شہید‘ مطبوعہ ضیاء القرآن پبلی کیشنز‘ لاہور‘ از رائے کمال‘ ص ۷۱ ۔ ۷۰)
ڈاکٹر خواجہ عابد نظامی لکھتے ہیں:
”۲ جنوری ۱۹۳۵ء کو وہ بلوچ رجمنٹ میں بطور سپاہی بھرتی ہوئے اور ابتدائی ٹریننگ کراچی میں مکمل کرنے کے بعد اسی سال اکتوبر میں مدراس چھاؤنی بھیج دیے گئے۔ اصل میں یہ وہی جگہ تھی‘ جہاں قدرت نے ان سے ایک غیر معمولی کام لینا تھا اور جس کے لیے وہ مختلف مقامات پر پھرتے پھراتے بالآخر یہاں پہنچے تھے ۔
میاں محمد کو بچپن ہی سے آنحضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی ذات گرامی سے والہانہ لگاؤ تھا۔ انہیں بہت سی نعتیں یاد تھیں، جنہیں وہ اکثر تنہائی میں یار دوستوں میں بیٹھ کر پڑھتے تھے۔ وہ بڑے خوبصورت جوان تھے اور ہمیشہ نفیس اور عمدہ لباس زیب تن کیے رہتے۔ ان کو دیکھنے والوں نے ان کا حلیہ کچھ اس طرح بیان کیا ہے ”لمبا قد، دلکش خدوخال، سرخ و سپید رنگ، باریک ہونٹ، گھنی بھویں، ناک معیار حسن کے عین مطابق، پیشانی چوڑی، آنکھیں چمکدار، خوبصورت سی چھوٹی داڑھی اور خاص ادا کی مونچھیں، جن سے مردانہ وجاہت ٹپکتی تھی۔ سر پر کلاہ اور خوبصورت پگڑی، غرض پیکر حسن تھے“۔
(ماہنامہ ”درویش“ لاہور، مئی ۱۹۹۴ء، ص ۵۴)
مجاہد سپاہی اپنی ڈیوٹی سرانجام دیتے ہیں:
”۱۶ مئی ۱۹۳۴ء کا سورج بھی عام دنوں کی طرح طلوع ہوا۔ کسے خبر تھی کہ امروز کسی کی محبت کا امتحان ہو گا۔ صبح سے شام تک کا سفر معمول کے مطابق رہا لیکن چھ بجے شام ایک ایسے واقعے کی بنیاد پڑی، جو ملک میاں محمد نامی ایک شخص کو ملت اسلامیہ کا محبوب بنا گئی، اچانک اس کی امیدوں کے چراغ جل اٹھے۔ کیونکہ ناموس نبی ﷺ پر قربان ہونے کی سعادت بخشنے والا مبارک لمحہ آن پہنچا تھا۔ اس خوش پوش نوجوان کی قسمت یوں جاگی کہ سینٹ تھامس ماؤنٹ چھاؤنی کی کوارٹر گارڈ پر کھڑے سنتری کی ڈیوٹی نبھا رہے تھے۔ قلعے میں بیٹھے ہوئے مختلف مذاہب، اقوام اور برادریوں سے تعلق رکھنے والے فوجی عہدیدار خوش گپیوں میں محو تھے۔ ان میں دو ہندو ڈوگرے اور چند مسلمان سپاہی بالخصوص قابل ذکر ہیں۔ ہوا یوں کہ ایک ہندو ڈوگرہ نے کوئی نعتیہ غزل باآواز بلند ترنم سے پڑھنی شروع کر دی۔ وہ خوش الحان تو تھا ہی، لہجے میں مٹھاس اور عقیدت کا رنگ بھی دلچسپی کا سامان کر گیا۔ مسلمان فوجی اپنی اپنی جگہوں سے کھسک کر اس کے اردگرد بیٹھ گئے۔ اس نعت کا آخری مصرعہ تھا ”واہ واہ پیارے محمد ﷺ“ ہندو نعت گو بارگاہ رسالت مآب پر نذرانہ عقیدت کچھ اس ادا سے پیش کر رہا تھا کہ جوش مسرت سے مسلمانوں کی آنکھیں بھر آئیں۔ جوں ہی محمد عربی ﷺ کا اسم مبارک ہندو مذکور کے منہ سے نکلا، دوسرا ڈوگرہ سپاہی جل بھن کر رہ گیا۔ اس نے غلیظ
الفاظ میں اپنے ساتھی کو تنبیہ کرتے ہوئے کہا۔۔۔۔۔ محمد ﷺ کو ۔۔۔۔۔ کرو کسی اور کا نام لو، تو ہندو دھرم کا مجرم ہے اور تیرا یہ پاپ ہرگز معاف نہیں کیا جا سکتا"۔ یہ تمام کارروائی سید الرسل ﷺ کے غلاموں کی آنکھ کے سامنے ہوئی۔
میاں محمد بھی یہ سب کچھ دیکھ اور سن رہے تھے۔ آپ نے گستاخ ڈوگرے سے فرمایا "اسے یہ سعادت نصیب ہوئی ہے کہ حضرت محمد ﷺ کے نام مبارک سے اطمینان قلبی حاصل کرے۔ جس کو یہ اچھا لگتا ہے، وہ گا کر پڑھ رہا ہے۔ اگر تجھے خبث باطن کے باعث پسند نہیں تو خاموش رہ یا باہر نکل جا۔ خبردار، آئندہ ایسی بکواس مت کرنا"۔ اس مردود نے کہا "میں ایسا ہی کہوں گا۔ مجھ سے جواب طلبی کا تمہیں کوئی حق نہیں۔ میں جو چاہوں، کہتا پھروں، تجھے کیا؟" یہ بیہودہ جواب سن کر غازی میاں محمد صاحب کا خون غصے سے کھول اٹھا۔ غیرت دینی جوش مار رہی تھی۔ آج ہندو ڈوگرے نے پیغمبر اسلام کی شان میں گستاخی کر کے ان کی حمیت ایمانی کو للکارا تھا لیکن اس کے باوجود آپ نے صبر کا دامن نہیں چھوڑا۔ غالباً انہیں حضرت علی کرم اللہ وجہہ کی سیرت کا یہ پہلو یاد آگیا جب میدان جنگ میں شیر خدا ننگی تلوار لیے ایک کافر پر جھپٹے تھے اور بزدل حریف نے بدحواسی کے عالم میں آپ کے چہرۂ انور پر تھوک دیا تھا۔ بجائے اس کے کہ آپ طیش میں آکر ملعون کی گردن کاٹ کر رکھ دیتے، انہوں نے شمشیر آبدار کو نیام میں کیا اور دشمن اسلام کو بھاگنے کی اجازت دی۔ اس لیے کہ جہاد رضائے الٰہی کا مظہر ہے۔ مگر آج تلوار چل جاتی تو ذاتی رنجش اور عزت نفس کی تسکین کا تصور بھی آسکتا تھا اور مخالفین کہہ سکتے تھے کہ حضرت ابو تراب کی تلوار اسلام کے لیے نہیں، اپنی ذات کے لیے اٹھا کرتی تھی۔
الحاصل غازی موصوف نے چند ثانیے توقف کیا۔ چپ رہے، کچھ سوچا، ایک فیصلہ کیا اور سوال و جواب کی تکرار سے ہٹ کر اسے دوبارہ تنبیہ کی "اپنی ناپاک زبان سے ہمارے نبی ﷺ کی شان میں گستاخانہ جملے کہنے کی جرات ہرگز نہ کرنا ورنہ یہ بدتمیزی تجھے بہت جلد ذلت ناک موت سے دوچار کر دے گی"۔
بدقسمت ڈوگرے نے دوبارہ یہی جواب دیا "مجھے اس سے روکنے کا تمہیں کوئی حق نہیں ہے"۔ حضرت میاں محمد صاحب کی آنکھوں میں خون اتر آیا۔ آپ
لے ہونٹ چباتے ہوئے کہا ”اچھا میں تجھے جلد ہی بتاؤں گا کہ میرا حق ہے یا نہیں“۔
الغرض غازی میاں محمد کی ڈیوٹی چھ بجے شام شروع ہو کر آٹھ بجے ختم ہوئی۔ اس دوران وہ ایک اہم فیصلہ کر چکے تھے۔ لیکن اتمام حجت کی خاطر ان کو ایک مرحلہ ابھی اور طے کرنا تھا۔ وہ ڈیوٹی سے فارغ ہوتے ہی سیدھے اپنے حوالدار کے پاس پہنچے اور تمام حالات بالتفصیل گوش گزار کیے۔ نیز اپنے جذبات کا اظہار بھی کر دیا ”کہ وہ ۔۔۔۔۔ یہ سرعام تہ دل سے معافی کا خواستگار نہ ہوا اور اگر تحریری طور پر توبہ نامہ لکھ کر نہ دے تو اپنی زندگی سے کھیلنا مجھ پر فرض ہو جاتا ہے“۔ حوالدار صاحب نے اس انتہائی نازک مسئلے پر کوئی خاص توجہ نہ دی بلکہ یہ کہتے ہوئے ٹرخا دیا ”میں اسے سمجھاؤں گا کہ آئندہ احتیاط برتے لیکن معافی نامہ کی مشروط صورت پر اسے مجبور نہیں کیا جاسکتا“۔ اس کی سرد مہری اور عدم دلچسپی کا یہ حال دیکھ کر قبلہ غازی علیہ الرحمۃ تڑپ کر رہ گئے۔ دراصل حوالدار مذکور بھی ہندو تھا اور گستاخی رسول ﷺ کی اس بیباکانہ جرات پر وہ اندر ہی اندر خوش ہو رہا تھا۔ آپ فوجی قواعد کے مطابق افسران بالا سے اس واقع کی شکایت کر چکے مگر شنوائی نہ ہوئی۔ اب اس امر کا کون نوٹس لیتا؟ میاں موصوف انہی سوچوں میں گم صم اپنی بیرک میں پہنچے۔ وردی تبدیل کی اور اس پہلو پر سنجیدگی سے غور و فکر کرنے لگے کہ اب مجھے کیا کرنا چاہیے۔ انہوں نے نماز عشاء ادا کی۔ کچھ مزید نوافل بھی پڑھے۔ وہ ایک اہم فیصلے پر پہنچ چکے تھے۔ گویا عقل مات کھا گئی اور عشق بازی جیت گیا ۔
لیکن کبھی کبھی اسے تنہا بھی چھوڑ دے
(اقبالؒ)
”غازی صاحب بارگاہ رب العزت میں دعا مانگ رہے تھے ”اے میرے خالق و مالک میں نے یہ تہیہ کر لیا ہے کہ تیرے محبوب کی شان میں ہرزہ سرائی کے مرتکب کا کام تمام کر دوں۔ لعین سے انتقام لینے کے لیے میں پیچ و تاب کھا رہا ہوں۔ تو مسبب الاسباب ہے۔ اپنے حقیر بندے کو حوصلہ اور استحکام عطا فرما۔ خدایا! اپنے نبی ﷺ کی حرمت و تقدیس پر جان لڑانے کی توفیق بخش اور میری
قربانی بھی منظور فرمالے"۔ نماز و دعا سے فارغ ہو کر حضرت قبلہ میاں صاحب چپکے سے کوارٹر گارڈ جاپہنچے، جہاں رسول پاک ﷺ کی شان مبارک میں گستاخی کرنے والا کمینہ فطرت ڈوگرہ سپاہی ڈیوٹی دے رہا تھا۔ غازی میاں محمد شہید اندھیرے سے فائدہ اٹھاتے ہوئے گارڈ روم میں داخل ہوئے، اپنی رائفل نکالی، میگزین لوڈ کیا اور باہر نکلتے ہی للکارا "ارے کم بخت! اب بتا کہ میرے نبی ﷺ کی شان میں توہین کا مرتکب ہونے پر میں تم سے باز پرس کا حق رکھتا ہوں یا نہیں"۔ یہ سن کر ڈیوٹی پر متعین شاتم رسول نے بھی پوزیشن سنبھال لی اور رائفل کا رخ آپ کی طرف موڑا مگر اس کے ساتھ ہی ناموس رسالت کے شیدائی کی گولی ہندو ڈوگرے کو ڈھیر کر چکی تھی۔ رائفل کی دس گولیاں اس کے جسم سے پار کرنے کے بعد چہرے پر سنگین سے ضربیں لگاتے رہے۔ نبی اکرم ﷺ کی ذات پر حرف گیری کرنے والی گستاخ زبان ہمیشہ کے لیے خاموش ہوچکی تھی۔ لیکن ابھی مومن مجاہد کی تسکین نہیں ہوئی تھی۔ آپ سنگین کی نوک اس ذلیل کے منہ پر مارتے اور یہ کہتے جاتے تھے "بے غیرت! اس ناپاک اور گندی زبان سے تو نے میرے پیارے رسول ﷺ کی شان میں بکواس کی ہے۔ جی چاہتا ہے کہ تیرا پلید جسم کتوں اور کوؤں سے نچوا ڈالوں"۔ مردے کے چہرے پر کل پانچ ضربیں لگیں، جن میں سے ڈاکٹری رپورٹ کے مطابق ایک زخم چودہ انچ گہرا تھا۔
جب فائر شروع ہوا تو ڈیوٹی پر تمام سنتری گارڈ روم کی کوٹھڑیوں میں جاگھسے اور دروازے بند کرلیے۔ فائرنگ ختم ہوتے ہی ایک بگلر دوڑتا ہوا آپ کے نزدیک آیا۔ غازی صاحب نے اسے سختی سے منع کیا کہ تھوڑی دیر انتظار کرو۔ وہ خوف و ہراس سے کانپ رہا تھا۔ جب غازی صاحب اپنا غصہ نکال چکے اور مردود کے جہنم واصل ہونے کا پختہ یقین کرلیا تو خطرے کی گھنٹی اپنے ہاتھوں سے بجائی اور بگلر کو مسلسل بگل بجاتے رہنے کے لیے کہا۔ پہلے فائرنگ کی آواز پردہ سماعت سے ٹکرائی تھی۔ پھر خطرے کے الارم اور بگل بجنے پر سب پلٹن جمع ہوگئی۔ ایک آدمی نے آگے بڑھ کر بلند آواز سے پوچھا ”قلعہ میں فائر کس نے اور کیوں کیا ہے؟" غازی صاحب نے جواب دیا "میں ہوں سپاہی میاں محمد نمبر ۱۵۴۰۵"۔ اس آدمی نے پھر کہا ”کمانڈنگ صاحب کا حکم ہے کہ رائفل اندر ہی رکھ کر باہر آ
جاؤ"۔ آپ نے فرمایا "اگر کوئی مسلمان افسر میرے پاس آئے تو میں رائفل پھینک کر خود کو اس کے حوالے کر دوں گا"۔ مذکورہ شخص نے تیسری مرتبہ ہمکلام ہوتے ہوئے کہا "کمانڈنگ آفیسر حکم دے رہے ہیں کہ باہر آ جاؤ۔ تمہاری گرفتاری کے لیے ایک مسلمان افسر منتظر کھڑا ہے"۔ چنانچہ غازی صاحب رائفل اندر ہی رکھ کر اپنے دونوں بازو پھیلائے ہوئے باہر آ گئے۔ پلٹن کے جمعدار اجوٹنٹ عباس خان‘ جو ڈھوک ٹاہلیاں تحصیل تلہ گنگ کے رہنے والے تھے‘ آگے بڑھے اور غازی صاحب میاں محمد نے خود کو ان کے حوالے کر دیا۔
جب آپ کو پلٹن کے سامنے لایا گیا تو انگریز کمانڈنگ افسر نے غازی موصوف سے پوچھا ”آپ نے ایسا کیوں کیا؟“ انہوں نے جواب دیا ”کہ چرن داس (مقتول ڈوگرہ) نے ہمارے رسول اکرم ﷺ کی شان میں گستاخی اور بد کلامی کی تھی۔ میں نے اس کو روکا لیکن وہ باز نہ آیا۔ پس میں نے اس کو ہلاک کر دیا۔ اب جیسا آپ کا جی چاہے‘ قانونی تقاضے پورے کریں"۔ اس پر خود کمانڈنگ افسر نے تاکید کی ”میاں محمد ذرا سوچ کر بات کرو‘ ہوش میں آؤ۔ آپ کے ابتدائی بیان قلم بند ہو رہے ہیں۔ ان میں ردو بدل ممکن نہ ہو سکے گا‘ اس لیے سوچ سمجھ کر بیان دو"۔ غازی صاحب نے جواب دیا "میں بالکل ہوش میں ہوں۔ جو کچھ میں نے کہا‘ خوب سوچ سمجھ کر کہا ہے۔ میرا ایک ایک حرف صداقت پر مبنی ہے۔ میں نے حوالدار سے بھی اس کے گستاخانہ رویے کی شکایت کی تھی‘ لیکن کوئی مثبت جواب نہ ملا۔ اس کے بعد میرے سامنے صرف دو راستے تھے کہ دولت ایمان سے محروم ہو کر بے غیرتی اور بزدلی کی زندگی قبول کر لیتا یا کوئی عملی قدم اٹھاتا۔ میں نے بالآخر دوسری صورت قبول کی۔ میری خوشی کی کوئی انتہا نہیں۔ رسول پاک ﷺ اگر راضی ہو جائیں اور تمام دنیا بگڑ بیٹھے تو مجھے کیا غم۔ مجھے اپنے کیے پر مطلقاً پچھتاوا نہیں۔ البتہ اپنے مقدر پر نازاں ضرور ہوں"۔
کمانڈنگ افسر اس بیان سے مطمئن نہیں ہوا۔ اس کو شک گزرا کہ شاید میاں محمد نے یہ سب کچھ نشے کی حالت میں کیا ہے۔ چونکہ آپ کی آنکھوں میں خمار اور غنودگی کی کیفیت پیدا ہو چکی تھی۔ لہٰذا اس نے فی الفور آپ کو ڈاکٹری معائنے کے لیے بھجوا دیا۔
ان دنوں ڈاکٹر (کرنل) نور احمد صاحب‘ جن کا تذکرہ پچھلے صفحات میں ہو چکا
ہے‘ وہیں متعین تھے۔ انہوں نے آپ کا طبی معائنہ کیا اور غازی صاحب کو اسلامی اخوت کے جذبے سے سرشار ہو کر کہا ”آپ اپنے بیان سوچ سمجھ کر دیں۔ آپ جو سٹیٹ منٹ کمانڈنگ افسر کے سامنے دے چکے ہیں‘ اس سے صرف نظر تو ہو سکتا ہے لیکن جو بیان آپ اب دیں گے‘ تمام معاملے کا انحصار اسی پر ہو گا۔ اس لیے پہلے بیانوں میں تبدیلی کر لینے میں ہی بہتری ہے“۔ غازی ممدوح نے جواب دیا ”ڈاکٹر صاحب! آپ کا خیال ہو گا کہ اگر میں بیان تبدیل کر لوں تو میری جان بچ جائے گی لیکن میں ایسا نہیں کرنا چاہتا۔ ایک جان تو کیا‘ اگر میری ہزار جانیں ہوتیں تو میں اپنے پیارے رسول ﷺ کے غلاموں کی عزتوں پر بھی قربان کر دیتا“۔ پھر جو بیانات غازی صاحب نے کمانڈنگ افسر کے پاس دیے تھے‘ وہی ...... ڈاکٹر صاحب کو لکھوا دیے۔ ان کے علاوہ ڈاکٹر مذکور نے اپنی پہلی رپورٹ میں لکھا کہ میاں محمد نے کسی قسم کا کوئی نشہ وغیرہ نہیں کیا۔ البتہ اس کی گفتگو سے جذباتیت ضرور ٹپک رہی ہے۔ مقتول ڈوگرہ کون اور کہاں کا رہنے والا تھا؟ اس نے گستاخی رسول کا بھیانک گناہ کیوں کیا؟ جہاں تک پہلے سوال کا تعلق ہے‘ زیادہ تفصیلات علم میں نہیں۔ تاہم اس بد زبان کا نام ”چرن داس“ تھا۔ ایک روایت کے مطابق وہ کشمیر کے کسی گاؤں میں پیدا ہوا۔ اس کے اہل خاندان سوامی دیانند سرسوتی کے مخلص اور متعصب عقیدت مند تھے۔ ذات کے لحاظ سے وہ ڈوگرہ تھا‘ جو ہندوؤں کے نزدیک قابل احترام اور معزز برادری خیال کی جاتی ہے۔ چرن داس ذاتی طور پر دو ہندو سورماؤں سوامی شردھانند اور مہاشہ راج پال سے متاثر تھا اور ان کی خباثتیں اسے بھی ذلت ناک موت کے سائے میں گھسیٹ لائیں۔ یہ بھی قسمت کا مارا فوج میں بھرتی ہوا اور ٹریننگ کے بعد اپنے دم توڑنے کی جگہ مدراس پہنچا۔
مرگ ناگہانی کا شکار ہونے کے بعد قواعد کے مطابق اس کا پوسٹ مارٹم ہوا‘ ازاں بعد چند شرائط پر میت ہندو ورثاء کے حوالے کر دی گئی‘ جنہوں نے اس مردہ وجود کو اپنے ہاتھوں سے آگ کے لپکتے شعلوں میں جھونک دیا“۔
(تحریر رائے کمال‘ ”غازی میاں محمد شہید“ ص 86-87‘ ضیاء القرآن پبلی کیشنز لاہور)
ڈاکٹر خواجہ عابد نظامی لکھتے ہیں:
”اگلے روز 17 مئی 1937ء کو غازی میاں محمد کو مقدمے کی تفتیش کے لیے پولیس کے حوالے کیا گیا۔ ابھی آپ دس دن پولیس کی حراست میں رہے تھے کہ
کمانڈر انچیف (جی۔ ایچ کیو) دہلی کا حکم آیا کہ میاں محمد پر فوجی قانون کے تحت مقدمہ چلایا جائے گا۔ غالباً حکام کو خدشہ تھا کہ شاید سول عدالت میں مقدمے کا فیصلہ حکومت کی منشاء کے خلاف ہو"۔
(ماہنامہ ”درویش“ لاہور، مئی ۱۹۹۴ء‘ ص ۵۶)
فوجی حکام کی خواہش تھی کہ مقدمہ کے فیصلے تک غازی صاحب کے والدین کو اطلاع نہ دی جائے لیکن صوبیدار ملک غلام محمد کو اس سازش کا علم ہو گیا۔ رائے محمد کمال رقم طراز ہیں:
”الغرض ۲۰ مئی ۱۹۲۷ء کو ٹیلی گرام کے ذریعے تلہ گنگ میں اس امر کی اطلاع پہنچی اور جناب غازی صاحب کے والد بزرگوار ۲۲ مئی کو رخت سفر باندھ کر روانہ ہوئے۔ چار دن راستے کی صعوبتوں اور سفر کی کوفتوں سے دوچار ہوتے ۲۶ مئی کو مدراس پہنچے۔ اگرچہ اس وقت مذکورہ پلٹن کے صوبیدار میجر فضل خاں سکنہ چکوال تھے اور معاملے کی نوعیت بھی اس کی متقاضی تھی مگر ہندوؤں اور انگریزوں کی خوشنودی حاصل کرنے کی خاطر حضرت غازی میاں محمد صاحب کے والد محترم کو پلٹن میں رہائش کی سہولت نہ دی گئی۔ حالانکہ وہ خود بلوچ رجمنٹ کے پنشنر صوبیدار تھے۔ یہی نہیں بلکہ اس علاقے سے متعلق کئی جونیئر عہدیدار بھی پلٹن میں موجود تھے، جن کے ملک غلام محمد صاحب کے ساتھ خاندانی تعلقات استوار تھے اور بعض غازی صاحب کے قریبی دوستوں میں شمار ہوتے تھے مگر صوبیدار میجر فضل خاں کے ڈر سے وہ بھی احتیاط برتتے رہے۔ حیرانی کی بات یہ ہے کہ مذکورہ صوبیدار میجر نے کئی قسم کی رکاوٹیں اور مشکلات پیدا کیں۔ لہٰذا ملک صاحب کو مجبوراً مدراس صدر میں ایک مسلمان پوسٹ ماسٹر سید سیف علی شاہ صاحب کے ہاں مقیم ہونا پڑا۔ شاہ صاحب بڑے نیک دل اور صاحب درد مسلمان تھے۔ انہوں نے جس فراخ دلی اور محبت کے ساتھ غازی صاحب کے لواحقین کی رہائش کا بندوبست کیا‘ وہ مثالی ہے۔ ان کے ماتھے پر کبھی بل نہ پڑا۔ رویے میں اس قدر اپنائیت تھی کہ اپنا ہی گھر معلوم ہوتا۔ بنا بریں مدراس کے مقامی مسلمانوں نے بڑی ہمدردی کا ثبوت دیا۔ ان کی گہری دلچسپی اس بات سے بھی ظاہر ہوتی ہے کہ انہوں نے مقدمے کی پیروی کی پیشکش کی اور جملہ مصارف اپنے ذمہ لینے کی خواہش کا اظہار بھی کیا۔ گو اس کی زیادہ ذمہ داریاں غازی صاحب کے
والد بزرگوار نے خود ہی سنبھالے رکھیں لیکن ان کی ہمدردیوں کا اعتراف کیے بغیر چارہ نہیں۔ عدالتی چارہ جوئی اور مقدمے کے پیچیدہ مسائل سے نپٹنے کے لیے ایک مقامی مسلمان ایڈووکیٹ سید نور حسین شاہ کی خدمات حاصل کی گئیں۔ وکیل مذکور نے قانون کا امتحان لندن سے پاس کیا تھا اور ایک مدت تک وہیں وکالت بھی کرتے رہے۔ ان کا آبائی تعلق مدراس کے کسی قریبی گاؤں سے تھا۔ بہرحال ایڈووکیٹ موصوف بڑی دیانت داری اور فرض شناسی کے ساتھ یہ عظیم ذمہ داری نبھاتے رہے۔ ابتدائی سماعت کے لیے ان کی تیار کردہ فائل بتاتی ہے کہ انہوں نے بڑی وزنی اور قانونی نکات کی نشاندہی کی تھی۔ لیکن خدا کا کرنا ایسا ہوا کہ انہی دنوں ایک بار وہ اپنے گاؤں گئے تو خاندانی رنجش کی بنا پر کسی سنگ دل نے محافظ کی موجودگی میں ان کو چھرا گھونپ دیا۔ زخم کاری اور مہلک تھے، جس سے وہ رحلت فرما گئے۔
ان کے بعد یہ مقدمہ معروف قانون دان اصغر علی صاحب ایڈووکیٹ کے سپرد کیا گیا۔ یہ بھی ولایت کے تعلیم یافتہ تھے۔ دلچسپی کا باعث یہ ہے کہ قانون دان طبقہ کے برخلاف مذکورہ دونوں وکیل نہایت مخلص ثابت ہوئے۔ انہوں نے پیشیوں کے عوضانہ میں ایک پائی کا مطالبہ بھی نہ کیا، بلکہ آمد و رفت اور کیس کی تیاری میں اٹھنے والے بیشتر اخراجات بھی اپنی گرہ سے ادا کرتے رہے }
تمہاری یاد تھی تم تھے یا کوئی سایہ تھا
(”غازی میاں محمد شہید“ مطبوعہ ضیاء القرآن پبلی کیشنز لاہور)
مقدمے کی کارروائی:
رائے محمد کمال لکھتے ہیں:
”مقدمے کی باقاعدہ کارروائی کا آغاز ہونے سے پہلے فوج کے قانون کے مطابق ابتدا ۳۱ مئی سے ۶ جون ۱۹۲۷ء تک انکوائری ہوتی رہی، جو عوامل جزئیات اور تفصیلات پر محیط تھی۔ چھ جون کو دماغی امراض کے ماہر نے غازی صاحب کا ڈاکٹری معائنہ کیا اور رپورٹ میں لکھا کہ ”میری رائے میں ان کو ۔۔۔۔۔۔ ایسا عارضہ لاحق ہے جس کے باعث یہ عارضی طور پر جذبات سے
مغلوب ہو جاتے ہیں۔ اس دوران یہ غلط اور صحیح میں تمیز نہیں کر سکتے۔ یہ فعل بھی ایسی ہی صورت حال میں سرزد ہوا ہے۔
۱۹ جون کو گورنمنٹ مینٹل ہسپتال مدراس کے سپرنٹنڈنٹ نے غازی صاحب کو چیک اپ کیا‘ جن کی سفارش پر انہیں ۲۵ جون سے ۲۴ جولائی تک ایک ماہ کے لیے مینٹل ہسپتال میں رکھا گیا۔ جب آپ ہسپتال میں داخل ہوئے‘ اس روز ان کا وزن ۱۳۳ پونڈ تھا۔ ایک ماہ کے بعد ایک پونڈ مزید بڑھ چکا تھا۔ ڈاکٹر صاحب نے اپنی تفصیلی رپورٹ میں اندراج کیا ”میں نے پورا مہینہ میاں محمد کو ٹیسٹ کیا۔ نفسیاتی جائزہ لیا‘ چھپ کر دیکھا اور ظاہراً بھی‘ لیکن اس عرصے میں یہ کبھی بھی فکر مند یا سوچ بچار کرتے نہیں پائے گئے۔ یہی وجہ ہے کہ ایک ماہ میں ان کا وزن ایک پونڈ بڑھ گیا ہے۔ اگر ان کو یہ فکر ہوتی کہ میں قتل کے مقدمے میں ملوث ہوں اور خدا جانے میرا کیا حشر ہو گا تو کسی نہ کسی وقت تو ضرور فکر مند یعنی پریشان ہوتے۔ اس الجھن میں ان کا وزن کم ہوتا‘ نہ کہ زیادہ۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ انہیں ہرگز کوئی فکر نہیں کہ انہوں نے کیا کیا یا ان کے ساتھ کیا معاملہ ہو گا؟ مزید یہ کہ جب ”چرن داس“ ایک ہی گولی لگنے سے مر گیا تھا تو ساری گولیاں چلانے اور پھر سنگین سے زخم لگانے کی کوئی ضرورت نہ تھی اور ایسی حالت میں جب کوئی دیکھنے والا بھی نہ تھا‘ یہ اپنی جان بچانے کی کوشش کرتے لیکن ایسا نہیں کیا گیا۔ میرا تجزیہ یا میڈیکل کا تجزیہ یہی بتاتا ہے کہ ارتکاب فعل جذباتیت کا اثر ہے اور تمام معاملہ جذباتی نوعیت کا ہے۔ اس میں سنجیدگی اور پروگرام کا قطعاً کوئی عمل دخل نظر نہیں آتا“۔
طبی معائنوں کے بعد غازی صاحب کا جنرل کورٹ مارشل ۱۶ اگست کو شروع ہوا اور لگاتار پانچ دن ۲۰ اگست ۱۹۳۷ تک کارروائی ہوتی رہی۔ کل اٹھارہ گواہوں کے بیانات قلم بند ہوئے۔ دیگر گواہان کے علاوہ تین ڈاکٹروں کی شہادت بھی ریکارڈ پر آئی۔ جرح کے دوران انہوں نے متفقہ موقف اختیار کیا کہ ”اس آدمی نے جو کچھ کیا ہے‘ ہماری رائے میں وقوعہ کے وقت اسے اپنے جذبات پر قابو نہ تھا“۔ مگر غازی صاحب اپنے سابقہ بیان پر ڈٹے رہے اور کہا ”میں نے جو کچھ کیا‘ خوب سوچ سمجھ کر کیا اور جان بوجھ کر کیا۔ کیونکہ چرن داس نے ہمارے رسول پاک ﷺ کی شان میں گستاخی کی تھی“۔
کورٹ مارشل کے دوران ان کو ایک وکیلانہ رائے دی گئی کہ آپ یہ کہیں کہ گولی چلانا
اپنی جان بچانے کو جوابی حملہ تھا لیکن غازی صاحب کسی قسم کی تاویل و تحریف پر رضامند نہ تھے۔ انہوں نے دو ٹوک جواب دیا ”میں اپنی جان بچانے کے لیے اس واقعے کو کوئی دوسرا رنگ نہیں دینا چاہتا۔ بلا عذر و معذرت جان حاضر ہے“۔ حسب ضابطہ کورٹ مارشل کے فیصلے کی توثیق کے لیے کاغذات انڈین آرمی کے کمانڈر ان چیف کے پاس بھیج دیے گئے‘ جو ان دنوں موسم گرما کے سبب شملہ میں ٹھہرا ہوا تھا۔
(”غازی میاں محمد شہید“ ص ۹۱-۹۰‘ مطبوعہ ضیاء القرآن پبلی کیشنز‘ لاہور)
مقدمے کا فیصلہ:
رائے کمال لکھتے ہیں: ”آئندہ ماہ ستمبر کی سترہ (۱۷) تاریخ کو کمانڈر انچیف نے حسب توقع سزا کی منظوری دے کر کاغذات مدراس بھیج دیے۔ ۲۳ ستمبر ۱۹۳۷ کو فوجی رواج کے مطابق پلٹن میں غازی میاں محمد صاحب کو سزائے موت کا فیصلہ سنایا“۔
(”غازی میاں محمد شہید“ ص ۹۲)
میری ہزار جان ہو‘ قربان مصطفیٰ ﷺ
اپیل نامنظور:
رائے محمد کمال اس کی صراحت بدیں الفاظ کرتے ہیں: ”غازی موصوف کے باپ ملک غلام محمد صاحب پینشنر صوبیدار نے ۵ اکتوبر ۱۹۳۷ء وائسرائے ہند کے پاس ”دہلی“ میں اپیل کی‘ جو مسترد کی گئی۔ ازاں بعد رحم کی اپیل بھی نامنظور ہوئی۔ آخر کار اسی وقت لاہور ہائی کورٹ کے مشہور مسلمان وکیل ڈاکٹر شیخ محمد عالم کی وساطت سے ٹی ایل ولسن کمپنی کو متعلقہ کاغذات کو بذریعہ ہوائی ڈاک ارسال کیے گئے کہ وہ پریوی کونسل لندن میں اپیل دائر کریں۔ ان دنوں ہوائی ڈاک پر بھی پچھتر روپے خرچ اٹھتا تھا۔ یاد رہے کہ غازی علم الدین شہید کی اپیل میں بھی اسی کمپنی نے معاونت کی تھی۔ الغرض ۳۰ نومبر ۱۹۳۷ کو پریوی کونسل میں اپیل دائر کی گئی۔ مسٹر پرنگل‘ جو
برطانیہ کے مشہور اور کامیاب ترین وکیل تھے‘ نے اس کی پیروی کی۔ (غالباً یہی مسٹر پرٹگل تھے‘ جنہوں نے پاکستان میں مولوی تمیز الدین مرحوم سپیکر آئین ساز اسمبلی کے مشہور مقدمے میں اپنی قانون دانی کا سکہ بٹھایا تھا) پریوی کونسل نے بھی مختصر سماعت کے بعد اس کیس کی فائل پر ”نامنظور“ کے الفاظ لکھ دیئے اور ۲۱ فروری ۱۹۳۸ء کو اپیل رد کیے جانے کی باضابطہ طور پر اطلاع دی گئی“۔
(”غازی میاں محمد شہید“ ص ۹۳ - ۹۴)
رائے کمال اپیل کے نکات اور اہمیت بدیں الفاظ نقل کرتے ہیں:
”اپیل کا وہ مسودہ جو شہنشاہ معظم (برطانیہ) کی عدالت میں بوساطت پریوی کونسل زیر بحث لایا گیا‘ بارہ نکات پر مشتمل ہے۔ اس سے حالات و واقعات کو سمجھنے میں خاصی مدد ملتی ہے۔ یہ فائل جے۔ ایم پرٹگل کے زیر نگرانی تیار کی گئی تھی۔ اس کے مندرجات حسب ذیل ہیں:
- ۱۔ اپیل کنندہ ۳ بٹالین ۱۰ بلوچ رجمنٹ انڈین آرمی میں سپاہی ہے۔ وہ
۱۹۳۵ء میں فوج میں بھرتی ہوا۔ اس کے فوجی کاغذات ظاہر کرتے ہیں کہ دوران سروس اس کا کردار مثالی رہا۔
- ۲۔ ملزم (میاں محمد) اپنے ساتھی سپاہی ”چرن داس“ جو کہ اس رجمنٹ کا
رکن تھا‘ کے مقدمہ قتل میں ۳۰ اگست ۱۹۳۷ء کو تھامس مونٹ مدراس میں جنرل کی فوجی عدالت سے سزائے موت کا مستحق ٹھہرایا گیا۔ ملزم کو بوساطت کمانڈر انچیف انڈین آرمی ۱۷ ستمبر ۱۹۳۷ء کو انڈین آرمی ایکٹ نمبر ۸ اور ترمیم شدہ ایکٹ نمبر ۳۳ (۱۹۳۴ء) کے تحت مستوجب سزا ٹھہرایا گیا۔
- ۳۔ عائد شدہ الزامات و واقعات کی تفصیل درج ذیل ہے:
”۱۴ مئی ۱۹۳۷ء کی ایک شام جب کہ نو سپاہیوں پر مشتمل ایک دستہ‘ جن میں ایک بگلر‘ ایک لانس نائک اور ایک حوالدار میجر بھی تھا‘ تھامس مونٹ مدراس کے قلعہ منرو بریکس پر حفاظتی دستہ کی حیثیت سے مقرر کیے جانے والے تھے۔ حفاظتی دستہ کو پانچ بجے شام متعین ہونا تھا۔ تین سپاہیوں کو قلعے کے مختلف مقامات پر متعین کیا گیا۔ جب کہ ان کی ڈیوٹی ساڑھے چھ بجے سے لے کر آٹھ بجے شام تک تھی اور سپاہی میاں محمد بھی اس پہلی شفٹ میں شامل تھا۔ وہ آٹھ بجے وہاں سے فارغ ہوا جب کہ مقتول چرن داس کو دوسری شفٹ میں آٹھ بجے وہاں پہنچنا
تھا۔ قاتل مذکور ڈیوٹی سے فارغ ہوا، بندوق رکھی اور لیٹ گیا۔ وہ ایک گھنٹے کا تین چوتھائی (۴۵ منٹ) حصہ وہاں لیٹا رہا۔ تب وہ اچانک اٹھا، گارڈ روم سے باہر دوڑا، اپنی بندوق سے چرن داس، جو کہ متعین ڈیوٹی تھا، پر پے در پے فائر کھول دیا، جس سے وہ موت کے گھاٹ اتر گیا۔ قاتل نے حوالدار میجر اور بگلر کے جائے موقع پر پہنچنے کی بھی کوئی پرواہ نہ کی۔ تب اس نے اپنی رائفل رکھی اور صوبیدار میجر کے پیش ہو گیا۔ میجر ہاروے، جو کہ اس بٹالین کے آفیسر کمانڈنگ تھے، ان کو بلا لیا گیا۔ جمعدار ہیڈ کلرک جو کہ میجر کی معیت میں تھا، نے بیان کیا ہے کہ جب اپیل کنندہ سے اس بارے میں پوچھا گیا تو اس نے یوں وضاحت کی کہ ”ساڑھے پانچ بجے جب دستہ متعین ہوا تو ایک ایسا آدمی، جس کا میں نام نہیں جانتا تھا لیکن شکل سے پہچانتا ہوں، نے نبی اکرم ﷺ کے بارے میں ”دفع کرو“ کے نازیبا الفاظ کہے اور منع کرنے کے باوجود متواتر اس کی رٹ لگائے رکھی“۔ بعد ازاں سب اسسٹنٹ سرجن، جو کہ انڈین میڈیکل ہسپتال سے متعلق تھا، کچھ دیر بعد کیپٹن ”اش“ کے ساتھ، جو ہسپتال کے کمانڈر ہیں، پہنچے۔ انہوں نے اس امر کی تصدیق کی کہ مقتول نے ہی یہ الفاظ بولے تھے:
- ۴۔ اس کے بعد ملزم کو گرفتار کر لیا گیا اور کیس کی سماعت ۳۱ مئی، ۱ جون، ۳
جون، ۴ جون اور ۶ جون ۱۹۳۷ء کی تاریخوں کو ہوتی رہی۔
- ۵۔ ۶ جون کو پیشی کے بعد ملزم کا میجر میکڈوگل جو کہ ذہنی امراض کے مغربی
کمانڈ کے سپیشلسٹ تھے، سے معائنہ کروایا گیا۔ انہوں نے اس بارے میں جو خفیہ رپورٹ تیار کی، سے ظاہر ہوتا ہے کہ ملزم مذکور انتہائی جذباتی حالت میں تھا اور اس کی تمیز کھو چکا تھا کہ وہ کیا کر رہا ہے؟
- ۶۔ ۱۹ جون ۱۹۳۷ء کو ملزم کا دوبارہ ذہنی طبی معائنے کی خاطر گورنمنٹ
ذہنی امراض کے ہسپتال کے انچارج سپرنٹنڈنٹ کے پاس ۲۵ جون سے ۲۴ جولائی تک رکھا گیا۔ یہ متعلقہ ڈاکٹر کی سفارش پر ہوا
- ۷۔ قاتل مذکور کا معائنہ ۸ اگست اور ۱۳ اگست کو پھر ماہر امراض کے
ڈاکٹروں سے بھی کروایا گیا۔
- ۸۔ جیسا کہ پیراگراف نمبر ۴ میں عدالت ماتحت کے تاثرات ہیں کہ میجر
کمانڈنگ بٹالین کی چارج شیٹ سے ظاہر ہوتا ہے کہ ۱۶ مئی ۱۹۳۷ء کو تھامس مونٹ
مدراس کے قلعے پر سپاہی نمبر ۱۴۶۳، جس کا نام چرن داس تھا، کی موت واقع ہوئی۔ اس وقت چارج سیکشن ۴۱ ایکٹ جو کہ فوجی کورٹ مارشل عدالت کی رپورٹ میں ملزم نے آپے سے باہر ہو کر فوجی احکامات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے اقدام قتل کیا ہے۔
- ۹۔ ۲ اگست ۱۹۳۷ء کو ضلع مدراس کے بریگیڈئیر کمانڈر نے کیس ہذا ۱۹ اگست
کو جنرل کورٹ مارشل مع گواہان بھجوا دیا اور مقدمہ ۱۶ اگست سے ۲۰ اگست تک فیصلے کی خاطر عدالت مذکور میں زیر سماعت رہا۔
- ۱۰۔ سیکشن نمبر ۷ (۲۲) قانون جو کہ لاگو کیا گیا اور انڈین پینل کوڈ (مخصوص
جیوری) اور قانون گواہی نمبر ۸۸ جو کہ ایک دوسرے کے مشابہ ہیں، کے تحت گواہیاں قلم بند کی گئیں۔ قانون کی زیر دفعہ ۱۱۳ حکومت برطانیہ کی طرف سے کیس کی سماعت ہوئی اور اسی قانون کے جزو چار جو کہ کورٹ مارشل کا حصہ ہے اور ہندوستانی عدالت میں عام مقدمات سننے کا بھی مجاز ہے، میں سرکاری طور پر گواہیاں مکمل کیں اور ملزم کو صفائی کا موقع دیا گیا اور اسے کہا کہ اگر تمہارا کوئی گواہ ہو تو عدالت میں پیش کیا جائے۔ معذوری کی شکل میں عدالت نے رسمی چھان بین کے بعد فیصلہ سنا دیا۔ ۱۲۹ بی قانون تعزیرات، جس میں حکومت برطانیہ نے جولائی ۱۹۳۵ء میں نظریہ ضرورت کے تحت ترمیم کی تھی، لاگو کیا گیا اور اس میں وضاحت کی کہ ”اب قاتل کی طرف سے کسی قسم کی کوئی گواہی قابل قبول نہیں ہو گی۔“
- ۱۱۔ پس مقدمہ سرکار وکیل کے دلائل اور اٹھارہ گواہان پر مشتمل بیانات،
جن کی وضاحت پیراگراف نمبر ۳ میں ہو چکی ہے اور قاتل کے قریب کھڑے ہوئے ساتھی کی اس کے حق میں گواہی سے معذوری پر جب کہ مقتول گولی کھا کر گرا۔
ملزم کی زبانی پتہ چلتا ہے کہ واقعے کی رات مقتول کے توہین آمیز کلمات سے وہ مشتعل تھا۔ اس کی بنا پر اسے مختلف ذہنی معائنوں سے گزارا گیا جن کی وضاحت پیراگراف نمبر ۵ میں درج ہے اور دو مختلف ڈاکٹروں کی آراء پیراگراف نمبر ۷ میں نقل ہیں۔
مندرجہ بالا رپورٹ سے ظاہر ہوتا ہے کہ ملزم اس قدر جذباتی تھا کہ وہ اچھے اور برے کی تمیز کھو بیٹھا تھا اور ظاہر ہوتا ہے کہ وہ نفسیاتی طور پر غضبناک روپ
دھار چکا تھا۔ جیسا کہ ایکٹ نمبر ۱۴۹ بی کے تحت پیراگراف نمبر ۶ میں وضاحت ہے۔ قطع نظر اس کے سرکاری ماہر دماغ کے سپرنٹنڈنٹ کی رپورٹ اور گواہوں کے بیانات کے پیش نظر ملزم کے قتل عمد کے ارتکاب کے ضمن میں اور سرکاری وکیل کی جرح نمبر ۱۹ کے تحت پیراگراف نمبر ۲ کی رو سے سزائے موت کا مستحق قرار دیا گیا ہے۔
- ۱۲ - دفعہ ۱۴۹ بی میں ماضی قریب میں ترمیم کی گئی تھی۔ اس پر عدالت کی توجہ مبذول
کروائی گئی ہے۔ لیکن یہ نکتہ اس وجہ سے قابل اعتنا نہ سمجھا گیا کہ مقدمے کی بحث آخری مراحل میں ہے۔ سرکاری وکیل نے پرزور دلیل دیتے ہوئے کہا کہ معاملہ سراسر جذباتی نوعیت کا ہے۔ اس کے علاوہ مقدمے کی صفائی میں کسی قسم کی کوئی گواہی موجود نہیں ہے اور ایکٹ نمبر ۱۴۹ بی ارتکاب جرم کے مطابق ملزم کو سزا کا مستحق ٹھہرایا گیا"۔ (پس مندرجہ بالا حقائق کو سامنے رکھتے ہوئے عدالت نے سزائے موت سنائی تھی)
جب کشتی ڈوبنے والی تھی ساحل پہ تماشا عام رہا
("غازی میاں محمد شہید" ص ۹۹-۹۵، مطبوعہ ضیاء القرآن پبلی کیشنز، لاہور)
رائے محمد کمال میجر غلام یٰسین کے حوالے سے لکھتے ہیں:
"ہم اکثر حضرت میاں محمد صاحب کی ملاقات کو جاتے۔ عموماً عصر کے وقت جانا ہوتا یا چھٹی کے روز قبل از دوپہر حاضر ہوتے۔ جب بھی گئے، ان کو تلاوت قرآن کرتے پایا۔ ہم زیارت کے لیے جاتے تو قرآن حکیم عارضی طور پر بند فرما لیتے۔ ہاتھ وہیں رکھا رہتا، جہاں سے پڑھ رہے ہوتے۔ جیسے منتظر ہوں کہ جونہی ہم جائیں، پھر سے بلا تاخیر تلاوت شروع کردیں"۔
("غازی میاں محمد شہید" از رائے محمد کمال، ص ۱۰۴)
میجر غلام یٰسین ہی کی یادداشتوں کے حوالے سے رائے محمد کمال آگے لکھتے ہیں:
"عید الفطر آئی تو حضرت قبلہ غازی صاحب کو ہماری پلٹن میں نماز عید کے لیے شامل ہونے کی اجازت مل گئی۔ میں ان صفوں میں بیٹھا تھا، جہاں میاں محمد صاحب کے لیے جگہ بنوائی گئی تھی اور نماز کے فوراً بعد ان کو چلے جانا تھا۔ وہ اپنے اردلی اور سنتری کے ہمراہ آئے۔ دائیں بائیں چند نمازیوں سے مصافحہ کیا۔ ان خوش نصیبوں میں یہ عاجز بھی شامل تھا۔ آپ کے چہرے پر وہ وقار اور نور و مسرت کی بہار تھی کہ آج بھی وہ منظر یاد آئے تو آنکھیں پرنم ہو جاتی ہیں"۔
(”غازی میاں محمد شہید“ از رائے کمال‘ ص۱۰۷)
ڈاکٹر خواجہ عابد نظامی ”غازی کی نماز عید“ کی تفصیل لکھتے ہیں:
”عید کے روز غازی نے اس خواہش کا اظہار کیا کہ وہ عید کی نماز عید گاہ میں مسلمانوں کے ساتھ پڑھنا چاہتے ہیں۔ بڑی ردو قدح کے بعد جیل کے چند غیرت مند مسلمان فوجی افسروں کی ضمانت پر حکام نے اس کی اجازت دی۔ غازی کی سزائے موت کی خبر اب تک پورے ہندوستان میں مشہور ہوچکی تھی۔ حکام نے بہت کوشش کی کہ نماز عید کے موقع پر مسلمانوں کو غازی کی آمد کا علم نہ ہو‘ لیکن عید گاہ میں موجود نمازیوں کو اس کا علم ہو گیا۔ نقص امن کا خطرہ پیدا ہونے لگا تو غازی موصوف کھڑے ہو گئے اور مسلمانوں سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا:
”پیارے بھائیو! اپنی صفوں میں اتحاد پیدا کرو۔ آپس میں بھائیوں کی طرح اور پر امن رہو۔ میں پیارے رسول حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ایک ادنیٰ غلام ہوں۔ مجھ میں اس کے سوا کوئی خوبی نہیں کہ میرے ہاتھوں سے شان رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر ناروا حملہ کرنے والے ایک مردود کو قرار واقعی سزا ملی ہے۔ تاجدار مدینہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شان میں ذرا سی توہین بھی برداشت نہیں کی جاسکتی۔ آئندہ بھی کسی گستاخ نے یہ حرکت کی تو ناموس رسالت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر فدا ہونے کے لیے ہزاروں جانثار مقتل کی طرف بڑھیں گے۔ تمام بھائی دعا کریں کہ اللہ کریم راضی ہو اور بارگاہ رسالت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں مجھ ناچیز کی جان جیسی یہ حقیر قربانی قبول ہو جائے۔“
(ماہنامہ ”درویش“ لاہور‘ مئی ۱۹۹۴ء ص ۵۸)
رائے محمد کمال اپنی تصنیف میں آگے چل کر غازی کے مذکورہ خطاب میں چند مزید الفاظ کا اضافہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
”یہ بات ہر کس و ناکس کے علم میں آجانی چاہیے کہ ہندو اور مسلمان دو الگ الگ قومیں ہیں۔ مجھے یقین کامل ہے کہ میری قربانی سے دور رس نتائج مرتب ہوں گے۔ میرا کردار کسی تنہا فرد کا کردار نہیں‘ بلکہ پوری قوم کا کردار ہے۔ گستاخوں اور محبوں کا باہم رہنا بہت مشکل نظر آتا ہے۔ تمام بھائی دعا کریں کہ خداوند کریم راضی ہو اور بارگاہ رسالت میں مجھ ناچیز کی جان جیسی حقیر سی قربانی قبول ہو جائے۔ کیونکہ یہ میری آپ لوگوں سے شاید آخری ملاقات ہو۔ میں ہر ایک سے
ملنا چاہتا ہوں"۔ اس کے بعد غازی صاحب تمام بھائیوں سے ملے اور احوال دریافت فرمایا۔ جب میرے نزدیک آئے، ہاتھ ملاتے وقت ہم پر ایسی رقت انگیز کیفیت طاری ہوئی کہ دونوں کوئی بات نہ کر سکے"۔
(غازی میاں محمد شہید" ص ۱۱۴- ۱۱۵)
عید الاضحیٰ:
"دوسری عید آئی تو اجازت نہ مل سکی۔ کیونکہ ہندوؤں نے اس پر زبردست احتجاج کیا تھا"۔
("غازی میاں محمد شہید" از رائے محمد کمال‘ ص ۱۱۵)
ایک ملاقات:
میجر غلام یٰسین کے حوالے سے رائے محمد کمال رقم طراز ہیں:
"ایک ملاقات کے دوران میں نے منصور حلاج کا قصہ سنایا کہ حضرت منصور کو جب قاضی القضاء نے سزائے موت سنائی تو اس فیصلے پر عملدرآمد کے انتظار کی مدت میں ایک رات انہوں نے خواب میں دیکھا کہ جناب رسالت مآب ایک خوبصورت خیمے کے نیچے آرام فرما رہے ہیں۔ خیمہ کے بالائی پردے میں ایک سوراخ ہے، جہاں سے دھوپ کی کرنیں چھن چھن کر آپ کے رخ انور پر پڑ رہی ہیں۔ شیخ منصور بار بار کوشش کرتے ہیں کہ یہ سوراخ بند ہو جائے لیکن بند نہیں ہوتا۔ اچانک حضرت منصور بن حلاج کو اشارہ ہوتا ہے کہ موت کے کنارے پر پہنچ کر انتظار کر۔ جان کی قربانی پوری ہوگی تو یہ سوراخ بھی بند ہو جائے گا۔ یہ حکایت سن کر غازی میاں محمد صاحب کا چہرہ دمک اٹھا۔ آنکھوں میں ایک شعلہ لپکتا دکھائی دیا۔ کانپتے ہونٹوں سے کہنے لگے "تاخیر مجھ سے تو نہیں ہوئی۔ میں تو کب سے جان حاضر کیے بیٹھا ہوں"۔ غازی میاں محمد صاحب عشق مصطفیٰ کے پیکر اور فنا فی الرسول تھے۔ چند دن بعد یہ قافلہ عشق منزل پہ پہنچ گیا"۔
پوری ہو سکتی ہے لیکن سر کٹتا ہے
("غازی میاں محمد شہید" ص ۱۰۸-۱۰۷)
تو تیر آزما ہم جگر آزمائیں
گوروں کے بچے غازی صاحب سے اس قدر مانوس تھے کہ وہ کھیلتے کھیلتے آپ کے پاس پہنچ جاتے اور پہروں کوٹھڑی کے سامنے کھڑے رہتے۔ انگریز افسروں کی بیگمات کے نزدیک یہ ایک عجوبہ تھا کہ کوئی شخص موت کو اس قدر قریب پا کر بھی خوش و خرم رہے۔ اس کے ہونٹ مسکراہٹ کی آماجگاہ بنے رہیں اور وہ ہر طرح سے مطمئن ہوں۔ اس لیے وہ آہنی سلاخوں کے پیچھے سزائے موت کے منتظر قیدی کی تصویریں بنانے آجاتیں کہ البم کی زینت بنا سکیں۔ تاکہ اپنے اندر خوشیوں کو سمیٹے ہوئے یہ پوز ہم وطنوں کو دکھا کر حیرت میں غرق کر دیں“۔
("غازی میاں محمد شہید" ص ۱۱۴' از رائے محمد کمال)
ماں سے ملاقات اور درخواست:
”غازی صاحب نے اپنی والدہ محترمہ سے عرض کیا ”ماں! میں نے کوئی ایسا کام نہیں کیا‘ جس سے آپ کو ندامت یا شرمندگی محسوس ہو۔ بلکہ میں نے جو کچھ کیا ہے‘ اس پر آپ کو خوش ہونا چاہیے۔ میں چاہتا ہوں کہ جب آپ مجھے ملنے آئیں تو رویا نہ کریں“۔
("غازی میاں محمد شہید" ص ۱۲۴' از رائے محمد کمال)
ایام اسارت میں معمول:
”غازی صاحب نماز پابندی سے ادا کرتے تھے۔ واقعہ قتل سے قبل کے بارے میں کچھ نہیں کہا جاسکتا‘ البتہ اس کے بعد انہوں نے فرض نماز کبھی ترک نہیں کی۔ ہمہ وقت تلاوت قرآن پاک میں مشغول رہتے تھے۔ رمضان المبارک کا پورا مہینہ تو انہوں نے جاگ کر گزار دیا۔ آپ نوافل ادا کرتے تھے اور درود شریف کے ورد میں مگن رہتے“۔
("غازی میاں محمد شہید" از رائے محمد کمال‘ ص ۱۱۴)
آخری تحریر سے اقتباس:
شہادت سے چار روز قبل (۷ اپریل ۱۹۳۸ء کو) غازی میاں محمد نے اپنے حقیقی بھائی ملک نور احمد کو ایک خط لکھا۔ اس میں بعض وصیتیں بھی لکھیں۔ آپ نے لکھا:
”خداوند کریم کی رضا پر راضی رہنا‘ ہر حال میں صبر کرنا‘ کسی پر تمہارا غم ظاہر نہ ہو۔ میں قسم کھا کر کہتا ہوں کہ میرا دل اس قدر خوش ہے کہ جس کا اندازہ کوئی دوسرا آدمی نہیں کر سکتا۔ میری دلی آرزو یہی تھی‘ جو اللہ کریم نے پوری کر دی۔ میں گناہ کے سمندر میں غرق تھا کہ میرے مالک نے رحمت کے دروازے کھول دیے۔ اس مالک کی مہربانی کا ہزار ہزار شکریہ“۔
(”ڈاکٹر خواجہ عابد نظامی‘ ماہنامہ ”درویش“ لاہور‘ مئی ۱۹۹۴‘ ص ۵۸)
۸ اپریل ۱۹۳۸ء:
رائے محمد کمال رقم طراز ہیں:
”غازی صاحب میاں محمد کی شہادت کا دن قریب آچکا تھا۔ کوائف کی خانہ پری کے لیے رسم و رواج کے مطابق ۸ اپریل ۱۹۳۸ء کو ان کا وزن کیا گیا‘ جو ۱۳۸ پونڈ ہوا۔ جب آپ مقدمہ قتل میں گرفتار ہوئے تھے تو جون‘ جولائی ۱۹۳۷ء میں غازی صاحب کا وزن ۱۳۶ پونڈ تھا۔ گویا دوران اسیری اس جانباز پروانے کے وزن میں دو پونڈ کا مزید اضافہ ہوا۔ ڈاکٹر اس خلاف قیاس حقیقت پر حیران ہیں اور طبیب خاموش! وزن کا بڑھ جانا غم کی علامت نہیں‘ خوشی کا ثبوت ہے“۔
(”غازی میاں محمد شہید“ ص ۱۴۳)
یہی ہے رخت سفر میر کارواں کے لیے:
رائے محمد کمال لکھتے ہیں:
”وقت شہادت قریب آیا‘ روانگی کا دن قریب آیا۔ جب انچارج دستہ وہاں پہنچا‘ جہاں غازی صاحب قیام پذیر تھے تو آپ تعظیماً کھڑے ہوگئے اور اپنے والد صاحب کو کچھ اشیاء دے کر فرمایا کہ یہ فلاں فلاں کو دے دیں۔ اس وقت بھی ان کا حوصلہ قابل دید تھا۔ ۱۲ اپریل کی رات آپ مدراس کی سول جیل میں لے جائے
گئے۔ شہادت گاہ تک غازی صاحب کی سواری کے لیے ایک فوجی ٹرک کا انتظام کیا گیا تھا۔ ٹرک میں انگریز اور انڈین آفیسر بنچوں پر بیٹھ گئے جب کہ غازی میاں محمد صاحب درمیان میں رکھی گئی ایک کرسی پر تشریف فرما تھے۔ اس قافلہ میں چھ باڈی گارڈ تھے‘ جن کے انچارج (کیپٹن) نظام خاں صاحب تھے۔ وہ اس واقعہ کے عینی شاہد ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ گیارہ اپریل اور بارہ اپریل کی درمیانی شب جیل کی کوٹھڑی میں غازی میاں محمد صاحب اپنے والد اور پلٹن کے مولوی صاحب کے ساتھ رات بھر تلاوت قرآن حکیم میں مشغول رہے۔ ۱۲ اپریل ۱۹۳۸ء کو علی الصبح آپ نے غسل فرمایا‘ سفید لباس زیب تن کیا‘ نماز فجر ادا کی‘ سر پر کلاہ باندھ کے اپنی پگڑی والد صاحب کے سپرد کی۔ سرکاری طور پر غازی صاحب کا ایک فوٹو لیا گیا‘ جو بعد ازاں آپ کے ورثاء کے حوالے کیا گیا۔ اس میں آپ بے حد ہشاش بشاش نظر آتے ہیں۔ اس نوجوان کے متعلق یہ گمان نہیں ہو سکتا کہ موت کی طرف قدم بڑھا رہا ہے‘ بلکہ محسوس ہوتا ہے کہ شہید‘ منزل جاودانی کی طرف گامزن ہے۔
مسلمان ارکان کی ضمانت پر غازی صاحب کے والد بزرگوار اور ۱۳/ ۳ فرنٹیئر فورس کے مولوی صاحب آخری وقت تک جیل کے اندر موجود رہے مگر آپ کی والدہ محترمہ اور چھوٹے بھائی کو اندر جانے کی اجازت نہ دی گئی۔ چونکہ جملہ امور کی ذمہ داری کیپٹن نظام خاں صاحب کے حوالے تھی‘ انہوں نے کسی کی پرواہ نہ کرتے ہوئے خلاف قواعد ہر معاملہ آسان کر دیا۔ غازی صاحب کے والد محترم مقررہ وقت تک جیل میں موجود رہے۔ باپ بیٹے نے کمال صبر اور ضبط کا مظاہرہ کیا۔ قبلہ غازی علیہ الرحمۃ والد صاحب کے ساتھ نہایت تسلی اور دلیری سے باتیں کرتے رہے اور ان کا حوصلہ بڑھاتے رہے۔ مقررہ وقت پر بتایا گیا کہ اب قربانی کا وقت ہو گیا ہے تو غازی صاحب پہلے والد بزرگوار سے بغلگیر ہوئے اور پھر مولوی صاحب سے گلے ملے۔ ملک نور محمد صاحب کے بقول ”قبلہ والد صاحب پھانسی کے وقت کوٹھڑی میں بھی موجود تھے بلکہ کنٹوپ بھی انہوں نے اپنے ہاتھ سے بیٹے کو پہنایا تھا اور کلمہ شریف اور درود شریف کا ورد کرتے رہے تھے“۔ ایسے وقت میں روحانی سہارے کی ضرورت ہوتی ہے۔ شیر غازی صاحب شان و شوکت سے چلتے ہوئے تختہ دار پر جا کھڑے ہوئے۔ نعرۂ تکبیر بلند کیا۔ ایک بار
مدینہ منورہ کی طرف چہرہ اٹھا کے دیکھا اور بڑی عقیدت سے سر جھکا لیا۔ کلمہ شہادت کا ورد کرتے ہوئے پھانسی کا پھندا اپنے والد سے پکڑا، دو بار چوم کر اپنے گلے میں ڈال لیا۔ تھوڑی دیر بعد تختہ کھینچ دیا گیا۔ فضا اللہ اکبر کے فلک شگاف نعروں سے گونج اٹھی۔ آپ کے چہرے سے نور برستا تھا اور ماحول خوشبو سے معطر ہو گیا۔۔۔۔
یہ جان تو آنی جانی ہے، اس جاں کی تو کوئی بات نہیں
-------------------
لوگ آسان سمجھتے ہیں مسلماں ہونا
"بروز منگل ۱۰ صفر المظفر ۱۳۵۷ھ مطابق ۱۲ اپریل ۱۹۳۸ء صبح ٹھیک پانچ بج کر پینتالیس منٹ پر ہندوستان کا یہ خوش قسمت میکش طیبہ کے میخانے میں اپنی ساقی کے قدموں میں بیٹھا جام سے جام لنڈھا رہا تھا۔ ہشاش بشاش چہرے سے موت کے آثار تک عیاں نہ تھے۔ آپ تختہ دار پر تڑپے نہ گردن لٹکی۔ ہاں بائیں آنکھ ذرا سی کھلی تھی، جانے۔۔۔۔ کیوں۔۔۔۔۔۔؟ ڈیوٹی پر موجود ڈاکٹر بھی آپ کی شہادت کی تصدیق کر چکا تھا۔ نعش ورثاء کے حوالے کر دی گئی۔ شہادت کے وقت کھلتی ہوئی سفید رنگت والے خوبصورت جوان غازی میاں محمد شہید کی عمر صرف تئیس برس تھی۔"
(رائے محمد کمال، "غازی میاں محمد شہید" ص ۱۳۸)
رائے محمد کمال لکھتے ہیں:
"چونکہ شہر کے لوگوں کو معلوم تھا کہ آج غازی صاحب کی شہادت کا دن ہے، اس لیے ساری مسلمان آبادی امڈ آئی۔ وہ سب نماز جنازہ میں شامل ہونے کی سعادت حاصل کرنا چاہتے تھے۔ ان کی بڑی آرزو تھی کہ جنازے کو کندھا دے سکیں۔ صبح سات بجے کے قریب آپ کے جسد خاکی کو غسل دینے کے لیے شہر کی جامع مسجد میں لایا گیا۔ نماز جنازہ کے لیے نو بجے کا وقت مقرر تھا۔ کئی ہزار لوگ جمع ہو گئے۔ مسلمانوں کا جوش و خروش دیدنی تھا۔ میت کو جناز گاہ پہنچانے تک اہل مدراس اور نواحی بستیوں سے مسلمانوں کے قافلے آچکے تھے۔ شہر میں تو شاید ہی
کوئی مسلمان اس عظیم سعادت سے محروم رہا ہو۔ بناء بریں گرد و نواح سے رسول عربی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ان گنت نام لیوا اپنے شہید کی زیارت کے لیے کھنچے چلے آ رہے تھے۔ کالجوں اور سکولوں کے مسلمان طلباء عطر کی شیشیاں اور پھولوں کی چادریں لیے بغرض دیدار حاضر ہو رہے تھے۔ مسلمان خواتین بھی کسی سے پیچھے نہ تھیں۔ جنازہ کی نمازیں جامع مسجد ہی میں ادا کی گئیں۔ جنازے کے بعد مولوی میر عالم صاحب نے شہید موصوف کے والد صاحب کو مبارک باد دی۔ ان کے الفاظ یہ تھے:
”بیٹے کی شہادت مبارک ہو“
تین دفعہ ایسا کہا اور پھر زار و قطار رونے لگے۔
(”غازی میاں محمد شہید“ از رائے محمد کمال، ص ۱۴۱-۱۴۲)
از راہ عقیدت:
”میجر غلام یٰسین صاحب کا بیان ہے کہ تجہیز و تکفین کی سعادت کا فریضہ ہمیں نصیب ہوا تھا۔ ہم نے غازی و شہید کی قبر، مشہور بزرگ و ولی کامل حضرت پیر دستگیر ساویؒ کے پہلو میں پہلے ہی کھدوا رکھی تھی۔ یہ جگہ قبرستان کی انتظامیہ نے از راہ عقیدت پیش کی تھی۔ جہاں آپ کا مقبرہ واقع ہے۔ بقول ان کے یہ جگہ اگر کوئی بڑا بادشاہ بھی مانگتا تو نہ مل سکتی مگر ان کے لیے تو قبلہ سید المشائخ خود اشارہ فرما چکے تھے۔“
(”غازی میاں محمد شہید“ از رائے محمد کمال، ص ۱۴۲)
یہ تربتیں نہیں، تاریخ ہے زمانے کی
O
علامہ محمد بن اسماعیل حقی نے اپنی تفسیر روح البیان میں بڑی خوبصورت بات لکھی ہے: ”حضرت رابعہ عدویہ روزانہ ایک ہزار نفل پڑھا کرتی تھیں۔ لوگوں نے عرض کی! ”آپ اس قدر نوافل کیوں پڑھتی ہیں؟“ فرمایا ”میں ثواب کے لیے نہیں بلکہ میری تو خواہش یہ ہے کہ قیامت کے دن مجھ سے حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم خوش ہو جائیں اور انبیاء کرام سے فرمائیں کہ ”یہ میری
امت کی ایک عورت کے عمل ہیں“ اور جب شہداء ناموس رسالت آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے روبرو پیش ہوں گے تو آقا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کس شان سے فرمائیں گے کہ ”یہ میرے امتی ہیں“۔
جن کے مقدر پہ مقدر نازاں ہے‘ ان خوش بختوں میں ایک حسین نام ”غازی محمد عبداللہ شہید“ کا بھی لکھا گیا ہے۔
غازی محمد عبداللہ شہیدؒ :
”غازی صوفی عبداللہ کا تعلق جولاہا قوم سے تھا اور وہ موضع پٹی تحصیل و ضلع قصور کا رہنے والا تھا“۔
(تحریر ڈاکٹر محمد اختر چیمہ‘ بحوالہ ماہنامہ ”درویش“ لاہور‘ مئی ۱۹۹۴ء ص ۷۰)
جنہوں نے اس مجاہد کو دیکھا:
مولانا سید امین الحق صاحب ڈویژنل خطیب اوقاف نے ایک دفعہ دوران گفتگو پروفیسر علوی صاحب کے سامنے غازی عبداللہ کا آنکھوں دیکھا حلیہ اس طرح بیان کیا:
”اس کا چہرہ خوبصورت‘ رنگ گورا اور بھری بھری سیاہ داڑھی تھی‘ جو نہایت ہی بھلی لگتی تھی۔ جس وقت اسے باعث صد افتخار مہم کے لیے پروانہ ماموریت ملا تو عمر تیس بتیس سے متجاوز نہ تھی۔ گویا ایک لحاظ سے عین عالم شباب تھا۔ جب غازی عبداللہ کو اس امر ناگزیر پر مامور فرمایا گیا“۔
(تحریر ڈاکٹر محمد اختر چیمہ‘ بحوالہ ماہنامہ ”درویش“ لاہور‘ مئی ۱۹۹۴ء ص ۷۰)
گستاخ کون تھا:
ڈاکٹر محمد اختر چیمہ‘ پروفیسر ابوالفضل حسین علوی کے حوالہ سے رقم طراز ہیں:
”یہ واقعہ تقسیم برصغیر سے غالباً پانچ سال پہلے یعنی ۱۹۴۲ء کے لگ بھگ کا ہے۔ شاتم کا نام چہل سنگھ تھا۔ یہ شقی پہلے مسلمان تھا اور سنا ہے کہ اچھا خاصا پڑھا لکھا تھا مگر ایک سکھ عورت کے عشق میں ایسا مبتلا ہوا کہ بالکل ہی مت ماری گئی۔
اس عورت سے شادی کرنے کی خاطر مرتد ہو کر سکھ دھرم اختیار کر لیا اور اس کے گاؤں میں جا بسا‘ جو ضلع شیخوپورہ میں وارث شاہ کے گاؤں جنڈیالہ شیر خان کے قرب و جوار میں تھا۔ چپل سنگھ نے حق کو کیا چھوڑا‘ اس کے اندر بھری ہوئی خباثتیں باہر امڈ آئیں۔ سکھوں کے اکسانے پر وہ جگہ جگہ حضرت رسول اکرم پیغمبر اعظم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی شان اقدس میں دریدہ دہنی اور یاوہ گوئی کرنے لگا۔ گاؤں میں ساری آبادی سکھوں پر مشتمل تھی‘ جو بے حد مالدار‘ ثروت مند‘ خوش حال اور حکومت میں اثر و رسوخ کے مالک تھے۔ ادھر مسلمانوں کے صرف چند گھر آباد تھے۔ وہ بھی ضعیف و نادار اور نہایت کمزوری اور غریبی کی حالت میں تھے اور سکھوں کا مقابلہ کرنے کی استطاعت نہیں رکھتے تھے“۔
(ماہنامہ ”درویش“ لاہور مئی ۱۹۹۴ء ص ۷۴-۷۳)
یہ حق صرف اللہ کے رسول ﷺ کا تھا!
جب چپل سنگھ اور اس کی بیوی دلجیت کور نے سکھوں کے کہنے پر گستاخی رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا ارتکاب کیا تو ......
”اس حرکت سے آس پاس کے دیہات کے مسلمانوں کی سخت دل آزاری ہوئی۔ ان کی غیرت اسلامی جاگ اٹھی اور سارے علاقے میں ہیجان پھیل گیا‘ جس پر سکھوں نے مسلمانوں کے مجمع عام سے اس بے ہودہ اور ناپسندیدہ حرکت کی معافی مانگی مگر مسلمانوں کی تسلی و تشفی نہ ہوئی۔ مسلمان بضد تھے کہ جس نابکار و ناہنجار جوڑے نے اس گستاخی و بے حرمتی کا ارتکاب کیا ہے‘ وہ تو سامنے نہیں آیا‘ نہ ہی ان لوگوں نے معافی مانگی ہے اور نہ ہی ان کو کوئی احساس ندامت ہوا ہے۔ اس پر ایک دوسرے اجتماع کا اہتمام کیا گیا۔ اس میں اس بدکردار جوڑے نے بھی مسلمانوں سے معافی مانگ لی۔ البتہ سکھ مذہب کو ترک نہ کیا اور اس پر حسب سابق کاربند رہے“۔
(تحریر ایم۔اے حکیم ایڈووکیٹ‘ ماہنامہ ”درویش“ لاہور‘ مئی ۱۹۹۴ء ص ۷۲)
وضاحت:
ایم۔اے حکیم کی روایت کے مطابق دونوں میاں بیوی چپل سنگھ اور دلجیت کور گستاخی
کے مرتکب ہوئے اور دونوں نے غازی کے ہاتھوں سزا پائی جب کہ پروفیسر افضل حسین علوی کی روایت کے مطابق گستاخ صرف چہل سنگھ تھا۔ دوسری صراحت یہاں یہ مقصود ہے کہ اول الذکر راوی یہ واقعہ ۱۹۳۲ء کے دور کا بیان کرتے ہیں جب کہ آخر الذکر راوی اسے ۱۹۳۸ء کا بتاتے ہیں۔ (واللہ اعلم)
غازی عبداللہ سو رہے تھے کہ ان کا مقدر جاگ اٹھا:
پروفیسر افضل حسین علوی لکھتے ہیں:
”چہل سنگھ کے گاؤں سے کوسوں دور رہنے والے صوفی عبداللہ انصاری نے ایک رات خواب میں دیکھا حضور پر نور حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تشریف لائے اور فرمایا ”عبداللہ یہ مرتد مجھے دکھ پہنچا رہا ہے۔ اس کی زبان بند کرو“۔ اتنا فرما کر حضور سرور عالم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تشریف لے گئے۔ صوفی عبداللہ کی آنکھ کھل گئی۔ اس کے کانوں میں ابھی تک حضرت پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے الفاظ گونج رہے تھے۔ وہ اپنے اندر ایک عجیب قوت ایمانی اور جوش و جذبہ کھولتا محسوس کر رہا تھا“۔
(ماہنامہ ”درویش“ لاہور‘ مئی ۱۹۹۴ء ص ۷۴)
صدائے حق:
ایم۔ اے حکیم ایڈووکیٹ لکھتے ہیں:
”اس موقع پر غازی صوفی عبداللہ انصاری کی رگ حمیت پھڑکی۔ عبداللہ پٹی تحصیل قصور کا رہائشی تھا۔ ان دنوں چک ۴۴ شریف میں اپنے پیر خانے پر موجود تھا۔ وہ پکا مسلمان اور سچا عاشق رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تھا۔ اس نے مسلمانوں سے کہا کہ ان مرتدین نے جو گناہ عظیم کیا ہے‘ اس کی معافی تو اللہ پاک یا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سوا کوئی دوسرا شخص دینے کا مجاز و حق دار نہیں لیکن انہوں نے جو گستاخی شہنشاہ کونین صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی بابت کی ہے‘ اس کی سزا انہیں اس دنیا میں ملنی چاہیے اور یہ سزا انہیں میں دوں گا۔ میں
بحیثیت ایک ادنیٰ غلام سرکار مدینہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ان کو واصل جہنم کروں گا"۔
(ماہنامہ ”درویش“ لاہور ، مئی ۱۹۹۴ء ص ۷۲)
سوئے مقتل:
پروفیسر افضل حسین علوی لکھتے ہیں:
”وہ اٹھا اور کسی کو بتائے بغیر مرتد و مردود سکھ کے گاؤں کی طرف روانہ ہو گیا۔ غور کیجئے ایک تن تنہا مسلمان نوجوان سکھوں کے گاؤں جا رہا تھا، جو اپنی سفاکی، خون ریزی اور مجرمانہ سرگرمیوں کی وجہ سے ضلع بھر میں بدنام تھے اور جن کے سامنے مسلمان خود کو اتنا بے بس و بے کس پا رہے تھے کہ چہل سنگھ کی ہرزہ سرائیاں اور اپنے پیارے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی شان میں گستاخیاں اور گالیاں سن کر بھی خاموش رہے۔ وہ عبداللہ بادۂ عشق رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے سرشار حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے حکم کی تعمیل میں چلا جا رہا تھا۔ اسے نہ سکھوں کی کثرت اور طاقت کی پرواہ تھی اور نہ اپنی بے چارگی و کم مائیگی کا احساس و خیال۔ بس ایک ہی دھن اس کے سر پر سوار تھی کہ وہ کسی طریقے سے اپنے آقا و مولا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا فرمان بجا لائے اور آخرت میں سرخرو ہو جائے۔ صوفی عبداللہ اس دھن میں کھویا ہوا سکھوں کے اس گاؤں میں جا پہنچا۔ صبح کا وقت تھا۔ چہل سنگھ کے بارے میں دریافت کیا تو پتہ چلا کہ وہ گاؤں سے باہر کنوئیں پر ہے۔ غازی اسلام نے کنوئیں کا رخ کر لیا۔
چہل سنگھ کنوئیں پر بیٹھا تھا۔ بہت سے سکھ قریبی کھیتوں میں ہل چلا رہے تھے۔ کچھ اس بدباطن اور بدبخت سے ذرا ہٹ کر اسی کنوئیں پر بیٹھے باتیں کر رہے تھے۔ غازی عبداللہ نے ان کے بالکل پاس جا کر پوچھا ”مجھے چہل سنگھ سے ملنا ہے“ ادھیڑ عمر کے ایک سکھ نے اشارہ سے بتایا ”وہ سامنے بیٹھا ہے“۔ پس عبداللہ بجلی کی سی تندی و تیزی سے اس کی طرف بڑھا اور اسے دبوچ لیا۔ اس سے پیشتر کہ چہل سنگھ اس ناگہانی افتاد سے سنبھلتا، صوفی عبداللہ نے اسے لٹا کر چھری اس کی گردن پر پھیر دی۔ چہل سنگھ خاصا ہٹا کٹا اور موٹا تازہ تھا لیکن ادھر عشق نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی قوت کارفرما تھی۔ لہٰذا اس کی مضبوط گردن
دیکھتے ہی دیکھتے کٹ گئی۔ خون کا فوارہ بہہ نکلا۔ غازی عبداللہ نے چھری زمین پر رکھ دی اور خود بارگاہ ایزدی میں سجدہ ریز ہو کر خدائے وحدہ لاشریک کا شکر بجا لایا‘ جس نے اسے اپنے حبیب و محبوب صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا حکم ماننے کی توفیق و طاقت بخشی۔ پھر اٹھ کر بھاگ نہیں نکلا بلکہ بڑے اطمینان و سکون کے ساتھ وہیں بیٹھ گیا“۔
(ماہنامہ ”درویش“ لاہور، مئی ۱۹۹۴ء ص ۷۴)
ایم۔اے حکیم ایڈووکیٹ لکھتے ہیں: ”پھر یہ جری مجاہد و غازی اس کام سے فارغ ہو کر بڑے اطمینان کے ساتھ قریبی سیم نالہ کی طرف گیا۔ وہاں اس نے غسل کیا‘ کپڑے دھوئے اور نوافل شکرانہ ادا کیے کہ خدا تعالیٰ نے اس عظیم کارنامہ سے عہدہ برآ کیا اور کامیابی سے ہمکنار فرمایا“۔
(ماہنامہ ”درویش“ لاہور، مئی ۱۹۹۴ء ص ۷۲)
عجیب عالم:
پروفیسر افضل حسین علوی لکھتے ہیں: ”ایک عجیب عالم تھا۔ بدباطن چپل سنگھ کی گردن کٹی پڑی تھی اور وہ تڑپ تڑپ کر ٹھنڈا ہو چکا تھا۔ قاتل چند قدم کے فاصلے پر بیٹھا تھا مگر کسی سکھ میں اس کے قریب آنے کی ہمت نہ تھی۔ کچھ سکھوں نے بھاگم بھاگ اس سانحہ کی اطلاع پولیس کو دے دی۔
پولیس آئی تو اس وقت بھی غازی عبداللہ بے حد اطمینان سے چپل سنگھ کی لاش کے قریب بیٹھا ہوا تھا‘ جیسے پولیس کے انتظار میں ہو۔ پولیس کے سپاہی یہ منظر دیکھ کر دم بخود رہ گئے۔ حیران ہو کر سکھوں سے پوچھا ”یہ اکیلا آدمی تھا اور تم ڈھیر سارے“ تعجب ہے کہ چپل سنگھ کو پھر بھی نہ بچا سکے بلکہ اس کے قریب آنے کی ہمت بھی نہ کر سکے“۔ اس پر ان کا جواب اور بھی حیران کن تھا۔ یہ اکیلا کہاں تھا؟ اس کے ساتھ تو مسلح جم غفیر تھا‘ جس کی وجہ سے نہ قتل سے پہلے بڑھنے کی جرات ہوئی اور نہ قتل کے بعد اس کے قریب پھٹکنے کی ہمت پڑی“ اور جب غازی عبداللہ سے پولیس افسر نے دریافت کیا ”کیا واقعی تمہارے ساتھ کوئی مسلح
گروہ تھا؟“ تو اس نے نفی میں جواب دیا۔ پھر ایک معنی خیز مسکراہٹ اس کے چہرے پر پھیل گئی“۔
(ماہنامہ ”درویش“ لاہور، مئی ۱۹۹۴ء ص ۷۵۔۷۴)
رائے محمد کمال لکھتے ہیں:
”روایت ہے کہ جب آپ کی گرفتاری عمل میں آئی تو غازی محمد عبداللہ اتنے خوش اور ہشاش بشاش تھے، جیسے شادی میں آئے ہوں۔ بہر کیف چالان مکمل ہوا۔ مقدمہ شیخوپورہ عدالت میں چلتا رہا۔ آپ کی طرف سے فاضل قانون دان ملک محمد انور ایڈووکیٹ (یہ قیام پاکستان کے فوراً بعد گورنر کے مشیر اعلیٰ مقرر ہوئے) پیش ہوئے۔ قریباً ایک برس مرافعہ زیر سماعت رہا۔ بالآخر آپ کے لیے سزائے موت تجویز کی گئی۔ کیوں نہیں؟ آپ کے نصیب میں تو بارگاہ رسالت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حاضری لکھی تھی۔ شہادت سے سرفراز کیے جانے کی خوشخبری سن کر ان کا چہرہ بشاشت سے چمک اٹھا“۔
(ماہنامہ ”نعت“ لاہور، جلد ۴، شمارہ ۴، ص ۷۵)
سفر آخرت:
رائے محمد کمال رقم طراز ہیں:
”راقم الحروف کی معلومات کے مطابق آپ کو لاہور میں نہیں، بلکہ شیخوپورہ میں جام شہادت پلایا گیا تھا۔ علاقہ خانقاہ ڈوگراں کے مسلمان بضد تھے کہ آپ کو چک ۱۴۴ چھوٹی کی قبرستان میں ایک عظیم ولی اللہ کے پہلو میں دفن کیا جائے مگر شہید رسالت ﷺ کے ورثاء نے اس کی اجازت نہ دی اور میت کو اپنے آبائی گاؤں میں لے گئے“۔
(ماہنامہ ”نعت“ لاہور، جلد ۴، شمارہ ۴، ص ۷۶)
O
غازی منظور حسین شہیدؒ
رائے کمال لکھتے ہیں: ”غازی منظور حسین شہید ایک معروف علمی گھرانے میں پیدا ہوئے۔ آپ کے والد محترم مولانا ابوالفضل محمد کرم الدین صاحب مرحوم کی پنجاب میں بہت شہرت تھی۔ ان کا تعلق ضلع چکوال کی ایک بستی ”بھین“ سے تھا۔ مولانا موصوف اکثر حلقوں میں ایک حاضر دماغ اور کامیاب مناظر کی حیثیت سے جانے اور پہچانے جاتے تھے۔ ان کا روحانی تعلق سیال شریف سے تھا۔ شمس العارفین حضرت خواجہ شمس الدین سے بیعت تھی یا آپ کے کسی خلیفہ سے۔
آئیے‘ پہلے آپ کو ایک گاؤں ”لکی مروت“ لے چلوں۔ یہ ضلع بنوں میں میانوالی روڈ پر ہے۔ اس مقام پر ایک وسیع قبرستان ہے جس میں موجود ایک مسجد کے بالکل نزدیک مولانا قاضی منظور حسین شہید کی قبر ہے اور لوح مزار پر ان کے مختصر احوال کندہ ہیں۔
۱۹۴۱ء کی بات ہے تھانہ ڈوہمن کے ڈاک بنگلہ میں ایک متعصب ہندو چوہدری کھیم چند ایس ڈی او چکوال مقیم تھا۔ یہ ریسٹ ہاؤس چکوال سے جہلم روڈ پر خانپور قصبہ کے قریب واقع ہے۔ اس بدطینت کو مہاشہ راج پال آریہ سماجی (جسے غازی علم الدین شہید نے واصل جہنم کیا تھا) کا قریبی رشتہ دار بتایا جاتا ہے۔
.......... راقم الحروف کو پہلی دفعہ ملک عبدالکریم صاحب (پنڈی بھٹیاں) نے بتایا کہ ایس ڈی او مذکور گستاخی رسول کا مرتکب ہوا تھا۔ غازی ممدوح کے برادر حقیقی مولانا قاضی مظہر حسین صاحب نے استفسار پر اس کی تصدیق فرمائی۔ طرز گستاخی کیا تھی؟ اور اس نے یہ وطیرہ کب سے اختیار کر رکھا تھا؟ اس کے بارے میں کچھ معلوم نہیں ہوسکا۔ تاہم یہ خیال کیا جا سکتا ہے کہ اس کمینہ فطرت و دہن دراز ہندو نے شان رسالت ماب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں بے ادبانہ الفاظ بکے ہوں گے۔ بہرحال
اسے شاتمیت کا مزا چکھانے کو قاضی صاحب اپنے ایک مخلص ساتھی ماسٹر عبدالعزیز (چکوال) کے ہمراہ رات کی تاریکی میں وہاں گئے اور اس کی پیشانی پر پستول کا فائر کیا۔ ازاں بعد ماسٹر صاحب نے سات برچھیاں لگائیں۔ اتنے میں گستاخ نبی اپنے منطقی انجام کو پہنچ چکا تھا۔ مقتول مردود کے نزدیک اس کی اہلیہ سوئی ہوئی تھی۔ مجاہدین نے اسے کچھ نہ کہا کہ وہ بے گناہ ہے۔ تاہم جاتی دفعہ کہہ گئے کہ ہم نے توہین رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا انتقام لے لیا ہے اور یہ کہ کچھ بھی ہو مگر مسلمان ابھی اتنے بے غیرت نہیں ہوئے کہ تاجدار مدینہ کی بے عزتی پر چپ چاپ بیٹھے رہیں۔ دشمنان رسول سے نمٹنے کو ابھی غازی مرید حسین شہید کے احباب زندہ ہیں۔
حضرت مولوی منظور حسین ۱۹۰۳ء میں تولد ہوئے۔ غازی مرحوم نے بی اے تک باقاعدہ انگریزی تعلیم حاصل کی۔ کالج کی زندگی میں آپ کو جسمانی قوت بڑھانے کا بہت شوق تھا۔ اس میں آپ نے مہارت حاصل کی۔ مولانا مظہر حسین صاحب کے بقول ”موٹر کار کو آپ سامنے سے سینہ لگا کر مضبوطی سے پکڑ لیتے تھے اور پھر خواہ کتنی سپیڈ سے چلائی جائے روکے رکھتے تھے۔ لوہے کی دو نصف انچ موٹی سلاخوں کو جوڑ کر اپنے بازو پر لپیٹ لیتے تھے اور ایک انچ موٹی سلاخ گردن سے لپیٹتے تھے۔ کھڑے ہو کر ننگی چھاتی پر وزنی ہتھوڑوں کی ضربیں لگواتے تھے۔ ہاتھوں کی دو انگلیوں میں انڈے کو نوک کے بل رکھ کر توڑ ڈالتے تھے۔ اس قسم کے غیر معمولی قوت کے کرشموں کا آپ نے بہت دفعہ مظاہرہ کیا تھا۔ گارڈن کالج راولپنڈی سے فارغ ہونے کے بعد بھی آپ نے پہلوانی کا سلسلہ جاری رکھا۔ لیکن بعد میں قرآن حکیم کی تلاوت اور اسلامی تاریخ کے مطالعہ نے آپ کے قلب میں زبردست انقلاب پیدا کر دیا۔ انگریزوں کی تہذیب سے سخت نفرت ہو گئی۔ فرنگی اقتدار کے کسی اثر کو آپ برداشت نہ کرتے تھے۔ اغیار کی غلامی میں رہنا آپ کے لیے سخت مشکل ہو گیا۔ آپ نے پہلے اپنی اصلاح کی اور شریعت کے سانچے میں ڈھل گئے۔ کالج میں چونکہ عربی پڑھی تھی اس لیے قرآن و حدیث سے استفادہ آسان تھا۔ والد مرحوم سے فقہ و حدیث کی بعض کتابیں پڑھ لیں۔ آپ نے تبلیغ دین بھی شروع کر دی۔ جہاد بالسیف کا جذبہ آپ پر غالب تھا اور اللہ کی راہ میں شہید ہونا آپ کا حال بن گیا تھا۔
۱۹۳۸ء میں مجاہد اسلام مولوی منظور حسین شہید نے خاکساروں کی طرز پر ان کے مقابلے میں ایک نئی تنظیم کی بنیاد ڈالی۔ اس کا نام ”خدام اسلام“ قرار پایا۔ اور
لائحہ عمل کے طور پر ایک پمفلٹ بعنوان "خدام اسلام میدان عمل میں" شائع کیا۔ یہ ہر لحاظ سے رضاکار فورس تھی۔ اس کی باقاعدہ پریڈ ہوتی اور زیادہ زور اس بات پر دیا جاتا کہ معزز رکن کسی طور بھی اپنے تنظیمی رازوں کا کہیں انکشاف نہ کریں۔ اس کے لیے باقاعدہ حلف وفاداری ہوا کرتا تھا۔ گو تنظیم مذکور دور دور تک تو نہ پھیل سکی‘ بہرکیف اس کا دائرہ اثر چکوال‘ نزدیکی قصبات اور اردگرد کے دیہات میں نہایت وسیع تھا۔ یہ بات بھی پایہ تحقیق کو پہنچ چکی ہے کہ قاضی موصوف کے غازی مرید حسین شہید سے دوستانہ مراسم تھے اور ان کی شہادت نے آپ کے دل میں جوش و ولولہ کی ایک نئی آگ لگا دی۔ مزید معلوم ہوا ہے کہ ان دونوں مجاہدین کی تنظیموں میں معاہدہ تعاون بھی تھا۔ واقعے میں کسی قدر حیرت انگیز اشتراک ہے کہ غازی مرید حسین شہید نے ملعون زمانہ ڈاکٹر رام گوپال کو ٹھکانے لگایا اور قاضی موصوف اس سے قلبی لگاؤ رکھنے والے کھیم چند چوہدری کی ہلاکت کا سبب بنے۔
حضرت مولوی کرم الدین صاحب آف بھین نے اس واقعہ کو مختصر الفاظ میں یوں لکھا ہے ”گردش دہر سے مجھ پر ایسا پر آشوب وقت آگیا کہ طرح طرح کے مصائب و آلام میں مبتلا ہو گیا۔ میرا ایک نوجوان فرزند غازی محمد منظور حسین ایک شقی القلب کلمہ گو شخص کے دست جفا سے بمقام عباسیہ متصل لکی مروت ضلع بنوں میں شہید ہو گیا۔ جبکہ وہ مع اپنے دو رفقاء کے ایک درخت کے سایہ میں میٹھی نیند سو رہا تھا ظالم دشمن نے اسی حالت میں فائر کھول دیا اور وہ تینوں رنگیلے نوجوان شہید ہوگئے۔ مرحوم بڑا شیردل بہادر تھا اور شہ زوری و شجاعت میں اپنی نظیر نہیں رکھتا تھا۔ انگریزی میں بی۔ اے (گریجوایٹ) اور عربی و فارسی علوم میں فاضل اجل تھا۔ بڑا زاہد و عابد‘ متقی‘ بے ریا اور بے طمع صحیح معنوں میں مبلغ اسلام تھا“۔
ہوا یہ کہ گستاخ رسول چوہدری کھیم چند ہندو کو ٹھکانے لگا کر دونوں رفیق وہاں سے بہ سلامت نکل آئے اور آزاد علاقہ (پاکستان) میں چلے گئے۔ جہاں آپ حضرت بادشاہ گل صاحب خلف مجاہد اعظم حضرت حاجی ترنگزئی صاحب کے پاس مقیم ہوگئے۔ کچھ مدت ایک مجاہد حضرت فقیر ایپی صاحب کے پاس بھی بسر کی۔ ادھر یہ ہوا کہ آپ کے والد صاحب اور دیگر بعض اقرباء کو پولیس نے بغرض تفتیش اپنی حراست میں لے لیا اور غازی ممدوح کے اس جرات مندانہ اقدام کا سارا بوجھ آپ کے والد محترم قاضی محمد کرم الدین صاحب کے سر آگیا۔
اس بارے میں شہید موصوف کے برادر عزیز کا بیان ہے "حالانکہ آپ کو بھائی صاحب نے کسی راز سے مطلع نہیں کیا تھا اور نہ ہی پاکستان جانے کا آپ کو علم تھا۔ مکانات اسباب ضبط کر لیے گئے۔ ادھر مجھے تین رفقاء کے ساتھ ۲۰‘ ۲۰ سال عمر قید کی سزا سنائی گئی (یہ ایک اور مقدمہ قتل کے سبب سے تھا) اور ہم کو سنٹرل جیل لاہور میں بھیج دیا گیا۔ نیز پولیس نے مولانا مرحوم پر دفعہ ۱۸۲ کے ماتحت ایک مقدمہ دائر کر دیا۔
سب سے زیادہ آپ کو مولوی منظور حسین صاحب کی روپوشی کا فکر تھا لیکن بعد میں بہ سلامت پاکستان پہنچنے کی خبر آگئی تو آپ کو کچھ اطمینان ہو گیا۔
ماسٹر عبد العزیز صاحب چکوال کے باشندے تھے۔ میٹرک پاس کرنے کے بعد سکول میں ملازمت اختیار کر لی۔ باہمت اور دلیر نوجوان تھے۔ مولوی منظور حسین کی رفاقت و صحبت نے آپ کے اندر بھی جہاد فی سبیل اللہ کی روح پھونک دی اور ہمہ تن جہاد کی تیاریوں میں لگ گئے۔ چوہدری کھیم چند کے قتل میں شریک تھے۔ پاکستان میں بھی مولوی منظور حسین کے ہمراہ رہے۔ گرفتاری کے بعد ماسٹر صاحب موصوف کو چکوال میں لایا گیا اور ایس ڈی او مذکور کا مقدمہ چلایا گیا۔ اس کے نتیجہ میں آپ کو سزائے موت کا حکم ہوا۔ لاہور سنٹرل جیل میں چند ماہ تک پھانسی کی کوٹھڑیوں میں رہے۔ شب و روز ذکر و شغل میں مصروف رہے۔ اب آپ کی قلبی تمنا یہی تھی کہ زندہ دنیا میں واپس نہ جاؤں بلکہ اپنے رفقاء شہداء سے جا ملوں۔ پھانسی ہونے سے پہلے روز اپنے اعزاء و اقرباء سے بڑی بشاشت سے ملاقات کرتے رہے۔ ان کو صبر کی تلقین کی۔ صبح کو جب پھانسی کے لیے نکلے تو راستے میں سورہ یٰسین بلند آواز سے نہایت اطمینان سے تلاوت کرتے گئے اور نعرۂ تکبیر بلند کر کے تختہ دار پر لٹک گئے"۔
"مولوی منظور حسین صاحب کے ساتھ شہید ہونے والوں میں غازی محمد خان ساکن بڑھیال ضلع جہلم بھی تھے جو آپ کے مخلص دوست تھے۔ فوج میں سپاہی تھے وہاں سے چھٹی لے کر آئے تو گھر سے ہوتے ہوئے پاکستان میں آپ کے پاس پہنچ گئے اور آخری دم تک آپ کی رفاقت میں رہے۔ اب لکی مروت میں مدفون ہیں......" غازی منظور حسین شہید کے دیگر دو ساتھی کون تھے؟ ان کے نام معلوم نہیں ہو سکے اور یہ خبر بھی نہیں ملی کہ وہ کہاں کے رہنے والے تھے اور آپ کے گروپ میں کب شامل ہوئے۔
مولانا غازی منظور حسین نے گستاخ نبی کو فنا فی النار کر دیئے جانے پر اپنے پیشروؤں کی طرح خود کو گرفتاری کے لیے کیوں پیش نہ کیا؟ اس کا تو کوئی تشفی بخش جواب نہیں۔ بہرحال یہ پتہ چلتا ہے کہ آپ کے عزائم بہت بلند تھے اور چاہتے تھے کہ بزور طاقت کشمیر فتح کریں اور اس کے لیے انہوں نے ایک اسکیم بھی بنائی مگر بوجوہ ایک سال پاکستان میں قیام کرنے کے بعد بعض عزائم کے پیش نظر اپنے دیگر چار رفقاء کی معیت میں وطن کی طرف لوٹے۔ سرفروش غازیوں کی یہ قلیل جماعت رائفلوں سے مسلح تھی۔ وزیرستانی قبائل سے ہوتے ہوئے آپ نے بنوں کی سرحد کو عبور کیا اور موضع عباسیہ تحصیل لکی مروت کے قریب ایک جگہ آرام کے لیے ٹھہرے۔ ماسٹر عبدالعزیز اور ایک دوسرے رفیق کو قریب کی بستی سے کھانا لانے کے لیے بھیجا۔ پولیس کو خبر ہو گئی۔ ان دونوں کو وہاں سے گرفتار کر لیا گیا اور دو سب انسپکٹر پولیس کی مسلح گارڈ اور پبلک کی جمعیت ساتھ لے کر مولوی منظور حسین کے مقابلہ کے لیے نکلے۔ پہاڑ کا طویل سفر طے کرنے کی وجہ سے تھکان غالب تھی۔ گرمی کا موسم تھا۔ آپ ایک درخت کی ٹھنڈی چھاؤں میں رفقاء سمیت گہری نیند سو گئے تھے۔ پولیس نے ان کو بیدار ہونے کا موقع ہی نہیں دیا اور بے خبری میں ان پر گولیوں کی بوچھاڑ کر دی۔ اور یوں ان مجاہدوں کی سعید روحیں عالم بالا کو پرواز کر گئیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ جولائی ۱۹۴۴ء کا واقعہ ہے"۔
(ماہنامہ ”ضیائے حرم“ لاہور)
تحفظ ناموس رسالت کی چند گم شدہ کڑیاں
شخصیات و واقعات
رائے محمد کمال لکھتے ہیں—— ”میں نے بچپن کے دائرے سے نکلتے ہی یہ خواب دیکھا تھا کہ پاکستان کی فضائیں نعت رسول مقبول (صلی اللہ علیہ وسلم) سے معمور ہوں۔ نوک قلم سے سرکار (صلی اللہ علیہ وسلم) کی مدح سرائی بھی بڑے مقدر کی بات ہے مگر ان عاشقان مصطفیٰ (صلی اللہ علیہ وسلم) کی بات ہی کیا ہے؟ جنہوں نے اس مقدس فریضہ کی
تکمیل خون جگر سے کی۔ اس لحاظ سے ملت اسلامیہ بجا طور پر فخر کرسکتی ہے کہ انہوں نے اپنے آقا و مولا (صلی اللہ علیہ وسلم) کی بارگاہ ناز میں ہمیشہ ہر طرح سے نعتیہ نذرانے پیش کیے ہیں۔ برصغیر پاک و ہند کی سرزمین پر یہ عمل جس خلوص نیت، ذوق و شوق اور والہانہ شیفتگی کے ساتھ نبھایا گیا اس کی کہیں مثال نہیں ملتی۔ ہندوستانی مسلمانوں نے ایسی عظیم الشان اور ایمان پرور روایات قائم کیں کہ یہاں بسنے والے کلمہ گو دربار رسالت مآب (صلی اللہ علیہ وسلم) میں سند غلامی کے حقدار ٹھہر گئے۔
راقم الحروف کے مقدر میں یہ شرف لکھا ہے کہ تاجدار مدینہ (صلی اللہ علیہ وسلم) کے ان نعت گویوں کا تذکرہ قلمبند کروں جن کے عشق رسول پر آج بھی مقتل کی دیواریں گواہ ہیں اور جنہوں نے اپنے خون کے قطروں سے ثنائے رسول میں ایک ایک روح افزاء بند لکھا۔ ایسے ہی مدحت گران پیغمبر میں غازی عبدالرشید شہیدؒ، غازی عبدالقیوم شہیدؒ، غازی علم الدین شہیدؒ، غازی محمد صدیق شہیدؒ، غازی مرید حسین شہیدؒ، غازی میاں محمد شہیدؒ، غازی محمد عبداللہ شہیدؒ اور غازی امیر احمد شہیدؒ وغیرہم کے اسماء گرامی تابندہ و پائندہ ہیں۔ علاوہ ازیں چند ایک گمنامی کے پردہ میں رہے۔ ملت اسلامیہ کے اہل قلم نے ان سے عدم توجہی روا رکھی۔ قومی سطح پر اعتراف حقیقت تو بڑی بات تھی، انفرادی طور پر بھی کسی قابل ذکر جوش و خروش کا مظاہرہ نہ ہوا۔ مذکورہ بالا شہیدان ناموس رسالت کے حالات واقعات اور غیرت ایمانی سے متعلق مختلف جرائد و رسائل میں جامع مضامین لکھ چکا ہوں۔ زیر نظر سطور میں شمع رسالت کے ان پروانوں کا ذکر ہوگا جو عام طور پر فراموش کیے جاچکے ہیں اور نئی نسل ان کے نام و کام سے مطلقاً بے خبر ہے۔ اس تاریخی سلسلے کی چند کڑیاں مندرجہ ذیل ہیں
- (۱) غازی محمد منیر شہید موضع موگہ ضلع فیروز پور (بھارتی پنجاب) کے ویٹرنری ہسپتال میں
بلحاظ پیشہ چپڑاسی تھے، جذبہ عشق رسول سے سرشار ایک موقع پر تحفظ ناموس نبی (صلی اللہ علیہ وسلم) کے لیے آگے بڑھے اور جان پر کھیل گئے۔ شاتم رسول کو واصل فی النار کرنے کے بعد عدالتی فیصلے کی رو سے انہیں سزائے موت کا مستحق گردانا گیا۔ وہ جام شہادت کے متمنی تھے اور سر دار لٹک کر لافانی نسخہ حیات بتا گئے۔ دنیائے صحافت میں شہید موصوف کا تعارف غالباً کیپٹن ممتاز ملک صاحب کے ایک مضمون بعنوان ”نوجوانان اسلام کی حرمت و
شان“ سے ہوا۔ انہوں نے جنوری ۱۹۸۳ء کو نوائے وقت کے پرچوں سے شہیدان رسالت کا مختصرا تذکرہ قلمبند کیا تھا۔ تاہم ان کے نقش قدم کا کھوج مجھے غازی میاں محمد شہید کے برادر حقیقی ملک نور محمد صاحب کی کمال مہربانی سے ملا
(۲) غازی خدا بخش اکوجہا نے راجپال مردود پر سب سے پہلے ۲۶ ستمبر ۱۹۲۷ء کی صبح قاتلانہ حملہ کیا۔ یہ سرفروش اندرون مکی گیٹ لاہور کا رہنے والا تھا۔ باپ کا نام محمد اکبر اور اس کا تعلق ایک معروف کشمیری خاندان سے تھا، اس کو سات سال قید سخت جس میں تین ماہ کی قید تنہائی بھی شامل تھی، سزا کا حکم سنایا گیا۔
(۳) راجپال نامی گستاخ رسول بچ رہا تھا اس لئے ۹ اکتوبر ۱۹۲۷ء کی شام کو غازی عبد العزیز ایک غیور پٹھان نے اپنی قسمت آزمائی۔ مذکورہ نوجوان رمنہ علاقہ غزنی افغانستان کا رہنے والا تھا اور بغرض تجارت ہندوستان چلا آیا تھا۔ لاہور میں آریہ سماجی کتب فروش پر جھپٹا مگر اپنے مقصد میں ناکام رہا۔ اقدام قتل کے سبب انہیں سات سال قید سخت کی سزا دی گئی۔ ازاں بعد اس فتنے کا سد باب غازی علم الدین شہید علیہ الرحمتہ کے ہاتھوں ہوا۔
(۴) غازی محمد حنیف شہید نے اپنی بے مثال وفاؤں کا باب مسلم ریاستی دارالحکومت ”بھوپال“ میں رقم کیا۔ کہا جاتا ہے وسط ہند کے اس تہذیبی شہر میں ایک گرلز ہائی سکول کی انگریز ہیڈ مسٹریس نے سوچی سمجھی اسکیم کے تحت مدرسہ کی صفائی کے بہانے قرآن کریم کے بوسیدہ اوراق ایک خاکروب کے ہاتھوں کوڑا میں ڈلوائے اور جب اس پر احتجاج کیا گیا تو اس بدزبان و بد نصیب عورت نے قرآن پاک دین متین اور پیغمبر اسلام (صلی اللہ علیہ وسلم) کے بارے میں نازیبا اور اشتعال انگیز الفاظ کہے۔ بھوپال کے ایک غیرت مند نوجوان محمد حنیف نے جو پیشے کے اعتبار سے قصاب تھے، انگریز عورت کو راستے میں روک لیا اور اس سے کہا کہ وہ اپنی اس ناپاک جسارت اور شیطانی حرکت پر شہر کے مسلمانوں سے معافی مانگے اور اعلان توبہ کرے۔ حکومت کے نشہ میں چور اس بنت ابلیس نے یہ مطالبہ ٹھکرا دیا
اور مجاہد ملت کے ہاتھوں انجام کو پہنچی۔ غازی محمد حنیف اس غلط کار عورت کو کیفر کردار تک پہنچا کر تھانے میں حاضر ہو گئے۔ اقبال فعل کیا اور تمام عدالتوں میں اعتراف حقیقت بیان فرمائی۔ کچھ عرصہ جیل میں گزارا۔ مقدمہ کی سماعت ہوئی اور محمد حنیف غازی کو پھانسی کی سزا سنا دی گئی اور الصلوٰۃ والسلام علیک چند تعارفی جملے سہ ماہی ”صدف“ (پاکستان نمبر) جنوری تا مارچ ۱۹۸۴ء ص ۴۹ میں شائع ہوئے۔ مضمون نگار محترمہ فرزانہ اسد صاحبہ
تھیں۔ اس کی فراہمی پر ہم محسن دوست عبدالغفار شیخ صاحب (سینئر مکینیکل آفیسر) کوٹری سندھ کے تہ دل سے شکرگزار ہیں۔
- (۵) ضلع گجرات کے معروف قصبہ منڈی بہاؤالدین سے نزدیکی گاؤں ”آہلہ“ میں بھی
ایک سکھ گستاخ رسول کو جہنم رسید کیا گیا تھا۔ قاتل کا نام غازی محمد اعظم تھا جو بفضلہ تعالیٰ بقید حیات ہیں۔ بناء بریں سرگودھا روڈ پر واقع پنڈی بھٹیاں کے علاقہ میں ذخیرہ بیرا نوالہ سے ملحقہ بستی چک کوکارہ میں بھی اس طرز کا ایک تاریخی واقعہ پیش آیا۔ قاتل و مقتول ہم جماعت تھے۔ ہندو طالب علم نے شان رسول (صلی اللہ علیہ وسلم) میں ارتکاب گستاخی کیا اور مسلمان مجاہد نے نہایت سوچ سمجھ کر اسے موت کے گھاٹ اتار دیا۔ کم عمری کی بناء پر عدالتی سزا سے بچ نکلے اور ابھی زندہ ہیں۔
- (۶) پکا قلعہ حیدر آباد (سندھ) میں قیام پاکستان سے فقط ایک برس قبل ۱۹۴۶ء میں ہندو
جن سنگھیوں کا ایک بڑا اجتماع ہوا تھا۔ اس میں آٹھ دس ہزار ہندو شریک تھے۔ مذکورہ جلسے میں ملت اسلامیہ کو نہ صرف غلیظ گالیاں دی گئیں بلکہ ان کے ایک گرو نیوں مہاراج نے، نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وسلم) کی شان مبارک میں بھی گستاخانہ باتیں کیں۔ اس بات نے تین نمبر تالاب کے مسلمان نوجوانوں کو بے تاب کر دیا۔ جب یہ پچیس نوجوان حرمت نبی (صلی اللہ علیہ وسلم) پر اپنی جانیں نچھاور کرنے کا جذبہ لیے قلعہ پر حملہ آور ہوئے اور نعرۂ تکبیر بلند کیا تو جلسے میں بھگدڑ مچ گئی۔ عاشقان مصطفےٰ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے بے تحاشہ ڈنڈے اور لاٹھیاں برسانا شروع کر دیں۔ اسی اثناء میں نیوں مہاراج، ایک جوشیلے نوجوان عبد الخالق قریشی ولد محمد ابراہیم قریشی کے سامنے آگیا۔ نوجوان نے اس بے غیرت ملیچھ کے پیٹ میں چھرا گھونپ دیا۔ وار کاری ثابت ہوا اور شاتم رسول اپنے ہی پیرکاروں کے درمیان تڑپ تڑپ کر جہنم رسید ہوگیا۔ جن سنگھی بدحواس ہو کر اپنی لاٹھیاں، جوتیاں، تلواریں اور دوسرے ہتھیار چھوڑ کر بھاگ کھڑے ہوئے۔ اس واقعے میں حصہ لینے والے چند معلومہ خوش قسمت اشخاص مندرجہ ذیل ہیں: حاجی محمد بخش عرف ممو شیدی، اللہ ورایو شیدی، محمد علی شیدی، علی مراد شیدی، لکھانو والو، صدیق گوڈ، نبی بخش عرف نبو، مہر محمد عرف مہر، اللہ ڈنو شیدی، رحیم بخش ابراہیم حجام، عبدالخالق قریشی، لالہ مجیدی بسروی
- (۷) گستاخ آریہ سماجی ”لیکھرام“ کو بھی کسی نامعلوم مسلمان نے سزایاب کیا۔ دلچسپ
بات یہ ہے کہ مرزا قادیانی نے بھی اس ملعون کی ہلاکت کی پیشین گوئی بعض مصلحتوں کے
پیش نظر داعی تھی۔ یہی وجہ ہے کہ پولیس کی تفتیش میں مرزا قادیانی پر تحریک قتل اور اعانت کا شبہ ہوا اور اس کی خانہ تلاشی بھی لی گئی مگر کوئی ثبوت بہم نہ پہنچ سکا۔ حقیقت حال یہ ہے کہ اس مردود کا قاتل بھی کوئی مسلمان ہی ہو سکتا ہے۔ مرزائیوں کا، تحفظ ناموس رسالت سے کیا واسطہ؟ وہ تو خود تحریک شاتم رسول کی ایک کڑی ہیں۔ الغرض مرزا قادیانی کی پیشین گوئی اس سوچ کا تجرباتی مظہر نظر آتی ہے کہ غیرت مند مسلمان اس ناپاک وجود کو برداشت نہیں کر سکیں گے، لہٰذا کیوں نہ الہامی دعوے آزما لیں۔
- (۸) ۴؍ اپریل ۱۹۳۵ء کو ہندوستان کے مسلم اخبارات میں یہ خبر چھپی کہ یکم اپریل کو بمبئی
میں ایک باغیرت مسلمان .... نے ایک ہندو....... کو ہلاک کر دیا اور پولیس کے سامنے بیان دیا کہ مقتول نے ایک مقامی ورنیکلر اخبار میں حضرت رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وسلم) کی عکسی تصویر شائع کر کے اس کے جذبات مجروح کئے تھے۔
- (۹) ۲۸؍ اپریل ۱۹۳۵ء کے اخبار میں ایک اور خبر نمایاں تھی کہ ملتان شہر میں ۱۴؍ اپریل
کو سات بجے شام مسمی ”ویربھان“ آریہ سماج نے حضور ختمی مرتب آقائے دو جہاں (صلی اللہ علیہ وسلم) کی شان میں گستاخانہ الفاظ استعمال کئے۔ آج بعد دوپہر آریہ سماجی مذکور کو ساڑھے تین بجے گلی گردھاری لال اندرون پاک دروازہ میں کسی نامعلوم شخص نے پیٹ میں چھرا اتار کر ہلاک کر دیا۔ شبہ قتل میں محمد بخش چوب تراش، حاجی فیض بخش، حاجی عبداللہ اور الٰہی بخش کو گرفتار کر لیا گیا۔ ازاں بعد عدم ثبوت کی بناء پر عدالت سے رہا ہوئے۔
- (۱۰) جہلم شہر میں دریا کے کنارے واقع شمالی محلہ کے ایک مسلمان غازی غلام محمد شہید کی
سرگزشت بھی قابل ذکر ہے۔ ان کے مقدر جاگنے کی تفصیل کچھ یوں ہے ”شہنشاہ دو عالم (صلی اللہ علیہ وسلم) کی ولادت باسعادت کا مبارک دن تھا۔ ہر طرف خوشیوں نے ڈیرے ڈال رکھے تھے۔ کائنات کی نعمت کبریٰ کے درود مسعود پر کون شکر ادا نہ کرتا، اس روز بھی اللہ تعالیٰ کے اس احسان عظیم پر پوری ملت اسلامیہ سر بسجود تھی۔ اظہار مسرت کے طور پر عید میلاد کا ایک جلوس تشکیل دیا گیا۔ فرزندان توحید کا یہ قافلہ مذکورہ بالا شہر کے کسی چوراہے سے گزر رہا تھا۔ قریب ہی سکھوں کی آبادی تھی۔ سکھ مت کا ایک آوارہ پیروکار آوازے کسنے لگا۔ یہ مجاہد اس کے نزدیک کھڑا نہ صرف تمام اوچھی حرکات دیکھ رہا تھا بلکہ زہر میں بجھے ہوئے اس کے بے باکانہ جملے بھی سنائی دے رہے تھے۔ اسی اثناء میں جلوس کے پیچھے گدھے پر سوار کوئی لڑکا دکھائی دیا، اب کے وہ انتہائی گمراہ کن و لرزہ خیز الفاظ بک
رہا تھا۔ اس نے زور سے چلا کر کہا ”وہ دیکھو مسلمانوں کا نبی براق پر چڑھ کر آ گیا ہے“۔ ان سے رہا نہ گیا، بعجلت اس کے سامنے جا کھڑے ہوئے اور کہا کہ ”بے غیرت کتے اپنی زبان کو قابو میں رکھ ورنہ ٹکڑے ٹکڑے کر کے رکھ دوں گا“ مگر وہ اپنی ذلیل حرکتوں سے باز نہیں آیا۔ غازی غلام محمد نے غصہ کی حالت میں اپنا چاقو اس کے سینے میں جھونک دیا اور پے در پے وار کئے۔ بجرم قتل آپ کی گرفتاری عمل میں آئی۔ عدالت میں مقدمہ چلا اور سزائے موت کے مستحق ٹھہرایا گیا۔ آپ جنازہ گاہ جہلم کے قریب مشہور قبرستان میں مدفون ہیں“۔
- (۱۱) ۱۹۲۲ء میں لکھنؤ چھاؤنی میں ایک سکھ میجر ہردیال سنگھ کو شعائر اسلامی کا مذاق اڑانے
اور تضحیک کرنے کی پاداش میں ایک مسلمان فوجی بابو معراج الدین نے قتل کر دیا تھا“۔
(ماہنامہ ”ضیائے حرم“ لاہور، اگست ۱۹۹۱ء)
تحریک شاتمان رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا یہ بارہ پندرہ سالہ سیاہ دور کسی کی لگائی ہوئی آگ کا وہ الاؤ تھا کہ جس میں جل کر ایک ہی گھر کے کچھ لوگ جہنم کی کالک بن گئے اور کچھ جل کر کندن ہو گئے۔
یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ محمد بن قاسم کی آمد سے لے کر مغلیہ دور حکومت تک اور مغلیہ دور حکومت کے خاتمہ سے لے کر ۱۹۲۵ء تک ہندو اور مسلم ایک معاشرہ میں نہایت امن و سکون کے ساتھ رہے۔ یہاں تک کہ ہندو شعراء آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی شان اقدس میں نعتیں لکھ لکھ کر مسلمانوں کے دلوں میں اپنا گھر کرتے گئے۔ لالہ دھرم پال گپتا وفا مدیر روزنامہ ”تیج“ دہلی ایک ہندو صحافی و شاعر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی شان مطہر میں بدیں الفاظ نذرانہ عقیدت پیش کرتا ہے:
ترے خیال کی ترویج عام ہو جائے
سیاسیات سے مذہب ملا دیا تو نے
کہ دین و دنیا کا سب انتظام ہو جائے
رفاہ عام ہی تیرا تھا جب کہ نصب العین
لقب نہ کیوں تیرا خیر الانام ہو جائے
وفا جہاں میں وہی عالی مقام ہوتا ہے
عطا جسے مئے عرفان ہو جائے
ایک اور ہندو شاعر و صحافی شیام سندر ایڈیٹر پارس لاہور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اپنے عشق و تڑپ کا اظہار ان الفاظ میں کرتے ہیں:
اور ظلمتوں کو یکسر کافور کر دیا
پیغام حق سنا کر مسرور کر دیا
وحدت کی مے پلا کر مخمور کر دیا
ایک بار تو دیار یثرب کو دیکھ لیتا
پابندی جمال نے مجبور کر دیا
سندر سے کیا رقم ہو وہ شان ہے تمہاری
جس نے گداگروں کو فغفور کر دیا ! ! !
(”رسول نمبر‘ نقوش“ جلد ۴‘ ص ۴۹۹-۴۹۸)
چمن لال چمن:
کشن پرشاد شاد:
سلطان دیں شمس الیقیں ہیں رحمت اللعالمین
بھگوان داس بھگوان:
مرکز عشق ہیں خاتم الانبیاء
برہم ناتھ قاصر:
قیامت تلک کاروان محمد
پیارے لعل رونق دہلوی:
ہوا ہے اور نہ ہوگا اب کوئی ہم سر محمد کا
گور بخش سنگھ مخمور جالندھری:
یہ فیض ہے ولادت ختمی مآب کا
راجندر بہادر موج فتح گڑھی:
ہے سب کے لیے رحمت، اسلام محمد
اور جے ناتھ نشتر لکھنوی:
ادب کے ساتھ ختم الانبیاء کی بات کرتے ہیں
ان کے علاوہ سینکڑوں ہندو شعراء ایسے ہیں جنہوں نے اپنے دھرم پتیوں کے سینوں میں شمع عشق رسالت جلائی اور پھر بیشتر ہندو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نعتوں کے زمزمے اپنے ہونٹوں پر سجائے رکھتے تھے۔
ہندو دانش ور اور ادیب اپنی تحریروں میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شان میں قصیدے لکھا کرتے تھے، جن کا کچھ تذکرہ پہلے ہو چکا ہے۔ ہندو مقررین اپنی خطابتوں کے جوہر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی عظمت و نبوت پر لٹاتے رہے۔
ہندوستانیوں کی یہ ادا ہی تھی جو قدرت کو پسند آگئی اور ایک غاصب قوت کے خلاف ہندو مسلم اتحاد کے نام پر ایک سٹیج مہیا کر دیا، جس کا نام کانگریس رکھا گیا۔
جب کانگریس کے سٹیج پر ہندو مسلم اتحاد کے زبردست مظاہرے دیکھے تو غاصبوں کو اپنے پاؤں تلے سے برصغیر کی زمین سرکتی محسوس ہونے لگی اور سارے شیطانی دماغ چکرانے لگے۔
اب ان کی اولین ترجیح ہندو مسلم اتحاد کو پارہ پارہ کر کے تحریک آزادی کو کچلنا تھا اور ان کی سوئی ٹکی آکر اس سازش پر:
جو کل مدح سرا تھے، آج زہر اگلنے لگے!
جو کل راہوں میں آنکھیں بچھاتے تھے، آج کانٹے بونے لگے!
جو کل پتیاں نچھاور کرتے تھے آج آگ برسانے لگے۔
آئیے! حقائق کے جھروکوں سے ماضی کی ایک جھلک دیکھیں کہ یہ ناٹک کیا ہوا؟ بیسویں صدی عیسوی کے پہلے ربع کے فوراً بعد اٹھنے والی اس تحریک شماتت رسول صلی
شدھی تحریک کا بانی ”سوامی شردھانند“ کو سمجھا جاتا ہے۔
سوامی شردھانند کا پہلا روپ:
سردار علی صابری لکھتے ہیں:
”پہلا روپ ”قوم پروری“ کا روپ ہے۔ ۱۹۱۹ء میں جب آل انڈیا کانگریس کے سالانہ اجلاس پنڈت موتی لال نہرو کی زیر صدارت امرتسر میں منعقد ہوا تو شردھانند مجلس استقبالیہ کا چیئرمین تھا۔ اس نے اپنے خطبہ صدارت میں ترکوں کے مصائب سے گہری ہمدردی ظاہر کی تھی اور خلافت کی بحالی کے لیے ہندو مسلم اتحاد پر زور دیا تھا۔ مولانا محمد علی اور مولانا شوکت علی جھنڈواڑہ (سی پی) جیل سے رہا ہو کر جب کانگریس کے اجلاس میں شریک ہونے کے لیے سیدھے امرتسر پہنچے تو اس منظر کو دیکھنے والے بہت سے لوگ زندہ ہیں کہ مجلس استقبالیہ کا صدر شردھانند بڑی بے تابی سے کانگریس پنڈال میں دوڑ کر علی برادران سے بغل گیر ہوئے تھے اور اسے ہندو مسلم اتحاد کا ناقابل شکست مظاہرہ بتایا تھا“۔
(تحریر، سردار علی صابری از ماہنامہ ”درویش“ لاہور، مئی ۱۹۹۴ء ص ۳۴-۳۳)
شردھانند کا دوسرا روپ:
”شردھانند کا جو دوسرا روپ میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا، وہ غالباً ۱۹۲۲ء کا ابتدائی حصہ تھا۔ مولانا محمد علی کے اخبار ”ہمدرد“ میں اعلان ہوا، شہر میں پوسٹر لگائے گئے کہ جامع مسجد میں نماز جمعہ کے بعد ”شری سوامی شردھانند جی مہاراج“ ہندو مسلمان اتحاد کے موضوع پر مسلمانوں سے خطاب فرمائیں گے........ نماز ختم ہوتے ہی مولانا محمد علی نے شردھانند کی آمد کا اعلان کیا۔ تھوڑی ہی دیر بعد پر جوش نعروں اور خلافتی رضاکاروں کے جلو میں شردھانند عالم اسلام کی اس مایہ ناز مسجد میں داخل ہوا۔ اس کے ہر لفظ سے مترشح ہوتا تھا کہ اسے مسلمانوں سے بے پناہ محبت ہے اور وہ ہندو مسلم اتحاد کو آزادی کی کنجی سمجھتا ہے“۔
(تحریر، سردار علی صابری از ماہنامہ ”درویش“ لاہور، بابت مئی ۱۹۹۴ء ص ۳۵-۳۴)
شردھانند کا تیسرا روپ:
"شردھانند کا جو تیسرا روپ میرے سامنے آیا وہ بہت ہی اشتعال انگیز، گھناؤنا اور قابل نفرت تھا۔ غالباً ۱۹۲۳ء کے آغاز میں اس کو دفعہ ۱۴۴ الف کے تحت قید سخت کی سزا ہوئی تھی لیکن وہ معافی مانگ کر جیل سے رہا ہو گیا اور اس نے انگریز حکام کو خوش کرنے اور کچھ متعصب ہندوؤں کے جذبۂ اسلام دشمنی کو تسکین دینے کے لیے اسلام اور مسلمانوں کے خلاف اشتعال انگیز تحریروں اور تقریروں کا لامتناہی سلسلہ شروع کر دیا"۔
(تحریر سردار علی صابری، از ماہنامہ "درویش" لاہور، مئی ۱۹۹۴ء ص ۳۵)
سردار علی صابری کی تحریر میں جو اشارہ ہوا، اس کی گرہ ابو الفضل صدیقی کھولتے ہوئے لکھتے ہیں:
"جیل کی سختیوں کے سامنے بہت جلد ہمت ہار بیٹھا اور جیل کے انگریز افسروں سے ہندو مسلم اتحاد کے خلاف تحریک چلانے کی ساز باز شروع کر دی۔ انگریز ڈپلومیسی ایسے "جوہر قابل" کی تلاش میں ہمیشہ رہتی تھی۔ فوراً سودا طے ہو گیا۔ چند روز کے بعد دنیا نے دیکھا کہ کانگریس کا سرگرم کارکن اور ہندو مسلم اتحاد کا خواہاں منشی رام گیروا کپڑوں میں ملبوس جیل سے نکلا تو سوامی شردھانند بن چکا تھا"۔
(ماہنامہ "نعت" لاہور، جلد ۴، شمارہ ۴، ص ۳۶)
بدبخت شردھانند کی قسمت ڈوبی تو اسے پاتال کی کتنی گہرائیوں تک لے گئی اور ملعون زمانہ کو اس کی خبر تک نہ ہوئی۔ وہ پاگل کتوں کی طرح جگ میں مارا پھرتا رہا اور آوارہ کتے کی موت مرا۔ بلاشبہ وہ ہندوستان کی دونوں بڑی قوموں کا غدار تھا۔
نیا بہروپ بھرنے کے بعد نہ اسے دھرتی ماں کے تقدس کا پاس تھا، نہ محسن عالم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی عزت کا پاس اور یہ کس کے ذہن کا ناسور تھا جو ہندوستانی دماغ میں یوں سرایت کر گیا؟
ابو الفضل صدیقی لکھتے ہیں:
”چونکہ یہ سب کچھ انگریز حکومت کے اشارے اور اس کی منصوبہ بندی کے مطابق کیا جارہا تھا‘ اس لیے اس نے شردھانند کی خوب پیٹھ ٹھونکی۔ ہر طرح کی مالی امداد دی اور ہر مشکل مرحلے میں اس کا ساتھ دیا۔ شردھانند پہلے ہی بڑا شاطر اور عیار تھا۔ انگریز کی پشت پناہی سے وہ دو آتشہ ہو گیا“۔
(ماہنامہ ”نعت“ لاہور‘ جلد ۴‘ شمارہ ۴‘ ص ۳۷-۳۶)
اور پھر یہ آتش ایسی بھڑکی کہ اس کے شعلوں نے کبھی راج پال پیدا کیا تو کبھی نتھو رام۔ کہیں پالا مل سنار نے جنم لیا تو کہیں رام گوپال نے‘ کہیں چرن داس اور کہیں چھیل سنگھ نے اس فضا کو مکدر کیا اور یہ باد عصیاں چلی تھی مغرب سے۔
شردھانند نے ”شدھی“ اور ”سنگٹھن“ تحریکیں شروع کیں۔ کون نہیں جانتا ان کا انداز قدیم مشرقی نہ تھا۔ ثبوت ملاحظہ ہو:
”ہندو استریاں بھی ان کے دوش بدوش نکل آئیں اور کھلی گاڑیوں میں ”شدھ ہو جاؤ اور پسند کر لو“ کے پوسٹر آویزاں کر کے جلوس نکالنے لگیں“۔
(تحریر ابو الفضل صدیقی از ماہنامہ ”نعت“ لاہور‘ جلد ۴‘ شمارہ ۴‘ ص ۳۸)
مشرقی عورت تو سراپا عفت و حیا ہوتی ہے! اس کی پلکوں میں تقدس کے موتی جڑے ہوتے ہیں! اس کے آنچل میں بہن کی عظمت ہوتی ہے!
اس کے دامن میں بیوی کی قداست ہوتی ہے! اس کی آواز میں بچی کی معصومیت ہوتی ہے! اس کے پاؤں تلے جنت ہوتی ہے!
”شدھ ہو جاؤ اور پسند کر لو“ کا نعرہ کیا ہندوستانی غیرت کے منہ پر طمانچہ نہ تھا جو انگریز نے رسید کیا‘ ہندو قوم کے منہ پر اور یہ انگریزی سوچ ہی کا نتیجہ تھا کہ کل جو قومیں یک جان دو قالب تھیں‘ آج دست بہ گریباں ہوگئیں۔ اور بدقسمتی سے انگریزی جال میں جو پھنسی تو وہ ہندوستان کی بڑی قوم ہندو تھی۔ اور مسلمان تو ۱۸۵۷ء ہی سے اس جال کو کاٹتے آرہے تھے۔
اب ہوا کیا؟ جال کے رسے کا سرا انگریز کے ہاتھ میں تھا۔ وہ اسے کھینچتا رہا اور ہندو اس جال میں جکڑا انگریز سے قریب سے قریب تر ہو تا گیا اور بالاخر اس ملاپ پر الکفر ملة
واحدہ کا عملی مظاہرہ ہوا اور حدیث کی دوسری جزو الاسلام ملتہ واحدہ کے مصداق مسلمان تنہا رہ گئے۔
شفاف پرسکون تالاب کی سطح پر جو پہلا پتھر استعماری قوت نے پھینکا تھا، اس سے پیدا ہونے والے ارتعاش اور لہروں کا دائرہ پھیلتے پھیلتے شرقین کے فاصلے تک پہنچ گیا۔
اور یوں دو قومی نظریہ معرض وجود میں آیا، جس کی آبیاری شہداء ناموس رسالت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اپنے مقدس خون سے کر گئے تھے۔
مسلمانوں کے تحت الشعور میں رکھے گئے اس نظریے نے حقیقت کا روپ ۱۴ اگست ۱۹۴۷ء کو اختیار کیا۔
قیام پاکستان کے بعد چاہیے تو یہ تھا کہ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جاتا اور اسلام کے نام پر معرض وجود میں آنے والی مسلم ریاست میں عملاً اسلام کا نفاذ ہو جاتا مگر ایسا ہوا نہیں۔
اگر حاکمیت اعلیٰ کا تصور پاکستان کی مساجد اور مدارس تک محدود ہے تو بھارت جیسا سیکولر ملک بھی یہی نقشہ پیش کر رہا ہے۔ اگر شکوہ کریں کہ وہاں کچہری میں فیصلے اسلامی نہیں ہوتے تو یہاں کی عدالت میں بھی قرآن اور اسلام کی بالا دستی نہیں۔ جو قانون وہاں ہے، وہی انگریزی قانون یہاں بھی رائج ہے۔
یعنی جس نظام کی تردید قیام پاکستان کی حقیقت نے کی، اسی فرسودہ نظام کو اسلامیان پاکستان پر مسلط کر دیا گیا ہے اور پھر سنتالیس سال سے ہے۔ سچ ہے کہ ۔
تا ثریا می رود دیوار کج
اور یوں دو قومی نظریے کا تصور یکسر مٹ گیا۔
اس کا نتیجہ کیا ہوا؟ اس اندھے پن میں جو قربان گاہ تیار کی گئی، اس میں مسلمانوں کے ایک جم غفیر کو اکٹھا کر دیا گیا۔
اس ملک کو بنے ابھی پانچ سال چھ ماہ اور بیس دن ہوئے تھے کہ لیگی حکومت نے لاہور میں عاشقان مصطفیٰ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے مقدس خون سے وہ ہولی کھیلی کہ پاکستان کے بانیوں کی روحیں برزخ میں چیخ اٹھیں اور جنہوں نے سر کی آنکھوں سے یہ ہولناک اور تڑپا دینے والے مناظر دیکھے، جنہوں نے قیام پاکستان کے لیے ان گنت قربانیاں دی تھیں، جو پاکستان کی حقیقی روح سے آشنا تھے، اپنے خوابوں کا جنازہ بے گور و کفن یوں نکلتے دیکھا تو پکار اٹھے ۔
چلی ہے رسم کہ کوئی نہ سر اٹھا کے چلے
تاریخ پاکستان میں ۴ مارچ ۱۹۵۳ء کا دن عشق و مستی کے سنگ میل کی حیثیت سے ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ اس روز کی تاریخ نے جہاں اقتدار کے نشے میں بدمست چنگیزی صفات حکمرانوں کو بے نقاب کیا، وہاں یہ دن عشق نبوی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے ٹھاٹھیں مارتے سمندر کو پیش کرتا ہے۔ ۴ مارچ ۱۹۵۳ء کے حوالے سے استاذی مکرم مولانا اللہ وسایا رقم طراز ہیں:
”آج پورا دن جلوس نکلتے رہے اور پولیس ان پر گولیوں کی بوچھاڑ کرتی رہی۔ وہ خاک و خون میں تڑپ کر بھی محمد عربی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی عزت و ناموس کا تحفظ کر گئے اور آنے والی نسلوں کے لیے ایک راستہ متعین کر گئے کہ اگر قانون آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی عزت و ناموس سے گریزاں ہو تو مسلمان اپنے خون جگر سے یہ فریضہ ادا کر کے دکھاتے ہیں“۔
(”تحریک ختم نبوت“ ۱۹۵۳ء ص ۳۶۹-۳۶۸)
قدرت مسکرا رہی تھی:
مولانا اللہ وسایا لکھتے ہیں:
”ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کے حکم پر شہر میں پولیس نے گشت شروع کیا۔ پولیس کا کئی جلوسوں سے سابقہ پڑا۔ انہوں نے دل کھول کر فائرنگ کی اور مسلمانوں نے سینے کھول کر پولیس کے مظالم کو برداشت کیا۔ دونوں طرف سے مقابلہ جاری رہا۔ پولیس گولیوں اور سنگینوں کے استعمال سے تحریک کو ٹھنڈا کرنے پر عمل کر رہی تھی، مسلمان خون جگر دے کر تحریک کی آبیاری کر رہے تھے۔ قدرت مسکرا رہی تھی کہ حق و باطل کے اس عظیم معرکے میں پولیس کس طرح دنیا و آخرت میں اپنی رسوائی کا سامان کر رہی تھی۔ بھاٹی دروازے کے قریب ایک جلوس گزر رہا تھا۔ انتظامیہ نے اسے کرفیو کی خلاف ورزی قرار دے کر بھون ڈالا۔ نولکھا بازار میں بھی ایک جلوس پر گولیوں کی بوچھاڑ کی گئی۔ سرکلر روڈ بیرون دہلی دروازہ کے ایک جلوس پر گولیاں چلائی گئیں۔ چودھری محمد حسین ایس۔ پی نے میکلوڈ روڈ کے ایک جلوس پر اندھا دھند فائرنگ کر کے اپنے خبث باطن کا مظاہرہ کیا۔ نسبت روڈ پر انسپکٹر آغا سلطان احمد نے
فائرنگ کی اور کئی لوگوں کے جلوس پر گولیاں چلائیں۔ اسسٹنٹ سب انسپکٹر پولیس موچی دروازہ نے ایک اور جلوس پر گولیاں چلا کر شرکاء کے قلب و جگر کو چھید ڈالا۔ غرضیکہ پورا شہر سراپا احتجاج تھا۔ کرفیو نافذ ہونے کے باوجود اس کا نام و نشان نہ تھا۔ پولیس باؤلے کتے کی طرح شرکاء جلوس مظاہرین پر اندھا دھند فائرنگ کر رہی تھی۔ چشم فلک نے لاہور میں حق و باطل کا یہ معرکہ دیکھا کہ حق والے کس طرح اپنے سینوں پر گولیاں کھا کر جام شہادت نوش کر رہے تھے۔ رات بھر دور دور تک ہیبت و ہولناک شور اور اندھا دھند فائرنگ کی آوازیں آتی رہیں۔ مسلمان اذانیں دے کر رحمت کردگار کے طلب گار تھے، پولیس فرعون کا جدی پشتی کردار ادا کر رہی تھی۔ آدھی رات سے کچھ بعد چیف منسٹر کی کوٹھی پر ایک اجلاس منعقد ہوا۔ دی ہوم سیکرٹری، آئی۔ جی، ڈی۔ آئی۔ جی، ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ اور جنرل اعظم اور بعض دوسرے فوجی افسران شریک اجلاس ہوئے۔ یہ اجلاس صبح تین بجے تک جاری رہا آئی۔ جی نے جنرل اعظم کو بتایا کہ ہزارہا گولیاں ہزارہا مسلمانوں کا سینہ چھلنی کرنے کے باوجود تحریک کو گولیوں سے کچلنا ہمارے لیے ممکن نہیں۔ مدہم ہونے کے بجائے تحریک میں مزید شدت پیدا ہو رہی ہے۔ شدید حادثات کا اندیشہ ہے۔ اب پولیس کی گولیوں میں جان نہیں رہی یا مسلمان کا ایمان اتنا سخت جان واقع ہوا ہے کہ اس پر یہ اثر نہیں کرتیں۔ اب فوج کو توپ و تفنگ سمیت، رہی سہی کسر نکالنے کے لیے میدان میں آنا چاہیے۔ بھارت کی سرحد پر بمباری کے بجائے مسلمانوں کے سینوں کو میدان کارزار بنا کر ان کو لالہ زار بنایا جائے۔ ادھر تحریک کے کارکنوں میں غیر مرئی جذبہ اس طرح موجزن تھا کہ وہ ختم نبوت کے تحفظ کی جنگ گویا رحمت عالم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی براہ راست نظر کرم سے لڑ رہے تھے۔ مسلمان اپنی جانوں پر کھیل کر ثابت کر رہے تھے کہ رحمت عالم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی عزت و ناموس کا رشتہ اتنا مقدس رشتہ ہے کہ اس میں مال و عزت و آبرو تو درکنار، جان بھی کوئی حیثیت نہیں رکھتی۔ مسلمان لا یومن احدکم حتی اکون احب الیہ من والدہ و ولدہ والناس اجمعین (الحدیث) کا عملی مظاہرہ کر رہے تھے۔
(”تحریک ختم نبوت“ ۱۹۵۳ء ص ۴۷۰-۴۶۹)
تاریخی المیہ:
مولانا اللہ وسایا رقم طراز ہیں:
”محتاط اندازے کے مطابق دس ہزار مسلمانوں کو قتل کیا گیا اور ان کی نعشیں ٹھکانے لگائی جاتی رہیں۔ بعض ذمہ دار سیاسی لیڈروں نے اس کی تصدیق کی۔ ملک فیروز خان نون نے پبلک طور پر بیان دے کر اس بات کی تصدیق اور تائید کی“۔
(”تحریک ختم نبوت“ ۱۹۵۳ء‘ ص ۳۷۲)
واقعہ قیام پاکستان دراصل ان شہیدوں کے لہو کا خراج تھا، جنہوں نے اپنے خون جگر سے گلشن رسالت کی آبیاری کی تھی مگر میر جعفر اور میر صادق کی معنوی اولاد نے ۱۹۵۳ء میں ان مطہر روحوں کو تڑپا دیا۔ ان دنوں ان شہداء کے مقابر سے یہ صدائیں آنے لگیں:
ابھی تو سوئے تھے مقتل کو سرخرو کر کے
جی ہاں! یہ وہ نام نہاد ”مسلم“ اور لیگی تھے کہ جنہیں اگر ان کھوٹے سکوں سے تشبیہ دی جائے‘ جو انگریز اپنے دور میں تیار کر چکا تھا تو مبالغہ نہ ہوگا۔ نحوست کی وہ چھاپ‘ جو مسلمانوں کے مقدر پر فرنگی دور میں لگ گئی تھی‘ قیام پاکستان کے بعد دو چند ہو گئی اور مثل مشہور ہے کہ ”مالک سے زیادہ مالک کا کتا بھونکتا ہے“ یہ اس کا عملی مظاہرہ تھا۔ کل انگریز نے ظلم کیا تھا مگر آج انگریز کے بوٹ کے تلوے چاٹنے والے انگریز کے باپ ہلاکو خان سے بھی بڑھ گئے تھے۔ تب ہی تو امیر شریعت حضرت مولانا سید عطاء اللہ شاہ بخاری فرمایا کرتے تھے ”لعنت بر پدر فرنگ“
یزید نے شمر کے اقدام پر ناگواری کا اظہار کیا ہو گا مگر ”مسلم لیگیوں“ نے کیا کیا ظلم کیے اس کی صرف ایک معمولی جھلک ملاحظہ فرمائیے:
”ملک خان بہادر وہی پولیس افسر ہیں، جنہوں نے شہید گنج کے حادثے میں بھی مسلمانوں پر گولیاں چلائی تھیں اور سینکڑوں مسلمانوں کو موت کی نیند سلا کر انگریزوں کی نیک نامی اور عوام میں بدترین بدنامی حاصل کر چکے تھے اور ختم نبوت کی تحریک کو کچلنے کے عوض انہیں اور جنرل اعظم خان دونوں کو ۵‘ ۵ مربعہ جات عطا ہوئے تھے“۔
(”تحریک ختم نبوت“ ۱۹۵۳ء‘ مرتبہ مولانا اللہ وسایا‘ ص ۳۸۵)
گویا جو صدقہ پاکستان کی صورت میں شہداء کی برکت سے نصیب ہوا تھا، وہی انعام شہداء کے ہم مسلکوں پر گولیاں چلانے والوں میں بانٹا گیا۔ یہ الٹی گنگا تب سے اب تک ہمارے دیس
یہ فرماتے پھر رہی ہے:
ہر بشر ہے اپنے اندر اک زخم لیے ہوئے
انا للہ وانا الیہ راجعونO
۱۹۵۳ء کے بعد راتیں صبحوں میں اور صبحیں راتوں میں ڈھلتی رہیں تا آنکہ ۱۹۸۹ء میں فروری کی بارہویں صبح طلوع ہوئی اور خیر سے اس روز سرزمین پاکستان پر حکومت تھی پاکستان پیپلز پارٹی کی یعنی عوامی حکومت۔ ایسے دور حکومت میں بزعم خویش آزادی رائے اور آزادی اظہار، ہر شہری کا بنیادی حق ہوتا ہے، مگر کیا کیجئے اس عشق دردمنداں کا کہ یہ ستارہ جب بھی چمکا غیر کی آنکھ کا کانٹا بن گیا۔ کل مسلم لیگیوں نے دس ہزار شہیدوں کے لہو سے اپنے کشکول میں ڈلی خیرات کا خراج وصول کیا تھا تو آج پیپلز پارٹی والوں نے وہی مقدس لہو اسلام آباد کی سڑکوں پر گرا کر مسلم لیگیوں کے ہم مسلک ہونے کا ثبوت فراہم کر دیا۔
پہنچی وہیں پہ خاک جہاں کا خمیر تھا
لیگی ہوں یا پیپلی ایک ہی تھیلی کے چٹے بٹے ہیں اور جب تک اسلامی نظام کا سورج طلوع نہ ہوگا۔ ان اندھیروں میں عشاق کے قافلے ان راہزنوں کے ہاتھوں لٹتے رہیں گے:
۱۹۸۹ء میں واقعہ یہ ہوا کہ بدنام زمانہ مصنف سلمان رشدی نے ”شیطانی آیات“ کے نام سے کتاب لکھ کر مسلمانان عالم کے جذبات کو شدید مجروح کیا تھا۔ خصوصاً پاکستان اور بھارت کے غیور مسلمان ایک اذیت ناک کرب و ابتلا سے گزر رہے تھے۔
”ان ہی دنوں میں مجلس تحفظ ناموس رسالت کے سرگرم اراکین اور قائدین نواب زادہ نصر اللہ خان، مولانا عبد الستار خان نیازی، مولانا فضل الرحمن، مولانا کوثر نیازی (مرحوم)، میجر (ریٹائرڈ) محمد امین منہاس، مولانا قاری عبد العزیز جلال، مولانا محمد عبداللہ اور دیگر دردمند کارکنوں کا اجتماع ہوا جس میں فیصلہ کیا گیا کہ حکومت امریکہ کو مسلمانوں کے جذبات سے آگاہ کرنے اور اسلامی ملکوں کو اس صورت حال سے واقف کرانے کے لیے اراکین اسمبلی، دانشوروں اور معروف دینی و سماجی شخصیتوں کی راہنمائی میں ایک پرامن احتجاجی مظاہرہ کیا جائے گا۔ اس سلسلے میں مجلس نے ایک پروگرام بنایا کہ اسلام آباد میں ایک پرامن جلوس، امریکن سنٹر تک جائے گا، جس کی وساطت سے، حکومت امریکہ کو
اسلامیان پاکستان میں اس کتاب کی اشاعت سے پیدا ہونے والے اندوہناک اضطراب اور گہری تشویش سے آگاہ کیا جائے گا اور اس سے یہ مطالبہ بھی کیا جائے گا کہ وہ اس فحش کتاب کی اشاعت اور فروخت پر پابندی عائد کرے جو ساری دنیا میں مسلمانوں کی دل آزاری کا سبب بنی ہوئی ہے۔ چنانچہ پروگرام کے مطابق یہ جلوس حکومت پاکستان سے اجازت طلب کرنے کے بعد ۱۲/جنوری ۱۹۸۹ء کو لال مسجد آب پارہ سے نکل کر بلو ایریا امریکن سنٹر کے قریب پہنچا تو وہاں پر متعین پولیس نے مرکزی حکومت کی ہدایات پر شرکاء جلوس کو امریکن سنٹر میں داخل ہو کر اپنے مطالبات پہنچانے سے روکنے کے لیے درمیان میں رکاوٹیں کھڑی کر دیں۔ بالآخر حکومت اور انتظامیہ کی بے تدبیری اور سہل انگاری کی وجہ سے پولیس نے نہتے معصوم شہریوں پر اندھا دھند فائرنگ کی جس کے نتیجے میں چمن زار مصطفیٰ (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کے سات نونہال، خون شہادت سے رنگین قبا ہوئے جن کے اسمائے گرامی حسب ذیل ہیں:
- (۱) نوجوان طالب علم ظفر اقبال فرزند مرزا سلطان مہر پرنسپل قندیل
انسٹی ٹیوٹ پنڈی۔
- (۲) جواں سال طالب علم حافظ نوید عالم فرزند مظفر خان ساکن
ایبٹ آباد
- (۳) جواں سال طالب علم نور الدین فرزند محمد شعیب سواتی
- (۴) جواں سال طالب علم محمد شاہد فرزند محمد یونس سکنہ راولپنڈی
- (۵) شیر دل نوجوان حق نواز فرزند عظیم اللہ ساکن مانسہرہ
- (۶) جاں نثار نوجوان محمد ارشد فرزند محمد صادق ساکن اٹک
- (۷) جاں باز نوجوان محمد فاروق فرزند عبداللہ خان ساکن راولپنڈی
ان کے علاوہ بے شمار جاں نثاران مصطفیٰ (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) اس فائرنگ سے زخمی اور مضروب ہوئے۔ یہ قافلہ بلاکشان محبت لال مسجد سے روانہ ہوا تھا اور ملت خونیں کفن کے فرزندوں نے صرف اپنے سینے اور دست و بازو پر گولیاں کھا کر ساری ملت کو سرخرو کیا ان میں سے کسی کی پشت پر ایک خراش تک نہ پائی گئی"۔ ("ناموس رسولؐ اور قانون توہین رسالت" از محمد اسماعیل قریشی،
ص۳۵۶-۳۵۵)
بڑھا دیتے ہیں طرہ سرفروشی کا زمانے میں
یمامہ کا میدان کار زار ہو یا فرنگی دور حکومت‘ لیگی بر سر اقتدار ہوں یا پیپلی مسند اقتدار پر ہوں‘ غلامان مصطفیٰ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے خون کی حدت ایک جیسی رہی۔
رشدی ملعون کے خلاف صدائے احتجاج بلند کرتے ہوئے سرزمین بھارت سے بھی چھ عاشق رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم عظمت رسالت پر وار دیے چنانچہ محمد اسمعیل قریشی ایڈووکیٹ لکھتے ہیں:
”پاکستان کے علاوہ ہندوستان میں بھی اس ملعون رشدی کے خلاف بمبئی میں‘ جو اس مردود کا جنم بھومی ہے‘ ایک عظیم الشان جلوس نکالا۔ وہاں کی پولیس نے بھی اس کی مزاحمت کی اور نہتے شہریوں کے جلوس پر فائرنگ کی‘ جس کے نتیجے میں چھ سرفروشان اسلام رتبہ شہادت سے سرفراز ہوئے اور کئی جاں نثار مضروب اور زخمی ہوئے“۔ (”ناموس رسول اور قانون توہین رسالت“ از محمد اسمعیل قریشی‘ ص ۴۵۸)
شہداء ناموس رسالت کا لہو اپنی قدر و قیمت میں فرشتوں کے ان سجدوں سے اعلیٰ و ارفع ہے کہ جن کی معرفت انہیں قرب خداوندی حاصل ہے۔ صبح ازل فرشتوں نے حق تعالیٰ شانہ سے عرض کی کہ ”ہم تیری تسبیح اور پاکی بیان کرتے ہیں یہ انسان تو زمین پر خون بہائے گا اور فساد کرے گا“۔ مگر رب کائنات نے ارشاد فرمایا ”جو میں جانتا ہوں تم نہیں جانتے“۔ رب ذوالجلال کا یوں اترانا انسان کی کس ادا پر تھا؟ کیا محبوب رب العالمین صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی عزت کے تحفظ کی خاطر زمین پر گرنے والا لہو اس راز کو افشاء نہیں کرتا؟ انسانیت نے اس حق کو یوں ادا کیا کہ اس کا حق ادا ہو گیا اور انسانیت کی یہ معراج صدائے بازگشت کی طرح چہار دانگ عالم میں آفتاب نیم روز کی روشنی کی طرح پھیل چکی ہے اور یہ حقیقت اپنوں اور غیروں کے دلوں میں گھر کر چکی ہے:
وقت کی تیز ہواؤں سے بغاوت کی ہے
توڑ کر سلسلۂ رسم سیاست کا فسوں
اک فقط نام محمد سے محبت کی ہے
ہم نے ہر دل کو اک نئی راہ و نوا بخشی ہے
مرحلے بند و سلاسل کے کئی طے کر کے
چہرہ دار و رسن کو بھی ضیاء بخشی ہے
چودھواں باب
عیسائیت اور قانون توہین رسالت
عیسائیوں کی الہامی کتاب انجیل مقدس ہے جسے بائبل بھی کہا جاتا ہے۔ اس کے چالیس زبانوں میں تراجم ہیں۔ بائبل بنیادی طور پر دو حصوں پر مشتمل ہے۔ نیا عہدنامہ اور پرانا عہدنامہ۔
نیا عہدنامہ ۲۷ حصوں پر مشتمل ہے جبکہ پرانے عہد نامے کے ۳۹ حصے ہیں۔ یوں بائبل کے کل حصے ۶۶ ہوتے ہیں۔ بائبل میں تیرہویں اور چودہویں صدی عیسوی میں بڑی درجہ بندی کی گئی۔ اس کی کل آیات ۳۱۱۰۶ یا ۳۱۱۰۷ ہیں جبکہ بائبل کے رکوع ۱۱۸۹ ہیں۔ ۱۱۸۹ ابواب میں سے ۸۰۰۰ آیات میں موٹا موٹا فرق ہے۔ سن ۱۹۰۰ء میں عیسائی ۱۹۰۰ فرقوں میں بٹے ہوئے تھے جبکہ ۱۹۹۲ء میں عیسائیوں کے فرقوں کی تعداد ۲۵۰۰۰ ہزار ہو گئی اور یوں تقریباً ہر روز عیسائیت میں ایک نئے فرقے کا اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔
باوجود اس زبوں حالی کے بائبل میں اللہ کا ایک قانون اپنے پورے جلال کے ساتھ نمایاں ہے اور وہ قانون ہے قانون توہین رسالت۔ بائبل میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی شان اقدس میں گستاخی کو یوں نقل کیا گیا ہے:
”جو لوگ یسوع کو پکڑے ہوئے تھے اس کو ٹھٹھوں میں اڑاتے اور مارتے تھے اور اس کی آنکھیں بند کر کے اس سے پوچھتے تھے کہ نبوت سے بتا تجھے کس نے مارا ہے“۔ (انجیل لوقا، آیات ۶۳ - ۶۴، باب ۲۲)
مذکورہ بالا حوالہ کو نقل کر کے فقط ثابت یہ کرنا ہے کہ بائبل میں جابجا شریروں اور استہزاء کرنے والوں کا ذکر مذکور ہے ورنہ ہمارا ایمان تو یہ ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے یہودیوں کے شر سے پورا پورا محفوظ فرمایا۔ انہیں تو صلیب دی ہی نہیں گئی، صلیب دینے سے پہلے ہی اللہ نے انہیں آسمانوں پر اٹھا لیا تھا۔ جبکہ شریروں کا ذکر ایک دوسری جگہ یوں مذکور ہے:
”ناگہانی دہشت سے خوف نہ کھانا اور نہ شریروں کی ہلاکت سے، جب وہ
آئے“۔ (امثال‘ آیت ۲۵‘ باب ۳)
”بائبل ایسے گستاخوں کے لیے سزا تجویز کرتی ہے! ملاحظہ ہو:
”شریروں کے گھر پر خدا کی لعنت ہے۔۔۔۔۔ دانا جلال کے وارث ہوں گے لیکن احمقوں کی ترقی شرمندگی ہوگی“۔ (امثال‘ آیات ۳۴-۳۳‘ باب ۳)
”شریروں کے گھر پر خدا کی لعنت ہے“ جیسا کہ آپ جانتے ہیں کہ لفظ ”لعنت“ رحمت کی ضد ہے۔ رحمت کسی شخص یا معاشرہ کے لیے امان ہے اور لعنت اس امان کا اٹھ جانا ہے اور خدا کی طرف سے لعنت کا مطلب اللہ کی امان کا اٹھ جانا ہے اور جب کسی سے خدا کی امان اٹھ جائے تو اس کی جان اور مال کا تحفظ باقی نہیں رہتا اور اس کا مال اور جان ہر ایک کے لیے مباح ہو جاتا ہے۔ یہ ہے لعنت۔ بائبل کی تحریر کے دوسرے حصے پر غور کرنے سے مسئلہ اور واضح ہو جاتا ہے کہ ”دانا جلال کے وارث ہوں گے“ یعنی ان کے عمل میں شدت اور سختی ہوگی۔ جب اللہ کی طرف سے امان اٹھ چکی ہو اور کسی کی جان و مال کے تحفظ کا وعدہ بھی ختم ہوچکا ہو تو اس پر شدت اور سختی کا اطلاق کیا کسی ملعون اور پھٹکارے ہوئے شخص کی بقاء کی ضمانت بن سکتا ہے؟ ہرگز نہیں۔ اب اسے یقیناً فنا ہی ہوگی ابدی فنا۔ کیونکہ خدا نے خود ان پر لعنت کی ہے جو دنیا اور آخرت دونوں کو محیط ہوگی۔ اب بائبل نے ایک اصول متعین کر دیا ہے اور ”دانا“ کی تعریف بھی کر دی ہے۔ ملاحظہ ہو:
”لیکن دانا نصیحت کو سنتا ہے“۔ (امثال‘ آیت ۱۵‘ باب ۱۲)
معلوم ہوا جو ایسی نصیحت پر غور نہ کرے وہ دانا ہی نہیں۔ ایسی ہی ایک اور نصیحت ایک دوسری جگہ یوں مذکور ہے۔ جو سننے والوں کے دلوں پر اک دستک ہے:
”راست باز آدمی کی یادگار مبارک ہے‘ لیکن شریروں کا نام سڑ جائے گا۔ دانا دل فرمان بجا لائے گا‘ پر بکواسی احمق پچھاڑ کھائے گا“۔ (امثال‘ آیات ۷-۸‘ باب ۱۰)
یعنی صالحین ہمیشہ ہمیشہ اچھے اور مبارک طور پر یاد رکھے جائیں گے مگر بدکاروں کا نام لینے والا کوئی نہ رہے گا اور جو لے گا بھی‘ وہ دھتکار اور لعنت کے ساتھ لے گا جیسے کسی سڑی ہوئی چیز سے بدبو کے بھبکے اٹھتے ہیں‘ اسی طرح شریروں کا نام رہے گا۔ اگلی آیت میں کہا سعادت مند دل کہے پر عمل کرے گا مگر گستاخ ناعاقبت اندیش ذلت آمیز شکست سے دوچار ہوگا۔ اور اس ذلت آمیز شکست کی صورت کیا ہوگی‘ خود بائبل نے صراحت کر دی:
”شریر محض سرکشی کا جویا ہے۔ اس کے مقابلے میں سنگدل قاصد بھیجا جائے گا“۔
(امثال‘ آیت ۱۱‘ باب ۱۷)
سبحان اللہ! کتنا واضح فرمان ہے۔ یعنی گستاخوں اور سرکشی کرنے والوں کے مقابلے کے لیے اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں اور مجاہدوں کو بھیجے گا جو ٹھٹھہ کرنے والوں اور توہین کرنے والوں کے ساتھ سنگدلی سے پیش آئیں گے اور فرش زمین کو ان کے پلید وجود سے پاک اور محو کر دیں گے اور یوں امن و شانتی کا پیغام بن جائیں گے۔
بائبل کے ان واضح حوالہ جات کے بعد بھی کیا کوئی بائبل مقدس پر ایمان رکھنے والا گستاخ رسول کی سزا کے قانون‘ قانون توہین رسالت (295/C) سے اختلاف کر سکتا ہے‘ انکار کی وجہ کو نہ عقل مانتی ہے اور نہ قلب سلیم اسے تسلیم کرتا ہے۔ تو پھر کیوں نہ قانون توہین رسالت کی بقاء اور گستاخان رسالت کے سدباب کے لیے مشترکہ جدوجہد کی جائے۔
گستاخوں اور شریروں کے لیے تو قانون توہین رسالت ”ننگی تلوار“ بن سکتا ہے‘ مگر ایک سچے نبی کی امت سے یہ توقع نہیں رکھی جا سکتی کہ وہ توہین رسالت کے قانون کو ننگی تلوار قرار دے۔ سچے رسول کے نام لیواؤں کو تو اس قانون کا محافظ اور علمبردار ہونا چاہیے اور تمام سچے نبیوں اور رسولوں کی عزت اور ناموس کے تحفظ کا فریضہ سرانجام دینا چاہیے اور جھوٹے نبیوں اور اس کی جھوٹی ذریت کی سرکوبی کے لیے میدان عمل میں اترنا چاہیے۔ مناسب معلوم ہوتا ہے کہ یہاں عیسائی عقائد کے مطابق جھوٹے نبیوں اور اس کی اطاعت کرنے والوں کے احکام بھی نقل کر دیے جائیں۔
انجیل میں ایک اصول متعین کیا گیا ہے جسے عیسائیوں کا جزو ایمان ہونا چاہیے۔ اس ناتے اس پر عمل درآمد عیسائیوں کا بنیادی نظریہ قرار پاتا ہے۔ اصول ملاحظہ ہو: ”یہ نہ سمجھو کہ میں توریت یا نبیوں کی کتابوں کو منسوخ کرنے آیا ہوں۔ منسوخ کرنے نہیں بلکہ پورا کرنے آیا ہوں کیونکہ میں تم سے سچ کہتا ہوں کہ جب تک آسمان اور زمین نہ ٹل جائیں ایک نقطہ یا ایک شوشہ توریت سے ہرگز نہ ٹلے گا جب تک سب کچھ پورا نہ ہو جائے۔ پس جو کوئی ان چھوٹے سے چھوٹے حکموں میں سے بھی کسی کو توڑ دے گا اور یہی آدمیوں کو سکھائے گا وہ آسمان کی بادشاہی میں سب سے چھوٹا کہلائے گا“۔
(متی باب ۵‘ آیت ۱۷ تا ۱۹)
معلوم ہوا عیسائی عقائد میں جیسے احکام انجیل مقدس کے ہیں‘ اسی طرح توریت
کے احکامات کی اطاعت بھی عیسائی عقائد میں شامل ہے۔ اب اس اصول کے طے ہو جانے کے بعد عیسائیوں پر لازم آتا ہے کہ توریت کے کسی حکم کا انکار نہ کریں بلکہ اس کے احکامات کی اطاعت اپنا مذہبی فریضہ سمجھیں اور اس فریضہ کی بجا آوری کے لیے توریت کے مندرجہ فرمان پر غور فرمائیں:
"اگر تیرے درمیان کوئی نبی یا خواب دیکھنے والا ظاہر ہو تجھ کو کسی نشان یا عجیب بات کی خبر دے اور وہ نشان یا عجیب بات جس کی اس نے تجھ کو خبر دی وقوع میں آئے اور وہ تجھ سے کہے کہ آ ہم اور معبودوں کی جن سے تو واقف نہیں پیروی کر کے ان کی پوجا کریں تو تو ہرگز اس نبی یا خواب دیکھنے والے کی بات کو نہ سننا کیونکہ خداوند تمہارا خدا تم کو آزمائے گا تاکہ جان لے کہ تم خداوند اپنے خدا سے سارے دل اور اپنی ساری جان سے محبت رکھتے ہو یا نہیں۔ تم خداوند اپنے خدا کی پیروی کرنا اس کا خوف ماننا اور اس کے حکموں پر چلنا اور اس کی بات سننا، تم اس کی بندگی کرنا اور اسی سے لپٹے رہنا۔ وہ نبی یا خواب دیکھنے والا قتل کیا جائے۔" ("کتاب استثناء" باب ۱۳' آیت ۱ تا ۵)
"آ ہم اور معبودوں کی جن سے تو واقف نہیں پیروی کر کے ان کی پوجا کریں" کے الفاظ واضح اشارہ ہیں جھوٹے مدعی نبوت کی دعوت کی طرف۔ ورنہ نبی تو جو آیا اس نے ایک ہی دعوت دی جو عام تھی اور معبودوں کی پیروی اور پوجا کا تصور جھوٹی نبوت ہی کا کرشمہ ہو سکتا تھا جس پر یہ فرمان جاری کیا گیا ہے کہ ”وہ نبی یا خواب دیکھنے والا قتل کیا جائے"۔ معلوم ہوا جو شخص نبوت کا جھوٹا دعویٰ کرے، واجب القتل ہے۔
ایک گروہ بھی اگر ایسی دعوت دے تو قتل کیا جائے
عیسائیت کے ہاں جھوٹے مدعی نبوت کے قتل کے ساتھ ساتھ ایسی ہی دعوت دینے والے گروہ کا قتل بھی جائز ہے۔ ثبوت ملاحظہ ہو:
"اور جو شہر خداوند تیرے خدا نے تجھ کو رہنے کو دیے ہیں، اگر ان میں سے کسی کے بارے میں تو یہ افواہ سنے کہ چند خبیث آدمیوں نے تیرے ہی بیچ میں سے نکل کر اپنے شہر کے لوگوں کو یہ کہہ کر گمراہ کر دیا ہے کہ چلو ہم اور معبودوں کی جن سے تو واقف نہیں، پوجا کریں تو تو دریافت اور خوب تفتیش کر کے پتہ لگانا اور دیکھ اگر یہ سچ ہو اور قطعی یہی بات نکلے کہ ایسا مکروہ کام تیرے
درمیان کیا گیا ہے تو تو اس شہر کے باشندوں کو تلوار سے ضرور قتل کر ڈالنا“۔
(کتاب استثناء باب ۱۳ آیت ۱۲ تا ۱۶)
اس سے یہ بات ثابت ہوئی کہ کوئی شخص چاہے نبوت کا مدعی بھی نہ ہو مگر اس نئی دعوت کو پھیلانے میں سرگرم ہو جو اس جھوٹے مدعی نبوت کی دعوت ہے‘ تو ایسے لوگ بھی ضرور تلوار سے قتل کیے جائیں گے۔ ایسا ہی ایک اور حوالہ اتمام حجت کے قیام کے لیے انجیل مقدس سے نقل کیا جاتا ہے‘ تاکہ انکار کے جواز کا تصور مٹ سکے:
”جھوٹے نبیوں سے خبردار رہو جو تمہارے پاس بھیڑوں کے بھیس میں آتے ہیں‘ مگر باطن میں پھاڑنے والے بھیڑیے ہیں۔ ان کے پھلوں سے تم ان کو پہچان لو گے۔ کیا جھاڑیوں سے انگور یا اونٹ کٹاروں سے انجیر توڑتے ہیں؟ اسی طرح ہر ایک اچھا درخت اچھا پھل لاتا ہے اور برا درخت برا پھل لاتا ہے۔ اچھا درخت برا پھل نہیں لا سکتا‘ نہ برا درخت اچھا پھل لا سکتا ہے۔ جو درخت اچھا پھل نہیں لاتا‘ وہ کاٹا اور آگ میں ڈالا جاتا ہے۔ پس ان کے پھلوں سے تم ان کو پہچان لو گے“۔ (متی باب ۷‘ آیت ۱۵ تا ۲۱)
حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا فرمان ہے کہ ”جھوٹے نبیوں سے خبردار رہو“ سے واضح ہوتا ہے کہ جھوٹے نبی آتے رہیں گے۔ بھیڑوں سے تشبیہ دینے کا مطلب انسانی اصطلاح میں بے ضرر (خوش اخلاق) اور ظاہراً بھولے بھالے ہی ہو سکتا ہے ”مگر باطن میں پھاڑنے والے بھیڑیے ہیں“ سے یہ استدلال کیا جا سکتا ہے کہ وہ تمہاری روحانیت اور عاقبت کو تار تار کر دینے والے ہیں۔ ”ان کے پھلوں سے تم ان کو پہچان لو گے“ ایک نشانی بیان فرما دی تاکہ امتیاز کیا جاسکے کہ تم ان کی تعلیمات اور ان کی جماعتوں کے کردار اور اعمال سے ان کو پہچان لو گے۔ ”کیا جھاڑیوں سے انگور یا اونٹ کٹاروں سے انجیر توڑتے ہیں؟“ ناممکنات کی طرف اشارہ فرماتے ہوئے ساتھ ہی ساتھ کمال حکمت سے یہ صراحت بھی فرما دی کہ نیک اعمالی کی توقع ان سے عبث ہے۔ ”اسی طرح ہر ایک اچھا درخت اچھا پھل لاتا ہے“ سے معلوم ہوا کہ اچھی جماعت اور اچھی تعلیمات‘ نبوت کا خاصہ ہوا کرتی ہیں ”اور برا درخت برا پھل لاتا ہے“ سے واضح ہوتا ہے کہ جھوٹے نبی کی تعلیمات اور جماعتیں ذلیل و خوار ہوں گی اور اس کے گلے کا طوق ہوں گی۔ ”اچھا درخت برا پھل نہیں لا سکتا“ تاکیداً بیان فرمایا کہ نبی کی تعلیمات اور جماعتیں غیر فطری اور بری نہ ہوں گی۔ ”نہ برا درخت
اچھا پھل لا سکتا ہے" کہ جھوٹے نبی کی تعلیمات اور جماعتیں کبھی فطری اور مثالی نہ ہوں گی۔ "جو درخت اچھا پھل نہیں لاتا وہ کاٹا اور آگ میں ڈالا جاتا ہے"۔ یعنی جس نبی کی جماعت مثالی اور تعلیمات فطری نہ ہوں اس کو اور اس کی جماعت کو قتل کیا جاتا ہے اور آخرت میں اس کی سزا، آگ میں ڈالا جاتا ہے۔ "پس اس کے پھلوں سے تم اس کو پہچان لو گے" یعنی ان کی غیر فطری تعلیمات اور اوامر الہیہ سے باغیانہ طرز حیات، ان کی پہچان ہوگی۔
دور حاضر میں بھی ایک ایسا خاردار درخت پیدا کیا گیا جس کی آبیاری سیاست اور ملک دشمنی کے زہریلے پانی سے کی گئی جس کے پھلوں میں روح فرسا جراثیم، حیات کش غذا، جس کے ظاہر سے باطن تک گئے ہوئے مسموم داغ اور خوشبو کی جگہ تعفن کے تھپیڑے جو ہر سو وبائی بیماری کی طرح پھیلے ہوئے ہیں۔ یہ آدم خور درخت، مرزائیت کا ہے جس کا بانی مرزا غلام احمد قادیانی تھا۔ اس کی ذریت اور پیروکاروں کو قادیانی بھی کہا جاتا ہے، جو خود کو احمدی بھی کہتے ہیں۔
مرزا غلام احمد قادیانی اور اس کے ماننے والوں نے اپنے سوا تمام انسانوں کے لیے، انسانوں کے لیے ہی نہیں، خداوند تعالیٰ اور اس کے بھیجے ہوئے رسولوں کے لیے بھی مغلظات کے دفتر کھول رکھے چونکہ یہ باب عیسائیت سے متعلق ہے، اس لیے عیسائی حضرات کی مذہبی غیرت پر بطور دستک چند حوالے یہاں نقل کیے جاتے ہیں جن میں مرزا غلام احمد قادیانی نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام جیسے اولوالعزم پیغمبر کی شان مطہر میں نازیبا اور گستاخانہ الفاظ تحریر کیے اور جنہیں تمام مرزائی اپنے عقیدے کا حصہ سمجھتے ہیں اور بدقسمتی سے عیسائی بھی ان انتہائی شرمناک تحریروں کو شیر مادر سمجھ کر ہضم کر چکے ہیں۔
حضرت مسیح علیہ السلام مرزا قادیانی کی نظر میں
مرزا غلام احمد قادیانی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی مقدس شخصیت کی بابت زہر آلود قلم سے یوں راقم ہے:
”آپ (یسوع مسیح) کا خاندان بھی نہایت پاک اور مطہر ہے۔ تین دادیاں اور نانیاں آپ کی زناکار اور کسبی عورتیں تھیں جن کے خون سے آپ کا وجود ظہور پذیر ہوا“۔ (ضمیمہ انجام آتھم، ص۷، حاشیہ مصنفہ مرزا غلام احمد قادیانی)
حضرت مسیح علیہ السلام کے کردار پر جو بہتان تراشی مرزا قادیانی نے کی، ملاحظہ ہو:
”یورپ کے لوگوں کو جس قدر شراب نے نقصان پہنچایا ہے اس کا سبب تو یہ تھا کہ عیسیٰ علیہ السلام شراب پیا کرتے تھے شاید کسی بیماری کی وجہ سے یا پرانی عادت کی وجہ سے“۔ (”کشتی نوح“ ص ۶۵‘ از مرزا غلام احمد قادیانی)
حضرت مسیح علیہ السلام کی ذات اقدس پر مرزا قادیانی ایک اور بد نما دھبہ یوں لگاتا ہے:
”آپ (یسوع مسیح) کا کنجریوں سے میلان اور صحبت بھی شاید اسی وجہ سے ہو کہ جدی مناسبت درمیان ہے ورنہ کوئی پرہیزگار انسان ایک جوان کنجری کو یہ موقع نہیں دے سکتا کہ وہ اس کے سر پر اپنے ناپاک ہاتھ لگائے اور زناکاری کی کمائی کا پلید عطر اس کے سر پر ملے اور اپنے بالوں کو اس کے پیروں پر ملے۔ سمجھنے والے سمجھ لیں کہ ایسا انسان کس چلن کا آدمی ہو سکتا ہے“۔ (ضمیمہ انجام آتھم‘ ص ۷‘ حاشیہ از مرزا غلام احمد قادیانی)
حضرت مسیح علیہ السلام کی زبان مبارک پر بہتان عظیم : ”ہاں آپ (یسوع مسیح) کو گالیاں دینے اور بدزبانی کی اکثر عادت تھی“۔
(ضمیمہ انجام آتھم‘ ص ۵‘ حاشیہ از مرزا غلام احمد قادیانی)
حضرت مسیح علیہ السلام کے متعلق جھوٹ بولنے کا بہتان: ”یہ بھی یاد رہے کہ آپ (یسوع مسیح) کو کسی قدر جھوٹ بولنے کی بھی عادت تھی“۔ (ضمیمہ انجام آتھم‘ ص ۵‘ حاشیہ از مرزا غلام احمد قادیانی)
حضرت مسیح علیہ السلام کی شرمناک توہین : ”وہ مسیح ابن مریم ہر طرح عاجز ہی عاجز تھا۔ مخرج معلوم کی راہ سے جو پلیدی اور ناپاکی کا مبرز ہے‘ تولد پا کر مدت تک بھوک اور پیاس اور درد اور بیماری کا دکھ اٹھاتا رہا“۔ (”براہین احمدیہ“ ص ۲۶۹‘ طبع لاہور از مرزا غلام احمد قادیانی)
عیسائیو! حضرت مسیح علیہ السلام کی شان اقدس و مطہر میں اس قدر شرمناک اور توہین آمیز عبارات پڑھ لینے کے بعد اگر سینے میں کوئی چیز دھڑکتی محسوس کرو تو وہ دل ہے جو اٹھ اٹھ کر یہ صدا دیے جا رہا ہے کہ اس طوفان بدتمیزی کے سامنے سیسہ پلائی دیوار بن جاؤ‘ اگر ضمیر نام کی کوئی چیز تمہارے اندر موجود ہے تو سچائی کی آواز پر لبیک کہو اور اگر اپنی بہن‘ بیٹی کی عزت اور آبرو پر حرف آنے پر تمہیں غصہ آتا ہے تو اپنے نجات دہندہ کی
توہین پر بے غیرتی کی تصویر بنے کیوں بیٹھے ہو؟
سر جھکا کر‘ آنکھیں بند کر کے اور دل جلا کر سوچو کہ حضرت مسیح علیہ السلام کے ساتھ ہماری محبت اور عقیدت کا تقاضا یہی ہے؟
دنیا کا اک اک رشتہ قربان‘ نبی اور رسول کی ذات مقدس پر۔ جو قوم اپنے رسول اور نبی کی عزت کا تحفظ نہیں کر سکتی‘ اس قوم کی بہنوں اور بیٹیوں کو یہ گمان اپنے دلوں سے نکال دینا چاہیے کہ ہماری عزتیں محفوظ ہیں۔
توہین رسالتؐ کا قانون ہر زندہ دل کی صدا ہے۔ انجیل اور توریت کے حوالہ جات سے دنیائے عیسائیت پر ثابت کر دیا گیا ہے کہ یہی خدا کا قانون ہے اور اس میں انسانیت کی بقاء و فلاح ہے۔
عیسائیوں کو سوچ کی دعوت اور تدبر کرنے کے لیے انجیل مقدس کے اس فرمان پر اس باب کا اختتام مقصود ہے:
”کیونکہ ہم ایسی چیزوں کی تدبیر کرتے ہیں جو نہ صرف خداوند کے نزدیک بھلی ہیں بلکہ آدمیوں کے نزدیک بھی“۔ (کرنتھیوں‘ آیت ۲۱‘ باب ۸)
اگر قانون توہین رسالت (295/c) خداوند تعالیٰ اور تمام انسانیت کے نزدیک بھلا ہے تو پھر اس سے اجتناب اور مخالفت کیوں؟
عیسائی ممالک
- 1 انگلستان میں توہین مسیح کا قانون اس وقت بھی موجود تھا جب انگریزوں نے برصغیر
پر قبضہ کیا۔ ۱۸۶۰ء میں یہاں توہین رسالت کا قانون منسوخ کر دیا گیا تھا۔
- 2 اس وقت بھی توہین مسیح کا قانون انگلستان کے کامن لا کے حصہ مجموعہ قوانین میں
شامل ہے۔
- 3 انجیل کلیسائی قانون کے مطابق یسوع مسیح کی اہانت کے جرم کی سزا موت ہے۔
- 4 شریعت موسوی میں قبل مسیح توہین انبیاء کی سزا سنگسار تھی۔
- 5 شہنشاہ جسٹینین کے دور حکومت میں اہانت مسیح کے جرم میں موت کی سزا دی
جاتی رہی۔
- 6 اسکاٹ لینڈ اور روس میں اٹھارویں صدی عیسوی تک توہین مسیح کے جرم کی سزا
بھی دی جاتی تھی۔
- روس میں کمیونزم آ جانے کے بعد توہین مسیح کی جگہ حکومت سے اختلاف کرنے
والے کو موت کے گھاٹ اتار دیا جاتا، اگرچہ وہ امریکہ میں کیوں نہ پہنچ جائے۔
- اسٹالن کے اپنے مخالفین کو جس بے دردی سے اذیت ناک تکلیفوں سے موت کی
سزا دی جاتی رہی اس کی مثال تاریخ میں نہیں ملتی۔
- امریکہ میں متعدد ریاستیں ہیں جن میں اکثر سیکولر بھی ہیں، وہاں بھی توہین مسیح کا
قانون رائج رہا۔
- آخر میں امریکی سپریم کورٹ کا فیصلہ ملاحظہ ہو، جو سٹیٹ بنام موکس کا مشہور فیصلہ
ہے، جس میں مذہب کا ذکر کرتے ہوئے عدالت نے لکھا کہ یہ ایک ناقابل تردید حقیقت ہے کہ دنیا میں تہذیب، تمدن کے آغاز ہی سے ملک کے دین و مذہب نے وہاں کی طرز حکومت کی تشکیل میں نہایت اہم کردار ادا کیا ہے اور اس ملک کے استحکام و بقا کا انحصار بڑی حد تک اس مذہب کے احترام و تکریم کے ساتھ وابستہ ہے جو وہاں کی غالب اکثریت کے دینی شعائر کا حصہ ہے۔
فاضل عدالت نے صدر امریکہ کی تقریب حلف وفاداری کانگریس اور مقننہ کی افتتاحی تقاریب، عدالتوں کی کارروائی، شہادت کے حوالے سے مملکت کے تینوں، عدلیہ، انتظامیہ، مقننہ کا مذہب سے تعلق کا یہی نتیجہ اخذ کرتے ہوئے ریفرنس کے جواب میں حتمی طور پر یہ اقرار کیا ہے کہ آزادی مذہب اور آزادی پریس کے آئینی تحفظات توہین مذہب، جس میں توہین مسیح شامل ہے، کے جرم اور سزا کی قانون سازی میں مزاحم نہیں۔ (جناب محمد اسمعیل قریشی، سینئر ایڈووکیٹ سپریم کورٹ پاکستان)
مختلف عیسائی ممالک کے حوالہ جات کے بعد امریکی سپریم کورٹ کا فیصلہ ایسے ناقابل تردید دلائل، اس بات کے غماز ہیں کہ علاقائی مذہبی افراد کی اکثریت حکومت پر اثر انداز اور دینی شعائر کا حصہ ہے۔ پاکستان کی تو بنیاد ہی کلمہ طیبہ کے مفہوم پر خالص اسلامی ہے جو کسی کی نہ جاگیر ہے نہ ہی اللہ تعالیٰ کے علاوہ کوئی حاکم اعلیٰ ہے۔ یہ لکھوکھا مسلمانوں کی قربانیوں کا نتیجہ ہے۔ قرارداد مقاصد اس کی بنیاد کا خلاصہ، اس کی حکومت کا مذہب اسلام، یہاں کی پارلیمنٹ وغیرہ کو اسلامی احکام کے خلاف قانون سازی کرنے کا کوئی اختیار نہیں، نہ ہی کوئی عدالت کتاب و سنت کے خلاف فیصلہ کرنے کی مجاز ہے، نہ انتظامیہ کو اسلامی احکام سے انحراف کا کوئی حق حاصل ہے لیکن یہاں بدرجہ اولیٰ توہین رسالت کے
قانون کی ضرورت ہے کہ ملک کے حقیقی مالک کے فرستادہ کی طرف کوئی میلی آنکھ اٹھے تو فوراً نکال دی جائے گی۔ یہاں تو صدر ہو یا وزیراعظم، یہ اللہ تعالیٰ کے نائب ہیں، جس طرح انہیں ملک کی حفاظت کی ذمہ داری سونپی گئی ہے، اسی طرح عظمت انبیاء کا تحفظ بھی ملک کی اساس ہے۔
پندرہواں باب
شاتم رسولؐ کی سزا سے متعلق آئینی تحریک
تو آج بھیک میں دے دو ہمیں خدا کے لیے
کوئی خدا کو نہیں مانتا نہ مانے مگر
سزائے موت ہو گستاخ مصطفیٰ کے لیے
سلطنت مغلیہ کے سقوط کے بعد جب سرزمین ہندوستان پر برطانوی ڈاکو راج مسلط ہوا تو اسلامی قوانین کی بساط لپیٹ دی گئی۔
لارڈ میکالے کی سربراہی میں ایک کمیشن نے نپولین کوڈ کے نقش قدم پر انگریزی قوانین سے ہم آہنگ (The Indian Penal Code) تعزیرات ہند کو ترتیب دیا جسے ۱۸۶۰ء میں گورنر جنرل ہند کی منظوری سے نافذ العمل قرار دیا گیا۔
خشت اول:
محمد اسمعیل قریشی ایڈووکیٹ لکھتے ہیں:
”اسی سال ۱۸۹۸ء میں دفعہ ۱۲۴۔ الف کے ساتھ ہی ایک مزید دفعہ ۱۵۳۔ الف کا بھی اضافہ کیا گیا تاکہ فرقہ وارانہ منافرت پھیلانے کی وجہ سے ملک میں جو فتنہ اور فساد پیدا ہوں‘ ان کا سدباب کیا جاسکے اور حکومت ان خطرات سے محفوظ رہ سکے۔ دفعہ ۱۵۳۔ الف کا متن حسب ذیل ہے:
دفعہ ۱۵۳۔ الف... ”جو کوئی الفاظ سے بذریعہ تقریر یا تحریر یا اشاروں سے یا کسی اور طریقہ سے ہندوستان میں ہر میجسٹی کی رعایا کی مختلف جماعتوں میں دشمنی یا منافرت کے جذبات ابھارے یا انہیں بھڑکانے کی کوشش کرے‘ اسے دو سال تک قید سزا یا جرمانہ یا دونوں سزائیں دی جاسکتی ہیں“۔ (”ناموس رسولؐ اور قانون توہین رسالت“ ص ۳۴۴ از محمد اسمعیل قریشی ایڈووکیٹ)
اس قانون کی رو میں وقت کی گنگا بہتی رہی تا آنکہ ۱۹۲۷ء کا سورج طلوع ہوا۔ اس سال آریہ سماجی ناشر راج پال نے لاہور سے ایک دل آزار کتاب ”رنگیلا رسول“ کے نام سے شائع کی۔ اس کتاب میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حیات طیبہ کے بعض پہلوؤں پر سوقیانہ حملے کیے گئے تھے اور انگریزی دور حکومت میں مذہبی دل آزاری کی بنیاد رکھی گئی تھی اور شاید پہلی بار مذہبی نقطہ نظر سے دفعہ ۱۵۳۔الف لاگو کیا گیا تھا۔ اس انتہائی حساس مسئلہ پر انگریزی قانون نے مسلمانوں کی کہاں تک اشک شوئی کی‘ اس سلسلے میں جناب سفیر اختر لکھتے ہیں:
”کافی دنوں تک یہ کتاب مسلمانوں کے نوٹس میں نہ آئی۔ صوبائی حکومت کی پریس برانچ نے بھی کوئی اقدام نہ کیا۔ آخر اس کے اثرات ظاہر ہونے شروع ہوئے تو اس کے خلاف صدائے احتجاج بلند ہوئی۔ صوبائی حکومت نے تعزیرات ہند کی دفعہ ۱۵۳۔الف کے تحت دو فرقوں کے درمیان مذہبی منافرت پھیلانے کے الزام میں ناشر راج پال کے خلاف کارروائی کی۔ لاہور کے سٹی مجسٹریٹ فیلبوس کی عدالت میں مقدمہ کی خاصی طویل سماعت کے بعد ملزم کو چھ ماہ قید کی سزا ہوئی۔ سیشن کورٹ میں بھی ملزم کو مجرم گردانا گیا‘ البتہ اس کی سزا میں تخفیف کر دی گئی۔ تقریباً تین سال تک جاری رہنے والی اس کارروائی کے بعد ۱۹۲۷ء میں راج پال کی طرف سے نظرثانی کی درخواست ہائی کورٹ میں پیش کی گئی۔ درخواست کی سماعت کنور دلیپ سنگھ جج نے کی۔ کنور دلیپ سنگھ نے ۱۵ مئی ۱۹۲۷ء کو یہ فیصلہ سنایا کہ یہ کتاب دفعہ ۱۵۳۔الف یا کسی اور دفعہ کی زد میں نہیں آتی‘ اس لیے ملزم مذکورہ کو بری کیا جاتا ہے“۔ (ماہنامہ ”عالم اسلام اور عیسائیت“ اسلام آباد‘ اگست ۱۹۹۴ء ص ۱۲)
اب بچے بچے کی زبان پر ایک ہی نعرہ تھا ”دلیپ سنگھ مستعفی ہو جاؤ“ ہر طرف جوش کا الاؤ روشن تھا اور اس الاؤ میں مسلمان‘ توہین عدالت کے جرم میں زندانوں کے ویرانے آباد کرتے رہے مگر گہری نگاہیں حقائق کے موتی تلاش کر رہی تھیں‘ جن کی چمک آج بھی ہمارے لیے مشعل راہ ہے۔
مولانا محمد علی جوہرؒ نے دلیپ سنگھ کے فیصلے پر اپنی رائے کا اظہار ان الفاظ میں کیا: ”قاضی کے متعلق کوئی بات بھی ایسی مجھے معلوم نہیں جس بناء پر میں اس سے استعفیٰ طلب کروں‘ بلکہ اس کا فیصلہ پڑھنے کے بعد اور تعزیرات ہند کے باب ہشتم
دربارہ جرائم خلاف امن عامہ کی دفعہ ۱۵۳۔ الف اور باب پانزدھم دربارہ جرائم متعلق مذہب کی تمام دفعات ۲۹۵‘ ۲۹۶‘ ۲۹۷ اور ۲۹۸ کا بار بار بغور مطالعہ کرنے کے بعد مجھے خود بہت سخت شبہ ہوتا ہے کہ قصور قاضی کا نہیں بلکہ قانون کا ہے”۔
مزید لکھتے ہیں:
”میں صاف لکھنا چاہتا ہوں کہ غالباً وہ (کنور دلیپ سنگھ) پہلے جج ہیں جنہوں نے ہم پر احسان کیا ہے۔ خواہ وہ کتنے ہی بھونڈے طریقے پر کیوں نہ کیا ہو کہ ہم پر ظاہر کر دیا ہے کہ تعزیرات ہند میں ایک دفعہ بھی ایسی نہیں جس کی رو سے
- ۱۔ توہین بانی اسلام‘
- ۲۔ توہین اسلام‘
- ۳۔ بانی اسلام کے خلاف نفرت پھیلانا‘
- ۴۔ اسلام کے خلاف نفرت پھیلانا‘
- ۵۔ مسلمانوں کی دل آزاری اور
- ۶۔ مسلمانوں کے خلاف غیر مسلموں کے دلوں میں حقارت پیدا کرنا‘ ان چھ
سنگین ترین جرائم میں سے ایک بھی جرم ہو۔
ہیجان انگیز فضا میں مولانا محمد علی کی یہ آواز جوشیلے راہنماؤں کو پسند نہ آئی۔ ان پر الزام لگایا گیا کہ وہ اپنے آکسفورڈ کے رفیق کنور دلیپ سنگھ کی جانب داری کر رہے ہیں۔
مولانا کے ایک دیرینہ دوست اور قوم کے مخلص خدمتگار میر غلام حسین نیرنگ نے انہیں ایک تند و تیز خط لکھا جس میں ان کی روش پر اظہار ناپسندیدگی کیا تھا۔ اس مکتوب کا ایک حصہ یہ تھا۔
”خدا کے واسطے اب مقدمہ راجپال کی بحث کو اور ایسے مضمون کو اس بحث سے لفظاً‘ یا معناً‘ ظاہراً‘ یا باطناً‘ صراحتاً‘ یا اشارۃ‘ یا کنایۃ‘ یا بالواسطہ یا بلا واسطہ کوئی تعلق قریب یا بعید‘ حقیقی یا فرضی‘ واقعی یا وہمی‘ اصلی یا مصنوعی رکھتا ہو‘ بند کر دیجئے۔ آپ کے تمام راسخ العقیدہ نیاز مند پڑھتے پڑھتے اور سنتے سنتے تھک گئے کہ مسٹر دلیپ سنگھ نے بددیانتی نہیں کی”۔
مولانا نے اپنے ان ”راسخ العقیدہ نیاز مند” کو جو اپنے جذبہ اسلام اور ہیجان خیز ماحول سے متاثر ہو کر برہم تھے‘ جواب میں لکھا۔
”نوازش نامہ ابھی ملا۔ ابتدائی فقرہ پڑھا۔ ۔۔۔ اس ابتدائی فقرہ کی ابتداء پر بھی نظر پڑی اور ”خدا کا واسطہ“ نظر آیا، اس نے مجبور کر دیا کہ جب تک آپ کی اور پنجاب کی اصلاح نہ ہو جائے، لکھے جاؤں“۔
مولانا محمد علی جوہر نے لکھنے کے ساتھ ساتھ ملک بھر کا دورہ کیا۔ پبلک جلسوں سے خطاب کیا اور رہنماؤں کو دلائل و براہین سے قائل کرنے کی کوشش کی۔ جولائی ۱۹۲۷ء میں لکھنؤ میں ایک عظیم الشان جلسہ ہوا جس کی صدارت کے لیے مولانا محمد علی کو بطور خاص مدعو کیا گیا، وہاں جلسہ میں مسلمانوں کے تمام مکاتب فکر کے رہنما اپنے روایتی اختلافات کو بالائے طاق رکھ کر یکجا تھے۔ نقیب اہلسنت ”النجم“ کے مدیر مولانا عبد الشکور فاروقی اور شیعہ کانفرنس کے سیکرٹری ایک ہی سٹیج پر مولانا محمد علی کے پہلو بہ پہلو نظر آ رہے تھے۔ عوام کے ساتھ ساتھ راجہ صاحب محمود آباد، ٹھاکر نواب علی اور دوسرے عہدہ داران اودھ بھی حاضرین جلسہ میں شامل تھے۔
مولانا محمد علی جوہرؒ نے صدارتی تقریر میں قانون میں ترمیم کرانے پر زور دیا۔ حاضرین اچھا اثر لے کر اٹھے۔ مغرب کی نماز کے بعد دوسری نشست میں دیگر مقررین کو اظہار خیال کا موقع دیا گیا۔ مولانا ظفر الملک علوی نے ایسی پرجوش اور ہنگامہ خیز تقریر کی کہ پنڈال فلک شگاف نعروں سے گونجنے لگا۔ ایسے محسوس ہوتا تھا کہ ہجوم بے قابو ہو کر قانون کو اپنے ہاتھ میں لے لے گا۔ اس عالم میں مولانا محمد علی نے تقریر کی جو ان کی صحیح اور تاریخی رہنمائی کی ایک مثال تھی۔ انہوں نے کہا، ایسی کتابیں اور مضامین یقیناً ہر مسلمان کا خون کھولا دینے کے لیے کافی ہیں جتنا بھی جوش و خروش آپ میں پیدا ہو سب بجا ہے لیکن اصل کوشش فتنہ کے سرچشمہ کو بند کرنے کی ہونی چاہیے نہ کہ فلاں جج کو ہٹا دینے کی۔ قصور قاضی کا نہیں، قصور خود قانون کا ہے۔ میں کوئی وکیل نہیں، بیرسٹر نہیں، قانون جو میں نے سیکھا ہے، وہ بار بار ملزم کی حیثیت سے عدالت کے کٹہرے میں کھڑے ہو ہو کر سیکھا ہے۔ تو مجھ عامی کا پر زور مشورہ یہی ہے کہ آئندہ سدباب فتنہ کے لیے قانون ہی کو بدلوائیے اور تعزیرات ہند میں ایک مستقل دفعہ بڑھوا کر توہین بانیان مذاہب کو جرم قرار دیجئے۔ اب تک یہ کوئی مستقل جرم ہی آپ کے ملکی قانون میں نہیں“۔ (مقالہ از سفیر اختر، ماہنامہ ”عالم اسلام اور عیسائیت“ اگست ۱۹۹۲ء
(ص ۱۵)
قانون میں ترمیم کی تجویز:
مولانا محمد علی نے خود ہی ترمیم کا مسودہ تیار کیا جو درج ذیل ہے:
”جو کوئی شخص کسی کا دل دکھانے، کسی شخص کے مذہب کی توہین کرنے کی نیت سے یا اس امر کے احتمال کے علم سے کہ اس کے ذریعے سے کسی شخص کا دل دکھے گا یا کسی شخص کے مذہب کی توہین ہوگی، ایسی باتوں کے ذریعے سے جو تلفظ سے ادا کی جائیں یا لکھی جائیں یا اشاروں کے ذریعے سے یا نقوش مرئیہ کے ذریعہ سے یا اسی طرح کسی نبی یا ولی یا اور شخص کی جسے لوگوں کا فرقہ اسی طرح مقدس سمجھتا ہو، توہین کرے یا اس کی نسبت اتہام لگائے یا مشتہر کرے جس سے اور لوگوں میں اس کی مکانت کی خفت ہو تو اس کو دونوں قسموں میں سے کسی قسم کی قید کی سزا دی جائے گی جس کی میعاد تین برس تک ہو سکتی ہے، یا جرمانہ کی سزا، یا دونوں سزائیں دی جائیں گی“۔ (سیرت محمد علی، ص ۴۸۷-۴۸۸ از رئیس احمد جعفری)
مولانا محمد علی نے تعزیرات ہند میں استعمال کیے جانے والے جملوں اور الفاظ ہی سے مسودہ ترتیب دیا تھا اور پھر اسے وائسرائے کو بھیجا اور اس کے نام خط میں لکھا:
”ہز ایکسی لینسی کی گورنمنٹ کی توجہ کے لیے میں یہ عرض کروں گا کہ وہ سرکاری مسودہ قانون کی حیثیت سے اس کو پیش کرائیں“۔ (افادات محمد علی، ص ۱۳۵ از رئیس احمد جعفری)
ایک قدم اور آگے اٹھتا ہے:
سفیر احمد لکھتے ہیں:
”روزنامہ ”ہمدرد“ کے اداریوں اور مولانا محمد علی کی زبانی تقریروں سے حکومت ہند نے اس ”ترمیم“ کی اہمیت تسلیم کر لی۔ چنانچہ دفعہ ۲۹۵ میں ترمیمی بل (دفعہ ۲۹۵۔الف) حکومت ہند کے ہوم ممبر نے ہندوستان کی قانون ساز اسمبلی میں ۵ ستمبر ۱۹۲۷ء کو پیش کیا۔
ہوم ممبر نے اس بل کو سترہ ارکان پر مشتمل مجلس منتخبہ (سلیکٹ کمیٹی) کے
سپرد کرنے کی تجویز پیش کی جو سات دن کے اندر اپنی رپورٹ ایوان میں پیش کرے۔ ہوم ممبر نے مسودہ کے اغراض و مقاصد پر طویل تقریر کی۔ انہوں نے مجموعہ تعزیرات ہند میں موجود دفعات کو توہین مذہب کے سلسلے میں ناکافی قرار دیا اور تجویز کیا کہ ملک کی موجودہ صورت حال کے پیش نظر یہ ترمیمی بل فوراً منظور کیا جائے“۔ (مقالہ از سفیر اختر‘ ماہنامہ ”عالم اسلام اور عیسائیت“ اگست ۱۹۹۴ء‘ ص ۱۵)
مولانا محمد علی جوہرؒ کی آئینی کامیابی:
سفیر اختر لکھتے ہیں:
”تین دن کی طویل بحث کے بعد مسودہ قانون رائے شماری کے لیے ایوان میں پیش کیا گیا۔ ۲۶ ووٹوں کی مخالفت اور ۶۱ ووٹوں کی موافقت سے مسودہ قانون منظور کیا گیا اور ۱۹ ستمبر کو کونسل آف سٹیٹ کو بھیج دیا گیا۔ ان ۲۶ مخالف ارکان میں سے کوئی مسلمان رکن نہیں تھا۔
۲۱ ستمبر ۱۹۲۷ء کو کونسل آف سٹیٹ کے سامنے مسودہ قانون پیش ہوا۔ کونسل میں بھی وہی رجحان تھا کہ ہندو ارکان کے معتدبہ تعداد مسودے کی مخالفت کر رہی تھی اور مختلف ترامیم کے ذریعے اس کے دائرہ اثر کو محدود کرنا چاہتی تھی (ہمارے سابق وزیر قانون اقبال حیدر شاید انہی ہندوؤں کی سنت زندہ کرنے جا رہے ہیں۔ ناقل) بحث کے بعد مسودے پر رائے شماری ہوئی اور کثرت رائے سے منظور ہوا۔
ان تمام مراحل سے گزر کر وہ ”مسودۂ قانون“ جو مولانا محمد علی جوہر کی فکر کا نتیجہ تھا اور قانوناً حکومت ہند کے ہوم ممبر نے پیش کیا تھا‘ دفعہ ۲۹۵۔ الف کی صورت میں مجموعہ تعزیرات ہند اور بعد میں مجموعہ تعزیرات پاکستان میں شامل ہوا“۔ (ماہنامہ ”عالم اسلام اور عیسائیت“ اگست ۱۹۹۴ء ص ۱۶)
مجموعہ تعزیرات پاکستان کی دفعہ ۲۹۵۔ الف کا متن:
”دفعہ ۲۹۵۔ الف جو کوئی شخص ارادتاً اور اس عداوتی نیت سے کہ پاکستان کے شہریوں کی کسی جماعت کے مذہبی احساسات کو بھڑکائے بذریعہ الفاظ
زبانی یا تحریری اشکال محسوس العین اس جماعت کے معتقدات مذہبی کی توہین کرے یا توہین کرنے کا اقدام کرے اس کی دونوں قسموں میں سے کسی قسم کی قید کی سزا دی جائے گی جس کی معیاد دو برس تک ہو سکتی ہے یا جرمانے کی سزا یا دونوں سزائیں دی جائیں گی"۔ (مجموعہ تعزیرات پاکستان، مطبوعہ یکم جولائی ۱۹۶۲ء) (بحوالہ ماہنامہ ”بینات“ کراچی، ربیع الاول ۱۴۱۳ھ ۔ ستمبر ۱۹۹۲ء، ص ۵)
چوہدری محمد رفیق باجوہ اس شرح میں لکھتے ہیں: ”یہ دفعہ ۱۹۲۷ء میں ایزاد کی گئی تاکہ اگر کسی مذہب کے بانی پر توہین آمیز حملہ کیا جائے تو ایسا کرنے والے کو سزا دی جاسکے۔ اس سے پہلے اس قسم کے اشخاص کے خلاف دفعہ ۱۵۳-الف استعمال ہوا کرتی تھی مگر ہائی کورٹ کے ایک فیصلے کی رو سے یہ طریقہ غلط قرار پایا"۔ (شرح مجموعہ تعزیرات پاکستان، ص ۱۲۱-۱۲۲)
تحفظ ناموس رسالت کی آئینی جنگ جس جوانمردی سے ہمارے قابل احترام قائد جناب محمد اسمعیل قریشی ایڈووکیٹ نے لڑی، قابل تقلید ہے۔
ذہن میں رہے کہ تعزیرات پاکستان کی دفعہ ۲۹۵۔الف میں کہ جس کے تحت شاتم رسول کو زیادہ سے زیادہ دو سال قید یا جرمانے کی سزا یا دونوں سزائیں دی جاسکتی تھیں، ۱۹۸۰ء میں ایک ترمیمی آرڈی نینس کے ذریعے ۲۹۸۔الف لاگو کیا گیا تو اس کا متن درج ذیل ہوا:
۲۹۸۔الف، ذوات قدسی کی توہین: ”جو کوئی تحریری یا تقریری یا علانیہ یا اشارتاً یا کنایتاً، بالواسطہ یا بلاواسطہ ”امہات المومنین“ یا کسی ”اہل بیت“ یا ”خلفائے راشدین“ میں سے کسی خلیفہ راشد یا اصحاب رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی بے حرمتی کرے، ان پر طعنہ زنی یا بہتان تراشی کرے اسے تین سال تک کی سزا یا سزائے تازیانہ دی جائے گی یا وہ ان دونوں سزاؤں کا مستوجب ہو گا"۔ (بحوالہ ناموس رسول اور قانون توہین رسالت، ص ۳۲۵ از محمد اسمعیل قریشی ایڈووکیٹ)
واضح ہو کہ ۲۹۸۔الف میں حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے گستاخ کی سزا کا ذکر نہیں بلکہ اصحاب رسول، ”خلفاء راشدین“ ”اہل بیت“ اور امہات المومنین کی بے حرمتی اور طعنہ زنی پر سزاؤں کا اطلاق ممکن بنایا گیا تھا۔
المیہ یہ ہوا کہ جس ذات قدسی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی نسبت کے باعث اصحاب
رسول“، امہات المومنین“، اہل بیت“ اور خلفاء راشدین“ کے تقدس کے تحفظ کا قانون بنایا گیا، اس ذات والا صفات صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے گستاخ کی سزا دو سال قید اور اس کی نسبت سے مقام پانے والے حضرات و خواتین کے شاتم اور گستاخ کی سزا تین سال قید! چنانچہ اس کیفیت کے سدباب کے لیے محمد اسمعیل قریشی نے عملی اقدام کیے جنہیں وہ اپنے الفاظ میں یوں بیان کرتے ہیں:
”اس دفعہ ۲۹۸۔ الف، تعزیرات پاکستان کے اضافے سے صرف ”امہات المومنین“۔ ”اہل بیت“۔ ”خلفائے راشدین“ یا اصحاب رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی بے حرمتی اور ان کی شان میں گستاخی کو قابل تعزیر جرم قرار دیا گیا لیکن خود اس مقدس ترین ہستی، جن کی نسبت کی وجہ سے انہیں یہ مرتبہ حاصل ہوا، ان کی جناب میں گستاخی، اہانت، توہین، تنقیص، طعنہ زنی، بہتان تراشی جیسے سنگین اور ناقابل تلافی جرم کے بارے میں کوئی سزا تجویز نہیں ہوئی۔ اس لیے اس کوتاہی اور کمی (Ommission) کو پورا کرنے کے لیے سال ۱۹۸۴ء میں راقم کی طرف سے شریعت پٹیشن نمبر ۱، سال ۱۹۸۴ء فیڈرل شریعت کورٹ میں اسلامی جمہوریہ پاکستان، صدر پاکستان اور گورنر ہائے صوبہ جات پاکستان کے خلاف دائر کی گئی، جس کی تفصیل اور پس منظر اس کتاب (”ناموس رسول اور قانون توہین رسالت“ ناقل) میں موجود ہے۔ اس شریعت پٹیشن کا فیصلہ ابھی محفوظ تھا کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کی شان اقدس میں عاصمہ جہانگیر نامی خاتون نے بالواسطہ گستاخی کی، جس پر محترمہ آپا نثار فاطمہ نے راقم کے مشورہ سے توہین رسالت کے جرم کی سزا، سزائے موت کا بل قومی اسمبلی میں پیش کیا جو فوجداری قانون (ترمیمی) ایکٹ نمبر ۳، سال ۱۹۸۶ء کی صورت میں منظور ہوا جس کی رو سے تعزیرات پاکستان میں ۲۹۵۔سی کا اضافہ کیا گیا، جو حسب ذیل ہے:
دفعہ ۲۹۵۔سی: ”جو کوئی عمداً، زبانی یا تحریری طور پر یا بطور طعنہ زنی یا بہتان تراشی بالواسطہ یا بلا واسطہ، اشارتاً یا کنایتاً نام محمد (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کی توہین یا تنقیص کرے یا بے حرمتی کرے، وہ سزائے موت یا سزائے عمر قید کا مستوجب ہو گا اور اسے سزائے جرمانہ بھی دی جائے گی“۔ (ناموس رسول اور قانون توہین رسالت، ص ۲۲۶-۲۲۷)
۱۹۸۶ء میں تقریباً سوا سو سال کے بعد پہلی بار گستاخ رسول کی سزا کا قانون اسلامی
سانچے میں ڈھلا تھا مگر انگریزی ذہن کا زنگ ابھی بھی باقی رہا۔ دفعہ ۲۹۵۔ سی میں "یا عمر قید" کے الفاظ غیر اسلامی تھے اور یہی انگریزی ذہنوں کا زنگ تھا جسے صاف کرنے کے لیے جناب محمد اسماعیل قریشی ایڈووکیٹ نے ایک رگڑا اور لگایا اور اپنے اس عمل کو آپ بدیں الفاظ بیان کرتے ہیں:
"چونکہ توہین رسالت کے متذکرہ بالا بل میں اہانت رسول (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کی سزا، بطور حد کے سزائے موت کا مطالبہ کیا گیا تھا لیکن اس میں سزائے موت کی متبادل سزا، سزائے عمر قید، جو دفعہ ۲۹۵۔ سی میں رکھی گئی، وہ قرآن و سنت کے منافی تھی۔ اس لیے راقم نے دوبارہ اس دفعہ سے "عمر قید" حذف کرنے کا مطالبہ بذریعہ شریعت پٹیشن کر دیا کہ توہین رسالت کی سزا بطور "حد" صرف سزائے موت مقرر ہے اور حد میں کسی قسم کی کمی یا بیشی نہیں کی جا سکتی۔ یہ شریعت پٹیشن فیڈرل شریعت کورٹ نے اپنے فیصلہ ۳۰ اکتوبر ۱۹۹۰ء کے ذریعے منظور کر لی اور قرار دیا کہ اہانت رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی سزا بطور حد صرف سزائے موت ہے"۔ (ناموس رسولؐ اور قانون توہین رسالت،
ص ۱۴۷ از محمد اسماعیل قریشی)
فیڈرل شریعت کورٹ آف پاکستان کے جن قابل احترام جج صاحبان نے اس کیس کی سماعت فرمائی، ان کے اسمائے گرامی درج ذیل ہیں:
- ۱۔ عزت مآب جناب جسٹس گل محمد خان چیف جسٹس
- ۲۔ عزت مآب جناب جسٹس عبدالکریم خان کندی
- ۳۔ عزت مآب جناب جسٹس عبادت یار خان
- ۴۔ عزت مآب جناب جسٹس عبدالرزاق اے تھہیم
- ۵۔ عزت مآب جناب جسٹس فدا محمد خان
لازوال کامیابی حاصل کرنے کے بعد جناب محمد اسماعیل قریشی لکھتے ہیں:
"فیڈرل شریعت کورٹ نے توہین رسالت کا یہ فیصلہ صدر حکومت پاکستان کو ارسال کر دیا تھا کہ ۲۹۵۔ سی تعزیرات پاکستان میں ترمیم کر کے "عمر قید" کے الفاظ کو ۳۰ اپریل ۱۹۹۱ء تک اس دفعہ سے حذف کر دیے جائیں ورنہ اس تاریخ سے "عمر قید" کے الفاظ اس دفعہ سے غیر موثر ہو جائیں گے۔ اس فیصلہ میں حکومت کو مزید ہدایت کی گئی کہ اس دفعہ میں ایک اور شق کا اضافہ کیا جائے، جس کی رو سے
دوسرے پیغمبروں کی اہانت کی سزا بھی سزائے موت مقرر کی جائے۔ اس فیصلہ کے خلاف حکومت نے سپریم کورٹ میں اپیل دائر کر دی جو ہمارے مطالبے پر واپس لے لی گئی۔ اس طرح فیڈرل شریعت کورٹ کا فیصلہ بحال رہا جس کی وجہ سے ”عمر قید“ کے الفاظ آئین، قانون اور فیصلہ کے مطابق ۲۹۵۔ سی سے حذف ہو کر ”عمر قید“ کی سزا غیر موثر ہو چکی ہے اور اب پاکستان میں اہانت رسول مقبول صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی سزا بحمد للہ بطور حد سزائے موت مقرر ہو کر نافذ العمل ہے“۔
(ناموس رسول اور قانون توہین رسالت، ص ۳۲۷-۳۲۸ از محمد اسمعیل قریشی)
ہمارے قانون ساز اداروں کو بعد از وقت خیال آیا کہ اس قانون کی اصلاح ہونی چاہیے اور دفعہ ۲۹۵۔ سی میں سے ”یا عمر قید“ کے الفاظ حذف کرنے چاہئیں۔ چنانچہ قومی اسمبلی نے ۲ جون ۱۹۹۲ء کو متفقہ قرار داد منظور کی کہ توہین رسالت کے مرتکب کو سزائے موت دی جائے۔
اس خبر کو روزنامہ جنگ نے بدیں الفاظ شائع کیا:
”اسلام آباد (نمائندہ جنگ) قومی اسمبلی نے منگل کے دن متفقہ قرار داد منظور کی کہ توہین رسالت کے مرتکب کو پھانسی کی سزا دی جائے اور اس ضمن میں مجریہ تعزیرات پاکستان کی دفعہ ۲۹۵ (ج) میں ترمیم کی جائے اور عمر قید کے لفظ حذف کر کے صرف ”پھانسی“ کا لفظ رہنے دیا جائے۔ یہ قرار داد آزاد رکن سردار محمد یوسف نے پیش کی اور کہا کہ ہر مسلمان کا عقیدہ ہے کہ توہین رسالت کے مرتکب شخص کو سزائے موت دی جائے جبکہ قانون میں عمر قید اور پھانسی کی سزا متعین کی گئی ہے۔ مذہبی امور کے وزیر مولانا عبد الستار خان نیازی نے بتایا کہ وزیر اعظم کی صدارت میں ایک اجلاس ہوا تھا جس میں تمام مکتبہ فکر کے علماء نے شرکت کی تھی۔ اس اجلاس میں طے پایا تھا کہ توہین رسالت کے مرتکب کو کم تر سزا نہیں دینی چاہیے، اسکی سزا موت ہونی چاہیے۔ وفاقی وزیر پارلیمانی امور چوہدری امیر حسین نے کہا کہ حکومت اس قرار داد کی مخالفت نہیں کرتی، حکومت اس ضمن میں پہلے بھی قانون سازی کی تیاری کر رہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اس ضمن میں ایک ترمیمی بل سینٹ میں پیش ہو چکا ہے“۔ (روزنامہ ”جنگ“ کراچی، ۳ جون ۱۹۹۲ء)
۸/ جولائی کو سینٹ نے توہین رسالت کے مجرم کو سزائے موت کا ترمیمی بل منظور کیا:
"اسلام آباد (نمائندہ خصوصی) سینٹ نے بدھ کو ایک بل کی منظوری دی جس کے تحت حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے اسم مبارک کی بے حرمتی کی سزا موت ہوگی‘ فوجداری قانون میں تیسری ترمیم کا بل وفاقی شرعی عدالت کے حالیہ فیصلے کی روشنی میں منظور کیا گیا ہے۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا تھا کہ تعزیرات پاکستان کی دفعہ ۲۹۵۔ سی کے تحت حضور نبی کریم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کے اسم مبارک کی بے حرمتی پر عمر قید کی سزا اسلامی احکامات کے منافی ہے۔ یہ بل‘ جو قومی اسمبلی پہلے ہی منظور کر چکی ہے‘ سینٹ میں وزیر قانون چودھری عبدالغفور نے پیش کیا۔ انہوں نے بل کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ قانون میں شاتم رسولؐ اور توہین رسالت کی سزا عمر قید یا سزائے موت ہے۔ وفاقی شرعی عدالت کے فیصلے کی روشنی میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے اسم مبارک کی توہین کی سزا عمر قید کے بجائے سزائے موت تجویز کی گئی ہے کیونکہ عدالت کے خیال میں ایسے ملزم کو صرف سزائے موت ہی دینی چاہیے۔
سینٹر راجہ محمد ظفر الحق نے اس موقع پر کہا کہ قانون کے بارے میں سٹینڈنگ کمیٹی نے تجویز کیا ہے کہ ضابطہ فوجداری کی دفعہ ۲۹۵ کے تحت آنے والے جرم کی مزید تشریح کے لیے اسلامی نظریاتی کونسل سے رہنمائی حاصل کی جائے۔ قائد ایوان محمد علی خان نے کہا کہ رسول اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کی حرمت اور شان رسالتؐ کے بارے میں دو آرا نہیں‘ اس لیے اس بل کو موخر کرنے کا کوئی جواز نہیں اور اگر اس کی منظوری جلد نہ کی گئی تو یہ بھی ایک جرم ہوگا۔ انہوں نے کہا‘ توہین رسالت کا ملزم صرف سزائے موت کا ہی حقدار ہے۔ انہوں نے امام خمینی کی بھی مثال دی‘ جنہوں نے شاتم رسولؐ سلمان رشدی کے لیے سزائے موت کا اعلان کیا تھا اور ایران کی موجودہ حکومت نے ملعون رشدی کے بارے میں فیصلہ نہیں بدلا۔ سینٹر مولانا سمیع الحق‘ حافظ حسین احمد‘ میاں عالم علی لالیکا‘ سید اشتیاق اظہر نے بھی بل کی فوری منظوری پر زور دیا۔ سینٹر راجہ محمد ظفر الحق‘ عبد الرحیم مندوخیل اور حاجی کرار الدین نے توہین رسالت کی تشریح کے لیے اسلامی نظریاتی کونسل سے رجوع کرنے کا مشورہ دیا۔ وزیر قانون نے یقین دلایا کہ اس بارے میں اسلامی نظریاتی کونسل سے تشریح طلب کی جائے گی۔ ایوان نے متفقہ طور پر بل کی منظوری دے دی۔ ایوان نے کاپی رائٹ آرڈی نینس میں
مزید ترمیم کے بل پر غور جمعرات تک موخر کر دیا۔ میاں حامد علی لایکا‘ ڈاکٹر بشارت الہی‘ سید اقبال حیدر نے کہا کہ قانون سازی ایوان کے ذریعے ہونی چاہیے اور آرڈی نینس کا اجراء نہیں ہونا چاہیے‘ ایوان کا اجلاس بعد میں جمعرات کی صبح ۱۰ بجے تک ملتوی کر دیا گیا“۔ (روزنامہ ”جنگ“ کراچی ۹ جولائی
۱۹۹۲ء)
وفاقی شرعی عدالت کے فیصلہ کے مطابق ۳۰ اپریل ۱۹۹۱ء سے ”توہین رسالت کی سزا‘ موت“ ملک کا قانون قرار پاچکا تھا۔ ۳۰ اپریل ۱۹۹۱ء سے قبل اگر قومی اسمبلی میں اس بل پر بحث کی جاتی تو معاملہ قابل فہم تھا۔ وقت گزر جانے کے بعد اس بل پر مخالفانہ آراء کا اظہار قابل افسوس اور قابل مذمت ہے۔
سینٹ سے منظوری کے بعد جب یہ بل قومی اسمبلی میں لایا گیا تو ایک طوفان بدتمیزی کھڑا کر دیا گیا اور وہ طبقہ کہ جنہیں اگر ہوائی جہاز میں اچھی نشست نہ ملے تو اپنا استحقاق مجروح ہونے کی تحریک پیش کر دیتا ہے‘ ٹیلی فون کے بل کی عدم ادائیگی پر اگر ٹیلی فون منقطع کر دیا جائے تو استحقاق مجروح ہونے کی تحریک اور اگر قوم کا کروڑوں روپیہ ہڑپ کرنے پر کوئی نشاندہی کر دے تو استحقاق مجروح ہونے کی تحریکیں پیش کی جاتی ہیں‘ مگر جب تحفظ ناموس رسالت‘ کا بل قومی اسمبلی میں لایا گیا تو حرام کھائے ہوئے پیٹوں میں بل پڑنے لگے اور ستمبر ۱۹۷۴ء میں ہندوستان کی قانون ساز اسمبلی میں ہندو ممبران اسمبلی جیسا کردار ادا کرنے لگے۔ کل وہ راج پالوں کا تحفظ چاہتے تھے اور آج کے ایسے ممبران اسمبلی رشدیوں کے ہمنوا ثابت ہوئے مگر کل بھی انہوں نے منہ کی کھائی تھی اور آج بھی ان کا تھوکا منہ پر آیا۔ مناسب معلوم ہوتا ہے کہ وہ چہرے (اس بازار کی پیداوار) تاریخ کے آئینے میں ثبت ہو جائیں تاکہ عاشقان مصطفیٰ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم آئندہ ان خار دار راہوں سے اپنا دامن بچا کر چلیں۔
چنانچہ خبر کے مطابق:
”اسلام آباد (نمائندہ خصوصی) قومی اسمبلی میں جمعرات کو قانون سازی کے دوران توہین رسالت‘ کے مجرموں کو عمر قید کے بجائے سزائے موت دینے کے مسودہ قانون پر بحث شروع ہوئی۔ اقلیتی ارکان نے خدشے کا اظہار کیا کہ اس قانون کو غیر مسلموں کے خلاف استعمال کیا جائے گا۔ تاہم وزیر مذہبی امور مولانا عبدالستار خان نیازی نے وضاحت کی کہ ملک میں غیر مسلموں کو مکمل آئینی تحفظ حاصل ہے‘ اس لیے ان کے خدشات بے بنیاد ہیں۔ قبل ازیں پارلیمانی امور کے
وزیر چودھری امیر حسین نے ایوان میں ضابطہ فوجداری ۱۸۹۸ء ترمیمی بل پیش کیا۔ یہ بل سینٹ پہلے ہی منظور کر چکا ہے۔ اس بل کے ذریعے کریمنل لاء بل ۱۹۹۲ء میں مزید ترمیم کی گئی۔ سید نوید قمر نے کہا کہ ہم رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی عزت و تکریم میں کسی سے پیچھے نہیں لیکن ہم مذہبی انتہا پسندی کے خلاف ہیں۔ چودھری الطاف حسین نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی زندگی میں چار پانچ شاتم رسول قتل کیے گئے تھے، اس لیے شاتم رسول کو قتل کرنے کا اختیار ریاست کو نہیں ملنا چاہیے۔ وزیر مملکت برائے اقلیتی امور پیٹر جان سہوترا نے کہا کہ اس بل سے سب سے زیادہ غیر مسلم متاثر ہوں گے۔ اقلیتی رکن طارق سی قیصر نے کہا، یہ بل غیر مسلموں اور خاص طور پر مسیحیوں کے لیے ننگی تلوار ہے جسے غلط استعمال کیا جائے گا۔ جے سالک نے کہا کہ پاکستان میں گستاخ رسول پیدا ہو ہی نہیں سکتا۔ جو رسول اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کی شان میں گستاخی کرے گا، لوگ اسے خود سزا دیں گے۔ (روزنامہ ”جنگ“ کراچی، ۷ اگست ۱۹۹۲ء)
”محترمہ بے نظیر بھٹو نے کہا کہ ملک کے بارہ کروڑ عوام ناموس رسالت کی حفاظت خود کر سکتے ہیں۔ حکومت ناموس رسالت کے سلسلہ میں سزائے موت کا قانون پارلیمنٹ میں پیش کر کے ملک کو بنیاد پرستوں کی ریاست بنانے کی سازش کر رہی ہے جو کہ بنیادی طور پر قائد اعظم (محمد علی جناح، ناقل) کے نظریات کے خلاف ہے اور عوام کے بنیادی حقوق سلب کرنے کے مترادف ہے اور اسلام کو بدنام کرنے کی کوشش ہے۔ انہوں نے کہا کہ گواہوں اور شہادتوں کی بناء پر شان رسالت میں گستاخی کرنے والے کو سزا دینا اس لیے معنی نہیں رکھتا کہ ہمارے ملک میں تو ارکان پارلیمنٹ کو خرید لیا جاتا ہے، اس صورت میں کرایہ کے گواہوں کی موجودگی میں انصاف کی توقع نہیں کی جا سکتی“۔ (روزنامہ ”جنگ“ کراچی ۱۰ اگست ۱۹۹۲ء)
مندرجہ بالا بیانات پر محقق دوراں حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی دامت برکاتہم عالیہ نے خوب علمی گرفت فرمائی ہے جو ہر زندہ دل کے لیے باعث تسکین ہے۔ حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی لکھتے ہیں:
”قومی اسمبلی میں اس بل پر جو مباحثہ ہوا اور اسمبلی کے فاضل ارکان نے اس
بل کے خلاف جن خیالات کا اظہار کیا اس سلسلہ میں چند امور لائق توجہ ہیں۔
اول یہ کہ وفاقی شرعی عدالت حکومت کو ہدایت کر چکی تھی کہ ۳۰ اپریل ۱۹۹۱ء تک دفعہ ۲۹۵-سی سے ”یا عمر قید“ کے الفاظ حذف کر کے توہین رسالتؐ کی سزا صرف موت مقرر کر دی جائے۔ بصورت دیگر اُس تاریخ کے بعد یہ الفاظ خود کالعدم قرار پائیں گے اور ”توہین رسالتؐ کی سزا موت“ ملک کا قانون قرار پائے گا۔ اگر اس تاریخ سے پہلے یہ بل قانون ساز ادارے میں پیش کیا جاتا تو اس پر قومی اسمبلی میں بحث کرنا قابل فہم ہوتا۔ لیکن اس تاریخ کے بعد عدالت کی رو سے اس بل کو قومی اسمبلی میں لانا اور اس پر مخالفانہ بحث کرنا ہی بے جواز ہے اور قومی اسمبلی کے موقر ادارے سے یہ توقع نہیں کی جانی چاہیے کہ اس طرح کی بے جواز لایعنی بحثوں میں وقت ضائع کرے۔ چنانچہ ملک کے معروف قانون دان جناب اسمعیل قریشی اور ظفر علی راجہ کا درج ذیل بیان اخبارات میں شائع ہوا:
”لاہور (سٹاف رپورٹر) ورلڈ ایسوسی ایشن آف مسلم جیورسٹس پاکستان کے سربراہ اسمعیل قریشی اور سیکرٹری جنرل ظفر علی راجہ نے کہا کہ توہین رسالتؐ کی سزا موت مقرر کرنے کے لیے قومی اسمبلی میں بحث بلاجواز ہے کیونکہ وفاقی شرعی عدالت کے فیصلے کے مطابق توہین رسالتؐ کی سزا موت (مقرر) ہو چکی ہے اور یہ ملک کا نافذ العمل قانون ہے۔ انہوں نے گزشتہ روز ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ان کی درخواست پر وفاقی شرعی عدالت نے اکتوبر ۱۹۹۰ء میں فیصلہ دیا تھا جس میں صدر پاکستان کو ہدایت کی گئی تھی کہ ۳۰ اپریل ۱۹۹۱ء تک توہین رسالتؐ کی سزا صرف موت مقرر کر دی جائے ورنہ اس تاریخ کے بعد سزائے موت ملک کا قانون بن جائے گا۔ وفاقی شرعی عدالت کے اس فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل دائر کر دی گئی۔ بعد میں وزیر اعظم نے ہماری ملاقات کے بعد اعلان کیا کہ یہ اپیل حکومت کے ایماء پر نہیں کی گئی بلکہ حکومت کے اہل کاروں کی غلطی سے دائر ہوئی ہے اور اس اپیل کو واپس لے لیا گیا اور سپریم کورٹ نے حکومت کی یہ اپیل خارج کر دی۔ اس کے بعد اب توہین رسالتؐ کی سزا اس ملک میں صرف موت ہے اور یہ دفعہ ۲۹۵-سی کی شکل میں تعزیرات پاکستان میں موجود ہے“۔
(روزنامہ ”جنگ“ لاہور‘ ۷ اگست ۱۹۹۲ء)
دوم : جن فاضل ارکان نے یہ کہا ہے کہ ”رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ
وسلم کی زندگی میں صرف چار پانچ شاتم رسول قتل کیے گئے، اس لیے شاتم رسول‘ کو سزائے موت دینے کا اختیار ریاست کو نہیں ملنا چاہیے“ افسوس ہے کہ ان کی معلومات ناقص ہیں اور ان سے جو نتیجہ اخذ کیا ہے وہ بھی غیر منطقی ہے۔ اس لیے شاتم رسول کو سزائے موت دینا صرف آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے زمانے تک محدود نہیں تھا بلکہ جیسا کہ اوپر عرض کیا جا چکا ہے کہ یہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے بعد صحابہؓ و تابعینؒ کا اجماعی فیصلہ تھا جس پر اسلامی حکومتوں میں ہمیشہ عمل در آمد رہا اور جس پر تمام فقہائے ملت متفق ہیں۔ پس جو سزا ہمیشہ سے اسلامی قانون تعزیرات میں شامل رہی ہو، اس کے بارے میں یہ کہنا کہ اسلامی ریاست کو اس کا حق نہیں ملنا چاہیے، کس قدر غیر معقول بات ہے؟
حافظ ابن تیمیہؒ ایک جگہ لکھتے ہیں: ان النبی صلی الله عليه وسلم كان له ان يعفو عمن شتمه وسبه فى حياته وليس الامه ان يعفو عن ذالك ۔
(الصارم المسلول، ص ۱۹۵)
ترجمہ : ”آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو اپنی حیات طیبہ میں یہ حق حاصل تھا کہ آپؐ کو سب و شتم کرنے والے کو آپؐ معاف فرما دیں لیکن آپؐ کے بعد امت کو معاف کرنے کا حق حاصل نہیں“۔
لہٰذا آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اگر کسی دریدہ دہن سے عفو و درگزر کا معاملہ فرمایا تو چونکہ یہ خالص آپؐ کا حق تھا، اس لیے معاف کر دینا بجا تھا لیکن امت کے حق میں یہ قانون، قانون الٰہی کی حیثیت رکھتا ہے کہ شاتم رسول کو موت کی سزا دی جائے۔ اس لیے امت اس قانون کو منسوخ یا معطل کرنے اور شاتم رسول کو معاف کر دینے کی مجاز نہیں۔
سوم : جن فاضل ارکان نے یہ کہا ہے کہ ہم بھی رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی عزت و تکریم میں کسی سے پیچھے نہیں لیکن ہم مذہبی انتہا پسندی کے خلاف ہیں، ان کی بات بھی نہ صرف نامعقول ہے بلکہ اگر کہا جائے کہ حد درجہ مہمل ہے تو بے جا نہ ہوگا۔ اس لیے کہ جب کوئی دریدہ دہن آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی عزت و ناموس پر حملہ کرے اور شان رسالتؐ میں توہین و تنقیص کا مرتکب ہو تو ایک مسلمان کی ایمانی غیرت و حمیت ایسے موذی کو ایک لمحہ
کے لیے بھی برداشت نہیں کر سکتی لہٰذا اگر آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی عزت و تکریم میں کسی سے پیچھے نہ رہنے کا دعویٰ صحیح ہے تو ایسے موذی کی سزا قتل کو ”مذہبی انتہا پسندی“ سے تعبیر کرنا قطعاً غلط اور مہمل ہے۔
چہارم: اقلیتی ارکان کی طرف سے اس خدشہ کا اظہار ناقابل فہم ہے کہ اس قانون سے غیر مسلم زیادہ متاثر ہوں گے یا یہ کہ یہ قانون مسیحی برادری کے لیے ننگی تلوار ہے۔ سوال یہ ہے کہ پاکستان کے شریف غیر مسلم شہریوں کو ناموس رسالت سے کھیلنے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے بارے میں دریدہ دہنی کی کیا ضرورت ہے کہ وہ اس قانون سے خائف ہوں لیکن اگر کوئی بدبخت دریدہ دہنی کر کے اپنے کیفر کردار کو پہنچتا ہے تو اسمبلی کے فاضل ارکان ایسے موذی کی وکالت کیوں کرتے ہیں؟
پنجم: سب سے زیادہ دلچسپ بحث قائد حزب اختلاف صاحبہ کی ہے کہ ”ملک کے بارہ کروڑ عوام ناموس رسالت کی حفاظت خود کر سکتے ہیں“ کاش کوئی ان سے دریافت کر سکتا کہ بارہ کروڑ عوام نے آپ لوگوں کو ناموس رسالت کی حفاظت کے لیے ہی تو اپنی نمائندگی کا اعزاز بخشا ہے۔ اگر بارہ کروڑ عوام اپنے منتخب نمائندوں کے ذریعے ناموس رسالت کی حفاظت نہیں کر سکتے تو پھر اس کے لیے ان کو کون سا طریقہ اختیار کرنا چاہیے؟ کیا آپ بارہ کروڑ عوام کو یہ تلقین فرمانا چاہتی ہیں کہ وہ اس قسم کے مجرموں کو قانون کے حوالے نہ کیا کریں بلکہ آگے بڑھ کر ان سے خود نمٹا کریں۔ چلئے! بارہ کروڑ باغیرت مسلمان اس کے لیے بھی تیار ہیں لیکن اگر عوام ایسے موذی کو کیفر کردار تک پہنچائیں تو ان عوام کے خلاف آپ کی ”اسلامی مملکت“ کا قانون تو حرکت میں نہیں آئے گا؟ آئے گا اور یقیناً آئے گا۔ اس صورت میں بارہ کروڑ عوام کو قانون ہاتھ میں لینے کا مشورہ محض عوام کو دھوکا دینے کے لیے نہیں تو اور کیا ہے؟ کیا دنیائے سیاست کا یہ اعجوبہ نہیں کہ قائد حزب اختلاف قانون سازی میں تعاون کرنے کے بجائے بارہ کروڑ عوام کو قانون ہاتھ میں لینے کی تلقین فرما رہی ہیں اور اس کے بعد موصوفہ نے جو کچھ کہا اس پر تو وہی فتویٰ صادر ہونا چاہیے تھا جو مولانا عبدالستار نیازی نے دیا لیکن افسوس کہ مولانا کو اپنی سیاسی مجبوریوں کی بناء پر اپنے موقف سے پیچھے ہٹنا پڑا۔
فانا للہ وانا الیہ راجعونO
(توہین رسالت کی سزا از مولانا محمد یوسف لدھیانوی‘ مندرجہ ماہنامہ ”بینات“ کراچی ستمبر ۱۹۹۲ء)
حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی مدظلہ‘ محترمہ کی تصویر کا دوسرا اور اصل رخ‘ عاشقان مصطفیٰ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو ایک دوسرے زاویہ نظر سے دکھاتے ہوئے لکھتے ہیں:
”محترمہ کے اس بیان سے معلوم ہوا کہ ان کی نظر میں توہین رسالت کے لیے سزائے موت کا قانون
- O ملک کے خلاف سازش ہے۔
- O اس کے ذریعہ ملک کو بنیاد پرستوں کی ریاست بنادیا گیا ہے۔
- O اس کے ذریعہ اسلام کو بدنام کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔
- O پاکستان میں عدلیہ کا انتظام اتنا ناقص ہے کہ اس سے حصول انصاف کی توقع
نہیں کی جاسکتی۔ کیونکہ پاکستان کی اعلیٰ عدالتیں سچ اور جھوٹ کے درمیان امتیاز کرنے سے قاصر ہیں۔
- O ناموس رسالت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی حفاظت کے لیے کسی قانون کی
ضرورت نہیں۔ بارہ کروڑ عوام خود اس کام کو کر سکتے ہیں (گویا قانون کا نفاذ حکومت کا کام نہیں بلکہ بارہ کروڑ عوام کو چاہیے کہ اس قانون (سزائے قتل) کو خود نافذ کریں۔
محترمہ کے اس اخباری بیان کے شروع میں اگر ان کا نام نہ ہوتا تو کسی شخص کے لیے یہ فیصلہ کرنا مشکل تھا کہ یہ بیان پاکستان کے کسی مسلمان کہلانے والے فرد کا ہے یا امریکی سینٹ کے کسی یہودی ممبر کا؟ یہی وجہ ہے کہ چند علماء کرام نے اس وقت محترمہ کو مشورہ دیا تھا کہ وہ اپنے ایمان اور نکاح کی تجدید کرالیں“۔
(روزنامہ ”جنگ“ کراچی‘ ۱۱ اگست ۱۹۹۲ء) (بحوالہ ہفت روزہ ”ختم نبوت“
کراچی‘ شمارہ ۹‘ جلد نمبر ۱۳‘ ص ۶)
بے نظیر بھٹو کا یہ بھیانک کردار ”قائد حزب اختلاف“ کی صورت میں سامنے آیا تو غیور مسلمانان پاکستان نے اس پر لعنت بھیجنے پر ہی اکتفا کیا اور بقول شاعر ؎
ہی کو اپنا شعار بنایا لیکن ہماری شامت اعمال کہ ۱۹۹۳ء کے انتخابات میں ایک بین الاقوامی سازش کے نتیجے میں یہی محترمہ مسند اقتدار پر فائز کر دی گئیں اور شاید یہ ان کی انہی اسلام دشمن خدمات کا صلہ تھا یا شاید اسلام دشمنی کی تکمیل کے لیے یہ مہرہ آگے بڑھایا گیا۔ بہر کیف جب محترمہ وزیر اعظم بن بیٹھیں تو کیا گل کھلائے۔ اس سلسلے میں ایک بار پھر محقق دوراں حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی مدظلہ کی تحقیق سے استفادہ کرتے ہیں۔
حضرت مولانا محمد یوسف لدھیانوی مدظلہ لکھتے ہیں:
”اس وقت کی قائد حزب اختلاف جب آج کی وزیر اعظم کی حیثیت سے مسند اقتدار پر فائز ہوئیں تو ان کی فطری خواہش اور پہلی ترجیح یہی رہی ہو گی کہ...... بقول ان کے...... ”کلنک کے اس ٹیکے“ کو پاکستان کی پیشانی سے صاف کر دیا جائے اور ملک کو بنیاد پرستی اور مذہبی انتہا پسندی کے چنگل سے نجات دلائی جائے۔ چنانچہ موصوفہ نے اپنے اراکین دولت (کابینہ) کو فہمائش کی کہ توہین رسالت کے قانون میں ترمیم کر کے سزائے موت کو منسوخ کر دیا جائے۔ روزنامہ ”جسارت“ کراچی کی درج ذیل خبر ملاحظہ فرمائیے:
”حکومت نے توہین رسالت پر سزائے موت منسوخ کر دی‘
زیادہ سے زیادہ دس سال سزا دینے کا فیصلہ“
”کابینہ کی طرف سے وزارت قانون کو تعزیرات پاکستان کی متعلقہ دفعہ میں
ترمیم کی ہدایت“
”وزیر اعظم بے نظیر کی صدارت میں کابینہ کا اجلاس“
”اسلام آباد (ظفر محمود شیخ) پیپلز پارٹی کی حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ توہین رسالت کے قانون میں ترمیم کر دی جائے‘ جس کے تحت توہین رسالت کے مرتکب کی سزا‘ سزائے موت اور عمر قید سے کم کر کے دس سال قید کر دی جائے۔ اس بات کا فیصلہ منگل کے روز وزیر اعظم محترمہ بے نظیر بھٹو کی زیر صدارت ہونے والے وفاقی کابینہ کے اجلاس میں کیا گیا۔ وفاقی کابینہ کے اس فیصلے کے
بارے میں اخبار نویسوں کو بریفنگ دیتے ہوئے اطلاعات و نشریات کے وفاقی وزیر خالد احمد کھرل نے بتایا کہ کابینہ نے وزارت قانون کو ہدایت کی ہے کہ وہ تعزیرات پاکستان کی دفعہ ۲۹۵۔ سی میں ترمیم کر کے بل کا مسودہ تیار کر لے، جس میں توہین رسالت کے مرتکب کی سزا میں کمی کر کے زیادہ سے زیادہ دس سال سزائے قید رکھی جائے“۔ (روزنامہ ”جسارت“ کراچی، ۱۶ اپریل ۱۹۹۴ء) (بحوالہ ہفت روزہ ”ختم نبوت“ کراچی، جلد ۱۳، شمارہ ۹، ص ۶)
تین مہینے کی خاموشی کے بعد ۳ جولائی ۱۹۹۴ء کے تمام قومی اخبارات میں وزیر قانون، اقبال حیدر کا درج ذیل بیان آئرلینڈ کے اخبار ”آئرش ٹائمز“ کے حوالے سے شائع ہوا:
”ڈبلن (پی پی آئی) پاکستان کے وزیر قانون سید اقبال حیدر نے کہا ہے کہ وفاقی کابینہ نے توہین رسالت کے قانون میں ترمیم کی منظوری دے دی ہے اور اس ترمیم سے اب پولیس کو اس قانون کی خلاف ورزی کرنے والوں کو گرفتار کرنے اور جیل بھجوانے کا اختیار حاصل نہیں رہا۔ اقبال حیدر نے کہا کہ پاکستان ایک جدید اسلامی ریاست ہے اور موجودہ حکومت ملک میں مذہبی انتہا پسندی بالکل نہیں چاہتی۔ ”آئرش ٹائمز“ کے مطابق انہوں نے یہ یقین دہانی ایمنسٹی انٹرنیشنل کی میری لالور کو ایک ملاقات میں کرائی“۔ (روزنامہ ”جنگ“ لاہور، روزنامہ ”نوائے وقت“ کراچی، روزنامہ ”جسارت“ کراچی، ۳ جولائی ۱۹۹۴ء)
مولانا محمد یوسف لدھیانوی لکھتے ہیں:
”وزیر قانون کا یہ بیان ان کی عقل و فراست کا شاہکار ہے۔ اگر کوئی بدبخت، حضرت رسالت ماب صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی عزت و ناموس پر حملہ کرتا ہے تو یہ بات ان کے نزدیک ”حقوق انسانی“ کی خلاف ورزی نہیں، لیکن اگر ایسے موذی پر قانون گرفت کرتا ہے تو یہ حقوق انسانی کی خلاف ورزی ہے۔ طرہ یہ کہ یہ حضرت ”سید“ بھی کہلاتے ہیں۔
وزیر قانون اقبال حیدر کا ایک دوسرا بیان اخبارات میں مندرجہ ذیل الفاظ میں شائع ہوا:
”لندن (نمائندہ جنگ) وزیر قانون و پارلیمانی امور اقبال حیدر نے کہا ہے کہ حکومت، پاکستان میں عیسائی برادری اور دوسری اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کا تہیہ
کیے ہوئے ہے اور اس مقصد کے لیے تمام ذرائع بروئے کار لائے گی۔ انہوں نے کہا کہ توہین مذہب کے قانون میں مناسب تبدیلیاں کرنا حکومت کے انتخابی منشور کا ایک حصہ ہے اور یہ تبدیلیاں اس طرح کی جائیں گی کہ یہ قانون کسی بے گناہ شخص کے خلاف غلط طور پر استعمال نہ ہو سکے"۔ (روزنامہ "جنگ" کراچی، ۷ جولائی ۱۹۹۴ء)
پیپلزپارٹی کے ایک دوسرے وزیر ڈاکٹر شیر افگن نے اپنی "ماہرانہ رائے" پریس میں اشاعت کے لیے ان الفاظ میں پیش کی:
"سرگودھا ۱۶ جولائی (این این آئی) وفاقی وزیر خصوصی تعلیم و سماجی بہبود ڈاکٹر شیر افگن نے کہا ہے کہ توہین رسالت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے قانون میں ترمیم کی گنجائش موجود ہے، کیونکہ اس قانون سے ناجائز فائدہ اٹھانے کے مواقع موجود ہیں۔ سرگودھا میں پریس کلب میں صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حکومت اس قانون میں ترمیم کر رہی ہے جس کے ذریعے مقدمہ درج کرنے سے پہلے سیشن جج اس معاملے کی تحقیق کریں اور اس کے بعد مقدمہ درج کرنے کی سفارش کریں"۔ (روزنامہ "امن" کراچی، ۷ جولائی ۱۹۹۴ء)
پیپلزپارٹی اور اس کی قیادت کی اس احمقانہ روش پر خیبر سے کراچی تک، منبر و محراب سے لے کر چوک و چوراہے تک، ملک بھر کی تمام اسلامی تنظیموں کے ساتھ ساتھ فلاحی اور سیاسی جماعتوں نے، اس طوفانی ردعمل کا مظاہرہ کیا کہ ارباب اختیار کو دن میں تارے دکھائی دینے لگے اور اپنے ہاتھوں سے دی ہوئی گرہوں کو دانتوں سے کھولنے پر مجبور ہو گئے۔ چنانچہ انہی اقبال حیدر کا تردیدی بیان ملاحظہ ہو:
"اسلام آباد (ا پ پ) قانون، انصاف اور پارلیمانی امور کے وفاقی وزیر اقبال حیدر نے واضح کیا ہے کہ تعزیرات پاکستان کی دفعہ ۲۹۵ (سی) کی رو سے توہین رسالت سے متعلق قانون میں قطعا کوئی ردو بدل نہیں کیا جا رہا۔ ایک بیان میں انہوں نے بتایا کہ اس قانون کے تحت توہین رسالت کے جرم کی سزا موت ہے اور اس سزا میں کوئی تبدیلی کرنے کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ وزیر قانون نے کہا کہ متعلقہ قانون کی دفعات کے بارے میں میرے ایک بیان کے بعض حصوں کو کچھ شرپسند عناصر نے توڑ مروڑ کر پیش کیا ہے۔ میں نے ایسے کوئی الفاظ استعمال نہیں کیے جو مجھ سے منسوب کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے لوگوں پر زور
دیا کہ وہ ایسے عناصر سے ہوشیار رہیں جو ایک طبقے کو دوسرے سے لڑانا چاہتے ہیں۔"۔ (روزنامہ "نوائے وقت" کراچی‘ ۷ جولائی ۱۹۹۴ء)
دوسرے روز انہی "حضرت" کا ایک اور بیان شائع ہوا:
"لندن (اے پی پی) وفاقی وزیر قانون اقبال حیدر نے کہا ہے کہ توہین رسالت کے قانون کو واپس لیا جا رہا ہے اور نہ ہی اس کی سزا میں کمی کی جا رہی ہے۔ لندن میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس سلسلہ میں انہوں نے آئرلینڈ میں کوئی بیان نہیں دیا۔ پاکستان پینل کوڈ کی دفعہ ۲۹۵۔سی میں ترمیم کا مسودہ کابینہ نے منظور کر لیا ہے جس کو پارلیمنٹ میں بھیج دیا جائے گا۔ اس سلسلہ میں عوام اور مذہبی گروہوں نے بہترین تجاویز پیش کی ہیں۔"۔ (روزنامہ "جنگ" کراچی‘ ۸ جولائی ۱۹۹۴ء)
مذکورہ بالا بیان اقبال حیدر کے شاطرانہ ذہن کا شاہکار کہلانے کا مستحق ہے۔
غور فرمائیے: "توہین رسالت کے قانون کو واپس لیا جا رہا ہے اور نہ ہی اس کی سزا میں کمی کی جا رہی ہے۔"۔ اور "پاکستان پینل کوڈ کی دفعہ ۲۹۵۔سی میں ترمیم کا مسودہ کابینہ نے منظور کر لیا ہے جس کو پارلیمنٹ میں بھیج دیا جائے گا"۔ اگر توہین رسالت کا قانون وفاقی شرعی عدالت کے فیصلہ کے مطابق درست ہے اور یقیناً درست ہے تو پھر اس میں "ترمیم" چہ معنی دارد؟ اور اس قدر کھلی منافقت! یقیناً اس پر شیطان نے بھی بے ساختہ قہقہہ لگایا ہو گا۔
دلوں میں کفر‘ لبوں پہ خدا کی باتیں
صدہا آفرین کے قابل ہیں عاشقان مصطفیٰ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کہ جن کی عملی جدوجہد اور جذبہ عشق رسالت نے حکومت کے لیے ذلت و رسوائی کا سامان کر دیا اور حکومت کے اس شیطانی حملہ کو پسپا کر دیا۔ چنانچہ اخباری خبر کے مطابق:
"اسلام آباد (نمائندہ خصوصی) معلوم ہوا ہے کہ حکومت نے توہین رسالت کے قانون میں ترمیم کا بل منظوری کے لیے پارلیمنٹ میں پیش کرنے کا فیصلہ موخر کر دیا ہے۔ وفاقی کابینہ نے اصولی طور پر اس قانون میں ترمیم کی منظوری دی تھی۔ یہ ترمیم توہین رسالت کو قابل دست اندازی پولیس کے زمرے سے ختم کرنے اور توہین رسالت کے ملزم کے خلاف مقدمہ درج کرنے کا اختیار تھانے کے ایس ایچ او سے واپس لینے کے بارے میں تھی۔ وزارت قانون نے اس
بارے میں ترمیمی بل کا مسودہ بھی تیار کر لیا تھا، مگر حکومت نے فی الحال اس بل کو پارلیمنٹ میں پیش کرنے کا ارادہ ترک کر دیا ہے"۔ (روزنامہ "جنگ" لاہور 7 جولائی 1994ء)
غیور مسلمانان پاکستان کی مزاحمتی تحریک اس قدر شدید تھی کہ صدر پاکستان جناب فاروق احمد خان لغاری کو حکومت کی صفائی کے لیے لب کشائی کرنی پڑی:
"اسلام آباد (پی پی آئی) صدر مملکت سردار فاروق احمد خان لغاری نے کہا ہے کہ توہین رسالت کے قانون میں ترمیم کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ حکومت نے اس قانون میں نہ ہی کسی قسم کی ترمیم کی ہے اور نہ ہی ایسا کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ وہ جمعرات کو ایوان صدر میں جمعیت اہل حدیث کے سربراہ قاضی عبدالقدیر خاموش سے گفتگو کر رہے تھے۔ قاضی عبدالقدیر نے پون گھنٹہ تک صدر مملکت سے ملاقات کی اور انہیں توہین رسالت کے قانون کے بارے میں علماء کے جذبات سے آگاہ کیا۔ صدر نے انہیں یقین دلایا کہ توہین رسالت کے قانون میں حکومت ترمیم کرنے کا سوچ بھی نہیں سکتی اور نہ ہی ایسی کوئی تجویز ہے۔ حکومت علماء کا احترام کرتی ہے۔ صدر مملکت نے کہا کہ توہین رسالت کا اصل قانون بدستور برقرار ہے۔ توہین رسالت کے مرتکب کو کسی صورت معافی نہیں دی جا سکتی"۔ (روزنامہ "جنگ" کراچی 8 جولائی 1994ء)
حکومتی وضاحتوں کے باوجود عوامی غم و غصہ اس قدر زبردست اور ملک گیر تھا کہ ناموس رسالت کے تحفظ کے لیے ہر کوئی آواز اٹھانا باعث سعادت سمجھتا تھا۔ ایسے میں ایک حکومتی اہل کار جو کبھی قومی اسمبلی کے ممبر تھے اور جب 295-سی کے قانون پر قومی اسمبلی میں بحث کی گئی تو یہی "حضرت" تھے جنہوں نے اس وقت مزاحمت کرتے ہوئے اپنی "عالمانہ" رائے دی تھی کہ "شاتم رسول (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) کو سزائے موت دینے کا اختیار ریاست کو نہیں ملنا چاہیے"۔ اب عوامی رد عمل سے مضطرب ہو کر وہ گورنرانہ زبان میں یہ بیان دینے پر مجبور ہوئے کہ
"لاہور (نمائندہ جنگ) گورنر پنجاب چودھری الطاف حسین نے کہا ہے کہ گستاخ رسول کی سزا سے متعلق حکومت کی وضاحت کرنے کے باوجود وہ کون لوگ ہیں جو مطمئن نہیں ہوتے۔ وہ ہڑتالیں اور جلوس نکال کر سیاست نہیں تو اور کیا کر رہے ہیں۔ حکومت نے ایسے لوگوں کے بارے میں اب تک بہت نرمی
سے کام لیا ہے۔ اب بات اس مقام تک آ پہنچی ہے کہ اب یا تو ہنگامے کرنے والے بے راہ لوگ رہیں گے یا حکومت رہے گی..... انہوں نے کہا کہ ہم کہتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ ساتھ تمام رسول قابل احترام ہیں اور ہر رسول کی گستاخی کرنے والا قابل قتل ہے، لیکن اگر کسی نے سزا دینے کے طریقہ کار کو محتاط بنانے کی بات کی ہے اور اس موضوع پر حکومت نے اپنے واضح پالیسی کا بھی اعلان کر دیا ہے تو پھر وہ کون لوگ ہیں جو مطمئن نہیں ہو رہے۔ میں پوچھتا ہوں کہ اگر حکومت گستاخ رسول کی سزا کم کرنے کے بارے میں اسمبلی میں کوئی بل لاتی ہو تو پھر کوئی احتجاج کرے تو پھر ٹھیک ہے مگر جب حکومت ایسا کچھ نہیں کر رہی تو پھر احتجاج کرنے والے سیاست نہیں تو اور کیا کر رہے ہیں"۔
(روزنامہ ”جنگ“ کراچی، ۱۰ جولائی ۱۹۹۴ء)
اگر گورنر صاحب کو حکومتی موقف کی وضاحت مطلوب تھی تو پھر ”چشم ما روشن دل ما شاد“ مگر عوام پر ”تہلکہ“ جمانے کے لیے یہ کہ ”ہنگامے کرنے والے رہیں گے یا حکومت رہے گی“ سرخی کے ساتھ بیان میں یہ پیوند، اس ضرب المثل کی سچائی کی دلیل ہے کہ ”چور چوری سے جائے مگر ہیرا پھیری سے نہ جائے"۔
ادھر محترمہ وزیر اعظم صاحبہ کو ”ہاتھ پیر“ پڑے تو انہیں دور کی سوجھی۔ محترمہ اپنی سیاسی بصیرت کی ”ایڑی چوٹی“ کا زور لگاتے ہوئے معاملہ کو یوں التواء میں ڈالتی ہیں، چنانچہ اخباری خبر کے مصداق:
”اسلام آباد (نمائندہ جنگ) وزیر اعظم محترمہ بے نظیر بھٹو نے توہین رسالت کے قانون کے بارے میں وزیر قانون سید اقبال حیدر سے منسوب بیان سے پیدا ہونے والی صورت حال کی وجوہات کا تعین کرنے کے لیے تحقیقات کا حکم دے دیا ہے۔ ذرائع کے مطابق برطانیہ میں پاکستان کے ایک سینئر سفارت کار اس معاملہ کی تحقیقات کر رہے ہیں کہ آئرلینڈ کے ایک اخبار نے کن عناصر کی ایماء پر یہ بات وزیر قانون سے منسوب کی کہ ناموس رسالتؐ سے متعلق قانون میں تبدیلی ہو گی اور گستاخ رسولؐ کی سزا میں بھی نرمی کی جائے گی اور کن عناصر نے آئرلینڈ کے اخبار میں وزیر قانون سے منسوب اس بیان کی پاکستانی اخبارات میں تشہیر کا انتظام کیا۔ اس ضمن میں وزیر قانون نے وزیر اعظم کو آگاہ کیا ہے کہ انہوں نے کسی اخباری انٹرویو کے دوران بالواسطہ یا بلاواسطہ طور پر کوئی ایسی بات نہیں کی۔
ذرائع نے بتایا کہ ملک میں مذہبی خلفشار پھیلانے کی اس کوشش کے بارے میں ایک تفصیلی رپورٹ بہت جلد وزیر اعظم کو پیش کر دی جائے گی"۔ (روزنامہ "جنگ" کراچی، ۹ جولائی ۱۹۹۴ء)
جولائی ۹۴ء کا پہلا عشرہ تحفظ ناموس رسالت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے باب میں واقعتاً ایک تاریخی حیثیت کا حامل ہے۔ یہ عشرہ پی پی حکومت کے لیے تاریک ترین دن تھے جبکہ یہ عشرہ عاشقان رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے لیے فتح و کامرانی کی نوید بن کر طلوع ہوا تھا۔ ان دنوں ہر دل اس ترنگ میں تھا۔
ہم اٹھائے ہوئے سورج کا علم آتے ہیں
اقبال حیدر، ڈاکٹر شیر افگن، گورنر پنجاب الطاف حسین، وزیراعظم صاحبہ اور صدر پاکستان فاروق احمد خان لغاری کے مندرجہ بالا بیانات سے پی پی حکومت کے عزائم کی پوری تصویر قارئین کے اذہان میں منقش ہوچکی ہوگی۔ اس تصویر کے خط و خال مولانا محمد یوسف لدھیانوی مزید واضح کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
”ڈاکٹر شیر افگن، وزیر قانون اقبال حیدر اور گورنر پنجاب الطاف حسین کے بیانات سے مترشح ہے کہ اس ترمیم کا منشاء یہ تھا کہ اس جرم کا مقدمہ تھانے میں درج نہ کیا جاسکے، بلکہ جو شخص اس جرم کا الزام کسی پر لگائے، وہ مجسٹریٹ یا ڈپٹی کمشنر کی خدمت میں درخواست دے کہ میں فلاں شخص پر یہ الزام لگانا چاہتا ہوں، متعلقہ مجسٹریٹ یا ڈپٹی کمشنر اپنے طور پر اس امر کی تحقیقات کرے کہ یہ الزام کہاں تک صحیح ہے، اگر وہ تفتیش کے بعد اس الزام کی تصدیق کرے، تب مقدمہ عدالت میں پیش کیا جائے۔
- O وزیر قانون کا یہ کہنا کہ میں نے آئرلینڈ میں توہین رسالت کے قانون میں
ترمیم کے بارے میں کچھ نہیں کہا محض دفع الوقتی اور تقیہ پردازی ہے، غالباً موصوف ع ”بامسلمان اللہ اللہ، بابرہمن رام رام“ کے اصول پر عمل کرنے کے قائل ہیں۔ موقع ملا تو محترمہ وزیر اعظم کی طرح یہ کہہ دیا کہ:
”یہ قانون بنیادی انسانی حقوق کے منافی ہے اور ایسے قوانین میں ترمیم کرنا پی پی کی حکومت کے منشور کا حصہ ہے“۔
اور جب اسلامی رد عمل کا سامنا کرنا پڑا تو فرما دیا کہ کون کافر ہوگا جو اس قانون میں
ترمیم کرے؟ الغرض مندرجہ بالا بیانات سے واضح ہے کہ حکومت نے اس قانون میں ترمیم کا مسودہ یقیناً تیار کر لیا تھا، لیکن ترمیم کی نوعیت اب تک پردہ راز میں ہے۔
- صدر مملکت لغاری کا بیان پی پی کے غیر ذمہ دار وزیر قانون کو عوام کے غیظ و
غضب سے بچانے کی بزرگانہ اور معصومانہ کوشش کے سوا کچھ نہیں، کیونکہ قاعدہ کے مطابق جب بل پارلیمنٹ میں پاس ہو جائے تو آخری منظوری کے لیے صدر کے پاس جاتا ہے، اس سے پہلے یہ بھی ضروری نہیں کہ وزیر اعظم اور ان کی کابینہ نے صدر سے اس ترمیم کے بارے میں مشورہ ضروری سمجھا ہو۔ اس امر کا پورا امکان ہے کہ صدر ترمیمی مسودۂ قانون سے بے خبر ہوں۔
- وزیر اعظم صاحبہ کا وزیر قانون سے منسوب بیان کی تحقیقات کا حکم جاری کرنا
اور اس کے لیے برطانیہ میں مقیم ایک سینئر سفارت کار کو مقرر کرنا محض ان کی سیاسی ذہانت ہے۔ جس خبر کو ملک بھر کے قومی اخبارات نے خبر رساں ایجنسی کے حوالے سے شائع کیا ہو اس کی ”تحقیقات“ کے کیا معنی؟ اگر یہ خبر جھوٹ تھی تو حکومت اس کو عدالت میں چیلنج کر سکتی تھی اور عدلیہ یہ فیصلہ کرنے کی مجاز تھی کہ ملک بھر کے قومی اخبارات نے حکومت کے ”معصوم“ وزیر قانون پر بے ثبوت تہمت تراشی کی ہے۔ اس کے بجائے تحقیقات کا ڈھونگ رچانے سے مقصد یہ ہو گا کہ اس سینئر سفارت کار کے ذریعے کہلا دیا جائے کہ وزیر موصوف نے ایسا کوئی بیان جاری نہیں کیا، یوں وزیر موصوف کے دامن سے داغ دھبے دھل جائیں گے اور عوامی غیظ و غضب کے سیلاب کے آگے بند باندھنا ممکن ہو گا لیکن اس کا کیا علاج کہ وزیر اعظم صاحبہ خود بھی اس قانون کے خلاف نفرت و بیزاری کا برملا اظہار کر چکی ہیں، نیز شیر افگن سے لے کر چودھری الطاف حسین تک ارباب حکومت یہ بیانات جاری کر رہے ہیں کہ قانون میں واقعی ترمیم کی گئی ہے، جس کے ذریعے ثبوت جرم کو ناممکن بنانے کی کوشش کی گئی ہے۔
- گورنر پنجاب چودھری الطاف حسین کے منہ سے جو یہ الفاظ نکلے ہیں کہ:
”ہنگامے کرنے والے رہیں گے یا حکومت رہے گی“۔ یہ الفاظ شاید الہامی ثابت ہوں اور حکومت کی دوغلی پالیسی اسی کو لے ڈوبے۔ گورنر صاحب سے گزارش ہے کہ لاہور کے گورنر ہاؤس میں ہمت سے گورنر
آئے اور گئے۔ اقتدار کے نشہ میں عوامی غیظ و غضب کا غلط اندازہ نہیں لگانا چاہیے اور عوام کے جذبات کو بزور حکومت کچلنے کی حماقت کبھی نہیں دہرانی چاہیے۔ اس عقدہ کو حسن تدبیر سے حل کیا جانا چاہیے، حکومت کی جانب سے تشدد نقصان دہ ثابت ہوگا۔
- ○ ہم حکومت کے ارباب بست و کشاد سے عرض کریں گے کہ اگر حکومت نے
اس قانون توہین رسالت کو پولیس کے دائرہ عمل سے نکالنے کے لیے کوئی ایسی ترمیم تجویز کر رکھی ہے کہ الزام لگانے والا پہلے ڈپٹی کمشنر کو (یا کسی اور مجاز افسر کو) درخواست کرے، اگر متعلقہ افسر اس کی تصدیق کرے کہ واقعی اس جرم کا ارتکاب کیا گیا ہے، تو الزام لگانے والا عدالت کا دروازہ کھٹکھٹائے تو ایسی ترمیم اس قانون کو یکسر منسوخ کر دینے کے مترادف ہوگی، کیونکہ اس صورت میں جرم کا ثبوت ناممکن ہو جائے گا۔ علاوہ ازیں یہ تحقیق کرنا کہ یہ الزام کہاں تک صحیح ہے یا صحیح نہیں، یہ خالص عدالت کے دائرے کی چیز ہے۔ دنیا بھر میں عدلیہ کا منصب یہی سمجھا جاتا ہے کہ وہ زیر سماعت الزام کی کامل و مکمل تفتیش کر کے یہ فیصلہ کرے کہ ملزم نے جرم کا ارتکاب کیا ہے یا نہیں؟ اسی طرح مدعی اور مدعا علیہ دونوں سے انصاف کرے، پاکستان میں ایسا کون سا جرم ہے کہ اس کی رپورٹ کے لیے ڈپٹی کمشنر یا کسی اور کی پیشگی منظوری کو شرط قرار دیا گیا ہو؟ قانون توہین رسالت کے جرم کو اس شرط کے ساتھ مشروط کرنا اگر ایک طرف عدلیہ کے کام میں مداخلت ہے تو دوسری طرف آنحضرت رسالت ماب صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے صریح غداری کے مترادف ہے، جس کا منشاء دراصل اس قانون کی افادیت کو ختم کر کے اسے عملی طور پر معطل کر دینا ہے۔ کیسی شرم کی بات ہے کہ اس ملک میں قائد اعظم کی توہین، پولیس کی دست اندازی کے دائرے میں آتی ہے لیکن آنحضرت رسالت ماب صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی توہین کو دست اندازی پولیس کے دائرے سے نکالنے کی مذموم کوشش کی جاتی ہے اور اس پر عشق رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا دعویٰ بھی کیا جاتا ہے"۔ (اداریہ ہفت روزہ "ختم نبوت"
کراچی، جلد ۱۳، شمارہ ۹، ص ۹-۱۰)
اس سلسلہ میں ملک کے ممتاز صحافی جناب مجیب الرحمن شامی قلم اٹھاتے ہیں:
"یہ بات ذہن میں رہنی چاہیے کہ "جھوٹے مقدمات" کی دہائی دے کر ملزم
کو فائدہ پہنچانا قانونی کارروائی اور طریقہ کارروائی سے مکمل لاعلمی کا ثبوت فراہم کرنا ہے۔ اگر یہ دلیل مان لی جائے کہ قانون کا ناجائز استعمال ہوتا ہے، اس لیے اس کے نفاذ کو محدود کیا جائے تو پھر پاکستان کیا، دنیا بھر میں کوئی قانون نافذ نہیں رہ سکتا۔ وہ کون سا قانون ہے جس کے تحت جھوٹے مقدمات درج نہیں ہوتے؟ اور وہ کون سا ملک ہے جہاں قانون کا غلط استعمال نہیں ہوتا؟ عدالتیں قائم ہی اسی لیے کی جاتی ہیں کہ جھوٹ اور سچ کے فرق کو واضح کریں، جھوٹے مقدمات خارج کریں اور مجرموں کو کیفرکردار تک پہنچائیں۔
مقدمات کی جانچ پڑتال اور ملزم کے سچ اور جھوٹ کا فیصلہ کرنے کا اختیار کسی ہجوم، کسی گروہ، کسی اقلیت یا کسی اکثریت کو نہیں دیا جا سکتا۔ یہ حق صرف اور صرف عدالتوں کو حاصل ہے، انہی کے پاس رہنا چاہیے۔ وفاقی وزیر قانون نے ”آئرش ٹائمز“ کی خبر کے مطابق ایمنسٹی انٹرنیشنل کی نمائندہ اور بعض عیسائی خواتین کو انٹرویو دیتے ہوئے جو کچھ کہا اور وفاقی کابینہ نے تعزیرات پاکستان کی متعلقہ دفعہ کے اطلاق، طریقہ کار کو محدود کرنے کے لیے جو بھی فیصلہ کیا، اس بارے میں کسی بحث میں پڑے بغیر، یہ کہے بغیر نہیں رہا جا سکتا کہ پاکستان کے نام نہاد روشن خیال طبقوں کو عوام کے جذبات اور احساسات کا اندازہ ہونا چاہیے۔ مسیحی بھائیوں کو بھی معاملے کی نزاکت کو نظرانداز نہیں کرنا چاہیے اور علماء کرام کو بھی کسی ضد کا شکار نہیں ہونا چاہیے۔ عشق رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بہرحال مسلمان معاشرے کی بنیاد ہے۔ اسے بے بنیاد بنانے کی کوشش کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ ہاں! ایک دوسرے کے ساتھ مل بیٹھ کر، ایک دوسرے کی مشکل کا حل دریافت کیا جا سکتا ہے اور کیا جانا چاہیے۔ مسلمان اور مسیحی ایک دوسرے کے دل پر ہاتھ رکھیں۔ (روزنامہ ”جنگ“ لاہور، ۱۵ جولائی ۱۹۹۴ء کالم، جلسہ عام از مجیب الرحمن شامی)
قانون توہین رسالت کے ساتھ یہ امتیازی سلوک آخر کس دلیل کے ساتھ تسلیم کیا جاتا کہ جرم کی تصدیق ہو جانے کے بعد مقدمہ درج ہونا چاہیے اور یہ ایک بین الاقوامی سچائی ہے کہ الزام اور جرم کی وضاحت کرنا خالصتاً عدلیہ کا منصب ہے۔
فرض کیجئے انتظامیہ کا کوئی مجاز افسر تحقیق کرنے کے بعد الزام کو درست پا کر مقدمہ درج کرنے کی سفارش کرتا ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ الزام درست ہے اور جس پر الزام
لگایا گیا ہے وہ ملزم نہیں بلکہ مجرم ہے اور یوں جرم ثابت ہو جانے کے بعد عدلیہ کا قصور یکسر مٹ جاتا ہے۔
ہاں اگر اسے یوں سمجھا جائے کہ انتظامیہ کا کوئی مجاز افسر اس امر کی تحقیق کرتا ہے کہ الزام کسی بدنیتی کی بنیاد پر تو نہیں لگایا جا رہا یا فریقین کی ذاتی عداوت تو اس حساس مسئلہ میں کار فرما نہیں؟ تو یہ ایک مستحسن اقدام سمجھا جانا چاہیے۔ مگر ایسے میں بھی سیاسی حکمت عملی کے باعث ملزم کو فوری طور پر سرکاری تحویل میں لے لیا جانا چاہیے اور حفظ ماتقدم کے تحت عوامی غیظ و غضب سے اسے محفوظ کرنا حکومتی ذمہ داری میں شامل ہے۔
خدانخواستہ اگر کوئی ذاتی عداوت کی بنیاد پر کسی پر ”توہین رسالت“ جیسا گھناؤنا الزام عائد کر کے ایک گروہ اور ہجوم کو اس کے خلاف مشتعل کر دیتا ہے۔ اشتعال کے عالم میں عوام میں یہ صلاحیت کہاں ہوتی ہے کہ وہ انصاف کر سکے۔ دیکھنے میں یہی آیا ہے کہ جب کبھی بھی ایسا مقدمہ عوامی عدالت میں منعقد ہوا تو ایسے مواقع پر لوگوں کے ہاتھوں میں تیل کے ڈبے‘ در و دیوار سے اٹھتے آگ کے شعلے اور فضا میں دھوئیں کے بادل منڈلاتے نظر آئے اور جب یہ دھند چھٹتی ہے تو سڑکوں اور چوراہوں پر خون کی لکیریں ملتی ہیں۔
یہ خون کس کا ہوتا ہے؟ ملزم کا یا مجرم کا؟
یہ تو ایک سوال ہے جو ضمیر کی عدالت میں دستک دیتا ہے۔ اور ہے کوئی منصف جو ضمیر کی یہ صدا سنے کہ ”اس ظلم اور اندھیر نگری کے ذمہ دار تم ہو‘ میرے قاتل تم ہو‘ صرف تم“۔ اور اس کیفیت میں ہر حساس انسان تڑپ اٹھتا ہے اور اس ناکردہ گناہ کا تدارک‘ عقل و شعور کی روشنی سے ممکن ہے۔ ہر مہذب معاشرہ کے کچھ اصول‘ کچھ قانون ہوتے ہیں اور قوموں کے اسلوب زندگی ہی سے ان کی تہذیب و تمدن کے نقوش ابھرتے ہیں۔
جس جرم سے جتنے زیادہ جذبات مجروح ہوں اس کی سزا بھی اتنی ہی سخت رکھی جاتی ہے تاکہ جرم کی روک تھام ہو‘ سوائے اس کے سزا و جزا کا فلسفہ کوئی نہیں اور اس کی تہہ میں بات یہی ہوتی ہے کہ انسانی معاشرہ‘ انسانی کہلائے‘ اس میں احترام ہو‘ ادب ہو‘ امن اور سکون ہو۔
توہین رسالت کا قانون دراصل شیطانی منصوبوں کے خلاف انسانی حکمت عملی ہے۔ عصر حاضر کا تقاضا ہے کہ انسان خود اپنی عظمت کے لیے ابلیسی تاریکیوں سے نکلنے کے لیے اسباب پیدا کرے ورنہ یہ دور انسانی اقدار کے خلاف طبل جنگ بجا چکا ہے۔
ورنہ آج ابلیس کا یہ رقص دیوانگی ان تالوں پر ہونے لگا ہے کہ اس کے شور و شغب سے انسانیت کا دم گھٹ رہا ہے۔
۲۱ اپریل ۱۹۹۴ء کو گوجرانوالہ میں ایک حافظ قرآن ڈاکٹر سجاد فاروق کو مشتعل عوام نے محض الزام ہی کی بنیاد پر آگ لگا کر قتل کیا۔ اس کی لاش کو سڑکوں پر گھسیٹا۔ تفتیش کے بعد یہ بات واضح ہو گئی کہ الزام غلط اور ذاتی دشمنی کا نتیجہ تھا مگر کیا کیجئے عوامی جذبات کا۔ مذہبی معاملات میں تو ایسے بہتے ہیں کہ بڑے بڑے برج اس میں خس و خاشاک کی طرح خاکستر ہو جاتے ہیں۔ اور اس سیلاب کے آگے بند صرف اور صرف ”قانون اور اس پر صحیح معنوں میں عمل درآمد ہے“۔ قانون میں ذرا سی کمی یا اس کے اطلاق میں کوتاہی لازماً امن و امان کے مسائل پیدا کرتی ہے اور اس کا ذمے دار نااہل حکومت ہی کو قرار دیا جا سکتا ہے۔ عوام کے پاس تو پرکھ کا معیار نہیں ہوتا۔
پی پی حکومت قانون توہین رسالت میں کمی یا اس کے اطلاق میں ترمیم کر کے اپنے قبلہ و کعبہ ”وائٹ ہاؤس“ کی طرف رخ کر کے باادب، حقوق انسانی کے دیوتاؤں کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے منتر پڑھ رہی تھی کہ ”نعرہ ہائے تکبیر، اللہ اکبر“ کی مسلسل آوازوں سے اس کی آنکھ کھل گئی اور وہ خواب جو انہوں نے اقتدار کے نشے میں دیکھا تھا، اس کی تعبیر اخبارات میں یوں شائع ہوئی:
”توہین رسالت‘ ایکٹ میں قطعاً کوئی ترمیم نہیں ہوگی۔ وفاقی کابینہ“۔
(روزنامہ ”جنگ“ لاہور، ۱۳ جولائی ۱۹۹۴ء)
نیز
”توہین رسالت‘ کی سزا میں ترمیم کا شوشہ اپوزیشن کی ڈس انفارمیشن کا حصہ ہے، اقبال حیدر“۔ (روزنامہ ”جنگ“ راولپنڈی، ۱۱ جولائی ۱۹۹۴ء)
غرض پوری حکومتی مشینری اس ایک نکتے کی وضاحت کرنے پر مجبور ہو گئی کہ ”ہم پکے سچے عاشق رسول (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) ہیں۔ گستاخی رسول (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) پر سزائے موت سے بڑی بھی اگر کوئی سزا ہوتی تو ہم دینے کو تیار ہیں۔ سچ ہے کہ ”خواب کی تعبیر ہمیشہ الٹی ہوتی ہے“۔ ہم حکمران طبقہ سے بصد ادب و احترام عرض کریں گے کہ حضور جاگتے میں خواب دیکھنا چھوڑیئے، یہ پاکستان ہے اور اس کی بنیادوں میں لاکھوں شہیدوں کا خون ہے۔ پاکستان کسی غداری کے عوض ملی ہوئی جاگیر کا نام نہیں کہ اس کے عطا
کرنے والوں کی خوشنودی کے لیے نت نئی غداریوں کی اجازت دی جائے گی۔ یہاں اگر رہنا ہے تو ان شہیدوں کے خون سے وفا کر کے رہنا ہو گا‘ اس مٹی کی مہک کو سانسوں میں بسانا ہو گا‘ بری ہواؤں کا گزر اس وطن سے محال ہے‘ محال ہے۔
پاکستان عاشقان مصطفیٰ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا وطن ہے اور پاکستانی قوم حقیقتاً عشق مصطفیٰ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم میں اس قدر غرق ہے کہ اس کے بچوں کے منہ سے اگر نوالہ چھین لیا جائے تو نہیں بولتی‘ اس کے جسم سے کپڑا بھی کھینچ لیا جائے تو بھی خاموش‘ اس کے سر پر ضرورت سے زیادہ بوجھ لاد دیا جائے تب بھی نہیں اٹھتی‘ اسے قربانیاں دینے کی عادت ہی پڑ چکی ہے‘ مگر اس کے باوجود جب کبھی بھی اس قدر مظلوم اور غریب قوم کے قلوب کی دھڑکن‘ رسالت ماب صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی عزت و ناموس کے تحفظ کی بات ہوئی تو زخمی شیر کی طرح اٹھی اور ایسی اٹھی کہ اپنے پرایوں کو ورطہ حیرت میں ڈال دیا۔ اس کیفیت میں یہ اشعار بڑے اچھے لگے: ۔
بھول کر میں کبھی جو زندان میں سو جاتا ہوں کوئی آ کر میری زنجیر ہلا دیتا ہے
کون ہشیار ہے میخانے میں ساقی کے سوا جب کوئی ہوش میں آئے تو پلا دیتا ہے
سخت جاں ہو گئے ہم سختیاں سہتے سہتے وقت انسان کو پتھر بھی بنا دیتا ہے
ہے وہ بے خود جو سو جائے تو دنیا بھی سو جائے یہ جو جاگے تو زمانے کو جگا دیتا ہے
سولہواں باب
تحفظ ناموس رسالتؐ پر منظوم کلام
مگر میں باوجود اس کے مسلماں ہو نہیں سکتا
نہ جب تک کٹ مروں میں خواجہ طیبہؐ کی حرمت پر
خدا شاہد ہے کامل میرا ایماں ہو نہیں سکتا
٭
موت کیا شے ہے؟ فقط عالم معنی کا سفر
ان شہیدوں کی دیت اہل کلیسا سے نہ مانگ
قدر و قیمت میں ہے خوں جن کا حرم سے بڑھ کر
آہ! اے مردِ مسلماں تجھے کیا یاد نہیں
حرف لا تدع مع اللہ الھا اخر
٭
اک بات دلِ حزیں نے کہی مجھ سے بھی
آقاؐ پر کریں زباں درازی جو لوگ
لازم ہے اڑا کے رکھ دو گردن ان کی
٭
تم پہ غالب آ نہیں سکتی جہاں میں کوئی شے
سر میں رکھتے ہو اگر روشن چراغ آرزو
حفظ ناموس نبیؐ کا داعیہ گر دل میں ہے
اساس کعبہ ایماں ہے احترام رسولؐ
نبیؐ کے نام پہ جاں دینے والے زندہ ہیں
بقائے زیست کا ساماں ہے احترام رسول
یا پلا دیتا ہے کوئی جام کوثر دار پر
یہ غلامان محمدؐ کی پرانی ریت ہے
کودتے ہیں آگ میں' چڑھتے ہیں اکثر دار پر
کس قدر ہے تیرے عاشق کو شہادت کی خوشی
کس قدر مسرور ہے' اللہ اکبر دار پر
کھینچتا ہے کیوں مجھے محبوب کی آغوش سے
اور رہنے دے مجھے جلاد' دم بھر دار پر
ہے زیادہ عظمت انساں سے ناموس رسولؐ
قیمتی ہے غازیوں کی جاں سے ناموس رسولؐ
عزت و آرام و جاں دے دیں، مسلماں کٹ مریں
اور بچائیں شدت ایماں سے ناموس رسولؐ
آدمی کے واسطے ایمان سب کچھ ہے نثار
بڑھ کے ہے لیکن کہیں ایماں سے ناموس رسولؐ
وہ ہے بدبخت و بدقسمت وہی محروم رحمت ہے
خدا کے قہر سے وہ شخص بچ سکتا نہیں ہر گز
وہ جو گستاخ دربار گہر بار نبوت ہے
نبی کے نام پر مٹنا سند ہے خلد پانے کی
فدا ہونا شہ کونین پر پیغام جنت ہے
تحفظ ہو سکے ہم سے نہ گر ناموس احمدؐ کا
تو پھر یہ زندگی اپنی سراسر ایک تہمت ہے
مرزائی کا دل ہوتا ہے صورت نہیں ہوتی
پڑھتے ہیں محمدؐ کا زباں سے کلمہ بھی
شرح کلمہ ختم نبوت نہیں ہوتی
آئین کی رو سے وہ مسلمان نہیں ہیں
تاویل کی محتاج شریعت نہیں ہوتی
انصاف کی آواز میں لکنت نہیں ہوتی
چپ رہتا مظفرؔ تو گنہگار ٹھہرتا
سچ کہنے سے توہین عدالت نہیں ہوتی
محبتوں سے مرتب حسین قوس قزح
شہادتوں کی شفق رنگ سرخیوں کے طفیل
فلک ہے حرمت آقاؐ تو دین قوس قزح
آج تک بھی یہی جذبہ ہے مسلمانوں میں
دوستو آؤ محمدؐ پہ نچھاور کر دیں
تار جتنے بھی بقایا ہیں گریبانوں میں
کہ اس کرب و بلا میں سخت جانوں کی ضرورت ہے
کہاں ہیں سید الکونین کی امت کے دیوانے؟
کہ ناموس نبی کے پاسبانوں کی ضرورت ہے
ان کے حضورؐ عشق کے دیپک جلائے جا
آئے گی موت واقعہ ایک دن ضرور
پھر موت کیا ہے کچھ نہیں غیرت دکھائے جا
ناموس مصطفیٰؐ کا تقاضا ہے ان دنوں
مہر و وفا کے نام پہ گردن کٹائے جا
ناچ پتلی کا حریفوں کو نچایا جائے گا
کر رہے ہیں اہل ربوہ سازشوں پہ سازشیں
اب انہیں اسلام کے در پر جھکایا جائے گا
ہم کسی بھی دشمن اسلام کے ساتھی نہیں
ہم جو کہتے ہیں وہ کر کے بھی دکھایا جائے گا
سر کوئی شے ہی نہیں، یہ بھی کٹایا جائے گا
صورت حالات کے ویرانہ آباد میں
دبدبہ فاروق اعظمؓ کا بٹھایا جائے گا
خدا کے لیے سر کٹائے چلا جا
خدا کے لیے سر کٹانے کا مطلب؟
میں کسی حاکم کے آگے ہاتھ پھیلاتا نہیں
فیصلہ دو ٹوک ہے شورش محمدؐ کی قسم
میرا موقف ہے شہادت اب مجھے جینا نہیں
ہم مسلمانوں کی غیرت کو مٹا سکتے نہیں
یادگار ابن ملجم ہے غلام احمد کی پود
ہم کسی عنواں، اسے خاطر میں لا سکتے نہیں
ہم نے اس مقصد کو ہر مقصد پہ اولیٰ کر دیا
خواجہ کونینؐ کی غیرت کا پرچم گاڑ کر
دیدہ و دل کو نثار راہ بطحا کر دیا
شعلہ سامانی دکھاؤ، شعلہ سامانو! اٹھو
فتنہ یہ اٹھا ہے ہنگامہ اٹھانے کے لیے
مشعل نور محمدؐ کو بجھانے کے لیے
غیرت دینی تمہاری آزمانے کے لیے
تم ہو ناموس محمدؐ کے نگہباں یاد ہے
تم مسلماں ہو‘ مسلماں ہو‘ مسلماں یاد ہے
وہ قدم دوزخ میں جائیں گے اگر ہٹ جائیں گے
تم بھی اس جان دو عالم سے وفاداری کرو
اس کے دشمن سے کھلا اظہار بیزاری کرو
کیوں نہ جگر ہو ٹکڑے ٹکڑے اور دل پارہ پارہ ہو
صبر کی حد ہوتی ہے کوئی کب تک آخر صبر کریں
اس بے شرمی کے جینے سے بہتر ہے ہم ڈوب مریں
مرتدوں کی زد میں یارب ارض پاکستان ہے
جان ہو قربان ناموس رسالت کے لیے
دل میں جامی کے ہمیشہ سے یہی ایمان ہے
جو فتنہ ملت بیضا کی بنیادوں سے ٹکرائے
میرے نزدیک اس کا سر کچلنا عین ایماں ہے
وقت کی تیز ہواؤں سے بغاوت کی ہے
توڑ کر سلسلہ رسم سیاست کا فسوں
اک فقط نام محمدؐ سے محبت کی ہے
ہم نے بدلا ہے زمانے میں محبت کا مزاج
ہم نے ہر دل کو نئی راہ و نوا بخشی ہے
مرحلے بند و سلاسل کے کئی طے کر کے
چہرۂ دار و رسن کو بھی ضیاء بخشی ہے
اس کی گفتار اس کے کردار سے
دین کی آبرو کل بھی خطرے میں تھی!
دین کی آبرو آج بھی خطرے میں ہے!
چن چن کے میں اس قوم کو مٹی میں ملا دوں
کس کام میں مصروف ہے باطل کی ہوا دیکھ
میں پوچھتا ہوں یاران وطن یہ خار چمن میں کیوں کر ہیں؟
محدود میں آ رہے یہ وسعت کیونکر
فکر و فہم و خرد سے جو عاری ہوں
ان پر ہو عیاں نبیؐ کی عظمت کیونکر
اب عشق مصطفیٰؐ میں بھی جاں دے کے دیکھ لے
ملعون رشدی کی سزا
گستاخ محمدؐ کی سزا موت ہے بس موت
زنداں میں حقیقت سے وہ بھاگا ہوا قیدی
اب اس کے لیے آب و ہوا موت ہے بس موت
اک روز اسے ڈھونڈ ہی لے گی کوئی گولی
اب اس کے ٹھکانے کا پتہ موت ہے بس موت
قرآں سے سزا رشدی ملعون کی پوچھی
ہر آیہ قرآن نے کہا موت ہے بس موت
بے خوف نہیں ایک بھی لمحے سے وہ اپنے
ہر سانس اب اس کا بخدا موت ہے بس موت
کفار سے کتنی ہی سفارش وہ کرا لے
اس کے لیے آغوش کشا موت ہے بس موت
توبہ کے عوض بھی اسے جاں دینا پڑے گی
رد عمل حرف دعا موت ہے بس موت
دولت کے پجاری کو بلاتا ہے جہنم
شہرت کے بھکاری کی غذا موت ہے بس موت
شاتم رسول سے
اخلاق کی دھجیاں اڑانے والے!
پھٹ جائے فلک تجھ پہ، گرے تجھ پر رعد
حرمت پہ نبیؐ کی حرف لانے والے!
زندیق! او نابکار! تجھ پر افسوس
کامل انسان کو برا کہتا ہے
افسوس! ہزار بار تجھ پر افسوس
اک بات دل حزیں نے کی مجھ سے بھی
آقاؐ پر کریں زباں درازی جو لوگ
لازم ہے اڑا کے رکھ دو گردن ان کی
فاسق ہے، یہ کیا ستم کیا ہے، ہے ہے
اللہ کے غضب سے اب بچے؟ ناممکن!
ہے دین ترے خلاف، دنیا درپے
ہو جس کی نہ انتہا وہ نفرت تو ہے
آدم کا ملا ہے روپ تجھ کو بے شک
سچ یہ ہے کہ ننگِ آدمیت تو ہے
باطن میں کبھی تو جھانک آتا تو کبھی
انوار نبیؐ سے اک جہاں روشن ہے
آنکھیں ہوتیں تو دیکھ پاتا تو کبھی
جو شہیدان ناموس سرکارؐ ہیں
خدا کی رحمت ہو ان شہیدان محبت پر
ہوئے ہیں ایک پل میں جنت الفردوس کے راہی
نشان پا کو ان کے چومتی ہے عظمت شاہی
بجھائی زندگی شمع رسالت کو کیا روشن
نبوت کا کیا شاداب اپنے خون سے گلشن
عظیم الشان مقصد کے لیے تھی ان کی قربانی
دکھاتی ہے یہی جوہر اگر ہو روح ایمانی
مبارک باد دیتے ہیں فرشتے حق کے پیاروں کو
وفا کیشوں، شہیدوں، غازیوں، طاعت گزاروں کو
ہوئی ان کشتگان عشق کو حق کی رضا حاصل
میسر آ گئی ان کو سکون و امن کی منزل
در رحمت کھلا ہے سرفروشوں پاک بازوں پر
دعا گو ان شہیدوں کے لیے ہے روح پیغمبرؐ
ملا انعام حق ان کو نوید جاں فزا پائی
فدا ان جاں نثاروں پر ہوئی جنت کی رعنائی
متاع غیر فانی ہے وہ اک لمحہ شہادت کا
چھلکتا ہو تصور جس میں ناموس رسالت کا
ملی ہے دامن سرکارؐ سے وابستگی ان کو
عطا کی ہے خدائے پاک نے وارفتگی ان کو
رضائے حق کے جویا خوگر تسلیم ہوتے ہیں
شہیدوں نے دیا ہے درس ہم کو جانثاری کا
فنا ہو کر دکھایا راستہ عالی وقاری کا
گزر آئے ہیں میدان عمل میں سرخرو ہو کر
سراپا ملت اسلامیہ کی آبرو ہو کر
گلستان وفا کی ہے بہار جاوداں ان سے
ہے عشق و سوز و مستی کا درخشندہ نشاں ان سے
زبانوں پر ترانے ہیں انہی کی کامرانی کے
حصول شادمانی کے حیات جاودانی کے
ہے ان کی ہر ادا میں نکہت و خوشبو محبت کی
جناب مصطفیٰؐ کی ذات سے حسن عقیدت کی
شہادت ایک تمغہ ہے شجاعت کا حمیت کا
یہ اک اعجاز لاثانی ہے آقا کی محبت کا
شہادت گاہ الفت میں ہے تزئین و ضیا ان سے
دلوں کا نور ہے ان سے خیالوں کی جلا ان سے
اسی سے دامن فکر و نظر ہوتا ہے نورانی
یہی جذبہ ہے جس سے خون مسلم میں ہے جولانی
حبیبؐ اللہ کی الفت کو سوز جاں میں ڈھالا ہے
شہادت ان کے جذب و شوق کا رنگیں حوالہ ہے
ملے گا تا ابد ہر ایک دل میں احترام ان کا
قیامت تک رہے گا زندہ و پائندہ نام ان کا
شہیدان ناموس رسالت کا پیغام
گستاخ کو جو دیکھو بلا خوف مار دو
شان و شکوہ خواجہ گیہاں پہ مر مٹو
حسن و جمال ملت بیضا نکھار دو
ہر شاتم و لعین کا گھر بار پھونک دو
اس پاک سرزمین کا نقشہ سنوار دو
دل سے کبھی تو فرض عقیدت ادا کرو
سر سے کبھی تو قرض محبت اتار دو
عشق رسولؐ مخزن کیف و نشاط ہے
دشت دل و نظر کو پیام بہار دو
سرکارؐ کے وقار پہ آئے نہ کوئی حرف
عمر عزیز بس اسی دھن میں گزار دو
آبروئے مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
جان تو کیا چیز ہے ایمان بھی قربان ہے
آبروئے مصطفیٰ سے آبروئے دین ہے
اس گل تر کی بدولت سب چمن رنگین ہے
آبروئے مصطفیٰ اسلام کی بنیاد ہے
جوہر آئینہ ایام کی بنیاد ہے
آبروئے مصطفیٰ پر جو فدا ہو جائے گا
وہ حقیقت میں حقیقت آشنا ہو جائے گا
آبروئے مصطفیٰ قرآن کی تنویر ہے
علم کی تفسیر ہے‘ وجدان کی تطہیر ہے
آبروئے مصطفیٰ جس کو رہے مدنظر
اس کے اشکوں میں اجالے‘ اس کی آہوں میں اثر
آبروئے مصطفیٰ اللہ کو محبوب ہے
کیوں نہ ہو‘ آخر اسی محبوب سے منسوب ہے
آبروئے مصطفیٰ عشاق کی معراج ہے
صوفیا کی قدر و قیمت‘ اولیا کی لاج ہے
آبروئے مصطفیٰ عکس جمال حسن ہے
آبروئے مصطفیٰ سے عشق و مستی کا وجود
سوز پنہاں کا تلذذ ساز ہستی کی نمود
آبروئے مصطفیٰ سے کل جہاں وابستہ ہے
ہر زمیں وابستہ ہے، ہر آسماں وابستہ ہے
آبروئے مصطفیٰ فیضان میری جان ہے
یہ ہی میرا دین ہے، یہ ہی میرا ایمان ہے
تحفظ ناموس رسالتؐ
ناموس رسالت کا جسے پاس نہیں ہے
دنیا میں جو ناموس نبوت کا امیں ہے
گہوارۂ رحمت میں ہے وہ' خواہ کہیں ہے
تکریم محمدؐ کا جسے دل سے یقیں ہے
وہ صاحب ایماں ہے' وہی صاحب دیں ہے
جو شخص نہیں جانتا تعظیم محمدؐ
پھر اس کا دو عالم میں ٹھکانا بھی نہیں ہے
وہ جا کہ جہاں دفن ہیں عشاق رسالت
جنت کا وہ اک ٹکڑا ہے جو زیر زمیں ہے
شمشیر بکف ہیں جو ہلال ان کی رضا میں
مرنا بھی حسیں ان کا ہے' جینا بھی حسیں ہے
سلمان رشدی کا قاتل
وہ وقت پر حکمران لمحہ
کہ جب عزیمت کی جرات افزا منڈیروں پر جھلملاتے دیپک
اگائیں گے روشنی کی فصلیں
دھنک جنے گی فضا میں ہر سو، محافل رنگ و نور ہوں گی
زمانے بھر میں اجالا ہو گا
اجالا ہو گا سعادتوں کا
سعادتوں کا اجالا ہو گا جسارتوں سے
جسارتیں
جو محبتوں کی نقیب ہوں گی
جہاں کے محسن کی عزت و حرمت و تقدس کی نام لیوا
جسارتیں جو علم اٹھائیں گی حفظ ناموس مصطفیٰ کا
جسارتیں جو گلا دبوچیں گی شاتمیت کا
اور
بے اصل رشدی ایسا خبیث اس لمحے مارا جائے گا
جراتوں کے، جسارتوں کے، عزیمتوں کے شناسا ہاتھوں سے
میرے ہاتھوں سے
تحفظ ناموس مصطفیٰ علیہ التحیۃ والثناء
دیکھے میلی آنکھ سے اس کا تیا پانچا کرو
اس لیے ہر باحمیت اہل دیں پر فرض ہے
وہ فنا فی النار کر دے شاتم سرکارؐ کو
وہ مقدر کا سکندر ہے، وہ قسمت کا دھنی
ہو گیا لاریب وہ چشم خدا میں سرفراز
سرور کونینؐ کی حرمت پہ جس نے جان دی
بسا ہوا ہو نگاہوں میں جو نبیؐ کا جمال
جو ہو محبت سرکارؐ ضوفگن دل میں
جو ہو تحفظ ناموس مصطفیٰ کا خیال
جو شہیدان ناموس سرکارؐ ہیں
ان پہ لطف و کرم خاص اللہ کا‘ جو شہیدان ناموس سرکارؐ ہیں
عشق کا منتہا‘ جان کا ہارنا — راز ہم پہ افشا انہوں نے کیا
منزل زیست کے ہیں وہی رہنما جو شہیدان ناموس سرکارؐ ہیں
جب بھی فتنہ اٹھا‘ یہ مٹاتے گئے‘ جاں لٹاتے گئے‘ سر کٹاتے گئے
ان پہ حرمت نبیؐ کی ہوئی آشنا جو شہیدان ناموس سرکارؐ ہیں
ان سے خائف ہوئی موت‘ ڈرتی رہی‘ مجسمہ سا ہو گئی‘ پاؤں پڑتی رہی
ڈرنے والے اجل سے کہاں ہیں بھلا‘ جو شہیدان ناموس سرکارؐ ہیں
کیسی الفت نبھائی ہے‘ سرکار سے‘ کس محبت سے لپٹے ہیں وہ دار سے
پائیں گے خود پیمبرؐ سے اس کا صلہ جو شہیدان ناموس سرکارؐ ہیں
رہ نوردان راہ طلب! جان لو یہ حقیقت کہ ہے دو قدم مان لو!
ان کے مدفن سے فردوس کا فاصلہ جو شہیدان ناموس سرکارؐ ہیں
آؤ مل کر چلیں ان کے مرقد پہ ہم‘ ہوں مودب‘ پڑھیں فاتحہ دم بدم
ان سے ٹوٹے نہ یہ ربط‘ یہ سلسلہ جو شہیدان ناموس سرکارؐ ہیں
سرنگوں‘ لرزاں‘ حیراں نظر آئی جب ماسوا چند لوگوں کے مخلوق سب
شان ان کی ذرا حشر میں دیکھنا جو شہیدان ناموس سرکارؐ ہیں
حق کے محبوب ٹھہرے ہوئے اولیا‘ ان کو سرکارؐ کا قرب حاصل ہوا
ہے انہیں خوف کس کا‘ انہیں حزن کیا جو شہیدان ناموس سرکارؐ ہیں
شاتمان نبیؐ کا مخالف رہوں‘ جان حرمت پہ سرکارؐ کی وار دوں
جاؤں‘ کر لوں انہیں رہبر و رہنما جو شہیدان ناموس سرکارؐ ہیں
میرے دل میں نبیؐ کی محبت رہے‘ دشمنان نبیؐ سے عداوت رہے
کر عطا ان کا جذبہ مجھے اے خدا جو شہیدان ناموس سرکارؐ ہیں
رشدی لعنتی میرے ہاتھوں مرے‘ یہ سعادت خدایا مجھے بخش دے
ان کا مل جائے محمود کو راستہ جو شہیدان ناموس سرکارؐ ہیں
حفظ ناموس رسول صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم
لٹا دیں دولت کونین ہم اس ایک دولت پر
یہی بس اصل ایمان اصل دیں اصل عقیدت ہے
فدا تن من سدا کرتے رہیں آقا کی حرمت پر
کبھی جو زیست میں توقیر حضرتؐ کا سوال آئے
تو لازم ہے کہ دے دیں جان بھی ہم انؐ کی عظمت پر
مگر دھبہ نہ آنے دیں کبھی ہم دیں کی شوکت پر
اگر رشدی سا کوئی بد زباں ہذیان بکتا ہو
تو بن جائیں سراپا احتجاج ایسی جسارت پر
بھروسا ذات پر انؐ کی، نظر ہو انؐ کی رحمت پر
نہ واریں روح بھی اپنی نبیؐ پر جب تلک نازش
"نہ جب تک کٹ مریں ہم خواجۂ طیبہ کی عزت پر
خدا شاہد ہے مکمل اپنا ایماں ہو نہیں سکتا"
ناموس رسالتؐ
کہ آنچ آنے نہیں دیتے غلام آقاؐ کی عزت پر
ہوا ہرزہ سرا جب بھی کوئی شان رسالت میں
گیا بچ کر نہ زندہ پھر وہ اپنی اس جسارت پر
دکھاتا ہے کوئی جانباز رہ اس کو جہنم کی
جھپٹتا ہے کوئی دیوانہ اس ابلیس فطرت پر
دیے ہر دور میں عشاق نے جانوں کے نذرانے
کیا سب کچھ تصدق اپنا ناموس رسالتؐ پر
اگرچہ راستہ روکا کیے دار و رسن ان کا
مگر چلتے رہے اہل وفا راہ عزیمت پر
کبھی زنجیر سے الجھے، کبھی شمشیر سے کھیلے
ہے ناز اسلام کو ان جاں نثاران نبوت پر
کٹا دیتے ہیں سر اپنے، لٹا دیتے ہیں گھر اپنے
خدا رحمت کرے ان عاشقان پاک طینت پر
ہے شرط اول ایماں محبت سرورؐ دیں کی
تحفظ فرض ہے ناموس پیغمبرؐ کا امت پر
"سلام اس پر کہ جس کے نام لیوا ہر زمانے میں
بڑھا دیتے ہیں ٹکڑا سرفروشی کے فسانے میں"
ناموس مصطفیٰ (علیہ التحیۃ والثناء)
ایماں کا خلد زار ہے ناموس مصطفیٰ
ناموس مصطفیٰ پر ہیں قربان جان و دل
اپنا تو اک شعار ہے ناموس مصطفیٰ
جس کی مہک سے بزم جہاں عطر بیز ہے
پھولوں کا ایک ہار ہے ناموس مصطفیٰ
جو ہو دل و دماغ کو ٹھنڈک عطا کرے
وہ پیار کی پھوار ہے ناموس مصطفیٰ
سیراب اس سے کتنے دماغوں کی کھیتیاں
ذہنوں کی آبشار ہے ناموس مصطفیٰ
دنیا میں اس کے دم سے نہ کیوں پھول کھل اٹھیں
اس باغ کی بہار ہے ناموس مصطفیٰ
بوجہل و بولہب اسے کیسے گرا سکیں
مانند کوہسار ہے ناموس مصطفیٰ
کتنے ہی غازیوں کو وہ سرمست کر گئی
الفت کا وہ خمار ہے ناموس مصطفیٰ
بزمی کئی شہید ہیں اس کے نگاہباں
منظور کردگار ہے ناموس مصطفیٰ
محمدؐ کی محبت
بسا ہو جب کہ نقش حب محبوبؐ خدا دل میں
محمدؐ کی محبت دین حق کی شرط اول ہے
اسی میں ہو اگر خامی تو ایماں نامکمل ہے
محمدؐ کی غلامی ہے سند آزاد ہونے کی
خدا کے دامن توحید میں آباد ہونے کی
محمدؐ کی محبت آن ملت شان ملت ہے
محمدؐ کی محبت روح ملت جان ملت ہے
محمدؐ کی محبت خون کے رشتوں سے بالا ہے
یہ رشتہ دنیوی قانون کے رشتوں سے بالا ہے
محمدؐ ہے متاع عالم ایجاد سے پیارا
پدر، مادر، برادر، مال، جان، اولاد سے پیارا
یہی جذبہ تھا ان مردان غیرت مند پر طاری
دکھائی جن کے ہاتھوں حق نے باطل کو نگونساری
شہدائے ناموس رسالتؐ کے کارناموں کے تناظر میں
ظلم کے طوفانی دریاؤ، ہم سے الجھنا ٹھیک نہیں
باطل کی منہ زور ہواؤ، ہم سے الجھنا ٹھیک نہیں
"جور و جفا کی تیرہ گھٹاؤ، ہم سے الجھنا ٹھیک نہیں
شمع رسالت کے پروانے کب ڈرتے ہیں ظلمت سے"
اس کی فقیری رشک شہان صد اورنگ و افسر ہے
ہر افضل سے افضل ہے وہ، ہر برتر سے برتر ہے
"عشق نبیؐ والوں سے پوچھو، تخت سے تختہ بہتر ہے
کوئی بڑا اعزاز نہیں ہے اس اعزاز شہادت سے"
ظلم کے سنگین ایوانو! تم چاہے سو سو وار کرو
اے طاغوت کے طوفانو! ہاں شوق سے تم یلغار کرو
"وقت کے فرعونوں سے کہہ دو، تم جو چاہو کر گزرو
ہم نہ ڈرے ہیں، ہم نہ ڈریں گے طوفانوں کی شدت سے"
اونچا رہے نبیؐ کا جھنڈا، اس کی اونچی شان رہے
دنیا اور دنیا کی دولت، سب اس پر قربان رہے
"ایماں والو! سن لو، سن لو، دھیان رہے ہاں دھیان رہے
ہے ناموس مسلمانوں کا ناموس ختم نبوتؐ سے"
بسم اللہ الرحمن الرحیم○
فہرست مضامین
(تحفظ ناموس رسالتؐ اور گستاخ رسولؐ کی سزا)
پہلا باب
مقام نبوت و رسالت
پاکیزہ شجرہ نسب 33 سلسلہ نسب 35 رسالت مآب کی چار پشتیں 36 آنحضرتؐ کے پردادا ہاشم 36 آنحضرتؐ کے دادا عبدالمطلب 37 سرور عالمؐ کے والد محترم 40 خوشبو کا معاملہ 43 محبوبیت اسم محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم 53 تحفظ عصمت اسم محمدؐ 53 آقاؐ کی جسمانی نشو و نما 54 روشن چراغ 56 چاند سے آپؐ کھیلا کرتے تھے 56 ☆ معجزات رسولؐ 65
کنکریاں کلمہ گو ہو گئیں 66 ایک دن کے بچے نے گواہی دی 66 ہرنی کی گواہی 67 اونٹ آپؐ کی خدمت اقدس میں 68 شاخ روشن ہو گئی 69 کھجور کی شاخ تلوار بن گئی 70 اندھوں کو بینائی مل گئی 70 آنکھ پہلے سے زیادہ روشن ہو گئی 70 پیدائشی گونگے نے آپؐ کی رسالت کی گواہی دی 71 آپؐ کے سینہ پر ہاتھ پھیرنے سے دیوانے کا جنون جاتا رہا 72 آپؐ کے دست مبارک کی برکت سے ٹوٹی ہوئی ٹانگ ایسی ہو گئی جیسے کبھی کچھ ہوا ہی نہ تھا 72 آپؐ نے کٹے ہوئے بازو پر دم کر کے اچھا کر دیا 73 کچلی ہوئی پنڈلی آپؐ کے دست اقدس پھیرتے
ہی سلامت ہو گئی 73 دین کی تکمیل 89 بخار نے آپ کے حکم کی تعمیل کی اور لوگوں کے حضرت عیسیٰ کی موت سے قبل تمام اہل کتاب گناہ بھی ساقط ہو گئے 73 ان پر ایمان لائیں گے 90 آپ کی کلی مبارک اور ہاتھوں سے نچڑنے والے پانی ☆ خلفاء اربعہ کے متعلق آپ کی پیشن گوئیاں 91 سے بے عقل ، عقل مندوں سے فائق ہو گیا 74 نبی ، صدیق اور شہید 91 آپ کے دہن مبارک کا لقمہ کھانے سے بے حیا لڑکی جنت کی بشارت 92 سب سے باحیا ہو گئی 74 حضرت علی المرتضیٰ کی عظمت 92 آپ کی پکار پر لڑکی نے قبر سے نکل کر جواب دیا 75 ایک عورت تنہا حیرہ سے کعبہ تک کا سفر کرے گی آپ کی دعا کی برکت سے پکی ہوئی بکری پھر زندہ اور اسے سوائے اللہ کے کسی کا خوف نہ ہو گا 94 ہو کر کان جھاڑنے لگی 75 سراقہ کے ہاتھ میں سونے کے کنگن 94 حضور کے توسل سے بھی مردہ زندہ ہو گیا 76 حضرت حسین شہید ہوں گے 95 آپ کے دعا کے لیے اٹھے ہاتھ ابھی ہٹے نہ تھے جنگ بدر میں کفار کے مرنے کی جگہ سے متعلق کہ بارش شروع ہو گئی 77 پیشن گوئی 96 آپ کی جان کا دشمن آپ کی رسالت کا گواہ ہو گیا 78 کعبہ شریف کی چابی عثمان بن طلحہ کی اولاد میں اللہ تعالیٰ کو محمد رسول اللہ پسند ہیں 79 تاقیامت رہے گی 97 ملائکہ آپ کی مدد کو احد میں اترے 80 ☆ آئمہ کرام سے متعلق پیشن گوئیاں 98 آپ کی حفاظت کے لیے فرشتوں کا مامور ہونا 80 مدینے کے عالم سے کوئی زیادہ علم والا نہ ملے گا 98 فرشتے بارگاہ نبوت میں 81 قریش کے سب سے بڑے عالم 99 عالم جنات میں آپ کی نبوت و رسالت کے چرچے 81 رافضی حضرت علی کی شان میں مبالغہ کریں گے درختوں کی گواہی پر جنات نے آپ کی رسالت پر اور حضرات شیخین کی شان میں ہجو کریں گے 99 ایمان لایا 82 خدا تعالیٰ مسیلمہ کذاب کو ہلاک کرے گا 100 جن شاعر نے آپ کی شان اقدس میں نعت کہی 83 ○ معراج النبی 101 آپ کے اشارے سے چاند کے دو ٹکڑے ہو گئے 84 معراج النبی میں ختم نبوت کا تصور 109 آپ کی دعا سے ڈوبا ہوا سورج لوٹ آیا 86 خرق عادت اور معجزات کی تصدیق غیر مسلم محققین ☆ آنحضور کی پیشن گوئیاں 88 کے قلم سے 110 اللہ تبارک و تعالیٰ مرتدوں کے مقابلے میں ایک ○ حضور کے چہرہ انور کی تابانی 110 قوم کو کھڑا کرے گا 88 غیر مسلموں نے جب تعصب کی عینک اتار کر کملی
والے کے چہرہ انور کو دیکھا تو حقیقت ان کے دل کے پار ہوگئی 111 آقاؐ کے پسینہ مبارک سے نور نکلنے لگا 112 آفتاب نکلا ہوا 113 والی بطحاؐ کے دندان مبارک سے نور کا اخراج 113 کملی والےؐ جس راہ سے گزرتے، راہ معطر ہو جاتی 113 آقاؐ کے ہاتھ کی ٹھنڈک اور خوشبو 114 حضورؐ کے بدنی انوار و برکات 114 آپؐ کے جبہ مبارک کی برکت کا اثر ایک صحابیؓ کے دست مبارک میں بھی جاری ہو گیا 115 آپؐ کے دست مبارک کے اثر سے بڑھاپا ظاہر نہ ہو پایا 116
- ◯ شان آغاز بشریت و رسالت 120
- ◯ ختم نبوت پر ایک عقلی دلیل 121
- ◯ گوہر مقصود اور تکمیل دین 123
- ◯ شان محبوبیت 123
- ◯ مہر محبوبیت 124
- ◯ مقام محمود 129
- ◯ شافع محشر 132
دوسرا باب
محسن انسانیت کے انسانیت پر حقوق
کمال مصطفیٰؐ 138 جمال مصطفیٰؐ 138 جمال مصطفیٰؐ کی خصوصیت کبریٰ 140
نوال مصطفیٰؐ 140 امت پر شفقت و رحمت 140
- ◯ حضورؐ کا پہلا حق: اقرار نبوت 145
ایمان نہ لانے پر شدید وعید 146 ایمان بالرسل کا تقاضا 146 تصدیق قلبی کی علامت 147
- ◯ دوسرا حق: آنحضرت کی اطاعت کا
واجب ہونا 148 رسول اکرمؐ کی اطاعت پر انعام عظیم 149 قرآن اور صاحب قرآن میں کچھ فرق نہیں 152
- ◯ تیسرا حق: آنحضورؐ کی سنتوں، عادتوں
اور خصلتوں کا اتباع 153 اتباع رسولؐ میں راہ راست 154 محسن انسانیتؐ کی سنت کے اتباع پر اجر عظیم 157 جس نے محسن انسانیتؐ کی سنت کو زندہ کیا، وہ آپ کے ساتھ جنت میں ہوگا 158 سلف صالحین کا اتباع سنت 158 حضرت عبداللہ بن عمرؓ کا اتباع سنت 158 سنت رسولؐ کے بغیر فہم القرآن ناممکن ہے 159 حضرت امام احمد بن حنبلؒ کا اتباع سنت پر بشارت 159
- ◯ چوتھا حق: نبی کریمؐ کی سنت اور حکم کو
ترک نہ کرنا 160 سنت رسولؐ کو ترک کرنے پر دوسری وعید 161 سنت رسولؐ کو ترک کر کے نیا دین گھڑنے کا ابدی انجام 161
- ◯ پانچواں حق: آنحضرت کی محبت کا لازم
ہوتا 163 نفس پر سختی جھیل کر محبت رسول اللہ کا اظہار 165 رسول کریمؐ سے محبت کا ثواب اور فضیلت 166 مثالیں 171
- چھٹا حق: آنحضرتؐ کی تعظیم و تکریم 174
تیسرا باب
آداب النبیؐ
بلند آواز سے یا رسول اللہ پکارنا بھی اللہ کو پسند نہیں 181 صحابہ کرام اور تعظیم نبیؐ 182 حضرت ابو بکر صدیقؓ کا طریق ادب رسولؐ 184 حضرت عمر فاروقؓ کا طریق ادب رسولؐ 187 حضرت عثمانؓ کا طریق ادب رسولؐ 188 حضرت علی المرتضیٰؓ کا طریق ادب رسولؐ 189 حضرت عمر بن عبد العزیزؒ کا طریق ادب رسولؐ 190 حضرت امیر معاویہؓ کا طریق ادب رسولؐ 191 حضرت عباسؓ کا طریق ادب رسولؐ 191 حضرت ثباتؓ کا طریق ادب رسولؐ 191 حضرت براء بن عازبؓ کا طریق ادب رسولؐ 192 حضرت ابو ہریرہؓ کا طریق ادب رسولؐ 192 حضرت اسلع بن شریکؓ کا طریق ادب رسولؐ 193 حضرت ابو محذورہؓ کا طریق ادب رسولؐ 193 حضرت خالد بن ولیدؓ کا طریق ادب رسولؐ 193 حضرت عبداللہ بن عمرؓ کا طریق ادب رسولؐ 194
حضرت انسؓ کا طریق ادب رسولؐ 194 حضرت عمرو بن عاصؓ کا طریق ادب رسولؐ 195 حضرت حذیفہ بن الیمانؓ کا طریق ادب رسولؐ 195 حضرت سعید بن یربوعؓ کا طریق ادب رسولؐ 195 حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاصؓ کا طریق ادب رسولؐ 196 حضرت قیلہ بنت مخرمہ عنبریہ کا طریق ادب رسولؐ 196 حضرت ابو ایوب انصاریؓ کا طریق ادب رسولؐ 197 صحابہ کرامؓ حضورؐ کے اسم مبارک کی بھی انتہا درجہ تعظیم فرمایا کرتے تھے 197 آپؐ کے اسم شریف کا ادب کرنے سے جہنم، جنت میں بدل گئی 198 صحابہ کرامؓ بعد وصال کے بھی آپؐ کا ادب اسی طرح کیا کرتے تھے 198 مسجد نبویؐ میں آواز بلند کرنے پر تنبیہہ 199 مسجد نبویؐ میں اور ارد گرد میخ ٹھونکنا جائز نہیں 199 روضہ اقدسؐ کے سامنے اونچا بولنے سے اعمال ضائع ہو جاتے ہیں 200 امام مالکؒ کا طریق ادب رسولؐ 200 امام شافعیؒ کا طریق ادب رسولؐ 200 امام بخاریؒ کا طریق ادب رسولؐ 201 امام مالکؒ اور ادب احادیث نبویؐ 201 بعد وفات رسول کریمؐ کی تعظیم 202 حضورؐ کے ذکر مبارک ہی سے امام مالکؒ کا رنگ بدل جاتا 203 محمد بن منکدرؒ کا طریق ادب رسولؐ 204 جعفر بن محمدؒ کا طریق ادب رسولؐ 204
عبدالرحمٰن بن قاسم بن محمد بن ابی بکر صدیق رحمۃ اللہ علیہ کا طریق ادب رسولؐ 204 عامر بن عبداللہ بن زبیر کا طریق ادب رسولؐ 205 محمد بن شہاب زہریؒ کا طریق ادب رسولؐ 205 صفوان بن سلیمؒ کا طریق ادب رسولؐ 205 امام ابن سیرینؒ کا طریق ادب رسولؐ 205 عبدالرحمٰن بن مہدیؒ کا طریق ادب رسولؐ 206 مالک بن انسؒ کا طریق ادب رسولؐ 206 سلطان محمود غزنویؒ کا طریق ادب رسولؐ 206 حضورؐ کے آثار شریف کی تعظیم 207 آپؐ کی چارپائی کی تعظیم اور برکت 208 آنحضرتؐ کے پسینہ مبارک کی تعظیم اور برکت 208 آپؐ کے پسینے کی برکت کے امیدوار 208 آپؐ کے ایک بال کا ہونا دنیا وما فیہا سے محبوب تر 209 حرمین شریفین کا ادب واحترام 209 مدینہ شریف کی حدود میں ننگے پاؤں داخل ہونا 209 حضرت مولانا اشرف علی تھانویؒ کی حکایت 210 حضرت مولانا رشید احمد گنگوہیؒ کا واقعہ 211 تارک اتباع وسیرت فاسق اور فاجر کہلائے گا جب کہ تارک ادب کافر کہلائے گا 212 رسول کریمؐ کے اہل بیت کی تعظیم 212 حضرت عمر بن عبدالعزیزؒ کا طریق ادب اہل بیت 214 حضرت زید بن ثابتؓ کا طریق ادب اہل بیت 214 سیدنا امیر معاویہؓ کا طریق ادب شباہت رسالتؐ 214 آپؐ کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی تعظیم 215
- ○ ساتواں حق: آپؐ پر کثرت سے درود
پڑھا جائے 216
حضورؐ پر درود نہ بھیجنے والا شخص بخیل ہے 222 رسول اللہؐ پر درود شریف نہ پڑھنے پر وعید 223 درود شریف کی اہمیت 224
- ○ فضائل درود شریف 227
بندے کا درود شریف خود آنحضورؐ بھی سنتے ہیں 228 ۔۔۔اور موسیٰؑ اور ان کی قوم کو فرعونیوں کے ظلم وستم سے نجات مل گئی 230 درود العارفین کی برکت سے قرآن مجید حفظ ہو گیا 230 حضورؐ کی سفارش پر حساب نہ لیا گیا 231 درود شریف کی برکت سے امام شافعیؒ کو جنت عطا کر دی گئی 231 کھجور کی گٹھلیاں درود شریف کی برکت سے دینار بن گئیں اور ۔۔۔۔ 231 عشق رسولؐ کا ایک اور انداز 232 درود شریف کی برکت سے مرض جاتا رہا 232 پھولوں کی کڑواہٹ درود شریف کی برکت سے شہد ہو جاتی ہے 232 ایک اونٹ آپؐ پر سلام پڑھنے کی وجہ سے کیا کیا مقام پا گیا 233 درود شریف کی برکت سے آگ نے اثر نہ کیا 235 درود شریف تمام جسمانی بیماریوں کے لیے مجرب دوا 236 اندھوں کو بینائی مل گئی 236 درود کمالیہ ، آنکھوں کی روشنی 236 درود شریف کا پورا فائدہ 237 اگر نیند کم آتی ہو تو۔۔۔۔ 237 تمام سمندروں کا پانی اس درود کا اجر نہیں لکھ سکتے 237
یہ صلوٰۃ و سلام پیش کرنے والے 238 کثرت درود شریف سے فرشتہ رحمت پیدا ہوا اور....... 238 حدیث شریف سنی اور جنت سدھار گئے 238 جنت کا ایک عظیم الشان قبہ، حضور پر درود شریف پڑھنے والوں کے لیے مخصوص ہے 239 مقام تشکر، مقام عظمت 239 انہونی ہوگئی 240 ادھر یا ادھر 240 زہے نصیب 240
- ◯ آٹھواں حق: روضہ اقدس پر حاضری 241
چوتھا باب
رحمت اللعالمین کی شان میں
گستاخی کیوں؟
میں رحمت بنا کر بھیجا گیا ہوں 251 عیسائی راہب کی شہادت 251 عبداللہ بن ابی بن سلول کی رسول اللہ سے دشمنی کی وجہ 257 پانچ نکات 259 اسلامی حکومت کا خاتمہ اور انگریزی حکومت کا راج 259 انگریزی حکومت کے خلاف اسلامی تحریکیں 260 لڑاؤ اور حکومت کرو 261
مرزا قادیانی کی جعلی نبوت اور اسلام کا لبادہ 264 مرزا قادیانی کی پیدا کردہ مذہبی منافرت اور تحریک شماتت رسول 270 مرزا قادیانی کا پنڈتوں کو گرمانا 274
پانچواں باب
گستاخ رسول کی سزا پر
احکام قرآن
پہلی آیت (سورہ الحجرات، آیت نمبر 2) 299 جلالین سے موقف کی تائید 299 دوسری آیت (سورہ احزاب، آیت نمبر 57) 300 الصارم المسلول سے تائید 300 تیسری آیت (سورہ توبہ، آیت نمبر 74) 301 چوتھی آیت (سورہ مائدہ، آیت نمبر 33) 301 پانچویں آیت (سورہ انعام، آیت نمبر 93) 301 شرح الشفا سے تائید 302 چھٹی آیات (سورہ توبہ، آیت 61 تا 66) 302 تفسیر امام ابو السعود محمد بن عمر العمادی سے تائید 304 تفسیر روح البیان سے تائید 305 تفسیر روح المعانی سے تائید 306 ابو حیان اندلسی کی تفسیر سے تائید 306 تفسیر عثمانی سے تائید 306 تفسیر مظہری سے تائید 306 تفسیر روح البیان سے مزید تائید 307
الصارم المسلول سے تائید 307 احکام القرآن سے تائید 331 شرح الشفاء سے تائید 307 تفسیر ابن کثیر سے تائید 331 تفسیر کبیر سے تائید 307 سترہویں آیت (سورۃ توبہ، آیت نمبر 14) 331 فتح القدیر سے تائید 308 اٹھارہویں آیت (سورۃ المجادلہ، آیت نمبر 20) 332 بحر الرائق سے تائید 308 مثال 333 تنقیح حامدیہ سے تائید 308 علامہ ابن تیمیہ کی تائید 333 الصارم المسلول سے مزید تائید 309 انیسویں آیت (سورۃ المجادلہ، آیت نمبر 5) 334 انبیاء علیہم السلام سے متعلق ان عقائد و اعمال الصارم المسلول سے تائید 334 باطلہ کا بیان، جن سے ایمان ضائع ہو جاتا ہے 309 بیسویں آیت (سورۃ الحشر، آیت نمبر 403) 335 قادیانی عقائد 310 علامہ ابن تیمیہ کی تائید 335 ساتویں آیت (سورۃ الفتح، آیت نمبر 16) 321 اکیسویں آیت (سورۃ انفال، آیت نمبر 21) 336 آٹھویں آیت (سورۃ توبہ، آیت نمبر 68) 322 علامہ ابن تیمیہ کی تائید 336 نویں آیت (سورۃ توبہ، آیت نمبر 49) 323 بائیسویں آیت (سورۃ احزاب، آیت نمبر 61-62) 336 دسویں آیت (سورۃ توبہ، آیت نمبر 73) 323 جناب کلیم صدیقی کا رشدی کے قتل پر موقف 338 گیارہویں آیت سورۃ توبہ، آیت نمبر 74) 324 مولانا خواجہ خان محمد صاحب کا موقف 338 تفسیر مظہری سے تائید 324 فخر المفسرین امام رازی کا موقف 338 تفسیر خازن سے تائید 324 مفتی بغداد علامہ محمود آلوسی کا موقف 338 بارہویں آیت (سورۃ توبہ، آیت نمبر 80) 325 امام قرطبی کا موقف 340 تیرہویں آیت (سورۃ المنافقون، آیت نمبر 5-6) 325 قاضی ثناء اللہ پانی پتی کا موقف 340 چودھویں آیت (سورۃ النساء، آیت نمبر 61) 326 علامہ احمد بن علی الجصاص کا موقف 340 پندرہویں آیت (سورۃ التوبہ، آیت نمبر 54) 329 محمد بن جریر الطبری کا موقف 341 ارتداد کی سزا پر علامہ شبیر احمد عثمانی کا موقف 330 تیسویں آیت (سورۃ البقرہ، آیت نمبر 104) 341 امام عبد الوہاب شعرانی کا موقف 330 پروفیسر طاہر القادری کا موقف 341 حافظ ابن قیم کا موقف 330 تفسیر کبیر، قرطبی، روح المعانی اور منہاج القرآن التفسیرات الاحمدیہ سے تائید 330 سے تائید 342 سولہویں آیت (سورۃ توبہ، آیت نمبر 12) 331 تفسیر کبیر سے مزید تائید 342 تفسیر مدارک اور تفسیر الکشاف سے تائید 331 قاضی عیاض کا موقف 343
تفسیر ابو السعود، تفسیر قرطبی الجامع الاحکام القرآن سے تائید 343 تفسیر روح المعانی سے تائید 343 علامہ رشید رضا کا موقف 343 امام ابن العربی کی تائید 343 علامہ شوکانی کی تائید 344 تفسیر معالم القرآن کی خوبصورت عبارت 344 تفسیر منہاج القرآن کا موقف 344 چوبیسویں آیت (سورۃ القلم، آیت نمبر 10 تا 13) 345 گستاخ رسول کی نشانیاں 345 امام قرطبی کی روایت 346 صفوۃ التفاسیر اور تفسیر روح البیان کی تائیدات 346
چھٹا باب
گستاخ رسول کی سزا‘
احکام الحدیث
پہلی حدیث: گستاخ رسول کعب بن اشرف کا قتل 349 کعب بن اشرف کی قتل کی وجوہات 349 کعب بن اشرف کے جرائم 351 کعب بن اشرف کو کب قتل کیا گیا 352 اعلان نبوت‘ جو بھی اس طرح کرے گا‘ قتل کیا جائے گا 352 دوسری حدیث: ابی رافع عبداللہ بن ابی الحقیق 353
گستاخ رسول کا قتل 353 عبداللہ بن ابی الحقیق کا جرم 355 گستاخ رسول کو قتل کرنے کا انعام 355 تیسری حدیث: گستاخ رسول یہودی عورت کا قتل 355 چوتھی حدیث: اس حدیث کے موید ایک اور حدیث 356 امام شوکانی کی تصریح 357 قاضی عیاض کی تصریح 357 حضرت ملا علی قاری کی تصریح 358 اس حدیث شریف پر قاضی شمس الحق عظیم آبادی کی رائے 358 مولانا عبدالتواب محدث ملتانی کی رائے 358 پانچویں حدیث: بنی خطمہ کی ایک عورت کو قتل کی سزا 358 اس واقعہ کی تفصیل 359 واقدی کی مزید تصریح 360 چھٹی حدیث: سیدنا علی المرتضیٰ کی گستاخ رسول‘ کی سزا سے متعلق روایت 361 ساتویں حدیث: گستاخ رسول‘ ابو عفک یہودی کا قتل 361 ابو عفک کو کب قتل کیا گیا 362 آٹھویں حدیث: فقط دل میں گمان بٹھا لینا کہ حضور سے بھی بہتر ہوں۔ ایسا شخص بھی واجب القتل ہے 362 قادیانی عقائد 364 نویں حدیث: نضر بن حارث اور عقبہ بن ابی معیط کا قتل 364
وجہ قتل 365 عقبہ کے قتل پر آپ کا اظہار اطمینان 365 دسویں حدیث: حویرث ابن نقیب کا قتل 365 وجہ قتل 366 علامہ ابن تیمیہؒ کی رائے 366 گیارہویں حدیث: حارث بن طلاطلا کا قتل 367 بارہویں حدیث: واقعہ ابن ابی سرح 367 آپؐ کی خدمت اقدس میں حاضر ہونے سے اس کے سابقہ گناہ ساقط ہو گئے 370 ابن ابی سرح کے واقعہ سے انداز استدلال 371 تیرہویں حدیث: حضورؐ کی شان اقدس میں ہجویہ اشعار گانے والی کا قتل 372 گلو کاروں کا جرم 373 چودھویں حدیث: جناب خالدؓ اور شاتم رسولؐ 374 پندرہویں حدیث: جناب زبیرؓ اور ایک شاتم رسولؐ 374 سولہویں حدیث: سیف اللہؓ اور ایک دشمن رسولؐ 374 سترہویں حدیث: ایک اور بدتمیز کا قتل 375 اس واقعہ کی مزید تفصیل 375 اٹھارہویں حدیث: ایک شخص نے اپنے گستاخ باپ کو قتل کیا 376 انیسویں حدیث: ابن خطل کا قتل 376 ابن خطل کے جرائم 376 ابن خطل نے ان تین بڑے جرائم میں سے کس کی سزا پائی 377 ابن خطل کو قتل کرنے کی سعادت کس کو نصیب
ہوئی؟ 378 ابن خطل کے قتل کے بعد کعبہ کی حرمت لوٹ آئی 378 بیسویں حدیث: مسلمان مباح الدم نہیں مگر تین وجوہات کے سبب 379 اکیسویں حدیث: اس حدیث کے موید ایک اور حدیث 380 بائیسویں حدیث: شیعہ روایات میں بھی گستاخ رسولؐ کی سزا قتل ہے 380 تیسویں حدیث: 380 چوبیسویں حدیث: شیعہ عقیدہ ہے کہ جو نبیؐ کو گالی دے اسے قتل کیا جائے اور جو صحابہؓ کو گالی دے اسے درے لگائے جائیں 381 پچیسویں حدیث: ”جس“ گستاخ رسولؐ کو قتل کیا گیا 381 چھبیسویں حدیث: مسیلمہ کذاب کو رسول ماننے والوں کے لیے حضورؐ کا منشاء سزائے موت 382 ستائیسویں حدیث: مدعی نبوت اسود عنسی کا قتل 383 اٹھائیسویں حدیث: 385 مزید نشانیاں 386 گستاخان رسولؐ کی نشانیاں اور قادیانی عقائد 388 انتیسویں حدیث 406
ساتواں باب
خلفاء راشدینؓ اور دیگر
صحابہ کرامؓ کے قول و عمل سے ثبوت
مسلمان شہداء کی تعداد 432 پہلی روایت: صدیق اکبرؓ کا قول 412 حضرت فاروق اعظمؓ کا عتاب فرزند گرامی پر 433 امام ابن تیمیہؒ کی صراحت 412 چھٹی روایت: حضورؐ کے فیصلے کو نہ ماننے والے مولانا خلیل احمد سہارن پوری کی صراحت 413 کو حضرت عمرؓ نے قتل کر دیا 34 علامہ ابن نجیم حنفیؒ کی رائے 413 علامہ ابن تیمیہؒ کی صراحت 435 دوسری روایت: گستاخی رسولﷺ کا ایک اور فیصلہ 414 قاضی ثناء اللہ پانی پتی کی مزید صراحت 435 علامہ ابن تیمیہؒ کی رائے 414 ساتویں حدیث: حضرت فاروق اعظمؓ کا ایک قاضی عیاضؒ کی رائے 415 اور فیصلہ 436 تیسری روایت: جنگ یمامہ 415 آٹھویں روایت: دل میں بغض رسول ہو، اس مسیلمہ کی قوت کا سبب 417 کی سزا بھی قتل ہے 436 مسیلمہ کی اطاعت کیوں قبول ہو گئی 419 علامہ ابن تیمیہؒ کی صراحت 436 شرحبیل کی شکست 420 نویں روایت: حضرت عثمانؓ نے ایک شخص کو قتل خالدؓ اور مسیلمہ میں جنگ 421 کر دیا جو رسول کریمﷺ کو گالیاں دیا کرتا تھا 438 ابن مسیلمہ کی آتش بیانی 422 دسویں روایت: مرتد کی سزا کے بارے میں نہار الرجال کا قتل 422 حضرت عثمان غنیؓ ارشاد فرماتے ہیں 438 خالدؓ کی حکمت عملی 423 گیارہویں آیت: ایک اور گستاخ رسول کو قتل مجاہدین اسلام کا عزم و ثبات 423 کرنے پر سیدنا علیؓ کا اظہار مسرت 440 خون کی وادی 425 یہ گستاخ نبوت ولد الزنا تھا 441 خالدؓ قتل مسیلمہ کے درپے 426 بارہویں روایت: گستاخ رسول سے متعلق مسیلمہ کا تردد و اضطراب 427 حضرت خالد بن ولیدؓ کا فیصلہ 441 مسیلمہ کا فرار 428 تیرہویں روایت: حضرت عبداللہ بن مسعودؓ باغ کا محاصرہ 428 کا فیصلہ 442 بنی حنیفہ کا قتل 429 چودہویں روایت: حضرت عبداللہ ابن عمرؓ مسیلمہ کا قتل 430 کا فیصلہ 442 مفرورین کا تعاقب و محاصرہ 431 پندرہویں روایت: حضرت عرفہ ابن الحارثؓ کا امیر المومنین حضرت سیدنا ابو بکر صدیقؓ کا فتویٰ 431 : نظریہ اور حضرت عمر بن العاصؓ 442 بنی حنیفہ کے مقتولین کی تعداد 432 گالی دہندہ کے نقض عہد کے دلائل 443
عمد کے بغیر خون مباح ہوتا ہے 444
آٹھواں باب
احکام الفقہ
فقہ اسلامی میں سب و شتم سے کیا مراد ہے؟ 447 انبیاء کو گالی دینا کفر، ارتداد یا محاربہ ہے 448 ائمہ اربعہ کے فتاویٰ اور تصریحات 448 امام اعظم، امام ابو حنیفہؒ کا مذہب 448 امام شامیؒ کی رائے 448 امام ابن ہمامؒ کی رائے 449 امام مالکؒ کا مذہب 449 حضرت امام شافعیؒ کا مذہب 453 امام احمد بن حنبلؒ کا مذہب 456 غیر مقلدین کے فتاویٰ 459 شیعہ فقہ کے فتاویٰ 460 ائمہ اربعہ کا مذہب 461 گستاخ رسولؐ کی سزائے موت میں اختلاف نہیں 462 آپؐ کی سنت کی مخالفت بھی کفر ہے 462 آپؐ کا ذکر بغرض تحقیر کفر ہے 465 شریعت اسلامیہ میں مرتد کی سزا 466 پہلی حدیث 466 دوسری حدیث 466 تیسری حدیث 466 چوتھی حدیث 467 پانچویں حدیث 467
فقہ حنفی میں قتل مرتد کا جواز 468 مرتد کے قتل پر اجماع 468 فقہ مالکی میں قتل مرتد کا جواز 469 حضرت امام شافعیؒ بھی قتل مرتد پر متفق ہیں 469 قتل مرتد پر حنبلی مذہب بھی متفق ہے 469 گستاخ رسولؐ پر بریلوی مسلک کے فتاویٰ 470 دیوبندی مسلک کے فتاویٰ 470 امام کعبہ کا فتویٰ 472
نواں باب
گستاخ رسولؐ کی سزا پر قیاس
برطانیہ میں غدر کبیر کی سزا، سزائے موت ہے 479 تورات میں ارتداد کی سزا 481 عیسائیت میں ارتداد کی سزا 481 عملی ثبوت 481 انسانی حقوق کے علمبرداروں سے ایک سوال 482 گستاخ رسولؐ کے قتل پر علامہ ابن تیمیہؒ کی عقلی وجوہات 490 پہلی وجہ 490 دوسری وجہ 492 تیسری وجہ 492 چوتھی وجہ 493 پانچویں وجہ 493 چھٹی وجہ 494 ساتویں وجہ 494
دسواں باب
گستاخ رسول کی توبہ
قبول توبہ پر پہلی دلیل 498 پہلی دلیل پر جرح 498 علامہ ابن تیمیہ کی جرح 500 دوسری دلیل 500 دوسری دلیل پر جرح 501 تیسری دلیل 502 تیسری دلیل پر جرح 502 چوتھی دلیل 503 پانچویں دلیل 503 چھٹی دلیل 503 ساتویں دلیل 504 آٹھویں دلیل 504 مذکورہ دلائل پر جرح 504 عدم قبول توبہ کے دلائل 507 دلیل از ”اعلاء السنن“ 507 دلیل از ”نصب الرایہ“ 507 دلیل از ”تنویر الابصار والدر المختار“ 507 دلیل از ”الشفا بتعریف حقوق مصطفیٰ“ 507 دلیل از ”تفسیر روح البیان“ 508 دلیل از ”کتاب السراج المنیر“ 508 دلیل از ”الصارم المسلول“ 508 عدم قبول توبہ پر اجماع امت 508
ارتداد مجرد اور ارتداد مغلظ کی سزا میں فرق 511 امام مالک کا موقف 511 امام شافعی کا زاویہ نگاہ 512 امام احمد بن حنبل کا نظریہ 512 حضرت خالد بن ولید کی پیروی میں شاتم سے توبہ طلب نہ کی جائے 513 حق عبد معاف نہیں کیا جاسکتا 513 حد مغلظ پر توبہ نہیں 514
گیارھواں باب
گستاخی رسول پر اسلامی حکمرانوں
کے فیصلے
حضرت عمر بن عبد العزیز کا موقف 517 خلیفہ ہارون الرشید کے جواب میں امام مالکؒ کا فتویٰ 518 موسیٰ بن مہدی عباسی اور گستاخ رسولؐ 518 سلطان نور الدین زنگی اور گستاخان رسولؐ 519 شاتم رسول ریجی نالڈ اور سلطان صلاح الدین ایوبیؒ 520 سلطان صلاح الدین ایوبی کا ایک اور فیصلہ 521 فقہائے اندلس اور گستاخان رسولؐ 522 پادری یولوجیس کا قتل 523 پادری یولوجیس کی محبوبہ فلورا کا قتل 523 پرفیکٹس کا قتل 524
راہب اسحاق کا قتل 524 ایک اور گستاخ کا قتل 525 عیسائی جنون کا ایک اور مظاہرہ اور سزائے موت 525 سیسی ہند کا قتل 526 پولوس کا قتل 526 تھیوڈو میر کا قتل 526 آئزک کا قتل 526 مغلیہ دور حکومت میں گستاخ رسول کو سزائے موت 528 1734ء میں ایک اور گستاخ کو قتل کیا گیا 528 حکومت سعودی عرب کا فتویٰ 530 اسلامی جمہوریہ پاکستان کی وفاقی شرعی عدالت کا تاریخ ساز فیصلہ 531 آزاد کشمیر میں توہین رسالت کے قانون کا نفاذ 532
بارہواں باب
گستاخی رسولؐ پر خدائی فیصلے
عقبہ بن ابی معیط کا انجام 535 اللہ کے کتوں میں سے ایک کتے نے دشمن رسولؐ کا کام تمام کر دیا 537 ابولہب کا انجام 538 گستاخ رسولؐ کا سر پیشانی کے بالوں سے پکڑ کر بارگاہ نبویؐ میں لایا گیا 540 پانچ گستاخ، خدائی شکنجے میں 541 گستاخان رسولؐ مارے گئے 543
ابی بن خلف کا قتل 543 سنت رسول کی توہین کرنے والا خدائی گرفت میں 545 گستاخ کو سزا ملنے پر بہت سے نصرانی مسلمان ہو گئے 546 خدائی عذاب 547 ایک قادیانی گستاخ رسولؐ کی عبرت ناک موت 547 گستاخ رسول پر برزخ کا عذاب 548 قادیانی کی قبر پر آگ کے گولے 548 قادیانی کی قبر پھٹ گئی 550
تیرہواں باب
تذکرہ شہداء ناموس رسالتؐ
حضرت زید بن خطابؓ 552 حضرت سالم بن معقلؓ 552 حضرت سائب بن عثمانؓ 553 حضرت شجاع بن ابی وہب الاسدیؓ 553 حضرت عبداللہ بن سہیلؓ 553 حضرت عبداللہ بن مخرمہؓ 554 حضرت مالک بن امیہ بن عمر سلمیؓ 554 حضرت ابو حذیفہ بن عتبہؓ 554 حضرت عبداللہ بن عبداللہ بن ابی بن ابی سلولؓ 554 حضرت عائذ بن ماعص الانصاریؓ 555 حضرت سماک بن خرشہ الانصاریؓ 555 حضرت نعمان بن عمرو بن الربیع البلوی الانصاریؓ 555 حضرت معن بن عدیؓ 556
حضرت عقبہ بن عامرؓ 556 حضرت ابوحبہ ابن عزیہؓ 558 حضرت عبدالرحمان بن عبداللہؓ 556 حضرت ابو قیس ابن حارثؓ 558 حضرت عباد بن بشرؓ 556 حضرت یزید بن ثابتؓ 558 حضرت ثابت بن ہزالؓ 556 حضرت مالک ابن عوسؓ 558 حضرت ثابت بن خالد بن نعمانؓ 556 حضرت نعمان بن عصر بدریؓ 558 حضرت ایاس بن درقہؓ 557 حضرت یزید بن اوسؓ 558 حضرت عباد بن حارثؓ 557 حضرت ابو عقیل بلوی بدریؓ 558 حضرت عمیر بن اوسؓ 557 غازی علم الدین شہیدؒ 559 حضرت عامر ابن ثابتؓ 557 غازی عبدالرشید شہیدؒ 617 حضرت عمارہ ابن حزامؓ 557 غازی عبدالقیوم شہیدؒ 621 حضرت علی بن عبیداللہ ابن حارثؓ 557 غازی محمد صدیق شہیدؒ 632 حضرت فروہ بن نعمانؓ 557 غازی مرید حسین شہیدؒ 643 حضرت عبس بن حارثؓ 557 غازی میاں محمد شہیدؒ 657 حضرت سعد بن مجازؓ 557 غازی محمد عبداللہ شہیدؒ 680 حضرت سلمہ ابن مسعودؓ 557 غازی منظور حسین شہید 686 حضرت سائب ابن عوامؓ 557 تحفظ ناموس رسالت کی چند گم شدہ کڑیاں 690 حضرت طفیل ابن عمروؓ 557 تحریک ختم نبوت 1953ء 702 حضرت زرارہ ابن قیسؓ 557 دس ہزار شہداء 704 حضرت مالک ابن امیہؓ 557 سانحہ اسلام آباد 12 جنوری 1989ء 705 حضرت مسعود ابن سنانؓ 557 شہید ظفر اقبال‘ پنڈی 706 حضرت صفوانؓ 557 شہید نوید عالم‘ ایبٹ آباد 706 حضرت ضرار ابن ازورؓ 557 شہید نورالہدیٰ‘ سواتی 706 حضرت عبداللہ بن حارثؓ سہمی 557 شہید محمد شاہد‘ راولپنڈی 706 حضرت عبداللہ ابن عتیکؓ 557 شہید حق نواز‘ مانسہرہ 706 حضرت ہریم ابن عبداللہ مطلبیؓ 558 شہید محمد ارشد‘ اٹک 706 حضرت جبارہؓ 558 شہید محمد فاروق‘ راولپنڈی 706 حضرت ولید بن عبد شمسؓ 558
چودھواں باب
عیسائیت اور
قانون توہین رسالت 709
پندرہواں باب
شاتم رسول کی سزا سے
متعلق آئینی تحریک
خشت اول 1898ء 719 مولانا محمد علی جوہر کی آئینی کامیابی 724 مجموعہ تعزیرات پاکستان کی دفعہ 295 الف کا متن 724 1980ء 298 الف 725 1986ء 295 سی 726 1991ء 295 سی 727 1992ء پاکستان قومی اسمبلی 728 1992ء : سینیٹ 728 1994ء قانون میں ترمیم کی ہدایت 736 شدید ترین عوامی ردعمل 739 حکومتی وضاحتیں 740
سولہواں باب
تحفظ ناموس رسالت پر منظوم کلام 749
حدیث دل
تاریخ اسلام کے روز اول سے لے کر آج تک دنیائے کفر کی ہمیشہ یہ خواہش رہی ہے کہ ”روح محمدؐ“ کو تن مسلم سے نکال لیا جائے کیونکہ یہی وہ جوہر ہے جو مسلمان کو باطل سے ہر سطح پر نبرد آزما رکھتا ہے اور رکھ سکتا ہے اور اس کے بغیر مسلمان، مسلمان نہیں بلکہ ”راکھ کا ڈھیر“ ہے۔ اپنے اسی مقصد کے حصول کے لیے باطل نے ہمیشہ کسی بھی حربہ کے استعمال میں کبھی دریغ نہیں کیا۔ قرن اول میں یہ حربے اگر زور و زر، ظلم و ستم اور بدترین تشدد کی شکل میں موجود تھے تو آج ان حربوں کا لب لباب، شراب و شباب اور طاؤس و رباب ہے۔ مگر آج کا باطل فقط اسی یلغار پہ اکتفا نہیں کرتا بلکہ گاہے بگاہے ان حربوں سے حاصل ہونے والی کامیابیوں کا اندازہ بھی لگاتا رہتا ہے اور یہ اندازہ لگانے کے لیے وہ امت مسلمہ کی غیرت و حمیت کا آخری امتحان لیتا ہے یعنی شان رسالتؐ میں گستاخی کرتا یا کراتا ہے اور اس کے نتیجہ میں امت کے ردعمل سے اپنی کامیابی پرکھتا ہے۔ شدید، فوری، مضبوط اور غیرت مندانہ ردعمل اگر باطل پہ غم و اندوہ کے سائے ڈالتا ہے تو دوسری طرف کمزور اور بے حمیت ردعمل باطل کے لیے فرحت و انبساط کا باعث بنتا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ شان رسالتؐ میں گستاخی ایسا بھیانک، گھناؤنا اور قبیح فعل ہے کہ جسے حقیقی غیرت اسلامی اور حمیت مسلمانی کبھی بھی برداشت نہیں کر سکتی اور ازروئے تعلیمات شریعت اسلامیہ اس کا ایک ہی حل رہا ہے کہ یا گستاخی کرنے والی زبان نہ رہے یا سننے والے کان نہ رہیں، یا گستاخی تحریر کرنے والا ہاتھ نہ رہے یا پڑھنے والی آنکھ نہ رہے۔ مگر بدقسمتی سے کچھ عرصہ سے یوں محسوس ہونے لگا ہے کہ جیسے مسلمان اس مکروہ فعل کو برداشت کرنے لگے ہوں کیونکہ اس کے خلاف جس نوعیت کا ردعمل ظاہر ہونا چاہیے تھا وہ نہیں ہو پا رہا۔ چنانچہ صاحبان فہم و فراست، اور عاشقان ناموس رسالتؐ اس امر کی
ضرورت شدت سے محسوس کر رہے تھے کہ بطور حجت ایک دفعہ پھر امت کے سامنے قرآن و حدیث‘ فقہ و تاریخ کی روشنی میں وہ تمام تعلیمات اجلی اور نکھری صورت میں پیش کر دی جائیں جن کی رو سے گستاخ پیغمبرؐ امت کے نزدیک ایک ناقابل معافی مجرم ہے اور اس کی سزا موت سے کم کسی بھی صورت میں کچھ نہیں۔
انہیں صاحبان فکر و غم میں غرقاب عشق رسولؐ محمد متین خالد‘ مجاہد ختم نبوت محمد طاہر رزاق اور مجاہد ختم نبوت ڈاکٹر محمد صدیق شاہ بخاری‘ بھی ہیں جن کے درد اور کڑھن کو قبول فرماتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے محترم بھائی محمد ساجد اعوان صاحب کو اس محاذ کے لیے منتخب فرما لیا۔ اور مجھے یوں محسوس ہوتا ہے کہ انہوں نے نہ صرف نہایت عرق ریزی اور جانفشانی سے دن رات ایک کرتے ہوئے اس عنوان کے سارے بکھرے موتی چن کے امت کے سر پہ ایک عظیم تاج سجا ڈالا ہے بلکہ اپنی نوعیت کی اولین اور جامع کتاب کی صورت میں دست امت میں وہ شمشیر حمیت بھی دے دی ہے جو غیرت امت کی امیں ہے اور آقا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے وفاداری اور ناموس رسالتؐ کے خلاف ہونے والی ہر سازش کو قطع کرنے کی اک جہد یقیں ہے اور اس کے ساتھ مجھے یہ بھی امید ہے کہ یہ عظیم الشان کام انہوں نے شفاعت حضورؐ کی لگن اور حصول کے لیے کیا ہوگا۔
اللہ رب العزت امید والوں کو محروم نہیں رکھا کرتے۔ شرط تو بس اتنی ہے کہ بندہ اتنا کام کر دے جتنا اس کے بس میں ہو۔ باقی کام اللہ خود ہی کر دیتے ہیں۔ پوری امت کی طرف سے عائد ہونے والا فرض کفایہ ساجد نے علمی شکل میں ادا کر دیا ہے۔ اب گستاخان ناموس رسالتؐ کا عملی قلع قمع اللہ پاک خود ہی کر دیں گے اور اس کا ذریعہ اللہ کسے بناتے ہیں‘ یہ مالک کا انتخاب ہے۔ اللہ کرے اس انتخاب میں آپ بھی شامل ہوں اور میں بھی۔ آمین۔
ہر مدعی کے واسطے دار و رسن کہاں
خادم تحریک ختم نبوت فیاض اختر ملک‘ لاہور
25 ستمبر 1995ء
”اے غیرت مسلم تو کہاں ہے؟“
میرے محترم بھائی محمد طاہر رزاق صاحب نے جب مجھے حکم دیا کہ محترم ساجد اعوان کی کتاب ”تحفظ ناموس رسالت اور گستاخ رسول کی سزا“ کے متعلق کچھ لکھوں تو یہ کام مجھے بہت ہی مشکل لگا کیونکہ بندہ ایک ادنیٰ سا مزدور ہے، جو آقائے دو جہاں ﷺ کی ختم نبوت کی مزدوری کرتا ہے اور مزدور کی تحریر میں وہ بات کہاں جو کسی صاحب قلم کی تحریر میں ہوتی ہے۔ اس موضوع پر لکھتے ہوئے شدت کرب و اذیت سے میرا دل لہو لہو ہو کر آنکھوں سے بہہ رہا ہے، ہاتھ شل ہو رہے ہیں اور کسی تیز دھار آلے کی طرح یہ سوچ میری روح کو کاٹ رہی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے جس امت کے لیے اپنی ولادت باسعادت سے لے کر وصال پاک تک رو رو کر اللہ تعالیٰ سے دعائیں کیں، جس امت کے لیے طائف میں پتھر کھائے، مکے کے بازاروں میں کافروں سے گندی گالیاں سنیں، اپنا گھر اپنا شہر چھوڑا، عزیز و اقارب دشمن بنائے، احد کے میدان میں دندان مبارک شہید کروائے، بھوک سے شکم مبارک پر پتھر باندھے، ساری زندگی جس امت کے غم میں روتے رہے، آج اسی امت کو تحفظ ناموس رسالت پر کتابیں لکھ کر احساس دلایا جا رہا ہے، دلائل دے کر قائل کیا جا رہا ہے کہ غار حرا کے پتھروں پر امت کی بخشش کے لیے سجدہ ریزیاں کرنے والے شافع محشر سیدنا خاتم النبیین ﷺ کے گستاخ کی سزا موت ہونی چاہیے۔
یہاں جرمن میں جب بھی پاکستانی اخبار پڑھتا ہوں تو سارا اخبار قتل و غارت کی خبروں سے بھرا ہوتا ہے۔ کہیں خبر ہوتی ہے کہ ملک و حکومت کے غدار کو پھانسی کی سزا دینی چاہیے اور کہیں سیاسی مخالفین کو قتل کرنے کی خبر ہوتی ہے، مذہبی اختلاف کی وجہ سے قتل، طلبہ تنظیموں میں قتل، جائیداد پر قتل، خاندانی تنازعات پر قتل، مال کے لیے قتل، عزت کے لیے قتل، بات بات پر قتل، لیکن سولہ کروڑ مسلمانوں کے ملک سے یہ خبر کہیں نہیں آتی کہ کسی حکومت یا عدالت نے، کسی مذہبی یا سیاسی جماعت نے، طالب علم یا جاگیردار نے، یا کسی عام مسلمان نے کبھی کسی گستاخ رسول کو بھی قتل کیا ہو۔
ایک بوسنیا کے مسلمان کو جب میں نے فتنہ قادیانیت کے متعلق بتایا اور اس نے جب مرزا قادیانی دجال کی وہ گستاخیاں سنیں، جو اس ازلی ملعون نے خاتم النبیین سیدنا محمد مصطفیٰ ﷺ کی شان اقدس میں کیں، تو وہ بوسنین نوجوان غصہ میں آپے سے باہر ہو گیا۔ اس نے مجھ سے سوال کیا کہ ایسے گستاخانہ عقائد رکھنے والے مرزائیوں کو اپنے ملک میں برداشت کرنے والے کس طرح اپنے آپ کو مسلمان سمجھتے ہیں؟ اس نے پاکستان کے سارے مسلمانوں کو بے غیرتی کا طعنہ دیا جن کے ملک میں گستاخان رسول عیش و آرام سے زندگی گزار رہے ہیں۔ اس بوسنین نوجوان کی یہ گفتگو میرا دل چیر گئی۔ ملک و حکومت سے غداری پر سزائے موت کا قانون بنانے والو، مذہبی اور سیاسی مخالفین کو قتل کرنے والو، خاندان کی عزت کے ڈاکوؤں کو قتل کر کے فخر کرنے والو، آباؤ اجداد کے قاتلوں کے
خاندانوں کو اجاڑنے والو‘ بات بات پر قتل و غارت کرنے والو‘ جب محسن انسانیت سید البشر خاتم النبیین ﷺ کی عزت و ناموس پر ڈاکہ زنی ہو‘ گستاخیاں ہوں تو تمہارے کانوں پر جوں تک نہ رینگے۔ تجھے ملکی قانون نظر آئے‘ حقوق انسانی یاد آئیں‘ ایمنسٹی انٹرنیشنل کے کفریہ منشور یاد آئیں۔
روز محشر جناب رسول اللہ ﷺ کی شفاعت کے امیدوارو!
ذرا غازی علم الدینؒ شہید کی غیرت مندانہ نظروں سے دیکھو ۔۔۔ تمہیں اپنے آس پاس بہت سے راج پال نظر آئیں گے۔ امیر شریعتؒ سید عطاء اللہ شاہ بخاری رحمۃ اللہ علیہ کی غیرت و جلال کی نگاہوں سے دیکھو ۔۔۔ تمہیں یہ قادیانی ابولہب‘ ابو جہل یا رشدی نظر آئیں گے۔ اے عشق صدیقؓ اکبر‘ غیرت فاروقیتؓ‘ شجاعت حیدریؓ‘ شہادت حسینؓ‘ غازی علم الدینؒ کی جرات و ہمت کے وارث مسلمان! آج تیری غیرت نے کفن پہن لیا۔ مادہ پرستی کے اس دور میں تیرا عشق رسول پیوند زمین ہو گیا۔ مسلمانوں! توہین رسالت پر تمہاری بے حمیتی‘ تمہاری خاموشی دیکھ کر رسول اللہ ﷺ کو اتنی تکلیف طائف میں پتھر کھا کر نہیں ہوئی ہوگی‘ جتنی آج تمہاری بے حسی پر ہو رہی ہے۔ دل کے کانوں سے گنبد خضرا سے اٹھنے والی صداؤں کو سن لو ۔۔۔ محبت رسول اللہ ﷺ تمہاری غیرت کو پکار رہی ہے۔ ناموس محمد ﷺ پر قربان ہو جانے والے شہیدوں کی روحیں رو رو کر تم سے اپنی شہادتوں کا قرض مانگ رہی ہیں۔ ناموس رسالتؐ آج پھر کسی غازی علم الدین شہید کی راہ دیکھ رہی ہے۔
پاکستان کے مسلمانو! یاد رکھو ۔۔۔ یورپ میں رہنے والے مسلمانوں کی تم آخری امید ہو۔ کفر و شرک کے اندھیروں میں تم اسلام کا آخری چراغ ہو۔ اس سے پہلے کہ حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی شان میں گستاخیاں دیکھ کر رب محمدؐ خود انتقام لے‘ اللہ عزوجل کی غیرت و غصہ جلال میں آجائے‘ اے مسلمانو ناموس رسول کی پاسبانی کر لو‘ نفس کی غلامی کی ساری زنجیریں کاٹ دو‘ بے غیرتی اور بے حسی کی قبا کو تار تار کر دو۔ خدا کی قسم اگر سرزمین پاکستان پر ایک بھی قادیانی‘ ایک بھی گستاخ رسول زندہ بچ گیا تو اللہ عزوجل کے حضور تمہاری کوئی بھی عبادت‘ کوئی بھی عذر قبول نہیں ہوگا۔
محبوب ربانی کا اک گستاخ بھی رہا گر زندہ اللہ کے ہاں تمہاری کوئی عبادت نہیں قبول
(ظفر)
خاکپائے شہیدان ناموس رسالتؐ ظفر اقبال ہلبرون‘ جرمنی
اِعْدِلُوْا هُوَ اَقْرَبُ لِلتَّقْوٰی (القرآن)
قادیانیت
کے
خلاف
اعلیٰ عدالتوں
کے
تاریخی فیصلے
مرتبہ
فیاض اختر ملک
لاہور ہائی کورٹ
1981
لاہور ہائی کورٹ
1982
وفاقی شرعی عدالت
1984
لاہور ہائی کورٹ
1987
کوئٹہ ہائی کورٹ
1987
سپریم کورٹ شریعت اپیل بنچ
1988
لاہور ہائی کورٹ
1991
وفاقی شرعی عدالت
1991
لاہور ہائی کورٹ
1992
سپریم کورٹ آف پاکستان
1993
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت حضوری باغ روڈ ملتان
نغمات ختم نبوت
ترتیب و تدوین: محمد طاہر رزاق
- شاعری کی فصیح و بلیغ زبان میں نبیٔ کائنات خاتم النبیین جناب محمد عربی ﷺ
کی ہمہ گیر، ہمہ جہت اور زمان و مکان کی قیود سے بالاتر نبوت و رسالت کا بیان۔
- عقیدہ ختم نبوت کی اہمیت، نزاکت اور صداقت کا تذکرہ۔
- دجال قادیان مرزا قادیانی اور فتنۂ قادیانیت کا علمی اور عقلی محاسبہ۔
اس عہد کی منظوم داستان
- جب عشق ختم نبوت ایک جرم تھا۔
- جب گلیوں اور سڑکوں پر ایمان اور ارتداد نبرد آزما تھے۔
- جب سینکڑوں مقتلوں کی زمینوں کو شہیدان ختم نبوت اپنے خون مقدس سے سیراب کر رہے تھے۔
- جب آدم خور جنرل اعظم خان عاشقان رسول کی لاشوں کے ڈھیر لگا کر ظلم و بربریت کی تاریخ میں ہلاکو اور چنگیز سے
اپنا قد اونچا کر رہا تھا۔
چند شعرائے کرام
علامہ اقبال ◯ مولانا ظفر علی خان ◯ علامہ طالوت ◯ آغا شورش ◯ اکبر الہ آبادی مظفر وارثی ◯ ساغر صدیقی ◯ امین گیلانی ◯ جانباز مرزا ◯ سیف الدین سیف نعیم صدیقی ◯ وقار انبالوی ◯ حفیظ رضا پسروری ◯ حنیف رضا ◯ حکیم آزاد شیرازی عارف صحرائی ◯ سائیں حیات ◯ شریف ماہی اور دیگر درجنوں !
دیباچہ نگار پروفیسر محمد منور ● مظفر وارثی ● نذیر احمد غازی
بہترین کاغذ ◯ دیدہ زیب پرنٹنگ ◯ جاذب نظر چار رنگہ ٹائیٹل ◯ صفحات : ۲۹۶ قیمت ۹۰ روپے ● مجاہدین ختم نبوت کیلئے صرف ۳۰ روپے + ۱۰ روپے خرچہ ڈاک
پڑھیے اور تحفظ ختم نبوت کیلئے آگے بڑھیے!
منجانب عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت حضوری باغ روڈ ملتان
اپیل
قادیانی اربوں روپے خرچ کر کے اپنے کفر و ارتداد پر مبنی لٹریچر پوری دنیا میں تقسیم کر رہے ہیں۔ یہ ایمان کے ڈاکو ہمارے نوجوانوں کو اپنے دام فریب میں پھنسا کر مرتد بنا رہے ہیں۔ ناموس رسول پر پے در پے توہین آمیز حملہ آور ہیں۔ قرآن مجید، احادیث مقدسہ اہل بیت، صحابہ کرام کی شان میں ہرزہ سرائی کر رہے ہیں۔ شعائر اسلامی کو اپنے غلیظ قدموں تلے روند رہے ہیں۔ اس خطرناک صورت حال سے نمٹنے کیلئے سرور کائنات جناب محمد مصطفےٰ صلی اللہ علیہ وسلم کے عاشقان سے پر زور اپیل کی جاتی ہے کہ وہ درج ذیل کتابچوں کو چھپوا کر فری تقسیم کریں تاکہ اُمت مسلمہ کی نئی نسل فتنہ قادیانیت سے آگاہ ہو سکے اور کسی کی متاع ایمان لٹ نہ سکے۔ خدا تعالیٰ آپ کو حشر کی ہولناکیوں میں شافع محشر جناب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شفاعت نصیب فرمائے۔ (آمین) طالب شفاعت محمدی بندہ شرمندہ محمد طاہر رزاق
- ١ فتنہ قادیانیت کو پہچانیے (سٹیکر / ہینڈبل)
- ٢ شیزان کا بائیکاٹ
- ٣ تعظیم رسولؐ
- ٤ صحابہ کرامؓ اور عشق رسولؐ
- ٥ اسلام رو رہا ہے
- ٦ بہشتی مقبرہ ربوہ
- ٧ قومی اسمبلی میں معرکہ ختم نبوت
- ٨ ایک قادیانی کی آپ بیتی
- ٩ شہر اندوہ ”قادیان“
- ١٠ مسیلمہ کذاب کی بستی ”ربوہ“
- ١١ قادیان کا عاشق نامراد
- ١٢ بیرونی دنیا میں قادیانیوں کی
خطرناک سرگرمیاں
- ١٣ ہم قادیانیوں کو کیا کہتے ہیں
- ١٤ قادیانیت ایک خشت کج (تین حصے)
- ١٥ مسلمان اور قادیانی کے درمیان بنیادی فرق
- ١٦ عاشقان مصطفےٰ کہاں ہیں ؟
- ١٧ اُٹھو مسلمانو قادیانی قرآن بدل رہے ہیں
- ١٨ چہرہ قادیانیت
- ١٩ آستین کے سانپ
- ٢٠ ہم تحفظ ختم نبوت کا کام کیسے کریں
- ٢١ مجرمِ اسلام
- ٢٢ قادیانی نوازوں سے قدرت کا انتقام
- ٢٣ قادیانی اخلاق ، ایک لاش کی اپیل
- ٢٤ اقبال اور قادیانیت
- ٢٥ قادیانیوں کو دعوت اسلام
- ٢٦ ایک منہ دو زبانیں
- ٢٧ قادیانیوں کے عبرتناک انجام
- ٢٨ مقام نبوت و رسالت
- ٢٩ قادیانیت ، انگریز کا خودکاشتہ پودا
- ٣٠ قادیانیوں کا سوشل بائیکاٹ
- ٣١ قادیانیوں اور عام کافروں میں فرق
- ٣٢ قادیانی امت اور مسئلہ تکفیر
- ٣٣ قادیانیوں کے لطیفے
- ٣٤ قادیانی قاعدہ
- ٣٥ قادیانی پرچہ
- ٣٦ مرزا قادیانی کو نبوت کیسے ملی ؟
- ٣٧ مواصلاتی سیارے کے ذریعے
جہنم سے مرزا قادیانی کا انٹرویو
- ٣٨ قادیانیت اور عقل
- ٣٩ تکمیل دین
- ٤٠ فرنگی مخبر نئے نبی کی تلاش میں
- ٤١ اگر مرزا قادیانی آج کے دور میں ہوتا
- ٤٢ مرزا قادیانی کا لباس و خوراک
- ٤٣ مرزا قادیانی کا جسمانی ڈھانچہ
- ٤٤ الحق کی صَداقتیں
- ٤٥ مرزا قادیانی کا شاعرانہ رومانس
- ٤٦ بیماروں کا عالمی ہسپتال
- ٤٧ مرزا قادیانی کی طوائفوں سے شادی
- ٤٨ نوکر بیوی نما
- ٤٩ مرزا قادیانی کے ایسے سے تیسے
- ٥٠ مرزا قادیانی کے جھوٹ کی کھیتیاں
- ٥١ وہ عقائد جن سے مرزا قادیانی کا کفر ظاہر ہوتا ہے
- ٥٢ قادیانی عملیات
- ٥٣ عشق خاتم النبیینؐ
- ٥٤ ختم نبوت کے پاسبان
- ٥٥ عاشقان رسولؐ کی لاش پر
ووٹوں کی بھیک
- ٥٦ ختم نبوت کے محافظ
- ٥٧ مرزائیت کینسر کا پھوڑا
- ٥٨ شمع ختم نبوت کے پروانوں کی بستی
- ٥٩ ناموس محمدؐ کے پاسبان
- ٦٠ تذکرہ فدایان رسول عربیؐ
- ٦١ مسئلہ ارتداد اور قادیانی
- ٦٢ پاکستان کو قادیانیوں سے بچاؤ
- ٦٣ جنگ یمامہ
- ٦٤ عقیدہ ختم نبوت
- ٦٥ تحریک ختم نبوت ١٩٥٣ء
- ٦٦ تحریک ختم نبوت ١٩٧٤ء
- ٦٧ نزول عیسیٰ علیہ السلام
- ٦٨ پاک بھارت جنگیں اور قادیانی
- ٦٩ مرتد اور اُس کی شرعی سزا
- ٧٠ قادیان سے اسرائیل تک
- ٧١ شاتم رسولؐ کی سزا... قتل
- ٧٢ قادیان کا راسپوٹین
- ٧٣ ملکہ وکٹوریہ کا غلام
- ٧٤ عقیدہ ختم نبوت احادیث
صحیحہ کی روشنی میں
- ٧٥ فرنگی اور قادیانی کی مرتد پروری
(ایک جائزہ)
- ٧٦ قادیانیت ۔ ایک بغاوت، ایک محاذ
- ٧٧ تھوڑی دیر مرزا قادیانی کی تحریریں
- ٧٨ پاکستان قادیانی اور امریکی
سازش کے نرغے میں
- ٧٩ جال
- ٨٠ جہنم سے فرار
- ٨١ قادیانی مسلمانوں کو کیا سمجھتے ہیں؟
- ٨٢ کہوٹہ ایٹمی پلانٹ اور قادیانی
- ٨٣ مسجد اقصیٰ کا مجرم
- ٨٤ قادیان کا شاتم رسولؐ
- ٨٥ اللہ کا گستاخ
- ٨٦ قادیانی شعائر اسلامی استعمال نہیں کر سکتے
- ٨٧ قادیان کا حج ؟
- ٨٨ مینارۃ المسیح کی کہانی
- ٨٩ حقوق انسانی کمیشن
- ٩٠ اخبارات ، اشتہارات اور دیگر
لٹریچر
شیزان کا بائیکاٹ کیجئے
شیزان گستاخان رسول صلی اللہ علیہ وسلم مرزائیوں کی مشروب ساز فیکٹری ہے۔ اس کی تمام تر مصنوعات کا بائیکاٹ کرنا ہر مسلمان عاشق رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا دینی وملی فرض ہے۔ علاوہ ازیں اگر آپ کی نظر میں کوئی دوسری قادیانی فیکٹری یا آپ کے شہر میں کوئی دکان ہے تو اس کا بھی بائیکاٹ کیجئے۔
یہ پمفلٹ پڑھ کر اپنے کسی دوسرے مسلمان بھائی کو مطالعہ کے لیے دے دیں۔ فتنہ قادیانیت سے متعلق مزید معلومات حاصل کرنے کے لیے لٹریچر ہم سے مفت حاصل کریں۔
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت
ننکانہ صاحب ضلع شیخوپورہ
تحفّظِ ناموسِ رسالت
اور
گستاخِ رَسُول کی سَزا
اس موضوع پر
- امام ابن تیمیہؒ کی کتاب ”الصارم المسلول علیٰ شاتم الرسول“ کے بعد پہلی بار ایک علمی تحقیقی تاریخی دستاویز ۔
جو مزیّن ہے
- فرامینِ قرآن سے، ارشاداتِ خیر الانامؐ سے، صحابہؓ کے ایمان سے، بزرگانِ دین کے ایقان
سے، سلاطینِ اسلام کی بُرہان سے اور معیارِ انسانیت کی میزان سے ۔
ایک تاریخ
- جس نے اپنے دامن میں تحریک تحفظِ ناموسِ رسالتؐ کے چودہ سو سالہ واقعات سمیٹ رکھے ھیں ۔
ایک تحقیق
- جو گستاخانِ رسولؐ کی سزا کی شرعی، تاریخی اور آئینی سزا کا تعین کرتی ھے ۔
ایک گواہی
- جو گستاخانِ رسولؐ کی مذموم سازشوں کو بے نقاب کرتی ھے ۔
ایک حقیقت
- جسے ایک سچے عاشقِ رسولؐ نے عشقِ مصطفیٰؐ میں ڈوب کر لکھا ھے ۔
ایک دعوت
- جو پیغامِ جہاد ھے ـــــ اور گستاخِ رسولؐ کے قتل کی متقاضی ھے ۔
ایک کتاب
- جس کا مطالعہ ھر مسلمان پر لازم ھے ۔
حرف حرف حقیقت ـــــ لفظ لفظ محبّت ـــــ سطر سطر عقیدت
پڑھیے اور تحفّظِ ناموسِ رسالتؐ کے لیے آگے بڑھیے ! ! !
شفاعتِ رَسُول صلّی اللّٰہ علیہ وسلّم آپ کی منتظر ھے ! !